یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب کا نام: نماز کے آداب واسرار
مولف : رجب علی حیدری
پیشگفتار
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد للّٰه الّذی جعل الصلاةقربان کلّ تقی واَحد اَرکان دینه والصّلاة والسّلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین ابی القاسم محمّد الذی یقف فی الصلاة حتی ترم قدماه والسّلام علیٰ اهل بیته المعصومین لاسیّماعلیٰ علی بن ابیطالب الّذی ردّالشمس لصلاته وعلٰی الحسین الشهیدالذی قتل مظلومافی حال الصلاة وعلیٰ علی بن الحسین الذی یقال له السجادلکثرة السجود ، و علی المهدی حین یصلّی ویقنت وحین یرکع و یسجد،الّذی تصلّی المسیح ابن مریم خلفه یوم ظهوره،و علیٰ عبادالله الصّالحین( اَلَّذِینَ هُمْ فی صَلاتِهِمْ خَاشِعُون ) واللّعنةالدّائمة علٰی اعدائهم اجمعین من یومناهٰذاالٰی قیام یوم الدّین
امّابعد :
وجہ تالیف:
ہروہ شخص جو دین اسلام میں اصول وفروع دین میں سے کسی بھی موضوع کے متعلق کوئی کتاب، مقالہ ،مجلہ وغیرہ کی تالیف کرتاہے توخداوندمتعال دنیامیں اس پر اپنی نعمت وکراماتنازل کرتاہے، قبض روح میں اسانی ہوتی ہے اورآخرت میں معصومین کے قرب وجوارمیں جگہ عنایت کرتاہے ۔ جب تک لوگ اس کی کتاب سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اوراس پرعمل کرتے رہتے ہیں توکتاب کے لکھنے والے کوبھی اس کاثواب ملتارہتاہے پس صدقہ جاری کے طورسے اس کتاب کے تالیف کرنے کوشش کی ہے اورپروردگار سے دعاہے کہ وہ میری اس کوشش کوبحق محمدوآل محمد قبول فرمائے، ہمیں اس کتاب پرعمل کرنے کی توفیق عطاکرے اوراسے ہم سب کی بخششکاسامان قراردے۔قال نبی صلی الله علیه وآله:اذامات الانسان انقطع عمله الّامن ثلاث:صدقة جاریة ا ؤعلم ینتفع به ، ا ؤلدصالح یدعوله نبی اکرم (صلی الله علیه و آله) فرماتے ہیں:جب انسان مرجاتاہے تواس کے تمام عمل منقطع ہوجاتے ہیں لیکن چیزیں ایسی ہیں جن وجہ سے اسے مرنے بعدبھی ثواب پہنچتارہتاہے
١۔صدقہ جاریہ
٢۔علم کہ جس سے لوگ استفادہ کرتے ہیں
٣۔فرزندصالح جومرنے کے : بعداپنے والدکے لئے دعائے مغفرت کرتاہے ۔ عوالی اللئالی /ج ٢/ص ۵ ٣
وجہ تسمیہ “نمازکے آداب واسرار“
نماز ایک ایسی عبادت ہے جسے انبےائے کرام اورمعصومین نے اپنا سر لوحہ عٔبادت قرار دےاہے اوراپنے زمانے کے لوگوں کو اس کے بجالانے کا حکم بھی د ےا ہے انمازتمام انبیاء وآئمہ اطہار اورجملہ مومنین ومومنات کی روح وجان ہے ،ان کی آنکھوں کی روشنی ہے،معراج امت محمدی ہے ، دردمندوں کے لئے باعث شفاہے ،ضرورتمندوں کی حاجت کوپوری کرتی ہے ،انسان کوبرائیوں سے دور رکھتی ہے جس کے ذریعہ دل کوسکون واطمینان روح کوتازگی، رنج وغم سے نجات اورحیات جاودانی نصیب ہوتی ہے،لیکن یہ یادرہے صرف وہی نمازانسان کوگناہوں سے دورنہیں رکھ سکتی ہے جسے وہ اسے اس کے پورے آداب شرائط کے ساتھ اورمحمدوال محمد کی محبت اوران کی ولایت کے زیرسایہ انجام دیتاہے۔
اس کتاب کانام“نمازکے آداب واسرار”رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب میں تمام افعال واعمال نمازاسرارکو بیان کیاگیاہے ،مثلاًالله کی اطاعت وبندگی کارازکیاہے ، روزانہ پانچ ہی نمازیں کیوں واجب قراردی گئی ہیں اس سے کم یازیادہ کیوں نہیں ،ان ہی اوقات میں نمازکوکیوں واجب قراردیاگیاہے ،نمازکے لئے طہارت کے واجب قراردئے جانے کی وجہ کیاہے ،نمازکوتکبیرکے ذریعہ کیوں آغازکیاجاتاہے
کتاب ہذامیں احکام نمازکوذکرنہیں کیاگیاہے کیونکہ اگراحکام نمازکوذکرکیاجاتاتواس بارے میں مراجع عظام کے فتووں کے مطابق روایتوں کوذکرکیاجاتااوران کے اختلاف کوبھی ذکرکیاجاتاکہ جسکے لئے ایک مستقل استدلالی کتاب کی ضرورت ہے ۔ کتاب ہذامیں تعقیبات نمازکے آداب واسرارکوبھی ذکرکیاگیاہے مثلاتسبیح حضرت زہرا کا آغاز کب اورکیسے ہوا،دعاکرناکیوں ضروری ہے ،دعاکرنے کاطریقہ کیاہے ،کن لوگوں کی دعاقبول ہوتی ہے اورکن کی دعاقبول نہیں ہوتی ہے اورمومن کی دعاتاخیرسے کیوں قبول ہوتی ہے۔ امیدہے کہ میرے محترم قارئین اس کتاب کے ذریعہ تمام اعمال وافعال نمازکے آداب واسرارکے بارے میں کلام خداورسول وآئمہ اطہارعلیہم الصلاة والسلام نورانی کلمات سے مستفیض ہونگے اوراپنے آپ کوتحت تاثیرقرارپائیں گے اوراپنے اندرایک عجیب نورانیت محسوس کریں گے اورامید ہے کہ یہ کتاب بارگاہ خداوندی ومعصومین میں مقبولیّت کا شرف حاصل کرے گی اورناشر ومترجم اوراس کتاب سے فیضیاب ہونے والوں کے گناہوں کے لئے بخششکا سبب واقع ہوگی
۔ رجب علی حیدری
١٧ /ربیع الاول ١ ۴ ٢ ۶ مطابق ٢ ۶ / جنوری ٢٠٠ ۵
رازاطاعت وبندگی
١۔انسان عبادت کے لئے پیداہواہے
الله تبارک وتعالیٰ نے دنیامیں کسی بھی مخلوق کو بے کار و بیہودہ خلق نہیں کیاہے بلکہ ان سب کی کوئی وجہ خلقت ضرورہے اوران سب چیزوں کے خلق کرنے میں کوئی راز و فلسفہ و سبب پایاجاتاہے اوروہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے جن وانس کو اس لئے پیداکیاہے کہ وہ اس کی عبادت کریں جیساکہ قرآن کریم میں ارشادخداوندی ہے:( وَمَا خَقَلْتُ الْجِنَّ وَالْاِ نْسَ اِلّا لِیَعْبُدُون ) .(١)
میں نے جن وانسکونہیں پیدا کیا مگریہ کہ وہ( میری )عبادت وبندگی کریں۔
جمیل ابن دراج سے مروی ہے میں نے امام صادق سے اس آیہ مٔبارکہ کے بارے میں سوال کیااورکہا:اے میرے مولا!آپ پرمیری جان قربان ہو،آپ مجھے اس قول خداوندی کے معنی ومفہوم سے آگاہ کیجئے ؟امام (علیھ السلام) نے فرمایا:یعنی خداوندعالم نے تمام جن وانس کوعبادت کے لئے پیداکیاہے ،میں کہا:خاص لوگوں یاعام لوگوں کو؟امام (علیھ السلام) نے فرمایا:عام لوگوں کواپنی عبادت کے لئے خلق کیاہے ۔(٢)
دنیاکی ہرشے رٔب دوجہاں کی تسبیح وتقدیسکرتی ہے بعض موجودات ایسے ہیں جو ہمیشہ قیام کے مانند کھڑا رہتے ہیں الله کی حمدوثنا کرتے رہتے ہیں وہ درخت وغیرہ ہیں اوربعض موجودات ایسے ہیں جوہمیشہ رکوع کی مانندخمیدہ حالت میں رہتے ہیں جیسے چوپائے، اونٹ، گائے ،بھیڑ، بکریاں
____________________
١)سورہ زاریات/آیت ۵۶
.۲)علل الشرائع/ج ١/ص ١۴.
وغیرہ اوربعض ایسے بھی جو ہمیشہ زمیں پرسجدہ کے مانندپڑے رہتے ہیں وہ حشرات اورکیڑے وغیرہ ہیں اور بعض موجودات ایسے ہیں جوہمیشہ زمین پر بیٹھے رہتے ہیں وہ حشیش و نبا تات وگل وگیا ہ وغیرہ ہیں جیساکہ قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے:
( اَلَمْ تَرَاَنَّ اللهَ یُسَبِّحُ لَه مَنْ فِیْ السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرِصٰآفّٰاتٍ کُلُّ قَدْعَلِمَ صَلَاتَه وَتَسْبِیْحَه وَاللهُ عَلِیْمٌ بِمَایَفْعَلُوْنَ ) .(۱)
کیاتم نے نہیں دیکھاہے کہ الله کے لئے زمین وآسمان کی تمام مخلوقات اور فضاکے صف بستہ طائرسب تسبیح کررہے ہیں اورسب اپنی اپنی نمازوتسبیح سے باخبر ہیں اورالله بھی ان کے اعمال سے خوب واقف ہے۔
٢۔شکرمنعم واجب ہے
زمین وآسمان،آفتاب وماہتاب، چگمگاتے تارے ، پھول اورپودے ،پھولوں میں خوشبو، کلیوں میں مسکراہٹ ،غنچوں میں چٹخ ،چڑیوں میں چہک ،زمین میں ہرے بھرے جنگل ، میٹھےاوررسیلے پھلوں سے لدے ہوئے درخت ،یہ موج مارتے دریاوسمندر، آسمان میں اڑتے ہوئے پرندے، چہکتی ہوئی چڑیاں،آسمان سے نازل ہونے والے برف وبارش کے قطرے، درختوں کے پتے ،یہ ہیرے وجواہرات، یہ سونے وچاندی اورنمک وکوئلے کی کانیں،یہ جڑی بوٹیاں اوردیگربےشماراوربے حساب نعمتیں جوالله کی طرف سے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہیں اورپوری زندگی ہرطرف سے اورہرآن میں نازل ہوتی رہتی ہیں۔
اس نے ہمیں سوچنے ،سمجھنے اورغوروفکرکرنے کے لئے عقل وشعور،علم وفہم، رنگوں اورشکلوں کی پہچان کے لئے قوت بینائی ،آوازوں کو سننے کے لئے قوت سامعہ، ذائقہ چکھنے لئے زبان،
____________________
. ١)سورہ نٔور/آیت ۴١
خوشبو اور بدبوکی شناخت کے لئے قوت شامہ ،گرم و ٹھنڈا محسوس کرنے لئے قوت لامسہ عطاکی ہے اوراس نے ہمیں اس معاشرے میں عزت وشرافت ،جود وسخاوت اور مال ودولت وغیرہ جیسی نعمتیں عطاکی ہیں،کیا تمام نعمتوں پراسکاشکرادانہ کیاجائے.
اگر کوئی بادشاہ کسی شخص کوایک تھیلی اشرفی عطاکردے تووہ کس قدراس کامریدبن جاتاہے ،کس قدراسے یادکرتاہے اوراس کی کت نی زیادہ تعریفیں کرتاہے لیکن جس نے ہمیں ان نعمتوں سے مالامال کیاہے اس کی ان تمام نعمتوں کودیکھ کرہماہمارافرض بنتاہے کہ اس کی عطاکی ہوئی بے کراں نعمتوں کا شکراداکریں،اس کی تعظیم واکرام کریں،اس کے ہرحکم کے آگے اپناسرتسلیم کریں،اس کی عظمت کی خاطرزمین سجدہ کے لئے پیشانی رکھدیں،اس کی حمدوثناکریں ،اس کی عبادت اورپرستش کریں،لیکن جس نے تمھیں رحم مادرمیں جگہ دی ہو اور وہاں چند اندھیرے پردوں میں تمھاری حفاظت کی ہے خداوندعالم نے قرآن کریم می ۰کرمنعم کوواجب اور کفران نعمت کوحرام قراردیاہے :
( وَاشْکُرُوْلِیْ وَلَاتَکْفُرُوْنِ ) (۱) تم میراشکر ادا کرو اورکفران نعمت نہ کرو۔
اورسورہ قٔریشمیں اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشادفرماتاہے:
( فَلْیَعْبُدُوْارَبَّ هٰذَاالْبَیْتِ الّذِیْ اَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوْعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خُوْفٍ ) (٢)
اے رسول !اپنے زمانے کے ان لوگوں سے کہدیجئے کہ اس گھرکے مالک کی عبادت کروجسکے طفیل میں یہ تجارت قائم ہے اوریہ امن وامان کی زندگی برقرارہے۔
علامہ ذیشان حیدرجوادی “ترجمہ وتفسیرقرآن کریم”میں اس آیہ مبارکہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
چھٹی صدی عیسوی میں مکہ کی آبادی تین حصوں پرمنقسم تھی ۔نصربن کنانہ کی اولادقریش ،قریش کے حلیف دوسرے عرب اورغلام ،مکہ مکرمہ میں قریش تجارت پیشہ لوگ تھے اوران کے سال میں
____________________
۱)سورہ قٔریش/آیت ٣۔ ۴
.٢)سورہ بٔقرہ/آیت ١۵٣
دوسفرتجارت ہواکرتھے ، سردی میں یمن کی طرف اورگرمی میں شام کی طرف ،یہ اپنی تجارت میں لئے مضبوط اورکامیاب تھے کیونکہ مکہ کے رہنے والے تھے اورشام ویمن کے لوگ ان سے مرعوب رہاکرتے تھے اوردہشت زدہ بھی تھے ،ان کے مرعوب رہنے کی ایک وجہ تھی کہ بالآخرانہیں حج کے موسم میں مکہ جاناپڑتاہے لہٰذاقدرت نے اسی احسان کویاددلاکربتلایاکہ ہراحسان کاایک تقاضہ ہوتاہے اورہمارے احسان کاتقاضہ یہ ہے کہ اس گھرکے مالک کی عبادت کروجسکے طفیل میں یہ تجارت قائم ہے اوریہ امن وامان کی زندگی برقرارہے۔
رب العالمین نے اپنی عبادت کوشکرکرنے کاطریقہ قراردیاہے:
( بَلِ اللهَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ ) (١)
تم صرف الله کی عبادت کرواوراسکے شکرگزاربندے بن جاؤ۔
انبیائے کرام اورآئمہ اطہار سے نہ کوئی خطا سرزد ہوئی ہے اورنہ ہوسکتی ہے کیونکہ وہ سب معصوم ہیں اورمعصوم سے کوئی گناہ سرزدنہیں ہوسکتاہے لیکن شکرگزاری اوربندہ نوازی کے طورسے اس قدر نمازیں پڑھتے تھے کہ ان کے پیروں پرورم کرجاتے اور پیشانی و زانوئے مبارک پرگٹھے پڑگئے تھے ۔
زہری سے مروی ہے کہ : میں علی بن الحسین کے ہمرا ہ عبدا لملک بن مروان کے پاس پہنچا توجیسے ہی عبدالملک کی نظر امام (علیھ السلام) پر پڑی تو آپ(علیھ السلام) کی پیشانی پرسجدوں کے نشا ن دیکھ کر تعجب سے کہا :
اے ابامحمد ! تمھاری پیشانی پر عبادت کے آثا ر نمایاں ہیں ،تمھیں اسقدر نمازیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ؟جبکہ خداوندعالم نے تمام خیرو نیکی کوتمھارے مقدرمیں لکھ رکھاہے، تم سے نہ کوئی گناہ سرزدہواہے اورنہ ہوسکتاہے ،کیونکہ تم پیغمبر خدا کے پارہ ت ن ہو،تمھارا ان سے مضبوط ومحکم رشتہ ہے ،تم
____________________
. ١)سورہ زٔمر/آیت ۶۶
اپنے خاندان اور اپنے زمانے کے لوگوں میں ایک عظیم مرتبہ رکھتے ہو، وہ علم وفضیلت اورتقوی ودین جو تمھارے پاس ہے وہ تمھارے خاندان میں نہ کسی کے پاس تھا اور نہ اس وقت کسی کے پاس موجود ہے،ان تمام مراتب رکھنے کے باوجودپھربھی تم ات نی نمازیں پڑھتے ہوکہ پیشانی پرگٹھاپڑگیاہے۔
جب عبداالملک نے آپ کی اس طرح بہت زیادہ مدح سرا ئی کی تواس وقت امام سجاد -
نے فرمایا: یہ خداکے عطاکئے ہوئے تمام فضائل وکمالات جو تو نے میرے بارے میں بیان کئے ہیں کیا ان تمام نعمتوں پر شکرخدا نہ کروں ؟ اوراسکے بعدامام (علیھ السلام)نے عبدالملک سے کہا:
نبی اکرم (ص) اس قدرنمازیں پڑھتے تھے کہ پاہائے مبارک ورم کرجاتے تھے، جب آنحضرتسے کسی نے پوچھا:اے الله کے پیارے نبی! جب خدانے تمھارے اگلے پچھلے تمام گناہ(١) معاف کردئے ہیں توپھرتمھیں یہ سب زحمت اٹھانے اوراس قدرنمازیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟آنحضرت نے فرمایا :
”اَفَلااَکُونُ عَبْداًشُکُوْراً ”کیاالله کے ان تمام احسانات پراوراس کی نازل کی ہوئی نعمتوں پراس کاشکرگزاربندہ نہ بنوں؟
اس کے بعدامام (علیھ السلام) نے عبدالملک ابن مروان سے خطاب فرمایا: تعریف کرتاہوں خداکی ہر عطا کی ہوئی نعمت پر کہ جن کے ذریعہ وہ ہماراامتحان لیتا ہے ، دنیا و آخرت میں تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں، خدا کی قسم اس کی عبادت میں اگر میرا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے،میری آنکھیں نکل کرمیرے سینہ پرگرجائیں پھربھی اس کی عطاکردہ نعمتوں میں ایک نعمت کاایک دہائی شکرنہیں اداکرسکتاہوں، دنیا میں جت نے بھی لوگ خداکی حمدوثناکرتے ہیں ان سب کی حمدوثناخداکی ایک نعمت کے برابربھی نہیں ہوسکتی ہے
____________________
١)سورہ فٔتح /آیت ٢.لیغفراللهماتقدم من ذنبک میں ذنب سے وہ گناہ مرادہیں
جوکفارکے خیال میں نبی اکرم پرلگائے جاتے تھے ،کفارقریش آپ پرجادوگر،جنون،شاعر،کہانت اورہوس اقتدارکے الزام لگاتے تھے۔
بس میری زند گی یہی ہے کہ رات دن اور خلو ت وآشکا ر میں اس کا ذکر کر تا رہوں ،بیشک میرے اہل خانہ اور دوسرے لوگ بھی مجھ پرکچھ حقوق رکھتے ہیں( جن کااداکر نا مجھ پرلازم ہے )اگریہ حقوق میری گردن پرنہ ہوتے تو میں اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اور د ل کو خدا کی طرف متوجہ کر لیتا یہاں تک کہ میرے بدن سے روح قبض ہو جا تی اور میں ہر گزاس کی طرف سے اپنے دل اورآنکھوں کو نہ ہٹاتا اور وہ بہترین حکم کر نے والا ہے یہ کہہ کے امام سجاد رونے لگے اور عبدا لملک بھی رونے لگا۔(١)
٣۔انسان کی فطرت میں عبادت کاجذبہ پایاجاتاہے
خداوندعالم نے انسان کی طینت وفطرت میں عبادت کاجذبہ پیداکیاہے،لہٰذاانسان دنیامیں آنے کے بعدجیسے ہی عقل وشعور کی راہ میں قدم رکھتاہے تواس میں یہ فطرت پیداہوجاتی ہے کہ مجھے کسی عظیم ذات کی اطاعت وعبادت کرنی چاہئے لہٰذاجب انسان اپنی فطرت کے مطابق عبادت کی راہ قدم اٹھاتاہے تو وہ معبودحقیقی کی عبادت کرتاہے جوراہ مستقیم ہے یاپھرگمراہی کاشکارہوکرجھوٹے اورباطل خداؤں کی پوجاکرناشروع کردیتاہے۔ بت ،چاند،سورج ،دریا،پہاڑکی پرستش وعبادت کرنایہ سب باطل اورگمراہی کے نمونے ہیں کیونکہ ان سب چیزوں کوخدانے خلق کیاہے اورکسی بھی مخلوق کوخدائی کا درجہ دیناحرام اورباطل ہے ۔
( اِنَّنِی اَنَاالله لااِلٰهَ اِلّااَنَافَاعْبُدْنِی ) (٢)
میں الله ہوں میرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے پستم میری عبادت کرو۔
اب جولوگ معبودحقیقی کی تلاش میں گمراہی کاشکارہوجاتے ہیں اورالله کے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش کرنے لگتے ہیں ان کی ہدایت کے لئے خداوندعالم نے بہترین انتظام کیاہے،اس نے ہرزمانہ میں راہ مستقیم سے ہٹ کرچلنے والے اورالله کے علاوہ کے کسی دوسرے کی عبادت کرنے والے
____________________
١)بحارالانوار/ج ۴۶ /ص ۵۶
. ٢)سورہ طٰٔہٰ/آیت ١۴.
لوگوں کوراہ حق کی ہدایت کے لئے ایک ہادی بھجتارہاہے۔
( وَلَقَدْ بَعَثْنَافِیْ کُلّ اُمَّةٍ رَسُوْلًااَنِِ اعْبُدُوااللهَ وَاجْت نبُواالطَّاْغُوْتَ ) (١)
ہم نے ہرامت میں ایک رسول بھیجا(تاکہ وہ تم سے کہیں کہ)الله کی عبادت کرو اور
طاغوت سے اجت ناب کرو (اورآج بھی اس کاایک ہادی پردہ غٔیب میں رہ کرہمیں ہدایت کررہاہے )۔
امیرالمومنین حضرت علینے نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کے مبعوث کئے جانے کے رازومقصدکو نہج البلاغہ میں اس طرح بیان فرمایاہے :فَبَعَثَ اللهُ مُحمّداًلِیَخرجَ عِبادَهُ مِن عبادَةِ الاَوثَانِ اِلٰی عبادته ۔(۲)
الله نے حضرت محمد (صلی الله علیھ و آلھ) کواس لئے مبعوث کیاہے تاکہ وہ لوگوں کوبت پرستی سے نکال کرخداپرستی کی طرف لے آئیں۔
خداوندعالم زمانہ کے ساتھ ساتھ اپنانمائندہ اوررہبربھیجتارہاہے،سب سے پہلے حضرت آدم(علیھ السلام) (علیھ السلام)کوبھیجاتاکہ اپنی اولادکوکفر سے دوررہنے کی ہدایت کریں،اسی طرح یکے بعددیگرے ہدایت کے لئے انبیاء ورسل آتے رہے اورآخری نبی کے بعدان کی نسل سے آئمہ طاہرین کا سلسلہ شروع ہوااورآج بھی الله کی طرف سے ایک ہادی موجودہے جوپردہ غٔیب سے لوگوں ہدایت کرتے رہتے ہیں لیکن اکثرلوگ شیطان کی پیروی کرتے ہوئے الله کے ان بھیجے ہوئے نبیوں کی باتوں کونہیں مانتے ہیں اوردنیامیں کسی طاقتورچیزکودیکھ کراسی کی عبادت شروع کردیتے ہیں۔
۴ ۔ پروردگارکی تعظیم کرناواجب ہے
جب انسان کسی عظیم مرتبہ شخصیت سے ملاقات کرتاہے اورایک بڑے عالم وقابل شخص کادیدارکرتا ہے ، تویہ ملاقات اوردیدارانسان کوتواضع اوراس کے سامنے جھکنے پرآمادہ کرتی ہے ۔
____________________
. ١)سورہ نحل/آیت ٣۶
. ٢)نہج البلاغہ خطبہ ١۴٧
ایک عالم وقابل شخص کادیدارانسان کواس کے ادب واحترام وتعظیم وتکریم پرمجبورکردیتا ہے اورانسان اپنے آپ کواس کی عظمت اوراس کے علم وکمال کے آگے خودکوناچیزاورکم علم شمارکرتاہے تواس کاادب وتعظیم کرنے لگتاہے ۔ خداوندعالم تمام عظمتوں اورجلالتوں کامالک ہے ،وہ سب سے بڑاہے ،سب سے بڑاعالم ہے ،حی ہے، قدیرہے،یہ تمام صفات ثبوتیہ اورسلبیہ اس کی عظیم ہونے کی واضح دلیل ہیں اوروہی سب کاحقیقی مولاوآقاہے لہٰذاہرانسان پرلازم ہے کہ اپنے حقیقی مولاوآقاکی تلاش کرے اوراس کاادب واحترام اورتعظیم کرے لہذاجب انسان حقیقی مولاکی تلاش کرتاہے تواپنے آپ کواس کی عظمت وجلالت کے آگے ناچیزاورکم علم حساب کرتاہے ،اپنے آپ کوذلیل وحقیرپاتاہے تواس کے ادب واحترام ،اس کی تعظیم وتکریم پرآمادہ ہوجاتاہے۔
۵ ۔ہرانسان محتاج اورنیازمندہے
اشرف المخلوقات انسان خواہ کت نی مال ودولت کامالک بن جائے اورکت نے ہیں عیش وآرام کاسامان جمع کرلے لیکن پھربھی اپنے آپ کوعاجزوانکسار،ضعیف وناتواں اورمحتاج وضرورتمندمحسوس کرتاہے اورکسی طرح سے اپنی غرض اورضرورت کوحاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اورانسان پرلازم ہے کہ اپنی حاجتوں کوپوری کرنے کے لئے کسی ایسی ذات کی طرف رجوع کرے جو کسی کامحتاج نہ ہو،جودینے سے انکارنہ کرے اورعطاکرنے سے اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہ آسکے اوریہ صرف پروردگارکی ذات ہے جوہرچیزسے بے نیازاورغنی مطلق ہے،سب کی حاجت اورضرورت کوپوراکرتاہے اورعطاکرنے سے اس کے خزانہ رحمت کوئی نہیں آسکتی ہے اس نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کووعدہ دیاہے کہ میں تمھاری آوازکوسنتاہوں لہٰذاتم اپنی حاجتوں کوصرف ہی سے بیان کرو اورطلب کرو( یٰااَیُّهَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلٰی اللهِ وَاللهُ هُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدِ ) (١)
اے لوگو!تم سب الله کی بارگاہ کے فقیرہواورالله صاحب دولت اورقابل حمدوثناہے ۔
( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبُ لَکُمْ ) (۲)
اورتمھارے پرودگارکاارشادہے کہ مجھ سے دعاکرومیں قبول کروں گا۔
____________________
١)سورہ فٔاطر/آیت ١۵
. ٢)سورہ غٔافر/آیت ۶٠.
عبادت اوربندگی کاطریقہ
جب پروردگارنے جن وانس کواپنی عبادت کے لئے پیداکیاہے اورطینت وفطرت انسانی میں عبادت کاجذبہ پیداکیاہے اورشکرمنعم کوواجب قراردیاہے ان تمام چیزوں سے یہ واضح ہوتاہے کہ الله کی اطاعت وبندگی کرنالازم ہے مگرسوال یہ ہے کس طرح اس اطاعت وبندگی اورتعظیم کرتکریم کی جائے کس طرح اس کاادب واحترام کیاہے اگراس کی اطاعت وبندگی کرنے کاکوئی خاص طریقہ ہے تو اپنے بندوں کواس سے آگاہ کر ے خداوندعالم نے قرآن کریم کی چندمتعددآیتوں میں نمازکو شکرنعمت اوربندگی کاطریقہ قراردیاہے:
( اِنَّااَعْطَیْنَاکَ الْکُوثَرَفَصَلّ لِرَبّکَ وَالنْحَرْاِنَّاشَانِئَکَ هُوَالاَبْتَرُ ) (١)
اے رسول بر حق بےشک ہم نے تمھیں کوثر عطا کیالہٰذاتم اپنے رب کے لئے
نمازپڑھواورقربانی دو،یقیناتمھارادشمن بے اولادرہے گا۔
کتب تفاسیر میں لفظ کوثر کے متعدد معنی ذکرہوئے کئے گئے ہیں:خیرکثیر، بہشت میں ایک نہر جناب سیدة کی نسل سے اولاد کثیر، شفاعت،قرآن، اسلام، علمائے دین واصحاب ویاران باوفا ، نبوت ۔
ان مذ کو ر مواردمیں سے ہر ایک پر کوثر کا مصداق ہو تا ہے اور ممکن ہے ان سب کےمجموعہ کوکوثر کہا جاتاہولیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوندعالم نے جس قدرخیرکثیراورنعمتیں اپنے حبیب حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیھ و آلھ) کوعطاکی ہیں کسی اورکونہیں دی ہیں،انتہایہ ہے کہ آنحضرت کے دشمنوں کوابتربنادیاہے اوران کی نسلوں کومنقطع کرکے اپنے حبیب کی لخت جگرسے ایک ایسی نسل پیداکی جوقیامت تک باقی رہے گی، لہٰذاخداوندعالم نے ان تمام نعمتوں کے نازل کرنے پراپنے رسول سے کہا: اے میرے حبیب تم ان نعمتوں کے نزول پر میرا اس طرح شکر اداکرو:
( فَصَلّ لِرَبّکَ وَالنْحَرْ،اِنَّاشَانِئَکَ هُوَالاَبْتَرُ )
اپنے رب کے لئے نمازپڑھواورقربانی دو،یقیناتمھارادشمن بے اولادرہے گا۔
اللھ نے اپنے حبیب سے ان تمام نعمتوں پر شکراداکرنے کے لئے نمازاورقربانی کامطالبہ کیاہے جواس بات کی دلیل ہے کہ انسان کوجب بھی کوئی خیرونعمت نصیب ہوتواس کافرض بنتاہے کہ خداکاشکرخدااداکرے اورشکرخداکابہترین طریقہ یہ ہے کہ نمازقائم کرے اورراہ خدامیں قربانی دے۔
____________________
. ١)سورہ کٔوثر/آیت ١۔ ٢۔ ٣
)( اِنَّنِی اَنَااللهُ لااِلٰهَ اِلّااَنَافَاعْبُدْنِی وَاَقِمِ الصَّلاةَلِذِکْرِی ) (١)
میں الله ہوں میرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے پس تم میری عبادت کرواورمیری یادکے لئے نمازقائم کرو۔
ان مذکورہ دونوں ایتوں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ الله کی عبادت اوربندگی کرنے کاایک خاص
طریقہ ہے اوروہ یہ ہے کہ اس کے لئے نمازقائم کی جائے تاکہ نمازکے ذریعہ اس کی نعمتوں کاشکراداکیاجائے اورنعمتوں کے نزول کاسلسلہ جاری رہنے کے لئے دعاء کی جائے اورنمازکی صورت میں اس کاادب واحترام کیاجائے۔
رازوجوب نماز
اس سے پہلے کہ ہم نمازکے واجب ہونے کے رازکوذکرکریں خودنمازکے واجب ہونے کو بیان کردینامناسب سمجھتے ہیں،سورہ کوثروطٰہٰ آیت ١ ۴ کے علاوہ اوربھی آیتیں ہیں جو نماز کے واجب ہونے پردلالت کرتی ہیں جن میں سے چندآیت ذکرکررہے ہیں :
( اِنَّ الصَّلٰوةَ کَانَتْ عَلَی الْمُومِنِیْنَ کِتَاباًمَوقُوتاً ) (۲)
بے شک نمازکوصاحبان ایمان پرایک وقت معین کے ساتھ واجب کیاگیاہے۔
زرارہ سے مروی ہے کہ امام صادق اس قول خداوندی کے بارے میں فرماتے ہیں : موقوت ) سے مفروض مرادہے ۔( ٢
( اَقِیْمُوالصَّلٰوةَ وَاتَّقُوهُ هُوَ الَّذِیْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ) (۴)
نمازقائم کرواوراللھسے ڈروکیونکہ وہ وہی ہے جسکی بارگاہ میں حاضرکئے جاؤگے ۔
( مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِیْمُوْاالصَّلٰوةَوَلَاتَکُوْنَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (۵)
تم سب اپنی توجہ خداکی طرف رکھواوراس سے ڈرتے رہو،نمازقائم کرواورخبردارمشرکین میں سے نہ ہوجانا۔
( وَاقِیْمُوالصَّلٰوةَ وَاٰتُواالزَّکٰوةَ ) (۶) اورنمازقائم کرواورزکات اداکرو۔
____________________
. ١)سورہ طٰٔہٰ/آیت ١۴
۲)سورہ نٔساء/آیت ١٠٣
۳)کافی/ج ٣/ص ٢٧٢.
.۴)سورہ أنعام/آیت ٧٢
. ۵)سورہ رٔوم/آیت ٣١
. ۶)سورہ بٔقرہ /آیت ١١٠ ۔مزمل /آیت ٢٠
ان مذکورآیات کریمہ سے نمازکاواجب ہوناثابت ہے اورمعصومین سے ایسی احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں واضح طورسے نمازکے واجب بیان کیاگیاہےعن عبدالله بن سنان عن ابی عبدالله علیه السلام قال:ان الله فرض الزکاة کمافرض الصلاة .(١)
امام صادق فرماتے ہیں:خداوندعالم نے زکات کواسی طرح واجب قراردیاہے جس طرح نمازکوواجب قراردیاہے ۔عن الحلبی قال:قال ابوعبدالله علیه السلام فی الوترقال:انماکتب الله الخمس ولیستالوترمکتوبة ان شئت صلیتهاوترکهاقبیح .(۲)
حلبی سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے نمازشب کے بارے میں معلوم کیاتوآپ نے فرمایا:خداوندعالم نے پانچ نمازیں واجب کی ہیں اورنمازشب کوواجب قرارنہیں دیاہے، چاہوتواسے پڑھوالبتہ نمازشب کاترک کرناقبیح ہے ۔
احادیث معصومین میں نمازکے واجب قرادئے جانے کی اس طرح بیان کی گئی ہیں:
عمربن عبدالعزیزسے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ہشام بن حکم نے بتایا کہ میں نے امام صادق سے معلوم کیا:جب نمازوعبادت لوگوں ان کی حاجتوں اورضرورتوں کوپورا کرنے سے دور رکھتی ہے اوران کے بدن کوزحمت میںڈالتی ہے پس خداوندعالم نے نمازکوکیوں واجب قراردیا ہے؟ امام (علیھ السلام) نے فرمایا:نمازکے واجب قراردئے جانے کی چندوجہ ہیں جن کی وضاحت اس طرح سے ہے:اگرلوگوں کو اسی طرح چھوڑدےاجاتااورانھیں نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)(اوران کی آل پاک) کے ذکرویادکے بارے میں کوئی ت نبیہ اورتذکرنہ دےاجاتااورصرف کتاب خداکوان کے ہاتھوں میں دے دیاجاتاتوان لوگوں کاوہی حال ہوتاجواس (اسلام کے قبول کرنے)سے پہلے تھایعنی وہ اپنی حالت پرباقی رہتے ،اورنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)(اوران کی آل اطہار )کہ جنھوں نے دین اسلام اپنایااورقبول کےااورکتابوں کوبھی وضع وجعل کیااورلوگوں کواپنے مذہب میں داخل کیااورانھیں اپنے مذہب کی طرف دعوت دی اورکبھی کبھی دشمنان دین سے جنگ بھی کی لیکن جب وہ دنیاسے چلے جائیں گے ان کانام صفحہ ہستی سے مٹ جائے گاان کاحکم مندرس ہوجائے گااوروہ ایسے ہوجائیں کہ گویااصلاوہ اس دنیامیں موجودہی نہ تھے پس خداوندعالم نے ارادہ کیاکہ حضرت محمد مصطفی (صلی الله علیھ و آلھ)کادین ومذہب اوران کاامرکوباقی رکھاجائے اور بھلایانہ جائے لہٰذاخداندعالم نے ان کی امت پرنمازکوواجب قرار دیا
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ/ج ٢/ص ٣
.۲)تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١١
اسی نمازمیں پوری دنیاکے تمام مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ بلندآوازسے اس پیغمبرکانام لیتے ہیں اور افعال نمازکوانجام دینے کے ذریعہ خداوندتبارک وتعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اوراس کاذکر کرتے ہیں پس اسی لئے خداوندعالم نے امت محمدی پرنمازکوواجب قراردیاتاکہ وہ آنحضرت (اوران کی آل پاک ) کے ذکرسے غافل نہ ہوسکیں اور انھیں نہ بھول سکیں اورنہ ان کاذکرمندرس نہ ہوسکے۔(١)
محمدبن سنان سے مروی ہے کہ امام ابوالحسن علی موسی الرضا کی خدمت میں جوخط لکھے گئے ان میں امام (علیھ السلام) سے متعددسوال کئے گئے جن میں ایک سوال یہ بھی تھاکہ خداوندعالم نے نمازکوکس لئے واجب قراردیاہے؟توامام (علیھ السلام)نے خط کے جواب میں تحریرکیااوراس میں نمازکے واجب قرادئے جانے کی اس طرح وجہ بیان کی: نمازکے واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ خداوندعزوجل کی ربوبیت کااقرارکیاجائے اورخداکوشریک جاننے سے انکارکیاجائے اورنمازکے ذریعہ خداوندجل جلالہ کی بارگاہ میں عجزوانکساری، تواضع ، خضوع اوراعتراف گناہ کااظہارکیاجائے ،نمازکے ذریعہ گذشتہ گناہوں کے بارے میں طلب بخشش کی جائے ،خداوندعالم کی عظمت کوذہن میں رکھ کراس کے سامنے روزانہ پانچ مرتبہ پیشانی کوزمین پررکھاجائے ،انسان خداکے علاوہ کسی کی تعریف نہ کرے اورطغیان وسرکشی نہ کرے ،انسان اپنے آپ کوخداکے سامنے ذلیل و حقیرمحسوس کرے اورخداسے دین ودنیاکی بھلائی کی تمناکرے،انسان شب وروزہمیشہ اپنے رب کی یادتازہ کرے اوراپنے مولاومدبراورخالق یکتاکونہ بھول سکے ،اپنے رب کاذکرکرے اوراس کی بارگاہ میں قیام کرے تاکہ گناہوں اورہرقسم کے فسق وفجورسے محفوظ رہے ۔(٢)
____________________
. ١)وسائل الشیعہ/ج ٢/ص ٣١٧
. ٢)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢١۴
نمازکی اہمیت
قرآن واحادیث میں نمازکوجواہمیت دی گئی ہے وہ اس چیزسے معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں فروع واحکام دین سے متعلق جو آیات موجودہیں ان میں جت نی آیتیں نمازکے بارے میں نازل ہوئی ہیں ات نی مقدارمیںفروع دین میں سے کسی کے بارے میں موجودنہیں ہیں،
خمس کے بارے میں ایک ، روزہ کے بارے میں ٣١ / حج کے بارے میں ١٨ / اورزکات سے متعلق ٣٣ آیتیں موجود ہیں لیکن خداوندعالم نے اس عظیم عبادت (نماز) کے بارے میں ١٢٢ /یااس سے بھی زیادہ زیادہ آیتیں نازل کی ہیں کہ جن میں نماز کی اہمیت ا وراس کے اہم احکام ومسائل کو بیان کیا گیا ہے ۔
نمازکی اہمیت اس چیزسے بھی معلوم ہوتی ہے کہ مکتب تشیع میں فقہی روایات کا ایک تہائی حصّہ نماز اور مقد ما ت نماز سے مر بوط ہے ،کتب اربعہ اور “وسا ئل الشیعہ ” اور “ مستدرک الوسائل” کواٹھاکردیکھیں توان میں سب سے زیادہ احادیث نمازسے تعلق رکھتی ہیں،تحقیق کے مطابق “وسا ئل الشیعہ ” اور “ مستدرک الوسائل”دونوں ایسی مفصل کتا بیں ہیں کہ جن میں مکتب تشیع کی تمام قفہی احادیت وروایات درج ہیں ان دونوں کتابوں کی احا دیث کی تعداد مجموعاً ساٹھ ہزار ہے اور ان دونوں کتابوں کی ساٹھ ہزار روایتوں میں بیس ہزار احادیث نماز سے تعلق رکھتی ہیں ۔
فروع دین میں نمازکواس کی اہمیت کی بنیادپرپہلے ذکرکیاگیاہے اور اصل اسلام قراردیاگیاہے جیساکہ روایت میں آیاہے حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں:ایک شخص نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی خدمت میں ایااورعرض کیا:اے الله کے نبی!میں یہ جانناچاہتاہوں کہ دین اسلام میں کونسی چیزاصل ہے اورکون اس کی شاخ وفرع ہے اورکون اس کی چوٹی ہے ،پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے فرمایا: نمازدین اسلام کی جڑہے، زکات اس کی فرع اورشاخ ہے اور جہاد اس کی بلند تر ین چوٹی ہے ۔(۱)
____________________
١)تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٢۴٢
نمازکی اہمیت کے بارے میں معصومین سے چندروایت ذکرہیں:
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:لکل شی ؤجهة ووجه دینکم الصلاة (۱)
پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:ہرچیزکاایک چہرہ ہوتاہے اورنمازتمھارے دین کاچہرہ ہے۔
.قال علی علیه السلام:الصلاة قربان کل تقی (۲)
حضرت علیفرماتے ہیں :نمازہرپرہیزگارکاخداوندعالم سے تقرب حاصل کرنے کابہترین ذریعہ ہے۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:الدعاء مفتاح الرحمة والوضوء مفتاح الصلاة والصلاة مفتاح الجنة .(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں :دعارحمت کی کنجی ہے اوروضونمازکی کنجی ہے اورنمازبہشت کی کنجی ہے۔
قال علی علیه السلام:الصلاة حصن الرحمٰن ومدحرة الشیطان .(١)
حضرت علیفرماتے ہیں:نمازخدائے مہربان کاقلعہ ہے اورشیطان کودورکرنے کابہترین وسیلہ ہے۔
تمام انبیائے کرام نمازی تھے
نمازکی اہمیت اس چیزسے بھی معلوم ہوتی ہے کہ تمام ادیان الٰہی میں نمازکاوجودتھا،
تمام انبیاء کی شریعت میں رائج وموجود تھی اوردنیامیں جت نے بھی نبی ورسول آئے سب الله کی عبادت کرتے تھے ، اہل نمازتھے اوراپنی امت کے لوگوں کونمازوعبادت کی دعوت بھی دیتے تھے لیکن ہرنبی کی شریعت میں نمازوعبادت کاطریقہ طریقہ یکساں نہیں تھا،جس طرح ہرنبی کے زمانے کاکلمہ یکساں نہیں تھااسی طرح نمازکاطریقہ بھی مختلف تھا ،تمام انبیاء کی شریعت میں نمازکے رائج ہونے کی سب سے یہ ہے کہ خداندعالم نے قرآن وحدیث میں اکثرانبیاء کے ساتھ نمازکاذکرکیاگیاہے اوربیان کیاگیاہے کہ تمام نبی نمازی تھے اورنمازکی دعوت بھی دیتے تھے
____________________
. ۱)تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٢٣٨.
. ۲)نہج البلاغہ /کلمات قصار/ش ١٣۶ /ص ٣٨۶
. ۳)نہج الفصاحة /ح ١۵٨٨ /ص ٣٣١
. ۴)غررالحکم/ج ٢/ش ٢٢١٣ /ص ١۶۶
نمازاورحضرت س آدم
حسین ابن ابی العلاء سے مروی ہے ،امام صادق فرماتے ہیں :جب خداوندعالم نے آدم(علیھ السلام) کوجنت سے نکال کردنیامیں بھیجاتوآپ کے پورے جسم پرسر سے پیروں کے تلووں تک سیاہ رنگ کے داغ پڑگئے(جسے عربی میں شامہ کہتے ہیں) جس کی وجہ سے آپ کے جسم سے بدبوآنے لگی ، حضرت آدم (علیھ السلام)اپنے جسم سے آنے والی بدبوسے پریشان ہوگئے اوربہت زیادہ غمگین رہنے لگے اوررونے وگڑگڑانے لگے ،ایک دن جبرئیل امین حضرت آدم (علیھ السلام) کے پاس آئے اورپوچھا:
اے آدم! تمھارے رونے کاسبب کیاہے ؟حضرت آدم (علیھ السلام)نے جواب دیا:ان کالے داغ اوران کے اندرپیداہونے والی بدبونے مجھے غمگین کردیاہے ،جبرئیل نے کہا:اے آدم! اٹھواورنمازپڑھو کیونکہ یہ پہلی نماز(یعنی نمازظہر)کاوقت ہے ،حضرت آدم(علیھ السلام) نے اٹھ کرنماز(ظہرپڑھی توفوراًآپ کے جسم سے سروگردن کارنگ بالکل صاف ہوگیااورجب دوسری نماز(یعنی عصر)کاوقت پہنچاتوجبرئیل نے کہا:اے آدم(علیھ السلام)!اٹھواورنمازپڑھوکیونکہ اب یہ دوسری نمازکاوقت ہے،جیسے ہی حضرت آدم(علیھ السلام) نے نمازعصرپڑھی توناف تک بدن کارنگ صاف ہوگیا
اس کے بعدجب تیسری نماز(یعنی مغرب )کاوقت پہنچاتوجبرئیل نے پھرکہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھواورنماز(مغرب)پڑھوکیونکہ اب یہ تیسری نمازکاوقت ہے، جیسے حضرت آدم(علیھ السلام) نے نماز(مغرب) پڑھی تودونوں گھٹنوں تک بدن کارنگ صاف ہوگیا،جب چوتھی نماز (یعنی عشا) کاوقت پہنچاتوکہا:اے آدم(علیھ السلام)!اٹھواورنماز(عشا)پڑھوکیونکہ اب یہ چوتھی نمازکاوقت ہے ،حضرت آدم(علیھ السلام) نے نماز (عشا) پڑھی تو پیروں تک بدن کا رنگ بالکل صاف ہوگیا جب پانچوی نماز(یعنی صبح )کاوقت پہنچاتوکہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھو اور نماز (صبح) پڑھو کیونکہ اب یہ پانچوی نمازکاوقت ہے ،جیسے ہی حضرت آدم(علیھ السلام) نماز (صبح) سے فارغ ہوئے تومکمل طورسے پورے کارنگ صاف ستھراہوگیااورآپ نے خداکی حمدوثنا کی،جبرئیل نے کہا: اے آدم!تمہاری اولادکی مثال ان پنجگانہ نمازوں میں ایسی ہی ہے جس طرح تم نے نمازپنجگانہ کے ذریعہ اس شامہ سے نجات پائی ہے پس تمہاری اولادمیں جوشخص شب وروزمیں یہ پانچ نمازیں پڑھے گاوہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجائے گاجیسے تم اس شامہ سے پاک وصاف ہوئے ہو ۔(۱)
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢١۴
نمازاورحضرت ادریس
عن الصادق علیه السلام قال:اذادخلت الکوفة فات مسجدالسهلة فضل فیه واسئل الله حاجتک لدینک ودنیاک فانّ مسجدالسهلة بیت ادریس النبی علیه السلام الذی کان یخیط فیه ویصلی فیه ومن دعاالله فیه بمااحبّ قضی له حوائجه ورفعه یوم القیامة مکاناعلیاالی درجة ادریس علیه السلام واجیرمن الدنیاومکائد اعدائه .(١)
امام صادق فرماتے ہیں:جب آپ شہرکوفہ میں داخل ہوں اورمسجدسہلہ کادیدارکریں تومسجدمیں ضرورجائیں اوراس میں مقامات مقدسہ پرنمازپڑھیں اورالله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی دینی اوردنیاوی مشکلات کوحل کرنے کی دعاکریں،کیونکہ مسجدسہلہ حضرت ادریس کاگھرہے جس میں خیاطی کرتے تھے اورنمازبھی پڑھتے تھے جوشخص اس مسجدمیں الله تعالیٰ کی بارگاہ میں ہراس چیزکے بارے میں جسے وہ دوست رکھتاہے دعاکرے تواس کی وہ حاجت پوری ہوگی اورروزقیامت حضرت ادریس کے برابرمیں ایک بلندمقام سے برخوردارہوگااوراس مسجدمیں عبادت کرنے اورنیازمندی کااظہارکرنے کی وجہ سے دنیاوی مشکلیں اوردشمنوں کے شرسے خداکی امان میں رہے گا۔
نمازاورحضرت نوح
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:کان شریعة نوح علیه السلام ا نٔ یعبدالله بالتوحید والاخلاص وخلع الاندادوهی الفطرة التی فطرالناس علیهاواخذمیثاقه علی نوح علیه السلام والنبیین ا نٔ یعبدوالله تبارک وتعالی ولایشرکوا به شیئاوامره بالصلاة والامروالنهی والحرام والحلال .(۲)
امام محمدباقر فرماتے ہیں:حضرت نوح کااصول یہ تھاکہ آپ خدائے یکتاکی عبادت کرتے تھے اس کی بارگاہ میں اخلاص کااظہارکرتے تھے ،اسے بے مثل مانتے تھے اورآپ کی یہ وہی فطرت تھی کہ جس فطرت پرخداوندعالم نے لوگوں کوقراردیاہے پروردگارعالم نے حضرت نوح اورتمام انبیائے کرام سے عہدلیاہے کہ وہ الله تبارک وتعالیٰ کی عبادت کریں اورکسی بھی چیزکواس کاشریک قرارنہ دیں سے دوری کریں اورخداوندعالم نے حضرت نوح(علیھ السلام) کونمازپڑھنے ،امربالمعروف ونہی عن المنکرکرنے اورحلال وحرام کی رعایت کرنے کاحکم دیاہے۔
____________________
١)بحارالانوار/ج ١١ /ص ٢٨٠
. ٢) کافی /ج ٨/ص ٢٨٢
نمازاورحضرت ابراہیم
حضرت ابرہیم اولوالعزم پیغمبر وں میں سے تھے ا ورآپ کوبت شکن ،حلیم ،صالح ، مخلص اورموحدجیسے بہترین القاب سے یادکیاجاتاہے ،آپ نے اپنی عمر کے دوسوبرس کفروشرک سے مقابلہ اور لوگوں کو تو حیدباری تعالیٰ وا طاعت خداوندی کی دعوت کرنے کی راہ میں گزارے ہیں. مکتب حضرت ابراہیم میں آپ کی پیر وی کرنے والوں کے درمیان نماز وعبادت کو ایک عمدہ واجبات میں شمارکیاجاتاتھا،جب خدا نے آپ کو حکم دیا کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے شیرخوار فرزند اسمعیل (علیھ السلام)کو ساتھ لے کر سرزمین مکہ کی طرف ہجرت کرجائیں ،آپ نے حکم خدا پر عمل کیااورشام سے مکہ میں خانہ کعبہ تک پہنچے تو آپ نے وہاں اس آپ وگیاہ سرزمین پرایک نہایت مختصرطعام اورپانی کے ساتھ زمین پراتارا. بیوی اوربچے سے خداحافظی کرکے واپسی کارادہ کیاتوجناب ہاجرہ نے ابراہیم (علیھ السلام) کادامن پکڑکرعرض کیا:ہمیں اس بے آب وگیاہ زمین پرجگہ کیوں چھوڑے جارہے ہو؟جواب دیاکہ:یہ حکم خداہے ،جیسے ہی ہاجرہ نے حکم خداکی بات سنی توخداحافظ کہااورعرض کیا:جب حکم رب ہے تواس جگہ آب وگیاہ زمین پرہماری حفاظت بھی وہی کرے گا،جب ابراہیم (علیھ السلام)چلنے لگے توبارگاہ خداوندی میں عرض کیا:
( رَبَّنّااِنَّنِیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّ یَّتِیْ بِوَادٍغَیْرِذِیْ زَرْعٍ عِنْدَبَیْتِکَ المُحَرَّمِ رَبَّناَلِیُقِیْمُواالَصَّلوٰةَ ) (۱)
اے ہما رے پروردگا ر!میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آ ب وگیاہ وادی میں چھوڑدیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں یعنی تاکہ وہ یہاں سے لوگوں کو دعوت نماز کی آواز بلند کی کریں اور نماز یں قائم کریں اور قیام نماز کو دینی ذمہ داری سمجھیں اور تو میری اس ذریت کو نہ ت نہا نماز پڑھنے والے بلکہ مقیم نماز بھی قرار دے (اور جب نماز قائم ہوئے گی تو لوگ شرک وطغنانی سے پاک ہوجائیں گے )۔ حضرت ابراہیم بارگاہ خداوندی میں بہت زیادہ دعاکرتے تھے اورآپ کی دعائیں قبول ہوتی تھی ،آپ کی دعاؤں میں سے ایک دعایہ بھی ہے کہ آپ بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں :( رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ رَبَّنَاوَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ) (۲) پروردگارا!مجھے اورمیری ذریّت کونماز قائم کرنے والوں میں قراردے اور اے پروردگارتومیری دعاء کوقبول کرلے۔ تاریخ میں یہ بھی ملتاہے کہ: جب اسماعیل (علیھ السلام)کچھ بڑے ہوئے تو حضرت ابراہم (علیھ السلام) آٹھ ذی الحجہ کو اپنے فرزند کو لے کر“لبّیک لاشریک لَکَ لبّیک ”ٔکہتے ہوئے منیٰ کے میدان میں پہنچے اور اپنی پیروی کرنے والوں کے ساتھ نماز ظہرین ومغربین باجماعت انجام دی اوراس وقت سے لیکر آج تک واد ی مٔنی اور صحرائے عرفات میں بڑے وقاروعظمت کے ساتھ نماز جماعت برگزار ہوتی ہے اور خدا کی وحدانیت کے نعرے بلند ہوتے ہیں ۔
____________________
١)سورہ أبراہیم /آیت ٣٧
. ۲)سورہ أبراہیم/آیت ۴٠
عن جابربن عبدالله الانصاری قال:سمعت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول:مااتخذالله ابراهیم خلیلا،الالاطعامه الطعام ،وصلاته باللیل والناس ینام .(١)
رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں : خدا وند متعال نے حضرت ابراہیم کو دوکام انجا م دینے کی وجہ سے اپنا خلیل منتخب کیا ہے ١۔فقیروں ومسکینوں کو کھانادینا ، ٢۔ رات میں نمازشب پڑھناکہ جب سب لوگ سوتے رہتے ہیں ۔
نمازاورحضرت اسماعیل
خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( وَاذْکرْفِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْل اِنّه کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًانَّبِیًا ) (٢)
اپنی کتاب میں اسماعیل کاتذکرہ کروکیونکہ وہ وعدے کے سچے اورہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے ۔
( وَکَانَ یَاْ مُرُ اَهْلَهُ بِاالصَّلٰوةِ وَکَانَ عِنْدَ رَبّهِ مَرْ ضیّاً ) .(۳) حضرت اسمٰعیل ہمشہ اپنے گھروالو ں کو نماز وزکات کا حکم دیتے تھے اور اپنے پر وردگارکے نزدیک پسند ید ہ تھے۔
نمازاوراسحاق ویعقوب وانبیائے ذریت ابراہیم
حضرت اسحاق ،یقوب، لوط اورانبیائے ذریت ابراہیم کے بارے میں قرآن کریم میں ارشادخداوندی ہے:
( وَوَهَبْنَالَه اِسْحٰقَ وَیْقُوْبَ نَافِلَةً وَکُلاجَعَلْنَاصٰلِحِیْنَ وَجَعَلْناهُمْ آئمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَاوَا ؤحَیْنَا الیهم فِعْلَ الخیراتِ وَاِقَامَ الصلٰوةِ وَاِیتاءَ الزکوٰةِ وکانوالَنَا عٰبدِیْنَ ) (۴)
اورپھر ابراہیم کواسحاق اوران کے بعدیعقوب عطاکئے اورسب کوصالح اورنیک کردارقراردیا،اورہم نے ان سب کو پیشواقراردیا جوہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف کا ر خیر کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکات دینے کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گذار بندے تھے ۔
____________________
١)علل الشرایع /ج ١/ص ٣۵
. ٢)سورہ مریم/آیت ۵٣
. ٣ )سورئہ مریم آیت ۵ ۵
۴)سورہ أنبیاء ایت ٧٣
نمازاورحضرت شعیب
جب حضرت شعیب اپنی قوم کو غیرخدا کی عبادت،مالی فساداور کم فروشی سے منع کیا تو انھوں نے آپ سے کہا:
( یَاشُعیْبُ اَصَلٰوتُُکَ تَاْمُرُکَ ا نَْٔ نَتْرُ کَ مَا یَعْبُدُآ بَآؤُ نَا ا ؤْ ا نْٔ نَّفْعلَ فیِ ا مَْٔوَا لِنَا مَا نَشَؤ اِنَّکَ لَاَ نْتَ الحَلِیْمُ الرَّشَیْدُ ) .(۱) اے شعیب ! کیاتمھاری نمازتمھیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے معبودوں کو چھوڑدیں یااپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ، تم تو بڑے بردبار اور سمجھ دار معلوم ہوتے ہو ۔
نمازاورحضرت موسی
اولوالعزم پیغمبرحضرت موسیٰ جب کوہ طوروسیناپرپہنچے توآپ نے یہ آوازسنی:
( یَامُوسیٰ اِنِّیْ اَنَارَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ اِنَّکَ بِالْوَادِالْمُقَدَّسِ طَوًی وَاَنَااَخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لَمَایُوحیٰ اِنَّنِیْ اَنَااللهُ فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِکْرِیْ ) (۳)
اے موسیٰ!میں تمھاراپروردگارہوں لہٰذاتم اپنی جوتیوں کواتاردوکیونکہ تم طویٰ نام کی مقدس اورپاکیزہ وادی میں ہو،اورہم نے تم کومنتخب کرلیاہے لہٰذاجووحی جاری کی جارہی ہے اسے غورسے سنو، میں الله ہوں میرے علاوہ کوئی خدانہیں ہے پس تم میری عبادت کرواوریادکے لئے نمازقائم کرو۔
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا ئے عزوجل نے حضرت موسیٰپر وحی نازل کی : اے موسیٰ ! کیا تم جانتے ہو ، میں نے اپنی پوری مخلوق میں سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکلام ہونے کے لئے کیوں منتخب کیا ہے ؟ عرض کیا : پرو درگار ا ! تو نے مجھ ہی کو کیوں منتخب کیا ہے ؟ خدا نے کہا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی لیکن تمھارے علاوہ کسی بھی بندے کو تم سے زیادہ متواضع نہ پایا ، کیونکہ اے موسیٰ ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے چہرے کو خاک پر رکھتے ہو ۔(۳)
____________________
. ۱) سورہ ۂود/آیت ٨٧
۲)سورہ طٰٔہٰ /آیت ١٢ ۔ ١۴
۳)اصول کافی/ج ٣/ص ١٨٧
نمازاورحضرت لقمان
قرآن کریم میں ایاہے کہ حضرت لقمان اپنے فرزندسے وصیت کرتے ہیں:
( یابُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْبِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْکَرِوَاصْبِرْعَلٰی مَااَصابَکَ ) (۱)
بیٹا!نمازقائم کرو،نیکیوں کاحکم دو،برائیوں سے منع کرواوراس راہ میں تم پرجومصیبت بھی پڑے اس پرصبرکرو۔
نمازاورحضرت عیسیٰ
خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے کہ:جب حضرت مریم بچے کواٹھائے ہوئے قوم کے پاس آئیں تولوگوں نے کہا:مریم!یہ تم نے بہت براکام کیاہے ،ہارون کی بہن!نہ تمھاراباپ براآدمی تھااورنہ تمھاری ماں بدکردارتھی ،پس حضرت مریم اپنے بچہ طرف اشارہ کیاکہ اس سے معلوم کرلیں، میں نے کوئی گناہ نہیں کیاہے قوم نے کہا:ہم اس سے کیسے بات کریں جوبچہ ابھی گہوارہ میں ہے ،بچے نے گہوارہ سے کلام کیا:
( اِنِّیْ عَبْدُ اللهِ اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیاوَجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًااَیْنَ مَاکُنْتُ وَاَوْ صٰنِی بِالصّلٰوة وَالزّ کٰوة ماَدُمتُ حیّاً ) (۲)
میں الله کابندہ ہوں،اس نے مجھے کتاب دی ہے اورمجھے نبی بنایاہے ،اورجہاں بھی رہوں بابرکت قراردیاہے اور جب تک میں زندہ ہوں ، مجھے نماز وزکات کی وصیت کی ہے۔
نمازاورحضرت سلیمان
حضرت سلیمان غالباًراتوں کونمازمیں گذارتے تھے اورخوف خدامیں اپ کی آنکھوں سے انسوں جاری رہتے تھے اور کثرت نمازوعبادت کی وجہ سے لوگوں کے درمیان کثیرا الصلاة کے نام سے مشہورتھے علامہ مجلسی “بحارالانوار”ارشاد القلوب سے ایک روایت نقل کرتے ہیں: حضرت سلیمان کہ جن کے پاس حکومت وبادشاہت اورہرطرح کے وسائل موجود تھے لیکن آپ بالوں کانہایت ہی سادہ لباس پہنا کرتے تھے ، رات میں کھڑے ہوکر اپنی گردن کودونوں ہاتھوں کی انگلیوں آپس میںڈال کرباندھ لیاکرتے تھے اور پوری رات یادخدا میں کھڑے ہوکر رویا کرتے تھے حضرت سلیمان خرمے کی چھال سے ٹوکریاں بنایاکرتے تھے جس کی وجہ سے آپ نے خداسے حکومت وبادشاہت کی درخواست کی تاکہ کافروطاغوت بادشاہوں سرنگوں کر ) سکوں۔(۳)
____________________
. ۱)سورہ لٔقمان/آیت ١٧.
۲ )سورہ مٔریم آیت ٢٧ ۔ ٣١
.۳)بحارالانوار/ج ١۴ /ص ٨٣
نمازاورحضرت یونس
خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:( لَولَااَنّه کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطَنِهِ اِلٰی یَومِ یُبْعَثُونْ ) (١)
اگرحضرت یونس تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہو تے تو قیامت تک شکم ماہی میں ہی پڑے رہتے ۔
تفسیر مجمع البیان میں قتادہ سے نقل کیاگیاہے کہ تسبیح یونس سے نمازمراد ہے کیونکہ وہ نماز گزاروں میں سے تھے اور نماز ہی کی وجہ سے ان کو خدانے انھیں اس رنج ومصیبت سے نجات دی ہے۔(۲)
نمازاورحضرت زکریا
ہ( ُنَالِکَ دَعَازَکَرِیارَبَّه قَالَ هَبَْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَاءِ فَنَاْدَتْهُ الْمَلٰئِکَةُ وَهُوَقٰائِمٌ یُصَلِّیْ فِیْ الْمَحْرَاْبِ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْییٰ ) (۳)
جس وقت حضرت ذکریانے جناب مریم کے پاس محراب عبادت میں عنایت الٰہی کامشاہدہ کیااورجنت کے کھانے کودیکھاتوآپ نے اپنے پروردگارسے دعاکی کہ :مجھے ایک پاکیزہ اولادعطافرماکہ توہرایک کی دعاکاسننے والاہے تو ملائکہ نے انھیں اس وقت آوازدی کہ جب وہ محراب عبادت میں کھڑے ہوئے نمازمیں مشغول تھے کہ خدا تمھیں یحییٰ کی بشارت دے رہاہے ۔
نمازاورحضرت یوسف
حضرت یوسف کی سوانح حیات میں ملتاہے کہ آپ کو عزیز مصرنے ایک تہمت لگاکرزندان میں ڈالدیااس وقت عزیزمصرکاایک غلام اپنے آقاکو غضبناک کرنے کی وجہ سے زندان میں زندگی گزاررہاتھا، وہ غلام حضرت یوسف کے بارے میں کہتا ہے کہ: آپ ہمیشہ رات میں نماز پڑھتے اوراپنے رب کی بارگاہ میں رازونیازکرتے تھے، دن میں روزہ رکھتے تھے ، بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، مریضوں کے لئے دوائیاں بھی مہیاکرتے تھے ، مظلوم وستم دیدہ لوگوں کوخوشیاں عطاکرتے اور تسلی دیا کرتے تھے. بعض اوقات دوسرے قیدیوں کو خداپرستی کی دعوت دیاکرتے تھے،نہایت خوشی سے زندان کے ایک گوشہ میں اپنے معبودکی راہ میں قدم آٹھاتے تھے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے تھے :( رَبِّ اسِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْ عُونَنِیْ اِلَیْهِ ) .(۴) پرودگارا! یہ قید مجھے اُس کام سے زیادہ مجبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے رہے ہیں۔(۵)
____________________
١)سورہ صٔافات/آیت ١۴٣ ۔ ١۴۴ --. ٢)تفسیرمجمع البیان/ج ٨/ص ٣٣٣ -- ٣ )سورہ آٔل عمران آیت/ ٣٨ ۔ ٣٩
. ۴)سورہ یٔوسف/آیت ٣٣ --. ۵)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ۵۶١ /ص ١٧٧
تمام انبیاء وآئمہ نے نمازکی وصیت کی ہے
قرانی آیات اور احادیث معصومین سے یہ ظاہرہے کہ ہرنبی کے زمانے میں نمازکاوجودتھا اورتمام انبیائے کرام اہل نمازتھے اوراپنی امت کے لوگوں کونمازوعبادت کی دعوت بھی دیتے تھے اورنمازکے بارے میں وصیت بھی کرتے تھے ۔
( وَکَانَ یَاْ مُرُ اَهْلَهُ بِاالصَّلٰوةِ وَکَانَ عِنْدَ رَبّهِ مَرْ ضیّاً ) .(۱)
حضرت اسمٰعیل ہمشہ اپنے گھروالو ں کو نماز وزکات کا حکم دیتے تھے اور اپنے پر وردگارکے نزدیک پسند ید ہ تھے۔
( یٰابُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةوَاْمُرْبِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْکَرِوَاصْبِرْعَلٰی مَااَصَابَکَ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُورِ ) (۲)
حضرت لقمان نے اپنے فرزندسے وصیت کرتے ہیں:اے بیٹا ! نماز قائم کرو، نیکیوں کا حکم دو ، برائیوں سے منع کرو، اورجب تم پرمصیبت پڑے صبر کرو بے شک یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔
( وَاَوْحَیْنَااِلٰی مُوسٰی وَاَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰلِقَومِکُمَابِمِصْرَبُیُوْتًاوَاجْعَلُوابُیُوْتَکُمْ قِبْلَةً وَاَقِیْمُوْاالصَّلٰوةَ وَبَشِّرِالْمُو مِٔنِیْنَ ) (۳)
اورہم نے موسی اوران کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصرمیں گھربناؤاوراپنے گھروں کوقبلہ قراردواورنمازقائم کرواورمومنین کوبشارت دیدو۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:سمعته یقول:احبّ الاعمال الی الله عزوجل الصلاة وهی آخروصایا الانبیاء (علیهم السلام .(۴)
امام صادق فرماتے ہیں:الله تبارک وتعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل نمازہے اورہرتمام انبیائے کرام نے آخری وصیت نمازکے بارے میں کی ہے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال: قال لقمان لابنه اذاجاء وقت الصلاة فلاتو خٔرهالشی ،ٔ صلّها و استرح منها،فانّهادین ،وصلّ فی الجماعة ولوعلی راس زجّ .(۵)
____________________
. ۱ )سورئہ مریم آیت ۵ ۵
۲ )سورئہ لقمان آیت ١٧
. ۳)سورہ یونس/آیت ٨٧
۴)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢١٠
۵)عروة الوثقی / ٢/ص ۴١۶
حضرت امام صادق -فرماتے ہیں کہ:حضرت لقماننے اپنے فرزندسے وصیّت کرتے ہوئے کہا:اے بیٹا !جب نمازکاوقت پہنچ جائے تواسے کسی دوسرے کام کی وجہ سے تاخیرمیں نہ ڈالنابلکہ اول وقت نمازاداکرنااوراس کے ذریعہ اپنی روح کوشادکرناکیونکہ نمازہمارادین ہے اورہمیشہ نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرنا خواہ تم نیزے پرہی کیوں نہ ہوں۔
جابرابن عبدالله انصاری سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی وفات کے بعدکعب نے عمرابن خطاب سے پوچھا :وہ آخری جملہ کیاہے جسے رسول اکرم (صلی الله علیه و آله) نے انتقال کے وقت بیان کیا تھا ؟ عمرابن خطاب نے کہا :اس بارے میں علی (علیھ السلام)سے معلوم کرو،جب کعب نے امام علی سے پوچھاتو آپ نے فرمایا:اسندت رسول الله صلی الله علیه وآله الی صدری فوضع راسه علیٰ منکبِی، فقال:الصلاة الصلاة
جب رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے انتقال کیاتواس وقت آپ کاسرمبارک میرے شانہ پررکھاتھامیں نے رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کوان کی عمرکے آخری لمحوں میں اپنے سینے سے لگایااور آنحضرت نے اپنے سر مبارک کومیرے شانہ پر قرار دیا اورمجھ سے کہا : نماز ! نماز! ۔(۱)
جابرابن عبدالله انصاری سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)خطبہ دے رہے تھے کہ حمدوثنائے الٰہی کے بعد لوگوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
علیکم بالصلاة ،علیکم بالصلاة ،فانّهاعموددینکم ۔
تم پرنمازواجب ہے ،تم پرنمازواجب ہے کیونکہ نمازتمھارے دین کاستون ہے ۔(۲)
روایت میں ایاہے کہ امیرالمومنین حضرت علی نے شہادت کے وقت تین مر تبہ نماز کے بارے میں وصیت کی:”الصلاة الصلاة الصلاة ” نماز !نماز !نماز ! ۔(۳)
____________________
١)المراجعات/ص ٣٢٩
. ٢)مستدرک الوسائل/ج ٣/ص ٢٨.
٣)مستدرک الوسائل /ج ٣/ص ٣٠
ابوبصیر سے مروی ہے:میں حضرت امام صادق کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ امّ حمیدہ کی خدمت میں تسلیت پیشکرنے کیلئے پہنچا تو انھوں نے رونا شروع کردیا انھیں روتے ہوئے دیکھ کر میں بھی امام (علیھ السلام)کی یاد میں رونے لگا اس وقت انھوں نے مجھ سے کہا:اے ابوبصیر! اگر تم امام (علیھ السلام)کی شہادت کے وقت ان کے پاس موجو د ہوتے تو ایک عجیب منظر دیکھتے ، امام نے پروازروح سے قبل اپنی آنکھوں کو کھولا اور فرمایا : میرے تمام عزیزوں واقارب کومیرے پاس جمع کیا جائے ، کوئی ایساباقی نہ رہاجواس وقت نہ آیاہو،جب سب امام (علیھ السلام)کی خدمت میں حاضر ہوگئے توامام صادق نے ان کی طرف نگاہ کر کے ارشاد فرمایا :
انّّ شفاعت نالات نال مستخفاًبالصلاة
نمازکوہلکاسمجھنے والے کوہرگزہماری شفاعت نصیب نہ ہوگی۔(۱)
نمازمومن کی معراج ہے
نمازکی اہمیت اس چیزسے بھی معلوم ہوتی ہے خدا وعالم نے دنیامیں جت نے بھی نبی اورپیغمبربھیجے ہیں ان میں سے ہرایک نبی کے لئے ایک خاص معراج مقرر کی ہے اور مو مٔنین کے لئے بھی ایک معراج معین کی ہے کہ جسے نمازکہتے ہیں حضرت آدم کی معراج یہ تھی کہ خداوندعالم انھیں عدم سے وجو د میں لایا اور بہشت میں جگہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
یٰ( آدم اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجَکَ الْجَنّة ) (۲) اے آدم ! تم اور تمہاری زوجہ ( حضرت حوا)جنت میں داخل ہوجاؤ ۔
حضرت ادریس کی معراج یہ تھی کہ آپ ایک فرشتے کے پروں پر سوار ہوئے اور اس سے کہا : کہ مجھ کو آسمان کی سیرکرائے اور بہشت میں داخل کردے ، اذن پر ور دگار سے ایساہی ہوا( وَرَفَعنَاهُ مکاناً عَلِیا ) (۳) اورہم نے ان کو بلند مقام تک پہنچا یا۔
حضرت نوح کی معراج یہ تھی کہ جب آپ میں اپنی قوم کے ظلم واذیت تحمل کرنے کی قوت باقی نہ رہی اوریہ یقین ہوگیاکہ اب صرف ان چندلوگوں کے علاوہ کوئی اورشخص ایمان لانے والانہیں ہے توخداکی بارگاہ میں دست دعابلندکئے اورکہا:بارالٰہا!اب کوئی شخص ایمان لانے والانہیں ہے لہٰذاتواس قوم پراپناعذاب نازل کردے ، خدانے آپ کوحکم دیا:
____________________
۱) من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢٠۶
۲)سورہ بٔقرہ /آیت ٣۵
. ۳)سورہ مٔریم/آیت ۵٧
( وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَاوَوَحْیِنَا ) (۱)
اے نوح !ہماری نظارت میں ہماری وحی کے اشارے پر ایک کشتی بناو ۔ٔ
طوفان نوح (علیھ السلام)کی مختصرداستان یہ ہے کہ حضرت نوح (علیھ السلام)نے حکم خداسے ایک کشتی بنائی ،جب کشتی بن کرتیارہوگئی توت نورسے پانی نکلااورطوفان شروع ہوگیا،حضرت نوح (علیھ السلام)نے ہرقسم کے جانور،چرندوپرند اوردرندوں کاایک ایک جوڑا کشتی میں سوارکیا،جوآپ پرایمان رکھتے تھے انھیں بھی سوارکیا اورخودبھی اس میں سوار ہوئے ،جب کشتی چلنے لگی توآپ نے اس کے ذریعہ پوری دنیا کی سیرکی اورپوری دنیاکاچکرلگانے کے بعدکوہ جودی پرپہنچ کرکشتی رک گئی ،حضرت نوح (علیھ السلام) کشتی سے زمین پر آئے اورزمین کو دوبارہ آبادکیا۔معراج حضرت ابراہیم یہ تھی کہ جس وقت نمرودنے آپ کو منجنیق میں بٹھا کر آگ میں ڈالا تو وہ آگ حکم خدا سے گلزار ہو گئی( یٰانَارُکُونِی بَرْداًوَسَلَامًا ) (٢) اے آگ !تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈی اور سلامت بن جا ۔
معراج حضرت اسمعیل یہ تھی کہ جسوقت آپ کا گلا باپ کے خنجر کے نیچے تھا اور وہ آپ کو را ہ خدا میں قربان کررہے تھے کہ خدا وند عالم نے جنت سے ایک دنبہ بھیجا جو ذبح ہوگیا اور اسماعیل بچ گے أور خداوند عالم نے کہا :( وَفَدَ یْنٰاهُ بَذبحٍ عظیم ) (۳) ہم نے اسمعیل کی قربانی کو ذبحِ عظیم میں تبدیل کردیا ہے ۔
حضرت موسیٰ کی معراج یہ تھی کہ جس وقت آپ مناجات کے لئے کوہ طور پر گئے تو ( آپ نے شیرین لہجے میں خداوند عالم کے کلمات کوسنا( وَکَلَّمَ الله مُو سٰی تکلیما ) (۴) اورخداوندعالم نے حضرت موسٰی سے کلام کیا ۔
خاتم الانبیا، سرورکائنات حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیھ و آلھ) کی معراج یہ ہے کہ خداوندعالم نے آپ کوآسمانوں کی سیرکرائی اورارشادفرمایا:( سُبْحَانَ الّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی ) (۵) پاک وپاکیز ہ ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجدالاقصی تک۔
____________________
١)سورہ ۂود/آیت ٣٧
. ٢)سورہ أنبیاء/آیت ۶٩
. ۳)سورہ صٔافات/آیت ١٠٧
۴)سورہ نٔساء/آیت ١۶۴
۵)ُسورۂ اسراء/آیت ١
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کے دل میں خیال آیاکہ خداوندعالم نے ہرنبی کے لئے ایک معراج معین کی ہے میں یہ چاہتاہوں کہ میری امت کے مومنین کے لئے بھی کوئی معراج ہونی چاہئے لہٰذاآپ نے نمازکومومن کی معراج قراردیااورارشادفرمایا:
الصلاةمعراج المومن (۱)
نمازمومن کی معراج ہے
اوردوسری حدیث میں فرماتے ہیں:
اَلصَّلَاةُ مِعْرَاجُ اُمَّتِی (۲)
نماز میری امت کی معراج ہے ۔
بچوں کونمازکاحکم دیاکرو
نمازکی اہمیت اس چیزسے معلوم ہوتی ہے کہ احادیث میں والدین کواس بات کی وصیت کی گئی ہے اپنے بچوں کونمازکاعادی بنائیں اورانھیں نمازکاحکم دیں،اگربچے نمازنہ پڑھیں توانھیں ڈرایااورمارابھی جاسکتاہے
قال الصادق السلام قال: انّانا مٔرصبیاننابالصلاة اذاکانوا بنی خمس سنین، فمروا صبیانکم بالصلاةاذاکانو ابنی سبع سنین ۔(۳)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : جب ہمارے فرزند پانچ سال کے ہو جاتے ہیں ہم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں اور جب تمہارے فرزندسات سال کو پہنچ جائیں توانھیں نماز پڑھنے کا حکم دو۔
حسن ابن قارون سے مروی ہے کہ:میں نے امام علی رضا سے سوال کےا یاکسی دوسرے نے سوال کےا اورمیں سن رہاتھا کہ:ایک شخص ہے جواپنے لڑکے کوڈانٹ پھٹکارکے ساتھ نمازپڑھواتا ہے اوروہ لڑکاایک ،دودن نمازنہیں پڑھتاہے ،امام علی رضا نے پوچھا:اس کالڑکے کی عمرکت نی ہے ؟جواب دیا: اس کی عمر آٹھ سال ،یہ سن کرامام (علیھ السلام)نے تعجب سے فرمایا: سبحان الله ! وہ آٹھ سال کا بچہ ہے اور نماز کو ترک کرتا ہے،میں نے عرض کیا:وہ بچہ مریض ہے ،امام(علیھ السلام) نے فرمایا:جسصورت ممکن ہواسے اس سے نمازپڑھوائیں ۔(۴)
____________________
. ١)مستدرک سفینة البحار/ج ۶/ص ٣۴٣
. ٢)معراج المومن/ص ٢
۳)الاستبصار/ج ١/ص ۴٠٩
۴)من لایحضرہ افقیہ /ج ١/ص ٢٨٠
عن معاویة بن وهب قال: سئلت اباعبدالله علیه السلام فی کم یو خٔذالصبی بالصلاة ؟فقال:فیمابین سبع سنین وست سنین ۔(۱)
معاویہ ابن وہب سے مروی ہے:میں نے امام صادق سے پوچھا:بچوں کوکت نی عمرسے نمازشروع کرناچاہئے ؟امام (علیھ السلام)نے فرمایا:جب بچہ چھ ،سات سال کی عمرکوپہنچ جائے ۔
اگرماں باپ نمازی ہیں توبچہ بھی نمازی بنتاہے،ماں باپ کونمازپڑھتے ہوئے دیکھ کربچہ بھی نمازکی رغبت پیداکرتاہے کسی بھی نمازی کودیکھ کریہ معلوم ہوتاہے کہ اس کے ماں باپ نمازی ہیں اورانھوں نے بچہ کی اچھی تربیت کی ہے یہ ابوطالب کی تربیت کااثرتھاکہ آج علی کو“کرم الله وجہ”(۲) کانام دیاجاتاہے۔
تاریخ کے اوراق میں لکھاہے کہ : امام حسینکی شہادت کے بعدجب ابن زیادکے سپاہیوں نے حضرت مسلم ابن عقیل کے دونوں بچوں کو گرفتارکرکے زندان میں ڈال دیا، اوررات میں د ربان نے قیدخانہ میں پرنگاہ ڈالی تودیکھاکہ دونوں بچے نمازمیں مشغول ہیں، نگہبان دونوں بچوں کو نمازوعبادت کی حالت میں دیکھ کرسمجھ گیاکہ یہ بچے کسی معصوم سے کوئی نسبت ضروررکھتے ہیں ،لہٰذابچوں کے پاس آیااورمعلوم کیاتوچلاکہ یہ مسلم ابن عقیل کے بچے ہیں پس رات کی تاریکی میں دونوبچوں کوقیدخانہ سے باہرنکال دیامگرجب ابن زیادکے سپاہیوں نے بچوں کوقیدخانہ میں نہ پایاتوانھیں جنگل میں تلاش کرکے دوبارہ گرفتار کرلیا ،ابن زیادنے جلادکودونوں بچوں کاسرقلم کردینے کاحکم دیا،جب جلادنے دونوں کا سرقلم کرناچاہا تو بچوں نے زندگی کے آخری لمحات میں نماز پڑھنے کی مہلت ما نگی ، جب نماز کی مہلت مل گئی تو دونوں بچّے نماز میں مشغول ہو گئے اور نماز کے بعد دونوں کو شہید کردیا گیا ۔
____________________
۱)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ١٣
۲)وہ ذات کہ جسنے زندگی کبھی بھی بت کے سامنے سرنہ جھکایاہو
نمازکے آثارو فوائد
نمازپڑھنے ،روزہ رکھنے ،حج کرنے ،زکات دینے ،صدقہ دینے ، اوردیگرواجبات ومستحبات الٰہی کوانجام دینے سے خداکوکوئی فائدہ نہیں پہنچتاہے اورواجبات ومستحبات کوترک کرنے سے خداکاکوئی نقصان پہنچتاہے بلکہ انجام دینے سے ہم ہی لوگوں کوفائدہ پہنچتاہے اورترک کرنے پرہماراہی نقصان ہوتاہے ہم اس کی عبادت کریں وہ تب بھی خداہے اور نہ کریں وہ تب بھی خداہے ،ہماری نمازوعبادت کے ذریعہ اس کی خدائی میں کسی چیزکااضافہ نہیں ہوتاہے اورنمازوعبادت کے ترک کردینے سے اس کی خدائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی ہے بلکہ اس کی عبادت کرنے سے ہم ہی لوگوں کو فائدہ پہنچتاہے ،جب ہم اس کی عبادت کریں گے توہمیں اس کااجروثواب ضرورملے گا ،خداوندعالم کاوعدہ ہے وہ کسی کے نیک کام پراس کے اجروثواب ضائع نہیں کرتاہے ۔
( وَالّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتَابِ وَاَقَاْمُوْاالصَّلٰوةَ اِنّالَانُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ ) (۱) اورجولوگ کتاب سے تمسک کرتے ہیں اورانھوں نے نمازقائم کی ہے توہم صالح اورنیک کردارلوگوں کے اجرکوضایع نہیں کرتے ہیں۔
( اِنّ الَّذِیْنَ آمَنُوْاوَعَمِلُوْالصّٰلِحٰتِ وَاَقَاْمُوْاالصَّلٰوةَ وَآتُواالزَّکٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَرَبِّهِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْهِمْوَلَاهُمْ یَحْزَنُوْنَ ) (۲)
جولوگ ایمان لائے اورانھوں نے نیک عمل کئے ،نمازقائم کی ،زکات اداکی ان کے لئے پروردگارکے یہاں اجرہے اوران کے لئے کسی طرح کاخوف وحزن نہیں ہے۔
دنیامیں نمازکے فوائد
دنیامیں نام زندہ رہتاہے جب کوئی بندہ کسی نیک کام کوانجام دیتاہے توخداوندعالم اسے اس نیکی کااجروثواب دنیامیں بھی عطاکرتاہے اورآخرت میں بھی عطاکرے گادنیامیں نمازایک فائدہ یہ ہے نمازی کانام دنیامیں زندہ رہتاہے ، تقوی وپرہیزگاری کی وجہ سے اکثرلوگ اسے ایک اچھے انسان کے نام سے یادکرتے ہیں ،کیونکہ خداوندعالم کاوعدہ کہ جومجھے یادکرے گامیں بھی اسے یادکروں گااوراس کانام روشن رکھوں گاجیساکہ قرآن کریم میں ارشادرب العزت ہے:
( فَاذْکُرُونِی وَاذْکُرْکُمْ ) ( ۳) تم مجھے یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا۔
____________________
١)سورہ أعراف /آیت ١٧٠
.٢)سورہ بٔقرہ/آیت ٢٧٧
۳)سورئہ بقرہ /آیت ١۵٢
گناہوں سے دورزہتاہے
نمازکے لئے شرط ہے کہ نمازی کالباس ، بدن اورمحل سجدہ پاک ہوناچاہئے ،نمازی کے لئے باوضوہوناشرط ہے اور وضومیں شرط یہ ہے کہ وضوکا پانی اوراس کابرت ن پاک ہوناچاہئے اورنمازکی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وضوکے پانی کابرت ن اورنمازی کالباس اورنمازپڑھنے کی جگہ مباح ہونی چاہئے ان سب شرائط اورواجبات کی رعایت کرنے کایہ نتیجہ حاصل ہوگاکہ انسان مال حلال وپاک کوذہن میں رکھے گا،رزق حلال حاصل کرے گا،حلال چیزوں کامالک رہے گا،حلال کپڑاپہنے گااورگناہوں سے دوررہے گا۔
حقیقی نمازانسان کی رفتار،گفتار،کرداراوراس کے اعمال افعال پرمو ثٔرہوتی ہے لہٰذاجن کی نمازان کے اعمال وافعال،رفتاروگفتاراورکردارپرمو ثٔرہوتی ہے وہ بارگاہ میں الٰہی قبول ہوتی ہے اورجن کی نماز گناہ ومنکرات سے نہیں روکتی ہے ہرگزقبول نہیں ہوتی ہیں لہٰذاہم یہاں پران آیات وروایات کو ذکرکررہے ہیں جواس چیزکوبیان کرتی ہیں کہ نمازانسان کوگناہ وبرائیوں سے روکنے کی ایک بہترین درسگاہ ہے:
( اَقِمِ الصَّلاةَ ، اِنَّ الصَّلٰوةَ ت نٰهی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرْ وَلَذِکْرُاللهِ اَکْبَرُ، وَاللهُ یَعْلَمُ مَاتَصْنَعُونَ ) (۱)
نمازقائم کروکیونکہ نمازہربرائی اوربدکاری سے روکنے والی ہے اورالله کاذکربڑی شے ہے اورالله تمھارے کاروبارسے خوب واقف ہے۔اوراحادیث میں بھی آیاہے کہ نمازانسان کوگناہ ومنکرات سے دوررکھتی ہے
عَنِ النّبِی صلّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ اَنّهُ قَالَ:مَن لَم ت نهه صَلاتَهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِلَم یَزِدْمِن اللهِ اِلّابُعداً ۔(۲)
جس شخص کی نمازاسے گناہ و منکرات سے دورنہیں رکھتی ہے ا سے اللھسے دوری کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من احبّ ان یعلم اقبلت صلاته ام لم تقبل فلینظرهل صنعته صلاته من الفحشاء والمنکرمامنعته قبلت منه ۔(۳)
امام صادقفرماتے ہیں:جوشخص یہ دیکھناچاہتاہے کہ اس کی نمازبارگاہ الٰہی میں قبول ہوئی ہے یانہیں تووہ یہ دیکھے کہ اس کی نمازنے اسے گناہ ومنکرات سے دورکیاہے یانہیں،اب جس مقدارمیں نمازنے اسے گناہ ومنکرات سے دوررکھاہے اسی مقدارمیں اس کی نمازقبول ہوتی ہے ۔
____________________
. ١)سورہ عٔنکبوت/آیت ۴۵
. ٢)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢
٣)بحارالانوار/ج ١۶ /ص ٢٠۴
عن النبی صلی الله وآله انه قال:لاصلوة لمن لم یطع الصلوة وطاعة الصلوة ان ینتهی عن الفحشاء والمنکر ۔(۱)
رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ) فرماتے ہیں : جو شخص مطیع نماز نہ ہو اس کی وہ نماز قبول نہیں ہوتی ہے اور اطاعت نمازیہ ہے کہ انسان اس کے ذریعہ اپنے آپ کوگناہ ومنکرات سے دوررکھتاہے (یعنی نمازانسان کوگناہ ومنکرات سے دوررکھتی ہے)۔
جابرابن عبدالله انصاری سے مروی ہے کہ:رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)سے شکایت کی گئی فلاں شخص دن بھرنمازیں پڑھتاہے اوررات میں چوری کرتاہے ،آنحضرت نے یہ بات سن کرفرمایا:
انّ صلاته لتردعه
یقینااس کی نمازاسے اس کام سے بازرکھے گی (اور پھروہ کبھی چوری نہیں کرےگا) ۔(۲)
گذشتہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں
خداوندعالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے:
( اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهٰارِ،وَزُلْفًامِنَ الَّیْلِ ،اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السِّیِّئاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاْکِرِیْنَ ) (۳)
(اے پیغمبر)آپ دن کے دونوں حصوں میں اوررات گئے نمازقائم کروکیونکہ نیکیاں برائیوں کوختم اورنابودکردیتی ہیں اوریہ ذکرخداکرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے ۔ روایت میں ایاہے کہ ایک دن نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے اپنے اصحاب سے پوچھا:اگرتم میں سے کسی شخص کے گھرکے سامنے سے پاک وصاف پانی کی کوئی نہرگزررہی ہواوروہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ اپنے جسم کودھوئے کیاپھربھی اس کے جسم پرگندگی رہے گی؟سب نے کہا:ہرگزنہیں!اسکے بعد آنحضرت نے فرمایا:
نمازکی مثال اسی جاری نہرکے مانندہے ،جب انسان نمازپڑھتاہے تودونمازوں کے درمیان ) اس سے جت نے گناسرزدہوئے ہیں وہ سب معاف ہوجاتے ہیں۔(۴)
____________________
. ١)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶١
. ۲)تفسیرمجمع البیان/جج ٨/ص ٢٩
. ۳)سورہ ۂود/آیت ١١۴ )
۴)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ٢٣٧
قال رسول الله صلی الله عیه وآله :اذاقام العبدالی الصلاة فکان هواه وقلبه الی الله تعالی انصرف کیوم ولدته امه ۔(۱) پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:جب کوئی بندہ نمازکے لئے قیام کرتاہے اوراس کادل وہواخداکی طرف ہو تووہ نمازکے بعدایساہوجاتاہے جیساکہ اس نے ابھی جنم لیاہے۔ ابوعثمان سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ:میں اور سلمان فارسی ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہو تھے جس کے پتّے خشک ہوچکے تھے، سلمان نے درخت کی شاخ کوپکڑکرہلاےااس کے خشک پتّے زمین پر گرنے لگے توسلمان نے کہا : اے ابن عباس !کیا تم درخت کوہلانے کی وجہ نہیں پوچھوگے ؟ میں نے کہا: ضروراس کی وجہ بیان کیجئے ،سلمان نے کہا: میں ایک روز نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے ساتھ اسی درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا، آنحضرت نے بھی یہی کام کیا تھا جب میں نے آنحضرت سے کہا یا رسول الله ! اس کی وجہ بیان فرمائےے ؟توآپنے فرمایا:
اِنّ العبد المسلم اذاقام الی الصلاة عنه خطایاه کماتحات ورق من الشجرة جب کو ئی مسلما ن بندہ نمازکے لئے قیام کرتاہے تواس کے تمام گناہ اسی طرح گرجاتے ہیں جس طرح اس درخت سے پتے گرے۔(٢)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:مامن صلاة یحضروقتهاالانادیٰ ملک بین یدی الناس ایهاالناس!قومواالی نیرانکم التی اوقدتموهاعلی ظهورکم فاطفئوهابصلاتکم (۳) نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:جےسے ہی نمازکاوقت شروع ہوتاہے ایک فرشتہ لوگوں کے درمیان آوازبلندکرتاہے :اے لوگو!اٹھواوروہ آگ جوتم نے اپنے پیچھے لگارکھی ہے اسے اپنی نمازکے ذریعہ خاموش کردو ۔
حضرت علی فرماتے ہیں :ہم پیغمبر اسلام (صلی الله علیھ و آلھ)کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور نماز کے وقت کا انتظار کر ہے تھے کہ ایک مردنے کھڑے ہوکرکہا:یارسول الله! میں ایک گنا ہ کا مرتکب ہوگیا ہوں اس کے جبران کے لئے مجھے کیا کام کرنا چاہئے ؟ آنحضرت نے اس سے روگردانی کی اوراس کی بات پر کوئی توجہ نہ کی ،ےہاں تک کہ نمازکاوقت پہنچ گیااورسب نماز میں مشغول ہوگئے ، نماز ختم ہونے کے بعد پھراس شخص نے اپنے گناہ کے جبران کے بارے میں پوچھا تورسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ) نے فرمایا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی کےاتم نے مکمل طورسے وضونہیں کےا؟اس نے عرض کیا : ہاں ! یا رسول الله ،آنحضرت نے فرمایا : تیری یہی نماز تیرے گناہ کا کفّارہ ہے۔(۴)
____________________
. ١)بحارالانوار/ج ٨٢ /ص ٢٣۶
٢)امالی شیخ صدوق/ص ١۶٧
. ۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٠٨
. ۴)تفسیرمجمع البیان/ج ۵/ص ٣۴۵
حضرت علی نہج البلاغہ میں ارشادفرماتے ہیں:
وانهالتحت الذنوب حت الورق وتطلقهااطلاق الربق وشبههارسول الله بالحمة تکون علی باب الرجل فهویغتسل منهاالیوم واللیل خمسمرات فماعسی ان یبقی علیه من الدرن ۔(۱) نماز گنا ہوں کو اسی طرح پاک کردیتی ہے جیسے درخت سے پتّے صاف ہوجاتے ہیں اور انسا ن کو گناہوں سے اسی طرح آزاد کر دیتی ہے جیسے کسی کورسّی کے پھندوں سے آزادکردیاجائے اور رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ) نے پنچگانہ نمازوں کواس گرم پانی کی نہریاچشمہ سے مثال دی ہے کہ جو کسی انسان کے گھر کے سامنے ہو ا ور وہ اس میں روزا نہ پانچ بار نہا تا ہوتو اسکے بد ن پر ذرہ برابر کثافت وگندگی باقی نہیں رہے گی ۔
چہرے پرنوربرستاہے
ا بان ابن تغلب سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے پوچھا :اے فرزندرسول خدا حضرت فاطمہ کو زہرا یعنی درخشاں کیوں کہا جاتاہے ؟امام (علیھ السلام) نے فرما یا : کیونکہ جناب فاطمہ کے چہرہ مبارک سے روزانہ تےن مرتبہ اےک نورساطع ہوتا تھا:
پہلی مرتبہ اس وقت جب آپ نماز صبح کے لئے محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو آپ کے وجود مبارک سے ایک سفیدنور سا طع ہوتاتھاجس کی سفیدی سے مدینہ کا ہر گھرنورانی ہو جاتاتھا،اہل مدینہ اپنے گھروں کونورانی دیکھ کر نہاےت تعجب کے ساتھ رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی خدمت میں حاضرہوتے اور اپنے گھر وں کے منّور ہوجانے کی وجہ دریا فت کر تے تھے،آنحضرت انھیں جواب دیتے تھے:تم میری لخت جگر کے دروازہ ے پر جا ؤاوران سے اس کی وجہ دریافت کرو، جیسے ہی لوگ ان کے دروازہ پر پہنچتے تھے تومعلوم ہوتاتھاکہ بانو ئے دوعالم محراب عبادت میں نمازوعبادت ا لٰہی میں مشغول ہیں اور چہرے سے ایک نور سا طع ہے جسکی روشنی سے مدینہ کے گھر چمک رہے ہیں۔
دو سری مرتبہ اس وقت جب آپ نمازظہرین اداکر نے کے لئے محراب عبادت میں قیا م کرتی تھیں توچہرہ اقدس سے پیلے رنگ کانورظاہر ہو تاتھااوراس نورکی زردی سے اہل مدینہ کے تمام گھرنورانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ ان کے چہرے اورلباس کارنگ بھی زردہوجاتاتھالہٰذالوگ دوڑے ہوئے آنحضرت کے پاس آتے تھے اوراس وجہ معلوم کرتے تھے
____________________
. ١)نہج البلاغہ/خطبہ ١٩٩ /ص ١٧٨
توآنحضرتانھیں اپنی کے گھرکی طربھیج دیاکرتے تھے،جیسے ہی لوگ ان کے دروازہ پر پہنچتے تھے تودیکھتے تھے کہ بانو ئے دوعالم محراب عبادت میں نمازوعبادت ا لٰہی میں مشغول ہیں اور چہرے سے ایک زردرنگ کانور سا طع ہے اورسمجھ جاتے تھے ہمارے گھرجناب سیدہ کے نورسے چمک رہے ہیں۔
تیسری مرتبہ اس وقت کہ جب سورج غروب ہوجاتاتھااورآپ نماز مغربین میں مشغول عبادت ہوتی تھیں توچہرہ اقدس سے سرخ رنگ کانورساطع ہوتاتھااوریہ آپ کے بارگاہ رب العزت میں خوشی اورشکرگزاری کی علامت تھا،جناب سیدہ کے اس سرخ رنگ کے نورسے اہل مدینہ کے تمام گھرنورانی ہوجاتے تھے اوران کے گھروں کی دیواریں بھی سرخ ہوجاتی تھی ،پسلوگ آنحضرت کے پاس آتے تھے اوراس کی وجہ دریافت کرتے تھے توآپانھیں اپنی لخت جگر کے گھرطرف بھیج دیاکرتے تھے،جیسے ہی لوگ ان کے دروازہ پر پہنچتے تھے تودیکھتے تھے کہ سیدةنساء العا لمین محراب عبادت میں تسبیح وتمجیدالٰہی میں مشغول ہیں اورسمجھ جاتے تھے ان کے نورسے ہمارے گھرنورانی ہوجاتے ہیں۔
حضرت امام صادق - فرماتے ہیں :یہ نورہرروزتین مرتبہ اسی طرح سے ان کی پیشانیٔ مبارک سے چمکتارہتاتھا اورجب امام حسین- متولدہوئے تووہ نور امام حسین- کی جبین اقدس میں منتقل ہوگیا اور پھربطور سلسلہ ایک امام سے دوسرے امام کی پیشا نی میں منتقل ہورہا ہے اور جب بھی ایک امام (علیھ السلام)نے دنیاسے رخصت ہواتوان کے بعدوالے امام (علیھ السلام)کی پیشانی ہوتاگیایہاں تک کہ جب امام زمانہ ظہور کریں گے تو ان کی پیشانی سے وہی نورساطع ) ہوگا۔(١)
____________________
. ١)علل الشرائع /ج ١/ص ١٨٠
بے حساب رزق ملتاہے
روایت میں آیاہے کہ حبیب خداحضرت محمدمصطفیٰ (صلی الله علیھ و آلھ)کی لخت جگرکے گھرمیں دودن سے میں کھانے پینے کے لئے کوئی سامان موجودنہیں تھا،جوانان جنت کے سردار حسنین رات میں کھانا کھائے بغیرہی سوجایاکرتے کرتھے ، جب تیسرادن ہوااورامام علی سے کچھ کھانے پینے کاانتظام کرسکے لہٰذاتاکہ بچوں کے سامنے شرمند نہ ہوناپڑے توشام کے وقت مسجدپہنچے اوراپنے رب سے رازونیازکرتے رہے یہاں تک کہ مغرب کی نمازکاوقت ہوگیا،نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی اقتدامیں جماعت سے نمازاداکی ،نمازختم ہونے کے بعدنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ) نے حضرت علیسے عرض کیا :یا علی ! میں آج کی رات آپ کے گھرمہمان ہوں جبکہ امام (علیھ السلام) کے گھر کھا نے کا کچھ بھی انتظام نہیں تھا اور فاقے کی زندگی گزار رہے تھے لیکن پھربھی امام (علیھ السلام) نے پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)سے عرض کیا : یا رسول الله !آپ کا ہمارے گھرتشریف لانا ہمارے لئے ارجمند و بز رگواری کاباعث ہو گا
نبی اورامام دونوں مسجدسے خارج ہوئے لیکن راستہ میں امام (علیھ السلام)کی حالت یہ تھی کہ جسم سے عرق کی بوندیں ٹپک رہی تھی اور سوچ رہے تھے کہ آج حبیب خداکے سامنے شرمندگی کاسامناکرناپڑے گا،لہٰذاجیسے ہی گھرپہنچے توحضرت فاطمہ زہرا سے کہا :
اے رسول خداکی لخت جگر ! آج تمھارے باباجان ہمارے گھرمہما ن ہیں اورمگر اس وقت گھرمیں کھانے کے لئے کچھ بھی موجودنہیں ہے ، جناب سیدہ نے باباکا دیدارکیااوراس کے بعدایک حجرے میں تشریف لے گئیں اورمصلے پرکھڑے ہوکردو رکعت نماز پڑھی،اور سلام نماز پڑھنے کے بعد اپنے چہرہ مٔبارک کو زمین پر رکھ کر بارگاہ رب العزت میں عرض کیا : پروردگا را! آج تیرے حبیب ہمارے گھر مہمان ہیں،اورتیرے حبیب کے نواسے بھی بھوکے ہیں پس میں تجھے تیرے حبیب اوران کی آل کاواسطہ دیتی ہوں کہ توہمارے لئے کوئی طعام وغذانازل کردے ،جسے ہم ت ناول کرسکیں اور تیرا شکر اداکریں۔
حبیب خدا کی لخت جگر نے جیسے ہی سجدہ سے سربلند کیاتوایک لذیذ کھانے کی خوشبوآپ کے مشام مبارک تک پہنچی ،اپنے اطراف میں نگاہ ڈالی تودیکھا کہ نزدیک میں ایک بڑاساکھانے کا طباق حاضر ہے جس میں روٹیاں اور بریاں گوشت بھراہوا ہے،یہ وہ کھاناتھاجو خدا ئے مہربان نے بہشت سے بھیجا تھا اور فاطمہ زہرا نے پہلے ایسا کھانا نہیں دیکھا تھا ،آ پ نے اس کھانے کواٹھاکردسترخوان پررکھااور پنجت ن پاک نے دستر خوان کے اطراف میں بیٹھ کر اس بہشتی کھانا کو ت ناول فرمایا ۔
روایت میں آیاہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے اپنی پارہ جگرسے پوچھا:اے میرے بیٹی ! یہ لذےذاورخوشبودار کھانا آپ کے لئے کہا ں سے آیا ہے ؟ بیٹی نے فرمایا: اے باباجان!( هُوَمِنْ عِنْدِالله اِنَّ الله یَرْزَقُ مَنْ یَشاَ ءُ بِغَیْرِحِسَا بٍ ) .(١)
یہ کھانا الله کی طرف سے آیا ہے خدا جسکو چاہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔
پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے اپنی لخت جگرسے مخاطب ہوکر فرمایا:تمھارایہ ماجرابالکل مریم اورذکریاجیساماجراہے اوروہ یہ ہے:
( کُلَّمَادَخَلَ عَلَیْهَا زَکَرِیَّاالْمَحْرَابَ وَجَدَعِنْدَهَارِزْقاً قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ هٰذا قَالَتْ هُوَمِنْ عِنْدِاللهِ اِنَّ اللهَیَرْزُقُ مَنْ یَّشَاءُ بِغَیْرِحِسَاْبٍ ) .(۲)
جب بھی حضزت زکریا (علیھ السلام)حضرت مریم (س )کی محراب عبادت میں داخل ہوتے تھے تو مریم کے پاس طعام وغذا دیکھا کر تے تھے اور پو چھتے تھے : اے مریم ! یہ کھانا کہاں سے آیاہے ؟ مریم(س)بھی یہی جواب دیتی تھیں: یہ سب خداکی طرف سے ہے بے شک خدا جسکو چاہے بے حساب رزق عطا کرتاہے ۔
جنت سے کھانانازل ہونے میں دونوں عورتوں کی حکایت ایک جیسی ہے جس طرح نماز وعبادت کے وسیلہ سے حضرت مریم (س)کے لئے بہشت سے لذیذکھاناآتاتھااسی طرح جناب سیدہ کے لئے بھی جنت سے لذیذ اورخوشبودار غذائیں نازل ہوتی تھیں لیکن اس کوئی شک نہیں ہے کہ جناب سیدہ کا مقام تواسسے کہیں درجہ زیادہ بلندو با لا ہے
حضرت مریم(س)صرف اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار تھیں لیکن جناب سیّدہ دونوں جہاں کی عورتوں کی سردار ہیں ،جبرئیل آپ کے بچوں کوجھولاجھلاتے ہیں،گھرمیں چکیاں پیستے ہیں،درزی بن جاتے ہیں اسی لئے آپ کوسیدة نساء العالمین کے لقب سے یادکیاجاتاہے۔
وہ خاتون جودوجہاں کی عورتوں کی سردارہو،وہ بچے جوانان جنت کے سردارہوں،وہ گھرکہ جسمیں میں فرشے چکیاں پیستے ہوں،جن بچوں کوجبرئیل جھولاجھلاتے ہیں،خدااس گھرمیں کس طرح فاقہ گذارنے دے سکتاہے ،ہم تویہ کہتے ہیں کہ خداوندعالم انھیں کسی صورت میں فاقہ میں نہیں دیکھ سکتاہے بلکہ یہ فاقہ فقط اس لئے تھے خداوندعالم اس کے مقام ومنزلت کوبتاناچاہتاتھاورنہ مال ودولت توان ہی کی وجہ سے وجودمیں آیاہے ،یہ تووہ شخصیت ہیں کہ اگرزمین پرٹھوکرماریں تووہ سوناچاندی اگلنے لگے ۔
____________________
. ١)سورہ آٔل عمران/آیت ٣٧
. ٢)سورہ آٔل عمران/آیت ٣٧
رزق میں برکت ہوتی ہے
عن ضمرة بن حبیب قال:سئل النبی صلی الله علیه وآله عن الصلاة فقال:الصلاة من شرایع دین وبرکة فی الرزق ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)سے نمازکی فضلیت کے بارے میں پوچھاگیاتوآپ نے فرمایا:نمازشریعت دین اسلام میں سے ہےاورکے ذریعہ نمازی کے رزق میں برکت ہوتی ہے
دعائیں مستجاب ہوتی ہیں
قال رسول الله صلی علیه وآله:من ادی الفریضة فله عنداللهدعوة مستجابة ۔
رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:جوشخص فریضہ الٰہی (نماز)کوانجام دیتاہے(اوراس کے بعدالله تبارک تعالیٰ سے کوئی چیزطلب کرتاہے تو)اس کی دعابارگاہ خداوندی میں ضرورمستجاب ہوتی ہیں۔(۲)
رحمت خدانازل ہوتی ہے
خدا وندعالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:( وَالْمُومِنُوْنَ وَالْمُومِنَاتِ بَعْضُهُمْ اَوْلِیآءُ بَعْضٍ یَا مُٔرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِوَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُوتُونَ الزَّکٰوةَ وَیُطِیْعُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ اُولٓئِکَ سَیَرْحَمُهُمُ اللهُ اِنَّ اللهَ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ ) (۳) مومن مرداورمومنہ عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے کے ولی ومددگارہیں کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کونیکیوں کاحکم دیتے ہیں اوربرائیوں سے روکتے ہیں ،نمازقائم کرتے ہیں ،زکات اداکرتے ہیں اورالله ورسول کی اطاعت کرتے ہیں ،یہی سب وہ لوگ ہیں جن پر خدارحمت نازل کرے گا۔( اَقِیْمُوْاالصَّلٰوةَ وَآتُوالزَّکٰوةَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) (۴)
نمازقائم کرو ،زکات اداکرواوررسول کی اطاعت کروکہ شایداسی طرح تمھارے حال پررحم کیاجائے۔
قال علی علیه السلام:الصّلٰوة ینزل الرحمة ۔(۵)
حضرت علیفرماتے ہیں:نمازرحمت خداکے نازل ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے۔
____________________
. ۱)الخصال شیخ صدوق/ص ۵٢٢ --. ۲)بحارالانوار/ج ٧٩ /ص ٢٠٧
۳)سورہ تٔوبہ /آیت ٧١
. ۴)سورہ نٔور/آیت ۵۶
۵)میزان الحکمة /ج ۵/ص ٣۶٧
قال الصادق علیه السلام:اذاقام المصلی الی الصلاة نزلت علیه الرحمة من اعیان السماء الی الارض وحفت به الملائکة ونادی ملکٌ:لویعلم المصلی ماله فی الصلاة ماانْفتل ۔(۱)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں:جب نمازگزارنماز کے لئے کھڑہوتاہے آسمان سے لے
کرزمین تک اس پررحمت نازل ہوتی رہتی ہے اورفرشتے اسے اپنے احاطہ میں لے لیتے ہیں اورایک فرشتہ آوازبلندکرتاہے :اگراس نمازگزارکریہ معلوم ہوجائے کہ نمازمیں کیاکیاچیزیں ہیں توہزگزنمازسے نہیں رک سکتاہے ۔
دل کوسکون ملتاہے اوررنج وغم دورہوتے ہیں
نمازایسی واجب الٰہی ہے کہ جس کے ذریعہ نمازی دل کوسکون ملتاہے کلیجہ کوٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ،رنج وغم دورہوتاہے کیونکہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:( اَلابِذِکْرِالله تَطْمَئِنَ الْقُلُوب ) (۲)
آگاہ ہوجاؤ! الله کے ذکرسے دلوں کوسکون ملتاہے۔
امام صادق فرماتے ہیں: جب بھی تمھیں دنیامیں کوئی مشکل پیش آئے تووضوکرکے مسجدجاؤاور دورکعت نمازپڑھواورنمازمیں دعاکروکیونکہ خداوندعالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے:
( وَاسْتَعِیْنُوابِالصَّبْرِوَالصَّلاةِ ) (۳) نمازاورصبرکے ذریعہ اللھسے مددطلب کرو۔(۴)
____________________
. ۱)آثارالصادقین /ج ١١ /ص ٩٩
. ۲)سورہ رعد/آیت ٢٨
۳)سورہ بقرہ /آیت ۴۵
.۴)مجمع البیان /ج ١/ص ١٩۴.
عورت کی عزت آبروقائم رہتی ہے
عورت پرواجب ہے کہ نمازکی حالت میں اپنے پورے جسم کوچھپائے یہاں تک کہ بالوں کوبھی خواہ اسے کوئی نہ دیکھ رہاہو،صرف چہرہ اورگٹوں تک ہاتھ وپاؤں کاکھلارہناجائزہے ،نمازکایک فائدہ یہ بھی ہے کہ عورت نمازکے ذریعہ پردہ کی عادی بن جاتی ہے ،نمازی وپرہیزگارعورت گھرسے باہر(گلی ،کوچہ ،محفل اورمجلس میں)بھی اپنے پردے کاخیال ضروررکھتی ہے۔
بے حجاب عورت کی مثال پھلدار درخت کی اس شاخ کے مانند ہے جو کسی باغ یاگھرکی چہاردیواری سے باہرنکلی ہوئی رہتی ہے کہ جسپاسسے گذرنے ہرشخص اس شاخ کی طرف دست درازکرتاہے اوراس کے پھل کوتوڑکرکھانے کی کوشش کرتا ہے اوربے حجاب عورت کی مثال چمن کھلے ہوئے اس پھول کے مانندہے جس کی رنگت اورخوبصورتی کودیکھ کرہرشخص کے دل میں اس پھول کوچھونے ، مس کر نے اوراس کی خوشبو سونگھے کی رغبت پیداہوتی ہے یہاں تک کہ بعض لوگ اس قدرتجاوزکرجاتے ہیں کہ اس پھول کوشاخ سے توڑکراس کی خوشبوسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
حجاب عورت کے لئے ایک ایسا حصا ر و حافظ ہے جو عورت کو بیگانہ اور اجنبی لوگوں کے خوف وخطرسے محفوظ رکھتا ہے ، حجاب کا درس حاصل کرنے اور اس کی عادت ڈالنے کی بہتر ین درسگاہ نماز ہے کیونکہ ہرمسلمان عورت پر واجب ہے کہ وہ روزانہ پانچ مرتبہ حجاب کا مل کے ساتھ خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں کھڑی ہوکر نماز پڑھے اور اپنے رب کے ساتھ رازونیاز کرے ۔
قرآن کریم متروک ہونے سے محفوظ رہتاہے
نمازکے فوائدمیں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس کے ذریعہ متروک ہونے سے محفوظ رہتاہے اورنمازمیں اسی لئے قرئت کوواجب قراردیاگیاہے تاکہ قران متروک ہونے سے محفوظ رہے کیونکہ ممکن ہے انسان کسی کام میں مشغولیت کی بناپر،یاکسالت اورسستی کی وجہ سے روزانہ قرآن کریم کی تلاوت نہ کرے لیکن خدوندعالم نے اس لئے تاکہ انسان تلاوت کے اجروثواب اوراس کے فوائدسے محروم نہ رہے نمازمیں نمازمیں قرئت کوواجب قراردے دیا،اس بات کومکمل طورسے رازقرائت میں ذکرکریں گے۔
قبض روح میں اسانی ہوتی ہے
ایک شخص نے امام صادق سے مومن کی موت کے بارے میں سوال کیاتوامام (علیھ السلام) نے فرمایا:
لِلْمُومِن کَاَطْیَب رِیح یَشمّه، فَیَنْعَسُلِطِیبِهِ ،وَیَنْقَطَعِ التّعَبَ وَالْاَلَم کُلّهُ عَنْهُ ۔(۱) مومن کی موت ایک خوشبودارپھول سونگھنے کے مانندہے، موت آتے ہی اس کے تمام رنج وغم ختم ہوجاتے ہیں۔
____________________
. ١)معانی الاخبار/ص ٢٨٧
برزخ اورقیامت میں نمازکے فوائد
انسان کے مرنے کے بعددنیااورتمام عزیزواقارب سے ہرطرح کاتعلق منقطع ہو جاتے ہیں ،دنیاکی کوئی چیزاس کے ساتھ قبرمیں نہیں جاتی ہے بلکہ ماں باپ،بھائی بہن، مال ودولت ،اولادوہمسر،سب کادامن ہاتھ سے چھٹ جاتاہے اورجب تمام عزیزواقارب اسے دفن کرکے واپس چلے جاتے ہیں تو میت پراس ت نگ اوراندھیری کوٹھری میں ت نہائی کی وجہ سے ایک ہولناک وخوفناک وحشت طاری ہوتی ہے اورجب کوئی اسے اس وحشت سے نجات دلانے والانہیں ملتاہے تواس کی نمازاسے قبرکی ت نہائی سے نجات دلاتی ہے ،عالم برزخ میں نمازکے مونسہونے کے بارے میں چندحدیث مندرجہ ذیل ذکرہیں:
قال رسول الله صلی الله علیه وآله :ان الصلاة تاتی المیت فی قبره بصورة شخص انوراللون یونسه فی قبره ویدفع عنه اهوال البرزخ ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں :عالم برزخ میں نمازایک نورانی اورخوبصورت شخص کی شکل میں قبرمیں داخل ہوتی ہے جوقبرمیں انسان کی مددگارثابت ہوتی ہے اوربرزخ کی وحشت کواس سے دورکرتی ہے ۔
عن ضمرة بن حبیب، قال: سئل النبی صلی الله علیه وآله عن الصلاة فقال: الصلاة من شرایع دین وشفیع بینه وبین ملک الموت ،وانس فی قبره ،وفراش تحت جنبه،وجواب لمنکرونکیر ۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)سے نمازکی فضلیت کے بارے میں پوچھاگیاتوآپ نے فرمایا:نمازشریعت دین اسلام میں سے ہےنمازوہ ہے کہ جوملک الموت اوراس نمازی کے درمیان شفیع واقع ہوتی ہے ،قبراس کی مددگارثابت ہوتی ہے ،اوراس کے لئے بہترین بچھوناہوتی ہے ،منکرونکیرکے سوالوں کاجوابگوہوتی ہے ۔لیکن یہ بات یادرہے کہ ہرنمازانسان کوبرزخ میں قبرکی وحشت سے نجات نہیں دلاسکتی ہے بلکہ صرف وہ نمازکام آئے گی جوپورے آداب وشرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہوخصوصاًوہی نمازکام آئے گی جومحمدوآل کی محبت کے ساتھ انجام دی گئی ہو۔ عبدالرحمن ابن سمیرسے مروی ہے :ایک دن ہم چند لوگ رسولخدا (صلی الله علیھ و آلھ) کی خدمت میں جمع تھے ، آنحضرت نے فرمایا : میں نے کل رات ایک عجیب خواب دیکھا ہے ، میں نے عرض کیا : یا رسول الله ! آپ پر ہماری اور ہماری اولاد کی جانیں قربان ہو جائیں آپ ہمیں بتائیں کہ خواب میں کیا دیکھا ہے ؟ پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے خواب بیان کرنا شروع کیا اورفرمایا: میں نے ایک مرد کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اس کا محاصرہ کررکھا ہے اسی وقت اس شخص کی نماز آئی اور اسے عذاب کے فرشتوں سے آزاد کر ایا ۔(۳)
____________________
. ١)الخصال شیخ صدوق/ ۵٢٢ --. ۲)الخصال شیخ صدوق/ ۵٢٢
۳)مستدرک الوسائل /ج ١/ص ١٨٣.
ایک دن جب نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)سے نمازکی فضلیت کے بارے میں پوچھاگیاتوآپ نے فرمایا: نمازشریعت دین اسلام میں سے ہےاورروزمحشرنمازی کے سرکاتاج ہوگی ،نمازی کے چہرے پرنوربرستاہوگا،نمازاس کے بدن کالباس ہوگی اورجنت وجہنم کے درمیان ایک حجاب وسپر واقع ہوگی ،نمازی اورخدائے عزوجل کے درمیان حجت ہوگی ،اس کے جسم کونارجہنم سے نجات دلائے گی اورپل صراط سے آسانی سے گزرنے کاسبب واقع ہوگی ،نمازجنت کی ) کنجی ہے اورنمازگزارنمازکے وسیلے سے بلندمقام تک پہنچے گا ۔(۱)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : روزقیامت ایک بوڑھے شخص کو حاضر کیا جائے گا اور اس کا نامہ أعمال اس کے ہاتھوں میں دیا جائے گا اورسب اس کو دیکھتے ہو نگے ،اسے اپنے نامہ أعمال میں گناہوں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہ آئے گا، جب حساب لیتے ہو ئے بہت دیر ہو جائے گی تو وہ بوڑھا شخص کہے گا : بارالہا ! مجھ کو ایسالگتا ہے کہ تو مجھے دوزخ میں ڈالنے کا حکم دینے والاہے ؟ خطاب ہو گا : اے بوڑھے انسان مجھے تجھ پر عذاب نازل کرتے ہوئے حیا آتی ہے ، کیونکہ تو نے دنیا میں نمازیں پڑھی ہیں اس کے بعد پرور دگار اپنے فرشتہ ) سے کہے گا : میر ے اس بند ے کو بہشت میں لے جاؤ۔(۲)
روزانہ پانچ ہی نمازکیوں واجب ہیں
خداووندعالم نے روزانہ پانچ نمازوں کوواجب قراردیاہے:ظہروعصر،مغرب، عشا اور صبح کی نماز،قرآن کریم اورروایت میں پانچ ہی نمازوں کاذکرہواہےقال ابوعبدالله علیه السلام فی الوتر:انماکتب الله الخمس ولیست الوترمکتوبة ان شئت صلیتهاوترکهاقبیح.
امام صادق نمازوتر کے بارے میںفرماتے ہیں:خداوندعالم نے پانچ نمازیں واجب قراردی ہیں اورنمازوترواجب نہیں ہے،اگرچاہیں تواسے پڑھیں اورنمازوترکاترک کرناقبیح ہے۔(۳)
عن معمریحیی قال:سمعت اباجعفر علیه السلام یقول:لایسئل الله عبدا عن صلاة بعدالخمس .
معمربن یحییٰ سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر علیہ السلام کویہ فرماتے سناہے :(روزقیامت) کسی بھی بندے سے پانچ نمازوں کے علاوہ کسی بھی نمازکے متعلق سوال نہیں کیاجائے گا۔(۴)
____________________
. ١ )الخصال شیخ صدوق/ ۵٢٢
. ٢)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ٢٧
.۳) تہذیب الاحکام/ ٢/ص ١١
۴)تہذیب الاحکام /ج ۴/ص ١۵۴
زرارہ سے مروی ہے: میں نے امام محمدباقرسے پوچھا:خدانے روزانہ کت نی نمازیں واجب قراردی ہیں؟امام (علیھ السلام) نے فرمایا:اسنے ایک شبانہ روزمیں پانچ نمازیں واجب قراردی ہیں،میں نے امام(علیھ السلام) سے دوبارہ پوچھا: کیاخداوندمتعال نے ان نمازوں کے ناموں کوبھی بیان کیاہے اورانھیں اپنی کتاب (قرآن مجید)میں ذکرکیاہے؟امام(علیھ السلام) نے فرمایا: ہاں الله تبارک وتعالیٰ اپنے نبی سے ارشادفرماتاہے:
( اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللّیْلِ ) (۱) زوال آفتاب سے رات کی تاریکی تک نمازقائم کرو ۔
آیہ مبارکہ میں لفظ “دلوک” زوال کے معنی میں استعمال ہواہے ،زوال آفتاب سے لے کرآدھی رات تک چارنمازیں پڑھی جاتی ہیں جن نمازوں کاالله تعالیٰ نے ایک مخصوص نام رکھاہے اوران کااپنی کتاب میں ذکرکیاہے اورہرنمازوقت کابھی بیان کیاہے اور “غسق لیل ”سے آدھی رات مرادہے۔اور ایک نمازجوصبح کے وقت پڑھی جائے جسے خداوندعالم نے قرآن فجرکانام دیاہے اورکہاہے:( وَقُرْآنَ الْفَجْرِ،اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْهُودا ) (۲)
اورنمازصبح بھی پڑھاکروکیونکہ نمازصبح کے لئے گواہی کاانتظام کیاگیاہے۔ امام (علیھ السلام)فرماتے ہیں کہ قرآن فجرسے نمازصبح مرادہے اوریہ پانچ نمازیں ہیں جن کانام خداوندعالم نے قرآن کریم میں ذکرکیاہے ۔
اس کے بعدامام صادق نے ارشادفرمایا:ان ہی پانچ نمازوں کے نام اوراورقات کے بارے میں خداوندعالم قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشادفرماتاہے:( وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِوَزُلْفاًمِنَ اللَّیْلِ ) (۳)
دن کے دونوں کنارے میں اور رات گئے تک نمازقائم کرو۔ آیہ مبارکہ مٔیں دن کے دونوں کناروں سے مرادیہ ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعداورطلوع ہونے سے پہلے نمازقائم کرو،سورج ڈوبنے کے بعدپڑھی جانے والی نماز کو نماز مغرب کہتے ہیں اورسورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھی جانے والی نمازکونمازصبح کہتے ہیں اوررات گئے پڑھی جانے والی نمازکونمازعشاء کہتے ہیں۔
اس کے بعدامام صادق فرماتے ہیں:خداوندعالم ایک اور آیت میں ارشادفرماتاہے:( حَافِظُواعَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوا لِلّٰهِ قَانِتِیْنَ ) (۴) اپنی نمازوں بالخصوص نمازوسطیٰ کی محافظت اور پابندی کرواورالله کی بارگاہ میں خضوع وخشوع کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔
____________________
. ۲)سورہ اسراء /آیت ٧٨
. ۳)سورہ ۂود/آیت ١١۶
. ۴)سورہ بٔقرہ /آیت ٢٣٨
وهی صلاة الظهر، وهی اوّل صلاة صلاهارسول الله صلی الله علیه وآله ، وهی وسط النهارووسط الصلاتین بالنهارصلاة الغداة وصلاة العصر ۔
آیہ مٔبارکہ میں نمازوسطیٰ سے نمازظہر مرادہے اوریہ پہلی نمازہے جسے رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے سب پہلے پڑھااوریہ نمازدن کے درمیانی حصے میں اوردن کی دونمازوں کے درمیان پڑھی جائے اوروہ دونمازیں صبح اورعصر کی نمازہیں۔
اورامام (علیھ السلام)نے فرمایا:بعض قرائت کے مطابق نمازوسطیٰ سے نمازعصرمراد ہے کیونکہ نمازعصروہ نمازہے جونمازیومیہ کی پانچ واجب نمازوں میں درمیانی نمازہے دونمازیں(صبح اورظہر)اس سے پہلے پڑھی جاتی ہیں اوردونمازیں(مغرب وعشا)نمازعصرکے بعدپڑھی جاتی ) ہیں(۱) اگرکوئی یہ سوال کرے کہ خداوندعالم نے روزانہ پانچ ہی نمازوں کوکیوں واجب قراردیاگیاہے اس سے کم یازیادہ کیوں نہیں؟تواس جواب یہ ہے جوہم ایک روایت کے ضمن میں پیشکررہے ہیں:
روایت میں آیاہے کہ:جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پر تشریف لے گئے توپروردگارعالم نے آپ کو حکم دیا :اے رسول! آپ اپنی امت سے کہد یجئے کہ ہرروزوشب پچاس نماز پڑھا کر یں اس کے بعدجب آنحضرت معراج سے واپس ہورہے تھے توہرنبی کے پاس سے گزرہواکسی نے کچھ نہیں کہایہاں تک کہ حضرت موسیٰ ابن عمرانکے پاس پہنچے توحضرت موسیٰ نے پوچھا: پروردگارنے تمھیں کس چیزکاحکم دیاہے ؟(اور تمھاری امت پر کت نی نمازوں کوواجب قراردیاہے) آنحضرت نے کہا:پچاس نمازیں پڑھنے کاحکم دیاہے ،حضرت موسیٰ نے کہا:اپنے پروردگارسے تخفیف طلب کیجئے تمھاری امت کے لئے واجب نمازوں کی یہ تعداد بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ روزانہ ات نی نمازیں پڑھنے کی قوت نہیں رکھتے ہیں لہٰذا اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کیجئے ۔
پیغمبر اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے امت اسلام کی خاطرحضرت موسیٰ کی فرمائش کو قبول کیا اور بارگاہ رب العالمین میں تخفیف کا مطالبہ کیا تو خدانے ان کی تعدادمیں دس نمازیں کم کردی اس کے بعدنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)واپس ہوئے تودوبارہ ہرنبی کے پاس سے گزرہواکسی سے کوئی سوال نہیں کیایہاں تک کہ حضرت موسیٰ ابن عمران -کے پاس آئے توحضرت موسی (علیھ السلام)نے دوبارہ پوچھا:اب کت نی نمازوں کاحکم دیاہے؟آنحضرت نے کہا:چالیس نمازوں کاحکم دیاہے حضرت موسی (علیھ السلام)نے کہا: اب بھی تعدادزیادہ ہے،آنحضرت نے دوبارہ خداسے تخفیف چاہی تو خدانے چالیس کوتیس میں تبدیل کردیا،حضرت موسیٰ نے پھرکہا:یہ بھی زیادہ ہے الغرض خدانے بیس کودس سے بدلااس کے بعد دس کوپانچ ) میں تبدیل کیااورواجب نمازوں کی تعدادکم کرتے کرتے پچاس سے پانچ ہوگئی ۔(۲)
____________________
. ١)کافی /ج ٣/ص ٢٧١
. ۲)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ١٩٧ ۔ ١٩٨
زید ابن علی بن الحسین سے مروی ہے :میں نے اپنے والدسیدالعابدین (حضرت امام زین العابدین)سے سوال کیااورکہا :اے میرے والد محترم آپ مجھے اس بات سے آگاہ کریں کہ جب ہمارے جدبزرگوار( نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ))آسمان پرمعراج کے لئے گئے اورپروردگارنے آنحضرت کوپچاس نمازیں پڑھنے حکم دیاتواسی وقت پروردگارسے نمازمیں تخفیف کامطالبہ کیوں نہیں کیا لیکن جب معراج سے واپس ہوئے توحضرت موسی سے ملاقات ہوئی ،حضرت موسیٰ نے آنحضرت سے کہا : اپنی امت کے لئے خداسے تخفیف کراؤکیونکہ تمھاری امت اس قدرنمازیں پڑھنے کی قوت نہیں رکھتی ہے( پسآنحضرت نے خداسے نمازوں میں تخفیف کرائی یہاں تک واجب نمازوں کی تعدادپچاس سے کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئی)؟
امام زین العابدین نے فرمایا:اے میرے بیٹا!نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)اپنی طرف سے خداسے کوئی فرمائش نہیں کرناچاہتے تھے لہٰذاجب معراج سے واپس ہوئے اورحضرت موسیٰ سے ملاقات ہوئی توحضرت موسیٰ نے کہا:تم اپنی امت کے شفیع ہوپس تم اپنی امت کی شفاعت کے لئے خداسے نمازوں میں تخفیف کراؤکیونکہ تمھاری امت اس قدر نمازیں پڑھنے کاحوصلہ نہیں رکھتی ہے لہٰذاپیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے خداسے نمازوں میں تخفیف کرائی یہاں تک کہ واجب نمازوں کی تعدادپانچ رہ گئی
زیدابن علی کہتے ہیں کہ :میں نے اپنے والدسے دوبارہ پوچھا:آنحضرت نے امت اسلام کے لئے پانچ سے بھی کم نمازوں کا تقاضا کیوں نہیں کیا ؟ امام زین العابدیننے جواب دیا: اے بیٹا! رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ) نے پا نچ پر اس لئے اکتفاء کی کیونکہ انہی پا نچ نمازوں کے ذریعہ پچاس نماز وں کا اجر و ثواب حاصل ہو سکتا ہے جیساکہ خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
( مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُاَمْثَالِهَا ) (۱)
جو شخص بھی کوئی ایک نیکی کرے گا اسے اس کادس برابراجروثواب ملے گا اس کے بعدامام (علیھ السلام)نے کہا:اے بیٹا!کیاتم نہیں جانتے ہوکہ جب ہمارے جدحضرت نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)آسمانوں کی سیرکرکے زمین پرتشریف لائے توجبرئیلنازل ہوئے اورکہا:
یامحمد!انّ ربک یقرئک السلام ویقول:انّهاخمس بخمسین،مایبدل القول لدی وماانابظلام للعبید ۔
اے محمد!تمہاراپروردگارتم پردرودوسلام بھیجتاہے اورکہتاہے:یہ پانچ نمازیں پچاس نمازوں ) کے برابرہیں (اور انھی پانچ نمازوں کے ذریعہ پچاس نمازوں کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے)(۲)
____________________
. ١)سورہ أنعام /آیت ١۶٠
. ٢)علل الشرائع /ج ١/ص ١٣٣
ان اوقات میں نمازکے واجب ہونے کی وجہ
گذشتہ مطالب اورروایت سے یہ واضح ہوگیاہے کہ روزانہ پانچ نمازیں واجب ہیں مگراب سوال یہ پیداہوتاہے کہ خداوندعالم نے ان پانچ نمازوں کے لئے الگ الگ وقت کیوں معین کیاہے، پانچوں نماز کوایک ہی وقت میں کیوں واجب قرارنہیں دیا،پانچوں نمازکو صبح میں یادوپہرمیں یاعصرمیں یارات میں کسی بھی وقت واجب قراردے دیتا،یاکہہ دیتاکہ جسکے پاس رات دن میں جب بھی وقت مل جائے پانچوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لیاکرے ، مگرخدانے ایسانہیں کیااور پانچوں نمازکوالگ الگ وقت میں واجب قراردیا اس کی کیاوجہ ہوسکتی ہے اوراس میں کیارازپایاجاتاہے کہ الله تبارک وتعالیٰ نے ایک نمازکوزوال کے وقت ،دوسری عصرکے وقت ،تیسری مغرب کے وقت ،چوتھی رات کی تاریکی میں اورپانچوی نمازکوسورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھنے کاحکم دیاہے ؟اس بارے میں چندروایت ذکرہیں :
پہلی روایت
امام حسنسے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی خدمت میں آئی اوراس جماعت کے سب سے بڑے عالم نے آنحضرت سے چندسوال کئے جن میں ایک سوال یہ بھی تھا: آپ ہمیں اس چیزکے بارے میں خبردیجئے کہ خداوندعالم نے آپ کی امت پرروزانہ ان پنچگانہ نمازوں کو ان ہی پانچ وقتوں میں کیوں واجب قراردیاہے ؟ پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے اس یہودی عالم کے سوال کاجواب دیااورپنچگانہ نمازوں کوان پانچ اوقات میں واجب قراردئے کی وجہ بیان کی اورفرمایا:
زوال کے وقت سورج کے لئے ایک حلقہ (بن جاتاہے جس میں وہ داخل ہوجاتاہے اورجیسے ہی سورج اس دائرے میں داخل ہوتاہے توعرش کے علاوہ اس کے نیچے موجوددنیاکی ہر چیزخدائے عزوجل کی تسبیح کرنے لگتی ہیں اوریہ وہی گھڑی ہے کہ جب میراپروردگارمجھ پردرودبھیجتاہے لہٰذاخدائے عزوجل نے مجھ پراورمیری امت پراس وقت نمازمیں کوواجب قراردیااورفرمایا:
( وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللّیْل ) (۱)
نمازقائم کروزوال آفتاب سے رات کی تاریکی تک۔
یہ وہی گھڑی ہے کہ جس وقت روزقیامت جہنم کو سامنے لایاجائے گا،پس جومومن شخص بھی (دنیامیں) زوال کے وقت سجدہ یارکوع یاقیام کی حالت میں رہتاہوگاخداوندعالم اس کے جسم کونارجہنم پرحرام قراردے گا۔
حلقہ سے دائرہ نٔصف النہار مرادہے اور یہ وہ وقت ہے جب سورج نصف النہارکے دائرے میں داخل ہوجاتاہے
____________________
. ١)سورہ أسراء /آیت ٧٨
وقت نمازکے بارے میں پنچگانہ نمازوں کے وقت کیاہیں اوران ہی اوقات میں نمازکے قراردئے جانے کی وجہ کیاہے اورہرنمازکے لئے ایک مخصوص وقت کیوں معین کیاگیاہے ؟ اس کے بعدنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازعصرکے واجب قراردئے جانے کی یہ وجہ بیان فرمائی:
نمازعصرکاوقت وہ وقت ہے کہ جب آدم (علیھ السلام)نے ممنوعہ درخت سے پھل توڑکرکھایاتوخدانے انھیں جنت سے باہرنکال دیااوران کی ذریت پرروزقیامت تک اس وقت میں نمازکوواجب قراردیااورخدانے اسی وقت میں نماز(ظہر)کومیری امت پربھی واجب قراردیاکیونکہ یہ نمازالله کے نزدیک سب سے زیاہ محبوب ہے اورمجھے (پنچگانہ نمازوں)اس وقت کی نماز کے پابندرہنے کی بہت زیادہ نصیحت اوروصیت کی گئی ہے۔
اس کے بعدنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازمغرب کے واجب قراردئے جانے کی یہ وجہ بیان فرمائی:
نمازمغرب کاوقت وہ وقت ہے کہ جب الله تبارک وتعالیٰ نے حضرت ادم (علیھ السلام)کی توبہ قبول کی اورحضرت آدم (علیھ السلام)کے درخت سے پھل توڑکرکھانے میں اوران کی توبہ قبول ہونے میں دنیاکے تین سوسال کافاصلہ تھااورنمازعصرومغرب کے درمیان قیامت کے ایک دن (جوکہ دنیاکے ایک ہزارسال کے برابرہے )کے برابرکافاصلہ تھااورآدم (علیھ السلام)نے توبہ قبول ہوتے ہی تین رکعت نمازپڑھی ،ایک رکعت اپنے خطااورلغزش کی بناپرجوآپ سے سرزدہوئی تھی اوردوسری رکعت حوا کے گناہ کے جبران کی وجہ سے اورتیسری رکعت بارگاہ خداوندی میں توبہ قبول ہوجانے کے شکرکی وجہ سے لہٰذاخداوندمتعال نے میری امت پران تین رکعت نمازوں کوواجب قراردیااوریہ وقت ایساہے کہ جس میں دعائیں مستجاب ہوتی ہیں لہٰذامیرے پروردگارنے مجھے وعدہ دیاہے کہ جوشخص اس وقت دعا کرے گامیں اس کی دعاکوضرورقبول کروں گااوریہ وہی وقت ہے کہ جب میرے پروردگارنے مجھے حکم دیا:
( فَسُبْحَانَ اللهِحِیْنَ تُمْسُونْ وَحِیْنَ تُصْبِحُونَ ) (۱)
تم لوگ تسبیح پروردگارکرواس وقت جب شام کرتے ہوجب صبح کرتے ہو۔
____________________
. ١)سورہ رٔوم /آیت ١٧
اس کے بعدنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازعشاکے واجب قراردئے جانے کی یہ وجہ بیان فرمائی:
خداوندعالم نمازعشاکواس لئے واجب قراردیاتاکہ انسان اس نمازکے ذریعے آخرت کویادکرے کیونکہ قبرمیں اندھیراہوتاہے اورقیامت میں بھی اندھیراہوگاپس پروردگارعالم نے مجھ پراورمیری امت پررات کے وقت میں نمازعشا کو واجب قراردیاتاکہ انسان اس نمازکے ذریعہ قبرکومنورکرسکے اورمیری امت اس نمازکی روشنی میں پل صراط سے گزرسکے لہٰذاجولوگ اس نمازکوپرھنے کے لئے قدم اٹھاتے ہیں خدائے عزوجل ان کے جسم کوآتش جہنم پرحرام کردیتاہے اوریہ وہ نمازہے جسے پروردگارنے اپنے ذکرکے لئے مجھ سے پہلے والے نبیوں پرواجب قراردیاتھا ۔
اس کے بعدنبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازصبح کے واجب قراردئے جانے کی یہ وجہ بیان فرمائی:
صبح کے وقت نمازکواس لئے واجب قراردیاہے کیونکہ صبح میں جب سورج طلوع ہوتاہے توشیطان کے دونوں شاخ ظاہروآشکارہوجاتے ہیں اسی لئے پروردگارنے مجھے سورج طلوع ہونے سے پہلے نمازصبح پڑھنے کا حکم دیااورصبح کے وقت نمازکواس لئے واجب قراردیاکیونکہ جب سورج طلوع ہو تا ہے توکافروآفتاب پرست سورج کو سجدہ کرتے ہیں لہٰذاس سے پہلے کہ کافر سورج (بت اورشیطان وغیرہ ) کو سجدہ کریں خداوندعالم نے میری امت پرنمازصبح کوواجب قراردیااورنمازصبح کاوقت الله کے نزیک محبوب ترین وقت ہے اورنمازصبح وہ نمازہے جس میں رات اوردن دونوں کے ملائکہ شاہداورحاضررہتے ہیں (یعنی رات والے ملائکہ بھی اس نمازکوآسمان پرلے جاتے ہیں اوردن کے ملائکہ بھی جسسے نمازی کودوبرابراجروثواب ملتاہے ( جب نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)پانچ نمازوں کے وقت کے رازکوبیان کرچکے تواس یہودی آنحضرت سے عرض کیا:
صدّقت یامحمد !
اے محمد!آپ نے یہ رازبالکل صحیح فرمائے ہیں۔(۲)
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢١٢
دوسری روایت
حسین ابن ابی العلاء سے مروی ہے ،امام صادق فرماتے ہیں :جب خداوند عالم نے آدم (علیھ السلام) کوجنت سے نکال کردنیامیں بھیجاتوآپ کے پورے جسم پرسر سے پیروں کے تلووں تک سیاہ رنگ کے داغ پڑگئے(جسے عربی میں شامہ کہتے ہیں) جس کی وجہ سے آپ کے جسم سے بدبوآنے لگی ، حضرت آدم (علیھ السلام)اپنے جسم کی یہ حالت دیکھ کراورزیادہ غمگین ہوگئے اورجب ایک درازمدت تک روتے وگڑگڑاتے رہے توجبرئیل نازل ہوئے اورپوچھا: اے آدم! تمھارے رونے کاسبب کیاہے ؟حضرت آدم (علیھ السلام)نے جواب دیا:ان کالے داغ اوران کے اندرپیداہونے والی بدبونے مجھے غمگین کردیاہے ،جبرئیل نے کہا:اے آدم! اٹھواورنمازپڑھوکیونکہ یہ پہلی نماز(یعنی نمازظہر)کاوقت ہے ،حضرت آدم(علیھ السلام) نے اٹھ کرنماز(ظہرپڑھی توفوراًآپ کے جسم سے سروگردن کارنگ بالکل صاف ہوگیا،جب دوسری نماز(یعنی عصر)کاوقت پہنچاتوجبرئیل نازل ہوئے اور کہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھو اور نمازپڑھوکیونکہ اب یہ دوسری نمازکاوقت ہے،جیسے ہی حضرت آدم(علیھ السلام) نے نمازعصرپڑھی توناف تک بدن کارنگ صاف ہوگیا،جب تیسری نماز(یعنی مغرب )کاوقت پہنچاتوجبرئیل آئے اورکہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھواورنماز(مغرب)پڑھوکیونکہ اب یہ تیسری نمازکاوقت ہے ،جیسے حضرت آدم(علیھ السلام) نے نماز(مغرب) پڑھی تو دونوں گھٹنوں تک بدن کارنگ صاف ہوگیا،جب چوتھی نماز(یعنی عشا)کاوقت پہنچاتوکہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھو اورنماز(عشا)پڑھوکیونکہ اب یہ چوتھی نمازکاوقت ہے ،حضرت آدم(علیھ السلام) نے نماز(عشا)پڑھی توپیروں تک بدن کارنگ بالکل صاف ہوگیا،جب پانچوی نماز(یعنی صبح )کاوقت پہنچاتوجبرئیل نے کہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھواورنماز(صبح) پڑھوکیونکہ اب یہ پانچوی نمازکاوقت ہے ،جیسے ہی حضرت آدم(علیھ السلام) نماز(صبح)سے فارغ ہوئے تومکمل طورسے پورے کارنگ صاف ستھراہوگیااورآپ نے خداکی حمدوثنا کی،جبرئیل نے کہا: اے آدم!تمہاری اولادکی مثال ان پنجگانہ نمازوں میں ایسی ہی ہے
جس طرح تم نے نمازپنجگانہ کے ذریعہ اس ان دانوں سے نجات پائی ہے پس تمہاری اولادمیں جوشخص شب وروزمیں یہ پانچ نمازیں پڑھے گاوہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجائے گاجیسےتمھارابدن ان دانوں سے پاک وصاف ہوگیاہے ۔(۱)
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢١۴ (
تیسری روایت
فضل بن شاذان سے روایت ہے کہ امام رضا فرماتے ہیں: اگرکوئی تم سے یہ معلوم کرے کہ ان ہی اوقات میں نمازکوکیوں واجب قرار دیا گیا ہے اورانھیں ان کے اوقات سے نہ پہلے بجالایاجاسکتاہے اورنہ مو خٔرکیاجاستاہے یعنی قدم کیاپہلے نہ بعدپہلے انھیں وقت سے پہلے یابعدمیں کیوں پڑھاجاسکتاہے؟اس کاجواب یہ ہے کہ چاراوقات ایسے مشہوراورمعروف اوقات ہیں جوکرہ أرض پررہنے والے تمام لوگوں کواپنے دائرے میں شامل کرتے ہیں اورہرجاہل وعالم ان اوقات سے مطلع ہے اوروہ اوقات یہ ہیں: غروب مشہورومعروف وقت ہے لہٰذااس وقت میں نمازوغرب پڑھی جائے ،سقوط شفق بھی مشہوروقت ہے لہٰذااس وقت میں نمازعشا پڑھی جائے ،طلوع فجربھی مشہوروقت ہے لہٰذااس وقت میں نمازصبح پڑھی جائے ،آفتاب کازوال کرنااورسایہ اپنی کمی کوپہنچنے کے بعدمشرق کی طرف بڑھناشروع کرنامشہورومعروف وقت ہے لہٰذاانسان پرواجب ہے کہ اس وقت نمازظہرپڑھے اورعصرکاوقت بھی بہت زیادہ مشہورہے اس وقت میں نمازپڑھنے کانظیرموجودنہیں ہے لہٰذااس نمازکے وقت کوپہلی نماز(ظہر)کے ختم ہونے کے بعدرکھاگیاہے کہ جب ہرچیزکاسایہ چاربرابرہوجائے ۔
ان اوقات میں نمازکے واجب قراردئے جانے کی ایک علت یہ بھی ہے کہ خداوند عزوجل اس چیزکوبہت زیادہ دوست رکھتاہے کہ لوگ اپنے روزانہ کے ہرعمل کی ابتدااس کی اطاعت اورعبادت کے ساتھ انجام دیں اسی لئے حکم دیاکہ انسان دن کی ابتدہوتے ہی (صبح سویرے نیندسے بیدارہوکر) پہلے اس کی عبادت کرے اوراس کے بعدکسب معاش کی تلاش میں گھرسے باہرقدم نکالے ،پس نمازصبح کواس لئے واجب کیاگیاتاکہ انسان عبادت خداوندی کے ساتھ اپنے آرام کوترک کرے اوراپنے دن اورکام کی ابتدااس کے نام سے کرے اورخداکویادکرکے گھرسے باہرقدم نکالے۔
جب دن اپنے درمیان کوپہنچتاہے یعنی جب آدھادن گذرجاتاہے تولوگ اپنے شغل وحرفہ سے ہاتھ روک لیتے ہیں اوربدن سے اس کام کے لباس کواتاردیتے ہیں اور دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے اورتھوڑاسا آرام کے لئے گھر آتے ہیں ،قیلولہ بھی کرتے ہیں لہٰذاخداوندعالم نے حکم دیاصبح سے مشغول کام کونماز ظہر کے ذریعہ ختم کریں اور دوپہر کے ان کاموں کوالله کی عبادت کے ذریعہ شروع کریں
جب ظہرکاوقت گذرجائے اورلوگ اپنے گھروں سے دن کے دوسرے حصہ میں کام کرنے کے لئے نکلناچاہتے ہیں توپھراپنے کام کی ابتداحق تعالیٰ کے عبادت کے ذریعہ کریں،اس کے بعداپنے کام پرجائیں لہٰذاخداوندعالم نے اس وقت میں نمازکوواجب قراردیا جیسے ہی سورج ہوتاہے توانسان دن کے دوسرے حصہ میں کام سے فارغ ہوکراپنے گھرکی طرف آتاہے تواسے چاہئے کہ تو کام کی انتہانماز مغرب کے ذریعہ کرے اس کے بعد رات کا کھانا کھائے لہٰذااس وقت خداوندعالم نے نمازمغرب کوو اجب قراردیا اور جب انسان بستر پر لیٹنا چاہے تو رات کے آرام کی ابتدا بھی نماز کے ذریعہ کرے اورلیٹنے سے پہلے حق تعالیٰ کی عبادت کرے اسی لئے اس وقت خداوندعالم نے نماز عشاکوواجب قراردیا
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب لوگ اس دستورپرعمل کریں گے اوراپنے ہرکام کی ابتدا عبادت خداوندی سے شروع کریں گے اورنمازکوبتائے گئے طریقہ سے انجام دیں گے اوراس کے بعداپنے دنیاوی حاجتوں میں کی تلاش میں نکلیں گے توہرگزخداکونہیں بھول سکیں گے اوراس کے ذکرسے غافل نہیں رہیں گے توہرگزدل میں قساوت نہیں رہے گی اورمیل ورغبت بھی کم نہیں ہوسکے گی ۔(۱)
چوتھی روایت
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: اذازالت الشمس فتحت ابواب السماء وابواب الجنان واستجیب الدعاء فطوبیٰ لمن رفع له عمل صالح ۔(۲) نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:جب زوال کاوقت پہنچتاہے توآسمان اوربہشت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہیں اودعائیں قبول ہوتی ہیں اوریہ خوشحالی ہے ان لوگوں کے لئے کہ جن کے اعمال صالح اوپرپہنچتے ہیں ۔
____________________
. ١)علل الشرائع /ج ١/ص ٢۶٣
. ۲)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢١۴
پانچوی روایت
عن اسحاق بن عمارقال:قلت لابی عبدالله علیه السلام:اخبرنی عن افضل المواقیت فی صلاةالفجر؟ قال:مع طلوع الفجر،انّ الله تعالیٰ یقول: ( اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُودا ) یعنی صلاة الفجرتشهدملائکة اللیل وملائکة النهار، فاذا صلی العبد صلاة الصبح مع طلوع الفجر اثبت له مرتین تثبته ملائکة اللیل وملائکة النهار .
اسحاق ابن عمارسے مروی ہے کہ میں امام صادق سے پوچھا:نمازصبح کاافضل ترین وقت کیاہے؟امام (علیھ السلام)نے فرمایا:نمازصبح کاافضل ترین وقت فجریعنی صبح صادق ہے کیونکہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( اِنّ قَرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْهُوداً ) (۱)
نمازصبح بھی پڑھاکروکیونکہ نمازصبح کے لئے گواہی کاانتظام کیاگیاہے آیہ مبارکہ میں قرآن فجرسے نمازصبح مرادہے کہ جس وقت کی نمازکی گواہی کے لئے رات کے ملائکہ حاضرہوتے ہیں اوردن والے ملائکہ بھی حاضرہوجاتے ہیں پس جب کوئی بندہ فجرکے وقت نمازصبح اداکرتاہے تواس نمازکاثواب دومرتبہ اس کے نامہ اعمال میں لکھاجاتاہے ،رات کے ملائکہ ) بھی اس کے ثواب کونامہ اعمال میں درج کرتے ہیں اوردن کے ملائکہ بھی۔(۲)
تعدادرکعت کے اسرار
جب یہ ثابت ہوگیاکہ روزانہ پانچ نمازیں(ظہروعصر،معرب وعشااورصبح)واجب ہیں اوریہ بھی معلوم ہوگیاکہ ان اوقات میں نمازکوکیوں واجب قراردیاگیاہے اب سوال پیداہوتاہے کہ ان میں ہرنمازکت نی رکعت ہے اورات نی رکعت قراردئے جانے کی وجہ ہے مثلانمازظہرسفرمیں اورحضرمیں کت نی رکعت ہے اوراس کی وجہ کیاہے،نمازصبح سفراورحضردونوں میں دوہی رکعت ہے اس کی کیاوجہ ہے؟ ۔
جب نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)معراج پرگئے توخداوندعالم نے آنحضرتپرپانچ نمازوں کوواجب قراردیااور ہرنمازکودورکعتی طورپرواجب قراردیا،اس طرح پانچوں نمازکی رکعتوں کی تعداددس ہوتی ہے مگرجب پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ) مکہ سے مدینہ ہجرت کی اورامام حسین کی ولادت ہوئی جب امام حسن اورامام حسین اس دنیامیں آگئے اورخداوندعالم نے پیغمبراسلام (صلی الله علیھ و آلھ)کوکھلی ہوئی تبلیغ کاحکم دیاتوآنحضرت نے سات رکعت کااضافہ کیا،اوراس طرح سے روزانہ سترہ رکعات نمازواجب ہوتی ہے اس بارے میں میں چندروایت قصرکی بحث میں ذکرکریں گے اورچندروایت یہاں پرذکرہیں:
____________________
. ١)سورہ أسراء /آیت ٧٨
. ٢)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ٣٧
١۔فضیل ابن یسارسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کو اپنے بعض اصحاب سے یہ فرماتے سناہے:کہ خداوندعالم نے پنچگانہ نمازوں میں سے ہرنمازکودودورکعت واجب قراردیاہے، اس طرح پنجگانہ نمازوں کی رکعتوں کی تعداددس ہوتی ہے ،اس کے بعدرسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ) نے (نمازصبح اورمغرب کے علاوہ نماز ظہر و عصر اور عشا کی ) ہردورکعت کے ساتھ دورکعت کااضافہ کیااورنمازمغرب میں ایک رکعت کااضافہ کیااوریہ سات ر کعت کہ جنھیں پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے اضافہ کیاہے انھیں کی طرح واجب ہیں یعنی جس طرح وہ دس رکعتیں واجب ہیں اسی یہ سات رکعت بھی واجب ہیں، سفرکے علاوہ کسی بھی حالت میں ان سات رکعت کاترک کرناجائزنہیں ہے البتہ سفرکی حالت میں نمازمغرب کواسی حالت میں رکھناہے یعنی نمازگزارچاہے سفرمیں یاحضرمیں دونوں حالتوں میں نمازمغرب کومکمل انجام دیناہے اورخداوندعالم نے آنحضرت کواضافہ کرنے کی ترخیص دی ہے لہٰذااس زیادتی کے ساتھ واجب نمازسترہ رکعت ہوتی ہے ۔(۱)
٢۔امام محمدباقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:(الله کی طرف سے )روزانہ دس رکعت نمازواجب قراردی گئی تھی ،ظہرکی دورکعت ،عصرکی دورکعت،صبح کی دورکعت، مغرب کی دورکعت ،عشاکی دورکعت،یہ دس رکعات نمازایسی ہیں کہ جس میں چون وچراکی گنجائش نہیں ہے ،اگرکوئی ان میں سے کسی چیزکے بارے میں کوئی چون وچراکرے گویااس نے نمازسے روگردانی کی ہے اوریہ وہ نمازہے جسے خدائے عزوجل نے قرآن کریم میں مومنین پرواجب قراردیاہے اورحضرت محمدمصطفی (صلی الله علیھ و آلھ) کی طرف واگذارکیاہے پس نبی اکرم نے ان دس رکعات میں سات رکعات کااضافہ کیااوریہ سات رکعتیں سنت ہیں اسی لئے تیسری اورچوتھی رکعت میں قرائت نہیں ہے بلکہ ان سات رکعتوں میں تسبیح وتہلیل اورتکبیرودعاہے ،ہاں اس چیزمیں اشکال کرسکتے ہیں کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے مسافرین کے علاوہ حاضرین پردورکعت ظہرمیں ،دورکعت عصرمیں ،دورکعت عشاکی نمازمیں اضافہ کیاہے اورنمازمغرب میں مسافرومقیم دونوں پرایک کااضافہ کیاہے ۔(۲)
____________________
. ۱)کافی /ج ١/ص ٢۶۶
۲). کافی /ج ٣/ص ٢٧٣
٣۔امام محمدباقر فرماتے ہیں: جب پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پر گئے توخداوندعالم نے دس رکعت نمازدودورکعت کرکے واجب قراردی لیکن جب امام حسن اورامام حسین کی ولادت ہوئی توآنحضرت نے شکرخداکے خاطران دس رکعتوں میں سات رکعت کااضافہ کےا کےونکہ خداوندعالم نے آنحضرت کواضافہ کرنے کی ترخیص دی ہے ،پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازصبح میں کسی رکعت کااضافہ نہیں کیابلکہ اسے ضیق وقت کی وجہ سے اسی طرح رہنے دیاکیونکہ صبح کے وقت رات کے ملائکہ بھی حاضررہتے ہیں اوردن کے ملائکہ بھی حاضرہوتے ہیں ،جب پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے سات رکعت کااضافہ کیاتوخداوندعالم نے حکم دیاکہ سفرمیں نمازکوآدھی پڑھاجائے لہٰذاپیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے زیادہ کی گئی رکعتوں میں چھ رکعت کوکم کردیالےکن نمازمغرب سے اضافہ کی گئی رکعت کوکم نہیں کیابلکہ اسے اسی طرح رہنے دیا،سفرکی حالت میں پیغمبر کی اضافہ کی ہوئی سات رکعتوں میں سے چھ رکعت نمازترک کرناواجب ہے ،پس جوشخص نمازکی اصلی دورکعتوں میں شک کرتاہے گویاوہ نمازکامنکرہے۔(۱)
۴ ۔سعدابن مسیب سے مروی ہے کہ میں نے امام علی بن الحسین سے پوچھا : یہ نمازکہ جسے ہم سب اس کیفیت کے ساتھ پڑھتے ہیں اسے خداوندعالم نے مسلمانوں پرکس وقت واجب قراردیاہے ؟امام (علیھ السلام)نے فرمایا:جب رسول اسلام (صلی الله علیھ و آلھ)کوکھلی ہوئی تبلیغ کاحکم ملااوراسلام قوی ہوگیاتوخداوندعالم نے مسلمانوں پرنمازکوواجب قراردیا،اورجس وقت الله تعالیٰ نے مسلمانوں پرجہادکوواجب کیاتوپیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے (دس رکعت میں )سات رکعت کااضافہ کیا،دورکعت کونمازظہرمیں ،دورکعت کونمازعصرمیں ، ایک رکعت کونمازمغرب میں اوردورکعت کونمازعشا میں اضافہ کیااورنمازصبح کواسی طرح دورکعت رہنے دیاجس طرح سے واجب کیاگیاتھا(۲) اورنمازصبح میں کسی رکعت کااس لئے اضافہ نہیں کیاکیونکہ رات کے ملائکہ کوآسمان کی طرف پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ دن کے ملائکہ بھی جلدی زمین پرپہنچ جائیں اوررات کے ملائکہ بھی پیغمبراسلام (صلی الله علیھ و آلھ)کے ساتھ نمازصبح کی شہادت دیتے ہیں اسی لئے الله تعالیٰ قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:( قُرْآنَ الْفَجْرِ،اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْهُودا )
نمازصبح بھی پڑھاکروکیونکہ نمازصبح کے لئے گواہی کاانتظام کیاگیاہے۔مسلمان بھی اس کی شہادت دیں گے اورشب وروزکے ملائکہ بھی شہادت دیں ) گے۔(۳)
____________________
۱) کافی /ج ٣/ص ۴٨٧
۲)پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد سات رکعت نمازکااضافہ کیاہے اوراس طرح پنجگانہ نمازوں کی رکعتوں کی تعدادسترہ قرارپائی ہے ۔
. ۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴۵۵
۵ ۔فضل بن شاذان سے مروی ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ خداندعالم نے اصل نمازکودودورکعتی کیوں واجب قراردیاہے(ایک رکعتی یااسسے بھی کم کیوں نہیں)؟ اورپھربعدمیں( نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے کہ جنھیں الله تبارک وتعالیٰ نے نمازمیں اضافہ کی ترخیص دی ہے )کسی نمازمیں ایک رکعت اورکسی میں دورکعت کااضافہ کیااورکسی نمازمیں ایک رکعت بھی اضافہ نہیں کی،اس وجہ کیاہے؟
امام (علیھ السلام)فرماتے ہیں:اس کاجواب یہ ہے کہ:اصل نمازکودورکعتی واجب قراردئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اصل میں نمازایک رکعتی ہے کیونکہ اصل عددایک ہے ،اگرایک میں سے کچھ کم کرلیاجائے تووہ عددنہیں کہلاتاہے اسی طرح اگرنماز کوایک رکعت سے بھی کم رکھاجاتاتووہ رکعت نہ کہلاتی اس لئے نمازکوایک رکعت سے کم نہیں قراردیاگیااورنمازکوایک رکعتی اس لئے قرارنہیں دیاگیاہے کیونکہ ،خداوندعالم اس چیزکاعلم رکھتاتھاکہ اس کے بندے ایک رکعت نمازکوزیادہ اہمیت نہیں دیں گے اوراسے مکمل وتمام(آداب شرائط کے ساتھ) ادانہیں کرسکتے ہیں اوراس کے اداکرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے اوراس میں حضورقلب نہیں رکھ سکیں گے لہٰذاخداوندعالم نے ایک کے سات ایک اوررکعت کااضافہ کیاتاکہ دوسری رکعت رکعت اول کے نقص کوپوراکرسکے اوراس طرح سے ہرنمازدورکعتی قرارپائی.(۱)
پس حقیقت یہ ہے کہ خداوندعالم نے ہرنمازکودورکعتی قراردیالیکن پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)بھی اپنی امت کے بارے میں اس چیزکاعلم رکھتے تھے الله کے بندے ان دورکعت کوتمام طورسے جس طرح حکم دیاگیاہے اسے کاملاًاورتماماًادانہیں کرسکتے ہیں لہٰذاآنحضرت نے ظہروعصراورعشاکی نمازمیں ہرایک کے ساتھ دودورکعت کاضمیمہ کیاتاکہ شروع کی دورکعتیں مکمل ہوجائیں اورآنحضرت یہ بھی جانتے تھے کہ مغرب ایک ایساوقت ہے کہ جس وقت غالباًلوگوں کونمازپڑھنے کے علاوہ اوراپنے گھروں میں کام میںزیادہ مصروف رہتے ہیں،مثلاًافطارکرنا،کھاناپینا،وضو کرنا،مقدمات استراحت آمادہ کرنااورسونے کی تیاری کرناجیسے کام میں مشغول رہناپڑتاہے لہٰذاتاکہ لوگوں کوآسانی رہے نمازمغرب میں صرف ایک رکعت کااضافہ کیا.
نمازمغرب میں ایک اضافہ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ شبانہ روزکی پانچ نمازوں میں سے ایک نمازطاق رہےنمازصبح کو اسی حالت پرچھوڑدیایعنی اس کی دورکعت میں کسی رکعت کاضمیمہ نہیں کیااس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت انسان زیادہ مشغول رہتاہے کیونکہ اسے اپنے کاروبارکی طرف جانے کے لئے جلدی بھی ہوتی ہے اوردوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت انسان کادل دماغ فکروخیالات سے خالی رہتاہے کیونکہ رات میں ایسے وقت پر لوگوں سے معاملات کم ہوتے ہیں ،لینادینابھی کم ہوتاہے، لہٰذاانسان کادل اس نمازمیں دوسری نمازکے مقابلہ میں انسان دل خداکی طرف زیادہ رہتاہے اسلئے اسمیں کسی رکعت کااضافہ نہیں کیا ۔
_____________________
۱)علل الشرائع /ج ١/ص ٢۶١
رازجمع بین صلاتین
زوال کے بعدجب چاررکعت نمازپڑہنے کاوقت گذرجائے نمازعصرکاوقت بھی شروع ہوجاتاہے،اس وقت سے لے کرجب سورج غروب ہونے میں صرف چاررکعت نمازکاوقت باقی رہ جائے تواس وقت تک نمازظہروعصرکامشترک وقت ہوتاہے اسی طرح سورج غروب ہونے کے بعدجب تین رکعت نمازپڑھنے کاوقت گذرجائے تونمازعشاکاوقت بھی شروع ہوجاتاہے اس وقت سے لے کرجب آدھی رات ہونے صرف چاررکعت نمازپڑھنے کاوقت باقی رہ جائے تواس وقت نمازمغرب اورعشاکامشترک وقت ہوتاہے لہٰذانمازظہرکے فوراًبعدنمازعصرکاپڑھناصحیح ہے اورنمازمغرب کے فوراًبعدنمازعشاکاپڑھناصحیح ہے ۔
نمازظہرکے فوراًبعدنمازعصر پڑھنے اوراسی طرح نمازمغرب کے فوراً بعد نماز عشا کے پڑھنے کوجمع بین صلاتین کہاجاتاہے اس میں کوئی فرق نہیں انسان کسی حال میں ہو سفرمیں ہویاحضر،دونمازوں کے مشترک وقت میں پہلاوقت ہویاآخری وقت ،دین اسلام نے جمع بین صلاتین کو جائز قراردیاہے جس کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)بارش وباران اورموسم کی خرابی کی وجہ سے نمازظہرکے بعد نماز عصر پڑھتے تھے اورنمازمغرب بعدعشاکی نمازپڑھتے تھے اورموسم کی خرابی کے بغیر اختیاری وعادی حالت میں بھی نمازظہرکے بعدعصراورنمازمغرب کے بعدعشاکی نماز پڑھتے تھے ،اس بارے میں اہل سنت کی روایتیں موجودہیں،احمدابن حنبل نے اس بارے میں متعددروایتیں نقل کی ہیں اورصحیح مسلم وصحیح بخاری میں بھی انکا ذکر موجود ہے ،خودصحیح مسلم اورسنن دارمی وغیرہ جیسی کتابوں میں “الجمع بین صلاتین فی الحضر”کے نام سے ایک باب موجودہے،جمع بین صلاتین سے متعلق مکتب تشیّع وتسنن چند روایت ذکرتے ہیں کہ جن میں جمع کرنے کی وجہ بھی ذکرکی گئی ہے
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:کان رسو ل الله صلی علیه وآله اذاکان فی سفرا ؤعجلت به حاجة یجمع بین الظهروالعصروبین المغرب والعشاء الآخرة .
امام صادق فرماتے ہیں:نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)جب کبھی سفرمیں ہوتے تھے یاحضرمیں کسی حاجت کی جلدی ہوتی تھی توظہروعصرکوایک ساتھ جمع کرتے تھے اورمغرب وعشاء کوایک ساتھ جمع کرتے تھے ۔(۱)
____________________
۱). کافی /ج ٣/ص ۴٣١ ۔تہذیب الاحکام /ج ٣/ص ٢٣٣
عن جعفربن محمدعن ابیه عن علی علیهم السلام قال:کان رسو ل الله صلی علیه وآله یجمع بین المغرب والعشاء فی اللیلة المطیرة وفعل ذلک مرارا.
حضرت علی فرماتے ہیں:نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ) بارانی راتوں میں نمازمغرب وعشاء کوجمع کرتے تھے اوراس کام کوچندبارانجام دیاہے ۔(۱)
عن عبدالله بن سنان عن الصادق علیه السلام: انرسو ل الله صلی علیه وآله جمع بین الظهروالعصرباذان واقامتین و جمع بین المغرب والعشاء فی الحضرمن غیرعلة باذان واحد واقامتین . امام صادق فرماتے ہیں:نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نمازظہروعصرکوایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرتے تھے اورمغرب وعشاء کوبغیرمجبوری حضرمیں بھی ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرتے تھے ۔(۲)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال: ان رسو ل الله صلی علیه وآله صلی الظهر والعصر فی مکان واحدمن غیرعلة ولاسبب فقال عمروکان اجرء القوم علیه :احدث فی الصلاة شی ؟ٔقال(صلا،ولکن اردتُ ان اوسع علی امتی.
امام صادق فرماتے ہیں:نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازظہروعصرکوایک ہی جگہ پرکسی مجبوری وسبب کے بغیرایک ساتھ پڑھاتوعمرابن خطاب نے کہا:امت اسی پر عمل کرنے لگے گی اورایک نئی چیزایجادکردے گی ؟آنحضرت نے فرمایا:ایسانہیں ہے بلکہ میں نے اپنی امت پرتوسعہ کرنے کاارادہ کیاہے یعنی تاکہ میری امت پرنمازمیں اسانی ہوجائے ۔(۳)
عن سعید بن جبیرعن ابن عباس قال:جمع رسول الله صلی الله علیه وآله بین الظهروالعصرمن غیرخوف ولاسفرفقال:اراداَن لایحرج علی احد من امته .
ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے بغیرکسی خوف اورسفرکے نمازظہروعصرکویکے بعددیگرے پڑھااورابن عباس نے فرمایاکہ :پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کاارادہ یہ تھاکہ ان کی امت میں کسی شخص نمازپڑھنے میں کوئی حرج پیشنہ آئے۔(۴)
____________________
۱). وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ١۶٠
۲) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٨٧
۳). علل الشرائع /ج ٢/ص ٣٢١
۴)علل الشرائع/ج ٢/ص ٣٢١
حدّثنایحیی بن یحیی قال:قراتُ علی مالکٍ عن ابی الزّبیرعن سعیدبن جُبَیرٍعن ابن عبّاس قال:صلّیٰ رسول الله صلی الله علیه وسلم الظّهرَوالعصرَجمیعاًوالمغرب والعشاء جمیعا فی غیرخوفٍ ولاسفرٍ ۔(۱)
ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے بغیرکسی خوف اور سفرکے نمازظہروعصرکویکے بعددیگرے اورنمازمغرب وعشاکوبھی یکے بعددیگرے پڑھا۔
حدّثنااحمدبن یونس وعون بن سلّٰام جمیعاًعن زُهیرقال ابن یونس: حدّثناابوالزّبیرعن سعیدبن جُبیرعن ابن عبّاس قال:صلّیٰ رسول الله صلی الله علیه وسلم الظّهرَوالعصرَجمیعاًبالمدینة فی غیرخوفٍ ولاسفرٍ.قال ابوالزّبیر:فسئلتُ سعیداًلِمَ فَعَلَ ذٰلک ؟فقال:سئلتُ ابن عبّاس کماسئلت نی فقال:اَرادَاَنْ لایُحرِجَ اَحَداًمِن امّته (۲)
ابوزبیرسے مروی ہے کہ سعیدابن جبیرنے ابن عباس سے نقل کیاہے :وہ کہتے ہیں کہ پیغمبراسلام (صلی الله علیھ و آلھ)نے مدینہ میں بغیرکسی خوف اورسفرکے نمازظہروعصرکو یکے بعددیگرے انجام دیا، ابوزبیرکہتے ہیں کہ میں نے سعیدسے پوچھا:آنحضرت نے ایساکیوں کیا؟توسعیدنے مجھے جواب دیا:جوسوال تونے مجھ سے کیاہے یہی سوال میں نے ابن عباس سے کیاتھاتوانھوں نے جواب دیاتھا: نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)یہ چاہتے تھے کہ ان کی امت میں کوئی شخص کسی تکلیف اورزحمت سے دوچارنہ ہو۔
حدّثناابوبکربن ابی شیبة وابوکریب قالا:حدّثناابومعاویة وحدّثناابوکریب وابوسعیدالاشجع واللفظ لابی کریب قالا:حدّثناوکیعٌ کلاهماعن الاعمش عن حبیب ابن ابی ثابت عن سعیدبن جبیرعن ابن عباس قال:جَمَعَ رسول الله صلی الله علیه وسلم بَینَ الظّهرِوَالعصرِوالمغربِ وَالعشاءِ بِالمدینةِ فی غیرِخوفٍ ولامطرٍ(فی حدیث وکیع قال:قلتُ لابن عباس :لِمَ فَعَلَ ذٰلک ؟قال:کی لایحرج امته(وفی حدیث ابی معاویةقیلَ لابن عباس :مااراداِلیٰ ذلک؟قال:اَرادَاَنْ لایُحرِجَ امّته (۳)
سعیدابن جبیرابن عباس سے نقل کرتے ہیں :وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)نے نمازظہروعصراور مغرب وعشاء کوبغیرکسی خوف وبارش کے ایک ساتھ اداکیا(وکیع کی روایت میں آیاہے)سعیدنے کہا:میں نے ابن عباس سے معلوم کیا:پیغمبراسلام (صلی الله علیھ و آلھ)نے ایساکیوں کیا؟ جواب دیا:اس لئے تاکہ آپ کی امت کسی مشقت میں نہ پڑے (ابومعاویہ کی روایت میں آیاہے) ابن عباس سے پوچھا: آنحضرت نے ایساکیوں کیا؟کہا:تاکہ آپ کی امت کوکوئی زحمت ومشقت نہ ہو۔
____________________
. ۱)صحیح مسلم /ج ٢/ص ١۵١
. ٢)صحیح مسلم /ج ٢/ص ١۵١
. ۳)صحیح مسلم /ج ٢/ص ١۵٢ (
روزانہ نمازکے تکرارکی وجہ
اگرکوئی شخص پنجگانہ نمازوں کے بارے میں یہ سوال کرے کہ روازنہ گذشتہ نمازکی تکرارہوتی ہے جب دن بدل جاتاہے تونمازمیں تبدیلی کیوں نہیں ہوتی ہے ؟ ہرروزگذشتہ روزکی طرح صبح وشام کی بھی تکرارہوتی ہے اسی لئے نمازکی بھی تکرارہوتی ہے مگراس سوال کاحقیق جواب یہ ہے کہ انسان حضورقلب کے ساتھ جت نی زیادہ نماز یں پڑھتے جائیں گے ،اتناہی زیادہ انسان کا مرتبہ بلند ہوتا جائے گا اوراس کے اندراتناہی زیادہ خلاص پیداہوتاجائے گا،وہ الله تبارک تعالی سے اتناہی زیادہ قریب ہوتاجائے گا۔ اس مطلب کوواضح کرنے کے لئے تین بہترین مثال ذکرہیں:
١۔وہ شخص جوکسی بلندی پرجانے کے لئے زینہ کی پہلی پیڑی پرقدم رکھتاہے اس کے بعددوسری پیڑی پرقدم رکھتاہے پھر تیسری پیڑی پرقدم رکھتاہے اوراسی طرح قدم رکھنے کی تکرارکرتاجاتاہے اورجت نابلندہوتاجاتاہے ہمت ات نی زیادہ بڑھتی جاتی ہے پہاں تک کہ وہ اپنے مقصدتک پہنچ جاتاہے ،نمازبھی زینہ پرقدم رکھنے کے مانندہے ،جت نازیادہ نمازکی تکرارکی تکرارکرتے جائیں گے اتناہی ایمان میں تازگی پیداہوتی رہے اورخداسے قربت بھی حاصل ہوتی جائے ۔
٢۔وہ شخص جوپانی حاصل کرنے کے لئے کسی بیلچہ یاکسی مشینری کااستعمال کرتاہے اورزمین کوکھودناشروع کرتاہے ، کنواں کھودنے کے لئے زمین میں بیلچہ مارناظاہراً ایک تکرار ی کام ہے لیکن بیلچہ کے ذریعہ جت نازیادہ زمین کوکھودتے جائیں گے اور مٹّی باہر نکا لتے رہیں گے اسی مقدار میں پانی سے نزدیک ہوتے جا ئیں گے یہاں تک ایک روزاپنے مقصدمیں کامیاب ہوجائیں گے
ہر بیلچہ مارنے پر ایک قدم پانی سے قریب ہوتے جائیں گے اسی طرح جت نی زیادہ نماز یں پڑھتے جائیں گے اتناہی زیادہ خدا سے قریب ہوتے جائیں گے۔
٣۔اگر کوئی شخص کسی ایسے کنو یں کے اندر موجو دہے کہ اوروہ ہاتھوں سے رسی کوپکڑاوپرکی طرف آتارہے تواسے ہاتھوں کے چلانے کی تکرارکرے گااورکنویں کے کنارے سے قریب ہوتاجائے گالیکن ہاتھوں کی اس تکرارکی وجہ سے وہ جت نازیادہ قریب ہوتاجائے گااس کے دل میں خوف وہراس زیادہ پیداہوتاجائے گاکہ ہاتھ سے رسی چھٹ گئی توکنویں گرمرجائے گایاہاتھ پیرٹوٹ جائیں گے لہٰذارسی کومضبوطی سے پکڑنے کی کوشش کرے گاکیونکہ یہ رسی اس کی حیات کی ضامن ہے بس یہی حال نمازکابھی ہے جب تک اس کی روزانہ تکرارہوتی رہی گی توانسان کے ایمان میں تازگی ، دل میں خوف خدااورزیادہ پیداہوتاجائے گااوراسی مقدارمیں خداسے قریب ہوتاجائے گا۔
نمازکے آداب وشرائط
نمازکے کچھ آداب وشرائط ایسے ہیں کہ جن کالحاظ کرنااوران کی رعایت کرناواجب ولازم ہے اورکچھ آداب ایسے ہیں کی رعایت کرناسنت مو کٔدہ ہے اورایسے ہیں جن کاترک کرنامستحب ہے اورانجام دینامکروہ ہے وہ شرائط کہ جن کی رعایت کرناواجب ہے ان میں ایک وقت ہے جس کے بارے میں ذکرکرچکے ہیں اوراس کے اسرارکوبھی بیان کرچکے ہیں،اوربقیہ شرائط کوبھی یکے بعددیگرے ذکرکررہے ہیں
رازطہارت
طہارت کی دوقسم ہیں : ١۔ظاہری طہارت ٢۔باطنی طہارت
باطنی طہارت
طہارت باطنی یہ ہے کہ جوحلال رزق وروزی اورگناہوں سے دوری کرنے کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے،یہ طہارت جہنم کی آگ کوخاموش کرنے صلاحیت رکھتی ہے اورباطنی طہارت حاصل کرنے کے کچھ شرائط ہیں جوحسب ذیل ذکرہیں:
١۔گذشتہ میں انجام دئے گئے گناہوں پرنادم ہونا۔
٢۔ تہہ دل سے توبہ کے ذریعہ اعضاء وجوارح کوشرک جیسی نجاست سے پاک کرنا جسے خدوندعالم نے ظلم عظیم سے تعبیرکیاہے:
( اِنّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ) (١) اورخداوندعالم نے مشرک کونجس قراردیاہے :( اِنّمَاالْمُشْرِکُوْنَ نَجِسٌ ) (٢) اورسورہ یٔوسف میں ارشادفرمایاکہ: اکثرلوگ ایسے ہیں جوایمان بھی لاتے ہیں توشرک کے ساتھ :( وَمَایُو مِٔنُ اَکْثَرُهُمْ بِالله الّاوَهُمْ مُشْرِکُوْنَ ) (٣) اوران لوگوں میں اکثریت ایسی ہے جوخداپرایمان بھی لاتے ہیں توشرک کے ساتھ ایمان لاتے ہیں۔
رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی صحبت میں بیٹھنے والے کچھ صحابی ایسے بھی تھے جوتہہ دل سے خداورسول پرایمان نہیں رکھتے تھے فقط ظاہری طورسے اللھورسول اورقرآن پرایمان رکھتے تھے اورباطنی طورسے شرک جیسی نجاست سے آلودہ تھے پس وضوکرنے والے کے لئے ضروری ہے وہ اپنی اندرونی نجاست کوبھی پاک کرے اوراپنے قلب کوغیرخداسے مکمل طورسے خالی کرے تاکہ پروردگارسے مناجات میں لذّت حاصل کرے اوریکتاپرستی کاثبوت بھی دے سکے۔
____________________
١)سورہ لٔقمان /آیت ١٣
٢)سورہ تٔوبہ /آیت ٢٨
. ٣)سورہ یٔوسف /آیت ١٠۶.
٣۔زبان کومخلوق کی حمدوستائشسے پاک کرنا.
۴ ۔نفسکوصفات ذمیّہ سے پاک کرنا.
۵ ۔قلب کوماسوی الله کی یادسے خالی کرنا.
۶. دل سے کینہ اوربغض وحسددورکرنا.
٧۔ اپنے دل ودماغ کوعداوت اہلبیت اطہار سے اچھی طرح پاک کرنا۔
ظاہری طہارت
ظاہری وہ ہے کہ جوآب وخاک کے ذیعہ (وضووغسل وتیمم کی شکل میں)حاصل ہوتی ہے اوراسی آب وخاک کے ذریعہ حدث وخبث کی نجاست کودورکیاجاتاہے اورآب وخاک دونوں ایسی چیزیں ہیں جوآتش دنیاکو خاموش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اسی لئے خدانے آب وخاک کوطہارت کاذریعہ قراردیاہے لہٰذاانسان خداکی بارگاہ میں حاضرہونے کے لئے اعضائے وضوکوپانی سے دھوئے اوراگرپانی میسرنہ ہوتوتیمم کرے ۔
نمازکی حالت میں انسان کے بدن،لباس اورمکان کاظاہری اورباطنی طورسے پاک ہوناواجب ہے یعنی لباس کاپاک ومباح ہوناواجب ہے جیساکہ ہم آئندہ ذکرکریں گے ان تینوں چیزوں کے پاک ہونے کی وجہ یہ ہے: کیونکہ خدوندعالم پاک وپاکیزہ ہے اورپاک وپاکیزہ رہنے والوں کودوست بھی رکھتاہے،خداوندعالم نظیف ہے اورنظافت کودوست رکھتاہے کیونکہ وہ اپنی کتاب قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( اِنَّ اللهُ یُحِبّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ )
خداتوبہ کرنے اورپاکیزہ رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔(۱)
اورسورہ تٔوبہ میں ارشادفرماتاہے:
( وَاللهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ )
خداپاکیزہ رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔(۲)
____________________
۱)سورہ بقرة/آیت ٢٢٣
۲)سورہ تٔوبہ/آیت ١٠٨
وضوکے اسرار
خداوندعالم پاک وپاکیزہ ہے اورپاکیزگی کودوست رکھتاہے لہٰذااس نے اپنی بارگاہ میں حاضرہونے والوں کوحکم دیا:
( یٰااَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوااِذَاقُمْتُمْ اِلٰی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُواوُجُوهَکُم وَاَیْدِیَکُمْ اِلٰی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوابِرُو سِٔکُمْ وَاَرْجُلِکُمْ اِلٰی الْکَعْبَیْنِ ) (۱)
اے ایمان والو!جب بھی تم نمازکے لئے اٹھوتوپہلے اپنے چہروں اورکہنیوں تک ہاتھوں کودھولیاکرواوراپنے سراورگٹّے تک پیروں کامسح کرو۔
اس آیہ مبارکہ سے یہ ثابت ہے کہ نمازکے لئے وضوکرناواجب ہے اوراس کے بغیرپڑھنی جانے والی نمازباطل ہے اورسنت میں بھی اسکے واجب ہونے کوبیان کیاگیاہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : مفتاح الصلاة الطهور وَتحریمِها التکبیر ، وتحلیلهاالسّلام ، ولایقبل الله صلاةبغیرالطهور .(۲)
رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:طہارت نمازکی کنجی ہے اورتکبیر (الله اکبر)اس کی تحریم ہے اورسلام نمازاس کی تحلیل ہے(جوچیزیں نمازکے منافی ہیں وہ تکبیرکے ذریعہ حرام ہوجاتی ہیں اورسلام کے بعدحلال ہوجاتی ہیں)اورخداوندعالم بے طہارت لوگوں کی نمازقبول نہیں کرتاہے۔
قال امیرالمومنین علی علیه اسلام : افتتاح الصلاة الوضوء ، وتحریمها التکبیر، وتحلیله االتسلیم.
مولائے متقیان حضرت علی فرماتے ہیں:وضو نمازکی کنجی ہے اورتکبیر (الله اکبر)اس کی تحریم اورسلام اس کی تحلیل ہے۔
اسی حدیث کومرحوم شیخ کلینی نے کتاب کافی میں نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ) کی زبانی نقل کیاہے(۳)
عن ابی جعفرعلیه السلام قال : لاصلاة الّا بطهور .(۴) امام باقر فرماتے ہیں:وضوکے بغیرنمازہی نہیں ہے ۔
____________________
١)سورہ مائدہ /آیت ۶
۲).٣١۶/ بحارالانوار/ج ٧٧
. ۳)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣٣ ۔کافی/ج ٣/ص ۶٩
. ۴)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١۴٠
امام صادق فرماتے ہیں:ایک متقی وعالم شخص کوجب قبرمیں رکھ دیاگیاتوالله کی طرف سے مو کٔل فرشتوں میں ایک فرشتہ نے کہا:ہمیں تیرے جسم پر سوتازیانے لگانے کاحکم دیاگیاہے اس نے کہا:میرے جسم میں ات نے تازیانہ کھانے کی ہمت نہیں ہے ،فرشتہ نے کہا:ہم ایک تازیانہ کم کردیتے ہیں ،کہا:اب بھی زیادہ ہیں ،خداوندعالم اس وجہ سے کہ وہ اخیارلوگوں میں سے تھاتعدادکے کم کرنے قبول کرتاگیا یہاں تک کہ جب ٩٩ /تازیانے کم کردئے گئے تواس شخص نے جب آخری تازیانہ کے معافی چاہی توفرشتہ نے کہا:اس کوہرگزمعاف نہیں کیاجاسکتاہے اوریہ تازیانہ ضرورلگناہے لہٰذایہ تازیانہ توضرورکھاناپڑے گا،اس شخص نے پوچھا:آخروہ کونساگناہ ہے کہ جس کی سزا کو معاف نہیں کیاجاسکتاہے ،فرشتہ نے جو اب دیا:تونے ایک روزوضوکئے بغیرنمازپڑھی تھی اورتوایک مظلوم ضعیف کے پاس سے گزرالیکن تونے اس کی کوئی مددنہیں کی ،جیسے ہی اس کے جسم پر تازیانہ ماراگیاتوقبرسے آگ ) بھڑک اٹھی۔(۱)
وضومیں چار چیزیں واجب ہیں:
١۔نیت ٢۔چہرے کادھونا
،وضومیں چہرہ دھونے کے لئے ضروری ہے کہ لمبائی میں چہرے کوپیشانی کے اوپرسے (جہاں سے سرکے بال اگتے ہیں) ٹھوڑی کے نیچے تک اورچوڑائی میں بیچ والی انگلی اورانگوٹھے کے درمیان جت ناحصہ آجائے دھوناضروری ہے اگراس بتائی گئی مقدارمیں سے تھوڑا سا بھی حصہ نہ دھویاجائے تووضوباطل ہے لیکن یہ یقین پیداکرنے کے لئے کہ چہرے کا پورا حصہ دھولیاگیاہے بہترہے کہ بتائی گئی مقدارسے تھوڑازیادہ دھویاجائے ۔
٣۔ دونوں ہاتھوں کادھونا،اورہاتھوں کواس دھویاجائے کہ انسان اپنے دائیں ہاتھ کواس طرح دھوئے کہ بائیں ہاتھ کے ذریعہ داہنے ہاتھ کی کلائی پرپانی ڈالے اوراسے اوپرسے نیچے کی طرف انگلیوں کے سرے تک ملے ،اگرکوئی اس کی خلاف ورزی کرے یعنی ہاتھوں کودھونے میں انگلیوں کی طرف سے پانی ڈالے یانیچے سے کہنی طرف ہاتھ پھیرے تواس کاوضوباطل ہے ۔
۴ ۔ہاتھوں کے دھونے کے بعدوضوکے پانی تری جوہاتھ رہ گئی ہے اسی سے سرکے اگلے حصہ کامسح کرناچاہئے اوریہ ضروری نہیں ہے کہ اوپرسے نیچے کی طرف کیابلکہ نیچے سے اوپرکی طرف بھی مسح کرناجائزہے ۔
۵ ۔سرکامسح کرنے کے بعدہاتھ میں باقیماندہ تری سے پیروں کی انگلیوں کے سرے سے پیرکی پشت کے ابھارتک مسح کرناواجب ہے
____________________
. ١) من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ۵٨
رازوجوب وضو
امام علی رضا نے وضوکے واجب قراردئے جانے کی چندمندرجہ ذیل وجہ بیان کی ہیں :انّمااُمربِالْوُضوءِ وَبدءَ بهِ :لاَن یکون العبد طاهراًاِذاقامَ بینَ یدیِ الجبار عندَمناجاتهِ ایّاه ، مطیعاًله فیماامره ، نقیاًمن الادناس والنجاسة مع مافیه من ذهاب الکسل وطردالنعاس وتزکیة الفوادللقیام بین یدی الجبار ۔
نمازکے لئے وضوکو اس لئے واجب قرار دیاگیا ہے کہ جب بندہ خدائے جبارکی بارگاہ میں مناجات کے لئے قیام کرے تواسے پاک وپاکیزہ ہوناچاہئے ،اور چونکہ اس نے ادناس ونجاسات سے دوری کاحکم دیاہے اس لئے وضوکاحکم دیاہے تاکہ بندہ اُس کے اس حکم پرعمل کرسکے اورتاکہ اس کے ذریعہ انسان اپنے آپ سے نینداورکسالت سے دورکرسکے اورقلب کوباطنی قذورات ونجاست سے پاک کرکے خدائے جبارکی بارگاہ قیام کرے ۔(۱)
انسا ن کوچاہئے کہ بار گاہ رب العزت میں کھڑے ہو نے سے پہلے اپنے حقیقی مولاکے امرکی اطاعت کرنے اورپلیدگی ونجاست سے دورہنے کی خاطر اپنے جسم وروح سے ناپاکی وآلودگی کو برطرف کرے۔
اس حدیث یہ واضح ہے کہ وضوکے واجب ہونے کاایک رازیہ بھی ہے تاکہ نماز شروع کرنے پہلے انسان کے جسم سے کسالت دورہوجائے اور چہرہ شاداب ہوجائے تاکہ خضوع ونشاط کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکے اور باوضوہوکر بارگاہ خدا وندی میں قیام کرنے سے انسان کا دل نورانی ہوجاتاہے۔
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:انّماالوضوء حدٌّمِن حدودِالله،لیعلم الله مَن یطیعه و من یعصیه .(۲)
امام محمدباقر فرماتے ہیں: وضو خداوند متعال کی حدو د میں سے ایک حد ہے ،(جسے اللھنے اس لئے واجب قرار دیا ہے)تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ کون لوگ اس کی اطاعت وبندگی کرتے ہیں اور کون اس کے حکم کی خلاف ورزی اورسرکشی کرتے ہیں اوربیشک مومن کوئی چیزنجس نہیں کرسکتی ہے ۔
____________________
۱). علل الشرائع /ج ١/ص ٢۵٧
۲)کافی/ج ٣/ص ٢١
رازوجوب نیت
انسان جس کام کوانجام دیتاہے اس کی طرف متوجہ ہونے اوراس کے مقصدسے آگاہ ہونے کونیت کہاجاتاہے یعنی اس کام کے انجام کادل میں ارادہ کرنے اوراس کے مقصدآگاہی رکھنے کونیت کہاجاتاہے اورہرکام کے انجام پرثواب وعقاب کاتعلق نیت سے ہوتاہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی جیسی نیت ہوتی ہے اسی کے مطابق اسے اجربھی دیاجاتاہے ،اگردل میں خداسے قربت حاصل کرنے کاقصدکیاہے تواسے عبادت میں لطف آئے گااورخداسے قریب ہوجائے گالیکن اگردل میں ریاکاری ،خودنمائی یاچہرہ اورہاتھوں کوٹھنڈک پہنچانے کاارادہ کیاہے تووضوباطل ہے اوراس کام پرالله سے دوری کے علاوہ کوئی اجرنہیں ملتاہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله : انّماالاعمال بالنیات ولکلّ امرءٍ مانویٰ،فمن غزیٰ ابتغاء ماعندالله فقدوقع اجره علی الله،ومن غزیٰ یریدعرض الدنیاا ؤنویٰ عقالاًلم یکن له الّامانواه ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:انسان کے ہر عمل کاتعلق اس کی نیت سے ہوتاہے اور عمل کی حقیقت نیت کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے اورثواب بھی نیت کے حساب دیاجاتاہے ،اس کے نصیب میں وہی ہوتاہے جس چیزکاوہ قصدکرتاہے ،پس وہ جو شخص رضای الٰہی کی خاطرجنگ کرتاہے اورکسی نیک کام خداکی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انجام دیتاہے توخداوندعالم اسے اس کااجروثواب عطاکرتاہے ضروراجرعطاکرتاہے اورجوشخص متاع دنیاکوطلب کرتاہے اسے اس کے علاوہ جسچیزکی اس نے نیت کی ہے کچھ بھی نصیب نہیں ہوتاہے۔
اگرکوئی شخص قصدقربت کے ساتھ کسی ریاکاری کابھی قصدرکھتاہووہ شخص مشرک ہے اورشرک حرام ہے جب شرک حرام وہ اسکاوہ عمل بھی بیکارہےعن ابی جعفرعلیه السلام قال:لوانّ عبدا عمل عملایطلب به وجه الله عزوجل والدارالآخرة فادخل فیه رضی احدمن الناس کان مشرکا .(۲)
اگرکوئی شخص کسی عمل خیرکوانجام دے اوراس میں خداسے قربت اورعاقبت بخیرکاارادہ کرے اوراس کے ساتھ کسی شخص کی رضایت حاصل کرنے کابھی قصدرکھتاہوتووہ شخص مشرک ہے ۔
____________________
١)تہذیب الاحکام /ج ١/ص ٨٣ ۔ج ۴/ص ١٨۶
. ٢)تہذیب الاحکام /ج ۴/ص ١٨۶
چہرہ اورہاتھوں کے دھونے اورسروپیرکے مسح کرنے کاراز
وضو میں چہرہ اورہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کی وجہ کے بارے میں چندروایت ذکرہیں:
١۔روایت میں ایاہے کہ ایک دن یہودی کی ایک جماعت نبی اکرم پیغمبراکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کی خدمت میں مشرف ہوئی اوران سب سے بڑے عالم نے آنحضرتسے مختلف چیزوں کے بارے میں سوالات کئے اورمتعددمسائل کی علت بھی دریافت کی،انھوں نے آنحضرت سے ایک سوال یہ بھی کیا:اے محمد!آپ ہمیں اس چیزسے مطلع کریں کہ وضومیں چہرہ اورہاتھوں کے دھونے اورسروپیرکے مسح کرنے کارازکیاہے جبکہ یہ انسان کے بدن کے نظیف اورپاکیزہ ترین اعضا ہیں؟آنحضرت نے ان سے فرمایا:
لمّااَن وَسوَسَ الشَّیطَان اِلٰی آدَم علیه السلام دَنامِنَ الشَّجرةِ فَنَظَرَاِلَیْهَا فَذَ هَبَ ماء وَجهِهِ ،ثمّ قام ومشی الیهاوهی اوّل قدم مشت الی الخطیئة ثمّ ت ناول بیده منهامماعلیهاواَکل فطارالحلی والحل عن جسده فوضع آدم یده علی راسه وبکی فلمّاتاب الله عزّوجل فرض الله علیه وذریته تطهیرهذه الجوارح الاربع فاَمرالله تعالی لغسل الوجه لمّانظرالی الشجرة ،واَمره بغسل الیدین الی المرفقین لمّات نامنها،واَمره بمسح الراس لمّاوضع یده علی ام راسه ،واَمره بمسح القدمین لما مشی بها الی الخطیئة .
جب شیطان نے حضرت آدم (علیھ السلام)کے دل میں وسوسہ ڈالااورآپ کواس درخت سے قریب کردیاکہ جس کے قریب جانے سے منع کیاگیاتھا،جیسے ہی آدم (علیھ السلام)نے اس درخت پرنگاہ ڈالی توآپ کے چہرے کی رونق ونورانیت چلی گئی ،اس کے بعدآپ کھڑے ہوگئے اورپھر درخت کی جانب حرکت کی ،عالم ہستی میں کسی خطاکی طرف اٹھنے والا سب سے پہلاقدم تھا،پھرآپ نے ہاتھوں سے درخت سے میوہ توڑکرت ناول کیاتوآپ کے جسم سے لباس وزینت اترگئے جس کی وجہ سے آپ اپنے سرپہ ہاتھ رکھ کربیٹھ گئے اورروکرتوبہ کرنے لگے،جب خداوندعالم نے آدم کی توبہ قبول کی توآپ پراورآپ کی اولادپران چاراعضا کے دضودینے کوواجب قراردیا۔خداوندعالم نے حضرت آدم(علیھ السلام) کوچہرہ دھونے کاحکم اس لئے دیاکیونکہ آپ نے اس درخت کی جانب نگاہ کی تھی تواس کی وجہ سے چہرہ کی رونق چلی گئی تھی اورکہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کے دھونے کاحکم اس لئے دیاکیونکہ آپ نے ہاتھوں کے ذریعہ درخت سے پھل توڑکرت ناول کیاتھااورسرکے مسح کرنے کاحکم اسلئے دیاکیونکہ جب آپ برہنہ ہوئے تواپنے سرپر ہاتھ رکھ کربیٹھ گئے تھے جس کی وجہ سے خدانے سرکے مسح کرنے کاحکم دیااورچونکہ آدم (علیھ السلام) اپنے ان دونوں پیروں کے ذریعہ چل کرممنوعہ درخت کی جانب ) گئے تھے توخدانے حکم دیا:اے آدم!اپنے دونوں پاؤں کابھی مسح کرو۔(۱)
____________________
. ١ )من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۵۶
روایت میں آیاہے : رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ)نماز صبح کے بعد بین الطلوعین(طلوع فجروطلوع آفتاب) مسجد میں بیٹھتے تھے اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دے دیتے تھے کہ ایک دن دولوگوں نے اپنے سوال کوآنحضرت کی خدمت میں مطرح کر ناچاہا توجس شخص کی نوبت پہلے تھی آنحضرت نے اس سے فرمایا : اے بھائی!اگر چہ تم اپنے اس دوسرے بھائی پر مقدم ہو اگر اجازت ہو تو اپنی نوبت اس شخص کو دیدو کیونکہ اسے ایک بہت ضروری کام درپیش ہے اس شخص نے آنحضرت کی فرما ئش کو قبول کیا،اس کے بعدآپ نے فرمایا : اے بھائی! میں بتاؤ تم مجھ سے کیامعلوم کرنا چا ہتے تھے یاخودہی بتاناپسندکروگے ؟ دونوں نے عرض کیا : یارسول ا لله ! آپ ہی بیان کیجئے ، رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ) نے فرمایا: تم میں ایک شخص حج کے بارے میں سوال کرناچاہتاہے اور دوسرا شخص ثواب وضو سے مطع ہونا چاہتا ہے ،پہلے آپ نے ثواب وضوسے مطلع ہونے شخص کاجواب دیاتاکہ دوسراشخص بھی اس سے مطلع ہوجائے لہٰذاآپ نے فرمایا:
وضومیں چہرہ اور ہاتھوں کے دھونے اور سروپیروں کا مسح کرنے میں ایک راز پایاجاتاہے، وضو میں چہرہ دھونے کارازیہ ہے بارالٰہا!میں تیری بارگاہ میں کھڑے ہوکر عبادت کررہا ہوں اور پاک پیشانی کے ساتھ خاک پر سررکھتاہوں ، وضو میں ہاتھوں کا دھونے کے معنی یہ ہیں: خدایا !میں ان ہاتھوں کے ذریعہ انجام پانے والے گناہوں کو ترک کررہاہوں اور اب تک ان ہاتھوں کے ذریعہ جن گنا ہوں کا مرتکب ہواہوں ان سب نادم ہوں اورانھیں اپنے ان ہاتھوں سے پاک کرہا ہوں ، وضو میں سرکا مسح کرنے کامعنی ہیں: یعنی بارالٰہا ! وہ خیا ل باطل اور نا پاک ارادے جومیں نے اپنے سرمیں داخل کئے ہیں ان سب ناپاک ارادوں کو ذہن سے خارج کرتا ہوں، پیروں کا مسح کرنے کے معنی ہیں: بارلہا ! میں اپنے ان قدموں کوہر برائی کی طرف جانے سے اپنے قدموں کو محفوظ رکھوں گا اور جت نے بھی گناہ ان پیروں سے سرزدہوئے ہیں ان سب کو اپنےآپ سے دورکرتا ہوں۔(۱)
فضل بن شاذان سے روایت ہے :امام علی رضا فرماتے ہیں:اگرکوئی تم سے یہ معلوم کرے کہ چہرہ اورہاتھوں کادھونااورسروپاؤں کامسح کرناکیوں واجب ہے تواسے اس طرح جواب دو:
لانّ العبداذاقام بین یدی الجبارقائماینکشف من جوارحه ویظهرماوجب فیه الوضوء وذلک انّه بوجهه یستقبل ویسجدویخضع وبیده یسئل ویرغب ویرهب ویتبتل وبراسه یستقبل فی رکوعه وسجوده وبرجله یقوم ویقعد.
____________________
. ١)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ١۶٧ /ص ۵٣
۲) علل الشرائع/ج ١/ص ٢۵٧
جب بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں قیام کرتاہے تواپنے اعضاء وجوارح سے مانع اورحاجب کودورکرتاہے اوروہ اعضاکہ جن کووضومیں دھوناہے یامسح کرناواجب ہے ان کے ذریعہ بندگی کااظہارکرتاہے،کیونکہ نمازمیں چہرے کاقبلہ کی سمت رکھناواجب ہے اوراس کے ذریعہ سجدہ کیاجاتاہے اورخضوع وخشوع کااظہارکیاجاتاہے اورہاتھوں کے ذریعہ بارگاہ ربوبیت میں سوال کیاجاتاہے ،حاجتوں کوطلب کیاجاتاہے اورغیرخداکواپنے آپ سے منقطع قراردیاجاتاہے اورہاتھوں ہی کے ذریعہ ایک حالت سے دوسری میں منتقل ہوجاتاہے اوررکوع و سجودمیں جانے کے لئے اورقیام وقعودکے بھی دونوں ہاتھوں کاسہارالیاجاتاہے ، اورسرکے ذریعہ اپنے آپ کورکوع وسجودمیں قبلہ کی سمت رکھناواجب ہے اورپیروں کے ذریعہ اٹھااوربیٹھاجاتاہے اسی لئے وضومیں چہرہ اورہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسج کرنے حکم دیاگیاہے۔
وضومیں تمام دھونایاتمام مسح کیوں نہیں ہے؟
وضومیں چہرہ اورہاتھوں کادھونااورسروپاو ںٔ کامسح کرناواجب قرار دیا گیا ہے،وضومیں نہ تمام دھوناہے اورنہ تمام کومسح کرناہے بلکہ بعض کودھویاجاتاہے اوربعض کومسح کیاجاتاہے اگرکوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ وضومیں تمام اعضا کودھوناکیوں نہیں ہے یاتمام کومسح کومسح کرناکیوں نہیں ہے اس کی وجہ اوررازکیاہے؟
فضل ابن شاذان سے مروی ہے کہ امام علی رضا نے وضومیں چہرہ اورہاتھوں کا دھونے اورسروپاو ںٔ کامسح کرنے کی چندوجہ بیان کی ہیں:
١۔رکوع وسجودیہ دونوں ایسی عظیم وبرترعبادت ہیں کہجنھیں چہرے اوردونوں ہاتھوں سے انجام دیاجاتاہے نہ سراوردونوں پاو ںٔ کے ذریعہ لہٰذاواجب ہے کہ وضومیں چہرہ اوردونوں ہاتھوں کودھویاجائے تاکہ اس ذریعہ سے اورزیادہ طہارت اورپاکیزگی حاصل ہوجائے ۔
٢۔انسان روزانہ چندمرتبہ اپنے سراوردونوں پاو ںٔ کودھونے کی قوت نہیں رکھتاہے کیونکہ سردی گرمی،سفروحضر،صحت وبیماری ،رات اور دن وغیرہ جیسے تمام حالات میں سراورپاو ںٔ کے دھونے میں دشواری ہے لیکن سروپاو ںٔ کے دھونے کے مقابلہ میں چہرہ اورہاتھوں کاکوئی مشکل کام نہیں ہے اورسروپاؤں کے دھونے سے بہت زیادہ آسان ہے اسی لئے وضومیں چہرہ اورہاتھوں کودھونے اورسروپاو ںٔ کے دھونے کاحکم دیاگیاہے ۔
٣۔ چہرہ اوردونوں ہاتھ غالباًکھلے رہتے ہیں لیکن سرٹوپی، عمامہ یاپگڑی سے چھپارہتاہے اورپاو ؤں بھی جوتے اورموزہ سے چھپے رہتے ہیں اس لئے وضومیں چہرہ اورہاتھوں کودھویاجاتاہے اورسروپاو ؤں پرفقط مسح کیاجاتاہے۔(۱)
____________________
.۱)عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١١١
وضومیں چہرہ اورہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کے چند علل واسباب اوربھی ذکرکئے گئے ہیں جومندرجہ ذیل ذکرہیں:
١۔ چونکہ انسان ان اعضاء کو بہت زیادہ بروئے کارلاتاہے اوران کواپنے کاموں میں بہت زیادہ استعمال کرتاہے اس لئے خدانے بعض اعضاء کے دھونے اوربعض کے مسح کرنے کاحکم دیاہے ۔
٢۔ انسان دوسرے اعضاء کے مقابلے میں ان اعضاء کے ذریعہ گناہوں کازیادہ مرتکب ہوتاہے جسکی وجہ سے یہ اعضاء آلودہ ہوجاتے ہیں۔
٣۔ وضومیں چہرہ اورہاتھوں کے دھونے کواس لئے واجب قرادیاگیاہے تاکہ انسان اپنے دل میں یہ خیال پیداکرے کہ جس طرح ان اعضاء کودھوناضروری ہے دل ودماغ کوگناہوں کی گندگی سے پاک کرنااس سے کہیںزیادہ ضروری ہے کیونکہ انسان دل ہی کے ذریعہ نمازمیں باری تعالیٰ کی متوجہ ہوتاہے اورخدالوگوں کے چہروں کونہیں دیکھتا بلکہ دلوں پرنگاہ ڈالتاہے کیونکہ دل تمام اعضائے بدن کابادشاہ اورفرمانرواہوتاہے اوراعضائے وضودل ہی کے حکم سے گناہوں کی طرف حرکت کرتے ہیں اورانسان کویادالٰہی سے غافل کرتے ہیں لہٰذاان اعضاء کودھونے سے پہلے قلب کودھولیناچاہئے تاکہ انسان ظاہری اورباطنی پلیدگی سے پاک ہوکرمعبودحقیقی کی عبادت کرے۔
۴ ۔ ان اعضاء دھونے کاایک رازیہ بھی ہے کہ ہاتھ اورچہرہ کے دھو نے کامقصدیہ ہے کہ ہم دنیاسے ہاتھ دھورہے ہیں اورغیرخداکی طرف ہونے سے منہ پھیررہے ہیں۔ انسان کوسعادت اورخوش بختی اسی وقت نصیب ہوسکتی ہے جب اس کے ہاتھ اورصورت دنیاوی پلیدگی میں آلودہ نہ ہوں کیونکہ دنیاوآخرت دوایسی چیزیں ہیں کہ انسان ان دونوں میں سے جس سے جت نازیادہ قریب ہوتاجائے گا دوسری سے اتناہی زیادہ دورہوتاجائے گالہٰذاانسان کوچاہئے کہ بارگاہ خداوندی میں قیام کرنے سے پہلے دنیاسے ہاتھ دھوئے اوراسسے اپنامنہ پھیرلے۔
۵ ۔ وضومیں سب سے پہلے چہرہ دھویاجاتاہے جس کاراز یہ ہے کہ ظاہری صورت باطنی صورت کاآئینہ ہوتی ہے اورچہرے پرخداکی طرف متوجہ ہونے کے آثاردوسرے اعضاء وضو کے مقابلہ میںزیادہ نمایاں ہوتے ہیں اسی لئے وضومیں چہرہ دھونے کومقدم کیاگیاہے۔
۶ ۔وضومیں ہاتھوں کے کہنیوں سمیت دھونے کواس لئے واجب قراردیاگیاہے کیونکہ یہی ہاتھ ہوتے ہیں جودوسرے اعضاء کے مقابلے میں دنیاوی امورکی طرف زیادہ درازہوتے ہیں اور گناہوں میں آلودہ ہوتے ہیں لہٰذاخداوندمتعال کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے ہاتھوں کوآلودگی سے پاک کرلیناضروری ہے۔
٧۔سرکے مسح کرنے کافلسفہ یہ ہے کہ دماغی طاقت اسی کے اندرواقع ہے اوردنیاوی(مادّی وشہوتی) مقاصدحاصل کرنے کاارادہ اسی کے ذریعہ شروع ہوتاہے اورمادّی وشہوتی امورکی طرف متوجہ ہونامعنوی توجہ پیدانہ کرنے کاسبب واقع ہوتی ہیں اورمادی وشہوتی امورکی طرف سرہی کے ذریعہ متوجہ ہواجاتاہے لہٰذاسرکے مسح کرنے کامقصدیہ ہے کہ ہم مادّی وشہوتی امورکی طرف متوجہ ہونے سے دوری اختیارکررہے ہیں اوراپنارخ خداکی جانب کررہے ہیں۔
٨۔ پیروں کے مسح کرنے کارازیہ ہے کہ انسان انھیں کے ذریعہ تمام دنیاوی مقاصدکی جانب بڑھتاہے اورانھیں حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے لہٰذاہم سرکے اگلے حصہ پرمسح کے ذریعہ اپنی جہت کوبدل رہے ہیں اور خداکی جانب حرکت کررہے ہیں کیونکہ عبادت خداکے ذریعہ اسی وقت سعادت نصیب ہوسکتی ہے اورالله کے ذکرسے اسی وقت دل کوآرام مل سکتاہے ) جب ہم اپنی راہ کودنیاوی مقاصدسے خداکی طرف موڑدیں۔(۱)
محمدبن سنان سے مروی ہے کہ امام ابوالحسن علی موسی الرضا کی خدمت میں جوخط لکھے گئے ان میں ایک خط میں امام (علیھ السلام) سے متعددسوال کئے گئے جن میں ایک سوال یہ بھی تھاکہ وضومیں چہرہ اوراہاتھوں کے دھوے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کی وجہ کیاہے؟توامام (علیھ السلام)نے اس خط کے جواب میں تحریرکیااوراس طرح وجہ بیان کی: وضومیں چہرہ اوردونوں ہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کوواجب قراردیاگیاہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ کی بارگاہ میں قیام کرتاہے توان چاراعضاوجوارح سے اس سے ملاقات کرتاہے ،چہرے کے دھونے کواس واجب قراردیاگیاہے کیونکہ اس کے ذریعہ سجوداورخضوع کرناواجب ہے اوردونوں ہاتھوں کے دھونے کااس لئے حکم دیاگیاہے کیونکہ انھیں حرکت دی جاتی ہے اوران کے ہی ذریعہ میل ورغبت ،خوف وحشت اورقطع کرناوجداکرناانجام پاتاہے لہٰذاان دونوں کے دھونے کوواجب قراردیا گیاہے اورسرودونوں پاؤں کے مسح کرنے کااس لئے حکم دیاگیاہے کیونکہ یہ دونوں ظاہرومکشوف یعنی کھلے رہتے ہیں اورتمام حالات میں ان کے ذریعہ استقبال کیاجاتاہے اوروہ خضوع خشوع جوچہرے اوردونوں میں نہیں پائی جاتی ہے وہ ان دونوں میں پائی جاتی ہے ۔(۲)
____________________
. ١ )قصص الصلاة/ج ٢/ص ٢۴ ۔ ٢۶
.۲)علل الشرائع/ج ١/ص ٢٨٠
مرحوم کلینی نے اپنی کتاب “الکافی” میں ایک روایت نقل کی ہے:ابن اذینہ سے مروی ہے کہ ایک دن امام صادق نے مجھ سے فرمایا:یہ ناصبی لوگ کس طرح کی روایت نقل کرتے ہیں؟میں نے کہا:آپ پرقربان جاؤں کس بارے میں؟آپ (علیھ السلام) نے فرمایا: اذان، رکوع ،سجودکے بارے میں؟ میں عرض کیا:وہ لوگ کہتے ہیں کہ ان تمام مسائل کو“ابی ابن کعب” نے خواب میں دیکھاہے ،امام (علیھ السلام) نے فرمایا:وہ جھوٹ کہتے ہیں، دین خداتو خواب میں دیکھنے سے بھی کہیں درجہ بلندوبالاہے ،راوی کہتاہے کہ اسی وقت سدیرصیرفی نے امام (علیھ السلام) سے عرض کیا:ہم آپ پرقربان جائیں !آپ ہمارے لئے اس بارے میں کچھ بیان کیجئے ،امام (علیھ السلام) نے فرمایا:جب نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)معراج پرگئے اورساتوے آسمان پرپہنچے آنحضرت سے کہاگیا:اے محمد!اپنے سرکوبلندکرواوراوپرکی طرف نگاہ کرو،نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)کہتے ہیں کہ :میں نے جیسے ہی سربلندکیاتودیکھاکہ آسمان کے تمام طبقے شکافتہ ہوگئے ہیں اورآسمان کے تمام پردے اٹھالئے گئے ہیں ،اسکے بعدمجھ سے کہاگیا:
اے محمد!اب نیچے کی طرف بھی دیکھو!میں نے جیسے نیچے کی طرف نگاہ ڈالی توخانہ کٔعبہ کے مانند ایک گھرنظرآیااورمسجدالحرام کے مانندایک حرم دیکھا،اگرمیں اس وقت اپنے ہاتھ سے کوئی چیزنیچے کی طرف چھوڑتاتووہ سیدھی اسی حرم میں آکرگرتی ،اس وقت مجھ سے کہاگیا:یامحمدااِنّ هذالحرم وانت الحرام ولکل مثل مثال ثمّ اوحی الله الیّ :یامحمد! ادن من “صاد”فاغسل مساجدک وطهرهاوصلّ لربّک ۔
اے محمد!یہ حرم ہے اورتومحترم اورہرایک چیزکی ایک مثالی تصویرہوتی ہے ،اس کے بعدمجھ پروحی نازل ہوئی اورمجھ سے کہا گیا :اے محمد!صاد(١) کے قریب جاؤاوراپنے اعضاء سجدہ کوپانی سے دھوؤاوراپنے پروردگارکے لئے نمازپڑھو،رسول اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)صادکے قریب پہنچے اوردائیں ہاتھ کی چلّومیں پانی لیا ،چونکہ نبی نے دائیں ہاتھ سے پانی چلومیں لیاتو اسی لئے دائیں ہاتھ سے وضوکرناسنت قرار پایا، پھر خدا نے وحی نازل کی:اغسل وجهک فانک ت نظرالیٰ عظمتی ثمّ اغسل ذراعیک الیمنیٰ والیسریٰ فانّک تلقی بیدک کلامی ثمّ امسح راسک بفضل مابقی فی یدک من الماء ورجلیک الیٰ کعبیک ۔ اپنے چہرہ دھوؤکیونکہ تم اس کے ذریعہ میری عظمتوں کامشاہدہ کرتے ہو،اس کے بعداپنے دائیں اوربائیں ہاتھ کوکہنیوں سمیت دھوؤکیونکہ تم ان ہی ہاتھوں کے ذریعہ میرے کلام کوحاصل کرتے ہو،اس کے بعدہاتھ پرباقیماندہ پانی کی رطوبت کے ذریعہ سرکا اورپیروں کاکعبین تک مسح کروپھرمیں تمھیں ایک خوشی طعاکروں گااورتمھارے قدموں کووہاں تک پہنچادوں گاکہ ) جہان پرآج تک کسی نے قدم نہیں رکھاہے(۲)
____________________
١)کافی /ج ٣/ ص ۴٨۵
۲)صادوہ پانی ہےجوعرشکی بائیں پنڈلی سے جاری ہے
۴ ۔خروج پیشاب ،پیخانہ اورریح سے وضوکے باطل ہونے کی وجہ
پیشاب ،پیخانہ ،ریح کے خارج ہونے اورمجنب ہوجانے سے وضوباطل ہوجاتی ہے خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے:( اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنکُمْ مِنَ الْغَائِطِ اَوْلَامَسْتُمُ النِّسَاءَ ) . وضوکرو!اگرتم میں سے کسی پاخانہ نکل آئے یاعورت کولمس کرواورمنی نکل ( توطہارت کرو)۔(۱)
عن زرارة قال:قلتُ لابی جعفر،وابی عبدالله علیهماالسلام :ماینقض الوضوء ؟ فقالا:مایخرج من طرفیک الاسفلین : من الذکروالدبر ، من الغائط والبول ، ا ؤالمنی ا ؤریح ، والنوم حتی یذهب العقل .
زرارہ سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر اورامام جعفرصادق +سے پوچھا:کن چیزوں کے ذریعہ وضوباطل ہوجاتاہے ؟پس دونوں امام (علیھ السلام)نے فرمایا:وہ چیزکہ جوتمھارے نیچے کے دونوں حصے آلہ ت ناسل اوردبرسے خارج ہوتی ہیں یعنی پیشاب اورپاخانہ ،منی ،ریح،ایسی نیندکہ جسکے ذریعہ عقل ضائع ہوجائے۔(۲)
امام علی رضا فرماتے ہیں:اگرکوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ وہ چیزیں جوطرفین سے یعنی قُبل ودُبرسے خارج ہوتی ہیں ان کے ذریعہ اورنیندکے ذریعہ وضوباطل ہو جاتی ہے کسی دوسری چیزکے ذریعہ وضوکیوں باطل نہیں ہوتی ہے ؟اس کاجواب یہ ہے: کیونکہ طرفین یعنی قُبل ودُبردوایسے راستے ہیں جن کے ذریعہ نجاست خارج ہوتی ہے اورانسان میں ان دوراستوں کے علاوہ نجاست خارج ہونے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے جوانسان سے خودبخودلگ جائے اوراسے مت نجس کردے لہٰذاجس وقت ان دوراستوں سے نجاست خارج ہوتی ہے توانسان پاک ہوتاہے اوران دوراستوں کے ذریعہ نجاست نکلتے ہیں مت نجسہوجاتاہے لہٰذاطہارت حکم دیاگیاہے ۔
لیکن نیندکہ جب وہ انسان پرغالب آجاتی ہے تواس کے ذریہ بھی وضوباطل ہوجاتی ہے کیوں نکہ جوچیزانسان میں منافذہوتی ہے وہ کھل جاتی ہیں اورسست ہوجاتی ہیں اورغالباًایسے حال میں چندچیزیں خارج ہوتی ہیں کہ جسکی وجہ سے وضوکرناواجب ہوتاہے ۔(۳)
____________________
۱)سورہ نٔساء/آیت ۴٣ ۔سورہ مٔائدہ/آیت ۶
.۲) کافی /ج ٣/ص ٣۶
۳) عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١١١
کھانے ،پینے سے وضوکے باطل نہ ہونے کی وجہ
کسی چیزکے کھانے پینے سے وضوباطل نہیں ہوتی ہے ،اس کی وجہ حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے ۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : توضو أممایخرج منکم ، ولاتوضو أ ممایدخل فانه یدخل طیبایخرج خبیثا .
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:ان چیزوں کی وجہ سے باطل ہوجاتاہے کہ جوتمھارے بدن سے خارج ہوتی ہیں اوران چیزوں سے وضوباطل نہیں ہوتاہے کہ تمھارے بدن میں داخل ہوتی ہیں کیونکہ بدن میں پاک چیزجاتی ہے اوربدن سے خارج ہونے والی چیزخباثت کاحکم رکھتی ہیں۔(۱)
آب وضوکے پاک، مباح اورمطلق ہونے اوربرت ن کے مباح ہونے کی وجہ
جس پانی سے وضویاغسل کرتے ہیں اس کاپاک ،مطلق اورمباح ہوناضروری ہے ، اگرانسان عمداًیاسہواًنجس ، مضاف یاغصبی پانی سے وضویاغسل کرے تووہ وضواورغسل باطل ہے اوراس سے پڑھی جانے والی نمازیں بھی باطل ہیں،خواہ نمازکے لئے وقت باقی ہویانہ ہواورچاہے پہلے سے پانی کے نجس یاغصبی ہونے کاعلم رکھتاہویانہ کیونکہ نجس یاغصبی پانی سے وضوکرنے سے خداسے تقرب حاصل نہیں ہوسکتاہے بلکہ خداسے تقرب حاصل کرنے کے لئے طہارت شرط ہے ۔
غصبی پانی یاغصبی برت ن سے وضوکے باطل ہونے کاسبب یہ ہے کیونکہ اگرغیرمباح ظرف یاپانی سے وضوکیاجائے تواسے تصرف غصبی میں شمارہوجائے گااورتصرف غصبی حرام ہے پس جب تصرف حرام ہے توعبادت بھی باطل ہے دوسرے یہ کہ وضومیں قصدقربت شرط ہے ،غصبی پانی کے ذریعہ وضو کرنے سے قصدقربت حاصل نہیں ہوسکتی ہے پس جب قصدقربت کاوجودنہیں ہے تووضوباطل ہے ۔
قال امیرالمومنین علیه السلام : انّ الله تعالیٰ فرض الوضوء علی عباده بالماء الطاهروکذلک الغسل من الجنابة.
حضرت علی فرماتے ہیں:خداوندعالم نے اپنے بندوں پرواجب قراردیاہے کہ وضوکوپاک پانی کے ذریعہ انجام اووراسی طرح غسل جنابت کو۔
___________________
۱) علل الشرائع /ج ١/ص ٢٨٢
۶ ۔خودوضوکرنے کی شرط کی وجہ:
وضوکے شرائط میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپناوضوخودکرے یعنی اپنے چہرے، دونوں ہاتھوں کوخود دھوئے اورسروپاو ںٔ کامسح بھی خودکرے ،اگرکوئی شخص بغیرکسی مجبوری کے کسی دوسرے سے وضوکرائے یعنی کوئی دوسراشخص اس کے چہرے کویاہاتھوں کودھوئے ،سریاپیرکامسح کرے تواس کی وضوباطل ہے مگریہ کہ خودوضوکرنے کی قدرت نہیں رکھتاہواوربغیرکسی مجبوری کے کسی دوسرے سے پانی وضوکے لئے پانی ڈلوانامکروہ ہے جسکی وجہ قرآن وسنت اس طرح بیان کی گئی ہے:
( فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْالِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاًصَالِحًاوَّلَایُشْرِک بِْعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَدًا ) جوبھی اپنے رب سے ملاقات کاامیدوار ہے اسے چاہئے کہ عمل صالح کرے اورکسی کواپنے پروردگارکی عبادت میں شریک قرارنہ دے ۔(۱)
شیخ صدوقنے “من لایحضرہ الفقیہ”میں ایک روایت نقل کی ہے:کان امیرالمومنین علیه السلام اذاتوضا لٔم یدع یصب علیه الماء قال:لاا حٔبّان اشرک فی صلاتی احداً .
امیرالمومنین حضرت علیجب بھی وضوکرتے تھے توکسی کوپانی ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اورفرماتے تھے :میں اپنی نمازوعبادت میں کسی کوشریک کرناپسندنہیں کرتاہوں۔(۲)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:خصلتان لااُحب ان یشارکنی فیهمااحد:وضوئی فانه من صلاتی وصدقتی فانهامن یدی الی یدالسائل فانهاتقع فی یدالرحمن . نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:دوخصلت ایسی ہیں کہ میں ان میں کسی دوسرے کوشریک کرناپسندنہیں کرتاہوں: ایک میراوضوکیونکہ وہ میری نمازکاحصہ ہے دوسرے میراصدقہ کیونکہ میرے ہاتھوں سے سائل کے ہاتھوں میں پہنچتاہے اورچونکہ وہ خدائے کے ہاتھوں میں پہنچتاہے۔(۳)
____________________
۱)سورہ کٔہف/آیت ١١٠
. ۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴٣
۳) خصال (شیخ صدوق)ص ٣٣
٧۔سورج کے ذریعہ گرم پانی سے وضوکرنے کی کراہیت کی وجہ:
سورج کے ذریعہ گرم شدہ پانی سے کوئی حرج نہیں ہے البتہ مکروہ ہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : الماء الذی تسخنه الشمس لاتتوضو أ به ، ولاتغسلوا به ولاتعجنوا به ، فانه یورث البرص .
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں:وہ پانی کہ جسے سورج نے گرم کردیاہے اس سے وضونہ کرواورغسل بھی نہ کرواوراس کے ذریعہ آٹے کوخمیربھی نہ کروکیونکہ اس کے ذریعہ برص کے مرض کاخطرہ ہے ۔(۱)
وضوکے آداب
١۔وضوسے پہلے مسواک کرنا
مستحب ہے کہ جب انسان نمازکاارادہ کرے تووضوسے پہلے مسواک کرے اور پاک ومعطردہن کے ساتھ الله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں قدم رکھے کیونکہ معصومین کی یہی سیرت رہی ہے کہ وہ وضوسے پہلے مسواک کرتے تھے اورمسواک کرنے کی فرمائش ونصیحت بھی کرتے تھے ۔
قال رسوللله صلی الله علیه وآله وسلّم لِعلیّ فی وصیّته:علیک بالسواک عندوضوء کلّ صلاة (۲)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)مولائے کائنات حضرت علی سے وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :اے علی! تم ہر نماز سے وضوکرتے وقت مسواک ضرورکیاکرو۔
یاعلی !علیک بالسواک وان استطعت ان لاتقل منه فافعل فانّ کل صلاة تصلیهابالسواک تفضل علی الّتی تصلیهابغیرسواک اربعین یوما .(۳)
اے علی ! میں تم کو مسواک کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اور اگرتم اس کے بارے میں کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتے تو خوداسے انجام دیتے رہوکیونکہ ہر وہ نمازکہ جس سے پہلے مسواک کی جاتی ہے وہ نماز ان چالیس دن کی نماز وں سے افضل ہیں جو نماز بغیر مسواک پڑھی جاتی ہیں ۔
____________________
۱)علل الشرائع/ج ١/ص ٢٨١
. ۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۵٣
. ۳)مکارم الاخلاق /ص ۵١
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:رکعتان بالسواک افضل من سبعین رکعة بغیرسواک (۱) امام صادق فرماتے ہیں:مسواک کے ذریعہ دورکعت پڑھی جانے والی نماز بغیر مسواک کے پڑھی جانے والی سترنمازوں سے افضل ہے ۔
قال سول الله صلی الله علیه وآله وسلم : لولاان اشق علی امتی لامرتهم بالسواک مع کل صلاة (۲)
نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں: اگرمیری امت پرمسواک کرناباعث مشقت نہ ہوتاتومیں انھیں ہرنمازکے ساتھ مسواک کرنے کولازم قراردیتا۔
٢۔ وضوکرتے وقت معصوم (علیھ السلام)سے منقول ان دعاؤں کوپڑھنا
امام صادق فرماتے ہیں:ایک دن امیرالمومنیناپنے فرزند“محمدابن حنفیہ ”کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا:اے محمد!میرے لئے ایک ظرف میں پانی لے کرآو تٔاکہ میں نمازکے لئے وضوکروں،محمدپانی لے کرآئے اور امام(علیھ السلام) نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پرپانی ڈالااوریہ دعاپڑھی:
بسم اللهوباللهوالحمدلله الذّی جعل الماء طهوراًولم یجعله نجساً
اس کے بعدامام(علیھ السلام) نے اسنتجاکیا اوریہ دعاپڑھی:
اللّهم حصّن فرجی وَاَعِفّه ،وَاسترعورتی وَحرّمنی علی النّار.
اس کے بعد(تین مرتبہ کلی کی )اوریہ دعاپڑھی:
اللّهم لقّنی حُجّتی یوم اَلْقاک واطلق لسانی بذکراک واجعلنی ممن ترضی عنه
اس کے بعد ناک میں پانی ڈالا اورپروردگارسے عرض کیا:
اللّهم لاتحرّم علیّ ریح الجنّة وَاجْعلنی ممّن یشمّ ریحهاوروحهاوطیبها ۔
اس کے بعدچہرہ دھویااوریہ دعاپڑھی:
اللّهم بیّض وجهی یوم تسودّفیه الوجوه ولاتسوّدوجهی یوم تبیضّ فیه الوجوه.
اس کے بعد داہناہاتھ دھوتے وقت یہ دعاپڑھی:
اللّهم اعطنی کتابی بیمینی والخلد فی الجنان بیساری وحاسبنی حساباًیسیراً.
____________________
۱)
٢)کافی /ج ٣/ص ٢٢
بائیں ہاتھ کودھوتے وقت یہ دعاپڑھی:
اللّهم لاتعطنی کتابی بیساری ولاتجعلهامغلولة الیٰ عنقی واعوذبک(ربی من مقطعات النیران.
سرکامسح کرتے وقت بارگاہ خداوندی میں عرض کیا:
اللّهم غشنی برحمتک وبرکاتک وعفوک. دو
نوں پیرکامسح کرتے وقت یہ دعاء پڑھی:
اللّهم ثبت نی علٰی الصراط یوم تزل فیه الاقدام،واجعل سعیی فیمایرضیک عنّی یاذوالجلال والاکرام.
جب وضوسے فارغ ہوئے توسربلندکرکے“محمدابن حنفیہ ”سے مخاطب ہوکرارشادفرمایا:یامحمد !من توضّاَبمثل مَاتوضّاتُ وَقالَ مثل ماقُلتُ خلق الله من کلّ قطرة ملکاًیقدسه ویسبحه ویکبّره ویهلله ویکتب له ثواب مثل ذٰلک.
اے محمد!جوشخص میری طرح وضوکرے اوروضوکرتے وقت میری طرح ان اذکار کو زبان پرجاری کرے خداوندمتعال اس کے آب وضوکے ہرقطرے سے ایک فرشتہ خلق کرتا ہے تسبیح ) وتقدیساورتکبیرکہتارہتاہے اوراسکے لئے قیامت تک اس کاثواب لکھتا رہتا ہے(۱) زرارہ سے مروی ہے امام محمدباقرفرماتے ہیں:جب تم اپنے ہاتھ کوپانی میں قراردیں توکہیں: “بسم اللهوبالله اجعلنی من التّوابین واجعلنی من المطهّرین ”اورجب وضو سے فارغ ) ہوجاو تٔو“الحمدللّٰه ربّ العالمین ”کہیں۔(۲)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من توضا فٔذکر اسم اللهطهرجمیع جسده وکان الوضوء الی الوضوء کفّارة لمابینهما من الذنوب ومن لم یسم لم یطهرمن جسده الّا ما اصابه الماء .(۳) اگر کوئی شخص وضو کرے اور خداکا نام زبان پر جاری کرے تو اس کا پورا جسم طیب وطاہر ہوجاتا ہے اور ہر وضو بعدوالی وضو کے انجام دینے تک ان گناہوں کا کفارہ ہوتاہے جو دونوں وضوکے درمیان سرزد ہوئے ہیں اوراگرنام خدازبان پرجاری نہیں کرتاہے تواس کے بدن کا وہی حصّہ پاک ہوتاہے جسپروہ پانی ڈالتاہے۔
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ۴٢ /حدیث ٨۴
. ٢)تہذیب الاحکام /ج ١/ص ٧۶
. ۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۵٠
٣۔ گٹوں تک دونوں ہاتھ دھونا
اگرانسان نیندسے بیدارہونے ، یااسنتجاکرنے کے بعدوضوکرے تومستحب ہے پہلے ایک مرتبہ دونوں ہاتھوں کوگٹوں تک دھوئے اوراگرپاخانہ سے فارغ ہونے کے بعدوضوکرے تودومرتبہ دھوئے اوراگرمجنب ہونے کے بعدوضوکرتاہے توتین مرتبہ ہاتھوں کودھوئے
عبدالله ابن علی حلبی سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق پوچھا:اس سے پہلے کہ انسان وضوکے لئے برت ن ہاتھ ڈالے اسے اپنے دائیں ہاتھ کوکت نی مرتبہ دھوناچاہئے ؟امام (علیھ السلام)نے فرمایا:
واحدة من حدث البول واثنتان من حدث الغائط وثلاث من الجنابة .(۱) اگرپیشاب کے بعدوضوکرے توایک مرتبہ حدث مرتبہ ،پاخانہ کے بعددومرتبہ اوراگرجنابت کے وضوکرے توتین مرتبہ دھوئے ۔
۴ ۔ تین مرتبہ کلی کرنااورناک میں پانی ڈالنا
دونوں ہاتھوں کوگٹوں تک دھونے کے بعدمستحب ہے کہ تین مرتبہ کلی کی جائے اس کے تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالاجائے ،اگرکوئی شخص وضومیں کلی کرنایاناک میں ڈالنابھول جائے توکوئی حرج نہیں ہے
عن ابی جعفروابی عبدالله علیهم السلام انهماقالا:المضمضة والاست نشاق لیسامن الوضوء لانّهمامن الجوف .(۲)
امام محمدباقر فرماتے ہیں:کلی کرنااورناک میں پانی ڈالنا(واجبات )وضومیں سے نہیں ہیں کیونکہ دودونوں باطن وضومیں محسوب ہوتے ہیں اوراعضائے وضوظاہرہوتے ہیں
____________________
. ١)استبصار/ج ١/ص ۵٠ ۔تہذیب الاحکام /ج ١/ص ٣۶
۲) علل الشرائع/ج ١/ص ٢٨٧
۵ ۔ چہرہ اورہاتھوں پردوسری مرتبہ پانی ڈالنا
واجب ہے کہ چہرہ اورہاتھوں پرایک مرتبہ پانی ڈالاجائے اوردوسری مرتبہ مستحب ہے لیکن تیسری مرتبہ پانی ڈالناحرام وبدعت ہے
قال ابوجعفرعلیه السلام:انّ الله تعالی وترٌ یحب الوتر فقدیجزیک من الوضوء ثلاث غرفات : واحدة للوجه ، واثنتان للذراعین ، وتمسح ببلة یمناک ناصیتک ومابقی من بلة یمناک ظهرالقدمک الیمنی ، وتمسح ببلة یسراک ظهرقدمک الیسری (۱)
امام محمدباقر فرماتے ہیں:خدایکتاویگانہ ہے اوریکتائی کوپسندکرتاہے لہٰذاوضومیں تمھارے لئے تین چلوپانی کافی ہے ،ایک چلوچہرہ کے لئے ،ایک دائیں ہاتھ اورایک بائیں ہاتھ کے لئے ،اب وہ تری جوتمھارے دائیں ہاتھ میں ہے اس سے سرکے اگلے حصہ کامسح کریں،اس بعدجوتری دائیں باقی رہ گئی ہے اس سے دائیں پیرکامسح کریں اوروہ تری جوتمھارے بائیں ہاتھ پرلگی ہے اس کے ذریعہ بائیں پیرپرمسح کریں۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:الوضوء واحدة فرض ، واثنتان لایوجر ، والثالث بدعة. (۲) امام صادق فرماتے ہیں:وضومیں(چہرہ وہاتھوں کا) ایک مرتبہ دھوناواجب ہے اوردوسری دھونے میں کوئی اجرنہیں ملتاہے لیکن تیسری مرتبہ دھونابدعت ہے
شدیدتقیہ کی صورت میں جبکہ جان ،مال ،عزت وآبروکاخطرہ ہوتو تین مرتبہ دھوناجائزہے بلکہ واجب ہے اسی طرح دونوں پیروں کادھوناواجب ہے
رویات میں آیاہے کہ علی ابن یقطین نے امام علی ابن موسی الرضا کے پاس ایک خط لکھاکہ اصحاب کے درمیان پیروں کے مسح کرنے کے بارے میں اختلاف پایاجاتاہے ،میں آپ سے التجاکرتاہوں کہ آپ ایک خط اپنے ہاتھ سے تحریرکیجئے اوراس میں مجھے بتائیں کہ میں کس طرح وضوکروں؟
____________________
. ١)کافی /ج ١/ص ٢۵ ۔تہذیب الاحکام /ج ١/ص ٣۶٠
. ٢)من لایحضرہ الفقیہ/ج ۴٠١ )
امام (علیھ السلام)نے علی ابن بقطین کوخط کے جواب میں تحریرکیااورلکھا کہ میں سمجھ گیاہوں میں کہ اصحاب وضوکے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں لہٰذامیں تمھیں جو حکم دے رہاہوں تم اسی طرح کرنااوروہ حکم یہ ہے کہ تم اس طرح وضوکرو:
تمضمض ثلاثا ، وتست نشق ثلاثا ، وتغسل وجهک ثلاثا ، تخلل شعرلحیتک وتغسل یدیک الی المرفقیه ثلاثا ، ومسح راسک کله ، وتمسح ظاهراذنیک وباطنهما ، وتغسل رجلیک الی الکعبین ثلاثا ، ولاتخالف ذلک الی غیره
اے علی ابن یقطین !تین مرتبہ کلی کرو ،تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالو ، تین مرتبہ چہرہ دھوو ،ٔ اورپانی کواپنی ڈاڑھی کے بالوں کوجڑوں تک پہنچاؤاور تین مرتبہ ہاتھوں کوکہنیوں تک دھوو ،ٔ پورے سرکااس طرح مسح کرو کہ کانوں پردونوںطرف ظاہری وباطنی حصہ پرہاتھ پھیرو ، اور اپنے دونوں پیروں کوٹخنوں تک تین مرتبہ دھوو ،ٔاوراپنے وضوکودوسروں کے وضوسے فرق میں نہ رکھواوریادرکھو!اس حکم کے خلاف نہ کرنا.
جب یہ خط علی ابن یقطین کے پاس پہنچاتواسے پڑھ کربہت تعجب کیاکہ یہ بالکل شیعوں خلاف حکم دیاہے ،لہٰذادل میں سوچا:میرے امام بہترجانتے ہیں اورحالات سے وافق ہیں لہٰذااس کے بعدعلی ابن یقطین امام (علیھ السلام)کے فرمان کے مطابق وضوکرنے لگے ہارون رشیدپاس یہ خبرپہنچی کہ علی ابن یقطین رافضی ہے اوروہ تیرامخالف ہے ،ہارون رشیدنے اپنے ایک خواص سے کہا:تم علی ابن یقطین کے بارے میں بہت باتیں بناتے ہواوراس پر رافضی ہونے کی تہمت لگاتے ہو جبکہ میں اس کی دیکھ بھال کرتاہوں،میں چندمرتبہ اس کاامتحان لے چکاہوں،یہ تہمت جوتم اس پرلگارہے ہومیں نے ایسابالکل نہیں دیکھاہے ،میں اسے وضوکرتے ہوںئے دیکھتاہوں،جھوٹاہے وہ شخص جویہ کہتاہے کہ علی ابن یقطین رافضی ہے اگرامام رضا علی ابن یقطین کواس طرح وضوکرنے کاحکم نہ دیتے توہارون رشیدکومعلوم ہوجاتاکہ یہ شخص رافضی ہے اورفوراًقتل کرادیتا
جب علی یقطین کے بارے میں ہارون رشید کے نزدیک صفائی ہوگئی تو علی ابن یقطین نے دوبارہ امام (علیھ السلام)کے پاس خط لکھااوروضوکاطریقہ معلوم کیاتوامام (علیھ السلام)نے لکھا:تم اس طرح وضوکروجسطرح خدانے وضوکرنے کاحکم دیاہے یعنی:
اغسل وجهک مرة فریضة ، واخریٰ اسباغا ، واغتسل یدیک من المرفقین کذلک وامسح بمقدم راسک وظاهرقدمیک من فضل نداوة وضوئک فقدزال ماکنانخاف علیک والسلام اے علی ابن یقطین!چہرہ کوایک مرتبہ واجبی طورسے دھوو ،ٔ اوردوسری مرتبہ اسباغی و تکمیل کی نظرسے ، اپنے دونوں ہاتھوں کہنیوں سے انگلیوں کے پوروں تک دھوو أوراسی آب وضوکی تری سے سرکے اگلے حصہ
کااورپیروں کے اوپری حصہ کامسح کرو،جس چیزکاہمیں ) خوف تھاوہ وقت تمھارے سرسے گذرگیاہے والسلام علیکم ۔(۱)
____________________
. ١)ارشاد(شیخ مفید)/ص ٣١۴
۶۔ آنکھوں کوکھولے رکھنا
مستحب ہے کہ چہرہ دھوتے وقت آنکھوں کوبندنہ کریں بلکہ کھولے رکھیں لیکن آنکھوں کے اندرپانی کاپہنچاناواجب نہیں ہے اورآنکھوں کے کھلے ر’ہنے وجہ اس طرح بیان کی گئی ہے :
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:افتحواعیونکم عندالوضوء لعلهالاتری نارجهنم (۲) نبی اکرم (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں :وضوکرنے وقت اپنی آنکھوں کوکھولے رکھواس لئے تاکہ تم نارجہنم کونہ دیکھ پاو ۔ٔ
٧۔ عورت ہاتھوں کے دھونے میں اندرکی طرف اورمردکہنی پرپانی ڈالے
مردکے لئے مستحب ہے کہ دائیں اوربائیں ہاتھ کودھونے کے لئے جب پالی مرتبہ پانی ڈالے کہنی کی طرف پانی ڈالے اورجب دوسری مرتبہ پانی ڈالے تواندرکی طرف ڈالے اورعورت کے لئے مستحب ہے وہ مردکے برخلاف کرے یعنی جب پہلی مرتبہ اندرکی طرف پانی ڈالے اوردوسری مرتبہ باہرکی طرف ۔
عن ابی الحسن الرضاعلیه السلام قال:فرض الله علی النساء فی الوضوء للصلاة ان یبتدئن بباطن اذرعهن وفی الرجل بظاهرالذراع (۲)
جب عورت نمازکے لئے وضوکرے تواس کے لئے مستحب ہے کہ اپنی کہنی اندرکی طرف سے پانی ڈالے اورمردکے لئے مستحب ہے کہ ہاتھ باہری حصہ پرپانی ڈالے ۔
٨۔ چہرے پرخوف خداکے آثارنمایاں ہونا
مستحب ہے کہ انسان اپنے چہرے پرخوف خداکے آثارنمایاں کرےکان امیرالمومنین علیه السلام اذااخذت الوضوء یتغیّروجهه من خیفة الله تعالیٰ (۳) جس وقت امیر المومنین حضرت علی وضوکرتے تھے ، خوف خدامیں آپ کے چہرے کا رنگ متغیرہوجاتا تھا۔
کان حسین بن علی علیهماالسلام :اذااَخذت الوضوء یتغیرلونه ،فقیل لهُ فی ذٰلک ؟فقال:حقٌّ مَن ارادَاَنْ یدخلَ علیٰ ذی العَرْشِیتغیّرلهُ .(۴)
____________________
. ۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۵٠
۲)کافی /ج ٣/ص ٢٩ ۔تہذیب الاحکام /ج ١/ص ٧٧
۳) عدة الداعی /ص ١٣٨ ۔بحارالانواپر/ج ٨٠ /ص ٣۴٧
۴) الخصائص الحسینیّہ/ص ٢٣
حضرت امام حسین کے بارے میں روایت نقل ہوئی ہے کہ : جب بھی آپ وضو کرتے تھے تو پورابدن کانپ چاتاتھا اور چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا ، جب لوگ آپ سے اس کی وجہ معلوم کرتے تھے تو امام(علیه السلام) فرماتے تھے ، حق یہی ہے کہ جسوقت بندہ مٔومن خدا ئے قہّا ر کی بار گاہ میں قیام کرے تو اس کے چہرے کا رنگ متغیّر ہو جائے اور اس کے جسم میں لرزاں پیدا ہو نا چاہئے ۔کان الحسن (عاذافرغ من وضوئه یتغیر (۱)
امام حسن جب وضوسے فارغ ہوتے تھے توآپ کے چہرے کارنگ متغیرہوتاتھا۔
٩۔ رحمت خداسے قریب ہونے اوراس مناجات کرنے کا ارادہ کرنا
قال الصادق علیه السلام :اذااردت الطهارة واالوضوء فتقدم الی الماء تقدمک الی رحمة اللهفانّ الله تعالی قدجعل الماء مفتاح قربته ومناجاته ودلیلاالٰی بساط خدمته وکماان رحمته تطهرذنوب العبادفکذٰلک نجاسات الطاهرة یطهرالماء لاغیرفطهرقلبک بالتقوی والیقین عندطهارة جوارحک ۔(۲)
حضرت امام صادق فرما تے ہیں : جب آپ وضو وطہارت کا ارادہ کر یں تو یہ سو چ کر پانی کی طرف قدم بڑ ھا ئیں کہ رحمت خدا سے قریب ہورہے ہیں کیو نکہ پانی مجھ سے تقرب ومنا جا ت حاصل کر نے کی کنجی ہے اور میرے آ ستا نے پر پہنچنے کے لئے ہدایت ہے لہٰذا اپنے بد ن وا عضا ء کو دھوتے وقت اپنے قلب کو تقویٰ ویقین سے پاک کرلیا کر یں
١٠ ۔ پانی میں صرفہ جوئی کرنا
سوال یہ ہے کہ جب ہم پاک صاف ہوکر الله کی بندگی کرتے ہیں توخداہماری دعاؤں کومستجاب کیوں نہیں کرتاہے ؟اکثرمومنین جب وضوکرتے ہیں توپانی کابہت زیادہ اسراف کرتے ہیں اوردین اسلام میں اسراف کرنے کوسختی سے منع کیاگیاہے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اسراف کومدنظر رکھتے تھے اوروضومیں اس مقدارمیں پانی خرچ کرتے تھے:عن ابی بصیرقال:سئلت اباعبدالله علیه السلام عن الوضوء فقال:کان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یتوضا بِٔمد من ماءٍ ویغتسل بصاعٍ (۳)
____________________
. ۱)میزان الحکمة /ج ٢/ح ١٠۶٠٨
. ۲)مصباح الشریعة/ص ١٢٨
. ۳)استبصار/ج ١/ص ١٢١ ۔تہذیب الاحکام /ج ١/ص ١٣۶
ابوبصیرسے مروی ہے :میں نے امام صادق سے آب وضوکی مقدارکے بارے پوچھاتوامام (علیه السلام)نے فرمایا: پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)ایک مدّ،پانی سے وضوکرتے اورایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے ، مدیعنی تین چلّوپانی ،صاع ،یعنی تین کلوپانی، پس آنحضرتوضومیں ایک چلّوپانی چہرے پراورایک داہنے پراورایک بائیں ہاتھ پرڈالتے تھے اورغسل میں تین کلوپانی استعمال کرتے تھے۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله : الوضوء مد ، والغسل صاع وسیاتی اقوام بعدی یستقلون ذلک (۱)
رسول خدا (صلی الله علیه و آله) فرماتے ہیں : وضوکرنے کے لئے دس سیر اور غسل کرنے کے لئے تین کلو پانی کافی ہے لیکن آئندہ ایسے بھی لو گ پیدا ہونگے جو اس مقدا ر کو غیر کا فی سمجھیں گے( اور صرفہ جوئی کے بد لے اسراف کریں گے ) اور وہ لوگ میری روش اور سیرت کے خلاف عمل کریں گے ۔
وضو کے آثار وفوائد
رویناعن علی ، عن رسول الله صلی الله علیه وآله سلم انّه قال: یحشره الله اُمّتی یوم القیامة بین الامم ، غرّاًمُحجّلین مِن آثارالوضوء (۲)
حضرت علیسے مروی ہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:خداوندعالم روزقیامت میری امت کودوسری امتوں کے درمیان اس طرح محشورکرے گاکہ میری امت کے چہروں پروضوکے آثارنمایاں ہونگے اورنورانی چہروں کے ساتھ واردمحشرہونگے۔
حضرت امام باقر فرماتے ہیں : ایک روز نمازصبح کے بعدسیدالمرسلین حضرت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اپنے اصحاب سے گفتگو کر رہے تھے، طلو ع آفتاب کے بعد تمام اصحاب یکے بعد اٹھ کراپنے گھرجاتے رہے لیکن دو شخص (انصاری وثقفی)آنحضرت کے پاس بیٹھے رہ گئے ، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : میں جانتاہوں تم مجھ سے کچھ سوال کرنا چاہتے ہیں ، اگرتم چاہو تو میں دونوں کی حاجتوں کوبیان کرسکتا ہوں کہ تم کس کام کے لئے ٹھہرے ہوئے ہواوراگرتم چاہوتوخودہی بیان کرو ، دونوں نے نہایت انکساری سے کہا:
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣۴
٢ )دعائم الاسلام /ج ١/ص ١٠٠
یارسول الله ! آپ ہی بیان کیجئے آنحضرت نے انصاری سے کہا:تمھاری منزل نزدیک ہے اورثقفی بدوی ہے ،انھیں بہت جلدی ہے اورکوئی ضروری کام ہے لہٰذپہلے ان کے مسئلہ کاجواب دے دوں اورتمھارے سوال کاجواب دوں گا،انصاری کہا:بہت اچھا،پس آنحضرت نے فرمایا : اے بھائی ثقفی ! تم مجھ سے اپنے وضوونمازاوران کے ثواب کے بارے میں مطلع ہوناچاہتے ہوتو جان لو:
جب تم وضوکے لئے پانی میں ہاتھ ڈالتے ہواور“بسم الله الرحمن الرحیم ”کہتے ہوتوتمھارے اپنے ان ہاتھوں کے ذریعہ انجام دئے گئے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اورجب اپنے چہرے کودھوتے ہوتوجوگناہ تم نے اپنی ان دونوں انکھوں کی نظروں سے اوراورمنہ کے ذریعہ بولنے سے انجام دئے ہیں سب معاف ہوجاتے ہیں اورجب اپنے دونوں ہاتھوں کودھوتے ہوتووہ گناہ جوتمھارے اپنے دائیں وبائیں پہلوسے سرزدہوئے ہیں معاف ہوجاتے ہیں اورجب تم اپنے سروپاو ںٔ کامسح کرتے ہوتووہ تمام گناہ کہ جن طرف تم اپنے ان پیروں کے ذریعہ گئے ہوسب معاف ہوجاتے ہیں،یہ تھاتمھارے وضوکاثواب ،اسکے بعدآنحضرت نے نمازکے ثواب کاذکرکیا۔(۱)
قال امیرالمومنین علیه السلام لابی ذر:اذانزل بک امر عظیم فی دین او دنیا فتوضا وارفع یدیک وقل :یاالله سبع مرّات فانّه یستجاب لک ۔(۲) حضرت علی نے ابوذر غفاری سے فرمایا : جب بھی تمھیں دینی یا دنیاوی امور میں کوئی مشکل پیش آئے تو وضو کرو اور درگاہ الٰہی میں اپنے دونوں ہاتھو ں کو بلند کر کے سات مرتبہ“ یَا اَللهُ ” کہو! یقینًا خداوندعالم تمھاری دعامستجاب کرے گا۔
گھرسے باوضو ہوکرمسجد جانے کاثواب
عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال: انّ الله وَعدَ اَن یدخل الجنّة ثلاثة نفربغیرحساب،ویشفع کل واحد منهم فی ثمانین الفا:المؤذّن،والامام،ورجل یتوضا ثٔمّ دخل المسجد،فیصلّی فی الجماعة (۳)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : پروردگارعالم کا وعدہ ہے کہ تین لوگوں کو بغیر کسی حساب وکتاب کے بہشت میں بھیجا جائے گا اور ان تینوں میں سے ہر شخص/ ٨٠ ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا وہ تین شخص یہ ہیں:
١۔ مو ذّٔن ٢۔ امام جماعت ٣۔ جوشخص اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدمیں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے ۔
____________________
. ١)من لایحضرہ الفقیہ/ج ٢/ص
. ٢ )بحارالانوار/ ٨٠ /ص ٣٢٨
۳)مستدرک الوسائل/ج ۶/ص ۴۴٩
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:مکتوب فی التوراة انّ بیوتی فی الارض المساجد، فطوبیٰ لمن تطهرثمّ زارنی وحقّ علی الزور اَن یکرم الزائر .(۱) امام صادق فرماتے ہیں:توریت میں لکھاہے :مساجدزمین پرمیرے گھرہیں، خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئےخوشبحال ہے جواپنے گھرمیں وضوکرتے ہیں اس کے بعدمجھ سے ملاقات کے میرے گھرآئے ،مزورکاحق ہے کہ وہ اپنے زائر کااحترام واکرام کرے۔
کسی کو وضوکے لئے پانی دینے کاثواب
حضرت صادق فرماتے ہیں : روزقیامت ایک ایسے شخص کو خدا کی بار گاہ خداوندی میں حاضرکیاجائے گاکہ جس کے اعمال نامہ میں کوئی نیکی نہ ہوگی اور اس نے دنیا میں کو ئی کارخیر انجا م نہیں دیا ہوگا ،اس سے پوچھاجائے گا : اے شخص ! ذرا سو چ کر بتا کیا تیرے دنیامیں کوئی نیک کام انجام دیاہے ؟ وہ اپنے اعمال گذ شتہ پر غور وفکر سے نگاہ ڈال کر عرض کرے گا : پرور دگار ا! مجھے اپنے اعمال میں ایک چیز کے علاوہ کوئی نیک کام نظرنہیں آتا ہے اوروہ یہ ہے کہ ایک دن تیرافلاں مومن بندہ میرے پاس سے گذررہاتھا ،اس نے وضوکے لئے مجھ سے پانی کاطلب کیا، میں نے اسے ایک ظرف میں پانی دیا اور اس نے وضو کرکے تیری نمازپڑھی ، اس بندہ کی یہ بات سن کرخدا وند عالم کہے گا:میں تجھے تیرے اس نیک کام کی وجہ سے بخش دیتاہوں اورپھرفرشتوں کو حکم دے گامیرے اس بند ے کو بہشت میں لے جاؤ ۔(۲)
ہرنمازکے لئے جداگانہ وضو کرنے کاثواب
ہرنمازکےلئے جداگانہ طورسے وضوکرنامستحب ہے اورہمارے رسول وآئمہ اطہار بھی ہرنمازکے لئے الگ وضوکرتے تھے جیساکہ روایت میں آیاہے: إنّ النبی صلی الله علیہ وآلہ : کان یجددالوضوء لکل فریضة ولکل صلاة پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)تمام فریضہ الٰہی اورنمازکوانجام کودینے کے لئے تجدید ) وضو کرتے تھے ۔(۳)
عن علی علیه السلام انّه کان یتوضا لٔکلّ صلاةٍ ویقرء: “ اذاقمتم الی الصلاة فاغسلواوجوهکم ”(۴)
حضرت علی ہر نماز کے لئے جداگا نہ وضو کرتے تھے اورآیہ “ٔ( یاایهاالذین آمنوا اذاقمتم الی الصلاة فاغسلوا وجوهکم ) ”کی تلاوت کرتے تھے ۔
____________________
. ۱) علل الشرائع /ج ١/ص ٣١٨
۲)بحارالانوار/ج ٨٢ /ص ٢٠۶
.. ۳) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٩
. ۴)مستدرک الوسائل /ج ١/ص ٢٩٣
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :الوضوء علی الوضوء نورٌعلیٰ نورٌ رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: وضو پر وضو کرنا “نورٌ علیٰ نور ” ہے۔(۱)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من جدّدوضوئه لغیرحدث جدّدالله توبته من غیراستغفار .(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص نمازکے علاوہ کسی دوسرے کام کے لئے تجدیدوضوکرتا ہے خداوندمتعال استغفارکئے بغیرہی اسکی توبہ قبول کرلیتاہے۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :من توضاعلی طهرکتب له عشرحسنات ۔(۳) نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جوشخص وضوپروضوکرے اس کے لئے دس لکھی جاتی ہیں۔
حکایت کی گئی ہے کہ ایک مومن بندہ ہمیشہ باوضورہتاتھاجب وہ اس دارفانی سے کوچ کرگیاتوایک دوسرے مومن نے اسے خواب میں دیکھاکہ اس کاچہرہ نورانی ہے اوربہشت کے باغات میں سیرکررہاہے ، میں نے اس سے معلوم کیا:اے بھائی! تم دنیامیں اتنابڑے متقی وپرہیزگارتونہیں تھے پھرتم دنیامیں ایساکونسا کام کرتے تھے جس کی وجہ سے تجھ کویہ منزلت حاصل ہوئی اورتم یہ پر نورانیت کس طرح آئی؟اس نے جواب دیا:اے بھائی ! میں دنیامیں ہمیشہ باوضورہتا تھاجس کی وجہ سے خداوندمتعال نے میرے ان اعضاء کونوربخشا( وَاللهُ یُحِبُّ المُتَطَهّرِین ) (۴) اورخداپاک رہنے والوں کودوست رکھتاہے.
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:یااَنس!اکثرمن الطهوریزیده اللهفی عمرک،وان استتطعت ان تکون باللیل والنهارعلی طهارة فافعل،فانّک تکون اذامتّ علیٰ طهارةٍ شهیداً.وعنه صلی الله علیه وآله وسلم:من احدث ولم یتوضا فٔقد جفانی .(۵)
پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)فرما تے ہیں : اے انس!اکثراوقات باوضو رہاکرو تاکہ خدا آپ کی عمرمیںزیادتی کرے اور اگر ہوسکے تو دن اوررات وضو سے رہو کیونکہ اگر تمھیں وضوکی حالت میں موت آگئی تو تمھاری موت شہیدکی موت ہوگی اورآنحضرتدوسری حدیث میں فرماتےہیں:اگر کسی شخص سے حدث صادرہوجائے اوروہ وضونہ کرے توگویااس نے مجھ پرجفاکی
____________________
. ۱)محجة البیضاء/ج ١/ص ٣٠٢
۲)ثواب الاعمال وعقاب الاعمال/ص ٣٨
۳)وسائل الشیعہ /ج ١/ص ٢۶۴ )
۴)سورہ تٔوبة /آیت ١٠٨
.۵) نماز،حکایتہاوروایتہا/ ١۵ )
قال النبی صلی الله علیه وآله وسلّم :یقول الله تعالیٰ:من احدث ولم یتوضا فٔقدجفانی ومن احدث ویتوضا ؤلم یصلّ رکعتین فقدجفانی ومن احدث ویتوضا ؤصلّ رکعتین ودعانی ولم اَجبه فیماسئلنی من اَمردینه ودنیاه فقدجفوته ولستُ برب جافٍ .(۱)
حدیت قدسی شریف میں آیا ہے خدا وند متعال فرماتا ہے :اگر کسی سے حدث صادرہوجائے اوروہ وضونہ کرے توگویااس نے مجھ پرجفاکی اور اگرکسی کوحدث صادرہوجائے اوروضوبھی کرلے لیکن وہ دورکعت نماز نہ پڑھے تواس نے بھی مجھ پر جفا کی، اگرکسی کوحدث صادرہوجائے اوروہ وضوبھی کرے اوردورکعت نمازبھی پڑھے اس کے بعد مجھ سے کسی چیزکاسوال کرے اورمیں اس کے سوال امر دین و دنیا کوپورانہ کروں تو گویااس شخص پرجفاکی اور میں جفا کار پر ور دگار نہیں ہوں ۔
کامل طورسے وضوکرنے کاثواب
کامل طورسے وضوکرنے سے مرادکیاہے اس چیزکوہم اسی موردکے فوراً بعد ذکر کریں گے لیکن یہاں پرفقط کامل طورسے وضوکرنے کاثواب ذکرکررہے ہیں
عن ابی الحسن العسکری علیه السلام قال:لما کلّم الله عزّوجل موسیٰ علیه السلام قال:الٰهی مَاجَزَاء مَنْ اَتَمّ الوضوء مِنْ خِشْیَتِک؟قال:اَبْعَثه یوم القیامة ولهُ نورٌبین عینیه یتلا لٔا .ٔ(۱) امام حسن عسکری فرماتے ہیں :جب(کوہ طورپر) خداوندعالم حضرت موسی سے ہمکلام ہواتوحضرت موسیٰ نے بارگاہ ربّ العزت میں عرض کی : پروردگار ا ! اگر کوئی تیرے خوف میں مکمل طور سے وضوکرے اسکا اجروثواب کیاہے ؟ خداوند عالم نے فرمایا : روزقیامت اس کو قبرسے اس حال میں بلند کروں گا کہ اس کی پیشانی سے نور ساطع ہوگا ۔
فی الخبراذاطهرالعبدیخرج الله عنه کل خبث ونجاسة وانّ من توضافاحسن الوضوء خرج من ذنوبه کیوم ولدته من امه ۔(۲)
روایت میں آیاہے جب کوئی وضوکرتاہے توخداوندعالم اسے ہرنجاست وخباثت سے پاک کردیتاہے اورجوشخص مکمل طورسے وضوکرتاہے توخدااسے گناہوں سے اس طرح پاک کردیتاہے جیسے اس نے ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیاہو۔
____________________
. ۱)وسائل الشیعہ/ج ١/ص ٢۶٨
۲)بحارالانوار/ج ٧٧ /ص ٣٠١
. ۳)مستدرک الوسائل/ج ١/ص ٣۵٨
قال النّبی صلی الله علیه وآله وسلّم :یٰااَنس اَسبغ الوضوء تمرُّعلی الصراط مرٌالسحاب .(۱) رسول خدا (صلی الله علیه و آله) فرماتے ہیں : اے انس ! وضو کومکمل اوراس کے تمام آداب شرائط کے ساتھ انجام دیاکرو تا کہ تم تیز ر فتا ر با دل کے مانند پل صراط سے گزر سکو ۔
آب وضوسے ایک یہودی لڑکی شفاپاگئی
جناب نفیسہ خاتون جوکہ اسحاق بن امام جعفرصادق کی زوجہ اورحسن بن زید بن امام حسن مجتبیٰ کی صاحبزادی تھیں،آپ ایک عظیم و با ایمان خاتو ن تھیں اور مدینہ میں زندگی بسرکرتی تھیں،اس عظیم خاتون نے پورا قرآن مع التفسیر حفظ کررکھاتھا ، دن میں روزہ رکھتی اور راتوں کو عبادت ومناجات کرتی تھیں،آپ تیس مرتبہ حج بیت ا للھسے مشرف ہوئیں اور غالباً سفرحج کو پیدل طے کرتی تھیں جبکہ آپ بہت زیادہ صاحب ثروت تھیں لیکن اپنے مال ودولت کوبیماروں وحاجتمندوں پرخرچ کرتی تھیں
آپ کی بھتیجی “زینب بنت یحییٰ ”کہتی ہیں کہ :میں نے اپنی زندگی کے چالیسبرس اپنی پھو پھی کی خدمت میں گذارے ہیں، اس مدت کے دوران میں نے انھیں رات میں کبھی سوتے ہوئے اور دن میں کوئی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ،آپ رات میں عبادت کرنے اور دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے بہت زیادہ کمزور ہوچکی تھیں ایک دن میں ان سے کہا: آپ اپنا علاج کیوں نہیں کرتی ہیں ؟ جواب دیا: میں اپنے نفس کا علاج کس طرح کروں ابھی تو راستہ بہت دشوار ہے اوراس راستہ سے فقط ناجی لوگ ہی گزرسکتے ہیں۔
ایک سال جب جناب نفیسہ نے اپنے شوہر (حسن بن زید بن امام حسن مجتبیٰ) کے ہمراہ حضرت ابراہیم کی قبر کی زیارت کے لئے فلسطین کا سفر کیا اورزیارت کے بعدسفرسے واپسی کے درمیان مصرمیں قیام کیاآپ کے ہمسایہ میں ایک یہو دی رہتا تھاجس کے گھرمیں ایک نابینا لڑکی تھی ،ایک دن اس یہودی لڑکی نے نفیسہ کے وضو کے پانی کو بعنوان تبرک اپنی آنکھوں پر ڈالا توفوراً شفاپاگئی جب اس خبرکومصرکے یہودیوں نے سناتو ان میں سے اکثرنے دین اسلام قبول کیا اور وہاں کے اکثر لوگ آپ کے عقیدتمندہوگئے، جب آپ نے مدینہ واپس جا نے کا ارادہ کیا تو اہل مصرنے اصرارکیا کہ آپ یہیں پر قیام پذیرہوجائیں ،آپ نے ان کی درخواست کو منظور کر لیااوروہیں پرزندگی گذارنے لگیں ۔
____________________
۱) خصال(شیخ صدوق)/ص ١٨١
جناب نفیسہ نے مصرمیں اپنے ہاتھوں سے ایک قبربنارکھی تھی اور سفر آخرت کا انتظا ر کرتی تھیں ، روزانہ اس قبر میں داخل ہوتی اور کھڑے ہوکر نماز پڑ ھتی تھیں اور اسی قبرمیں بیٹھ کر چھ ہزار مرتبہ اور ایک روایت کے مطابق ١٩٠ /مرتبہ قرآن ختم کیا ہے اور آپ ماہ رمضان المبارک ٢٠٨ ئھ میں روزے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے داربقاء کی طرف کوچ کر گئیں(۱)
آب وضوسے درخت بھی پھلدارہوگیا
جوادا لآ ئمہ حضرت امام محمدتقی کی تاریخ حیات میں لکھا ہے کہ : جس وقت آپ اپنے شیعوں کی ایک جماعت کے ہمراہ بغدادسے مدینہ کا سفر طے کررہے تھے تو غروب آفتاب کے وقت کوفہ کے قریب پہنچے اورایک جگہ پرجس کا نام“دارمسیب”ہے قیام کیا اوروہاں کی مسجد میں داخل ہوئے کہ مسجدکے صحن مسجد میں ایک درخت تھا جس پرکوئی پھل نہیں لگتاتھا
حضرت امام محمدتقی نے ایک برت ن میں پانی طلب کیا اور اس درخت کے نیچے بیٹھ کر وضوکیا اور نمازمغرب کو اوّل وقت اداکیااورلوگوں نے آپ کی اقتداء میں جماعت سے نمازپڑھی ،امام (علیه السلام)نے پہلی رکعت میں حمدکے بعد “اذاجاء نصرالله” اور دوسری رکعت میں حمدکے بعد“( قل هوالله احد ) ” کی قرائت کی اورسلام نماز کے بعد ذکرخدا اور تسبیح میں مشغول ہوگئے اس کے بعد چار رکعت نافلہ نمازپڑھی اور تعقیبات نمازپڑھ کر سجدہ شکر ادا کیا،اورنماز عشاکے لئے کھڑے ہوگئے ،جب لوگ نمازودعاسے فارغ ہونے کے بعد اٹھ کرمسجد سے باہرآنے لگے اور صحن مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ اس درخت پر پھل لگے ہوئے ہیں اس معجز ے کو دیکھ کر سب کے سب حیرت زدہ ہوگئے اور سب نے درخت سے پھل توڑکر کھاناشروع کیا تو دیکھا کہ میوہ بہت ہی زیاد ہ میٹھا ہے اور اس کے اندر کوئی گٹھلی بھی نہیں ہے اس کے بعد امام محمدتقی (علیه السلام)اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مد ینہ کی طرف ) راوانہ ہوگئے ۔(۲)
____________________
. ١)سفینة البحار/ج ٢/ص ۶٠۴ ۔ ثواب الاعمال وعقاب الاعمال/ص ٣۶
٢ )ارشادشیخ مفید/ص ۶٢٨ باب ٢۵
راز تیمم
اگروضوکے لئے پانی کاملناممکن نہ ہو،یاپانی تک رسائی نہ ہو،یاپانی کااستعمال مضرہو،یاکسی نفسکے لئے خطرہ ہوتوان صورتوں میں وضوکے بجائے تیمم کرناواجب ہے قرآن کریم ارشادباری تعالی ہے:
( وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضیٰ اَوعَلٰی سَفَرٍاَوْجَاءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَائِطِ اَوْلَاْمَسْتُمْ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوامَآءً فَتَیَمَّمُواصَعِیْدًاطَیِّبًافَامْسَحُوابِوُجُوْهِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِنْهُ ) (۱) اگرتم مریض ہویاسفرکے عالم ہویاپاخانہ وغیرہ نکل آیاہے یاعورتوں کوباہم لمس کیاہے اورپانی نہ ملے توپاک مٹی سے تیمم کرلواوربھی اس طرح سے اپنے چہرے اورہاتھوں کامسح کرلو۔
اس آیہ مبارک میں تیمم کاطریقہ یہ بیان کیاگیاہے کہ تیمم کی نیت کرکے دونوں ہاتھوں کوگرد،خاک ،ریت،ڈھیلے ،پتھرپرماریں اوراس کے بعددونوں ہاتھ کی ہتھیلیوں کوپوری پیشانی اوراس دونوںطرف جہاں سے سرکے بال اگتے ہیں،ابرووں تک اورناک اوپرتک پھیریں،اس کے بعددائیں ہاتھ کی ہتھیلی کوبائیں ہاتھ کی پشت پرگٹے سے انگلیوں کے سرے تک پھیریں،اس کے بعداسی طرح بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کودائیں ہاتھ کی پشت پرپھیریں۔ جسچیزپرتیمم کیاجائے اس کاپاک ہوناضروری ہے کیونکہ خداوندعالم نے آیہ مٔبارکہ میں “صعیداًطیباً ” کہاہے
رازتیمم یہ ہے کہ:جب آپ کووضوکے لئے پانی دستیاب نہ ہوسکے توخاک کوجوکہ پست ترین پدیدہ جٔہان ہے اپنے ہاتھ اورچہرے پر ملیں تاکہ آپ کے اندرسے غروروتکبّراورشہوت نفسانی اورشیطانی خواہشیں دور ہوجائیں اورشایدخداکوآپ کی اس تواضع وخاکساری پررحم آجائے اورراہ راست کی ہدایت کردے۔
____________________
. ١)سورہ مٔائدہ /آیت ۶
خداوندعالم نے آب وخاک کوطہارت کاذریعہ کیوں قراردیاہے اوران دونوں کووسیلہ طٔہارت قراردینے کی کیاوجہ کیاہے؟
کشف الاسرارمیں اس حکم خداکی دو حکمت اس طرح بیان کی ہیں:
١۔ خداوندعالم نے انسان کو پانی اور مٹّی سے پیدا کیا ہے ،ان دونوں نعمتوں پرخداکاشکر کرناچاہئے اسی لئے آب وخاک کوطہارت کاذریعہ قراردیاہے تاکہ ہم اس مطلب کو ہمیشہ یاد رکھیں اور ان دونوں نعمتوں کودیکھ کرخداکا شکرخدا کریں
٢۔ دوسری حکمت اس طرح بیان کی جاتی ہے: خداوندعالم نے آب وخاک کو طہارت کا ذریعہ اس لئے قراردیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ دنیاوی آگ (آتش شہوت) اور آخرت کی آگ (نارجہنم وعقوبت)کو خاموش کرسکے کیونکہ مومن کے لئے دوآگ درپیش ہیں :
١۔دنیاوی آگ جسے شہوت نفسانی کی آگ کہاجاتاہے
٢۔ آخرت کی آگ جسے نارعقوبت و جہنم کہاجاتاہے ) اورانسان آب وخاک کے ذریعہ دنیوی اوراخروی آگ کوخاموش کرسکتاہے۔(۱)
امام محمدباقر فرماتے ہیں:سرکے بعض اورپیروں کے بھی بعض حصے کے مسح کرنے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ خداوندعالم نے آیہ مبارکہ فلم تجدوماء فتیمموا صعیداً طیباًفامسحوابوجوہکم پانی نہ ملنے کی صورت میں دھونے کے وجوب کوساقط کردیااوراسکے بدلے میں کرناواجب کردیااورفرمایا: “فامسحوابوجوہکم” یعنی اپنے چہرے کامسح کرواوراس کے بعدفرمایا:“وایدیکم”یعنی اپنے ہاتھوں کابھی مسح کرو،ہاتھوں کے مسح کرنے کوچہرے کے مسح کرنے عطف کیااوراس کے بعد“منہ” فرمایا:یعنی پانی نہ ملنے کی صورت میں خاک پاک پرتیمم کرواوراپنے چہرے اورہاتھوں پرتھوڑی سی خاک ملواب یہ جوکہاجاتاہے کہ چہرے اورہاتھوں پرتھوڑی سی خاک ملواس کی وجہ یہ ہے کہ خداوندعالم جانتاہے کہ پورے چہرے پرخاک نہیں ملی جاتی ہے کیونکہ جب ہاتھوں کوخاک پرمارتے ہیں توتھوڑی سی خاک ہاتھوں پرلگ جاتی ہے اوربقیہ تواپنی جگہ پررہتی ہے اورہاتھوں پرنہیں لگتی ہے لہٰذاجب ہاتھوں چہرے پرملتے ہیں تواس میں سے کچھ خاک چہرے پرلگ جاتی ہے نہ کہ پوری خاک، اس کے بعدخداوندعالم ارشادفرماتاہے:( مَایُرِیْدُاللهَ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ )
خداوندعالم تمھیں کسی مشکل میں نہیں ڈالناچاہتاہے ۔(۲)
____________________
. ١)کشف الاسرار/ج ٣/ص ۴٩ ۔ ۵٠
۲). کافی /ج ٣/ص ٣٠
رازوجوب ستر
مردکے لئے واجب ہے کہ نمازکی حالت میں اپنی شرمگاہ ( آگے پیچھے کاحصے)کو چھپائے چاہے اسے کوئی دیکھ رہاہویانہ، اوربہترہے کہ ناف سے زانوتک چھپائے ۔ عورت کے لئے واجب ہے کہ نمازکی حالت میں اپنے پورے بدن کوچھپائے یہاں تک کہ اپنے بال اورسرکوبھی چھپائے ،صرف چہرہ اورگٹوں تک ہاتھ پاؤں کھلے رہ سکتے ہیں لیکن یہ یقین کرنے کے لئے کہ مقدارواجب کوچھپالیاگیاہے تھوڑاساچہرے کے اطراف اورگٹوں سے نیچے کوبھی چھپائے ۔
جب ہم کسی کی مہمانی میں جاتے ہیں توعقلمنداورصاحب عفت انسان کی عقل یہی حکم دیتی ہے کہ بہترین لباس پہن کرجائیں اوروہ بھی ایسالباس کہ جس سے لوگ ہمارے جسم کے قبائح پرنظرنہ ڈال سکے ،اگرکوئی بغیرلباس کے مہمانی میں جائے توصاحب خانہ اوروہاں پرموجودلوگ اس کے جسم پرنگاہ نہیں کریں گے؟اسی لئے نمازکی حالت میں سترکوواجب قراردیاگیاہے تاکہ اپنے رب کی مہمانی میں بغیرکسی خوف کے خضوع وخشوع کے ساتھ نمازپڑھ سکے ۔
نمازکی حالت میں بدن کے ڈھانپنے کی وجہ روایت میں اس طرح بیان کی گئی ہے: امام صادق فرماتے ہیں:مومنین کامزین ترین لباس تقویٰ وہیزگاری کالباس ہے اوران کالطیف ترین لباس ایمان وعقیدہ کالباس ہے جیساکہ خداوندمتعال اپنی کاتا میں ارشادفرماتاہے :
( لِبَاسُ التَّقْویٰ ذٰلِکَ خَیْرٌ ) (۱) لباس تقویٰ بہترین لباس ہے ،لیکن لباس ظاہری خداوندعالم کی نعمتوں سے کہ جسے اولادآدم(علیه السلام) کے لئے ساترقراردیاگیاہے ،اولادآدم کوچاہئے کہ لباس کے ذریعہ اپنی عورت کوچھپائے ذریت آدم(علیه السلام) کے لئے سترعورت ایک خاص کرامت ہے جسے انسان کے علاوہ کسی بھی موجودات عطانہیں کیاگیاہے پس مومنین پرواجب ہے کہ اسے واجبات الٰہی کوانجام دینے میں ضروراستعمال کرے ،اورتمھارابہترین لباس وہ ہے کہ جوتمھیں یادخداسے غافل نہ کرے اوردوسرے کام میں مشغول نہ کرے بلکہ شکروذکراوراطاعت پروردگارسے نزدیک کرے ،پس ایسے لباس سے پرہیزکیاجائے جوانسان کویادپروردگارغافل اوردوری کاسبب بنے ،اورجان لوکہ لباس بلکہ تمام مادی امورہیں کہ جوانسان کے ذات پروردگارسے دوری اوراشتغال دنیاکاسبب واقع ہوتے ہیں اورتمھارے اس نازک سے دل میں ایک برااثرڈالتے ہیں اورریاکاری ،فخر،غرورمیں مبتلاکرتے ہیں،یہ سب دین تمھارے دین کونابودکرنے والے ہیں اوردل میں قساوت پیداکرتے ہیں
____________________
۱). سورہ اعراف /آیت ٢۶ مصباح الشریعة /ص ٣٠
جب تم اس ظاہری لباس کواپنے ت ن پرڈالوتواس چیزکویادکروکہ خداوندمتعال اپنی رحمت کبریائی سے تمھارے گناہوں کوچھپاتاہے لیکن بہ بھی یادرہے ظاہری پہنے کے ساتھ باطنی لباس سے غفلت نہ کرو،جس طرح تم ظاہری طورسے اپنے آپ کوچھپارہے ہوباطنی طورسے بھی ملبس کرو،تمھیں چاہئے کہ جس طرح تم ظاہری طورسے کسی خوف کی بناپراپنے آپ کوملبس کرتے ہواسی باطنی میں ملبس کرواوراپنے رب کے فضل وکرم سے عبرت حاصل کروکہ اس نے تمھیںظاہری لباس عطاکیاتاکہ تم اپنے ظاہری عیوب کوپوسیدہ کرسکو،اس نے تمھارے لئے توبہ کادوروازہ کھول رکھاہے تاکہ تم اپنی باطنی شرمگاہوں کوبھی لطف گناہوں اوربرے کارناموں سے پوشیدہ کرسکو،یادرکھوکسی ایک رسوانہ کرناتاکہ تمھارپروردگارتمھیں رسوانہ کرے ،اپنے عیوب کی تلاش کروتاکہ تمھاری اصلاح ہوسکے اورچیزتمہاری اعانت نہ کرسکے اس سے صرف نظرکرو،اوراس چیزسے دوری کروکہ تم دوسروں کے عمل کی خاطراپنے آپ کوہلاکت میںڈالواوردوسرے کے اعمال کانتیجہ تمھارے نامہ اعمال میں لکھاجائے اوروہ تمھارے سرمایہ میں تجاوزکرنے لگیں اورتم اپنے آپ کوہلاک کرلو،کیونکہ انجام دئے گئے گناہوں کو بھول جانے سے ایک خداوندعالم دنیامیں اس پرایک سخت عقاب نازل کرتاہے اورآخرت میں بھی اس کے لئے دردناک عذاب ہے
جب تک انسان اپنے آپ کوحق تعالی کی اطاعت سے دوررکھتاہے اوراپنے آپ کودوسروں کے عیوب کی تلاش میں گامزن رکھتاہے اورجب تک انسان اپنے گناہوں بھولے رکھتاہے اوراندرپائے جانے والے عیوب کونہیں جانتاہے اورفقط قوت پراعتمادرکھتاہے وہ کبھی بھی نجات نہیں پاسکتاہے۔
رازمکان و لباس
رازطہارت بدن ،لباس اورمکان
نمازی کے بدن اورلباس کاپاک ہوناشرط صحت نمازہے،خواہ انسان واجبی نمازپڑھ رہاہویامستحبی ،اگربدن یالباس پرنجاست لگی ہوتواس کاپاک کرناواجب ہے خواہ بال یاناخن ہی نجسہوں سجدہ کرنے کی جگہ پاک ہوناچاہئے اگرسجدہ گاہ نجس ہوچاہے ہوخشک ہی کیوں نہ ہونمازباطل ہے البتہ سجدہ گاہ کے علاوہ دوسری جگہ کاپاک ہوناضروری نہیں ہے اگرنمازی کی جگہ سجدہ گاہ کے علاوہ نجس ہو تووہ ایسی ترنہ ہوکہ اس کی رطوبت بدن یالباس سے لگ جائے ورنہ نمازباطل ہے البتہ اگرنجاست کی مقدارمعاف ہونے کے برابرہے تونمازصحیح ہے ۔ نمازکی حالت میں انسان کے بدن ولباس اورمکان کاظاہری اورباطنی طورسے پاک ہوناواجب ہے یعنی لباس کاپاک ومباح ہوناواجب ہے ان تینوں چیزوں کے پاک ہونے کی وجہ یہ ہے: کیونکہ خدوندعالم پاک وپاکیزہ ہے اورپاک وپاکیزہ رہنے والوں کودوست بھی رکھتاہے،خداوندعالم نظیف ہے اورنظافت کودوست رکھتاہے کیونکہ وہ اپنی کتاب قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( اِنَّ اللهُ یُحِبّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ ) (۱)
خداتوبہ کرنے اورپاکیزہ رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔
اورسورہ تٔوبہ میں ارشادفرماتاہے:
( وَاللهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ ) (۲)
خداپاکیزہ رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔
رازاباحت لباس ومکان
انسان جس لباس میں اورجس جگہ پرنمازپڑھ رہاہے _ان دونوں کامباح ہوناواجب ہے ،اگردونوں میں ایک چیزبھی غصبی ہوتونمازباطل ہے اورمباح لباس ومکان میں نمازکااعادہ کرناواجب ہے کیونکہ نمازمیں بدن کاچھپاناواجب ہے اورکسی حرام چیزکے ذریعہ بدن کوچھپاناحرام ہے اورکسی حرام کام کے ذریعہ واجب کوادانہیں کیاجاستاہے کیونکہ نمازمیں نیت ضروری ہے اورنیت میں قربت ہوناضروری ہے اورحرام کام کے ذریعہ قربت کاحاصل کرناغیرممکن ہے پسقربت حاصل نہیں ہوسکتی ہے ۔
____________________
۱)سورہ بقرة/آیت ٢٢٣
۲) سورہ تٔوبہ/آیت ١٠٨
چوری اورغصب حرام اورقبیح ہیں ، اورنمازمیں قربت کی نیت ضروری ہے اورقباحت وقربت ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ہیں پس نمازباطل ہے ۔
اگرکسی شخص پرخمس یازکات واجب ہے اور وہ خمس یازکات نہ نکالے اور اس خمس کے مال سے کوئی لباس یامکان خریدے اوراس میں نمازپڑھے تووہ نماز باطل ہے کیونکہ اس لباسیامکان میں دوسرے کاحق ہے جسے ادانہیں کیاگیاہے گویااسکے اس خریدے ہوئے لباس یامکان میں دوسروں کاپیسہ بھی شامل ہے جسے اس نے غصب کرلیاہے اوراس میں نمازپڑھ رہاہے لہٰذااس کی یہ نمازباطل ہے ۔
امیرالمومنین حضرت علی جناب کمیل سے وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یاکمیل ! انظرفی ماتصلی وعلی ماتصلی ان لم یکن من وجهه وحله فلاقبول ۔(۱) اے کمیل! تم ذرایہ دیکھاکروکہ کس لباس میں اورکس جگہ پر نمازپڑھ رہے ہو،اگروہ تمھارے لئے مباح وحلال نہیں ہے توتمھاری نمازقبول نہیں ہے ۔
عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال:المسلم اخوالمسلم لایحلّ ماله الّاعن طیب نفسه ۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،کسی شخص کے لئے مالک کی رضایت کے بغیراسکے مال کاستعمال کرناجائزنہیں ہے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:ایمارجل اتی رجلافاستقرض منه مالاوفی نیته ان لایو دٔیه فذلک اللص .
امام صادق فرماتے ہیں:کت نے لوگ ایسے ہیں جوکسی دوسرے شخص کے پاس جاتے ہیں اورکوئی مال ادھارلیتے ہیں لیکن معاوضہ دینے کی نیت نہیں رکھتے ہیں،ایسے لوگ چورشمارہوتے ہیں۔(۳)
____________________
. ١)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ۴٢٣
. ٢)مستدرک الوسائل /ج ٣/ص ٣٣١
۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ٣/ص ١٨٣
نمازی کالباس مردہ حیوان سے نہ بناہو
نمازی کالباس خون جہندہ رکھنے والے مردہ حیوان کے کسی ایسے اجزاء سے نہ ہوکہ جن میں حیات حلول کرتی ہے جیسے کھال چاہے اسے پیراستہ کردیاگیاہولیکن وہ اجزاء کہ جن میں حیات حلول نہیں کرتی ہے ان میں نمازپڑھناجائزہے جیسے بال اوراون جبکہ وہ حلال گوشتی جانورسے اخذکی گئی ہو۔نمازی کے پاس کسی مردارکے ان اجزاء میں سے کوئی چیزنہ ہوجوروح رکھتی ہیں لیکن وہ اجزاء کہ جن میں روح نہیں ہوتی ہے جیسے بال اون اگریہ نمازی کے ہمراہ ہوں ہوتوکوئی حرج نہیں ہے ۔
امام صادق سے اس قول خداوندی کے بارے میں پوچھاگیاکہ جواس نے حضرت موسیٰ (علیه السلام)سے کہا:
( یَامُوسیٰ اِنِّیْ اَنَارَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ اِنَّکَ بِالْوَادِالْمُقَدَّسِ طَوًی وَاَنَااَخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لَمَایُوحیٰ اِنَّنِیْ اَنَااللهُ فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِکْرِیْ ) (۱)
اے موسیٰ!میں تمھاراپروردگارہوں لہٰذاتم اپنی جوتیوں کواتاردوکیونکہ تم طویٰ نام کی مقدس اورپاکیزہ وادی میں ہو۔
امام (علیه السلام) نے فرمایا:کانتامن جلدحمارمیت. وہ دونوں جوتیاں مردہ گدھے کی کھال سے بنی ہوئی تھیں۔(۲)
حرام گوشت جانورکے اجزابنے سے لباس میں نمازکے باطل ہونے کی وجہ:
نمازی کالباس حرام گوشت جانورکی کھال،بال ،اون وغیرہ سے نہ بناہوبلکہ اگرحرام گوشت جانورکے بال بھی نمازی کے ہمراہ ہوں تونمازباطل ہے اسی طرح حرام گوشت جانورکالعب دہن ،ناک یاکوئی دوسری رطوبت نمازی کے بدن یالباس پرلگی ہوتو نمازباطل ہے اوراسی طرح اگرحلال گوشت جانورکہ جسے غیرشرعی طورسے ذبح کیاگیاہواس کی کھال،بال،اون وغیرہ سے بھی بنائے گئے لباس میں پڑھی جانے والی نمازباطل ہے،لیکن حلال گوشت جانورکے بال،کھال ،اون وغیرہ کے لباس میں نمازپڑھناجائزہے جبکہ اسے تذکیہ کیاگیاہواسی بارے میں چنداحادیث مندرجہ ذیل ذکرہیں:
حدثناعلی بن احمدرحمه الله قال:حدثنامحمدبن عبدالله بن محمدبن اسماعیل باسنادیرفعه الیٰ ابی عبدالله علیه السلام قال:لایجوزالصلاة فی شعرووبرمالایوکل لحمه لانّ اکثرهامسوخ ۔(۳)
حرام گوشت جانورکی کھال وبال میں نمازپڑھناجائزنہیں ہے کیونکہ وہ جانورکہ جن کاگوشت کھاناحرام ہے ان میں سے اکثرجانورمسخ شدہ ہیں۔
____________________
. ١)سورہ طٰٔہٰ /آیت ١٢
. ٢)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢۴٨
. ۳)علل الشرایع /ص ٣۴٢
مردکا لباس سونے اورخالصریشم کانہ ہو
مردکالباس سونے نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کیونکہ مردوں کااپنے آپ کوسونے سے زینت دیناحرام ہے مثلاسونے کی انگوٹھی یازنجیرپہننا،گھڑی کابندسونے کاہونایہ سب نمازاورغیرنمازحالت میں حرام ہیں خواہ وہ سونے کی چیزیں ظاہرہوں یاپنہاں ہوں نمازباطل ہے لیکن عورتوں اورلڑکیوں کے لئے نمازاورغیرنمازکی حالت میں اپنے آپ کوسونے سے زینت دیناجائزہے ۔
سونے کے تاروں سے بنے ہوئے لباس مردوں کے لئے حرام ہیں،خواہ ظاہرہوں یاپنہاں ہوں ،اگرکسی کااندرونی لباس مثلابنیان وغیرہ سونے سے بناہواوروہ دکھائی نہ دیتاہوتوتب بھی نمازباطل ہے یعنی معیارسوناپہنناہے خواہ وہ دکھائی دیتاہویانہعن ابی عبدالله(ع قال:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لامیرالمومنین (ع:لاتختم بالذهب فانّه زینتک فی الآخرة ۔(۱)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)امیرالمومنین علی ابن ابی طالب +سے فرماتے ہیں :سونے کی انگوٹھی نہ پہنناکیونکہ یہ تمھارے لئے آخرت کی زینت ہے۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:الحدید انه حلیة اهل النار ، والذهب حلیة اهل الجنة ، وجعل الله الذهب فی الدنیازینة النساء فحرم علی الرجال لبسه والصلاة فیه . امام صادق فرماتے ہیں:لوہااہل جہنم کازیورہے اور سونااہل بہشت کازیورہے اورخداوندعالم نے دنیامیں سونے کوعورت کازیورقراردیاہے اورمردکے لئے سوناپہننااوراس میں نمازپڑھنا حرام ہے ۔(۲)
نمازی کے لئے مستحب ہے کہ نمازپڑھتے وقت تحت الحنک کے ساتھ سر پر عمامہ لگائے ،دوش پرعباڈآلے خصوصاً پیش نماز،پاکیزہ اورسفیدلباس پہنے، عطر و خوشبو لگائے ،عقیق کی انگوٹھی پہنے۔
____________________
۱)کافی /ج ۶/ص ۴۶٨
۲)تہذیب الاحکام/ج ١/ص ٢٢٧
مستحب ہے کہ جب انسان اپنے گھرسے نمازکے لئے مسجدکی طرف روانہ ہو تو بہترین لباس پہن کراورعطر وخوشبو لگاکرمسجدمیں آئے اوراگرگھرمیں بھی نمازپڑھے توخشبولگاکرنمازپڑھے،عورت کے لئے مستحب ہے کہ جب گھرمیں نمازاداکرے توعطرخوشبوکااستعمال کرے ،عطرلگاکرنماز پڑھنے کے بارے میں روایت میں آیاہے:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم رکعتان علیٰ اثرطیب افضل من سبعین رکعة لیست کذلک (۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:خوشبوکے ساتھ دورکعت نمازپڑھناان ستررکعت نمازوں سے افضل ہیں جوعطرلگائے بغیر پڑھی جاتی ہیں ۔قال الرضاعلیه السلام :کان یعرف موضع جعفرعلیه السلام فی المسجد بطیب ریحه وموضع سجوده ۔(۲)
حضرت امام صادق کے بارے میں امام رضا فرماتے ہیں:کہ امام صادق کی محل نمازوسجدہ کومسجدمیں ان کی خوشبوکے ذریعہ پہچان لیاجاتاتھا۔حسین دیلمی نے اپنی کتاب“ہزارویک نکتہ دربارہ ”میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام زین العابدین جب بھی نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تھے اور محل نمازپر کھڑے ہوتے تھے تو ) اپنے آپ کو اس عطرسے جو آپ کے مصلّے میں رکھا رہتا تھا معُطّرکر تے تھے۔(۳)
حمام ، گِل،نمک زارزمین،کسی بیٹھے یاکھڑے ہوئے انسان کے مقابلے میں،کھلے ہوئے دروازے کے سامنے ،شاہروں اورسڑکوں پر،گلیوں میں جبکہ آنے جانے والے کے لئے باعث زحمت نہ ہو، اگرباعث زحمت ہوتوحرام ہے،آگ اورچراغ کے سامنے ،باورچی خانہ میں،جہاں اگ کی بھٹی ہو، کنویں کے سامنے ،ایسے گڑھے کے سامنے کہ جہاں حمام ولیٹرین وغیرہ کاپانی پہنچتاہے ،ذی روح کی تصویریامجمسہ کے سامنے،جس کمرہ میں مجنب موجودہو، قبرکے اوپریاقبرکے سامنے یاقبرستان میں نمازپڑھنامکروہ ہے۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:عشرة مواضع لایصلی فیها:الطین والماء والحمام والقبورومسان الطریق وقری النمل ومعاطن الابل ومجری الماء والسبخ والثلج .
امام صادق فرماتے ہیں:دس مقام ایسے کہ جہاں نمازنہ پڑھی جائے : گِل،پانی،حمام،قبور، گذرگاہ ،چیونٹی خانہ ،اونٹوں کی جگہ ،(گندے )پانی کی نالی یاگڑھے کے پاس ،نمک زارزمین پر،برف پر۔(۴)
____________________
. ١)آثارالصادقین /ج ١٢ /ص ١٠٢
٢)مکارم الاخلاق /ص ۴٢
. ٣)ہزارویک نکتہ دربارہ نماز/ش ٢٢٣ /ص ۶٩
۴)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۴۴١
عن معلی بن خنیس قال:سئلت اباعبدالله علیه السلام عن الصلاة علی ظهرالطریق؟فقال:لا،اجت نبواالطریق .
معلی بن خنیس سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے راستے پر نمازکے پڑھنے کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے فرمایا:صحیح نہیں ہے ،او رفرمایا:راستے پرنمازپڑھنے سے پرہیزکرو۔(۱)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:لاتصل فی بیت فیه خمرولامسکرلان الملائکة لاتدخله . امام صادق فرماتے ہیں:کسی ایسے گھرنمازنہ پڑھوکہ جس میں شراب یاکوئی مسکرشے مٔوجودہوکیونکہ ایسے گھروں میں ملائکہ داخل نہیں ہوتے ہیں۔(۲)
____________________
.۱) وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۴۴۶
. ۲)استبصار/ج ١/ص ١٨٩
مسجد
مسجدکی اہمیت
مسجدروئے زمین پرالله کاگھرہے اورزمین کی افضل ترین جگہ ہے ،اہل معارف کی جائیگاہ اورمحل عبادت ہے،صدراسلام سے لے کرآج تک مسجدایک دینی والہٰی مرکزثابت ہوئی ہے،مسجد مسلمانوں کے درمیان اتحادپیداکرنے کامحورہے اوران کے لئے بہترین پناہگاہ بھی ہے، مسجدخانہ ہدایت و تربیت ہے مسجدمومنین کے دلوں کوآباداورروحوں کوشادکرتی ہے اورمسجدایک ایساراستہ ہے جوانسان کوبہشت اورصراط مستقیم کی ہدایت کرتاہے ۔ دین اسلام میں مسجد ایک خاص احترام ومقام رکھتی ہے ، کسی بھی انسان کو اس کی بے حرمتی کرنے کا حق نہیں ہے اور اسکا احترام کرنا ہر انسان پر واجب ہے ۔ ا بو بصیر سے مروی ہے: میں نے حضرت امام صادق سے سوال کیا کہ: مسجدوں کی تعظیم واحترام کاحکم کیوں دیاگیاہے ؟آپ (علیه السلام)نے فرمایا:
انّماامربتعظیم المساجدلانّهابیوت اللهفی الارض ۔(۱)
مسجدوں کے احترام کا حکم اس لئے صادرہواہے کیونکہ مسجدیں زمین پر خداکا گھر ہیں اور خدا کے گھر کا احترام ضروری ہے۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اپنے ایک طولانی خطبہ اورگفتگومیں ارشادفرماتے ہیں:من مشیٰ الی مسجد من مساجدالله فله بکل خطوة خطاهاحتی یرجع الی منزله عشرحسنات ،ومحی عنه عشرسیئات ، ورفع له عشردرجات.
ہروہ جوشخص کسی مسجدخداکی جانب قدم اٹھائے تواس کے گھرواپسی تک ہراٹھنے والے قدم پردس نیکیان درج لکھی جاتی ہیں اوردس برائیاں اس نامہ أعمال سے محوکردی جاتی ہیں اوردس درجہ اس کامقام بلندہوجاتاہے۔(۲)
قال النبی صلی الله علیه وآله:من کان القرآن حدیثه والمسجدبیته بنی الله له بیتافی الجنة.
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس شخص کی گفتگوقرآن کریم ہواورمسجداس کاگھرہوتوخداوندعالم اس کے لئے جنت میں ایک عالیشان گھرتعمیرکرتاہے۔(۳)
____________________
. ١)علل الشرئع /ج ٢/ص ٣١٨
۲). ثواب الاعمال/ص ٢٩١
۳). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۵۵
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من مشی الی المسجد لم یضع رجلاعلی رطب ولایابسالّاسبحت له الارض الی الارض السابعة.
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص مسجد کی طرف قدم اٹھائے اب وہ زمین کی جس خشک وترشے بٔھی قدم رکھے توساتوںزمین تک ہرزمین اس کے لئے تسبیح کرے گی۔(۱)
عن الصادق علیه السلام:ثلٰثة یشکون الی الله عزوجل مسجدخراب لایصلی فیه اهله وعالم بین الجهال ومصحف معلق قدوقع علیه غبارلایقرء فیه ۔(۲)
امام جعفر صادق فرماتے ہیں : تین چیزیں الله تبارک وتعالی کی بار گاہ میں شکوہ کرتی ہیں:
١۔ویران مسجدکہ جسے بستی کے لوگ آباد نہیں کر تے ہیں اور اس میں نماز نہیں پڑھتے ہیں
٢۔وہ عالم دین جو جاہلوں کے درمیان رہتا ہے اور وہ لوگ اس کے علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں
٣۔ وہ قرآن جو کسی گھر میں گرد وغبارمیں آلودہ بالا ئے تاق رکھا ہوا ہے اور اہل خانہ میں سے کوئی شخص اس کی تلاوت نہیں کرتا ہے۔
قال النبی صلی الله علیه وآله وسلم :من سمع النداء فی المسجد فخرج من غیرعلة فهومنافق الّاان یریدالرجوع الیه ۔(۳)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: منافق ہے وہ شخص جو مسجد میں حاضر ہے اور اذان کی آواز سن کر بغیر کسی مجبوری کے نماز نہ پڑھے اور مسجد سے خارج ہو جائے مگر یہ کہ وہ دوبارہ مسجد میں پلٹ آئے۔
____________________
۱) تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۵۵
. ۲)سفینة البحار/ج ١/ص ۶٠٠
. ۳)امالی(شیخ صدوق )/ص ۵٩١
قال رسول الله صلی الله علیه وآله :ان اللهجل جلاله اذارا یٔ اهل قریة قداسرفوافی المعاصی وفیهاثلاثة نفرمن المومنین ناداهم جل جلاله وتقدست اسمائه:یااهل معصیتی !لولامَن فیکم مِن المومنین المتحابّین بجلالی العامرین بصلواتهم ارضی ومساجدی والمستغفرین بالاسحارخوفاًمِنّی ،لَاَنزَلْتُ عَذَابِیْ ثُمَّ لااُبَالِی ۔(۱)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب خداوندعالم کسی بستی کے لوگوں کوگناہوں میں آلودہ دیکھتاہے او راس بستی میں فقط تین افرادمومن باقی رہ جاتے ہیں تواس وقت خدائے عزوجل ان اہل بستی سے کہتاہے:
اے گنا ہگا ر انسانو ! اگرتمھارے درمیان وہ اہل ایمان جومیری جلالت کے واسطے سے ایک دوسرے کودوست رکھتے ہیں،اورمیری زمین ومساجدکواپنی نمازوں کے ذریعہ آبادرکھتے ہیں،اورمیرے خوف سے سحرامیں استغفارکرتے ہیں نہ ہوتے تومیں کسی چیزکی پرواہ کئے بغیرعذاب نازل کردیتا۔
وہ لوگ جومسجدکے ہمسایہ ہیں مگراپنی نمازوں کومسجدمیں ادانہیں کرتے ہیں ان کے بارے میں چندروایت ذکرہیں:
قال النبی صلی الله علیه وآله:لاصلاة لجارالمسجدالّافی المسجده ۔(۲) .
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:مسجد کے ہمسایو ں کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ اپنی نمازوں کو اپنی مسجد میں اداکریں۔
عن الصادق علیه السلام انه قال::شکت المساجدالی الله الّذین لایشهدونهامن جیرانهافاوحی الله الیهاوعزتی جلالی لاقبلت لهم صلوة واحدة ولااظهرت لهم فی الناس عدالة ولانالتهم رحمتی ولاجاورنی فی الجنة ۔(۳)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں: مسجد وں نے ان لوگوں کے بارے میں جو اس کے ہمسایہ ہیں اور بغیر کسی مجبوری کے نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہیں ہو تے ہیں درگاہ خداوندی میں شکایت کی ،خدا وندعالم نے ان پر الہام کیا اور فرمایا : میں اپنے جلال وعزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، میں ایسے لوگوں کی ایک بھی نماز قبول نہیں کر تا ہوں اور ان کو معا شرے میں اور نیک اورعادل آدمی کے نام سے شہرت وعزت نہیں دیتا ہوں اور وہ میری رحمت سے بہرہ مندنہ ہونگے اوربہشت میں میرے جوار میں جگہ نہیں پائیں گے ۔
____________________
. ۱)علل الشرایع /ج ٢/ص ۵٢٢
۲)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ۴٧٨
. ۳)سفیتة البحار/ج ١/ص ۶٠٠
عن ابی جعفرعلیه السلام انه قال:لاصلاة لمن لایشهدالصلاة من جیران المسجد الّامریض ا ؤمشغول.
امام محمدباقر فرماتے ہیں:ہروہ مسجدکاہمسایہ جونمازجماعت میں شریک نہیں ہوتاہے اس کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے مگریہ کہ وہ شخص مریض یاکوئی عذرموجہ رکھتاہو۔(۱)
مسجدکوآبادرکھنااورکسی نئی مسجدکی تعمیرکرنابہت زیادہ ثواب ہے،اگرکوئی مسجدگرجائے تواس کی مرمت کرنابھی مستحب ہے اوربہت زیادہ ثواب رکھتاہے، اگر مسجدچھوٹی ہے تواس کی توسیع کے لئے خراب کرکے دوبارہ وسیع مسجدبنانابھی مستحب ہے( اِنَّمَایَعْمُرُمَسَاْجِدَاللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الآخِروَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلّااللّٰهَ فَعَسَیٰ اُوْلٰئِکَ اَنْ یَکُوْنُوامِنَ الْمُهْتَدِیْنَ ) .(۲)
الله کی مسجدوں کوصرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہیں اورجنھوں نے نمازقائم کی ہے اورزکات اداکی ہے اور خداکے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو عنقریب ہدایت یافتہ لوگوں میں شمارکئے جائیں گے۔
عن ابی عبیدة الحذاء قال سمعت اباعبدالله علیه السلام یقول :من بنیٰ مسجدا بنی اللهله بیتاًفی الجنة ۔(۳)
ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے سناہے:ہروہ شخص جو کسی مسجدکی بنیادرکھے توخداوندعالم اسکے لئے بہشت میں ایک گھربنادیتاہے ۔
تاریخ میں لکھاہے کہ جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے سب سے پہلے ایک مسجدکی بنیادرکھی (جو مسجد النبی کے نام سے شہرت رکھتی ہے )اوراس کے تعمیرہونے کے بعدحضرت بلال /نے اس میں بلندآوازسے لوگوں کونمازکی طرف دعوت دینے کاحکم دیا ۔
____________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٧۶
. ٢)سورہ تٔوبہ/آیت ١٨
۳)تہذیب الاحکام /ج ٣/ص ٢۶۴
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:اذادخل المهدی علیه السلام الکوفة قال الناس: یاابن رسول الله(ص انّ الصلاة معک تضاهی الصلاة خلف رسول الله(ص، وهذا المسجد لایسعنا فیخرج الی العزی فیخط مسجدا له الف باب یسع الناس ویبعث فیجری خلف قبر الحسین علیه السلام نهرایجری العزی حتی فی النجف.
امام صادق فرماتے ہیں:جب امام زمانہ (ظہورکے بعد)کوفہ میں واردہونگے تووہاں کے لوگ آپ سے نماز پڑھانے کی فرمائش کریں گے ،اورکہیں گے آپ پیچھے نمازپڑھنارسول خدا(ص)کے پیچھے نمازپڑھنے کے مانندہے مگریہ مسجد بہت چھوٹی ہے پ،یہ سن کرامام (علیه السلام) عزیٰ کے جانب حرکت کریں گے اورزمین ایک خط کھینچ کرمسجدکاحصاربنائیں گے اوراس مسجدکے ہزاردروازے ہونگے جس میں تمام (شیعہ)لوگوں کی گنجائش کی جگہ ہوگی اورسب لوگ اس میں حاضرہوجائیں،امام حسینکی قبرمطہرکی پشت سے ایک نہرجاری ہوگی جوعزی تک پہنچے گی یہاں تک کہ شہرنجف میں بھی جار ی ہوگی۔(۱)
.عن ابی عبدالله علیه السلام قال:ان قائمنااذاقام یبنی له فی ظهرالکوفة مسجدله الف باب.
امام صادق فرماتے ہیں:جب امام زماں قیام کریں گے توپشت کوفہ میں ایک مسجدتعمیرکریں گے جسکے ہزاردروازے ہونگے ۔(۲)
مساجدفضیلت کے اعتبارسے
سنت مو کٔدہ ہے کہ انسان اپنی نمازوں کومسجدمیں اداکرے اورمسجدوں میں سب سے افضل مسجدالحرام ہے جس میں نمازپڑھناسوہزارثواب رکھتاہے اس کے بعدمسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)ہے اس کے مسجدکوفہ اس کے بعدبیت المقدس اس کے بعدہرشہرکی جامع مسجداس کے بعدمحلہ اوربازار کی مسجدہے اورجیسے ہی مسجدمیں داخل ہوتودورکعت نمازتحیت مسجدپڑھے۔
عن النبی صلی الله علیه انه قال:اذادخل احدکم المسجد فلایجلسحتی یصلی رکعتین
رسول اسلام (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:تم میں جب بھی کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تومحل نمازپر بیٹھنے سے پہلے دورکعت نماز(تحیت مسجد) پڑھے ۔(۳)
____________________
۱) بحارالانوار/ج ٩٧ /ص ٣٨۵
۲). بحارالانوار/ج ٩٧ /ص ٣٨۵
۳) المبسوط/ج ٨/ص ٩٠
مسجدالحرام میں نمازپڑھنے کاثواب
عن ابی جعفرعلیه السلام انه قال:من صلی فی المسجد الحرام صلاة مکتوبة قبل اللهبهامنه کل صلاة صلاهامنذیوم وجبت علیه الصلاة وکل صلاة یصلیهاالی ان یموت .
امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص مسجدالحرام میں ایک واجب کواداکرے توخداوندعالم اس کی ان تمام نمازوں کوجواس نے واجب ہونے کے بعدسے اب تک انجام دی ہیں قبول کرتاہے اوران تمام کوبھی قبول کرلیتاہے جووہ آئندہ مرتے دم تک انجام دے گا۔(۱)
قال محمدبن علی الباقرعلیه السلام: صلاة فی المسجدالحرام ا فٔضل من مئة الف صلاة فی غیره من المساجد ۔(۲)
امام باقر فرماتے ہیں:مسجدالحرام میں ایک نمازپڑھنادوسری مسجدوں میں سوہزار نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔
مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)میں نمازپڑھنے کاثواب
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:صلاة فی مسجدی تعدل عندالله عشرة آلاف فی غیره من المساجدالّامسجدالحرام فانّ الصلاة فیه تعدل ما ئٔة ا لٔف صلاة ۔
( ١ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:میری مسجد(مسجدالنبی)میں ایک نمازپڑھنامسجدالحرام کے علاوہ دوسری مساجدمیں ایک ہزارنمازپڑھنے سے افضل ہے کیونکہ مسجدالحرام میں ایک نمازپڑھنادوسری مساجدمیں سوہزارنمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔(۳)
قال ابوعبدالله علیه السلام : صلاة فی مسجد النبی صلی الله علیه وآله تعدل بعشرة آلاف صلاة .
امام صادق فرماتے ہیں:مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)میں ایک نمازپڑھناہزارنمازوں کے برابرہے۔(۴)
____________________
۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٢٨
. ۲) ثواب الاعمال /ص ٣٠
۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٢٨
۴). کافی/ج ۴/ص ۵۵۶
مسجدکوفہ میں نمازپڑھنے کاثواب
مسجدکوفہ وہ مسجدہے کہ جس ایک ہزارانبیا ء اورایک ہزاراوصیاء نے نمازیں پڑھیں ہیں ،وہ ت نوربھی اسی مسجدمیں ہے کہ جس سے حضرت نوح کے زمانے میں پانی کاچشمہ جاری ہوااورپوری دنیامیں پانی ہی پانی ہوگیاتھا،یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں سے کشتی نوح (علیه السلام)نے حرکت کی اوراس میں سوارہونے والے لوگوں نے نجات پائی،یہ وہ مسجدہے کہ جسے معصومین نے جنت کاایک باغ قراردیاہے ،یہ وہ مسجدہے کہ جس میں امام اول علی ابن ابی طالب کو شہیدکیاگیاہے ،اس مسجدمیں نمازپڑھنے کے بارے میں روایت میں ایاہے:
عن محمدبن سنان قال: سمعت اباالحسن الرضاعلیه السلام یقول:الصلاة فی مسجدالکوفة فرداا فٔضل من سبعین صلاة فی غیرها جماعة ۔
محمدبن سنان سے مروی کہ میں نے امام علی رضا کویہ فرماتے ہوئے سناہے: مسجدکوفہ میں فرادیٰ نمازپڑھنا(بھی)دوسری مساجدمیں جماعت سے سترنمازیں پڑھنے سے افضل ہے ۔(۱)
عن المفضل بن عمرعن ابی عبدالله علیه السلام قال:صلاة فی مسجدالکوفة تعدل الف صلاة فی غیره من المساجد ۔
مفضل ابن عمر سے مروی کہ امام صادق فرماتے ہیں: مسجدکوفہ میں ایک نمازپڑھنادوسری مساجدمیں جماعت سے پڑھنے سے افضل ہے ۔(۲)
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:صلاة فی مسجدالکوفة،الفریضة تعدل حجة مقبولة والتطوع فیه تعدل عمرة مقبولة
امام محمدباقر فرماتے ہیں:مسجدکوفہ میں ایک واجب نمازپڑھناایک حج مقبولہ کاثواب ہے اورایک مستحبی نمازپڑھناایک عمرہ مٔقبولہ کاثواب ہے۔(۳)
____________________
۱). بحارالانوار/ج ٨٠ /ص ٣٧٢
۲). ثواب الاعمال/ص ٣٠
.۳) کامل الزیارات/ص ٧١
امام صادق سے مروی ہے :حضرت علی مسجدکوفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص مسجدمیں داخل ہوااورکہا:“السلام علیک یاامیرالمومنین ورحمة الله وبرکاتہ ”امام علی (علیه السلام)نے اس کے سلام کے جواب دیا،اس کے بعداس شخص نے عرض کیا:اے میرے مولا! آپ پرقربان جاؤں،میں نے مسجدالاقصیٰ جانے کاارادہ کیاہے ،لہٰذامیں نے سوچاکہ آپ کو سلام اورخداحافظی کرلوں ،امام (علیه السلام) نے پوچھا:تم نے کس سبب سے وہاں جانے کاقصدکیاہے ؟جواب دیا:خداکافضل کرم ہے اوراس نے مجھے ات نی مال ودولت عطاکی ہے میںفلسطین جاکرواپسآسکتاہوں ،پسامام (علیه السلام)نے فرمایا:
فبع راحلتک وکلّ ذادک وصلّ فی هذاالمسجدفانّ الصلاة المکتوبة فیه مبرورةوالنافلة عمرة مبرورة ۔
تم اپنے گھوڑے اورزادسفرکوفروخت کردواوراس مسجدکوفہ میں نمازپڑھوکیونکہ اس مسجدمیں ایک واجب نمازاداکرناایک مقبولی حج کے برابرثواب رکھتاہے اورمستحبی نمازپڑھناایک مقبولی عمرہ کے برابرثواب رکھتاہے۔(۱)
قال النبی صلی الله علیه وآله:لمااسری بی مررت بموضع مسجدکوفة واناعلی البراق ومعی جبرئیل علیه السلام فقال:یامحمد!انزل فصل فی هذاالمکان ، قال: فنزلتُ فصلیتُ .
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب مجھے آسمانی معراج کے لئے لے جایاگیاتومیں براق پہ سوارتھااورجبرئیل (علیه السلام)بھی میرے ساتھ تھے ،جب ہم مسجدکوفہ کے اوپرپہنچے توجبرئیل (علیه السلام) نے مجھ سے کہا:اے محمد!زمین پراترجاؤاوراس جگہ پرنمازپڑھو،میںزمین پرنازل ہوااور(مسجدکوفہ میں)نمازپڑھی۔(۲)
____________________
۱). کافی/ج ١/ص ۴٩١
۲). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٣١
حرم آئمہ اطہار میں نمازپڑھنے کاثواب
آئمہ اطہار کے حرم میں نمازپڑھنابہت ہی زیادہ فضیلت رکھتاہے ،یہ وہ مقامات ہیں کہ جہاں نمازپڑھنے کابہت زیاد ہ ثواب ہے ، دعائیں مستجاب ہوتی ہیں،رویات میں ایاہے کہ امام علی کے حرم میں ایک نمازپڑھنادولاکھ نمازوں کے برابرثواب رکھتاہے۔ حرم آئمہ اطہار میں نمازپڑھنے اوردعاکرنے کے بارے میں دعاکے باب میں ذکرکریں گے۔
مسجدقبااورمسجدخیف میں نمازپڑھنے کاثواب
مدینہ میں ایک مسجدقباہے کہ جس کی بنیادروزاول تقویٰ وپرہیزگاری پررکھی گئی ہے ، مسجدفضیح جسے مسجدردّشمس بھی کہاجاتاہے اسی مسجدکے پاس ہے مسجدقبامیں نمازپڑھنے کے بارے میں روایت میں ایاہے:
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:من اتیٰ مسجدی قبافصلی فیه رکعتین رجع بعمرة
. نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص میری مسجدمسجدقبامیں دورکعت نمازپڑھے وہ ایک عمرہ کے برابرثواب لے کرواپسہوتاہے ۔(۱)
مسجدخیف وہ مسجدہے کہ جومنی میں واقع ہے اوراس مسجدمیں ایک ہزارانبیاء نے نمازیں پڑھی ہیں اوربعض روایت کے مطابق اس میں سات سوانبیائے الٰہی نے نمازپڑھی ہیں معاویہ ابن عمارسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے معلوم کیا:اس مسجدکومسجدکہنے وجہ کیاہے ؟
امام (علیه السلام) نے فرمایا:لانه مرتفع عن الوادی وکل ماارتفع عن الوادی سمی خیفا . کیونکہ یہ مسجدوادی منی کی بلندجگہ ہے اوروادی میں جوچیزبلندہوتی ہے اسے خیف کہتے ہیں(۲)
عن ابوجمزة الثمالی عن ابی جعفرعلیه السلام انه قال:من فی مسجد الخیف بمنی مئة رکعة قبل ان یخرج منه عدلت سبعین عاما ومن سبح فیه مئة تسبیحة کتب له کاجرعتق رقبة
. ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص مسجدخیف میں منی میں اس سے باہرآنے سے پہلےسورکعت نمازپڑھے اس کی وہ نمازسترسال کی عبادت کے برابرثواب رکھتی ہے اورجوشخص اس میں سومرتبہ تسبیح پروردگارکرے اس کے لئے راہ خدامیں ایک غلام آذارکرنے کاثواب لکھاجاتاہے۔(۳)
____________________
۱) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٢٩
۲). علل الشرائع /ج ٢/ص ۴٣۶
۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٣٠
مسجدسہلہ میں نمازپڑھنے ثواب
مسجدسہلہ کوفہ میں واقع ہے ،جس میں حضرت ابراہیماورحضرت ادریس کاگھرہے ،روایت میں ایاہے کہ وہ سبزپتھرکہ جس پرتمام انبیائے کرام کی تصویربنی ہے اسی مسجدمیں واقع ہے اوروہ پاک پتھربھی اسی مسجدمیں ہے کہ جس کے نیچے کی خاک سے خداوندعالم نے انبیاء کوخلق کیاہے۔
عن الصادق علیه السلام قال:اذادخلت الکوفة فات مسجدالسهلة فضل فیه واسئل الله حاجتک لدینک ودنیاک فانّ مسجدالسهلة بیت ادریس النبی علیه السلام الذی یخیط فیه ویصلی فیه ومن دعالله فیه بمااحبّ قضی له حوائجه ورفعه یوم القیامة مکاناعلیاالی درجة ادریس علیه السلام واجیرمن الدنیاومکائد اعدائه.
امام صادق فرماتے ہیں:جب آپ شہرکوفہ میں داخل ہوں اورمسجدسہلہ کادیدارکریں تومسجدمیں ضرورجائیں اوراس میں مقامات مقدسہ پرنمازپڑھیں اورالله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی دینی اوردنیاوی مشکلات کوحل کرنے کی دعاکریں،کیونکہ مسجدسہلہ حضرت ادریس کاگھرہے جسمیں خیاطی کرتے تھے اورنمازبھی پڑھتے تھےجوشخص اس مسجدمیں الله تعالیٰ کی بارگاہ میں ہراس چیزکے بارے میں جسے وہ دوست رکھتاہے دعاکرے تواس کی وہ حاجت پوری ہوگی اورروزقیامت حضرت ادریس کے برابرمیں ایک بلندمقام سے برخوردارہوگااوراس مسجدمیں عبادت کرنے اورنیازمندی کااظہارکرنے کی وجہ سے دنیاوی مشکلیں اوردشمنوں کے شرسے خداکی امان میں رہے گا۔(۱)
روی ان الصادق علیه السلام انه قال:مامن مکروب یاتی مسجدسهلة فیصلی فیه رکعتین بین العشائین ویدعوالله عزوجل الّافرج الله کربته.
امام صادق فرماتے ہیں:ہروہ شخص جوکسی بھی مشکل میں گرفتارہو مسجدسہلہ میں ائے اورنمازمغرب وعشاکے میں درمیان دورکعت نمازپڑھ کرخدائے عزوجل سے دعاکرے توخداوندعالم اس کی پریشانی دورکردے گا۔(۲)
قال علی بن الحسین علیهماالسلام :من صل فی مسجدالسهلة رکعتین ، زادالله فی عمره سنتین .
امام زین العابدین فرماتے ہیں:جوشخص مسجدسہلہ میں دورکعت نمازپڑھے ،خداوندعالم اس کی عمرمیں دوسال کااضافہ کردیتاہے۔(۳)
____________________
۱) بحارالانوار/ج ١١ /ص ٢٨٠
۲). تہذیب الاحکام/ج ۶/ص ٣٨
۳). مستدرک الوسائل /ج ٣/ص ۴١٧
مسجدبراثامیں نماپڑھنے کاثواب
مسجدبراثاعراق کے شہربغدامیں واقع ہے ،اس مسجدکی چندفضیلت یہ ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ کی زمین ہے ،جب حضرت علی جنگ نہروان سے واپس ہورہے تھے اوراس جگہ پرپہنچے توآپ نے یہاں پرنمازپڑھی اورحسن وحسین نے بھی اس مسجدمیں نمازپڑھی ہے ،اس مسجدمیں ایک پتھرہے کہ جس پرحضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کوقراردیاتھا،اسی جگہ پرحضرت مریم کے لئے چشمہ حاری ہواتھا،یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت علی کے لئے سورج پلٹااورآپ نے نمازعصرکواس کے وقت میں اداکیا، اورکہاجاتاہے کہ حضرت یوشع اسی مسجدمیں دفن ہیں(۱)
بیت المقدس ، مسجدجامع ،محله وبازارکی مسجدمیں نمازپڑهنے کاثواب
عن السکونی عن جعفربن محمدعن آبائه عن علی علیهم السلام قال:صلاة فی البیت المقدس تعدل ا لٔف صلاة ، وصلاة فی مسجدالاعظم مائة صلاة ، وصلاة فی المسجدالقبیلة خمس وعشرون صلاة ، وصلاة فی مسجدالسوق اثنتاعشرة صلاة ، وصلاة الرجل فی بیته وحده صلاة واحد ۔
حضرت علی فرماتے ہیں:بیت المقدس میں ایک نمازپڑھناہزارنمازوں کے برابرہے اورشہرکی جامع مسجد میں ایک نمازپڑھناسونمازوں کے برابرہے اورمحلہ کی مسجدمیں ایک نمازپڑھنا پچیس نمازوں کے برابرہے اوربازارکی مسجدمیں ایک نمازپڑھنابارہ نمازوں کے بابرہے اورگھرمیں ایک نمازپڑھناایک ہی نمازکاثواب رکھتاہے ۔(۲)
مسجدکے میں مختلف حصوں میں نمازپڑھنے کی وجہ
جب انسان مسجدمیں جائے اوراپنی نمازکی جگہ کوبدلنامستحب ہے یعنی دوسری کودوسری پرپڑھے
عن الصادق جعفربن محمد علیهما السلام انّه قال:علیکم بِاتْیَان الْمساجد فانّهابیوت الله فی الارض،مَن اَتاهامتطهراًطَهره الله مِن ذنوبه،وکتب من زوّارهِ، فاکثروفیهامن الصلاة والدعاء وصلوا المساجدفی بقاع المختلفة فان کل بقعة تشهد للمصلی علیهایوم القیامة تم مسجد میں حاضر ہوا کروکیونکہ مسجد یں زمین پر خدا کا گھر ہیں پس جو شخص طہارت کے ساتھ مسجدمیں داخل ہو تا ہے خدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کا نام زائرین خدا میں لکھاجاتاہے پس تم مسجدمیں بہت زیادہ نمازیں پڑھاکرواوردعائیں کرواورمسجدمیں مختلف جگہوں پرنمازپڑھاکروکیونکہ مسجدکاہرقطعہ روزقیامت اپنے اوپرنمازپڑھنے والے کے لئے نمازکی گواہی دے گا(۳)
____________________
.۱) رہنمائے زائرین کربلا/ص ٢۵---.۲) ثواب الاعمال /ص ٣٠
.۳)امالی(شیخ صدوق )/ص ۴۴٠
مسجدمیں داخل ہوتے ہوئے دائیں قدم رکھنے کی وجہ
مستحب ہے کہ مسجدمیں داخل ہوتے وقت پہلے داہناقدم اندررکھیں اورمسجدسے نکلتے وقت بایاں قدم باہررکھیں کیونکہ داہناقدم بائیں قدم سے اشرف ہوتاہے،اورتاکہ خداوندعالم اسے اصحاب یمین میں قراردے اورقدم رکھتے وقت بسم الله کہیں ،حمدوثنائے الٰہی کریں محمدوآل محمد علیہم الصلاة والسلام پردرودبھیجیں اورخداسے اپنی حاجتوں کوطلب کریں
عن یونس عنهم علیهم السلام قال قال:الفضل فی دخول المسجد ان تبدا بٔرجلک الیمنی اذادخلت وبالیسری اذاخرجت .
یونس سے روایت ہے ،معصوم(علیه السلام) فرماتے ہیں:مسجدمیں داخل ہونے کے لئے بہترہے کہ آپ دائیں پیرسے داخل ہواکریں اوربائیں پیرسے باہرآیاکریں۔(۱)
روایت میں ایاہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)مسجدمیں داخل ہوتے تھے وقت “بسم الله اللہمّ صل علی محمدوآل محمد ، واغفرلی ذنوذبی وافتح لی ابواب رحمتک”اورمسجدسے کے باہرآتے وقت دروازے کے پاس کھڑے ہوکر“اللهمّ اغفرلی ذنوذبی وافتح لی ابواب فضلک ”کہتے تھے(۲)
اہل مدینہ کی ایک بزرگ شخصیت ابوحفص عطارسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے ہوئے سناہے :رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب بھی تم میں سے کوئی شخص نمازواجب پڑھے اورمسجدسے باہرآنے لگے تودروازہ میں کھڑے ہوکریہ دعاپڑھے:
اَللّٰهُمَّ دَعَوْت نی فَاَجَبْتُ دَعْوَتَکَ وَصَلَّیْتُ مَکْتُوْبَتَکَ وَانْتَشَرْتُ فِیْ اَرْضِکَ کَمَااَمَرْت نیْ فَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَمَلَ بِطَاعَتِکَ وَاجْت نابَ مَعْصِیَتِکَ وَالْکِفَافَ مِنَ الرِّزقِْ بِرَحْمَتِکَ .
ترجمہ:بارالٰہا!تونے مجھے دعوت دی ،پس میں نے تیری دعوت پرلبیک کہااورتیرے واجب کواداکیااورمیں تیرے فرمان کے مطابق تیری زمین پر(روزی کی تلاش میں)نکلا، پس میں تیرے فضل وکرم سے تجھ سے اپنے عمل میں تیری اطاعت کی درخواست کرتاہوں اورگناہ ومعصیت سے دوری چاہتاہوں اورتجھ سے تیری رحمت کے وسیلے سے رزق وروزی میں کفاف ) چاہتاہوں۔(۳)
____________________
۱) کافی/ج ٣/ص ٣٠٩
.۲) مستدرک الوسائل/ج ٣/ص ٣٩۴
. ۳)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۵١٧
مسجدکے صاف وتمیزرکھنے کی وجہ
مسجدمیں جھاڑولگانااوراس کی صفائی کرناسنت مو کٔدہ ہے اوراسے نجس کرناحرام ہے۔
مسجدمیںصفائی کرنے اوراس میں چراغ کے جلانے سے انسان کے دل میں نورانیت پیدا،خضوع وخشوع اورتقرب الٰہی ہوتی ہے اورلوگ اسے ایک اچھاانسان محسوب کرتے ہیں
قال رسول الله صلی الله صلی الله علیه وآله:من کنس فی المسجدیوم الخمیس لیلة الجمعة فاخرج منه التراب قدرمایذر فی العین غفرالله له ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص جمعرات کے دن شب جمعہ مسجدمیں جھاڑولگائے اورآنکھ میں سرمہ لگانے کے برابرگردوخاک کومسجدسے باہرنکالے توخداوندعالم اس کے گناہوں بخشدیتاہے ۔
حکایت کی گئی ہے کہ ایک مجوسی اپنی کمرپرمجوسی کمربندباندھے اورسرپرمجوسی ٹوپی لگائے ہوئے مسجدالحرام میں داخل ہوا،جب وہ خانہ کعبہ کے گردگھوم رہاتھاتواس نے دیکھاکہ دیوارکعبہ پرکسی کالعاب دہن لگاہواہے ،اس نے دیوارکعبہ سے لعاب دہن کوصاف کردیااورمسجدالحرام سے باہرنکل آیا،جیسے ہی وہ باہرآیاتوناگہان ہواکاایک تیزجھونکاآیااوراس کے سرپہ لگی ہوئی ٹوپی ہوامیں اڑھ گئی،اس نے اپنی ٹوپی کوہرچندپکڑنے کی کوشش کی مگروہ اس کے ہاتھ نہ آئی ،ناگاہ ہاتف غیبی سے ایک آوازاس کے کانوں سے ٹکرائی :جب تجھے ہمارے گھرپہ کسی کالعاب دہن لگے ہوئے دیکھناپسندنہیں ہے توہمیں بھی تیرے سرپرکفرکی نشانی لگے ہوئے دیکھناپسندنہیں ہے ،یہ بات سن کراس آتش پرست نے اپنی کمرسے وہ کمربندبھی کھول کرپھینک دیااورمسلمان ہوگیا۔(۲)
روایت میں آیاہے کہ ایک بوڑھی اوربےنوا عورت اس مسجد میں کہ جس میں پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نمازپڑھتے تھے ، جھاڑو لگا یا کرتی تھی اورمسجدکوصاف رکھتی تھی ،وہ عورت بہت ہی زیادہ غریب وفقیرتھی اورمسجد کے کسی ایک گوشہ میں سویا کرتی تھی ، نمازجماعت میں حاضرہونے والے لوگ اس کے لئے آب وغذا کا انتظام کرتے تھے ،ایک دن پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)اور مسجد میں داخل ہوئے اوراس ضعیفہ کو مسجد میں نہ پایاتومسجدموجودلوگوں سے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا،حاضرین مسجدنے جواب دیا:
____________________
١)ثواب الاعمال/ص ٣١
. ۲)نماز،حکایتہاوروایتہا/ص ١۴
یانبی الله! وہ عورت شب گذشتہ انتقال کر گئی ہے اور اسے دفن بھی کردیا گیا ہے ،پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) اس کے انتقال کی خبر سن کر بہت زیادہ غمگین ہوئے اور کہا : تم نے مجھ تک اس کے مرنے کی خبر کیوں نہیں پہنچائی تھی تم مجھے اس عورت کی قبرکاپتہ بتاؤ، ان لوگوں نے آنحضرت کو اس ضعیفہ کی قبرکاپتہ بتایااورنمازکے بعدچندلوگ آپ کے ہمراہ اس کی قبر پرپہنچے ،پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے اس کی قبرنمازپڑھنے کے لئے کہا،آنحضرت آگے کھڑے ہوئے اورآپ کے ساتھ آئے ہوئے لوگ صف باندھ کرپیچھے کھڑے ہوگئے اور سب نے پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کے ساتھ کھڑے ہوکرنمازمیت پڑھی اور ) اس کی مغفرت کے لئے دعائیں مانگی ۔(۱)
بدبودارچیزکھاکرمسجدمیں انے کی کراہیت کی وجہ
مسجدمیں کوئی ایسی چیزکھاکرآنایاساتھ میں لانامکروہ ہے کہ جس کی بوسے مومنین کواذیت پہنچے ، لہسن یاپیازوغیرہ کھاکرمسجدمیں آنے سے پرہیزکیاجائے ۔
عن محمدبن مسلم عن ابی جعفرعلیه السلام قال:سئلته عن اکل الثوم فقال:انمانهی رسول صلی الله علیه واله عنه لریحه فقال:من اکل هذه البقلة المنت نة فلایقرب مسجدنا .
محمدابن مسلم سے مروی ہے کہ میں امام باقر سے لہسن کے بارے میں معلوم کیاتوامام (علیه السلام) نے فرمایا: نبی اکرم (صلی الله علیه و آله):نے اس کی بدبوکی وجہ سے (اسے کھاکرمسجدمیں جانے کو)منع کیاہے اورفرمایاہے :جوشخص اس بدبودارگھاس کوکھائے تووہ ہمارے مسجدوں کے قریب بھی نہ آئے ۔(۲)
عن محمدبن سان قال:سئلت اباعبدالله علیه السلام عن اکل البصل الکراث، فقال:لاباس باکله مطبوخاوغیرمطبوخ ،ولکن ان اکل منه ماله اذافلایخرج الی المسجد کراهیة اذاه علی من یجالس .
محمدابن سان سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پیازاورترہ کے بارے میں سوال کیاتوامام (علیه السلام) نے فرمایا:ان دوچیزوں کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ پختہ استعمال کیاجائے یاغیرپختہ ، لیکن اگر انھیں کھاکرمسجدمیں نہ جائے کیونکہ اس کی بدبوسے مسجدمیں بیٹھے والوں کواذیت ہوتی ہے۔(۳)
____________________
. ١)ہزاریک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٧۵٨ /ص ٢٣٨
. ۲)علل الشرائع/ج ٢/ص ۵١٩
. ۳)علل الشرائع/ج ٢/ص ۵٢٠
مسجدوں کااس طرح بلندبناناکہ اس سے اطراف میں موجودگھروں کے اندرنی حصے نظرآتے ہوں مکروہ ہے
عن جعفربن محمد عن ابیه علیه السلام : انّ علیارا یٔ مسجدا بالکوفة قدشرف فقال:کانهابیعة ،وقال:ان المساجدلاتشرف تبنی جما.
روایت میں آیاہے کہ حضرت علی نے کوفہ میں ایک مسجدکو اطراف کے گھروں سے بلنددیکھاتوآپ نے فرمایا:یہ گرجاگھر(معبدیہودونصاریٰ )ہے اورفرمایا:مسجدوں کوبلندنہیں بناناچاہئے بلکہ انھیں پست وکوتاہ بنایاجائے۔(۱)
قبلہ
جب بندہ مومن اس چیزکاعلم رکھتاہے کہ خداوندعالم ہرجگہ اورہرسمت میں موجودہے،نہ اس کے رہنے کی کوئی جگہ مخصوص ہے وہ لامکان ہے ،ہم جدھربھی اپنا رخ رکھیں وہ ہمیں دیکھ رہاہے اورسن رہاہے پھرکیاضروری ہے کہ انسان کسی ایک مخصوص سمت رخ کرکے پروردگارکی عبادت کرے اوراس سے رازونیازکرے؟ صرف ظاہری طورسے جس طرف بھی کھڑے ہوکر نمازپڑھنے ،رکوع وسجودکرنے کوعبادت نہیں کہتے ہیں بلکہ باطنی طورسے بھی عبادت کرناضروری ہے یعنی دل کوپروردگارعالم کی طرف متوجہ کرناضروری ہے ،اگردل خداکی طرف نہ ہوتواسے عبادت نہیں کہتے ہیں
خداوندعالم یہی چاہتااوردوست رکھتاہے اوراسی چیرکاامرکرتاہے میرابندہ باطنی طورسے بھی میری ہی عبادت کرے اورظاہری طورکے علاوہ معنوی اعتبارسے بھی میری طرف توجہ رکھے اورغیرخداکاخیال بھی نہ کرے لہٰذاپروردگارنے زمین پرایک جگہ معین کیاتاکہ بندے اس طرف رخ کرکے اس کی عبادت کریں اوراپنے دل میںغیراخداکاارادہ بھی نہ کریں۔ خداوندعالم کی حمدوثنااورتسبیح وتقدیس کرنے میں کسی دوسرے کادل میں خیال بھی نہیں آناچاہئے بلکہ دل کوپروردگار کی طرف مائل رکھنازیادہ ضروری ہے ،کیونکہ اگرکتاب وسنت کی طرف رجوع کیاجائے توسب کاحکم یہی ہے کہ انسان رب دوجہاں کی عبادت کرنے میں اپنے دل کوبھی متوجہ رکھے بلکہ کتاب وسنت میں دل وباطن کوخداکی طرف متوجہ رکھنے کوزیادہ لازم قراردیاگیاہے
____________________
۱) علل الشرئع/ ٢/ص ٣٢٠
قرآن وسنت میں کسی چیزکوقبلہ قراردینے کاجوحکم دیاگیاہے اس کی اصلی وجہ دل وباطن کوخداکی طرف توجہ کرنامقصودہے، تاکہ انسان کے تمام اعضاوجوارح میںثبات پایاجائے کتاب وسنت میں ایک مخصوص سمت رخ کرکے نمازپڑھنے کاحکم دیا ہے کیونکہ جب دل ایک طرف رہے گاتواس میںزیادہ سکون واطمینان لیکن اگراعضاوجوارح مختلف جہت وسمت میں ہوں توپھردل بھی ایک طرف نہیں رہے گااوربارگاہ خداوندی میں حاضرنہیں رہ سکے گااورعبادت میں اصلی چیزدل وباطن کوخداکی طرف توجہ کرناہے اوروہ آیات وروایات کہ جن میں ذکروعبادت اورتقوائے الٰہی اختیارکرنے کی تاکیدکی گئی ہے وہ سب قلب کے متوجہ ہونے کولازم قراردیتی ہیں۔
جس سمت رخ کرکے تمام مسلمان اپنی نمازوں اورعبادتوں کوانجام دیتے ہیں ،اورجس کی طرف اپنے دلوں کومتوجہ کرتے ہیں اسے قبلہ کہاجاتاہے اسی لئے کعبہ کوقبلہ کہاجاتاہے کیونکہ تمام مسلمان اپنی نمازوعبادت کواسی کی سمت انجام دیتے ہیں خانہ کعبہ مکہ مکرمہ میں واقع ہے جوپوری دنیاتمام مسلمانوں کا مرکزاورقبلہ ہے خانہ کعبہ کے بارے میں چند اہم نکات وسوال قابل ذکرہیں:
١۔خانہ کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے؟
اس بارے میں روایت میں آیاہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں ائی اورانھوں نے آنحضرتسے چندسوال کئے ،ان میں سے ایک یہودی نے معلوم کیا:کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے ؟نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:لانّهاوسط الدنیا ۔ کیونکہ کعبہ دنیاکے درمیان میں واقع ہے ۔(۱)
٢۔خانہ کعبہ کے چارگوشہ کیوں ہیں؟
یہودی نے بنی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے معلوم کیا:خانہ کعبہ کوچارگوشہ بنائے جانے کی وجہ کیاہے؟
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:کلمات اربعہ(سبحان الله ، والحمدلله ، ولااله الّالله ، والله اکبر )کی وجہ سے ۔(۲)
____________________
۱). امالی (شیخ صدوق )/ص ٢۵۵
۲). امالی (شیخ صدوق )/ص ٢۵۵
روایت میں آیاہے کہ کسی نے امام صادق سے معلوم کیا:کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے ؟آپ نے فرمایا؟کیونکہ کعبہ کے چارگوشہ ہیں،اس نے کہا:کعبہ کے چارگوشہ بنائے جانے کی وجہ کیاہے ؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ کعبہ بیت المعمور کے مقابل میں ہے اوراس کے چارگوشہ (لہٰذاکعبہ کے بھی چارگوشہ ہیں)اس نے معلوم کیا:بیت المعورکے چارگوشہ کیوں ہیں؟فرمایا:کیونکہ وہ عرش کے مقابل میں ہیں اوراس کے چارگوشہ ہیں (لہٰذابیت المعمور کے بھی چارگوشہ ہیں)روای نے پوچھا:عرش کے چارگوشہ کیوں ہیں؟فرمایا:کیوں وہ کلمات کہ جن پراسلام کی بنیادرکھی گئی ہے وہ چارہیں جوکہ یہ ہیں:
سبحان الله ، والحمدلله ، ولااله الّالله ، والله اکبر .(۱)
٣۔خانہ کعبہ کو“بیت الله الحرام ”کیوں کہاجاتاہے؟
حسین بن ولیدنے حنان سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ:میں نے امام صادق سے معلوم کیا:خانہ کعبہ کو“بیت الله الحرام ”کیوں کہاجاتاہے ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ اس میں مشرکوں کاداخل ہوناحرام ہے اس لئے کعبہ کو“بیت الله الحرام” کہاجاتاہے
۴ ۔خانہ کعبہ کوعتیق کیوں کہاجاتاہے ؟
ابوخدیجہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے معلوم کیا:خانہ کعبہ کوعتیق کیوں کہاجاتاہے ؟ آپ نے فرمایا:کعبہ اس لئے عتیق کہاجاتاہے کہ یہ جگہ سیلاب میں عرق ہونے سے آزاداورمحفوظ ہے (جب طوفان نوح (علیه السلام) آیاتھاتواسوقت بھی کعبہ غرق نہیں ہواتھااورنوح نے کشتی میں بیٹھے ہوئے کعبہ کادیدارکیاتھا(۲)
ابن محاربی سے مروی ہے امام صادق فرماتے ہیں:
خداوندعالم نے حضرت نوح کے زمانہ میںطوفان کے وقت کعبہ کے علاوہ پوری زمین کوپانی میں غرق کردیاتھااسی لئے اس بقعہ مبارکہ کوبیت عتیق کہاجاتاہے کیونکہ یہ جگہ اس وقت بھی غرق ہونے سے آزادومحفوظ تھی ،راوی کہتاہے کہ میں نے امام (علیه السلام) سے عرض کیا:کیایہ بقعہ مبارکہ اس دن آسمان پرجلاگیاتھاجوغرق ہونے سے محفوظ رہا؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:نہیں بلکہ اپنی جگہ پرتھااورپانی اس تک نہیں پہنچااوریہ بیت پانی سے مرتفع قرارپایا۔(۳)
____________________
. ۱)علل الشرائع/ج ٢/ص ٣٩٨
۲). علل الشرئع /ج ٢/ص ٣٩٨
۳) تفسیرنورالتقلین/ج ٣/ص ۴٩۵
ابوحمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر سے معلوم کیا: خداوند عالم نے کعبہ کوعتیق کے نام سے کیوں ملقب کیاہے ؟آپ (علیه السلام)نے فرمایا: خداوندعالم نے روئے زمین پرجت نے بھی گھربنائے ہیں ہرگھرکے لئے ایک مالک اورساکن قراردیاہے مگرکعبہ کاکسی کومالک وساکن قرارنہیں دیابلکہ پروردگاراس گھرکامالک وساکن ہے اورامام (علیه السلام) نے فرمایا:خداوندعالم نے اپنی مخلوقات میں سب سے پہلے اس گھرپیداکیااس کے بعدزمین کواس طرح وجودمیں لایاکہ کعبہ کے نیچے سے مٹی کوکھینچااورپھراسے پھیلادیا۔(۱)
کعبہ کب سے قبلہ بناہے؟
کیا اسلام کے آغازہی سے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)اورتمام مسلمان خانہ کعبہ کی طرف نمازپڑھتے آرہے ہیں اورکیاخانہ کعبہ اول اسلام سے مسلمانوں کاقبلہ ہے یاکعبہ سے پہلے کوئی دوسرابھی قبلہ تھااوراس طرف نمازپڑھی جاتی تھی اوربعدمیں قبلہ تبدیل کردیاگیاہے؟
جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)درجہ رسالت پرمبعوث ہوئے تواس وقت مسلمانوں کاقبلہ بیت المقدس تھاجسے قبلہ اوّل کہاجاتاہے لیکن بعدمیں خداکے حکم سے قبلہ کوبدل دیاگیا اورخانہ کعبہ مسلمانوں کادوسراقبلہ قرارپایا نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے درجہ نبوت پرفائز ہونے کے بعد ١٣ /سال تک مکہ مکرمہ میں قیام مدت کے درمیان بیت المقدس کی سمت نماز پڑھتے رہے اور مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بھی سترہ مہینہ تک اسی طرف نماز یں پڑھتے رہے ۔
معاویہ ابن عمارسے مروی ہے کہ : میں نے امام صادق معلوم کیاکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے چہرے کوکس وقت کعبہ کی طرف منصرف کیاگیا؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:
بعدرجوعه من بدر،وکان یصلی فی المدینة الی بیت المقدس سبعة عشرشهرا ثمّ اعیدالی الکعبة ۔(۲)
جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)جنگ بدرسے واپس ہوئے توقبلہ کو تغییر کردیا گیا اورمدینہ ہجرت کے بعدآنحضرت سترہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نمازپڑھتے رہے اس کے بعد قبلہ کوکعبہ کی طرف گھمادیاگیا۔
____________________
۱). کافی /ج ۴/ص ١٨٩
۲)وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ٢١۶
ابوبصیرسے مروی ہے کہ میں نے امام باقریاامام صادق +میں کسی ایک امام (علیه السلام)سے معلوم کہا: کیاخداوندعالم بیت المقدس کی سمت رخ کرکے نمازپڑھنے کاحکم دیاتھا؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:ہاں،کیاتم نے یہ آیہ مبارکہ نہیں پڑھی ہے
( وَمَاجَعَلْنَا الْقِبْلَةَاَلّتِی کُنْتَ عَلَیْهَااِلّالِنَعْلَمَ مَنْ یَّتِبِعِ الرّسُول مِمّنْ یّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْهِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَةً اِلّاعَلَی الَّذِیْنَ هُدَی اللهُ وَمَاکَانَ اللهُ لِیُضِیعَ اِیْمَانَکُمْ ) (۱)(۲)
اور ہم نے پہلے قبلہ (بیت المقدس) کو صرف اس لئے قبلہ بنایا تھا تاکہ ہم یہ دیکھیں کہ کون رسول! کا اتباع کرتا ہے اور پچھلے پاؤں جاتاہے گرچہ یہ قبلہ ان لوگوں کے علاوہ سب پر گراں ہے جن کی الله نے ہدایت کردی ہے اور خدا تمہارے ایمان کو ضایع نہیں کرناچاہتا تھا ، وہ بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے والاہے
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کعبہ کوبہت زیادہ دوست رکھتے تھے اورمدینہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جب بیت المقدس کی سمت نمازپڑھتے تھے توکعبہ کواپنے اوربیت المقدس کے درمیان کرتے تھے
حمادحلبی سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے معلوم کیا:کیانبی اکرم (صلی الله علیه و آله)بیت المقدس کی سمت نمازپڑھتے تھے ؟فرمایا:ہاں، میں نے کہا:کیا اس وقت خانہ کٔعبہ آنحضرت کی کمرکے پیچھے رہتاتھا؟فرمایا:جسوقت آپ مکہ میں رہتے تھے توکعبہ کوکمرکے پیچھے قرارنہیں دیاکرتے تھے لیکن مدینہ ہجرت کرنے کے بعدکعبہ کی طرف قبلہ تحویل ہونے تک کعبہ کواپنی پشت میں قراردیتے تھے ۔(۳)
____________________
. ١)سورہ بٔقرہ/آیت ١۴٣
. ٢)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ٢١۶
۳). کافی /ج ٣/ص ٢٨۶
رازتحویل قبلہ
تحویل قبلہ کے بارے میں چار اہم سوال پیداہوتے ہیں: قبلہ بیت المقدس سے کعبہ طرف کب اورکیوں تحویل ہواہے اورخداوندعالم نے روزاول ہی سے کعبہ کی سمت نمازپڑھنے کاحکم کیوں نہیں دیا؟اوربیت المقدس کی سمت پڑھی گئی کی تکرارواجب ہے یانہیں ؟ پہلے سوال کے جواب میں تفسیرمنہج الصادقین میں لکھاہے کہ: جس دن الله کی طرف سے تغییرقبلہ کاحکم نازل ہوااس دن نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)مسجدنبی سلمہ میں تشریف رکھتے تھے اور مسلمان مردوعورتوں کے ہمراہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ظہر پڑھنے میں مشغول تھے اور دوسری رکعت کے رکوع میں تھے کہ جبرئیل امین نے آنحضرت کے دونوں بازو پکڑ کر آپ کا چہرہ کعبہ کی سمت کردیااورجومردوعورت آپ کے پیچھے نمازپڑھ رہے تھے ان سب کے چہروں کوبھی کعبہ کی سمت کردیا اورمردعورتوں کی جگہ اورعورتیں ) مردوں کی جگہ پرکھڑے ہوگئے ۔(۱)
اس مسجدکو“ذوالقبلتین”دوقبلہ والی مسجدکہاجاتاہے کیونکہ یہی وہ مسجدہے کہ جس میں الله کے آخری نبی حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله) نمازظہر اداکررہے تھے کہ جبرئیل نے آنحضرت کے چہرہ کارخ دونوں شانے پکڑکربیت المقدس سے کعبہ کی طرف کردیا ،پیغمبرکی یہ آخری نمازتھی جوبیت المقدس کی طرف پڑھی گئی اوریہ پہلی نمازتھی جوکعبہ کی سمت پڑھی گئی تھی ،آنحضرت نے اس نمازکودوقبلہ کی طرف انجام دیاپہلی دورکعت بیت المقدس کی طرف اوردوسری دورکعت نمازکعبہ کی سمت اداکی لہٰذایہ وہ مسجدہے کہ جس میں ایک ہی نمازکودوقبلہ کی طرف رخ کرکے پڑھاگیاہے اسی لئے اس مسجدکو “ذوالقبلتین” کہاجاتاہے ۔
قبلہ کے تحویل کرنے کی چندوجہیں بیان کی گئی ہیں :
پہلی وجہ
کتب تفاسیر میں لکھاہے: کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے درجہ نبوت پرفائز ہونے کے بعد ١٣ /سال تک مکہ مکرمہ میں قیام مدت کے درمیان بیت المقدس کی سمت نماز پڑھتے رہے اور مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بھی سترہ مہینہ تک اسی طرف نماز یں پڑھتے رہے جوروزاول سے یہودیوں کاقبلہ تھااوریہودی اسے اپنے قبلہ مانتے تھے لہٰذا وہ لوگ رسول خدا (صلی الله علیه و آله)وان کی پیروی کرنے والوں کو طعنہ دیا کرتے تھے اورکہتے تھے کہ : تم مسلمان تو ہمارے قبلہ کی رخ کرکے نماز ھتے ہیں اور ہماری پیروی کرتے ہیں، اور کہتے تھے کہ: جب تم ہمارے قبلہ کو قبول رکھتے ہو اور اسی کی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے ہوتو پھرہمارے مذہب کو کیوں قبول نہیں کرلیتے ہو؟۔
____________________
. ۱)تفسیرمنہج الصادقین /ج ١/ص ٣۴١
ہجرت کرنے کے بعدبھی پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)گرچہ بیت المقدس کی سمت شوق سے نماز یں پڑھتے تھے اور دل وجان سے حکم خداپرعمل کرتے تھے مگر دشمنوں کی طعنہ زنی سے رنج بھی اٹھا تے تھے اور غمگین رہتے تھے پس جب دین اسلام قدرے مستحکم ہوگیاتوایک دن آپ نے جبرئیل سے کہا :میری یہ خواہشہے کہ الله تبارک تعالیٰ ہم مسلمانوں کو قبلہ یٔہودکی طرف کھڑے ہوکرنماز پرھنے سے منع کرے اورہمارے لئے ایک مستقل قبلہ کی معرفی کرے ،جبرئیل نے عرض کیا : میں بھی آپ کی طرح ایک بندئہ خدا ہوں مگر آپ خداوندعالم کے نزدیک اولوالعزم پیغمبر ہیں لہٰذا آپ خوددعا کریں اور اپنی آرزوکو پروردگار سے بیان کریں
لیکن رسول اکرام (صلی الله علیه و آله) اپنی طرف سے کوئی تقاضا نہیں کرنا چاہتے تھے، فقط جس کام کا خدا آپ کو حکم دیتا تھا وہی انجام دیتے تھے اور جس بارے میں فرمان خدا ابلاغ نہیں ہو تا تھا اس کے انتظار میں رہتے تھے ، تبدیل قبلہ کے بارے میں بھی وحی الہٰی کے منتظر تھے، لہٰذاایک دن نمازظہرکے درمیان جبرئیل امین وحی لے کرنازل ہوئے:
( وَقَدْ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فیِ السَّمَآءِ فَلَنُوَ لِّیَنَکَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الحَرَامِ وَحَیْثُ مَاکُنْمُ فَوَلُّوْاوَجُوهَکُمْ شَطْرَهُ ) (۱)
ترجمہ:اے رسول! ہم آپ کا آسمان کی طرف متوجہ ہونے کودیکھ رہے ہیں ،ہم عنقریب آپ کو اس قبلہ کی طرف موڑدیں گے جسے آپ پسندکرتے ہیں لہٰذا اپنا رخ مسجد الحرام کی جہت کی طرف موڑدیجئے اور جہان بھی رہئے اسی طرف رخ کیجئے ۔
دوسری وجہ
تبدیل قبلہ کے بارے میں جواسراربیان کئے جاتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ خداوندعالم تبدیل کی وجہ سے پہچان کراناچاہتاتھا کہ کون لوگ حقیقت میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی پیروی کرتے ہیں اور کون حکم خدا ورسول کی خلاف ورزی کرتے ہیں جیساکہ خدا وند معتال قرآن مجید میں فرماتا ہے :
( وَمَاجَعَلْنَا الْقِبْلَةَاَلّتِی کُنْتَ عَلَیْهَااِلّالِنَعْلَمَ مَنْ یَّتِبِعِ الرّسُول مِمّنْ یّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْهِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَةً اِلّاعَلَی الَّذِیْنَ هُدَی اللهُ وَمَاکَانَ اللهُ لِیُضِیعَ اِیْمَانَکُمْ )
اور ہم نے پہلے قبلہ (بیت المقدس) کو صرف اس لئے قبلہ بنایا تھا تاکہ ہم یہ دیکھیں کہ کون رسول! کا اتباع کرتا ہے اور پچھلے پاؤں جاتاہے گرچہ یہ قبلہ ان لوگوں کے علاوہ سب پر گراں ہے جن کی الله نے ہدایت کردی ہے اور خدا تمہارے ایمان کو ضایع نہیں کرناچاہتا تھا ، وہ ) بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے والاہے ۔(۲)
____________________
. ١)سورہ بٔقرہ/آیت ١۴۴
. ۲)سورہ بٔقرہ/آیت ١۴٣
امام جعفرصادق فرماتے ہیں:هذابیت استعبد الله تعالی به خلقه لیختبربه طاعتهم فی اتیانه فحثهم علی تعظیمه وزیارته وجعله محل انبیائه وقبلة للمصلین له.
یہ گھراتنابلند ہے کہ الله تبارک وتعالی نے اپنے بندوں سے مطالبہ کیاہے وہ اس کے واسطے سے میری عبادت کریں تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کاامتحان لے سکوں اوریہ پتہ چل جائے کہ کون اس کی عبادت کرتے ہیں اورکون عبادت کوترک کرتے ہیں اسی لئے میں نے کعبہ کی تعظیم وزیارت کاحکم دیاہے اوراسے انبیاء کرام کامحل اورنمازگزاروں کاقبلہ قراردیاہے ۔(۱)
اس آیہ مٔبارکہ اورحدیث شریفہ سے واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله)کے زمانے میں دوطرح کے مسلمان تھے ، کچھ ایسے لوگ تھے جو آسانی سے فرمان خداکو نہیں مانتے تھے اوررسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کے قول وفعل پراعتراض اورچون وچراکرتے تھے ،وہ لوگ نبی کی ہربات کونہیں مانتے تھے اور خانہ کعبہ کو قبلہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے ۔
کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یقین سے الله ورسول اور قرآن پرایمان رکھتے تھے اوراس چیزپراعتقادرکھتے تھے کہ رسول اسلام اپنی مرضی سے نہ کچھ کہتے ہیں اور نہ کرتے ہیں بلکہ وہی کرتے اور کہتے ہیں جسکا م کا خدا آپ کو حکم دیتا ہے اور وہ لوگ دل و جان سے حکم الہٰی کو اجرا کرتے تھے جیسے ہی ان لوگوں تک تبدیل قبلہ کی خبر ہوئی تو انھوں نے اپنے رخ کعبہ کی طرف کرلئے لیکن جومنافق تھے انھوں نے اعتراض شروع کردئے ۔
تیسری وجہ
علامہ ذیشان حیدرجوادی ترجمہ وتفسیر قرآن کریم میں لکھتے ہیں:تحویل قبلہ کاایک رازیہ بھی ہے کہ اس طرح یہودیوں کاوہ استدلال ختم گیاکہ مسلمان ہمارے قبلہ کی اتباع کررہے ہیں،اوریہ دلیل ہے کہ ہمارامذہب برحق ہے اوراس کے علاوہ کوئی مذہب خدائی نہیں ہے ،قرآن کریم واضح کردیاکہ بیشک بیت المقدس ایک قبلہ ہے لیکن جس خدانے اسے قبلہ بنایاہے اسے تبدیل کرنے کاحق بھی رکھتاہے ،اگریہودیوں کاایمان خداپرہے توجس طرح پہلے حکم خداکوتسلیم کیاتھااسی طرح دوسرے حکم کوبھی تسلیم کرلیں۔
روزاول ہی کعبہ کوقبلہ کیوں قرارنہیں دیا؟
اگرکوئی یہ سوال کرے :کیاوجہ ہے کہ خدا وند عالم نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اوران کی اتباع کرنے والوں کو پہلے بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا اور اس کے بعد خانہ کعبہ کی طرف نماز اداکرنے کا حکم جاری کیا اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے سے منع کردیا؟
____________________
.۱) من لایحضرہ الفقیہ /ج ٢/ص ٢۵٠
جس وقت پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نے اپنی رسالت کا اعلان کیا تو مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اور مسلمان کے پاس کوئی طاقت وغیرہ نہیں تھی لیکن یہودومسیح کی تعداد بہت زیادہ تھی اور طاقت بھی انہی لوگوں کے پاس تھی اگرخداوندعالم اسی وقت کعبہ کی طرف نمازپڑھنے کاحکم جاری کردیتااور مسلمان ان کے قبلہ کی مخالفت کردیتے اور بیت المقدس کی طرف نماز نہ پڑھتے توان کے اندر غصّہ کی آگ بھڑک جاتی اور اسی وقت مسلمانوں کی قلیل جماعت کو ختم کرکے اسلام کونابودکردیتے اسی لئے خدا نے مسلمانوں کو پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا تاکہ قوم یہود ومسیح (جو بیت المقدس کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ) مسلمانوں کو بغض وکینہ کی نگاہوں سے نہ دیکھیں اورانھیں اپنا دشمن شمار نہ کریں اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ بھی نہ بنائیں لیکن جب روز بر وزقرآن واسلام کی پیروی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاگیا اور مسلمان طاقتور ہوتے گئے اور رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کی رہبری میں ایک مستقل حکومت کے قابل ہو گئے تواس وقت خداوندعالم نے قبلہ بدلنے کا حکم جاری کیا اور کہا کہ آج کے بعدتمام مسلمان مستقل ہیں اور ان کا قبلہ بھی مستقل ہو گا، قبلہ تبدیل ہونے کے بعد اگر دشمن مخالفت بھی کرتے تھے تو مسلمانوں پر کوئی اثرنہیں ہو تا تھا ۔
قبلہ اول کی سمت پڑھی گئی نمازوں کاحکم کیاہے ؟
جب حکم خداسے قبلہ تبدیل ہوگیا تومسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہواکہ ہم نے اب تک جت نی بھی نمازیں بیت المقدس کی سمت رخ کر کے پڑھی ہیں ان کا کیا حکم ہے ،ہماری وہ نماز یں صحیح ہیں یا باطل ہیں اوران کادوبارہ پڑھناواجب ہے ؟ لہٰذاکچھ لوگوں نے اس مسئلہ کو پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) کی خدمت میں مطرح کیا اور آنحضرت سے پوچھا :یانبی الله!ہم نے وہ تمام نمازیں جوبیت المقدس کی طرف رخ کرکے انجام دی ہیں کیاوہ سب قبول ہیں یاان کااعادہ کرناضروری ہے ؟جبرئیل امین وحی لے کرنازل ہوئے اورفرمایا: )( وَمَا کاَنَ الله لُِیُضْیعَ اِیْمَا نَکُمْ اِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُ وْفٌ رَحْیمٌ ) (۱) جان لیجئے کہ وہ نمازیں جوتم نے قبلہ اوّل (بیت المقدس) کی طرف انجام دیں ہیں وہ سب صحیح ہیں خدا تمھارے ایمان (نماز) کو ضایع نہیں کرتا ہے کیونکہ وہ بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے والاہے۔حضرت امام جعفرصادق فرماتے ہیں : اس آیہ مٔبارکہ مٔیں نماز کو ایمان کا لقب دیا گیا ہے۔(۲)
____________________
١)سورہ بقرہ /آیت ١٣٨
. ٢)نورالثقلین/ج ١/ص ١٣٧ )
اذان واقامت
وہ چیزکہ جس کے ذریعہ لوگوں کونمازکاوقت پہنچنے کی اطلاع دی جاتی ہے اور الله تبارک وتعالیٰ کی عبادت کرنے ونمازپڑھنے کی طرف دعوت دی جاتی ہے اسے اذان کہاجاتاہے ۔ لغت قاموس میں“اذّن ،اُذان،اَذِّن ”کے معنی اعلان،دعوت اوربلانابیان کئے گئے ہیں اور “مصباح المنیر”میں اس طرح لکھاہے:“آذَنتُهُ اِیذَاناًوَتَا ذّٔنْتُ (اَعلَمتُوَا ذّٔن الموذّنُ بالصلاةا عٔلم بِها ” میں نے اعلان کیااورمو ذٔن نے اذان دی یعنی لوگوں کونمازکی طرف دعوت دی اورقرآن کریم میں بھی لفظ “اذّن واذان ”اعلان کرنے کے معنی میں استعمال ہواہے
( وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ ) .اورلوگوں کے درمیان حج کااعلان کرو۔(۱) ( وَاَذَانٌ مِنَ اللهِوَرَسُوْلِهِ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرْ ) (۲)
اوراللھ ورسول کی طرف سے حج اکبرکے دن انسانوں کے لئے اعلان عام ہے
اذان واقامت کی اہمیت
مستحب ہے کہ بلکہ سنت مو کٔدہ ہے کہ نمازگزاراپنے اپنی روزانہ کی پانچوں واجب نمازوں کواذان واقامت کے ساتھ پڑھے خواہ انسان ان نمازوں کوان کے وقت میں اداکررہاہو یاان کی قضابجالارہاہو البتہ اگرنمازجماعت ہورہی ہے توجماعت کی اذان واقامت پراکتفاء کرناصحیح ہے،خواہ اس نے نمازجماعت کی اذان واقامت کوسناہویانہ سناہو،اذان واقامت کے وقت مسجدمیں حاضرہویانہ ہو۔نمازجمعہ سے پہلے بھی اذان واقامت کہناسنت مو کٔدہ ہے اور عیدالفطر و عیدالاضحی کی نمازکے لئے تین مرتبہ “الصلاة ” کہاجائے ۔ خداوندعالم قرآن کریم میں اذان کامسخرہ کرنے والوں کوغیرمعقول انسان قراردیتے ہوئے ارشادفرماتا ہے:
( وَاِذَا نَا دَیْتُم اِلیٰ الصَّلوٰةِ اتَّخذوهٰا هُزُواً وَلَعِباً ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قُومٌ لَاَ یَْقْلُوِْنَ ) اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اس کا مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں کیونکہ یہ با لکل بے عقل قوم ہیں۔(۳)
____________________
۱)سورہ حٔج آیت ٢٧
. ٢)سورہ تٔوبہ آیت ٣
. ۳)سورہ مٔائد ہ آیت ۵٨
امام صادق فرماتے ہیں:مریض کوبھی چاہئے کہ جب نمازپڑھنے کاارادہ کرے تو اذان واقامت کہہ کرنمازپڑھے خواہ آہستہ اوراپنے لئے ہی کہے ،(اگراپنے بھی اذان واقامت کے کلمات کوزبان سے اداکرنے کی قدرت نہ رکھتاہوتودل سے اذان اقامت کہے)کسی نے پوچھااگرانسان بہت زیادہ مریض ہوتو کیاپھربھی اسے اذان واقامت کہناچاہئے ؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:ہرحال میں اذان اقامت کہناچاہئے کیونکہ اذان واقامت کے بغیرنمازہی نہیں ہے ۔(۱)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : من ولدله مولودفلیو ذٔن فی اذنه الیمنی باذان الصلاة والیقم فی اذنه الیسری فانّهاعصمه من الشیطان الرجیم ۔(۲)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:کسی بھی گھرمیں جب کوئی بچہ دنیامیں آئے تو اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے کیونکہ اس کے ذریعہ وہ بچہ شیطان رجیم کے شرسے محفوظ رہتاہے ۔
علی ابن مہزیارنے محمدابن راشدروایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ہشام ابن ابراہیم اپنے بارے میں بتایاہے کہ میں امام علی رضا کی خدمت میں مشرف ہوئے اوراپنے مریض و بے اولادہونے کے بارے میں شکایت کی توامام(علیه السلام) نے مجھے حکم دیاکہ اے ہشام!تم اپنے گھرمیں بلندآوازسے اذان کہاکرو
ہشام کا بیان ہے کہ :میں نے امام (علیه السلام)کے فرمان کے مطابق عمل کیااورخداوندعالم نے اس عمل کی برکت سے مجھے اس بیماری سے شفابخشی اور کثیراولادعطا کی.
محمدابن راشدنے کہتے ہیں کہ :میں اورمیرے اہل خانہ اکثربیماررہتے تھے ،جیسے ہی میں نے ہشام سے امام (علیه السلام) کی یہ بات سنی تومیں نے بھی اس پرعمل کیاتوخداوندعالم نے مجھ اورمیرے عیال سے مریضی دورکردیا۔(۳)
امام علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں :جوشخص اذان واقامت کے ساتھ نمازپڑھتاہے ملائکہ کی دو صف اس کے پیچھے نمازپڑھتی ہیں کہ جن کے دونوں کنارے نظرنہیں آتے ہیں اورجوشخص فقط اقامت کے ساتھ نمازپڑھتاہے توایک فرشتہ اسکے پیچھے نمازپڑھتاہے ۔(۴)
____________________
.۱)استبصار/ج ١/ص ٣٠٠
. ٢)کافی /ج ۶/ص ٢۴
.۳) تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ۵٩
.۴)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٨٧
مفضل ابن عمرسے مروی ہے حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص واجب نمازوں کو اذان واقامت کے ساتھ انجام دیتا ہے ، ملا ئکہ کی دوصفیں اس کی افتداء کرتی ہیں اورجوشخص فقط اقامت کہہ کرنمازپڑھتاہے تو ملائکہ کی ایک صف اس کے پیچھے نماز پڑھتی ہے، میں نے پوچھا:اس کی مقدارکت نی ہے ؟ امام (علیه السلام) نے جواب دیا:اس مقدارحداقل مشرق ومغرب کے درمیان کی زمین ہے اورحداکثرزمین وآسمان کے درمیان ہے ۔(۱)
امام صادق فرماتے ہیں:پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی مسجدکی دیوارآدمی کے برابرتھی ،رسولخدابلال سے کہتے تھے :اے بلال!دیوارکے اوپرجاؤاورکھڑے ہوکر بلندآوازسے اذان کہوکیونکہ خداوندعالم نے ایک ہواکومعین کرکھاہے جواذان کی آوازکوآسمان تک پہنچاتی ہے اورجب ملائکہ اہل زمین سے اذان کی آوازسنتے ہیں توکہتے ہیں :یہ حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)کی امت کی آوازہے جوالله کی وحدانیت کانعرہ لگارہی ہے اوروہ فرشتے اللھسے امت محمدی کے لئے اس وقت تک استغفارکرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی نمازسے فارغ ہوتے ہیں۔(۲)
مو ذٔن کے فضائل
روایت میں ایاہے کہ شام سے شخص ایک امام حضرت امام صادق کی خدمت میں مشرف ہوا،آپ نے اس مرد شامی سے فرمایا : انّ اوّل من سبق الیٰ الجنة بلالٌ،قال:ولِمَ؟قال:لانّہ اوّل من اذّنَ۔ حضرت بلا ل وہ شخص ہیں جو سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونگے اس نے پوچھا ! کسلئے ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ بلال وہ شخصہیں جنھوں نے سب سے پہلے اذان کہی ہے۔(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: مو ذٔن اذان واقامت کے درمیان اس شہیدکاحکم رکھتاہے جوراہ خدامیں اپنے خون میں غلطاں ہوتاہے پس حضرت علی سے آنحضرتسے عرض کیا:آپ نے اذان کہنے کی ات نی بڑی فضلیت بیان کردی ہے کہ مجھے خوف ہے کہ آ پ کی امت کے لوگ اس کام کے لئے ایک دوسرے پر شمشیر چلائیں گے (اور مو ذٔن بننے کے لئے ایک دوسرے کا خون بہائیں گے)، آنحضرت نے فرمایا :وہ اس کام کوضعیفوں کے کاندھوں پررکھ دیں گے (اذان کہنا اتنا زیادہ ثواب و فضیلت رکھنے کے با وجود ضعیف لو گو ں کے علاوہ دوسرے حضرات اذان کہنے کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے)اورمو ذٔن کاگوشت وہ ہے کہ جسپر جہنم کی آگ حرام ہے جواسے ہرگزنہیں جلاسکتی ہے۔(۴)
____________________
۱). ثواب الاعمال/ص ٣٣
. ۲)کافی/ج ٣/ص ٣٠٧
۳)تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٢٨۴
. ۴)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/باب الاذان والاقامة/ص ٢٨٣
جابرابن عبدالله سے مروی ہے کہ:رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے مو ذٔن کے لئے تین باردعاکی : بارالٰہا!مو ذٔن لوگوں کوبخش دے،جابرکہتے ہیں میں نے کہا:یارسول الله!اگرمو ذٔن کایہ مقام ہے توایسالگتاہے کہ اذان کہنے کے لئے لوگوں کے درمیان تلواریں چلاکریں گی ؟آنحضرت نے فرمایا:
اے جابر!ایک وقت ایسابھی آئے گا کہ اذان کاکام بوڑھوں کے کاندھوں پرڈال دیاجائے گا (اورجوان لوگ اذان کہنااپنے لئے عیب شمارکریں گے)اورسنو!کچھ گوشت ایسے ہیں جن پرآتش جہنم حرام ہے اوروہ مو ذٔن لوگوں کاگوشت ہے۔(۱)
قال علی علیه السلام:یحشرالمو ذٔنون یوم القیامة طوال الاعناق ۔ حضرت علی فرماتے ہیں:مو ذٔن لو گ روزقیامت سرافرازاورسربلندمحشورہونگے۔(۲)
ایک یہودی نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے مو ذٔن کی فضیلت کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے فرمایا:میری امت کے مو ذٔن روزقیامت کے دن انبیاء وصادقین اورشہداء کے ساتھ محشورہونگے۔(۳)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : خدا وندمتعال کا وعدہ ہے کہ تین لوگوں کو بغیرکسی حساب کے داخل بہشت کیا جائے گا اور ان تینوں میں سے ہر شخص ٨٠ / ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا اور وہ تین شخص یہ ہیں:
١۔ مو ذّٔن ٢۔ امام جماعت ٣۔ جوشخص اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدمیں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے۔(۴)
قال رسول الله صلی الله علیہ وآلہ:من اذان فی مصرمن امصارالمسلمین وجبت لہ الجنة. رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص (اپنے )مسلمان بھائیوں کے کسی شہرمیں اذان کہے تواس پرجنت واجب ہے۔(۵)
____________________
. ۱)مستدرک الوسائل/ج ۴/ص ٢٢
۲)بحارالانوار/ج ٨٣ /ص ١۴٩
.۳) الخصال/ص ٣۵۵
۴) مستدرک الوسائل/ج ١/ص ۴٨٨
۵). ثواب الاعمال/ص ٣١
اذان واقامت کے راز
فضل بن شاذان نے اذان کی حکمت کے متعلق امام علی رضا سے ایک طولانی حدیث نقل کی ہے کہ جس میں امام (علیه السلام) فرماتے ہیں: خداوندتبارک وتعالیٰ کی جانب سے لوگوں کواذان کاحکم دئے جانے کے بارے میں بہت زیادہ علت وحکمت پائی جاتی ہیں،جن میں چندحکمت اس طرح سے ہیں :
١۔اذان، بھول جانے والوں کے لئے یاددہانی اورغافلوں کے لئے بیداری ہے ،وہ لوگ جونمازکا وقت پہنچنے سے بے خبررہتے ہیں اوروہ نہیں جانتے ہیں کہ نمازکاوقت پہنچ گیاہے یاکسی کام میں مشغول رہتے ہیں تووہ اذان کی آوازسن کروقت نمازسے آگاہ ہوجاتے ہیں،مو ذٔن اپنی اذان کے ذریعہ لوگوں کوپروردگاریکتاکی عبادت کی دعوت دیتاہے اوران میں عبادت خداکی ترغیب وتشویق پیداکرتاہے، توحیدباری تعالی کے اقرارکرنے سے اپنے مومن ومسلمان ہونے کااظہارکرتاہے ،غافل لوگوں کووقت نمازپہنچنے کی خبردیتاہے ۔
٢۔مو ذٔن کومو ذٔن اس لئے کہاجاتاہے کہ وہ اپنی اذان کے ذریعہ نمازکااعلان کرناہے
٣۔تکبیرکے ذریعہ اذان کاآغازکیاجاتاہے اس کے بعدتسبیح وتہلیل وتحمیدہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے پہلے تکبیرکوواجب کیاہے کیونکہ اس میں پہلے لفظ “الله” آیاہے اورخداوندعالم دوست رکھتاہے کہ اس کے نام ابتدا کی جائے اوراس کایہ مقصدتسبیح (سبحان الله)اورتحمید(الحمدلله)اورتہلیل (لاالہ الاالله)میں پورانہیں ہوتاہے ان کلمات کے شروع لفظ “الله”نہیں ہے بلکہ آخرمیں میں ہے ۔
۴ ۔اذان کے ہرکلمہ کودودومرتبہ کہاجاتاہے ،اس کی وجہ یہ ہے تاکہ سننے والوں کے کانوں میں اس کی تکرارہوجائے اورعمل میں تاکیدہوجائے تاکہ اگرپہلی مرتبہ سننے میںغفلت کرجائیں تودوسری مرتبہ میں غفلت نہ کرسکیں اوردوسری وجہ یہ ہے کیونکہ دودورکعتی لہذااذان کے کلمات بھی دودوقراردئے گئے ہیں۔
۵ ۔اذان کے شروع میں تکبیرکوچارمرتبہ قرادیاگیاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اذان بطورناگہانی شروع ہوتی ہے ،اس سے پہلے کوئی کلام نہیں ہوتاہے کہ جوسننے والوں کوآگاہ ومت نبہ کرسکے ،پس شروع میں پہلی دوتکبیرسامعین کومت نبہ وآگاہ کرنے کے لئے کہی جاتی ہیں تاکہ سامعین بعدوالے کلمات کوسننے کے لئے آمادہ ہوجائیں
۶ ۔تکبیرکے بعد“شہادتین”کومعین کئے جانے کی وجہ یہ ہے :کیونکہ ایمان دوچیزوں کے ذریعہ کامل ہوتاہے:
١۔ توحیداورخداوندعالم کی وحدانیت کااقرارکرنا۔
٢۔نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی رسالت کی گواہی دیناکیونکہ خداورسول کی اطاعت اورمعرفت شناخت ایک دوسرے سے مقرون ہیں یعنی خداکی وحدانیت کی گواہی کے ساتھ اس کے رسول کی رسالت کی گواہی دیناضروری ہے کیونکہ شہادت اورگواہی اصل وحقیقت ایمان ہے اسی لئے دونوں کی شہاد ت دوشہادت قراردیاگیاہے یعنی خداکی واحدانیت کااقرابھی دومرتبہ ہوناچاہئے اوراس کے رسول کی رسالت کااقراربھی دومرتبہ ہوناچاہئے جس طرح بقیہ حقوق میں دوشاہدکے ضروری ہونے کو نظرمیں رکھاجاتاہے ،پس جیسے ہی بندہ خداوندعالم کی وحدانیت اوراس کے نبی کی رسالت کااعتراف کرتاہے توپورے ایمان کااقرارکرلیتاہے کیونکہ خدااوراس کے رسول کااقرارکرنااصل وحقیقت ایمان ہے ۔
٧۔پہلے خداورسول کا اقرارکیاجاتاہے اس کے بعدلوگوں نمازکی طرف دعوت دی جاتی ہے ،اس کی وجہ یہ ہے:حقیقت میں اذان کونمازکے لئے جعل وتشریع کیاگیاہے کیونکہ اذان کے معنی یہ ہیں کہ مخلوق کونمازکی طرف دعوت دینا،اسی لئے لوگوں کونمازکی طرف دعوت دینے کواذان کے درمیان میں قرار دیاگیاہے یعنی چارکلمے اس سے پہلے ہیں اورچارکلمے اس کے بعدہیں،دعوت نمازسے پہلے کے چارکلمے یہ ہیں: دوتکبیراوردوشہادت واقرار،اوردعو ت نمازکے بعدکے چارکلمے یہ ہیں:لوگوں کوفلاح وکامیابی کی طرف دعوت دینااوراس کے بعد بہترین عمل کی طرف دعوت دیناتاکہ لوگوں میں نمازپڑھنے کی رغبت پیداہو،اس کے بعدمو ذٔن ندائے تکبیربلندکرتاہے اوراس کے بعدندائے تہلیل(لاالہ الاالله)کرتاہے،پس جس طرح دعوت نماز( حیّ علی الصلاة)سے پہلے چارکلمے کہے جاتے ہیں اسی طرح اس کے بعدبھی چارکلمے ہیں اورجس طرح مو ذٔن ذکروحمدباری تعالیٰ سے اذان کاآغازکرتاہے اسی طرح حمدوذکرباری پرختم کرتاہے ۔
٨۔اگرکوئی یہ کہے کہ :اذان کے آخرمیں تہلیل(لاالہ الاالله) کوکیوں قرادیاگیاہے اورجس طرح اذان کے شروع میں تکبیرکورکھاگیاتھاتوآخرمیں کیوں نہیں رکھاگیاہے ؟ اذان کے آخرمیں تہلیل (لاالہ الالله) کوقراردیاگیاتکبیرکونہیں اورشروع میں تکبیرکورکھاگیاہے تہلیل کونہیں،اس کی وجہ ہے کہ: خداوندعالم یہ چاہتاہے کہ آغازاورانجام اس کے نام وذکر سے ہوناچاہئے، تکبیرکے شروع میں لفظ “الله”ہے اورتہلیل کے آخرمیں بھی لفظ “الله ”ہے پس اذان کاپہلالفظ بھی “الله”ہے اورآخری لفظ بھی اسی لئے اذان کے شروع میں تکبیرکواورآخرمیں تہلیل کوقراردیاگیاہے ۔(۱)
____________________
.۱) علل الشرائع /ج ١/ص ٢۵٨
حضرت امام حسین فرماتے ہیں کہ: ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مسجدکی مینارسے مو ذٔن کی آوازبلندہوئی اوراس نے “ الله اَکبَر،اَللهُ اَ کبَر” کہا تو امیرالمو منین علی ابن ابی طالب اذان کی آواز سنتے ہی گریہ کرنے لگے ، انھیں روتے ہوئے دیکھ کر ہماری بھی آنکھوں میں آنسوں اگئے ،جیسے ہی مو ذٔن نے اذان تمام کی توامام (علیه السلام) ہمارے جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا :کیا تم جانتے ہو کہ مو ذٔن اذان میں کیاکہتا ہے اوراس کاہرکلمہ سے کیارازاورمقصدہوتاہے؟ ہم نے عرض کیا : الله اور اس کے رسول اوروصی پیغمبر ہم سے بہتر جانتے ہیں،پسآپ(علیه السلام) نے فرمایا :
لوتعلمون مایقول:لضحکتم قلیلاوَلِبَکَیْتم کثراً ۔ اگر تمھیں یہ معلوم ہوجائے کہ مو ذٔن اذان میں کیا کہتا ہے توپھر زندگی بھر کم ہنسیں گے اور زیادہ روئیں گے ، اس کے بعد مولا ئے کا ئنات اذان کی تفسیراوراس کے رازواسراربیا ن کرنے میں مشغول ہوگئے اورفرمایا:
”اَللّٰہُ اَکْبَر“
اس کے معنی بہت زیادہ ہوتے ہیں جن میں چندمعنی یہ بھی ہیں کہ جب مو ذٔن “الله اکبر” کہتاہے تووہ خداوندمتعا ل کے قدیم ، موجودازلی وابدی ، عالم ،قوی ، قادر،حلیم وکریم، صاحب جودوعطا اورکبریا ہونے کی خبردیتاہے لہٰذاجب مو ذٔن پہلی مرتبہ “الله اکبر” کہتاہے تواس کے یہ معنی ہوتے ہیں:
خداوہ ہے کہ جوامروخلق کامالک ہے ،تمام امروخلق اس کے اختیارمیں ہیں ہرچیزاس کی مرضی وارادہ سے وجودمیں اتی ہے اوراسی کی طرف بازگشت کرتی ہے، خداوہ ہے کہ جوہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا،جوہرچیزے سے پہلے بھی تھااورہرچیزکے فناہوجانے کے بعدبھی رہے گا،اس کے علاوہ دنیاکی تمام چیزوں کے لئے فناہے وہ ہرچیزسے پہلے بھی تھااورہرچیزکے بعد بھی رہے گا، وہ ایساظاہرہے کہ جوہرشے پٔرفوقیت رکھتاہے اورکوئی اسے درک نہیں کرسکتاہے ،وہ باطن ہرشے ہے کہ جونہیں رکھتاہے پس وہ باقی ہے اوراس کے علاوہ ہرشئ کے لئے فناہے ۔
جب موذن دوسری مرتبہ “الله اکبر” کہتاہے تواسکے یہ معنی ہوتے ہیں: العلیم الخبیر ، علم بماکان ویکون قبل ان یکون یعنی خداوندعالم ہرچیزکاعلم وآگاہی رکھتاہے ،وہ ہراس چیزکاجوپہلے ہوچکی ہے اورجوکام پہلے ہوچکاہےپہلے سے علم رکھتاتھااورجوکچھ آئندہ ہونے والاہے یاوجودمیں انے والاہے اس کابھی پہلے ہی علم رکھتاہے ۔
جب تیسری مرتبہ “الله اکبر” کہتاہے تواسکے یہ معنی ہیں: القادرعلی کل شئیقدرعلی مایشاء ،القوی لقدرتہ،المقتدرعلی خلقہ، القوی لذاتہ، قدرتہ قائمة علی اشیاء کلّہا،( اِذَاقَضٰی ا مْٔرًافَاِنَّمَایَقُوْلُ لَه کُنْ فَیَکُوْنُ ) ۔ خداوہ ہے کہ جوہرشے پٔراختیاروقدرت رکھتاہے ،وہ اپنی قدرتے بل بوتے پرسب سے قوی ہے ، وہ اپنے مخلوق پرصاحب قدرت ہے ،وہ بذات خودقوی ہے اوریہ قدرت اسے کسی عطانہیں ہے ،اس قدرت تمام پرمحکم وقائم ہے ،وہ جب چاہے کسی امرکاحکم دے سکتاہے اورجیسے ہی وہ کسی امرکافیصلہ کرتاہے اوراس کے ہونے ارادہ کرتاہے تووہ صرف “کُن ”یعنی ہوجاکہتاہے اوروہ چیزہوجاتی ہے۔
جب چوتھی مرتبہ “الله اکبر” کہتاہے توگویاوہ یہ کہتاہے: خداوندعالم حلیم وبردبارہے اوربڑا کرامت والاہے ،وہ ایسااس طرح مددوہمراہی کرتاہے کہ انسان کواس کی جبربھی نہیں ہوتی ہے اورنہ وہ دکھائی دیتاہے ،وہ عیوب اس طرح چھپاتاہے کہ انسان اپنے آپ کوبے گناہ محسوس کرتاہے ،وہ اپنے حلم وکرم اورصفاحت کی بناپرجلدی سے عذاب بھی نازل نہیں کرتاہے۔ ” الله اکبر”کے ایک معنی بھی ہیں کہ خداوندعالم مہربان ہے ،عطاوبخشش کرنے والاہے اورنہایت کریم ہے ۔
” الله اکبر”کے ایک معنی بھی ہیں کہ خداوندعالم جلیل ہے اور جن صفات کامالک ہے صفت بیان کرنے والے بھی اس موصوف کامل صفت بیان نہیں کرسکتے ہیں اوراس کی عظمت وجلالت کی قدرکوبھی بیان نہیں کرسکتے ہیں،خداوندعالم علووکبیرہے ،صفت بیان کرنے صفات کے بیان کرنے بھی اسے درک نہیں کرسکتے ہیں پس مو ذٔن “الله اکبر”کے ذریعہ یہ بیان کرتاہے :
الله اعلیٰ وجل ، وھوالغنی عن عبادہ ، لاحاجة بہ الی اعمال خلقہ خداوندعالم اعلیٰ واجلّ ہے،سب سے بلندوبرترہے ، وہ اپنے بندوں سے بے نیازہے ،وہ بندوں کی عبادت سے بے نیاز ہے ( وہ اس چیزکامحتاج نہیں ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں ،کوئی اس کی عبادت کرے وہ جب بھی خداہے اورکوئی اس کی نہ کرے وہ تب بھی خداہے ،ہماری عبادتوں سے اس کی خدائی میں کوئی زیادتی نہیں ہوسکتی ہے اورعبادت نہ کرنے سے اس کی خدائی میں کوئی کمی نہیں آسکتی ہے )۔
”اشھدان لا ا لٰہ اٰلاّالله“
جب پہلی مرتبہ اس کلمہ شہادت کوزبان پرجاری کرتاہے تواس چیزکااعلان کرتاہے کہ پر وردگا ر کے یکتا ویگا نہ ہونے کی گواہی دل سے معرفت وشناخت کے ساتھ ہونی چا ہئے دوسرے الفاظ میں یہ کہاجائے کہ مو ذٔن یہ کہتاہے کہ: میں یہ جانتاہوں کہ خدا ئے عزوجل کے علاوہ کوئی بھی ذات لائق عبادت نہیں ہے اور الله تبارک وتعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیزکومعبودومسجودکے درجہ دیناحرام اورباطل ہے اورمیں اپنی اس زبان سے اقرارکرتاہوں کہ الله کے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے اوراس چیزکی گواہی دیتاہوں کہ الله کے علاوہ میری کوئی پناگاہ نہیں ہے اورالله کے علاوہ کوئی بھی ذات ہمیں شریرکے شرسے اورفت نہ گرکے فت نہ سے نجات دینے والانہیں ہے ۔
جب دوسری مرتبہ “اشھدان لاالٰہ الاّالله”کہتاہے تواس کی معنی اورمرادیہ ہوتے ہیں : میں گواہی دیتاہوں کہ خدا کے علاوہ کو ئی ہدا یت کر نے والا موجود نہیں ہے اوراس کے کوئی راہنمانہیں ہے ،میں الله کوشاہدقراردیتاہوں کہ اس کے علاوہ میراکوئی معبودنہیں ہے ،میں گواہی دیتاہوں کہ تمام زمین وآسمان اورجت نے بھی ان انس وملک ان میں رہتے ہیں اوران میں تمام پہاڑ، درخت ،چوپایہ ،جانور،درندے ،اورتمام خشک وترچیزیں ان سب کاالله کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے ،اورالله کے علاوہ نہ کوئی رازق ہے اورنہ کوئی معبود،نہ کوئی نفع پہنچانے والاہے اورنہ نقصان پہنچانے والا،نہ کوئی قابض ہے نہ کوئی باسط،نہ کوئی معطی ہے اورنہ کوئی مانع ،نہ کوئی دافع ہے اورنہ کوئی ناصح ،نہ کوئی کافی ہے اورنہ کوئی شافی ،نہ کوئی مقدم ہے اورنہ کوئی مو خٔر،بس پروردگارہی صاحب امروخلق ہے اورتمام چیزوں کی بھلائی الله تبارک وتعالیٰ کے اختیارمیں ہے جودونوں جہاں کارب ہے ۔
” اشھدان محمدًا رسول الله“
جب مو ذٔن پہلی مرتبہ اس کلمہ کوزبان پرجاری کرتاہے تواس چیزکااعلان کرتاہے کہ :میں الله کوشاہدقراردیتاہوں گواہی دیتاہوں کہ الله کے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے اورحضرت محمد (صلی الله علیه و آله) اس کے بندے اور اس کے رسول وپیامبر ہیں اورصفی ونجیب خداہیں،کہ جنھیں الله تبارک وتعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت کے دنیامیں بھیجاہے ،انھیں دین حق دیاہے تاکہ اسے تمام ادیان پرآشکارکریں خواہ مشرکین اس دین کوپسندنہ کریں ،اورمیں زمین وآسمان میں تمام انبیاء ومرسلین ا ورتمام انس وملک کوشاہدقراردیتاہوں کہ میں یہ گواہی دے رہاہوں کہ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله)سیدالاولین والآخرین ہیں۔
جب مو ذٔن دوسری مرتبہ کلمہ“ اشھدان محمدًا رسول الله ” کوزبان جاری کرتاہے تووہ یہ کہتاہے کہ کسی کوکسی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سب کوالله کی ضرورت ہے، وہ خداکہ جوواحدو قہارہے اوراپنے کسی بندے بلکہ پوری مخلوق میں کسی کامحتاج نہیں ہے ،خداوہ ہے کہ جس نے لوگوں کے درمیان ان کی ہدایت اور تبلیغ وترویج دین اسلام کے لئے حضرت محمد (صلی الله علیه و آله)بشیرونذیراورروشن چراغ بنا کر بھیجا ہے، اب تم میں جو شخص بھی حضرت محمد (صلی الله علیه و آله)اوران کی نبوت ورسالت کاانکا ر کرے اور آنحضرتپرنازل کتاب (قرآن مجید) پر ایمان نہ لائے توخدا ئے عزّوجل اسے ہمیشہ کے لئے واصل جہنم کردے گا اور وہ ہرگزناراپنے آپ کونارجہنم سے نجات دلاسکے
”حیّ علیْ الصلا ة“
جب پہلی مرتبہ اس کلمہ کوزبان کہتاہے تواس کی مرادیہ ہوتی ہے :اے لوگو! اٹھو اور بہتر ین عمل (نماز) کی طرف دوڈو اور اپنے پرور دگا ر کی دعوت کو قبول کرو اور اپنی نجش کی خاطراپنے رب کی بارگاہ میں جلدی پہنچو،اے لوگو! اٹھواور وہ آگ جوتم نے گناہوں کو انجام دینے کی وجہ سے اپنے پیچھے لگائی ہے اسے نماز کے ذریعہ خاموش کرو،اوراپنے آپ کوگناہوں سے جلدی آزادکراؤ، صرف خداوندعالم تمھیں برائیوں سے پاک کر سکتاہے ،وہی تمھارے گناہوں کومعاف کرسکتاہے ،وہی تمھاری برائیوں کونیکیوں سے بدل سکتاہے کیونکہ وہ بادشاہ کریم ہے ،صاحب فضل وعظیم ہے ۔
جب دوسری مرتبہ “ حیّ علیْ الصلا ة ” کہتاہے تواس کے یہ معنی ہوتے ہیں:اے لوگو!اپنے رب سے مناجات کے لئے اٹھواوراپنی حاجتوں کواپنے رب کی بارگاہ میں بیان کرو،اپنی باتوں کواس تک پہنچاؤاوراس سے شفاعت طلب کرو،اس کاکثرت سے ذکرکرو،دعائیں مانگواورخضوع وخشوع کے ساتھ رکوع وسجودکرو۔
”حیّ علیْ الفلاح“
جب مو ذٔن پہلی مرتبہ اس کلمہ کوکہتاہے تووہ لوگوں سے یہ کہتا ہے : اے الله کے بندو !راہ بقا کی طرف آجاؤ کیونکہ اس راستے میں فنانہیں ہے اوراے لوگو!راہ نجات کی طرف آجاؤ کیونکہ اس راہ میں کوئی ہلا کت وگمرا ہی نہیں ہے ،اے لوگو!راہ زندگانی کی طرف آنے میں جلدی کروکیونکہ اس راہ میں کوئی موت نہیں ہے، اے لوگو! صاحب نعمت کے پاس آجاؤکیونکہ اس کی نعمت ختم ہونے والی نہیں ہے ،اس بادشاہ کے پاس آجاؤکہ جس کی حکومت ابدی ہے جوکبھی ختم نہیں ہوسکتی ہے ،خوشحالی کی طرف آؤکہ جس کے ساتھ کوئی رنج وغم نہیں ہے ،نورکی طرف آؤکہ جس کے ساتھ کوئی تاریکی نہیں ہے ،بے نیازکی طرف آؤکہ جس کے ساتھ فقرنہیں ہے ،صحت کی طرف آؤکہ جس کے ساتھ کوئی مریضی نہیں ہے ،قوت کے پاس آؤکہ جس کے ساتھ کوئی ضعف نہیں ہے اوردنیاوآخرت کی خوشحالی کی طرف قدم بڑھاؤاورنجات آخرت کاسامان کرو۔
جب دوسری “حیّ علیْ الفلاح ”کہتاہے تواس کی مرادیہ ہوتی ہے :اے لوگو!آؤاوراپنے آپ کو خدا سے قریب کرو اورجس چیزکی تمھیں دعوت دی گئی ہے اس کی طرف چلنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو اور فلاح ورستگاری کے ساتھ حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)(اورائمہ اطہار )کے قرب وجوارجگہ حاصل کرو ۔
”الله اکبر“
جب مو ذٔن اذان کے آخرمیں پہلی مرتبہ “ الله اکبر ” کہتاہے تووہ یہ جملہ کہہ کر اس بات کا اعلا ن کرتا ہے کہ ذا ت پروردگار اس سے کہیںزیادہبلند وبرتر ہے کہ اس کی مخلوق میں کوئی یہ جانے اس کے پاس اپنے اس بندے کے لئے کیاکیانعمت وکرامتیں ہیں جو اس کی دعوت پرلبیک کہتاہے ،اس کی پیروی کرتاہے،اس کے ہرامرکی اطاعت کرتاہے ،اس کی معرفت پیداکرتاہے ،اس کی بندگی کرتاہے ،اس کا ذکرکرتاہے ،اس سے انس ومحبت کرتاہے ،اسے اپنی پناگاہ قراردیتاہے ،اس پراطمینان کامل رکھتاہے ،اپنے دل میں اس کاخوف پیداکرتاہے اوراس کی مرضی پرراضی رہتاہے تو خدا ومتعال اس پراپنا رحم وکرم نازل کرتا ہے۔ جب مو ذٔن اذان کے آخرمیں دوسری مرتبہ “ الله اکبر ” کہتاہے تووہ اس کلمہ کے ذریعہ اس بات کااعلان کرتا ہے کہ ذا ت پروردگار اس سے کہیںزیادہ بلند وبرتر ہے کہ اس کی مخلوق میں کوئی یہ جانے اس کے پاس اپنے اپنے اولیاء اوردوستوں کے لئے کس مقدارمیں کرامتیں موجودہیں اور اپنے دشمنوں کے لئے اس کے پاس کت ناعذاب وعقوبت ہے ،جواس کی اس کے رسول کی دعوت پرلبیک کہتاہے اورحکم خداورسول کی اطاعت کرتاہے ان کے لئے اس کی عفووبخشش کت نی ہے اورکت نی نعمتیں ہیں اورشخص اس کے اوراس کے رسول کے حکم کوماننے سے انکارکرتاہے اس کے لئے کت نابڑاعذاب ہے ۔
” لَااِلٰہ اِلّاالله“
جب مو ذٔن “لَااِلٰه اِلّاالله ” کہتاہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں:خدا وند عالم لوگو ں کے لئے رسول ورسالت اوردعوت وبیان کے ذریعہ ایک دلیل قاطع ہے کیونکہ اسنے لوگوں کی ہدایت کے لئے رسول ورسالت کابہترین انتظام کیاہے ،پس جواس کی دعوت پرلبیک کہتاہے اس کے لئے نوروکرامت ہے اورجوانکارکرتاہے چونکہ خداوندعالم دوجہاں سے بے نیازہے لہٰذااس کاحساب کرنے میں بہت جلدی کرتاہے ۔
”قدقامت الصلاة“
جب بندہ نمازکے لئے اقامت کہتاہے اوراس میں “ قدقامت الصلاة ”کہتاہے تواس کے یہ معنی ہیں:
حان وقت الزیارة والمناجاة ، وقضاء الحوائج ، ودرک المنی والوصول الی الله عزوجل والی کرامة وغفرانه وعفوه ورضوانه
یعنی پروردگارسے مناجاتاوراس سے ملاقات کرنے ،حاجتوں کے پوراہونے ،آرزو ںٔ کے پہنچنے ،بخشش،کرامت ،خوشنودی حاصل کرنے کاوقت پہنچ گیاہے ۔ شیخ صدوق اس روایت کے بعدلکھتے ہیں: اس حدیث کے راوی نے تقیہّ میں رہنے کی وجہ سے جملہ “حیّ علیٰ خیرالعمل ” کا ذکر نہیں کیا ہے کہ حضرت علینے اس جملہ کیاتفسیرکی ہے لیکن اس جملہ کے بارے میں دوسری حدیثوں میں آیاہے:
روی فی خبرآخر:انّ الصادق علیه االسلام عن “حی علی خیرالعمل” فقال:خیرالعمل الولایة، وفی خبرآخرخیرالعمل بر فاطمة وولدها علیهم السلام.
روایت میں آیا ہے کہ حضرت امام صادق سے“حیّ علیٰ خیرالعمل”کے بارے میں سوال کیا گیا ، حضرت نے فرمایا : “حیّ علیٰ خیرالعمل”یعنی ولایت اہل بیت ۔ اور دوسری روایت میں لکھا ہے :“حیّ علیٰ خیرالعمل”یعنی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے فرزندں کی نیکیوںطرف آؤ۔(۱)
____________________
۱). نوحید(شیخ صدوق)/ ص ٢٣٨ .۔معانی لاخبار /ص ۴١ ۔بحارالانوار/. ٨١ /ص ١٣١
عن محمدبن مروان عن ابی جعفرعلیه السلام قال:ا تٔدری ماتفسیر“حی علی خیرالعمل” قال:قلت لا، قال:دعاک الی البر، ا تٔدری برّمن؟قلت لا، قال:دعاک الی برّفاطمة وولدها علیهم السلام.
محمدابن مروان سے مروی ہے کہ امام محمدباقر نے مجھ سے فرمایا:کیاتم جانتے ہوکہ “حی علی خیرالعمل ”کے کیامعنی ہیں؟میں نے عرض کیا:نہیں اے فرزندرسول خدا،آپ نے فرمایا: مو ذٔن تمھیں خیرونیکی کی طرف دعوت دیتاہے ،کیاتم جانتے ہووہ خیرنیکی کیاہے؟میں نے عرض کیا: نہیں اے فرزندرسول خدا ، توامام (علیه السلام) نے فرمایا:وہ تمھیں حضرت فاطمہ زہرا اوران کی اولاداطہار کے ساتھ خیرونیکی کاحکم دیتاہے۔(۱)
بلال کومو ذٔن قراردینے کی وجہ
اذان واقامت میں شرط یہ ہے کہ مو ذٔن وقت شناس ہواورنمازکاوقت شروع ہونے کے بعداذان واقامت کہے ،وقت داخل ہونے سے پہلے کہی جانے والی اذان واقامت کافی نہیں ہے، اگروقت سے پہلے کہہ بھی دی جائے تووقت پہنچنے کے بعددوبارہ کہاجائے ،بلال وقت شناس تھے ،اورکبھی وقت سے پہلے اذان نہیں کہتے تھے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)بلال کی اذان وآوازکودوست رکھے اسی لئے بلال کوحکم دیاکرتے تھے اورکہتے تھے: اے بلال!جیسے نمازکاوقت شروع ہوجائے تو مسجدکی دیوارپرجاؤاوربلندآوازسے اذان کہو۔
ایک اورروایت میں آیاہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے پاس دومو ذٔن تھے ایک بلال اوردوسرے ابن ام مکتوم ،ابن ام مکتوم نابیناتھے جوصبح ہونے سے پہلے ہی اذان کہہ دیاکرتے تھے اورحضرت بلال طلوع فجرکے وقت اذان کہاکرتے تھے ،نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:
ان ابن مکتوم یو ذٔن بلیل، اذاسمعتم اذانه فکلواواشربواحتی تسمعوااذان بلال
. ابن مکتوم رات میں اذان کہتے ہیں لہٰذاجب تم ان کی اذان سنو تو کھانا پینا کیا کرو یہاں تک کہ تمھیں بلال کی اذان کی آوازآئے (لیکن اہل سنت نے پیغمبر کی اس حدیث کوپلٹ دیاہے اورکہتے ہیں کہ بلال رات میں اذان دیاکرتے تھے،اورکہتے ہیں:نبی نے فرمایاہے کہ: جب بلال کی اذان سنوتوکھاناپیناکرو)(۲)
____________________
۱). علل الشرائع/ج ٢/ص ٣۶٨
۲)من لایجضرہ الفقیہ/ج ١/ص/ ٢٩٧
مو ذٔن کے مرد،مسلمان اورعاقل ہونے کی وجہ
اذان واقامت کہنے والے کامردہوناچاہئے اورکسی عورت کااذان واقامت کہناصحیح نہیں ہے کیونکہ مردوں کاعورت کی اذان واقامت پراکتفاکرناصحیح نہیں ہے لیکن عورت کاعورتوں کی جماعت کے لئے اذان واقامت ذان جماعت کہناصحیح اورکافی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اذان واقامت کہنے والی عورت آوازات نی بلندرہے کہ اس کی آوازمردوں کے کانوں تک نہ پہنچے کیونکہ عورتوں کواپنی آوازکوبھی پرودہ میں رکھناچاہئے اسی لئے عورت عورت کوچاہئے کہ جہری نمازوں اگرنامحرم آوازکوسن رہاہوتوآہستہ پڑھے جیساکہ ہم رازجہرواخفات میں ذکرکریں گے۔
زاراہ سے مروی ہے کہ میں نے امام باقر سے پوچھا:کیاعورتوں کوبھی اذان کہناچاہئے ) ؟امام(علیه السلام) (علیه السلام)نے فرمایا:ان کے لئے شہادتین کہناہی کافی ہے ۔(۱)
قال الصادق علیه السلام:لیسعلی النساء ا ذٔان ولااقامة ولاجمعة ولاجماعة. امام صادق فرماتے ہیں:عورتوں کے لئے نہ اذان ہے نہ اقامت ،اورنہ جمعہ ہے نہ جماعت۔(۲)
مو ذٔن کے لئے ضروری ہے کہ عاقل وباایمان ہواگرکوئی مجنون یاغیرمومن اذان یااقامت کہے تووہ قبول نہیں ہے کیونکہ قلم تکلیف اٹھالیاگیاہے البتہ مو ذٔن کابالغ ہوناشرط نہیں ہے بلکہ نابالغ بچہ کی اذان واقامت صحیح ہے جبکہ وہ بچہ ممیزہو۔
اذان کے کلمات کی تکرارکرنے کومستحب قراردئے جانے کی وجہ
جولوگ اذان کی آوازکوسن رہے ہیں ان کے لئے مستحب ہے کہ جب مو ذٔن اذان کہہ رہاہوتو اس وقت خاموش رہیں اور اذان کے کلمات کوغورسے سنیں اورمو ذٔن کی زبان سے اداہونے والے کلموں کی تکرارکریں،یہاں تک اگرانسان بیت الخلامیں بھی اذان کی آوازسنے تواس کی تکرارکرے
قال ابوعبدالله علیه السلام :ان سمعت الاذان وانت علی الخلاء فقل مثل مایقول المو ذٔن ولاتدع ذکراالله عزوجل فی تلک الحال .
امام صادق فرماتے ہیں:اگرتم بیت الخلامیں ہواوراذان کی آوازسنوتومو ذٔن کے کلمات کی تکرارکرواوراس حال میں ذکرخداسے غفلت نہ کرو۔(۳)
____________________
۱)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ۵٨
. ٢)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٩٨
۳). علل الشرائع/ج ١/ص ٢٨۴
سلیمان ابن مقبل مدائنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام موسی کاظمسے پوچھا: حدیث میں آیاہے :مستحب ہے کہ جب مو ذٔن اذان کہے تو اذان سننے والا اذان کے کلموں کی تکرارکرے خواہ اذان کوسننے والابیت الخلامیں ہی کیوں نہ بیٹھاہو ،اس کے مستحب ہونے کی کیاوجہ ہے ؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:
انّ ذلک یزیدفی الرزق
کیونکہ اذان کے کلموں کی حکایت اورتکرارکرنے سے رزق وروزی میں اضافہ ہوتاہے ۔(۱)
ایک شخص حضرت امام جعفرصادق کی خدمت میں آیاکہا:اے میرے مولامیں بہت ہی غریب ہوں اپ مجھے کوئی ایساچیز بتائیں کہ جس سے میری یہ فقیری ختم ہوجائے ،امام (علیه السلام)نے اس فرمایا :
ا ذِّٔنْ کُلّماسمعت الاذان کمایو ذّٔن المو ذّٔن ۔
جب بھی تم اذان کی آوازسنوتو اسے مو ذٔن کی طرح تکرارکرو(۲)
اذان واقامت کانقطہ آٔغاز
اذان واقامت کہ جس کی اہمیت اوراس کے فضائل وفوائد اوراس کے احکام کے متعلق آپ نے ات نی زیادہ نے ملاحظہ فرمائیں ان چیزوں سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس نقطہ آٔغازوحی الٰہی ہے ،تمام علماء وفقہائے شیعہ اثناعشری کااس بات اتفاق وعقیدہ ہے کہ دین اسلام میں اذان واقامت کاآغازوحی الٰہی کے ذریعہ ہواہے کیونکہ ہمارے پاس کے بارے میں معتبرروایتیں موجودہیں جواس چیزکوبیان کرتی ہیں کہ اذان اقامت کاآغازاورمشروعیت وحی کے ذریعہ ہوئی ہے لیکن علمائے اہل سنت اکثریت اس بات پرعقیدہ رکھتی ہے کہ اذان واقامت کاعبدالله ابن زیدکے خواب کے ذریعہ ہواہے جسے حدیث رو یٔاکانام دیاگیاہے اورکہتے ہیں کہ اذان واقامت کے متعلق الله کی طرف کوئی نازل نہیں ہوئی ہے۔
____________________
۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ٣/باب الاذان والاقامة. بحارالانوار/ج ٨۴ /ص ١٧۴
.۲) مکارم الاخلاق /ص ٣۴٨
وہ احادیث جووحی کواذان واقامت کے نقطہ آغازقراردیتی ہیں:
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:لما اسری برسول الله صلی الله علیه وآله وسلم الی السماء فبلغ البیت المعموروحضرت الصلاة فاذّن جبرئیل علیه السلام واقام فتقدم صلی الله علیه وآله وسلم وصف الملائکة والنبیون خلف محمدصلی الله علیه وآله وسلم ۔(۱)
حضرت امام باقرفرماتے ہیں:جب شب معراج پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کو آسمان کی سیرکرائی گئی اوربیت المعمورمیں پہنچے ،جب وہاں نمازکاوقت پہنچاتوالله کی طرف سے جبرئیل امین (علیه السلام)نازل ہوئے اوراذان واقامت کہی ،رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازجماعت کے لئے آگے کھڑے ہوئے اورانبیاء وملائکہ نے حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)کے پیچھے صف میں کھڑ ے ہوکرجماعت سے نمازپڑھی ۔
زرارہ اورفضیل ابن یسارنے امام محمدباقر سے روایت کی ہے جسمیں آپ فرماتے ہیں: جب شب معراج نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کو آسمان کی سیرکرائی گئی اوربیت المعمورمیں پہنچے اورنمازکاوقت پہنچاتوالله کی طرف سے جبرئیل امین (علیه السلام)نازل ہوئے اوراذان واقامت کہی ،رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازجماعت کے لئے آگے کھڑے ہوئے اورانبیاء وملائکہ نے آنحضرتکے پیچھے جماعت سے نمازپڑھی ،ہم نے امام باقر سے پوچھا:جبرئیل نے کس طرح اذان واقامت کہی؟آپ (علیه السلام)نے فرمایا:اس طرح سے:الله اکبر،الله اکبر،ا شٔهدان لااله الّاالله ،ا شٔهدان لااله الّاالله ، اشهدانّ محمدارسول الله ، اشهدانّ محمدارسول الله ،حیّ علی الصلاح، حیّ علی الصلاح،حیّ علی الفلاح،حیّ علی الفلاح،حیّ علی خیرالعمل ،حیّ علی خیرالعمل ، الله اکبر،الله اکبر،لااله الّاالله،لااله الّاالله ۔
اوراقامت بھی اذان کی طرح کہی بس ات نے فرق کے ساتھ کہ“حیّ علی خیرالعمل ” اور“الله اکبر”کے درمیان “قدقامت الصلاة ،قدقامت الصلاة ” کہا۔ امام صادق فرماتے ہیں کہ:نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے بلال / کو اذان کی تعلیم دی اور پیغمبرکے زمانہ میں اسی طرح اذان ہوتی رہی یہاں تک کہ آنحضرت اس دنیاسے ) رخصت ہوگئے ۔(۲)
____________________
۱) کافی (باب بدء الاذان والاقامة)۔ من لایحضرہ الفقیہ(باب الاذان الاقامة) (استبصار/ج ١(عدد فصول الاذان والاقامة)/ص ٣٠۵ ۔ تہذیب /ج ١(باب عددفصول الاذان والاقامة)/ص ۶٠
۲) استبصار/ج ١/ص ٣٠۵ ۔ تہذیب /ج ١/ص ۶٠
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:لماهبط جبرئیل علیه السلام بالاذان علیٰ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کان راسه فی حجرعلی علیه السلام فاذن جبرئیل واقام فلما انبته رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال:یاعلی سمعت ؟قال:نعم ،قال حفظت ؟قال:نعم ،قال:ادع لی بلالاًنعلمه فدعاعلی علیه السلام بلالاًفعلمه ۔(۱)
امام صادق فرماتے ہیں:جس وقت جبرئیل اذان لے کر نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)پرنازل ہوئے تواس وقت آنحضرت (کعبہ کے سایہ میں)امام علی (علیه السلام)کے زانوئے اقدس پرسر پررکھے ہوئے آرام کررہے تھے ،جبرئیلنے اذان واقامت کہی ،جیسے رسول الله (صلی الله علیه و آله)بیدارہوئے اورکہا:یاعلی(علیه السلام)!جبرئیل نے جوکچھ مجھ سے کہاکیاوہ سب کچھ تم نے بھی سناہے؟حضرت علینے جواب دیا:جی ہاں،آنحضرت نے کہا:کیااسے حفظ کیا؟ فرمایا:جی ہاں،اس کے بعدآنحضرت نے کہا:اے علی (علیه السلام)!بلال کوبلاؤاورانھیں اس کی تعلیم دو،امام علی نے بلال کوبلایااورانھیں اذان کی تعلیم دی۔ وہ اذان واقامت جوجبرئیل نے شب معراج کہی تھی خودنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے لئے کہی تھی لیکن جب دوسری مرتبہ اذان واقامت لے کرنازل ہوئے تووہ لوگوں تک پہچانے اوراسے شرعی قراردینے کے لئے لے کرنازل ہوئے ۔
احادیث اہل سنت
علمائے اہل سنت والجماعت کی کتابوں میں ایسی احادیث موجودہیں جواس بات کوبیان کرتی ہیں کہ اذان واقامت کاآغازوحی پروردگارکے ذریعہ ہواہے اورحدیث رؤیاکوباطل اوربے بنیادقراردیتی ہیں شہاب الدین ابن حجرعسقلانی “فتح الباری ”میں لکھتے ہیں:انّ الاذان شرع بمکة قبل الهجرة
ہجرت سے پہلے مکہ میں اذان کا شرعی طورسے حکم نازل ہوچکاتھاکیونکہ طبرانی نے سالم ابن عبدالله ابن عمرنے اپنے والدسے یہ روایت نقل کی ہے:لما اسری بالنبی صلی الله علیه وسلم اوحی الله الیه الاذان فنزل به فعلمه بلالا .
جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے تو خداوندعالم نے ان پروحی کے ) ذریعہ اذان نازل کی اورآنحضرت (زمین پر)اذان لے کرنازل ہوئے اوراس کی بلال کوتعلیم دی ۔(۲) عن انس :انّ جبرئیل اَمَرَالنّبی صلّی الله علیه وسلم بِالاذانِ حین فُرِضَتْ الصّلاةُ .(۳) انس سے مروی ہے:جب نمازواجب ہوئی توجبرئیل نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کواذان کاحکم دیا۔
____________________
١)کافی (باب بدء الاذان والاقامة)ج ٣/ص ٣٠٢ ۔من لایحضرہ الفقیہ(باب الاذان والاقامة)/ج ١/ص ٢٨١
. ۲)فتح الباری شرح بخاری /ج ٢//ص ۶٢
. ۳)فتح الباری شرح بخاری /ج ٢//ص ۶٢ )
عن عائشة:لما اُسری بی اذّن جبرئیل فظنّت الملائکة انّه یصلّی بهم فقدّمَنِی فَصَلّیْتُ .(۱)
عائشہ سے روایت ہے کہ:نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایاہے :جب مجھے معراج پرلے جایاگیاتووہاں جبرئیل (علیه السلام)نے نمازکے لئے اذان کہی توملائکہ نے گمان کیاکہ پیغمبر ہمارے ساتھ نمازپڑھناچاہتے ہیں لیکن انھوں نے مجھے آگے کیا،پھرمیں نے نمازپڑھی ۔
بزازنے علی سے روایت کی ہے:جب خداوندعالم نے اپنے رسول کواذان کی تعلیم دینے کاارادہ کیاتوجبرئیل نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے لئے ایک براق نامی سواری لے کرآئے اور آنحضرت اس پرسوارہوئے اورجیسے ہی اس حجاب تک پہنچے کہ جوخدائے رحمن سے ملاہواتھا،ایک فرشتہ اس پردہ سے باہرآیااوراس نے “الله اکبر،الله اکبر”کہاتوپردے کے پیچھے سے آوازآئی:میرابندہ صحیح کہتاہے ،میں ہی سب سے بڑاہوں ، میں ہی سب سے بڑاہوں اس کے بعدملک نے “اشہدان لاالہ الاالله”کہاتوپردے کے پیچھے سے آوازآئی:میرابندہ صحیح کہتاہے ،میں ہی معبودبرحق ہوں اورمیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے اس کے بعدملک نے“اشہدان محمدارسول الله ”کہاتوپردے کے پیچھے سے آوازآئی:میرابندہ صحیح کہتاہے ،میں نے محمد کورسول بناکربھیجاہے اس کے بعدملک نے “حی الصلاح ، حی علی الفلاح ، قدقامت الصلاة” کہااوراس کے بعد“الله اکبر،الله اکبر”کہاتوپردے کے پیچھے سے آوازآئی: میرابندہ صحیح کہتاہے ،میں ہی سب سے بڑاہوں ، میں ہی سب سے بڑاہوں،اس کے بعدملک نے “ لاالہ الاالله”کہاتوپردے کے پیچھے سے آوازآئی:میرابندہ صحیح کہتاہے ،میں ہی معبودبرحق ہوں اورمیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔
اس کے بعداس فرشتے نے آنحضرت کاہاتھ پکڑا اور آگے بڑھایااورتمام اہل آسمان نے کہ ) جن میں ادم ونوح بھی تھے آپ کی امامت میں نمازجماعت اداکی ۔(۲)
____________________
۱)فتح الباری ابن حجرعسقلانی/ج ٢//ص ۶٢ ۔درّ منثور(جلال الدین سوطی)/ج ۴/ص ١۵۴
.۲)ینابیع المودة /ج ١/ص ۶۶ ۔درمنثور/ج ۴/ص ١۵۴
سفیان اللیل سے مروی ہے کہ:جب امام حسن (اورمعاویہ کے درمیان صلح)کاواقعہ رونماہوا، میں اسی موقع مدینہ میں آپ کی خدمت میں شرفیاب ہوا،اس وقت آپ کے اصحاب بھی بیٹھے ہوئے تھے ، کافی دیرتک آپ(علیه السلام) سے باتیں ہوتی رہیں، راوی کہتاہے :ہم نے ان کے حضورمیں اذان کے بارے میں گفتگوچھیڑدی توہم سے میں سے بعض لوگوں نے کہا:اذان کاآغاز عبدالله ابن زیدابن عاصم کے خواب کے ذریعہ ہواہے تو حسن ابن علی (علیه السلام)نے ان سے فرمایا:
اذان کامرتبہ اس سے کہیں زیادہ بلندبرترہے ،جبرئیل (علیه السلام)نے (شب معراج)آسمان میں دومرتبہ اذان کہی اوراسے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کوتعلیم دی ) اورایک مرتبہ اقامت کہی اوراسکی بھی رسول خدا (صلی الله علیه و آله)کو تعلیم دی ۔(۱)
”درمنثور”اور“کنزالعمال ”میں حضرت علی سے یہ روایت نقل کی گئی ہے
انّ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم عُلّم الاذان لیلة اُسْرِیَ بِهِ وَفُرِضَتْ علیه الصّلاةُ .
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کومعراج کی شب اذان کی تعلیم دی گئی اورآپ پرنمازواجب کی گئی۔(۲)
ابوالعلاء سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ:میں نے محمدابن حنفیہ سے کہا:ہم لوگ کہتے ہیں کہ اذان کاآغازایک انصاری کے خواب کے ذریعہ ہواہے یہ بات سنتے ہی محمدابن حنفیہ نے ایک شدیدچیخ مارکرکہا: کیاتم لوگوں نے شریعت اسلام کے اصولوں میں ایک اصل اوراپنے دین کی علامتوں میں سے ایک علامت کوہدف قراردیاہے اوریہ گمان کرتے ہوکہ یہ ایک انصاری کے خواب سے ہواہے جواس نے اپنی نیندمیں دیکھاہے جبکہ خواب میں سچ اورجھوٹ دونوں کاامکان پایاجاتاہے ،کبھی باطل خیالات بھی ہوسکتے ہیں،میں نے محمدابن حنفیہ سے کہا:یہ حدیث تولوگوں کے درمیان عام اورمشہورہے ،انھوں نے جواب دیا:خداکی قسم یہ عقیدہ بالکل باطل ہے ) ۔(۳)
ا ہل سنت کی ان مذکورہ احادیث اس بات کوثابت کرتی ہیں کہ دین اسلام میں نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی ہجرت سے کئی سال پہلے مکہ میں شب معراج وحی کے ذریعہ اذان کاآغاز ہوچکا تھا اور عبدالله ابن زیدکے خواب کاواقعہ جونقل کیاجاتاہے وہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے مدینہ ہجرت کرنے کے کافی عرصہ بعدکاواقعہ ہے ۔
____________________
. ١)المستدرک (حاکم نیشاپوری)/ج ٣/ص ١٧١
. ۲)کنزالعمال/ج ١٢ /ص ٣۵٠ /ح ٣۵٣۵۴ ۔درمنثور/ج ۴/ص ١۵۴
.۳) السیرة الحلبیہ /ج ٢/ص ٣٠٠ ،منقول ازکتاب الاعتصام /ص ٢٩
حدیث رؤیا
اکثرعلمائے اہل سنت کہتے ہیں کہ اذان واقاامت کاآغازعالم رؤیامیں ہواہے اوراذان واقامت کے متعلق الله کی طرف سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ اذان اقامت کاآغازعبدالله ابن زیدکے خواب سے ہواہے جسے حدیث رو یٔاکانام دیاگیاہے اورعمرابن خطاب نے اس کے خواب کی تائیدکی ہے اوروہ حدیث رؤیایہ ہے:
عبدالله ابن زیدسے روایت ہے کہ جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ناقوس بنانے کاحکم دیاتاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کونمازکے لئے جمع کیاجائے ،میں اس وقت سورہاتھاتومیں نے خواب میں دیکھاکہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں ناقوس لئے ہوئے میرے گردگھوم رہاہے ،میں نے اس سے کہا:اے الله کے بندے! کیایہ ناقوس بیچناپسندکروگے؟اس نے کہا:تم اس کا کیاکروگے ؟میں نے کہا:اس کے ذریعہ لوگوں کونمازکے لئے بلاؤں گا،اس نے کہا:کیاتم نہیں چاہتے ہوکہ میں تمھیں ناقوس سے بہترچیزکی راہنمائی کروں؟ میں نے کہا:ہاں!اس نے کہا:لوگوں کونمازکے لئے جمع کرنے کے لئے اس طرح کہو الله اکبر،الله اکبر،الله اکبر،الله اکبر،اشہدان لاالہ الاالله،اشہدان محمدارسول الله،حی علی الصلاح ،حی علی الصلاح ،حی علی الفلاح ،حی علی الفلاح ، الله اکبر،الله اکبر،لاالہ الاالله۔ عبدالله ابن زیدکا کہناہے کہ جب وہ شخص میرے پاس سے جانے لگاتوکچھ دورچل کربولا: اورجب تم نمازکے لئے کھڑے ہوجاؤ تواس طرح اقامت کہو: الله اکبرالله اکبر،اشہدان لاالہ الاالله،اشہدان محمدارسول الله،حی علی الصلاح حی علی الفلاح ،قدقامت الصلاة قدقامت الصلاة ،الله اکبرالله اکبر،لاالہ الاالله عبدالله ابن زیدکہتاہے کہ میں صبح ہوتے ہی نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں پہنچااورجوکچھ خواب میں دیکھاتھا آنحضرت کے حضورمیں بیان کردیا۔ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:انشاء الله تعالیٰ تیرایہ خواب سچاہے لہٰذابلال کے ساتھ کھڑے ہوجاؤاورجوکچھ خواب میں دیکھاہے وہ سب بلال کویادکراؤتاکہ وہ اسی طرح اذان کہاکریں کیونکہ بلال کی آوازتم سے بہت اچھی ہے لہٰذامیں بلال کے ساتھ کھڑاہوااورانھیں اذان کی تعلیم دی اوربلال نے اذان شروع کی۔ عبدالله ابن زیدکہتاہے کہ:جب بلال نے اس طرح اذان کہی اورعمرابن خطاب جواس وقت اپنے گھرمیں تھے اذان کی آوازسنی توفوراًگھرسے باہرنکلے اورحالت یہ تھی کہ عباء مین پرگھسٹ رہی تھی ،تیزی کے ساتھ دوڈے ہوئے رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کے پاس آئے اوربولے :یارسول الله!قسم اس ذات کی جس نے آپ کوپیغمبری پرمبعوث کیاہے میں نے بھی اسی کی طرح خواب دیکھاہے جیسے اس نے دیکھاہے ۔(۱)
____________________
. ١)سنن ابی داؤد،کتاب الصلاة،باب کیف الاذان،رقم ۴٩٩ /ص ١٢٠
حدیث رؤیاکے بارے میں شیعوں کانظریہ
جیساکہ پہلے ذکرکرچکے ہیں تمام علمائے شیعہ کااس بات پراتفاق ہے کہ اذان واقامت کاآغازوحی پروردگارکے ذریعہ ہے ،پس وحی کے علاوہ کسی چیزکے ذریعہ اذان واقامت کانقطہ آغازقراردیناباطل اوربے بنیادہے ،اس بارے میں چندنکات ذکرہیں:
١۔غوروفکرکی بات ہے کہ جب الله تبارک وتعالی نے اپنے حبیب کونماز،روزہ ،حج ،زکات اوران کے احکامات کی تعلیم دی ہے ،توکیااس نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کولوگوں کونمازکی طرف دینے اوراس کے وقت پہنچنے کی اطلاع دینے کے لئے جبرئیل امین کسی چیزکوبیان نہیں کیاہوگاکہ اس طرح سے لوگوں کووقت نمازپہنچنے کی اطلاع دیاکرو۔
٢۔نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)دومرتبہ اذان واقامت ک تعلیم دی گئی تھی ایک مرتبہ اس وقت کہ جب آپ معراج پرگئے تووہاں جبرئیل نے اذان اقامت کہی اورملائکہ وانبیائے الٰہی نے آپ کے پیچھے نمازاداکی اوردوسری مرتبہ اس وقت زمین پرلے کر نازل ہوئے جب آنحضرت مولائے کائنات کے زانوئے وبارک سررکھے ہوئے آرام کررہے تھے توجبرئیل وحی لے کرنازل ہوئے اورفرمایاکہ نمازسے پہلے اس طرح اذان واقامت کہاکرپس عبدالله ابن زیدکے خواب کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
٣۔اگراذان واقامت کی اہمیت اوراس کے فضائل وفوائد کے بارے ہم نے جوروایتیں نقل کی ہیں ان سب چیزوں یہ واضح ہوتاہے کہ اذان کوالله تبارک تعالیٰ کی جانب سے مشروعیت دیاگیاہے ورنہ اسکی دین اسلام میں ات نی زیادہ اہمیت نہ ہوتی ۔
۴ ۔ابن عقیل نے اجماع نے دعوی کیاہے:اجتمعت الشیعة علی ان الصادق علیه السلام لعن قومارعموا،انّ النبی صلی الله علیه وآله اخذالاذان من عبدالله بن زید فقال(علیه السلام:ینزل الوحی علی نبیکم ، فتزعمون انه اخذالااذان من عبدالله ابن زید
دین اسلام میں وحی الٰہی کونقطہ آغاز اذان قراردیناضروریات مذہب شیعہ ہے اورعلمائے شیعہ کااجماع ہے کہ امام صادق نے اس جماعت پرلعنت کی ہے کہ جویہ گمان کرتے ہیں کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے اذان کوعبدالله ابن زیدکے خواب سے اخذکیاہے اوریہ رسول پرایک تہمت وبہتان ہے بلکہ اذان کووحی پروردگارسے اخذکیاگیاہے جیساکہ امام صادق فرماتے ہیں:
۵ ۔نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کہ جنھوں نے جودین اسلام کی بنیادرکھی اورلوگوں نمازوحکمت کی تعلیم دی ،کیاآپ نے دین اسلام میں کسی چیزکووحی پروردگارکے علاوہ رائج کیاہے
۶ ۔جولوگ عبدالله ابن زیدکے خواب کواذان کی ابتداقرادیتے ہیں اس کی بنیادی وہ یہ ہے کیونکہ ایک صاحب نے اس کے خواب تائید کی تھی اس لئے تاکہ دین اسلام میں پیغمبرکے ساتھ ان کانام بھی روشن رہے اس لئے ایک حدیث کوجعل کرلیاگیا۔
٧۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جوشخص معیارآدمیت ہو،ذمہ دارشریعت ہو،افضل المرسلین ہو، وحی کے بغیرکوئی کلام ہی نہ کرتاہواورالله تبارک وتعالیٰ کامحبوترین بندہ ہواس پراذان واقامت کے متعلق الله کی طرف سے وحی نازل نہ ہواورحتی خواب میں بھی نہ دکھے اوران کے بعض صحابہ اذان کے کلمات کوخواب حاصل کرلیں اورانھیں یادرہیں کہ ہم نے خواب میں یہ اوریہ کلمات دیکھے ہیں؟
حدیث رؤیاکے بارے میں بعض اہل سنت کانظریہ
اہل سنت کی کتابوں سے وہ احادیث جوہم نے “اذان واقامت کے نقطہ آغاز”کے عنوان میں ذکرکی ہیں ان میں بعض احادیث میں عبدالله ابن زیدکے خواب کوغلط قرادیاگیاہے حدیث رؤیاکے بارے میں سرخی اپنی کتاب“المبسوط”میں لکھتے ہیں: ابوحفص عالم خواب میں اذان کے آغازہونے سے انکارکرتے تھے اورکہتے تھے کہ:تم لوگوں نے معالم اورشعائراسلامی میں سے ایک پراعتمادکرتے ہواورکہتے ہوکہ وہ رؤیاکے ذریعہ ثابت ہواہے لیکن ایساہرگزنہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کومعراج ہوئی اورآپ کو مسجدالاقصیٰ لے جایاگیااورانبیاء کوجمع کیاگیاتوایک فرشتہ نے اذان واقامت کہی اورپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے ان کے ساتھ اداکی اورکہاجاتاہے کہ جبرئیل اذان لے کرنازل ہوئے تھے ۔(۱)
حدیث رویامیں جن راویوں کے ذکرکئے گئے ہیں ان کے بارے میں کتب اہل سنت سے ایک مختصرساجائزہ ذکرہے:
حدیث رو یٔاکے راویوں میں محمدابن اسحاق کاذکرکیاگیاہے ،جس کی سندکے بارے میں دارقطنی کہتے ہیں:
”اختلف الآئمة ولیس بحجة انمایعتبربه ” آئمہ کے درمیان اس کے بارے میں اختلاف ) پایاجاتاہے اوروہ حجت نہیں ہے ،بساس پرتھوڑاسااعتبارکیاگیاہے ۔(۲)
قال ابوداو دٔ:سمعت احمدذکرمحمد بن اسحاق فقال:کان رجلا یشتهی الحدیث ،فیا خٔذکتب الناس فیضعهافی کتبه ۔(۳)
ابوداؤدکہتے ہیں:میں نے محمدابن اسحاق کے بارے میں احمدابن حنبل سے سنا،وہ کہتے ہیں کہ: اسے حدیثیں نقل کرنے کی بہت زیادہ ہوس رہتی تھی لہٰذاوہ لوگوں کی کتابیں لے کرانھیں اپنی کتابوں میں قراردیاکرتا تھا۔
____________________
.۱) المبسوط/ج ١/ص ١٢٨
. ۲) تہذیب الکمال/ج ٢۴ /ص ۴٢١
۳)تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج ٣٨ )
قال المروذی قال احمدبن حنبل:کان اسحاق یدلس وقال ابوعبدالله:قدم ابن اسحاق بغداد،فکان لایبالی عمن یحکی ،عن الکلبی وغیره. ”(۱)
مروذی کہتاہے:احمدابن حنبل نے محمدابن اسحاق کے بارے کہاہے کہ وہ تدلیس کرتاتھااورحقیقت کوچھپادیاکرتاتھا پس جب وہ بغدادآیاتوکسی بات کی پرواہ کئے بغیرہرایک سے(جسسے دل چاہے) کلبی وغیرہ سے حدیث نقل کرتاتھا۔
قال حنبل بن اسحاق :سمعت اباعبدالله یقول:ابن اسحاق لیسبحجة .(۲)
حنبل ابن اسحاق کہتے ہیں:میں نے ابوعبدلله کویہ کہتے سناہے کہ ابن اسحاق حجت نہیں ہے۔
قال عبدالله بن احمدمارا یٔت ا بٔی اتقن حدیثه قط،وکان یتتبّعه بالعلووالنزول،قیل له :یحتج به؟قال:لم یکن یحتج به فی السنن .(۳)
عبدالله ابن احمد کہتے ہیں:میں نے کبھی نہیں دیکھاکہ میرے باپ نے اس کی حدیث پریقین کیاہواوراسے معتبرقراردیاہوبلکہ اس کی نقل کی ہوئی حدیث کے بارے میں تحقیق کرتے تھے جب ان سے پوچھاگیاکہ کیامحمدابن اسحاق کی احادیث کودلیل کے طورپرپیش کیاجاسکتاہے ؟انھوں نے جواب دیا: سنن میں ان سے احتجاج نہیں کیاجاسکتاہے ۔
قال ایوب بن اسحاق سامری: سئلت احمد بن حنبل :اذاانفرد ابن اسحاق بحدیث تقبله ؟قال :لا،والله انّی را یٔته یحدث عن جماعة بالحدیث الواحدولایفضل کلام ذامن کلام ذا ۔(۴)
ایوب ابن اسحاق ابن سافری کہتے ہیں:میں نے احمدابن حنبل سے پوچھا:اگرکسی حدیث کوفقط ابن اسحاق سے نقل کیاجائے توکیاآپ اسے قبول کریں گے؟جواب دیا:ہرگزنہیں،خداکی قسم میں نے دیکھاہے کہ وہ ایک جماعت سے حدیث کونقل کرتاہے بغیراسکے کہ وہ ایک کی بات کودوسرے کی بات سے الگ کرے۔
____________________
.۱)تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج۹/ ٣٨
٢) تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج ٣٨/.٩
. ٣ )تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج ۹/٣٨
۴) تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج ۹/٣٨.
نسائی اس کے بارے میں کہتے ہیں:
”لیسبالقوی “
وہ راوی قوی نہیں ہے۔(۱)
حدیث رؤیامیں محمد ابن ابراہیم ابن حارث جیسے راوی کاذکربھی ہے ، اس راوی کے بارے میں عقیلی نے عبدالله ابن احمدسے اورانھوں نے اپنے والد(حنبل)سے نقل کیاہے جس میں امام حنبل کہتے ہیں:
فی حدیثه شئ یروی احادیث ا حٔادیث مناکیرا ؤمنکرة ۔(۲)
اس راوی کی حدیث کے بارے یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ مجہول اورناپسندروایتیں نقل کرتاہے۔
حدیث رؤیامیں عبدالله ابن زیدکانام ہے کہ جسنے اذان کے بارے میں یہ خواب دیکھاتھا، اس کے بارے میں بعض کتب اہل سنت میں ترمذی کے حوالے سے بخاری کایہ قول نقل کیاگیاہے:
”لانعرف له الّاحدیث الاذان “ ہم عبدالله ابن زیدکی اس حدیث اذان کے علاوہ کسی دوسری روایت کونہیں جانتے ) ہیں۔(۳)
حاکم نیشاپوری “المستدرک ”میں عبدالله ابن زیدکے بارے میں لکھتے ہیں:عبدلله بن زید هوالذی اریٰ الاذان ،الّذی تداوله فقهاء الاسلام بالقبول ولم یخرج فی الصحیحین لاختلاف الناقلین فی اسانیده .(۴)
عبدالله ابن زیدوہ شخص ہے جسنے اذان کوخواب میں دیکھااورعلمائے اسلام نے اسے رسمیت دی ہے لیکن اس حدیث سندکی کے بارے میں ناقلین کے درمیان اختلاف پائے جانے کی وجہ سے مسلم اوربخاری دونوں نے اپنی صحیح میں اس حدیث کوبالکل ذکرنہیں کیاہے ۔
____________________
١)تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج ٣٩ ( .۵/
. ٢)تہذیب التہذیب(ابن حجر) /ج ٩/ص ۶.
٣)تہذیب الکمال/ج ١۴ /ص ۵۴١ ۔تہذب التہذیب(ابن حجر)/ج ١٩٧
۴)المستدرک (حاکم نیشاپوری)/ج ٣/ص ٣٣۶
حاکم نیشاپوری کایہ دعویٰ اس چیزکی طرف اشارہ کرتاہے کہ ان کی نظرمیں عبدالله ابن زیدکے خواب کے ذریعہ اذان واقامت کاآغازہونا باطل اوربے بنیادہے اورحاکم نیشاپوری کے علاوہ متعددعلمائے اہل سنت نے بھی اذان کی ابتد اء کوعبدالله ابن زیدکے خواب ذریعہ ہونے سے انکارکیاہے اوروحی الہٰی کے ذریعہ اذان کے آغاز ہونے کوقبول کیاہے۔ اذان واقامت میں حضرت علی کی امامت کی گواہی دینے کاراز اذان واقامت میں“اشهدان محمدا رسول الله ”کے بعد حضرت علی کی امامت وولایت کی دومرتبہ گواہی دینایعنی “اشهدان علی ولی الله ”کہنا
علماوفقہاکہتے ہیں:“اشهدان علی ولی الله ”اذان واقامت کاجزء نہیں ہے مگرپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)رسالت کی گواہی کومکمل کرتاہے اورآج کے زمانہ میں شیعوں پہچان ہونے شمارہوتاہے پس “اشہدانّ محمد رسول الله”کے بعدقربت اورتبرک کی نیت سے “اشهدان علی ولی الله ” بہترہے
جس طرح نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی نبوت ورسالت میں کوئی شک نہیں ہے اسی طرح حضرت علی خداکے ولی اورمومنین کے مولاوامیربرحق ہونے بھی کوئی شک نہیں ہے ،روایت معراج میں لکھاہے کہ عرش معلی پررسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کے ساتھ مولائے کائنات بھی لکھاہواہے ، جنت کے دروازے بھی آپ کانام لکھاہے دوسرے الفاظ میں یوں کہاجائے کہ جس پربھی پروردگارنے رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کانام لکھ رکھاہے اسی کے ساتھ امام علیٰ کانام بھی لکھاہواہے لیکن کچھ لوگوں ان روایتوں سے آپ کے نام کوختم کردیاہے اوراپنے بزرگوں کانام لکھ دیاہے اسی لئے ہم شیعہ حضرات اذان واقامت میں“اشہدانّ محمد رسول الله”کے بعد “اشہدان علی ولی الله”کہہ کراس بات کااعلان کرتے ہیں کہ عرش معلی پرنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے ساتھ علی ابن ابی طالب کانام درج ہے نہ ان کاکہ جنھیں لوگوں نے حدیث معراج میں داخل کردیاہے ۔
پس اذان واقامت میں امام علی کی شہادت کی گواہی دینے سے اذان واقامت باطل نہیں ہوسکتی ہے ،اورنہ اسے بدعت کہاجاسکتاہے کیونکہ ہم اسے اذان اقامت کاحصہ نہیں سمجھتے ہیں اوراسے بقصدقربت کہتے ہیں،اہل سنت کی کتابوں میں بھی علی کے ذکرکوعبادت قرادیاگیاہے اوریہ روایت نقل کی گئی ہے: ”ذکرعلی عبادة.”علی کاذکرعبادت ہے۔
جب علی کاذکرعبادت ہے تواذان واقامت میں ان ذکرکرنے سے کیسے اذان واقامت باطل ہوسکتی ہے اوران کاذکرکیسے بدعت ہوسکتاہے۔
____________________
. کنزالعمال/ج ١١ /ص ۶٠١ ۔البدایة والنہایة/ج ٧/ص ٣٩۴ ۔ینابیع المودة /ج ٢/ص ٢٢٩
اول وقت
مستحب ہے کہ ہرمسلمان اپنی نمازوں کواول وقت اداکرے ، دین اسلام میں نمازکواول وقت اداکرنے اوراوقات نمازکی محافظت کرنے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے اورآیات وروایات میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے
اکثرعلمائے کرام نے محافظت نمازسے نمازکااول وقت مرادلیاہے اورمعصومین بھی یہی اشارہ دیاہے وہ آیات کریمہ اوراحاد یث کہ جنھیں ہم نے ابھی “نمازکواس کے وقت میں اداکرنا ”کے عنوان میں ذکرکی ہیں ان میں محافظت نمازسے نمازکااول وقت مرادہے کتب احادیث میں اول وقت کی اہمیت وفضلیت کے بارے میں معصومین سے کثیرتعدادمیں روایتیں نقل ہوئی ہیں:
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)مولائے کائنات سے وصیت کرتے ہیں:
لاتو خٔرها فانّ فی تاخیرهامن غیرعلة غضب الله عزوجل (۱)
اے علی! نمازکوتاخیرمیں نہ ڈالنا،جوشخص نمازکوبغیرکسی مجبوری کے تاخیرمیں ڈالتاہے اس سے خداوندمتعال ناراض ہوجاتاہے ۔
قال علی علیه السلام :اوصیکم بالصلاة وحفظهافانهاخیرالعمل وهی عمود دینکم ۔(۲)
مولائے کائنات حضرت علیفرماتے ہیں:میں تمھیں وصیت کرتاہوں کہ اوقات نمازکی حفاظت کرتے رہنااورہرنمازکواول وقت اداکرتے رہنا،کیونکہ نمازسب سے بہترین عمل ہے اوروہی تمھارے دین کاستون ہے۔
عن محمدبن مسلم قال:سمعت اباعبدالله علیه السلام یقول:اذادخل وقت صلاة فتحت ابواب السماء لصعودالاعمال،فمااحب ان یصعدعمل اول من عملی، ولایکتب فی الصحیفة احداوّل منی (۳)
امام صادق فرماتے ہیں:جیسے نمازکاوقت شروع ہوتاہے تواوپرتک اعمال کے پہونچنے کے لئے آسمان تمام دروازے کھول دئے جاتے ہیں،میری تمنایہ ہوتی ہے میراعمل سب سے پہلے صعودکرے لورمجھ سے پہلے صحیفہ میں کسی کانام نہ لکھاجائے ۔
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:ایمامومن حافظ علی الصلاة الفریضة فصلاهالوقتهافلیس هومن الغافلین ۔(۴)
حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں : ہر وہ مومن جو واجب نمازوں کا پابند رہتا ہے اور انھیں اوّل وقت بجالا تا ہے اس کو گروہ غافلین میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
____________________
۱)خصال (شیخ صدوق) /ص ۵۴٣.٧٩/
٢)بحارالانوار/ج ٢٠٩ ) ١
۳) تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ۴١
.۴)وسائل الشیعہ/ج ٢/ص ۶۵۶
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ فضل الوقت الاول علی الاخیرکفضل الآخرة علی الدنیا .(۱)
امام صادق فرماتے ہیں: نماز کا اوّل وقت آخروقت پر اسی طرح فضیلت رکھتا ہے جس طرح آخرت دنیا پر فضیلت رکھتی ہے ۔
قال ابوعبدالله علیه السلام :امتحنواشیعت ناعندمواقیت الصلاة کیف محافظتهم علیها ۔(۲)
امام صادق فرماتے ہیں :ہمارے شیعوں کواوقات نماز کے ذریعہ پہچانو!اوردیکھوکہ وہ اوقات نمازکی کس طرح حفاظت کرتے ہیں۔عبدالله ابن سنان سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے ہوئے سناہے:
لکلّ صلاة وقتان واول الوقت افضله ولیس لاحدٍا نٔ یجعل آخرالوقتین وقتا الّافی عذرمن غیرعلة (۳)
ہرنمازکے دووقت ہوتے ہیں (اول وقت اورآخروقت)اوراول وقت (آخروقت)سے افضل ہوتاہے اورکسی کے لئے جائزنہیں ہے کہ بغیرکسی عذرومجبوری کے آخری وقت کواپنی نمازکاوقت قراردے اورآخری وقت میں نمازاداکرے ۔
حکیم لقمان نے اپنے فرزند کو وصیت کرتے ہوئے کہا : اے بیٹا ! مرغ کو اپنے آپ سے زیادہ ہو شیارنہ ہونے دینا ، کیونکہ مرغ نماز کا وقت شروع ہو تے ہی اپنی آواز بلند کردیتاہے اور ) نماز کا وقت پہنچنے کا اعلان کرتا ہے ، پساے بیٹا ! مرغ کے بولنے سے پہلے بیدار ہو اکرو ۔(۴)
قال علیه السلام :ان العبداذاصلی الصلاة فی وقتهاوحافظ علیهاارتفعت بیضاء نقیة ،تقول حفظت نی حفظک الله واذالم یصلهالوقتهاولم یحافظ علیهاارتفعت سوداء مظلمة تقول ضیعت نی ضیعک الله .(۵)
امام صادق فرماتے ہیں :جب کوئی بندہ نمازکواس کے اول وقت میں اداکرتاہے اوراوقات نمازکی حفاظت کرتاہے تو وہ نمازپاک وسفیدہوکرآسمان کی طرف جاتی ہے اورصاحب کے لئے کہتی ہے :جس طرح تونے میری حفاظت کی ہے خداوندعالم تیری بھی اسی حفاظت کرے لیکن جوبندہ نمازکواس کے وقت میں ادانہیں کرتاہے اوراوقات نمازکی حفاظت نہیں کرتاہے تووہ نمازسیاہ چہرہ کے ساتھ آسمان کی طرف روانہ ہوتی ہے اورصاحب نمازکے کہتی ہے:جس طرح تونے مجھے ضائع وبربادکیاہے خداتجھے بھی اسی طرح ضائع وبربادکرے۔
____________________
. ١)کافی/ج ٣/ص ٢٧۴
. ٢)سفینة البحار/ج ٢/ص ۴۴
.. ۳)کافی/ج ٣/ص ٢٧۴
۴)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٩٧٨ /ص ٣٠١ )
.۵)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢٠٩
عن ابی عبدا لله علیه السلام قال:من صلی الصلوات المفروضات فی اول وقتهاواقام حدودهارفعهاالی السماء بیضاء نقیة وهی تهتف به تقول حفظک الله کماحفظت نی واستودعک الله ملکاکریما،ومن صلهابعدوقتهامن غیرعلة ولم یقم حدودهارفعهاالملک سوداء مظلمة وهی تهتف به ضیعت نی ضیعک الله کماضیعت نی .
امام صادق فرماتے ہیں :جب کوئی بندہ نمازکواس کے اول وقت میں اداکرتاہے اورحدود نمازکی حفاظت کرتاہے توایک فرشتہ اس نمازکوپاک وسفیدشکل کے ساتھ آسمان کی طرف لے جاتا ہے اوروہ نمازاس نمازی سے یہ صاحب کے لئے کہتی ہے :جس طرح تونے میری حفاظت کی ہے خداوندعالم تیری بھی اسی طرح حفاظت کرے،تونے مجھے ایک عظیم وکریم ملک کے سپردکیاہے لیکن جوبندہ نمازکوبغیرکسی مجبوری کے نمازکوتاخیرمیںڈالتاہے اوراس کے حدودکی حفاظت نہیں کرتاہے توایک ملک اس نمازکوسیاہ وتاریک بناکر آسمان کی طرف روانہ ہوتا ہے اوروہ اس صاحب نمازسے بلندآوازمیں کہتی ہے:تونے مجھے ضائع کیاخداتجھے اسی طرح ضائع وبربادکرے جس طرح تونے مجھے ضائع وبربادکےاہے۔(۱)
قال رسول الله صلی علیه وآله :مامن صلاة یحضروقتهاالّانادیٰ ملک بین یدی الناس:ایهاالناس !قومواالیٰ نیرانکم الّتی ا ؤقدتموهاعلیٰ ظهورکم فاطفو هٔابصلاتکم ۔(۲) پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فر ما تے ہیں :ہر نما ز کا وقت شروع ہو تے ہی ایک فر شتہ ندائے عمو می بلند کر تا ہے: اے لو گو ! اٹھو اور وہ آگ جوخود تم نے گنا ہوں کو انجا م دے کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے پیچھے لگا ئی ہے اسے نما ز کے ذریعہ خا موش کر دو۔ اسی روایت کو بعض راویوں نے اس طرح نقل کیاہے:
ان ملک الموت علیه السلام یحضرفی کلّ یوم خمس مرات فی بیوت الناس فی اوقات الصلوات الخمس وینادی علیٰ احدمن الاحادوینادی بهذه ایهاالناس! قومواالیٰ نیرانکم التی اوقدتموها ۔(۳)
بیشک ملک الموت روزانہ پانچ مرتبہ پنجگانہ نماز کے وقتوں میں لوگوں کے گھروں میں حاضرہوتاہے اورہرایک شخص کوآوازدیتاہے اور اس طرح دیتاآوازہے :اے لوگو! اٹھو اور وہ آگ جوخود تم نے گنا ہوں کو انجا م دے کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے پیچھے لگا ئی ہے اسے نما ز کے ذریعہ خا موش کر دو۔
____________________
۱). امالی (شیخ صدوق) ۴/ص ٣٢٨
. ۲)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢٠٨
. ۳)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢٠٨ )
اول اوقات نمازکی محافظت وفضیلت کے بارے میں چندمندرجہ ذیل واقعات ذکرہیں:
امام علی ابن ابی طالبکی تاریخ حیات میں لکھا ہے کہ آپ جنگ صفین میں دشمنان اسلام سے جنگ کررہے تھے کہ آپ اچانک سورج کی طرف دیکھنے لگے ،ابن عباس نے کہا:یاامیرالمومنین ! یہ آپ کیاکررہے ہیں ؟حضرت علینے جواب دیا:اَنْظُرُاِلَی الزَّوَالِ حتّی نُصَلِّی .
میں دیکھ رہاہوں کہ ابھی زوال کاوقت ہواہے یانہیں تاکہ(اول وقت)نمازاداکروں،ابن عباس نے تعجب سے کہا:کیایہ نمازکاوقت ہے؟اس وقت ہم دین اسلام کے دشموں سے جنگ کرنے میں مشغول ہیں لہٰذااس وقت جنگ کونمازپرترجیح دیناچاہئے،اگرہم نے ایسے خطرناک موقع جنگ سے ہاتھوں کوروک لیاتودشمن ہم پرغالب آجائیں گے ،مولائے کائنات نے جواب دیا:علیٰ مانقاتلهم ؟انّمانقاتلهم علی الصلاة
ہماری ان سے کس بنیادپرجنگ ہورہی ہے ؟بے شک اسی نمازہی کی وجہ سے ان ) دشمنوں سے جنگ ہورہی ہے ۔(۱)
روایت میں ملتاہے کہ مولائے کائنات نے کبھی نمازکوتاخیرمیں نہیں ڈالافقط دو موقع ایسے پیشآئے ہیں کہ امام علی کو نمازپڑھنے میں ات نی دیرہوگئی کہ آپ کے نماز قضاہوگئی اورسورج کوپلٹایاگیااورامام(علیه السلام) نے نمازکواس کے وقت میں ادا کیا اوروہ دوموقع یہ ہیں: ١۔محمدابن عمیرحنان سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق کی محضرمبارک میں عرض کیا:جب اما م علی پرنمازظہروعصرجمع کرنالازم تھاتوپھرکس علت وسبب کی بناپرمولائے کائنات نے نمازعصرکوتاخیرمیں ڈالااوراسے ترک کیا؟ امام(علیه السلام) نے فرمایا:
جب امیرالمومنین نمازظہرسے فارغ ہوئے توایک مردے کی کھوپڑی نظرآئی ، امام (علیه السلام) نے اس سے معلوم کیا:توکون ہے ؟
____________________
. ۱)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ١٧٩
اس نے جواب دیا:میں فلان سر زمین کے فلان بادشاہ کافرزندہوں،امیرالمومنین نے فرمایا:تومجھے اپنی داستان زندگی کوبیان کر اوراپنے زمانے میں اچھے اوربرے رونماہوئے واقعات کوبیان کر،اس جمجمہ نے اپنے داستان زندگی بیان کرناشروع کیاوراپنے زمانے میں گذرہوئے واقعات کوبیان کرنے لگااورامام(علیه السلام) اس کی داستان زندگی سننے میں سرگرم ہوگئے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا،اس کے بعدجب امام (علیه السلام) اس جمجمہ سے باتیں سن چکے توسورج کوپلٹنے کاحکم دیا،سورج نے کہا:اب میںغروب ہوچکاہوں لہٰذااس وقت کیسے پلٹ سکتاہوں،امیرالمومنیننے خدائے عزوجل سے سورج کوپلٹادینے درخواست کی پس خداوندعلام نے سترہزارفرشتوں کوسترہزارزنجیروں کے ساتھ سورج کی طرف روانہ کیا،ان فرشتوں نے زنجیروں کوسورج کی گردن میںڈالااورکھینچناشروع کیایہاں تک کہ سورج اوپرآگیااوردوبارہ اس کی روشنی سب جگہ پھیل گئی اورسورج صاف طرح نظرآنے لگااورامیرالمومنیننے اپنی نمازکوعصرکواس کے وقت میں ادادکیااورپھرسورج دوبارہ اپنی جگہ پرپہنچ گیا،اس کے بعدامام صادق نے فرمایا:یہ تھی امیرالمومنینکی تاخیرسے نمازکی پڑھنے وجہ۔(۱)
٢۔محمدابن جعفرکی دوبیٹیاں“ام جعفر”یا“ام محمد”نے اپنی جدّہ محترمہ “اسمابنت عمیس سے روایت کی ہے ،ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کابیان ہے کہ :میں اپنی جدّہ محترمہ اسمابنت عمیس اوراپنے چچاعبدالله ابن جعفرکے ہمراہ گھرسے باہرگئی ہوئی تھی ،جب “صہبا”کے قریب پہنچے تواسمابنت عمیسنے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹی !ایک دن ہم رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کے ہمراہ اسی جگہ پرموجودتھے کہ آنحضرت نے نمازظہرپڑھی اوراس کے بعد علی (علیه السلام) کو اپنی خدمت میں طلب کیااورامام (علیه السلام) سے اپنی ضرورتوں میں مددچاہی یہاں تک کہ عصرکاوقت پہنچ گیااورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے نمازپڑھی ،اس کے بعدعلی (علیه السلام)آنحضرت کی خدمت میں پہنچے اورپیغمبرکے پہلومیں بیٹھ گئے، الله تبارک وتعالیٰ نے وحی نازل کی اورآنحضرت نے اپنے سرمبارک کوامیرالمومنین کے دامن اقدسرکھ کرآرام کرتے رہے یہاں تک سورج غروب ہوگیا،جب آنحضرت نے آنکھیں کھولیں توعلی (علیه السلام)سے معلوم کیا:
اے علی (علیه السلام)!کیاتم نمازپڑھ لی تھی،حضرت علی (علیه السلام)نے عرض کیا:نہیں یارسول الله (صلی الله علیه و آله)کیونکہ آپ کاسرمبارک میرے دامن پررکھااورآپ آرام کررہے تھے اورمیں نے آپ کوبیدارنہیں کرناچاہالہٰذاسی طرح بیٹھارہایہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا،پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے دعاکے ہاتھ بلندکئے اوربارگاہ خداوندی میں عرض کی:
____________________
. ۱)علل الشرائع/ج ٢/ص ٣۵١
اللّهمّ ان هذاعلیّ عبداحتبس نفسه علی نبیک فردّعلیه الشرقها . بارالٰہا!یہ علی (علیه السلام) تیرابندہ ہے کہ جس نے تیرے نبی کی خاطراپنے آپ نمازپڑھنے سے روکے رکھااوراپنے آپ کومحبوس رکھاپس تواس کے لئے سورج پلٹادے تاکہ وہ نمازکواداکرسکے ابھی نبی دعامیں مشغول تھے کہ سورج طلوع ہوا اور تمام زمین وپہاڑپراس کی روشنی پھیل گئی اورعلی (علیه السلام) نے بلند ہو کر وضو کیا اورنمازعصرپڑھی ،اس کے بعدسورج دوبارہ غروب ہوگیا۔(۱)
روایت میں ایاہے کہ ایک روزمامون نے اپنے دربارمیں امام علی رضا کودعوت دی جب امام(علیه السلام) اس کے دربارمیں پہنچے اوروہاں پرعمران صابی(گروہ صائبین کے رہنما ) سے بحث ومناظرہ شروع ہوا،بحث و گفتگو یہاں اس حدتک پہنچی کہ عمران کے دل میں آہستہ آہستہ قبول اسلام کی حالت پیدا ہورہی تھی کہ اسی دوران اذان کی آواز بلندہوئی ،جیسے امام (علیه السلام) نے اذان کی آوازکوسناتوبحث ومناظرہ کواسی جگہ پرختم کردیااور عمران سے فرمایا:نمازکا وقت ہو گیا ہے ، عمران نے کہا :اے میرے آقا!اس وقت میرادل کچھ نرم ہوتاجارہاتھا اگر آپ اور کچھ دیرتک مناظرہ کو جاری رکھتے تو شاید میں مسلمان ہو جاتا، امام نے فرمایا : پہلے نماز پڑھیں اس کے منا ظرہ کو ادامہ دیں گے ، امام (علیه السلام) نے نماز سے فارغ ہو نے کے بعد دوبارہ بحث ومناظرہ شروع کیا اور عمران صابی نے مذہب اسلام قبول کرلیایہ واقعہ بہت طولانی ہے مگراصل چیزکوبیان مقصودہے اوروہ یہ ہے کہ امام (علیه السلام) نے اول وقت کوترجیح دی اورمناظرہ کوروکناپسندکیا،اس واقعہ کوشیخ صدوقنے اپنی کتاب توحیدمیں تفصیل کے ساتھ ذکرکیاہے۔
ابراہیم ابن موسی القزار سے روایت ہے کہ امام رضا بعض آل ابوطالب کے استقبال کے لئے شہرسے باہرگئے ہوئے تھے اورہم آنحضرت کے ہمراہ تھے ،جب نمازکاوقت پہنچاتوامام اپنے صحابیوں کے ساتھ اسی جگہ پرقریب میں گئے اورایک بڑے سے پتھرکے پاس کھڑے ہوکرمجھ سے فرمایا:اے ابراہیم !نمازکاوقت ہوچکاہے لہٰذاتم اذان کہو،میں نے عرض کیا:اے ہمارے آقا!ہم اس وقت اپنے آنے والے صحابیوں کے انتظارمیں کھڑے ہوئے ہیں،امام (علیه السلام)نے فرمایا:خداتمھارے گناہوں کومعاف کرے، بغیرکسی عذرکے نمازکوتاخیرمیں نہ ڈالو،پس تم آؤاورہمارے ساتھ اول وقت نماز پڑھو، راوی کہتاہے ہے کہ میں نے اذان کہی اورامام (علیه ) السلام)کے ساتھ نمازاداکی ۔(۲)
____________________
. ۱)علل الشرائع/ج ٢/ص ٣۵٢
. ۲)منتہی الاعمال/ج ٢/ص ٨٨١ (
حضرت امام حسن عسکری کی عادت یہ تھی کہ جیسے نمازکاوقت پہنچتا تھا تو فوراًاپنے ہاتھوں کوہراس کام جس میں مشغول ہوتے تھے پیچھے کھینچ لیاکرتے تھے اور کسی بھی کام کو نماز پر تر جیح نہیں دیتے تھے بلکہ نماز کوہرکام پر مقدم رکھتے تھے ابوہاشم جعفری سے مزوی ہے کہ : میں ایک روزجب حضرت امام حسن عسکریکی خدمت میں مشرف ہوا تودیکھاکہ امام (علیه السلام) اس وقت کسی چیز کے لکھنے میں مشغول ہیں مگرجیسے ہی نماز کا وقت پہنچا تو امام (علیه السلام) نے لکھنا بند کردیا اور فوراً نماز وعبادت میں مشغول ہوگئے
محمد شاکری سے مروی ہے کہ: امام حسن عسکری رات پھر نمازعبا دت میں مشغول رہتے تھے اوررکوع و سجود کرتے رہتے تھے اور میں سوجاتاتھا، جب نیند سے بیدار ہوتاتھاتو امام(علیه السلام) کو سجدے کی حالت میں پا تا تھا
امام حسن عسکری کی سونح حیات میں کہ:آپ زندان بھی میں دنوں میں روزہ رکھتے اور راتوں کو بیدار رہ کر عبادت کرتے تھے اور عبادت کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے تھے اور کسی سے کوئی گفتگو بھی نہیں کرتے تھے، امام (علیه السلام) کی عبادت اورزہد وتقویٰ کا اثریہ تھا کہ جن لو گو ں کو امام کو آزارواذیت پہنچا نے کے لئے زندان میں بھیجا جاتاتھا ، وہ آپ کو عبادت و مناجات کی حالت میں دیکھ کر بہت زیادہ متا ثٔر ہو تے تھے ، عباسیوں (کہ جن کے حکم سے امام حسن عسکری کو زندان کیا گیا تھا)نے صالح بن وصیف سے کہا : کہ وہ امام (علیه السلام) پر بہت زیادہ فشار ڈالے اورہر گز ان پر رحم نہ کرے ، صالح نے کہا : میں نے دو بد تر ین جلاّ د کو ان کے سر پہ چھوڑر کھا ہے ، لیکن ان دونوں کے دلوں پر امام کی عبادت و نماز ) روزے کا اثر یہ ہو اکہ وہ دونوں عبادت کے بلند مرتبہ پر فائز گئے ۔(۱)
حضرت امام جعفر صادق اپنے ایک شاگرد“مفضل ابن عمر”کوتوحید باری تعالیٰ کے بارے میں ہفتہ میں چاردن ،صبح سے زوال تک ایک خصوصی درس دیاکرتے تھے اورروزانہ نمازظہر ) کاوقت شروع ہوتے ہی درس کوختم کردیاکرتے تھے.(۲)
____________________
۱) امام حسن عسکری/ص ۴١ ۔ ۴٢
. ٢)بحارالانوار/ج ٣/ص ٨٩
حضرت عیسیٰ بن مریم کے زمانے میں ایک عورت بہت ہی زیادہ نیک و عبادت گزار تھی، جب بھی نماز کا وقت ہوجاتاتھا اورجس کام میں بھی مشغول رہتی تھی فوراً اس کام کواسی حالت پر چھوڑ دیا کر تی تھی اور نمازو اطاعت خداوندی میں مشغول ہوجاتی تھی ،ایک دن جب یہ عورت ت نورمیں روٹیاں بنانے میں مشغول تھی تومو ذٔن کی صدائے اذان بلند ہوئی تو اس کام کو درمیان میں ہی چھوڑ کر نماز کے لئے کھڑی ہو گئی اور عبادت الہٰی میں مشغول ہو گئی ، وہ نمازپڑھ رہی تھی تو شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ پیدا کیا کہ جب تک تو نماز سے فراغت پائے گی توت نور میں لگی ہو ئی روٹیاں جل کر راکھ ہو جا ئیں گی ، مو منہ نے دل میں جواب دیا : اگرمیری تمام روٹیاں بھی جل جا ئیں تو یہ روز قیامت میرے بدن کے آتش جہنم میں جلنے سے بہتر ہے ، ابھی یہ عورت نمازمیں ہی مشغول تھی کہ اس کا بچہ ت نورمیں گر گیا ، شیطان نے کہا :
اے عورت ! تو نماز پڑ ھ رہی ہے اور تیرا بچہ ت نورمیں جل رہاہے ، اس عابدہ نے جواب دیا : اگر الله تبارک و تعالیٰ کی یہی مرضی ہے کہ میں نمازپڑھوں اور میرا بیٹاآگ میں جل جائے تو میں خدا کے اس حکم پر راضی ہوں اور مجھے مکمل یقین ہے کہ جب تک میں نماز میں مشغول ہو ں میراپروردگارمیرے فرزند کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھے گا ، ابھی یہ عورت نمازمیں مشغول تھی کہ اس کا شوہر گھر میں داخل ہو ا تواس نے دیکھا کہ زوجہ نماز میں مشغول ہے اور ت نور میں روٹیاں صحیح وسالم موجو د ہیں اور بچہ بھی سکون کے ساتھ ت نو ر میں بیٹھا ہو ا آگ سے کھیل رہا ہے اور اس کے بدن پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہے ، خدا ئے مہربان کی قدرت سے وہ آگ گلز ار بن گئی،جب وہ عورت نماز سے فارغ ہو گئی تو شوہرنے زوجہ کاہاتھ پکڑااوراسے ت نورکے پاس لایا ، عورت نے جیسے ہی ت نور میں نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ بچہ اور روٹیاں دونوں صحیح وسالم ہیں:آگ نے نہ بچہ کے بدن پرکوئی اثرکیاہے اورنہ روٹیاں جلی ہیں ، یہ ماجرادیکھ کر دونوں تعجب میں رہ گئے، مرد نے باری تعالیٰ کا شکر اداکیا اور عورت نے سجدہ شٔکراداکیا ،شوہر نے بچہ کو ت نور سے باہر نکالا اور حضرت عیسٰی کی خدمت میں لے کر آیا اورآپ سے پورا واقعہ بیان کیا ،حضرت عیسیٰ نے کہا : جاؤ اور اس بچہ کی ماں سے معلوم کرو اس نے خدا کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے اور اس کے پاس خدا کا کیا راز ہے ؟ اگریہ کرامت کسی مرد کے پاس ہوتی تو جبرئیل خدا کی طرف اس پر وحی لے کر نازل ہوتے وہ مردبچہ کولے کراپنے گھر واپس آیا اور زوجہ سے معلوم کیا : تم خدا سے کت نی زیادہ قریب ہو کہ یہ معجزہ رونما ہوا ہے ؟ بیوی نے جواب دیا : میں کارآخرت کو دنیا کے کاموں پر ترجیح دیتی ہوں ، نماز وعبادت کو ہر کام پر مقدم رکھتی ہوں اور جب سے ہوش سنبھا لاہے
ان چند روز کے علاوہ جو ہر ماہ میں عورتوں سے مخصوص ہیں بغیر طہارت (وضو)کے نہیں رہتی ہوں اُن ایّام کے علاوہ بقیہ دوسرے دنوں میں خواہ میرے پلس ہز ار کام ہی کیوں نہ ہوں جیسے ہی اذان کی آوازسنتی ہوں فوراًکام سے ہاتھ پیچھے ہٹالیتی ہوں اور نماز وعبادت پرور دگار میں مشغول ہو جاتی ہوں ،اگر کوئی مجھ پر ظلم وجفا کرتا ہے یا مجھ کو گالیاں دیتی ہے ، ان تمام کینہ و عداوت کو دل سے نکال دیتی ہوں اور اس کے عوض میں کوئی جواب نہیں دیتی ہوں ،میں خدا وند متعال کی قضاء وقدر پر راضی ہوں ، فرمان خدا کی تعظیم کرتی ہوں ، اس کی مخلوق پر رحم کرتی ہو ں،اپنے گھرسے کسی بھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتی ہوں اورنماز شب وصبح ہر گز ترک نہیں کرتی ہوں ، جب حضرت عیسٰیاس عورت کی یہ تمام خصوصیا ) ت سنی توفرمایا:اگریہ عورت مرد ہوتی تو ضرور پیغمبر خدا ہو تی۔(۱)
حضرت امام خمینی اپنے زمانے میں ایک نمونہ شخصیت تھے کہ جنھوں نے نماز پڑھنے کے لئے بہت زیادہ تاکید کی ہے اور لوگوں کو نماز کی حقیقت ومعارف سے آگاہ کیا ہے ، آپ نے کبھی بھی زندگی کے مشکل تریں حالات یا اوج کا میابی کے وقت ، صحیح وسالم ہوں یا بیمار ہوں ،سفر میں ہوں یا حضرمیں ،اپنے ملک میں ہوں یا جلاو طنی میں نمازاول وقت اداکرتے تھے اورکسی بھی کام کونمازپرترجیح نہیں دیتے تھے بلکہ نماز کو ہر کام پر مقدم رکھتے تھے، حضرت امام خمینی کی تاریخ زندگی میں لکھاہے:
جس وقت آپ فرانس میں جلاوطنی کی زند گی گذاررہے تھے ، وہ حضرا ت جو آپ کے ہمراہ تھے ان میں سے بعض کا بیان ہے کہ جس وقت آپ فرانس میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے معلوم کیاکہ قبلہ کسی طرف ہے ، آپ پیرس میں رات میں بھی تین بجے نیندسے بیدارہوتے اور خدا کی عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے.
حجت الاسلام جناب سیداحمدخمینی بیان کرتے ہیں : جس وقت ایران سے شاہ نے فراراختیار کی ، ہم اس وقت پیرس میں تھے ، فرانس کی پولیس نے تمام سڑ کیں اور شاہر اہ بندکردئے تھے ، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے صحافی اور خبرنگار وہا ں پر موجود تھے ، افریقہ ، ایشا، پورپ وامریکہ وغیرہ کے اخباری نمائندے بھی موجود تھے اور تقریباً ایکسوپچاس ملکوں کے ویڈیوکیمر ے فیلم بنارہے تھے اور امام خمینی کی تقریر کوبراہ راست پخش کررہے تھے ، آپ یقین کیجئے ات نی تعداد میں خبرنگار حاضر تھے ، کیونکہ اس سال کی یہ سب سے بڑا حادثہ اور خبرتھی، سب کی نظریں اس طرف جمی ہوئی تھی کہ ایران سے شاہ فرارکرگیا ہے ،پس اس کے بعداب امام خمینی کیا تصیم گیری کرتے ہیں ، امام سڑک کے کنارے کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے ، تمام کیمروں کے رخ آپ ہی کی طرف تھے،امام نے چندمنٹ تقریر کی اور حالات و مسائل کو بیان کیا ، میں آپ کے برابر میں کھڑا ہوا تھا ،
____________________
١)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ۴٢٩ /ص ١٣۵
ایک دفعہ امام میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : احمدبیٹا! کیا نمازظہر کا وقت ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا : جی باباجان ! اب ظہر کا وقت ہے ،جیسے ہی امام خمینی کووقت نمازسے آگاہ ہوئے فوراً :“ السلام علیکم ورحمتہ ا لله وبرکا تہ”کہااوراسی موقع پر اپنی تقریر کو ختم کرکے نماز کے لئے آمادہ ہوگئے کیونکہ نماز ظہر کا اول وقت تھا ، آپ فکرکریں ایسی جگہ پر کہ جہاں پر آپ کو پوری دنیا میں اور بی بی سی لندن کے ٹیلیویزن سے دیکھ رہے ہیں CNN لاکھو ں ، کروڑوں انسان خصو صاً اور امام اپنی تقریر کواول وقت نماز کی وجہ سے ختم کردیں اور نماز ظہرکواول وقت ادا کر نے کے لئے تقریرکوختم کردیں اورجب آپ رات میں پیرس سے تہران کے لئے روانہ ہوئے توجہاز کے اندر سب حضرات ) سورہے تھے، صرف آپ ہی ت نہا بیدار تھے اور نماز شب پڑھ رہے تھے۔(۱)
نمازکوضائع کرنے کاعذاب
بغیرکسی مجبوری کے نمازکوتاخیرمیں ڈالنے اوراول وقت اداکرنے میںغفلت اورسستی کرنے کو دوسری عبارت میں نمازکوضائع کرناکہاجاتاہے،جس طرح قرآن وروایات میں اول وقت نمازاداکرنے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے اوراول وقت اہمیت وفضیلت بیان کی گئی ہیں اسی طرح ان لوگوں کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے جواپنی نمازوں میں سہل انگاری کرتے ہیں،اوراول وقت نمازکے اداکرنے میں غفلت وسستی استعمال کرتے ہیں۔ خداوندعالم نے قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے لئے ایک عذاب معین کاوعدہ دیاکہ جس کانام ویل ہے :
( فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّیْنَ الَّذِ یْنَ هُمْ عَن صَلاَ تِهِمْ سٰاهُونَ ) (۲) ویل اورتباہی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں ۔(۲)
امام صادق اس قول خداوندی کے بارے میں فرماتے ہیں: “ساہون ”سے مرادیہ ہے:تاخیرالصلاة عن اول وقتهالغیرغذر. بغیرکسی مجبوری کے نمازکواس کے اول وقت سے تاخیرمیںڈالنے کوسہل انگاری کہاجاتاہے
اورخداوندعالم سورہ مٔریم ارشادفرماتاہے:( فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌاَضَاعُواالصَّلَاةَوَاتَّبَعُوالشَّهَوٰاتَ فَسَوْفَ یَلْقُوْنَ غَیا ) (۳)
____________________
. ١)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٢٩٠ /ص ٩۴
۲)سورہ ماعون/آیت ۴۔ ۵
. ۳) سورہ مریم /آیت ۵٨ ۔ ۵٩
پھران کے بعدان کی جگہ پروہ لوگ آئے جنھوں نے نمازکوبربادکردیااورخواہشات کااتباع کرلیاپسیہ عنقریب اپنی گمراہی سے جاملیں گے۔
”غی” جہنم میں ایک وادی ہے کہ جس کی آگ سب سے زیادہ تیزاورعذاب سب سے زیادہ سخت ہوگا۔
تفسیرمنہج الصادقین میں لکھاہے کہ:آیت میں نمازکے ضائع کرنے اورخواہشات نفس کی اتباع کرنے والوں سے امت محمدی کے یہودی اورفاسق وگنہگارلوگ مرادہیں۔(۱)
قال النبی صلی الله علیه وآله وسلم :لاتضیعواصلاتکم فانّ من ضیع صلاته حشره الله مع قارون وفرعون وهامان (لعنهم الله واخزلهم وکان حقاًعلی الله ان یدخله النارمع المنافقین والویل لمن لم یحافظ صلاته ۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :اپنی نمازوں کوضایع نہ کرو، جو شخص اپنی نمازوں کوضایع کرتاہے خداوندعالم اسے قارون،فرعون اورہامان (خداان پر لعنت کرے اوررسواکرے)کے ساتھ محشورکرے گااورخداوندمتعال کوحق ہے کہ نمازکے ضایع کرنے والوں کو منافقین کے ساتھ جہنم میں ڈال دے اورویل ہے ان لوگوں کے لئے جواوقات نمازکی محافظت نہیں کرتے ہیں۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :لایزال الشیطان دعراًمن المومن ماحافظ علی الصلوات الخمس فاذاضیعن تجارا عٔلیه وا ؤقعه فی العظائم ۔(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:بیشک شیطان ہراس مومن سے خوف کھاتاہے جواپنی پنجگانہ نمازوں کواول وقت پاپندی سے اداکرتا رہتا ہے لیکن جب وہ اپنی نمازوں کونمازوں ضایع کرتاہے توشیطان اس پرقابض ہوجاتاہے اوراسے گناہ کبیرہ میں ڈال دیتاہے۔
قال علی علیه السلام:من ضیع صلاته ضیع عمله غیره ۔(۴)
امام علی فرماتے ہیں:جس نے اپنی نماز کو تبا ہ وبر با د کر دیا اس کے دوسر ے اعمال اس سے زیادہ تبا ہ وبر با د ہو جا ئیں گے ۔
____________________
.۱)سورہ مٔاعون/آیت ۴۔ ۵
. ۲)بحارالانوار/ج ٨٢ /ص ٢٠٢
. ۳)بحارالانوار/ج ٨٢ /ص ٢٠٢
. ۴)مستدک الوسائل/ج ١/ص ١٧٢
عن امیرالمومنین علیه السلام انّه قال:علیکم بالمحافظة علی اوقات الصلاة فلیس منی من ضیع الصلاة .(۱)
امام المتقین حضرت علی فرماتے ہیں : اوقات نماز کی حفاظت کرنا تم پر واجب ہے جو شخص نماز کو ضایع کرتاہے وہ ہم سے نہیں ہے۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله : من صلی الصلاة لغیروقتهارفعت له سوداء مظلمة تقول ضیعت نی ضیعک الله کماضیعت نی (۲)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جوشخص نمازکواس کے غیروقت میں پرھتاہے تواس وہ نمازسیاہ اورتاریک ہوکرروانہ ہوتی ہے اورصاحب نمازسے کہتی ہے:تونے مجھے ضائع کیاہے خداتجھے بھی اسی طرح ضائع وبربادکرے جس طرح تونے مجھے ضائع وبربادکیاہے۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله : لاینال شفاعتی غدا من اخرالصلاة المفروضة بعدوقتها ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:کل روزقیامت اسے میری ہرگزشفاعت نصیب نہ ہوگی جواپنی واجب نمازوں کوان کے وقت سے تاخیرمیںڈالتے ہیں۔(۳)
____________________
. ۱)مستدرک الوسائل /ج ١/ص ١٨۴
.۲) ثواب الاعمال/ص ٢٢٩
.۳) امالی (شیخ صدوق)/ص ۴٨٣
نمازجماعت
نمازجماعت کی اہمیت
وہ لوگ جومسجدکے پڑوسی ہیں یامسجدسے اذان کی آوازسنتے ہیں ان کے لئے مستحب ہے بلکہ سنت مو کٔدہ ہے کہ اپنی روزانہ کی پانچوں واجب نمازوں جماعت کےساتھ اداکریں،بالخصوص نمازصبح اورمغرب وعشاء کی نماز کوجماعت کے ساتھ اداکریں اورنمازجمعہ اورعیدین کے کوبھی جماعت سے پڑھاجائے ۔
نمازجماعت اہمیت کے لئے چنداحادیث ذکرہیں:
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے پنجگانہ نمازوں میں سے ایک بھی نمازکوجماعت کے بغیرادانہیں کیاہے اوراسلام کے آغازسے نمازجماعت قائم کرتے تھے اورحضرت علیاورجناب خدیجہ کے ساتھ نمازجماعت برگذارکرتے تھے یہاں تک کہ آپ نے رحلت کے وقت بھی نمازجماعت قائم کی۔
مرحوم شیخ عباس قمی “منتہی الاعمال” میں نقل کرتے ہیں:نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازجماعت کواس قدراہمیت دیاکرتے تھے کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخر ی لمحات میں بھی نمازجماعت کادامن نہیں چھوڑااورشدیدبیمار ہونے کے باوجود اپنے دستہا ئے مبارک کوامام علی (علیه السلام)اور فضل ابن عباس کے شانوں پررکھا اور ا ن کا سہا رالے کرنہایت مشکل سے مسجد میں تشریف لائے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکیا۔(۱)
حضرت امام صادقفرماتے ہیں:ایک مرتبہ جب پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے ان لوگوں کے گھروں کوجلادینے کاحکم جاری کیا جو(منافقین)لوگ اپنے گھروں میں نمازپڑھتے تھے اورنمازجماعت میں حاضرنہیں ہوتے تھے ،ایک نابینا شخص آنحضرت کی خدمت میں ایا اورعرض کیا:اے الله کے پیارے نبی ! میں ایک نابیناشخص ہوں،جب اذان کی آوازبلند ہو تی ہے تومجھے کو ئی شخص ایسا نہیں ملتا ہے جو میری راہنمائی کرے تاکہ میں مسجدمیں پہنچ سکوں اور آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر جماعت سے پڑھوں ؟ رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے اس نابیناکی بات سن کرارشادفرمایا :
شدّمن منزلک الی المسجدحبل واحضرالجماعة
تم اپنے گھر سے لے کر مسجد تک ایک رسی کو وسیلہ قرار دو اور اس کی مددسے اپنے آپ کو نماز جماعت کے لئے مسجد تک پہنچایا کرو ۔(۲)
____________________
.۱) منتہی الاعمال/ج ١/ص ١٠٣
۲). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۶۶
امام صادق فرماتے ہیں:کوفہ میں امام المتقین حضرت علی کوخبردی گئی کہ مسجد کے ہمسایوں میں کچھ لو گ ایسے بھی ہیں جو نماز جماعت میں حاضرنہیں ہوتے ہیں توآپ نے فرمایا:
لیحضرون معناصلات ناجماعة ،اولَتحولن عنّاولایجاورناولانجاورهم ۔
ان لوگوں کو چاہئے کہ ہمارے ساتھ نمازجماعت میں شرکت کیاکریں یاپھروہ ایساکریں یہاں سے دورچلے جائیں تا کہ انھیں مسجد کا ہمسایہ نہ کہاجاسکے اور ہم بھی ان کے ہمسایہ نہ کہلا ئیں۔(۱)
دین اسلام میں نمازجماعت کو ات نی زیادہ اہمیت دی گئی ہے اوراس کے بارے میں ات نی زیادہ تاکیدکی گئی ہے کہ اگرکوئی شخص اجتماع سے پرہیزکرنے کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہویاجماعت سے بے اعت نائی کرے اوربغیرعذرکے جماعت میں شریک نہ ہوتواس کی نمازباطل ہے ۔
زرارہ اور فضیل سے روایت ہے کہ ہم دونوں نے (امام صادق )سے معلوم کیا:کیانمازکو جماعت سے پڑھناواجب واجب ہے ؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:الصلوات فریضة ولیس الاجتماع بمفروض فی الصلوات کلهاولکنهاسنة من ترکهاسنة رغبة عنهاوعن جماعة المسلمین من غیرعلة فلاصلاة له.
نمازواجب ہے لیکن کسی بھی نمازکوجماعت سے پڑھناواجب نہیں ہے بلکہ سنت مو کٔدہ ہے اورجوشخص اس سنت سے دوری اورجماعت مسلمین سے دوری کرنے کی بناپربغیرکسی مجبوری کے نمازجماعت کوترک کرے تواس کی نمازہی نہیں ہوتی ہے ۔(۲)
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:من ترک الجماعة رغبة عنهاوعن جماعة المسلمین من غیرعلة فلاصلاة له ۔
امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص نمازجماعت سے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوجانے سے دوری اختیارکرنے کی بناپربغیرکسی مجبوری کے نمازجماعت کوکرترک کرتاہے تو اس کی نمازہی نہیں ہوتی ہے ۔(۳)
قال امیرالمومنین علیه السلام:من سمع النداء فلم یجبه من غیرعلة فلاصلاةله ۔
امیرالمو منین حضرت علی فرماتے ہیں :جو شخص اذان کی آواز سنے اور اسپر لبیک نہ کہے اور بغیر کسی مجبوری کے نماز جماعت میں شرکت نہ کرے (اورفرادیٰ نمازڑھے) گویا اس نے نماز ہی نہیں پڑھی ہے۔(۴)
____________________
. ۱)امالی (شیخ صدوق)/ص ۶٩۶
۲)تہذیب الاحکام/ ٣/ص ٢۴
.۳) امالی/ص ۵٧٣
۳). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۴
عن ابی جعفرعلیه السلام انّه قال:لاصلاة لمن لایشهدالصلاة من جیران المسجد الّامریض ا ؤمشغول ۔
حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں : جو شخص مسجد کا ہمسایہ ہے اور نمازجماعت میں شرکت نہیں کرتاہے ، اس کی نمازہی نہیں ہے مگر یہ کہ وہ شخص مریض ہو یاکوئی عذررکھتاہو۔(۱)
عن الصادق علیه السلام :شکت المساجدالی الذین لایشهدونهامن جیرانها ، فاوحی الله عزوجل الیها:وعزتی وجلالی لااقبلت لهم صلاة واحدة ولااظهرت لهم فی الناس عدالة ولانالتهم رحمتی ولاجاورنی فی الجنة ۔
حضرت امام صادق فرماتے ہیں: مسجد وں نے بارگاہ خداوندی میں ان لوگوں کے بارے میں جو اس کے ہمسایہ ہیں اور بغیر کسی عذر کے نماز کے لئے مسجد میں حاضرنہیں ہو تے ہیں شکایت کی توخداوندعالم نے مسجدوں پروحی نازل کی :میں اپنے جلال وعزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں: میں ان لوگوں میں سے کسی ایک شخص کی بھی نماز قبول نہیں کر تا ہوں ،(میں دنیامیں ان لوگوں کو)ان کے معاشرے میں اچھے اور نیک آدمی کے نام سے نہیں شناخت نہیں کراتاہوں(اور تمام لوگ انھیں برابھلا کہتے ہیں اورآخرت میں ان انجام یہ ہوگاکہ) انھیں میری رحمت نصیب نہ ہو گی اور بہشت میں میرے قرب وجوار میں جگہ نہیں پائیں گے۔(۲)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:قال لقمان لابنه :صلّ فی الجماعة ولوعلی راسٔ زجّ ۔
حضرت امام صادق فرماتے ہیں:حضرت لقماننے اپنے فرزندسے وصیّت کی : اے بیٹا! ہمیشہ نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرنا خواہ تم نیزے پرہی کیوں نہ ہو۔
جماعت کی فضیلت وفوائد
جب دین اسلام نمازجماعت کی ات نی زیادہ تاکیدکی گئی اوراس قدرکی اہمیت بیان کی گئی ہے یقیناًنمازجماعت کے لئے بہت زیادہ ثواب معین کیاگیاہوگااوربہت زیادہ فضائل بیان کئے ہوگے ۔
دین اسلام میں معصومین کی زبانی نمازجماعت فضائل کے جوفضائل وفوائد ذکرگئے ہیں ہم ان میں سے چنداحادیث کوذکرکررہے ہیں:
____________________
. ۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٧۶
.۲) سفینة البحار/ج ١/ص ۶۶٠
۳) من لایحضرہ الفقیہ /ج ٢/ص ٢٩٧
امیرالمومنین حضرت علی فرماتے ہیں : خدا وندعالم نے جت نے بھی فرشتے خلق کئے ہیں ان میں کچھ ایسے ہیں جوہمیشہ صف میں سیدھے کھڑے رہتے ہیں اورکسی بھی وقت حالت قیام سے باہرنہیں آتے ہیں اور بعض فرشتے ایسے جوہمیشہ رکوع کی حالت میں رہتے ہیں اور کسی بھی وقت حالت رکوع سے باہرنہیں آتے ہیں اور بعض فرشتے ایسے ہیں جوہمیشہ زمین پرسجد ے میں رہتے ہیں اور کسی بھی وقت سجدے سے سربلندنہیں کرتے ہیں ،پس جولوگ اپنی نمازوں کوجماعت کے ساتھ اداکرتے ہیں تووہ قیام،رکوع اورسجود کی حالت میں ان فرشتوں کے مشابہ ہیں اب اگر کوئی شخص ان تمام فرشتوں کے ثواب سے بہرہ مندہوناچاہتاہے ان سب کے برابرثواب حاصل کرناچاہتاہے تواسے چاہئے کہ نماز جماعت کو ترک نہ کرے۔(۱)
محمدبن عمارہ سے روایت ہے کہ میں نے امام رضا سے ایک خط کے ذزیعہ معلوم کیا:کسی شخص کانمازواجب کومسجدکوفہ میںفرادیٰ پڑھناافضل ہے یااسے جماعت پڑھنا؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:
الصلافی جماعة افضل.
جماعت سے پڑھناافضل ہے۔(۲)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:من حافظ علی الجماعة حیث ماکان مرّعلی الصراط کالبرق اللامع فی اول زمرة مع السابقین ووجهه ا ضٔوءُ من القمرلیلة البدر،وکان له بکل یوم ولیلة یحافظ علیهاثواب شهید.
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:ہروہ شخص جونمازجماعت کا پابند رہتا ہے وہ روزقیامت سب سے پہلے پل صراط سے بجلی کے مانند تیزی سے گذرجائے گا اوراس کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ چمکدارہوگا،پس وہ شخص جو شب وروزکی پنچگانہ نمازوں کے اوقات کی محافظت کرتاہے اورنمازکوجماعت سے اداکرتاہے تواسے ایک شہیدکادرجہ وثواب عطاکیاجاتاہے ۔(۳)
____________________
. ۱)مناہج الشارعین /ص ٢١٢ ۔ ٢١٣
۲)تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۵
۳) ثواب الاعمال وعقاب الاعمال/ص ٢٩١
عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال: انّ الله وَعدَ اَن یدخل الجنّة ثلاثة نفربغیرحساب،ویشفع کل واحد منهم فی ثمانین الفا:المؤذّن،والامام،ورجل یتوضا ثٔمّ دخل المسجد،فیصلّی فی الجماعة.
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : خدا وندمتعال کا وعدہ ہے کہ تین لوگوں کو بغیرکسی حساب کے داخل بہشت کیا جائے گا اور ان تینوں میں سے ہر شخص ٨٠ / ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا اور وہ تین شخص یہ ہیں : ١۔مو ذٔن ٢۔ امام جماعت ٣۔وہ شخص جو اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدمیں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے(۱)
قال النبی صلی الله علیه واله:صفوف الجماعة کصفوف الملائکة والرکعة فی الجماعة،اربعةوعشرون رکعة،کلّ رکعة احب الی اللهمن عبادة اربعین سنة ۔
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:میری امت کی نمازجماعت کی صفیں آسماں پر ملائکہ کی صفوں کے مانندہیں ،خداوند عالم نمازجماعت کی ہررکعت کو چالیس برس کی عبادتوں سے بھی زیادہ دوست رکھتاہے۔(۲)
قال رسول الله صلی علیه وآله:من مشیٰ الیٰ المسجد یطلب فیه الجماعة کان له بکل خطوة سبعون الف حسنة ویرفع له من الدرجات مثل ذٰلک فان مات وهوعلیٰ ذٰلک وکّل الله به سبعین الف ملک یعودونه فی قبره ویبشرونه ویو نٔسونه فی وحدته ویستغفرون له حتی یبعث ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص نمازجماعت میں شریک ہونے کی غرض سے مسجدکی جانب قدم بڑھائے تواس کے ہرقدم پرسترہزارنیکیاں لکھی جاتی ہیں اوراسی مقدارمیں اس کامقام بلندہوتاہے ،اگروہ اس حالت میں انتقال کرجائے توخداوندعالم سترہزارملائکہ کو اسے قبرمیں اتارنے کے لئے روانہ کرتاہے ،وہ فرشتے اسے خوشخبری دیتے ہیں اورقبرکی ت نہائی(اورتاریکی) اس کی مددکرتے ہیں اورجب تک وہ فرشتے اس کی قبرمیں رہتے ہیں اس کے لئے استغفارکرتے رہتے ہیں۔(۳)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:الصلاة فی جماعة تفضل علی کلّ صلاة الفردباربعة وعشرین درجة تکون خمسة وعشرین صلاة.
امام صادق فرماتے ہیں:نمازجماعت فرادیٰ نمازپرچوبیس درجہ فضیلت رکھتی ہے کہ ایک نمازپچیس نمازوں کاثواب رکھتی ہے(۴)
____________________
۱) مستدرک الوسائل /ج ۶/ص ۴۴٩
۲) الاختصاص (شیخ مفید) ٣٩
۳) من لایحضرہ الفقیہ /ج ۴/ص ١٧
۴). تہذب الاحکام/ج ٣/ص ٢۵
پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : ایک دن نمازظہرکے بعد جبرئیل امین سترہزارفرشتوں کے ہمراہ نازل ہوئے اور مجھ سے کہا : اے محمد ! تمہاراپروردگاتم پر درودو سلام بھیجتا ہے اوراس نے تمہارے لئے دوتحفے بھیجے ہیں جو تم سے پہلے کسی بھی نبی کوہدیہ نہیں کئے گئے ہیں،میں نے جبرئیل سے پوچھا: وہ دوہدیہ کیا ہیں ؟ جبرئیل نے عرض کیا :تین رکعت نمازوتراورپانچ وقت نمازجماعت ،میں نے کہا :اے جبرئیل !الله تبارک تعالیٰ نے میری امت کے لئے نمازجماعت میں کیااجرو ثواب معین کیا ہے ؟ جبرئیل نے جواب دیا: اگر جماعت میں دوشخص(ایک امام اوردوسراماموم) ہوں تو خداوند عالم ہرشخص کے نامہ أعمال میں ہر رکعت کے عوض ایکسو پچاس نمازوں کا ثواب درج کرتاہے اور اگر تین شخص ہوں توہر ایک شخص کے لئے ہر رکعت کے عوض چھ سو نمازوں کا ثواب درج کرتاہے اور اگر چار آدمی ہوں توہرایک کے لئے ہر رکعت کے عوض بارہ سونمازوں کا ثواب لکھتاہے ،اگرپانچ آدمی ہیں توہرایک کے لئے دس ہزارچارسونمازوں کاثواب لکھتاہے،اگرچھ آدمی ہیں توہرایک کے لئے چارہزارآٹھ سونمازوں کاثواب لکھتاہے ،اگرسات آدمی ہیں توہرایک کے لئے نوہزارچھ سونمازیں لکھی جاتی ہیں،اگرآٹھ آدمی ہوں توہرایک کے لئے ١٩٢٠٠ /نمازیں لکھی جاتی ہیں اسی طرح اگر جماعت میں نو شخص موجود ہوں توتب بھی یہی ثواب لکھاجاتا ہے اورجب نمازجماعت میں حاضرہونے والوں کی تعداددس تک پہنچ جاتی ہے تواگرتمام آسمان کاغذ، تما م دریاوسمندرروشنائی،تمام درخت قلم اور تمام جن وملک اورانسان کا تب بن جائیں تب بھی ان دس لوگوں کی ایک رکعت کا ثواب نہیں لکھ سکتے ہیں.اس کے بعدجبرئیل نے مجھ سے عرض کیا:اے محمد!کسی مومن کا امام جماعت کی ایک تکبیرکودرک کرلیناساٹھ ہزارحج وعمرہ سے بہترہے اوردنیاومال دنیاسے سترہزاردرجہ افضل ہے اورکسی مومن کا امام (علیه السلام)کے پیچھے ایک رکعت نمازپڑھنافقیروں اورحاجتمندوں پرایک لاکھ دینارخرچ کرنے سے افضل ہے اورکسی مومن کاامام (علیه السلام)کے ساتھ ایک سجدہ کرناراہ خدامیں سوغلام آزادکرنے سے افضل ہے ۔(۱)
ایک روایت میں آیاہے کہ ایک دن عبدالله ابن مسعود ات نی تاخیر سے نمازجماعت میں پہنچے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)پیغمبر افتتاحی تکبیر (یعنی تکبیرةالاحرام)کہہ چکے تھے اورابن مسعوداس تکبیرکوحاصل نہ کرسکے تواس کے عوض ایک بندہ آزاد کیا ،اس کے بعد پیغمبراسلام کی خدمت میں ائے اورعرض کیا:یانبی الله!کیاایک غلام کے آزادکردینے سے مجھے جماعت کی اس تکبیرکاثواب حاصل ہوگیاہے جسے میں درک نہیں کرپایاتھا؟رسول خدا (صلی الله علیه و آله)نے جواب دیا:ہرگزنہیں،یہ جواب سن کرعبدالله ابن مسعودنے عرض کیا:اگرمیں ایک اورغلام آزادکردوں؟ آنحضرت نے فرمایا:اے ابن مسعود!اگرتم جوکچھ زمین وآسمان میں ہے اس کو راہ خدا میں انفاق کردوپھربھی اس تکبیرکاثواب حاصل نہیں کرسکتے ہو۔(۲)
____________________
۱). بحارالانوار/ج ٨۵ /ص ١۴ ۔ ١۵
.۲) جامع الاخبار/ص ٩١ ۔ ٩٢
صف اول کی فضیلت
مستحب ہے کہ انسان نمازجماعت کی پہلی صف میں خصوصاامام جماعت کے پیچھے حاصل کرے لیکن یہ بھی مستحب ہے کہ بزرگ وافضل ومتقی لوگ امام کے پیچھے کھڑے ہوں،پہلی صف میں کھڑے ہوکرنمازپڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے ،اس بارے میں چندروایت ذکرہیں:
قال ابوالحسن موسی الجعفرعلیهماالسلام :ان الصلاة فی صف الاول کالجهادفی سبیل الله عزوجل ۔
حضرت امام موسیٰ بن جعفر فرماتے ہیں : صف ا ول میں کھڑ ے ہو کر جماعت کے ساتھ پڑھنا راہ خدا میں جہا د کرنے کے مانندہے ۔(۱)
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:افضل الصفوف اوّلهاوافضل اوّلهادنامن الامام
امام محمدباقر فرماتے ہیں:سب سے افضل وبرترپہلی صف ہے اورپہلی صف میں امام کے قریب والی جگہ سب سے افضل ہوتی ہے۔(۲)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:من حافظ علی الصف الاول والتکبیر الاولی لایوذی مسلما اعطاه اللهمن الاجر مایعطی المو ذٔن فی الدنیاوالآخرة ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص پہلی صف میں نمازپڑھتاہے اورپہلی تکبیرکودرک کرلیتاہے کوئی بھی مسلمان اسے اذیت نہیں پہنچاسکتاہے اورخداوندعالم اسے وہی اجروثواب عطاکرتاہے جوایک مو ذٔن کودنیاوآخرت میں عطاکرتاہے ۔(۳)
نمازجماعت کانقطہ آغاز
اس میں کوئی شک نہیں ہے اورکتب تواریخ میں بھی یہی ملتاہے کہ جس وقت سے خداوندعالم نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)درجہ رسالت مبعوث کیا اورآپ کوپہلے آپ کواپنے اقرباء کے لئے تلیغ دین کاحکم ملااوراس کے بعدکھلی کوئی تبلیغ کرنے کے لئے حکم خداملاتوسب سے پہلے مولائے کائنات علی ابن ابی طالب ایمان لائے اس کے بعدحضرت خدیجہ ایمان دین اسلام سے مشرف ہوئیں اورجیسے ہی پروردگارنے آنحضرت کونماز پڑھنے کاحکم دیاتو آپ نے امام علی (علیه السلام)اورخدیجہ کے ساتھ نمازجماعت قائم کی اورزندگی میں کبھی بھی جماعت کے بغیرنمازادانہیں کی ۔
____________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣٨۵
.۲) وسائل الشیعہ/ج ۵/ص ٣٨٧
۳). من لایحضرہ الفقیہ /ج ۴/ص ١٨
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)وہ ذات گرامی ہیں کہ جنھوں نے زندگی میں کبھی فرادیٰ نمازنہیں پڑھی ہے بلکہ ہمیشہ اپنی واجب نمازوں کوجماعت سے پڑھے تھے اورآغازاسلام کے بعدسے چھ مہینہ تک صرف تین شخص نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)،حضرت علی اورجناب خدیجہ کے درمیان نمازجماعت قائک ہوتھی ۔
اسماعیل ابن ایاس ابن عفیف کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ: میں ایک تاجرآدمی تھا،جب میں تجارت کے لئے زمانہ جٔاہلیت میں شہرمکہ میں داخل ہو ا اورتجارت کاسامان خریدنے کے لئے عباس ابن عبدالمطلب کے پاس پہنچاکیونکہ وہ بھی ایک تاجرشخص تھے ، ہم دونوں (خانہ کعبہ کے نزدیک کھڑے ہوئے )ناگہاں میں نے کعبہ کے قریب ایک خیمہ سے ایک جوان نکلتے ہوئے دیکھا،وہ جوان کعبہ قریب آئے ،میری نگاہوں نے اتناحسین چہرہ آج تک کبھی نہیں دیکھاتھا،وہ جوان کعبہ کے مقابل آکر کھڑے ہو ئے اورسورج کس طرف دیکھا(کہ نمازکے وقت ہوگیاہے یانہیں )اس کے بعدوہ جوان نمازکے لئے کھڑے ہوگئے ،اسی وقت ایک بچہ اورایک عورت خیمہ سے باہرنکلے وہ بچہ آکر دائیں جانب کھڑا ہوگیااوروہ عورت ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی ،ہماری نگاہوں نے دیکھا کہ وہ بچہ اور عورت اپنے آگے کھڑے ہونے کی شخص کی اتباع کررہے ہیں، اگر وہ رکوع میں جاتے ہیں تو یہ دونوں ان کے ساتھ رکوع میں کرتے ہیں اور اگر وہ سجد ہ کرتے ہیں تو یہ دونوں بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں ، اس بے سابقہ منظرکودیکھ کرمیرے جسم پرایک عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی ،اور میرے اندر ہیجان پیدا ہوگیا لہٰذا میں نے نہایت تعجب کے ساتھ عباس ابن عبدالمطلب سے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ عباس نے جواب دیا:
وہ شخص جوآگے کھڑے ہوئے ہیں محمد ابن عبدالله (صلی الله علیه و آله)ہیں اور وہ بچہّ عبدالله کے بھائی عمران کے فرزند علی ابن ابی طالبہیں اور وہ عورت جو پیچھے کھڑی ہو ئی ہیں وہ حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)کی ہمسر خدیجہ ہیں، اس کے بعد عباس ابن مطلب نے کہا:
میرے چچازاد بھائی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی الله علیه و آله) فرماتے ہیں: ایک دن وہ بھی آئے گا کہ جب قیصروکسریٰ کا پورا خزانہ ہمارے اختیار میں ہو گا ، لیکن خدا کی قسم اس وقت پوری کائنات میں اس مذہب کی پیروی کرنے والے صرف یہی تین لوگ ہیں،اس کے بعد راوی کہتاہے :اے کاش !خداوندعالم مجھے ات نی توفیق دیتاکہ آنحضرت کے پیچھے اس وقت ) نمازپڑھنے والوں علی (علیه السلام) کے بعددوسراآدمی ہوتا۔(۱)
____________________
.۱)مناقب امیر المومنین /ج ١/ص ٢۶١ ۔ینابیع المو دٔة /ج ٢/ص ١۴٧ (
امام علی ابن طالب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے پیچھے نمازپڑھنے کے بارے میں فرماتے ہیں:
اناعبدالله ، واخورسول الله ، واناالصدیق الاکبر، لایقولهابعدی الّاکاذب مفتری ولقدصلیت مع رسول الله (صقبل الناس بسبع سنین وانااوّل من صلی معه
میں بندہ خداہوں اوررسول خدا (صلی الله علیه و آله)کابھائی ہوں اورمیں ہی صدیق اکبرہوں اورمیرے بعد صدیق اکبرہونے کادعویٰ کرنے والاشخص خالصتاًجھوٹ بولتاہے اورجن لوگوں نے سب سے پہلے رسول خدا (صلی الله علیه و آله) کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی ہے میں نے ان لوگوں سے سات سال پہلے آنحضرت کے پیچھے نمازیں پڑھناشروع کردی تھی اورمیں ہی پہلا وہ شخص ہوں جسنے آنحضرت کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔(۱)
مرحوم ثقة الاسلام شیخ ابوجعفرکلینی کتاب “کافی ”میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں:
عن ابی جعفر علیه السلام قال:لمااسریٰ برسول الله صلی الله علیه وآله الی السماء فبلغ البیت المعموروحضرت الصلاة فاذن جبرئیل واقام فتقدم رسول صلی الله علیه وآله وصف الملائکة والنبیون خلف محمدصلی الله علیه وآله .
حضرت امام باقر فرماتے ہیں:جب شب معراج پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کو آسمان پرلے جایاگیاتو آنحضرتبیت المعمورمیں پہنچے ،جیسی ہی نمازکاوقت پہنچاتوالله کی طرف سے جبرئیل امین (علیه السلام)نازل ہوئے اوراذان واقامت کہی ،رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازجماعت کے لئے آگے کھڑے ہوئے اورانبیا(علیه السلام)وملائکہ نے آنحضرتکے پیچھے صف میں کھڑے ہوکرجماعت سے نمازپڑھی ۔(۲)
روایت میں آیاہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)شدید گرمی کے ایام میں بھی نمازظہر وعصرکے لئے جماعت قائم کرتے تھے لیکن منافقین کاایک گروہ جومومنین کی صفوں میں تفرقہ ایجادکرنے کے لئے گرم ہواکوبہانہ قراردیتے تھے اورنمازجماعت میں شرکت نہیں ہوتے تھے بلکہ دوسرے ل
____________________
١)الغدیر/ج ٣/ص ٢٢١ ۔سنن کبروی /ج ۵/ص ١٠٧
۲). کافی (باب بدء الاذان والاقامة)ج ٣/ص ٣٠٢
وگوں کونمازجماعت میں شریک ہونے سے منع کرتے تھے ،ان کے اس پروپیگنڈہ کی وجہ سے نمازجماعت میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی گئی اوریہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی:
( حَاْفِظُواعَلَی الصّلَوٰت وَالصَّلٰوةِالْوُسْطیٰ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْن ) تم اپنی نمازوں بالخصوص نمازوسطیٰ نمازظہرکی محافظت اورپابندی کرو اورالله کی بارگاہ میں خضوع وخشوع کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔(۱)
ان مذکورہ احادیث سے یہ واضح ہوتاہے کہ اجیسے ہی نمازکے وجوب کاحکم نازل ہواتواسی وقت پہلی ہی نمازمیں جماعت کی بنیادرکھ دی گئی تھی اورآغازسلام ہی سے نمازجماعت کاآغازہوچکاتھااورشب معراج ایک عظیم نمازجماعت برگذارہوئی کہ جبرئیل امین نے اذان واقامت کہی اوراس کے بعدانبیائے الٰہی اورتمام ملائکہ نے آنحضرت کے پیچھے نمازجماعت پڑھ کراپنے لئے فخرومباہات کیا۔
روئے زمین پرایک اورنمازبڑے عظمت وقارکے ساتھ برگذارہوگی کہ جب ہمارے آخری امام ظہورفرمائیں گے اور آسمان سے عیسیٰ (علیه السلام)بھی آکراس نمازمیں شرکت کریں گے ،خداوندعالم سے دعاہے کہ بہت جلدامام زمانہ کرے اورہمیں ان کے اصحاب وانصاراوران کے مامومین سے قراردے(آمین بارب العالمین)۔
____________________
. ۱)سورہ بٔقرة /آیت ٢٣٨ تفسیرنمونہ /ج ٢/ص ١۴۶
رازجماعت
دین اسلام میں نمازجماعت کے قائم کرنے کی چندوجہ بیان کی گئی ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ نمازکے ذریعہ کے مسلمانوں کے درمیان اتحادقائم ہوتاہے ،مومنین کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی ہے ،احوال پرسی ہوتی ہے ،سب ایک دوسرے کی خبررکھتے ہیں۔ امام علی بن موسی الرضا +فرماتے ہیں:دین اسلام میں نمازجماعت کواس لئے قراردیاگیاہے تاکہ اس کے ذریعہ اخلاص،توحید،اسلام اورعبادت خداندی ظاہری طورسے بھی اظہارہوجائے کیونکہ نمازجماعت کے اظہارکے ذریعہ عالم شرق وغرب کے لئے خداوندعالم کے بارے میں ایک دلیل قائم ہوجاتی ہے اورنمازجماعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ منافق لوگ جونمازہلکااورآسان کام شمارکرتے ہیں وہ اس چیزپرمجبورہوجائیں جس چیزکاظاہر ی طورسے اقرارکرتے ہیں اس کاسب لوگوں کے سامنے اقرارکرے اوراس چیزکے پابندجائیں جووہ اپنی زبان سے اسلام کے بارے میں اظہارکرتے ہیں اورنمازجماعت کے قراردئے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نمازجماعت میں حاضرہونے والے لوگ ایک دوسرے کے مسلمان اورمتقی وپرہیزگارہونے کی گواہی دے سکیں۔(۱)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال : انماجعلت الجماعة والاجتماع الی الصلاة لکی یعرف من یصلی ممن لایصلی ، ومن یحفظ مواقیت الصلاة ممن یضیع .
امام صادق فرماتے ہیں :دین اسلام میں نمازجماعت کواس لئے قراردیاگیاہے تاکہ اس کے ذریعہ نمازپڑھنے والوں کی نمازنہ پڑھنے والوں سے پہچان ہوسکے اوریہ معلوم ہوجائے کہ کون لوگ اوقات نمازکی پابندی کرتے ہیں اورکون نمازکوضایع کرتے ہیں ۔(۲)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نمازجماعت کے وجہ مومینن ومسلمین کے درمیان اتحادبرقرار ہوتاہے مومنین صبح ،دوپہراورشام میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں،احوال پرسی کرتے ہیں، دین اسلام میں نمازجماعت کواسی لئے مقررکیا گیاہے کہ تاکہ صبح سویرے مومن بھائی ایک دوسرے سے ملاقات کریں ایک دوسرے کی احوال پرسی کریں اورپھردوبارہ ظہرمیں ملاقات کریں
____________________
. ۱)علل الشرایع /ج ١/ص ٢۶٢
. ۲)وسائل الشیعہ/ج ۵/ص ٣٧٧
اوررات میں بھی ملاقات کریں اورنمازجماعت کواس لئے مقررکیاگیاہے تاکہ بستی کے لوگ آپس میں متحدرہیں اورکوئی ان کے خلاف کسی طرح کاپروپیگنڈہ نہ پھیلائے لیکن اس طرح بھی دیکھنے میں آتاہے کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی وجہ سے امام جماعت کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلاتے ہیں اورپیش نمازپرمختلف طریقہ سے اعتراض کرتے ہیں یہاں کہ اسلام کالباس پہن کرمسجدمیں حاضرہوتے ہیں اوریہ نبی کے زمانے میں ہوتاتھااورمنافقین لوگ مسلمانوں درمیان تفرقہ ڈالنے کے لئے گرمی یاسردی کوبہانہ قرادیتے تھے اورکہتے تھے اس گرمی میں کس نماپڑھیں اورپیغمبرکی باتوں پراعتراض بھی کرتے تھے ۔
مسٹر ہمفر(جو حکومت برطا نیہ لئے مسلمانوں کی جاسوسی کرتاتھا) لکھتا ہے کہ :مسلمانوں کے درمیان اتحادوہماہنگی کوختم کرنے کاصرف ایک ہی راستہ ہے اوروہ یہ کہ ہے نماز جماعت کوختم کیاجائے اوراسے ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ امام جمعہ وجماعت کے خلاف غلط خبریں شایع کی جائیں ،ان پرطرح طرح کی تہمتیں لگائی جائیں ،ان کے خلاف پروپیگنڈ ہ پھیلا جائے اور لوگوں کو علما ء دین وآئمہ جماعات سے بدظن کیاجا ئے اور لوگوں کوان کا استقبا ل کم کرنا چاہئے بالخصوص ضروری ہے کہ امام جماعت کے فاسق وفاجر ہونے پر دلیلیں قائم کی جا ئیں تاکہ لوگ ان سے بدطن ہوجائیں اور اس سوء ظن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ ان کے دشمن ہو جائیں اور پھر ان کے پیچھے کوئی نماز نہیں پڑھے گا اور علماء وامام جماعت کالوگوں سے رابط ختم ہوجائے۔(۱)
”ہرس لیف” کہتاہے : میں نے زندگی میں بہت زیادہ کلیساومعبدکادیدارکیاہے کہ جن میں کسی طرح کی کوئی مساوات نہیں پائی جاتی ہے اورمسلمانوں کے بارے میں بھی میرایہی خیال تھاکہ ان کی عبادتگاہوں میں بھی کوئی اخوت ومساوات نہیں پائی جاتی ہوگی لہٰذاخیال یقین میں بدلنے کے لئے عیدالفطرکے دن ان کی مسجدوں کانظارہ کرنے کے لئے شہرمیں گھومنے نکلا ،جب لندن کی “وو کنج ” مسجد کانظارہ کیاتومیری نگاہوں میں ایک عجیب منظردیکھنے میں آیااور میرے دل نے مجھ سے کہا :عالیترین مساوات تومسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے ۔
وہ کہتاہے کہ: میں نے مسجدمیں دیکھاکہ مختلف قسم کے لوگ ، گورے ،کالے ،عالی ، دانی ، شہری دیہاتی امیروغریب سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور سب اخوت وبھائی چارہ کے ساتھ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہیں اوراسی طرح کامنظرممباساشہرکی نوبیا مسجد کے دیکھنے پیش آیاوہاں بھی میری نگاہوں دیکھاکہ کسان،مزدور اور سیاستمدار لوگ نہایت خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگارہے ہیں ،ہاتھ میں ہاتھ دے رہے ہیں ،مصافحہ کررہے اورسب ایک دوسرے کوعیدکی مبارکبادپیش کررہے ہیں ،
____________________
۱). ہزارویک نکتہ دوربارہ نٔماز.ش ١۵۵ /ص ۴٩
منصب دار لوگ نماز میں کسی دوسرے کے پاس کھڑے ہونے میں کوئی حماقت محسوس نہیں کر رہے ہیں ، وہاں پر کسی کو اپنی بزرگی کا خیال نہیں ہے بلکہ سب خدا کی بار گاہ میں برابرکا درجہ رکھتے ہیں ، کوئی بھی شخص کسی دوسرے پر برتری نہیں رکھتا ہے، جسوقت میں نے امام جماعت سے ملاقات کی (جوزندگی میں کسی مذہبی رہنماسے پہلی ملاقات تھی )انھوں نے مجھ سے کہا : مسلمانوں کا عقیدہ یہی ہے کہ تما م انبیاء برحق ہیں اور جوکتاب خدانے ان پر نازل کی ہیں وہ بھی برحق ہیں ، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ تمام باتیں جو میں نے مسلمانوں کے خلاف سنی تھیں وہ سب غلط ثابت ہورہی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین اسلام صلاحیت رکھتا ہے کہ پورے دنیا کے لوگ اسے قبول کریں۔(۱)
شیخ الرئیس ابوعلی سینا نے ایک خط ابوسعید ابی الخیرکی خدمت میں ارسال کیا اور لکھا : جس جگہ الله کی عبادت کریں گھر میں یامسجد میں یاصحرا میں اور اس سے کوئی چیزطلب کریں وہ جواب ضروردیتا ہے اورتمناؤں کو پوری کرتا ہے پھرکیاضروری ہے انسان مسجد میں جائے اور نمازکوجماعت سے اداکرے جبکہ خداوند متعال رشہ رگ سے بھی زیادہ انسان سے قریب ہے چاہے ؟ ابوسعید نے ابوعلی سینا کے خط کا جواب دیا اور اس میں ایک بہت عمدہ مثال لکھی:
اگر کسی مکان میں متعدد چراغ روشن ہو ں اور ان میں سے ایک چراغ خاموش ہو جائے تو روشنی میں کوئی کمی محسوس نہیں ہو گی کیونکہ ابھی دوسرے چراغ روشن ہیں اس لئے اندھیراہو نے کا امکان نہیں ہے لیکن اگر وہ تمام چراغ جداجداکمرے میں روشن ہوں تو جس کمرے کا بھی چراغ خاموش ہو جائے گا اس میں اندھیرا چھاجائے گا انسان بھی ان چراغوں کے مانند ہیں کیونکہ جولوگ گناہوں میں الودہ ہیں اگر وہ گھرمیں (یامسجدمیں)فرادیٰ نماز پڑھتے ہیں تو اس خاموش چراغ کے مانند ہیں جسمیں ہرگزنورنہیں پایاجاتاہے اورایسے لوگوں کی نماز ان کو بہت ہی کم فائدہ پہنچا تی ہے ،بلکہ ممکن ہے ایسے لوگ رحمت وبرکات الہٰی سے بھی محروم ہوجائیں
مسجدمیں نیک وصالح لوگ بھی نمازمیں شریک ہوتے ہیں لہٰذااگرتمام لوگ مسجد میں آکر جماعت سے نمازیں پڑھیں توشاید خداوندعالم ان نیک وصالح لوگوں کے حاضرہو نے کی وجہ سے ان گناہگا رلوگوں کی بھی قسمت بیدار ہو جائے اور خدا کی رحمت وبرکاتنازل ہو نے لگیں۔(۲)
____________________
.۱) ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز.ش ۶۴۴ /ص ٢٠۶
۲). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ۵٧٣ .ص ١٨١
واجبات نمازکے اسرار
واجبات نمازگیارہ ہیں:
١۔نیت ٢۔تکبیرة الاحرام ٣۔قیام ۴ ۔قرائت ۵ ۔ذکر ۶ ۔رکوع ٧۔سجود ٨۔تشہد ٩۔سلام ١٠ ۔ترتیب ١١ ۔موالات.
١۔نیت ٢۔تکبیرة الاحرام ٣۔قیام متصل بہ رکوع یعنی رکوع سے پہلے کھڑ ے ہونااورتکبیرة الاحرام کہتے وقت اوررکوع میں جانے سے پہلے قیام کرنا ۴ ۔رکوع ۵ ۔دوسجدے اب ہم ان واجبات نمازکے رازاوروجوہات کویکے یعددیگرے بالترتیت ذکرکررہے ہیں:
رازنیت
انسان جس کام کوانجام دیتاہے اس کی طرف متوجہ ہونے اوراس کے مقصدسے آگاہ ہونے کونیت کہاجاتاہے اورہرکام کے انجام پرثواب وعقاب نیت پرموقوف ہوتاہے ،اگر عمل کو آگاہی وارادہ کے ساتھ انجام دیتاہے تووہ باعث قبول ہوتاہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله : انّماالاعمال بالنیات ولکلّ امرءٍ مانویٰ،فمن غزیٰ ابتغاء ماعندالله فقدوقع اجره علی الله،ومن غزیٰ یریدعرض الدنیاا ؤنویٰ عقالاًلم یکن له الّامانواه ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:انسان کے ہر عمل کاتعلق اس کی نیت سے ہوتاہے اور عمل کی حقیقت نیت کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے اورثواب بھی نیت کے حساب دیاجاتاہے ،اس کے نصیب میں وہی ہوتاہے جس چیزکاوہ قصدکرتاہے ،پس وہ جو شخص رضای الٰہی کی خاطرجنگ کرتاہے اورکسی نیک کام خداکی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انجام دیتاہے توخداوندعالم اسے اس کااجروثواب عطاکرتاہے ضروراجرعطاکرتاہے اورجوشخص متاع دنیاکوطلب کرتاہے اسے اس کے علاوہ جسچیزکی اس نے نیت کی ہے کچھ بھی نصیب نہیں ہوتاہے۔(۱) قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لاقول الّابعمل ولاقول ولاعمل الّابنیة ،ولاقول ولاعمل ولانیة الّاباِصابة السنة : نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:عمل کے بغیرکوئی قول نہیں ہوتاہے اورکوئی قول وعمل نیت کے بغیرکے بغیرنہیں ہوتاہے اورکوئی قول وعمل اورنیت سنت کے بغیرنہیں ہوتاہے۔(۲)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ الله یحشرالناس علیٰ نیاتهم یوم القیامة ۔ امام صادق فرماتے ہیں:خداوندعالم روزقیامت انسان کوان کی نیت کے اعتبارسے محشورکرے گا۔(۳)
____________________
. ١(تہذیب الاحکام /ج ١/ص ٨٣ (
۲). کافی/ج ١/ص ٧٠
۳). تہذیب الاحکام/ج ۶/ص ١٣۵
رازاخلاص وقصدقربت
جس طرح انسان ظاہری طور سے ذکرخداکرتاہے اسی طرح باطنی اعتبارسے اپنی نمازوعبادت کوصرف پروردگارعالم سے قربت حاصل کرنے اوراس کی رضاوخوشنودی حاصل کرنے لئے انجام دے،نمازی کوچاہئے کہ اپنے دل میں حکم وفرمان الٰہی کوانجام دینے کا ارادہ کرے اورخالصتاًخداکے لئے انجام دے، اگردل میں تھوڑاسابھی غیرخداکاارادہ ہوتووہ عمل باطل ہے ،عمل وہی قیمتی ہے جس عمل پرالٰہی رنگ چڑھاہواورجت نازیادہ رنگ چڑھاہواتناہی زیادہ قیمتی ہوتاہے
عمل کوصرف خداکے لئے انجام دینا،کسی دوسرے کوعبادت میں شریک نہ بنانے اوردل میں خوف خدارکھنے کواخلاص اورصدق نیت کہاجاتاہے ،خداوندعالم کثرت عمل اور طولانی رکوع وسجودکونہیں دیکھتاہے بلکہ حُسن نیت اوراخلاص کی طرف نگاہ کرتاہے عمل میں اخلاص کودیکھتاہے،عمل میں اخلاص پیداکرناہرانسان کے بس کی بات نہیں ہے،اگرنیت خالص ہوتوتھوڑاکام بھی بہت زیادہ ہے اوراخلاص کے ساتھ انجام دیاجانے والاچھوٹاکام بھی باعث عظمت ہوجاتاہے،اگر عمل میں اخلاص ہوتوایک ضربت بھی ثقلین کی عبادت پربھاری ہوسکتی ہے اوریہ مقام مولائے کائنات علی ابن ابی طالب +ہی کوحاصل ہواہے ۔ نمازگزاراپنی نمازوں کوفقط الله کے لئے انجام دے اوراس میں کسی دوسرے کاقصدنہ کرے اگرعمل میں اخلاص نہیں ہے تواس عمل کاکوئی فائدہ نہیں ہے اوروہ قبول ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتاہے ،خداندعالم نیت کے اعتبارسے عمل کوقبول کرتاہے اگرنیت صحیح ہے توانجام بھی اچھاہوتاہے لیکن اگرمیں خرابی اورریاکاری پائی جاتی ہے تووہ عمل ہرگزقبول نہیں ہوتاہے ۔
اگرکوئی شخص نمازوعبادت کوظاہری کے علاوہ باطنی طورسے بھی ماں باپ ، یاکسی رئیس وسرپرست کے خوف سے یالوگوں کودکھانے کی غرض سے انجام دے اوردل میں نمازی ،متقی ،پرہیزگاراورایک نیک انسان کہلائے جانے کاارادہ کرے ،مثلا یہ قصدکرے کہ اگرمیں نے نمازنہ پڑھی تومیرے والدین یاکوئی دوسراشخص مجھے ضرب لگائے یامجھے ت نبیہ کریں گے یاخوف ہوکہ نمازنہ پڑھنے کی وجہ سے مجھے محفل میں شرمندہ ہوناپڑے گایامجھے کسی کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی اوراس کے علاوہ جت نی بھی چیزیں ریاکاری میں شمارہوتی ہیں ان کاقصدکرے تووہ نمازالله کی بارگاہ میں مقبولیت کادرجہ نہیں رکھتی ہے ریاکاری سے مرادیہ ہے کہ انسان ظاہروباطن یکسان نہ ہو، دوسرے لوگوں کی موجودگی میں نماز پڑھتے وقت خضوع وخشوع کا اظہار کرتا ہوتا کہ وہ لوگ اسے متقی وپرہیز گار شمار کریں لیکن جب ت نہائی میں نماز پڑھے تو اس کی نماز میں کوئی خضوع وخشوع نہ پایاجاتا ہو ا وربہت جلدبازی میں نماز پڑھتا ہو
حضرت امام خمینی کی تو ضیح المسائل میں لکھا ہے : انسان کو چاہئے کہ فقط حکمِ خدا انجام دینے کے لئے نماز پڑھے پس جو شخص نماز میں ریاکاری کرتا ہے اور لوگوں کو دکھا نے کی غرض سے نماز پڑھتا ہے تا کہ لوگ اس کومتقی وپر ہیز گا ر کے نام سے یاد کریں ، اسکی نماز باطل ہے خواہ وہ نماز کو فقط لوگوں کو دکھا نے کے لئے پڑھتا ہو یا خدا اور لوگوں کو دکھا نے کے لئے پڑھتا ہویعنی دل میں خدا کا قصد کرے اور ریاکاری کا بھی خیال رکھے اور دوسرے مسلٔہ میں لکھاہے کہ: اگرانسان نماز کا کچھ حصّہ غیرخدا کے لئے انجام دے پھر بھی نماز باطل ہے خواہ وہ حصّہ جو غیر خدا کے لئے انجام دیا گیا ہے نماز کا واجبی جزء ہو جیسے حمد وسورہ کی قرائت یا مستحبی جزء ہو جیسے قنوت ، بلکہ اگرانسان نماز کو خدا کے لئے انجام دے لیکن لوگوں کو دکھا نے کے لئے کسی مخصوص جگہ میں مثلاً مسجد میں ، یا ایک مخصوص وقت میں مثلاً اوّلِ وقت ، یا ایک مخصوص طریقہ سے مثلاً جماعت سے نماز پڑھے ، اسکی نماز باطل ہے۔(۱)
( صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنَ مِنَ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُوْنَ ) ۔(۲) رنگ توصرف الله کارنگ ہے اوراس سے بہترکس کارنگ ہوسکتاہے اورہم سب اسی کے عبادت گذارہیں۔
( وَمَااُمِرُوْااِلّالِیَعْبُدُوااللهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفٰاءَ وَیُقِیْمُواالصَّلَاةَ وَیُوتُوالزَّکٰوةَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ ) ۔(۳)
اورانھیں صرف اس بات کاحکم دیاگیاتھاکہ خداکی عبادت کریں اوراس عبادت کواسی کے لئے خالص رکھیں اورنمازقائم کریں اورزکات اداکریں اوریہی سچااورمستحکم دین ہے۔
( مَن کَانَ یَرجُوالِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاصَالِحا وَلَایُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَداً ) (۴)
ہروہ شخص جواپنے پروردگارسے ملاقات کاامیدوارہے اسے چاہئے خداکی عبادت میں کسی بھی ذات کوشریک قرارنہ دو۔
( قُلْ اِنَّ صَلَاْ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ ومَمَا تِی للهِ رَبِّ الْعاَ لَمِیْن ) (۵)
اے رسول! کہدیجئے کہ میری نماز ، عبادت ،زند گی ، موت سب الله کے لئے ہیں جو عالمین کا پالنے والا ہے ۔
____________________
.۱) توضیح المسائل (امام خمینی )مسئلہ ٩۴۶ ۔ ٩۴٧
٢)سورہ بٔقرہ /آیت ١٣٨
. ۳)سورہ بٔیّنہ/آیت ۵ )
۴)سورہ کٔہف /آیت ١١٠
۵) سورئہ انعام آیت ١۶٢
( قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلیٰ شاکِلَةٍ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَاَهْدیٰ سَبِیْلاً ) (۱)
)اے رسول!)کہدیجئے کہ ہرایک اپنے طریقہ پرعمل کرتاہے توتمھاراپردوگاربھی خوب جانتاہے کہ کون سب سے زیادہ سیدھے رستے پرہے۔
امام صادق فرماتے ہیں:اہل جہنم کے ہمیشہ آگ میں رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دنیامیں یہ نیت تھی کہ اگرہم ہمیشہ کے لئے بھی دنیامیں رہیں گے توہمیشہ معصیت خداوندی کوانجام دیتے رہیں گے اوراہل بہشت کے جنت میں ہمیشہ رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دنیامیں یہ نیت تھی کہ اگرہم دنیامیں بھی باقی رہے توہمیشہ اطاعت باری تعالیٰ کوانجام دیتے رہیں گے،یہ صرف نیت ہی کاانجام ہے کہ یہ گروہ ہمیشہ کے لئے جنت میں اوروہ گروہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گااس کے بعدامام(علیه السلام) نے آیہ کٔریمہ( قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَة ) کی تلاوت کی :اورفرمایا:“علٰی شاکلته ”سے“ علٰی نیّتہ ”مرادہے۔(۲)
امام صادق ایک اورحدیث میں آیہ مٔبارکہ( لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ) (۳) کے بارے میں فرماتے ہیں: آیت میں خداکامقصدیہ نہیں ہے کہ عمل کوطول دیاجائے بلکہ مرادیہ ہے کہ تم میں کس کاعمل سب سے زیادہ صحیح ہے اورعمل وہی صحیح ہوتاہے جوخوف خدااورنیک وسچّی نیت کے ساتھ انجام دیاجاتاہے،خداوندعالم طولانی رکوع وسجودکونہیں دیکھتاہے بلکہ عمل میں اخلاص کودیکھتاہے اورعمل کو اخلاص کے ساتھ انجام دیناخودعمل سے زیادہ سخت ہوتاہے اورعمل خالص یہ ہے کہ الله تبارک وتعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کی حمدوثناء کادل میں ارادہ نہ کرنا،اس کے علاوہ کسی کواپنی عبادت میں شریک نہ بنانااورنیت عمل سے افضل ہوتی ہے بلکہ عمل ہی کونیت کہاجاتاہے ،اس بعدامام (علیه السلام)نے اس آیہ مٔبارکہ کی ) تلاوت کی :( قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَة ) اورفرمایا:“علٰی شاکلتہ”سے“ علٰی نیّتہ ”مرادہے۔(۴)
____________________
١)سورہ أسراء/آیت ٨۴
۲). کافی/ج ٢/ص ٨۵
۳)اس نے مووت وحیات کواس لئے پیداکیاہے تاکہ تمھاری آزمائش کرے کہ تم میں ( حُسن نیت کے اعتبارسے سب سے بہترکون ہے ،سورہ مٔلک /آیت ٢
. ۴)کافی/ج ٢/ص ١۶
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: ریاکارشخص کی تین پہچان بیان کی ہیں:
١۔ جب ت نہائی میں ہوتاہے توعمل کوسستی اورلاپرواہی کے ساتھ انجام دیتاہے
٢۔ جب اپنے پاس لوگوں کودیکھتاہے (اوران کی موجوگی میں نمازپڑھتاہے )تواپنے عمل میں طول ونشاط بڑھادیتاہے
٣۔ اوراسچیزکوبہت زیادہ دوست رکھتاہے ہرکام میں اس کی تعریف کی جائے ۔(۱)
عن النبی صلی الله علیه وآله قال:انّ الله تعالی لایقبل عملافیه مثقال ذرّة من ریاءٍ ۔
نبی اکرمفرماتے ہیں:خداوندعالم انسان کے ہراس عمل کوکہ جس میں ذرہ برابربھی ریاکاری کی بوپائی جاتی ہے ہرگز قبول نہیں کرتاہے ۔(۲)
قالابو عبدالله علیه السلام:کل ریاء شرک انّه من عمل للناس کان ثوابه علی الناس ومن عمل لله کان ثوابه علی الله ۔
امام صادقفرماتے ہیں ہرطرح کی ریاکاری شرک ہے ،جوشخص کسی کام کولوگوں کے دکھانے کے لئے انجام دیتاہے اس کاثواب لوگوں کی طرف جاتاہے اورجوشخص خداکے لئے انجام دیتاہے اس کاثواب الله کی طرف جاتاہے۔(۳)
عن ابی جعفرعلیه السلام قال : لوانّ عبداًعمل عملاًیطلب به وجه الله عزوجل والدارالآخرةوفادخل فیه رضااحد مّن الناس کان مشرکاً ۔
اما م باقر فرماتے ہیں:اگرکوئی بندہ کسی کام کوالله کی خوشنودی اورعاقبت خیرکے لئے انجام دے لیکن اس میں کسی شخص کی خوشنودی بھی شامل حال ہوتووہ مشرک ہے ۔(۴)
____________________
.۱) قرب الاسناد/ص ٢٨
.۲) مستدرک الوسائل /ج ١/ص ١٢
.۳) کافی /ج ٢/ص ٢٩٣
.۴) ثواب الاعمال/ص ٢۴٢
روایت میں آیاہے:نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے کسی نے پوچھا:یارسول الله !وہ کونسی شئے ہے جس کے ذریعہ روزقیامت نجات پائی جائے گی ؟آنحضرت نے فرمایا:نجات اس چیزمیں ہے کہ آپ (دنیامیں)خداکودھوکانہ دیں،ورنہ وہ کل روزقیامت تمھیں دھوکادے گاکیونکہ جوخداکومکروفریب دیتاہے خدابھی اسے مکروفریب دے گااوراس کے دل سے ایمان کوسلب کرلے گا،اگرانسان غورفکرکرے تووہ خداکونہیں بلکہ خودکودہوکادے رہاہے
اس نے پوچھا:انسان خدا کو کیسے دھوکادے سکتاہے ؟آپ نے فرمایا: خدا کو دھوکادینایہ ہے کہ انسان اس کام کوجس کاالله نے حکم دیاہے انجام دے لیکن اس کوانجام دینے میں کسی دوسرے کاقصدکرے.میں تمھیں وصیت کرتاہوں کہ ریاکاری کرنے میں خداسے ڈرو،کیونکہ ریاکاری شرک ہے، روزقیامت ریاکارشخص کو چارنام سے پکاراجائے گا:اے کافر!،اے فاسق!،اے خائن!،اے تباہ کار!تیرے تمام اعمال حبط ہوگئے اورثواب باطل ہوگیاہے ،آج تیری رہائی ونجات کاکوئی سامان نہیں ہے ،اپنے کئے ہوئے اعمال کااجروثواب اسی سے طلب کرجس کے لئے تونے انجام دئے ہیں۔(۱)
اگرکوئی شخص لوگوں کے درمیان ترویج دین اسلام کی خاطر نمازکو اچھے اندازمیں اداکرتاہے تواسے ریاکاری نہیں کہتے ہیں،اس بارے میں عبدالله ابن بکیرنے عبیدسے رویات کی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ میں نے میں نے امام صادق سے پوچھا:اس شخص کے بارے میں کیاحکم ہے جواپنی نمازکولوگوں کے درمیان اس قصدسے انجام دیتاہے تاکہ لوگ اسے نمازپڑھتے ہوئے دیکھیں اوراس کے دین کی طرف تمایل پیداکریں اوراس کے طرفدارہوجائیں ؟ امام(علیه السلام) نے فرمایا:اسے ریاکاری میں شمارنہیں کیاجاتاہے۔(۲)
____________________
.۱) امالی /ص ۶٧٧ ۔ ثواب الاعمال/ص ٧۵۵ ۔معانی الاخبار/ص ٣۴١
۲). وسائل الشیعہ /ج ١/ص ۵۶
راز تکبیرة الاحرام
تکبیرکے ذریعہ نمازکاآغازکئے جانے کی وجہ
واجب ہے کہ انسان جیسے ہی نمازکی نیت کرے تواس کے فوراًبعدبغیرکسی فاصلے کےتکبیرة الاحرام یعنی “الله اکبر”کہے اوراس کے ذریعہ اپنی نمازکاآغاز کرے ۔ اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ آغازنمازکے لئے تکبیرکوکیوں معین کیاگیاہے ،کیانمازکوتکبیرکے علاوہ خداوندمتعال کے کسی دوسرے نام سے ابتدا نہیں کیاجاسکتاہے ؟ روایت میں ایاہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں مشرف ہوئی ان کے عالم نے آنحضرتسے چندسوال کئے جن میں ایک یہ بھی تھاکہ نمازکوتکبیرکے ذریعہ شروع کیوں جاتاہے؟نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا: ”الله اکبر”فهی کلمة اعلی الکلمات واحبهاالی الله عزوجل یعنی لیس شی أکبرمنه، ولایفتح الصلاة الّابهالکرامته علی اللهوهواسم الاکرم ۔
”الله اکبر”کلموں میں سب سے افضل وبرترکلمہ ہے اوراس کلمہ کوخداوندعالم بہت زیادہ عزیزرکھتاہے یعنی الله کے نزدیک اس کلمہ سے بڑھ کرکوئی چیزنہیں ہے اوراس کلمہ کے علاوہ کسی دوسرے کلمہ سے نمازکی ابتداء کرناصحیح نہیں ہے کیونکہ خداصاحب کرامت ہے اوریہ کلمہ اسم اکرم ہے ۔(۱)
ناک ایک ایسی چیزہے کہ جس کی وجہ سے انسان کے چہرے کی خوبصورتی معلوم ہوتی ہے ،لیکن اگرکسی کے چہرے پرناک ہی موجودنہ تواسے لوگ کیاکہیں گے اورکیانام دیں ،نمازمیں تکبیرة الاحرام کوناک کادرجہ دیاگیاہے کہ جس کے بغیرنمازادھوری ہے جیساکہ ایک حدیث میں نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:
ہرشے کٔے ایک چہرہ ہوتاہے اورتمھارے دین کاچہرہ نمازہے لہٰذاتمھیں چاہئے کہ اپنے کے دین چہرہ نہ بگاڑیں اورہرچیزکی ایک ناک ہوتی ہے اورنمازکی ناک تکبیرہے (ناک سے چہرے کی خوبصورتی معلوم ہوتی ہے اگرکسی شخص کے چہرہ سے ناک کوختم کردیاجائے تووہ برامعلوم ہوتاہے اسی طرح اگرنمازسے تکبیرکونکال دیاجائے تواس کی خوبصورتی ختم ہوجائے گی)۔(۲)
____________________
. ۱)علل الشرایع /ج ١/ص ٢۵١
. ۲) کافی/ج ٣/ص ٢٧٠
اس تکبیرکوتکبیرة الاحرام کہے جانے کی وجہ
اس تکبیرکوتکبیرة الاحرام کہتے ہیں،اوراستکبیرکوتکبیرة الاحرام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان اس کے ذریعہ محرم ہوجاتاہے اورکچھ چیزیں( جونمازگزارکے لئے غیرنمازکی حالت میں حلال ہوتی ہیں مثلاکسی چیزکاکھاناپینا،قبلہ سے منحرف ہونا،کسی سے کلام کرناچاہے ایک ہی حرف ہو)نمازگزارپرحرام ہوجاتی ہیں،اس بارے میں روایت میں آیاہے:قال رسول الله صلی الله علیه واله:افتتاح الصلاة الوضوء وتحریمها التکبیر وتحلیلهاالتسلیم ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: نمازکی ابتداء وضوکے ذریعہ ہوتی ہے اورتکبیراس کی تحریم ہے اورسلام اس کی تحلیل ہے(۱)
سات تکبیرکہنے کاراز
تکبیرة الاحرام کے علاوہ جوکہ واجب ہے تکبیرة الاحرام سے پہلے یابعدمیں چھ تکبیرکہنامستحب ہے یہ مجموعاسات تکبیرہوجاتی ہیں لیکن پانچ یاتین تکبیرپربھی اکتفاء کرسکتے ہیں، ان تکبیروں کوافتتاحی تکبیرکہتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ نمازکی ابتداء ہوتی ہے لیکن حقیقت میں تکبیرة الاحرام کوافتتاحی تکبیرکہاجاتاہے۔ احادیث معصومین میں نمازکے شروع میں سات افتتاحی تکبیرکہے جانے کے بارے میں چندوجہ بیان اس طرح بیان کی گئی ہیں:
١۔نمازکے شروع میں سات تکبیریں کہنے کارازیہ ہے کہ نبی اکرم نے بھی نمازکومومن کے لئے بارگارہ ملکوتی میں پروازکرنے کاایک بہترین ذریعہ قراردیاہے اورپروازکے لئے سات آسمان کے پردوں کوعبورکرناضروری ہے ،جب مومن تکبیرکہتاہے تو آسمان کاایک پردہ کھل جاتاہے لہٰذاساتوں حجاب عبورہونے کے لئے سات تکبیرکہناچاہئے تاکہ بارگاہ ملکوتی میں پروازکرسکے ۔
ہشام ابن حکم سے روایت ہے کہ امام موسیٰ بن جعفر +نے سات افتتاحی تکبیرکے یہ بیان کی ہے:
انّ النبی صلی الله علیه وآله لما اسری به الی السماء قطع سبعة حُجُبٍ، فکبّرعندکلّ حجابٍ تکبیرة فاوصله الله عزوجل بذلک الیٰ منتهی الکرامة جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے آسمانوں کی سیرکی توسات پردوں سے گزرے توہرحجاب کے نزدیک ایک تکبیرکہی اوران تکبیروں کے وسیلے سے الله تبارک وتعالیٰ نے آنحضرت کو انتہائے کرامت و بلندی پرپہنچایا۔(۲)
____________________
.۱) وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ٧١۵
. ۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٠۵
٢۔ان سات تکبیروں کارازیہ ہے کہ ان کے ذریعہ خداکے صفات ثبوتیہ اورسلبیہ کی تصدیق کی جاتی ہے۔
جابرابن عبدالله انصاری سے روایت ہے کہ میں مولاامیرالمومنین علی ابن ابی طالب +کی خدمت میں موجودتھا،آپ نے ایک شخص کونماز پڑھتے ہوئے دیکھا،جب وہ نمازسے فارغ ہواتومولانے اس سے پوچھا:اے مرد!کیاتم نمازکی تاویل وتعبیرسے آشنائی رکھتے ہو؟اس نے جواب دیا:میں عبادت کے علاوہ نمازکی کوئی تاویل نہیں جانتاہوں،بس اتناجانتاہوں کہ نمازایک عبادت ہے ،امام (علیه السلام)نے اس سے فرمایا:
قسم اس خدا کی جس نے محمد (صلی الله علیه و آله)کونبوت عطاکی ،خداعالم نے جت نے بھی کام نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کوبجالانے کاحکم دیاہے اس میں کوئی رازاورتعبیرضرورپائی جاتی ہے اوروہ سب کام بندگی واطاعت کی نشانی ہیں ،اس مردنے کہا:اے میرے مولا!آپ انھیں مجھے ضروربتائے وہ کیاہیں؟امام (علیه السلام)نے فرمایا: نمازکے شروع میں سا ت تکبیرکہناچاہئے ان سات تکبیرکارازیہ ہے کہ جب تم پہلی “الله اکبر” کہوتواپنے ذہن میں یہ خیال کرو کہ خداوندعالم قیام وقعودکی صفت سے پاک ومنزہ ہے ،وہ نہ کھڑاہوتاہے اورنہ بیٹھتاہے ،اورجب دوسری مرتبہ “الله اکبر” توخیال کروکہ خدانہ چلتاہے اورنہ بیٹھتاہے اورتیسری تکبیرسے یہ ارادہ کروکہ خداجسم نہیں رکھتاہے اوراسے ذہن میں تصورنہیں کیاجاسکتاہے ،چوتھی تکبیرکہنے کارازیہ ہے کہ اس میں کوئی بھی عرض حلول نہیں کرسکتاہے اوراسے کوئی مرض نہیں لگ سکتاہے اورپانچوی تکبیرکہنے کارازیہ ہے وہ جوہروعرض جیسی صفت سے منزہ ہے اورچھٹی تکبیرکہنے سے اس چیزکاارادہ کروکہ وہ نہ کسی چیزمیں حلول کرسکتاہے اورنہ کوئی چیزاس میں حلول کرسکتی ہے اورچھٹی تکبیرکہنے سے یہ خیال کروکہ خداونداعالم نہ کبھی نابودہوسکتاہے اورنہ اس میں کسی طرح کی تبدیلی آسکتی ہے وہ تغیروتبدل سے مبراء ہے اورساتوی تکبیرکہنے سے یہ خیال کروکہ اس میں کبھی بھی حواس خمسہ حلول نہیں کرسکتے ہیں۔(۱)
٣۔سات تکبیروں کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے جسے ہم معصوم کی ایک دوحدیث کے ضمن میں ذکرکررہے ہیں جسے “تہذیب الاحکام ”اور“من لایحضرہ الفقیہ”میں ذکرکیاگیاہے:حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ :ایک دن جب پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نمازکے لئے کھڑے ہوئے توامام حسین آنحضرتکے پاس کھڑے ہوئے تھے، آنحضرت نے تکبیرکہی مگرامام حسیننے تکبیرنہ کہی ،پیغمبرنے دوبارہ تکبیرکہی پھرامام حسین (علیه السلام) نے تکبیرنہ کہی ،آنحضرتاسی طرح پیوستہ تکبیرکہتے رہے اورمنتظرتھے کہ حسین (علیه السلام)کب تکبیرکہتے ہیں یہاں تک کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے سات مرتبہ تکبیرکہی،جیسے ہی ساتوی تکبیرکہی توحسین (علیه السلام)نے تکبیرکاجواب دیا،امام صادق فرماتے ہیں :اسی لئے نمازکے شروع میں سات تکبیرکہنامستحب قرارپائی ہیں ۔
____________________
. .۱) بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۵٣
۲) تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ۶٧
امام محمدباقر فرماتے ہیں کہ:امام حسیننے کچھ دیرمیں بولناشروع کیایہاں تک کہ امام حسین -نے بولنے میں انتی دیرکی کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کوامام حسینکے کی زبان اقدس میں قوت گویائی نہ رکھنے کاخوف پیداہوا، آنحضرت جب نمازکے لئے مسجدمیں ائے توامام حسین - کوبھی اپنے ہمراہ لے کر آئے اورنمازپڑھتے وقت امام حسین کواپنے دائیں جانب کھڑاکیااورنمازپڑھناشروع کی ،لوگوں نے بھی آنحضرت کے پیچھے صف میں کھڑے ہوکرشروع کی ،آنحضرت نے جیسے ہی تکبیرکہی توحسین (علیه السلام)نے بھی تکبیرکہی ،رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے دوبارہ تکبیرکہی توحسین (علیه السلام)نے دوبارہ تکبیرکہی،یہاں تک کہ پیغمبرنے سات مرتبہ تکبیرکہی اورحسین (علیه السلام)نے آپ کی اتباع میں سات مرتبہ تکبیرکہی ،اسی لئے نمازکے شروع میں سات تکبیرکہنامستحب قرارپائی ہیں۔(۱)
۴ ۔روایت میں سات افتتاحی تکبیرکی ایک اوروجہ اس طرح بیان کی گئی ہے: فضل بن شاذان سے مروی ہے کہ امام علی رضا ان سات تکبیروں کی مشروعیت کی وجہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
اگرکوئی تم سے یہ معلوم کرے کہ نمازکے شروع میں سات تکبیروں کوکیوں مشروع کیاگیاہے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ ان سات تکبیروں میں ایک تکبیرواجب ہے اوربقیہ مستحب ہیں اوران استحبابی تکبیرکی وجہ یہ ہے کہ اصل میں نمازدورکعت ہے(۲) اوردورکعت نمازمیں مجموعاًسات تکبیرپائی جاتی ہیں:
١۔تکبیراستفتاح یعنی تکبیرة الاحرام ٢۔پہلی رکعت کے رکوع میں جانے کی تکبیر ٣۔ ۴ ۔ پہلی رکعت کے دونوں سجدوں میں جانے کی تکبیر ۵ ۔دوسری رکعت کے رکوع کی تکبیر ۶ ۔ ٧ دوسر ی رکعت کے دونوں سجدوں کی تکبیر
نمازکے شروع میں سات تکبیرکہنے رازیہ ہے کہ اگرنمازی ان مذکورہ سات تکبیروں میں کوئی تکبیربھول ہوجائے یاکلی طورسے ان سے غافل ہوتوشروع میں کہی جانے والی تکبیریں ) اس کاتدارک کرسکتی ہیں اورنمازمیں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔(۳)
____________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ٣٠۵١
۲)اوربعدمیں ظہروعصراورعشاکی نمازمیں دودورکعت کاضمیمہ کیاہے اورمغرب میں ایک ( رکعت اورنمازصبح میں کوئی اضافہ نہیں کیاہے اسے ہم پہلے حدیث کے ضمن میں“واجب نمازوں کی رکعتوں کی تعدادکت نی ہے”کے عنوان میں ذکرکرچکے ہیں۔
.۳)علل الشرایع/ج ١/ص ٢۶١
تکبیرکہتے وقت دونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرنے کاراز تکبیرة الاحرام اوراس کے علاوہ نمازکی دیگرتمام تکبیرکہتے وقت دونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرنامستحب ہے،اوردونوں ہاتھوں کوکانوں تک اس طرح بلندکریں کہ ہتھیلیاں قبلہ کی سمت قرارپائیں۔
عن علی علیه السلام فی قوله تعالیٰ ( فصلّ لربک وانحر ) انّ معناه ارفع یدیک الی النحرفی الصلاة ۔
حضرت علی اس آیہ مٔبارکہ( فصلّ لربک وانحر ) کے بارے میں فرماتے ہیں: اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نمازمیں (تکبیرکہتے وقت)ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرو۔(۱)
تفسیرمجمع البیان میں آیہ کٔریمہ( فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ) کی تفسیر کے ذیل میں حضرت علیسے یہ روایت نقل کی ہے:
حضرت علی فرماتے ہیں :جب یہ آیہ مٔبارکہ نازل ہوئی تونبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے جبرئیل امین سے پوچھا:یہ نحیرہ کیاچیزہے جس کامجھے حکم دیاگیاہے؟کہا: جبرئیل امین نے جواب دیا:نحیرہ سے مرادکچھ نہیں ہے مگریہ کہ پرودگارکاحکم ہے :جب تم نماز کیلئے قیام کرو توتکبیرة الاحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلندکرواوراسی طرح رکوع میں جانے سے پہلے اوررکوع میں جانے کے بعداورسجدے میں جاتے وقت اور سجدے سے سربلندکرتے ہوئے تکبیرکہواوردونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلند کروکیونکہ ہماری نمازاورساتوں اسمان میں ملائکہ کی نمازکایہی طریقہ ہے(کہ وہ تکبیرکہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرتے ہیں)کیونکہ ہرچیزکیلئے ایک زینت ہوتی ہے اورنمازکی زینت یہ ہے کہ ہر تکبیرمیں ہاتھوں کوبلندکیاجائے۔(۲)
ایک شخص امیرالمومنین حضرت علی کی خدمت میں آیااور عرض کیا:اے خدا کی بہترین مخلوق (حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)) کے چچازادبھائی میں آپ پرقربان جاو ںٔ،تکبیرةالاحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرنے کے کیامعنی اوراس کارازکیاہے ؟ امام نے فرمایا:
الله اکبرالواحدالاحدالذی لیسکمثله شی لٔایلمسبالاخماس ولایدرک بالحواس ۔
”الله اکبر”یعنی وہ ایک اوراکیلاہے ،اس کاکوئی مثل نہیں ہے ،وہ “ وحدہ لاشریک ”ہے اوراسے حواسپنجگانہ کے ذریعہ درک ومحسوسنہیں کیا جاسکتا ہے۔(۳)
____________________
۱)وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ٧٢٨
.۲) تفسیرمجمع البیان/ج ٢٠ /ص ٣٧١
.۳) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٠۶
نبی اکرمفرماتے ہیں: تکبیرة الاحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں بلند کرنا قیامت میں نامۂ اعمال لینے کے لئے ہاتھ بڑھانے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے :
( اِقْرَء کِتٰا بَکَ کَفیٰ بِنَفْسِکَ الْیَومَ عَلَیْکَ حَسِیْباً ) (۱)
اب اپنی کتاب کو پڑھ لوآج تمھارے حساب کے لئے یہی کتاب کافی ہے۔(۲)
فضل بن شاذان سے مروی ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:اگرکوئی تم سے یہ معلوم کرے کہ تکبیرکہتے وقت دونوں کوکانوں تک بلندکرنے کارازکیاہے توا سے یہ جواب دوکہ دونوں ہاتھوں کوبلندکرنا ایک نوع تضرع وزاری ہے اورغیرخداسے دوری کرناہے لہٰذاخداوندعالم دوست رکھتاہے کہ نمازی عبادت میں خضوع ،التماس اورتضرع کی کیفیت پیداکرے اوردوسری وجہ یہ ) ہے کہ ہاتھوں کوبلند کرنے سے نیت میں استمدادپایاجاتاہے اورحضورقلب پیداہوتاہے۔(۳)
عرفان اسلامی میں لکھاہے ،بعض علمائے دین کہتے ہیں : نماز کی نیت کرنے کے بعد تکیبرة الاحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلندکرنے کے معنی ہیں:بارالٰہا! میں گناہوں میں غرق ہوں ،تو میر ے ان دونوں ہاتھوں کو پکڑلے اورمجھے نجات دیدے
(۴)
____________________
. ١)سورہ طٰٔہٰ/آیت ١١١
٢)اسرارالصلاة (عبدالحسین تہرانی)/ص ۴١
. ۳)علل الشرایع/ج ١/ص ٢۴۶
۴) عرفان اسلامی /ج ۵/ص ٢٠٣
رازقیام
جب نمازکے لئے کھڑے ہوجائیں تو نہایت اخلاص وحضورقلب کے ساتھ تکبیرة الاحرام کہیں اوربغیرکسی حرکت کے سیدھے کھڑے رہیں،بدن کوحرکت نہ دیں ،نہ ذرہ برابرکسی طرف جھکیں اورنہ کسی چیزپرٹیک لگائیں بلکہ سیدھے کھڑے ہوکرسکون وآرام کے ساتھ تکبیرة الاحرام کہیں ۔
تکبیرة الاحرام کہتے وقت قیام کرنااوررکوع میں جانے سے پہلے قیام کرناجسے قیام متصل بہ رکوع کہتے ہیں یہ دونوں قیام رکن نمازہیں اگران دونوں میں سے کوئی قیام عمداًیاسہواًترک ہوجائے تونمازکادوبارہ پڑھناواجب ہے لیکن حمدوسورہ پڑھتے وقت اورراسی طرح رکوع کے بعدبھی قیام کرناواجب ہے مگر یہ ایساقیام ہے کہ جس کے عمداًًترک کرنے سے نمازباطل ہے اورسہواًترک ہوجانے سے نمازباطل نہیں ہوتی ہے ۔مستحب ہے کہ نمازگزارقیام کی حالت میں اپنے دونوں کاندھوں کونیچے کی طرف جھکائے رکھے، دونوں ہاتھوں کو نیچے لٹکائے رکھے،دونوں ہاتھ کی ہتھیلیوں کواپنی ران پررکھے،پیرکے انگوٹھوں کوقبلہ کی سمت رکھے،دونوں پیروں کے درمیان حداقل تین انگلیوں کے برابر اورحداکثرایک بالشت کے برابرفاصلہ رکھے،بدن کاوزن ایک ساتھ دونوں پاو ںٔ پررکھے اورالله کی بارگاہ میں خضوع وخشوع کے ساتھ قیام کریں۔
رازوجوب قیام
نمازمیں قیام کواس لئے واجب قراردیاگیاہے تاکہ نمازگزاراس کے ذریعہ اس قیام کویادکرے جب اسے قبرسے بلندکیاجائے گااورپروردگارکے سامنے حاضرکیاجائے گا، پس نمازگزار قیام نمازکے ذریعہ روزقیامت قبروں سے بلندہوکربارگاہ خداوندی میں قیام کرنے کویادکرتاہے اورقیام نمازروزقیامت کے قیام کی یادتازہ کراتی ہے جیساکہ قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے:( یَومَ یَقُومُ النّٰاسُ لِرَبِّ الْعٰالَمِیْن ) (١) یادکرواس دن کوکہ جس دن سب رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو نگے۔
حضرت آیت الله جوادملکی تبریزی “اسرارالصلاة”میں لکھتے ہیں :نمازکی حالت میں قیام کرنے کافلسفہ یہ ہے کہ انسان با رگا ہ باری تعا لیٰ میں کھڑے ہو کر اس کی بند گی کا حق اداکر ے اور الله کی نعمت و برکتوں بہرہ مند ہو اور اپنے دل میں یہ خیال پیداکرے کہ کل مجھے قیامت میں بھی اس کی بارگاہ میں قیام کرنا ہے ،قیام میں قیام کواسی لئے واجب قرادیاگیاہے تاکہ نمازگزاراس قیام کے ذریعہ روزقیامت کے قیام کویادکرے ۔(۲)
____________________
. ١)سورہ طٰٔہٰ/آیت ١١١
. ۲)اسرارالصلاة /ص ٢٠۴
تفسیر“کشف الاسرار” میں لکھاہے:نمازمیں کی حالت میں نماز گزارکی چار شکل وہیئت پائی جاتی ہیں قیام، رکوع،سجود قعود، اس کی حکمت و فلسفہ یہ ہے کہ مخلوقات عالم کی بھی چار صورت ہیں بعض موجودات ایسے ہیں جو ہمیشہ سیدھے کھڑا رہتے ہیں وہ درخت وغیرہ ہیں (جوالله کی حمدوثنا کرتے رہتے ہیں )اوربعض موجودات ایسے ہیں جوہمیشہ رکوع کی مانندخمیدہ حالت میں رہتے ہیں جیسے چوپائے، اونٹ، گائے ،بھیڑ ،بکریاں وغیرہ اوربعض ایسے بھی جو ہمیشہ زمیں پرسجدہ کے مانندپڑے رہتے ہیں وہ حشرات اورکیڑے وغیرہ ہیں اور بعض موجودات ایسے ہیں جوہمیشہ زمین پر بیٹھے رہتے ہیں وہ حشیش و نبا تات وگل وگیا ہ وغیرہ ہیں اوریہ سب الله کی تسبیح کرتے ہیں
خدا وند عالم اپنی عبادت کے لئے انسان پرنمازمیں موجودات جہان کی ان چاروں صورتوں کوواجب قراردیاہے تاکہ انسان قیام ورکوع وسجود وقعو د کے ذریعہ ان تمام موجودات کی تسبیح کاثواب حاصل کرسکے کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اس لئے خدانے انسان کوعبادت میں بھی ان سے افضل قراردینے کے لئے نمازمیں قیام وقعود،رکوع وسجودکوواجب قراردیاہے ۔(۱)
نمازمیں قیام ورکوع وسجوداورقعودکے واجب قراردئے جانے کی وجہ اس طرح بیان کی گئی ہے : دنیاکی ہرشئے الله کی عبادت وبندگی کرتی ہے ،کچھ موجودات ایسے ہیں جوزندگی بھرسیدھے کھڑے رہتے ہیں وہ درخت وغیرہ ہیں اوربعض موجودات ایسے ہیں جوہمیشہ رکوع کی طرح خمیدہ حالت میں رہتے ہیں وہ چوپائے (اونٹ گائے،بھیڑ،بکری ،گھوڑے)وغیرہ ہیں اورکچھ ایسے ہیں جومنہ کے بل زمین پر پڑے رہتے ہیں وہ حشرات وغیرہ ہیں اورکچھ ایسے بھی ہیں جوزمین پربیٹھے رہتے ہیں وہ حشیش ونباتات وغیرہ ہیں اوریہ سب موجودات الله کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ،اس کی حمدونثاکرتے رہتے ہیں لہٰذاخدوندعالم نے اشرف المخلوقات کواپنی عبادت کے لئے ان سب موجودات کے طرزعبادت کویکجاجمع کردیاہے جس کے مجموعہ کونمازکہاجاتاہے تاکہ انسان موجودات عالم کی تسبیح کوانجام دے سکے ۔
____________________
.۱) تفسیرکشف الاسرار/ج ٢/ص ٣٧۶ ۔ ٣٧٧
رازقرائت
نمازمیت کے علاوہ تمام دورکعتی (واجب اورمستحبی )نمازوں کی دونوں رکعتوں میں اوردورکعتی نمازوں کے علاوہ تین رکعتی (نمازمغرب)اورچاررکعتی (ظہروعصر وعشاء)نمازوں کی پہلی دونوں رکعتوں میں تکبیرة الاحرام کے فوراًبعدسورہ حٔمداورکسی ایک اورسورے کی قرائت کرناواجب ہے۔حمدکے بجائے کسی دوسرے کی قرائت کرناصحیح نہیں ہے اورکوئی شخص حمدکے بجائے کسی دوسرے سورہ کی قرئت کرے تواسکی نمازباطل ہے ۔ ابن ابی جمہوراحسائی نے اپنی کتاب“ عوالی اللئالی ”میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)سے یہ روایت کی ہے:قال صلی الله علیه وآله وسلم:لاصلاة الّابفاتحة الکتاب .
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :سورہ حٔمدکے بغیرنمازی ہی نہیں ہوتی ہے ۔(۱)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:لاصلاة لمن لم یقرا بٔامّ الکتاب فصائداً ۔
پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جو شخص نماز میں سور ئہ حمداوراس کے علاوہ دوسرے کی قرا ئت نہیں کرتا ہے اسکی نماز صحیح نہیں ہے ۔(۲)
سورہ حٔمدکے بعدکسی ایک مکمل سورہ کی قرائت کرناواجب ہے ،اگرکوئی شخص دونوں سوروں سے ایک سورے کے ترک کرنے پرمجبورہوجائے میں تواس صورت میں حمدکاترک کرناجائزنہیں ہے، ایسانہیں ہوسکتاہے کہ حمدکوچھوڑکردوسرے سورہ کی قرائت پراکتفاء کرے خواہ واجبی نمازہویا مستحبی جیساکہ حدیث میں آیاہے:
عن محمدبن مسلم عن ابی عبدجعفرعلیه السلام قال : سئلته عن الذی لایقرء بفاتحة الکتاب فی صلاته ؟ قال: لاصلاة الّاا نٔ یقرء بهافی جهرا ؤاخفات، قلت:ایمااحبّ الیک اذاکان خائفاا ؤمستعجلایقرء سورة ا ؤفاتحة ؟فقال:فاتحة الکتاب .
محمدابن مسلم سے مروی ہے ،میں نے امام باقر سے پوچھا:اس شخص کی نمازکے بارے میں کیاحکم ہے جواپنی نمازمیں سورہ حٔمدکی قرائت نہیں کرتاہے ؟امام(علیه السلام) نے جواب دیا:سورہ حٔمدکے بغیرنماز(قبول)نہیں ہوتی ہے ،چاہے جہری نمازپڑھ رہاہویااخفاتی ،میں نے کہا:اگروہ شخص حالت خوف میں ہے یاکسی ضروری کام کے لئے جلدی ہے(اوراس کے پاس صرف اتناوقت ہے کہ وہ فقط ایک سورہ کی قرائت کرسکتاہے) آپ کس چیزکودوست رکھتے ہیں وہ اس صورت میں سورہ کوپڑھے یاحمدکو؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:سورۂ حمدکوپڑھے۔
____________________
۱). عوالی اللئالی/ج ١/ص ١٩۶--.۲) مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ١۵٨
. ۳)الکافی/ج ٣/ص ٣١٧
قرائت کے واجب قراردئے جانے کی وجہ
بعض لوگ ایسے ہیں جواصلاً قرآن کی تلاوت نہیں کرتے ہیں یاکسی روزکرتے ہیں اورکسی روزنہیں کرتے ہیں ،نمازمیں اس لئے تلاوت کوواجب قراردیاگیاہے تاکہ قرآ ن نہ پڑھنے والے لوگ کم ازکم روزانہ پانچ مرتبہ نمازکے واسطہ سے قرآن کی تلاوت کرسکے اوراس کے ثواب سے محروم نہ رہے ۔
فضل بن شاذان نے امام علی رضا سے منقول نمازمیں قرائت کے واجب قرادئے جانے کی وجہ اس طرح بیان کی ہے:
امرالناس بالقرائة فی الصلاة لنلایکون القرآن مهجوراًمضیعاً، ولیکن محفوظا مدرسا فلایضمحل ولایجهل.
نمازمیں قرائت قرآن کریم کواس لئے واجب قرار دیا گیا ہے تاکہ قرآن مجیدلوگوں کے درمیان مہجورومتروک واقع نہ ہونے پائے بلکہ (گروآلود اورضایع ہونے سے )محفوظ رہے بلکہ حفظ ومطالعہ کے دامن میں قراررہے اورتاکہ لوگ اسے نہ بھول پائیں۔(۱)
قال صلی الله علیه وآله:قراء ة القرآن فی الصلاة افضلٌ من قراء ة القرآن فی غیرالصلاة
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: نماز میں قرآن کی قرائت کرنا غیرنماز میں تلاوت کرنے سے افضل ہے۔(۲)
حضرت امام محمدباقر فرماتے ہیں:جوشخص کھڑے ہوکرنمازپڑھتاہے اوروہ نمازمیں قیام کی حالت میں قرآن کریم کی قرائت کرتاہے تو جت نے بھی حرفوں کی قرائت کرتاہے ،ہرحرف کے بدلہ اس کے نامہ اعمال میں سونیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اگر بیٹھ کر نمازپڑھتاہے تو ہر حرف پر پچاس نیکیاں لکھی جاتی ہیں،لیکن اگرکوئی شخص غیرنمازکی حالت میں قرآن کی قرائت کرتاہے توخداوندعالم اس کے نامہ أعمال میں ہرحرف کے عوض دس نیکیاں درج کرتاہے ۔(۳)
____________________
۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣١٠
۲). تحف العقول/ص ۴٣
.۳) ثواب الاعمال/ص ١٠١
رازاستعاذہ
سورہ حٔمدکی قرائت شروع کرنے سے پہلے مستحب ہے کہ الله تبارک وتعالی سے شیطان رجیم کے بارے میں پناہ مانگی جائے کیونکہ نمازمیں واجب ہے کہ انسان اپنی نیت کوآخرصحیح وسالم رکھے،اورنمازمیں اخلاص وحضورقلب رکھے،خداکے علاوہ کسی دوسری چیزکواپنے ذہن میں نہ لائے اورانسان کاعمل جت نازیادہ مہم ہوتاہے شیطان بھی اپنی پوری قدرت کے ساتھ اس پرحملہ کرنے کوشش کرتاہے اورشیطان نمازوعبادت خداوندی کوبہت زیادہ دشمن رکھتاہے کیونکہ وہ یہ جانتاہے ہے کہ نمازوعبادت انسان کوگناہ ومنکرات سے دوررکھتی ہے لہٰذابندہ مٔومن جب نمازکے لئے قیام ہے توشیطان اس کے دل میں وسوسہ پیداکرنا چاہتا ہے اوراسے نمازمیں اخلاص وحضورقلب رکھنے سے منحرف کرنے اور ریاکاری کی چنگاری پیداکرنے کی کوشش کرتاہے ،اورہروقت بندوں کوراہ عبادت سے چھوڑدےنے اور گناہ ومنکرات میں ملوث ہونے کی دعوت دینے کے لئے حاضرہوتاہے ۔
وسوسہ شیطانی سے بچنے اورنمازمیں اخلاص وحضورقلب پیداکرنے لئے مستحب ہے کہ نمازگزارجب نمازکے لئے قیام کرے توسورہ حٔمدسے پہلے الله سے شیطان رجیم کی پناہ مانگے اور“أعوذباللهمن الشیطان الرجیم ”کہے ۔
نمازکے شروع میں استعاذہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے اللھسے شیطان رجیم کی پناہ مانگنامسحتب ہے لہٰذانمازمیں قرآن کی قرائت کرنے سے شیطان رجیم سے پناہ مانگنامستحب ہے جیساکہ قرآن کریم میں ارشادخداوندی ہے:
( فَاِذَاقَرَا تِٔ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْبِاللهِ مِنَ الشَّیْطَاْنِ الرَّجِیْمِ،اِنّهُ لَیْسَ لَهُ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُوْاوَعَلیٰ رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ )
جب آپ قرآن پڑھیں توشیطان رجیم کے مقابلہ کے لئے الله سے پناہ طلب کریں،شیطان ہرگزان لوگوں پرغلبہ نہیں پاسکتاہے جوصاحبان ایمان ہیں اورجواللھپرتوکل واعتمادرکھتے ہیں۔(۱)
____________________
۱). سورہ نٔحل/آیت ٩٨ ۔ ٩٩
ہرسورہ کے شروع میں“بسم الله”ہونے کی وجہ
”بسم ا لله” سورہ کاجزء ہے اس لئے سورہ کی ابتداء اسی کے ذریعہ ہونی چاہئے ،کیونکہ ہرکام کی ابتداء “ بسم ا لله الرحمن الرحیم ” کے ذریعہ ہونی چاہئے ،اگرکسی نیک کی کام ابتدا الله تبارک تعالیٰ کے نام سے ہونی چاہئے ،اگرکسی کام کی ابتدا الله کے نام سے نہ کی جائے تواس میں شیطان کے دخل ہونے کاامکان پایاجاتاہے اوراس کام کے نامکمل ہونے کابھی امکان رہتاہے اس لئے ہرنیک کی ابتداء الله کے نام کی جائے اسی لئے ہرسورہ کی ابتداء “بسم ا لله ” کے ذریعہ ہونی چاہئے اسبارے میں حدیث میں آیاہے: عن النبی صلی الله علیہ وسلم انہ قال:کلّ امرٍذی بالٍ لم یذکرفیہ باسم الله فَہوابتر. نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:ہروہ کام جو“بسم الله ”سے شروع نہیں ہوتاہے وہ پایہ تٔکمیل کونہیں پہنچتاہے۔(۱)
راز قرائت حمد
نمازمیت کے علاوہ تمام دورکعتی (واجب اورمستحبی )نمازوں کی دونوں رکعتوں میں اوردورکعتی نمازوں کے علاوہ تین رکعتی (نمازمغرب)اورچاررکعتی (ظہروعصر وعشاء)نمازوں کی پہلی دونوں رکعتوں میں تکبیرة الاحرام کے فوراًبعدسورہ حٔمدکی قرائت کرناواجب ہے اورحمدکے بجائے کسی دوسرے کی قرائت کرناصحیح نہیں ہے اورکوئی شخص حمدکے بجائے کسی دوسرے سورہ کی قرئت کرے تواس کی نمازباطل ہے ۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:لاصلاة لمن لم یقرا بٔامّ الکتاب فصاعداً ۔
پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جو شخص نماز میں سور ئہ حمداوراس کے علاوہ دوسرے کی قرا ئت نہیں کرتا ہے اسکی نماز صحیح نہیں ہے ۔(۲) سورہ حٔمدکے ذریعہ قرائت کے آغازکئے جانے ک وجہ روایتوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے:
فضل بن شاذان نے امام علی رضا سے منقول نمازمیں قرائت کے واجب قرادئے جانے کی وجہ اس طرح بیان کی ہے:
انمابدء بالحمددون سائر السورلانّه لیس شی مٔن القرآن والکلام جمع فیه من جوامع الخیروالحکمة ماجمع فی سورة الحمد.
قران کریم میں کوئی سورہ یاکوئی کلام ایسانہیں ہے کہ جس میں سورہ حٔمدکے برابرخیروحکمت موجودہوں اورقول“الحمدلله”ادائے شکرالٰہی ہے کہ جسے خداوندعالم نے واجب قراردیاہے ان نعمتوں کے بدلہ میں جواسنے اپنے بندوں پرنازل کی ہیں۔(۳)
____________________
۱). المیزان /ج ١/ص ١۴ ۔بحارالانوار/ج ٩٢ /ص ٢۴٢
۲). مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ١۵٨
۳) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣١٠
حدیث معراج میں آیاہے کہ جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے اورآپ کونمازپڑھنے کاحکم دیاگیاتوآپ نمازکے لئے کھڑے ہوئے اورتکبیرکہہ نمازشروع کی تووحی پروردگارنازل ہوئی :میرانام لو!تونبی راکرم (صلی الله علیه و آله)نے “بسم الله ”اوراس طرح “بسم الله”کوہرسورہ کے شروع میں رکھاگیااوراسے سورہ کاجزء قراردیاگیااس کے بعدوحی نازل ہوئی:اے رسول !میری حمدکرو،آنحضرت نے سورہ حٔمدکی قرائت کی ۔(۱)
روایت میں آیاہے ،امام صادق سے کسی نے اس آیہ مٔبارکہ( وَلَقَدْآتَیْنَاکَ سَبْعً مِنَ الْمَثَانِی وَالْقُرآنِ الْعَظِیْمِ ) (۲) کے بارے میں پوچھاتو امام (علیه السلام)نے فرمایا:سورہ حٔمدکو سبع مثانی کہاجاتاہے کیونکہ سورہ حٔمدایساسورہ ہے جس میں سات آیتیں ہیں اوران میں سے ایک( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) بھی ہے اسی لئے سبع کہاجاتاہے اورمثانی اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ سورہ نمازکی پہلی دورکعتوں میں پڑھا جاتا ہے ۔
پہلی رکعت میں سورہ قٔدراوردوسری میں توحیدکے مستحب ہونے کی وجہ فقہاء کے درمیان مشہوریہ ہے کہ واجب نمازوں کی پہلی اوردوسری رکعت میں سورہ حمدکے بعدایک مکمل سورہ کی قرائت کرناواجب ہے لیکن مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ حٔمدبعدسورہ قدراوردوسری رکعت میں سورہ تٔوحیدکی قرائت مستحب ہے ہمارے تمام آئمہ اطہار کی یہی سیرت رہی ہے وہ اپنی نمازوں کی پہلی رکعت میں سورہ حمدکے بعدسورہ قدراوردوسری رکعت میں سورہ تٔوحیدکی قرائت کرتے تھے ۔ رویات میں آیاہے کہ امام علی ابن موسی الرّضا واجب نماز وں کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ قدراِنَّا اَنْزَ لْنَاهُ اور دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ توحیدقُلْ هُوَاللهُ اَحَدْ کی قرائت کرتے تھے ۔(۳)
ایک اورروایت میں آیاہے:ایک شیعہ اثنا عشری شخص نے حضرت مہدی (عجل الله تعالیٰ فرجہ شریف) کی خدمت میں خط تحریرکیااور امام (علیه السلام) سے پوچھا:اے میرے مولا!آپ پرمیری جان قربان ہو!میں آپ سے ایک چیزمعلوم کرناچاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ نماز کی پہلی اوردوسری رکعت میں سورہ حٔمدکے بعدکس سورہ کی قرائت کرنازیادہ فضیلت رکھتاہے ؟امام (علیه السلام)نے جواب میں تحریرفرمایا:
___________________
۱). الکافی/ج ٣/ص ۴٨۵
.۲) مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ١۵٧
۳). وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ٧۶٠
پہلی رکعت میں سورئہ( اِنَّااَنْرَ لْنَاهُ فی لَیْلَةاِلْقَدْر ) اور دوسری رکعت میں سورئہ( قُلْ هُوَ الله احَدْ ) اور امام (علیه السلام)نے فرمایا:تعجب ہے کہ لوگ نمازوں میں سورئہ قدر کی قرائت نہیں کرتے ہیں، کسطرح ان کی نمازیں بارگاہ ربّ العزّت میں قبول ہوتی ہیں ۔(۱)
لیکن روایت میں یہ بھی ملتاہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)پہلی رکعت میں حمدکے سورہ توحیداوردوسری رکعت میں سورہ قدرکی قرائت کرتے تھے اورشب معراج بھی آپ کوپروردگارنے پہلی رکعت میں حمدکے سورہ تٔوحیدپڑھنے کاحکم دیا: اے محمد!(ص)سورہ حمدکے بعداپنے پروردگارکاشناسنامہ اورنسبت کوپڑھوقُلْ ہُوَاللهُ اَحَدٌ،اَلله الصَّمَدُ،لَمْ یَلِدْوَلَمْ یُوْلَدْ،وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًااَحَدْ
پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)نے نماز کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعدسورہ تٔوحید کی قرائت کی اورجب دوسری رکعت میں سورہ حٔمدپڑھاتوپروردگارکی طرف سے وحی نازل ہوئی:
اے محمد!(ص)دوسری رکعت میں سورہ حٔمدکے بعد( اِنّااَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْر ) ... کی قرائت کروکیونکہ یہ سورہ روزقیامت تک تمھارااورتمھارے اہلبیت سے منسوب ہے ،یہ سورہ تمھارااورتمھارے اہلبیت کی پہچان نامہ ہے جسمیں تمھاراشجرہ موجودہے ۔(۲)
سوال یہ ہے جب سنت رسول یہ ہے کہ پہلی رکعت میں توحیداوردوسری رکعت میں قدرکی قرائت کی جائے توپھرپہلی رکعت سورہ قٔدرکی قرائت کرنازیادہ ثواب کیوں رکھتاہے؟ اس کی وجہ اوررازکیاہے؟
اس کاجواب خودحدیث معراج سے واضح ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی ذات وہ ہے کہ جوالله تبارک وتعالیٰ سے اس درجہ قریب تھے کہ قاب وقوسین کی منزل تک پہنچ گئے تھے اورالله ورسول کے درمیان کوئی واسطہ نہیں تھااسی الله نے اپنے حبیب کوحکم دیا:سورہ حٔمدکے بعدتوحیدکی قرائت کرواوردوسری رکعت میں سورہ قدرپڑھوکیونکہ سورۂ توحید میراشجرہ نامہ ہے اوراس میں میری نسبت ذکر ہے اورسورہ قٔدر تمھارے اہلبیت اطہار سے ایک خاص نسبت رکھتاہے اوراس میں تمھارے اہبیت کاشجرہ نامہ ذکرہے
وہ لوگ جوالله سے قربت حاصل کرناچاہتے ہیں انھیں چاہئے کہ ان عظیم القدرذات کاسہارالے کر جوالله سے بہت زیادہ قریب ہوں اس کی بارگامیں قدم رکھیں تاکہ وہ ان کی عبادت کوان ذوات مقدسہ کے طفیل سے قبول کرلے
____________________
۱). وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ٧۶١
.۲) کافی/ج ٣/ص ۴٨۵
اہلبیت اطہار وہ ذوات مقدسہ ہیں جواللھسے بہت زیادہ قریب ہیں اسی لئے مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں اہلبیت سے منسوب سورہ قدرکی قرائت کی جائے اوردوسری رکعت میں خداوندعالم سے منسوب سورہ کی قرائت کی جائے لیکن پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کوخدانے شب معراج پہلی رکعت میں سورہ توحید اوردوسری رکعت میں سورہ قٔدرکی قرائت کرنے حکم دیااس کی وجہ یہ ہے:
آنحضرت حبیب خداہیں اورخداورسول کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ خداوندعالم براہ راست وحی کے ذریعہ اپنے حبیب سے گفتگوکرتاہے اسلئے رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کوخدانے پہلی رکعت میں اپنی ذات سے منسوب سورہ کی قرائت کاحکم دیا۔ روایت میں آیاہے :مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ حٔمدکے بعد “( انّا انزلناه ) ” اوردوسری رکعت میں “( قل هوالله ) ”کی قرائت کی جائے کیونکہ سورہ قٔدرنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اوران کے اہلبیت اطہار کاسورہ ہے لہٰذاہمیں چاہئے کہ اپنی نمازوں میں ان ذوات مقدسہ کو خدا تک پہنچنے کا وسیلہ قراردیں کیونکہ انھیں کے وسیلہ سے خداکی معرفت حاصل ہوتی ہے۔(۱)
سورعزائم کے قرائت نہ کرنے کی وجہ
اگرکوئی نمازی عمداًاپنی واجب نمازوں میں ان میں کسی ایک سورہ کی قرائت میں مشغول ہوجائے اورابھی سجدہ والی آیت کی قرائت نہیں کی ہے توواجب ہے کہ کسی دوسرے سورہ کی طرف منتقل ہوجائے اوراگرسجدہ ؤاجب والی آیت قرائت کرچکاہے تونمازباطل ہے کیونکہ اس آیت کی قرائت کرنے سے سجدہ کرناواجب ہے اوراس سجدہ کے کرنے سے نمازمیں ایک سجدہ کی زیادتی ہوجائے گی جوکہ نمازکے باطل ہوجانے کاسبب ہے لہٰذااس صورت میں واجب ہے کہ بیٹھ جائے اورسجدہ کرے اس کے بعدکھڑے ہوکردوبارہ نمازپڑھے ۔ مولائے کائنات علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں:واجب نمازوں میں قرآن کریم کے چار عزائم سوروں میں سے کسی ایک بھی سورہ کی قرائت نہ کرواوروہ چارسورے یہ ہیں سورۂ سجدہ لٔقمان ، حم سجدہ،نجم،علق،اگرکوئی شخص ان چارسورں میں سے کسی ایک سورہ کی قرائت کرے تواس پرواجب ہے کہ سجدہ کرے اوریہ دعاپڑھے:”الٰهی آمنابماکفرواوعرفناماانکروا ، واجبناک الیٰ مادعوا ، الٰهی فالعفو العفو “ اس کے بعدسجدہ سے سربلندکرے اورتکبیرکہے (اوردوبارہ نمازپڑھے)۔(۲) زرارہ نے امام باقریاامام صادق سے روایت کی ہے ،امام (علیه السلام)فرماتے ہیں:اپنی واجب نمازوں میں سجدہ والے سوروں کوقرائت نہ کروکیونکہ ان پڑھنے سے نمازمیں ایک سجدہ زیادہ ہوجائے گااور زیادتی کی وجہ سے نمازباطل ہوجائے گی ۔(۳)
____________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣١۵
.۲) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٠۶
۳). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٩۶
رازجہراوخفات
مردوں پرواجب ہے کہ صبح اورمغرب وعشا کی نمازمیں حمدوسورہ کوبلندآوازسے پڑھیں لیکن عوتیں بلنداورآہستہ آوازمیں پڑھ سکتی ہیں جبکہ کوئی نامحرم ان کی آوازنہ سن رہاہو،اگرکوئی نامحرم عورت کی آوازسن رہاہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ آہستہ پڑھے اورنمازظہروعصرکی نمازمیں مردوعورت دونوں پرواجب ہے کہ حمدوسورہ کوآہستہ پڑھیں لیکن مردوں کے لئے مستحب ہے ان نمازوں میں “( بسم الله الرحمٰن الرحیم ) ” کوبلندآوازسے کہیں۔ حداخفات یہ ہے کہ نمازی خوداپنی قرائت کوسن سکتاہواورحدجہریہ ہے کہ امام جہری نمازوں میں قرائت کوات نی بلندآوازسے پڑھے کہ مامومین تک اس کی آوازپہنچ سکے اورمعمول سے زیادہ آوازبلندنہ کرے یعنی اسے چیخ نہ کہاجائے ،اگرچیخ کرپڑھے تونمازباطل ہے بلکہ معتدل طریقہ اختیارکرے یعنی آوازنہ ات نی زیادہ ہوکہ اسے چیخ کہاجائے اورنہ ات نی کم ہوکہ خودکوبھی آوازنہ آئے جیساکہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:( لَاتَجْهَرْبِصَلَاتِکَ وَلَاتُخَافِت بِهَا )
اے رسول!اپنی نمازمیں میانہ روی اختیارکرو،نہ زیادہ بلندآوازسے اورنہ زیادہ آہستہ سے پڑھو۔(۱)
ظہروعصرکی نمازمیں قرائت حمدوسورہ کے آہستہ پڑھنے اورنمازصبح ومغربین میں بلندآوازسے پڑھنے کاحکم کیوں دیاگیاہے ،تمام نمازوں میں حمدوسورہ کوبلندیاآہستہ پڑھنے میں کیاحرج ہے ؟
فضل بن شاذان نے امام علی رضا سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں امام(علیه السلام) نے اس چیزکی وجہ بیان کی ہے کہ بعض نمازوں کوبلندآوازسے اوربعض کوآہستہ کیوں پڑھناچاہئے؟
امام علی رضا فرماتے ہیں:بعض نمازوں کوبلندآوازسے پڑھنے کی وجہ یہ ہے کیونکہ یہ نمازیں اندھرے اوقات میں پڑھی جاتی ہیں لہٰذاواحب ہے کہ انھیں بلندآوازسے پڑھاجائے تاکہ راستہ گزرنے والاشخص سمجھ جائے کہ یہاں نمازجماعت ہورہی ہے اگروہ نمازپڑھناچاہتاہے توپڑھ لے کیونکہ اگروہ نمازجماعت کونہیں دیکھ سکتاہے تونمازکی آوازسن کرسمجھ سکتاہے نمازجماعت ہورہی ہے (لہٰذانمازصبح ومغربین کوبلندآوزسے پڑھناواجب قراردیاگیاہے)اوروہ دونمازیں جنھیں آہستہ پڑھنے کاحکم دیاگیاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دونوں نمازیں دن کے اجالہ میں پڑھی جاتی ہیں اوروہاں سے گزرنے والوں کونظرآتاہے کہ نمازقائم ہے لہٰذااس میں سننے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اسی لئے ان دونماز(ظہرین)کوآہستہ پڑھنے کاحکم دیاگیاہے۔(۲)
____________________
.۱) سورہ أسراء /آیت ١١٠
۲). علل الشرایع/ج ١/ص ٢۶٣
محمدابن حمزہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پوچھا: کیاوجہ ہے کہ نمازجمعہ اورنمازمغرب وعشاء اورنمازصبح کوبلندآوازسے پڑھاجاتاہے اور نماز ظہر و عصر کو بلندآوازسے نہیں پڑھاجاتا ہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:
جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے توجمعہ کادن تھااورالله کی طرف واجب کی گئی پہلی نمازظہرکاوقت تھا(جب آنحضرت نے نمازجمعہ پڑھناشروع کی)خداوندعالم نے ملائکہ کوحکم دیاکہ وہ پیغمبر اسلام کے پیچھے جماعت سے نمازپڑھیں اورپیغمبرکوحکم دیاکہ حمدوسورہ کوبلندآوازسے قرائت کریں تاکہ انھیں اس کی فضیلت معلوم ہوجائے اس کے بعدالله نے نمازعصرکوواجب قراردیااور(جوفرشتے نمازظہرمیں حاضرتھے ان کے علاوہ) کسی فرشتہ کونمازجماعت میں اضافہ نہیں کیااورپیغمبراسلام کوحکم دیاکہ نمازعصرکوبلندآوازسے نہ پڑھیں بلکہ آہستہ پڑھیں کیونکہ اس نمازمیں آنحضرت کے پیچھے کوئی (نیافرشتہ )نہیں تھا
نمازظہروعصرکے بعدالله تعالیٰ نے نمازمغرب کوواجب قراردیااورجیسے ہی مغرب کاوقت پہنچاتوآنحضرت نمازمغرب کے لئے کھڑے ہوئے توآپ کے پیچھے نمازمغرب پڑھنے کے لئے ملائکہ حاضرہوئے ،الله نے اپنے حبیب کوحکم دیاکہ اس نمازمیں حمدوسورہ کوبلندآوازسے پڑھوتاکہ وہ سب قرائت کوسن سکیں اوراسی طرح جب نمازعشاء کے کھڑے ہوئے توملائکہ نمازمیں حاضرہوئے توخدانے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کوحکم دیاکہ اس نمازمیں بھی حمدوسورہ کوبلندآوازسے پڑھو،اس کے بعدجب طلوع فجرکاوقت پہنچاتوالله نے نمازصبح کوواجب قراردیااوراپنے حبیب کوحکم دیاکہ اس نمازکوبھی بلندآوازسے پڑھوتاکہ جس ملائکہ پراس نمازکی فضلیت واضح کی گئی اسی طرح لوگوں کوبھی اس کی فضیلت معلوم ہوجائے۔(۱) یہودیوں کی ایک جماعت پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے پاس آئی اورانھوں نے آنحضرت سے سات سوال کئے جن میں سے ایک یہ بھی تھاکہ تین نمازوں کوبلندآوازسے پڑھنے کاحکم کیوں دیاگیاہے ؟آنحضرت نے فرمایا:
اس کی وجہ یہ ہے انسان جت نی بلندآوازسے قرائت کرے گااورجس مقدارمیں اس کی آوازبلندہوگی اسی مقدارمیں جہنم کی آگ سے دوررہے گااورآسانی کے ساتھ پل صراط سے گزرجائے گااوروہ خوش وخرم رہے گایہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔(۲)
____________________
۱). علل الشرایع/ج ٢/ص ٣٢٢
۲). خصال(شیخ صدوق)/ص ٣۵۵
روایت میں ایاہے کہ حضرت امام علی بن محمد سے قاضی یحییٰ ابن اکثم نے چندسوال کئے جن میں ایک سوال یہ بھی تھاکہ نمازصبح میں قرائت کے بلندآوازسے پڑھنے کی کیاوجہ ہے ؟
امام (علیه السلام) نے فرمایا:نمازصبح اگرچہ دن کی نمازوں میں شمارہوتی ہے لیکن اس کی قرائت کورات کی نمازوں (مغرب وعشا)کی طرح بلندوآوازسے پڑھناجاتاہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اس نمازکی قرائت کوبلندآوازسے پڑھتے تھے اوراس لئے بلندآوازسے پڑھتے تھے کیونکہ یہ نمازشب سے قریب ہے۔(۱)
حمد کے بعدآمین کہناکیوں حرام ہے
سورہ حمدکی قرائت کے بعدآمین کہناجائزنہیں ہے بلکہ “( الحمدلله رب العالمین ) ”کہنامستحب ہے کیونکہ سنت رسول یہی ہے کہ قرائت حمدکے بعد “( الحمدلله رب العالمین ) ” کہاجائے۔حدیث معراج میں آیاہے :جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے اورخداوندعالم نے آپ کونمازپڑھنے کاحکم دیااوروحی نازل کی:
اے محمد!( بسم الله الرحمن الرحیم ) کہواورسورہ حٔمدپڑھو ،نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ایسا ہی کیااور“ولاالضالین ”کہنے کے بعد“( الحمدلله رب العالمین ) ”کہا(آمین نہیں کہا لہٰذاسنت رسول یہ ہے کہ سورہ حمدکے بعد“( الحمدلله رب العالمین ) ”کہاجائے )۔(۲)
جمیل ابن دراج سے مروی ہے امام صادق فرماتے ہیں:جب تم جماعت سے نمازپڑھو اورامام جماعت سورہ حٔمدکی قرائت سے فارغ ہوجائے توتم“( الحمدلله رب العالمین ) ” کہواورآمین ہرگزنہ کہو۔(۳) معاویہ ابن وہب سے مروی ہے وہ کہتے ہیں :میں نے امام صادقسے کہا:میں امام جماعت کے “( غیرالمغضوب علیهم ولاالضالین ) ”کہنے کے بعدآمین کہتاہوں توامام (علیه السلام)نے فرمایا:وہ لوگ یہودی اورمسیحی ہیں جوامام جماعت کے “( غیرالمغضوب علیهم ولاالضالین ) ” کے کہنے بعدآمین کہتے ہیں۔اس کے بعد امام(علیه السلام) نے کوئی جملہ نہیں کہااورامام(علیه السلام) کااس سائل کے سوال کاجواب دینے سے منہ پھیرلینااس بات کی دلیل کے ہے کہ امام(علیه السلام) قرائت کے بعد اس جملہ کہنے کوپسندنہیں کرتے تھے ۔(۴)
____________________
۱). علل الشرائع/ج ٢/ص ٣٢٣
.۲) کافی/ج ٣/ص ۴٨۵
.۳) الکافی/ج ٣/ص ٣١٣
۴). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٧۵
سورہ حمدکی مختصرتفسیر
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کچھ لوگ امیرالمومنین حضرت علی کی خدمت میں موجودتھے کاایک شخص نے امام (علیه السلام)سے عرض کیا:اے میرے مولاآقاآپ پرہماری جان قربان ہو،ہمیں( بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّحِیْمِ ) کے معنی سے آگاہ کریں، امام (علیه السلام)نے فرمایا:سچ یہ ہے کہ جب تم لفظ “الله” کو اپنی زبان پر جاری کرتے ہوتوتم خداکے افضل ترین ناموں میں سے ایک نام کا ذکرکرتے ہو ،یہ ایسانام ہے جس کے ذریعہ خدا کے علاوہ کسی دوسرے کو اس نام سے یاد نہیں کیا جاسکتا ہے اور خداکے علاوہ کسی بھی مخلوق کواس نام سے نہیں پکارا جاسکتاہے ،دوسر ے شخص نے پوچھا: “الله”کی تفسیر کیا ہے ؟ حضرت علی نے فرمایا: ”الله” وہ ذات ہے کہ دنیاکی ہر مخلوق ہرطرح کے رنج وغم ، مشکلات ،حاجتمندی اورنیاز مندی کے وقت اسی سے لولگا تی ہے،اور تم بھی اپنے ہر چھوٹے بڑے کام کو شروع کرتے وقت “بسم الله الرحمن الرحیم ”کہتے ہوپس تم درحقیقت یہ کہتے ہو: ہم اپنے اس کام میں اس خدا سے مدد طلب کرتے ہیں جس کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت کرناجائز نہیں ہے اور اس خدا سے جو رحمن ہے یعنی رزق وروزی کو وسعت کے ساتھ ہم پر نازل کرتا ہے اور وہ خدا جو رحیم ہے اوردونوں جہاں میں یعنی دنیاوآخرت میں ہم پررحم کرتاہے ۔(۱)
الحمدلله رب العالمین
ایک شخص امیرالمومنین علی بن ابی طلب +کی خدمت میں ایااورعرض کیا : یاامیرالمومنین !آپ میرے لئے “ اَلْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن”کی تفسیر بیان کیجئے ،امام علینے فرمایا : “الحمدلِلّہ”کی تفسیریہ ہے کہ خداوندعالم نے اپنی بعض نعمتوں کو اجمالی طور سے اپنے بندوں کے سامنے ان کی معرفی کی ہے اورواضح طورسے ان کی معرفی نہیں کی ہے کیونکہ بندے تمام نعمتوں کوکامل طورسے شناخت کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں اس لئے کہ خداکی عطاکی ہوئی نعمتیں ات نی زیادہ ہیں کہ انسان انھیں شمار کرنے اوران کی معرفت حاصل کرنے سے قاصرہے لہٰذا “الحمدلله”کے معنی یہ ہیں کہ تمام حمدوثناء خداسے مخصوص ہے ان نعمتو ں کی وجہ سے جو اس نے ہمیں عطا کی ہیں اورامام (علیه السلام) نے فرمایا:“ربّ العالمین”یعنی خداوند عالم دونوں جہاں( دنیاوآخرت )کاپیداکرنے والاہے ،اوردونوں جہاں کا مالک وصاحب اختیار ہے یعنی حیوانات وجمادات ونباتات ،آگ،ہوا،پانی ،زمین ،آسمان ،دریا کا مالک ہے۔(۲)
____________________
۱). بحارالانوار/ج ٢٩ /ص ٢٣٢
۲). بحارالانوار/ ٢٩ /ص ٢۴۵
الرحمن الرحیم
”رحمٰن”الله کی ایک صفت عام ہے جودنیامیں مومن اورکافردونوں کے شامل حال ہوتی ہے اورتمام بندوں پراس کی رحمت نازل ہوتی ہے ،وہ دنیامیں ہرانسان مومن ،منافق،عالم ،جاہل ،سخی ، ظالم ،حاکم کورزق عطاکرتاہے ،اورکسی بندے کواپنے دروازہ رٔحمت سے خالی نہیں لوٹاتاہے
” رحمٰن” وہ ذات ہے جواپنے تمام بندوں(مومن ،منافق کافر)کی روزی کے بارے میں شدیدطورسے متمائل رہتاہے اوران کی روزی کوقطع نہیں کرتاہے چاہے وہ کت ناہی گناہ کریں،چاہے کت نی ہی اس کی نافرمانی کریں،وہ اپنی وسیع رحمت کے ذریعہ اپنے تمام بندوں کو روزی عطا کرتا ہے اور کسی کا رزق قطع نہیں کرتا ہے اب چاہے اس بندہ کامسلمان ہویاکافر،مومن ہویامنافق ،اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہوں یا نافرمانی ،لیکن یہ یادرہے کہ خداوندعالم زمین پر مومنین کے وجودکی خاطردوسروں پررحم کرتاہے اگردنیاسے مومینن کاوجودختم ہوجائے تویہ دنیاتباہ وبربادہوجائے ،اسبارے میں ہم پہلے حدیث کو ذکرکرچکے ہیں۔ ” رحیم”خداکی ایک خاص صفت ہے کہ جوآخرت میں فقط مومنین سے مخصوص ہے امام صادق رحمن ورحیم کے معنی اس طرح بیان کرتے :الله تبارک تعالیٰ ہرشئے پرقدرت رکھتاہے ،وہ (دنیامیں)اپنی تمام مخلوق پررحم کرتاہے اور(روزقیامت )فقط مومنین پررحم کرے گا۔(۱)
امام صادق فرماتے ہیں:رحمن ایک اسم خاص ہے جوفقط الله تبارک تعالیٰ سے مخصوص ہے اورصفت عام ہے یعنی الله تبارک وتعالیٰ اپنے تمام بندوں پررحم کرتاہے اوررحیم اسم عام لیکن صفت خاص ہے یعنی روزقیامت فقط ایک مخصوص گروہ پررحم کیاجائے گا۔(۲)
حضرت علی فرماتے ہیں : خدا وند عالم اپنے تمام بندوں پررحم کرتاہے اور یہ خداکی رحمت ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے ١٠٠ /رحمت پیدا کی ہیں اور ان میں سے ایک رحمت کو اپنے بندوں کے درمیان قرار دیا ہے کہ جس کے ذریعہ لوگ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں،والداپنے اپنے فرزندپررحم کرتاہے اورحیوانات مائیں اپنے بچوں پررحم کرتی ہیں،جب قیاوت کادن آئے گاتواس ایک رحمت کی ٩٩ /قسم ہوں گی کہ جس کے ذریعہ امت محمدی پرحم کیاجائے گا۔(۳)
____________________
۱). کافی /ج ١/ص ١١۴
۲). تفسیرمجمع البیان /ج ١/ص ۵۴
۳). تفسیرامام حسن عسکری/ص ٣٧
خداکی رحمت اس درجہ عام اوروسیع ہے کہ اس کی رحمت سے ناامیدہوناگناہ کبیرہ ہے کیونکہ وہ خودقرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( لَاتَقْنَطُوامِنْ رَحْمَةِ اللهِ،اِنَّ اللهَیَغْفِرُالذُّنُوبَ جَمِیْعاًاِنّهُ هُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (۱) الله کی رحمت سے مایوس نہ ہوناالله تمام گناہوں کامعاف کرنے والاہے اوروہ بہت زیادہ بخشنے والااورمہربان ہے۔
مالک یوم الدین
ایک دن وہ بھی آئے گاجب تمام لوگوں کوان کی قبروں سے بلندکیاجائے اورالله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ وعدالت میں کھڑاکیاجائے گا،وہاں کسی کی نہ اولاد کام آئے گی ،نہ کسی کواس کامال کام آئے گا،لوگوں کے تمام ذریعے ،وسیلے اورامیدیں ختم ہوجائیں گی اوراس روزنہ فرعون کی حکومت ہوگی ،نہ نمرودکی ،نہ ہامان کی ،نہ شدادکی ،نہ اورکسی دوسرے شیطان صفت انسان کی بلکہ صرف خداکاکی حکومت ہوگی اوراسی کاحکم نافذہوگا، سورہ أنفطارمیں ارشادباری تعالیٰ ہے:
( وَالامرُ یومَئِذٍلِلّٰهِ ) اس دن تمام امورخداکے ہاتھ میں ہونگے۔ اس روزتمام لوگوں سے یہ سوال ہوگا:( لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْم ) آج حکومت کس کی ہے؟ جواب دیں گے( لِلّٰه الْوَاحِدِالْقَهّار ) اس خداکی جواکیلا ہے اورقہاربھی ہے،جسدن لوگوں یہ سوال کیاجائے گااس روزکوقیامت کہتے ہیں۔(۲)
اس روزصرف انسان کے وہ نیک اعمال کام آئیں گے جواس نے دنیامیں آل محمدکی محبت وولایت کے زیرسایہ انجام دئے ہونگے
امیرالمومنین علی ابی طالب آیہ مٔبارکہ( مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) کے بارے میں فرماتے ہیں : حقیقت یہ ہے کہ خدا وند عالم قیامت کے دن تمام مخلوق کی تقدیر کا مالک ہو گا اور جس نے دنیا میں خدا کے بارے میں شک کیاہوگا ،اس کے حکم کی نافرمانی کی ہوگی اورطغیانی وسر کشی کی ہوگی وہ ان سب کو واصل جہنم کرے گا اورجن لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہوگی اوران میں تواضع وانکسا ری پائی جاتی ہو گی ان کو خلد بریں میں جگہ عنایت کر گا۔(۳)
____________________
۱) سورہ زٔمر/آیت ۵٣ (
۲). سورہ أنفطار/آیت ١٩
۳) ” ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز”/ش ٧٧۵ /ص ٢۴٢
ایاک نعبدوایاک نستعین
یہاں تک بندہ نے سورہ حٔمدکی آیتیں قرائت کی ہیں ان میں الله تبارک وتعالیٰ کی رحمت اوراس کی کرامت کااقرارکرتاہے اوراس کے مالک وخالق دونوں ہونے کی شہادت دیتاہے لیکن اب یہاں سے اس آیہ کریمہ کے ذریعہ اظہاربندگی کرتاہے اورکہتاہے :میری عبادت فقط تیرے لئے ہے ،تیرے علاوہ کسی دوسرے کوعبادت میں شریک قرارنہیں دیتاہوں یعنی میں اقرارکرتاہوں کہ میرامعبودفقط ایک ہے ۔
جوبندہ حقیقت میں الله تبارک تعالی کے رحیم وکریم اورمالک دوجہاں ہونے کااقرارکرتاہے ،اوراپنی عبادت کواسی سے مخصوص کرتاہے وہ کسی بھی مخلوق کے آگے سرنہیں جھکاتا ہے،اپنے آپ کوذات پروردگارکے علاوہ کسی دوسرے محتاج نہیں سمجھتاہے ،اب وہ لوگ جوالله تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے ہیں اوردوسروں کے آگے سربھی جھکاتے ہیں اوردوسروں کے سامنے اپنی حاجتوں کوبیان کرتے ہیں وہ لوگ فقط زبان سے خداکوایک مانتے ہیں ،اوریقین کامل کے ساتھ اسے اپنامعبودنہیں مانتے ہیں ،اس پرمکمل بھروسہ نہیں رکھتے ہیں البتہ کسی ایسی بابرکت ذات گرامی کوجوالله تبارک سے بہت زیادہ قریب ہواسے وسیلہ قراردینے کوشرک نہیں کہاجاتاہے اوروسیلہ کے بغیرکسی جگہ کوئی رسائی ممکن نہیں ہے ،وسیلہ کے بارے میں ذکرہوچکاہے لہٰذایہاں پربحث طولانی اورتکرارہوجائے گی ۔
جمع کی لفظ استعمال کئے جانے کاراز
اس آیہ مبارکہ کے بارے میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ متکلم ایک شخص ہے اور وہ خدا سے کہہ رہا ہے : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں جب قرائت کرنے والا ایک شخص ہے پھروہ اپنے لئے جمع کا صیغہ کیوں استعمال کرتا ہے ؟ مندرجہ ذیل امورمیں سے کوئی ایک وجہ ہوسکتی ہے ١۔دین اسلام میں نمازجماعت کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے کیونکہ الله تبارک وتعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( وَارْکَعُوا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ) (١) رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ نمازجماعت کی اہمیت وفضیلت کے بارے میں روایتوں کوذکرکرچکے ہیں،جماعت میں موجودتمام بندے رکوع وسجودکرتے ہیں اس لئے جمع کی لفظ استعمال کرتاہے اورنمازمیں موجودہربندہ یہ کہتاہے: بارالٰہا!میں اکیلانہیں ہوں بلکہ اس پوری جماعت کے ساتھ ہوں اورسب کی جانب سے کہتاہوں ہم تیری عبادت کرتے ہیں اورتجھ ہی سے مددطلب کرتے ہیں،جمع کی لفظ استعمال کرنے سے ایک طرح کی گواہی بھی دی جاتی ہے میرے یہ بندہ بھی تیری عبادت میں مشغول ہیں۔
شہیدمطہری فرماتے ہیں:سورہ حٔمد نماز کا قطعی جزء ہے ،ہم اس سورے میں خداسے کہتے ہیں :“ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَاِ یَّاکَ نَسْتَعِیْنُ” (بارالٰہا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مددچاہتے ہیں) یعنی خدا یا ! میں ت نہانہیں ہوں ، بلکہ میں تمام مسلمانوں کے ساتھ ہوں ،میں اس جماعت کے ساتھ ہوں اسی لئے جمع کی لفظ استعمال کرتاہوں۔(۲)
اگرکوئی یہ اعتراض کرے ،جومومن فرادیٰ نمازپڑھتاہے تووہ جمع کاصیغہ کیوں استعمال کرتاہے ؟اس کاجواب یہ ہے کہ اگرمومن ت نہائی میں بھی نمازپڑھتاہے اس لئے وہ جماعت کاحکم رکھتاہے اور جمع کاصیغہ استعمال کرتاہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:
المومن وحدہ جماعة مومن بندے کی ت نہائی میں پڑھی جانے والی نمازبھی جماعت میں شمارہوتی ہے ۔(۳)
٢۔انبیاء وآئمہ اطہار کے علاوہ کوئی بھی شخص دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتاہے کہ میرارب مجھ سے راضی ہے اورمیں نے جواس کی عبادت کی ہے وہ سچے دل سے کی ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ مکمل معرفت کے ساتھ الله تبارک وتعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اوران کی عبادت برگاہ رب العزت میں قبول بھی ہوتی ہے اوروہ اپنے ان نورانی بندوں کی مددبھی کرتاہے،مگرہم تمام بندے خاک کے پتلے ہیں ،گناہوں میں الودہ ہیں،الله تبارک تعالیٰ کی معرفت نہیں رکھتے ہیں اوراس کی عبادت ،اطاعت اوربندگی میں ناقص ہیں اورہم اپنی حاجتوں کوالله کے علاوہ دوسروں کے آگے بھی بیان کرتے ہیں ،شایدہماری یہ عبادت بارگاہ خداوندی میں مقبولیت کادرجہ نہ رکھتی ہولہٰذاہم اپنی عبادتوں کے ساتھ انبیاء ورسل اورآئمہ اطہار کی عبادتوں کو بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہیں
____________________
۱)سورہ بٔقرہ/آیت/ ۴٣
. ٢)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٩۶۶ /ص ٢٩٨.
.۳) تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٢۶۵
تاکہ خداوندعالم ان کی عبادت کے وسیلے سے ہماری عبادت کوبھی قبول کرلے اوران کے وسیلے سے ہماری بھی مددکردے کیونکہ ہمیں اس بات کایقین ہے کہ وہ انبیاء ورسل اورآئمہ اطہار کی عبادتوں کوضرورقبول کرتاہے لہٰذاہم اپنی معیوب عبادتوں کوان صلحاء کے ساتھ بارگاخداوندی میں پیش کرتےہیں جس سے خداہماری ان معیوب عبادتوں کوقبول کرسکتاہے اورہماری مددکرسکتاہے۔
اگریہ سوال کرے کہ اگرہم اس مذکورقصدسے جمع کی لفظ استعمال کرتے ہیں توپھرخودانبیاء وآئمہ جمع کی لفظ کیوں استعمال کرتے تھے ؟
اس کاجواب یہ ہوسکتاہے کہ انبیاء وآئمہ اپنے محبوں کوہمیشہ یادرکھتے ہیں اوران ترقی وکامیابی کی دعاکرتے ہیں لہٰذابارگاہ خداوندی میں کہتے ہیں:بارالٰہا!توہماری عبادتوں کے ساتھ ہمارے محبوں کی بھی عبادت کوقبول کراورجس طرح توہماری مددکرتاہے ان بھی مددکراورروزقیامت بھی اپنے محبوں کاخاص خیال رکھیں اورانھیں اپنی شفاعت کے ذریعہ بہشت میں جگہ دلائیں گے ۔
٣۔ نمازمیں انسان کی فقط زبان ہی تسبیح وتقدیس پروردگانہیں کرتی ہے بلکہ اس کے تمام اعضاء وجوارح ،ہاتھ ،پیر،آنکھ، ناک، کان، دل اوردماغ شریک عبادت رہتے ہیں ،انسان نمازمیں اخلاص وحضورقلب رکھتاہے،خضوع خشوع رکھتاہے لہٰذاوہ اکیلانہیں ہے اس لئے جمع کی لفظ استعمال کرتاہے ۔
۴ ۔ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:( مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلّالِیَعْبُدُوْنِِ ) (۱) میں نے جن وانس کونہیں پیداکیامگریہ کہ وہ میری عبادت کریں
جب خدانے تمام لوگوں کواپنی عبادت کے لئے، نمازگزارنمازمیں جمع کی لفظ سے یہ بتاناچاہتاہے چونکہ الله نے تمام لوگوں کواپنی عبادت کے لئے پیداکیاہے اورسب اس کی حمدوثناء کرتے ہیں اورمیں بھی انھیں میں سے ہوں لہٰذاہم سب تیری ہی توعبادت کرتے ہیں۔
____________________
.۱)سورہ ذٔاریات/آیت ۶۵
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم.
تفسیرفاتحة الکتاب میں لکھاہے : ہم نمازمیں اس آیہ مٔبارکہ کو زبان پر جاری کرتے ہو ئے پروردگار سے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں توفیق عطاکر کہ جس طرح ہم تیری پہلے سے عبا دت کرتے آرہے ہیں آئندہ بھی تیرے مطیع وفرما نبردار بندے بنے رہیں(۱)
امیرالمومنین حضرت علی سے پوچھا گیا : پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)اور تمام مسلمان نماز میں دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں:“( اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم ) ” پروردگارا! تو ہم کو راہ راست کی ہدایت فرما جبکہ وہ سب ہدایت یافتہ ہیں؟ امام(علیه السلام) نے جواب دیا “اِھْدَنا”سے مرادیہ ہے کہ خدایا! توہم کو راہ راست پر ثابت قدم رکھ۔(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:“( اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم ) ”یعنی پروردگارا! توہمیں ایسے راستے کی ہدایت کرتارہ جو تیری محبت ودوستی پر منتہی ہوتاہواوروہ سیدھاجنت کوپہنچتاہو اورتو ہمیں خواہشات نفسکی پیروی ( اورجہنم کے راستہ )سے دوررکھ ۔(۳)
امام صادقفرماتے ہیں:علی ابن ابی طالب صراط المستقیم هیں عن السجادعلیه السلام قال:نحن ابواب الله ونحن صراط المستقیم . حضرت امام سجاد فرماتے ہیں : ہم آئمہ طا ہرین الله کے دروازہ ہیں اورہم ہی صراط مستقیم ہیں(۴)
( صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَاالضَّالِّیْن ) رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)آیہ مبارکہ “( اهدناالصراط المستقیم ) ”کے بارے میں فرماتے ہیں:صرط مستقیم سے مرادوہ دین خداہے کہ جس کوخدانے جبرئیل کے ذریعہ حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)پرناز ل کیااوراس آیہ مٔبارکہ “( صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَاالضَّالِّیْن ) ”کے بارے میں فرماتے ہیں: اس آیت میںصراط سے مراد حضرت علی کے وہ شیعہ ہیں کہ جن پرخداوندعالم نے ولایت علی ابن ابی طالب +کے ذریعہ اپنی نعمتیں نازل کی ہیں،نہ ان پرکبھی اپناغضب نازل کرے گااورنہ وہ کبھی گمراہ ہوں گے۔(۵)
____________________
۱) تفسیرفاتحة الکتاب/ص ۴۵
۲). ہزارویگ نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٧١٣ /ص ٢٢۵
۳)تفسیرالمیزان/ج ١/ص ٣٨
۴)معانی الاخبار/ص ٣۵ ۔
.۵) تفسیرنورالثقلین/ج ١ج/ص ٢٣
امام صادق فرماتے ہیں:“( صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ) ”سے حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله) اوران کی ذریت مرادہے۔(۱)
امیرالمومنین حضرت علی - فرماتے ہیں:الله تبارک وتعالیٰ کاانکارکرنے والے “مغضوب علیہم ”اور“ضالین”میں شمارہوتے ہیں۔(۲)
امام صادق “( غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَاالضَّالِّیْن ) ”کے بارے میںفرماتے ہیں: “مغضوب علیہم ”سے ناصبی مرادہیں اور“ضالین ” سے وہ لوگ مرادہیں جوامام کے بارے میں شک کرتے ہیں اوران کی معرفت نہیں رکھتے ہیں۔(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:“( المغضوب علیهم ) ”سے یہودی اور“ضالین ”سے نصاری مرادہیں(۴)
حسین دیلمی “ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز”میں لکھتے ہیں: قرآن کریم نے فرعون وقارون اور ابولہب کواورقوم عادوثموداورقوم بنی اسرائیل کوان میں شمارکیاہے جن پر خداوند عالم کا قہروغضب نازل ہو ا ہے(۵) اسی لئے ہم لوگ نماز میں روزانہ کہتے ہیں( غَیْرِالْمَفْضُوب عَلَیِْمْ وَلِاالضّٰالّیِْن ) بارالہا ! تو ہم کو ان لوگو ں میں سے قرار نہ دے جن پر تو نے اپنا غضب نازل کیا ، اور جو لوگ گمراہ ہو گئے پروردگارا! تو ہم کو اعتقاد واخلاق وعمل میں فرعون ،قارون وابو لہب اور قوم عادوثمو دو بنی اسرائیل کے مانند قرار نہ دے اور ہمارے قدموں کوان کے راستے کہ طر ف اٹھنے سے باز رکھ۔(۶)
____________________
.۱) تفسیرنورالثقلین/ج ١ج/ص ٢٣
. ۲)بحارلانوار/ج ٩٢ /ص ٣۵۶
.۳) تفسیرقمی /ج ١/ص ٢٩
۴). بحارالانوار/ج ٨٢ /ص ٢١
۵)اعراف /آیت ٨۵ ۔ ٩٢ ۔بقرہ /آیت ۶١ کی طرف اشارہ ہے.
۶)ہزارویک نکتہ دربارہ نماز/ش ٨٨٠ /ص ٢٧٣ (
سورہ تٔوحیدکی مختصرتفسیر
سورہ توحیدکوتوحیدکہے جانے اوراس کے نزول کی وجہ اس سورہ کوتوحیدکہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس پورے سورہ میں پہلی آیت سے آخری آیت تک توحیدباری تعالیٰ کاذکرہے اوراس سورہ کواخلاص بھی کہتے ہیں کیونکہ انسان اس سورہ کی معرفت اوراس پرایمان واعتقاد رکھنے سے شرک جیسی نجاست سے پاک وخالص ہوجاتاہے بعض کہتے ہیں:اگرکوئی اس سورہ کوتعظیم خداکوذہن میں رکھ کرقرائت کرتاہے توخداوندعالم اسے آتشجہنم سے نجات دے دیتاہے۔ کتب تفاسیرمیں اس سورہ کی شان نزول کی حدیث کے ضمن میں چندوجہ بیان کی گئی ہیں:
١۔ابی ابن کعب اورجابرسے مروی ہے کہ مشرکین نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)سے کہا:آپ ہمارے لئے اپنے خداکی معرفت بیان کریں توآنحضرت پریہ سورہ نازل ہوا۔ ٢۔ابن عباس سے مروی ہے :عامربن طفیل اوراردبن ربیعہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں آئے ،عامرنے کہا: اے محمد!تم ہمیں کس کی طرف دعوت دیتے ہو؟آنحضرت نے کہا: خداکی طرف،اس نے کہا:تم اپنے اس خداکی صفت بیان کرو،وہ سونے سے بناہے یاچاندی سے ،لوہے سے بناہے یالکڑی سے؟پسخداوندعالم نے یہ سورہ نازل کیا۔ ٣۔محمدابن مسلم نے حضرت امام صادق سے روایت کی ہے ،امام فرماتے ہیں کہ: یہودیوں نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے سوال کیااورکہا :اے محمد!تم اپنے پروردگارکی معرفت بیان کرواوراس کانسب بتاؤ(کہ وہ خدا کون ہے ، اس کا باپ کون ہے ، اس کافرزند کون ہے شایدہم ایمان لے آئیں ) آنحضرت نے تین دن ان کی بات کاجواب نہ دیااورغور وفکر کرتے رہے کیونکہ وحی پروردگا ر کے منتظر تھے ، الله کی مرضی کے بغیر کوئی بھی جملہ اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے تھے لہٰذاخدا کی طرف سے سورئہ “( قُلْ هُوَاللهُ اَحَدْ ) ” نازل ہوا۔(۱)
مرحوم کلینی نے کافی معراج النبی سے متعلق ایک روایت نقل کی ہے جس کاخلاصہ یہ ہے کہ جسوقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے اورنمازکاوقت پہنچاتوخدانے آپ کووضوکرنے کاحکم دیا ،آپ نے وضوکیااورنمازکے کھڑے ہوئے ،انبیاء ملائکہ نے آپ کے پیچھے نمازجماعت کے کھڑے ہوئے ہیں خداوندعالم نے وحی نازل کی:
____________________
.۱) تفسیرمجمع البیان/ج ١٠ /ص ۴٨۵
اے محمد! “( بسم الله الرحمن الرحیم ) ”کہواورسورہ حٔمدپڑھو ،نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ایسا ہی کیااور“( ولاالضالین ) ”کہنے کے بعد“( الحمدلله رب العالمین ) ”کہا(آمین نہیں کہا لہٰذاسنت رسول یہ ہے کہ سورہ حمدکے بعد“( الحمدلله رب العالمین ) ”کہاجائے ) خدانے کہا: اے محمد!(ص)سورہ حمدکے بعداپنے پروردگارکاشناسنامہ اورنسبت کوپڑھواوراے رسول !ان مشرکین سے کہدو( قُلْ هُوَاللهُ اَحَدٌ، اَلله الصَّمَدُ،لَمْ یَلِدْوَلَمْ یُوْلَدْ،وَلَمْ یَکُنْ لَّهُ کُفُوًااَحَدْ ) وہ الله ایک ہے،اللھبرحق اوربے نیازہے ،اس کاکوئی عدیل ونظیرنہیں ہے کہ جواس کے مثل ہو،پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)نے نماز کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورہ تٔوحید کی قرائت کی اورجب دوسری رکعت میں سورہ حٔمدپڑھاتوپروردگارطرف سے وحی نازل ہوئی: اے محمد!(ص)دوسری رکعت میں سورہ حٔمدکے بعد( اِنّااَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْر ) ... کی قرائت کروکیونکہ یہ سورئہ روزقیامت تک تمھارااورتمھارے اہلبیت سے منسوب ہے یہ سورہ تمھارااورتمھارے اہلبیت کاشناسنامہ ہے جسمیں تمھاراشجرہ موجودہے ۔(۱)
اَحَدْکہے جانے کی وجہ
سوال یہ ہے کہ خداوندعالم نے “احد”کیوں کہا“واحد”کیوں نہیں کہا؟مختصرجواب یہ کہ احداورواحددونوں میں فرق پایاجاتاہے “احد”یعنی وہ اکیلاعددکہ جس میں کسی طرح کی دوئی ،ترکیب اورتجزیہ کاامکان نہیں ہے اوروہ اپنی ذات میں تجزیہ وتقسیم کی صلاحیت نہیں رکھتاہے اوراس کے لئے ثانی اوردوئی کاوجودنہیں پایاجاتاہے لیکن “واحد”ایساعددہے جس میں تجزیہ وترکیب اورتقسیم بندی کاامکان پایاجاتاہے اوراسکاثانی موجودہوتاہے۔ امیرا لمو منین حضرت علی سے سورئہ توحید کی تفسیربیان کرنے کی فرمائش کی گئی تو آپ نے فرمایا :“قل ھوالله احد” یعنی خدا ایسااکیلاہے کہ جس کی ذات وصفات میں تعددنہیں پایاجاتاہے (اور کوئی اس کا شریک نہیں ہے )“الله الصمد”یعنی خدا کی ذات ایسی ہے کہ جس کے کوئی اعضاء واجزاء نہیں ہیں اور ہر چیز سے بے نیاز ہے(یعنی خداجسم نہیں رکھتاہے )”( لَمْ یَلدِْ ) ”یعنی اس کے کوئی فرزند بھی نہیں ہے تاکہ وہ فرزند اس کی حکومت کا وارث بن سکے کیونکہ جوصاحب فرزندہوتاہے وہ جسم بھی ضرور رکھتاہے اور جو جسم رکھتا ہے اس کے فنابھی ہے اور جو مر جاتاہے اس کی حکومت وباد شاہت کسی دوسرے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے (لیکن خدا نہ جسم رکھتا ہے نہ کوئی فرزند اور نہ اس کو موت آ ئے گی ، وہ ہمشیہ سے ہے اور ہمشیہ رہے گا)”( وَلَم لوُلَدْ ) ”یعنی اس کوکسی نے پیدا نہیں کیا ہے ،اگراس کے کوئی باپ ہوتاتووہ بادشاہت اورخدائی کے لئے زیادہ لائق ومستحق ہوتا اورکم ازکم وہ باپ اپنے بیٹے کا شریک ضرورہوتا۔(۲)
____________________
۱). کافی/ج ٣/ص ۴٨۵
.۲) تفسیرمجمع البیان/ج ١٠ /ص ۴٨٩
رازتسبیحات اربعہ
تین اورچاررکعتی نمازکی تیسری اورچوتھی رکعت میں نمازی کواختیارہے چاہے ایک مرتبہ سورہ حٔمدپرھے یاتین مرتبہ تسبیحات اربعہ یعنی “سبحان الله والحمدللهولااله الّاالله والله اکبر ”کہے اورایسابھی کرسکتاہے کہ تیسری رکعت میں حمداورچوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ پڑھے
اس کی کیاوجہ ہے کہ تین وچاررکعتی نمازوں کی تیسری وچوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ کاپڑھنازیادہ ثواب رکھتاہے اورسورہ حٔمدبھی پڑھ سکتے ہیں لیکن پہلی ودوسری رکعت میں حمدکاپڑھناواجب ہے تسبیحات اربعہ نہیں پڑھ سکتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ پنجگانہ نمازوں میں سے ہرنمازدورکعت تھی کیونکہ جب شب معراج الله تعالیٰ نے امت رسول پرنمازکوواجب قراردیاتوہرنمازکودورکعتی واجب قراردیاتھالیکن پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)نے ظہرکی نمازمیں دورکعت ،عصرکی نمازمیں دورکعت، مغرب کی نمازمیں ایک رکعت اورعشاکی نمازمیں دورکعت کوزیادہ کیا۔ پہلی دونوں رکعتوں میں قرائت اورتیسری وچوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ کے ذریعہ فرق کئے کی وجہ امام علی رضا نے اس طرح بیان کی ہے:
شروع کی دونوں رکعتوں میں قرائت اورآخرکی دونوں رکعتوں میں تسبیحات اربعہ کواس لئے معین کیاگیاہے تاکہ الله کی طرف سے واجب کی گئی دونوں رکعتوں اورپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی طرف سے واجب کی گئی آخری دونوں رکعتوں کے درمیان فرق ہوجائے (الله تعالیٰ نے دونوں رکعتوں میں قرائت کوواجب قراردیاہے اگرپیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)بھی اپنی طرف سے واجب کی گئی نمازمیں حمدکی قرائت کوواجب قراردے دیتے توالله تعالیٰ سے واجب کی گئی رکعتوں اوررسول اسلام کی طرف واجب کی گئی رکعتوں میں کوئی فرق نہ رہتا)۔(۱)
محمدابن عمران نے حضرت امام صادق سے پوچھا:اس کی کیاوجہ ہے کہ نمازکی تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ کاپڑھناقرائت کرنے سے زیادہ افضل ہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے اورآپ آخری دورکعتوں میں مشغول تھے کہ عظمت پرودگارکامشاہدہ کیاتوحیرت ذرہ ہوگئے اورکہا:“سبحان الله ، والحمدلله ، ولااله الّاالله ، والله اکبر ”اسی وجہ سے تسبیح کو قرائت سے افضل قراردیاگیاہے۔(۲)
____________________
. ۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٠٨
۲) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٠٨
اس کی کیاوجہ ہے کہ تسبیح فقط چارہیں اسسے کم وزیادہ کیوں نہیں ہیں؟ روایت میں آیاہے کہ امام صادق سے کسی نے پوچھا:کعبہ کوکعبہ کس لئے کہاجاتاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ اس کے چارگوشہ ہیں،پوچھا:اس کے چارگوشہ کیوں ہیں؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ وہ بیت المعمورکے مقابلہ میں ہے اوراس کے چارگوشہ ہیں (لہٰذاکعبہ کے چارگوشہ ہیں)راوی نے پوچھا:بیت المعمورکے چارگوشہ کیوں ہیں؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ وہ عرش کے مقابلہ میں ہے اورعرش کے چارگوشہ ہیں اسی لئے بیت المعمورے کے بھی چارگوشہ ہیں،راوی نے پوچھا:عرش کے چارگوشہ کیوں ہیں؟امام نے فرمایا:کیونکہ وہ کلمات کہ جن پردین اسلام کی بنیادرکھی گئی ہے چارہیں اوروہ کلمات یہ ہیں:
”سبحان الله ، والحمدلله ، ولااله الّاالله ، والله اکبر “(۱)
رکوع کے راز
کسی کی تعظیم وادب کی خاطراس کے آگے اپنے سراورکمرکوخم کردینے کورکوع کہتے ہیں،رکوع ایک ایسی عبادت ہے جونمازگزارکی حالت تذلل کودوبالاکردیتی ہے اورانسان رکوع کی حالت میں اپنے آپ کوخدائے قیوم کے سامنے ذلیل وحقیرشمارکرتاہے جس سے اس کاایمان اورزیادہ پختہ ہوجاتاہے،بارگارہ خداوندی میں خضوع خشوع کے ساتھ اس کی تعظیم کے لئے سروگردن کے خم کردینے کورکوع کہاجاتاہے ،قرآن کریم اوراحادیث میں اس کی بہت زیادہ اہمیت اورفضیلت بیان کی گئی ہے۔
( وَاَقِیْمُوْالصَّلٰوة وَآتُوْالزَّکٰوةَ وَارْکَعُوْامَعَ الرّٰاکِعِیْنَ ) نمازقائم کرو،زکات اداکرواوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو(۳)
( یٰامَرْیَمُ اقْنُتی لِرَبِّکِ وَاسْجُدی وَارْکَعی مَعَ الرّٰاکِعیْنَ ) اے مریم تم اپنے پروردگارکی اطاعت کرواورسجدہ اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔(۴)
( یٰااَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُواارْکَعُواوَاسْجُدُواوَاعْبُدُوارَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَلَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) اے ایمان والو!رکوع کرو،سجدہ کرواوراپنے پروردگارکی عبادت کرواورکارخیرانجام دوکہ شایداسی طرح کامیاب ہوجاؤاورنجات حاصل کرلو۔
____________________
. ۱)علل الشرایع/ج ٢/ص ٣٩٨
۲) سورہ حٔج/آیت ٧٧
۳) سورہ بٔقرہ/آیت ۴٣
۴) سورہ آٔل عمران/آیت ۴٣
مرحوم طبرسی تفسیرمجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ جب رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)مکہ سے ہجرت کرکے مدیہ پہنچے تونوی ہجری میں اہل مدینہ گروہ درگروہ آنحضرتکے پاس رہے آتے رہے اوراللھورسول اوراس کی نازل کی ہوئی کتاب پرایمان لاتے رہے اورمسلمان ہوتے گئے اوردین اسلام کے ہرقانون کوقبول کرتے گئے ،ایک دن طائفہ ثقیف سے ایک جماعت جب آنحضرت کی خدمت میں پہنچی اورآپ نے انھیں بتوں کے بجائے الله تبارک تعالیٰ کے سامنے جھکنے اورنمازپڑھنے کاحکم دیاتواس جماعت نے جواب دیا:ہم ہرگزخم نہیں ہوں گے کیونکہ یہ کام ہمارے لئے ننگ وعارہے ، پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا: لاخیرفی دینٍ لیسفیہ رکوع ولاسجود
جس مذہب میں رکوع وسجود نہ ہواس میں کوئی خیر وکا میا بی نہیں پائی جاتی ہے ،خداوندعالم نے ان کے اس خیال کوباطل قراردینے کے لئے اس آیہ مبارکہ کونازل کیا: )( وَاِذَاقِیْلَ لَهُمْ ارْکَعُوالَایَرْکَعُْونَ ) (۱)
اورجب ان سے رکوع کرنے کے لئے کہاجاتاہے تورکوع نہیں کرتے ہیں۔(۲)
عن ابی جعفرعلیه السلام انّه قال:لاتعادالصلاة الّامن خمسة : الطهور ، والوقت ، والقبلة ، والرکوع ، والسجود (۳)
امام صادق فرماتے ہیں:پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بغیر نمازباطل ہے اور وہ پانچ چیزیں یہ ہیں :وضو وقت قبلہ رکوع سجود۔
قال ابوجعفرعلیه السلام:من اتمّ رکوعه لم یدخله وحشة القبر ۔
امام محمد باقر فرماتے ہیں:جسکارکوع مکمل ہوتاہے وہ وحشت قبرسے محفوظ رہے گا۔(۴)
____________________
.۱)سورہ مٔرسلات/آیت ۴٨
. ٢)مجمع البیان /ج ١٠ /ص ٢٣۶
.۳)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣٣٩
۴)بحارالانوار/ج ۶/ص ٢۴۴
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لاصلاة لمن لم یتم رکوعها وسجودها ۔
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس شخص کارکوع وسجودکامل نہ ہواس کی نمازباطل ہے ۔(۱)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:انّ اسرق السراق مَن سرق مِن صلاته قیل:یارسول الله:کیف یسرق صلاته ؟قال:لایتم رکوعها ولاسجودها ۔ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:وہ شخص سب سے بڑاچورہے جواپنی نمازکی چوری کرتاہے توآنحضرت سے پوچھاگیا:نمازکی چوری کسی طرح کی جاتی ہے؟فرمایا:رکوع وسجودکوکامل طورسے انجام نہ دینا۔(۲)
رکوع میں تسبیح کے قراردئے جانے کاراز
واجب ہے کہ ہرنمازگزاراپنی نمازکی پہلی رکعت میں حمدوسورہ کی قرائت کے بعداوردوسری رکعت میں حمدوسورہ کی قرائت وقنوت کے بعداورتیسری وچوتھی رکعت میں سورہ حمدیاتسبیحات اربعہ پڑھنے کے بعدتکبیرکہے اوررکوع میں جانے کے بعد اطمینان کے ساتھ تین مرتبہ “سبحان الله”یاایک مرتبہ “سبحان ربی العظیم وبحمدہ”کہے یاتحمید(الحمدللّٰہ)یاتہلیل(لاالہ الاالله)یاتکبیر(الله اکبر)کہے یاان کے علاوہ کوئی بھی دوسراذکرکرے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ذکرتین مرتبہ “سبحان الله”کہنے کے برابرہو،اگرکوئی شخص رکوع بطورکلی تسبیح کو ترک کردے تواس کی نمازباطل ہے ۔ رکوع وسجودمیں تسبیح ہی کوقراردیاگیاہے ،اورقرائت وغیرہ میں کیوں نہیں ہے اس میں کیارازہے؟
فضل بن شاذان سے مروی ہے :امام علی رضا فرماتے ہیں:رکوع وسجودمیں تسبیح کے قراردئے جانے کی چندوجہ ہیں جن میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ بندہ مٔومن کے لئے ضروری ہے کہ خضوع خشوع،تعبدوتقوا،سکون واطمینان،تواضع وتذلل اورقصدقربت کے علاوہ اپنے رب کی تسبیح وتقدیس ،تعظیم وتمجیداورشکرخالق ورازق بھی کرے ،جس طرح تکبیر(الله اکبر) اورتہلیل (لاالٰہ الّا الله) کہتاہے اسی طرح تسبیح وتحمید(سبحان ربی العظیم وبحمده )بھی کہے اوراپنے دل ودماغ کوذکرخدامیں مشغول کرے تاکہ نمازی کی فکروامیداسے غیرخداکی طرف متوجہ ومبذول نہ کرسکے ۔(۳)
____________________
.۱) بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۵٣
.۲) مستدرک الوسائل /ج ١٨ /ص ١۵٠
۳). علل الشرایع /ج ١/ص ٢۶١
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:مجھے رکوع وسجودکی حالت میں قرائت (قران)سے منع کیاگیاہے، رکوع میں خداوندعالم کی تعظیم کرنی چاہئے اورسجدہ میں دعازیادہ کرنی چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ سجدہ کی حالت میں کی جانے والی تمھاری دعا(بارگاہ رب العزت میں )قبول ہوجائے۔(۱) حضرت علی فرماتے ہیں کہ رکوع وسجودمیں قرائت نہیں کی جاتی ہے بلکہ ان دونوں میں خدائے عزوجل کی حمدثناکی جاتی ہے۔(۲)
رکوع وسجودکی تسبیح فرق رکھنے کی وجہ
ذکررکوع وسجودکی تسبیح میں فرق پایاجاتاہے یعنی رکوع میں “سبحان ربی العظیم وبحمده ” اورسجدہ میں“سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ”کہاجاتاہے اس کارازکیاہے کہ رکوع میں “ربی العظیم”اورسجدہ میں“ ربی الاعلیٰ”کہاجاتاہے؟ عقبہ ابن عامرجہنی سے مروی ہے: جب آیہ مٔبارکہ( فَسَبِّحْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ ) نازل ہوئی تورسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ہمیں حکم دیاکہ اسے اپنی نمازکے رکوع میں قراردواورجب آیہ مٔبارکہ( فَسَبِّحْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الْاَعْلی ) نازل ہوئی توآنحضرت نے ہمیں حکم دیاکہ اسے اپنی نمازکے سجدہ میں میں قراردو۔(۳) حسین بن ابراہیم نے محمدبن زیادسے روایت کی ہے کہ: ہشام بن حکم نے امام موسیٰ کاظم سے پوچھا:اس کی وجہ کیاہے کہ رکوع میں“ سبحان ربی العظیم وبحمدہ ” اورسجدہ میں “سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ”کہاجاتاہے؟امام (علیه السلام)نے فرمایا: اے ہشام !جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے اورنمازپڑھناشروع کی جب قرائت سے فارغ ہوئے توآنحضرت کے ذہن میں سات حجاب آسمانی کوعبورکرنایادآیاتوعظمت پروردگارکی خاطرگردن کی رگوں میں لرزش پیداہوگئی لہٰذااپنے دونوں ہاتھوں کوزانوں پررکھااور اس طرح تسبیح پروردگارکرنے لگے“سبحان ربی العظیم وبحمده ”( میرا پرور دگا ر جو کہ با عظمت ہے ہر عیب ونقص سے پاک ومنزّہ ہے اور میں اس کی حمد میں مشغول ہوں ) جب رکوع سے بلندہونے لگے توآپ کی نظروں نے اس سے بھی زیادہ بلندی دیکھی جوآپ دیکھ چکے تھے لہٰذافوراًزمین پرگرپڑے اورپیشانی مبارک کو زمین رکھنے کے بعدکہا:“سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ”(میرا پر ور دگا رجو کہ سب سے بلندوبرتر ہے ہر عیب ونقص سے پاک ومنزّہ ہے اور میں اس کی حمد میں مشغول ہوں)جب آپ نے سات مرتبہ ان جملوں کی تکرارکی توآپ کے جسم سے رعب برطرف ہوااوریہ سنت قرارپایا۔(۴)
____________________
۱)معانی الاخبار/ص ٢٧٩
.۲) قرب الاسناد/ص ١۴٢
۳). تہذب الاحکام/ج ٢/ص ٣١٣
۴)علل الشرائع/ج ٢/ص ٣٣٢
رکوع کوسجدوں سے پہلے رکھنے کی وجہ
نماز میں پہلے رکوع ہے اس کے بعد دوسجدے ہیں اگربندہ رکوع کو حقیقت کے ساتھ بجالاتا ہے تو سجدے کرنے کی لیاقت رکھتا ہے ، رکوع میں بندگی کا ادب واحترام پایاجاتاہے اور سجدے میں معبود سے قربت حاصل کی جاتی ہے اب اگر کوئی نماز گزار حقیقت میں خدا کا ادب واحترام نہیں کرتا ہے اور معرفت خدا کے ساتھ رکوع نہیں کرتا ہے وہ سجدے میں جاکر خدا سے قربت حاصل نہیں کرسکتا ہے اور رکوع کو وہی شخص عمدہ طریقہ سے انجام دے سکتا ہے جس کے دل میں خضوع وخشوع پایاجاتاہو اور وہ اپنے آپ کو خداکے سامنے ذلیل وحقیر اور محتاج سمجھتا ہو اور خوف خدا میں اپنے اعضاء وسرو گردن کو جھکا ئے رکھتا ہو ۔(۱)
گردن کوسیدھی رکھنے کاراز
مردکے لئے مستحب ہے کہ رکوع کی حالت میں زانوں کواندرکی طرف اور کمر کو ہموار اور گردن کمرکے برابرسیدھی اورکھینچ کررکھے معصومین کے بارے میں روایتوں میں ملتاہے کہ رکوع کی حکالت میں اپنی اس طرح سیدھی اورصاف رکھتے تھے کہ اگرپانی کاکوئی قطرہ آپ کی ڈالاجاتاتووہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرسکتاتھا۔نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)جب رکوع کرتے تھے تواپنی کمرکواس طرح ہمواررکھتے تھے کہ اگران کی کمرپرپانی ڈال دیاجاتاتووہ بھی اپنی جگہ پرثابت رہتا۔(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص نمازمیں رکوع وسجود کی حالت میں اپنی کمرکوہمواراورسیدھی نہ رکھے اس نمازہی نہیں ہوتی ہے(۳)
زرارہ سے روایت ہے :امام محمدباقر فرماتے ہیں: جب تم رکوع کروتواپنے رکوع میں دونوں قدموں کے درمیان ایک بالشت کافصلہ دواوراپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں کوزانوں پررکھواورپہلے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کودائیںزانوں پررکھواس کے بعدبائیں ہاتھ کی ہتھیلی کوبائیں زانوں پررکھواورہاتھ کی انگلیوں کوزانوں کے اطراف میں رکھواورانگلیوں کوآپس میں نہ ملاؤ،اگرتمھاری انگلیاںزانوں کے اطراف تک پہنچ رہی ہوں توکافی ہے اورمیں یہ دوست رکھتاہوں کہ ہتھیلیوں کوزانوں پررکھواورانگلیوں کوکھول کررکھونہ انھیں اپس میں نہ ملاؤاوراپنی کمرکوسیدھی رکھو،گردن کوکھینچ کررکھواوراپنے دونوں پیروں کے درمیان نگاہ کرو۔(۴)
____________________
. ۱)رسائل الشہیدالثانی /ص ١٣١
. ۲)معانی الاخبار/ص ٢٨٠
. ۳)معانی الاخبار/ص ٢٨٠
۴) تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٨٣
ایک شخص امام علیکی خدمت میں ایااورکہا:اے خداکی محبوب ترین مخلوق کے چچازادبھائی!رکوع میں گردن کوسیدھے رکھنے کے کیامعنی ہیں؟ آپ نے فرمایا: رکوع میں گردن کو سیدھا رکھنے کارازاورفلسفہ یہ ہے یعنی بارالٰہا!میں تجھ پرایمان رکھتاہوں،تیرے حکم کامطیع ہوں اورتیرے سامنے میری یہ گردن حاضرہے اگرچاہے توقطع کردے۔(۱)
رازطول رکوع
رکوع کوذکرودعاکے ساتھ طول دینامستحب ہے ، خصوصاً امام جماعت کے لئے اگرکوئی شخص نمازجماعت میں شامل ہوناچاہتاہے اورامام کومحسوس ہوجائے کہ کوئی شخص نمازمیں شریک ہوناچاہتاہے تورکوع کودوبرابرطول دےنامستحب ہے تاکہ وہ شخص نمازجماعت میں شریک ہوجائے ۔
ابواسامہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے ہوئے سناہے:میں تمھیںطول کوع وسجودکی وصیت کرتاہوں کیونکہ تم میں سے جب بھی کوئی شخص رکوع وسجودکوطول دیتاہے توشیطان اس کے پیچھے فریادبلندکرتاہے اورکہتاہے :انھوں نے خداکی اطاعت کی اوراس حکم سے کے خلاف سرکشی کی اورگناہ کیا،انھوں نے سجدہ کیااورمیں نے سجدہ کرنے سے خودداری کی۔(۲)
بریدعجلی سے مروی ہے :میں نے امام صادقسے پوچھا:نمازمیں قرآن کی زیادہ تلاوت کرنازیادہ ثواب رکھتاہے یارکوع وسجودکوطول دینا؟امام (علیه السلام)نے جواب دیا:رکوع وسجودکوطول دینازیادہ ثواب رکھتاہے ،کیاتم نے اس قول خداوندی کونہیں سناہے جس میں وہ فرماتاہے:
( فَاقْرَءُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنْهُ ، وَاَقِیْمُواالصَّلاةَ ) (۳) جت ناتم سے میسرہوسکے قرآن کی تلاوت کرواورنمازکوقائم کرو،آیہ مٔبارکہ میں ) نمازقائم کرنے سے مرادیہ ہے کہ رکوع وسجودکوطول دینا۔
ہم باب رکوع میں کے آخرمیں ایک حدیث نقل کررہے ہیں کہ جس میں معصوم (علیه السلام) نے رکوع کے آداب ومستحبات کوذکرکیاہے اوروہ حدیث یہ ہے: زرارہ سے مروی ہے امام باقر فرماتے ہیں:جب تم رکوع کرنے کاارادہ کرو تو(قرائت کے بعد)سیدھے کھڑے ہوئے “الله اکبر”کہواورجاؤاسکے بعدرکوع کی حالت میں یہ کہو :
____________________
.۱) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣١١
.۲) کافی /ج ٢/ص ٧٧
۳)سورہ مٔزمل/آیت ٢٠ )
۴)السرائر(ابن ادریسحلی)/ج ٣/ص ۵٩٨ )
”اللّهم لک رکعتُ ولکَ اسلمتُ وعلیکَ توکلتُ وانتَ ربّی خشعَ لکَ قلبی وسمعی وبصری وشعری وبشری ولحمی ودمی ومُخّی وعصبی وعظامی ومااقّلَّتْهُ قدمائی غیرمنکرٍولامستکبرٍولامستحسرٍ سبحان ربی العظیم وبحمده “ اوراس ذکرکی تین مرتبہ آرام وسکون کے ساتھ تکرارکرواوررکوع میں اپنے پیروں کو اس طرح مرتب قراردوکہ دونوں پاؤں کے درمیان ایک بالشت کافاصلہ رہے اوردونوں زانوں پرہتھیلی کواس طرح رکھو کہ پہلے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کودائیں زانوپرقراردواس کے بعدبائیں ہاتھ کی ہتھیلی کوبائیں زانوں پررکھو، انگلیوں کوزانوں کے اطراف میں رکھو ،جب ہاتھوں کوزانوں پررکھوتو انگلیوں کوآپس میں نہ ملاؤبلکہ انھیں کھلارکھو،کمراورگردن کوسیدھی رکھو اوردونوں پاؤں کے درمیان نگاہ کرواور(ذکررکوع سے فارغ ہونے کے بعد)رکوع سے سربلندکرو اورسیدھے کھڑے ہوکر“سمع الله لمن حمدہ” کہواس کے بعد“الحمدلله رب العالمین اهل الجبروت والکبریاء والعظمة لله رب العالمین ”اسکے بعددونوں ہاتھوں کوبلندکرکے تکبیرکہو اورسجدہ میں جاؤ۔(۱)
رازسجدہ
سجدہ لغت میں خضوع میں استعمال ہوتاہے لیکن شرع میں خداوندعالم کی تعظیم کے لئے خضوع وخشوع کے ساتھ زمین پرپیشانی رکھ دینے کے بعداس کی تسبیح وتقدیس کرنے کوسجدہ کہاجاتاہے ۔
سجدہ ایک انتہائی خضوع ہے جس سے بڑھ کرکوئی خضوع وتواضع نہیں ہے اسی کے ذریعہ بندگی کااظہارہوتاہے، اسی لئے نمازپڑھنے کی جگہ کو مسجد کہا جاتا ہے۔ سجدہ فقط خداکے لئے ہوتاہے اوراس کے علاوہ کسی دوسرے کوسجدہ کرناجائزنہیں ہے، قرآن کریم کی متعددآیات(۲) میں خداوندعالم کوسجدہ کرنے کاحکم دیاگیاہے اورروایات میں بھی اس کی اہمیت وفضیلت بیان کی گئی ہے
م( ُحَمَّدٌرَسُولُ اللهِ وَالَّذِیْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِرُحْمٰاءُ بَیْنَهُمْ تَرٰیهُمْ رُکَّعاًسُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاًمِنَ اللهِوَرِضْوَاناًسِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِنْ اَثَرِالسُّجُوْدِ ) محمدالله کے رسول ہیں اورجولوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفارکے لئے سخت ترین اورآپس میں رحمدل ہیں،تم انھیں دیکھوگے کہ وہ بارگااحدیت میں سرتسلیم خم کئے ہوئے سجدہ ریزہیں اوراپنے پروردگارسے فضل وکرم اوراس کی خوشنودی کے طلب گارہیں ،کثرت سجودکی بناپران کے پیروں پرسجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیں۔(۳)
____________________
۱). کافی /ج ٣/ص ٣١٩
۲)فصلت/آیت ٣٧ ۔ سورہ نٔجم/آیت ۶٢ ۔سورۂ حجر/آیت ٩٨ ۔سورہ عٔلق/آیت ١٩ ۔حج ٧٧
۳). سورہ فٔتح/آیت ٢٩
( یٰااَیُّهَاالَّذِیْنَآمَنُواارْکَعُواوَاسْجُدُواوَاعْبُدُوارَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَلَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) اے ایمان والو!رکوع کرو،سجدہ کرواوراپنے پروردگارکی عبادت کرواورکارخیرانجام دوکہ شایداسی طرح کامیاب ہوجاؤاورنجات حاصل کرلو۔(۱)
قال الصادق علیه السلام : اقرب مایکون العبد الی الله عزّوجل وهوساجدٌ ۔
وہ چیزجوبندہ کوخدائے عزوجل سے بہت زیادہ قریب کردیتی ہے وہ سجدہ کی حالت ہے۔(۲)
روایت میں آیا ہے :روز قیامت خدا وند متعا ل آ تشجہنم سے کہے گا:
یانارُانضجی، یانارُاِحرقی وامّاموضع السجودفلاتقربی ۔
اے جہنم کی آگ! توجس کو جلانا چاہتی ہے جلا دے لیکن اعضاء سجدہ کے ہر گز قریب نہ جا نا ۔(۳)
سجدہ اسی وقت مفیدہے جبکہ اسے خداوندعالم کی حقیقی معرفت کے ساتھ انجام دیاجائے ،اگرسجدہ کورب دوجہاں کی معرفت کے ساتھ انجام نہ دیاجائے تووہ سجدہ بیکارہے قال الصادق علیہ السلام:ماخسروَاللھمَن اتی بحقیقة السجود ولوکان فی العمرمرة واحدة۔
حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں : خدا کی قسم اگر کوئی شخص حقیقی سجد ہ کرے اسے زندگی میں کوئی مشکل نہیں آسکتی ہے اورنہ کو ئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہے خواہ پوری زندگی میں ایک ہی مر تبہ ایسا سجدہ کرے ۔(۴)
العلوی علیہ السلام :سجدابلیسسجدة واحدة اربعة الٰاف عام لم یردبہازخرف الدنیا. حضرت علی فرماتے ہیں: شیطان چارہزارسال تک ایک ہی سجدے میں پڑارہااوراس کا مقصد دنیااور زینت دنیا کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔(۵)
شیطان ہرسجدہ کودشمن نہیں رکھتاہے بلکہ اسی سجدہ کودشمن کورکھتاہے جوحقیقت میں سجدہ ہوتاہے، شیطان کو امیرشام ،ولید،مروان ابن حکم ،مامون ،ہارون وغیرہ کے سجدوں سے کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ ان کاسجدہ حقیقی سجدہ نہیں تھا،شیطان اگرخوف ہراساں ہوتاہے توانبیاء وآئمہ اطہار اوران کے چاہئے والوں کے سجدوں سے خوف کھاتاہے کیونکہ یہ خداوندعالم کوحقیقت میں سجدہ کرتے ہیں شیطان کے ایک چیلے نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی پشت مبارک پرسجدہ کی حالت اونٹ کی اوجھڑی رکھی،امام علی (علیه السلام)کے سرمبارک پرمسجدمیں حالت سجدہ میں ضربت لگائی ،امام حسین کاسرمبارک شمرملعون نے سجدہ کی حالت میں تن سے جداکیااورآج بھی اسی شیطان کے چیلے روحانی پیشواؤں پرنمازکی حالت میں گولیاں چلاکرفرارہوجاتے ہیں،محرابوں میں بم دھماکہ کرادیتے ہیں
____________________
.۱) سورہ حٔج/آیت ٧٧---۲). ثواب الاعمال/ص ٣۴---. ۳)منہج الصادقین،ج ٨،ص ٣٩٧
.۴) مصباح الشریعہ /ص ٩٠
۵). مستدرک سفینة البحار/ج ۴/ص ۴۶٧
آیت الله مکارم شیرازی تفسیرنمونہ میں لکھتے ہیں: ابو جہل اپنے ساتھیوں سے کہتاتھا :اگر میں نے رسول اسلام (صلی الله علیه و آله)کوسجدہ کی حالت میں دیکھ لیا تو اپنے پیروں کے ذریعہ ان کی گردن کوتوڑ کر رکھ دوں گا، ایک دن جب رسول خدا (صلی الله علیه و آله)نماز میں مشغول تھے توابوجہل اپنے اس نا پاک ارادہ کو انجام دینے کے لئے مسجد میں داخل ہوا لیکن جیسے ہی نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے قریب پہنچا تو سب نے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کواس طرح چلارہاہے جیسے کوئی چیزاس کی طرف حملہ کررہی ہے اوروہ اپنے آپ کواس سے بچارہاہے اوراپنے ہاتھوں سے دفاع کرتے ہوئے پیچھے کی طرف ہٹ رہا ہے،اس سے پوچھاگیا:تواس طرح کیاکرہاہے اوراپنے ہاتھوں سے کس چیز کو دور کررہاہے ؟ اس نے کہا : میں اپنے اور پیغمبر کے درمیان ایک نشیب دیکھ رہا ہوں جس میں آگ روشن ہے جومجھے جلادینے کاارادہ رکھتی ہے اورمیں ایک خوفناک منظر دیکھ رہا تھا مجھے کچھ بال وپر نظر آرہے تھے ،اسی مو قع پر رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے فرمایا: قسم اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر ابوجہل ذرہ برابر بھی نز دیک ہو جاتا تو الله کے فر شتے اس کو قطعہ قطعہ کر دیتے اور اس کے جسم کے ٹکڑ ے اٹھا کر لے جا تے ۔(۱)
آدم(علیھ السلام) کواوریوسف کے سامنے سجدہ کرنے کی وجہ
سوال یہ ہے کہ جب خداکے علاوہ کسی ذات کوسجدہ کرناجائزنہیں ہے توپھرخداوندعالم نے شیطان سے آدم کوسجدہ کرنے کاحکم کیوں دیا؟اورارشادفرمایا:( قُلْنَالِلْمَلائِکَةِ اسْجُدُوالآدَمَ فَسَجُدُوااِلّااِبْلِیْسَ ) (۲) (ہم نے ملائکہ سے کہاکہ آدم کو سجدہ کرو توابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا)اورجب حضرت یعقوب(علیه السلام) اوران کے فرزنددربار یوسف (علیه السلام)میں مصرپہنچے توانھوں نے اپنے والدین(۳) کوتخت پرجگہ دی( وَخَرُّوالَهُ سُجَّداً ) (۴) اورسب لوگ یوسف کے سامنے سجدہ میں گرپڑے ،حضرت یعقوب جوکہ الله کے نبی تھے انھوں نے اوران کے دوسرے فرزندوں نے غیرخداکو سجدہ کیوں کیا؟
____________________
.۱) تفسیرنمونہ/ج ٢٧ /ص ١۶۵
۲)سورہ بٔقرہ/آیت ٣۴ ۔اعراف/ ١١ ۔اسراء / ۶١ ۔کہف/ ۵٠ ۔طٰہٰ/ ١١۶ ( /آیت ١٠٠
۳)بعض کاخیال ہے کہ ابوین سے مرادباپ اورخالہ ہیں اوربعض نے یہ بھی کہاہے کہ خداوندعالم نے ماں کودوبارہ زندہ کیاتاکہ اپنے لال کاعروج دیکھ سکیں،ترجمہ وتفسیرعلامہ جوادی۔
۴)سورہ یٔوسف )
ملائکہ نے حضرت آدم کومعبودکے عنوان سے سجدہ نہیں کیاتھابلکہ آدم (علیه السلام)بعنوان قبلہ قابل تعظیم وتکریم قراردئے گئے تھے ،پس یہ سجدہ آدم (علیه السلام)کے لئے نہیں تھابلکہ درحقیقت حضرت آدم کے طرف رخ کرکے تعظیم وتکریم پروردگارکوسجدہ کیاگیاتھاجیساکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: فرشتوں کاسجدہ آدم(علیه السلام) کے لئے نہیں تھابلکہ آدم(علیه السلام) ان کے لئے قبلہ بنائے گئے تھے کہ جن کی طرف رخ کرکے انھوں نے خداوندعالم کوسجدہ کیااوراس سجدہ کی بناپرآدم(علیه السلام) معظم ومکرم ثابت ہوئے ،اورکسی کے لئے سزاوارنہیں ہے کہ وہ خداکے علاوہ کسی دوسرے کوسجدہ کرے اوراس کے لئے اس طرح خضوع کرے جس طرح خداکے لئے خضوع کیاجاتاہے اورسجدہ کے ذریعہ اس کی اس طرح تعظیم وتکریم کرے جیسے خداکی تعظیم وتکریم کی جاتی ہے ،اگرکسی ایک کوتعظیم وتکریم کی خاطرغیرخداکوسجدہ کرنے دیاجاتاتوحتماًہمارے ضعفائے شیعہ اورہمارے شیعوں میں سے دیگرمکلفین کویہ حکم دیاکہ وہ اپنے اس علم کے واسطہ سے علی ابن ابی طالب وصی پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کوسجدہ کریں ۔(۱)
زندیق نے امام جعفر صادق سے غیرخداکے لئے سجدہ کرنے کے بارے میں پوچھا :کیا خدا کے علاوہ کسی دوسرے کو سجدہ کرناجائز ہے ؟آپ نے فرمایا :ہرگز نہیں،زندیق نے امام (علیه السلام)سے دوبارہ پوچھا :جب غیرخداکے لئے سجدہ جائزنہیں ہے توپھر خداوند متعال نے فرشتوں کو آدم (علیه السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کیوں دیا تھا؟آپ نے جواب دیا:
خدا کے فرمان کے مطابق کسی کے آگے سر جھکا دینے کو اس کے لئے سجدہ شمار نہیں ہو تا ہے بلکہ وہ سجدہ خدا کے لئے ہو تا ہے ۔(۲)
ملائکہ کاآدم (علیه السلام)کوسجدہ کرنے کی اصلی وجہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے حضرت آدم کی خلقت سے ہزاروں سال پہلے محمدوآل محمد کے نورکوخلق کیامگرجب آدم (علیه السلام) کوپیداکیاگیاتوالله تبارک تعالیٰ نے ان انوارمقدسہ کوصلب آدم (علیه السلام) میں قراردیالہٰذافرشتوں کوحکم دیاکہ آدم (علیه السلام) کے سامنے سجدہ کرو،ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا،درحقیقت یہ سجدہ آدم (علیه السلام) کونہیں تھابلکہ ان انوارمقدسہ کی تعظیم کاحکم تھاکہ جن کے صدقہ میں یہ پوری کائنات خلق کی گئی ہے اوروہ اس وقت صلب آدم (علیه السلام)میں موجودتھے اس لئے ملائکہ کوسجدہ کرنے کاحکم دیاگیاتھا،
____________________
.۱) تفسیرامام عسکری /ص ٣٨۶
۲). وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ٩۵٨
اسی حقیقت کے بارے میں خودنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)ارشادفرماتے ہیں: الله تبارک وتعالیٰ نے آدم(علیه السلام) کوخلق کیااورہمیں ان کی صلب میں قراردیااورفرشتوں کوحکم دیاکہ وہ ہماری تعظیم واکرام کے لئے آدم کے سامنے سجدہ کریں(ابلیس کے علاوہ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا)جن کایہ سجدہ الله کی اطاعت اوراکرام آدم کے لئے تھاکیونکہ ہم ان کی صلب میں تھے۔(۱)
یوسف (علیه السلام)کے سامنے جناب یعقوب اوران بھائیوں کاسجدہ صرف رب العالمین کاسجدہ شٔکرتھااور یوسف فقط ایک قبلہ کی حیثیت رکھتے تھے جس کے ذریعہ ان کے احترام کااظہارکیاجارہاتھا،اسبارے میں علی ابن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیرمیں یہ روایت نقل کی ہے :
موسیٰ ابن احمدنے حضرت ابوالحسن امام علی نقیکی خدمت میں چندسوال مطرح کئے جن میں ایک سوال یہ بھی تھا : اے میرے مولاوآقا!مجھے اس قول الٰہی( وَرَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوالَهُ سُجَّداً ) (۲) کے بارے میں آگاہ کیجئے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام)اوران کے فرزندوں نے حضرت یوسف (علیه السلام)کے سامنے کس لئے سجدہ کیاتھاجبکہ وہ الله کے نبی تھے ؟امام علی نقینے جواب دیا:
امّاسجودیعقوب وولده فانّه لم یکن لیوسف انماکان ذلک منهم طاعة للّٰه وتحیة لیوسف کماکان السجودمن الملائکة لآدم ولم یکن لآدم انماکان ذلک منهم طاعة للّٰه وتحیةلآدم وسجدیوسف معهم شکرالله ۔
حضرت یعقوب اوران کے فرزندوں کاحضرت یوسف کے آگے سجدہ کرنا،ان کو سجدہ کرنامقصودنہیں تھابلکہ وہ سجدہ الله کی اطاعت اوراحترام یوسف (علیه السلام) کی خاطرتھاجس طرح ملائکہ کاسجدہ آدم(علیه السلام) کے لئے نہیں تھابلکہ الله کی اطاعت اوراکرام آدم(علیه السلام) کی خاطرتھااورحضرت یوسف (علیه السلام) نے بھی ان کے ساتھ ) سجدہ شٔکراداکیا(۳)
منہج الصادقین میں لکھاہے :جب حضرت نوح کشتی میں سوارہوئے توشیطان بھی اس میں سوارہوا،حضرت نوح (علیه السلام)نے شیطان سے کہا:اے ابلیس !تونے تکبرکی وجہ سے اپنے آپ کوبھی اوردوسرے لوگوں کوبھی ہلاک کردیاہے ،شیطان نے کہا:میں اب کیاکروں؟نبی الله نے کہا:توبہ کرلے ،کہا:کیامیری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ حضرت نوح نے بارگاہ خدا وند ی میں عرض کیا : پروردگا ر ا! اگر ابلیس توبہ کرے ، کیا تواس کی توبہ قبول کر لے گا ؟ خطاب ہوا : اگر ابلیس اب بھی قبرآدم (علیه السلام) کو سجدہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کر لوں گا ، حضرت نوح(علیه السلام) نے جب یہ شیطان سے کہاتو ابلیسنے وہی اپنے بڑے مغرورکے ساتھ جواب دیا: جسوقت آدم زندہ تھے ، میں نے انھیں اس وقت سجدہ نہیں کیا، اب جبکہ مردہ ہوچکے ہیں کیسے سجدہ کرسکتاہوں؟(۴)
____________________
.۱) مستدرک الوسائل/ج ۴/ص ۴٧٩----۲)سورہ یٔوسف /آیت ١٠٠
. ۳)تفسیرقمی /ج ١/ص ٣۶۵ ) .----۴). تفسیرمنہج الصادقین /ج ١/ص ١٧٢
ہررکعت میں دوسجدے قراردئے جانے کی وجہ
ہررکعت میں ایک رکوع ہے اوردوسجدہ ہیں سوال یہ ہے کہ جس طرح ایک رکعت میں دوسجدہ ہیں تو دورکوع کیوں نہیں ہیں یاپھریہ کہ جب ہررکعت میں ایک رکوع ہے توسجدہ بھی ایک کیوں نہیں ہے ،ہررکعت میں یادورکوع ہوتے یاپھر سجدہ بھی ایک ہوتا،دونوں میں مطابقت کیوں نہیں ہے؟
رکوع وسجوددونوں میں مطابقت پائی جاتی ہے کیونکہ نمازوہ حصہ جوبیٹھ کرانجام دیاجاتاہے نمازکے اس حصہ کاآدھاہوتاہے جو حصہ قیام کی حالت میں انجام دیاجاتاہے ،رکوع قیام کی حالت میں شمارہوتاہے اورسجدہ قعودمیں شمارہوتاہے یعنی ایک سجدہ آدھے رکوع کے برابرہوتاہے اسی لئے ایک رکعت دوسجدہ رکھے گئے ہیں تاکہ رکوع سجودمیں مطابقت رہے ،اس بارے میں روایت میں ایاہے:
عیون اخبارالرضا(علیه السلام)میں امام علی رضا فرماتے ہیں :اگرکوئی تم سے یہ سوال کرے کہ ہررکعت میں دوسجدہ کیوں ہیں تواس کاجواب یہ ہے:انّماجعلت الصلاة رکعة وسجدتین لانّ الرکوع من فعل القیام والسجودمن فعل القعودوصلاة القاعدعلی النصف من صلاة القائم فضوعفت السجودلیستوی بالرکوع فلایکون بینهماتفاوت لانّ الصلاة انّماهی رکوع وسجود ۔
نمازکی ہرایک رکعت میں ایک رکوع اوردوسجدہ قراردئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ رکوع کھڑے ہوکر انجام دیاجاتاہے اورسجودکوبیٹھ کر،وہ نمازکہ جوبیٹھ کرپڑھی جاتی ہے کھڑے ہوکرپڑھی جانے والی نمازکی آدھی ہوتی ہے اس لئے نمازمیں ایک سجدہ کورکوع کے دوبرابرقراردیاگیاہے تاکہ دونوں میں کوئی فرق نہ رہے کیونکہ رکوع وسجودہی اصل نماز ہیں۔(۱)
حدیث معراج میں نمازمیں دوسجدہ کے واجب قراردئے جانے کی وجہ اس طرح بیان کی گئی ہے:
جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)معراج پرگئے اورنمازپڑھنے کاحکم ہوا،جب نمازمیں مشغول ہوئے اوررکوع سے سربلندکیااورپروردگارکی عظمت کامشاہدہ کیاتوالله کی طرف سے وحی نازل ہوئی:اے محمد!اپنے پروردگارکے لئے سجدہ کرو،پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے زمین پرسجدہ میں گرگئے ،خدائے عزوجل کی طرف سے وحی نازل ہوئی:اے رسول !کہو“ سبحان ربی الاعلیٰ ” پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے اس ذکرکو تین مرتبہ زبان پرجاری کیا،اس کے بعدسجدہ سے سربلندکرکے بیٹھ گئے تودوبارہ عظمت پروردگارکامشاہدہ کیالہٰذاپھردوبارہ سجدہ میں گرگئے اورپہلے سجدہ کی طرح دوسراسجدہ کیا(اوراس طرح ہرنمازکی ہررکعت میں دوسجدہ واجب قرارپائے۔(۲)
_____________________
۱). عیون اخبارالرضا(علیه السلام) /ج ١/ص ١١۵
. ۲)الکافی/ج ٣/ص ۴٨۶
اسی حدیث کے مانندایک اورحدیث میں ایاہے: ابوبصیرنے امام صادق سے پوچھادورکعت نمازمیں چارسجدے کیوں قراردئے ہیں(یعنی ہررکعت میں ایک رکوع اوردوسجدہ کیوں ہیں؟) امام (علیه السلام)نے فرمایا:کھڑے ہوکرپڑھی جانے والی ایک رکعت نماز،بیٹھ کرپڑھی جانے والی دورکعت کے برابرہے (اورسجدہ بیٹھ کرکیاجاتاہے اس لئے دورکعت میں چارسجدے ہیں)اوریہ کہ رکوع میں“سبحان ربی العظیم وبحمده ” اورسجدہ “سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ”میں کیوں کہاجاتاہے اس دلیل یہ ہے کہ جب خداوندعالم نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)آیہ مٔبارکہ “( فَسَبِّحْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ ) ” نازل کی توآنحضرت نے لوگوں کوحکم دیاکہ تم اسے اپنی نمازکے رکوع میں قراردواورجب آیۂ مبارکہ“( فَسَبِّحْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الْاَعْلی ) ” نازل ہوئی توآنحضرت نے حکم دیاکہ تم اسے اپنی نمازکے سجدہ میں میں قراردو۔(۱)
ایک شخص امیرالمومنین حضرت علی کی خدمت میں ایااورکہا:اے خداکی بہترین مخلوق(حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله))کے چچازادبھائی !میں اپ سے معلوم کرناچاہتاہوں کہ پہلے سجدہ کے کیامعنی ہیں اوراس کاکیارازہے ؟ آپ نے فرمایا : سجدہ کارازیہ ہے کہ جب نمازی (ہررکعت میں)پہلے سجدے کے لئے زمین پر سر رکھتاہے تواس کی مرادیہ ہوتی ہے :بارالٰہا!تونے مجھے اسی خاک سے پیدا کیاہے اورجب سجدہ أول سے سربلندکرتاہے تواس کامقصدیہ ہوتا ہے :بارالٰہا!،تونے مجھے اسی خاک سے نکالاہے اورجب دوسرے سجدے کے لئے زمین پر دوبارہ سر رکھتاہے تواس بات کی گواہی دیتاہے :ہمیں مرنے کے بعد اسی زمین میں دفن ہونا ہے اور جب سجدہ دٔوم سے سربلندکرتاہے تووہ معادکی گواہی دہتے ہوئے کہتاہے : روزمحشر ہمیں دوبارہ خاک سے بلند جائے گاجیسا کہ خداوندمتعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے :( مِنْهَا خَلَقْنَا کُمْ وَفِیْهٰا نُعِیْدُ کُمْ وَمِنْهٰا نُخرِ جُکُمْ تَارَةً اُخُریٰ ) (۲) اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ہے اور اسی میں پلٹا کر لے جائیں گے اور پھر دوبارہ اُس سے نکا ) لیں گے )۔(۳)
____________________
۱) من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣١۴
۲)سورہ طٰٔہٰ/آیت ۵۵
.۳)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣١۴ )
رازاعضائے سجدہ
سجدہ کی حالت میں بدن کے سات اعضاء کوزمین پرٹیکناواجب ہے،جنھیں اعضاء سجدہ کانام دیاگیاہے اوروہ یہ ہیں:پیشانی ،دونوں ہاتھ کی ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے ،دونوں پیرکے انگوٹھے اورناک کے سرے کومحل سجدہ پرٹیکناسنت پیغمبر ہے ۔ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:سجدہ میں بدن کے سات اعضاء کوزمین پررکھناچاہئے : پیشانی، دونوں ہاتھ کی ہتھیلی ،دونوں گھٹنے ،دونوں پیرکے انگوٹھے اورناک کوبھی زمین پررکھیں لیکن ان میں سے سات اعضاء کازمین پرٹیکناواجب ہے اورناک کازمین پررکھناسنت پیغمبرہے ۔(۱)
روایت میں آیا ہے :روز قیامت خدا وند متعا ل آ تش جہنم سے کہے گا:
یانارُانضجی، یانارُاِحرقی وامّاموضع السجودفلاتقربی ۔
اے جہنم کی آگ! توجس کو جلانا چاہتی ہے جلا دے لیکن اعضاء سجدہ کے ہر گز قریب نہ جا نا ۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سجدہ کی حالت میں ان سات اعضاء کوزمین پررکھنے کی وجہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
خلقتم من سبع ورزقتم من سبع فاسجدوالِلّٰهِ علی سبع ۔ خداوندعالم نے تمھیں سات چیزوں سے خلق کیاہے اورسات سے چیزوں سے رزق دیتاہے لہٰذاسات چیزوں پرخداکوسجدہ کرو۔(۳)
سجدے کی حالت میں دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوزمین پرقراردینے کی وجہ حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے:
قال امیرالمومنین علیه السلام:اذاسجداحدکم فلیباشربکفیه الارض لعل اللهیصرف عنه الغل یوم القیامة.
حضرت علی فرماتے ہیں:جب بھی تم میں کوئی شخص سجدہ کرے تواپنے دونوں ہاتھوں کوزمین رکھے شاید خداوندعالم روزقیامت تشنگی کے سوزش کواسسے برطرف کردے۔(۴)
____________________
۱). استبصار/ج ١/ص ٣٢٧
. ۲)منہج الصادقین،ج ٨،ص ٣٩٧
.۳) مستدک الوسائل /ج ۴/ص ۴۵۵
۴). ثواب الاعمال/ص ٣۴
چورکی ہتھلیوں کوقطع نہ کئے جانے کی وجہ
شیعہ اثناعشری مذہب کے نزدیک اسلامی قانو ن یہ ہے کہ اگرکوئی شخص پہلی مرتبہ چوری کرے تواس کے دونوں ہاتھ کی چاروں انگلیاں قطع کردی جائیں اوردونوں ہاتھ کی ہتھیلیاں وانگوٹھوں کوباقی رکھاجائے تاکہ چوربھی عبادت الٰہی کواس کے حق کے ساتھ اداکرسکے اورفریضہ الٰہی کواداکرنے میں کوئی دشواری نہ ہو روایت میں آیاہے کہ معصتم نے حضرت امام محمدتقی سے سوال کیاچورکے ہاتھوں کوکہاں تک واجب ہے ؟امام (علیه السلام)نے جواب دیا:اس کی چاروں انگلیوں کوقطع کیاجائے اورہتھیلی کوباقی رہنے دیاجائے ،معتصم نے سوال کیا:آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل موجودہے ؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایاہے کہ سجدہ میں سات اعضائے بدن: پیشانی ،دونوں ہاتھ کی ہتھیلی،دونوں گھٹنے ،دونوں پیرکے انگوٹھوں کازمین پرٹیکناواجب ہے اگرچورکے ہاتھوں کوگٹے یاکہنی سے قطع کیاجائے تواس کے ہاتھ ہی باقی نہیں رہے گاجسے وہ سجدہ میں زمین ٹیک سکے اورخداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے:
( وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّهِ فَلَاتَدْعُوْامَعَ الله احَدًا ) (۱)
بیشک مساجدسب الله کے لئے ہیں لہٰذااس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا۔ اس کے بعدامام (علیه السلام) نے فرمایا:اس قول خداوندی میں “مساجد”سے وہی سات اعضاء مرادہیں کہ جن کازمین پرٹیکناواجب ہے اور“( فَلَاتَدْعُوْامَعَ الله احَدًا ) ” سے مرادیہ ہے کہ اس کے ہاتھوں کوقطع نہ کیاجائے (بلکہ فقط اس کی انگلیوں قطع کیاجائے تاکہ وہ عبادت ) الٰہی کواس کے حق کے ساتھ اداکرسکے)(۲)
____________________
.۱)سورہ جٔن /آیت ١٨
. ٢)تفسیرالمیزان /ج ۵/ص ٣٣۵ )
راز ذکرسجدہ
سجدہ میں بھی رکوع کے مانندذکرخداواجب ہے ،سجدہ کاکوئی ذکرمخصوص نہیں ہے بلکہ جوذکربھی کیاجائے کافی اورصحیح ہے ،چاہے “الحمدلله ”کہے یا“لااله الّاالله ” کہے یاتکبیر“الله اکبر ”کہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ذکرتین مرتبہ“سبحان الله ”اورایک مرتبہ “سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ”کی مقدارسے کم نہ ہوالبتہ تسبیح کرنااحتیاط کے مطابق ہے یعنی بہترہے کہ تین مرتبہ “سبحان الله ”یاایک مرتبہ “سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ” کہاجائے اور مستحب ہے کہ “سبحان ربی الاعلیٰ و بحمده ” کو اختیارکرے اورمستحب ہے کہ اس ذکرکوتین مرتبہ کہاجائے ذکرسجدہ اوراس کے اسرارکوذکررکوع کے ساتھ ذکرکرچکے ہیں لہٰذاتکرارکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اشیائے ماکول وملبوس پرسجدہ کیوں جائزنہیں ہے واجب ہے کہ نمازگزارزمین یاوہ چیزیں جوزمین سے اگتی ہیں اورانسان کی پوشاک یاخوراک کے کام میں نہیں آتی ہیں جیسے لکڑی اوردرختوں کے پتے پرسجدہ کرے لیکن وہ چیزیں جو انسان کی خوراک وپوشاک میں استعمال ہوتی ہیں ان پرسجدہ کرناجائزنہیں ہے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:مجھے پانچ ایسی چیزعطاکی گئی ہیں جومجھ سے پہلے کسی کونہیں دی گئی :زمین کومیرے لئے سجدہ گاہ اورپاک کرنے والی قراردیاگیاہے،میرے چہرے پردشمن کے لئے رعب وحشت عطاکرکے میری مددکی گئی ہے،مال غنیمت کومیرے لئے حلال قراردیاگیاہے،جوامع الکلام مجھے دی گئی ہیں اورمجھے شفاعت بھی عطاکی گئی ہے۔(۱)
ہشام ابن حکم سے مروی ہے میں نے امام صادق کی محضرمبارک میں عرض کیا:میں اپ پرقربان جاؤں مجھے ان چیزوں کے بارے میں مجھے مطلع کیجئے کہ کن چیزوں پرسجدہ کرناصحیح ہے اورکن پرصحیح نہیں ہے؟ امام (علیه السلام)نے فرمایا: زمین پراوروہ چیزیں جوزمین سے اگتی ہیں سجدہ کرناجائز ہے لیکن زمین سے اگنے والی وہ چیزیں جوکھانے یاپہننے کے کام میں اتی ہیں ان پرسجدہ کرناجائزنہیں ہے،ہشام نے کہا:میری جان آپ پرقربان جائے اس کارازہے اورکیادلیل ہے؟ امام (علیه السلام)نے فرمایا:کیونکہ سجدہ خداکے لئے ایک خضوع وتواضع کاحکم رکھتاہے لہٰذا کھانے اورپہننے کی چیزوں پرسجدہ کرناسزوارنہیں ہے کیونکہ دنیاکے لوگ کھانے ،پینے اورپہننے والی اشیاء کے معبودہیں گویاان کی پوچاکرتے ہیں لیکن سجدہ کرنے والاشخص خداکی عبادت کرتاہے لہٰذااسے چاہئے کہ دنیاکے فرزندوں کے معبودپرسجدہ کے لئے اپنی پیشانی کونہ رکھے جنھوں نے اس کادھوکاکھایاہے ،اس کے بعد امام (علیه السلام)نے فرمایا:زمین پرسجدہ کرناافضل ہے کیونکہ زمین پرسررکھنے سے انسان کے دل میں خداکے لئے اورزیادہ خضوع خشوع پیداہوجاتاہے ۔(۲)
____________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢۴١
۲) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٧٢
رازطول سجدہ
سجدہ کوطول دینامستحب ہے ،سجدہ کوجت نازیادہ طولانی کیاجائے تواس کے لئے اتناہی زیادہ فضیلت کاباعث ہوتاہے اورشیطان کی ناراضگی اورمایوسی کاسبب واقع ہوتاہے لہٰذامستحب ہے کہ سجدہ کوطول دیاجائے تاکہ شیطان کی کمرٹوٹ جائے اوروہ نمازی کے پاس بھی نہ آسکے ۔ امام صادق فرماتے ہیں: جب کوئی بندہ سجدہ کرتا ہے اور اس کو طول دیتا ہے تو شیطان بہت ہی حسرت سے فریاد کرتے ہوئے کہتا ہے : وائے ہومجھ پر ! الله کے بندوں نے اس کے فرمان کی اطاعت کی اور میں نے اس کے حکم کی خلاف ورزی کی، انھوں نے خداکی بارگاہ میں سجدہ کیااور میں نے اس سے خودداری کی ۔ وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ٢ ۶
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:اپنے سجدوں کوطولانی کروکیونکہ شیطان کے لئے اس سے زیادہ سخت اورپریشان کردینے والاعمل کوئی نہیں ہے کہ وہ اولادآدم(علیه السلام) کوسجدہ کی حالت میں دیکھے کیونکہ شیطان کوسجدہ کرنے کاحکم دیاگیاتواس نے نافرمانی کی (اورہمیشہ کے لئے لعنت کاطوق اس کے گلےمیں پڑگیا)اورانسان کوسجدہ کرنے کاحکم ملاتواسنے خداکے اس امرکی اطاعت کی (اورکامیاب ہوگیا)۔(۱) روایت میں آیاہے کہ ایک جماعت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے پاس آئی اورکہا:یارسول الله!آپ ہمارے لئے اپنے پروردگارسے جنت کی ضمانت کرائیں توآنحضرت نے فرمایا:تم اس کام میں طولانی سجدوں کے ذریعہ میری مددکرو(تاکہ میں تمھارے لئے جنت کی ضمانت کروں)۔(۲)
حضرت علیسے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں ایااورعرض کیا:یارسول الله!مجھے کسی ایسے کام کی تعلیم دیجئے کہ جس کے واسطہ سے خدامجھے اپنادوست بنالے اوراس کی مخلوق بھی مجھے دوست رکھے ،خدامیرے مال کوزیادہ کرے ،میرے جسم میں سلامتی دے ،میری عمرکوطولانی کرے اورمجھے آپ کے ساتھ محشورکرے ،نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:یہ چھ صفتیں چھ عمل کی محتاج ہیں اگرتو یہ چاہتاہے کہ خداتجھے دوست رکھے تواپنے دل میں خوف پیداکراورتقوااختیارکر،اوراگرتو یہ چاہتاہے کہ بندے بھی تجھے دوست رکھیں توان کے حق میں نیکی کراوروہ چیزجومخلوق کے ہاتھوں میں ہے اس سے پرہیزکر،اوراگرتو یہ چاہتاہے کہ خداتیرے مال کوزیادہ کردے توزکات اداکر،اوراگرتواپنے جسم کی ت ندرستی وسلامتی چاہتاہے توزیادہ صدقہ دیاکر،اوراگرتواپنے طول عمرکی تمناکرتاہے توصلہ رحم کرتارہ ،اورتویہ چاہتاہے کہ خداتجھے میرے ساتھ محشورکرے توبارگاہ خداوندی میں جواکیلاہے اورقہاربھی ہے اپنے سجدہ کوطول دیاکر۔(۳)
____________________
۱). علل الشرایع/ج ٢/ص ٣۴٠
۲). مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ۴٧١
.۳) مستدرک الوسائل/ج ۴/ص ۴٧٢
فضل بن شاذان سے مروی ہے : ایک مرتبہ جب میں عراق پہنچا تودیکھا کہ ایک شخص اپنے ایک دوست کوملامت کررہا ہے اوراس سے کہہ رہاہے : اے بھائی ! توصاحب اہل وعیال ہے ،تجھے اپنے بچوں کی معیشت کے لئے کسب وکار کی ضرورت ہے اور مجھے خوف ہے کہ اگر تو ہمارے ساتھ تجارت کے لئے سفرنہیں کرے گاتوان سجدوں کی وجہ سے تیری آنکھوں کا نور ختم ہوجا ئے گااس نے جواب دیا : وائے ہو تجھ پر، تو !مجھے سجدہ کرنے کی وجہ سے ات نی زیادہ ملامت کررہاہے ،اگر ان سجدوں کی وجہ سے کسی کی آنکھوں کا نور چلاجاتاہے توپھرمحمدابن ابی عمیرکی آنکھوں کا نور ختم ہوجانا چاہئے تھا،مجھے بتاکہ تیرا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جس نے نماز صبح کے بعد سجدہ شٔکرمیں سررکھاہواورظہرکے وقت تک بلند کیا ہو
فضل بن شاذان کہتے ہیں :میں اس شخص کی یہ بات سن کر محمدابن ابی عمیرکی خدمت میں پہنچا تو دیکھا کہ سرسجدے میں ہے، بہت دیرکے بعد سجدے سے سراٹھایا ،میں نے ان سے طول سجدہ کے بارے میں پوچھاتوانھوں نے سجدے کو طول دینے کی فضیلت بیان کرنا شروع کی اور کہا:
اے فضل ! اگر تم جمیل ا بن درّاج کو دیکھیں گے تو کیاکہیں گے ؟ فضل کہتے ہیں کہ میں جمیل ابن درّاج کے پاس پہنچاتو انھیں بھی سجدے کی حالت میں پایا، اورواقعاًانھوں نے سجدے کو بہت زیادہ طول دیا ، جب سجدے سے بلند ہوئے تو میں نے کہا : محمد ابن ابی عمیر صحیح کہتے ہیں کہ آپ سجدے کو بہت زیادہ طول دیتے ہیں ، جمیل نے کہا : اگر تم “معروف خربوز ”کو دیکھیں گے توکیاکہیں گے ؟
دوسری حدیث میں آیاہے کہ ایک شخص نے جمیل ابن درّاج سے کہا : تعجب ہے کہ آپ سجدے میں کت نازیادہ تو قّف کرتے ہیں اور بہت طولانی سجد ہ کرتے ہیں؟ جواب دیا :اگر تم نے حضرت امام جعفر صادق کو دیکھاہوتا تو تمھیں معلوم ہوجاتا کہ ہمارے یہ سجدے ان کے مقابلہ میں کچھ بھی طولانی نہیں ہیں۔(۱)
____________________
۱). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٢٨٩ /ص ٩٢
سجدہ گاہ کی رسم کاآغاز
کسی پتھریاخاک کوسخت کرکے سجدہ گاہ قراردیناقدیمی رسم ہے اوراسے مذہب تشیع کی اختراع وایجادقراردینابالکل غلط ہے کیونکہ جب دین اسلام میں نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کونمازپڑھنے کاحکم دیاگیاتوآپ اورآپ کی اتباع کرنے والے نمازمیں زمین پرسجدہ کرتے تھے لیکن جب الله ورسول اوراس کی نازل کی گئی کتاب پرایمان لانے والوں کی میں اضافہ ہوتاگیااوردین اسلام رونق افروزہوتاگیااوررسول اسلام (صلی الله علیه و آله)مکہ سے ہجرت کرے مدینہ پہنچے توآپ نے زمین کے ایک ٹکڑے کومحل عبادت ومسجدکے عنوان سے معین کیااورزمین پرعلامت لگادی گئی کہ یہ جگہ محل عبادت ہے اورتمام مسلمان اس جگہ نمازاداکریں گے ،اس وقت اس کی کوئی چہاردیواری نہیں تھی اوراس زمین پرچھت وغیرہ بنائی گئی تھی اورنہ کسی سایہ کاانتظام کیاگیاتھا،جب یہ دیکھاگیااس زمین محل عبادت میں کوئی نجس جانوربھی چلاآتاہے تواس کی چہاردیواری کردی گئی مگراس وقت اس زمیں پرکسی چھت یاسایہ کاانتظام نہیں گیااورت نہ ہونے کی وجہ سے دوپہرکی جلتی دھوپ میں نمازپڑھنابہت مشکل کام تھااسی سردی کی ٹھنڈک میں نمازپڑھنانہایت مشکل تھالہٰذاآنحضرت سے لوگوں نے کہا:اے الله کے پیارے نبی !اس تپتی زمین پرپیشانی رکھنابہت مشکل ہے اورہماری پیشانی جلی جاتی ہیں (کیاہم زمین کے علاوہ اپنے ساتھ میں موجودکسی کپڑے پر سجدہ کرسکتے ہیں؟) پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے ان کی بات کونہ سنااور اسی طرح زمین پرسجدہ کرنے کاحکم دیااورتمام مسلمان زمین پرسجدہ رہے ۔ بیہقی نے اپنی کتاب “سنن کبری”میں خباب ابن ارث سے روایت نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ:ہم نے زمین سجدہ کرنے بارے میں نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے گرمی کی شدت کی شکایت کی اورکہا:یانبی الله!نمازکی حالت میں گرم پتھریوں پرسجدہ کرنے سے ہماری پیشانی اورہتھیلیاں منفعل ہوجاتی ہیں(پس ہم کیاکریں؟)رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)ان بات پرشکایت کوئی دھیان نہیں دیااورنہ ہی کسی نئی چیزکااظہارکیابلکہ اسی طرح سجدہ کرنے کاحکم دیااورہم زمین پرسجدہ کرتے رہے۔(۱)
____________________
.۱) سنن کبروی/ج ٢/ص ١٠۵
اسی زمانہ میں ایک صحابی نے نمازجواعت شروع ہونے سے قبل زمین سے ایک پتھری اٹھائی اوراسے ٹھنڈاکرلیااورنمازمیں اسی پرسجدہ کیا،اس کایہ عمل رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کرپسندآیااور آنحضرت نے اس کی تائیدکردی اس روزکے بعدلوگوں نے یہ کام شروع کردیااورنمازشروع ہونے سے قبل پتھری اٹھانے لگے اوراسی پرسجدہ کرنے لگے اوربعث اسلام ہی سے کسی ایک چیزکوسجدہ گاہ قرادینا مشروعیت ہوگیا۔ بیہقی نے اپنی کتاب “سنن کبری”میں یہ رویات نقل کی ہے: ابوولیدسے مروی ہے کہ میں نے فرزندعمرسے سوال کیا:وہ کون شخص ہے جو مسجدمیں سب سے پہلے سنگریزہ لایا؟جواب دیا:مجھے اچھی طرح یادہے کہ بارش کی رات تھی اورمیں نمازصبح کے لئے گھرسے باہرآیاتودیکھاکہ ایک مردریگ پرٹہل رہاہے ،اس نے ایک مناسب پتھری اٹھائی اوراسے اپنے کپڑے میں رکھااوراس پرسجدہ کیاجب رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اسے اس کام کوکرتے دیکھاتوبہت خرسندی اورخوشحالی کے ساتھ عرض کیا:یہ تونے کت نااچھاکام کیاہے ،پس یہ پہلاشخص ہے کہ جس نے اس چیزکی ابتداء کی ہے۔(۱)
اسی واقعہ سے یہ ثابت ہے کہ کسی چیزکو سجدہ گاہ کاعنوان قراردیناصحیح ہے یہی وہ شخص ہے کہ پہلی مرتبہ کسی چیزکوبعنوان سجدہ گاہ مسجدمیں اپنی جانمازپرقراردیاہے۔ جب مسجدمیں کسی چیزکوسجدہ گاہ کے طورپرلاناصحیح قرارپاگیاتواس کے اصحاب نے شدیدگرمی کی شکایت کی اورکہا:یانبی الله!ہم پیشانی اورہتھیلیوں کے جلنے سے محفوظ ہوگئے ہیں،ہرشخص ایک پتھری کوبطورسجدہ پہلے ہی اٹھالیتاہے اوراسے ٹھنڈی کرلیتاہے مگراس جسم کے جلنے کابھی کوئی علاج کیاجائے کیونکہ دھوپ میں کھڑے ہوکرنمازپڑھنابہت ہی مشکل کام ہے پس رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)ن حکم دیاکہ مسجدکے ایک حصہ میں چھت بنادی جائے تاکہ لوگ گرمی اور سردی سے محفوظ رہ سکیں ،فرمان رسول کے مطابق مسجدکے ایک حصہ میں چھت بنادی گئی اورمسلمان سایہ میں نمازپڑھنے لگے کچھ قرائن وشواہدسے معلوم ہوتاہے کہ خلفائے راشدین کے زمانہ تک مسجد میں کسی فرش اورچٹائی وغیرہ کاکوئی انتظام نہیں کیاگیاتھا بلکہ لوگ زمین ہی پر سجدہ کرتے تھے ،خلیفہ دوم نے اپنے زمانہ حکومت میں حکم دیاکہ مسجدمیں پتھریاںڈادی جائیں تاکہ نمازی لوگ اس پرسجدہ کر تے رہیں،خلفائے راشدین کے بعدصحابہ اورتابعیں کے زمانہ میں بھی یہی معمول تھا اورلوگ پتھریوں پرسجدہ کرتے تھے یاکسی چھوٹے سے پتھرکویاتھوڑی سی خاک اٹھاکرجانمازپربطورسجدہ گاہ رکھ لیاکرتے تھے اوراس پرسجدہ کرتے تھے یہاں تک کہ خاک کوپانی ذریعہ گیلی کرکے سخت کرلیاکرتے اوراسے سجدہ قراردئے کرتھے اوریہ روش آج تک شیعوں کے درمیان قائم ورائج ہے پس شیعوں کاکسی پتھرکویاخاک کوسخت کرکے سجدہ گاہ قراردیناکوئی نئی ایجادنہیں ہے بلکہ یہ روش توپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے زمانہ سے شروع ہے
____________________
. ١)سنن کبروی/ج ٢/ص ۴۴٠ (
خلیفہ دوم کے مسجدمیں سنگریزے ڈلوانے اوراس پرسجدہ کر نے کے بارے میں ابن سعد اپنی کتاب “الطبقات”میں یہ رویات نقل کی ہے: عبدالله ابن ابراہیم سے مروی ہے :عمرابن خطاب وہ شخص ہیں کہ جنھوں نے سب سے پہلے مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)میں پتھریاںڈلوائیں لیکن ان کے اس کام کی وجہ یہ تھی کہ جب لوگ نمازڑھتے تھے اورسجدہ سے سربلندکرتے تھے تواپنے ہاتھوں کوجھاڑتے تھے جوکہ گردآلوہوجاتے تھے یاپھونک مارتے تھے تاکہ گردجھڑجائے لہٰذاحضرت عمرنے حکم دیاکہ وادی عقیق سے پتھریاں اٹھاکرمسجدمیں بچھادی جائیں ۔ المصنف /ج ٨/ص ٣ ۴۵ ۔کنزالعمال/ج ١٢ /ص ۵۶ ٣ ۔الطبقات الکبری/ج ٣/ص ٢٨ ۴ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے تابعین میں سے ایک شخص جن کانام مسروق بن اجدع تھاانھوں نے خاک مدینہ سے بعنوان سجدہ گاہ ایک چھوٹی سی خشت (یعنی اینٹ)بنارکھی تھی اوروہ جب بھی کہیں سفرکرتے تھے تواسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اوراس پرسجدہ کرتے تھےاس بارے میں مصنف ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب “المصنف ”میں ابن سیرین سے اس طرح روایت نقل کی ہے:
ابن سیرین سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ: میں باخبراورآگاہ ہواہوں کہ مسروق ابن اجدع نے خاک مدینہ سے ایک اینٹ کوبنارکھی تھی ،جب بھی وہ کشتی میں سفرکرتے تھے تواسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اوراسی پرسجدہ کرتے تھے ۔(۱)
ابن ابی عینیہ سے مروی کہ میں نے ابن عباس کے ایک غلام “رزین”کویہ کہتے سناہے :وہ کہتے ہیں کہ علی ابن عبدالله ابن عباس نے میرے پاس ایک خط لکھااوراس میں مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لئے “مروہ ” سے ایک صاف ستھراپتھرروانہ کردوتاکہ میں اس پرسجدہ کروں۔(۲)
ان روایتوں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ کسی چیزکوسجدہ گاہ قراردیناشیعوں سے مخصوص کرناغلط ہے بلکہ یہ توآغازاسلام ہی سے دین اسلام میں مشروعیت رکھتاہے جیساکہ پہلے ایک روایت میں و ذکرکرچک ہیں کہ ایک شخص نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے زمانہ میں نمازشروع ہونے سے پہلے ایک چھوٹاساپتھراٹھایااوراسے ٹھنڈاکرلیااورپھراس پرنمازمیں سجدہ کیااورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اس کے اس کام کی صحیح ہونے کی تائیدبھی کی،کیااس شخص نے اس پتھرکوسجدہ گاہ قرارنہیں دیاتھا؟کیامسروق ابن اجدع خاک مدینہ سے سجدہ گاہ نہیں بنارکھی تھی ؟اورکیاعلی ابن عبدالله ابن عباس نے رزین کے پاس خط لکھ کرمروہ سے ایک پتھرکوبعنوان سجدہ گاہ طلب نہیں کیاتھا؟۔
____________________
۱). المصنف /ج ٢/ص ١٧٢
۲). تاریخ مدینہ دمشق/ج ۴٣ /ص ۵٠ ۔المصنف /ج ١/ص ٣٠٨
خاک شفاپرسجدہ کرنے کاراز
ہم اوپریہ ثابت کرچکے ہیں کہ سجدعہ گاہ بناناکوئی ایجادواختراع نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کے اوائل سے ہی سے رائج ہے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اس کی تائیدکی ہے لیکن اب ہمیں یہ ثابت کرناہے کہ بعض جگہ کی خاک بہت ہی زیادہ صاحب تکریم وتفضیل ہوتی ہے اورقابل احترام ہوتی ہے
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے چچاجناب حمزہ جنگ احدمیں شہیدہوئے اورکفارومشرکین ان کے لاشہ کے ساتھ یہ سلوک کیاکہ ابوسفیان کی بیوی (مادرمعاویہ )نے جگرچاک کیااوراسے اپنے ناپاک دانتوں سے چبایا
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے حضرت حمزہ کو“سیدالشہداء ” کالقب دیا اورعملی طورسے دین اسلام کی اتباع کرنے والوں کواس خاک کے متبرک ہونے کو سمجھانے کے لئے حضرت حمزہ کی قبرسے تھوڑی سی خاک اٹھائی اوراسے اپنے ساتھ لے گئے ،صدیقہ کٔبریٰ حضرت فاطمہ زہرا نے رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کی ابتاع کی اورآپ نے بھی حضرت حمزہ کے حرم سے خاک اٹھائی اوراس سے ایک تسبیح تیارکی
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے نواسہ حضرت امام حسیناورجوانان بنی ہاشم کو ان کے اصحاب وانصارکے ساتھ سرزمین کرب وبلاپرنہایت ظلم وبے رحمی کے ساتھ شہیدکیاتوسیدالشہداء کالقب حضرت حمزہ سے حضرت امام حسین کی طرف منتقل ہوگیااورآپ کے حرم مطہرکی خاک خاک شفاقرارپائی ،امام زین العابدیننے عملی طورسے قرآن وعترت کی اتباع کرنے والوں کواس خاک کی عظمت وبرکت کوسمجھانے کے لئے امام حسین کے مرقدمطہرسے بعنوان تبرک کچھ خاک اٹھائی اوراس سے سجدہ گاہ بنائی اوراس کے بعدجب بھی نمازپڑھتے تھے تواسی تربت پاک پرسجدہ کرتے تھے اورآپ کے شیعہ بھی اسی خاک پاک پرسجدہ کرنے لگے
امام زین العابدین کے بعددیگرآئمہ اطہار نے بھی اسی سیرت پرعمل کیااوراسے جاری رکھااوریہی سیرت آج تک ان کی اتباع کرنے والوں درمیان رائج وقائم ہے تربت کربلاکی اہمیت اوراس پرسجدہ کرنے کی فضیلت کے بارے میں چندروایت مندرجہ ذیل ذکرہیں:
امام صادق فرماتے ہیں:رسول خدا (صلی الله علیه و آله)ام سلمہ کے گھر موجود تھے اوران سے کہہ رہے تھے :مجھے اس وقت یہاں پرت نہائی کی ضرورت ہے (پس تم کمرے سے باہرچلی جاؤ) اوردیکھو!کوئی میرے پاس آنے نہ پائے ،اتقاقاًامام حسین آگئے، لیکن چونکہ امام حسیناس وقت بہت ہی کمسن تھے لہٰذاام سلمہ انھیں کمسنی کی وجہ سے نہ روک سکیں،جسبہانہ سے سے بھی روکناچاہاکامیاب نہ ہوسکیں اورامام حسین رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)کے پاس پہنچ گئے چند لحظہ بعدام سلمہ امام حسین کے پیچھے آئیں تودیکھاکہ حسین (علیه السلام) پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے سینہ مٔبارک پہ بیٹھے ہوئے ہیں اورآنحضرتاپنے ہاتھوں میں ایک چیزلئے ہوئے ہیں جسے گھماپھراکردیکھ رہے ہیں اورگریہ کررہے ہیں(میں نے پوچھا؟ یانبی الله! یہ آپ کے ہاتھ میں کیاہے ؟تو) آنحضرت نے فرمایا: اے ام سلمہ !ابھی میرے جبرئیل آئے تھے اورانھوں نے مجھے خبردی ہے کہ تمھارایہ بچہ (حسین (علیه السلام))قتل کردیاجائے گااوریہ چیزکہ جسے میں اپنے ہاتھوں میں گھماکردیکھ رہاہوں اسی سرزمین کی خاک ہے کہ جسپریہ میرانواسہ قتل کردیاجائے گا اے ام سلمہ! (جب میرایہ نواسہ قتل کیاجائے گااس وقت میں زندہ نہ ہوں گا مگر تم اس وقت زندہ ہونگی)پس میں اس خاک کو تمھارے سپردکرتاہوں تم اس خاک کو ایک شیشی میں رکھدواوراس کی حفاظت کرتے رہنا اوریادرکھناجب یہ خاک خون ہوجائے توسمجھ لیناکہ میرایہ عزیز شہیدکردیاگیاہے
ام سلمہ نے کہا:یارسول الله!خداسے کہوکہ وہ اس عظیم مصیبت کواس بچہ سے دورکردے ،پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:میں نے خداوندعالم سے اس مصیبت کے دفع ہوجانے کوکہا توخدانے مجھ پروحی نازل کی:یہ شہادت اس بچہ کے لئے ایک بلندمقام ہے جواس بچہ سے پہلے کسی بھی مخلوق کوعطانہیں کیاگیاہے اورخداوندعالم نے مجھ سے وحی کے ذریعہ بتایاکہ اس بچہ کی پیروی کرنے والے لوگ قابل شفاعت قرارپائیں گے اورخودبھی دوسروں کی شفاعت کریں گے
بیشک مہدی صاحب الزمان (عج ) اسی حسین (علیه السلام)کے فرزندوں میں سے ہیں،خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے جوان کودوست رکھتاہوگااوربیشک روزقیامت ان ہی کے شیعہ کامیاب وسربلندہونگے ۔(۱)
____________________
۱). امالی(شیخ صدوق)/ص ٢٠٣
قال الصادق علیه السلام:السجودعلی طین قبرالحسین (عینورالیٰ الارضین السبعة ،ومن کانت معه سبحة من طین قبرالحسین (عکتب مسبح اوان لم یسبح بها ۔ امام صادق فرماتے ہیں:امام حسینکی خاک قبرپرسجدہ کرناساتوں زمینوں کومنور کردیتاہے اورجوشخص تربت امام حسینکی تسبیح اپنے ہمراہ رکھتاہوچاہے اس کے دانوں پرکوئی ذکربھی نہ پڑھے پھربھی تسبیح کرنے والوں میں شمارہوگا۔(۱)
عن معاویه بن عمارقال:کان لابی عبدالله علیه السلام خریطة دیباج صفراء فیهاتربة ابی عبدالله علیه السلام فکان اذاحضرته الصلاة صبّه علی سجادته وسجدعلیه ثمّ قال(ع:انّ السجودعلی تربة ابی عبدالله الحسین علیه السلام یخرق الحجب السبع ۔ معاویہ ابن عمارسے روایت ہے کہ:امام صادق کے پاس ایک پیلے رنگ کی تھیلی تھی جس میں امام (علیه السلام)خاک شفا رکھتے تھے ،جیسے ہی نمازکاوقت پہنچتاتھا تو اس تربت کوسجادہ پرڈالتے اوراس پرسجدہ کرتے تھے ،اگرکوئی آپ سے اس بارے میں سوال کرتاتھاتوفرماتے تھے :تربت امام حسین پرسجدہ کرناسات (آسمانی )پردوں کوپارہ کردیتاہے ۔(۲)
کان الصادق علیه السلام لایسجدالّاعلیٰ تربة الحسین علیه السلام تذللا لله واستکانة الیه ۔
روایت میں آیاہے کہ امام صادق تربت امام حسینکے علاووہ کسی دوسری پرخاک سجدہ نہیں کرتے تھے اوریہ کام(یعنی خاک کربلاپرسجدہ کرنا)خضوع وخشوع خداوندمتعال میں زیادتی کے لئے انجام دیاکرتے تھے۔(۳)
___________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢ ۶ ٨
.۲) بحارالانوار/ج ٩٨ /ص ١٣ ۵
۳). وسائل الشیعہ/ج ٣/ص ۶ ٠٨
رازتشہد
تشہدمیں چارچیزواجب ہیں: ١۔بیٹھنا ٢۔طمانینہ ٣۔شہادتین ۴ ۔محمدوآل محمد پردرودبھیجنا۔
ہردورکعتی نمازمیں ایک مرتبہ اورتین یاچاررکعتی نمازمیں دومرتبہ تشہد پڑھنا واجب ہے ۔ ہرنمازی پرواجب ہے کہ تمام دورکعتی نمازکی دوسری رکعت کے دونوں سجدے بجالانے کے بعداوراسی طرح چاررکعتی نماز(ظہروعصروعشاء)کی دوسری وچوتھی رکعت کے بعداورتین رکعتی نماز(مغرب)کی دوسری وتیسری رکعت کے دونوں سجدے بجالانے کے بعد خضوع وخشوع کے ساتھ زمین پربیٹھے اورجب بدن ساکن ہوجائے توالله کی وحدانیت اورپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی رسالت کی گواہی دے اورمحمدوآل محمدپرصلوات بھیج کران کی ولایت واطاعت کاثبوت دے اورتشہدمیں صرف اتناکہناکافی ہے:
اَشْهَدُاَنْ لَااِلٰهَ اِلّاالله وَحْدَه لَاشَرِیْکَ لَه وَاَشْهَدُاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُه وَرَسُولُه ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَآلِ مُحَمَّدٍ ۔
امام صادق فرماتے ہیں:پہلی دورکعتوں(کے سجدہ کرنے کے بعدبیٹھ جائیں )اوراس طرح تشہدپڑھیں:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اَشْهَدُاَنْ لَااِلٰهَ اِلّاالله وَحْدَه لَاشَرِیْکَ لَه وَاَشْهَدُاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُه وَرَسُولُه ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَآلِ مُحَمَّد، وَتَقبَّلْ شَفَاعَتَه فِیْ اُمَّتِه وَارْفَعْ دَرَجَتَه ۔(۱)
حدیث معراج میں آیاہے کہ جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سات آسمانی حجاب کو عبورکرتے ہوئے “قاب قوسین اوادنیٰ ”کے مقام تک پہنچے توپروردگارنے آپ کو نماز پڑھنے کاحکم دیاجب دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ سے سر بلندکیاتوخداندعالم نے کہا:اے محمد!بیٹھ جاؤ، پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرمان الٰہی کے مطابق بیٹھ گئے ،وحی نازل ہوئی :اے محمد!میں نے تم پرجونعمتیں نازل کی ہیں اس کے بدلہ میں میرانام اپنی زبان پرجاری کرواورالہام کیاگیاکہ یہ کہو:
بِسْمِ اللهِ وَبِاللهِ وَلَااِلٰهَ اِلّاالله وَالْاَسْمَاءِ الْحُسْنیٰ کُلّهَا ۔ اس کے بعدوحی الٰہی نازل ہوئی کہ اے محمد!اپنے آپ پراوراپنے اہلبیت پردرودبھیجو،توپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے کہا:صَلّی اللهُ عَلَیَّ وَعَلیٰ اَهْلِ بَیْتِیْ ۔(۲)
____________________
۱) تہذیب الاحکام / ٢/ص ٩٢
۲). الکافی/ج ٣/ص ۴٨۶
حقیقت یہ ہے کہ ہرنمازی تشہدکے ذریعہ الله کی وحدانیت اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی رسالت کااقرارکرتاہے ،ان دونوں گواہی کوشہادتین کانام دیاجاتاہے اور توحیدونبوت کااقرارکرنااصول دین کی مہم اصل ہیں،انسان ان دونوں کلموں کوزبان پرجاری کرنے سے دین اسلام سے مشرف ہوجاتاہے ،یہ دونوں گواہی اسلام میں داخل ہونے اورکفروشرک جیسی باطنی پلیدگی اورجسمانی نجاست سے پاک ہونے کی کنجی ہیں ۔ نمازمیں شہادتین کوتجدیدبیعت کے عنوان سے واجب قراردیاگیاہے ،ہرنمازی روزانہ ٩مرتبہ اپنی واجب نمازوں میں ان دونوں کلموں کوزبان پرجاری کرکے الله اوراس کے رسول حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)کی تجدیدبیعت کرتاہے اورہرروزان کلموں کی تکرارکرناانسان کے ایمان وعقیدہ کومضبوط بناتاہے ،بے نمازی لوگوں کاایمان وعقیدہ ضعیف وکمزورہوتاہے اورشیطان اسپرغالب رہتاہے ۔
فضل بن شاذان سے مروی ہے :امام علی رضا فرماتے ہیں: اگرکوئی تم سے یہ معلوم کرے کہ دوسری رکعت کے بعدتشہدپڑھناکیوں واجب قراردیاگیاہے ؟ اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ جس طرح رکوع وسجودسے پہلے اذان،دعااورقرائت کولایاگیاہے اسی طرح ان دونوں کے بعد تشہد، تحمید اور دعا کو قرار دیا گیا ہے۔(۱)
راز تورک
مردکے لئے مستحب ہے کہ سجدہ سے سربلندکرنے بعداس طرح بیٹھے کہ بدن کا زوربائیں ران پررہے اوردائیں ران تھوڑاسابائیں ران کے اوپرقرارپائے اوردائیں پیرکی پشت کوبائیں پیرکے تلوے پررکھے اسی طرح دونوں سجدونوں کے درمیان بیٹھنامستحب ہے، اس حالت سے بیٹھنے کو تورّک کہاجاتاہے لیکن عورت کے لئے مستحب ہے کہ اپنی رانوں کوآپس میں ملائے رکھے ۔
دائیں جانب کوحق اوربائیں جانب کوباطل کہاجاتاہے لہٰذانمازمیں تشہدپڑھتے وقت دائیں ران کواٹھاکرتھوڑاسابائیں پراوردائیں پیرکی پشت کوبائیں پیرکے تلوے پررکھناباطل کونابوداورمٹادینے کی طرف اشارہ ہوتاہے اسی لئے تورّک کوتشہدمیں مستحب قراردیاگیاہے اسی مطلب کے بارے میں امام معصوم(علیه السلام) سے “من لایحضرہ الفقیہ” ایک حدیث نقل کی گئی ہے:
روایت میں آیاہے کہ ایک شخص نے امام علی ابن ابی طالب سے پوچھا:اے خداکی محبوب ترین مخلوق(حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)) کے چچازادبھائی!تشہدمیں دائیں ران کوبلندرکھنااوربائیں ران کونیچے رکھناکارازوفلسفہ کیاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:یعنی
____________________
.۱) علل الشرائع /ج ١/ص ٢۶٢
اللّٰهمّ اَمِتِ البَاطل وَاَقِمِ الْحَق ۔
بارالٰہا!باطل کونابودکردے اورحق کوسربلندوقائم رکھ،(کیونکہ داہناعضو حق اور سچائی کامظہرہوتاہے اوربایاں باطل وجھوٹ کاکنایہ ہوتاہے ،اسی لئے تشہدمیں دائیں ران اورقدم کوبائیں ران اورقدم کے اوپررکھنے کومستحب قرار دیاگیاہے تاکہ کفروباطل دب کرمرجائے ،نابودہوجائے اورحق بلندہوجائے )
اس شخص نے دوبارہ سوال کیااورکہا:امام جماعت کاسلام میں “السلام علیکم ”کہنے کاکیامقصدہوتاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:انّ الامام یترجم عن الله عزوجل ویقول فی ترجمته لاهل الجماعة ا مٔان لکم من عذاب الله یوم القیامة ۔
بیشک امام جماعت خداوندمتعال کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے ترجمانی کرتاہے جواپنے ترجمہ میں اہل جماعت سے خداکی طرف کہتاہے مومنین سے کہتاہے :تمھیں روزقیامت کے عذاب الٰہی سے امان ونجات مل گئی ہے ۔(۱)
جابرابن عبدالله انصاری سے روایت ہے کہ میں مولاامیرالمومنین علی ابن ابی طالب کی خدمت میں موجودتھا،آپ نے ایک شخص کونماز پڑھتے ہوئے دیکھاجب وہ نمازسے فارغ ہواتومولانے اس سے پوچھا:اے مرد!کیاتم نمازکی تاویل وتعبیرسے آشنائی رکھتے ہو؟اس نے جواب دیا:میں عبادت کے علاوہ نمازکی کوئی تاویل وتعبیرنہیں جانتاہوں،میں فقط اتناجانتاہوں کہ نمازایک عبادت ہے ،امام (علیه السلام)نے اسسے فرمایا: قسم اس خدا کی جس نے محمد (صلی الله علیه و آله)کونبوت عطاکی، خداوند عالم نے جت نے بھی کام نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کوبجالانے کاحکم دیاہے اس میں کوئی رازاورتعبیرضرورپائی جاتی ہے اوروہ سب کام بندگی واطاعت کی نشانی ہیں ،اس مردنے کہا:اے میرے مولا!آپ مجھے ان سے ضرورآگاہ کیجئے اوربتائے کہ وہ کیاچیزیں ہیں؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:تشہدپڑھتے وقت بائیں ران پربیٹھنااوردائیں پیرکی پشت کوبائیں پیرکے تلوے پررکھنااوردائیں ران کوتھوڑاسابلندکرکے بائیں ران رکھناتاکہ وہ تھوڑی سی دب جائے (اس طرزسے بیٹھنے کو تورّک کہاجاتاہے)کامطلب یہ ہے نمازی اپنے دل میں یہ ارادہ کرے:بارالٰہا!میں نے حق کواداکیااورباطل کودفنادیاہے ہے ،تشہدیعنی تجدیدایمان اوراسلام کی طرف بازگشت اورمرنے کے بعددوبارہ زندہ ہونے کااقرارکرنااورتشہدکے یہ بھی معنی ہیں:میں الله کوان سب باتوں سے بزرگ وبرترمانتاہوں جوکفارومشرکین اس کی توصیف کرتے ہیں۔(۲)
____________________
۱). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٢٠
۲). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۵٣
رازصلوات
تشہدنمازمیں صلوات کے واجب قراردئے جانے کارازیہ ہے: نمازگزارکے لئے ضروری ہے کہ اپنے دل میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے علاوہ ان کی آل اطہارکی بھی محبت رکھتاہواوران کے دشمن سے بیزاری بھی کرتاہو،نمازگزارکے لئے ضروری ہے کہ وہ تابع امامت وولایت ہونے کاثبوت دے ،اورصاحب محبت ومودت محمدآل محمدہونے کاثبوت دے اسی لئے نمازمیںصلوات واجب قراردیاگیاہے کیونکہ صلوات کے ذریعہ ولایت کاثبوت دیاجاتاہے کہ جس کے بغیرنمازہرگزقبول نہیں ہوتی ہے ،بارگاہ خداوندی میں صرف انھیں لوگوں کی نمازقبول ہوتی ہے جوآ ل محمدکی محبت ومودت کے ساتھ نمازاداکرتے ہیں اوراپنے دلوں میں ال رسول کی محبت کاچراغ روشن رکھتے ہیں لیکن اگران کی محبت کاچراغ دل میں روشن نہیں ہے تووہ عبادت بے کارہے اورالله کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ہے،نمازو عبادت اسی وقت فائدہ مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبیت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وولایت کے زیرسایہ انجام دیاجائے ،اہلبیت کی محبت وولایت کے بغیرسب نمازیں بےکارہیں۔
قال رسول الله صلی الله علیه آله وسلم : من صلی صلاة ولم یصل علیّ فیهاوعلیٰ اهل بیتی لم تقبل منه ۔(۱)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : جو شخص نماز پڑھے اور مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ بھیجے اس کی نماز قبول نہیں ہے۔
نمازمیں صلوات کواس لئے واجب قراردیاگیاہے کیونکہ تاکہ اس کے ذریعہ اہلبیت اطہار کی ولایت ومحبت کااقرارکیاجاتاہے اورنمازمیں محمدوآل محمدعلیہم الصلاة والسلام پردرودبھیجنانمازکے صحیح وکامل اورمقبول ہونے کاثبوت ہے لہٰذااگرکوئی شخص صلوات کوترک کردے تواس کی نمازباطل ہے
عن ابی یصیروزرارة قالا: قال ابو عبدالله علیه السلام :من تمام الصوم اعطاء الزکاة (یعنی الفطرة کماان الصلاة علی النبی صلی الله علیه وآله من تمام الصلاة ومن صام ولم یو دٔهافلاصوم له ان ترکهامتعمداً ، ومن صلی ولم یصل علی النبی صلی الله علیه وآله وترک متعمدافلاصلاة له . ابوبصیراورزرارہ سے مروی ہے :امام صادق فرماتے ہیں:روزہ زکات فطرہ کے ذریعہ مکمل(اورقبول) ہوتاہے جس طرح نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)پرسلام کے مکمل اورقبول ہوتی ہے ، پس اگرکوئی شخص روزہ رکھے اورعمداًزکات فطرہ دیناترک کردے تواس کاروزہ قبول نہیں ہوتاہے اورجوشخص نمازپڑھے اورعمداًمحمدوآل محمد علیہم الصلاة والسلام پردرودنہ بھیجے تواس نمازقبول ہوتی ہے۔
____________________
۱). الغدیر(علامہ امینی)/ج ٢/ص ٣٠۴
رازسلام
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے نمازکومومن کی معراج قراردیاہے اور جو شخص بارگاہ ملکوتی کی طرف پروازکرتاہے تومعنوی طورسے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجاتاہے لہٰذاجیسے ہی مومن سفرالٰہی اورمعراج سے واپس آتاہے تواسے چاہئے کہ سب پہلے الله کی محبوب ترین وعظیم الشان مخلوق حضرت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)پرسلام بھیجے اس کے بعدتمام انبیاء وصلحاء کوسلام کرے اسکے بعدتمام مومنین کوسلام کرے ۔ نمازی سلام کے ذریعہ نمازسے فارغ ہوجاتاہے اوروہ چیزیں جوتکبیرة الاحرام کہنے کے ساتھ حرام ہوجاتی ہیں مثلاکسی چیزکاکھانا ،سونا،قبلہ سے منحرف ہوناوغیرہ یہ سب سلام کے ذریعہ حلال ہوجاتی ہیں۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:مفتاح الصلاة الطهور وَتحریمِهاالتکبیر وتحلیلهاالسّلام ولایقبل الله صلاةً بغیرالطهور.
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:طہارت نمازکی کنجی ہے اورتکبیر“الله اکبر”اس کی تحریم ہے اورسلام نمازاس کی تحلیل ہے(یعنی جوچیزیں نمازکے منافی ہیں وہ تکبیرکے ذریعہ حرام ہوجاتی ہیں اورسلام کے بعدحلال ہوجاتی ہیں)اورخداوندعالم بے طہارت لوگوں کی نمازقبول نہیں کرتاہے.(۱)
رازسلام کے بارے میں حدیث معراج میں آیاہے کہ جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله) معراج پرتشریف لے گئے اورآپ کونمازپڑھنے کاحکم دیاگیاتوآپ نے نمازپڑھناشروع کی اورتشہدوصلوات کوانجام دینے کے بعدملائکہ وانبیائے کرام کونمازمیں حاضردیکھا،حکم پروردگارہوا :اے محمد!ان سب کوسلام کرو،پس آنحضرت نے کہا: ”السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته “
پروردگاکی طرف سے وحی نازل ہوئی:
ان السلام والتحیة والرحمة والبرکات انت وانت وذریتک تم پراورتمھاری آل پرخداوندعالم کی رحمت ،برکت اورسلامت نازل ہو،اس کے بعدوحی نازل ہوئی :اے پیغمبر!اب اپنے دائیں جانب متوجہ ہوجاؤ۔(۲)
____________________
.۱) بحارالانوار/ج ٧٧ /ص ٢١۴
۲). کافی/ج ٣/ص ۴٨۶
فضل بن شاذان سے مروی ہے :امام علی رضا فرماتے ہیں :نمازمیں تکبیریاتسبیح یا کسی اوردوسری چیزکوتحلیل نمازنہیں قراردیاگیاہے بلکہ سلام کوتحلیل نماز قراردیا گیاہے اورسلام کوتحلیل نمازقراردئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ (تکبیرة الاحرام کے ذریعہ) نمازمیں داخل ہوتے ہی بندوں سے کلام وباتیں کرناحرام ہوجاتاہے اورپوری توجہ خالق کی معطوف ہوجاتی ہے ،جب انسان نمازتمام کرے اورحالت نمازسے فارغ ہونے لگے تومخلوق سے کلام کرناحلال ہوجاتاہے اورمخلوق سے باتوں کی ابتداء سلام کے ذریعہ ہونی چاہئے اسی لئے سلام کوتحلیل نمازقراردیاگیاہے۔(۱)
محمدابن سنان نے مفضل ابن عمرسے ایک طولانی روایت نقل کی ہے ،مفضل کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق سے پوچھا:نمازمیں سلام کے واجب قراردئے جانے کی کیاوجہ ہے ؟
امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ سلام تحلیل نمازہے میں نے عرض کیا:اس کی کیاوجہ ہے کہ نماز گزار کو سلام پڑھتے وقت اپنی دائیں جانب نگاہ کرناچاہئے اوربائیں جانب سلام نہیں دیناچاہئے ؟ امام(علیه السلام) نے فرمایا : کیونکہ وہ مو کٔل فرشتہ جو انسان کی نیکیوں کو لکھتا ہے وہ دا ئیں جانب رہتا ہے اور وہ فرشتہ جوبرائیوں کو درج کرتاہے وہ بائیں جانب رہتا ہے اور(صحیح ومکمل )نمازمیں نیکیاں ہی نیکیاں پائی جاتی ہیں اوربرائی کاکوئی وجودہی نہیں ہوتاہے اس لئے مستحب ہے کہ نماز گزار سلام پڑھتے وقت اپنی دائیں جانب نگاہ کرے نہ بائیں جانب میں نے پوچھا:جب دائیں جانب ایک فرشتہ مو کٔل ہے توسلام میں واحدکاصیغہ استعمال کیوں نہیں کرتے ہیں یعنی “السلام علیک ”(سلام ہوتجھ پر)کیوں نہیں کہتے ہیں بلکہ جمع کی لفظ استعمال کرتے ہیں اس کی کیاوجہ ہے کہ سلام “ السلام علیکم ” کہتے ہیں؟ امام(علیه السلام) نے فرمایا: “السلام علیکم”اس لئے کہاجاتاہے تاکہ دائیں وبائیں جانب کے دونوںفرشتوں کوسلام کیاجاسکے لیکن دائیں جانب کے فرشتہ کی فضیلت دائیں طرف اشارہ کرنے سے ثابت ہوجاتی ہے ورنہ حقیقت میں دونوںفرشتوں کوسلام کیاجاتاہے ،میں نے کہا:ماموم کوتین سلام کیوں کہنے چاہئے ؟امام(علیه السلام) نے فرمایا: پہلاسلام امام جماعت کے سلام کا جواب اورامام جماعت کواورامام جماعت کے دونوںفرشتوں کو سلام کرنامقصودہوتاہے
دوسراسلام ان مومنین کے لئے ہوتاہے جواس کے دائیں جانب ہوتے ہیں اوران فرشتوں کوسلام کیاجاتاہے جو مومنین اورخود پرمو کٔل ہیں
____________________
۱). عیون اخبارالرضا(علیه السلام)/ج ١/ص ١١۵
تیسراسلام ان مومنین کے لئے ہوتاہے جواس کے بائیں جانب ہوتے ہیں اور ان فرشتوں کوسلام کیاجاتاہے جو مومنین اورخود پرمو کٔل ہیں اوروہ شخص کہ جس کے بائیں جانب کوئی نمازی نہ ہوتوبائیں جانب سلام نہ کرے ،ہاں اگر اس کے دائیں جانب دیوارہواورکوئی نمازی دائیں طرف نہ ہواوربائیں طرف کوئی نمازی موجودہوجواس کے ہمراہ امام جماعت کے پیچھے نمازپڑھ رہاتھاتواس صورت میں بائیں طرف سلام کرے
مفضل کہتے ہیں :میں نے امام(علیه السلام) سے معلوم کیا:امام جماعت کس لئے سلام کرتاہے اورکس چیزکاقصدکرتاہے؟امام(علیه السلام) نے جواب دیا:دونوںفرشتوں اورمامومین کوسلام کرتاہے ،وہ اپنے دل میں ان دونوں فرشتوں سے کہتاہے :نمازکی صحت وسلامتی کولکھواوراسے ان چیزوں سے محفوظ رکھو جونمازکوباطل کردیتی ہیں اورمامومین سے کہتاہے تم لوگ اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے محفوظ وسالم رکھو
فضل کہتے ہیں: میں نے امام(علیه السلام) سے کہا:سلام ہی کوکیوں تحلیل نمازکیوں قرادیاگیاہے؟(تکبیر،تسبیح یاکسی دوسری چیزکوکیوں نہیں قراردیاگیاہے؟)امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ اس کے ذریعہ (دونوں کاندھوں پرمو کٔل)دونوںفرشتوں کاسلام کیاجاتاہے اورنمازکااس کے پورے آداب شرائط کے ساتھ بجالانااور رکوع وسجودوسلام نمازبندہ کانارجہنم سے رہائی کاپروانہ ہے ،روزقیامت جس کی نمازقبول ہوگئی اس کے دوسرے اعمال بھی قبول ہوجائیں گے ،اگرنمازصحیح وسالم ہے تودوسرے اعمال بھی صحیح واقع ہونگے اورجس کی نمازردکردی گئی اس کے دوسرے اعمال صالح بھی ردکردئے جائیں گے ۔(۱)
”معانی الاخبار”میں عبدالله ابن فضل ہاشمی سے مروی ہے میں نے امام صادق سے سلام نمازکے معنی ومقصودکوپوچھاتوامام(علیه السلام) نے فرمایا:سلام امن وسلامتی کی علامت ہے اورتحلیل نمازہے کہ جس کے ذریعہ نمازسے فارغ ہواجاتاہے ،میں نے کہا:اے میرے امام !میری جان آپ پرقربان ہومجھے آگاہ کیجئے کہ نمازمیں سلام کوواجب قراردئے جانے کی وجہ کیاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:
____________________
.۱) علل الشرایع/ص ١٠٠۵
گذشتہ زمانہ میں لوگوں کی یہ روش تھی کہ اگرآنے والاشخص لوگوں کوسلام کردیاکرتاتھاتواس کامطلب یہ ہوتاتھاکہ لوگ اسکے شرسے امان میں ہیں اوراگرآنے والے کواپنے سلام کاجواب مل جاتاتھاتواس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ وہ بھی ان لوگوں کے شرسے امان میں ہے ،لیکن اگرآنے والاشخص سلام نہیں کرتاتھا تواس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ لوگ اس کے شرسے محفوظ نہیں ہیں اوراگرآنے سلام کرتاتھامگردوسری طرف سے کوئی جواب سلام نہیں دیاجاتھاتویہ اس چیزکی پہچان تھی کہ آنے والاشخص کی خیرنہیں ہے اوروہ ان کے شرسے ا مان میں نہیں ہے اوریہ اخلاق عربوں کے درمیان رائج تھا،پس سلام نمازسے فارغ ہونے کی علامت ہے اورسلام مومنین سے کلام کرنے کے جائزہونے کی پہچان ہے ،اب بندوں سے باتیں کرناجائزہے، “سلام ”الله تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے کہ جسے نمازگزارخداوندعالم کی طرف معین کئے گئے دوفرشتوں سے مخاطب ہوکرانجام دیتاہے۔(۱)
فضل بن شاذان سے روایت ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:نمازمیں سلام کوتحلیل نمازاس لئے قراردیاگیاہے اوراس کے بدلہ میں تکبیر،تسبیح یااورکسی دوسری چیزکوتحلیل نماز قرارنہیں دیاگیاہے کیونکہ جب بندہ تکبیرکے ذریعہ نمازمیں داخل ہوجاتاہے تو اس کابندوں سے ہمکلام ہوناحرام ہوجاتاہے اورفقط خداکی جانب متوجہ رہناہوتاہے لاجرم نمازسے خارج ہونے میں مخلوق سے کلام حلال ہوجاتاہے اورپوری مخلوق کواپنے کلام کی ابتد اسلام کے ذریعہ کرنی چاہئے لہٰذانمازگذارجب نمازسے خارغ ہوتاہے پہلے مخلوق سے ہمکلام ہونے کوحلال کرے یعنی پہلے سلام کرے اوراس کے بعدکوئی کلام کرے اسی نمازکے آخرمیں سلام کوقراردیاگیاہے۔(۱)
روایت میں آیاہے کہ ایک شخص نے امام علی ابن ابی طالب +سے پوچھا:اے خداکی محبوب ترین مخلوق (حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله))کے چچازادبھائی!امام جماعت کاسلام میں “السلام علیکم ”کہنے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ تو امام (علیه السلام) نے فرمایا:
انّ الامام یترجم عن الله عزوجل ویقول فی ترجمته لاهل الجماعة ا مٔان لکم من عذاب الله یوم القیامة ۔
کیونکہ امام جماعت خداوندمتعال کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے ترجمانی کرتاہے جواپنے ترجمہ میں اہل جماعت سے کہتاہے :تمھیں روزقیامت کے الٰہی عذاب سے امان ونجات مل گئی ہے ۔(۳)
____________________
.۱) معانی الاخبار/ص ١٧۶
۲). علل الشرائع /ج ١/ص ٢۶٢ ۔عیون اخبارالرضا/ج ١/ص ١١۵
۳). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٢٠
مفضل ابن عمروسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پوچھا:کیاوجہ ہے کہ سلام نمازکے بعدتین مرتبہ ہاتھوں کوبلندکیاجائے اورتین مرتبہ“الله اکبر” کہاجائے؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:جس وقت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے مکہ فتح کیاتواپنے اصحاب کے ساتھ حجراسودکے قریب نمازظہراداکی اورسلام پڑھاتواپنے ہاتھوں کواوپرلے گئے اورتین مرتبہ تکبیرکہی اسکے بعدیہ دعاپڑھی:
لَااِلٰهَ اِلّااللهُ وَحْدَه وَحْدَه ، اَنْجَزَوَعْدَه ، وَنَصَرَعَبْدَه ، وَاَعَزَّجُنْدَه ، وَغَلَبَ الْاَحْزَابَ وَحْدَه ، فَلَهُ الْمُلْکُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَهُوَعَلٰی کُلِّ شَی قَٔدِیْرٌ.
اس کے بعداپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے ارشادفرمایا:اس تکبیراوردعاکوکسی بھی واجب نمازکے بعدترک نہ کرناکیونکہ جوشخص سلام کے بعداس دعاکوپڑھے گویااس نے اس شکرکوجواسلام وسپاہیان اسلام کاشکراس کے اوپرواجب تھااداکردیاہے۔(۱)
____________________
۱). علل الشرائع /ج ٢/ص ٣۶٠
رازقنوت
لغت میں خضوع وخشوع اوراطاعت وفرمانبرداری کوقنوت کہتے ہیں اوردعا ونمازاورعبادت کوبھی قنوت کہتے ہیں جیسا کہ خداوندعالم حضرت مریم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے : ی( ٰامَرْ یَمُ اُقْت نیْ لِرَبِّکِ ) (١) (اے مریم ! تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو
محمدابن مسعودکی “تفسیرعیاشی ”میں امام صادق سے نقل کیاگیاہے کہ :اس قول خداوندی( قوموالله قانتین ) (۲) میں“ قانتین ” سے “مطیعین”مرادہے یعنی نمازکوخضوع وخشوع اوراطاعت خداوندی کے ساتھ بجالاو ۔ٔ
فقہا کی اصطلاح میں نمازمیں ایک مخصوص موقع پرایک خاص طریقہ سے دعاکرنے کوقنوت کہاجاتاہے اوردعاکے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دونوں ہاتھوں کوچہرے کے مقابل دونوں ہاتھوں کوآپس میں ملاکرہتھیلیوں کے رخ کوآسمان کی جانب قراردیاجائے اورہتھیلیوں پرنگاہ کھی جائے
قنوت میں کسی مخصوص ذکرکاپڑھناشرط نہیں ہے بلکہ جائزہے نمازی جس دعاوذکراورمناجات کوبھی چاہے پڑھے لیکن مستحب ہے کہ قنوت میں معصومسے منقول یہ دعاپڑھی جائے:
امام صادق فرماتے ہیں:قنوت میں یہ دعاپڑھناکافی ہے:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا،وَارْحَمْنَا،وَعَافِنَا،وَاعْفُ عَنَّافِی الدُّنْیَاوَالآخِرَةِ ،اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَی ءٍ قَدِیْر ۔(۳)
اورامام صادق فرماتے ہیں: نمازجمعہ کی پہلی رکعت میں قرائت کے بعد کلمات فرج کوذکرکیاجائے اوروہ یہ ہیں:
لااله الّاالله الحلیم الکریم ،لااله الّاالله العلی العظیم ، سبحان الله ربّ السموات السبع وربّ الارضین سبع ،ومافیهنّ ،ومابینهنّ، وربّ العرش العظیم، والحمدللهربّ العالمین ،اللّٰهم صلّ علی محمدوآله کماهدیت نابه ۔(۴)
____________________
.۱)آل عمران /آیت ۴٢
.۲)بقرہ /آیت ٢٣٨ تفسیرعیاشی /ج ١ج/ص ١٢٧
۳). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٨٧
۴). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ١٨
رازنمازقصر
سفراورخوف کی حالت میں آٹھ شرائط کے ساتھ چاررکعتی نمازکودورکعت پڑھناواجب ہے لیکن نمازصبح اورمغرب کوپوری پڑھناواجب ہے اوراس بارے میں علمائے کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہمسافر کو قصرو اتمام کے درمیان کوئی اختیارنہیں ہے بلکہ قصرپڑھناواجب ہے۔
قال رسول صلی الله علیه وآله :ان الله عزوجل تصدق علی مرضی امتی ومسافریهابالتقصیروالافطار، وهل یسراحدکم اذاتصدق بصدقة ان تردعلیه. نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:بیشک خدائے عزوجل نے میری امت کے مریضوں اورمسافروں پرنمازکے قصرہونے اورروزے کانہ رکھنے کاتصدق عطاکیاہے ،اگرتم کسی کے ساتھ کوئی اچھائی کرواوروہ تمھارے اس تصدق کوواپس کردے توکیاتمھیں اس سے کوئی خوشی ملے گی ؟۔(۱)
زرارہ اورمحمدابن مسلم سے روایت ہے: ہم دونوں نے امام محمدباقر سے عرض کیا:سفرکی حالت میں نمازپڑھنے کے بارے میں کیاحکم ہے ،اورکس طرح سے نمازپڑھنی چاہئے اورکت نی رکعت پڑھنی چاہئے ؟ اما م(علیه السلام) نے فرمایا:کیاتم نے اس آیہ مبارکہ کونہیں پڑھاہے جسمیں خداوندعالم ارشادفرمایاتاہے:
( وَاِذَاضَرَبْتُمْ فِی الاَرْضِ فَلَیْسَعَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْامِنَ الصَّلاةِ ) ترجمہ:اورجب تم زمین میں سفرکروتوتمھارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنی نمازیں قصرکرو۔(۲)
یہ آیہ مبارکہ اس چیزپردلالت کرتی ہے کہ سفرمیں نمازکوقصرپڑھناواجب ہے جس طرح حضرمیں نمازکوپوری پڑھناواجب ہے ،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام (علیه السلام) نے سے عرض کیا:خداوندعالم نے آیہ مبارکہ میں( لیس علیکم جناح ) فرمایاہے کہ جس سے وجوب کے معنی نہیں سمجھے جاتے ہیں اوراس نے “افعلوا” نہیں کہاہے کہ جس سے وجوب کے معنی سمجھ میں ائیں پس اس آیہ مبارکہ سے کس طرح ثابت کیاجاسکتاہے کہ سفرمیں نمازکوقصرپڑھناواجب ہے جس طرح حضرمیں پوری واجب ہے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا: کیاخداوندعالم نے صفااورمروہ کے بارے میں ارشادنہیں فرمایاہے:
____________________
۱). کافی/ج ۴/ص ١٢٧
۲). سورہ نساء /آیت ١٠١
( فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَفَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ یَطُوْفَ بِهِمَا ) جوشخص بھی حج یاعمرہ کرے اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کادونوں پہاڑیوں کاچکرلگائے ۔(۱)
اورکیاتم نہیں جانتے ہوکہ ان دونوں کاچکرلگاناواجب ہے کیونکہ خدائے عزوجل نے اس کا اپنی کتاب میں ذکرکیاہے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اسے انجام دیاہے پس اسی طرح سفرمیں نمازکوقصرپڑھنا واجب ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے سفرمیں نمازکوقصرپڑھا ہے اورخداوندعالم نے قصرکواپنی کتاب میں ذکرکیاہے،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام باقر سے عرض کیا: اگرکوئی شخص سفرمیں نمازکوچاررکعتی پڑھے،اسے اپنی نمازکااعادہ کرناچاہئے یانہیں؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:
اگراس کے سامنے آیہ تٔقصیرکوپڑھاگیاہے اوراسے تقصیرکے بارے میں بتایاگیاہے تواعادہ کرناواجب ہے لیکن اگرآیت کی قرائت نہیں کی گئی ہے اوراسے تقصیرسے آگاہ نہیں کیاگیاہے اوراسے تقصیرکے بارے میں تعلیم نہیں دی گئی ہے تواس کااعادہ نہیں ہے ،اس کے بعدامام (علیه السلام)نے فرمایا:
الصلوات کلهافی السفررکعتان کل صلاة الّاالمغرب فانهاثلاث لیس فیها تقصیرترکهارسول الله صلی الله علیه وآله فی السفروالحضرثلاث رکعات . نمازمغرب کے علاوہ روزانہ کی تمام نمازوں میں سے ہرنمازکوسفرمیں دورکعت پڑھناواجب ہے، نمازمغرب میں کوئی تقصیرنہیں ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سفراورحضرمیں نمازمغرب کواسی طرح پڑھتے تھے ۔(۲)
عیون اخبارالرضا میں فضل بن شاذان سے مروی ہے: اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ : سفرمیں نمازکے قصرپڑھنے کاحکم کیوں جاری ہواہے؟تواسے اس طرح جواب دو:کیونکہ نمازاصل میں دس رکعت واجب تھی اورسات رکعت کابعدمیں(پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی فرمائش سے ) اضافہ کیاگیاہے اس کے بعدخداوندعالم نے مسافرکے لئے ان زحمت ومشقت کی وجہ سے جواسے سفرمیں اٹھانی پڑتی ہیں اورچونکہ نمازالله کے لئے ہی پڑھی جاتی ہے اسی لئے اس نے نمازمغرب کے علاوہ تمام اضافی کی گئی رکعتوں کوختم کردیاہے اورنمازمغرب سے اس لئے کوئی رکعت کم نہیں کی ہے کیونکہ نمازمغرب اصل میں مقصورہ ہے ۔(۳)
____________________
. ۱)سورہ بقرہ/آیت/ ١۵٨
۲). من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴٣۴
۳). عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١٠۶
محمدابن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق کی محضرمبارک میں ان سے معلوم کیاکہ: سفراورحضرمیں نمازمغرب کوتین رکعت کیوں پڑھاجاتاہے اوربقیہ نمازوں کودورکعت ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:کیونکہ رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)پرنمازدودورکعتی واجب کیاگیاتھااوراورآنحضرت نے تمام نمازوں میں دودورکعت کاضمیمہ کیااورپھرنمازمغرب سے ایک رکعت کوکم کردیااورسفرمیں ہرنماز میں سے دورکعت کوکم کردیالیکن نمازمغرب کوسفرمیں اسی تین رکعت کی حالت پررکھاکیونکہ اورفرمایا:نمازمغرب سے کسی رکعت کوکم کرتے ہوئے مجھے حیاآتی ہے اسی لئے نمازمغرب کوسفروحضرمیں تین رکعت ہی پڑھی جائے ۔(۱)
نمازصبح کوسفروحضرمیں اسی دورکعتی حالت پررکھاگیاہے اس بارے میں سعدنے مسیب سے منقول امام علی بن الحسین کی ایک روایت“پنچگانہ نمازوں”کے عنوان میں ذکرکرچکے ہیں لہٰذاتکرارکی ضرورت نہیں ہے ۔
عیون اخبارالضا میںفضل بن شاذان سے مروی ہے: اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ آٹھ فرسخ کے سفرمیں ہی نمازکوکیوں قصرقراردیاگیاہے اس سے کم میں کیوں نہیں؟تواس کاجواب یہ ہے:کیو نکہ عموماً قافلہ اورحیوان بردارلوگ اوردیگرمسافروں کے لئے آٹھ فرسخ ایک دن کی سیرہے اسی لئے ایک دن کی سیرکے حساب سے نمازکوقصرقراردیاگیاہے
اوراگرکوئی یہ کہے کہ ایک دن کی سیرکی مقدارمیں نمازکوقصرکیوں رکھاگیاہے ؟اس کاجوب یہ ہے کہ اگرایک دن کی سیرمیں نمازکے قصرہونے کوواجب قرارنہ دیاجاتاتو ہزارسال کی سیرمیں بھی قصرکوواجب قرارنہ دیاجاتاکیونکہ ہروہ دن جوآج کے بعدآتاہے وہ بھی آج ہی کے مانند ہوتاہے یعنی دن سب برابرہیں اج ہویاکل،آج اورکل کے دن میں کوئی فرق نہیں ہے ،اگرایک دن کی سیرمیں نمازکوقصرنہ رکھاجاتاتواس کے نظیرمیں بھی قصرنہ رکھاجاتا اگرکوئی یہ کہے کہ سیرمیںفرق ہوتاہے اونٹ ایک دن میں اٹھ فرسخ راستہ طے کرتاہے مگرگھوڑامثلاًبیس فرسخ راستہ طے کرتاہے (اورآج کے زمانہ میں انسان ایک دن جہازکے ذریعہ نہ معلوم کت نی دورپہنچ جاتاہے)پس یہ ایک دن کی مسافت کوآٹھ فرسخ کیوں قراردیاگیاہے ؟اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ اونٹ اورقافلے والوں کی سیرغالب آٹھ فرسخ ہوتی ہے اوراونٹ اورقافلے والے لوگ غالباًاس مقدارمسافت کوایک دن میںطے کرتے ہیں۔(۲)
____________________
. ۱)بحارالانوار/ج ٨۶ /ص ۵۶
۲). عیون اخبارالرضا /ج ١/ص ١٠۶
حیض کی حالت میں ترک شدہ نمازوں کاحکم
دین اسلام میں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہیں کیاگیاہے بلکہ ہرحال میں نمازواجب ہے اوروہ نمازیں جوعمداًیاسہوایاکسی مجبوری کی بناء پرترک وجاتی ہیں ان کی قضابجالاناواجب ہے البتہ عورتوں کی وہ نمازیں جوہرماہ کی عادت کے دنوں میں یانفاس کی حالت میں ترک ہوجاتی ہیں ان کے لئے دین اسلام میں رخصت دی گئی ہے اور ان کی قضابجالاناواجب نہیں ہے لیکن روزوں کی قضابجالاناواجب ہے ۔
عن ابی جعفروابی عبدالله علیهماالسلام قالا:الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاة .
امام باقراورامام صادق فرماتے ہیں:حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہیں کرے گی۔(۱)
حالت حیض میں ترک شدہ نمازوں کی قضاکیوں واجب نہیں ہے ؟ حیض ونفاس کی حالت میں ترک شدہ نمازکی قضاہے مگرروزہ کی نہیں ہے دین اسلام میں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہیں کیاگیاہے بلکہ ہرحال میں نمازواجب ہے اوروہ نمازیں جوعمداًیاسہوایاکسی مجبوری کی بناء پرترک ہوجاتی ہیں ان کی قضابجالاناواجب ہے البتہ عورتوں کی وہ نمازیں جوہرماہ کی عادت کے دنوں میں یانفاس کی حالت میں ترک ہوجاتی ہیں ان کے لئے دین اسلام میں رخصت دی گئی ہے اور ان کی قضابجالاناواجب نہیں ہے لیکن روزوں کی قضابجالاناواجب ہے ۔عن ابی جعفروابی عبدالله علیهماالسلام قالا:الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاة.
امام باقراورامام صادق +فرماتے ہیں:حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہیں کرے گی۔(۲)
اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ نمازروزہ سے افضل ہے ،جب حائضہ پرروزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابدرجہ اولیٰ واجب ہے کیونکہ نمازروزہ سے افضل ہے ؟ اس کاجواب یہ کہ ایک چیزکوکسی دوسری چیزپرقیاس نہیں کیاجاسکتاہے لہٰذانمازکاروزہ پرقیاس کرناباطل ہے،یہی قیاس ابوحنیفہ نے کیاتھااورکہاتھا کہ جب نمازروزہ سے افضل ہے اورروزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابطریق اولیٰ واجب ہے روایت میں آیاہے کہ امام صادق نے ابوحنیفہ سے پوچھا:یہ بتاؤ نمازافضل ہے یاروزہ ؟ کیانمازافضل ہے (جب حائضہ روزہ کی قضاواجب ہے تونمازکی بطریق قضاواجب ہے )آپ نے امام(علیه السلام) نے فرمایا:تم نے قیاس کیاہے پس تقوائے الٰہی اختیارکرواورقیاس نہ کرو بلکہ حکم شرعی یہ ہے حائضہ پرروزہ کی قضاواجب ہے اورنمازکی قضانہیں ہے ۔(۳)
____________________
.۱) تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١۶٠
۲). تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١۶٠
۳) علل الشرائع/ج ١/ص ٨٧
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لئے نہ روزہ رکھناصحیح ہے اورنہ نمازپڑھنا۔ فضل بن شاذان مروی ہے امام علی فرماتے ہیں:اگرکوئی سوال کرے کہ جب عورت حیض کی حالت میں ہوتواس کے لئے روزہ رکھنااورنمازپڑھناکیوںصحیح نہیں ہے؟اس کاجواب یہ ہے :کیونکہ کیونکہ حیض حدّنجاست میں ہے ،لاجرم خداوندمتعال یہ چاہتاہے کہ عورت فقط طہارت کی حالت میں اس کی عبادت کرے اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس کی نمازصحیح نہ ہواورجس کےلئے اصل میں نمازکومشروع نہ کیاگیاہوتوروزہ بھی اس کے مشروعیت نہیں رکھتاہے
اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ وہ نمازیں جوعورت سے حیض کے ایام میں ترک ہوجاتی ہیں ان کی قضابجالاناکیوں واجب نہیں ہے اورروزہ کی قضابجالاناکیوں واجب ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ چند(مندرجہ ذیل)وجوہات کی بناپرعورت پرنمازکی قضاواجب ہے مگرروزہ کی قضاواجب نہیں ہے:
١۔ روزہ رکھناعورت کوروزانہ کے ضروری کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتاہے ،روزہ نہ امورخانہ داری سے منع کرتاہے ،نہ شوہرکی خدمت کرنے سے ،نہ شوہرکے فرمان کوانجام دینے سے منع کرتاہے ،نہ گھرکی صفائی کرنے اورنہ کپڑوں وغیرہ کی دھلائی کرنے سے منع کرتاہے ،روزہ کی حالت میں ان سب کاموں کوانجام دیاجاسکتاہے لیکن نمازکے لئے وقت درکارہوتاہے اورنمازکی قضاکابجالاناعورت کے لئے امورخانہ داری ،صفائی ،دھلائی وغیرہ میں مانع واقع ہوتاہے کیونکہ نمازروزانہ بطورمکررواجب ہوتی ہے اورعورت اس چیزکی قدرت نہیں رکھتی ہے کہ اپنی روزانہ کی نمازیں بھی پڑھے اورناپاکی کی حالت میں ترک کی گئی نمازوں بھی کی قضابجالائے اورگھروزندگی کے ضروری کاموں کوبھی انجام دے لیکن روزے میں ایسانہیں ہے ،عورت روزہ کی حالت میں امورخانہ داری کوانجام دے سکتی ہے ۔
٢۔ نمازپڑھنے میں رکوع وسجود،تشہدوسلام وغیرہ کے لئے اٹھنے ،بیٹھنے ، کی زحمت ہوتی ہے لیکن روزہ میں ایسانہیں ہے،بلکہ روزہ میں اپنے آپ کوکھانے پینے سے روکناپڑتاہے اورکھانے پینے سے رکنے کے لئے نہ اٹھنے کی ضرورت پڑتی ہے اورنہ بیٹھنے کی ضرورت ہوتی اورنہ کوئی حرکت کرنی پڑتی ہے ۔
٣۔ شب وروزکی مدت میں ایک وقت کے بعدجب دوسراوقت شروع ہوتاہے تواس وقت میں دوسری نمازواجب ہوجاتی ہے (نمازظہرکے بعدنمازعصرواجب ہوجاتی ہے ،نمازمغرب کے عشاکی نمازواجب ہوجاتی ہے اورجیسے ہی صبح ہوتی ہے تونمازصبح واجب ہوجاتی ہے )لیکن روزہ میں ایسانہیں ہے ،ماہ رمضان المبارک کے بعدکوئی روزہ نہیں آتاہے کہ جواس پرواجب ہوجائے لہٰذاروزہ رکھنے کاوقت خالی رہتاہے مگرنمازتووقت کے ساتھ ساتھ واجب ہوتی رہتی ہے ۔(۱)
____________________
. ۱)علل الشرائع /ج ١/ص ٢٧١
قبولیت نمازکے شرائط
ہر شخص کی نمازدوحالت سے خالی نہیں ہوتی ہے یااس کی نماز بارگارب العزت میں قبول ہوتی ہے اورخداعالم اس نمازی پردنیاوآخرت میں نعمتیں نازل کرتاہے یاقبول نہیں ہوتی ہے اورخداوندعالم جس نمازکوقبول نہیں کرتاہے اسے نمازی کی طرف واپس کردیتاہے جیساکہ حدیث میں آیاہے:
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا کی جانب سے ایک فرشتہ نماز کے کا موں کے لئے مامور ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسراکام نہیں کر تاہے،جب بندہ نمازسے فارغ ہوجاتاہے تو وہ فرشتہ اس کی نماز کو آسمان پر لے جاتاہے اگر اس کی نماز قبولیت کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ بارگا ہ رب ا لعزت میں قبول ہوجاتی ہے اور اگر قبول ہونے کی صلالیت نہیں رکھتی ہے تواس فرشتے کو حکم دیا جاتاہے کہ اس نماز کو صاحب نماز کی طرف واپسلوٹا دے، وہ فرشتہ نماز کو واپسلے کر زمین پر آتا ہے اور اسے صا حب نماز کے منہ پر مارکر کہتا ہے : وائے ہو تجھ پر کیونکہ تیری اس نماز نے مجھے زحمت میں ڈالاہے اور واپس لے کر آناپڑاہے۔(۱)
روزقیامت صرف انھیں لوگوں کی نمازقبول ہوگی جونمازکو پورے آداب شرائط کے ساتھ انجام دیتے ہیں،وہ لوگ جو نماز کو اس کے تمام آداب و شرائط کی رعایت کے ساتھ انجام دیتے ہیں توان کی یہ صحیح اورمکمل نماز بقیہ دوسرے انجام دئے گئے واجبات کے قبول ہونے کاسبب واقع ہوگی اوروہ لوگسعادتمند محسوب ہونگے لیکن وہ لوگ جونمازکواس کے پورے آداب وشرایط کے ساتھ انجام نہ دیتے ہیں تو وہ بدبخت اور بدنصیب شمارہونگے ۔قال صادق علیه السلام :اوّل مایحاسب به العبد،الصلاة،فاذاقبلت قبل منه سائرعمله واذاردت علیه ردعلیه سائرعمله .(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:روزقیامت سب سے پہلاسوال نمازکے بارے میں کیاجائے جن لوگوں کی نمازقبول ہوگی ان کے دوسرے اعمال بھی قبول ہونگے اورجن کی نمازقبول نہیں ہوگی ان بقیہ اعمال بھی قبول نہیں ہونگے ۔
____________________
. ۱) ثواب الاعمال وعقاب الاعمال/ص ٢٣٠
.۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٢٠٨
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لکل شی ؤجه ووجه دینکم الصلاة فلایشیئنّ احدکم وجه دینه .(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :ہر چیز کے لئے ایک چہرہ ہو تا ہے جو اس کی اصل وحقیقت کوبیان کرتا ہے اور نماز تمھارے دین کاچہرہ ہے ، ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنے دین کی شکل و صورت کو نہ بگاڑےدین اسلام بھی انسان کی طرح اپنے جسم میں اعضاء جوارح رکھتاہے ،جس طرح انسان اپنے جسم میں ہاتھ ،پیر،آنکھ ناک ،کان رکھتاہے اسی طرح دین اسلام بھی رکھتاہے انسان کے جسم کاارجمندترین حصہ اس کاسرہے اورسرکابہترین حصہ انسان کاچہرہ ہے کیونکہ چہرہ میں حساس اعضاء پا ئے جاتے ہیں : جیسے آنکھ، کان ،ناک ، زبان ، دانت وغیرہ اسی طرح دین اسلام کے اعضا میں نمازمقدس ترین حصہ ہے جسے پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله) نے دین اسلام کاچہرہ قراردیاہے اورنمازکودین اسلام کاچہرہ قراردئے جانے کارازیہ ہے کہ انسان کا بدن چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے خوشنما معلوم ہو تاہے اگر کسی کا چہرہ خوبصورت نہیں ہے تو اسے حسین نہیں کہا جاتا ہے ،جس طرح بدن کی خوبصورتی چہرہ سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح دین اسلام بھی نمازسے تعلق رکھتاہے ،اگر نماز میں حُسن وکمال پایا جا تا ہے تو دین بھی حسین وخو بصورت معلوم ہو تا ہے ۔ مثال کے طورپراگرہم خلوص کے ساتھ کسی شخص کے دیداروملاقات کے لئے اس کے گھرجاتے ہیں تو وہ پہلے ہمارے چہرہ پرنگاہ ڈالتاہے ،اگرہمارے چہرے چہرے کے تمام اعضاء صحیح و سالم ہوں ، اور دونوں اَبرو آپس میں پیوستہ ہوں ،آنکھوں میں کشش پائی جاتی ہو، ناک حالت زیبائی رکھتی ہو ،ہونٹوں پرکلیوں کی طرح مسکراہٹ ہو،دانت صدف کے ماننددرخشاں ہوں پیشانی پر نور خشاں ہو یقیناً ایساچہرہ مکمل زیبا اورباعث اشتیاق ہو گااوروہ شخص ہمارے اس چہرے کودیکھ کر خوشحال ہو جا ئے گااورعطوفت ومہربانی کااظہارکرے گا،ہمیں اپنے قریب میں جگہ دے گا،ہم سے میٹھی اورنرم باتیں کرے گا لیکن اگرہمارے چہرے بگڑے ہوئے ہوں، پیشانی کے تیورچڑھے ہوں ، چہرے پرکمال درخشندگی نہ ہو،ابروکے بال بالکل صاف ہوں ، آنکھیں غضبناک ہوں، ناک پرورم آگیا ہو ،ہو نٹ زخمی ہوں ، دانت گر چکے ہیں(یقیناًایسا چہرے کودیکھ دل میں نفرت پیداہوجاتی ہے) تو ہمیں اس طرح دیکھ کراس کے تیوربھی چڑھ جائیں گے ،اب وہ اپنے بٹھاناتو دورکی بات اپنے دربارمیں کھڑے ہونے کی مہلت بھی نہیں دے گااورہمیںفوراً اپنے دربارسے باہرنکال دے گااورسزابھی سنائے گا
____________________
. ١)کافی /ج ٣/ص ٢٧٠ ۔تہذیب الاحکام/ج ٢/ص
بس اسی طرح جب قیامت میں تمام لوگوں کوقبرسے بلندکیاجائے توسب پہلاسوال
نمازکے بارے جائے گا،جن ہم سے لوگوں نے دنیامیں نمازیں نہیں پڑھی ہونگی انھیں واصل جہنم کردے گااورجن لوگوں نے نمازیں پڑھی ہونگی ان کی نمازوں کودیکھاجائے گا اگرہماری وہ نمازیں اس کے معیارکے مطابق ہونگی اورپروردگار خوشنودی کا سبب واقع ہو نگی تو وہ ہم پراپنا رحم وکرم کرے گااورہمیں جنت عطاکرے گالیکن اگر خدا وندعالم ہماری نمازوں سے ناراض ہوگیا تو ہم اس کی رحمت ومغفرت سے محروم ہو جائیں گے اور ہماری بقیہ دوسری عبادتیں ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچائیں گی۔
جس طرح انسان کاچہرہ اعضاء رکھتاہے اوراعضائے چہرہ کی وجہ سے خوبصورت معلوم ہوتاہے اسی طرح نمازجودین اسلام کاچہرہ ہے اس کے بھی اعضاء ہیں وہ بھی اپنے چہرے پر آنکھ ناک ، کان ،دانت وغیرہ رکھتی ہے اگروہ سب اعضامناسب ہوں توالله تبارک تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کاسبب ہوتے ہے ،خضوع وخشوع ،حضورقلب ،ارکان نماز(نیت ،تکبیر ة الاحرام ،قیام ، قرئت ،ذکر، رکوع، سجوداور تشہدوسلام )اور مستحبات نماز اعضاء وجوارح کا حکم رکھتے ہیں، اگرنمازکاچہرہ خوبصورت ہے اوراس کے تمام اعضاء صحیح و کامل ہیں یعنی نمازکوخضوع وخشوع، حضورقلب اورارکان نمازکی رعایت کے ساتھ اداکیاہے تووہ خدا کی خوشنودی اور اس کی بارگاہ میں قبولیت کا سبب واقع ہو گی اور اگر نماز کی شکل و صورت بگڑی ہو ئی ہو اور ارکان نماز کو مکمل طور سے رعایت نہ کی گئی ہو تو یہ نماز خداکے غضبناک ہو نے کا سبب واقع ہوتی ہے اور خدا وندعالم ایسی نماز کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا بلکہ ایسی نماز کو اسی نمازی کے منہ پر ماردے گا۔
یہ ممکن ہے کہ انسان کی نمازظاہری اعتبارسے بالکل صحیح ہواوراس میں کوئی کمی نہ ہو،روبقبلہ پڑھی گئی ہو،طمانینہ کی بھی رعایت کی گئی ہومگروہ بارگاہ خداوندی مقبول نہ کیونکہ ظاہری آداب کے لئے کچھ قلبی آداب بھی ہیں کہ جن کی رعایت کے سبب ہماری نمازیں بارگاہ خداوندی میں مقبول واقع ہوتی ہیں،اگرہماری نمازوں میں وہ شرائط موجودہیں توقبول واقع ہوسکتی ہیں اوران کے ذریعہ خداکا تقرب اوراس کی رضایت حاصل ہوسکتی ہے اوروہ شرائط یہ ہیں:
١۔حضورقلب
وہ الفاظ اورذکروتسبیح کہ جنھیں نمازگزار اپنے زبان سے اداکررہاہے اگرانھیں سے دل بھی کہے اوران کے معنی ومفہوم کوذہن میں رکھنے کے ساتھ زبان پرجاری کرے اوراپنی نمازسے بالکل غافل نہ ہواوراس طرح خداکی طرف متوجہ ہوگیاہوکہ وہ یہ بھی نہ جانتاہوکہ میرے برابرمیں کون ہے اورکیاکررہاہے
تو اسے حضورقلب کہاجاتاہے۔ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ نمازکی حالت میں اس کے تمام اعضاء وجوارح اور دل ودماغ سب کچھ خداکی طرف ہواس کے دل میں خداکاعشق اوراس سے ہمکلام ہونے کاشوق ہو،سستی اورکسلمندی نہ پائی جاتی ہوعبادت میں لذت محسوس کرتاہوکیونکہ جس مقدارمیں نمازی کادل خداکی طرف متوجہ رہے گااسی مقداراس کی نمازبارگاہ خداوندی میں باعث قبول ہوگی ،اگرعبادت کی حالت میں نمازی کادل دنیاکی طرف مبذول ہوتواس کی وہ عبادت کی کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہے اور ہر نمازی حضو ر قلب وخوف خداکے اعتبار سے اجر وثواب حاصل کرتا ہے جو نمازی اپنے دل خت نازیادہ خوف خدا رکھتا ہے اسی مقدار میںثواب ونعمت حاصل کرتا ہے کیونکہ خدا وند متعال نمازگزار کے قلب پر نگاہ رکھتا ہے نہ اسکی ظاہری حر کتوں پر، روزقیامت صرف وہی نمازوعبادت کام آئے گی جوسچے دل سے انجام دی گئی ہو ۔( وَ لِکُلِّ دَرَ جٰا تٌ مِمَّا عَمِلوُاوَمَارَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمّایَعْمَلُونَ ) (۱) بے شک ہر ایک شخص کے لئے اسکے اعمال کے مطابق درجات ہیں اورجوکچھ تم انجام دیتے ہوتمھاراپروردگارہرگزاس سے غافل نہیں ہے( یَوْمٌ لایَنْفَعُ مَالٌ وَلابَنُونَ، اِلَّاْ مَنْ اَتَی الله بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (۲) روزقیامت نہ مال کام آئے اورنہ اولاد ،فقط وہی لوگ نجات پائیں گے جو قلب سلیم کے ساتھ بارگاہ باری تعالیٰ میں حاضر ہوتے ہیں ۔
بعض نماز یں ایسی ہیں جو آدھی قبول ہوتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو ایک سوم یا ایک چہارم ،ایک پنجم یا ایک دہم قبول ہوتی ہیں اور بعض نماز یں ایسی ہیں جو ایک بوسیدہ کپڑے میں لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے یہ تیری نماز تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے فقط وہی نماز تیرے کام آسکتی ہے جنھیں توحضور قلب کے ساتھ انجام دیتاہے ۔(۳)
٢۔خضوع وخشوع
( قَدْ اَ فْلَحَ المُو مِنُونَ الَّذِ یْنَ هُمْ فِی صَلاٰ تِهِمْ خٰشِعُونَ ) (۴) یقیناً صاحبانِ ایمان کا میاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع وحضورقلب رکھتے ہیں۔
____________________
. ۱)سورہ أنعام /آیت ١٣٢
. ٢)سورہ شٔعراء /آیت ٨٨ ۔ ٨٩
۳). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۶١
. ۴)سورہ مٔومنون/آیت ١۔ ٢
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جب تم نمازپڑھوتوخضوع اور حضور قلب رکھاکروکیونکہ خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے:( اَلَّذِینَ هُمْ فی صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ ) ۔ روزقیامت وہی لوگ نجات پائیں گے جواپنی نمازوں میں حضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے ہیں۔(۱)
اعضاء وجوارح اوربدن میں نشاط پائے جانے اورجسم پرخوف خداکے آثارنمایاں ہونے کوخضوع خشوع کہاجاتاہے
ایک شخص نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے خشوع کے معنی معلوم کئے توآپ نے فرمایا: نمازی کوچاہئے کہ اپنے اعضاء وجوارح بھی نماز میں شامل کرے اوراپنے دائیں بائیں جانب نگاہ نہ کرے ،ہاتھ پیرنہ ہلائے ،روایت میں آیاہے کہ ایک دن رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے ایک شخص کودیکھا کہ وہ نماز پڑھتے ہو ئے اپنی ڈاڈھی سے کھیل رہا ہے ، آپ نے فرمایا:
”لوخشع قلبه لخشعت جوارحه ” اگر اس نماز ی کا دل خضوع وخشوع رکھتا ہے تو اُس کے اعضاء وجوارح کو بھی خاشع و خاضع ہو نا چا ہئے ۔(۲)
خشو ع یعنی نماز میں تواضع کا استعمال کرنا اورکسی بندہ کا پورے دل اورنشاط کے ساتھ کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرنے کوخشوع کہاجاتاہے(۳)
فقہ الّرضا میں منقول ہے کہ امام علی رضا فرماتے ہیں : جب تم نماز کے لئے قیام کرو تو اپنے آپ کو کھیل کو داور خواب وکسالت سے دورکرلیاکرواوروقارو سکون قلب کے ساتھ نماز ادا کیا کرواورتم پرلازم ہے کہ نماز میں خضوع وخشوع کی حالت بنائے رکھو، خدا کے لئے تواضع کرو،اپنے جسم پرخوف وخشوع کی حالت طاری رکھو اور اپنی حالت ایسی بناؤ جیسے کوئی فراری اور گنا ہگا ر غلام اپنے مولا وآقا کی خدمت میں آکر کھڑاہو جاتا ہے اور اپنے دو پیروں کے درمیان (چار انگلیوں کے برابر) فاصلہ دیا کرو ، بالکل سیدھے کھڑ ے ہو اکرو ، دائیں بائیں چہرے کو نہ گھمایاکرو اور یہ سمجھوکہ گویا خدا سے ملاقات کررہے ہو ،اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہومگر وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے۔(۴)
____________________
. ۱)وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ۶٨۵
۲). بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۶١
۳). مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ١٠٣
۴). فقہ الرضا/ص ١٠١
عن النبی صلیه الله علیه وآله :لاصلاة لمن لایتخشع فی قلبه . نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس نمازی کے دل میں خشوع نہیں پایاجاتاہے اسکی نمازقبول نہیں ہے۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جس نمازی کے دل میں خشوع نہیں پایاجاتاہے اسکی نمازقبول نہیں ہے۔(۲)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا ئے عزوجل نے حضرت موسیٰپر وحی نازل کی : اے موسیٰ ! کیا تم جانتے ہو ، میں نے پوری مخلوق سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکلام ہونے کے لئے کیوں منتخب کیا ہے ؟ عرض کیا : پرو درگار ا ! تو نے مجھ ہی کو کیوں منتخب کیا ہے ؟ خدا نے کہا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی لیکن تمھارے علاوہ کسی بھی بندے کو تجھ سے زیادہ متواضع نہ پایا ، کیونکہ اے موسیٰ ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے چہرے کو خاک پر رکھتے ہو۔(۳)
خدا وند متعا ل نے حضرت داو دٔپروحی نازل کی :اے داو دٔ!بہت سے نماز ی ایسے ہیں جو اپنی نماز وں میں خضوع وخشوع رکھتے ہیں اورگر یہ وزاری کرتے ہیں اور رکعتوں کوطول دیتے ہیں ،ان کی یہ طولانی رکعتیں میرے نزد یک ایک فتیلہ(۴) کی بھی قیمت نہیں رکھتی ہیں کیو نکہ جب میں ان کے قلوب پر نگا ہ کر تا ہو ں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل ایسے ہیں کہ اگر نماز سے فراغت پا نے کے بعد کو ئی عورت ت نہائی میں ان سے ملاقات کر ے اوراپنے آپ کو اس نمازی کے حوالے کر دے تو وہ اس عورت پر فر یفتہ ہوجائیں گے اور گنا ہ کبیرہ کا مرتکب ہوجائیں گے اوراگرکسی مومن سے کوئی معاملہ کریں تواس کے ساتھ دھو کااورخیانت کریں گے۔(۵)
____________________
.۱) میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٢
. ۲)میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٢
۳). / من لایحضرہ الفقیہ /ج ٣٣٢
۴)لغت عرب میں فتیلہ اس باریک دھاگے کوکہاجاتاہے جوخرماکی گٹھلی کے درمیان پایاجاتاہے.
. ۵)بحارالانوار/ج ١۴ /ص ۴٣
معصومین اورحضورقلب وخشوع
جب آپ حضورقلب ،خضوع وخشوع کے معنی ومفہوم اوران کی اہمیت سے آگاہ ہوگئے تواسی جگہ پران روایتوں کوبھی ذکرکردینامناسب ہے کہ جن میں معصومین کی طرزنمازاوران کے اخلاص وحضورقلب اورخضوع وخشوع کوذکرکیاگیاہے اوروہ احادیث یہ ہیں: نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے بارے میں آیاہے:
کان النبی صلی الله علیه واله:اذاقام الی الصلاة تربد وجهه خوفامن الله تعالیٰ (۱) جس وقت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازکے لئے قیام کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ متغیرہوجاتاتھا۔
ان النبی صلی الله علیه واله:کان اذاقام الی الصلاة کانّه ثوب ملقی (۲) جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نمازمیں مشغول ہوتے تھے توایسے نظرآتے تھے جیسے گوشہ میں کوئی کپڑاپڑارہتاہے۔
امام علی بن ابی طالب +کے بارے میں روایتوں میں ملتاہے کہ آپ نمازمیں اس قدرحضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے تھے کہ ایک جنگ کے دوران آپ کے پائے مبارک میں تیر پیوست ہوگیا تھااور لوگوں نے تیر کو نکالنے کی کوشش کی مگر تیر ہڈّی میں اس طرح پیوست ہوگیاتھا کہ گوشت وپوست کے کاٹے بغیر تیرکانکالنامحال تھا ،لہٰذا آپ کے فرزندوں نے کہا: اگریہی صورتحال ہے تو صبرکیا جائے اورجب امام (علیه السلام)نمازمیں مشغول ہوجائیں توپائے مبارک سے آسانی سے تیر نکالاجاسکتاہے اورآپ کوخبربھی نہیں ہوگی جب امام (علیه السلام) نماز میں مشغول ہوئے ،توطبیب نے گوشت وپوست کوکاٹ کر یہاں تک کہ ہڈّی کو توڑکر تیرنکالا اورزخم پرمرہم لگاکر پٹّی باندھی ،جب امام(علیه السلام) نماز سے فارغ ہوئے توفرمایاکہ :میرے پیر میں تیرپیوست ہے مگر اسوقت پیر میں کوئی دردوتکلیف محسوس نہیں ہورہی ہے ؟سب نے کہا:نماز کی حالت میں آپ کے پیر سے گوشت وپوست کو کاٹ کر تیر نکالیا گیا، اور آپ کو محسوس بھی نہ ہوا امام (علیه السلام)نے فرمایا : جب میں ذکرویادالٰہی میں مشغول رہتاہوں اگردنیا بھی زیروزبر ہوجائے یا میرے بدن میں تیغ وتبر بھی مارے جائیں تومجھے اپنے پروردگار سے مناجات کی لذت میں کی وجہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔
____________________
. ۱)میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٣
٢)فلاح السائل/ص ١۶١
فلاح السائل میں نقل کیاگیاہے کہ حضرت علیجب نمازکے لئے قیام کرتھے تو آیہ مبارکہ( اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَالسَّمَوٰاتِ وَالْاَرْض وَمَااَنَامِنَ المُشْرکِین ) (۱) (میرارختمامتراس خداکی طرف ہے جس نے آسمانوں کوپیداکیاہے اورمیں باطل سے کنارہ کش ہوں اورمشرکین ) میں سے نہیں ہوںاورزمین کی تلاوت کرتے تھے اورآپ کے چہرہ کارنگ متغیرہوجاتاتھا۔(۲)
امام علیجب نمازپڑھتے تھے توآپ سیدھے ستون کی مانندنظرآتے تھے اوربالکل بھی حرکت نہیں کرتھے اوررکوع وسجودکی حالت میں آپ کے جسم پر پرندہ بھی آکربیٹھ جاتاتھااورامام علی (علیه السلام) وامام زین العابدین +کے علاوہ کوئی بھی رسول اکرم کی حالت نمازکاانعکاس نہیں کرسکتاتھا۔(۳)
امیرالمومنین حضرت علی جس وقت آپ نماز کے لئے قیام کرناچاہتے تھے توخوف خدا میں پورابدن کا نپ جاتاتھااورچہر ے کا رنگ متغیرہوجاتاتھا اور کہتے تھے : بارالٰہا! اس امانت کے ادا کرنے کا وقت آگیاہے ، جس کو سات زمین وآسمان عرضہ کیاگیا اور وہ اس کے تحمل کی قوت نہیں رکھتے تھے۔(۴)
روایت میں آیاہے کہ: ایک شخص نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت آیااورآپ کی خدمت میں دواونٹ بطورہدیہ پیشکئے ، آنحضرت نے فرمایا: من صلی رکعتین ولم یحدث فیہما نفسہ من امورالدنیاغفراللھلہ ذنبہ. جو شخص دورکعت نماز اس طرح پڑھے کہ نماز کسی بھی دنیاوی چیز کی طرف توجہ پیدانہ کرے تو میں ان میں سے ایک اونٹ اسے عطا کردوں گا ،علی ابن ابی طالب+کے علاوہ کوئی بھی شخص آنحضرت کی اس درخواست پرعمل کرنے کوتیارنہ ہوااور رسول خدا (صلی الله علیه و آله) نے دونوں اونٹو ں کو حضرت علی کو عطا کر دئے۔(۵)
حضرت فاطمہ زہرا کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں روایتوں میں آیاہے:
کانت فاطمة سلام الله علیهات نهج فی الصلاة فی خیفة الله تبارک وتعالی حضرت فاطمہ زہرا نماز کی حالت میں خوف خدا میں اس طرح لرزتی تھیں کہ آپ پر ) جاں کنی کی حالت طاری ہو جاتی تھی(۶)
____________________
١)سورہ أنعام /آیت ٧٩
. ٢)فلاح السائل /ص ١٠١
۳). دعائم الاسلام /ج ١/ص ١۵٩
۴). میزان الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٣
۵). میزا ن الحکمة /ج ٢/ص ١۶٣٨
۶)بحارالانوار/ج ٧٠ /ص ۴٠٠
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : میری لخت جگرحضرت فاطمہ دونوں جہاں گذشتہ اورآئندہ کی عورتوں کی سردار ہیں ، وہ جسوقت محراب عبادت میں اپنے پروردگارکے سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو آپ کے چہرہ سے ایک نورساطع ہوتاہے وہ نور آسمان کے ملائکہ کے لئے اسی طرح درخشاں ہو تا ہے جیسے اہل زمین کے لئے ستاروں کا نور چمکتا ہے ،جب یہ نورساطع ہوتاہے توخدا وندعالم اپنے فرشتوں سے کہتاہے : اے میرے فرشتوں!تم ذرا میرے حبیب کی لخت جگرپر نگاہ ڈالو ، میری کنیز وں کی سردار میرے پاس کھڑی ہے اور میرے خوف سے اس کے تمام اعضاء وجوارح لرزرہے ہیں اور خلوص دل سے میری عبادت کررہی ہے ، میں تم فرشتوں کو شاہد قرار دیتا ہوں کہ میں نے ان ) کے تمام شیعوں پر آتشجہنم کو حرام قرار دیتا ہوں۔(۱)
امام زین العابدین کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں چندروایت ذکرہیں:
قال مولاناالصادق علیه السلام :کان علی بن الحسین علیه السلام اذاحضرت الصلاة اِقشعرّجلده ، واصفرّلونه وارتعدکالسعفة .(۲) امام صادق فرماتے ہیں:جب علی ابن الحسین +نمازکے لئے قیام کرتے تھے تو(خوف خدامیں)بدن کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اوررنگ پیلاہوجاتھا اورخرمے کے سوکھے ہوئے درخت کے مانندلرزتے رہتے تھے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال :کان علی بن الحسین علیه السلام صلوات الله علیهمااذ اقام فی الصلاة کانه ساق شجرة لایتحرک منه شی ألاماحرکه الریح منه .( ۳) امام صادق فرماتے ہیں:جب علی ابن الحسین +نمازکے لئے قیام کرتے تھے تو(خوف خدامیں) اس ساقہ دٔرخت کے مانندکھڑے رہتے تھے کہ جس کی کوئی چیزحرکت نہیں کرتی تھی مگروہی کہ جوہواکی وجہ سے ہلتی تھی ۔
ایک روایت میں آیاہے کہ ایک دن حضرت امام زین العابدینکے گھرمیں اگ لگ گئی اورآپ اس وقت نمازمیں اس طرح مشغول تھے کہ آپ کوگ لگنے کااحساس بھی نہ ہوا،جب نمازسے فارغ ہوئے توآپ کوگھر میں آگ لگ جانے کی اطلاع دی گئی توامام (علیه السلام)نے فرمایا:آتش جہنم کی یادنے مجھے اس دنیاوی آگ سے بالکل بے خبرکردیاتھا۔(۴)
____________________
۱)بحارالانوار/ج ٧٠ /ص ۴٠٠.
۲)مستدرک الوسائل /ج ۴/ص ٩٣
۳)کافی /ج ٣٠٠.
۴). تحلیلی اززندگانی امام سجاد/ج ١/ص ٢٨٧
اوردوسری روایت میں آیاہے کہ امام زین العابدین کے بچے اس انتظارمیں رہتے تھے کہ امام (علیه السلام) کب نماز شروع کرتے ہیں تاکہ ہم پورے شوروغل کے ساتھ کھیل کود کرسکیں، بچےّ آپس میں کہتے تھے کہ جب امام (علیه السلام) نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں توخداکی یاد میں اس طرح غرق ہوجا تے ہیں کہ انھیں ہماری طرف کوئی دھیان نہیں رہتا ہے ، چاہے ہم کت ناہی زیادہ شوروغل مچائیں۔(۱)
ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ : میں نے حضرت امام سجاد کو نماز کی حالت میں دیکھا کہ آپ کی عباء دوش مبارک سے نیچے گرگئی اور آپ نے کوئی تو جہ نہ کی ،جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تومیں نے آپ سے پو چھا : نماز کی حالت میں آپ کی عبادوش سے نیچے گر گئی اور آپ نے کوئی توجہ بھی نہیں کی ؟ امام (علیه السلام)نے فرمایا: اے ابوحمزہ ثمالی ! کیا تم نہیں جانتے ہو میں کس کی بارگاہ میں کھڑاتھا ؟ بے شک بندے کی نماز الله کی بارگاہ میں اسی مقدارمیں قبول ہو تی ہے جس مقدار میں نمازی کادل اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گا ۔(۲)
امام صادق کے نمازمیں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے میں روایتوں میں آیاہے: حضرت امام جعفر صادق کے ایک صحابی“حمّادبن عیسیٰ ”سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک دن امام (علیه السلام) نے مجھ سے پوچھا: اے حماد!تم نمازکس طرح پڑھتے ہواورکیااسے پورے آداب وشرائط کے اداکرتے ہو؟ میں نے کہا : اے میرے مولاو آقا ! میں“ حریزبن عبدالله سجستانی ”کی لکھی ہوئی کتاب نمازپڑھتاہوں
امام (علیه السلام)نے فرمایا : یہ کافی نہیں ہے بلکہ تم ابھی اٹھواور میرے سامنے دورکعت نماز پڑھو
حمّاد کہتے ہیں :میں نے امام (علیه السلام) کی فرمائش پر عمل کیا اورامام (علیه السلام)کے حضور میں روبقبلہ کھڑے ہوکر نماز شروع کی ، رکوع وسجود کو انجام دیا اور نماز کو تمام کیا
امام (علیه السلام)نے فرمایا :اے حماد!تم نے نمازاس کے آداب وشرائط کے مطابق نہیں پڑھی ہے اور تعجب ہے کہ تمہاری عمرساٹھ یا ستّر سال ہو گئی ہے اور تم صحیح و مکمل طور سے نماز نہیں پڑھ سکتے ہو!
____________________
۱). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٢١٨ /ص ۶٨
۲) تحلیلی اززندگانی مام سجاد/ج ١/ص ٢٨٧
حمّاد کہتے ہیں : میں امام (علیه السلام)کی یہ باتیں سنکر بہت ہی شرمندہ ہوا اور میں نے امام (علیه السلام)سے عرض کیا : اے میرے مولا آپ پرقربان جاؤں آپ مجھے صحیح اورمکمل نماز کی تعلیم دیجئے
امام صادق اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور روبقبلہ کھڑے ہوئے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں چسپاں کیا اور دستہائے مبارک کومرتب طریقہ سے ران پر رکھا ،دونوں کے درمیا ن چار انگلی کے برابر فاصلہ دیا اور پیروں کی انگلیوں کو روبقیلہ قرار دیا اور خضوع وخشوع کے “الله اکبر”کہہ کر نمازکاآغازکیا،سورئہ حمد و سورئہ“( قُلْ هَوَا لله اَحَد ) ”کو سکون واطمینان کے ساتھ قرائت کیا پھرایک سانس کے برابر صبر کیا اور حرکت کئے بغیر“الله اکبر”کہا ،اسکے بعد رکوع میں گئے ،
رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو زانوپر رکھا اوردونوں زانوبالکل سیدھے تھے اور کمراس طرح سیدھی تھی کہ اگر کمر پر کوئی قطرئہ آب یا روغن گر جاتا تو وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتا تھا اور رکوع میں گردن کو سیدھا رکھا اور آنکھیں بند کر کے تین مرتبہ “سبحان الله”کہا : اسکے بعد“سبحان ربی العظیم و بحمدہ ”کہا ،پھررکوع سے بلند ہو ئے اور اطمینان کے ساتھ “سَمِعَ الله لِمَن حَمِدَہ ” کہا اور دونوں ہاتھوں کو کانوں تک لاکر “الله اکبر ”کہا ،پھر سجد ے میں گئے اور دونوں زانوں کو زمین پر رکھنے سے پہلے دونوں ہا تھوں کو زمین پر رکھا اور سجدے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ بدن کا کوئی حصّہ آپس میں چسپاں نہیں تھا اور آٹھ اعضاء بدن ( پیشانی ،دونوں ہاتھ کی ہتھیلی ،دونوں زانو کے سرے ، دونوں پیرکے انگوٹھے اور ناک کی نوک) کو زمین پر رکھے ہو ئے تھے ، ناک کی نوک کو زمین پر رکھنا مستحب ہے اور بقیہ چیزیں واجب ہیں آپ نے سجدے میں تین مرتبہ “سُبَحَانَ رَبِّیَ الْاَعَلیٰ وبَحَمْدِهِ ”کہا اور سجدے سے سرکو بلند کیا “الله اکبر ”کہا اور بائیں پیرپرزور دیکر بیٹھے اور“اُسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّیْ وَاَ تُوبُ اِلَیهْ ”کہا اور “ا لله اکبر ”کہنے کے بعد دوسرے سجدے میں گئے اور پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجدہ کیا اور سجدے میں کہنیوں کو زمین پر قرار نہیں دیا اور اسی طرح دوسری رکعت پڑھ کرنمازکو تشہدوسلام کے ساتھ تمام کیا ، اور نماز کے بعد فرمایا: اے حمّاد ! نماز پڑھنے کا یہی طریقہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ، پس نماز کی حالت میں ہاتھ، پاؤں ، ڈاڑھی و غیرہ سے کھیل نہ کرو ، اپنی انگلیوں سے بھی کھیل نہ کرو ،اپنے دائیں بائیں نگاہ نہ کرو اور قبلہ کی سمت بھی نگاہ نہ کرو کیونکہ ان کاموں کی وجہ سے نماز میں خضوع وخشوع نہیں پایا جاتا ہے اورجونمازی کے حواس اڑجانے کا سبب واقع ہو تے ہیں
اوردوسری روایت میں آیاہے کہ حضر ت امام مو سیٰ کاظم بچپن میں اپنے وا لد ماجدحضرت امام جعفر صادق کے حضور میں نما ز اداکررہے تھے کہ اس وقت شہر کا ایک متفکراوردانشمند شخص امام (علیه السلام)کی خدمت میں موجود تھا ،اس نے دیکھاکہ یہ فرزند کھُلے ہو ئے درازہ کے سا منے کھڑے ہوکرنماز پٹرھ رہا ہے جو کہ مکر وہ ہے لہٰذاامام صادق سے کہا:آپ کا یہ فرزند کھُلے دروازہ کے سامنے نماز کیو ں پٹرھ رہا ہے ؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا : بہتر ہے کہ آپ اپنے اس سوال کا جواب خود بچّے سے معلوم کریں ! اس عا لم ومتفکر نے بچے کی جانب رخ کیا اور پو چھا ! تم کھُلے دروازے کے سا منے نماز کیوں پٹرھ رہے ہو ؟کمسن بچے(امام کا ظم ) نے جواب دیا :وہ ذات کہ جسکی طرف میں نماز پٹرھتا ہوں وہ اسی درواز ہ سے مجھ سے بہت زیا دہ قریب ہے ۔(۱)
٣۔ایمان
دریامیں کشتی اسی وقت حرکت کرسکتی ہے جبکہ اسے پانی میں مسقرکیاجائے لہٰذاکشتی کوحرکت کرنے کے لئے پانی کی ضرورت ہے ،اگراسے کسی خشک زمین پررکھاجائے تووہ خشکی میں ذرّہ برابر حرکت نہیں کر سکتی ہے، نماز بھی کشتی کے مانند ہے ،نمازی کوچاہئے کہ وہ اللھورسول ،قرآن اورغیب پرایمان رکھتاہو تاکہ اس کی کشتی حرکت کر سکے اوراسے دریاکے دوسری طرف ساحل تک پہنچاسکے،جب تک اس کی نماز اللھورسول ،قرآن ،معاداورغیب پرایمان کے دریامیں قرارنہ پائے اس وقت تک اس کابارگاہ خداوندی میں قبول ہوناغیرممکن ہے۔
اگر دریامیں کشتی کی حرکت کے لئے پانی موجودنہیں ہے توکشتی کے وجودکاکوئی فائدہ نہیں ہے اسی طرح اگرنمازگزارخداورسول ،قرآن ،معاداورغیب پرایمان نہیں رکھتاہے تواس کی وہ نماز کسی بھی کام کی نہیں ہے اورہرگزقبول نہیں ہوسکتی ہے ۔ قرآن کریم کی چندآیتوں میں ایمان اورنمازکوایک ساتھ ذکرکیاگیاہے:
( اِنَّمَایَعْمرُمَسَاجِدَالله مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآ خَراَقَامَ الصَّلٰوةَ ) (۲) الله کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا و آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جنھوں نے نماز قائم کی ہے ۔
( وَالمُو مِنُونَ یُومِنُونَ بِمَا اُنْرِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالَمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَالْمُوْتُوْنَ الزَّکٰوةَ ) وَالْمُوْمِنُوْنَ بَاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اُولٰئِکَ سَنُوتِیْهِمْ اَجْراًعَظِیْماً ) ( ۳)
____________________
۱). ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ١۶ /ص ١٢
۲)سورہ تٔوبہ/آیت ١٨
. ۳)سورہ نٔساء/آیت ١۶٢
اے رسول !مومنین حضرات جوتم پر نازل ہوا ہے یا تم سے پہلے نازل ہو چکاہے ان سب پرایمان رکھتے ہیں اور نماز بھی برگزار کرتے ہیں اورہم عنقریب نماز قائم کر نے والے اور زکات دینے والے اور آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کو اجر عظیم عطاکریں گے۔( اَلَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَوَمَمّارَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُو نَ ) (۱) متقی وپر ہیز گا ر وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز اداکر تے ہیں اور ہم نے جوکچھ رزق ونعمت عطاکی ہیں ان میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔
امام علی ابن ابی طالب “ نہج البلاغہ ” میں نمازاورایمان کوخداسے تقرب حاصل کرنے کاذریعہ قراردیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:انّ افضل ماتوسل به المتوسلوں الی اللهسبحانه وتعالیٰ ،الایمان به وبرسوله واقام الصلاة فانّهاالملة ۔(۲)
بے شک سب سے بہترین شی کٔہ جس کے ذریعہ خدا سے قربت حاصل کیا جاسکتا ہے وہ خدا ورسول پر ایمان رکھنا اور نماز کا قائم کرناہے جو کہ دین کا ستون ہے۔
۴ ۔دلایت
نمازقبول ہونے کی سب سے اہم شرط یہ کہ نمازگزاراپنے دل میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کے علاوہ ان کی آل اطہارکی بھی محبت رکھتاہواوران کے دشمن سے بیزاری بھی کرتاہو،الله کی بارگاہ میں صرف انھیں لوگوں کی نمازقبول ہوتی ہے جوآ ل محمدکی محبت ومودت کے ساتھ نمازاداکرتے ہیں اوراپنے دلوں میں ال رسول کی محبت کاچراغ روشن رکھتے ہیں لیکن اگران کی محبت کاچراغ دل میں روشن نہیں ہے تووہ عبادت بے کارہے اورالله کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ہے،نمازو عبادت اسی وقت فائدہ مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبیت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وولایت کے زیرسایہ انجام دیاجائے ،اہلبیت کی محبت وولایت کے بغیرسب نمازیں بےکارہیں۔
وہ نمازجواس کے تمام ظاہری آداب شرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہو،قبلہ کی سمت رخ کرکے پڑھی گئی ہو،حمدوسورہ قرائت بھی صحیح طرح کی گئی ہو،رکوع وسجودمیں طمانینہ کابھی خیال رکھاگیاہواوردیگرشرائط کوبھی ملحوظ خاطررکھاگیاہویہاں تک خدارسول پرایمان کے ساتھ انجام دی گئی ہو،نمازپڑھنے والامتقی وپرہیزگاربھی ہومگردل میں آل رسول کی محبت نہ پائی جاتی ہوتوہرگزقبول نہیں ہوتی ہے
____________________
. ۱) سورئہ بقرہ آیت ٣
۲)نہج البلاغہ /خطبہ ١١٠
مثال کے طور پر: اگرپولیس والاکسی ڈرائیورسے ڈرائیوری کارٹ طلب کرے لیکن اس ڈرائیورکے پاس ڈرائیوری کارٹ موجودنہ ہوتو وہ پولیس والااسے آگے جانے دے گااورسزاکامستحق قراردے گا،چاہے ڈارئیورلاکھ کہے :جناب پولیس !میں نے ڈرائیوری کے تمام قوانین کی رعایت کی ہے اورکسی طرح کی کوئی غلطی نہیں کی ہے ،میں اپنی لائن پرگاڑی چلارہاتھااورآپ کی یہ بات صحیح ہے کہ میرے پاس ڈرائیوری کارٹ نہیں لیکن میرے پاس شناختی کارٹ موجودہے،پاسپورٹ بھی موجودہے لہٰذاتم ان کاغذات کودیکھ کرمجھے آزادکردیجئے،مگروہ پولیس اس کی ایک بات بھی سنی گی اورکہے گاتھمارے یہ کاغذات یہاں پرکسی کام نہیں آسکتے ہیں مجھے صرف ڈرائیوری کارٹ چاہئے ،اگر تمھارے پاس نہیں ہے توتمھیں سزادی جائے اورآگے سزاملنے کے بعدنہیں جاسکتے ہو علامہ طباطبائی “ تفسیرالمیزان ”میں لکھتے ہیں :اہلبیت اطہار کی محبت وولایت کے بغیرنمازکاکوئی نہیں ہوتاہے اسی لئے ہم لوگ نمازسے پہلے اپنی اذان واقامت میں “اشهدانّ علیّاًولی الله ”اور قرائت نمازمیں( اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم ) اور تشہدمیں درودشریف پڑھتے ہیں اورمحمدوآل محمدمحبت اوران کی ولایت کاثبوت پیش کرتے ہیں اور آئمہ اطہار کی امامت کااقرار کرتے ہیں
ہم لوگ سورہ حٔمدکی قرائت میں( اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم ) کے یہ معنی مرادلیتے ہیں: بارا لہٰا ! تو ہم کو آئمہ کی راہ پرگا مزن رکھ اور ہمیں امامت کے پیرو کاراور دوستدا رولایت میں سے قرار دے اوراس بارے میں امام صادق فرماتے ہیں : صراط المستقیم سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں اور حضرت امام سجاد فرماتے ہیں :“نحن صراط المستقیم ” ہم (آئمہ طا ) ہرین )صراط مستقیم ہیں۔(۱)
تفسیرنمازمیں لکھاہے:جنگ نہروان میں حضرت علی کے مقابلہ میں آنے والے سب لوگ(جنھیں تاریخ اسلام میں خوارج کے نام دیاگیاہے ) بے نمازی نہیں تھے بلکہ ان میں اکثرنمازی وروزے دارتھے اوران کی پیشانیوں پر مکرر اور طولانی سجدوں کی وجہ سے گٹھے پڑے ہو ئے تھے لیکن ان کے دل اہلبیت کی محبت سے خالی تھے اورولایت اہلبیت کے منکر تھے،ان لوگوں نے امام علی ابن ابی طالب کے مقا بلے میں قیام کیا اور آپ کی طرف تلوار یں چلائی(ان لوگوں کی نمازیں ہرگزقبول نہیں ہیں)(۲) ۔
اسی جنگ نہروان میں حضرت علینے جب یہ سناکہ دشمنوں میں ایک شخص ایسابھی ہے جوشب بیدار ی کرتا ہے رات بھر نماز یں پڑھتا ہے ، قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا:
نومٌ علیٰ یقین خیرٌمن صلاة فی شکّ (۳)
____________________
۱)تفسیرالمیزان /ج ١/ص ۴١
.۲)تفسیرنماز/ص ٣٩
. ۳)نہج البلاغہ /کلمات قصار/ش ٩٧ /ص ٣٧۶
اس شخص کا یقین کے ساتھ سونا ان دو قلبی نمازیں پڑھنے سے بہتر ہے یعنی وہ شخص جو الله اوراس کے رسول کومانتاہومگردل میں آل سے دشمنی رکھتاہوتوخداوندعالم اس کی نمازہرگزقبول نہیں کرتاہے بلکہ ایسے شخص کارات میں نمازیں پڑھنے کے بجائے چین کی نیندسونابہترہے۔
جنگ صفین کے بارے تاریخ کے اوراق اٹھاکردیکھیں تویہی معلوم ہوگاکہ دشمنوں نے نیزوں پرقرآن بلندکررکھے اورناطق ومفسرقرآن سے جنگ کرنے آئے تھے ۔ کرب وبلاکی المناک تاریخ کودیکھیں تواس میں بھی ملے گاکہ جولوگ حضرت امام حسین اور ان کی اولاد واصحاب کو شہیدکرنے کے لئے کربلائے معلی میں یزیدی لشکرمیں موجودتھے وہ سب تارک الصلوة نہیں تھے بلکہ ان میں اکثرنمازی تھے اورجماعت کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے،کیاان سب دشمنان اہلبیت کی نمازقبول ہے؟ہرگزنہیں قبول ہے۔ اہلبیت اطہار کی محبت کے بغیرنمازپڑھناایساہی ہے جیسے کوئی بغیرطہارت کے نمازپڑھتاہے ایک ایرانی شاعرکیاخوب کہاہے:
بہ منکر علی بگو نماز خو د قضاکند نمازبے ولائے اوعبادتی است بی وضو
علی (علیه السلام)کی ولایت سے انکارکرنے والے چاہئے کہ اہلبیت رسول کی ولایت کااقراکرتے ہوئے اپنی نمازی کی قضابجالائے کیونکہ علی کی ولایت کے بغیرنمازپڑھنابغیروضوکے نمازپڑھنے کے مانندہے جس طہارت کے بغیرنمازقبول نہیں ہوتی ہے اسی طرح آئمہ اطہار کی ولایت کے بغیربھی نمازقبول نہیں ہوتی ہے ،فقط وہی نمازقبول ہوتی ہے جسپراہلبیت (علیه السلام)کی ولایت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے ولایت اہلیت سے متعلق امام شافعی کاایک مشہور شعرہے:
یا آل رسول الله حبکم فرض من الله فی القرآن انزله کفاکم من عظیم القدرانّکم من لم یصل علیکم لاصلاة له
اے اہلبیت رسالت آپ کی محبت تواس قرآن میں واجب کی گئی ہے جس کوخدانے نازل فرمایاہے اور آپ کی قدرمنزلت کے بارے میں بس اتناجان لیناکافی ہے کہ جوتم پرنمازمیں ) درودنہ بھیجے اس کی نمازہی نہیں ہے ۔(۱)
ابوحازم سے مروی کہ ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین سے معلوم کیا: وہ کو نسی چیز ہے جوبارگاہ رب العزت میں نماز کے قبول ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا :
ولایتناوالبرائة من اعدائنا ہماری ولایت ومحبت اور ہما رے دشمنوں سے اظہارنفرت وبیزاری بارگاہ خداوندی میں ) نمازوں کے قبول ہونے کاسبب واقع ہو تی ہے ۔(۲)
____________________
.۱)ینابیع المو دٔة /ج ٢/ص ٣۴٣ .(صواعق محرقہ باب/ ١١ فصل ١ (
۲)مناقب آل ابی طالب /ج ٣/ص ٢٧۴ (
حضرت امام صادق اس قول خداوندی( اِلَیهِ یَصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُه وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَیِّئَاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ) (۱) (پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلندہوتے ہیں اورعمل صالح انھیں بلندکرتاہے اورجولوگ برائیوں کی تدبیرکرتے ہیں ان کے لئے شدیدعذاب ہے )کے بارے میںفرماتے ہیں:
ولاییتنااهل البیت، فمن لم بتولنالم یرفع الله عملا ۔ جوبھی ہماری ولایت کوقبول نہیں کرتاہے اورہماری رہبری پرسرتسلیم خم نہیں کرتاہے خداوندعالم اس کے کسی بھی عمل کوقبول نہیں کرتاہے۔(۳) اوررسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :
من صلی صلاة ولم یصل علیّ فیهاوعلیٰ اهل بیتی لم تقبل منه ۔(۳)
جو شخص نماز پڑھے اور مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ بھیجے اس کی نماز قبول نہیں ہے۔
عن محمدبن مسلم قال:سمعت ا بٔاجعفرعلیہ السلام یقول:کلّ من دان الله بعبادة ) یجہدفیہانفسہ ولاامام لہ من الله فسعیہ غیرمقبول۔( ١ امام باقر فرماتے ہیں:جوشخص خداپرایمان رکھتاہواورعمدہ طریقہ سے عبادت کرتاہولیکن خداکی طرف سے معین کسی امام صالح کی پیروی نہ کرتاہواس ساری محنت ومشقت بےکارہے اوروہ قبول بھی نہ ہونگی۔(۴)
۵ ۔تقویٰ
نمازقبول ہوے کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نمازگزارگناہ کبیرہ وصغیرہ سے دوری کرتاہو،غیبت سے پرہیزکرتاہو،والدین کے حکم کی نافرمانی نہ کرتاہو،مال حرام نہ کھاتاہو،شراب ومسکرات کااستعمال نہ کرتاہو،اپنے دینی بھائیوں سے بغض وحسدنہ کرتاہو،مرداپنی بیوی کواوربیوی اپنے شوہرکواذیت نہ کرتے ہوں،اپنے ہمسایہ کے لئے رنج واذیت کاباعث نہ ہو،ظام وجابرشخص کی ہمایت نہ کرتاہو،وغیرہ وغیرہ ۔
____________________
. ۱)سورہ فاطر/آیت ١٠ )
۲)الکافی /ج ١/ص ۴٣٠
. ۳)الغدیر(علامہ امینی)/ج ٢/ص ٣٠۴
۴)کافی /ج ١/باب معرفت امام (علیه السلام).
خداوندعالم انسان کے ظاہری عمل کونہیں دیکھتاہے بلکہ اس کے تقویٰ پرہیزگاری کونظرمیں رکھتاہے اب اگرکوئی شخص اپنے دل میں ریاکاری کاقصدرکھتے ہوئے اپنے مال سے خمس نکالے یا اسے لوگوں کے درمیان خیرات کرے یاکسی دوسرے کامال چوری کرکے خمس نکالے یاغریبوں میں تقسیم کرے یہ کام الله کے نزدیک قبولیت کادرجہ نہیں رکھتے ہیں اورنہ ایسے کاموں پروہ شخص کسی اجروثواب کاحق رکھتاہے بس اسی طرح اگرکوئی شخص نمازبھی پڑھتاہے اورگناہوں کابھی مرتکب ہوتاہے ،اپنے ماں باپ کے ساتھ گرم مزاجی سے کلام کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،عزیزواقارب کے ساتھ صلہ رحم نہیں کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،عورت اپنے شوہرکی درآمدسے فائدہ اٹھاتی ہے مگراس کے ساتھ تمکین نہیں کرتی ہے ،اس کی اجازت کے بغیرگھرسے باہرقدم نکالتی ہے یااپنی زبان وغیرہ سے اسے اذیت کرتی ہے اورنمازبھی پڑھتی ہے،یاشوہراپنے زوجہ کے ساتھ بدسلوکی کرتاہے،اسے آزارواذیت دیتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،یاانسان کسی دوسرے کی غیبت کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے،کسی دوسرے پرظلم وستم بھی کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے ،غیبت بھی کرتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے دوسروں کی ناموس کوبری نگاہ سے دیکھتاہے اورنمازبھی پڑھتاہے یاکسی معصوم (علیه السلام)کی قبرمطہر کی زیارت کرتاہے خداایسی نمازوزیارت کوہرگزقبول نہیں کرتاہے پس صاب تقویٰ وپرہیزگارہونادینداری کی پہچان ہے جیساکہ امام رضا فرماتے ہیں: لادینَ لِمن لاوَرَع لہ۔ ) جوشخص ورع وتقویٰ نہ رکھتاہووہ دین بھی نہیں رکھتاہے۔(۱)
نمازقبول نہ ہونے کے اسباب
ایساہرگزنہیں ہے کہ دنیامیں جت نے بھی نمازی ہیں ان سب کی نمازیں بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہیں بلکہ نمازقبول ہونے کچھ ظاہری آداب ہیں اورقلبی آداب ہیں اب جولوگ ظاہری آداب کے علاوہ قلبی آداب کی بھی رعایت کرتے ہیں خداوندعالم ان نمازوں کوقبول کرتاہے لیگن وہ لوگ کہ جن کی نمازیں بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ہوتی ہیں اورانھیں اپنی نمازوں سے الله سے دوری اوراٹھ بیٹھ لگانے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتاہے ،پس کچھ چیزیں ایسی ہیں جوانسان کی نمازوعبادت کے قبول نہ ہونے کاسبب واقع ہوتی ہیں اورچیزیں کہ جنھیں معصومین نے عدم قبولیت نمازوعبادت کاسبب قراردیاہے یہ ہیں :
____________________
. ۱)کمال الدین وتمام النعمة /ص ٣٧١
١۔ولایت اہلبیت کامنکرہونا
وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں اہلبیت کی محبت کاچراغ دل میں روشن نہیں رکھتے ہیں توان کی نمازوعبادت ہرگزقبول نہیں ہوتی ہے ،نمازو عبادت اسی وقت فائدہ مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبیت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وولایت کے زیرسایہ انجام دیاجائے ،اہلبیت کی محبت وولایت کے بغیرسب نمازیں بےکارہیں۔
وہ نمازجواس کے تمام ظاہری آداب شرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہو،قبلہ کی سمت رخ کرکے پڑھی گئی ہو،حمدوسورہ قرائت بھی صحیح طرح کی گئی ہو،رکوع وسجودمیں طمانینہ کابھی خیال رکھاگیاہواوردیگرشرائط کوبھی ملحوظ خاطررکھاگیاہویہاں تک خدارسول پرایمان کے ساتھ انجام دی گئی ہومگراس نمازپراہلبیت کی محبت کی مہرلگی ہو تووہ نمازقبول ہوسکتی ہے چاہے نمازکو کت ناہی خضوع وخشوع کیوں انجام دیاگیاہومگراہلبیت اطہار کی محبت دل نہ ہوتووہ نمازبیکارہے۔
نمازقبول ہونے کے شرائط میں ولایت کوذکرچکے ،ہم نے وہاں پرولایت کے بغیرپڑھی جانے والی کوباطل قراردئے جانے احادیث کوذکرکیاہے اورشافعی کاوہ مشہورشعربھی ذکرکیاہے کہ جس میں انھوں نے صاف طورسے اہلبیت رسول کی محبت کے بغیر پڑھی جانے والی نمازغیرمقبول قراردیاہے لہٰذامطلب کوتکرارکرنے کی ضرورت نہیں ہے
٢۔والدین کی اطاعت نہ کرنا
وہ لوگ جواپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہیں،ان کاادب احترام نہیں کرتے ہیں اوراپنے والدین کے لئے اذیت کاباعث ہوتے ہیں قرآن کریم میں چندآیات کریمہ میں جہاں الله کی اطاعت کاحکم دیاگیاہے اسی کے فورابعدوالدین کے بھی مقام کوبیان کیاگیاہے یہاں تک کہ والدین کواف تک کہنے سے سختی کے ساتھ منع کیاگیاہے:
( وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَاتَعْبُدُوْااِلَّااِیَّاهُ وَبِالْوِالِدَیْنِ اِحْسَانًااِمَّایَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُهُمَااَوْکِلَاهُمَافَلَاتَقُلْ لَهُمَااُفٍّ وَّلَات نهَرْهُمَاوَقُلْ لَهُمَاقَوْلًاکَرِیْمًاوَاخْفِض لَْهُمَاجَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَاکَمَارَبَّیٰنِیْ صَغِیْراً )
تمھارے پروردگارفیصلہ یہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی عبادت نہ کرنااورماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤکرنااوراگران دونوں میں سے کوئی ایک یادونوں بوڑھے جائیں توخبرداران سے اف بھی نہ کہنااورانھیں جھڑکنابھی نہیں اوران سے ہمیشہ شریفانہ گفتگوکرتے رہنا،اوران کے حق میں دعاکرتے رہناکہ پروردگاران دونوں پراسی طرح رحمت نازل فرماجس طرح کہ انھوں نے بچپنے میں مجھے پالاہے۔(۱)
____________________
. سورہ أسراء /آیت ٢٣ ۔ ٢۴
اوراحادیث میں بھی والدین کی نافرمانی کرنے کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے خداوندعالم ایسے لوگوں کی کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من نظرالی ابویه نظرماقت وهماظالمان له لم یقبل له صلاته ۔(۱)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں :ہر وہ شخص جو دشمن اور بعض وکینہ کی نظروں سے اپنے ماں باپ کی طرف نگاہ کرتاہے ،خداوندعالم ایسے شخص کی نماز ہر گز قبول نہیں کرتا ہے ، خواہ اس کے والدین نے اپنے فرزند پر ظلم وستم ہی کیوں نہ کئے ہوں۔
٣۔چغلخوری کرنا
وہ لوگ جودوسروں کی غیبت کرتے ہیں ،دوسروں کے پوشیدہ عیوب سے پردہ اٹھاتے ہیں توخداان کی کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے اورجب تک صاحب غیبت اسے معاف نہیں کردیتاہے خدابھی معاف نہیں کرتاہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله :من اغتاب مسلماًا ؤمسلمة لم یقبل الله صلاته ولاصیامه اربعین یوماًولیلة الّاان یغفرله صابه ۔(۲)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:اگرکوئی مسلمان مردیاعورت کسی دوسرے مسلمان کی غیبت کرے توخداوندعالم چالیس روزتک اس کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے مگرکہ جسکی غیبت کی گئی ہے وہ اسسے راضی ہوجائے اوراسے معاف کردے ۔
۴ ۔مال حرام کھانا
وہ لوگ جودوسروں کامال کھاتے ہیں خدوندعالم ان کی نمازقبول نہیں کرتاہے، خواہ مال کو چوری کیاگیاہویاغصب کیاگیا،یاکسی جگہ پڑاہوامل گیاہو ہوچاہے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :
اَلْعِبَادَةُ مَعَ اَکْلِ الْحَرَامِ کَاْ لبِنَاءِ عَلیَ الرَّ مْلِ.
مال حرام کھانے والے لوگوں کی عبادت ریگ پر گھر تعمیر کرنے کے مانند ہے ۔(۴)
____________________
. ۱)کافی /ج ٢/ص ٣۴٩
.۲)خصال شیخ صدوق /ص ١٢٣
. ۳)بحارالانوار/ج ٨١ /ص ٢۵٨ )
۵ ۔نمازکوہلکاسمجھنا
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہو سکتا ہے کہ ایک مرد کی عمرپچاس ہوگئی ہے مگر خدا نے ابھی تک اس کی ایک بھی نماز قبول نہیں کی ہے ، خدا کی قسم تم بھی اپنے بعض دوست اور عزیرو ہمسایہ کو جانتے ہیں کہ اگر وہ تمھارے لئے نماز پڑھیں تو ہر گزان کی نماز قبول نہیں کرو گے کیونکہ انھوں نے بے توجہّی کے ساتھ میں نمازپڑھی ہے جب تم اس نماز کو قبول نہیں کر سکتے ہو تو خداکیسے قبول کر سکتاہے جنکو انسان ہلکا اور آسان سمجھ کر انجام دیتا ہے؟۔
۶ ۔شراب ومسکرکااستعمال کرنا
عن ابی عبدالله علیہ السلام قال:من شرب الخمرلم یقبل الله لہ صلاة اربعین یوما. امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص شراب پیتاہے خداوندعالم چالیس روزتک اس کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے ۔(۱)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال: من شرب مسکرا لم تقبل منه صلاته اربعین یوما فان مات فی الاربعین مات میتة جاهلیة ، وان تاب تاب الله عزوجل علیه .
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص مسکرات کااستعمال کرتاہے چالیس روزتک اس کی قبول ہونے سے رک جاتی ہے ،اگروہ ان چالیس روزکے درمیان انتقال کرجائے توجاہلیت کی موت مرتاہے ،ہاں اگروہ توبہ کرتاہے توخداوندعالم اس توبہ قبول کرلیتاہے ۔(۲)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال: مدمن الخمریلقی الله کعابدوثن .
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص شراب ونشے کے عالم میں خداسے ملاقات کرتاہے اوراس کی عبادت کرتاہے وہ بت پرست کے مانندہے ۔(۳)
____________________
.۱) کافی /ج ۶/ص ۴٠١ ۔تہذیب الاحکام /ج ٩/ص ١٠٧
۲)کافی/ج ۶/ص ۴٠٠
۳). کافی /ج ۶/ص ۴٠۴
حسین ابن خالدسے مروی ہے:میں نے امام رضاسے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی اس حدیث کے بارے میں پوچھاکہ جسمیں انحضرت فرماتے ہیں:انّ من شرب الخمرلم یحتسب صلاته اربعین صباحاً.
شراب پینے والے شخص کی چالیسشبانہ روزتک کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے امام (علیه السلام)نے جواب دیا:یہ حدیث صحیح ہے ،میں نے کہا:شرابی کے چایس روزکیوں معین کئے گئے ہیں ،اس سے کم یازیادہ کیوں نہیں؟امام (علیه السلام) نے جواب دیا: کیونکہ خداوندعالم نے انسان کے لئے چالیس روزمعین کررکھے ہیں،جب انسان کانطفہ رحم مادرمیں قرارپاتاہے توچالیس تک نطفہ رہتاہے اس کے بعدچالیس روزتک علقہ رہتاہے ،پھرچالیس روزتک مضغہ رہتاہے اسی طرح شرابخورکے منہ سے بھی چالیس روزتک شراب کی بدبوباقی رہتی ہے لہٰذاچالیسروزتک اس کی کوئی بھی نمازقبول نہیں ہوتی ہے۔(۱)
٧۔حاقن وحاقب
عن اسحاق بن عمار ، قال : سمعت اباعبدالله علیہ السلام یقول : لاصلاة لحاقن ولالحاقب ولالحاذق والحاقن الذی بہ البول ، والحاقب الذی بہ الغائط والحازق بہ ضغطة الخف اسحاق ابن عمارسے مروی ہے کہ امام صادق فرماتے ہیں:حاقن وحاقب اورحاذن کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے ، حاقن وہ شخص کہ جوپیشاب کوروکے رکھے،حاقب وہ شخص کہ جوغائط کوروکے رکھے ،اورحازق اس شخص کوکہتے ہیں جودونوں پیروں کوایک دوسرے سے ملائے رکھے ۔(۲)
٨۔ خمس وزکات نہ دینا
قرآن کریم میں متعددآیتوں میں زکات اداکرنے کو قیام نماز کے پہلو میں ذکر کیا گیا ہے: سورہ بٔقرہ /آیت ١١٠ ۔ ۴ ٣ ۔ ٢٧٧ حج/ ۴ ١ ۔ ٧٨ توبہ/ ١١ ۔ ١٨ ۔ ٧١ ۔ مائدہ / ۵۵ نمل/ ٣. لقمان/ ۴ مریم/ ٣١ ۔ ۵۵ انبیاء/ ٧٣ نساء/ ٧٧ ۔ ١ ۶ ٢ نور/ ۵۶ بینہ/ ۵. اوران آیتوں کے علاوہ بعض دیگر آیتوں میں نمازکوانفاق کے ساتھ ذکرکیاگیاہے۔
اور متعدد احادیث میں آیا ہے کہ جولوگ اپنے مال سے زکات نہیں نکالتے ہیں ان کی نماز قبول نہیں ہو تی ہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لاتقبل الصلاة الّابالزکٰوة ۔(۳) رسول خدا (صلی الله علیه و آله) فرما تے ہیں : زکات اداکئے بغیر نماز قبو ل نہیں ہے۔
____________________
. ۱)علل الشرایع /ج ٢/ص ٣۴
.۲) معانی الاخبار/ص ٢٣٧
۳)منہج الصادقین /ج ۶/ص ٢٠٣
٩۔گناہ ومنکرات کوانجام دینا
عَنِ النّبِی صلّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ اَنّهُ قَالَ:لاصلاة لمن لم یطع الصلوة وطاعة الصلوة ان ینتهی عن الفحشاء والمنکر ۔(۱)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : جو شخص مطیع نماز نہ ہو اس کی نمازہی نہیں ہے اور گناہوں ومنکرات سے دوری اختیا ر کرنے کواطاعت نماز کہاجاتا ہے۔
عَنِ النّبِی صلّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ اَنّهُ قَالَ:مَن لَم ت نهه صَلاتَهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِلَم یَزِدْمِن اللهِ اِلّابُعداً ۔(۲)
جس کی نمازاسے بدی ومنکرات سے دورنہیں رکھتی ہے اسے اللھسے دوری کے علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتی ہے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال: من احب ان یعلم ا قٔبلت صلاته ا مٔ لم تقبل فلینظرهل منعته صلاته عن الفحشاء والمنکرفبقدرمامنعته قبلت منه ۔(۳)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں: اگر کوئی دیکھنا چا ہتا ہے کہ اس کی نماز بارگاہ خدا وندی میں قبول ہوئی ہے یا نہیں تو اس چیز کودیکھے کہ اس کی نمازنے اسے برے کام اور گنا ہوں سے دور رکھا ہے یانہیں کیو نکہ جس مقدا ر میں وہ نماز کی وجہ سے گنا ہوں سے دور رہتا ہے اسی مقدارکے مطابق اس کی نمازبار گاہ باری تعالیٰ میں قبول ہوتی ہے ۔
١٠ ۔مومنین سے بغضوحسدرکھنے والے
بہت سے نمازی ایسے بھی جومتقی وپرہیزگارلوگوں سے اس وجہ سے بغض وحسدرکھتے ہیں وہ لوگوں کے درمیان عزّت وشرف اورمقبولیت کیوں رکھتے ہیں اورہم کیوں نہیں رکھتے ہیں لہٰذااس سے دشمنی کرتے ہیں،ایسے لوگوں کے بارے میں خداوندعالم حدیث قدسی میں حضرت داؤد سے ارشادفرماتاہے:
____________________
. ۱)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢
۲)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢
۳)تفسیرنورالثقلین /ج ۴/ص ١۶٢.
وربماصلی العبدفاضرب بهاوجهه واحجب عنی صوته ،ا تٔدری مَن ذلک ؟یاداو دٔ!ذاک الّذی یکثرالالتفات الی حرم المومنین بعین الفسق وذاک الّذی یُحدّث نفسه اَنْ لووُلّیَ ا مٔراًلضرب فیه الرقاب ظلماً ۔
کت نے بند ے ایسے ہیں کہ جو نماز پڑھتے ہیں مگران کی نماز وں کو انھیں کے منہ پہ مار دیتاہوں اور اپنے اوراس کی نماز و دعاکی آواز کے درمیان ایک پر دہ ڈالدیتا ہوں ، اے داو دٔ ! کیا تم جانتے ہو وہ بند ے کون ہیں ؟اے داؤ د سنو!یہ وہ نمازی ہیں جو مو من بندوں کی عزّ ت وشرف وعصمت کو جرم و گنا ہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خود سے کہتے ہیں : اگر مجھ میں ہمت و قدرت پیدا ہو گئی تو ظلم و جفا کے سا تھ ان لوگوں کی گرد نیں کاٹ کررکھ دوں گا ۔
قابیل اپنے بھائی سے بغض وحسدرکھتاتھاکہ جس کے نتیجہ میں خدانے اس کی قربانی کوقبول نہیں کیا،خداوندعالم قرآن کریم میں حضرت آدمکے ان دونوںفرزندکی داستان اس طرح بیان کرتاہے:
( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْقَرََّبَاقُرْبَانًا ، فَتَقَبَّلَ مِنْ اَحَدِهِمَاوَلَمْ یَتَقَبَّلُ مِنَ الاٰخَرِ، قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنّمَایَتَقَبَّلُ اللهَ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ )
پیغمبر!آپ ان کوآدم کے دونوںفرزندوں کاسچاقصہ پڑھ کرسنائیےکہ جب دونوں نے راہ خدامیں قربانی پیش کی توہابیل کی قربانی قبول ہوگئی اورقابیل کی قربانی ردکردی گئی توشیطان نے قابیل کے دل میں حسدآگ بھڑکادی اورقابیل نے ہابیل سے کہا:میں تجھے قتل کردوں گا،ہابیل نے جواب دیا:میراکیاقصورہے خداصرف صاحبان تقویٰ کی اعمال قبول کرتاہے۔(۱)
١١ ۔موذی عورت ومرد
وہ عورتیں جواپنے شوہرکے لئے اذیت کاباعث ہوتی ہیں،اورہ وہ عورت جواپنے شوہرکے لئے عطروخوشبوکااستعمال نہیں کرتی ہے اورجب کسی شادی ومحفل میں جاتی ہے یاگھرپہ کوئی مہمان آتاہے توخوشبوکااستعمال کرتی ہے اورعمدہ لباس پہنتی ہے مگراپنے شوہرکے لئے ایساکچھ نہیں کرتی ہے توخداوندعالم اس کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے ،اگرایساکرتاہے تویہی حکم اس کابھی ہے
امام صادق فرماتے ہیں:وہ عورت جو(بسترپہ )سوجائے اوراس کاشوہراس سے برحق ناراض ہوتوخداوندعالم اس عورت کی کوئی جب تک اس شوہراس سے راضی نہ ہوجائے کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے اوروہ عورت کہ جواپنے شوہرکے علاوہ کسی دوسرے کے لئے خوشبولگائے توخداوندعالم ایسی عورت کی بھی کوئی نمازاس وقت تک قبول نہیں کرتاہے جب تک وہ اس خوشبوکاایسے غسل نہیں کرلیتی جس طرح جنابت کاغسل کرتی ہے(۲)
____________________
.۱) سورہ مٔائدہ /آیت ٢٧
.۲)۔من لایحضرہ الفقیہ/ج ٣/ص ۴۴٠ / کافی /ج ۵٠٧
اوراسی طرح وہ مردجواپنی زوجہ کواذیت کرتے ہیں، خداوندعالم ان عورت مرودوں کی نمازیں قبول نہیں کرتاہے جیساکہ روایت میں آیاہے:
رسول خدا (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : وہ عورت جو اپنے شوہر کواذیت پہنچاتی ہے ،خداوندعالم ایسی عورت کی کوئی نمازاورنیک عمل اس وقت قبول نہیں کرتاہے جب تک وہ اپنے شوہرکوراضی نہیں کرلیتی ہے ،خواہ وہ ایک زمانے تک روزے رکھے اورراہ خدامیں جہادکرے اورراہ خدامیں کت ناہی مال خرچ کرے ،ایسی عورت کوسب سے جہنم میں ڈالاجائے ، اس کے بعدرول اکرم (صلی الله علیه و آله)ے نے فرمایا:مردکابھی یہی حکم ہے اوراس کابھی یہی گناہے ۔(۱)
١٢ ۔ہمسایہ کواذیت پہنچانا
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے زمانے میں ایک مسلمان خاتوں جوروزانہ روزے رکھتی تھی اور رات بھر نماز وعبادت کرتی تھی لیکن بہت زیادہ بداخلاق تھی اور اپنی زبان سے ہمسایوں کو آزار واذیت پہنچاتی تھی
ایک دن لوگوں نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے کہا: یا رسول الله! فلاں عورت دنوں میں روزہ رکھتی ہے ،راتوں میں نماز وعبارت میں مشغول رہتی ہے لیکن اس میں ایک عیب یہ پایاجاتاہے کہ وہ بد اخلاق ہے اوراپنی زبان سے پڑوسیوں کواذیت پہنچاتی ہے تورسول اکرم نے فرمایا:
لَاْخَیْرَفیها،هِیَ مِنْ اَهْلِ النار ۔
ایسی عورت کے لئے کو ئی خیر و بھلائی نہیں ہے اوراہل جہنم ہے اس بعدلوگوں نے کہا:ایک فلاں عورت ہے جو(فقط)پنجگانہ نمازیں پڑھتی ہے اور(فقط)ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھتی ہے اوراپنے پڑوسیوں کواذیت بھی نہیں پہنچاتی ہے تورسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:
هی من اهل الجنة.
وہ عورت اہل بہشت ہے۔(۲)
____________________
.۱) وسائل الشیعہ /ج ١۴ /ص ١١۶
.۲) مستدرک الوسائل/ج ٨/ص ۴٢٣
امام علی رضافرماتے ہیں :خداوندعالم نے تین چیزوں کوتین چیزوں کے ساتھ بجالانے کاحکم دیاہے:
١۔ نمازکوزکات کے ساتھ اداکرنے کاحکم دیاہے، پس جوشخص نمازپڑھتاہے اورزکات نہیں نکالتاہے اس کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے.
٢۔ خدانے اپناشکربجالانے کووالدین کاشکراداکرنے کے ساتھ حکم دیاہے ،پس جوشخص والدین کاشکرنہیں کرتاہے جب بھی خداکاشکرکرتاہے خدااس کاشکرقبول نہیں کرتاہے ۔ ٣۔ تقویٰ اورپرہیزگاری کوصلہ رحم کے ساتھ حکم دیاہے پس جوشخص صلہ رحم نہیں ) کرتاہے خدااس کے تقویٰ وپرہیزگاری کوقبول نہیں کرتاہے۔(۱)
حضرت امام صادق سے مروی ہے :رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:آٹھ لوگوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتی ہیں:
١۔ وہ غلام جواپنے مالک سے فرارہوگیاہوجب تک وہ اپنے مولاکے پاس لوٹ کرنہیں آتاہے اس کی کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے
٢۔ وہ عورت جوکہ ناشزہ ہے اوراس کاشوہراس پرغضبناک رہتاہے۔
٣۔ جولوگ زکات ادانہیں کرتے ہیں۔
۴ ۔جولوگ بغیروضوکے نمازپڑھتے ہیں۔
۵ ۔وہ بچّیاں جوسرچھپائے بغیرنمازپڑھتی ہیں۔
۶ ۔ وہ شخص کہ جولوگوں کے لئے امامت کے فرائض انجام دے مگرمومنین اسے پسندنہ کرتے ہوں اوراس امام سے کوئی رغبت نہ ر کھتے ہوں (لیکن وہ امام جماعت اپنی عزّت وآبرو کی وجہ سے مسجد کو ترک کرنے کے لئے حاضر نہ ہوجسکانتیجہ یہ ہوگاکہ ہرزوزمسجد میں آنے والے مومنین کی تعداد کم ہوتی جائے گی اور ایک دن وہ بھی آجائے گا کہ مسجد میں اس کے پیچھے کے لئے کوئی شخص نہیں آئے )۔
٧۔ ٨۔ زبین لوگ:نبی اکرمسے پوچھاگیا:یارسول اللھیہ کون لوگ ہیں ؟آنحضرت نے جواب دیا: وہ لوگ جو نماز کی حالت میں اپنے پیشاب وپاخانہ یا ریح کو روکے رکھتے ہیں( جس کی وجہ سے جسمانی امراض پیداہوجاتے ہیں ،یہ کام جسم کی سلامتی کوخطرہ میں ڈالنے کے علاوہ نماز کے تمرکز کو بھی خراب کردیتے ہیں اور نماز میں حضورقلب بھی نہیں پایاجاتا ہے )یہ ) آٹھ لوگ ہیں کہ جن کی نمازیں قبول نہیں ہوتی ہیں ۔(۲)
____________________
. ۱)خصال (شیخ صدوق) /ص ١٢٣
۲)معانی الاخبار(شیخ صدوق)/ص ۴٠۴
حضرت امام صادق فرماتے ہیں :چارلوگوں کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے: ١۔ظالم وستمکارپیشوا ۔ ٢۔وہ مردجوکسی گروہ کی امامت کرتاہواوروہ لوگ اسے پسندنہ کرتے ہوں ٣۔وہ غلام جوبغیرکسی عذرومجبوری کے اپنے آقاسے فرارہوگیاہو۔ ۴ ۔وہ عورت جواپنے شوہرکی اجازت کے گھرسے باہرجاتی ہو۔
حضرت امام صادق فرماتے ہیں :تین لوگوں کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے:
١۔ وہ غلام جواپنے مالک سے فرارہوگیاہو،جب تک وہ لوٹ کراپنے ہاتھوں کواپنے مولاہاتھوں پہ نہیں رکھ دیتاہے اس کی کوئی نمازفبول نہیں ہوتی ہے
٢۔ وہ عورت جو(بسترپہ)سوجائے اوراس کاشوہراس سے ناراض ہو
٣۔ وہ شخص جوکسی جماعت کی امامت کررہاہواوروہ لوگ اسے پسندنہ کرتے ہوں(۱)
ترک نماز
کسی بھی حال میں نمازکاترک کرناجائزنہیں نمازکی اہمیت اوراس کے فضائل وفوائداوراس کے واجب ہونے کے بارے میں ذکرکی گئی آیات قرآنی واحادیث معصومین سے یہ ثابت ہوتاہے کہ کسی بھی حال میں اس کاترک کرناجائز نہیں ہے اورجس صورت میں ممکن ہوسکے اورجس مقدارمیں بھی ممکن ہوسکے نمازپڑھی جائے اورانسان جس طرح سے مضطرہوتاجائے اسی کے اعتبارسے نمازمیں بھی تخفیف ہوتی ہوتی رہے ۔
عبدالرحمن ابن ابی عبداللھسے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے دریافت کیا:اگرآپ سواری حالت میں ہیں یاپیدل ہیں اورکسی چیزکاخوف ہے توکس طرح نمازپڑھیں گے ؟اورمیں نے پوچھا: اگرکسی کوچوریادرندہ کاخوف ہے تووہ کسی طرح نمازپڑھے ؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:
یکبرویومی براسه ایماء
وہ شخص تکبیرکہے اوراپنے سرکے اشارے سے نمازپڑھے۔(۲)
____________________
۱).۵/ کافی /ج ۵٠٧
۲). تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ٣٠٠
اگرکوئی شخص کسی درندہ وغیرہ کے چنگل میں پھنسجائے گیاہے اورنمازکاوقت بھی ہوتو اس صورت میں بھی نمازکاترک کرناجائز نہیں ہے بلکہ حسب امکان نمازکاپڑھناواجب ہے خواہ آنکھوں کے اشارہ ہی سے نمازپڑھے لیکن نمازکاترک کرناجائزنہیں ہے۔ روایت میں آیاہے کہ علی ابن جعفر (علیه السلام)نے اپنے بھائی امام موسیٰ کاظم سے دریافت کیا: اگر کوئی شخص کسی حیوان درندہ کے چنگل میں گرفتار ہوجائے اور بالکل بھی حرکت نہ کرسکتا ہو اور نماز کا وقت پہنچ گیا ہواوروہ اس درندہ کے خوف کی وجہ سے بالکل بھی حرکت نہ کرسکتاہو،اگروہ کھڑے ہوکرنمازپڑھے تورکوع وسجودکی حالت میں اس کااورزیادہ خطرہ ہے اوروہ شخص سمت قبلہ بھی نہ ہواب اگروہ اپنے چہرے کوقبلہ کی سمت کرے توپھربھی خطرہ ہے کہ وہ درندہ پیچھے سے حملہ کردے گاتواس صورت میں وہ شخص کیاکرے اورکسی طرح نمازپڑھے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:یصلی ویومی راسه ایماء وهوقائم وان کان الاسدعلی غیرالقبلة. ایسے موقع پر اس شخص کا وظیفہ یہ ہے کہ کھڑے ہوکرنمازپڑھے اورسرکے ذریعہ رکوع وسجودکی طرف اشارہ کرتارہے خواہ وہ شیرپشت بہ قبلہ ہی کیوں نہ ہو۔(۱) سماع ابن مہران سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے دریافت کیا:وہ شخص جومشرکین کے ہاتھوں گرفتارہوجائے اورنمازکاوقت پہنچ جائے اوراسے خوف ہوکہ یہ مشرک مجھے نمازنہیں پڑھنے سے منع کریں گے تووہ کیاکرے اورکس طرح نمازپڑھے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا:
یومی ایماء . وہ شخص فقط شارہ سے نمازپڑھے۔(۲)
قال ابوعبدالله علیه السلام:من کان فی مکان لایقدرعلی الارض فلیو مٔ ایماء . اما م صادق فرماتے ہیں:اگرکوئی کسی جگہ میں گرفتارہوجائے وہ زمین پرنہ ٹھہراہوبلکہ (پانی غرق ہورہاہویاصولی پرلٹکاہو)تووہ اشارہ سے نمازپڑھے۔(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :مریض شخص کوچاہئے کہ کھڑے ہوکر نمازپڑھے اوراگرکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتاہے توبیٹھ کرنمازپڑھے ،اگربیٹھنے سے بھی مجبورہے تودائیں کروٹ لیٹ کرنمازپڑھے اوراگردائیں کروٹ نہ لیٹ سکتاہو توبائیں کروٹ لیٹ کر نمازپڑھے اوربائیں کروٹ بھی نہیں لیٹ سکتاہے توسیدھالیٹ کرنمازپڑھے اوراپنے چہرے کوقبلہ کی سمت رکھے اور(رکوع سجودوغیرہ کواشارہ کے ذریعہ انجام دے )جب سجدہ کے لئے اشارہ کرے توجت نااشارہ رکوع کے لئے کیاتھااسسے تھوڑازیادہ اشارہ کرے۔(۴)
____________________
. ١)کافی/ج ٣/ص ۴۵٩
۲)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ۴۶۴
۳) تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ١٧۵
. ۴)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٣۶٢
امام صادق فرماتے ہیں:مریض شخص کوچاہئے کہ کھڑے ہوکر نمازپڑھے اوراگرکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتاہے توبیٹھ کرنمازپڑھے ،اگربیٹھنے سے بھی مجبورہے تولیٹ کرنمازپڑھے،تکبیرکہے اورقرائت کرے ،جب رکوع کرنے کاراداہ کرے تواپنی آنکھوں کوبندکرے اورتسبیح کرے ،جب تسبیح کرلے توآنکھوں کوکھولے جورکوع سے بلندہونے کااشارہ ہے اورجب سجدہ کرنے کاارادہ کرے توآنکھوں کوبندکرے اورتسبیح کرے اس کے بعدآنکھوں کوکھولے جوسجدہ سے سربلندکرنے کااشارہ ہے (گویاہررکعت کواشارہ سے پڑھے )اس کےبعدتشہدوسلام پڑھے اورنمازکوتمام کرے ۔(۱)
عمربن اذینہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کی خدمت میں ایک خط لکھااورپوچھاکہ اس مرض کی حدکیاہے کہ جس کی وجہ سے انسان روزہ کوافطارکرسکتاہے اوروہ مرض کہ جس کی وجہ انسان کھڑے ہوکرنمازپڑھنے کوترک کرسکتاہے اس کی حدکیاہے؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:
بل انسان علیٰ نفسه بصیرة،ذاک هوا عٔلم بنفسه ۔
)اس کی کوئی حدنہیں ہے بلکہ)ہرانسان اپنے نفس کے بارے میں خودجانتاہے اورمرض کیمقدارکوتشخیص دیناخودمریض سے مربوط ہے ،وہ اپنے مرض کے بارے میں زیادہ علم رکھتاہے (کہ میں کت نامریض ہوں،کھڑے ہونے کی قدرت ہے یانہیں ،بیٹھنے کی ہمت ہے یانہیں )۔(۲)
معصومین کی تاریخ میں جنگ کے چندواقعات ایسے ملتے ہیں کہ انھوں نے جنگ جیسے پرآشوب ماحول میں بھی نمازکوترک نہیں کیااورمسلمانوں کودرس دے دیاکہ دشمن سے سے نبردآزمائی کے وقت بھی نمازکاترک کرناجائزنہیں ہے ۔ امام علی ابن ابی طالبکی تاریخ حیات میں لکھا ہے کہ آپ جنگ صفین میں دشمنان اسلام سے جنگ کررہے تھے کہ اچانک سورج کی طرف دیکھنے لگے ،ابن عباس نے کہا:یاامیرالمومنین ! یہ آپ کیاکررہے ہیں ؟حضرت علینے جواب دیا:اَنْظُرُاِلَی الزَّوَالِ حتّی نُصَلِّی ”میں دیکھ رہاہوں کہ ابھی ظہرکاوقت ہواہے یانہیں تاکہ(معمول کے مطابق اورہمیشہ کی طرح اول وقت )نمازاداکروں،ابن عباس نے تعجب سے کہا:کیایہ نمازکاوقت ہے؟اس وقت ہم اسلام کے دشموں سے جنگ میں مشغول ہیں، اگرہم نے جنگ سے ہاتھوں کوروک لیاتودشمن ہم پرغالب آجائیں گے ،مولائے کائنات نے جواب دیا: ”علیٰ مانقاتلهم ؟انّمانقاتلهم علی الصلاة ”ہماری ان سے کس لئے جنگ ہورہی ہے ؟بے ) شک اسی نمازہی کے لئے توان سے جنگ ہورہی ہے ۔(۳)
____________________
۱). کافی /ج ٣/ص ۴١١ ۔من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣۶١ ۔تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١۶٩
. ۲)استبصار/ج ٢/ص ١١۴
.۳)وسائل الشیعہ /ج ٣/ص ١٧٩
تاریخ کربلامیں یہی ملتاہے ہے کہ امام حسین نے دشمنوں کے نرغہ میں جنگ کے درمیان بھی نمازکوترک نہیں بلکہ نمازوعبادت ہی وجہ سے دشمنوں سے ایک رات کی مہلت طلب کی تھی ،کرب سے ایک درس یہ بھی ملتاہے کہ دشمن کے نرغہ میں گھرجانے بعدنمازکاترک کرناجائزنہیں ہے
نواسہ رٔسول سیّد الشہداء حضرت اباعبدالله الحسیننے اسی نمازاوردین اسلام ناناکی قبرسے رخصت ہوئے ،بھائی کی قبرکوالوداع کہا،اور ٢٨ /رجب کوایک چھوٹاساکاروان لے کرمکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن جب امام حسیننے حالات ایسے دیکھے کہ یہ دنیامیرے خون کی پیاسی ہے اورامام(علیه السلام) نہیں چاہتے تھے کہ خانہ کعبہ نبی کے نواسہ کے خون سے رنگین ہوجائے لہٰذاکربلاکی طرف رخ کیااوردومحرم الحرام کوخاک کربلاپروارد ہوئے، ہرطرف سے دشمنوں کے لشکرپہ لشکرآنے لگے ،لاکھوں کے تعدامیں میں تیر،تلوار، نیزے وغیرہ ہاتھوں میں لئے ہوئے رسول کے مختصرسے کنبہ کاخاتمہ کردینے کے لئے تیارکھڑے ہیں ، ٩/محرم کی شام آئی توامام حسیننے ( جونمازومناجات کوبہت ہی زیادہ دوست رکھتے تھے )دشمنوں سے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ زندگی کی آخری رات اصحاب باوفاکے ساتھ نمازوعبادت میں گذاریں،شب عاشورامام (علیه السلام)کے صحابی نمازودعامیں مشغول تھے ،کوئی رکوع میں تھا،توکوئی سجدہ میں گڑگڑارہاتھا،دشمن نے بھی اس بات کااقرارکیا ہے کہ حسین (علیه السلام)کے خیموں سے شہدکی مکھیوں کی آوازکے مانند پوری رات نمازومناجات کی آوازیں بلندتھیں
جب صبح عاشورنمادارہوئی توشبیہ رسول حضرت علی اکبرنے اذان کہی اورتمام دوستداران اہلبیت نے امام (علیه السلام)کی اقتدامیں نمازصبح اداکی ،نمازکے بعدامام (علیه السلام)جنگ کے لئے تیارکیانے وہ وقت بھی آیاکہ عمرابن سعدنے چلہ کمان میں تیرلگایااور خیام حسینی کی طرف پرتاب کرتے ہوئے کہا:اے لوگو!گواہ رہنامیں نے پہلاتیرچلایاہے ،یہیں سے دشمن کی طرف سے جنگ کاآغازہوا۔
اصحاب امام (علیه السلام)یکے بعدیگرے امام حسین کی خدمت میں آتے اوراذن جہادلے کرمیدان کارزارمیں جاتے اورجام شہادت پیتے رہے اورامام (علیه السلام)لاشے اٹھاکرلاتے رہے ،جب ظہرکاوقت پہنچاتواپنے ساتھیوں کوحکم دیاکہ نمازظہرکااہتمام کیاجائے
علامہ مجلسی “بحارالانوار” میں لکھتے ہیں:کتاب ابوثمامہ صیداوی نے جب یہ دیکھا کہ اصحاب امام (علیه السلام)یکے بعد دیگر ے میدان کا رزار میں جاکر اپنی شجاعت کے جوہر دکھا رہے ہیں اور درجہ شٔہادت پر فائز ہورہے ہیں تو امام حسین کی خدمت میں اکر عرض کیا : یا اباعبد الله ! میں آپ پر قربان جاؤں دشمنوں کے لشکر بالکل قریب آگئے ہیں اس سے پہلے کہ وہ آپ پر کوئی حملہ کریں میں قربان ہوجاؤں اوراب چو نکہ نماز ظہر کا وقت ہو گیا ہے میں چاہتا ہو ں کہ پہلے نماز پڑھوں اور اس کے بعد شہید ہو جاؤ ں امام (علیه السلام) نے فرمایا : تم نے نماز کو یاد کیا خدا تم کو نماز گزار وں میں سے قرار دے ،امام (علیه السلام)ابوثمامہ سے کہا: اے ابو ثمامہ ! نمازکااول وقت ہے لہٰذاتم دشمنوں سے کہوکہ وہ ہم کوہمارے حال پرچھوڑدیں (اورجنگ بندکردیں تا کہ ہم نماز پڑھ سکیں)ابوثمامہ نے جیسے ہی یہ پیغام دشمن تک پہنچا یاتو حصین بن نمیربولا :تمہاری نماز قبول نہیں ہے،حبیب ابن مظاہرنے فوراً جواب دیا : اے خبیث ،کیا تو گمان کرتا ہے کہ فرزندرسول کی نماز قبول نہیں ہے اورتیری نمازقبول ہے ؟یہ جواب سن کرحصین نے حبیب پرحملہ کیا،پھرحبیب نے بھی اس پرحملہ شروع کردیااورتلوار سے اس کے گھوڑے کامنہ کاٹ ڈالا.
زہیر ابن قین اور سعید ابن عبد اللھ حنفی،ہلال بن نافع اورچنددیگرصحابی دشمنوں کے وحشیانہ ہجوم سے مقابلہ کرنے کے لئے دیواربن کر امام (علیه السلام)کے آگے کھڑے ہوگئے اس کے بعد امام (علیه السلام) نے اپنے آدھے صحابیوں کے ساتھ نمازظہرشروع کی چونکہ آپ نرغہ أعداء میں تھے اسلئے نمازخوف بجالائے۔(۱)
تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے کہ:جب امام (علیه السلام)نے نمازشروع کی توسعید ابن عبدالله حنفی حضرت امام حسین کے آگے کھڑے ہوئے اوردشمن کی طرف سے آنے والے ہر تیرکو اپنے سینے پر کھاتے رہے ،جس طرف بھی کوئی تیرآتا تھافوراً آگے بڑھ کراسے اپنے سینہ پرکھالیاکرتے تھے اوراپنے آپ کو سپر قرار دیتے تھے ،اسی طرح امام (علیه السلام)کی حفاظت کرتے رہے یہاں تک کہ پے درپے بہت زیادہ تیر کھانے کے بعد اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اورزمین پر گرنے کے بعد کہ رہے تھے:
پروردگارا!قوم عادوثمودکے عذاب کو ان دشمنوں پر نازل کرد ے اور اپنے رسول کی خدمت میں میرا سلام پہنچا .اور جوکچھ دردوزخم مجھ تک پہنچے ہیں ان کی بھی اپنے رسول کوخبر دے اور میں تیر ے رسول کے نواسہ کی مدد کے بدلے میں اجروثواب کا خواہشمند ہوں اس کے بعدسعیدابن عبدالله کی روح بار گاہ ملکو تی کی طرف پرواز کر گئی اور حالت یہ تھی کہ نیزہ اور شمشیر کے زخموں کے علاوہ ١٣ / تیر بدن میں پیوست تھے۔(۲)
____________________
. ١)بحارالانوار/ج ۵۴ /ص ٢١
. ٢)مقتل الشمس/ص ٢١٧ ۔ ٢١٨
تار ک الصلاة کاحکم
تارک الصلاة کافرہے
تارک الصلاة لوگوں کے دوگروہ ہیں کچھ بے نمازی ایسے ہیں جونمازکے واجب ہونے سے انکارکرتے ہیں اوریہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نمازواجبات دین میں سے نہیں ہے ،وہ لوگ جوعمدانمازترک کرتے ہیں اورنمازسے کسی اجروثواب کی امیدنہیں رکھتے ہیں اورترک نمازکے عذاب وعقاب سے بھی نہیں ڈرتے ہیں وہ مسلمان کے دائرے سے خارج ہوجاتے ہیں اورمرتدو کافربن جاتے ہیں اوریہودی ،یانصرانی یامجوسی کی موت مرتے ہیں۔
منکرنمازایساہے کہ گویا اس نے حکم قرآن کے برخلاف ایک نیاحکم وضع کیاہے اوراسنے حلال خداکوحرام اورحرام خداکوحلال قراردیاہے لہٰذادین اسلام سے خارج ہوجاتاہے اوروہ اس طغیانی اورسرکشی کی وجہ سے عذاب وعقاب کامستحق ہے ،اس بات کوسب جانتے ہیں کہ خدانے شیطان کواپنی بارگاہ سے اس لئے نکالاتھاکہ اس نے الله کاحکم کوماننے سے انکارکردیاتھااورصرف انکارسجدہ کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے لعنت کاطوق اس کی گردن میں پڑگیا۔
نمازکے واجب ہونے سے انکارکرنے والوں کاحکم یہ ہے کہ ایسے لوگ کافراورمرتدہیں ،ان کابدن پاک نہیں ہے بلکہ وہ لوگ نجس ہیں ،دین اسلام میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے ،اگرکوئی مسلمان منکرنمازکو قتل کردے تواس کاقصاص نہیں ہے لیکن چونکہ خدادنیامیں سب پراپنا رحم وکرم نازل کرتاہے اس لئے وہ دنیامیں آرام سے زندگی بسرکرتاہے لیکن عالم برزخ وآخرت میں سخت عذاب الٰہی میں مبتلاہوگااورہمیشہ جہنم کی آگ میں جلتارہے گاجیساکہ قران میں ارشادخداوندی ہے:
( وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَکَذَّبُوْابِاٰیٰت نآاُوْلٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِهُمْ فِیْهَاخَالِدُوْنَ ) (۱) جولوگ کافرہوگئے اورانھوں نے ہماری نشانیوں کوجھٹلادیاوہ جہنمی ہیں اورہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔
کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جونمازکوواجب سجھتے ہیں لیکن چندعلل واسباب کی بناء پر(جنھیں ہم ذکرکریں گے)نمازکوبہت ہی آسان اورہلکاسمجھتے ہیں اورنمازکواپنے اوپرایک بوجھ محسوس کرتے ہوئے ،اس کے اداکرنے میں لاپرواہی کرتے ہیں ،نمازکی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے ہیں ،اوراصلاًنمازنہیں پڑھتے ہیں یاایک دن پڑھتے ہیں اوردوسرے دن ترک کردیتے ہیں یاایک وقت پڑھتے اوردوسرے وقت کی قضاکردیتے ہیں اورقضاکی ہوئی نمازوں کوانجام دینے کی فکربھی نہیں کرتے ہیں
____________________
. ١)سورہ بٔقرہ/آیت ٣٨
اوراگرفکربھی کرتے ہیں توانھیں آئندہ سال تک کے لئے تاخیرمیں ڈال دیتے ہیں،یانمازمیں اس کے آداب وشرائط کارعایت نہیں کرتے ہیں اورجلدبازی میں نمازپڑھتے ہیں وہ لوگ کافرکاحکم رکھتے ہیں،ہم یہاں پراسبارے میں چندروایتوں کوذکرکررہے ہیں:
عن ابی جعفرعلیه السلام قال:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:مابین المسلم وبین اَنْ یکفرالااَن یترک الصلاةالفریضة متعمداًاَویتهاون بهافلایصلیها ۔(۱) حضرت امام صادق سے مروی ہے :رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :کسی مسلمان کے کافرہوجانے میں صرف اتنافاصلہ ہے کہ وہ نمازکوعمداًترکرے یانمازپڑھنے میں سستی استعمال کرے اورنمازنہ پڑھے یہاں تک کہ قضاہوجائے ۔
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:من ترک الصلاة لایرجواثوابها ولایخاف عذابهافلاابالی ا یٔموت یهودیاًا ؤنصرانیاًا ؤمجوسیاً ۔( ۲)رسول خدا (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : جو شخص نماز کو ترک کرتا ہے اور نماز کے وسیلہ سے کسی اجرو ثواب کی امید نہیں ر کھتا ہے اور ترک نماز کے عذاب وعقاب سے بھی نہیں ڈرتاہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایساشخص یہود ی یانصرانی یا مجوسی کی موت مرتا ہے۔
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : ایک شخص رسول خدا (صلی الله علیه و آله) کی خدمت میں حاضرہوااور عرض کیا :یا رسول الله آپ مجھے کو ئی نصیحت کیجئے آنحضرت نے فرمایا : نماز کو عمداً ترک نہ کرو کیو نکہ جو شخص عمداً نماز کو ترک کر تا ہے خدا اور اس کے رسول اورپوری ملت اسلا میہ اس سے بیزاررہتی ہے(اوروہ شخص کافرہے جس سے الله اوراس کے رسول ناخوش ہوں)۔(۳)
عبیدابن زرارہ سے مروی ہے: میں نے امام صادق سے سوال کیا: کن کاموں کو گناہ کبیرہ کہاجاتا ہے ؟ امام (علیه السلام)نے فرمایا : کلام امیرالمومنین حضرت علی میں سات چیزیں گناہ کبیرہ ہیں:
١۔ وجودذات باری تعالیٰ کا انکار کرنا ٢۔ انسان کو قتل کرنا ٣۔ عاق والدین قرار پانا ۴ ۔ سودلینا ۵ ۔ ظلم وستم کے ساتھ یتمیوں کا مال کھانا ۶ ۔ میدان جہاد چھوڑکربھاگ جانا ٧۔ ہجرت کے بعد اعرابی ہوجانا
____________________
۱). ثواب الاعمال/ص ٢٠٧
.۲)مصباح الفلاح/ص ١٧۴
۳)جامع الاحادیث الشیعہ،ج ۴،ص ٧۴
۴)صحرانشینی کوچھوڑکررسول اکرم (صلی الله علیه و آله)یا ان کے جانشین کی ( خدمت میں پہنچ کردین اسلام اختیارکرنااوراس کے احکام ومسائل سے آگاہ ہونے کوہجرت کہاجاتاہے لہٰذاجوشخص دین اسلام سے مشرف ہوکراوراس کے احکام ومسائل سے مطلع ہونے کے بعداپنی پہلی والی حالت پرواپس آجائے ےعنی دوبارہ جہالت ونادانی کی طرف پلٹ جائے اسے اعرابی کہاجاتا ہے (گناہان کبیرہ /ج ٢/ص ۵۔ ۶)
میں نے امام (علیه السلام)سے عرض کیا : کیا یہ چیزیں گناہ کبیرہ ہیں ؟ فرمایا: ہاں میں نے امام (علیه السلام)سے سوال کیا : یتیم کے مال سے ظلم کے ساتھ ایک درہم کھانا بڑا گناہ ہے یا نماز کا ترک کرنا ؟ امام (علیه السلام)نے جواب دیا : ترک نمازاس سے بھی بڑا گناہ ہے میں نے پو چھا : پھر آپ نے ترک نماز کوگناہ کبیر ہ میں شمار کیوں نہیں کیاہے ؟ امام (علیه السلام) (علیه السلام)نے فرمایا : میں نے گناہ کبیرہ میں سب سے پہلے کس چیزکوذکر کیا ہے ؟ میں نے کہا : کفرکو، تو امام (علیه السلام) نے فرمایا : نماز ترک کرنے والا ) شخص کافر ہے(۱)
مسعدہ ابن صدقہ سے مروی ہے کہ :کسی نے امام صادق سے سوال کیا : کیاوجہ ہے کہ آپ زانی جیسے شخص کوکافرنہیں کہتے ہیں اورتارک الصلاة کو کا فرکہتے ہیں ؟امام (علیه السلام) نے جواب دیا : کیونکہ زانی وہ شخص ہے جو شہوت نفسانی کے غالب ہوجانے کی وجہ سے زناکا مرتکب ہوتاہے ، لیکن وہ شخص جو نمازکو ترک کرتا ہے وہ اسے ہلکااورناچیز سمجھ کرترک کرتاہے
تارک الصلاة کوکافرقراردینے اورزانی کوکافرقرارنہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زانی جب اس گناہ کی طرف قدم اٹھاتاہے اورکسی نا محرم عورت کی تلاش میں نکلتاہے اوراس کے ساتھ زناکامرتکب ہوتاہے تووہ اس گناہ کو انجام دینے میں لذّت حاصل کرنے کاارادہ رکھتاہے لیکن تارک الصلاة کو ترک نماز سے ہر گز لذّت کاارا دہ نہیں رکھتاہے کیونکہ ترک نماز میں کوئی لذّت نہیں پائی جاتی ہے اسی لئے نماز کو ہلکااورنا چیز سمجھ کر ترک کرتا ہے اور نماز کو ہلکا شمار کرنے کی وجہ سے کفرحاصل ہوجاتاہے ۔
علامہ مجلسی فرماتے ہیں : اس حدیث میں کفرسے اس کے حقیقی معنی مرادنہیں ہیں کہ تارک الصلاة نجس ہے اور یہ بھی مراد نہیں ہے کہ تارک الصلاة سے ہاتھ سے کسی مرطوب چیزکا لیناحرام ہے وغیرہ وغیرہ تارک الصلاة منکرنماز نہیں ہے اور نہ ترک نماز کو حلال ) شمار کرتا ہے کیونکہ اسصورت میں اگر زناکار بھی زناکو حلال جانتاہے ، کافر ہے۔(۱)
قال الصادق علیه السلام:لیسمن شیعت نامن لم یصل الصلاة ۔(۲) امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص نمازکوترک کرتاہے وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے
____________________
۱)اصول کافی(باب کفر)/ج ۴/ص ٩٧ ۔ ٩٨
. ٢)المقنہ( شیخ مفید)/ص ١١٩ )
تارک الصلاة کو ہنساناگناہ عظیم ہے
دین اسلام میں بے نمازی کے چہرے پرمسکراہٹ دلانا گناہ کبیرہ ہے
قال رسو ل الله صلی الله علیه وآله:من تبسم فی وجه تارک الصلاة فکانماهدم الکعبة سبعین مرة وقتل سبعین ملکا ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جوشخص کسی بے نمازی کے چہرے پرمسکراہٹ دلائے گویااسنے سترمرتبہ کعبہ کومنہدم کیااورسترملائکہ کوقتل کیا۔
قال علیه السلام:من تبسم فی وجه تارک الصلاة فکانماهدم بیت المعمورسبع مرة،وکانّماقتل الف ملک من الملائکة المقربین والانبیاء المرسلین ۔(۲) امامفرماتے ہیں:جوشخص کسی بے نمازی کے چہرے پرمسکراہٹ دلائے گویااس نے بیت المعمورکوسات مرتبہ منہدم کیااورگویااسنے اللھ مقرب ہزارفرشتوں اورہزارنبیوں کوقتل کیا۔
تارک الصلاة کی مددکرناحرام ہے
قال علیه السلام:من اعان تارک الصلاةبلقمة ا ؤکسوة فکانّماقتل سبعین نبیّااوّلهم آدم(عوآخرهم محمد(ص ۔(۳)
امامفرماتے ہیں:جوشخص کسی بے نمازی کی ایک لقمہ یاکسی کپڑے سے مددکی گویااس نے سترنبیوں کاقتل کیاجن میں سب سے پہلے آدم (علیه السلام)اورآخری حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله)ہیں۔
قال:من اعان تارک الصلاة بلقمة کانّمااعان علی قتل الانبیاء کلّهم ۔( ١ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جس شخص نے کسی بے نمازی کی ایک لقمہ کے ذریعہ بھی مددکی گویااس نے تمام انبیاء کے قتل میں مددکی ہے ۔(۴)
____________________
. ۱)لئالی الاخبار/ج ۴/ص ١۵
. ٢)لئالی الاخبار/ج ۴/ص ١۵
۳)لئالی الاخبار/ج ۴/ص ۱۵
۴)لئالی الاخبار/ج ۴/ص ۵١
تارک الصلاة کے ساتھ کھاناپیناحرام ہے
قال صلی الله علیه وآله وسلم :من آکل مع من لایصلی کانّمازنیٰ بسبعین محصنة من بناته وامهاته وعماته وخالاته فی بیته الحرام ۔(۱) نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جوشخص بے نمازی کے ساتھ کھاناکھائے ایساہے جیسے اس نے بیت الحرام میں اپنی ٧٠ /پاکدامن لڑکیوں اورماو ںٔ اورپھوپھی،خالہ اورچچی کے ساتھ زناکیاہو۔
بے نمازی کو غسل وکفن نہ دیں اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کریں
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:من ترک الصلاة ثلاثة ایام فاذامات لایغسّل ولایکفّن ولایُدفنُ فی قبورالمسلمین ۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص تین دن تک عمداً نمازترک کرتاہے اسے غسل وکفن نہ دیاجائے اوراسے مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ کیاجائے ۔
نمازکوہلکاسمجھ کرترک یاضایع کرنے کاعذاب
وہ لو گ جونمازچندعلل واسباب(جنھیں ہم ذکرکریں گے )کی بنا پرنمازکوبہت ہی آسان اورہلکاسمجھتے ہیں اورنمازکواپنے اوپرایک بوجھ محسوس کرتے ہوئے ،اس کے اداکرنے میں لاپرواہی کرتے ہیں ،نمازکی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے ہیں ،اوراصلاًنمازنہیں پڑھتے ہیں یاایک دن پڑھتے ہیں اوردوسرے دن ترک کردیتے ہیں یاایک وقت پڑھتے اوردوسرے وقت کی قضاکردیتے ہیں اورقضاکی ہوئی نمازوں کوانجام دینے کی فکربھی نہیں کرتے ہیں اوراگرفکربھی کرتے ہیں توانھیں آئندہ سال تک کے لئے تاخیرمیں ڈال دیتے ہیں،یانمازکے آداب وشرائط کی رعایت نہیں کرتے ہیں ،یااہلبیت کی محبت کے بغیرنمازیں پڑھتے ہیں:
١۔ایسے لوگوں کے لئے الله کی طرف سے دنیامیں بھی عذاب ہے اورآخرت میں بھی انھیں دردناک عذاب میں مبتلاکیاجاے گااوراس کوئی نیک عمل بھی قبول نہیں کیاجائے گا۔ قرآن کریم میں ارشادخداوندی ہے:( وَکَاَیِّنْ مِنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِرَبِّهَاوَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنٰهَاحِسَاباً شَدِیْدًا وَعَذَّبْنَاهَاعَذَابًانُکْرًا ) (۳) اورکت نی ہی بستیاں ایسی ہیں جنھوں نے حکم خدا ورسول کی نافرمانی کی توہم نے ان کاشدیدمحاسبہ کیااورانھیں بدترین عذاب میں مبتلاکردیا۔
____________________
١)لسان المیزان /ج ٢/ص ٢۵١
۲)جامع الاخبار/ص ١٨٧
. ۳)سورہ طٔلاق /آیت ٨۔ ١٠
قال رسول الله صلی الله علیه واله:من ترک الصلاة حتی تفوته من غیرعذرفقدحبط عمله ۔(۱)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص نمازکوبغیرکسی مجبوری کے ترک کردیتاہے اس کے تمام اعمال اس سے سلب کرلئے جاتے ہیں اوراسے اس کے بقیہ نیک کاموں پرکوئی اجرنہیں ملتاہے۔
٢۔ بے نمازی محمدوآل محمد کی شفاعت سے محروم رہے گا اوراسے حوض کوثرسے سیراب نہیں کیاجائے گا
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لیس منی من استخف بصلاتة ،لایردعلیّ الحوض لاوالله،ولیسمنی من شرب المسکراً،لایردعلیّ الحوض لاوالله (۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :وہ شخص میری امت میں سے نہیں ہے جواپنی نمازوں کے بارے میں بے توجہی ولاپرواہی کرتاہے اورخداکی قسم ایسا شخص میرے ساتھ حوض پرنہیں ہوگااوروہ شخص بھی میرے پاس حوض کوثرپرنہیں ہوگاجومسکرات کااستعمال کرتاہے۔
عن ابی بصیرعن ابی جعفرعلیه السلام قال:قال رسول الله صلی الله علیه وآله:لاینال شفاعتی من استخف بصلاته ،لایردعلیّ الحوض لاوالله ۔(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جونمازکوہلکاشمارکرتاہے اسے میری شفاعت نصیب نہ ہوگی اوروہ حوض کوثرپرمیرے پاس نہیں ہوگا۔
ابوبصیر سے مروی ہے:میں حضرت امام صادقکی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ امّ حمیدہ کی خدمت میں تسلیت پیش کرنے کیلئے پہنچا تو انھوں نے رونا شروع کردیا انھیں روتے ہوئے دیکھ کر میں بھی امام (علیه السلام)کی یاد میں رونے لگا اس وقت انھوں نے مجھ سے کہا:اے ابوبصیر! اگر تم امام (علیه السلام)کی شہادت کے وقت ان کے پاس موجو د ہوتے تو ایک عجیب منظر دیکھتے ، امام نے پروازروح سے قبل اپنی آنکھوں کو کھولا اور فرمایا : میرے تمام عزیزوں واقارب کومیرے پاس جمع کیا جائے ، کوئی ایساباقی نہ رہاجواس وقت نہ آیاہو،جب سب امام (علیه السلام)کی خدمت میں حاضر ہوگئے توامام صادق نے ان کی طرف نگاہ کر کے ارشاد فرمایا :انّّ شفاعت نالات نال مستخفاًبالصلاة نمازکوہلکاسمجھنے والے کوہرگزہماری شفاعت نصیب نہ ہوگی۔(۴)
____________________
.۱)بحارالانوار/ج ٧٩ /ص ٢٠٢
.۲)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢٠۶
. ۳)اصول کافی/ج ۶/ص ۴۴٠
۴). من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢٠۶
بے نمازی دنیاوآخرت میں پندرہ مشکلوں میں گرفتارہوتاہے حضرت فاطمہ زہرا بنت رسول خدا (صلی الله علیه و آله)فرماتی ہیں:ایک دن میں نے اپنے والدمحترم سیدالمرسلین حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله) سے پوچھا : اے بابا جان ! ہروہ مرد اور عورت جو نمازپڑھنے میں لاپرواہی اور بے توجہّی استعمال کرتے ہیں اور نماز کو بہت آسان کام سمجھتے ہیں ان کی سزاکیاہے؟
ختم المرسلین نے جواب دیا: اے میری پارئہ جگر ! اگر کوئی مرد یا عورت نماز کو آسان کام سمجھتا ہے اوراس کے اداکرنے میں لاپرواہی استعمال کرتا ہے توایساشخص دنیا وآخرت میں ١ ۵ / مشکلوں میں گرفتار ہوتا ہے ،چھ مشکلیں دنیا میں ہی اس کودرپیش آتی ہیں اور تین مشکلوں میں مرتے وقت گرفتار ہوتا ہے اور تین مشکلیں قبر کے اندرواقع ہونگی اور تین مشکلوں میں اس وقت گرفتارہوگاجب اسے روز قیامت قبر سے بلند کیا جائے گا لیکن وہ مصبتیں جو دنیا ہی میں بے نمازی پرنازل ہوتی ہیں یہ ہیں:
یرفع الله البرکة من عمره ،یرفع الله البرکة من رزقه، یمحوالله عزوجل سیماء الصالحین من وجهه،کلّ عمل یعمله لایوج علیه،لایرتفع دعائه الی السماء، لیسله حظٌ فی دعاء الصالحین .
١۔خدااس کی عمرسے برکت کوسلب کرلےتاہے جس سے اس کس کی عمربہت کم ہوتی ہے.
٢۔خدوندعالم نمازترک والوں کے رزق سے برکت اٹھالیتاہے
٣۔( متقی اورپرہیز گارجیسے لوگوں کے چہرے شاداب ا ورنورا نی ہوتے ہیں اور)تارک الصلاة لوگوں کے چہروں پراکثراداسی رہتی ہے
۴ ۔بے نمازی کواپنے دیگر نیک اعمال پرکوئی اجروثواب نہیں ملتاہے(جس طرح کسان کواپنی زمین کی سنچائی کئے بغیرکوئی چیزدستیاب نہیں ہوتی ہے چاہے وہ اس میں کت نے ہی کام کرتارہے اسی طرح بے نمازی اس کے کسی اچھے کام پرکوئی اجرنہیں ملتاہے چاہے کت نے ہی نیک کام انجام دیتارہے
۵ ۔الله کی بارگاہ میں اس کی دعائیں مستجاب نہیں ہو تی ہیں بلکہ اس کی بارگاہ میں اسی کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں جوواجبات کواداکرتاہے۔
۶ ۔بے نمازی متقی وپر ہیز گا ر لوگوں دعاؤمیں کوئی حصہ نہیں رکھتاہے اگروہ بے نمازی کے لئے دعائیں بھی کرتے ہیں تو خداان کی دعاؤں کوہرگزقبول نہیں کرتاہے ۔ اوروہ تین عذاب جو احتضار کے وقت بے نمازی پر نازل ہوتے ہیں یہ ہیں:
انّه یموت ذلیل، یموت جائعا،یموت عطشانا،فلوسقی من انهارالدنیالم یروِّعطشه .
١۔مومن اورصالح افرادعزت کی موت مرتے ہیں لیکن بے نمازی لوگ ذلّت کی موت مرتے ہیں
٢۔بھوک کے عالم میں بے نمازی کی روح قبض ہوتی ہے
٣۔مرتے وقت بے نمازی کو اس قدر پیاس لگتی ہے کہ اگرپوری دنیا کے دریا وسمندر کاپانی بھی اسے پلادیاجائے پھر بھی سیراب نہیں ہوسکتاہے۔ اور وہ تین عذاب جوعالم برزخ میں بے نمازی پرنازل ہوتے ہیں یہ ہیں:
یوکل الله به ملکاً یزعجه فی قبره ، یضیق علیه قبره ، تکون الظلمة فی قبره .
١۔ خدا وند عالم ایک فرشتہ کو اس کی قبر میں موکل کرتاہے جو اسے روزقیامت تک عذاب و شکنجہ دیتا رہے گا۔
٢۔جب تمام لوگ اسے ت نگ کوٹھری میں بند کرکے اپنے گھروں کوواپسچلے جاتے ہیں تواس کی وہ قبراوربھی زیادہ ت نگ ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ بے نمازی فشار قبر میں مبتلا ہوتاہے ۔
٣۔اسکی قبر میں اندھیراہی اندھیراہوتاہے ۔ وہ تین عذاب جوروزمحشر قبرسے بلندہوتے وقت بے نمازی پر نازل ہونگے یہ ہیں:
ان یوکل اللهملکایسبحه علی وجهه والخلائق ینظرون الیه ، یحاسب حساباشدیداً ، لاینظرالله الیه ولایزکیه وله عذاب الیم
١۔ ایک فرشتہ حکم خدا سے بے نمازی کو زمین پر پیٹ کے بل لٹاکرکھینچ کر خدا کے سامنے لا ئے گا اور تمام مخلوق اس کا نظا رہ کرتی ہو گی۔
٢۔ اس کابہت ہی سخت حساب لیا جائے گا۔
٣۔ خدا وند متعال اسے رحمت کی نگاہوں سے ہرگزنہیں دیکھے گا اوروہ پاک نہیں ہوسکتاہے اور اس کے لئے دردناک عذاب ہے ۔(۱)
آپ حضرات اس طولانی حدیث میں بے نمازی اورنمازکوہلکاسمجھنے والے اورنمازکوضایع کرنے والے لوگوں پردنیاوآخرت میں نازل ہونے عذاب سے مطلع ہوئے لیکن بے نمازی پردنیامیں نازل ہونے عذاب سے متعلق یہ دوواقعہ بھی قابل ذکر ہیں:
____________________
. ۱) فلاح السائل /ص ٢٢ ۔بحارالانوار/ج ٨٠ /ص ١٢١ ۔ ١٢٢
١۔ حضرت عیسیٰ کے بارے میں تاریخ میں ملتاہے کہ آپ ایک مرتبہ کسی دیہات میں کے قریب سے گذررہے تھے تودیکھاکہ وہ دیہات بہت ہی سبزوشاداب ہے اور اس کے پاس سے پانی کی نہریں بھی گزررہی ہیں ،وہاں کے لوگوں نے آپ کابہت اچھااستقبال کیا اوران کی بہت عمدہ مہمان نوازی کی حضرت عیسیٰ ان کے اس حسن سلوک اورخوش اخلاقی کودیکھ کربہت زیادہ متعجب ہوئے،اتفاقاًتین سال کے بعدپھردوبارہ حضرت عیسیٰ کاوہاں سے گذرہواتودیکھاکہ وہ تمام ہرے بھرے باغ ا وردرخت، پانی کی نہریں اورچشمہ سب خشک ہوچکے ہیں ،حضرت عیسیٰ اس قریہ کی یہ حالت دنگ رہ گئے اورنہایت تعجب کے ساتھ اپنے پروردگارسے کہا: بارالٰہا!ات نی کم مدت میں یہ سب کیاہوگیاہے یہ آبادی کیوں بربادہوگئی ہے ؟ وحی الٰہی نازل ہوئی :اے عیسیٰ !ٰاس قریہ کی تباہی کی وجہ یہ ہےکہ ایک بے نمازی جب اس قریہ میں پہنچااور اس نے قریہ کے چشمہ کے پانی سے اپنامنہ ہاتھ دھویاتواس بے نمازی کی نحوست سے یہ پوراگاؤں ویران ہوگیا،زمین سے چشموں پانی کانکلنابندہوگیا،دریاکی روانی رک گئی اوراے عیسیٰ سنو!جس طرح ترک نمازکی وجہ سے دین تباہ ہوجاتاہے اسی طرح ترک نماز کی وجہ سے دنےا بھی تباہ وبرباد ہوجاتی ہے۔(۱)
٢۔ ایک شخص نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں پہنچااورکہا:یارسول الله!میں مالدارشخص تھالیکن میں اس وقت بہت ت نگدست ہوچکاہوں،آنحضرت نے فرمایا:کیاتم نمازنہیں پڑھتے ہو؟عرض کیا:میں پانچوں وقت کی نمازیں اپ ہی کے ساتھ اداکرتاہوں،آنحضرت نے پوچھا: کیاتم روزہ نہیں رکھتے ہو؟جواب دیا:میں سال میں تین ماہ( رجب شعبان رمضان )کے روزے رکھتاہوں،آنحضرت نے پھرسوال کیا:کیاتم امرکونہی اورنہی کوامرقراردیتے ہو؟عرض کیا:نہیں یارسول الله !.
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:پھرتم ایسا کونسا گناہ انجام دیتے ہو؟ عرض کیا:اے الله کے رسول !میں کے خداو رسول کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتاہوں،یہ بات سن کرآنحضرت نہایت تعجب کے ساتھ گہری فکرمیں مبتلاہوگئے ، پروردگارکی جانب سے جبرئیل امین نازل ہوئے اورکہا:
یارسول الله! خداآپ پردرودوسلام بھیجتاہے اورفرماتاہے:اس شخص سے کہدیجئے کہ تیرے فقیروت نگدست ہوجانے کی وجہ یہ ہے کہ تیرے گھرکے برابرمیں ایک باغ ہے جس میں ایک درخت پرچڑیاکاگھونسلہ ہے اوراس گھونسلہ میں ایک بے نمازی کی ہڈی رکھی ہوئی ہے جسکی نحوست کی وجہ سے یہ شخص فقیرہوگیاہے ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے الله تبارک وتعالیٰ کے اس پیغام کواس شخص سے بیان کیا،وہ شخص باغ میں گیااور ہڈی کوگھونسلہ سے نکال کر اپنے گھرسے دورکسی جگہ پرپھینک آیااس کے بعدوہ شخص دوبارہ مالدارہوتاگیا۔(۲)
____________________
.۱)شناخت نماز/ص ١٧۵
. ٢)شناخت نماز/ص ١٧۵
دنیامیں چارقسم کے مسلمان ہیں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:میری امت میں چارقسم کے لوگ ہیں: ١۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جوہمیشہ نمازپڑھتے ہیں مگراپنی نمازوں میں غفلت اورسستی کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے خداکی طرف ایک عذاب معین ہے جسکانام ویل ہے (ویل جہنّم کے ایک کنوے کانام ہے) جیسا کہ خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:
( فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّیْنَ الَّذِ یْنَ هُمْ عَن صَلاَ تِهِمْ سٰاهُونَ ) (۱)
ویل جہنم میں ایک تباہی کی جگہ ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔
٢۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کبھی نماز پڑھتے ہیں اور کبھی ترک کردیتے ہیں ،ایسے لوگوں کواہل غی کہا جاتاہے اورغی جہنم کے کنوں میں ایک کنواں کانام ہے ،خدا وندمتعال اس گروہ کے بارے میں قرآنکریم میں ارشادفرماتا ہے:
( فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ هِمْ خَلْفٌ اَضٰا عُو االصَّلٰو ةَ وَ اتَّبِعُو االشَّهَوٰ تِ فَسَوفَ یَلْقُونَ غَیا ) (۲)
پھر ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنھوں نے نماز کو برباد کر دیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا پسیہ عنقریب اپنی گمراہی سے جاملیں گے۔
٣۔ دنیامیں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جوہر گز نماز نہیں پڑھتے ہیں ، ایسے لوگوں کو“اہل سَِقَرْ” کہا جاتاہے ، سَقَرْ بھی جہنم کے ایک کنوے کانام ہے ، خداوند متعال بے نمازی لوگوں کے بارے میں قرآن کریم ارشادفرماتاہے:
( یَتَسَائَلُونَ عَنِ اْلمُجَرَ مِیْن مٰاسَلَکَکُمْ فِی سَقَرَ قَا لُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ) (۳) اہل سقرسوال کیاجائے تمھیں کس چیز نے سقرمیں پہنچا یا ہے ، وہ کہیں گے کہ ہم نمازنہیں پڑھتے تھے ۔
۴ ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں اور نماز میں حضورقلب رکھتے ہیں یہ لوگ اہل بہشت ہیں جن کے مقام کے بارے میں خداوندعالم ارشادفرماتاہے:
( قَدْ اَ فْلَحَ المُومِنُونَ الَّذِ یْنَ هُمْ فِی صَلاٰ تِهِمْ خٰشِعُونَ ) (۴)
یقیناً صاحبان ایمان کا میاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع وحضورقلب رکھتے ) ہیں۔(۵)
____________________
١)سورہ ماعون /آیت ۴۔ ۵
. ٢)سورہ مٔریم/آیت ۵٩..
٣)سورہ مٔدثر/آیت ۴٢ ۔ ۴٣
۴)سورہ مٔومنون/آیت ١۔ ٢
۵)شناخت نماز/ص ٧۶
گناہگار لوگ مومنین کے وجودسے زندہ ہیں
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب خداوندعالم اپنے تمام بندوں کے افعال وکردارسے بخوبی واقف ہے توپھران سب گناہگاروں کوزندہ رکھے ہوئے اورانھیں رزق وروزی کیوں عطاکرتاہے ؟
گناہگارر لوگ کیوںزندہ ہیں اورکیوں رزق وروزی پاتے ہیں مندرجہ ذیل احادیث اورواقعات سے یہ واضح ہوجائے گاکہ گناہگارلوگ مومنین کے طفیل سے رزق وروزی پاتے ہیں اورانھیں کے طفیل سے زندہ بھی ہیں اگردنیاسے مومنین کاوجودختم ہوجائے توپوری دنیاتباہ ہوجائے گیقال رسول الله صلی الله علیه وآله :ان اللهجل جلاله اذارا یٔ اهل قریة قداسرفوافی المعاصی وفیهاثلاثة نفرمن المومنین ناداهم جل جلاله وتقدست اسمائه:یااهل معصیتی !لولامَن فیکم مِن المومنین المتحابّین بجلالی العامرین بصلواتهم ارضی ومساجدی والمستغفرین بالاسحارخوفاًمِنّی ،لَاَنزَلْتُ عَذَابِیْ ثُمَّ لااُبَالِی ۔(۱)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب خداوندعالم کسی بستی کے لوگوں کوگناہوں میں آلودہ دیکھتاہے او راس بستی میں فقط تین افرادمومن باقی رہ جاتے ہیں تواس وقت خدائے عزوجل ان اہل بستی سے کہتاہے:
اے گنا ہگا ر انسانو ! اگرتمھارے درمیان وہ اہل ایمان جومیری جلالت کے واسطے سے ایک دوسرے کودوست رکھتے ہیں،اورمیری زمین ومساجدکواپنی نمازوں کے ذریعہ آبادرکھتے ہیں،اورمیرے خوف سے سحرامیں استغفارکرتے ہیں نہ ہوتے تومیں کسی چیزکی پرواہ کئے بغیرعذاب نازل کردیتا۔
قال الله تعالٰی: یااهل معصیتی لولاشیوخ رکّع وشابٌ خشّعٌ وصبیان الرضع وبهائم رتّع لصببت علیکم العذاب صبّةً ۔(۲)
حدیث قدسی شریف میں آیا ہے کہ خداوند متعال فرماتا ہے : اے گنا ہگا ر انسانو ! اگر رکوع کرنے والے ضعیف لوگ نہ ہوتے اور گریہ وزاری کرنے والے جوان نہ ہوتے ، شیرخوار بچے نہ ہو تے اورعلف خوار چوپائے وغیرہ نہ ہوتے تو تمہارے گنا ہوں کی وجہ سے ضرور تم پر کوئی عذاب نازل کردیتا ۔
____________________
. ١ )علل الشرایع /ج ٢/ص ۵٢٢
۲)عرفان اسلامی/ج ۵/ص ٧٨
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ اللهلیدفع بمن یصلی من شیعت ناعمّن لایصلی من شیعت ناولواجتمعواعلی ترک الصلاة لهلکوا ۔(۱)
حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خداوندعالم ہمارے شیعوں میں سے ایک نمازی کے طفیل سے بے نمازی شیعوں پرنازل ہونے والی بلاؤں کودورکرتاہے اور اگر تمام شیعہ نماز کو ترک کرنے میں متحدہو جائیں اور سب کے سب بے نمازی بن جائیں تو اس وقت تمام لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔
اس حدیث سے یہ واضح ہے کہ بے نمازی شیعہ بلکہ پوری دنیاکے گناہگارلوگ شیعہ نماز گزاروں کے وجود کی برکت سے زند ہ ہیں اور انھیں کے طفیل میں رزق وروزی حاصل کرتے ہیں ۔
تفسیرنورالثقلین میں لکھاہے کہ: نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)-نمازجمعہ کاخطبہ پڑھ رہے تھے کہ اسی وقت ملک شام سے دحبہ کٔلبی کاایک تجارتی قافلہ بڑے سازوسنگیت کے ساتھ شہر مدینہ میں داخل ہوااورلوگوں کوخریداری کے لئے اعلان کرنے لگا،اہل مدینہ اس کارواں کے طبل کی آوازسن کر خریداری کے لئے اپنے گھروں سے باہرنکل آئے یہاں تک کہ جومسلمان مسجدمیں نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے خطبہ سن رہے تھے ،بارہ افرادکے علاوہ سبھی لوگ نمازجمعہ کو چھوڑکرمال وآذوقہ اور کھانے پینے کی اشیاء وگندم وغیرہ خریدنے کے لئے دوڑپڑے رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے خطبہ کے درمیان میں ارشادفرمایا: لولاہو لٔاء لسومت علیہم الحجارة من السماء اگریہ بارہ لوگ بھی نمازکوچھوڑکر مسجدسے باہرچلے جاتے توخداوندعالم نمازچھوڑکرچلے جانے والے لوگوں پرآسمان سے پتھروں کی بارش کردیتا اسی موقع پریہ آیہ مٔبارکہ نازل ہوئی:
( اِذَارَاَوْتِجَارَةً ا ؤْلَهْوًاانْفَضُّوْااِلَیْهَاتَرَکُوْکَ قَائِمًا، قُلْ مَاعِنْدَاللهِ خَیرٌ مِنَ اللَّهْوِوَمِنَ التِّجَارَةِ ،وَاللهُخَیْرٌالرَّازِقِیْنَ ) (۲)
اے پیغمبر!یہ لوگ جب تجارت یا لہوولعب کودیکھتے ہیں تواس کی طرف دوڑپڑتے ہیں اورآپ کوت نہا چھوڑکرچلے جاتے ہیں،آپ ان سے کہہ دیجئے کہ خداکے پاس جوکچھ بھی ہے وہ ) اس کھیل وتجارت سے بہرحال بہترہے اوروہ بہترین رزق دینے والاہے۔(۳)
____________________
.۱)تفسیرالمیزان /ج ٢/ص ٢٩۵
.۲)سورہ جٔمعہ/ آیت ١١
. ٢)تفسیرنورالثقلین/ج ۵/ص ٣٢٩
حضرت امام علی رضاکے ایک صحابی جوکہ قم المقدس میں زندگی بسرکرتے تھے ایک دن قم سے امام (علیه السلام)کی خدمت میں پہنچے اورعرض کیا:اے فرزندرسول ! میں شہرقم کو چھوڑکرکسی دوسری جگہ جاناچاہتاہوں کیونکہ اس شہرمیں نادان اورگناہگارلوگ بہت زیادہ ہیں،امام (علیه السلام)نے فرمایا:
تم ایساہرگزنہ کرناکیونکہ تمھارے احترام کی وجہ سے قم کے لوگوں سے بلائیں دورہوتی ہیں،جس طرح حضرت موسیٰ کے وجود کی خاطر اہل بغدادکے سروں سے بلائیں ) دورہوتی تھیں۔(۱)
نمازکے ترک وضائع کرنے کی اسباب
جب نمازکامقام اتنازیادہ بلندہے کہ وہ دین کاستون ہے اورہرمسلمان جانتاہے کہ الله کی طرف سے ہم پرنمازکوواجب قراردیاگیاہے اورانسان اس چیزسے اچھی طرح واقف ہے کہ نمازپڑھنے سے ہماراہی فائدہ ہے اوریہ بھی جانتے ہیں کہ نماز کثیرفضائل وکمال کی مالک ہے اورنمازکے بہت زیادہ فوائدہیں توانسان ان تمام چیزوں کوجاننے کے با وجود نمازسے دورکیوں بھاگتاہے یااسے بے اہمیت جان کرکبھی پڑھتاہے اورترک کردیتاہے یااول وقت ادانہیں کرتاہے یاوقت گزرجانے کے بعدقضاکی صورت میں پڑھتاہے؟۔
اس کے چندعلل واسباب ہیں کہ جنھیں ہم نے قرآن احادیث کی روشنی میں تلاش کرنے کی کوششکی ہے جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:
١۔لہوولعب اورکاروبارتجارت کی رغبت
دنیامیں ایسے لوگ بہت زیادہ پائے جاتے ہیں جوکھیل کود،کرکٹ ،فٹبال ہاکی میچ کھیلنے یادیکھنے کی وجہ سے نمازکواہمیت نہیں دیتے ہیں اوراسے ترک کردیتے ہیں یاتاخیرسے اداکرتے ہیں اوربعض لوگ ایسے بھی ہیں جوکاروبارکی تجارت اورخریدفروش کی وجہ سے نمازکواہمیت نہیں دیتے ہیں یہاں تک کہ کھیل کوداورتجارت کی وجہ سے نمازجماعت کوچھوڑکربھاگ جاتے ہیں یافرادی پڑھ کرمسجد سے خارج ہوجاتے ہیں جیساکہ آپ نے گذشتہ صفحہ پر نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے خطب ۂ نمازجمعہ کے دوران کاواقعہ ملاحظہ فرمایا کہ
____________________
. ۱)نماز،وحکایتہاوروایتہا/ص ٢٠
بارہ افراد کے علاوہ سبھی لوگ نماز جمعہ چھوڑ کرمال وآذوقہ اور کھانے پےنے کی اشےاء خرےدنے کے لئے دوڑپڑے تھے اورنمازکوکوئی اہمیت نہ دی تو رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے خطبہ کے درمیان میں ارشادفرمایا:
لولاهو لٔاء لسومت علیهم الحجارة من السماء
اگریہ بارہ لوگ بھی نمازکوچھوڑکر مسجدسے باہرچلے جاتے توخداوندعالم نمازچھوڑکرچلے جانے والے لوگوں پرآسمان سے پتھروں کی بارش کردیتااور اسی وقت یہ آیۂ مبارکہ نازل ہوئی:
( اِذَارَاَوْتِجَارَةً ا ؤْلَهْوًاانْفَضُّوااِلَیْهَاتَرَکُوْکَ قَائِمًا ) (۱)
اے پیغمبریہ لوگ جب تجارت اورلہوولعب کودیکھتے ہیں تواس کی طرف دوڑپڑتے ہیں اورآپ کوت نہاکھڑاچھوڑدیتے ہیں اپ ان سے کہہ دیجئے کہ خداکے پاس جوکچھ بھی ہے وہ اس ) کھیل اورتجارت سے بہترہے اوروہ بہترین رزق دینے والاہے۔(۲)
حضرت علیفرماتے ہیں :الله کے نزدیک کوئی بھی عمل نمازسے بہترنہیں ہے پس دنیاکاکوئی بھی کام تمھیں اول وقت نمازپڑھنے سے نہ روکے کیونکہ خداوندعالم ان لوگوں کی ملامت وسرزنشکرتے ہوئے ارشادفرماتاہے :( اَلَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ )
تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جواپنی نمازوں کواول وقت پڑھنے سے غافل رہتے ہیں۔(۳)
ایک صحابی رسول جوپنجگانہ نمازوں کونبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے پیچھے جماعت سے اداکرتے تھے اوربہت زیادہ ت نگدست رہتے تھے مگرجب الله کی جانب سے عطاکردہ درہم کے ذریعہ انھوں نے تجارت شروع کی تواس کاانجام کیاہواوہ آپ امام (علیه السلام) سے منقول اس حدیث میں ملاحظہ کریں:
حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں : پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)کے ایک صحابی جن کانام سعدتھا،وہ متقی وہیزگار تھے،اورآپ کا شماراصحاب صفہ ( ۴) میں ہوتاتھا، وہ روزانہ تمام پنجگانہ نمازوں کو پیغمبر کے ساتھ جماعت سے اداکرتے تھے اورکسی بھی نماز جماعت میں غائب نہیں ہوتے تھے لیکن فقیرو ت نگدست ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ غمگین رہتے تھے ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)بھی سعد کی فقروت نگد ستی کو دیکھ کرغمگین رہتے تھے اور سعد سے کہتے تھے: مجھے امیدہے کہ ایک دن خداوندعالم تمھیں ہرچیزسے بے نیاز کردے گا ۔
____________________
١)سورہ جٔمعہ/ آیت ١١
. ٢)تفسیرنورالثقلین/ج ۵/ص ٣٢٩
. ٣)بحارالانوار/ج ٨٣ /ص ٢١
ایک دن جبر ئیل امین درہم کے دوسکہ لے کرپیغمبرپرنازل ہوئے اورکہا : اے محمد! خدائے عزوجل جانتا ہے کہ آپ سعدکی ت نگد ستی کی وجہ سے غمگین رہتے ہیں،کیا آپ اسے ت نگدستی سے بے نیاز کرنا چا ہتے ہیں؟ آنحضرت نے فرمایا : ہاں ،تو جبرئیل نے کہا : یہ دو درہم لیجئے اور انھیں سعد کوعطا کر دیجئے اور کہیں کہ وہ ان دو درہم کے ذریعہ تجارت شروع کرے آنحضرت نے جبرئیل سے دو درہم لئے اور نماز ظہر کے لئے جیسے ہی گھر سے با ہر نکلے تو دیکھا کہ سعد مسجدمیں جانے کے لئے آپ کی انتظار میں کھڑے ہیں ، آنحضرت نے کہا:
اے سعد ! کیا تم تجارت کرنا چا ہتے ہو ؟ عرض کیا : ہا ں یا رسول الله! لیکن میرے پاس کچھ نہیں ہے کہ جسکے ذرےعہ تجارت کرسکوں
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے سعد کو دو درہم عطا کئے اور کہا : ان کے ذریعہ تجارت شروع کرو ، سعد درہم لے کر آنحضرت کے ہمراہ مسجد گئے اور نمازظہرین باجماعت اداکی ، جب نماز سے فارغ ہوگئے توآنحضرت نے فرمایا:
اے سعد !اٹھو اور کسب روزی کے لئے حرکت کرو کیونکہ میں تمھاری ت نگدستی کی وجہ سے غمگین رہتاتھا،سعد خدا کی طرف سے بھیجے گئے دو درہم کے ذریعہ کسب روزی وتجارت میں مشغول ہوگئے ،کچھ ہی دن گزرے تھے کہ سعد کی زندگی میں بہار آگئی اور آہستہ آہستہ کاروبارتجارت میں رونق آتی گئی یہاں تک کہ ایک دن سعد نے مسجد کے درواز ے کے پاس ہی اپنی دکان کا افتتا ح کیا اور خرید وفروش میں مشغول ہوگئے سعدجوکہ روزانہ نمازپڑھنے کے لئے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)کے ہمراہ مسجدجایاکرتے تھے مگرجب سے دوکانداری میں مصروف ہوئے ہیں آہستہ آہستہ اول وقت مسجدمیں جانابندکردیا،جب نمازوقت شروع ہوتاتھاتوبلال اذان دیاکرتے تھے ،اوررسول اکرم (صلی الله علیه و آله)مسجد میں آتے تھے تودیکھتے تھے کہ سعد دوکانداری میں مشغول ہیں اور وضو کر کے نماز کے لئے مسجدمیں نہیں آئے ہیں لہٰذاسعد سے کہتے تھے: اے سعد ! دنیا نے تمھیں مشغول کردیا ہے اور اول وقت نماز پڑھنے سے روک دیا ہے توسعدجواب دیتے تھے : یا رسول الله! کیا کروں دوکان میں نہ میراکوئی شریک ہے اورنہ کوئی شاگردہے اور یہ ایساوقت ہے کہ جب چیزوں کی بکری زیادہ ہوتی ہے اگر ایسے موقع پردوکانداری کوچھوڑکر نمازکے لئے مسجدجاؤں تویہ سب مال اسی طرح پڑارہے گااورپھرخراب بھی ہو جائے گااور یہ شخص جومال لے کرآیاہواہے اس سے چندچیزیں خریدی ہیں اورابھی اس کوپیسہ بھی نہیں دیاہے لہٰذامیں تھوڑی دیرکے بعدنمازپڑھوں گا(سعداسی طرح روزانہ کوئی بات کہہ دیاکرتے تھے )۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سعدکی اول وقت عبادت سے غافل ہو جا نے کی وجہ سے بہت رنجیدہ رہنے لگے ، جب سعد ت نگدست تھے تو اتنا غمگیں نہیں تھے جت نا اب اس کے نماز کو تا خیر سے اور بغیر جماعت کے پڑھنے سے رنجیدہ رہتے ہیں پس ایک دن جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کیا:
اے الله کے نبی! الله تمھاری افسردگی سے با خبر ہے، تم سعد کی کس طرح کی زندگی پسندکرتے ہو، فی الحال کی زندگی پسند کرتے ہو یا پہلے جیسی فقیری کی زندگی ؟ آنحضرت نے فرمایا : مجھے سعد کی پہلی والی ہی زندگی پسند ہے کیونکہ اس کی دنیا نے اس کی آخرت کو تبا ہ کردیا ہے، جبرئیل نے کہا : مال ودنیا کی محبت ایک ایسا فت نہ ہے جو انسان کو یا د خداوآخرت سے غافل کردیتی ہے پس اب جب تمھیں سعد کی پہلی والی ہی زندگی پسند ہے تو سعدسے وہ دونوں درہم واپسلے لیجئے۔ پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) سعدکے پاس آئے اورکہا : اے سعد ! کیا تم وہ درہم واپس نہیں کرو گے جومیں نے تمھیں عطاکئے تھے ؟ سعد نے عرض کیا :اب میراکاروبارات نے عروج اورترقی پرہے کہ میں آپ کوان دو درہم کے ساتھ دوسو درہم اضافہ کرکے دے سکتا ہو ں، آنحضرت نے فرمایا: تم مجھے صرف وہ دودرہم واپس کردیجئے اورمیں ان کے علاوہ کوئی دورہم نہیں لیناچاہتاہوں،سعد نے دو درہم واپس کردئے، ابھی کچھ دن نہ گزرے تھے کہ سعد کے کا رو با رتجارت کی رونق ختم ہوگئی اور آہستہ آہستہ پہلے جیسی حالت واپس آگئی اور سعد پہلے ) کی طرح اذان سے پہلے مسجد میں جانے لگے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔(۱)
٢۔جنسی تمایل اورخواہشات نفسانی کی پیروی
وہ چیزیں جونمازکوضایع کرنے اورہلکاسمجھ کرترک کرنے کاسبب واقع ہوتی ہیں ان میں ایک جنسی تمایل اورخواہشات نفسانی کی پیروی کرناہے جیساکہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ هِمْ خَلْفٌ اَضَاعُواالصَّلٰوةَ وَاتَّبِعُواالشَّهَوٰتِ فَسَوفَ یَلْقُونَ غَیّاً ) (۲) پھر ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنھوں نے نماز کو برباد کر دیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا پسیہ عنقریب اپنی گمراہی سے جاملیں گے۔
____________________
.۱)حیاة القلوب /ج ٢/ص ۵٧٧ ۔ ۵٧٨
۲) سورہ مٔریم/آیت ۵٩
٣۔نمازکوہلکاسمجھنا
نمازکے ذریعہ الله کی طرف سے کسی رحمت ونعمت کے نازل ہونے پراعتقادنہ رکھنااوراس کی عظمت وارزش کو درک نہ کرنا،اسے حقیروناچیزشمارکرنا،نمازکواپنے اوپرایک بوجھ محسوس کرنایاایک دن پڑھنااورایک دن ترک کردینا،یاایک وقت پڑھ لینااوردوسرے وقت کی ترک کردینایہ سب نمازکوترک یاضایع کرنے کے سبب واقع ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے الله کی طرف سے دنیامیں بھی عذاب نازل ہوتاہے اورآخرت میں بھی ان لوگوں کے لئے سخت عذاب معین کیاگیاہے ،اس بارے میں معصومین کی چندروایت ذکرکرچکے ہیں۔
۴ ۔گناہ کبیرہ کامرتکب ہونا
ہم نے نمازکے فضائل وفوائدبارے میں اس آیہ مبارکہ کوذکرکیاتھا:( اَقِمِ الصَّلاةَاِنَّ الصَّلٰوةَ ت نٰهی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرْ وَلَذِکْرُاللهِ اَکْبَرُ، وَاللهُ یَعْلَمُ مَاتَصْنَعُونَ ) (۱)
نمازقائم کروکیونکہ نمازہربرائی اوربدکاری سے روکنے والی ہے اورالله کاذکربڑی شے ہے اورالله تمھارے کاروبارسے خوب واقف ہے۔
جس طرح نماز انسان کو فحشاء ومنکرات سے دور رکھتی ہے اس کے برعکس فحشاء ومنکرات بھی انسان کو نماز وروزہ سے دورکھتے ہیں یہ ممکن نہیں ہے کہ نماز تو انسان کو فحشاء ومنکرات سے دوررکھے اور فحشاء ومنکر ات انسان کو نماز سے نہ ر کھے ،اگر نماز انسان کو گنا ہوں سے باز رکھتی ہے تو گنا ومعصیت بھی انسا ن کو نماز سے دور رکھتے ہیں اوراگرگناہگارانسان نمازپڑھتابھی ہے تووہ نمازکوبے توجہی کے ساتھ اورفقط ایک واجب کو گر دن سے رفع کرنے کے لئے پڑھتا ہے ،ایسے شخص کو اپنی نمازوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے اور نہ اسے اہل نماز کہا جاتاہے ۔
____________________
. ١)سورہ عٔنکبوت/آیت ۴۵
گناہوں کامرتکب ہونے والاشخص گناہوں کے عذاب وعقاب سے بھی نہیں ڈرتاہے اورشیطان پوری طرح اس پرغالب ہوجاتاہے جس کی وجہ سے وہ گناہوں کوانجام دیناہی اپنی زندگی سمجھتاہے اور ایسا شخص نمازپڑھنے کی فکربھی نہیں کرتاہے جیساکہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوااِنَّمَاالْخَمْرُوَالْمَیْسَرُوَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْت نبُوهُ لَعَلَّکُم تُفْلِحُونَ، اِنَّمَایُرِیْدُالشَّیْطَانُ اَنْ یُوقَعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةوَالْبَغْضَاءَ فِی الْخَمْرِوَالْمَیْسَرِوَیَصُدُّکُمْ عَنِ ) ذِکْرِاللهِوَعَنِ الصَّلٰوةِ فَهَلْٰ اَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ) ۔(۱)
اے ایمان والو!شراب ،جوا،بت،پانسہ یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہٰذاان سے پرہیزکروتاکہ کامیابی حاصل کرسکو،شیطان توبسیہی چاہتاہے کہ شراب اورجوے کے بارے میں تمھارے درمیان بغض وعداوت پیداکردے اورتمھیں یادخدااورنمازسے روک دے توکیاتم واقعاًرک جاؤگے ۔
اورسورہ تٔوبہ میں ارشادفرماتاہے:( قُلْ اَنْفِقُوْاطَوْعًااَوْکَرْهًالَنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًافَاسِقِیْنَ،وَمَامَنَعَهُمْ اَنْ یُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ اِلّااَنَّهُمْ کَفَرُوْابِاللهِ وَبِرَسُوْلِهِ وَلَایَاتُوْنَ الصَّلٰوة اِلّاوَهُمْ کُسَالٰی وَلَایُنْفِقُوْنَ اِلّاوَهُمْ کٰرِهُوْنَ ) (۲)
(اے رسول!)ان سے کہدیجئے کہ تم بخوشی خرچ کرویاجبراًتمھاراعمل قبول ہونے والانہیں ہے کیونکہ تم ایک فاسق قوم ہو اوران کے نفقات کوقبول ہونے سے صرف اس بات نے روک دیاہے کہ انھوں نے خداورسول کاانکارکیاہے اوریہ نمازکوبھی سستی اورکسلمندی کے ساتھ بجالاتے ہیں اورراہ خدامیں کراہت اورناگواری کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔
تعقیبات نماز
تسبیح حضرت فاطمہ زہرا انسان جیسے ہی نمازسے فارغ ہوتواسے محل نمازسے فوراًبلندنہیں ہوناچاہئے بلکہ اسی جگہ پر تورک کی حالت میں بیٹھے ہوئے تسبیح حضرت فاطمہ زہرا پڑھے، نمازکے بعد سب سے بہترین تعقیب تسبیح حضرت فاطمہ ہے اورروایتوں میں تسبیح حضرت فاطمہ زہرا ) کی تاکیدکی گئی ہے اور فضیلت بھی بیان کی گئی ہے:(۳)
____________________
. ١)سورہ مٔائدہ/آیت ٩٠ ۔ ٩١
. ٢)سورہ تٔوبہ /آیت ۵٣ ۔ ۵۴
۳)کافی /ج ٣/ص ٣۴٢ ۔تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١٠۵
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص واجب نمازوں کے بعداس سے پہلے کہ اپنے دائیں پیرکوبائیں پیرکے اوپرسے ہٹائے تسبیح حضرت فاطمہ پڑھے توخداوندعالم اس کے تمام گناہوں کوبخشدیتاہے اوراس تسبیح کوتکبیرکے ذریعہ شروع کیاجائے ۔(۱) امام محمدباقر فرماتے ہیں:تسبیح حضرت فاطمہ سے افضل وبہترکوئی ایسی چیزنہیں ہے کہ جس کے ذریعہ خداوندعالم کی حمدوثناکی جائے،اگرتسبیح حضرت فاطمہ سے افضل کوئی تسبیح ہوتی توپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)اسی چیز کو اپنی لخت جگرکوبطورہدیہ عطا کرتے ۔
امام صادق فرماتے ہیں:اے ابوہارون!جس طرح ہم اپنے بچوں کونمازپڑھنے کاحکم دیتے ہیں اسی طرح تسبیح حضرت فاطمہ پڑھنے کابھی حکم دیتے ہیں ،تم بھی اسے پابندی کے ساتھ پڑھاکرو،حقیقت یہ ہے کہ جس بندہ نے بھی اس کی مداومت کی وہ کبھی کسی شقاوت اوربدبختی میں گرفتارنہیں ہواہے ۔(۲)
ابوخالدقماط سے مروی ہے : میں نے امام صادق کویہ فرماتے سناہے :میرے نزدیک روزانہ ہرنمازکے بعدتسبیح حضرت فاطمہ زہرا پڑھنا روزانہ ہزاررکعت (مستحبی)نمازیں پڑھنے سے زیادہ پسند ہے۔(۳)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص خدائے عزوجل کا زیادہ ذکرکرتاہے توخدابھی اسے بہت دوست رکھتاہے اورجوشخص خداکابہت زیادہ ذکرکرتاہے اسے دوچیزوں سے نجات مل جاتی ہے ،ایک یہ کہ وہ شخص آتش جہنم سے نجات پاجاتاہےاوردوسرے یہ کہ اسے نفاق سے بھی نجات مل جاتی ہے۔(۴)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی اس حدیث میں ذکرکثیرسے کیاچیز مرادہے؟ اس بارے میں شیخ صدوق نے اپنی کتاب معانی الاخبارمیں ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے امام صادق سے اس قول خداوندی یٰ( آاَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوااذْکُرُاللهَ ذِکْرًاکَثِیْرًا ) (۵) کے بارے میں معلوم کیا :آیہ مٔبارکہ میں ذکرکثیرسے مرادکیاہے؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:من سبّح تسبیح فاطمة علیهاالسلام فقدذکرالله ذکراکثیر. جوشخص تسبیح حضرت فاطمہ زہرا پڑھتاہے وہ الله کاذکرکرتاہے وہ بھی ذکرکثیر ۔(۶) عن ابی عبدالله علیه السلام قال:تسبیح فاطمة الزهراء علیهاالسلام من الذکرالکثیرالذی قال الله عزوجل :اُذْکُرُاللهَ ذِکْرًاکَثِیْرًا امام صادق فرماتے ہیں:تسبیح حضرت فاطمہ زہرا اسی ذکرکثیرمیں سے ہے کہ جس کے بارے میں خداوندعالم قرآن کریم میں صاحبان ایمان کوحکم دیاہے ::اے ایمان والو!الله کاذکربہت زیادہ کیاکرو۔
____________________
.۱)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١٠۵ ---.۲)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١٠۵ --- .۳)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١٠۵
.۴)کافی /ج ٢/ص ۵٠٠ --.۵)سورہ أحزاب /آیت ۴٢ .-- ۶)معانی الاخبار/ص ١٩٣
تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کانقطہ آغاز
تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کہ جس کے انجام دینے کے بارے میں احادیث میں ات نی زیادہ تاکیدکی گئی ہے اوراس کی فضیلت بیان کی گئی ہے ،اسے ذکرکثیرسے تعبیرکیاگیاہے اوراسے نمازکے بعدپہلی تعقیب کادرجہ دیاگیاہے ،سوال یہ ہے کہ تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کاآغازکب اورکیسے ہواہے ؟اوراس کے انجام دینے کاطریقہ کیاہے؟ تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کاآغازکب اورکیسے ہواہے اس بارے میں ہم دوروایت نقل کررہے ہیں:
پہلی روایت
شیخ صدوق نے اپنی کتاب “ من لایحضرہ الفقیہ ”میں حضرت علی سے ایک روایت نقل کی ہے کہ: امام امیرالمومینن علی ابن ابی طالب +نے قبیلہ بنی سعدکے ایک شخص سے ارشادفرمایا:کیاتم یہ چاہتے ہوکہ میں تمھیں اپنے اورحضرت فاطمہ زہرا کے بارے میں کچھ بیان کروں؟(اسنے عرض کیا:ضروربیان کیجئے)امام(علیه السلام) نے فرمایا:سنو! میری زوجہ “فاطمہ زہرا ” میرے اوراپنے والدمحترم نزدیک اپنے اہل وعیال میں سب سے زیادہ محبوب تھیں،مگرآپ نے رسول اسلام (صلی الله علیه و آله)کی لخت جگرہونے کے باوجود مشک میں اتناڈھویاہے کہ سینہ پربندمشک کے نشان پڑگئے تھے اورچکی میں اس قدراناج پیساہے کہ دستہائے مبارک میں گٹھاپڑگئی تھیں ،گھرمیں ات نی زیادہ جھاڑولگایاکرتی تھیں کہ لباس گردآلودہوجاتے تھے اوردیگ کے نیچے ات نی جلایاکرتی تھیں کہ آپ کے لباس کارنگ بدل گیاتھااوراپنے آپ کوگھرکے دیگرسخت کاموں میں بھی زحمت میں ڈالتی تھیں،ایک شب میں نے ان سے کہا:کت نااچھاہوتاکہ تم اپنے کاموں میں مددکے لئے اپنے والدمحترم کے پاس جاتی اوران سے ایک کنیزکاتقاضہ کرتی اوروہ خادمہ تمھاری مددکرتی حضرت فاطمہ زہرا اسی وقت بلندہوکراسی مقصدکی خاطر اپنے والدمحترم کے گھر پہنچی اورجیسے ہی گھرمیں داخل ہوئیں تودیکھاکہ رسول خدا (صلی الله علیه و آله)کے پاس چندلوگ تشریف فرماہیں اورآنحضرت ان سے محوگفتگوہیں لہٰذاکچھ نہ کہااور اپنے گھرواپس آگئیں.
رسولخدا (صلی الله علیه و آله)کویہ محسوس ہواکہ ان کی لخت جگرکوئی حاجت لے کرآئی تھیں اورحاجت کے پوراہوئے بغیرہی واپس چلی گئی ہیں لہٰذارسول اسلام (صلی الله علیه و آله) صبح سویرے کہ ہم ابھی سورہے تھے ہمارے گھرتشریف لائے اورکہا:“السلام علیکم ” ہم آنحضرت کے سلام کوسنتے ہی بیدارہوگئے اور خاموش رہے (اوردل ہی دل میں سلام کاجواب دیا)ر
سولخدا (صلی الله علیه و آله)نے دوسری مرتبہ کہا:“السلام علیکم ”ہم اس مرتبہ بھی خاموش رہے اوردل ہی دل میں سلام کاجواب دیا،جب تیسری مرتبہ سلام کیاتوہمارے دل میں یہ خوف پیداہواکہ اگراس مرتبہ ہم خاموش رہے اورکوئی جواب نہ دیاتوآنحضرتواپس چلے جائیں گے،کیونکہ آنحضرت نے تین مرتبہ سلام کیاتھالہٰذاہم نے تین بارآنحضرتکے سلام کاجواب دیااورکہا:یارسول الله!تشریف لائیے ،آنحضرت گھرمیں داخل ہوئے اورہمارے سرہانے بیٹھ گئے اورکہا:اے میری پارہ جٔگر!تم رات میں کوئی حاجت لے کرمیرے پاس آئی تھی ؟ حضرت علی کہتے ہیں کہ:میرے دل میں یہ خوف پیداہواکہ اگرہم نے الله کے منتخب شدہ رسول کے سوال کاجواب نہ دیااورنہ بتاکہ سیدہ عٔالم کسغرض سے ان کے پاس تشریف لے گئیں تھیں تووہ اٹھ کرچلے جائیں گے لہٰذامیں نے اپنے سرکوبلندکیااورعرض کیا: یارسول الله!میں آپ کو بتاؤں کہ آپ کی لخت جگرنے مشک کے ذریعہ گھرمیں اس قدرپانی لائی ہیں کہ سینہ پربندمشک کے نشان پڑگئے ہیں اورچکی میں اناج پیستے پیستے دستہائے مبارک میں گٹھاپڑگئی ہیں، گھرمیں ات نی زیادہ جھاڑولگاتی ہیں کہ لباس گردآلودہوجاتے ہیں اوردیگ کے نیچے آگ جلانے کی وجہ سے لباس کارنگ بدل گیاہے لہٰذامیں نے رات میں ان سے فرمائش کی کہ :کیابہترہوگاکہ تم اپنے باباکے پاس جاؤاورایک کنیزکی درخواست کروتاکہ وہ کنیزمشکل کاموں میں تمھاری مددکرسکے ،مولائے کائنات کی یہ بات سن کرپیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:
ا فَٔلااَعلمکما ماهوخیرلکما من الخادم ؟ اذاخذتمامنامکمافسبحا ثلاثا وثلاثین ، واحمدا ثلاثا وثلاثین ، وکبّر اربع وثلاثین
یعنی کیاتم یہ چاہتے ہوکہ میں تمھیں ایک ایسی چیزبتاؤں جوتمھارے لئے خادمہ سے بھی بہترہو؟اوروہ یہ ہے کہ جب تم رات کوبسترپہ لیٹ جاؤتو/ ٣ ۴ مرتبہ ”الله اکبر” اور/ ٣٣ مرتبہ “الحمدلله”اور/ ٣٣ مرتبہ“سبحان الله” کہو. حضرت فاطمہ زہرا نے سربلندکیااور کہا:
رضیتُ عن الله وعن رسوله ، رضیتُ عن الله وعن رسوله ، رضیتُ عن الله وعن رسوله. میں خدااوراس کے رسول سے راضی ہوگئی ،میں خدااوراس کے رسول سے راضی ہوگئی،میں خدااوراس کے رسول سے راضی ہوگئی ۔(۱)
____________________
.۱) من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٢١
دوسری روایت
حضرت علی فرماتے ہیں کہ:چندغیرعرب ممالک کے بادشاہوں نے پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں چندغلام وکنیزبطورہدیہ بھیجے تومیں نے حضرت فاطمہ زہرا سے فرمایا:تم اپنے بابارسولخدا (صلی الله علیه و آله)کے پاس جاؤاور ان سے ایک خادمہ کی درخواست کروتاکہ وہ گھرکے کاموں میں تمھاری مددکرسکے ،میری یہ بات سن کرحضرت فاطمہ زہرا اپنے باباحضرت محمدمصطفیٰ (صلی الله علیه و آله)کی خدمت میں پہنچی اورآنحضرت سے ایک خادمہ کی درخواست کی ،آنحضرت نے فرمایا:
اُعطیک ماهوخیرلک من خادم ، ومن الدنیابمافیها ، تُکبّریْنَ الله بعدکلّ صلاة اربعا وثلاثین تکبیرة ، وتحمّدین الله ثلاثاوثلاثین تحمیدة ، وتسبّحین الله ثلاثاوثلاثین تسبیحة ، ثمّ تختمین ذلک بلاالٰه الّاالله ؛ وذلک خیرلک من الذی اردتَ ومن الدنیاومافیها . اے فاطمہ !میں تمھیں ایک ایسی چیزعطاکرتاہوں جوتمھارے لئے خادمہ اوردنیااور جوکچھ دنیامیں ہے سب سے بہترہے اوروہ یہ ہے کہ ہر نمازکے بعد/ ٣ ۴ مرتبہ “الله اکبر” اور/ ٣٣ مرتبہ“الحمدلله” اور/ ٣٣ مرتبہ“سبحان الله” کہواوراس کے بعد“لٰااِلٰہِ الّاالله” کہو.اس کے بعدآنحضرت نے فرمایا:اے میری پارہ جٔگر! یہ کام تمھارے لئے جس کی تم نے درخواست کی ہے اوردنیااورجوکچھ دنیامیں ہے ان سب سے بھی بہترہے اس کے بعدحضرت فاطمہ زہرا ہرنمازکے بعداس تسبیح کوپڑھتی رہیں یہاں تک کہ یہ تسبیح ان کے نام سے منسوب ہوگئی۔(۱)
محمدابن عذافرسے مروی ہے :میں اپنے والدکے ہمراہ حضرت امام صادق کی خدمت میں پہنچا، میرے والدنے امام (علیه السلام)سے تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کاطریقہ معلوم کیاتوامام (علیه السلام)نے فرمایا:“اَللهُ اَکْبَر”کہویہاں تک کہ اس ذکرکی تعداد / ٣٣ تک پہنچ جائے ،اس کے بعد“اَلْحَمْدُلله” کہویہاں تک کہ “اَللهُ اَکْبَر ” سمیت تعداد/ ۶ ٧ تک پہنچ جائے، اس کے بعد“سبحان الله” کہویہاں تک کہ تسبیح کی تعداد/ ١٠٠ تک پہنچ جائے،اورامام (علیه ) السلام) نے تینوں ذکرکوالگ ،الگ اپنے دستہائے مبارک پرشمارکیا۔(۲)
ابوبصیرسے مروی ہے کہ امام صادق فرماتے ہیں:تسبیح حضرت فاطمہ پڑھنے کاطریقہ یہ ہے کہ پہلے / ٣ ۴ مرتبہ “الله اکبر” کہیں،اس کے بعد/ ٣٣ مرتبہ “الحمدلله” اوراس کے بعد/ ٣٣ مرتبہ“سبحان الله” کہیں۔(۳)
____________________
۱). دعائم الاسلام/ج ١/ص ١۶٨
۲)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١٠۶
۳)کافی /ج ٣/ص ٣۴٢ )
مفضل ابن عمرسے مروی ہے کہ امام صادق ایک طولانی حدیث میں ارشادفرماتے ہیں:تسبیح حضرت فاطمہ زہرا پڑھاکروجس کاطریقہ یہ ہے کہ پہلے / ٣ ۴ مرتبہ“ اَللهُ اَکْبَر ” کہواس کے بعد/ ٣٣ مرتبہ“اَلْحَمْدُ لله” کہواوراس کے بعد/ ٣٣ مرتبہ “ سُبْحَانَ الله ” کہو،خداکی قسم! اگرکوئی چیزتسبیح فاطمہ سے افضل وبرترہوتی تورسول اکرم (صلی الله علیه و آله)اپنی بیٹی کواسی کی تعلیم د یتے ۔(۱)
روایت میں آیاہے کہ:امام صادق کاایک صحابی آپ کی خدمت میں آیااورعرض کیا:اے فرزندرسولخدا!مجھے اپنے کانوں سے بہت ہی کم سنائی دیتاہے (پس مجھے اس کے علاج کے لئے کیاکرناچاہئے )؟امام (علیه السلام)نے فرمایا: عَلَیکَ بِتسبیحِ فاطمة سلام الله علیہا.
تم تسبیح حضرت فاطمہ زہرا پڑھاکرو(ان شاء الله تمھیں صحیح آوازآنے لگے گی )اس صحابی نے امام (علیه السلام) سے کہا:آپ پر قربان جاؤں!یہ تسبیح حضرت فاطمہ کیاہے اوراس کے پڑھنے کاطریقہ کیاہے؟امام (علیه السلام) نے فرمایا: تسبیح حضرت فاطمہ کواس طرح پڑھناشروع کروکہ پہلے / ٣ ۴ مرتبہ “الله اکبر” اس کے بعد/ ٣٣ مرتبہ “الحمدلله” کہو،اس کے بعد/ ٣٣ مرتبہ“سبحان الله” کہو۔
وہ صحابی کہتاہے کہ میں نے یہ تسبیح پڑھی ،ابھی پڑھے ہوئے کچھ دیرنہ گذری تھی ) کہ مجھے کانوں سے صاف دینے لگا ۔(۲)
دعا
لغت میں کسی کے پکارنے کودعاکہاجاتاہے اورقرآن واحادیث میں جہاں بھی لفظ دعا بصورت مصدر،ماضی ،مضارع ،امراستعمال ہواہے پکارنے میں دیتاہے جیساکہ آپ عنقریب ذکرہونے والی آیات کریمہ اوراحادیث معصومین میں ملاحظہ کریں گے لیکن اصطلاح میں کسی بلندمرتبہ ذات کی بارگاہ میں اس کی حمدوثنااورخضوع وخشوع کے ساتھ اپنی حاجتوں کے بیان کرنے اوران کے پورے ہونے کی تمناکرنے کودعاکہاجاتاہے۔
مدعو
وہ ذات کہ جسکی بارگاہ میں حاجتوں کوبیان کیاجائے اوران کے پوراہونے کی درخواست کی جائے اسے“ مدعو ”کہتے ہیں اورمدعوکو چاہئے کہ وہ ہرچیزسے بے نیازہو،کسی دوسرے کامحتاج نہ ہوبلکہ وہ تمام چیزوں کامالک ہو۔ خداوندعالم کی ذات وہ ہے کہ جوکسی کی محتاج نہیں ہے بلکہ وہ غنی مطلق ہے اورتمام زمین وآسمان کامالک ہے اورجوزمین وآسمان میں ہے ان سب کابھی مالک ہے جیساکہ قرآن کریم ارشادباری تعالیٰ ہے:
____________________
۱) تہذیب الاحکام/ج ٣/ص ۶۶
.۲)الدعوات /ص ١٩٧
( لِلّٰهِ مَافِی السَّمَوَاتِ وَمَافِی الْاَرْضِ اِنّ اللهَ هُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْد ) (۱) جوکچھ زمین وآسمان میں ہے وہ سب الله کے لئے ہیں،بیشک الله صاحب دولت بھی ہے اورقابل حمدوثنابھی ۔
( اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللهَ لَه مُلْکُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَالَکُمْ مِنْ دُوْنِ الله مِنْ وَّلِیٍّ وَلَانَصِیْرٍ ) (۲) کیاتم نہیں جانتے کہ زمین وآسمان کی حکومت صرف الله کے لئے ہے اوراس کے علاوہ تمھارانہ کوئی سرپرست ہے اورنہ کوئی مددگار۔
( وَاللهُ مُلْکُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَابَیْنَهُمَا ) (۳)
خداوندعالم زمین وآسمان اورجوکچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے ان سب کامالک ہے ۔
مدعوکوچاہئے کہ وہ ہرانسان کواس کے نیک اعمال پراجروثواب عطاکرے اوران کی درخواستوں کوپوراکرے اورالله تبارک وتعالیٰ کی ذات وہ ہے جوکسی بھی شخص کے نیک عمل ضائع نہیں کرتاہے بلکہ اس پراجروثواب عطاکرتاہے اورنیک عمل کرنے والوں کی درخواست کوپورابھی کرتاہے۔
( فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَااُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍاَوْاُنْثیٰ ) (۴) پُس خدانے ان کی دعاکوقبول کیاکیوں کہ میں تم میں سے کسی بھی عمل کرنے والے کے عمل کوضائع نہیں کروں گاخواہ وہ عامل مردہویاعورت ۔
( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ اِنّالَانُضِیْعُ اَجْرَمَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ) (۵) یقیناًجولوگ ایمان لے آئے اورانھوں نے نیک اعمال کئے ،ہم ان لوگوں کے اجرکوضائع نہیں کرتے ہیں جواچھے اعمال انجام دیتے ہیں۔
( اِنَّ اللهَ لَایُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ) (۶)
خداکسی بھی نیک عمل کرنے والے کے اجروثواب کوضائع نہیں کرتاہے ۔
____________________
. ١)سورہ لٔقمان/آیت ٢۶
. ٢)سورہ بٔقرہ/آیت ١٠٧
٣)سورہ مٔائدہ /آیت ١٧
۴)سورہ آٔل عمران/آیت ١٩۵
. ۵)سورہ کٔہف/آیت ٣٠
.۶)سورہ تٔوبہ /آیت ١٢٠
اورحضرت علی دعائے کمیل میں ارشادفرماتے ہیں:ماهکذالظنُّ بِک ولا اُخبرنا بفضلک عنک یاکریمُ یاربِّ . تیرے وجودکی قسم !میں ہرگزیہ گمان نہیں کرتاہوں کہ تیری بارگاہ میں کوئی اجرضائع ہوتاہے اورکوئی بغیرکسی علت کے تیرے لطف وکرم سے محروم ہوتاہے اوراے کریم وپروردگار!ہمیں تونے اورتیرے کسی رسول نے یہ خبرنہیں دی ہے کہ تواجروثواب کوضائع کرتاہے ۔ مدعوکوچاہئے کہ جب وہ کسی کی درخواست کوپوراکرے تواس کے رحمت ونعمت کے خزانہ میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ ہونے پائے ۔
اگرکوئی ذرہ برابربھی کارخیرانجام دیتاہے توخداوندعالم اسے اس کاثواب ضرور عطاکرتاہے ،خداوندعالم کی ذات وہ ہے کہ جواپنے بندوں کوعطاکرتاآرہاہے اور عطا کرتا رہے گا اورعطاکرنے سے اس کے خزانہ نعمت میں نہ کوئی کمی آئی ہے اورنہ آسکتی ہے جیساکہ ہم لوگ قرآن کریم پڑھتے ہیں:
( اِنَّ هٰذَالَرِزْقُنَامَالَه مِنْ نِّفَاذٍ )
یہ ہمارارزق ہے جوختم ہونے والانہیں ہے ۔(۱)
داعی
جوشخص الله تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجتوں کوبیان کرتاہے اوران کے پوراہونے کی تمناکرتاہے اسے “داعی” کہتے ہیں۔
دعاکرنے کی اسی کوضرورت ہوتی ہے جومحتاج ونیازمندہو،جومشکل میں گرفتار ہو، جسے کسی چیزکے حاصل کرنے کی غرض ہواورجولطف و امداد کا خواہشمند ہو، اگردنیامیں لوگوں کی حالت پرنگاہ کی جائے تویہی معلوم ہوگاکہ دنیامیں ہرشخص امیر،غریب ،حکیم ،طبیب ،منشی ،وکیل ،شہری ،دیہاتی کاشتکار،دوکاندارکسی نہ کسی مشکل میں گرفتارہے ،کوئی اولادنہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہے ،کوئی اولادکے بگڑجانے کی وجہ سے پریشان ہے ،کسی کی ماں بیمارہے توکسی کی بیوی بیمارہے اورکسی کابچہ بیمارہے ،کسی کے پاس نوکری نہیں ہے توکسی کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے ہرانسان ہروقت اپنے دل میں ایک نہ ایک آرزوساتھ لئے رکھتاہے جب اس کی ایک حاجت پوری ہوجاتی ہے تودوسری کے پوراہونے کی تمناکرتاہے گویاہرانسان ہروقت کسی چیزکا فقیرومحتاج ہے
____________________
.۱) سورہ صٔ/آیت ۵۴
خداوندعالم نے انسان میں یہ فطرت پیداکی ہے وہ اپنی مشکلوں کوآسان کرنے کے لئے اوراپنی حاجتوں کے پوراہونے کے لئے کسی ایسے دروازہ پردستک دیتاہے اوراپنی حاجتوں کوبیان کرتاہے جواس کی حاجت کوپوراکرنے کی صلاحیت رکھتاہے انسان کوچاہئے کہ وہ کسی ایسے دروازہ پردستک دے کہ جسکے درسے کوئی خالی نہ لوٹتاہو،جوزمین وآسمان کامالک ہواورجوغنی مطلق ہو،اورعطاکرنے سے اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہ آسکتی ہواورخداوندعالم کی ذات وہ ہے کہ جوغنی مطلق ہے اورزمین وآسمان کامالک بھی ہے اورجوکچھ زمین وآسمان میں ان سب کابھی مالک ہے
( یٰااَیُّهَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلٰی اللهِ وَاللهُ هُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدِ ) (۱)
اے لوگو!تم سب الله کی بارگاہ کے فقیرہواورالله صاحب دولت اورقابل حمدوثناہے ۔ اس آیہ مٔبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ انسان کوصرف الله کے دروازہ کابھکاری ہوناچاہئے اوراپنی حاجتوں کواسی کی بارگاہ میں بیان کرناچاہئے کیونکہ خداوندعالم کاقرآن کریم میں اپنے بندوں سے اس بات کاوعدہ ہے کہ میں تمھاری آوازکوسنتاہوں لہٰذاتم اپنی حاجتوں کومجھ سے بیان کرو
( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبُ لَکُمْ ) (۲)
اورتمھارے پرودگارکاارشادہے کہ مجھ سے دعاکرومیں قبول کروں گا۔
مذکورہ آیات کریمہ سے یہ واضح ہوتاہے کہ انسان کوچاہئے کہ اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے اورکسی بھی چیزکے حاصل کرنے کے لئے اپنے پروردگارکی بارگاہ میں دست دعابلندکرے ،الله کی بارگاہ میں دعاکرنے والے لوگ دنیامیں بھی کامیاب ہیں اورآخرت میں ،دنیامیں بھی صاحب عزت ہیں اورآخرت میں بھی ان کے لئے ایک بلندمقام ہے خداوندعالم اپنے تمام بندوں کی رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہے ،جب بھی کوئی بندہ اس کی بارگاہ میں دست نیازبلندسے یادکرتاہے ،اوراس سے مددطلب کرتاہے تووہ اسکی آوازپرلبیک کہتاہے اوراس پراپنی نعمتیں نازل کرتاہے اورآخرت میں اسے آتش جہنم سے نجات بھی دیتاہے
( اِذَاسَئَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌاُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاْعِِ اِذَادَعَانَ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُو مِٔنُوْابِیْ لَعَلَّهُمْ یُرْشَدُوْنَ ) (۳)
اے پیغمبر!اگرمیرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تومیں ان سے قریب ہوں،پکارنے والے کی آوازسنتاہوں جب بھی پکارتاہے لہٰذامجھ سے طلب قبولیت کریں اورمجھ ہی پرایمان واعتقادرکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پرآجائیں۔
____________________
۱)سورہ فٔاطر/آیت ١۵
. ٢)سورہ غٔافر/آیت ۶٠.
۳)سورہ بٔقرہ/آیت ١٨۶
خداوندعالم عالم غنی مطلق ہے ،تمام زمین آسمان ،اوراس میں موجوداشیاء سب کچھ الله کی ملکیت ہیں مگرانسان ضعیف وناتواں ہے ،اسے جت نامل جائے پھربھی کم سمجھتاہے اوراپنے آپ کومحتاج ونیازمندمحسوس کرتاہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ انسان دنیاوآخرت کوخداسے طلب کرے ۔
جیسا کہ خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے:( وَمِنْهُمْ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاآت نافِی الدُّنْیَاحَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَاعَذَاْبَ النَّاْرِ ) (۱)
ترجمہ:اوربعض کہتے ہیں کہ پروردگاراہمیں دنیامیں بھی نیکی عطافرمااورآخرت میں بھی اورہم کوعذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
دعاکے فضائل وفوائد
قال امیرالمومنین علیه السلام:احب الاعمال الی الله عزوجل فی الارض الدعاء .(۲) دعاخداوندعالم کے نزذیک روئے زمین پرسب سے بہترین عمل ہے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:علیک بالدعافانه شفاء من کل داء .(۳) امام صادق فرماتے ہیں:میں تمھیں دعاکے بارے میں وصیت کرتاہوں کیونکہ دعاہرمرض کی دواہے۔
قال امیرالمومنین علیه السلام:ادفعواامواج البلاء بالدعاء قبل ورودالبلاء (۴) امام علی فرماتے ہیں :بلاو ںٔ کی موجوں کوبلاؤں کے نازل ہونے سے پہلے دعاکے ذریعہ برطرف کردیاکرو۔
قال رسول الله صلی الله علیه واله:لایردالقضاء الّاالدعاء .(۵) نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:قضا کودعاکے علاوہ کسی دوسری چیزکے ذریعہ نہیں پلٹایاجاسکتاہے ۔
____________________
. ١)بقرہ/آیت ٢٠١
. ۲)مکارم الاخلاق/ص ٢۶٩
. ۳)کافی /ج ٢/ص ۴٧٠
. ۴)نہج البلاغہ/کلمات قصار ١۴۶
۵)بحار/ج ٩٣ /ص ٢٩۶
قال امیرالمو مٔنین علیه السلام:الدعاء مفتاح الرحمة ومصباح الظلمة (۱) حضرت علی فرماتے ہیں:دعارحمت کی کنجی ہے اور(قبرکی) تاریکی کاچراغ ہے ۔
عن الصادق علیه السلام :قال :ان الدعاء انفذ من سلاح الحدید (۲) امام صادق فرماتے ہیں:دعاتیزدھاراسلحہ سے بھی زیادہ نافذہوتاہے ۔ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں نے اپنی خدومت میں موجودلوگوں سے فرمایا:کیاتمھیں ایسی چیزکی خبرکہ جوتمھیں تمھارے دشمنوں سے بچائے اورتمھارے لئے رزق کاانبارلگائے ،سب نے کہا:یارسول الله!ضروربیان کیجئے ،پس آنحضرت نے فرمایا:اپنےپوردگارسے رات دن دعاکیاکروکیونکہ مومن کااسلحہ ہے۔(۳)
زرارہ سے مروی ہے امام صادق نے مجھ سے فرمایا:کیاتمھیں ایسی چیزکی رہنمائی کروں کہ جس کے بارے میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کوبھی استثنا نہیں کیاگیاہے ؟ میں نے عرض کیا:ہاں!ضروربیان کیجئے ،امام (علیه السلام) نے فرمایا:دعااس قضاوتقدیرالٰہی بھی کوواپسکردیتی ہے جوسختی کے ساتھ محکم ہوگئی ہے ،اس کے یعدامام (علیه السلام) نے مطلب کے واضح ہونے کے لئے دونوں ہاتھ کی اپنی انگلیوں کوانگلیوں اپس میں ڈال کر مضبوطی سے جکڑااورفرمایا:چاہے وہ تقدیرکالکھااسی طرح کیوں نہ مضبوط ہو۔(۴)
قال ابوالحسن موسی علیه السلام :علیکم بالدعاء فان الدعاء لله والطلب الی الله یردالبلاء وقدقدّر وقضی ولم یبق الّاامضائه ، فاذادعی الله عزوجل وسئل صُرف البلاء صرفة .(۵) امام موسی کاظم فرماتے ہیں:تم دعائیں ضرورکیاکروکیونکہ خداوندعالم کی بارگاہ میں دعاکرنے اوراس سے طلب حاجت کرنے سے بلا ئیں ٹل جاتی ہیں وہ بلائیں کہ جوتقدیرمیں لکھی جاچکی ہیں اوران کاحکم بھی آچکاہومگرابھی نازل نہ ہوئی ہیں پس جیسے ہی الله کی بارگاہ میں دعاکی جاتی ہے اوراس سے طلب حاجت کی جاتی ہے تووہ مصیبت فوراًپلٹ جاتی ہے۔
____________________
۱)الدعوات /ص ٢٨۴
. ٢)مستدرک الوسائل/ج ۵/ص ١۶۵
. ٣)کافی /ج ٢/ص ۴۶٨.
. ۴)کافی /ج ٢/ص ۴٧٠
. ۵)کافی /ج ٢/ص ۴٧٠
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:خداوندعالم نے جت نے بھی نبی بھیجے ہیں ان سے فرمایاہے کہ: جب بھی تمھیں کسی کوئی رنج وغم پہنچے تومجھے پکارو،بیشک خداوندعالم نے اس نعمت( دعا) کومیری کوبھی عطاکیاہے کیونکہ قرآن کریم ارشادفرماتاہے: اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبُ لَکُم تم مجھ سے دعاکروتومیں قبول کروں گا۔(۱)
سیف تمارسے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے ہوئے سناہے:تم دعائیں کیاکرو؛کیونکہ دعاکے مانندکوئی بھی چیزخداسے قریب نہیں کرتی ہے ،کسی بھی چھوٹی حاجت کوچھوٹی سمجھ کرترک نہ کروبلکہ اس کے لئے بھی خداکی بارگاہ میں دعاکروکیونکہ جس کے اختیارمیں چھوٹی حاجتوں کوپوراکرناہے بڑی حاجتوں کوپوراکرنابھی اسی کے اختیارمیں ہے۔(۲)
معاویہ ابن عمارسے مروی ہے کہ میں امام صادق سے کہا:دوشخص ایک مسجدمیں داخل ہوئے ،دونوں نے ایک ہی وقت پرنمازپڑھی ،ایک ساتھ نمازسے فارغ ہوئے لیکن نمازکے بعدایک شخص نے قرآن کریم کی بہت زیادہ تلاوت کی اوردعابہت ہی کم کی مگردوسرے نے تلاوت کم اوردعابہت زیادہ کی ،ان دونوں میں کس کاعمل زیادہ بہترہے ؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:دونوں کاعمل اچھااوربافضیلت ہے ،میں نے امام (علیه السلام) سے کہا:میں جانتاہوں کہ دونوں کہ کا عمل صالح ہے لیکن میں یہ جانناچاہتاہوں کہ کسکاعمل زیادہ فضیلت رکھتاہے؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:کیاتم نے اس قول خداوندی کونہیں سناہے:
( اُدْعُونِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاْخِرِیْنَ ) (۳)
ترجمہ:مجھ سے دعاکرومیں قبول کروں گااوریقیناًجولوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہونگے۔ اس کے بعدامام (علیه السلام)نے تین مرتبہ کہا:دعاافضل وبرترہے،دعاافضل وبرترہے ،دعاافضل وبرترہے اورفرمایا:کیادعاعبادت نہیں ہے؟اورکیادعامستحکم نہیں ہے ؟اورفرمایا:خداکی ) قسم!دعامناسب ترہے، دعااورمناسب ترہے، دعامناسب ترہے۔(۴)
____________________
۱). بحارالانوار/ج ٩٠ /ص ٢٩٠
. ٢)کافی /ج ١/ص ۴۶٧
۳)سورہ غٔافر/آیت ۶٠
. ٢)تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ١٠۴
دعاکے آداب وشرائط
١۔معرفت خدا
ہم جس کی بارگاہ میں دعاکے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اس کی معرفت رکھنابہت ضروری ہے اورجوخداکی جت نی معرفت رکھتاہوگاوہ اس سے اتناہی زیادہ قریب ہوگااوراس کے خزانۂ رحمت سے اتناہی زیادہ فیض حاصل کرے گااوراسی مقدارمیں اس کی دعاقبول ہوگی روایت میں آیاہے کہ کچھ لوگوں نے امام صادق سے سوال کیا:اے ہمارے مولا!ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہیں؟امام (علیه السلام)نے فرمایا:لانّکم تدعون من لاتعرفونه .
اس لئے کہ تم جسے پکارتے ہواسے پہچانتے نہیں ہو۔(۱)
عن النبی صلی الله علیه قال:یقول الله عزوجل :من سئلنی وهویعلم انّی اضرواَنفع استجیب له .(۲)
رسول خدا (صلی الله علیه و آله)سے منقول ہے کہ:خدائے عزوجل ارشاد فرماتاہے:جوشخص یہ سمجھتے ہوئے مجھ سے کچھ مانگے کہ نفع ونقصان سب کچھ میرے ہاتھوں میں ہے تومیں اس کی دعاقبول کروں گا۔
٢۔گناہوں سے دوری واستغفار
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان جب کسی گناہ کوانجام دیتاہے توتہہ دل سے انجام دیتاہے اورانسان جیسے ہی گناہ کامرتکب ہوتاہے تو اس کے دل پرایک کالاداغ پڑجاتاہے اوروہ داغ صرف توبہ کے ذریعہ پاک ہوسکتاہے اورجت نازیادہ گناہوں کامرتکب ہوتارہے گاتواس داغ کی مقداربھی بڑھتی رہے گی اورپھراسے دورکرنانہایت مشکل ہے گناہ ایک ایسی چیزہے جوانسان کو خیروبرکت سے محروم کردیتی ہے، لہٰذاانسان کودعاکرنے سے پہلے استغفارکرناچاہئے کیونکہ گناہ ایک ایسی چیزہے جوانسان کی دعا قبول نہ ہونے کاسبب واقع ہوتی ہے جیساکہ ہم کلام امیرالمومنین حضرت علی دعائے کمیل میں پڑھتے ہیں:
اللّهمّ اغفرلی الذنوب التی تحبس الدعاءفاسئلک بعزتک ان لایحجب دعائی سوءُ عملی وفعالی ۔
ترجمہ :بارالٰہا!میرے گناہوں کومعاف کردے جوکہ دعاکے مانع واقع ہوتے ہیں بارالٰہا!میں تیرے جلال وعزت کی قسم کھاتاہوں اورتجھ سے یہ چاہتاہوں کہ میری بدکرداری اوررفتاری کواپنی بارگاہ میں دعاکامانع قرارنہ دے ۔ قال علی علیہ السلام:المعصیة تمنع الاجابة. حضرت علی فرماتے ہیں:گناہ ایک چیزہے جوبارگاہ خداوندی میں دعاؤں کے قبول نہ ہونے کاسبب واقع ہوتاہے ۔(۳)
____________________
. ۱)توحید/ص ٢٨٩
. ٢)بحارالانوار/ج ٩٣ /ص ٣٠۵
۳)غررالحکم /ص ٣٢
٣۔صدقہ
جب کوئی شخص کسی عظیم ذات کی بارگاہ میں کوئی حاجت لے کرجاتاہے تواس تک پہنچنے کے لئے پہلے وہاں کے ملازم اوردربانوں کوکچھ دے کرخوش کرتاہے تاکہ آسانی سے اس تک رسائی ہوسکے اوراس کی حاجتیں پوری ہوجائیں لہٰذاانسان کوچاہئے کہ مالک دوجہاں سے کچھ مانگنے کے لئے پہلے اس کے دربان( فقراء ومساکین)کوصدقہ دے اوران کی مددکرے تاکہ حاجتیں پوری ہوجائیں ۔
امام صادق فرماتے ہیں کہ :جب بھی میرے والدکوکوئی پیش آتی تھی توزوال کے وقت آفتاب کے وقت اس حاجت کوطلب کرتے تھے پس جب بھی آپ کوکوئی حاجت ہوتی تھی تودعاسے پہلے صدقہ دیاکرتے تھے اوراپنے آپ کومعطرکرتے تھے اس کے بعدمسجدروانہ ہوتے تھے اورپھرجسچیزکی بھی حاجت ہوتی تھی اسے بارگاہ خداوندی سے طلب کرتے تھے۔(۱)
۴ ۔طہارت
دعاکرنے والے کوچاہئے کہ دعاکرنے سے پہلے وضوکرے اس کے بعددورکعت نمازپڑھے اوربارگاہ خداوندی اپنی حاجتوں کوبیان کرے۔ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)حدیث قدسی فرماتے ہیں:حدیت قدسی شریف میں آیا ہے خدا وند متعال فرماتا ہے :اگر کسی شخص کی وضوباطل ہو جائے اوروہ وضونہ کرے تومجھ پر جفاکرتا ہے اور اگر کوئی شخص وضو کرے اور دورکعت نماز نہ پڑھے وہ بھی مجھ پر جفا کرتا ہے اور اگر کوئی شخص دورکعت نماز پڑھے اور مجھ سے اپنی حاجتوں کوبیان کرے اورکسی چیزکی درخواست کرے اب اگرمیں اسے وہ چیزعطانہ کروں جواس نے مجھ سے اپنے دین ودنیاکے بارے میں مجھ سے طلب کی ہے تومیں اس پرجفاکرتاہوں اور میں جفا کار پر ور دگار ) نہیں ہوں ۔(۲)
۵ ۔دورکعت نماز
آپ نے گذشتہ میں ملاحظہ فرمایاکہ دعاکرنے سے پہلے وضوکی جائے اوردورکعت نمازپڑھی جائے اس کے بعدباگاہ خداوندی میں اپنی حاجتوں کوبیان کیاجائے ،اس حدیث کے علاوہ اوربھی احادیث ہیں کہ جن میں اس چیزکوبیان کیاگیاہے کہ نمازکے ذریعہ الله سے مددطلب کرواوراپنی حاجتوں کوبیان کرو۔ امام صادق سے مروی ہے کہ امام علی کے سامنے جب بھی کوئی ہوناک حادثہ ومشکل پیشآتی تھی تونمازکے ذریعہ پناہ لیتے تھے اوراس آیہ مٔبارکہ کی تلاوت کرتے تھے: )( وَاسْتَعِینُوابِالصَّبْرِوَالصَّلَاةِ ) (۳) صبراورنمازکے ذریعہ مددطلب کرو۔(۴)
____________________
.۱) عدة الداعی/ص ۴٨----۲)تہذیب الاحکام/ج ۴/ص ٣٣١ ---.۳)سورہ بٔقرہ/آیت ۴٢
.۴)کافی /ج ٣/ص ۴٨٠
امام صادق فرماتے ہیں:جب بھی تمھیں دنیاوی مشکلوں میں سے کوئی مشکل پیش آئے توتم وضوکرواورمسجدمیں جاکردورکعت نمازپڑھو اورخداسے دعاکریں ،کیاتم نے اس قول خداوندی کونہیں سناہے:
( وَاسْتَعِینُوابِالصَّبْرِوَالصَّلَاةِ ) صبراورنمازکے ذریعہ مددطلب کرو۔(۱)
روایت میں ایاہے :ایک دن جب نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)ایک شب نمازمغربین حضرت علیکے ہمراہ اپنی لخت جگرکے گھرتشریف لائے توگھرمیں کھانے پینے کاکوئی انتظام نہیں تھااورجوانان جنت کے سردارامام حسن اورامام حسین +بھی دوروزسے بھوکے تھے جناب سیدہ نے باباکی زیارت کی اوراس کے بعدایک حجرے میں تشریف لے گئیں،مصلے پرکھڑے ہوکردو رکعت نماز پڑھی،اور سلام نماز پڑھنے کے بعد اپنے چہرہ مٔبارک کو زمین پر رکھ کر بارگاہ رب العزت میں عرض کیا : پروردگا را! آج تیرے حبیب ہمارے گھر مہمان ہیں،اورتیرے حبیب کے نواسے بھی بھوکے ہیں پس میں تجھے تیرے حبیب اوران کی آل کاواسطہ دیتی ہوں کہ توہمارے لئے کوئی طعام وغذانازل کردے ، جسے ہم ت ناول کرسکیں اور تیرا شکر اداکریں۔ حبیب خدا کی لخت جگر نے جیسے ہی سجدہ سے سربلند کیاتوایک لذیذ کھانے کی خوشبوآپ کے مشام مبارک تک پہنچی ،اپنے اطراف میں نگاہ ڈالی تودیکھا کہ نزدیک میں ایک بڑاساکھانے کا طباق حاضر ہے جس میں روٹیاں اور بریاں گوشت بھرا ہوا ہے،یہ وہ کھاناتھاجو خدا ئے مہربان نے بہشت سے بھیجا تھا اور فاطمہ زہرا نے پہلے ایسا کھانا نہیں دیکھا تھا ،آ پ نے اس کھانے کواٹھاکردسترخوان پررکھااور پنجت ن پاک نے دستر خوان کے اطراف میں بیٹھ کر اس بہشتی کھانا کو ت ناول فرمایا ۔
روایت میں آیاہے کہ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)نے اپنی پارہ جگرسے پوچھا:اے میرے بیٹی ! یہ لذےذاورخوشبودار کھانا آپ کے لئے کہا ں سے آیا ہے ؟ بیٹی نے فرمایا: اے باباجان!
( هُوَمِنْ عِنْدِالله اِنَّ الله یَرْزَقُ مَنْ یَشاَ ءُ بِغَیْرِحِسَا بٍ ) .(۲) یہ کھانا الله کی طرف سے آیا ہے خدا جسکو چاہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)نے اپنی لخت جگرسے مخاطب ہوکر فرمایا:تمھارایہ ماجرابالکل مریم اورذکریاجیساماجراہے اوروہ یہ ہے:
( کُلَّمَادَخَلَ عَلَیْهَا زَکَرِیَّاالْمَحْرَابَ وَجَدَعِنْدَهَارِزْقاً قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ هٰذا قَالَتْ هُوَمِنْ عِنْدِاللهِ اِنَّ اللهَیَرْزُقُ مَنْ یَّشَاءُ بِغَیْرِحِسَاْبٍ ) .(۳)
____________________
. ۱)وسائل الشیعہ/ج ۵/ص ٢۶٣
۲)سورہ آٔل عمران/آیت ٣٧
۳)سورہ آٔل عمران/آیت ٣٧
جب بھی حضزت زکریا (علیه السلام)حضرت مریم (س )کی محراب عبادت میں داخل ہوتے تھے تو مریم کے پاس طعام وغذا دیکھا کر تے تھے اور پو چھتے تھے : اے مریم ! یہ کھانا کہاں سے آیاہے ؟ مریم(س)بھی یہی جواب دیتی تھیں: یہ سب خداکی طرف سے ہے بے شک خدا جسکو چاہے بے حساب رزق عطا کرتاہے ۔ جنت سے کھانانازل ہونے میں دونوں عورتوں کی حکایت ایک جیسی ہے جس طرح نماز وعبادت کے وسیلہ سے حضرت مریم (س)کے لئے بہشت سے لذیذکھاناآتاتھااسی طرح جناب سیدہ کے لئے بھی جنت سے لذیذ اورخوشبودار غذائیں نازل ہوتی تھیں لیکن اس کوئی شک نہیں ہے کہ جناب سیدہ کا مقام تواس سے کہیں درجہ زیادہ بلندو با لا ہے حضرت مریم(س)صرف اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار تھیں لیکن جناب سیّدہ دونوں جہاں کی عورتوں کی سردار ہیں ،جبرئیل آپ کے بچوں کوجھولاجھلاتے ہیں،گھرمیں چکیاں پیستے ہیں،درزی بن جاتے ہیں اسی لئے آپ کوسیدة نساء العالمین کے لقب سے یادکیاجاتاہے۔وہ خاتون جودوجہاں کی عورتوں کی سردارہو،وہ بچے جوانان جنت کے سردار ہوں، وہ گھرکہ جس میں میں فرشے چکیاں پیستے ہوں،جن بچوں کوجبرئیل جھولاجھلاتے ہیں،خداوندعالم اس گھرکے افرادکو کس طرح فاقہ میں رہنے دے سکتاہے، ہم تویہ کہتے ہیں کہ خداوندعالم انھیں کسی صورت میں فاقہ میں نہیں دیکھ سکتاہے بلکہ یہ فاقہ فقط اس لئے تھے کہ خداوندعالم اس گھرافرادکے مقام ومنزلت کوبتاناچاہتاتھاورنہ مال ودولت توان ہی کی وجہ سے وجودمیں آیاہے ،یہ تووہ شخصیت ہیں کہ اگرزمین پرٹھوکرماریں تووہ سوناچاندی اگلنے لگے ۔
۶ ۔نیت وحضورقلب
انسان جس چیزکوخداسے طلب کررہاہے اس کادل میں ارادہ کرے اوردعاکرنے کویہ معلوم ہوناچاہئے کہ وہ کیاکہہ رہاہے یعنی اس کے قلب کوزبان سے کہی جانے والی باتوں کی اطلاع ہونی چاہئے اورنیت میں سچائی بھی ہونی چاہئے ۔ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)حضرت علی سے وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: )یاعلی .لایقبل الله دعاء قلب ساهٍ .(۱) اے علی!خداوندعالم ہراس دعاکوجودل غافل اوربے توجہی کے ساتھ انجام دی جاتی ہے مستجاب نہیں کرتاہے۔قال امیرالمو مٔنین علیه السلام:لایقبل الله دعاء قلب لاه. (۲) حضرت علی فرماتے ہیں:خداوندعالم دل مضطرب وغافل کی دعاقبول نہیں کرتاہے۔ امام صادق فرماتے ہیں جب کوئی بندہ صدق نیت اوراخلاص کے ساتھ الله کو پکارے ،جیسے ہی وہ اپنے اس عہدوپیمان کووفاکرتاہے تواس کی دعامستجاب ہوجاتی ہے
____________________
۱)من لایحضرہ الفقیہ /ج ۴/ص ٣۶٧
. ٢)کافی/ج ٢/ص ۴٧٣
اورجب کوئی بندہ نیت واخلاص کے بغیرالله کوپکارتاہے تواس کی دعامستجاب نہیں ہوتی ہے ،کیاتم نے قرآن کریم میں اس قول خداوندی کونہیں پڑھاہے؟کہ جسمیں وہ فرماتاہے:( اَوْفُوْا بِعَهْدِیْ اُوْفِ بِعَهْدِکُمْ ) (۱) تم ہمارے عہدکوپوراکروہم تمھارے عہدکوپوراکریں گے،اس کے بعدامام (علیه السلام) فرماتے ہیں:جس نے عہدخداکوپوراکیاخدابھی اس کے ) عہدکوپوراکرے گا ۔(۲)
سلیمان ابن عمروسے مروی ہے :میں نے امام صادق کویہ فرماتے سناہے:خداوندعالم بے توجہی کے ساتھ کی جانے والی دعاقبول نہیں کرتاہے،پس جب بھی تم دعاکروتواپنے قلب ) خداکی طرف متوجہ رکھواوریہ یقین رکھوکہ تمھاری دعاضرورقبول ہوگی۔(۳)
٧۔زبان سے
خداوندعالم ہرشخص کے حال دل سے آگاہ ہے ،وہ بغیرمانگے بھی عطاکرسکتاہے لیکن وہ اپنے بندہ کی زبان سے دعاکوسننازیادہ پسندکرتاہے،لہٰذا بہترہے کہ انسان اپنی دعاوحاجت کودل کے علاوہ زبان سے بھی اداکرے ۔عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ الله تبارک وتعالیٰ یعلم مایریدالعبداذادعاه ولکن یحبّ اَن یبث الیه الحوائج فاذادعوت فسم حاجتک ۔(۴)
امام صادق فرماتے ہیں:جب کوئی بندہ دعاکرتاہے توخداوندعالم دعاکرنے والوں کی حاجتوں سے باخبررہتاہے مگراس چیزکودوست رکھتاہے کہ بندہ اپنی حاجتوں کوزبان سے بھی ذکرکرے،پسجب بھی تم دعاکرواپنی حاجتوں کوزبان سے بیان کرو۔
٨۔ہاتھوں کوآسمان کی جانب بلندکرنا
مستحب ہے کہ دعاکرتے وقت دونوں ہاتھوں کوچہرہ اورسرکے سامنے تک بلندکریں اوردونوں ہتھیلیوں کوآسمان کی جانب قراردیں۔عن حسین بن علی علیهماالسلام قال:کان رسول الله صلی الله علیه وآله، یرفع یدیه اذاابتهل ودعاکمایستطعم المسکین ۔(۵)
روایت میں آیاہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)الله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعااورگریہ وزاری کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کواس طرح بلندکرتے تھے جیسے کوئی مسکین وبے چارہ کسی کے سامنے کھانے کے لئے ہاتھ پھیلاتاہے ۔
____________________
۱)سورہ بٔقرہ /آیت ۴٠
۲)سفینة البحار/ج ١/ص ۴٩٩.
.۳)کافی /ج ٢/ص ۴٧٣
. ۴)کافی /ج ٢/ص ۴٧۶
.۲)مکارم الاخلاق/ص ٢۶٨
امیرالمومنین فرماتے ہیں:
جب بھی تم میں کوئی شخص نمازسے فارغ ہوتواپنے دونوں ہاتھوں کوآسمان کی طرف بلندکرے اوردعاکرے ابن سبانے عرض کیا:یاامیرالمومنین!کیاخداسب جگہ موجودنہیں ہے(پھرآسمان کی طرف ہاتھ بلندکرکے دعاکرنے کی وجہ کیاہے )؟امام(علیه السلام) نے فرمایا:کیاتم نے اس آیہ مبارکہ نہیں پڑھی ہے:( وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَاتُوعَدُوْنَ ) اورآسمان میں تمھارارزق ہے اورجن باتوں کاتم سے وعدہ کیاگیاہے سب کچھ موجودہے(۱)
٩۔اظہارذلت وتضرع
دعاکرنے والے کوچاہئے کہ اپنے آپ کوالله کی بارگاہ میں ذلیل وحقیراورمحتاج شمارکرے اورعظمت پردگارکے سامنے اپنی حاجتوں کوناچیزشمار کرے اوردعاکرنے والے کوچاہئے کہ اپنے آپ کو اس قدریادخدامیں غرق کرے کہ جب جسم پر تضرع وگریہ کی حالت پیداہوجائے تواس وقت دعاکرے اوراپنی حاجتوں کوبیان کرے۔
عن ابی عبدالله علیه السلام:اذارقّ احدکم فلیدع فانّ القلب لایرقّ حتیٰ یلخّص .(۲)
جب تمھارے جسم پررقت طاری ہوجائے تودعاکروکیونکہ دل پررقت اسی وقت طاری ہوتی ہے جب وہ خداکے لئے خالص ہواوراس کی جانب متوجہ ہوجائے
١٠ ۔ بسم الله کے ذریعہ آغاز
انسان جب بھی بارگاہ خداوندی میں دعاکے لئے ہاتھ بلندکرے اوراوراپنی حاجتوں کوبیان کرے توسب سے پہلے “بسم الله الرحمن الرحیم ”کہے اسکے بعداپنی حاجتوں کوبیان کرے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہی:جس دعاکو“بسم الله الرحمن الرحیم”کے ذریعہ شروع کیاجاتاہے تو وہ واپسنہیں ہوتی ہے بلکہ مقبول واقع ہوتی ہے ۔(۳)
____________________
.۱) سورہ ذاریات/آیت ٢٢ من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٢۵
. ۲)کافی /ج ٢/ص ۴٧٧ ۔مکارم الاخلاق/ص ٢٧١
۳)بحارالانوار/ج ٩٠ /ص ٣١٣
١١ ۔ حمدوثنائے الٰہی
دعاکرنے والے کوچاہئے کہ دعاکرنے پہلے اپنے رب کوراضی وخوشنودکرے یعنی اس کی تسبیح اور حمدوثنا کرے اوراپنے گناہوں کی معافی مانگے اس کے بعداپنی حاجتوں کوبیان کرےحارث ابن مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے ہوئے سناہے:ایّاکم اذااراداحدکم ان یسئل من ربّه شیئاًمن الحوائج الدنیاوالآخرة حتی یبدء بالثناء علی الله عزوجل والمَدحَ له والصلاة علی النبی ثمّ یسئل الله حوائجه ۔(۱) تم میں جوشخص بھی حوائج دنیاوآخرت میں سے کسی چیزکوالله سے طلب کرے تواسے چاہئے کہ دعاکرنے سے پہلے خدائے عزوجل کی مدح وثناکرے اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اوران کی آل اطہارپردرودبھیجے اس کے بعداپنی حاجتوں کوخداکی بارگاہ میں طلب کرے ۔
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص دس مرتبہ“یاالله یالله” کہتاہے توخداوندعالم اپنے اس بندہ سے کہتاہے :اے میرے بندے !میں حاضرہوں ،تواپنی حاجت تومجھ سے بیان کر۔(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص دس مرتبہ“یارب یارب” کہتاہے توخداوندعالم اپنے اس بندہ سے کہتاہے :اے میرے بندے !میں حاضرہوں ،تواپنی حاجت تومجھ سے بیان کر۔(۳)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص ایک نفس میں چندمرتبہ “یاربِّ یاالله”کہتاہے توخداوندعالم اپنے اس بندہ سے کہتاہے :اے میرے بندے !میں حاضرہوں ،تواپنی حاجت تومجھ سے بیان کر۔(۴)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص ہرنمازواجب کے بعدحالت تورک سے خارج ہونے سے پہلے تین مرتبہ “استغفرالله الذی لااله الّاهوالحی القیوم ذوالجلال والاکرام واتوب الیه ”کہے توخداوندعالم اسے تمام گناہوں کوبخش دیتاہے خواہ اس کے گناہ سمندرکے جھاگ کے برابرہی کیوں نہ ہوں۔(۵)
____________________
.۱) کافی /ج ٢/ص ۴٨۴.
۲). کافی /ج ٢/ص ۵١٩
۳). کافی /ج ٢/ص ۵٢٠
۴). کافی /ج ٢/ص ۵٢٠
۵). کافی /ج ٢/ص ۵٢١
١٢ ۔ توسل بہ معصومین
اگرکسی غلام سے کوئی خطاہوجائے تووہ اپنی خطاکومعاف کرانے کے لئے کسی ایسے شخص کاسہارالیتاہے کہ جوبادشاہ سے بہت زیادہ قریب ہواوردوست بھی ہواورخودبادشاہ بھی اسے دوست رکھتاہوکہ جس کے کہنے پربادشاہ اسے معاف کرسکتاہو ،اسی طرح اگرکوئی شخص کسی چیزکامحتاج اورضرورتمندہے توکسی بے نیازکادروازہ کھٹکھٹانے کے لئے کسی ایسی ذات کاسہارالےتاہے جواس مالدارکاقریبی دوست ہوکہ جس کے کہنے سے مرادپوری ہوجائے گی ،بس اسی طرح خداتک پہنچنے اوراس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اوراس سے اپنی حاجتوں کے پوراکرنے کے لئے ایسی ذوات مقدسہ کوسہارااوروسیلہ قرارضروری ہے جوالله تبارک وتعالیٰ سے بہت زیادہ قریب ہوں اوروہ انھیں اپناحبیب سمجھتاہو،الله تک پہنچنے کے لئے کسی ذات کووسیلہ قراردینے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:
( یٰااَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوْااتَّقُوْااللهَ وَابْتَغُوْااِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ ) (۱)
ترجمہ:اے ایمان والو!الله سے ڈرواوراس تک پہنچنے کاوسیلہ تلاش کرو
اس آیہ مٔبارکہ سے یہ ثابت ہے کہ الله تک پہنچنے کے لئے اوراس سے کوئی چیزطلب کرنے کے لئے کسی کووسیلہ قراردیناضروری ہے کہ جن کے وسیلے سے ہماری توبہ قبول ہوجائے اوربگڑی ہوئی قسمت سنورجائے اورجسچیزکی تمناہے وہ بھی حاصل ہوجائے معصومین وہ ذوات مقدسہ ہیں جوالله تبارک وتعالیٰ سے بہت زیادہ قریب ہیں، پروردگار ان کی بات کونہیں ٹال سکتاہے ،یہ زمین وآسمان ،آفتاب وماہتاب،چاند اور ستارے، دریا وسمندرشب کچھ انھیں کے طفیل سے قائم ہیں گویایہ پوری دنیاانھیں کی وجہ سے قائم ہے ،اب اگرکوئی شخص الله کوراضی کرناچاہتاہے توپہلے انھیں راضی کرے جسے پروردگاراپنی مرضی فروخت کر چکاہو
اگرکوئی شخص اللھسے کسی چیزکوطلب کرناچاہتاہے تونبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اورآئمہ اطہار کوواسطہ قرادیناچاہئے ،یہی وہ عظیم ہستیاں ہیں کہ جن کے وسیلے سے امت نجات پاسکتی ہے ،ان کے وسیلہ کے بغیرنہ کوئی حاجت پوری ہوسکتی ہے اورنہ کسی کوروزقیامت نجات مل سکتی ہے ،یہی وہ ذوات مقدسہ ہیں کہ جن کے واسطے سے آدم (علیه السلام)کی توبہ قبول ہوئی ،ہابیل (علیه السلام)کی نذرقبول ہوئی ،کشتی نوح (علیه السلام)میں سوارتمام لوگوں نے نجات پائی ،یونس (علیه السلام) مچھلی کے پیٹ سے باہرآئے، ابراہیم (علیه السلام)کے لئے آتش نمرودگلزارہوئی ،اسماعیل (علیه السلام)قربان ہونے سے بچ گئے ،موسیٰ (علیه السلام)کے لئے دریامیں راستہ بنا۔
____________________
. ١)سورہ مٔائدہ/آیت ٣۵
معصومین کووسیلہ قراردینے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے: امام حسن عسکری سے منسوب “ تفسیرامام عسکری ”میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ایک دن جب سلمان فارسی قوم یہودکے پاس گذرے توان سے کہا:کیامیں تمھارے پاس بیٹھ سکتاہوں اورتم سے وہ بات بتاسکتاہوں جوآج ہی میں نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی زبان مبارک سے سنی ہے؟ان لوگوں نے کہا:ضروربیان کیجیے ،سلمان فارسی اس قوم کے دین اسلام سے حرص رکھنے اوران اصرارکرنے کی وجہ سے بیٹھ گئے اورکہا: میں نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کویہ فرماتے ہوئے سناہے: خداوندعالم فرماتاہے :اے میرے بندو!کیاایسانہیں ہے کہ جب بھی کوئی شخص تمھارے پاس کوئی حاجت لے کرآئے توتم اسے اس وقت پورانہیں کرتے ہوجب تک کہ وہ کسی ایسے شخص کوواسطہ قرارنہ دے جوتمھیں مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے اورشفیع وواسطہ کے ذریعہ حاجتوں کوپوراکیاجاتاہے؟
جان لو!میری مخلوق میں وہ ذات کہ جومجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اورجومیرے نزدیک سب سے زیادہ افضل ہے وہ محمد (صلی الله علیه و آله) اوران بھائی علی اوران کے بعداوران کے بعدآئمہ اطہار ہیں جومجھ تک پہنچنے کاوسیلہ اورواسطہ ہیں اب تم جوشخص بھی کوئی حاجت رکھتاہے جواس کے لئے فائدہ مندہو، یا مشکل میں گرفتارہے تواس حاجت پوراہونے اوراس مشکل کے برطرف ہونے کے لئے چاہئے کہ دعاکرے اورحضرت محمد (صلی الله علیه و آله)اوران کی آل پاک کوواسطہ قرار دے طلب کروتاکہ میں تمھاری حاجت کوپوراکروں اورمشکل کوبرطرف کروں، یادرکھو! میری بارگاہ میں ان عظیم ذوات مقدسہ کے وسیلے سے حاجتوں کوپوراکرناان سے بہترہے جوتم اپنی حاجتوں کوپوراکرنے کے لئے اپنے محبوب ترین شخص کوواسطہ قرار دیتے ہو۔(۱)
داو دٔرقی سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کوسناہے جب آپ دعاکرتے تھے تواپنی دعامیں خداکے لئے پنجت ن پاک یعنی حضرت محمد (صلی الله علیه و آله)اورامیرالمومنین اورفاطمہ زہرااورحسن اورحسین کوواسطہ قراردیاکرتے تھے ۔(۲)
____________________
. ١)تفسیرامام حسن عسکری /ص ۶٨
. ٢)وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ١١٣٩
١٣ ۔ صلوات برمحمدوآل محمد
اگرکوئی بندہ اس چیزکی تمنارکھتاہے کہ اس کی بارگاہ خداوندی میں قبول ہوجائے تودعاسے پہلے اوربعدمیں نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اوران کی آل اطہار کوواسطہ قراردے اوران پردرودوسلام بھیجے،اوران ذوات مقدسہ پرالله تبارک وتعالیٰ بھی درودوسلام بھیجتاہے اوراس کے ملائکہ بھی ،جیساکہ قرآن میں ارشادباری تعالیٰ ہے:
( اِنَّ اللهَ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیْ یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوْاصَلُّوْاعَلَیْهِ وَسَلِّمُوْاتَسْلِیْمًا ) .(۱)
ترجمہ:بیشک الله اوراس کے ملائکہ رسول پرصلوات بھیجتے ہیں تواے صاحبان ایمان!تم بھی ان پرصلوات بھیجتے رہواورسلام کرتے رہو۔ امام صادق سے روایت ہے کہ :ایک دن رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے امام علیسے عرض کیا:اے علی!کیاتم نہیں چاہتے کہ میں تمھیں کوئی خوشخبری دوں؟عرض کیا:آپ پرمیرے ماں باپ پرقربان جائیں ،آپ توہمیشہ مجھے خوشخبری دیتے رہتے ہیں رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)نے فرمایا:مجھے ابھی جبرئیل نے ایک خوشخبردی ہے ،علینے عرض کیا:وہ کیاہے مجھے بھی بتائیے ؟آنحضرت نے فرمایا:مجھے خبردی گئی ہے کہ میری امت میں سے جب کوئی شخص مجھ پردرودبھیجتاہے اوراس کے ساتھ میری آل پردرودبھیجتاہے توآسمان کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں اورملائکہ اس پرسترمرتبہ صلوات بھیجتے ہیں اوراگروہ گناہگارہوتاہے تواس کے گناہ درخت سے پتوں کے مانندگرجاتے ہیں اورخداوندعالم اس بندے سے کہتاہے :“لبیک یاعبدی وسعدیک”اوراپنے ملائکہ سے کہتاہے:تم میرے اس بندے پرسترصلوات بھیجو،(نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:) میں اس پرسات سومرتبہ صلوات بھیجتاہوں لیکن اگرمیرے ساتھ میری آل پرصلوات نہیں بھیجتاہے تواس کے اورآسمان کے درمیان سترحجاب واقع ہوجاتے ہیں اورخداوندعالم اس کے جواب میں کہتاہے: “لالبیک ولاسعدیک”اوراپنے ملائکہ کوحکم دیتاہے :اے میرے ملائکہ !اس کی دعااس وقت تک کوآسمان پرنہ لاناجب تک کہ یہ میرے رسول کی آل پرصلوات نہ بھیجے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: مجھ پردرودبھیجنے والاشخص جب تک میری آل پردرودوسلام نہیں بھیجتاہے اس وقت رحمت خداسے محروم رہتاہے۔(۲)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:لایزالُ الدعاء محجوباً حتی یصلی علیٰ محمدوآل محمد .(۳)
امام صادق فرماتے ہیں:یہ ثابت ہے کہ جب تک محمدوآل محمدپرصلوات نہ بھیجی جائے تودعاپردہ میں رہتی ہے (اوروہ خداتک نہیں پہنچتی ہے)۔
____________________
. ۱)سورہ أحزاب/آیت ۵۶
. ٢)کافی/ج ٢/ص ۴٩١ )
٣)امالی/ص ۶٧۶ ۔ثواب. الاعمال/ص ١۵٧
١ ۴ ۔خفیہ دعاکرنا
دعاکے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ انسان جب بھی کوئی دعاکرے اوربہترہے کہ ت نہائی اورخلوت میں بے نیازکی بارگاہ میں دست نیازبلندکرے اورریاجیسی بیماری سے دوررہے ،وہ لوگ جواپنے آپ کے متقی وپرہیزگارہونے کااظہارکرتے ہیں اوران کے دل میں ریاکاری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتاہے توخداوندعالم ایسے لوگوں کی دعاقبول نہیں کرتاہے
عن ابی الحسن الرضاعلیه السلام قال:دعوة العبدسرّاًدعوة واحدة تعدل سبعین دعوة علانیة ۔(۱)
امام علی رضا فرماتے ہیں:بندہ کات نہائی میں ایک دعاکرناظاہری وعام طورسے کی جانے والی ستردعاؤں کے برابر ہے۔ لیکن اگرانسان کادل ریاکاری سے پاک ہے اورحقیقت میں اپنے آپ کو پروردگارکی بارگاہ میں ذلیل وحقیرشمارکرتاہے ہوتوبہترہے کہ مومنین میں سے ایک شخص دعاپڑھے اورسب لوگ “آمین” کہیں یاسب مل کرایک ساتھ دعاپڑھیں۔
١ ۵ ۔ اجتماعی طورسے دعاکرنا
مستحب ہے کہ نمازجماعت کے بعدسب لوگ ایک ساتھ مل کردعاکریں ،یاامام جماعت یاکوئی دوسراشخص دعاکرے اورسب آمین کہیں امام صادق فرماتے ہیں :ہمارے پدربزرگوارکوجب بھی کوئی مشکل پیش آتی تھی ) توعورتوں اوربچوں کوجمع کرکے دعاکرتے تھے اورسب آمین کہتے تھے۔(۲) امام صادق فرماتے ہیں:اگرچالیس لوگ ایک جگہ جمع ہوکردعاکریں تو یقیناًخداوندعالم ان دعاؤں کومستجاب کرتاہے ،اگرچالیس لوگ جمع نہ ہوسکیں بلکہ چارشخص جمع ہو ں توہرشخص دس مرتبہ خداوندمتعال کوکسی حاجت کے لئے پکارے توخداان کی دعاقبول کرتاہے ،اگرچارشخص جمع نہ ہوسکیں توایک ہی شخص چالیس مرتبہ الله کوپکارے(یعنی چالیس مرتبہ ) “یاالله”کہے )تویقیناًخدائے عزیزوجباراسکی دعاکومستجاب قراردے گا۔(۳)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:مااجتمع اربعة قط علیٰ امرواحد ، فدعوا(اللهالّاتفرقواعن اجابة .(۴)
امام صادق فرماتے ہیں:اگرچارشخص دعاکے لئے جمع ہوں اورایک ساتھ مل کررب العزت کی بارگاہ میں کوئی دعاکریں ،اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے سے جداہوں وہ دعاقبول ہوچکی ہوتی ہے ۔
____________________
١)کافی/ج ٢/ص ۴٧۶
. ٢)کافی/ج ٢/ص ۴٨٧.
.۳)کافی/ج ٢/ص ۴٨٧
۴)کافی/ج ٢/ص ۴٨٧ )
١ ۶ ۔ پہلے اپنے دینی بھائیوں کے لئے دعاکرنا
جب انسان رب کریم کی بارگاہ میں کوئی حاجت طلب کرناچاہتاہے اوراپنے رنج وغم کوبیان کرناچاہتاہے تواسے چاہئے کہ اپنے رنج وغم کے ساتھ دوسروں کے رنج وغم کوبھی یادرکھے بلکہ بہتریہ ہے کہ پہلے اپنے دینی بھائیوں کے لئے میں الله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعاکرے کیونکہ جوشخص دوسروں کے لئے دعاکرتاہے توخداوندعالم اس کی دعاکوقبول کرتاہے اوراپنے فرشتوں سے کہتاہے :دیکھو!میرے اس بندے کواپنے رنج وغم کے ساتھ دوسروں کارنج وغم بھی یادہے ،یہ خوداپنے لئے جس چیزکی تمنارکھتاہے اسے دوسروں کے لئے بھی دوست رکھتاہے لہٰذاخداوندعالم اس دعاکوقبول کرلیتاہےعن ابی عبدالله علیه السلام قال:من قدم اربعین رجلامِن اِخوانه فدعالهم ثمّ دعالنفسه استجیب له فیهم وفیه .(۱)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص چالیس مومنوں کواپنے اوپرمقدم رکھے اورپہلے ان کے لئے دعاکرے، اس کے بعداپنے لئے تواس کی دعاان کے لئے بھی اوراپنے لئے بھی مستجاب ہوگی۔
امام موسیٰ کاظمنے اپنے آباء سے نقل کیاہے کہ حضرت فاطمہ زہرا جب دعاکرتی تھیں تو تمام اہل ایمان مردوعورتوں کے لئے دعاکرتی تھیں اوراپنے لئے کوئی دعانہیں کرتی تھیں ، آپ سے پوچھا گیا:اے دختررسول خدا (صلی الله علیه و آله)!کیاوجہ ہے کہ آپ لوگوں کے لئے ) دعائیں کرتی ہیں مگراپنے لئے کوئی دعانہیں کرتی ہیں؟فرمایا:پہلے پڑوسی پھراپناگھر۔(۲) امام حسن فرماتے ہیں:میری والدہ حضرت فاطمہ زہرا پوری رات محراب عبادت میں پیروں پہ کھڑی رہتی تھیں اورمرتب رکوع وسجودمیں رہتی تھیں یہاں تک صبح نمودارہوجاتی تھی اورمیں اپنے کانوں سے سنتاتھاکہ آپ مومنین ومومنات کے لئے دعاکرتی اوران کانام بھی لیاکرتی تھیں اوران کے لئے کثرت سے دعائیں کرتی تھیں،ایک دن میں نے اپنی والدہ سے کہا:جسطرح آپ دوسروں کے لئے دعاکرتی ہیں اپنے لئے کیوں نہیں کرتی ہیں؟توآپ نے فرمایا:
یابنیَّ! اوّل الجارثمّ الدار.
اے میرے بیٹا!دوسرے ہم پرمقدم ہیں ؛پہلے ہمسایہ پھراپناگھر۔(۳)
____________________
.۱)من لایحضرہ ا لفقیہ/ج ٢/ص ٢١٢
.۲)علل الشرائع /ج ١/ص ١٨٢
. ۳)علل الشرائع /ج ١/ص ١٨٢
امام باقر اس آیہ مٔبارکہ( وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ آمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحَات وَیَزِیْدُهُمْ مِن فَضْلِهِ ) (۱) کے بارے میں فرماتے ہیں:جومومن اپنے دینی بھائی کے لئے اس کی پیٹھ پیچھے دعاکرتاہے توخدااپنے فرشتوں کوحکم دیتاہے :تم سب آمین کہو،اورخداوندعالم بھی جوکہ عزیزوجبّار ہے کہتاہے کہ :میں تجھے اسی کے مثل عطاکرتاہوں جیساتواپنے بھائیوں کے لئے دعا کرتاہے. کرتے ہیں اورخدااپنے فضل وکرم سے ان کے اجرمیں اضافہ کردیتاہے،(۲)
امام علی بن الحسین فرماتے ہیں:جب کوئی مومن اپنے مومن بھائی کے لئے غائبانہ طورسے دعاکرتاہے یااسے اچھائی سے یادکرتاہے توملائکہ اس مومن سے کہتے ہیں:تواپنے بھائی کے لئے ایک بہت اچھابھائی ہے ،جبکہ وہ تیری نظروں سے غائب ہے اورتواس کاذکرخیرکررہاہے اوراس کے حق میں دعاکررہاہے ،خداوندعالم بھی تجھے اس کادوبرابرعطاکرتاہے جوتونے اپنے بھائی کے لئے طلب کیاہے اوردوبرابراس کے بدلہ میں جوتونے اپنے بھائی کاذکرخیرکیاہے۔(۳)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ دعاء المرء لاخیه بظهرالغیب یدرّالرزق ویدفع المکروه ۔(۴)
امام صادق فرماتے ہیں:کسی شخص کااپنے دینی بھائی کے لئے غائبانہ طورسے دعاکرنے سے اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے اوربلائیں دورہوتی ہے۔
١٧ ۔ دعامیں رکھناعمومیت
دعاکرنے والے کوچاہیے کہ اپنی دعاؤں میں عمومیت رکھے اورالله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں جسچیزکوطلب کرے اسے سب کے لئے طلب کرے اوربہترہے کہ انسان دعاؤں میں جمع کی لفظیں استعمال کرے ،خداوندعالم قرآن کریم میں اپنے بندوں کویوں تعلیم دیتاہے کہ اپنی عبادتوں،اوردعاؤں میں دوسروں کواپنے ساتھ شریک رکھو اوراس طرح دعاکرو:
( اِیّاکَ نَعْبُدُ وَاِیّاکَ نَسْتَعِیْنُ ، اِهدِنَاالصِّراطَ المُسْتَقِیْم )
پروردگارا!ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ سے مددمانگتے ہیں،توہمیں راہ راست کی ہدایت فرما۔
____________________
١)ترجمہ:اورجولوگ ایمان لائے اورانھوں نے نیک اعمال کئے وہی دعوت الٰہی کوقبول (سورہ شٔوریٰ /آیت ٢۵).
۲)کافی/ج ٢/ص ۵٠٧
.۳)کافی/ج ٢/ص ۵٠٨
.۴)کافی/ج ٢/ص ۵٠٧
دعاکوعمومیت قراردینے کے لئے چندروایت ذکرہیں:
قال رسول الله صلی علیه وآله وسلم:اذادعااحدکم فلیعمّ فانّه اَوجب للدعاء .(۱)
رسول خدا (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:تم میں جب بھی کوئی شخص خداکی بارگاہ میں دعاکرے تواپنی دعاکو عمومیت قرار دے اورتمام مسلمانوں کیلئے دعائیں کرے کیونکہ اس طرح دعاکرنے سے خداتمھاری دعاکو بہت جلدمستجاب کرتاہے۔ امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص روزانہ پچیس مرتبہ “اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِلْمُو مِٔنِیْنِ وَالْمُو مِٔنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَات ” کہتاہے خداوندعالم ہرمومن ومومنہ کے برابر جواس دنیاسے رحلت کرگئے اورقیامت آنے ہر مومن ومومنہ کے برابرایک حسنہ لکھتاہے اوراس کے نامہ أعمال سے ) گناہ کوپاک کردیتاہے اورایک درجہ اس کامقام بلندکریتاہے۔(۲)
عن صفوان بن یحییٰ عن ابی الحسن علیه السلام انه کان یقول:من دعالاخوانه من المومنین والمو مٔنات والمسلمین والمسلمات وکّل الله به عن کل ملکایدعواله .(۳)
صفوان ابن یحییٰ سے مروی ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:جوشخص مومن مردوعورت اورمسلمان مردوعورت کے لئے دعاکرتاہے توخداوندعالم ہرمومن کے بدلے میں ایک فرشتہ موکل کرتاہے تاکہ وہ اس دعاکرنے کے لئے دعاکرے ۔عن صفوان بن یحییٰعن ابی الحسن علیه السلا قال:مامن مومن یدعوللمومنین والمو مٔنات والمسلمین والمسلمات الاحیاء منهم والاموات الّاکتب الله بعدد کل مومن ومومنة حسنة منذبعث الله آدم الی یوم ان تقوم الساعة . (۴)
صفوان ابن یحییٰ سے مروی ہے امام علی رضا فرماتے ہیں:جوشخص مومن مردوعورت اورمسلمان مردوعورت کے لئے دعاکرتاہے چاہے وہ مردہ ہوں یازندہ توخداوندعالم حضرت ادم کے زمانہ سے روزقیامت تک پیداہونے والے ہرمومن اورمومنہ کے بدلہ میں ایک نیکی اس کے نامہ اعمال میں درج کرتاہے ۔ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:ہروہ مومن جودوسرے مومن مردوعورت کے لئے دعاکرتاہے توخداوندعالم اس شخص کوہروہ چیزعطاکرتاہے جواس نے ان مومن مردوعورت کے لئے طلب کیاہے جواول دہرآج تک رحلت کرگئے ہیں اورہراس چیزکوعطاکرتاہے جواس نے ان مومن مردوعورت کے لئے طلب کیاہے جوروزقیامت تک آنے والے ہیں،روزقیامت جب اس بندہ کوجہنم کی طرف روانہ کیاجائے گاتومومن ومومنات خداوندمتعال سے کہیں گے:
____________________
. ۱)کافی/ج ٢/ص ۴٨٧
. ٢)امالی(شیخ صدرق)/ص ۴۶٢
۳-۴)ثواب الاعمال/ص ١۶١
اے پروردگار!یہ تووہ شخص ہے جوہمارے حق میں دعائیں کرتاتھاپس ہم تجھ سے اسے کے بارے میں شفاعت کرتے ہیں،پسخداوندعالم ان کی شفاعت کوقبول کرے اوروہ آتشجہنم سے نجات پاجائے گا۔(۱)
١٨ ۔ دعابرائے استجابت دعا
دعاکرنے کے بعداپنی دعاکے قبول ہونے کے بارے میں دعاکرناچاہئے اوریہ کہاجائے :“ربّناوتقبّل دعاء “. تمام انبیاء واولیاء کایہی طریقہ رہاہے کہ وہ اپنی دعاؤں کے بعد“ربّناوتقبّل دعاء ”کہاکرتے تھےحضرت ابراہیم بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں:( رَبِّ اجْعَلّنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ رَبَّنَاوَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ) (۲) ترجمہ: پروردگارا!مجھے اورمیری ذریت کونماز قائم کرنے والوں میں قراردے اور اے پروردگار!تومیری دعاء کوقبول کرلے۔
١٩ ۔ دعاکے قبول ہونے پریقین واعتقاد رکھنا
دعاکرنے کرنے والے کوچاہئے کہ وہ دعاپریقین واعتقادرکھتاہے اوراس کے قبول ہونے پربھی یقین رکھتاہوکا،وہ لوگ جودعاپراعتقاد نہیں رکھتے ہیں اوراپنی دعاؤں کے قبول ہونے کی کوئی امیدنہیں رکھتے ہیں یعنی یقین واعتقادکے ساتھ دعانہیں کرتے ہیں بلکہ ناامیدی کے ساتھ دعااورتوبہ کرتے ہیں اوراپنے گناہوں کے معاف ہونے کی کوئی امیدنہیں رکھتے ہیں توخداوندعالم ایسے لوگوں کی دعاوتوبہ کوہرگزقبول نہیں کرتاہے ناامیدی ایک گناہ عظیم اور شیطانی وسوسہ ہے لہٰذاانسان کوچاہئے اپنے آپ کوناامیدی کی راہ سے باہرنکالے اورشیطانی وسوسہ کودورکرے بلکہ ضروری ہے کہ انسان خوش گمانی رکھے اوراپنی نمازودعااورتوبہ کے قبول ہونے کی امیدرکھے اوراس بات کااعتقادرکھے کہ پروردگارعالم میری نمازودعاکوقبول کرے گا،اگرتوبہ کروں تووہ میرے گناہوں کومعاف کردے گا،اگراسے یادکروں تووہ جواب ضروردے گا،اگرعمل خیرانجام دوں توقبول کرے گااوراجروثواب بھی عطاکرے گا۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ الله عزوجل لایستجب دعاءً یظهرمن قلب ساه ،فاذادعوت فاقبل بقلبک فظنّ حاجتک بالباب .(۳) امام صادق فرماتے ہیں:بیشک خداوندعالم اس دعاکوہرگزقبول نہیں کرتاہے جوغفلت دل کے ساتھ انجام دی جاتی ہے لہٰذاتم جب بھی دعاکروتواپنے دل کوخداکی طرف متوجہ رکھو،اس کے قبول ہونے کادل میں یقین رکھواوریہ گمان کروکہ گویا حاجت تمھارے دروازے پہ کھڑی ہے۔
____________________
.۱) کافی /ج ٢/ص ۵٠٨
۲)سورہ أبراہیم (علیه السلام) /آیت ۴٠
. ۳)مکارم الاخلاق/ص ٧٠.
اوقات دعا
١۔ شب جمعہ
معصومین سے منقول روایتوں میں شب جمعہ اورروزجمعہ کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہیں اوراس شب میں کی جانے والی دعاقبول ومستجاب ہوتی ہے ،شب جمعہ کے بارے میں شیخ طوسی نے کتاب “تہذیب الاحکام”یہ روایت نقل کی ہے: امام محمدباقر فرماتے ہیں:بیشک خداووندعالم ہرشب جمعہ رات کے شروع سے طلوع فجرتک عرش سے آوازدیتاہے:کیاکوئی مومن بندہ نہیں ہے جو طلوع فجرسے پہلے اپنے دینی اوردنیاوی کاموں کے بارے میں مجھ سے طلب کرے تاکہ میں اسے عطاکروں؟کیاکوئی مومن بندہ نہیں ہے جو طلوع فجرسے پہلے جومجھ سے اپنے گناہوں کے لئے توبہ واستغفارکرے ،تاکہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟کیاکوئی مومن بندہ نہیں ہے کہ جس پرمیں نے (اس کے افعال وکردارکی بناپر)رزق کوت نگ کررکھاہو ،اوروہ طلوع فجرسے پہلے مجھ اپنے رزق میں زیادتی کے بارے تقاضاکرے ،تاکہ میں اس کے رزق میں زیادتی اوروسعت عطاکروں؟کیاکوئی مومن بندہ نہیں ہے جومریض ہواورطلوع فجرسے پہلے مجھ سے شفاکی دعاکرے ،میں ضروراسے شفاوعافیت دوں گا؟کیاکوئی مومن بندہ نہیں ہے جو کسی جیل میں زندان ومغموم ہواورمجھ سے اپنی آزادی کی دعاکرے تاکہ میں اسے طلوع فجرسے پہلے زندان سے رہائی دوں اوراس کے لئے راستہ کھول دوں؟کیاکوئی مومن بندہ نہیں ہے جومظلوم ہواورمجھ سے تقاضاکرے تاکہ میں طلوع فجرسے پہلے اس کے ستم کواس سے دورکروں اورمیں اس ظلم کے بارے میں جواس پرکیاگیاہے اس کی مددکروں؟امام محمدباقرشب جمعہ کے فضائل بیان کرنے کے بعدفرماتے ہیں:الله تبارک وتعالیٰ ہرشب جمعہ آسمان سے آوازیہ دیتارہتاہے یہاں تک فجرطلوع ہوجاتاہے ۔(۱)
٢۔ روزجمعہ
معصومین نے روزجمعہ کی جوفضیلت بیان کی ہیں ان میں ایک یہ بھی اس دن کی جانے والے دعاضرورقبول ہوتی ہے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:روزجمعہ دنوں کاسیدوسردارہے اورسب سے عظیم دن ہے ،خداوندعالم اس دن میں انجام دئے جانے والے نیک اعمال کاثواب دوبرابرکردیتاہے،نامہ اعمال سے گناہوں کوپاک کردیتاہے ،درجات کوبلندکردیتاہے ،دعاؤں کومستجاب کرتاہے رنج وغم اورمشکلوں گودورکرتاہے، بڑی حاجتوں کوقبول کرتاہے اوریہ دن وہ کہ جسے پروردگارنے رات پربرتری دی ہے کیونکہ اس دن خداوندعالم کی رحمت اپنے کے لئے کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے اوراکثرگروہوں کوآتش جہنم سے نجات دیتاہے
____________________
.۱) تہذیب الاحکام /ج ٣/ص ۵
،پس جوبندہ بھی اس دن خداکوپکارے اوراس کے حق ومرحمت کوپہچانے توخداوندعالم اسے آتش جہنم سے نجات دے گا،اگرکوئی شخص اس شب یاروزجمعہ میں انتقال کرجائے تووہ شہیدکی موت مرتاہے اورروزقیامت عذاب الٰہی سے محفوظ رہے گا اورجوشخص اس دن کی عظمت وحرمت کوہلکاسمجھتاہے اوراس کی نمازسے روگردانی کرتاہے یاکسی کارحرام کامرتکب ہوتاہے توخدااسے واصل جہنم کرے گامگریہ کہ وہ توبہ کرلے۔(۱)
٣۔ نمازپنجگانہ کے وقت
وہ اوقات کہ جن میں دعاکرنے کے بارے میں بہت زیادہ روایت نقل ہوئی ہیں اوران اوقات میں دعاکرنے سے قبول ہونے کی زیادہ امیدکی گئی ہے وہ یہ ہیں کہ نمازپنجگانہ کے وقت دعاکی جائے خصوصاًنمازکے بعددعاکرنے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے امام صادق فرماتے ہیں:چارموقع ایسے ہیں کہ جن میں دعاقبول ہوتی ہے ،نمازشب کے قنوت میں ،نمازصبح کے بعد،نمازظہرکے بعداورنمازمغرب کے بعد۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جب زوال کاوقت پہنچتاہے توآسمان اوربہشت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہیں اودعائیں قبول ہوتی ہیں اوریہ خوشحالی ہے ان لوگوں کے لئے کہ جن کے عمل صالح اوپرپہنچتے ہیں۔(۳)
زوال آفتاب اورظہرکے وقت کے بارے میں عبدالله ابن حمادانصاری سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق کویہ فرماتے سناہے:اذازالت الشمس فتحت ابواب السماء وابواب الجنان وقضیت الحوائج العظام فقلتُ:من ایّ وقتٍ؟فقال: مقدارمایصلی الرجل اربع رکعاتٍ مترسلاً . زوال آفتاب ایساوقت ہے کہ جس وقت آسمان اورجنت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں اور(چھوٹی حاجتوں کے علاوہ )بڑی ومہم حاجتیں بھی پوری ہوتی ہیں،میں نے امام (علیه السلام) سے پوچھا:اس کی وقت کی مقدارکیا ہے؟آپ نے فرمایا:زوال کے بعدجت نے وقت میں ) انسان سکون وآرام کے ساتھ چاررکعت نمازپڑھ سکے ۔(۴)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:تفتح ابواب السماء ویستجاب الدعاء فی اربعة مواطن عندالتقاء الصفوف فی سبیل الله وعندنزول الغیث ، وعنداِقامة الصلاة، وعندرو یٔة الکعبة .(۵)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:چارمواقع اوروقت ایسے ہیں کہ جب آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اوردعائیں مستجاب ہوتی ہیں: ١۔ اس وقت کہ جب راہ خدامیں جہادکرنے والے مسلمان دشمن کے مقابلہ میں صف آراہوتے ہیں ٢۔ باران رحمت کے نزول کے وقت ٣۔ نمازکے وقت ۴ ۔ کعبہ کی زیارت کے وقت۔
____________________
۱). کافی /ج ٣/ص ۴١۴ ۔تہذیب الاحکام /ج ٣/ص ٢
.۲)کافی /ج ٢/ص ۴٧٧ --. ۳)من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢١۴ -- .۴)فلاح السائل /ص ٩۵ --۵)نہج الفصاحة /ص ٣
۴ ۔پنجگانہ نمازوں کے بعد
انسان چاہے گھرمیں نمازپڑھ رہاہویامسجدمیں ،جماعت سے پڑھ رہاہویافرادیٰ ،اس کوچاہئے کہ نمازکے پڑھنے کے فوراًبعداپنی جگہ سے بلندنہ ہو بلکہ مستحب ہے کہ کچھ دیرتک اپنی جگہ پربیٹھارہے اور،تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کے بعد اپنے پروردگارسے مناجات کرے ،اپنے گناہوں پرندامت کااظہارکرے اور طلب مغفرت کرے اوردنیاوآخرت کے بارے اس سے مددطلب کرے۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ الله فرض علیکم الصلوات الخمس فی افضل الساعات فعلیکم بالدعاء فی ادبارالصلوات ۔(۱)
حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں: خدا وند عالم نے اپنے محبوب ترین اوقات میں تم لوگوں پر نمازوں کو واجب قرار دیا ہے لہٰذا اپنی حاجتوں وتمناؤں کو واجب نمازوں کے ادا کر نے کے بعد خدا کی بارگاہ میں بیان کرو ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من صلی صلاة الفریضة وعقّب الٰی اخریٰ،فهوضیف الله ،وحق علی الله ان یکرم ضیفه ۔(۲)
حضرت امام صادقفرماتے ہیں:جو شخص ایک وقت کی واجب نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز تک دعاو تعقیبات ومناجات میں مشغول رہتا ہے وہ خدا ئے عزوجل کا مہمان رہتا ہے اور خدا وندمتعال کا حق ہے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔ حضرت امام محمدباقر اس آیہ مٔبارکہ( فَاِذَافَرَغْتَ فَانْصَبْ وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ ) (۳) ( جب تم فارغ ہوجاؤ تو نصب کردواوراپنے پروردگارکی طرف رخ کرو)کے بارے میں فرماتے ہیں: اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ اورسلام پڑھ لوتواس سے پہلے کہ تم اپنی جگہ سے اٹھودنیااورآخرت کے بارے میں دعاکر و۔(۴)
____________________
۱)نہج الفصاحة /ص ٣.
۲)خصال/ص ٢٧
۳)سورہ شٔرح /آیت ٧۔ ٨
۴) تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١٠٣.
مجمع البیان/ج ١٠ /ص ٣٩١ (
عن النبی صلی الله علیه وآله انّه قال:اذافرغ العبدمن الصلاة ولم یسئل الله تعالیٰ حاجته یقول الله تعالیٰ لملائکته :انظرواالیٰ عبدی فقدادّیٰ فریضتی ولم یسئل حاجته منّی کانّه قداستغنی عنّی ،خذواصلاته فاضربوابهاوجهه ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں: جب کوئی بندہ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ودر خواست نہیں کرتا ہے تو خدا وند متعال اپنے ملائکہ سے کہتاہے : میرے اس بندہ کودیکھو، اس نے میرے واجب کوتو ادا کردیا ہے مگراس کے بعد مجھ سے کسی چیز کی تمنا نہیں کی ہے گویاوہ خودکومجھ سے بے نیازسمجھتاہے ،پس تم ایسا کروکہ اس کی نمازکوپکڑکر اسی کے منہ پر ماردو۔
زرارہ سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے دولوگوں کے عمل بارے میں پوچھاکہ جن میں ایک شخص نے صبح تک بیٹھ کرنمازیں پڑھیں اوردوسرے شخص نے بیٹھ کردعاومناجات کی ،ان دونوں میں کسکاعمل افضل ہے ؟امام (علیه السلام)نے فرمایا: ) ”الدعاء افضلٌ ”دعاکرنابہترہے۔(۲)
۵ ۔ اذان واقامت کے درمیان
اذان واقامت کے درمیان دعاکابہترین وقت ،اس وقت کی جانے والی درنہیں کی جاتی ہے بلکہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:الدعابین الاذان والاقامة لایردُّ ۔(۳)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:اذان واقامت کے درمیان کی جانے والی دعاواپسنہیں کی جاتی ہے بلکہ وہ بارگاہ خداوندی قبول ہوتی ہے۔
____________________
.۱)مستدرک الوسائل/ج ۵/ص ٢٩
.۲)وسائل الشیعہ/ج ١/ص ٢۶٨
.۳)جامع المقاصد/ج ٢/ص ١٨۶
دعاکی جگہ
خداوندعالم سمع وعلیم ہے وہ اپنے بندوں کی تمام باتوں کوسنتابھی ہے اوران کاجواب بھی دیتاہے ،انسان جہاں اورجس جگہ بھی اس سے کوئی چیزطلب کرے اوراپنی حاجتوں کوبیان کرے تووہ اسے عطاکرتاہے لیکن دنیامیں کچھ مقامات ایسے ہیں کہ اگران جگہوں پردعاکی جائے تووہ دعاضروراوربہت جلدبارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے یااس کے قبول ہونے کابہت زیادہ امکان ہوتاہے اوروہ مقامات یہ ہیں :
١۔ خانہ کعبہ
وہ مقام کہ جس کی طرف رخ کرکے نمازپڑھناواجب قراردیاگیاہے اورجس میں پہلے امام کی ولادت ہوئی ہو،جس کا طواف کرناہرحاجی پرواجب قرادریاگیاہووہ کت نابابرکت مقام ہوگا،یقینااگراس جگہ پرالله تبارک سے تعالیٰ سے کسی چیزکوطلب کیاجائے تووہ اسے خالی ہاتھ واپس نہیں کرے گا،یہ علی (علیه السلام)کی جائے ولادت کے دیدارکااثرہے کہ حاجی کی دعاقبول ہوتی ہے
روی عن الرضا علیه السلام :ماوقف احدٌبتلک الجبال الّااستجیب له فاماالمومنون فیستجاب لهم فی آخرتهم ،واماالکفارفیستجاب لهم فی دنیاهم امام علی رضا فرماتے ہیں:ہروہ شخص جواس جبال(کعبہ)پرتوقف کرے تواس کی دعابارگاہ خداوندی میں مستجاب ہوگی لیکن مومنین کی دعاان کی آخرت کے بارے میں اورکافروں کی دعاان کی دنیاکے بارے میں قبول ہوتی ہیں۔(۱)
قال ابوجعفرعلیه السلام :مایقف احدٌعلیٰ تلک الجبال برّولافاجرالّااستجاب اللهله فاماالبر فیستجاب له فی آخرته ودنیاه ،واماالفاجرفیستجاب له فی دنیاه . امام محمدباقر فرماتے ہیں:اس جبال(کعبہ)پرتوقف کرنے والے شخص کی دعابارگاہ خداوندی میں ضرورقبول ہوتی ہے،دعاکرنے والا نیکوکارہویا فاسق وفاجر،لیکن نیکوکارشخص کی اس کی دنیاوآخرت دونوں کے بارے میں دعاقبول ہوتی ہے لیکن فاسق وفاجر کی دعاصرف اس کی دنیاکے بارے میں قبول ہوتی ہے ۔(۲)
٢۔ مسجد
مسجدخانہ خٔداہے اورروئے زمین پرافضل ترین جگہ ہے اوراہل معرفت کی جائیگاہ اور محل عبادت ہے اورصدراسلام سے لے کرآج تک ایک دینی والہٰی مرکزثابت ہوئی ہے، مسجد مومنین کے دلوں کوآباداورروحوں کوشادکرتی ہے اورمسجدایک ایساراستہ ہے
____________________
۱). کافی /ج ۴/ص ٢۵۶ عدة الداعی/ص ۴٧
۲). من لایحضرہ الفقیہ/ج ٢/ص ٢١٠
جوانسان کوصراط مستقیم اورہدایت وبہشت کی طرف لے جاتاہے اورمسجدایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں مانگنے والوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں ،جب کوئی شخص کسی کے گھرمہمان ہوتاہے اورصاحب خانہ سے کسی چیزکوطلب کرتاہے وہ اسے عطا کرتا ہے، الله تبارک وتعالیٰ اپنے مہمانوں کوعزیزرکھتاہے اورکسی کواپنے گھرسے کسی کوخالی ہاتھ واپسنہیں بھیجتاہے ۔ عن ابی عبدالله علیہ السلام قال : مکتوب فی الوراة:انّ بیوتی فی الارض المساجد،فطوبیٰ لعبدتطہرفی بیتہ ثمّ زارنی فی بیتی وحق المزوران یکرم الزائر. امام صادق فرماتے ہیں :کتاب توریت میں خداوندعالم فرماتاہے :بیشک مسجدیں روئے زمین پرمیراگھرہیں،خوشخبری ہے ان بندوں کے لئے کہ جوپہلے اپنے آپ کواپنے گھروں میں پاک وپاکیزہ کرے اوراس کے بعدمیرے گھرکی زیارت کرے ،اس کے بدلہ میں اب مجھ پرلازم ہے کہ اپنے گھرکی زیارت کرنے والوں کااکرام کروں(اوران کی حاجتوں کوپوراکروں)(۱)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:کان ابی اذاطلب الحاجة طلبهاعندزوال الشمس ، فاذااردت ذلک قدم شیئافتصدق به ، وشم شیئامن الطیب ورواح الی المسجدفدعافی حاجته بماشاء .
امام صادق فرماتے ہیں:جب بھی میرے والدکوکوئی پیش آتی تھی توزوال کے وقت آفتاب کے وقت اس حاجت کوطلب کرتے تھے پس جب بھی آپ کوکئی حاجت ہوتی تھی تودعاسے پہلے صدقہ دیاکرتے تھے اوراپنے آپ کومعطرکرتے تھے اس کے بعدمسجدروانہ ہوتے تھے اورپھرجسچیزکی بھی حاجت ہوتی تھی اسے بارگاہ خداوندی سے طلب کرتے تھے۔(۲)
مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)،مسجدکوفہ ،مسجدسہلہ،مسجدحنانہ ایسی جگہیں ہیں کہ جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں
٣۔ حرم مطہرمعصومین اورامامبارگاہ
ملک عربستان کے شہرمدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے جوکہ جنت البقیع کے نام سے مشہورہے ،جس میں الله کے پیارے نبی حضرت محمدمصطفی (صلی الله علیه و آله) کی لخت جگراوران کی نسل سے تین امام معصوم (حضرت حسن ، زین العابدین اورمحمدباقر )دفن ہیں ملک عراق کے شہرنجف اشرف کہ مولائے کائنات حضرت علیکاحرم مطہرواقع ہے اورکربلائے معلی کہ جہاں امام حسیناورحضرت ابوالفضل العباس واقع ہیں اوراسی ملک میں کے شہرکاظمین میں امام موسیٰ کاظم اورامام محمدتقی +کاحرم واقع ہے
____________________
۱).٢/ علل الشرائع/ج ٣١٨
۲). عدة الداعی/ص ۴٨
دفن ہیں او رشہرسامرہ کہ جہاں امام علی نقی اورامام حسن +کاحرم مطہرواقع ہے ملک ایران کے شہرمشہدمقدس کہ جہاں اٹھوے امام علی ابن موسیٰ الرضا حرم مطہرواقع ہے اوراسی ملک کے شہرقم میں ان کی بہن حضرت فاطمہ معصومہ کاحرم واقع ہے یہ وہ مقامات ہیں کہ جہاں پرلوگوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں،رنج وغم دورہوتے ہیں ،یہی وہ مقامات ہیں کہ جہاں لاعلاج لوگوں کوبھی شفانصیب ہوتی ہے اوران مقامات میں سب سے بہترین مقام کہ جہاں پربہت زیادہ دعائیں قبول ہوتی ہیں وہ روضہ سٔیدالشہداء حضرت امام حسینہے خصوصا قبہ مٔنورہ کے نیچے دعائیں مستجاب ہوتی ہیں ان مقامات مقدسہ پردعاکرنے کے بارے میں پوری ایک مفضل کتاب کی ضرورت کے لکھنے ضرورت ہے اوراس بارے میں کتابیں بہت زیادہ کتابیں لکھی جاتی ہیں ہم اپنی اس کتاب میں صرف معصوم سے منقول دوروایت ذکرکرہے ہیں جن کے ذریعہ حرم وحائرحضرت امام حسین کی عظمت ومنزلت معلوم ہوتی ہے۔
پہلی روایت
رویات میں آیاہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت امام جعفرصادق مریض ہوئے توآپ نے اپنے عزیزوں کوحکم دیاکہ کسی کوامام حسین کی قبرپربھیج کرمیرے لئے دعاکرائیں،جیسے ہی امام (علیه السلام) نے یہ بات کہی توسننے والوں نے کہاکہ :ایک شخص بہت جلدکرب وبلاکے لئے روانہ کیاجائے ،لہٰذا ایک شخص کوجب کربلاجانے کے لئے تلاش کیاگیااوراس سے کربلاجانے کے لئے کہاگیاتواس نے جواب دیاکہ :میں جانے کے لئے تیارہوں لیکن جس طرح امام حسین مفترض الطاعة امام ہیں حضرت امام جعفرصادق بھی مفترض الطاعة امام ہیں ، لوگوں نے اس کی اس بات کوامام صادق کے پاس آکربیان کیاتوامام (علیه السلام)نے اس جواب میں فرمایا:بات وہی صحیح ہے جواس نے کہی ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ خداوندعالم کے کچھ ) بقعے ہیں جہاں دعاقبول ہوتی ہے اورقبرحسین کابقعہ ان ہی میں سے ایک ہے ۔(۱)
دوسری روایت
جلیل القدرشیخ جعفرابن محمدابن قولویہ نے اپنی کتاب “کامل الزیارات”میں ابواہاشم جعفری سے ایک روایت نقل کی ہے کہ امام علی نقی نے اپنی بیماری کے زمانہ میں ایک شخص کومحمدابن حمزہ کے پاس بھیجا،لیکن امام (علیه السلام)کاوہ قاصدپہلے میرے پاس آیااورمجھے خبردی
____________________
۱)عدة الداعی/ص ۴٨
کہ امام (علیه السلام)باربارفرمارہے تھے: “اِبْعَثُوااِلَی الْحَائِر ”کسی کوامام حسین کے روضہ پربھیجوتاکہ وہاں جاکرمیرے لئے دعاکرے ،میں نے کہا:محمدابن حمزہ سے کیوں نہیں کہا:؟میں حائرجاو ںٔ گا.اس کے بعدمیں خودامام (علیه السلام)کی خدمت میں حاضرہوااورعرض کیا:آپ پرقربان جاؤں میں حائرجارہاہوں،امام(علیه السلام) نے فرمایا: ذراغورفکرکرو،تم تقیہ کی حالت میں ہوکسی کوتمھاری خبرنہ ہوجائے اس کے بعدامام (علیه السلام)نے فرمایا:محمدابن حمزہ رازدارنہیں ہے وہ زیدابن علی سے تعلق رکھتاہے یہ کنایہ ہے کہ وہ شیعہ نہیں ہے ،امام (علیه السلام) نے فرمایا:مجھے پسندنہیں ہے کہ وہ اس چیزکوسنے
جعفری کہتے ہیں کہ :میں نے اس بات سے علی ابن بلال کومطلع کیاتوانھوں نے کہا: حضرت کوحائرکی کیاضرورت ہے وہ توخودہی حائرہیں،پس جب میں کربلاجاکرحائر امام حسینمیں دعاکرکے سامرہ واپس آیااورامام علی نقی سے ملاقات کے لئے ان گھرپہنچااوربیٹھ گیاجب امام (علیه السلام)تشریف لائے تومیں نے امام (علیه السلام)کے احترام میں اٹھناچاہامگرامام (علیه السلام)نے مجھے بیٹھے رہنے کاحکم دیا،جب میں نے آپ کے لطف وکرم کے آثاردیکھے توعلی ابن بلال کی بات آپ کے سامنے پیش کی، امام (علیه السلام) نے فرمایا:تم نے ان سے یہ کیوں نہیں کہہ دیاکہ رسولخدا (صلی الله علیه و آله)خانہ کعبہ کاطواف کرتے تھے اورحجراسودکوبوسہ دیتے تھے جبکہ نبی ومومن کی حرمت کعبہ کہیں زیادہ ہے اورخدانے کہاہے کہ عرفات میں جاکرتوقف کریں کیونکہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں ) خدااپناذکرپسندکرتاہے اورحائر(روضہ أمام حسین)ان میں سے ایک ہے۔(۱)
سفینة النجاح حضرت امام حسین اورباب الحوائج حضرت ابوالفضل العباسصرف شیعوں ہی کی مددنہیں کرتے ہیں اورصرف انھیں کی فریادنہیں سنتے ہیں کوسنتے ہیں، یہ ان کے نواسے ہیں جودنیاکے رحمت بن کرآئے ،یہ وہ ہستیاں جودکھیاروں کے دھرم ومذہب کونہیں دیکھتے ہیں بلکہ فریادی کے دل کے یقین اوراس کے سوزواخلاص کودیکھتے ہیں اوردل کایقین اثرضروردکھاتاہے،جومصیبت کامارابھی ان کی چوکھٹ پہ کھڑاہوجائے یاانھیں دورسے پکارے تووہ خداکی دی ہوئی قدرت اورشکتی سے اس کی مصیبت کی بیڑی ضرورکاٹ دیتے ہیں ،یہ ان کے گھرکی ریت نہیں کہ وہ کسی کواپنے درسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیں،ان کی چوکھٹ پہ حاضرہونے والے اورانھیںفریادکرنے والے مایوس نہیں ہوتے ہیں بلکہ اپنی مرادیں لے کرجاتے ہیں اوران کی فریاداورآوازکربلاکی راجدھانی تک ضرورپہنچتی ہے ،دنیامیں کت نے غیرمسلم لوگ ہیں جوامام حسین(علیه السلام) اورحضرت عباس (علیه السلام)کے درسے اپنی مرادیں پاتے ہیں ،ہندوپاک اوردیگرممالک میں کت نے غیرمسلم لوگ ایسے ہیں جوہرسال ان کی یادمناتے ہیں،ان کے نام سے دنیابھرہرہوہرقوم وملت کے ہزاروں لوگ شفاپاتے ہیں اوراپنی حاجتوں کوپہنچتے ہیں ۔
____________________
.۱)کافی /ج ۴/ص ۵۶٧
یہ وہ ذوات مقدسہ ہیں کہ جنھیں خداوندعالم نے ہرزبان کے بولنے اورسمجھنے کی قدرت عطاہے ،خواہ ان سے کوئی شخص ہندی زبان میں ان سے کسی چیزکوطلب کرے یافارسی ،یاترکی زبان ،اردومیں یاپشتو،تلگومیں یامراٹھی میں یااورکسی دوسری زبان میں ،بعض واقعات ایسے بھی ملتے ہیں کہ جن میں آپ نے اپنے ہندی زبان والے سے ہندی میں باتیں کی ہیں اورفارسی والے سے فارسی میں کلام کیاہے ۔
کن لوگوں کی دعامستجاب ہوتی ہیں
خداوندعالم اپنے تمام بندوں پررحم وکرم کرتاہے،مومن منافق ،عالم جاہل ،امیرغریب ،قہری دیہاتی سب کورزق روزی دیتاہے اوران کی دعاؤں کومستجاب کرتاہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں کہ بارے میں روایتوں میں بیان کیاگیاہے کہ ان لوگوں کی دعا ضروریابہت جلدقبول ہوتی ہے:
١۔ انبیاء ورسل اورامام عادل کی دعا
انبیاء ورسل اورمعصومین اورعادل پیشواورہنماکی دعاکوبہت جلدقبول کرتاہے اور خداوند عالم ان فریادکوبہت جلدسنتاہے ،قرآن کریم میں چندواقعات ایسے ہیں جن سے یہ صاف واضح ہے کہ خداوندعالم اپنے نیک بندوں کی دعاضرورقبول کرتاہے خداوندعالم نے ہابیل کی دعاقبول کو کیااورقابیل کوہلاک کردیا، قوم لوط پرعذاب نازل کیا،وہ لوگ کہ جو حضرت صالح کے ناقہ کوقتل کرنے میں شریک تھے اورنبی کی باتوں کونہیں مانتے تھے ان پرخدانے کس طرح کاعذاب نازل کیا،طوفان نوح (علیه السلام)کی داستان کہ جسے قرآن کریم میں اس طرح ذکرکیاگیاہے: جب حضرت نوح کواس بات یقین ہوگیاکہ اب ان چندافرادکے علاوہ کوئی اورشخص ایمان لانے والانہیں ہے توآپ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا:
( ربِّ لَاتَذَرْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا ) (۱) پروردگارا!توکسی کافرکوزمین زندہ باقی نہ رکھ ۔
خداوندعالم نے حضرت نوح کوکشتی بانے کاحکم دیا،جب کشتی بن کرتیارہوگئی توت نورسے پانی ابلناشروع ہوا،حضرت نوح اپنے مومنین کے ہمراہ کشتی میں سوارہوئے اورسب جگہ پانی ہی پانی ہوگیانتیجہ یہ ہواکہ جولوگ کشتی نوح میں سوارہوئے انھوں نے نجات پائی اورجوسورانہ ہوئے وہ سب غرق وہلاک ہوگئے متقی اورعادل رہنماکے بارے میں عوف ابن مالک اشجعی سے مروی ہے کہ میں نے پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کویہ فرماتے سناہے:
____________________
۱). سورہ نٔوح/آیت ٢۶
خیارآئمتکم الذین تحبونهم ویحبونکم وتصلون علیهم ویصلون علیکم وشرارآئمتکم الذین تبغضون ویبغضون وتلعنونهم ویلعنونکم ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:تمھارابہترین امام ورہبروہ ہیں کہ جنھیں تم دوست رکھتے ہواوروہ بھی تمھیں دوست رکھتے ہیں ،تم ان کے لئے دعاکروکیونکہ وہ تمھارے لئے دعاکرتے ہیں اور تمھارے بدترین رہنماوہ ہیں جنھیں تم دشمن رکھتے ہواوروہ بھی تمھیں دشمن رکھتے ہیں،تم ان کے لئے نفرین کروکیونکہ وہ تمھارے لئے نفرین کرتے ہیں۔
٢۔ مظلوم کی دعا
جب کوئی مظلوم الله تبارک وتعالی کی بارگاہ میں دعاکرتاہے تواپنی مظلومیت کی وجہ سے اس کے جسم پرخوف خدابھی ہوتاہے اورتضرع کی حالت بھی طاری رہتی ہے اوراس دل بھی بہت رنجیدہ رہتاہے لہٰذاپروردگارعالم اس کے خلوص اوربے چارگی کودیکھ کر اس کی دعابہت جلدقبول کرتاہے ،اسی طرح اگروہ کسی کے لئے بددعابھی کرتاہے تووہ بھی بہت جلدقبول ہوتی ہے
عن ابی عبدالله علیه السلام قال رسول الله صلی الله علیه وآله :ایاکم ودعوة المظلوم فانهاترفع فوق السحاب حتی ینظرالله عزوجل الیهافیقول:اِرفعوهاحتی استجیب له ، وایاکم ودعوة الوالد ، فانهااحدُّمن السیف ۔(۳)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:مظلوم کی دعاسے ڈرو؛کیونکہ مظلوم کی دعابادلوں اورموانع دعاکے پردوں سے گذرکرآسمان تک پہنچتی ہے ،جب خداوندعالم مظلوم کی دعاکی طرف نگاہ کرتاہے تواپنے فرشتوں کودیناہے :اس دعاکوبہت جلداوپرلے آؤ تاکہ اسے قبول کروں،اورباپ کی نفرین سے بھی ڈرو؛کیونکہ وہ شمشیربرّاں سے بھی تیزہوتی ہے ۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:کان ابی یقول:اتقوالظلم فانّ دعوة المظلوم تصعدالی السماء. (۳)
امام باقر فرماتے ہیں:مظلوم کی دعاسے بچو،کیونکہ مظلوم کی دعاآسمان تک پہنچتی ہے ۔
ان دونوں مورد(عادل رہنمااورمظلوم کی دعا)کے بارے میں اگرکوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جب خداندعالم امام عادل اورمظلوم کی کی دعاکومستجاب کرتاہے توپھرامام حسین نے کربلاکے میدان میں اپنے دشمنوں کے بددعاکیوں نہیں کی، یاحضرت امام زین العابدین اورحضرت زینب کبریٰ نے دعاکیوں نہیں کی ؟
____________________
.۱)مکارم الاخلاق/ص ٢٧۵
. ٢)الغدیر(علامہ امینی)/ج ١٣٨٧ )
۳)کافی/ج ٢/ص ۵٠٩ (
. ۴)کافی/ج ٢/ص ۵٠٩
اس سوال کامختصرجواب یہ ہے کہ ،امام حسیناورامام زین العابدین اورزینب کبریٰ رحمت للعالمین سے رشتہ رکھتے تھے ،دوسروں پررحم کرم کرنا،حتی دشمن کوبھی اپنے درسے خالی ہاتھ واپس نہ بھیجنارسول اکرم (صلی الله علیه و آله)اورمولائے کائنات حضرت علی سے ورثہ میں ملاہے لہٰذاوہ کس طرح دشمن کے لئے بددعاکرسکتے تھے ، اگرامام حسین یاامام زین العابدین یازینب کبریٰ دشمنوں کی نابودی کے لئے بد دعاکردیتے توقیامت برپاہوجاتی اوردین اسلام بھی نابودہوجاتا،جب حضرت زینب نے دربارشام میں دعاکے لئے ہاتھ بلندکئے توامام سجاد (علیه السلام)نے فرمایا:اے پھوپھی امّاں بددعانہ کرناورنہ تمھارے بھائی ’حسین (علیه السلام) کی محنت بے کارہوجائے گی اوراسلام صفحہ ہستی سے نابودہوجائے ۔
٣۔ فرزندصالح کی والدین کے حق میں دعا
ہرانسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے والدین کے لئے دعاکرے خواہ والدین حیات ہوں یادنیاسے سفرکرچکے ہوں،کیونکہ والدین ان کے وجودمیں لانے کاسبب ہوتے ہیں ،والدین ان کی تربیت کرتے ہیں ،انبیاء وآئمہ ااوراولیائے خداکی یہی سیرت رہی ہے کہ وہ اپنے والدین کے لئے ان کی زندگی میں بھی اوران کے مرنے کے بعدبھی دعاکرتے تھے ،والدین کی اطاعت کرنے اوران کےلئے دعاکرنے سے الله تبارک وتعالیٰ اورانبیاء وآئمہ خوش ہوتے ہیں ،والدین کے لئے دعاکرنے سے دنیاوآخرت کی سعادت اورخوشبختی نصیب ہوتی ہے اورعقل بھی اس بات کاتقاضاکرتی ہے انسان کواپنے کے لئے دعاکرنی چاہئے ،ا گرکوئی فرزنداپنے والدین کے لئے دعاکرتاہے توخداوندعالم اسبندہ کی والدین کے بارے میں دعاکوبہت جلدقبول کرتاہے۔ روایت میں آیاہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)سے پوچھا:یانبی الله!لوگوں کاانسان پرسب سے بڑاکونساحق ہے؟آنحضرت نے فرمایا:ماں اورباپ کاحق۔(۱) حضرت ابراہیمنے بارگاہ خداوندی میں اپنے والدین کے لئے دعاکی:
( رَبَّنَااغْفِرْلِیْ وَلِوَاْلِدَیَّ وَلِلْمُو مِٔنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب ) (۲) پروردگارا!مجھے اورمیرے والدین اورتمام مومنین کواس دن جس دن کے لئے بلندکیاجائے گابخشدے۔
اورحضرت نوح اپنے والدین کے لئے اس طرح دعاکرتے ہیں:( رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَاْلِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیْ مُو مِٔنًاوَّلِلْمُو مِٔنِیْنَ وَالْمُو مِٔنٰتِ وَلَاتَزِدِالظّٰلِمِیْنَ اِلّاتَبَارًا ) (۳)
پرودگارا!مجھے اورمیرے والدین کواورجوایمان کے ساتھ میرے گھرمیں داخل ہوجائیں اورتمام مومنین ومومنات کوبخش دے اورظالموں کے لئے ہلاک کے علاوہ کسی شئے میں اضافہ نہ کرنا۔
____________________
. ۱)مستدرک الوسائل /ج ١۵ /باب ٧٧ /ح ٣ -.۲)سورہ أبراہیم/آیت ۴٢ --. ۳)سورہ نٔوح/آیت ٢٨
سوال یہ ہے کہ اگروالدین مسلمان نہ ہوں یاحق امامت کی معرفت نہ رکھتے ہوں کیاپھربھی ان کے لئے دعاکرنی چاہئے ؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ والدین مسلمان ہوں یاکافر،مومن یامنافق،ان لئے کے دعاکرنے سے دوری نہیں کرنی چاہیے ،ان کے لئے توبہ واستغفارکرناچاہئے ،ان کے طول عمرکی دعاکرنی چاہئے
معمرابن خلادسے مروی ہے کہ میں نے امام علی رضا سے عرض کیا:کیامجھے والدین کے لئے دعاکرنی چاہئے جبکہ وہ حق امامت کی معرفت نہیں رکھتے ہیں؟ امام(علیه السلام) (علیه السلام)نے فرمایا:
ادع لهماوتصدق منهما،وان کان حیَّیْن لایعرفان الحق فدارِهِمافانّ رسول الله صلی الله علیه وآله قال:انّ الله بالرحمة لابالعقوق .(۱)
ہاں!ان دونوں کے لئے دعاکرواوران کی طرف سے صدقہ بھی دو،اگروہ دونوںزندہ ہوں اورحق کی معرفت نہیں رکھتے ہوں تو ان کے ساتھ اچھے تعلقات ضروررکھواوران کے ساتھ نیک برتاو کٔروکیونکہ پیغمبراسلام (صلی الله علیه و آله)کاارشادگرامی ہے :خداوندعالم نے مجھے رحمت کے ساتھ مبعوث کیاہے نہ عقوق کے ساتھ یعنی والدین کی نافرمانی مت کرواورانھیں رنجیدہ بھی نہ کروکہ جسکی وجہ سے انسان خودبخود عاق والدین ہوجاتاہے ۔
صحیفہ سٔجادیہ میں آیاہے کہ امام زین العابدین کسی بھی وقت اپنے والدین کی یادسے غافل نہیں رہتے تھے اوربارگاہ خداوندی اس طرح رازونیازکرتے تھے:اللّٰهم لات نسنی ذکرهمافی ادبارصلواتی ، وفی آن من اناء لیلی ، وفی کل ساعة من ساعات نهاری
بارالٰہا!تومجھے میرے والدین کے بارے میں ہرنمازکے بعدان کی یادسے غافل نہ ہونے دینااور پوری رات اور پورے دن کی کسی گھڑی میں مجھے والدین کی یادسے غافل نہ ہونے دینابلکہ میں ہروقت انھیں یادکرتارہوں اوران کے لئے دعائیں کرتارہوں۔(۲)
____________________
. ۱)کافی /ج ٢/ص ١۵٩
۲) صحیفہ سٔجادیہ /دعائے ١۶ /بند ٣٠
۴ ۔ نیک والدین کی دعا اولادکے حق
جت نادل والدین کااپنی اولادکی فلاح وبہبودکے لئے تڑپتاہے کسی چیزکے لئے نہیں تڑپتاہے ،والدین جوکچھ کرتے ہیں اپنی اولاکی کامیابی کے لئے کام کرتے ہیں ،وہ بارگاہ خداوندی میں اپنی اولادکے لئے جب بھی دعاکرتے ہیں توخداوندعالم اسے قبول کرتاہے خدانخواستہ اگراولادنافرمان نکل آئے تووالدین کادل بہت پریشان رہتاہے ،بعض والدین تواپنی اولادکے کارناموں کودیکھ کرذہنی توازن بھی کھوبیٹھتے ہیں،اب ایسی حالت میں اگروہ اپنی اولادکے لئے بارگاہ خداوندی بددعاکردیں توخدااسے قبول کرلیتاہے والدین کی اپنے فرزندوں کے بارے میں دعاکرنے سے متعلق چندروایت ذکرہیں
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:دعاء الوالدلِولده کدعاء النبی لاُمته ۔(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:وہ دعاجووالداپنی اولادکے لئے کرتاہے اس دعاکے مانندہے جوایک نبی اپنی امت کے لئے کرتاہے یعنی جس طرح خداوندعالم انبیائے کرام کی ان دعاؤکوجووہ اپنی کی امت کے بارے میں کرتے ہیں قبول کرتاہے اسی والدین کی اس دعاکوجواپنی اولادکے بارے میں کرتے ہیں ضرورقبول کرتاہے۔
۶ ۔ معصوم بچہ کی دعا
جب تک بچہ نے کوئی گناہ انجام نہ دیاہوتوخداوندعالم اس کی اکثردعاؤں کومستجاب کرتاہے ،اس بارے میں امام علی رضا نے اپنے آباء سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:
دعاء اطفال امّتی مستجاب مالم یقارفواالذنوب ۔(۲)
میری امت کے بچوں کی دعااس وقت تک جب تک کہ ان کے ہاتھ کسی گناہ سے آلودہ نہ ہوئے ہوں بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے ۔
____________________
۱)نہج الفصاحة /ص ۴٨٢
۲)بحارالانوار/ج ٣۵٧
٧۔ روزہ دارکی دعا
اگرروزہ دارافطارسے پہلے پورے دن میں یاافطارکرتے وقت کوئی دعاکرے تووہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے، اس بارے میں پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی ایک حدث نقل کی گئی ہے جسے آپ نے حاجی اورمجاہدکے وطن واپسی تک کے موردمیں ملاحظہ کرچکے ہیں لہٰذاتکرار کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس حدیث کے علاوہ معصوم (علیه السلام)سے ایک اورحدیث نقل کی گئی ہے:
عن ابی الحسن علیه السلام قال:دعوةالصائم تستجابعدافطاره وقال علیه السلام:انّ لصائم عندافطاره دعوة لاتردّ .(۱)
حضرت ابوالحسن (ساتوے یاآٹھوے امام )فرماتے ہیں:افطارکے وقت روزہ کی دعاقبول ہوتی ہے اورفرماتے ہیں:افطارکے وقت روزہ دارکی دعاواپس نہیں ہوتی ہے ۔
٨۔ مریض کی دعاشفاپانے تک
خداوندعالم بیمارشخص پراپنارحم وکرم نازل کرتاہے،اس کے آہ ونالہ بھی سنتاہے ،اگروہ مریضی کی حالت میں پروردگارسے کسی چیزکوطلب کرتاہے تونہایت سوزدل کے ساتھ دعاکرتاہے لہٰذاخداوندعالم اس کی دعاؤں کوقبول کرتاہے،اس بارے میں ایک حدیث میں ذکرہوچکاہے جسے ہم نے “حاجی اورمجاہدکے اپنے گھرواپسی” عنوان میں ذکرکیاہے،لیکن اس حدیث کے علاوہ ایک اورحدیث قابل ذکرہے:عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من عادَمریضاً فی الله لم یسئل المریض للعائدشیئاالّااستجاب الله له ۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص خداکے لئے کسی بیمارکی عیادت کرے ،اگروہ بیماران لوگوں کے لئے جواس کی عیادت کرنے آتے ہیں الله تبارک وتعالیٰ سے جس چیزکی بھی تمناکرتاکرتاہے توخداوندعالم اس کی دعاکوعیادت کرنے والے لوگوں کے ) لئے ضرورقبول کرتاہے گا۔(۲)
٩۔ مومن کی غائبانہ دعااپنے دینی بھائیوں کے لئے
جب انسان رب کریم کی بارگاہ میں کوئی حاجت طلب کرناچاہتاہے اوراپنے رنج وغم کوبیان کرناچاہتاہے تواسے چاہئے کہ اپنے رنج وغم کے ساتھ دوسروں کے رنج وغم کوبھی یادرکھے بلکہ بہتریہ ہے کہ پہلے اپنے دینی بھائیوں کے لئے میں الله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعاکرے
____________________
.۱)مستدرک الوسائل /ج ٧/ص ۵٠٢
۲)من لایحضرہ افقیہ/ج ٢/ص ٢٢۶
کیونکہ جوشخص دوسروں کے لئے دعاکرتاہے توخداوندعالم اس کی دعاکوقبول کرتاہے اوراپنے فرشتوں سے کہتاہے :دیکھو!میرے اس بندے کواپنے رنج وغم کے ساتھ دوسروں کارنج وغم بھی یادہے ،یہ خوداپنے لئے جس چیزکی تمنارکھتاہے اسے دوسروں کے لئے بھی دوست رکھتاہے لہٰذاخداوندعالم اس دعاکوقبول کرلیتاہے
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:من قدم اربعین رجلامِن اِخوانه فدعالهم ثمّ دعالنفسه استجیب له فیهم وفیه. (۱)
امام صادق فرماتے ہیں:جوشخص چالیس مومنوں کواپنے اوپرمقدم رکھے اورپہلے ان کے لئے دعاکرے ،اس کے بعداپنے لئے تواس کی دعاان کے لئے بھی اوراپنے لئے بھی مستجاب ہوگی۔
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ دعاء المرء لاخیه بظهرالغیب یدرّالرزق ویدفع المکروه ۔(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:کسی شخص کااپنے دینی بھائی کے لئے غائبانہ طورسے دعاکرنے سے اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے اوربلائیں دورہوتی ہے۔
امام صادق فرماتے ہیں:میرے پدرمحترم( امام محمدباقر )فرماتے ہیں:پانچ (لوگوں کی )دعاایسی ہیں کہ جن دعاؤں کے پروردگارتک پہنچنے میں کوئی پردہ نہیں ہوتاہے اور الله تبارک وتعالیٰ کی بارگامیں قبول واقع ہوتی ہیں وہ لوگ یہ ہیں:
۱۰۔ عادل رہنمااورپیشواکی دعا
٢۔مظلوم کی دعاکہ جس بارے میں خداوندعالم فرماتاہے:میں تیرے دشمن سے ضرورانتقام لوں گاچاہے ایک مدت کے بعد. ٣۔نیک وصالح فرزندکی والدین کے حق میں دعا. ۴ ۔ نیک وصالح ماں،باپ کی اولادکے بارے میں دعا ۵ ۔مومن کی دعااپنے بھائی کے لئے جواپنے بھائی غیرموجودگی میں اس کے لئے دعاکرتاہے ،جس کے بارے میں خداوندعالم فرماتاہے تمھیں بھی اس کے لئے اسی طرح ) دعاکرنی چاہئے۔(۳)
____________________
١)من لایحضرہ ا لفقیہ/ج ٢/ص ٢١٢
. ٢)کافی/ج ٢/ص ۵٠٧ )
.۳)ثواب الاعمال/ص ١٩۴
قال النبی صلی الله علیه وآله:ثلاث دعواتٍ مستجاباتٍ لاشکّ فیهنّ دعوة المظلوم ودعوة المسافرودعوة المسافرودعوة الوالدلِولده .(۱)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:اس میں کوئی شک نہیں ہے تین لوگوں کی دعائیں ضرورقبول ہوتی ہیں: ١۔مظلوم کی دعا ٢۔مسافرکی دعا ٣۔باپ کی دعااولادکے حق میں۔
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:پانچ لوگ ایسے ہیں جن کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں:
١۔مظلوم کی دعاجب تک اس کی مددنہ ہو جائے
٢۔حاجی کی دعااسکے اپنے گھرلوٹ جانے تک ٣۔مجاہداسلام کی دعااس کے اپنے ٹھکانے پر پہنچنے تک ۴ ۔ مریض کی دعاشفاپانے تک
۵ ۔وہ دعاجوکوئی شخص اپنے دینی بھائی کے لئے اس کی غیرموجودگی میں کرتاہے کرتاہے ،آنحضرت فرماتے ہیں کہ:یہ پانچوی دعا(مومن کادینی بھائی کے لئے اس کی غیرموجودگی میں دعاکرنا)ایسی دعاہے جودوسری دعاؤں کے مقابلہ میں سب سے پہلے قبول ہوتی ہے ۔(۲)
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:چارلوگ ایسے ہیں جن کی دعائیں واپس نہیں ہوتی ہیں ،ان کے لئے آسمان کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں اورعرش الٰہی تک پہونچتی ہیں:
١۔باپ کی دعا اپنے نیک فرزندکے لئے
٢۔مظلوم کی دعااس کے لئے کہ جسنے اس پرظلم کیاہے
٣۔عمرہ کرنے والے کی دعااپنے وطن میں واپسی تک
۴ ۔روزہ دارکی دعاروزہ افطارکرنے تک۔(۳)
____________________
.۱)مکارم الاخلاق/ص ٢٧۵
.۲)کنزالعمال/ج ٢/ص ٩٨
۳). نہج الفصاجة /ص ۴٨١
دعامستجاب ہوجائے توکیاکرناچاہئے؟
وہ لوگ کہ کی دعائیں بارگاہ خداوندی مستجاب واقع ہوجاتی ہیں اورخداوندعالم انھیں اپنی بے کران نعمتیں عطاکردیتاہے توانھیں چندضروری چیزوں کاخیال رکھناچاہئے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ذکرہیں:
١۔ جس شخص کی دعاپوری ہوجائے اسے چاہئے کہ اپنے اندرغروروتکبرجیسی آگ کوپیدانہ کرے اوراپنے دل یہ خیال ہرگزپیدانہ کرے کہ میں ایک اچھااورنیک انسان ہوں لہٰذا الله تبارک تعالیٰ نے میری بات سن لی ہے اورمیری دعاقبول کرلی ہے کیونکہ غروروتکبرایسی آگ ہے جوانسان کے عمل کوباطل کرنے علاوہ خودانسان کوتباہ کردیتی ہے اوراس پرشیطان غالب آجاتاہے۔
٢۔دعامستجاب ہونے شخص کوچاہئے کہ خداکاشکراداکرے بلکہ مستحب ہے کہ دعاقبول ہوجانے کی وجہ سے دورکعت نمازشکربجالائے۔
٣۔دعاکے مستجاب ہوجانے پردعاکرناترک نہ کرے بلکہ دعامستجاب ہونے کے بعدبھی خالق دوجہاں کادروازہ کھٹکھٹاتارہے کہیں ایسانہ ہووہ الله کے نزدیک ایک اجنبی بندہ بن جائے اورخداوندعالم اسے ایک مطلبی انسان شمارکرے ۔ ۴ ۔اگردعامستجاب ہوجائے تو اس میں ممکن ہے کہ شایدتمھاری آوازمبغوض تھی جس کی وجہ سے خداوندعالم نے تمھیں اپنی بارگاہ سے جلدی نکال دینے کی وجہ سے تمھاری ) دعا جلدی قبول کرلی ہو ۔(۱)
دعاکے سایہ میں تلاش وکوشش
یہ بات عقل اورشریعت کے بالکل خلاف ہے کہ انسان گھرمیں یامسجدمیں مصلے پربیٹھ جائے اورفقط دعاکادامن تھام کرالله تبارک وتعالیٰ کی طرف سے رزق وروزی کے نازل ہونے کاانتظارکرنے لگے اورروزی کی تلاش کرنابندکردے اورکہے کہ خداوندعالم نے وعدہ دیاہے اورکہاہے:
( اُدْعُونِی اَستَجِبْ لَکُم ) تم مجھ سے مانگوتومیں عطاکروں گا یادرکھو!الله تبارک تعالیٰ نے کارکوشش کے تمام دروازے کھول رکھے ہیں ،انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے روزانہ کے اخراجات کے لئے کسی کام کی تلاش میں گھرسے باہرقدم نکالے ،اوراس کام میں برکت کی دعاکرے ،اس آیہ مبارکہ سے یہ کبھی ثابت نہیں ہوسکتاہے کہ انسان کوئی کام نہ کرے اورمصلے پربیٹھ کردعاکرتارہے اورخدااسے غیب سے رزق عطاکرتارہے گابلکہ مرادیہ ہے کہ تم دعاکرواورکاروبارکی تلاش میں نکلو،اِ نشاء الله تمھیں کام مل جائے اوراس میں منافع بھی ہوگا۔
____________________
.۱)کلیدسعادت/ ١۴۶
اگرانسان کے جسم میں جان ہے اوروہ کاروکوشش کرستاہے ،روزی کی تلاش میں نکلے تووہ اپنے روزانہ کے اخراجات کے لئے پیسہ حاصل کرسکتاہے اوروہ کسب معاش کی راہ کوچھوڑ کردعاکے لئے مصلے پربیٹھ جاتاہے کیاایسے شخص کوخداوندعالم اسے گھربیٹھے روزی عطاکرسکتاہے ،ہرگزنہیں،یادرکھواگرکسی چیزکی کنجی ہمارے ہاتھوں میں ہوتوایسے میں دعا کاکوئی اثرنہیں ہوتاہے ،مثال کے طورپراگرکسی شخص کے پاس زمین وجائدادہے اورصاحب زمین اپنے گھرمیں بیٹھ جائے، زمین میں نہ ہل چلائے اورنہ اس میں کوئی دانہ ڈالے ،نہ زمین کی آبیاری کرے اورہرروزدعاکرتے رہے اورکھیتی کے پکنے کاوقت پہنچے تواسے کاٹنے کے لئے جنگل میں جائے توکیااسے اپنے کھیتوں میں کوئی چیزنظرآئے گی ؟ہرگزنہیں کیونکہ جب محنت وزحمت ہی نہیں توپھل کیسے نصیب ہوسکتاہے ،انسان کوفقط دعاپراکتفانہیں کرنی چاہئے کیونکہ دعاکاکام یہ نہیں ہے کہ تم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کرگھرمیں بیٹھ جاؤاورکھیتی کے پکنے انظارکرتے رہے بلکہ انسان کوچاہئے کہ زمین میں ہل چلائے ،دانہ ڈالے ،آبیاری کرے اس کے ساتھ ساتھ دعاکرے کہ بارالٰہا!میری کھیتی کوآفت سے محفوظ رکھنااوراس میں برکت عطاکرنا،اگرہم انبیاء وآئمہ کی زندگی پرنگاہ ڈالیں تومعلوم ہوگاکہ وہ فقط دعاپراکتفانہیں کرتے تھے بلکہ کاروکوششکرتے تھے اورجہاں کام ہاتھ سے نکل جاتاتھاوہاں دعاکرتے تھے ایوب اخی ادیم سے مروی ہے کہ ہم امام صادق کی خدمت میں موجودتھے کہ علاء ابن کامل آئے اورامام (علیه السلام) کے برابرمیں بیٹھ گئے اورامام (علیه السلام) سے عرض کیا:آپ میرے دعاکردیجئے کہ خداوندعالم مجھ پرروزی کوآسان کردے ،امام (علیه السلام) نے فرمایا:میں تمھارے لئے دعانہیں کروں گابلکہ تم جاؤاورجس طرح خداوندمتعال نے تمھیں روزی حاصل کرنے حکم دیاہے تحصیل مال ومتاع کرو۔(۱)
ایک اورروایت میں آیاہے کہ ایک فقیراورمقروض شخص حضرت امام صادق کی خدمت میں آیااورعرض کیا:اے فرزندرسول خدا!آپ میرے حق میں دعاکیجئے کہ خداوندعالم مجھے وسعت عنایت کرے اورمجھے رزق وروزی عطاکرے ،کیونکہ بہت ہی زیادہ فقیروت نگدست ہوں،امام (علیه السلام)نے فرمایا:میں تیرے لئے ایسی کوئی دعاہرگزنہیں کروں گاکیونکہ خداوندعالم نے روزی حاصل کرنے کے وسیلے پیداکئے ہیں اورہمیں ان وسیلوں کے ذریعہ روزی حاصل کرنے کے ) لئے حکم دیاہے مگرتویہ چاہتاہے کہ اپنے گھرمیں بیٹھارہے اوردعاکے ذریعہ روٹی کھاتارہے۔(۲)
____________________
۱). کافی /ج ۵/ص ٧٨
.۲)کلیدسعادت/ص ۶۵
کن چیزوں کے بارے میں دعاکی جائے
انسان کوچاہئے کہ وہ الله تبارک کی بارگاہ میں عافیت ،ت ندرستی ،سلامتی ،عاقبت بخیر،باعزت طول ،علم ومعرفت اوروسعت رزق کے لئے دعاکرے ،دعاکرے کہ الله تبارک تعالیٰ ہمیں دین اسلام کے مددگاروں میں قرادے ،خداوندعالم ہمیں شیطان،منافق اورظالموں کے شرسے محفوظ رکھ ،خداوندعالم ہمیں اپنے قریب کرے ،ہمیں واجبات کے اداکرنے اورمحرمات سے بچنے کی توفیق عطاکر،ہمیں گناہ ومعصیت سے دوررکھ ،ہمیں نیک اورصالح اولادعطاکر،ہمیں امام مہدی عجل اللھفرجہ الشریف کے انصارواعوان میں قرار دے ،امام زمانہ سلامت رکھے اوربہت جلدان کاظہورکرے،ہمیں انبیاء وآئمہ معصومین اور اولیائے کرام کی سیرت طیبہ پرعمل کرنے توفیق عطاکر،ہمیں ان کی سیرت کوزندہ و قائم رکھنے کی توفیق دے ،علمائے دین کاسایہ ہمارے سروں پرقائم رکھ ،کفار و منافیقین اورظالمین کونیست ونابودکر مومنین ومومنات اورمسلمین ومسلمات زندہ ہیں یا اس دنیاسے کوچ کرگئے ان کے گناہوں گومعاف فرما،وہ مسلمان لوگ جوظالموں کے قیدوں میں نذربندہیں ان سب آزادی عطاکر،جومقروض ہیں ان کے قوضوں کواداکر،بیماران اسلام کوصحت وت ندرستی عطاکر،حاجی اورزائرین خانہ خداورعتبات عالیات کوصحیح و سالم اپنے وطن واپس کر،گمشدہ لوگوں کوان کے خاندان میں لوٹادے ،مسلمین کے درمیان اتحادعطاکر، خداوندعالم ہمیں قرآن اوراہلبیت اطہار کے سایہ میں روز محشربہشت میں واردکرےاس بارے میں ہم عنقریب قرآن کریم کی دعاؤں کوذکرکریں گے اورکسنمازکے بعدکونسی دعاپڑھی جائے ۔
کن لوگوں کی دعاقبول نہیں ہوتی ہے
کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی دعائیں بارگاہ رب العزت میں قبول نہیں ہیں اوریہ لوگ ہیں: جولوگ الله کی معرفت کے بغیراس سے کوئی حاجت طلب کرتے ہیں،وہ لوگ جوگناہوں میں آلودہ رہتے ہیں اوراپنے گناہوں کی توبہ بھی نہیں کرتے ہیں،وہ لوگ جوحرام اورناپاک غذائیں کھاتے ہیں،وہ لوگ جودوسروں پرظلم کرتے ہیں،وہ لوگ جواپنی دعاؤں میں ریاکاری کرتے ہیں،وہ لوگ جومعصومین کووسیلہ قرارنہیں دیتے ہیں،وہ لوگ جودعاپرکوئی اعتقادنہیں رکھتے ہیں اورفقط دعاکوآزمانے کے لئے دعاکرتے ہیںان تمام مواردکے بارے میں دعاکے آداب وشرائط میں احادیث نقل کرچکے ہیں لہٰذادوبارہ تکرارکی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کے علاوہ اوربھی لوگ ہیں کہ جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔
امام صادق فرماتے ہیں :چار لوگ ایسے ہیں کہ جن کی کوئی دعااورنفرین قبول نہیں ہوتی ہے اوروہ لوگ یہ ہیں:
١۔ وہ شخص جواپنے گھرمیں ہاتھ پرہاتھ رکھے ہوئے آرام سے بیٹھاہواہے اوررزق وروزی کی تلاش میں کھرباہرقدم نہیں نکالتاہے اوربارگاہ خداوندی میں عرض کرتاہے :بارالٰہا!تومجھے رزق وروزی عطاکر (یادرکھو!)خداوندعالم ایسے شخص کی دعاہرگزقبول نہیں کرتاہے بلکہ اس دعاکرنے والے شخص سے کہتاہے:کیامیں نے تجھے کسب معاش کی تلاش میں گھرسے باہرنکلنے کاحکم نہیں دیاہے؟
٢۔ وہ شخص کہ جس کی زوجہ اسے اذیت پہنچاتی ہے اوروہ مرداس اذیت کے بدلہ میں اپنی بیوی کے لئے بددعاکرتاہے توخداوندعالم اس مردسے کہتاہے: کیاہم اس کے امرکوتیرے حوالہ نہیں کیاہے؟(یعنی کیاہم نے طلاق کو مردکے اختیارمیں قرارنہیں دیاہے ،اب تیری مرضی چاہے اسے طلاق دے یااپنے پاس رکھے مگروہ اسے طلاق نہیں دیتاہے اور بیوی کے ظلم واذیت پرتحمل کرتاہے اوراس کے لئے بددعاکرتاہے ،خداایسے شخص کی دعاکوقبول نہیں کرتاہے(.
٣۔ وہ شخص کہ جسے خداوندعالم نے مال ودولت عطاکی ہے مگروہ اپنے مال کوبیہودہ خرچ کرتاہے یہاں تک کہ اس کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہتاہے اب جبکہ اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتاہے توخداسے کہتاہے:بارالٰہا!تومجھے رزق وروزی عطاکر،خداوندعالم ایسے شخص سے کہتاہے :کیاہم نے تجھے میانہ روی اوراقتصادکاحکم نہیں دیاہے ؟اورکیاہم نے تجھے اصلاح مال کاحکم نہیں دیاہے ،اس کے بعدامام(علیه السلام) نے اس آیہ مٔبارکہ شاہدقراردیا:
( وَالَّذِیْنَ اِذَااَنْفَقُوْالَمْ یُسْرِفُوْاوَلَمْ یَقْتَرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا )
ترجمہ:اورجب یہ لوگ خرچ کرتے ہیں تونہ اسراف کرتے ہیں اورنہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اوروسط درجہ کاراستہ اختیارکرتے ہیں یعنی میانہ روی اختیاری کرتے ہیں.(۱)
۴ ۔ وہ شخص کہ جس نے اپنے مال کوکسی دوسرے کو قرض دیاہواوراس پراس نے مقروض سے نہ کوئی رسیدحاصل نہ کی ہواورنہ کوئی گواہ رکھاہو،جب واپس لینے کاوقت آئے تووہ مدیون پیسہ دینے سے انکارکردے (اورکہے کہ میں نے آپ سے کوئی پیسہ قرض نہیں لیاتھا)اوراس وجہ سے ان دونوں میں جھگڑاہوجائے اس کے بعدقرض دینے والاشخص بارگاہ خداوندی میں اس کے لئے بددعاکرے توخداایسے شخص کی دعاکوقبول نہیں کرتاہے بلکہ اس سے کہتاہے:کیاہم نے تجھے حکم نہیں دیاہے کہ قرض دیتے وقت کسی کوگواہ رکھو(۲)
____________________
۱)سورہ فٔرقان/آیت ۶٧
. ٢)کافی /ج ٢/ص ۵١١
١۔ نمازترک وضایع کرنے یاہلکاسمجھنے والوں کی دعا
ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ جولوگ نمازضایع کرتے ہیں اوراسے اول وقت ادانہیں کرتے ہیں بلکہ تاخیرسے پڑھتے ہیں یااول وقت پڑھتے ہیں مگرنمازکوایک آسان کام سمجھتے ہیں ،خداوندعالم ایسے لوگوں کی کوئی نمازقبول نہیں کرتاہے ،اس چیزکوہم “کن لوگوں کی نمازقبول نہیں ہوتی ہے”کے عنوان میں ذکرکرچکے ہیں اورایسے لوگوں کی کوئی بھی قبول نہیں ہوتی ہے ،اس عنوان سے متعلق
------
--------
۴ ۔ نافرمان اولادکی دعا
قرآن کریم اوراقوال معصومین سے معلوم ہوتاہے کہ والدین کااحترام کرنا اوران کی اطاعت کرنا،ان کے حقوق کواداکرنا،ان کے ساتھ حسن سلوک کرناواجب ہے اوران چیزوں کاترک کرناحرام وگناہ کبیرہ ہے اورجولوگ ان چیزوں کاخیال نہیں کرتے ہیں توخداوندعالم ان کسی بھی عمل کوقبول نہیں کرتاہے اورنہ ان کی کوئی دعاقبول کرتاہے ،جو شخص اپنے والدین کی اطاعت کرتاہے اوراس کے ماں باپ اس سے خوش رہتے ہوں توالله بھی اس سے خوش رہتاہے اوراس نمازودعاکوقبول کرتاہے اورجوشخص اپنے والدین کی نافرمانی کرتاہے اورانھیں رنجیدہ کرتاہے توخدابھی اس سے ناراض ہوجاتاہے اوراس کی نمازودعاکوقبول نہیں کرتاہے ۔
قال صلی الله علیه وآله:رضی الله مع رضی الوالدین، وسخط الله مع سخط الوالدین .(۱)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :الله کی رضاوخوشنودی ماں باپ کی رضاوخوشنودی کے ساتھ ہے اورالله کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی کے ساتھ ہے۔عن ابی عبدالله علیه قال:من نظرالیٰ ابویه نظرماقت وهماظالمان له لم یقبل الله له صلاته .(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:ہروہ شخص جواپنے ماں باپ کی طرف غصہ اورغضب کی نگاہ کرے خواہ وہ دونوں اپنی اولادپرظلم کیوں نہ کررہے ہوں تو خداندعالم ایسے شخص نمازقبول نہیں کرتاہے ۔
____________________
. ١)بحارالانوار/ج ٧١ /ص ٨٠
. ٢)کافی /ج ٢/ص ٢٣٩
۵ ۔ محبّ دنیاوریاکارکی دعا
جولوگ دنیاسے محبت کرتے ہیں اوراپنی عاقبت وآخرت کے بارے میں کوئی فکرنہیں کرتے ہیں اورمال ومتاع دنیاکے حصول کی خاطرظاہری طورسے نیک اورکارخیرکرتے ہیں اوراپنے متقی پرہیزگارہونے کااظہارکرتے ہیں مگران کاباطن بہت خراب ہوتاہے اورکبھی بھی دل سے خداکویادنہیں کرتے ہیں خداوندعالم ان لوگوں کی نمازودعاکوقبول نہیں کرتاہےقال رسول الله صلی الله علیه وآله:سیاتی علی امتی تختب فیه سرائرهم وتحسن فیه علانیتهم طمعاًفی الدنیالایریدون یه ماعندالله عزوجل یکون امرهم ریائاً لایخالطه خوفٌ یعمُّهم الله منه بعقاب فیدعونه دعاء الغریق فلایستجاب .(۱)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:میری امت میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جوحصول دنیاکی خاطرظاہری طورسے نیک کام کریں گے اوراپنے آپ کواچھااورنیک انسان دکھائیں گے مگران کاباطن بہت ہی خراب ہوگااورکبھی خداکویادنہیں کریں گے ،ان کے تمام کام ریاکاری کے محورپہ گھومتے ہونگے اورانھیں کسی طرح کاکوئی خوف نہیں ہوگا ،خداوندعالم ایسے لوگوں کوسخت عذاب میں مبتلاکرے گا،اس کے بعدوہ مشکلوں میں گھرے ہوئے لوگوں کی طرح دعاکریں گے مگرخداوندعالم ان کی دعاہرگزقبول نہیں کرے گا۔
۶ ۔ امربالمعروف ونہی عن المنکرترک کرنے والوں کی دعا
اگرکوئی شخص کسی انسان کوگناہ کرتے ہوئے دیکھتاہے یاکسی کوظلم کرتے ہوئے دیکھتاہے یاکسی کوچوری کرتے ہوئے دیکھتاہے ،کسی کوبے نمازی پاتاہے اورشرعی طورسے اس پرامربالمعروف ونہی عن المنکرواجب ہے مگرامربالمعروف ونہی عن المنکرنہیں کرتاہے توبارگاہ خداوندی میں اس کی دعاقبول نہیں ہوتی ہےعن محمدبن عمرعرفة قال:سمعت اباالحسن علیه السلام یقول:لَتامرُنَّ بالمعروفِ ولتنهونَ عن النکرِالّالَیسلّطنّ الله علیکم شرارکم فیدعواخیارکم فلایستجاب لهم ۔(۲)
محمدابن عمرعرفہ سے مروی ہے :میں نے امام ابوالحسن کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے : امربالمعروف ونہی عن المنکرکرو،اگرتم اس کام سے خودداری کرتے ہوتوان کی برائیاں اورخرابیاں تم پرمسلط ہوجائیں گی اس کے بعدتم جت نی بھی دعاکروگے وہ ہرگزقبول نہیں ہونگی ۔
____________________
۱)کافی /ج ٢/ص ٢٩۶
. ٢)کافی /ج ۵/ص ۵۶
٧۔ شرابی کی دعا
جن گھروں میں ناچ گانایاشراب اورجوے کے آلات موجودہوں خواہ وہ انھیں استعمال کرتے ہوں یانہ ،خواہ خوداستعمال کرتے ہیں یاکسی کوکرائے وغیرہ پہ دیتے ہوں وغیرہ ،خداوندعالم ایسے لوگوں کی دعاؤں کومستجاب نہیں کرتاہے۔
قال ابوعبدالله علیه السلام:بیت الغناء لایو مٔن فیه الفجیعة ولایجاب فیه الدعوة ولایدخله الملائکة .(۱)
امام صادق فرماتے ہیں:جس گھرمیں ناچ گاناہوتاہے ،وہ گھرناگہانی بلاؤں و مصیبتوں سے محفوظ نہیں رہتاہے ،اس میں دعامستجاب نہیں ہوتی ہے اورفرشتہ بھی داخل نہیں ہوتاہے۔
قال علیه السلام :لاتدخل الملائکة بیتاًفیه خمرٌاودَف اَوطَنبورٌاَونردٌولاتسجاب دعا ۔(۲) معصوم فرماتے ہیں :جس گھرمیں شراب ہویاسٹّہ ،جوے یاناچ گانے کے وسائل موجودہوں توان گھروں میں ملائکہ داخل نہیں ہوتے ہیں اوران اہل خانہ کی دعائیں مستجاب نہیں ہوتی ہے اوران گھروں سے برکت بھی چلی جاتی ہے ۔
مال حرام کھانے والوں کی دعا
دعاکرنے کرنے والے کوچاہئے کہ وہ اپنے رزق وروزی کی طرف نگاہ کرے اوردیکھے کہ جورزق اس کے پاس ہے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ مل کرکھارہاہے وہ حلال طریقہ سے حاصل کیاگیاہے یامال حرام کھارہاہے
دین اسلام میں مال حرام کھانے سے سخت منع کیاگیاہے اورپاک وپاکیزہ غذا کھانے اورعمل صالح انجام دینے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے
( یٰٓااَیُّهَاالرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْاصَالِحاًاِنِّیْ بِمَاتَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٍ ) (۳) ترجمہ:اے میرے رسولو!تم پاکیزہ غذائیں کھاؤاورنیک کام کروکہ میں تمھارے اعمال سے خوب باخبرہوں۔
( یَااَیُّهَاالنَّاسُکُلُوْا مِمَّافِی الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًاوَلَاثَعْثَوْاخطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّه لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ ) .(۴) اے انسانو! زمین میں جوکچھ حلال اورطیب وطاہرہے اسے استعمال کرو اور شیطانی اقدامات کااتباع نہ کروکیونکہ وہ تمھاراکھلاہوادشمن ہے ۔
____________________
.۱)کافی/ج ۶/ص ۴٣٣
. ٢)وسائل الشیعہ/ج ١٢ /ص ٢٣۵
.۳)سورہ مٔومنون/آیت ١٩
)سورہ بٔقرہ/آیت ١۶٨
عن النبی صلی الله علیه وآله:من احبّ ان یستجاب دعائه فلیطیب مطعمه ومکسبة ۔(۱)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص اپنی دعاقبول ہونے کی تمنا رکھتاہے تواسے چاہئے کہ پاک وپاکیزہ کھائے اورپہنے۔امام صادق فرماتے ہیں:تم میں جوشخص اپنے دل میں دعاکے قبول ہونے کی تمنارکھتاہے تواسے چاہئے کہ اپنے کسب معاش کوحلال وپاک کرے اورلوگوں کے مظالم سے باہرآئے کیونکہ جس انسان کے شکم میں حرام غذاہوتی ہے یااس کی گردن پردوسروں پرکئے ) گئے ظلم کابوجھ ہوتاہے تواسبندہ کی دعابارگاہ خداوندی تک پہنچائی جاتی ہے ۔(۲)
قال رسول الله صلی الله علیه وآله:من اکل لقمة حرام لم تقبل صلاته اربعین لیلةً ولم تستجیب له دعوة اربعین صباحاًوکلّ لحم ینبته الحرام فالناراَولیٰ بهِ وانّ اللقمة الواحدة ت نبت اللحم ۔(۳)
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص ایک لقمہ بھی مال حرام کھاتاہے چالیس رات تک اس کی کوئی نمازقبول نہیں ہوتی ہے اورنہ چالیس صبح تک اس کی کوئی دعاقبول ہوتی ہے اورمال کھانے سے بدن میں جت نابھی گوشت بڑھتاہے وہ جہنم کاحصہ بن جاتاہے اوریادرہے ایک لقمہ سے بھی بدن میں گوشت بڑھتاہے ۔
دعاقبول نہ ہونے کی وجہ
کیاوجہ ہے کہ لوگ دعائیں کرتے ہیں مگررب العزت ان کی دعائیں کاکوئی جواب نہیں دیتاہے اورانھیں قبول نہیں کرتاہے ؟جبکہ خداوندعالم نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کو دعاقبول ہونے کاوعدہ دیاہے
( اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) (۴) تم دعاکروتومیں قبول کرتاہوں۔
( اِذَاسَئَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌاُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاْعِِ اِذَادَعَانَ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُو مِٔنُوْابِیْ لَعَلَّهُمْ یُرْشَدُوْنَ ) (۵)
اے پیغمبر!اگرمیرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تومیں ان سے قریب ہوں،پکارنے والے کی آوازسنتاہوں جب بھی پکارتاہے لہٰذامجھ سے طلب قبولیت کریں اورمجھ ہی پرایمان واعتقادرکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پرآجائیں۔
____________________
۱)مستدرک سفینة البحار/ج ٣/ص ٢٨٨
. ۲)بحارالانوار/ج ٩٠ /ص ٣٢١
۳)بحارالانوار/ج ۶٣ /ص ٣١۴
۴)سورہ غٔافر/آیت ۶٠
. ۵)سورہ بٔقرہ/آیت ١٨۶
روایت میں آیاہے کہ حضرت علیجیسے ہی نمازجمعہ کے خطبہ سے فارغ ہوئے توایک شخص نے بلندہوکر مولائے کائنات سے عرض کیا:اے ہمارے مولاوآقا!الله تبارک تعالیٰ کاارشادہے :( اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) (تم دعاکروتومیں قبول کرتاہوں)پھرکیاوجہ ہے کہ ہم دعاکرتے ہیں مگروہ بارگاہ خداوندی میں درجہ مٔقبولیت تک پہنچتی ہے ؟مولائے کائنات نے اس شخص کے اس سوال کو سن کراسے بہت ہی عمدہ جواب دیااوردعاقبول نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
تمھارے دل ودماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے جن کی وجہ سے تمھاری دعاقبول نہیں ہوتی ہے اوروہ آٹھ چیزیں یہ ہیں:
١۔ تم نے خداکوپہچانتے ہومگرتم اس کے حق کواس طرح ادانہیں کرتے ہو جس طرح اس نے واجب قراردیاہے لہٰذا تمھاری معرفت تمھارے کوئی کام نہ آتی ہے اورنہ تمھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی ہے اسی لئے تمھاری دعاقبول نہیں ہے
٢۔تم اس کے بھیجے ہوئے رسول پرایمان تولائے ہومگران کی سنت کی مخالفت کرتے ہو اوران کی شریعت کوپامال وبربادکرتے ہوپھرایسے میں تمھارے ایمان کاکیانتیجہ ہوگا ؟(بس یہی کہ پروردگارتمھاری کوئی دعاقبول نہیں کرے گا
٣۔ تم نے اس کی نازل کردہ کتاب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو اور“سمعناواطعنا” بھی کہتے ہومگراس کے فرمان کے مطابق عمل نہیں کرتے ہوبلکہ اس کے حکم کے برخلاف عمل کرتے ہوپھر تمھاری کوئی دعاکس طرح دعاقبول ہوسکتی ہے ؟
۴ ۔ تم نے جہنم کے بارے میں یہ وعدہ کرتے اورکہتے ہوکہ :ہم خداکے عذاب سے ڈرتے ہیں حالانکہ تم گناہوں کے باعث اسی کی طرف قدم بڑھارہے ہوپھرتمھارے دل میں نارجہنم سے تمھاراخوف کہاں رہاہے؟
۵ ۔ تم کہتے ہوکہ ہم جنت کے مشتاق ہیں حالانکہ کام ایسے کرتے ہوجوتمھیں اس سے دورلے جاتے ہیں توپھرتمھارے اندرجنت کی وہ رغبت وشوق کہاں باقی ہے ؟
۶ ۔ تم اپنے مولیٰ کی نعمتیں کھاتے ہومگرشکرکاحق ادانہیں کرتے ہوتوکس طرح تمھاری دعائیں قبول ہوسکتی ہیں؟۔
٧۔ خدانے تمھیں شیطان سے عداوت ودشمنی رکھنے کاحکم دیاہے اورفرمایاہے :( اِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌفَاتَّخَذُوْهُ عَدُوا ) (یقیناشیطان تمھارادشمن ہے پس تم بھی اسے دشمن رکھو)تم زبان سے شیطان سے دشمنی کادعویٰ کرتے ہوحالانکہ تم اسے اپنادوست رکھتے ہو
٨۔ تم نے دوسروں کی (غیبت اور)عیب جوئی کواپنانصب العین بنارکھاہے اوراپنے تمام عیوب بھلادئے ہیں ،تم دوسروں کی مذمت کرتے ہوجبکہ تم اس سے بھی زیادہ مذمت کے مستحق ہو
جب تمھارے اندریہ سب باتیں پائی جاتی ہیں توپھرایسی حالت میں کس طرح دعاکے قبول ہونے کی امیدرکھتے ہواورکس طرح تمھاری دعائیں مستجاب ہوسکتی ہیں؟جبکہ تم نے اپنے لئے دعاقبول ہونے کے تمام دروازے بندکررکھے ہیں،پستم خداسے ڈرو اورتقویٰ وپرہیزگاری اختیارکرواوراپنے اعمال کی اصلاح کرو،اپنی نیتوں میں اخلاص پیداکرواورامربالمعروف ونہی عن المنکرکروتاکہ خدا تمھاری دعاقبول کرلے ۔(۱)
تاخیرسے دعاقبول کی وجہ
اس کی کیاوجہ کہ انسان دعاکرتاہے اورپورے شرائط کے ساتھ دعاکرتاہے مگرپھر بھی اس کی دعاقبول ہونے میں تاخیرکیوں ہوتی ہے ؟اوربعض لوگوں کی دعاجلدی کیوں پوری ہوجاتی ہے ؟
ممکن ہے ہم کسی کام کے لئے دعاکریں اوروہ کام الله کے نزدیک ہماری لئے اس وقت مصلحت نہ رکھتاہو،ہم اسے پسندکرتے ہوں مگرخدااسے ہمارے نفع کی خاطر اس وقت عطاکرنا پسندنہ کرتاہو،مثال کے طورپراگرکوئی شخص مریض ہے اوروہ اپنے ڈاکٹرسے کسی ایسی چیزکی درخواست کرے جواس وقت مریض کے لئے مصلحت نہ رکھتی ہوتووہ ڈاکٹراسے اس چیزسے انکارکردے گااوراس کی مرضی کے مطابق نسخہ ایجادنہیں کرے بلکہ مریض کے مرض کے مطابق نسخہ ایجادکرے گابساسی طرح ہم سب بندے الله کے مریض ہیں اوروہ ہمارے لئے ایک طبیب کاحکم رکھتاہے ،وہ اچھی طرح جانتتاہے ہمارے لئے اس وقت کونسی چیزبہترہے اورکون نقضان پہنچانے والی ہے
قال رسول صلی الله علیه وآله:یاعبادالله!انتم کالمرضیٰ وربّ العالمین کالطبیب فصلاح المرضی فیمایعلم الطبیب وتدبیره به لافیمایشتهیه المریض ویقترحه اَلافسلّموالله امره تکونوامن الفائزون .(۲)
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:اے الله کے بندو!تم ایک بیمارکے مانندہواورپروردگارعالم ایک تمھاراطبیب ہے ،بیمارکی خیراوربھلائی اسی چیزمیں ہے کہ جسے طبیب اپنے مریض کے لئے حکم دیتاہے نہ اس چیزمیں کہ جسے مریض پسندکرتاہے ،پس آگاہ ہوجاو أورخودکوخدائے عزوجل کے سپردکردوتاکہ تم کامیاب ہوجاؤ
____________________
. ۱)بحارالانوار/ج ٩٠ /ص ٣٧۶
. ٢)تفسیرامام حسن عسکری /ص ٩۴۵
تاخیرسے دعاقبول ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ خداوندعالم اپنے اس بندہ کواتنازیادہ محبوب رکھتاہے کہ ہروقت اس آوازکوبہت زیادہ دوست رکھتاہے ،اگرمیں نے اس دعاجلدی قبول کردی توممکن ہے کہ پھریہ بندہ رازونیازمیں کمی نہ کردے اورمیں اپنے بندہ کی آوزسننے کوترسجاؤں جیساکہ حدیث میں آیاہے:
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:انّ المو مٔن لیدعوالله عزوجل فی حاجته فیقول الله عزوجل اَخّروااِجابته شوقًاالیٰ صوته ودعائه فاذاکان یوم القیامة قال الله عزوجل :عبدی دعوت نی فاَخّرتُ اجبتک وثوابک کذاوکذاوَدعوت نی فی کذاوکذافَاَخّرتُ اجابتک وثوابک کذاوکذاقال:فیتمنی المو مٔن انّه لم یستجب له دعوة فی الدنیاممایریٰ من حسن الثواب .(۱)
امام صادق فرماتے ہیں:کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ جب کوئی مومن بندہ الله تبارک تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرتاہے ،لیکن خدااپنے فرشتوں کوحکم دیتاہے : میرے اس بندہ کی حاجت کوپوراکرنے میں تاخیرکرومجھے اس کی آوازودعاکے سننے کابہت شوق ہے ،پس جب قیامت کادن ہوگاتوخداوندعالم اپنے اس بندہ سے کہے گا:تونے مجھے پکارااوردعاکی اورتیری دعاکے قبول کرنے میں دیرکی ،لہٰذااب تیرے لئے اس کی جزایہ اوریہ ہے۔
قال ابوعبدالله علیه السلام:انّ العبدالولی یدعوالله عزوجل فی الامرینوبه فیقول للملک الوو کٔل به اِقضِ لعبدی حاجته ولاتعجلهافانی اشتهی ان اسمع ندائه وصوته وانّ العبدالعدوَّلِلّٰهِ لیدعوالله عزوجل فی الامرینوبه فیقال الملک المو کٔل به اِقضِ حاجته وعجّلهافانّی اکره ان اسمع ندائه وصوته .(۲)
امام صادق فرماتے ہیں:وہ بندہ جوخداکادوست ہے ،وہ اپنی مشکلوں کو خدا کی بارگاہ میں بیان کرتاہے اوردعاکرتاہے توخداوندعالم اپنے اس فرشتے سے جسے اجابت دعاکے لئے مو کٔل کیاہے کہتاہے :میرے اس بندہ کی حاجت کوپوراکردے مگراس کے اداکرنے میں جلدی نہ کرناکیونکہ میں اپنے اس بندہ کی آوازکواورزیادہ سنناچاہتاہوں اوروہ بندہ جودشمن خداہوتاہے ،جب اس کے سامنے کوئی مشکل اورحادثہ پیش آتاہے اوروہ درگاہ خداوندی میں دعاکرتاہے توخداوندعالم اپنے اس مو کٔل فرشتہ کوحکم دیتاہے :اس کی حاجت
کوپوراکرواورفوراًعطاکردوکیونکہ میں اس کی آوازبالکل نہیں سنناچاہتاہوں۔
____________________
۱)کافی /ج ٢/ص ۴٩٠
. ٢)کافی /ج ٢/ص ۴٩٠
اس روایت سے یہ واضح ہوتاہے کہ مومن کی دعافوراًقبول ہوجاتی ہے مگراس تک کچھ دیرسے پہنچتی ہے کیونکہ خداوندعالم اس کی آوازکودوست رکھتاہے تاکہ حبیب و محبوب میں دیرتک گفتگوہوتی رہے مگرجن کوخدادوست نہیں رکھتاہے ان کی دعا فوراً قبول کرلیتاہے اوراسے فوراًعطاکردیتاہے کیونکہ پروردگارعالم اسسے ہمکلام ہونا پسندنہیں کرتاہے امام علی ابن ابی طالب “نہج البلاغہ ” میں اپنے فرزندامام حسن مجتبیٰ کے نام لکھے گئے ایک خط میں تاخیرسے دعاقبول ہونے کی وجہ اس طرح بیان کرتے ہیں: جن چیزوں کوطلب کرناتمھارے لئے صحیح ہے ان کے خزانوں کی کنجیاں تمھارے ہاتھوں میں دی رکھی ہے ،تم جب بھی چاہوان کنجیوں سے رحمت کے دروازے کھول سکتے ہواوررحمت کی بارش برساسکتے ہو،یادرکھو!اگرتمھاری دعاکے قبول ہونے میں تاخیرہوجائے تومایوس وناامیدنہ ہوناکیونکہ عطیہ ہمیشہ بقدر نیت ہواکرتاہے اورکبھی کبھی قبولیت میں اس لئے تاخیرکردی جاتی ہے کہ اس میں سائل کے اجرمیں اضافہ اورامیدوارکے عطیہ میں زیادتی کاامکان پایاجاتاہے اورہوسکتاہے تم کسی شئے کاسوال کرواوروہ نہ ملے لیکن اس کے بعدجلدی یادیرسے اس سے بہترمل جائے یااسے تمھاری بھلائی کے لئے روک دیاگیاہو،اس لئے اکثرایسابھی ہوتاہے کہ جس چیزکوتم نے طلب کیاہے اگر مل جائے تودین کی تباہی کاخطرہ ہے لہٰذااسی چیزکاسوال کروجس میں تمھاراحسن باقی رہے اورتم وبال سے محفوظ ) رہو،مال نہ باقی رہنے والاہے اورنہ تم اس کے لئے باقی رہنے والے ہو۔(۱)
____________________
. ۱)نہج البلاغہ نامہ ٣١ٔ
قرآنی دعائیں
قرآن کریم کے کچھ ایسے سورے ہیں جومکمل طورسے دعاشمارہوتے ہیں جیسے سورہ حٔمد،فلق ،ناس ،توحیداورکچھ سورے ایسے ہیں جن میں ایک یااس سے زیادہ آیتیں بطوردعانازل ہوئی ہیں ،ہم ان میں چندآیتوں کوذکرکررہے ہیں:
( رَبَّنَااٰت نافِیْ الدُّنْیَاحَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَاعَذَاْبَ النَّارِ ) (۱)
ترجمہ:پروردگارا!ہمیں دنیامیں بھی نیکی عطافرمااورآخرت میں بھی اورہم کوعذاب جہنم سے محفوظ فرما۔( رَبَّنَالَاتُزِغْ قُلُوْبَنَابَعْدَاِذْهَدَیْت ناوَهَبْ لَنَامِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَهَّابُ ) (۲) ترجمہ:پروردگا!جب تونے ہمیں ہدایت دی ہے تواب ہمارے دلوں میں کجی نہ ہونے پائے اورہمیں اپنے پاس سے رحمت عطافرماکہ توبہترین عطاکرنے والاہے۔
( رَبَّنَاآمَنَّافَاغْفِرْلَنَاذُنُوْبَنَاوَقِنَاعَذَاْبَ النَّاْرِ ) (۳) ترجمہ:پروردگارا!ہم ایمان لے لائے ،ہمارے گناہوں کوبخش دے اورہمیں آتش جہنم سے بچالے۔( رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآء ) (۴) ترجمہ:حضرت زکریانے اپنے پروردگارسے دعاکی مجھے اپنی طرف سے ایک پاکیزہ اولادعطافرماکہ توہرایک کی دعاسنے والاہے۔( رَبَّنَافَاغْفِرْلَنَاذُنُوْبَنَاوَاِسْرَاْفَنَافِیْ اَمْرِنَاوَثَبِّتْ اَقْدَاْمِنَاوَانْصُرْنَاعَلَی الْقُوْمِ الْکَافِرِیْنَ ) (۵) ترجمہ:پروردگار!ہمارے گناہوں کوبخش دے ،ہمارے امورمیں زیادتیوں کومعاف فرما،ہمارے قدموں کوثابت عطافرمااورکافروں کے مقابلہ میں ہماری مددفرما۔
( رَبَّنَااغْفِرْلِیْ وَلِوَاْلِدَیَّ وَلِلْمُو مِٔنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ. ) (۶)
ترجمہ:پروردگارا!مجھے اورمیرے والدین کواورتمام مومنین کواس دن بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔
( رَبِّ ارْحَمْهُمَاکَمَارَبَّیٰنِیْ صَغِیْراً. ) (۷)
ترجمہ:(والدین کے لئے اس طرح دعاکرو)پروردگارا!ان دونوں پراسی طرح رحمت نازل فرماجسطرح انھوں نے بچپنے میں مجھے پالاہے۔
( رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَاحْلُلْ عَقْدَةً مِّنْ لِسَاْنِیْ ) .(۸)
ترجمہ:حضرت موسیٰ دعاکی :پروردگارا!میرے سینے کوکشادہ کردے ،میرے کام کوآسان کردے اورمیری زبان کی گرہ کوکھول دے۔
____________________
. ١)بقرہ ٢٠١ --.. ٢)آل عمران/ ٨ --٣)آل عمران/ ١۶ –۴)آل عمران/ ٣٨ --۵)آل عمران/ ١۴٧ --. ۶)ابراہیم/ ۴١ -
٧)اسراء / ٢۴ --. ٨) طٰہٰ/ ٢۵ ۔ ٢٨ )
سجدہ شٔکر
تعقیبات نمازمیں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب انسان نماز،تسبیح اوردعاسے فارغ ہوجائے تومستحب ہے کہ فوراًسجدہ شکرکرے جس کاطریقہ یہ ہے کہ پیشانی کوزمین پررکھے اوردونوں کہنی ،سینہ اور پیٹ کوبھی زمین پرلگائے ،دائیں پیرکی پشت کوبائیں پیرکے تلوے پررکھے اورمستحب ہے کہ اس کے بعددائیں رخسارکوزمین پررکھے یعنی بائیں جانب رخ کرے ،اس کے بعدبائیں رخسارکوزمین پررکھے اسکے بعدپھردوبارہ پیشانی کوزمین پررکھے ۔ اورمستحب ہے کہ جب انسان بھی انسان کوکوئی نعمت ملے یااس کی کوئی مصیبت دورہوجائے توسجدہ شکرکیاجائے ،سجدہ شٔکرکرنے کے بارے روایتوں میں بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے
امام صادق فرماتے ہیں:ہرمسلمان پرخداکااداکرنالازم ہے کیونکہ اس کے ذریعہ تمھاری نمازمکمل ہوتی ہے اوراس ذریعہ تمھاراپروردگارتم سے راضی ہوجاتاہے اورملائکہ کے تعجب کاباعث ہوتاہے ،جب کوئی بندہ نمازپڑھتاہے اوراس کے بعدسجدہ شکرکرتاہے تو خداوندعالماپنے اس بندہ اورملائکہ کے درمیان کے حجاب کوہٹادیتاہے اوراپنے ملائکہ سے کہتاہے:اے میرے فرشتو! میرے اس بندہ کودیکھو،اس نے میرے واجب کو ادا کیا اور میرے عہدکومکمل کیااورپھران نعمتوں کے بدلے میں جومیں نے اسے عطاکی ہیں سجدہ شٔکراداکیا ،اے میرے فرشتو!تم ہی بتاؤ اس شکرگزاربندہ کی جزا کیاہے؟ تو وہ جواب میں کہتے ہیں:اے ہمارے پروردگار!تیری رحمت ،اس کے بعددوبارہ اپنے فرشتوں سے سوال کرتاہے :اس کے علاوہ اورکیاجزاہے؟ملائکہ جواب دیتے ہیں :تیری جنت، خداوند عالم پھرمعلوم کرتاہے اس کے علاوہ اورکیاجزاہے ؟ملائکہ جواب دیتے ہیں:اس کے تمام رنج ومشکل کوبرطرف کرنا،اس کے بعدخداوندعالم پھرمعلوم کرتاہے اس کے علاوہ اورکیاجزاہے؟توملائکہ جواب دیتے ہیں:اے ہمارے پرودگار!اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے ہیں،پسپروردگارکہتاہے :جسطرح اسنے میراشکراداکیاہے میں بھی اس کاشکرگزارہوں ) اورمیں اس پراپنافضل وکرم نازل کرتاہوں اورروزقیامت اسے رحمت عظیم عطاکروں گا۔(۱)
حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : واجب نماز پڑھنے کے بعد ایک سجدہ کر نا چاہئے کیونکہ فریضہ الہٰی کو ادا کر نے کی وجہ سے جو نعمات وکرامات خداوندمتعال ہم کو عطا کرتا ہے ، ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہئے اور سجدئہ شکر میں بس یہی کافی ہے کہ تین مرتبہ “شُکْراًلِلّٰہ”کہا جائے. راوی کہتا ہے : میں نے امام رضا سے عرض کیا : “شُکْراً لِلّٰہِ” کے کیا معنی ہیں؟ امام نے فرمایا : یعنی نماز ی یہ کہتا ہے کہ میرایہ سجدہ خداکاشکرادا کر نے کے لئے ہے اس چیزکے بدلہ میں کہ اس نے مجھے اپنی خدمت کی توفیق عطاکی یعنی اس نے مجھے ادائے واجب کی توفیق عطاکی اورشکرادا کرنا رحمت وبرکت ونعمت کی زیادتی کا سبب واقع ہو تاہے ، اور اگر نماز میں کوئی نقص پایاجاتا ہے اور نافلہ نماز کے ذریعہ وہ نقص پورا نہیں ہو پاتا ہے تو ) سجدئہ شکر اس نماز کو مکمل کردیتا ہے ۔(۲)
____________________
. ١)تہذیب الاحکام /ج ٢/ص ١١٠ --. ٢)علل الشرائع /ج ٢/ص ٣۶٠
حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں:میرے باباعلی ابن الحسین جب بھی کسی نعمت خداکاذکرکرتے تھے توسجدہ شٔکر کرتے تھے اور جب قرآن کریم تلاوت کے دوران کسی آیت سجدہ پر پہنچتے تھے تواسی و قت ایک سجدہ کرتے تھے اورجب بھی خداآپ کی راہ سے کسی ناگوارحادثہ یادشمن کے مکروفریب کودور کردیتاتھاتوسجدہ میں گرجاتے تھے اورجب بھی نمازواجب سے فارغ ہوتے تھے تو سجدہ شٔکرکرتے تھے اورجب بھی دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب ہوجاتے تھے تب بھی ایک سجدہ شٔکرکرتے تھے اورآپ کے جسم کی حالت یہ تھی کہ تمام اعضائے سجدہ پر گٹھا پڑگئے تھے اسی لئے آپ کو “سجاد”کے لقب ) سے یادکیاجاتاہے(۱)
مختارثقفی کے بارے میں ان کے اکثر ساتھیوں سے نقل ہوا ہے کہ جناب مختار نے اپنی ایاّم حکومت کے دوران قاتلان حضرت امام حسین سے بدلہ لیا اور سب کو سر کوب وفِی النار کرنے کے بعد شکرخداکے لئے ایک سجدہ بجا لائے ،اورنقل کیاگیاہے کہ جناب مختاراکثرایّام میں روزہ رکھتے تھے اور کہتے تھے : میرے یہ روزے شکر کے لئے ہیں،آپ اصغربے شیرکے قاتل حرملہ کو واصل جہنم کرنے کے بعدگھوڑے سے زمین پر تشریف لائے اور دورکعت نماز پڑھنے کے بعد ایک طولانی سجدئہ شکرادا کیا ۔(۲)
امام محمدباقر فرماتے ہیں:خداوندعالم نے حضرت موسیٰ ابن عمرانپروحی نازل کی:اے موسیٰ! کیاتم جانتے ہومیں نے اپنی مخلوق میں سے صرف تم ہی کواپنے سے ہمکلام ہونے کوکیوں منتخب کیاہے ؟حضرت موسیٰ نے کہا:اے میرے پروردگار!میں نہیں جنتاہوں(توہی بتاکہ تونے مجھے کیوں منتخب کیاہے؟) خداوندعالم نے وحی نازل کی :اے موسی! میں نے اپنے تمام بندوں کی ظاہری وباطنی حالتوں پرنگاہ ڈالی تومیں نے تمھارے علاوہ کسی کواس قدرمتواضع نہ پایاجواپنے آپ کومیری بارگاہ میں اس قدرحقیرسمجھتاہوکیونکہ جب تم نمازسے ) فارغ ہوتے ہوتواپنے دونوں رخسار کو زمین پر رکھتے ہو۔(۳)
مستحب ہے کہ سجدہ شکرمیں سومرتبہ “ شکراًلله ” کہاجائے اورتین مرتبہ بھی کافی ہے
سلیمان ابن حفص مروزی سے مروی ہے کہ میں نے امام علی رضا کی خدمت میں ایک خط لکھااور سجدہ شٔکرکے بارے میں معلوم کیاتوآپ (علیه السلام)نے میرے سوال کے جواب میں مجھے خط میں تحریرکیا: سجدہ شٔکرمیں سومرتبہ “ شکراً، شکراً ” کہویاچاہوتو“ عفواً، عفواً ”کہو۔(۴)
امام صادق فرماتے ہیں:جب کوئی بندہ سجدہ شکرکرے اورایک سانس “یاربّ یارب”کہے توپروردگاراپنے بندے سے کہتاہے :اے میرے بندے! میں حاضرہوں تواپنی حاجت توبیان ) کر۔(۵)
____________________
۱)علل الشرائع /ج ١/ص ٢٣٣
٢)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ٩٧ /ص ٣۴.
.۳)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٣٢.--. ۴)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٣٢ -- ۵)من لایحضرہ الفقیہ/ج ١/ص ٣٣٣
قطب الدین راوندی نے اپنی کتاب “الدعوات ”میں یہ روایت نقل ہے کہ امام موسیٰ کاظم سجدہ شکرمیں یہ دعابہت زیادہ پڑھتے اورتکرارکرتے تھے: ) ”اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ الرَّاحَةَ عِنْدَالْمَوتِ وَالْعَفْوَعِنْدَالْحِسِابِ ”.(۱)
ابوبصیرسے مروی ہے :امام صادق فرماتے ہیں:اگر کوئی بندہ سجدہ میں تین مرتبہ “یاالله یاربّاہ یاسیداہ” کہے توالله تبارک وتعالیٰ جواب میں کہتاہے :اے میرے بندے!میں حاضرہوں ) تواپنی حاجت بیان کر۔(۲)
مستحب ہے کہ سجدہ شکرکے بعدہاتھ کوسجدہ گاہ پر مس کرے اورپھرہاتھ کوچہرے پراس طرح ملے کہ بائیں جانب کی پیشانی سے شروع کرے اوراسی طرف کے رخسارپرملے اس کے بعداسی طرح دائیں جانب ملے اورتین باریہ دعاپڑھے اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ ، لَااِلٰہَ اِلّااَنْتَ ، عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ ، اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ، اَللّٰہُمَّ اَذْہَبْ عَنِّیْ الْہَمَّ وَالْحُزْنَ وَالْغَیَرَوَالْفِت ن ، مَاظَہَرَمِنْہٰا،وَمَابَطَنَ. ترجمہ: بارالٰہا!تمام حمدوثناتیرے لئے ہیں،تیرے سواکوئی معبودنہیں ہے ،ظاہراورغیب کاعلم تیرے پاس ہے ،توہی بخشنے اوررحم کرنے والاہے ، بارالٰہا!تومیرے رنج وغم اورتعصب ودگرگونی اورفت نوں کودورکردے جوظاہروآشکارہیں اوروہ کہ جوباطن میں ہیں۔(۳)
راززیارت
تعقیبات نمازمیں سے ایک یہ بھی ہے جب نمازگزارتسبیح ودعااورسجدہ شکرے فارغ ہوجائے توکھڑے ہوکرزیارت پڑھے ،اورنبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اوران کی آل اطہار پردرودوسلام بھیجے اورمستحب ہے کہ نمازکے بعدزیارت امام حسین،زیارت امام علی رضا ،زیارت حضرت حجت صاحب الزماں پڑھی جائے ۔ اہل بیت اطہار سے توسل کے بارے میں ہم نے نمازکے قبول ہونے کے شرائط میں کچھ باتیں اوراحادیث نقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ توسل کاکیافائدہ ہے ،نمازکے بعدزیارت پڑھنابھی ایک توسل ہے ۔نمازکے بعدامام حسین کی زیارت پڑھی جائے کیونکہ انھوں نے کرب وبلامیں اپنے پوراگھر قربان کردیااورنمازکوہمیشہ کے لئے زندہ وجاویدکردیاہو،کیانمازکے بعدان پرسلام نہ بھیجائے ؟امام حسین اورامام علی رضا ایسے شہیدہیں کہ جنھیںغریب الوطنی میں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہیدکیاگیاہے ۔نمازکے بعدامام زمانہ کی زیارت اس پڑھتے ہیں کہ ہم ان کی سلامتی کی دعاکرتے ہیں اورباری تعالیٰ سے ان کے ظہورکی تعجیل کے لئے التجاکرہیں۔ اللٰہمّ عجّل فرجہ الشریف واجعلنامن انصارہ واعوانہ.آمین. زیارت تکمیل ایمان کی علامت ہے ،اس کے ذریعہ رزق میں برکت ہوتی ہے اورعمرطولانی ہوتی ہے رنج وغم دورہوتے ہیں،نماز یں قبول ہوتی ہیں،اوران کے طرف سلام کاجواب بھی آتاہے ،نمازی کے دل اہل بیت اطہار کی محبت میں اضافہ ہوتاہے اورعشق ومحبت اہل بیت کے خداوندعالم سے تقرب حاصل ہوتاہے ۔
____________________
. ۱)تہذیب الاحکام/ج ٢/ص ٣٠٠ --. ٢)وسائل الشیعہ/ج ۴/ص ١١٣١ --۳)مفاتیح الجنان (شیخ عباس قمی
فہرست
پیشگفتار ۴
وجہ تالیف: ۴
وجہ تسمیہ “نمازکے آداب واسرار“ ۵
رازاطاعت وبندگی ۶
١۔انسان عبادت کے لئے پیداہواہے ۶
٢۔شکرمنعم واجب ہے ۷
٣۔انسان کی فطرت میں عبادت کاجذبہ پایاجاتاہے ۱۱
۴ ۔ پروردگارکی تعظیم کرناواجب ہے ۱۲
۵ ۔ہرانسان محتاج اورنیازمندہے ۱۳
عبادت اوربندگی کاطریقہ ۱۴
رازوجوب نماز ۱۵
نمازکی اہمیت ۱۸
نمازکی اہمیت کے بارے میں معصومین سے چندروایت ذکرہیں: ۱۹
تمام انبیائے کرام نمازی تھے ۱۹
نمازاورحضرت س آدم ۲۰
نمازاورحضرت ادریس ۲۱
نمازاورحضرت نوح ۲۱
نمازاورحضرت ابراہیم ۲۲
نمازاورحضرت اسماعیل ۲۳
نمازاوراسحاق ویعقوب وانبیائے ذریت ابراہیم ۲۳
نمازاورحضرت شعیب ۲۴
نمازاورحضرت موسی ۲۴
نمازاورحضرت لقمان ۲۵
نمازاورحضرت عیسیٰ ۲۵
نمازاورحضرت سلیمان ۲۵
نمازاورحضرت یونس ۲۶
نمازاورحضرت زکریا ۲۶
نمازاورحضرت یوسف ۲۶
تمام انبیاء وآئمہ نے نمازکی وصیت کی ہے ۲۷
نمازمومن کی معراج ہے ۲۹
بچوں کونمازکاحکم دیاکرو ۳۱
نمازکے آثارو فوائد ۳۳
دنیامیں نمازکے فوائد ۳۳
گناہوں سے دورزہتاہے ۳۴
گذشتہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں ۳۵
چہرے پرنوربرستاہے ۳۷
بے حساب رزق ملتاہے ۳۹
رزق میں برکت ہوتی ہے ۴۱
دعائیں مستجاب ہوتی ہیں ۴۱
رحمت خدانازل ہوتی ہے ۴۱
دل کوسکون ملتاہے اوررنج وغم دورہوتے ہیں ۴۲
عورت کی عزت آبروقائم رہتی ہے ۴۳
قرآن کریم متروک ہونے سے محفوظ رہتاہے ۴۳
قبض روح میں اسانی ہوتی ہے ۴۳
برزخ اورقیامت میں نمازکے فوائد ۴۴
روزانہ پانچ ہی نمازکیوں واجب ہیں ۴۵
ان اوقات میں نمازکے واجب ہونے کی وجہ ۴۹
پہلی روایت ۴۹
دوسری روایت ۵۲
تیسری روایت ۵۳
چوتھی روایت ۵۴
پانچوی روایت ۵۵
تعدادرکعت کے اسرار ۵۵
رازجمع بین صلاتین ۵۹
روزانہ نمازکے تکرارکی وجہ ۶۲
نمازکے آداب وشرائط ۶۳
رازطہارت ۶۳
باطنی طہارت ۶۳
ظاہری طہارت ۶۴
وضوکے اسرار ۶۵
رازوجوب وضو ۶۷
رازوجوب نیت ۶۸
چہرہ اورہاتھوں کے دھونے اورسروپیرکے مسح کرنے کاراز ۶۹
وضومیں تمام دھونایاتمام مسح کیوں نہیں ہے؟ ۷۱
۴ ۔خروج پیشاب ،پیخانہ اورریح سے وضوکے باطل ہونے کی وجہ ۷۵
کھانے ،پینے سے وضوکے باطل نہ ہونے کی وجہ ۷۶
آب وضوکے پاک، مباح اورمطلق ہونے اوربرت ن کے مباح ہونے کی وجہ ۷۶
۶ ۔خودوضوکرنے کی شرط کی وجہ: ۷۷
٧۔سورج کے ذریعہ گرم پانی سے وضوکرنے کی کراہیت کی وجہ: ۷۸
وضوکے آداب ۷۸
١۔وضوسے پہلے مسواک کرنا ۷۸
٢۔ وضوکرتے وقت معصوم (علیھ السلام)سے منقول ان دعاؤں کوپڑھنا ۷۹
٣۔ گٹوں تک دونوں ہاتھ دھونا ۸۱
۴ ۔ تین مرتبہ کلی کرنااورناک میں پانی ڈالنا ۸۱
۵ ۔ چہرہ اورہاتھوں پردوسری مرتبہ پانی ڈالنا ۸۲
۶۔ آنکھوں کوکھولے رکھنا ۸۴
٧۔ عورت ہاتھوں کے دھونے میں اندرکی طرف اورمردکہنی پرپانی ڈالے ۸۴
٨۔ چہرے پرخوف خداکے آثارنمایاں ہونا ۸۴
٩۔ رحمت خداسے قریب ہونے اوراس مناجات کرنے کا ارادہ کرنا ۸۵
١٠ ۔ پانی میں صرفہ جوئی کرنا ۸۵
وضو کے آثار وفوائد ۸۶
گھرسے باوضو ہوکرمسجد جانے کاثواب ۸۷
کسی کو وضوکے لئے پانی دینے کاثواب ۸۸
ہرنمازکے لئے جداگانہ وضو کرنے کاثواب ۸۸
کامل طورسے وضوکرنے کاثواب ۹۰
آب وضوسے ایک یہودی لڑکی شفاپاگئی ۹۱
آب وضوسے درخت بھی پھلدارہوگیا ۹۲
راز تیمم ۹۳
رازوجوب ستر ۹۵
رازمکان و لباس ۹۷
رازطہارت بدن ،لباس اورمکان ۹۷
رازاباحت لباس ومکان ۹۷
نمازی کالباس مردہ حیوان سے نہ بناہو ۹۹
حرام گوشت جانورکے اجزابنے سے لباس میں نمازکے باطل ہونے کی وجہ: ۹۹
مردکا لباس سونے اورخالصریشم کانہ ہو ۱۰۰
مسجد ۱۰۳
مسجدکی اہمیت ۱۰۳
مساجدفضیلت کے اعتبارسے ۱۰۷
مسجدالحرام میں نمازپڑھنے کاثواب ۱۰۸
مسجدالنبی (صلی الله علیه و آله)میں نمازپڑھنے کاثواب ۱۰۸
مسجدکوفہ میں نمازپڑھنے کاثواب ۱۰۹
حرم آئمہ اطہار میں نمازپڑھنے کاثواب ۱۱۱
مسجدقبااورمسجدخیف میں نمازپڑھنے کاثواب ۱۱۱
مسجدسہلہ میں نمازپڑھنے ثواب ۱۱۲
مسجدبراثامیں نماپڑھنے کاثواب ۱۱۳
بیت المقدس ، مسجدجامع ،محله وبازارکی مسجدمیں نمازپڑهنے کاثواب ۱۱۳
مسجدکے میں مختلف حصوں میں نمازپڑھنے کی وجہ ۱۱۳
مسجدمیں داخل ہوتے ہوئے دائیں قدم رکھنے کی وجہ ۱۱۴
مسجدکے صاف وتمیزرکھنے کی وجہ ۱۱۵
بدبودارچیزکھاکرمسجدمیں انے کی کراہیت کی وجہ ۱۱۶
قبلہ ۱۱۷
١۔خانہ کعبہ کوکعبہ کیوں کہاجاتاہے؟ ۱۱۸
٢۔خانہ کعبہ کے چارگوشہ کیوں ہیں؟ ۱۱۸
٣۔خانہ کعبہ کو“بیت الله الحرام ”کیوں کہاجاتاہے؟ ۱۱۹
۴ ۔خانہ کعبہ کوعتیق کیوں کہاجاتاہے ؟ ۱۱۹
کعبہ کب سے قبلہ بناہے؟ ۱۲۰
رازتحویل قبلہ ۱۲۲
پہلی وجہ ۱۲۲
دوسری وجہ ۱۲۳
تیسری وجہ ۱۲۴
روزاول ہی کعبہ کوقبلہ کیوں قرارنہیں دیا؟ ۱۲۴
قبلہ اول کی سمت پڑھی گئی نمازوں کاحکم کیاہے ؟ ۱۲۵
اذان واقامت ۱۲۶
اذان واقامت کی اہمیت ۱۲۶
مو ذٔن کے فضائل ۱۲۸
اذان واقامت کے راز ۱۳۰
”اَللّٰہُ اَکْبَر“ ۱۳۲
”اشھدان لا ا لٰہ اٰلاّالله“ ۱۳۴
” اشھدان محمدًا رسول الله“ ۱۳۴
”حیّ علیْ الصلا ة“ ۱۳۵
”حیّ علیْ الفلاح“ ۱۳۶
”الله اکبر“ ۱۳۶
” لَااِلٰہ اِلّاالله“ ۱۳۷
”قدقامت الصلاة“ ۱۳۷
بلال کومو ذٔن قراردینے کی وجہ ۱۳۸
مو ذٔن کے مرد،مسلمان اورعاقل ہونے کی وجہ ۱۳۹
اذان کے کلمات کی تکرارکرنے کومستحب قراردئے جانے کی وجہ ۱۳۹
اذان واقامت کانقطہ آٔغاز ۱۴۰
احادیث اہل سنت ۱۴۲
حدیث رؤیا ۱۴۵
حدیث رؤیاکے بارے میں شیعوں کانظریہ ۱۴۶
حدیث رؤیاکے بارے میں بعض اہل سنت کانظریہ ۱۴۷
اول وقت ۱۵۱
نمازکوضائع کرنے کاعذاب ۱۶۰
نمازجماعت ۱۶۳
نمازجماعت کی اہمیت ۱۶۳
جماعت کی فضیلت وفوائد ۱۶۵
صف اول کی فضیلت ۱۶۹
نمازجماعت کانقطہ آغاز ۱۶۹
رازجماعت ۱۷۳
واجبات نمازکے اسرار ۱۷۶
واجبات نمازگیارہ ہیں: ۱۷۶
رازنیت ۱۷۶
رازاخلاص وقصدقربت ۱۷۷
راز تکبیرة الاحرام ۱۸۲
تکبیرکے ذریعہ نمازکاآغازکئے جانے کی وجہ ۱۸۲
اس تکبیرکوتکبیرة الاحرام کہے جانے کی وجہ ۱۸۳
سات تکبیرکہنے کاراز ۱۸۳
رازقیام ۱۸۸
رازوجوب قیام ۱۸۸
رازقرائت ۱۹۰
قرائت کے واجب قراردئے جانے کی وجہ ۱۹۱
رازاستعاذہ ۱۹۲
ہرسورہ کے شروع میں“بسم الله”ہونے کی وجہ ۱۹۳
راز قرائت حمد ۱۹۳
سورعزائم کے قرائت نہ کرنے کی وجہ ۱۹۶
رازجہراوخفات ۱۹۷
حمد کے بعدآمین کہناکیوں حرام ہے ۱۹۹
سورہ حمدکی مختصرتفسیر ۲۰۰
جمع کی لفظ استعمال کئے جانے کاراز ۲۰۳
سورہ تٔوحیدکی مختصرتفسیر ۲۰۸
اَحَدْکہے جانے کی وجہ ۲۰۹
رازتسبیحات اربعہ ۲۱۰
رکوع کے راز ۲۱۱
رکوع میں تسبیح کے قراردئے جانے کاراز ۲۱۳
رکوع وسجودکی تسبیح فرق رکھنے کی وجہ ۲۱۴
رکوع کوسجدوں سے پہلے رکھنے کی وجہ ۲۱۵
گردن کوسیدھی رکھنے کاراز ۲۱۵
رازطول رکوع ۲۱۶
رازسجدہ ۲۱۷
آدم(علیھ السلام) کواوریوسف کے سامنے سجدہ کرنے کی وجہ ۲۱۹
ہررکعت میں دوسجدے قراردئے جانے کی وجہ ۲۲۲
رازاعضائے سجدہ ۲۲۴
چورکی ہتھلیوں کوقطع نہ کئے جانے کی وجہ ۲۲۵
راز ذکرسجدہ ۲۲۶
رازطول سجدہ ۲۲۷
سجدہ گاہ کی رسم کاآغاز ۲۲۹
خاک شفاپرسجدہ کرنے کاراز ۲۳۲
رازتشہد ۲۳۵
راز تورک ۲۳۶
رازصلوات ۲۳۸
رازسلام ۲۳۹
رازقنوت ۲۴۴
رازنمازقصر ۲۴۵
حیض کی حالت میں ترک شدہ نمازوں کاحکم ۲۴۸
قبولیت نمازکے شرائط ۲۵۰
١۔حضورقلب ۲۵۲
٢۔خضوع وخشوع ۲۵۳
معصومین اورحضورقلب وخشوع ۲۵۶
٣۔ایمان ۲۶۱
۴ ۔دلایت ۲۶۲
۵ ۔تقویٰ ۲۶۵
نمازقبول نہ ہونے کے اسباب ۲۶۶
١۔ولایت اہلبیت کامنکرہونا ۲۶۷
٢۔والدین کی اطاعت نہ کرنا ۲۶۷
٣۔چغلخوری کرنا ۲۶۸
۴ ۔مال حرام کھانا ۲۶۸
۵ ۔نمازکوہلکاسمجھنا ۲۶۹
۶ ۔شراب ومسکرکااستعمال کرنا ۲۶۹
٧۔حاقن وحاقب ۲۷۰
٨۔ خمس وزکات نہ دینا ۲۷۰
٩۔گناہ ومنکرات کوانجام دینا ۲۷۱
١٠ ۔مومنین سے بغضوحسدرکھنے والے ۲۷۱
١١ ۔موذی عورت ومرد ۲۷۲
١٢ ۔ہمسایہ کواذیت پہنچانا ۲۷۳
ترک نماز ۲۷۵
تار ک الصلاة کاحکم ۲۸۰
تارک الصلاة کافرہے ۲۸۰
تارک الصلاة کو ہنساناگناہ عظیم ہے ۲۸۳
تارک الصلاة کی مددکرناحرام ہے ۲۸۳
تارک الصلاة کے ساتھ کھاناپیناحرام ہے ۲۸۴
نمازکوہلکاسمجھ کرترک یاضایع کرنے کاعذاب ۲۸۴
گناہگار لوگ مومنین کے وجودسے زندہ ہیں ۲۹۰
نمازکے ترک وضائع کرنے کی اسباب ۲۹۲
١۔لہوولعب اورکاروبارتجارت کی رغبت ۲۹۲
٢۔جنسی تمایل اورخواہشات نفسانی کی پیروی ۲۹۵
٣۔نمازکوہلکاسمجھنا ۲۹۶
۴ ۔گناہ کبیرہ کامرتکب ہونا ۲۹۶
تعقیبات نماز ۲۹۷
تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کانقطہ آغاز ۲۹۹
پہلی روایت ۲۹۹
دوسری روایت ۳۰۱
دعا ۳۰۲
مدعو ۳۰۲
داعی ۳۰۴
دعاکے فضائل وفوائد ۳۰۶
دعاکے آداب وشرائط ۳۰۹
١۔معرفت خدا ۳۰۹
٢۔گناہوں سے دوری واستغفار ۳۰۹
٣۔صدقہ ۳۱۰
۴ ۔طہارت ۳۱۰
۵ ۔دورکعت نماز ۳۱۰
۶ ۔نیت وحضورقلب ۳۱۲
٧۔زبان سے ۳۱۳
٨۔ہاتھوں کوآسمان کی جانب بلندکرنا ۳۱۳
٩۔اظہارذلت وتضرع ۳۱۴
١٠ ۔ بسم الله کے ذریعہ آغاز ۳۱۴
١١ ۔ حمدوثنائے الٰہی ۳۱۵
١٢ ۔ توسل بہ معصومین ۳۱۶
١٣ ۔ صلوات برمحمدوآل محمد ۳۱۸
١ ۴ ۔خفیہ دعاکرنا ۳۱۹
١ ۵ ۔ اجتماعی طورسے دعاکرنا ۳۱۹
١ ۶ ۔ پہلے اپنے دینی بھائیوں کے لئے دعاکرنا ۳۲۰
١٧ ۔ دعامیں رکھناعمومیت ۳۲۱
١٨ ۔ دعابرائے استجابت دعا ۳۲۳
١٩ ۔ دعاکے قبول ہونے پریقین واعتقاد رکھنا ۳۲۳
اوقات دعا ۳۲۴
١۔ شب جمعہ ۳۲۴
٢۔ روزجمعہ ۳۲۴
٣۔ نمازپنجگانہ کے وقت ۳۲۵
۴ ۔پنجگانہ نمازوں کے بعد ۳۲۶
۵ ۔ اذان واقامت کے درمیان ۳۲۷
دعاکی جگہ ۳۲۸
١۔ خانہ کعبہ ۳۲۸
٢۔ مسجد ۳۲۸
٣۔ حرم مطہرمعصومین اورامامبارگاہ ۳۲۹
پہلی روایت ۳۳۰
دوسری روایت ۳۳۰
کن لوگوں کی دعامستجاب ہوتی ہیں ۳۳۲
١۔ انبیاء ورسل اورامام عادل کی دعا ۳۳۲
٢۔ مظلوم کی دعا ۳۳۳
٣۔ فرزندصالح کی والدین کے حق میں دعا ۳۳۴
۴ ۔ نیک والدین کی دعا اولادکے حق ۳۳۶
۶ ۔ معصوم بچہ کی دعا ۳۳۶
٧۔ روزہ دارکی دعا ۳۳۷
٨۔ مریض کی دعاشفاپانے تک ۳۳۷
٩۔ مومن کی غائبانہ دعااپنے دینی بھائیوں کے لئے ۳۳۷
۱۰۔ عادل رہنمااورپیشواکی دعا ۳۳۸
دعامستجاب ہوجائے توکیاکرناچاہئے؟ ۳۴۰
دعاکے سایہ میں تلاش وکوشش ۳۴۰
کن چیزوں کے بارے میں دعاکی جائے ۳۴۲
کن لوگوں کی دعاقبول نہیں ہوتی ہے ۳۴۲
١۔ نمازترک وضایع کرنے یاہلکاسمجھنے والوں کی دعا ۳۴۴
۴ ۔ نافرمان اولادکی دعا ۳۴۴
۵ ۔ محبّ دنیاوریاکارکی دعا ۳۴۵
۶ ۔ امربالمعروف ونہی عن المنکرترک کرنے والوں کی دعا ۳۴۵
٧۔ شرابی کی دعا ۳۴۶
مال حرام کھانے والوں کی دعا ۳۴۶
دعاقبول نہ ہونے کی وجہ ۳۴۷
تاخیرسے دعاقبول کی وجہ ۳۴۹
قرآنی دعائیں ۳۵۲
سجدہ شٔکر ۳۵۳
راززیارت ۳۵۵