احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محمد حسین فلاح زادہ
فقہ استدلالی


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


احکام کی تعلیم

(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

تنظیم و ترتیب

حجة الاسلام و المسلمین محمد حسین فلاح زادہ

ترجمہ:

سید قلبی حسین رضوی

مجمع جہانی اہل بیت (ع)


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے


اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین ومصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علام محمد حسین فلاح زادہ کی گرانقدر کتاب'' احکام کی تعلیم'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیںاور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


مقدمہ

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پوری تاریخ بشریت میں مصلحین اور خیر خواہوں کی ہمیشہ یہ تلاش و کوشش رہی ہے کہ ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالیں، جس میں انسانی قدریں حاکم ہوں اور معاشرہ برائیوں سے پاک ہو۔

اس مقصد تک پہنچنے اور ایسے سماج کی تشکیل کے لئے کہ جسے بعض اوقات ''مدینہ فاضلہ'' کے نام سے یاد کرتے ہیں کچھ قوانین و ضوابط کے بارے میں بھی توجہ کی ہے تاکہ سماج کے افراد ؛اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے اور اپنے ہم نوع سے روابط برقراررکھنے کے سلسلہ میں صحیح راستہ پر چل سکیں۔

دین اسلام جو کہ بشری سعادتوں کی تضمین کا آخری مکتب ہے، ایسے معاشرے کی تشکیل کے اعتقاد کو درست سمجھتا ہے ،اور انسان کے فکرو اندیشہ کو صحیح رخ دینے کے سلسلے میں کچھ ایسے خاص اصول وقواعد پر اعتقادرکھتاہے جو کائنات کی ابتداء وانتہا کو مشخص کرتے ہیں اور انسان کو پست افکار وبے ہودہ حالات سے نجات دلاتے ہوئے با مقصد زندگی کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔


البتہ اسلام صرف صحیح اعتقاد کو مفید اور کار آمد نہیں سمجھتا بلکہ لوگوں سے اس امر کا بھی متقاضی ہے کہ کردار وعمل کے میدان میں بھی صحیح اور غلط راستہ کو پہچانیں اور اچھائیوں کو اپناتے ہوئے برائیوں سے پرہیز کریں۔(١)

اسلام کے جس شعبہ پر اس منصوبہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسے ''فقہ ''یا ''احکام'' کہتے ہیں جو درحقیقت میں یہ عملی قوانین کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے،نیز ان کی تفسیر وتبیین معصومین علیہم السلام نے کی ہے ، یہ وہ قوانین(احکام) ہیں جو قطعاًنا قابل تغیرہیں اور ان کے اصول پر کسی قسم کا خدشہ پڑے بغیر(٢) یہ تمام موضوعات، بیرونی مصادیق اور رونما ہونے والے حوادث(٣) کا احاطہ کرتے ہیں۔

ان قوانین کی معلومات ہمیشہ دینی مدرسوں کے بنیادی اور اساسی اسباق میںشامل رہی ہے چنانچہ وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی علمی معاشرہے کے تشکیل کی ایک اصلی بنیاد علم فقہ ہے، اور اسلامی علوم کے فقہاء کے عالی ترین اور قابل قدر دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا نام دینی مدارس کی تاریخ کے افق پر ہمیشہ چمکتا ہوا نظر آتاہے۔ بقول امام خمینی:

'' علمائے اسلام صدیوں سے محرومین کی پناہ گاہ بنے رہے ہیں اور مستضعفین ہمیشہ بزرگ فقہائکے شیرین اور خوشگوار چشمۂ معرفت سے سیراب ہوتے رہے ہیں ''(٤)

علمائے اسلام نے اسلامی فقہ کے تحفظ اور شریعت مقدس کے دفاع میں بہت سی تلخیاں اور سختیاںبرداشت کی ہیں ،اور حلال وحرام اوردینی مسائل کی، کسی قسم کے دخل وتصرف کے بغیر ترویج کرتے رہے ہیں۔

____________________

(١)قال علی (علیه السلام)الایمان معرفة بالقلب، وقول باللسان وعمل بالارکان (شرح نہج البلاغہ، ج ١٩، ص٥١)

(٢)حضرت ولی عصرعلیہ السلام کے اس خط کی طرف اشارہ ہے جس میں آپ نے ایسے حوادث کے موقع پر احادیث اہل بیت علیہم السلام کے راویوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم فرمایا ہے (وسائل الشیعہ، ج ١٨، ص ١٠١)

(٣)عن الصادق علیه السلام ):''...حتی جاء محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فجاء بالقرآن وبشریعته ومنهاجه فحلاله حلال الیٰ یوم القیامة وحرامه حرام الیٰ یوم القیامة (اصول کافی ج ٢ ص ١٧ حدیث ٢)

(٤) صحیفہ ٔ نور،ج ٢ ،ص ٨٩.


کتنی کتابیں ایسی ہیں جو تقیہ کی حالت میں اور جیلوںکی کال کو ٹھریوں میں تالیف کی گئی ہیں۔(١) اور کتنے کتب خانے،جو علماء کی سیکڑوں سالوں کی محنتوں کا نتیجہ تھے، لوٹ کھسوٹ اور غارت گری کے شکار ہوچکے یا دشمنوں کے غیض و غضب اور کینہ پروری کی آگ میں جل کے خاکستر ہوچکے ہیں، اس سے بڑھ کر کتنے علمائ، دین کی حفاظت کرتے ہوئے جان کی بازی لگا کر اپنے خون سے فقہ کی کتابوں کے اور اق کو رنگین کرگئے ، یہی نہیں بلکہ بعض اوقات ان کی لاشوں کو نذر آتش کرکے ان کی راکھ ہوا میں اڑادی گئی!(٢)

لیکن ان تمام مشکلات اور سختیوں کے باوجود ان علماء نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تلاش وکوشش کو جاری رکھتے ہوئے فقہی مسائل کو ان کے منابع سے استنباط کرکے بہترین صورت میں ترتیب دے کر لوگوں کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیش کرتے رہے ہیں ۔

آج کل مراجع عظام کے رسالے جو ''توضیح المسائل'' کے عنوان سے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں، یہ انھیں فقہاکی زحمتوںکاثمرہ ہیں،یہ کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ان توضیح المسائل'' میں موجودہ احکام میں سے صرف ایک حکم کے استنباط کے لئے طویل وقت صرف ہواہے ۔ لیکن چونکہ موجودہ ''توضیح المسائل'' عام لوگوں کے مطالعہ اوراستفادہ کے لئے تالیف کی گئی ہیں اور گزشتہ پچاس برسوں سے اسی روش پر باقی ہیں اور اس مدت کے دوران اس کی تالیف کے طریقہ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لائی گئی ہے، اس لئے اس میں بعض اصطلاحیںاہل فن سے مربوط ہیں اور بعض مقامات پر ان میں پیچیدہ ، مشکل اور غیر مانوس عبارتیں بھی پائی جاتی ہیں جو عام نوجوانوںکے لئے ناقابل فہم ہیں لہٰذا اسے نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کامناسب متن قرار نہیں دیا جاسکتا، اگرچہ اس قسم کی عبارتیں اپنی جگہ پر ایک خاص طبقہ کی ضرورت سے بالاتر مقصد کے لئے مرتب کی گئی ہیں اور وہ اپنی جگہ پر مفید وقابل قدر ہیں، اس کی مثال ایک دواخانہ کی ہے جس سے معاثرے کے تمام لوگ استفادہ کرتے ہیں۔

____________________

(١)جیسے کتاب '' اللمعة الدمشقیہ'' تالیف فقیہ نا مدارمحمد ابن مکی العاملی معروف بہ شہیداول.

(٢)جیسے شہیداول (اور شہید ثالث)


قدیم زمانے سے آج تک دینی مدارس میں مختلف علمی مضامین، منجملہ'' فقہ'' کو مختلف درجوںمیں پڑھانے کے لئے مخصوص کتابیں معین کی جاتی رہی ہیں، یہ رسم نہ تھی اور نہ ہے کہ جدید طلاب کو '' شیخ انصاری کی مکاسب''(١) پڑھائی جائے یا علم اصول میں ابتداء سے ہی '' محقق خراسانی کی کفایہ''(٢) پڑھائی جائے، اور یا فلسفہ میں شروع سے ہی''ملا صدراکی ''ا سفار'' شروع کروائی جائے بلکہ ابتداء میں سادہ، رواں اور چھوٹی کتابیں پڑھائی جا تی ہیں، اور رفتہ رفتہ مفصل اور عمیق کتابوں کو پڑھایا جاتاہے۔

اس وقت حوزۂ علمیہ (دینی مدارس) میں فقہ کی تعلیم درج ذیل تین مرحلوں میں منقسم ہے:

١۔غیراستدلالی فقہ،جیسے: توضیح المسائل'' اور ''العروة الوثقی''(٤)

٢۔نیم استدلالی فقہ، جیسے : ''الروضة البھیة''(٥) اور '' شرائع ُالاسلام''(٦)

٣۔استدلالی فقہ، جیسے: ''جواہر الکلام''(٧) اور ''الحدائق الناضرہ''(٨)

____________________

(١)یہ کتاب معاملات (لین دین) کے احکام پر مشتمل ہے اور جلیل القدر فقیہ شیخ مرتضی انصاری کی تالیف ہے آج کل یہ کتاب حوزہ ٔعلمیہ(دینی مدارس) کی عالی درجات میں پڑھائی جاتی ہے

(٢)یہ اصول فقہ کی کتاب ہے جو گرانقدر دانشور محمدکاظم خراسانی کی تالیف ہے، یہ اس وقت حوزہ علمیہ کی عالی سطح میں پڑھائی جاتی ہے.

(٣)یہ کتاب اسلامی فلسفہ کی ایک بے نظیر کتاب ہے جسے صدر الدین محمد شیرازی نے تالیف کیا ہے.

(٤)یہ کتاب علم فقہ میں ہے اور اس میں فقہ کے اہم مسائل موجود ہیں بلکہ فقہی موضوع میں فرعی مسائل کے اعتبار سے بے نظیر کتاب ہے، اسے بزرگ فقیہ سید محمدکاظم یزدی نے تالیف فرمایا ہے ۔

(٥) یہ کتاب علم فقہ میں ہے جسے قابل قدر دانشور زین الدین علی ابن احمد عاملی معروف بہ شہید ثانی''نے تالیف کیا ہے .یہ کتاب حقیقت میں شہید اول شمس الدین محمد مکی کی تالیف کردہ ''اللمعة الدمشقیة''کی شرح ہے.

(٦)یہ فقہ کی کتاب ہے،اور علامہ محقق جعفر ابن حسن یحییٰ بن سعید معروف بہ محقق حلی کی تالیف کردہ ہے، اور برسوں تک حوزہ علمیہ میں اسے پڑھایا جاتا رہا ہے.

(٧)یہ کتاب شیعہ فقہ کی ایک عظیم دائرة المعارف ہے جو شیخ محمد حسن نجفی کی تالیف کردہ ہے.

(٨)یہ فقہ کی ایک مفصل کتاب ہے جسے قابل قدر محدث اور فقیہ شیخ یوسف بحرانی نے تالیف فرمایا ہے.


اس بناء پر معاشرے کے افراد کے فہم وادراک اور ضرورت کے مطابق کچھ کتابیںتالیف کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مؤمنین کسی مشکل کے بغیر اپنے شرعی فرائض کو سیکھ سکیں اور بہتر طور پر اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرسکیں۔

اگرچہ اس سلسلے میں اب تک قابل قدر کوششیں کی جاچکی ہیں اور کچھ کتابیں شائع بھی ہوچکی ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر قابل استفادہ ہے، لیکن ایسی کتابیں، جو افراد کے تعلیمی مدارج اور ان کے پیشہ کے مطابق ان کی ضروریات کو پورا کرسکیں ، تالیف نہیں کی گئی ہیں، لہٰذااس طرح کی کتابیں تالیف کرنے کی ضرورت کا پوری طرح احساس کیا جارہا ہے۔

اس ضرورت نے ہمیںاس امر کی ترغیب دلائی کہ ملک میں موجودہ تعلیمی نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہی مسائل کو، فقہاکے فتاویٰ میں کسی قسم کی تبدیلی لائے بغیر اور صرف عبارتوں اوراصطلاحات کو عام فہم بناکر مثالوں کے ساتھ ، کتابی صورت میںتالیف کریں۔

ممکن ہے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہوں جنہوں نے ابتدائی تعلیم بھی حاصل نہ کی ہو لیکن دینی مسائل میں یونیورسٹی سطح کے افرادسے زیادہ آگاہ ہوں لہٰذا اس کتاب کی تالیف کے دوران اکثر لوگوں کی سطح فکری کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔

بہر کیف جو کچھ اس سلسلے میں اب تک تیار کیا جاچکا ہے یا تیار ہورہا ہے وہ حسب ذیل ہے:

*تعلیم احکام: بچوں کے لئے ۔

* تعلیم احکام : سطح ایک کے لئے ۔

*تعلیم احکام : سطح عالی ۔یونیورسٹی کے طلاب کے لئے۔

* تدریس احکام کی روش: اساتذہ اور دینیعلوم کے طلاب کے لئے ۔


چند نکات کی یاد دہانی:

١۔اس کتاب کا متن ؛ جمہوریہ اسلامی ایران کے بانی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی (قدس سرہ)کے فتاویٰ کے مطابق ہے۔

٢۔تین مراجع یعنی حضرت آیت اللہ العظمیٰ اراکی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی کے فتاویٰ اضافہ کئے گئے ہیں ۔اختلاف کی صورت میں اسی صفحہ پراس علامت(ز) کے ذریعہ ان کے فتاویٰ کو مشخص کردیا گیا ہے۔

٣۔ کتاب کے متن میں عام طور سے ضروری اور کلی مسائل بیان کئے گئے ہیں اور جزئی مسائل کو کم بیان کیا گیا ہے اور ان میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے ، اس کے علاوہ تمام اختلافی فتاویٰ ایسے نہیں ہیں کہ اگر مقلد متن پر عمل کرے تو اس نے اپنے مرجع تقلید کے فتویٰ کے خلاف عمل کیا ہو، یا کسی واجب کو ترک کیا ہو، مثال کے طور پر اگر متن میں موجود مسئلہ بعنوان فتوی ذکر ہوا ہو لیکن کسی دوسرے کا مرجع تقلید اس مسئلہ میں احتیاط واجب کا قائل ہو ، اور اس کا مقلد ان کے فتویٰ پر عمل کرے تو اس نے اسی احتیاط پر عمل کیا ہے اور کوئی مشکل نہیں ہے۔

٤۔مسائل کو انتخاب کرتے وقت کوشش یہ رہی ہے کہ جوانوںکی ضرورت کے پیش نظر مسائل کا انتخاب کیاجائے، اگر کہیں کوئی فرعی مسئلہ حذف ہوگیا ہے تو عنوان کچھ اس انداز سے رکھا گیا ہے تا کہ فتویٰ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، مثال کے طور پر مطہرات کی بحث میں، باوجود اس کے کہ مطہرات دس ہیں،اس کتاب میں صرف پانچ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے لیکن مسئلہ کو حسب ذیل صورت میں پیش کیا گیا ہے:

''تمام نجس چیزیں پاک ہوجاتی ہیں اور پاک کرنے والی عمدہ چیزیں حسب ذیل ہیں...''


٥۔ یہ ایک تدریسی کتاب ہے جو معلم کے توسط سے پڑھائی جاتی ہے اس کے باوجود کوشش کی گئی ہے کہ اسے ایسے تالیف کیا جائے تاکہ اس کا براہ راست مطالعہ کرنا بھی مفید ہو اور مطالعہ کرنے والے بھی شرعی مسائل کو سمجھ سکیں ۔

٦۔ قارئین کرام اگر مسائل کی تفصیلات جاننا چاہیں یا مسائل کے متن کو ان کے منابع میں دیکھنا چاہیں تو اس کے لئے ہر صفحہ کے آخر پر مسائل کے حوالے تحریر کردئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ مراجع تقلید کے حواشی بھی ان کی توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر کے ساتھ درج کئے گئے ہیں ۔

٧۔ ہم مراجع عظام سے معذرت خواہ ہیں کہ اختصار کے پیش نظر حواشی میں ان کے اسم گرامی کے ساتھ پورے القاب نہیںلاسکے ہیں اور صرف مشہور لقب پر اکتفا کیا ہے۔

٨۔ موجود کتاب، اشاعت سے پہلے، متعدد بار پڑھائی جاچکی ہے، نیز ممکن حد تک نواقص بھی برطرف کئے جا چکے ہیں، حوزہ علمیہ کے افاضل احباب کی عنایتوںاور ان کے مطالعہ اور راہنمائی کے علاوہ، ہائی اسکول کے چند نوجوانوں نے بھی اس کا مطالعہ کیا اور طباعت سے پہلے تحقیق کی ہے، تا کہ مخاطب کی علمی سطح کے مطابق ہوںلہٰذا میںیہاں پر تمام مخلصین کا شکر گزار ہوں۔

اختصار کے پیش نظر حواشی میں مندرجہ ذیل علائم سے استفادہ کیا گیا ہے:

ج =جلد ، ص =صفحہ ، م = مسئلہ ، س =سوال

٩۔ اس کتاب کو تالیف کرتے وقت درج ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے :

* تحریرالوسیلہ ۔ ۔امام خمینی ۔۔ناشر: دارالانوار، بیروت ۔

*العروةالوثقیٰ۔۔(دوجلدی)۔۔مراجع تقلید کے حواشی کے ساتھ، ناشر، انتشارات علمیہ اسلامیہ۔

* وسیلتہ النجاة۔۔ حاشیہ آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی ۔۔ ناشر: دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت

* رسالۂ توضیح المسائل۔۔ امام خمینی۔۔ناشر: بنیاد ثپروھشہای اسلامی، آستان قدس رضوی

*رسالۂ توضیح المسائل۔۔ آیت اللہ الظمیٰ گلپائگانی ۔۔ ناشر:،دارالقرآن الکریم

*رسالۂ توضیح المسائل۔آیت اللہ الغظیٰ اراکی۔۔ ناشر،دفتر تبلیغات اسلامی۔ حوزہ علمیہ قم

* رسالۂ توضیح المسائل۔۔آیت اللہ العظمیٰ خوئی ۔۔ مبطع، علمی پریس

*استفتاآت امام خمینی۔۔ناشر:،دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔


امید ہے (انشاء اللہ ) یہ تالیف، عزیز نوجوانوں کے لئے احکام کو سمجھنے میں مفید ثابت ہوگی، بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو زندگی کے تمام مراحل میں مدد فرمائے ۔

آخر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس کتاب کا مطالعہ کرکے میری راہنمائی فرمائی اور خداوند متعال کی عنایتوں کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے یہ توقیق بخشی۔

ہم دوستوں کی تعمیری تجاویز کا خیر مقدم اور استقبال کریں گے۔

رَبَّنَاتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ (١)

موسم گرما: ١٩٩٣ئ۔

محمد حسین فلاح زادہ برقوئی

قم المقدسہ

____________________

(١)سورہ بقرہ آیت ١٢٧.


سبق نمبر١

اسلام میں احکام کا مقام

اسلام آخری اورکامل ترین دین ہے ،جس کے تمام پروگرام اور دستور العمل فطرت اور انسانی مصلحتوں کے مطابق ہیں، چنانچہ ان کو عملی جامہ پہنانا انسان کی سعادت وخوش بختی کی ضمانت ہے اور جس معاشرے میںیہ اسلامی قوانین نافذ ہوجائیں وہ مثالی معاشرہ ہوسکتا ہے اس سبق کا موضوع یعنی احکام،اسلام کے انسان ساز قوانین کا ایک بنیادی حصہ ہے۔

اسلام کے حیات بخش پروگرام حسب ذیل حصوں پر مشتمل ہیں:

الف : اعتقادی دستورالعمل یعنی اصول دین۔

ب: عملی احکام، یعنی فروع دین۔

ج: نفسیات وکردار سے متعلق مسائل، جسے اخلاق کہا جاتاہے۔

پہلا حصہ :

یہ وہ دستور العمل ہیں جن کے ذریعہ انسان کی فکر واعتقاد کو درست کیا جاتاہے، انسان کو عقائد کے سلسلے میں دلیل کے ذریعہ اعتقاد پیداکرنا چاہئے ( اگرچہ دلائل سادہ ہوں)۔ چونکہ اسلام کے دستور العمل کا یہ حصہ اعتقادات سے مربوط ہے اور ان میں یقین پیدا کرنے کی ضروت ہے، اس لئے ان میں دوسروں کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے ۔

دوسرا حصہ:

یہ ایک عملی دستورالعمل ہے، جس میں انسان کا فریضہ معین ہوتاہے کہ کن کاموں کو انجام دے اور کن کاموں سے اجتناب کرے ایسے دستورالعمل کو '' احکام '' کہتے ہیں اور ایسے احکام کو جاننے کے لئے تقلید اور کسی (ماہر)مجتہد کی پیروی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔


احکام کی قسمیں:

انسان جوبھی کام انجام دیتا ہے، اس سے متعلق اسلام میں ایک خاص حکم موجود ہے اور یہ احکام حسب ذیل ہیں:

١۔ واجب : وہ کام جس کا انجام دینا ضروری ہے اور اس کے ترک کرنے میں عذاب ہے، جیسے: نماز و روزہ....

٢۔حرام: وہ کام جس کا ترک کرنا ضروری ہے، اوراس کے انجام دینے میں عذاب ہے، جیسے: جھوٹ اور ظلم...

٣۔ مستحب: وہ کام جس کا انجام دینا اچھا اور باعث ثواب ہے، لیکن اس کے ترک کرنے میں عذاب نہیں ، جیسے: نمازشب وصدقہ

٤۔ مکروہ: وہ کام جس کا ترک کرنا اچھا اور موجب ثواب ہے لیکن اس کے انجام دینے میں عذاب نہیں، جیسے: کھانے پر پھونک مارنا ، یا گرم کھانا کھانا...

٥۔ مباح: وہ کام جس کا انجام دینا یا ترک کرنا مساوی ہے اور نہ اس میں کوئی عذاب ہے اور نہ ثواب، جیسے : چلنا، بیٹھنا...(١)

____________________

(١) الفتاویٰ الواضحة، ج ١، ص ٨٣.


تقلید

تقلید کے معنی پیروی کرنا اور نقش قدم پر چلنا ہے ،یہاں تقلید کے معنی ''فقیہ'' کی پیروی کرنا ہے یعنی اپنے کاموں کو مجتہد کے فتویٰ کے مطابق انجام دینا۔(١)

١۔ جوشخص خود مجتہد نہیں اوراحکام ودستورات الٰہی کو حاصل بھی نہیں کرسکتا تواُسے مجتہد کی تقلید کرنا چاہئے ۔(٢)

٢۔احکام دین میں اکثر لوگوں کا فریضہ تقلید کرناہے چونکہ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو احکام میں اجتہاد کرسکتے ہیں۔(٣)

٣۔ جس مجتہد کی دوسرے لوگ تقلید کرتے ہیں اسے ''مرجع تقلید'' کہتے ہیں۔

٤۔ جس مجتہد کی انسان تقلید کرے، اس میں مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:

* عادل ہو *شیعہ اثنا عشری ہو ۔ * زندہ ہو ۔ * احتیاط واجب کی بناپر اعلم ہو اور دنیا طلب نہ ہو۔(٤) * مرد ہو۔ *بالغ ہو۔

شرائط مرجع تقلید کی وضاحت:

١۔ عادل اسے کہتے ہیں، جو تقویٰ وپرہیز گاری کی ایسی منزل پر فائز ہو،جہاں واجبات کو انجام دیتا ہو اور گناہوں سے پرہیز کرتا ہو،نیز گناہان کبیرہ ( * )سے پرہیز اور گناہان صغیرہ کی تکرار سے

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ،ج ١،ص ٥.

(٢) تحریر الوسیلہ ،ج ١، ص ٥.

(٣) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص٥.

(٤) ۔ توضیح المسائل ،م٢.

* گناہ کبیرہ،ایسا گناہ جس کے ارتکاب پر عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے، جیسے : جھوٹ، تہمت وغیرہ


اجتناب، عدالت کی علامت ہے۔ *(١)

٢۔ تازہ بالغ ہونے والے نے اگر تقلید نہ کی ہو تو اسے چاہئے کسی ایسے مجتہد کو اپنا مرجع تقلید قرار دے جو زندہ ہو ، مردہ مجتہد کی تقلید نہیں کی جاسکتی ہے۔(٢)

٣۔ جو کسی مجتہد کی تقلیدکرتا ہو، اگر اس کا مرجع تقلید مرجائے تو وہ زندہ مجتہد کی اجازت سے اپنے مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہ سکتاہے۔(٣)

٤۔ جن مسائل کے بارے میں مردہ مجتہد نے کوئی فتویٰ نہ دیا ہو اور اسی طرح جنگ وصلح وغیرہ جیسے نئے مسائل کے بارے میں، میت کی تقلید پر باقی رہنے والے شخص کو زندہ مجتہد کی تقلید کرنی چاہئے۔(٤)

٥۔جس مجتہد کی انسان تقلید کرے، وہ مذہب جعفری کا پیرو؛یعنی شیعہ اثنا عشری ہو۔ لہٰذاشیعہ، احکام میں کسی غیر اثناء عشری مجتہد کی تقلید نہیں کرسکتے ۔(٥)

٦۔ اسلام نے مرد اور عورت کا فریضہ ان کی فطری حالت اور تخلیقی کیفیت کے لحاظ سے معین کیا ہے۔ مرجعیت کی انتہائی زبردست اور بھاری ذمہ داری کو عورتوں کے کندھوں سے اٹھالینا، ہرگز ان کی آزادی سے محرومیت نہیں ہے چونکہ اسلام میں، عورتوں کو بھی حق ہے کہ اسلامی علوم میں اجتہاد تک تعلیم حاصل کریں اور احکام الٰہی کو ان کے منابع (قرآن وروایات) سے استخراج کریں اور کسی کی تقلید نہ کریں۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١١، ص ١٠، م ٢٨

(٢)تحریرالوسیلہ ،ج ١، ص ٧ ،م ١٣

(٣) تحریر الوسیلہ، ج ١ ، ص ٧، م ١٣.

(٤) استفتا آت، ج ١،ص ١٢، س ٢٠.

(٥)توضیح المسائل،م٢.

*(گلپائیگا نی۔ خوئی)عدالت یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں اس کے ہمسایوں یا اس کے جاننے والوں سے اس کا حال واحوال پوچھا جائے تو اس کی اچھائی اور نیکی کو بیان کریں ۔


٧۔ اعلم وہ ہے جو(قرآن وروایات سے)احکام کے استخراج میں دوسرے مجتہدوں سے ماہر تر ہو۔(١)

٨۔ مکلف پر واجب ہے کہ مجتہداعلم کو پہنچاننے میں جستجو کرے۔(٢)

٩۔انسان تقلید کرنے میں آزاد ہے اور کسی کے تابع نہیں ہے ۔ مثلاًاس سلسلے میں عورت مردکی تابع نہیں ہے ، وہ جس کسی کو واجدشرائط پائے اس کی تقلید کرسکتی ہے،اگرچہ اس کا شوہر کسی اور مجتہد کا مقلد ہو۔(٣)

____________________

(١)العروة الوثقیٰ، ج اص٧، م١٧.

(٢)تحریر الوسیلہ ،ج ١، ص ٦، م ٥.

(٣) استفتاآت، ج ١، ص ١٣، س ٢٥.


سبق نمبرایک کا خلاصہ

١۔ اسلام کے مجموعی پروگرام سے مراد : عقائد، احکام اوراخلاق ہے۔

٢۔ احکام تکلیفی سے مراد : واجب، حرام ، مستحب، مکروہ اور مباح ہے۔

٣۔ تقلید، یعنی مجتہد کے قتویٰ پر عمل کرنا۔

٤*ندہ مجتہد کی اجازت سے میت کی تقلید پر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں ۔

٥۔جو شخص تقلید میت پر باقی ہو، اسے نئے مسائل میں زندہ مجتہد کی تقلید کرنی چاہئے ۔

٦۔ ہر شخص تقلید کرنے میں آزاد ہے اور کسی کے تابع نہیں ۔


سوالات:

١۔ اصول دین کتنے ہیں؟

٢۔ اصول اور فروع دین کے سلسلے میں مکلف کا فریضہ بیان کیجئے۔

٣۔ اسلامی دستوار العمل کے پانچ نمونے بیان کیجئے۔

٤۔ اگر کوئی عورت درجہ اجتہاد پر پہنچ جائے تو کیا وہ اپنے فتویٰ کے مطابق عمل کرسکتی ہے،یا اسے دوسروں کی تقلید کرنا چاہئے؟

٥۔ عادل کون ہے اور اسے کیسے پہچانا جائے گا ؟

٦۔ تقلید میت پر باقی رہنے والے شخص کے لئے، زمانے کے حالات کے مطابق پیش آنے والے نئے مسائل، جیسے :جنگ وجہاد میں، فریضہ کیا ہے؟


سبق نمبر٢

اجتہاد وتقلید

١۔ مجتہد اوراعلم کو پہچاننے کے طریقے:

الف: خود انسان یقین پیدا کرے، جیسے، شخص اہل علم ہو اورمجتہد واعلم کو پہچانتاہو۔

ب: دو عالم وعادل افراد جو مجتہد واعلم کی تشخیص کرسکیں، کسی کے مجتہدیا اعلم ہونے کی تصدیق کردیں*

ج: اہل علم کی ایک جماعت، جو مجتہد واعلم کی تشخیص دے سکتی ہو اور ان کے کہنے پر اطمینان پیدا ہوسکتا ہو، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کرے۔(١)

٢۔ مجتہد کے فتویٰ کو حاصل کرنے کے طریقے:

* خود مجتہد سے سننا۔

* دویا ایک عادل شخص سے سننا۔

* ایک سچے اور قابل وثوق انسان سے سننا۔

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٨، م ١٩.

* (خوئی) ایک شخص اہل خبرہ کے کہنے پر بھی ثابت ہوسکتا ہے۔


*مجتہدکے رسالہ میں دیکھنا۔(١)

٣۔ اگر مجتہد اعلم نے کسی مسئلہ میں فتویٰ نہ دیا ہو، تو اس کا مقلد دوسرے مجتہد کی طرف اس مسئلہ میں رجوع کرسکتا ہے، بشرطیکہ دوسرے مجتہد کا اس مسئلہ میں فتویٰ پایا جاتا ہو، اور احتیاط واجب کی بناء پر جس کی طرف رجوع کیا جارہا ہے وہ مجتہد دوسرے مجتہدوں سے اعلم ہو۔(٢)

٤۔ اگر مجتہد کافتویٰ بدل جائے،تو مقلد کا اس کے نئے فتویٰ پر عمل کرنا چاہئے اور اس کے پہلے فتویٰ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔(٣)

٥۔ روز مرہ کے مبتلابہ مسائل کا یاد کرنا واجب ہے۔

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٨، م ٢١.

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٨، م ا٢

(٣)العروة الوثقیٰ، ج ا،ص ١٢،م ٣١.


مکلف کون ہے؟

عاقل اور بالغ افرادمکلف ہیں، یعنی احکام کو انجام دینا ان پر واجب ہے، لہٰذا (نابالغ) بچے اور دیوانے (غیر عاقل) مکلف نہیں ہیں۔

سنّ بلوغ:

لڑکے، پندرہ سال پورے ہونے پر بالغ ہوتے ہیں، اور لڑکیاں ٩ سال پورے ہونے پر بالغ ہوتی ہیں ، اور اس سن کو پہنچنے پر انھیں تمام شرعی فرائض کو انجام دینا چاہئے ، اگر اس سن سے کمتر بچے بھی نیک کام، جیسے نماز کو صحیح طریقے پر انجام دیں، تو ثواب پائیں گے ۔ توجہ رہے کہ سن بلوغ قمری سال سے حساب ہوتا ہے، چونکہ قمری سال ٤ ٥ ٣ دن اور ٦ گھنٹے کا ہوتا ہے اس لئے شمسی سال سے دس دن اور ١٨ گھنٹے کم ہوتا ہے ، اس طرح ٩سال شمسی سے ٩٦ دن اور ١٨ گھنٹے کم کرنے پر ٩ سال قمری بن جاتے ہیں اور ١٥ سال شمسی سے ٦١ ١ دن اور ٦ گھنٹے کم کرنے پر ١٥ سال قمری بن جاتے ہیں ۔

احتیاط واجب اور احتیاط مستحب میں فرق:

احتیاط مستحب ہمیشہ فتویٰ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یعنی اپنے بیان کردہ مسئلہ میں، مجتہد اظہار نظر کے بعد احتیاط کا طریقہ بھی بیان کرتا ہے چنانچہ مقلد کو ایسے مسئلہ میں اختیارہے کہ مجتہد کے فتویٰ پر عمل کرے یا احتیاط پر اور ایسے مسئلہ میں دوسرے مجتہد کی طرف رجوع نہیں کرسکتا ہے، جیسے مندرجہ ذیل مسئلہ :

''اگر مکلف نہ جانتاہو کہ بدن یا لباس نجس ہے ،اور نماز کے بعد معلوم ہوجائے کہ نجس تھاتو اس کی نماز صحیح ہے، لیکن '' احتیاط'' اس میں یہ ہے کہ وقت میں گنجائش ہونے کی صورت میں نماز کو پھرسے پڑھے۔''

''احتیاط واجب'' فتویٰ کے ساتھ ذکر نہیں کیا جاتا ہے بلکہ مقلد کو اسی احتیاط پر عمل کرنا چاہئے یا پھر دوسرے مجتہد کے فتویٰ کی طرف رجوع کرے ، جیسے مندرجہ ذیل مسئلہ :

''احتیاط اس میں ہے کہ اگر انگور کی بیل کا پتا تازہ ہوتو اس پر سجدہ نہ کیا جائے۔''


سبق نمبر ٢ کاخلاصہ

١۔ مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کے طریقے حسب ذیل ہیں:

* خود انسان یقین پیداکرے۔

* دوعادل عالم گواہی دیں۔

* اہل علم کی ایک جماعت شہادت دے

٢۔حسب ذیل طریقوں سے مجتہد کا فتویٰ حاصل کیا جاسکتاہے:

* خود مجتہد سے سننا:

*دویا ایک عادل شخص سے سننا یا کم از کم ایک قابل اعتماد اور سچّے شخص سے سننا۔

* توضیح المسائل میں دیکھنا۔

٣۔ بالغ اور عاقل افراد کو احکام الٰہی پر عمل کرنا چاہئے ۔

٤۔ لڑکے ١٥ سال پورے ہونے پر بالغ ہوتے ہیں اور لڑکیاں ٩ سال پورے ہونے پر بالغ ہوتی ہیں ۔

٥۔ احتیاط واجب میں دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے لیکن احتیاط مستحب میں دوسرے کی طرف رجوع نہیںکیا جاسکتاہے۔


سوالات :

١۔کسی مجتہد کے اجتہاد یا اعلمیت پر کون لوگ شہادت دے سکتے ہیں؟

٢۔ کن لوگوں کو واجب اعمال انجام دینا چاہئے؟

٣۔ ایک لڑکا پہلی اپریل ١٩٨٩ء کو پیدا ہوا ہے، حساب کرکے بتائیے کہ یہ لڑکا کس تاریخ کو بالغ ہوگا؟

٤۔مندرجہ ذیل مسئلہ میں تشخیص دیجئے کہ احتیاط،واجب ہے یا مستحب:

'' احتیاط اس میں ہے کہ کسی سے نماز سکھانے کی اجرت نہ لی جائے لیکن نماز کے مستحبات سکھانے کی اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے''.


سبق نمبر٣

طہارت

جیسا کہ پہلے سبق میں بیان ہوا کہ اسلام کے عملی پروگرام کے مجموعہ کو '' احکام'' کہتے ہیں، ان ہی میں سے واجبات ہیں اور نماز ان میں سے ایک بنیادی اور اہم ترین واجب ہے۔

نماز سے متعلق مسائل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے:

١۔ مقدمات۔

٢۔ مقارنات۔

٣۔ مبطلات۔

مقدمات نماز: نماز گزار کو نماز سے قبل ان کی رعایت کرنی چاہئے۔

مقارنات نماز: وہ مسائل جو خود نماز سے متعلق ہیں، تکبیرة الاحرام سے لیکر سلام تک۔

مبطلات نماز: وہ مسائل جو ان چیزوں سے متعلق ہیں،جن سے نماز باطل ہوتی ہے۔

مقدمات نماز

اس عبادت (نماز) کو انجام دینے سے پہلے جن مسائل کی طرف نماز گزار کو توجہ دینا چاہئے ان میں سے ایک طہارت وپاک کرنا ہے۔

نماز گزار کا اپنے بدن ولباس کو ناپاک چیزوں (نجاسات ) سے پاک کرنا چاہئے اور نجاسات سے پاکی کے لئے ان کی پہچان اورنجس چیزوں کو پاک کرنے کے طریقے سے آگاہ ہونا لازمی ہے، لہٰذا پہلے اس کو بیان کرتے ہیں البتہ نجاسات کو جاننے سے پہلے اسلام کے ایک کلی قاعدہ کی طرف توجہ مبذول کرائی جاتی ہے:


دنیا میں گیارہ چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں، مگریہ کہ کوئی چیزان گیارہ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوئی ہو۔

١۔پیشاب

٢۔پاخانہ

انسان اور اُن حیوانوں کا جو حرام گوشت ہوں اور خون جہندہ رکھتے ہوںز جیسے: بلی اور چوہا وغیرہ

٣۔منی

٤۔ مردار

٥۔ خون

انسان اور ان حیوانوں کا جو خون جہنده* رکھتے ہیں،جیسے بھیڑ وغیرہ۔

٦ ۔کتّا

٧۔ سور

خشکی میں پائے جانے والے کتّے اور سور ۔ البتہ دریائی کتّا اور سور نجس نہیں ہیں۔

٨۔ شراب اور ہر مست کرنے والی سیال چیز۔

٩۔ آب جو (فقاع) غیر طبّی آب جو۔

١٠۔ کافر۔

١١۔ نجاست خور اونٹ کا پسینہ۔

____________________

* کسی حیوان کی رگ کاٹنے کے بعد جو خون اچھل کر نکلتا ہے اس خون کو ''خون جہندہ ''کہتے ہیں۔


''طہارت'' سے مراد ''صفائی'' اور ''نجاست''سے مراد ''گندگی''نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی چیز صاف ہو لیکن اسلامی احکام کی نگاہ سے پاک نہ ہو ، اسلام؛ طہارت اور صفائی دونوں کا طالب ہے۔ یعنی انسان کو اپنے اور اپنے ماحول کے بارے میںپاک اور صفائی کی فکر کرنی چاہئے اب ہم طہارت کے بارے میں بیان کرتے ہیں :

١۔ انسان اور ان تمام حرام گوشت حیوانوں کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے، جو خون جہندہ رکھتے ہیں۔'' *

٢۔ حلال گوشت حیوانوں، جیسے گائے اور بھیڑ اور خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوانوں، جیسے سانپ اور مچھلی کا پیشاب اور پاخانہ پاک ہے۔(١)

٣۔ مکروہ گوشت حیوانوں، جیسے گھوڑے اور گدھے کا پیشاب وپاخانہ پاک ہے۔(٢)

٤۔ حرام گوشت پرندوں کی بیٹ جیسے: کوا، نجس ہے(٣) * *

١۔ مردار کے احکام: ٭٭٭

مردہ انسان اگر چہ تازہ مرا ہو اور اس کا جسم سرد نہ ہوا ہو( اس کے بے جان اجزاء جیسے ناخن اور دانتکے علاوہ) اس کا پورا بدن نجس ہے(٤) مگریہ کہ :

الف: شہید معرکہ ہو۔''٭٭٭*

____________________

(١) العروة الوثقیٰ، ج ١، ص ٥.

(٢) العروة الوثقیٰ، ج ١، ص ٥٥.

(٣) توضیح المسائل، م ٨٥.

(٤) العروة الوثقیٰ، ج ١، ص ٥٨۔الرابع' ص ٦١،م ١٢.

*گلپائیگانی) احتیاط واجب کی بناء پر اس حرام گوشت حیوان کے پیشاب وپاخانہ سے بھی پرہیز کرنا چاہئے جو خون جہندہ نہ رکھتا ہو۔(مسئلہ ٨٥)

* *(دیگر مراجع)پاک ہے (مسئلہ ٨٦)


٭٭٭ مرداروہ حیوان ہے جو خود مرگیا ہویا اسے غیر شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہو۔

٭٭٭*وہ شہید جو میدان جہاد میں درجۂ شہادت پر فائز ہوا ہو۔

ب: اسے غسل دیاگیاہو( تین غسل * مکمل کئے گئے ہوں)

مردارحیوان:

١۔ خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوان کا مردارپاک ہے،، جیسے: مچھلی وغیرہ

٢۔ خون جہندہ رکھنے والے حیوان کے بے روح اجزائ،جیسے: بال، سینگ وغیرہ پاک ہیں اور روح والے اجزائ، جیسے گوشت، چمڑا وغیرہ نجس ہیں۔(١)

____________________

(١) العروة الوثقیٰ ۔ج ١، ص ٥٨، الرابع۔ تحریر الوسیلہ ج ١، ص ١١٥،الرابع.

*غسل آب سدر ،آب کافور ،اور غسل آب مطلق۔(مترجم)


خون کے احکام:

١۔ انسان اور ہر اس حیوان کا خون نجس ہے جو خون جہندہ رکھتا ہو، جیسے: مرغ اور بھیڑ وغیرہ۔

٢۔ خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوانوں کا خون پاک ہے، جیسے : مچھلی اور مچھر وغیرہ ۔

٣۔ بعض اوقات جو انڈے میں خون پایا جاتاہے وہ نجس نہیں ہے ، لیکن احتیاط واجب کی بناپر

اسے کھانے سے پرہیز کرنا چائیے۔

اگر یہ خون انڈے کی زردی کے ساتھ ملانے پر زائل ہوجائے تو اس زردی کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ *

٤۔ جوخون دانتوں کے درمیان (مسوڑوں) سے آتاہے، اگر لعاب دہن کے ساتھ مل کر زائل ہوجائے تو پاک ہے اور اس صورت میں لعاب دہن کو نگلنے میں بھی کوئی اشکال نہیںہے۔(١)

____________________

(١)توضیح المسائل۔ م ٩٦' ٩٨تا ١٠١.

* (دیگر مراجع)احتیاط واجب کی بناپر، اس انڈے کے کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے جس میں ذرہ برابر خون ہو، لیکن اگر خون انڈے کی زردی میں ہوتو اس پر موجود باریک جھلی جب تک پھٹ نہ جائے، سفیدی پاک ہے .(مسئلہ ٩٩)


سبق ٣ کا خلاصہ

١۔ نماز پڑھنے کے لئے نماز گزار کا بدن اور اس کے کپڑے پاک ہونے چاہئے۔

٢۔ گیارہ چیزوں کے علاوہ دنیامیں سب چیزیں پاک ہیں۔

٣۔ مراہوا انسان اگر میدان جہاد میں شہید نہ ہوا ہو اور اسے غسل نہ دیا گیا ہو تو نجس ہے، لیکن اس کے بے روح اجزاء پاک ہیں۔

٤۔ کتے اور سور کامردار اور خون جہندہ رکھنے والے حیوانوں کے روح دار اجزاء نجس ہیں۔

٥۔ خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوانوں کا مردار اور اسی طرح خون جہندہ رکھنے والے حیوانوں کے مردار کے بے روح اجزاء پاک ہیں۔

٦۔خون جہندہ رکھنے والے حیوانوں کا خون نجس ہے۔

٧۔ انڈے میں پایا جانے والا خون نجس نہیں ہے لیکن احتیاط واجب کی بناء پر اسے کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے، لیکن اگر یہ خون اتنا کم ہوکہ زردی کے ساتھ ملانے پر زائل ہوجائے تو اسے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

٨۔ اگر دانتوں سے آنے والاخون لعاب دہن سے ملکر زائل ہوجائے تو وہ پاک ہے اور اسے نگلنے میں کوئی بھی اشکال نہیں ۔


سوالات:

١۔سانپ، بچھو اور مینڈک کے مردار کے بارے میں کیا حکم ہے؟

٢۔ گدھے کی لید اور کوے کی بیٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟

٣۔ مسواک کرتے وقت منہ میں پائے جانے والے خون کا کیا حکم ہے؟

٤۔ کس انسان کا بدن اسکی وفات کے بعد پاک ہے؟

٥۔ کیا مردہ بھیڑکی اُون سے استفادہ کیا جاسکتاہے؟


سبق نمبر٤

پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟

گزشتہ سبق میں بیان ہوا کہ دنیا میں چند چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں ،لیکن ممکن ہے پاک چیزیں بھی نجس چیزوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائیں، اس صورت میں کہ یہ دوچیزیں ( پاک ونجس) ترہوںاور ایک کی رطوبت دوسری چیزمیں منتقل ہوجائے۔(١)

١۔ اگر ایک پاک چیز کسی نجس چیزسے ملحق ہوجائے اور ان دو میں سے ایک اس طرح ترہوکہ رطوبت دوسری چیزمیں منتقل ہوجائے، تو اس صورت میں پاک چیز نجس ہوجاتی ہے۔

٢۔ درج ذیل مواقع پر پاکی کا حکم ہے:

*معلوم نہ ہوکہ پاک اور نجس چیز آپس میں مل گئی ہیں کہ نہیں۔

*معلوم نہ ہوکہ پاک ونجس چیز ترتھی یانہیں۔

*معلوم نہ ہوکہ ایک چیز کی رطوبت دوسری چیز میں سرایت کرگئی ہے یا نہیں ۔(٢)

____________________

(١)١۔ توضیح المسائل ۔ م١٢٥.

(٢)توضیح المسائل ) ١٢٦، والعروة الوثقیٰ ج ١، ص ٧٩، م١


چند مسئلے:

اگر انسان نہ جانتاہوکہ ایک پاک چیزنجس ہوگئی ہے یانہیں؟ تووہ پاک ہے اور تحقیق وجستجو کرنا ضروری نہیں،اگرچہ جستجو کرنے سے اس کا نجس یاپاک ہونا معلوم ہوسکتا ہو ۔(١ )

٢۔ نجس چیز کا کھانا یا پینا حرام ہے۔(٢)

٣۔ اگر کوئی شخص کسی کو نجس چیز کھاتے ہوئے یا نجس لباس میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھے تو اس کو بتانا ضروری نہیں ہے۔(٣)

مطہرات (پاک کرنے والی چیزیں)

نجس چیز کیسے پاک ہوتی ہے؟

تمام نجس چیزیں پاک ہوجاتی ہیں اور پاک کرنے والی عمدہ چیزیں حسب ذیل میں :

١۔پانی۔

٢۔ زمین۔

٣۔ آفتاب۔

٤۔ اسلام۔

٥۔ نجاست کازائل ہونا۔(٤)

پانی، بہت سی نجس چیزوں کو پاک کرتاہے۔ لیکن پانی کی مختلف قسمیں ہیں کہ انھیں جاننے سے اس سے مربوط مسائل کو یاد کرنے میں ہمیں مدد ملتی ہے۔

پانی کی قسمیں: ١۔ مضاف

٢۔مطلق *** ١۔کنویں کا پانی ٢۔ جاری پانی ٣۔ بارش کا پانی ٤۔ٹھہرا اہوا پانی *** ١۔کُر: ٢۔قلیل:

____________________

(١)توضیح مسائل م١٢٣.

(٢) توضیح المسائل م،١ ١٤

(٣) توضیح المسائل۔م ١٤٣.

(٤)توضیح المسائل۔م ١٤٨


مضاف پانی:

وہ پانی جو کسی چیز سے لیا گیا ہو ( جیسے: سیب اور تربوز کا پانی) یا کسی دوسری چیز کے ساتھ ایسے مخلوط ہو کہ اسے پانی نہ کہا جائے، جیسے شربت وغیرہ ۔

مطلق پانی:

وہ پانی ہے جو مضاف نہ ہو ۔

مضاف پانی کے احکام:

١۔نجس چیز کو پاک نہیں کرتا (مطہرات میں سے نہیں ہے)

٢۔ یہ نجاست ملنے پر نجس ہوتا ہے، ہر چند کہ نجاست کم ہو اور بو، رنگ یاپانی کا مزہ تبدیل نہ ہو۔

٣۔ اس سے وضو اور غسل کرنا باطل ہے۔(١)

مطلق پانی کی قسمیں:

پانی یازمین سے ابلتاہے۔

یا آسمان سے برستاہے۔

یانہ ابلتاہے اور نہ برستاہے۔

آسمان سے برسنے والے پانی کو ''بارش'' کہتے ہیں ۔

زمین سے ابلنے والا پانی اگر بہہ رہا ہو تو اسے آب جاری کہتے ہیں اور اگرٹھہرا ہوا ہو تو اسے کنویں کا پانی کہتے ہیں۔

____________________

(١) توضیح المسائل، م ٤٧ ۔ ٤٨


وہ پانی جو زمین سے نہ ابلتا ہو اور نہ آسمان سے برستا ہو، اسے'' ٹہرا ہوا پانی'' کہتے ہیں '' ٹھہراہوا پانی'' اگر مقدار میں زیادہ ہوتو اسے''کر'' کہتے ہیں اور اگر کم ہو تو اسے '' قلیل'' کہتے ہیں۔

کرکی مقدار(١)

حجم: ٨٧٥ ٤٢ بالشت پانی ہے یہ پانی کی وہ مقدارہے جو ایک ایسے ظرف میں پُرہوجائے جس کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی، ہر ایک سے کم ٥ ٣ بالشت ہو تو اسے کر کہتے ہیں۔ * وزن:٤١٩ ٣٧٧ کلو گرام۔

____________________

(١) تحریر الوسیلہ ۔ ج ١ ص ١٤،م١٤، توضیح المسائل۔ م١٦

* (خوئی)اگر لمبائی،چوڑائی اور گہرائی ہرایک ٣ بالشت ہوتو کرہے (مسئلہ ١٦)


آب قلیل کی مقدار:

جوپانی کرسے کم ہو، اسے قلیل کہتے ہیں۔

صرف آب مطلق، نجاسات کو پاک کرسکتاہے، اگرچہ ممکن ہے آب مضاف کسی گندی چیز کو صاف کر لے لیکن ہرگزنجس چیز کو پاک نہیں کرسکتا۔

اس کے بعد والے سبق میں ہم مطلق پانی کے احکام اور ان سے پاک کرنے کے طریقوں کے بارے میں آگاہ ہوجائیں گے۔

سبق:٤ کا خلاصہ

١۔ مطہرات، تمام نجاست کو پاک کرتی ہیں، یعنی کوئی نجس چیز ایسی نہیں ہے جسے پاک نہ کیا جاسکے۔

٢۔ اہم مطہرات سے مراد یہ ہیں: پانی، زمین آفتاب، اسلام اور نجاست کا زائل ہونا۔

٣۔ پانی مطہرات میں سے ہے اور یہ مطلق پانی ہے نہ مضاف ۔

٤۔ جو پانی زمین سے ابل کر بہتا ہے اسے'' جاری پانی'' کہتے ہیں اور جو پانی زمین سے ابلنے کے بعد نہیں بہتا، اسے کنویں کاپانی کہتے ہیں۔

جو پانی نہ ابلتا ہواور نہ برستاہو، اسے ٹھہرا پانی کہتے ہیں، ٹھہرا پانی اگر زیادہ ہو تو اسے'' کر'' کہتے ہیں اور اگر کم ہوتو اسے ''قلیل'' کہتے ہیں۔

٥۔ اگر پانی کا وزن ٧٧٤١٦ ٣کیلو گرام تک پہونچ جائے تو وہ ''کر'' ہے۔


سوالات:

١۔مطلق اور مضاف پانی میں کیا فرق ہے؟

٢۔ جاری اور کنویں کے پانی میں کیا فرق ہے ؟

٣۔ جس پانی کے حوض کی لمبائی ٢٥ بالشت، چوڑائی ٥بالشت اور گہرائی ایک بالشت ہو، حساب کرکے بتائے کہ کیا یہ کرہے یا نہیں؟

٤۔ ایک شخص کا ترپائوں نجس فرش سے لگ گیا ہے، لیکن نہیں جانتاکہ اس کے پائوں کی رطوبت نے فرش پر سرایت کی ہے یانہیں، آیااس کا پائوں نجس ہوا یا نہیں؟


سبق نمبر٥

پانی کے احکام

آب قلیل:

١۔ آب قلیل، نجاست ملنے سے نجس ہوجاتا ہے۔ (چاہے کسی نجس چیز پر ڈالا جائے یا کوئی نجس چیز اس میں گر جائے)(١)

٢۔ اگر کر یاجاری پانی، نجس آب قلیل سے متصل اور مخلوط ہوجائے، تو پاک ہوجاتاہے۔ (مثال کے طور پر ایک برتن میں نجس آب قلیل کسی ایسے ٹوٹی کے نیچے رکھ کر اوپرسے پانی جاری کیا جائے کہ وہ کرکے منبع سے متصل ہو)(٢) *

کر، جاری اور کنویں کا پانی :

١۔ آب قلیل کے علاوہ آب مطلق کی تمام قسمیں جب تک نجاست ملنے کی وجہ سے نجاست کی بو

____________________

(١)توضیح المسائل ،م ٢٦.

* پانی سے تطہیر کرنے میں شرط ہے کہ پانی نجاست کی بو، رنگ یامزہ نہ رکھتاہو ،اگر بو، رنگ یامزہ لے لیا ہو تو اس قدر آب کر یا جاری سے مخلوط کیا جائے کہ نجاست کی بو، رنگ ومزہ زائل ہو جائے ۔

(٢)۔ تحریر الوسیلہ ۔ ج ا،ص ١٤، م ١١


یا رنگ یا مزہ نہ لے،پاک ہیں اور اگر نجاست ملنے کی وجہ سے نجاست کی بویا رنگ یا مزہ سرایت کرجائے تو نجس ہیں (اس لحاظ سے آب جاری، کنویں کا پانی، کروحتی بارش کاپانی بھی اس حکم میں مشترک ہیں)(١)

٢۔ عمارتوں کے نلکوں کا پانی، چونکہ کرکے منبع سے متصل ہوتا ہے، اس لئے آب کرکے حکم میں ہے۔(٢)

بارش کے پانی کی بعض حضوصیات:

١۔ ایک ایسی نجس چیز جس میں عین نجاست نہ ہوز، اس پر اگر ایک بار بارش ہوجائے تو پاک ہوجائیگی۔

٢۔ اگرنجس فرش اور لباس پر بارش ہوجائے تو وہ پاک ہوجاتے ہیں اور انھیں نچوڑنے کی ضرورت نہیں۔٭٭

٣۔ اگر نجس زمین پر بارش ہوجائے، تو پاک ہوجاتی ہے۔

٤۔ اگر بارش کا پانی ایک جگہ جمع ہوجائے، اور وہ کرسے کم بھی ہو، جب تک بارش ہوئی رہے، اس میں نجس چیز کو دھویا جائے تو پاک ہے، بشرطیکہ اس پانی میں نجاست کی بو، رنگ یا مزہ سرایت نہ کرے(٣)

(٢) پانی میں شک کے احکام:

١۔ پانی کی وہ مقدار جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ کرہے یا نہیں ؟ نجاست ملنے سے وہ پانی نجس نہیں ہوتا ، لیکن آب کرکے دیگر احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے۔

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ا،ص ١٣،م.

(٢)توضیح المسائل ) ٣٥.

(٣)توصیح المسائل۔م ٣٧،. ٤، ٤١، ٤٢

*عین نجس وہ چیز ہے کہ خود نجس ہو، جیسے پیشاب وخون

٭٭ صفحہ ٣٩ پر آئے گا کہ (چھوٹا) فرش ولباس وغیرہ کو دھوتے وقت ہر مرتبہ دھونے کے بعد اسے نچوڑنا چاہئے تاکہ اندرکا پانی باہرآئے.


٢۔ پانی کی وہ مقدار جو پہلے کرتھی اب اس میں شک ہو کہ یہ پانی قلیل ہوگیا ہے یا نہیں؟ تو وہ کر کے حکم میں ہے ۔

٣۔ جس پانی کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ پاک ہے یا نہیں ؟پاک ہے۔

٤۔ پاک پانی کے بارے میں اگر شک ہوجائے کہ نجس ہوگیا یا نہیں ؟ تو وہ پاک پانی کے حکم میں ہے ۔

٥۔نجس پانی کے بارے میں اگر شک ہوجائے کہ پاک ہوایا نہیں، تو وہ نجس ہے۔

٦۔ مطلق پانی کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مضاف ہوا ہے یا نہ، تووہ مطلق کے حکم میں ہے۔(١)

پانی سے نجس چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ:

پانی زندگی کی بنیاد اور اکثر نجاسات کو پاک کرنے والا ہے، یہ ان مطہرات میں سے ہے جس سے تمام لوگوں کوروزانہ سروکار رہتاہے ،اب ہم اس سے چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ سیکھتے ہیں:

____________________

(١)العروة الوثقی۔ ج اص ٩ ٤، تحریر الوسیلہ۔ ج ١ص١٥،م١٥.

(٢)توضیح المسائل ، م ١٥٠،١٥٩ ١٦٠.

*مرحوم خوئی :اگر لباس اور اس کے مانند کوئی چیز پیشاب سے نجس ہوئی ہو تو آب کُر سے بھی دو بار دھونا لازم ہے۔(مسئلہ ١٦٠)


وضاحت:

الف: چیزوں کو پاک کرنے کے سلسلے میں پہلے عین نجاست کا دور کرنا چاہئے اور اس کے بعد مندرجہ بالا تعداد میں دھونا چاہئے۔مثلاً نجس برتن کو اس کی عین نجاست، دورکرنے کے بعد اگرآب کرسے ایک مرتبہ دھویا جائے تو کافی ہے۔

ب۔ فرش اور لباس اور ان جیسی دوسری چیزیں جو اپنے اندر پانی کو جذب کرتی ہیں اور نچوڑنے کے قابل ہوں تو انھیںقلیل پانی سے دھونے کی صورت میں ہربار دھونے کے بعد اس حد تک نچوڑناچاہئے کہ جذب شدہ پانی باہر آجائے یا کسی اور طریقے سے پانی کو باہر نکالنا چاہئے، کر اور جاری پانی سے دھونے کی صورت میں بھی احتیاط واجب ہے کہ جذب شدہ پانی کو باہر نکالا جائے۔(*)

جاری اورکنویں کا پانی بھی نجس چیزوں کو پاک کرنے کے سلسلے میں بیان شدہ احکام کے مطابق آب کرکے مانند ہے۔

مسئلہ:

ایک نجس برتن کو حسب ذیل طریقے سے دھویا جاسکتاہے:

کر پانی سے: پانی میں ایک بار ڈبو کر باہر نکالا جائے۔

آب قلیل سے: تین بار اس میں پانی بھر کر خالی کیا جائے، یا اس میں تین بار پانی ڈال کر ہر مرتبہ پانی کو اس طرح گھمایا جائے کہ پانی نجس جگہوں تک پہنچ جائے اور اس کے بعد اسے پھینک دیا جائے۔

____________________

*(خوئی)اسے نچوڑنا لازم ہے (اراکی، گلپائیگانی) آب کر میں نچوڑنا لازم نہیں ہے (مسئلہ ١٦١)


سبق ٥ کا خلاصہ

١۔ آب قلیل، نجاست ملنے سے نجس ہوتاہے۔

٢۔ کر، جاری، کنویں اور بارش کا پانی اگر نجاست ملنے سے نجاست کی بو، رنگ یا مزہ اس میں سرایت کرے تو نجس ہوجاتاہے۔

٣۔ وہ پانی جو کرکے حکم میں ہے اس وقت تک پاک ہے جب تک نجاست کی بو، رنگ یا مزہ اس میں سرایت نہ کرجائے۔

٤۔ بارش کا پانی پاک کرنے والاہے اور فرش اور لباس میں انہیں نچوڑنا ضروری نہیں ہے اور جب تک نجاست کی بو، رنگ یا مزہ اس میں سرایت نہ کرے، پاک ہے۔

٥۔ وہ پانی جس کے بارے میں معلوم نہیں، کرہے یا نہ؟ نجاست ملنے سے نجس نہیں ہوتا ۔

٦۔ جس پانی کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ پاک ہے یا نہیں؟ پاک پانی کے حکم میں ہے۔

٧۔جس پانی کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مطلق ہے یا مضاف، تو مطلق پانی کے حکم میں ہے ۔

٨۔برتن کے علاوہ تمام نجس چیزیں ایک مرتبہ دھونے سے پاک ہوجا تی ہیں، البتہ اگر پیشاب سے نجس ہوئی ہوں تو آب قلیل سے دوبار دھونا چاہئے۔

٩۔ فرش اور لباس اور ان جیسی چیزوں کو پاک کرتے وقت ہر بار دھونے کے بعد انھیں نچوڑا جائے یا کسی اور طریقے سے جذب شدہ پانی کو باہر نکالا جائے۔


سوالات:

١۔ آب کر کیسے نجس ہوتا ہے؟

٢۔ کیا بارش کا پانی جو ایک جگہ جمع ہوا ہو اور بارش تھم گئی ہو، بارش کے پانی کا حکم رکھتا ہے؟

٣۔ اگر پانی کا ایک منبع جو کرسے زیادہ تھا، شک کیا جائے کہ اس میں موجود پانی کرہے یا نہ ؟ تو اس کا کیا حکم ہے؟

٤۔ خون سے نجس شدہ لباس کو آب قلیل اور نہر کے پانی سے کیسے دھویا جائے؟


سبق نمبر ٦

نجس زمین کو پاک کرنے کا طریقہ

زمین کو پاک کرنا۔(۱)

١۔ آب کرسے: پہلے نجاست کو دور کریں، اس کے بعد کریا جاری پانی اس پر اس قدر ڈالیں کہ پانی تمام نجس جگہوں تک پہنچ جائے۔

٢۔ آب قلیل سے:

١۔اگر زمین پر پانی جاری نہیں ہوتا ( یعنی زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرتی ہے تو وہ) قلیل پانی سے پاک نہیں ہوگی *

٢.پانی زمین پرجاری ہوتاہے:جہاں پانی جاری ہوگیا، وہ جگہ پاک ہوجائے گی ۔

مسئلہ ١: نجس دیوار بھی، نجس زمین کی طرح پاک کی جاسکتی ہے۔(٣)

مسئلہ ٢: زمین کو پاک کرتے وقت اگر پانی جاری ہوکر کنویں میں جائے یااس جگہ سے باہرجائے تو وہ تمام جگہیں پاک ہوجاتی ہیں جہاں سے پانی جاری ہوا ہے۔

____________________

(۱)توضیح المسائل، م ١٧٩۔ ١٨٠.

*(اراکی) زمین کا اوپر والا حصہ پاک ہوگا،( مسئلہ ١٧٨ )(خوئی) پاک ہوجائے گی (مسئلہ ١٨٠)

(٣)توضیح المسائل، م ١٧٩۔ ١٨٠.


زمین:

١۔ اگر پائوں کے تلوے یا جوتے کا تلا راہ چلتے نجس ہوجائیں اور زمین کے ساتھ چھونے کی وجہ سے نجاست دور ہوجائے، تو پاک ہوجاتے ہیں۔پس زمین صرف پائوں کے تلوے اور جوتے کے تلے کو پاک کرنے والی ہے، وہ بھی حسب ذیل شرائط کی بناپر:

*زمین پاک ہو۔

*زمین خشک ہو۔

*زمین اس صورت میں پاک کرنے والی ہے جب مٹی، ریت، پتھر، اینٹ اور ان جیسی چیزکی ہو۔(١)

مسئلہ: اگر زمین سے چھونے کی وجہ سے پائوں کے تلوے یا جوتے کی تہ میں موجود نجاست زائل ہوجائے تو یہ پاک ہوجاتے ہیں، لیکن بہتر ہے کم ازکم پندرہ قدم راہ چلیں۔(٢)

آفتاب :

آفتاب بھی آئندہ بیان ہونے والی شرائط کے ساتھ درج ذیل چیزوں کو پاک کرتاہے :

*زمین

*عمارت اور وہ چیزیں جو عمارت میں نصب کی جاتی ہیں، جیسے دروازہ اور کھڑکی وغیرہ.

*درخت اور نباتات۔(٣)

آفتاب کے مطہر ہونے کی شرائط:

*نجس چیز اتنی ترہوکہ کسی چیزکے اس سے چھونے کی صورت میں وہ چیز بھی تر ہوجائے۔

*نجس چیز آفتاب کی گرمی سے خشک ہوجائے، اگر رطوبت باقی رہے تو پاک نہیں ہوگی۔

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ١٨٣، ١٩٢. (٢) العروة الوثقیٰ، ج١، ٢ص ١٢٥.

(٣)العروة الوثقیٰ، ج ١، ص ١٢٩، وتحریر الوسیلہ، ج ١، ص ١٣٠.


*بادل یا پردہ جیسی کوئی چیز آفتاب کی گرمی کے لئے مانع نہ ہو، البتہ اگر یہ چیز رقیق اور اتنی نازک ہوکہ آفتاب کی گرمی کو نہ روک سکے تو کوئی حرج نہیں ۔

*صرف آفتاب اسے خشک کرے، مثال کے طور پر ہوا کی مددسے خشک نہ ہوجائے۔

*آفتاب پڑنے کے وقت عین نجاست زاس میں موجود نہ ہو، پس اگر عین نجاست موجود ہوتو آفتاب پڑنے سے پہلے اسے برطرف کیا جائے۔

*دیوار یازمین کے باہر اور اندر والے حصہ ایک ہی دفعہ خشک کرے پس اگر اس کے باہر والے حصہ کو آج خشک کرے اور اس کے اندروالے حصہ کو کل تو اس صورت میں صرف اس کا باہروالاحصہ پاک ہوگا۔

مسئلہ: اگر زمین اور اس کے مانند کوئی اور چیز نجس ہو، لیکن ترنہ ہوتو اس پر تھوڑا ساپانی یا کوئی اور چیز ڈال کر اسے ترکیا جائے اور اس کے بعد آفتاب پڑنے سے وہ پاک ہوسکتاہے۔(١)

اسلام :

کافر، شہادتین پڑھنے کے بعد مسلمان ہوجاتاہے اور اسلام لانے سے، اس کا تمام بدن پاک ہوجاتاہے، یعنی کہے:''اشهدان لااله الا اﷲ واشهدان محمداً رسول اﷲ''. (٢)

____________________

* جیسے خون عین نجاست ہے۔

(١) العروة الوثقیٰ، ج١، ص ١٢٩ تا ١٣١ 'تحریر الوسیلہ'ج ١، ص ١٣٠.

(٢)تحریر الوسیلہ،ج١،ص١٣١توضیح المسائلم ٢٠٧.


عین نجاست کا برطرف ہونا:

دومواقع پر عین نجاست کے برطرف ہونے سے نجس چیز پاک ہوجاتی ہے اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں:

الف: حیوان کا بدن، مثلا ایک پرندہ کی چونچ نجاست کھانے کی وجہ سے نجس ہوگئی ہوتو نجاست برطرف ہونے پر پاک ہوجاتی ہے۔

ب۔ انسان کے بدن کا اندرونی حصہ، جیسے منھ، ناک اور کان کا اندرونی حصہ ۔مثلاً اگر مسواک کرتے وقت مسوڑوں سے خون آئے، جب آب دہن میں خون کا رنگ نہ ہوتو پاک ہے اور منھ کے اندر پانی ڈالنے کی ضروت نہیں(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ٢١٦، ٢١٧


سبق: ٦ کا خلاصہ

١۔ جس زمین پر پانی جاری نہ ہوتا ہو، وہ آب قلیل سے پاک نہیں ہوتی ۔

٢۔ اگر کسی زمین کو آب قلیل سے پاک کیا جائے، جہاں سے پانی جاری ہوجائے وہ جگہ پاک ہوگی اور وہ جگہ جہاں پانی جمع ہوجائے، نجس ہے۔

٣۔ اگر پائوں کے تلوے اور جوتے کی تہ نجس ہوں اور زمین پر چلنے سے ، نجاست برطرف ہوجائے، توپاک ہوتے ہیں۔

٤۔ آفتاب چند شرائط کے ساتھ، زمین، عمارت، درخت اور نباتات کو پاک کرتا ہے۔

٥۔ اگر کافر، مسلمان ہوجائے ،تو پاک ہوجاتاہے۔

٦۔ منہ اور ناک کے اندر نجاست برطرف ہونے سے یہ دونوں پاک ہوجاتے ہیں اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔


سوالات:

١۔ دیوار کا ایک حصہ نجس ہوا ہے، وضاحت کیجئے کہ اسے کس طرح پاک کیا جائے؟

٢۔ جوتے کی تہ اگر نجس کیچڑسے ناپاک ہوئی ہو تو راہ چلنے سے کب پاک ہوگی؟

٣۔ کیا آفتاب، لکڑی، گندم اور چاول کو پاک کرتا ہے؟

٤۔ کافر اگر شہادتین کو انگریزی یا اردو میں پڑھے تو کیا وہ پاک ہوگا؟


سبق نمبر٧

وضو

نماز کے پہلے مقدمہ، یعنی بدن اور لباس نجاست سے پاک کرنے کے بعد ہم دوسرے مقدمہ یعنی ''وضو''کو بیان کرتے ہیں۔

نماز گزار کے لئے نماز پڑھنے سے پہلے ، وضو کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو اس عظیم عبادت کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔

بعض مواقع پر''غسل'' بھی کرنا چاہئے، یعنی پورے بدن کو دھونا اور اگر وضو یا غسل کرنے سے معذور ہوتو، ان کی جگہ پر ایک دوسرا کام بنام''تیمم'' بجالائے کہ اس سبق اور آئندہ چند درسوں میں ان میں سے ہر ایک کے احکام بیان کئے جائیں گے ۔

وضو کا طریقہ:

وضو میں سب سے پہلے چہرے کو دھونا چاہئے اور اس کے بعد دائیں ہاتھ کو پھر بائیں ہاتھ کو، ان اعضاء کو دھونے کے بعد، ہتھیلی میں بچی رطوبت سے سرکا مسح کریں یعنی بائیں ہاتھ کو سرپر کھینچ لیں اور اس کے بعد دائیں پائوں اور پھر بائیں پائوں کا مسح کریں۔ اب وضو کے اعمال کے بارے میں بیشتر آشنائی حاصل کرنے کے لئے درج ذیل خاکہ ملا حظہ فرمائیں:


اعمال ِوضو(١)

١۔دھونا:

١۔ چہرہ

٢۔ دایاں ہاتھ

٣۔بایاں ہاتھ

لمبائی میں بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کی انتہا تک، اور چوڑائی میں انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے فاصلہ کے برابر ،چہرہ کو دھویا جائے۔ کہنی سے انگلیوں کے سرے تک

٢۔مسح :

١۔سر سرکے اگلے حصہ کا جو پیشانی کے اوپر واقع ہوتا ہے

٢۔ دایاں پائوں

٣۔بایاں پائوں

انگلیوں کے سرے سے پیرکے اوپر والے حصے کے آخر تک *

اعمال وضوکی وضاحت:

دھونا:

١۔چہرے اور ہاتھ دھونے کی واجب مقدار وہی ہے جو بیان ہوئی لیکن یہ یقین حاصل کرنے کے لئے کہ واجب مقدار کو دھولیا ہے، تھوڑا سا چہرے کے اطراف کو بھی دھونے میں شامل کرلیں۔(٢)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ،ج١،ص٢١.م١.

(٢)تحریر الوسیلہ ،ج١،ص٢١م١،٢.

* ( تمام مراجع) احتیاط واجب اس میں ہے کہ جوڑ تک بھی مسح کریں (مسئلہ ٢٥٨)


٢۔ احتیاط واجب کی بناپر ز چہرے اور ہاتھوں کو ،اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے، اور اگر نیچے سے اوپرکی طرف دھویا جائے ،تو وضو باطل ہے۔(١)

سرکا مسح:

١۔ مسح کی جگہ: سرکا اگلا ایک چوتھائی حصہ جو پیشانی کے اوپر واقع ہے۔

٢۔ مسح کی واجب مقدار: جس قدر بھی ہوکافی ہے(اس قدر کہ دیکھنے والا یہ کہے کہ مسح کیاہے)۔

٣۔ مسح کی مستحب مقدار: چوڑائی میں جڑی ہوئی تین انگلیوں کے برابر اور لمبائی میں ایک انگلی کی لمبائی کے برابر۔

٤۔ مسح بائیں ہاتھ سے بھی جائز ہے ٭٭

٥۔ ضروری نہیں ہے کہ مسح، سرکی کھال پر کیا جائے بلکہ سرکے اگلے حصے کے بالوں پر بھی صحیح ہے۔ اگر سرکے بال اتنے لمبے ہوں کہ کنگھی کرنے سے بال چہرے پر گرجائیں تو سرکی کھال پر یا بالوں کی جڑ پر مسح کیا جائے گا ۔

٦۔ سرکے دیگر حصوں کے بالوں پر مسح جائز نہیں ہے اگرچہ وہ بال سرکے اگلے حصے یعنی مسح کی جگہ پر ہی کیوں نہ جمے ہوئے ہوں۔(٢)

پا ؤں کا مسح:

١۔مسح کی جگہ: پائوں کا اوپر والاحصہ۔

____________________

(١)توضیح المسائل م٢٤٣.

(٢)توضیح المسائل ۔م ٢٤٩و ٥٠ ٢ و ٢٥١و ٢٥٧ وتحریر الوسیلہ ج ١ ص ٢٣ م١٤.

٭ (تمام مراجع) اوپرسے نیچے کی طرف دھویا جائے۔(مسئلہ ٢٤٩)

٭٭ ( تمام مراجع ) احتیاط واجب کی بناپر دائیں ہاتھ سے مسح کرنا چاہئے (مسئلہ ٢٥٥)


٢۔ مسح کی واجب مقدار: لمبائی میں انگلیوں کے سرے سے پائوں کے اوپر والے حصے کی ابھار تک زاور چوڑائی میں جس قدر بھی ہو کافی ہے اگر چہ ایک انگلی کے برابر ہو۔

٣۔ مسح کی مستحب مقدار: پائوں کا اوپر والا پورا حصہ۔

٤۔دائیں پائوں کا بائیں پائوں سے پہلے مسح کرنا چاہئے۔ ٭٭ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ دائیں پائوں کو دائیں ہاتھ سے اور بائیں پائوں کو بائیں ہاتھ سے مسح کریں۔(١)

سراور پاؤں کے مسح کے مشترک مسائل:

١۔ مسح میں ہاتھ کو سراور پائوںپر کھینچنا چاہئے اور اگر ہاتھ کو ایک جگہ قرار دے کر سریاپائوں کو اس پرکھنچ لیا جائے تو وضو باطل ہے، لیکن اگر ہاتھ کو کھینچتے وقت سریا پائوں میں تھوڑی سی حرکت پیدا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔(٢)

٢۔ اگر مسح کے لئے ہتھیلی میں کوئی رطوبت باقی نہ رہی ہو تو ہاتھ کو باہر کے کسی پانی سے تر نہیں کرسکتے ،بلکہ وضو کے دیگر اعضاء سے رطوبت کو لے کر اس سے مسح کیا جائے گا۔(٣)

٣۔ ہاتھ کی رطوبت اس قدر ہونا چاہئے کہ سراور پائوں پر اثر کرے۔(٤)

٤۔مسح کی جگہ (سر اور پائوں کا اوپر والا حصہ)خشک ہونا چاہئے،اس لحاظ سے اگر مسح کی جگہ تر ہو تو اسے پہلے خشک کرلینا چاہئے، لیکن اگر رطوبت اتنی کم ہو کہ ہاتھ کی رطوبت کے اثر کے لئے مانع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔(٥)

____________________

(١) توضیح المسائل م٢٥٢ ٢٥٣ والعروة الوثقی، ج ١ص ٩ ٢٠ (٢)توضیح المسائل م ٢٥٥.

(٣)توضیح المسائل م٢٥٧. (٤)العروة الوثقیٰ ج١ ص٢١٢،م٢٦.

(٥)العروة الوثقیٰ ج١ص٢١٢م٢٦.

*تمام مراجع)احتیاط واجب یہ ہے کہ جوڑ تک بھی مسح کیا جائے.(مسئلہ ٣٤٩)

٭٭گلپائیگانی، اراکی،) بائیں پائوں کا دائیں پائوں سے پہلے مسح نہ کرے(خوئی) احتیاط کی بنا پر بائیں پائوں پر دائیں پائوں کے بعد مسح کرے۔(شرائط وضو شرط ٩)


٥۔ہاتھ اور سریا پائوں کے درمیان کپڑا یا ٹوپی یا موزہ اورجوتا جیسی کسی چیز کا فاصلہ نہیں ہوناچاہئے،اگر چہ یہ چیزیں رقیق اور نازک ہی کیوںنہ ہوں ،اور رطوبت کھال تک پہنچ بھی جائے، (مگر یہ کہ مجبوری ہو)(١)

٦۔مسح کی جگہ پاک ہونی چاہئے،پس اگر نجس ہو اور اس پر پانی نہ ڈال سکتا ہوتو تیمم کرنا چاہئے۔(٤)

سبق:٧ کا خلاصہ

١۔وضو،یعنی چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھونا اور سر اور پائوں کا (آئندہ بیان ہونے والے شرائط کے ساتھ ) مسح کرنا۔

٢۔احتیاط واحب کی بنا پر چہرے اور ہاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاہئے۔

٣۔وضو میں چہرے اور ہاتھوں کو دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے اور پائوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کرناچاہئے۔

٤۔سر کے مسح کی واجب مقدار اس قدر ہے کہ دیکھنے والا کہے کہ مسح کیا۔

٥۔سر کا مسح سر کے اگلے حصے پر کرنا چاہئے جو پیشانی کے اوپر واقع ہوتا ہے۔

٦۔پائوں کا مسح جس قدر ہو کافی ہے،اگر چہ ایک انگلی کے برابر بھی ہو، لیکن لمبائی میں انگلی کے سرے سے پائوں کے اوپر والے حصے کے ابھار تک ہونا چاہئے۔

٧۔مسح میں:

*ہاتھ کو مسح کی جگہ پر کھینچنا چاہئے۔

*مسح کی جگہ پاک ہو ۔

____________________

(١)العروة الوثقیٰ ج١ ص٢١٢،م٢٧.

(٢)توضیح المسائل ۔م۔٢٦٠.

*مسح کی جگہ اور ہاتھ کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔


سوالات:

١۔وضو کے احکام بیان کیجئے؟

٢۔جس شخص نے اپنے سر کے ایک طرف کے بال کو کنگھی سے آگے کرلیا ہو تو مسح کے وقت اس کا کیا فریضہ ہے؟

٣۔ایسے چار مسائل بیان کیجئے جو سر اور پائوں کے مسح میں مشترک ہوں؟

٤۔کیا راہ چلتے ہوئے سر کا مسح کیا جاسکتا ہے؟

٥۔کیا سخت سردیوں میں موزہ پر مسح کیا جاسکتا ہے؟

٦۔سر اور پائوں کے مسح کی واجب او رمستحب مقدار کو بیان کیجئے؟


سبق نمبر٨

وضو کے شرائط

بیان ہونے والے شرائط کے ساتھ وضو صحیح ہے،اور ان میں سے کسی ایک کے نہ ہونے پر وضو باطل ہے۔

وضوکے شرائط:

١ ۔وضو کے پانی اور برتن کے شرائط

١۔وضو کا پانی پاک ہو (نجس نہ ہو )۔

٢۔وضو کا پانی مباح ہو (غصبی نہ ہو)۔*

٣۔ وضو کا پانی مطلق ہو(مضاف نہ ہو)۔

٤۔وضو کے پانی کا برتن مباح ہو۔

٥۔وضو کے پانی کا بر تن سونے اور چاندی کانہ ہو ۔

٢۔ اعضائے وضو کے شرائط:

١۔ پاک ہو ں۔

٢۔ ان تک پانی پہنچنے میں کوئی چیز مانع نہ ہو۔

٣۔ کیفیت وضوکے شرائط :

١ ۔ترتیب کی رعایت(اعمال وضو میں بیان ہوئی ترتیب کے مطابق)

٢۔موالات کی رعایت (اعمال وضو کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔

٣۔ خودانجام دے ( کسی اور سے مدد نہ لے)۔

٤۔وضو کرنے والے کے شرائط :

١۔اس کے لئے پانی کا استعمال باعث حرج نہ ہو ۔

٢۔ قصد قربت سے وضو کرے ( ریاکاری نہ کرے)۔

____________________

*(تمام مراجع)وضو کاپانی اورو ہ فضا جس میں وضو کیا جاتا ہے، وہ بھی مباح ہو(مسئلہ ٢٧٢کے بعد ،تیسری شرط)


وضو کے پانی اور اس کے برتن کے شرائط

١۔نجس او رمضاف پانی سے وضو کرنا باطل ہے،خواہ جانتا ہو کہ پانی نجس یامضاف ہے یا نہ جانتا ہو، یا بھول گیا ہو۔(١)

٢۔وضو کا پانی مباح ہونا چاہئے،اس لحاظ سے درج ذیل مواقع پر وضو باطل ہے:

*اس پانی سے وضو کرنا،جس کا مالک راضی نہ ہو(اس کا راضی نہ ہونا معلوم ہو)

*اس پانی سے وضو کرنا،جس کے مالک کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ راضی ہے یا نہیں۔

*اس پانی سے وضو کرنا جوخاص افراد کے لئے وقف کیا گیا ہو،جیسے:بعض مدرسوں کے حوض اور بعض ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے وضو خانے...(٢)

٣۔بڑی نہروں کے پانی سے وضو کرنا،اگر چہ انسان نہ جانتا ہو کہ اس کا مالک راضی ہے یا نہیں، کوئی حرج نہیں ،اگر اس کا مالک وضو کرنے سے منع کرے،تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وضو نہ کیا جائے۔(٣)

٤۔اگر وضو کا پانی غصبی برتن میں ہو اور اس سے وضو کر لیا جائے تو وضو باطل ہے۔(٤)

اعضائے وضو کے شرائط

١۔دھونے اور مسح کرنے کے وقت ،اعضاء وضو کا پاک ہونا ضروری ہے۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل٢٦٥.

(٢)العروة الوثقیٰ ج١ ص٢٢٥م٦،٧،٨، توضیح المسائل م ٢٦٧ تا ٢٧٢.

(٣)توضیح المسائل ،مسئلہ٢٧١.

(٤)توضیح المسائل ۔شرائط وضو۔شرط چہارم.

(٥)توضیح المسائل ص٣٥،شرط ششم.


٢۔اگر اعضائے وضو پر کوئی چیز ہو جو پانی کے اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہو یا مسح کے اعضاء پر ہو،اگر چہ پانی پہنچنے میں مانع بھی نہ ہو،وضو کے لئے اس چیز کو پہلے ہٹانا چاہئے۔(١)

٣۔ بال پین کی لکیریں،رنگ ،چربی اور کریم کے دھبے،جب رنگ جسم کے بغیر ہوں،تو وضو ء کے لئے مانع نہیںہیں،لیکن اگر جسم رکھتا ہو تو (کھال پر جسم حائل ہو نے کی صورت میں )اول اسے برطرف کرنا چاہئے۔(٢)

(٥) کیفیت وضو کے شرائط

ترتیب(٣)

:وضو کے اعمال ا س ترتیب سے انجام دئے جائیں:

*چہرہ کا دھونا

*دائیںہاتھ کا دھونا

*بائیںہاتھ کا دھونا

*سر کا مسح

*دائیں پیر کا مسح

*بائیں پیر کامسح

اگر اعمال وضو میں ترتیب کی رعایت نہ کی جائے تو وضو باطل ہے،حتیٰ اگر بائیں اور دائیں پائوں کا ایک ساتھ مسح کیا جائے*

____________________

(١)توضیح المسائل ص٣٧شرط ١٣و مسئلہ ٢٥٩.

(٢)استفتا آت ۔ج١ص٣٦و ٣٧س ٤٠تا ٤٥

(٣)تحریر الوسیلہ ج١ص٢٨.

*(گلپائیگانی ۔اراکی۔)بائیں پیر کو دائیں پیر سے پہلے مسح نہ کیا جائے۔(خوئی)احتیاط کی بناء پر بائیں پائوں پر دائیں پائوںکے بعد مسح کرنا چاہئے۔(شرائط وضو،شرط نہم)


موالات

١۔موالات،یعنی اعمال وضو کا پے در پے بجالانا تا کہ ایک دیگر اعمال میں فاصلہ نہ ہو ۔

٢۔اگر وضو کے اعمال کے درمیان اتنا وقفہ کیا جائے کہ جب کسی عضو کو دھونا یا مسح کرنا چاہے تو اس سے پہلے والے وضو یا مسح کئے ہوئے عضو کی رطوبت خشک ہوچکی ہو،تو وضو باطل ہے۔(١)

دوسروں سے مدد حاصل نہ کرنا

١۔جو شخص وضو کو خود انجام دے سکتا ہو،اسے دوسروں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہئے، لہٰذا اگر کوئی دوسرا شخص اس کے ہاتھ اور منھ دھوئے یا اس کا مسح انجام دے ، تو وضو باطل ہے۔(٢)

٢۔جو خود وضو نہ کر سکتا ہو،اسے نائب مقرر کرنا چاہئے جو اس کا وضو انجام دے سکے، اگر چہ اس طرح اجرت بھی طلب کرے،تو استطاعت کی صورت میں دینا چاہئے، لیکن وضو کی نیت کو خود انجام دے۔(٣)

وضو کرنے والے کے شرائط

١۔جو جانتا ہو کہ وضو کرنے کی صورت میں بیمار ہو جائے گا یا بیمار ہونے کا خوف ہو،اسے تیمم کرنا چاہئے اور اگر وضو کرے،اس کا وضو باطل ہے، لیکن یہ نہ جانتا ہو کہ پانی اس کے لئے مضر ہے اور وضو کرنے کے بعدپتہ چلے کہ پانی مضر تھا تو اس کا وضو صحیح ہے۔(٤) *

____________________

(١)تحریر الوسیلہ۔ج١ ص٢٨و توضیح المسائل م٢٨٣.

(٢)العروة الوثقیٰ۔ج١ص٢٣٤.

(٣)توضیح المسائل۔م ٢٨٦.

(٤)العروة الوثقیٰ۔ج١ص٢٣٢۔توضیح المسائل ۔م ٢٨٨ و ٦٧٢.

*(خوئی )اگر وضو کے بعد پتہ چلے کہ پانی مضر تھا اور ضرر اس حد میں ہو کہ شرعاً حرام نہیں ہے تو اس کا وضو صحیح ہے. (گلپائیگانی)اگر وضو کے بعد معلوم ہوجائے کہ پانی مضر تھاتو احتیاط واجب ہے کہ وضو کے علاوہ تیمم بھی کرے (مسئلہ٢٩٤).


٢۔ وضو کو قصد قربت کے ساتھ انجام دینا چاہئے یعنی خدائے تعالیٰ کے حکم کو بجالانے کے لئے وضو انجام دے۔(١)

٣۔ضروری نہیں کہ نیت کو زبان پر لا ئے ،یا اپنے دل ہی دل میں (کلمات نیت) دہرائے،بلکہ اسی قدر کافی ہے کہ جانتاہو کہ وضو انجام دے رہا ہے، اس طرح کہ اگر اس سے پوچھا جائے کہ کیا کررہا ہے؟ تو جواب میں کہے کہ وضو کررہا ہوں ۔(٢)

مسئلہ: اگر نماز کا وقت اتنا تنگ ہوچکا ہوکہ و ضو کرنے کی صورت میں پوری نماز یا نماز کا ایک حصہ وقت گزرنے کے بعد پڑھا جائے گا تو اس صورت میں تیمم کرنا چاہئے(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل،ص ٣١شرط ہشتم.

(٢)توضیح المسائل،م ٢٨٢.

(٣) توضیح المسائل، م ٠ ٢٨.


سبق: ٨ کا خلاصہ

١۔وضو کاپانی پاک ، مطلق اور مباح ہونا چاہئے ، لہٰذا نجس ومضاف پانی سے وضو کرنا ہر حالت میں باطل ہے، چاہے پانی کے مضاف یا نجس ہونے کے بارے میں علم رکھتا ہویانہیں۔

٢۔ غصبی پانی سے وضو کرنا باطل ہے، البتہ اگر جانتا ہو کہ پانی غصبی ہے۔

٣۔ اگر وضو کے اعضا نجس ہوں تو وضو باطل ہے ،اسی طرح اگر وضو کے اعضاپر کوئی مانع ہوکہ پانی اعضا تک نہ پہنچ پائے تو وضو باطل ہے۔

٤۔ اگر وضو میں ترتیب وموالات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو وضو باطل ہے۔

٥۔ جو خود وضو کرسکتا ہو اسے دھونے یا مسح کرنے میں کسی دوسرے کی مدد نہیں لینی چاہئے

٦۔ وضو کو خدائے تعالیٰ کا حکم بجالانے کی نیت سے انجام دینا چاہئے۔

٧۔ اگر انسان وضو کرنے کی صورت میں اسکی پوری نماز یا نماز کا ایک حصہ وقت گزرنے کے بعد پڑھا جائے گا تو اس صورت میں تیمم کرنا چاہئے۔


سوالات:

١۔ مختلف اداروں کے وضوخانوں میں وہاں کے ملازموں کے علاوہ دوسرے لوگوں کا وضو کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟

٢۔ پانی کے ان منابع یا پانی سرد کرنے کی مشینوںسے جو پینے کے پانی کے لئے مخصوص ہوں، وضو کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟

٣۔ جوخود وضو انجام دینے سے معذور ہو، اس کا فرض کیا ہے؟

٤۔ وضو میں قصد قربت کی وضاحت کیجئے۔

٥۔ وضوکی ترتیب وموالات میں کیا فرق ہے؟


سبق نمبر٩

وضوء جبیرہ

'' جبیرہ'' کی تعریف:جودوائی زخم پر لگائی جاتی ہے یا جوچیز مرہم پٹی کے عنوان سے زخم پر باندھی جاتی ہے، اسے'' جبیرہ'' کہتے ہیں ۔

١۔ اگر کسی کے اعضائے وضو پر زخم یا شکستگی ہو اور معمول کے مطابق وضو کرسکتاہو، تواسے معمول کے مطابق وضو کرنا چاہئے،(١)

مثلاً:

الف۔ زخم کھلاہے اور پانی اس کے لئے مضرنہیں ہے۔

ب۔ زخم پر مرہم پٹی لگی ہے لیکن کھولنا ممکن ہے اور پانی مضر نہیں ہے ۔

٢*خم چہرے پر یا ہاتھوں میں ہواور کھلا ہو تو اس پر پانی ڈالنا مضر ہو*، اگر اس کے اطراف کو دھویا جائے تو کافی ہے۔(٢)

____________________

(١)توضیح المسائل م ٣٢٤۔ ٣٢٥

(٢) توضیح المسائل م ٤ ٣٢۔ ٥ ٣٢.

*(اراکی) اگر تر ہاتھ اس پر کھینچنا مضر نہ ہوتو ہاتھ اس پر کھینچ لیں اور اگر ممکن نہ ہو تو ایک پاک کپڑا اس پر رکھ کر ترہاتھ اس پر کھنچ لیں اور اگر اس قدربھی مضر ہو یازخم نجس ہو اور پانی نہیں ڈال سکتا ہو تو اس صورت میں زخم کے اطراف کو اوپرسے نیچے کی طرف دھولیں اور احتیاط کے طور پر ایک تیمم بھی انجام دے (گلپائیگانی) تر ہاتھ کو اس پر کھینچ لے اور اگر یہ بھی مضر ہوتو یا زخم نجس ہواور پانی ڈال نہ سکتے ہوں تو اس صورت میں زخم کے ا طراف کو اوپرسے نیچے کی طرف دھولیں تو کافی ہے. (مسئلہ ٣٣١)


٣۔ اگر زخم یا شکستگی سرکے اگلے حصے یا پائوں کے اوپروالے حصہ (مسح کی جگہ) میں ہو، اور زخم کھلا ہو، اگر مسح نہ کرسکے ، تو ایک کپڑا اس پر رکھ کر ہاتھ میں موجود وضو کی باقی ماندہ رطوبت سے کپڑے پر مسح کریںز۔(١)

وضوء جبیرہ انجام دینے کا طریقہ:

وضوء جبیرہ میں وضو کی وہ جگہیں جن کو دھونا یا مسح کرنا ممکن ہو، معمول کے مطابق دھویا یامسح کیا جائے، اور جن مواقع پر یہ ممکن نہ ہو، تو ترہاتھ کو جبیرہ پر کھنچ لیں۔

چندمسائل:

١۔ اگر جبیرہ نے حد معمول سے بیشتر زخم کے اطراف کو ڈھانپ لیا ہو اور اسے ہٹانا ممکن نہ ہو٭٭ تو وضو جبیرہ کرنے کے بعد ایک تیمم بھی انجام دینا چاہئے۔(٢)

٢۔ جو شخص یہ نہ جانتاہوکہ اس کا فریضہ وضوء جبیرہ ہے یا تیمم احتیاط واجب کی بناپر اسے دونوں (یعنی وضوء جبیرہ وتیمم)انجام دینا چاہئے۔(٣)

٣۔ اگر جبیرہ نے پورے چہرے یا ایک ہاتھ کو پورے طور پرڈھانپ لیا ہوتو وضوء جبیرہ کافی ہے۔٭٭٭

____________________

(١) توضیح المسائل ، م ٣٢٦

(٢)توضیح المسائل۔م ٣٣٥.

(٣) توضیح المسائل۔م ٣٤٣

*(گلپائیگانی) احتیاط کی بناپر لازم ہے کہ تیمم بھی کریں ( خوئی) تیمم کرنا چاہئے، اور احتیاط کے طور پر وضوجبیرہ بھی کرے. (مسئلہ ٣٣٢)

٭٭(خوئی) تیمم کرنا چاہئے، مگریہ کہ جبیرہ تیمم کے مواقع پر ہو تو اس صورت میں ضروری ہے کہ وضو کرے اور پھر تیمم بھی کرے (مسئلہ ٣٤١).

٭٭٭ (خوئی) احتیاط کی بناء پر تیمم کرے اور وضوء جبیرہ بھی کرے، (گلپائیگانی) وضوء جبیرہ کرے اور احتیاط واجب کی بناء پر اگرتمام یا بعض تیمم کے مواقع پوشیدہ نہ ہوں تو تیمم بھی کرے.(مسئلہ ٣٣٦)


٤۔ جس شخص کی ہتھیلی اور انگلیوں پر جبیرہ (مرہم پٹی)ہو اور وضو کے وقت اس پر ترہاتھ کھینچاہو، تو سراور پا ئوں کو بھی اسی رطوبت سے مسح کرسکتا ہے (ز)یا وضو کی دوسری جگہوں سے رطوبت لے سکتا ہے۔(١)

٥۔اگر چہرہ اور ہاتھ پر چند جبیرہ ہوں،تو ان کی درمیان والی جگہ کو دھونا چاہئے، یا اگر (چند) جبیرہ سر اور پائوں کے اوپر والے حصے میں ہوں تو ان کے درمیان والی جگہوں پر مسح کرنا چاہئے، اور جن جگہوں پرجبیرہ ہے ان پر جبیرہ کے حکم پر عمل کرے۔(٢)

جن چیزوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے

١۔ نماز پڑھنے کے لئے(نماز میت کے علاوہ)

٢۔ طواف خانہ کعبہ کے لئے ۔

٣۔بدن کے کسی بھی حصے کی کسی جگہ سے قرآن مجید کی لکھائی اور خدا کے نام کو مس کرنے کے لئے۔(٣) ٭٭

چند مسائل:

١۔اگر نماز اور طواف وضو کے بغیر انجام دے جائیں تو باطل ہیں۔

٢۔ بے وضو شخص، اپنے بدن کے کسی حصے کو درج ذیل تحریروں سے مس نہیں کرسکتاہے:

* قرآن مجید کی تحریر، لیکن اس کے ترجمہ کے بارے میں کوئی حرج نہیں ۔

*خدا کا نام، جس زبان میں بھی لکھا گیا، جیسے: اللہ، '' خدا'' '' God ''۔

*پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا اسم گرامی(احتیاط واجب کی بناء پر)

*ائمہ اطہار علیہم السلام کے اسماء گرامی (احتیاط واجب کی بناء پر)

____________________

(١)توضیح المسائل م٣٣٢.

(٢)توضیح المسائل م٣٣٤.

(٣)توضیح المسائل م٣١٦.

*(خوئی ، گلپائیگانی) سر اور پائوں کو اسی رطوبت سے مسح کرے (مسئلہ ٣٣٨)

٭٭اس مسئلہ کی تفصیل ٤٤ویں سبق میں آئے گی۔


*حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اسم گرامی(١) (احتیاط واجب کی بناء پر)

درج ذیل کاموں کے لئے وضو کرنا مستحب ہے:

*مسجد اور ائمہ (ع) کے حرم جانے کے لئے۔

*قرآن پڑھنے کے لئے۔

*قرآن مجید کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے۔

*قرآن مجید کی جلد یا حاشیہ کو بدن کے کسی حصے سے مس کرنے کے لئے۔

*اہل قبور کی زیارت کے لئے(٢)

وضو کیسے باطل ہوتا ہے؟

١۔انسان سے پیشاب،یا پاخانہ یا ریح خارج ہونا۔

٢۔نیند،جب کان نہ سن سکیں اور آنکھیں نہ دیکھ سکیں۔

٣۔وہ چیزیں جو عقل کو ختم کردیتی ہیں،جیسے:دیوانگی،مستی اور بیہوشی۔

٤۔عورتوں کا استحاضہ وغیرہ۔*

٥۔جوچیز غسل کا سبب بن جاتی ہے،جیسے جنابت،حیض، مس میت وغیرہ۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل م٣١٧، ٣١٩.

(٢)توضیح المسائل م٣٢٢.

(٣)توضیح المسائل م ٢٢٣

*یہ مسئلہ خواتین سے مربوط ہے، اس کی تفصیلات کے لئے توضیح المسائل مسئلہ ٣٣٩ تا ٥٢٠ دیکھئے.


سبق ٩ کا خلاصہ

١۔جس شخص کے اعضائے وضو پر زخم،پھوڑا یا شکستگی ہو لیکن معمول کے مطابق وضو کرسکتا ہے تو اسے معمول کے مطابق وضو کرنا چاہئے۔

٢۔جو شخص اعضائے وضو کو نہ دھو سکے یا پانی کو ان پر نہ ڈال سکتا ہو تو اس کے لئے زخم کے اطراف کو دھونا ہی کافی ہے ، اور تیمم ضروری نہیں ہے۔

٣۔اگر زخم یا چوٹ پر پٹی بندھی ہو،لیکن اس کو کھولنا ممکن ہو(مشکل نہ ہو)تو جبیرہ کو کھول کر معمول کے مطابق وضو کرے۔

٤۔جب زخم بندھا ہو اور پانی اس کے لئے مضر ہو تو اسے کھولنے کی ضرورت نہیں اگر چہ کھولنا ممکن بھی ہو۔

٥۔نماز،طواف کعبہ،بدن کے کسی حصہ کو قرآن مجید کے خطوط اور خدا کے نام سے مس کرنے کے لئے وضو کرنا ضروری ہے۔

٦۔بدن کے کسی حصے کو وضو کے بغیر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ائمہ اطہار اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہم اجمعین کے اسمائے گرامی سے مس کرنا احتیاط واجب کی بناء پر جائز نہیں ہے۔

٧۔پیشاب اور پاخانہ کا نکلنا وضو کو باطل کردیتا ہے۔

٨۔نیند،دیوانگی،بیہوشی،مستی،جنابت،حیض اور مس میت وضو کو باطل کردیتے ہیں۔


سوالات:

١۔جس شخص کے پائوں کی تین انگلیوں پر جبیرہ (مرہم پٹی)ہو تو وضو کے سلسلے میں اس کا کیا فریضہ ہے؟

٢۔وضوء جبیرہ انجام دینے کا طریقہ مثال کے ساتھ بیان کیجئے؟

٤۔کیا جبیرہ پر موجود رطوبت سے مسح کیا جاسکتا ہے؟

٤۔اگر جبیرہ نجس ہو اور اسے ہٹانا بھی ممکن نہ ہو تو فریضہ کیا ہے؟

٥۔کیا اونگھنا وضو کو باطل کردیتا ہے؟

٦۔ایک شخص نے میت کو ہاتھ لگادیا تو کیا اس کا وضو باطل ہوجائے گا؟


سبق نمبر١٠

غسل

بعض اوقات نماز (اور ہر وہ کام،جس کے لئے وضو لازمی ہے)کے لئے غسل کرنا چاہئے، یعنی حکم خدا کو بجالانے کے لئے تمام بدن کو دھونا، اب ہم غسل کے مواقع اور اس کے طریقے کو بیان کرتے ہیں:

واجب غسلوں کی قسمیں:

مردوںاور عورتوں کے درمیان مشترک

١۔جنابت

٢۔مس میت

٣۔میت

عورتوں سے مخصوص

١۔حیض

٢۔استحاضہ

٣۔نفاس

غسل کی تعریف وتقسیم کے بعد ذیل میں واجب غسل کے مسائل بیان کریں گے:

غسل جنابت:

١۔انسان کیسے مجنب ہوتا ہے؟

جنابت کے اسباب:

١۔منی کا نکلنا

کم ہو یا زیادہ

سوتے میں ہو یا جاگتے میں


٢۔جماع

حلال طریقہ سے ہو یا حرام منی نکل آئے یا نہ نکلے(١)

٢۔اگر منی اپنی جگہ سے حرکت کرے لیکن باہر نہ آئے تو جنابت کا سبب نہیں ہوتا۔(٢)

٣۔جو شخص یہ جانتا ہو کہ منی اس سے نکلی ہے یا یہ جانتا ہو کہ جو چیز باہر آئی ہے وہ منی ہے، تو وہ مجنب سمجھا جائے گااور اسے ایسی صورت میں غسل کرنا چاہئے۔(٣)

٤۔جو شخص یہ نہیں جانتا کہ جو چیز اس سے نکلی ہے،وہ منی ہے یا نہیں، تومنی کی علامت ہونے کی صورت میں مجنب ہے ورنہ حکم جنابت نہیں ہے۔(٤)

٥۔منی کی علامتیں:(٥)

*شہوت کے ساتھ نکلے ۔

*دبائو اور اچھل کر نکلے۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہج١ص٣٦.

(٢)تحریر الوسیلہ ج١ص٣٦ ، م ١.

(٣)تحریر الوسیلہ ج١ص١٣٦۔العروة الوثقیٰ ج١ص٣٧٨.

(٤)تحریر الوسیلہ ج١ص١٣٦۔ العروة الوثقیٰ ج١ص٣٧٨.

(٥)تحریر الوسیلہ ج١ص١٣٦۔العروة الوثقیٰ ج١ص٣٧٨.


*باہر آنے کے بعد بدن سست پڑے۔ *

اس لحاظ سے اگر کسی سے کوئی رطوبت نکلے اور نہ جانتا ہو کہ یہ منی ہے یا نہ،تو مذکورہ تما م علامتوں کے موجود ہونے کی صورت میں وہ مجنب مانا جائے گا، ورنہ مجنب نہیں ہے، چنانچہ اگر ان علامتوںمیں سے کوئی ایک علامت نہ پائی جاتی ہو اور بقیہ تمام علامتیں موجود ہوں تب بھی وہ مجنب نہیں مانا جائے گا،غیر از عورت اور بیمار کے،ان کے لئے صرف شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا کافی ہے۔ ٭٭

٦۔مستحب ہے انسان منی کے نکلنے کے بعد پیشاب کرے اگر پیشاب نہ کرے اور غسل کے بعد کوئی رطوبت اس سے نکلے،اور نہ جانتا ہو کہ منی ہے یا نہیں تو وہ منی کے حکم میں ہے۔(١)

وہ کام جو مجنب پر حرام ہیں:(٢)

*قرآن مجید کی لکھائی،خداوندعالم کے نام،احتیاط واجب کے طور پر پیغمبروں،ائمہ اطہار اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہم اجمعین کے اسمائے گرامی کو بدن کے کسی حصہ سے چھونا ۔ ٭٭٭

مسجد الحرام اور مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں داخل ہونا،اگر چہ ایک دروازہ سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل بھی جائے۔

*مسجد میں ٹھہرنا۔

*مسجد میں کسی چیز کو رکھنا اگر چہ باہر سے ہی ہو۔ ٭٭٭*

____________________

(١)توضیح المسائل م٣٤٨.

(٢)تحریر الوسیلہ ج١ص٣٩٣٨.

*گلپائیگانی:اگر شہوت کے ساتھ اچھل کر باہر آئے یا اچھل کر باہر آنے کے بعد بدن سست پڑے،تو یہ رطوبت حکم منی میں ہے۔

٭٭خوئی اگر شہوت کے ساتھ باہر آئے اور بدن سست پڑے، تو منی کے حکم میں ہے(مسئلہ٣٥٢)

٭٭٭(خوئی)پیغمبروں اور ائمہ علیہم السلام کے نام کو چھونا بھی حرام ہے۔

٭٭٭*(اراکی)اگر توقف نہ ہو تو کوئی چیز مسجد میں رکھنے میں حرج نہیں ہے۔(خوئی)کسی چیز کو اٹھانے کے لئے داخل ہونا بھی حرام ہے۔(مسئلہ٣٥٢)۔


*قرآن مجید کے ان سوروں کا پڑھنا،جن میں واجب سجدہ ہے،حتی ایک کلمہ بھی پڑھنا حرام ہے۔ *

*ائمہ علیہم السلام کے حرم میں توقف کرنا۔(احتیاط واجب کی بنا پر)۔ ٭٭

قرآن مجید کے وہ سورے جن میں واجب سجدہ ہیں:

(١)٣٢واں سورہ۔سجدہ۔

(٢)٤١واں سورہ۔فصلت۔

(٣)٥٣واں سورہ۔نجم۔

(٤)٩٦واں سورہ۔ علق۔

چند مسائل:

*اگر شخص مجنب مسجد کے ایک دروازہ سے داخل ہوکر دوسرے سے خارج ہوجائے(عبور توقف کے بغیر)تو کوئی حرج نہیں ہے، البتہ مسجد الحرام اور مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ کیونکہ ان کے درمیان سے گزرنا بھی جائز نہیں(١)

اگر کسی کے گھر میں نماز کے لئے ایک کمرہ یا جگہ معین ہو(اسی طرح دفتروں اور اداروں میں)تو وہ جگہ حکم مسجد میں شمار نہیں ہوگی۔(٢)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ج ١ص٣٩٣٨.

(٢)العروة الوثقیٰ ج١ص٢٨٨م٣.

*گلپائیگانی،خوئی)صرف آیات سجدہ کا پڑھنا حرام ہے (مسئلہ٣٦١).

٭٭(اراکی)اماموں کے حرم میں بھی جنابت کی حالت میں توقف کرنا حرام ہے. (مسئلہ ٣٥٢)


سبق ١٠ کا خلاصہ:

١۔ واجب غسل دو قسم کے ہیں:

الف:مر د اور عورتوں میں مشترک ۔

ب:عورتوں سے مخصوص

٢۔اگر انسان کی منی نکل آئے یا ہمبستری کرے تو مجنب ہوجاتا ہے۔

٣۔جو شخص جانتا ہوکہ مجنب ہوگیا ہے تو اس کو چاہئے کہ غسل بجالائے ،اور جو نہیں جانتا کہ مجنب ہوا ہے یا نہیں؟تواس پر غسل واجب نہیں ہے۔

٤۔منی کے علامتیں حسب ذیل ہیں:

*شہوت کے ساتھ نکلتی ہے۔

*دبائو اور اچھل کر نکلتی ہے۔

*اس کے بعد بدن سست پڑجاتا ہے ۔

٥۔مجنب پر حسب ذیل امور حرام ہیں:

*قرآن کی لکھائی،خدا، پیغمبروں،اور ائمہ اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہم اجمعین کے ناموں کو مس کرنا۔

*مسجد الحرام اور مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں داخل ہونا نیز دیگر مساجد میں توقف۔

*کوئی چیز مسجد میں رکھنا۔

*قرآن مجید کے ان سوروں کا پڑھنا جن میں واجب سجدے ہیں ۔

٦۔مساجد سے عبور کرنا،اگر توقف نہ کریں بلکہ ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل آئیں تو کوئی حرج نہیں ،صرف مسجد الحرام اور مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں عبور بھی جائز نہیں ہے۔


سوالات:

١۔ مرد اور عورتوں کے درمیان مشترک غسلوں کو بیان کیجئے؟

٢۔ایک شخص نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنے لباس میں ایک رطوبت مشاہدہ کرتا ہے لیکن جتنی بھی فکر کی، منی کی علامتیں نہیں پاتا ہے، تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٣۔شخص مجنب کا امام زادوں کے حرم میں داخل ہونے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

٤۔کیا شخص مجنب،فوجی چھاؤنیوں، دفتروں اور اداروں کے نماز خانوں میں توقف کرسکتا ہے؟


سبق نمبر١١

غسل کرنے کا طریقہ

غسل میں پورا بدن اور سروگردن دھونا چاہئے،خواہ غسل واجب ہو مثل جنابت یا مستحب مثل غسل جمعہ،دوسرے لفظوں میں تمام غسل کرنے میں آپس میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھتے، صرف نیت میں فرق ہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل م٣٦٨٣٦٧٣٦١.


وضاحت:

غسل دوطریقوں سے انجام دیا جاسکتا ہے:

''ترتیبی''اور ''ارتماسی''۔

غسل ترتیبی میں پہلے سروگردن کو دھویاجاتا ہے،پھر بدن کا دایاں نصف حصہ اور اس کے بعد بدن کا بایاں نصف حصہ دھویا جاتا ہے۔

ارتماسی غسل میں،پورے بدن کو ایک دفعہ پانی میں ڈبو دیا جاتا ہے، لہٰذا غسل ارتماسی اسی صورت میں ممکن ہے جب اتنا پانی موجود ہو جس میں پورا بدن پانی کے نیچے ڈوب سکے۔

غسل صحیح ہونے کے شرائط:

١۔موالات کے علاوہ تمام شرائط جو وضو کے صحیح ہونے کے بارے میں بیان ہوئے،غسل کے صحیح ہونے میں بھی شرط ہیں،اور ضروری نہیں ہے کہ بدن کو اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے۔(١)

٢۔جس شخص پر کئی غسل واجب ہوں تو وہ تمام غسلوں کی نیت سے صرف ایک غسل بجالاسکتا ہے۔(٢)

٣۔جو شخص غسل جنابت بجالائے،اسے نماز کے لئے وضو نہیں کرنا چاہئے، لیکن دوسرے غسلوں سے نماز نہیں پڑھی جاسکتی بلکہ وضو کرنا ضروری ہے۔(٣) *

____________________

(١)توضیح المسائلم٣٨٠.

(٢)توضیح المسائلم٣٨٩.

(٣)توضیح المسائلم٣٩١.

*(خوئی)غسل استحاضۂ متوسطہ اور مستحب غسلوں کے علاوہ دوسرے واجب غسلوں کے بعد بھی وضو کے بغیر نماز پڑھی جاسکتی ہے،اگر چہ احتیاط مستحب ہے کہ وضو بھی کیا جائے(مسئلہ٣٩٧)۔


٤۔غسل ارتماسی میں پورا بدن پاک ہونا چاہئے،لیکن غسل ترتیبی میں پورے بدن کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے،اور اگر ہر حصہ کو غسل سے پہلے پاک کیا جائے تو کافی ہے۔(١) *

٥۔غسل جبیرہ،وضو ء جبیرہ کی مانند ہے،لیکن احتیاط واجب کی بناء پر اسے ترتیبی صورت میں بجالانا چاہئے۔(٢) ٭٭

٦۔واجب روزے رکھنے والے،روزے کی حالت میں غسل ارتماسی نہیں کرسکتا،کیونکہ روزہ دار کو پورا سر پانی کے نیچے نہیں ڈبوناچاہئے،لیکن بھولے سے غسل ارتماسی انجام دیدے تو صحیح ہے۔(٣)

٧۔غسل میں ضروری نہیں کہ پورے بدن کو ہاتھ سے دھویا جائے،بلکہ غسل کی نیت سے پورے بدن تک پانی پہنچ جائے تو کافی ہے۔(٤)

غسل مس میت :

١۔اگر کوئی شخص اپنے بدن کے کسی ایکحصہ کو ایسے مردہ انسان سے مس کرے جو سرد ہوچکا ہو اور اسے ابھی غسل نہ دیا گیا ہو،تو اسے غسل مس میت کرنا چاہئے۔(٥)

٢۔درج ذیل مواقع پر مردہ انسان کے بدن کو مس کرنا غسل مس میت کا سبب نہیں بنتا:

*انسان میدان جہاد میں درجہ شہادت پر فائز ہوچکاہو اور میدان جہاد میں ہی جان دے چکا ہو۔* * *

____________________

(١)توضیح المسائلم٢٧٢.(٢)توضیح المسائل م٣٣٩.

(٣)توضیح المسائل م٣٧١. (٤)استفتاآت ج١ص٥٦س١١٧.(٥)توضیح المسائلم٥٢١.

*(خوئی)غسل ارتماسی یا ترتیبی میں قبل از غسل تمام بدن کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر پانی میں ڈبکی لگانے یا غسل کی نیت سے پانی ڈالنے سے بدن پاک ہوجائے تو غسل انجام پاجائے گا۔

* *(اراکی) احتیاط مستحب ہے کہ ترتیبی بجالائیں نہ ارتماسی، (خوئی) اسے ترتیبی بجالائیں (مسئلہ ٣٣٧) (گلپائیگانی) ترتیبی انجام دیں تو بہتر ہے، اگر چہ ارتماسی بھی صحیح ہے۔ (مسئلہ ٣٤٥)

* * * (خوئی)شہید کے بدن سے مس کرنے کی صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر غسل لازم ہے (العروة الوثقیٰ ج١، ص٣٩٠، م١١)


*وہ مردہ انسان جس کا بدن گرم ہو اور ابھی سرد نہ ہوا ہو۔

*وہ مردہ انسان جسے غسل دیا گیا ہو۔(١)

٣۔غسل مس میت کو غسل جنابت کی طرح انجام دینا چاہئے،لیکن جس نے غسل مس میت کیا ہو،اور نماز پڑھنا چاہے تو اسے وضو بھی کرنا چاہئے۔(٢)

غسل میت:

١۔اگر کوئی مومن زاس دنیا سے چلا جائے،تو تمام مکلفین پر واجب ہے کہ اسے غسل دیں،کفن دیں،اس پر نماز پڑھیں اور پھر اسے دفن کریں، لیکن اگر اس کام کو بعض افراد انجام دے دیں تو دوسروں سے ساقط ہوجاتا ہے۔(٣)

٢۔میت کو درج ذیل تین غسل دینا واجب ہیں:

اول:سدر (بیری ) کے پانی سے۔

دوم:کافور کے پانی سے۔

سوم:خالص پانی سے۔(٤)

٣۔غسل میت،غسل جنابت کی طرح ہے،احتیاط واجب ہے کہ جب تک غسل ترتیبی ممکن ہو،میت کو غسل ارتماسی نہ دیں۔(٥)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ج١ ص٦٣۔ توضیح المسائل م٥٢٢ و ٥٢٦۔ استفتاآتص٧٩. العروة الوثقیٰج١ص٣٩٠م١١.

(٢)توضیح المسائلم٥٣٠.

(٣)توضیح المسائلم٥٤٢.

(٤)توضیح المسائلم٥٥٠.

(٥)توضیح المسائلم٥٦٥.

*(تمام مراجع)کوئی مسلمان (مسئلہ٥٤٨).


عورتوں کے مخصوص غسل:(حیض،نفاس و استحاضہ):

١۔عورت،بچے کی پیدائش پر جو خون دیکھتی ہے،اسے خون نفاس کہتے ہیں۔(١)

٢۔عورت،اپنی ماہانہ عادت کے دنوں میں جو خون دیکھتی ہے،اسے خون حیض کہتے ہیں۔(٢)

٣۔جب عورت خون حیض اور نفاس سے پاک ہوجائے تو نماز اور جن امور میں طہارت شرط ہے ان کے لئے غسل کرے۔(٣)

٤۔ایک اور خون جسے عورتیں دیکھتی ہیں،استحاضہ ہے اور بعض مواقع پر اس کے لئے بھی نماز اور جن امور میں طہارت شرط ہے اُن کے لئے غسل کرنا چاہئے۔(٤)

____________________

(١)توضیح المسائلم٥٠٨.

(٢)توضیح المسائلم٥٥.

(٣)توضیح المسائلم٤٤٦٥١٥.

(٤)توضیح المسائلم٣٩٦٣٩٥.


سبق ١١ کا خلاصہ

١۔غسل میں ترتیبی یا ارتماسی طریقے سے،پورے بدن کو دھونا چاہئے۔

٢۔موالات اور اوپر سے نیچے کی طرف دھونے کے بغیر غسل کے صحیح ہونے کے شرائط وہی ہیں جو وضو کے صحیح ہونے کے شرائط ہیں۔

٣۔جس شخص نے غسل جنابت کیا ہو،اسے نماز کے لئے وضو نہیں کرنا چاہئے۔البتہ اگر غسل کرنے کے دوران یا اس کے بعد اس سے کوئی ایسی چیز سر زد ہوجائے جو وضو کو باطل کرتی ہے تو وضو کرنا ضروری ہے۔

٤۔جس شخص پر کئی غسل واجب ہوں،وہ تمام غسلوں کی نیت سے ایک ہی غسل انجام دے سکتا ہے،بلکہ ان غسلوں کے ساتھ مستحبی غسل کی نیت بھی کرسکتا ہے۔(جیسے:غسل جمعہ)

٥۔بدن کے کسی حصہ کو مردہ انسان کے بدن سے مس کرنا غسل مس میت کا سبب بن جاتا ہے۔

٦۔اگر بدن کا کوئی حصہ شہید کے بدن یا کسی سرد نہ ہوئے مردہ کے بدن یا غسل دئے گئے مردہ کے بدن سے مس ہوجائے،تو غسل واجب نہیں ہوتا۔

٧۔اگر کوئی مومن مرجائے تو اسے تین غسل دیکر پھر کفن پہنا کر اس پر نماز پڑھ کے دفن کرنا چاہئے۔

٨۔میت کے تین غسل حسب ذیل ہیں:

الف:آب سدر (بیری کے پانی) سے غسل۔

ب:آب کافور سے غسل۔

ج:آب خالص سے غسل۔

٩۔ غسل حیض، نفاس اور استحاضہ عورتوں پر واجب ہے۔


سوالات:

١۔غسل ترتیبی کیسے انجام پاتا ہے؟

٢۔کیا اس پانی میں غسل ارتماسی انجام دیا جاسکتا ہے،جو کر سے کم ہو؟

٣۔شخص مجنب نے جمعہ کے دن جنابت اور جمعہ دونوں کی نیت سے ایک غسل بجالایا ہے،کیا وہ اس غسل سے نماز پڑھ سکتا ہے یا پھر اسے وضو بھی کرناچاہئے؟

٤۔نیت غسل کی وضاحت کیجئے؟

٥۔کیا ایک جگہ(مثلاًمحاذ جنگ میں)پر پینے کے لئے رکھے گئے پانی کے ٹینکر سے غسل کیا جاسکتا ہے؟

٦۔غسل میت اور غسل مس میت میں کیا فرق ہے؟

٧۔کس صورت میں شہید کو غسل دینے کی ضرورت نہیں؟


سبق نمبر ١٢

تیمم

(وضو اور غسل کا بدل ہے)

درج ذیل مواقع پر وضو و غسل بجائے تیمم کرنا چاہئے:

١۔پانی مہیا نہ ہو یا پانی تک رسائی نہ ہو۔

٢۔پانی اس کے لئے مضر ہو(مثال کے طور پر،پانی کے استعمال سے کسی بیمار ی میں مبتلا ہو جائے)

٣۔اگر پانی کو وضو یا غسل کے لئے استعمال کرے تو،خود یااس کے بیوی بچے یا دوست یا اس سے مربوط افراد تشنگی کی وجہ سے مرجائیں یا بیمار ہوجائیں(حتی ایسا حیوان بھی جو اس کے پاس ہو)

٤۔بدن یا لباس نجس ہو اور پانی اتنا ہو کہ صرف ان کو پاک کرسکے اور دوسرا لباس بھی نہ ہو۔

٥۔وضو یا غسل کرنے کے لئے وقت نہ ہو۔(١)

تیمم کیسے کیا جائے؟

تیمم کے اعمال:

١۔دونوں ہاتھوں کی،ہتھیلیوں کو ایک ساتھ ایسی چیز پر مارنا،جس پر تیمم صحیح ہو۔

____________________

(۱) توضیح المسائل ، تیمم


٢۔دونوں ہاتھوں کو سر کے بال اگنے کی جگہ سے بھوئو ں کے سمیت پیشانی کے دونوں طرف کھینچ کرناک کے اوپرتک لے آنا۔

٣۔بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پشت پر کھینچنا۔

٤۔دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر کھینچنا۔

تیمم کے تمام اعمال کو تیمم کی نیت اور حکم الٰہی کی اطاعت کے قصد سے انجام دینا او راس امر کا بھی خیال رکھنا کہ تیمم وضو کے بدلے ہے یا غسل کے بدلے۔(١)

وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا جائز ہے۔

*مٹی۔

* ریت۔

* پتھروں کی مختلف قسمیں جیسے:سنگ مر مر،سنگ گچ(چونے کا پتھر پختہ ہونے سے پہلے)

پختہ مٹی جیسے اینٹ،مٹی کا برتن(٢) *

کچھ مسائل:

١۔وضو کے بدلے کئے جانے والے تیمم اور غسل کے بدلے کئے جانے والے تیمم میں نیت کے علاوہ کسی چیز میں فرق نہیں ہے۔(٣)

٢۔جس شخص نے وضو کے بدلے تیمم کیا ہو،اگر وضو کو باطل کرنے والی چیزوں سے کوئی چیز اس سے سرزد ہوجائے تو اس کا تیمم باطل ہوگا۔(٤)

٣۔اگر کوئی شخص غسل کے بدلے تیمم کرے تو غسل کو باطل کرنے والے اسباب میں سے کسی کے

____________________

(١)توضیح المسائلم٧٠٠. (٢)توضیح المسائلم٦٨٤ و٦٨٥۔ العروةالوثقیٰ ج١ص٤٨٥

(٣)توضیح المسائلم٧٠١. (٤)توضیح المسائلم٧٢٠.

* (اراکی۔گلپائیگانی)پختہ مٹی پر تیمم صحیح نہیں ہے۔(خوئی)احتیاط کے طور پر پختہ مٹی پر تیمم صحیح نہیں ہے۔(العروةالوثقیٰ ج١ص٤٨٥


سرزد ہونے پر اس کا تیمم باطل ہوگا۔(١)

٤۔تیمم اس صورت میں صحیح ہے کہ وضو یا غسل کرنا ممکن نہ ہو۔ اس لئے اگر کسی عذر کے بغیر تیمم کرے تو صحیح نہیں ہے اور اگر عذر بر طرف ہوجائے،مثلاًپانی نہ تھا اور اب پانی موجود ہے تو اس صورت میں تیمم باطل ہے۔(٢)

٥۔اگر غسل جنابت کے لئے تیمم کیا گیا ہو تو ضروری نہیں ز نماز کے لئے وضو کیا جائے لیکن اگر دوسرے غسلوں کے بدلے میں تیمم کیا گیا ہو تو اس تیمم سے نماز نہیں پڑھی جا سکتی ہے بلکہ نماز کے لئے الگ سے وضو کرنا چاہئے اور اگر وضو کرنا اس کے لئے مشکل ہو تو وضو کے بدلے ایک اور تیمم انجام دے۔(٣)

تیمم کے صحیح ہونے کے شرائط:

*اعضائے تیمم یعنی پیشانی اور ہاتھ پاک ہوں۔

*پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر اوپر سے نیچے کی طرف مسح کیا جائے۔

*وہ چیز ، جس پر تیمم کیا جارہا ہے وہ پاک اور مباح ہونا چاہئے۔

*ترتیب کی رعایت کریں۔

*موالات کی رعایت کریں۔

*مسح کرتے وقت ہاتھ اور پیشانی کے درمیان نیز اسی طرح ہاتھ اور ہاتھ کی پشت کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔(٤)

____________________

(١)توضیح المسائلم٧٢٠.

(٢)توضیح المسائلم٧٢٢.

(٣)توضیح المسائلم٧٢٣.

(٤)العروہ الوثقیٰج١ص٤٩٥۔توضیح المسائلم٦٩٢،٦٩٤،٧٠٤تا٧٠٦.

*(گلپائیگانی )وضو نہیں کرنا چاہئے(مسئلہ٧٣١)


سبق :١٢ کا خلاصہ

١۔اگر پانی نہ ہو یا پانی تک رسائی نہ ہو یا پانی استعمال کرنے میں کوئی رکاوٹ ہو تو وضو اور غسل کے بدلے میں تیمم کرنا چاہئے۔

٢۔تیمم میں پیشانی اور ہاتھوں کی پشت کو ہتھیلی سے مسح کرنا چاہئے۔

٣۔مٹی،ریت،پتھر اور پختہ مٹی پر مسح صحیح ہے۔

٤۔تیمم،بجائے غسل ہو یا بجائے وضو ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے(صرف نیت میں فرق ہے)

٥۔اگر بجائے وضو تیمم کیا گیا ہو تو مبطلات وضو تیمم کو بھی باطل کرتے ہیں، اور اگر بجائے غسل تیمم کیا گیا ہو تو غسل کو باطل کرنے والے اسباب تیمم کو بھی باطل کر دیتے ہیں۔

٦۔عذر کے بغیر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔

٧۔تیمم میں ترتیب اور موالات کی رعایت کرنا ضروری ہے اور تیمم کے اعضاء اور وہ چیز جس پر تیمم کیا جاتا ہو،پاک ہونے چاہئے۔


سوالات:

١۔کن مواقع پر وضو اور غسل کے بدلے میں تیمم کیا جاسکتا ہے؟

٢۔کیا درندوں کے خوف سے وضو کے بدلے میں تیمم کیا جاسکتا ہے؟

٣۔اینٹ اورٹیلے پر تیمم کرنے کا کیا حکم ہے؟

٤۔لکڑی اور درختوں کے پتوں پر تیمم کا کیا حکم ہے؟

٥۔مجنب (ناپاک) شخص اگر غسل کرنے سے شرماتا ہو تو،کیا وہ غسل کے بدلے میں تیمم کرسکتاہے؟


سبق نمبر ١٣

نماز کا وقت

طہارت کے مسائل سے آشنائی پیدا کرنے کے بعد رفتہ رفتہ نماز بجالانے کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں، نماز کے مسائل و احکام سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے یاددہانی کرنا ضروری ہے کہ نماز یا واجب ہے یا مستحب ،واجب نمازیں بھی دوقسم کی ہیں:ان میں سے بعض،روزانہ،ہرشب وروز،یا خاص اوقات میں بجالائی جانی چاہئے،اور بعض دیگر ایسی نمازیں ہیں کہ خاص وجوہات کی بناء پر واجب ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ روزانہ نہیں ہیں،واجب نمازوں کے بارے میں آشنائی اور آگاہی حاصل کرنے کے لئے،درج ذیل خاکہ ملاحظہ ہو:

اقسام نماز

١۔واجب:

الف۔ہر روز پڑھی جانی والی (یومیہ):

١۔صبح

٢۔ظہر

٣۔عصر

٤۔مغرب

٥۔عشاء


ب۔وقتی

١۔آیات

٢۔واجب طواف

٣۔میت

٤۔باپ کی قضاء نمازیں،بڑے بیٹے پر۔

٥۔وہ نماز جو نذر کرنے سے واجب ہوتی ہے۔

٢۔:مستحب نمازیں بہت زیادہ ہیں۔(١)

____________________

(١)توضیح المسائل،واجب نمازیں.


وضاحت:

یومیہ نمازوں کا وقت

فجر کی اذان کا وقت:

اذان صبح کے نزدیک،مشرق کی طرف سے ایک سفیدی بلند ہوتی ہے،اسے ''فجر اول ''کہتے ہیں۔جب یہ سفیدی پھیلتی ہے تو اسے ''فجر ثانی''کہتے ہیں اور یہی صبح کی نماز کا وقت ہے۔(١)

ظہر:

اگر ایک لکڑی یا اس کے مانند کسی چیز کو زمین پر سیدھا گاڑ دیا جائے تو جب اس کا سایہ گھٹنے کے بعد پھر سے بڑھنا شروع ہوجائے تویہ ''ظہر شرعی''یعنی نماز ظہر کا اول وقت ہے۔(٢)

مغرب:

''مغرب''اس وقت کو کہتے ہیں جب سورج کے ڈوبنے کے بعد مشرق کی طرف پیدا ہونے والی سرخی زائل ہوجائے ۔(٣) ٭

نصف شب:

اگر غروب آفتاب سے اذان صبح ٭٭تک کے فاصلے کو دوحصوں میں تقسم کریں تو اس کا درمیانی وقت ''نصف شب''اور نماز عشاکا آخری وقت ہے۔(٤) ٭٭٭

____________________

(١)توضیح المسائلم٧٤٤.

(٢)توضیح المسائلم٧٢٩.

(٣)توضیح المسائلم٧٣٥.

(٤)احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز عشاکے لئے جس طرح متن میں ذکر ہوا ہے حساب کیا جائے او رنماز شب کے لئے سورج چڑھنے تک حساب کیا جائے۔(توضیح لمسائلم٧٣٩)

٭ (تمام مراجع) سر کے اوپر سے گزر جائے۔(مسئلہ ٧٤٣)

٭٭ (خوئی)اول غروب سے سورج چڑھنے تک حساب کیا جائے(مسئلہ ٧٤٧)

٭٭٭ ظہر شرعی کے بعد تقریباً سوا گیارہ گھنٹے آخر وقت نماز مغرب و عشا ہے۔


وقت نماز کے احکام:

١۔یومیہ نمازوں کے علاوہ نمازوںکا وقت معین نہیں ہوتا بلکہ ان کے انجام کا وقت اس زمانے سے مربوط ہوتا ہے جس کے سبب و ہ نماز واجب ہوجاتی ہے۔

مثلاً:نماز آیات کا تعلق زلزلہ،سورج گرہن،چاند گرہن یا حادثہ کے وجود میں آنے سے ہوتا ہے،او رنماز میت،اس وقت واجب ہوتی ہے جب کوئی مسلمان اس دنیا سے چلا جائے ان میں سے ہر نماز کی تفصیل اپنی جگہ پر بیان ہوگی۔

٢۔ا گر پوری نماز کو وقت سے پہلے پڑھا جائے یا نماز کو عمداً وقت سے پہلے شروع کیا جائے تو نماز باطل ہے۔(١)

اگر نماز کو اپنے وقت کے اندر پڑھا جائے تو اسے احکام کی اصطلاح میں ''ادا'' کہتے ہیں۔

اگر نماز کو وقت کے بعد پڑھا جاے تو اسے احکام کی اصطلاح میں ''قضا'' کہتے ہیں۔

٣۔مستحب ہے کہ انسان نماز کو اول وقت میں پڑھے،اور جتنا اول وقت کے نزدیک تر ہو بہتر ہے،مگر یہ کہ نماز میں تاخیر کرنا کسی وجہ سے بہتر ہو،مثلاً انتظار کرے تا کہ نماز کو با جماعت پڑھے۔(٢)

٤۔اگر نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ نماز گزار اگر مستحبات کو بجالائے تو نماز کا کچھ حصہ بعد از وقت پڑھا جائے گا،تو مستحبات کو نہ بجا لایا جائے،مثلاً اگر قنوت پڑھنا چاہے تو نماز کا وقت گزر جائے گا، تو اس صورت میں قنوت کو نہ پڑھے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائلم٧٤٤.

(٢)توضیح المسائلم٧٥١.

(٣)توضیح المسائلم٧٤٧.


سبق:١٣ کا خلاصہ

١۔واجب نمازیں دوقسم کی ہیں:

الف:دائمی نمازیں ۔

ب:وہ نمازیں جو بعض اوقات واجب ہوتی ہیں۔

٢۔ یومیہ نمازیں یہ ہیں:

نماز صبح،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب و عشائ۔

٣۔جو نمازیں بعض اوقات واجب ہوتی ہیں وہ یہ ہیں:

نماز آیات،نماز طواف، نماز میت، بڑے بیٹے پر باپ کی قضا نمازیں اور نذر کی گئی نمازیں۔

٤۔یومیہ نمازوں کے اوقات حسب ذیل ہیں:

صبح کی نماز کا وقت: اذان صبح سے سورج نکلنے تک

ظہر و عصر کی نماز کا وقت: ظہر شرعی سے مغرب تک

نماز مغرب و عشاء کا وقت: مغرب سے نصف شب تک

٥۔فجر دوم کے شروع ہونے کا وقت صبح کی اذان اور نماز کا وقت ہے۔

٦۔جب زمین پر سیدھی گاڑی ہوئی چیزوں کا سایہ کمترین حد تک پہنچ جائے او رپھر بڑھنا شروع ہوجائے تو وہ ظہر شرعی کا وقت ہے۔

٧۔سورج کے ڈوبنے کے بعد جب مشرق کی سرخی زائل ہوجاتی ہے تو مغرب کا وقت ہے۔

٨۔اگر سورج کے ڈوبنے سے صبح کی اذان تک کے زمانی فاصلہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کا درمیانی وقت نصف شب اور نماز عشا کا آخر ی وقت ہے۔

٩۔اگر پوری نماز،وقت سے پہلے پڑھی جائے تو باطل ہے۔

١٠۔اپنے وقت کے اندر پڑھی جانے والی نماز کو ''ادا'' اور وقت کے بعد پڑھی جانے والی نماز کو ''قضا'' کہتے ہیں۔


سوالات:

١۔ واجب اور مستحب نماز کے درمیان فرق کو بیان کیجئے؟

٢۔ان نمازوں کا نام لیجئے جو ہمیشہ شب میں پڑھی جاتی ہیں؟

٣۔نماز آیات کے واجب ہونے کے دو سبب بیان کیجئے؟

٤۔آج ہی ایک لکڑی کو زمین پر سیدھا نصب کرکے ظہر کو معین کیجئے؟

٥۔اگر سورج ڈوبنے کا وقت ٦١٥: بجے بعد از ظہر ہو اور اذان صبح٤٥١: بجے ہو تو حساب کر کے بتائیے کہ ایسی شب میں ،نصف شب کتنے بجے ہوگی؟

٦۔مغرب(نماز مغرب کا ابتدائی وقت )کو تشخیص دینے کے لئے ہمیں مشرق کی طرف توجہ کرنا چاہئے یا مغرب کی طرف؟


سبق نمبر١٤

قبلہ اور لباس

قبلہ

١۔خانہ کعبہ، جو شہر مکہ اور مسجد الحرام میں واقع ہے ،مسلمانوں کا قبلہ ہے اور نماز گزار کو اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنی چاہئے۔

٢۔جو شہر مکہ سے باہر یا اس سے دور رہتے ہیں،اگر ایسے کھڑے ہوجائیں کہ کہا جائے یہ روبہ قبلہ نماز پڑھ رہے ہیں تو یہ کافی ہے۔(١)

____________________

(١)توضیح المسائلم٧٧٦.


نماز میں بدن کو ڈھانپنا:

١۔ایک مسئلہ،جس کی طرف نماز شروع کرنے سے پہلے توجہ کرنا ضروری ہے،مسئلۂ لباس ہے، یہاں پر ہم نماز میں لباس اور اس کے شرائط کے بارے میں تھوڑی روشنی ڈالیں گے:

نماز گزار کے لباس کی مقدار: (چھپانے کی حد)

١۔مردوں کو اپنی شرمگاہ کو ڈھانپنا چاہئے اور بہتر ہے ناف سے زانو تک ڈھانپا جائے۔

٢۔عورتوں کو درج ذیل اعضاء کے علاوہ اپنا پورا بدن ڈھانپنا چاہئے:

*ہاتھوں کو کلائی تک۔

*پائوں کو ٹخنوں تک۔


*چہرے کو وضو میں دھوئی جانے والی مقدار تک۔(١)

٣۔عورتوں کے لئے ہاتھوں پائو ں اور چہرے کی مذکورہ مقدار کو نماز میں ڈھانپنا واجب نہیں ہے،لیکن ان کو ڈھانپنا ممنوع بھی نہیں ہے۔(٢)

٤۔نماز گزار کے لباس میں درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:

*پاک ہو(نجس نہ ہو)

*مباح ہو(غصبی نہ ہو)

*مردار کے اجزاء کا بنا ہوا نہ ہو۔(٣) مثلاً ایسے حیوان کی کھال کا بنا ہوا نہ ہو،جسے اسلامی دستورات کے مطابق ذبح نہ کیا گیا ہو،حتی اگر کمر بند اور ٹوپی بھی اس کی بنی ہوئی نہ ہو۔

*مردوں کا لباس سونے یاخالص ابریشم کا بنا ہوا نہ ہو۔

مذکورہ شرائط میں سے جو ممکن ہے ہر ایک شخص کے لئے پیش آئے،پہلی شرط ہے،چونکہ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو غصبی لباس یا مردار کے اجزاء سے بنے ہوئے لبا س میں نماز پڑھیں، لہٰذا پہلی شرط کے سلسلے میں وضاحت کرتے ہیں۔ قابل ذکر یہ ہے کہ لباس کے علاوہ نماز گزار کا بدن بھی پاک ہونا چاہئے۔

وہ مواقع،جن میں نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے:

*نجس بدن یا لباس کے ساتھ عمداً نماز پڑھے ،یعنی یہ جانتے ہوئے کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے پھر بھی اسی کے ساتھ نماز پڑھے۔(٤)

____________________

(١)توضیح المسائلم٨٨٩٧٨٨.

(٢)توضیح المسائلم٧٨٩.

(٣)تیسرا سبق ملاحظہ ہو.

(٤)توضیح المسائلم٧٩٩.


*مسئلہ کو سیکھنے میں کوتاہی کی ہو*اور مسئلہ کو نہ جاننے کی وجہ سے نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھی ہو۔(١)

بدن یا لباس کے نجس ہونے کے بارے میں علم رکھتا ہو،لیکن نماز کے وقت فراموش کرکے اسی حالت میں نماز پڑھی ہو۔(٢)

وہ مواقع جن میں نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل نہیں ہے:

*نہیں جانتا کہ بدن یا لباس نجس ہے اور نماز پڑھنے کے بعد متوجہ ہوجائے۔(٣)

*بدن میں موجودہ زخم کی وجہ سے بدن یا لباس نجس ہوا ہے اور دھونایا تبدیل کرنا دشوار ہو۔(٤)

*نماز گزار کا لباس یا بدن خون سے نجس ہوا ہو لیکن خون کی مقدار''ایک درہم'' * *سے کم ہو۔

*نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے ناچار ہو،مثلاً تطہیر کے لئے پانی نہ ہو۔

چند مسائل:

١۔اگر نماز گزار کے چھوٹے لباس،جیسے:دستانہ اور موزہ نجس ہوں یا ایک چھوٹا نجس رومال جیب میں ہو،اگر یہ چیزیں حرام گوشت مردار کے اجزاء سے بنی ہوئی نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائلم٨٠٠.

(٢)توضیح المسائلم٨٠٣.

(٣)توضیح المسائلم٨٠٢.

(٤)توضیح المسائلم٨٤٨.

(٥)توضیح المسائلم٨٤٨.

*(گلپائیگانی)جو یہ نہیں جانتا ہوکہ نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے،اگر نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھے،احتیاط لازم کی بناء پر اس کی نماز باطل ہے (مسئلہ٨٠٨٩)(اراکی)جو یہ نہیں جانتا کہ نجس بدن یالباس کے ساتھ نماز باطل ہے،اور نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھے،نماز باطل ہے(مسئلہ٧٩٤)

٭٭ایک درہم تقریباً ١٧ملی میٹر قطر والے دائرہ کے برابر ہوتا ہے ''مترجم''.


٢۔نماز میں عبا،سفید اور پاکیزہ لباس پہننا،خوشبو کا استعمال کرنا اور عقیق کی انگوٹھی پہننا مستحب ہے۔(١)

٣۔کالے، گندے، تنگ اور نقش ونگار والے کپڑے پہننا اور نماز میں لباس کے بٹن کھلے رکھنا مکروہ ہے۔(٢)

____________________

(١)توضیح المسائلم٨٤٨.

(٢)توضیح المسائلم٨٦٥.


سبق :١٤ کا خلاصہ

١۔خانہ کعبہ جو مسجد الحرام اور شہر مکہ میں واقع ہے،قبلہ ہے اور نماز گزار کو اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنی چاہئے۔

٢۔اگر نماز گزار اس طرح کھڑا ہوجائے کہ دیکھنے والے کہیں کہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے تو کافی ہے۔

٣۔مردوں کو نماز میں اپنی شرمگاہ کو ڈھانپنا چاہئے اور بہتر ہے ناف سے زانو تک ڈھانپ لیں۔

٤۔عورتوں کو نماز میں تمام بدن کو ڈھانپنا چاہئے، سوائے ہاتھوںکو کلائی تک اور پائوں کو ٹخنو ں تک۔

٥۔نماز گزار کا بدن پاک ہونا چاہئے۔

٦۔نماز گزار کالباس مباح ہونا چاہئے نیز مردار اور حرام گوشت حیوان کے اجزاء کا بنا ہوا نہ ہو۔

٧۔اگر نماز گزار نماز سے پہلے نہ جانتا ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور اسے نماز کے بعد اس کا پتہ چلے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

٨۔اگر نماز گزار کو پہلے سے علم تھا کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور نما زکے وقت بھول گیا اور نماز کے بعد یاد آئے تو اس کی نماز باطل ہے۔


سوالات:

١۔نماز گزار کے لباس کے شرائط کیا ہیں؟

٢۔اگر نماز پڑھنے کے بعد متوجہ ہوجائے کہ اس کا لباس نجس تھا تو اس کا کیا حکم ہے؟

٣۔کس حالت میں نماز گزار یہ جانتے ہوئے کہ اس کا لباس نجس ہے، نماز پڑھ سکتا ہے؟

٤۔اگرنماز کے دوران متوجہ ہوجائے کہ اس کا لباس نجس ہے تو تکلیف کیا ہے؟

٥۔ مجبوری کی صورت میں نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں اس کی تین مثالیں بیان کیجئے؟


سبق نمبر ١٥

نماز گزار کی جگہ،اذان و اقامت

نماز گزار کی جگہ کے شرائط:

جس جگہ پر نماز گزار نماز پڑھتا ہے،اس کے درج ذیل شرائط ہونے چاہئے:

*مباح ہو(غصبی نہ ہو)

*بے حرکت ہو(گاڑی کی طرح حرکت کی حالت میں نہ ہو)

*تنگ اور اس کی چھت اتنی نیچی نہ ہو کہ نماز گزار آسانی کے ساتھ قیام،رکوع اور سجود کو صحیح طور پر نہ بجا لا سکے۔

*(سجدہ کی حالت میں)پیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔

*نماز گزار کی جگہ اگر نجس ہو تو اس قدر تر نہ ہو کہ نجاست بدن یا لباس میں سرایت کر جائے۔

*(سجدہ کی حالت میں)پیشانی رکھنے کی جگہ زانو سے اور احتیاط واجب کی بناء پر پائوں کی انگلیوں سے،ملی ہوئی چار انگلیوں سے پست تر یا بلند تر نہ ہو۔(١) *

____________________

(١)توضیح المسائل مکان نماز گزار.

* تمام مراجع کے رسالوں میں چند اور شرائط کا بھی ذکر ہوا ہے۔


نماز گزار کی جگہ کے احکام:

١۔غصبی جگہ پر (مثلاً ایک ایسے گھر میں،جس میں مالک مکان کی اجازت کے بغیر داخل ہوا ہے) نماز پڑھنا باطل ہے۔(١)

٢۔مجبوری کی حالت میں متحرک چیز جیسے ہوا ئی جہاز اور ریل گاڑی میں،یااس جگہ پر جس کی چھت پست ہو یا خود جگہ تنگ ہو،جیسے خندق اور ناہموارجگہ پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(٢)

٣۔انسان کو ادب واحترام کی رعایت کرتے ہوئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور امام کی قبر کے آگے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔(٣) *

٤۔مستحب ہے انسان نماز کو مسجد میں پڑھے اور اسلام میں اس مسئلہ کی بہت تاکید ہوئی ہے۔(٤)

٥۔آئندہ ذکر ہونے والے مسائل کے پیش نظر،مسجد میں جانے اور وہاں پر نماز پڑھنے کی اہمیت کو حسب ذیل بیان کرتے ہیں:

*مسجد میں زیادہ جانا مستحب ہے۔

*جس مسجد میں نماز گزار نہ ہوں،وہاں پر جانا مستحب ہے۔

*مسجد کا ہمسایہ اگر معذور نہ ہوتو اس کے لئے مسجد سے باہر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

*مستحب ہے انسان مسجد میں نہ جانے والے شخص کے ساتھ:

کھانا نہ کھائے،اس سے صلاح و مشورہ نہ کرے،اس کا ہمسایہ نہ بنے،اس سے بیٹی نہ لے اور

____________________

(١)توضیح المسائلم٨٦٦.

(٢)توضیح المسائلم٨٨٠.

(٣)توضیح المسائلم٨٨٤.

(٤)توضیح المسائلم٨٩٣.

*(گلپائیگانی )احتیاط واجب کی بناء پر پیغمبراور امام کی قبر کے برابر یا آگے نماز نہ پڑھے۔ (مسئلہ ٨٩٨)


اسے بیٹی نہ دے۔(١) *

نماز کے لئے تیاری:

نماز گزار وضو،غسل،تیمم، وقت نماز ، لباس اور مکان کے بارے میں مسائل بیان کرنے کے بعد اب ہم نماز شروع کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔

اذان و اقامت:

١۔نماز گزار پر مستحب ہے کہ یومیہ نماز سے پہلے،ابتداء میں اذان کہے،اس کے بعد اقامت اور پھر نماز کو شروع کرے۔(٢)

اذان:

اَللّٰهُ اَکْبَر ٤ مرتبہ

اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهٰ اِلَّا اللّٰه ٢مرتبہ

اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰه ٢مرتبہ

اَشْهَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَلِیُ اللّٰه ٭٭ ٢مرتبہ

حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ ٢مرتبہ

حَیَّ عَلَی الْفَلاٰحِ ٢مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ ٢مرتبہ

____________________

(١)توضیح المسائلم٨٩٦و ٨٩٧.

(٢)توضیح المسائلم٩٢٦و ٩١٨.

*احکام مسجد،تفصیل سے سبق ٢٤میں آئیں گے۔

٭٭ جملۂ ''اشھد ان علیا ولی اﷲ'' اذان و اقامت کا جزو نہیں ہے۔ لیکن بہتر ہے ''اشھد ان محمدا رسول اﷲ'' کے بعد قصد قربت سے پڑھا جائے۔ (توضیح المسائل م٩١٩)


اَللّٰهُ اَکْبَر ٢مرتبہ

لَا اِلٰهٰ اِلَّا اللّٰه ٢مرتبہ

اقامت:

اَللّٰهُ اَکْبَر ٢مرتبہ

اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهٰ اِلَّا اللّٰه ٢مرتبہ

اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰه ٢مرتبہ

اَشْهَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَلِیُ اللّٰه ٢مرتبہ

حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ ٢مرتبہ

حَیَّ عَلَی الْفَلاٰحِ ٢مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ ٢مرتبہ

قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰة ٢مرتبہ

اَللّٰهُ اَکْبَر ٢مرتبہ

لَا اِلٰهٰ اِلَّا اللّٰه ایک مرتبہ

اذان و اقامت کے احکام:

١۔اذان و اقامت، نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد کہنی چاہئیںاور اگر قبل از وقت کہی جائیں تو باطل ہے۔(١)

____________________

(١)توضیح المسائلم٩٣٥.


اقامت،اذان کے بعد کہی جا نی چاہئے اگر اذان سے پہلے کہی جائے تو صحیح نہیں ہے۔(١)

٣۔اذان اور اقامت کے جملوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہئے، اگر ان کے درمیان معمول سے زیادہ فاصلہ ڈالا جائے تو وہ جملے پھر سے پڑھنے چاہئے۔(٢)

٤۔اگر نماز جماعت کے لئے اذان اور اقامت کہی گئی ہوتو اس جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے کو اپنی نماز کے لئے الگ اذان و اقامت کہنی نہیں چاہئے۔(٣)

٥۔مستحبی نماز وںکے لئے اذان و اقامت نہیں ہے۔(٤)

٦۔جب بچہ پیدا ہو،تو مستحب ہے پہلے دن اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے۔(٥)

جس شخص کو اذان کہنے کے لئے معین کیا جائے،مستحب ہے وہ عادل،وقت شناس اور بلند آواز ہو۔(٦)

____________________

(١)توضیح المسائلم٩٣١.

(٢)توضیح المسائلم٩٢٠.

(٣)توضیح المسائلم٩٢٣.

(٤)العروة الوثقیٰج اص٦٠١.

(٥)توضیح المسائلم٩١٧.

(٦)توضیح المسائلم٩٤١.


سبق:١٥ کا خلاصہ

١۔نماز گزار کی جگہ کے لئے درج ذیل شرائط ضروری ہیں:

*مباح ہو۔

*بے حرکت ہو۔

*جگہ تنگ اور اس کی چھت نیچی نہ ہو۔

*(سجدہ میں)پیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔

*جگہ پست و بلند نہ ہو۔

*اگر نماز کی جگہ نجس ہو تو،نجاست نماز گزار کے بدن یالباس میں سرایت نہ کرے۔

٢۔غصبی جگہ پر نماز پڑھنا باطل ہے۔

٣۔مجبوری کی حالت میں متحرک،پست چھت والی اور پست و بلند جگہ پر نماز پڑھ سکتے ہیں۔

٤۔مستحب ہے انسان مسجد میں نماز پڑھے۔

٥۔مستحب ہے انسان،مسجد میں نہ جانے والے شخص کے ساتھ کھا نا نہ کھا ئے،اس کا ہمسایہ نہ بنے،کاموں میں اس سے صلاح و مشورہ نہ کرے،اسے بیٹی نہ دے اور اس سے بیٹی نہ لے۔

٦۔مستحب ہے نماز شروع کرنے سے پہلے اذان کہے پھر اقامت کہے اور اس کے بعدنماز شروع کرے۔

٧۔اقامت کو اذان کے بعد کہنا چاہئے۔

٨۔جو شخص نماز جماعت میں شرکت کرتاہے،اگر اس نماز کے لئے اذان و اقامت کہی گئی ہو تو اسے اپنی نماز کے لئے الگ سے اذان و اقامت کہنے کی ضرورت نہیں۔

٩۔مستحب ہے پیدائش کے دن بچے کے دائیں کان میںاذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔


سوالات:

١۔نجس فرش پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

٢۔کیا اس جانماز پر نماز پڑھی جاسکتی ہے جسے کسی اور نے اپنے لئے کھول کے رکھا ہو؟ اور کیوں؟

٣۔اذان اور اقامت میں کیا فرق ہے؟

٤۔مسجد میں حاضری نہ دینے والے شخص کے ساتھ کس قسم کا برتائو کرنا مستحب ہے؟

٥۔ریل گاڑی اور ہوائی جہاز میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

٦۔دو ایسے مواقع بیان کیجئے جہاں پر اذان و اقامت پڑھنا نہیں چاہئے۔


سبق نمبر ١٦

واحبات نماز:

١۔''اﷲ اکبر''،کہنے سے نماز شروع ہوتی ہے اور سلام پھیرنے سے اختتام کو پہنچتی ہے۔

٢۔جو کچھ نماز میں انجام پاتا ہے واجب ہے،یا مستحب ہے۔

٣۔واجبات نماز گیارہ ہیں،ان میں سے بعض رکن و بعض غیر رکن ہیں۔

واجبات نماز(١)

رکن:

١۔نیت۔

٢۔قیام۔

٣۔تکبیرة الاحرام۔

٤۔رکوع۔

٥۔سجود۔

غیر رکن:

١۔قرأت۔

٢۔ذکر۔

٣۔تشہد۔

٤۔سلام۔

٥۔ترتیب

٦۔موالات۔

____________________

(١)توضیح المسائل،واجبات نماز.


رکن وغیر رکن میں فرق:

ارکان نماز،نماز کے بنیادی اجزاء میں شمار ہوتے ہیں، چنانچہ ان میں سے کسی ایک کو اگر نہ بجالایا گیا یا اس میں اضافہ کیا گیا،اگر چہ فراموشی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو،تو نماز باطل ہے۔

دوسرے واجبات کو اگرچہ انجام دینالازم اور ضروری ہے لیکن اگر فراموشی سے ان میں کم یا زیادہ ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہے۔(١)

واجبات نماز کے احکام:

نیت:

١۔نماز گزار کو نماز کی ابتداء سے انتہا تک یہ جاننا چاہئے کہ کونسی نماز پڑھ رہا ہے اور اسے خدائے تعالیٰ کے حکم کو بجالانے کے لئے پڑھنا چاہئے۔(٢)

٢۔نیت کو زبان پر لانے کی ضرورت نہیں،لیکن اگر زبان پر لائی بھی جائے تو کوئی مشکل نہیں۔(٣)

٣۔نماز،ہر قسم کی ریا کاری اور ظاہرداری سے دور ہونی چاہئے،یعنی نماز کو صرف خد ا کے حکم کو بجالانے کی نیت سے پڑھنا چاہئے۔ اگر پوری نماز یا اس کا ایک حصہ غیر خدا کے لئے ہو تو باطل ہے۔(٤) *

____________________

(١)توضیح المسائلم٩٤٢.

(٢)توضیح المسائلم٩٤٢.

(٣)توضیح المسائلم٩٤٣.

(٤)توضیح المسائلم٩٤٦و ٩٤٧.

*(گلپائیگانی )اگر نماز کاری کے مستحبات میںریا کریں،احتیاط لازم یہ ہے کہ نماز کو تمام کر کے دوبارہ پڑھے.(مسئلہ ٩٥٦)


تکبیرة الاحرام:جیسا کہ بیان ہواہے''اللہ اکبر''کہنے سے نمازشروع ہوتی ہے اور اسے ''تکبیرة الاحرام''کہتے ہیں، کیونکہ اسی تکبیر کے کہنے سے بہت سے وہ کام جو نماز سے پہلے جائز تھے،نماز گزار پر حرام ہوجاتے ہیں:

جیسے :کھانا،پینا،ہنسنا اور رونا۔

تکبیرة الاحرام کے واجبات:

١۔صحیح عربی تلفظ میں کہی جائے۔

٢۔''اﷲ اکبر'' کہتے وقت بدن سکون میں ہو۔

٣۔تکبیرة الاحرام کو ایسے کہنا چاہئے کہ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو خودسن سکے،یعنی بہت آہستہ نہیںکہنا چاہئے۔

٤۔احتیاط واجب کی بناء پر اسے ایسی چیز سے وصل نہ کریں جو اس سے پہلے پڑھی جاتی ہو۔(١)

مستحب ہے تکبیرة الاحرام یا نماز کے درمیان پڑھی جانے والی دوسری تکبیروں کو کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر بلندکریں۔(٢)

قیام:قیام یعنی کھڑا رہنا،بعض مواقع پر قیام ارکان نماز میںسے ہے اور اس کا ترک نماز کو باطل کرتا ہے،لیکن جو افراد کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے معذور ہوں ان کا حکم جدا ہے، اسکے مسائل آئندہ بیان کئے جائیں گے۔

____________________

(١)توضیح المسائل م٩٤٨، ٩٤٩، ٩٥١، ٩٥٢.

(٢)توضیح المسائل م٩٥٥.

(٣)توضیح المسائل م٩٥٨.


احکام قیام:

١۔واجب ہے نماز گزار تکبیرة الاحرام کہنے سے پہلے اور اس کے بعد قدرے کھڑا رہے تا کہ

اطمینان پیدا ہوجائے کہ تکبیرة الاحرام قیام کی حالت میں کہی ہے۔(١)

٢۔قیام،قبل ا* رکوع کا مفہوم یہ ہے کہ کھڑے رہنے کی حالت کے بعد رکوع میں جائے،اس بناء پر اگر قرأت کے بعد رکوع کو فراموش کرکے سیدھے سجدہ میں جائے اور سجدہ کرنے سے پہلے یاد آئے،تو پھر سے مکمل طور پر کھڑے ہو کر چند لمحے رکنے کے بعد رکوع کو بجالائے اور اس کے بعد سجدہ میں جائے۔(٢)

٣۔وہ امور جن سے قیام کی حالت میں پرہیز کرنا چاہئے:

*بدن کو حرکت دینا ۔

*کسی طرف جھکنا۔

*کسی جگہ یا چیز سے ٹیک لگانا۔

*پائوں کو زیادہ کھول کے رکھنا۔

*پائوں کو زمین سے بلندکرنا۔(٣)

٤۔نماز گزار کو چاہئے کہ کھڑے رہنے کی حالت میں دونوں پائوں کو زمین پر رکھے۔ *

لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ بدن کاوزن دونوں پائوں پر برابر پڑے بلکہ اگر بدن کا وزن ایک پیر پر ہو تو کوئی حرج نہیں ۔(٤)

٥۔جوشخص کسی بھی صورت میں کھڑے ہوکر نماز نہیںپڑھ سکتا ،تو اسے چاہئے بیٹھ کر قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے،اور اگر بیٹھ کر بھی نماز نہ پڑھ سکے تو لیٹ کرنماز پڑھے۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائلم٩٥٩. (٢)توضیح المسائلم٩٦٠. (٣)توضیح المسائلم٩٦١،٩٦٣ و ٩٦٤.

(٤)توضیح المسائل، م ٩٦٣. (٥)توضیح المسائلم٩٧١٩٧٠.

*(خوئی)احتیاط مستحب ہے کہ دونوں دوپائو ںکو زمین پر رکھاجائے۔(مسئلہ ٩٧٢)


٦۔واجب ہے رکوع کے بعد مکمل طور پر کھڑے ہوکر رکے (قیام) اور پھر سجدہ میں جائے،اگر اس قیام کو عمداً ترک کرے تو نماز باطل ہے۔(١)

____________________

(١)تحریر الوسیلہج١ص١٦٢م١العروة الوثقیٰ، ج ١، ص ٦٦٥، الرابع.


درس:١٦ کا خلاصہ

١۔واجبات نماز ،گیارہ چیزیں ہیں اور ان میںپانچ رکن اور باقی غیر رکن ہیں۔

٢۔رکن اور غیر رکن میں فرق یہ ہے کہ اگر ارکان نماز میں سے کوئی ایک چیز،حتی بھولے سے بھی کم یا زیادہ ہوجائے،نماز باطل ہے، لیکن اگر غیر رکن بھولے سے کم یا زیادہ ہوجائے تونماز باطل نہیں ہوتی۔

٣۔نماز کی نیت ہر قسم کی ریا کاری اور ظاہرداری سے مبرا ہونی چاہئے۔

٤۔تکبیرة الاحرام کو صحیح عربی زبان میں کہنا چاہئے۔

٥۔تکبیرة الاحرام کے وقت قیام اور رکوع سے متصل قیام،رکن ہیں، لیکن قرأت اور رکوع کے بعد والے قیام رکن نہیں ہیں ۔البتہ واجب ہیں اور اگر عمداًترک ہوجائے تو نماز باطل ہے۔


سوالات:

١۔ارکان نماز کو بیان کیجئے اور رکن وغیر رکن میں کیا فرق ہے؟

٢۔نماز کے پہلے''اﷲ اکبر'' کو کیوں تکبیرة الاحرام کہتے ہیں؟

٣۔نیت کی وضاحت کیجئے؟

٤۔قیام کی وضاحت کرکے اس کی قسمیں بیان کیجئے؟

٥۔رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے قیام کی وضاحت کر کے ان کے فرق کو بیان کیجئے؟


سبق نمبر١٧

واجبات نماز

قرأت

پہلی اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد اور کسی دوسرے سورے کے پڑھنے اور تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۂ حمد یا تسبیحات اربعہ کے پڑھنے کوقرأت'' کہتے ہیں۔

سورۂ حمد:

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ٭ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ ٭ مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ ٭ ِیَّاکَ نَعْبُدُ وَِیَّاکَ نَسْتَعِینُ ٭ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ ٭صِرَاطَ الَّذِینَ َنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلاَالضَّالِّینَ (٭)

پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد قرآن مجید سے کوئی دوسرا سورہ پڑھا جانا چاہئے، مثلاً سورہ توحید:

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد ٭اَللّٰهُ الصَّمَدُ٭ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ٭ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً اَحَدُ .(٭)

اور تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد یا تین مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھنا چاہے، تسبیحات اربعہ کو ایک مرتبہ پڑھنا بھی کافی ہے۔(١)

تسبیحات اربعہ:

''سُبْحٰانَ اللّٰه وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلاٰ اِلَهَ اِلاَّ اللّٰهوَالله ُاکبر '' .


قرأت کے احکام:

١۔ تیسری اور چوتھی رکعت کی قرأت کو آہستہ (اخفات کے طور پر) پڑھنا چاہئے، لیکن پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ حمد اور دوسرے سورہ کے بارے میں حکم حسب ذیل ہے:(٢)

نماز-----------نماز گزار ---------------------حکم

ظہر وعصر------مرداور عورت----------------آہستہ پڑھنا چاہئے۔

مغرب، عشا و صبح -----مرد-------------------بلند پڑھناچاہئے

عورت---------------------------------------اگرنامحرم اس کی آواز کو نہ سنتا ہوتو بلند آواز میں پڑھ سکتی ہے

اور اگر کوئی نامحرم سنتا ہوتو احتیاط واجب کی بناء پر آہستہ پڑھے۔

٢۔ اگر نماز بلند پڑھنے کی جگہ عمداً آہستہ پڑھی جائے یاآہستہ پڑھی جانے کی جگہ عمداً بلند پڑھی جائے تو نماز باطل ہے، لیکن بھولے سے یا مسئلہ کو نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کیا جائے تو نماز صحیح

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١٠٠٥

(٢) توضیح المسائل، م ٩٩٢ تا٩٩٤ و ١٠٠٧


ہے۔(١)

٣۔ اگر سورۂ حمد پڑھتے ہوئے سمجھے کہ غلطی کی ہے (مثلاً بلند پڑھنے کے بجائے آہستہ پڑھاہو) تو ضروری نہیں ہے پڑھے ہوئے حصہ کو دوبارہ پڑھے۔(٢)

٤۔ انسان کو چاہئے نماز کو سیکھ لے تاکہ غلط نہ پڑھے، اگر کوئی کسی صورت میں بھی نماز کو صحیح طور پر یاد نہیں کرسکتا ہو تو اسے جس طرح بھی پڑھ سکتا ہے پڑھنا چاہئے اور احتیاط مستحب ہے زکہ نماز کو باجماعت پڑھے۔(٣)

٥۔ اگر انسان ایک لفظ کو صحیح جانتے ہوئے پڑھتا ہو، مثلاً لفظً ''عبدُہ'' کو تشہد میں ''عبدَہ'' جان کر پڑھتا ہو اور بعد میں پتہ چلے کہ غلط تھا تو ضروری نہیں ہے، نماز کو دوبارہ پڑھے۔٭٭(٤)

٦۔درج ذیل مواقع پر نماز گزار کو پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ نہیں پڑھنا چاہئے اور صرف حمد پڑھنا کافی ہے:

الف: نماز کا وقت تنگ ہو۔

ب: سورہ نہ پڑھنے پر مجبور ہو، مثلاً ڈر ہوکہ اگر سورہ پڑھے تو چور، درندہ یا کوئی اور چیز اسے نقصان پہنچائے۔(٥)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ٩٩٥

(٢) توضیح المسائل،م ٩٩٥

(٣) توضیح المسائل،م ٩٩٧

(٤) توضیح المسائل،م ١٠٠١.

(٥)توضیح المسائل،م ٩٧٩.

*(گلپائیگانی) احتیاط لازم یہ ہے کہ نماز کو با جماعت پڑھے(مسئلہ ١٠٠٦)

٭٭(گلپائیگانی) (اراکی) دوبارہ پڑھنا چاہئے۔(مسئلہ ١٠١٠)


٧۔وقت کی تنگی کے موقع پر تسبیحات اربعہ کو ایک مرتبہ پڑھیں۔(١)

قرأت کے بعض مستحبات :

١۔ پہلی رکعت میں حمدسے پہلے ''اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم'' پڑھنا۔

٢۔ ظہر وعصر کی نماز کی پہلی اور دوسری رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم'' کو بلند آواز میں پڑھنا۔

٣۔ حمد اور سورہ کو رک رک کر پڑھنا اور آیت کے آخر پر وقف کرنا، یعنی اسے بعد والی آیت سے ملاکر نہ پڑھنا۔

٤۔ حمد اور سورہ کو پڑھتے وقت ان کے معنی کی طرف توجہ رکھنا۔

٥۔ تمام نمازوں میں پہلی رکعت میں سورۂ ''انا انزلناہ''اور دوسری رکعت میں سورہ'' قل ھواللہ احد'' پڑھنا۔(٢)

____________________

(١)توضیح المسائل ،م ١٠٠٦.

(٢)توضیح المسائل،م ١٠١٧و١٠١٨


ذکر:

واجبات رکوع اور سجدہ میں ایک ذکر ہے، یعنی '' سبحان اﷲ'' یا ''اﷲ اکبر'' یا ان جیسا کوئی اور ذکر پڑھنا، ان کی تفصیل آگے بیان ہوگی۔

سبق ١٧ کا خلاصہ

١۔قرأت، سے مراد ہے نماز کی پہلی اور دوسری رکعت میں ''حمد'' اور قرآن مجید کا کوئی دوسرا سورہ اور نمازکی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ حمد یا تسبیحات اربعہ پڑھنا۔

٢۔نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کی قرأت کو آہستہ پڑھنا چاہئے۔

٣۔ مردوں کو نماز صبح اور مغرب وعشا کی پہلی اور دوسری رکعت میں حمد وسورہ کو بلند آواز سے پڑھنا چاہئے۔

٤۔نماز ظہر وعصر میں حمدوسورہ کو آہستہ پڑھنا چاہئے۔

٥۔ وقت کی تنگی اور مجبوری کی حالت میں سورہ نہ پڑھے اور تسبیحات اربعہ کو بھی ایک ہی بار پڑھے۔

٦۔ اگر انسان کسی لفظ کو صحیح جان کر نماز کو اسی طرح پڑھے اور بعد میں پتہ چلے کہ وہ لفظ غلط تھا تو ضروری نہیں کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔

٧۔ انسان کو چاہئے نماز کو صحیح طور پر سیکھ لے تاکہ غلط نہ پڑھے۔


سوالات:

١۔قرأت کیا ہے؟وضاحت کیجئے۔؟

٢۔ کیا آپ نے اب تک کسی کے پاس قرأت کی ہے؟اگر جواب منفی ہے تو قرأت کو کسی استاد کے پاس جا کر اس کی اصلاح کیجئے۔؟

٣۔ کیا تسبیحات اربعہ کو بلند آواز میں پڑھا جاسکتا ہے؟

٤۔ کیا حمد اور سورہ کو نماز میں بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے؟

٥۔ ایک مردنے صبح، مغرب اور عشا کی نماز میں اب تک حمد اور سورہ کو آہستہ پڑھاہے گزشتہ نمازوں کے بارے میں اس کی تکلیف کیا ہے؟

٦۔ کیا آپ کی نماز میں اب تک کوئی غلطی تھی جس کے بارے میں آپ اب متوجہ ہوئے ہیں؟

٧۔کس موقع پر نماز گزار کو سورہ نہیں پڑھنا چاہئے اور تسبیحات اربعہ کو بھی ایک ہی مرتبہ پڑھنا چاہئے؟


سبق نمبر١٨

واجبات نماز

رکوع

١۔ نماز گزار کو ہر رکعت میں قرأت کے بعد اس قدر خم ہونا چاہئے کہ اس کے ہاتھ زانو تک پہنچ جائیں اور اس عمل کو '' رکوع'' کہتے ہیں ۔(١)

واجبات رکوع

١۔ بیان شدہ حدتک خم ہونا۔

٢۔ ذکر ( کم ازکم تین مرتبہ سبحان اللہ کہنا)

٣۔ ذکر پڑھتے وقت بدن کا قرار میں ہونا ۔

٤۔ رکوع کے بعد اٹھنا۔

٥۔ رکوع کے بعد بدن کا قرار۔(٢)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ١٠٢٢.

(٢)العروة الوثقی، ج ١ ص ٦٦٤


ذکر رکوع:

رکوع میں، جو بھی ذکرپڑھاجائے کافی ہے، لیکن احتیاط واجب زہے کہ تین مرتبہ '' سبحان اللہ'' یا ایک مرتبہ '' سبحان ربیّ العظیم وبحمدہ'' سے کم تر نہ ہو۔(١)

رکوع میں بدن کا سکون میں ہونا۔

١۔ رکوع میں واجب ذکر پڑھنے کی مقدار میں بدن سکون میں ہونا چاہئے۔(٢)

٢۔ اگر رکوع کی مقدار میں خم ہوکر بدن کے سکون پانے سے پہلے عمداً ذکر رکوع پڑھا جائے*تونماز باطل ہے۔(٣)

٣۔ اگر واجب ذکر تمام ہونے سے پہلے، رکوع سے عمداً سر اٹھایا جائے تو نماز باطل ہے۔(٤)

رکوع کے بعد بلند ہونا او رآرام پانا

ذکر رکوع ختم ہونے کے بعد بلند ہونا چاہئے اور اس کے بعد بدن آرام پائے اور پھر سجدہ میں جانا چاہئے اور اگر بلند ہونے سے پہلے یا بلند ہوکر آرام پانے سے پہلے عمدا سجدہ میںجائے تو نماز باطل ہے(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل، م١٠٢٨

(٢) توضیح المسائل م ١٠٣٠.

(٣) توضیح المسائل م ١٠٣٢.

(٤) توضیح المسائل م١٠٣٣.

(٥) توضیح المسائل م ١٠٤٠.

* (اراکی) شرط ہے کہ اسی قدر ہو (مسئلہ ١٢٠)( گلپائیگانی): تین بار سبحان اللہ کے برابر ہونا چاہئے۔(مسئلہ ١٠٣٧)

*(گلپائیگانی) بدن آرام پانے کے بعد دوبارہ ذکر رکوع پڑھاجائے، اور احتیاط لازم کے طور پر نماز کو تمام کرے دوبارہ پڑھے، اگر پہلے ذکر پر اکتفاء کرے تو نماز باطل ہے ۔(م ١٠٤١)


معمول کے مطابق رکوع انجام دینے میں معذور شخص کا فریضہ:

١۔جو شخص رکوع میںخم نہیں ہوسکتا ،اسے اسی قدر خم ہونا چاہئے جتنا ممکن ہو۔*

٢۔جو بالکل خم نہیں ہوسکتا ٭٭اسے بیٹھ کر رکوع کرنا چاہئے ۔

٣۔ جو بیٹھ کر بھی رکوع نہ بجا لاسکتا ہو اسے نماز کھڑے ہو کر پڑھنا چاہئے اور رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے۔(١)

رکوع کے بعض مستحبات:

١۔ مستحب ہے ذکر رکوع کو تین یا پانچ یا سات مرتبہ یا اس سے زیادہ پڑھے۔

٢۔مستحب ہے رکوع میں جانے سے پہلے سیدھا کھڑے ہوکر تکبیر کہے۔

٣۔مستحب ہے رکوع کی حالت میں اپنے دوپائوں کے درمیان زمین پر نگاہ کرے۔

٤۔مستحب ہے ذکر رکوع سے پہلے اور اس کے بعد درود بھیجے۔

٥۔ مستحب ہے رکوع کے بعد جب کھڑا ہو اور بدن سکون میں آجائے تو ''سمع اللہ لمن حمدہ'' کہے۔(٢)

سجود:

١۔ نماز گزار کو واجب اور مستحب نمازوں کی ہر رکعت میں، رکوع کے بعد دوسجدے بجالانے چاہئیں۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل م ١٠٣٧.

(٢) توضیح المسائل م ١٠٤٣.

(٣) توضیح المسائل م ١٠٤٥.

* (گلپائیگانی) اس صورت میںاحتیاط لازم ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور رکوع بیٹھے ہوئے انجام دے، اگر بالکل خم نہ ہوسکے تو بیٹھ جائے اور رکوع بجالائے احتیاط لازم یہ ہے کہ ایک اور نماز پڑھے اور رکوع کو اشارہ سے بجالائے۔(م ١٠٤٥)

٭٭(خوئی)رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے.(م ١٠٤٥)


٢۔پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور پائوں کے دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پر رکھنے کو سجدہ کہتے ہیں۔

واجبات سجدہ:

١۔بدن کے سات عضو زمین پر رکھنا۔

٢۔ ذکر۔

٣۔ذکر سجدہ کے دوران بدن کا سکون کی حالت میں ہونا۔

٤۔دوسجدوں کے درمیان سربلند کرکے آرام سے بیٹھنا۔

٥۔ذکر کے دوران سات عضو کا زمین پر ہونا۔

٦۔سجدہ کی جگہوں کا مسطح اور برابر ہونا۔

٧۔ایسی چیز پر پیشانی کو رکھنا کہ سجدہ اس پر جائز ہو۔

٨۔پیشانی رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا۔

٩۔دونوں سجدوں کے درمیان موالات کی رعایت کرنا۔(١)

واجبات سجدہ کی تفصیلات آئندہ سبق میں بیان ہوں گی۔

____________________

(١)العروةالوثقی، ج١،ص ٦٧٣


سبق: ١٨ کا خلاصہ

١۔ نماز کی ہر رکعت میں،قرأت کے بعد لازم ہے کہ ایک رکوع بجالایا جائے۔

٢۔رکوع کا مطلب یہ ہے کہ اس قدر خم ہونا کہ اس کے دونوں ہاتھ گھٹنوںتک پہنچ جائیں۔

٣۔واجبات رکوع مندرجہ ذیل ہیں:

*۔مذکورہ بالاحد تک خم ہونا۔

*۔ذکر پڑھتے وقت بدن کا سکون کی حالت میں ہونا۔

*رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا۔

٤۔احتیاط مستحب ہے کہ ذکر رکوع تین مرتبہ ''سبحان اﷲ'' یا ایک مرتبہ ''سبحان ربی العظیم وبحمدہ'' سے کم نہ ہو۔

٥۔ ذکر رکوع کو بدن کے سکون کی حالت میں پڑھنا چاہئے، رکوع میں جاتے یا رکوع سے بلند ہوتے ہوئے نہیں پڑھنا چاہئے۔

٦۔جوشخص کھڑے ہو کر رکوع بجالانے سے معذورہو، اسے بیٹھ کر رکوع کرنا چاہئے اور اگر بیٹھ کر بھی رکوع نہ کرسکے تو، سرکے اشارہ سے رکوع بجالائے۔

٧۔نماز گزار کو رکوع کے بعد دوسجدے بجالانے چائیں۔

٨۔سجدہ میں پیشانی، ہاتھوں کی ہتھیلیاں، گٹھنے اور پائوں کے انگو ٹھوںکے سرے زمین پر ہونے چاہئیں۔


سوالات :

١۔ رکوع اور ذکر رکوع میں کیا فرق ہے؟

٢۔حالت رکوع میں ٹھہرنے کی مقدار کتنی ہے؟

٣۔کیا رکوع کے بعد کھڑاہونا واجب ہے؟

٤۔سجدہ کی تعریف کیجئے، سجدہ واجبات نماز کا کونسا حصہ ہے؟

٥۔واجبات سجدہ کے چار مواقع بیان کیجئے۔؟


سبق نمبر ١٩

واجبات سجدہ

ذکر:

ذکر سجدہ میں جو بھی ذکرپڑھا جائے کافی ہے لیکن احتیاط واجب زیہ ہے کہ تین مرتبہ سبحان اللہ یا ایک مرتبہ'' سبحان ربی الاعلی وبحمدہ'' سے کم تر نہ ہو۔(١)

قرار:

١۔ سجدہ میں ذکر سجدہ پڑھنے کے بقدر بدن کا سکون میں ہونا ضروری ہے۔(٢)

٢۔اگر پیشانی زمین پر پہنچنے سے پہلے عمداًذکر پڑھاجائے تو نماز باطل ہے۔٭٭اور اگر بھولے سے ایسا کیا ہوتو دوبارہ سکون کی کی حالت میں ذکر پڑھے۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل م ١٠٤٩

(٢)توضیح المسائل،م ١٠٥٠

(٣) توضیح المسائل م ١٠١٥و ١٠٥٢.

*(اراکی) شرط ہے کہ اس سے کمتر نہ ہو (مسئلہ ١٠٤١)

٭٭پیشانی کے زمین پر پہنچنے اوربدن کے آرام پانے کے بعد دوبارہ ذکر پڑھیں اور احتیاط لازم کی بناپر نماز کو تمام کرکے اسے دوبارہ پڑھے (م١٠٦٠)


سجدہ سے سرکو اٹھانا:

١۔ پہلے سجدہ کا ذکر تمام ہونے کے بعد سجدہ سے سراٹھاکر ایسے بیٹھنا چاہئے کہ بدن آرام وقرار پائے او پھر دوسرے سجدہ میں جائے۔(١)

٢۔ اگر ذکر تمام ہونے سے پہلے عمداً سرکو سجدہ سے اٹھائے تو نماز باطل ہے۔(٢)

سات عضوکا زمین پر ہونا:

١۔ اگر ذکر سجدہ پڑھتے وقت سات اعضا میں سے کسی ایک کو عمداً زمین سے بلند کرے تو نماز باطل ہوگی زلیکن ذکر میں مشغول نہ ہونے کی صورت میں اگر پیشانی کے علاوہ کسی ایک عضو کو زمین سے اٹھا کر پھر زمین پر رکھے تو کوئی حرج نہیں ۔(٣)

٢۔ اگر پائوں کے انگوٹھوں کے علاوہ دوسری انگلیاںبھی زمین پر ہوں تو کوئی حرج نہیں ۔(٤)

سجدہ کی جگہ کا ہموار ہونا:

١۔ نماز گزار کی پیشانی کی جگہ اس کے گھٹنوں کی جگہ سے چارانگلیوں کے برابر بلند یا پست نہیں ہونی چاہئے.(٥)

____________________

(١) توضیح المسائل م ١٠٥٦.

(٢)توضیح المسائل،م١٠٥٢

(٣) توضیح المسائل م ١٠٥٤.

(٤)تحریر الوسیلہ ج ١،م٢،والعروة الوثقی، ج١،ص٦٧٦،م٧

(٥) توضیح المسائل م١٠٥٧.

*گلپائیگانی) احتیاط لازم یہ ہے کہ تمام اعضاء کے آرام پانے کے بعد ذکر واجب کو دوبارہ پڑھے اور نماز کو تمام کرکے پھرسے پڑھے (مسئلہ ١٠٦٣)


٢۔ احتیاط واجب ہے زکہ نماز گزار کی پیشانی کی جگہ پائوںکی انگلیوں کی جگہ سے بھی چار انگلیوں کے برابر بلند اور پست نہ ہونی چاہئے۔(١)

پیشانی کو ایسی چیزپر رکھنا جس پر سجدہ جائز ہے:

١۔ سجدہ میں پیشانی کو زمین پر یا زمین سے اگنے والی ہر اس چیز پر رکھنا چاہئے جو کھانے پینے یا پہننے میںاستعمال نہ ہوتی ہو۔(٢)

٢۔ جن چیزوں پر سجدہ جائز ہے، ان کے نمونے حسب ذیل ہیں:

*مٹی

*پتھر

*پختہ مٹی٭٭

*چونا

*لکڑی

*گھاس

سجدہ کے احکام:

١۔ معدن سے حاصل ہونے والی چیزوں، جیسے سونا ، چاندی، عقیق اور فیروزہ وغیرہ پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل م ١٠٥٧.

(٢) توضیح المسائل م ١٠٧٦.

(٣) توضیح المسائل م ١٠٧٦.

*(خوئی ۔اراکی) پست تر یا بلند تر نہ ہونی چاہئے۔(مسئلہ ١٠٦٦)

٭٭(اراکی۔گلپائیگانی) چونا،گچ اور پختہ مٹی پر سجدہ جائز نہیں ہے (مسئلہ ١٠٩٠)


٢۔ خدا کے علاوہ کسی اور کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔(١)

٣*مین سے اگنے والی ان چیزوں پر سجدہ صحیح ہے جو حیوانوں کی خوراک ہو جیسے گھاس پھوس۔(٢)

٤۔کاغذ پر سجدہ صحیح ہے اگرچہ وہ کپاس اور اس جیسی چیزوں سے بنا ہو۔(٣) *

٥۔ سجدہ کے لئے سب سے بہتر چیز تربت حضرت سیدالشہدا علیہ السلام ہے اور اس کے بعدترتیب کے ساتھ مندرجہ ذیل چیزیں ہیں:

*مٹی

*پتھر

*گھاس(٤)

٦۔ اگر پہلے سجدہ میں سجدہ گاہ پیشانی سے چپک جائے اور سجدہ گاہ کو الگ کئے بغیر دوسرے سجدہ میں جائے تو نماز باطل ہے۔(٥)

معمول کے مطابق سجدہ انجام دینے میں معذور شخص کا فریضہ:

١۔ جوشخص اپنی پیشانی کو زمین پر رکھنے سے معذور ہو، اسے اس قدر خم ہونا چاہئے جتنا وہ ہوسکے اور سجدہ گاہ کو ایک بلند جگہ، جیسے تکیہ وغیرہ پر رکھ کر سجدہ کرے، لیکن ہاتھوں کی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پائوں کے

____________________

(١) توضیح المسائل ،م ١٠٩٠.

(٢) توضیح المسائل، م ١٠٧٨.

(٣) توضیح المسائل ،م ١٠٨٢.

(٤)توصیح المسائل،م ١٠٨٣

(٥)توصیح المسائل،م ١٠٨٦.

*(گلپائیگانی) کپاس سے بنے کاغذ یا اس کے مانند نیز کاغذ پربھی سجدہ کرنے میں اشکال ہے جس کے بارے معلوم نہ ہوکہ سجدہ کے صحیح ہونے کی چیزسے بنا ہے یا نہ۔


انگوٹھوں کو معمول کے مطابق زمین پر رکھنا چاہئے۔(١)

٢۔ اگر خم نہ ہوسکتا ہو تو سجدہ کے لئے بیٹھ جائے اور سرسے اشارہ کرے،(٢) لیکن احتیاط واجب ہے کہ سجدہ گاہ کو اوپر اٹھا کر پیشانی کو اس پر رکھے۔

بعض مستحبات سجدہ:

١۔ درج ذیل مواقع پر مستحب ہے تکبیر کہی جائے:

*رکوع کے بعد اور سجدۂ اول سے پہلے ۔

*پہلے سجدہ کے بعد بیٹھ کر جب بدن سکون کی حالت میں ہو۔

*دوسرے سجدے کے پہلے، جبکہ بیٹھا ہو اور بدن سکون میں ہو

*دوسرے سجدے کے بعد۔

٢۔ طولانی سجدے بجالانا مستحب ہے۔

٣۔پہلے سجدہ کے بعد بیٹھ کر بدن کے سکون میںآنے کے بعد ''استغفراللہ ربی واتوب الیہ'' پڑھنا مستحب ہے۔

٤۔ سجدوں میں درود بھیجنا مستحب ہے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ١٠٦٨.

(٢) توضیح المسائل،م ١٠٦٩

(٣) توضیح المسائل،م ٩١ ١٠.


سبق:١٩کا خلاصہ

١۔ احتیاط واجب کی بناپر، ذکر رکوع ''سبحان ربی الاعلی وبحمدہ ''ایک مرتبہیا تین ''سبحان اللہ''تین مرتبہ سے کم نہ ہو۔

٢۔ پورے ذکر رکوع کواس حالت میں پڑھنا چاہئے جب بدن سکون میں ہو۔

٣۔ سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں پائوں کے انگوٹھوں کے سرے زمین پر ہونا ضروری ہے۔

٤۔سجدہ کی جگہ مسطح اور ہموار ہونا ضروری ہے اور ملی ہوئی چار انگلیوں سے بلند یاپست نہیں ہونی چاہئے۔

٥۔لکڑی، مٹی،پتھر،ڈھیلے اورپختہ مٹی پر سجدہ صحیح ہے۔

٦۔ زمین سے اگنے والی ان چیزوں پر، جنھیں انسان،خوراک اور پوشاک میں استعمال کرتا ہے سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے۔

٧۔سجدہ کے لئے سب سے بہتر چیز تربت حضرت سیدالشہداء علیہ السلام ہے۔


سوالات:

١۔سجدہ کی وضاحت کیجئے اور تبائیے کہ یہ کن واجبات نماز میں سے ہے؟

٢۔ذکر سجدہ کی واجب مقدار بیان کیجئے؟

٣۔ دوسجدوں کے درمیان موالات کیا ہے؟وضاحت کیجئے۔

٤۔لکڑی، بادام کے چھلکے، سیب کے جھلکے اور سنگترے کے چھلکے پر سجدہ کا کیا حکم ہے؟

٥۔کاغذ اور ماچس کی ڈبی پر سجدہ کا کیاحکم ہے؟

٦۔جو شخص معمول کے مطابق سجدہ انجام نہ دے سکتا ہو، اس کا کیا فریضہ ہے؟


سبق نمبر٢٠

واجبات نماز کے احکام

قرآن مجید کا واجب سجدہ:

١۔ قرآن مجید کے چار سوروں میں آیۂ سجدہ ہے۔اگر انسان اس آیت کی تلاوت کرے یا کوئی اور اس کی تلاوت کرتا ہو، اس کو سنے، تو اس آیت کے تمام ہونے کے فوراًبعد سجدہ انجام دینا چاہئے.(١)

٢۔ وہ سورے جن میں آیۂ سجدہ ہے ۔

١۔سورہ نمبر ٣٢۔ سورۂ حم سجدہ

٢۔ سورہ نمبر ٤١۔ فصلت

٣۔ سورہ نمبر ٥٣۔نجم ٤۔ سورہ نمبر ٩٦۔ علق(٢)

٣۔ اگر سجدہ کرنا بھول جائے تو جب یاد آئے سجدہ کرنا چاہئے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ١٠٩٣.

(٢)توضیح المسائل،م ١٠٩٣.

(٣)توضیح المسائل،م ١٠٩٣


٤۔ اگر آیہ سجدہ کو ٹیپ ریکارڈ سے سنیں تو سجدہ کرنا لازم نہیں ہے۔(١) *

٥۔اگر آیۂ سجدہ کو لائوڈ اسپیکر یاریڈیو یا ٹیلی ویژن سے، چنانچہ خود انسان کی آواز ہو اور ٹیپ سے استفادہ نہ ہو رہاہو، یعنی آواز نشر ہونے کے وقت کوئی شخص اس آیت کو پڑھ رہا ہو اور یہ وسیلہ صرف اس کی آواز کو پہنچاتا ہو تو سجدہ کرنا واجب ہے۔(٢)

٦۔ان آیات کے لئے سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کو ایسی چیز پر رکھنا چاہئے جس پر سجدہ کرنا جائزہے،البتہ سجدہ کے دیگر شرائط کی رعایت کرنا ضروری نہیںہے۔(٣) ٭٭

٧۔اس سجدہ میں ذکر پڑھنا واجب نہیں ہے، لیکن مستحب ہے۔(٤)

تشہد:

دوسری رکعت اور واجب نمازوں کی آخری رکعت میں، نماز گزار کو دوسرے سجدے کے بعد بیٹھنا چاہئے اوربدن کے سکون میں آنے کے بعد تشہد پڑھنا چاہئے، یعنی کہے:

''أَشْهَدُ أَنْ لاٰاِلَهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لاٰشَریْکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ'' .(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ١٠٩٦

(٢) توضیح المسائل،م ١٠٩٦

(٣) توضیح المسائل،م ١٠٩٧

(٤)توضیح المسائل ١٠٩٩

(٥) توضیح المسائل،م٠٠ ١١

*(گلپائیگانی)اگر آیہ سجدہ ریڈیویا لاؤڈاسپیکر سے پڑھی جائے اور اسے سنے تو سجدہ کرنا چاہئے۔(مسئلہ ١١٠٢)

(اراکی)اگر ٹیپ رکارڈ جیسی چیزسے آیت کو سنے،تو احتیاط واجب کی بناپرسجدہ کرنا چاہئے۔ لیکن اگر لاوڈاسپیکر جس سے انسان کی آواز پہنچائی جاتی ہے، سنے تو واجب ہے سجدہ بجالائے۔(مسئلہ١٠٨٨)

٭٭(تمام مراجع)سجدہ کے بعض شرائط کی رعایت کرنا لازم ہے، تفصیلات کے لئے مسئلہ ١٠٨٩ملاحظہ فرمائیں۔


سلام

١۔ہر نمازکی آخری رکعت میں تشہد کے بعد سلام پڑھنا چاہئے اور نماز کو تمام کرنا چاہئے۔

٢۔سلام کی واجب مقدار ان دو میں سے ایک سلام ہے:

السلام علینا وعلی عباداللہ الصالحینز

السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ(١)

٣۔ان دوسلاموں سے پہلے یہ کہنا مستحب ہے:

السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲ وبرکاتہ.

یعنی تینوں سلاموں کو پڑھے(٢)

ترتیب:

نماز کو اس ترتیب کے ساتھ پڑھنا چاہئے: تکبیرة الاحرام ، قرأت، رکوع، سجود اور دوسری رکعت میں سجدوں کے بعد، تشہد پڑھے اور آخری رکعت میںسجدوں کے بعد، تشہد پڑھے اور آخری رکعت میں ، تشہد کے بعد، سلام پھیرنا۔

موالات:

١۔ موالات، یعنی نماز کے اجزاء کو یکے بعد دیگر ے انجام دینا اور ان کے درمیان فاصلہ نہ ڈالنا۔

٢۔اگر اجزائے نماز کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ کہا جائے یہ شخص نماز نہیں پڑھتا ہے، تو اس کی نماز باطل ہے۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١١٠٥

(٢) توضیح المسائل،م ١١٠٥

(٣)توضیح المسائل،م١١١٤

*(گلپائیگانی) اگر اس سلام کو کہے، تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس سلام کے بعد السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کو بھی پڑھے۔(مسئلہ١١١٤)


٣۔رکوع وسجود میں طول دینا اور لمبے سورے پڑھنا موالات کو نہیں توڑتا۔(١)

قنوت:

١۔نماز کی دوسری رکعت میں حمد وسورہ پڑھنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے،قنوت پڑھنا مستحب ہے۔ یعنی ہاتھوں کو بلند کرکے اپنے چہرہ کے مقابل لائے اور کوئی دعا یا ذکر پڑھے۔(٢)

٢۔قنوت میں کوئی بھی ذکر پڑھ سکتے ہیں، حتی ایک بار '' سبحان اﷲ ''کہنا کافی ہے اور درج ذیل دعا بھی پڑھ سکتا ہے:

رَبَّنَا آتِنَافِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الٰآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (٣)

تعقیب نماز:

١۔ نماز کی بحث میں تعقیب کے معنی نماز کے اختتام پر سلام پھیرنے کے بعد ذکر، دعا اور قرآن مجیدپڑھنے میں مشغول ہونا ہے۔

٢۔ضروری نہیں ہے تعقیب عربی میں ہو،لیکن بہتر ہے دعا کی کتابوں میں ذکر شدہ چیزوں کو پڑھاجائے۔

٣۔تسبیح حضرت زہراسلام اللہ علیہا یعنی : ٣٤ ''مرتبہ اللہ اکبر''،٣٣ مرتبہ الحمد للہ'' اور ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ'' پڑھنا مستحب ہے۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١١١٦

(٢) توضیح المسائل،م ١١١٧

(٣) توضیح المسائل،م ١١١٨

(٤)توضیح المسائل، م ١١٢٢.


سبق: ٢٠ کا خلاصہ

١۔ سورۂ حمٰ سجدہ، فصّلت، نجم اور علق میں سجدے کی آیات ہیں، ان آیات کو پڑھنے یا سننے پر سجدہ واجب ہوتا ہے۔

٢۔ٹیپ ریکارڈ سے سجدہ کی آیت سننے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا ہے۔لیکن اگر لائوڈاسپیکر،ریڈیو یاٹیلی ویژن سے براہ راست (ریکارڈ شدہ آواز کے بغیر) کسی انسان کی آواز نشر ہوتی ہو تو سجدہ واجب ہے۔

٣۔ دوسری رکعت اور نماز کے اختتام پر تشہد پڑھنا واجب ہے۔

٤۔سلام،نماز کا خاتمہ ہے اور آخری رکعت میں تشہد کے بعد پڑھاجاتا ہے۔

٥۔اجزائے نماز کی ترتیب کی رعایت کرنا واجب ہے۔

٦۔نماز کے بنیادی اجزاء کی ترتیب درج ذیل ہے:

تکبیرة الاحرام،قرأت، رکوع ،سجود اور دوسری رکعت میں دوسجدوں کے بعد تشہد پڑھنا اور نماز کی آخری رکعت میں تشہد کے بعد سلام پھیرنا۔

٧۔اجزائے نماز کو یکے بعد دیگرے انجام دینا چاہئے اگر ان کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوجائے تو نماز باطل ہے:


سوالات:

١۔قرآن مجید سے واجب سجدہ والی آیات کو لکھئے؟

٢۔نماز میں تشہد کی جگہ کو بیان کیجئے؟

٣۔نماز کی واجب اور مستحب مقدار کو بیان کیجئے؟

٤۔ترتیب وموالات کے درمیان فرق کو بیان کیجئے؟

٥۔قنوت کے بارے میں سبق میں ذکر شدہ دعا کے علاوہ کسی اور دعا کو لکھئے؟


سبق نمبر٢١

مبطلات نماز

جب نماز گزار تکبیرةالاحرام کہتا ہے اور نماز کو شروع کرتا ہے تو اس کے خاتمہ تک بعض کام اس پر حرام ہوجاتے ہیں، چنانچہ اگر نماز میں ان میںسے کوئی کام انجام دے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی ،ان میں سے اہم امور حسب ذیل ہیں:

*کھانا اور پینا۔

*بات کرنا۔

*ہنسنا۔

*رونا۔

*قبلہ کی طرف سے رخ موڑنا۔

* ارکان نماز میں کمی وبیشی کرنا۔

*نماز کی حالت کو توڑنا۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١١٢٦.


مبطلات نماز کے احکام:

بات کرنا:

١۔اگر نماز گزار عمداًکوئی لفظ کہیز اور اس کے ذریعہ کسی معنی کو پہنچاناچاہے تو اس کی نماز باطل ہے۔(١)

٢۔اگر نماز گزار عمداًکوئی لفظ کہے اور یہ لفظ دویا دوسے زائد حروف پر مشتمل ہو، اگرچہ اس کے ذریعہ کسی معنی کو پہنچانا مقصدنہ ہو، احتیاط واجب کی بناپر اسے نماز دوبارہ پڑھنی چاہئے۔(٢) ٭٭

٣۔نماز میں کسی کو سلام نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر کسی نے نماز گزار کوسلام کیا تو واجب ہے اس کا جواب دیدے اور چاہئے کہ سلام کو مقدم قراردے.مثلاً کہے:

''السلام علیک'' یا'' السلام علیکم''''علیکم السلام''نہ کہے.(٣) ٭٭٭

____________________

(١)توضیح المسائل،ص١٥٤

(٢) توضیح المسائل،م ١٥٤.

(٣) توضیح المسائل،م١١٣٧.

*(گلپائیگانی، اراکی) اگر وہ لفظ دوحرف یا اس سے زیادہ ہوتو (توضیح المسائل ص ١٩٩)

٭٭(خوئی) اس کی نماز باطل نہیں ہے لیکن نماز کے بعد سجدہ سہو بجالانا لازم ہے (مسئلہ ١١٤١)

٭٭٭(اراکی۔ گلپائیگانی) اسی صورت میں جواب دینا چاہئے جیسے اس نے سلام کیا ہو لیکن''علیکم السلام''کے جواب میں ''سلام علیکم'' کہنا چاہئے(مسئلہ١١٤٦)،(خوئی) احتیاط واجب کی بناء پر اسی صورت میں جواب دینا چاہئے کہ جیسے اس نے سلام کیا ہو لیکن'' علیکم السلام'' کے جواب میں جس طرح چاہے جواب دے سکتا ہے۔


ہنسنا اور رونا :

١۔اگر نماز گزار عمداً قہقہہ لگاکر ہنسے، تو اس کی نماز باطل ہے۔

٢۔مسکرانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

٣۔اگر نماز گزار کسی دنیوی کام کے لئے عمداًآواز کے ساتھ ،روئے تو اس کی نماز باطل ہے۔

٤۔آواز کے بغیررونے، خوف خدا یا آخرت کے لئے رونے سے، اگرچہ آواز کے ساتھ ہو، نماز باطل نہیں ہوتی*(١)

قبلہ کی طرف سے رخ موڑنا:

١۔اگر عمداًاس درجہ قبلہ سے رخ موڑ لے کہ کہا جائے وہ قبلہ رخ نہیں ہے، تو نماز باطل ہے۔

٢۔ اگر بھولے سے پورے رخ کو قبلہ کے دائیں یا بائیں طرف موڑلے ٭٭، تواحتیاط واجب ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے، لیکن اگر پوری طرح قبلہ کے دائیں یا بائیں طرف منحرف نہ ہوا ہو تو نماز صحیح ہے۔(٢)

نماز کی حالت کو توڑنا:

١۔اگر نماز گزار نماز کے دوران کوئی ایسا کام انجام دے جس سے نماز کی اتصالی حالت (ہیئت) ٹوٹ جائے ،مثلاًمبطلات نماز کا ساتواں اور آٹھواں نمبر، تالی بجانا اور اچھل کود کرنا وغیرہ، اگرچہ سہواً بھی ایسا کام انجام دے تو نماز باطل ہے۔(٣)

٢۔اگر نماز کے دوران اس قدر خاموش ہوجائے کہ دیکھنے والے یہ کہیں کہ نماز نہیں پڑھ رہا ہے تو نماز باطل ہے۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١٥٦مبطلات نماز کا ساتواں اور آٹھواں نمبر.

(٢)توضیح المسائل،م ١١٣١ (٣) توضیح المسائل،م ١١٥٦.نویں مبطلات نماز

(٤) توضیح المسائل،م ١١٥٢.

*(تمام مراجع)احتیاط واجب ہے کہ دنیوی کام کے لئے آواز کے بغیر بھی نہ روئے، (توضیح المسائل ص ٢٠٩)

٭٭(گلپائیگانی) اگر سر کو قبلہ کے دائیں یا بائیں طرف موڑلے اور عمدا ہویا سہواًنماز باطل نہیں ہوگی۔ لیکن مکروہ ہے.(م١١٤٠)


٣۔واجب نماز کو توڑنا حرام ہے،مگر مجبوری کے عالم میں،جیسے درج ذیل مواقع پر:

*حفظ جان۔

*حفظ مال۔

*مالی اور جانی ضرر کو روکنے کے لئے۔

٤۔قرض کو ادا کرنے کے لئے نماز کو درج ذیل شرائط میں توڑ دے تو کوئی حرج نہیں :

*قرضدار، قرض کو لینا چاہتا ہو۔

*نماز کا وقت تنگ نہ ہو،یعنی قرض ادا کرنے کے بعد نماز کو بصورت ادا پڑھ سکے۔

*نماز کی حالت میں قرض کو ادا نہ کرسکتا ہو۔(١)

٥۔ بے اہمیت مال کے لئے نماز کو توڑنا مکروہ ہے۔(٢)

وہ چیزیں جو نماز میں مکروہ ہیں:

١۔ آنکھیں بندکرنا۔

٢۔ انگلیوں اور ہاتھوں سے کھیلنا۔

٣۔حمد یا سورہ یاذکر پڑھتے ہوئے، کسی کی بات سننے کے لئے خاموش رہنا.

٤۔ہروہ کام انجام دینا جو خضوع وخشوع کو توڑنے کا سبب بنے۔

٥۔رخ کو تھوڑاسا دائیں یا بائیں پھیرنا (چونکہ زیادہ پھیرنا نماز کو باطل کرتا ہے )۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل،م ١١٥٩ تا ١١٦١.

(٢)توضیح المسائل،م ١١٦٠.

(٣) توضیح المسائل،م ١١٥٧


سبق ٢١: کا خلاصہ

١۔درج ذیل امور نماز کو باطل کردیتے ہیں:

*کھانا اور پینا.

*بات کرنا.

*ہنسنا.

*رونا.

*قبلہ سے رخ موڑنا۔

*ارکان نماز میں کمی و بیشی کرنا۔

نماز کی حالت کو توڑنا ۔

٢۔نماز میں بات کرنا، اگرچہ دوحرف والا ایک لفظ بھی ہو، نماز کو باطل کردیتا ہے.

٣۔قہقہہ لگا کر ہنسنا نماز کو باطل کردیتا ہے۔

٤۔بلند آواز میں دنیوی امور کے لئے رونا نماز کو باطل کردیتا ہے۔

٥۔اگر نماز گزار اپنے رخ کو پوری طرح دائیں یا بائیں طرف موڑلے یا پشت بہ قبلہ کرے تو نماز باطل ہوجائے گی۔

٦۔ اگر نماز گزار ایسا کام کرے جس سے نماز کی حالت (ہیئت) ٹوٹ جائے تو،نماز باطل ہے۔

٧۔حفظ جان ومال اور قرض کو ادا کرنے کے لئے، جب قرضدار قرض کا تقاضا کرے اور وقت نماز میں وسعت ہو اور نماز کی حالت میں قرض ادانہ کرسکتا ہو،نماز کو توڑنا اشکال نہیں ہے۔


سوالات:

١۔ کن امور سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟

٢۔ اگر کوئی شخص نماز گزار کو نماز کی حالت میں سلام کرے تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٣۔ کس طرح کا ہنسنا اور رونا نماز کو باطل کردیتا ہے؟

٤۔اگر نماز گزار متوجہ ہوجائے کہ ایک بچہ بخاری (ہیٹر سے مشابہ ایک چیز ہے) کے نزدیک جارہا ہے اور ممکن ہے اس کا بدن جل جائے، کیا نماز کو توڑ سکتا ہے؟

٥۔ایک مسافر نماز کی حالت میں متوجہ ہوتا ہے کہ ریل گاڑی حرکت کرنے کے لئے تیار ہے کیا وہ ریل کو پکڑنے کے لئے نماز کو توڑسکتا ہے؟


سبق نمبر ٢٢

اذان، اقامت اور نماز کا ترجمہ

اذان واقامت کا ترجمہ:

*اَللّٰهُ اَکْبَر

خدا سب سے بڑاہے۔

*اَشْهَدُاَنْ لَاْاِلٰهَ اِلاّ اللّٰه

میں گواہی دیتا ہوں کہ پروردگار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔

*اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰهِ

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے پیغمبر ہیں

*اَشْهَدُ اَنَّ عَلِیًّا اَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ وَلِیُّ اللّٰهِ ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ علی علیہ السلام مومنوں کے امیر اور لوگوں پر خدا کے ولی ہیں۔

*حَیَّ عَلَی الصَّلوٰةِ

نماز کی طرف جلدی کرو

*حَیَّ عَلَی الْفَلاٰحِ.

کامیابی کی طرف جلدی کرو۔

*حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ

بہترین کام کی طرف جلدی کرو۔

*قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰة

نماز قائم ہوگئی

*اَللّٰهُ اَکْبَر

خدا سب سے بڑاہے۔

*لَا اِلٰهٰ اِلَّا اللّٰه

پروردگار عالم کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔


نماز کا ترجمہ:

تکبیرة الاحرام:

*اَللّٰهُ اَکْبَر

خداسب سے بڑاہے۔

حمد:

*بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں

*الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ٭

سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والاہے۔

* الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ ٭

وہ عظیم اور دائمی رحمتوں والا ہے۔

* مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ ٭

روز قیامت کا مالک ومختار ہے۔

* ِیَّاکَ نَعْبُدُ وَِیَّاکَ نَسْتَعِینُ ٭

پروردگارا. ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں:

*اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ ٭صِرَاطَ الَّذِینَ َنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ٭

ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ،جوان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں.

* غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلاَالضَّالِّینَ (٭)

ان کا راستہ نہیں، جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں:


سورہ:

* بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں

* قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد ٭

اے رسول:! کہدیجئے کہ اللہ ایک ہے۔

* اَللّٰهُ الصَّمَدُ٭

اللہ برحق اور بے نیاز ہے۔

* لَمْ یَلِدُ وَلَمْ یُوْلَدْ٭

اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ والد۔

* وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً اَحَدُ.

اور نہ اس کا کوئی کفووہمسر ہے۔

ذکر رکوع:

* سُبْحَانَ رَبیَّ العظیم وَبِحَمْدِه

اپنے پروردگار کی ستائس کرتاہوں اور اسے آراستہ جانتاہوں۔

ذکر سجود:

* سُبْحَانَ رَبیَّ الْاَعْلٰی وَبِحَمْدِه

اپنے پروردگار کی (جو سب سے بلند ہے)ستائش کرتا ہوں اور آراستہ جانتا ہوں

تسبیحات اربعہ:

* سُبْحٰانَ اللّٰه وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلاٰ اِلَهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکْبَر

خداوند عالم پاک اور منزہ ہے، تمام تعریفیں خدا سے مخصوص ہیں پروردگار عالم کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور خدا سب سے بڑا ہے۔


تشہد:

*''أَشْهَدُ أَنْ لاٰاِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لاٰشَریْکَ لَه

میں گواہی دیتا ہوں کہ پروردگار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

*وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُهُ وَرَسُوْلُهْ.

اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بندہ اور خدا کا بھیجاہوا( رسول) ہے۔

* أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ''.

خداوندا!: محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے خاندان پر درود بھیج۔

سلام:

* اَلْسّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَاْ اْلنَبِیُّ وَرَحْمَةُ اْﷲِ وَ بَرَکَاْتُه.

درود اور خدا کی رحمت وبرکات ہو آپ پراے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !

* اَلْسّلَاَمُ عَلَیْنَاْ وَ عَلٰی عِبَاْدِ اْللّٰهِ اْلصَّاْلِحِیْنَ

درود و سلام ہو ہم (نماز گزاروں)پر اور خدا کے شائستہ بندوں پر۔

* اَلسّلَاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اْللّٰهِ وَ بَرکَاْتُه.

سلام اور خدا کی رحمت و برکت آپ پر ہو۔


سوالات:

١۔اس جملہ کا ترجمہ کیجئے جو اقامت میں موجود ہے لیکن اذان میں نہیں ہے؟

٢۔تسبیحات اربعہ کا ترجمہ کیجئے؟

٣۔سبق میں مذکررہ سورہ کے علاوہ قرآن مجید سے ایک چھوٹے سورہ کو انتخاب کرکے اس کا ترجمہ کیجئے؟

٤۔نماز کے پہلے اور آخری جملہ کا ترجمہ کیا ہے؟

٥۔تکراری جملوں کو حذف کرنے کے بعد نماز کے کل جملوں کی تعداد (اذان واقامت کے علاوہ) کتنی ہے؟


سبق نمبر٢٣، ٢٤

شکیات نماز

بعض اوقات ممکن ہے نماز گزار، نماز کے کسی حصے کوانجام دینے کے بارے میں شک کرے، مثلاً نہیں جانتا کہ اس نے تشہد پڑھا ہے یا نہیں، ایک سجدہ بجا لایا ہے یا دو سجدے،بعض اوقات نماز کی رکعتوں میں شک کرتا ہے، مثلاً نہیں جانتا اس وقت تیسری رکعت پڑھ رہاہے یا چو تھی۔

نماز میں شک کے بارے میں کچھ خاص احکام ہیں اور ان سب کا اس مختصر کتاب میں بیان کرنا امکان سے خارج ہے، لیکن خلاصہ کے طور پر اقسام شک اور ان کے احکام بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

نماز میں شک کی قسمیں(١) :

١۔نمازکے اجزاء میں شک:

الف: اگر نمازکے اجزاء کو بجالانے میں شک کرے، یعنی نہیں جانتا ہوکہ اس جزء کو بجالایا ہے یا نہیں، اگر اس کے بعد والاجزء ابھی شروع نہ کیا ہو، یعنی ابھی فراموش شدہ جزء کی جگہ سے نہ گزرا ہوتو اسے بجالانا چاہئے۔ لیکن اگر دوسرے جزء میں داخل ہونے کے بعد شک پیش آئے، یعنی محل شک جزء کی جگہ سے گزر گیا ہو ، تو ایسے شک پر اعتبار کئے بغیر نماز کو جاری رکھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ١٩٨و ٢٠٠


ب: اگر نماز کے کسی جزء کے صحیح ہونے میں شک کرے، یعنی نہ جانتاہوکہ نماز کے جس جزء کو بجالایا ہے، صحیح بجالایاہے،یا نہیں، اس صورت میں شک کے بارے میں اعتنا نہ کرے اور اس جزء کو صحیح مان کر نماز جاری رکھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

٢۔ رکعتوں میں شکز

وہ شک جو نماز کو باطل کرتے ہیں() :

١۔ اگر دورکعتی یاسہ رکعتی نماز جیسے صبج کی نماز یا مغرب کی نماز میں، رکعتوں میں شک پیش آئے تو نماز باطل ہے۔

٢۔ ایک اور ایک سے زیادہ رکعتوں میں شک کرنا، یعنی اگر شک کرے ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ،نماز باطل ہے۔

٣۔ اگر نماز کے دوران یہ نہ جانتا ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے تو اسکی نماز باطل ہے۔

*وہ شک جن کی پروانہ کرنی چاہئے:(٢)

١۔مستحبی نمازوں میں

٢۔ نماز جماعت میں ۔ ان دونوں کی وضاحت بعد میں کی جائے گی۔

٣۔ سلام کے بعد اگر نماز تمام کرنے کے بعد اس کی رکعتوں یا اجزاء میں شک ہوجائے تو ضروری نہیں ہے، نماز کو دوبارہ پڑھیں۔

٤۔ اگر نماز کا وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ نماز پڑھی یا نہیں؟ تو نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل م١١٦٥.

(٢)توضیح المسائل م١١٦٨.

*نماز کی رکعتوں میں شک کے اور مواقع ہیں چونکہ ان کا اتفاق کم ہوتاہے لہٰذا ان کے بیان سے چشم پوشی کرتے ہیں مزید وضاحت کے لئے توضیح المسائل ١١٦٥ تا١٢٠٠ ملاحظہ کیجئے.


چار رکعتی نماز میں شک(١)

شک = قیام کی حالت میں=رکوع میں =رکوع کے بعد =سجدہ میں =سجدوں کے بعد بیٹھنے کی حالت میں=نمازصحیح ہونے پر نماز گزار کا فریضہ

٢اور ٣ میں شک =باطل =باطل =باطل =باطل *=صحیح =تین پربنا رکھ کر اور ایک رکعت نماز پڑھے اور سلام پھیرنےکے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر بجالائے۔(٭٭)

٢اور ٤ میں شک=باطل =باطل =باطل =باطل =صحیح =چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرے اور اس کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔

٣اور ٤ میں شک =صحیح =صحیح =صحیح=صحیح =صحیح =چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرنے کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دور کعت بیٹھ کر بجالائے۔

٤ اور ٥ میں شک =صحیح =باطل=باطل=باطل=صحیح =اگر قیام کی حالت میں شک پیش آئے، رکوع کئے بغیر بیٹھ جائے

او ر نماز تمام کرکے ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔٭٭٭اور اگر بیٹھے ہوئے

شک پیش آئے تو چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرکے دو سجدہ سہو بجالائے۔

____________________

(١) تو ضیح المسائل ،م ١١٩٩، العروة الوثقیٰ ج٢س ٢٠ م ٣.

*حضرت آیت اللہ خوئی کے فتوی کے مطابق اگر ذکر سجدہ کے بعد شک پیش آئے اور حضرت آیت اللہ گلپائیگانی کے فتوی کے مطابق اگر شک ذکر واجب کے بعد پیش آئے تو شک کا حکم وہی ہے جو بیٹھنے کی حالت میں ہے.(مسئلہ ١١٩٩)

٭٭(اراکی ۔ خوئی) احتیاط واجب کی بنابر پر کھڑے ہو کر پڑھے (م١١٩١) (گلپائیگانی )ایک رکعت کھڑے ہو کر پڑھے۔ (م١٢٠٨)

٭٭٭(گلپائیگانی)اس صورت میں احتیاط لازم ہے کہ نماز کے بعد احتیاط کے طور پر دو سجدہ سہو بجالائے۔(مسئلہ ١٢٠٨)


یاددہانی:

١۔ جو کچھ نماز میں پڑھا یا انجام دیا جاتاہے وہ نماز کا حصہ یاایک جزء ہے۔

٢۔ اگر نماز گزار شک کرے کہ نماز کے کسی جزء کو پڑھا ہے یا نہیں، مثلا ًشک کرے کہ دوسرا سجدہ بجالایا ہے یا نہیں، اگر دوسرے جزء میں داخل نہ ہوا ہو تو اس جزو کو بجالانا چاہئے، لیکن اگر بعد والے جزو میں داخل ہوا ہو تو شک کی پروانہ کرے، اس لحاظ سے اگر مثلاً، بیٹھے ہوئے، تشہد کو شروع کرنے سے پہلے شک کرے کہ ایک سجدہ بجالایا ہے یا دو، تو ایک اور سجدہ کو بجالانا چاہئے۔ لیکن اگر تشہد کے دوران یا کھڑے ہونے کے بعد شک کرے، تو ضروری نہیں ہے کہ سجدہ کو بجالائے بلکہ نماز کو جاری رکھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

٣۔ نماز کے اجزاء میں سے کسی جزء کو بجالانے کے بعد شک کرے، مثلاً حمد یا اس کے ایک لفظ کو پڑھنے کے بعد شک کرے کہ صحیح بجالایا ہے یا نہیں، اس شک پر توجہ نہ کرے اور ضروری نہیں اس کو دوبارہ بجالائے، بلکہ نماز کو جاری رکھے، صحیح ہے۔

٤۔اگر مستجی نمازوں کی رکعتوں میں شک کرے، تو دوپر بنا رکھنا چاہئے چونکہ نماز وتر کے علاوہ تمام مستجی نمازیں دورکعتی ہیں،اگر ان میں ایک اور دو یا دو اور بیشتر میں شک پیش آئے تو دوپر بنارکھے، نماز صحیح ہے۔

٥۔ نماز جماعت میں، اگر امام جماعت شک کرے لیکن ماموم کو شک نہ ہوتومثلاًاللہ اکبر کہہ کر

امام کو مطلع کرے ، امام جماعت کو اپنے شک پر اعتنا نہیں کرنا چاہئے، اور اسی طرح اگر ماموم نے شک کیا لیکن امام جماعت شک نہ کرے، تو جس طرح امام جماعت نماز کو انجام دے ماموم کو بھی اسی طرح عمل کرنا چاہئے اور نماز صحیح ہے۔

٦۔ اگر نماز کو باطل کرنے والے شکیات میں سے کوئی شک پیش آئے، تو تھوڑی سی فکر کرنی چائے اور اگر کچھ یاد نہ آیا اور شک باقی ر ہا تو نماز کو توڑکر دوبارہ شروع کرنا چاہئے ۔


نماز احتیاط:

١۔ جن مواقع پر نماز احتیاط واجب ہوتی ہے، جیسے ٣ اور ٤ میں شک وغیرہ سلام پھیرنے کے بعد نماز کی حالت کو توڑے بغیر اور کسی مبطل نماز کو انجام دئے بغیر اٹھنا چاہئے اور اذان واقامت کہے بغیر تکبیر کہہ کر نماز احتیاط پڑھے۔

نماز احتیاط اور دیگر نمازوں میں فرق:

*اس کی نیت کو زبان پر نہیں لاناچاہئے۔

*اس میں سورہ اور قنوت نہیں ہے۔ (گرچہ دورکعتی بھی ہو)

*حمد کو آہستہ پڑھنا چاہئے۔ ( احتیاط واجب کی بنا پر )*

٢۔ اگر نما* احتیاط ایک رکعت واجب ہو، تو دونوں سجدوں کے بعد، تشہد پڑھ کر سلام پھیردے اور اگر دورکعت واجب ہو تو پہلی رکعت میں تشہد اور سلام نہ پڑھے بلکہ ایک اور رکعت ( تکبیرة الا حرام کے بغیر) پڑھے اور دوسری رکعت کے اختتام پر تشہد پڑھنے کے بعد سلام پڑھے ۔(١)

____________________

(١)توضیح المسائل م١٢١٥۔١٢١٦.

*گلپائیگانی۔ خوئی)سورہ حمد کو آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (مسئلہ ١٢٢٥)


سجدہ سہو:

١۔ جن مواقع پر سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، جیسے بیٹھنے کی حالت میں ٤ اور ٥ کے درمیان شک کی صورت میں تو نماز کا سلام پھیرنے کے بعد سجدہ میں جائے اور کہے:بِسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ بلکہ بہترہے اس طرح کہے:

بِسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰه اَلسّٰلَاْمُ عَلَیْکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکاَتُه.*

اس کے بعد بیٹھے اور دوبارہ سجدہ میں جاکر مذکورہ ذکر وں میں سے ایک کو پڑھے اس کے بعد بیٹھے اور تشہد پڑھ کے سلام پھیردے۔(١)

٢۔ سجدۂ سہومیں تکبیرة الا حرام نہیں ہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل ،م ١٢٥٠

*(خوئی) احتیاط واجب ہے دوسرا جملہ پڑھاجائے. (مسئلہ ١٣٥٩)


سبق ٢٣و٤ ٢ کا خلاصہ

١۔ اگر نماز گزار نماز کے بعد والے جزء میں داخل ہونے سے قبل پہلے والے جزء کے بارے میں شک کرے تو اسے پہلا والاجزء بجالانا ضروری ہے۔

٢۔ اگر محل کے گزرنے کے بعد نماز کے کسی جزء کے بارے میں شک کرے تو اس کی پروانہ کرے۔

٣۔ اگرنماز کے کسی جزء کے صحیح ہونے کے بارے میں شک کرے تو اس پر اعتنا نہ کرے۔

٤۔ اگر دورکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں کی تعداد میں شک ہوجائے تو نماز باطل ہے۔

٥۔ درج ذیل مواقع میں شک پر اعتنا نہیں کیا جاسکتا :

مستجی نمازوں میں

* نماز جماعت میں

* نماز کا سلام پھیرنے کے بعد

*نماز کا وقت گزرنے کے بعد ۔

٦۔ جن مواقع پر رکعتوں میں شک کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا، اگر شک کا بیشتر طرف چار سے زائد نہ ہوتو بیشترپر بنا رکھا جائے۔

٧۔نماز احتیاط نماز کی احتمالی کمی کی تلافی ہے، پس ٣اور ٤کے درمیان شک کی صورت میں ایک رکعت نماز احتیاط پڑھی جائے اور ٢اور ٤ کے درمیان شک کی صورت میں دورکعت نماز احتیاط پڑھی جائے۔

٨۔ نماز احتیاط اور دیگر نمازوں کے درمیان حسب ذیل فرق ہے:

*نیت کو زبان پر نہ لایا جائے۔

* سورہ اور قنوت نہیں ہے۔

*حمد کو آہستہ پڑھا جائے۔

٩۔ سجدہ سہو کو نماز کے فوراً بعد بجالانا چاہئے اور دوسجدے ایک ساتھ میں ، اس میں تکبیرة الا حرام نہیں ہے۔


سوالات:

١۔ اگر نماز گزارتسبیحات اربعہ کے پڑھتے وقت شک کرے کہ تشہد کو پڑھا ہے یا نہیں تو اس کا حکم کیا ہے؟

٢۔ اجزائے نماز میں شک کی چار مثالیں بیان کیجئے؟

٣۔اگر صبح یا مغرب کی نماز میں رکعتوں کی تعداد کے بارے میںشک ہوجائے تو فریضہ کیا ہے؟

٤۔ اگر چار رکعتی نماز کے رکوع میں شک کرے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی تو حکم کیا ہے؟

٥۔ اگر کوئی شخص ٤ بجے بعد از ظہر شک کرے کہ نماز ظہر وعصر پڑھی ہے یا نہیں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٦۔جو شخص تکبیرةالاحرام کہنے کے بعد شک کرے کہ صحیح کہا ہے یا نہیں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

٧۔اگر قیام کی حالت میں ٤ اور ٥ کے درمیان شک ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

٨۔کیا آپ جانتے ہیں کہ نماز احتیاط میں کیوں حمد کو آہستہ پڑھنا چا ہئے؟

٩۔ کیا آپ کو آج تک کبھی نماز میں کوئی شک پیش آیا ہے؟ اگر جواب مثبت ہوتو وضاحت کیجئے کہ پھر کیسے عمل کیا ہے؟

١٠۔ سجدۂ سہو کو بجالانے کی کیفیت بیان کیجئے؟


سبق نمبر ٢٥

مسافر کی نماز

انسان کو سفر میں چار رکعتی نمازوں کو دورکعتی( قصر) بجالانا چاہئے،بشرطیکہ اس کا سفر ٨ فرسخ یعنی تقریباً ٤٥کیلو میڑسے کم نہ ہو۔(١)

چند مسائل:

١۔ اگر مسافر ایسی جگہ سے سفر پر نکلے، جہاں پر اس کی نماز تمام ہو، *جیسے وطن اور کم از کم چار فرسخ جاکر چار فر سخ واپس آجائے تو اس سفر میں بھی اس کی نماز قصرہے۔(٢)

٢۔ مسافرت پر جانے والے شخص کو اس وقت نماز قصر پڑھنی چاہئے جب کم از کم وہ اتنادور پہنچے کہ اس جگہ کی دیوار کو نہ دیکھ سکے ٭٭اور وہاں کی اذان کو بھی نہ سن سکے۔٭٭٭اگر اتنی مقدار دور ہونے سے پہلے نماز پڑھنا چاہے تو تمام پڑھے۔(٣)

____________________

(١)تو ضیح المسائل، ص ٣ ١٧، نماز مسافر

(٢)توضیح المسائل،م ١٢٧٢و ٧٣ ١٢.

(٣)توضیح المسائل،نماز مسافر آٹھویں شرط.

* چاررکعتی نماز کو دو رکعتی کے مقابلہ میں نماز کو تمام کہتے ہیں.

٭٭اس فاصلہ کو '' حد ترخص'' کہتے ہیں

٭٭٭ (خوئی ۔اراکی) اس قدر دورچلاجائے کہ وہاں کی اذان نہ سن سکے اور دہاں کے باشندے اس کو نہ دیکھ سکیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ وہ وہاں کے باشندوں کو نہ دیکھ سکے۔(م١٢٩٢)


٣۔اگر مسافر ایک جگہ سے سفر شروع کرے،ز جہاں نہ مکان ہو اور نہ کوئی دیوار،جب وہ ایک ایسی جگہ پر پہنچے کہ اگر اس کی دیوار ہوتی تو وہاں سے نہ دیکھی جاسکتی، تو نماز کو قصر پڑھے۔(١)

٤۔ اگر مسافر ایک ایسی جگہ جانا چاہتا ہو، جہاں تک پہنچنے کے دوراستے ہوں، ان میں سے ایک راستہ٨ فرسخ سے کم اور دوسرا راستہ ٨ فرسخ یا اس سے زیادہ ہو، تو ٨ فرسخ یا اس سے زیادہ والے راستے سے جانے کی صورت میں نماز قصر پڑھے اور اگر اس راستے سے جائے جو ٨ فرسخ سے کم ہے، تو نماز تمام یعنی چاررکعتی پڑھے۔(٢)

سفر میں نماز پوری پڑھنے کے مواقع

درج ذیل مواقع پر سفر میں نماز پوری پڑھنی چاہیئے

١۔آٹھ فرسخ طے کرنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرے یا ایک جگہ پر دس دن ٹھہرے ۔

٢۔پہلے سے قصد وارادہ نہ کیا ہو کہ آٹھ فرسخ تک سفر کرے اور اس سفر کو قصد کے بغیر طے کیا ہو، جیسے کوئی کسی گم شدہ کو ڈھونڈنے نکلتاہے۔

٣۔ درمیان راہ ،سفر کے قصد کو توڑدے، یعنی چار فر سخ تک پہنچنے سے پہلے آگے بڑھنے سے منصرف ہوجائے اور واپس لوٹے۔

٤۔جس کا مشغلہ مسافرت ہو، جیسے ریل اور شہرسے باہر جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیور، ہوائی جہاز کے پائیلٹ اور کشتی کے نا خدا (اگر سفر ان کا مشغلہ ہو)۔

٥۔ جس کا سفر حرام ہو، جیسے، وہ سفر جو ماں باپ کے لئے اذیت وآزارکا باعث بنے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٣٢١

(٢)توضیح المسائل م ٩ ١٢٧

(٣)توضیح المسائل ، نمازمسافر.

*(اراکی ۔ خوئی) جہاں کوئی سکونت نہیں کرتا، اگر ایسی جگہ پر پہنچے جہاں اگر سکونت کرنے والے ہوتے تو انھیں نہ دیکھ سکتے.


درج ذیل جگہوں پر نماز تمام ہے:

١۔ وطن میں ۔

٢۔ اس جگہ پر جہاں جانتاہے یا پہلے سے طے ہے کہ دس دن وہاں پر ٹھہرے گا۔

٣۔ اس جگہ پر جہاں پرتیس دن شک وتذبذب میں گزارے ہوں، یعنی نہیں جانتا تھا کہ ٹھہرے گا یا چلا جائے گا اور اسی حالت میں وہاں پر تیس دن رہا اور کہیں گیا بھی نہیں، اس صورت میں تیس دن گزارنے کے بعد نماز کو تمام پڑھے۔(١)

وطن کہاں پرہے؟

١۔وطن،وہ جگہ ہے جسے انسان نے اپنی رہائش اور زندگی گزارنے کے لئے انتخاب کیا ہو، خواہ وہ وہاں پر پیدا ہوا ہو اور وہ اس کے ماں باپ کا وطن ہو، یا خود اس نے اس جگہ کو زندگی گزارنے کے لئے اختیار کیا ہو۔(٢)

٢۔جب تک انسان اپنے وطن کے علاوہ کسی اور جگہ کو ہمیشہ رہنے کی غرض سے قصد نہ کرے، وہ اس کے لئے وطن شمار نہیں ہوگا۔(٣) *

٣۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی جگہ پر کچھ مدت رہائش کا قصد کرے، جو اس کا اصل وطن نہیں ہے اور اس کے بعد کسی دوسری جگہ چلاجائے، تو وہ اس کے لئے وطن شمار نہیں ہوگا، جیسے طالب علم، جو تحصیل علم کے

____________________

(١)توضیح المسائل، شرط چہارم ومسئلہ ١٣٢٨۔ ١٣٣٥۔ ١٣٥٣

(٢)توضیح المسائل م، ١٣٢٩.

(٣)توضیح المسائل، م ١٣٣١.

*(گلپائیگانی۔ خوئی)جس جگہ کو انسان اپنی رہائش قرار دے اور وہاں کے رہنے والوں کی طرح وہا ں پر زندگی بسر کرے، اگر اس کے لئے کوئی مسافرت پیش آئے اور اس کے بعد اسی جگہ واپس لوٹے، اگر چہ وہاں پر ہمیشہ رہنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو، اس کے لئے وطن حساب ہوگا. (مسئلہ ١٣٤٠)


لئے کچھ مدت تک کسی شہر میں رہتا ہے ۔(١)

٤۔ اگر کوئی شخص ہمیشہ رہائش کے قصد کے بغیر ایک جگہ پر اتنی مدت تک سکونت کرے کہ لوگ اسے وہاں کا ساکن سمجھ لیں،تو وہ جگہ اس کے لئے وطن کا حکم رکھتی ہے۔(٢)

٥۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی جگہ پر پہنچ جائے جو پہلے اس کا وطن تھا لیکن اس وقت اسے نظر اندازکیا ہے، تو وہاں پر نماز کو تمام نہیں پڑھنا چاہئے، اگر چہ کوئی دوسرا وطن بھی اپنے لئے اختیار نہ کیا ہو۔(٣)

٦۔مسافر سفر سے لوٹتے وقت جب اپنے وطن کی دیوار کو دیکھ لے ز اور وہاں کی اذان سن سکے تو نماز پوری پڑھنی چاہئے۔(٤)

دس روز کا قصد:

١۔اگر کسی مسافر نے کہیں پر دس دن ٹھہرنے کا قصد کیا اور دس دن سے زیادہ وہاں پر ٹھہرا، تو دو بارہ سفر نہ کرنے تک نماز کو تمام پڑھے، ضروری نہیں ہے کہ دس دن ٹھہرنے کا قصد کرے۔(٥)

٢۔ اگر مسافر دس دن کے قصد سے منصرف ہو جائے:

الف: اگر چار رکعتی نماز کے پڑھنے سے پہلے منصرف ہوگیا ہو تو، اسے نماز قصر پڑھنی چاہئے

ب: اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد اپنے قصد سے منصرف ہوجائے تو جب تک وہاں رہے نماز کو تمام پڑھے۔(٦)

____________________

(١)توضح المسائل، م ٣٠ ١٣.

(٢) توضیح المسائل م ١ ١٣٣.

(٣)توضیح المسائل م١٣٣٤.

(٤)توضیح المسائل،م١٣١٩

(٥)توضیح المسائل،١٣٤٧.

(٦)توضیح المسائل،م١٣٤٢

*(اراکی) جب اہل وطن اسے دیکھیں اور وہ وہاں سے اذان سن سکے (خوئی ) جب اپنے اہل وطن کو دیکھ لے اور وہاں کی اذان سن سکے (١، ٢٠ ١٣)


جس مسافر نے نمازتمام پڑھی ہو:

الف: اگر نہ جانتا ہو کہ مسافر کو نماز قصر پڑھنی چاہئے، تو جو نمازیں اس نے پڑھی ہیں وہ صحیح ہیں۔(١)

ب: حکم سفر کو جانتا تھا لیکن اس کے بعض جزئیات کو نہیں جانتا تھا یا نہیں جانتا تھا کہ مسافر ہے تو اسے پڑھی ہوئی نمازوںکو پھرسے پڑھنا چاہئے۔(٢) *

مسافرنہ ہونے کے باوجود نماز قصر پڑھی ہو تو :

جسے نماز تمام پڑھنی چاہئے، اگرقصر پڑھے تو بہر صورت اس کی نماز باطل ہے۔(٣) ٭٭

____________________

(١)توضیح المسائل،م ١٣٥٩

(٢)توضیح المسائل، م ٣٦٠ ١۔ ٦١ ٣ ١۔١٣٦٢

(٣)توضیح المسائل، م ١٣٦٣

*(گلپائیگانی۔ خوئی) اگر وقت گزرنے کے بعد جان لے تو قضا نہیں ہے۔(مسئلہ ١٣٦٩)

٭٭(خوئی)مگریہ کہ مسافرنے کسی جگہ پر دس دن ٹھہرنے کا قصد کیا ہو اور حکم مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نماز قصر پڑھی ہو۔(مسئلہ ١٣٧٢)


سبق : ٢٥ کا خلاصہ

١۔ انسان کو سفرمیں چار رکعتی نمازوں کو دورکعتی بجالانا چاہئے بشرطیکہ اس کا سفر ٨ فرسخ سے کم نہ ہو۔

٢۔ سفر میں اس وقت نماز کو قصر پڑھنا چاہئے جب مسافر اتنا دور چلائے جائے کہ وہاں سے اس جگہ کی دیوار کو نہ دیکھ سکے اور وہاں کی اذان نہ سن سکے ۔

٣۔اگر مسافر ایک ایسے محل سے اپنا سفر شروع کرے کہ اس کی کوئی دیوار نہ ہو، تو اسے فرض کرنا چاہئے کہ اگر دیوار ہوتی تو کس مقام سے قابل دیدنہ ہوتی۔

٤۔ درج ذیل مواقع پر نماز تمام ہے:

*٨ فرسخ کا سفر طے کرنے سے پہلے اپنے وطن میں پہنچ جائے ۔

*جس سفر میں آٹھ فرسخ طے کرنے کا قصد نہ ہو۔

*جس کا مشغلہ مسافرت ہو، اس سفر میں جو اس کا شغل ہے۔

*جو حرام سفر انجام دے۔

٥۔ اپنے وطن اور اس جگہ پر، جہاں دس دن ٹھہرنے کا قصد کیا جائے، نمازتمام ہے۔

٦۔ وطن اس جگہ کو کہتے ہیں جسے انسان نے اپنی رہائش اور زندگی بسر کرنے کے لئے اختیار کیا ہو۔

٧۔ جب تک انسان اپنے اصلی وطن کے علاوہ کسی اور جگہ پر ہمیشہ رہنے کا قصد نہ کرے، وہ جگہ اس کا وطن شمار نہیں ہوگی۔

٨۔ مسافر اپنے وطن لوٹتے وقت جب ایسی جگہ پر پہنچ جائے کہ وہاں سے شہر کی دیوار کو دیکھ لے اور اس جگہ کی اذان کو سن سکے، تو اسے نماز تمام پڑھنی چاہئے۔

٩۔ جو شخص نہیں جانتا کہ مسافر کی نماز قصر ہے اور نماز کو تمام بجالائے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اصل مسئلہ کو جانتا ہو اور بعض جزئیات کو نہ جاننے کی وجہ سے نماز کو تمام بجالایا ہو، تو نماز کو دوبارہ بجالائے۔

١٠۔ جسے نماز تمام پڑھنی چاہئے، اگر قصر پڑھے تو ہر حالت میں اس کی نماز باطل ہے۔


سوالات:

١۔ سفر کے دوران یومیہ نمازوں میں کم ہونے والی رکعتوں کی کل تعداد کتنی ہے؟

٢۔ ایک شخص اپنے گائوں کے مشرق میں ٣٢ کلو میڑ کی دوری پر واقع ایک گاؤں کے لئے سفر کرتا ہے پھروہاں سے ٥٠کلومیڑ کی دوری پرمغرب میں واقع ایک اور گائوں کی طرف سفر کرتا ہے اور پھر اپنے وطن کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ بتائیے کہ اس کی نماز ان دوگائوں اور درمیان راہ میں تمام ہے یا قصر؟

٣۔ سرکاری ملازم اور فوجی افسر جو نوکری کی وجہ سے کئی سال ایک جگہ پر رہتے ہیں، کیا وہ جگہ ان کے لئے وطن شمار ہوتی ہے۔؟

٤۔ کسی جگہ کے وطن ہونے کا معیار کیا ہے؟

٥۔ ایک کسان جو اپنے گھر سے تین فرسخ کی دوری پر واقع کھیت پر روزانہ کھیتی باڑی کرنے جاتاہے اور شام کو واپس گھرآتاہے، اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

٦۔ ایک شخص کسی کام کے سبب گائوں سے شہر آیا ہے، واپس اپنے گائوں جاتے وقت اسے نماز تمام پڑھنی چاہئے یا قصر؟

٧۔ ایک مسافر نے بھولے سے نماز تما م پڑھی ہے، کیا اس کی نماز صحیح ہے یانہ؟


سبق نمبر ٢٦

قضا نماز

تیرھویں سبق میں بیان کیا گیا کہ قضا نماز، اس نماز کو کہتے ہیں جو وقت گزرنے کے بعد پڑھی جائے.

واجب نمازیں اپنے وقت پر پڑھنی چاہئے، اگرکسی عذر کے بغیر اس سے کوئی نماز قضا ہوجائے تو وہ گناہگارہے اور اسے توبہ کرنا چاہئے اور اس کی قضا بھی بجالانا چاہئے ۔

١۔ دوصورتوں میں نماز کی قضابجالانا واجب ہے:

الف: واجب نماز وقت کے اندر نہ پڑھی گئی ہو۔

ب: وقت گزرنے کے بعد پتہ چلے کہ پڑھی گئی نماز باطل تھی۔(١)

٢۔ جس کے ذمہ قضا نماز ہو،اسے اس کے پڑھنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے، لیکن اس کو فوری بجالانا واجب نہیں ہے۔(٢)

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٣٧٠۔ ٧١ ١٣

(٢) توضیح المسائل، م ١٣٧٢


٣۔ قضا نماز کی نسبت انسان کی مختلف حالتیں:

*انسان جانتا ہے کہ اس کی کوئی قضا نماز نہیں ہے، تو کوئی چیز اس پر واجب نہیں ہے۔

*انسان شک میں ہے کہ اس کی کوئی نماز قضا ہوئی ہے یانہیں ، تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔

*احتمال ہو کہ کوئی نماز قضا ہوئی ہے، تومستحب ہے احتیاط کے طور پر اس نمازکی قضا بجالائے ۔

جانتا ہو کہ قضا نماز اس کے ذمہ ہے لیکن ان کی تعداد نہیں جاتنا ہو، مثلاً نہیں جانتا ہوکہ چار نمازیں تھیں یا پانچ، اس صورت میں کم تر کو پڑھے تو کافی ہے۔

*قضا نمازوں کی تعداد کو جانتاہے، تو ان کو بجالانا چاہئے۔(١)

٤۔ یومیہ نمازوں کی قضا کو ترتیب سے پڑھنا ضروری نہیں ہے*مثلاً اگر کسی نے ایک دن عصر کی نماز اور دوسرے دن ظہر کی نماز نہ پڑھی ہو تو ضروری نہیں ہے پہلے عصر کی قضا پڑھے پھر ظہر کی ۔(٢)

٥۔ قضا نمازجماعت کے ساتھ بھی پڑھی جاسکتی ہے، خواہ امام جماعت کی نماز ادا ہو یا قضا اور ضروری نہیں ہے کہ امام وماموم دونوں ایک ہی نماز پڑھتے ہوں، یعنی اگر صبح کی قضا نماز کو امام کی ظہر یا عصر کی نماز کے ساتھ پڑھیں تو کوئی مشکل نہیںہے۔(٣)

٦۔ اگر کسی مسافر کی ظہر، عصر یا عشا کی نماز ( جو اسے قصر پڑھنی تھی) قضا ہوجائے تو اسے اس کی قضا دورکعتی پڑھنی چاہے، اگرچہ اس قضا کو حضر میں بجالائے ۔(٤)

٧۔سفر میں روزہ نہیں رکھے جاسکتے، حتی قضا روزے بھی ،لیکن قضا نماز سفر میںپڑھی جاسکتی ہے۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل ،م ١٣٧٤ و ١٣٨٣.

(٢)توضیح المسائل، م ٥ ٧ ١٣

(٣) توضیح المسائل ، م ١٣٨٨

(٤) توضیح المسائل ،م ١٣٦٨

(٥)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٢٢٤، م ٥ والعر وة الوثی،ج ١، ص ٧٣٢، م١٠

*( اراکی) ترتیب سے پڑھی جائے (مسئلہ ١٣٦٨)


٨۔ اگر کوئی شخص سفر میں، حضر میں قضا ہوئی نماز کو بجالانا چاہئے تو وہ ظہر، عصر اور عشاکی قضا نمازوں کو چار رکعتی بجالائے۔(١)

٩۔ قضا نماز کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے، یعنی صبح کی قضا نماز کو ظہر یا رات میں پڑھا جاسکتا ہے۔(٢)

باپ کی قضا نماز:

١۔ جب تک انسان زندہ ہے، اگر نماز پڑھنے سے عاجز بھی ہو، کوئی دوسرا شخص اس کی نمازیں قضا کے طور پر نہیں پڑھ سکتا۔(٣)

٢۔ باپ کے مرنے کے بعد اس کی قضا نمازیں اور روزے اس کے بڑے بیٹے پر واجب ہیں، اسے چاہئے اپنے باپ کی قضا نمازیں اور روزے بجالائے اور ماں کی قضا شدہ نمازیں اور روزے بجالانا احتیاط مستحب ہے۔*(٤)

٣۔ باپ کی قضا نمازوں کے بار ے میں بڑے بیٹے کی مختلف حالتیں:

الف: جانتاہے اسکے باپ کی قضا نمازیںہیں اور :

*ان کی تعداد بھی جانتا ہے: تو ان کی قضا بجالائے۔

*ان کی تعداد کو نہیں جانتا: تو کم تر تعداد کو بجالائے توکافی ہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٣٦٨

(٢) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٢٩٣،م١، العروة الوثقی، ج ١، ص ٧٣٤،م١٠

(٣) توضیح المسائل، م ١٣٨٧

(٤)توضیح المسائل،م ١٣٩٠

*(اراکی) ماں کی قضا نماز اور روزے بھی بجا لانا چاہئے (مسئلہ ١٢٨٢) (گلپائیگانی)احتیاط واجب ہے کہ ماںکی قضا نمازیں اور روزے بھی بجالائے مسئلہ ١٣٩٩)


*شک رکھتا ہے کہ بجالایا ہے یا نہیں : تو احتیاط واجب کے طور پر قضا بجالائے۔(١)

ب: شک رکھتا ہے کہ باپ کی کوئی نماز قضا تھی یا نہیں ؟: تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔(٢)

٤۔ اگر بیٹا اپنے ماں باپ کی قضا نمازیں بجالانا چاہتا ہوتو اسے اپنی تکلیف کے مطابق عمل کرنا چاہئے، یعنی صبح، مغرب اور عشا کی نماز کو بلند آوازے سے پڑھے۔(٣)

٥۔ اگر بڑا بیٹا، اپنے باپ کی قضا نمازو روزہ بجالانے سے پہلے فوت ہوا تو دوسرے بیٹے پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔(٤) *

____________________

(١) توضیح المسائل ،م ١٣٩٠۔ ١٣٩٢

(٢) تو ضیح المسائل ،م ١٢٩١

(٣) توضیح المسائل، م ١٣٩٥.

(٤)توضیح المسائل ، م ١٣٩٨

*(گلپائیگانی) اگر باپ اوربیٹے کی وفات کے درمیان اتنا فاصلہ گزراہو کہ بیٹا باپ کی قضا نماز اور روزہ بجالاسکتا تھا، تو دوسرے بیٹے پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، البتہ اگر یہ فاصلہ زیادہ نہ تھا تو احتیاط واجب کے طور پر دوسرے بیٹے کو باپ کی قضا نماز وروزہ بجالاناچاہئے۔(مسئلہ ١٤٠٧)


سبق: ٢٦کا خلاصہ

١۔ باطل اور قضا نمازوں کی قضا واجب ہے۔

٢۔ اگر کوئی شخص نہ جانتاہو کہ اس کی کوئی نماز قضا ہوئی ہے یا نہیں، تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ۔

٣۔ اگر جانتا ہوکہ نماز قضا ہوئی ہے لیکن اس کی مقدار نہ جانتا ہو تو کم تر مقدار کو بجالائے، کافی ہے۔

٤۔ قضا نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔

٥۔ قضا نماز کو ہر وقت بجالایا جاسکتاہے، خواہ شب ہو یادن، سفر میں ہو یاحضر میں ۔

٦۔ باپ کے مرنے کے بعد اس کے بڑے بیٹے پر اس کی قضا نمازیں اور روزے واجب ہیں ۔

٧۔ اگر بیٹا نہ جانتا ہوکہ باپ کی کوئی نماز قضا ہوئی ہے یا نہیں، تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔

٨۔ اگر کسی کا کوئی بیٹا نہ ہویا بڑا بیٹا باپ کی قضا نمازیں اور روزے بجالانے سے پہلے مرگیاہو تو اس کی قضا نمازیںاور روزے کسی دوسرے بیٹے پرواجب نہیں ہیں۔


سوالات:

١۔ ادا اور قضا نماز میں کیا فرق ہے؟

٢۔ جسے یہ معلوم ہوکہ اس کی کچھ نمازیں قضا ہوئی ہیں، لیکن ان کی تعداد نہ جانتا ہوتو اس کا فرض کیاہے؟

٣۔ اگر کوئی شخض نماز ظہر وعصر کے بعد صبح کی قضا نماز بجالانا چاہے تو کیا اسے قرأت بلند پڑھنی چاہئے یا آہستہ؟

٤۔ ایک بیٹا یہ نہیں جانتا کہ اس کے باپ کی کوئی قضا نماز ہے کہ نہیں اور اس کے باپ نے بھی اسے کچھ نہیں کہا ہے، اس کا فرض کیا ہے؟


سبق نمبر ٢٧

نماز جماعت

ملت اسلامیہ کا اتحاد، ان مسائل میںسے ہے جن کی اسلام میں انتہائی اہمیت ہے اور اس کے تحفظ اور جاری رہنے کے لئے خاص منصوبے مرتب کئے گئے ہیں، انھیں میں سے ایک نماز جماعت ہے۔

نماز جماعت میں خاص شرائط کا حامل ایک شخص، آگے کھڑا ہوتا ہے اور باقی لوگ صفوں میں منظم ہوکر اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیںاور اس کے ساتھ ہم آہنگ نمازبجالاتے ہیں۔

نماز جماعت کی اہمیت :

نماز جماعت کی اہمیت اور اس کے اجرو ثواب کے سلسلے میں بہت سی احادیث اور روایات موجود ہیں۔ یہاں پر ہم اس عبادت کی اہمیت کے پیش نظر چند ایک روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

١۔ نماز جماعت میں شرکت کرنا ہر ایک کے لئے مستحب ہے، خاص کر مسجد کے ہمسایوں کے لئے۔(١)

٢۔مستحب ہے انسان انتظار کرے، تاکہ نماز باجماعت بجالائے۔

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٣٩٩


٣۔ تاخیرسے پڑھی جانے والی نماز جماعت اول وقت کی فرادیٰ نماز سے بہترہے۔

٤۔ طولانی فرادیٰ نماز مختصر نماز جماعت سے بہتر ہے۔(١)

٥۔ کسی عذر کے بغیر نماز جماعت کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔

٦۔لاپروائی کی وجہ سے نماز جماعت میںشریک نہ ہونا جائز نہیں ہے۔(٢)

نماز جماعت کے شرائط:

نماز جماعت کے سلسلے میںدرج ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:

١ ماموم کو امام سے آگے کھڑا نہیں ہونا چاہئے بلکہ احتیاط واجب کی بناء پر تھوڑاسا پیچھے کھڑا ہونا چاہئے

جماعت کے بغیر انفرادی طور پر پڑھی جانے والی نماز کو فرادیٰ کہتے ہیں ۔

٢۔ امام جماعت کی جگہ مامومین کی جگہ سے اونچی نہیں ہونی چاہئے ۔

٣۔ امام اور مامومین کے درمیان اور خود نمازیوں کی صفوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہئے۔

٤۔ امام ،مامومین اور نمازیوں کی صفوں کے درمیان دیواریا پردہ جیسی چیز مانع نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن مرداور عورتوں کے درمیان پردہ نصب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(٣)

امام جماعت کو بانع وعادل ہونا چاہئے اور نماز کو صحیح طور پر پڑھنا چاہئے ۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٤٠٢.

(٢)توضیح المسائل، م ١ ١٤٠.

(٣)العروة الوثقی، ج١، ص ٧٧٧.

(٤)توضیح المسائل ، م ١٤٥٣


نماز جماعت میں شرکت کرنا (اقتدا کرنا)

ہر رکعت میں قرأت زاوررکوع کے دوران امام جماعت کی اقتداء کی جاسکتی ہے،لہٰذا اگر رکوع میں امام جماعت کی اقتداء نہ کرسکے تو دوسری رکعت میں اقتداء کرنا چاہئے اور اگر صرف رکوع میں امام جماعت کی اقتداء کرسکے تو ایک رکعت شمار ہوگی۔

نماز جماعت میںشامل ہونے کی مختلف حالتیں:

پہلی رکعت:

١۔ قرأت کے دوران۔۔۔ ماموم حمدو سورہ کو پڑھے بغیر باقی اعمال کو امام جماعت کے ساتھ انجام دے۔

٢۔ رکوع میں:۔۔۔ رکوع اور باقی اعمال کو امام جماعت کے ساتھ انجام دے(١)

دوسری رکعت :

١۔ قرأت کے دوران ۔۔۔۔ماموم حمداور سورہ کو پڑھے بغیر امام کے ساتھ قنوت، رکوع اور سجدہ بجالائے اور جب امام جماعت تشہد پڑھنے لگے تو ماموم احتیاط وا جب کے طورپرذرا جھک کر بیٹھے اور امام کی نمازدو رکعتی ہونے کی صورت میں ایک رکعت کو فرادیٰ انجام دے اور نماز کو مکمل کرے اور اگر امام کی نماز تین یا چار رکعتی ہوتو اس کی دوسری رکعت میں جب کہ امام جماعت کی تیسری رکعت ہے، حمد وسورہ پڑھے (اگر چہ امام جماعت تسبیحات اربعہ پڑھ رہا ہو ) اور جب امام جماعت تیسری رکعت کو ختم کر کے چوتھی رکعت کے لئے کھڑ ا ہو جائے تو ماموم کو دو سجدوں کے بعد تشہد پڑھنا چاہئے اور اس کے بعد کھڑا ہو کر تیسری رکعت

____________________

(١)توضیح المسائل م ٢٧ ١٤.

*قنوت کی حالت میں بھی اقتدا کی جاسکتی ہے اور قنوت کو امام کے ساتھ پڑھے اور یہاں پر بھی قرأت کے دوران اقتدا کرنے کی صورت میں اقتدا کرے۔


کی قرأت (تسبیحات اربعہ )کو بجالائے اور نمازکی آخری رکعت میںجب امام جماعت تشہد و سلام پھیر نے کے بعد نماز کو ختم کرے تو ماموم مزیدایک رکعت پڑھے ۔(١)

٢۔ رکوع میں۔۔ رکوع امام کے ساتھ بجالائے اور باقی نماز بیان شدہ صورت میں انجام دے۔

تیسری رکعت :

١۔قرأت کے دوران ۔۔۔چنانچہ جانتا ہو کہ اقتدا کرنے کی صورت میں حمد و سورہ یا حمد پڑھنے کاوقت ہے تو اسے حمد و سورہ یا صرف حمد پڑھنا چاہئے اور اگر یہ جانتا ہو کہ کہ اتنی فرصت نہیں ہے کہ حمد وسورہ یا صرف حمد پڑھ سکے تو احتیاط واجب کی بنا پر انتظار کرے تاکہ امام جماعت رکوع میں جائے اور رکوع میں ہی اس کی اقتداء کرے۔

٢۔ رکوع میں ۔۔۔۔ رکوع میں امام کی اقتدا کرنے کی صورت میں رکوع کو بجالائے اور حمد وسورہ اس رکعت کے لئے معاف ہے اور باقی نماز کو بیان شدہ صورت میں انجام دے۔(٢)

چوتھی رکعت :

١۔ قرأت کے دوران

یہاں پر تیسری رکعت میں اقتدا کی صورت کا حکم ہے۔ جب امام جماعت آخری رکعت میں تشہد وسلام کے لئے بیٹھے، ماموم اٹھ کے نماز کو فرادیٰ صورت میں انجام دے سکتا ہے، اور امام جماعت کے تشہد اور سلام پھیرنے تک جھکے رہ سکتا ہے اور اس کے بعد اٹھ کر نماز کو جاری رکھ سکتاہے۔

٢۔ رکوع ۔۔۔۔۔ رکوع میں اقتدا کرنے والا رکوع وسجدوں کو امام کے ساتھ بجالائے (یہ امام کی چوتھی اور ماموم کی پہلی رکعت ہے) باقی نماز کوبیان شدہ صورت میں انجام دے سکتا ہے۔(٣)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٤٣٩۔١٤٤٠.

(٢) توضیح المسائل م ١٤٤٣۔۔١٤٤٢ وتحریر الوسیلہ،ج ١، ص ٢٧١۔ ٢٧٢۔م٥، ٦۔٨.

(٣) توضیح المسائل م ١٤٤٣۔۔١٤٤٢ وتحریر الوسیلہ،ج ١، ص ٢٧١۔ م٥، ٦۔٨.


سبق ٢٧ کا خلاصہ

١۔ تمام واجب نمازیں خاص کر نماز پنجگانہ کو با جماعت پڑھنا مستحب ہے۔

٢۔ اولِ وقت میں نماز فرادیٰ پڑھنے سے تاخیر سے باجماعت نماز پڑھنا افضل ہے۔

٣۔ مختصر نماز جماعت ،طولانی فرادیٰ نماز سے بہتر ہے۔

٤۔ لاپروائی کی وجہ سے نماز جماعت میں شرکت نہ کرنا جائز نہیں ہے ۔

٥۔ کسی عذر کے بغیر نماز جماعت کو ترک کرنا سزاوار نہیں ہے۔

٦۔ امام جماعت کوبالغ وعادل ہونا چاہئے اور نماز کو صحیح طور پر پڑھنا چاہئے۔

٧۔ماموم کو امام سے آگے کھڑا نہیں ہونا چاہئے اور امام کو ماموم سے بلند تر جگہ پر کھڑانہ ہونا چاہئے ۔

٨۔ امام اور اماموم اورنمازیوں کی صفوں کا درمیانی فاصلہ زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔

٩۔ ہررکعت میں صرف قرأت اور رکوع میں اقتدا کی جاسکتی ہے، لہٰذا اگر رکوع میں کوئی اقتداء نہ کرسکے تو اسے بعد والی رکعت میں اقتداء کرنا چاہئے۔


سوالات:

١۔ مندرجہ ذیل جملہ کی وضاحت کیجئے:

''لاپروائی کی وجہ سے نماز جماعت میں شرکت نہ کرنا جائز نہیں ہے۔''

٢۔ کس صورت میں چاررکعتی نماز میں چار بار تشہد پڑھا جاسکتا ہے؟

٣۔ نماز جماعت میں واجبات نماز میں سے کس واجب کو ماموم نہیں پڑھتا؟

٤۔ نماز مغرب کی دوسری رکعت میں امام کا اقتدا کرنے کی صورت میں ماموم باقی نماز کو کیسے جاری رکھے گا؟

٥۔ عدالت کی وضاحت کیجئے؟


سبق نمبر٢٨

نماز جماعت کے احکام

١۔ اگر امام جماعت نماز یومیہ میں سے کسی ایک کے پڑھنے میں مشغول ہوتو ماموم نماز یومیہ کی کسی دوسری نماز کی نیت سے اقتدا کرسکتا ہے، چنانچہ اگر امام، عصر کی نماز پڑھنے میں مشغول ہوتو ماموم ظہر کی نماز کے لئے اقتدا کرسکتاہے، یا اگر ماموم نے ظہر کی نماز پڑھی ہو اور اس کے بعد جماعت شروع ہوجائے تو امام کی ظہر کے ساتھ ماموم نماز عصر کے لئے اقتداء کرسکتاہے۔(١)

٢۔ ماموم اپنی قضا نمازوں کو امام کی ادا نمازوں کے ساتھ اقتدا کرسکتا ہے، اگرچہ یہ قضا نمازیں دوسری ہوں، مثلاً امام جماعت ظہر کی نماز میں مشغول ہے تو ماموم اپنی صبح کی قضا نماز کیلئے اقتداکرسکتا ہے۔(٢)

٣۔ نماز جمعہ اور نماز عید فطرو عید قربان کے علاوہ نماز جماعت ایک آدمی کے امام اوردوسرے کے ماموم بننے کی صورت میں کم از کم دو افراد سے قائم ہوسکتی ہے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل ،م١٤٠٨

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٢٦٥،م١، العروة الوثقیٰ، ج ١ ص ٧٦٥، م٣.

(٣)العروة الوثقیٰ، ص ٧٦٦،م٨


٤۔ نمازاستسقاء کے علاوہ کوئی بھی مستحب نماز ؛جماعت کے صورت میں نہیں پڑھی جاسکتی ۔(١)

نماز جماعت میں ماموم کا فریضہ:

١۔ ماموم کو امام سے پہلے تکبیرة الاحرام نہیں کہنا چاہئے، بلکہ احتیاط واجب ہے کہ جب تک امام تکبیر کو تمام نہ کرے ماموم تکبیرنہ کہے۔(٢)

٢۔ ماموم کو حمد وسورہ کے علاوہ نماز کی تمام چیزیں خود پڑھنی چاہئے لیکن اگر ماموم کی پہلی یا دوسری رکعت اور امام کی تیسری یا چوتھی رکعت ہوتو ماموم کو حمدو سورہ پڑھنا چاہئے۔(٣)

امام جماعت کی پیروی کرنے کا طریقہ:

الف: تکبیرة الاحرام کے علاوہ نماز میں پڑھی جانے والی چیزوں، جیسے حمد، سورہ، ذکر اور تشہد کو امام سے آگے یا پیچھے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ب: اعمال ، جیسے رکوع، رکوع اور سجدہ سے سراٹھانے میں امام پر سبقت کرنا جائز نہیں ہے، یعنی امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں نہیں جانا چاہئے یا امام سے پہلے رکوع یا سجدہ سے سر نہیں اٹھانا چاہئے لیکن امام سے پیچھے رہنے میں اگر زیادہ تاخیر نہ ہوتو کوئی حرج نہیں۔(٤)

____________________

(١) العرتہ الوثقیٰ، ج١، ص٧٦٤م٢

(٢) توضیح المسائل، م ١٣٦٧

(٣) توضیح المسائل،م ١٤٦١

(٤) توضیح المسائل، م ١٤٦٧ ۔ ٦٩ ١٤۔ ٧٠ ١٤ العروة الوثقیٰ ج،١ ص ٧٨٥.


مسئلہ: امام جماعت کے رکوع میںہونے کی صورت میں ماموم کے اقتدا کرنے کی درج ذیل صورتیں ممکن ہیں:

*امام کے ذکر رکوع کو ختم کرنے سے پہلے ماموم رکوع میں پہنچتاہے۔اس کی باجماعت نماز صحیح ہے۔

*امام کے ذکر رکوع کو تمام کرنے لیکن رکوع سے بلند ہونے سے پہلے ماموم رکوع میں پہنچتاہے۔۔۔ اس کی باجماعت نماز صحیح ہے۔

*ماموم رکوع میں جاتاہے لیکن امام کے ساتھ رکوع نہیں بجا لاسکتا ہے۔۔ اس کی نماز فرادیٰ صحیح ہے، اسے تمام کرے۔*

اگر ماموم،بھولے سے قبل از امام:

١۔ رکوع میں جائے ۔

واجب ہے پلٹ کرامام کے ساتھ دوبارہ رکوع میں جائے **

٢۔ رکوع سے اٹھے۔

دوبارہ رکوع میں جائے اور امام کے ساتھ رکوع سے سر اٹھائے۔ یہاں پر رکوع کا زیادہ ہونااگرچہ رکن ہے،لیکن نماز کو باطل نہیں کرتا۔

٣۔سجدہ میں جائے۔

واجب ہے سجدہ سے سر اٹھا کر دوبارہ امام کے ساتھ سجدہ بجالائے ۔

٤۔ سجدہ سے سر اٹھائے ۔

دوبارہ سجدہ میں جائے۔(١)

اگر ماموم کی جگہ امام سے بلند ہو البتہ قدیم زمانہ کی متعارف حدمیں بلند ہو، مثال کے طور پر امام مسجد کے صحن میں ہواور ماموم مسجد کی چھت پر، تو کوئی حرج نہیں ،لیکن اگر آج کل کی چند منزلہ عمارتوں کی چھت پر ہو تو اشکال ہے۔(٢) ٭٭٭

____________________

(١)العروةالوثقیٰ، ج ١، ص ٧٨٦،م١٢.(٢) توضیح المسائل، م ١٤١٦

*(خوئی اراکی)اس کی نمازباطل ہے( مسئلہ ٤٣٦) (گلپائیگانی) جماعت باطل ہے لیکن اس کی نماز صحیح ہے(مسئلہ ١٤٣٦)

٭٭(گلپائیگانی)احتیاط کے طور پر کھڑے ہوکر امام جماعت کے ساتھ رکوع میںجائے(العروة الوثقیٰ، ج ١،ص ٧٨٦)

٭٭٭(گلپائیگانی وخوئی) اگرما موم کی جگہ امام سے بلند تر ہوتو حرج نہیں ہے لیکن اگر اس قدر بلند ہوکہ جماعت نہ کہاجائے تو جماعت صحیح نہیں ہے۔ (مسئلہ ٢٥ ١٤)


نماز جماعت کے بعض مستحبات اور مکر وہات:

١۔مستحب ہے امام جماعت صف کے سامنے وسط میں کھڑا ہو اور اہل علم، کمال وتقویٰ پہلی صف میںکھڑے ہو ں۔

٢۔مستحب ہے نماز جماعت کی صفیں، مرتب اور منظم ہوں اور صف میں کھڑ ے افرا د کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔

٣۔نمازیوں کی صفوں میں جگہ ہونے کی صورت میں تنہا صف میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔

٤۔ مکروہ ہے، ماموم نماز کے ذکر ایسے پڑھے کہ امام جماعت سن سکے ۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل ص ١٩٧۔ ١٩٨


سبق: ٢٨ کا خلاصہ

١۔ نمازِ استسقائکے علاوہ کوئی مستحب نماز باجماعت پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

٢۔ یومیہ نمازوں میں سے کسی بھی نماز کی امام جماعت کی دوسری نمازوں کے ساتھ اقتداکی جاسکتی ہے۔

٣۔ قضا نمازوں کو بھی جماعت سے پڑھا جاسکتا ہے۔

٤۔ نماز جمعہ، نماز عید فطر اور نماز عید قربان کے علاوہ دیگر نمازوں کو کم از کم دو افرا پر مشتمل جماعت تشکیل دی جاسکتی ہے۔

٥۔ امام جماعت کی پیروی کرنے کا طریقہ:

*(اقوال میں (پڑھنے کی چیزوں میں )

تکبیرة الا حرام: امام سے پہلے یا امام کے ساتھ نہ کہی جائے

تکبیرة الاحرام کے علاوہ: امام سے آگے یا پیچھے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

*افعال میں۔۔۔ سبقت کرنا۔۔ جائز نہیں ۔

پیچھے رہنا۔۔ اگر زیادہ فاصلہ نہ ہوتو کوئی حرج نہیں۔

٦۔ اگر ماموم رکوع میں امام سے ملحق ہوجائے، اگرچہ امام ذکر رکوع تمام کرچکا ہو تو جماعت صحیح ہے۔

٧۔ اگر غلطی سے امام سے پہلے:

*۔ماموم رکوع میں چلاجائے ۔۔ پلٹ کر دوبارہ امام جماعت کے ساتھ رکوع میں جائے۔

*رکوع سے کھڑا ہوجائے۔۔ پھرسے رکوع میں جائے۔

*سجدہ میں جائے۔۔۔۔واجب ہے سرکو بلند کرکے دوبارہ امام کے ساتھ سجدہ میں جائے۔ اگر نہ اٹھے نمازصحیح ہے۔

*سجدہ سے سر کو اٹھائے۔۔۔ دوبارہ سجدہ میں جائے ۔

٨۔ اگر ماموم کی جگہ امام سے بلند ہوتو کوئی حرج نہیں ۔


سوالات:

١۔ کیا مسافر، جس کی نماز قصر ہے امام جماعت کی ظہر کی نماز کی آخری دورکعتوں میں اپنی نماز عصر کی نیت سے اقتداکرسکتاہے؟

٢۔ کیا ماموم امام جماعت سے پہلے رکوع اور سجدہ میں جاسکتا ہے؟

٣۔ اگر ماموم کو سجدہ سے سراٹھانے کے بعد معلوم ہوجائے کہ امام ابھی سجدہ میں ہے تو اس کافرض کیا ہے؟

٤۔ اگر ماموم نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں غلطی سے قنوت پڑھنے سے پہلے رکوع میں جائے تو اس کا فرض کیا ہے؟

٥۔ کون سی مستحب نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے؟


سبق نمبر٢٩

نماز جمعہ ونماز عید

نماز جمعہ:(١)

مسلمانوں کے ہفتہ وار اجتماعات میں سے ایک نماز جمعہ ہے اور نماز گزار جمعہ کے دن نماز ظہر کی جگہ پر جمعہ کی نماز پڑھ سکتے ہیں ۔(٢) *

نماز جمعہ کی اہمیت:

امام خمینی رحمة اللہ علیہ، نماز جمعہ کی اہمیت کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

'' نماز جمعہ اور اس کے دو خطبے، حج اور نماز عید فطر وعید قربان کی طرح مسلمانوں کے عظیم مراسم میں سے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان اس سیاسی عبادت کے فرائض سے غافل ہیں ،جبکہ ایک انسان اسلام کے بارے میں ملکی،سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے سلسلے میں معمولی مطالعہ سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلام دین سیاست ہے اور جو دین کو سیاست سے جدا جانتاہے وہ ایک ایسا نادان ہے جو نہ دین کو

____________________

(١) نماز جمعہ کی بحث آیت ...گلپائیگانی کے رسالہ اور وسیلة النجاة کے حاشیہ میں نہیں آئی ہے لیکن مجمع المسائل سے مطابقت کی گئی ہے

(٢)تحریر الوسیلہ ص ٢٣١،م١

*(گلپائیگانی)بنابر احتیاط واجب نماز ظہر کو بھی پڑھے۔ (مجمع المسائل، ج ١، ص ٢٥١)


پہچان سکاہے اور نہ سیاست کو''۔(١)

نماز جمعہ کی کیفیت:

واجبات:

نماز جمعہ صبح کی نماز کی طرح دورکعت ہے، لیکن اس میں دو خطبے ہیں، جنھیں امام جمعہ نماز سے قبل بیان کرتاہے۔

مستحبات:

١۔ امام جمعہ کا حمد اور سورہ کو بلند آواز سے پڑھنا*

٢۔ امام جمعہ کا پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ جمعہ پڑھنا۔

٣۔ امام جمعہ کا دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ منافقون پڑھنا۔

٤۔ اور دوسرا قنوت دوسری رکعت میں رکوع کے بعد۔(٢)

نماز جمعہ کے شرائط:

١۔ نماز جماعت کے تمام شرائط نماز جمعہ میں بھی ہیں۔**

٢۔ نماز جمعہ باجماعت پڑھی جانی چاہئے لہٰذا فرادیٰ پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

٣۔ نماز جمعہ کو قائم کرنے کے لئے کم ازکم پانچ افراد کا ہونا ضروری ہے، یعنی ایک امام اور چار مامومین۔

____________________

(١) تحریر الوسیلہ ،ج١،ص ٤ ٢٣،م٩

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ١٣٢، الثانی

*(گلپائیگانی۔ اراکی) احتیاط واجب ہے کہ نماز جمعہ میں حمد وسورہ کو بلند آوازسے پڑھے مسئلہ ١٤٨٤

٭٭نماز جماعت کے شرائط سبق نمبر٢٧ میں بیان کئے گئے ہیں۔


٤۔ دونماز جمعہ کے درمیان کم از کم ایک فرسخ کا فاصلہ ہونا چاہئے۔ *(١)

خطبے پڑھتے وقت امام جمعہ کے فرائض:

١۔ حمدوثنائے الٰہی بجالائے۔

٢۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار علیم السلام پر درود بھیجے۔

٣۔ لوگوں کو تقوائے الٰہی اور گناہوں سے دوری کی تاکید کرے۔

٤۔ قرآن مجید کے ایک چھوٹے سورہ کو پڑھے۔

٥۔ مؤمن مردو خواتین کے لئے مغفرت کی دعا کرے۔٭٭

اور سزاوار ہے کہ درج ذیل مطالب بھی بیان کرے۔٭٭٭

مسلمانوں کی دنیوی واخروی ضرورتیں۔

*دنیا میں پیش آنے والے حالات جو مسلمانوں کے نفع ونقصان کے بارے میں ہوں،سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔

*لوگوں کو سیاسی اور اقتصادی مسائل سے آگاہ کرے،جن کا ان کی آزادی میں عمل اوردخل ہو اور دیگر ملتوں اور اقوام سے برتائو کے طریقہ کار کو بیان کرے۔

* مسلمانوں کو ستمگر اور سامراجی حکومتوں کی طرف سے ان کے سیاسی واقتصادی معالات میں اپنا الوسیدھا کرنے کے لئے دخل اندازی کے بارے میں آگاہ کرے۔(٢)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج١، ص٢٣٢، الثانی.

(٢) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص٢٣٣و٢٣٤،م ٨٠٠٧۔٩.

*ایک فرسخ۔ساڑھے پانچ کلومیڑشرعی.

٭٭ان میں سے بعض مسائل فتویٰ ہیں، بعض احتیاط واجب اور بعض دونوں خطبوں سے مربوط ہیں اور بعض ایک ہی خطبہ سے مربوط ہیں۔

٭٭٭یہ حصہ امام خمینی کی کتاب تحریر الوسیہ سے نقل کیا گیا ہے۔


نماز جمعہ پڑھنے والوں کا فرض:

١۔ احتیاط واجب کے طورپرخطبے سننا۔

٢۔ احتیاط مستحب ہے کہ خطبوں کے دوران باتیں کرنے سے پرہیز کیا جائے اگر باتیںکرنا خطبوں کی افادیت ختم ہونے یا خطبے نہ سننے کا سبب بنے تو باتیں نہ کرنا واجب ہے۔

٣۔ احتیاط مستحب ہے کہ خطبہ سننے والے خطبوں کے دوران امام کی طرف رخ کرکے بیٹھیں اور خطبوںکے دوران فقط اس قدر ادھر ادھر دیکھ سکتے ہیں جتنی کہ نماز کے دوران اجازت ہے۔(١)

نمازعید

عید فطر اور عید قربان کے دن نماز عید پڑھنا مستحب ہے۔

نماز عید کا وقت :

١۔ سورج چڑھنے کے وقت سے ظہر تک نماز عید کا وقت ہے۔(٢)

٢۔ مستحب ہے عید قربان کی نماز سورج چڑھنے کے بعد پڑھی جائے۔

٣۔ مستحب ہے عید فطر کے دن، سورج چڑھنے کے بعد افطار کیا جائے اس کے بعد زکات فطرہ زدے ٭٭پھر نماز عید پڑھے ۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١ ص ٣٣٥،م ١٤

(٢)توضیح المسائل،م ١٥١٧.

(٣)توضیح المسائل، م١٨ ١٥

٭کات فطرہ ایک مالی واجب ہے اور اسے عید فطر کے دن ادا کرنا چاہئے سبق ٣٤ ملا خطہ ہو)

٭٭(گلپائیگانی) عید فطر کے دن مستحب ہے کہ سورج چڑھنے کے بعد افطار کرے نیز احتیاط لازم زکات فطرہ بھی نکالے یاجداکرکے رکھدے اس کے بعد نماز عید فطرپڑھے. (مسئلہ ١٥٢٧)


نماز عید کی کیفیت:

١۔ عید فطر اور عید قربان کی نماز دورکعت ہے، اس میں نوقنوت ہیں اور حسب ذیل طریقہ سے پڑھی جاتی ہے:

* پہلی رکعت میں حمد وسورہ کے بعد پانچ تکبریں پڑھی جاتی ہیں اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھا جاتاہے اور پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبیر پڑھ کے رکوع اور دوسجدے کئے جاتے ہیں۔

دوسری رکعت میں حمد وسورہ کے بعد چار تکبیریں کہی جاتی ہیں اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھا جاتاہے اور چوتھے قنوت کے بعد ایک اور تکبیر پڑھ کے رکوع، سجود، تشہد وسلام پڑھ کے نماز تمام کی جاتی ہے.

* نمازعید کے قنوتوں میں کوئی بھی دعا یاذکر پڑھا جائے، کافی ہے ، لیکن بہتر ہے ثواب کی امید سے مندرجہ ذیل دعا پڑھی جائے:

''اَللّٰهُمَّ اَهْلَ اْلْکِبْرِیَآئِ وَاْلْعَظَمَةِ وَاَهْلَ اْلْجُوْدِوَاْلْجَبَرُوْتِ وَاَهْلَ اْلْعَفْوِ وَاْلْرَّحْمَةِ وَ اَهْلَ اْلْتَّقْوٰی وَاْلْمَغْفِرَةِ، اَسْئَلُکَ بِحَقِّ هٰذَاْ اْلْیَوْمِ اْلَّذِیْ جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمِیْنَ عِیْداً، وَّلِمُحَمَّدٍ صَلَّیْ اْﷲ ُ عَلَیْهِ وَاٰلِه وَسَلَّمَ ذُخْراً وَّشَرَفاً وَّ کَرَاْمَةً وَّمَزِیْداً، اَنْ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَاَنْ تُدْخِلَنی فی کُلِّ خَیْرٍ اَدْخَلْتَ فِیْهِ مُحَمَّداًوَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ، وَاَنْ تُخْرِجَنی مِنْ کُلِّ سُوئٍ اَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَّاٰلَ مُحَمَّدِ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ، اَللّٰهُمَّ نّی اَسْئَلُکَ خَیْرَ مَاْ سَئَلَکَ بِه عِبَاْدُکَ اْلْصَّاْلِحُونَ، وَ اَعُوذُبِکَ مِمَّاْ اْسْتَعَاذَ مِنْهُ عِبَادُکَ المُخْلَصُون''


سبق ٢٩ کا خلاصہ

١۔ نماز جمعہ، جمعہ کے دن ظہر کی نماز کے بدلے میں پڑھی جاتی ہے۔

٢۔نماز جمعہ دورکعت ہے اور نماز سے پہلے دوخطبے پڑھنا واجب ہیں۔

٣۔ نماز جمعہ کے شرائط حسب ذیل ہیں:

* نماز جماعت کے تمام شرائط۔

*اسے جماعت میں ہی پڑھا جاسکتاہے۔

* نماز جمعہ قائم کرنے کیلئے کم ازکم پانچ آدمی کا ہونا ضروری ہے۔

* دونماز جمعہ کے درمیان کم از کم فاصلہ ایک فرسخ ہونا چاہئے۔

٤۔ خطیب جمعہ کو چاہئے خطبہ کے ضمن میں حمدوثنائے الٰہی اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار پر درودو سلام کے علاوہ لوگوں کو تقویٰ وپرہیز گاری کی تاکید کرے،اور قرآن مجید کے ایک چھوٹے سورہ کی تلاوت کرے۔

٥۔ احتیاط واجب کی بناپر مامومین کو خطبے سننے چاہئے اور مستحب ہے خطبوں کے دوران باتیں کرنے سے پرہیز کرے۔

٦۔ نماز عید دورکعت ہے اور اس میں نوقنوت ہیں۔

٧۔ نماز عید کی پہلی رکعت میں حمد کے بعد پانچ قنوت اور چھ تکبیریں اور دوسری رکعت میں چار قنوت اورپانچ تکبیریں پڑھی جاتی ہیں۔


سوالات :

١۔ نماز ظہر اور نماز جمعہ میں کیا فرق ہے؟ ایک ایک کرکے بیان کیجئے؟

٢۔ نمازجمعہ میں کم از کم کتنے مأموین ہونے چاہئے؟

٣۔ گزشتہ درسوں کا مطالعہ کرکے امام جماعت کے شرائط جو درحقیقت امام جمعہ کے لئے بھی شرائط، میں بیان کیجئے؟

٤۔ امام خمینی کی نظر میں دین کو سیاست سے جدا جاننے والا شخص کیسا انسان ہے؟

٥۔ نمازعید میں کتنی تکبیریں اور کتنے قنوت ہیں؟


سبق نمبر ٣٠

نماز آیات اور مستحب نمازیں

نماز آیات:

واجب نمازوں میں سے ایک ''نماز آیات'' بھی ہے جو بعض آسمانی یازمینی حوادث رونماہونے کے سبب واجب ہوتی ہے، جیسے:

* زلزلہ

*چاندگہن

* سورج گہن

*۔بجلی گرنے اور زرد وسرخ طوفان اوراس طرح کے دوسرے حوادث، اگر اکثر لوگوںمیں خوف وحشت *(١) کا سبب بنیں۔

نماز آیات کی کیفیت

١۔نمازآیات دورکعت ہے اور ہررکعت میں پانچ رکوع ہیں۔

____________________

(١) توضیح المسائل ، م ١٤٩١.

*(گلپائیگانی) ان پر آیت (غیر عادی) صدق آنے کی صورت میں اگر کوئی خوف و وحشت بھی نہ کرے تو بھی نماز آیات واجب ہے. (مسئلہ ١٥٠٠)


٢۔ نماز آیات میں ، ہر رکوع سے پہلے سورہ حمد اور قرآن مجید کا کوئی دوسرا سورہ پڑھا جاتاہے، لیکن ایک سورہ کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد ہر رکوع سے پہلے اس کا ایک حصہ بھی پڑھا جاسکتا ہے، اس طرح دورکعتوں میں دوحمد اور دو سورے پڑھے جاسکتے ہیں۔

ذیل میں سورہ توحید کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے پڑھنے کی صورت میں نماز آیات کی کیفیت بیان کرتے ہیں :

پہلی رکعت:

سورہ حمد کے بعد بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کے ۔۔۔رکوع

قل هوالله احد ۔۔۔۔۔۔۔رکوع

الله الصمد ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔رکوع

لم یلد ولم یولد ۔۔۔۔۔۔ ۔رکوع

ولم یکن له کفواً احد ۔۔۔ ۔رکوع

اس کے بعد نماز گزار سجدے بجالاکر دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجاتاہے۔

دوسری رکعت:

دوسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کی طرح بجالاکر تشہد اور سلام پڑھنے کے بعد نماز کو تمام کیا جاتاہے۔(١)

نماز آیات کے احکام:

١۔ اگر نماز آیات کے اسباب میں سے ایک سبب کسی ایک شہر میں واقع ہوجائے تو اسی شہر کے لوگوں کو نماز آیات پڑھنا چاہئے اور دوسری جگہوں کے لوگوں پر واجب نہیں ہے۔(٢)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ٠٨ ١٥ (٢) توضیح المسائل، م ١٤٩٤


٢۔ اگر ایک رکعت میں پانچ حمد وپانچ سورے پڑھے جائیں اور دوسری رکعت میں ایک حمد اور سورہ کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے پڑھا جائے تو صحیح ہے۔(١)

٣۔ مستحب ہے دوسرے، چوتھے، چھٹے، آٹھویں اور دسویں رکوع سے پہلے قنوت پڑھاجائے۔ اور اگر دسویں رکوع سے پہلے ایک ہی قنوت پڑھا جائے تو بھی کافی ہے۔(٢)

٤۔ نماز آیات کاہر رکوع، رکن ہے اور اگر عمداًیا سہواً کم یازیادہ ہوجائے تو نماز باطل ہے۔(٣)

٥۔ نماز آیات جماعت کے ساتھ بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اس صورت میں حمد وسورہ کو صرف امام جماعت پڑھتاہے۔(٤)

مستحب نمازیں

١۔مستحب نماز کو'' نافلہ'' کہتے ہیں ۔

٢۔ مستحب نمازیں بہت زیادہ ہیں، اس کتاب میں ان سب کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے ، لہٰذا ان میں سے بعض کو ان کی اہمیت کے پیش نظر بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:(٥)

نماز شب

نماز شب ١١ رکعتیں ہیں جو حسب ذیل طریقے سے پڑھی جاتی ہیں:

دورکعتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نافلۂ شب کی نیت سے

دورکعتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نافلۂ شب کی نیت سے

دورکعتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نافلہ ٔشب کی نیت سے

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٥٠٩

(٢) توضیح المسائل م ١٥١٢

(٣)توضیح المسائل ، م١٥١٥

(٤) العروة الوثقی، ج١، ص ٣٠ ٧،م ١٣

(٥) توضیح المسائل، م ٧٦٤


دورکعتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نافلہ ٔشب کی نیت سے

دو رکعتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نافلۂ شفع کی نیت سے

ایک رکعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔نافلۂ وترکی نیت سے(١)

نماز شب کا وقت :

١۔ نماز شب کا وقت نصف شب سے صبح کی اذان تک ہے، بہتر ہے صبح کے نزدیک پڑھی جائے۔(٢)

٢۔ مسافر اور جس کے لئے نصف شب کے بعد نماز شب پڑھنا مشکل ہو، وہ نصف شب سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے۔(٣)

روزمرہ نمازوں کے نوافل:

روزانہ پڑھی جانے والی ١٧ رکعتیں واجب نمازوں کے ساتھ ٢٣ رکعتیں نافلہ ہیں جن کا پڑھنا مستحب ہے ، ان میں صبح کی دورکعت نافلہ بھی ہے جسے نماز صبح سے پہلے پڑھا جاتاہے، اور اس کے بہت ثواب ہیں۔ *

نماز غفیلہ:

ایک اور مستجی نماز '' غفیلہ''ہے ، اسے نماز مغرب کے بعد پڑھا جاتاہے۔

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٧٦٥

(٢)توضیح المسائل، م ٧٧٣

(٣) توضیح المسائل، م ٧٧٤

*روز مرہ نافلہ نمازوں کی کیفیت اور ان کے وقت کے بارے میں توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ٧٦٤ اور ٨ ٦ ٧ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔


نماز غفیلہ کی کیفیت:

نماز غفیلہ دورکعت ہے، اس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ کے بجائے درج ذیل آیت پڑھی جاتی ہے(١) :

١۔''وَذَالنُونِ اِذْذَّهَبَ مُغٰاضِباً فَظَنَّ اَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادیٰ فِی الظُّلُمٰاتِ اَنْ لٰااِلٰهٰ اِلَّااَ نْتَ سُبْحٰنَکَ اِنّی کُنْتُ مِنَ الظَّاٰلِمِینَ فَاستَجَبْنٰا لَهُ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنینَ''

٢۔ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ کی جگہ پر درج ذیل آیت پڑھی جاتی ہے:

''وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاٰیَعْلَمُهٰااِلاَّ هُوَوَیَعْلَمُ مٰا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَمٰا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ اِلاّ یَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِی ظُلُمٰاتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا یٰابِسٍ اِلَّا فِی کِتٰابٍ مُّبِینٍ''

اور اس کے قنوت میں یہ دعا پڑھی جائے:

''اَللّٰهُمَّ اِنّی اَسأَلُکَ بِمَفاتِیحِ الْغَیْبِ الّتِی لاٰ یَعْلَمُهَا اِلَّا اَنْتَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مَحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اَنْ تَغْفِرَلی ذُنُوبی *اَللَّهُمَّ اَنْتَ وَلِیُّ نِعْمَتِی وَالْقٰادِرُ عَلَی طَلِبَتِی تَعْلَمُ حاجَتِی فَأسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَ عَلَیْهِمُ السَّلاٰمُ لَمَّا قَضَیْتَهَا لِی'' .

____________________

(١) توضیح المسائل ، ٧٧٥.

* جملہ'' ان تغفرلی ذنوبی'' کی جگہ پر کوئی دوسری حاجت بھی طلب کی جاسکتی ہے۔.


سبق ٣٠ کا خلاصہ

١۔ اگر زلزلہ آئے یا چاند گہن یا سورج گہن لگ جائے، تو نماز آیات واجب ہوتی ہے۔

٢۔ اگر بجلی گرے یا زردوسرخ طوفان آئے اور اکثر لوگ خوف ووحشت کا احساس کریں، تو نماز آیات واجب ہوجاتی ہے۔

٣۔ نماز آیات دورکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں۔

٤۔ نماز آیات کی ہر رکعت میں پانچ حمد اور مکمل پانچ سور ے پڑھے جاسکتے ہیں یا کسی ایک سورہ کو پانچ حصوں میںتقسیم کرکے ہررکوع سے پہلے اس کا ایک حصہ پڑھا جاسکتا ہے۔

٥۔ اگر کسی شہر میں نماز آیات کے اسباب میںسے کوئی سبب واقع ہوجائے تو اسی شہر کے لوگوں پر نماز آیات واجب ہوتی ہے۔

٦۔ نماز آیات کا ہر ایک رکوع، رکن ہے اور کم یازیادہ ہونے سے نماز باطل ہوتی ہے۔

٧۔ نماز آیات کو باجماعت بھی پڑھا جاسکتا ہے۔

٨۔ مستحبی نمازوں میںنماز شب، غفیلہ اور روز مرہ نمازوں کے نافلہ شامل ہیں۔


سوالات:

١۔ کیا آپ اس کی وضاحت کرسکتے ہیںکہ نماز زلزلہ اور اس جیسی نماز کو کیوں نماز آیات کہتے ہیں؟

٢۔نماز آیات میں کتنے رکوع اور کتنے قنوت ہیں؟

٣۔شاگردوں میں سے کوئی ایک شاگرد کلاس میں ایک قرآن مجید کے سورہ کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے نماز آیات کو پڑھے ۔

٤۔ نماز آیات میں اول سے آخر تک کل کتنے ارکان ہیں؟

٥۔ کیا کسی ایک رکعتی نماز کا نام لے سکتے ہو؟

٦۔ روزانہ نافلہ اور نماز شب کی رکعتوں کی تعداد کیا ہے؟ اور واجب نمازوں کی رکعتوں سے کیا مناسبت رکھتی ہیں۔


سبق نمبر ٣١

روزہ

روزہ کی تعریف:

اسلام کے واجبات اور انسان کی خود سازی کے سالانہ پروگرام میں سے ایک، روزہ ہے، اذان صبح سے مغرب تک حکم خدا کو بجالانے کے لئے کچھ کام انجام دینے (جن کی وضاحت بعدمیں آئے گی)سے پرہیز کرنے کو روزہ کہتے ہیں، احکام روزہ سے آگاہ ہونے کے لئے پہلے اس کی اقسام کو جاننا ضروری ہے۔

روزہ کی قسمیں

١۔ واجب

٢۔ حرام

٣۔مستحب

٤۔مکروہ

واجب روزے:

درج ذیل روزے واجب ہیں:

* ماہ مبارک رمضان کے روزے۔

*قضا روزے

*کفار ے کے روزے*

*نذرکی بنا پر واجب ہونے والے روزے۔


* باپ کے قضا روزے جو بڑے بیٹے پر واجب ہوتے ہیں۔(١) ٭٭

بعض حرام روزے:

* عید فطر( اول شوال) کو روزہ رکھنا۔

*عید قربان ( ١٠ذی الحجہ) کو روزہ رکھنا۔

* اولاد کا مستجی روزہ والدین کے لئے اذیت کا سبب بنے ۔

* (احتیاط واجب کی بناپر)(٢) اولاد کا مستجی روزہ رکھنا جب کہ اس کے والدین نے منع کیا ہو۔

مستحب روزے:

حرام اور مکروہ روزہ کے علاوہ سال کے تمام ایام، میں روزہ رکھنا مستحب ہے، البتہ بعض مستحب روزوں کی زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔

جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

* ہر جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھنا۔

____________________

(١)العروہ الوثقی، ج ٢، ص ٤٠ ٢ اور توضیح المسائل،م ٩٠ ١٣

(٢) توضیح المسائل، م ٩ ٧٣ تا ١٧٤٢

*قضا اور کفارہ کے روزوں کی وضاحت آگے آئے گی۔

٭٭ (اراکی) ماں کے قضا روزے (مسئلہ ١٣٨٢) (گلپائیگانی)احتیاط واجب کی بناپر، ماں کے قضا روزے بھی اس پر واجب ہیں(مسئلہ١٣٩٩)


*عید مبعث کے دن (٢٧ ماہ رجب) کو روزہ رکھنا۔

عید غدیر(١٨ذی الحجہ) کو روزہ رکھنا۔

*عید میلاد النبی (١٧ ربیع الاول) کو روزہ رکھنا۔

*عرفہ کے دن (٩ذی الحجہ) اس شرط پر کہ روزہ رکھنااس دن کی دعائوں سے محرومیت کا سبب نہ بنے۔

* پورے ماہ رجب اور ماہ شعبان میں روزہ رکھنا۔

* ہرماہ کی ١٣، ١٤ اور ٥ ١ تاریخ کو رورہ رکھنا۔(١)

مکروہ روزے:

*مہمان کا میزبان کی اجازت کے بغیر مستجی روزہ رکھنا۔

*مہمان کا میزبان کے منع کرنے کے باوجود مستجی روزہ رکھنا ۔

*فرزند کا باپ کی اجازت کے بغیر مستحبی روزہ رکھنا۔

*عاشورہ کے دن کا روزہ۔

*عرفہ کے دن کا روزہ اگر اس دن کی دعا کے لئے روزہ رکاوٹ بن جائے۔

*اس دن کا روزہ کہ نہیں جانتا ہو عرفہ ہے یا عید قربان۔(٢)

روزہ کی نیت :

١۔ روزہ ایک عبادت ہے اسے خدا کے حکم کی تعمیل کے لئے بجالانا چاہئے۔(٣)

____________________

(١ ) توضیح المسائل، م٨ ٤ ١٧

(٢) توضیح المسائل، م ١٧٤٧

(٣) توضیح المسائل، م ١٥٥٠


٢۔ انسان ماہ رمضان کی ہر رات کو کل کے روزہ کے لئے نیت کرسکتاہے۔ بہتر ہے ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کی رات کو پورے مہینے کے روزوں کیلئے ایک ساتھ نیت کرلے۔(١)

٣۔ واجب روزوں میں روزہ کی نیت کو کسی عذر کے بغیر صبح کی اذان سے زیادہ تاخیر میں نہیںڈالنا چاہئے۔(٢)

٤۔ واجب روزوں میں اگر کسی عذر کی وجہ سے، جیسے فراموشی یا سفر، کی وجہ سے روزہ کی نیت نہ کی ہو اور ایسا کوئی کام بھی انجام نہ دیا ہوکہ جو روزہ کو باطل کرتاہے، تو وہ ظہر تک روزہ کی نیت کرسکتا ہے۔(٣)

٥۔ ضروری نہیں ہے کہ روزہ کی نیت کو زبان پر جاری کیا جائے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ خدا وند عالم کے حکم کی تعمیل کے لئے صبح کی اذان سے مغرب تک روزہ کو باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دے ۔(٤)

سبق ٣١ کا خلاصہ

١۔ روزہ کا وقت صبح کی اذان سے، مغرب تک ہے۔

٢۔ رمضان المبارک کے روزے، قضا روزے، کفارے اور نذر کے روزے ،واجب روزے ہیں۔

٣۔ باپ کے قضا روزے، اس کی موت کے بعد بڑے بیٹے پر واجب ہیں۔

٤۔ عید فطر اور عید قربان کے روزے اور فرزند کے ایسے مستجی روزے جن سے اس کے ماں باپ کو تکلیف پہنچے، حرام ہیں۔

____________________

(١) توضیح المسائل، م٠ ١٥٥.

(٢) توضیح المسائل، م ١٥٥٤۔ ٦١ ١٥

(٣)توضیح المسائل م،١٥٥٤۔ ١٥٦١

(٤)توضیح المسائل م ٠ ١٥٥


٥۔ پورے سال میں حرام اور مکروہ روزوں کے علاوہ روزہ رکھنا مستحب ہے لیکن بعض دنوں کے بارے میں تاکید کی گئی ہے۔منجملہ:

ہر جمعرات وجمعہ۔

عید میلاد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عید مبعث۔

٩اور ١٨ ذی الحجہ( عرفہ اور عید غدیر)

باپ کی اجازت کے بغیر فرزند کا مستحبی روزہ مکروہ ہے۔

ماہ مبارک رمضان میں ہر رات کو کل کے روزہ کے لئے نیت کی جاسکتی ہے لیکن بہتر ہے ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کی پہلی رات کو پورے ایک ماہ کے روزوں کی نیت کی جائے۔


سوالات :

١۔ مندرجہ ذیل دنوں میں روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے:دسویں محرم، دسویں ذی الحجہ، نویں ذی الحجہ، ٢١مارچ، پہلی شوال۔

٢۔ اگر باپ بیٹے سے کہے کہ کل روزہ نہ رکھنا، تو کیا اس صورت میں بیٹا روزہ رکھ سکتاہے؟

٣۔ اگر ایک شخص اذان صبح کے بعد نیند سے بیدا رہو تو کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟


سبق نمبر ٣٢

مبطلات روزہ

روزہ دار کا صبح کی اذان سے مغرب تک بعض کام انجام دینے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

اوراگر ان میں سے کسی ایک کو انجام دے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے، ایسے کاموں کو'' مبطلات روزہ'' کہتے ہیں ۔مبطلات روزہ حسب ذیل ہیں:

١۔کھانا پینا۔

٢۔غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانا۔

٣۔ قے کرنا۔

٤۔ مباشرت۔

٥۔مشت زنی (ہاتھوں کے ذریعہ منی کا باہر نکالنا)

٦۔ اذان صبح تک جنابت کی حالت میں باقی رہنا۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٥٧٢


مبطلات روزہ کے احکام

کھانا اور پینا:

١۔ اگر روزہ دار عمداً کوئی چیز کھائے یا پیئے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔(١)

٢۔ اگر کوئی شخص اپنے دانتوں میں موجود کسی چیز کو نگل جائے، تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔(٢)

٣۔تھوک کو نگل جانا روزہ کو باطل نہیں کرتاخواہ زیادہ کیوں نہ ہو۔(٣)

٤۔ اگر روزہ دار بھولے سے ( نہیں جانتا ہوکہ روزے سے ہے ) کوئی چیز کھائے یاپیئے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا ہے۔(٤)

٥۔انسان کمزوری کی وجہ سے روزہ نہیں توڑ سکتا ہاں اگر کمزوری اس قدر ہو کہ معمولاً قابل تحمل نہ ہو تو پھر روزہ نہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(٥)

انجکشن لگوانا:

انجکشن لگوانا، اگر غذا کے بدلے نہ ہو، روزہ کو باطل نہیں کرتا زاگرچہ عضو کوبے حس بھی کردے۔(٦)

غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانا:

١۔ اگر روزہ دار غلیظ غبار کو حلق تک پہنچائے، تو اس کاروزہ باطل ہو جائے گا، خواہ یہ غبار کھانے کی چیز ہو

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٥٧٣

(٢)توضیخ المسائل، م ١٥٧٤

(٣)توضیح المسائل، م ١٥٧٩

(٤)توضیح المسائل، م ٧٥ ١٥

(٥) توضیح المسائل، م١٥٨٣

(٦) توضیح المسائل، م١٥٧٦

*( گلپائیگانی) اگر ضرورت ہو اور انجکشن لگوایا روزہ باطل نہیں ہوتا نیز انجکشنوں میں کوئی فرق نہیں (مسئلہ ١٥٨٥۔( اراکی (خوئی)ا نجکشن لگوانا روزہ کو باطل نہیں کرتا ( استفاء مسئلہ ١٥٧٥)


جیسے آٹا یا کھانے کی چیز نہ ہو جیسے مٹی۔

٢۔ درج ذیل موارد میں روزہ باطل نہیں ہوتا :

* غبار غلیظ نہ ہو۔

*حلق تک نہ پہنچے(صرف منہ کے اندر داخل ہوجائے)

* بے اختیار حلق تک پہنچ جائے۔

*یاد نہ ہو کہ روزہ سے ہے۔

*شک کرے کہ غلیظ غبار حلق تک پہنچایا نہیں۔(١)

پورے سر کو پانی کے نیچے ڈبونا۔

١۔ اگر روزہ دار عمداً اپنے پورے سر کو خالص زپانی میںڈبودے، اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔

٢۔ درج ذیل موارد میں روزہ باطل نہیں ہے:

* بھولے سے سر کو پانی کے نیچے ڈبوئے۔

* سرکے ایک حصہ کو پانی کے نیچے ڈبوئے۔

*نصف سرکو ایک دفعہ اور دوسرے نصف کو دوسری دفعہ پانی کے نیچے ڈبوئے۔

* اچانک پانی میں گرجائے۔

* دوسرا کوئی شخص زبردستی اس کے سرکو پانی کے نیچے ڈبوئے۔

* شک کرے کہ آیا پورا سر پانی کے نیچے گیا ہے کہ نہیں ۔(٢)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ ج ١، ص ٢٨٦، الثامن۔ توضیح المسائل م ٠٨ ١٦تا ١٦١٨

(٢) توصیح المسائل، م ١٦٠٩۔٠ ١٩١۔ ١٩١٣۔١٩١٥۔ العروة الوثقی، ج٢ ص ١٨٧ م ٤٨

*(اراکی۔ گلپائیگانی) احتیاط واجب ہے سرکو مضاف پانی میں بھی نہ ڈبوئے (مسئلہ ٤٧ ١٦)


قے کرنا:

١۔ اگر روزہ دار عمداً قے کرے،اگرچہ بیماری کی وجہ سے ہو توبھی اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔(١)

٢۔ اگر روزہ دار کو یاد نہیں ہے کہ روزہ سے ہے یا بے اختیار قے کرے، تو اس کا روزہ باطل نہیں ہے۔(٢)

استمناء:

١۔ اگر روزہ دار ایسا کام کرے جس سے منی نکل آئے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔(٣)

٢۔اگر بے اختیار منی نکل آئے مثلاً احتلام ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا ۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٦٤٦

(٢)توضیح المسائل، م ١٦٤٦

(٣) توضیح المسائل، م ٨٨ ١٥

(٤)توضیح المسائل، م١٥٨٩


سبق: ٣٢ کا خلاصہ

١۔ کھانے پینے، غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانے، پورے سر کو پانی کے نیچے ڈبونے،قے کرنے، مباشرت کرنے، استمناء کرنے اور صبح کی اذان تک جنابت پر باقی رہنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

٢۔ لعاب دہن کو نگل لینے سے روزہ باطل نہیں ہوتاہے۔

٣۔ اگر روزہ دار بھولے سے کوئی چیز کھالے یا پی لے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔

٤۔ اگر انجکشن لگوانا، بجائے غذانہ ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا۔

٥۔ اگر غبار غلیظ نہ ہو یا غلیظ غبار حلق تک نہ پہنچے یا روزہ دار شک کرے کہ حلق تک پہنچایا نہیں اس کا روزہ باطل نہیں ہے۔

٦۔ اگر کوئی بھولے سے اپنے سرکو پانی کے نیچے ڈبوئے، یا بے اختیار پانی میں گرجائے، یا زبردستی اسے پانی میں گرادیا جائے، تو ایسی صورت میں اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔

٧۔ اگر روزہ داربے اختیارقے کرے یا نہ جانتاہو روزہ سے ہے، تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔

٨۔ اگر روزہ دارکو احتلام ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔


سوالات:

١۔ روزہ کی حالت میں خلال کرنے اور مسواک کرنے کا کیا حکم ہے؟

٢۔ کیا روزے کی حالت میںچنگم چبانے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے؟

٣۔ کسی شخص کو پانی پیتے وقت یاد آئے کہ روزہ سے ہے، اس کی تکلیف کیا ہے اور اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

٤۔ سگریٹ پینا مبطلات روزہ کی کون سی قسم ہے؟

٥۔ روزہ کی حالت میں تیرنا کیا حکم رکھتاہے؟


سبق نمبر ٣٣

مبطلات روزہ

اذان صبح تک جنابت پر باقی رہنا:

اگرکوئی شخص حالت جنابت میں اذان صبح تک باقی رہے اور غسل نہ کرے یا اگر اس کا فریضہ تیمم تھا اور تیمم نہ کرے تو بعض اوقات اس کا روزہ باطل ہوگا اس سلسلہ کے بعض مسائل حسب ذیل ہیں:

١۔ اگر عمداً صبح کی اذان تک غسل نہ کرے یا اگر اس کا فریضہ تیمم تھا اور تیمم نہ کرے:

رمضان کے روزوں کے دوران اس کا روزہ باطل ہے

۔قضا روزوں کے دوران

* دیگر روزوں کے دوران ۔۔ اس کا روزہ صحیح ہے۔

٢۔ اگر غسل یا تیمم کرنا فراموش کرجائے اور ایک یا چند روزکے بعد معلوم ہو

*رمضان کے روزوں کے دوران ۔۔ وہ روزے قضا کے طور پر رکھے۔

*ماہ رمضان کے قضا روزوں کے دوران۔۔ احتیاط واجب کی بناپر وہ روزے قضا کر لے زصحیح ہے۔


*رمضان کے علاوہ روزوں کے قضا کے دوران ،جیسے نذر یا کفارہ کے روزے ۔روزہ صحیح ہے(١)

٣۔ اگر روزہ دار کو احتلام ہوجائے، واجب نہیں ہے فوراًغسل کرے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔(٢)

٤۔ اگر روزہ دار حالت جنابت میں ماہ رمضان کی شب کوجانتا ہوکہ نماز صبح سے پہلے بیدار نہیں ہوگا،تواسے نہیں سونا چاہئے اور اگر سوجائے اور اذان صبح سے پہلے بیدار نہ ہوسکا تو اس کا روزہ باطل ہے۔(٣)

وہ کام جو روزہ دار پر مکروہ ہیں

١۔ ہر وہ کام جو ضعف وسستی کا سبب بنے،جیسے خون دینا وغیرہ۔

٢۔ معطرنباتات کو سونگھنا (عطر لگانا مکروہ نہیں ہے)

٣۔ بدن کے لباس کو ترکرنا۔

٤۔ تر لکڑی سے مسواک کرنا۔(٤)

روزہ کی قضا اور اس کا کفارہ

قضا روزہ:

اگر کوئی شخص روزہ کو اس کے وقت میں نہ رکھ سکے، اسے کسی دوسرے دن وہ روزہ رکھنا چاہئے، لہٰذا جو روزہ اس کے اصل وقت کے بعد رکھا جاتاہے '' قضا روزہ'' کہتے ہیں۔

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٦٢٢۔ ١٦٣٤۔ ١٦٣٦

(٢) توضیح المسائل ، م١٦٣٢

(٣)توضیح المسائل ، م ١٦٢٥

(٤)توضیح المسائل ، م ١٦٥٧

*( خوئی) اس کا روزہ باطل ہے مسئلہ ١٦٤٣( گلپائیگانی) اگر وقت میں وسعت ہوتو روزہ باطل ہے اور اگر وقت تنگ ہو تو اس دن کے روزہ کو مکمل کرے اور اس کے بدلے میں رمضان کے بعد روزہ رکھے۔ (١٦٤٣)


روزہ کا کفارہ

کفارہ وہی جرمانہ ہے جو روزہ باطل کرنے کے جرم میں معین ہوا ہے جو یہ ہے:

* ایک غلام آزاد کرنا۔

*اس طرح دو مہینے روزہ رکھناکہ ٣١ روز مسلسل روزہ رکھے۔

*٦٠ فقیروںکو پیٹ بھر کے کھاناکھلانا یاہر ایک کو ایک مد *طعام دینا۔

جس پر روزہ کا کفارہ واجب ہوجائے''اسے چاہئے مندرجہ بالا تین چیزوں میں سے کسی ایک کو انجام دے۔ چونکہ آجکل'' غلام'' فقہی معنی میںنہیں پایا جاتا،لہٰذا دوسرے یا تیسرے امور انجام دیئے جائیں اگر ان میں سے کوئی ایک اس کے لئے ممکن نہ ہو تو جتنا ممکن ہوسکے فقیر کو کھانا کھلائے اور اگر کھانا نہیں کھلا سکتا ہو تو اس کے لئے استغفار کرنا چاہئے۔(١)

جہاں قضا واجب ہے لیکن کفارہ نہیں

درج ذیل مواردمیں روزہ کی قضا واجب ہے لیکن کفارہ نہیں ہے:

عمداً قے کرے۔٭٭ ٢۔ماہ رمضان میں غسل جنابت کو بجالانا بھول جائے اور جنابت کی حالت میں ایک یا چند روز روزہ رکھے۔

٣۔ ماہ رمضان میں تحقیق کئے بغیر کہ صبح ہوئی ہے یا نہیں کوئی ایسا کام انجام دے جو روزہ باطل ہونے کا سبب ہو، مثلاً پانی پی لے اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ صبح ہوچکی تھی۔

٤۔ کوئی یہ کہے کہ ابھی صبح نہیں ہوئی ہے اور روزہ دار اس پر یقین کرکے ایسا کوئی کام انجام دے جو روزہ باطل ہونے کا سبب ہو اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ صبح ہوچکی تھی۔

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٦٦٠۔ ١٦٦١

* یعنی ١٠سیر ( ایک سیر = ٧٥ گرام) گندم، چاول یا اس کے مانند کوئی دوسری چیز فقیر کو دیدے (توضح المسائل م ٣ ٠ ٧ ١ )

٭٭(اراکی) احتیاط واجب کی بناپر کفارہ بھی دیدے (مسئلہ ١٦٩١) (خوئی وگلپائیگانی ) کفارہ بھی واجب ہے مسئلہ١٦٦٧.


اگر عمداً رمضان المبارک کے روزہ نہ رکھے یا عمداً روزہ کو باطل کرے، تو قضا وکفار دونوں واجب ہیں*

* قے کرنا اور مجنب کا غسل کے لئے بیدار نہ ہونا دوسرا حکم رکھتا ہے( توضیح المسائل مسئلہ ١٦٥٨) رجوع کریں)

سبق:٣٣ کا خلاصہ

١۔ اگر روزہ دار ماہ رمضان یا رمضان کے روزوں کی قضا کے دوران صبح کی اذان تک غسل کئے بغیر جنابت کی حالت میں باقی رہے یا اس کا فریضہ تیمم ہونے کی صورت میں تیمم نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔

٢۔ اگر ماہ رمضان کے روزوں کے دوران غسل یا تیمم کو فراموش کرے اور ایک یا چند روز کے بعد یاد آئے، تو ان دنوں کے روزے قضا کرے۔

٣۔اگر روزہ دار کو دن کے دوران احتلام ہوجائے، تو فوراًغسل کرنا واجب نہیں ہے، نیز اس کا روزہ بھی صحیح ہے۔

٤۔اگر ماہ رمضان کی ر ات میںمجنب یا محتلم کو معلوم ہو کہ اگر سو گیا توغسل کرنے کیلئے اذان سے پہلے بیدار نہیں ہوسکتا تو اسے نہیں سونا چاہئے اور اگر سوگیا اور بیدار نہ ہوا تو اس کا روزہ باطل ہے۔

٥۔معطر نباتات کو سونگھنا اور ترلباس زیب تن کرنا مکروہ ہے۔

٦۔ وقت گزرنے کے بعد رکھے جانے والے روزہ کو ''روزہ قضا'' اور عمداً روزہ نہ رکھنے کے تاوان (ہرجانہ)کو''کفارہ'' کہتے ہیں۔

٧۔ جس پر کفارہ واجب ہو، اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہئے، یا دو مہینے روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے۔

٨۔اگر روزہ دار عمداً قے کرے یا ماہ رمضان میں غسل جنابت کرنا بھول جائے اور ایک دودن روزہ رکھنے کے بعد یاد آئے تو ان دنوں کی قضا بجالائے لیکن کفارہ نہیں ہے۔

٩۔اگر تحقیق کے بغیر کھانا کھائے اس کے بعد معلوم ہوجائے کہ اذان صبح کے بعد کھایاہے، تو اس کا روزہ باطل ہے اس کی قضا واجب ہے لیکن کفارہ نہیں ہے۔

١٠۔ اگر عمداً رمضان کا روزہ نہ رکھے، تو قضا کے علاوہ کفارہ بھی واجب ہے۔


سوالات:

١۔ روزہ کی قضا اور اس کے کفارہ میں کیا فرق ہے۔؟

٢۔ اگر مستحبی روزہ میں صبح کی اذان تک غسل نہ کرے، تو روزہ کا کیا حکم ہے؟

٣۔ اگر ایسے وقت میں بیدار ہوجائے کہ غسل جنابت کے لئے وقت نہ ہو تو اسکی تکلیف کیا ہے۔؟

٤۔ روزہ کی حالت میں عطر لگانے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ ایک آدمی کی گھڑی پیچھے تھی، اس کے مطابق سحری کھانے کے بعد متوجہ ہوا کہ اذان صبح کے بعد کھانا کھایا ہے، تو قضا وکفارہ کے بارے میں اس کا فرض کیا ہے؟


سبق نمبر ٣٤

روزہ کی قضا اور کفارہ کے احکام

١۔ روزہ کی قضاکو فورا انجام دینا ضروری نہیں ہے، لیکن احتیاط واجب *کی بناپر اگلے سال کے ماہ رمضان تک بجالائے۔(١)

٢۔ اگر کئی ماہ رمضان کے روزے قضا ہوں تو انسان کسی بھی ماہ رمضان کے قضا روزے پہلے رکھ سکتا ہے ۔

البتہ اگر آخری ماہ رمضان کے قضا روزوں کا وقت تنگ ہو مثلا ًآخری ماہ رمضان کے ١٠ روزے قضا ہوں اور اگلے ماہ رمضان تک دس ہی دن باقی رہ چکے ہوں٭٭تو پہلے اسی آخری رمضان کے قضا روزے رکھے۔(٢)

٣۔ انسان کو کفارہ بجالانے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے، لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اسے فورا ً

____________________

(١) العروة الوثقی، ج ٢، ص ٢٣٣ ، م١٨، تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٢٩٨،م ٤.

(٢)توضیح المسائل، م١٦٩٨.

* ( خوئی ۔گلپایگانی)احتیاط کے طور پر مستحب ہے العروة الوثقیٰ،ج ٢، ص ٢٣٣ م ١٨

٭٭(خوئی ۔گلپائیگانی)بہتر ہے۔ احتیاط مستحب ہے (م ١٧٠٧) (اراکی) احتیاط واجب ہے (م ١٧٣١)


انجام دے۔(١)

٤۔ اگر کسی پر کفارہ واجب ہوا ہو، اسے چند برسوں تک بجانہ لائے تو اس پر کوئی چیز اضافہ نہیں ہوتی۔(٢)

٥۔ اگر کسی عذر کے سبب جیسے سفر میں روزہ نہ رکھے ہوں۔اور رمضان المبارک کے بعد عذر برطرف ہوا ہونیز اگلے رمضان تک عمدا قضا نہ کرے، تو قضا کے علاوہ، ہر دن کے عوض، فقیر کو ایک مد طعام بھی دے۔(٣)

٦۔ اگر کوئی شخص اپنے روزہ کو کسی حرام کام کے ذریعہ، جیسے استمنائسے باطل کرے، تو احتیاط واجبزکی بناپر اسے مجموعی طورپر کفارہ دینا ہے، یعنی اسے ایک بندہ آزاد کرنا، دو مہینے روزہ رکھنا اور ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلاناہے۔ اگر تینوں چیزیں اس کے لئے ممکن نہ ہو ںتو ان تینوں میں سے جس کسی کو بھی بجالاسکے کافی ہے۔(٤)

درج ذیل موارد میں نہ قضا واجب ہے اور نہ کفارہ:

١۔ بالغ ہونے سے پہلے نہ رکھے ہوئے روزے۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل، م ١٦٨٤

(٢)توضیح المسائل، م١٦٨٥

(٣) توضیح المسائل، م١٧٠٥.

(٤) توضیح المسائل، م ١٦٦٥

(٥) توضیح المسائل، م ١٦٩٤

*(اراکی۔ گلپائیگانی) کفارۂ جمع واجب ہے، (مسئلہ ١٦٩٨۔ ١٦٧٤)


٢۔ایک نومسلمان کے ایام کفر کے روزے، یعنی اگر ایک کا فرمسلمان ہوجائے، تو اس کے گزشتہ روزوں کی قضا واجب نہیں ہے۔(١)

٣۔ اگر کوئی شخص بوڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا ہو اور ماہ رمضان کے بعد بھی اس کی قضا نہ بجالاسکتا ہو*

لیکن اگر روزہ رکھنا اس کے لئے مشکل ہو تو ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقیر کو دیدے۔(٢)

ماں باپ کے قضا روزے:

باپ کے مرنے کے بعد اس کے بڑے بیٹے پر واجب ہے کہ اس کے روزے اور نماز کی قضا کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ماں کے قضا روزے اور نماز بھی بجالائے۔ ٭٭(٣)

مسافر کے روزے:

جو مسافرسفر میں چار رکعتی نماز کو دورکعتی پڑھتا ہے، اسے اس سفر میں روزے نہیں رکھنے چاہئے، لیکن ان روزوں کی قضا بجالانا چاہئے جو مسافر، سفرمیں نماز پوری پڑھتا ہے، جیسے وہ مسافرجس کا شغل(کام) سفر ہو، اسے سفر میں روزہ رکھنا چاہئے۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل م ١٦٩٥

(٢)توضیح المسائل١٧٢٥،١٧٢٦.

(٣)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٢٢٧ م٦ ١۔ توضیح المسائل، م ١٧١٢و ٩٠ ١٣

(٤)توضیح المسائل، م ١٧١٤۔

*(گلپائیگانی) اس صورت میں بھی احتیاط لازم کے طور پر ایک مد طعام فقیر کو دیدے (م١٧٣٤)

٭٭(اراکی)ماں کے قضا روزے اور نمازیں بھی اس پر واجب ہیں. (مسئلہ ١٧٤٦) (گلپائیگانی )بنا بر احتیاط واجب،ماں کے قضا روزے اور نماز بھی بجالائے (م١٧٢١)


مسافر کے روزہ کا حکم

سفر پرگیاہے:

١۔ ظہر سے پہلے مسافرت پر نکلاہے۔جیسے حد تر خص زپر پہنچ جائے اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے اگر اس سے پہلے روزہ کو باطل کرے احتیاط واجب کے طور پر کفارہ دینا چاہئے۔ **

٢۔ ظہر کے بعد مسافرت پر نکلاہے، اس کا روزہ صحیح ہے اور اسے باطل نہیں کرنا چاہئے۔

سفرسے واپس آیاہے :

١۔ قبل از ظہر اپنے وطن یا اس جگہ پہنچے جہاں دس دن رہنا چاہتا ہے:

١۔روزہ کو باطل کرنے والا کو ئی کام انجام نہیں دیا ہے اس دن کے روزہ کو آخرتک پہونچائے اور صحیح ہے۔

٢۔روزہ کو توڑ دیا ہے۔اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے لیکن اس کی قضا کرے۔

٢۔ بعد ازظہر پہنچے ۔

ا س کا روزہ باطل ہے اور اس دن کی قضا بجالائے۔(١)

نوٹ: ماہ رمضان میں سفرکرنا جائز ہے لیکن اگر روزہ سے فرار کے لئے ہو تو مکردہ ہے۔(٢)

زکات فطرہ

رمضان المبارک کے اختتام پر، یعنی عید فطر کے دن، اپنے مال کا ایک حصہ زکات فطرہ کے عنوان سے فقیرکو دیدے۔

زکات فطرہ کی مقدار:

اپنے اور ان افراد کے لئے جو اس کی کفالت میں ہیں، جیسے بیوی اوربچے، ہر فرد کے لئے ایک صاع زکات فطرہ ہے، ایک صاع: تقریباً تین کلو کے برابر ہوتا ہے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل م١٧١٥۔١٧٢١۔١٧٢٢۔ ١٧٢٣. (٢)توضیح المسائل، م ١٧١٥. (٣)توضیح المسائل م١٩٩١.*وضاحت : حدترحض کی بحث سبق ٢٥ میں بیان ہو ئی ہے

٭٭(خوئی : کفارہ واجب ہے ) (م، ٣٠ ١٧)


زکات فطرہ کی جنس:

زکات فطرہ کی جنس، گندم، جو، خرما، کشمش، چاول، مکئی اور اس کے مانند ہے اور اگر ان میں سے کسی ایک کی قیمت ادا کی جائے تو بھی کافی ہے۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٩٩١


سبق ٣٤ کا خلاصہ

١۔ رمضان المبارک کے قضا روزے احتیاط واجب کی بناپر اگلے سال کے ماہ رمضان تک بجالانے چاہئے۔

٢۔ اگر کئی ماہ رمضان کے روزے قضاہوئے ہوں تو جسے چاہئے اول بجالاسکتا ہے لیکن اگر آخری رمضان کے روزوں کا وقت تنگ ہوچکا ہوتو پہلے انہیںکو بجالائے۔

٣۔ اگر کفارہ ادا کرنے میں چندسال تاخیر ہوجائے تو اس میں کوئی چیز اضافہ نہیں ہوتی۔

٤۔ اگر ماہ رمضان کے قضا روزوںکو اگلے رمضان تک عمداً نہ بجا لائے توقضا کے علاوہ، ہر دن کے لئے ایک مد طعام بھی فقیر کو دیدے۔

٥۔اگر کوئی اپنے روزہ کو فعل حرام سے باطل کرے تو اس پر ایک ساتھ سارے کفارے واجب ہوجاتے ہیں۔

٦۔ بالغ ہونے سے پہلے کے روزوںاور ایام کفر (تازہ مسلمان) کے روزوں کی قضا نہیں ہے۔

٧۔ بڑے بیٹے کو اپنے باپ کے قضا روزے اس کی وفات کے بعد بجالانے چاہئے ۔

٨۔ جس سفر میں نماز قصر ہے، روزہ بھی باطل ہے۔

٩۔ اگر روزہ دار ظہر کے بعد سفر پر جائے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

١٠۔ اگر مسافر ظہر سے پہلے وطن یا ایسی جگہ پر پہنچے جہاں دس دن ٹھہرنا ہو تو اگر اس وقت تک کوئی ایسا کا م انجام نہ دیا ہوجس سے روزہ باطل ہوتا ہے تو اس دن کے روزہ کو آخر تک پہنچائے اور وہ صحیح ہے۔


سوالات:

١۔ رمضان المبارک کے قضا روزوں کا وقت بیان کیجئے۔

٢۔ روزہ کے کفارہ کا وقت بیان کیجئے۔

٣۔ اگر کوئی اگلے سال کے رمضان تک قضا روزے نہ بجالاسکے تو اس کا فرض کیا ہے؟

٤۔ جو بوڑھا، روزہ نہیں رکھ سکتا ہو، اس کا فرض کیا ہے؟

٥۔اگر بڑا بیٹا مرچکا ہوتو باپ کے قضا روزے کس کے ذمہ ہیں؟

٦۔ سفر میں کون روزہ رکھ سکتا ہے؟


سبق نمبر ٣٥

خمس

مسلمانوں کے اقتصادی فرائض میں سے ایک فریضہ ''خمس'' کا ادا کرنا ہے، اس طرح کہ بعض مقاماتمیں اپنے مال کا ایک پنجم حصہ ایک خاص صورت میں خرچ کرنے کے لئے اسلامی حاکم کو دینا چاہئے۔

خمس واجب ہونے کے مواقع

خمس سات چیزوں پر واجب ہے:

*جو کچھ سال بھر کے اخراجات سے زیادہ بچ جائے (کسب کار کانفع)

* معدن

* خزانہ

*جنگی غنائم

* وہ جواہرات جو سمندر کی تہہ سے نکالے جاتے ہیں۔

*حلال مال حرام کے ساتھ مخلوط ہوچکا ہو۔


*وہ زمین جسے کافر ذمی زایک مسلمان سے خریدے۔(١)

خمس ادا کرنا بھی نمازو روزہ کی طرح واجبات میں سے ہے اورتمام بالغ اورعاقل اگر مذکورہ سات موارد میں سے ایک کے ،ما لک ہوں تو اس پر عمل کرنا چاہئے

جس طرح شرعی فریضہ کے آغاز پرہرکوئی نمازو روزہ کی فکر میں ہوتا ہے اسے خمس وزکات ادا کرنے اور دیگرواجبات کی فکر میں بھی ہونا چاہئے لہٰذا ضرورت کی حد تک ان کے مسائل سے آشنائی ضروری ہے، چنانچہ ہم یہاں پر خمس کے سات موارد میں سے صرف ایک کے بارے میں وضاحت کریں گے جس سے معاشرے کے لوگ زیادہ دوچار ہیں ، اور وہ سال بھر کے خرچ سے بچے ہوئے مال پر خمس ہے:

اس مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے ہمیں درج ذیل دوسوالوں کے جواب پر غور کرنا چاہئے:

١۔ سال کے خرچ سے کیا مراد ہے؟

٢۔ کیا خمس کا سال قمری، یاشمسی مہینوںسے حساب ہوتا ہے اور اس کا آغاز کس وقت ہے؟

سال کا خرچہ:

اسلام لوگوں کے کسب وکار کے بارے میں احترام کا قائل ہے اور اپنی ضروریات کو پورے کرنے کو خمس پر مقدم قراردیاہے۔لہٰذا ہر کوئی اپنی آمدنی سے سال بھر کا اپنا خرچہ پورا کرسکتا ہے۔

اور سال کے آخر پرکوئی چیز باقی نہ بچی ، توخمس کی ادائیگی اس پر واجب نہیں ہے ۔ لیکن اگر متعارف اور ضرورت کے مطابق افراط وتفریط سے اجتناب کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے بعد سال کے

____________________

(١)توضیح المسائل ، م١٧٥١

*ذمہ= عہد وپیمان، وہ غیر مسلمان جو اسلامی ممالک میں زندگی کرتے ہیں اوران کے ساتھ عہدوپیمان باندھتے ہیں کہ مسلمانوں کے سماجی قوانین کی رعایت کریں اورایک معین ٹیکس بھی ادا کریں گے جس کے عوض میں ان کی جان ومال امان میں رہے، انہیں کافر ذمی کہا جاتا ہے۔


آ خر میں کوئی چیز باقی بچ جائے تو اس کے ایک پنجم حصہ خمس کے عنوان سے ادا کردے اور باقی ٤٥ حصہ اپنے لئے بچت کرے۔

لہٰذا، مخارج کا مقصد وہ تمام چیزیں ہیںجو اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ مخارج کے چند نمونوں کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:

* خوارک وپوشاک

* گھر کا سامان، جیسے برتن، فرش وغیرہ۔

* گاڑی جو صرف کسب وکار کے لئے نہ ہو۔

* مہانوں کا خرچہ۔

*شادی بیاہ کا خرچ۔

*ضروری اور لازم کتابیں۔

*زیارت کا خرچ

* انعامات و تحفے جو کسی کو دئیے جاتے ہیں۔

*اداکیا جانے والا صدقہ، نذر یا کفارہ ۔(١)

____________________

(١) العروة الوثقیٰ، ج ٢، ص ٣٩٤


خمس کا سال:

انسان کو بالغ ہونے کے پہلے دن سے نماز پڑھنی چاہئے، پہلے ماہ رمضان سے روزے رکھنے چاہئے اور پہلی آمدنی اس کے ہاتھ میں آنے کے ایک سال گزرنے کے بعد گزشتہ مال کے خرچہ کے علاوہ باقی بچے مال کا خمس دیدے۔ اس طرح خمس کا حساب کرنے میں، سال کا آغاز، پہلی آمدنی اور اس کا اختتام اس تاریخ سے ایک سال گزرنے کے بعد ہے۔

اس طرح سال کی ابتدائ:

* کسان کے لئے ۔۔۔۔ پہلی فصل کاٹنے کا دن ہے۔

* ملازم کے لئے ۔۔۔۔ پہلی تنخواہ حا صل کرنے کی تاریخ ہے۔

* مزدورکے لئے ۔۔۔۔ پہلی مزدوری حاصل کرنے کی تاریخ ہے۔

* دوکاندار کے لئے ۔۔۔۔۔ پہلا معاملہ انجام دینے کی تاریخ ہے۔(١)

وہ مال جس پر خمس نہیں ہے

* جومال مندرجہ ذیل طریقوں سے حاصل ہوجائے، اس پر خمس نہیں ہے:

١۔وراثت میں ملا ہوامال۔

٢۔بخشی گئی چی*(ہبہ)۔

٣۔ حاصل کئے گئے انعامات۔

٤۔ جو کچھ انسان کو عیدی کے طور پر ملتاہے*

٥۔ وہ مال جو کسی کو خمس، زکات یا صدقہ کے طور پر دیا جاتاہے۔(٢)

خمس نہ دینے کے نتائج:

١۔جب تک مال کا خمس ادا نہ کیا جائے، اس میں ہاتھ نہیں لگا سکتے ہیں، یعنی اس کے کھانے کو نہیں کھایا جاسکتا، جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو اور اس پیسے سے کوئی چیز نہیں خریدی جاسکتی ہے جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو۔(٣)

____________________

(١)العروة الوثقیٰ، ج ٢، ص ٤ ٣٩،م٦(٢) العروة الوثقیٰ، ج ٢،ص ٣٨٩۔ السابع ص ٩٠، م ٥١(٣)توضیح المسائل ص، م ١٧٩٠

*(تمام مراجع ) نمر ٢ اور ٤ اگر مال کے خرچہ سے بچ جائے تو اس کا خمس دینا چاہئے (م ١٧٦٢)


٢۔ اگر خمس نہ نکالے گئے پیسوں سے (حاکم شرع کی اجازت کے بغیر) کاروبار کیا جائے تو اس کار وبارکا ١٥معاملہ باطل ہے۔(١) *

٣۔ اگر خمس نہ نکالے گئے پیسے حمام کے مالک کو دے کر غسل کرے تو وہ غسل باطل ہے۔(٢) ٭٭

٤۔ اگر خمس نہ نکالے گئے پیسوں سے مکان خریدا جائے، تو اس مکان میں نماز پڑھنا باطل ہے۔(٣)

خمس کے احکام:

١۔ اگر قناعت کرکے کوئی چیز سالانہ خرچہ سے بچ جائے اس کا خمس دینا چاہئے۔١(٤)

٢۔ اگر گھر کے لئے سامان خریدا ہو اور اس کی ضرورت نہ رہے تو احتیاط واجب ٭٭٭کی بناپر اس کا خمس دینا چاہئے، مثال کے طور پر ایک بڑا فرج خریدے اور پہلے فرج کی ضرورت باقی نہ رہے۔(٥)

٣۔اشیائے خوردو نوش جیسے چاول، تیل، چائے وغیرہ جو سال کی آمدنی سے اس سال کے خرچہ

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٦٠ ١٧

(٢)توضیح المسائل، م ٣٩٣

(٣) توضیح المسائل ،٨٧٣

(٤)توضیح المسائل ، م ١٧٥٦

(٥)توضیح المسائل، م ١٧٨١

*( اراکی۔ خوئی) معاملہ صحیح ہے لیکن اس کا خمس ادا کرنا چاہئے (م١٧٩٤، ١٧٩٥

٭٭(خوئی) اگرچہ اس نے حرام کام انجام دیا ہے لیکن اس کا غسل باطل نہیں ہے (گلپائیگانی) اگر جانتا ہو کہ ان اوصاف کے ساتھ حمام کا مالک اس کے غسل پر رضامندہے یا حمام کے مالک کی رضا پر توجہ نہ دیتے ہوئے غسل کرے تو غسل صحیح ہے (م، ٣٨٩)

٭٭٭(خوئی ) احتیاط مستحب ہے.


کے لئے خریدی جاتی ہے، اگرسال کے آخر میں بچ جائے تو اس کا خمس دینا چاہئے۔(١)

٤۔ اگر ایک نابالغ بچے کا کوئی سرمایہ ہو اور اس سے کچھ نفع کمائے تو احتیاط واجب *کے طور پر

اس بچے کو بالغ ہونے کے بعد اس کا خمس دینا چاہئے۔(٢) ٭٭

مصرف خمس:

خمس کے مال کو دوحصوں میں تقسیم کرنا چاہئے، اس کا نصف سہم امام زمان علیہ السلام ہے اور اسے مجتہد جامع الشرائط جس کی انسان تقلید کرتا ہے یا اس کے وکیل کو دیا جاتا ہے دوسرے نصف کو بھی مجتہد جامع الشرائط یا اس کی اجازت سے ضروری شرائط کے حامل سادات کو دیا جائے۔(٣) ٭٭٭

خمس کے محتاج سید کے شرائط:

* غریب ہو یا ابن السبیل ہو، اگرچہ اپنے شہر میں غریب ومحتاج نہ ہو۔

*شیعہ اثنا عشری ہو۔

*کھلم کھلا گناہ کا مرتکب نہ ہو ( احتیاط واجب کی بناپر) اور اسے خمس دینا گناہ انجام دینے میں مددکا سبب نہ ہو۔

*احتیاط واجب کی بناء پران افراد میں سے نہ ہو جن کے اخراجات اس (خمس لینے والے) کے ذمہ ہوں، جیسے بیوی بچے۔(٤)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٧٨٠(٢) توضیح المسائل، م ١٧٩٤.(٣) توضیح المسائل، م ١٨٣٤.(٤) توضیح المسائل، م ٣٥ ١٨ تا ٤١ ١٨

*(گلپائیگانی)بالغ ہونے کے بعد اس کا خمس دینا چاہئے (م ١٨٠٣)

٭٭(خوئی) واجب نہیں ہے اس کا خمس دے (م ١٨٠٢)

٭٭٭(گلپائیگانی ،اراکی) صاحب مال خود بھی شرائط کے حامل سادات کو دے سکتا ہے (مسئلہ ١٨٤٣)


سبق :٣٥ کاخلاصہ

١۔ خمس ادا کرنا ایک اقتصادی فریضہ ہے۔

٢۔ درج ذیل موارد میں خمس ادا کرنا واجب ہے:

*کسب وکار کی منفعت

*معدن (کان)

*خزانہ

*جنگی غنائم

*سمندری جواہرات

*حلال مال کا حرام مال سے مخلوط ہونا ۔

*وہ زمین جسے کا فرذمی مسلمان سے خریدے۔

٣۔خوراک، پوشاک، مسکن، گھر کا سامان، سواری، دعوت کے اخراجات، شادی بیاہ، زیارت، مسافرت، جواہرات، تحفے، صدقات اور کفارات سال کے اخراجات میں شمار ہوتے ہیں۔

٤۔ جس دن پہلی آمدنی انسان کے ہاتھ میں آئے، اسی دن سے خمس کا سال شروع ہوتا ہے اور ایک سال گزرنے کے بعد جو کچھ اس آمدنی سے بچا ہو اس پر خمس دینا چاہئے۔

٥۔ وراثت میں ملے مال، بخشش میں ملی چیزوں اور حاصل کئے گئے انعامات پر خمس نہیں ہے۔

٦۔ جب تک مال کا خمس ادا نہ کیا جائے اس میں مدا خلت نہیں کی جاسکتی ہے اور اگر اس مال سے تجارت کا ٥ ١ حصہ باطل ہے۔

٧۔ خمس کا نصف مال امام( عج) ہے، اسے اپنے مرجع تقلید کو دینا چاہئے، اور دوسرے نصف یعنی سادات کاحصہ مرجع تقلید کی اجازت سے درج ذیل شرائط کے حامل سید کو دیا جاسکتا ہے:

١.۔غریب ہو ۔

٢.۔ شیعہ اثنا عشری ہو۔

٣.۔کھلم کھلا معصیت وگناہ نہ کرتا ہو ۔

٤.۔ ان افراد میں سے نہ ہو جن کے اخراجات وہ(لینے والا سید) ادا کرتا ہو، جیسے بیوی بچے۔


سوالات:

١۔ کس قسم کے جواہرات پر خمس نہیں ہے ؟

٢۔ کسب وکار کے منافع کی وضاحت کیجئے؟

٣۔ سالِ خمس کا آغاز کس وقت ہوتا ہے؟

شادی وخوشی کے موقع پر دیئے جانے والے تحفہ پر خمس ہے یا نہیں ؟

٥۔ نابالغ بچے اگر کام کرکے کچھ پیسے بچت کریں، کیا اس پر خمس ہے؟

٦۔ مصرف خمس کی وضاحت کیجئے؟


سبق نمبر ٣٦

زکات

مسلمانوں کا ایک اور اہم اقتصادی فریضہ زکات کی ادائیگی ہے۔

زکات کی اہمیت کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن مجید میں اس کا ذکر نماز کے بعد آیا ہے اور اسے ایمان کی علامت اور کامیابی کا سبب شمار کیا گیا ہے۔

معصومین علیہم السلام سے نقل کی گئی متعدد روایات میں آیا ہے:

'' جو زکات ادا کرنے میں مانع بن جائے،(کوتاہی کرے) دین سے خارج ہے''

زکات کے بھی خمس کی طرح خاص موارد ہیں، اس کی ایک قسم بدن اور زندگی کی زکات ہے جو ہر سال عید فطر کے دن ادا کی جاتی ہے اور یہ صرف ان لوگوں پر واجب ہے جو استطاعت رکھتے ہوں۔ اس قسم کی زکات کے مسائل روزہ کی بحث کے آخرپر بیان ہوئے ہیں*

زکات کی دوسری قسم، مال کی زکات ہے، لیکن لوگوں کے تمام اموال پر زکات نہیں ہے ، بلکہ صرف٩ چیزوں پر زکات ہے اور انہیں تین حصوںمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

____________________

* دیکھئے سبق نمبر٣٤.


وجوب زکات کے مواقع(١)

١۔اناج:

گندم

جو

خرما

کشمش

٢۔ مویشی:

اونٹ

گائے

بھیڑبکری

٣۔ سکے:

سونا

چاندی

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٨٥٣.


حد نصاب:

ان چیزوں کی زکات اس صورت میں واجب ہوتی ہے کہ ایک خاص مقدار تک پہنچ جائے اور اس مقدار کو'' حد نصاب'' کہتے ہیں۔ یعنی اگر حاصل شدہ پیداوار یا مویشیوں کی تعداد حد نصاب سے کمتر ہوتو، ان پر زکات نہیں ہے۔

اناج کا نصاب:

مذکورہ چار قسم کے اناج ایک نصاب رکھتے ہیں اور یہ نصاب تقریباً٨٥٠ کلو گرام ہے۔ اس لحاظ سے اگر حاصل شدہ پیداوار اس مقدار سے کم ہوتو، اس پر زکات نہیں ہے۔*(١)

اناج کی زکات کی مقدار:

جب اناج کی حاصل شدہ پیداوار حد نصاب کو پہنچے، تو اس میں سے ایک حصہ زکات کے عنوان سے ادا کیا جانا چاہئے۔ لیکن اناج کی زکات کی مقدار اسکی آبیاری پر منحصر ہے۔اس لحاظ سے اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

١۔ جو پیداوار بارش کے پانی یادریا کے پانی سے آبیاری کرکے یا خشک کاشت کے نتیجہ میں حاصل ہوجائے، اس کی زکا ت کی مقدار ١٠ ١حصہ ہے۔

٢۔ جو پیداوار ڈول، بالٹی، رہٹ یا موٹر پمپ کے پانی سے آبیاری کرکے حاصل ہوجائے، اس کی زکات کی مقدار١٢٠ حصہ ہے۔

٣۔ جو پیداوار دونوں طریقوں، یعنی بارش کے پانی یادریا کے پانی کے علاوہ دستی صورت میں آبیاری کے نتیجہ میں حاصل ہوجائے تو اس کے نصف پر ١١٠ اور دوسرے نصف پر٢٠ ١حصہ زکات ہے۔(٢)

مویشیوںکا نصاب:

بھیڑبکری: بھیڑبکریوں کا پہلا نصاب چالیس عدد ہے اور ان کی زکات ایک بھیڑہے، بھیڑبکریوں کی تعداد جب تک چالیس تک نہ پہنچے ان پر زکات نہیں ہے۔(٣)

____________________

(١)توضیح المسائل،م١٨٦٤. (٢)توضیح المسائل، م ١٨٧٥تا ٩ ١٨٧ (٣)توضیح المسائل،م ١٩١٣

زاناج کا صحیح نصاب ٢٠٧ ٨٤٧ کیلو گرام ہے۔


گائے:

گائے کا پہلا نصاب تیس عدد ہے اور ان کی زکات ایک گوسالہ ہے جو ایک سال تمام ہونے کے بعد دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔(١)

اونٹ

اونٹ کا پہلا نصاب پانچ عدد ہے اور ان کی زکات ایک بھیڑہے۔اونٹوں کی تعداد جب تک ٢٦ عدد تک نہ پہنچے، ہر پانچ اونٹ کے لئے ایک بھیڑ زکات ہے لیکن جب ان کی تعداد ٢٦ تک پہنچ جائے تو ان کی زکات ایک اونٹ ہے۔(٢)

سونا اور چاندی کا نصاب:

سونے کا نصاب ١٥ مثقال اور چاندی کا نصاب ١٠٥ مثقال ہے اور دونوں کی زکات ١٤٠ ہے۔(٣)

زکات کے احکام:

١۔ گندم، جو، خرما، اور انگور پر، بیج کی قیمت، مزدوری، ٹریکٹر وغیرہ کے کرایہ کی صورت میں جو خرچہ آتاہے، اس کو پیداوار سے کم کیا جاسکتا ہے، لیکن نصاب کی مقدار اس خرچہ کے کم کرنے سے پہلے حساب کی جاتی ہے*

____________________

(١)توضیح المسائل م١٩١٢.

(٢)توضیح المسائل م١٩١٠.

(٣) توضیح المسائل م ١٨٩٦ و١٨٩٧

*(گلپائیگانی)۔ اراکی) خرچہ کم کرنے کے بعد حساب ہوتاہے(م،١٩٠٩)۔(خوئی) اس خرچہ کو کم نہیں کرسکتے(م، ١٨٨٩)


اس طرح اگر ان چیزوں کی مقدار اس خرچہ کے کم کرنے سے پہلے نصاب کی حدتک پہنچ جائے تو زکات کا اداکرنا واجب ہے لیکن زکات، مذکورہ خرچ کو کم کرنے کے بعد باقی بچے اجناس سے ہی نکالی جائے گی۔(١)

٢۔ مویشیوں پر زکات درج ذیل صورت میں واجب ہوتی ہے:

*ایک سال تک ان کا مالک رہاہو*اس لحاظ سے مثلاً اگر کوئی١٠٠ عدد گائیں خریدے اور ٩ مہینے کے بعد انھیں بیچ دے،تو زکات واجب نہیں ہے۔(٢)

*مویشی سال بھر بیکار اور آزاد ہوں، اس لحاظ سے اس گائے اور اونٹ پر زکات نہیں ہے جن سے کھیتی باڑی یا بارکشی میں کام لیا جاتاہے۔(٣)

*مویشی سال بھر جنگل اور بیابان کے گھاس پر پلے، لہٰذا اگر تمام سال یا کچھ مدت تک بوئی ہوئی یا کاٹی ہوئی گھاس پر پلے تو زکات نہیں ہے۔(٤)

٣۔سونا اور چاندی پر اس وقت زکات واجب ہے جب کہ سکہ کی صورت میں ہوں اور ان کا معاملہ رائج ہو، اس لحاظ سے جو سونے کے زیورات آج کل خواتین استعمال کرتی ہیں، ان پر زکات نہیں ہے۔(٥)

٤۔ زکات ادا کرنا، ایک عبادت ہے اس لئے جوکچھ زکات کے طور پر ادا کیا جائے بقصد قربت ہونا چاہئے۔(٦)

____________________

(١)توضیح المسائل ١٨٨٠

(٢) توضیح المسائل،م ١٨٥٦

(٣)توضیح المسائل، م ١٩٠٨.

(٤)توضیح المسائل،م١٩٠٨

(٥)توضیح،م ١٨٩٩.

(٦)توضیح المسائل م١٩٥٧.

*(تمام مراجع) اگر گیارہ ماہ تک گائے بھیڑ اور اونٹ،سونا،چاندی کا مالک رہے تو بارہویںمہینے کی ابتداء میں زکات دینا چاہئے لیکن پہلے سال گزرنے کے بعد پورے ١٢ مہینے تمام ہونے پر حساب کرے(م، ١٨٨٦)


مصارف زکات:

آٹھ مواقع پر زکات کاکیا جاسکتا ہے یعنی ان تمام موارد یا ان میں سے چند ایک پر خرچ کیا جاسکتا ہے:

١۔ فقیر، وہ ہے جس کی آمدنی وبچت اپنے اور اپنے اہل وعیال کے سالانہ خرچہ سے کم ترہو۔

٢۔ مسکین، وہ ہے جو بالکل نادار اور مفلس ہو۔

٣۔ جو امام یا نائب امام کی طرف سے زکات جمع کرنے، اسکی حفاظت اور تقسیم کرنے پر مقررہو۔

٤۔ اسلام ومسلمین کے تئیں دلوں میں الفت پیدا کرنے کے لئے، جیسے اگر غیر مسلمانوں کی مدد کی جائے تو وہ دین اسلام کی طرف مائل ہوجائیں یا جنگ میں مسلمانوں کی مدد کریں *

٥۔ غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے۔

٦۔قرضدار، جو اپنا قرض ادا نہ کرسکتا ہو۔

٧۔ راہ خدا میں خرچ کرنا، یعنی ایسے کام انجام دینا جن سے عام لوگوں کو فائدہ ہواور اس میں خدا کی خوشنودی ہو، جیسے سڑکیں اور پل بنانا۔

٨۔ وہ مسافر جو سفر میں نادار ہوچکا ہو اور اپنے وطن لوٹنے کے لئے خرچ نہ رکھتاہو، اگرچہ اپنے وطن میں فقیر نہ ہو ۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٩٢٥

*(گلپائیگانی)بعیدنہیں ہے کہ یہ امام معصوم علیہ السلام سے مخصوص ہو(م١٩٣٣)


سبق: ٣٦کا خلاصہ

١۔جن چیزوں پر زکات واجب ہے، وہ حسب ذیل ہیں:

گندم، جو، خرما،کشمش، اونٹ ، گائے، بھیڑ، سونا اور چاندی۔

٢*کات اس صورت میںواجب ہوتی ہے کہ جب موردزکات چیزحدنصاب تک پہنچ جائے۔ مختلف چیزوں کاحدنصاب حسب ذیل ہے:

(نمبر)--مال کی قسم--نصاب)--مقدار زکات

١۔—گندم----------٢٠٧ ٨٤٧ کیلو گرام

*١١٠(دسواں حصہ)، اگر بارش اور دریا کے پانی سے آبیاری ہوئی ہو۔

*١٢٠ (بیسواں حصہ)، اگر دستی بالٹی، رہٹ اور موٹرپمپ سے آبیاری ہوئی ہو۔

*٣٤٠، اگر دونوں چیزوں سے آبیاری ہوئی ہے۔

٢----جو

٣۔----خرما

٤۔----کشمش

٥۔-----( اونٹ)---پہلانصاب ٥ اونٹ پر---- ایک بھیڑ

-------------------٢٥ اونٹ پر۔---ہر ٥ اونٹ پرایک بھیڑ

-------------------٢٦ اونٹ پر ----ایک اونٹ

٦۔----گائے-------٣٠ گائے پر ۔-----ایک سال عمر کا ایک گوسالہ

٧۔ ----- بھیڑ ۔------٤٠بھیڑ پر ۔-----ایک بھیڑ

٨۔-----سونا۔-----١٥ مثقال پر----١/٤٠

٩۔-----چاندی ۔ -----١٠٥مثقال پر-----١/٤٠

٣۔ زکات کو ٨معین مقامات پر صرف کرنا چاہئے (جو بھی مورد ہو) ان موارد میں ہروہ کام بھی شامل ہے جسے خداپسند فرماتا ہے، جیسے، تعمیر مسجد، پل و...


سوالات:

١۔ درخت کی پیداوار میں سے کس پیدا وار پر زکات واجب ہے؟

٢۔ باب زکات میں ، نصاب سے کیا مقصد ہے؟

٣۔ کیا نصاب کا، خرچہ کم کرنے سے پہلے حساب ہوتا ہے یا اس کے بعد؟

٤۔ گائے اور بھیڑکاپہلا نصاب کیا ہے اور ہر ایک کی زکات کی مقدار کتنی ہے؟

٥۔ حساب کرکے تبائیے کہ ١٨ سکہ طلا کی زکات کتنی ہوگی جب کہ ہر سکہ کا وزن١٠ مثقال ہو۔؟

٦۔موٹرپمپ کے ذریعہ دریا سے آبیاری ہونے والے گندم کی پیداوار کی زکات ١١٠ ہے یا ١٢٠۔؟

٧۔ایک شخص نے مارچ کی پہلی تاریخ کو٢٥ بھیڑ خریدے اور اسی سال اول ستمبر کو مزید ٢٠ بھیڑ خریدے، ان بھیڑوں کی زکات ادا کرنے کا وقت کب ہے؟


سبق نمبر ٣٧

امربالمعروف ونہی عن المنکر*

ہر انسان معاشرے میں انجام پانے والے برے اور ترک کئے جانے والے نیک کاموں کے بارے میں ذمہ دارہے ، اس لئے اگر کوئی واجب کام ترک ہوجائے یا کوئی حرام کام انجام پائے تو اس کے مقابلے میں خاموشی اور لاتعلقی جائز نہیں ہے، اور معاشرے کے تمام لوگوں کو ''واجب''کام کی انجام دہی اور '' حرام'' کام کوروکنے کے لئے قدم اٹھانا چاہئے اس عمل کو '' امر بالمعروف اور'' نہی عن المنکر'' کہتے ہیں ۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت :

*ائمہ معصومین علیہم السلام کے بعض بیانات میں آیا ہے:

* ''امر بالمعروف ونہی عن المنکر'' اہم ترین واجبات میں سے ہے۔

*دینی واجبات '' امر بالمعروف ونہی عن المنکر'' کے سبب مستحکم وپائیدار ہوتے ہیں ۔

*''امر بالمعروف اور نہی عن المنکر'' ضروریات دین میں سے ہے،جو اس سے انکار کرے، وہ کافر ہے۔

*اگر لوگ'' امربالمعروف ونہی عن المنکر'' کو ترک کریں، تو برکت ان سے اٹھا لی جاتی ہے اور دعا قبول نہیں ہوتی۔

____________________

*مسائل امر بالمعروف ونہی عن المنکر''آیت اللہ اراکی وآیت اللہ خوئی کے رسالوں میں ذکر نہیں ہوئے ہیں۔


معروف ومنکر کی تعریف:

احکامِ دین میں تمام واجبات ومستحبات کو '' معروف'' اور تمام محرمات ومکروہات کو'' منکر'' کہا جاتا ہے، لہٰذا سماج کے لوگوں کو واجب ومستحب کام انجام دینے کی ترغیب دلانا امر ''بالمعروف'' اور انھیں حرام ومکر وہ کام کی انجام دہی سے روکنا '' نہی عن المنکر'' ہے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر واجب کفائی ہے، یعنی کفایت کی حد تک انجام پانے کی صورت میں دوسروں پر واجب نہیں ہے ، اگر شرائط میسر ہونے کی صورت میں سب لوگوں نے اسے ترک کیا ہوتو سب کے سب ترک واجب کے مرتکب ہوئے ہیں ۔(١)

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شرائط:

''امربالمعروف ونہی عن المنکر'' چند شرائط کی بناء پر واجب ہے اور ان شرائط کے نہ ہونے کی صورت میں ساقط ہے یعنی واجب نہیںہے اور یہ شرائط حسب ذیل ہیں :

١۔امرونہی کرنے والے کوجاننا چاہئے کہ جو کام کوئی فردانجام دیتا ہے وہ حرام ہے اور جسے ترک کرتا ہے ،وہ واجب ہے، لہٰذا جو شخص حرام کام کی تشخیص نہ دے سکتا ہو کہ حرام ہے یا نہیں اس پر نہی کرنا واجب نہیں ہے۔

٢۔امرونہی کرنے والے کو احتمال دینا چاہئے کہ اس کا امر ونہی مؤثر ہوگا، لہٰذا اگر جانتاہو کہ مؤثر نہیں ہے یا اس میں شک کرتا ہو، تو اس پر امرونہی کرنا واجب نہیں ہے۔

٣۔ گناہگار اپنے کام کو جاری رکھنے پر اصرار کرتاہو، لہٰذا اگر معلوم ہوجائے کہ گناہگار کام کو ترک

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٦٣،م ٢


کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور پھرسے اس کام کو انجام نہیں دے گا یا اس کام کو پھرسے انجام دینے میں کامیاب نہیں ہوگا، تو امرونہی واجب نہیں ہے ۔

٤۔ امر ونہی کرنے والے کے لئے ، امرو نہی کرنا اپنے رشتہ داروں اور دوست یا ہمراہوں، دیگر مومنین کی جان ومال اور آبرو کے لئے قابل توجہ ضررونقصان کا سبب نہ بنے۔(١)

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مراحل:

امربالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے چند مراحل ہیں اور اگر سب سے نچلے مرحلے پر عمل کرنے سے نتیجہ نکلے تو بعد والے مرحلہ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مراحل حسب ذیل ہیں:

پہلا مرحلہ :

گناہگار کے ساتھ ایسا برتائوکیا جائے کہ وہ سمجھ لے کہ اس کا سبب اس کا گناہ میں مرتکب ہوناہے مثلا اس سے منہ موڑلے یا ترش روئی سے پیش آئے یا آنا جانا بند کردے۔

دوسرا مرحلہ :

زبان سے امر ونہی کرنا:*یعنی واجب تر ک کرنے والے کو حکم دیدے کہ واجب بجالائے اور گناہگار کو حکم دیدے کہ گناہ کو ترک کرے۔

تیسر امرحلہ :

طاقت کا استعمال: منکر کو روکنے اور واجب انجام دینے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا، یعنی گناہگار کی پٹائی کرنا۔(٢)

امربالمعروف ونہی عن المنکر کے احکام :

١۔ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے شرائط اور موارد کو سیکھناواجب ہے تاکہ امر ونہی کرنے میں خطا سرزد نہ ہوجائے۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١،ص ٦٥ ٤،ص ٤٧٢،م ١.

(٢)تحریر الوسیلہ،ج ١ ص ٤٧٦.(٣) تحریرالوسیلہ، ج١، ص ٤٧٦.

*آیت اللہ گلپائیگانی کے رسالہ میں آیا ہے: دوسرے مرحلہ میں حسن خلق اچھی زبان میں امرونہی کرے اور اس کی مصلحتیں بیان کرے اور اس کتاب کامرحلہ٢ اور ٣، مرحلہ ٣ و٤ ہے۔


٢۔ اگر امرو نہی کرنے والا جان لے کہ درخواست نصیحت اور موعظہ کے بغیر امرونہی میں اثر نہیں ہے تو واجب ہے امرونہی کو نصیحت، موعظہ اور درخواست کے ساتھ انجام دے اور اگر جانتا ہو کہ صرف درخواست اور موعظہ (امرونہی کے بغیر) مؤثرہے، تو واجب ہے یہی کام انجام دے۔(١)

٣۔امرونہی کرنے والا اگر جانتا ہو یا احتمال دے کہ اس کا امر ونہی تکرار کی صورت میں مؤثرہے، تو تکرار کرنا واجب ہے۔(٢)

٤۔ گناہ پر اصرار کا مقصد انجام کار کو جاری رکھناہی نہیں ہے بلکہ اس عمل کا مرتکب ہونا ہے اگرچہ پھرسے ایک بارہی انجام دے۔ اس طرح اگر کسی نے ایک بار نماز کو ترک کیا اور دوسری بار ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو امر بالمعروف واجب ہے۔(٣)

٥۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں گناہگار کو حاکم شرع کی اجازت کے بغیر زخمی کرنا یا قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر منکر ایسے امور میں سے ہو جس کی اسلام میں بہت اہمیت ہو مثال کے طور پر ایک شخص ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا چاہتاہے اور اسے اس کام سے روکنازخمی کئے بغیر ممکن نہ ہو ۔(٤) *

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے آداب:

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کے لئے سزاوار ہے:

* ایک رحم دل طبیب اور مہربان باپ کی طرح ہو۔

*اس کی نیت خالص ہو اور صرف خدا کی خوشنودی کے لئے قدم اٹھائے اور اپنے عمل کو ہر قسم کی بالادستی سے پاک کرے۔

* خود کو پاک ومنزہ نہ جانے، ممکن ہے جوشخص اس خطا کا مرتکب ہوا ہے، کچھ پسندیدہ صفات کا

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٤٧٦،م ٣.

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص٤٦٨ م٥.

(٣)تحریر الوسیلہ ،ج ١،ص٧٠ ٤، م ٤.

(٤)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨١م ١١ و١٢.


*یہ مسئلہ آیت اللہ گلپائیگانی کے توضیح المسائل میں نہیں آیا ہے.

بھی مالک ہو اور محبت الہٰی کا حقدار قرار پائے اور خود امربالمعروف کرنے والے کا عمل غضب الٰہی کا سبب بنے۔(١)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١،ص ٤٨١،م١٤.


سبق : ٣٧ کا خلاصہ

١۔'' معروف'' وہی واجبات ومستحبات ہیںاور'' منکر'' وہی محرمات ومکروہات ہیں۔

٢۔ امربالمعرو ف ونہی عن المنکر واجب کفائی ہے۔

٣۔ امربالمعروف ونہی عن المنکرکے شرائط حسب ذیل ہیں:

* امرونہی کرنے والاخود معروف ومنکرکو جانتا ہو۔

*تاثیر کا احتمال دے۔

* گناہگار گناہ کی تکرار کا ارادہ رکھتا ہو۔

* امرونہی فسادکا سبب نہ ہو۔

٤۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراحل حسب ذیل میں:

* گناہگار کے ساتھ دوستی اور رفت وآمدنہ کی جائے۔

* زبانی امرونہی

*گناہگار کی پٹائی کرنا۔

٥۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے شرائط ،مراحل اور مواقع کو یاد کرنااور سیکھنا واجب ہے۔

٦۔ اگر گناہ کو روکنے کے لئے امر ونہی کی تکرار ضروری ہوتو، تکرار واجب ہے۔

٧۔ حاکم شرع کی اجازت کے بغیر گناہگار کوزخمی کرنا یا اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ منکر ایسے امور میں سے ہو کہ اسلام میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہو۔


سوالات:

١۔ معروف ومنکر میں سے ہر ایک کی پانچ مثالیں بیان کیجئے؟

٢۔ کس صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے؟

٣۔ اگر کوئی کسی گانے کو سن رہا ہواور ہم نہیں جانتے وہ غناہے یا نہیں ؟تو کیا اس کو منع کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ اور کیوں ؟

٤۔اگر کسی کو نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا جائے تو کیا واجب ہے کہ اسے کہا جائے؟ کیوں؟

٥۔ کیا ایک ایسی دوکان سے چیزیں خرید ناجائز ہے جس کامالک نمازنہ پڑھتا ہو؟

٦۔ گناہ گارکو کس صورت میں زخمی کرنا جائز ہے، دومثال سے واضح کیجئے؟


سبق نمبر ٣٨

جہاداور دفاع *

چونکہ خورشید اسلام کے طلوع ہونے کے بعد تمام مکاتب ومذاہب ؛باطل، منسوخ اور ناقابل قبول قرار پائے ہیں لہٰذا تمام انسانوں کو دین اسلام کے پروگرام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہونا چاہئے، اگر چہ وہ اسے تحقیق اور آگاہی کے ساتھ قبول کرنے میں آزاد ہیں۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشینوں نے ابتداء میںاسلام کے نجات بخش پروگراموں کی لوگوں کے لئے وضاحت فرمائی اور انھیں اس دین کو قبول کرنے کی دعوت دی اور جو اسلام کے پروگراموں اور احکام سے روگردانی کریں، وہ غضب الٰہی اور مسلمانوں کی شمشیر قہرسے دوچار ہوں گے۔ اسلام کی ترقی کے لئے کوشش اور اس کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں سے مقابلہ کو ''جہاد'' کہتے ہیں۔اسلام کی ترقی کے لئے اس قسم کا اقدام ایک خاص ٹیکنیک اور طریقہ کار کا حامل ہے اور یہ صرف پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشینوں۔ (جو ہر قسم کی لغزش اور خطاء سے مبّرا ہیں)کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور معصومین علیہم السلام کے زمانہ سے مخصوص ہے ا ورہمارے زمانہ میں کہ امام معصوم کی غیبت کادورہے، واجب نہیں ہے لیکن دشمنوں سے مقابلہ کی دوسری قسم کانام دفاع'' ہے۔یہ تمام مسلمانوں کا مسلم حق ہے کہ ہر زمان ومکان میں دنیا کی کسی بھی جگہ میں اگر دشمنوں کے حملہ کا نشانہ بنیں یا ان کا مذہب خطرہ میں پڑے تو اپنی جان اور دین کے تحفظ کے لئے دشمنوں سے لڑیں اورانہیں نابود کردیں۔ ہم اس سبق میں اس واجب الٰہی یعنی''دفاع'' کے احکام واقسام سے آشنا ہوںگے۔

____________________

* یہ سبق امام خمینی کے فتاویٰ سے مرتب کیا گیا ہے۔


دفاع کی قسمیں :

١۔ اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع

٢۔ جان اور ذاتی حقوق کا دفاع(١)

اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع:

* اگر دشمن اسلامی ممالک پر حملہ کرے۔

* یا مسلمانوں کے اقتصادی یا عسکری ذرائع پر تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے۔

*یا اسلامی ممالک پر سیاسی تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے ۔

* تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہر ممکن صورت میں ، دشمنوں کے حملہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیںاور ان کے منصوبوں کی مخالفت کریں۔

جان اور ذاتی حقوق کا دفاع :

١۔ مسلمانوں کی جان اور ان کا مال محترم ہے، اگر کسی نے ایک مسلمان، یا اس سے وابستہ افراد، جیسے، بیٹے، بیٹی، باپ ، ماں اور بھائی پر حملہ کیا تو دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے،اگرچہ یہ عمل حملہ

آورکوقتل کرنے پر تمام ہوجائے۔(٢)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨٥

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٤٨٧۔ ٤٨٨


٢۔ اگر چور کسی کے مال کو چرانے کے لئے حملہ کردے، دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے۔(١ )

٣۔ اگر کوئی نامحرموں پر نگاہ کرنے کے لئے دوسروں کے گھروں میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے، اگرچہ اس کی پٹائی بھی کرنا پڑے۔(٢)

عسکری تربیت:

عصر حاضر میں دنیا نے عسکری میدان میں کافی ترقی کی ہے اور اسلام کے دشمن جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوچکے ہیں ، اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع،جدیدعسکری طریقوں کی تربیت حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے ، چونکہ فوجی تربیت حاصل کرنا واجب ہے، جو اس ٹریننگ کی قدرت وصلاحیت رکھتے ہوں اور اسلام اور اسلامی ممالک کے دفاع کے لئے محاذجنگ پر ان کے حضور کا احتمال ہوتو فوجی ٹریننگ ان کے لئے واجب ہے۔(٣)

اسلامی ممالک کا دفاع اور دشمنوںکے حملوں کے مقابلے میں ان کا تحفظ صرف جنگ کے ایام سے ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ ہر حالت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دشمن کے احتمالی حملے کو روکنے کے لئے پوری فوجی تیاری کے ساتھ ملک کی سرحدوں پر چوکس رہے اور کچھ لوگ اندرونی دشمنوں اور بدکاروں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھی آمادہ ہوں۔ اس لئے ان تمام تواناا فراد پر لازم ہے کہ اپنی زندگی کے ایک حصہ کواس مقدس فوجی خدمات انجام دینے کیلئے وقف کریں۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج١، ص ٨٧ ٤۔ ٤٨٨

(٢) تحریر الوسیلہ ،ج ص ٤٩٢، م ٣٠

(٣)استفتائ.


سبق ٣٨ :کا خلاصہ

١۔ اسلام کی ترقی اور اسلامی ممالک کو وسعت بخشنے کے لئے جہاد معصوم علیہ السلام کے دور سے مخصوص ہے۔

٢۔ ہر زمانے میں دفاع واجب ہے اور یہ عصرِ معصوم سے مخصوص نہیں ہے۔

٣۔ دفاع کی دوقسمیں ہیں:

*اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع۔

*جان اورذاتی حقوق کا دفاع۔

٤۔ اگر دشمن اسلامی ملک پر حملہ کرے یا اس پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہو، تو تمام مسلمانوں پر دفاع کرنا واجب ہے۔

٥۔اگر کوئی کسی انسان یا اس کے اعزہ پر حملہ آور ہوجائے تو، دفاع کرنا واجب ہے۔

٦۔ مال کا دفاع بھی واجب ہے۔

٧۔ اگر کوئی شخص نامحرم کو دیکھنے کے لئے کسی کے گھر میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے۔

٨۔جو افراد فوجی ٹریننگ کی توانائی رکھتے ہوں اور محاذ جنگ پر ان کے وجود کا احتمال بھی ہوتو ایسے افراد کے لئے اسلامی ممالک کے دفاع کیلئے فوجی ٹرنینگ لازم ہے۔


سوالات:

١۔''جہاد'' اور'' دفاع'' میں کیا فرق ہے۔؟

٢۔ دفاع کی قسمیں بیان کیجئے اور ہر ایک کے لئے ایک مثال بیان کیجئے؟

٣۔ کس صورت میں چور کے ساتھ مقابلہ واجب ہے؟

٤۔ فوجی ٹریننگ کن لوگوں پر واجب ہے؟


سبق نمبر ٣٩

خرید و فروخت

خرید وفروخت کی قسمیں:

١۔ واجب

٢۔حرام

٣۔مستحب

٤۔مکروہ

٥۔مباح

واجب خرید وفروخت:

چونکہ اسلام میں بے کاری اور کاہلی کی مذمت ہوئی ہے،لہٰذا زندگی کے اخراجات کو حاصل کرنے کے لئے تلاش وکوشش کرنا واجب ہے۔جو لوگ خرید وفروخت کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنے اخراجات پورے نہ کرسکیں، یعنی ان کی آمدنی اسی ایک طریقہ پر منحصرہو اور کوئی دوسرا طریقہ ان کے لئے ممکن نہ ہو، تو ان پر واجب ہے خریدوفروخت سے ہی اپنی زندگی کے اخراجات پورا کریں تاکہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔(١)

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٣


مستحب خریدوفروخت:

اپنے اہل وعیال کے اخراجات کو وسعت بخشنے اور دیگر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے خرید وفروخت کرنا مستحب ہے۔ مثلاً جو کسان کھیتی باڑی کرکے اپنا خرچہ پورا کرتا ہے، اگر فراغت اور فرصت کے وقت خریدوفروخت کا کام بھی انجام دے تاکہ اس طریقے سے محتاجوں کی مدد کرسکے،تو ثواب ہے۔(١)

حرام خرید و فروخت:

١۔ نجاسات کی خریدوفروخت،جیسے مردار۔

٢۔ ایسی چیزوں کی خرید وفروخت، جن کے معمولی منافع حرام ہیں، جیسے قمار بازی کے آلات ۔

٣۔ قماربازی یا چوری سے حاصل شدہ چیزوں کی خریدوفروخت۔

٤۔ گمراہ کنندہ کتابوں کی خریدو فروخت

٥۔کھوٹے سکوں کی خریدوفروخت۔

٦۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ ایسی چیزیں فروخت کرنا جو مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی تقویت کا سبب بنیں۔

٧۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ اسلحہ بیچناجو دشمنوں کے لئے مسلمانوں کے خلاف تقویت کا سبب بنیں*۔(٢)

حرام ۔خریدوفروخت کے اور بھی موارد ہیں لیکن مبتلابہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بیان سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

____________________

(١) توصیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٣

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١ ص ٤٩٢ تا٤٩٨ توضیح المسائل، م٥٥ ٢٠

*نمبر٤ سے ٧ تک تمام مراجع کے رسالوں میں موجود نہیں ہے۔


مکروہ خریدوفروخت:

١۔ذلیل لوگوں سے لین دین کرنا ۔

٢۔ صبح کی اذان اور سورج چڑھنے کے درمیان لین دین کرنا۔

٣۔ ایک ایسی چیزخریدنے کے لئے اقدام کرنا جسے کوئی دوسرا شخص خریدنا چاہتا تھا۔(١)

خرید و فروختکے آداب

مستحبات : *خریداروں کے درمیان قیمت میں فرق نہ کیا جائے۔

*اجناس کی قیمت میں سختی نہ کی جائے۔

*جب لین دین کرنے والوں میں سے ایک طرف پشیمان ہوکر معاملہ کو توڑنا چاہئے تو اس کی درخواست منظور کی جائے۔(٢)

مکروہات:

*مال کی تعریف کرنا۔

*خریدار کو برا بھلا کہنا۔

*لین دین میں سچی قسم کھانا (جھوٹی قسم کھانا حرام ہے)

*لین دین کے لئے سب سے پہلے بازار میں داخل ہونا اور سب سے آخرمیں بازار سے باہر نکلنا۔

* تولنے اورنا پنے سے بخوبی آگاہ نہ ہونے کے باوجود مال کو تولنایاناپنا۔

____________________

(١) توضیح المسائل، مسئلہ ٢٠٥٤

(٢) توضیح المسائل، مسئلہ ٥١ ٢٠


*معاملہ طے پانے کے بعد قیمت میں کمی کی درخواست کرنا۔(١)

خریدوفروخت کے احکام :

١۔ گھر یا کسی اور چیز کو حرام کاموں کے استعمال کے لئے بیچنا یا کرایہ پر دینا حرام ہے۔(٢)

٢۔ گمراہ کرنے والی کتابوں کالین دین،تحفظ، لکھنا، اور پڑھانا حرام ہے۔ زلیکن اگریہ کام ایک صحیح مقصد کے پیش نظر، جیسے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے انجام پائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔(٣)

٣۔بیچنے والی چیز کو کسی گھٹیایا کم قیمت والی چیزکے ساتھ ملانا، حرام ہے۔جیسے عمدہ میوے ڈبہ کی اوپروالی تہہ میں رکھنا اوراس کی نچلی تہہ میں گھٹیا میوے رکھنا اسے اچھے میووں کے عنوان سے بیچنایا دودھ میں پانی ملاکر بیچنا۔(٤)

٤۔ وقف کیا گیا مال نہیں بیچاجاسکتاہے، مگریہ کہ یہ مال خراب ہو رہا ہو اور استعمال کے قابل نہ رہاہو، جیسے مسجد کا فرش مسجد میں استعمال کے قابل نہ رہاہو۔(٥) ٭٭

٥۔کرایہ پر دئے گئے مکان یا کسی اور چیز کو بیچنے میں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن کرایہ پر دی گئی مدت

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١، ص ٥٠١

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٩٦ ٠٤م ١٠۔ توضیح المسائل ٢٠٦٩.

(٣)تحریر الوسیلہ، ج١،ص ٣٩٨ م ١٥

(٤) تحریر الوسیلہ، ج١،ص٤٩٩، توضیح المسائل،٢٠٥٥.

(٥) تحریر الوسیلہ، ج١، ص٥١٦، الرابع، توضیح المسائل،م ٩٤ ٢٠

*(گلپائیگانی )اگرگمراہ کرنے کا سبب بنے تو حرام ہے (حاشیہ وسیلہ نجات)تمام مراجع کے رسالوں میںیہ مسئلہ موجود نہیں ہے.

٭٭ (اراکی) متولی اور حاکم کی اجازت سے اسے بیچنے میںکوئی حرج نہیںہے۔(مسئلہ ٢١٢٠)


کے دوران اس سے استفادہ کرنا اسی کا حق ہے جس نے اسے کرایہ پرلیا ہے۔(١)

٦۔ لین دین میں خریدوفروخت ہونے والے مال کی خصوصیات معلوم ہونی چاہئے، لیکن ان خصوصیات کا جاننا ضروری نہیں ہے جن کے کہنے یا نہ کہنے سے اس مال کے بارے میں لوگوں کی رغبت پر کوئی اثر نہ پڑے۔(٢)

٧۔ دوہم جنس چیزوں کی خریدوفروخت جو وزن کرکے یا پیمانے سے بیچی جاتی ہوں، اس سے زیادہ لینا''سود'' اور حرام ہے۔

مثلاً ایک ٹن گندم دیکر ایک ٹن اور ٢٠٠ کیلو گرام واپس لے لیا جائے۔ اسی طرح کوئی چیز یا پیسے کسی کو قرض دیئے جائیں اور ایک مدت کے بعد اس سے زیادہ لے لیں، مثلاً دس ہزار روپیہ بعنوان قرض دیدیں اور ایک سال کے بعد اس سے بارہ ہزار روپیہ لے لیں۔(٣)

معاملہ کو توڑنا:

بعض مواقع پر بیچنے والایاخریدار معاملہ کو ختم کرسکتاہے، ان میں سے بعض موارد حسب ذیل ہیں:

*خریدار یا بیچنے والے میں سے کسی ایک نے دھوکہ کھایا ہو۔

*معاملہ طے کرتے وقت آپس میں توافق کیا ہوکہ طرفین میں سے ہر کسی کو حق ہوگا کہ ایک خاص مدت تک معاملہ کو توڑ دیں ،مثلا یہ طے کیا ہو کہ طرفین میں سے جو بھی اس معاملہ پر پشیمان ہوجائے تین دن تک معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔

*خریدا ہوا مال عیب دار ہو اور معاملہ کے بعد عیب کے بارے میں پتہ چلے۔

*بیچنے والے نے مال بیچتے وقت اس کی کچھ خصوصیات بیان کی ہوں لیکن بعد میںاس کے

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٠٩٦ ٤.

(٢)توضیح المسائل، م ٢٠٩٠

(٣) توضیح المسائل، م ٢٠٧٢ و٢٢٨٣ وتحریر الوسیلہ،ج ١، ص ٥٣٦


برعکس ثابت ہوجائے ،مثلا کہے کہ یہ کاپی ٢٠٠ صفحات کی ہے بعد میں معلوم ہو جائے کہ اس سے کم تھی(١)

اگر معاملہ طے ہونے کے بعد مال کا عیب معلوم ہوجائے تو فوراً معاملہ توڑنا چاہئے اگر ایسا نہ کرے تو بعد میں معاملہ کو توڑنے کا حق نہیں رکھتا(٢) *

____________________

(١)توضیح المسائل م ٢١٢٤

(٢)توضیح المسائل م ٢١٣٢


سبق ٣٩ کا خلاصہ

١۔اگر زندگی کے اخراجات حاصل کرنے کے لئے خرید وفرخت کے علاوہ کوئی اور امکان نہ ہو تو خرید فروخت واجب ہے۔

٢۔بعض مواقع پر خرید و فروخت حرام ہے،ایسے چند مواقع حسب ذیل ہیں:

نجاسات کا لین دین ،جیسے مردار ۔

گمراہ کنندہ کتابوں کا لین دین ۔

دشمنان اسلام کو ایسی چیز بیچنا جو ان کی تقویت کا سبب بنے ۔

دشمنان اسلام کے ہاتھ اسلحہ بیچنا ۔

٣۔ بعض مواقع پر خرید وفروخت مستحب ہے اور بعض مواقع پر مکرو ہ ہے ۔

٤۔مستحب ہے کہ بیچنے والا قیمت کے بارے میں گاہکوں کے درمیان فرق نہ کرے ،مال کی قیمت پر سختی نہ کرے اور معاملہ توڑنے کی درخواست کو قبول کرے ۔

٥۔مال کی تعریفیں کرنا ،معاملہ میں سچی قسم کھانا اور اسی طرح معاملہ کے بعد قیمت کم کرنے کی درخواست کرنا مکروہ ہے ۔

*(گلپائیگانی)اگر مسئلہ کو نہیں جانتا ، تو جب بھی آگاہ ہوجائے معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔(خوئی)ضروری نہیں ہے کہ معاملہ کو فورا توڑدے بلکہ بعد میں بھی معاملہ کو توڑنے کا حق رکھتا ہے ۔

٦۔حرام کام کے استفادہ کے لئے گھر کو بیچنا یا کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ۔

٧۔گمراہ کن کتابوں کی خرید وفروخت ،تالیف ،تحفظ ،تدریس اور مطالعہ حرام ہے ،مگریہ کہ مقصد صحیح ہو۔

٨۔موقوفہ مال کو بیچنا جائز نہیں ہے۔

٩۔بیچنے والی چیز کو کم قیمت یا گھٹیا چیز سے ملانا جائز نہیں ہے ۔

١٠۔معاملہ میں مال کی خصوصیات معلوم ہونی چا ہئے ۔

١١۔معاملہ اور قرض کے لین دین میں سود حرام ہے ۔

١٢۔اگر بیچنے والے یا خریدار نے معاملہ میں دھوکہ کھایا ہو تو وہ معاملہ کو توڑسکتے ہیں ۔

١٣۔اگر بیچا ہوا مال عیب دار ہو اور خریدار معاملہ انجام پانے کے بعد متوجہ ہوجائے تو معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔


سوالات:

١۔ خرید و خروخت کس حالت میں مستحب ہے۔؟

٢۔شطرنج،تاش اور سنتور کی خریدو فروخت کا کیا حکم ہے؟

٣۔ حرام خریدوفروخت کے پانچ موارد بیان کیجئے.

٤۔ معاملہ میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ مکان کو ایسے انقلاب مخالفین کے ہاتھ کرایہ پر دینے کا کیا حکم ہے جو اسلامی جمہوری کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں ؟

٦۔سود کی وضاحت کرکے اس کی تین مثالیں بیان کیجئے؟


سبق نمبر ٤٠

کرایہ، قرض اور امانتداری

کرایہ:

اگر اجارہ پر دینے والا، مستأجر سے کہے : '' میں نے اپنی ملکیت تجھے کرایہ پر دیدی'' اور وہ جواب میں کہے:''میں نے قبول کیا'' تو اجارہ صحیح ہے، حتی اگر کچھ نہ کہے اور صاحب مال اجارہ پر دینے کی نیت سے مال کومستاجر کے حوالے کردے اور وہ بھی اجارہ کے قصد سے اسے لے لے، تو اجارہ صحیح ہے، مثلا ًگھر کی چابی اسے دیدے اور وہ اسے لے لے ۔(١)

اجارہ پر دئیے جانے والے مال کے شرائط:

اجارہ پر دی جانیوالی چیزکے کچھ شرائط ہونے چاہئے، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

*وہ مال معین اور مشخص ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص (مشخص کرنے کے بغیر) کہے :'' اس گھر کے کمروں میں سے ایک کمرہ کو تجھے اجارہ پر دیتا ہوں ''تو اجارہ صحیح نہیں ہے۔

*مستاجر کو مال دیکھنا چاہئے یا اس مال کی خصوصیات کو اس کے لئے ایسے بیان کیا جائے کہ پوری طرح معلوم ہوجائے۔

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢١٧٧


*مال ان چیزوں میں سے نہ ہوکہ استعمال کرنے سے اصل مال نابود ہوجائے، لہٰذا روٹی، میوہ اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں کو اجارہ پر دینا صحیح نہیں ہے۔(١)

کرایہ کے احکام:

١۔ اجارہ میں مال کے استفادہ کی مدت معین ہونی چاہئے،مثلاًکہا جائے:''ایک سال'' یا '' ایک ماہ''(٢)

٢۔ اگر مال کا مالک، اجارہ پر دی جانیوالی چیز کو مستاجر کے حوالے کرے، اگر چہ مستاجر اسے اپنے قبضے میں نہ لے یا قبضے میں لے لے مگر اجارہ کی مدت تمام ہونے تک اس سے استفادہ نہ کرے تو بھی اسے اجارہ کی رقم ادا کرنی ہوگی۔(٣)

٣۔ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو ایک خاص دن کے لئے کام پرمعین کرے،مثال کے طور پر اس مزدور کی ذمہ داری یہ ہوکہ انیٹوں یا چونے وغیرہ کو باہر سے اٹھا کر بلڈنگ کے اندر لے جائے، اور یہ مزدور کام پر حاضر ہوجائے، اگر اس کے بعد اس کو کوئی کام نہ دیا جائے، مثلاً بلڈنگ کے اندرلے جانے کیلئے اینٹیںنہ ہوں، تو بھی اس کی مزدوری اسے دینی چاہئے۔(٤)

٤۔ اگر کوئی صنعت گر کسی چیز کو لینے کے بعد اسے ضائع کردے ،تو اسے اس نقصان کی تلافی کرنی چاہیئے، مثال کے طور پر ایک مکینک گاڑی کو کوئی نقصان پہنچائے۔(٥) *

٥۔ اگر کوئی شخص کسی گھر، دکان یا کمرہ کو اجارہ پر لے اور اس کا مالک یہ شرط لگائے کہ صرف وہ

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢١٨٤

(٢) توضیح المسائل ، م ٢١٨٧

(٣)توضیح المسائل،م ٢١٩٦

(٤)توضیح المسائل،م ٢١٩٧

(٥)توضیح المسائل،م ٢٢٠٠

*یہ مسئلہ حضرت آیت ١اللہ اراکی کے رسالہ میں نہیں ہے۔


خود اس سے استفادہ کرسکتا ہے تو مستاجر کو حق نہیں ہے کسی اور کو اسے اجارہ پر دیدے۔(١)

قرض

قرض دینا مستحب ہے جس کے بارے میں قرآن واحادیث میں بہت تاکید کی گئی ہے اور قرض دینے والے کو قیامت کے دن اس کا بہت زیادہ صلہ ملے گا۔

قرض کی قسمیں :

١۔ مدت دار: یعنی قرض دیتے وقت معین ہو کہ قرض لینے والا کس وقت قرض کو ادا کرے گا۔

٢۔ بغیر مدت: وہ ہے جس میں قرض ادا کرنے کی تاریخ معین نہ ہو۔

قرض کے احکام :

١۔ اگر قرض معین مدت والاہو توقرض خواہ مدت تمام ہونے سے پہلے طلب نہیں کرسکتا ہے *(٢)

٢۔ اگر قرض معین مدت والا نہ ہو تو قرض خواہ کسی بھی وقت طلب کرسکتا ہے۔(٣)

٣۔قرض خواہ کے طلب کرنے پر اگر قرض دار اسے اداکرنے کی طاقت رکھتاہوتو۔فوراً ادا کرنا چاہئے، تاخیر کی صورت میں گناہ گارہے۔(٤)

٤۔ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ پیسے دے اور شرط کرے کہ ایک مدت کے بعد، مثلاً ایک سال کے بعد اس سے بیشتر پیسے وصول کرے گا تو وہ سود اور حرام ہے، مثلاً ایک لاکھ روپیہ دے کر یہ شرط کرے کہ ایک سال کے بعد اس سے ایک لاکھ بیس ہزار وپیہ وصول کرے گا۔(٥)

____________________

(١)توضیح المسائل،م ٢١٨٠ (٢)توضیح المسائل، م٢٢٧٥ (٣) توضیح المسائل،م ٢٢٧٥ (٤)توضیح المسائل م٢٢٧٦(٥)توضیح المسائل م٢٢٨٨

* (تمام مراجع)احتیاط واجب کے طور پر مسئلہ ٢٢٨٩)


امانت داری

اگر انسان اپنا مال کسی کو د یدے او رکہے: یہ تمہارے پاس امانت رہے، اور وہ بھی قبول کرلے تو اسے امانت داری کے احکام پر عمل کرنا چاہئے۔(١)

امانت داری کے احکام:

١۔جو شخص امانت کا تحفظ نہ کرسکے، اسے احتیاط واجب *کی بنا پر امانت کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔(٢)

٢۔ جو شخص کسی چیز کو امانت کے طور پر رکھتا ہے جب بھی چاہے اسے واپس لے سکتا ہے، او رجو امانت قبول کرتا ہے، وہ جب بھی چاہے اسے صاحب امانت کو واپس کرسکتا ہے۔(٣)

٣۔ جو شخص امانت قبول کرتا ہے، اگر اسے رکھنے کے لئے اس کے پاس کوئی مناسب جگہ نہ ہو، تو اسے اس امانت کے لئے مناسب جگہ مہیا کرنا چاہئے، مثلاً اگر پیسے ہیں اور گھر میں ان کی حفاظت نہیں کرسکتا تو انھیں بینک میں رکھے۔(٤)

٤۔ امانتدار کو امانت کا ایسا تحفظ کرنا چاہئے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اس نے امانت میں خیانت اور اس کے تحفظ میں کوتاہی کی ہے۔(٥)

٥۔ اگر لوگوں کی امانت ضائع ہوجائے:

الف: اگر امین نے اس کی رکھوالی اور حفاظت میں کوتاہی کی ہوتو اسکی تلافی کرنا ضروری ہے۔

ب۔ اگر اس کے تحفظ میں کوتاہی نہ کی ہو اور اتفاقاًوہ مال ضائع ہوجائے، مثلا ًسیلاب آجائے تو امانت دارضامن نہیں ہے، اوراسکی تلافی بھی ضروری نہیںہے۔(٦)

____________________

(١)توضیح المسائل م٢٣٢٧ (٢)توضیح المسائل م٢٢٣٠(٣)توضیح المسائل م٢٣٣٢ (٤)توضیح المسائل، م ٢٣٣٤ (٥) توضیح المسائل،م ٢٣٣٥

(٦) توضیح المسائل،م ٢٣٣٥

*(اراکی) قبول کرنا جائز نہیں ہے( گلپائیگانی) جائز نہیں ہے قبول کرے مگریہ کہ صاحب مال سے کہہ دے کہ امانت کا تحفظ نہیں کرسکتاہے۔(م ٢٣٣٩)


سبق:٤٠کا خلاصہ

١۔ اجارہ پر دیا جانے والا مال مشخص ومعین ہو اور مستاجر اسے دیکھے یا اس کی خصوصیات کو جان لے۔

٢۔ کسی ایسی چیز کو اجارہ پردینا صحیح نہیں ہے جس کو استعمال کرنے سے اصل مال نابود ہوجائے، جیسے کھانے پینے کی چیزیں۔

٣۔ اجارہ میں مال کے استفادہ کی مدت معین ہونی چاہئے۔

٤۔ جب صاحب مال اجارہ پر دینے والی چیز کو مستاجر کے حوالے کرے، تو مستاجر کو اس کی اجرت ادا کرنی چاہئے،اگرچہ اس مال سے استفادہ بھی نہ کرے۔

٥۔ اگر اجارہ میں شرط ہو کہ اس مال سے صرف خود مستاجر استفادہ کرسکتاہے تو وہ کسی دوسرے کو وہ مال اجارہ پر نہیں دے سکتا ہے۔

٦۔ مدت دار قرض میں قرض خواہ مدت تمام ہونے سے پہلے قرض دار سے طلب نہیں کرسکتا ہے۔

٧۔ اگر قرض مدت دارنہ ہو تو قرض خواہ کسی بھی وقت قرض دار سے طلب کرسکتاہے۔

٨۔ اگر قرض خواہ، اپنا قرض واپس لینا چاہے اور قرض دار اسے ادا کرسکتا ہوتو اس میں تاخیر جائز نہیں ہے۔

٩۔ قرض پر سود لینا حرام ہے۔

١٠۔ جو شخص امانت داری نہ کرسکتا ہو، احتیاط واجب کی بناپر اسے امانت کو قبول نہیں کرنا چاہیئے۔

١١۔ صاحب مال جب بھی چاہے،امانت دارسے اپنا مال لے سکتاہے۔

١٢۔ اگر امانت دار، لوگوں کے مال کے تحفظ میں کوتاہی کرے اور مال ضائع ہوجائے یا اسے نقصان پہنچے، تو وہ ضامن ہے۔


سوالات:

١۔ قابل اجارہ اورنا قابل اجارہ مال کی پانچ پانچ مثالیں بیان کیجئے۔

٢۔ ایک معمار ایک مزدور کو ٢٥ روپیہ روزانہ مزدوری پر لے گیا ،اگر بلڈنگ پرپہنچنے کے بعد معلوم ہو جائے کہ وہاں پر پانی نہیں ہے ،کیا مزدور کو کسی اجرت کے بغیر جواب دے سکتاہے؟

٣۔ قرض کی مختلف قسموں کی وضاحت کرکے ہر ایک کی مثال بیان کیجئے.

٤۔قرض میں سود کی صورت کی وضاحت کرتے ہوئے مثال دیجئے۔

٥۔ اگر کسی کی امانت چوری ہوجائے تو امانت دار کی ذمہ داری کیا ہے؟

٦۔ قرض اور امانت میں کیا فرق ہے؟


سبق نمبر ٤١

عاریت، صدقہ، پیدا شدہ اشیائ

عاریت:

عاریت: یعنی انسان اپنا مال کسی کو دیدے تاکہ وہ اس سے استفادہ کرے اور اس کے مقابلہ میں کوئی چیزاس سے نہ لے، مثلاً کوئی شخص اپنی سائیکل کسی کودیدے تاکہ وہ گھر تک چلا جائے۔(١)

٢۔ جو شخص کسی چیز کو عاریت کے طور پر لے تو اسے اس کی رکھوالی کرنی چاہئے۔

٣۔ عاریت پر لیا گیا مال اگر ضائع ہوجائے یا عیب دار ہوجائے تو:

الف: اگر اس کے تحفظ میں کوتاہی اور استفادہ کرنے میں زیادہ روی نہ کی ہو تو ضامن نہیں ہے۔

ب۔ اگر اس کے تحفظ میں کوتاہی اوراستفادہ کرنے میں زیادہ روی کی ہوتو اس کی تلافی کرنی چاہئے۔(٢)

٤۔اگر پہلے سے شرط لگائی گئی ہوکہ مال پر ہر قسم کے نقصان کی صورت میں عاریت پر لینے والا

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢٣٤٤

(٢)توضیح المسائل، م ٢٣٤٤


ضامن ہوگا،تو اس کے نقصان کی تلافی کرنی چائیے۔(١)

صدقہ:*

صدقہ ایک مستحب کام ہے، اس کے بارے میں قرآن مجید کی آیات اور معصومین علیہم ا لسلام کی روایات میں بہت تاکید ہوئی ہے اور اس کے لئے بے شمار ثواب ہے، یہاں تک کہاگیا ہے:

''صدقہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث اور اچانک موت کے لئے رکاوٹ ہے اور آخرت میں گناہان کبیرہ سے پاک کرتاہے اور قیامت کے حساب وکتاب کو آسان بناتاہے''۔

اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ذیل میں اس سے متعلق چند احکام کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

صدقہ کے احکام:

١۔ صدقہ دیتے وقت انسان کو قصد قربت کرنا چاہئے، یعنی صرف خدا کے لئے ادا کرے اور اس میں کسی قسم کی ریااور خودنمائی نہیں ہونی چاہئے.(٢)

٢۔صدقہ کو واپس لینا جائز نہیں ہے۔(٣)

٣۔ صدقہ سید پر بھی حلال ہے، اگرچہ غیر سید کی زکات سیدپر حرام ہے۔(٤)

٤۔ اس کافر کو صدقہ دینا جائز ہے جو مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں نہ ہو اور پیغمبر یا ائمہ علیہم السلام کو برا بھلا نہ کہتا ہو۔(٥)

٥۔بہترہے صدقہ پوشیدہ صورت میں دیا جائے، مگریہ کہ اعلانیہ طریقہ سے دوسروں کی حوصلہ

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢٣٤٤

(٢) تحریر الوسیلہ، ج ٢، ص ٩٠، م١

(٣) تحریر الوسیلہ، ج ٢، ص ٩٠، م٢

(٤) تحریر الوسیلہ، ج ٢، ص٩١ م٣

(٥) تحریر الوسیلہ ، ج ٢، ص ٩١، م ٥

*صدقہ کے احکام تحریر الوسیلہ سے نقل کئے گئے ہیں۔


افزائی ہوجائے، لیکن زکات اعلانیہ طور پر دینی چاہئے۔(١)

٦۔ بھیک مانگنا اور بھکاری کوواپس کر دینا (اسے کچھ نہ دینا)مکروہ ہے۔(٢)

گم شدہ چیزوں کا اٹھانا

١۔پڑی ہو ئی کسی چیز کو اٹھانا مکروہ ہے۔

٢۔ اگرکوئی شخص کسی چیز کو پائے لیکن اسے نہ اٹھائے تو اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

٣۔ اگرکوئی شخص کسی چیز کو پائے اور اسے اٹھالے تو اس کے حسب ذیل خاص احکام ہیں:

الف: اگر صاحب مال کا کوئی پتہ معلوم نہ ہوتو احتیاط واجب ہے اسے صاحب مال کی طرف سے صدقہ دیدے۔

ب: اگر پتہ معلوم ہوتو:

١۔ اس کی قیمت چاندی کے سکوں کے ١٢٦ عدد چنوں کے دانوں سے کم ترہو:(٣)

اگر مالک مشخص ومعلوم ہوتو اسے پہنچانا چاہئے۔

اگر مالک معلوم نہ ہوتو اسے اپنے لئے اٹھاسکتا ہے۔

٢۔ اگر اس کی قیمت چاندی کے سکوں کے ١٢٦ عدد چنوں کے دانوں کے برابر ہو، تو ایک سال تک اس کے بارے میں اعلان کردے، اگر مالک مل جائے تو اسے دیدے اور اگر نہ مل سکے تو اسے :

* اپنے لئے رکھ سکتا ہے۔

*مالک کے ملنے تک اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا ہے۔

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ٢، ص ،٩١ م٦

(٢) تحریر الوسیلہ، ج ٢، ص ٩٢، م٩۔١٠

(٣) ١٢٦ عدد چنے کے دانوں کے برابر چاندی کے سکے کی قیمت آجکل تقریبا ًساڑھے سات روپئے ہے۔ ( ١٩٩٣ئ)


* احتیاط مستحب ہے کہ اسے مالک کی طرف سے صدقہ دیدے۔(١)

٤۔ مال کے مالک کا پتہ کرنے کے لئے،ایک ہفتہ تک روزانہ ایک بار اس کے بعد ایک سال تک ہفتہ میں ایک بار نماز جماعت یا بازار میںجہاں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اعلان کرے۔(٢) *

٥۔احتیاط واجب کی بناء پرفوراًاعلان کرے اور اس میں تاخیرنہ کرے۔(٣)

٦۔ اگر جانتا ہو کہ اعلان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے نیز اس کی تلاش کرنے سے نا امید ہوتو اعلان کرنا ضروری نہیں ہے۔(٤)

٧۔ اگر کوئی بچہ کسی مال کو پائے تو اس کے سرپرست (باپ یا دادا) کو اس کا اعلان کرنا چاہئے۔(٥) ٭٭

جوتے کا گم ہونا

اگر کسی شخص کا جوتے گم ہوجائیں لیکن اس کی جگہ پر کوئی دوسرے جوتے رہ گئے ہوں تومسئلہ کی چند صورتیں ہیں:

١۔ جانتا ہوکہ کھوئے ہوئے جوتے کی جگہ پر رکھے گئے جوتے اسی کے ہیں جس نے اس کے

____________________

(١)توضیح المسائل ،م٥٦٤ ٢ تا ٢٥٦٨.

(٢)تحریر الوسیلہ، ج ٢،ص٢٢٨، م١٩و ٣١

(٣)تحریر الوسیلہ،ج ٢،ص ٢٢٦،م٩

(٤)تحریر الوسیلہ،ج ٢،ص ٢٢٦،م١٣

(٥)توضیح المسائل، م ٢٥٧١۔

*(گلپا یگانی) ضروری نہیں ہے ہر روز اعلان کرے بلکہ اگر ایک سال تک ایسے کہے کہ لوگ کہیں اعلان کیا گیا ہے تو کافی ہے.

٭٭(خوئی) اس کا ولی اعلان کرسکتااس کے بعد اسے اٹھا لے اور مالک کی طرف سے صدقہ دیدے (اراکی)احتیاط واجب کی بنا پر اس کا سرپرست اعلان کرے مسئلہ ٢٥٨٥


جوتے لئے ہیں،تو اس صورت میں مالک کی تلاش سے ناامیدہویااس کی تلاش مشکل ہو تو اسے اپنے جوتے کے بدلے میں اٹھا سکتا ہے البتہ اگر اس جوتے کی قیمت اپنے جوتے سے زیادہ ہو اور مالک کوتلاش کرنے سے ناامید ہوجائے تو حاکم شرع کی اجازت سے اسے صدقہ دیدے۔

٢۔ احتمال دے کہ رکھا ہوا جوتا اس شخص کا نہیں ہے جس نے اس کا جوتا لیا ہے، اگر اس جوتے کو اٹھالے تو جوتے کے مالک کو تلاش کرنا ضروری ہے *اور اگر اس کو تلاش کرنے میں نا امید ہوجائے تو اس کی طرف سے کسی فقیر کو صدقہ دیدے( لیکن بہتر ہے اسے نہ اٹھائے)(١)

____________________

(١)توضیح المسائل، م ٢٥٨١

*مل جانے والے مال کا حکم رکھتا ہے۔


درس: ٤١ کا خلاصہ

١۔عاریت پر لینے والی چیز کا تحفظ کرنا چاہئے

٢۔ اگر عاریت پر لئے گئے مال کی رکھوالی میں لینے والا کوتاہی کرے اور مال کو نقصان پہنچے یا ضائع ہوجائے تو وہ ضامن ہے۔

٣۔ مستحب صدقہ سید پر بھی حلال ہے، اگرچہ غیر سید کی زکات سید پر حرام ہے۔

٤۔ صدقہ کو پوشیدہ دینا بہتر ہے، مگریہ کہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا مقصود ہو۔

٥۔ بھیک مانگنا اور بھکاری کو جواب دینا، دونوں چیزیں مکروہ ہیں

٦۔کسی پائی گئی چیز کو اٹھانا مکروہ ہے۔

٧۔ اگرکوئی شخص کسی چیز کو پانے کے بعد اٹھالے تو اسے مالک تک پہنچانا چاہئے۔

٨۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کو پا نے کے بعد اٹھالے اور اس کی قیمت ایک درہم سے کم ہوتو اسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔

٩۔ اگر پائی گئی چیز کی قیمت ایک درہم سے زیادہ ہو اور کوئی ایسی علامت موجود ہوکہ اس کے مطابق مالک مل سکتا ہے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔

١٠۔ اگر جانتا ہو کہ اعلان کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے یا مالک کو تلاش کرنے سے ناامید ہو، تو اس صورت میں اعلان کرنا لازم نہیںہے۔

١١۔ اگر نالغ بچہ کسی چیز کو پا ئے تو اس کے سرپرست کو اس کا اعلان کرنا چاہئے۔

١٢۔ اگر کسی کا جوتا کسی نے لے لیا ہو اور وہ جان لے کہ اس کی جگہ پر چھوڑا گیا جوتا اُسی کا ہے جس نے اس کا جوتا لے لیا ہے، تو اس جوتے کو اپنے جوتے کی جگہ پراستعمال کرسکتاہے۔


سوالات:

١۔عاریہ کی وضاحت کریں اور بتائیں کے امانت اور عاریہ میں کیا فرق ہے؟

٢۔ اگر عاریہ پر لی ہو ئی چیز میں نقصان ہو جائے چاہے عاریہ لینے والے نے اس کی حفاظت میں کوتاہی بھی نہ کی ہو تو کس صورت میں عاریہ لینے والا ضامن ہے؟

٣۔ صدقہ واپس لینے کا کیا حکم ہے؟

٤۔ زلزلہ سے متاثر غیر مسلم کو صدقہ دینے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ اگر مدرسہ میںکوئی کتاب پڑی مل جائے تو وظیفہ کیا ہے؟


سبق نمبر ٤٢

کھانا اور پینا

خداوندکریم نے انسان کے اختیار میں حسین فطرت، تمام حیوانات، میوے اور مختلف سبزیاں وغیرہ قرار دی ہیں تاکہ وہ ان سے کھانے، پینے، پوشاک، رہائش اور اپنی دیگر تمام ضروریات میں استفادہ کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی خداوند متعال نے انسان کے جان کے تحفظ، جسم وروح کی سلامتی، نسل کی بقا اور دیگر لوگوں کے حقوق کے احترام کے لئے قوانین وضو ابط مقرر فرمائے ہیں کہ اس سبق میں کھانے پینے سے متعلق حسب ذیل چند کی وضاحت کرتے ہیں:

کھانے کی چیزوں کی اقسام :

١۔ نباتات :

میوے

سبزیاں

٣۔ حیوانات

چوپائے

پرندے

سمندری


پالتو

جنگلی

خوراک کے احکام(١)

نباتاتی غذائیں:

تمام میوے اور سبزیاں حلال ہیں، مگر یہ کہ ان میں سے کوئی چیزبدن کے لئے مضرہو۔

حیوانی عذائیں:

چوپائے:

پالتو:

١۔حلال گوشت:

بھیڑکی تمام قسمیںز

گائے **

اونٹ

٢۔ مکروہ:

گھوڑا

خچر

گدھا


٣۔ حرام گوشت :

کُتَّا

بلّی

باقی حیوانات

جنگلی:

ا۔حلال گوشت:

ہرن

گائے

جنگلی بکری

جنگلی گدھا

٢۔ حرام گوشت:

تمام درندے حیوانات جیسے: بھیڑیئے اور شیر حرام ہیں۔(١)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج١، ص،٦ ١٥ ،م٥

*بکری بھی ایک قسم کی بھیڑشمار ہوتی ہے.

٭٭بھینس بھی ایک قسم کی گائے ہے اور حلال گوشت ہے.


چند مسائل:

١۔ تمام درندے حیوانات، حرام گوشت ہیں، اگرچہ قدرت ودرندگی کے لحاظ سے لومڑی کی طرح کمزور ہوں۔

٢۔ خرگوش کا گوشت کھانا حرام ہے۔

٣۔ تمام قسم کے کیڑے حرام ہیں۔(١)

پرندے:

* درج ذیل پرندے حلال گوشت ہیں:

* کبوتروں کی تمام قسمیں (فاختہ بھی کبوتر کی ایک قسم ہے)

*چڑیوں کی تمام قسمیں (بلبل بھی ایک قسم کی چڑیاہے)

* مرغی اور مرغا

*درج ذیل پرندے حرام گوشت ہیں:

* چمگادڑ

* مور

* کوا (زاغ بھی ایک قسم کا کواہے)

* عقاب جیسے چنگل رکھنے والے تمام پرندے۔(٢)

چند مسائل:

١۔ہدہد*اور ابابیل کا گوشت کھانا مکروہ ہے(٣)

____________________

(١) تحریر الوسیلہ، ج ١،ص ١٥٧،م٦

(٢) تحریر الوسیلہ، ج١، ص ١٥٦، م٦

(٣)توضیح المسائل،م ٢٦٢٤

*(گلپائیگانی) احتیاط واجب ہے کہ ہد ہد کا گوشت کھانے سے اجتناب کیا جائے (مسئلہ ٣٣ ٢٦)


٢۔ حلال گوشت پرندوں کے انڈے حلال اور حرام گوشت پرندوں کے انڈے حرام ہیں۔(١)

٣۔ ٹڈی حلال گوشتپرندوں میں سے ہے۔(٢)

سمندری جانور

١۔سمندری جانوروں میں صرف فلسدار(چھلکے والی) مچھلی اور بعض پرندے حلال گوشت ہیں۔

٢۔ جھینگا، جو در اصل ایک سمندری ٹڈی ہے اور پرندوں میں شمار ہوتا ہے، حلال گوشت ہے.(٣)

چند مسائل:

١۔ مٹی کھاناحرام ہے(٤)

٢۔ بیماری سے شفاپانے کے لئے تھوڑی سی خاک شفاکھانا مشکل نہیں ہے۔(٥)

٣۔ نجس چیز کا کھانا اور پینا حرام۔(٦)

٤۔ جو چیز انسان کے لئے مضر ہواس کا کھانا حرام ہے،*مثلا ًایک بیمار کے لئے اگر چربی دار غذا کھانا مضر ہوتو اس کے لئے اس کا کھانا حرام ہے۔(٧)

٥۔ چوپائے حیوانات کے خصیے کھانا حرام ہے۔(٨)

٦۔ شراب اورہر مست کرنے والی سیّال چیز کا پینا حرام ہے۔(٩)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ،ج ٢، ص ٥٨ ١،م٢ ١ (٢) توضیح المسائل،م ٢٦٢٢(٣) تحریر الوسیلہ ج ٢،ص ١٥٥،م ١

(٤) تحریر الوسیلہ ج ٢،ص ١٦٤،م٧(٥) توضیح المسائل،م٢١٢٨(٦)توضیح المسائل، م ١٤١

(٧)توضیح المسائل،م ٢٦٣٠ (٨)توضیح المسائل،م٢٦٢٦(٩)توضیح المسائل،م ١١١ و ٢٦٣٢

* (خوئی) ایک ایسی چیز کا کھانا جو موت کا سبب ہو یا کلی طور پر انسان کے لئے مضر ہو حرام ہے .(مسئلہ ٢٦٣٩)


بھوک یا پیاس سے جان بہ لب مسلمان کو کھانا اور پانی دے کر موت سے نجات دلاناہر مسلمان پر واجب ہے(١)

کھانا کھانے کے آداب

مستحبات :

١۔کھانا کھانے سے پہلے اور اس کے بعدہاتھ دھونا ۔

٢۔کھانا کھانے کی ابتداء میں''بسم اللہ ''اور آخر پر ''الحمد للہ ''کہنا ۔

٣۔دائیں ہاتھ سے کھانا ۔

٤۔چھوٹے چھوٹے لقمے اٹھانا۔

٥۔ کھانے کو اچھی طرح چبانا ۔

٦۔پھلوں کو کھانے سے پہلے دھونا۔

٧۔ اگر چند لوگ دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو ہر ایک اپنے سامنے سے غذا اٹھاکے کھائے۔

٨۔ میزبان سب سے پہلے کھانا کھانا شروع کرے اور سب سے آخر میں کھانے سے ہاتھ کھینچے۔(٢)

مکروہات:

١۔ سیر ہونے کے باوجود کھاناکھانا۔

٢۔ پیٹ بھر کے کھانا (زیادہ کھانا)

٣۔ کھانا کھاتے وقت دوسروں کے چہرے پرنگاہ ڈالنا۔

____________________

(١)توضیح المسائل،م٢٦٣٥

(٢)توضیح المسائل، م ٢٦٣٦


٤۔ گرم کھانا کھانا۔

٥۔ کھاناکھاتے وقت اس پر پھونک مارنا۔

٦۔ روٹی کو چاقو سے ٹکڑے کرنا۔

٧۔کھانا کھانے کے برتن کے نیچے روٹی رکھنا۔

٨۔پھل کو پوری طرح کھانے سے پہلے پھینک دینا۔(١)

پانی پینے کے آداب

مستحبات:

١۔ دن کو کھڑے ہوکر پانی پینا۔

٢۔پانی پینے کی ابتداء میں'' بسم اﷲ''اور آخر پر ''الحمد ﷲ ''کہنا۔

٣۔پانی کو تین بارر ک رک کے پینا۔

٤۔ پانی پینے کے بعد امام حسین علیہ السلام اورآپ کے خاندان واصحاب پر درددبھیجنا اور آپ کے قاتلوںپر لعنت کرنا۔(٢)

مکروہات:

١۔ زیادہ پینا۔

٢۔ چربی دار غذا کے بعد پانی پینا۔

٣۔ بائیں ہاتھ سے پانی پینا۔

٤۔ رات کو کھڑے ہوکر پانی پینا۔

____________________

(١)توضیح المسائل،م ٢٦٣٧

(٢)توضیح المسائل ،م٢٦٣٨

(٢)توضیح المسائل ،م٢٦٣٩


درس: ٤٢ کاخلاصہ

١۔ پالتوں حیوانوں میں بھیڑ، گائے اور اونٹ کا گوشت حلال ہے اور گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت مکروہ ہے اور کتے، بلی اور دیگر تمام حرام گوشت حیوانوں کا گوشت حرام ہے ۔

٢۔ جنگلی حیوانوں میں ہرن، گائے، کوہستانی بکری اور جنگلی گدھے کا گوشت حلال ہے۔

٣۔ بھیڑیئے اور شیر جیسے تمام درندے حرام گوشت ہیں۔

٤۔خر گوش کا گوشت کھانا حرام ہے۔

٥۔ ہر قسم کے کیڑے حرام ہیں۔

٦۔ پرندوں میں کبوتر، چڑیوں کی تمام قسمیں اور مرغی ومرغے حلال گوشت ہیں۔

٧۔ چمگادڑ،مور، کوے اور چنگل دار پرندے حرام گوشت ہیں۔

٨۔ سمندری جانوروں میں صرف فلس دار مچھلی اور چند آبی پرندے حلال گوشت ہیں۔

٩۔ جھینگا حلال گوشت ہے۔

١٠۔ مٹی کھانا حرام ہے۔

١١۔ نجس غذا کھانا حرام ہے۔

١٢۔ جوچیز انسان کے لئے مضرہواس کا کھانا حرام ہے۔

١٣۔ بھوک یا پیاس کی وجہ سے جاں بلب مسلمان کو کھانا اور پانی دے کر موت سے نجات دلانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

١٤۔ کھانے اور پینے کے کچھ آداب ہیں ان کی رعایت کرنا بدن کی تندرستی اور اُخروی ثواب کا سبب بنتا ہے۔


سوالات :

١۔ پالتوچار پائوںمیں کون سے حیوانات حرام گوشت ہیں؟

٢۔ خرگوش کا گوشت کھانا کیسا ہے؟

٣۔ درج ذیل حیوانات حلال گوشت ہیں یا حرام گوشت؟

کوا، گدھا، سانپ،چیونٹی، گائے ، بلی،چوہا ،بھینس۔

٤۔ کبوتر، کوے اور چڑیا کے انڈے اور بھیڑکے خصیوں کا کیا حکم ہے؟

٥۔ سیگریٹ پینے کا کیا حکم ہے؟

٦۔ کھانا کھانے کے مستحبات اورمکروہات کے پانچ مورد بیان کیجئے؟


سبق نمبر ٤٣

نظر اور ازدواج کرن

نظر:

خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت بینائی ہے، انسان کو چاہئے کہ اس عظیم نعمت سے اپنے اور اپنے ہم جنسوں کی ترقی وکمال کی راہ میں استفادہ کرے اور نامحرموں پر نظر ڈالنے سے پرہیز کرے۔ نظام قدرت اور اس کی خوبصورتی کو دیکھنے میں اگر دوسروں کی حق تلفی نہ ہوتو کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن دوسروں پر نظر ڈالنے اور اپنے آپ کو نامحرموں کی نگاہ سے بچانے کے سلسلے میں کچھ خاص احکام ہیں کہ ان میں بعض کے بارے میں ہم اس سبق میں ذکر کریں گے۔

محرم ونامحرم:

محرم وہ ہے جس کے ساتھ ازدواج کرنا حرام ہے اور دوسروں پر نظر ڈالنے میں جوپابندیاںہیں وہ محرم کے بارے میں نہیں ہیں:

وہ افراد جو لڑکوں اور مردوں کے لئے محرم ہیں:

١۔ ماں، دادی اور نانی۔

٢۔بیٹی اور اولاد کی بیٹی۔

٣۔ بہن ۔

٤۔ بہن کی بیٹی۔

٥۔بھائی کی بیٹی۔

٦۔ پھوپھی( اپنی پھوپھی اور ماں اور باپ کی پھوپھیاں)


٧۔ خالہ (اپنی خالہ اور ماں اور باپ کی خالہ)۔(١)

مذکورہ افراد نسبی قرابت کی وجہ سے آپس میںمحرم ہیں اور ایک اور گروہ ازدواج کی وجہ سے لڑکوں اور مردوںپر محرم ہوتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:

١۔ ساس اور اس کی ماں ۔

٢۔بیوی کی بیٹی، اگرچہ دوسرے شوہر سے ہو۔

٣۔ باپ کی بیوی (سوتیلی ماں)

٤۔ بہو(بیٹے کی بیوی)(٢)

مذکورہ عورتوں کے علاوہ تمام عورتیں نامحرم ہیں، حتی بھائی کی بیوی اور بیوی کی بہن بھی نامحرم ہیں، اگرچہ بیوی کی بہن کے ساتھ اس وقت تک ازدواج کرنا حرام ہے جب تک اس کی بہن عقد میں ہو، یعنی دوبہنوں کے ساتھ دونوں کی زندگی میں ازدواج کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر پہلی بہن مرجائے یا اسے طلاق دیدی جائے تو دوسری بہن کے ساتھ ازدواج کرسکتا ہے۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٦٣۔ ٢٦٤

(٢)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٧٧، م١

(٣)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٨٠، م١٥


دوسروں پر نظر ڈالنا:

١۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے بدن کے تمام اعضاء کو دیکھ سکتے ہیں اگرچہ لذت کے لئے بھی ہو۔(١)

٢۔ میاں بیوی کے علاوہ ہر انسان کا دوسرے انسان پر لذت کی غرض سے نگاہ کرنا حرام ہے، خواہ یہ ہم جنس ہوں مرد کا مرد پر نگاہ یا غیر ہم جنس، جیسے مرد کا عورت پر نگاہ کرنا، اور خواہ محرم ہوں یا نامحرم۔ بدن کے ہر عضوپر اس طرح کی نگاہ کرنا حرام ہے۔(٢)

٣۔ عورت کے بدن پر مرد کی نظر *اگر لذت کی غرض سے نہ ہوتو اس کے حسب ذیل کچھ خاص احکام ہیں:

مرد کا عورت پر نگاہ کرنا

١۔محرم

١۔شرم گاہ ۔۔۔حرام

٢۔شرم گاہ کے علاوہ۔۔۔ جائز

٢۔نامحرم:

١۔ چہرہ اور ہاتھوں کوکلائی تک۔۔ جائز**

٢۔ بدن کے دیگر اعضائ۔۔ حرام۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٤٣، م ١٥۔١٩

(٢)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٤٣، م١٥۔١٩

(٣)تحریر الوسیلہ ج٢، ص ٢٤٣ م ١٥۔ ١٩۔۔ استفتائ۔ توضیح المسائل،م ٢٤٣٣

* جو احکام مردوں کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں لڑکے شامل ہیں اور جو احکام عورتوں کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

٭٭ (گلپائیگانی) چہرہ اور ہاتھوںپر نگاہ کرنا حرام ہے، (خوئی) احتیاط واجب ہے کہ چہرہ اور ہاتھوں پر بھی نگاہ نہ کی جائے۔(م٢٤٤٢)


ازدواج

جو بیوی کے نہ ہونے کی وجہ سے حرام کا مرتکب ہوجائے، مثلا ًنامحرم پر نگاہ کرے،تو اس پر از دواج کرنا واجب ہے۔(١)

شائستہ شریک حیات :

انسان کے لئے سزاوار ہے کہ شریک حیات کے انتخاب میں ا س کی صفات کا خیال رکھے اور صرف خوبصورتی اور مال پر اکتفانہ کرے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر مبارک کے مطابق ایک شائستہ شریک حیات کی بعض خصوصیات حسب ذیل میں:

*محبت والی ہو۔

* پاک دامن اور پارسا ہو۔

*اپنے خاندان میں عزیز ہو۔

* اپنے شوہر کے تئیں متواضع ہو۔

*صرف اپنے شوہر کے لئے زینت اور سجاوٹ کرے۔

* اپنے شوہر کی اطاعت کرے۔(٢)

ناشائستہ شریک حیات:

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روایات میں ناشائستہ شریک حیات کی بعض صفات حسب ذیل بیان ہوئی ہیں:

* اپنے خاندان میں ذلیل ہو۔

____________________

(١)توضیح المسائل،م ٢٤٤٣

(٢)تحریر الوسیلہ،ج ٢، ص ٢٣٧


* حاسد اور کینہ ورہو۔

*بے تقویٰ ہو۔

* دوسروں کے لئے سجاوٹ کرے۔

*اپنے شوہر کی فرماں بردار نہ ہو۔(١)

عقدازدواج:

١۔ ازدواج میں ایک خاص صیغہ پڑھنا ضروری ہے اور صرف لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی کافی نہیں ہے. اس لحاظ سے صیغۂ ازدواج پڑھے جانے تک صرف منگنی محرم ہونے کا سبب نہیں بن سکتا اور صیغۂ ازدواج پڑھنے تک نامحرم ہونے میں تمام عورتوں کے ساتھ کوئی فرق نہیں ہے۔(٢)

٢۔ اگر عقدازدواج میں ایک حرف اس طرح غلط پڑھاجائے کہ اس کا معنی بدل جائے تو عقد باطل ہے۔(٣)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج٢، ص ٢٣٧.

(٢)توضیح المسائل،م ٢٦٦٣

(٣)توضج المسائل، م٢٣٧١


سبق ٤٣ کا خلاصہ

١۔ مندرجہ ذیل افراد رشتے کی وجہ سے مرد کے لئے محرم ہیں:

ماں، بیٹی، بہن، بہن کی بیٹی ، بھائی کی بیٹی، پھوپھی اور خالہ۔

٢۔ مندرجہ ذیل افراد ازدواج کی وجہ سے مرد پر محرم ہوتے ہیں:

بیوی، ساس، بیوی کی بیٹی، باپ کی بیوی، بہو۔

٣۔ بیوی کی بہن نامحرم ہے، اگرچہ جب تک اس کی بہن عقد میں ہے اس وقت تک اس کے ساتھ ازدواج کرنا جائز نہیں ہے ۔

٤۔میاں بیوی کے علاوہ ہر انسان کاایک دوسرے انسان کے بدن کے کسی بھی عضوپر لذت کی غرض سے نگاہ کرناحرام ہے۔

٥۔ مرد، محرم عورتوں کی شرم گاہ کے علاوہ ان کے بدن کے کسی بھی عضوپر بدون قصد لذت نگاہ کرسکتاہے۔

٦۔ مرد، نامحر م عورتوں کے چہرہ اور ہاتھوں پر بدون لذت نگاہ کرسکتا ہے۔

٧۔نامحرم عورت کے تمام اعضاء پر نگاہ کرنا حرام ہے۔

٨۔اگر انسان ازدواج نہ کرنے کے سبب گناہ کا مرتکب ہورہا ہو تو اس پر ازدواج کرنا واجب ہے۔

٩۔ ازدواج میں ایک خاص صیغہ پڑھنا ضروری ہے صرف دوطرفہ رضا مندی کافی نہیںہے۔


سوالات:

١۔ ازدواج کے ذریعہ کون سے لوگ ایک دوسرے کے محرم ہوجاتے ہیں؟

٢۔ کون کو ن سی عورتیں مردوں کے لئے محرم ہیں؟

٣۔ پھوپھی اور خالہ کے بال دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

٤۔ چچی ،ممانی کے بدن پر نگاہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

٥۔ کیا ازدواج کرنا واجب؟


سبق نمبر ٤٤

مسجد، قرآن مجید اور سلام کرنے کے احکام

مسجد کے احکام:

مسجد کے سلسلے میں،درج ذیل امور حرام ہیں:

* مسجد کو سونے سے سجانا۔*

* مسجد کو بیچنا، اگرچہ خراب ہی کیوں نہ ہو۔

* مسجد کو نجس کرنااور اگر مسجد نجس ہوجائے اسے فوراً پاک کرنا چاہئے۔

* مسجد سے مٹی اور ریت اٹھالے جانا، مگریہ کہ اضافی ہو۔

*مسجد کے سلسلے میں درج ذیل امور مستحب ہیں:

*سب سے پہلے مسجدجانا اور آخر میں مسجد سے باہر آنا۔

*مسجد کے چراغ روشن کرنا۔

*مسجد کی صفائی کرنا۔

____________________

*.۔(گلپائیگانی) احتیاط واجب ہے کہ سجاوٹ نہ کرے (خوئی) احتیاط مستحب ہے(حاشیہ عروة الوثقی)


*مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دائیں پائوں کو مسجد میں رکھنا۔

* مسجد سے باہر آتے وقت پہلے، بائیں پائوں کو مسجد سے باہر رکھنا۔

*تحیت مسجد کی دورکعت مستجی نماز پڑھنا۔

*خوشبو لگانا اور مسجد میں جاتے وقت بہترین لباس پہننا۔

(*)مسجد کے سلسلے میں درج ذیل امور مکروہ ہیں:

* مینار کو چھت سے بلند تر بنانا۔

* نماز پڑھے بغیر مسجد کو محل عبور قرار دینا۔

*لعاب دہن اور ناک چھڑکنا۔

* اضطرار کے بغیر مسجد میں سونا.

* اذان کے علاوہ کسی اور وجہ سے مسجد میں آواز یا فریاد بلند کرنا۔

* مسجد میں خرید وفروخت کرنا۔

* دنیوی امور پر باتیں کرنا۔

*لہسن یاپیاز کھاکر مسجد میں جاناکہ اس کی دہن کی بدبو لوگوں کی اذیت کا باعث ہو۔(١)

قرآن مجید کے احکام

١۔ قرآن مجید ہمیشہ پاک وصاف ہونا چاہئے۔ قرآن مجید کے اوراق اور اسکی تحریر کو نجس کرنا حرام ہے اور اگر نجس ہوجائے تو اسے فوراً پانی سے دھولینا چاہئے۔(٢)

____________________

(١) العروة الوثقیِ، ج١، ص ٤٥٥ و٤٥٦

(٢) توضیح المسائل، م ١٣٥


٢۔ اگر قرآن مجیدکی جلد کا نجس ہونا قرآن کی بے احترامی کا سبب بنے تو اسے پانی سے دھونا چاہئے۔(١)

قرآن مجید کی تحریر کو چھونا:

١۔ بے وضو انسان کے بدن کے کسی حصے کو قرآن مجید کی تحریر سے مس کرنا حرام ہے۔(٢)

٢۔ درج ذیل موارد میں وضو کے بغیر قرآن مجید کی تحریر کو مس کرنا حرام ہے:

* قرآن مجید کی تحریر میں آیات وکلمات بلکہ حروف حتیّٰ ان کی حرکات میں کوئی فرق نہیں ہے، یعنی یہ سب تحریر میں شمار ہوتے ہیں.

* جس چیز پر قرآن مجید لکھا گیا ہو، جیسے کاغذ، زمین ، دیوار، کپڑا وغیرہ، میں کوئی فرق نہیں ہے۔

* قرآن مجید کی تحریر میں فرق نہیں ہے کہ یہ قلم سے یا چھپائی، چاک یاکسی اور چیزسے لکھی گئی ہو۔(٣)

* قرآن مجید کی تحریر اگر قرآن مجید کے علاوہ کسی اور جگہ پر بھی لکھی گئی ہو، اس کووضو کے بغیر چھونا حرام ہے، بلکہ اس کا ایک کلمہ کسی کاغذ پر ہو یا نصف کلمہ قرآن مجید کے ورق یا کسی کتاب سے جدا ہوا ہو، پھر بھی وضو کے بغیر اسے چھونا حرام ہے.

٣۔ درج ذیل صورت میں چھونا، قرآن مجید کو چھونے میں شمار نہیں ہوتا ہے:

* شیشہ یا پلاسٹک کے اوپر سے چھونا۔

*قرآن مجید کے اوراق، جلد اور تحریر کے اطراف کو چھونا۔(اگر چہ مکروہ ہے)

* قرآن مجید کے ترجمہ کو چھونا جس زبان میں بھی ہو، لیکن خدا کے نام کو جس زبان میں بھی

____________________

(١) توضیح المسائل، م ١٣٦

(٢) توضیح المسائل، م ٣١٧

(٣) العروة الوثقی ج ١، ص ١٩٠۔ ١٩١


ہو،حرام ہے، جیسے ''خدا'' ۔(١)

٤۔ وہ کلمات جو قرآن اور غیر قرآن میں مشترک ہیں،جیسے ''مؤمن''''الذین''کو اگر لکھنے والے نے قرآن کے قصد سے لکھا ہوتو بغیر وضو چھونا حرام ہے۔(٢)

٥۔ جنابت کی حالت میں قرآن کی تحریر کو چھونا حرام ہے۔

٦۔ جنابت کی حالت میںقرآن مجید کے اُن سوروں کو نہیں پڑھنا چاہئے جن میں سجدے کی آیات ہیں(اس مسئلہ کی تفصیل سبق ١٠ میں بیان ہوئی ہے)(٣)

٧۔ انسان مجنب کے لئے قرآن مجید کے سلسلے میں درج ذیل کام مکروہ ہیں:

*ان سوروں میں سے سات آیات سے زیادہ تلاوت کرنا جن میں آیہ سجدہ نہ ہو۔

*اپنے بدن کے کسی حصہ سے قرآن مجید کے جلد، حاشیہ اور خطوط کے درمیانی جگہوں کو چھونا۔

قرآن مجید کو اپنے ساتھ رکھنا۔

٨۔ قرآن مجید کو اپنے ساتھ رکھنے، پڑھنے ،لکھنے اور اس کے حاشیہ کو لمس کرنے کے لئے وضو کرنا مستحب ہے۔(٤)

سلام کرنے کے احکام

١۔ دوسروں کو سلام کرنا مستحب ہے، لیکن اس کا جواب دینا واجب ہے۔(٥)

٢۔ حالت نماز میں کسی کو سلام کرنا مکروہ ہے۔(٦)

____________________

(١) العروة الوثقی ج ١، ص ١٨٩۔ ١٩٠

(٢) العروة الوثقی ج ١، ص ١٩٠

(٣)توضیح المسائل،م ٣٥٥.

(٤)توضیح المسائل،م ٣٢٢.

(٥)العروة الوثقی، ج١، ص٧١٥،م٣٠

(٦) العروة الوثقی،ج١، ص١٥ ٧،م٢٩


٣۔ اگر کوئی نماز گزار کو سلام کرے، تو اسے جواب دینا چاہئے،لیکن جواب میں''سلام''کو مقدم قرار دینا چاہئے، مثلا کہے: سلام علیک یا سلام علیکم۔(١) *

٤۔ نماز کی حالت میں کسی کو سلام کرنا جائز نہیں ہے۔(٢)

٥۔ سلام کا جواب فورا ًدینا چاہئے،اگر اس میں تأخیرکرے تو گناہ کا مرتکب ہوجائے گا۔(٣)

٦۔ اگر دو آدمی ایک ساتھ ایک دوسرے کو سلام کریںتو ہر ایک پر واجب ہے جواب سلام دیدے۔(٤)

٧۔ کافرکو سلام کرنا مکروہ ہے۔ اگراس نے مسلمان کو سلام کیا تو احتیاط واجب ہے کہ اس کے جواب میں کہے'' علیک''یاصرف کہے:'' سلام''٧(٥)

سلام کے آداب:

١۔مستحب ہے:

*سوار پیادہ کو سلام کرے۔

*کھڑا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔

* چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔

____________________

(١) العروة الوثقی،ج١، ص١١ ٧،م١٧

(٢) العروة الوثقی،ج١، ص١٥ ٧،م١٥

(٣) العروة الوثقی،ج١، ص٥٥٧،م٢٥

(٤) العروة الوثقی،ج١، ص١٦ ٧،م٣٦.

(٥) العروة الوثقی،ج١، ص٥١٦ ،م٣٣

*(تمام مراجع) جس طرح سلام کرے اسی طرح جواب دیا جائے یعنی اگر کہے:'' سلام علیک'' تو وہ بھی جواب میں کہے ''سلام علیک'' (حاشیہ عروة الوثقیٰ)


* چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔(١)

٢۔ مستحب ہے نمازکی حالت کے علاوہ سلام کا بہتر جواب دیا جائے لہٰذا اگر کوئی کہے:'' سلام علیکم''مستحب ہے جواب میں کہاجائے: ''سلام علیکم ورحمة اللہ''(٢)

٣۔ مرد کا عورت کو سلام کرنا مکروہ ہے خاص کرجوان عورت کو۔(٣)

____________________

(١) العروة الوثقی،ج١، ص١٦ ٧،م٣٣

(٢) العروة الوثقی،ج٢، ص٨٠٤،م٤١

(٣) العروة الوثقی،ج١، ص١٧ ٧،م٣٨


درس: ٤٤ کاخلاصہ

١۔ مسجد کوبیچنا اور سونے سے اس کی سجاوٹ کرنا حرام ہے۔

٢۔ مسجد کو نجس کرنا حرام ہے اوراس کی تطہیر کرنا واجب ہے۔

٣۔ مسجد سے مٹی اور ریت لے جاناجائزنہیں ہے مگریہ کہ اضافی ہوں۔

٤۔ قرآن مجید کی لکھائی اوراوراق کو نجس کرناحرام ہے اور اسے پانی سے دھونا واجب ہے۔

٥۔بے وضوانسان کے لئے اپنے بدن کے کسی حصے کو قرآن مجید کی لکھائی سے مس کرناحرام ہے۔

٦۔ قرآن مجید کی لکھائی کے درج ذیل موارد میں کوئی فرق نہیں ہے:

* قرآن میں ہو یا غیر قرآن میں ۔

* پوری آیت ہویا ایک کلمہ حتی ایک حرف۔

* قلم سے لکھا گیا ہو یا کسی اور چیزسے۔

٧۔شیشہ یالاستیک کے اوپرسے قرآن کو لمس کرنے میں حرج نہیں ہے۔

٨۔ قرآن مجید کے ترجمہ کو بجز ترجمہ اللہ لمس کرنا حرج نہیں ہے۔

٩۔ دوسروں کو سلام کرنا مستحب ہے لیکن جواب دینا واجب ہے۔

١٠۔ نماز گزار اور سلام: * نماز کی حالت میں کسی کو سلام نہیں کرنا چاہئے۔

* اگر نماز گزار کو کوئی سلام کرے تو اس کا جواب واجب ہے لیکن جواب میں لفظ'' سلام''کو مقدم قرار دینا چاہئے۔

* نماز گزار کو نماز کی حالت میں سلام کرنا مکروہ ہے۔

١١ ۔اگر کسی نے سلام کیا تو فوراً اس کا جواب دینا چاہئے۔

١٢۔کافر کو سلام کرنا مکروہ ہے۔


سوالات:

١۔ گھر میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد سے سجدہ گاہ اٹھالے جانے کا کیا حکم ہے؟

٢۔ مسجد کی صفائی کے سلسلے میں کون سے امور واجب، مستحب اور مکروہ ہیں؟

٣۔ مسجد میں سونا اور مسجد سے عبور کرنے کا کیا حکم ہے؟

٤۔قرآن مجید کی آیات کو بدن پر لکھنے(گودنے)کا کیا حکم ہے؟

٥۔قبر کے پتھر پر لکھی ہوئی قرآنی آیات وضو کے بغیر مس کرنے کا کیا حکم ہے؟

٦۔قرآن مجید کے سلسلے میں کون سے امور حرام ہیں؟

٧۔نماز کی حالت میں سلام کے جواب کا کیا حکم ہے؟

٨۔کیا آپ جانتے ہیںکہ نماز کی حالت میںدوسروں کو کیوں سلام نہیں کرنا چاہئے لیکن دوسروں کے سلام کا جواب دینا چاہئے؟


سبق نمبر ٤٥

غصب، قسم، جھوٹ، غیبت

غصب کی تعریف:*

غصب سے مراد یہ ہے کہ انسان، ناحق اور ظلم وستم کے ذریعہ دوسروں کے اموال یا حقوق پر قابض ہو جائے.

غصب گناہان کبیرہ میں سے ہے اور اس کامرتکب شخص قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔

غصب کی قسمیں:

اموا ل :

شخصی:

جیسے دوسروں کا قلم یا کاپی اٹھالینا یا کسی کے گھر کے شیشے توڑنا۔

عمومی:

جیسے کسی مدرسہ کے اشیاء کو نابود کرنا، گلیوں کے بلب توڑنا یا خمس وزکات ادانہ کرنا۔

حقوق:

شخصی:

جیسے، مدرسہ میں دوسروں کی کرسی پر بیٹھنا یا مسجد میں ایسی جگہ پر نماز پڑھنا جسے کسی اور نے اپنے لئے معین کی ہو ۔

عمومی:

مسجد، یا پل ، سڑک یا پکڈنڈی کے استعمال میں رکاوٹ پیدا کرنا۔(١)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ،ج٢، ص١٧٣،م

* جو مسائل تحریر الوسیلہ اور استفتاآت سے لئے گئے ہیں حضرت امام خمینیکے فتوی کے مطابق ہیں۔


غصب کے احکام:

١۔ غصب کی تمام قسمیں حرام ہیں اور گناہان کبیرہ میں شمار ہوتی ہیں۔(١)

٢۔ اگر انسان نے کوئی چیز غصب کی ہو، تو علاوہ اس کے کہ اس نے فعل حرام انجام دیا ہے اسے وہ چیز مالک کو واپس کرنی چاہئے اور اگر وہ چیز نابود ہوگئی ہو تو اس کا بدلہ مالک کو دینا چاہئے۔(٢)

٣۔ اگر غصب کی گئی چیز کو خراب کردے تو اس کی مرمت کی قیمت کے ساتھ، اصل چیزمالک کو واپس کرنا چاہئے اور اگر مرمت کے بعد اس چیز کی قیمت گھٹ جائے تو قیمت کا تفاوت بھی ادا کرنا چاہئے۔(٣)

٤۔ اگر غصبی چیز میں ایسی تبدیلی کر دی جائے کہ اس کی قیمت پہلے سے بڑھ جائے جیسے سائیکل کی تعمیر کی گئی ہو اگر مال کا مالک اسی صورت میں اسے واپس کرنے کو کہے تو اسے اسی صورت میں واپس کرنا چاہئے، اور وہ اس کی تعمیر کی اجرت کا تقاضا نہیں کرسکتا ہے اور یہ بھی حق نہیں رکھتا کہ اسے بدل کر مثل سابق بنادے۔(٤)

قسم کھانا

١۔ اگر کوئی شخص خدا کے ناموں میں سے ایک جیسے''خدا'' یا ''اللہ'' کی قسم کھائے کہ کسی کام کو انجام دے گا یا کسی کام کو ترک کرے گا، مثلاً قسم کھائے روزہ رکھے یا سگریٹ پینا ترک کردے گا، تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔(٥)

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ج٢ص ١٧٣م،١.

(٢)تحریر الوسیلہ ج٢ص ١٧٣،م٣

(٣)توضیح المسائل،م ٢٥٥٣

(٤)توضیح المسائل،م ٢٥٥٤

(٥)توضیح المسائل، م٢٦٧٠و٢٦٧١


٢۔ اگر کوئی کھائی گئی قسم پر عمداً عمل نہ کرے، اس کے لئے کفارہ دینا چاہئے اور اس کا کفارہ درج ذیل چیزوں میں سے ایک ہے:

* ایک غلام کو آزاد کرنا۔

* دس فقیروں کو پیٹ بھرکے کھانا کھلانا۔

* دس فقیروں کولباس پہنانا۔

اگر ان میں سے کوئی بھی چیز انجام نہ دے سکے تو تین دن روزہ رکھے۔(١) *

٣۔ قسم کھانے والے کی بات اگر صحیح ہوتو،قسم کھانا مکروہ ہے اوراگر جھوٹ ہو تو حرام ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔(٢)

جھوٹ بولنا

١۔جھوٹ بولنا حرام اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔(٣)

٢۔ اگر کوئی مسئلہ انتہائی اہم ہو، جیسے کسی کا قتل ہونا یا خاندان کے نظام کا درہم برہم ہونا تو اس

صورت میں ان چیزوں کو روکنے کے لئے جھوٹ بولنے میں اشکال نہیں ہے۔(٤)

غیبت

غیبت کی تعریف:

اگر کسی شخص میں کوئی نامناسب صفت پائی جاتی ہو،یا کوئی برا کام انجام دیا ہو اور دوسرے لوگ اس

____________________

(١)توضیح المسائل، م٢٦٧٠و٢٦٧١

(٢)توضیح المسائل، م،٢٦٧٥

(٣)استقاآت،ج ٢، ص ٦١٦،س٤

(٤)استفتاآت ج٢،ص٦١٦،س١

* گلپائیگانی :تین دن تک مسلسل روزے رکھنا چاہئے.


سے بے خبرہوں اور یہ شخص راضی نہ ہوکہ کوئی اس سے آگاہ ہوجائے، تو اس کو اس کی عدم موجود گی میں دوسروں کے سامنے بیان کرنا غیبت ہے۔(١)

غیبت کے احکام :

غیبت ، کرنے اور سننے والے دونوں کے لئے حرام ہے۔(٢)

٢۔ اگر کسی نے کسی شخص کی غیبت کی ہوتو اسے اپنے گناہوں کی توبہ کرناچاہئے اور ضروری نہیںہے اسے کہے۔(٣)

٣۔اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا لیکن اپنے گناہ کو آشکار نہیں کرتاہے تو اس کی غیبت کرنا جائز نہیں ہے، (اگرچہ اسے امربالمعروف کرنا چاہئے)(٤)

داڑھی منڈوانا

١۔ بلیڈ یا مشین سے داڑھی منڈوانا، احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے۔(٥)

سوال: کیا ایک جوان جس کی عمر ١٨ یا ١٩ سال ہو داڑھی اُگنے یابہتر داڑھی اُگنے کے لئے دو تین بار داڑھی منڈوا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: احتیاط واجب کی بناپر داڑھی کو نہیں منڈوانا چاہئے لیکن جب تک داڑھی نہ نکلنے، چہرہ پر بلیڈ چلانا ممنوع نہیں ہے۔(٦)

____________________

(١) استفاآت، ج ٢،ص ٦١٨س٩.

(٢) استفاآت، ج٢ص ٦١٨،س٩.

(٣) استفاآت، ج٢ص ٦٢٠،س١٥،١٦

(٤) استفاآت، ج٢ص ٦٢٠، س١٨

(٥) استفاآت، ج٢ص ٣٠،س٧٩

(٦) استفاآت، ج٢ص ٣٠،س٨٠


سبق ٤٥ کا خلاصہ

١۔ غصب گناہان کبیرہ میں شمار ہوتا ہے اور اس کا مرتکب قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔

٢۔ شخصی اور عمومی اموال وحقوق کو غصب کرنا حرام ہے۔

٣۔ جس نے کوئی چیز غصب کی ہو، اسے مالک کو واپس کرنا چاہئے۔

٤۔ اگر غصب کی گئی چیز کو خراب کرے تو اس سے دوبارہ مرمت کرنے کی اجرت کے ساتھ مالک کو واپس کرنا چاہئے۔

٥۔ اگر کوئی شخص کسی کام کو انجام دینے یا ترک کرنے کے لئے خدا کے ناموں میں سے کسی ایک نام کے ساتھ قسم کھائے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔

٦۔ اگر قسم کھانے والا اپنی قسم پر عمل نہ کرے ، تو اسے ایک غلام آزاد کرنا یا دس فقیروں کو کھانا کھلانا یا ان کو لباس پہنانا چاہئے اور اگر ان میں سے کسی ایک کو انجام دینے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو تین دن روزہ رکھے۔

٧۔ سچی قسم کھانا مکروہ ہے اور جھوٹی قسم کھانا حرام ہے۔

٨۔ جھوٹ بولنا حرام اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔

٩۔غیبت کرنا کہنے اور سننے والے دونوں کے لئے گناہ ہے۔

١٠۔ گناہگار اگر گناہ کو آشکار انجام نہ دیتا ہوتو اس کی غیبت کرنا جائز نہیںہے۔

١١۔ احتیاط واجب کی بناپر داڑھی منڈوانا حرام ہے۔


سوالات:

١۔ غصب کی وضاحت کرکے حقوق کے غصب کی دومثالیں بیان کیجئے۔

٢۔جزئی کام کے لئے کسی کی کوئی چیز اٹھانے، جیسے کسی کا قلم ایک ٹیلفون نمبر لکھنے کے لئے اٹھانے کا کیا حکم ہے؟

٣۔ چاک اور مدرسہ کے تختہ سیاہ کو خطاطی کی مشق کے لئے استعمال کرنا غصب کی کونسی قسم ہے؟

٤۔ غیبت کی تعریف کیجئے۔

٥۔ کیا کسی کے امتحانات کے نمبر کسی اور کو بتانا غیبت شمارہوتا ہے؟

٦۔غیبت کرنے والے کی ذمہ داری کیا ہے؟

٧۔ کیا ایک جوان کے چہرے پر تھوڑی سی داڑھی نکلی ہوتو شرم کی وجہ سے اسے منڈواسکتا ہے یا نہیں ؟

تمت بالخیر


فہرست

حرف اول ۴

مقدمہ ۶

چند نکات کی یاد دہانی: ۱۱

سبق نمبر١ ۱۴

اسلام میں احکام کا مقام ۱۴

پہلا حصہ : ۱۴

دوسرا حصہ: ۱۴

احکام کی قسمیں: ۱۵

تقلید ۱۶

شرائط مرجع تقلید کی وضاحت: ۱۶

سبق نمبرایک کا خلاصہ ۱۹

سوالات: ۲۰

سبق نمبر٢ ۲۱

اجتہاد وتقلید ۲۱

١۔ مجتہد اوراعلم کو پہچاننے کے طریقے: ۲۱

٢۔ مجتہد کے فتویٰ کو حاصل کرنے کے طریقے: ۲۱

مکلف کون ہے؟ ۲۳

سنّ بلوغ: ۲۳

احتیاط واجب اور احتیاط مستحب میں فرق: ۲۳


سبق نمبر ٢ کاخلاصہ ۲۴

سوالات : ۲۵

سبق نمبر٣ ۲۶

طہارت ۲۶

مقدمات نماز ۲۶

١۔ مردار کے احکام: ٭٭٭ ۲۸

مردارحیوان: ۲۹

خون کے احکام: ۳۰

سبق ٣ کا خلاصہ ۳۱

سوالات: ۳۲

سبق نمبر٤ ۳۳

پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟ ۳۳

چند مسئلے: ۳۴

مطہرات (پاک کرنے والی چیزیں) ۳۴

مضاف پانی: ۳۵

مطلق پانی: ۳۵

مضاف پانی کے احکام: ۳۵

مطلق پانی کی قسمیں: ۳۵

کرکی مقدار(١) ۳۶

آب قلیل کی مقدار: ۳۷


سبق:٤ کا خلاصہ ۳۷

سوالات: ۳۸

سبق نمبر٥ ۳۹

پانی کے احکام ۳۹

آب قلیل: ۳۹

کر، جاری اور کنویں کا پانی : ۳۹

بارش کے پانی کی بعض حضوصیات: ۴۰

(٢)پانی میں شک کے احکام: ۴۰

پانی سے نجس چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ: ۴۱

وضاحت: ۴۲

مسئلہ: ۴۲

سبق ٥ کا خلاصہ ۴۳

سوالات: ۴۴

سبق نمبر ٦ ۴۵

نجس زمین کو پاک کرنے کا طریقہ ۴۵

زمین: ۴۶

آفتاب : ۴۶

*زمین ۴۶

آفتاب کے مطہر ہونے کی شرائط: ۴۶

اسلام : ۴۷


عین نجاست کا برطرف ہونا: ۴۸

سبق: ٦ کا خلاصہ ۴۹

سوالات: ۵۰

سبق نمبر٧ ۵۱

وضو ۵۱

وضو کا طریقہ: ۵۱

١۔دھونا: ۵۲

٢۔مسح : ۵۲

اعمال وضوکی وضاحت: ۵۲

دھونا: ۵۲

سرکا مسح: ۵۳

پا ؤں کا مسح: ۵۳

سراور پاؤں کے مسح کے مشترک مسائل: ۵۴

سبق:٧ کا خلاصہ ۵۵

سوالات: ۵۶

سبق نمبر٨ ۵۷

وضو کے شرائط ۵۷

وضوکے شرائط: ۵۷

٢۔ اعضائے وضو کے شرائط: ۵۷

٣۔ کیفیت وضوکے شرائط : ۵۷


٤۔وضو کرنے والے کے شرائط : ۵۷

وضو کے پانی اور اس کے برتن کے شرائط ۵۸

اعضائے وضو کے شرائط ۵۸

(٥)کیفیت وضو کے شرائط ۵۹

موالات ۶۰

دوسروں سے مدد حاصل نہ کرنا ۶۰

وضو کرنے والے کے شرائط ۶۰

سبق: ٨ کا خلاصہ ۶۲

سوالات: ۶۳

سبق نمبر٩ ۶۴

وضوء جبیرہ ۶۴

وضوء جبیرہ انجام دینے کا طریقہ: ۶۵

چندمسائل: ۶۵

جن چیزوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے ۶۶

چند مسائل: ۶۶

وضو کیسے باطل ہوتا ہے؟ ۶۷

سبق ٩ کا خلاصہ ۶۸

سوالات: ۶۹

سبق نمبر١٠ ۷۰

غسل ۷۰


واجب غسلوں کی قسمیں: ۷۰

عورتوں سے مخصوص ۷۰

غسل جنابت: ۷۰

جنابت کے اسباب: ۷۰

وہ کام جو مجنب پر حرام ہیں:(٢) ۷۲

چند مسائل: ۷۳

سبق ١٠ کا خلاصہ: ۷۴

سوالات: ۷۵

سبق نمبر١١ ۷۶

غسل کرنے کا طریقہ ۷۶

وضاحت: ۷۷

غسل صحیح ہونے کے شرائط: ۷۷

غسل مس میت : ۷۸

غسل میت: ۷۹

عورتوں کے مخصوص غسل:(حیض،نفاس و استحاضہ): ۸۰

سبق ١١ کا خلاصہ ۸۱

سوالات: ۸۲

سبق نمبر ١٢ ۸۳

تیمم ۸۳

تیمم کیسے کیا جائے؟ ۸۳


تیمم کے اعمال: ۸۳

وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا جائز ہے۔ ۸۴

کچھ مسائل: ۸۴

تیمم کے صحیح ہونے کے شرائط: ۸۵

سبق :١٢ کا خلاصہ ۸۶

سوالات: ۸۷

سبق نمبر ١٣ ۸۸

نماز کا وقت ۸۸

اقسام نماز ۸۸

١۔واجب: ۸۸

الف۔ہر روز پڑھی جانی والی (یومیہ): ۸۸

ب۔وقتی ۸۹

وضاحت: ۹۰

یومیہ نمازوں کا وقت ۹۰

فجر کی اذان کا وقت: ۹۰

ظہر: ۹۰

مغرب: ۹۰

نصف شب: ۹۰

وقت نماز کے احکام: ۹۱

سبق:١٣ کا خلاصہ ۹۲


سوالات: ۹۳

سبق نمبر١٤ ۹۴

قبلہ اور لباس ۹۴

قبلہ ۹۴

نماز میں بدن کو ڈھانپنا: ۹۵

نماز گزار کے لباس کی مقدار: (چھپانے کی حد) ۹۵

وہ مواقع،جن میں نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے: ۹۶

وہ مواقع جن میں نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل نہیں ہے: ۹۷

چند مسائل: ۹۷

سبق :١٤ کا خلاصہ ۹۹

سوالات: ۱۰۰

سبق نمبر ١٥ ۱۰۱

نماز گزار کی جگہ،اذان و اقامت ۱۰۱

نماز گزار کی جگہ کے شرائط: ۱۰۱

نماز گزار کی جگہ کے احکام: ۱۰۲

نماز کے لئے تیاری: ۱۰۳

اذان و اقامت: ۱۰۳

اذان: ۱۰۳

اقامت: ۱۰۴

اذان و اقامت کے احکام: ۱۰۴


سبق:١٥ کا خلاصہ ۱۰۶

سوالات: ۱۰۷

سبق نمبر ١٦ ۱۰۸

واحبات نماز: ۱۰۸

واجبات نماز(١) ۱۰۸

رکن: ۱۰۸

غیر رکن: ۱۰۸

رکن وغیر رکن میں فرق: ۱۰۹

واجبات نماز کے احکام: ۱۰۹

نیت: ۱۰۹

تکبیرة الاحرام کے واجبات: ۱۱۰

احکام قیام: ۱۱۱

درس:١٦ کا خلاصہ ۱۱۳

سوالات: ۱۱۴

سبق نمبر١٧ ۱۱۵

واجبات نماز ۱۱۵

قرأت ۱۱۵

سورۂ حمد: ۱۱۵

تسبیحات اربعہ: ۱۱۵

قرأت کے احکام: ۱۱۶


قرأت کے بعض مستحبات : ۱۱۸

ذکر: ۱۱۹

سبق ١٧ کا خلاصہ ۱۱۹

سوالات: ۱۲۰

سبق نمبر١٨ ۱۲۱

واجبات نماز ۱۲۱

رکوع ۱۲۱

واجبات رکوع ۱۲۱

ذکر رکوع: ۱۲۲

رکوع میں بدن کا سکون میں ہونا۔ ۱۲۲

رکوع کے بعد بلند ہونا او رآرام پانا ۱۲۲

رکوع کے بعض مستحبات: ۱۲۳

سجود: ۱۲۳

واجبات سجدہ: ۱۲۴

سبق: ١٨ کا خلاصہ ۱۲۵

سوالات : ۱۲۶

سبق نمبر ١٩ ۱۲۷

واجبات سجدہ ۱۲۷

ذکر: ۱۲۷

قرار: ۱۲۷


سجدہ سے سرکو اٹھانا: ۱۲۸

سات عضوکا زمین پر ہونا: ۱۲۸

سجدہ کی جگہ کا ہموار ہونا: ۱۲۸

پیشانی کو ایسی چیزپر رکھنا جس پر سجدہ جائز ہے: ۱۲۹

سجدہ کے احکام: ۱۲۹

معمول کے مطابق سجدہ انجام دینے میں معذور شخص کا فریضہ: ۱۳۰

بعض مستحبات سجدہ: ۱۳۱

سبق:١٩کا خلاصہ ۱۳۲

سوالات: ۱۳۳

سبق نمبر٢٠ ۱۳۴

واجبات نماز کے احکام ۱۳۴

قرآن مجید کا واجب سجدہ: ۱۳۴

تشہد: ۱۳۵

سلام ۱۳۶

ترتیب: ۱۳۶

موالات: ۱۳۶

قنوت: ۱۳۷

تعقیب نماز: ۱۳۷

سبق: ٢٠ کا خلاصہ ۱۳۸

سوالات: ۱۳۹


سبق نمبر٢١ ۱۴۰

مبطلات نماز ۱۴۰

مبطلات نماز کے احکام: ۱۴۱

بات کرنا: ۱۴۱

ہنسنا اور رونا : ۱۴۲

قبلہ کی طرف سے رخ موڑنا: ۱۴۲

نماز کی حالت کو توڑنا: ۱۴۲

وہ چیزیں جو نماز میں مکروہ ہیں: ۱۴۳

سبق ٢١: کا خلاصہ ۱۴۴

سوالات: ۱۴۵

سبق نمبر ٢٢ ۱۴۶

اذان، اقامت اور نماز کا ترجمہ ۱۴۶

اذان واقامت کا ترجمہ: ۱۴۶

نماز کا ترجمہ: ۱۴۷

تکبیرة الاحرام: ۱۴۷

حمد: ۱۴۷

سورہ: ۱۴۸

ذکر رکوع: ۱۴۸

ذکر سجود: ۱۴۸

تسبیحات اربعہ: ۱۴۸


تشہد: ۱۴۹

سلام: ۱۴۹

سوالات: ۱۵۰

سبق نمبر٢٣، ٢٤ ۱۵۱

شکیات نماز ۱۵۱

نماز میں شک کی قسمیں(١) : ۱۵۱

١۔نمازکے اجزاء میں شک: ۱۵۱

٢۔ رکعتوں میں شکز ۱۵۲

وہ شک جو نماز کو باطل کرتے ہیں() : ۱۵۲

*وہ شک جن کی پروانہ کرنی چاہئے:(٢) ۱۵۲

چار رکعتی نماز میں شک(١) ۱۵۳

یاددہانی: ۱۵۴

نماز احتیاط: ۱۵۵

نماز احتیاط اور دیگر نمازوں میں فرق: ۱۵۵

سجدہ سہو: ۱۵۶

سبق ٢٣و٤ ٢ کا خلاصہ ۱۵۷

سوالات: ۱۵۸

سبق نمبر ٢٥ ۱۵۹

مسافر کی نماز ۱۵۹

چند مسائل: ۱۵۹


سفر میں نماز پوری پڑھنے کے مواقع ۱۶۰

درج ذیل جگہوں پر نماز تمام ہے: ۱۶۱

وطن کہاں پرہے؟ ۱۶۱

دس روز کا قصد: ۱۶۲

جس مسافر نے نمازتمام پڑھی ہو: ۱۶۳

سبق : ٢٥ کا خلاصہ ۱۶۴

سوالات: ۱۶۵

سبق نمبر ٢٦ ۱۶۶

قضا نماز ۱۶۶

٣۔ قضا نماز کی نسبت انسان کی مختلف حالتیں: ۱۶۷

باپ کی قضا نماز: ۱۶۸

سبق: ٢٦کا خلاصہ ۱۷۰

سوالات: ۱۷۱

سبق نمبر ٢٧ ۱۷۲

نماز جماعت ۱۷۲

نماز جماعت کی اہمیت : ۱۷۲

نماز جماعت کے شرائط: ۱۷۳

نماز جماعت میں شرکت کرنا (اقتدا کرنا) ۱۷۴

نماز جماعت میںشامل ہونے کی مختلف حالتیں: ۱۷۴

پہلی رکعت: ۱۷۴


دوسری رکعت : ۱۷۴

تیسری رکعت : ۱۷۵

چوتھی رکعت : ۱۷۵

١۔ قرأت کے دوران ۱۷۵

سبق ٢٧ کا خلاصہ ۱۷۶

سوالات: ۱۷۷

سبق نمبر٢٨ ۱۷۸

نماز جماعت کے احکام ۱۷۸

نماز جماعت میں ماموم کا فریضہ: ۱۷۹

امام جماعت کی پیروی کرنے کا طریقہ: ۱۷۹

اگر ماموم،بھولے سے قبل از امام: ۱۸۰

١۔ رکوع میں جائے ۔ ۱۸۰

٢۔ رکوع سے اٹھے۔ ۱۸۰

٣۔سجدہ میں جائے۔ ۱۸۰

٤۔ سجدہ سے سر اٹھائے ۔ ۱۸۰

نماز جماعت کے بعض مستحبات اور مکر وہات: ۱۸۱

سبق: ٢٨ کا خلاصہ ۱۸۲

سوالات: ۱۸۳

سبق نمبر٢٩ ۱۸۴

نماز جمعہ ونماز عید ۱۸۴


نماز جمعہ:(١) ۱۸۴

نماز جمعہ کی اہمیت: ۱۸۴

نماز جمعہ کی کیفیت: ۱۸۵

واجبات: ۱۸۵

مستحبات: ۱۸۵

نماز جمعہ کے شرائط: ۱۸۵

خطبے پڑھتے وقت امام جمعہ کے فرائض: ۱۸۶

مسلمانوں کی دنیوی واخروی ضرورتیں۔ ۱۸۶

نماز جمعہ پڑھنے والوں کا فرض: ۱۸۷

نمازعید ۱۸۷

نماز عید کا وقت : ۱۸۷

نماز عید کی کیفیت: ۱۸۸

سبق ٢٩ کا خلاصہ ۱۸۹

سوالات : ۱۹۰

سبق نمبر ٣٠ ۱۹۱

نماز آیات اور مستحب نمازیں ۱۹۱

نماز آیات: ۱۹۱

نماز آیات کی کیفیت ۱۹۱

پہلی رکعت: ۱۹۲

مستحب نمازیں ۱۹۳


نماز شب ۱۹۳

نماز شب کا وقت : ۱۹۴

روزمرہ نمازوں کے نوافل: ۱۹۴

نماز غفیلہ: ۱۹۴

نماز غفیلہ کی کیفیت: ۱۹۵

سبق ٣٠ کا خلاصہ ۱۹۶

سوالات: ۱۹۷

سبق نمبر ٣١ ۱۹۸

روزہ ۱۹۸

روزہ کی تعریف: ۱۹۸

روزہ کی قسمیں ۱۹۸

واجب روزے: ۱۹۸

بعض حرام روزے: ۱۹۹

مستحب روزے: ۱۹۹

مکروہ روزے: ۲۰۰

روزہ کی نیت : ۲۰۰

سبق ٣١ کا خلاصہ ۲۰۱

سوالات : ۲۰۳

سبق نمبر ٣٢ ۲۰۴

مبطلات روزہ ۲۰۴


مبطلات روزہ کے احکام ۲۰۵

کھانا اور پینا: ۲۰۵

انجکشن لگوانا: ۲۰۵

غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانا: ۲۰۵

پورے سر کو پانی کے نیچے ڈبونا۔ ۲۰۶

قے کرنا: ۲۰۷

استمناء: ۲۰۷

سبق: ٣٢ کا خلاصہ ۲۰۸

سوالات: ۲۰۹

سبق نمبر ٣٣ ۲۱۰

مبطلات روزہ ۲۱۰

اذان صبح تک جنابت پر باقی رہنا: ۲۱۰

وہ کام جو روزہ دار پر مکروہ ہیں ۲۱۱

روزہ کی قضا اور اس کا کفارہ ۲۱۱

قضا روزہ: ۲۱۱

روزہ کا کفارہ ۲۱۲

جہاں قضا واجب ہے لیکن کفارہ نہیں ۲۱۲

سبق:٣٣ کا خلاصہ ۲۱۳

سوالات: ۲۱۴

سبق نمبر ٣٤ ۲۱۵


روزہ کی قضا اور کفارہ کے احکام ۲۱۵

درج ذیل موارد میں نہ قضا واجب ہے اور نہ کفارہ: ۲۱۶

ماں باپ کے قضا روزے: ۲۱۷

مسافر کے روزے: ۲۱۷

مسافر کے روزہ کا حکم ۲۱۸

سفرسے واپس آیاہے : ۲۱۸

زکات فطرہ ۲۱۸

زکات فطرہ کی مقدار: ۲۱۸

زکات فطرہ کی جنس: ۲۱۹

سبق ٣٤ کا خلاصہ ۲۲۰

سوالات: ۲۲۱

سبق نمبر ٣٥ ۲۲۲

خمس ۲۲۲

خمس واجب ہونے کے مواقع ۲۲۲

سال کا خرچہ: ۲۲۳

خمس کا سال: ۲۲۵

وہ مال جس پر خمس نہیں ہے ۲۲۵

خمس نہ دینے کے نتائج: ۲۲۵

خمس کے احکام: ۲۲۶

مصرف خمس: ۲۲۷


خمس کے محتاج سید کے شرائط: ۲۲۷

سبق :٣٥ کاخلاصہ ۲۲۸

سوالات: ۲۲۹

سبق نمبر ٣٦ ۲۳۰

زکات ۲۳۰

وجوب زکات کے مواقع(١) ۲۳۱

حد نصاب: ۲۳۲

اناج کی زکات کی مقدار: ۲۳۲

مویشیوںکا نصاب: ۲۳۲

گائے: ۲۳۳

اونٹ ۲۳۳

سونا اور چاندی کا نصاب: ۲۳۳

زکات کے احکام: ۲۳۳

مصارف زکات: ۲۳۵

سبق: ٣٦کا خلاصہ ۲۳۶

سوالات: ۲۳۷

سبق نمبر ٣٧ ۲۳۸

امربالمعروف ونہی عن المنکر* ۲۳۸

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت : ۲۳۸

معروف ومنکر کی تعریف: ۲۳۹


امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شرائط: ۲۳۹

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مراحل: ۲۴۰

پہلا مرحلہ : ۲۴۰

دوسرا مرحلہ : ۲۴۰

تیسر امرحلہ : ۲۴۰

امربالمعروف ونہی عن المنکر کے احکام : ۲۴۰

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے آداب: ۲۴۱

سبق : ٣٧ کا خلاصہ ۲۴۳

سوالات: ۲۴۴

سبق نمبر ٣٨ ۲۴۵

جہاداور دفاع * ۲۴۵

دفاع کی قسمیں : ۲۴۶

جان اور ذاتی حقوق کا دفاع : ۲۴۶

عسکری تربیت: ۲۴۷

سبق ٣٨ :کا خلاصہ ۲۴۸

سوالات: ۲۴۹

سبق نمبر ٣٩ ۲۵۰

خرید و فروخت ۲۵۰

خرید وفروخت کی قسمیں: ۲۵۰

واجب خرید وفروخت: ۲۵۰


مستحب خریدوفروخت: ۲۵۱

حرام خرید و فروخت: ۲۵۱

مکروہ خریدوفروخت: ۲۵۲

خرید و فروختکے آداب ۲۵۲

مکروہات: ۲۵۲

خریدوفروخت کے احکام : ۲۵۳

معاملہ کو توڑنا: ۲۵۴

سبق ٣٩ کا خلاصہ ۲۵۶

سوالات: ۲۵۷

سبق نمبر ٤٠ ۲۵۸

کرایہ، قرض اور امانتداری ۲۵۸

کرایہ: ۲۵۸

اجارہ پر دئیے جانے والے مال کے شرائط: ۲۵۸

کرایہ کے احکام: ۲۵۹

قرض ۲۶۰

قرض کی قسمیں : ۲۶۰

قرض کے احکام : ۲۶۰

امانت داری ۲۶۱

امانت داری کے احکام: ۲۶۱

سبق:٤٠کا خلاصہ ۲۶۲


سوالات: ۲۶۳

سبق نمبر ٤١ ۲۶۴

عاریت، صدقہ، پیدا شدہ اشیائ ۲۶۴

عاریت: ۲۶۴

صدقہ:* ۲۶۵

صدقہ کے احکام: ۲۶۵

گم شدہ چیزوں کا اٹھانا ۲۶۶

جوتے کا گم ہونا ۲۶۷

درس: ٤١ کا خلاصہ ۲۶۹

سوالات: ۲۷۰

سبق نمبر ٤٢ ۲۷۱

کھانا اور پینا ۲۷۱

کھانے کی چیزوں کی اقسام : ۲۷۱

خوراک کے احکام(١) ۲۷۲

نباتاتی غذائیں: ۲۷۲

حیوانی عذائیں: ۲۷۲

چوپائے: ۲۷۲

پالتو: ۲۷۲

١۔حلال گوشت: ۲۷۲

٢۔ مکروہ: ۲۷۲


٣۔ حرام گوشت : ۲۷۳

جنگلی: ۲۷۳

ا۔حلال گوشت: ۲۷۳

٢۔ حرام گوشت: ۲۷۳

چند مسائل: ۲۷۴

پرندے: ۲۷۴

چند مسائل: ۲۷۴

سمندری جانور ۲۷۵

چند مسائل: ۲۷۵

کھانا کھانے کے آداب ۲۷۶

مستحبات : ۲۷۶

مکروہات: ۲۷۶

پانی پینے کے آداب ۲۷۷

مستحبات: ۲۷۷

مکروہات: ۲۷۷

درس: ٤٢ کاخلاصہ ۲۷۸

سوالات : ۲۷۹

سبق نمبر ٤٣ ۲۸۰

نظر اور ازدواج کرن ۲۸۰

نظر: ۲۸۰


محرم ونامحرم: ۲۸۰

وہ افراد جو لڑکوں اور مردوں کے لئے محرم ہیں: ۲۸۰

دوسروں پر نظر ڈالنا: ۲۸۲

مرد کا عورت پر نگاہ کرنا ۲۸۲

١۔محرم ۲۸۲

٢۔نامحرم: ۲۸۲

ازدواج ۲۸۳

شائستہ شریک حیات : ۲۸۳

ناشائستہ شریک حیات: ۲۸۳

عقدازدواج: ۲۸۴

سبق ٤٣ کا خلاصہ ۲۸۵

سوالات: ۲۸۶

سبق نمبر ٤٤ ۲۸۷

مسجد، قرآن مجید اور سلام کرنے کے احکام ۲۸۷

مسجد کے احکام: ۲۸۷

قرآن مجید کے احکام ۲۸۸

قرآن مجید کی تحریر کو چھونا: ۲۸۹

قرآن مجید کو اپنے ساتھ رکھنا۔ ۲۹۰

سلام کرنے کے احکام ۲۹۰

سلام کے آداب: ۲۹۱


درس: ٤٤ کاخلاصہ ۲۹۳

سوالات: ۲۹۴

سبق نمبر ٤٥ ۲۹۵

غصب، قسم، جھوٹ، غیبت ۲۹۵

غصب کی تعریف:* ۲۹۵

غصب کی قسمیں: ۲۹۵

اموا ل : ۲۹۵

شخصی: ۲۹۵

عمومی: ۲۹۵

حقوق: ۲۹۵

شخصی: ۲۹۵

عمومی: ۲۹۵

غصب کے احکام: ۲۹۶

قسم کھانا ۲۹۶

جھوٹ بولنا ۲۹۷

غیبت ۲۹۷

غیبت کی تعریف: ۲۹۷

غیبت کے احکام : ۲۹۸

داڑھی منڈوانا ۲۹۸

سبق ٤٥ کا خلاصہ ۲۹۹

سوالات: ۳۰۰


احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محمد حسین فلاح زادہ
زمرہ جات: فقہ استدلالی
صفحے: 326