توضیح المسائل(آقائے وحيد خراسانی)

مؤلف: آية الله العظمیٰ حاج شيخ حسين وحيد خراسانی مدظلہ العالی
احکام فقہی اور توضیح المسائل


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


توضيح المسائل

حضرت آية الله العظمیٰ حاج شيخ حسين وحيد

خراسانی مدظلہ العالی

ناشر: مدرسة الامام الباقر العلوم عليہ السلام

دوسرا ایڈیشن: ١ ۴ ٢٨ ه، مطابق ٢٠٠٧

پریس: نگارش

ملنے کا پتہ: قم، صفائيہ روڈ، گلی نمبر ٣٧ ، مکان نمبر ٢١ ، ٹيليفون: ٧٧ ۴ ٣٢ ۵۶ ۔ ٠٢ ۵ ١


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم ا

َلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَ الصَّلوٰةُ وَ السَّلاَمُ عَلیٰ ا شَْٔرَفِ اْلا نَْٔبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِيْنَ مُحَمَّدٍ وَّ آلِهِ الطَّيِّبِيْنَ

الطَّاهِرِیْنَ لاَ سِيِّمَا بَقِيَّةِ اللّٰهِ فِي اْلا رََٔضِيْنَ، وَ اللَّعْنَةُ الدَّائِمَةُ عَلٰی ا عَْٔدَائِهِمْ اَجْمَعِيْنَ

تقليد کے احکام

مسئلہ ١انسان کے لئے ضروری ہے کہ اصولِ دین اسلام پراس کے عقيدے کی بنياد یقين پر ہو۔

اصول دین ميں تقليد یعنی یقين حاصل کئے بغير کسی کی پيروی کرنا، باطل ہے ، ليکن احکام دین ميں ضروری اور قطعی امور اور اسی طرح وہ موضوعات جو دليل کے محتاج ہيں ، کے علاوہ ضروری ہے کہ:

١)یا خود مجتهد ہو کہ اپنی ذمہ داریوں کو دليل کے ساته جان سکے۔

٢)یا کسی ایسے مجتهدکے احکامات پرعمل کرے(تقليد کرے)جس کی شرائط کاتذکرہ آئندہ بيان ہوگا۔

٣)یا احتياط کرتے ہوئے اپنا فریضہ اس طرح انجام دے کہ اسے اپنی ذمہ داری پوری ہونے کا یقين ہوجائے مثلاً اگر چند مجتهد کسی عمل کو حرام قرار دیں اور چند دوسروں کا کهنا ہو کہ حرام نہيں ہے تو اس عمل سے باز رہے اور اگر کسی عمل کو بعض مجتهد واجب اور بعض جائز سمجھتے ہوں تو اس عمل کو بجالائے، لہٰذا جو اشخاص نہ تو مجتهد ہوں اور نہ ہی احتياط پر عمل پيرا ہوسکيں ان کے لئے واجب ہے کہ تقليد کریں۔

مسئلہ ٢گذشتہ ميں بيان کی گئی چيزوں ميں تقليد کامطلب یہ ہے کہ کسی مجتهد کے فتوے پر عمل کيا جائے اور مقلدکے لئے ایسے مجتهد کا قول حجّت ہے جو:

١) مرد

٢) عاقل

٣) شيعہ اثناء عشری

۴) حلال زادہ

۵) زندہ : اگرچہ مقلد نے مميز ہونے کے زمانے ميں مجتهد کو پایا ہو

۶) عادل

٧) بنا بر احتياط واجب بالغ ہو۔


عادل وہ شخص ہے جو ان اعمال کو بجالائے جو اس پر واجب ہيں اور ان باتوں کو ترک کردے جو اس پر حرام ہيں ۔

عادل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک اچھا شخص ہو کہ اگر اس کے اہل محلہ یا ہمسایوں یا ا س سے ميل جول رکھنے والے افراد سے اس کے بارے ميں دریافت کيا جائے تو وہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں۔

اگر در پيش مسائل ميں مجتهدین کے فتوے مختلف ہونے کا، مجملاً ہی سهی، علم ہو تو ضروری ہے کہ اس مجتهد کی تقليد کی جائے جو اعلم ہو یعنی اپنے زمانے کے دوسرے مجتهدوں کے مقابلے ميں احکام الهی اور مقررہ ذمہ داریوں کو عقلی اور شرعی دليلوں کے ذریعے سمجھنے کی بہتر صلاحيت رکھتا ہو، سوائے اس کے کہ غير اعلم کا قول احتياط کے مطابق ہو۔

مسئلہ ٣مجتهد اور اعلم کی پہچان چند طریقوں سے ہو سکتی ہے :

١)انسان کو خود یقين ہو جائے مثلاً وہ خوداتنا صاحب علم ہو کہ مجتهد اوراعلم کو پہچان سکے۔

٢)دو ایسے عالم اور عادل افراد جو مجتهد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحيت رکھتے ہوں کسی کے مجتهد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطيکہ دو ایسے ہی عالم اور عادل اشخاص ان کی تردید نہ کریں۔

اور اقویٰ یہ ہے کہ کسی کا مجتهد یا اعلم ہونا ایک ایسے قابل اعتماد شخص کے قول سے بھی ثابت ہو جاتا ہے جو اہل خبرہ سے ہو جب کہ اس کی کهی ہوئی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو۔

٣)کچه اہل علم جو مجتهد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحيت رکھتے ہوں اور ان کی بات سے اطمينان آجاتا ہو کسی کے مجتهد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں۔

مسئلہ ۴ اگر در پيش فتاویٰ ميں دو یا زیادہ مجتهدین کے درميان، اجمالاً ہی سهی، اختلاف کا علم ہو تو اگر خود علم رکھتا ہو یا حجتِ شرعيہ اس بات پر قائم ہوجائے کہ دونوں علم کے اعتبار سے مساوی ہيں تو ضروری ہے کہ اس کے فتوے پرعمل کرے جس کا فتویٰ احتياط کے مطابق ہو اور اگر ان ميں سے کسی کا فتویٰ احتياط کے مطابق نہ ہومثلاً ایک پوری نماز پڑھنے کا فتویٰ دے جب کہ دوسرا قصر نماز پڑھنے کا فتویٰ دے تو ضروری ہے کہ احتياط کرتے ہوئے دونوں کے مسائل پر عمل کرے۔

اور اگر احتياط ممکن نہ ہو، مثلاًایک مجتهد کسی عمل کے واجب ہونے کا فتویٰ دے جب کہ دوسرا اسی کے حرام ہونے کا فتویٰ دے یا احتياط پر عمل کرنا مشقت کا باعث ہو تو احتياط کی بنا پر اس کے فتوے پر عمل کرے جو فتویٰ دینے ميں زیادہ صاحبِ ورع ہو اور اگر ورع کے اعتبار سے بھی مساوی ہوں تو پھر اختيار ہے کہ جس کے فتوے پر چاہے عمل کرے۔ یهی حکم اس صورت ميں بھی لگے گا کہ جب کسی ایک کے اعلم ہونے کا یقين ہو ليکن معيّن نہ ہو کہ کون اعلم ہے یا کسی ایک کے اعلم ہونے کا احتمال ہو، جب کہ احتيا ط پر عمل کرنا ممکن ہو اور مشقت کا باعث نہ ہو۔


پس اگر احتياط کرنا ممکن نہ ہو یا مشقت کا باعث ہو تو پهلی صورت ميں ، جب کہ کسی ایک کے اعلم ہونے کا یقين ہے ليکن معين نہيں ہے کہ کون اعلم ہے ، اگر کسی ایک ميں اعلميت کا احتمال زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کے فتاویٰ کے مطابق عمل کرے اور اگر دونوں ميں اعلميت کا احتمال برابر ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ جو فتویٰ دینے ميں زیادہ صاحب ورع ہو اس کے فتاویٰ کے مطابق عمل کرے اور اگر اس اعتبار سے بھی مساوی ہوں تو پھر اختيار ہے کہ ان دو ميں سے جس کی چاہے تقليد کرلے۔

اور دوسری صورت ميں ، کہ جب اعلم کے وجود کا احتمال ہو، احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جس کے بارے ميں اعلم ہونے کا گمان یا احتمال ہو یا جس کے بارے ميں اعلميت کا احتمال زیادہ قوی ہو اس کے فتاویٰ کے مطابق عمل کرے ورنہ احتياط واجب کی بنا پر فتویٰ دینے کے معاملے ميں زیادہ صاحب ورع کے فتاویٰ پر عمل کرے اور اگر اس اعتبار سے بھی مساوی ہوں تو اختيار ہے کہ کسی کے بھی فتاویٰ پر عمل کرے۔

مسئلہ ۵ کسی مجتهد کا فتویٰ حاصل کرنے کے چار طریقے ہيں :

١)خود مجتهد سے ( اس کا فتویٰ) سننا۔

٢)ایسے دو عادل اشخاص سے سننا جو مجتهد کا فتویٰ بيان کریں۔

٣)مجتهد کا فتویٰ کسی قابل اعتماد شخص سے سننا جس کی کهی ہوئی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو، یا اس کی بات پر اطمينان ہو۔

۴) اس فتوے کامجتهد کی مسائل کے بارے ميں تحریرکردہ کتاب ميں پڑھنا بشرطيکہ اس کتاب کے درست ہونے کے بارے ميں اطمينان ہو۔

مسئلہ ۶ جب تک انسان کو یہ یقين نہ ہو جائے کہ مجتهد کا فتویٰ تبدیل ہو چکا ہے وہ اس مسئلے پر عمل کر سکتا ہے اور اگر فتوے کے بدلے جانے کا احتمال ہو تو چھان بين ضروری نہيں ۔

مسئلہ ٧اگر مجتهد اعلم کسی مسئلے ميں کوئی فتویٰ دے تو جس شخص کی ذمہ داری اس مجتهد کی تقليد کرنا ہے ، اس مسئلے ميں کسی دوسرے مجتهد کے فتوے پر عمل نہيں کر سکتا، ليکن اگر وہ مجتهد اعلم فتویٰ نہ دے بلکہ یہ فرمائے کہ احتياط اس ميں ہے کہ یوں عمل کيا جائے مثلاً یہ فرمائے کہ احتياط اس ميں ہے کہ چار رکعتی نماز کی تيسری اور چوتھی رکعت ميں تين مرتبہ کهے :سُبْحَانَ اللّهِ وَالْحَمْدُ لِلّهِ وَلاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ ا کَْٔبَر ، تو مقلد کے لئے ضروری ہے کہ یا تو اس احتياط پر، جسے احتياط واجب کہتے ہيں ، عمل کرے یا کسی ایسے دوسرے مجتهد کے فتوے پرجو اس کے بعد دوسروں کے مقابلے ميں اعلم ہو، عمل کرے جو ایک مرتبہ تسبيحات اربعہ پڑھنے کو کافی سمجھتا ہو۔


اسی طرح اگر مجتهد اعلم کسی مسئلے کے بارے ميں یہ فرمائے کہ محل تامل یامحل اشکال ہے تو اس کا بھی یهی حکم ہے ۔

اور اس رسالے ميں تحریر کئے گئے مستحبات کو انجام دیتے اور مکروہات کو ترک کرتے وقت رجاء کی نيت کی جائے۔

مسئلہ ٨اگر مجتهد اعلم کسی مسئلے ميں فتویٰ دینے کے بعد یا اس سے پهلے احتياط کا تذکرہ کرے مثلاً یہ فرمائے کہ نجس برتن ایسے پانی ميں جس کی مقدار ایک کُرکے برابر ہو ایک مرتبہ دهونے سے پاک ہو جاتا ہے اگر چہ احتياط اس ميں ہے کہ تين مرتبہ دهوئے، تو مقلد کو اس بات کی اجازت ہے کہ اس احتياط کو جسے احتياطِ مستحب کہتے ہيں ترک کر دے۔

مسئلہ ٩وہ مجتهد جس کی تقليد کرنا انسان کی ذمہ داری تھی اگر اس دنيا سے انتقال کر جائے تو اس صورت ميں کہ فوت شدہ مجتهد کے مقابلے ميں زندہ مجتهد کا اعلم ہونا اس کے نزدیک ثابت ہوجائے، در پيش مسائل ميں اگر زندہ اور فوت شدہ مجتهد کے فتاویٰ ميں ۔اجمالاً ہی سهی۔اختلاف کا علم ہو تو واجب ہے کہ زندہ کے مسائل پر عمل کرے اور اگر ميت کا اعلم ہونا اس کے نزدیک ثابت تھا تو جب تک زندہ کا اعلم ہونا اس کے نزدیک ثابت نہ ہو جائے ضروری ہے کہ فوت شدہ مجتهد کے فتاویٰ کے مطابق عمل کرے، چاہے اس کی زندگی ميں اس کے فتوے پر عمل کرنے کا ملتزم تھا یا نہيں ، چاہے اس کی زندگی ميں اس کے فتاویٰ پر عمل کيا ہو یا نہ کيا ہواور چاہے اس کی زندگی ميں اس کے فتاویٰ کو سيکها ہو یا نہ سيکها ہو۔

مسئلہ ١٠ اگر کسی مسئلے ميں ایک شخص کی ذمہ داری یہ ہو کہ زندہ مجتهد کے فتوے کے مطابق عمل کرے تو وہ اس مسئلے ميں دوبارہ فوت شدہ مجتهد کی تقليد نہيں کر سکتا۔

مسئلہ ١١ جو مسائل انسان کو عموماً در پيش آتے ہوں ان کا سيکهنا واجب ہے ۔

مسئلہ ١٢ اگر کسی شخص کو کوئی ایسا مسئلہ پيش آئے جس کا حکم اسے معلوم نہ ہو تو ضروری ہے کہ احتياط کرے یا مذکورہ شرائط کے مطابق تقليد کرے، ليکن اگر اسے اعلم اور غير اعلم کی آراء کے مختلف ہونے کا، مجملاً ہی سهی، علم ہو اوراعلم کے فتوے تک رسائی نہ ہواور اعلم کا فتویٰ معلوم ہونے تک تاخير کرنا یا احتياط پر عمل کرنا ممکن نہ ہو یا حرج کا سبب ہو تو غير اعلم کی تقليد جائز ہے ۔

مسئلہ ١٣ اگر کوئی شخص کسی مجتهد کا فتویٰٰ کسی دوسرے شخص کو بتائے اور پھر مجتهد اپنا سابقہ فتویٰ بدل دے تو اُس کے لئے اُس دوسرے شخص کو فتوے کی تبدیلی کی اطلاع دینا ضروری نہيں ،ليکن اگر فتویٰ بتانے کے بعد یہ معلوم ہوکہ فتویٰ بتانے ميں غلطی ہوگئی ہے تواگراس کی وجہ سے وہ شخص کسی حکمِ الزامی(واجب/حرام) کی مخالفت ميں پڑ رہا ہو تو جهاں تک ممکن ہو اس غلطی کا ازالہ ضروری ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ اگر کوئی مکلف ایک مدت تک بغير کسی کی تقليدکئے اعمال بجالاتارہے تو اگر اس کا عمل واقع کے مطابق ہویااس مجتهد کے فتاویٰ کے مطابق ہو کہ جس کی تقليدکرنافی الحال اس کی ذمہ داری ہے تواس کے اعمال صحيح ہيں ۔


احکام طهارت

مطلق اور مضاف پانی

مسئلہ ١ ۵ پانی یا مطلق ہوتا ہے یا مضاف۔ مضاف پانی وہ ہوتا ہے جسے کسی چيز سے حاصل کيا جائے، مثلاًتربوز کا پانی یا گلاب کا عرق۔ اس پانی کو بھی مضاف کہتے ہيں جو کسی دوسری چيز سے ملا ہوا ہومثلاً وہ پانی جو اس حد تک مٹی وغيرہ سے ملا ہوا ہو کہ پھر اسے پانی نہ کها جاسکے ۔

ان کے علاوہ جو پانی ہو اسے ’آب مطلق‘ کہتے ہيں اور اس کی پانچ قسميں ہيں :

١)کرُ پانی

٢)قليل پانی

٣)جاری پانی

۴) بارش کاپانی

۵) کنویں کا پانی

١۔ کرُ پانی

مسئلہ ١ ۶ پانی کی وہ مقدار ایک کُر ہے جو ایک ایسے برتن کو بھر دے جس کی لمبائی، چوڑائی اور گهرائی تين تين بالشت ہو۔

مسئلہ ١٧ کوئی عين نجس چيز مثلاً پيشاب یا خون یا وہ چيز جو نجس ہوگئی ہو جےسے کہ نجس لباس، اگر ایسے پانی ميں گرجائے جس کی مقدار ایک کُرکے برابر ہو اور اس کے نتیجے ميں پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ بدل جائے تو پانی نجس ہوجائے گا، ليکن اگر ایسی کوئی تبدیلی واقع نہ ہو تو نجس نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١٨ کرُ پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ اگر نجاست کے علاوہ کسی اور چيز سے تبدیل ہوجائے تو وہ پانی نجس نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١٩ کوئی عين نجس چيز مثلاً خون، اگر ایسے پانی ميں جا گرے جس کی مقدار ایک کرُ سے زیادہ ہو اور اس کے ایک حصے کی بو، رنگ یا ذائقہ تبدیل کر دے تو اس صورت ميں اگر پانی کے اس حصّے کی مقدار جس ميں کوئی تبدیلی واقع نہيں ہوئی ایک کُر سے کم ہو تو سارا پانی نجس ہوجائے گا ليکن اگر اس کی مقدار ایک کُر یا اُس سے زیادہ ہو تو صرف وہ حصّہ نجس ہوگا جس کی بو، رنگ یا ذائقہ تبدیل ہوا ہے ۔


مسئلہ ٢٠ فوارے کا پانی اگر کرُ پانی سے متصل ہوتو نجس پانی کو پاک کردیتا ہے ليکن اگر نجس پانی پر فوارے کا پانی قطروں کی صورت ميں گرے تو اسے پاک نہيں کرتا، البتّہ اگر فوارے کے سامنے کوئی چيز رکھ دی جائے جس کے نتیجے ميں اس کا پانی قطرہ قطرہ ہونے سے پهلے نجس پانی سے متصل ہوجائے تو نجس پانی کو پاک کردیتا ہے اوراحتياطِ مستحب يہ ہے کہ فوارے کا پانی نجس پانی سے مخلوط ہوجائے۔

مسئلہ ٢١ اگر کسی نجس چيز کوکرُپانی سے متصل نل کے نيچے دهوئيں اور اس چيز کی دهوون اس پانی سے متصل ہوجائے جس کی مقدار ایک کُر سے کم نہ ہو تو وہ دهوون پاک ہوگی بشرطیکہ اس ميں نجاست کی بو، رنگ یا ذائقہ پيدا نہ ہو۔

مسئلہ ٢٢ اگر کُر پانی کا کچھ حصّہ جم کر برف بن جائے اور جو حصّہ پانی کی شکل ميں باقی رہے اس کی مقدار ایک کرُ سے کم ہو تو جونهی کوئی نجاست اس پانی کو چھوئے گی وہ نجس ہوجائے گا اور برف پگهلنے پر جو پانی بنتا جائے گا وہ بھی نجس ہوگا۔

مسئلہ ٢٣ اگر پانی کی مقدار ایک کرُ کے برابر ہو اور بعد ميں شک ہو کہ آیا اب بھی کرُ کے برابر باقی ہے یا نہيں تو اس کی حيثيت ایک کرُ پانی ہی کی ہوگی یعنی وہ نجاست کو بھی پاک کرے گا اور نجاست کے اتّصال سے نجس بھی نہيں ہوگا۔ اس کے برعکس جو پانی ایک کرُ سے کم تھا اگر اس کے متعلق شک ہو کہ اب اس کی مقدار ایک کُرکے برابر ہوگئی ہے یانہيں تو اسے ایک کُرسے کم ہی سمجھا جائے گا۔

مسئلہ ٢ ۴ پانی کا ایک کُر کے برابر ہونا چند طریقوں سے ثابت ہو سکتا ہے :

١) انسان کو خود اس بارے ميں یقین یا اطمينان ہو۔

٢) دو عادل مرد اس کے بارے ميں خبر دیں۔

٣)کوئی قابلِ اعتماد شخص خبر دے کہ جس کی کهی ہوئی بات کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو۔

۴) جس شخص کے اختيار ميں پانی ہے وہ اطلاع دے جب کہ اسے جھوٹا نہ کها جاتا ہو۔

٢۔ قليل پانی

مسئلہ ٢ ۵ قليل پانی، وہ پانی ہے جو زمين سے نہ اُبلے اور جس کی مقدار ایک کُرسے کم ہو۔

مسئلہ ٢ ۶ جب قليل پانی کسی نجس چيزپرگرے یاکوئی نجس چيزاس سے آملے توپانی نجس ہوجائے گا، البتّہ اگر پانی نجس چيزپرزورسے گرے تواس کاجتناحصّہ اس نجس چيزسے مل جائے گانجس ہوجائے گاليکن باقی پاک رہے گا۔


مسئلہ ٢٧ جو قليل پانی کسی چيز پر عین نجاست دُور کرنے کے لئے ڈالا جائے وہ اس سے جداہونے پر نجس ہوتا ہے ، ليکن وہ قليل پانی جو عین نجاست کے الگ ہوجانے کے بعد نجس چيز کو پاک کرنے کے لئے اس پر ڈالا جائے اور اس سے جدا ہوجائے تو احتياطِ واجب کی بنا پر اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٨ جس پانی سے پيشاب یا پاخانہ کے خارج ہونے کے مقامات دهوئے جائيں وہ اگر مندرجہ ذیل پانچ شرائط پوری کرتا ہو تو کسی پاک چيز سے ملنے پر اُسے نجس نہيں کرے گا :

١) پانی ميں نجاست کی بُو، رنگ یا ذائقہ پيدا نہ ہوا ہو۔

٢)باہر سے کوئی نجاست اس پانی سے نہ آملی ہو۔

٣)کوئی اور نجاست مثلاً خون، پيشاب یا پاخانے کے ساته خارج نہ ہوئی ہو۔

۴) بنابر احتياط پاخانے کے ذرّے پانی ميں دکهائی نہ دیں۔

۵) پيشاب یا پاخانہ خارج ہونے کے مقامات پر معمول سے زیادہ نجاست نہ لگی ہو۔

٣۔ جاری پانی

جاری پانی وہ ہے جو زمين سے اُبلے اور بہتا ہو مثلاً چشمے یا کارےز کا پانی۔

مسئلہ ٢٩ جاری پانی اگرچہ کُرسے کم ہی کیوں نہ ہو، نجاست کے آملنے سے جب تک نجاست کی وجہ سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ نہ بدل جائے پاک ہے ۔

مسئلہ ٣٠ اگر نجاست جاری پانی سے آملے تو اس کی اتنی مقدار جس کی بُو، رنگ یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدل جائے نجس ہے ، البتہ اس پانی کا وہ حصّہ جو چشمے سے متصل ہو پاک ہے خواہ اس کی مقدار کُر سے کم ہی کیوں نہ ہو، جب کہ ندی کی دوسری طرف کا پانی اگر ایک کُر جتنا ہو یا اس پانی کے ذریعے جس ميں (بُو، رنگ یا ذائقے کی) کوئی تبدیلی واقع نہيں ہوئی چشمے کی طرف کے پانی سے ملا ہو تو پاک ہے ورنہ نجس ہے ۔

مسئلہ ٣١ اگر کسی چشمے کا پانی جاری نہ ہو ليکن صورت يہ ہو کہ اگر اس ميں سے پانی نکال ليں تو دوبارہ اس کا پانی اُبل پڑتا ہو تو وہ بھی جاری پانی کے حکم ميں آتا ہے یعنی اگر نجاست اس سے آملے تو جب تک نجاست کی وجہ سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ بدل نہ جائے پاک ہے ۔

مسئلہ ٣٢ ندی یا نہر کے کنارے کا پانی جو ساکن ہو اور جاری پانی سے متصل ہو اس وقت تک نجس نہيں ہوتا جب تک کسی نجاست کے آملنے کی وجہ سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ تبدیل نہ ہوجائے۔


مسئلہ ٣٣ اگر ایک ایسا چشمہ ہو جو مثال کے طور پر سردیوں ميں پهوٹتا ہو ليکن گرمیوں ميں پهوٹنا بند ہوجاتا ہو، صرف پهوٹتے وقت جاری پانی کا حکم رکھتاہے۔

مسئلہ ٣ ۴ اگر کسی حمام کے حوضچے کا پانی ایک کُر سے کم ہو ليکن وہ پانی کے ایک ایسے ذخیرے سے متصل ہو جس کا پانی حوض کے پانی سے مِل کر ایک کُر بن جاتا ہو، جاری پانی کی طرح ہے ۔

مسئلہ ٣ ۵ حمام اور عمارات کے پائپوںکا پانی جو ٹونٹیوں اور شاور کے ذریعے بہتا ہے اگر ایسے ذخیرے سے متصل ہو جس کا پانی ایک کُر سے کم نہ ہو تو نلکوں وغيرہ کا پانی، جاری پانی کا حکم رکھتا ہے ۔

مسئلہ ٣ ۶ جو پانی زمين پر بہہ رہا ہو ليکن زمين سے نہ پهوٹتا ہو اگر وہ ایک کُر سے کم ہو اور اس ميں نجاست مِل جائے تو وہ نجس ہوجائے گا، ليکن اگر وہ پانی تيزی سے بہہ رہا ہواور نجاست اس کے نچلے حصے کو لگے تو اس کا اوپر والا حصہ نجس نہيں ہوگا۔

۴ ۔ بارش کا پانی

مسئلہ ٣٧ جس نجس چيز ميں عین نجاست نہ ہو اگر اس پر ایک مرتبہ بارش ہو جائے تو جهاں جهاں بارش کا پانی پهنچ جائے وہ جگہ پاک ہو جاتی ہے اورقالين و لباس وغيرہ کا نچوڑنا بھی ضروری نہيں ہے ، ليکن بارش کے دو تین قطرے کافی نہيں ہيں بلکہ اتنی بارش ضروری ہے کہ کها جائے کہ بارش ہو رہی ہے ، بلکہ احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اتنی بارش ہو کہ اگر سخت زمين ہو تو پانی بهنا شروع ہوجائے۔

مسئلہ ٣٨ اگر بارش کا پانی عين نجس پر برسے اور پھر وہاں سے رِس کر دوسری جگہ پهنچے ليکن عین نجاست اس ميں شامل نہ ہو اور نجاست کی بُو، رنگ یا ذائقہ بھی اس ميں پيدا نہ ہوا ہو تو وہ پانی پاک ہے ، پس اگر بارش کا پانی خون پر برسنے کے بعد رِسے اور اس ميں خون کے ذرّات شامل ہوں یا خون کی بُو، رنگ یا ذائقہ پيدا ہوگيا ہو تو وہ پانی نجس ہوگا۔

مسئلہ ٣٩ اگر مکان کی نچلی یا بالائی چھت پر عین نجاست موجود ہو تو بارش کے دوران جو پانی نجاست کو چُھو کر نچلی چھت سے ٹپکے یا پرنالے سے گرے پاک ہے ، ليکن جب بارش تھم جائے اور يہ بات علم ميں آئے کہ اب جو پانی گر رہا ہے وہ کسی نجس چيز سے لگ کر آرہا ہے تو وہ پانی نجس ہوگا۔

مسئلہ ۴ ٠ جس نجس زمين پر بارش برس جائے پاک ہوجاتی ہے اور اگر بارش کا پانی زمين پر بهنے لگے اور بارش کے دوران ہی کسی ایسے نجس مقام پر پهنچ جائے جوچھت کے نيچے ہو تو اسے بھی پاک کردے گا۔

مسئلہ ۴ ١ جس نجس مٹی کے اجزاء تک بارش کا مطلق پانی پهنچ جائے تو مٹی پاک ہوجائے گی چاہے بارش کی وجہ سے کےچڑ ہی بن جائے۔


مسئلہ ۴ ٢ اگر بارش کا پانی ایک جگہ جمع ہوجائے خواہ اس کی مقدار ایک کُر سے کم ہی کیوں نہ ہو، اگر بارش کے دوران ہی کوئی نجس چيز اس ميں دهوئی جائے اور نجاست کی وجہ سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ تبدیل نہ ہو تو وہ نجس چيز پاک ہوجائے گی۔

مسئلہ ۴ ٣ اگر نجس زمين پر بچهے ہوئے پاک قالين پر بارش برسے اور اس کا پانی نجس زمين تک پهنچ جائے تو فرش بھی نجس نہيں ہوگا اور زمين بھی پاک ہوجائے گی۔

مسئلہ ۴۴ اگر بارش کا پانی ایک گڑھے ميں جمع ہوجائے اور اس کی مقدار ایک کُر سے کم ہو تو بارش تھمنے کے بعد نجاست کی آمیزش سے نجس ہوجائے گا۔

۵ ۔ کنويں کا پانی

مسئلہ ۴۵ ایک ایسے کنویں کا پانی جو زمين سے اُبلتا ہو اگرچہ مقدار ميں ایک کُر سے کم ہو، نجاست پڑنے پر جب تک اس نجاست کی وجہ سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ تبدیل نہ ہوجائے پاک ہے ، ليکن مستحب ہے کہ بعض نجاستوں کے گرنے پر کنویں سے تفصيلی کتابوں ميں درج شدہ مقدار کے مطابق پانی نکال دیا جائے۔

مسئلہ ۴۶ اگر کوئی نجاست کنویں ميں گر جائے اور اس کے پانی کی بُو، رنگ یا ذائقے کو تبدیل کر دے تو جب کنویں کے پانی ميں پيدا شدہ يہ تبدیلی ختم ہوجائے گی پانی پاک ہوجائے گا اوراحتياطِ مستحب يہ ہے کہ يہ پانی کنویں کے منبع سے اُبلنے والے پانی ميں مخلوط ہوجائے۔

پانی کے احکام

مسئلہ ۴ ٧ مضاف پانی، جس کے معنی مسئلہ” ١ ۵ “ ميں بيان ہوچکے ہيں ، کسی نجس چيز کو پاک نہيں کرتا۔ ایسے پانی سے وضو اور غسل کرنا بھی باطل ہے ۔

مسئلہ ۴ ٨ مضاف پانی چاہے قليل ہو یا کثير، نجاست سے ملنے پر نجس ہوجاتا ہے اگرچہ اس حکم کا بعض کثیر تعداد کے مضاف پانيوں کے لئے بھی عام ہونا محل اشکال ہے ، البتہ اگر ایسا پانی کسی نجس چيز پر زور سے گرے تو اس کا جتنا حصّہ نجس چيز سے متصل ہوگا نجس ہوجائے گا اور جو متصل نہيں ہوگا پاک رہے گا مثلاً اگر عرقِ گلاب کو گلابدان سے نجس ہاتھ پر چھڑکا جائے تو اس کا جتنا حصّہ ہاتھ کو لگے گا نجس ہوجائے گا اور جو نہيں لگے گا وہ پاک رہے گا۔

مسئلہ ۴ ٩ اگرنجس مضاف پانی ایک کُر کے برابر پانی یا جاری پانی سے یوں مل جائے کہ پھر اسے مضاف پانی نہ کها جاسکے تو وہ پاک ہوجائے گا۔


مسئلہ ۵ ٠ اگر ایک پانی مطلق تھا اور بعد ميں اس کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ مضاف ہوجانے کی حد تک پهنچا ہے یا نہيں تو وہ مطلق پانی کی طرح ہے ، یعنی نجس چيز کو پاک کرے گا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی صحيح ہوگا اور اگرایک پانی مضاف تھا اور يہ معلوم نہ ہو کہ وہ مطلق ہوا یا نہيں تو وہ مضاف پانی کی طرح ہے ، یعنی کسی نجس چيز کو پاک نہيں کرے گا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی باطل ہوگا۔

مسئلہ ۵ ١ ایسا پانی جس کے بارے ميں يہ معلوم نہ ہوکہ مطلق ہے یامضاف اور يہ بھی معلوم نہ ہو کہ پهلے مطلق تھا یا مضاف، نجاست کوپاک نہيں کرتااوراس سے وضو و غسل کرنا بھی باطل ہے ،ليکن اگر وہ ایک کرُ یا اس سے زیادہ ہو تو نجاست ملنے کی صورت ميں بھی اس پر پاک پانی کا حکم لگے گا۔

مسئلہ ۵ ٢ ایسا پانی جس ميں کوئی عينِ نجاست مثلاً خون یا پيشاب گر جائے اور اس کی بُو،رنگ یا ذائقے کو تبدیل کردے نجس ہوجاتا ہے خواہ وہ کُر یا جاری پانی ہی کيوں نہ ہو، تاہم اگر اس پانی کی بُو، رنگ یا ذائقہ کسی ایسی نجاست سے تبدیل ہو جو اس سے باہر ہے مثلاً قر ےب پڑے ہوئے مردار کی وجہ سے اس کی بُو، بدل جائے تو پھر وہ پانی نجس نہيں ہوگا۔

مسئلہ ۵ ٣ وہ پانی جس کی بُو، رنگ یا ذائقہ کسی عينِ نجس مثلاً خون یا پيشاب گرنے کی وجہ سے تبدیل ہو چکاہو، اگر کُر یا جاری پانی سے متصل ہوجائے یا اس پر بارش کا پانی برسے یا ہوا،بارش کا پانی اس پر گرائے یا بارش کا پانی بارش کے دوران ہی پرنالے سے اس پر گرے اور ان تمام صورتوں ميں اس ميں واقع شدہ تبدیلی زائل ہوجائے تو ایسا پانی پاک ہوجاتا ہے ، ليکن احتياطِ مستحب یہ ہے کہ بارش کا پانی یاکُر یا جاری پانی اس نجس پانی ميں مخلوط ہوجائے۔

مسئلہ ۵۴ اگر کسی نجس چيز کو کُر یا جاری پانی ميں پاک کيا جائے تو جس دهونے ميں وہ چيز پاک ہوتی ہے اس کے بعد وہ پانی جو باہر نکالنے کے بعد اس چيزسے ٹپکے، پاک ہوگا۔

مسئلہ ۵۵ جو پانی پهلے پاک ہو اور يہ علم نہ ہو کہ بعد ميں نجس ہوا یا نہيں وہ پاک ہے اور جو پانی پهلے نجس ہو اور معلوم نہ ہو کہ بعد ميں پاک ہوا یا نہيں وہ نجس ہے ۔

مسئلہ ۵۶ کتے، سو رٔاور غیر کتابی کافرکا جھوٹا نجس ہے اور اس کا کھانا اور پینا حرام ہے مگر حرام گوشت جانوروں کا جھوٹا پاک ہے اور بلّی کے علاوہ اس قسم کے باقی تمام جانوروں کا جھوٹا کھانا اور پینا مکروہ ہے ۔


بيت الخلاء کے احکام

مسئلہ ۵ ٧ انسان پر واجب ہے کہ پيشاب اور پاخانہ کرتے وقت اور دوسرے مواقع پر اپنی شرمگاہوں کو ان لوگوں سے جو اچھے اور برے کی تميز رکھتے ہوںخواہ وہ اس کے محرم ہی کیوں نہ ہوں، چاہے مکلف ہوں یا نہ ہوں، چھپا کر رکھے، ليکن بيوی اور شوہر کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جو بيوی اور شوہر کے حکم ميں آتے ہيں مثلاً کنیز اور اس کے مالک کے لئے ، اپنی شرمگاہوں کو ایک دوسرے سے چھپا نا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ۵ ٨ اپنی شرمگاہوں کو کسی مخصوص چيز سے ڈهانپنا ضروری نہيں مثلاً اگر ہاتھ سے بھی ڈهانپ ليا جائے تو کافی ہے ۔

مسئلہ ۵ ٩ پيشاب یا پاخانہ کرتے وقت ضروری ہے کہ بدن کا اگلا حصّہ یعنی پيٹ اور سینہ روبہ قبلہ یا پشت بقبلہ نہ ہو۔

مسئلہ ۶ ٠ اگر پيشاب یا پاخانہ کرتے وقت کسی شخص کے بدن کا اگلا حصہ رو بقبلہ یا پشت بقبلہ ہو اور وہ اپنی شرمگاہ کو قبلے کی طرف سے موڑلے تو يہ کافی نہيں ہے اور اگر اس کے بدن کا اگلا حصّہ روبقبلہ یا پشت بقبلہ نہ ہو تو احتياطِ واجب يہ ہے کہ شرمگاہ کو روبقبلہ یا پشت بقبلہ نہ موڑے۔

مسئلہ ۶ ١ احتياطِ مستحب يہ ہے کہ استبرا کے موقع پر، جس کے احکام بعد ميں بيان کیئے جائيں گے اور پيشاب اور پاخانہ خارج ہونے کے مقامات کو پاک کرتے وقت بدن کا اگلا حصّہ رو بقبلہ یا پشت بقبلہ نہ ہو۔

مسئلہ ۶ ٢ اگر کيفيت یہ ہو کہ یا وہ فرد جو شرمگاہ کے حوالے سے نا محرم ہے وہ شرمگاہ پر نظر ڈالے اور یا پھر روبقبلہ یا پشت بقبلہ بيٹھے تو نا محرم سے شرمگاہ کو چھپا نا واجب ہے اور اس صورت ميں احتياطِ واجب يہ ہے کہ پشت بقبلہ بیٹھے (یعنی رو بقبلہ نہ بیٹھے)۔ اسی طرح اگر کسی اور وجہ سے رو بقبلہ یا پُشت بقبلہ بیٹھنے پر مجبور ہو تب بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ۶ ٣ احتياطِ مستحب يہ ہے کہ بچّے کو رفعِ حاجت کے لئے رُو بقبلہ یا پشت بقبلہ نہ بٹھ ایا جائے۔

مسئلہ ۶۴ چار مقامات پر رفع حاجت حرام ہے :

١) بند گليوں ميں جب کہ گلی والوں نے اس کی اجازت نہ دی ہو۔

٢)کسی ایسے شخص کی زمين ميں جس نے رفعِ حاجت کی اجازت نہ دی ہو۔

٣) ان جگہوں ميں جو مخصوص افراد کے لئے وقف ہوں مثلاً بعض مدرسے۔

۴) ہر اس جگہ جهاں رفع حاجت کسی مومن کی بے حرمتی یا دین یا مذهب کی کسی مقدس چيز کی توهين کا باعث ہو۔


مسئلہ ۶۵ تين صورتوں ميں پاخانہ خارج ہونے کا مقام(مقعد) صرف پانی سے پاک ہوسکتا ہے :

١)پاخانے کے ساته کوئی اور نجاست مثلاً خون، باہر آئی ہو۔

٢) کوئی بيرونی نجاست پاخانے کے مخرج پر لگ گئی ہو۔

٣)پاخانے کے مخرج کے اطراف معمول سے زیادہ آلودہ ہوگئے ہوں۔

ان تین وں صورتوں کے علاوہ پاخانے کے مخرج کو یا تو پانی سے دهویا جاسکتا ہے اور یا بعد ميں بيان کئے جانے والے طریقے کے مطابق کپڑے یا پتّھر وغيرہ سے بھی پاک کيا جاسکتا ہے ، اگرچہ پانی سے دهونا بہتر ہے ۔

مسئلہ ۶۶ پيشاب کا مخرج پانی کے علاوہ کسی چيز سے پاک نہيں ہوتااور اسے کرُ یا جاری پانی سے ایک مرتبہ دهونا کافی ہے ، ليکن قليل پانی سے احتياط واجب کی بنا پر دو مرتبہ دهونا ضروری ہے ، جب کہ اگر پيشاب معمول کے علاوہ کسی مقام سے خارج ہو رہا ہو تو پھر اقویٰ يہ ہے کہ دو مرتبہ دهویا جائے اور بہتر يہ ہے کہ تین مرتبہ دهوئيں۔

مسئلہ ۶ ٧ اگرپاخانے کے مخرج کو پانی سے دهویا جائے توضروری ہے کہ اس ميں پاخانے کا کوئی ذرہ باقی نہ رہے، البتّہ رنگ یا بُو باقی رہ جانے ميں کوئی حرج نہيں اور اگر پهلی بار ہی وہ مقام یوںدهل جائے کہ پاخانے کا کوئی ذرّہ اس ميں باقی نہ رہے تو دوبارہ دهونا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ۶ ٨ پتّھر، ڈهيلا یا کپڑا یا انهی جیسی دوسری چيزیں اگر خشک اور پاک ہوں تو ان سے پاخانہ خارج ہونے کے مقام کو پاک کيا جاسکتا ہے اور اگر ان ميں معمولی نمی بھی ہو جو پاخانہ خارج ہونے کے مقام تک نہ پهنچے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶ ٩ احتياطِ مستحب يہ ہے کہ پتّھر، ڈهيلا یا کپڑا جس سے پاخانہ صاف کيا جائے اس کے تين ٹکڑے ہوں اورتین سے کم ميں اگر مقعد مکمل طور پر صاف ہوجائے تو اس پر اکتفاء کيا جاسکتا ہے اور اگر تين ٹکڑوں سے صاف نہ ہو سکے تواتنے مزید ٹکڑوں کا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ پاخانہ خارج ہونے کا مقام بالکل صاف ہوجائے، البتہ ایسے آثار کے باقی رہ جانے ميں جو پتّھر وغيرہ جیسی چيز سے صاف کئے جانے سے عام طور پر باقی رہ جاتے ہيں ، کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٧٠ پاخانے کے مخرج کو ایسی چيزوں سے پاک کرنا حرام ہے جن کا احترام ضروری ہو مثلاً ایسا کاغذ جس پر خدا ئے تعالیٰ، پیغمبروںيا ائمہ عليهم السلام کے نام لکھے ہوںيا اس کے علاوہ ایسی چيزیں جن کا شریعت ميں احترام ضروری ہے ، ليکن اگر کوئی ان سے استنجاء کرلے تو طهارت حاصل ہوجائے گی۔

اور مخرج کا ہڈی یا گوبر سے پاک ہونا محل اشکال ہے ۔


مسئلہ ٧١ اگر شک ہو کہ پاخانہ خارج ہونے کا مقام پاک کيا ہے یا نہيں تو اسے پاک کرنا واجب ہے اگرچہ پيشاب یا پاخانہ کرنے کے بعد وہ ہمےشہ متعلقہ مقام کو فوراً پاک کرتا ہو۔

مسئلہ ٧٢ اگر نماز کے بعدشک ہو کہ آیا نماز سے پهلے مخرج کوپاک کيا تھا یا نہيں تو اگر نماز سے پهلے، طهارت سے غافل ہونے کا یقین نہ ہو تو نماز صحيح ہے جب کہ مخرج کو نجس ہوگا۔

استبراء

مسئلہ ٧٣ استبرا ایک ایساعمل ہے جو مرد پيشاب کرچکنے کے بعد اس غرض سے انجام دیتے ہيں کہ اس کے بعد نالی سے نکلنے والی رطوتبوں پر پيشاب کا حکم نہ لگے۔ اس کی کئی ترکےبيں ہيں ،جن ميں سے بہترین يہ ہے کہ پيشاب آنا بند ہوجانے کے بعدتین دفعہ بائيں ہاتھ کی درميانی انگلی کے سا ته مقعد سے لے کر عضوِ تناسل کی جڑ تک سونتے اور اس کے بعد انگهوٹے کو عضوِ تناسل کے اوپر اور انگهوٹے کے ساته والی انگلی کو اس کے نيچے رکھے اور تین بار ختنے کی جگہ تک سونتے اور پھر تین دفعہ حشفہ کو دبائے۔

مسئلہ ٧ ۴ وہ پانی جو کبهی کبهی عورت سے چھيڑ چھاڑ یا هنسی مذاق کرنے کے بعد انسان کے بدن سے خارج ہوتا ہے پاک ہے ، اسی طرح وہ پانی جو کبهی کبهارمنی کے بعد خارج ہوتا ہے جب کہ منی اس سے نہ ملی ہو اور وہ پانی بھی جو کبهی کبها رپيشاب کے بعد نکلتا ہے جب کہ پيشاب اس سے نہ ملا ہو، پاک ہے ۔

اور اگر انسان پيشاب کے بعد استبرا کرے اور پھر کوئی ایسی رطوبت خارج ہو جس کی بارے ميں شک ہوجائے کہ پيشاب ہے یا منی کے علاوہ کوئی اور رطوبت، تو اس رطوبت کو پاک ہے ۔

مسئلہ ٧ ۵ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ استبرا کيا ہے یا نہيں اور اس کے بدن سے رطوبت خارج ہو جس کے بارے ميں وہ نہ جانتا ہو کہ پاک ہے یا نہيں تو وہ نجس ہے اور اگر وہ وضو کرچکا ہو تو وہ بھی باطل ہوجائے گا، ليکن اگر اسے اس بارے ميں شک ہو کہ جو استبرا اس نے کيا تھا وہ صحيح تھا یا نہيں اورکوئی رطوبت اس کے بدن سے خارج ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ یہ رطوبت پاک ہے یا نہيں تو وہ پاک ہوگی اور اس سے وضو بھی باطل نہ ہوگا۔

مسئلہ ٧ ۶ اگر کسی شخص نے استبرا نہ کيا ہو اور پيشاب کرنے کے بعد کافی وقت گزر جانے کی وجہ سے اسے یقین یا اطمينان ہو کہ پيشاب نالی ميں باقی نہيں رہا اورکوئی ایسی رطوبت خارج ہوجس کے بارے ميں شک ہو کہ پاک ہے یا نہيں تو وہ رطوبت پاک ہے اور اس سے وضو بھی باطل نہ ہوگا۔

مسئلہ ٧٧ اگر کوئی شخص پيشاب کے بعد استبرا کر کے وضو کرلے اور اس کے بعدایسی رطوبت خارج ہو جس کے بارے ميں جانتا ہو کہ یا پيشاب ہے یا منی تو اس پرواجب ہے کہ احتياطاً غسل کرے اور وضو بھی کرے، البتّہ اگر اس نے پهلے وضو نہ کيا ہوتو وضو کرلینا کافی ہے ۔


مسئلہ ٧٨ عورت کے لئے پيشاب کے بعد استبرا نہيں ہے ، پس اگر کوئی رطوبت خارج ہو اور شک ہو کہ يہ پيشاب ہے یا نہيں تووہ رطوبت پاک ہوگی اور اس سے وضو یا غسل بھی باطل نہيں ہو گا۔

رفع حاجت کے مستحبات اور مکروهات

مسئلہ ٧٩ ہر شخص کے لئے مستحب ہے کہ جب وہ رفع حاجت کے لئے جائے تو :

١)ایسی جگہ بیٹھے جهاں اسے کوئی نہ دےکهے۔

٢)بيت الخلاء ميں داخل ہوتے وقت پهلے بایاں پاؤں اندر رکھے اور نکلتے وقت پهلے دایاں پاو ںٔ باہر رکھے۔

٣)رفع حاجت کے وقت سر ڈهانپ کر رکھے۔

۴) بدن کا بوجه بائيں پاوں پر ڈالے۔

مسئلہ ٨٠ رفع حاجت کے مکروہات :

١)سورج اور چاند کی جانب منہ کر کے بیٹھنا ليکن اپنی شرمگاہ کو کسی طرح ڈهانپ لے تو مکروہ نہيں ہے ۔

٢) ہوا کے رخ کے با لمقابل بيٹھنا۔

٣)گلی کوچوں ميں بيٹھنا۔

۴) راستوں ميں بيٹھنا۔

۵) مکان کے دروازے کے سامنے بيٹھنا۔

۶) ميوہ دار درخت کے نيچے بیٹھنا۔

٧)اس دوران کوئی چيز کھانا

٨)زیادہ دیر بيٹھنا

٩)سيدهے ہاتھ سے طهارت کرنا

١٠ )باتيں کرنا ليکن اگر مجبوری ہو یا ذکرِ خدا کرے جو کہ ہر حال ميں مستحب ہے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٨١ کھڑے ہو کر، سخت زمين پر، جانوروں کے بِلوں ميں یا پانی ميں بالخصوص ساکن پانی ميں پيشاب کرنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ٨٢ پيشاب اور پاخانہ روکنا مکروہ ہے اور اگر بدن کے لئے بطورِکلی مضر ہو تو حرام ہے ۔

مسئلہ ٨٣ نماز سے پهلے، سونے سے پهلے، مباشرت کرنے سے پهلے اور منی خارج ہونے کے بعد پيشاب کرنا مستحب ہے ۔


نجاسات

مسئلہ ٨ ۴ دس چيزیں نجس ہيں :

(١ پيشاب

(٢ پاخانہ

(٣ منی

( ۴ مردار

( ۵ خون

( ۶ کتا

(٧ سو رٔ

(٨ کافر

(٩ شراب

(١٠ فقّاع (جَو کی شراب)

١۔ ٢) پيشاب اور پاخانہ )

مسئلہ ٨ ۵ انسان اورخونِ جهندہ رکھنے والے، یعنی اگر اس کی رگ کاٹی جائے تو خون اچھل کر نکلے، ہر حرام گوشت حيوان کا پيشاب اور پاخانہ نجس ہے اور خون جهندہ نہ رکھنے والے حرام گوشت جانور مثلاًحرام مچھلی کا پاخانہ، اسی طرح گوشت نہ رکھنے والے چھوٹے حیوانوں مثلاً مچہر اور مکهی کا فضلہ بھی پاک ہے اور احتياطِ مستحب يہ ہے کہ ایسے حرام گوشت جانور کے پيشاب سے اجتناب کيا جائے جو خونِ جهندہ نہيں رکھتا۔

مسئلہ ٨ ۶ جن پرندوں کا گوشت حرام ہے ان کا پيشاب اور فضلہ پاک ہے ليکن ان سے پرہےز احوط ہے ۔

مسئلہ ٨٧ نجاست خور حیوان کا، اس چوپائے کا جس سے کسی انسان نے بد فعلی کی ہواوراس بکری کے بچے کا پيشاب اور پاخانہ جس نے سو رٔنی کا دودھ پيا ہو، اس تفصيل کی بنا پر جو بعد ميں آئے گی، نجس ہے اور اسی طرح احتياطِ واجب کی بنا پر اس بھیڑ کے بچے کا پيشاب اور پاخانہ بھی نجس ہے جس نے سو رٔنی کا دودھ پيا ہو۔


٣۔ منی

مسئلہ ٨٨ انسان کی اور هرخونِ جهندہ رکھنے والے حرام گوشت جانور کی منی نجس ہے ،اسی طرح احتياطِ واجب کی بناپرخونِ جهندہ رکھنے والے حلال گوشت جانوروں کی منی بھی نجس ہے ۔

۴ ۔ مردار

مسئلہ ٨٩ انسان کی اور خون جهندہ رکھنے والے ہر حیوان کی لاش نجس ہے خواہ وہ خود مرا ہو یا اسے شرع کے مقرّر کردہ طریقے کے علاوہ کسی طریقے سے مار ا گيا ہو۔

مچھلی چونکہ خون جهندہ نہيں رکھتی اس لئے پانی ميں بھی مرجائے تو پاک ہے ۔

( mink ) مسئلہ ٩٠ لاش کے وہ اجزاء جن ميں جان نہيں ہوتی پاک ہيں مثلاًاون، بال اور کُرک بشرطیکہ وہ مردار زندگی ميں نجس العين نہ ہوں۔

مسئلہ ٩١ اگرکسی انسان یا خون جهندہ رکھنے والے حیوان کے بدن سے اس کی زندگی ميں ہی گوشت یا کوئی دوسرا ایسا حصّہ جس ميں جان ہو جُدا کرليا جائے، نجس ہے ۔

مسئلہ ٩٢ اگر ہونٹوں یا کسی دوسری جگہ سے ذرا سی کھال نکال دی جائے تو وہ پاک ہے ۔

مسئلہ ٩٣ مُردہ مُرغی کے پيٹ سے جو انڈا نکلے اگر اس کا چھلکا سخت ہوگيا ہو تو پاک ہے ، ليکن مردار سے مس ہوجانے کی وجہ سے اس کا چھلکا دهونا ضروری ہے اور اگر اس کی کھال سخت نہ ہوئی ہو تو اس کے نجس ہونے ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴ اگر بھیڑ یا بکری کا بچہ چرنے کے قابل ہونے سے پهلے مرجائے تو وہ پنیر مايہ جو اس کے شیر دان ميں ہوتا ہے پاک ہے ، ليکن احتياطِ واجب کی بنا پر اسے باہر سے دهونا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٩ ۵ بهنے والی دوائياں، عطر،تيل، گهی، جوتوں کا پالش اور صابن جنہيں کافر ممالک سے لایا جاتا ہے اگر ان کی نجاست کے بارے ميں یقین نہ ہو تو پاک ہيں ۔

مسئلہ ٩ ۶ گوشت، چربی اور چمڑا اگر مسلمانوں کے بازار سے لئے جائيں تو پاک ہيں ۔ اسی طرح اگر کسی مسلمان کے ہاتھ ميں ہوں جو اس کو شرعاً ذبح شدہ جانور کے طور پر استعمال کرے،سوائے اس کے کہ اس نے کسی کافر سے حاصل کی ہواور اس بات کی تحقيق نہ کی ہو کہ آیا یہ اس جانور کے ہيں جن کو شریعت کے طریقے کے مطابق ذبح کياگيا ہے یا نہيں ۔


۵ ۔ خون

مسئلہ ٩٧ انسان او ر خو ن جهندہ رکھنے والے ہر حيوان، یعنی وہ حیوان جس کی رگ کاٹی جائے تو اس ميں سے خون اچھل کر نکلے، کا خون نجس ہے ، پس ایسے جانوروں مثلاًمچھلی اور مچھرکا خون، جو اچھلنے والا خون نہيں رکتے پاک ہے ۔

مسئلہ ٩٨ حلال گوشت جانور کو اگر شرع کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق ذبح کيا جائے اور معمول کے مطابق اس کا خون خارج ہوجائے تو جو خون بدن ميں باقی رہ جائے وہ پاک ہے ليکن اگر جانور کے سانس لينے سے یا اس کا سراونچی جگہ پر ہونے کی وجہ سے بدن ميں پلٹ جائے تو وہ خون نجس ہوگا۔

مسئلہ ٩٩ انڈے کی زردی ميں بننے والا خون کھانا حرام ہے اور احتياط واجب کی بنا پر نجس ہے ۔

مسئلہ ١٠٠ وہ خون جو بعض اوقات دودھ دوہتے ہوئے نظر آتا ہے نجس ہے اور دودھ کو نجس کردیتا ہے ۔

مسئلہ ١٠١ منہ ميں آنے والا خون مثلاًدانتوں کی ریخوں سے نکلنے والا خون اگر لعاب دهن سے مل کر ختم ہوجائے تو لعاب دهن سے پرہيزضروری نہيں ہے اور اگر خون منہ ميں گهل کر ختم نہ ہو اور منہ سے باہر آجائے تو اس سے پرہيز کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٠٢ جو خون چوٹ لگنے کی وجہ سے ناخن یا کھال کے نيچے مر جائے اگر اس کی شکل ایسی ہو کہ لوگ اسے خون نہ کہيں تو پاک اور خون کہيں تو نجس ہوگا اور اس صورت ميں اگر کھال یا ناخن ميں سوراخ ہوجائے اور کوئی رطوبت باہر سے اس سے آملے تو وہ نجس ہو جائے گی اور اس صورت ميں اگر اس مقام سے خون کو نکال کر وضو یا غسل کے ليے پاک کرنا حرج کا باعث ہو تو تيمم کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٠٣ اگر کسی شخص کو يہ معلوم نہ ہو کہ کھال کے نيچے خون مرگيا ہے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت نے ایسی شکل اختيار کرلی ہے تو وہ پاک ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۴ اگر کھانا پکاتے ہوئے خون کا ایک ذرّہ بھی اس ميں گر جائے تو سارے کا سارا کھانا اور برتن نجس ہوجائے گا۔ اُبال، حرارت اور آگ اُنہيں پاک نہيں کرسکتے۔

مسئلہ ١٠ ۵ جو زرد مادہ زخم کی حالت بہتر ہونے پر اس کے چاروں طرف پيدا ہوجاتا ہے اگر اس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ اس ميں خون ملا ہوا ہے تو وہ پاک ہوگا۔

۶- ۔ ٧) کتا اور سو رٔ )

مسئلہ ١٠ ۶ وہ کتا اور سو رٔ جو خشکی ميں رہتے ہيں نجس ہيں حتیٰ کہ ان کے بال، ہڈیاں،ناخن اور رطوبتيں بھی نجس ہيں ، ا لبتّہ دریائی کتا ا ور سؤر پاک ہيں ۔


٨۔ کافر

مسئلہ ١٠٧ کافر یعنی وہ شخص جو خدا یا حضرت خاتم الانبياء(ص) کی رسالت یا قيامت کا منکر ہو یا خدا اور رسول(ص) ميں شک رکھتا ہو، یا کسی کو خدا کا شریک گردانتا ہو یا خدا کے ایک ہونے کے بارے ميں مشکوک ہو، نجس ہے ۔

اسی طرح خوارج یعنی وہ افراد جو امام معصوم عليہ السلام کے خلاف خروج کریں، غلات یعنی وہ افراد جو کسی بھی امام عليہ السلام کی خدائی کے قائل ہوں یا یہ کہتے ہوں کہ خدا ان ميں حلول کر گيا ہے اور نواصب یعنی ہر وہ فرد جو کسی بھی امام عليہ السلام یا جناب سيدہ حضرت فاطمہ زهرا عليهاالسلام کا دشمن ہو(نجس ہيں ) اور (اسی طرح) ہر وہ فرد جو ضروریات دین مثلاً نماز اور روزے ميں سے کسی کا یہ جاننے کے باوجود کہ ضروریاتِ دین ميں سے ہے ، منکر ہوجائے نجس ہے ۔

اور اہل کتاب یعنی یهودی اور عيسائی اقویٰ یہ ہے کہ پاک ہيں ، اگر چہ احوط یہ کہ ان سے پرہيز کيا جائے۔

مسئلہ ١٠٨ کافر کا تمام بدن حتیٰ اس کے بال، ناخن اور رطوبتيں بھی نجس ہيں ۔

مسئلہ ١٠٩ اگر نابالغ بچے کے باپ، ماں، دا دا اور دادی کافر ہوں تو وہ بچہ بھی نجس ہے سوائے اس کے کہ مميز ہو اور اسلام کا اظهار کرتا ہواور اگر ان ميں سے ایک بھی مسلمان ہو تو بچہ پاک ہے مگر یہ کہ مميز ہو اور کفر کا اظهار کرتا ہو۔

مسئلہ ١١٠ جس شخص کے متعلق يہ علم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا نہيں تو وہ پاک مانا جائے گا ليکن اس پر اسلام کے دوسرے احکام کا اطلاق نہيں ہوگا، مثلاًنہ ہی وہ مسلمان عورت سے شادی کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان ميں دفن کيا جا سکتا ہے ۔

مسئلہ ١١١ جو شخص چودہ معصومين عليهم السلام ميں سے کسی ایک کو بھی دشمنی کی بناپر گالی دے، نجس ہے ۔

٩۔ شراب

مسئلہ ١١٢ شراب اور نشہ آور نبےذ نجس ہے ۔ اس کے علاوہ بهنے والی نشہ آور چيزوں ميں سوائے فقاّع کے کہ جس کا حکم بعد ميں آئے گا، احتياط مستحب اجتناب ہے ا ور اگر بهنگ و چرس کی طرح بهنے والی نہ ہوں تو پاک ہيں چاہے ان ميں کوئی چيز ڈال کر انہيں رواں بنا دیا جائے۔

مسئلہ ١١٣ صنعتی الکحل جو دروازے، کهڑکياں، ميزیں اورکرسياں وغيرہ رنگنے کے لئے استعمال ہوتی ہيں ان کی تمام قسميں پاک ہيں ۔

مسئلہ ١١ ۴ اگر انگور یا انگور کے رس ميں پکانے پر ابال آجائے تو پاک ہيں ليکن ان کا کھانا پينا حرام ہے اور اگر آگ کے علاوہ کسی اور چيز سے ابال آجائے تو ان کا کھانا پينا حرام ہے اور احتياط کی بنا پر نجس ہيں ۔


مسئلہ ١١ ۵ کھجور، منقیٰ، کشمش اور ان کے رس ميں اگرچہ ابال بھی آجائے، پاک ہيں اور ان کا کھانا حلال ہے ۔

١٠ ۔ فقاّع (جوَ کی شراب)

مسئلہ ١١ ۶ فقّاع جو کہ جَوسے تيار ہوتی ہے اور اسے آبِ جوَکہتے ہيں نجس ہے ليکن وہ پانی جو طب کے قاعدے کے مطابق جَو سے حاصل کيا جاتا ہے اور ماء الشعير کهلاتا ہے پاک ہے ۔

مسئلہ ١١٧ جو شخص فعل حرام سے جنب ہوا ہو اس کاپسينہ پاک ہے ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ اس کے ساته نماز نہ پڑھی جائے اور حالت حيض ميں بيوی سے صحبت کرنا بھی حرام سے جنب ہونے کا حکم رکھتا ہے ۔

مسئلہ ١١٨ اگر کوئی شخص ان اوقات ميں بيوی سے جماع کرے جن ميں جماع حرام ہوتا ہے ، مثلاً رمضان المبارک ميں دن کے وقت، تو اس کا پسينہ پاک ہے ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ اس کے ساته نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ ١١٩ اگر حرام سے جنب ہونے والا غسل کے بجائے تيمم کرے اور تيمم کے بعد اسے پسينہ آجائے تو احتياط واجب کی بنا پراس پسينے کا حکم وهی ہے جو تيمم سے پهلے والے پسينے کا تھا۔

مسئلہ ١٢٠ اگر کوئی شخص حرام سے جنب ہوجائے اور پھر اس عورت سے جماع کرے جو اس کے لئے حلال ہے تو اس کے لئے احتياط واجب یہ ہے کہ اس پسينے کے ساته نماز نہ پڑھے، اور اگر پهلے اس عورت سے جماع کرے جو حلال ہو اور بعد ميں حرام کا مرتکب ہو تو اس کا پسينہ حرام سے جنب ہونے والے کے پسينے کا حکم نہيں رکھتا۔

مسئلہ ١٢١ انسانی نجاست کھانے والے اونٹ کا پسينہ احتياط کی بنا پر نجس ہے ۔ اس کے علاوہ ہر اس حيوان کا پسينہ جسے انسانی نجاست کھانے کی عادت ہو اگر چہ پاک ہے ليکن ان ميں سے کسی کے ساته نماز جائز نہيں ہے ۔

نجاست ثابت ہونے کے طريقے

مسئلہ ١٢٢ کسی بھی چيز کی نجاست تين طریقوں سے ثابت ہوتی ہے :

١)یہ کہ خود انسان کو یقين یا اطمينان ہوجائے کہ فلاں چيز نجس ہے اور اگر کسی چيز کے متعلق گمان ہو کہ نجس ہے تو اس سے پرہيز کرنا ضروری نہيں ہے ، لہذایسے قهوہ خانوں اور ہوٹلوں سے کھانا کھانے ميں ، جهاں لاپروا اور نجاست و طهارت کا لحا ظ نہ رکھنے والے افراد بھی کھانا کھاتےہوں، جب تک انسان کو اطمينان نہ ہو جائے کہ اس کے لئے لایا جانے والا کھانا نجس ہے ، کوئی حرج نہيں ۔


٢)جس شخص کے اختيار ميں کوئی چيز ہو وہ اس کے بارے ميں کهے کہ نجس ہے جب کہ وہ جھوٹا نہ سمجھا جاتا ہو مثلاً کسی شخص کی بيوی یا نوکر یاملازمہ جب کہ وہ جھوٹے نہ ہوں کہيں کہ برتن یا کوئی دوسری چيز جو ان کے اختيار ميں ہے نجس ہے ۔

٣)دو عادل مرد کہيں کہ ایک چيز نجس ہے تو وہ نجس ہوگی، بلکہ ایک عادل شخص یا ایک قابل اعتماد شخص جو خواہ عادل نہ بھی ہو کسی چيز کے بارے ميں کهے کہ نجس ہے ا ور اس کی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو تو اس چيزسے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٢٣ اگر کوئی شخص مسئلے سے عدم واقفيت کی بنا پر یہ نہ جان پائے کہ ایک چيز نجس ہے یا پاک مثلاً اسے یہ علم نہ ہو کہ خون پاک ہے یا نجس توضروری ہے کہ مسئلہ پوچه لے اور مسئلہ معلوم ہونے تک احتياط کرے، ليکن اگر مسئلہ جانتا ہو اور کسی چيز کے بارے ميں صرف شک ہو کہ پاک ہے یا نہيں مثلاً اسے شک ہو کہ وہ چيز خون ہے یا نہيں یا یہ تو جانتا ہو کہ خون ہے ليکن یہ نہ جانتا ہو کہ مچہر کا خون ہے یا انسان کا،تو وہ چيز پاک ہوگی اور اس کے بارے ميں چھان بين کرنا یا پوچهنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۴ اگر کسی نجس چيز کے بارے ميں شک ہو کہ پاک ہوئی ہے یا نہيں تو وہ نجس ہے اور اگر کسی پاک چيز کے بارے ميں شک ہو کہ نجس ہوگئی ہے یا نہيں تو وہ پاک ہے اور اگر کوئی شخص ان چيزوں کے نجس یا پاک ہونے کے متعلق معلوم بھی کر سکتا ہو تو تحقيق ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۵ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ جو دو برتن یا دو کپڑے وہ استعمال کرتا ہے ان ميں سے ایک نجس ہو گيا ہے ليکن اسے یہ علم نہ ہو کہ ان ميں سے کون سا نجس ہوا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں سے اجتناب کرے اور مثال کے طور پر اگر یہ نہ جانتا ہو کہ خود اس کا کپڑا نجس ہوا ہے یا کسی دوسرے کا جو اس کے زیر اختيار نہيں ہے اور کسی دوسرے شخص کی ملکيت ہے تو اپنے کپڑے سے اجتناب کرنا ضروری نہيں ہے ۔

پاک چيز کيسے نجس ہوتیہے

مسئلہ ١٢ ۶ اگر ایک پاک چيز ایک نجس چيز سے متصل ہوجائے اور دونوں یا ان ميں سے ایک اس قدر تر ہو کہ ایک کی رطوبت دوسری تک پهنچ جائے تو پاک چيز بھی نجس ہوجائے گی، ليکن اگر تری اتنی کم ہو کہ رطوبت ایک شے سے دوسری شے تک نہ پهنچے تو پھر پاک چيز نجس نہ ہوگی۔

اور مشهور قول ہے کہ جو چيز نجس ہو گئی ہو وہ خود دوسری چيز کو مطلقاً نجس کر دیتی ہے ، ليکن یہ حکم پهلے واسطے کے علاوہ، جب کہ آب قليل یا دوسرے مایعات کے علاوہ کسی اور چيز سے ملاقات کرے، محل اشکال ہے اوردوسرے اور تيسرے واسطے کے ذریعے نجس ہونے والی چيزسے احتياط کی مراعات ترک نہ کی جائے۔


مسئلہ ١٢٧ اگر کوئی پاک چيز کسی نجس چيز کو لگ جائے اورشک ہو کہ آیا یہ دونوں یاان ميں سے کوئی ایک تر تھی یا نہيں ، تو پاک چيز نجس نہيں ہوتی۔

مسئلہ ١٢٨ اگر دو چيزوں کے بارے ميں یہ علم نہ ہو کہ ان ميں سے کون سی پاک ہے اور کون سی نجس، جب کہ علم نہ ہو کہ پهلے یہ دونوں نجس تہيں اور پھر ان ميں سے کسی ایک کے ساته ایک پاک اور تر چيز مس ہو جائے تو وہ نجس نہيں ہوگی۔

مسئلہ ١٢٩ اگر زمين اور کپڑا یا انهی جيسی اور چيزوں ميں منتقل ہونے والی رطوبت ہو تو ان کے جس جس حصے کو نجاست لگے گی وہ نجس ہو جائے گا اور باقی حصہ پاک رہے گا۔ یهی حکم کهيرے، خربوزے اور ان جيسی چيزوں کے بارے ميں ہے ۔

مسئلہ ١٣٠ جب شيرے، تيل، گهی یا ایسی ہی کسی اور چيز کی صورت ایسی ہو کہ اگر اس کی کچھ مقدار نکال لی جائے تو اس کی جگہ خالی نہ رہے تو جوں ہی وہ ذرہ بھر بھی نجس ہوگا سارے کا سارا نجس ہو جائے گا، ليکن اگر اس کی صورت ایسی ہو کہ نکالنے کے مقام پر جگہ خالی رہے اگرچہ بعد ميں پر ہوجائے، تو صرف وهی حصہ نجس ہوگا جسے نجاست لگی ہے ، لہٰذا اگر چوهے کی مينگنی اس ميں گر جائے تو جهاں وہ مينگنی گری ہے وہ جگہ نجس اور باقی پاک ہوگی۔

مسئلہ ١٣١ اگر مکهی یا اس جيسی کوئی اور جاندار چيزایک ایسی تر چيز پر بيٹھے جو نجس ہو اور بعد ازاںایک تراور پاک چيز پر جا بيٹھے اور یہ یقين ہوجائے کہ اس جاندار کے ساته نجاست تھی تو پاک چيز نجس ہو جائے گی اور اگر یقين نہ ہو تو پاک رہے گی۔

مسئلہ ١٣٢ اگر بدن کے کسی حصے پر پسينہ ہو اور وہ حصہ نجس ہوجائے اور پھر پسينہ اس جگہ سے بہہ کر بدن کے دوسرے حصوں تک چلا جائے تو جهاں جهاں پسينہ بهے گا بدن کے وہ حصے نجس ہوجائيں گے، ليکن اگر پسينہ آگے نہ بهے تو باقی بدن پاک رہے گا۔

مسئلہ ١٣٣ جوگاڑھی اخلاط (بلغم) یا غير بلغم ناک یا گلے سے خارج ہوتی ہيں اگر ان ميں خون ہو تو وہ مقام جهاں خون ہوگا نجس اور باقی حصہ پاک ہوگا لہٰذا اگر یہ اخلاط ناک یا ہونٹوں کے باہر لگ جائيں تو بدن کے جس مقام کے بارے ميں یقين ہو کہ نجاست والا حصہ وہاں پهنچا ہے وہ نجس ہوگا اور جس مقام کے بارے ميں شک ہو کہ وہاں نجاست والا حصہ پهنچا ہے یا نہيں وہ پاک ہوگا۔

مسئلہ ١٣ ۴ اگر ایک ایسا لوٹا جس کے پيندے ميں سوراخ ہو نجس زمين پر رکھ دیا جائے اور اس کا پانی بهنا بند ہو کر لوٹے کے نيچے اس طرح جمع ہو جائے کہ اسے اور لوٹے کے پانی کو ایک ہی پانی سمجھا جائے تو لوٹے کا پانی نجس ہو جائے گاليکن اگر لوٹے کا پانی تيزی سے بہتا رہے تو نجس نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١٣ ۵ اگر کوئی چيز بدن ميں داخل ہو کر نجاست سے جاملے ليکن بدن سے باہر آنے پر نجاست سے آلودہ نہ ہو تو وہ چيز پاک ہے ، چنانچہ اگر انيما کا سامان یا اس کاپانی پاخانہ کے مخرج ميں داخل کيا جائے یا سوئی، چاقو یا کوئی اور


ایسی چيز بدن ميں گهس جائے اور باہر نکلنے پر نجاست سے آلودہ نہ ہو تو نجس نہيں ہے ۔ اسی طرح اگر تهوک اور ناک کا پانی جسم کے اندر خون سے جاملے ليکن باہر نکلنے پر خون آلودہ نہ ہو پاک ہے ۔

احکام نجاسات

مسئلہ ١٣ ۶ قرآن مجيد کی تحریر اور ورق کو نجس کرنا جب کہ یہ فعل قرآن مجيد کی بے حرمتی کا باعث ہو بلا شبہ حرام ہے اور اگر نجس ہوجائے تو فوراً پاک کرنا ضروری ہے ، بلکہ اگر بے حرمتی کا پهلو نہ بھی نکلے تب بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٣٧ اگر قرآن مجيد کی جلد نجس ہو جائے اور اس سے قرآن مجيد کی بے حرمتی ہو توضروری ہے کہ جلد کو پاک کيا جائے۔

مسئلہ ١٣٨ قرآن مجيد کو کسی خشک عين نجس پر رکھنا اگر بے حرمتی کا سبب ہو تو حرام ہے اور اسے اٹھ انا واجب ہے ۔

مسئلہ ١٣٩ قرآن مجيد کو نجس روشنائی سے لکھنا خواہ ایک حرف ہی کيوں نہ ہو اسے نجس کرنے کا حکم رکھتا ہے ، اور اگر لکھا جا چکا ہو تو اسے پانی سے دهو کر یا ایسے ہی کسی اور طریقے سے مٹانا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٠ اگر کافر کو قرآن مجيد دینا قرآن مجيد کی بے حرمتی کا باعث ہو تو حرام ہے اور اس سے قرآن مجيد لے لينا واجب ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ١ اگر قرآن مجيد کا ورق یا کوئی ایسی چيز جس کا احترام ضروری ہو مثلاً ایسا کاغذ جس پر الله تعالیٰ، پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم یا معصومين عليهم السلام ميں سے کسی کا نام لکھا ہوا ہو، بيت الخلاء ميں گر جائے تو اس کا باہر نکالنا اور اسے دهونا واجب ہے خواہ اس پر کچھ رقم ہی کيوں نہ خرچ کرنی پڑے اور اگر اس کا باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس وقت تک اس بيت الخلاء کو استعمال نہ کيا جائے جب تک یہ یقين نہ ہوجائے کہ وہ گل کر ختم ہو گيا ہے ۔

اسی طرح اگر خاک شفا بيت الخلاء ميں گرجائے اور اس کا نکالنا ممکن نہ ہو تو جب تک یہ یقين نہ ہو جائے کہ وہ بالکل ختم ہو چکی ہے اس بيت الخلاء کو استعمال نہيں کيا جاسکتا۔

مسئلہ ١ ۴ ٢ کسی عينِ نجس یا نجس شدہ چيز کا کھانا پينا حرام ہے ۔ یهی حکم کسی اور کو کهلانے پلانے کا ہے ليکن بچے یا پاگل کو کهلانا جائزهے اور اگر بچہ یا دیوانہ شخص نجس غذا کھائے یا پئے یا نجس ہاتھ سے غذا کو نجس کردے اور کھائے تو اسے روکنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٣ ایسی نجس چيز کا بيچنا یا عاریةً دینا جو پاک ہو سکتی ہو اشکال نہيں رکھتا، ہاں اگر عاریةً لينے والا یا خریدار اس کو کھانے پينے جيسی چيزوں ميں استعمال کرنے والا ہو تو اسے نجاست کے بارے ميں بتانا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۴ اگر ایک شخص کسی دوسرے کو نجس چيز کھاتے یا نجس لباس سے نماز پڑھتے دیکھے تو اسے اس بارے ميں کچھ کهنا ضروری نہيں ۔


مسئلہ ١ ۴۵ اگر کسی کے گھر کا کوئی حصہ یا فرش نجس ہو اور وہ دیکھے کہ اس کے گھر آنے والوں کا بدن، لباس یا کوئی اور چيز تری کے ساته نجس جگہ سے جا لگی ہے تو اگر صاحب خانہ اس کا سبب ہو اور ممکن ہو کہ نجاست کھانے پينے کی چيزوں ميں سرایت کر جائے گی تو ان لوگوں کو اس بارے ميں آگاہ کردینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶ اگر ميزبان کو کھانا کھانے کے دوران پتہ چلے کہ غذا نجس ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ مهمانوں کو اس کے متعلق آگاہ کردے ليکن اگر مهمانوں ميں سے کسی کو اس بات کا علم ہو جائے تو اس کے لئے دوسروں کو بتانا ضروری نہيں ، البتہ اگر وہ ان کے ساته یوں گهل مل کر رہتا ہو کہ ان لوگوں کے نجس ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی نجس کھانے پينے ميں مبتلا ہوجائے گا توضروری ہے کہ کھانا کها چکنے کے بعد انہيں اطلاع دے دے۔

مسئلہ ١ ۴ ٧ اگر کوئی ادهار لی ہوئی چيز نجس ہو جائے اور اس کا مالک اسے کھانے پينے ميں استعمال کرتا ہو جيسے برتن تو ادهار لينے والے پر واجب ہے کہ مالک کو اس کے نجس ہوجانے کے متعلق بتادے، ليکن اگر اس چيز کی نوعيت لباس کی ہو تو اس کے نجس ہونے کی اطلاع مالک کو دینا ضروری نہيں خواہ یہ علم ہو کہ وہ اس لباس کے ساته نماز پڑھتا ہے سوائے اس کے کہ لباس کا مالک واقعی پاک لباس کے ساته نماز پڑھنا چاہے کہ اس صورت ميں احتياط واجب یہ ہے کہ نجاست کی اطلاع دے دی جائے۔

مسئلہ ١ ۴ ٨ اگر بچہ کهے کہ کوئی چيز نجس ہے یا یہ کہ اس نے کسی چيز کو دهوليا ہے تو اس کی بات پر اعتبار نہيں کيا جا سکتا ليکن اگر بچہ مميز ہو اور کهے کہ اس نے ایک چيز پانی سے دهوئی ہے جب کہ وہ بچہ قابل اعتماد ہو اور اس کی بات کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو تو اس کی بات قبول کر لی جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی چيز کی نجاست کی اطلاع دے تب بھی یهی حکم ہے ۔

مطهرات

مسئلہ ١ ۴ ٩ بارہ چيزیں نجاست کو پاک کرتی ہيں اور انہيں مطهرات کها جاتاہے :

(١) پانی

(٢) زمين

(٣) سورج

( ۴) استحالہ

( ۵) انقلاب

( ۶) انتقال

(٧) اسلام


(٨) تبعيت

(٩) عين نجاست کا زائل ہو جانا

(١٠) نجاست خور جانور کا استبراء

(١١) مسلمان کا غائب ہو جانا

(١٢) ذبح کئے گئے جانور کے بدن سے معمول کے مطابق خون کا نکل جانا۔

ان سب کے تفصيلی احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

١۔ پانی

مسئلہ ١ ۵ ٠ پانی چار شرائط کے ساته نجس چيز کو پاک کرتاہے :

١)پانی مطلق ہو، لہذامضاف پانی جيسے گلاب کا پانی یا عرقِ بيد نجس چيز کو پاک نہيں کر سکتا ہے ۔

٢)پانی پاک ہو۔

٣)نجس چيز کو دهونے کے دوران پانی مضاف نہ بن جائے اور جس دهونے کے بعد مزید دهونا ضروری نہ ہو تو یہ بھی ضروری ہے کہ پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدل نہ جائے،ليکن آخری دهونا نہ ہونے کی صورت ميں پانی کے بدل جانے ميں کوئی حرج نہيں ، مثلاًاگر کسی چيز کو دو مرتبہ دهونا ضروری ہو تو خواہ پانی کا رنگ، بویا ذائقہ پهلی مرتبہ دهونے کے وقت بد ل جا ئے ليکن دوسری مرتبہ استعمال کئے جانے والے پانی ميں ایسی کوئی تبدیلی رونما نہ ہو تو وہ چيز پاک ہو جائے گی۔

۴) نجس چيزکوپاک کرنے کے بعد اس ميں عين نجاست کے ذرات باقی نہ رہيں ۔

نجس چيز کو قليل پانی یعنی ایک کرُسے کم پانی سے پاک کرنے کی کچھ اور شرائط بھی ہيں جن کا ذکر بعد ميں کيا جائے گا۔

مسئلہ ١ ۵ ١ نجس برتن کے اندرونی حصے کو قليل پانی سے تين مرتبہ دهونا ضروری ہے ،جب کہ کرُ یا جاری پانی ميں ایک مرتبہ دهونا کافی ہے ليکن وہ برتن جس ميں سے کتے نے کوئی سياّل(بهنے والی)چيز پی ہو تو پهلے ضروری ہے کہ اسے پاک مٹی سے مانجه کرمٹی ہٹالی جائے اور پھر پانی ملی ہوئی مٹی سے مانجها جائے۔ ان دونوں طریقوں کو اختيار کرنااحتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے اور اس کے بعد پانی ڈال کر برتن سے مٹی صاف کر ليں اورپہر کرُ یا جاری پانی سے ایک مرتبہ یا احتياط واجب کی بنا پرقليل پانی سے دو مرتبہ دهوئيں۔

کتے کے چاٹے ہوئے برتن کو پاک کرنے کے لئے بھی احتياط واجب کی بناپریهی طریقہ اختيار کرنا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١ ۵ ٢ جس برتن ميں کتے نے منہ ڈالا ہو اگر اس کامنہ اتنا تنگ ہو کہ اسے مٹی سے مانجهانہ جا سکتا ہو، چنانچہ ممکن ہو تو کپڑا یا اسی طرح کی کوئی چيز لکڑی پر لپيٹ کراس کی مدد سے برتن کو مٹی سے مانجهے، پھر اس مٹی کو صاف کر کے دوبارہ پانی ملی ہوئی مٹی سے مانجهے، (خيال رہے)ان دونوں طریقوں کو اختيار کرنا احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر مٹی برتن ميں ڈال کر زور سے هلانے کے ذریعے اس طریقے پر عمل کریں، پھرپچهلے مسئلے ميں بتائے گئے طریقے کے مطابق برتن کو دهوليں۔

مسئلہ ١ ۵ ٣ جس برتن ميں سؤرنے کوئی سيال (بهنے والی) چيز پی ہو یا صحرائی چوہا مر گيا ہو، اسے سات مرتبہ دهونا ضروری ہے ، خواہ قليل پانی سے دهویا جائے یا کرُ یا جاری پانی سے اور بنابر احتياط واجب یهی حکم اس برتن کا ہے جسے سؤر نے چاٹا ہو۔

مسئلہ ١ ۵۴ شراب سے نجس شدہ برتن کو تين مرتبہ دهونا ضروری ہے ۔ اس ميں قليل، کرُ اور جاری پانی ميں کوئی فرق نہيں ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ سات مرتبہ دهوئے۔

مسئلہ ١ ۵۵ جو کوزہ نجس مٹی سے بنایا گيا ہو یا ا س ميں نجس پانی سرایت کر گيا ہو، تو اسے کرُ یا جاری پانی ميں ڈالنے پر جهاں جهاں پانی پهنچے گا، کوزہ پاک ہو جائے گا اور اگر کوزے کے اندرونی اجزاء کو بھی پاک کرنا مقصود ہو تو اسے کرُیا جاری پانی ميں اتنی دیر تک پڑے رہنے دینا ضروری ہے کہ پانی تمام کوزے ميں سرایت کر جائے اور اگر اس کوزے ميں کوئی ایسی رطوبت ہو جو پانی کو کوزے کے اندرونی حصوں تک نہ پهنچنے دے تو ضروری ہے کہ اسے خشک کرنے کے بعد کرُیا جاری پانی ميں ڈالا جائے۔

مسئلہ ١ ۵۶ نجس برتن کو قليل پانی سے دو طریقے سے دهویا جا سکتا ہے :

١)برتن کو تين مرتبہ پانی سے بهرا جائے اور ہر مرتبہ خالی کر دیا جائے۔

٢)برتن ميں تين بار مناسب مقدار ميں پانی ڈاليں اور ہر بار پانی کو اس ميں یوں گهمائيں کہ وہ تمام نجس مقامات تک پهنچ جائے اور پھر اسے پھينک دیں۔

مسئلہ ١ ۵ ٧ اگر ایک بڑا برتن مثلاًدیگ یا مرتبان نجس ہو جائے تو تين بار پانی سے بهرنے اور هربار خالی کرنے کے بعد پاک ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر اس ميں تين مرتبہ اوپر سے اس طرح پانی اُنڈیليں کہ اس کی تمام نجس اطراف تک پهنچ جائے اور ہر بار اس کی تہہ ميں جمع شدہ پانی کو باہر نکال دیں تو پاک ہو جائے گا اور احتياط واجب یہ ہے کہ دوسری اور تيسری بار جس برتن کے ذریعے پانی باہر نکالنا ہو،اسے بھی دهو ليا جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٨ نجس تانبے وغيرہ کو، جنہيں پگهلایا جاتا ہے ، اگر پانی سے دهو ليا جائے تو اس کا ظاہری حصہ پاک ہو جائے گا۔


مسئلہ ١ ۵ ٩ پيشاب سے نجس شدہ تنور ميں اگر اوپر سے اس طرح پانی ڈالا جائے کہ اس کی تمام نجس اطراف تک پهنچ جائے تو تنور پاک ہو جائے گا اور اگر تنور پيشاب کے علاوہ کسی اور چيز سے نجس ہو تو نجاست دور کرنے کے ساته مذکورہ طریقے کے مطابق اس ميں ایک بار پانی ڈالنا کافی ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ عين نجاست کو زائل کرنے کے بعد پانی ڈالا جائے اور بہتر یہ ہے کہ تنور کی تہہ ميں ایک گڑھا کهود ليا جائے جس ميں پانی جمع ہو سکے، پھر اس پانی کو نکال ليا جائے اور گڑھے کوپاک مٹی سے پُر کر دیا جائے۔

مسئلہ ١ ۶ ٠ اگر کسی نجس چيز کو کُر یا جاری پانی ميں ایک مرتبہ یوں ڈبو دیاجائے کہ پانی اس کے تمام نجس مقامات تک پهنچ جائے تو وہ پاک ہو جائے گی اور قالين اور لباس وغيرہ کو نچوڑنا یا اس جيسا کوئی طریقہ جيسے ملنا یا پاؤں مارناضروری ہے اور اگر لباس یا اسی طرح کوئی اور چيز پيشاب سے نجس ہو جائے تو جاری یا کرُ پانی سے ایک مرتبہ دهونا کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ١ پيشاب سے نجس شدہ چيز کو اگر قليل پانی سے دهونا مقصود ہو تو جب اس پر ایک مرتبہ پانی ڈالا جائے اور وہ اس سے جدا ہو جائے اس طرح کہ پيشاب اس چيز کے اندر باقی نہ رہے تو دوسری مرتبہ اس کے اوپر پانی ڈالنے سے وہ چيز پاک ہو جائے گی، ليکن لباس اور قالين وغيرہ ميں ضروری ہے کہ ہر بار نچوڑنے یا ایسے ہی کسی طریقے سے اس کا غسالہ نکالا جائے۔ ( غسالہ یا دهوون اس پانی کو کہتے ہيں جو کسی دهوئی جانے والی چيز سے دُهلنے کے دوران یا دهل جانے کے بعد خود بخود، نچوڑنے یا اس جيسے کسی طریقے سے نکلتا ہے )

مسئلہ ١ ۶ ٢ جو چيز ایسے شيرخوار بچے کے پيشاب سے جس نے کوئی غذا کھانا شروع نہ کی ہو، نجس ہو جائے اگر اس پر ایک مرتبہ اس طرح پانی ڈالا جائے کہ نجس مقامات تک پهنچ جائے تو وہ چيز پاک ہو جائے گی، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ مزید ایک بار اس پر پانی ڈالا جائے اور لباس و قالين وغيرہ کو نچوڑنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٣ جو چيز پيشاب کے علاوہ کسی اور چيز سے نجس ہو جائے، اسے قليل پانی سے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ عين نجاست زائل کرنے کے ساته ایک مرتبہ اس پر پانی ڈال دیں جو اس چيز سے نکل جائے اور احتياط واجب یہ ہے کہ پانی عين نجاست کو زائل کرنے کے بعد ڈالا جائے، جب کہ لباس جيسی چيزوں ميں نچوڑنے وغيرہ کے ذریعے غسالہ نکالنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۴ دهاگوں سے بنی ہوئی نجس چٹائی کو پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نچوڑنے یا اس جيسے کسی طریقے سے اس کا غسالہ نکال دیا جائے، خواہ اسے کُر یا جاری پانی سے پاک کيا جائے یا قليل پانی سے۔

مسئلہ ١ ۶۵ اگر گندم، چاول یا صابن وغيرہ کا ظاہری حصہ نجس ہو جائے تو وہ کرُ یا جاری پانی ميں ڈبونے سے پاک ہو جاتاہے ، ليکن اگر ان کا اندرونی حصہ نجس ہو جائے تو ان کے پاک کرنے کا طریقہ نجس کوزے کو پاک کرنے کے طریقے کی طرح ہے جو مسئلہ نمبر” ١ ۵۵ “ ميں بيان ہو چکا ہے ۔


مسئلہ ١ ۶۶ اگر انسان شک کرے کہ نجس پانی صابن کے اندر پهنچا ہے یا نہيں تو اس کا اندرونی حصہ پاک ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٧ اگر چاول یا گوشت یا ایسی ہی کسی چيز کا ظاہری حصہ پيشاب کے علاوہ کسی اور چيز سے نجس ہو جائے اور اسے ایک پاک طشت ميں رکھ کر، اس پر پانی ڈاليںاور اس پانی کو بها دیں تو وہ چيز اور طشت دونوں پاک ہو جائيں گے، اور اگر یہ چيزیں پيشاب سے نجس ہوئی ہوں تو دو مرتبہ پانی ڈال کر بهانا ضروری ہے ۔

ان دونوں صورتوں ميں اگر برتن پيالہ یا اس جيسی کوئی چيز ہو تو بنا براحتياط واجب تين مرتبہ پانی ڈال کر بهانا ضروری ہے اور وہ چيزیںجن کو پاک کرنے کے لئے نچوڑنا ضروری ہے جيسے لباس تو ضروری ہے کہ اسے نچوڑ کر ا س کا غسالہ نکال ليا جائے۔

مسئلہ ١ ۶ ٨ جس نجس لباس کو نيل یا اس جيسی کسی چيز سے رنگا گيا ہو، اگر کرُ یا جاری پانی ميں ڈبو یا جائے یا قليل پانی سے دهویا جائے اور نچوڑتے وقت اس سے مضاف پانی نہ نکلے تو پاک ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٩ اگر کپڑے کو کرُ یا جاری پانی ميں دهویا جائے او رمثال کے طور پر بعد ميں کائی وغيرہ کپڑے ميں نظر آئے اور یہ احتمال نہ ہو کہ یہ کپڑے کے اندر پانی کے پهنچنے ميں رکاوٹ بنی ہے تو وہ کپڑا پاک ہے ۔

مسئلہ ١٧٠ اگر لباس یا اس سے ملتی جلتی چيز کے دهونے کے بعد اس ميں مٹی یا صابن کے ذرات نظر آئيں تو وہ پاک ہے ، ليکن اگر نجس پانی مٹی یا صابن کے اندر پهنچ چکا ہو تو مٹی اور صابن کا ظاہر پاک اور ان کا باطن نجس رہے گا۔

مسئلہ ١٧١ جب تک کہ کسی چيز سے عين نجاست کو ہٹا نہ دیا جائے وہ پاک نہيں ہو سکتی ہے ، ليکن اگر نجاست کی بویا رنگ باقی رہ جائے تو اس ميں کوئی اشکال نہيں ہے ، لہٰذا اگر خون کو لباس سے بر طرف کر دینے اور پانی سے دهونے کے بعد بھی اس ميں خون کا رنگ باقی رہے تو وہ پاک ہو جائے گا، ليکن اگر کسی چيز ميں بو یا رنگ کی وجہ سے یہ احتمال پيدا ہو کہ اس ميں نجاست کے ذرّے باقی رہ گئے ہيں تو وہ چيز نجس ہو گی۔

مسئلہ ١٧٢ اگر کرُ یاجاری پانی ميں بدن کی نجاست کو دور کيا جائے تو بدن پاک ہو جاتا ہے یهاں تک کہ پيشاب کی نجاست ميں بھی ایک سے زیادہ بار دهونا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٧٣ اگر نجس غذا دانتوں کے ریخوں ميں رہ جائے اور پانی منہ ميں بھر کر یوں گهمایاجائے کہ تمام نجس غذا تک پهنچ جائے تو غذا کا ظاہر پاک ہو جائے گا۔

مسئلہ ١٧ ۴ اگر سر اور چھرے کے بالوں کو قليل پانی سے دهویا جائے تو اس سے غسالہ کا نکلنا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١٧ ۵ اگر بدن یا لباس کا کوئی حصہ قليل پانی سے دهویا جائے تو نجس مقام کے پاک ہونے سے اس مقام سے متصل وہ جگہيں بھی پاک ہو جائيں گی جن تک دهوتے وقت عموماًپانی پهنچ جاتا ہے یعنی نجس مقام کی اطراف کو عليحدہ سے دهونا ضروری نہيں بلکہ وہ نجس مقام کو دهونے کے ساته ہی پاک ہو جاتے ہيں ۔ اسی طرح اگر ایک پاک چيز ایک نجس چيز کے برابر رکھ دیں اور دونوں پر پانی ڈاليں تو اس کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۶ نجس گوشت یا چربی کو دوسری عام چيزوں کی طرح پانی سے دهویا جائے گا۔ یهی صورت اس بدن اور لباس کی ہے جس پر تهوڑی بہت چکنائی ہو جو پانی کو بدن یا لباس تک پهنچنے سے نہ روکے۔

مسئلہ ١٧٧ اگر مثلاًبرتن یا بدن نجس ہو جائے اور بعد ميں اتنا چکنا ہو جائے کہ پانی اس تک نہ پهنچ سکے اور اس برتن یا بدن کو پاک کرنا مقصود ہو تو ضروری ہے کہ پهلے چکنائی کو دور کيا جائے تاکہ پانی برتن یا بدن تک پهنچ سکے۔

مسئلہ ١٧٨ جس نجس چيز ميں عين نجاست نہ ہو، کرُ پانی سے متصل نل کے نيچے ایک مرتبہ دهونے سے پاک ہو جاتی ہے ، اسی طرح اگر عين نجاست اس کے اندر موجود ہو ليکن نل کے نيچے پانی سے یاکسی اور چيز کے ذریعے اس کی عين نجاست بر طرف ہو جا ئے ا ور اب جو پانی اس چيز سے گرے اس کی بو، رنگ یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدل نہ رہا ہو تو نل کے پانی کے سے وہ چيز پاک ہو جائے گی، ليکن اگر اس چيز سے گرنے والے پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدل جائے تو ضروری ہے کہ نل کا پانی اس کے اوپر اتنا ڈاليں کہ اب جو پانی اس سے جدا ہو اس ميں نجاست کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہ ہو۔

مسئلہ ١٧٩ اگر کسی چيز کو پانی سے دهوئے اور یقين ہو جائے کہ پاک ہو گئی ہے اور بعد ميں شک کرے کہ عين نجاست کو اس سے برطرف کيا تھا یا نہيں تو ضروری ہے کہ اسے دوبارہ دهوئے اور یقين یا اطمينان حاصل کرے کہ عين نجاست بر طرف ہو چکی ہے ۔

مسئلہ ١٨٠ ایسی زمين جس کے اندر پانی جذب ہو جاتا ہے مثلاً ریتيلی زمين، اگر نجس ہو جائے تو قليل پانی سے پاک ہو جاتی ہے ۔

مسئلہ ١٨١ اگر وہ زمين جس کا فرش پتّھریا اینٹوں کا ہو یاکوئی اور سخت زمين جس ميں پانی جذب نہ ہوتا ہو نجس ہو جائے تو قليل پانی سے پاک ہو سکتی ہے ، ليکن ضروری ہے کہ اس پر اتنا پانی ڈالاجائے کہ بهنے لگے۔ اب جو پانی اس کے اوپر ڈالا گيا تھا اگر کسی سوراخ (یا نالی وغيرہ)سے نکل جائے تو ساری زمين پاک ہو جائے گی اور اگر پانی باہر نہ نکل سکے بلکہ کسی جگہ جمع ہو جائے تو باقی زمين پاک ہو جائے گی ليکن یہ جگہ نجس رہے گی اور اس جگہ کو پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی پاک چيز کے ذریعے جمع شدہ پانی کو نکال ليا جائے اور بہتر یہ ہے کہ پانی جمع کرنے کے لئے گڑھا کهود ليا جائے تاکہ پانی اس ميں جمع ہو جائے اور اس کے بعد پانی کو اس سے نکال کر گڑھے کو پاک مٹی سے پر کر دیا جائے۔


مسئلہ ١٨٢ اگر نمک کی کان کے پتّھر یا اس جيسی کسی اور چيز کاظاہری حصہ نجس ہو جائے تو قليل پانی سے اس صورت ميں پاک ہو سکتا ہے کہ پانی مضاف نہ ہوجائے۔

مسئلہ ١٨٣ اگر پگھلی ہوئی نجس شکر سے قندبناليں اور اسے کرُ یا جاری پانی ميں ڈال دیں تو وہ پاک نہيں ہوتی۔

٢۔ زمين

مسئلہ ١٨ ۴ زمين تين شرائط کے ساته پاؤں کے نچلے حصے اورجوتے کے تلوے جو کہ نجس زمين پر چلنے یا پاؤں رکھنے کی وجہ سے نجس ہو گئے ہوں، پاک کرتی ہے :

١)زمين پاک ہو

٢)خشک ہو

٣)عين نجاست مثلاً خون اور پيشاب یا نجس شدہ چيزمثلاًنجس کيچڑجو پاؤں یا جوتے کے تلوے ميں لگا ہوا ہو راستہ چلنے یا زمين پر رگڑنے کی وجہ سے ہٹ جائے۔ زمين ميں یہ بھی ضروری ہے کہ یا مٹی ہو یا پتّھر، اینٹ یا اس جيسی چيزوں سے بنی ہو۔ قالين، گهاس، چٹائی یا ان ہی جيسی کسی چيزپر چلنے سے پاؤں اور جوتے کے تلوے پاک نہيں ہوتے۔

مسئلہ ١٨ ۵ پاؤں یا جوتے کے نجس تلوے کا ڈامر یا لکڑی کے بنے ہوئے فرش پر چلنے سے پاک ہو نا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۶ پاؤں یا جوتے کے تلوے کو پاک کرنے کے لئے بہتر ہے کہ پندرہ ہاتھ یا اس سے زیادہ فاصلہ زمين پر چلے خواہ پندرہ ہاتھ سے کم چلنے یا پاؤں زمين پر رگڑنے سے نجاست دور ہو گئی ہو۔

مسئلہ ١٨٧ پاک ہونے کے لئے پاؤںيا جوتے کے نجس تلوے کا تر ہونا ضروری نہيں بلکہ خشک بھی ہوں تو زمين پر چلنے سے پاک ہو جاتے ہيں ۔

مسئلہ ١٨٨ جب پاؤں یا جوتے کا نجس تلوا زمين پر چلنے سے پاک ہو جائے تو اس کے اطراف کے اتنے حصے بھی جنہيں عموماً کيچڑ لگ جاتی ہے پاک ہو جاتے ہيں ۔

مسئلہ ١٨٩ اگر کسی ایسے شخص کے ہاتھ کی ہتھيلی یا گھٹنا نجس ہو جائے جو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتا ہو تو اس کے راستہ چلنے سے اس کی ہتھيلی یا گھٹنے کا پاک ہونا محل اشکال ہے ۔

یهی صورت لاٹھ ی اور مصنوعی ٹانگ کے نچلے حصے، چوپائے کے نعل، موٹر گاڑیوں اور تانگے وغيرہ کے پهيوں کی ہے ۔

مسئلہ ١٩٠ اگر زمين پر چلنے کے بعد نجاست کی بو یا رنگ یا باریک ذرے جو نظر نہيں آتے، پاؤں یا جوتے کے تلوے سے لگے رہ جائيں تو کوئی حرج نہيں اگر چہ احتياط مستحب کہ ہے کہ زمين پر اس قدر چلا جائے کہ وہ بھی زائل ہو جائيں۔


مسئلہ ١٩١ جوتے کا اندرونی حصہ زمين پر چلنے سے پاک نہيں ہوتا اور زمين پر چلنے سے موزے کے نچلے حصے کا پاک ہونا محل اشکال ہے ۔

٣۔ سورج

مسئلہ ١٩٢ زمين، عمارت اور دروازہ و کهڑکی کی طرح وہ چيزیں جو عمارتوں ميں استعمال ہوتی ہيں اور اسی طرح دیوار کے اندر ٹھ ونکی ہوئی کيل کو پانچ شرطوں کے ساته پاک کرتا ہے :

١)نجس چيز گيلی ہو، لہٰذا اگر خشک ہو تو ضروری ہے کہ اسے کسی طرح تر کر ليا جائے تاکہ سورج اسے خشک کرے۔

٢)اگر اس چيز ميں عين نجاست ہو تو اس سے پهلے کہ وہ جگہ سورج کے ذریعے خشک ہو،عين نجاست کو ہٹادیا جائے۔

٣)کوئی چيز دهوپ پڑنے ميں رکاوٹ نہ ڈالے، پس اگر دهوپ پردے، بادل یا ایسی ہی کسی چيز کے پيچهے سے نجس چيزپرپڑے اوراسے خشک کر دے تو وہ چيزپاک نہيں ہو گی، البتہ اگر رکاو ٹ اتنی نازک ہو کہ دهوپ کو نہ روکے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

۴) سورج اکيلا ہی نجس چيز کہ خشک کرے، لہٰذا مثال کے طور پر اگر نجس چيز ہوا اور دهوپ سے خشک ہو تو پاک نہيں ہوتی۔ ہاں، اگرہوا اتنی هلکی ہو کہ یہ نہ کهاجاسکے کہ نجس چيز کو خشک کرنے ميں اس نے بھی کوئی مدد کی ہے تو پھر کوئی حرج نہيں ۔

۵) عمارت کے جتنے حصے ميں نجاست سرایت کرگئی ہے دهوپ اسے ایک ہی مرتبہ ميں خشک کردے، پس اگرایک مرتبہ دهوپ نجس زمين اور عمارت پر پڑے اور اس کا سامنے والا حصہ خشک کرے اور دوسری مرتبہ نچلے حصے کو خشک کرے تو اس کا سامنے والا حصہ پاک ہو جائے گااور نچلا حصہ نجس رہے گا۔

مسئلہ ١٩٣ سورج سے نجس چٹائی اورزمين ميں اگے ہوئے درخت وگهاس وغيرہ کاپاک ہونامحل اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٩ ۴ اگر دهوپ نجس زمين پر پڑے اور اس کے بعد انسان شک کرے کہ دهوپ پڑنے کے وقت زمين تر تھی یا نہيں ، یا تری دهوپ کے ذریعے خشک ہوئی یا نہيں تو وہ زمين نجس ہو گی، اسی طرح اگر شک کرے کہ دهوپ پڑنے سے پهلے عين نجاست بر طرف ہوئی تھی یا نہيں يا یہ کہ کوئی چيز دهوپ کے پهنچنے ميں رکاوٹ تھی یا نہيں تو پھر بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٩ ۵ اگر دهوپ نجس دیوار کے ایک طرف پڑے اور اس کے اس حصے کو بھی خشک کر دے جس پر دهوپ نہيں پڑی تو دیوار کی دونوں اطراف پاک ہو جائيں گی۔


۴ ۔ استحالہ

مسئلہ ١٩ ۶ اگر کوئی نجس چيز پاک چيز کی صورت ميں یوں تبدیل ہو جائے کہ عرف کی نگاہوں ميں اس کی حقيقت ہی بدل جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے ، مثال کے طور پر لکڑی جل کر راکه ہو جائے یا کتا نمک کی کان ميں گر کر نمک بن جائے، ليکن اگر اس چيز کی حقيقت نہ بدلے مثلاً گيہوں کو پيس کر آٹا بنا ليا جائے یا روٹی پکا لی جائے تو وہ پاک نہيں ہو گا۔

مسئلہ ١٩٧ مٹی کا کوزہ اور دوسری چيزیں جو نجس مٹی سے بنائی جائيں نجس ہيں اور وہ کوئلہ جسے نجس لکڑی سے تيار کيا گيا ہو احوط یہ ہے کہ اس سے اجتناب کيا جائے۔

مسئلہ ١٩٨ ایسی نجس چيز جس کے متعلق علم نہ ہو کہ آیا اس کا استحالہ ہوا یا نہيں تو اگر شک کی بنياد یہ ہو کہ موضوعِ نجس باقی ہے یا نہيں ، نجس ہے ۔

۵ ۔ انقلاب

مسئلہ ١٩٩ اگر شراب خود بخود یا کوئی چيزمثلاًسرکہ یا نمک ملانے سے سرکہ بن جائے تو پاک ہو جاتی ہے ۔

مسئلہ ٢٠٠ وہ شراب جو نجس انگور یا اس جيسی چيز سے بنائی جائے اور وہ اسی برتن ميں سرکہ بن جائے تو وہ پاک نہيں ہو گی اور اگر اس کو کسی دوسرے پاک برتن ميں ڈال دیں اور پھر سرکہ بن جائے تب بھی بنا بر احتياط پاک نہيں ہو گی اور یهی حکم اس وقت ہے جب شراب ميں کوئی اور نجاست مل جائے اور اس ميں مل کر ختم ہو جائے۔

مسئلہ ٢٠١ وہ سرکہ جو نجس انگور، کشمش یا کھجور سے تيا ر کيا جائے نجس ہے ۔

مسئلہ ٢٠٢ اگر انگور یا کھجور کے باریک چھلکے بھی ساته ہوں اور ان ميں سرکہ ڈال دیا جائے تو کوئی حرج نہيں بلکہ اسی ميں کهيرے اور بينگن وغيرہ ڈالنے ميں بھی اشکال نہيں ہے خواہ انگور یا کھجور کے سرکہ بننے سے پهلے ہی ڈالے جائيں سوائے اس کہ کے سرکہ بننے سے پهلے جان لے کہ یہ نشہ آور ہو چکے ہيں ۔

مسئلہ ٢٠٣ اگر انگور کے رس ميں آگ پر رکھنے سے ابال آجائے تو وہ حرام ہو جاتا ہے اور اگر وہ اتنا ابل جائے کہ اس کا دو تھائی حصہ ختم ہو جائے اور ایک تھائی باقی ر ہ جائے تو حلال ہو جاتا ہے اور مسئلہ ” ١١ ۴ “ ميں بتایا جا چکا ہے کہ انگور کا رس آگ کے ذریعے ابلنے سے نجس نہيں ہوتا،ہاں اگر بغير آگ کے ابال آجائے تو وہ حرام اور بنا بر احتياط نجس بھی ہو جاتاہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ سرکہ بنے بغير پاک اور حلال نہيں ہو سکتا۔

مسئلہ ٢٠ ۴ اگر انگورکے رس کا دو تھائی حصہ بغير ابال آئے کم ہو جائے اور جو پانی بچے اس ميں ابال آجائے تو وہ حرام ہے ۔


مسئلہ ٢٠ ۵ اگر انگور کے رس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اس ميں ابال آیاہے یا نہيں تو وہ حلال ہے ليکن اگر اُبال آجائے تو جب تک یہ یقين نہ ہو کہ اس کا دو تھائی کم ہو چکاہے ، حلال نہيں ہوتا۔

مسئلہ ٢٠ ۶ اگر کچے انگور کے خوشے ميں کچھ پکے انگور بھی ہوں اور جو رس اس خوشے سے ليا جائے اسے لوگ انگور کا رس نہ کہيں اور اس ميں ابال آجائے تو رس کا پينا حلال ہے ۔

مسئلہ ٢٠٧ اگر انگور کا ایک دانہ کسی ایسی چيز ميں گر جائے جو آگ پر ابل رہی ہو اور وہ بھی ابلنے لگے ليکن وہ اس چيز ميں حل نہ ہو تو فقط اس دانے کا کھانا حرام ہے ۔

مسئلہ ٢٠٨ اگر چند دیگوں ميں شيرہ پکایا جائے تو جو کفگير ابال ميں آئی ہو ئی دیگ ميں ڈالا جا چکا ہو اس کا ایسی دیگ ميں ڈالنا بھی جائز ہے جس ميں ابهی ابال نہ آیا ہو۔

مسئلہ ٢٠٩ جس چيز کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ یہ کچا انگور ہے یا پکا، اگر اس ميں ابال آجائے تو حلال ہے ۔

۶ ۔ انتقال

مسئلہ ٢١٠ اگر انسان یا خون جهندہ رکھنے والے حيوان کے بدن کا خون ایسے حيوان کے بدن ميں چلا جائے جو خون جهندہ نہ رکھتا ہو اور اس کے بدن کا حصہ سمجھا جانے لگے تو وہ خون پاک ہو جائے گا۔ اس کو انتقال کہتے ہيں ۔

اسی طرح باقی تمام نجاسات بھی اگر اس حيوان کے بدن کا حصہ بن جائيں جس کے بدن ميں منتقل ہوئی ہيں تو اسی حيوان کے اجزاء کا حکم ان پر جاری ہو گا، ليکن اگر حيوان کے بدن کا حصہ نہ بنيں بلکہ حيوان اس نجاست کے لئے ظرف کی طرح بن جائے تو نجس ہيں ، اسی لئے وہ خون جو جونک انسان کے بدن سے چوستی ہے چونکہ وہ جونک کا خون نہيں کهلاتابلکہ اسے انسان کا خون کہتے ہيں ، نجس ہے ۔

مسئلہ ٢١١ اگر کوئی شخص اپنے بدن پر بيٹھے ہوئے مچہر کو مار دے اور نہ جانتا ہو کہ اس مچہر سے نکلا ہو ا خون مچہر ہی کا ہے یا اس کا اپنا چوسا جانے والا خون ہے ، پاک ہے اور یهی حکم اس وقت ہے جب انسا ن جانتا ہو کہ اگرچہ یہ خون اس سے چوسا گياہے ليکن مچہر کے بدن کا حصہ بن چکا ہے ، ہاں اگر خون چوسے جانے اور مچہر مارنے کے درميان فاصلہ اتنا کم ہو کہ اسے انسان کا خون ہی کها جائے یا معلوم نہ ہو سکے اسے مچہر کا خون کها جائے گا یا انسان کا تو وہ خون نجس شمار ہوگا۔


٧۔ اسلام

مسئلہ ٢١٢ اگر کوئی کافر کسی بھی زبان ميں خدا کی وحدانيت اور خاتم الانبياء حضرت محمدمصطفی(ص) کی نبوت کی گواہی دے دے تو مسلمان ہو جاتا ہے اور اگرچہ وہ مسلمان ہونے سے پهلے نجس کے حکم ميں تھا ليکن مسلمان ہو جانے کے بعد اس کا بدن، تهوک، ناک کا پانی اور پسينہ پاک ہو جاتا ہے ، ہاں مسلمان ہونے کے وقت اگر اس کے بدن پر کوئی عين نجاست ہو تو ضروری ہے کہ اسے دور کرے اور اس مقام کو دهولے بلکہ اگر مسلمان ہونے سے پهلے ہی عين نجاست دور ہو چکی ہو تب بھی احتياط واجب یہ ہے کہ اس مقام کو دهولے۔

مسئلہ ٢١٣ اگر کافر کے مسلمان ہونے سے پهلے اس کا لباس اس کی رطوبت سے اس کے بدن سے مس ہو ا ہو اور اس کے مسلمان ہوتے وقت وہ لباس اس کے بدن پر نہ ہو نجس ہے بلکہ اگر وہ لباس اس کے بدن پر ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس سے اجتناب کرے۔

مسئلہ ٢١ ۴ اگر کافر شهادتين پڑھ لے اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ دل سے مسلمان ہو اہے یا نہيں تو وہ پاک ہے ۔ اسی طرح اگریہ علم ہو بھی کہ وہ دل سے مسلمان نہيں ہوا ليکن ایسی کوئی بات اس سے ظاہر نہ ہوئی ہو جو توحيد اور رسالت کی شهادت کے منافی ہو تو وہ پاک ہے ۔

٨۔ تبعيت

مسئلہ ٢١ ۵ تبعيت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نجس چيز، کسی دوسری چيز کے پاک ہونے کی وجہ سے پاک ہو جائے۔

مسئلہ ٢١ ۶ اگر شراب سرکہ بن جائے تو اس کا برتن بھی اس جگہ تک جهاں تک شراب ابل کر پهنچی ہو پاک ہو جاتا ہے اور اگر کپڑا یا کوئی دوسری چيز بھی نجس ہوئی ہو جو عموماًاس پر رکھی جاتی ہے وہ بھی پاک ہو جاتی ہے ، ليکن اگر برتن کی بيرونی سطح اس شراب سے آلودہ ہو جائے تو احتياط واجب یہ ہے کہ شراب کے سرکہ بن جانے کے بعدا س سے پرہيز کيا جائے۔

مسئلہ ٢١٧ کافر کابچہ تبعيت کےذریعے دو صورتوں ميں پاک ہو جاتا ہے :

١)جو کافر مرد مسلمان ہو جائے اس کا بچہ طهارت ميں اس کے تابع ہے اور اسی طرح بچے کا دادا یا بچے کی ماں یا دادی مسلما ن ہو جائيں تب بھی یهی حکم ہے ۔

٢)کافر کا بچہ کسی مسلمان کے ہاتھوں قيدی بناہو اوراس کے باپ یا اجدادميں سے کوئی اس بچے کے ساته نہ ہو۔

اور ان دونوں صورتوں ميں بچے کے تبعيت کی بنا پر پاک ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ مميز ہونے کی صورت ميں اظهارِکفر نہ کرے۔


مسئلہ ٢١٨ وہ تختہ یا سل جس پر ميت کوغسل دیا جائے اور وہ کپڑا جس سے ميت کی شرمگاہ ڈهانپی جائے نيز غسال کے ہاتھ، یہ تمام چيزیں جو ميت کے ساته ہی دهل گئی ہيں ، غسل مکمل ہونے کے بعد پاک ہو جاتی ہيں ۔

مسئلہ ٢١٩ اگر کوئی شخص کسی چيز کو پانی سے دهوئے تو اس چيز کے پاک ہونے پر اس شخص کا وہ ہاتھ بھی جو اس چيز کے ساته ہی دهل چکا ہے ، پاک ہو جاتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٠ اگر لباس یا اس جيسی کسی چيز کو قليل پانی سے دهویا جائے اور معمول کے مطابق نچوڑ دیا جائے تاکہ جس پانی سے اسے دهویا گيا ہے وہ نکل جائے تو جو پانی اس ميں رہ جائے وہ پاک ہے ، اور اس لباس سے جدا ہو جانے والے پانی کا حکم مسئلہ نمبر” ٢٧ “ميں گذر چکا ہے ۔

مسئلہ ٢٢١ جب نجس برتن کو قليل پانی سے دهویا جائے تو جو پانی برتن کو پاک کرنے کے ليے اس پر ڈالا جائے اس کے بہہ جانے کے بعدجو پانی معمول کے مطابق اس ميں باقی رہ جائے، پاک ہے اور وہ پانی جو اس سے جدا ہو اس کا حکم مسئلہ نمبر” ٢٧ “ميں بيا ن ہو چکاہے۔

٩۔ عين نجاست کا دور ہونا

مسئلہ ٢٢٢ اگر کسی حيوان کا بدن عين نجاست مثلاً خون یا نجس شدہ چيز مثلاًنجس پانی سے آلودہ ہو جائے تو اس نجاست کے دور ہوتے ہی حيوان کا بدن پاک ہو جاتا ہے ۔ یهی صورت انسانی بدن کے اندرونی حصوں مثلاًمنہ اور ناک کے اندر کی ہے مثال کے طور پر اگر مسوڑہوں سے خون نکلے اور لعاب دهن ميں گهل کر ختم ہو جائے تو منہ کے اندرونی حصے کو پاک کرنا ضروری نہيں ہے ، ليکن اگر مصنوعی دانتوںسے منہ کا خون لگ جائے تو احتياط واجب کی بنا پر انہيں پاک کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٢٣ اگر دانتوں کے ریخوں ميں غذا رہ جائے اور پھر منہ کے اندر خون نکل آئے تو اگر انسان نہ جانتا ہو کہ خون غذا تک پهنچا ہے تو وہ غذا پاک ہے ، ليکن اگر خون غذا تک پهنچ جائے تو بنا بر احتياط نجس ہو جائے گی۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ہونٹوں اور آنکه کی پلکوں کے وہ حصے جو بند کرتے وقت ایک دوسرے سے مل جاتے ہيں اور وہ مقامات بھی جن کے بارے ميں انسان کو یہ علم نہ ہو کہ آیا انہيں اندرونی حصہ سمجھا جائے یا ظاہری اور ان پر نجاست لگ جائے تو بنا بر احتياط پاک کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۵ اگر نجس گردوغبار خشک کپڑے، قالين یا ایسی ہی کسی چيز پر بيٹھ جائے چنانچہ کپڑے وغيرہ کو یوں جهاڑ ليا جائے کہ نجس مٹی یا خاک اس سے الگ ہو جائے تو اس کے بعد اگر کوئی تر چيزکپڑے وغيرہ کو مس ہو جائے تو وہ نجس نہيں ہوگی۔


١٠ ۔ نجاست کھانے والے حيوان کا استبرا

مسئلہ ٢٢ ۶ جس حيوان کو انسانی نجاست کھانے کی عادت پڑ گئی ہو اس کا پيشاب اور پاخانہ نجس ہے اور اگر اسے پاک کرنا چاہيں تو ضروری ہے کہ اس کا استبرا کيا جائے یعنی اتنے عرصے تک اسے نجاست نہ کھانے دیں اور بنابر احتياط پاک غذا دیں کہ پھر اسے نجاست کھانے والا نہ کها جاسکے۔

هاں، احتياط واجب یہ ہے کہ نجاست کھانے والے اونٹ کے ساته چاليس، گائے کے ساته بيس، بھيڑ کے ساته دس، مرغابی کے ساته پانچ اور گھریلو مرغی کے ساته تين دن اس طریقے پر عمل کيا جائے اور اگر مقررہ مدت گزر نے کے بعد بھی انہيں نجاست خورکھاجائے تومزید اتنے عرصے تک مذکورہ طریقے پرعمل ضروری ہے کہ پھرانہيں نجاست خورنہ کها جائے۔

١١ ۔ مسلمان کا غائب ہوجانا

مسئلہ ٢٢٧ اگر کسی مسلمان کے بدن یا لباس یا دوسری اشياء کے بارے ميں جو اس کے اختيا ر ميں ہو ں مثلاً برتن، قالين وغيرہ، نجاست کا یقين ہو جائے اور پھر وہ مسلمان وہاں سے غير حاضر ہو جائے تو یہ اشيا ء اس شرط کے ساته پاک ہيں کہ انسان احتمال دے کہ اس شخص نے ان اشياء کو پاک کر ليا ہو گا اور بنابر احتياط واجب ان شرائط کا خيا ل ر کهنا ضروری ہے -:

١) جس چيز نے اس مسلمان کے لباس یا بدن کو نجس کيا ہے وہ خود بھی اسے نجس سمجھتا ہو، لہٰذا اگر مثال کے طور پر اس کا لباس رطوبت کے ساته کافر کے بدن سے مس ہو گيا ہو ليکن وہ اسے نجس ہی نہ سمجھتا ہو تو اس کے چلے جانے کے بعد اس کے لباس کو پاک نہيں سمجھا جا سکتا۔

٢) اسے علم ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس چيز سے لگ گيا ہے اور نجاست و طهارت کے معاملے ميں لا پروا بھی نہ ہو۔

٣) انسان اس مسلمان کو وہ چيز ایسے کام ميں استعمال کرتے ہو ئے دیکھے کہ جس ميں اس کا پاک ہونا شرط ہو، مثلاً اسے اس لباس کے ساته نماز پڑھتے ہوئے یا اس برتن ميں کھانا کھاتے ہوئے دیکھے ۔

۴) اس بات کا احتمال ہو کہ وہ مسلمان جانتا ہے کہ اس چيز کے ساته جس کام کو وہ انجام دے رہا ہے اس ميں طهارت شرط ہے ، لہٰذا مثال کے طور پر اگر وہ مسلمان یہ نہيں جانتا کہ نمازپڑھنے والے کا لباس پاک ہونا ضروری ہے اور اس لباس کے ساته ہی نماز پڑھ رہا ہوجو نجس ہو گيا تھا تو اس لباس کو پاک نہيں سمجھا جا سکتا۔

۵) يہ کہ وہ مسلمان بالغ ہو۔


مسئلہ ٢٢٨ اگر کسی انسان کو یقين یا اطمينان ہوجائے کہ جوچيزنجس ہوگئی تھی اب پاک ہوگئی ہے یا دو عادل یا ایک عادل شخص اس کے پاک ہونے کی خبر دے، اسی طرح اگر ایک قابل اعتماد شخص جس کی کهی ہوئی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو، کسی چيزکے پاک ہونے کی خبر دے تو وہ چيز پاک ہے ۔

اور یهی حکم اس نجس چيز کے بارے ميں ہے جو کسی شخص کے اختيار ميں ہو اور وہ اس کے پاک ہونے کی خبر دے، جب کہ وہ شخص نجاست وطهارت کے مسئلے ميں لاپروا نہ سمجھا جاتا ہو یا کسی مسلمان نے نجس چيز کو پاک کر ليا ہو اگرچہ معلوم نہ ہو کہ صحيح طرح پاک کيا ہے یا نہيں ۔

مسئلہ ٢٢٩ جس شخص کو لباس دهونے کے لئے وکيل بنایا گيا ہو اور وہ کهے کہ ميں نے کپڑے دهو دئے ہيں اور اس کے کهنے سے اطمينان حاصل ہوجائے یا وہ شخص قابل اعتماد ہو او ر اس کی کهی ہوئی بات کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو تو وہ لباس پاک ہے ، ليکن اگر لباس اس کے اختيار ميں ہو جب کہ اس پر نجاست وطهارت کے مسئلے ميں لا پر وائی کا الزام بھی نہ ہو تو اطمينان کا حاصل کرنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٠ اگر کسی شخص کی یہ حالت ہوجائے کہ اسے کوئی نجس چيز دهوتے وقت یقين یا اطمينان ہی نہ آتا ہو تو وہ طهارت کے مسئلے ميں عام افراد کے درميان رائج طریقے پر اکتفا کر سکتا ہے ۔

١٢ ۔ معمول کے مطابق ذبيحہ کے خون کا بہہ جانا

مسئلہ ٢٣١ جيسا کہ مسئلہ ” ٩٨ “ميں بيان کيا جا چکاہے کہ جب کسی جانور کو شرعی طریقے سے ذبح کرنے کے بعد اس کے بدن سے معمول کے مطابق خون نکل جائے تو اس کے بدن کے اندر باقی رہ جانے والا خون پاک ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢ مذکورہ بالا حکم صرف حلال گوشت جانوروں کے بارے ميں ہے ، اور حرام گوشت جانوروں ميں جاری نہيں ہوگا۔

برتنوں کے احکام

مسئلہ ٢٣٣ جو برتن کتّے، سو رٔ یا مردار کی کھال سے بنایا جائے اس ميں کسی چيز کا کھانا پينا جب کہ تری اس کی نجاست کا موجب بنی ہو، حرام ہے اور اس برتن کو وضو، غسل اور ایسے دوسرے کاموں ميں استعمال نہيں کيا جا سکتا جنہيں پاک چيز سے انجام دینا ضروری ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ کتے، سو رٔاور مردار کے چمڑے کو خواہ وہ برتن کی شکل ميں نہ بھی ہو استعمال نہ کيا جائے۔


مسئلہ ٢٣ ۴ سونے اور چاندی کے برتنوں ميں کھانا پينا حرام ہے اور بنا بر احتياط واجب ان برتنوں کا کسی بھی طرح کا استعمال یهاں تک کہ کمرے کو زینت دینا بھی جائز نہيں ہے ليکن انہيں سنبهالنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔ البتہ سونے اور چاندی کے برتن بنانا، ان برتنوں کو بنانے کی اجرت لينا اور خرید وفروخت کرنا جائز ہے ، مگر یہ کہ زینت کے لئے بنائے جائيں کہ وہ محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵ پيالی کا کنڈا جو سونے اور چاندی سے بنا ہوا ہو، اگر اسے پيالی سے جدا کرنے کے بعد برتن کها جائے تو ا س پر سونے اور چاندی کے برتنوں کا حکم جاری ہوگا، ليکن اگر جدا کرنے کے بعد اسے برتن نہ کها جائے تو اس کے استعمال ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٣ ۶ ایسے برتنوں کے استعمال ميں کوئی حرج نہيں جن پر سونے اور چاندی کا پانی چڑھایا گيا ہو، ليکن جس برتن پر چاندی کا کام کيا گيا ہو اس برتن کے چاندی کے کام والے مقام سے نہ کوئی چيز کھائے، نہ پئے۔

مسئلہ ٢٣٧ اگرکسی دهات کو سونے اور چاندی ميں مخلوط کر کے برتن بنائے جائيں اور دهات اتنی مقدار ميں ہو کہ اس برتن کو سونے اورچاندی کا برتن نہ کها جائے تو اس کے استعمال ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٣٨ اگر غذا سونے چاندی کے برتنوں ميں رکھی ہو اور کوئی شخص اس نيت سے کہ سونے چاندی کے برتنوں ميں کھانا پينا حرام ہے اسے دوسرے برتنوں ميں انڈیل لے تو لوگوں کی نگاہوں ميں دوسرے برتنوں ميں کھانا، اگر پهلے برتن کا استعمال نہ سمجھا جاتا ہو تو ایسا کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٩ حقےّ کے چلم کا سوراخوں والا ڈهکنا، تلوار، چھری یا چاقو کا ميان اور قرآن مجيد رکھنے کا ڈبہ اگر سونے چاندی سے بنے ہوں تو کوئی حرج نہيں ہے ۔ تاہم احتياط مستحب یہ ہے کہ سونے چاندی کی بنی ہوئی عطردانی، سرمہ دانی اور افيم دانی استعمال نہ کی جائے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠ مجبوری کی حالت ميں سونے چاندی کے برتنوں ميں ضرورت پوری ہونے کی حد تک کھانے پينے ميں کوئی حرج نہيں ، ليکن اس سے زیادہ کھانا پينا جائز نہيں ۔

مسئلہ ٢ ۴ ١ ایسے برتن کے استعمال ميں کوئی حرج نہيں جس کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ یہ سونے چاندی کا ہے یا کسی اور چيز سے بنا ہوا ہے ۔


وضو

مسئلہ ٢ ۴ ٢ وضوميں واجب ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھ دهوئے جائيں، سر کے اگلے حصے اور دونوں پاؤں کے سامنے والے حصے کا مسح کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٣ چھرے کو لمبائی ميں پيشانی کے اوپر اس جگہ سے لے کر جهاں سر کے بال اگتے ہيں ٹھ وڑی کے آخری کنارے تک دهونا ضروری ہے اور چوڑائی ميں بيچ کی انگلی اور انگوٹھ ے کے پهيلاؤميں جتنی جگہ آجائے اسے دهونا ضروری ہے اور اتنی مقدار دهل جانے کا یقين حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس مقدار کی اطراف سے بھی کچھ دهولے۔

مسئلہ ٢ ۴۴ اگر کسی شخص کے ہاتھ یا چہرہ عام لوگوں کی نسبت بڑے یا چھوٹے ہوں تو ضروری ہے کہ عام لوگوں کو دیکھے کہ کهاں تک اپنا چہرہ دهوتے ہيں پھر وہ بھی اتنا ہی دهوئے۔

هاں، اگر اس کے ہاتھ اور چہرہ دونوں عام لوگوں کی نسبت فرق کرتے ہوں ليکن آپس ميں متناسب ہوں تو ضروری ہے کہ پچهلے مسئلے ميں بيان شدہ کيفيت کے مطابق دهوئے۔

مسئلہ ٢ ۴۵ اگر اس بات کا احتمال ہو کہ بهوؤں، آنکه کے گوشوں اور ہونٹوں پر ميل یا کوئی اور ایسی چيز ہے جو پانی کے ان تک پهنچنے ميں مانع ہے اور اس کا یہ احتمال عقلائی ہو تو ضروری ہے کہ وضو سے پهلے تحقيق کر لے تاکہ اگر کوئی ایسی چيز ہو تو اسے دور کر لے۔

مسئلہ ٢ ۴۶ اگر چھرے کی جلد بالوں کے نيچے سے نظر آتی ہوتو پانی جلد تک پهنچانا ضروری ہے اور اگر نظر نہ آتی ہو تو بالوں کا دهونا کافی ہے اور ان کے نيچے تک پانی پهنچانا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ آیا اس کے چھرے کی جلد بالوں کے نيچے سے نظر آتی ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ بالوں کو دهوئے اور پانی کو جلد تک پهنچائے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨ ناک کے اندرونی حصے اور ہونٹوں اور آنکہوں کے ان حصوں کا جو بند کرنے پر نظر نہيں آتے، دهونا واجب نہيں ہے ، ليکن اس بات کا یقين حاصل کرنا ضروری ہے کہ جن جگہوں کو دهونا ضروری ہے اس ميں سے کچھ باقی نہيں رہا ہے اور جو شخص یہ نہيں جانتا تھا کہ واجب کی انجا م دهی کے یقين تک دهونا ضروری ہے ، اگر نہ جانتا ہو کہ جو وضو اس نے کئے ہيں اس ميں اس نے اس مقدار تک دهویا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اس وضو کے ساته پڑھی گئی نماز کا وقت اگر باقی ہے تو اسے نئے وضو کے ساته دوبارہ پڑھے اورجن نمازوں کا وقت گذر چکا ہے ان کی قضا کرے۔


مسئلہ ٢ ۴ ٩ ہاتھوں کو وضو ميں اوپر سے نيچے کی طرف دهونا ضروری ہے اور اگر نيچے سے اوپر کی طرف دهوئے تو وضو باطل ہے اور بنا بر احتياط واجب چھرے کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠ اگر ہاتھ کو تر کر کے چھرے اور ہاتھوں پر پهيرا جائے اور ہاتھ ميں اتنی تری ہوکہ ہاتھ پهيرنے سے ذرا سا پانی ان پر بهے تو کافی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ١ چہرہ دهونے کے بعد ضروری ہے کہ پهلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ کهنی سے انگليوں کے سروں تک دهویا جائے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢ کهنی کے مکمل طور پر دهل جانے کا یقين حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کهنی سے اوپر کی کچھ مقدار بھی دهوئے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣ جس شخص نے چہرہ دهونے سے پهلے اپنے ہاتھوں کو کلائی تک دهویا ہو ضروری ہے کہ وضو کرتے وقت انگليوں کے سروں تک دهوئے، اگر وہ صرف کلائی تک دهوئے گا تو اس کا وضو باطل ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۴ وضو ميں چھرے اور ہاتھوں کا دهونا پهلی مرتبہ واجب، دوسری مرتبہ مستحب اور تيسری مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ دهونا حرام ہے ۔ جهاں تک یہ سوال ہے کہ کون سا دهونا پهلا، دوسرا یا تيسرا ہے اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ اعضاء وضو کو وضوکی نيت سے دهویا جائے، مثلاًاگر تين مرتبہ چھرے پر پانی ڈالے اور تيسری مرتبہ وضو کے لئے دهونے کی نيت کرے، تو کوئی حرج نہيں اور تيسری مرتبہ دهونا پهلا دهونا شمار ہو گا، ليکن اگر تين مرتبہ چھرے پر پانی ڈالے اور ہر مرتبہ وضو کے لئے دهونے کی نيت کرے تو تيسری مرتبہ پانی ڈالنا حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۵ ضروری ہے کہ دونوںہاتھ دهونے کے بعد سر کے اگلے حصے کا، ہاتھ ميں رہ جانے والی وضو کے پانی کی تری سے مسح کرے اور احتياط واجب یہ ہے کہ مسح سيدهے ہاتھ کی ہتھيلی کی طرف سے کيا جائے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اوپر سے نيچے کی طرف انجام دیا جائے۔

مسئلہ ٢ ۵۶ سر کے چار حصوں ميں سے ایک حصہ جو پيشانی سے ملاہو ا ہے ، مسح کر نے کا مقام ہے ۔ اس حصے ميں جهاں بھی اور جس انداز سے بھی مسح کرے کافی ہے اگرچہ مستحب ہے کہ لمبائی ميں ایک انگلی کی لمبائی کے لگ بھگ اور چوڑائی ميں تين ملی ہوئی انگليوں کے لگ بھگ جگہ پر مسح کيا جائے۔


مسئلہ ٢ ۵ ٧ یہ ضروری نہيں کہ سر کا مسح جلد پر کيا جائے بلکہ سر کے اگلے حصے کے بالوں پر کرنا بھی درست ہے ليکن اگر کسی کے سر کے بال اتنے لمبے ہوں کہ مثلاً کنگھا کرتے وقت چھرے پر آگریں یا سر کے کسی دوسرے حصے تک جا پهنچيں تو ضروری ہے کہ بالوں کی جڑ پر یا مانگ نکال کر سر کی جلد پر مسح کرے اور اگر وہ چھرے پر آگرنے والے یا سر کے دوسرے حصے تک پهنچنے والے بالوں کو آگے کی طرف جمع کر کے ان پر مسح کرے یا سر کے دوسرے حصوں کے بالوں پر جو آگے بڑھ آئے ہوں مسح کرے تو ایسا مسح باطل ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨ ضروری ہے سر کے مسح کے بعد ہاتھوں ميں بچ جانے والی وضو کے پانی کی تری سے پاؤں کے اوپری حصے کا مسح کرے۔ اس کی واجب مقدار پاؤں کی ایک انگلی سے لے کر گٹوں کے ابهار تک ہے اور احتياط مستحب پاؤں کے جوڑ تک ہے ۔ احتياط واجب یہ ہے کہ سيدهے پاؤں کا مسح الٹے پاؤں سے پهلے کرے، اسی طرح سيدهے ہاتھ سے سيدهے پاؤں اور الٹے ہاتھ سے الٹے پاؤں کا مسح کرے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩ پاؤں پر مسح کی چوڑائی جتنی بھی ہو کافی ہے ليکن افضل یہ ہے کہ پاؤں کے پورے اوپری حصے کا مسح پوری ہتھيلی سے کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠ احتياط واجب یہ ہے کہ پاؤں کا مسح کرتے وقت ہاتھ انگليوں کے سروں پر رکھے اور پھر پاؤں کے ابهار کی جانب کھينچے یا ہاتھ گٹوں کے ابهار یا پاؤں کے جوڑ پر رکھ کر انگليوں کے سروں کی طرف کھينچے، یہ نہ ہو کہ پورا ہاتھ پاؤ ںپر رکھ کر تهوڑا سا کھينچ دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ١ سر اور پاؤں کا مسح کرتے وقت ضروری ہے کہ ہاتھ کو ان پر کھينچے، نہ کہ ہاتھ کو رکھ کر سر یا پاؤں کو حرکت دے، ليکن ہاتھ کھينچنے کے وقت سر یا پاؤں کے معمولی حرکت کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢ ضروری ہے کہ مسح کی جگہ خشک ہو، لہٰذا اگر وہ اس قدر تر ہو کہ ہتھيلی کی تری اس پر اثر نہ کرے تو مسح باطل ہے ۔ ہاں، اگر اس پر نمی یا تری اتنی کم ہو کہ مسح کے بعد جو تری نظر آئے اسے صرف ہاتھ کی تری کها جائے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣ اگر مسح کرنے کے لئے ہتھيلی پر تری باقی نہ رہی ہو تو کسی اور پانی سے تر نہيں کيا جاسکتا، بلکہ ایسی صورت ميں ضروری ہے کہ داڑھی کے اس حصے سے جو چھرے کی حدود ميں ہے ، تری لے کر مسح کرے اور داڑھی کے علاوہ کسی اور جگہ سے تری لے کر مسح کرنا محلِ اشکال ہے ۔


مسئلہ ٢ ۶۴ اگر ہتھيلی کی تری صرف سر کے مسح کے لئے کافی ہو تو سر کا مسح اس تری سے کرے اور پاؤں کے مسح کے لئے داڑھی سے، جو چھرے کی حدود ميں داخل ہے ، تری حاصل کرے۔

مسئلہ ٢ ۶۵ موزے اور جوتے پر مسح کرنا باطل ہے ۔ ہاں، اگر سخت سردی کی وجہ سے یا چور یا درندے وغيرہ کے خوف سے جوتے یا موزے نہ اتار سکے تو احتياط واجب یہ ہے کہ موزے اور جوتے پر مسح کرے اور تيمم بھی کرے۔

مسئلہ ٢ ۶۶ اگر پاؤں کا اوپر والا حصہ نجس ہو اور مسح کرنے کے لئے اسے پاک نہ کيا جا سکتا ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے۔

ارتماسی وضو

مسئلہ ٢ ۶ ٧ ارتماسی وضو یہ ہے کہ انسان چھرے اور ہاتھوں کو وضو کی نيت سے پانی ميں ڈبودے ليکن ارتماسی طریقے سے دهلے ہوئے ہاتھ کی تری سے مسح کرنے ميں اشکال ہے ۔ لہذا، اگر بایاں ہاتھ ارتماسی طریقے سے دهوئے تو اس ہتھيلی کی طرف سے کچھ مقدار پانی ميں نہ ڈالے بلکہ سيدهے ہاتھ سے اس حصے کو دهو لے۔

احتياط واجب کی بنا پر اعضائے وضو کوپانی سے باہر نکالنے پر ارتماسی وضو محقق نہيں ہوتا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨ ارتماسی وضو ميں ہاتھوں کو اوپر سے نيچے کی طرف دهونا ضروری ہے ۔ پس اگر ہاتھوں کو پانی ميں وضو کے قصد سے ڈبوئے تو ضروری ہے کہ کهنيوں کی طرف سے داخل کرے۔ اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر چھرے کو پيشانی کی طرف سے پانی ميں داخل کرے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩ وضو ميں بعض اعضاء کو ارتماسی اور بعض کو غير ارتماسی طریقے سے دهونے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

وضو کے وقت کی مستحب دعائيں

مسئلہ ٢٧٠ جو شخص وضو کر رہا ہو اس کے لئے مستحب ہے کہ:

جب پانی ہاتھ ميں لے تو کهے:

بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِیْن

اور کلی کرتے وقت یہ کهے:

اَللّٰهُمَّ لَقِّنِیْ حُجَّتِیْ یَوْمَ ا لَْٔقَاکَ وَ ا طَْٔلِقْ لِسَانِیْ بِذِکْرِک

اور ناک ميں پانی ڈالتے وقت یہ دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ لاَ تُحَرِّمْ عَلَیَّ رِیْحَ الْجَنَّةِ وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ یَّشُمُّ رِیْحَهَا وَ رَوْحَهَا وَ طِيْبَهَا


چهرہ دهوتے وقت یہ دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ بَيِّضْ وَجْهِیْ یَوْمَ تَسْوَدُّ فِيْهِ الْوُجُوْهُ وَلاَ تُسَوِّدْ وَجْهِیْ یَوْمَ تَبْيَضُّ فِيْهِ الْوُجُوه

دایاں ہاتھ دهوتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ ا عَْٔطِنِیْ کِتَابِیْ بِيَمِيْنِیْ وَالْخُلْدَ فِی الْجَنَانِ بِيَسَارِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَاباً یَّسِيْرًا

بایاں ہاتھ دهوتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ لاَ تُعْطِنِیْ کِتَابِی بِشِمَالِی وَلاَ مِنْ وَّرَاءِ ظَهْرِیْ وَلاَ تَجْعَلْهَا مَغْلُوْلَةً إِلٰی عُنُقِیْ وَ ا عَُٔوْذُ بِکَ مِن مُّقَطَّعَاتِ النِّيْرَان

سر کا مسح کرتے وقت یہ دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ غَشِّنِیْ بِرَحْمَتِکَ وَبَرَکَاتِکَ وَعَفْوِک

پاؤں کا مسح کرتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِیْ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ فِيْهِ اْلا قَْٔدَامُ وَاجْعَلْ سَعْيِیْ فِی مَا یُرْضِيْکَ عَنِّی یَا ذَا الْجَلاَلِ وَاْلإِکْرَام اور مستحب ہے کہ جب وضو کر لے تو یہ پڑھے :

ا شَْٔهَدُ ا نَْٔ لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَهِّرِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِين

وضو صحيح ہونے کی شرائط

وضو صحيح ہونے کی چند شرائط ہيں :

پهلی شرط: وضو کا پانی پاک ہو۔

دوسری شرط: وضو کا پانی مطلق ہو۔

مسئلہ ٢٧١ نجس یا مضاف پانی سے وضو باطل ہے ، چاہے وضو کرنے والا شخص اس کے نجس یا مضاف ہونے کے بارے ميں علم ہی نہ رکھتا ہو یا بھول گيا ہو اور اگر وہ اس وضو کے ساته نماز پڑھ چکا ہو توضروری ہے کہ صحيح وضو کے ساته دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ٢٧٢ اگر مٹی ملے ہوئے مضاف پانی کے علاوہ کوئی اور پانی وضو کے لئے نہ ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کر لے ليکن اگر وقت تنگ نہ ہو تو ضروری ہے کہ پانی کے صاف ہونے کا انتظار کرے یا اسے صاف کر کے وضو کر لے۔


تيسری شرط: یہ کہ وضو کا پانی مباح ہو اور احتياط واجب کی بناپر جس فضاميں وضو کررہاہے وہ بهی مباح ہو۔

مسئلہ ٢٧٣ غصبی پانی یا ایسے پانی سے جس کے مالک کی رضایت پر دليل نہ رکھتا ہو، وضو کرنا حرام اور باطل ہے اور اگر وضوکا پانی غصبی جگہ پر گرے اور اس کے علاوہ وضو کرنے کے لئے کوئی جگہ بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے اور اگر اس جگہ کہ علاوہ کہيں وضو کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ وہاں وضو کرے اور اگر کوئی شخص گناہ کرتے ہوئے وہيں وضو کرلے تو اس وضو کا صحيح ہونا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴ کسی مدرسے کے ایسے حوض سے وضو کرنا کہ جس کے بارے ميں انسان نہ جانتا ہو کہ یہ حوض تمام افراد کے لئے وقف ہے یا فقط مدرسے کے طلاب کے لئے ، جائز نہيں ہے اور اگر انسان کو، چاہے عام لوگوں کو وضو کرتا ہوا دیکھ کر ہی سهی، یہ اطمينان ہو جائے کہ یہ تمام افراد کے لئے وقف ہے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۵ جو شخص کسی مسجد ميں نما ز نہ پڑھنا چاہتا ہو اور یہ بھی نہ جانتا ہو کہ آیا اس مسجد کا حوض تما م افراد کے لئے وقف ہے یا صرف اس مسجد ميں نماز پڑھنے والوں کے لئے تو اس کے لئے ا س حوض سے وضو کرنا صحيح نہيں ہے ، ليکن اگر عموماًوہ لوگ بھی اس حوض سے وضو کرتے ہوں جو اس مسجد ميں نماز نہ پڑھنا چاہتے ہوں اور ان کے وضو کرنے سے عموميت وقف کا اطمينان حاصل ہو جائے تو اس حوض سے وضو کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ سرائے، مسافر خانوں اور ایسے ہی دوسرے مقامات کے حوض سے ان لوگوں کے لئے جو ان ميں مقيم نہ ہوں، وضو کرنا اس صورت ميں صحيح ہے جب ا ن کے مالکان کی رضایت کا اطمينان ہو جائے، چاہے یہ اطمينان وہاں نہ رہنے والے لوگوں کے وضو کرنے سے حاصل ہو۔

مسئلہ ٢٧٧ بڑی نهروں سے وضو کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے اگرچہ انسان ان کے مالک کی رضایت کا علم نہ رکھتا ہو، ليکن اگر ان نهروں کا مالک وضو کرنے سے منع کرے یا یہ کہ انسان کو علم ہو کہ اس کا مالک راضی نہيں ہے تو ان سے وضو کرنا جائز نہيں ہے ۔ یهی حکم احتياط واجب کی بنا پر اس وقت ہے جب مالک بچہ یا پاگل ہو یا یہ نہر کسی غاصب کے قبضے ميں ہو یا گمان ہو کہ مالک راضی نہيں ہے ۔ ہاں، نهروں اور قناتوں کے اس پانی سے جو آبادی مثلاًدیهات سے گزرتا ہے ، وضو کرنے پينے اور اس جيسے دوسرے کام لينے ميں کوئی حرج نہيں چاہے ان کا مالک بچہ یا پاگل ہی کيوں نہ ہو۔

مسئلہ ٢٧٨ اگر کوئی شخص بھول جائے کہ پانی غصبی ہے اور اس سے وضو کر لے تو اس کا وضو صحيح ہے ، ليکن اگر خود پانی کو غصب کيا ہو اور بعد ميں اس کا غصبی ہونا بھول کر وضو کر لے تو اگر اس نے غصب سے توبہ نہ کی ہو، اس کا وضو باطل ہے اور اگر توبہ کر چکا ہو تو اس کا باطل ہو نا محلِ اشکال ہے ۔


چوتھی شرط : یہ کہ وضو کے پانی کا برتن مباح ہو۔

پانچویں شرط:وضو کے پانی کا برتن احتياط واجب کی بنا پر سونے اور چاندی کا نہ ہو۔

ان دو شرائط کی تفصيل اگلے مسائل ميں آرہی ہے ۔

مسئلہ ٢٧٩ اگر وضو کا پانی غصبی برتن ميں ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور پانی نہ ہو تو اگر وہ اس پانی کو شرعی طریقے سے دوسرے برتن ميں انڈیل سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسے کسی دوسرے برتن ميں انڈیل لے، پھر اس سے وضو کرے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے یا اگر کوئی پانی موجود ہو تو اس سے وضو کرے۔ ہاں، ان دونوں صورتوں ميں اگر وہ معصيت کرے اور پانی کو اس ميں سے اٹھ ائے اور اٹھ ا نے کے بعدوضو کرے تو اس کا وضو صحيح ہو گا۔

اسی طریقے سے اگر سونے یا چاندی کے برتن سے وضو کرے تو وضو صحيح ہے چاہے دوسرا پانی ہو یا نہ ہو۔

اگر غصبی برتن سے ارتماسی وضو کرے تو وضو حرام اور باطل ہے چاہے دوسرا پانی ہو یا نہ ہو، ليکن اگر سونے اور چاندی کے برتن ميں ارتماسی وضو کرے تو اس کا وضو جائز اور صحيح ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٨٠ جس حوض ميں مثلاًایک اینٹ یا ایک پتّھر غصبی ہو اور عرف عام ميں اس حوض ميں سے پانی نکالنا اس اینٹ یا پتّھر پر تصرف نہ سمجھا جائے تو کوئی حرج نہيں اور اگر تصرف سمجھا جائے اور اس کے علاوہ کوئی اور پانی بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور پانی موجود ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس پانی سے وضو کرے، ليکن اگر دونوں صورتوں ميں معصيت کرتے ہوئے پانی اٹھ ائے اور اٹھ انے کے بعد وضو کرے تو اس کا وضو صحيح ہے ۔ جب کہ دونوں صورتوں ميں ارتماسی وضو کرنا، اگر غصبی چيز ميں تصرف سمجھا جائے تو باطل ہے ۔

مسئلہ ٢٨١ ائمہ عليهم السلام یا امام زادگان کے صحن ميں جو پهلے قبرستان تھا اگر کوئی حوض یا نہر کهودی جائے اور یہ علم نہ ہو کہ صحن کی زمين قبرستان کے لئے وقف ہو چکی ہے تو اس حوض یا نہر کے پانی سے وضو کرنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

چھٹی شرط:وضو کے اعضاء دهوتے وقت اور مسح کرتے وقت پاک ہوں اگر چہ یہ طهارت

وضو کے دوران معتصم پانی سے دهوتے وقت حاصل ہو جائے۔ معتصم اس پانی کوکہتے ہيں جو نجاست کے ملنے سے نجس نہ ہو جيسے بارش کا پانی، کرُ یا جاری پانی۔

مسئلہ ٢٨٢ اگر وضو مکمل ہونے سے پهلے وہ جگہ جس کو دهویا یا مسح کيا جاچکا ہو نجس ہو جائے تو وضو صحيح ہو گا۔

مسئلہ ٢٨٣ اگر اعضاء وضوکے علاوہ انسان کے بدن کا کوئی حصہ نجس ہو تو اس کا وضو صحيح ہے ليکن اگر پيشاب یا پاخانے کی جگہ پاک نہ کی ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ انہيں پاک کرنے کے بعد وضو کرے۔


مسئلہ ٢٨ ۴ اگر اعضاء وضو ميں سے کوئی ایک نجس ہو اور وضو کرنے کے بعد شک کرے کہ وضو سے پهلے اس جگہ کو پاک کيا تھا یا نہيں ، تو اگر وضو کرتے وقت وہ اس جگہ کے پاک یا نجس ہونے کے بارے ميں متوجہ نہيں تھا تو اس کا وضو باطل ہے اور اگر جانتا ہو یا احتمال رکھتا ہو کہ متوجہ تھا تو اس کا وضو صحيح ہے اور دونوں صورتوں ميں نجس جگہ کو پاک کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٨ ۵ اگر چھرے یا ہاتھوں پر کوئی ایسی خراش یا زخم ہو جس کا خون نہ رک رہا ہو اورپانی اس کے لئے مضر بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس عضو کے صحيح وسالم اجزاء کو دهونے کے بعد وضو کے مسئلہ نمبر” ٢ ۴ ٩ “ميں بيان شدہ طریقے کے مطابق ترتيب کا خيال رکھتے ہوئے زخم یا خراش والے حصے کو کرُیا جاری پانی ميں ڈبو دے اور اسے اس قدر دبائے کہ خون آنا بند ہو جائے اور ہاتھ کو پانی کے نيچے ہی زخم یا خراش پر وضو کی نيت سے اوپر سے نيچے کی طرف پهيرے تاکہ پانی اس پر جاری ہوجائے، اس کے بعد بقيہ وضو کو انجام دے اور اس بات کا خيال رکھے کہ مسح ہاتھ کی تری سے ہی انجام پائے۔

ساتویں شرط:وضو اور نما زکے لئے وقت ميں گنجائش ہو۔

مسئلہ ٢٨ ۶ اگر وقت اتنا تنگ ہو کہ وضو کرنے کی صورت ميں ساری کی ساری نما زیا اس کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے تو ضروری ہے کہ تيمم کر لے ليکن اگر تيمم اور وضو کے لئے یکساں وقت درکار ہو تو پھر وضو کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٨٧ جس شخص کے لئے نماز کا وقت تنگ ہونے کے باعث تيمم کرنا ضروری ہو اور وہ اس نيت سے کہ وضو کرنا مستحب ہے یا کسی ایسے مستحب کام مثلاً قرآن مجيد پڑھنے کے لئے وضو کرے جس کے لئے شریعت ميں وضو کرنے کا حکم آیا ہے تو اس کا وضو صحيح ہے ، ليکن اگر اس نماز کو پڑھنے کے لئے اس طرح وضو کرے کہ اگر باوضو ہو کر نمازپڑھنے کا حکم نہ ہوتا تووضو کا ارادہ بھی نہ ہوتا، تو یہ وضو باطل ہے ۔

آٹھ ویں شرط:وضو قصد قربت اور خلوص کے ساته کرے۔

”قصد قربت“سے مراد یہ ہے کہ عمل کو اس چيز کے ارادے سے جسے خداوند متعال سے نسبت دے رہا ہے مثلاًا س کے حکم کی بجا آوری یا اس کی محبوبيت حاصل کرنے کے لئے انجام دے۔

مسئلہ ٢٨٨ وضو کی نيت زبان پر لانا یا دل ميں گزارناضروری نہيں ہے بلکہ اگر کوئی شخص وضو کے تمام افعال الله تعالی کے لئے بجا لائے تو کافی ہے ۔

نویں شرط:وضو کو بيان شدہ ترتيب کے مطابق انجام دے،

یعنی پهلے چہرہ ، اس کے بعد دایاں اور پھر بایاں ہاتھ دهوئے اس کے بعد سر کا اور پھر پاؤں کا مسح کرے اور بنا بر احتياط واجب بائيں پاؤں کا مسح دائيں پاؤںکے بعد کرے۔


دسویں شرط:وضو کے افعال پے درپے انجام دے۔

مسئلہ ٢٨٩ اگر وضو کے افعال کے درميان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ جب وہ کسی عضو کو دهونا یا اس پر مسح کرنا چاہے تو اس پهلے والے اعضاء کی رطوبت خشک ہو چکی ہو تو اس کا وضو باطل ہے اور اگر جس عضو کو دهونا یا اس پر مسح کرنا ہے ، صرف اس سے پهلے دهوئے ہوئے یا مسح کئے ہوئے عضو کی تری خشک ہو گئی ہومثلاًبایاں ہاتھ دهوتے وقت صرف دائيں ہاتھ کی تری خشک ہو چکی ہو ليکن چہرہ تر ہو، تو وضو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٩٠ اگر وضو کے افعال پے درپے انجام دے ليکن موسم یا بدن کی گرمی یا ایسی ہی کسی وجہ سے پچهلے حصوں کی رطوبت خشک ہو جائے تو اس کا وضو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٩١ وضو کے دوران چلنے پھرنے ميں کوئی حرج نہيں ، لہٰذا اگر کوئی شخص چہرہ اور ہاتھ دهونے کے بعد چند قدم چلے اور پھر سر او ر پاؤں کا مسح کرے تو اس کا وضو صحيح ہے ۔

گيارہویں شرط:انسان خود اپنا چہرہ اور ہاتھ دهوئے اور سر اور پاؤں کا مسح کرے۔

اگر کوئی دوسرا اسے وضو کرائے یا اس کے چھرے یا ہاتھوں پر پانی ڈالنے یا سر اور پاؤں کا مسح کرنے ميں اس کی مدد کرے تو اس کا وضو باطل ہے ۔

مسئلہ ٢٩٢ اگر کوئی شخص خود وضو نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ کسی کو نائب بنائے جو اس کو وضو کرائے اور اگر نائب مزدوری مانگے جب کہ مزدوری دینا ممکن ہو اور باعث حرج نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے مزدوری دے، ليکن ضروری ہے کہ وضو کی نيت خود کرے اور بنا بر احتياط واجب نائب بھی وضو کی نيت کرے اور مسح خود کرے اور اگر مسح خود نہ کر سکتا ہو تو نائب مسح کی جگہوں پر اس کا ہاتھ کھينچے اور اگریہ بھی ممکن نہ ہو تو نائب اس کے ہاتھ سے رطوبت لے کر اس کے سر اور پاؤں کا مسح کرے۔

مسئلہ ٢٩٣ وضو کے جو بھی افعال انسان خود انجام دے سکتا ہو ضروری ہے کہ ان کی انجام دهی ميں دوسروں سے مدد نہ لے۔

بارہویں شرط:وضو کرنے والے کے لئے پانی کے استعمال ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

مسئلہ ٢٩ ۴ جس شخص کو خوف ہو کہ وضو کرنے سے بيمار ہو جائے گا تو ضروری ہے کہ وضو نہ کرے اور جس شخص کو خوف ہو کہ پانی وضوميں استعمال کرنے سے پياسا رہ جائے گا تو اگر پياس بيماری کا باعث بنے تو ضروری ہے کہ وضو نہ کرے اور اگر بيماری کا باعث نہ ہو تو اختيار ہے کہ وضو کرے یا تيمم کرے اور اگر نہ جانتا ہو کہ پانی کا استعمال اس کے لئے مضر ہے اور وضو کرلے اگر چہ بعد ميں اسے معلوم ہوجائے کہ پانی کا استعمال اس کے لئے مضر تھا ليکن ضرر، ضررِحرام نہ تھا، تواس کا وضو صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢٩ ۵ اگر چھرے اور ہاتھوں کو اتنے کم پانی سے دهونا جس سے وضو صحيح ہو جاتا ہے ضرر رساں نہ ہو اور اس سے زیادہ ضرر رساں ہو تو ضروری ہے کہ کم مقدار سے ہی وضو کرلے۔

تيرہویں شرط:اعضائے وضو تک پانی پهنچنے ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

مسئلہ ٢٩ ۶ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس کے اعضائے وضو پر کوئی چيز لگی ہوئی ہے ليکن اس کے بارے ميں اسے شک ہو کہ آیا وہ چيز پانی کے ان اعضا ء تک پهنچنے ميں رکاوٹ ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ یا تو اس چيز کو ہٹا دے یا پانی کو اس کے نيچے تک پهنچائے۔

مسئلہ ٢٩٧ اگرمعمول کے مطابق بڑھے ہوئے ناخنوں کے نيچے ميل ہو تو وضو کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔ ہاں، ناخنوں کو کاٹ دینے کی صورت ميں وضو کے لئے اسے برطرف کرنا ضروری ہے اور اگر ناخن معمول سے زیادہ بڑھے ہوئے ہوں تو جو ميل معمول سے زیادہ والی مقدار کے نيچے ہے اسے برطرف کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٩٨ اگر کسی شخص کے چھرے، ہاتھوں، سر کے اگلے حصے یا پاؤں سے اوپر والے حصے پر جل جانے سے یا کسی اور وجہ سے ورم ہو جائے تو اسے دهو لينا اور اس پر مسح کر لينا کافی ہے اور اگر اس ميں سوراخ ہو جائے تو پانی جلد کے نيچے پهنچانا ضروری نہيں بلکہ اگر جلد کا ایک حصہ اکهڑ جائے تب بھی جو حصہ نہيں اکهڑا اس کے نيچے تک پانی پهنچانا ضروری نہيں ، ليکن جب اکهڑی ہوئی جلد کبهی بدن سے چپک جاتی ہو اور کبهی اٹھ جاتی ہو تو ضروری ہے کہ اسے کاٹ دے یا اس کے نيچے پانی پهنچائے۔

مسئلہ ٢٩٩ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اس کے وضو کے اعضاء سے کوئی چيز چپکی ہوئی ہے یا نہيں اور اس کا یہ احتمال لوگوں کی نظر ميں بھی درست ہو مثلاً، گارے سے کوئی کام کرنے کے بعد شک ہو کہ گارا اس کے ہاتھ سے لگا رہ گياہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ تحقيق کر لے یا اپنے ہاتھوں کو اتنا ملے کہ اطمينان ہو جائے کہ اگر اس پر گارا رہ گياتها تو اب دور ہو گيا ہے یا پانی اس کے نيچے پهنچ گيا ہے ۔

مسئلہ ٣٠٠ دهونے یا مسح کرنے کی جگہ پر اگر ميل ہو ليکن وہ ميل پانی کے جلد تک پهنچنے ميں رکاوٹ نہ ڈالے تو کوئی حرج نہيں ۔ اسی طرح اگر پلستر وغيرہ کا کام کرنے کے بعد سفيدی ہاتھ پر لگی رہ جائے جو پانی کو جلد تک پهنچنے سے نہ روکے تو اس ميں بھی کوئی حرج نہيں ، ليکن اگر شک ہو کہ ان چيزوں کی موجودگی پانی کے جلد تک پهنچنے ميں مانع ہے یا نہيں تو انہيں دور کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٣٠١ اگر کوئی شخص وضو کرنے سے پهلے جانتا ہو کہ وضو کے بعض اعضاء پر ایسی چيز موجود ہے جو ان تک پانی پهنچنے ميں مانع ہے اور وضو کے بعد شک کرے کہ وضو کے دوران ا ن اعضاء تک پانی پهنچا ہے یا نہيں ، اگر اسے وضو کے دوران غافل ہونے کا یقين نہ ہو تو ا س کا وضو صحيح ہے ۔


مسئلہ ٣٠٢ اگر وضو کے بعض اعضاء پر کوئی ایسی رکاوٹ ہو جس کے نيچے پانی کبهی خود بخود چلا جاتا ہے اور کبهی خود نہيں پهنچ پاتا اور انسان وضو کے بعد شک کرے کہ پانی اس کے نيچے پهنچا ہے یا نہيں ، اگر جانتا ہو کہ وضو کے وقت اس سے غافل تھا تو ضروری ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔

مسئلہ ٣٠٣ اگر وضو کرنے کے بعد اعضائے وضو پر کوئی ایسی چيز دیکھے جو پانی کے پهنچنے ميں رکاوٹ ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ وضو کرتے وقت یہ رکاوٹ موجود تھی یا بعد ميں آئی ہے تو اگر وضو کرتے وقت جانتا ہواس امر سے غافل تھا تو ضروری ہے کہ دوبارہ وضو کرے اور اگر اس امر کی طرف متوجہ تھا تو اس کا وضو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٣٠ ۴ اگر وضو کرنے کے بعد شک کرے کہ جو چيز پانی کے پهنچنے ميں مانع ہے وضو کے اعضاء پر تھی یا نہيں تو اگر وضو کرتے وقت اس امر سے غافل ہونے کا علم نہ ہو تو اس کا وضو صحيح ہے ۔

احکام وضو

مسئلہ ٣٠ ۵ اگر کوئی شخص افعالِ وضو اور شرائط ميں بہت شک کرتا ہو، اگر اس کا شک وسواس کی حد تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ٣٠ ۶ جس شخص کو شک ہو کہ اس کا وضو باطل ہوا ہے یا نہيں تو سمجھے کہ اس کا وضو باقی ہے ، ليکن اگر اس نے پيشاب کرنے کے بعد استبرا کئے بغير وضو کر ليا ہو اور وضو کے بعد اس سے ایسی رطوبت خارج ہو جس کے بارے ميں نہ جانتا ہو کہ پيشاب ہے یا کوئی اور چيز تو اس کا وضو باطل ہے ۔

مسئلہ ٣٠٧ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اس نے وضو کيا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ وضو کرے۔

مسئلہ ٣٠٨ جس شخص کو معلوم ہو کہ اس نے وضو کيا ہے اور اس سے حدث بھی واقع ہو گيا ہے مثلاًاس نے پيشاب کيا ہے ، ليکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی چيز پهلے واقع ہوئی ہے ، اگر یہ صورت نماز سے پهلے پيش آئے تو ضروری ہے کہ وضو کرے اوراگر نما زکے دوران یہ صورت پيش آئے تو ضروری ہے کہ نما زتوڑ کر وضو کرے اور اگر نمازکے بعد یہ صورت پيش آئے تو جو نما زپڑھ چکا ہے اس شرط پر صحيح ہے کہ نما زشروع کرتے وقت غفلت کا یقين نہ ہو، البتہ اگلی نمازوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٣٠٩ اگر کسی شخص کو وضو کے بعد یا وضو کے دوران یقين آجائے کہ اس نے بعض جگہيں نہيں دهوئيں یا ان کا مسح نہيں کيا، جب کہ جن اعضاء کی باری ان سے پهلے تھی ان کی تری زیادہ وقت گزر جانے کی وجہ سے خشک ہو چکی ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ وضو کرے، ليکن اگر وہ تری خشک نہ ہوئی ہو یا گرمی یا ایسی ہی کسی وجہ سے خشک ہو گئی ہو تو ضروری ہے کہ بھولی ہوئی اور اس کے بعد آنے والی جگہوں کو دهوئے یا ان کا مسح کرے۔ اسی طرح وضو کے دوران کسی عضو کے دهونے یا مسح کرنے کے بارے ميں شک کی صورت ميں اسی حکم پر عمل کرنا ضروری ہے ۔


مسئلہ ٣١٠ اگر کسی شخص کو نماز پڑھنے کے بعد شک ہو کہ اس نے وضو کيا تھا یا نہيں تو اس صورت ميں کہ اسے یقين نہ ہو کہ شروع کرتے وقت وہ اس بات سے غافل تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔ البتہ دوسری نماز وں کے لئے ضروری ہے کہ وضو کرے۔

مسئلہ ٣١١ اگر کسی شخص کو نما زکے دوران شک ہو کہ وضو کيا تھا یا نہيں تو اس کی نماز باطل ہے اور ضروری ہے کہ وضو کرکے نماز پڑھے۔

مسئلہ ٣١٢ اگر کوئی شخص نماز کے بعد یہ جان لے کہ اس کا وضو باطل ہو گيا تھا ليکن شک کرے کہ نماز کے بعد باطل ہوا تھا یا اس سے پهلے، تو جو نما زپڑھ چکا ہے وہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ٣١٣ اگر کوئی شخص ایسے مرض ميں مبتلا ہوکہ اس کا پيشاب قطرہ قطرہ ٹپکتاہویا پاخانہ روکنے پر قادر نہ ہو، اگر اسے یقين ہو کہ نماز کے اول وقت سے آخر وقت تک اسے اتنا وقفہ مل جائے گا کہ وضو کر کے نماز پڑھ سکے تو ضروری ہے کہ اس وقفے کے دوران نماز پڑھے اور اگر اسے وضو اور نما زکے صرف واجب افعال انجام دینے کا وقت ملے تو ضروری ہے کہ اس وقفے ميں وضو ونماز کے صرف واجبات کو انجام دے اور مستحبات کو چھوڑ دے۔

مسئلہ ٣١ ۴ اگر اس شخص کو وضو اور نما زپڑھنے کے کی مقدار کے برابر وقفہ نہ ملتا ہو اور نماز کے دوران ایک یا چند بار پيشاب یا پاخانہ اس سے خارج ہو تا ہو، اگر اسی نما زکو ایک وضو سے پڑھے تو کافی ہے ، اگر چہ احتياط مستحب یہ ہے کہ جب بھی پيشاب یا پاخانہ خارج ہو موالات ختم ہونے سے پهلے وضو کرے اور بقيہ نماز کو مکمل کرے۔

مسئلہ ٣١ ۵ جس شخص کا پيشاب یاپاخانہ پے درپے خارج ہوتو وہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے سوائے اس کے کہ کسی دوسرے حدث ميں مبتلا ہو جائے اور بہتر یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے ایک وضو کرے، ليکن بھولے ہوئے سجدے وتشهد اور نماز احتياط کے لئے دوسرا وضو ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣١ ۶ جس شخص کا پيشا ب یاپاخانہ پے درپے خارج ہوتا ہو اس کے لئے ضروری نہيں کہ وضو کے بعد فوراًنماز پڑھے اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ وضو کے فوراًبعد نماز پڑھے۔

مسئلہ ٣١٧ جس شخص کا پيشاب یاپاخانہ پے درپے خارج ہوتا ہو وضو کے بعد بنابر احتياط مستحب ان چيزوں کو مس کرنے سے پرہيز کرے جنہيں مس کرنا محدث پر حرام ہے ۔

مسئلہ ٣١٨ جس شخص کو قطرہ قطرہ پيشاب آتاہو ضروری ہے کہ نماز ميں خود کو ایک ایسی تهيلی کے ذریعے پيشاب سے بچائے جس ميں روئی یا کوئی اور چيز رکھی ہو جو پيشاب کو دوسری جگہوں پر نہ پهنچنے دے اور احتياط واجب یہ ہے کہ ہر نماز سے پهلے مقام پيشاب کو پاک کرے سوائے اس صورت کے کہ باعث حرج ہو۔


اور ظہر وعصر یا مغرب وعشا کو ملا کر پڑھنے کی صورت ميں دوسری نماز کے لئے مقام پيشاب کو پاک کرنا ضروری نہيں ہے ۔

اور اگر کوئی شخص پاخانہ روکنے پر قادر نہ ہو تو ضروری ہے کہ جهاں تک ممکن ہو نماز پڑھنے کی مقدار تک پاخانہ دوسری جگہ تک پهنچنے سے روکے اور بنابر احتياط واجب ہر نماز کے لئے مقام پاخانہ کو پاک کرے، سوائے اس صورت ميں کہ باعث حرج ہو۔

مسئلہ ٣١٩ جو شخص پيشاب یا پاخانہ روکنے پر قدرت نہ رکھتا ہو، ضروری ہے کہ ممکنہ حد تک حرج نہ ہونے کی صورت ميں نماز پڑ هنے کی مقدار تک پيشاب وپاخانہ کو نکلنے سے روکے، اور اگر آسانی سے اس مرض کا علاج ہو سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کا علاج کرائے۔

مسئلہ ٣٢٠ جو شخص پيشاب یا پاخانہ روکنے پر قدرت نہيں رکھتا، صحت یا ب ہونے کے بعد ضروری نہيں ہے کہ جو نمازیں اس نے بيماری کی حالت ميں اپنی ذمہ داری کے مطابق پڑھی تہيں ، ان کی قضا کرے ليکن اگر نما زکے وقت کے دوران مرض سے شفا پا جائے تو ضروری ہے کہ اس وقت ميں پڑھی ہوئی نماز کو دهرائے۔

مسئلہ ٣٢١ جو شخص اپنی ریح روکنے پر قادر نہ ہو ضروری ہے کہ ان لوگوں کے وظيفے کے مطابق عمل کرے جو پيشاب یا پاخا نہ روکنے پر قدرت نہيں رکھتے۔

وہ چيزيں جن کے لئے حدث سے پاک ہونا ضروری ہے

مسئلہ ٣٢٢ چھ چيزوں کے لئے وضو کرنا واجب ہے :

١) نماز ميت کے علاوہ تمام واجب نمازوںکے لئے اور مستحب نمازوں ميں وضو شرط صِحت ہے ۔

٢) بھولے ہوئے سجدے اور تشهد کی قضا کے لئے اور تشهد بھولنے کی وجہ سے انجام دئے جانے والے سجدہ سهو کٔے لئے اور اگر ان کے اور نماز کے درميان اس سے کوئی حدث سر زد ہوا ہو مثلاًپيشاب کر دیا ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔ ہاں، مذکورہ سجدہ سهوکے علاوہ دوسرے موارد ميں وضو کرنا واجب نہيں ہے ۔

٣) حج وعمرے کے واجب طواف کے لئے ۔

۴) اگر کسی نے وضو کرنے کی نذر کی ہو، عهد کيا ہو یا قسم کهائی ہو۔

۵) جب کسی نے نذر کی ہو کہ اپنے بدن کے کسی حصے کو قرآن کے حروف سے مس کرے گا، جب کہ یہ نذر صحيح ہو، مثلاًقرآن کو بوسہ دینا۔


۶) نجس قرآن کو پاک کرنے یا قرآن کو ایسی جگہ سے نکالنے کے لئے جهاں قرآن کا ہونا توهين کا باعث ہو، جب کہ صورت حال یہ ہو کہ انسان اپنے ہاتھ یا بدن کے کسی حصے کو قرآن کے حروف سے مس کرنے پر مجبور ہو، ليکن اگر وضو کے لئے رکنا قرآن کی بے احترامی کا باعث ہو تو ضروری ہے کہ بغير وضو ہی قرآن کو اس جگہ سے نکالے یا اگر نجس ہو گيا ہو تو اسے پاک کرے۔

مسئلہ ٣٢٣ جو شخص باوضو نہ ہو اس کے لئے قرآن کے حروف کو مس کر نا، یعنی بدن کا کوئی حصہ قرآن کے حروف سے لگانا، حرام ہے ليکن اگر بال کھال کے تابع شمار نہ ہو ں تو انہيں قران کے حروف سے مس کرنے ميں کوئی حرج نہيں اور اگر قرآن کا اردو یا کسی اور زبان ميں ترجمہ کيا گيا ہو تو خداوندِمتعال کے اسم ذات اور اسماء صفات کے علاوہ کومس کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣٢ ۴ بچے اور دیوانے کو قرآن مجيد کے الفاظ کو مس کرنے سے روکنا واجب نہيں ، ليکن اگر ان کے ایسا کرنے سے قرآن مجيد کی بے حرمتی ہوتی ہو تو انہيں روکنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٣٢ ۵ جو شخص باوضو نہ ہو اس کے لئے الله تعالی کی ذات او ر اس کی صفات کے ناموں کو خواہ کسی بھی زبان ميں لکھے ہوں مس کرنا حرام ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ چودہ معصومين عليهم السلام کے اسماء مبارک کو بھی بغير وضو کے مس نہ کيا جائے۔

مسئلہ ٣٢ ۶ اگر کوئی شخص نما زکا وقت آنے سے پهلے باطهارت ہونے کے ارادے سے وضو یا غسل کرے تو صحيح ہے اور نماز کے وقت کے نزدیک بھی اگر نما ز کے لئے تيار ہونے کی نيت سے وضو کرے تو کوئی حرج نہيں ، بلکہ مستحب ہے ۔

مسئلہ ٣٢٧ اگر کسی کو یقين ہو یا شرعی دليل رکھتا ہو کہ نما زکا وقت داخل ہو چکا ہے اور وہ واجب کی نيت سے وضو کرے جب کہ اس کا قصد وجوب سے مقيد نہ ہو اور وضو کے بعد معلوم ہو کہ وقت داخل نہيں ہوا تھا تو اس کاوضو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٣٢٨ انسان کے لئے مستحب ہے کہ ہر اس کام کے لئے جس کے صحيح ہونے کے لئے وضو کرنا اگر چہ شرط نہيں ليکن اس عمل کے کمال ميں معتبر ہے ، وضو کرے۔ مثلاًواجب طواف اور نماز طواف کے علاوہ باقی تمام مناسک حج کے لئے ، کيونکہ ان دو ميں وضو کرنا شرطِ صحت ہے ۔

اسی طرح نماز ميت پڑھنے، ميت کو قبر ميں داخل کرنے، مسجد جانے، قرآن پڑھنے اور لکھنے اور سوتے وقت وضو کرنا مستحب ہے ۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جو شخص با وضو ہو وہ دوبارہ وضو کرے۔

مذکورہ بالا کاموں ميں سے کسی ایک کے لئے بھی وضو کرنے کی صورت ميں انسان ہر وہ کام انجام دے سکتا ہے جس کے لئے وضو کرنا ضروری ہے مثلاًاس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے یا واجب طواف کر سکتا ہے ۔


مبطلات وضو

مسئلہ ٣٢٩ سات چيزیں وضو کر باطل کرتی ہيں :

٢)پيشاب وپاخانہ، جب کہ اپنی طبيعی جگہ سے نکلے یا عادت کے مطابق غير طبيعی جگہ ،١

نکلے۔ اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر بغير عادت کے غير طبيعی مقام سے پيشاب یا پاخانہ نکلنے پر بھی وضو باطل ہو جاتا ہے ۔

وہ تری جو پيشاب سے شباہت رکھتی ہو اور استبرا سے پهلے نکلے پيشاب کا حکم رکھتی ہے ۔

٣) طبيعی مقام سے نکلنے والی آنتوں کی ریح اور پاخانے کے مورد ميں بيان شدہ تفصيل کے مطابق غير طبيعی مقام سے نکلنے والی ریح بھی جب کہ اس مقام کا دو مخصوص ناموں ميں سے ایک نام رکھا جا سکے۔

۴) نيند، جو اس وقت ثابت ہوگی جب کان سن نہ سکيں۔

۵) عقل کو زائل کر دینے والی چيزیں جيسے دیوانگی، مستی، بے ہوشی وغيرہ۔

۶) عورتوں کا استحاضہ جس کی تفصيل بعد ميں آئے گی۔

٧) جنابت۔

جبيرہ وضوکے احکام

وہ چيز جس سے زخم یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کو باندها جاتا ہے اور وہ دوا جو زخم یا ایسی ہی کسی چيز پر لگائی جاتی ہے جبيرہ کهلاتی ہے ۔

مسئلہ ٣٣٠ اگر اعضاء وضو ميں سے کسی پر زخم یا پھوڑا ہو یا ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو، تو اگر اس پر کوئی چيز نہ ہو اور پانی اس کے ليے مضر نہ ہو تو ضروری ہے کہ عام طریقے سے وضو کيا جائے۔

مسئلہ ٣٣١ اگر زخم پھوڑا یا ٹوٹی ہوئی ہڈی چھرے یا ہاتھوںپر ہو اوراس پر کوئی چيز نہ ہو جب کہ پانی ڈالنا اس کے لئے مضر ہو تو اگر اس پر گيلا ہاتھ پهيرنا مضر نہ ہو تو ٹوٹی ہوئی ہڈی کی صورت ميں ضروری ہے کہ اس پر گيلا ہاتھ پهيرے، جب کہ زخم یا پھوڑا ہونے کی صورت ميں احتياط واجب یہ ہے کہ گيلا ہاتھ پهيرے اور اس کے بعد احتياط مستحب کی بنا پر ایک پاک کپڑا اس پر رکھ کر گيلا ہاتھ کپڑے پر بھی پهيرے۔

اور اگر یہ بھی مضر ہو یا زخم اور ٹوٹی ہوئی ہڈی وغيرہ نجس ہو جسے پاک نہ کيا جا سکتا ہو تو زخم کی صورت ميں ضروری ہے کہ زخم کے اطراف کو وضو ميں بيان شدہ طریقے کے مطابق اوپر سے نيچے کی طرف دهوئے اور تيمم بھی ضروری نہيں ، البتہ احتياط مستحب یہ ہے کہ زخم پر پاک کپڑا رکھ کر اس پر گيلا ہاتھ پهيرے اور تيمم بھی کرے۔


اور ٹوٹی ہوئی ہڈی کی صورت ميں ضروری ہے کہ تيمم کرے اور احتياط واجب کی بنا پر وضو بھی کرے اور اس پر پاک کپڑارکھ کر گيلا ہاتھ پهير دے۔

مسئلہ ٣٣٢ زخم، پھوڑا یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کسی کے سر یا پاؤں کے اوپر والے حصے ميں ہو اور اس پر کوئی چيز بھی نہ ہو، اگر وہ اس پر مسح نہ کر سکتا ہو، یعنی مثلا زخم مسح کے سارے مقام پر پهيلا ہوا ہو یا سالم حصوں پر مسح کرنا بھی ممکن نہ ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ ایک پاک کپڑا زخم وغيرہ پر رکھ کر ہاتھ ميں بچی ہوئی وضو کی تری سے اس پر مسح کرتے ہوئے وضو بھی کرے اور تيمم بھی کرے۔

مسئلہ ٣٣٣ اگر پهوڑے، زخم یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کو کسی چيز سے باندها گيا ہو، اگر اس کا کهو لنا مشقت کا باعث نہ ہو اور پانی بھی اس کے لئے مضر نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے کھول کر وضو کرے خواہ زخم وغيرہ چھرے اور ہاتھوں پر ہو یا سر کے اگلے حصے یا پاؤں کے اوپر والے حصے پر ہو۔

مسئلہ ٣٣ ۴ اگر کسی شخص کا زخم، پھوڑا یا ٹوٹی ہوئی ہڈی جو کسی چيز سے بندهی ہو اس کے چھرے یا ہاتھوں پر ہواور اسے کھولنے یا پانی ڈالنے ميں ضرر یا مشقت ہو تو جتنی مقدار ميں ضرر اور مشقت نہ ہو، اسے دهوئے اور جبيرہ کے اوپر گيلا ہاتھ پهيرے۔

مسئلہ ٣٣ ۵ اگر زخم کو کھولا نہ جاسکتا ہو ليکن خود زخم اور جو چيز ا س پر لگا ئی ہو پاک ہوں اور زخم تک پانی پهنچانا ممکن ہو اور مضر اور باعث مشقت بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ پانی کو زخم پر ترتيب کا خيال رکھتے ہوئے، جس کا خيال رکھنا چھرے ميں احتياط واجب کی بنا پرہے، پهنچائے، ليکن اگر جبيرہ چھرے پر ہو اور پانی پهنچانے ميں ترتيب کا خيال رکھنا ممکن نہ ہو تو بنا بر احتياط اسے دهوئے بھی اور ترتيب کا خيال رکھتے ہوئے گيلا ہاتھ بھی پهيرے۔

اور اگر زخم یا وہ چيز جو ا س کے اوپر رکھی ہے نجس ہو، چنانچہ اسے پاک کر نا اور زخم تک پانی پهنچانا ممکن ہو اور ضرر ومشقت نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے پاک کرے اور وضو کے وقت پانی کو زخم تک پهنچائے۔

اور اگر زخم تک پانی پهنچانا ممکن نہ ہو یا ضرر یا مشقت ہو یا زخم نجس ہو اور اسے پاک کرنا ممکن نہ ہو یا ضرر یا مشقت ہو تو ضروری ہے کہ زخم کے اطراف کو دهوئے اور اگر جبيرہ پاک ہو تو اس کے اوپر گيلا ہاتھ پهيرے، اور اگر جبيرہ نجس ہو یا گيلا ہاتھ اس کے اوپر نہيں پهير سکتے تو ممکنہ صورت ميں پاک کپڑا اس پر رکھ کر احتياط واجب کی بنا پر تيمم بھی کرے اور اس کپڑ ے پر گيلا ہاتھ بھی پهيرے اور حتی الامکان اس کپڑ ے کو اس طرح رکھے کہ جبيرہ کا جزء سمجھا جائے اور اگر دوسرا کپڑا رکھنا یا اس پر گيلا ہاتھ پهيرنا ممکن نہ ہو تو بنا بر احتياط واجب اس کے اطراف کو وضو ميں بيا ن شدہ طریقے کے مطابق دهوئے اور تيمم بھی کرے۔

مسئلہ ٣٣ ۶ اگر جبيرہ تمام چھرے یا پورے ایک ہاتھ یا پورے دونوں ہاتھوں کو گھيرے ہوئے ہو، احتياط واجب یہ ہے کہ وضوئے جبيرہ اور تيمم دونوں کرے۔


مسئلہ ٣٣٧ اگر جبيرہ تمام اعضاء وضو کو گھيرے ہوئے ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ وضوئے جبيرہ اور تيمم دونوں کرے۔

مسئلہ ٣٣٨ جس شخص کی ہتھيلی اور انگليوں پر جبيرہ ہو اور وضو کرتے وقت اس پر گيلا ہاتھ پهيرا ہو تو وہ سر اور پاؤں کا مسح اسی رطوبت سے کرے۔

مسئلہ ٣٣٩ اگر کسی شخص کے پاؤں کے اوپر والے پورے حصے پر جبيرہ ہو ليکن کچھ حصہ انگليوں کی طرف سے اورکچه حصہ پاؤںکے اوپر والے حصے کی طرف سے کہ جس پر مسح واجب ہے ، کهلا ہوا ہو تو ضروری ہے کہ جو جگہيں کهلی ہيں وہاں پاؤں کے اوپر والے حصے پر اور جن جگہوں پر جبيرہ ہے وہاں جبيرہ پر مسح کرے۔

مسئلہ ٣ ۴ ٠ اگر چھرے یاہاتھوں پر ایک سے زیادہ جبيرے ہوں تو ان کا درميانی حصہ دهونا ضروری ہے اور اگر سر یاپاؤں کے اوپر والے حصے پر چند جبيرے ہوں تو ان کے درميانی حصے کا مسح کرنا ضروری ہے اور جهاں جبيرے ہوں وہاں جبيرے کے احکام پر عمل کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٣ ۴ ١ اگر جبيرہ زخم کے آس پاس کے حصوں کو معمول سے زیادہ گھيرے ہوئے ہو اور اس کو ہٹا نا بغير مشقت کے ممکن نہ ہوتو بنا بر احتياط واجب وضو ئے جبيرہ بھی کرے اور تيمم بھی اور اگر جبيرے کی معمول سے زیادہ بڑھی ہوئی مقدار کو ہٹانے ميں مشقت نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے ہٹا لے، پس اگر زخم چھرے یا ہاتھوں پر ہو تو ان کو دهولے اور اگر سر یا پيروں کے اوپر والے حصے پر ہوکہ جس کا مسح واجب ہے تو اس کا مسح کرے اور زخم کی جگہ پر جبيرہ کے احکام کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ٣ ۴ ٢ اگر اعضائے وضو پر زخم، چوٹ یا ٹوٹی ہوئی ہڈی نہ ہو ليکن کسی اور وجہ سے پانی ان کے لئے مضر ہو تو تيمم کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٣ ۴ ٣ اگر اعضائے وضو ميں سے کسی جگہ کی رگ کٹوا کر خون نکلوایا ہواور اس مقام کو ضرر کی وجہ سے نہ دهویا جاسکتا ہو تو اس پر زخم کے احکام جاری ہوں گے جن کا تذکرہ پچهلے مسائل ميں ہو ا اور اگر کسی اور وجہ سے مثلا خون نہ رکنے کی وجہ سے اسے دهونا ممکن نہ ہوتو ضروری ہے کہ تيمم کرے۔

مسئلہ ٣ ۴۴ اگر وضو یا غسل کی جگہ پر کوئی ایسی چيز چپک گئی ہو جس کا اتارنا ممکن نہ ہو یا باعثِ حرج ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ وضو یا غسل جبيرہ بھی کرے اور تيمم بهی۔


مسئلہ ٣ ۴۵ غسل ميت کے علاوہ غسل کی تمام اقسام ميں غسل جبيرہ وضوئے جبيرہ کی طرح ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اسے ترتيبی طریقے سے انجام دے، ليکن اگر بد ن ميں زخم یا پھوڑا ہو تو چاہے اس مقام پر جبيرہ ہو یا نہ ہو، اگرچہ مکلف کے غسل یا تيمم ميں سے کسی ایک کو انجام دینے پر صاحب اختيار ہونے کی دليل ہے ، ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ غسل کرے اور ٹوٹی ہوئی جگہ، زخم اور پهوڑے کاحکم غسل ميں وهی ہے جو وضو ميں چھرے اور ہاتھوں کے سلسلے ميں بيان کيا جاچکاہے۔

مسئلہ ٣ ۴۶ جس شخص کی ذمہ داری تيمم ہو اگر اس کے بعض اعضائے تيمم پر زخم یاپھوڑا یا ٹوٹی ہوئی ہڈی ہو تو ضروری ہے کہ وضوئے جبيرہ کے احکام کے مطابق تيمم جبيرہ انجام دے۔

مسئلہ ٣ ۴ ٧ جس شخص کے لئے وضوئے جبيرہ یا غسل جبيرہ کے ساته نماز پڑھنا ضروری ہو، اگر جانتاہو کہ نماز کے آخری وقت تک اس کا عذر دور نہيں ہوگا، تو وہ اول وقت ميں نماز پڑھ

سکتاہے ، ليکن اگر اميد ہو کہ آخر وقت تک عذر بر طرف ہو جائے گا تو بہتر ہے کہ صبر کرلے اور عذر برطرف نہ ہونے کی صورت ميں نماز کو آخر وقت ميں وضوئے جبيرہ یا غسلِ جبيرہ کے ساته انجام دے، اور اگر اول وقت ميں نماز پڑھ چکا ہو اور آخر وقت ميں عذر بر طرف ہوجائے تو ضروری ہے کہ وضو یا غسل کرکے دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ ٣ ۴ ٨ اگر کسی شخص نے آنکه کی بيماری کی وجہ سے پلکيں چپکا کر رکھی ہو ں یا آنکه ميں درد کی وجہ سے پانی اس کے لئے مضر ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے۔

مسئلہ ٣ ۴ ٩ جو شخص نہ جانتا ہو کہ آیا اس کا وظيفہ تيمم ہے یا وضو ئے جبيرہ تو ضروری ہے کہ احتياط کرتے ہوئے وضو بھی کرے اور تيمم بھی کرے۔

مسئلہ ٣ ۵ ٠ جونمازیں انسان نے وضوء جبيرہ سے پڑھی ہوں اور آخر وقت تک عذر باقی رہا ہو، صحيح ہيں اور بعد کی نمازوں کو بھی اگر تمام وقت ميں عذر باقی رہے تو اسی وضو سے پڑھ سکتا ہے اور جب بھی عذر ختم ہوجائے احتياط واجب کی بنا پر بعد کی نمازوں کے لئے وضو کرے۔

واجب غسل واجب غسل سات ہيں :

١) غسل جنابت

٢) غسل حيض

٣) غسل نفاس

۴) غسل استحاضہ


۵) غسل مسِ ميت

۶) غسل ميت

٧) وہ غسل جو نذر، قسم یا ان جيسی چيزوں کی وجہ سے واجب ہوجائے۔

جنابت کے احکام

مسئلہ ٣ ۵ ١ انسان دو چيزوں سے جنب ہوتا ہے :

١) جماع

٢) منی کے خارج ہونے سے، خواہ وہ نيند کی حالت ميں نکلے یا بيداری ميں ، کم ہو یا زیادہ، شهوت سے نکلے یا بغير شهوت کے، اختيار سے نکلے یا بغير اختيار کے۔

مسئلہ ٣ ۵ ٢ اگر کسی مرد کے بدن سے کوئی رطوبت خارج ہو اور وہ یہ نہ جانتا ہوکہ منی ہے یا پيشاب یا کوئی اور چيز، اگر وہ رطوبت شهوت کے ساته اور اچھل کر نکلے اور اس کے نکلنے کے بعد بدن سست پڑ جائے تو وہ رطوبت منی کا حکم رکھتی ہے ، ليکن اگر ان تين علامتوں ميں سے ساری یا کچھ موجود نہ ہوں تو وہ رطوبت منی کے حکم ميں نہيں آئے گی، ليکن اگر بيمار ہو اور وہ رطوبت شهوت کے ساته نکلی ہو تو چاہے اچھل کر نہ نکلی ہواور اس کے نکلنے کے بعد جسم سست نہ پڑا ہو، تب بھی منی کے حکم ميں ہے اور اگر عورت شهوت کے ساته انزال کرے تو اس پر غسل جنابت واجب ہے ۔

مسئلہ ٣ ۵ ٣ اگر کسی ایسے مرد کے مقام پيشاب سے جو بيمار نہ ہو کوئی ایسا پانی خارج ہو، جس ميں ان مذکورہ بالا تين علامات ميں سے کوئی ایک علامت موجود ہو ليکن نہ جانتا ہو کہ بقيہ علامات بھی اس ميں موجود ہيں یا نہيں ، تو اگر اس پانی کے خارج ہونے سے پهلے اس نے وضو کيا ہوا ہو تو وهی وضو کافی ہے اور اگر وضو نہيں کيا تھا تو صرف وضو کرنا کافی ہے ۔

مسئلہ ٣ ۵۴ منی خارج ہونے کے بعد انسان کے لئے پيشاب کرنا مستحب ہے اور اگر پيشاب نہ کرے اور غسل کے بعد اس سے کوئی رطوبت خارج ہو جس کے بارے ميں نہ جانتا ہوکہ منی ہے یا کوئی اور رطوبت تو وہ رطوبت منی کا حکم رکھتی ہے ۔

مسئلہ ٣ ۵۵ اگر کوئی شخص جماع کرے اور عضو تناسل ختنہ گاہ کی مقدار تک یا اس سے زیادہ عورت کی شرمگاہ ميں داخل ہوجائے تو خواہ یہ دخول فرج ميں ہو یا دبر ميں ، دونوں جنب ہو جائيں گے، اگرچہ منی بھی خارج نہ ہوئی ہو اور اگر مرد سے جماع کرے تو پهلے سے باوضو نہ ہونے کی صورت ميں احتياط واجب یہ ہے کہ وضو بھی کرے اور غسل بھی ورنہ غسل کرنا کافی ہے ۔ مذکورہ بالا حکم ميں بالغ ونابالغ، عاقل ودیوانے اور با ارادہ یا بے ارادہ کے درميان کوئی فرق نہيں ۔


مسئلہ ٣ ۵۶ اگر کسی کو شک ہو کہ عضو تناسل ختنہ گاہ تک داخل ہوا ہے یا نہيں ، تو اس پر غسل واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣ ۵ ٧ اگر کوئی شخص کسی حيوان کے ساته وطی کرے اور اس کی منی خارج ہو تو صرف غسل کرنا کافی ہے اور اگر منی خارج نہ ہو ليکن وطی سے پهلے با وضو ہو تب بھی صرف غسل کافی ہے اور اگر باوضو نہ ہو تو بنا بر احتياط واجب وضو بھی کرے اور غسل بهی۔

مسئلہ ٣ ۵ ٨ اگر منی اپنی جگہ سے حرکت کرے ليکن خارج نہ ہو یا انسان کو شک ہو کہ منی خارج ہوئی ہے یا نہيں تو اس پر غسل واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣ ۵ ٩ جو شخص غسل نہ کرسکتا ہو ليکن تيمم کر سکتا ہو، وہ نما زکا وقت داخل ہونے کے بعد بھی اپنی بيوی سے جماع کر سکتاہے۔

مسئلہ ٣ ۶ ٠ اگر کوئی شخص اپنے لباس ميں منی دیکھے اور جانتا ہو کہ اس کی اپنی منی ہے اور اس کے لئے غسل نہ کيا ہو تو ضروری ہے کہ غسل کرے اور جن نمازوں کے بارے ميں اسے یقين ہو کہ وہ اس نے منی خارج ہونے کے بعد پڑھی ہيں ، اگر وقت باقی ہو تو ادا کرلے اور اگر وقت گزر چکا ہو تو ان نمازوں کی قضا کرے، ليکن جن نمازوں کے بارے ميں احتمال ہو کہ منی خارج ہونے سے پهلے پڑھی ہيں ان کی ادا یاقضا نہيں ۔

وہ چيزيں جو جنب پر حرام ہيں

مسئلہ ٣ ۶ ١ پانچ چيزیں جنب شخص پر حرام ہيں :

١) اپنے بدن کا کوئی حصہ قرآن مجيد کے الفاظ، الله تعالی کے نام، خواہ کسی بھی زبان ميں ہو اور باقی اسمائے حسنی سے مس کرنا۔ احتياط مستحب یہ ہے کہ پيغمبروں، ائمہ اور حضرت زهرا عليها السلام کے ناموں سے بھی اپنا بدن مس نہ کرے۔

٢) مسجدا لحرام اور مسجد النبوی صلی الله عليہ و آلہ وسلم ميں جانا، خواہ ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل آئے۔

٣) دوسری مسجدوں ميں ٹہرنا، ليکن اگر ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل آئے تو کوئی حرج نہيں ہے اور اسی طرح ائمہ عليهم السلام کے حرم ميں ٹہرنا حرام ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ ائمہ عليهم السلام کے حرم ميں ، حتی ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے دروازے سے نکلنے کی حد تک بھی نہ جائے۔

۴) کسی چيز کو مسجد ميں رکھنے کے لئے اور اسی طرح بنا بر احتياط واجب کسی چيز کو مسجد سے اٹھ انے کے لئے داخل ہونا۔


۵) ان آیات ميں سے کسی آیت کا پڑھنا جن کے پڑھنے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے اور وہ آیات چار سورتوں ميں ہيں :

١) قرآن مجيد کی ٣٢ ویں سورہ (الٓمٓ تنزیل) ٢) قرآن مجيد کی ۴ ١ ویں سورہ(حٰمٓ سجدہ)

٣) قرآن مجيد کی ۵ ٣ ویں سورہ (والنجم) ۴) قرآن مجيدکی ٩ ۶ ویں سورہ (إقرا)

اور بنابر احتياط واجب ان چار سورتوں کا بقيہ حصہ پڑھنے سے پرہيز کرے۔ یهاں تک کہ بِسْم اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم کو ان سوروں کو قصد سے، بلکہ ان کے بعض حصوں کو ان سوروں کے قصد سے پڑھنے سے بھی پرہيز کرے۔

وہ چيزيں جو جنب شخص پر مکروہ ہيں

مسئلہ ٣ ۶ ٢ نو چيزیں جنب شخص کے لئے مکروہ ہيں :

١-٢)کھانا اور پينا، ليکن وضو کرلے یا ہاتھ دهو لے تو مکروہ نہيں ہے ۔ ،

٣) ان سوروں کی سات سے زیادہ آیات کی تلاوت کرنا جن ميں واجب سجدہ نہيں ہے ۔

۴) بدن کا کوئی حصہ قرآن کی جلد، حاشيے یا حروف قرآن کی درميانی جگہوں سے مس کرنا۔

۵) قرآ ن ساته رکھنا۔

۶) سونا، ليکن اگر وضو کرلے یا پانی نہ ہونے کے باعث غسل کے بدلے تيمم کرلے تو مکروہ نہيں ۔

٧) مهندی اور اس جيسی چيزوں سے خضاب کرنا۔

٨) بدن پر تيل ملنا۔

٩) محتلم ہونے، یعنی نيند ميں منی نکلنے کے بعد جماع کرنا۔

غسل جنابت

مسئلہ ٣ ۶ ٣ غسل جنابت بذات خود مستحب ہے اور ان واجبات کی وجہ سے واجب ہوجاتاہے جن کے لئے طهارت شرط ہے ۔ ہاں، نماز ميت، سجدہ سهو سوائے اس سجدہ سهوکے جو بھولے ہوئے تشهد کے لئے ہوتا ہے ، سجدہ شکر اور قرآن کے واجب سجدوں کے لئے غسل جنابت ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣ ۶۴ یہ ضروری نہيں کہ غسل کرتے وقت نيت کرے کہ واجب غسل کر رہا ہے یا مستحب، بلکہ اگر قصد قربت (جس کی تفصيل وضو کے احکام ميں گزر چکی ہے )اور خلوص کے ساته غسل کرے تو کافی ہے ۔


مسئلہ ٣ ۶۵ اگر کسی شخص کو یقين ہو یا اس بات پر شرعی دليل قائم ہوجائے کہ نما زکا وقت داخل ہو چکاہے اور واجب کی نيت سے غسل کرلے، ليکن اس کا ارادہ وجوب سے مقيد نہ ہو اور بعد ميں معلوم ہو کہ غسل وقت سے پهلے کر ليا ہے تو اس کا غسل صحيح ہے ۔

مسئلہ ٣ ۶۶ غسل چاہے واجب ہو یا مستحب دو طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ہے :

١)ترتيبی ٢) ارتماسی

غسل ترتيبی

مسئلہ ٣ ۶ ٧ غسل ترتيبی ميں غسل کی نيت سے پهلے سر اور گردن اور بعد ميں بدن دهونا ضروری ہے اور بنابر احتياط واجب بدن کو پهلے دائيں طرف اور بعد ميں بائيں طرف سے دهوئے۔ اگر جان بوجه کر یا بھولے سے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے سر کو بدن کے بعد دهوئے تو یہ دهونا کافی ہوگا ليکن بدن کو دوبارہ دهونا ضروری ہے اور اگر دائيں طرف کو بائيں طرف کے بعد دهوئے تو بنابر احتياط واجب بائيں طرف کو دوبارہ دهوئے۔ پانی کے اندر تينوں اعضاء کو غسل کی نيت سے حرکت دینے سے غسل ترتيبی کا ہوجانا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٣ ۶ ٨ بنا بر احتياط واجب آدهی ناف اور آدهی شرمگاہ کو دائيں طرف اور آدهی کو بائيں طرف کے ساته دهوئے اور بہتر یہ ہے کہ تمام ناف اور تمام شرمگاہ کو دونوں اطراف کے ساته دهوئے۔

مسئلہ ٣ ۶ ٩ اس بات کا یقين پيدا کرنے کے لئے کہ تينوں حصوں یعنی سر وگردن، دائيں طرف اور بائيںطرف کو اچھی طرح دهو ليا ہے ، جس حصے کو دهو ئے اس کے ساته دوسرے حصے کی کچھ مقدار بھی دهولے، بلکہ احتياط مستحب یہ ہے کہ گردن کے دائيں کے طرف کے پورے حصے کو بدن کے دائيں حصے اور گردن کے بائيں طرف کے پورے حصے کو بدن کے بائيں حصے کے ساته دهوئے۔

مسئلہ ٣٧٠ اگرغسل کرنے بعد معلوم ہو کہ بدن کاکچه حصہ نہيں دهلاہے اورمعلوم نہ ہوکہ وہ حصہ سر، دائيں جانب یا بائيں جانب ميں سے کس جانب ہے توسر کودهوناضروری نہيں اوربائيں جانب ميں جس حصے کے نہ دهلنے کا احتمال ہو اسے دهونا ضروری ہے اور دائيں جانب ميں جس حصے کے نہ دهلنے کا احتمال ہو احتياط کی بنا پر اسے بائيں جانب سے پهلے دهوئے۔

مسئلہ ٣٧١ اگرغسل کر نے کے بعدمعلوم ہو کہ بدن کا کچھ حصہ نہيں د هلا تو اگروہ حصہ بائيں جانب ميں ہو تو فقط اس حصے کو دهونا کافی ہے اور اگرو ہ حصہ دائيں جانب ہو تو اس حصے کو دهونے کے بعد احتياط واجب کی بنا پر بائيں جانب کو بھی دهوئے اور اگروہ حصہ سر وگردن ميں ہو تو اس حصے کو دهونے کے بعد بدن دهوئے اوراحتياط واجب کی بنا پر دائيں جانب کو بائيں جانب سے پهلے دهوئے۔


مسئلہ ٣٧٢ اگرکوئی شخص غسل مکمل ہونے سے پهلے بائيں جانب کی کچھ مقدار دهلنے ميں شک کرے تو فقط اس مقدار کو دهونا کافی ہے ليکن اگربائيں جانب کی کچھ مقدار دهونے کے بعد دائيں جانب کی کچھ مقدار دهلنے ميں شک کر ے تو احتياط واجب کی بنا پراسے دهونے کے بعد بائيں جانب بھی دهوئے اور اگربدن کود ہوناشروع کرنے بعد سروگردن کی کچھ مقدار کے دهلنے ميں شک کرے تو شک کی کوئی حيثيت نہيں ہے اور اس کاغسل صحيح ہے ۔

غسل ارتماسی

مسئلہ ٣٧٣ پورے بدن کوپانی ميں ڈبو دینے سے غسل ارتماسی ہوجاتاہے اورجب پهلے سے جسم کاکچه حصہ پانی ميں موجودهواور پھرباقی جسم کوپانی ميں ڈبوئے توغسل ارتماسی صحيح ہونے ميں اشکال ہے اوراحتياط واجب کی بنا پراس طرح غسل کرے کہ عرفاًکهاجائے کہ پورا بدن ایک ساته پانی ميں ڈوباہے۔

مسئلہ ٣٧ ۴ - غسل ارتماسی ميں احتياط واجب کی بنا پرضروری ہے کہ جسم کاپهلا حصہ پانی ميں داخل ہونے سے لے کر آخری حصے کے داخل ہونے تک غسل کی نيت کوباقی رکھے۔

مسئلہ ٣٧ ۵ اگرغسل ارتماسی کے بعدمعلوم ہوکہ بدن کے کسی حصے تک پانی نہيں پهنچاہے توچاہے اسے وہ جگہ معلوم ہویانہ ہو، دوبارہ غسل کرناضروری ہے ۔

مسئلہ ٣٧ ۶ اگرغسل ترتيبی کے لئے وقت نہ ہوليکن ارتماسی کے لئے وقت ہوتوضروری ہے کہ غسل ارتماسی کرے۔

مسئلہ ٣٧٧ جس شخص نے حج یاعمرے کااحرام باندهاہو وہ غسل ارتماسی نہيں کرسکتا اور روزہ دارکے غسل ارتماسی کرنے کاحکم مسئلہ نمبر” ١ ۶ ٢ ۵ “ ميں آئے گا۔

غسل کے احکام

مسئلہ ٣٧٨ غسل ارتماسی یاترتيبی سے پهلے پورے بدن کاپاک ہونالازم نہيں بلکہ غسل کی نيت سے معتصم پانی ميں غوطہ لگانے یااس پانی کوبدن پرڈالنے سے بدن پاک ہوجائے توغسل صحيح ہے اورمعتصم اس پانی کوکہتے ہيں جو نجاست سے فقط مل جانے سے نجس نہيں ہوتا، جيسے بارش کاپانی،کراورجاری پانی۔

مسئلہ ٣٧٩ حرام سے جنب ہونے والااگرگرم پانی سے غسل کرے توپسينہ آنے کے باوجوداس کاغسل صحيح ہے اوراحتياط مستحب ہے کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرے۔


مسئلہ ٣٨٠ اگرغسل ميں بدن کاکوئی حصہ دهلنے سے رہ جائے توغسل ارتماسی باطل ہے اورغسل ترتيبی کاحکم مسئلہ نمبر ” ٣٧١ “ ميں گذرچکاہے۔ ہاں، وہ حصے جنہيں عرفاً باطن سمجھا جاتا ہے جيسے ناک اورکان کے اندرونی حصے، ان کودهوناضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣٨١ جس حصے کے بارے ميں شک ہو کہ بدن کا ظاہری حصہ ہے یا باطنی حصہ، اگرمعلوم ہوکہ پهلے ظاہر تھا تو اسے دهوناضروری ہے اور اگر معلوم ہو کہ ظاہر نہيں تھا تو دهونا ضروری نہيں ہے اور اگر گذشتہ حالت معلوم نہ ہو تو بنا براحتياط واجب اسے دهوئے۔

مسئلہ ٣٨٢ اگرگوشوارہ اوراس جيسی چيزوں کے سوراخ اس قدر کشادہ ہوں کہ سوراخ کااندرونی حصہ ظاہر شمار ہوتا ہو تو اسے دهوناضروری ہے اوراس صورت کے علاوہ اسے دهوناضروری نہيں ۔

مسئلہ ٣٨٣ هروہ چيزجوپانی پهنچنے ميں رکاوٹ بنتی ہواسے بدن سے صاف کرناضروری ہے اوراگراس چيزکے صاف ہونے کایقين کئے بغيرغسل ارتماسی کرے تو دوبارہ غسل کرناضروری ہے اوراگرغسل ترتيبی کرے تواس کاحکم مسئلہ نمبر ” ٣٧٢ “ ميں گذرچکاہے۔

مسئلہ ٣٨ ۴ اگرغسل کرتے ہوئے شک کرے کہ پانی پهنچنے ميں رکاوٹ بننے والی کوئی چيزاس کے بدن پرہے یا نہيں توضروری ہے کہ تحقيق کرے یهاں تک کہ اسے اطمينان ہوجائے کہ اس کے بدن پرکوئی رکاوٹ نہيں ہے ۔

مسئلہ ٣٨ ۵ بدن کاجزشمارہونے والے چھوٹے چھوٹے بالوں کوغسل ميں دهوناضروری ہے اورلمبے بالوں کا دهونا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر پانی کسی طریقے سے بال ترکئے بغيرکھال تک پهنچ جائے توغسل صحيح ہے ،ليکن اگربال گيلے کئے بغيرکھال تک پانی پهنچاناممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ بدن تک پانی پهنچانے کے لئے ان بالوں کوبهی دهوئے۔

مسئلہ ٣٨ ۶ وضوصحيح ہونے کی تمام گذشتہ شرائط غسل صحيح ہونے ميں بھی شرط ہيں ، جيسے پانی کا پاک اورمباح ہونا، ليکن غسل ميں ضروری نہيں ہے کہ بدن کو اوپر سے نيچے کی جانب دهویا جائے اور اس کے علاوہ غسل ترتيبی ميں ایک حصہ د ہونے کے فوراًبعد دوسراحصہ دهونا بھی ضروری نہيں ہے ، لہٰذا اگرسرو گردن دهونے کے بعد وقفہ کرے اورکچه دیر بعد بدن دهوئے یادایاںحصہ دهوئے پھر کچھ دیر صبرکرنے کے بعد بایاں حصہ دهوئے توکوئی حرج نہيں ہے ۔ ہاں، جو شخص پيشاب وپاخانہ روکنے پر قدرت نہ رکھتاہو اگرغسل کر نے اورنماز پڑھنے کی مدت تک روک سکے تو ضروری ہے کہ فوراًغسل مکمل کرے اور اس کے بعدفوراً نماز بھی پڑھے۔

مسئلہ ٣٨٧ جو شخص حمام کے مالک کی اجرت نہ د ینے کا ارادہ رکھتا ہو یا اس کی اجازت لئے بغيرادهار کی نيت سے حمام ميں غسل کرے تواگرچہ بعدميں حمام کے مالک کوراضی کرلے، اس کاغسل باطل ہے ۔


مسئلہ ٣٨٨ اگرحمام کا مالک حمام ميں ادهار غسل کرنے پر راضی ہو ليکن کوئی شخص اس کا ادهار ادا نہ کرنے یا مال حرام سے ادا کرنے کے ارادے سے غسل کرے تو اس کاغسل باطل ہے ۔

مسئلہ ٣٨٩ اگرحمام کے مالک کو ایسے مال سے اجرت دے جس کا خمس ادا نہ کيا گيا ہو تو یہ حرام ہے اوراس کاغسل باطل ہے ۔

مسئلہ ٣٩٠ اگرحمام ميں حوض کے پانی ميں پاخانے کے مقام کو صاف کرے اورغسل کرنے سے پهلے شک کرے کہ اس وجہ سے اب مالک غسل کرنے پر راضی ہے یا نہيں تو اس کا غسل باطل ہے ، مگر یہ کہ غسل کرنے سے پهلے حمام کے مالک کوراضی کرلے۔

مسئلہ ٣٩١ اگرشک کرے کہ غسل کيا یا نہيں تو ضروری ہے کہ غسل کرے، ليکن اگرغسل کرنے کے بعد اس کے صحيح ہونے ميں شک کرے تواگر احتمال دے کہ غسل کرتے وقت متوجہ تھا تو اس کا غسل صحيح ہے ۔

مسئلہ ٣٩٢ اگرغسل کے دوران پيشاب جيسا کوئی حدث اصغر صادر ہو تو احتياط واجب کی بنا پرغسل مکمل کرنے کے بعد غسل کا اعادہ کرنے کے ساته ساته وضو بھی کرے مگر یہ کہ غسل ترتيبی سے غسل ارتماسی کی طرف عدول کرلے۔

مسئلہ ٣٩٣ اگر وقت تنگ ہونے کی وجہ سے مکلف کی ذمہ داری تيمم کرنا تھی ليکن وہ اس خيال سے کہ غسل اور نمازکے لئے وقت ہے غسل کرے تو اگر اس نے جنابت سے طهارت حاصل کرنے یاقرآن پڑھنے وغيرہ کے ارادے سے غسل کيا ہو تو صحيح ہے ، ليکن اگرموجودہ نمازپڑھنے کے لئے اس طرح کے ارادے سے غسل کرے کہ اگریہ نماز واجب نہ ہوتی تو اس کا غسل کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا تو اس صورت ميں اس کا غسل باطل ہے ۔

مسئلہ ٣٩ ۴ جو شخص جنب ہوا ہو اور اس نے نماز پڑھی ہو، اگر شک کرے کہ اس نے غسل کيا ہے یا نہيں تو اگر احتمال دے کہ نماز شروع کرتے وقت اس جانب متوجہ تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ليکن بعد والی نمازوں کے لئے غسل کرنا ضروری ہے اور اگر نمازکے بعد حدث اصغر صادر ہوا ہو تو ضروری ہے کہ وضو بھی کرے اور پڑھی ہوئی نماز کو بھی وقت باقی ہونے کی صورت ميں دهرائے اور اگر وقت گذر چکا ہو تو اس کی قضا کرے۔

مسئلہ ٣٩ ۵ جس پرچندغسل واجب ہوں وہ ان کو عليحدہ عليحدہ انجام دے سکتا ہے ، ليکن پهلے غسل کے بعد باقی غسلوں کے لئے وجوب کی نيت نہ کرے اوراسی طرح سب کی نيت سے ایک غسل بھی کرسکتاہے ، بلکہ اگران ميں سے کسی خاص غسل کی نيت کرے تو باقی غسلوں کے لئے بھی کافی ہے ۔


مسئلہ ٣٩ ۶ اگر بدن پر کسی جگہ قرآنی آیت یاخداوند متعال کا نام لکھا ہو اور غسل ترتيبی کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ پانی اس طرح بدن پر ڈالے کہ اس حصے سے بدن کا کوئی حصہ مس نہ ہو اور اگر ترتيبی وضو کرناچاہے اوراعضائے وضو پرکہيں آیت قرآنی لکھی ہو تب بھی یهی حکم ہے اور اگر خدوند متعال کا نام ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پریهی حکم ہے اورغسل ووضوميں انبياء، ائمہ اورحضرت زهراء ع کے ناموں کے سلسلے ميں احتياط کا خيال رکھنا مستحب ہے ۔

مسئلہ ٣٩٧ جس شخص نے غسل جنابت کيا ہو ضروری ہے کہ وہ نمازکے لئے وضو نہ کرے، بلکہ استحاضہ متوسطہ کے غسل کے علاوہ واجب غسلوں اور مسئلہ نمبر ” ۶۵ ٠ “ ميں آنے والے مستحب غسلوں کے ساته بھی بغير وضو نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ احتياط مستحب ہے کہ وضو بھی کرے۔

استحاضہ

عورت کو آنے والے خونوں ميں سے ایک خون استحاضہ ہے اورجس عورت کوخون استحاضہ آئے اسے مستحاضہ کہتے ہيں ۔

مسئلہ ٣٩٨ خون استحاضہ اکثر اوقات زرد اور سرد ہوتا ہے اور شدت اورجلن کے بغيرآنے کے علاوہ گاڑھا بھی نہيں ہوتا ہے ليکن ممکن ہے کبهی سياہ یا سرخ اور گرم وگاڑھا ہو اور شدت وجلن کے ساته آئے۔

مسئلہ ٣٩٩ استحاضہ کی تين قسميں ہيں : قليلہ،متوسطہ اورکثيرہ۔

استحاضہ قليلہ: یہ ہے کہ جو روئی عورت اپنے ساته رکھتی ہے خون فقط اس کے اوپر والے حصے کو آلودہ کرے اوراندر تک سرایت نہ کرے۔

استحاضہ متوسطہ: یہ ہے کہ خون روئی ميں سرایت کرجائے چاہے کسی ایک کونے ميں هی، ليکن عورتيں خون سے بچنے کے لئے عموماً جو کپڑا یا اس جيسی چيز باندهتی ہيں ، اس تک نہ پهنچے۔

استحاضہ کثيرہ: یہ ہے کہ خون روئی ميں سرایت کرکے کپڑے تک پهنچ جائے۔


احکام استحاضہ

مسئلہ ۴ ٠٠ استحاضہ قليلہ والی عورت کے لئے ضروری ہے کہ ہر نمازکے لئے وضوکرے اور احتياط واجب کی بنا پر روئی تبدیل کرے اور اگر شرمگاہ کے ظاہری حصے پر خون لگا ہو تو اسے پاک کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٠١ استحاضہ متوسطہ والی عورت کے لئے ضروری ہے کہ ہر نمازِ صبح کے لئے غسل کرے اور دوسری صبح تک سابقہ مسئلے ميں مذکورہ استحاضہ قليلہ کے وظيفے پرعمل کرے اورجب بھی نمازِ صبح کے علاوہ کسی دوسری نماز سے پهلے یہ صورت حال پيش آئے تواس نمازکے لئے غسل کرے اوردوسری صبح تک اپنی نمازوں کے لئے استحاضہ قليلہ والے کام انجام دے۔

جس نماز سے پهلے غسل ضروری تھا اگر عمداً یا بھول کر غسل نہ کرے تو بعد والی نماز سے پهلے غسل کرے، چاہے خون آرہا ہو یا رک چکا ہو۔

مسئلہ ۴ ٠٢ استحاضہ کثيرہ والی عورت کے لئے سابقہ مسئلے ميں استحاضہ متوسطہ کے مذکورہ احکام پر عمل کرنے کے علاوہ احتياط واجب کی بنا پر ہر نماز کے لئے کپڑے کو تبدیل یا پاک کر نا بھی ضروری ہے اورضروری ہے کہ ایک غسل نمازظہر وعصر کے لئے اور ایک نماز مغرب وعشا کے لئے انجام دے اور نماز ظہر وعصر اوراسی طرح مغرب وعشا کے درميان وقفہ نہ کرے اور اگر وقفہ کردے تو دوسری نماز چاہے عصر ہو یا عشاء، اس کے لئے غسل کرے اور استحاضہ کثيرہ ميں غسل، وضو کی جگہ کافی ہے ۔

مسئلہ ۴ ٠٣ اگر خون استحاضہ وقتِ نماز سے پهلے بھی آیا ہو تو اگر عورت نے اس خون کے لئے وضو یا غسل نہ کيا ہو تو ضروری ہے کہ نماز سے پهلے وضو یا غسل کرے اگر چہ اس وقت مستحاضہ نہ ہو۔

مسئلہ ۴ ٠ ۴ جس مستحاضہ متوسطہ کے لئے وضواور غسل ضروری ہے ، ان دونوںميں سے جسے بھی پهلے انجام دے صحيح ہے ، ليکن بہترہے کہ پهلے وضوکرے۔هاں، مستحاضہ کثيرہ اگروضوکرناچاہے توضروری ہے کہ غسل سے پهلے کرے۔

مسئلہ ۴ ٠ ۵ مستحاضہ قليلہ اگر نماز صبح کے بعد متوسطہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ نماز ظہر وعصر کے لئے غسل کرے اوراگر نماز ظہر وع-صر کے بعد متوسطہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ نماز مغرب وعشا کے لئے غسل کرے۔

مسئلہ ۴ ٠ ۶ اگرمستحاضہ قليلہ یامتوسطہ نماز صبح کے بعدکثيرہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ ایک غسل نماز ظہر وعصر کے لئے اور ایک غسل نماز مغرب وعشا کے لئے کرے اور اگر نماز ظہر وعصر کے بعد کثيرہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ نماز مغرب وعشا کے لئے غسل کرے۔


مسئلہ ۴ ٠٧ مستحاضہ کثيرہ یامتوسطہ جب نماز کا وقت داخل ہونے تک اپنی حالت پرباقی ہو، اگرنمازکاوقت داخل ہونے سے پهلے نمازکے لئے غسل کرے توباطل ہے ليکن اذانِ صبح سے تهوڑی دیرپهلے جائزهے کہ قصدرجاء سے غسل کرکے نمازشب پڑھے اورطلوع فجرکے بعداحتياط واجب کی بنا پرنمازِصبح کے لئے غسل کااعادہ کرناضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٠٨ مستحاضہ عورت پرنمازیوميہ ،جس کاحکم گذرچکاہے ،کے علاوہ هرواجب ومستحب نماز کے لئے ضروری ہے کہ مستحاضہ کے لئے ذکرشدہ تمام کاموں کوانجام دے اورمستحاضہ کثيرہ وضوبهی کرے۔ اسی طرح اگرپڑھی ہوئی نمازیوميہ کو احتياطاً دوبارہ پڑھنا چاہے یافرادیٰ پڑھی ہوئی نمازیوميہ کوباجماعت پڑھناچاہے تب بھی یهی حکم ہے اوراگراس نمازکوایسی فریضہ یوميہ کے وقت ميں پڑھناچاہے جس کے لئے غسل کياہے تواحتياط واجب کی بنا پردوبارہ غسل کرے۔هاں، اگرنمازکے فوراً بعدنمازاحتياط،بھولاہواسجدہ ،بھولاہواتشهد یا تشهد بھولنے کی وجہ سے واجب ہونے والا سجدہ سهو انجام دے تو استحاضہ والے کام انجام دیناضروری نہيں ہيں اورنمازکے سجدہ سهوکے لئے استحاضہ کے کام بجالانا ضروری نہيں ہيں ۔

مسئلہ ۴ ٠٩ جس مستحاضہ کاخون رک گياہواس کے لئے فقط پهلی نمازکے لئے مستحاضہ والے کام کرناضروری ہيں اوربعدوالی نمازوں کے لئے لازم نہيں ہيں ۔

مسئلہ ۴ ١٠ اگرمستحاضہ کواپنے استحاضہ کی قسم معلوم نہ ہو تونماز پڑھتے وقت ضروری ہے کہ یااحتياط کے مطابق عمل کرے یااپنے استحاضہ کی تحقيق کرے مثلاتهوڑی روئی شرمگاہ ميں داخل کرنے کے بعدنکالے اوراستحاضہ کی تينوں قسموں ميں سے اپنے استحاضہ کی قسم معلوم ہونے کے بعداس قسم کے وظيفے پرعمل کرے، ليکن اگریہ جانتی ہوکہ جس وقت تک وہ نمازپڑھے گی اس کے استحاضہ ميں تبدیلی واقع نہ ہوگی تووہ نمازکاوقت داخل ہونے سے پهلے بھی اپنے استحا ضہ کی تحقيق کرسکتی ہے ۔

مسئلہ ۴ ١١ اگرمستحاضہ اپنے استحاضہ کی تحقيق کئے بغيرنمازميں مشغول ہوجائے تواگرقصدقربت ہو اور اس نے اپنے وظيفے کے مطابق عمل کياہو، مثلاًاس کااستحاضہ قليلہ ہو اور اس نے استحاضہ قليلہ کے وظيفے کے مطابق عمل کيا ہو تو اس کی نمازصحيح ہے اوراگرقصدقربت نہ ہویااپنے وظيفے کے مطابق عمل نہ کياہومثلاً اس کااستحاضہ متوسطہ ہواوراس نے استحاضہ قليلہ کے وظيفے پرعمل کياہوتواس کی نمازباطل ہے ۔

مسئلہ ۴ ١٢ اگرمستحاضہ اپنے استحاضہ کی تحقيق نہ کرسکتی ہو اور نہ ہی یہ جانتی ہوکہ اس کااستحاضہ کس قسم کاہے تواحتياط واجب یہ ہے کہ زیادہ والا وظيفہ انجام دے تاکہ یقين ہوجائے کہ اس نے اپنی شرعی ذمہ داری انجام دے دی ہے ، مثلااگرنہ جانتی ہوکہ اس کااستحاضہ قليلہ ہے یامتوسطہ تواستحاضہ متوسطہ والے کاموں کوانجام دے اوراگرنہ جانتی ہوکہ اس کااستحاضہ متوسطہ ہے یاکثيرہ تواستحاضہ کثيرہ والے کام انجام دینے کے علاوہ هرنمازکيلئے وضو بھی کرے، ليکن اگرجانتی ہوکہ پهلے اس کااستحاضہ کس قسم کاتهاضروری ہے کہ اس قسم کے وظيفہ کے مطابق عمل کرے۔


مسئلہ ۴ ١٣ اگرخون استحاضہ ابتدائی مرحلہ ميں اندرہی موجودہواورباہرنہ آئے توعورت کے غسل یاوضوکوباطل نہيں کرتااوراگرخون کی تهوڑی سی مقداربهی باہرآجائے تووضواورغسل کوباطل کردیتی ہے ۔

مسئلہ ۴ ١ ۴ اگر مستحاضہ عورت نماز کے بعد اپنی تحقيق کرے اور خون نہ ہو تو اگرچہ جانتی ہو کہ خون دوبار ہ آئے گا تب بھی اسی پهلے والے وضوسے نماز پڑھ سکتی ہے ۔

مسئلہ ۴ ١ ۵ مستحاضہ اگرجانتی ہوکہ جب سے اس نے وضویاغسل شروع کياہے خون باہرنہيں آیاہے تووہ نماز کو اس وقت تک مو خٔرکرسکتی ہے جب تک اسے اس حالت کے باقی رہنے کاعلم ہو۔

مسئلہ ۴ ١ ۶ اگرمستحاضہ جانتی ہوکہ نماز کا وقت گذرنے سے پهلے مکمل طورپرپاک ہوجائے گی یانمازپڑھنے کی مقدارميں اس کاخون رک جائے گا توضروری ہے کہ صبرکرے اورنمازاس وقت پڑھے جب پاک ہو۔

مسئلہ ۴ ١٧ اگروضواورغسل کے بعدخون باہرآنارک جائے اورمستحاضہ جانتی ہوکہ اگرنمازميں اتنی تاخير کرے کہ جس وقت ميں وضو، غسل اور اس کے بعد نماز ادا کی جا سکے، تو مکمل پاک ہوجائے گی توضروری ہے کہ نمازميں تاخير کرے اور جب مکمل پاک ہوجائے تو دوبارہ وضو اور غسل کرکے نماز پڑھے اوراگر وقت نماز تنگ ہوجائے تودوبارہ وضو اور غسل کرناضروری نہيں ہے ، بلکہ احتياط واجب کی بنا پرغسل کی نيت سے اوراسی طرح وضوکی نيت سے تيمم کرکے نمازپڑھے۔

مسئلہ ۴ ١٨ مستحاضہ کثيرہ اورمتوسطہ جب مکمل طورپرخون سے پاک ہوجائے توضروری ہے کہ غسل کرے، ليکن اگرجانتی ہوکہ آخری نمازکے لئے غسل شروع کرنے کے بعدسے خون نہيں آیاہے اوروہ مکمل پاک ہوگئی ہے تودوبارہ غسل کرنالازم نہيں ہے ۔

مسئلہ ۴ ١٩ مستحاضہ قليلہ ،متوسطہ اورکثيرہ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے وظيفہ پرعمل کرنے کے بعدنمازميں تاخير نہ کرے سوائے اس مورد کے جو مسئلہ نمبر” ۴ ١ ۵ “ ميں گذرچکا ہے ، ليکن نمازسے پهلے اذان واقامت کهنے ميں کوئی حرج نہيں ہے اورنمازميں قنوت اوراس جيسے دوسرے مستحب کام بھی انجام دے سکتی ہے اوراگرنمازکے واجب اجزاء کی مقدارميں پاک ہوتواحتياط مستحب ہے کہ مستحبات کوترک کرے۔

مسئلہ ۴ ٢٠ -اگرمستحاضہ اپنے وضویاغسل کے وظيفے اور نمازکے درميان وقفہ کردے توضروری ہے کہ اپنے وظيفے کے مطابق دوبارہ وضویاغسل کرکے بلافاصلہ نمازميں مشغول ہوجائے، سوائے اس کے کہ جانتی ہوکہ اس حالت پر باقی ہے جومسئلہ نمبر ” ۴ ١ ۵ “ ميں گذرچکی ہے ۔


مسئلہ ۴ ٢١ اگرخونِ استحاضہ کااخراج مسلسل جاری رہے اورمنقطع نہ ہوتوضررنہ ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ غسل کے بعدخون کوباہرآنے سے روکے اورلاپرواہی کرنے کی صورت ميں خون باہرآجائے توضروری ہے کہ دوبارہ غسل کرے اوراگرنمازبهی پڑھ لی ہوتودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ۴ ٢٢ اگرغسل کرتے ہوئے خون نہ رکے توغسل صحيح ہے ليکن اگرغسل کے دوران استحاضہ متوسطہ کثيرہ ہو جائے تو شروع سے غسل کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٢٣ احتياط مستحب ہے کہ مستحاضہ، روزے والے پورے دن ميں جتنا ممکن ہوخون کو باہر آنے سے روکے۔

مسئلہ ۴ ٢ ۴ مستحاضہ کثيرہ کاروزہ اس حالت ميں صحيح ہے جب وہ دن کی نمازوں کے واجب غسل انجام دے اوراسی طرح احتياط واجب کی بنا پرجس دن روزہ رکھنے کا ارادہ ہو اس سے پهلے والی رات ميں نماز مغرب و عشا کے لئے بھی غسل کرے۔

مسئلہ ۴ ٢ ۵ اگرنمازعصرکے بعدمستحاضہ ہوجائے اورغروب تک غسل نہ کرے تو اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ۴ ٢ ۶ اگرمستحاضہ قليلہ، نمازسے پهلے متوسطہ یاکثيرہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ مستحاضہ متوسطہ یاکثيرہ کے سلسلے ميں مذکورہ احکام پر عمل کرے اوراگراستحاضہ متوسطہ کثيرہ ہوجائے توضروری ہے کہ مستحاضہ کثيرہ کے کام انجام دے۔ لہٰذا اگر استحاضہ متوسطہ کے لئے غسل کياہوتواس کافائدہ نہيں ہے اورکثيرہ کے لئے دوبارہ غسل کرناضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٢٧ اگرنمازکے دوران مستحاضہ متوسطہ، کثيرہ ہوجائے توضروری ہے کہ نماز توڑ دے اور استحاضہ کثيرہ کا غسل اوراس کے دوسرے کام انجام دے کردوبارہ نمازپڑھے اوراحتياط مستحب کی بنا پرغسل سے پهلے وضوکرے اور اگر غسل کے لئے وقت نہ ہو تو ضروری ہے کہ وضوکرکے غسل کے بدلے تيمم کرے اوراگرتيمم کيلئے بھی وقت نہ ہوتو احتياط واجب کی بنا پراسی حالت ميں نمازتمام کرے، ليکن وقت ختم ہونے کے بعدقضاکرناضروی ہے ۔

اسی طرح اگرنمازکے دوران مستحاضہ قليلہ، متوسطہ یاکثيرہ ہوجائے توضروری ہے کہ نمازتوڑ دے اور مستحاضہ متوسطہ یا کثيرہ کے وظائف انجام دے۔

مسئلہ ۴ ٢٨ اگرنمازکے دوران خون رک جائے اورمستحاضہ کومعلوم نہ ہوکہ اندربهی بند ہوا یا نہيں اور نماز کے بعد معلوم ہوکہ بندهوگياتهاتووضواورغسل ميں سے جو وظيفہ تھااسے انجام دے کردوبارہ نمازپڑھے۔


مسئلہ ۴ ٢٩ اگرمستحاضہ کثيرہ، متوسطہ ہوجائے توضروری ہے کہ پهلی نمازکيلئے کثيرہ والے اوربعدوالی نمازوں کے لئے متوسطہ والے کام انجام دے، مثلا اگرنماز ظهرسے پهلے مستحاضہ کثيرہ، متوسطہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ نماز ظہر کے لئے غسل کرے اور نماز عصر، مغرب اورعشا کے لئے وضو کرے، ليکن اگر نماز ظہر کے لئے غسل نہ کرے اورفقط نماز عصر پڑھنے کا وقت باقی ہو تونماز عصرکے لئے غسل کرناضروری ہے اور اگر نماز عصر کے لئے بھی غسل نہ کرے تو ضروری ہے کہ نماز مغرب کے لئے غسل کرے اور اگر اس کے لئے بھی غسل نہ کرے اورفقط نمازعشا پڑھنے کاوقت ہو تو نماز عشا کے لئے غسل کرناضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٣٠ اگرہرنمازسے پهلے مستحاضہ کثيرہ کا خون رک جاتا ہو اور دوبارہ آجاتاہوتوخون رکنے کے وقت ميں اگر غسل کرکے نمازپڑھی جا سکتی ہو تو ضروری ہے کہ اس وقت کے دوران ہی غسل کرکے نمازپڑھے اوراگرخون رکنے کا وقفہ اتناطویل نہ ہوکہ طهارت کرکے نمازپڑھ سکے تووهی ایک غسل کافی ہے اوراگرغسل اورنمازکے کچھ حصے کے لئے وقت ہو تو احتياط واجب کی بناپراس وقت ميں غسل کرے نمازپڑھے۔

مسئلہ ۴ ٣١ اگرمستحاضہ کثيرہ، قليلہ ہوجائے توضروری ہے کہ پهلے نمازکے لئے کثيرہ والے اوربعدوالی نمازوں کے لئے قليلہ والے کام انجام دے اوراگرمستحاضہ متوسطہ، قليلہ ہوجائے توبهی ضروری ہے کہ پهلی نمازکے لئے متوسطہ کے وظيفے اور بعد والی نمازوں کے لئے قليلہ کے وظيفے پر عمل کرے۔

مسئلہ ۴ ٣٢ اگرمستحاضہ اپنے واجب وظيفے ميں سے کوئی ایک کام بھی ترک کرے تواس کی نمازباطل ہے ۔

مسئلہ ۴ ٣٣ جس مستحاضہ نے نمازکے لئے وضویاغسل کياہے احتياط واجب کی بنا پر حالت اختيار ميں اپنے بدن کے کسی حصے کو قرآن کی عبارت سے مس نہيں کرسکتی اور اضطرار کی صورت ميں جائز ہے ، ليکن احتياط کی بنا پر وضو کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٣ ۴ جس مستحاضہ نے اپناواجب غسل انجام دیاہے اس کے لئے مسجد ميں جانا،مسجدميں ٹہرنا، واجب سجدے والی آیت کی تلاوت کرنااوراس کے شوهرکے لئے اس سے نزدیکی کرنا حلال ہے ، اگرچہ اس نے نماز ادا کرنے کے لئے انجام دئے جانے والے دوسرے کام مثلاً روئی اور کپڑا تبدیل کرنے کا کام انجام نہ دیا ہو اور بنا بر اقویٰ یہ سارے کام غسل کے بغيربهی جائز ہيں اگرچہ ترک کرنا احوط ہے ۔

مسئلہ ۴ ٣ ۵ اگرمستحاضہ کثيرہ اورمتوسطہ نمازکے وقت سے پهلے واجب سجدے والی آیت پڑھنا،مسجدجانایااس کاشوهراس سے نزدیکی کرناچاہے تو احتياط مستحب ہے کہ وہ عورت غسل کرلے۔

مسئلہ ۴ ٣ ۶ مستحاضہ پرنمازآیات واجب ہے اورنمازآیات کے لئے بھی وہ تمام کام ضروری ہيں جونمازیوميہ کے لئے گزرچکے ہيں اوراحتياط کی بنا پرمستحاضہ کثيرہ وضوبهی کرے۔


مسئلہ ۴ ٣٧ جب بھی مستحاضہ پرنمازیوميہ کے اوقات ميں نمازآیات واجب ہوجائے اور دونوں نمازوں کو بلافاصلہ پڑھنا چاہے تب بھی ضروری ہے کہ یوميہ اورآیات دونوں نمازوں کے لئے عليٰحدہ عليٰحدہ مستحاضہ کے وظائف پر عمل کرے۔

مسئلہ ۴ ٣٨ مستحاضہ کے لئے ضروری ہے کہ قضا نمازوں کی ادائيگی پاک ہونے تک مو خٔرکردے اورقضاکے لئے وقت تنگ ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ هرقضانمازکے لئے ادانمازکے واجبات بجالائے۔

مسئلہ ۴ ٣٩ اگرعورت جانتی ہوکہ اسے آنے والاخون زخم کاخون نہيں ہے اورشرعاً اس پرحيض ونفاس کا حکم بھی نہيں ہے توضروری ہے کہ استحاضہ کے احکام پر عمل کرے، بلکہ اگر شک ہو کہ خون استحاضہ ہے یادوسرے خونوں سے کوئی تو ان کی علامت نہ ہونے کی صورت ميں احتياط واجب کی بنا پراستحاضہ کے کام انجام دے۔

حيض

حيض وہ خون ہے جو غالباً ہر مهينے چند دنوں کے لئے عورتوں کے رحم سے خارج ہوتا ہے ۔

عورت کو جب حيض کا خون آئے تو اسے حائض کہتے ہيں ۔

مسئلہ ۴۴ ٠ حيض کا خون عموماً گاڑھا و گرم ہوتا ہے اور اس کا رنگ سياہ یا سرخ ہوتا ہے ۔ یہ شدت اور تهوڑی سی جلن کے ساته خارج ہوتا ہے ۔

مسئلہ ۴۴ ١ ساٹھ برس پورے کرنے کے بعد عورت یائسہ ہو جاتی ہے ، چنانچہ اس کے بعد اسے جو خون آئے وہ حيض نہيں ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ پچاس سال مکمل ہوجانے کے بعدسے ساٹھ سال کی عمر پوری ہونے تک یائسہ اور غير یائسہ دونوں کے احکام پر عمل کرے چاہے قریشی ہو یا غير قریشی، لہٰذا اس دوران اگر علاماتِ حيض کے ساته یا ایامِ عادت ميں خون آئے تو احتياط واجب کی بنا پر ان کاموں کو ترک کر دے جنہيں حائض ترک کرتی ہے اور مستحاضہ کے افعال بھی بجا لائے۔

مسئلہ ۴۴ ٢ اگر کسی لڑکی کو نو سال کی عمر تک پهنچنے سے پهلے خون آئے تو وہ حيض نہيں ہے ۔

مسئلہ ۴۴ ٣ حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو بھی حيض آنا ممکن ہے اور حاملہ وغير حاملہ کے درميان احکامِ حيض ميں کوئی فرق نہيں ہے ۔هاں، اگر حاملہ عورت اپنی عادت کے ایام شروع ہونے کے بيس روز بعد حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے تو احتياط واجب کی بنا پر اس کے لئے ضروری ہے کہ حائضہ پر حرام کاموں کو ترک کردے اور مستحاضہ کے افعال بھی بجالائے۔

مسئلہ ۴۴۴ جس لڑکی کو معلوم نہ ہو کہ وہ نو سال کی ہو چکی ہے یا نہيں ، اگر اسے ایسا خون آئے جس ميں حيض کی علامات نہ ہوں تو وہ حيض نہيں ہے اور اگر اس خون ميں حيض کی علامات موجود ہوں تو وہ حيض ہے اور شرعاً اس کی عمر پورے نو سال ہوگئی ہے ۔


مسئلہ ۴۴۵ جس عورت کو شک ہو کہ یائسہ ہوگئی ہے یا نہيں ، اگر وہ خون دیکھے اور نہ جانتی ہو کہ یہ حيض ہے یا نہيں تو اس کی ذمہ داری ہے کہ خود کو یائسہ نہ سمجھے۔

مسئلہ ۴۴۶ حيض کی مدت تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہيں ہوسکتی۔

مسئلہ ۴۴ ٧ حيض کے لئے ضروری ہے کہ پهلے تين دن لگاتار آئے، لہٰذا اگر مثال کے طور پر کسی عورت کو دو دن خون آئے پھر ایک دن نہ آئے اور پھر ایک دن خون آجائے تو وہ حيض نہيں ہے ، اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ دوسری صورت جيسی صورتحال ميں ان کاموں کو ترک کردے جنہيں حائض ترک کرتی ہے اور مستحاضہ کے افعال بھی بجا لائے۔

مسئلہ ۴۴ ٨ حيض کی ابتدا ميں خون کا باہر آنا ضروری ہے ، ليکن یہ ضروری نہيں کہ پورے تين دن خون نکلتا رہے، بلکہ اگر شرم گاہ ميں بھی خون موجود ہو تو کافی ہے ۔هاں، خون کا رحم ميں ہونا کافی نہيں ہے ، البتہ اگر تين دنوں ميں تهوڑے سے وقت کے لئے کوئی عورت پاک ہو بھی جائے جيسا کہ عورتوں کے درميان معمول ہے تب بھی وہ حيض ہے ۔

مسئلہ ۴۴ ٩ ضروری نہيں ہے کہ عورت پهلی اور چوتھی رات کو بھی خون دیکھے ليکن یہ ضروری ہے کہ دوسری اور تيسری رات کو خون منقطع نہ ہو۔ پس اگر پهلے دن اذانِ صبح کے وقت سے تيسرے دن غروب آفتاب تک متواتر خون آتا رہے اور کسی وقت قطع نہ ہو تو بغير کسی اشکال کے وہ حيض ہے ۔ اسی طرح سے اگر پهلے دن دوپہر سے خون آنا شروع ہو اور چوتھے دن اسی وقت قطع ہو تو وہ بھی حيض ہے ، ليکن اگر طلوعِ آفتاب سے شروع ہو کر تيسرے دن غروب تک رہے تو احتياط واجب کی بنا پر ان کاموں کو ترک کر دے جنہيں حائض ترک کرتی ہے اور مستحاضہ کے افعال بھی بجالائے۔

مسئلہ ۴۵ ٠ اگر کوئی عورت تين دن متواتر علامات حيض کے ساته یا عادت کے ایام ميں خون دیکھے اور پاک ہوجائے، چنانچہ اگر وہ دوبارہ علاماتِ حيض کے ساته یا عادت کے ایام ميں خون دیکھے تو جن دنوں ميں وہ خون دیکھے اور جن دنوں ميں وہ پاک ہو، ان تمام دنوں کو ملاکر اگر دس دنوں سے زیادہ نہ ہوں تو جن دنوں ميں وہ پاک تهی، وہ بھی حيض ہے ۔

مسئلہ ۴۵ ١ اگر کسی عورت کو تين دن سے زیادہ اور دس دن سے کم خون آئے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ یہ خون پهوڑے یا زخم کا ہے یا حيض کا، تو اگر خون ميں علامات حيض موجود ہوں یا ایام عادت ہوں تو ضروری ہے کہ اسے حيض قرار دے۔ اس صورت کے علاوہ اگر جانتی ہو کہ سابقہ حالت طهارت تھی یا سابقہ حالت کو نہ جانتی ہو تو اپنے آپ کو پاک سمجھے اور اگر جانتی ہو کہ سابقہ حالت حيض تھی تو جهاں تک سابقہ حالت کے تمام خون اور مشکوک خون کا شرعاً حيض ہونا ممکن ہو، اسے حيض قرار دے۔

مسئلہ ۴۵ ٢ اگر کوئی عورت خون دیکھے جسے تين دن نہ گزرے ہوں اور جس کے بارے ميں اسے علم نہ ہو کہ زخم کا خون ہے یا حيض کا اور ایامِ عادت ميں نہ ہو اور اس ميں صفات حيض نہ ہوں، تواگر سابقہ حالت حيض ہو جيسا کہ سابقہ مسئلے ميں بيان ہوچکا، تو ضروری ہے کہ اسے حيض قرار دے ورنہ ضروری ہے کہ اپنی عبادات کو بجالائے۔


مسئلہ ۴۵ ٣ اگر کسی عورت کو خون آئے اور اسے شک ہو کہ یہ خون حيض ہے یا استحاضہ ، تو اس ميں حيض کی شرائط موجود ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ اسے حيض قرار دے۔

مسئلہ ۴۵۴ اگر کسی عورت کو خون آئے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ یہ حيض ہے یا بکارت کا خون ، توضروری ہے کہ یااپنے بارے ميں تحقيق کرے یعنی روئی کی کچھ مقدار شرمگاہ ميں رکھے اور تهوڑی دیر انتظار کرے پھر روئی باہر نکالے، پس اگر خون روئی کے اطراف ميں لگا ہو تو خون بکارت ہے اور اگر خون ساری روئی تک پهنچ چکا ہو تو حيض ہے اور یا احتياط کرتے ہوئے ان کاموں کو بھی ترک کرے جو حائضہ پر حرام ہيں اور ان اعمال کو بھی انجام دے جو پاک عورت پر واجب ہيں ۔

مسئلہ ۴۵۵ اگر کسی عورت کو تين دن سے کم خون آئے اور پاک ہو جائے اور پھر تين دن تک ایام عادت یا علاماتِ حيض کے ساته آئے تو دوسرا خون حيض ہے اور پهلا خون اگرچہ ایام عادت ميں ہو حيض نہيں ہے ۔

حائضہ کے احکام

مسئلہ ۴۵۶ حائضہ پر چند چيزیں حرام ہيں :

اوّل: نماز جيسی عبادات جن کے لئے وضو، غسل یا تيمم کرنا پڑتا ہے ۔ ان عبادات کے حرام ہونے سے مراد یہ ہے کہ انہيں حکمِ خدا کی بجاآوری اور مطلوبيتِ شرعی کے قصد سے انجام دینا جائز نہيں ہے ۔ ليکن نماز ميت جيسی عبادات جن کے لئے وضو، غسل یا تيمم ضروری نہيں ہے ، انہيں انجام دینے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

دوم:احکامِ جنابت ميں مذکورہ تمام چيزیں جو مجنب پر حرام ہيں ۔

سوم:فرج ميں جماع جو کہ مرد و عورت دونوں پر حرام ہے چاہے ختنہ گاہ کی مقدار سے بھی کم دخول ہو اور منی بھی نہ نکلے اور احتياط واجب کی بنا پر حائضہ کے ساته پشت کی جانب سے بھی وطی کرنے ميں اجتناب کرے۔ ہاں، حائضہ سے نزدیکی کے علاوہ بوسہ دینے اور چھيڑ چھاڑ جيسی لذت حاصل کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ۴۵ ٧ جماع کرنا ان ایام ميں بھی حرام ہے جب عورت کا حيض قطعی نہ ہو ليکن اس پر شرعاً خون کو حيض سمجھنا ضروری ہو، لہٰذا جو عورت دس دن سے زیادہ خون دیکھے اور آئندہ آنے والے حکم کی بنا پر ان ميں سے اپنی رشتہ دار خواتين کے حيض کی عادت والے ایام کو حيض قرار دینا ضروری ہو تو ان ایام ميں اس کا شوہر اس سے نزدیکی نہيں کرسکتا ہے ۔


مسئلہ ۴۵ ٨ اگر مرد بيوی سے حالت حيض ميں نزدیکی کرے تو احتياط مستحب کی بنا پر ایام حيض کے پهلے حصے ميں اٹھ ارہ، دوسرے حصّے ميں نو اور تيسرے حصے ميں ساڑے چار چنے کے برابر سکہ دار سونا بطور کفارہ ادا کرے۔ مثلاً جس عورت کو چھ دن حيض آتا ہو اگر اس کا شوہر پهلی اور دوسری رات یا دن ميں اس سے جماع کرے تو اٹھ ارہ چنے کے برابر سونا، تيسری اور چوتھی رات یا دن ميں نَو چنے اور پانچویں اور چھٹی رات یا دن ميں نزدیکی کرے تو ساڑھے چار چنے کے برابر سونا دے اور عورت پر کفارہ نہيں ہے ۔

مسئلہ ۴۵ ٩ احتياط مستحب کی بنا پر حائضہ کے ساته پشت کی جانب سے نزدیکی کرنے کا کفارہ سابقہ مسئلے کے مطابق ادا کرے۔

مسئلہ ۴۶ ٠ اگر سکہ دار سونا نہ ہو تو اس کی قيمت ادا کرے اور اگر اس کی قيمت ميں ، جماع کرتے وقت اور فقير کو ادا کرتے وقت اختلاف ہو تو فقير کو ادا کرتے وقت کی قيمت حساب کرے۔

مسئلہ ۴۶ ١ اگر کوئی اپنی بيوی کے ساته ایام حيض کے پهلے، دوسرے اور تيسرے ہر حصے ميں جماع کرے تو احتياط مستحب کی بنا پر ہر حصّے کا کفارہ دے جو مجموعاً ساڑھے اکتيس چنے ہيں ۔

مسئلہ ۴۶ ٢ اگر حائضہ سے متعدد بار نزدیکی کرے تو احتياط مستحب ہے کہ ہر جماع کے لئے عليحدہ کفارہ دے۔

مسئلہ ۴۶ ٣ اگر مرد نزدیکی کے دوران مطلع ہو جائے کہ بيوی حائضہ ہوگئی ہے تو ضروری ہے کہ فوراً اس سے جدا ہو جائے اور اگر جدا نہ ہو تو احتياط مستحب کی بنا پر کفارہ دے۔

مسئلہ ۴۶۴ اگرمرد حائضہ عورت سے زنا کرے یا نامحرم حائضہ کو بيوی سمجھ کر اس کے ساته جماع کرے تو احتياط مستحب کی بنا پر کفارہ دے۔

مسئلہ ۴۶۵ جو شخص کفارہ دینے کی قدرت نہ رکھتا ہو احتياط مستحب کی بنا پر ایک فقير کو صدقہ دے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو استغفار کرے۔

مسئلہ ۴۶۶ اگر کوئی شخص جاہل قاصر ہونے کی وجہ سے یا بھول کر اپنی بيوی سے حالت حيض ميں نزدیکی کرے تو کفارہ نہيں ہے ، ليکن جاہل مقصر ميں محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ۴۶ ٧ اگر بيوی کو حائضہ سمجھتے ہوئے اس سے نزدیکی کرے اور بعد ميں معلوم ہو کہ حائضہ نہيں تھی تو کفارہ نہيں ہے ۔

مسئلہ ۴۶ ٨ اگر عورت کو حالت حيض ميں طلاق دے تو جيسا کہ طلاق کے احکام ميں بتایا جائے گا، ایسی طلاق باطل ہے ۔

مسئلہ ۴۶ ٩ گر عورت خود کے بارے ميں حائضہ ہونے یا پاک ہونے کی خبر دے تو قبول کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٧٠ اگر عورت نماز پڑھتے ہوئے حائضہ ہو جائے تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ۴ ٧١ اگر عورت نماز پڑھتے ہوئے شک کرے کہ حائضہ ہوئی یا نہيں تو اس کی نماز صحيح ہے ، ليکن اگر نماز کے بعد معلوم ہو کہ نماز کے دوران حائضہ ہوگئی تھی تو اس حالت ميں پڑھی ہوئی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ۴ ٧٢ خون حيض سے پاک ہونے کے بعد اگر نماز اور دوسری عبادتيں جن کے لئے وضو، غسل یا تيمم ضروری ہوتا ہے ، انجام دینا چاہے تو ضروری ہے کہ غسل کرے اور اس کا طریقہ غسل جنابت کی طرح ہے اور احتياط مستحب ہے کہ غسل سے پهلے وضو بھی کرے۔

مسئلہ ۴ ٧٣ حيض سے پاک ہونے کے بعد اگر چہ غسل نہ کيا ہو، عورت کو طلاق دینا صحيح ہے اور اس وقت اس کا شوہر اس سے جماع بھی کرسکتا ہے ، ليکن جماع ميں احتياط واجب کی بنا پرضروری ہے شرمگاہ دهونے کے بعدهو اور احتياط مستحب ہے کہ غسل سے پهلے، خصوصاً جب شدید خواہش نہ ہو، مجامعت نہ کرے۔ ہاں، مسجد ميں ٹھ هرنے اور قرآن کے حروف کو مس کرنے جيسے کام جو حائضہ پر حرام تهے، جب تک غسل نہ کرے حلال نہيں ہوں گے۔

مسئلہ ۴ ٧ ۴ اگر اتنا پانی نہ ہو جس سے وضو اور غسل دونوں کئے جا سکيں ليکن صرف غسل کرنے کے لئے کافی ہو تو غسل کرنا ضروری ہے اور احتياط مستحب کی بنا پر وضوکے بدلے تيمم کرے اور اگر صرف وضو کرنے کے لئے پانی ہو اور غسل کے لئے نہ ہو تو ضروری ہے کہ وضو کرے اور غسل کے بدلے تيمم کرے اور اگر وضو اور غسل دونوں کے لئے پانی نہ ہو تو غسل اور وضو کے بدلے ایک ایک تيمم کرے۔

مسئلہ ۴ ٧ ۵ عورت نے جو نمازیں حالت حيض ميں ترک کی ہيں ان کی قضا نہيں ہے اور نماز آِیات کا حکم مسئلہ نمبر ” ١ ۵ ١ ۴ “ ميں آئے گا، جب کہ رمضان کے روزوں کی قضا کرناضروری ہے ۔هاں، معين نذر والے روزے یعنی نذر کی ہو کہ مثلاً فلاں دن روزہ رکہوں گی اور اسی دن حائضہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر قضا کرے۔

مسئلہ ۴ ٧ ۶ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد عورت جانتی ہو کہ اگر دیر کی تو حائضہ ہو جائے گی تو ضروری ہے کہ فوراً نماز پڑھے اور اگر احتمال ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ۴ ٧٧ اگر عورت اوّل وقت ميں نماز پڑھنے ميں تاخير کرے اور اتنا وقت گذر جائے کہ وہ اپنے حال کے اعتبار سے ایک شرائط رکھنے والی اور مبطلات سے محفوظ نماز انجام دے سکتی ہو اور حائضہ ہو جائے تو اس نماز کی قضا واجب ہے ۔ احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم اس وقت بھی ہے جب وقت اتنا گذرا ہو کہ صرف حدث سے طهارت، چاہے تيمم کے ذ ریعے ہی سهی، کے ساته نماز ادا کر سکتی ہو، جب کہ اس کے لئے نماز کی باقی شرائط مثلاً ستر پوشی یا خبث سے طهارت کا انتظام کرنا ممکن نہ ہو۔

مسئلہ ۴ ٧٨ اگر عورت نماز کے آخر وقت ميں خون سے پاک ہو جائے اور ابهی اتنا وقت باقی ہو کہ غسل کرکے ایک یا ایک سے زیادہ رکعت نماز پڑھی جا سکے تو ضروری ہے کہ نماز پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس کی قضا ضروری ہے ۔


مسئلہ ۴ ٧٩ اگر حيض سے پاک ہونے کے بعد عورت کے پاس نماز کے وقت ميں غسل کرنے کی گنجائش نہ ہو، ليکن تيمم کرکے وقت نماز ميں نماز پڑھ سکتی ہو تو احتياط واجب ہے کہ تيمم کر کے نماز پڑھے اور نہ پڑھنے کی صورت ميں اس پر قضا نہيں ہے ۔ البتہ اگر کسی اور وجہ سے اس کی شرعی ذمہ داری تيمم ہو مثلاً اس کے لئے پانی مضر ہو تو واجب ہے کہ تيمم کر کے نماز پڑھے اور نہ پڑھنے کی صورت ميں قضا واجب ہے ۔

مسئلہ ۴ ٨٠ اگر حيض سے پاک ہونے کے بعد عورت شک کرے کہ نماز کے لئے وقت ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنی نماز پڑھے۔

مسئلہ ۴ ٨١ اگر اس خيال سے کہ نماز کے مقدمات فراہم کر کے ایک رکعت نماز کے لئے بھی وقت نہيں ہے ، نماز نہ پڑھے، پھر بعد ميں معلوم ہو کہ وقت تھا تو اس نماز کی قضا کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۴ ٨٢ مستحب ہے کہ حائضہ، نماز کے وقت ميں خود کو خون سے پاک کرے، روئی اور کپڑے کو تبدیل کرے، وضو کرے اور اگر وضو نہ کرسکتی ہو تو تيمم کرکے کسی پاک جگہ رو بقبلہ ہو کر بيٹھے اور نماز کی مقدار ميں ذکر، تسبيح تهليل اور حمد الٰهی ميں مشغول ہو۔

مسئلہ ۴ ٨٣ حائضہ کے لئے مهندی اور اس جيسی چيز سے خضاب کرنا اور بدن کے کسی حصے کو قرآن کے الفاظ کے درميانی حصّوں سے مس کرنا مکروہ ہے ۔هاں، قرآن ساته رکھنے اور پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

حائضہ عورتوں کی اقسام

مسئلہ ۴ ٨ ۴ حائضہ عورتوں کی چھ قسميں ہيں :

(اوّل) وقتيہ و عددیہ عادت والی عورت: یہ وہ عورت ہے جو مسلسل دو ماہ وقت معين پر خون دیکھے اور اس کے ایام حيض کی تعداد بھی دونوں مهينوں ميں مساوی ہو مثلاً مسلسل دو ماہ مهينے کی پهلی سے ساتویں تک خون دیکھے ۔

(دوم) و قتيہ عادت والی عورت: یہ وہ عورت ہے جو مسلسل دو ماہ تک وقت معين پر خون دیکھے ليکن دونوں مهينوں ميں اس کے ایام حيض کی تعداد برابر نہ ہو مثلاً مسلسل دو ماہ پهلی سے خون دیکھے ليکن پهلے مهينے ساتویں اور دوسرے مهينے آٹھ ویں تاریخ کو خون سے پاک ہو۔


(سوم) عددیہ عادت والی عورت: یہ وہ عورت ہے جس کے ایام حيض کی تعداد مسلسل دو ماہ ایک دوسرے کے برابر ہو ليکن ان دونوںمهينوں ميں خون دیکھنے کا وقت ایک نہ ہو مثلاً پهلے مهينے پهلی سے پانچویں تک اور دوسرے مهينے بارہ سے سترہ تاریخ تک خون دیکھے ۔

اورایک مهينے ميں دو مرتبہ مساوی ایام ميں خون دیکھنے سے عادت طے ہونا محل اشکال ہے ، مثلاً مهينے کی ابتدا ميں پانچ روز اور دس یا زیادہ دنوں بعد دوبارہ پانچ روز خون دیکھے ۔

(چهارم) مضطربہ: یہ وہ عورت ہے جس نے چند ماہ خون دیکھا ہو ليکن اس کی عادت ہی معين نہ ہوئی ہو یا پرانی عادت بگڑ گئی ہو اور نئی عادت طے نہ ہوئی ہو ۔

(پنجم) مبتدئہ: یہ وہ عورت ہے جس نے پهلی مرتبہ خون دیکھا ہو۔

(ششم)ناسيہ: یہ وہ عورت ہے جو اپنی عادت بھول گئی ہو ان ميں سے ہر ایک کے مخصوص احکام ہيں جو آئندہ مسائل ميں بيان ہوں گے۔

١۔وقتيہ و عدديہ عادت والی عورت مسئلہ ۴ ٨ ۵ وقتيہ و عددیہ عادت والی خواتين کی دو اقسام ہيں :

(اوّل) وہ عورت جو مسلسل دو ماہ وقت معين پر حيض دیکھے اور وقت معين پر پاک ہو جائے مثلاً مسلسل دو ماہ پهلی سے خون دیکھے اور ساتویں کو پاک ہو جائے۔ لہٰذا اس عورت کی عادت مهينے کی پهلی سے ساتویں تک ہے ۔

(دوم) وہ عورت جو دو ماہ مسلسل وقت معين پر حيض دیکھے اور تين یا اس سے زیادہ دن گزرنے کے بعد ایک دن یا زیادہ ایام پاک رہے اور پھر دوبارہ حيض دیکھے ليکن خون والے اور درميانی پاکی والے ایام کا مجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہو اور دونوں مهينوں ميں خون والے اور درميانی پاکی کے ایام کا مجموعہ برابر ہو۔ لہٰذا اس کی عادت ان تمام ایام کی ہے کہ جن ميں خون دیکھا اور جن ميں پاک رہی ہے ، البتہ یہ ضروری نہيں ہے کہ دونوں مهينوں ميں درميانی پاکی کے ایام مساوی ہوں، مثلا اگر پهلے مهينے پهلی سے تيسری تاریخ تک خون دیکھے اور پھر تين دن پاک گزرنے کے بعد دوبارہ تين دن خون دیکھے اور دوسرے مهينے تين دن خون دیکھنے کے بعد تين دن سے کم یا زیادہ پاک رہے اور دوبارہ خون دیکھے اور مجموعہ نو دن ہو تو اس صورت ميں پورے نو دن حيض ہيں اور اس عورت کی عادت نو دن ہے ۔


مسئلہ ۴ ٨ ۶ وقتيہ و عددیہ عادت والی عورت اگر اپنی عادت کے ایام ميں یا عادت سے اتنا پهلے خون دیکھے کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت جلدی آگئی ہے تو اگرچہ اس خون ميں حيض کی علامات نہ ہوں تب بھی ضروری ہے کہ حائضہ کے سلسلے ميں مذکورہ احکام پر عمل کرے۔هاں، اگر بعد ميں معلوم ہو کہ حيض نہيں تھا مثلاً تين دن پورے ہونے سے پهلے پاک ہو جائے تو ضروری ہے کہ جن عبادتوں کو ترک کيا تھا ان کی قضا کرے۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب ایام عادت کی ابتدا ميں تاخير سے خون دیکھے ليکن عادت سے باہر نہ ہو، البتہ اگر ایام عادت کے تمام ہونے کے بعد خون دیکھے اور اس ميں حيض کی کوئی علامت نہ ہو تو اگر ایام عادت کے ختم ہونے کے دو یا زیادہ دنوں کے بعد ہو تو حيض نہيں ہے اور اگردو دن سے کم مدت ہو تو احتياط واجب کی بنا پر تروک حائض اور افعال مستحاضہ ميں جمع کرے۔

مسئلہ ۴ ٨٧ وقتيہ اور عددیہ عادت والی عورت اگر عادت کے تمام ایام کے ساته ساته عادت سے پهلے والے ایام ميں حيض کی علامات کے ساته یا اس طرح خون دیکھے کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت پهلے آگئی ہے اور عادت کے بعد کے ایام ميں بھی حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے اور یہ سب مجموعی طور پر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے اور اگر زیادہ ہو تو فقط عادت والا خون حيض ہے اور اس سے پهلے اور بعد والا استحاضہ ہے ۔ لہٰذا عادت سے پهلے اور بعد والے ایام ميں ترک کی ہوئی عبادات کی قضا ضروری ہے ۔

اگر عادت کے تمام ایام کے ساته عادت سے پهلے والے ایام ميں حيض کی علامات کے ساته یا اس طرح کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت پهلے آگئی ہے ، خون دیکھے جو مجموعی طور پر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے اور اگر دس دن سے زیادہ ہو تو فقط عادت کے ایام حيض ہيں اور عادت سے پهلے والا خون استحاضہ ہے ۔ لہٰذا ان ایام ميں ترک کی ہوئی عبادات کی قضا ضروری ہے ۔

اگر عادت کے تمام ایام کے ساته ساته عادت کے بعد بھی حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے جو مجموعی طور پر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے اور اگر عادت کے بعد والے خون ميں حيض کی علامات نہ ہوں تو احتياط واجب کی بنا پر عادت کے بعد والے ایام ميں تروک حائض اور افعال استحاضہ ميں جمع کرے، البتہ اگر مجموعہ دس دن سے زیادہ ہو جائے تو عادت والے ایام حيض اور باقی استحاضہ ہيں ۔


مسئلہ ۴ ٨٨ وقتيہ اور عددیہ عادت والی عورت اگر عادت کے کچھ دن اور عادت سے اتنا پهلے کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت جلدی آگئی ہے یا عادت سے پهلے حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے جو مجموعی طور پر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے اور اگر دس دن سے زیادہ ہو تو عادت کے ایام ميں آئے ہوئے خون کے ساته عادت سے پهلے والے جن ایام کا مجموعہ اس کی عادت کے برابر ہو وہ حيض ہے بشرطيکہ عادت سے پهلے والے خون کے بارے ميں عرفاً کها جاتا ہو کہ اس کی عادت جلدی آگئی ہے یا اس ميں حيض کی علامات ہوں اور ان سے پهلے والے ایام کو استحاضہ شمار کرے۔

اور اگر عادت کے کچھ دن اور اس کے بعد چند دن خون دیکھے جو مجموعی طور پر دس دن سے زیادہ نہ ہو اور عادت کے بعد والے خون ميں حيض کی علامات بھی موجود ہوں تو سب کا سب حيض ہے اور اگر عادت کے بعد والے خون ميں حيض کی علامات موجود نہ ہوں، تو عادت اور اس کے بعد والے جتنے ایام مل کر عادت کے دنوں کی تعداد بنتی ہوان کو حيض قرار دے اور اس کے بعد دسویں دن تک احتياط واجب کی بنا پر تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کرے ۔ ہاں، اگر سب مل کر دس دن سے زیادہ ہو تو عادت کی مقدار کے ایام کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔

مسئلہ ۴ ٨٩ جو عورت عادت والی ہو، اگر تين دن یا اس زیادہ خون دیکھنے کے بعد پاک ہو جائے اور دوبارہ خون دیکھے اور دونوں خونوں کے درميان دس دن سے کم فاصلہ ہو اور خون دیکھنے والے ایام کے ساته درميان ميں پاک رہنے والے ایام کا مجموعہ دس دن سے زیادہ ہو مثلاً پانچ دن خون دیکھے پھر پانچ دن پاک رہے اور دوبارہ پانچ دن خون دیکھے تو اس کی چند صورتيں ہيں :

١) پهلی مرتبہ دیکھا ہوا سارا خون عادت کے ایام ميں ہو اور پاک ہونے کے بعد جو دوسرا خون دیکھا ہو وہ عادت کے دنوں ميں نہ ہو، اس صورت ميں پهلے والے سارے خون کو حيض اور دوسرے خون کو استحاضہ قرار دے۔ یهی حکم ہے جب پهلے خون کی کچھ مقدار عادت ميں اور کچھ مقدار عادت سے پهلے دیکھے بشرطيکہ خون عادت سے اتنا پهلے دیکھے کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت جلدی آگئی ہے یا حيض کی علامات کے ساته ہو، چاہے عادت سے پهلے ہو یا عادت کے بعد ہو۔

٢) پهلا خون عادت کے ایام ميں نہ ہو اور دوسرے خون ميں سے سارا یا کچھ خون پهلی صورت ميں مذکورہ طریقے کے مطابق عادت کے دنوں ميں ہو تو ضروری ہے کہ دوسری مرتبہ کے سارے خون کو حيض اور پهلے خون کو استحاضہ قرار دے۔

٣) پهلے اور دوسرے خون ميں سے تهوڑی تهوڑی مقدار عادت کے ایام ميں ہو اور پهلی مرتبہ کا جو خون عادت کے ایام ميں ہو وہ تين دن سے کم نہ ہو تو اس صورت ميں یہ مقدار درميانی پاکی اور دوسری مرتبہ کے عادت ميں آئے ہوئے خون کے ساته اگر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو حيض ہے ، جب کہ پهلے خون ميں سے عادت سے پهلے والا اور دوسرے ميں سے عادت کے بعد والا خون استحاضہ ہے مثلاً اگر اس کی عادت مهينے کی تيسری سے دسویں تک ہو تو جب مهينے کی پهلی سے چھٹی تک خون دیکھے پھر دو دن پاک رہے اس کے بعد پندرہویں تک خون دیکھے تو تين سے دس تک حيض ہے اور پهلے، دوسرے اور گيارہ سے پندرہ تک استحاضہ ہے ۔


۴) پهلے اور دوسرے خون ميں سے تهوڑی تهوڑی مقدار عادت ميں ہو ليکن پهلی مرتبہ کا جو خون عادت ميں ہو تين دن سے کم ہو تو ضروری ہے کہ دونوں خونوں کے دوران تروک حائض اور اعمال استحاضہ ميں جمع کرے اور درميانی پاکی کے دوران تروک حائض اور افعال طاہرہ ميں جمع کرے۔

مسئلہ ۴ ٩٠ وقتيہ و عددیہ عادت والی عورت اگر عادت ميں خون نہ دیکھے اور عادت کے علاوہ کسی اور وقت اپنے حيض کے ایام کی مقدار ميں خون دیکھے تو حيض کی علامات موجود ہونے کی صورت ميں اس خون کو حيض قرار دے۔

مسئلہ ۴ ٩١ وقتيہ و عددیہ عادت والی عورت اگر اپنی عادت ميں خون دیکھے جو تين دن سے کم نہ ہو ليکن اس خون کے ایام کی مقدار عادت کے ایام سے کم ہو یا زیادہ ہو اور پاک ہونے کے بعد دوبارہ عادت کے ایام کے برابر حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے تو اگر ان دونوں خون اور درميان کی پاکی کے ایام کا مجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب کو حيض قرار دے اور زیادہ ہونے کی صورت ميں عادت ميں دیکھے ہوئے خون کو حيض اور باقی خون کو استحاضہ قرار دے۔

مسئلہ ۴ ٩٢ وقتيہ و عددیہ عادت والی عورت اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے تو جو خون عادت کے ایام ميں دیکھا ہو وہ حيض ہے اگر چہ اس ميں حيض کی علامات نہ ہوں اور جو خون عادت کے ایام کے بعد دیکھا ہے استحاضہ ہے اگر چہ اس ميں حيض کی علامات ہوں مثلاً جس عورت کی عادت مهينے کی پهلی سے ساتویں تک ہو، اگر پهلی سے بارہویں تک خون دیکھے تو پهلے سات دن حيض ہيں اور بعد والے پانچ دن استحاضہ ہيں ۔

٢۔وقتيہ عادت والی عورت

مسئلہ ۴ ٩٣ وقتيہ عادت والی عورتوں کی دو قسميں ہيں :

(اوّل) ایسی عورت ہے جو دو ماہ مسلسل وقت معين پر خون دیکھے اور چند دنوں کے بعد پاک ہو جائے ليکن خون دیکھنے کے دنوں کی تعداد دونوں مهينوں ميں مساوی نہ ہو، مثلاً دو ماہ مسلسل پهلی تاریخ سے خون حيض دیکھے ليکن پهلے مهينے ساتویں اور دوسرے مهينے آٹھ ویں تاریخ کو خون سے پاک ہو، لہٰذا اس عورت کے لئے ضروری ہے کہ مهينے کی پهلی تاریخ کو اپنے حيض کی عادت کا پهلا دن قرار دے۔

(دوم) ایسی عورت ہے جو مسلسل دو ماہ وقت معين سے تين یا زیادہ دن خون دیکھنے کے بعد پاک ہو جائے اور دوبارہ خون دیکھے اور خون والے تمام ایام اور درميانی پاکی کے ایام کا مجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہو ليکن دوسرے مهينے ميں پهلے کے مقابلے ميں کم یا زیادہ ہو مثلاً پهلے مهينے آٹھ دن اور دوسرے مهينے نو دن ہو۔ ایسی عورت کے لئے ضروری ہے کہ مهينے کے پهلے دن کو حيض کا پهلا دن قرار دے۔


مسئلہ ۴ ٩ ۴ وقتيہ عادت والی عورت اگر اپنی عادت کے وقت یا اس سے اتنا پهلے خون دیکھے کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت جلدی آگئی ہے یا ابتدا عادت ميں اتنی تاخير ہو کہ عرفاً کها جائے کہ اس کی عادت ميں تاخير ہوگئی ہے تو اگرچہ اس خون ميں حيض کی علامات نہ ہوں تب بھی ضروری ہے کہ حائضہ کے احکام پر عمل کرے۔هاں، اگر بعد ميں مثلاً تين دن سے پهلے پاک ہونے کی وجہ سے معلوم ہو جائے کہ حيض نہيں تھا تو ضروری ہے کہ ترک کی ہوئی عبادات کی قضا کرے۔

مسئلہ ۴ ٩ ۵ وقتيہ عادت والی عورت اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے اور حيض کی نشانيوں کے ذریعے حيض کو پہچان نہ سکتی ہو تو ضروری ہے کہ اپنی رشتہ دار خواتين، چاہے پدری ہوں یا مادری اور چاہے زندہ ہوں یا مر چکی ہوں، کے ایامِ عادت کی مقدار کو اپنا حيض قرار دے اور اگر ان کی عادت چھ یا سات دن نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کی عادت اور چھ یا سات دن کے درميان کی مدت ميں حيض اور استحاضہ دونوں کے احکام پر عمل کرے۔هاں، رشتہ دار خواتين کے حيض کی عادت کو اپنی عادت صرف اسی صورت ميں قرار دے سکتی ہے جب ان سب کے ایام حيض کی تعداد مساوی ہو۔ لہذا، اگر ان کے ایام حيض کی مقدار مساوی نہ ہو مثلاً بعض کی عادت پانچ دن اور دوسروں کی عادت سات دن ہو تو ان کی عادت کو اپنے لئے حيض قرار نہيں دے سکتی ہے ۔

مسئلہ ۴ ٩ ۶ جس وقتيہ عادت والی عورت نے اپنی رشتہ دار خواتين کی عادت کو اپنا حيض قرار دیا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جو دن ہر ماہ اس کی عادت کا پهلا دن ہو اس دن کو حيض کا پهلا دن قرار دے۔ مثلاً جو عورت ہر ماہ پهلی تاریخ کو خون دیکھتی ہو اور کبهی سات اور کبهی آٹھ تاریخ کو پاک ہوتی ہو اگر کسی مهينے بارہ دن خون دیکھے اور اس کی رشتہ دار خواتين کی عادت سات دن ہو تو ضروری ہے کہ مهينے کے ابتدائی سات دنوں کو حيض اور باقی ایام کو استحاضہ قرار دے۔

مسئلہ ۴ ٩٧ جس عورت کو اپنی عادت رشتہ دار خواتين کی عادت کے مطابق قرار دینی ہے اگر اس کی رشتہ دار خواتين نہ ہوں یا ان کی عادت آپس ميں مساوی نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ہر مهينے خون دیکھنے کے دن سے چھ یا سات دن تک حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔

٣۔عدديہ عادت والی عورت

مسئلہ ۴ ٩٨ عددیہ عادت والی خواتين کی دو قسميں ہيں :

(اوّل) وہ عورت ہے جس کے خون دیکھنے کے ایام کی تعداد مسلسل دو ماہ تک مساوی ہو ليکن خون دیکھنے کا وقت ایک نہ ہو تو اس صورت ميں جن ایام ميں خون دیکھا ہو وہ اس کی عادت ہيں ۔

مثلاً پهلے مهينے پهلی سے پانچویں تاریخ تک اور دوسرے مهينے گيارہویں سے پندرہویں تک خون دیکھے تو اس کی عادت پانچ روز ہوگی۔


(دوم) وہ عورت ہے جو مسلسل دو ماہ تک تين یا زیادہ دن خون دیکھے اور ایک یا زیادہ روز پاک رہے اور دوبارہ خون دیکھے اور پهلے مهينے خون دیکھنے کا وقت دوسرے مهينے سے فرق رکھتا ہو تو اگر جن ایام ميں خون دیکھا ہے ان کے ساته درميانی پاکی کا مجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہو اور ان کے ایام بھی دونوں مهينوں ميں برابر ہوں تو جن دنوں ميں خون دیکھا ہو اور جن دنوں ميں پاک رہی ہو سب کو اپنے حيض کی عادت قرار دے۔ البتہ یہ ضروری نہيں ہے کہ درميانی پاکی کے ایام دونوں مهينوں ميں برابر ہوں مثلاً اگر پهلے مهينے پهلی سے تيسری تاریخ تک خون دیکھنے کے بعد دو روز پاک رہے پھر دوبارہ تين دن خون دیکھے اور دوسرے ماہ گيارہویں سے تيرہویں تک خون دیکھے اور دو دن یا اس سے زیادہ یا کم روز پاک رہے اور دوبارہ خون دیکھے اور مجموعہ آٹھ روز ہو تو اس کی عادت آٹھ روز ہے ۔

اسی طرح مثلاً اگر ایک ماہ ميں آٹھ روز خون دیکھے اور دوسرے ماہ چار دن خون دیکھے اور پاک ہو جائے اور دوبارہ خون دیکھے اور خون اور درميانی پاکی والے ایام کا مجموعہ آٹھ روز ہو تو اس کی عادت آٹھ روز ہوگی۔

مسئلہ ۴ ٩٩ عددیہ عادت والی عورت اگر حيض کی نشانيوں کے ساته اپنی عادت کے عدد سے کم یا زیادہ دن خون دیکھے جو دس دن سے زیادہ نہ ہو تو ان سب کو حيض قرار دے اور اگر دس دن سے زیادہ ہو تو اگر دیکھا ہوا تمام خون حيض کی علامات کے ساته ہو تو ضروری ہے کہ خون دیکھنے کی ابتدا سے اپنی حيض کی عادت کے عدد کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے اور اگر دیکھا ہوا سارا خون ایک جيسا نہ ہو بلکہ چند روز خون حيض کی علامات کے ساته ہو اور چند روز استحاضہ کی علامات کے ساته تو اگر حيض کی نشانيوں والے خون کا عدد اس کی عادت کے برابر ہو تو ضروری ہے کہ اس کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے اور اگر حيض کی علامات والا خون عادت کے عدد سے زیادہ ہو تو فقط عادت کی مقدار کو حيض قرار دے اور اس سے زیادہ جس ميں حيض کی علامات ہوں اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر تروک حائض اور افعال مستحاضہ ميں جمع کرے۔

اور اگر حيض کی نشانيوں والا خون تين دن سے کم نہ ہو ليکن اس کی عادت کے ایام سے کم ہو تو ضروری ہے کہ ان ایام کو حيض قرار دے اور اس کے بعد عادت کے عدد تک احتياط واجب کی بنا پر تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کرے۔

۴ ۔ مضطربہ

مسئلہ ۵ ٠٠ مضطربہ یعنی وہ عورت جس نے چند ماہ خون دیکھا ہو اور اس کی عادت معين نہ ہوئی ہو یا اس کی عادت بگڑگئی ہو اور نئی عادت طے نہ ہوئی ہو۔ مضطربہ اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے اور اگر تمام خون حيض کی علامات کے ساته ہو تو اگر اس کی رشتہ دار عورتوں کی عادت چھ یا سات دن ہو تو ان ایام کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔


اور اگر کم ہو مثلاً پانچ روز ہو تو ان کو حيض قرار دے اور احتياط واجب کی بنا پر ان کی عادت اور چھ یا سات روز کے درميان فرق ميں جو کہ ایک یا دو دن ہيں جو کام حائض پر حرام ہيں ترک کرے اور استحاضہ کے کام انجام دے۔

اور اگر اس کی رشتہ دار خواتين کی عادت سات دن سے زیادہ ہو مثلاً نو دن ہو تو چھ یا سات دنوں کو حيض قرار دے اور احتياط واجب کی بنا پر چھ یا سات اور ان کی عادت کے درميان فرق ميں جو کہ دو یا تين دن ہيں حائض پر حرام کاموں کو ترک کرے اور استحاضہ والے کام انجام دے۔

مسئلہ ۵ ٠١ مصظربہ اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے جن ميں چند دن حيض کی علامات اور چند دن استحاضہ کی علامات موجود ہوں تو اگر حيض کی علامات والا خون تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو وہ سب خون حيض ہے ۔ ہاں، اگرحيض کی علامات والے سارے خون کو حيض قرار نہ دیا جاسکتا ہو مثلاً پانچ دن حيض کی نشانيوں کے ساته، پھر پانچ دن استحاضہ کی نشانيوں کے ساته اور پھر دوبارہ پانچ دن حيض کی نشانيوں کے ساته خون دیکھے ، تو اس صورت ميں اگر کيفيت یہ ہو کہ حيض کی نشانيوں والے دونوں خون کو حيض قرار دینا ممکن ہو، اس طرح سے کہ ان ميں سے ہر ایک تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو، تو ضروری ہے کہ ان دونوں خون ميں احتياط کرتے ہوئے تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کر کے اور درميان ميں جو خون حيض کی علامات کے ساته نہيں ہے اسے استحاضہ قرار دے اور اگر ان ميں سے فقط ایک کو حيض قرار دینا ممکن ہو تو پھر اسی کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔

۵ ۔مبتدئہ

مسئلہ ۵ ٠٢ مبتدئہ یعنی وہ عورت جس نے پهلی بار خون دیکھا ہو۔ ایسی عورت اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے اور سارا خون حيض کی علامات کے ساته ہو تو ضروری ہے کہ اپنی رشتہ دار خواتين کی عادت کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔ اگر اس کی کوئی رشتہ دار خاتون نہ ہو یا ان کی عادت مختلف ہو تو احتياط واجب کی بنا پر تين دن کو حيض قرار دے اور پهلے مهينے دس دن تک اور بعد والے مهينوں ميں چھ یا سات دن تک تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کرے۔

مسئلہ ۵ ٠٣ مبتدئہ اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے اور ان ميں سے چند دن حيض کی علامات کے ساته اور باقی چند دن استحاضہ کی علامات کے ساته ہو تو اگر حيض کی علامات والا خون تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے ، ليکن اگر حيض کی علامات والا خون ختم ہونے کے بعد درميان ميں دس دن گزر نے سے پهلے دوبارہ حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے مثلاً پانچ دن سياہ خون، نو دن زرد خون اور دوبارہ پانچ دن سياہ خون دیکھے تو ضروری ہے کہ درميان والے خون کو استحاضہ قرار دے اور پهلے اور آخری خون ميں احتياط کرتے ہوئے تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کر کے۔


مسئلہ ۵ ٠ ۴ مبتدئہ اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے کہ جس ميں چند دن حيض کی نشانياں اور باقی روز استحاضہ کی علامات ہوں اور حيض کی نشانيوں والا خون تين دن سے کم ہو تو تمام خون کو استحاضہ قرار دے۔

۶ ۔ ناسيہ

مسئلہ ۵ ٠ ۵ ناسيہ کی تين اقسام ہيں :

١) صرف عددیہ عادت والی عورت تھی اور عدد بھول گئی۔ اس صورت ميں اگر حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے جو تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے اور اگر دس دن سے زیادہ ہو تو جس مقدار کے بارے ميں عادت ہونے کا احتمال ہو ضروری ہے کہ اسے حيض قرار دے اور اگر یہ مقدار چھ دن سے کم یا سات دن سے زیادہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر حيض کی احتمالی مقدار اور چھ یا سات ميں سے جو اختيار کرے، ان کے درميانی ایام ميں تروک حائض اور افعال مستحاضہ ميں جمع کرے۔

٢) صرف وقتيہ عادت والی عورت تھی اور وقت بھول گئی۔ تو اس صورت ميں اگر حيض کی علامات والا خون دیکھے جو تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب خون حيض ہے اور اگر دس دن سے زیادہ ہو تو اگر اتنا معلوم ہو کہ ان ميں سے بعض اس کی عادت کے ایام ہی تهے تو ضروری ہے کہ تمام خون کے دوران تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کرے اگر چہ سب یا بعض خون ميں حيض کی علامات نہ ہوں۔ یهی حکم اس وقت ہے جب معلوم نہ ہو ليکن احتمال ہو کہ یہ خون ایامِ عادت ميں آیا ہے ۔

اور اگر ایامِ عادت ميں آنے کا احتمال بھی نہ ہو اور بعض ميں حيض اور بعض ميں استحاضہ کی علامات ہوں تو جس ميں حيض کی علامات ہوں اگر وہ تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو اس سب کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے اور جب تمام خون ميں حيض کی علامات ہوں اور وہ دس دن سے زیادہ ہو تو چھ یا سات روز تک حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔

٣) وقتيہ و عددیہ عادت والی عورت تھی۔ اس کی تين صورتيں ہيں :

١) فقط وقت بھول گئی تو اس کا وظيفہ وهی ہے جو دوسری قسم ميں گزرا، سوائے یہ کہ خون علامات حيض کے ساته ہو اور جانتی ہو کہ اس کی عادت کے ایام ميں نہيں آیا اور دس دن سے زیادہ ہو تو اس صورت ميں اگر اس کی عادت چھ یا سات روز ہو تو اس کو حيض قرار دے اور اگر اس سے کم ہو یا زیادہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اس کی عادت اور چھ یا سات ميں سے جو اختيار کرے، کے درميانی ایام ميں تروکِ حائض اور اعمالِ ستحاضہ ميں جمع کرے اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔


٢) فقط عدد بھول گئی ہو تو اس صورت ميں وہ خون جو وقت ميں دیکھا ہو اس سے اتنی مقدار ميں جس کے بارے ميں یقين ہو کہ عادت سے کم نہيں ہے وہ حيض ہے اگر چہ اس ميں حيض کی علامات نہ ہوں اور اس کے بعد کے ایام ميں اگر حيض کی نشانيوں کے ساته ہو اور پهلے والے خون کے ساته مل کر دس دن سے زیادہ نہ ہو توسارا کا سارا حيض ہے ، ليکن پهلے والے خون کے ساته مل کر دس دن سے زیادہ ہو نے کی صورت ميں جس مقدار کے بارے ميں عادت ہونے کا احتمال ہو اگر چھ

دن سے کم ہو تو اس مقدار کو حيض اور چھ یا سات ميں سے جو اختيار کرے اس مقدار تک تروکِ حائض اور اعمالِ مستحاضہ ميں جمع کرے اور اگر سات دن سے زیادہ ہو توچه یا سات روز ميں سے جسے اختيار کرے اس مقدار تک حيض اور اختيار کئے ہوئے عدد سے لے کر دس دن گزرنے سے پهلے تک اسی احتياط کا خيال رکھے۔

٣) وقت اور عدد دونوں بھول گئی ہو۔ اس صورت ميں اگر خون علامات کے ساته ہو اور تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حيض ہے ،ليکن اگر دس دن سے زیادہ ہو اور جانتی ہو کہ اس کی عادت کے ایام ميں نہيں آیا ہے توجس مقدار کے عادت ہونے کا احتمال ہو وہ اگر چھ یا سات دن ہو تو اس کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے اور اگر چھ دن سے کم ہو تو اس کو حيض اور چھ یا سات ميں سے جسے اختيار کرے اس دن تک احتياط واجب ہے کہ حائض اور مستحاضہ کے وظائف کا خيال رکھے اور اگر سات دن سے زیادہ ہو تو چھ یا سات ميں سے جو اختيار کرے اس دن تک حيض اور اختيار کئے ہوئے عدد سے دس دن گزرنے تک اسی احتياط کا خيال رکھے۔

اور اگر خون کی صفات مختلف ہوں یعنی بعض ميں حيض کی صفات اور بعض ميں استحاضہ کی صفات ہوں تو حيض کی صفات والا خون تين دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہونے کی صورت ميں حيض ہے اور استحاضہ کی صفات والے خون کے بارے ميں اگرجانتی ہو کہ اس کی عادت کے ایام ميں نہيں آیا تو استحاضہ ہے اور اگر ایامِ حيض ميں آنے کا احتمال ہو تو ضروری ہے کہ حيض اور استحاضہ کے وظائف ميں احتياط کرتے ہوئے جمع کرے۔

حيض کے متفرق مسائل

مسئلہ ۵ ٠ ۶ مبتدئہ، مضطربہ، ناسيہ یا عددیہ عادت والی عورت اگر حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے تو ضروری ہے کہ عبادات کو ترک کردے اور جب معلوم ہو کہ حيض نہيں تھا تو ضروری ہے کہ ترک کی ہوئی عبادات کی قضا انجام دے اور اگر حيض کی علامات کے بغير خون دیکھے تو ضروری ہے کہ عبادات انجام دے، سوائے ناسيہ کے کہ اگر اسے عادت آجانے کا یقين ہو جائے تو جب تک عادت کے باقی ہونے کا احتمال دے ضروری ہے کہ عبادات کو ترک کرے۔


مسئلہ ۵ ٠٧ حيض کی عادت والی عورت، چاہے وقتيہ عادت والی ہو یا عددیہ عادت والی یا وقتيہ و عددیہ عادت والی، اگر دو ماہ مسلسل اپنی عادت کے خلاف ایسا خون دیکھے جس کا وقت یا دنوں کی تعداد یا وقت اور دنوں کی تعداد دونوں مهينوں ميں ایک ہی ہو تو وهی اس کی نئی عادت بن جائے گی جو اس نے ان دو مهينوں ميں دیکھی ہے ۔ مثلاً اگر مهينے کے پهلے دن سے خون دیکھتی اور ساتویں دن پاک ہوتی تهی، پھر جب دو ماہ تک دس کو خون دیکھے اور سترہ کو پاک ہو تو دس سے سترہ تک اس کی عادت ہوگی۔

مسئلہ ۵ ٠٨ ایک مهينہ گزرنے کا مطلب خون دیکھنے کے بعد سے تيس دن گزرنا ہے ، نہ کہ مهينے کی پهلی سے آخری تاریخ۔

مسئلہ ۵ ٠٩ جو عورت عام طور پر مهينے ميں ایک مرتبہ خون دیکھتی ہو اگر ایک مهينے ميں دو مرتبہ خون دیکھے اور دونوں ميں حيض کی علامات موجود ہوں تو اگر درميان والے پاکی کے ایام دس دن سے کم نہ ہوں تو ضروری ہے کہ دونوں کو حيض قرار دے۔

مسئلہ ۵ ١٠ اگر تين یا اس سے زیادہ دن حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے اور بعد ميں دس دن یا اس سے زیادہ استحاضہ کی علامات کے ساته خون دیکھے پھر دوبارہ تين دن تک حيض کی علامات کے ساته خون دیکھے تو ضروری ہے کہ حيض کی علامات والے پهلے اور آخری خون کو حيض قرار دے۔

مسئلہ ۵ ١١ اگر عورت دس دن سے پهلے پاک ہو جائے اور معلوم ہو کہ اندر خون نہيں ہے تو ضروری ہے کہ اپنی عبادات کے لئے غسل کرے، اگرچہ اسے گمان ہو کہ دس دن گزرنے سے پهلے دوبارہ خون آئے گا، ليکن اگر یقين ہو کہ دس دن تمام ہونے سے پهلے دوبارہ خون آئے گا تو ضروری ہے کہ غسل نہ کرے۔

مسئلہ ۵ ١٢ اگر عورت دس دن سے پهلے پاک ہو جائے اور احتمال ہو کہ اندر خون موجود ہے تو ضروری ہے کہ احتياط کرے یا تهوڑی روئی اندر ڈال کر تهوڑی دیر صبر کرنے کے بعد نکالے اور احتياط مستحب ہے کہ اس کام کو کھڑے ہو کر اس طرح کرے کہ پيٹ دیوار سے لگا ہو اور ٹانگ دیوار پر بلند ہو۔اب اگر پاک ہو تو غسل کر کے اپنی عبادات انجام دے اور اگر پاک نہ ہو اگرچہ روئی زرد رطوبت سے آلودہ ہو تو اگر وہ عورت حيض کی عادت نہ رکھتی ہو یا اس کی عادت دس دن کی ہو تو ضروری ہے کہ صبرکرے۔ اب اگر دس دن سے پهلے پاک ہو جائے تو اس وقت غسل کرے اور اگر دسویں دن پاک ہوجائے یا اس وقت تک پاک نہ ہو تو دسویں دن کے شروع پر غسل کرے۔اور اگر اس کی عادت دس دن سے کم ہو، تو اگر جانتی ہو کہ دس دن پورے ہونے سے پهلے یا دسویں دن پاک ہوجائے گی تو ضروری ہے کہ غسل نہ کرے اور اگر احتمال ہو کہ خون دس دن سے تجاوز کر جائے گا تو ایک دن عبادات کو ترک کرنا واجب ہے ، البتہ اس کے بعد ميں وہ مستحاضہ کے اعمال انجام دے سکتی ہے ،بلکہ احتياط مستحب ہے کہ دسویں دن تک تروک حائض اور اعمال مستحاضہ ميں جمع کرے۔ یہ حکم صرف اس عورت کے لئے ہے کہ جسے عادت سے پهلے مسلسل خون نہ آرہا ہو، ورنہ ضروری ہے کہ اپنی عادت کو حيض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔


مسئلہ ۵ ١٣ اگر بعض ایام کو حيض قرار دے کر عبادات ترک کرے اور بعد ميں معلوم ہو کہ حيض نہيں تھا تو ضروری ہے کہ ان ایام ميں ترک کی ہوئی نمازوں اور روزوں کی قضا انجام دے اور اگر حيض نہ ہونے کے گمان سے عبادات انجام دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ حيض تھا تو ان ایام ميں رکھے ہوئے روزوں کی قضا ضروری ہے ۔

نفاس

مسئلہ ۵ ١ ۴ بچے کی پيدائش کے بعد، ولادت کی وجہ سے ماں جو خون دیکھتی ہے اگر دس دن سے پهلے یا دسویں دن بند ہو جائے تو نفاس ہے ۔ احتياط واجب کی بنا پر بچے کا پهلا حصہ باہر آنے کے ساته جو خون دیکھے ، اس کا بھی یهی حکم ہے ۔ عورت کو نفاس کی حالت ميں ”نفساء“ کہتے ہيں ۔

مسئلہ ۵ ١ ۵ بچے کا پهلا حصہ باہر آنے سے پهلے جو خون دیکھے ، وہ نفاس نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ١ ۶ ضروری نہيں ہے کہ بچے کی خلقت مکمل ہوئی ہو بلکہ اگر ناقص ہو تب بھی دس دن تک جو خون دیکھے نفاس ہے بشرطيکہ عرفاً کها جائے کہ اس نے بچے کو جنم دیا ہے ۔ ہاں، جب عرفی اعتبار سے شک ہو کہ اسے بچہ جننا کها جاسکتا ہے یا نہيں ، تو اس خون پر نفاس کے احکام نہيں ہيں ۔

مسئلہ ۵ ١٧ ممکن ہے کہ خون نفاس ایک لمحہ سے زیادہ نہ آئے، ليکن دس دن سے زیادہ نہيں ہوسکتا۔

مسئلہ ۵ ١٨ جب تک شک ہو کہ کوئی چيز سقط ہوئی یا نہيں یا شک کرے کہ جو چيز سقط ہوئی ہے بچہ ہے یا نہيں ، تو تحقيق ضروری نہيں ہے اور جو خون خارج ہو رہا ہو وہ شرعاً خون نفاس نہيں ہے ، اگرچہ احتياط مستحب ہے کہ تحقيق کرے۔

مسئلہ ۵ ١٩ نفساء کے لئے بدن کے کسی حصے کو قرآن کے حروف، خداوند متعال کے اسم مبارک اور دوسرے اسمائے حسنیٰ سے مس کرنا حرام ہے اور احتياط واجب کی بنا پران تمام کاموں کا جو حائضہ پر حرام ہيں ، یهی حکم ہے اور وہ تمام چيزیں جو حائضہ پر واجب ہيں نفساء پر بھی واجب ہيں ۔

مسئلہ ۵ ٢٠ حالت نفاس ميں عورت کو طلاق دینا باطل ہے اور اس کے ساته نزدیکی حرام ہے ، ليکن اگر اس کا شوہر اس سے نزدیکی کرے تو کفارہ نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ٢١ جب عورت نفاس سے اس طرح پاک ہو کہ اندر بھی خون باقی نہ رہے تو ضروری ہے کہ غسل کرے اور اپنی عبادات انجام دے۔ اب اگر دوبارہ خون دیکھے اور دونوںخون دیکھنے والے اور درميان کے طهارت والے ایام کا مجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہو، تو اگر اس کی حيض کی عادت ہو اور یہ سارے ایام اس کی عادت کے دنوں کے برابر ہوں، مثلاً اگر اس کی عادت چھ دن ہو اور چھ دن کے درميان دو دن پاک رہی ہو تو تمام چھ دن نفاس ہيں ۔ اس کے علاوہ باقی صورتوں ميں ، جن ایام ميں خون دیکھے وہ نفاس اور جن ایام ميں پاک رہی ہو ان ميں احتياط واجب کی بنا پر تروکِ نفساء اور اعمال طاہرہ ميں جمع کرے۔


مسئلہ ۵ ٢٢ اگرعورت خونِ نفاس سے پاک ہو جائے اور احتمال ہو کہ اندر خون ہے تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ تهوڑی روئی اندر ڈال کر صبر کرے تاکہ اگر پاک ہو تو اپنی عبادات کے لئے غسل کرے۔

مسئلہ ۵ ٢٣ اگر عورت کا خون نفاس دس دن سے تجاوز کر جائے تو حيض کی عادت رکھنے کی صورت ميں عادت کے ایام کو نفاس اور باقی کو استحاضہ قرار دے اور عادت نہ ہونے کی صورت ميں دس دن تک نفاس اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔اور احتياط مستحب ہے کہ جس کی عادت ہو وہ عادت کے بعد والے دن سے اور جس کی عادت نہ ہو وہ دسویں دن سے بچہ جننے کے اٹھ ارہویں دن تک نفساء کے حرام کاموں کو ترک کرے اور مستحاضہ کے کام انجام دے۔

مسئلہ ۵ ٢ ۴ جس عورت کی عادتِ حيض دس دن سے کم ہو اگر اپنی عادت سے زیادہ خون دیکھے تو اپنی عادت کے برابر ایام کو نفاس قرار دے اور اس کے بعد احتياط واجب کی بنا پر ایک روز اور عبادت ترک کرے اور باقی ایام ميں دسویں دن تک اس کی مرضی ہے کہ مستحاضہ کے احکام جاری کرے یا عبادت کو ترک کرے۔

اور اگر خون دس دن سے تجاوز کر جائے تو ضروری ہے کہ عادت کے بعد سے استحاضہ قرار دے اور ان ایام ميں جن عبادات کو ترک کيا ہو ان کی قضا کرے۔ مثلاً جس عورت کی عادت چھ دن ہو اگر چھ دن سے زیادہ خون دیکھے تو ضروری ہے کہ چھ دن کو نفاس قرار دے اور احتياط واجب کی بنا پر ساتویں دن بھی عبادات ترک کرے اور آٹھ ویں، نویں اور دسویں دن اختيار ہے کہ یا تو ان عبادات کو ترک کرے یا استحاضہ کے اعمال انجام دے اور اگر دس دن سے زیادہ خون دیکھے تو اس کی عادت کے بعد والے دن سے استحاضہ ہے ۔

مسئلہ ۵ ٢ ۵ حيض کی عادت رکھنے والی عورت اگر بچے کو جنم دینے کے بعد ایک مهينے یا زیادہ ایام تک مسلسل خون دیکھے تو اس کی عادت کے ایام کی مقدار ميں نفاس ہے اور عادت کے بعد سے دس دن تک جو خون دیکھے استحاضہ ہے ، اگر چہ اس کی ماہانہ عادت کے ایام ميں ہو۔ مثلاً جس عورت کی عادت ہر مهينے کی بيسویں سے ستائيویں تک ہو اگر مهينے کی دسویں تاریخ کو جنم دے اور ایک ماہ یا زیادہ ایام مسلسل خون دیکھے تو سترہ تاریخ تک نفاس اور سترہ سے دس دن تک استحاضہ ہے حتی وہ خون بھی جو عادت ميں دیکھے ، جو بيسویں سے لے کر ستائيسویں تک ہے ۔

اور دس دن گزرنے کے بعد اگر ایسا خون دیکھے جو اس کی عادت ميں ہو تو حيض ہے چاہے علامات حيض ہوں یا نہ ہوں اور یهی حکم ہے اگر اس کی عادت کے ایام ميں نہ ہو ليکن حيض کی علامات موجود ہوں، ليکن اگر نہ عادت کے ایام ميں ہواور نہ ہی حيض کی علامات ہوں تو استحاضہ ہے ۔


مسئلہ ۵ ٢ ۶ حيض ميں عدد کی عادت نہ رکھنے والی عورت اگر بچہ جننے کے بعد ایک ماہ یا زیادہ ایام تک مسلسل خون دیکھے تو پهلے دس دن نفاس اور دوسرے دس دن استحاضہ ہے اور جو خون اس کے بعد دیکھے اگر اس ميں حيض کی علامات ہوں یا اس کی عادت کے ایام ميں ہو تو حيض ہے اور اگر نہ ہو تو یہ بھی استحاضہ ہے ۔

غسلِ مسِ ميّت

مسئلہ ۵ ٢٧ اگر کوئی شخص کسی ایسے مردہ انسان کے بدن کومس کرے جو ٹھنڈا ہوچکا ہو اور جسے غسل نہ دیا گيا ہو، یعنی اپنے بدن کا کوئی حصّہ اس سے لگائے، تو اس کے لئے غسلِ مسِ ميت کرنا ضروری ہے ، خواہ اس نے نيند کی حالت ميں مردے کا بدن مس کيا ہو یا بيداری کے عالم ميں ، ارادی طور پر مس ہوا ہو یا غير ارای طور پر، حتی اگر اس کا ناخن یا ہڈی، مردے کے ناخن یا ہڈی سے مس ہو جائے تب بھی اس کے لئے غسل کرنا ضروری ہے ، ليکن اگر مردہ حيوان کو مس کرے تو اس پر غسل واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ٢٨ جس مردے کا تمام بدن ٹھنڈا نہ ہوا ہو، اسے مس کرنے سے غسل واجب نہيں ہوتا خواہ اس کے بدن کا جو حصہ مس کيا ہو وہ ٹھنڈا ہوچکا ہو۔

مسئلہ ۵ ٢٩ اگر کوئی شخص اپنے بال مردے کے بدن سے لگائے یا اپنا بدن مردے کے بالوں سے لگائے یا اپنے بال مردے کے بالوں سے لگائے جب کہ بال اتنے ہوں کہ بدن کے تابع حساب ہوتے ہوں تو احتياط کی بنا پر غسل واجب ہے ۔

مسئلہ ۵ ٣٠ مردہ بچے کو مس کرنے پر حتی ایسے سقط شدہ بچے کو مس کرنے پر جس کے چار مهينے پورے ہوچکے ہوں غسلِ مسِ ميت واجب ہے اور چار مهينے سے چھوٹے سقط شدہ بچے کو مس کرنے پر غسل واجب نہيں ہوتا مگر یہ کہ اس کے بدن ميں روح داخل ہوچکی ہو، لہٰذا اگر چار مهينے کا بچہ مردہ پيدا ہو اور اس کا بدن ٹھنڈا ہوچکا ہو اور وہ ماں کے ظاہری حصّے کو مس ہو جائے تو اس کی ماں کے لئے غسلِ مسِ ميت کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۵ ٣١ جو بچہ ماں کے مر جانے اور اس کا بدن ٹھنڈا ہو جانے کے بعد پيدا ہو، اگر وہ ماں کے ظاہری حصے کو مس ہو جائے تو اس پر واجب ہے کہ بالغ ہونے کے بعد غسلِ مسِ ميت کرے۔

مسئلہ ۵ ٣٢ اگر کوئی شخص ایک ایسی ميّت کو مس کرے جسے تين غسل مکمل طور پر دئے جاچکے ہوں تو اس پر غسل واجب نہيں ہوتا، ليکن اگر وہ تيسرا غسل مکمل ہونے سے پهلے اس کے بدن کے کسی حصّے کو مس کرے خواہ اس حصے کو تيسرا غسل دیا جاچکا ہو، اس شخص کے لئے غسلِ مسِ ميت کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۵ ٣٣ اگر کوئی دیوانہ یا نابالغ بچہ، ميّت کو مس کرے تو دیوانے کے لئے عاقل ہونے اور بچے کے لئے بالغ ہونے کے بعد غسلِ مسِ ميت کرنا ضروری ہے اور اگر بچہ مميّز ہو اور غسلِ مس ميت بجالائے تو اس کا غسل صحيح ہوگا۔


مسئلہ ۵ ٣ ۴ اگر کسی ایسے مردے کے بدن سے جسے غسل نہ دیا گيا ہو ایک ایسا حصہ جدا ہو جائے جس ميں ہڈی ہو اور اس سے پهلے کہ اس حصّے کو غسل دیا جائے کوئی شخص اسے مس کرے تو احتياط کی بنا پر وہ غسلِ مسِ ميت کرے اور اگر وہ جدا ہونے والا حصہ بغير ہڈی کے ہو اس کو مس کرنے سے غسل واجب نہيں ہوتا۔هاں، اگر کسی زندہ انسان کے بدن سے کوئی حصہ جدا ہو توچاہے اس ميں ہڈی ہو اسے مس کرنے سے غسل واجب نہيں ہوتا۔

مسئلہ ۵ ٣ ۵ بغير گوشت کی ہڈی کو مس کرنے سے جسے غسل نہ دیا گيا ہو، خواہ وہ مردے کے بدن سے جدا ہوئی ہو یا زندہ شخص کے بدن سے، غسل واجب نہيں ہے ۔ اسی طرح مردہ یا زندہ کے بدن سے جدا ہونے والے دانتوں کو مس کرنے کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ۵ ٣ ۶ غسلِ مسِ ميت کو غسل جنابت کی طرح انجام دینا ضروری ہے اور جس شخص نے غسلِ مسِ ميت کرليا ہو اگر وہ نماز پڑھنا چاہے تو اس کے لئے وضو کرنا واجب نہيں ہے ، اگر چہ احتياط مستحب یہ ہے کہ وضو بھی کرے۔

مسئلہ ۵ ٣٧ اگر کوئی شخص کئی ميّتوں کو مس کرے یا ایک ميّت کو کئی بار مس کرے، تو ایک غسل کافی ہے ۔

مسئلہ ۵ ٣٨ جس شخص نے ميّت کو مس کرنے کے بعد غسل نہ کيا ہو اس کے لئے مسجد ميں ٹہرنا، بيوی سے جماع کرنا اور واجب سجدہ والی سورتوں کی تلاوت کرنا منع نہيں ہے ليکن نماز اور اس جيس عبادات کے لئے غسل کرنا ضروری ہے ۔

محتضر کے احکام

مسئلہ ۵ ٣٩ جو مسلمان محتضر ہو، یعنی جان کنی کی حالت ميں ہو، خواہ مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا، احتياط واجب کی بنا پر بصورت امکان اسے پيٹھ کے بل اس طرح لٹایا جائے کہ اس کے پاؤں کے تلوے قبلہ رخ ہوں۔ اگر مکمل طور پر اس طرح سے لٹانا ممکن نہ ہو تو احتياط مستحب کی بنا پر جهاں تک ممکن ہو اس حکم پر عمل کيا جائے۔ اسی طرح احتياط مستحب یہ ہے کہ جب اسے اس طرح سے لٹانا بالکل ناممکن ہو اسے قبلہ رخ بٹھ ا دیں اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اسے سيدهے پهلو یا اُلٹے پهلو قبلہ رخ لٹایا جائے۔

مسئلہ ۵۴ ٠ احتياطِ واجب یہ ہے کہ جب تک ميّت کو اس جگہ سے اٹھ ایا نہ جائے، اسے قبلہ رخ ہی لٹائيں۔ اسی طرح احتياط مستحب کی بنا پر غسل دیتے وقت بھی قبلہ رخ لٹایا جائے، ليکن غسل مکمل کرنے کے بعد مستحب ہے کہ اسے اس طرح لٹائيں جس طرح اسے نماز جنازہ پڑھتے وقت لٹاتے ہيں ۔

مسئلہ ۵۴ ١ محتضر کو قبلہ رخ لٹانا، احتياط کی بنا پر، ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر ممکن ہو تو محتضر سے اجازت لينا ضروری ہے اور اگر ممکن نہ ہو یا اس کی اجازت معتبر نہ ہو تو احتياط کی بنا پر اس کے ولی سے اجازت لينا چاہيے۔


مسئلہ ۵۴ ٢ مستحب ہے کہ جو شخص جان کنی کی حالت ميں ہو اس کے سامنے شهادتين، بارہ اماموں عليهم السلام اقرار اور دوسرے عقائد حقہ کو اس طرح دهرایا جائے کہ وہ سمجھ لے۔ اسی طرح مستحب ہے ان مذکورہ چيزوں کو موت کے وقت تک تکرار کيا جائے۔ اور نيز دعائے فرج کو محتضر کے لئے تلقين کيا جائے۔

مسئلہ ۵۴ ٣ مستحب ہے کہ یہ دعا محتضر کو اس طرح سنائی جائے کہ سمجھ لے:

((اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الْکَثِيْرَ مِنْ مَعَاصِيْکَ وَاقْبَلْ مِنِّی الْيَسِيْرَ مِنْ طَاعَتِکَ یَا مَنْ یَّقْبَلُ الْيَسِيْرَ وَ یَعْفُوْ عَن الْکَثِيْرَ، إِقْبَلْ مِنِّی الْيَسِيْرَ وَاعْفُ عَنِّی الْکَثِيْرَ، اِنَّکَ ا نَْٔتَ الْعَفُوُّ الْغَفُوْرُ، اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِی فَاِنَّکَ رَحِيْمٌ ))

مسئلہ ۵۴۴ جس کی جان سختی سے نکل رہی ہو، اگر اس کے لئے تکليف کا باعث نہ ہو تو اسے اس جگہ لے جانا جهاں وہ نماز پڑھا کرتا تھا، مستحب ہے ۔

مسئلہ ۵۴۵ محتضر کے سرہا نے سورہ مبارکہ یاسين، سورہ صافات، سورہ احزاب، آیت الکرسی، سورہ اعراف کی ۵۴ ویں آیت اور سورہ بقرہ کی آخری تين آیات پڑھنا مستحب ہے ، بلکہ قرآن جتنا پڑھا جاسکے، پڑھا جائے۔

مسئلہ ۵۴۶ محتضر کو تنها چھوڑنا مکروہ ہے ۔ اور اسی طرح کسی چيز کا اس کے پيٹ پر رکھنا، جنب اور حائض کا اس کے قریب ہونا، زیادہ باتيں کرنا، رونا اور صرف عورتوں کو اس کے پاس چھوڑنا مکروہ ہے ۔

مرنے کے بعد کے احکام

مسئلہ ۵۴ ٧ مرنے کے بعد مستحب ہے کہ ميّت کی آنکہيں اور ہونٹ بند کردئے جائيں اور اس کی ٹھ وڑی کو بانده دیا جائے۔ نيز اس کے ہاتھ اور پاؤں سيدهے کر دئے جائيں اور اس کے اُوپر کپڑا ڈال دیا جائے، جنازے ميں شرکت کے لئے مومنين کو اطلاع دی جائے۔

اگر موت رات کو واقع ہوئی ہو تو موت واقع ہونے والی جگہ پر چراغ جلایا جائے اور اسے دفن کرنے ميں جلدی کریں۔ ليکن اگر اس شخص کے مرنے کا یقين نہ ہو تو انتظار کریں تا کہ صورتحال واضح ہو جائے۔ نيز اگر ميّت حاملہ ہو اور بچہ اس کے پيٹ ميں زندہ ہو تو ضروری ہے کہ دفن کرنے ميں اتنا تاخير کریں کہ اس کا پهلو چاک کر کے بچے کو باہر نکال کر دوبارہ غسل کے لئے اس کا پهلو سی دیں اور بہتر یہ ہے کہ بچے کو باہر نکالنے کے لئے الٹا پهلو چاک کيا جائے۔

غسل، کفن، نماز اور دفن ميّت کے احکام

مسئلہ ۵۴ ٨ مسلمان کا غسل، حنوط، کفن، نماز ميّت اور دفن ہر مکلّف پر واجب ہے ۔ ہاں، اگر بعض افراد ان امور کو انجام دیں تو دوسروں سے یہ وجوب ساقط ہو جاتا ہے اور چنانچہ اگر کوئی بھی انجام نہ دے تو سب گناہ گارہوں گے۔


مسئلہ ۵۴ ٩ اگر کوئی شخص تجهيز و تکفين کے کاموں ميں مشغول ہو جائے تو دوسروں کے لئے کوئی اقدام کرنا واجب نہيں ہے ، ليکن اگر وہ ان کاموں کو ادهورا چھوڑ دے تو ضروری ہے کہ دوسرے ان کاموں کو پایہ تکميل تک پهنچائيں۔

مسئلہ ۵۵ ٠ اگر کسی شخص کو یقين ہو یا حجت شرعيہ رکھتا ہو کہ کوئی دوسرا ميّت کے کاموں ميں مشغول ہے تو اس پر واجب نہيں ہے کہ ميّت کے کاموں کے بارے ميں اقدام کرے، ليکن اگر اسے محض شک یا گمان ہو تو ضروری ہے کہ اقدام کرے۔

مسئلہ ۵۵ ١ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ ميّت کا غسل، حنوط، کفن، نماز یا دفن غلط طریقے سے ہوا ہے تو ضروری ہے کہ ان کاموں کو دوبارہ انجام دے، ليکن اگر اسے باطل ہونے کا گمان ہو یا شک کرے کہ صحيح تھا یا نہيں ، تو اس صورت ميں اقدام کرنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵۵ ٢ غسل، حنوط، کفن، نماز اور دفن کے لئے ميت کے ولی سے اجازت لينا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۵۵ ٣ عورت کا ولی اس کا شوہر ہے اوراگر مرنے والی کسی کی بيوی نہ ہو یا مرنے والا کوئی مرد ہو تو مرنے والے کے مرد وارث اس کی وارث عورتوں پر مقدم ہيں ۔ مردوں ميں بھی جو ورثے کے اعتبار سے مقدم ہے ولی ہونے کے اعتبار سے بھی وهی مقدم ہے ۔

ليکن اگر مرنے والے کے رشتہ داروں ميں دو ایسے افراد موجود ہوں جن ميں سے ایک رشتے کے اعتبار سے مقدم ہے جب کہ دوسرا ورثے کے اعتبار سے، مثلاً اگر ميت کا دادا بھی موجود ہو اور ميت کے بيٹے کا پوتا بھی تو احتياط واجب یہ ہے کہ جو ميراث کے اعتبار سے مقدم ہے ، وہ اس سے اجازت لے جو رشتے کے اعتبار سے مقدم ہے ۔

مسئلہ ۵۵۴ اگر کوئی شخص کهے کہ ميں ميّت کا ولی ہوں یا ميّت کے ولی نے مجھے اجازت دی ہے کہ ميّت کے غسل، کفن اور دفن کو انجام دوں یا کهے کہ تجهيز و تکفين کے کاموں کے لئے ميں اس کا وصی ہوں اور اس کے کهنے سے اطمينان حاصل ہو جائے یا ميّت اس کے اختيار ميں ہو یا دو عادل یا ایک ایسا قابل اعتمادشخص گواہی دے جس کی بات کے برخلاف کوئی ظن بھی نہ ہو، تو اس کی بات مان لينا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۵۵۵ اگر مرنے والا اپنے غسل، کفن، دفن، اور نماز کے لئے اپنے ولی کے علاوہ کسی اور کو مقرر کرے تو ان امور کی ولایت اسی شخص کے ہاتھ ميں ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ولی سے بھی اجازت لے۔

اور جس شخص کو ميّت نے وصيت کی ہو وہ ميّت کی زندگی ميں وصی بننے سے منع کرسکتا ہے اور اگر قبول کرے تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے ، ليکن اگر ميّت کی زندگی ميں منع نہ کرے یا اس کا انکار وصيت کرنے والے تک نہ پهنچ پائے تو احتياط واجب یہ ہے کہ اس وصيت پر عمل کرے۔


غسل ميت کا طريقہ

مسئلہ ۵۵۶ واجب ہے کہ ميّت کو تين غسل دئے جائيں۔

(اوّل) ایسے پانی کے ساته جس ميں بيری کے پتے ملے ہوئے ہوں۔

(دوم) ایسے پانی کے ساته جس ميں کافور ملا ہوا ہو۔

(سوم) خالص پانی کے ساته۔

مسئلہ ۵۵ ٧ ضروری ہے کہ بيری اور کافور نہ اس قدر زیادہ ہوں کہ پانی مضاف ہو جائے اور نہ اس قدر کم ہوں کہ یہ نہ کها جاسکے کہ بيری اور کافور اس پانی ميں ملائے گئے ہيں ۔

مسئلہ ۵۵ ٨ اگر بيری اور کافور اتنی مقدار ميں نہ مل سکيں جتنی کہ ضروری ہے تو احتياط مستحب کی بنا پر جتنی مقدار ميّسر آئے پانی ميں ملا دی جائے۔

مسئلہ ۵۵ ٩ اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے احرام کی حالت ميں مرجائے تو اسے کافور کے پانی سے غسل نہيں دے سکتے بلکہ اس کی بجائے خالص پانی سے غسل دینا ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ حج کا احرام ہو اور سعی کو مکمل کرچکا ہو تو اس صورت ميں کافور کے پانی سے غسل دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۵۶ ٠ اگر بيری اور کافور یا ان ميں سے کوئی ایک نہ مل سکے یا اس کا استعمال جائز نہ ہو مثال کے طور پر غصبی ہو، ضروری ہے کہ ان ميں سے ہر ایک کی بجائے جس کا ملنا ممکن نہ ہو احتياط واجب کی بنا پر ميت کو بدليت کے قصد سے خالص پانی سے غسل دیا جائے اور تيمم بھی اسی قصد کے ساته کرایا جائے۔

مسئلہ ۵۶ ١ جو شخص ميّت کو غسل دے ضروری ہے کہ وہ شيعہ اثناعشری، عاقل اور بنابر احتياط بالغ ہو اور مسائل غسل کو جانتا ہو اگر چہ ان مسائل کو غسل کے دوران سيکه رہا ہو۔

مسئلہ ۵۶ ٢ جو شخص غسل دے ضروری ہے کہ قربت کی نيت، جيسا کہ وضو ميں بيان ہوچکا ہے اور اخلاص رکھتا ہو اور اسی نيّت کا تيسرے غسل تک باقی رہنا کافی ہے ۔

مسئلہ ۵۶ ٣ مسلمان کے بچے کو، خواہ وہ ولدالزنا ہی کيوں نہ ہو غسل دینا واجب ہے اور کافر اور اس کی اولاد کا غسل، حنوط، کفن و دفن جائز نہيں ہے ۔ جو شخص بچپن سے دیوانہ ہو اور دیوانگی کی حالت ميں ہی بالغ ہو جائے چنانچہ اس کے ماں باپ یا ان ميں سے کوئی ایک مسلمان ہو یا کسی دوسری وجہ سے اسلام کے حکم ميں ہوں تو اس کو غسل دینا ضروری ہے ، ورنہ اسے غسل دینا جائز نہيں ہے ۔


مسئلہ ۵۶۴ اگر ایک بچہ چار مهينے یا اس سے زیادہ کا ہو کر سقط ہو جائے تو اسے غسل دینا ضروری ہے اور اگر چار مهينے سے کم ہو اور اس کے بدن ميں روح بھی داخل نہ ہوئی ہو، احتياط واجب کی بنا پر اسے ایک کپڑے ميں لپيٹ کر بغير غسل دئے دفن کر دیا جائے۔

مسئلہ ۵۶۵ مرد کا عورت کو غسل دینا اور عورت کا مرد کو غسل دینا جائز نہيں ہے اور باطل ہے ، ليکن بيوی اپنے شوہر اور شوہر اپنی بيوی کو غسل دے سکتا ہے اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر اور شوہر اپنی بيوی کو غسل نہ دے۔

مسئلہ ۵۶۶ مرد اتنی چھوٹی لڑکی کو غسل دے سکتا ہے جو مميز نہ ہو اور عورت بھی اتنے چھوٹے بچے کو غسل دے سکتی ہے جو مميز نہ ہو۔ اگرچہ احتياط موکد یہ ہے کہ جو لڑکا یا لڑکی تين سال سے زیادہ عمر کے ہوں، تو لڑکے کو مرد اور لڑکی کو عورت غسل دے۔

مسئلہ ۵۶ ٧ اگر مرد کی ميّت کو غسل دینے کے لئے مرد نہ مل سکے تو وہ عورتيں جو اس کی قربت دار اور محرم ہوں مثلاً ماں، بهن، پهوپهی اور خالہ یا وہ عورتيں جو نکاح یا رضاعت کے سبب محرم ہوگئی ہوں اسے غسل دے سکتی ہيں ۔ اسی طرح اگر عورت کی ميّت کو غسل دینے کے لئے کوئی عورت نہ ہو تو جو مرد اس کے قرابت دار اور محرم ہوں یا نکاح یا رضاعت کے سبب اس کے محرم ہوگئے ہوں، اسے غسل دے سکتے ہيں ۔ ہاں، احتياط واجب کی بنا پر مماثل کے ہوتے ہوئے محرم کی باری نہيں آتی۔ لباس کے نيچے سے غسل دینا واجب نہيں ہے ، اگرچہ اس طرح غسل دینا احوط ہے ليکن ضروری ہے کہ شرمگاہ پر نظر نہ ڈاليں اور احتياط کی بنا پر شرمگاہ کو ڈهانپ ليں۔

مسئلہ ۵۶ ٨ اگر ميّت اور غسّال دونوں مرد ہوں یا دونوں عورت ہوں تو جائز ہے کہ شرمگاہ کے علاوہ باقی بدن برہنہ ہو۔

مسئلہ ۵۶ ٩ بيوی اور شوہر کے علاوہ ميّت کی شرمگاہ پر نظر ڈالنا حرام ہے اور جو شخص غسل دے رہا ہو اگر وہ اس پر نظر ڈالے تو گناہ گار ہے ليکن اس سے غسل باطل نہيں ہوتا۔

“ مسئلہ ۵ ٧٠ اگر ميّت کے بدن کا کوئی حصّہ نجس ہو تو ضروری ہے کہ جس طرح مسئلہ” ٣٧٨

ميں بيان ہوچکا ہے پاک کيا جائے اور بہتر یہ ہے ہر عضو کو غسل دینے سے پهلے بلکہ ميّت کے پورے بدن کو غسل شروع ہونے سے پهلے دوسری نجاسات سے پاک کيا جائے۔

مسئلہ ۵ ٧١ غسلِ ميّت، غسل جنابت کی طرح ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ جب تک ميّت کو غسل ترتيبی دینا ممکن ہو غسل ارتماسی نہ دیاجائے اور غسل ترتيبی ميں بھی ضروری ہے کہ دا هنی طرف کو بائيں طرف سے پهلے دهویا جائے۔ ہاں، یہ اختيار ہے کہ پانی اس کے بدن پر ڈاليں یا بدن کو پانی ميں ڈبو دیں۔


مسئلہ ۵ ٧٢ جو شخص حيض یا جنابت کی حالت ميں مرجائے اسے غسلِ حيض یا غسلِ جنابت دینا ضروری نہيں ہے بلکہ اس کے لئے صرف غسلِ ميّت کافی ہے ۔

مسئلہ ۵ ٧٣ ميّت کو غسل دینے کی اُجرت لينا جائز نہيں ہے اور اگر کوئی شخص اجرت لينے کے لئے ميّت کو غسل دے تو وہ غسل باطل ہے ، ليکن غسل کے غير ضروری ابتدائی کاموں کی اجرت لينا جائز ہے ۔

مسئلہ ۵ ٧ ۴ اگر پانی ميسر نہ ہو یا اس کے استعمال ميں کوئی رکاوٹ ہو تو ضروری ہے کہ ہر غسلِ ميّت کے بدلے ایک تيمم کرائے اور احتياط واجب کی بنا پر ان تين غسلوں کی بجائے ایک اور تيمم بھی کرائے اور اگر تيمم کرانے والا ان تيمم ميں سے ایک ميں مافی الذمہ کی نيت کرے، یعنی نيت کرے کہ یہ تيمم اپنی شرعی ذمہ داری کو انجام دینے کے لئے کروا رہا ہوں جو مجھ پر واجب ہے تو چوتھا تيمم ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ٧ ۵ جو شخص ميّت کو تيمم کرا رہا ہو اسے چاہيے کہ اپنے ہاتھ زمين پر مارے اور ميت کے چھرے اور ہاتھوں کی پشت پر پهيرے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو ميّت کو اس کے اپنے ہاتھوں سے بھی تيمم کرائے۔

کفن کے احکام

مسئلہ ۵ ٧ ۶ مسلمان ميّت کو تين کپڑوں کا کفن دینا ضروری ہے ، جنہيں لنگ، کرتہ اور چادر کها جاتا ہے ۔

مسئلہ ۵ ٧٧ لنگ اور کرتے کی واجب مقدار یہ ہے کہ عرفاً انہيں لنگ اور کرتہ کها جائے ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ لنگ، ناف سے گھٹنوں تک اطراف بدن کو ڈهانپ لے اور افضل یہ ہے کہ سينے سے پاؤں تک پهنچے، جب کہ کرتے ميں ضروری ہے کہ کندہوں کے سروں سے احتياط واجب کی بنا پر آدهی پنڈليوں تک تمام بدن کو ڈهانپ دے اور افضل یہ ہے کہ پاؤں تک پهنچے۔

اورچادر کی لمبائی اتنا ہونا ضروری ہے کہ پاؤں اور سر کی طرف سے گِرہ دے سکيں اور اس کی چوڑائی اتنی ہونی چاہيے کہ اس کا ایک کنارہ دوسرے کنارے پر آسکے۔

مسئلہ ۵ ٧٨ اگر وارث بالغ ہوں اور اس بات کی اجازت دیں کہ واجب کفن کی مقدار سے زیادہ جسے سابقہ مسئلہ ميں بيان کيا گيا ہے ، کو ان کے حصّے سے لے ليں تو کوئی اشکال نہيں ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ کفن کی واجب مقدار سے زیادہ کو نابالغ وارث کے حصّے سے نہ ليں۔

مسئلہ ۵ ٧٩ اگر کسی شخص نے وصيت کی ہو کہ کفن کی وہ مقدار جو افضل ہے اس کے تھائی مال سے لی جائے یا وصيت کی ہو کہ اس کا تھائی مال خود اس پر خرچ کيا جائے ليکن اس کے مصرف کا تعين نہ کيا ہو یا صرف اس کے کچھ حصّے کا مصرف معين کيا ہو تو کفن کی افضل مقدار کو اس کے تھائی مال سے ليا جاسکتا ہے ۔


مسئلہ ۵ ٨٠ اگر مرنے والے نے یہ وصيت نہ کی ہو کہ کفن اس کے تھائی مال سے ليا جائے اور اس کے اصل مال سے لينا چاہيں تو مسئلہ” ۵ ٧٨ “ ميں بيان کئے گئے طریقے پر عمل کریں۔

مسئلہ ۵ ٨١ عورت کے کفن کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اگر چہ عورت اپنا مال بھی رکھتی ہو۔ اسی طرح اگر عورت کوطلاق رجعی دی گئی ہو اور وہ عدت ختم ہونے سے پهلے مرجائے تو شوہر کے لئے ضروری ہے کہ اسے کفن دے، جيسا کہ طلاق کے احکام ميں ذکر آئے گا اور اگر شوہر بالغ نہ ہو یا دیوانہ ہو تو اس کے ولی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مال سے عورت کو کفن دے، اور احتياط واجب کی بنا پر نافرمان اور جس عورت سے عقد مو قٔت کيا گيا ہو تو اس کا کفن شوہر پر ہے ۔

مسئلہ ۵ ٨٢ ميّت کو کفن دینا اس کے قرابت داروں پر واجب نہيں ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اگرميّت کا کوئی مال نہ ہو تو اسے وہ شخص کفن دے جس کے لئے ميّت کی زندگی ميں اس کے مخارج دینا ضروری تھا۔

مسئلہ ۵ ٨٣ واجب ہے کہ مجموعی طور پر کفن کے تين کپڑے اتنا باریک نہ ہوں کہ ميّت کا بدن نيچے سے نظر آئے، بلکہ احتياط واجب یہ ہے کہ تينوں کپڑوں ميں سے ہر کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ ميّت کا بدن اس کے نيچے سے نظر آئے۔

مسئلہ ۵ ٨ ۴ غصب کی ہوئی چيز کا کفن دینا، خواہ کوئی دوسری چيز ميّسر نہ ہو،جائز نہيں ہے اور اگر ميّت کا کفن غصبی ہو اور اس کا مالک راضی نہ ہو تو وہ کفن اس کے بدن سے اتار لينا چاہيے خواہ اس کو دفن بھی کيا جاچکا ہو۔ اسی طرح نجس مردار کی کھال کا کفن دینا اختياری حالت ميں جائز نہيں ہے ، بلکہ مجبوری کی حالت ميں بھی نجس مردار کی کھال کا کفن دینا محل اشکال ہے ۔ اسی طرح اختياری حالت ميں پاک مردار کی کھال کا کفن دینا بھی محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ۵ ٨ ۵ ميّت کو نجس چيز، احتياط واجب کی بنا پر اس نجاست کے ساته جو نماز ميں معاف ہے ، اسی طرح خالص ریشم کے کپڑے کا یا ایسے کپڑے کا جس ميں دهاگا ریشم سے زیادہ نہ ہو اور احتياط واجب کی بنا پر زردوزی سے بنائے گئے کپڑے کا کفن دینا جائز نہيں ہے ۔هاں،مجبوری کی حالت ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ٨ ۶ ميّت کو حرام گوشت جانور کی اون یا بالوں سے تيار کئے گئے کپڑے کا کفن دینااختياری حالت ميں احتياط واجب کی بنا پر جائز نہيں ہے ۔ یهی حکم اس حلال گوشت جانور کی کهال سے کفن دینے کا ہے جسے شریعت کے مقررہ طریقے سے ذبح کيا گيا ہو۔ ہاں، حلال گوشت جانور کی اون یا بالوں سے تيار شدہ کفن دینے ميں کوئی حرج نہيں ، اگرچہ احتياط مستحب ہے کہ ان دو کا کفن بھی نہ دیا جائے۔

مسئلہ ۵ ٨٧ اگر ميّت کا کفن اس کی اپنی نجاست یا کسی دوسری نجاست سے نجس ہو جائے اور اسے دهونا یا اس طرح سے کاٹنا ممکن ہو کہ کفن ضائع نہ ہو تو ضروری ہے کہ اتنا مقدار کو جو نجس ہے دهویا یا کاٹا جائے، چاہے ميّت کو قبر ميں اتارا جاچکا ہو اور اگر


اس کا دهونا یا کاٹنا ممکن نہ ہو ليکن تبدیل کرنا ممکن ہو ضروری ہے کہ اسے تبدیل کيا جائے۔ البتہ یہ حکم نجاست کی اتنی مقدار تک جو نماز ميں معاف ہے ،احتياط پر مبنی ہے ۔

مسئلہ ۵ ٨٨ اگر کوئی ایسا شخص جس نے حج یا عمرہ کا احرام بانده رکھا ہو مرجائے تو اسے دوسروں کی طرح کفن دینا ضروری ہے اور اس کا سر و چہرہ ڈهانپنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ٨٩ انسان کے لئے اپنی زندگی ميں کفن تيار کرنا مستحب ہے اور جب بھی اس پر نظر ڈالے اجر کا مستحق قرار پاتا ہے ۔

حنُوط کے احکام

مسئلہ ۵ ٩٠ غسل کے بعد واجب ہے کہ ميّت کو حنوط کيا جائے یعنی اس کی پيشانی، دونوں ہتھيليوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے انگوٹہوں پر کافور ملا جائے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ان مقامات پر کافور کی کچھ مقدار رکھی بھی جائے۔ اسی طرح مستحب ہے کہ ميّت کی ناک پر بھی کافور ملا جائے۔ ضروری ہے کہ کافور پسا ہوا اور تازہ ہو اور اگر پرانا ہونے کی وجہ سے اس کی خوشبو زائل ہوگئی ہو تو کافی نہيں ۔

مسئلہ ۵ ٩١ احتياط مستحب یہ ہے کہ کافور، پهلے ميّت کی پيشانی پر ملاجائے ليکن دوسرے مقامات پر ملنے ميں ترتيب نہيں ہے ۔

مسئلہ ۵ ٩٢ ميّت کو کفن پهنانے سے پهلے، کفن پهنانے کے دوران یا اس کے بعد بھی حُنوط کيا جاسکتا ہے ۔

مسئلہ ۵ ٩٣ اگر ایسا شخص جس نے حج یا عمرے کے لئے احرام بانده رکھا ہو، مرجائے تو اسے حنوط کرنا جائز نہيں ہے ، ليکن حج کے احرام ميں اگر سعی مکمل کرنے کے بعد مرے تو اسے حنوط کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ ۵ ٩ ۴ اگر ایسی عورت جس کا شوہر مرگيا ہو اور ابهی اس کی عدت باقی ہو، مرجائے تو اسے حنوط کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ ۵ ٩ ۵ احتياط واجب یہ ہے کہ ميّت کو مشک، عنبر، عود اور دوسری خوشبوئيں نہ لگائيں اور ان خوشبوؤں کو کافور کے ساته بھی نہ ملائيں۔

مسئلہ ۵ ٩ ۶ مستحب ہے کہ تربت سيدالشهداء امام حسين عليہ السلام کی کچھ مقدار کافور ميں ملائی جائے، ليکن اس کافور کو ایسے مقامات پر نہيں لگاسکتے جهاں لگانے سے خاک شفا کی بے حرمتی ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ خاک شفا اتنی زیادہ نہ ہو کہ جب کافور کے ساته مل جائے تو اسے کافور نہ کها جاسکے۔

مسئلہ ۵ ٩٧ اگر کافور نہ مل سکے یا فقط غسل کے لئے کافی ہو تو حنوط ضروری نہيں اور اگر غسل کی ضرورت سے زیادہ ہو ليکن تمام سات اعضاء کے لئے کافی نہ ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ پهلے پيشانی پر اور اگر بچ جائے تو دوسرے مقامات پرملا جائے۔

مسئلہ ۵ ٩٨ مستحب ہے کہ دو ترو تازہ ٹہنياں ميّت کے ساته قبر ميں رکھی جائيں۔


نمازِ ميّت کے احکام

مسئلہ ۵ ٩٩ ہر مسلمان کی اور ایسے بچے کی ميّت پر جو اسلام کے حکم ميں ہو اور پورے چھ

سال کا ہوچکا ہو، نماز پڑھنا واجب ہے ۔

مسئلہ ۶ ٠٠ ایسے بچے کی ميّت پر جو چھ سال کا نہ ہوا ہو رجاء کی نيّت سے نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ، ليکن مردہ پيدا ہونے والے بچے پر نماز پڑھنا،مشروع نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٠١ ميّت کی نماز، اسے غسل دینے، حنوط کرنے اور کفن پهنانے کے بعد پڑھنی چاہئے اور اگر ان امور سے پهلے یا ان کے دوران پڑھی جائے تو ایسا کرنا خواہ بھول چوک یا مسئلے سے لاعلمی کی بنا پر ہی کيوں نہ ہو، کافی نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٠٢ جو شخص نمازِ ميّت پڑھنا چاہے ضروری نہيں کہ اس نے وضو یا غسل یا تيمم کر رکھا ہو اور اس کا بدن و لباس پاک ہو ں، بلکہ اگر اس کا لباس غصبی ہو تب بھی نمازِ ميّت کے لئے کوئی حرج نہيں ۔

اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ان تمام چيزوں کا لحاظ رکھے جو دوسری نماز وں ميں لازمی ہيں ، ليکن احتياطِ واجب کی بنا پر ان چيزوں سے پر هيز ضروری ہے جو اہل شرع کے درميا ن رائج نہيں ہيں ۔

مسئلہ ۶ ٠٣ جو شخص نمازِ ميّت پڑھ رہا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ قبلہ رخ ہو ۔ یہ بھی واجب ہے کہ ميّت کو نماز پڑھنے والے کے سامنے پشت کے بل اس طرح لٹایا جائے کہ ميّت کا سر نماز پڑھنے والے کے دائيں طرف اور پاؤں اس کے بائيں طرف ہو ں۔

مسئلہ ۶ ٠ ۴ احتياط مستحب کی بنا پر جس جگہ نماز پڑھی جائے وہ غصبی نہ ہو، ليکن ضروری ہے کہ نماز پڑھنے کی جگہ ميّت کے مقام سے اونچی یا نيچی نہ ہو ۔هاں، اگر معمولی پستی یا بلندی ہو تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶ ٠ ۵ نمازپڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ميّت سے دور نہ ہو، ليکن جو شخص نمازِ ميّت جماعت کے ساته پڑھ رہا ہو اور وہ ميّت سے دور ہو جب کہ صفيں آپس ميں متصل ہو ں تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶ ٠ ۶ نمازپڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ميّت کے سامنے کهڑا ہو ليکن اگر نماز باجماعت پڑھی جائے اور جماعت کی صف ميّت کے دونوں طرف سے گزر جائے تو ان لوگوں کی نماز ميں جو ميّت کے سامنے نہ ہوں، کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٠٧ ضروری ہے کہ ميّت اور نماز پڑھنے والے کے درميا ن پر دہ، دیوار یا کوئی ایسی چيز حائل نہ ہو ۔ ہاں، اگر ميّت تابوت یا اس جيسی کسی اور چيز ميں رکھی ہو تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶ ٠٨ نمازپڑھتے وقت ضروری ہے کہ ميّت کی شرمگاہ ڈهکی ہو ئی ہو اور اگر اسے کفن پهنانا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کی شرمگاہ کو، چاہے لکڑی کے تختے، اینٹ یا انهی جيسی کسی چيز سے ڈهانپ دیں۔


مسئلہ ۶ ٠٩ نمازِ ميّت پڑھنے والے کا مومن ہونا ضروری ہے ۔ غير بالغ کی نماز اگر چہ صحيح ہے ليکن بالغين کی نماز کی جگہ نہيں لے سکتی۔ ضروری ہے کہ نمازِ ميّت کھڑے ہو کر، قربت کی نيت و اخلاص سے پڑھے۔ نيت کرتے وقت ميت کو معين کرے مثلاً نيت کرے: نماز پڑھتا ہو ں اس ميّت پر قربةً الی الله۔

مسئلہ ۶ ١٠ اگر کوئی کھڑے ہو کر نمازِ ميّت پڑھنے والا نہ ہو تو بيٹھ کر نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔

مسئلہ ۶ ١١ اگر مرنے والے نے وصيّت کی ہو کہ کوئی معين شخص اس کی نماز پڑھائے، احتياط مستحب ہے کہ وہ شخص ميّت کے ولی سے اجازت لے اور ولی بھی اجازت دے دے۔

مسئلہ ۶ ١٢ ميّت پر چند مرتبہ نماز پڑھنا جائز ہے ۔

مسئلہ ۶ ١٣ اگر ميّت کو جان بوجه کر یا بھول چوک کی وجہ سے یا کسی عذر کی بنا پر بغير نماز پڑھے دفن کر دیا جائے تو جب تک اس کا بدن متلاشی نہ ہو ا ہو واجب ہے کہ نمازِ ميّت کے سلسلے ميں مذکورہ شرائط کے ساته اس کی قبر پر نماز پڑہيں ۔یهی حکم اس وقت ہے جب اس پر پڑھی جانے والی نماز باطل ہو ۔

نمازِ ميّت کا طريقہ

مسئلہ ۶ ١ ۴ نمازِ ميّت ميں پانچ تکبيریں ہيں اور اگر نماز پڑھنے والا اس ترتيب کے ساته پانچ تکبيریں کهے تو کافی ہے :

نيت کرنے اور پهلی تکبير کے بعد کهے:

اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰه

دوسری تکبير کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّد

تيسری تکبير کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُو مِْٔنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَات

چوتھی تکبير کے بعد اگر ميّت مرد ہے تو کهے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِهٰذَا الْمَيِّت

اور اگر ميّت عورت ہے تو کهے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِهٰذِهِ الْمَيِّت

اس کے بعد پانچویں تکبير کهے۔


اور بہتر یہ ہے کہ پهلی تکبير کے بعد کهے:

اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه وَ رَسُوْلُه اَرْسَلَه بِالْحَقِّ بَشِيْراً وَّ نَذِیْرا بَيْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ

دوسری تکبير کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّارْحَمْ مُحَمَّداً وَ آلَ مُحَمَّدٍ کَاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ وَ بَارَکْتَ وَ تَرَحَّمْتَ عَلیٰ اِبْرَاهِيْمَ وَ آلِ اِبْرَاهِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ وَّ صَلِّ عَلیٰ جَمِيْعِ الْاَنْبِيَاءِ وَ الْمُرْسَلِيْنَ و الشُّهَدَاءِ وَالصِّدِّیْقِيْنَ وَ جَمِيْعِ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْن

تيسری تکبير کے بعد کهے:

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُو مِْٔنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ الْاَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْاَمْوَاتِ تَابِعْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُم بِالْخَيْرَاتِ إِنَّکَ مُجِيْبُ الدَّعَوَاتِ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر

اگر ميّت مرد ہو تو چوتھی تکبير کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذَا عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ وَ ابْنُ اَمَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَاَنْتَ خَيْرُ مَنْزُوْلٍ بِه اَللّٰهُمَّ اِنَّا لاَ نَعْلَمُ مِنْهُ اِلا خَيْراً وَّ ا نَْٔتَ اَعْلَمُ بِه مِنَّا اَللّٰهُمَّ اِنْ کَانَ مُحْسِناً فَزِدْ فِی اِحْسَانِه وَ اِنْ کَانَ مُسِئْياً فَتَجَاوَزْ عَنْهُ وَ اغْفِرْ لَه اَللّٰهُمَّ اجْعَله عِنْدَکَ فِیْ اَعْلیٰ عِلِّيِّيْنَ وَ اخْلُفْ عَلٰی اهله فِی الْغَابِرِیْنَ وَارْحَمْهُ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْن

اس کے بعد پانچویں تکبير کهے۔

ليکن اگر ميّت عورت ہو تو چوتھی تکبير کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذِه اَمَتُکَ وَ ابْنَةُ عَبْدِکَ وَ ابْنةُ اَمَتِکَ نَزَلَتْ بِکَ وَاَنْتَ خَيْرُ مَنْزُوْلٍ بِه اَللّٰهُمَّ اِنَّا لاَ نَعْلَمُ مِنْهَا اِلا خَيْراً وَّ ا نَْٔتَ اَعْلَمُ بِهَا مِنَّا اَللّٰهُمَّ اِنْ کَانَتْ مُحْسِنَةً فَزِدْ فِی اِحْسَانِهَا وَ اِنْ کَانَتْ مُسِيْئَةً فَتَجَاوَزْ عَنْهَا وَ اغْفِرْ لَهَا اَللّٰهُم اجْعَلْهَا عِنْدَکَ فِیْ اَعْلیٰ عِلِّيِّيْنَ وَ اخْلُفْ عَلٰی اهلها فِی الْغَابِرِیْنَ وَارْحَمْها بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْن

مسئلہ ۶ ١ ۵ ضروری ہے کہ تکبيریں اور دعائيں یکے بعد دیگرے اس طرح پڑہيں کہ نماز اپنی شکل نہ کهو دے۔

مسئلہ ۶ ١ ۶ جو شخص نمازِ ميّت جماعت کے ساته پڑھ رہا ہو خواہ مقتدی ہی کيوں نہ ہو اس کے لئے تکبيریں اور دعائيں پڑھنا ضروری ہے ۔


نمازِ ميّت کے مستحبات

مسئلہ ۶ ١٧ چند چيزیں نمازِ ميّت ميں مستحب ہيں :

١) جو شخص نمازِ ميّت پڑھے وہ وضو یا غسل یا تيمم کرے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ تيمم اس وقت کرے جب وضو اور غسل کرنا ممکن نہ ہو یا اس بات کا خدشہ ہو کہ اگر وضو یا غسل کرے گا تو نماز ميں شریک نہ ہو سکے گا۔

٢) اگر ميّت مرد ہو تو امام یا جو شخص اکيلا ميّت پر نماز پڑھ رہا ہو ميّت کے شکم کے سامنے کهڑا ہو اور اگر ميّت عورت ہو تو اس کے سينے کے سامنے کهڑا ہو ۔

٣) نماز ننگے پاؤں پڑھے۔

۴) ہر تکبير ميں ہاتھوں کو بلند کرے۔

۵) ميّت اور نماز ی کے درميا ن فاصلہ اتنا کم ہو کہ اگر ہو ا نماز ی کے لباس کو حرکت دے تو وہ جنازے کو چھو جائے۔

۶) نمازِ ميّت جماعت کے ساته پڑھی جائے۔

٧) امام تکبيریں اور دعائيں بلند آواز سے پڑھے اور مقتدی آهستہ پڑہيں ۔

٨) نماز جماعت ميں مقتدی اگر چہ ایک شخص ہی کيوں نہ، ہو امام کے پيچهے کهڑا ہو ۔

٩) نماز پڑھنے والا ميّت اور مومنين کے لئے کثرت سے دعا کرے۔

١٠ ) نماز کو ایسی جگہ پڑہيں جهاں نمازِ ميّت کے لئے لوگ زیا دہ جاتے ہو ں۔

١١ ) اگر حائضہ عورت نمازِ ميّت جماعت کے ساته پڑھے تو ایک صف ميں اکيلی کهڑی ہو ۔

مسئلہ ۶ ١٨ مسجدوں ميں نمازِ ميّت پڑھنا مکروہ ہے ليکن مسجد الحرام ميں پڑھنا مکروہ نہيں ہے ۔

دفن کے احکام مسئلہ ۶ ١٩ ميّت کو اس طرح زمين ميں دفن کرنا واجب ہے کہ اس کی بو باہر نہ آئے اور درندے بھی اس کا بدن باہر نہ نکال سکيں اور اگر اس بات کا خوف ہو کہ جانور اس کا بدن باہر نکا ل ليں گے تو قبر کو اینٹوں اور اس جيسی چيزوں سے پختہ کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۶ ٢٠ اگر ميّت کو زمين ميں دفن کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے دفن کرنے کی بجائے کسی ایسی تعمير شدہ جگہ یا تابوت ميں رکھا جائے جس سے دفن کا مقصد حاصل ہو سکے۔

مسئلہ ۶ ٢١ ميّت کو قبر ميں دائيں پهلو اس طرح لٹانا ضروری ہے کہ اس کے بدن کا سامنے والا حصّہ قبلہ رخ ہو۔


مسئلہ ۶ ٢٢ اگر کوئی شخص کشتی ميں مرجائے اور اس کی ميت کے خراب ہو نے کا امکا ن نہ ہو اور اسے کشتی ميں رکھنے ميں کوئی امر مانع نہ ہو تو ضروری ہے کہ انتظار کریں تا کہ خشکی تک پهنچ کر اسے زمين ميں دفن کریں، ورنہ ضروری ہے کہ اسے کشتی ميں غسل دیں، حنوط کریں اور کفن پهنائيں اور نمازِ ميّت پڑھنے کے بعد اسے مرتبان ميں رکھ کر اس کا منہ بند کر دیں اور اسے سمندر ميں ڈال دیں اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ جهاں تک ممکن ہو قبلہ رخ ہو نے کا خيا ل رکہيں ۔

اور اگر ممکن نہ ہو تو کوئی بهاری چيز اس کے پاؤں ميں بانده کر سمندر ميں ڈال دیں اور ممکنہ صورت ميں اسے ایسی جگہ ڈاليں جهاں جانور اسے فوراً لقمہ نہ بناليں۔

مسئلہ ۶ ٢٣ اگر اس بات کا خوف ہو کہ دشمن قبر کهود کر ميّت کو باہر نکا ل لے گا اور کا ن یا ناک یا دوسرے اعضاء کاٹ لے گا، تو اگر ممکن ہو تو سابقہ مسئلے ميں بيا ن کئے گئے طریقے کے مطابق اسے سمندر ميں ڈال دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۶ ٢ ۴ اگر ميّت کو سمندر ميں ڈالنا یا اس کی قبر پختہ کرنا ضروری ہو تو اس کے اخراجات ميّت کے اصل مال سے لئے جائيں گے۔

مسئلہ ۶ ٢ ۵ اگر کوئی کا فر عورت مرجائے اور اس کے پيٹ ميں مرا ہو ا بچہ ہو اور اس بچے کا باپ مسلمان ہو تو اس عورت کو قبر ميں بائيں پهلو قبلے کی طرف پيٹھ کر کے لٹانا ضروری ہے تا کہ بچے کا منہ قبلے کی طرف ہو اور اگر پيٹ ميں موجود بچے کے بدن ميں ابهی جان نہ پڑی ہو تب بھی احتياطِ واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ۶ ٢ ۶ مسلمان کو کفار کے قبرستان ميں دفن کرنا اور کا فر کو مسلمانوں کے قبرستان ميں دفن کرنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٢٧ مسلمان کو ایسی جگہ جهاں اس کی بے حرمتی ہو تی ہو مثلاً جهاں کوڑا کرکٹ اور گندگی پھينکی جاتی ہو، دفن کرنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٢٨ ميّت کو غصبی زمين یا ایسی زمين ميں جو دفن کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے وقف کی گئی ہو، دفن کرنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٢٩ ميّت کو کسی دوسرے مردے کی قبر ميں دفن کرنا، جب کہ اس وجہ سے غير کے حق ميں تصرف ہو رہا ہو یا ایسی قبر کو کهودنا پڑ رہا ہو جس ميں ميّت ابهی باقی ہے یا ميّت کی بے حرمتی ہو رہی ہو، جائز نہيں ہے ۔هاں، اس کے علاوہ صورتو ں ميں مثلاً قبر پر انی ہو گئی ہو اور پهلی ميّت کا نشان باقی نہ رہا ہو یا قبر پهلے ہی کهودی جا چکی ہو، تو دفن کرنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶ ٣٠ ميّت سے جدا ہو نے والی چيز اگر اس کے بدن کا حصّہ ہو تو ضروری ہے کہ ميّت کے ساته دفن ہو اور اگر بال، ناخن اور دانت ہو ں تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ ميّت کے ساته دفن ہو ں اور جو ناخن اور دانت انسان کی زندگی ميں ہی اس سے جدا ہو جائيں انہيں دفن کرنا مستحب ہے ۔


مسئلہ ۶ ٣١ اگر کوئی شخص کنویں ميں مرجائے اور اسے باہر نکا لنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ کنویں کا منہ بند کر کے اس کنویں کو ہی اس کی قبر قرار دیں۔

مسئلہ ۶ ٣٢ اگر بچہ ماں کے پيٹ ميں مرجائے اور اس کا پيٹ ميں رہنا ماں کی زندگی کے لئے خطرناک ہو تو ضروری ہے کہ اسے آسان ترین طریقے سے باہر نکا ليں اور اگر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر مجبور ہو ں تو ایسا کرنے ميں بھی کوئی حرج نہيں ۔هاں، یہ ضروری ہے کہ اگر اس عورت کا شوہر اہل فن ہو تو وہ بچے کو باہر نکا لے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی اہل فن عورت کے ذریعے نکا ليں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسا محرم مرد نکا لے جو اہل فن ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو نامحرم مرد جو اہل فن ہو بچے کو باہر نکا لے اور اگر ایسا شخص بھی موجود نہ ہو تو پھر جو اہل فن نہ ہو، بتائی گئی ترتيب کا خيا ل رکھتے ہو ئے بچے کو باہر نکا ل سکتا ہے ۔

مسئلہ ۶ ٣٣ اگر ماں مرجائے اور بچہ اس کے پيٹ ميں زندہ ہو، تو چاہے اس بچے کے زندہ رہنے کی اميد نہ ہو تب بھی ضروری ہے کہ ان اشخاص کے ذریعے جن کا ذکر سابقہ مسئلے ميں ہو چکا ہے ، ترتيب کا لحاظ رکھتے ہو ئے اس کے پيٹ کی اس جگہ کو چاک کریں جو بچے کی سلامتی کے لئے بہتر ہو اور بچے کو باہر نکا ليں اور ميت کو غسل دینے کے لئے اس جگہ کو دوبارہ ٹانکے لگا دیں۔

دفن کے مستحبات

مسئلہ ۶ ٣ ۴ مستحب ہے کہ قبر کو ایک متو سط انسان کے قد کے لگ بھگ کهودیں اور ميّت کو نزدیکی ترین قبرستان ميں دفن کریں، مگر یہ کہ دور والا قبرستان کسی وجہ سے بہتر ہو مثلاً وہاں نيک لوگ دفن کئے گئے ہو ں یا لوگ وہاں اہل قبور پر فاتحہ پڑھنے زیا دہ جاتے ہو ں۔

یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ کو قبر سے چند گز دور زمين پر رکھ دیں اور تين دفعہ ميں تهوڑا تهوڑا کر کے قبر کے نزدیک لے جائيں اور ہر مرتبہ زمين پر رکہيں اور پھر اٹھ اليں اور چوتھی مرتبہ قبر ميں اتار دیں اور اگر ميّت مرد ہو تو تيسری دفعہ زمين پر اس طرح رکہيں کہ اس کا سر قبر کی نچلی طرف ہو اور چوتھی دفعہ سر کی طرف سے قبر ميں داخل کریں۔ اور اگر ميّت عورت ہو تو تيسری دفعہ اسے قبر کے قبلے کی طرف رکہيں اور پهلو کی طرف سے قبر ميں اتار دیں اور قبر ميں اتارتے وقت ایک کپڑا قبر کے اُوپر تان ليں۔

یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ آرام کے ساته تابوت سے نکا ليں اور قبر ميں داخل کریں۔ اسی طرح وہ دعائيں جنہيں پڑھنے کے لئے کها گيا ہے دفن کرنے سے پهلے اور دفن کرتے وقت پڑہيں ۔ ميّت کو قبر ميں رکھنے کے بعد اس کے کفن کی گرہيں کھول دیں، اس کا رخسار زمين پر رکھ دیں، اس کے سر کے نيچے مٹی کا تکيہ بنا دیں، اس کی پيٹھ کے نيچے کچی اینٹيں یا ڈهيلے رکھ دیں تا کہ ميّت چت نہ ہو جائے اور اس سے پهلے کہ قبر بند کریں، کوئی ایک شخص اپنا دایا ں ہاتھ ميّت کے دائيں کندهے پر مارے، بایا ں ہاتھ زور سے ميّت کے بائيں کندهے پر رکھے، منہ اس کے کا ن کے قریب لے جائے، اسے زور سے حرکت دے اور تين دفعہ کهے:


إِسْمَعْ إِفْهَمْ یَا فلان ابن فلان اور فلان ابن فلان کی جگہ ميّت اور اس کے باپ کا نام لے، مثلاً اگر اس کا اپنا نام محمد اور اس کے باپ کا نام علی ہو تو تين دفعہ کهے:

إِسْمَعْ إِفْهَمْ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلی اس کے بعد کهے:

هَلْ ا نَْٔتَ عَلَی الَعَهْدِ الَّذِیْ فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ مِنْ شَهَادَةِ ا نَْٔ لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَ ا نََّٔ مُحَمَّدا صَلیَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِه وَسَلَّمَ عَبْدُه وَ رَسُوْلُه وَ سَيِّدُ النَّبِيِّيْنَ وَ خَاتَمُ الْمُرْسَلِيْنَ وَ اَنَّ عَلِياًّ اَمِيْرُ الْمُوْمِنِيْنَ وَ سَيِّدُ الْوَصِيِّيْن وَ اِمَامٌ افْتَرَضَ اللّٰهُ طَاعَتَه عَلَی الْعَالَمِيْنَ وَاَنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ وَ عَلِیَّ بَنَ الْحُسَيْنِ و مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَّ جَعْفَرَ بْن مُحَمَّدٍ وَّ مُوْسَی بْنَ جَعْفَرٍ وَّ عَلِیَّ بْنَ مُوْسٰی وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَّ عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَّالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ وَّالْقَائِمَ الْحُجَّةَ الْمَهْدِیَّ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِمْ اَئِمَّةُ الْمُوْمِنِيْنَ وَ حُجَجُ اللّٰهِ عَلَی الْخَلْقِ اَجْمَعِيْنَ وَاَئِمَّتُکَ اَئِمَّةُ هُدیً ا بَْٔرَارٌ یَا فلان بن فلان اور فلان ابن فلان کی جگہ ميّت اور اس کے باپ کا نام لے اور اس کے بعد کهے:

اِذَا اَتَاکَ الْمَلَکَانِ الْمُقَرَّبَانِ رَسُوْلَيْنِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ وَ سَئَلاَ کَ عَنْ رَبِّکَ وَ عَنْ نَّبِيِّکَ و عَنْ دِیْنِکَ وَ عَنْ کِتَابِکَ وَ عَنْ قِبْلَتِکَ وَ عَنْ اَئِمَّتِکَ فَلاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ وَ قُلْ فِی جَوَابِهِمَا اَللّٰهُ رَبِّی وَ مُحَمَّد صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِه وَسَلَّمَ نَبِيِّیْ وَالْاِسْلاَمُ دِیْنِیْ وَالْقُرْآنُ کِتَابِیْ وَالْکَعْبَةُ قِبْلَتِیْ وَ اَمِيْرُالْمُوْمِنِيْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِب اِمَامِیْ وَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُجْتَبیٰ اِمَامِیْ وَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّهِيْدُ بِکَرْبَلاَ اِمَامِیْ وَ عَلِیٌّ زَیْنُ الْعَابِدِیْنَ اِمَامِیْ و مُحَمَّدٌ الْبَاقِرُ اِمَامِیْ وَ جَعْفَرٌ الصَّادِقُ اِمَامِیْ وَ مُوْسَی الْکَاظِمُ اِمَامِیْ وَ عَلِیٌّ الرِّضَا اِمَامِیْ وَ مُحَمَّدٌ الْجَوَادُ اِمَامِی وَعَلِیٌّ الْهَادِیْ اِمَامِیْ وَ الْحَسَنُ الْعَسْکَرِیْ اِمَامِیْ وَالْحُجَّةُ الْمُنْتَظَرُ اِمَامِیْ هٰؤُلاَءِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِمْ اَئِمَّتِیْ وَ سَادَتِی وَ قَادَتِیْ وَ شُفَعَائِیْ بِهِمْ ا تََٔوَلیّٰ وَ مِنْ اَعْدَائِهِمْ ا تََٔبَرَّءُ فِی الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ثُمَّ اعْلَمْ یَا فلان بن فلان

اور فلان ابن فلان کی جگہ ميّت اور اس کے باپ کا نام ليںاور اس کے بعد کهے:

اَنَّ اللّٰهَ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ نِعْمَ الرَّبُّ وَاَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِه وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّسُوْلُ وَاَنَّ عَلِیَّ بْنَ ا بَِٔی طَالِبٍ وَّ اَوْلاَدَهُ الْمَعْصُوْمِيْنَ الْاَئِمَّةَ الْاِثْنٰی عَشَرَ نِعْمَ الْا ئَِٔمَّةُ وَ اَنَّ مَا جَاءَ بِه مُحَمَّدٌ صَلیَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِه وَسَلَّمَ حَقٌّ و اَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَّ سُؤَالَ مُنْکَرٍ وَّ نَکِيْرٍ فِی الْقَبْرِ حَقٌّ وَّ الْبَعْثَ حَقٌّ وَّ النُّشُوْرَ حَقٌّ وَّ الصِّرَاطَ حَقٌّ وَّ الْمِيْزَانَ حَقٌّ و تَطَایُرَ الْکُتُبِ حَقٌّ وَّ اَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لاَّ رَیْبَ فِيْهَا وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْر پھر کهے:

ا فََٔهِمْتَ یَا فلان اور فلان کی جگہ ميّت کا نام لے اور اس کے بعد کهے:

ثَبَّتَکَ اللّٰهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ وَ هَدَاکَ اللّٰهُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ عَرَّفَ اللّٰهُ بَيْنَکَ وَ بَيْنَ ا ؤَْلِيَائِکَ فِی مُسْتَقَر مِّنْ رَّحَمْتِه


اس کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهِ وَاصْعَدْ بِرُوْحِه اِلَيْکَ وَ لَقَّه مِنْکَ بُرها ناً اَللّٰهُمَّ عَفْوَکَ عَفْوَک

مسئلہ ۶ ٣ ۵ مستحب ہے کہ جو شخص ميّت کو قبر ميں اُتارے وہ با طهارت، برہنہ سر اور ننگے پاؤں ہو، ميّت کی پائنتی کی طرف سے قبر سے باہر نکلياور مستحب ہے کہ قبر سے باہر آنے کے بعد کهے:

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبّ الْعَالَمِيْنَ اَللّٰهُمَّ ارْفَعْ دَرَجَتَه فِی اَعْلٰی عِلِّيِّيْنَ وَاخْلُفْ عَلیٰ عَقِبِه فِی الْغَابِرِیْنَ (وَعِنْدَکَ نَحْتَسِبُه) یَا رَبَّ الْعَالَمِيْن اور مستحب ہے کہ ميّت کے عزیز و اقرباء کے علاوہ جو لوگ موجود ہو ں وہ ہاتھ کی پشت سے قبر پر مٹی ڈاليں۔یہ بھی مستحب ہے کہ اگر ميّت عورت ہو تو اس کا محرم اسے قبر ميں اُتارے اور اگر کوئی محرم نہ ہو تو اس کے عزیز و اقرباء اسے قبر ميں اُتاریں۔

مسئلہ ۶ ٣ ۶ مستحب ہے کہ قبر مربع یا مربع مستطيل بنائی جائے، اسے زمين سے تقریباً چار انگليوں کے برابر اٹھ ایا جائے اور اس پر کوئی نشانی رکھی جائے تاکہ پهنچاننے ميں غلطی نہ ہو ۔ قبر پر پانی چھڑکا جائے اور پانی چھڑکنے کے بعد جو لوگ موجود ہو ں وہ اپنے ہاتھ قبر پر رکہيں ، انگلياں کھول کر قبر کی مٹی ميں گاڑیں اور سات دفعہ سورہ مبارکہ انا انزلناہ پڑہيں ، ميّت کے لئے طلب مغفرت کریں اور وارد شدہ دعائيں پڑہيں ، مثال کے طور پر یہ دعا:

اَللّٰهُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهِ وَاصْعَدْ (صَعِّدْ) رُوْحَه اِلیٰ اَرْوَاحِ الْمُوْمِنِيْنَ فِی عِلِّيِّيْنَ وَاَلْحِقْهُ بِالصَّالِحِيْن

مسئلہ ۶ ٣٧ مستحب ہے کہ تشييع جنازہ کے لئے آئے ہو ئے لوگوں کے چلے جانے کے بعد ميّت کا ولی یا وہ شخص جسے ولی اجازت دے ميّت کو ان دعاؤں کی تلقين کرے جو بتائی گئی ہيں ۔

مسئلہ ۶ ٣٨ مستحب ہے کہ دفن کے بعد ميّت کے پسماندگان کو پر سہ دیا جائے، ليکن اگر اتنی مدت گذر چکی ہو کہ پر سہ دینے سے ان کا دکه تازہ ہو جائے تو پر سہ نہ دینا بہتر ہے ۔ یہ بھی مستحب ہے کہ ميّت کے اہل خانہ کے لئے تين دن تک کھانا بھيجا جائے اور ان کے پاس بيٹھ کر کھانا کھانا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ۶ ٣٩ مستحب ہے کہ انسان عزیز و اقرباء کی موت پر خصوصاً بيٹے کی موت پر صبر کرے، جب بھی ميّت کو یاد کرے( اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيه رَاجِعُوْنَ ) پڑھے، ميّت کے لئے قرآن کی تلاوت کرے، قبر کو پختہ بنائے تا کہ جلدی خراب نہ ہو اور ماں باپ کی قبر پر خداوند متعال سے حاجات طلب کرے۔

مسئلہ ۶۴ ٠ کسی کی موت پر انسان کے لئے اپنے چھرے و بدن کو زخمی کرنا یا اپنے آپ کو نقصان پهنچانا، جب کہ اس کی وجہ سے قابل ذکر نقصان پهنچ رہا ہو، جائز نہيں ہے ۔ اگر چہ ضرر نہ بھی ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ترک کرے۔


مسئلہ ۶۴ ١ احتياط واجب کی بنا پر باپ اور بهائی کے علاوہ کسی اور کی موت پر گریبان چاک کرنا جائز نہيں ہے ليکن باپ اور بهائی کی مصيبت ميں ایسا کرنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶۴ ٢ اگر عورت ميّت کے سوگ ميں اپنا چہرہ زخمی کر کے خون آلود کرلے یا بال نوچے تو احتياط مستحب کی بنا پر ایک غلام آزاد کرے یا دس فقيروں کو کھانا کهلائے یا انہيں کپڑے پهنائے۔ اسی طرح اگر مرد اپنی بيوی یا فرزند کی موت پر اپنا گریبان چاک کرے یا لباس پهاڑے تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ۶۴ ٣ احتياط مستحب یہ ہے کہ ميّت پر روتے وقت آواز زیا دہ بلند نہ کی جائے۔

نمازِ وحشت

مسئلہ ۶۴۴ مستحب ہے کہ ميّت کے دفن کے بعد پهلی رات کو اس کے لئے دو رکعت نماز وحشت پڑھی جائے۔ اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پهلی رکعت ميں سورہ حمد کے بعد ایک دفعہ آیت الکرسی اور دوسری رکعت ميں سورہ حمد کے بعد دس دفعہ سورہ انا انزلناہ پڑھا جائے اور نماز کے سلام کے بعد کها جائے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ ابْعَثْ ثَوَابَهَا اِلیٰ قَبْرِ فُلان اور لفظ فلان کی بجائے ميّت کا نام ليا جائے۔

مسئلہ ۶۴۵ ميّت کے دفن کے بعد پهلی رات کو کسی بھی وقت نمازِ وحشت پڑھی جاسکتی ہے ، ليکن بہتر یہ ہے کہ اوّل شب ميں نماز عشا کے بعد پڑھی جائے۔

مسئلہ ۶۴۶ اگرميّت کو کسی دور کے شہر لے جانا ہو یا کسی اور وجہ سے اس کے دفن ميں تاخير ہو جائے تو نمازِ وحشت کو دفن کی پهلی رات تک ملتو ی کرنا ضروری ہے ۔

نبشِ قبر

مسئلہ ۶۴ ٧ کسی مسلمان کی قبر نبش کرنا، یعنی اس کی قبر کو کھولنا، خواہ وہ بچہ یا دیوانہ ہی کيوں نہ ہو حرام ہے ۔ ہاں، اگر اس کا بدن ختم ہو چکا ہو اور ہڈیا ں مٹی بن چکی ہو ں تو پھر کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ۶۴ ٨ امام زادگان، شهدا، علما اور اس کے علاوہ ہر اس مقام پر جهاں قبر کھولنا بےحرمتی کا باعث ہو، حرام ہے ، خواہ انہيں فوت ہو ئے سالهاسال گزرچکے ہو ں۔

مسئلہ ۶۴ ٩ چند صورتو ں ميں قبر کا کھولنا حرام نہيں ہے :

١) ميّت کو غصبی زمين ميں دفن کيا گيا ہو اور زمين کا مالک اس کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہو ۔

٢) کفن یا کوئی اور چيز جوميّت کے ساته دفن کی گئی ہو غصبی ہو اور اس کا مالک اس بات پر رضامند نہ ہو کہ وہ قبر ميں رہے۔


اور اسی طرح اگر خود ميّت کے مال ميں سے کوئی چيز جو اس کے ورثاء کو ملی ہو اس کے ساته دفن ہو گئی ہو اور وارث اس بات پر راضی نہ ہو ں کہ وہ چيز قبر ميں رہے تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ، مگر یہ کہ اس چيز کی قيمت کم ہو تو اس صورت ميں قبر کا کھولنا محل اشکا ل ہے ۔

٣) قبر کا کھولنا ميّت کی بے حرمتی کا سبب نہ ہو، جب کہ ميّت کو بغير غسل کے یا کفن پهنائے بغير دفن کيا گيا ہو یا معلوم ہو جائے کہ ميّت کا غسل باطل تھا یا اسے شرعی احکام کے مطابق کفن نہيں دیا گيا تھا یا قبر ميں قبلہ رخ نہيں لٹایا گيا تھا۔

۴) ایسا حق ثابت کرنے کے لئے ميت کا بدن دیکھنا چاہيں جوميت کے احترام سے زیا دہ اہم ہو۔

۵) ميّت کو ایسی جگہ دفن کيا گيا ہو جهاں اس کی بے حرمتی ہو تی ہو مثلاً اسے کا فروں کے قبرستان ميں یا ایسی جگہ دفن کيا گيا ہو جهاں غلاظت اور کوڑا کرکٹ پھينکا جاتا ہو ۔

۶) کسی ایسے شرعی مقصد کے لئے قبر کھولی جائے جس کی اہميت قبر کھولنے سے زیا دہ ہو، مثلاً زندہ بچے کو ایسی حاملہ عورت کے پيٹ سے نکا لنا مطلوب ہو جسے دفن کر دیا گيا ہو ۔

٧) اس بات کا خوف ہو کہ ميّت کو درندہ چير پهاڑ ڈالے گا یا سيلاب اسے بهالے جائے گا یا اسے دشمن نکا ل لے گا۔

٨) ميّت کے بدن کا کوئی ایسا حصہ دفن کرنا چاہيں جو اس کے ساته دفن نہ ہو سکا ہو، ليکن احتياطِ واجب یہ ہے کہ بدن کے اس حصّے کو قبر ميں اس طرح رکہيں کہ ميّت کا بدن نظر نہ آئے۔

مستحب غسل

مسئلہ ۶۵ ٠ اسلام کی مقدس شریعت ميں بہت سے غسل مستحب ہيں جن ميں سے کچھ یہ ہيں :

١) غسلِ جمعہ: اس کا وقت صبح کی اذان کے بعد سے ظہر تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ ظہر کے قریب بجالایا جائے اور اگر کوئی شخص ظہر تک انجام نہ دے تو بہتر ہے کہ ادا و قضا کی نيت کئے بغير غروب آفتاب تک بجالائے اور اگر جمعہ کے دن غسل نہ کرے تو مستحب ہے کہ ہفتے کے دن صبح سے غروب آفتاب تک اس کی قضا بجالائے اور جو شخص جانتا ہو کہ اسے جمعہ کے دن پانی ميسر نہ ہو گا تو وہ رجاء جمعرات کے دن غسل انجام دے سکتا ہے ۔

مستحب ہے کہ انسان غسل جمعہ کرتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه وَ رَسُوْلُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّد وَّاجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّا بِيْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِیْن


٢) ماہ رمضان کی پهلی، سترہو یں، انيسویں، اکيسویں، تيئيسویں اور چوبيسویں رات کا غسل۔

٣) عيدالفطر اور عيد قربان کے دن کا غسل۔ ان کا وقت صبح کی اذان سے غروب آفتاب تک ہے ، اگر چہ احوط یہ ہے کہ ظہر سے غروب کے وقت تک رجاء کی نيت سے بجالائے اور بہتر یہ ہے کہ نماز عيد سے پهلے کيا جائے۔

۴) عيدالفطر کی رات کا غسل ۔ اس کا وقت غروب کے بعد ہے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ رات کی باقی مدت ميں اذانِ صبح تک رجاء کی نيت سے بجا لائے۔

۵) ماہ ذی الحجہ کے آٹھ ویں اور نویں دن کا غسل اور احوط یہ ہے کہ نویں دن کا غسل زوال کے وقت کيا جائے۔

۶) اس شخص کا غسل جس نے سورج گرہن کے وقت عمداً نماز آیا ت نہ پڑھی ہو جب کہ سورج کو مکمل گرہن لگا ہو۔

٧) اس شخص کا غسل جس نے اپنے بدن کا کوئی حصہ ایسی ميّت سے مس کيا ہو جسے غسل دیا جاچکا ہو ۔

٨) احرام کا غسل۔

٩) حرم خدا ميں داخل ہو نے کا غسل۔

١٠ ) مکہ مکرمہ ميں داخل ہو نے کا غسل۔

١١ ) خانہ کعبہ کی زیا رت کا غسل۔

١٢ ) کعبہ ميں داخل ہو نے کا غسل۔

١٣ )نحر، ذبح اور حلق (بال مونڈنے) کے لئے غسل۔

١ ۴ ) مدینہ منورہ ميں داخل ہو نے کا غسل۔

١ ۵ ) حرمِ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم ميں داخل ہو نے کا غسل(اور اس کی حدود، عائراور وعيرنامی دو پهاڑیوں کے درميان ہے )۔

١ ۶ ) پيغمبر اکرم(ص) کی قبر مطہر سے وداع کا غسل۔

١٧ )دشمن کے ساته مباہلہ کرنے کا غسل۔

١٨ )نوزائدہ بچے کو غسل دینا۔

١٩ ) استخارہ کرنے کا غسل۔

٢٠ )طلب باران کا غسل۔

٢١ ) مکمل سورج گرہن کے وقت کا غسل۔


٢٢ )حضرت سيدالشهداء عليہ السلام کی نزدیک سے زیا رت کا غسل۔

٢٣ )فسق اور کفر سے تو بہ کا غسل۔

مسئلہ ۶۵ ١ فقهاء نے مستحب غسلوں کے باب ميں بہت سے غسلوں کو ذکر فرمایا ہے جن ميں سے چند یہ ہيں :

١) رمضان المبارک کی تمام طاق راتو ں کا غسل اور اس کی آخری دهائی کی تمام راتو ں کا غسل اور اس کی تيئيسویں رات کے آخری حصّے ميں دوسرا غسل۔

٢) ماہ ذی الحجہ کے چوبيسویں دن کا غسل۔

٣) عيد نوروز کے دن، پندرہو یں شعبان، نویں اور سترہو یں ربيع الاوّل اور ذی القعدہ کے پچيسویں دن کا غسل۔

۴) اس عورت کا غسل جس نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے خوشبو استعمال کی ہو ۔

۵) اس شخص کا غسل جو مستی کی حالت ميں سوگيا ہو ۔

۶) اس شخص کا غسل جو کسی سولی چڑھے ہو ئے انسان کو دیکھنے گيا ہو اور اسے دیکھا بھی ہو، ليکن اگر اتفاقاً یا مجبوری کی حالت ميں نظر کی ہو یا مثال کے طور پر گواہی دینے گيا ہو تو غسل مستحب نہيں ہے ۔

٧) مسجد نبوی صلی الله عليہ و آلہ وسلم ميں داخل ہو نے کا غسل

٨) دور یا نزدیک سے معصومين عليهم السلام کی زیا رت کے لئے غسل۔

٩) عيد غدیر کے دن کا غسل۔

ليکن احوط یہ ہے کہ یہ تمام غسل رجاء کی نيت سے بجالائے جائيں۔

مسئلہ ۶۵ ٢ ان مستحب غسلوں کے ساته جن کا ذکر مسئلہ ” ۶۵ ٠ “ ميں کيا گيا ہے انسان ایسے کا م جن کے لئے وضو ضروری ہے مثلاً نماز، انجام دے سکتا ہے ليکن جو غسل رجاء کی نيت سے کئے جائيں وہ وضو کی جگہ کافی نہيں ہيں ۔

مسئلہ ۶۵ ٣ اگر کسی شخص کے ذمے کئی مستحب غسل ہو ں اور وہ سب کی نيت کر کے ایک غسل کرلے تو کافی ہے ۔

تيمم

سات صورتو ں ميں وضواورغسل کے بجائے تيمم کرناضروری ہے :

تيمم کی پهلی صورت

١) یہ کہ وضویا غسل کے لئے ضروری مقدارميں پانی مهيا کرناممکن نہ ہو۔


مسئلہ ۶۵۴ اگر انسان آبادی ميں ہو تو ضروری ہے کہ وضواورغسل کا پانی مهيا کرنے کے لئے اتنی جستجوکرے کہ اس کے ملنے سے نااميد ہو جائے اوراگر بيا بان ميں ہو تو ناہموار زمين ميں پر انے زمانے ميں کمان سے پھينکے جانے والے ایک تير کی پروازکے برابراور ہموار زمين ميں دوبارپھينکے جانے والے تيرکے فاصلے کے برابر جستجو کرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر یہ جستجودائرے کی شکل ميں ہو جس کا مرکز پانی ڈهونڈنے کی ابتدائی جگہ اور درميا نی فاصلہ تيرکی پر واز کے برابرہو ۔

مسئلہ ۶۵۵ اگر چاراطراف ميں سے بعض ہمواراوربعض ناہموارہو ں تو ضرورری ہے کہ جوطرف ہموارہو اس ميں دوتيروں کی پر واز کے برابراورجوطرف ناہموارہو اس ميں ایک تيرکی پر واز کے برابرمذکورہ بالامسئلے ميں بتائے گئے طریقے کے مطابق جستجوکرے۔

مسئلہ ۶۵۶ جس طرف پانی کے نہ ہو نے کا یقين یا شرعی گواہی موجود ہو اس طرف تلاش کرناضروری نہيں ۔

مسئلہ ۶۵ ٧ اگر کسی شخص کی نماز کا وقت تنگ نہ ہو اورپانی مهيا کرنے کے لئے اس کے پاس وقت ہو، اگر یقين یا شرعی گواہی ہو کہ جس فاصلے تک پانی تلاش کرناضروری ہے اس سے دورپانی موجود ہے تو ضروری ہے کہ پانی حاصل کرنے کے لئے وہاں جائے، بشرطيکہ وہاں جانامشقت وضررکا باعث نہ ہو اوراگر پانی موجودهو نے کا گمان ہو، خواہ اس کا گمان قوی ہی کيوںنہ ہو جب تک اطمينان حاصل نہ ہو، جاناضروری نہيں ہے ، ليکن احوط ہے ۔

مسئلہ ۶۵ ٨ ضروری نہيں کہ انسان خودپانی کی تلاش ميں جائے بلکہ کسی اورایسے شخص کوبھيج سکتاہے جس کے کهنے پر اسے اطمينان ہو ۔ اسی طرح کسی ایسے شخص کو بھی بھيج سکتا ہے جو ثقہ ہو اور اس کے قول کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو، چاہے اس کے بتانے سے اطمينان بھی حاصل نہ ہو ۔ ان دونوں صورتو ں ميں ایک شخص کا چند اشخاص کی طرف سے جاناکافی ہے ۔

مسئلہ ۶۵ ٩ اگر اس بات کا احتمال ہو کہ اس کے سامان سفر ميں یا پڑاو ڈالنے کی جگہ پر یا قافلے ميں پانی موجود ہے تو ضروری ہے کہ اس قدر جستجوکرے کے اسے پانی نہ ہو نے کا یقين یا اطمينان ہو جائے یا اس کے حصول سے نااميد ہو جائے۔

مسئلہ ۶۶ ٠ اگرشخص نماز کے وقت سے پهلے، تلاش کرنے کے باوجود پانی حاصل نہ کرپائے اورنماز کے وقت تک وہيں رہے، چنانچہ اسے احتما ل ہو کہ اس جگہ پانی مل جائے گا تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پهلے کی جستجوپر اکتفانہ کرے، سوائے اس کے کہ وقت نماز داخل ہو نے سے کچھ پهلے اول وقت کی فضيلت کو پانے کے لئے جستجو کی ہو ۔

مسئلہ ۶۶ ١ اگر نماز کا وقت داخل ہو نے کے بعدجستجوکے باوجود پانی حاصل نہ کرپائے اوربعدوالی نماز کے وقت تک اسی جگہ رہے، چنانچہ اگر احتما ل دے کہ اب وہاں پانی مل جائے گا تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ دوبارہ پانی کی تلاش ميں جائے۔


مسئلہ ۶۶ ٢ اگر کسی شخص کے پاس نماز کے لئے وقت تنگ ہو یا اسے چور، ڈاکویا درندے سے جان یا اس کی حيثيت کے مطابق خاطر خواہ مال کا خوف ہو یا پانی کی تلاش اتنی کٹھن ہو کہ اس کی سختی کوبرداشت کرنا حرج کا باعث ہو تو جستجو ضروری نہيں ۔

مسئلہ ۶۶ ٣ اگر کوئی شخص پانی تلاش نہ کرے یهاں تک کہ نماز کا وقت تنگ ہو جائے تو اگر چہ وہ گنهگار ہے ، ليکن تيمم کے ساته اس کی نماز صحيح ہے ، چاہے بعد ميں معلوم ہو جائے کہ اگر پانی تلاش کرتاتو مل جاتا اوراحتياط مستحب یہ ہے کہ نماز کی قضا بھی بجالائے۔

مسئلہ ۶۶۴ جس شخص کو یقين ہو کہ پانی نہيں ملے گا، چنانچہ پانی کی تلاش ميں نہ جائے اور تيمم کرکے نماز پڑھ لے اوربعد ميں معلوم ہو کہ اگر پانی تلاش کرتاتو پانی مل جاتا، اگر وقت باقی ہو تو وضوکرکے دوبارہ نماز پڑھناضروری ہے ۔

مسئلہ ۶۶۵ اگر کسی شخص کوپانی تلاش کرنے پر نہ ملے اورتيمم کے ساته نماز پڑھ لے اورنماز پڑھنے کے بعدمعلوم ہو کہ جهاں اس نے پانی تلاش کيا تھا وہاں پانی موجود تھا، تو اگر وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ وضوکرکے دوبارہ نماز پڑھے ورنہ اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ۶۶۶ جس شخص کو یقين ہو کہ نماز کا وقت تنگ ہے اگر وہ پانی تلاش کئے بغير تيمم کے ساته نماز پڑھ لے اور نماز پڑھنے کے بعد اور وقت گزرنے سے پهلے اسے پتہ چلے کہ پانی تلاش کرنے کے لئے اس کے پاس وقت تھا تو ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے اور اگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہو تو قضا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶۶ ٧ اگر نماز کا وقت داخل ہو نے کے بعد کسی شخص کا وضو باقی ہو اور جانتا ہو یا شرعی دليل مثلاً اطمينان وغيرہ ہو کہ اگر اس نے اپناوضوباطل کردیا تو دوبارہ وضو کرنے کے لئے پانی نہيں ملے گا یا وضو نہيں کر پائے گا تو اس صورت ميں اگر وہ اپنا وضو برقرار رکھ سکتا ہو اور اس کے لئے کسی حرج و ضرر کا باعث نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے باطل نہ کرے۔

ليکن ایساشخص یہ جانتے ہو ئے بھی کہ غسل نہ کرپائے گااپنی بيوی سے جماع کرسکتاہے۔

مسئلہ ۶۶ ٨ اگر کوئی شخص نماز کے وقت سے پهلے باوضو ہو اور اسے معلوم ہو یا شرعی دليل رکھتا ہو کہ اگر اس نے اپنا وضو باطل کردیا تو دوبارہ پانی مهيا کرنا اس کے لئے ممکن نہيں ہو گا تو اس صورت ميں اگر وہ اپنا وضو بغير کسی حرج یا ضرر کے برقرار رکھ سکتا ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ اپنا وضو باطل نہ کرے۔

مسئلہ ۶۶ ٩ جب کسی کے پاس فقط وضویا غسل کی مقدارميں پانی ہو اور وہ جانتا ہو یا شرعی دليل رکھتا ہو کہ اگر اسے گرادے تو پانی نہيں مل سکے گا تو اگر نماز کا وقت داخل ہو گيا ہو تو یہ پانی گراناجائز نہيں ہے اوراحتياط مستحب یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پهلے بھی نہ گرائے۔


مسئلہ ۶ ٧٠ اگر کوئی شخص جانتا ہو یا شرعی دليل رکھتا ہو کہ پانی حاصل نہ کرسکے گا، نماز کا وقت داخل ہو نے کے بعدکسی ضرروحرج کے بغيراس کے لئے وضو باطل کرنا جائز نہيں یا جوپانی اس کے پاس ہے ، اسے گرانا جائز نہيں ليکن تيمم کے ساته اس کی نماز صحيح ہے ، اگر چہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کی قضا بھی کرے۔

تيمم کی دوسری صورت

مسئلہ ۶ ٧١ اگر کوئی شخص کمزوری یا چور، ڈاکو اور جانور وغيرہ کے خوف سے یا کنویں سے پانی نکا لنے کے وسائل نہ ہو نے کی وجہ سے پانی حاصل نہ کرسکے تو ضروری ہے کہ تيمم کرے۔ اسی طرح اگر پانی مهيا کرنے یا اسے استعمال کرنے ميں اسے اتنی تکليف اٹھ انی پڑے جو ناقابل برداشت ہو تو اس صورت ميں بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ۶ ٧٢ اگر کسی شخص کے لئے، کنویں سے پانی نکا لنے کے لئے ڈول اوررسّی وغيرہ ضروری ہو ں اوروہ مجبور ہو کہ انہيں خریدے یا کرائے پر حاصل کرے تو خواہ ان کی قيمت عام بهاو سے کئی گنا زیا دہ ہی کيوں نہ ہو، ضروری ہے کہ مهيا کرے۔ اسی طرح اگر پانی اپنی قيمت سے مهنگا بيچا جارہا ہو تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ، ليکن اگر ان چيزوں کو مهيا کرنے کے لئے اتنا زیا دہ پيسے دینے پڑرہے ہو ں جو عسرو حرج کا باعث ہو ں تو ان چيزوں کا مهيا کرنا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٧٣ اگر کوئی شخص پانی مهيا کرنے کے لئے قرض لينے پر مجبور ہو تو ضروری ہے کہ قرض کرے، ليکن جو شخص جانتا ہو یا اسے اطمينان ہو کہ وہ قرضے کی ادائيگی نہ کرسکے گا تو اس کے لئے قرض لينا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٧ ۴ اگر کنواں کهودنے ميں کوئی حرج نہ ہو تو ضروری ہے کہ انسان پانی مهيا کرنے کے لئے کنواں کهودے۔

مسئلہ ۶ ٧ ۵ اگر کوئی شخص بغير احسان کے کچھ پانی دے تو اسے قبول کرنا ضروری ہے ۔

تيمم کی تيسری صورت

مسئلہ ۶ ٧ ۶ اگر کسی شخص کو پانی استعمال کرنے سے اپنی جان کا خوف ہو یا بدن ميں کوئی بيماری یا عيب پيدا ہونے یا بيماری کے طولانی یا شدید ہو جانے یا علاج ميں دشواری پيدا ہو نے کا خوف ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ تيمم کرے، ليکن اگر گرم پانی اس کے لئے نقصان دہ نہ ہو تو گرم پانی سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ۶ ٧٧ ضروری نہيں ہے کہ انسان کو یقين ہو کہ پانی اس کے لئے مضر ہے ، بلکہ یهی کہ اسے خوف ہو کہ پانی اس کے لئے ضرر رکھتاہے اور یہ خوف عام لوگوں کی نظرميں صحيح ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے۔

مسئلہ ۶ ٧٨ اگر کوئی شخص درد چشم ميں مبتلا ہو اور پانی اس کے لئے مضر ہو تو ضروری ہے کہ تيمم کرے۔


مسئلہ ۶ ٧٩ اگر کوئی شخص ضرر کے یقين یا خوف کی وجہ سے تيمم کرے اور نماز سے پهلے اس بات کا پتہ چل جائے کہ پانی اس کے لئے نقصان دہ نہيں تو اس کا تيمم باطل ہے اور اگر اس بات کا پتہ نماز کے بعد اور وقت گزرنے سے پهلے چلے تو وضو یا غسل کرکے دوبارہ نماز پڑھناضروری ہے اور اگر وقت باقی نہ ہو تو قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٨٠ اگر کسی شخص کویقين یا اطمينان ہو کہ پانی اس کے لئے مضرنہيں ہے اورغسل یا وضوکرلے، بعدميں اسے پتہ چلے کہ پانی اس کے لئے مضرتها، تو اگر ضرر اتنا زیا دہ ہو کہ اس کا اقدام حرام ہو تو وضو اور غسل دونوں باطل ہيں ۔

تيمم کی چوتھی صورت

مسئلہ ۶ ٨١ جس شخص کویہ خوف ہو کہ پانی سے وضویا غسل کرلينے کے بعدان ميں سے کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا، تو ضروری ہے کہ وہ تيمم کرے:

١) یہ کہ وہ خود ابهی یا بعدميں ایسی پيا س ميں مبتلا ہو جائے گا جواس کی هلاکت یا بيماری کا سبب ہو گی یا اس کا برداشت کرنااس کے لئے سخت حرج کا باعث ہو گا۔

٢) اسے خوف ہو کہ جن افراد کی حفاظت کرنااس پر واجب ہے ، وہ پيا س سے هلاک یا بيمار ہو جائيں گے۔

٣) یہ کہ کسی انسان یا حيوان کی هلاکت یا بيماری یا بيتابی جواسے گراںگزرتی ہو کا خوف ہو یا اس حيوان کی هلاکت سے اُسے خاطر خواہ نقصان ہو۔

مسئلہ ۶ ٨٢ اگر کسی شخص کے پاس پاک پانی کے علاوہ جو وضو اور غسل کے لئے ہو، نجس پانی کی اتنی مقداربهی موجود ہو جو اس کے اور اس کے ساتهيوں کے پينے کے لئے کافی ہو، ليکن ان کے لئے پانی کی نجاست ثابت ہو اور نجس پانی پينے سے پر هيز بھی کرتے ہو ں تو ضروری ہے کہ پاک پانی کوپينے کے لئے رکھ لے اورتيمم کے ساته نماز پڑھے۔ ہاں، اگر بچے یا حيوان کوپانی دیناچاہے تو ضروری ہے کہ انہيں نجس پانی د ے اورپاک پانی کے ساته وضو یا غسل کرے۔

تيمم کی پانچويں صورت

مسئلہ ۶ ٨٣ اگر کسی شخص کا بدن یا لباس نجس ہو اوراس کے پاس اتنی مقدارميں پانی ہو کہ اس سے وضویا غسل کرنے کی صورت ميں بدن یا لباس دهونے کے لئے پانی نہ بچتا ہو تو ضروری ہے کہ بدن یا لباس دهوئے اورتيمم کرکے نماز پڑھے، ليکن اگر اس کے پاس ایسی کوئی چيزنہ ہو جس پر تيمم کرے تو ضروری ہے کہ پانی کووضویا غسل کے لئے استعمال کرے اورنجس بدن یا لباس کے ساته نماز پڑھے۔


تيمم کی چھٹی صورت

مسئلہ ۶ ٨ ۴ اگر کسی شخص کے پاس ایسے پانی یا برتن کے علاوہ کوئی دوسرا پانی یا برتن نہ ہو کہ جس کا استعمال کرنا حرام ہے ، مثلااس کے پاس موجودپانی یا برتن غصبی ہو اوراس کے سواکوئی دوسراپانی یا برتن نہ ہو تو ضروری ہے کہ وضو یا غسل کے بجائے تيمم کرے۔

تيمم کی ساتو يں صورت

مسئلہ ۶ ٨ ۵ جب وقت اتناتنگ ہو کہ اگر ایک شخص وضویا غسل کرے تو ساری نماز یا اس کا کچھ حصہ وقت گزرنے کے بعد پڑھنا پڑے تو ضروری ہے کہ وہ شخص تيمم کرے۔ ہاں، اگر وضو یا غسل کے لئے تيمم جتنا وقت ہی صرف ہو تو اس صورت ميں ضروری ہے کہ وضو یا غسل کرے۔

مسئلہ ۶ ٨ ۶ اگر کوئی شخص جان بوجه کرنماز پڑھنے ميں اتنی تاخيرکرے کہ وضویا غسل کا وقت باقی نہ رہے تو وہ گنهگار ہو گا، ليکن تيمم کے ساته اس کی نماز صحيح ہے اوراحتياط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کی قضا وضو یا غسل کے ساته انجام دے۔

مسئلہ ۶ ٨٧ اگر کسی کوشک ہو کہ وضو یا غسل کرنے کی صورت ميں نماز کا وقت باقی رہے گا یا نہيں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ تيمم کرے۔

مسئلہ ۶ ٨٨ اگر کسی شخص نے وقت کی تنگی کی وجہ سے تيمم کيا ہو اورنماز کے بعدوضوکرسکنے کے باوجود نہ کرے یهاں تک کہ اس کے پاس موجودپانی ضائع ہو جائے اور اس وجہ سے اس کی ذمہ داری تيمم کرنا قرار پائے تو ضروری ہے کہ بعد کی نماز وں کے لئے دوبارہ تيمم کرے۔

مسئلہ ۶ ٨٩ اگر کسی شخص کے پاس پانی موجود ہو ليکن وقت تنگ ہو نے کے باعث تيمم کرکے نماز پڑھنے لگے اورنماز کے دوران اس کے پاس موجودپانی ضائع ہو جائے اور اس کی ذمہ داری تيمم کرنا بن جائے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ بعد کی نماز وں کے لئے دوبارہ تيمم کرے۔

مسئلہ ۶ ٩٠ اگر کسی شخص کے پاس اتنا وقت ہو کہ وضو یا غسل کرکے نماز کو اس کے مستحب اعمال مثلاً اقامت اورقنوت کے بغير پڑھ سکے، تو ضروری ہے غسل یا وضو کرے اور نماز کو مستحب اعمال کے بغير بجا لائے، بلکہ اگر سورہ پڑھنے جتنا وقت بھی نہ بچتا ہو تب بھی ضروری ہے کہ غسل یا وضو کرکے بغير سورہ کے نماز پڑھے۔


وہ چيزيں جن پر تيمم کرناصحيحہے

مسئلہ ۶ ٩١ مٹی، ریت، ڈهيلے، پتّھر اورہر اس چيزپر تيمم کرنا صحيح ہے جسے عرف عام ميں زمين کے اجزاء سے سمجھاجاتاہو، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ مٹی کے ہو تے ہو ئے کسی دوسری چيزپر تيمم نہ کيا جائے اوراگر مٹی نہ ہو تو ریت یا ڈهيلے پر اور اگر ریت اور ڈهيلا بھی نہ ہو تو پھر پتّھر پر تيمم کيا جائے۔

مسئلہ ۶ ٩٢ جپسم اورچونے کے پتّھرپر تيمم کرنا صحيح ہے اور احتياط مستحب کی بنا پر اگر ممکن ہو تو چونے اور جپسم کے پکے ہوئے پتّھراورپکی اینٹ پر تيمم نہ کرے۔هاں، فيروزے اور عقيق جيسے پتّھروں پر تيمم جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ۶ ٩٣ اگر کسی شخص کو مٹی، ریت، ڈهيلے، پتّھر حتیٰ جپسم اور چونے کے پتّھر بھی نہ مل سکيں، تو ضروری ہے کہ قالين اور کپڑوں پر موجود گرد و غبارپر تيمم کرے اور اگر گرد و غبار بھی نہ مل سکے تو ضروری ہے کہ تر مٹی پر تيمم کرے اور اگر تر مٹی بھی نہ مل سکے تو مستحب یہ ہے کہ تيمم کے بغيرنماز پڑھے ليکن بعد ميں اس نماز کی قضا پڑھنا واجب ہے ۔

مسئلہ ۶ ٩ ۴ اگر کوئی شخص قالين اور اس جيسی دوسری چيزوں کو جهاڑ کر مٹی مهيا کرسکتا ہو تو اس کا گر د و غبار پر تيمم کرنا باطل ہے اور اگر مٹی کو خشک کرکے اس سے سوکهی مٹی حاصل کرسکتاہو تو گيلی مٹی پر تيمم باطل ہے ۔

مسئلہ ۶ ٩ ۵ جس شخص کے پاس پانی نہ ہو ليکن برف موجود ہو اور اسے پگهلانا ممکن ہو تو ضروری ہے کہ اسے پگهلا کر پانی بنائے اور اس سے وضو یا غسل کرے اور اگر ایساکرنا ممکن نہ ہو اور اس کے پاس کوئی ا یسی چيزبهی نہ ہو جس پر تيمّم کر نا صحيح ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ برف کے ساته اعضاءِ وضو یا غسل کو تر کرکے نماز پڑھے ليکن ضروری ہے کہ اس نمازکی قضابهی پڑھے۔

مسئلہ ۶ ٩ ۶ اگر مٹی اور ریت کے ساته سوکهی گهاس کی طرح کی کوئی چيزهو ئی ہو جس پر تيمم کرناباطل ہو تو اس پر تيمم نہيں کرسکتا، ليکن اگر وہ چيزاتنی کم ہو کہ اسے مٹی یا ریت ميں نہ ہو نے کے برابرسمجھا جائے تو اس مٹی یا ریت پر تيمم صحيح ہے ۔

مسئلہ ۶ ٩٧ اگر ایک شخص کے پاس کوئی ایسی چيز نہ ہو جس پر تيمم کيا جاسکے اور اس کا خریدنا یا کسی طرح حاصل کرنا ممکن ہو اور حرج کا باعث نہ ہو تو ضروری ہے کہ خرید کریا ایسے ہی کسی طریقے سے مهيا کرے۔

مسئلہ ۶ ٩٨ مٹی کی دیوار پر تيمم کرنا صحيح ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ خشک زمين یا خشک مٹی کے ہو تے ہو ئے ترزمين یا ترمٹی پر تيمم نہ کيا جائے۔

مسئلہ ۶ ٩٩ انسان جس چيز پر تيمم کرے اس کا پاک ہوناضروری ہے اور اگر اس کے پاس ایسی کوئی پاک چيزنہ ہو جس پر تيمم کرنا صحيح ہو تو احتياط مستحب کی بنا پر اس نجس چيز پر تيمم کرے اور نماز پڑھے اور ضروری ہے کہ بعدميں اس کی قضابجالائے۔

مسئلہ ٧٠٠ اگر کسی شخص کویقين ہو کہ ایک چيز پر تيمم کرناصحيح ہے اور اس پر تيمم کرلے اور بعدميں معلوم ہو کہ اس چيز پر تيمم کرنا باطل تھا تو جو نماز یں اس تيمم کے ساته پڑھی ہيں انہيں دوبارہ پڑھناضروری ہے ۔


مسئلہ ٧٠١ وہ چيز جس پر تيمم کيا جائے اور وہ جگہ جهاں وہ چيز رکھی ہو، ضروری ہے کہ غصبی نہ ہو ں، پس اگر غصبی مٹی پر تيمم کرے یا اپنی مٹی بغيراجازت کے دوسرے کی ملکيت ميں رکھے اور اس پر تيمم کرے تو اس کا تيمم باطل ہے ، ليکن خود تيمم کرنے والے کی جگہ کا غصبی نہ ہوناتيمم کے صحيح ہو نے ميں معتبرنہيں ہے ۔

مسئلہ ٧٠٢ غصب کی ہو ئی فضاميں تيمم کرنا، مثال کے طورپر اگر کوئی شخص اپنی زمين ميں اپنے ہاتھ مٹی پر مارے اور پھراجازت کے بغيردوسرے کی زمين ميں داخل ہو کرہا تہوں کوپيشانی پر پهيرے، تو بنا براحتياط اس کا تيمم باطل ہے ۔

مسئلہ ٧٠٣ غصبی چيزپر یا ایسی چيزپر جوغصبی جگہ رکھی ہوئی ہو، خواہ نہ جانتا ہو کہ غصبی ہے ، تيمم کرنا باطل ہے ۔ غصبی فضاميں تيمم کرنے کا بھی احتياطِ واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

البتہ اگر بھول جائے یا غصب سے غافل ہو تو صحيح ہے ، سوائے اس کے کہ خودغاصب ہو اور غصب سے تو بہ نہ کی ہو کہ اس صورت ميں اگر اس کا تيمم غصبی چيزپر یا اس چيزپر ہو جو غصبی جگہ رکھی ہو تو باطل ہے ، جب کہ اگر تو بہ کرچکا ہو تو احتياط کی بنا پر باطل ہے ۔

مسئلہ ٧٠ ۴ جوشخص غصبی جگہ ميں قيد ہو اور اس جگہ کا پانی اور مٹی دونوں غصبی ہو ں تو ضروری ہے کہ تيمم کرکے نماز پڑھے۔

مسئلہ ٧٠ ۵ جس چيزپر تيمم کيا جائے، احتياطِ واجب کی بنا پر ممکنہ صورت ميں ضروری ہے کہ اس پر گرد و غبار موجود ہو جو ہاتھوں پر لگ جائے اور اس ميں ہاتھ مارنے کے بعدمستحب ہے کہ ہاتھوں کوجهاڑے۔

مسئلہ ٧٠ ۶ گڑھے والی زمين، راستے پر بيٹھی ہوئی مٹی اور ایسے نمکزار پرجس پر نمک کی تہہ نہ جمی ہو، تيمم کرنا مکروہ ہے اور اگر اس پر نمک کی تہہ جم گئی ہو تو باطل ہے ۔

وضو يا غسل کے بدلے تيمم کرنے کا طريقہ

مسئلہ ٧٠٧ وضو یا غسل کے بدلے کئے جانے والے تيمم ميں چارچيزیں واجب ہيں :

١) نيت۔

٢) دونوں ہتھيليوں کوایسی چيزپر مارناجس پر تيمم کرناصحيح ہو اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ دونوں ہتھيليوں کوایک ساته مارے۔

٣) دونوں ہتھيليوں کوپوری پيشانی اور پيشانی کے دونوں طرف، جهاں سرکے بال اگتے ہيں ، سے لے کربهنوو ںٔ اور ناک کے اوپر تک پهيرنااور احتياطِ واجب یہ ہے کہ ہاتھ بهنوو ںٔ پر بھی پهيرے جائيں۔

۴) بائيں ہتھيلی کودائيں ہاتھ کی تمام پشت پر اور اس کے بعددائيں ہتھيلی کوبائيں ہاتھ کی تمام پشت پر پهيرنا۔


مسئلہ ٧٠٨ احتياط مستحب یہ ہے کہ تيمم خواہ وضو کے بدلے ہو یا غسل کے بدلے، اس طرح سے کيا جائے کہ ایک دفعہ ہاتھوں کوزمين پر مارنے کے بعد پيشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پهيرے۔ اس کے بعد ایک دفعہ پھر زمين پر ہاتھ مارے اور ہاتھوں کی پشت کا مسح کرے۔

تيمم کے احکام

مسئلہ ٧٠٩ اگر ایک شخص پيشانی اور ہاتھوں کی پشت کے ذراسے حصے کا بھی مسح نہ کرے تو تيمم باطل ہے ، چاہے عمدًامسح نہ کيا ہو یا مسئلہ نہ جانتاہو یا بھول گيا ہو۔ البتہ بہت زیادہ باریک بينی بھی ضروری نہيں بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ یہ کها جاسکے کہ پوری پيشانی اور دونوں ہاتھوں کی مکمل پشت کا مسح ہو چکا ہے ۔

مسئلہ ٧١٠ یہ یقين حاصل کرنے کے لئے کہ ہاتھ کی تمام پشت پر مسح کرليا ہے ، ضروری ہے کہ کلائی سے کچھ اوپر والے حصے کا بھی مسح کرے، ليکن انگليوں کے درميا ن مسح کرناضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٧١١ ضروری ہے کہ پيشانی اور ہاتھوں کی پشت کا مسح اوپر سے نيچے کی جانب کرے اور ان افعال کو پے در پے انجام دے اور اگر ان کے درميا ن اتنافاصلہ دے کہ لوگ یہ نہ کہيں کہ تيمم کررہاہے تو تيمم باطل ہے ۔

مسئلہ ٧١٢ نيت کرتے وقت یہ معين کرناضروری ہے کہ اس کا تيمم غسل کے بدلے ہے یا وضو کے بدلے اور اگر غسل کے بدلے ہو تو اس غسل کوبهی معين کرے۔ ہاں، اجمالاًمعين کرنا بهی، مثلاً یہ نيت کہ یہ تيمم اس چيزکے بدلے ہے جوپهلے واجب ہو ئی یا بعد ميں ، کافی ہے ۔

اور اگر اس پر ایک ہی تيمم واجب ہو اور نيت کرے کہ ميں اپنی اس وقت کی ذمہ داری انجام دے رہا ہو ں، تو صحيح ہے ، چاہے اس ذمہ داری کی پہچان ميں غلطی کرے۔

مسئلہ ٧١٣ احتياط مستحب کی بنا پر تيمم ميں پيشانی، ہتھيليوں اور ہاتھوں کی پشت کا پاک ہونا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٧١ ۴ ضروری ہے کہ انسان تيمم کے لئے انگوٹھی اتاردے اور اگر پيشانی یا ہاتھوں کی پشت یا ہتھيليوں پر کوئی رکا وٹ ہو مثلاًان پر کوئی چيزچپکی ہو ئی ہو تو اسے ہٹادے۔

مسئلہ ٧١ ۵ اگر پيشانی یا ها تہوں کی پشت پر زخم ہو اور اس پر کپڑایا کوئی اور ایسی چيز بندهی ہو جسے کھولا نہ جا سکتا ہو تو ضرور ی ہے کہ اس کے اوپر ہاتھ پهيرے۔ اسی طرح اگر ہتھيلی زخمی ہو اور اس پر کپڑایا پٹی وغيرہ بندهی ہو جسے کھولانہ جاسکتاہو تو احتياطِ واجب کی بنا پر ہاتھوں کواسی پٹی سميت اس چيزپر مارے جس پر تيمم کرناصحيح ہے اور پيشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پهيرے اور ہاتھوں کی پشت سے بھی تيمم کرے۔


مسئلہ ٧١ ۶ اگر پيشانی اور ہاتھوں کی پشت پر بال ہو ں تو کوئی حرج نہيں ، ليکن اگر سرکے بال پيشانی پر آگرے ہو ں تو ضروری ہے کہ انہيں پيچهے ہٹادے۔

مسئلہ ٧١٧ اگر کسی شخص کواحتمال ہو کہ پيشانی یا ہتھيليوںيا ہاتھوں کی پشت پر کوئی رکا وٹ ہے اور یہ احتمال عام لوگوں کی نظرميں بجا ہو تو ضروری ہے کہ جستجوکرے تاکہ اسے یقين یا اطمينان ہو جائے کہ رکا وٹ موجود نہيں ہے ، بلکہ اگر ایک ایساقابل اعتماد شخص بھی اس رکا وٹ کے نہ ہونے کی خبردے، جس کی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو، تو کافی ہے ۔

مسئلہ ٧١٨ جس شخص کا وظيفہ تيمم ہو، اگر وہ خودتيمم نہ کرسکتاہو، حتیٰ کہ مٹی پر ہاتھ رکھ کربهی، تو ضروری ہے کہ کسی دوسرے کی مدد لے اور اگر کسی کی مددسے بھی تيمم نہيں کرسکتا تو ضروی ہے کہ نائب لے اور نائب کے لئے ضروری ہے کہ اسے خوداس کے ہاتھوں کے ساته تيمم کرائے اور اگر ایساکرناممکن نہ ہو تو نائب کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ہاتھوں کواس چيزپر مارے جس پر تيمم کرناصحيح ہو اور پھراس کی پيشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پهيرے اور ضروری ہے کہ تيمم کی نيت وہ خودکرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر نائب بھی نيت کرے۔

مسئلہ ٧١٩ اگر کوئی شخص تيمم کے دوران شک کرے کہ اس کا کچھ حصہ بھول گيا ہے یا نہيں اور اس حصے کا موقع گزرگيا ہو تو اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر موقع نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اس حصے کا تيمم کرے۔

مسئلہ ٧٢٠ اگر کسی شخص کوبائيں ہاتھ کا مسح کرنے کے بعدشک ہو کہ آیا اس نے تيمم درست کيا ہے یا نہيں جب کہ احتمال دے کہ مسح کرتے وقت متو جہ تھاتو اس کا تيمم صحيح ہے اور اگر اس کا شک خود بائيں ہاتھ کے مسح کے بارے ميں ہو تو ضروری ہے کہ اس کا مسح کرے، مگریہ کہ جس عمل ميں طهارت شرط ہو اس ميں داخل ہو چکا ہو یا تسلسل ختم ہو گيا ہو اور اگر بائيں ہاتھ کے مسح کے صحيح ہو نے ميں شک ہو تو اس کا تيمم صحيح ہے ۔

مسئلہ ٧٢١ جس شخص کا وظيفہ تيمم ہو وہ نماز کے وقت سے پهلے نماز کے لئے تيمم نہيں کرسکتا، ليکن اگر کسی اور واجب کا م یا مستحب کا م کے لئے تيمم کرے اور نماز کے وقت تک عذرباقی رہے جب کہ آخروقت تک عذر زائل ہونے سے مایوس ہو تو اسی تيمم کے ساته نماز پڑھ سکتاہے ، ورنہ محل اشکا ل ہے ۔

مسئلہ ٧٢٢ جس شخص کا وظيفہ تيمم ہو اگر آخروقت تک عذر زائل ہونے سے مایوس ہو تو وقت وسيع ہو نے کی صورت ميں تيمم کے ساته نماز پڑھ سکتاہے ، ليکن اگر مایوس نہ ہو تو ضروری ہے کہ انتظار کرے، اگر عذربرطرف ہو جائے تو وضو یا غسل کے ساته نماز پڑھے ورنہ تنگی ؤقت ميں تيمم کے ساته نماز اداکرے۔


مسئلہ ٧٢٣ جوشخص وضو یا غسل نہ کرسکتاہو اوراسے یقين یا اطمينان ہو کہ اس کا عذربرطرف ہو جائے گا، تو اپنی قضا نماز وں کوتيمم کے ساته نہيں پڑھ سکتا ور نہ پڑھ سکتاہے ، ليکن اگر بعدميں اس کا عذربرطرف ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان نمازوں کودوبارہ غسل یا وضو کے ساته اداکرے۔

مسئلہ ٧٢ ۴ جو شخص وضو یا غسل نہ کرسکتا ہو، اگر آخروقت تک عذرکے برطرف ہو نے سے مایوس ہو تو جن نوافل کا وقت معين ہے انہيں تيمم کے ساته پڑھ سکتاہے اور اگر مایوس نہ ہو احتياطِ واجب یہ ہے کہ ان نوافل کوان کے آخری وقت ميں بجالائے۔

مسئلہ ٧٢ ۵ جس شخص کا وظيفہ احتياطِ واجب کی بنا پر غسلِ جبيرہ اور تيمم ہو اگر وہ غسل اور تيمم کے بعدنماز پڑھے اور نماز کے بعداس سے حدثِ اصغر صادر ہو مثلااگر وہ پيشاب کرے تو بعدکی نماز وں کے لئے احتياطاً تيمم کرے اور وضو بھی کرے اور اگر حدث نماز سے پهلے صادر ہو تو اس نماز کے لئے بھی وضو کرکے تيمم کرے۔

مسئلہ ٧٢ ۶ اگر کوئی شخص پانی نہ ملنے یا کسی اور عذرکی وجہ سے تيمم کرے تو عذرکے برطرف ہو نے کے بعداس کا تيمم باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ ٧٢٧ جوچيزیں وضو کوباطل کرتی ہيں وہ وضو کے بدلے کئے ہو ئے تيمم کوبهی باطل کرتی ہيں اور جوچيزیں غسل کوباطل کرتی ہيں وہ غسل کے بدلے کئے گئے تيمم کوبهی باطل کرتی ہيں ۔

مسئلہ ٧٢٨ جوشخص غسل نہ کرسکتاہو اور اس پر چندغسل واجب ہو ں، اگر ان ميں سے ایک غسل جنابت ہو تو غسل جنابت کے بدلے ایک تيمم باقی سب کے لئے کافی ہے اور اگر غسل جنابت کے علاوہ ہوں تو ضروری ہے کہ هرایک کے بدلے ایک تيمم کرے۔

مسئلہ ٧٢٩ جوشخص غسل نہ کرسکتاہو اگر وہ کوئی ایساکا م انجام دیناچاہے جس کے لئے غسل واجب ہو تو ضروری ہے کہ غسل کے بدلے تيمم کرے اور جو شخص وضو نہ کرسکتا ہو اگر وہ کوئی ایساکا م کرنا چاہے جس کے لئے وضو واجب ہے تو ضروری ہے کہ وضو کے بدلے تيمم کرے۔

مسئلہ ٧٣٠ اگر کوئی شخص غسل جنابت کے بدلے تيمم کرے تو نماز کے لئے وضو کرناضروری نہيں ہے ، ليکن اگر دوسرے غسلوں کے بدلے تيمم کرے تو ضروری ہے کہ وضو کرے اور اگر وضو نہ کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ وضو کے بدلے ایک اور تيمم کرے۔


مسئلہ ٧٣١ اگر کوئی شخص غسل جنابت کے بدلے تيمم کرے ليکن بعدميں کسی ایسی صورت سے دوچارہو جو وضو کو باطل کردیتی ہو اور بعدکی نمازوں کے لئے غسل بھی نہ کرسکتاہو تو ضروری ہے کہ غسل کے بدلے تيمم کرے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ وضو بھی کرے۔ جنابت کے علاوہ حيض، نفاس اور مسِ ميت جيسے حدثِ اکبرکے بدلے تيمم کا بھی یهی حکم ہے ، مگریہ ضروری ہے کہ وضو بھی کرے۔

مسئلہ ٧٣٢ جس شخص پر کوئی کا م انجام دینے، مثلا نماز پڑھنے کے لئے، وضو اور غسل کے بدلے تيمم کرنا ضروری ہو، اس کے لئے ضروری نہيں ہے کہ ایک تيسرا تيمم اس نيت سے بھی انجام دے کہ اس کام کو انجام دے سکوں۔ ہاں، اگر وہ پهلے تيمم ميں وضو یا غسل کے بدلے تيمم کی نيت کرے اور دوسرے تيمم کومافی الذمّہ کی نيت سے انجام دے تو یہ احتياط کے مطابق ہے ۔

مسئلہ ٧٣٣ جس شخص کا فریضہ تيمم ہو اگر وہ کسی کا م کے لئے تيمم کرے تو جب تک اس کا تيمم اور عذرباقی ہے وہ ان کا موں کوانجام دے سکتاہے جنہيں وضو یا غسل کرکے انجام دیناضروری ہے ، ليکن اگر اس کا عذروقت کی تنگی ہو یا پانی ہو تے ہو ئے نمازِ ميّت یا سونے کے لئے تيمم کيا ہو تو اس تيمم سے فقط ان کا موں کوانجام دے سکتاہے جن کے لئے اس نے تيمم کيا ہے ۔

مسئلہ ٧٣ ۴ چندصورتو ں ميں بہترہے کہ انسان نے جونماز یں تيمم کے ساته پڑھی ہو ں ان کی قضاکرے:

١) یہ کہ پانی کے استعمال سے ڈرتاہو اور عمداً خود کو جنب کر ليا ہو اور تيمم کرکے نماز پڑھی ہو ۔

٢) یہ جانتے ہو ئے یا اس بات کا گمان ہو تے ہو ئے کہ پانی حاصل نہ کرسکے گا عمدا خود کو جنب کيا ہو اور تيمم کرکے نماز پڑھی ہو ۔

٣) آخروقت تک عمداً پانی کی تلاش ميں نہ جائے اور تيمم کرکے نماز پڑھے اور بعدميں معلوم ہو کہ اگر جستجوکرتاتو اسے پانی مل جاتا۔

۴) عمداً نماز پڑھنے ميں تاخيرکی ہو اور آخروقت ميں تيمم کرکے نماز پڑھی ہو ۔

۵) یہ جانتے ہو ئے یا اس بات کا گمان ہو تے ہو ئے کہ پانی نہيں ملے گا، جو پانی اس کے پاس تھا اسے گرادیا ہو اور تيمم کرکے نماز پڑھی ہو ۔


نماز کے احکام

نماز کے احکام بيا ن کرنے سے پهلے دو نکا ت کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے :

اوّل)اہميتِ نماز : قرآن مجيد ميں تقریباً ایک سو مقامات پر نماز کے بارے ميں گفتگو ہو ئی ہے ، جن ميں سے صرف دو مقامات کی طرف اشارہ کافی ہے :

١) خداوندمتعال نے حضرت ابراہيم عليہ السلام کو مقام نبوت و رسالت اور خلت عطا کرنے کے بعد جب چند کلمات ميں آزمایا اور حضرت ابراہيم عليہ السلام نے ان کلمات کو پورا کر دیا تو مقام امامت عنایت ہو ا اور ان تمام مقامات کے ہوتے ہوئے آپ عليہ السلام کی نظر ميں مقام امامت کی عظمت اتنا زیا دہ اہم تھی کہ( قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ) (عرض کی اور ميری اولاد ميں سے؟) جواب ملا( لاَ یَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِيْنَ ) (ميرے اس عهد پر ظالموں ميں سے کوئی شخص فائز نہيں ہو سکتا) اور نماز کی عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ شخص جس کے لئے خداوند متعال مقام امامت کو پيش کر رہا ہے اور وہ اپنی ذریت کے لئے بھی اسے مانگ رہا ہے ، تمام مقامات طے کرنے کے بعد جوارِ خانہ خدا ميں درخواست کر رہا ہے( رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلوٰةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ) (پروردگارا! مجھے نماز قائم کرنے والا قرار دے، اور ميری ذریت ميں سے بهی)

اور اسی طرح اپنی ذریت کو کعبہ کے ساته بسانے کے بعد کها( رَبَّنَّا اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ )

(اے ہمارے پروردگار! ميں اپنی کچھ ذریت کو ایک بے آب و گياہ وادی ميں تيرے حرمت والے گہر کے کنارے آباد کر رہا ہوں، اے ہمارے پروردگار! تاکہ یہ نماز قائم کریں)

٢) قرآن مجيد ميں ”مومنون“ کے نام سے سورہ ہے جس ميں مومنين کا تعارف کچھ خصوصيا ت کے ذریعے کروایا گيا ہے ۔ سب سے پهلی خصوصيت جس سے ابتدا ہو ئی ہے وہ یہ ہے کہ( اَلَّذِیْنَ هم فِیْ صَلاَ تهم خَاشِعُوْنَ ) (یہ وہ لوگ ہيں جو اپنی نمازوں ميں خاشعين ہيں )، جب کہ آخری خصوصيت جس پر اختتام ہوا ہے یہ ہے( وَالَّذِیْنَ هم عَلیٰ صَلَوَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ ) (اور یہ وہ لوگ ہيں جو اپنی نمازوں کے محافظ ہيں )

پس ایمان کا آغاز و اختتام نماز پر ہے اور اس کا نتيجہ بھی یہ آیت ہے( اُوْلٰئِکَ هم الْوَارِثُوْنَ الَّذِیْن یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هم فِيْهَا خَالِدُوْنَ )


اور سنت سے اسی قدر بيا ن کرنابس ہے کہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے روایت ہو ئی ہے کہ آپ عليہ السلام فرماتے ہيں : ”ميں معرفت خدا کے بعد، کسی دوسری چيز کو نہيں پہچانتا جو نماز پنجگانہ سے افضل ہو۔“ حضرت عليہ السلام کا عدمِ علم در حقيقت عدم کے بارے ميں علم ہے اور یہ روایت کلام خدا کو ہی بيا ن کر رہی ہے کہ خداوندمتعال قرآن مجيد ميں فرماتا ہے ذ( ٰلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْب فِيْهِ هُدًی لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِیْنَ یُو مِْٔنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَیُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ ) کہ غيب پر ایمان کے بعد، قيا مِ نماز کا تذکرہ ہے ۔

نماز کی عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ساری عبادات ميں نماز سے زیا دہ جامع عبادت کوئی نہيں ہے کيونکہ یہ وہ عبادت ہے جو فعلی عبادت اور قولی عبادت پر مشتمل ہے ۔ فعلی عبادت ميں رکوع، سجود، قيا م اور قعود جيسے افعال عبادی شامل ہيں ، جب کہ قولی عبادت ميں قرائت و ذکر شامل ہيں ۔ اس عبادت ميں تسبيح، تکبير، تحميد اور تهليل جيسے تمام معارف الهيہ موجود ہيں جو معرفت حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کے ارکا ن اربعہ ہيں ۔یہ عبادت ملائکہ مقربين کی تمام عبادات پر مشتمل ہے کہ ان ميں سے بعض کی عبادت قيا م ہے اور بعض قعود ميں ہيں ، کچھ رکوع ميں اور کچھ سجود ميں ہيں ۔

روایا ت ميں نماز کے لئے جو عناوین ذکر ہو ئے ہيں وہ بہت زیا دہ ہيں ان ميں سے بعض عناوین یہ ہيں :

رَا سُْٔ الدِّیْنِ، و آخِرُ وَصَایَا الْا نَْٔبِيَاءِ، وَ ا حََٔبُّ الْاَعْمَالِ، وَ خَيْرُ الْا عَْٔمَالِ، وَ قِوَامُ الْاِسِلاَمِ، وَ اسْتِقْبَال الرَّحْمٰنِ، مِنْهَاجُ الْاَنْبِيَاءِ وَ بِه یَبْلُغُ الْعَبْدُ اِلیَ الدَّرَجَةِ الْعُلْيا

دوم)انسان کو اس بات کا خيا ل رکھنا چاہئے کہ نماز جلدبازی اور تيز رفتاری سے نہ پڑھے، بلکہ یاد خدا کے ساته خضوع و خشوع اور وقار سے نماز پڑھے اور متو جہ رہے کہ کس هستی کے ساته ہم کلام ہے اور اپنے آپ کو خداوندعالم کی عظمت و بندگی کے مقابلے ميں حقير و ناچيز سمجھے۔

علاوہ از ایں، نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ تو بہ و استغفار کرے اور نماز کی قبوليت ميں رکاوٹ بننے والے گناہوں مثلاً حسد، تکبّر، غيبت، حرام کھانا، نشہ آور اشياء کا استعمال اور خمس و زکوٰة کا ادانہ کرنا، بلکہ تمام گناہوں کو ترک کردے۔

اسی طرح ضروری ہے کہ نماز کا ثواب گھٹانے والے کاموں کو انجام نہ دے مثلاً اونگھنے کی حالت ميں اور پيشاب روک کر نماز نہ پڑھے، نماز کے وقت آسمان کی جانب نہ دیکھے اور ایسے کا م انجام دے جو نماز کا ثواب بڑھاتے ہيں ، مثلاً عقيق کی انگوٹھی اور پاکيزہ لباس پهنے، کنگهی اور مسواک کرے، نيز خوشبو لگائے۔


واجب نماز يں

چھ نماز یں واجب ہيں :

١) روزانہ کی نماز یں اورنماز جمعہ بھی ان ميں سے ہے ۔

٢) نمازِ آیا ت۔

٣) نمازِ ميّت، اس بنا پر کہ اس پر حقيقت ميں نماز کا اطلاق ہو، اگر چہ یہ نماز بھر صورت واجب ہے ۔

۴) خانہ کعبہ کے واجب طواف کی نماز ۔

۵) باپ کی قضا نماز یں جو بڑے بيٹے پر واجب ہيں ۔

۶) جو نمازیں اجارہ، نذر، قسم، عهد اور عقد کے ضمن ميں شرط سے واجب ہو تی ہيں ۔

روزانہ کی واجب نماز يں

جمعہ کے علاوہ روزانہ کی نمازیں پانچ ہيں : ظہر و عصر ہر ایک چار رکعت، مغرب تين رکعت، عشا چار رکعت اور فجر دو رکعت۔

مسئلہ ٧٣ ۵ سفر اور خوف ميں ضروری ہے کہ انسان چار رکعتی نماز یں ان شرائط کے ساته جو بعد ميں بيا ن ہو ں گی، دو رکعت پڑھے۔

ظهر اور عصر کی نماز کا وقت

مسئلہ ٧٣ ۶ اگر لکڑی یا اس جيسی کسی سيدهی چيز کو، جسے شاخص کہتے ہيں ، ہموار زمين ميں سيدها گاڑا جائے تو صبح سورج طلوع ہوتے وقت اس کا سایہ مغرب کی طرف پڑتا ہے اور جوں جوں سورج اُونچا ہو تا جاتا ہے اس کا سایہ گھٹتا جاتا ہے اور ہمارے شهروں ميں ظہر شرعی کے وقت کمی کے آخری درجے پر پهنچ جاتا ہے ۔ ظہر گزرنے کے بعد اس کا سایہ مشرق کی جانب ہو جاتا ہے اور جوں جوں سورج مغرب کی طرف ڈهلتا ہے سایہ بڑھتا جاتا ہے ۔

لہذا، جب سایہ کمی کے آخری درجے تک پهنچ کر دوبارہ بڑھنے لگے تو پتہ چلتا ہے کہ ظہر شرعی کا وقت ہو چکا ہے ، ليکن بعض شهروں ميں جهاں بعض اوقات ظہر کے وقت سایہ بالکل ختم ہو جاتا ہے ، جب سایہ دوبارہ ظاہر ہو تا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ظہر کا وقت ہو چکا ہے ۔

مسئلہ ٧٣٧ نماز ظہر و عصر کا وقت زوال سے غروبِ آفتاب تک کا درميانی وقت ہے ، ليکن اگر کوئی شخص جان بوجه کر نماز عصر کو ظہر کی نماز سے پهلے پڑھے تو وہ نماز باطل ہے ۔ ہاں، اگر آخری وقت ميں ایک نماز سے زیا دہ پڑھنے کا وقت باقی نہ ہو، تو اس صورت ميں جس شخص نے اس وقت تک نماز ظہر نہ پڑھی ہو، ضروری ہے کہ پهلے نماز عصر پڑھے اور اس کے بعد نماز ظہر کی قضا


کرے۔ البتہ، اگر کوئی شخص اس وقت سے پهلے غلطی سے عصر کی پوری نماز ظہر سے پهلے پڑھ لے تو اس کی نماز صحيح ہے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ اس نماز کو نماز ظہر قرار دے اور دوسری چار رکعت مافی الذمہ کی نيت سے پڑھے۔

مسئلہ ٧٣٨ اگر کوئی شخص ظہر کی نماز پڑھنے سے پهلے غلطی سے عصر کی نماز پڑھنا شروع کردے اور نماز کے دوران اسے معلوم ہو کہ اس سے غلطی ہو ئی ہے تو ضروری ہے کہ نيت کو نماز ظہر کی طرف پهير دے یعنی نيت کرے جو کچھ پڑھ چکا ہو ں اور پڑھ رہا ہو ں اور پڑہوں گا وہ تمام کی تمام نماز ظہر ہے اور نماز مکمل کرنے کے بعد عصر کی نماز پڑھے۔

مسئلہ ٧٣٩ نماز جمعہ امام معصوم عليہ السلام یا آپ عليہ السلام کی جانب سے منصوب آپ عليہ السلام کے نائب کے ہو تے ہو ئے واجب تعينی ہے اور غيبت کے زمانے ميں مکلّف کو اختيار ہے کہ نماز ظہر پڑھے یا شرائط کے ہو تے ہو ئے، نماز جمعہ پڑھے۔ احوط نماز ظہر کا پڑھنا ہے اور افضل نماز جمعہ ہے ۔

مسئلہ ٧ ۴ ٠ نماز جمعہ کا وقت محدود ہے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ یقين، اطمينان یا وقت ہوجانے کی دوسری نشانيوں کے ذریعے، ظہر شرعی ثابت ہونے کے بعد، تاخير نہ کریں۔

مغرب و عشا کی نماز کا وقت

مسئلہ ٧ ۴ ١ احتياطِ واجب یہ ہے کہ نماز مغرب کی ادائيگی ميں سورج کے غروب ہو نے کے بعد اتنی تاخير کریں کہ مشرق سے ظاہر ہو نے والی سرخی انسان کے سر پر سے گزر جائے۔

مسئلہ ٧ ۴ ٢ مغرب اور عشا کی نماز کا وقت صاحبِ اختيار شخص کے لئے آدهی رات تک رہتا ہے ، ليکن جو شخص نيند، بھول جانے، حيض یا اس کے علاوہ کسی اوروجہ سے آدهی رات تک نماز نہ پڑھ سکے تو اس کے لئے صبح صادق تک ہے ۔

نماز عشا کو نماز مغرب کے بعد پڑھنا ضروری ہے ، لہٰذا اگر جان بوجه کر مغرب کی نماز سے پهلے پڑھی جائے تو باطل ہے ، ليکن اگر عشا کی نماز ادا کرنے کی مقدار سے زیا دہ وقت باقی نہ رہا ہو تو اس صورت ميں ضروری ہے کہ عشا کی نماز کو نماز مغرب سے پهلے پڑھا جائے۔

مسئلہ ٧ ۴ ٣ اگر کوئی شخص غلطی سے عشا کی نماز کو مغرب سے پهلے پڑھ لے اور نماز کے بعد متو جہ ہو تو اس کی نماز صحيح ہے اور ضروری ہے کہ نماز مغرب کو اس کے بعد بجالائے۔

مسئلہ ٧ ۴۴ اگر کوئی شخص نماز مغرب پڑھنے سے پهلے عشا کی نماز پڑھنے ميں مشغول ہو جائے اور نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ اس نے غلطی کی ہے اور ابهی وہ چوتھی رکعت کے رکوع تک نہ پهنچا ہو تو ضروری ہے کہ نماز مغرب کی طرف نيت پهيرلے اور نماز کو مکمل کرنے کے بعد عشا کی نماز پڑھے اور اگر چوتھی رکعت کے رکوع ميں جاچکا ہو تو ضروری ہے کہ اسے تو ڑ دے اور نماز مغرب پڑھنے کے بعد نماز عشا بجالائے۔


مسئلہ ٧ ۴۵ نماز عشا کا وقت صاحب اختيار شخص کے لئے آدهی رات تک ہے اور احتياط واجب کی بنا پر رات کا حساب غروب کے وقت سے صبح کی اذان تک ہوگا نہ کہ سورج نکلنے تک۔

مسئلہ ٧ ۴۶ اگر کوئی شخص جان بوجه کر مغرب اور عشا کی نماز آدهی رات تک نہ پڑھے تو احوط یہ ہے کہ اذان صبح سے پهلے تک ادا اور قضاکی نيت کے بغير ان نماز وں کو ادا کرے۔

صبح کی نماز کا وقت

مسئلہ ٧ ۴ ٧ صبح کی اذان کے قریب مشرق کی جانب سے ایک سفيدی اُوپر اُٹھ تی ہے جسے فجرِ اوّل کها جاتا ہے اور جب یہ سفيدی پهيل جائے تو فجرِ دوم اور نماز صبح کا اوّل وقت ہے اور صبح کی نماز کا آخری وقت سورج نکلنے تک ہے ۔

اوقاتِ نماز کے احکام

مسئلہ ٧ ۴ ٨ انسان نماز ميں اس وقت مشغول ہو سکتا ہے جب اسے یقين یا اطمينان ہو کہ وقت داخل ہو گيا ہے یا دو عادل مرد یا ایک قابل اعتماد شخص جس کی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو، خبر دے کہ وقت داخل ہو گيا ہے یا وقت شناس شخص جو قابل اطمينان ہو، وقت داخل ہو نے کا اعلان کرنے کے لئے اذان دے۔

مسئلہ ٧ ۴ ٩ اگر کوئی شخص عمومی عذر مثلاً بادل یا گرد و غبار، یا کسی ذاتی عذر مثلاً نا بينائی یا قيد خانے ميں ہونے کی وجہ سے، نماز کا اوّل وقت داخل ہو نے کے بارے ميں یقين یا شرعی گواہی حاصل نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ نماز پڑھنے ميں اتنی تاخير کرے کہ اسے وقت داخل ہونے کے بارے ميں یقين یا شرعی گواہی حاصل ہو جائے۔

مسئلہ ٧ ۵ ٠ اگر مذکورہ بالا طریقوں سے کسی شخص کے لئے ثابت ہو جائے کہ نماز کا وقت ہو گيا ہے اور وہ نماز ميں مشغول ہو جائے اور نماز کے دوران اسے معلوم ہو کہ ابهی وقت داخل نہيں ہو ا تو اس کی نماز باطل ہے ۔ اسی طرح اگر نماز کے بعد پتہ چلے کہ اس نے ساری نماز وقت سے پهلے پڑھی ہے تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

هاں، اگر نماز کے دوران معلوم ہو کہ وقت داخل ہو گيا یا نماز کے بعد اسے یہ پتہ چلے کہ نماز کے دوران وقت داخل ہو گيا تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٧ ۵ ١ اگر کوئی شخص اس بات کی جانب متو جہ نہ ہو کہ ضروری ہے کہ وقت داخل ہو نے کے ثابت ہو نے کے بعد انسان نماز ميں مشغول ہو اگر نماز کے بعد اسے معلوم ہو کہ اس نے ساری نماز وقت ميں پڑھی ہے تو اس کی نماز صحيح ہے اور اگر اسے یہ پتہ چل جائے کہ اس نے وقت سے پهلے نماز پڑھی ہے یا اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وقت ميں پڑھی ہے یا وقت سے پهلے پڑھی ہے یا نماز کے بعد پتہ چلے کہ نماز کے دوران وقت داخل ہو ا تھا تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ٧ ۵ ٢ اگر کوئی شخص اس یقين یا اطمينان کے ساته نماز پڑھنے لگے کہ وقت داخل ہوگيا ہے اور نماز کے دوران شک کرے کہ وقت داخل ہو ا ہے یا نہيں تو اس کی نماز باطل ہے ۔ ليکن اگر نماز کے دوران اسے یقين یا اطمينان ہو کہ وقت داخل ہو گيا ہے اور شک کرے کہ نماز کی جتنی مقدار پڑھی ہے وہ وقت ميں پڑھی ہے یا نہيں تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٧ ۵ ٣ اگر نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ نماز کے بعض مستحب اعمال ادا کرنے سے نماز کی کچھ مقدار وقت کے بعد پڑھی جائے گی تو ضروری ہے کہ ان مستحبات کو چھوڑ دے، مثلاً اگر قنوت پڑھنے کی وجہ سے نماز کا کچھ حصّہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے ہو تو ضروری ہے کہ قنوت نہ پڑھے۔

مسئلہ ٧ ۵۴ جس شخص کے پاس نماز کی فقط ایک رکعت ادا کرنے کا وقت ہو اس کی نماز ادا کی نيت سے ہو گی، البتہ ضروری ہے کہ نماز ميں اتنی تاخير نہ کرے۔

مسئلہ ٧ ۵۵ جو شخص سفر ميں نہ ہو اگر اس کے پاس غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو ضروری ہے کہ ظہر اور عصر کی دونوں نماز یں پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہو تو ضروری ہے کہ عصر کی نماز پڑھے اور بعد ميں ظہر کی نماز قضا کرے۔ اسی طرح جس کے پاس کوئی عذر نہ ہو اگر آدهی رات تک اس کے پاس پانچ رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو ضروری ہے کہ مغرب اور عشا کی نماز پڑھے اور اگر وقت اس سے کم ہو تو ضروری ہے کہ صرف عشا کی نماز پڑھے اور بعد ميں مغرب پڑھے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ مغرب مافی الذمہ کی نيت سے ادا و قضا کی نيت کئے بغير پڑھے۔

مسئلہ ٧ ۵۶ جو شخص سفر ميں ہو اگر غروب آفتاب تک اس کے پاس تين رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو ضروری ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہو تو ضروری ہے کہ صرف عصر پڑھے اور بعد ميں نماز ظہر کی قضا کرے۔ اسی طرح جس مسافر کے پاس کوئی عذر نہ ہو اگر آدهی رات تک اس کے پاس چار رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو ضروری ہے کہ مغرب اور عشا کی نماز پڑھے۔ اگر اس اندازے کے مطابق بھی وقت نہ ہو ليکن نماز عشا پڑھنے کے ساته مغرب کی ایک رکعت کو آدهی رات ہونے سے پهلے درک کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ پهلے عشا کی نماز پڑھے اور اس کے بعد فوراً نماز مغرب بجالائے اور اگر اس سے بھی کم وقت ہو تو ضروری ہے کہ پهلے عشا اور پھر مغرب کی نماز پڑھے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ اسے ادا اور قضاء کی نيت کے بغير مافی الذمہ کی نيت سے پڑھے اور اگر عشا کی نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہو جائے کہ آدهی رات ہو نے ميں ایک رکعت یا اس سے زیا دہ رکعات پڑھنے کا وقت باقی ہے تو اس کی نماز مغرب ادا ہے اور ضروری ہے کہ فوراً نماز مغرب ادا کرے۔


مسئلہ ٧ ۵ ٧ مستحب ہے کہ انسان نماز کو اس کے اوّل وقت ميں پڑھے اور اس سے متعلق بہت زیا دہ تاکيد کی گئی ہے اور جتنا اوّل وقت کے قریب ہو بہتر ہے مگر یہ کہ تاخير کسی وجہ سے بہتر ہو مثلاً اس لئے انتظار کرے کہ نماز جماعت کے ساته پڑھے۔

مسئلہ ٧ ۵ ٨ جب انسان کے پاس کوئی ایسا عذر ہو کہ اگر اوّل وقت ميں نماز پڑھنا چاہے تو تيمم کر کے نماز پڑھنے پر مجبور ہو، اگر اسے علم ہو کہ اس کا عذر آخر وقت تک باقی رہے گا تو اول وقت ميں نماز پڑھ سکتا ہے ، ليکن اگر احتمال دے کہ اس کا عذر دور ہو جائے گا تو ضروری ہے کہ عذر کے برطرف ہو نے تک انتظار کرے اور اگر اس کا عذر برطرف نہ ہو تو آخر وقت ميں نماز پڑھے۔

هاں، یہ ضروری نہيں کہ اس قدر انتظار کرے کہ صرف نماز کے واجب افعال انجام دے سکے بلکہ اگر اس کے پاس مستحباتِ نماز مثلاً اذان و اقامت اور قنوت کے لئے بھی وقت ہو تو وہ تيمم کر کے ان مستحبات کے ساته نماز ادا کرسکتا ہے ۔

تيمم کے علاوہ دوسری مجبوریوں کی صورت ميں اگر وہ عذر تقيّہ ہو تو اوّل وقت ميں نماز پڑھنا جائز ہے اور اسے دوبارہ پڑھنا بھی ضروری نہيں ہے ، خواہ وقت کے دوران اس کا عذر برطرف ہی کيوں نہ ہو جائے۔ جب کہ تقيّہ کے علاوہ اگر احتمال دے کہ اس کا عذر باقی رہے گا تو جائز ہے کہ اوّل وقت ميں نماز پڑھے، ليکن اگر وقت کے دوران اس کا عذر برطرف ہو جائے تو ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ ٧ ۵ ٩ جو شخص نماز اور اس کی شکيات و سهویات کے مسائل کا علم نہ رکھتا ہو اور اس بات کا احتمال ہو کہ نماز کے دوران ان ميں سے کوئی مسئلہ پيش آئے گا اور کسی لازمی ذمہ داری یا ضروری احتياط کی خلاف ورزی ہوجائے گی،احتياط کی بنا پر انہيں سيکهنے کے لئے نماز تاخير سے پڑھے، ليکن اگر اسے اطمينان ہو کہ صحيح طریقے سے نماز پڑھ لے گا تو اوّل وقت ميں نماز پڑھ سکتا ہے ۔ پس اگر نماز ميں کوئی ایسا مسئلہ پيش نہ آئے جس کا حکم نہ جانتا ہو تو اس کی نماز صحيح ہے اور اگر کوئی ایسا مسئلہ پيش آجائے جس کا حکم نہ جانتا ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ جن دوباتو ں کا احتمال ہو ان ميں سے کسی ایک پر عمل کرتے ہوئے نماز کو پورا کرے۔ ہاں، نماز کے بعد مسئلہ معلوم کرنا ضروری ہے تاکہ اگر اس کی نماز باطل ثابت ہو تو دوبارہ پڑھے اور اگر صحيح ہو تو دوبارہ پڑھنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ٧ ۶ ٠ اگر نماز کا وقت وسيع ہو اور قرض خواہ بھی اپنے قرض کا مطالبہ کرے تو ممکنہ صورت ميں ضروری ہے کہ پهلے قرضہ ادا کرے اور بعد ميں نماز پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی ایسا دوسرا واجب کا م پيش آجائے جسے فوراً بجالانا ضروری ہو مثلاً دیکھے کہ مسجد نجس ہو گئی ہے تو ضروری ہے کہ پهلے مسجد کو پاک کرے اور بعد ميں نماز پڑھے اور دونوں صورتو ں ميں اگر پهلے نماز پڑھے تو گنهگار ہے ، ليکن اس کی نماز صحيح ہے ۔


وہ نماز يں جنهيں ترتيب سے پڑھنا ضروریہے

مسئلہ ٧ ۶ ١ ضروری ہے کہ انسان نماز عصر، نماز ظہر کے بعد اور نماز عشا کو نماز مغرب کے بعد پڑھے اور اگر جان بوجه کر نماز عصر، نماز ظہر سے پهلے یا نماز عشا کو نماز مغرب سے پهلے پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٧ ۶ ٢ اگر کوئی شخص نماز ظہر کی نيت سے نماز پڑھنا شروع کرے اور نماز کے دوران اسے یا د آئے کہ نماز ظہر پڑھ چکا ہے تو وہ نيت کو نماز عصر ميں تبدیل نہيں کرسکتا بلکہ ضروری ہے کہ نماز تو ڑ کر عصر کی نماز پڑھے۔ مغرب و عشا ميں بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٧ ۶ ٣ اگر نماز عصر کے دوران کوئی شک کرے کہ اس نے نماز ظہر پڑھی ہے یا نہيں ، تو ضروری ہے کہ نيت کو نماز ظہر ميں تبدیل کر دے ليکن اگر وقت اتنا کم ہو کہ نماز ختم ہو نے کے بعد سورج غروب کر جائے گا اور ایک رکعت کے لئے بھی وقت باقی نہ ہو گا تو ضروری ہے کے نماز عصر کی نيت سے نماز کو پورا کرے اور اس بات پر بنا رکھے کہ نماز ظہر ادا کرچکا ہے ۔

مسئلہ ٧ ۶۴ اگر کوئی شخص نماز عصر کے دوران اس یقين یا اطمينان پر کہ اس نے نماز ظہر نہيں پڑھی نيت کو ظہر ميں تبدیل کر دے، اگر کوئی عمل انجام دینے سے پهلے اسے یا د آجائے کہ ظہر کی نماز پڑھ چکا ہے تو ضروری ہے کہ باقی نماز کو عصر کی نيت سے پڑھے اور اس کی نماز صحيح ہے ۔ اسی طرح جو کچھ انجام دے چکا ہو اگر وہ رکن نہ ہو تب بھی یهی حکم ہے ، ليکن اس صورت ميں قرائت اور ذکر وغيرہ جو ظہر کی نيت سے انجام دے چکا ہو ضروری ہے کہ انہيں دوبارہ عصر کی نيت سے بجالائے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ان دونوں صورتو ں ميں نماز کو عصر کی نيت سے پورا کرے اور دوبارہ بھی پڑھے۔ ہاں، جو کچھ انجام دے چکا ہو وہ اگر ایک رکعت، رکوع یا دو سجدے ہو ں تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ٧ ۶۵ اگر کوئی شخص نماز عشا ميں چوتھی رکعت کے رکوع سے پهلے شک کرے کہ اس نے نماز مغرب پڑھی ہے یا نہيں اور وقت اتنا کم ہو کہ نماز ختم کرنے کے بعد عشا کے لئے ایک رکعت نماز پڑھنے کا وقت بھی باقی نہ بچتا ہو تو ضروری ہے کہ عشا کی نيت سے نماز مکمل کرے اور اس بات پر بنا رکھے کہ مغرب کی نماز پڑھ چکا ہے ۔

اور اگر ایک رکعت یا اس سے زیا دہ پڑھنے کا وقت موجود ہو تو ضروری ہے کہ نيت کو نماز مغرب ميں تبدیل کر کے اس کی تين رکعت مکمل کرے اور بعد ميں عشا کی نماز پڑھے۔

مسئلہ ٧ ۶۶ اگر کوئی شخص نماز عشا کی چوتھی رکعت کے رکوع ميں پهنچنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز مغرب پڑھی ہے یا نہيں اور وقت وسيع ہو تو اس کی نماز باطل ہے اور ضروری ہے کہ نماز مغرب و عشا دونوں پڑھے۔ اسی طرح اگر پانچ رکعات پڑھنے کا وقت ہو تو بھی یهی حکم ہے ، ليکن اگر وقت اس سے کمتر ہو تو اس کی نماز عشا صحيح ہے اور ضروری ہے کہ اسے پورا کرے اور بنا اس پر رکھے کہ نماز مغرب پڑھ چکا ہے ۔


مسئلہ ٧ ۶ ٧ اگر کوئی شخص ایسی نماز جسے وہ پڑھ چکا ہو احتياطاً دوبارہ پڑھے اور نماز کے دوران اسے یا د آئے کہ اس نماز سے پهلے والی نماز نہيں پڑھی تو وہ نيت کو اس نماز کی طرف نہيں پهيرسکتا مثلاً جب وہ نماز عصر احتياطاً پڑھ رہا ہو اگر اسے یا د آئے کہ اس نے نماز ظہر نہيں پڑھی تو وہ نيت کو نماز ظہر کی طرف نہيں پهير سکتا۔

مسئلہ ٧ ۶ ٨ نمازِ قضا کی نيت کو نماز ادا اور نماز مستحب کی نيت کو نماز واجب کی طرف پهيرنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٧ ۶ ٩ اگر ادا نماز کا وقت وسيع ہو تو انسان نماز کے دوران نيت کو قضا نماز ميں تبدیل کرسکتا ہے بشرطيکہ نماز قضاء کی طرف نيت تبدیل کرنا ممکن ہو، مثلاً اگر وہ نماز ظہر ميں مشغول ہو تو نيت کو قضائے صبح ميں اسی صورت ميں تبدیل کرسکتا ہے کہ تيسری رکعت کے رکوع ميں داخل نہ ہو ا ہو ۔

مستحب نماز يں

مسئلہ ٧٧٠ مستحب نماز یں بہت سی ہيں اور انہيں نوافل کہتے ہيں ۔ مستحب نماز وں ميں سے روزانہ کے نوافل کی بہت زیا دہ تاکيد کی گئی ہے ۔ اور یہ روز جمعہ کے علاوہ چونتيس رکعات ہيں ۔ جن ميں سے آٹھ رکعت ظهرکی، آٹھ رکعت عصر کی، چار رکعت مغرب کی، دو رکعت عشا کی، گيا رہ رکعت نماز شب کی اور دو رکعت صبح کی ہيں ۔ چونکہ احتياطِ واجب کی بنا پر عشا کی دورکعت نافلہ بيٹھ کر انجام دینا ضروری ہے ، اس لئے وہ ایک رکعت شمار ہو تی ہے ۔

جمعہ کے دن ظہر اور عصر کی سولہ رکعت نوافل پر چار رکعت کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اور قول مشهو ر کے مطابق بہتر یہ ہے کہ ان ميں سے چھ رکعت سورج کے مکمل طور پر نکل آنے پر، چھ

رکعت دن چڑھنے پر، چھ رکعت زوال سے پهلے اور دو رکعت زوال کے وقت پڑھے۔

مسئلہ ٧٧١ نماز شب کی گيا رہ رکعتو ں ميں سے آٹھ رکعتيں نافلہ شب کی نيت سے، دو رکعت نماز شفع کی نيت سے اور ایک رکعت نماز وتر کی نيت سے پڑھی جائے گی۔ نافلہ شب کا مکمل طریقہ دعا کی کتابوں ميں مذکور ہے ۔

مسئلہ ٧٧٢ نوافل بيٹھ کر بھی پڑھی جاسکتی ہيں ، ليکن بہتر یہ ہے کہ بيٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت کو ایک رکعت شمار کيا جائے مثلاً جو شخص ظہر کی نوافل جو آٹھ رکعتيں ہيں بيٹھ کر پڑھنا چاہے تو بہتر ہے کہ سولہ رکعتيں پڑھے اور اگر نماز وتر کو بيٹھ کر پڑھنا چاہے تو ایک ایک رکعت کی دو نماز یں پڑھے۔

مسئلہ ٧٧٣ ظہر اور عصر کی نوافل کو سفر ميں نہيں پڑھا جاسکتا اور اگر عشا کی نفليں رجاء

کی نيت سے پڑھی جائيں تو کوئی حرج نہيں ہے ۔


روزانہ کی نوافل کا وقت

مسئلہ ٧٧ ۴ ظہر کی نوافل نماز ظہر سے پهلے پڑھی جاتی ہيں اور ان کا وقت ظہر کی ابتدا سے ہے اور احتياطِ واجب کی بنا پر اس کی انتها اس وقت تک ہے کہ شاحض کے ظہر کے بعد پيدا ہونے والے سائے کی مقدار، سات ميں سے دو حصّوں کے برابر ہو جائے مثلاً اگر شاحض کی لمبائی سات بالشت ہو تو جب سائے کی مقدار دو بالشت ہوجائے تو احتياط کی بنا پر یہ نافلہ ظہر کا آخری وقت ہے ۔

مسئلہ ٧٧ ۵ عصر کی نوافل نماز عصر سے پهلے پڑھی جاتی ہيں ۔ احتياطِ واجب کی بنا پر اس کا وقت شاحض کے سائے کی اس مقدار تک ہے جو ظہر کے بعد ظاہر ہو اور سات ميں سے چار حصّوں تک پهنچ جائے۔ اگر کوئی شخص ظہر یا عصر کی نفليں اس کے مقررہ وقت کے بعد پڑھنا چاہے تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ ظہر کی نفليں نماز ظہر کے بعد اور عصر کی نفليں نماز عصر کے بعد پڑھے اور ادا و قضاء کی نيت نہ کرے۔

مسئلہ ٧٧ ۶ مغرب کی نفلوں کا وقت نماز مغرب ختم ہو نے کے بعد ہو تا ہے اور مغرب کے آخری وقت تک باقی رہتا ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ سورج کے غروب ہو نے کے بعد مغرب کی جانب دکهائی دینے والی سرخی کے ختم ہو نے سے پهلے پڑھ لے اور اگر سرخی ختم ہو نے کے بعد پڑھے تو ادا و قضاء کی نيت نہ کرے۔

مسئلہ ٧٧٧ عشا کی نفلوں کا وقت نماز عشا ختم ہو نے کے بعد سے آدهی رات تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ نماز عشا ختم ہو نے کے فوراً بعد پڑھی جائيں۔

مسئلہ ٧٧٨ نماز صبح کی نوافل کا وقت احتياطِ واجب کی بنا پر فجر اوّل کے بعد سے لے کر مشرق کی سرخی ظاہر ہونے تک ہے اور جوشخص مشرق کی سرخی ظاہر ہو نے کے بعد پڑھنا چاہے تو نماز صبح کے بعد پڑھے اور ادا و قضاء کی نيت نہ کرے اور نماز شب پڑھنے والا، نافلہ شب کے فوراً بعد نافلہ صبح پڑھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٧٧٩ نماز شب کا وقت مشهو ر قول کی بنا پر آدهی رات سے اذانِ صبح تک ہے ، ليکن بعيد نہيں ہے کہ اس کا وقت رات کی ابتدا سے اذان صبح تک ہو اور آدهی رات سے اذان صبح تک اس کی فضيلت کا وقت ہو اور افضل یہ ہے کہ رات کے آخری تيسرے حصے ميں پڑھی جائے۔

مسئلہ ٧٨٠ مشهو ر قول کی بنا پر نماز شب کا اوّل وقت آدهی رات سے ہے ۔ مسافر اور وہ شخص جس کے لئے آدهی رات کے بعد نماز شب ادا کرنا مشکل ہو وہ اسے اوّل شب ميں پڑھ سکتا ہے ، اگر چہ بعيد نہيں ہے کہ ان دو کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی اوّلِ شب ميں پڑھنا جائز ہو جيسا کہ سابقہ مسئلہ ميں ذکر ہو چکا ہے ۔


نمازِ غفيلہ

مسئلہ ٧٨١ نمازِ غفيلہ مشهو ر مستحب نماز وں ميں سے ہے اور مغرب و عشا کی نماز کے درميا ن پڑھی جاتی ہے ۔

اس کی پهلی رکعت ميں الحمد کے بعد کسی سورہ کی بجائے اس آیت کا پڑھنا ضروری ہے :

( وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَهَبَ مُغَاضِباً فَظَنَّ اَنْ لَّنَ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادیٰ فِی الظُّلُمَاتِ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ ا نَْٔتَ سُبْحَانَکَ انی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ فَاسْتَجَبْنَا لَه وَ نَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذٰلِکَ ننُجْیِ الْمُؤْمِنِيْنَ )

اور دوسری رکعت ميں الحمد کے بعد کسی سورہ کی بجائے اس آیت کو پڑھے:

( وَ عِنْدَه مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ یَعْلَمُهَا اِلاَّ هو وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلاَّ یَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ وَ لاَ رَطْبٍ وَّ لاَ یَابِسٍ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِيْنٍ )

اور اس کے قنوت ميں پڑھے:

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْا لَُٔکَ بِمَفَاتِحِ الْغَيْبِ الَّتِيْ لاَ یَعْلَمُهَا اِلاَّ اَنْتَ ا نَْٔ تُصَلِّيَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ ا نَْٔ تَفْعَل بِیْ کذا و کذا

اور کذا و کذا کی بجائے اپنی حاجات بيا ن کرے اور اس کے بعد کهے:

اَللّٰهُمَّ اَنْتَ وَلِيُّ نِعْمَتِيْ وَالْقَادِرُ عَلیٰ طَلِبَتِيْ تَعْلَمُ حَاجَتِيْ فَا سَْٔا لَُٔکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِم السَّلاَمُ لَمَّا قَضَيْتَهَا لِيْ

قبلے کے احکام

مسئلہ ٧٨٢ قبلہ وہ مقام ہے جهاں خانہ کعبہ بنا ہواہے۔ ضروری ہے کہ اس کے سامنے رخ کرکے نماز پڑھی جائے ليکن جو شخص اس سے دور ہے اگر اس طرح کهڑا ہو کہ لوگ کہيں قبلہ رخ نماز پڑھ رہا ہے تو کافی ہے ۔ یهی حکم قبلہ رخ ہوکر انجام دئے جانے والے دوسرے کاموں، مثلا حيوانات کو ذبح کرنے کا ہے ۔

مسئلہ ٧٨٣ جو شخص کهڑا ہو کر واجب نماز پڑھ رہا ہو ضروری ہے کہ اس کا چہرہ ، سينہ اور پيٹ قبلے کی طرف ہوں اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اس کے پاؤں کی انگليا ں بھی قبلہ کی طرف ہو ں۔

مسئلہ ٧٨ ۴ جس شخص کی ذمہ داری بيٹھ کر نماز پڑھنا ہو، ضروری ہے کہ نماز پڑھتے وقت اس کا چہرہ ، سينہ اور پيٹ قبلہ کی طرف ہو ں۔


مسئلہ ٧٨ ۵ جو شخص بيٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو ضروری ہے کہ نماز کے وقت دائيں پهلو کے بل اس طرح ليٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصّہ قبلے کی طرف ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ بائيں پهلو کے بل یوں ليٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصّہ قبلے کی طرف ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پشت کے بل اس طرح ليٹے کہ اس کے پيروں کے تلوے قبلے کی طرف ہو ں۔

مسئلہ ٧٨ ۶ نماز احتياط، بھولا ہو ا سجدہ و تشهد اور اس سجدہ سهو کی بجا آوری کے لئے جو بھولے ہو ئے تشهد کے لئے انجام دیا جاتا ہے ، ضروری ہے کہ انسان قبلہ رخ ہو۔ اس کے علاوہ باقی سجدہ هائے سهو ميں احتياط مستحب یہ ہے کہ انہيں قبلے کی طرف رخ کر کے ادا کيا جائے۔

مسئلہ ٧٨٧ مستحب نماز کو زمين پر استقرار کی حالت ميں قبلہ رخ ہو کر پڑھنا ضروری ہے ، ليکن چلتے ہو ئے اور سواری کی حالت ميں قبلے کی طرف منہ کرکے پڑھنا ضروری نہيں ہے ، خواہ نذر کی وجہ سے واجب ہو گئی ہو۔

مسئلہ ٧٨٨ جو شخص نماز پڑھنا چاہے ضروری ہے کہ قبلے کی سمت کا تعين کرنے کے لئے کوشش کرے یهاں تک کہ قبلے کی سمت کے بارے ميں اسے یقين یا اطمينان ہو جائے یا دو عادل مرد یا ایک قابل اعتماد شخص جس کی بات کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو، قبلے کے متعلق اطلاع دیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے شهروں ميں قبلے کو ان کی نمازوں اور قبروں سے معلوم کرسکتا ہے ۔ اگر یہ موجود نہ ہو ں تو ضروری ہے کہ اسے معلوم کرنے کی کوشش کرے اور دوسرے طریقوں سے حاصل ہو نے والے گمان کے مطابق عمل کرے، خواہ وہ گمان کسی کا فر یا ایسے فاسق کے کهنے سے حاصل ہو جو علمی قواعد کے ذریعے قبلے کا رخ جانتا ہو ۔

مسئلہ ٧٨٩ جس شخص کو قبلے کے بارے ميں گمان ہو اور اس سے زیادہ مضبوط گمان پيدا کرسکتا ہو تو وہ اپنے گمان پر عمل نہيں کرسکتا، مثلاً اگر مهمان، صاحب خانہ کے کهنے پر قبلے کی سمت کے بارے ميں گمان پيدا کرلے ليکن کسی دوسرے طریقے سے زیا دہ قوی گمان پيدا کرسکتا ہو تو وہ صاحب خانہ کے کهنے پر عمل نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٧٩٠ اگر کسی کے پاس قبلے کا رخ متعين کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو یا کوشش کے باوجود اس کا گمان کسی ایک طرف نہ جائے تو اس کا کسی بھی سمت منہ کر کے نماز پڑھنا کافی ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر نماز کا وقت وسيع ہو تو چار نماز یں چاروں سمت منہ کر کے پڑھے۔

مسئلہ ٧٩١ اگر اس بارے ميں یقين یا وہ چيز جو یقين کے حکم ميں ہو یا گمان حاصل ہو جائے کہ قبلہ دو ميں سے کسی ایک طرف ہے تو ضروری ہے کہ ان دونوں طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔

مسئلہ ٧٩٢ جو شخص کئی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا چاہتا ہو اگر وہ ایسی دو نماز یں پڑھنا چاہے جو ظہر اور عصر کی طرح یکے بعد دیگرے پڑھنی ضروری ہيں تو احتياط مستحب یہ ہے کہ پهلی نماز کو مختلف سمتو ں کی طرف منہ کر کے پڑھے اور بعد ميں دوسری نماز شروع کرے۔


مسئلہ ٧٩٣ جس شخص کو قبلے کے بارے ميں یقين یا کوئی ایسی چيز جو یقين کے حکم ميں ہے ، حاصل نہ ہو سکے اگر وہ نماز کے علاوہ کوئی ایسا کا م کرنا چاہے جو قبلے کی طرف منہ کر کے کرنا ضروری ہے مثلاً وہ کوئی حيوان ذبح کرنا چاہتا ہو، تو اگر اس کے لئے تاخير کرنا ممکن ہو تاکہ قبلہ معلوم کيا جا سکے، تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ تاخير کرے۔ ہاں، اگر تاخير ممکن نہ ہو یا حرج کا باعث ہو تو گمان کے مطابق عمل کرسکتا ہے اور اگر گمان ممکن نہ ہو اور حيوان کا ذبح کرنا ضروری ہو مثلاً تاخير کی صورت ميں حيوان مرجائے گا، تو جس طرف منہ کر کے ذبح کرے صحيح ہے ۔

نماز ميں بدن کا ڈهانپنا

مسئلہ ٧٩ ۴ ضروری ہے کہ مرد نماز کی حالت ميں اپنی دونوں شرمگاہو ں کو ڈهانپے، خواہ اسے کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ناف سے گھٹنوں تک بدن بھی ڈهانپے۔

مسئلہ ٧٩ ۵ ضروری ہے کہ عورت نماز کے وقت اپنا پورا بدن حتی سر اور بال بھی ڈهانپے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ پاؤں کے تلوے بھی ڈهانپے، ليکن وضو ميں دهویا جانے والا چھرے کا حصہ، کلائيوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں کا ظاہری حصّہ ڈهانپنا ضروری نہيں ہے ۔ ہاں، یہ اطمينان حاصل کرنے کے لئے کہ اس نے واجب مقدار ڈهانپ لی ہے ضروری ہے کہ چھرے کی اطراف اور کلائيوں سے نيچے کا کچھ حصہ بھی ڈهانپے۔

مسئلہ ٧٩ ۶ بھولے ہو ئے سجدے، بھولے ہوئے تشهد یا بھولے ہوئے تشهد کی وجہ سے واجب ہونے والے سجدہ سهو کو انجام دیتے وقت ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس طرح ڈهانپے جس طرح نماز کے وقت ڈهانپا جاتا ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ باقی سجدہ هائے سهو بجالاتے وقت بھی اپنے آپ کو ڈهانپے۔

مسئلہ ٧٩٧ اگر کوئی انسان جان بوجه کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے، جب کہ مسئلہ سيکهنے ميں کوتاہی کی ہو، نماز ميں اپنی شرمگاہ نہ چھپا ئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٧٩٨ اگر کسی شخص کو نماز کے دوران پتہ چلے کہ اس کی شرمگاہ برہنہ ہے تو ضروری ہے کہ فوراً اپنی شرمگاہ چھپا ئے اور احتياطِ واجب کی بنا پر نماز مکمل کرکے دوبارہ پڑھے، ليکن اگر نماز کے بعد پتہ چلے کہ نماز کے دوران اس کی شرمگاہ برہنہ تھی تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

یهی حکم اس وقت ہے جب اسے نماز کے دوران معلوم ہو کہ پهلے اس کی شرمگاہ برہنہ تھی ليکن فی الحال چھپی ہو ئی ہے ۔

مسئلہ ٧٩٩ اگر کسی شخص کا لباس کھڑے ہو نے کی حالت ميں اس کی شرمگاہ کو ڈهانپ لے ليکن ممکن ہے کہ دوسری حالت ميں مثلاً رکوع یا سجود کی حالت ميں نہ ڈهانپے تو اگر شرمگاہ کے برہنہ ہو نے کے وقت اسے کسی ذریعے سے ڈهانپ لے تو اس کی نماز صحيح ہے ، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ اس لباس کے ساته نماز نہ پڑھے۔


مسئلہ ٨٠٠ انسان نماز ميں اپنے آپ کو گهاس اور درختو ں کے پتو ں سے ڈهانپ سکتا ہے ، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ ان چيزوں سے اس وقت ڈهانپے جب اس کے پاس کوئی اور چيز نہ ہو ۔

مسئلہ ٨٠١ اگر گارے کے علاوہ شرمگاہ کو چھپا نے کے لئے کوئی دوسری چيز نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اختياری حالت ميں گارے کے ساته خود کو ڈهانپ کر پڑھی جانے والی اور اضطرار کے وقت برہنہ حالت ميں پڑھی جانے والی ،دونوں نمازوں کو انجام دے۔

مسئلہ ٨٠٢ جس شخص کے پاس کوئی ایسی چيز نہ ہو جس سے وہ نماز ميں اپنے آپ کو ڈهانپے، اگر احتمال دے کہ آخر وقت تک کوئی چيز مل جائے گی تو احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز ميں تاخير کرے اور اگر کوئی چيز نہ ملے تو آخر وقت ميں اپنے وظيفے کے مطابق نماز پڑھے۔ ایسا شخص اپنی نماز اول وقت ميں بھی پڑھ سکتا ہے اور اگر آخر وقت تک کوئی چيز نہ ملے تو اس کی نماز صحيح ہے اور اگر مل جائے تو ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ ٨٠٣ جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہو، اگر اپنی شرمگاہ ڈهانپنے کے لئے حتی اس کے پاس گارا اور کيچڑ بھی نہ ہو تو اگر کيفيت یہ ہو کہ کسی ناظرِ محترم کی نگاہ اس کی شرمگاہ پر نہ پڑ رہی ہو تو کهڑا ہو کر نماز پڑھے اور احتياط واجب کی بنا پر ہاتھ کو اپنی شرمگاہ پر رکھے اور ضروری ہے کہ رکوع و سجود اشارے کے ساته بجالائے اور احتياط واجب کی بنا پر سجود کے لئے زیادہ اشارہ کرے۔اور اگر کيفيت یہ ہو کہ کسی ناظرِ محترم کی نگاہ اس پر پڑ رہی ہو تو ضروری ہے کہ بيٹھ

کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود کے لئے اشارہ کرے اور احتياط واجب کی بنا پر سجود کے لئے زیادہ اشارہ کرے۔

نمازی کے لباس کی شرائط

مسئلہ ٨٠ ۴ نمازی کے لباس کی چھ شرائط ہيں :

١) پاک ہو

٢) مباح ہو

٣) مردار کے اجزاء سے نہ بنا ہو

۴) حرام گوشت حيوان کے اجزاء سے نہ بنا ہو

۵،۶ ) اگر نمازی مرد ہو تو اس کا لباس خالص ریشم اور زردوزی (سونے کی کڑھائی )کا بنا ہوا نہ ہو۔


اور ان شرائط کی تفصيل آئندہ مسائل ميں بيان کی جائے گی۔

پهلی شرط

مسئلہ ٨٠ ۵ نمازی کا لباس پاک ہونا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص اختياری حالت ميں نجس بدن یا لباس کے ساته نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٠ ۶ جو شخص اپنی کوتاہی کی وجہ سے یہ نہ جانتا ہو کہ نجس بدن یا لباس کے ساته نماز باطل ہے اور نجس بدن یا لباس کے ساته نماز پڑھے، تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٠٧ جو شخص مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے، نجس چيز کی نجاست کو نہ جانتا ہو، مثلاً یہ نہ جانتا ہو کہ غير کتابی کافر کا پسينہ نجس ہے اور اس کے ساته نماز پڑھے، تو جاہل مقصر ہونے کی صورت ميں اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٠٨ جو شخص نہ جانتا ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور نماز پڑھنے کے بعدنجاست کا علم ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ۔ ہاں، احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر وقت باقی ہو تو نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ٨٠٩ جو شخص بھول جائے کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور نماز کے دوران یا اس کے بعد یاد آئے تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گيا ہو تو اس کی قضا کرے۔

مسئلہ ٨١٠ جو شخص وسيع وقت ميں نماز ميں مشغول ہو، اگر نماز کے دوران اس کا بدن یا لباس نجس ہو جائے اور اس سے پهلے کہ نماز کا کچھ حصّہ نجاست کے ساته پڑھے معلوم ہو جائے کہ نجس ہوا ہے یا سمجھ جائے کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور شک کرے کہ اسی وقت نجس ہوا ہے یا پهلے سے نجس تھا، تو اس صورت ميں کہ بدن یا لباس پاک کرنے یا لباس تبدیل کرنے یا لباس اتارنے سے نماز کی شکل نہ بگڑے تو ضروری ہے کہ نماز کے دوران بدن یا لباس پاک کرے یا لباس تبدیل کرے یا اگر کسی اور چيز نے اس کی شرمگاہ کو ڈهانپ رکھا ہو تو لباس اتار دے، ليکن اگر بدن یا لباس پاک کرنے یا لباس بدلنے یا اتار نے سے نماز کی شکل بگڑ جاتی ہو یا لباس اتارنے سے برہنہ ہوتا ہو تو اس کی نماز باطل ہوگی اور ضروری ہے کہ دوبارہ پاک بدن اور پاک لباس کے ساته نماز پڑھے۔

مسئلہ ٨١١ جو شخص تنگ وقت ميں نماز ميں مشغول ہو، اگر نماز کے دوران اس کا لباس نجس ہو جائے اور اس سے پهلے کہ نماز کا کچھ حصّہ نجاست کے ساته پڑھے اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا لباس نجس ہوا ہے یا سمجھ جائے کہ اس کا لباس نجس ہے اور شک کرے کہ اسی وقت نجس ہوا ہے یا پهلے سے نجس تھا، تو اس صورت ميں کہ اسے پاک کرنا، تبدیل کرنا یا اتارنا ممکن ہو اور نماز بھی نہ ٹوٹتی ہو تو ضروری ہے کہ لباس کو پاک کرے، تبدیل کرے یا اگر کسی اور چيز نے اس کی شرمگاہ کو ڈهانپ رکھا ہو تو


لباس اتار دے اور نماز کو مکمل کرے، ليکن اگر کسی چيز نے اس کی شرمگاہ کو نہ ڈهانپ رکھا ہو اور لباس کو بھی پاک یا تبدیل نہ کرسکتا ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ اسی نجس لباس کے ساته نماز مکمل کرے۔

مسئلہ ٨١٢ جو شخص تنگ وقت ميں نماز ميں مشغول ہو اگر نماز کے دوران اس کا بدن نجس ہو جائے اور اس سے پهلے کہ نماز کا کچھ حصّہ نجاست کے ساته پڑھے اسے معلوم ہوجائے کہ اس کا بدن نجس ہوا ہے یا سمجھ جائے کہ اس کا بدن نجس ہے اور شک کرے کہ اسی وقت نجس ہوا ہے یا پهلے سے نجس تھا، تو اس صورت ميں کہ بدن پاک کرنے سے نماز کی شکل نہ بگڑتی ہو بدن کو پاک کرے اور اگر نماز کی شکل بگڑتی ہو تو ضروری ہے کہ اسی حالت ميں نماز کو مکمل کرے اور اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨١٣ جس شخص کو اپنے بدن یا لباس کے پاک ہونے ميں شک ہو اور سابقہ نجاست کے بارے ميں اسے نہ یقين ہو اور نہ ہی کوئی ایسی چيز جو یقين کے حکم ميں ہے اور نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس کا بدن یا لباس نجس تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨١ ۴ اگر کوئی شخص اپنا لباس دهوئے اور اس کے پاک ہوجانے کے بارے ميں اسے یقين یا وہ چيز حاصل ہو جائے جو یقين کے حکم ميں ہے ، پھر اس لباس کے ساته نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ پاک نہيں ہوا تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨١ ۵ اگر کوئی شخص اپنے بدن یا لباس پر خون دیکھے اور اسے یقين ہو جائے کہ وہ خون نجس نہيں ہے مثلاً اسے یقين ہو کہ مچہر کا خون ہے ، چنانچہ اگر نماز پڑھنے کے بعد اسے پتہ چلے کہ یہ ایسا خون تھا جس کے ساته نماز نہيں پڑھی جاسکتی تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨١ ۶ اگر کسی شخص کو یقين ہو کہ اس کے بدن یا لباس پر جو خون ہے وہ ایسا نجس خون ہے جس کے ساته نماز صحيح ہے مثلاً اسے یقين ہوکہ زخم یا پهوڑے کا خون ہے ليکن نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ یہ ایسا خون ہے جس کے ساته نماز باطل ہے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨١٧ اگر کوئی شخص کسی چيز کے نجس ہونے کو بھول جائے اوراس کا بدن یا لباس رطوبت کے ساته اس چيز سے چھو جائے اور اسی بھول کے عالم ميں وہ نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے یاد آئے تو اس کی نماز صحيح ہے ، ليکن اگر اس کا بدن رطوبت کے ساته اس چيز کو چھو جائے جس کا نجس ہونا وہ بھول گيا ہے اور وہ اپنے آپ کو پاک کئے بغير غسل کرکے نماز پڑھے تو اس کا غسل اور نماز دونوںباطل ہيں ، مگر یہ کہ کيفيت یہ ہو کہ غسل کرنے سے بدن بھی پاک ہو جائے، مثلا معتصم پانی سے غسل کرے یعنی ایسے پانی سے جو نجس چيز کے ساته صرف ملنے سے نجس نہيں ہوتا، مثلاً کُر اور جاری پانی۔


اسی طرح اگر وضو کے اعضا کا کوئی حصّہ رطوبت کے ساته اس چيز سے چھو جائے جس کے نجس ہونے کے بارے ميں وہ بھول گيا ہو اور اس حصے کو پاک کرنے سے پهلے ہی وضو کرکے نماز پڑھ لے تو اس کا وضو اور نماز دونوں باطل ہيں ، مگر یہ کہ وضو کرنے سے وضو کے اعضا بھی پاک ہو جائيں مثلاً معتصم پانی سے وضو کرے۔

مسئلہ ٨١٨ جس شخص کے پاس ایک لباس ہو، اگر اس کا بدن اور لباس نجس ہو جائيں اور اس کے پاس ان ميں سے ایک کو پاک کرنے کا پانی ہو تو احتياط کی بنا پر ضروری ہے کہ بدن کو پاک کرے اور نجس لباس کے ساته نماز پڑھے۔ ہاں، اگربدن کی نجاست لباس کی نجاست سے کمتر ہو یا بدن کی نجاست کو ایک مرتبہ دهونا ضروری ہو اور لباس کی نجاست کو دو مرتبہ دهونا ضروری ہو تو ان دو صورتوں ميں لباس کو پهلے پاک کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٨١٩ جس شخص کے پاس نجس لباس کے علاوہ کوئی دوسرا لباس نہ ہو، ضروری ہے کہ نجس لباس کے ساته نماز پڑھے اور اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨٢٠ جس شخص کے پاس دو لباس ہوں اگر وہ جانتا ہو کہ ان ميں سے ایک نجس ہے ليکن یہ نہ جانتا ہو کہ کون سا نجس ہے اور اس کے پاس وقت ہو تو ضروری ہے کہ دونوں لباس کے ساته نماز پڑھے، مثلاً اگر نماز ظہر و عصر پڑھنا چاہتا ہو تو ضروری ہے کہ هرلباس کے ساته ایک نماز ظہر کی اور ایک نماز عصر کی پڑھے، ليکن اگر وقت تنگ ہو تو ان ميں سے ایک لباس کے ساته نماز پڑھے اور وقت کے بعد دوسرے لباس یا کسی پاک لباس کے ساته نماز پڑھے۔

دوسری شرط

مسئلہ ٨٢١ نمازی کا وہ لباس جس سے شرمگاہ ڈهانپی جاتی ہے ، ضروری ہے کہ مباح ہو۔

جو شخص جانتا ہو کہ غصبی لباس پهننا حرام ہے یا اپنی کوتاہی کی وجہ سے یہ مسئلہ نہ سيکها ہو کہ غصبی لباس پهننا حرام ہے اور جان بوجه کر اس لباس سے اپنی شرمگاہ ڈهانپ کر نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ، ليکن وہ چيزیں جو خود بہ تنهائی شرمگاہ کو نہ ڈهانپ سکيں اور اسی طرح وہ چيزیں جنہيں نمازی نے حالت نماز ميں نہ پهن رکھا ہو، اگر چہ ان سے شرمگاہ کو ڈهانپا جاسکتا ہو مثلاً بڑا رومال، یا لنگوٹی جو جيب ميں رکھی ہو اور اسی طرح وہ چيزیں جنہيں نمازی نے پهنا ہو ليکن ان کے ذریعے شرمگاہ کو نہ ڈهانپا ہو، ان تمام صورتوں ميں ان کے غصبی ہونے سے نماز باطل نہيں ہوتی، اگرچہ نماز کے صحيح ہونے کے اعتبار سے احتياط یہ ہے کہ ان کو ترک کر دیا جائے۔

مسئلہ ٨٢٢ جو شخص یہ تو جانتا ہو کہ غصبی لباس پهننا حرام ہے ليکن یہ نہ جانتا ہو کہ اس لباس کے ساته شرمگاہ ڈهانپنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے ، اگر جان بوجه کر اس کے ذریعے حالت نماز ميں شرمگاہ ڈهانپی ہو تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ٨٢٣ اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ اس کا لباس غصبی ہے اور اس لباس کے ساته نماز پڑھے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔یهی حکم اس وقت ہے جب لباس کے غصبی ہونے کو بھول جائے جب کہ غاصب خود نہ ہو، ليکن اگر غاصب بھول جائے کہ اس نے غصب کيا ہے اور اس غصبی لباس کے ساته اپنی شرمگاہ ڈهانپ کر نماز پڑھ لے تو غصب سے توبہ نہ کرنے کی صورت ميں اس کی نماز باطل ہے اور اگر توبہ کرچکا ہو تو نماز کا باطل ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٨٢ ۴ اگر کسی شخص کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ اس کا لباس غصبی ہے ليکن نماز کے دوران اسے پتہ چل جائے اور اس کی شرمگاہ کسی دوسری چيز سے ڈهکی ہوئی ہو اور وہ فوراً یا نماز کا تسلسل توڑے بغير غصبی لباس اتار سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسے اتار دے اور اگر اس کی شرمگاہ کسی دوسری چيز سے ڈهکی ہوئی نہ ہو یا اس غصبی لباس کو فوراً نہ اُتارسکتا ہو یا لباس اُتارنے سے نماز کا تسلسل ٹوٹتا ہو اور صورت یہ ہو کہ اس کے پاس ایک رکعت پڑھنے کا وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ نماز توڑ دے اور اس لباس کے ساته نماز پڑھے جو غصبی نہ ہو اور اگر اتنا وقت بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز کی حالت ميں ہی لباس اُتار دے اور مسئلہ نمبر ” ٨٠٣ “ ميں برہنہ لوگوں کی نماز کے لئے بتائے گئے طریقے کے مطابق نماز مکمل کرے۔

مسئلہ ٨٢ ۵ اگر کوئی شخص اپنی جان کی حفاظت کے لئے غصبی لباس کے ساته نماز پڑھے، تو چاہے اس کے ذریعے شرمگاہ ڈهکی ہو ئی ہو یا مثال کے طور پر غصبی لباس کے ساته اس لئے نماز پڑھے تا کہ چور نہ لے جائے، تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨٢ ۶ اگر کوئی شخص عين اس رقم سے لباس خریدے جس کا خمس اس نے ادا نہ کيا ہو تو اس لباس کے ساته نماز پڑھنے کا وهی حکم ہے جو غصبی لباس کے ساته نماز پڑھنے کا ہے ۔

تيسری شرط

مسئلہ ٨٢٧ ضروری ہے کہ نمازی کا لباس، خون جهندہ رکھنے والے مردہ حيوان کے اجزا سے نہ بنا ہو، بلکہ اگر ایسے مردہ حيوان مثلاً مچھلی اور سانپ، جن کا خون جهندہ نہيں ہوتا، کے اجزا سے تيار کيا ہوا ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پر اس کے ساته نماز نہ پڑھی جائے۔

مسئلہ ٨٢٨ اگر نجس مردار کی ایسی چيز مثلاً گوشت اور کھال جن ميں روح ہوتی ہے ، نمازی کے ہمراہ ہو اگر چہ اس کا لباس نہ ہو، احتياط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٢٩ اگر حلال گوشت مردار کی کوئی ایسی چيز مثلاً بال اور اون، جن ميں روح نہيں ہوتی، نمازی کے ہمراہ ہو یا ان کے ساته تيار کئے گئے لباس کے ساته نماز پڑھے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔


چوتھی شرط

مسئلہ ٨٣٠ ضروری ہے کہ نمازی کا لباس حرام گوشت جانور کے اجزا سے بنا ہوا نہ ہو اور اگر حرام گوشت جانور کا ایک بال بھی نمازی کے بدن یا لباس پر لگا ہو تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٣١ حرام گوشت جانور مثلاً بلی کے منہ یا ناک کا پانی یا کوئی دوسری رطوبت نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پر لگی ہو اور وہ تر ہو تو نماز باطل ہے ،ليکن اگر خشک ہو اور اس کا عين جزء زائل ہوگيا ہو تو نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨٣٢ اگر کسی کا بال، پسينہ، منہ کا لعاب یا ناک کا پانی نمازی کے بدن یا لباس پر لگا ہو تو کوئی حرج نہيں ۔ اسی طرح موتی، موم اور شهد اس کے ہمراہ ہو تب بھی نماز پڑھنا جائز ہے ۔

مسئلہ ٨٣٣ اگر کسی کو شک ہو کہ لباس حلال گوشت جانور سے تيار کيا گيا ہے یا حرام گوشت جانور سے تو خواہ وہ اسلامی مملکت ميں تيار کيا گيا ہو یا غير اسلامی مملکت ميں ، اس کے ساته نماز پڑھنا جائز ہے ۔

مسئلہ ٨٣ ۴ سيپ اور اس سے بنائی گئی چيزوں مثلاً قميص کے بٹن کے ساته نماز پڑھنا جائز ہے ۔

پهن کر نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں اور ( MINK FUR ) مسئلہ ٨٣ ۵ سمور کا خالص لباس احتياط واجب یہ ہے کہ گلهری کی پوستين کے ساته نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ ٨٣ ۶ اگر کوئی شخص ایسے لباس کے ساته نماز پڑھے جس کے متعلق نہ جانتا ہو یا بھول گيا ہو کہ حرام گوشت جانور سے تيار ہوا ہے تو دوبارہ نماز پڑھنا ضروری نہيں ہے ، اگر چہ احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور جاہل قاصر کا بھی یهی حکم ہے ۔

پانچويں شرط

مسئلہ ٨٣٧ مردوں کے لئے زر دوزی کيا ہوا لباس پهننا حرام ہے اور اس کے ساته نماز پڑھنا باطل ہے ، ليکن عورتوں کے لئے نماز ميں یا نماز کے علاوہ اس کے پهننے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨٣٨ مردوں کے لئے سونا پهننا مثلاً گلے ميں سونے کی زنجير پهننا، سونے کی گهڑی کلائی پر باندهنا، سونے کی عينک لگانا، سونے کی انگوٹھی ہاتھ ميں پهننا اور ان جيسی چيزوں کا استعمال حرام اور ان کے ساته نماز پڑھنا باطل ہے ، ليکن عورت کے لئے نماز ميں اور نماز کے علاوہ بھی ان چيزوں کے استعمال ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨٣٩ اگر کوئی مرد نہ جانتا ہو یا بھول گيا ہو کہ مثلاً اس کی انگوٹھی یا لباس سونے کا ہے یا شک رکھتا ہو اور ان کے ساته نماز پڑھے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔


چھٹی شرط

مسئلہ ٨ ۴ ٠ ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے مرد کا لباس خالص ریشم کا نہ ہو۔ احتياط واجب کی بنا پر ٹوپی اور ازار بند کا بھی یهی حکم ہے اور نماز کے علاوہ بھی خالص ریشم کا لباس پهننا مردوں کے لئے حرام ہے ۔

مسئلہ ٨ ۴ ١ اگر لباس کا تمام استریا اس کا کچھ حصّہ خالص ریشم کا ہو تو مرد کے لئے اس کا پهننا حرام اور اس کے ساته نماز پڑھنا باطل ہے ۔

مسئلہ ٨ ۴ ٢ جس لباس کے بارے ميں یہ علم نہ ہو کہ خالص ریشم کا ہے یا کسی اور چيز کا بنا ہوا ہے تو اس کا پهننا جائز ہے اور اس کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨ ۴ ٣ ریشمی رومال یا اس جيسی کوئی چيز مرد کی جيب ميں ہو تو کوئی حرج نہيں ہے اور وہ نماز کو باطل نہيں کرتی۔

مسئلہ ٨ ۴۴ عورت کے لئے نماز ميں یا اس کے علاوہ ریشمی لباس پهنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨ ۴۵ مجبوری کی حالت ميں غصبی، خالص ریشمی یا زردوزی کا لباس پهننے ميں کوئی حرج نہيں ۔ نيز جو شخص یہ لباس پهننے پر مجبور ہو اور آخر وقت تک پهننے کے لئے اس کے پاس کوئی دوسرا لباس نہ ہو تو وہ ان کے ساته نماز پڑھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٨ ۴۶ اگر کسی شخص کے پاس غصبی لباس اور مردار کے اجزاء سے بنے ہوئے لباس کے علاوہ کوئی دوسرا لباس، آخر وقت تک نہ ہو اور یہ لباس پهننے پر مجبور بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ برہنہ لوگوںکی طرح مسئلہ ” ٨٠٣ “ ميں بتائے گئے طریقے کے مطابق نماز پڑھے۔

مسئلہ ٨ ۴ ٧ اگر کسی شخص کے پاس حرام گوشت جانور کے اجزاء سے تيار کئے گئے لباس کے علاوہ کوئی دوسرا لباس آخری وقت تک نہ ہو، چنانچہ اگر وہ اس لباس کو پهننے پر مجبور ہو تو اس لباس کے ساته نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر اس لباس کو پهننے پر مجبور نہ ہو تو ضروری ہے کہ برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے احکام کے مطابق نماز پڑھے۔

مسئلہ ٨ ۴ ٨ اگر کسی مرد کے پاس خالص ریشم یا زردوزی کئے ہوئے لباس کے علاوہ کوئی دوسرا لباس آخری وقت تک نہ ہو اور وہ اس لباس کو پهننے پر مجبور نہ ہو تو ضروری ہے کہ برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے احکام کے مطابق نماز پڑھے۔

مسئلہ ٨ ۴ ٩ اگر کسی کے پاس ایسی کوئی چيز نہ ہو جس سے وہ اپنی شرمگاہ کو نماز ميں ڈهانپ سکے تو واجب ہے کہ اس کا انتظام کرے، چاہے کرائے پر لے یا خریدے، ليکن اگر اس پر اس کی حيثيت سے زیادہ پيسے خرچ ہوتے ہوں یا اتنا خرچہ اس کے حال کے اعتبار سے نقصان دہ ہو تو اسے لينا ضروری نہيں ہے اور وہ برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے احکام کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے اور یہ بھی کر سکتا ہے کہ نقصان برداشت کرے اور شرمگاہ ڈهانپ کر نماز پڑھے۔


مسئلہ ٨ ۵ ٠ جس شخص کے پاس لباس نہ ہو، اگر کوئی دوسرا شخص اسے لباس بخش دے یا ادهار دے دے تو اگر اس لباس کا قبول کرنا اس کے لئے حرج کا باعث نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے قبول کرے، بلکہ اگر اُدهار لينے یا بخشش کے طور پر طلب کرنے ميں اس کے لئے کوئی حرج نہ ہو تو ضروری ہے کہ اُدهار مانگے یا بخشش کے طور پر طلب کرے۔

مسئلہ ٨ ۵ ١ ایسے لباس کا پهننا جس کا کپڑا، رنگ یا سلائی اسے پهننے والے کے لئے رائج نہ ہو، تو اگر اسے پهننا اس کی توهين، بدنامی یا لوگوں کی جانب سے انگلياں اٹھ انے کا باعث ہو تو اسے پهننا حرام ہے اور اگر ایسے لباس سے نماز ميں شرمگاہ کو چھپا ئے تو بعيد نہيں کہ اس کا حکم، غصبی لباس کا حکم ہوجس کا تذکرہ مسئلہ” ٨٢١ “ ميں کيا گيا ہے ۔

مسئلہ ٨ ۵ ٢ اگر مرد، زنانہ لباس پهنے یا عورت، مردانہ لباس پهنے اور اسے اپنا لباس قرار دے تو احتياط کی بنا پر اس کا پهننا حرام ہے اور نماز ميں اس لباس کے ساته شرمگاہ ڈهانپنا احتياط کی بنا پر بطلان کا باعث ہے ۔

مسئلہ ٨ ۵ ٣ جس شخص کے لئے ليٹ کر نماز پڑھنا ضروری ہو اگر اس کا لحاف حرام گوشت جانور کے اجزا سے بنا ہو تو اس ميں نماز پڑھنا جائز نہيں ہے ۔ اسی طرح اگر اس کا گدّا حرام گوشت جانور کے اجزاء سے بنا ہو جسے خود سے لپيٹ لے یا نجس ہو یا نمازی کے مرد ہونے کی صورت ميں ریشم یا زردوزی کيا ہوا ہو تو احتياط واجب کی بناپر اس ميں نماز نہ پڑھے۔

جن صورتوںميں نمازی کا بدن اور لباس پاک ہونا ضروری نہيں مسئلہ ٨ ۵۴ تين صورتوں ميں ، جن کی تفصيل بعد ميں بيان کی جائے گی، اگر نمازی کا بدن یا لباس نجس بھی ہو تو اس کی نماز صحيح ہے :

١) اس کے بدن کے زخم، جراحت(گهاؤ) یا پهوڑے کی وجہ سے اس کے لباس یا بدن پر خون لگ جائے۔

٢) اس کے بدن یا لباس پر درہم کی مقدار سے کم خون لگا ہو۔ درہم کی وہ مقدار جس سے کم مقدار نماز ميں معاف ہے ، تقریباً شهادت والی انگلی کی اُوپر والی پور کے برابر ہے ۔

٣) نجس بدن یا لباس کے ساته نماز پڑھنے پر مجبور ہو۔

اس کے علاوہ ایک اور صورت ميں اگر نمازی کا لباس نجس بھی ہو تو اس کی نماز صحيح ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ اس کا چھوٹا لباس مثلاً موزہ اور ٹوپی نجس ہو۔

ان چاروں صورتوں کے تفصيلی احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

مسئلہ ٨ ۵۵ اگر نمازی کے بدن یا لباس پر زخم، جراحت(گهاؤ) یا پهوڑے کا خون ہو، چنانچہ اگر بدن اور لباس کا پاک کرنا یا لباس تبدیل کرنا عام طور پر لوگوں کے لئے تکليف کا باعث ہو تو جب تک زخم یا جراحت یا پھوڑا ٹھيک نہ ہو جائے اس خون کے ساته نماز پڑھ سکتا ہے ۔ اسی طرح اگر اس کے بدن یا لباس پر ایسی پيپ ہو جو خون کے ساته نکلی ہو یا ایسی دوائی ہوجو زخم پر لگائی گئی ہو اور نجس ہوگئی ہو، اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ٨ ۵۶ اگر نمازی کے بدن یا لباس پر ایسی جراحت یا زخم کا خون ہو جو جلدی ٹھيک ہو جاتا ہو اور اسے پاک کرنا عام طور پر لوگوں کے لئے آسان ہو اور ایک درہم کی مقدار سے کم بھی نہ ہو اور اس کے ساته نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨ ۵ ٧ اگر بدن یا لباس کی ایسی جگہ جو زخم سے کچھ فاصلے پر ہو زخم کی رطوبت سے نجس ہو جائے تو اس کے ساته نماز پڑھنا جائز نہيں ہے ، ليکن اگر بدن یا لباس کی وہ جگہ جو عموما زخم کی رطوبت سے آلودہ ہو جاتی ہو اس زخم کی رطوبت سے نجس ہو جائے تو اس کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٨ ۵ ٨ اگر کسی شخص کے بدن یا لباس کو اس بواسير سے جس کے مسّے باہر نہ ہوں یا اس زخم سے جو منہ اور ناک وغيرہ کے اندر ہو خون لگ جائے تو ظاہر یہ ہے کہ وہ اس کے ساته نماز پڑھ سکتا ہے ، البتہ اس بواسير کے خون کے ساته نماز پڑھنا بلااشکال جائز ہے جس کے مسّے مقعد کے باہر ہوں۔

مسئلہ ٨ ۵ ٩ جس شخص کے بدن پر زخم ہو اگر وہ اپنے بدن یا لباس پر ایسا خون دیکھے جو ایک درہم یا اس سے زیادہ ہو اور نہ جانتا ہو کہ یہ خون زخم کا ہے یا کوئی اور خون ہے تو اس خون کے ساته نماز پڑھنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨ ۶ ٠ اگر کسی شخص کے بدن پر چند زخم ہوں اور وہ ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک ہوں کہ ایک زخم شمار ہوں تو جب تک وہ زخم ٹھيک نہ ہو جائيں ان کے خون کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ، ليکن اگر وہ ایک دوسرے سے اتنے دور ہوں کہ ان ميں سے ہر زخم عليحدہ زخم شمار ہو تو جو زخم ٹھيک ہو جائے، اگر اس کا خون ایک درہم سے کم نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز کے لئے بدن اور لباس کوپاک کرے۔

مسئلہ ٨ ۶ ١ اگر نمازی کے بدن یا لباس پر سوئی کی نوک کے برابر بھی حيض، کتے، سوّر، کافر غير کتابی، مردار یا حرام گوشت جانور کا خون لگا ہو تو اس کی نماز باطل ہے ۔ احتياط واجب کی بنا پر نفاس اور استحاضہ کے خون کا بھی یهی حکم ہے ، ليکن کوئی دوسرا خون مثلاً ایسے انسان کا خون جو نجس العين نہيں ہے یا حلال گوشت جانور کا خون، اگرچہ بدن یا لباس کے کئی حصّوں پر لگا ہو اور اس کی مجموعی مقدار ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨ ۶ ٢ جو خون بغير استر کے کپڑے پر گرے اور دوسری طرف جاپهنچے وہ ایک خون شمار ہوتا ہے ، ليکن اگر کپڑے کی دوسری طرف الگ خون سے آلودہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان ميں سے ہر ایک کو عليحدہ خون شمار کيا جائے، پس اگر وہ خون جو کپڑے کے سامنے کے رخ اور پچهلی طرف ہے ، مجموعی طور پر ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساته نماز صحيح ہے اور اگر درہم یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساته نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ٨ ۶ ٣ اگر استر والے کپڑے پر خون گرے اور اس کے استر تک پهنچ جائے یا استر پر گرے اور کپڑے تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ ہر خون کو الگ شمار کيا جائے، لہٰذا اگر کپڑے کا خون اور استر کا خون ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساته نماز صحيح ہے اور اگر درہم یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساته نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨ ۶۴ اگر بدن یا لباس پر ایک درہم سے کم خون ہواور کوئی ایسی رطوبت اس سے آلگے جس سے اس کے اطراف آلودہ ہو جائيں تو اس کے ساته نماز باطل ہے ، خواہ خون اور وہ رطوبت ایک درہم کے برابر نہ ہوں، ليکن اگر رطوبت فقط خون سے ملے اور اس کے اطراف کو آلودہ نہ کرے تو اس کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨ ۶۵ اگر بدن یا لباس پر خون نہ ہو ليکن رطوبت کے ساته خون سے لگنے کی وجہ سے نجس ہو جائيں تو خواہ نجس ہونے والی مقدار ایک درہم سے کم ہو، اس کے ساته نماز نہيں پڑھی جاسکتی۔

مسئلہ ٨ ۶۶ اگر بدن یا لباس پر جو خون ہو اس کی مقدار ایک درہم سے کم ہو اور کوئی دوسری نجاست اس سے آلگے مثلاً پيشاب کا ایک قطرہ اس پر جاگرے اور وہ بدن یا لباس سے لگ جائے تو اس کے ساته نماز پڑھنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨ ۶ ٧ اگر نمازی کا چھوٹا لباس مثلاً ٹوپی اور موزہ جس سے شرمگاہ کو نہ ڈهانپا جاسکتا ہو نجس ہو جائے اور نمازی کے لباس ميں دوسرے موانع نہ ہوں مثلاً مردار یا نجس العين یا حرام گوشت جانور کے اجزاء سے نہ ہو تو اس کے ساته نماز صحيح ہے ۔ نيز نجس انگوٹھی کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٨ ۶ ٨ نجس چيز مثلاً رومال، چابی اور نجس چاقو کا نمازی کے پاس ہونا جائز ہے ۔

مسئلہ ٨ ۶ ٩ اگر بدن یا لباس پر لگے ہوئے خون کے بارے ميں یہ تو معلوم ہوکہ درہم سے کم ہے ليکن یہ احتمال بھی ہو کہ یہ ایسا خون ہے جونماز ميں معاف نہيں ہے تو اس خون کے ساته نماز پڑھنا جائز ہے اور اسے نماز کے لئے پاک کرنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨٧٠ اگربدن یا لباس پر لگا ہوا خون درہم سے کم ہو ليکن یہ نہ جانتا ہو کہ یہ خون معاف نہيں ہے اور نماز پڑھ لے اور بعد ميں معلوم ہو کہ یہ خون معاف نہيں تھا تو نماز دهرانا ضروری نہيں هے۔ اسی طرح اگر ایک درہم سے کم سمجھتے ہوئے نمازپڑھ لے اور بعد ميں معلوم ہو کہ درہم کے برابر یا اس سے زیادہ تھا تو اس صورت ميں بھی نماز دهرانا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨٧١ کچھ چيزیں نمازی کے لباس ميں مستحب ہيں ۔ ان ميں سے چند یہ ہيں :

تحت الحنک کے ساته عمامہ، عبا، سفيد اور پاکيزہ ترین لباس پهننا، خوشبو کا استعمال کرنا اور عقيق کی انگوٹھی پهننا۔


نمازی کے لباس ميں مکروہ چيزیں

مسئلہ ٨٧٢ کچھ چيزیں نمازی کے لباس ميں مکروہ ہيں ۔ ان ميں سے چند یہ ہيں :

سياہ لباس، ميلا یاتنگ لباس پهننا، شرابی اور نجاست سے پرہيز نہ کرنے والے کا لباس پهننا اور لباس کے بٹن کا کهلا ہونا۔

اور احتياط واجب یہ ہے کہ ایسے لباس یا انگوٹھی کے ساته نماز نہ پڑھے جس پر جاندار کی صورت کا عکس ہو۔

نماز پڑھنے کی جگہ

جس جگہ نماز پڑھی جائے اس کی سات شرائط ہيں :

پهلی شرط

وہ جگہ مباح ہو ۔

مسئلہ ٨٧٣ جو شخص غصبی جگہ ميں نماز پڑھ رہا ہو تو اعضائے سجدہ کی جگہ غصبی ہو نے کی صورت ميں اس کی نمازباطل ہے ، اگر چہ قالين، کمبل یا ان جيسی کسی چيز پر کهڑا ہو۔ اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر تخت یا اس جيسی کسی چيز پر نماز پڑھنے کا بھی یهی حکم ہے ، ليکن غصبی خيمے اور غصبی چھت کے نيچے نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٨٧ ۴ جس ملکيت سے فائدہ اٹھ انا کسی اور کا حق ہے اس ميں صاحبِ حق کی اجازت کے بغير نماز پڑھنا باطل ہے ، مثلاًکرائے کے گھر ميں کرائے دار کی رضایت کے بغير مالک مکان یا کوئی اور شخص نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

اسی طرح اگر ميت نے اپنے مال کا تيسرا حصہ کسی جگہ خرچ کرنے کی وصيت کی ہو تو جب تک ترکہ سے تيسرا حصہ جدا نہ کر ليا جائے مرحوم کی ملک پر نماز نہيں پڑھی جا سکتی ہے ۔

هاں، جس جگہ پر کسی کا کوئی حق ہو اور اس جگہ نماز پڑھنا صاحب حق کے اختيار ميں رکاوٹ کا باعث ہو مثلًا ایسی زمين پر نماز پڑھنا جس پر کسی نے پتّھر چن دئے ہوں، صاحب حق کی اجازت کے بغير باطل ہے جب کہ اس صورت کے علاوہ ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔ مثلاًرہن رکھوانے والے کی اجازت سے اس زمين پر نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے جو کسی کے پاس رہن رکھوائی گئی ہو اگرچہ جس کے پاس وہ زمين رہن رکھی گئی ہو اس ميں نماز پڑھنے پرراضی نہ ہو۔

مسئلہ ٨٧ ۵ اگر کوئی مسجدميں بيٹھے ہوئے کسی شخص کی جگہ غصب کر کے وہاں نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٧ ۶ جس جگہ کے غصبی ہونے کا علم نہ ہو اور وہاں نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ سجدہ کرنے کی جگہ غصبی تھی تو اس کی نماز باطل ہے ۔


البتہ اگر کسی جگہ کے غصبی ہونے کو بھول کر نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد یاد آئے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔ ہاں، اگر خود نے کسی جگہ کو غصب کيا ہو اور بھول کر وہاں نمازپڑھے تو اگر اس نے غصب سے توبہ نہ کی تھی تواس کی نماز باطل ہے جب کہ اگر توبہ کر چکا تھا تو اس کی نماز کا باطل ہونا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ٨٧٧ ایسی جگہ نماز پڑھنا جهاں اعضائے سجدہ رکھنے کی جگہ غصبی ہو اور جانتا بھی ہو کہ یہ جگہ غصبی ہے ، باطل ہے ۔ اگرچہ اسے نماز کے باطل ہونے کا حکم معلوم نہ ہو۔

مسئلہ ٨٧٨ جو شخص سواری کی حالت ميں واجب نماز پڑھنے پر مجبور ہو تو اگر سواری کا جانور یا اس کی زین غصبی ہو اور اسی جانور یا زین پر سجدہ کرے تو اس کی نماز باطل ہے ۔ یهی حکم اس جانور پر مستحب نمازپڑھنے کا ہے ۔ ہاں، اگر جانور کی نعل غصبی ہو تو نماز کا باطل ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٨٧٩ جو شخص کسی ملکيت ميں دوسرے کے ساته شریک ہو تو جب تک اس کا حصہ جدا نہ ہو جائے اس وقت تک اس ملکيت ميں اپنے شریک کی رضایت کے بغير نہ تصرف کر سکتا ہے نہ نماز پڑھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٨٨٠ جس مال کا خمس نہ نکالا ہو اگر عين اسی مال سے ملکيت خریدے تو اس ملکيت ميں تصرف حرام ہے اور نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٨١ اگر کوئی شخص اپنی ملکيت ميں نماز پڑھنے کی اجازت دے اور انسان جانتا ہو کہ دل سے راضی نہيں ہے تو اس کی ملکيت ميں نماز باطل ہے اوراگر اجازت نہ دے ليکن انسان کو یقين ہو کہ راضی ہے تو نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٨٨٢ جس مرنے والے کے ذمہ خمس یا زکات واجب الادا ہو جبکہ اس کا ترکہ خمس یا زکات کی واجب الادا مقدار سے زیادہ نہ ہو تو اس ميں تصرف کرنا حرام اور اس ميں نماز باطل ہے ، ليکن اگر اس کے واجبات ادا کر دئے جائيں یا حاکم شرع کی اجازت سے ضمانت لے لی جائے تو ورثاء

کی اجازت سے ميت کے ترکے ميں تصرف کرنے اور نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٨٨٣ جو مرنے والا لوگوں کا مقروض ہو اور اس کا ترکہ قرض کی مقدار سے زیادہ نہ ہو تو قرض خواہ کی اجازت کے بغير ميت کے ترکے ميں تصرف کرنا حرام اور اس ميں نماز باطل ہے ، ليکن اگر اس کا قرض ادا کرنے کی ضمانت لے لی جائے اور قرض خواہ بھی راضی ہوجائے تو ورثا کی اجازت سے اس ميں تصرف کرنا جائز ہے اور نماز بھی صحيح ہے ۔


مسئلہ ٨٨ ۴ اگر ميت مقروض نہ ہو ليکن اس کے ورثا ميں سے کوئی نابالغ، دیوانہ یا لاپتہ ہو تو اس کے ترکے ميں اس کے ولی کی اجازت کے بغير تصرف کرنا حرام اورنماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٨ ۵ کسی کی ملکيت ميں نماز پڑھنا اس صورت ميں جائز ہے کہ جب انسان کے پاس شرعی دليل ہو یا اسے یقين ہو کہ مالک اس جگہ نماز پڑھنے پر راضی ہے ۔ یهی حکم اس وقت ہے جب مالک اِس طرح کے تصرف کی اجازت دے کہ جسے عرفی اعتبار سے نمازپڑھنے کی اجازت بھی سمجھا جائے، مثلاًکسی کو اپنی ملکيت ميں بيٹھنے اور ليٹنے کی اجازت دے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ اس نے نمازپڑھنے کی اجازت بھی دے دی ہے ۔

مسئلہ ٨٨ ۶ مسئلہ نمبر ” ٢٧٧ “ميں گزری ہوئی تفصيل کے مطابق وسيع اراضی ميں نماز پڑھنے کے لئے مالک کی اجازت ضروری نہيں ہے ۔

دوسری شرط

مسئلہ ٨٨٧ واجب نماز ميں ضروری ہے کہ نمازی کی جگہ اتنی متحرک نہ ہو کہ نمازی کے بدن کے ساکن رہنے اور اختياری حالت ميں پڑھی جانے والی نماز کے افعال کی ادائيگی ميں رکاوٹ بن جائے۔

هاں، اگر وقت تنگ ہونے یا کسی اور وجہ سے کسی ایسی جگہ مثلاًبس، کشتی یا ٹرین وغيرہ ميں نماز پڑھنے پر مجبور ہو جائے تو ضروری ہے کہ ممکنہ حد تک بدن کے سکون اور قبلے کا خيال رکھے اور اگر یہ سواریاں قبلے کی سمت سے ہٹ جائيں تو خود قبلے کی طرف گهوم جائے۔

مسئلہ ٨٨٨ کهڑی ہوئی بس، کشتی، ٹرین یا ان جيسی چيزوں ميں نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٨٨٩ گندم وجوَ کے ڈهير یا ان جيسی کسی اور چيز پر جو بدن کو ساکن نہ رہنے دے، نماز باطل ہے ۔


تيسری شرط

مسئلہ ٨٩٠ ضروری ہے کہ ایسی جگہ پر نماز پڑھے جهاںنماز مکمل کرنے کا احتمال ہو اور اگر ہوا، بارش، لوگوں کے هجوم یا ان جيسے اسباب کی وجہ سے اطمينان ہو کہ اس جگہ نماز مکمل نہيں کر سکے گا تو اگرچہ اتفاقاً وہاں نماز مکمل کر لے پھر بھی اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٨٩١ اگر ایسی جگہ نماز پڑھے جهاں ٹہرنا حرام ہے مثلاًایسی چھت کے نيچے جو گرنے ہی والی ہے تو اگرچہ وہ گنهگار ہے ليکن اس کی نمازصحيح ہے ۔

مسئلہ ٨٩٢ جس چيز کی توهين حرام ہے اگر اس پر اٹھنا بيٹھنا اس کی توهين کا باعث ہو مثلاًقالين کا وہ حصہ جس پر الله کا نام لکھا ہو، اس پر نمازپڑھنا جائز نہيں ہے اور احتياط کی بنا پر باطل بھی ہے ۔

چوتھی شرط

نماز پڑھنے کی جگہ چھت نيچی ہونے کی وجہ سے اتنی چھوٹی نہ ہو کہ سيدها کهڑا نہ ہو سکے اور اسی طرح مکان کے تنگ ہونے کی وجہ سے جگہ اتنی تنگ نہ ہو کہ رکوع اور سجود انجام نہ دے سکے۔

مسئلہ ٨٩٣ اگر ایسی جگہ نمازپڑھنے پر مجبور ہو جائے جهاں کسی طرح کهڑا نہ ہو سکتا ہو تو ضروری ہے کہ بيٹھ کر نماز پڑھے اوراگر رکوع اور سجود کی ادائيگی ممکن نہ ہو تو ان کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

مسئلہ ٨٩ ۴ پيغمبراکرم(ص) اور ائمہ اطهار عليهم السلام کی قبورمطہر سے آگے بڑھ کر نماز پڑھنااگر بے حرمتی کا سبب ہو تو حرام اور باطل ہے بلکہ بے حرمتی نہ ہونے کی صورت ميں بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔ ہاں، اگر نماز کے وقت کوئی چيزمثلاًدیوار، اس کے اور قبر کے درميان ہو تو کوئی حرج نہيں ، ليکن قبر مطہر پر بنے ہوئے صندوق، ضریح اور اس پر پڑے ہوئے کپڑے کا فاصلہ کافی نہيں ہے ۔

پانچويں شرط

مسئلہ ٨٩ ۵ یہ کہ نمازپڑھنے کی جگہ اگر نجس ہو تو اتنی تر نہ ہو کہ نماز کو باطل کرنے والی نجاست نمازی کے بدن یا لباس تک سرایت کر جائے۔ ہاں، سجدے کے لئے پيشانی رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے اور اگر وہ نجس ہو تو اس کے خشک ہونے کی صورت ميں بھی نماز باطل ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز پڑھنے کی جگہ بالکل نجس نہ ہو۔


چھٹی شرط

ضروری ہے کہ نماز پڑھتے وقت مرداور عورت کے درميان کم ازکم ایک بالشت کا فاصلہ ہو، جب کہ شہر مکہ کے علاوہ کسی بھی مقام پر دس ذراع سے کم کے فاصلے ميں نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ٨٩ ۶ اگر عورت مذکورہ فاصلے سے کم فاصلے پر مردکے برابر یا اس سے آگے نماز پڑھے اور دونوں ایک ساته نماز شروع کریں تو ضروری ہے کہ دونوں دوبارہ نماز پڑہيں ۔ اسی طرح اگر ایک نے دوسرے سے پهلے نماز شروع کی ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٨٩٧ اگر ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوئے مرد اور عورت یا مرد سے آگے کهڑی ہوئی عورت اور مرد کے درميان دیوار، پردہ یا کوئی ایسی چيز ہو کہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکيں تو دونوں کی نمازميں کوئی حرج نہيں اگر چہ ان کے درميان مذکورہ مقدار سے بھی کم فاصلہ ہو۔

ساتويں شرط

ضروری ہے کہ نمازی کی پيشانی رکھنے کی جگہ، اس کے پاؤں کی انگليوں کے سرے اور بنا بر احتياط واجب گھٹنے رکھنے کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگليوں کی مقدار سے زیادہ نيچی یا اونچی نہ ہو اور اس کی تفصيل سجدے کے احکام ميں آئے گی۔

مسئلہ ٨٩٨ نامحرم مرد اور عورت کا ایسی جگہ اکهٹا ؟؟؟هونا جهاں کوئی دوسرا نہ ہو اور نہ ہی آ سکتا ہو جبکہ اس صورت ميں انہيں گناہ ميں مبتلا ہونے کا احتمال ہو، جائز نہيں ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اس جگہ نماز نہ پڑہيں ۔

مسئلہ ٨٩٩ جهاں سِتار یااس جيسی چيزیں بجائی جاتی ہوں وہاں نماز پڑھنے سے نماز باطل نہيں ہوتی ہے ، ليکن ان چيزوں کو سننا حرام ہے ۔ یهی حکم وہاں ٹھ هرنے کا ہے سوائے اس شخص کے لئے جو اس عمل کو روکنے کے لئے وہاں ٹہرا ہو۔

مسئلہ ٩٠٠ اختياری حالت ميں خانہ کعبہ کی چھت پر واجب نماز پڑھنا جائز نہيں ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ خانہ کعبہ کے اندر بھی واجب نماز نہ پڑھے ليکن مجبوری کی حالت ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٩٠١ خانہ کعبہ کے اندر مستحب نماز پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ہے بلکہ خانہ کعبہ کے اندر ہر گوشے کے سامنے دو رکعت نمازپڑھنا مستحب ہے ۔


وہ مقامات جهاں نمازپڑھنا مستحب ہے

مسئلہ ٩٠٢ اسلام کی مقدس شریعت ميں مسجد ميں نماز پڑھنے کی بہت تاکيد کی گئی ہے ۔ تمام مساجد ميں سب سے بہتر مسجدالحرام ہے ۔ اس کے بعد مسجد نبوی صلی الله عليہ وآلہ وسلم اور پھر مسجدکوفہ کا درجہ ہے ۔ ان کے بعد مسجدبيت المقدس، شہر کی جامع مسجد، محلہ کی مسجداو ر بازار کی مسجد کا درجہ بالترتيب ہے ۔

مسئلہ ٩٠٣ خواتين کے لئے اپنے گھر ميں بلکہ کوٹہر ی اور پيچهے والے کمرے ميں نماز پڑھنا بہتر ہے ۔

مسئلہ ٩٠ ۴ ائمہ عليهم السلام کے حرم مطہر ميں نماز پڑھنا مستحب ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق حضرت امير المومنين عليہ السلام اورسيد الشهداعليهم السلام کے حرم ميں نماز مسجدسے افضل ہے ۔

مسئلہ ٩٠ ۵ مسجد ميں زیادہ جانا اور جس مسجد ميں نماز ی نہ ہوتے ہوں وہاں جانا مستحب ہے اور مسجد کے پڑوسی کے لئے بغير کسی عذر کے مسجد کے علاوہ کسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ٩٠ ۶ انسان کے لئے مستحب ہے کہ مسجد ميں نہ جانے والے کے ساته کھانا نہ کھائے، کاموں ميں اس سے مشورہ نہ لے، اس کا ہمسایہ نہ بنے، اس سے لڑکی نہ لے اور نہ ہی اسے لڑکی دے۔

وہ مقامات جهاں نماز پڑھنا مکروہ ہے

مسئلہ ٩٠٧ چند مقامات پر نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ ان ميں سے چند یہ ہيں :

١) حمام ميں

٢) نمک زار ميں

٣) انسان کے سامنے

۴) کهلے ہوئے دروازے کے سامنے

۵) سڑک اور گلی کوچوں ميں جب کہ وہاں سے گزرنے والوں کے لئے تکليف کا باعث نہ ہو اور اگر تکليف کا باعث ہو توحرام ہے ۔

۶) آگ اور چراغ کے سامنے

٧) باورچی خانے ميں اور ہر اس جگہ جهاں آتش دان ہو

٨) کنویں اور پيشاب کے جمع ہونے کی جگہ کے سامنے

٩) جاندار کی تصویر اور مجسمے کے سامنے مگر یہ کہ ان پر پردہ ڈال دیا جائے


١٠ ) جس کمرے ميں کوئی جنب ہو

١١ ) جهاں جاندار کی تصویر ہو اگرچہ نماز ی کے سامنے نہ ہو

١٢ ) قبر کے سامنے

١٣ ) قبر کے اوپر

١ ۴ ) دو قبروں کے درميان

١ ۵ ) قبرستان ميں

مسئلہ ٩٠٨ لوگوں کی گذر گاہ پر یا کسی کے سامنے نمازپڑھنے والے کے لئے مستحب ہے کہ اپنے سامنے کوئی چيز رکھے جو اگر لکڑی یا رسی بھی ہو تو کافی ہے ۔

مسجد کے احکام

مسئلہ ٩٠٩ مسجد کی زمين، چھت کا اندرونی اور اوپری حصہ اور مسجد کی دیوار کا اندر والا حصہ نجس کرنا حرام ہے اور جس شخص کو بھی اس کے نجس ہونے کا علم ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کو فوراً پاک کرے اور احتياط واجب یہ ہے کہ مسجد کی دیوار کا باہر والا حصہ بھی نجس نہ کرے اور اگر نجس ہو جائے تو نجاست کودور کرے۔

مسئلہ ٩١٠ اگر مسجد پاک نہ کرسکتا ہو یا پاک کرنے کے لئے مدد کی ضرورت ہو اور کوئی مددگار نہ ملے تو اس پر مسجد پاک کرنا واجب نہيں ہے ، ليکن جو شخص مسجد کو پاک کر سکتا ہو اور احتمال ہو کہ وہ مسجد کوپاک کر دے گاتو اس کو اطلاع دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٩١١ اگر مسجد کی کوئی ایسی جگہ نجس ہو جائے جسے کهودے یا توڑے بغير پاک کرنا ممکن نہ ہو تو اگر اس کی توڑ پهوڑ مکمل اور وقف کو نقصان پهنچانے والی نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس جگہ کو کهودا یا توڑا جائے۔ اور کهودی ہوئی جگہ کو پرُ کرنا او ر توڑی ہوئی جگہ کو دوبارہ بنانا واجب نہيں ہے ، ليکن اگر مسجد کی اینٹ جيسی کوئی چيز نجس ہو جائے تو ممکنہ صورت ميں ضروری ہے کہ اسے پاک کر کے پرانی جگہ پر لگا دیا جائے۔

مسئلہ ٩١٢ اگر مسجد غصب کر کے اس پر گھر یا گھر جيسی عمارت بنالی جائے تو بنا بر احتياط اسے نجس کرنا حرام ہے اور پاک کرنا واجب نہيں ہے ، ليکن ٹوٹی ہوئی مسجد کو نجس کرنا اگرچہ اس ميں کوئی نمازنہ پڑھتا ہو، جائز نہيں ہے اور پاک کرنا ضروری ہے

مسئلہ ٩١٣ ائمہ عليهم السلام کے روضوں کو نجس کرنا حرام ہے اور نجس ہونے کے بعد اگر نجس چھوڑنے سے بے احترامی ہوتی ہو تو انہيں پاک کر نا واجب ہے ۔ بلکہ اگر بے احترامی نہ ہو تو بھی احتياط مستحب ہے کہ اسے پاک کرے۔


مسئلہ ٩١ ۴ مسجد کی چٹائی نجس کرنا حرام ہے اور نجس کرنے والے کے لئے احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اسے پاک کرے اور باقی افراد کے لےے احتياط مستحب ہے کہ اسے پاک کریں، ليکن اگر چٹائی کا نجس رہنا مسجد کی بے احترامی ہوتو ضروری ہے کہ اسے پاک کيا جائے۔

مسئلہ ٩١ ۵ اگر بے احترامی ہوتی ہوتو مسجدميں کسی عين نجس یا نجس شدہ چيز کو لے جاناحرام ہے ، بلکہ اگر بے احترامی نہ ہو تب بھی احتياط مستحب ہے کہ عين نجس کو مسجد ميں نہ لے جائے۔

مسئلہ ٩١ ۶ مسجد ميں مجالس کے ليے شاميانہ لگانے، فرش بچهانے، سياہ چيزیں آویزاں کرنے اور چائے کا سامان لے جانے ميں جبکہ مسجد کو نقصان نہ پهنچے اور نماز پڑھنے ميں کسی رکاوٹ کا باعث نہ بنے، تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٩١٧ احتياط واجب کی بنا پر مسجد کو سونے اور انسان اور جاندار کے نقش سے مزین کر نا جائز نہيں ہے اور بيل بوٹوں جيسی بے جان چيزوں سے مزین کر نا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ٩١٨ اگر مسجد ٹوٹ جائے تو بھی نہ اسے فروخت کيا جا سکتا ہے اور نہ ہی ملکيت یا سڑک ميں شامل کيا جا سکتا ہے ۔

مسئلہ ٩١٩ مسجد کے دروازے، کهڑکيا ں اور دوسری چيزوں کو فروخت کرنا حرام ہے اور اگر مسجد ٹوٹ جائے تو ضروری ہے کہ ان چيزوں کواس مسجد کی تعمير ميں استعمال کيا جائے اور جو چيزیں اس مسجد کے کام کی نہ ہوںانہيں دوسری مسجد ميں استعمال کيا جائے، ليکن اگر کسی بھی مسجد کے کام نہ آئيں تو جو چيزیں مسجد کا جزء شمار نہ ہوتی ہوں اور مسجد کے لئے وقف کی گئی ہو ں انہيں حاکم شرع کی اجازت سے فروخت کيا جاسکتا ہے اور اگر ممکن ہو تو ان کی قيمت بھی اسی مسجد، ورنہ کسی اور مسجد کی تعمير ميں خرچ کی جائے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تواسے دوسرے نيک کاموں ميں خرچ کيا جائے۔

مسئلہ ٩٢٠ مسجد کی تعمير اورمرمت مستحب ہے اور اگر ٹوٹی ہوئی مسجد کی مرمت ممکن نہ ہو تو اسے توڑکر دوبارہ بنایا جا سکتا ہے ۔ بلکہ ضرورت ہو تونماز کی گنجائش بڑھانے کے لئے اس مسجد کوبهی جو نہ ٹوٹی ہو، توڑ کر دوبارہ بنایا جاسکتا ہے ۔

مسئلہ ٩٢١ مسجدکو صاف کرنا اور اس ميں چراغ روشن کرنا مستحب ہے اور مسجد جانے والے کے لئے مستحب ہے کہ خوشبو لگائے، پاکيزہ اور قيمتی لباس پهنے، اپنے جوتو ںکو دیکھ لے کہ اس کہ نيچے والے حصے ميں نجاست تو نہيں ہے ، مسجد ميں داخل ہوتے وقت پهلے سيدها پاؤں اور باہر نکلتے وقت پهلے الٹا پاؤں اٹھ ائے اور مستحب ہے کہ سب سے پهلے مسجد ميں آئے اور سب سے آخر ميں باہر جائے۔

مسئلہ ٩٢٢ جب انسان مسجد ميں جائے تو مستحب ہے کہ دو رکعت نمازتحيت، مسجد کے احترام ميں پڑھے اور اگر واجب یا کوئی مستحب نماز بھی پڑھ لے تو کافی ہے ۔


مسئلہ ٩٢٣ مسجد ميں بغير کسی مجبوری کے سونا، دنياوی امور کے بارے ميں گفتگو کرنا، کسی دستکاری ميں مشغول رہنا اور ایسے شعر پڑھنا جس ميں نصيحت اور اس جيسی چيز نہ ہو مکروہ ہے ۔

اسی طرح مسجد ميں تهوکنا، ناک کی غلاظت وبلغم پھينکنا، کسی کهوئے ہوئے کو ڈهونڈنا اور اپنی آواز بلند کرنا بھی مکروہ ہے ليکن اذان کے لئے آواز بلند کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ، بلکہ مستحب ہے ۔

مسئلہ ٩٢ ۴ بچوں اور دیوانوں کو مسجد ميں آنے دینا مکروہ ہے اور پياز یا لهسن جيسی چيز کھائے ہوئے شخص کے لئے کہ جس کے منہ کی بو سے لوگوں کو اذیت ہوتی ہو، مسجدميں جانا مکروہ ہے ۔

اذان اور اقامت

مسئلہ ٩٢ ۵ مرد اور عورت کے لئے مستحب ہے کہ واجب یوميہ نمازوں سے پهلے اذان اور اقامت کہيں جب کہ یوميہ نمازوں کے علاوہ دوسری واجب نمازوں اور مستحب نمازوں کے لئے جائز نہيں ہے ، ليکن جب عيد فطر یا عيد قربان کی نماز جماعت سے پڑھی جا رہی ہو تو مستحب ہے کہ تين مرتبہ الصلاة کہہ کر پکارا جائے اور ان دو نمازوں کے علاوہ کسی نماز مثلًانماز آیات ميں اگر جماعت سے پڑھی جائے تو رجاء کها جائے۔

مسئلہ ٩٢ ۶ مستحب ہے کہ نومولود کے دائيں کان ميں اذان اور بائيں کان ميں اقامت کهے اوریہ ولادت کے پهلے روز بہتر ہے ۔

مسئلہ ٩٢٧ اذان کے اٹھ ارہ جملے ہيں :

ا لَٔلّٰهُ ا کَْٔبَرُ چار مرتبہا شَْٔهَدُ ا نَْٔ لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ دومرتبہا شَْٔهَدُ ا نََّٔ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰهُ دو مرتبہحَیَّ عَلَی الصَّلاَةِ دو مرتبہحَیَّ عَلَی الْفلَاَحِ دو مرتبہحَیَّ عَلیٰ خَيْرِ الْعَمَلِ دو مرتبہا لَٔلّٰهُ ا کَْٔبَرُ دومرتبہلَاَ ا لِٰٔهَ ا لِٔاَّ اللّٰه دو مرتبہ اور اقامت کے سترہ جملے ہيں :

یعنی اول سے دو مرتبہا لَٔلّٰهُ ا کَْٔبَرُ اور آخر سے ایک مرتبہلاَ ا لِٰٔهَ ا لِٔاَّ اللّٰه کم ہو جائيں گے اورحَیَّ عَلیٰ خَيْرِ الْعَمَلِ کے بعد ضروری ہے کہ دو مرتبہقَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ کا اضافہ کرے۔

مسئلہ ٩٢٨ا شَْٔهَدُ ا نََّٔ عَلِيًّا وَّلِیُّ اللّٰهِ اذان واقامت کا جز نہيں ہے ليکن چونکہ حضرت علی عليہ السلا م کی ولایت دین کی تکميل کرتی ہے لہٰذا اس کی گواہی ہر مقام پر او را شَْٔهَدُ ا نََّٔ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰه کے جملے کے بعد خدا سے تقرب کا بہترین ذریعہ ہے ۔


اذان اور اقامت کا ترجمہ

ا لَٔلّٰهُ ا کَْٔبَرُ الله توصيف کئے جانے سے بالا تر ہےا شَْٔهَدُ ا نَْٔ لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہيں ہےا شَْٔهَدُ ا نََّٔ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰهُ گواہی دیتا ہوں کہ محمدبن عبد الله(ص) الله کے رسول ہيںحَیَّ عَلَی الصَّلاَةِ نماز کے لئے جلدی کرو حَیَّ عَلَی الْفلَاَحِ کاميابی کی طرف جلدی کروحَیَّ عَلیٰ خَيْرِ الْعَمَلِ بہترین کام کی طرف جلدی کرو قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ یقينانماز قائم ہو گئیلَاَ ا لِٰٔهَ ا لِٔاَّ اللّٰه الله کے سوا کوئی معبود نہيں ہے مسئلہ ٩٢٩ ضروری ہے کہ اذان اور اقامت کے جملوں کے درميان زیادہ فاصلہ نہ دے اور اگر ان کے درميان معمول سے زیادہ فاصلہ کر دے تو ضروری ہے کہ شروع سے کهے۔

مسئلہ ٩٣٠ اگر اذان اور اقامت کہتے وقت آواز کو گلے ميں گهمائے تو اگر یہ غنا اور گلوکاری ہو جائے یعنی لهو ولعب کی محفلوں سے مخصوص گانے کے انداز ميں اذان اور اقامت کهے تو حرام ہے اور اگر غنا اور گلوکاری نہ ہو تو مکروہ ہے ۔

مسئلہ ٩٣١ دو نماز وں ميں اذان جائزنہيں ہے :

١) ميدان عرفات ميں روز عرفہ یعنی نو ذی الحجہ کے دن، نماز عصر ميں ۔

٢) شب بقر عيد کی نماز عشا ميں اس شخص کے لئے جو مشعر الحرام ميں ہو۔

یہ دو اذانيں اس صورت ميں جائز نہيں ہيں جب ان ميں سے پهلے پڑھی ہوئی نمازميں فاصلہ بالکل نہ ہو یا اتنا کم فاصلہ ہو کہ عرفاً یہ کها جائے کہ دو نمازیں ساته ميں پڑھی ہيں ۔

مسئلہ ٩٣٢ اگر نمازجماعت کے لئے اذان اور اقامت کهی گئی ہو تو اس جماعت کے ساته نماز پڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت نہ کهے۔

مسئلہ ٩٣٣ اگر نماز جماعت پڑھنے مسجد ميں جائے اور دیکھے کہ نماز ختم ہو چکی ہے ليکن صفيں ابهی تک نہ بگڑی ہوں اور لوگ بھی متفرق نہ ہوئے ہوں توآنے والے مسئلے ميں بيان شدہ شرائط کے ساته اپنے لئے اذان اور اقامت نہيں کہہ سکتا۔

مسئلہ ٩٣ ۴ جهاں جماعت ہو رہی ہو یا جماعت مکمل ہوئے زیادہ وقت نہ گزرا ہو اور صفيں نہ بگڑی ہوں اگر کوئی وہاں فرادیٰ یا باجماعت نماز پڑھنا چاہے تو چھ شرائط کے ساته اس سے اذان اور اقامت ساقط ہو جائے گی (اور یہ سقوط، عزیمت کے عنوان سے ہے یعنی اذان اور اقامت جائز نہيں ہے :

١) جماعت مسجد ميں ہو پس اگر مسجد ميں نہ ہو تو اذان اور اقامت ساقط نہيں ہوگی۔

٢) اس نماز کے لئے اذان اور اقامت کهی گئی ہوں۔


٣) جماعت باطل نہ ہو۔

۴) جماعت اور اس شخص کی نماز ایک ہی جگہ پر ہو، لہٰذا اگر مثال کے طور پر جماعت مسجد کے اندر ہو اور وہ چھت پر نماز پڑھنا چاہے تو اس سے اذان اور اقامت ساقط نہ ہونگی۔

۵) نماز جماعت اور ا س کی نمازدونوں ادا ہوں۔

۶) نمازجماعت اور اس شخص کی نمازکا وقت مشترک ہو۔ مثلا دونوں نماز یں ظہر ہو ں یا عصر ہوں یا نماز جماعت ظہر ہو اور وہ نماز عصر پڑھے یا اسے نمازظہر پڑھنی ہو اور جماعت عصر ہو۔

مسئلہ ٩٣ ۵ اگر گذشتہ مسئلے کی تيسری شرط ميں شک کرے یعنی شک کرے کہ نمازجماعت صحيح تھی یا نہيں تو اس سے اذان واقامت ساقط ہے ليکن اگر صفوں کے بگڑنے یا دوسری شرائط کے حاصل ہونے ميں شک کرے تو اگر سابقہ حالت معلوم ہو تو اسی حالت کے مطابق عمل کرے مثلاًاگر رات کی تاریکی ميں شک کرے کہ صفيں بگڑی ہيں یا نہيں تو سمجھے کہ صفيں اپنی حالت پر باقی ہيں اور اذان اور اقامت نہ کهے اور اگر شک کرے کہ اس جماعت کے لئے اذان واقامت کهی گئی ہے یا نہيں تو سمجھے کہ نہيں کهی گئی ہے اور اذان واقامت مستحب کی نيت سے کهے اور اگر حالت سابقہ معلوم نہ ہوتو رجاء اذان واقامت کهے۔

مسئلہ ٩٣ ۶ دوسرے کی اذان کی آوازسننے والے کے لئے ہر سنے ہوئے جملے کو دهرانا مستحب ہے او راقامت سننے والا حی علی الصلاةسے قد قامت الصلاة تک کے جملے کو رجاء دهرائے اور باقی جملات کو ذکر کی نيت سے کهنا مستحب ہے ۔

مسئلہ ٩٣٧ جس نے دوسرے کی اذان و اقامت سنی ہو اور نمازپڑھنا چاہے تو اگر دوسرے کی اذان واقامت اور اس کی نماز کے درميان زیادہ فاصلہ نہ ہو تو یہ شخص اذان واقامت کو ترک کر سکتا ہے چاہے اس نے دوسرے کی اذان واقامت کے ساته تکرار کی ہو یا نہ کی ہو۔

مسئلہ ٩٣٨ اگر مردکسی عورت کی اذان سنے تو اس سے اذان ساقط نہيں ہوتی چاہے اس نے لذت کے قصد سے سنی ہو یا قصدِلذت کے بغير سنی ہو۔

مسئلہ ٩٣٩ نماز جماعت کی اذان واقامت کهنے والے کے لئے ضروری ہے مرد ہو، ليکن خواتين کی نماز جماعت ميں کسی عورت کا اذان واقامت کهنا کافی ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴ ٠ ضروری ہے کہ اقامت، اذان کے بعد ہو اور اگر اذان سے پهلے کهے تو صحيح نہيں ہے اور اقامت ميں کھڑے ہو کر کهنا اور( وضو، غسل یا تيمم کے ذریعے) باطهارت ہونا بھی شرط ہے ۔


مسئلہ ٩ ۴ ١ اگر اذان واقامت کے جملات ترتيب بدل کر کهے مثلاًحی علی الفلاح کو حی علی الصلاة سے پهلے کهے تو ضروری ہے کہ جهاں سے ترتيب بگڑی ہے وہيں سے دوبارہ کهے۔

مسئلہ ٩ ۴ ٢ ضروری ہے کہ اذان واقامت کے درميان فاصلہ نہ دے اور اگر اتنا فاصلہ دے کہ کهی ہوئی اذان کو اس اقامت کی اذان نہ کها جا سکے تو دوبارہ اذان واقامت کهنا مستحب ہے اور اگر اذان واقامت کے بعد نمازميں اتنا فاصلہ دے دے کہ یہ دونوں اس نماز کی اذان واقامت نہ کهی جا سکيں تو بھی اس نمازکے لےے اذان واقامت کو دهرانا مستحب ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴ ٣ ضروری ہے کہ اذان واقامت صحيح عربی ميں کهی جائيں، لہٰذا اگر غلط عربی ميں کهے یا ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف ادا کرے یا مثلاًاردو زبان ميں ترجمہ کهے تو صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴۴ ضروری ہے کہ اذان واقامت وقت داخل ہونے کے بعد کهے، لہٰذا اگر عمداًیا بھول کر وقت سے پهلے کهے تو باطل ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴۵ اگر اقامت کهنے سے پهلے شک کرے کہ اذان کهی یا نہيں تو اذان کهے ليکن اگر اقامت شروع کرنے کے بعد اذان کے بارے ميں شک کرے تو اذان کهنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴۶ اگر اذان اور اقامت کے دوران کوئی جملہ کهنے سے پهلے شک کرے کہ اس سے پهلے والا جملہ کها یا نہيں تو جس جملے کے بارے ميں شک ہو اسے کهے ليکن اگر کوئی جملہ کہتے وقت شک کرے کہ اس سے پهلے والا جملہ کها ہے یا نہيں تو اسے کهنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴ ٧ اذان کہتے وقت مستحب ہے :

اذان دینے والا قبلہ رخ ہو بالخصوص اذان ميں شهادت کے جملے ادا کرتے وقت اس کی زیادہ تاکيد ہے ، وضو یا غسل کيا ہوا ہو،دو انگلياں دونوں کانوں ميں رکھے، اونچی آواز سے اذان دے اور اسے کھينچے، اذان کے جملات کے درميان تهوڑا سا فاصلہ دے اور اذا ن کے جملات کے دوران بات نہ کرے۔

مسئلہ ٩ ۴ ٨ انسان کے لئے مستحب ہے کہ اقامت کہتے وقت اس کا بدن ساکن ہو اور اسے اذان کے مقابلے ميں آهستہ آواز ميں کهے اور اس کے جملوں کو ایک دوسرے سے نہ ملائے، ليکن اقامت کے جملوں کے درميان اتنا فاصلہ نہ دے جتنا اذان کے جملوں کے درميا ن دیتا ہے ۔

مسئلہ ٩ ۴ ٩ مستحب ہے کہ اذان اور اقامت کے درميان تهوڑی دیر کے لئے بيٹھ کر یا دو رکعت نماز پڑ ه کر یا بات کرے یا تسبيح پڑھ کر فاصلہ دے۔ليکن نمازصبح کی اذان اور اقامت کے درميا ن بات چيت کرنا مکروہ ہے ۔


مسئلہ ٩ ۵ ٠ مستحب ہے کہ جس شخص کو اطلاعی اذان دینے پر معين کياجائے وہ عادل وو قت شناس ہو،اس کی آواز بلند ہو اوراونچی جگہ پر اذان دے۔

واجباتِ نماز

واجباتِ نماز گيارہ ہيں :

١)نيت

٢)قيا م یعنی کهڑا ہونا

٣)تکبيرةالاحرام یعنی نماز کی ابتدا ميں الله اکبر کهنا

۴) رکوع

۵) سجود

۶) قرائت

٧)ذکر

٨)تشهد

٩)سلام

١٠ )ترتيب

١١ )موالات یعنی اجزائے نماز کا پے در پے بجا لانا

مسئلہ ٩ ۵ ١ واجباتِ نماز ميں سے بعض رکن ہيں یعنی اگر انسان انہيں بجا نہ لائے تو خواہ ایسا کرنا جان بوجه کر ہو یا غلطی سے،نماز باطل ہو جاتی ہے ۔جب کہ باقی واجبا ت رکن نہيں ہيں یعنی اگر وہ غلطی کی بنا پر چھوٹ جایئں تو نماز باطل نہيں ہوتی۔

نماز کے واجباتِ رکنی پانچ ہيں :

١) نيت

٢) تکبيرة الاحرام

٣)قيام متصل بہ رکوع،یعنی رکوع ميں جانے سے پهلے کا قيام

۴) رکوع


۵) ہر رکعت کے دو سجدے اور جهاں تک واجبات نماز کو زیادہ کرنے کا تعلق ہے تو اگر زیادتی عمداہو تو بغيرکسی شرط کے نماز باطل ہے ۔ ہاں، اگر جاہل قاصر جان بوجه کر تکبيرة الاحرام کو زیادہ کرے تو اس کی نماز کا باطل ہونا محلِ اشکال ہے اور اگر زیادتی غلطی سے ہوئی ہو تو چنانچہ زیادتی رکوع کی ہو یا ایک ہی رکعت کے دو سجدوں کی ہو تو نماز باطل ہے ورنہ باطل نہيں ۔

نيت

مسئلہ ٩ ۵ ٢ ضروری ہے کہ انسان نماز کو قربت کی نيت سے جيسا کہ وضو کے مسائل ميں بيان ہو چکا ہے اور اخلاص کے ساته بجا لائے۔ اور نيت کو اپنے دل سے گزارنا یا اپنی زبان پر جاری کرنا،مثلاً یہ کهنا:”چار رکعت نماز ظہر پڑھتا ہوں خداوندمتعال کے حکم کی بجا آوری کے لئے “،ضروری نہيں بلکہ نماز احتياط ميں نيت کو زبان سے ادا کرنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٩ ۵ ٣ اگر کوئی شخص ظہر یا عصر کی نماز ميں نيت کرے کہ چار رکعت نماز پڑھتا ہوں اور معين نہ کرے کہ ظہر ہے یا عصر،نہ اجمالی طور پر اور نہ ہی تفصيلی طور پر تو ا س کی نماز باطل ہے ۔

اجمالی نيت سے مراد یہ ہے کہ مثلاًنمازِ ظہر کے لئے یہ نيت کرے کہ جو نماز پهلے مجھ پر واجب ہوئی ہے اس کو انجام دے رہا ہوں یا مثال کے طور پر اگر کسی شخص پر نماز ظہر کی قضا واجب ہے اور وہ ظہر کے وقت ميں اس قضا نماز یا ظہر کی ادا نمازکوپڑھناچاہے توضروری ہے کہ جو نماز پڑھے اسے اجمالاہی سهی نيت ميں معين کرے مثلاًنمازِ ظہر کی قضا کے لئے یہ نيت کرے کہ جو نماز پهلے ميری ذمہ داری ہے اسے انجام دے رہا ہوں۔

مسئلہ ٩ ۵۴ ضروری ہے کہ انسان شروع سے آخر تک نماز کی نيت پر قائم رہے،پس اگر وہ نماز ميں اس طرح غافل ہو جائے کہ اگر کوئی پوچهے کہ وہ کيا کر رہا ہے اور ا س کی سمجھ ميں نہ آئے کہ وہ کيا جواب دے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٩ ۵۵ ضروری ہے کہ انسان صرف خدا کے لئے نماز پڑھے،لہٰذا جو شخص ریا کرے یعنی لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھے اس کی نماز باطل ہے خواہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے ہو یا خدا اور لوگ دونو ں اس کی نظر ميں ہوں۔

مسئلہ ٩ ۵۶ اگر کوئی شخص نماز کا کچھ حصہ بھی خدا کے علاوہ کسی اور کے لئے بجا لائے تو اس کی نماز باطل ہے ،بلکہ اگر نماز تو خدا کے لئے پڑھے ليکن لوگوں کو دکھانے کے لئے کسی خاص جگہ مثلاًمسجد ميں پڑھے یا کسی خاص وقت مثلاًاول وقت ميں پڑھے یا کسی خاص طریقے سے مثلاًباجماعت پ-ڑھے تب بھی اس کی نماز باطل ہے اور احتياط واجب کی بنا پروہ مستحبات، مثلاًقنوت بھی کہ جن کے لئے نماز ظرف کی حيثيت رکھتی ہے ،اگر خدا کے علاوہ کسی اور کے لئے بجا لائے تو اس کی نماز باطل ہے ۔


تکبيرةالاحرام

مسئلہ ٩ ۵ ٧ ہر نماز کی ابتدا ميں ”اللّٰہ اکبر“ کهنا واجب اور رکن ہے اور ضروری ہے کہ انسان لفظ” اللّٰہ“ اور لفظ”اکبر“ کے حروف اور” اللّٰہ اکبر“ کے دو لفظ پے درپے کهے۔یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دو لفظ صحيح عربی ميں کهے جائيںاور اگر کوئی شخص غلط عربی ميں کهے یا اس کا ترجمہ زبان پر جاری کرے تو باطل ہے ۔

مسئلہ ٩ ۵ ٨ احتياط واجب یہ ہے کہ انسان نماز کی تکبيرة الاحرام کو اس سے پهلے پڑھی جانے والی چيز مثلاًاقامت یا تکبير سے پهلے پ-ڑھی جانے والی دعا سے نہ ملائے۔

مسئلہ ٩ ۵ ٩ احتياط مستحب یہ ہے کہ انسان اللّٰہ اکبر کو اس کے بعد پڑھی جانے والی چيز مثلاًبِسم اللّٰہ الرَّحمنِ الَّرحيم سے نہ ملائے ليکن اگر ملا کر پڑھنا چاہے تو ضروری ہے کہ اکبر کے ’را‘ پر پيش دے(یعنی اکبرُپڑھے)۔

مسئلہ ٩ ۶ ٠ تکبيرةالاحرام کہتے وقت ضروری ہے کہ انسان کا بدن ساکن ہو اور اگر جان بوجه کر اس حالت ميں کہ جب بدن حرکت ميں ہو تکبيرة الاحرام کهے تو باطل ہے ۔

مسئلہ ٩ ۶ ١ ضروری ہے کہ تکبير،الحمد،سورہ،ذکر اور دعا اتنی آواز سے پڑھے کہ خود سن سکے اور اگر ا ونچا سننے، بهرہ ہونے یا شوروغل کی وجہ سے نہ سن سکے تو ضروری ہے کہ اس طرح کهے کہ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو سن ليتا۔

مسئلہ ٩ ۶ ٢ اگر کوئی شخص گونگا ہو، یا زبان ميں کوئی ایسی بيماری ہو کہ جس کی وجہ سے صحيح طریقے سے”اللّٰہ اکبر“ نہ کہہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ جس طرح بھی کہہ سکتا ہو کهے اور اگر بالکل نہ کہہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ دل ميں پڑھے، تکبير کے لئے اپنی زبان کو حرکت دے اور انگلی سے اشارہ بھی کرے۔

مسئلہ ٩ ۶ ٣ انسان کے لئے مستحب ہے کہ تکبيرة الاحرام کهنے سے پهلے یہ کهے :

یَا مُحْسِنُ قَدْ اَتَاکَ الْمُسِیْءُ وَ قَدْ اَمَرْتَ الْمُحْسِنَ اَنْ یَتَجَاوَزَ عَنِ الْمُسِیْءِ اَنْتَ الْمُحْسِنُ وَ اَنَا الْمُسِیْءُ فَبِحَق مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ تَجَاوَزْ عَنْ قَبِيْحِ مَا تَعْلَمُ مِنِّی ۔

ترجمہ :اے اپنے بندوں پر احسان کرنے والے خد ا! بندہ گنهگار تير ی بارگاہ ميں آیا ہے اور تو نے نيک لوگوں کو گنهگاروں سے در گزرکرنے کا حکم دیا ہے ۔تو احسان کرنے والا اور ميں نافرمان ہوں، لہٰذا محمد و آلِ محمد کے حق کا واسطہ، اپنی رحمت محمدوآلِ محمدپرنازل کر اور مجھ سے سر زد ہونے والی برائيوں سے جنہيں تو جانتا ہے در گزر فرما۔

مسئلہ ٩ ۶۴ انسان کے لئے مستحب ہے کہ نماز کی پهلی تکبيراور دوران نماز دوسری تکبيریں کہتے وقت اپنے ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرے۔


مسئلہ ٩ ۶۵ اگر کوئی شک کرے کہ تکبيرة الاحرام کهی ہے یا نہيں تو اگر وہ قرائت کی کوئی چيز پڑھنے ميں مشغول ہو چکاہو تو اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر ابهی کوئی چيز شروع نہيں کی تو تکبيرة الاحرام کهنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٩ ۶۶ اگر تکبيرة الاحرام کهنے کے بعد شک کرے کہ اسے صحيح ادا کيا یا نہيں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے خواہ وہ کوئی چيز پڑھنے ميں مشغول ہو چکا ہو یا نہيں اور احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز مکمل کرنے کے بعد اسے دهرائے۔

قيام(کھڑا ہونا )

مسئلہ ٩ ۶ ٧ تکبيرةالاحرام کہتے وقت قيا م اور رکوع سے پهلے والا قيام جسے”قيام متصل بہ رکوع “کها جاتا ہے رکن ہيں ، ليکن ان دو کے علاوہ مثلاًحمد وسورہ پڑھتے وقت قيام اور رکوع کے بعد کا قيام رکن نہيں ہے ،لہذ ا اگر کوئی شخص بھولے سے اسے تر ک کر دے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٩ ۶ ٨ تکبيرةالاحرام کهنے سے پهلے اور اس کے بعد تهوڑی دیر کے لئے کهڑا ہونا واجب ہے تاکہ یقين ہو جائے کہ تکبيرة الاحرام قيام کی حالت ميں کهی گئی ہے ۔

مسئلہ ٩ ۶ ٩ اگر کوئی شخص رکوع کرنا بھول جائے اور الحمد وسورہ کے بعد بيٹھ جائے اور پھر اسے یاد آئے کہ رکوع نہيں کيا تو ضروری ہے کہ کهڑ اہو جائے اور رکوع ميں جائے اور اگر سيدها کهڑا ہوئے بغير جھکے ہونے کی حالت ميں ہی رکوع کی طرف پلٹ آئے تو چونکہ قيام متصل بہ رکوع بجا نہيں لایا، اس لئے اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ٩٧٠ جب ایک شخص تکبيرةالاحرام یا قرائت کے لئے کهڑ ا ہو تو ضروری ہے کہ بدن کو حرکت نہ دے، کسی طرف نہ جھکے اور احتياط واجب کی بنا پر اختيار کی حالت ميں کسی جگہ ٹيک نہ لگائے، ليکن اگر مجبوری ہو یا رکوع کے لئے جھکتے ہو ئے پاؤں کو حرکت دے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٩٧١ اگر اس قيام کی حالت ميں کہ جو تکبيرة الاحرام یا قرائت کے وقت واجب ہے کوئی شخص بھولے سے بدن کو حرکت دے یا کسی طرف جھک جائے یا کسی جگہ ٹيک لگائے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٩٧٢ احتياط واجب یہ ہے کہ قيام کی حالت ميں انسان کے دونوں پاؤںزمين پر ہوں ليکن یہ ضروری نہيں کہ بدن کا بوجه بھی دونوں پاؤں پر ہو لہذ ا اگر ایک پاؤں پر بھی ہو تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٩٧٣ جو شخص ٹھيک طور پر کهڑا ہو سکتا ہو اگر وہ اپنے پاؤں اتنے کهلے رکھے کہ اسے کهڑا ہونا نہ کها جا سکے تو اس کی نماز باطل ہے ۔ اسی طرح اگر معمول کے خلاف کهڑا ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ٩٧ ۴ جب انسان نماز ميں کوئی واجب ذکر پڑھنے ميں مشغول ہو تو ضروری ہے کہ اس کا بدن ساکن ہو اور جب وہ قدرے آگے یا پيچهے ہونا چاہے تو ضروری ہے کہ اس وقت کچھ نہ پڑ ہے ۔

مسئلہ ٩٧ ۵ اگر بدن کے حرکت کی حالت ميں کوئی شخص مستحب ذکر پڑھے تو ذکر و نماز دونوں صحيح ہيں ، ليکن اگر مستحب ذکر کو اس نيت سے پڑھے کہ یہ ذکر نماز کے لئے وارد ہوئے ہيں تو احتياط کی بنا پر ضروری ہے کہ بدن ساکن ہو، البتہ اگر بدن ساکن نہ ہو تو اس کی نماز بهرحال صحيح ہے ۔ ها ں، ضروری ہے کہ بِحَوْلِ اللّٰہِ وَقُوَّتِہ اَقُوْمُ وَ اَقْعُدُ اس وقت کهے جب کهڑ اہو رہا ہو۔

مسئلہ ٩٧ ۶ قرائت اور واجب اذکار کے وقت ہاتھوں اور انگليوں کو حرکت دینے ميں کوئی حرج نہيں اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ ان کو بھی حرکت نہ دے۔

مسئلہ ٩٧٧ اگر کوئی شخص الحمد وسورہ یا تسبيحات اربعہ پڑھتے وقت بے اختيار اتنی حرکت کرے کہ بدن ساکن ہونے کی حالت سے نکل جائے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ بدن کے دوبارہ ساکن ہونے کے بعد حرکت کی حالت ميں پڑھا جانے والا ذکر دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ٩٧٨ نماز کے د وران جس شخص کے لئے کهڑا رہنا ممکن نہ رہے اگر اس کی مجبوری نماز کا وقت ختم ہونے تک باقی نہ رہے تو ضروری ہے کہ قدرت کی حالت ميں کھڑے ہوکر نماز پڑھے،ليکن اگر نماز کا وقت ختم ہونے تک اس کے لئے کهڑاہونا ممکن نہ ہو سکے تو ضروری ہے کہ باقی نماز کو بيٹھ کر پڑھے۔ اسی طرح اگر بيٹھنا بھی ممکن نہ رہے تو ليٹ کر پڑھے ليکن جب تک اس کا بدن ساکن نہ ہو جائے ضروری ہے کہ قرائت اور واجب اذکار نہ پڑھے۔نيزاس مسئلے ميں اور آئندہ آنے والے مسائل ميں مستحب اذکار کا حکم(وهی ہے جو)مسئلہ نمبر” ٩٧ ۵ “ ميں بيان ہو چکاہے۔

مسئلہ ٩٧٩ جب تک انسان کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکتا ہو ضروری ہے کہ نہ بيٹھے، مثلاًاگر کھڑے ہونے کی حالت ميں کسی کا بدن هلتا ہو یا اسے کسی چيز پر ٹيک لگانا پڑے یا اپنے بدن کو ٹيڑھا کرنے یا جھکانے یا پاؤں زیادہ کھولنے پر مجبور ہو جب کہ ان(آخری) تين صورتوں ميں اسے کهڑا ہونا کها جاسکے تو ضروری ہے کہ جيسے بھی ہو سکے کھڑے ہو کر نماز پڑھے، ليکن اگر وہ کسی طرح بھی کهڑا نہ ہو سکتا ہو تو ضروری ہے کہ سيدها بيٹھ جائے اور بيٹھ کر نماز پڑھے۔

مسئلہ ٩٨٠ جب تک انسان بيٹھ سکتا ہو ضروری ہے کہ ليٹ کر نماز نہ پڑ ہے اور اگر وہ سيدها نہ بيٹھ سکے تو ضروری ہے کہ جيسے بھی ممکن ہو بيٹھے اور اگر بالکل نہ بيٹھ سکے تو ضروری ہے کہ قبلے کے احکام ميں بيان شدہ طریقے کے مطابق دائيں پهلو ليٹے اوراگر دائيںپهلو نہ ليٹ سکتا ہو تو بائيں پهلو ليٹے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پشت کے بل اس طرح ليٹے کے اس کے تلوے قبلے کی طرف ہوں۔


مسئلہ ٩٨١ جو شخص بيٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر وہ الحمد و سورہ یا تسبيحات اربعہ پڑھنے کے بعد کهڑا ہونے کے قابل ہو جائے اور رکوع کهڑا ہو کر بجا لاسکے تو ضروری ہے کہ کهڑا ہو جائے اور قيام کی حالت سے رکوع ميں جائے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ رکوع بھی بيٹھ کر بجا لائے۔

مسئلہ ٩٨٢ جو شخص ليٹ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر وہ اس قابل ہو جائے کہ بيٹھ سکے تو ضروری ہے کہ نماز کی جتنی مقدار ممکن ہو بيٹھ کر پڑھے اور اگر کهڑا ہو سکے تو ضروری ہے کہ جتنی مقدار ممکن ہو کهڑا ہو کر پڑھے ليکن جب تک اس کا بدن ساکن نہ ہو جائے ضروری ہے کہ قرائت اور واجب ذکر نہ پڑھے۔

مسئلہ ٩٨٣ جو شخص بيٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر نماز کے دوران اس قابل ہو جائے کہ کهڑا ہو سکے تو ضروری ہے کہ نماز کی جتنی مقدار ممکن ہو کهڑا ہو کر پڑھے ليکن جب تک اس کا بدن ساکن نہ ہو جائے ضروری ہے کہ قرائت اور واجب ذکر نہ پڑھے۔

مسئلہ ٩٨ ۴ اگر کسی ایسے شخص کو جو کهڑ اہو سکتاہو یہ خوف ہو کہ کهڑا ہونے سے بيمار ہو جائے گا یا اسے کوئی ضرر پهنچے گا تو وہ بيٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر بيٹھنے سے بھی خوف ہو تو ليٹ کر نماز پڑ ه سکتا ہے ۔

مسئلہ ٩٨ ۵ جس شخص کو یہ احتمال ہو کہ آخر وقت ميں کهڑا ہو کر نماز پڑھ سکے گا اس کے لئے بہتر ہے کہ نماز پڑھنے ميں تاخير کرے،پس اگر وہ آخر وقت تک کهڑا ہونے پر قادر نہ ہو سکے تو اپنے وظيفے کے مطابق نماز بجالائے۔اسی طرح وہ شخص بھی جو اوّل وقت ميں پهلو کے بل یا ليٹ کر نماز پڑ ه سکتا ہو بہتر ہے کہ نماز پڑھنے ميں تاخير کرے اور آخر وقت ميں اپنے وظيفے کے مطابق نماز بجا لائے اور اس صورت ميں کہ اس نے اول وقت ميں نماز پڑھ لی ہو اور آخر وقت ميں کهڑا ہونے یا بيٹھنے پر قادر ہو جائے تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ اپنی قدرت کے مطابق بجالائے۔

مسئلہ ٩٨ ۶ انسان کے لئے مستحب ہے کہ قيام کی حالت ميں ریڑھ اور گردن کی ہڈی کو سيدها رکھے،کندہوں کو نيچے کی طرف ڈهيلا چھوڑ دے،ہاتھوں کو رانوں پر رکھے، انگلياں ملا کر رکھے، اپنی نگاہ سجدہ گاہ پر رکھے،بدن کا بوجه دونوں پاؤںپر یکساں ڈالے،خضوع وخشوع کی حالت ميں کهڑا ہو،پاؤں آگے پيچهے نہ رکھے اور اگر مردهو تو پاؤں کے درميان تين پهيلی ہوئی انگليوں سے لے کر ایک بالشت تک کا فاصلہ رکھے اور اگر عورت ہو تو دونوں پاؤں ملا کر رکھے۔

قرائت

مسئلہ ٩٨٧ ضروری ہے کہ انسان روزانہ کی واجب نمازوں کی پهلی او ردوسری رکعت ميں پهلے الحمد اور اس کے بعد کسی ایک پورے سورہ کی تلاوت کرے اور سورہ والضحی وا لم نشرح اسی طرح سورہ الفيل و سورہ قریش نماز ميں ایک سورہ شمار ہوتے ہيں ۔


مسئلہ ٩٨٨ اگر نماز کا وقت تنگ ہو یا انسان کسی مجبوری کی وجہ سے سورہ نہ پڑھ سکتا ہو مثلاًاسے خوف ہو کہ اگر سورہ پڑھے گا تو چور،درندہ یا کوئی اور چيز اسے نقصان پهنچائے گی تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سورہ نہ پڑھے۔

مریض اور اس شخص سے جو کسی کام کی وجہ سے جلدی ميں ہو سورہ ساقط ہے اور اگر پڑھے بھی تو ضروری ہے کہ اسے جزُءِ نماز کی نيت سے نہ پڑھے بلکہ تلاوتِ قرآن کی نيت سے پڑھ لے۔

مسئلہ ٩٨٩ اگر کوئی جان بوجه کر الحمد سے پهلے سورہ کو جزُءِ نماز کی نيت سے پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔ ہاں، اگر غلطی سے پڑھے اور درميا ن ميں اس کو یاد آجائے تو ضروری ہے کہ اس کو چھوڑ دے او ر حمد پڑ هنے کے بعد سورہ شروع سے پڑھے۔

مسئلہ ٩٩٠ اگر کوئی شخص الحمد اور سورہ یا ان ميں سے کسی ایک کو پڑھنا بھول جائے اور رکوع ميں جانے کے بعد اسے یا د آئے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ٩٩١ اگر رکوع کے لئے جھکنے سے پهلے کسی شخص کو یا د آجائے کہ اس نے الحمد یا سورہ نہيں پڑھا تو ضروری ہے کہ پڑھے اور اگر یاد آئے کہ سورہ نہيں پڑھا تو فقط سورہ پڑھے ليکن اگر اسے یاد آئے کہ فقط الحمد نہيں پڑھی تو ضروری ہے کہ پهلے الحمد اور بعد ميں سورہ پڑھے ا ور اگر جھک بھی جائے ليکن رکوع کی حد تک پهنچنے سے پهلے یاد آئے کہ الحمد اور سورہ یا فقط سورہ یا فقط الحمد نہيں پڑھی تو ضروری ہے کہ کهڑا ہو جائے اور اسی حکم کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ٩٩٢ اگر کوئی شخص جان بوجه کر واجب نماز ميں ان چار سوروں ميں سے کوئی ایک سورہ پڑھے جس ميں واجب سجدے والی آیت ہے اور جن کا ذکر مسئلہ نمبر ” ٣ ۶ ١ “ميں کيا گيا ہے تو واجب ہے کہ آیت سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ بجالائے اور ا س صورت ميں احتياط واجب کی بنا پر نماز کو تمام کر کے دوبارہ پڑھے اور اگر گناہ کرے اور سجدہ بجا نہ لائے تو بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٩٩٣ اگر کوئی شخص بھول کر ایسا سورہ پڑھنا شروع کر دے جس ميں واجب سجدہ ہو ليکن آیت سجدہ پر پهنچنے سے پهلے اسے خيال آ جائے تو ضروری ہے کہ اس سورے کو چھوڑ کر دوسرا سورہ پڑھے اور اگر آیت سجدہ پڑھنے کے بعد خيا ل آئے تو احتياطاًسجدے کا اشارہ کرتے ہوئے سورے کو مکمل کرے اور ایک دوسرا سورہ بھی قربتِ مطلقہ کی نيت سے پڑھے، یعنی اس نيت سے کہ اگر اس کی ذمہ داری سورہ پڑھنا ہے تو یہ وهی سورہ ہے ورنہ یہ تلاوتِ قرآن ہے اور نماز کے بعد سجدہ تلاوت بجا لائے۔

مسئلہ ٩٩ ۴ اگر نماز کے دوران آیتِ سجدہ سنے تو اس کی نماز صحيح ہے ليکن قرآن کے سجدے کی نيت سے اشارہ کرے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز کے بعد اس سجدے کو عام طریقے سے بھی بجا لائے۔

مسئلہ ٩٩ ۵ مستحب نماز ميں سورہ پڑھنا ضروری نہيں خواہ وہ نذر یا ان جيسی دوسری چيز وں کی وجہ سے واجب ہو گئی ہو ليکن بعض مستحب نمازیں مثلاًنمازِ وحشت کہ جس ميں مخصوص سورہ ہے اگر کو ئی شخص اس نمازکو مقررہ طریقے سے پڑھنا چاہے تو وهی سورہ پڑھنا ضروری ہے ۔


مسئلہ ٩٩ ۶ جمعہ کی نماز اور جمعہ کے دن نمازِ ظہر کی پهلی رکعت ميں الحمد کے بعد سورہ جمعہ اور دوسری رکعت ميں الحمد کے بعد سورہ منافقون پڑھنا مستحب ہے اور اگر کوئی شخص ان ميں سے کوئی ایک سورہ پڑھنا شروع کر دے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ اسے چھوڑ کر کوئی دوسرا سورہ نہ پڑھے۔

مسئلہ ٩٩٧ اگر کوئی شخص الحمد کے بعد سورہ اخلاص یا سورہ کافرون پڑھنے لگے تو اسے چھوڑکر کوئی دوسرا سورہ نہيں پڑھ سکتا،البتہ اگر نماز جمعہ یا جمعہ کے دن نمازِ ظہر ميں بھول کر سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کے بجائے ان دو سورتوں ميں سے کوئی سورہ پڑھے تو انہيں چھوڑ کر سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھ سکتا ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر نصف تک پڑھ چکا ہو تو پھر ان سوروں کو نہ چھوڑے۔

مسئلہ ٩٩٨ اگر کوئی شخص جمعہ کی نماز ميں یا جمعہ کے دن ظہر کی نمازميں جان بوجه کر سورہ اخلاص یا سورہ کافرون پڑھے تو خواہ وہ نصف تک نہ پهنچا ہو احتياط واجب کی بنا پر انہيں چھوڑ کر سورہ جمعہ اور سورہ منافقون نہيں پڑھ سکتا۔

مسئلہ ٩٩٩ اگر کوئی شخص نماز ميں سورہ اخلاص یا سورہ کافرون کے علاوہ کوئی دوسرا سورہ پڑھے تو جب تک نصف سے آگے نہ بڑھا ہو اسے چھوڑ کر دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہے اور آدهے سورے سے لے کر دو تھائی حصے تک احتياط واجب کی بنا پر نہيں چھوڑ سکتا جب کہ دو تھائی حصے کے بعد یہ سورہ چھوڑ کر دوسرا سورہ پڑھنا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠٠٠ اگر کوئی شخص سورے کا کچھ حصہ بھول جائے یا کسی مجبوری مثلاً وقت کی تنگی یا کسی اور وجہ سے اسے مکمل نہ کر سکتا ہو تو وہ اس سورے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہے خواہ وہ دو تھائی سے آگے بڑھ چکا ہو یا وہ سورہ اخلاص یا سورہ کافرون ہی ہو۔

مسئلہ ١٠٠١ مرد پر واجب ہے کہ صبح،مغرب اور عشا کی نمازوں ميں الحمد اور سورہ بلند آواز سے پڑھے اور مردوعورت پر واجب ہے کہ نمازِظہر و عصر ميں الحمد اور سورہ آهستہ آواز سے پڑہيں ۔

مسئلہ ١٠٠٢ مرد کے لےے ضروری ہے کہ صبح اور مغرب و عشا کی نماز ميں خيال رکھے کہ الحمد اور سورہ کے تمام الفاظ حتیٰ کہ ان کے آخری حرف تک کو بلند آواز سے پڑھے۔

مسئلہ ١٠٠٣ صبح،مغرب اور عشا کی نماز ميں عورت، الحمد اور سورہ بلند یا آهستہ آواز سے پڑھ سکتی ہے ۔هاں، اگر نا محرم اس کی آوازسن رہا ہو تو احتياط واجب کی بنا پر آهستہ پڑھے، ليکن اگر اس صورت ميں کہ عورت کيلئے اپنی آواز سنانا حرام ہو مثلاً لهجے کی نزاکت کے ساته اور سریلی آواز ميں پڑھے اور نا محرم اسے سن رہا ہو تو بلند آواز سے پڑھنا جائز نہيں اور اگر پڑھے تو نماز باطل ہے


مسئلہ ١٠٠ ۴ اگر کوئی شخص جان بوجه کر بلند آواز سے پڑھی جانے والی نماز کو آهستہ یا آهستہ پڑھی جانے والی نماز کو بلند آواز سے پڑھے تو نماز باطل ہے ، ليکن اگر بھولے سے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کرے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔ نيز الحمد وسورہ پڑھنے کے دوران اگر متوجہ ہو جائے کہ غلطی ہوئی ہے تو جو حصہ پڑھ چکا ہے اسے دوبارہ پڑھنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٠٠ ۵ اگر کوئی شخص الحمد وسورہ پڑھنے کے دوران اپنی آواز معمول سے زیادہ بلند کرے مثلاً ان سورتوں کو چلاّ کر پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠٠ ۶ انسان کيلئے واجب ہے کہ نماز سيکه لے تاکہ صحيح پڑھ سکے اور جو شخص کسی طرح بھی صحيح طور پر نماز نہ سيکه سکتا ہو تو جس طرح پڑھ سکتا ہے پڑھے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر وہ چيزیں نہ سيکه سکتا ہو جو امامِ جماعت،ماموم کے بدلے ميں پڑھتا ہے تو نماز باجماعت پڑھے۔

مسئلہ ١٠٠٧ اگر کسی شخص کو الحمدو سورة و نماز کی بقيہ چيزوں کو اچھی طرح نہ آتا ہو اور وہ سيکه سکتا ہو تو نماز کا وقت وسيع ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ سيکه لے اور وقت تنگ ہونے کی صورت ميں اگر ممکن ہو تو ضروری ہے کہ نماز باجماعت پڑھے۔

مسئلہ ١٠٠٨ مستحباتِ نماز سکھانے کی اجرت لينا جائز ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ واجبات نماز سکھانے کی اجرت نہ لے۔

مسئلہ ١٠٠٩ اگر کسی کو الحمد یا سورہ کا کوئی لفظ نہ آتا ہو اور جاہل مقصر ہو یا جان بوجه کر اسے نہ پڑھے یا ایک کے بجائے دوسرا حرف کهے مثلاً”ض“ کے بجائے”ظ“ کهے یا جهاں زیر اور زبر کے بغير پڑھنا ضروری ہے وہاں زیروزبر کے ساته پڑھے یا تشدید نہ پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠١٠ اگر انسان کسی لفظ کو صحيح سمجھتا ہو اور نماز ميں بھی اسی طریقے سے پڑھے اور بعد ميں پتہ چلے کہ غلط پڑھا ہے ، چنانچہ اگر وہ اس لفظ کو صحيح سمجھنے ميں جاہل قاصر تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔ البتہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گذر گيا ہو تو اس کی قضا بجالائے،ليکن اگر وہ جاہل مقصر ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گذر گيا ہو توقضا بجالائے۔

مسئلہ ١٠١١ جو شخص نہ جانتا ہو کہ ایک لفظ”س“سے پڑھنا چاہيے یا”ص“ سے تو ضروری ہے کہ اس کو سيکه لے اور اگر دو یا دو سے زائد طریقوں سے پڑھے مثلاً”اہدناالصراط المستقيم“ کو ایک مرتبہ”س“ کے ساته اور ایک مرتبہ”ص“ کے ساته پڑھے تو اس صورت ميں کہ صحيح قرائت کے لئے نماز کا جزو ہو نے کی نيت رکھتا ہو جب کہ دوسری قرائت عرفاًذکرِ غلط یاقرآن غلط کهی جاتی ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ،ليکن اس صورت ميں کہ جب دوسری قرائت کو انسان کا کلام سمجھا جائے،اس کی نماز باطل ہے ۔


اسی طرح اگر کلمہ کے زیر وزبر کو نہ جانتا ہو تو اس کی نماز باطل ہے مگر یہ کہ زیر وزبر ایسے لفظ کے آخر ميں ہو ں جس پر وقف کرنا جائز ہے اور وہ ہميشہ وقف کرے یا وصل بالسکون کرے تو آخری حرکت کا یاد کرنا واجب نہيں اور اس کی نماز بھی صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠١٢ اگر کسی لفظ ميں ” واو“هو اور اس لفظ ميں ” واو“ سے پهلے والے حرف پر” پيش “هو اور” واو“ کے بعد والا حرف”همزہ“ ہو مثلاًکلمہ”سوء“ اور اسی طرح اگر کسی لفظ ميں ”الف “هو اور اس لفظ ميں ” الف“ سے پهلے والے حرف پر زبرہو اور” الف“ کے بعد والا حرف” ہمزہ“ ہو مثلاًکلمہ”جاءَ“ اور اسی طرح اگر کسی لفظ ميں ”ی“ ہو اور اس لفظ ميں ”ی“سے پهلے والے حرف پر زیر ہو اور”ی“ کے بعد والا حرف”همزہ“ ہو مثلاًکلمہ ”جیء“ تو احتياط مستحب یہ ہے کہ ان تين حروف کو”مدّ“کے ساته یعنی کھينچ کر پڑھے۔

اور اگران حروف یعنی” واو“” الف“اور” یاء“ کے بعد ہمزہ کے بجائے کوئی ساکن حرف ہو یعنی اس پر”زیر زبر یا پيش “نہ ہو تو ضروری ہے کہ ان تين حروف کو” مد“ کے ساته پڑھے مثلاً”الضَّالِّيْنَ “کہ جس ميں الف کے بعد حرف” لام“ ساکن ہے ، ضروری ہے کہ”الف“ کو” مد“ کے ساته پڑھے اور اگر اس صورت ميں بتلائے گئے طریقے کے مطابق عمل نہ کرے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠١٣ احتياط واجب یہ ہے کہ نماز ميں ”وقف بہ حرکت“ نہ کرے۔وقف بہ حرکت کے معنی یہ ہيں کہ کسی لفظ کے آخر ميں زیر زبر یا پيش پڑھے اور اس لفظ ميں اور اس سے اگلے لفظ کے درميان فاصلہ دے مثلاًکهے ”الرَّحْمٰنِ الرَحِيْمِ “ اور”الرَّحِيْمِ “ کے ميم کو زیر د ے اور اس کے بعد قدرے فاصلہ دے کر کهے”مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“۔

اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ”وصل بہ سکون“ نہ کرے،وصل بہ سکون کے معنی یہ ہيں کہ کسی لفظ کے آخر ميں زیر زبر یا پيش نہ پڑھے اور اس لفظ کو اگلے لفظ سے جوڑدے مثلاً”الرَّحْمٰن الرَحِيْمِ “اور ”الرَّحِيْم “ کی”ميم “کو زیر دئے بغير فوراً”مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“کهے۔

مسئلہ ١٠١ ۴ نماز کی تيسری اور چوتھی رکعت ميں فقط ایک دفعہ الحمد یا ایک تسبيحات اربعہ پڑھنا کافی ہے ، یعنی نماز پڑھنے والا ایک دفعہ کهے”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلاَ إِلٰهَ إِلاَّاللّٰهُ وَاللّٰهُ ا کَْٔبَرُ “ اور بہتر یہ ہے کہ تين دفعہ کهے اور ایک رکعت ميں الحمد اور دوسری ميں تسبيحات بھی پڑھ سکتا ہے ليکن بہتر یہ ہے کہ دونوں رکعتوں ميں تسبيحات پڑھے۔

مسئلہ ١٠١ ۵ اگر وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ تسبيحات اربعہ کو ایک دفعہ پڑھا جائے۔

مسئلہ ١٠١ ۶ مرد اور عورت دونوں پر واجب ہے کہ نماز کی تيسری اور چوتھی رکعت ميں الحمد یا تسبيحات اربعہ آهستہ پڑہيں ۔

مسئلہ ١٠١٧ اگر کوئی شخص تيسری یا چوتھی رکعت ميں الحمد پڑھے تو ضروری ہے کہ اس کی بسم الله بھی آهستہ پڑھے۔


مسئلہ ١٠١٨ جو شخص تسبيحات اربعہ نہ سيکه سکتا ہو یا صحيح نہ پڑھ سکتا ہو ليکن الحمد صحيح طریقے سے پڑھ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز کی تيسری اور چوتھی رکعت ميں الحمد پڑھے۔

مسئلہ ١٠١٩ اگر کوئی شخص نماز کی پهلی دو رکعتوںميں اس خيال سے کہ یہ آخری دو رکعتيں ہيں تسبيحات پڑھے ليکن رکوع سے پهلے اسے صحيح صورت حال کا علم ہو جائے تو ضروری ہے کہ الحمد وسورہ پڑھے اور اگر اسے رکوع کے دوران یا رکوع کے بعد معلوم ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠٢٠ اگر کوئی شخص نماز کی آخری دو رکعتوں ميں اس خيال سے کہ یہ پهلی دو رکعتيں ہيں الحمد پڑھے یا نماز کی پهلی دو رکعتوں ميں یہ خيال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دو رکعتيں ہيں الحمد پڑھے تو اسے صحيح صورت حال کا خواہ رکوع سے پهلے علم ہو یا بعد ميں اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠٢١ اگر کوئی شخص تيسری یا چوتھی رکعت ميں الحمد پڑھنا چاہتا ہو ليکن اس کی زبان پر تسبيحات آجائيں یا تسبيحات پڑھنا چاہتا ہو اور اس کی زبان پر الحمد آجائے تو ضروری ہے کہ اسے چھوڑ کر دوبارہ الحمد یا تسبيحات پڑھے،ليکن اگر اس کی عادت وهی کچھ پڑھنے کی ہو جو اس کی زبان پر آیا ہے تو وہ اسی کو تمام کر سکتا ہے اور اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠٢٢ جس شخص کی عادت تيسری اور چوتھی رکعت ميں تسبيحات پڑھنے کی ہو اگر نيت کے بغير حتیٰ جوخود پر واجب ہے اسے انجام دینے کی نيت کے بغير الحمد پڑھنے لگے تو ضروری ہے کہ اس کو چھوڑ دے اور دوبارہ الحمد یا تسبيحات پڑھے۔

مسئلہ ١٠٢٣ تيسری اور چوتھی رکعت ميں تسبيحات کے بعد استغفار کرنا مثلاً”ا سَْٔتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّی وَا تَُٔوْبُ إِلَيْہِ“یا”اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِی“ کهنا مستحب ہے ۔

اور اگر نماز پڑھنے والا رکوع کے لئے جھکنے سے پهلے خواہ استغفار پڑھ رہا ہو یا ا س سے فارغ ہو چکا ہو شک کرے کہ اس نے الحمد یا تسبيحات پڑھی ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ الحمد یا تسبيحات پڑھے۔

مسئلہ ١٠٢ ۴ اگر تيسری یا چوتھی رکعت کے رکوع ميں شک کرے کہ تسبيحات پڑھی یا نہيں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے ليکن اگر رکوع کی حد تک جھکنے سے پهلے شک کرے تو ضروری ہے کہ واپس پلٹے اور حمد یا تسبيحات پڑھے۔

مسئلہ ١٠٢ ۵ جب انسان کسی آیت کو پڑھنے کے بعد شک کرے کہ آیا آیت یا اس کا کوئی لفظ صحيح پڑھا ہے یا نہيں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے خواہ بعد والی چيز پڑھنے ميں مشغول ہو گيا ہو یا نہيں ۔هاں، اگر آیت مکمل کرنے سے پهلے شک کرے کہ اس آیت کا کوئی لفظ صحيح پڑھا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا کرتے ہوئے دوبارہ اس لفظ اور اس کے بعد والے حصے کو صحيح پڑھے خواہ اس لفظ سے پهلے والے حصے کو بھی تکرار کرے اور دونوں صورتوں ميں پوری آیت یا اس لفظ اور


اس کے بعد والے حصے کی تکرار جب تک وسوسے کی حد نہ پهنچے نماز کے صحيح ہو نے پر اثر انداز نہيں ہوتی۔هاں، جب وسوسے کے حد تک پهنچ جائے تو تکرار کرنا حرام ہے ليکن اس سے نماز باطل نہيں ہوتی اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١٠٢ ۶ مستحب ہے کہ پهلی رکعت ميں الحمد پڑھنے سے پهلے”ا عَُٔوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَان الرَّجِيْمِ “ کهے، ظہر اور عصر کی پهلی اور دوسری رکعتوں ميں ”بسم اللّٰہ “ بلند آواز سے کهے اور الحمد اور سورہ کو واضح کرتے ہو ئے پڑھے، ہر آیت کے آخر پر وقف کرے یعنی اسے بعد والی آیت کے ساته نہ ملائے، الحمد اور سورہ پڑھتے وقت آیات کے معنوں کی طرف توجہ رکھے، اگر جماعت سے نماز پڑھ رہا ہو تو امام جماعت کے سورہ الحمد ختم کرنے کے بعد اور اگر فرادی نماز پڑھ رہا ہو تو خود کی سورہ الحمد مکمل کرنے کے بعد”ا لَْٔحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ “ کهے، سورہ ”قل هواللّٰه احد “ پڑھنے کے بعد ایک یا دو یا تين دفعہ ’’کَذَا لِکَ اللّٰهُ رَبّي “ یا تين دفعہ ”کَذَا لِکَ اللّٰهُ رَبُّنَا “ کهے اور سورہ پڑھنے کے بعد تهوڑی دیر رکے اور پھر رکوع سے پهلے کی تکبير کهے یا قنوت پڑھے۔

مسئلہ ١٠٢٧ مستحب ہے کہ تمام نمازوں کی پهلی رکعت ميں سورہ قدر اور دوسری رکعت ميں سورہ اخلاص پڑھے۔

مسئلہ ١٠٢٨ پنجگانہ نمازوں ميں سے کسی ایک نمازميں بھی انسان کا سورہ اخلاص کونہ پڑھنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ١٠٢٩ ایک ہی سانس ميں سورہ اخلاصکا پڑھنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ١٠٣٠ جو سورہ انسان پهلی رکعت ميں پڑھے اسی کو دوسری رکعت ميں پڑھنا مکروہ ہے ليکن اگر سورہ اخلاص دونوں رکعتوں ميں پڑھے تو مکروہ نہيں ہے ۔

رکوع

مسئلہ ١٠٣١ ضروری ہے کہ ہر رکعت ميں قرائت کے بعد اس قدر جھکے کہ انگليوں کے سرے گھٹنوںتک پهنچ جائيں۔ اس عمل کو رکوع کہتے ہيں اور احوط یہ ہے کہ اس قدر جھکے کے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ سکے۔

مسئلہ ١٠٣٢ اگر کوئی شخص رکوع جتنا جھک جائے ليکن اپنی انگليوں کے سرے گھٹنوں پر نہ رکھے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٠٣٣ اگر کوئی شخص عام طریقے کے مطابق رکوع نہ کرے بلکہ مثلاًبائيں یا دائيں جانب جھک جائے تو خواہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پهنچ بھی جائيں، رکوع صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠٣ ۴ ضروری ہے کہ جھکنا رکوع کی نيت سے ہو، لہذ ا اگرکسی اور کام کے لئے مثلا جانور کو مارنے کے لئے جھکے تو اسے رکوع نہيں سمجھا جاسکتا بلکہ ضروری ہے کہ کهڑ اہو کر دوبارہ رکوع کے لئے جھکے اور اس عمل کی وجہ سے نہ رُکن ميں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی نماز باطل ہوتی ہے ۔


مسئلہ ١٠٣ ۵ جس شخص کے ہاتھ یا گھٹنے دوسرے لوگوں کے ہاتھ اور گھٹنوں سے مختلف ہوں مثلاً اس کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں کہ اگر معمولی سا بھی جھکے تو گھٹنوں تک پهنچ جائيں یا اس کے گھٹنے دوسرے لوگوں کے گھٹنوں کے مقابلے ميں اتنا نيچے ہوں کہ اسے ہاتھ گھٹنوں تک پهنچانے کيلئے بہت زیادہ جھکنا پڑتا ہو تو ضروری ہے کہ اتنا جھکے جتنا عموماًلوگ جھکتے ہيں ۔

مسئلہ ١٠٣ ۶ بيٹھ کر رکوع کرنے والے کے لئے اس قدر جھکنا ضروری ہے کہ اس کا چہرہ گھٹنوں کے بالمقابل جا پهنچے اور احوط یہ ہے کہ اتنا جھکے جتنا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی حالت ميں جھکتا۔

مسئلہ ١٠٣٧ رکوع ميں واجب ہے کہ حالتِ اختيار ميں تين دفعہ”سبحان اللّٰہ “ یا ایک دفعہ” سبحان ربی العظيم وبحمدہ“ یا کوئی بھی وہ ذکر جو اتنی مقدار ميں ہو پڑھے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ بيان شدہ طریقہِ تسبيح کو دوسرے اذکار پر مقدم کرے اور وقت کی تنگی یا کسی مجبوری کی حالت ميں ایک دفعہ”سبحان اللّٰہ “ کهنا کافی ہے ۔

مسئلہ ١٠٣٨ ذکر رکوع مسلسل اور صحيح عربی ميں پڑھنا ضروری ہے اور مستحب ہے کہ تين،پانچ،یا سات دفعہ بلکہ اس سے بھی زیادہ پڑھا جائے۔

مسئلہ ١٠٣٩ رکوع کی حالت ميں ضروری ہے کہ واجب ذکر کی مقدار تک بدن ساکن ہو اور مستحب ذکر ميں بھی اگر اس نيت سے پڑھے کہ یہ ذکر وہ ہے جسے رکوع ميں پڑھنے کے لئے کها گيا ہے تو احتياط واجب کی بنا پر بدن کا ساکن ہونا ضروری ہے اور اگر صرف ذکر کی نيت سے پڑھے تو ساکن ہونا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٠ ۴ ٠ اگر نماز پڑھنے والا رکوع کا واجب ذکر ادا کرتے وقت بے اختيار اتنی حرکت کرے کہ بدن سکون کی حالت سے نکل جائے تو ضروری ہے کہ بدن کے سکون حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ذکر ادا کرے ليکن اگر اتنی کم حرکت کرے کہ بدن سکون کی حالت سے خارج نہ ہو یا انگليوں کو هلائے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۴ ١ اگر نماز پڑھنے والا اس سے پيشتر کہ رکوع جتنا جھکے اور اس کا بدن سکون حاصل کر لے جان بوجه کر ذکرِ رکوع پڑھنا شروع کر دے تو اس کی نماز باطل ہے ليکن اگرجاہل قاصر ہو تو اس کی نماز ا س اضافے کے اعتبار سے باطل نہيں ہوگی۔

مسئلہ ١٠ ۴ ٢ اگر ایک شخص واجب ذکر ختم ہونے سے پهلے جان بوجه کر رکوع سے سر اٹھ ا ئے تو اس کی نماز باطل ہے ، مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو تو اس وجہ سے اس کی نماز باطل نہيں اور اگرسهواً سر اٹھ ا لے اور حالت رکوع سے نکلنے سے پهلے اسے یاد آئے کہ اس نے ذکرِ رکوع ختم نہيں کيا تو ضروری ہے کہ بدن کے ساکن ہونے کے بعد ذکر پڑھے اور اگر اسے حالتِ رکوع سے نکلنے کے بعد یاد آئے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۴ ٣ ضرورت کے وقت جائزهے کہ رکوع ميں ایک” سبحان اللّٰہ “پڑھی جائے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ باقی دو”سبحان اللّٰہ“ کو رکوع سے اٹھ تے ہوئے پڑھ لے۔


مسئلہ ١٠ ۴۴ جو شخص مرض وغيرہ کی وجہ سے رکوع ميں اپنا بدن ساکن نہ رکھ سکے تو اس کی نماز صحيح ہے ليکن ضروری ہے کہ حالتِ رکوع سے نکلنے سے پهلے واجب ذکر پڑھ لے۔

مسئلہ ١٠ ۴۵ جو شخص شرعی رکوع کی حد تک نہ جھک سکتا ہو جسے مسئلہ نمبر ١٠٣١ ميں بيان کيا گيا ہے تو ضروری ہے کہ کسی چيز کا سهارا لے کر شرعی رکوع بجالائے اور جب سهارے کے ذریعے بھی شرعی رکوع نہ کر سکے تو اگر عرفی رکوع کرنا اس کے لئے ممکن ہو تو عرفی رکوع کرے،اور سر سے بھی رکوع کے لئے اشارہ کرے اور اگر عرفی رکوع کی مقدار تک بھی نہ جھک سکتا ہو یا کسی طریقے سے بھی نہ جھک سکتا ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ رکوع کے وقت بيٹھ جائے اور بيٹھ کر رکوع بجالائے اور ایک نماز اور پڑھے جس ميں رکوع کے لئے قيام کی حالت ميں ہی سر سے اشارہ کرے۔

مسئلہ ١٠ ۴۶ جس شخص کو رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرنا ضروری ہو اگر وہ اشارہ کرنے پر قادر نہ ہو تو ضروری ہے کہ رکوع کی نيت سے آنکہوں کو بند کر لے او رذکرِ رکوع پڑھے او ر رکوع سے اٹھنے کی نيت سے آنکہوں کو کھول دے اور اگر اس قابل بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ دل ميں رکوع کی نيت کرے اور ذکر رکوع پڑھے۔

مسئلہ ١٠ ۴ ٧ جو شخص کھڑے ہو کریا بيٹھ کر رکوع نہيں کر سکتا یهاں تک کہ عرفی مقدار تک بھی رکوع نہيں کر سکتا اور صرف بيٹھنے کی حالت ميں تهوڑا جھک سکتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے اور اگر بيٹھنے کی حالت ميں عرفی مقدار تک جھک سکتا ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ ایک نماز اور پڑھے اور رکوع کے وقت بيٹھ کر اس مقدارميں جھک جائے۔

مسئلہ ١٠ ۴ ٨ اگر کوئی شخص رکوع کی حد تک جھکنے کے بعد سر اٹھ ا لے اور دوبارہ رکوع کرنے کی حد تک جھک جائے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

اور رکوع کی حد تک پهنچنے کے بعد اگر کوئی شخص اتنا اور جھک جائے کہ رکوع کی حد سے گذر جائے اور دوبارہ رکوع ميں واپس آجائے تو اس صورت ميں کہ وہ جھکے جھکے ہی رکوع کی حد تک پلٹا ہو اس کی نماز باطل نہيں ۔

مسئلہ ١٠ ۴ ٩ ضروری ہے کہ ذکرِ رکوع ختم ہونے کے بعد سيدها کهڑا ہو جائے اور جب اس کا بدن سکون حاصل کر لے اس کے بعد سجدے ميں جائے اور اگر جان بوجه کر کهڑا ہونے سے پهلے یا بدن کے سکون حاصل کرنے سے پهلے سجدے ميں جائے تو اس کی نمازباطل ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۵ ٠ اگر کوئی شخص رکوع کرنا بھول جائے اور سجدے کی حالت ميں پهنچنے سے پهلے اسے یاد آجائے تو ضروری ہے کہ کهڑا ہو اور پھر رکوع ميں جائے اور اگر جھکے جھکے ہی رکوع کی جانب لوٹے تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ١٠ ۵ ١ اگر کسی شخص کو پيشانی زمين پر رکھنے کے بعد یاد آئے کہ اس نے رکوع نہيں کيا تو اس کيلئے ضروری ہے کہ لوٹ جائے اور کهڑا ہونے کے بعد رکوع بجا لائے اور احتياط واجب کی بنا پر اضافی سجدے کی وجہ سے دو سجدہ سهو بجالائے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز دهرائے اور اگر اسے دوسرے سجدے ميں یاد آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۵ ٢ مستحب ہے کہ انسان رکوع ميں جانے سے پهلے جب سيدها کهڑا ہو تو تکبير کهے،رکوع ميں گھٹنوں کو پيچهے کی طرف دهکيلے رہے،پيٹھ کو ہموار رکھے،گردن کو کھينچ کر پيٹھ کے برابر رکھے،نگاہ دونوں پاؤں کے درميان ہو،ذکر سے پهلے یا بعد ميں درود پڑھے اور جب رکوع کے بعد اُٹھ کر سيدها کهڑا ہو جائے تو بدن کے سکون کی حالت ميں ہوتے ہوئے ” سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ“کهے۔

مسئلہ ١٠ ۵ ٣ عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ رکوع ميں ہاتھوں کو گھٹنوں سے اوپر رکہيں اور گھٹنوں کو پيچهے کی طرف نہ دهکيليں۔

سجود

مسئلہ ١٠ ۵۴ نماز پڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ واجب اور مستحب نمازوںکی ہر رکعت ميں رکوع کے بعد دو سجدے کر ے یعنی پيشانی کو خضوع کی نيت سے زمين پر رکھے اور نماز کے سجدے ميں واجب ہے کہ دونوں ہتھيلياں،دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤںکے انگوٹھ ے بھی زمين پر رکھے۔

مسئلہ ١٠ ۵۵ دو سجدے مل کر ایک رکن ہيں اور اگر کوئی شخص واجب نماز ميں عمداً یا بھولے سے ایک ہی رکعت ميں دونوں سجدے ترک کر دے یا دو سجدوں کا اضافہ کر دے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۵۶ اگر کوئی شخص جان بوجه کر ایک سجدہ کم یا زیادہ کر دے تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر غلطی سے ایک سجدہ کم یا زیادہ کر ے تو اس کا حکم بعد ميں بيان کيا جائے گا۔

مسئلہ ١٠ ۵ ٧ اگر جان بوجه کر یا غلطی سے کوئی شخص پيشانی زمين پر نہ رکھے تو خواہ بدن کے دوسرے حصے زمين سے لگ بھی گئے ہوں،اس کا سجدہ ہوا ہی نہيں ، ليکن اگر وہ پيشانی زمين پر رکھ دے اور غلطی سے بدن کے دوسرے حصے زمين پر نہ رکھے یا غلطی سے ذکر نہ پڑھے تو اس کا سجدہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۵ ٨ سجدے ميں واجب ہے کہحالت اختيار ميں سجدے ميں تين مرتبہ” سبحان اللّٰہ“ یا ایک مرتبہ ”سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ “ یا اتنی مقدارکا کوئی بھی ذکر پڑھے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ تسبيح کودوسرے اذکار پر مقدم کرے۔ نيز ضروری ہے کہ ان کلمات کو صحيح عربی ميں اور مسلسل پڑھا جائے اور مستحب ہے کہ ” سبحان ربی الا علی و بحمدہ“ کو تين،پانچ یا سات مرتبہ یا اس بھی زیادہ مرتبہ پڑھے۔


مسئلہ ١٠ ۵ ٩ سجدے کی حالت ميں واجب ذکر کی مقدار تک بدن کا ساکن ہونا ضروری ہے اور احتياط واجب کی بنا پر مستحب ذکر کہتے وقت بھی اگر اس نيت سے کهے کہ یہ وہ ذکر ہے جسے سجدے ميں پڑھنے کے لئے کها گيا ہے ،بدن کا ساکن ہونا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٠ اگر پيشانی زمين پر لگنے اور بدن کے سا کن ہونے سے پهلے کوئی شخص جان بوجه کر ذکرِ سجدہ پڑھے یا ذکر ختم ہونے سے پهلے جان بوجه کر سجدے سے سر اٹھ الے تو اس کی نماز باطل ہے ، ليکن اگر وہ جاہل قاصر ہو تو دونوں صورتوں ميں اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۶ ١ اگر پيشانی زمين پر لگنے سے پهلے کوئی شخص غلطی سے ذکر سجدہ پڑھے اور ا س سے پهلے کہ سجدے سے سر اٹھ ائے اسے معلوم ہو جائے کہ اس نے غلطی کی ہے تو ضروری ہے کہ سکون کی حالت ميں دوبارہ ذکر پڑھے۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٢ اگر کسی شخص کو سجدے سے سر اٹھ ا لينے کے بعد معلوم ہو کہ اس نے ذکرِ سجدہ ختم ہونے سے پهلے سر اٹھ ا ليا تھا تو اس کی نمازصحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٣ ذکرِ سجدہ پڑھنے کے دوران اگر کوئی شخص جان بوجه کر سات اعضائے سجدہ ميں سے کسی ایک کو زمين پر سے اٹھ الے تو جاہل قاصر نہ ہونے کی صورت ميں اس کی نماز باطل ہو جائے گی،ليکن جس وقت ذکر نہ پڑھ رہا ہو اگر پيشانی کے علاوہ کوئی اورعضو زمين پر سے اٹھ ا لے اور دوبارہ رکھ دے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۶۴ اگر ذکر سجدہ ختم ہونے سے پهلے کوئی شخص سهواًپيشانی زمين پر سے اٹھ الے تو اسے دوبارہ زمين پر نہيں رکھ سکتا اور ضروری ہے کہ اسے ایک سجدہ شمار کرے، ليکن اگر دوسرے اعضاء سهواً زمين پر سے اٹھ الے تو ضروری ہے کہ انہيں دوبارہ زمين پر رکھے اور ذکر پڑھے۔

مسئلہ ١٠ ۶۵ پهلے سجدے کا ذکر ختم ہونے کے بعد ضروری ہے کہ بيٹھ جائے یهاں تک کہ اس کا بدن سکون حاصل کرے اور پھر دوبارہ سجدے ميں جائے۔

مسئلہ ١٠ ۶۶ ضروری ہے کہ نمازی کے پيشانی رکھنے کی جگہ،انگوٹھ ے کے سرے کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگليوں سے زیادہ بلند یا پست نہ ہو اور احتياط واجب یہ ہے کہ پيشانی کی جگہ اس کے گھٹنوں کی جگہ سے بھی اس مقدار سے زیادہ نيچی یا اونچی نہ ہو۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٧ اس ڈهلوان جگہ ميں جس کی ڈهلان صحيح طور سے معلوم نہ ہو اگر نمازی کی پيشانی کی جگہ اس کے گھٹنوں اور پاؤں کی انگليوں کے سروں کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگليوں سے زیادہ بلند یا پست ہو تو احتياط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٨ اگر نماز پڑھنے والا اپنی پيشانی کوغلطی سے ایک ایسی چيز پر رکھ دے جو اس کے پاؤں کی انگليوں کے سرے کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگليوں سے زیادہ بلند ہو اور اس جگہ کی بلندی اس قدر ہو کہ اسے سجدے کی حالت نہ کها جا سکے تو ضروری ہے کہ سر کو اٹھ ا کر ایسی چيز پر رکھ دے جو بلند نہ ہو یا جس کی بلندی چار ملی ہوئی انگليوں کے برابر یا اس سے کم ہو۔


اور اگر اس کی بلندی اس قدر ہو کہ اسے سجدے کی حالت کها جائے تو ضروری ہے کہ پيشانی کو اس چيز سے کھينچ کر ایسی چيز تک لے جائے جس کی بلندی چار ملی ہوئی انگليوں کے برابر یا اس سے کم ہواور اگر پيشانی کو کھينچنا ممکن نہ ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ نماز کو مکمل کر کے دوبارہ پڑھے۔مسئلہ ١٠ ۶ ٩ ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کی پيشانی اور سجدہ گاہ کے درميان کوئی دوسری چيز نہ ہو۔ پس اگر سجدہ گاہ پر اتنا ميل ہو کہ پيشانی سجد ہ گا ہ کو نہ چھوئے تو اس کا سجدہ باطل ہے ، ليکن اگر مثلاً سجدہ گاہ کا رنگ تبدیل ہو گيا ہو تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٠٧٠ سجدے ميں ضروری ہے کہ دونوں ہتھلياں زمين پر ر کهے اور مجبوری کی حالت ميں ضروری ہے کہ ہاتھوںکی پشت زمين پر رکھے اور اگر ہاتھوں کی پشت بھی زمين پر رکھنا ممکن نہ ہو تو احتياط کی بنا پر ضروری ہے کہ کلائياں زمين پر رکھے اور اگر انہيں بھی نہ رکھ سکے تو پھر کهنی تک جو حصہ بھی ممکن ہو زمين پر رکھے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر بازو زمين پر رکھ دے۔

مسئلہ ١٠٧١ سجدے ميں ضروری ہے کہ پاؤں کے دونوں انگوٹھ ے زمين پر رکھے اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ دونوں انگوٹہوں کے سرے زمين پر رکھے اور اگر پاؤں کی دوسری انگلياں یا پاؤں کا اوپر والا حصہ زمين پر رکھے یاناخن لمبے ہونے کی بنا پر انگوٹہوں کے سرے زمين پر نہ لگيں تو نماز باطل ہے اور جس شخص نے جاہل مقصر ہونے کی وجہ سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھی ہوں، ضروری ہے کہ انہيں دوبارہ پڑھے،ليکن جاہل قاصر ہونے کی صورت ميں ا س کی نمازیں صحيح ہيں ۔

مسئلہ ١٠٧٢ جس شخص کے پاؤں کے انگوٹہوں کا کچھ حصہ کٹا ہو ا ہو ضروری ہے کہ جتنا باقی ہواسے زمين پر رکھے اور اگر انگوٹہوں کا کچھ حصہ بھی نہ بچا ہو یا بہت کم بچا ہو تو احتيا ط کی بنا پر ضروری ہے کہ باقی انگليوں کو زمين پر رکھے اور اگر اس کی کوئی بھی انگلی نہ ہو تو اس کا جتنا حصہ بھی باقی بچا ہو زمين پر رکھے۔

مسئلہ ١٠٧٣ اگر کوئی شخص معمول کے خلاف سجدہ کرے مثلاً سينے اور پيٹ کو زمين سے ملا دے یا پاؤں کو لمبا کر دے تو اگرچہ اس کے ساتوں اعضاء زمين پر لگے ہوں احتياط واجب یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٠٧ ۴ سجدہ گاہ یا دوسری چيز جس پر نماز پڑھنے والا سجدہ کرے ضروری ہے کہ پاک ہو، ليکن اگر مثا ل کے طور پر سجدہ گاہ کو نجس فرش پر رکھ دے یا سجدہ گاہ کی ایک طرف نجس ہو اور وہ پيشانی پاک طرف پر رکھے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠٧ ۵ اگرپيشانی پر پھوڑا وغيرہ ہو تو اگر ممکن ہو تو پيشانی کی صحيح وسالم جگہ سے سجدہ کرے اور اگر ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو اس کو کهرچ کر اس کهرچی ہوئی جگہ ميں پهوڑے والی جگہ رکھے اور پيشانی کی صحيح وسالم جگہ کی اتنی مقدار جو سجدے کے لئے کافی ہے اس چيز پر رکھ دے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ یہ کهرچنا زمين پر ہو۔


مسئلہ ١٠٧ ۶ اگر پهوڑ ایا زخم تمام پيشانی پر پهيلا ہو اہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ پيشانی کی دو اطراف ميں سے کسی ایک طرف اور ٹھ وڑی سے سجدہ کرے اگرچہ اس کی وجہ سے نمازدو مرتبہ پڑھنی پڑے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو صرف ٹھ وڑی سے سجدہ کرے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ سجدے کے لئے اشارہ کرے۔

مسئلہ ١٠٧٧ جو شخص پيشانی زمين پر نہ رکھ سکتا ہو ضروری ہے کہ جس قدر بھی جھک سکتا ہو جھکے او ر سجدہ گاہ یا کسی دوسری چيز کو جس پر سجدہ صحيح ہو کسی بلند چيز پر رکھے اور اپنی پيشانی اس پر اس طرح رکھے کہ لوگ کہيں کہ اس نے سجدہ کيا ہے ليکن ضروری ہے کہ ہتھيليوں اورگھٹنوںاور پاؤں کے انگوٹہوں کو معمول کے مطابق زمين پر رکھے۔

مسئلہ ١٠٧٨ اگر کوئی ایسی بلند چيز نہ ہو جس پر نماز پڑھنے والا سجدہ گاہ یا کوئی دوسری چيز جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو، رکھ سکے تو ضروری ہے کہ سجدہ گاہ یا دوسری چيز کو جس پر سجدہ کر رہا ہو ہاتھ سے اٹھ ا ئے اور سجدہ کرے اور اگر خود اس کے لئے ممکن نہ ہو تو کوئی دوسرا شخص اس سجدہ گاہ کو اٹھ ائے اور یہ شخص اس پر سجدہ کرے۔

مسئلہ ١٠٧٩ اگر کوئی شخص بالکل ہی سجدہ نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ سجدے کے لئے سر سے اشارہ کرے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ آنکہوں سے اشارہ کرے اور اگر آنکہوں سے بھی اشارہ نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ دل ميں سجدے کی نيت کر کے سجدے کا ذکر پڑھے۔

مسئلہ ١٠٨٠ اگر کسی شخص کی پيشانی بے اختيار سجدہ گاہ سے اٹھ جائے تو ضروری ہے کہ حتی الامکان اسے دوبارہ سجدہ گاہ پر نہ جانے دے اور یہ ایک سجدہ شمار ہو گا خواہ ذکرِ سجدہ پڑھا ہو یا نہيں اور اگر سر کو نہ روک سکے اور بے اختيار دوبارہ سجدے کی جگہ پر پهنچ جائے تو ان دونوں کا ایک سجدہ شمار ہونا محلِ اشکال ہے اگر چہ اس کا ایک سجدہ تو یقيناہو چکا ہے ۔ پس اگر اس نے ذکر ادا نہ کيا ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی نيت سے جو چاہے واجب ہو یا مستحب، ذکر پڑھے۔

مسئلہ ١٠٨١ جهاں انسان کے لئے تقيہ کر نا ضروری ہے وہا ں وہ قالين یا اس طرح کی چيز پر سجدہ کر سکتا ہے اور نماز کی خاطر کسی دوسری جگہ جانا ضروری نہيں ۔هاں، اگر چٹائی یا کسی دوسری چيزپر، جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو زحمت ميں پڑے بغير سجدہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہقالين یا اس جيسی چيزوں پر سجدہ نہ کرے۔

مسئلہ ١٠٨٢ اگر کوئی شخص پر ندوں کے پر وں سے بهرے گدے یا اسی قسم کی دوسری چيز پر سجدہ کرے جس پر ٹھ هراؤ حاصل نہيں ہو سکتا تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠٨٣ اگر انسان کيچڑ وا لی زمين ميں نماز پڑھنے پر مجبور ہو اور بدن اور لباس کی آلودگی اس کے لئے باعث حرج نہ ہو تو ضروری ہے کہ سجدہ اور تشهدمعمول کے مطابق بجا لائے اورا گر باعث حرج ہو تو قيام کی حالت ميں ہی سجدے کے لئے سر سے اشارہ کرے اور تشهد کھڑے ہو کر پڑھے اور اس کی نماز صحيح ہے ۔


مسئلہ ١٠٨ ۴ احتياط مستحب یہ ہے کہ انسان پهلی اور اس تيسری رکعت ميں جس ميں تشهدنہيں ہوتا مثلاًنمازظهر،عصر وعشا کی تيسری رکعت ميں دوسرے سجدے کے بعد تهوڑی دیر کے لئے سکون سے بيٹھے اور پھر کهڑا ہو۔

مسئلہ ١٠٨ ۵ ضروری ہے کہ سجدہ زمين یا زمين سے اگنے والی ایسی چيز پر ہو جو کهائی یا پهنی نہ جاتی ہو ں مثلاًلکڑی اور درختوں کے پتے۔ کھانے اور پهننے کی چيزوں پر مثلاًگندم، جوَاورکپاس پر یا ان چيزوں پر جنہيں زمين یا زمين سے اگنے والی چيزیں نہيں کها جا سکتا مثلاً سونا، چاندی، تارکول،زفت اور ان جيسی چيزوں پر سجدہ کرنا صحيح نہيں ہے ۔ اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر قيمتی پتّھروں مثلاً زمرد وفيروزہ پر سجدہ کرنا صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠٨ ۶ انگور کے پتوں پر اس وقت تک سجدہ کرنا صحيح نہيں جب تک وہ معمولاً کھائے جاتے ہو ں۔

مسئلہ ١٠٨٧ زمين سے اگنے والی ان چيزوں پر جو حيوانات کی خوراک ہيں مثلاًگهاس اور بهوسا،سجدہ کرنا صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٠٨٨ جن پھولوں کو کهایا نہيں جاتا ان پر سجدہ کرنا صحيح ہے اور جو دوائيں زمين سے اگتی ہيں اگر وہ خود کهائی جاتی ہيں تو ان پر سجدہ کرنا صحيح نہيں اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ان دواؤں پر بھی جنہيں ابال کر یا دم دے کر ان کاپانی استعمال کيا جاتا ہے ،سجدہ نہ کرے۔

مسئلہ ١٠٨٩ ان پودوں پر جو بعض علاقوں ميں کھائے جاتے ہوں اور بعض جگہوں ميں نہ کھائے جاتے ہوں سجدہ صحيح نہيں ۔کچے پهلوں پر بھی سجدہ کرنا صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٠٩٠ چونے کے پتّھر اور جپسم پر سجدہ کرنا صحيح ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اختيار کی حالت ميں پکے ہوئے جپسم اور چونے یا اینٹ اور مٹی کے بر تنوں اور ان سے ملتی جلتی چيزوں پر سجدہ نہ کيا جائے۔

مسئلہ ١٠٩١ اگر کاغذ کو ایسی چيز سے بنایا گيا ہو جس پر سجدہ کرنا صحيح ہے جيسے بهوسا، تو اس پر سجدہ کيا جا سکتا ہے ليکن وہ کاغذ جو جوروئی یا ان جيسی چيزوں سے بنا ہو اس پر سجدہ کرنا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٠٩٢ سجدے کے لئے بہترین چيز خاک تربت حضرت سيد الشهداء حضرت امام حسين عليہ السلام ہے ،اس کے بعد مٹی،مٹی کے بعد پتّھر اور پتّھر کے بعد پودے ہيں ۔

مسئلہ ١٠٩٣ اگر کسی کے پاس ایسی چيزنہ ہو جس پر سجدہ کرنا صحيح ہے یا اگر ہو ليکن سخت سردی یا گرمی وغير ہ کی وجہ سے اس پر سجدہ نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اگر اس کا لباس ریشم سے نہ بُنا گيا ہو تو اس پر سجدہ کر ے اور احوط یہ ہے کہ روئی اور اُسی سے بنائے گئے سے بنے ہو ئے لباس پر مقدم رکھے۔ ( mink ) لباس کو ان کے علاوہ کسی چيز مثلاًاون اور منک اور اگر لباس ميسر نہ ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ فيروزہ وعقيق اور ان جيسے پتّھر یا روئی سے بنے ہو ئے کاغذ پر سجدہ کرے


اور اگر یہ بھی فراہم نہ ہو تو روئی یا ریشم سے بنے ہوئے کاغذ پر سجدہ کرے اور اگر یہ بھی نہ مل سکے تو ہر اس چيز پر سجدہ کر سکتا ہے جس پر حالتِ اختيار ميں سجدہ کرنا جائز نہيں تھا۔ ہاں، احتياط مستحب یہ ہے کہ جب تک ہاتھ کی پشت پر سجدہ کر نا ممکن ہو کسی اور چيز پر جس پر سجدہ کرنا جائز نہيں ، سجدہ نہ کرے اور اگر ہاتھ کی پشت بھی نہ ہو تو جب تک روئی، تارکول اور زفت موجود ہيں دوسری چيزوں پر سجدہ نہ کرے۔

مسئلہ ١٠٩ ۴ کيچڑ اور ایسی نرم مٹی پر جس پر پيشانی سکون سے نہ ٹک سکے سجدہ کرنا باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠٩ ۵ اگر پهلے سجدے ميں سجد ہ گاہ پيشانی سے چپک جا ئے تو دوسرے سجدے کے لئے اسے پيشانی سے چھڑالينا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٠٩ ۶ اگر نماز پڑھنے کے دوران سجدہ گاہ گم ہو جائے اور نماز پڑھنے والے کے پاس کوئی ایسی چيز نہ ہو جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو تو نماز کا وقت وسيع ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ نماز کو توڑ دے اور اگر نماز کاوقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ مسئلہ نمبر ” ١٠٩٣ “ميں بيان شدہ ترتيب کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ١٠٩٧ جب کسی شخص کو سجدے کی حالت ميں معلوم ہو کہ پيشانی کسی ایسی چيز پر رکھی ہے جس پر سجدہ کرنا باطل ہے تو اگر نماز کا وقت وسيع ہو اور اس کے لئے صحيح چيز پر سجدہ کرنا ممکن ہو تو اپنی پيشانی کو اس چيز سے اٹھ ا کر صحيح چيز پر سجدہ کرے اور احتياط واجب کی بنا پر دو سجدئہ سهوبهی بجا لائے اور اگر ممکن نہ ہو تو نماز دوبارہ پڑھے اور اگر نماز کا وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ مسئلہ نمبر” ١٠٩٣ “ميں بيان شدہ تر تيب کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ١٠٩٨ اگر کسی شخص کو سجدے کے بعد معلوم ہو کہ اس نے اپنی پيشانی کسی ایسی چيز پر رکھی تھی جس پر سجدہ کرنا باطل تھا تو ضروری ہے کہ دوبارہ صحيح چيز پر سجدہ کرے اور احتيا ط واجب کی بنا پر دو سجدئہ سهو بھی بجا لائے اور اگر ایک رکعت کے دونوں سجدوں ميں یہ غلطی ہوئی ہو تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٠٩٩ الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرنا حرام ہے ۔ اور عوام ميں سے بعض لوگ جو ائمہ عليهم السلام کے مزارات مقدسہ کے سامنے پيشانی زمين پر رکھتے ہيں اگر وہ الله تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی نيت سے ایسا کریں تو کوئی حرج نہيں ورنہ ایسا کرنا حرام ہے ۔


سجدے کے مستحبات اور مکروهات

مسئلہ ١١٠٠ سجدے ميں چند چيزیں مستحب ہيں :

١) جو شخص کهڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو وہ رکوع سے سر اٹھ انے کے بعد مکمل طور پر کھڑے ہو کر، اور بيٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کے بعدپوری طرح بيٹھ کر سجدے ميں جانے کے لئے تکبير کهے۔

٢) سجدے ميں جاتے وقت مرد پهلے اپنے ہاتھوں اور عورت پهلے اپنے گھٹنوں کو زمين پر رکھے۔

٣) ناک کو سجدہ گاہ یا کسی ایسی چيز پر رکھے جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو۔

۴) سجدے کی حالت ميں ہاتھ کی انگليوں کو ملا کر کانوں کے پاس روبہ قبلہ رکھے۔

۵) سجدے ميں دعا کرے،الله تعالیٰ سے حاجت طلب کرے اور یہ دعا پڑھے :

یَا خَيْرَالْمَسْئُوْلِيْنَ وَ یَا خَيْرَالْمُعْطِيْنَ ارْزُقْنِیْ وَارْزُقْ عِيَالِی مِنْ فَضْلِکَ الْوَاسِعِ فَإِنَّکَ ذُوالْفَضْل الْعَظِيْمِ “۔

ترجمہ: اے بہترین سوال سننے والے !اے بہترین عطا کرنے والے!مجھے اور ميرے اہل وعيال کو اپنے وسيع فضل وکرم سے رزق عطا فرما۔ بے شک تو صاحبِ فضلِ عظيم ہے ۔

۶) سجدے کے بعد بائيں ران پر بيٹھ جائے اور دائيں پاؤں کا اوپر والا حصہ بائيں پاؤں کے تلوے پر رکھے۔

٧) هرسجدے کے بعد جب بيٹھ جائے اوربدن کو سکون حاصل ہو جائے تو تکبير کهے۔

٨) پهلے سجدے کے بعد جب بدن کو سکون حاصل ہو جائے تو ”اَسْتَغْفِرُاللّهَ رَبِّی وَاَتُوْب اِلَيْهِ “کهے۔

٩) لمبا سجدہ کرے اور بيٹھتے وقت ہاتھوں کو رانوں پر رکھے۔

١٠ ) دوسرے سجدے ميں جانے کے لئے بدن کے سکون کی حالت ميں ”اللّٰہ اکبر “کهے۔

١١ ) سجدوں ميں صلوات پڑھے۔

١٢ ) سجدے سے قيام کے لئے اٹھ تے وقت ہاتھوں کو گھٹنوں کے بعد زمين سے اٹھ ائے۔

١٣ )مرد کهنيوں اور پيٹ کو زمين سے نہ لگائيں اور بازؤوں کو پهلو سے جدا رکہيں اور عورتيں کهنياں اور پيٹ زمين پر رکہيں اور بد ن کے اعضاء ایک دوسرے سے ملا ليں۔

ان کے علاوہ اور مستحبات بھی ہيں جنہيں تفصيلی کتابوں ميں تحریر کيا گيا ہے ۔

مسئلہ ١١٠١ سجدے ميں قرآن مجيد پڑھنا مکروہ ہے اور سجدے کی جگہ سے گردوغبار دور کرنے کے لئے پهونک مارنا بھی مکروہ ہے بلکہ اگر پهونک مارنے کی وجہ سے ایک حرف بھی منہ سے عمداً نکل جائے تو اس کا حکم مبطلات ششم نماز ميں ذکر ہوگا۔

ان کے علاوہ اور مکروہات کا ذکر بھی مفصل کتابوں ميں آیا ہے ۔


قرآن مجيد کے واجب سجدے

مسئلہ ١١٠٢ قرآن مجيد کی چار سورتوں یعنی ”والنجم“،”اقرا “ٔ، ”المٓ تنزیل“ اور ”حمٰٓ سجدہ (فصلت)“ ميں سے ہر ایک ميں ایک آیتِ سجدہ ہے جسے انسان پڑھے یا سنے تو آیت ختم ہو نے کے فوراً بعد سجدہ کرنا ضروری ہے اور اگر سجدہ کرنا بھول جائے تو جب بھی اسے یاد آئے سجدہ کرنا ٩٩٣ “اور” ٩٩ ۴ “ ميں بيان شدہ ”،“ ضروری ہے ، ليکن اگر وہ شخص حالت نمازميں ہو تو مسئلہ نمبر” ٩٩٢

طریقے کے مطابق عمل کرے۔ ہاں، غير اختياری حالت ميں سجدے والی آیت سننے پر احتياط مستحب یہ ہے کہ سجدہ کرے۔

مسئلہ ١١٠٣ اگر انسان سجدے کی آیت سننے کے وقت خود بھی وہ آیت پڑھے تو ضروری ہے کہ دو سجدے کرے۔

مسئلہ ١١٠ ۴ اگر نماز کے علاوہ سجدے کی حالت ميں کوئی شخص آیتِ سجدہ پڑھے یا سنے تو ضروری ہے کہ سجدے سے سر اٹھ ا کر دوبارہ سجدہ کرے۔

مسئلہ ١١٠ ۵ اگر انسان کسی غير مميز بچے سے جو اچھے اور بر ے کی تميز نہ رکھتا ہو یا کسی ایسے شخص سے جو قرآن پڑھنے کا قصد نہ رکھتا ہو یا گراموفون یا ٹيپ ریکارڈ سے سجدے کی آیت سنے تو اس پر سجدہ واجب نہيں ۔ ہاں، اگر کوئی شخص ریڈیو اسٹيشن سے براہ راست آیتِ سجدہ کو اس قصد سے پڑھے کہ یہ قرآن ہے اور انسان ریڈیو کے ذریعے اس آیت کو سنے تو اس پر سجدہ واجب ہے ۔

مسئلہ ١١٠ ۶ قرآن کا واجب سجدہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کی جگہ غصبی نہ ہو اور احتياط واجب کی بنا پر اس کی پيشانی رکھنے کی جگہ اس کے گھٹنوں اور پاؤں کی انگليوں کے سروں کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگليوں سے زیادہ اونچی نہ ہو۔ ليکن یہ ضروری نہيں کہ اس نے وضو یا غسل کر رکھا ہو یا قبلہ رخ ہو یا اپنی شرمگاہ کو چھپا ئے یا اس کا بدن اور پيشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔ اس کے علاوہ بھی جو شرائط نماز پڑھنے والے کے لباس کے لےے ضروری ہيں وہ شرائط قرآ ن مجيد کا واجب سجدہ اد اکرنے والے کے لباس کے لئے ضروری نہيں ہيں ۔

مسئلہ ١١٠٧ قرآن مجيد کے واجب سجدے ميں ضروری ہے کہ انسان اپنی پيشانی سجدہ گاہ یا کسی ایسی چيز پر رکھے جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو اور احتياط واجب کی بنا پر نماز کے سجدے ميں بيان شدہ طریقے کے مطابق باقی اعضاء بھی زمين پر رکھے۔

مسئلہ ١١٠٨ جب انسان قرآن مجيد کا سجدہ کرنے کے لئے پيشانی زمين پر رکھ دے تو خواہ کوئی ذکر نہ بھی پڑھے تب بھی کافی ہے ۔ ہاں، ذکر کا پڑھنا مستحب ہے اور بہتر ہے کہ یہ پڑھے:

لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ حَقًّاحَقًّا، لاَ اِلٰهَ اِلاَّاللّٰهُ اِیْمَاناًوَّتَصْدِیْقًا،لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ عُبُوْدِیَّةً وَ رِقًّا، سَجَدْتُ لَکَ یَا رَبِّ تَعَبُّدًا وَّ رِقًّا، لاَ مُسْتَنْکِفاً وَّلاَ مُسْتَکْبِرًا بَلْ اَنَا عْبَدٌ ذَلِيلٌضَعِيْفٌ خَائِفٌ مُّسْتَجِيْرٌ “۔


تشهد

مسئلہ ١١٠٩ تمام واجب اور مستحب نمازوں کی دوسری رکعت، نماز مغرب کی تيسری رکعت اور ظهر، عصر او ر عشا کی چوتھی رکعت ميں انسان کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے سجدے کے بعد تشهد پڑھے یعنی کهے:”اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُه اَللّٰهُمَّ صَل عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ “ اور احتياط واجب یہ ہے کہ مذکورہ طریقے کے علاوہ کسی اور طرح نہ پڑھے۔

نماز وتر ميں بھی تشهد پڑھنا ضروری ہے اور واجب نمازوں ميں ضروری ہے کہ دوسرے سجدے کے بعد بيٹھ جائے اور بدن کے سکون کی حالت ميں تشهد پڑھے، ليکن مستحب نمازوں ميں سجدے کے بعد بيٹھنا اور بدن کا ساکن ہونا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١١١٠ ضروری ہے کہ تشهد کے جملے صحيح عربی ميں اورمعمول کے مطابق تسلسل سے کهے جائيں۔

مسئلہ ١١١١ اگر کوئی شخص تشهد پڑھنا بھول جائے،اور رکوع سے پهلے یاد آئے کہ اس نے تشهد نہيں پڑھا تو ضروری ہے کہ بيٹھ جائے،تشهد پڑھے اور پھر دوبارہ کهڑ اہو کر جو کچھ اس رکعت ميں پڑھنا ضروری ہے پڑھے اور نماز تمام کرے اور احتياط مستحب کی بنا پر نماز کے بعد بے جا قيام کے لئے دو سجدئہ سهو بجا لائے۔

او راگر اسے رکوع ميں یا اس کے بعد یاد آئے تو ضروری ہے کہ نماز تما م کرے اور نماز کے سلام کے بعد احتياط مستحب کی بنا پر تشهد کی قضا کرے اور ضروری ہے کہ بھولے ہوئے تشهد کے لئے دو سجدئہ سهو بھی بجا لائے۔

مسئلہ ١١١٢ مستحب ہے کہ تشهد کی حالت ميں انسان بائيں ران پر بيٹھے، دائيں پاؤں کی پشت کو بائيں پاؤں کے تلوے پر رکھے، تشهد سے پهلے ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ یا ”بِسْمِ اللّٰه وَبِاللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَخَيْرُ اْلاَسْمَاءِلِلّٰهِ “ کهے۔ یہ بھی مستحب ہے کہ ہاتھ رانوں پر رکھے، انگلياں ایک دوسرے کے ساته ملائے اور اپنے دامن پر نگاہ رکھے اور پهلے تشهد ميں صلوات کے بعد کهے”وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَه وَارْفَعْ دَرَجَتَه “۔

مسئلہ ١١١٣ مستحب ہے کہ عورتيں تشهد پڑھتے وقت اپنی رانيں ملا کر رکہيں ۔


نماز کا سلام

مسئلہ ١١١ ۴ نماز کی آخری رکعت ميں تشهد کے بعد جب نماز ی بيٹھا ہو اور اس کا بدن سکون کی حالت ميں ہو تو مستحب ہے کہ کهے: ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکَ اَیُّهَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه “اور اس کے بعد ضروری ہے کہ کهے: ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ “، یا یہ کهے : ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ “ اور مستحب ہے کہ ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ “ کے ساته ”وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَا تُه “ کا اضافہ کرے اور اگر ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلیٰ عِبَاد اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ “ پهلے کهے تو مستحب ہے کہ اس کے بعد ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَا تُه “ بھی کهے۔

مسئلہ ١١١ ۵ اگر کوئی شخص نماز کا سلام کهنا بھول جائے اور اسے ایسے وقت یاد آئے جب ابهی نماز کی شکل ختم نہ ہوئی ہو اور اس نے کوئی ایسا کام بھی نہ کيا ہو جسے عمداًیا سهواًکرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے مثلاًقبلہ کی طرف پيٹھ کرنا، تو ضروری ہے کہ سلام کهے اور اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١١ ۶ اگر کوئی شخص نماز کا سلام کهنا بھول جائے اور اسے ایسے وقت یاد آئے جب اس نے کوئی ایسا کام کيا ہو جسے عمداً یا سهواً کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے مثلاً قبلے کی طرف پيٹھ کرنا، تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر ایسے وقت یاد آئے جب نماز کی شکل ختم ہو چکی ہو ليکن اس نے کوئی ایسا کام نہ کيا ہو جسے عمداًیاسهواً کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہو تو احتياط کی بنا پر اس کی نمازباطل ہے ۔

ترتيب

مسئلہ ١١١٧ جو شخص جان بوجه کو نماز کی ترتيب الٹ دے اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے مثلا سورے کو الحمد سے پهلے پڑھ لے، ليکن اگر ترتيب دو رکن کے علاوہ کسی چيز ميں الٹی ہو اور وہ شخص بھی جاہل قاصر ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١١٨ اگر کوئی شخص نماز کا کوئی رکن بھول کر اس کے بعد کا رکن انجام دے دے مثلا رکوع کرنے سے پهلے دو سجدے کر لے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١١٩ اگر کوئی شخص نماز کا کوئی رکن بھول جائے اور اس کے بعد والی ایسی چيز انجام دے دے جو رکن نہ ہو مثلاً اس سے پهلے کہ دو سجدے کرے تشهد پڑھ لے، تو ضروری ہے کہ رکن بجالائے اور جو کچھ بھول کر اس سے پهلے پڑھا تھا اسے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١١٢٠ اگر کوئی شخص ایک ایسی چيز بھول جائے جو رکن نہ ہو اور اس کے بعد کا رکن بجالائے مثلاً الحمد بھول جائے اور رکوع ميں چلا جائے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔


مسئلہ ١١٢١ اگر کوئی شخص ایک ایسی چيز بھول جائے جو رکن نہ ہو اور اس چيز کو بجالائے جو اس کے بعد ہو اور وہ بھی رکن نہ ہو مثلاً الحمدبھول جائے اور سورہ پڑھ لے، تو ضروری ہے کہ جو چيز بھول گيا ہو اسے بجا لائے اور اس کے بعد وہ چيزجو بھول کر پهلے پڑھ لی ہو دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١١٢٢ اگر کوئی شخص پهلا سجدہ اس خيال سے بجالائے کہ دوسرا سجدہ ہے یا دوسرا سجدہ اس خيال سے بجالائے کہ پهلا سجدہ ہے تو اس کی نماز صحيح ہے اور اس کا پهلا کيا ہو سجدہ،پهلا اور بعدميں کيا ہو اسجدہ، دوسرا سجدہ شمار ہو گا۔

موالات

مسئلہ ١١٢٣ ضروری ہے کہ انسان نماز موالات کے ساته پڑھے یعنی نماز کے افعال مثلا رکوع،سجود او رتشهد تسلسل کے ساته انجام دے اور ان کے درميان اتنا فاصلہ نہ ڈالے کہ نماز کی شکل ختم ہو جائے، اسی طرح جو چيز بھی نماز ميں پڑھے معمول کے مطابق تسلسل سے پڑھے اور اگر ان کے درميان اتنا فاصلہ ڈالے کہ اسے نماز پڑھنا نہ کها جائے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١٢ ۴ اگر کوئی شخص نماز ميں جان بوجه کر حروف یا الفاظ کے درميان اتنا فاصلہ دے کہ لفظ کی شکل یا الفاظ کی جملہ بندی ہی ختم ہو جائے تو اس کی نماز باطل ہے ،مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو اور فاصلہ اس قدر ہو کہ نماز کی شکل ختم نہ ہو اور تکبيرةالاحرام ميں بھی نہ ہو۔

اور اگر بھولے سے حروف یا الفاظ کے درميان فاصلہ دے اور فاصلہ اتنا نہ ہو کہ نماز کی شکل ختم ہوجائے اور تکبيرةالاحرام ميں بھی نہ ہو تو چنانچہ اگر وہ بعد والے رکن ميں مشغول نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ ان حروف یا الفاظ کو معمول کے مطابق دوبارہ پڑھے اور اگر ان کے بعد کوئی چيز پڑھ

چکا تھا تو اسے دوبارہ پڑھے اور اگر بعد والے رکن ميں مشغول ہو چکاہو تو اس کی نماز صحيح ہے اور اگر حروف یا جملوں کے بعد کوئی رکن نہ ہو جيسے کہ آخری رکعت کا تشهد،تو سلا م سے پهلے متوجہ ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ اس حصے اور اس کے بعد والی چيز کو دوبارہ پڑھے اور سلام کے بعد متوجہ ہو نے کی صورت ميں اس کی نماز صحيح ہے ۔

اور اگر سلام کے حروف یا الفاظ ميں اس قدر فاصلہ دے کہ موالات ختم ہو جائے تو اس کا حکم وهی ہے جو سلام بھول جانے کے سلسلے ميں مسئلہ نمبر” ١١١ ۵ “ اور” ١١١ ۶ “ ميں بيا ن کيا گيا ہے ۔

مسئلہ ١١٢ ۵ رکوع وسجود کو طول دینا اور بڑی سورتيں پڑھنا موالات کو نہيں توڑتا۔


قنوت

مسئلہ ١١٢ ۶ تمام واجب اور مستحب نمازوں کی دوسری رکعت ميں قرائت کے بعد اور رکوع سے پهلے قنوت پڑھنا مستحب ہے اور نمازِشفع ميں احوط یہ ہے کہ اسے”رجاء مطلوبيت“ کی نيت سے پڑھے اور نماز وتر کے ایک رکعت ہونے کے باوجودرکوع سے پهلے قنوت پڑھنا مستحب ہے ۔

نماز جمعہ کی ہر رکعت ميں ایک قنوت، نماز آیات ميں ۵ قنوت، نماز عيد فطر وقربان کی پهلی رکعت ميں ۵ اور دوسری رکعت ميں ۴ قنوت ہيں اور احتياط واجب یہ ہے کہ عيدالفطر وقربان کی نماز وں ميں قنوت ترک نہ کيا جائے۔

مسئلہ ١١٢٧ مستحب ہے کہ قنوت پڑھتے وقت ہاتھ چھرے کے سامنے اور ہتھيلياں ایک دوسرے کے ساته ملا کر آسمان کی طرف رکھے، انگوٹہوں کے علاوہ باقی انگليوں کو آپس ميں ملائے اور نگاہ ہتھيليوں پر رکھے۔

مسئلہ ١١٢٨ قنوت ميں جو ذکر،دعا یا مناجات بھی انسان کی زبان پر آجائے چاہے ایک” سُبْحَان اللّٰہِ “ ہی ہو تو کافی ہے اور بہتر ہے کہ یہ کهے :

لاَاِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ الْحَلِيْمُ الْکَرِیْمُ لاَاِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِيْمُ سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ السَّمٰوٰاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ اْلاَرَضِيْن السَّبْعِ وَ مَا فِيْهِنَّ وَ مَا بَيْنَهُنَّ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

مسئلہ ١١٢٩ مستحب ہے کہ انسان قنوت بلند آواز سے پڑھے، ليکن جو شخص جماعت کے ساته نماز پڑھ رہا ہو اور امام جماعت اس کی آواز سن رہا ہو، اس کا بلند آواز سے قنوت پڑھنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ١١٣٠ اگر کوئی شخص عمداًقنوت نہ پڑھے تو اس کی قضا نہيں ہے اور اگر بھول جائے اور رکوع کی حد تک جھکنے سے پهلے اسے یاد آجائے تو مستحب ہے کہ کهڑا ہو جائے اور قنوت پڑھے او راگرکوع ميں یاد آئے تو مستحب ہے کہ رکوع کے بعد قضا کرے اور اگر سجدے ميں یا د آئے تو مستحب ہے کہ سلام کے بعد اس کی قضا کرے۔


نماز کا ترجمہ

١۔سورہ حمد کا ترجمہ( بِسْمِ اللّٰه ) شروع کرتا ہو ں اس ذات کے نام سے جس ميں تمام کمالات یکجا ہيں ، جو ہر قسم کے عيب ونقص سے منزّہ ہے اور عقل جس ميں متحيّر ہے ۔

( اَلرَّحْمٰن ) جس کی رحمت وسيع او ر بے انتها ہے ، جواس دنيا ميں صاحبان ایمان اور کفار دونوں کے لئے ہے ۔

ا( َلرَّحِيْم ) جس کی رحمت ذاتی، ازلی اور ابدی ہے ،جوآخرت ميں صرف صاحبان ایمان کے لئے ہے ۔

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن ) تعریف صرف الله کے لئے ہے جو عالمين کا پالنے والاہے۔

( اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم ) (اس کا ترجمہ کيا جا چکا ہے )

( مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ) جو روزِ جزا کا مالک وحاکم ہے ۔

( اِیَّاکَ نَعْبُدُوَ اِیَّاکَ نَسْتَعِيْن ) ہم صرف تيری ہی عبادت کرتے ہيں اور صرف تجه ہی سے مددکے طلبگار ہيں ۔

( اهدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْم ) ہميں راہِ راست کی جانب هدایت فرما۔

( صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم ) ان لوگوں کے راستے کی جانب جنہيں تو نے نعمت عطا کی ہے (جو انبياء،ان کے جانشين، شهداء،صدیقين اور خدا کے شایستہ بندے ہيں )۔

( غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّآلِّيْن ) نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ ان کا راستہ جو گمراہ ہيں ۔

٢۔سورہ اخلاص کا ترجمہ

( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم ) اس کا ترجمہ کيا جا چکا ہے ۔

( قُلْ هو اللّٰهُ اَحَد ) اے محمد ((ص)) آپ کہہ دیجئے کہ وہ خدا یکتا ہے ۔

( اَللّٰهُ الصَّمَد ) وہ خدا جو تمام موجودات سے بے نياز ہے اور تمام موجودات اس کے محتاج ہيں ۔

( لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَد ) نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی کی اولاد ہے ۔

( وَلَمْ یَکُنْ لَّه کُفُوًا اَحَد ) کوئی بھی اس کی برابری کرنے والا نہيں ۔


٣۔رکوع، سجود اور ديگر اذکار کا ترجمہ

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ وَبِحَمْدِه ميرا عظيم پر وردگار ہر عيب ونقص سے پاک ومنزہ ہے اور ميں اس کی ستائش ميں مشغول ہوں۔

سُبْحَانَ رَبِّیَ اْلا عَْٔلیٰ وَبِحَمْدِه ميرا پروردگار تمام موجودات سے بالاتر ہے اور ہر عيب ونقص سے پاک ومنزہ ہے اور ميں اس کی ستائش ميں مشغول ہوں۔

سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه خدا ہر حمدوثنا کرنے والے کی ستائش کو سنے اور قبول کرے۔

اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ رَبِّیْ وَا تَُٔوْبُ اِلَيْه ميں اس خدا سے معافی کا طلب گار ہوں جو ميرا پالنے والا ہے اور جس کی طرف مجھے لوٹنا ہے ۔

بِحَوْلِ اللّٰهِ وَ قُوَّتِه ا قَُٔوْمُ وَا قَْٔعُد ميں الله تعالیٰ کی مدد اور قوت سے اٹھ تا اور بيٹھتا ہوں۔

۴ ۔قنوت کا ترجمہ

لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ الْحَلِيْمُ الْکَرِیْم کوئی خدا نہيں سوائے الله کے جو صاحب حلم وکرم ہے ۔

لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِيْم کوئی خدا نہيں سوائے الله کے جو بلند مرتبہ وبزرگ ہے ۔

سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ السَّمٰوٰاتِ السَّبْعِ وَ رَبِّ اْلاَرَضِيْنَ السَّبْع پاک ومنزہ ہے وہ خدا جو سات آسمانوں اور سات زمينوں کا پروردگار ہے ۔

وَمَا فِيْهِنَّ وَمَا بَيْنَهُنَّ وَ رَبِِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْم وہ ہر اس چيزکا پروردگار ہے جو آسمانوں اور زمينوں ميں اور ان کے مابين موجودهے،وہ عرش عظيم کا پروردگار ہے ۔

وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن حمد وثنا اس الله کے لئے مخصوص ہے جو تمام جهانوں کا پالنے والا ہے ۔

۵ ۔تسبيحات اربعہ کا ترجمہ

سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکْبَر الله

پاک ومنزہ ہے اور حمد وثنا اسی کے لئے ہے اور الله کے سوا کوئی معبود نہيں اوروہ اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی توصيف کی جائے۔


۶ ۔تشهد اور سلام کا ترجمہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اَشْهَدُ ا نَْٔ لاَ إِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ له حمدوثنا صرف الله کے لئے ہے اور ميں گواہی دیتا ہو ں کہ الله کے سوا کوئی معبود وخدا نہيں جو یکتا اورلا شریک ہے ۔

وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْله ميں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ((ص))الله کے بندے اور اس کے رسول ہيں ۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّد اے الله! محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما۔

وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَه وَارْفَعْ دَرَجَتَه پيغمبر کی شفاعت قبول فرما اور ان کا درجہ بلند فرما۔

اَلسَّلاَمُ عَلَيْکَ ا یَُّٔهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُه اے پيغمبر آپ پر درود وسلام ہو اور آپ پر الله کی رحمتيں اور برکتيں نازل ہوں۔

اَلسَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْن الله کی طرف سے ہم نماز پڑھنے والوں او ر اس کے تمام صالح بندوں پر سلامتی ہو۔

اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه تم پر خدا کی طرف سے درودوسلام اور رحمت و برکت ہو۔(اور یهاں”تم“سے مراد اس لفظ کے حقيقی معنی ہيں اگرچہ بعض روایات کے مطابق اس سے مراد دائيں بائيں جانب کے فرشتے اور مومنين ہيں )

تعقيباتِ نماز

مسئلہ ١١٣١ مستحب ہے کہ نماز پڑھنے کے بعد انسان کچھ دیر کے لئے تعقيبات یعنی ذکر، دعا اور قرآن مجيد پڑھنے ميں مشغول رہے اوربہتر یہ ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرنے اور وضو، غسل یا تيمم باطل ہونے سے پهلے، روبہ قبلہ ہو کر تعقيبات پڑھے۔تعقيبات کا عربی ميں پڑھنا ضروری نہيں ليکن بہتر ہے کہ دعاؤں کی کتب ميں بتلائی گئی دعاؤں کو پڑھے۔

تسبيح حضرت فاطمہ زهرا سلام الله عليها ان تعقيبات ميں سے ہے جن کی بہت زیادہ تاکيد کی گئی ہے ۔ یہ تسبيح اس ترتيب سے پڑھنی چاہيے: ٣ ۴ مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اس کے بعد ٣٣ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور اس کے بعد ٣٣ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔

مسئلہ ١١٣٢ انسان کے لئے مستحب ہے کہ نماز کے بعد سجدہ شکر بجالائے اور اتنا کافی ہے کہ شکر کی نيت سے پيشانی زمين پر رکھے، ليکن بہتر ہے کہ سومرتبہ،تين مرتبہ یا ایک مرتبہ شُکْرًالِلّٰہِ یا عَفْوًا کهے اور یہ بھی مستحب ہے کہ جب بھی انسان کو کوئی نعمت ملے یا مصيبت ٹل جائے سجدہ شکر بجالائے۔


پيغمبر اکرم(ص) پر صلوات

مسئلہ ١١٣٣ جب بھی انسان حضرت رسول اکرم(ص) کا اسم مبارک مثلاًمحمد(ص) اور احمد(ص)یا آنحضرت کا لقب وکنيت مثلاًمصطفی(ص)اور ابوالقاسم(ص)زبان سے ادا کرے یا سنے تو خواہ وہ نماز ميں ہی کيوں نہ ہو مستحب ہے کہ صلوات بھيجے۔

مسئلہ ١١٣ ۴ حضرت رسول اکرم(ص) کا اسم مبارک لکھتے وقت مستحب ہے کہ انسان صلوات بھی لکھے اور بہتر ہے کہ جب بھی آنحضرت(ص) کو یاد کرے تو صلوات بھيجے۔

مبطلات نماز

مسئلہ ١١٣ ۵ بارہ چيزیں نماز کو باطل کر دیتی ہيں اور انہيں مبطلات نمازکہتے ہيں :

١) نماز کے دوران نماز کے شرائط ميں سے کوئی شرط ختم ہو جائے مثلاًنماز پڑھتے وقت اسے معلوم ہو جائے کہ جس کپڑے سے اس نے شرمگاہ کو چھپا رکھا ہے وہ غصبی ہے ۔

٢) انسان نماز کے دوران عمداًیا سهواً یا مجبوری سے کسی ایسی چيز سے دو چار ہو جو وضو یا غسل کو باطل کر دیتی ہے مثلاًاس کا پيشاب خارج ہو جائے۔البتہ جو شخص اپنے آپ کو پيشاب یا پاخانہ خارج ہونے سے محفوظ نہ رکھ سکتا ہو اور حالت نماز ميں اس سے پيشاب یا پاخانہ خارج ہو جائے تو اگر اس نے احکام وضوميں بيان شدہ طریقے پر عمل کيا ہو تو اس کی نماز باطل نہيں ہوتی اسی طرح اگر حالت نماز ميں مستحاضہ عورت کو خون آجائے تو اگر وہ مستحاضہ کے لئے معين شدہ طریقے کے مطابق عمل کرتی رہی ہے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١٣ ۶ جس شخص کو بے اختيار نيند آجائے اگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ نيند حالت نماز ميں آگئی تھی یا اس کے بعد تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١١٣٧ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ وہ اپنی مرضی سے سویا تھا ليکن شک کرے کہ نماز کے بعد سویا تھا یا نماز کی حالت ميں یہ بھول گيا تھا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور سو گيا تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١٣٨ اگر کوئی شخص حالت سجدہ ميں نيند سے بيدار ہو اور شک کرے کہ یہ آخری سجدہ ہے یا سجدہ شکر تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

٣) انسان نماز کا حصہ سمجھتے ہوئے ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھے مگر یہ کہ جاہل قاصر ہو۔اسی طرح اگر بندگی کی نيت سے ہاتھ باندهے تب بھی احتياط واجب کی بنا پر نماز باطل ہے مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو۔


مسئلہ ١١٣٩ اگر کوئی شخص بھول کر، مجبوری سے،تقيہ کی وجہ سے یا کسی اور کام کے لئے مثلاًہاتھ کو کهجانے کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھے تو کوئی حرج نہيں ۔

۴) الحمد پڑھنے کے بعد دعا کے ارادے کے بغير یا نماز کا حصہ سمجھتے ہوئے آمين کهے بلکہ دعا کے ارادے سے بھی آمين کهنا محلِ اشکال ہے ، ليکن اگر جاہل قاصر ہو یا غلطی یا تقيہ کی وجہ سے آمين کهے تو کوئی حرج نہيں ۔

۵) جان بوجه کر قبلہ کی طرف پشت کر لے یا قبلے کی دائيں یا بائيں جانب گهوم جائے بلکہ اگر جان بوجه کر اتنی مقدار ميں گهومے کہ لوگ اسے روبہ قبلہ نہ کہيں خواہ وہ داہنی یا بائيں سمت تک نہ بھی پهنچا ہو، اس کی نماز باطل ہے ۔

جهاں تک بھول چوک کا تعلق ہے تو اگر داہنی یا بائيں سمت تک نہ پهنچا ہو تو اس کی نماز صحيح ہے اور اگر پهنچ جائے اور اسے یاد آجائے تو اس صورت ميں کہ نماز کا وقت خواہ ایک رکعت کے برابر ہی سهی، باقی ہوتو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر اتنا وقت باقی نہ ہو یا نماز کا وقت گزرنے کے بعد یاد آئے تو اس نماز کی قضا نہيں ہے ۔ البتہ اگر پشت قبلہ کی جانب ہو گئی ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ نماز قضا کرے۔

مسئلہ ١١ ۴ ٠ اگر کوئی شخص جان بوجه کر اپنا سر اتنا گهمائے کہ وہ قبلہ کی دائيں یا بائيں طرف یا اس سے زیادہ مڑ جائے تو اس کی نماز باطل ہے ، ليکن اگر اتنا گهمائے کہ لوگ یہ نہ کہيں کہ قبلہ سے مڑگيا ہے تو اس کی نماز باطل نہيں ہے اور اگر اتنا گهمائے کہ لوگ یہ کہيں کہ قبلہ سے منحرف ہو گيا ہے ليکن دائيں یا بائيں طرف نہ پهنچا ہو تو اگر ایسا کرنا جان بوجه کر ہو تو نماز باطل ہے اور اگر بھول کر ہو تو نماز صحيح ہے ۔

اور اگر بھول کر سر اتنا گهمائے کہ دائيں یا بائيں طرف پهنچ جائے اور اسے یاد آجائے تو اگر نماز کا وقت خواہ ایک رکعت کے برابر ہی سهی، باقی ہو تو احتيا ط واجب کی بنا پر نماز دوبارہ پڑھے اور اگر اتنا وقت باقی نہ ہو یا نماز کا وقت گزرنے کے بعد یاد آئے تو اس نماز کی قضا نہيں ہے اور اگر بھولے سے سر کو پشت بقبلہ کر ليا ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ نماز قضا کرے۔

۶) عمداً دو یا دو سے زیادہ حروف پر مشتمل کوئی ایسی بات کرے جس کے کوئی معنی ہوں چاہے اس معنی کا ارادہ بھی کيا ہو یا نہيں ، مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر اگر دو یا دو سے زیادہ حروف پر مشتمل کوئی ایسی بات کرے جس کے کوئی معنی نہ ہوں تو بھی نمازباطل ہے ۔هاں، ان تمام صورتوں ميں بھول کر بات کرنے ميں کوئی حرج نہيں ،ليکن ضروری ہے کہ دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١١ ۴ ١ اگر کوئی شخص ایسا لفظ کهے جس ميں ایک ہی حرف ہو چنانچہ اگر وہ لفظ معنی رکھتا ہو مثلاً”قِ“ کہ جس کے عربی زبان ميں ”حفاظت کرو“ کے معنی ہيں تو اس صورت ميں کہ وہ اس معنی کا قصد بھی رکھتا ہو،اس کی نماز باطل ہے ۔


اسی طرح اگر اس لفظ کے معنی جانتا ہو چاہے اس معنی کا قصد نہ رکھتا ہو یا اس کے کوئی معنی ہی نہ ہوں تو احتياط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١ ۴ ٢ نماز کی حالت ميں کهانسنے او رڈکار لينے ميں کوئی حرج نہيں ہے اور نماز کی حالت ميں جان بوجه کر آہ وزاری کرنا نماز کو باطل کر دیتا ہے مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو۔

مسئلہ ١١ ۴ ٣ اگر ایک شخص کوئی لفظ ذکر کے قصد سے کهے مثلاًذکر کے قصد سے اللّٰہ اکبر کهے اور اسے کہتے وقت آواز بلند کرے تاکہ دوسرے کو کسی چيز کی طرف متوجہ کرے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ليکن اگر کسی کو کوئی چيز سمجھانے کی نيت سے کهے یا سمجھانے اور ذکر دونوں کی نيت سے کهے تو اس کی نمازباطل ہے ، مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو اور وہ ذکر تکبيرة ا لاحرام نہ ہو۔هاں، اگر کوئی لفظ ذکر کے قصد سے کهے ليکن یہ قصد کوئی بات کسی کو سمجھانے کی وجہ سے کيا ہو تو اس کی نماز باطل نہيں ہے ۔

مسئلہ ١١ ۴۴ نماز ميں ان چار آیتوں کے علاوہ جن ميں سجدہ واجب ہے قرآن کی نيت سے،نہ کہ نمازکا حصہ ہونے کی نيت سے،قرآن پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ۔نيز نماز کی حالت ميں دعا کرنے ميں بھی کوئی حرج نہيں ، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان ميں دعا نہ کرے۔

مسئلہ ١١ ۴۵ اگر کوئی شخص نماز کا جز ہونے کی نيت کے بغير جا ن بوجه کر یا احتياط کے طور پر الحمد، سورہ یا اذکار نماز کے کسی حصے کی تکرار کرے تو کوئی حرج نہيں ليکن وسوسہ کی وجہ سے چند دفعہ تکرار کرے حر ام تو ہے ليکن اس کی وجہ سے نمازکا باطل ہونا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ١١ ۴۶ انسان کے لئے ضروری ہے کہ نماز کی حالت ميں کسی کو سلام نہ کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص اسے سلام کرے تو ضروری ہے کہ اسے اسی طریقے سے جواب دے مثلاًاگر وہ ”سلام عليکم“کهے تو جواب ميں یہ شخص بهی”سلام عليکم“ کهے مگر”عليکم السلام“کے جواب ميں احتيا ط واجب یہ ہے کہ”سلام عليکم“ ہی کهے۔

مسئلہ ١١ ۴ ٧ انسان کے لئے ضروری ہے کہ خواہ وہ نمازکی حالت ميں ہو یا نہ ہو سلام کا جواب فورا اس طرح دے کہ عرفاً اسے جواب سلام کها جائے اور اگر جان بوجه کر یا بھولے سے جواب دینے ميں اتنی دیر کرے کہ اسے جواب سلام نہ سمجھا جائے تو اگر وہ نماز کی حالت ميں ہو تو ضروری ہے کہ جواب نہ دے اور اگر حالت نمازميں نہ ہو تو جواب دینا واجب نہيں ۔

مسئلہ ١١ ۴ ٨ سلام کا جواب اس طرح دینا ضروری ہے کہ سلام کرنے والا سن لے، ليکن اگر سلام کرنے والا بهرا ہو یا سلام کرتا ہو ا تيزی سے گزر جائے تو عام طریقے سے اس کا جواب دینا کافی ہے ۔

مسئلہ ١١ ۴ ٩ ضروری ہے کہ نمازی سلام کے جواب کو احترا م کی نيت سے کهے،اگر چہ دعا کا قصد کر لينے ميں بھی کوئی حرج نہيں ۔


مسئلہ ١١ ۵ ٠ اگر نامحرم عورت یامرد یا مميز بچہ یعنی وہ بچہ جو اچھے برے کی تميز کر سکتا ہو، نماز ی کو سلام کرے تو ضروری ہے کہ نمازی اس سلام کا جواب دے او راگر عورت”سلام عليک“کہہ کر سلام کرے تو احتيا ط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نمازی”سلام عليک“ کهے اور”کاف “کو زیر یا زبر نہ دے۔

مسئلہ ١١ ۵ ١ اگر نمازی سلام کا جواب نہ دے تو اگرچہ اس نے گناہ کيا ہے ليکن اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١ ۵ ٢ اگر کوئی شخص نماز ی کو اس طرح غلط سلام کرے کہ اسے سلام سمجھا جائے تو اس کا جواب دینا واجب ہے اور احتيا ط واجب یہ ہے کہ اس سلام کا جواب صحيح دیا جائے ليکن اگر وہ سلام ہی نہ سمجھا جائے تو اس کا جواب دینا جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ١١ ۵ ٣ کسی ایسے شخص کے سلام کا جواب دینا جو مذاق اور تمسخر کے طور پر سلام کرے واجب نہيں ۔جب کہ احتياط واجب کی بنا پر غير مسلم مرد اور عورت کے سلام کا جواب دینا ضروری ہے اور ان کے جواب ميں انسان لفظ”سلام“ یا لفظ ”عليک“پر اکتفا کرے اگرچہ احوط یہ ہے کہ جواب ميں فقط لفظ ”عليک“کهے۔

مسئلہ ١١ ۵۴ اگر کوئی شخص چند افراد کو سلام کرے تو ان سب پر سلام کا جواب دینا واجب ہے ليکن اگر ان ميں سے ایک شخص بھی جواب دے دے تو کافی ہے ۔

مسئلہ ١١ ۵۵ اگر کوئی شخص چند افراد کو سلام کرے ليکن جسے سلام کرنے کا ارادہ نہ ہو وہ جواب دے دے تو باقی افراد کی ذمہ داری ختم نہيں ہوتی۔

مسئلہ ١١ ۵۶ اگر کوئی شخص چند افراد کو سلام کرے اور ان ميں سے جو شخص نماز ميں مشغول ہو وہ شک کرے کہ سلام کرے والے کا ارادہ اسے بھی سلام کرنے کا تھا یا نہيں تو ضروری ہے کہ جواب نہ دے اور اگر نمازپڑھنے والے کویقين ہو کہ اس شخص کا ارادہ اسے بھی سلام کرنے کا تھا ليکن کوئی شخص سلام کا جواب دے دے تو اس صورت ميں بھی یهی حکم ہے ، ليکن اگر نماز پڑھنے والے کو معلوم ہو کہ سلام کرنے والے کا ارادہ اسے بھی سلام کرنے کا تھا اور کوئی دوسرا جواب نہ دے تو ضرور ی ہے کہ وہ نمازی سلام کا جواب دے۔

مسئلہ ١١ ۵ ٧ سلام کرنا مستحب ہے اور روایات ميں تاکيد کی گئی ہے کہ سوار پيدل کو،کهڑا ہو ا شخص بيٹھے ہوئے کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔

مسئلہ ١١ ۵ ٨ اگر دو شخص آپس ميں ایک دوسرے کو سلام کریں تو احتياط کی بنا پر ضروری ہے کہ ان ميں سے ہر ایک دوسرے کے سلام کا جواب دے۔

مسئلہ ١١ ۵ ٩ نماز کی حالت کے علاوہ مستحب ہے کہ انسان سلام کا جواب اس سے بہتر الفاظ ميں دے مثلاً اگر کوئی شخص”سلام عليکم“کهے تو جواب ميں ”سلام عليکم ورحمةاللّٰہ“کهے۔


٧) آواز کے ساته جان بوجه کر هنسے مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو اور اگر جان بوجه کر بغير آواز سے یا سهو ا آواز کے ساته هنسے تو اس کی نماز ميں کوئيحرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١١ ۶ ٠ اگر هنسی کی آواز روکنے کی وجہ سے کسی شخص کی حالت بدل جائے مثلاًاس کا رنگ سرخ ہو جائے تو نماز کو دهرانا ضروری نہيں مگر یہ کہ کوئی اور مانع پيش آجائے مثلاًنماز کی شکل ہی ختم ہو جائے۔

٨) احتياط واجب کی بنا پر دنياوی کاموں کے لئے گریہ کرنا مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو اور اگر خوف خدا یا آخرت کے لئے روئے تو یہ بہترین اعمال ميں سے ہے ۔

٩) کوئی بھی ایسا کام کرنا جس سے نماز کی شکل اس طرح تبدیل ہو جائے کہ پھر عرفاً اسے نماز پڑھنا نہ کها جاسکےمثلاًاچھلنا،کودنا وغير ہ چاہے عمداہویا بھولے سے، ليکن اس کام ميں کوئی حرج نہيں جس سے نماز کی شکل تبدیل نہ ہو تی ہو مثلاًہاتھ سے اشارہ کرنا۔

مسئلہ ١١ ۶ ١ اگر کوئی شخص نماز کے دوران اتنی دیر خاموش ہو جائے کہ اسے نماز پڑھنا نہ کها جاسکے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١ ۶ ٢ اگر کوئی شخص نمازکے دوران کوئی کام کرے یا کچھ دیر خاموش رہے او ر شک کرے کہ اس کی نماز ٹوٹ گئی یا نہيں تو ضروری ہے کہ نماز کو دهرائے،اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز پوری کرے اور پھر دوبارہ پڑھے۔

١٠ ) کھانا اور پينا پس اگر کوئی شخص نماز کے دوران اس طرح کها ئے یاپيئے کہ لوگ اسے نمازپڑھنا نہ کہيں تو خواہ جان بوجه کر ہو یا بھولے سے اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے ، ليکن اگر اس طرح سے کھائے یا پيئے کہ اسے نماز پڑھنا کها جائے تو اگر یہ کام جان بوجه کر ہو تو احتياط کی بنا پر نماز باطل ہے ليکن اگر جاہل قاصر ہو یا بھولے سے اس طرح کھائے پيئے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

اور جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اگر وہ صبح کی اذان سے پهلے نماز وتر پڑھ رہا ہو اور پياسا ہو اور اسے ڈر ہو کہ نماز کو پورا کرتے ہوئے صبح ہو جائے گی تو اگر پانی اس کے سامنے دو تين قدم کے فاصلے پر ہو تو وہ پانی پی سکتا ہے ليکن ضروری ہے کہ کوئی ایسا کام جو نماز کو باطل کر تا ہے مثلاًقبلے سے منہ پهيرنا،انجام نہ دے۔

مسئلہ ١١ ۶ ٣ اگر کوئی شخص نماز کے دوران منہ یا دانتوں کے درميان ميں رہ جانے والی غذا نگل لے تو اس کی نماز باطل نہيں ہوتی۔ اسی طرح اگر مصری،چينی یا ان ہی جيسی کوئی چيز منہ ميں رہ گئی ہو اور نماز کی حالت ميں آهستہ آهستہ گهل کر پيٹ ميں چلی جائے تو کوئی حرج نہيں ۔

١١ ) نماز ی دو رکعتی مثلاًصبح و مسافر کی نماز یا تين رکعتی نماز کی رکعتوں یا چار رکعتی نمازوں کی پهلی دو رکعتوں کے بارے ميں شک کرے جب کہ نماز پڑھنے والا شک کی حالت پر باقی بھی رہے۔


١٢ ) جان بوجه کر یا بھولے سے نماز کے واجبات رکنی ميں سے کسی کو کم کر دے یا جان بوجه کر کسی واجب غير رکنی کو کم یا زیادہ کر دے مگر یہ کہ وہ جاہل قاصر ہو۔اسی طرح اگر رکوع یا ایک ہی رکعت کے دو سجدے عمداًیا سهواًزیادہ کردے تو اس کی نماز باطل ہے ليکن تکبيرةالاحرام کو بھول کر زیادہ کرنا نماز کو باطل نہيں کرتا۔ بلکہ اگر جاہل قاصر جان بوجه کر تکبيرةالاحرام زیادہ کر دے تو بھی اس کی نماز کا باطل ہو نا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ١١ ۶۴ اگر نماز کے بعد شک کرے کہ دوران نماز اس نے نمازکو باطل کرنے والا کوئی کام انجام دیا تھا یا نہيں تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

وہ چيزيں جو نماز ميں مکروہ ہيں

مسئلہ ١١ ۶۵ نماز ميں اپنا چہرہ دائيں یا بائيں جانب اتنا موڑنا کہ لوگ یہ نہ کہيں کہ اس نے اپنا منہ قبلہ سے موڑ ليا ہے مکروہ ہے ، ورنہ جيسا کہ بيان ہو چکا ہے اس کی نماز باطل ہے ۔

یہ بھی مکروہ ہے کہ کوئی شخص نماز ميں اپنی آنکہيں بند کر ے یا دائيں اور بائيں طرف گهمائے،اپنی داڑھی اور ہاتھوں سے کھيلے،انگلياں ایک دوسرے ميں داخل کرے،تهوکے یا قرآن مجيد یا کسی اور کتاب یاانگوٹھی کی تحریر کو دیکھے ۔

یہ بھی مکروہ ہے کہ الحمد،سورہ اور ذکر پڑھتے وقت کسی کی بات سننے کے لئے خاموش ہو جائے بلکہ ہر وہ کام جو خضوع و خشوع کوختم کر دے مکروہ ہے ۔

مسئلہ ١١ ۶۶ جب انسان کو نيند آرہی ہو یا جب اس نے پيشاب یا پاخانہ روک رکھا ہو نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ اسی طرح نماز کی حالت ميں ایسا تنگ موزہ پهننا بھی مکروہ ہے جو پاؤں کو دبا ے۔ان کے علاوہ دوسرے مکروہات بھی ہيں جو تفصيلی کتابوں ميں بيان کئے گئے ہيں ۔

وہ صورتيں جن ميں واجب نماز توڑ ی جا سکتیہے

مسئلہ ١١ ۶ ٧ اختياری حالت ميں واجب نماز کو توڑنا حرام ہے ، ليکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچنے کے لئے نماز توڑنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٨ اگر انسا ن کی اپنی جان کی حفاظت یا جس کی جان کی حفاظت واجب ہے یا ایسے مال کی حفاظت جس کی نگهداشت واجب ہے ،نماز توڑے بغير ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز توڑدے۔

مسئلہ ١٠ ۶ ٩ اگر کوئی شخص وسيع وقت ميں نماز پڑھنے لگے اور قرض خواہ اس سے اپنے قرض کا مطالبہ کرے اور وہ اس کا قرضہ نماز کے دوران اد ا کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسی حالت ميں اس کا قرضہ ادا کر دے اور اگر بغير نماز توڑے ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو توڑ کر اس کا قرضہ ادا کرے اور بعد ميں نماز پڑھے۔


مسئلہ ١١٧٠ اگر نماز کے دوران معلوم ہو کہ مسجد نجس ہے ، چنانچہ اگر وقت تنگ ہو تو ضرور ی ہے کہ نمازکوتمام کرے اور اگر وقت وسيع ہو اور مسجد پاک کرنے سے نماز نہ ٹوٹتی ہو تو ضروری ہے کہ نماز کے دوران اسے پاک کرے اور باقی نماز بعد ميں پڑھے اور اگر نماز ٹوٹ جاتی ہو اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن ہو تو نماز توڑنا جائز نہيں ہے ، ليکن اگر مسجد کا نجس رہنا مسجد کی بے حرمتی کا باعث ہو یا نماز کے بعد مسجد پاک کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز توڑ دے اور مسجد کو پاک کرنے کے بعد نماز پڑھے۔

مسئلہ ١١٧١ جس شخص کے لئے نماز کا توڑنا ضروری ہو اگر وہ نماز مکمل کرے تو گنهگار ہونے کے باوجود اس کی نماز صحيح ہے ، اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ ١١٧٢ اگر کسی شخص کو رکوع کی حد تک جھکنے سے پهلے یاد آجائے کہ وہ،اذان اور اقامت کهنا بھول گيا ہے اور نماز کا وقت وسيع ہو تو مستحب ہے کہ انہيں کهنے کے لئے نماز توڑدے۔

اسی طرح اگر اسے قرائت سے پهلے یاد آجائے کہ اقامت کهنا بھول گيا ہے ۔

شکياتِ نماز

شکياتِ نمازکی ٢٣ قسميں ہيں ۔ ان ميں سے آٹھ قسميں نماز کو باطل کر دیتی ہيں ، اگرچہ ان ميں سے بعض ميں نماز کا باطل ہو نا احتياط کی بنا پر ہے اور چھ اس قسم کے شک ہيں جن کی پرواہ نہيں کرنی چاہيے اور باقی نو قسم کے شک صحيح ہيں ۔

وہ شک جو نماز کو باطل کر ديتے ہيں

مسئلہ ١١٧٣ نماز کو باطل کرنے والے شک یہ ہيں :

١) دو رکعتی واجب نماز مثلاًصبح اور مسافر کی نماز کی رکعتوں کی تعداد کے بارے ميں شک۔ البتہ مستحب نماز اور نمازِاحتيا ط کی رکعتوں کی تعداد کے بارے ميں شک نماز کو باطل نہيں کرتا۔

٢) تين رکعتی نماز کی رکعت کی تعداد کے بارے ميں شک۔

٣) چار رکعتی نماز ميں یہ شک کہ آیا ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ۔

۴) چار رکعتی نماز ميں دوسرے سجدے کا ذکر مکمل ہونے سے پهلے یہ شک کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا زیادہ۔

۵) نماز کی رکعتوں ميں یہ شک کہ معلوم ہی نہ ہو کہ کتنی رکعتيں پڑھی ہيں ۔

۶) دو اور پانچ یا دو اور پانچ سے زیادہ رکعتوں کے درميان شک،ليکن اس شک ميں احتياط واجب یہ ہے کہ دو رکعت سمجھ کر نماز مکمل کر کے دوبارہ پڑھے۔


٧) تين اور چھ یا تين اور چھ سے زیادہ رکعتوں کے درميان شک،ليکن اس شک ميں احتياط واجب یہ ہے تين رکعت پر بنا رکھ کر نماز مکمل کر کے دوبارہ پڑھے۔

٨) چار اور چھ یا چار اور چھ سے زیادہ رکعتوں کے درميان شک، ليکن اس صورت ميں احتياط واجب یہ ہے کہ چار رکعت پر بنا رکھ کر نماز مکمل کر کے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١١٧ ۴ اگر انسان کو نماز باطل کرنے والے شکوک ميں سے کوئی شک پيش آئے تو ضروری ہے کہ جب تک اس کا شک پکا نہ ہوجائے غوروفکر کرے اور اس کے بعد اس کو اختيار ہے کہ نماز کو توڑ دے، مگر بہتر ہے کہ جب تک نمازکی صورت ختم نہ ہو جائے غورو فکر کرتا رہے۔

وہ شک جن کی پروا نهيں کرنی چاہئے

مسئلہ ١١٧ ۵ جن شکوک کی پروا نہيں کرنی چاہيے وہ یہ ہيں :

١) اس چيز ميں شک جس کے بجالانے کا وقت گزر گيا ہو مثلاًانسان رکوع ميں شک کرے کہ اس نے الحمد پڑھی ہے یا نہيں ۔

٢) سلامِ نماز کے بعد شک۔

٣) نماز کا وقت گزر جانے کے بعد کا شک۔

۴) کثيرالشک کا شک یعنی اس شخص کا شک جو بہت زیادہ شک کرتا ہو۔

۵) رکعتوں کی تعداد کے بارے ميں امام جماعت کا شک جب کہ ماموم ان کی تعداد جانتا ہو اور اسی طرح ماموم کا شک جب کہ امامِ جماعت نماز کی رکعتوں کی تعداد جانتا ہو۔

۶) مستحب نمازوں اور نمازِاحتياط ميں شک۔

١۔جس فعل کا موقع گزر گيا ہو اس ميں شک کرنا

مسئلہ ١١٧ ۶ اگر نماز کے دوران کوئی شک کرے کہ نماز کے واجب افعال ميں سے کوئی فعل انجام دیا ہے یا نہيں مثلاًالحمد پڑھی ہے یا نہيں اور اس کے بعد والے کام ميں مشغول نہيں ہو اہو تو ضروری ہے کہ جس کے بجا لانے ميں شک ہے اسے بجا لائے اور اگر اس کے بعد والے کام ميں مشغول ہو چکا ہو مثلاًسورہ پڑھتے وقت شک کرے کہ الحمد پڑھی تھی یا نہيں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ١١٧٧ اگر نماز ی کوئی آیت پڑھتے وقت شک کرے کہ اس سے پهلے والی آیت پڑھی ہے یا نہيں یا جس وقت آیت کا آخری حصہ پڑھ رہا ہو شک کرے کہ اس کا پهلا حصہ پڑھا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔


مسئلہ ١١٧٨ اگر نمازی رکوع یا سجود کے بعد شک کرے کہ ان کے واجب افعال مثلاًذکر پڑھنا اور اپنے بدن کو سکون کی حالت ميں رکھنا،اس نے انجام دئے ہيں یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ١١٧٩ اگر کوئی شخص سجدے ميں جاتے ہوئے شک کرے کہ رکوع کيا یانہيں تو احتياط واجب کی بنا پر اس کے لئے ضروری ہے کہ واپس پلٹے او رکھڑ ا ہونے کے بعد رکوع بجا لائے اور نماز کو مکمل کرے، نيز نماز کا اعادہ بھی کرے،ليکن اگر شک یہ ہو کہ رکوع کے بعد کهڑا ہو ا تھا یا نہيں تو ضروری ہے کہ واپس پلٹ کر کهڑا ہو جائے اور اس کے بعدسجدے ميں جائے اور نماز مکمل کرے۔

مسئلہ ١١٨٠ اگر نمازی کهڑا ہوتے وقت شک کرے کہ سجدہ یا تشهد بجا لایا یا نہيں تو ضروری ہے کہ واپس پلٹے اور سجدہ یا تشهد بجا لائے۔

مسئلہ ١١٨١ جو شخص بيٹھ کر یا ليٹ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر الحمد یا تسبيحات پڑھتے وقت شک کرے کہ سجدہ یا تشهد بجا لایا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر الحمد یا تسبيحات ميں مشغول ہونے سے پهلے شک کرے کہ سجدہ یا تشهد بجا لایا ہے یا نہيں تو چنانچہ وہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس کی حالت مثلاً ”بيٹھنا “آیا قيا م کے بدلے ميں ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ واپس پلٹے اور جس چيز کے بارے ميں شک تھا اسے بجا لائے او ر اگر یہ جانتا ہو کہ یہ ”بيٹھنا “قيام کے بدلے ميں ہے تو اگر شک تشهد کے بارے ميں تھا تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ قربت مطلقہ، یعنی وجوب یا استحباب کے قصد کے بغير بجالائے اور اس کی نماز صحيح ہے اور اگر شک سجدے کے بارے ميں ہو تو احتياط واجب کی بنا پر نماز کو مکمل کرے اور دوبارہ بجالائے۔

مسئلہ ١١٨٢ اگر نمازی شک کرے کہ نماز کا کوئی واجب رکن انجام دیا یا نہيں اور اس کے بعد والے فعل ميں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اسے بجا لائے مثلاًاگرتشهد پڑھنے سے پهلے شک کرے کہ دو سجدے بجا لایا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ بجا لائے اور اگر بعد ميں اسے یاد آجائے کہ وہ اس رکن کو انجا م دے چکا تھا تو اگر وہ رکن،رکوع یا دو سجدے ہوں تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١٨٣ اگر نمازی شک کرے کہ وہ اس عمل کو جو نماز کا رکن نہيں ہے بجا لایا ہے یا نہيں او راس کے بعد آنے والے فعل ميں مشغول نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ اسے بجا لائے مثلاًاگر سورہ پڑھنے سے پهلے شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ الحمد پڑھے اوراگر اسے انجام دینے کے بعد یاد آجائے کہ اسے پهلے ہی انجام دے چکا تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١٨ ۴ اگر نمازی شک کرے کہ رکن بجا لایا ہے یا نہيں اور بعد والے فعل ميں مشغول ہو چکا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے مثلاًتشهد پڑھتے وقت یہ شک کرے کہ دو سجدے بجا لایا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔اب اگر بعد ميں اسے یاد آئے کہ اس رکن کو انجام نہيں دیا تھا


تو اگر وہ رکن تکبيرة الاحرام ہو تو اس کی نماز باطل ہے خواہ وہ بعد والے رکن ميں مشغول ہو چکا ہو یا نہيں اور اگر تکبيرة الاحرام کے علاوہ کوئی رکن ہو تو اگر وہ بعد والے رکن ميں مشغول نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ اسے بجا لائے اور اگر بعد والے رکن ميں مشغول ہو چکا ہو تو ا س کی نماز باطل ہے مثلاًاگر اسے اگلی رکعت کے رکوع سے پهلے یاد آجائے کہ دو سجدے بجا نہيں لایا ہے تو ضروری ہے کہ بجا لائے ااور اگر رکوع ميں یا اس کے بعد یاد آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١٨ ۵ اگر نمازی شک کرے کہ ایک غير رکنی عمل بجا لایا ہے یا نہيں اور اس کے بعد والے عمل ميں مشغول ہو چکا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے مثلاًجس وقت سورہ پڑھ رہا ہو شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر اسے کچھ دیر ميں یاد آجائے کہ اس عمل کو انجام نہيں دیا تھا اور ابهی بعد والے رکن ميں مشغول نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ اس عمل کو بجا لائے اور اگر بعد والے رکن ميں مشغول ہو چکا ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ۔اس بنا پر مثلاًاسے قنوت ميں یاد آجائے کہ اس نے الحمد نہيں پڑھی تھی تو ضروری ہے کہ پڑھے اور اگر یہ بات اسے رکوع ميں یاد آئے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١١٨ ۶ اگر نمازی شک کرے کہ اس نے نماز کا سلام پڑھا ہے یا نہيں تو اگر وہ دوسری نماز پڑھنے ميں مشغول ہو چکا ہو یا کوئی ایسا کام انجام دینے کی وجہ سے جو نماز کی صورت ہی ختم کر دیتا ہے ،حالت نماز سے خارج ہو گيا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر ان صورتوں سے پهلے شک کرے تو ضروری ہے کہ سلام نماز پڑھے خواہ وہ تعقيبات نماز ميں مشغول ہو چکا ہو۔هاں، اگر شک یہ ہو کہ سلا م صحيح پڑھا ہے یا نہيں تو کسی بھی صورت ميں اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

٢۔سلام کے بعد شک کرنا

مسئلہ ١١٨٧ اگر نمازی نماز کے سلام کے بعد شک کرے کہ اس کی نمازصحيح تھی یا نہيں مثلا وہ شک کرے کہ آیا اس نے رکوع کيا تھا یا نہيں یا چار رکعتی نماز کے سلام کے بعد شک کرے کہ آیا چار رکعت پڑھی ہے یا پانچ رکعت،تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مشهور علما نے فرمایاہے : ”اگرنماز ی کے شک کی دونوں صورتيں صحيح نہ ہو ں مثلاًسلام کے بعد نمازی شک کرے کہ آیا تين رکعت پڑھی ہے یا پانچ رکعت،تو اس کی نمازباطل ہے “۔ليکن یہ حکم اشکال سے خالی نہيں اور احتيا ط واجب یہ ہے کہ اس صورت ميں ایک رکعت کا اضافہ کرے او ر نماز کے سلام کے بعد دو سجدہ سهو بجا لائے اور نماز دوبارہ پڑھے۔


٣۔ وقت کے بعد شک کرنا

مسئلہ ١١٨٨ اگر کوئی شخص نماز کا وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز پڑھی ہے یا نہيں یا اسے گمان ہو کہ نہيں پڑھی تو اس نماز کا پڑھنا ضروری نہيں ، ليکن اگر وقت گزرنے سے پهلے شک کرے کہ نماز پڑھی ہے یا نہيں تو خواہ گمان کرے کہ پڑھ چکا ہے پھر بھی ضروری ہے کہ نماز پڑھے۔

مسئلہ ١١٨٩ اگر کوئی شخص وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز صحيح پڑھی ہے یا نہيں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ١١٩٠ اگر نماز ظہر وع-صر کا وقت گزر جانے کے بعد نماز ی جانتا ہو کہ اس نے چار رکعت نمازتو پڑھی ہے ليکن یہ نہ جانتا ہو کہ ظہر کی نيت سے پڑھی ہے یا عصر کی نيت سے تو ضروری ہے کہ چار رکعت قضانماز اس نماز کی نيت سے پڑھے جو اس پر واجب ہے ۔

مسئلہ ١١٩١ اگر مغرب اور عشا کی نمازکا وقت گزر جانے کے بعد نماز ی جانتا ہوکہ اس نے ایک نماز پڑھی ہے ليکن وہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس نے تين رکعت پڑھی ہے یا چار رکعت تو ضروری ہے کہ وہ مغرب اور عشا دونوں نمازوں کی قضاکرے۔

۴ ۔کثيرالشک کا شک کرنا

مسئلہ ١١٩٢ کثير الشک وہ شخص ہے جسے عرفاً زیادہ شک کرنے والا کها جائے اور جس شخص کی حالت یہ ہو کہ ہر تين پے در پے نمازوں ميں کم از کم ایک مرتبہ شک کرتا ہو تو یہ شخص کثيرالشک ہے اور اگر زیادہ شک کرنا غصے،خوف یا پریشانی کی وجہ سے نہ ہو تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ١١٩٣ اگر کثير الشک نماز کے اجزاء یا شرائط ميں سے کسی چيز کی انجام دهی کے بارے ميں شک کرے تو ضروری ہے کہ وہ یهی سمجھے کہ اسے انجام دے چکا ہے مثلاً اگر شک کرے کہ رکوع کيا ہے یا نہيں تو سمجھے کہ رکوع کرچکا ہے اور اگر کسی ایسی چيز کی انجام دهی کے بارے ميں شک کرے جو مبطل نماز ہے مثلاًشک کرے کہ صبح کی نمازدو رکعت پڑھی ہے یا تين رکعت تو یهی سمجھے کہ نماز صحيح پڑھی ہے ۔

مسئلہ ١١٩ ۴ جو شخص نماز کی کسی خاص چيز ميں زیادہ شک کرتا ہو،اگر اس کے علاوہ کسی دوسری چيز ميں شک کرے تو ضروری ہے کہ اس چيز ميں شک کے احکام پر عمل کرے مثلاًجس شخص کو زیادہ تر شک یہ ہو تا ہو کہ سجدے کئے ہيں یا نہيں ،اگر وہ رکوع بجا لانے ميں شک کرے تو ضروری ہے کہ اس شک کے احکام پر عمل کرے یعنی اگر ابهی سجدے ميں نہ گيا ہو تو رکوع کرے اور اگر سجدے ميں چلا گيا ہو تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔


مسئلہ ١١٩ ۵ جو شخص کسی مخصوص نماز مثلاً ظہر کی نماز ميں زیادہ شک کرتا ہو اگر وہ عصر کی نمازميں شک کرے تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔

مسئلہ ١١٩ ۶ جو شخص کسی مخصوص جگہ پر نماز پڑھتے وقت زیادہ شک کرتا ہو اگر وہ کسی دوسری جگہ نماز پڑھے اور اسے شک پيدا ہو تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔

مسئلہ ١١٩٧ اگر کسی شخص کو اس بارے ميں شک ہو کہ وہ کثير الشک ہو گيا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے اور کثير الشک کو جب تک یقين نہ ہو جائے کہ وہ عام لوگوں کی حالت پر لوٹ آیا ہے ،اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ١١٩٨ اگر کثير الشک شک کرے کہ ایک رکن بجا لایا ہے یا نہيں اور وہ اس کی پروا نہ کرے او ر بعد ميں اسے یاد آجائے کہ وہ رکن بجا نہيں لایا اور وہ رکن تکبيرة الاحرام ہو تو نماز باطل ہے خواہ بعد والے رکن ميں مشغول ہو چکا ہو یا نہيں اور اگر تکبيرةالاحرام کے علاوہ کوئی رکن ہو تو اور اگر وہ بعد والے رکن ميں مشغول نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ اس رکن کو بجا لائے اور اگر بعد والے رکن ميں مشغول ہو تو اس کی نمازباطل ہے ۔مثلاً اگر شک کرے کہ رکوع کيا ہے یا نہيں اور پروا نہ کرے تو اگر دوسرے سجدے سے پهلے یا د آجائے تو ضروری ہے کہ وہ واپس پلٹے اور رکوع کرے اور اگر دوسرے سجدے ميں یاد آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١١٩٩ اگر کثيرالشک کسی ایسے عمل کی انجام دهی کے بارے ميں شک کرے جو رکن نہيں اور اس شک کی پروا نہ کرے اور بعد ميں اسے یا د آئے کہ وہ عمل انجام نہيں دیا تھا اور اسے انجام دینے کے مقام سے ابهی نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اسے انجا م دے او ر اگر اس مقام سے گزر گيا ہو تو اس کی نمازصحيح ہے مثلاًاگر شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہيں اور شک کی پروا نہ کرے مگر قنوت پڑھتے وقت اسے یاد آجائے کہ الحمد نہيں پڑھی تو ضروری ہے کہ الحمد پڑھے اور اگر رکوع ميں یاد آئے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

۵ ۔پيش نماز اور مقتدی کا شک

مسئلہ ١٢٠٠ اگر امام جماعت نماز کی رکعتوں کی تعداد کے بارے ميں شک کرے مثلاً شک کرے کہ تين رکعتيں پڑھی ہيں یا چار رکعتيں او ر مقتدی کو یقين یا گمان ہو کہ مثلاًچار رکعتيں پڑھی ہيں اور وہ یہ بات امام جماعت کے علم ميں لے آئے تو امام کے لئے ضروری ہے کہ نماز کو تما م کرے او رنماز احتياط کا پڑھنا ضروری نہيں اور اگر امام کو یقين یا گمان ہو کہ کتنی رکعتيں پڑھی ہيں او ر مقتدی نماز کی رکعتوں کے بارے ميں شک کرے تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔


۶ ۔مستحب نمازميں شک

مسئلہ ١٢٠١ اگر کوئی شخص مستحب نماز کی رکعتوں کی تعداد ميں شک کرے تو اگر شک کی زیادتی والی طرف نماز کو باطل کرتی ہو تو ضرور ی ہے کہ کم والی طرف پر بنا رکھے مثلاً اگر صبح کی نافلہ ميں شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا تين تو ضروری ہے کہ دو پر بنا رکھے اور اگر شک کی زیادتی والی طرف نماز کو باطل نہيں کرتی ہو مثلاًشک کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہے یا ایک رکعت تو شک کی جس طرف عمل کرے اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢٠٢ رکن کی کمی مستحب نمازوں کو باطل کر دیتی ہے ليکن رکن کا اضافہ اسے باطل نہيں کرتا،لہٰذا اگر مستحب نماز کے افعال ميں سے کوئی فعل بھول جائے اور یہ بات اسے اس وقت یاد آئے جب وہ اس کے بعد والے رکن ميں مشغول ہو چکا ہو تو ضروری ہے کہ اس فعل کو انجام دے اور دوبارہ اس رکن کو انجام دے مثلاًاگر رکوع کے دوران اسے یاد آئے کہ الحمد نہيں پڑھی تو ضروری ہے کہ واپس لوٹے اور الحمد پڑھے اور دوبارہ رکوع ميں جائے۔

مسئلہ ١٢٠٣ اگر کوئی شخص مستحبی نماز کے افعال ميں کسی فعل کی انجام دهی کے بارے ميں شک کرے خواہ وہ فعل رکنی ہو یا غير رکنی چنانچہ اس کا موقع نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اسے انجام دے اور اگر موقع گزر گيا ہو تو اس کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ ١٢٠ ۴ اگر کسی شخص کو دو رکعتی مستحب نماز ميں تين یا تين سے زیادہ رکعت کے پڑھ لينے کا گمان ہو تو اس کی نماز صحيح ہے ليکن اگر دو یا اس سے کم رکعت کا گمان ہو تو ضروری ہے کہ اسی گمان پر عمل کرے مثلاًاگر اسے گمان ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے تو ضروری ہے کہ ایک رکعت اور پڑھے۔

مسئلہ ١٢٠ ۵ اگر کوئی شخص مستحب نماز ميں کوئی ایسا کام کرے جس کے لئے واجب نماز ميں سجدہ سهو واجب ہو جاتا ہے یا ایک سجدہ یا تشهد بھول جائے اور نماز کے سلام کے بعد اسے یاد آئے تو اس کے لئے سجدہ سهو یا قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢٠ ۶ اگر کوئی شخص شک کرے کہ مستحب نماز پڑھی ہے یا نہيں اور اس کا کوئی وقت مقرر نہ ہو جيسے حضرت جعفرِ طيار عليہ السلام کی نماز، تو وہ یهی سمجھے کہ وہ نماز نہيں پڑھی اور اگر اس نماز کا وقت مقررہ ہو جيسے روزانہ کی نمازوں کے نوافل اور وقت گزرنے سے پهلے شک کرے کہ اسے انجام دیا ہے یا نہيں تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ، ليکن اگر وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ وہ نماز پڑھی ہے یا نہيں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔


صحيح شکوک

مسئلہ ١٢٠٧ اگر کسی کو چار رکعتی نماز کی تعداد کے بارے ميں شک ہو تو نو صورتوں ميں ضروری ہے کہ غور وفکر کرے اور احتياط واجب کی بنا پر فکر کرنے ميں تا خير نہ کرے۔ پس اگر اسے شک کی کسی ایک طرف کے بارے ميں یقين یا گمان ہو جائے تو ضروری ہے کہ اسی طرف کو اختيار کرے اور نماز کو ختم کرے ورنہ آنے والے احکام کے مطابق عمل کرے:

اور وہ نو صورتيں یہ ہيں :

١) دوسرے سجدے کا واجب ذکر ختم ہونے کے بعد شک کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا تين،اس صورت ميں ضروری ہے کہ تين رکعت پر بنا رکھتے ہوئے ایک رکعت اور پڑھ کر نماز کو مکمل کرے۔ نيز نماز کے بعد ایک رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر بجا لائے۔

٢) دوسرے سجدے کا واجب ذکر ختم ہونے کے بعد شک کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا چار رکعتيں،کہ اس صورت ميں اگرچہ اس اختيار کی بھی گنجائش ہے کہ یا نئے سرے سے نماز پڑھے یا چار پر بنارکھتے ہوئے نماز کو مکمل کرکے نماز احتياط بجا لائے ليکن احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ چار رکعت پر بنا رکھ کر نماز مکمل کرے اور بعد ميں دو رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر بجا لائے۔

٣) دوسرے سجدے کا واجب ذکر ختم ہونے کے بعد شک کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا تين یا چار، کہ اس صورت ميں ضروری ہے کہ چار رکعت پر بنا رکھ کر نمازمکمل کرے اور بعد ميں دو رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر اور پھر دو رکعت بيٹھ کر بجا لائے۔

۴) دوسرے سجدے کا واجب ذکر ختم ہونے کے بعد شک کرے کہ چار رکعتيں پڑھی ہيں یا پانچ، کہ اس صورت ميں ضروری ہے کہ چار رکعت پر بنا رکھ کر نماز کو مکملکرے اور بعد ميں دو سجدہ سهو بجا لائے۔

ليکن اگر نماز ی کو پهلے سجدے کے بعد یا دوسر ے سجدے کا واجب ذکر ختم ہونے سے پهلے مذکورہ چار شکوک ميں سے کوئی ایک شک پيش آجائے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

۵) نماز کے دوران کسی وقت بھی تين اور چار رکعت کے درميان شک ہو تو اس صورت ميں ضروری ہے کہ چار رکعت پر بنا رکھ کر نماز کو مکمل کرے اور مشهور قول کے مطابق بعد ميں ایک رکعت نمازِ احتياط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بيٹھ کر بجا لائے ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ دو رکعت بيٹھ کر بجا لانے کو اختيار کرے۔


۶) قيام کے دوران چار اور پانچ رکعت کے درميان شک کرے، کہ اس صورت ميں ضروری ہے کہ بيٹھ جائے اور تشهد اور سلام بجا لائے اور مشهور قول کے مطابق بعد ميں ایک رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بيٹھ کر بجا لائے، ليکن احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ دو رکعت بيٹھ کر بجا لانے کو اختيار کرے۔

٧) قيام کے دوران تين اور پانچ رکعت کے درميان شک، کہ اس صورت ميں ضروری ہے کہ بيٹھ کر تشهد وسلام بجا لائے اور بعد ميں دو رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر بجا لائے۔

٨) قيام کے دوران تين، چاراور پانچ رکعت کے درميان شک،کہ اس صورت ميں ضروری ہے کہ بيٹھ جائے اور تشهد وسلام بجا لائے اور دو رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر اور بعد ميں دو رکعت بيٹھ کر بجا لائے۔

٩) قيام کے دوران پانچ اور چھ رکعت کے درميان شک کرے، کہ اس صور ت ميں ضروری ہے کہ بيٹھ جائے اور تشهد وسلام بجا لائے اور دو رکعت سجدہ سهو بھی بجا لائے۔

نيزاحتياط مستحب کی بنا پر ان آخری چار صورتوں ميں بے جا قيام کے لئے دو سجدہ سهو اور بجا لائے۔

مسئلہ ١٢٠٨ اگر کسی شخص کوصحيح شکوک ميں سے کوئی شک پيش آجائے تو اس کے لئے نماز توڑنا جائز نہيں بلکہ ضروری ہے کہ اس شک کے احکام پر عمل کرے اور اگر اس شک کے احکام پر عمل نہ کرے اور کوئی ایسا کام انجام دینے سے پهلے جو نماز کو باطل کر دیتا ہے مثلاًقبلہ سے پھر جانا، دوسری نماز پڑھنا شروع کر دے تو اس کی دوسری نماز بھی باطل ہے ۔ ہاں، اگر نماز باطل کرنے والے کسی کام کو انجام دینے کے بعد دوسری نمازشروع کرے تو اس کی دوسری نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢٠٩ اگر کسی شخص کو نمازميں ایک ایسا شک پيش آجائے جس کی وجہ سے نماز احتيا ط واجب ہو جاتی ہوتو اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ نماز مکمل کرنے کے بعد نماز احتياط بجا لائے اور نئے سرے سے دوسری نماز نہ پڑھے اور اگر وہ نماز احتياط نہ پڑھے اور کوئی ایسا کام انجام دینے سے پهلے جو نمازکو باطل کر دیتا ہے دوسری نماز پڑھنا شروع کر دے تو اس کی دوسری نماز بھی باطل ہے ۔ ہاں، اگر نماز باطل کرنے والا کوئی کام انجام دینے کے بعد دوسری نماز شروع کرے تو اس کی دوسری نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢١٠ جب نمازکو باطل کرنے والے شکوک ميں سے کوئی شک انسان کو لاحق ہو جائے اور وہ جانتا ہو کہ بعد کی حالت ميں منتقل ہو جانے پر اس کے لئے یقين یا گمان پيدا ہو جائے گا تو اس کے لئے شک کی حالت ميں نماز جاری رکھنا جائز نہيں ہے ۔ مثلاًاگر قيام کی حالت ميں شک کرے کہ نماز ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ اور وہ یہ جانتا ہو کہ اگر رکوع ميں چلا جائے تو اس کے لئے کسی ایک طرف کا یقين یا گمان پيدا ہو جائے گا تو اس شخص کے لئے اس حالت ميں رکوع کرنا جائز نہيں ۔


مسئلہ ١٢١١ جب صحيح شکوک ميں سے کوئی شک انسان کو لاحق ہو جائے تو جيساکہ بيان کيا جاچکا ہے احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ فوراً غور و فکر کرے۔هاں،وہ چيزیں جن کی وجہ سے ممکن ہے کہ شک کی کسی ایک طرف یقين یا گمان ہو جائے اگر ختم نہ ہوتی ہوں اور فکر کرنے ميں تهوڑی سی دیر کر دے پھر بھی کوئی حرج نہيں مثلاًاگر وہ سجدے ميں کوئی شک کرے تو وہ سجدے کے بعد تک فکر کرنے ميں تاخير کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٢١٢ اگر پهلے کسی شخص کا گمان ایک طرف ہو اور پھر اس کی نظر ميں دونوں اطراف برابر ہو جائيں تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے اور اگر پهلے اس کی نظر ميں دونوں اطراف برابر ہوں اور اپنی ذمہ داری کے مطابق ایک طرف کو اختيا ر کرے اور بعد ميں اس کا گمان دوسری طرف چلا جائے تو ضروری ہے کہ وہ اسی طرف کو اختيار کرلے اور اپنی ذمہ داری کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ١٢١٣ جو شخص یہ نہ جانتا ہو کہ اس کا ایک طرف گمان ہے یا دونوں اطراف اس کی نظر ميں برابر ہيں تو ضروری ہے کہ وہ شک کے احکام پر عمل کرے او ر احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر شک صحيح شکوک ميں سے ہو اور نمازِاحتياط کا موقع ہو اور اس کا گمان بھی زیادہ پر ہو تو نماز گمان کے مطابق تمام کر کے نماز احتياط پڑھے اور اگر شک صحيح شکوک ميں سے نہ ہو یا گمان کم پر ہو تو نماز گمان کے مطابق مکمل کر کے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١٢١ ۴ جو شخص نمازکے بعد یہ تو جانتا ہو کہ نمازکے دوران وہ شک کی حالت ميں تھا مثلاً اسے شک تھا کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا تين رکعتيں اور اس نے تين رکعتوں پر بنا رکھی تھی ليکن اسے یہ نہ معلوم ہو کہ اس کے گما ن ميں تين رکعتيںتہيں يا دونوں اطراف اس کی نظر ميں برابر تهے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ نمازِ احتياط پڑھے۔

مسئلہ ١٢١ ۵ اگر تشهد پڑھتے وقت یا کھڑے ہونے کے بعد شک کرے کہ پچهلی رکعت کے دو سجدے اد ا کئے تهے یا نہيں اور اسی وقت اسے ان شکوک ميں سے کوئی شک لاحق ہو جائے جواگر دو سجدے مکمل ہونے کے بعد لاحق ہوتا تو صحيح ہوتا مثلاً وہ شک کرے کہ ميں نے دو رکعتيں پڑھی ہيں یا تين اور وہ اسی شک کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢١ ۶ اگر تشهد ميں مشغول ہونے سے پهلے یا بغير تشهد والی رکعتوںميں کھڑے ہونے سے پهلے نمازی شک کرے کہ ایک یا دو سجدے بجا لایا ہے یا نہيں اور اسی حالت ميں اس کو ان شکوک ميں سے کوئی شک لاحق ہو جائے جو دو سجدےمکمل ہونے کے بعد صحيح ہے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٢١٧ اگر نمازی قيام کی حالت ميں تين اور چار رکعتوں کے درميان یا تين اور چار اور پانچ رکعتوں کے درميان شک کرے اور اسے یہ یاد آجائے کہ اس نے پچهلی رکعت کا ایک سجدہ یا دونوں سجدے ادا نہيں کيے تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ١٢١٨ اگر کسی کا ایک شک زائل ہو جائے اور کوئی دوسرا شک اسے لاحق ہو جائے مثلاًشک کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا تين اور بعد ميں شک کرے کہ تين رکعتيں پڑھی ہيں یا چار تو ضروری ہے کہ وہ دوسرے شک کے احکام پر عمل کرے۔

مسئلہ ١٢١٩ جو شخص نمازکے بعد شک کرے کہ نماز کی حالت ميں مثال کے طور پر اس نے دو اور چار رکعتوں کے درميان شک کيا تھا یا تين اور چار رکعتوں کے درميان،تو وہ نمازکو کالعدم قرار دے سکتا ہے اور ضروری ہے کہ نماز کو باطل کرنے والا کوئی کام مثلاً قبلہ سے منہ پهيرنا یا جان بوجه کر گفتگو کرنا، انجام دینے کے بعد نماز دوبارہ پڑھے۔

اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ دونوں شکوک کے احکام پر عمل کرنے کے بعد نماز دهرائے۔

مسئلہ ١٢٢٠ جوشخص نمازکے بعد یہ تو جانتا ہو کہ نمازکی حالت ميں اسے کوئی شک لاحق ہو گيا تھاليکن یہ نہ جانتا ہو کہ وہ شک نماز کو باطل کرنے والے شکوک ميں سے تھا یا صحيح شکوک ميں سے تھا او ر اگر صحيح شکوک ميں سے بھی تھا تو اس کا تعلق صحيح شکوک کی کون سی قسم ميں سے تھا تو اس کے لئے جائز ہے کہ نمازکو کالعدم قرار دے اور نماز کو باطل کرنے والا کوئی کام انجا م دینے کے بعد دوبارہ نمازپڑھے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ صحيح شکوک کے وظيفے پر عمل کرنے کے بعد نماز کو دهرائے۔

مسئلہ ١٢٢١ جو شخص بيٹھ کر نمازپڑھ رہا ہو اگر اسے ایسا شک لاحق ہو جائے جس کے لئے اسے ایک رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بيٹھ کر پڑھنا ضروری ہو تو ضروری ہے کہ وہ ایک رکعت بيٹھ کر پڑھے اور اگر وہ ایسا شک کرے جس کے لئے اسے دو رکعت نماز احتياط کھڑے ہو کر پڑھنی چاہئے تو ضروری ہے کہ دو رکعت بيٹھ کر پڑھے۔

مسئلہ ١٢٢٢ جو شخص کهڑا ہو کر نمازپڑھ رہا ہو اگر وہ نماز احتياط پڑھتے وقت کهڑا ہونے سے عاجز ہو جائے تو ضروری ہے کہ نماز احتياط اس شخص کے حکم کے مطابق پڑھے جو بيٹھ کر نماز پڑھتا ہو جس کا حکم پچهلے مسئلے ميں بيان ہو چکا ہے ۔

مسئلہ ١٢٢٣ جو شخص بيٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر وہ نمازاحتياط پڑھنے کے وقت کهڑا ہو سکے تو ضروری ہے کہ اس شخص کے وظيفے کے مطابق عمل کرے جو کھڑے ہو کر نمازپڑھتا ہے ۔

نماز احتياط

مسئلہ ١٢٢ ۴ جس شخص پرنماز احتياط پڑھنا واجب ہو ضروری ہے کہ وہ نماز کے سلام کے بعد فوراً نمازاحتياط کی نيت کرے اور تکبير کهے، پھر الحمد پڑھے، رکوع ميں جائے اور دو سجدے بجالائے۔پس اگر اس پر ایک رکعت نماز احتياط واجب ہو تو دو سجدوں کے بعد تشهد اور سلام پڑھے اور اگر اس پر دو رکعت نمازاحتياط واجب ہو تو دو سجدوں کے بعد پهلی رکعت کی طرح ایک اور رکعت بجا لائے اور تشهد کے بعد سلام پڑھے۔

مسئلہ ١٢٢ ۵ نماز احتياط ميں سورہ اور قنوت نہيں ہے ۔ضروری ہے کہ یہ نمازآهستہ پڑھے اور ا س کی نيت زبان پر نہ لائے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اس کی بسم الله بھی آهستہ پڑھے۔


مسئلہ ١٢٢ ۶ اگر کسی شخص کو نماز احتياط پڑھنے سے پهلے یہ معلوم ہو جائے کہ جو نماز پڑھی تھی وہ صحيح تھی تو نماز احتياط پڑھنا ضروری نہيں اور اگر نماز احتياط کے دوران اس بات کا علم ہو جائے تو اس نمازکو مکمل کرنا ضروری نہيں ،البتہ اسے دو رکعت نمازنافلہ کی نيت سے مکمل کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٢٢٧ اگر نماز احتياط پڑھنے سے پهلے نمازی کو معلوم ہو جائے کہ اس نے نمازکی رکعتيں کم پڑھی ہيں اور نماز پڑھنے کے بعد اس نے نمازکو باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو تو ضروری ہے کہ نمازکا جو حصہ نہ پڑھا ہو اسے پڑھے اور احتياط واجب کی بنا پر بے جا سلام کے لئے دو سجدہ سهو بجا لائے۔

اور اگر اس نے نماز کو باطل کرنے والاکوئی کام انجام دیا ہومثلاً قبلے کی طرف پشت کی ہو،تو ضروری ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١٢٢٨ اگر کسی کو نمازاحتياط کے بعد معلوم ہو کہ اس کی نمازميں کمی نماز احتياط کے برابر تھی مثلاً دو اور چاررکعتوں کے درميان شک کی صورت ميں دو رکعت نماز احتياط پڑھے اور بعد ميں معلوم ہو کہ اس نے نماز کی دو رکعتيں پڑھی تہيں تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢٢٩ اگر کسی شخص کو نماز احتياط پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نماز ميں جو کمی ہوئی تھی وہ نماز احتياط سے کم تھی مثلاً دو رکعت اور چار رکعتوں کے درميان شک کی صورت ميں دو رکعت نمازاحتياط پڑھے اور بعد ميں معلوم ہو کہ اس نے نماز کی تين رکعتيں پڑھی تہيں تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١٢٣٠ اگر کسی شخص کو نماز احتياط پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ اس کی نماز ميں کمی نماز احتياط سے زیادہ تھی اور نماز احتياط کے بعد اس نے کوئی ایسا کام کيا ہو جو نمازکوباطل کر دیتا ہے مثلاً قبلے کی طرف پشت کی ہو،تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر کوئی ایسا کام نہ کيا هو جو نمازکو باطل کرتا ہو تو احتياط واجب کی بنا پرنمازميں جو کمی ہوئی تھی اس کو ملاتے ہوئے نمازکو مکمل کرے،نيز اصل نمازاور نماز احتياط ميں بے جا سلام پڑھنے کی وجہ سے اور اس طرح کی پيش آنے والی دوسری چيزوں ميں سے ہر ایک کے لئے دو سجدہ سهو بجا لائے او ر نماز بھی دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١٢٣١ اگر کوئی شخص دو، تين اور چار رکعتوں ميں شک کرے اور کھڑے ہو کر دو رکعت نمازاحتياط پڑھنے کے بعد اسے یاد آئے کہ اس نے نمازکی دو رکعتيں پڑھی تہيں تو اس کے لئے بيٹھ کردو رکعت نماز احتياط پڑھنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٢٣٢ اگر کوئی شخص تين اور چار رکعتوں ميں شک کرے اور جس وقت وہ دو رکعت نماز احتيا ط بيٹھ کر پڑھ رہا ہو رکوع سے پهلے اسے یاد آئے کہ نمازتين رکعت پڑھی ہے تو ضروری ہے کہ جو کچھ اس نے پڑھا ہو اسے شمار نہ کرے اور احتياط واجب کی بنا پر کهڑا ہو جائے اور جو کمی نماز ميں ہوئی ہو اسے پورا کرے اور بے جا سلام کی وجہ سے دو سجدہ سهو بجا لائے اور اگر بے جا تشهد


انجام دیا ہوتو اس کے لئے بھی دو سجدہ سهو بجا لائے اور نماز بھی دوبارہ پڑھے اور اگر پهلے رکوع کے بعد اسے یاد آئے تو اس کی نمازباطل ہے ۔

مسئلہ ١٢٣٣ جو شخص دو، تين اور چار رکعتوں کے درميان شک کرے او ر جس وقت وہ دو رکعت نماز احتياط کهڑا ہو کر پڑھ رہا ہو دوسرے رکوع ميں جانے سے پهلے اسے یاد آئے کہ اس نے نمازتين رکعت پڑھی تھی تو احتياط واجب کی بنا پر بيٹھ جائے اور نماز احتياط کو ایک رکعت پر تمام کرے اور بے جا سلام کی وجہ سے دو سجدہ سهو اور بے جا تشهد کے لئے بهی، اگر تشهد پڑھا ہو،دو سجدہ سهو بجا لائے۔نيز نماز کا اعادہ بھی کرے۔

مسئلہ ١٢٣ ۴ اگر کسی شخص کو نمازاحتياط کے دوران معلوم ہو کہ اس کی نماز ميں کمی نماز احتياط سے زیادہ یا کم تھی اور وہ نماز احتياط اس طریقے سے ادا نہ کر سکتا ہو کہ نماز کی کمی پوری ہوجائے مثلاًتين اور چار رکعت کے درميان شک کی صورت ميں جس وقت وہ دو رکعت نماز احتياط بيٹھ کر پڑھ رہا ہو اسے یاد آجائے کہ نماز دو رکعت پڑھی ہے تو اس صورت ميں چونکہ بيٹھ کر دو رکعت نماز احتياط پڑھنے کو کھڑے ہو کر دو رکعت پڑھنے کے برابر شمار نہيں کرسکتاہے لہٰذا ضروری ہے کہ نماز احتياط کو چھوڑ دے اور احتياط واجب کی بنا پر نماز کی کمی کو پورا کرے اور بے جا سلام کی وجہ سے دو سجدہ سهو اور بے جا تشهد کی وجہ سے بهی، اگر تشهد پڑھا ہو،دو سجدہ سهو بجا لائے۔

نيز نمازدوبارہ پڑھے۔ یہ حکم اس وقت ہے جب اسے یہ بات رکوع سے قبل ہی معلوم ہو گئی ہو اور اگر رکوع کے بعد معلوم ہوئی ہو تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١٢٣ ۵ اگر کوئی شخص شک کرے کہ جو نماز احتياط اس پر واجب تھی وہ اسے بجا لایا ہے یا نہيں تو نماز کا وقت گزر جانے کی صورت ميں اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر وقت باقی ہو تو اگر شک اور نماز کے درميان زیادہ وقفہ بھی نہ گزرا ہو اور اس نے نماز کو باطل کرنے والا کوئی کام جيسے قبلہ سے منہ موڑنا،بهی انجام نہ دیا ہو تو ضروری ہے کہ نماز احتياط پڑھے اور اگر نمازکو باطل کرنے والا کوئی کام کر چکا ہو یا نمازاور شک کے درميان زیادہ وقفہ ہو گيا ہو تو احتياط واجب کی بنا پر نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٢٣ ۶ اگر کوئی شخص نمازاحتياط ميں ایک رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھ لے یا کسی رکن کا اضافہ کر دے تو نماز احتياط باطل ہے اور دوبارہ اصل نماز پڑھنا ضرور ی ہے ۔

مسئلہ ١٢٣٧ اگر کسی شخص کو نمازاحتياط پڑھتے ہوئے اس نمازکے افعال ميں سے کسی کے متعلق شک ہو جائے تو اگر اس کا وقت نہ گزرا ہو تو اسے انجام دینا ضروری ہے اور اگر وقت گزر گيا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے مثلاًاگر شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہيں اور ابهی رکوع ميں نہ گيا ہو تو ضروری ہے کہ الحمد پڑھے اور اگر رکوع ميں جا چکا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پر وا نہ کرے۔


مسئلہ ١٢٣٨ اگر کوئی شخص نمازاحتياط کی رکعتوں ميں شک کرے اور زیادہ رکعتوں کی طرف والا شک نماز کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ اپنی نماز کی بنياد کم رکعتوں پر رکھے اور اگر زیادہ رکعتوں کی طرف والا شک نماز کو باطل نہ کرتا ہو تو نماز کی بنا زیادہ رکعات پر رکھے، مثلاً جب وہ دو رکعت نماز احتياط پڑھ رہا ہو اگر شک کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں یا تين تو چونکہ زیادہ کی طرف والا شک نماز کو باطل کرتا ہے اس لئے اسے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس نے دو رکعتيں پڑھی ہيں اور اگر شک کرے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتيں پڑھی ہيں تو چونکہ زیادتی کی طرف والا شک نماز کو باطل نہيں کرتا اس لئے اسے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس نے دو رکعتيں پڑھی ہيں ۔

مسئلہ ١٢٣٩ اگر نماز احتياط ميں غلطی سے کوئی ایسا عمل کم یا زیادہ کردے جو رکن نہ ہو تو اس کے لئے سجدہ سهو کی ضرورت نہيں ،سوائے ان چيزوں کے جن کا تذکرہ مسئلہ نمبر ” ١٢ ۴ ١ “ ميں کيا جائے گا۔

مسئلہ ١٢ ۴ ٠ اگر نماز احتياط کے سلام کے بعد نماز کے اجزاء یا شرائط ميں سے کسی کے بارے ميں شک کرے کہ اسے انجام دیا ہے یا نہيں تو وہ اپنے شک کی پر وا نہ کرے۔

مسئلہ ١٢ ۴ ١ اگر کوئی شخص نمازاحتياط ميں تشهد پڑھنا یا ایک سجدہ کرنا بھول جا ئے اور اس تشهد یا سجدے کا اپنی جگہ پر بجا لانا بھی ممکن نہ ہو تو نماز کے سلام کے بعدتشهدبھولنے کے صورت ميں احتياط مستحب یہ ہے کہ اس کی قضا کرے اور ضروری ہے کہ دو سجدہ سهو بجا لائے اور سجدہ بھولنے کے صورت ميں ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے ۔

مسئلہ ١٢ ۴ ٢ اگر کسی شخص پر نماز احتياط کے ساته ایک سجدے یا تشهد کی قضا،یا دو سجدہ سهو واجب ہوجائيں تو ضروری ہے کہ پهلے نماز احتياط بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۴ ٣ نماز کی رکعتوں کے بارے ميں گمان یقين ہی کی طرح ہے مثلاًاگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ نماز ایک رکعت پڑھی ہے یا دو اور وہ گمان کرے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں تو وہ سمجھے کہ دو رکعتيں پڑھی ہيں اور اگر چار رکعتی نمازميں گمان کرے کہ چار رکعتيںپڑھی ہيں تو اسے نمازاحتياط پڑھنے کی ضرورت نہيں ۔البتہ افعال کے بارے ميں گمان شک کی طرح ہے لہذاگر اسے گمان ہو کہ رکوع کر چکا ہے اور وہ سجدے ميں داخل نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ رکوع انجام دے اور اگر اسے گمان ہو کہ الحمد نہيں پڑھی اور سورے ميں داخل ہو چکا ہو تو اپنے گمان کی پروا نہ کرے اور نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۴۴ روزانہ کی واجب نمازوں اور دوسری نمازوں ميں شک، سهو اور گمان کے حکم ميں کوئی فرق نہيں ہے ۔ مثلاًاگر کسی شخص کو نماز آیات کے دوران شک ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتيں تو چونکہ اس کا شک دو رکعتی نماز ميں ہے لہٰذا اس کی نماز باطل ہے اور اگر وہ گمان کرے کہ دو رکعت پڑھی ہيں یا ایک رکعت پڑھی ہے تو اپنے گمان کے مطابق نماز کو تمام کرے۔


سجدہ سهو

مسئلہ ١٢ ۴۵ ضروری ہے کہ انسان پانچ چيزوں کے لئے اس طریقے کے مطابق جس کا بيان آئندہ ہو گا سلام نماز کے بعد دو سجدہ سهو بجا لائے:

١) نماز کے دوران سهواًکلام کرنا۔

٢) تشهد بھول جانا۔

٣) چار رکعتی نماز ميں دوسرے سجدے کا واجب ذکر ختم ہونے کے بعد شک کرنا کہ چار رکعت پڑھی ہے یا پانچ یا حالت قيام ميں پانچ اور چھ رکعت کے درميان شک کرنا جيسا کہ مسئلہ نمبر ١٢٠٧ “کی چوتھی اور نویں صورت ميں گزر چکا ہے ۔ ”

۴) احتياط واجب کی بنا پر جهاں سلام نہيں پڑھنا چاہئے،وہاں بھول کر سلام پڑھنا، مثلاً پهلی رکعت ميں سلام پڑھے۔

۵) احتياط واجب کی بنا پر ایک سجدہ بھول جانا اور یهی حکم ہر اس چيز کا ہے جو نمازميں غلطی سے کم یا زیادہ ہو گئی ہو۔

اور احتياط مستحب یہ ہے کہ جهاں بيٹھنا ضروری ہو اگر وہاں کهڑا ہو جائے یا جهاں کهڑا ہونا ضروری ہو اگر وہاں بيٹھ جائے تو دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۴۶ اگر انسا ن غلطی سے یا اس خيال سے کہ وہ نمازپڑھ چکا ہے کلام کرے تو احتياط کی بنا پر ضروری ہے کہ دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۴ ٧ اس آواز کے لئے جو کهانسنے اور آہ بهرنے سے پيدا ہو تی ہے سجدہ سهو واجب نہيں ہے ۔ ہاں، اگر غلطی سے مثلاًلفظ ”آخ“یا ’ ’ آہ “کهے تو سجدہ سهو بجا لانا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۴ ٨ اگر کوئی شخص ایک ایسی چيز جو اس نے غلط پڑھی ہو دوبارہ صحيح طریقے سے پڑھے تو اس کے غلط پڑھنے پر سجدہ سهو واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۴ ٩ اگر کوئی شخص نمازميں غلطی سے کچھ دیر باتيں کرتا رہے اور عموماًاسے ایک مرتبہ بات کرنا سمجھا جاتا ہو تو اس کے لئے نمازکے سلام کے بعد دو سجدہ سهو کافی ہيں ۔

مسئلہ ١٢ ۵ ٠ اگر کوئی شخص غلطی سے تسبيحات اربعہ نہ پڑھے تو احتياط واجب یہ ہے کہ نماز کے بعد دو سجدہ سهو بجا لائے۔


مسئلہ ١٢ ۵ ١ جهاں نماز کا سلام نہيں کهنا چاہئے اگر کوئی شخص غلطی سے ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْنَا وَ عَلیٰ عِبَادِاللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ “ یا ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهُ وَ بَرَکَاتُه

کہہ _______دے تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ دو سجدہ سهو بجا لائے، بلکہ اگر غلطی سے ان دو سلاموں کی کچھ مقدار پڑھ لے تب بھی یهی حکم ہے ۔البتہ اگر غلطی سے ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ“ کہہ دے تو احتياط مستحب کی بنا پر دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۵ ٢ جهاں سلام نہيں پڑھنا چاہئے وہاں اگرکوئی شخص غلطی سے تينوں سلام پڑھ لے تو اس کے لئے دو سجدہ سهو کافی ہيں ۔

مسئلہ ١٢ ۵ ٣ جو شخص ایک سجدہ یا تشهد بھول جائے او ر بعد والی رکعت کے رکوع ميں جانے سے پهلے اسے یاد آئے تو ضروری ہے کہ پلٹ کر بجا لائے اور نماز کے بعد احتياط مستحب کی بنا پر بے جا قيام کے لئے دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۵۴ جس شخص کو رکوع ميں یا اس کے بعد یاد آئے کہ وہ اس سے پهلے والی رکعت ميں ایک سجدہ بھول گيا ہے تو ضروری ہے کہ نماز کے سلام کے بعد سجدے کی قضا کرے اور احتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو بھی بجا لائے اور اگر رکوع ميں یا اس کے بعد یاد آئے کہ اس سے پهلی رکعت ميں تشهد بھول گيا ہے تو احتياط مستحب کی بنا پر تشهد کی قضا کرے اور ضروری ہے کہ دو سجدہ سهو بھی بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۵۵ جو شخص نمازکے سلام کے بعد جان بوجه کر سجدہ سهو نہ کرے تو وہ گنهگا ر ہے اور جس قدر جلدی ہو اسے ادا کرنا واجب ہے اور اگر اس نے بھول کر سجدہ سهو نہيں کيا تو جس وقت بھی اسے یاد آئے ضروری ہے کہ فوراً سجدہ کرے اور اس کے لئے نمازکا دوبارہ پڑھنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٢ ۵۶ اگر کوئی شخص شک کرے کہ اس پر سجدہ سهو واجب ہو ا ہے یا نہيں تو اس کا بجا لانا اس پر ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٢ ۵ ٧ اگر کوئی شخص شک کرے کہ مثلاًاس پر دو سجدہ سهو واجب ہوئے ہيں یاچار تو اگر وہ دو سجدے کر لے تو کافی ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۵ ٨ جس شخص کو علم ہو کہ دو سجدہ سهوميں سے ایک سجدہ بجا نہيں لایا اور اس کی بر محل ادائيگی بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ دو سجدہ سهو بجا لائے اور اگر اسے علم ہو کہ اس نے سهواًتين سجدے کئے ہيں تو احتياط واجب یہ ہے کہ دوبارہ دو سجدہ سهو کرے۔


سجدہ سهو کا طريقہ

مسئلہ ١٢ ۵ ٩ سجدہ سهو کا طریقہ یہ ہے کہ نمازکے سلام کے بعد انسان فوراً سجدہ سهو کی نيت کرے اور پيشانی کسی ایسی چيز پر رکھ دے جس پر سجدہ کرنا صحيح ہو اور احتياط واجب یہ ہے کہ پيشانی کے علاوہ دوسرے اعضاء کو بھی زمين پر رکھے اور یہ ذکر پڑھے ”بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ السَّلاَمُ عَلَيْک اَیُّهَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَ کَاتُه “اس کے بعد ضروری ہے کہ بيٹھ جائے اور دوبارہ سجدہ ميں جا کر مذکورہ بالا ذکر پڑھے اور بيٹھ جائے اور تشهد پڑھنے کے بعد سلام پهيرے اور احتياط واجب یہ ہے کہ تشهد عام طریقے کے مطابق بجا لائے اور سلام ميں ”اَلسَّلاَمُ عَلَيْکُمْ“کهے۔

بھولے ہوئے سجدے اور تشهد کی قضا

مسئلہ ١٢ ۶ ٠ بھولے ہوئے سجدے اور تشهد کی قضا کے وقت، جسے نمازکے بعد انجام دیا جاتا ہے اور اسی طرح بھولے ہوئے تشهد کے لئے دو سجدہ سهو انجام دیتے وقت نماز کے تما م شرائط مثلا بدن اور لباس کا پاک ہونے اور روبہ قبلہ ہونے کا خيال رکھنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۶ ١ اگر انسان چند سجدے کرنا بھول جائے مثلاًایک سجدہ پهلی اور ایک سجدہ دوسری رکعت ميں بھول جائے تو ضروری ہے کہ نمازکے بعد ان دونوں سجدوں کی قضا بجا لائے اور احتياط واجب یہ ہے کہ ان دونوں کی قضا کے بعد ہر ایک کے لئے دو سجدہ سهو بھی بجا لائے اور انسان کے لئے یہ معين کرنا ضروری نہيں ہے کہ وہ کون سے سجدے کی قضا کر رہا ہے یا کون سے سجدے کے لئے سجدہ سهو کر رہا ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۶ ٢ اگر کوئی شخص ایک سجدہ اور تشهد بھول جائے تو سجدے کی قضا واجب ہے اور احتياط مستحب کی بنا پر تشهد کی قضا کرے اور احتياط واجب یہ ہے کہ سجدے کی قضا تشهد کی قضا سے پهلے بجا لائے اور ضروری ہے کہ بھولے ہوئے تشهد کے لئے دو سجدہ سهو بجا لائے اور اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر بھولے ہوئے سجدے کے لئے بھی دو سجدہ سهو کرے۔

مسئلہ ١٢ ۶ ٣ اگر انسان دو رکعتوں سے دو سجدے بھول جائے تو قضا کرتے وقت انہيں ترتيب سے بجا لانا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۶۴ اگر انسان نماز کے سلام اور سجدے کی قضا کے درميان کوئی ایسا کام کرے جس کے عمداًیا سهواً کرنے سے نمازباطل ہو جاتی ہے مثلاً قبلے کی طرف پيٹھ کر لے تو احتياط واجب یہ ہے کہ سجدے کی قضا کے بعد دوبارہ نماز پڑھے، یهی حکم وہاں پر بھی ہے جب تشهد کی قضا کے طور پر دو سجدہ سهو انجام دے۔


مسئلہ ١٢ ۶۵ اگر کسی شخص کو نمازکے سلام کے بعد یاد آئے کہ وہ آخری رکعت کا ایک سجدہ یا تشهد بھول گيا ہے اور اس نے کوئی ایسا کام نہ کيا ہو جسے عمداًیا سهواً کرنے سے نمازباطل ہو جاتی ہے مثلاً قبلے کی طرف پشت کرنا،تو ضروری ہے کہ پلٹ کر نمازکو تمام کرے اور احتياط واجب کی بنا پر بے جا سلام کے لئے دو سجدہ سهو بجا لائے۔ اسی طرح اگر وہ ایک سجدہ بھول گياہواورسلام سے پهلے تشهد بھی پڑھا ہو تو بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۶۶ اگر ایک شخص نمازکے سلام اور سجدے کی قضا کے درميان کوئی ایسا کام کرے جس کے لئے سجدہ سهو واجب ہو جاتا ہے مثلاًبھولے سے کلام کرنا،تو ضروری ہے کہ سجدے کی قضا کرے اور احتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو کلام کرنے کی وجہ سے اور دو سجدے بھولے ہوئے سجدے کے لئے بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۶ ٧ اگر کسی شخص کو یہ نہ معلوم ہو کہ وہ نمازميں ایک سجدہ بھولا ہے یا دوسری رکعت کا تشهد تو ضروری ہے کہ سجدے کی قضا کرے اور دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢ ۶ ٨ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ سجدہ یا تشهد بھولا ہے یا نہيں تو اس کے لئے ان کی قضا کرنا یا سجدہ سهو بجا لانا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢ ۶ ٩ جو شخص یہ تو جانتا ہو کہ سجدہ یا تشهد بھول گيا ہے ليکن شک کرے کہ بعد والی رکعت کے رکوع سے پهلے اسے یاد آیا تھا اور وہ اسے بجا لایا تھا یا اس کو یاد نہيں آیا تھا تو سجدہ بھولنے کی صورت ميں ضرور ی ہے کہ اس کی قضا کرے اور احتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو بجا لائے اور تشهد کو بھولنے کی صورت ميں ضروری ہے کہ دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢٧٠ جس شخص پر سجدے کی قضا ضروری ہو اگر کسی دوسرے کام کی وجہ سے اس پر سجدہ سهو بھی واجب ہو جائے تو احتياط واجب کی بنا پرضروری ہے کہ نمازکے بعد پهلے سجدے کی قضاکرے اور بعد ميں سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢٧١ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ نمازپڑھنے کے بعد بھولے ہوئے سجدے کی قضا بجا لایا ہے یا نہيں ، چنانچہ اگر ا سے نماز کا وقت گزر جانے کے بعدشک ہو اہو تو احتياط واجب کی بنا پر سجدے کی قضا بجا لائے اور اگر شک نماز کے وقت کے دوران ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اسے بجا لائے۔

نماز کے اجزاء یا شرائط کو کم یا زیادہ کرنا

مسئلہ ١٢٧٢ جب بھی نماز کے واجبات ميں سے کوئی چيز جان بوجه کر کم یا زیادہ کی جائے تو خواہ ایک حرف ہی کيو ں نہ ہو نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ١٢٧٣ اگر کوئی شخص کو تاہی کی بنا پر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نماز ميں کوئی چيز کم یا زیادہ کر دے تو اس کی نماز باطل ہے ليکن جاہل قاصر اور بھولے سے نماز کے غير رکنی واجبات کو کم یا زیادہ کرنے والے کی نماز صحيح ہے اور واجب رکنی کا حکم مسئلہ نمبر” ٩ ۵ ١ “ميں بيان کيا جا چکا ہے ۔اور اگر کوئی شخص مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے صبح، مغرب یا عشا کی نماز ميں الحمد اور سورہ آهستہ پڑھے یا نمازظہر اور عصر ميں الحمد اور سورہ بلند آواز سے پڑھے یا سفر ميں ظهر،عصر اور عشا کی نماز دو رکعت کے بجائے چار رکعت پڑھے تو خواہ اس کا مسئلہ نہ جاننا کو تا ہی کی وجہ سے ہو پھر اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٢٧ ۴ جس شخص کو نماز کے دوران یا نماز کے بعد معلوم ہو کہ اس کا وضو یا غسل باطل تھا یا وہ وضو یا غسل کئے بغير نماز پڑھنے لگا تھا تو اس کی نمازباطل ہے اور ضروری ہے کہ دوبارہ وضو یا غسل کر کے نمازپڑھے اور اگر نماز کا وقت گزر گيا ہو تو ضروری ہے کہ قضا کرے۔

مسئلہ ١٢٧ ۵ اگر کسی شخص کو رکوع ميں پهنچنے کے بعد یاد آئے کہ وہ پچهلی رکعت کے دونوں سجدے بھول گيا ہے تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر یہ بات اسے رکوع ميں پهنچنے سے پهلے یاد آئے تو ضروری ہے کہ واپس پلٹ کر دو سجدے بجا لائے اور پھر کهڑا ہو جائے اور الحمد وسورہ یا تسبيحات اربعہ پڑھے اور نماز کو مکمل کرنے کے بعد قرائت یا تسبيحات ميں سے جو بھی اضافی انجام دی ہو اس کے لئے احتياط واجب کی بنا پر پر دو سجدہ سهو بجا لائے اور احتياط مستحب کی بنا پر بے جا قيام کے لئے بھی دو سجدہ سهو انجا م د ے۔

مسئلہ ١٢٧ ۶ اگر کسی شخص کو ”السلام علينا “یا ”السلام عليکم “کهنے سے پهلے یاد آجائے کہ وہ آخری رکعت کے دو سجدے بجا نہيں لایا ہے تو ضروری ہے کہ دو سجدے بجا لائے، دوبارہ تشهد پڑھ کر سلام پهيرے اور احتياط واجب کی بنا پر بے جا تشهد کے لئے دو سجدہ سهو بجا لائے۔

مسئلہ ١٢٧٧ اگر کسی شخص کو نمازکے سلام سے پهلے یاد آئے کہ اس نے نمازکے آخری حصے کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتيں نہيں پڑہيں تو ضروری ہے کہ جتنا حصہ بھول گيا ہو اسے بجا لائے۔

مسئلہ ١٢٧٨ اگر کسی شخص کو نمازکے سلام کے بعدیاد آئے کہ اس نے نمازکے آخری حصے کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتيں نہيں پڑہيں اور اس سے ایسا کام بھی سر زد ہو چکا ہو کہ اگر وہ نمازميں عمداًیاسهواًسر زد ہو جائے تو نمازباطل ہو جاتی ہے مثلاًاس نے قبلے کی طرف پيٹھ کر لی ہو، تو اس کی نمازباطل ہے اور اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کيا ہو جس کا عمدا یا سهوا کرنا نماز کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ جتنا حصہ پڑھنا بھول گيا ہو اسے فوراًبجا لائے اور زائد سلام کے لئے احتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو بجا لائے اور اسی طرح دو سجدہ سهواگر اضافی تشهد انجام دیا ہوبجا لائے۔


مسئلہ ١٢٧٩ جب کوئی شخص نماز کے سلام کے بعد ایک ایسا کام انجام دے جو اگر نماز کے دوران عمداًیا سهواًکيا جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہو مثلاًقبلے کی طرف پشت کر لے،اور بعد ميں اسے یاد آئے کہ وہ آخری رکعت کے دو سجدے بجا نہيں لایا تو اس کی نمازباطل ہے ۔هاں،اگر نمازباطل کرنے والا کوئی کام کرنے سے پهلے اسے یہ بات یادآئے تو ضروری ہے کہ ان بھولے ہوئے دونوں سجدوں کو انجام دے اور دوبارہ تشهد اور سلام پڑھے اور بے جا سلا م کے لئے احتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو کرے او ر اسی طرح دو سجدہ سهوبے جا تشهد کے لئے بھی بجا لائے، اگر اضافی تشهد انجام دیا ہو۔

مسئلہ ١٢٨٠ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس نے پوری نماز وقت سے پهلے پڑھ لی ہے تو ضروری ہے کہ وہ دوبارہ نماز پڑھے اور اگر وقت گزر گيا ہو تو اس کی قضا کرے اور اگر نمازکا کچھ حصہ وقت سے پهلے پڑھا ہو تو اس کا حکم مسئلہ نمبر ” ٧ ۵ ١ “ميں بيان ہو چکا ہے ۔

اور اگر یہ معلوم ہو کہ نمازرو بہ قبلہ ہو کر نہيں پڑھی تو دائيں اور بائيں سمت کی حدود کے اندر قبلے سے ہٹنے کی صورت ميں اس کی نمازصحيح ہے اور اس صورت کے علاوہ اگر وقت گزرنے سے پهلے یہ بات معلوم ہو جائے تو نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے اور اگر وقت گزر گيا ہو تو اس کی قضا ضروری نہيں ، ليکن اگر قبلے کی طرف پيٹھ کر کے نمازپڑھی ہے تو احتياط واجب کی بنا پر اس کی قضا کرنا ضروری ہے ۔

اور مذکورہ بالا تمام صورتوں ميں اگر مسئلہ شرعی نہ جاننے کی وجہ سے اس نے نمازقبلے کے علاوہ کسی اور سمت ميں پڑھی ہو تو اس کی نمازباطل ہے ۔

مسافر کی نماز

ضروری ہے کہ مسافر ظهر،عصر اور عشا کی نماز یں آٹھ شرائط کے ساته قصر بجا لائے یعنی دو رکعت پڑھے:

پهلی شرط

اس کا سفر آٹھ فر سخ شرعی سے کم نہ ہو اور فرسخِ شرعی تقریباً ساڑھے پانچ کلو ميٹر سے قدرے کم ہو تا ہے ۔

مسئلہ ١٢٨١ جس شخص کے جانے او رآنے کا مجموعی فاصلہ ملا کر آٹھ فرسخ ہو تو اگراس کا صرف جانا اور اسی طرح صرف واپس آنا چار فرسخ سے کم نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

لہذاگر کسی شخص کے جانے کی مسافت مثال کے طور پر تين فرسخ اور واپس آنے کی مسافت پانچ فرسخ ہو یا اس کے برعکس ہو تو ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے۔


مسئلہ ١٢٨٢ اگر کسی شخص کا جانا چار فرسخ اور واپس آنا بھی چار فرسخ ہو تو اگر چہ جس دن ہو گيا ہو اسی دن یا اسی رات واپس نہ لوٹے، ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے اور روزہ نہ رکھے۔

البتہ احتياط مستحب یہ ہے کہ پوری نمازبهی پڑھے۔

مسئلہ ١٢٨٣ اگر ایک مختصر سفر آٹھ فرسخ سے تهوڑا کم ہو یا انسان کو علم نہ ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے اور اگر شک کرے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہيں تو اس کے لئے تحقيق کرنا ضروری نہيں اور ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٢٨ ۴ اگر ایک عادل یا ایسا قابل اعتماد شخص جس کی کهی ہوئی بات کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو، کسی کو بتائے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٢٨ ۵ وہ شخص جسے یقين ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے اگر نماز قصر کر کے پڑھے اور بعد ميں اسے معلوم ہو کہ آٹھ فرسخ نہيں تھا تو ضروری ہے کہ پور ی نمازپڑھے اور وقت گزرنے کی صورت ميں اس کی قضا بجا لائے۔

مسئلہ ١٢٨ ۶ اگر کسی شخص کو یقين ہو کہ جس جگہ وہ جانا چاہتا ہے ، وہاں کا سفر آٹھ فر سخ نہيں یا شک ہو کہ آٹھ فرسخ ہے یا نہيں اور راستے ميں معلوم ہو جائے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ تھا تو اگر چہ تهوڑا سا سفر بھی باقی ہو ضروری ہے کہ نمازقصر کر کے پڑھے اوراگر پوری نمازپڑھ چکا ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ قصر پڑھے، ليکن وقت گزرنے کی صورت ميں قضا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٢٨٧ اگر دو جگہوں کا درميانی فاصلہ چار فرسخ سے کم ہو اور کوئی شخص چند مرتبہ ان کے درميان آئے جائے تو خواہ ان تما م مسافتوں کا فاصلہ ملا کر آٹھ فرسخ ہو بھی جائے، پھر بھی ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے۔

مسئلہ ١٢٨٨ اگر کسی جگہ جانے کے دورراستے ہوں جن ميں سے ایک راستہ آٹھ فرسخ سے کم ہو اور دوسرآٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ ہو تو اگر انسان اس راستے سے جائے جو آٹھ فرسخ ہے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے اور اگر اس راستے سے جائے جو آٹھ فرسخ نہيں ہے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٢٨٩ اگر کسی شہر کے گرد دیوار ہے تو آٹھ فرسخ کی ابتد اسی دیوار سے ہوگی اور دیوار نہ ہونے کی صورت ميں آٹھ فرسخ کی ابتدا شہر کے آخری گهروں سے ہو گی۔


دوسری شرط

مسافر اپنے سفر کی ابتدا سے ہی آٹھ فرسخ طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ لہٰذا اگر وہ اس جگہ تک کا سفر کرے جو آٹھ فرسخ سے کم ہو اور وہاں پهنچنے کے بعد کسی ایسی جگہ جانے کا ارادہ کرے جس کا فاصلہ طے کردہ فاصلے سے ملا کر آٹھ فرسخ ہو جاتا ہو تو چونکہ وہ شروع سے آٹھ فرسخ طے کرنے کا ارادہ نہيں رکھتا تھا اس لئے ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے،ليکن اگر وہ وہاں سے آٹھ فرسخ آگے جانے کا ارادہ کرے یا چار فرسخ آگے کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہو جهاں اس کا سفر ٹوٹ نہ رہا ہو مثلاً وہاںپر اس کا ارادہ دس دن ٹھ هرنے کا نہ ہو اور پھر چار فرسخ طے کر کے اپنے وطن یا کسی ایسی جگہ واپس آنا چاہتا ہو جهاں اس کا ارادہ دس دن ٹھ هرنے کا ہو تو ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩٠ جو شخص نہ جانتا ہو کہ اسے کتنے فرسخ سفر طے کرنا پڑے گا مثلاًکسی گم شدہ چيز کو ڈهونڈنے کے لئے سفر کر رہا ہو اور نہ جانتا ہو کہ اسے پالينے کے لئے کهاں تک جانا پڑے گا تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے،ليکن اگر واپسی ميں اس کے وطن یا اس جگہ تک کا فاصلہ جهاں وہ دس دن قيام کرنا چاہتا ہو آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ ہوتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔نيز اگر وہ سفر کے دوران ارادہ کرے کہ چار فرسخ دور اس جگہ جائے گا جهاں اس کا سفر ٹوٹ نہ رہا هو،مثلاً اس کا وہاں دس دن ٹھ هرنے کا ارادہ نہ ہو،اور چار فرسخ واپس آتے ہوئے طے کرے گا تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩١ ضروری ہے کہ مسافر اس صورت ميں نماز قصر پڑھے جب اس کا آٹھ فرسخ کا فاصلہ طے کرنے کا پختہ ارادہ ہو لہٰذا اگر کوئی شخص شہر سے با ہر جا رہا ہو اور مثال کے طور پر اس کا ارادہ یہ ہو کہ اگر کوئی ساتهی مل گيا تو آٹھ فرسخ تک جاؤں گا اور اسے اطمينان ہو کہ ساتهی مل جائے گا تو ضروری ہے کہ نماز قصرپڑھے اور اگر اطمينان نہ ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩٢ جو شخص آٹھ فرسخ سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اگرچہ وہ ہر روز تهوڑا فاصلہ طے کرے تو حد تر خص تک پهنچ جانے کی صورت ميں ، جس کے معنی آٹھ ویں شرط ميں بيان کئے جائيں گے،ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے ليکن اگر ہر روز اتنا فاصلہ طے کرے کہ عرفاًلوگ اسے مسافرنہ کہيں جيسے دس یا بيس ميٹر تو ضروری ہے کہ وہ اپنی نماز پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩٣ جو شخص سفر ميں کسی دوسرے کے اختيار ميں ہو مثلاًنوکر جو اپنے مالک کے ساته سفر کر رہا ہو اگر اسے علم ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے اور اگر اسے علم نہ ہو تو پوری پڑھے اور اس بارے ميں پوچهنا ضروری نہيں اور اگر پوچه لے تو مالک کے لئے جواب دینا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٢٩ ۴ جو شخص سفر ميں کسی دوسر ے کے اختيار ميں ہو اگر وہ جانتا ہو یا گمان رکھتا ہو یا حتی تردید رکھتا ہو کہ چار فرسخ تک پهنچنے سے پهلے ہی اس سے جدا ہو جائے گا تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔


مسئلہ ١٢٩ ۵ جو شخص سفر ميں کسی دوسرے کے اختيار ميں ہو اگر چار فرسخ تک پهنچنے سے پهلے اس سے جدا نہ ہونے کا اطمينان نہ رکھتا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اگر چہ اس کا مطمئن نہ ہونااس احتمال کی وجہ سے ہو کہ سفر ميں کوئی رکاوٹ پيش آجائے گی،ليکن اگر اسے اطمينان ہو کہ وہ اس سے جدا نہيں ہو گا تو غير متوقعہ رکاوٹوں کے احتمال سے کوئی فرق نہيں پڑتا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

تيسری شرط

راستے ميں مسافر اپنا ارادہ توڑ نہ دے لہٰذا اگر وہ چار فرسخ تک پهنچنے سے پهلے اپنا ارادہ بدل دے یا تردید کی کيفيت ميں آجائے تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩ ۶ اگر چار فرسخ تک پهنچنے کے بعد کوئی شخص اپنا سفر ترک کر دے تو اگر وہ اس جگہ رہنے کا یا دس دن گزار کر پلٹنے کا پختہ ارادہ کر لے یا رہنے اور واپس جانے کے بارے ميں کوئی فيصلہ نہ کر پا رہا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نمازپڑھے۔

مسئلہ ١٢٩٧ اگر چار فرسخ پهنچنے کے بعد کوئی شخص اپنا سفر ترک کر دے اور واپس جانے کا پختہ ارادہ کر لے تو اگر اس دوران سفر کو توڑنے والی کوئی چيز مثلاًدس دن رہنے کا ارادہ،اس کے لئے پيش نہ آئی ہو تو ا س شر ط کے ساته کہ واپسی کا فاصلہ بھی چار فرسخ سے کم نہ ہو،ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩٨ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ جانے کے لئے جو آٹھ فرسخ دور ہو سفر شروع کر دے اور کچھ راستہ طے کرنے کے بعد کسی اور جگہ جانا چاہے تو اگر جس جگہ سے اس نے سفر شروع کيا تھا وہاں سے اس جگہ تک جهاں وہ اب جانا چاہتا ہے آٹھ فرسخ ہوتے ہوں تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٢٩٩ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہو جو آٹھ فرسخ دور ہو اور چار فرسخ طے کرنے کے بعد متردد ہو جائے کہ باقی سفر طے کرے یا کسی جگہ پر دس روز رہے بغير اپنے علاقے ميں واپس آجائے، تو ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے، خواہ تردّد کے وقت اس نے کچھ فاصلہ طے کيا ہو یا نہيں اور خواہ بعدميں آگے جائے یا پلٹ جانے کا فيصلہ کرلے۔

مسئلہ ١٣٠٠ اگر کوئی شخص چار فرسخ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد متردد ہوجائے کہ آٹھ فرسخ کے سفر کا باقی ماندہ حصہ طے کرے یا واپس اپنے علاقے ميں چلا جائے ليکن اسے اس بات کا احتما ل ہو کہ جس مقام پر وہ مترددهوا ہے یا کسی اور جگہ دس روز رہے گا تو اگرچہ وہ یہ فيصلہ بھی کر لے کہ دس روز رہے بغير بقيہ راستہ طے کروں گا، پھر بھی ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔اور اگر تردید کے بعد اس کا فيصلہ یہ ہو کہ اب نئے سرے سے آٹھ فرسخ سفر کرے گا یا چارچار فرسخ آنا جانا کرے گا تو سفر شروع کرنے کے بعد اس کی نماز قصر ہے ۔


مسئلہ ١٣٠١ اگر کوئی شخص چار فرسخ تک پهنچنے سے پهلے متردد ہو جائے کہ بقيہ راستہ طے کرے یا نہيں اور بعد ميں بقيہ راستہ طے کرنے کا فيصلہ کر لے تو اگر اس کا باقی ماندہ سفر آٹھ فرسخ ہو یا جانااور آنا چار چار فرسخ ہوں تو (دوبارہ) سفر شروع کرنے کے بعد ضروری ہے کہ اپنی نمازیں قصر پڑھے۔

چوتھی شرط

آٹھ فرسخ مکمل کرنے سے پهلے مسافر اپنے وطن سے گزرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہویا کسی جگہ دس یا زیادہ دن اس کا ٹھ هرنے کا ارادہ نہ ہو، لہٰذا وہ شخص جو چاہتا ہو کہ آٹھ فرسخ تک پهنچے سے پهلے اپنے وطن سے گزرے یا دس روز کسی جگہ پر ٹھ هرے، ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣٠٢ جس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ آٹھ فرسخ تک پهنچنے سے پهلے اپنے وطن سے گزرے گا یا نہيں یا دس روز کسی جگہ ٹھ هرنے کا قصد کرے گا یا نہيں تو ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣٠٣ جو شخص آٹھ فرسخ تک پهنچنے سے پهلے اپنے وطن سے گزرنا چاہتا ہو یا کسی جگہ دس دن ٹہرنا چاہتا ہو نيز وہ شخص جو وطن سے گزرنے یا کسی جگہ دس دن ٹھ هرنے کے بارے ميں متردد ہو اگر وہ کسی جگہ دس دن ٹھ هرنے یا اپنے وطن سے گزرنے کا ارادہ ترک بھی کردے تب بھی ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے۔ ہاں، اگر باقی ماندہ سفر آٹھ فرسخ ہو یا چار فرسخ ہو ليکن چار فرسخ پر سفر توڑے بغير پلٹنا چاہتا ہو اور واپسی بھی چار فرسخ ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

پانچويں شرط

سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو لہٰذا اگر کسی حرام کام مثلاًچوری یا ظالم کی اس کے ظلم ميں مدد کرنے یا کسی مسلمان کو نقصان پهنچانے کے لئے سفر کرے یا خود اس کا سفر ہی حرام ہو مثلاًاس نے شرعی قسم کهائی ہو کہ سفر پر نہيں جائے گا یا سفر پر جانا ایسے ضرر کا باعث ہو جسے برداشت کرنا حرام ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٣٠ ۴ جو سفر انسان پر واجب نہ ہو،اگر ماں باپ کے لئے اذیت کا باعث ہو تو حرام ہے اور ایسے سفر ميں ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے اور روزہ بھی رکھے۔

مسئلہ ١٣٠ ۵ جس شخص کا سفر حرام نہ ہو اور وہ کسی حرام کام کے لئے بھی سفر نہ کر رہا ہو اگر چہ وہ سفر ميں گناہ بھی کرے مثلاًغيبت کرے یا شراب پئے تب بھی ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣٠ ۶ اگر کوئی شخص کسی واجب کام کوترک کرنے کے لئے سفر کرے تو ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے لہٰذا مقروض شخص اگر اپنا قرضہ لوٹا سکتا ہو اور قرض خواہ بھی اس سے اپنے قرض کا مطالبہ کر رہا ہو، چنانچہ سفر ميں وہ اپنا قرضہ نہ لوٹا سکتا ہو


اور قرض سے فرار اختيار کرنے کے لئے سفر کر رہا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نمازپڑھے، ليکن اگر واجب کام کو چھوڑنے کے لئے سفر نہ کرے اگر چہ وہ سفر کے دوران واجب کام کو چھوڑدے تب بھی ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣٠٧ اگر کسی شخص کا سفر حرام نہ ہو ليکن وہ جس زمين پر سفر کر رہا ہووہ غصبی ہو یا سواری کا جانور یا کوئی دوسری چيز جس پر سفر کر رہا ہو،غصبی ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نماز قصر بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے البتہ اگر وہ سواری کو لوٹانے سے بچنے کی خاطراس سواری پر سفر کر رہا ہو تو ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣٠٨ جو شخص کسی ظالم کے ساته سفر کر رہا ہو اگر وہ مجبور نہ ہو اور اس کا سفر ظالم کے ظلم ميں مدد کا سبب ہو یا اس ظالم کی شان وشوکت یا اس کے حکم ميں قوت کا سبب ہو تو ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے ليکن اگر مجبور ہو یا مثال کے طور پر کسی مظلوم کو نجات دینے کے لئے اس ظالم کے ساته سفر کرے تو اس کی نمازقصر ہے ۔

مسئلہ ١٣٠٩ اگر کوئی شخص سير وتفریح یا گهومنے پھرنے کے لئے سفر کرے تو اس کا سفر حرام نہيں ہے اور ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣١٠ اگر کوئی شخص لهو اور خوش گذرانی کے لئے شکار پر جائے تو اس کا سفر جاتے وقت حرام ہے اور اسے پوری نماز پڑھنا چاہئے۔هاں،پلٹتے وقت اگراس کا سفر آٹھ فرسخ ہو اور عياشی والے شکار کے لئے نہ ہو تو اس کی نمازقصر ہے ۔

اور اگر روزی کمانے کے لئے شکار پر جائے تو اس کی نمازقصر ہے ۔ اسی طرح اگر تجارت کی غرض سے شکار پر جائے تب بھی یهی حکم ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ قصر بھی پڑھے اور پور ی بهی،اسی طرح روزہ بھی رکھے اور اس کی قضا بھی کرے۔

مسئلہ ١٣١١ جس شخص نے گناہ کے لئے سفر کيا ہو اگر اس کی واپسی کا سفر آٹھ فرسخ ہو تو ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔ ہاں،احتيا ط مستحب یہ ہے کہ اگر اس نے توبہ نہ کی ہو تو نمازقصر بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔

مسئلہ ١٣١٢ جس شخص کا سفر گناہ کا سفر ہو اگر وہ سفر کے دوران گناہ کرنے کا ارادہ ترک کر دے، چنانچہ اگر باقی ماندہ سفر آٹھ فرسخ ہو یا کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہو جو چار فرسخ کے فاصلے پر ہو اور اتنا ہی واپس بھی آنا چاہتا ہو تو سفر شروع کرنے کے بعد ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣١٣ جس شخص نے گناہ کا سفر نہ کيا ہو اگر وہ سفر کے دوران یہ ارادہ کرے کہ بقيہ سفر گناہ کرنے کی غرض سے طے کروں گا تو سفر شروع کرنے کے بعد سے ضروری ہے کہ اپنی نماز یں پوری پڑھے اور وہ نمازیں جو قصر پڑھ چکاہے اس صور ت ميں صحيح ہيں کہ جب طے شدہ مقدار،شرعی سفر شمار ہو تی ہو ورنہ احتياط واجب کی بنا پر وقت ہونے کی صورت ميں ان نماز وں کو دهرائے اور وقت گزر جانے کی صورت ميں ان کی قضا کرے۔


چھٹی شرط

یہ کہ ان لوگوں ميں سے نہ ہو جو خانہ بدوش ہيں ، جيسے وہ صحر انشين جو بيابانوں ميں گهومتے رہتے ہيں اور جهاں پر بھی اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے آب ودانہ دیکھتے ہيں وہيں ڈیرہ ڈال دیتے ہيں اور چند روز بعد پھر کسی دوسری جگہ پر چلے جاتے ہيں اور ایسے لوگ کہ جن کا گهراور لوازمات زندگی ہر وقت ان کے ساته ہوتے ہيں ضروری ہے کہ پوری نماز یں پڑہيں ۔

مسئلہ ١٣١ ۴ اگر کوئی صحرا نشين اپنے حيوانات کے لئے جائے قيام اور چراگاہ تلاش کرنے کے لئے سفر کرے اور خيمہ و لوازمات زندگی اس کے ساته ہوں تو اس کی نماز پوری ہو گی ورنہ اس کی نمازقصر ہے ۔

مسئلہ ١٣١ ۵ اگر صحرا نشين زیارت،حج،تجارت یا ان جيسے دوسرے کاموںکے لئے سفر کرے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

ساتويں شرط

سفر کرنا اس کا پيشہ نہ ہو،لہٰذا اس بنا پر ساربان،ڈرایئور، ملاح اور انہيں جيسے دوسرے افراد خواہ اپنے گھر کا سامان لے جانے کے لئے سفر کریں،ضروری ہے کہ پوری نماز یں پڑہيں اور سفر کا پيشہ ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ عرفاًلوگ یہ کہيں کہ اس کا پيشہ سفر ہے مثلاً یہ کہيں کہ اس کا کام ساربانی یا گاڑی چلانا ہے ۔

اسی طرح ضروری ہے کہ اس کا پيشہ سفر ميں نہ ہو مثلاًجس شخص کی رہا ئش ایک جگہ پر ہو اور اس کا پيشہ جيسے تجارت،تدریس اور طبابت کسی دوسری جگہ پر ہو اور کيفيت یہ ہو کہ اسے زیادہ تر یا ایک دن چھوڑ کر ایک دن مثلاً سفر کرنا پڑتا ہو۔

مسئلہ ١٣١ ۶ جس شخص کا پيشہ سفر کرنا ہو اگر وہ کسی دوسرے کام مثلاًزیارت یاحج کے لئے سفر کرے تو ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے، ليکن اگر مثلا ڈرائيور اپنی گاڑی کرائے پر چلائے اور ضمناً خود بھی زیارت کرے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٣١٧ قافلہ سالار مثلاًوہ جو حاجيوں کو مکہ پهنچانے کے لئے سفر کرتا ہو،اگر اس کا پيشہ ہی سفر کرنا ہو تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے ليکن اگر اس کا پيشہ سفر کرنا نہ ہو اور اس کے سفر کی مدت بھی کم ہو مثلاًوہ ہوائی جهاز سے جائے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے ليکن اگر اس کے سفر کی مدت زیادہ ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ نماز قصر بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔

مسئلہ ١٣١٨ جس شخص کا پيشہ ہی قافلہ لے جانا ہو اور مثلاًوہ دور دراز علاقوں سے حاجيوں کو مکہ لے جاتا ہو اگر وہ پورا سال یا سال کا اکثر حصہ سفر ميں گزارتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣١٩ جس شخص کا پيشہ سال کے کچھ حصے ميں سفر کرنا ہو مثلاًایک ڈرائيور جو صرف گرميوں یا سردیوں کے ایام ميں اپنی گاڑی کرائے پر چلاتا ہو تو ضروری ہے کہ اس دوران اگر وہ اپنے کام کے لئے بھی سفر کرے تو نماز پوری پڑھے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی نماز قصر بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔


مسئلہ ١٣٢٠ ڈرائيور اور ٹھ يلے والا وغير ہ جو شہر کے آس پاس دو تين فرسخ کے فاصلے پر آتا جاتا ہو اگر وہ اتفاقاًسفر شرعی جتنی مسافت طے کر لے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣٢١ وہ سودا گر جو چوپائے پر سامان لاد کر بيچتا ہے جس کا پيشہ سفر ہے اگر وہ اپنے وطن ميں دس دن یا زیادہ ٹھ هرجائے چاہے ابتدا سے دس دن رکنے کا ارادہ رکھتا ہو یا بغير قصد کے رک جائے، دس دن کے بعد جب پهلا سفر کرے تو ضروری ہے کہ نماز کو قصر پڑھے، ليکن دوسرے لوگ جن کا پيشہ سفر ہو یا سفر ميں پيشہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر نماز کو پوری اور قصر دونوں طرح پڑھے۔

مسئلہ ١٣٢٢ وہ سودا گر جو چوپائے پر سامان لاد کر بيچتا ہے اگر وہ اپنے وطن کے علاوہ کسی جگہ دس دن یا اس سے زیادہ ٹھ ہر جائے تو اگر ابتدا سے دس دن رہنے کا ارادہ رکھتا ہو تو ضروری ہے کہ دس دن کے بعد جب وہ پهلے سفر پر جائے تو نمازقصر پڑھے ليکن وہ دوسرے اشخاص جن کا پيشہ سفر ہو یا سفر ميں ہو احتياط واجب یہ ہے کہ وہ اس سفر ميں پوری نمازبهی پڑہيں اور قصر بھی پڑہيں ۔

مسئلہ ١٣٢٣ جس شخص کا پيشہ سفر ہو اگر وہ شک کرے کہ اپنے وطن یا کسی دوسری جگہ پردس روز ٹہرا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ وہ پوری نمازپڑھے۔

مسئلہ ١٣٢ ۴ جو شخص مختلف شهروں کی سياحت کرتا ہو اور اس نے اپنے لئے کوئی وطن اختيار نہ کيا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پوری نماز پڑھے۔

مسئلہ ١٣٢ ۵ جس شخص کا پيشہ سفر نہ ہو اگر کسی شہر یا گاؤں ميں اس کی کوئی چيز ہو جسے لانے کے لئے وہ پے درپے سفر کر رہا ہو تو ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے، البتہ اگر اس کا سفر اس کے وطن ميں قيام سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ نمازپوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣٢ ۶ وہ شخص جو اپنا وطن چھوڑکر کوئی دوسرا وطن اپنانا چاہتا ہے اگر اس کا پيشہ سفر نہ ہو تو ضروری ہے کہ سفر ميں نماز قصر کرے۔

آٹھ ويں شرط

یہ کہ مسافر حد تر خص تک پهنچ جائے یعنی اپنے شهرسے اتنا دور ہو جائے کہ وہاں کی اذان نہ سنے اور اگر کوئی شہر والوں کو نہ دیکھ رہا ہو تو یقيناوہ حد تر خص تک پهنچ چکا ہے ليکن یہ ضروری ہے کہ دیکھنے ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو ليکن اپنے وطن کے علاوہ دوسرے مقامات ميں جيسے ہی وہ اپنی اقامتگاہ سے نکلے اس کی نمازقصر ہے ۔اسی طرح وہ جگہ جهاں پر اس نے تيس روز تردید کی حالت ميں گزارے ہيں وہاں سے جيسے ہی نکلے اس کی نمازقصر ہو گی۔


مسئلہ ١٣٢٧ وہ مسافر جو شہر واپس آرہا ہو اگر وہ اپنے شہر کی اذان کی آواز سن لے تو ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے ليکن وہ مسافر جو کسی جگہ پر دس روز ٹہرنا چاہتا ہے جب تک اس جگہ نہ پهنچ جائے اس کی نماز قصر ہے ۔

مسئلہ ١٣٢٨ جو شہر اتنی بلندی پر واقع ہو کہ دور سے ہی اس کے رہنے والے دکهائی دیں یا اس قدر نشيب ميں ہو کہ اگر انسان تهوڑا سا دور جائے تو وہاں کے رہنے والوں کو نہ دیکھ سکے، اگروہاں کا رہنے والا سفر کرے تو حد تر خص جس کے معنی آٹھ ویں شرط ميں بيان ہو چکے ہيں ،تک پهنچنے کا یقين کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اتنا دور ہو جائے کہ اگر اس کا شہر ہموار زمين پر ہوتا تو اس کے رہنے والے نظر نہ آتے۔نيز اگر راستہ معمول سے زیادہ بلند یا نشيبی ہو توحد تر خص تک پهنچنے کا یقين حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ معمول کو مد نظر رکھے۔

مسئلہ ١٣٢٩ اگر جو شخص کسی ایسی جگہ سے سفر کرے جهاں پر کوئی نہ رہتا ہو تو جب وہ ایسی جگہ پهنچ جائے کہ اگر شہر ميں کوئی رہتا تو وہاں سے نظر نہ آتا تو وہ یقيناحد تر خص تک پهنچ گيا ہے اور نماز قصر پڑھنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٣٣٠ جو شخص اتنا دور نکل جائے کہ اب اسے یہ معلوم نہ ہو کہ جو آواز وہ سن رہا ہے وہ اذان کی آواز ہے یا کوئی دوسری آواز ہے ،ضروری ہے کہ وہ نمازقصر پڑھے ہاں اگر اس کو معلوم ہو کہ اذان دی جا رہی ہے ليکن وہ اذان کے الفاظ سمجھ نہ رہا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نمازپڑھے۔

مسئلہ ١٣٣١ اگر کوئی شخص اتنا دور نکل جائے کہ وہ گهروں کی اذان نہ سن سکتا ہو ليکن شہر کی اذان کو جو معمولاًبلند مقام سے دی جاتی ہے سن سکتا ہو تو وہ نمازقصر نہيں پڑھ سکتا۔

مسئلہ ١٣٣٢ اگر کوئی شخص ایسے مقام پر پهنچ جائے کہ شہر کی اس اذان کو جو معمولاً بلند مقام سے دی جاتی ہے نہ سن سکتا ہو ليکن اس اذان کو سن سکتا ہو جو بہت اونچے مقام سے دی جا رہی ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣٣٣ اگر کسی شخص کا کان یا اذان کی آواز معمول کے مطابق نہ ہوں تو ضروری ہے کہ اس مقام سے نماز قصر پڑھے جهاں سے ایک عام انسان کا کان اس آواز کو جو معمول کے مطابق ہو نہ سن سکے۔

مسئلہ ١٣٣ ۴ اگر سفر پر جاتے ہوئے شک کرے کہ آیا حد تر خص تک پهنچا یا نہيں تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے اور اگر وطن پلٹنے والا مسافر شک کرے کہ حد تر خص تک پهنچا یا نہيں تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے، مگر یہ کہ جاتے وقت ہی اس کو اس بات کا علم ہو کہ پلٹتے ہوئے بھی اس مقام پر یهی شک پيش آئے گا تو ایسی صورت ميں ضروری ہے کہ احتياط کرتے ہوئے یا تو آتے اور جاتے وقت اس مقام سے گزرنے کے بعد نماز پڑھے تاکہ حد تر خص سے گزرنے کا یقين ہو جائے اور یا پھر نماز پوری بھی پڑھے اور قصر بهی،خواہ آنا اور جانا ایک ہی نماز کے وقت ميں ہو یا پلٹتے وقت پهلی نمازکا وقت گزر چکا ہو۔


مسئلہ ١٣٣ ۵ جو مسافر سفر کے دوران اپنے وطن سے گزر رہا ہو،حد تر خص تک پهنچنے کے بعد ضروری ہے کہ پوری نمازپڑھے۔

مسئلہ ١٣٣ ۶ جو مسافر سفر کے دوران اپنے وطن پهنچ گيا ہو جب تک وہ اس جگہ پر ہے نماز پوری پڑھے، ليکن اگر وہ اس جگہ سے آٹھ فرسخ آگے جانا چاہتا ہو یا چار فرسخ جانا اور چار فرسخ واپس آنا چاہتا ہو تو حد تر خص تک پهنچنے کے بعد ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣٣٧ وہ جگہ جسے انسان اپنی سکونت ورہا ئش کے لئے اختيار کرے وہ اس کا وطن ہے ، ليکن اگر وہ اسی جگہ پيدا ہوا ہو اور اس کے ماں باپ کا وطن ہو تو رہا ئش کے لئے اختيار کرنے کی شرط بھی نہيں بلکہ جب تک وہ اس جگہ کوترک کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اس کا وطن ہے ۔

مسئلہ ١٣٣٨ اگر کوئی شخص کچھ عرصے کے لئے ایک ایسی جگہ رہنا چاہے جو اس کا اصلی وطن نہ ہو اور بعد ميں کہيں اور جانے کا ارادہ ہو تو وہ جگہ اس کا وطن شمار نہيں ہوگی۔

مسئلہ ١٣٣٩ وہ جگہ جسے انسان نے اپنی زندگی گزارنے کے لئے منتخب کيا ہو اور وہاں کے مقامی باشندوں کی طرح زندگی گزار رہا ہو مثلاًاگر اس کے لئے کوئی سفر پيش آئے تو واپسی پر اسی جگہ پلٹتا ہو تو خواہ وہ ہميشہ وہاں پر رہنے کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو، وہ اس کا وطن نہيں ہے ليکن اس پر وطن کے احکام جاری ہوں گے۔

مسئلہ ١٣ ۴ ٠ جو شخص دو مقامات پر زندگی گزارتا ہو مثلاچھ مهينے ایک شہر اور چھ مهينے دوسرے شہر ميں ر ہتا ہو تو دونوں مقامات اس کا وطن ہيں ۔یهی حکم اس وقت ہے جب وہ زیادہ مقامات پر اس طرح زندگی گزارتا ہو کہ عرفاًان جگہوں کو اس کی دائمی رہا ئش گاہ کها جاتا ہو۔

مسئلہ ١٣ ۴ ١ جو شخص کسی جگہ پر ایک ایسے مکان کا مالک ہو جهاںاس نے مسلسل چھ مهينے رہنے کا قصد کيا ہو اور یہ مدت گزار بھی چکاہو ليکن فی الحال اس کا وہاں رہنے کا ارادہ نہ ہو تو اس جگہ پر وطن کے احکام جاری نہيں ہوں گے،اگر چہ احتياط مؤکد یہ ہے کہ جب بھی وہاں جائے نمازپوری بھی پڑھے اور قصر بهی۔

مسئلہ ١٣ ۴ ٢ اگر کوئی شخص کسی ایسے مقام پر پهنچے جو پهلے اس کا وطن رہا ہو ليکن اب اس جگہ کو ترک کر چکا ہو تو اس جگہ پر وطن کے احکام جاری نہيں ہوں گے۔

مسئلہ ١٣ ۴ ٣ جس مسافر کا کسی جگہ پر مسلسل دس دن رہنے کا ارادہ ہو یا وہ جانتا ہو کہ غير اختياری طور پر دس دن تک ایک جگہ رہنا پڑے گا تو ضروری ہے کہ وہاںنماز پوری پڑھے۔


مسئلہ ١٣ ۴۴ اگر کوئی مسافر کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو تو ضروری نہيں ہے کہ اس کا ارادہ پهلی رات یا گيارہویں رات وہاں رہنے کا ہو بلکہ جونهی وہ ارادہ کر لے پهلے دن کی ابتدا سے جو کہ احتياط واجب کی بنا پر طلوع فجر صادق کا وقت ہے ،دسویں دن کا سورج غروب ہونے تک وہاں رہے گا ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔ اسی طرح اگر اس کا ارادہ پهلے دن کی ظہر سے گيارہویں دن کی ظہر تک وہاں رہنے کا ہو تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٣ ۴۵ جو مسافر کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو، اس کے لئے پوری نماز پڑھنا اس صورت ميں ضروری ہے کہ جب وہ سارے دن ایک ہی جگہ رہنا چاہتا ہو،پس اگر وہ مثال کے طور پر چاہے کہ دس دن نجف اور کوفہ یا تهران اور شميران ميں گزارے، جب کہ لوگوں کی نگاہ ميں یہ دو الگ جگہيں ہوں تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۴۶ جو مسافر کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو اگر وہ ابتدا سے ہی یہ ارادہ رکھتا ہو کہ ان دس دنوں ميں اس جگہ کے آس پاس ایسی جگہوں پر جائے گا جو حد تر خص سے چار فرسخ کے اندر ہو ں تو اگر اس کے آنے اور جانے کی مدت عرف کی نظر ميں اس کے وہاں دس دن قيام کے منافی نہ ہو مثلاًایک یا دو گهنٹہ،تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے ليکن اگر اس سے زیادہ مدت ہو تو پورا ایک دن یا پوری ایک رات ہونے کی صورت ميں بھی نماز قصر پڑھے، ليکن اس سے زیادہ ہونے کی صورت ميں احتياط واجب کی بنا پر نماز قصر بھی پڑھے اور پوری بهی۔

مسئلہ ١٣ ۴ ٧ اگر کسی مسافر کا کسی جگہ دس دن رہنے کا پختہ ارادہ نہ ہو مثلاًاس کا ارادہ یہ ہو کہ اگر اس کا ساتهی آگيا یا رہنے کا اچھا مکان مل گيا تو دس دن وہاں رہے گا ورنہ نہيں تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۴ ٨ جب کوئی شخص کسی جگہ دس دن رہنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہو اگر اسے اس بات کا احتمال ہو کہ اس کے وہاں رہنے ميں کوئی رکاوٹ پيدا ہو جائے گی اور اس کا یہ احتمال عقلاءکے نزدیک صحيح ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۴ ٩ اگر مسافر کو معلوم ہو کہ مهينہ ختم ہونے ميں دس دن یا اس سے زیادہ دن باقی ہيں اور وہ مهينے کے آخر تک کسی جگہ رہنے کا ارادہ کرے تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے بلکہ اگر اسے یہ علم نہ ہو کہ مهينہ ختم ہونے ميں کتنے دن باقی ہيں اور مهينے کے آخر تک وہاں رہنے کا ارادہ کر لے تو اس صورت ميں کہ اسے یہ تو معلوم ہو کہ مهينے کا آخری دن مثلاًجمعہ ہے ليکن یہ معلوم نہ ہو کہ جس دن وہ ارادہ کر رہا ہے وہ جمعرات کا دن ہے تاکہ نو د ن بنيںيا بده کا دن ہے تاکہ دس دن بنيں اور اسی طرح بعد ميں یہ معلوم ہو جانے کی صورت ميں بھی کہ جس دن اس نے قيام کا ارادہ کيا تھا وہ بده کا دن تھا ضروری ہے کہ نماز پور ی پڑھے اور اس صورت کے علاوہ اس کی ذمہ داری ہے کہ نماز قصرپڑھے خواہ ارادہ کرنے کے دن سے آخر تک حقيقت ميں دس یا اس سے زیادہ روز ہی ہوتے ہوں۔


مسئلہ ١٣ ۵ ٠ اگر مسافر کسی جگہ دس دن رہنے کاارادہ کرے اور ایک چار رکعتی نماز پڑھنے سے پهلے وہاں رہنے کا ارادہ ترک کر دے یا متردد ہوجائے کہ وہاں رہے یا کہيں اور چلا جائے تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے ليکن اگر ایک چار رکعتی نمازپڑھنے کے بعد وہاں رہنے کا ارادہ ترک کرے یا متردد ہوجائے تو ضروری ہے کہ جب تک وہاں رہے نماز پوری پڑھے۔

اس مسئلے اور بعد والے مسائل ميں چار رکعتی نمازسے مراد وہ نمازهے جو ادا کے طور پر پڑھی جا رہی ہو۔

مسئلہ ١٣ ۵ ١ وہ مسافر جس نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کيا ہو اور روزہ رکھ لے،اگر ظہر کے بعدوہاں رہنے کا ارادہ ترک کر دے چنانچہ اگر اس نے ایک چار رکعتی نماز پڑھ لی ہو تو جب تک وہاں رہے اس کے روزے صحيح ہيں اور ضروری ہے کہ اپنی نماز یں بھی پوری پڑھے اور اگر چار رکعتی نمازنہ پڑھی ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اس روزکا روزہ پورا کرے اور اس کی قضابهی کرے،جب کہ نمازوں کو ضروری ہے کہ قصر پڑھے اور بعد والے دنوں ميں بھی روزہ نہيں رکھ سکتا هے۔هاں،اگر سورج غروب ہونے کے بعداور چار رکعتی نمازپڑھنے سے پهلے اپنا ارادہ ترک کر دے تو اس روز کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٣ ۵ ٢ وہ مسافر جس نے ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کيا ہو اگر وہ وہاں رہنے کا ارادہ ترک کر دے اور اس ترک ارادہ سے پهلے یا اس کے بعد شک کرے کہ ایک چار رکعتی نماز پڑھ چکا ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ اپنی نماز یں قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۵ ٣ اگر کوئی مسافر قصر کی نيت سے نماز پڑھنے ميں مشغول ہوجائے اور نماز کے دوران وہ فيصلہ کر لے کہ دس یا اس سے زیادہ دن وہاں رہے گا تو ضروری ہے کہ اپنی نماز چار رکعت پر ختم کرے۔

مسئلہ ١٣ ۵۴ جس مسافر نے ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کيا ہو اگر وہ پهلی چار رکعت نمازکے دوران اپنا ارادہ ترک کر دے اور ابهی تيسری رکعت ميں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ نماز دو رکعتی پڑھ کر تمام کرے اور اپنی بقيہ نماز یں قصر کر کے پڑھے اور اسی طرح اگر تيسری رکعت ميں مشغول ہو گيا ہو ليکن رکوع ميں نہ گيا ہو تو ضروری ہے کہ بيٹھ جائے اور نماز قصر پڑھ

کر تمام کرے اور اضافی قرائت یا تسبيح انجام دینے کی صور ت ميں احتياط واجب کی بناپر دو سجدہ سهو بجا لائے اور اگر وہ شخص تيسری رکعت کے رکوع ميں جا چکا ہو تو اس کی نمازباطل ہے اور ضروری ہے کہ اسے دوبارہ قصر پڑھے اور جب تک اس جگہ پر رہے اپنی نماز یں قصر کر کے پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۵۵ جس مسافر نے دس دن کسی جگہ رہنے کا ارادہ کيا ہو اگر وہ وہاں دس دن سے زیادہ رہے تو جب تک وہاں سے سفر نہ کرے ضروری ہے کہ اپنی نمازیں پوری پڑھتا رہے اور دوبارہ دس دن رہنے کا ارادہ کرنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٣ ۵۶ جس مسافر نے کسی مقام پر دس دن قيام کا ارادہ کيا ہو ضروری ہے کہ اپنے واجب روزے رکھے جب کہ مستحب روزے بھی رکھ سکتا ہے اور ظهر،عصر اور عشا کے نوافل بھی ادا کر سکتا ہے ۔


مسئلہ ١٣ ۵ ٧ جس مسافر نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کيا ہے اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھنے یا دس روز رہنے کے بعد خواہ اس نے ایک نماز بھی پوری نہ پڑھی ہو، کسی ایسی جگہ جا کر واپس آنا اور دوبارہ دس دن یا اس سے کم رہنا چاہتا ہو جس کا جانا اور آنا چار فرسخ سے کم ہو تو ضروری ہے کہ جانے سے واپسی تک اور واپسی کے بعد بھی اپنی نمازیں پوری پڑھے،ليکن اگر اس جگہ واپسی صرف اس لئے ہو کہ اس کے راستے ميں پڑتی ہے اور اس کا سفر شرعی مسافت ( ٨فرسخ )جتنا ہو تو ضروری ہے کہ نمازقصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۵ ٨ جس مسافر نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کيا ہو اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد کسی اور جگہ جانا چاہے جس کا فاصلہ آٹھ فرسخ سے کم ہواور دس دن وہاں رہنے کا ارادہ کرے تو ضروری ہے کہ جانے کے دوران اور اس جگہ جهاں پر وہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھتا ہو اپنی نمازیں پوری پڑھے، ليکن جس جگہ وہ جانا چاہتا ہو اگر آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ دور ہو تو ضروری ہے کہ جانے کے دوران اپنی نمازیں قصر پڑھے اور اگر وہاں دس دن نہ رہنا چاہتا ہو تو جتنے دن وہاں رہے ضروری ہے کہ ان دنوں کی نماز یں بھی قصر پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۵ ٩ جس مسافر نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کيا ہو اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہو جو چار فرسخ سے کم فاصلہ پر ہو ليکن وہ متردد ہو کہ پهلی جگہ پر واپس آئے یا نہيں یا اس جگہ واپس آنے سے بالکل غافل ہو یا واپس تو آنا چاہتا ہو ليکن متردد ہو کہ دس دن رہے یا نہيں یا اس جگہ دس دن رہنے اور وہاں سے سفر کرنے سے غافل ہو تو ضروری ہے کہ جانے سے لے کر واپسی تک اور واپسی کے بعد بھی اپنی نمازیں پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۶ ٠ اگر کوئی مسافر اس خيال سے کہ ا س کے ساتهی کسی جگہ دس دن رہنا چاہتے ہيں وہ بھی اس جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کرے اور ایک چار رکعتی نمازپڑھنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ اس کے ساتهيوں کا ایسا کوئی ارادہ نہيں تو اگرچہ وہ خود بھی وہاں رہنے کا خيال ترک کر دے،ضروری ہے کہ جب تک وہاں رہے نماز پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۶ ١ اگر کوئی مسافر اتفاقا کسی جگہ تيس دن رہ جائے اس طرح سے کہ تيس کے تيس دنوں ميں وہاں سے چلے جانے یا وہاں رہنے کے بارے ميں متردد ہو تو تيس د ن گزرنے کے بعد اگر چہ وہ تهوڑی سی مدت ہی وہاں رہے ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۶ ٢ جو مسافر نو دن یا اس سے کم مدت کے لئے ایک جگہ رہنا چاہتا ہو اگر وہ اس جگہ نو دن یا اس سے کم مدت گزارنے کے بعد نو دن یا اس سے کم مدت کے لئے دوبارہ وہاں رہنے کاارادہ کرے اور اسی طرح تيس دن گزر جائيں تو ضروری ہے کہ اکتيسویں دن سے نماز پوری پڑھے۔


مسئلہ ١٣ ۶ ٣ تيس دن گزرنے کے بعد مسافر کے لئے پوری نماز پڑھنا اس صور ت ميں ضروری ہے جب وہ تيس دن ایک ہی جگہ رہا ہو لہٰذا اگر اس نے اس مدت کا کچھ حصہ ایک جگہ اور کچھ دوسری جگہ گزارا ہو تو تيس دن کے بعد بھی ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

نماز مسافر کے مختلف مسائل

مسئلہ ١٣ ۶۴ مسافر قدیم شہر مکہ جو ”عقبہ مدنيين “سے ”ذی طوی“تک ہے ،حضرت رسول خدا(ص)کے دور کے مدینے،شہر کوفہ اور سيد الشهداء حضرت امام حسين عليہ السلام کے روضہ مطہر ميں اپنی نمازیں پوری بھی پڑھ سکتا ہے اور قصر بھی جب کہ پوری نماز پڑھنا افضل ہے ۔اگر چہ مسجدالحرام اورمسجد نبوی(ص)سے باہر حتی ائمہ عليهم السلام کے دور کے بعد کی توسيعات ميں اور مسجدکوفہ سے باہر اور حضرت سيدالشهداء عليہ السلام کی ضریح مقدس کے اطراف سے دور احوط یہ ہے کہ نماز پوری نہ پڑھے۔

مسئلہ ١٣ ۶۵ جو شخص جانتا ہو کہ مسافر ہے اور اس کے لئے قصر نماز پڑھنا ضروری ہے اگر سابقہ مسئلہ ميں مذکورہ چار جگہوں کے علاوہ کسی مقام پر جان بوجه کر اپنی نماز پوری پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے ۔هاں،اگر یہ بھول جائے کہ مسافر کی نماز قصر ہے اور پوری پڑھ لے تو وقت گزرنے سے پهلے یاد آنے کی صورت ميں ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر وقت کے بعد یاد آئے تو اس کی قضا واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٣ ۶۶ جو شخص جانتا ہو کہ مسافر ہے اور اس کے لئے قصر نماز پڑھنا ضروری ہے اگر بھول کر پوری نماز پڑھ لے تو وقت گزرنے سے پهلے متوجہ ہونے کی صورت ميں اس کی نماز باطل ہے ،البتہ اگر وقت کے بعد متوجہ ہو تو اس کی قضا واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٣ ۶ ٧ جس مسافر کو یہ علم نہ ہو کہ اس کے لئے قصر نماز پڑھنا ضروری ہے اگر وہ پوری پڑھ لے تو اس کی نمازصحيح ہے ۔

مسئلہ ١٣ ۶ ٨ جس مسافر کو یہ تو علم ہو کہ اس کے لئے قصر نماز پڑھنا ضروری ہے ليکن وہ نماز قصر کی بعض خصوصيات سے واقف نہ ہو مثلاًنہ جانتا ہو کہ آٹھ فرسخ کے سفر ميں قصر پڑھنی ضروری ہے ، چنانچہ اگر وہ نماز پوری پڑھ لے اور وقت کے اندر یہ بات اسے معلوم ہو جائے تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور دوبارہ نہ پڑھنے کی صورت ميں قضا کرے،البتہ اگر وقت گزرنے کے بعد یہ بات معلوم ہو تو قضا نہيں کرنی۔

مسئلہ ١٣ ۶ ٩ جس مسافر کو یہ علم ہو کہ اس کے لئے قصر نماز پڑھنا ضروری ہے اگر یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ سے کم ہے پوری نماز پڑھے اور وقت کے اندر اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ تھا تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ قصر پڑھے اور دوبارہ نہ پڑھنے کی صورت ميں اس کی قضا کرے،البتہ اگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہو تو قضا کرنا ضروری نہيں ۔


مسئلہ ١٣٧٠ اگر کوئی شخص یہ بھول جائے کہ وہ مسافر ہے اور نماز پوری پڑھ لے اور وقت کے اندر یہ بات یاد آجائے تو ضروری ہے کہ اس نماز کو دوبارہ قصر کر کے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس کی قضا کرے ليکن اگر نماز کے وقت کے بعد یہ بات یاد آئے تو اس کی قضا کرنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٣٧١ وہ شخص جسے نمازپوری پڑھنی ضروری ہے اگر وہ اس نماز کو قصر بجالائے تو اس کی نمازباطل ہے ، ليکن اگر وہ مسافر جو کسی جگہ دس دن قيام کا ارادہ رکھتا ہو اور مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نماز قصر بجا لائے تو احتياط واجب یہ ہے کہ وہ دوبارہ پوری نمازپڑھے۔

مسئلہ ١٣٧٢ جو شخص چار رکعتی نماز ميں مشغول ہو اور دوران نماز اسے یاد آئے کہ وہ مسافر ہے یا اس بات کی جانب متوجہ ہو جائے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے تو تيسری رکعت کے رکوع ميں نہ جانے کی صورت ميں ضروری ہے کہ نماز کو دو رکعت پر ختم کردے اور اگر اضافی قرائت یا تسبيحات اربعہ پڑھی ہيں تو احتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو بھی بجا لائے۔

اور اگر تيسری رکعت کے رکوع ميں جا چکا ہو تو اس کی نمازباطل ہے ۔پس اگر اس کے پاس ایک رکعت جتنا بھی وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ نئے سرے سے قصر نمازپڑھے اور اگر اتنا وقت بھی نہ ہو تو قصر نمازکی قضا انجام دے۔

مسئلہ ١٣٧٣ جو مسافر نماز مسافر کی بعض خصوصيات سے واقف نہ ہو مثلاًنہ جانتا ہو کہ چار فرسخ جانے اور چار فرسخ واپس آنے کی صورت ميں نمازقصر پڑھنا ضروری ہے ،اگر وہ چار رکعت کی نيت سے نماز پڑھنے ميں مشغول ہو جائے اور تيسری رکعت کے رکوع ميں جانے سے پهلے اسے مسئلہ معلوم ہو جائے تو ضروری ہے کہ اپنی نمازدو رکعت پر ختم کر دے اور اضافی قرائت یا تسبيحات اربعہ انجام دینے کی صورت ميں احتياط واجب کی بنا پردو سجدہ سهو بجا لائے اور اگر مسئلہ اسے رکوع ميں معلوم ہو تو اس کی نمازباطل ہے ،اوراگر اس کے پاس ایک رکعت نماز پڑھنے کا وقت بھی باقی ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے اور اگر ایک رکعت کا وقت بھی باقی نہ ہو تو اس نمازکی قضا قصر بجا لائے۔

مسئلہ ١٣٧ ۴ وہ مسافر جسے پوری نمازپڑھنی ضروری ہے اگر مسئلے سے لا علمی کی وجہ سے دو رکعت کی نيت سے نماز پڑھنے ميں مشغول ہو جائے اور نماز کے دوران اسے مسئلہ معلوم ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ نماز کو چار رکعت مکمل کرے۔

مسئلہ ١٣٧ ۵ وہ مسافر جس نے ابهی نماز نہ پڑھی ہو اگر وہ نمازکا وقت ختم ہونے سے پهلے اپنے وطن پهنچ جائے یا ایسی جگہ پهنچ جائے جهاں اس کا ارادہ دس روز رہنے کاہو تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے اور وہ شخص جو مسافر نہيں ہے اگر اول وقت ميں اس نے نماز نہ پڑھی ہو اورسفر پرجائے تو ضروری ہے کہ وہ سفر ميں قصر نماز پڑھے۔


مسئلہ ١٣٧ ۶ وہ مسافر جس کے لئے نماز قصر پڑھنی ضروری ہے اگر اس کی ظهر،عصر یا عشا کی نماز قضا ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان کی قضا بھی دو رکعت ہی پڑھے اگر چہ اس وقت قضا کرے جب سفر ميں نہ ہو اور جو شخص مسافر نہيں ہے اگر اس کی تينوں ميں سے کوئی ایک نماز قضا ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان کی قضا بھی چار رکعت ہی پڑھے چاہے قضا پڑھتے وقت سفر ميں ہو۔

مسئلہ ١٣٧٧ نماز ی کے لئے مستحب ہے کہ ہر نماز کے بعد تيس مرتبہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰه وَلاَ اِلٰهَ اِلاَّاللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکْبَرُ “ کهے اور مسافر کے لئے قصر نمازوں کے بعد یہ ذکر پڑھنا مستحب مؤکد ہے ۔

قضا نماز

مسئلہ ١٣٧٨ جس شخص نے واجب نمازیں ان کے وقت ميں نہ پڑھی ہوں ضروری ہے کہ ان کی قضا کر ے اگرچہ وہ نماز کے پورے وقت ميں سوتا رہا ہو یا مستی یا اختياری بے ہوشی کی وجہ سے نماز نہ پڑھ پایا ہو،ليکن جو نمازیں عورت نے حيض یا نفاس کی حالت ميں نہ پڑھی ہوں ان کی قضا واجب نہيں ہے خواہ وہ پنچگانہ نماز یں ہوں یا کوئی اور نماز،ليکن احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ زلزلے اور گرج چمک کی وجہ سے واجب ہونے والی نماز آیات کو ادا وقضا کی نيت کے بغير بجا لائے۔

مسئلہ ١٣٧٩ اگر نمازکا وقت گزرنے کے بعد کسی کو یہ علم ہو جائے کہ جو نماز اس نے پڑھی وہ باطل تھی تو ضروری ہے کہ اس کی قضا بجا لائے۔

مسئلہ ١٣٨٠ وہ شخص جس پر کسی نمازکی قضا واجب ہے ضروری ہے کہ اس کے پڑھنے ميں کوتاہی نہ کرے ليکن یہ بھی واجب نہيں ہے کہ فوراً ان کی قضا بجا لائے۔

مسئلہ ١٣٨١ جس شخص پر کسی نمازکی قضاواجب ہو وہ مستحب نماز پڑھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٣٨٢ اگر انسان کو احتما ل ہو کہ اس کے ذمے قضا نماز باقی ہے یا یہ احتمال ہوکہ جو نمازیں اس نے پڑھی تہيں وہ صحيح نہيں تہيں تو احتياط مستحب یہ ہے کہ ان کی قضا کرے۔

مسئلہ ١٣٨٣ پنجگانہ نماز کی قضا ميں ترتيب ضروری نہيں ہے سوائے ان نمازوں ميں جن ميں ترتيب ضروری ہے جيسے ایک ہی دن کی ظہر وعصر یا مغرب وعشا کی نماز، اگر چہ احتياط مستحب یہ ہے کہ ان کے علاوہ دوسری نمازوں ميں بھی ترتيب کا لحاظ رکھا جائے۔

مسئلہ ١٣٨ ۴ جو شخص پنجگانہ نمازوں کے علاوہ چند دوسری نمازوں جيسے نماز آیات کی قضا کرنا چاہے یا مثال کے طور پر یہ چاہے کہ کسی ایک پنجگانہ نماز اور چند دوسری نمازوں کی قضا کرے تو اسے ترتيب سے بجا لانا ضروری نہيں ہے ۔


مسئلہ ١٣٨ ۵ اگر کوئی شخص قضا شدہ نمازوں کی ترتيب بھول جائے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ ان نمازوں کو اس طرح پڑھے کہ اسے یقين ہو جائے کہ جس ترتيب سے وہ قضا ہوئی تہيں اسی ترتيب سے انجام دی گئيں ہيں ، مثلاً اگر ایک ظہر اور ایک مغرب کی نماز کی قضا اس پر واجب ہو اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی پهلے قضا ہوئی تھی تو پهلے ایک نماز مغرب، پھر اس کے بعد ایک ظہر اور دوبارہ نماز مغرب پڑھے یا پهلے ایک نماز ظهر،پہر ایک نماز مغرب اور دوبارہ نماز ظہر پڑھے تاکہ اسے یہ یقين ہو جائے کہ جو نمازپهلے قضا ہوئی تھی وہ پهلے پڑھی گئی ہے ۔

مسئلہ ١٣٨ ۶ اگر کسی شخص کی ایک دن کی نمازظہر اور کسی دوسرے دن کی نمازعصر یا دو نمازظہر یا دو نمازعصر قضا ہوئی ہوں اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی نماز پهلے قضا ہوئی ہے تو اگر وہ شخص دو چار رکعتی نماز یں اس نيت سے پڑھے کہ ان ميں پهلی پهلے دن کی قضا ہے اور دوسری دوسرے دن کی قضا ہے تو یہ ترتيب حاصل ہونے کے لئے کافی ہے ۔

مسئلہ ١٣٨٧ اگر کسی شخص کی ایک نمازِ ظہر اور ایک نمازعشا قضا ہو جائے یا ایک نمازعصر اور ایک نماز عشا قضا ہو جائے اور وہ یہ نہ جانتا ہو کہ پهلے کون سی قضا ہوئی ہے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ انہيں اس طرح سے پڑھے کہ ترتيب حاصل ہو جائے اور ترتيب کے بارے ميں یقين پيدا کرنے کے لئے مثلاًظہر و عشا کی مثال ميں وہ اس طرح کر سکتا ہے کہ پهلے نماز ظہر اور پھر اس کے بعد نماز عشا اور دوبارہ نماز ظہر پڑھے یا پهلے نماز عشا پھر نماز ظہر اور دوبارہ نمازعشا پڑھے۔

مسئلہ ١٣٨٨ جو شخص یہ تو جانتا ہو کہ اس نے ایک چار رکعتی نماز نہيں پڑھی ہے ليکن یہ نہ جانتا ہو کہ وہ ظہر کی نماز ہے یا عصر کی تو اگر وہ ایک چار رکعتی نماز اس قضا نمازکی نيت سے بجا لائے جو اس نے نہيں پڑھی تو یهی کافی ہے ۔اسی طرح اگر وہ یہ نہ جانتا ہو کہ جو نماز نہيں پڑھی وہ ظہر کی تھی یا عشا کی تب بھی یهی حکم ہے اور اس صورت ميں اسے اختيار ہے کہ وہ نماز بلند آواز سے پڑھے یا آهستہ پڑھے۔

مسئلہ ١٣٨٩ جس شخص کی مسلسل پانچ نماز یں قضا ہو جائيں اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ان ميں سے کون سی نمازپهلے قضا ہوئی تهی،اگر وہ نو نمازیں ترتيب سے پڑھے مثلاًنماز صبح سے ابتدا کرتے ہوئے ظهر،عصر،مغرب وعشا پڑھنے کے بعد دوبارہ نمازصبح،ظهر،عصر اور مغرب پڑھے تو اسے ترتيب حاصل ہونے کا یقين ہوجائے گا۔اسی طرح جس شخص کی مسلسل چھ نماز یں قضا ہوئی ہو ں اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ان ميں سے کون سی نماز پهلے قضا ہوئی تھی تو ترتيب کا یقين حاصل کرنے کے لئے د س نمازیں ترتيب سے پڑھے۔اسی طرح قضا نماز وں کی تعداد ميں بڑھنے والی هرنمازکے لئے جو ترتيب سے قضا ہوئی ہوں ایک نمازکا اضافہ کرتا چلا جائے تاکہ ترتيب حاصل ہونے کا یقين ہو جائے۔


مسئلہ ١٣٩٠ جس شخص کو علم ہو کہ پنجگانہ نمازوں ميں سے ہر نمازکسی ایک دن قضا ہوئی ہے ليکن وہ ان کی ترتيب نہ جانتا ہو تو بہتر یہ ہے کہ پانچ دن کی قضا نماز یں پڑھے اور اگر کسی شخص کی چھ نمازیں چھ دنوں ميں قضا ہوئی ہو ں تو چھ دن کی قضا نمازیں پڑھے اور اسی طرح قضا نمازوں کی تعداد ميں بڑھنے والی ہر نمازکے لئے ایک دن کی نماز قضا کرے۔اس طرح اسے ترتيب حاصل ہونے کا یقين ہو جائے گا،مثلاًاگر سات نمازیں سات دنوں ميں قضا ہوئی ہيں تو سات دن کی نمازیں قضا پڑھے۔

ہر دن کی نماز کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ اگر نمازان دنوں ميں قضا ہوئی ہے جب وہ وطن یا اس کے حکم ميں تھا تو ایک دو رکعتی،ایک تين رکعتی اور ظہر وعصر وعشا کے لئے ایک چار رکعتی نمازپڑھ لے، جب کہ اگر نماز سفر کے دنوں ميں قضا ہوئی ہو تو ایک تين رکعتی اور فجر وظہر وعصر وعشا کے لئے ایک دو رکعتی نماز پڑھ لے۔

مسئلہ ١٣٩١ جس شخص کی مثلاًچند صبح یا ظہر کی نمازیں قضا ہوئی ہوں اور اسے ان کی تعداد کا علم نہ ہو یا ان کی تعداد بھول گيا ہو مثال کے طور پر وہ نہ جانتا ہو کہ تين یا چار یا پانچ نمازیں قضا ہوئی ہيں ،اگر وہ شخص کم مقدار کے اعتبار سے بھی وہ نمازیں پڑھ لے تو کافی ہے ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ اتنی نمازیں پڑھے کہ اسے یہ یقين ہوجائے کہ ساری قضا نمازیں پڑھ لی ہيں خصوصا جب اسے پهلے مقدار کے بارے ميں یقين تھا اور بعدميں بھول گيا ہو۔

مسئلہ ١٣٩٢ جس شخص کی گذشتہ دنوں ميں صر ف ایک نماز قضاہوئی ہو احتياط مستحب یہ ہے کہ امکان کی صورت ميں پهلے اسے بجا لائے اس کے بعد اس دن کی نماز پڑھے۔نيز اگر گذشتہ دنوں ميں کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو ليکن اسی دن کی ایک یا اس سے زیادہ نمازیں قضا ہوئی ہوں تب بھی امکان کی صورت ميں مستحب ہے کہ اس دن کی قضا نماز،ادا نمازسے پهلے پڑھے اور دونوں صورتوں ميں اگر کيفيت یہ ہو کہ پنجگانہ نماز کی فضيلت کا وقت گزر جائے گا تو بہتر یہ ہے کہ پهلے پنجگانہ نمازادا کی جائے۔

مسئلہ ١٣٩٣ اگر کسی شخص کو نمازکے دوران یہ بات یاد آجائے کہ اس کی اس دن کی ایک یا ایک سے زیادہ نمازیں قضا ہوئی ہيں یا گذشتہ دنوں کی صرف ایک قضانماز باقی ہے تو اگر نماز کا وقت وسيع ہو اور نيت کو قضا نمازکی طرف پلٹانا ممکن ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ قضا نماز کی نيت کر لے مثلاًاگر کسی شخص کو ظہر کی نماز ميں تيسری رکعت کے رکوع سے پهلے یہ بات یاد آجائے کہ اس دن کی صبح کی نمازقضا ہو گئی ہے اور نماز کا وقت کم نہ ہو تو اپنی نيت صبح کی نماز کی طرف پلٹا دے اور نماز دو رکعت پر تمام کرے اور اس کے بعد نمازظہر پڑھے ليکن اگر وقت کم ہو یا قضا نماز کی طرف نيت پلٹانا ممکن ہی نہ ہو مثلاًاسے نمازِ ظہر کی تيسری رکعت کے رکوع ميں یہ بات یاد آئے کہ اس نے صبح کی نماز نہيں پڑھی ہے تو چونکہ نماز صبح کی طرف نيت کرنے سے ایک رکوع جو کہ رکن ہے ،زیادہ ہو جائے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ نماز صبح کی طرف نيت نہ پلٹائے۔


مسئلہ ١٣٩ ۴ اگر کسی شخص کی گذشتہ دنوں کی نمازیں قضا ہوئی ہوں اور اس دن کی بھی ایک یا ایک سے زیادہ نمازیں اس سے قضا ہوئی ہوں اور ان سب کو بجا لانے کے لئے اس کے پاس وقت نہ ہو یا وہ سب نمازوںکو اس روز نہ پڑھنا چاہتا ہو تو مستحب ہے کہ ادا نماز سے پهلے اسی روز کی قضا نمازیں پڑھے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ گذشتہ دنوں کی نمازیں پڑھنے کے بعد ان قضا نمازوں کو جواس دن ادا نمازسے پهلے پڑھی تہيں دوبارہ بجا لائے۔

مسئلہ ١٣٩ ۵ جب تک انسان زندہ ہے کوئی دوسرا شخص اس کی قضا نمازیں نہيں پڑھ سکتا ہے خواہ وہ اپنی نمازیں پڑھنے سے عاجز ہی کيوں نہ ہو۔

مسئلہ ١٣٩ ۶ قضا نماز باجماعت پڑھی جا سکتی ہے خواہ امام جماعت کی نماز ادا ہو یا قضااور یہ بھی ضروری نہيں ہے کہ وہ دونوں ایک ہی نماز پڑہيں بلکہ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص صبح کی قضا نمازکو امام کی ظہر یا عصر کے ساته پڑھے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٣٩٧ مستحب ہے کہ مميز بچے کو یعنی وہ بچہ جو اچھے برے کی تميز رکھتا ہو،نماز پڑھنے اور دوسری عبادا ت بجا لانے کی عادت ڈالی جائے بلکہ مستحب ہے کہ اسے قضا شدہ نمازیں پڑھنے کے لئے بھی کها جائے۔

باپ کی قضا نماز جو بڑے بيٹے پر واجب ہے

مسئلہ ١٣٩٨ اگر باپ نے اپنی واجب نمازوںکو انجام نہ دیا ہو جب کہ وہ ان کی قضا کرنے پر قادر تھا اور چاہے ، احتياط کی بناپر، خدا کی نا فرمانی کرتے ہوئے انہيں ترک کيا ہو یا وہ نمازیں صحيح نہ بجا لایا ہو تو اس کے بڑے بيٹے پر واجب ہے کہ اس کے مرنے کے بعد خود ان نمازوں کو انجام دے یا کسی شخص سے اجرت پر پڑھوائے، ليکن ماں کی قضا نمازیں بڑے بيٹے پر واجب نہيں ہيں اگر چہ احوط ہے ۔

مسئلہ ١٣٩٩ اگر بڑے بيٹے کو شک ہو کہ باپ کے ذمے قضا نمازیں تہيں یا نہيں تو اس پر کوئی چيز واجب نہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٠٠ اگر بڑے بيٹے کو یہ تو معلوم ہو کہ باپ کی قضا نمازیں تہيں ليکن شک کرے کہ وہ انہيں بجا لایا تھا یا نہيں تواحتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۴ ٠١ اگر یہ معلوم نہ ہو کہ بڑا بيٹا کون ہے تو باپ کی قضا نمازیں کسی بيٹے پر بھی واجب نہيں ہے ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ نمازیں واجبِ کفائی کے طور پر بجا لائيں یا آپس ميں تقسيم کر ليں یا ا س کو انجام دینے کے لئے قرعہ اندازی کر ليں۔

مسئلہ ١ ۴ ٠٢ اگر ميت نے وصيت کی ہو کہ اس کی قضا نمازوں کے لئے کسی شخص کو اجير بنایا جائے تو اجير کے صحيح طریقے سے نمازیں پڑھ لينے کے بعد بڑے بيٹے پر کچھ واجب نہيں ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٠٣ اگر بڑا بيٹا اپنے ماں باپ کی قضا نمازیں پڑھنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داری کے مطابق عمل کرے،مثال کے طور پر وہ اپنی ماں کی صبح، مغرب اور عشا کی قضا نمازیں بلند آواز سے پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ٠ ۴ جس شخص کے ذمے قضا نماز ہو اگر وہ اپنے ماں باپ کی قضا نمازیں بھی پڑھنا چاہے تو جسے بھی پهلے بجا لائے صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٠ ۵ اگر بڑا بيٹا باپ کی موت کے وقت نابالغ یا دیوانہ ہو تو ضروری ہے کہ بالغ یا عاقل ہونے کے بعد باپ کی قضا نمازیں پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ٠ ۶ اگر بڑا بيٹا باپ کی قضا نمازیں پڑھنے سے پهلے ہی مر جائے تو دوسرے بيٹوں پر کچھ بھی واجب نہيں ہے ۔

نماز جماعت

مسئلہ ١ ۴ ٠٧ مستحب ہے کہ واجب نمازوں خصوصا پنچگانہ نمازوں کو باجماعت پڑھا جائے اورصبح اور عشا کی نماز ميں اور مسجد کے پڑوس ميں رہنے والے کے لئے اور اس شخص کے لئے جو اذان کی آواز سن رہا ہو نماز جماعت کی بہت تاکيد کی گئی ہے اور اسی طرح بعض روایات کے مطابق نماز مغرب با جماعت پڑھنے کی بھی بہت تاکيد کی گئی ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٠٨ نمازجماعت فرادیٰ نمازسے چوبيس ( ٢ ۴ ) درجہ افضل ہے اور پچيس( ٢ ۵ ) نمازوں کے برابرہے اور بعض روایات ميں اس طرح آیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:”جو شخص نماز جماعت پڑھنے کے لئے کسی مسجد ميں جائے تو ہر قدم کے بدلے اس کو ستر ہزار حسنہ مليں گے اور اسی طرح ستر ہزار درجات بھی مليں گے اور اگر وہ ایسی حالت ميں مرجائے تو خداوند عالم اس کے اوپر ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے کہ اس کی قبر پر جائيں اور اس کو جنت کی خوشخبری دیں اور قبر کی تنهائی ميں اس کے مونس ویاور ہوں اور اس کے لئے اس دن تک استغفار کریں جس دن اس کو قبر سے اٹھ ایا جائے گا۔

مسئلہ ١ ۴ ٠٩ لا پرواہی کی وجہ سے نماز جماعت ميں حاضر نہ ہونا جائز نہيں ہے اور بغير کسی عذر کے نماز جماعت کو ترک کرنا سزاوار نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ١٠ مستحب ہے کہ انسان صبر کرے تاکہ نمازبا جماعت پڑھے اور جب تک نماز کی فضيلت کا وقت باقی ہو، نماز جماعت اس فرادیٰ نمازسے بہتر ہے جو اول وقت ميں پڑھی جا رہی ہو اور اسی طرح وہ نماز جماعت جو مختصر طور پر پڑھی جارہی ہو اس فرادیٰ نمازسے بہتر ہے جو طول دے کر پڑھی جارہی ہو۔

مسئلہ ١ ۴ ١١ جس شخص نے اپنی نماز پڑھ لی ہو اس کے لئے مستحب ہے کہ جب جماعت قائم ہو تو وہ اپنی نماز دوبارہ جماعت کے ساته پڑھے اور اگر نماز کے بعد اسے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی پهلی نمازباطل تھی تو دوسری نماز اس کے لئے کافی ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ١٢ اگر پيش امام یا مقتدی ایک نماز جماعت کے ساته پڑھنے کے بعد دوبارہ اپنی نماز کو جماعت کے ساته پڑھنا چاہيں تو اگر پهلی والی نمازباطل ہونے کا احتمال نہ ہو تو جائز نہيں ہے ، البتہ اگر دوسری جماعت ميں امام بن کر نماز پڑھائے اور اقتدا کرنے والوں ميں ایسے افراد بھی ہو ں جنہوں نے ابهی تک واجب نماز نہ پڑھی ہو تو امام کے لئے دوبارہ نمازپڑھنا مستحب ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ١٣ جس شخص کو نماز ميں اس قدر وسوسہ ہوتا ہو کہ اس کی نماز باطل ہو جاتی ہو اور صرف جماعت کے ساته نماز پڑھنے سے اس کا وسوسہ دور ہوتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز باجماعت پڑھے اور اگر وسوسہ سے نماز باطل نہيں ہوتی تب بھی احتياط واجب یہ ہے کہ نمازجماعت کے ساته پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ١ ۴ اگر ماںباپ اپنے بيٹے کو حکم دیں کہ وہ نمازکو جماعت کے ساته پڑھے تو نمازجماعت سے نہ پڑھنا اگر ماں یا باپ کی اذیت کا سبب بنتا ہو تو ان کی مخالفت حرام ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ١ ۵ مستحب نماز جماعت کے ساته نہيں پڑھی جا سکتی، ليکن نماز استسقا جو کہ بارش آنے کے لئے پڑھتے ہيں ، اسے جماعت کے ساته پڑھ سکتے ہيں ۔ اسی طرح وہ نمازجو پهلے واجب رہی ہو اور بعد ميں کسی وجہ سے مستحب ہوگئی ہو جيسے عيد فطر اور عيد قربان کی نمازکہ جو امام عليہ السلام کے زمانے ميں واجب تھی اور غيبت کی وجہ سے مستحب ہو گئی ہے اس کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ١ ۶ جب امام نماز پنجگانہ ميں سے کوئی نمازجماعت کے ساته پڑھ رہا ہو تو اس کے پيچهے نماز پنجگانہ ميں سے کوئی بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ١٧ اگر امام اپنی یا کسی دوسرے شخص کی نمازپنجگانہ قضا پڑھ رہا ہو اور اس نمازکا قضا ہونا بھی یقينی ہو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی ہے ليکن اگر امام احتياطا قضا پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا کرنا جائز نہيں ہے مگر یہ کہ ماموم بھی احتياطاً نماز پڑھ رہا ہو اور دونوں کی احتياط کا سبب بھی ایک ہی ہو۔

مسئلہ ١ ۴ ١٨ اگر انسان نہ جانتا ہو کہ کوئی شخص جو نماز پڑھ رہا ہے وہ یوميہ واجب نمازهے یا کوئی مستحب نماز ہے تو اس کے پيچهے اقتدا نہيں کر سکتا۔

مسئلہ ١ ۴ ١٩ نمازجماعت کے صحيح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے درميان اور اسی طرح ایک ماموم او ر دوسرے ایسے ماموم کے درميان جو امام اور ماموم کے درميان واسطہ ہے کوئی ایسی چيز حائل نہ ہو جو دیکھنے ميں رکاوٹ ہو۔ مثلاًپردہ یا دیوار وغيرہ پس اگر نمازکی تمام یا بعض حالتوں ميں امام او رماموم یا ماموم اور ایسے دوسرے ماموم کے درميان جو اتصال کا ذریعہ ہو کوئی چيز حائل ہو تو نماز جماعت باطل ہے اور جيسا کہ بعد ميں بيان کيا جائے گا عورت اس حکم سے مستثنی ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٢٠ اگر پهلی صف لمبی ہونے کی وجہ سے اس کے دونوں اطراف کھڑے ہوئے اشخاص امام جماعت کو نہ دیکھ سکيں تب بھی ان کی جماعت صحيح ہے اور اسی طرح کسی بھی صف کی لمبائی کی وجہ سے اس کے دونوں طرف کھڑے ہوئے اشخاص اگر اپنی اگلی صف کو نہ دیکھ سکيں تو ان کی بھی جماعت صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٢١ اگر جماعت کی صفيں مسجد کے دروازے تک پهنچ جائيں تو جو شخص دروازے پر صف کے پيچهے کهڑا ہو اس کی نماز صحيح ہے ۔ اور ان لوگوں کی نماز بھی صحيح ہے جو اس شخص کے پيچهے کھڑے ہوکر نمازپڑھ رہے ہوں بلکہ وہ لوگ جو دونوں اطراف ميں کھڑے ہيں اور جماعت سے متصل ہيں ، ان کی بھی نمازصحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٢٢ جو شخص ستون کے پيچهے کهڑا ہو اگر وہ دائيں یا بائيں جانب سے کسی مقتدی کے ذریعے امام سے متصل نہ ہو تو وہ اقتدا نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ١ ۴ ٢٣ ضروری ہے کہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم کی جگہ سے اونچی نہ ہو ليکن اگر معمولی سی مثلاً ایک بالشت سے کم اونچی ہو تو کوئی حرج نہيں ہے ۔ نيز اگر زمين ڈهلوان والی ہو اور امام اونچی طرف کهڑا ہو تو اگر ڈهلوان زیادہ نہ ہو اور ا س زمين کو ہموار کها جائے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٢ ۴ اگر ماموم کی جگہ امام کی جگہ سے اونچی ہوتو کوئی اشکال نہيں البتہ اگر اتنی اونچی ہو کہ اسے جماعت کهنا ہی مشکوک ہو جائے تو جماعت کا قصد نہيں کيا جاسکتا۔

مسئلہ ١ ۴ ٢ ۵ اگر ایک صف ميں کھڑے ہوئے افراد کے درميان کوئی ایسا شخص موجود ہو جس کی نمازباطل ہے یا ایسا مميز بچہ موجود ہوجس کی نماز صحيح ہونے کا علم نہ ہو تو اس صورت ميں کہ دوسرے ماموم کے ذریعے سے اتصال برقرار نہ ہو، احتياط واجب کی بنا پر اقتدا نہيں کی جا سکتی ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٢ ۶ امام جماعت کے تکبيرة الاحرام کهنے کے بعد اگر آگے والی صف نماز اور تکبيرةالاحرام کهنے کے لئے تيار ہو تو وہ شخص جو بعد والی صف ميں کهڑا ہو وہ تکبيرة الاحرام کہہ سکتا ہے ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ انتظار کرے تاکہ وہ شخص یا اشخاص جو آگے والی صف ميں اس کے اتصال کا ذریعہ ہوں تکبير کہہ ليں۔

مسئلہ ١ ۴ ٢٧ اگر کوئی شخص یہ جانتا ہو کہ آگے والی صفوں ميں سے کسی ایک صف کی نمازباطل ہے تو وہ بعد والی صفوں ميں اقتدا نہيں کرسکتا، ليکن اگر وہ نہ جانتا ہو کہ ان کی نمازصحيح ہے یا نہيں تو اقتدا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٢٨ جب کسی شخص کومعلوم ہوجائے کہ امام جماعت کی نمازباطل ہے مثلااسے یہ معلوم ہوجائے کہ امام جماعت نے وضو نہيں کيا ہے تو اگرچہ خود امام اس چيز کی طرف متوجہ نہ ہو اس کی اقتدا نہيں کی جاسکتی ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٢٩ اگر نماز کے بعد ماموم کو یہ علم ہو جائے کہ امام جماعت عادل نہ تھا یا کافر تھا یا کسی اور وجہ سے اس کی نماز باطل تھی مثلاً اس نے وضو کے بغير نماز پڑھ لی تھی تو ماموم کی نمازاس صورت ميں صحيح ہے کہ اس نے کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جس کی وجہ سے فرادیٰ نماز باطل ہوجاتی ہو، جيسے رکوع زیادہ کرنا۔

مسئلہ ١ ۴ ٣٠ اگر نماز کے دوران کوئی شخص شک کرے کہ اقتدا کی ہے یانہيں تو ضروری ہے کہ وہ نماز کو فرادیٰ کی نيت سے پورا کرے، ليکن اگر کسی وجہ سے اسے اطمينان ہوجائے کہ جماعت کی نيت کی ہے تو نماز کو جماعت کی نيت سے پورا کرے۔

مسئلہ ١ ۴ ٣١ اگر کوئی شخص نمازجماعت ميں تشهد کے دوران اور امام کے سلام کهنے سے پهلے فرادیٰ نماز کی طرف عدول کرنا چاہے تو اگر وہ ابتدا سے عدول کی نيت سے نہ رکھتا ہو توکوئی حرج نہيں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص عذر رکھتا ہو تو وہ تشهد سے پهلے تک عدول کر سکتا ہے ، ليکن ان دو صورتوں کے علاوہ عدول کرنا محل اشکال ہے ، خواہ وہ ابتدا سے عدول کی نيت رکھتا ہویا نماز کے دوران عدول کی نيت کرے، البتہ اگر وہ فرادیٰ شخص کے وظيفے پر عمل کرے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرائت کا موقع گزر جانے کے بعد فرادیٰ نماز کی طرف عدول کرے اور ابتدا سے فرادیٰ کا قصد نہ رکھتا ہو تو اس کی نماز قرائت چھوڑنے کے اعتبار سے صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٣٢ اگر مقتدی امام کی الحمد اور سورہ ختم ہونے سے پهلے نمازفرادیٰ کی نيت کرے تو خواہ امام الحمد یا سورہ کا کچھ حصہ پڑھ چکا ہو، ضروری ہے کہ مقتدی الحمد اور سورہ دوبارہ پڑھے۔

اور اسی طرح اگر امام کی الحمد اورسورہ ختم ہونے کے بعد اور رکوع ميں جانے سے پهلے اگر وہ فرادیٰ کی نيت کرے تب بھی احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ٣٣ اگر کوئی شخص نمازجماعت کے ساته فرادیٰ کی نيت کرے تو دوبارہ جماعت کی نيت نہيں کرسکتا، البتہ اگر وہ متردد ہوجائے کہ فرادیٰ کی نيت کرے یا نہيں تو اگر چہ وہ بعد ميں نمازجماعت کے ساته تمام کرنے کا مصمم ارادہ بھی کر لے، اس کی جماعت محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٣ ۴ اگر کوئی شخص شک کرے کہ نماز کے دوران اس نے فرادیٰ کی نيت کی ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ ا س نے فرادیٰ کی نيت نہيں کی ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٣ ۵ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع ميں ہو اور وہ امام کے رکوع ميں پهنچ جائے تو خواہ امام نے رکوع کا ذکر پڑھ ليا ہو اس کی نماز اور جماعت دونوں صحيح ہيں اور یہ ایک رکعت شمار ہوگی، البتہ اگر وہ رکوع کی مقدار تک جھکے ليکن امام کے رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٣ ۶ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع ميں ہو اور وہ رکوع کی مقدار تک جھکے اور شک کرے کہ امام کے رکوع ميں پهنچا ہے یا نہيں تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٣٧ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع ميں ہو اور اس سے پهلے کہ رکوع کی حد تک جھکے امام رکوع سے سر اٹھ الے تو ضروری ہے کہ امام کے ساته ہی سجدے ميں جائے اور امام کی اگلی رکعت کو اپنی پهلی رکعت قرار دے اور احتياط واجب یہ ہے کہ امام کی پيروی کے بعد جب (اگلی رکعت کے لئے) کهڑا ہو تو قربت مطلقہ کی نيت سے، جو چاہے تکبيرة الاحرام ہو یا ذکر، تکبير کهے۔

مسئلہ ١ ۴ ٣٨ اگر کوئی شخص نماز کی ابتدا ہی سے یا الحمد اور سورے کے درميان اقتدا کرے اور رکوع کی مقدار ميں جانے سے پهلے ہی امام اپنا سر رکوع سے اٹھ ا لے تو اگر وہ تاخير کرنے ميں عذر رکھتاہو تو اس کی نماز اور جماعت صحيح ہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٣٩ اگرکوئی شخص جماعت کے لئے اس وقت پهنچے جب امام جماعت کا آخری تشهد پڑھ رہا ہو اور وہ شخص یہ چاہتا ہو کہ جماعت کا ثواب حاصل کرے تو ضروری ہے کہ اقتدا کی نيت اور تکبيرة الاحرام کهنے کے بعد بيٹھ جائے اور تشهد کو احتياط واجب کی بنا پر قربت مطلقہ کی نيت سے واجب تشهد یا ذکر کی نيت کے بغير امام کے ساته پڑھے، ليکن سلام نہ پهيرے اور انتظار کرے تاکہ امام نماز کا سلام پڑھ لے۔ اس کے بعد وہ شخص کهڑا ہو جائے اور دوبارہ نيت اور تکبيرة الاحرام کهے بغير الحمد اور سورہ پڑھے اور اسے اپنی نماز کی پهلی رکعت شمار کرے۔

مسئلہ ١ ۴۴ ٠ ضروری ہے کہ ماموم امام سے آگے نہ کهڑا ہو اور اگر ماموم صرف ایک شخص ہوتو احتياط واجب یہ ہے کہ وہ امام کی دائيں جانب کهڑا ہو اوراس کا امام کے پيچهے کهڑا ہونا ضروری نہيں ہے ۔ ہاں، اگر کسی شخص کا قد امام سے بلند ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ اس طرح کهڑا ہو کہ رکوع اور سجدے ميں امام سے آگے نہ ہو اور اگر مامومين زیادہ ہوں تو اس کا حکم ”مسئلہ ١ ۴ ٨٨ “ميں بيان کياجائے گا۔

مسئلہ ١ ۴۴ ١ اگر امام مرد اور ماموم عورت ہو تو اگر اس عورت اور امام کے درميان یا اس عورت اور دوسرے مقتدی مرد کے درميان جو اس عورت کے اتصال کا ذریعہ ہے ، کوئی پردہ یا اس جيسی کوئی دوسری چيز حائل ہو تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۴ ٢ اگر نماز جماعت شروع ہونے کے بعد امام اور ماموم کے درميان یا امام اور اس شخص کے درميان جو امام سے اتصال کا ذریعہ ہو پردہ یا کوئی اور چيز حائل ہوجائے تو جماعت باطل ہے اور اس کی نماز فرادیٰ ہوجائے گی اور ضروری ہے کہ وہ فرادیٰ نمازپڑھنے والے کے وظيفے پر عمل کرے۔


مسئلہ ١ ۴۴ ٣ اقوی یہ ہے کہ مقتدی کے سجدے کی جگہ اور امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درميان ایک بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ ہو۔ اسی طرح اگر انسان ایک ایسے مقتدی کے واسطے سے جو اس کے آگے کهڑا ہو اما م سے متصل ہو تب بھی یهی حکم ہے (یعنی ایک لمبے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ ہو)اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ماموم کے سجدے کی جگہ او راس سے آگے کھڑے ہونے والے شخص کی جگہ کے درميان کوئی فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ ١ ۴۴۴ اگر ماموم ایک ایسے شخص کے ذریعے سے امام سے متصل ہو جس نے اس کی دائيں یا بائيں سمت ميں اقتدا کی ہے اور سامنے سے امام سے متصل نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اس شخص سے جو اس کی دائيں یا بائيں سمت کهڑ اہو ایک بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ رکھے۔

مسئلہ ١ ۴۴۵ اگر نماز کے دوران امام اور ماموم کے درميان یا ماموم اور دوسرے مامو م کے درميان جو اس کے سامنے کهڑا ہے ایک لمبے قدم سے زیادہ فاصلہ ہوجائے توجماعت باطل ہے اور ضروری ہے کہ فرادیٰ کی نيت کرے اور نماز کو فرادیٰ پڑھے۔ اسی طرح اگر ایک ماموم اور دوسرے ایسے ماموم کے درميان جو اس کے دائيں یا بائيں جانب کهڑا ہے اور امام سے اتصال کا ذریعہ ہے ایک لمبے قدم سے زیادہ فاصلہ ہوجائے تب بھی بنابر احتياط و اجب یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۴۶ اگر اگلی صف ميں کھڑے ہوئے تمام لوگوں کی نمازختم ہوجائے اور بعد والی صف ميں کھڑے ہوئے لوگوں کے درميان اور جن کی نماز تمام ہوئی ہے ان سے اگلی صف ميں کھڑے ہوئے لوگوں کے درميان کا فاصلہ ایک بڑے قدم کے برابریا اس سے کم ہو تو جن لوگوں کی نماز ختم ہوئی ہے اگر وہ فورا دوسری نمازکے لئے اما م کی اقتدا کر ليں تو بعد والی صف کی جماعت صحيح ہے اور اگر مذکورہ مقدار سے زیادہ فاصلہ ہو تو بعد والی صف کی جماعت باطل ہے اور ان کی نمازفرادیٰ ہوجائے گی۔

مسئلہ ١ ۴۴ ٧ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا ء کرے جب امام کی دوسری رکعت ہو تو اس سے الحمد اور سورہ ساقط ہيں اور ضروری ہے کہ اما م سے پهلے رکوع ميں نہ جائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ امام کے تشهد سے پهلے کهڑا نہ ہو اور وہ شخص قنوت اور تشهد امام کے ساته پڑھ سکتا ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اما م کے تشهد کے وقت اپنی ہاتھ کی انگليوں اور پاؤں کے تلوے کے اگلے حصے کو زمين پر رکھے اور اپنے گھٹنوں کو اٹھ الے اور ضروری ہے کہ امام کے ساته کهڑا ہو اور الحمداور سورہ پڑھے اور اگر سورہ پڑھنے کا وقت نہ ہوتو الحمد کو تمام کرے اور امام کے رکوع ميں پهنچ جائے اور اگر امام کے رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ کا قصد کرے۔


مسئلہ ١ ۴۴ ٨ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام چار رکعتی نمازکی دوسری رکعت ميں ہو تو ضروری ہے کہ اپنی نماز کی دوسری رکعت ميں جو کہ امام کی تيسری رکعت ہے ، دو سجدے کرنے کے بعدبيٹھ جائے اور واجب مقدار کی حد تک تشهد پڑھ کر کهڑا ہوجائے اور اگر تين مرتبہ تسبيحات اربعہ نہ پڑھ سکتا ہو تو ایک مرتبہ تسبيحات اربعہ پڑھ کر امام کے رکوع ميں پهنچ جائے اور اگر امام کے رکوع ميں نہ پهنچ پائے تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ نماز کا قصد کرے۔

مسئلہ ١ ۴۴ ٩ اگر امام تيسری یا چوتھی رکعت ميں مشغول ہو اور ماموم یہ جانتاہو، بلکہ صرف احتمال دے رہا ہوکہ اگر وہ اقتدا کرلے اور الحمد پڑھے تو امام کے رکوع ميں نہيں پهنچ پائے گا تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ انتظار کرے تاکہ امام رکوع ميں چلا جائے اور اس کے بعد اقتدا کرے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ٠ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام تيسری یا چوتھی رکعت کے قيام ميں ہو تو ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے اور اگر سورہ کے ليے وقت نہ ہو تو ضروری ہے کہ صر ف الحمد پڑھے اورامام کے رکوع ميں پهنچ جائے اور اگر کوئی رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ نماز کا قصد کرے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ١ جو شخص جانتا ہو کہ اگر وہ سورہ یا قنوت کو تما م کرے تو امام کے رکوع ميں نہيں پهنچ سکے گا اور وہ عمداسورہ یا قنوت پڑھے اور رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو اس کی نماز صحيح ہے ، ليکن ضروری ہے کہ فرادیٰ شخص کے وظيفے کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ٢ جس شخص کو اطمينان ہو کہ اگر سورہ شروع کرے یا اسے تما م کرے تو امام کے رکوع ميں پهنچ جائے گا تو احتياط واجب یہ ہے کہ سورہ شروع کرے یا اگر شروع کر ليا ہوتو اسے مکمل کرے، ليکن اگر امام کے رکوع ميں نہ پهنچ پارہا ہو توسورہ شروع کرنے کی صورت ميں ضروری ہے کہ اسے تمام نہ کرے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ٣ جو شخص یقين رکھتا ہو کہ اگر وہ سورہ پڑھے تو امام کے رکوع ميں پهنچ جائے گا اور سورہ پڑھے لے اور اما م کے رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو اس کی جماعت صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۵۴ اگر امام قيام کی حالت ميں ہو اور ماموم یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کون سی رکعت ميں ہے تو وہ اقتدا کر سکتا ہے ، ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ الحمد اور سورہ جزء نماز یا قرائت قرآن کی عمومی نيت کے ساته پڑھے، اگر چہ بعد ميں معلوم ہو جائے کہ امام کی پهلی یا دوسری رکعت تھی۔


مسئلہ ١ ۴۵۵ اگر کوئی شخص اس خيال سے کہ امام پهلی یا دوسری رکعت ميں ہے الحمد او رسورہ نہ پڑھے اور رکوع کے بعد اسے یہ معلوم ہوجائے کہ امام تيسری یا چوتھی رکعت ميں تھا تو اس کی نماز صحيح ہے ، ليکن اگر رکوع سے پهلے یہ معلوم ہو جائے کہ امام تيسری یا چوتھی رکعت ميں ہے تو ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے اور وقت کم ہونے کی صورت ميں صرف الحمد پڑھے اور رکوع ميں پهنچ جائے اور اگر الحمد پڑھنے کا بھی وقت نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ نماز کا قصد کرے۔

مسئلہ ١ ۴۵۶ اگر کوئی شخص اس خيال سے کہ امام تيسری یا چوتھی رکعت ميں ہے الحمد یا سورہ پڑھ لے اور رکوع سے پهلے یا اس کے بعد اسے یہ معلوم ہو جائے کہ امام پهلی یا دوسری رکعت ميں تھا تو اس کی نمازصحيح ہے اورا گر الحمد اور سورہ پڑھنے کے درميان یہ معلوم ہو جائے تو ضروری ہے کہ بقيہ حصہ نہ پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ٧ اگر کوئی شخص مستحب نمازپڑھ رہا ہو اورجماعت کهڑی ہو جائے اور اسے یہ اطمينان نہ ہوکہ اگر نماز کو تمام کر لے تو جماعت کو پا لے گا تو مستحب ہے کہ وہ شخص مستحب نماز کو چھوڑ دے اور جماعت ميں شریک ہوجائے، بلکہ اگر اسے یہ اطمينان نہ ہو کہ پهلی رکعت ميں شریک ہوسکے گا تب بھی مستحب ہے کہ اسی حکم پر عمل کرے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ٨ اگر کوئی شخص تين رکعتی یا چار رکعتی نمازپڑھ رہا ہو اور جماعت قائم ہوجائے، تو اگر ابهی تيسری رکعت کے رکوع ميں نہ گيا ہو اور اسے یہ اطمينان نہ ہو کہ اگر نماز کو تمام کرلے تو جماعت ميں شریک ہو جائے گا، مستحب ہے کہ وہ شخص مستحب نماز کی نيت سے اپنی نماز کو دو رکعت پر تمام کرے اور جماعت ميں شریک ہوجائے۔

مسئلہ ١ ۴۵ ٩ اگر امام کی نماز ختم ہو جائے اور ماموم تشهد یا پهلا سلام پڑھنے ميں مشغول ہو تو ضروری نہيں کہ فرادیٰ نماز کی نيت کرے۔

مسئلہ ١ ۴۶ ٠ اگر کوئی شخص امام سے ایک رکعت پيچهے ہو اور جس وقت امام آخری رکعت کا تشهد پڑھ رہا ہو وہ فرادیٰ نماز کا قصد نہ کرے تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اپنی انگليوں اور پاؤں کے تلووں کا اگلا حصہ زمين پر رکھے اور گھٹنوں کو اٹھ ا کررکھے اور امام کے سلام پڑھنے کا انتظا ر کرے اور اس کے بعد کهڑا ہوجائے اور اگر اسی وقت فرادیٰ نماز کا قصد کرنا چاہے تو کوئی حرج نہيں ہے ، ليکن اگر ابتدا ہی سے فرادیٰ کا قصد تھا تو محل اشکال ہے ۔

امام جماعت کے شرائط

مسئلہ ١ ۴۶ ١ ضروری ہے کہ امام جماعت بالغ، عاقل، شيعہ اثنا عشری، عادل اور حلال زادہ ہو۔

اسی طرح اگر اقتدا نماز کی ابتدائی دو رکعات ميں ہو اور ماموم کی قرائت صحيح ہو تو ضروری ہے کہ امام کی قرائت بھی صحيح ہو۔


اس کے علاوہ صورت ميں بهی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔ نيز اگر ماموم مرد ہوتو ضروری ہے کہ امام بھی مرد ہو اور نماز ميت کے علاوہ کسی دوسری نماز ميں عورت کا کسی دوسری عورت کی امامت کرنامکروہ ہے ۔هاں، نمازميت ميں اگر عورت سے زیادہ ميت کے لئے کوئی دوسرا سزاوار نہ ہو تو مکروہ نہيں ہے اور مميز بچہ جو اچھے اور برے کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے کسی دوسرے مميز بچے کی اقتدا ميں نماز پڑھ سکتا ہے اور جماعت کا اثر مترتب ہونا وجہ سے خالی نہيں ليکن احوط اثر کا مترتب نہ ہونا ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶ ٢ اگر کوئی شخص کسی امام کو عادل سمجھتا تھا اگر شک کرے کہ وہ اب بھی اپنی عدالت پر باقی ہے یا نہيں تو وہ اس کی اقتدا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶ ٣ جو شخص کهڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو کسی ایسے شخص کی اقتدا نہيں کرسکتا جو بيٹھ کر یا ليٹ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جو شخص بيٹھ کر نمازپڑھ رہا ہو وہ کسی ایسے شخص کی اقتدا نہيں کرسکتا جو ليٹ کر نمازپڑھ رہا ہو۔

مسئلہ ١ ۴۶۴ جو شخص بيٹھ کر نمازپڑھتا ہو وہ کسی ایسے شخص کی اقتدا کر سکتا ہے جو بيٹھ کر نمازپڑھتا ہو اوراسی طرح جو شخص ليٹ کر نمازپڑھتا ہو وہ کسی ایسے شخص کی اقتدا کر سکتا ہے جوليٹ کر نماز پڑھتا ہو۔ اسی طرح جو شخص بيٹھ کر نماز پڑھتا ہو وہ ایسے شخص کی اقتدا کر سکتا ہے جو کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہو، ليکن جو شخص ليٹ کر نمازپڑھتا ہو وہ ایسے شخص کی اقتدا نہيں کرسکتا جو بيٹھ کر نماز پڑھتا ہو۔

مسئلہ ١ ۴۶۵ اگر امام جماعت کسی مجبوری کی وجہ سے نجس لباس یا تيمم یا وضو جبيرہ کے ساته نمازپڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶۶ اگر امام کسی بيماری کی وجہ سے اپنا پيشاب یا پاخانہ نہ روک سکتا ہو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی ہے اور جو عورت مستحاضہ نہ ہو وہ مستحاضہ عورت کی اقتدا کر سکتی ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶ ٧ وہ شخص جو جذام یابرص کا مریض ہو اس کی اقتدا ميں نمازپڑھنا مکروہ ہے اور وہ شخص جس پر شرعی حد جاری ہوچکی ہو اس کی اقتدا کرنا جائز نہيں ہے ۔

جماعت کے احکام

مسئلہ ١ ۴۶ ٨ ضروری ہے کہ ماموم نماز کی نيت کرتے وقت امام کو معين کرے ليکن اس کا نام جاننا ضروری نہيں مثلا اگروہ نيت کرے کہ ميں موجودہ امام کی اقتدا کرتاہوں تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶ ٩ ضروری ہے کہ ماموم الحمد اور سورہ کے علاوہ تمام اذکار خود پڑھے، ليکن اگر ماموم کی پهلی یا دوسری رکعت، امام کی تيسری یا چوتھی رکعت ہو تو الحمد اور سورہ پڑھنا بھی ضروری ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٧٠ اگر ماموم نماز صبح، مغرب و عشا کی پهلی یا دوسری رکعت ميں امام کے الحمد اور سورہ پڑھنے کی آواز سن رہا ہو خواہ و ہ ان کلمات کو سمجھ نہ رہا ہو، ضروری ہے کہ وہ الحمد اور سورہ نہ پڑھے اور اگرامام کی آواز نہ سن رہا ہو تو مستحب ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے ليکن ضروری ہے کہ نماز کا جزء سمجھ کر نہ پڑھے اور ضروری ہے کہ آهستہ پڑھے اوراگر سهواً اونچی آواز سے پڑھ لے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٧١ اگر ماموم امام کے الحمد اور سورہ کے بعض کلمات سن رہا ہو تو جن کلمات کو نہ سن سکے انہيں پڑھ سکتا ہے ، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ الحمد اور سورہ نہ پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ٧٢ اگر مامو م بھول کر الحمد اور سورہ پڑھ لے یا اس خيال سے کہ جو آواز وہ سن رہا ہے وہ امام کی آواز نہيں ہے الحمد اور سورہ پڑھ لے اور بعد ميں اسے معلوم ہوجائے کہ وہ امام کی آواز تھی تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٧٣ اگر مامو م شک کرے کہ امام کی آواز سن رہا ہے یا نہيں یا جو آواز سن رہا ہے اس کے بارے ميں یہ نہ جانتا ہوکہ یہ امام کی آواز ہے یا کسی اور کی آواز ہے تو وہ الحمد اورسورہ پڑھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٧ ۴ ضروری ہے کہ ماموم، نمازظہر اور عصر کی پهلی اور دوسری رکعت ميں الحمد اورسورہ نہ پڑھے اور مستحب ہے کہ اس کی جگہ کوئی دوسرا ذکر پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ٧ ۵ ضروری ہے کہ ماموم تکبيرةالاحرام کوامام سے پهلے نہ کهے، بلکہ احتياط واجب یہ ہے کہ جب تک امام کی تکبيرمکمل نہ ہوجائے تکبير نہ کهے۔

مسئلہ ١ ۴ ٧ ۶ اگر ماموم بھول کرامام سے پهلے سلام پڑھ لے تو اس کی نماز صحيح ہے ، بلکہ اگر جان بوجه کر بھی امام سے پهلے سلام پڑھ لے تو اس صور ت ميں کہ ابتدا ہی سے عدول کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٧٧ اگر مامو م تکبيرة الاحرام کے علاوہ دوسرے اذکار کو امام سے پهلے پڑھ لے تو کوئی حرج نہيں ، ليکن اگر انہيں سن رہا ہو یا یہ جانتا ہو کہ امام انہيں کس وقت کهے گا تو احتياط مستحب یہ ہے کہ امام سے پهلے نہ کهے۔

مسئلہ ١ ۴ ٧٨ ضروری ہے کہ مامو م نماز ميں پڑھی جانے والی چيزوں کے علاوہ دوسرے افعال مثلارکوع و سجود، امام کے ساته یا امام کے تهوڑ ی دیر بعد بجا لائے اور اگر جان بوجه کر امام کے بعد یا اس کی کچھ مدت کے بعد انجام دے تو اس کی جماعت باطل ہوجائے گی، ليکن اگر اس نے فرادیٰ شخص کے وظيفے پر عمل کيا ہے تو اس کی نماز صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٧٩ اگر ماموم بھول کر امام سے پهلے ہی رکوع سے سر اٹھ ائے اور امام رکوع ميں ہی ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ رکوع ميں جائے اور امام کے ساته رکوع سے سر اٹھ الے اور اس صور ت ميں رکوع کا زیادہ ہونا نماز کو باطل نہيں کرتا، ليکن اگر رکوع ميں واپس جائے او راس سے پهلے کہ وہ امام کے رکوع ميں پهنچے امام سر اٹھ الے تو اس کی نماز باطل ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٨٠ اگر ماموم غلطی سے سجدے سے سر اٹھ ا لے اور دیکھے کہ امام ابهی سجدے ميںہے تو ضروری ہے کہ دوبارہ سجدے ميں جائے اور اگر دونوں سجدوں ميں اتفاقاً ایسا ہی ہو جائے تو دوسجدے زیادہ ہونے کی وجہ سے نماز باطل نہيں ہوتی۔

مسئلہ ١ ۴ ٨١ جوشخص غلطی سے امام سے پهلے اپنا سر سجدے سے اٹھ ا لے اور واپس سجدے ميں جائے اور اس سے پهلے کہ وہ سجدے ميں پهنچے امام اپنا سر اٹھ ا لے تو اس کی نماز صحيح ہے ، ليکن اگر دونوں سجدوں ميں یهی اتفاق پيش آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٨٢ اگر غلطی سے کوئی شخص اپنا سر رکوع یا سجدے سے اٹھ الے اور بھول کر یا اس خيال سے کہ امام کے سجدے یا رکوع ميں نہيں پهنچ پائے گا رکوع یا سجدے ميں نہ جائے تو اس کی جماعت اور نماز دونوں صحيح ہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٨٣ اگر کوئی شخص اپنا سر سجدے سے اٹھ ا لے اور دیکھے کہ امام بھی سجدے ميں ہے چنانچہ اس خيال سے کہ یہ امام کا پهلا سجدہ ہے اور وہ شخص اس نيت سے کہ امام کے ساته سجدہ کرے، سجدے ميں چلا جائے اورا سے یہ معلوم ہو جائے کہ یہ امام کا دوسرا سجدہ ہے تو یہ اس شخص کا دوسرا سجدہ ہی شمار ہوگا اور اگر اس خيال سے کہ یہ امام کا دوسرا سجدہ ہے سجدے ميں چلا جائے اور اسے یہ معلوم ہو کہ یہ امام کا پهلا سجدہ ہے تو ضروری ہے کہ امام کے ساته سجدہ کرنے کی نيت سے سجدہ کرے اور دوبارہ امام کے ساته سجدے ميں جائے اور دونوں صورتوں ميں احتياط مستحب یہ ہے کہ نماز کو جماعت کے ساته پڑھنے کے بعد دوبارہ بھی پڑھے۔

مسئلہ ١ ۴ ٨ ۴ اگر کوئی شخص بھول کر امام سے پهلے رکوع ميں چلا جائے اور حالت یہ ہو کہ اگر وہ اپنا سر اٹھ الے تو امام کی قرائت کے کچھ حصے ميں پهنچ جائے گا تو اگر وہ اپنا سر اٹھ الے اور امام کے ساته رکوع ميں چلاجائے تواس کی نماز اور جماعت دونوں صحيح ہيں اور اگر جان بوجه کر اپنا سرنہ اٹھ ائے تو اس کی نماز کا صحيح ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٨ ۵ اگر کوئی شخص بھول کر امام سے پهلے رکوع ميں چلا جائے او رحالت یہ ہو کہ اگر وہ اپنا سر اٹھ ا لے تو وہ امام کی قرائت ميں نہيں پهنچ سکے گا، اگر امام کی پيروی کرتے ہوئے اپنا سر اٹھ ا لے اور امام کے ساته رکوع ميں چلا جائے تو اس کی نماز اور جماعت دونوں صحيح ہيں اور اگر وہ انتظار کر لے تاکہ امام اس کے رکوع ميں پهنچ جائے تو اس کی نماز صحيح ہے ليکن اس کی جماعت محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ١ ۴ ٨ ۶ اگر کوئی شخص بھول کر امام سے پهلے سجدے ميں چلا جائے اور امام کی پيروی کرنے کی نيت سے اپنا سر اٹھ ا لے اور امام کے ساته سجدے ميں جائے تو اس کی نماز اور جماعت دونوں صحيح ہيں اور اگر انتظار کرے تاکہ امام اس کے سجدے ميں پهنچ جائے تو اس کی نماز صحيح ہے ليکن اس کی جماعت محل اشکال ہے ۔


مسئلہ ١ ۴ ٨٧ اگر امام غلطی سے ایسی رکعت ميں قنوت پڑھ لے جس ميں قنوت نہيں ہے یا جس رکعت ميں تشهد نہيں ہے اس ميں تشهد پڑھنے ميں مشغول ہو جائے تو ضروری ہے کہ ماموم قنوت اور تشهد نہ پڑھے ليکن وہ امام سے پهلے رکوع ميں نہيں جا سکتا اور امام سے پهلے قيام نہيں کرسکتا ہے بلکہ ضروری ہے کہ انتظار کرے تاکہ امام کا قنوت اور تشهد تمام ہوجائے اور اپنی بقيہ نماز کو امام کے ساته پڑھے۔

نمازجماعت ميں امام اور ماموم کا وظيفہ

مسئلہ ١ ۴ ٨٨ اگر ماموم ایک مرد ہو تو احتياط واجب کی بنا پر وہ امام کی دائيں طرف کهڑا ہو اور اگر ایک مرد اور ایک عورت یا چند عورتيں ہوں تو مرد دائيں طرف اور بقيہ عورتيں امام کے پيچهے کهڑی ہو ں اور اگر چند مرد اور ایک یا چند عورتيں ہوں تومرد امام کے پيچهے اور عورتيں مردوں کے پيچهے کهڑی ہوں اور اگر ایک یا چند عورتيں ہوں تو امام کے پيچهے کهڑی ہوں اور ایک عورت ہونے کی صورت ميں مستحب ہے کہ امام کے پيچهے دائيں سمت ميں اس طرح کهڑی ہو کہ اس کی سجدے کی جگہ امام کے گھٹنوں یا قدم کے مقابل ہو۔

مسئلہ ١ ۴ ٨٩ اگر ماموم اور امام دونوں عورتيں ہوں تو احتياط واجب یہ ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے برابر ميں کهڑی ہوں اور امام ان سے آگے نہ ہو۔

وہ چيزيں جو نمازجماعت ميں مستحب ہيں

مسئلہ ١ ۴ ٩٠ مستحب ہے کہ امام صف کے درميان ميں کهڑا ہو اور صاحبان علم، کمال اور تقویٰ پهلی صف ميں کھڑے ہوں۔

مسئلہ ١ ۴ ٩١ مستحب ہے کہ جماعت کی صفيں منظّم ہو ں اور ایک صف ميں کھڑے ہوئے نمازیوں کے درميان فاصلہ نہ ہو اور ان کے کاندهے ایک دوسرے کے مقابل ہوں۔

مسئلہ ١ ۴ ٩٢ مستحب ہے کہ ”قد قامت الصلاة“ کهنے کے بعد مامومين کھڑے ہوجائيں۔

مسئلہ ١ ۴ ٩٣ مستحب ہے کہ امام اس ماموم کی حالت دیکھ کرنماز پڑھائے جو مامومين ميں سب سے زیادہ ضعيف ہو اور قنوت، رکو ع،اور سجدے کو طول نہ دے، ليکن اگر جانتا ہو کہ تمام مامومين طول دینے کی طرف مائل ہيں تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١ ۴ ٩ ۴ مستحب ہے کہ امام جماعت الحمد،سورہ،اور بلند آواز سے پڑھے جانے والے اذکار نماز ميں اپنی آواز اتنی اونچی کرے کہ دوسرے مامومين سن ليں، ليکن ضروری ہے کہ اپنی آواز حد سے زیادہ اونچی نہ کرے۔

مسئلہ ١ ۴ ٩ ۵ اگر امام کو رکوع کے دوران یہ معلوم ہوجائے کہ کوئی ماموم ابهی ابهی آیا ہے اور اقتدا کرنا چاہتا ہے تو مستحب ہے کہ رکوع کواپنے معمول سے دگنا طول دے اور اس کے بعد کهڑا ہوجائے، اگرچہ اسے یہ معلوم ہوجائے کہ کوئی اور بھی اقتدا کے لئے آیا ہے ۔


وہ چيزيں جو نمازجماعت ميں مکروہ ہيں

مسئلہ ١ ۴ ٩ ۶ اگر جماعت کی صفوں کے درميان جگہ خالی ہو تو مکروہ ہے کہ انسان اکيلا کهڑا ہو۔

مسئلہ ١ ۴ ٩٧ ماموم کا اذکارِ نماز کو اس طرح پڑھنا کہ امام سن لے مکروہ ہے ۔

مسئلہ ١ ۴۶ ٨ جس مسافر کونماز ظهر،عصراور عشا دو رکعت پڑھنا ہيں ، اس کے لئے کسی ایسے شخص کی اقتدا کرنا جو مسافر نہيں ہے مکروہ ہے او رجو شخص مسافر نہيں اس کے لئے کسی ایسے شخص کی اقتدا کرنا جو مسافر ہو مکروہ ہے ۔

نماز آيات

مسئلہ ١ ۴ ٩٩ نماز آیات کہ جس کے پڑھنا کا طریقہ بعد ميں بيان ہوگا چار چيزوں کی وجہ سے واجب ہوتی ہے :

١) سورج گرہن ۔

٢) چاند گرہن۔ اگر چہ ان کے کچھ حصے کو ہی گرہن لگے اور اس کی وجہ سے کوئی خوف زدہ بھی نہ ہوا ہو۔

٣) زلزلہ، اگرچہ کوئی خوف زدہ بھی نہ ہوا ہو۔

۴) گرج چمک اور سرخ وسياہ آندهی اور ان جيسی دوسری آسمانی نشانياں، اس صورت ميں کہ اکثر لوگ ان سے خوف زدہ ہوجائيں۔ جها ں تک زمينی حادثات کا تعلق ہے جيسے کہ دریا کا پانی خشک ہوجانا اور پهاڑ کا گرنا جو کہ اکثر لوگوں کہ خوف زدہ ہونے کاباعث ہوتاہے ، تو ان ميں نماز آیات پڑھنا مستحب ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٠٠ جن چيزوں کی وجہ سے نماز آیات پڑھنا واجب ہے اگروہ ایک سے زیادہ ہو جائيں تو ضروری ہے کہ انسان ان ميں سے ہر ایک کے لئے نمازآیات پڑھے۔ مثلاً سورج گرہن بھی ہو اور زلزلہ بھی آجائے تو ضروری ہے کہ ایک نمازآیات سورج گرہن کے لئے اور ایک نماز آیات زلزلے کے لئے پڑھے۔

مسئلہ ١ ۵ ٠١ جس شخص پر ایک سے زیادہ نماز آیا ت کی قضا واجب ہو خواہ وہ ایک چيز کی وجہ سے واجب ہوئی ہوں جيسے کہ تين مرتبہ سورج گرہن ہوا ہو اور اس شخص نے تينوں مرتبہ نماز آیات نہ پڑھی ہو، یا چند چيزوں کی وجہ سے واجب ہوئی ہوں جيسے کہ سورج گرہن بھی ہوا ہو اور چاند گرہن بهی، ا ن کی قضا بجا لاتے وقت ضروری نہيں ہے کہ وہ شخص یہ معين کرے کہ کون سی نماز کی قضا کر رہا ہوں، البتہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اگرچہ اجمالا ہی سهی، انہيں معين کرے مثلاًیہ نيت کرے کہ جو پهلی نماز آیات یا دوسری نماز آیات جو مجھ پر واجب ہوئی تھی اس کی قضا بجا لا رہا ہوں۔

مسئلہ ١ ۵ ٠٢ جن چيزوں کی وجہ سے نماز آیات پڑھنا واجب ہے اگر وہ کسی جگہ واقع ہوجائيں تو صرف اسی جگہ کے لوگوں کے لئے نماز آیات پڑھنا واجب ہے اور دوسرے مقامات کے لوگوں کے لئے اس کا پڑھنا واجب نہيں ہے ۔


مسئلہ ١ ۵ ٠٣ سورج یا چاند کو گرہن لگنے کی صورت ميں نمازآیا ت پڑھنے کا وقت اسی وقت سے شروع ہوتا ہے جب سورج یا چاند کو گهن لگنا شروع ہوجائے اور اس وقت تک باقی رہتا ہے جب سورج یا چاند مکمل طور پر گرہن سے نکل آئيں اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اتنی تاخير نہ کرے کہ سور ج یا چاند گرہن سے نکلنا شروع ہوجائيں، بلکہ گرہن کی ابتدا ميں ہی نماز آیات پڑھنا مستحب ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٠ ۴ اگر کوئی شخص نماز آیات پڑھنے ميں اتنی تاخير کرے کہ چاند یا سورج گرہن سے نکلنا شروع ہو جائيں تو اس کی نمازادا ہے ، ليکن پورا سورج یاچاند،گرہن سے نکل جانے کی صورت ميں اس کی نمازقضا ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٠ ۵ اگر چاند گرہن یا سورج گرہن کی مدت ایک رکعت کے برابر یا اس سے بھی کم ہو تو نماز آیات واجب اور ادا ہے ۔اسی طرح اگر گرہن کی مدت ایک رکعت سے زیادہ ہو اور انسان نمازنہ پڑھے یهاں تک کہ ایک رکعت کے برابر یا اس سے بھی کم وقت باقی رہ گيا ہو تب بھی نماز آیات واجب اور ادا ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٠ ۶ انسان کے لئے واجب ہے کہ زلزلہ،گرج چمک اور انهی جيسی دوسری چيزوں کے وقوع کے وقت نماز آیات پڑھے اور ضروری ہے کہ نماز کو اتنی دیر سے نہ پڑھے کہ عرفا لوگ اسے تاخير کہيں اور تاخير کرنے کی صورت ميں اپنی نماز پڑھے ليکن احتياط واجب کی بنا پر ادا یا قضا کی نيت نہ کرے۔

مسئلہ ١ ۵ ٠٧ اگر کسی شخص کو سورج یا چاند گرہن لگنا معلوم نہ ہو اور ان کے گرہن سے نکلنے کے بعد پتہ چلے کہ پورے چاند یا سورج کو گرہن لگا تھا تو ضروری ہے کہ نماز آیات کی قضا بجا لائے، ليکن اگر یہ معلوم ہو کہ ان کی کچھ مقدار کو گرہن لگا تھا تو قضا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٠٨ اگر کچھ لوگ کہيں کہ سورج یاچاند کو گرہن لگا ہے اور انسان کو ان کے کهنے سے یقين یا اطمينان پيدا نہ ہو اور اس گروہ ميں سے کوئی ایسا شخص موجودنہ ہو جس کا شرعی طورپر کوئی اعتبار ہو او رانسان نماز آیات نہ پڑھے اور بعد ميں یہ معلوم ہوکہ ان لوگوںنے صحيح کها تھا تو پورے چاند یاسورج کو گرہن لگنے کی صورت ميں ضروری ہے کہ نماز آیات بجا لائے، ليکن اگر ان کے کچھ حصے کو گرہن لگا ہو تو نماز آیات پڑھنا ضروری نہيں ہے ۔اسی طرح اگر دو اشخاص کہ جن کے عادل ہونے کا علم نہ ہو یا ایک شخص کہ جس کے قابل اعتماد ہونے کا علم نہ ہو، اگر یہ کہيں کہ سورج یاچاند کو گرہن لگا ہے اور بعد ميں معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں عادل تهے یا وہ ایک شخص ایسا قابل اعتماد تھا کہ جس کے قول کے بر خلاف بات کاگمان نہ تھا تب بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٠٩ اگر انسان کو ان لوگوں کے کهنے سے جو علمی قاعدے کی رو سے چاند گرہن یا سورج گرہن کے بارے ميں بتاتے ہيں ، اطمينان پيدا ہوجائے کہ سورج یا چاند گهن ہوا ہے تو ضروری هے _کہ نماز آیات پڑھے۔ نيز اگر وہ لوگ یہ کہيں کہ فلاں وقت


سورج یا چاند کو گهن لگے گا اور فلاں وقت تک رہے گا اور انسان کو ان کے کهنے سے اطمينان پيدا ہوجائے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے اطمينان پر عمل کرے۔

مسئلہ ١ ۵ ١٠ اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ جو نماز آیات پڑھی تھی وہ باطل تھی تو اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور وقت گذرنے کی صورت ميں ضروری ہے کہ قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۵ ١١ اگر پنجگانہ نمازوں کے اوقات ميں کسی شخص پر نماز آیات بھی واجب ہو جائے اور دونوں نمازوں کے لئے وقت وسيع ہو تو وہ پهلے کوئی بھی نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر ان دونوں ميں سے کسی ایک کا وقت تنگ ہو تو جس نماز کا وقت تنگ ہو ضروری ہے کہ اسے پهلے پڑھے اور اگر دونوں کا وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ پهلے یوميہ پڑھے۔

مسئلہ ١ ۵ ١٢ اگر کسی شخص کو پنجگانہ نمازوں کے د رميان یہ معلوم ہو جائے کہ نماز آیات کا وقت تنگ ہے اور نماز پنجگانہ کا وقت بھی تنگ ہو تو ضروری ہے کہ اسے مکمل کرنے کے بعد نماز آیات پڑھے اور اگر نماز یوميہ کا وقت تنگ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے چھوڑ دے اور پهلے نماز آیات پڑھے اور اس کے بعد نماز یوميہ بجا لائے۔

مسئلہ ١ ۵ ١٣ اگر نماز آیات کے دوران کسی شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یوميہ نماز کا وقت تنگ ہے تو ضروری ہے کہ وہ نماز آیات کو چھوڑ دے اور نماز یوميہ شروع کر دے اور نماز مکمل کرنے کے بعد، کوئی ایسا کام انجام دینے سے پهلے جو نماز کو باطل کر دیتا ہوضروری ہے کہ نماز آیات جهاں سے چھوڑی تھی وہيں سے مکمل کرے۔

مسئلہ ١ ۵ ١ ۴ اگر کسی عورت کے حيض یا نفاس کی حالت ميں سورج یا چاند کو گهن لگ جائے تو اس پر نماز آیات اورا س کی قضا واجب نہيں ہے ليکن غير موقت جيسے کہ زلزلہ اور گرج چمک ميں عورت کے پاک ہونے کے بعد ادا یا قضا کی نيت کے بغير نماز آیات بجالانا ضروری ہے ۔

نماز آيات کا طريقہ

مسئلہ ١ ۵ ١ ۵ نماز آیات دو رکعت ہے اور ہر رکعت ميں پانچ رکوع ہيں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان نيت کرنے کے بعد تکبيرة الاحرام کهے اور ایک مرتبہ الحمد اور ایک پورا سورہ پڑھے اور رکوع ميں چلا جائے، پھر رکوع سے سر اٹھ الے اور دوبارہ ایک مرتبہ الحمد اور ایک سورہ پڑھے اور رکوع ميں چلا جائے اور اسی طرح پانچ رکوع کرے اور پانچویں رکوع سے سر اٹھ انے کے بعد دو سجدے کرے اور کهڑا ہوجائے اور دوسری رکعت کو بھی پهلی رکعت کی طرح بجا لائے اور تشهد پڑھ کر سلام پهيرے۔

مسئلہ ١ ۵ ١ ۶ نماز آیات ميں الحمد پڑھنے کے بعد انسان یہ بھی کر سکتا ہے کہ ایک سورے کے پانچ حصے کرے اور ایک آیت یا اس سے کم یا زیادہ پڑھے اور رکوع ميں چلا جائے، پھر رکوع سے اٹھ کر الحمد پڑھے بغير اسی سورہ کا دوسرا حصہ پڑھے اور رکوع ميں چلا جائے اور اسی طرح یہ عمل دهراتا رہے۔ یهاں تک کہ پانچویں رکوع سے پهلے سورہ مکمل کر لے۔


مثلا سورہ قل ہو اللّٰہ احد کی نيت سے ”بسم الله الرحمن الرحيم “پڑھے اور رکوع ميں جائے اور اس کے بعد کهڑا ہوجائے اور ”قل ہو اللّٰہ احد “ کهے اور دوبارہ رکوع ميں جائے اور رکوع کے بعد کهڑا ہوا ور ”الله الصمد “ کهے پھر رکوع ميں جائے اور کهڑا ہوا اور ”لم یلد ولم یولد“ کهے اور رکوع ميں چلا جائے اور رکوع سے سر اٹھ ا لے اور ”ولم یکن لہ کفوا احد“ کهے اور اس کے بعد پانچویں رکوع ميں چلا جائے، رکوع سے سر اٹھ انے کے بعد دوسجدے کرے۔ دوسری رکعت بھی پهلی رکعت کی طرح بجا لائے اور دوسرے سجدے کے بعد تشهد اور سلام پڑھ کر نماز مکمل کرے۔ نيز یہ بھی جائز ہے کہ ایک سورے کو پانچ سے کم حصوں ميں تقسيم کرے ليکن جب بھی سورہ مکمل کرے ضروری ہے کہ بعد والی رکوع سے پهلے الحمد پڑھے اور اس کے بعد ایک سورہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے۔

مسئلہ ١ ۵ ١٧ اگر کوئی شخص نماز آیات کی ایک رکعت ميں پانچ دفعہ الحمد اور سورہ پڑھے اور دوسری رکعت ميں ایک دفعہ الحمد اور سورے کو پانچ حصوں ميں تقسيم کردے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ١٨ جو چيزیں پنجگانہ نماز ميں واجب اور مستحب ہيں وہ نماز آیات ميں بھی واجب اور مستحب ہيں البتہ اگر نماز آیات جماعت کے ساته ہو رہی ہو تو اذان اور اقامت کے بجائے تين دفعہ بطور رجاء ”الصلاة“کها جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ١٩ نماز آیات پڑھنے والے کے لئے مستحب ہے کہ پانچویں اور دسویں رکوع سے سر اٹھ انے کے بعد ”سمع اللّٰہ لمن حمدہ“ پڑھے۔ نيز ہر رکوع سے پهلے اور اس کے بعد تکبير کهنا مستحب ہے ، ليکن پانچویں اور دسویں رکوع کے بعد تکبير کهنا مستحب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٢٠ مستحب ہے کہ دوسرے، چوتھے، چھٹے، آٹھ ویں اور دسویں رکوع سے پهلے قنوت پڑھا جائے اور اگر صرف دسویں رکوع سے پهلے پڑھ ليا جائے تب بھی کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٢١ اگر کوئی شخص نمازآیات ميں شک کرے کہ کتنی رکعت پڑھی ہے اور کسی نتيجے پر نہ پهنچے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٢٢ اگر شک کرے کہ پهلی رکعت کے آخری رکوع ميں ہے یا دوسری رکعت کے پهلے رکوع ميں اور کسی نتيجے پر نہ پهنچ سکے تو اس کی نماز باطل ہے ۔هاں، اگر رکوع کی تعداد ميں شک کرے تو کم پر بنا رکھے مگر یہ کہ شک کرے کہ چار رکوع بجا لایا ہے یا پانچ کہ اس صورت ميں اگر سجدے ميں جانے کے لئے جھکا نہ ہو تو ضروری ہے کہ جس رکوع کے لئے جھک گيا تھا اسے بجا لائے اور اگر سجدے ميں جانے کے لئے جھک جانے کے بعد اور سجدے ميں پهنچنے سے پهلے شک ہوا ہو تواحتياط واجب کی بنا پر واپس پلٹ آئے اور رکوع بجا لائے اور نماز مکمل کر کے دوبارہ بجا لائے، ليکن اگر سجدے ميں پهنچ گيا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مْسئلہ ١ ۵ ٢٣ نماز آیات کا ہر رکوع ایک رکن ہے اور اگر ان ميں عمدا یا سهواً کمی یابيشی ہو جائے تو نماز باطل ہے ۔


عيد فطر و عيدقربان کی نمازيں

مسئلہ ١ ۵ ٢ ۴ امام عليہ السلام کے زمانے ميں عيد فطر وعيد قربان کی نمازیں واجب ہيں اور ضروری ہے کہ یہ نمازیں جماعت کے ساته پڑھی جائيں ليکن ہمارے زمانے ميں جب کہ امام عصر عليہ السلام پردہ غيبت ميں ہيں ، یہ نمازیں مستحب ہيں اور باجماعت اور فرادیٰ دونوں طرح پڑھی جا سکتی ہيں ۔هاں، با جماعت پڑھنے کی صورت ميں احتياط واجب کی بنا پر نمازیوں کی تعدادپانچ افراد سے کم نہ ہو۔

مسئلہ ١ ۵ ٢ ۵ عيد فطر وعيد قربان کی نماز کا وقت عيد کے روز طلوع آفتاب سے ظہر تک ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٢ ۶ عيد قربان کی نماز سور ج چڑھ آنے کے بعد مستحب ہے اور عيد فطر ميں مستحب ہے کہ سور ج چڑھ آنے کے بعد افطار کيا جائے اور احتياط واجب کی بنا پر فطرہ دینے کے بعد نماز عيد ادا کی جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٢٧ عيد فطر وقربان کی نمازدو رکعت ہے جس کی پهلی رکعت ميں الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد ضروری ہے کہ پانچ تکبيریں کهے اور ہر تکبير کے بعد احتياط واجب کی بنا پر ایک قنوت پڑھے ۔ پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبير کہہ کر رکوع ميں چلا جائے اور دوسجدوں کے بعد اٹھ کهڑا ہو۔ دوسری رکعت ميں چار تکبيریںکهے اور ہر تکبير کے بعد ایک قنوت پڑھے، پانچویں تکبير کہہ کر رکوع ميں چلا جائے، رکوع کے بعد دوسجدے بجا لائے اور تشهد و سلام پڑھے۔

مسئلہ ١ ۵ ٢٨ عيد فطر وقربا ن کی نماز کے قنوت ميں جو دعا اور ذکر بھی پڑھا جائے کافی ہے ، ليکن بہتر ہے کہ وہ دعا جو شيخ طوسی رحمة الله عليہ نے اپنی کتاب مصباح المتهجد ميں نقل کی ہے ، پڑھی جائے اور وہ دعا یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ ا هَْٔلَ الْکِبْرِیَاءِ وَالْعَظَمَةِ وَ ا هَْٔلَ الْجُوْدِ وَ الْجَبَرُوْتِ وَ ا هَْٔلَ الْعَفْوِ وَ الرَّحْمَةِ وَ ا هَْٔلَ التَّقْویٰ وَ الْمَغْفِرَةِا سَْٔئَلُکَ بِحَقِّ هٰذَا الْيَوْمِ الَّذِیْ جَعَلْتَه لِلْمُسْلِمِيْنَ عِيْداً وَّ لِمُحَمَّدٍ صَلیَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِه ذُخْراً وَّ شَرَفاً وَّ کَرَامَةً وَّ مَزِیْدًا ا نَْٔ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ ا نَْٔ تُدْخِلَنِیْ فِیْ کُلِّ خَيْرٍ ا دَْٔخَلْتَ فِيْهِ مُحَمَّدًا وَّ آلَ مُحَمَّدٍ وَّ ا نَْٔ تُخْرِجَنِیْ مِنْ کُل سُوْءٍ ا خَْٔرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّدًا وَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُکَ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ، اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ ا سَْٔئَلُکَ خَيْرَ مَا سَئَلَکَ بِه عِبَادُک الصَّالِحُوْنَ وَ ا عَُٔوْذُ بِکَ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ (الْمُخْلِصُوْنَ، الْمُخْلَصُوْنَ)

اور اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ وہ دعا جو شيخ طوسی نے اپنی کتاب تہذیب ميں معتبر سند کے ساته ذکر کی ہے ، اسے پڑھا جائے۔ وہ دعا یہ ہے :


ا شَْٔهَدُ ا نَْٔ لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَ ا شَْٔهَدُ ا نََّٔ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُه، اَللَّهُمَّ اَنْتَ ا هَْٔلُ الْکِبْرِیَاءِوَالْعَظَمَةِ وَ ا هَْٔلُ الْجُوْدِ وَ الْجَبَرُوْتِ وَ الْقُدْرَةِ وَ السُّلْطَانِ وَ الْعِزَّةِ، ا سَْٔئَلُکَ فِیْ هٰذَا الْيَوْمِ الَّذِیْ جَعَلْتَه لِلْمُسْلِمِيْنَ عِيْدًا وَّ لِمُحَمَّدٍ صَلیَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِه ذُخْراً وَّ مَزِیْداً، ا سَْٔئَلُکَ ا نَْٔ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ ا نَْٔ تُصَلِّیَ عَلیٰ مَلاَئِکَتِکَ الْمُقَرَّبِيْنَ وَ ا نَْٔبِيَائِکَ الْمُرْسَلِيْنَ وَ ا نَْٔ تَغْفِرَ لَنَا وَ لِجَمِيْعِ الْمُوْ مِٔنِيْنَ وَ الْمُوْ مِٔنَاتِ وَ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمَات اْلا حَْٔيَاءِ مِنْهُمْ وَ اْلا مَْٔوَاتِ، ا لٔلّٰهُمَّ إِنیِّ ا سَْٔئَلُکَ مِنْ خَيْرِ مَا سَئَلَکَ عِبَادُکَ الْمُرْسَلُوْنَ وَ ا عَُٔوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِه عِبَادُکَ الْمُخْلَصُوْنَ، اَللّٰهُ اَکْبَرُ اَوَّلُ کُلِّ شَيْیٍ وَّ آخِرُه وَ بَدِیْعُ کُلِّ شَيْیٍ وَّ مُنْتَهَاهُ وَ عَالِمُ کُلِّ شَيْیٍ وَّ مَعَادُه وَ مَصِيْر کُلِّ شَيْیٍ إِلَيْهِ وَ مَرَدُّه وَ مُدَبِّرُ اْلاُمُوْرِ وَ بَاعِثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ، قَابِلُ الْاَعْمَالِ مُبْدِی الْخَفِيَّاتِ مُعْلِنُ السَّرَائِرِ، اَللّٰهُ اَکْبَر عَظِيْمُ الْمَلَکُوْتِ شَدِیْدُ الْجَبَرُوْتِ حَیٌّ لاَّ یَمُوْتُ دَائِمٌ لاَّ یَزُوْلُ إِذَا قَضیٰ اَمْراً فَإِنَّمَا یَقُوْلُ لَه کُنْ فَيَکُوْنُ، اَللّٰهُ اَکْبَر خَشَعَتْ لَکَ الْاَصْوَاتُ وَ عَنَتْ لَکَ الْوُجُوْهُ وَ حَارَتْ دُوْنَکَ الْاَبْصَارُ وَ کَلَّتِ الْاَلْسُنُ عَنْ عَظَمَتِکَ وَ النَّوَاصِیَ کُلُّهَا بِيَدِکَ وَ مَقَادِیْرُ الْاُمُوْرِ کُلُّهَا اِلَيْکَ، لاَ یَقْضِیْ فِيْهَا غَيْرُکَ وَ لاَ یَتِمُّ مِنْهَا شَيْیءٌ دُوْنَکَ، اَللّٰهُ اَکْبَرُ اَحَاطَ بِکُلِّ شَيْیٍ حِفْظُکَ وَ قَهَرَ کُلَّ شَيْیٍ عِزُّکَ وَ نَفَذَ کّلَّ شَيْیٍ اَمْرُکَ وَ قَامَ کُلُّ شَيْیٍ بِکَ وَ تَوَاضَعَ کُلُّ شَيْیٍ لِعَظَمَتِکَ وَ ذَلَّ کُل شَيْیٍ لِعِزَّتِکَ وَ اسْتَسْلَمَ کُلُّ شَيْیٍ لِقُدْرَتِکَ وَ خَضَعَ کُلُّ شَيْیٍ لِمُلْکِکَ، اَللّٰهُ اَکْبَرُ

مسئلہ ١ ۵ ٢٩ امام عصر (عجل الله تعالی فرجہ)کے زمانہ غيبت ميں اگر نماز عيد جماعت سے پڑھی جائے تو احتياط مستحب کی بنا پر نماز کے بعد دو خطبے پڑھے جائيں اور بہتر یہ ہے کہ عيد فطر کے خطبے ميں فطرے کے احکام بيان ہوں اور عيد قربان ميں قربانی کے احکام بيان ہوں ۔

مسئلہ ١ ۵ ٣٠ عيد کی نماز کے لئے کوئی سورہ مخصوص نہيں ہے ليکن بہتر ہے کہ پهلی رکعت ميں الحمد کے بعدسورہ سبح اسم ربک الاعلیٰ (سورہ: ٨٧ )پڑھا جائے اور دوسری رکعت ميں سورہ والشمس (سورہ : ٩١ )پڑھا جائے اور سب سے افضل یہ ہے کہ پهلی رکعت ميں سورہ والشمس اور دوسری رکعت ميں سورہ غاشيہ (سورہ: ٨٨ )پڑھا جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٣١ نماز عيد صحر ا ميں پڑھنا مستحب ہے ، ليکن مکہ مکرمہ ميں مستحب ہے کہ مسجد الحرام ميں پڑھی جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٣٢ مستحب ہے کہ امام جماعت اور مامو م نماز سے پهلے غسل کریں اور روئی سے بُنا ہوا سفيد عمامہ سر پر باندہيں کہ جس کا ایک سرا سينے پر اور دوسرا سرا دونوں شانوں کے درميان ہو اور مستحب ہے کہ نمازکے لئے پيدل، ننگے پير اور باوقار طریقے سے جایا جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٣٣ مستحب ہے کہ عيد کی نمازميں زمين پر سجدہ کيا جائے، تکبيریں کہتے وقت ہاتھوں کو بلند کيا جائے اورامام جماعت بلند آواز سے قرائت کرے۔


مسئلہ ١ ۵ ٣ ۴ مستحب ہے کہ عيد فطر کی رات کو مغرب وعشا کی نماز کے بعد اور عيد فطر کے دن نماز صبح کے بعد یہ تکبيریں کهی جائيں :

اَللّٰهُ اَکْبَرُ، اَللّٰهُ اَکْبَرُ، لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکْبَرُ، اَللّٰهُ اَکْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ عَلیٰ مَاهدَانَا ۔

مسئلہ ١ ۵ ٣ ۵ عيد قربان ميں دس نمازوں کے بعد جن ميں سے پهلی نماز، عيد کے دن کی نماز ظہر ہے اور آخری نماز بارہویں ذی الحجہ کی نماز صبح ہے ، ان تکبيرات کا پڑھنا مستحب ہے جن کا ذکر سابقہ مسئلہ ميں ہو چکا ہے اور ان کے بعد ”اَللّٰهُ اَکْبَرُ عَلیٰ مَا رَزَقَنَا مِنْ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلیٰ مَا اَبْلَانَا “ کهے، ليکن اگر عيد قربان کے موقع پر انسان منیٰ ميں ہو تو مستحب ہے کہ یہ تکبيریں پندرہ نمازوں کے بعد پڑھے جن ميں سے پهلی نماز عيد کے دن کی نمازظہر ہے اور آخری تيرہویں ذی الحجہ کی نماز صبح ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٣ ۶ احتياط مستحب ہے کہ عورتيں نماز عيد پڑھنے کے لئے نہ جائيں، ليکن یہ احتياط عمر رسيدہ عورتوں کے لئے نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٣٧ نماز عيد ميں بھی دوسری نمازوں کی طرح مقتدی کے لئے ضروری ہے کہ الحمد اورسورہ کے علاوہ نماز کے باقی اذکار خود پڑھے۔

مسئلہ ١ ۵ ٣٨ اگر ماموم اس وقت پهنچے جب امام نماز کی کچھ تکبيریں کہہ چکا ہو تو امام کے رکوع ميں جانے کے بعد ضروری ہے کہ جتنی تکبيریں اور قنوت اس نے امام کے ساته نہيں پڑہيں انہيں پڑھے اور امام کے ساته رکوع ميں مل جائے اور اگر ہر قنوت ميں ایک مرتبہ ”سُبْحَانَ اللّٰہِ “ یا ایک مرتبہ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ کہہ دے تو کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٣٩ اگر کوئی شخص نماز عيد ميں اس وقت پهنچے جب امام رکوع ميں ہو تووہ نيت کر کے اور پهلی تکبير کہہ کر رکوع ميں جاسکتا ہے اگر چہ احتياط یہ ہے کہ نماز کو رجاء کی نيت سے بجا لائے۔

مسئلہ ١ ۵۴ ٠ اگر نماز عيد ميں آخری رکعت کا ایک سجدہ یا تشهد بھول جائے اور اس نے کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جس سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو ضروری ہے کہ واپس پلٹ کر اس کو بجا لائے اور اگروہ کسی اور رکعت کا سجدہ بھول گيا ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اس کی قضا بجا لائے۔

اسی طرح کسی بھی صورت ميں اگر اس سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو جس کے لئے نماز پنجگانہ ميں ، چاہے احتياط کی بنا پر، سجدہ سهو لازم ہے تواحتياط واجب کی بنا پر دو سجدہ سهو بجا لائے۔


نماز کے لئے اجير بنانا

مسئلہ ١ ۵۴ ١ انسان کے مرنے کے بعد ان نمازوں اور دوسری عبادتوں کے لئے جنہيں اس نے اپنی زندگی ميں انجام نہ دیا ہو کسی دوسرے شخص کو اجير بنا یا جاسکتا ہے ، یعنی اسے اجرت دی جائے تاکہ وہ انہيں بجا لائے اور اگر کوئی شخص بغير اجرت لئے ان عبادات کو بجا لائے تب بھی صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۴ ٢ انسان بعض مستحب کاموں مثلا روضہ رسول(ص) کی زیارت یا قبور ائمہ عليهم السلام کی زیارت کے لئے زندہ اشخاص کی طرف سے اجير بن سکتا ہے اس معنیٰ ميں کہ اجارہ ميں ان اشخاص کی طرف سے ان مخصوص کاموں ميں نيابت کا قصد رکھتا ہو، چنانچہ یہ شخص انہيں کاموں کو بغير اجرت لئے بھی انجام دے سکتا ہے ۔ نيز یہ بھی کر سکتا ہے کہ مستحب کام انجام دے کر اس کا ثواب مردہ یا زندہ اشخاص کو هدیہ کر دے۔

مسئلہ ١ ۵۴ ٣ جو شخص ميت کی قضا نمازوں کے لئے اجير بنے اس کے لئے ضروری ہے کہ نماز کے مسائل ميں یا تو وہ خود مجتهد ہو یا نماز، تقليد کے مطابق صحيح طریقے سے ادا کرسکے یا احتياط پر عمل کرسکے۔

مسئلہ ١ ۵۴۴ ضروری ہے کہ اجير نيت کرتے وقت ”ميت “ کو معين کرے۔هاں، یہ ضروری نہيں ہے ميت کا نام جانتا ہو، پس اگر وہ نيت کرے کہ یہ نماز اس شخص کے لئے پڑھ رہا ہوں جس کے لئے ميں اجير ہوا ہوں تو کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۴۵ ضروری ہے کہ اجير جو عمل بجا لائے اس کے لئے نيت کرے کہ جو کچھ ميت کے ذمے ہے وہ بجا لا رہا ہوں اور اگر اجير کوئی عمل انجام دے اور اس کا ثواب ميت کو هدیہ کرے تو یہ کافی نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۴۶ ضروری ہے کہ اجير کسی ایسے شخص کو مقرر کيا جائے جس کے بارے ميں جانتے ہوں یا ان کے پاس شرعی حجت ہو کہ وہ عمل کو بجالائے گا مثلاً وہ اطمينان رکھتے ہوں یا دو عادل شخص یا ایک قابل اطمينان شخص جس کے قول کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہو،خبر دیں کہ وہ عمل کو بجا لائے گا۔

مسئلہ ١ ۵۴ ٧ جس شخص کو ميت کی نمازوں کے لئے اجير بنایا جائے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ عمل کو بجا نہيں لایا ہے یا باطل طریقے سے بجا لایا ہے تو ضروری ہے دوبارہ کسی شخص کو اجير مقرر کيا جائے۔

مسئلہ ١ ۵۴ ٨ اگر کوئی شخص شک کرے کہ اجير نے عمل انجام دیا ہے یا نہيں تو اگر وہ قابل اطمينان ہو اور یہ کهے کہ ميں نے انجام دے دیا ہے یا کوئی شرعی گواہی یا کسی ایسے قابل اعتماد شخص کا قول موجود ہو کہ جس کے قول کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو تو کافی ہے اور اگر وہ شک کرے کہ اس اجير کا عمل صحيح تھا یا نہيں تو وہ اس کے عمل کو صحيح سمجھ لے۔

مسئلہ ١ ۵۴ ٩ جو شخص کوئی عذر رکھتا ہو مثلا تيمم کر کے یا بيٹھ کر نمازپڑھتا ہو اسے ميت کی نمازوں کے لئے اجير مقرر نہيں کيا جاسکتا خواہ ميت کی نمازیں بھی اسی طرح قضا ہوئی ہوں۔


مسئلہ ١ ۵۵ ٠ مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے اجير بن سکتے ہيں ۔نيز نماز کو بلند یا آهستہ آواز سے پڑھنے ميں ضروری ہے کہ اجير اپنے وظيفے پر عمل کرے۔

مسئلہ ١ ۵۵ ١ ميت کی قضا نمازوں ميں ترتيب واجب نہيں ، اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ ترتيب کا خيال رکھا جائے، ليکن اُن نمازوں ميں ترتيب ضروری ہے کہ جن کی ادا ميں ترتيب ضروری ہے مثلا ایک دن کی نماز ظہر وعصر یا مغرب وعشا۔

مسئلہ ١ ۵۵ ٢ اگر اجير کے ساته طے کيا جائے کہ عمل کو ایک مخصوص طریقے سے انجام دے گا تو ضروری ہے کہ اس عمل کو اسی طریقے سے انجام دے مگر یہ کہ اس عمل کے صحيح نہ ہونے کا علم رکھتا ہو کہ اس صورت ميں اس عمل کے لئے اجير نہيں بن سکتا اور اگر کچھ طے نہ کيا ہو تو ضروری ہے کہ وہ عمل اپنے وظيفے کے مطابق بجالائے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اپنے وظيفے اور ميت کے وظيفے ميں سے جو بھی احتياط کے زیادہ قریب ہو اسی پر عمل کرے، مثلاً اگر ميت کا وظيفہ تين مرتبہ تسبيحات اربعہ پڑھنا تھا اور اس کی اپنی تکليف ایک بار پڑھنا ہو تو تين بار پڑھے۔

مسئلہ ١ ۵۵ ٣ اگر اجير کے ساته یہ طے نہ کيا جائے کہ نماز کے مستحبات کتنی مقدار ميں پڑھے گا تو ضروری ہے کہ عموماً جتنے مستحبات نماز ميں پڑھے جاتے ہيں انہيں بجالائے۔

مسئلہ ١ ۵۵۴ اگر انسان ميت کی قضا نمازوں کے لئے کئی اشخاص کو اجير مقرر کرے تو جو کچھ مسئلہ ١ ۵۵ ١ ميں بتایا گيا ہے اس کی بنا پر ضروری نہيں کہ وہ ہر اجير کے لئے وقت معين کرے۔

مسئلہ ١ ۵۵۵ اگر کوئی شخص اجير بنے کہ مثال کے طور پر ایک سال ميں ميت کی نمازیں پڑھ دے گا اور سال ختم ہونے سے پهلے مر جائے تو ضروری ہے کہ ان نمازوں کے لئے جن کے بارے ميں علم ہوکہ وہ انہيں بجا نہيں لایا، کسی اور شخص کو اجير مقرر کيا جائے اور جن نمازوں کے بارے ميں احتمال ہو کہ وہ انہيں بجانہيں لایا تھا احتياط واجب کی بنا پر ان کے لئے بھی اجير مقرر کيا جائے۔

مسئلہ ١ ۵۵۶ جس شخص کو ميت کی قضا نمازوں کے لئے اجير مقرر کيا ہو اگر وہ ساری نمازیں پڑھنے سے پهلے مر جائے اور اس نے ان سب نمازوں کی اجرت بھی وصول کر لی ہوتو اگر اس کے ساته یہ طے کيا گيا ہو کہ ساری نمازیں وہ خود ہی پڑھے گا اور وہ ان کے بجالانے پر قادر بھی تھا تو اجارہ کا معاملہ صحيح ہے اور اجرت دینے والا باقی نمازوں کی اجرت المثل واپس لے سکتا ہے یا اجارہ کو فسخ کرتے ہوئے اس مقدار کی اجرت المثل جو ادا ہو چکی ہے ، دے کر باقی مقدار کی اجرت واپس لے سکتا ہے اور اگر وہ ان نمازوں کی ادائيگی پر قادر نہيں تھا تو مرنے کے بعد والی نمازوں ميں اجارہ باطل ہے اور اجرت دینے والا باقی ماندہ نمازوں کی اجرت مُسمّی لے سکتا ہے یا پهلے والی مقدار کے اجارہ کو فسخ کرتے ہو ئے اس مقدار کی اجرت المثل ادا کرسکتا ہے اور اگر یہ طے نہ کيا گيا


ہو کہ وہ خود پڑھے گا تو ضروری ہے کہ اجير کے ورثاء اس کے مال سے کسی اور کو اجير بنائيں، ليکن اگر اس نے کوئی مال نہ چھوڑا ہو تو اس کے ورثاء پر کچھ بھی واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۵ ٧ اگر اجير ميت کی قضا نمازیں پڑھنے سے پهلے مر جائے اور اس کی اپنی بھی نمازیں قضا ہوئی ہوں تو سابقہ مسئلے ميں جو طریقہ بتایا گيا ہے اس پر عمل کرنے کے بعداگر اس کے مال سے کچھ بچے تو اس صورت ميں کہ جب اس نے وصيت کی ہو اور اس کی نمازوں کی اجرت اس کے تمام مال کے تيسرے حصے سے زیاہ ہوتو ورثاء کے اجازت دینے کی صورت ميں اس کی تمام نمازوں کے لئے اجير مقرر کيا جا سکتا ہے اور اجازت نہ دینے کی صورت ميں اس کے مال کا تيسرا حصہ اس کی نمازوں پر خرچ کریں۔

روزے کے احکام

روزہ یہ ہے کہ انسان اذانِ صبح سے مغرب تک، ان چيزوں سے کہ جن کا بيان بعدميں آئے گا، قصد قربت،جس کا بيان وضو کے مسائل ميں گزرچکا اور اخلاص کے ساته، پرہيز کرے۔

اس مسئلے اور بعد ميں آنے والے مسائل ميں احتياط واجب کی بنا پر مغرب سے مراد وہ وقت ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد مشرق کی جانب سے نمودار ہونے والی سرخی انسان کے سر کے اوپر سے گزر جائے۔

نيت

مسئلہ ١ ۵۵ ٨ روزے کی نيت ميں ضروری نہيں ہے کہ انسان نيت کے الفاظ کو دل سے گزارے یا مثلاً یہ کهے کہ ميں کل روزہ رکہوں گا، بلکہ اگر صرف یهی ارادہ رکھتا ہو کہ قربت کی نيت اور اخلاص کے ساته اذان صبح سے مغرب تک، ان کاموں کو انجام نہ دے گا جو روزے کو باطل کر دیتے ہيں تو کافی ہے ۔ اور یہ یقين حاصل کرنے کے لئے کہ اس پوری مدت ميں روزے سے تھا ضروری ہے کہ اذانِ صبح سے کچھ دیر پهلے اور مغرب کے کچھ دیر بعد بھی روزے کو باطل کر دینے والے کاموں سے پرہيز کرے۔

مسئلہ ١ ۵۵ ٩ انسان ماہ رمضان کی ہر رات ميں اس کے اگلے دن کے روزے کی نيت کر سکتا ہے اور اسی طرح مهينے کی پهلی رات کو ہی سارے روزوں کی نيت بھی کر سکتا ہے اورپہر دوبارہ ہر رات نيت دهرانا ضروری نہيں ہے اور اسی نيت پر باقی رہنا کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۶ ٠ ماہ رمضان کے روزے کی نيت کا وقت پهلی رات ميں ، رات کی ابتدا سے اذان صبح تک ہے اور پهلی رات کے علاوہ دوسری راتوںميں رات کی ابتدا سے پهلے بھی نيت کی جاسکتی ہے ، مثلاً پهلے دن عصر کے وقت نيت کرے کہ اگلے دن قربة الی الله روزہ رکھے گا اور اسی نيت پر باقی رہے اگر چہ اذان صبح کے بعد تک سوتا رہے۔


مسئلہ ١ ۵۶ ١ مستحب روزے کی نيت کا وقت رات کی ابتدا سے لے کر اس وقت تک ہے کہ سورج غروب ہونے ميں نيت کرنے کی مقدار کا وقت باقی رہ جائے، پس اگر اس وقت تک روزے کو باطل کر دینے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو اور مستحب روزے کی نيت کرلے تو اس کا روزہ صحيح ہے ليکن اگر سورج غروب ہوجائے تو روزے کا صحيح ہونا محل اشکا ل ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۶ ٢ جو شخص روزے کی نيت کئے بغير اذان صبح سے پهلے سوجائے، اگر ظہر سے پهلے بيدار ہو اور روزے کی نيت کرے تو اگر اس کا روزہ ایسا واجب روزہ ہوکہ جس کا وقت معين ہے ، چاہے ماہ رمضان کا روزہ یا ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ، جيسے اس نے نذر کی ہو کہ کسی معين دن روزہ رکھے گا، تو روزے کا صحيح ہونا محل اشکال ہے اور اگر اس کا روزہ ایسا واجب ہو کہ جس کا وقت معين نہ ہو تو روزہ صحيح ہے ۔

اور اگر ظہر کے بعد بيدار ہو تو واجب روزے کی نيت نہيں کر سکتا ہے چاہے واجب غير معين ہو، ليکن ماہ رمضان کی قضا ميں ظہر سے عصر تک نيت کا جائز نہ ہونا احتياط کی بنا پر ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۶ ٣ جو شخص ماہ رمضان کے علاوہ کوئی روزہ رکھنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس روزے کو معين کرے، مثلاً نيت کرے کہ قضا، نذر یا کفارے کا روزہ رکھتا ہوں، ليکن ماہ رمضان ميں یہ ضروری نہيں کہ ماہ رمضان کا روزہ رکھنے کی نيت کرے، بلکہ اگر اسے علم نہ ہو کہ رمضان ہے یا بھول جائے اورکسی دوسرے روزے کی نيت کرلے تب بھی وہ ماہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا۔

مسئلہ ١ ۵۶۴ اگر کوئی جانتا ہو کہ ماہ رمضان ہے اور جان بوجه کر رمضان کے علاوہ کسی اور روزے کی نيت کرلے تو وہ ماہ رمضان کا روزہ شمار نہيں ہوگا اور اسی طرح بنابر احتياط واجب جس روزے کی نيت کی ہے وہ بھی روزہ شمار نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١ ۵۶۵ اگر پهلے روزے کی نيت سے روزہ رکھے اور بعد ميں معلوم ہو کہ دوسری یاتيسری تاریخ تھی تو اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۶۶ اگر اذان صبح سے پهلے نيت کرے اور بے ہوش ہوجائے اور دن ميں کسی وقت ہوش آئے تو بنابر احتياط واجب ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کو پورا کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

مسئلہ ١ ۵۶ ٧ اگر اذان صبح سے پهلے نيت کرے پھر اس پر نشہ طاری ہو جائے اور دن ميں ہوش آئے تو احتياط واجب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ پورا کرے اور قضا بھی کرے۔

مسئلہ ١ ۵۶ ٨ اگر اذانِ صبح سے پهلے نيت کرے اور سوجائے اور مغرب کے بعد بيدار ہو تو اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۵۶ ٩ اگر کسی کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ ماہ رمضان ہے تو اگر ظہر سے پهلے متوجہ ہو اور اس نے روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے دیا ہو یا ظہر کے بعد متوجہ ہو کہ ماہ رمضان ہے تو اس کا روزہ باطل ہے ، ليکن ضروری ہے کہ مغرب تک روزے کو باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دے اور رمضان کے بعد اس کی قضا بھی کرے اور اگر ظہر سے پهلے متوجہ ہو اور اس نے روزہ باطل کرنے والا کوئی کام بھی انجام نہ دیا ہو تب بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ١ ۵ ٧٠ اگر بچہ ماہ رمضان ميں اذانِ صبح سے پهلے بالغ ہو جائے تو اس دن کا روزہ رکھنا اس پر ضروری ہے اور اگر اذان کے بعد بالغ ہو تو اس پر روزہ واجب نہيں ہے ، اگر چہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر ظہر سے پهلے بالغ ہو اور اس نے روزے کی نيت کر رکھی ہو تو روزہ پورا کرے اور اگر نيت نہ بھی کی ہو اورروزہ باطل کرنے والا کوئی کام بھی انجام نہ دیا ہو تو نيت کرے اور روزہ رکھے۔

مسئلہ ١ ۵ ٧١ جو شخص کسی ميت کے روزے اجرت لے کر رکھ رہا ہواس کے لئے مستحب روزہ رکھنے ميں کوئی حرج نہيں ، ليکن جس شخص کے ماہ رمضان کے روزے قضا ہوں وہ مستحب روزے نہيں رکھ سکتا اوراگر رمضان کے علاوہ کوئی اور واجب روزہ اس کے ذمّے ہو پھر بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

اور اگر بھولے سے مستحب روزہ رکھ لے اور ظہر سے پهلے متوجہ ہوجائے تو اس کا مستحب روزہ باطل ہے ليکن وہ اپنی نيت کو غير معين واجب روزے کی طرف پلٹا سکتا ہے ، جب کہ معين واجب روزے کی طرف نيت کو پلٹانا محل اشکال ہے اور اگر ظہر کے بعد متوجہ ہو تو وہ اپنی نيت کو واجب روزے کی طرف نہيں پلٹاسکتا اگر چہ واجب غير معين ہی کيوں نہ ہو اور یہ حکم ماہِ رمضان کے قضا روزوں ميں زوال کے بعد سے عصر تک احتياط واجب کی بناپر ہے ۔هاں، اگر مغرب کے بعد یاد آئے تو اس کا مستحب روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٧٢ اگر کسی شخص پر رمضان کے علاوہ کوئی معين روزہ واجب ہو مثلاً نذر کی ہو کہ مقررہ دن روزہ رکہوں گا اور جان بوجه کر اذانِ صبح تک نيت نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر معلوم نہ ہو کہ اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے یا بھول جائے تو اگرچہ ظہر سے پهلے یاد آجائے اور روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو، بنا بر احتياط اس کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٧٣ اگر غير معين واجب روزے مثلاً کفارے کے روزے کے لئے، ظہر کے نزدیک تک عمداً نيت نہ کرے تو کوئی حرج نہيں ، بلکہ اگر نيت سے پهلے پختہ ارادہ رکھتا ہو کہ روزہ نہيں رکھے گا یا متردد ہو کہ روزہ رکھے یا نہ رکھے تو اگر روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو اور ظہر سے پهلے نيت کر لے تو اُس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٧ ۴ اگر کوئی کافر ماہ رمضان ميں ظہر سے پهلے مسلمان ہوجائے تو چاہے اس نے اذان صبح سے اس وقت تک روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو، پھر بھی اس کا روزہ صحيح نہيں ۔

مسئلہ ١ ۵ ٧ ۵ اگر کوئی مریض ماہ رمضان کے دن کے وسط ميں ظہر سے پهلے یا اس کے بعد تندرست ہو جائے تو اِس دن کا روزہ اس پر واجب نہيں ہے خواہ اُس وقت تک روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو۔


مسئلہ ١ ۵ ٧ ۶ جس دن کے بارے ميں انسان کو شک ہو کہ شعبان کا آخری دن ہے یا رمضان کا پهلا تو اُس پر واجب نہيں کہ وہ اس دن روزہ رکھے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو رمضان کے روزے کی نيت نہيں کر سکتا، نہ ہی یہ نيت کر سکتا ہے کہ اگر رمضان ہے تو رمضان کا روزہ اور اگر رمضان نہيں تو قضا یا اس جيسا کوئی اور روزہ رکھ رہا ہوں، بلکہ ضروری ہے کہ کسی واجب روزے مثلاً قضا کی نيت کرلے یا مستحب روزے کی نيت کرے۔ چنانچہ بعد ميں پتہ چلے کہ ماہ رمضان تھا تو رمضان کا روزہ شمار ہوگا۔ ہاں، اگر وہ یہ نيت کرے کہ جس چيز کا اسے حکم دیا گيا ہے اس کو انجام دے رہا ہوں اور بعد ميں معلوم ہو کہ رمضان تھا تو یہ کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٧٧ جس دن کے بارے ميں شک ہو کہ شعبان کا آخری دن ہے یا رمضان کا پهلا دن، اگر اُس دن قضا یا اس کی مانند کوئی واجب یا مستحب روزہ رکھ لے اور دن ميں کسی وقت اسے پتہ چلے کہ ماہ رمضان ہے تو ضروری ہے کہ ماہ رمضان کے روزے کی نيت کرے۔

مسئلہ ١ ۵ ٧٨ اگر کسی واجب معين روزے ميں جيسے ماہ رمضان کے روزے ميں انسان اپنی نيت سے کہ مبطلات روزہ سے خدا کی خاطر بچے، پلٹ جائے یا پلٹنے کے بارے ميں متردد ہو یا یہ نيت کرے کہ روزہ توڑنے والی چيزوں ميں سے کسی کو انجام دے یا متردد ہو کہ ایسی کوئی چيز انجام دے یا نہ دے تو اُس کا روزہ باطل ہے ، اگرچہ جو ارادہ کيا ہو اُس سے توبہ بھی کرے اور نيت کو روزے کی طرف بھی پهير دے اور روزہ باطل کرنے والا کوئی کام بھی انجام نہ دے۔

مسئلہ ١ ۵ ٧٩ وہ بات جس کے بارے ميں پچهلے مسئلے ميں بتایا گيا کہ واجب معين روزے کو باطل کردیتی ہے ،غير معين واجب روزے مثلاً کفارے یا غير معين نذر کے روزے کو باطل نہيں کرتی، لہٰذا اگر ظہر سے پهلے دوبارہ اپنی نيت کو روزے کی طرف پهير دے تو اُس کا روزہ صحيح ہے ۔

مبطلاتِ روزہ

مسئلہ ١ ۵ ٨٠ نو چيزیں روزے کو باطل کر دیتی ہيں ، اگر چہ ان ميں سے بعض چيزوںسے روزہ احتياط کی بنا پر باطل ہوتا ہے :

ا ) کھانا اور پينا

٢ ) جماع

٣ ) استمنا۔ استمنا یہ ہے کہ انسان اپنے یا کسی دوسرے کے ساته جماع کے علاوہ کوئی ایسا کام کرے کہ اس کی منی خارج ہو جائے۔

۴ ) خدا، پيغمبر(ص) یا ائمہ معصومين عليهم السلام سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا۔

۵ ) احتياط واجب کی بنا پر غبار کا حلق تک پهنچانا۔


۶ ) پورے سر کو پانی ميں ڈبونا۔

٧ ) اذانِ صبح تک جنابت حيض یا نفا س پر باقی رہنا۔

٨ٌ) کسی بهنے والی چيز سے انيما کرنا۔

٩ ) قے کرنا۔

ان کے احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

١۔ کھانا اور پينا

مسئلہ ١ ۵ ٨١ اگر روزہ دار اس طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہ روزے سے ہے جان بوجه کر کوئی چيز کھائے یا پئے تو اُس کا روزہ باطل ہو جائے گا، خواہ وہ ایسی چيز ہو جسے عموماً کهایا یا پيا جاتا ہو جيسے روٹی اور پانی یا ایسی ہو جسے عموماً کهایا یا پيا نہ جاتا ہو جيسے مٹی اور درخت کا شيرہ، خواہ کم ہو یا زیادہ، حتی اگر تری کو منہ سے نکالے اور دوبارہ منہ ميں لے جائے اور نگل لے تو روزہ باطل ہو جائے گا، سوائے ا س کے کہ یہ تری تهوک سے مل کر اِس طرح ختم ہو جائے کہ پھر اسے باہر کی تری نہ کها جاسکے۔

مسئلہ ١ ۵ ٨٢ اگرکھانا کھانے کے دوران معلوم ہو جائے کہ صبح ہو گئی ہے توضروری ہے کہ لقمہ اگل دے اور اگر عمداً نگل لے تو اُس کا روزہ باطل ہے اور اس پر کفارہ بھی واجب ہو جائے گاجس کی تفصيلات آگے آئيںگی۔

مسئلہ ١ ۵ ٨٣ اگر روزہ دار بھولے سے کوئی چيز کها یا پی لے تو اُس کا روزہ باطل نہيں ہوتا۔

مسئلہ ١ ۵ ٨ ۴ دوا کی جگہ استعمال ہونے والے یا عضو کو بے حس کردینے والے انجکشن کے استعمال ميں کوئی حرج نہيں اور احتياط مستحب یہ ہے کہ روزہ دار اُس انجکشن سے پرہيز کرے کہ جو پانی اور غذا کی جگہ استعمال ہوتا ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٨ ۵ اگر روزہ دار دانتوں کے درميان ميں رہ جانے والی چيز کو اپنے روزے کی طرف متوجہ ہونے کے باوجود عمداً نگل لے تو اُس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۵ ٨ ۶ روزہ رکھنے والے کے لئے ضروری نہيں ہے کہ اذان سے پهلے اپنے دانتوں ميں خلال کرے، ليکن اگر جانتا ہو یا اطمينان ہو کہ جو غذا دانتوں کے درميان ميں رہ گئی ہے وہ دن ميں اندر چلی جائے گی، چنانچہ وہ خلال نہ کرے اور وہ چيز پيٹ کے اندر چلی جائے تو اُس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔

مسئلہ ١ ۵ ٨٧ لعاب دهن کو نگلنا، اگرچہ کهٹائی یا اس کی مانند چيزوں کے تصور سے منہ ميں جمع ہوجائے، روزے کو باطل نہيں کرتا۔


مسئلہ ١ ۵ ٨٨ سر اور سينے کے بلغم کو نگلنے ميں ، جب تک کہ وہ منہ کے اندر والے حصے تک نہ پهنچے، کوئی حرج نہيں ، ليکن اگر منہ ميں آجائيں تو احتياط واجب یہ ہے کہ انہيں نہ نگلا جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٨٩ اگر روزہ دار اِس قدر پياسا ہوجائے کہ اسے خوف ہو کہ وہ پياس کی وجہ سے مر جائے گا تو اس پر اتنا پانی پينا واجب ہے کہ مرنے سے نجات مل جائے، ليکن اُس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور اگر رمضان ہو تو باقی دن روزہ باطل کر دینے والے کاموں سے پرہيز ضروری ہے ۔ اِسی طرح اگر اُسے خوف ہو کہ پانی نہ پينے کی وجہ سے اُسے قابلِ ذکر ضرر پهنچے گا یا پانی نہ پينا اُس کے لئے ایسی مشقّت کا باعث بنے گا جوعرفاً قابل برداشت نہ ہو تو اِن دو صورتوں ميں اِس قدر پانی پی سکتا ہے کہ اُس کا ضرر اور مشقّت دور ہو جائے۔

مسئلہ ١ ۵ ٩٠ بچے یا پرندے کے لئے غذا کو چبانا اور غذا اور ان جيسی چيزوں کو چکهنا جو عام طور پر حلق تک نہيں پهنچتيں، اگر چہ اتفاق سے حلق تک پهنچ جائيں روزہ کو باطل نہيں کرتا، ليکن اگر انسان شروع سے جانتا ہو یا مطمئن ہو کہ حلق تک پهنچ جائيں گی تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اورضروری ہے کہ اس کی قضا کرے اور حلق تک پهنچنے کی صورت ميں اس پر کفارہ بھی واجب ہے مسئلہ ١ ۵ ٩١ انسان کمزوری کی وجہ سے روزہ نہيں چھوڑ سکتا، ليکن اگر کمزوری اِس حد تک ہو کہ روزہ دار کے لئے عام طور پر قابل برداشت نہ ہو تو پھرروزہ چھوڑ دینے ميں کوئی حرج نہيں ۔

٢۔ جماع

مسئلہ ١ ۵ ٩٢ جماع روزے کو باطل کر دیتا ہے اگر چہ صرف ختنہ گاہ کے برابر داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہو۔ اوربيوی کے علاوہ کسی اور سے جماع کی صورت ميں اگر منی خارج نہ ہو تو یہ حکم احتياط کی بنا پر ہے ۔

مسئلہ ١ ۵ ٩٣ اگر ختنہ گاہ سے کم مقدار داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہو تو روزہ باطل نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١ ۵ ٩ ۴ اگر کوئی شخص عمداً جماع کرے اورختنہ گاہ کے برابر داخل کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہواور پھر شک کرے کہ اُس مقدار کے برابر دخول ہوا ہے یا نہيں تو اُس کا روزہ باطل ہے اور اس کی قضا کرنا ضروری ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ باقی دن روزہ باطل کرنے والے کاموں سے پرہيزکرے، ليکن کفارہ واجب نہيں ۔

مسئلہ ١ ۵ ٩ ۵ اگر بھول جائے کہ روز ے سے ہے اور جماع کرلے یا بے اختيار جماع کرے تواس کا روزہ باطل نہيں ہوگا، ليکن اگر دوران جماع اُسے یاد آجائے یا اُسے اختيار حاصل ہو جائے تو ضروری ہے کہ فوراً جماع کو ترک کردے اور اگر ترک نہ کرے تو اُس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔


٣۔ استمنا

مسئلہ ١ ۵ ٩ ۶ اگر روزہ دار استمنا کرے، یعنی جماع کے علاوہ کوئی ایسا کام کرے کہ اُس کی منی خارج ہو، تو اُس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۵ ٩٧ اگر بے اختيار، انسان کی منی خارج ہو جائے تو روزہ باطل نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١ ۵ ٩٨ جو روزہ دار جانتا ہو کہ اگر دن ميں سو گيا تومحتلم ہو جائے گا یعنی نيند ميں اس کے جسم سے منی خارج ہو جائے گی، تو اُس کے لئے سونا جائز ہے اور اگر محتلم ہو جائے تو اُس کا روزہ باطل نہيں ہوگا۔هاں، احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ نہ سوئے خصوصاً جب نہ سونے کی وجہ سے اسے کوئی تکليف بھی نہ ہو۔

مسئلہ ١ ۵ ٩٩ اگر روزہ دار منی خارج ہونے کی حالت ميں نيند سے بيدار ہوجائے تو اس کو خارج ہونے سے روکناواجب نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٠٠ جب روزہ دار محتلم ہوجائے تو وہ پيشاب اور استبرا کر سکتا ہے اگرچہ وہ جانتا ہو کہ پيشاب اور استبرا کی وجہ سے باقی ماندہ منی نالی سے باہر آجائے گی۔

مسئلہ ١ ۶ ٠١ جو روزہ دار محتلم ہو گيا ہو اگر وہ جانتا ہو کہ نالی ميں منی باقی رہ گئی ہے اورغسل سے پهلے پيشاب نہ کرنے کی صورت ميں غسل کے بعد منی خارج ہوگی تو بناء بر احتياط واجب ضروری ہے کہ غسل سے پهلے پيشاب کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٠٢ جو شخص یہ جاننے کے باوجود کہ عمداً منی خارج کرنا روزے کو باطل کر دیتا ہے ، اگر منی کے باہر آنے کی نيت سے مثلاً بيوی سے هنسی مذاق اور چھيڑ چھاڑ کرے تو چاہے منی خارج نہ بھی ہو اُس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور ضروری ہے کہ قضا کرے اور بنا بر احتياطِ واجب بقيہ دن روزہ باطل کرنے والے کاموں سے پرہيز کرنا بھی ضروری ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٠٣ اگر روزہ دار منی خارج ہونے کا ارادہ کئے بغير مثال کے طور پر اپنی بيوی سے چھيڑ چھاڑ اور هنسی مذاق کرے، چنانچہ اگر اطمينان رکھتا ہو کہ اُس سے منی خارج نہ ہوگی اگر چہ اتفاق سے منی خارج ہو بھی جائے تو اُس کا روزہ صحيح ہے ، ليکن اگر اطمينان نہ ہو تو منی خارج ہونے کی صورت ميں اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

۴ ۔ خدا اور رسول صلی الله عليہ و آلہ سے جهوٹ منسوب کرنا

مسئلہ ١ ۶ ٠ ۴ اگر روزہ دار زبان سے، لکھ کر، اشارے سے یا کسی اور طریقے سے خدا، پيغمبر(ص) یا ائمہ معصومين عليهم السلام سے عمداً کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچہ فوراً یہ کہہ دے کہ ميں نے جھوٹ کها ہے یا توبہ کرلے، اُس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔ جب کهباقی انبياء (علی نبينا و آلہ و عليهم السلام )اور ان کے اوصياء کی طرف جھوٹی نسبت دینا احتياطِ واجب کی بنا پر روزے کو باطل کر دیتا ہے ، مگر یہ کہ ان سے دی ہوئی یہ جھوٹی نسبت الله تعالیٰ سے منسوب ہو جائے تواس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔


یهی حکم حضرت زهرا عليها السلام کی طرف جھوٹی نسبت دینے کا ہے سوائے اس کہ کے یہ جھوٹی نسبت خدا، رسول صلی الله عليہ و آلہ وسلم یا ائمہ عليهم السلام ميں سے کسی سے منسوب ہو جائے، کہ اس صورت ميں روزہ باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٠ ۵ اگر کوئی ایسی حدیث نقل کرنا چاہے جس کے متعلق نہ جانتا ہو کہ سچ ہے یا جھوٹ اور اُس حدیث کے معتبر ہونے پر دليل بھی نہ ہو تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جو اِس حدیث کا راوی ہے یا مثال کے طور پرجس کتاب ميں یہ حدیث تحریر ہے ، اس کا حوالہ دے۔

مسئلہ ١ ۶ ٠ ۶ اگر کسی روایت کو سچ سمجھتے ہوئے، خدا یا پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم یا ائمہ عليهم السلام سے منسوب کرے اور بعد ميں معلوم ہو کہ وہ جھوٹ تھی تو اس کا روزہ باطل نہيں ہو گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٠٧ جو شخص جانتا ہو کہ خدا، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم اور ائمہ عليهم السلام سے جھوٹ منسوب کرنا روزے کو باطل کردیتا ہے اگر کسی چيز کو جس کے متعلق وہ جانتا ہو کہ جھوٹ ہے ، ان حضرات سے منسوب کرے اور بعد ميں معلوم ہو کہ جو کچھ کها تھا سچ تھا تو بھی اس کا روزہ باطل ہے اور بنا بر احتياطِ واجب بقيہ دن روزہ باطل کرنے والے کاموں سے پرہيز کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٠٨ کسی دوسرے کے گڑھے ہوئے جھوٹ کو اگر جان بوجه کر خدا، پيغمبر صلی الله

عليہ و آلہ وسلم اور ائمہ عليهم السلام سے منسوب کرے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، ليکن اگر جس نے جھوٹ گڑھا ہے اس کا قول نقل کرے تو روزہ باطل نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١ ۶ ٠٩ اگر روزہ دار سے پوچها جائے کہ آیا پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم یا کسی ایک امام عليہ السلام نے اس طرح فرمایا ہے ، اور وہ جواب ميں جان بوجه کر ہاں کی جگہ نہيں اور نہيں کی جگہ ہاں کهے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ١٠ اگرخدا یا پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم یا کسی امام عليہ السلام سے کوئی سچ بات نقل کرے، بعد ميں کهے کہ ميں نے جھوٹ کها تھا یا رات کو ان حضرات سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اور اگلے دن روزے کے عالم ميں کهے کہ جو ميں نے کل رات کها تھا وہ سچ ہے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

۵ ۔ غبار حلق تک پهنچانا

مسئلہ ١ ۶ ١١ احتياط کی بنا پر غبار کا حلق تک پهنچانا روزے کو باطل کر دیتا ہے خوا ہ غبار اس چيز کاہو جس کا کھانا حلال ہے جيسے آٹا یا ایسی چيز کا ہو جس کا کھانا حرام ہے جيسے مٹی۔

مسئلہ ١ ۶ ١٢ اگر ہوا کی وجہ سے کوئی غبار پيدا ہو اور انسان متوجہ ہونے کے باوجود دهيان نہ رکھے اور غبار حلق تک پهنچ جائے تو احتياطِ واجب کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔


مسئلہ ١ ۶ ١٣ احتياطِ واجب یہ ہے کہ روزہ دارگاڑھی بهاپ اور سگریٹ و تمباکو جيسی چيزوں کا دهواں بھی حلق تک نہ پهنچائے۔

مسئلہ ١ ۶ ١ ۴ اگر دهيان نہ رکھے اور غبار، دهواں، گاڑھی بهاپ یا اس جيسی چيزیں حلق ميں داخل ہوجائيںتو اگر اسے یقين یا اطمينان تھا کہ یہ چيزیں حلق ميں نہ پهنچيں گی تو اُس کا روزہ صحيح ہے ، ليکن اگر اسے گمان تھا کہ یہ حلق تک نہيں پهنچيں گی تو احتياط مستحب یہ ہے کہ اس روزے کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ١ ۵ اگر بھول جائے کہ روزے سے ہے اور دهيان نہ رکھے یا بے اختيار غبار یا اس جيسی چيز اُس کے حلق تک پهنچ جائے تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوگا۔

۶ ۔ سر کو پانی ميں ڈبونا

مسئلہ ١ ۶ ١ ۶ اگر روزہ دار جان بوجه کر سارا سر پانی ميں ڈبودے تو اگرچہ باقی بدن پانی سے باہر رہے، اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے ، ليکن اگر سارا بدن پانی ميں ڈوب جائے اور سر کا کچھ حصہ باہر رہے تو روزہ باطل نہيں ہوتا۔

مسئلہ ١ ۶ ١٧ اگر آدهے سر کو ایک بار اور اس کے دوسرے آدهے حصے کو دوسری بار پانی ميں ڈبودے تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١ ۶ ١٨ اگر شک کرے کہ پورا سر پانی کے نيچے چلا گيا ہے یا نہيں تو اس کا روزہ صحيح ہے ، ليکن اگر سارا سر ڈبونے کی نيت سے پانی کے نيچے چلا جائے اور شک کرے کہ پورا سر پانی ميں ڈوبا یا نہيں تو اس کا روزہ باطل ہوگا اگر چہ کفارہ نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ١٩ اگر پورا سر پانی کے نيچے چلا جائے ليکن بالوں کی کچھ مقدار باہر رہ جائے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٢٠ پانی کے علاوہ دیگربهنے والی چيزوں مثلاً دودھ اور آب مضاف ميں سر کو ڈبونا روزے کو باطل نہيں کرتا اور احتياطِ واجبيہ ہے کہ سر کو عرق گلاب ميں ڈبونے سے اجتناب کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٢١ اگر روزہ دار بے اختيار پانی ميں گر جائے اور اس کا پورا سر پانی ميں ڈوب جائے یا وہ بھول جائے کہ روزے سے ہے اور سر کو پانی ميں ڈبودے تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوگا۔

مسئلہ ١ ۶ ٢٢ اگر روزہ دار یہ سمجھ کر اپنے آپ کو پانی ميں گرادے کہ اس کا سر پانی ميں نہيں ڈوبے گا ليکن اس کا سارا سر پانی ميں ڈوب جائے تو اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٢٣ اگر بھول جائے کہ روزے سے ہے اور سر کو پانی ميں ڈبودے یا کوئی دوسرا شخص زبردستی اس کا سر پانی ميں ڈبودے، چنانچہ اگر پانی کے اندر اُسے یاد آجائے کہ روزے سے ہے یا وہ شخص اپنا ہاتھ ہٹالے تو ضروری ہے کہ اِسی وقت فوراً سر کو باہر نکالے اور اگر باہر نہ نکالے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔


مسئلہ ١ ۶ ٢ ۴ اگر کوئی شخص بھول جائے کہ روزے سے ہے اور غسل کی نيت سے سر کو پانی ميں ڈبودے تو اُس کا روزہ اور غسل دونوں صحيح ہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٢ ۵ اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ روزے سے ہے جان بوجه کر غسل کے لئے اپنا سر پانی ميں ڈبودے تو اگر اُس کا روزہ رمضان کا ہو تو اس کاروزہ اور غسل دونوں باطل ہيں اور رمضان کے قضا روزے کے لئے بھی جسے اپنے لئے انجام دے رہا ہو، احتياط کی بنا پر زوال کے بعد یهی حکم ہے ، ليکن اگر مستحب روزہ ہو یا کوئی اور واجب روزہ ہو خواہ واجب معين ہو جيسے کہ کسی معين دن روزہ رکھنے کی نذر کی ہو، خواہ واجب غير معين ہو جيسے کفارے کا روزہ، تو اس صورت ميں اُس کا غسل صحيح ہے اور روزہ باطل ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٢ ۶ اگر روزہ دار کسی شخص کو ڈوبنے سے بچانے کی خاطر سر کو پانی ميں ڈبودے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا خواہ اس شخص کوڈوبنے سے بچانا واجب ہی کيوں نہ ہو۔

٧۔ جنابت، حيض اور نفاس پر اذان صبح تک باقی رہنا

مسئلہ ١ ۶ ٢٧ اگر جنب جان بوجه کر ماہ رمضان ميں اذان صبح تک غسل نہ کرے یا اگر اس کی ذمہ داری تيمم ہو اور جان بوجه کر تيمم نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہوگا اور ماہ رمضان کی قضا کا حکم بعد ميں آئے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٢٨ اگر جنب ماہ رمضان اور اس کی قضا کے علاوہ مستحبی یا واجب روزوں ميں کہ جن کا وقت معين ہو جان بوجه کر اذان صبح تک غسل نہ کرے تو اس کا روزہ صحيح ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ واجب روزے ميں جان بوجه کر حالتِ جنابت پر باقی نہ رہے۔

مسئلہ ١ ۶ ٢٩ اگر کوئی شخص ماہِ رمضان کی کسی رات ميں جنب ہوجائے تو اگر وہ عمداً غسل نہ کرے یهاں تک کہ وقت تنگ ہوجائے تواحتياطِ واجب کی بنا پرضروری ہے کہ تيمم کرکے روزہ رکھے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

مسئلہ ١ ۶ ٣٠ اگرجنب ماہ رمضان ميں غسل کرنا بھول جائے اور ایک دن کے بعد یاد آئے توضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے اور اگر کئی دنوں بعد یاد آئے تو جتنے دن جنب ہونے کا یقين تھا ان کی قضا کرے، مثال کے طور پر اگر وہ نہ جانتا ہو کہ تين دن جنب تھا یا چار دن ؟ تو ضروری ہے کہ تين دن کے روزوں کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٣١ جو شخص ماہ رمضان کی کسی شب ميں غسل اور تيمم ميں سے کسی کا وقت نہ رکھتا ہو اگر وہ اپنے آپ کو جنبکرے تو اس کا روزہ باطل ہو گا اور اس پر قضا اور کفارہ واجب ہيں ، ليکن جس کی ذمہ داری غسل ہو، اگر تيمم کرنے کے لئے وقت رکھتا ہو چنانچہ اپنے آپ کو جنب کرے تو بنا بر احتياطِ واجب ضروری ہے کہ تيمم کرکے روزہ رکھے اوراس دن کے روزے کی قضا بھی کرے۔


مسئلہ ١ ۶ ٣٢ اگر اس چيز کا پتہ لگانے کے لئے کہ وقت ہے یا نہيں جستجو کرے اوریہ گمان حاصل کرنے کے بعدکہ غسل کے لئے وقت ہے ، اپنے آپ کو جنب کرلے اور بعد ميں پتہ چلے کہ وقت تنگ تھا اور تيمم کرلے تو اس کا روزہ صحيح ہے ، اور اگر جستجو کئے بغير گمان کرے کہ وقت ہے اور اپنے آپ کو جنب کرلے اور بعد ميں پتہ چلے کہ وقت تنگ تھا اور تيمم کے ساته روزہ رکھ لے تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٣٣ جو شخص ماہ رمضان کی کسی شب ميں جنب ہو اور جانتا ہو کہ اگر سوگيا تو صبح تک بيدار نہيں ہوگا، اس کے لئے ضروری ہے کہ غسل کئے بغير نہ سوئے اور اگر غسل سے پهلے سو جائے اور صبح تک بيدار نہ ہو تو اس کا روزہ باطل ہوگا اور قضا اور کفارہ دونوں اس پر واجب ہو جائيں گے۔

مسئلہ ١ ۶ ٣ ۴ جب بھی جنب ماہ رمضان کی کسی شب ميں بيدار ہو، اِس صورت ميں کہ اطمينان نہ رکھتا ہوکہ اذان صبح سے پهلے غسل کے لئے بيدار ہو سکے گا تو احتياط مستحب یہ ہے کہ غسل کرنے سے پهلے نہ سوئے۔

مسئلہ ١ ۶ ٣ ۵ جو شخص ماہ رمضان کی کسی شب ميں جنب ہو اور یقين یا اطمينان رکھتا ہو کہ اگر سوگيا تو اذانِ صبح سے پهلے بيدار ہوجائے گا، چنانچہ پختہ ارادہ رکھتا ہو کہ بيدار ہونے کے بعد غسل کرے گا اور اس ارادے سے سو جائے اور اذانِ صبح تک سوتا رہے تو اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٣ ۶ جو شخص ماہ رمضان کی کسی رات ميں جنب ہو اور اُسے علم ہو یا احتمال ہو کہ اگر سو گيا تو صبح کی اذان سے پهلے بيدار ہوجائے گا، اگر وہ اس بات سے غافل ہو کہ بيدار ہونے کے بعداس کے لئے غسل کرنا ضروری ہے ، اس صورت ميں کہ وہ سوجائے اور صبح کی اذان تک سوتا رہے، تو بنا بر احتياط ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٣٧ جو شخص ماہ رمضان کی کسی رات ميں جنب ہو اور اُسے یقين ہو یا اس بات کا احتمال ہو کہ اگر سوگيا تو اذانِ صبح سے پهلے بيدار ہوجائے گاليکن بيدار ہونے کے بعد وہ غسل نہ کرنا چاہتا ہو یا تردد کا شکار ہو کہ غسل کرے یا نہيں تو اس صورت ميں اگرسو جائے اور بيدار نہ ہو تواس کا روزہ باطل ہے اور قضا اور کفارہ اس پر واجب ہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٣٨ اگر جنب ماہ رمضان کی کسی رات ميں سوکر بيدار ہوجائے اور اسے معلوم ہو یا اس بات کا احتمال دے کہ اگر دوبارہ سوجائے تواذانِ صبح سے پهلے بيدار ہوگا اورمصمم ارادہ بھی رکھتا ہوکہ بيدار ہونے کے بعد غسل کرے گا، چنانچہ دوبارہ سوجائے اور اذانِ صبح تک بيدار نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے اور اگر دوسری نيند سے بيدار ہو اور تيسری مرتبہ کے لئے سوجائے اور اذانِ صبح تک بيدار نہ ہوتوضروری ہے کہ اِس دن کے روزے کی قضا کرے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ کفارہ بھی دے۔


مسئلہ ١ ۶ ٣٩ محتلم ہونے کی صورت ميں پهلی نيند سے مراد، وہ نيند ہے کہ جس ميں بيدار ہونے کے بعد سوجائے، یعنی وہ نيند کہ جس ميں محتلم ہوا ہے پهلی نيند شمار نہيں ہوگی۔

مسئلہ ١ ۶۴ ٠ اگر روزہ دار دن ميں محتلم ہوجائے تو فوری طور پر غسل کرنا واجب نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶۴ ١ اگر ماہ رمضان ميں اذانِ صبح کے بعد بيدار ہو اور دیکھے کہ محتلم ہو گيا ہے تو اگر چہ جانتا ہو کہ اذان سے پهلے محتلم ہوا تھا، اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۴ ٢ جو شخص ماہ رمضان کے روزے کی قضا رکھنا چاہتا ہو، اگر وہ اذانِ صبح تک جنب رہے خواہ جان بوجه کر نہ بھی ہو، اس کا روزہ باطل ہوگا۔

مسئلہ ١ ۶۴ ٣ جو شخص ماہ رمضان کا قضا روزہ رکھنا چاہتا ہو، اگر وہ اذانِ صبح کے بعد بيدار ہو اور دیکھے کہ محتلم ہوگيا ہے اور جانتا ہو کہ اذان سے پهلے محتلم ہوا ہے تو بنا بر احتياط اس کا روزہ باطل ہوگا، ليکن اگر روزے کی قضا کا وقت دوسرے ماہ رمضان کے آنے تک تنگ ہو، مثال کے طور پر رمضان کے پانچ روزے قضا ہوں اور رمضان آنے ميں محض پانچ دن رہ گئے ہوں تو بنا بر احتياطِ واجب اس دن روزہ رکھے اور ایک اور روزہ ماہ رمضان کے بعدبهی رکھے۔

مسئلہ ١ ۶۴۴ اگر ماہ رمضان کے قضا روزوں کے علاوہ ایسے واجب روزوں ميں جن کا وقت معين نہ ہومثلاً کفارے کے روزے، جان بوجه کر اذانِ صبح تک جنابت کی حالت ميں رہے تو اس کا روزہ صحيح ہے ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ اس دن کے علاوہ کسی دوسرے دن روزہ رکھے۔

مسئلہ ١ ۶۴۵ اگر عورت ماہ رمضان ميں اذانِ صبح سے پهلے حيض یا نفاس سے پاک ہوجائے اور جان بوجه کر غسل نہ کرے یا اگر اُس کی ذمہ داری تيمم ہو اور جان بوجه کر تيمم نہ کرے تو اُس کا روزہ باطل ہے اوراگر ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ ہو تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوتا اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ غسل کرلے۔

مسئلہ ١ ۶۴۶ اگر عورت ماہ رمضان ميں اذانِ صبح سے پهلے حيض یا نفاس سے پاک ہو جائے اور غسل کے لئے وقت نہ رکھتی ہوتوضروری ہے کہ تيمم کرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر اذان صبح تک جاگتی رہے اور جس جنب شخص کی ذمہ داری تيمم ہو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۴ ٧ اگر عورت ماہ رمضان ميں اذانِ صبح کے قریب حيض یا نفاس سے پاک ہوجائے اور غسل اور تيمم ميں سے کسی کے لئے بھی وقت نہ ہو تو اُس کا روزہ صحيح ہے ۔


مسئلہ ١ ۶۴ ٨ اگر عورت اذانِ صبح کے بعد حيض یا نفاس سے پاک ہوجائے یا دن ميں کسی وقت خون حيض یا نفاس دیکھے اگر چہ مغرب کا وقت نزدیک ہو، اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶۴ ٩ اگر عورت غسلِ حيض یا نفاس کرنا بھول جائے اور ایک یا کئی دنوں کے بعد اسے یاد آئے تو جو روزے اس نے رکھے ہوں وہ صحيح ہيں اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ان کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۶۵ ٠ اگر عورت ماہ رمضان ميں اذانِ صبح سے پهلے حيض یا نفاس سے پاک ہوجائے اور کوتاہی کرتے ہوئے اذانِ صبح تک غسل نہ کرے اُس کا روزہ باطل ہے ، ليکن اگر کوتاہی نہ کرے مثلاً زنانہ حمام کے ميسر ہونے کا انتظار کرے تو خواہ اس مدت ميں وہ تين بار سوئے اور اذان تک غسل نہ کرے تو تيمم کر لينے کی صورت ميں اس کا روزہ صحيح ہے اور اگر تيمم بھی ممکن نہ ہو تو اُس کا روزہ بغير تيمم کے بھی صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۵ ١ جو عورت استحاضہ کثيرہ کی حالت ميں ہو اگر وہ اپنے غسلوں کو احکام استحاضہ ميں گذری ہوئی تفصيل کے مطابق انجام دے تو اُس کا روزہ صحيح ہے اور استحاضہ متوسطہ ميں اگر چہ غسل نہ کرے تب بھی اُس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۵ ٢ جس نے ميت کو مس کيا ہو یعنی اپنے بدن کا کوئی حصہ ميت کے بدن سے لگایا ہو تو وہ غسلِ مسِ ميت انجام دئے بغير روزہ رکھ سکتا ہے اور اگر روزے کی حالت ميں بھی ميت کو مس کرے تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوگا۔

٨۔ حقنہ لينا

مسئلہ ١ ۶۵ ٣ بهنے والی چيز سے انيما لينا اگرچہ مجبوری اور علاج کے لئے ہو، روزے کو باطل کردیتا ہے ۔

٩۔ قے کرنا

مسئلہ ١ ۶۵۴ اگر روزے دار عمداً قے کرے اگر چہ بيماری یا ایسی ہی کسی چيز کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، ليکن اگر بھولے سے یا بے اختيار قے کرے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶۵۵ اگر رات ميں کوئی ایسی چيز کهالے کہ جس کے بارے ميں جانتا ہو کہ اس کی وجہ سے دن ميں بے اختيار قے کردے گا تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوگا اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے۔

مسئلہ ١ ۶۵۶ اگر روزہ دار قے روک سکتا ہو تو ضرر اور مشقت نہ ہو نے کی صورت ميں ضروری ہے کہ قے کو روکے۔

مسئلہ ١ ۶۵ ٧ اگر مثلاً روزے دار کے حلق ميں مکهی چلی جائے اور قے کئے بغير اُسے باہر نکالنا ممکن ہو تو ضروری ہے کہ باہر نکالے اور اُس کا روزہ صحيح ہے ، ليکن اگر ممکن نہ ہو تو اگر اسے نگلنا، کھانا کها جائے تو ضروری ہے کہ اُسے باہر نکالے اگرچہ قے کے ذریعے ہو اور اس کا روزہ باطل ہے اور اگر نگلنے کو کھانا نہ کها جائے تو ضروری ہے کہ باہر نہ نکالے اور اس کا روزہ صحيح ہے ۔


مسئلہ ١ ۶۵ ٨ اگر بھولے سے کسی چيز کو نگل لے اور حلق سے گزر جائے اور پيٹ ميں پهنچنے سے پهلے اِس کو یاد آجائے کہ روزہ ہے تو اس کا باہر نکالناضروری نہيں ہے اور اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۵ ٩ اگر یقين ہو کہ ڈکار لينے کی وجہ سے کوئی چيز گلے سے باہر آجائے گی تو بنا بر احتياطِ واجب جان بوجه کر ڈکار نہ لے، ليکن اگر یقين نہ ہو تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶۶ ٠ اگر ڈکار لينے سے کوئی چيز منہ ميں آجائے تو باہر اگل دینا ضروری ہے اور اگر بے اختيار اندر چلی جائے تو روزہ صحيح ہے ۔

روزہ باطل کر نے والی چيزوں کے احکام

مسئلہ ١ ۶۶ ١ اگر کوئی شخص جان بوجه کر اور اختيار سے روزہ باطل کر دینے والے کسی بھی کام کو انجام دے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔ ہاں، اگر جان بوجه کر نہ ہو تو کوئی حرج نہيں ، ليکن اگر جنب سو جائے اور مسئلہ” ١ ۶ ٣ ۶ “ ميں بيان شدہ تفصيل کے مطابق اذانِ صبح تک غسل نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے ۔

مسئلہ ١ ۶۶ ٢ اگر روزہ دار بھولے سے روزہ باطل کرنے والے کاموں ميں سے کوئی کام انجام دے اور اس خيال سے کہ اس کا روزہ باطل ہوگيا ہے وہ عمداًدوبارہ ان ميں سے کسی کام کو انجام دے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶۶ ٣ اگر کوئی چيز زبردستی روزہ دار کے گلے ميں ڈال دی جائے تو اس کا روزہ باطل نہيں ہو گا، ليکن اگر اسے روزہ توڑنے پر مجبور کيا جائے مثلاًاس سے کها جائے:” اگر تم نے کھانا نہ کهایا تو ہم تمہيں جانی یا مالی نقصان پهنچائيں گے“ اور وہ نقصان سے بچنے کے ليے خود کوئی چيز کها لے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔

مسئلہ ١ ۶۶۴ ضروری ہے کہ روزہ دار ایسی جگہ نہ جائے جس کے بارے ميں جانتا ہو یا اطمينان رکھتا ہو کہ کوئی چيز اس کے حلق ميں ڈال دی جائے گی یا اسے اپنا روزہ باطل کرنے پر مجبور کيا جائے گا لہٰذا اگر وہ چلا جائے اور کوئی چيز اس کے گلے ميں ڈال دی جائے یا وہ خود مجبوری کی بنا پر روزہ باطل کرنے والے کسی کام کو انجام دے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، بلکہ اگر صرف جانے کا ارادہ کرے اگرچہ نہ جائے اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

وہ چيزيں جو روزہ دار کے لئے مکروہ ہيں

مسئلہ ١ ۶۶۵ کچھ چيزیںروزہ دار کے لئے مکروہ ہيں جن ميں سے بعض یہ ہيں :

١) آنکہوں ميں دوائی ڈالنا اور سرمہ لگانا جب کہ ان کا مزہ یا بو حلق تک پهنچ جائے۔

٢) کسی بھی ایسے کا م کو انجام دینا جو کمزوری کا باعث ہو مثلاً خون نکالنا یا حمام جانا۔


٣) ناس کھينچنا بشرطيکہ معلوم نہ ہو کہ حلق تک پهنچ جائے گی اور اگر معلوم ہو کہ حلق تک پهنچ جائے گی تو جائز نہيں ہے ۔

۴) خوشبودار جڑی بوٹيوں کوسونگهنا۔

۵) عورت کا پانی ميں بيٹھنا۔

۶) خشک چيز سے انيما کرنا۔

٧) بدن پر موجود لباس کو تر کرنا۔

٨) دانت نکالنا اور ہر وہ کا م جس کی وجہ سے منہ سے خون نکل آئے۔

٩) تر لکڑی سے مسواک کرنا۔

١٠ ) بلاوجہ پانی یا کوئی بهنے والی چيز منہ ميں ڈالنا۔

اور یہ بھی مکروہ ہے کہ انسان منی خارج کرنے کا ارادہ کئے بغير اپنی بيوی کا بوسہ لے یا اپنی شهوت کو ابهارنے والا کوئی بھی کام انجام دے اور اگر منی خارج کرنے کا ارادہ ہو تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

قضا و کفارہ واجب ہونے کے مقامات مسئلہ ١ ۶۶۶ اگر کوئی شخص ماہِ رمضان کی کسی رات ميں جنب ہو جائے اور مسئلہ” ١ ۶ ٣ ۶ “ ميں بيان شدہ تفصيل کے مطابق بيدار ہو کر دوبارہ سو جائے اور اذانِ صبح تک بيدار نہ ہو تو ضروری ہے کہ صرف ا س روزے کی قضا کرے ليکن اگر روزہ دار مبطلاتِ روزہ ميں سے کوئی اور کام عمدا انجام دے جب کہ وہ جانتا ہو کہ یہ کام روزے کو باطل کر دیتا ہے تو قضا اور کفارہ دونوں اس پر واجب ہو جائيں گے۔ یهی حکم اس صورت ميں بھی ہے جب جانتا ہو کہ یہ کام حرام ہے چاہے یہ نہ جانتا ہو کہ یہ روزے کو باطل بھی کر دیتا ہے جيسے خدا، پيغمبر(ص) یا ائمہ معصومين عليهم السلام ميں سے کسی پر جھوٹ باندهنا۔

مسئلہ ١ ۶۶ ٧ اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے مبطلاتِ روزہ ميں سے کسی کام کو اس عقيدے کے ساته کہ یہ عمل روزے کو باطل نہيں کرتا، انجام دے تو ا س پر کفارہ واجب نہيں ۔

روزے کا کفارہ

مسئلہ ١ ۶۶ ٨ ماہِ رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ:

١) ایک غلام کو آزاد کرے ،یا

٢) آنے والے مسئلے ميں بيان کردہ طریقے کے مطابق دو ماہ کے روزے رکھے ،یا

٣) ساٹھ فقيروں کو پيٹ بھر کر کھانا کهلائے یا ہر فقير کو ایک مُد، جو تقریباًساڑھے سات سو گرام بنتا ہے گندم، آٹا، روٹی، کھجور یا ان جيسی کوئی کھانے کی چيز دے۔


اور اگر یہ چيزیں ممکن نہ ہوں تو احتياطِ واجب کی بنا پر جس قدر ممکن ہو صدقہ دے اور استغفار بھی کرے اور اگر صدقہ دینا بھی ممکن نہ ہو تو استغفار کرے اگرچہ صرف ایک مرتبہ ”استغفراللّٰہ“کهے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ جب بھی ممکن ہو کفارہ بھی دے۔

مسئلہ ١ ۶۶ ٩ جو شخص ماہِ رمضان کے کفارے ميں دو ماہ کے روزے رکھنا چاہتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک مهينہ مکمل اور اگلے مهينے کا پهلا دن مسلسل روزے رکھے جب کہ باقی روزے اگر مسلسل نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٧٠ جو شخص رمضان کے کفارے ميں دو ماہ کے روزے رکھنا چاہتا ہو ضروری ہے کہ ایسے وقت ميں شروع نہ کرے جب جانتا ہو کہ ایک مهينے اور ایک دن کے درميان عيدِ قربان کی طرح کوئی ایسا دن بھی ہے جس کا روزہ حرام ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٧١ جس کے لئے مسلسل روزے رکھنا ضروری ہوں اگر درميان ميں بغير کسی عذر کے ایک دن روزہ نہ رکھے یا ایسے وقت روزے رکھنا شروع کرے جب جانتا ہو کہ درميان ميں ایک ایسا دن آرہا ہے کہ جس ميں روزہ رکھنا اس پر واجب ہے ، مثلاًوہ دن آرہا ہے جس ميں روزہ رکھنے کی نذر کر رکھی ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ شروع سے روزے رکھے۔

مسئلہ ١ ۶ ٧٢ اگر ان دنوں ميں جب مسلسل روزے رکھنا ضروری ہيں ، بے اختيا ر کوئی عذر پيش آجائے جيسے حيض یا نفاس یا کسی بيماری ميں مبتلاہو جائے، تو عذر ختم ہونے کے بعد نئے سرے سے روزے رکھنا واجب نہيں بلکہ باقی روزوں کو عذر ختم ہونے کے بعد بجا لائے۔

مسئلہ ١ ۶ ٧٣ اگر کسی حرام چيز سے اپنے روزے کو باطل کر دے خواہ وہ چيز بذاتِ خود حرام ہوجيسے شراب اور زنا یا کسی وجہ سے حرام ہو گئی ہو جيسے اپنی حائضہ بيوی سے مقاربت کرنا تو احتياط کی بنا پر اس پر کفارہ جمع واجب ہو جائے گا یعنی ضروری ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، دو مهينے کے روزے رکھے اور ساٹھ فقيروں کو پيٹ بھر کر کھانا بھی کهلائے یا ان ميں سے ہر ایک کو ایک مُد طعام دے۔

اور اگر یہ تينوں اس کے لئے ممکن نہ ہوں تو ضروری ہے کہ ان ميں سے جو ممکن ہو انجام دے اور بنا بر احتياطِ واجب استغفار بھی کرے۔

مسئلہ ١ ۶ ٧ ۴ اگر روزہ دار جان بوجه کر خدا، پيغمبر(ص) یا ائمہ معصومين عليهم السلام سے جھوٹی بات منسوب کرے تو احتياط کی بنا پر کفارہ جمع اس پر واجب ہو جائے گا جس کی تفصيل گذشتہ مسئلے ميں بيان کی گئی ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٧ ۵ اگر روزہ دار ماہِ رمضان کے ایک ہی دن ميں کئی بار جماع یا استمنا کرے تو بنا بر احتياط اس پر ہر مرتبہ کے لئے کفارہ واجب ہو جائے گا اور اگر اس کاجماع یا استمنا حرام ہو تو بنا بر احتياط ہر مرتبہ کيلئے ایک کفارہ جمع اس پر واجب ہو گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٧ ۶ اگر روزہ دار ماہِ رمضان کے ایک دن ميں جماع اور استمنا کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا کام جو روزے کو باطل کر دیتا ہو چند بار انجام دے تو ان سب کے لئے ایک کفارہ کافی ہے ۔


مسئلہ ١ ۶ ٧٧ اگر روزہ دار جماع اور استمنا کے علاوہ روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے اور بعد ميں اپنے لئے حلال عورت سے جماع یا استمنا کرے تو پهلے کام کے لئے ایک کفارہ اور جماع یا استمنا کے لئے بنا بر احتياط ایک دوسرا کفارہ واجب ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٧٨ اگر روزہ دار جماع اور استمنا کے علاوہ کوئی اور ایسا حلال کام جو روزے کو باطل کر دیتا ہو انجام دے مثلاً پانی پئے پھر جماع یا استمنا کے علاوہ کوئی ایسا حرام کام جو روزے کو باطل کر دیتا ہو انجام دے مثلاًحرام کھانا کهالے تو ایک کفارہ کافی ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٧٩ اگر روزے دار کے ڈکار لينے سے کوئی غذا اس کے منہ ميں آجائے اور وہ اسے عمداً نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اور احتياط واجب یہ ہے کہ کفارہ بھی دے۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب ڈکار لينے سے منہ ميں آنے والی چيز غذا کے مرحلے سے نکل چکی ہو اگرچہ اس صورت ميں احتياط مستحب یہ ہے کہ کفارہ جمع دے اور اگر ڈکار لينے سے ایسی چيز منہ ميں آجائے کہ جس کا کھانا حرام ہے جيسے خون اور اسے عمداً نگل لے تو روزہ باطل ہے اور ضروری ہے کہ اس دن کی قضا کرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر کفارہ جمع بھی دے۔

مسئلہ ١ ۶ ٨٠ اگر نذر کرے کہ ایک معين دن روزہ رکھے گا اور اس دن جان بوجه کر اپنا روزہ باطل کردے تو ضروری ہے کہ کفارہ دے اور نذر توڑنے کا کفارہ وهی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے جسے مسئلہ نمبر ” ٢٧٣ ۴ “ ميں بيان کيا جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٨١ اگر روز ہ د ارکسی ایسے شخص کے کهنے پر جس کا کهنا ہو کہ مغرب ہو گئی ہے جب کہ شرعاً اس شخص کی بات قابلِ اعتبار نہ ہو، افطار کرلے او ر بعد ميں معلوم ہو کہ مغرب کا وقت نہيں ہوا تھا یا شک کرے کہ مغرب ہوئی تھی یا نہيں تو اس پر قضا اور کفارہ واجب ہو جائيں گے۔

مسئلہ ١ ۶ ٨٢ جو شخص جان بوجه کر اپنا روزہ توڑ دے اگر وہ ظہر کے بعد سفر کرے یا کفارے سے بچنے کے لئے ظہر سے پهلے سفر کرے تو اس سے کفارہ ساقط نہيں ہو گا اور ظہر سے پهلے سفر پيش آجانے پر بھی بنا بر اقویٰ یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٨٣ اگر جان بوجه کر اپنا روزہ توڑدے اور بعد ميں کوئی عذر جيسے حيض یا نفاس یا کوئی بيماری اسے لاحق ہو جائے تو بنا بر احتياط اس پر کفارہ واجب ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٨ ۴ اگر کسی کو یقين یا اطمينا ن ہو یا شرعی گواہی قائم ہو جائے کہ ماہِ رمضان کا پهلا دن ہے اور جان بوجه کر اپنے روزے کو باطل کر دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ شعبان کا آخری دن تھا تو اس پر کفارہ واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٨ ۵ اگر انسان شک کرے کہ رمضان کی آخری تاریخ ہے یا شوال کی پهلی اور جان بوجھ کر اپنے روزے کو باطل کردے اور بعد ميں معلوم ہو کہ شوال کی پهلی تھی تو اس پر کفارہ واجب نہيں ہے ۔


مسئلہ ١ ۶ ٨ ۶ اگر روزہ دار رمضان ميں اپنی روزہ دار بيوی سے جماع کرے جبکہ اس نے بيوی کو جماع پر مجبور کيا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے اور بنا بر احتيا ط اپنی بيوی کے روزے کا کفارہ دے اور اگر بيوی جماع پر راضی تھی تو ہر ایک پر ایک کفارہ واجب ہو جائے گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٨٧ اگر عورت اپنے روزے دار شوہر کو جماع کرنے پر مجبور کرے تو اس پر شوہر کے روزے کا کفارہ دینا واجب نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٨٨ اگر روزے دار ماہِ رمضان ميں اپنی بيوی کو جماع پر مجبور کرے اور جماع کے دوران عورت راضی ہو جائے تو احتياطِ واجب کی بنا پر مرد دو کفارے اور عورت ایک کفارہ دے۔

مسئلہ ١ ۶ ٨٩ اگر روزے دار ماہِ رمضان ميں اپنی سوئی ہوئی روزہ دار بيوی سے جماع کرے تو اس پر ایک کفارہ واجب ہو گا جب کہ بيوی کا روزہ صحيح ہے اور اس پر کفارہ بھی واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٩٠ اگر مرد اپنی بيوی کو یا بيوی اپنے شوہر کو جماع کے علاوہ روزہ باطل کرنے والا کوئی اور کام انجام دینے پر مجبور کرے تو ان ميں سے کسی پر کفارہ واجب نہيں ہو گا۔

مسئلہ ١ ۶ ٩١ جو شخص سفر یا بيماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ رہا ہو وہ اپنی روزے دار بيوی کو جماع پر مجبور نہيں کر سکتا، ليکن اگر مجبور کرے تو اس پر کفارہ واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٩٢ ضروری ہے کہ انسان کفارے کی ادائيگی ميں کوتاہی نہ کرے، البتہ اسے فوراً ادا کرنا بھی ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١ ۶ ٩٣ اگر انسان پر کفارہ واجب ہوئے چند سال گذر جائيں اور کفارہ انجا م نہ دیا ہو تو اس پر کسی چيز کا اضافہ نہيں ہوتا۔

مسئلہ ١ ۶ ٩ ۴ جو شخص ایک دن کے کفارے کے لئے ساٹھ فقيروں کو کھانا کهلانا چاہتا ہو، وہ یہ نہيں کر سکتا کہ ان ميں سے ایک فقير کو دو یا اس سے زیادہ بار پيٹ بھر کر کھانا کهلائے یا انہيں ایک مُد سے زیادہ طعام دے اور زیادہ کو کفارہ ميں شمار کرے۔ ہاں، وہ یہ کر سکتا ہے کہ فقير کو اس کے اہل و عيال کے ساته پيٹ بھر کر کھانا کهلائے جو چاہے چھوٹے ہی کيوں نہ ہوں ليکن عمر کے اعتبار سے اتنے ہوں کہ انہيں کهلانے کو کھانا کهلانا کها جاسکے یا بچے کے ولی کو بچے کے لئے ایک مُد دے دے۔

مسئلہ ١ ۶ ٩ ۵ جس شخص نے ماہِ رمضان کا قضا روزہ رکھا ہو اگر وہ ظہر کے بعد عمداًروزہ توڑنے والا کوئی کام انجام دے تو ضروری ہے کہ دس فقيروں کو ایک ایک مُد طعام دے اور اگر یہ نہ کر سکتا ہو تو تين دن روزے رکھے جو بنا بر احتياط مسلسل ہوں۔


وہ مقامات کہ جن ميں صرف روزے کی قضا واجبہے

مسئلہ ١ ۶ ٩ ۶ چند صورتو ں ميں انسان پر روزے کی صرف قضا واجب ہے اور کفارہ واجب نہيں ہے :

١) ماہ رمضان کی رات ميں جنب ہو اور مسئلہ نمبر ” ١ ۶ ٣٨ “ميں بيان شدہ تفصيل کے مطابق اذانِ صبح تک دوسری اور تيسری نيندسے بيدار نہ ہو۔

٢) روزے کو باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو ليکن روزے کی نيت نہ کرے یا ریاکاری کرے، یا روزے سے نہ ہونے کا ارادہ کرے یا روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دینے کا ارادہ کرے اور انجام نہ دے۔

٣) ماہ رمضان ميں غسل جنابت کرنا بھول جائے اور اسی حالت ميں ایک یا چند دن روزہ رکھے۔

۴) ماہ رمضان ميں یہ جستجو کئے بغير کہ صبح ہوگئی ہے یا نہيں روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ صبح ہوگئی تھی۔ اسی طرح اگر جستجو کرنے کے بعد یہ گمان ہو کہ صبح ہو گئی ہے یا شک کرے کہ صبح ہو ئی یا نہيں اور روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ صبح ہو گئی تھی تو اس روزے کی قضا اس پر واجب ہے ۔

۵) کسی کے یہ کهنے پر کہ صبح نہيں ہوئی انسان روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ صبح ہو گئی تھی۔

۶) کسی کے یہ کهنے پر کہ صبح ہوگئی ہے یقين نہ کرتے ہوئے یا اس خيال سے کہ وہ مذاق کر رہا ہے روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ صبح ہو چکی تھی۔

٧) نا بينا یا اس جيسا کوئی شخص کسی اور کے کهنے پر افطار کر لے اور بعد ميں معلوم ہو کہ مغرب نہيں ہوئی تھی۔

٨) مطلع صاف ہو اور تاریکی کی وجہ سے اس یقين کے ساته کہ مغرب ہو گئی ہے افطار کر لے اور بعد ميں معلوم ہو کہ مغرب نہيں ہوئی تهی، ليکن اگر مطلع ابر آلود ہو اور اس گمان کے ساته کہ مغرب ہو گئی ہے افطار کر لے اور بعد ميں معلوم ہو کہ مغرب نہيں ہوئی تھی تو قضا ضروری نہيں ہے ۔

٩) ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے یا بلاوجہ کلی کرے اور بے اختيار پانی منه کے اندر چلا جائے ليکن اگر بھول جائے کہ روزہ سے ہے اور پانی اندر لے جائے یا واجب نماز کے وضو کے لئے کلی کرے اور بے اختيار پانی اندر چلا جائے تو اس پر قضا واجب نہيں ۔

١٠ ) کوئی زبردستی یا مجبوری یا تقيہ کی وجہ سے افطار کرے۔


مسئلہ ١ ۶ ٩٧ اگر پانی کے علاوہ کوئی اور چيز منہ ميں ڈالے اور وہ بے اختيار اندر چلی جائے یا پانی ناک ميں ڈالے اور بے اختيار اندر چلا جائے تو اس پر قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١ ۶ ٩٨ روزہ دار کے لئے زیادہ ناک ميں پانی ڈالنا یا کلی کرنا مکروہ ہے اور اگر کلی کرنے کے بعد لعاب دهن کو نگلنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ اس سے پهلے تين مرتبہ لعاب دهن کو تهوک دے۔

مسئلہ ١ ۶ ٩٩ اگر انسان جانتا ہو کہ کلی کرنے یا ناک ميں پانی ڈالنے کی وجہ سے بے اختيار یا بھولے سے پانی اس کے حلق ميں چلا جائے گا تو ضروری ہے کہ نہ کلی کرے اور نہ ناک ميں پانی ڈالے۔

مسئلہ ١٧٠٠ اگر ماہ رمضان ميں جستجو کرنے کے بعد اس یقين کے ساته کہ صبح نہيں ہوئی، روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ صبح ہوگئی تھی تو قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧٠١ اگر انسان شک کرے کہ مغرب ہو گئی ہے یا نہيں تو وہ افطار نہيں کر سکتا ہے ، ليکن اگر شک کرے کہ صبح ہوئی ہے یا نہيں تو جستجو سے پهلے بھی وہ روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے سکتا ہے ۔

قضا روزے کے احکام

مسئلہ ١٧٠٢ اگر دیوانہ عاقل ہو جائے تو دیوانگی کے وقت کے روزوں کی قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧٠٣ اگر کافر مسلمان ہو جائے تو کفر کے وقت کے روزوں کی قضا واجب نہيں ہے ، ليکن اگر کوئی مسلمان کافر ہو جائے تو جو روزے کفر کے زمانے ميں اس نے نہيں رکھے ضروری ہے کہ ان کی قضا کرے اور اگر مسلمان بھی ہو جائے تو اسلام لانے کی وجہ سے اس پر سے کوئی چيز ساقط نہيں ہوتی۔

مسئلہ ١٧٠ ۴ جو روزہ انسان سے نشہ کی حالت ميں چھوٹ گيا ہو اس کی قضا ضروری ہے اگرچہ جس چيز کی وجہ سے اس پر نشہ طاری ہوا ہو اسے علاج کے لئے کهایا ہو۔

مسئلہ ١٧٠ ۵ اگر کسی عذر کی وجہ سے چند دن روزہ نہ رکھے اور بعد ميں شک کرے کہ اس کا عذر کس وقت ختم ہو ا تھا تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس زیادہ مقدار کے روزوں کی قضا کرے جس ميں روزے نہ رکھنے کا احتمال ہے ۔ مثلاًجس نے ماہ رمضان سے پهلے سفر کيا ہو اور نہ جانتا ہو کہ پانچویں رمضان کو پهنچا تھا یا چھٹی رمضان کو تو بنا بر احتياطِ واجب چھ روزے رکھے، ليکن جو شخص یہ نہ جانتا ہو کہ کس وقت عذر پيش آیا تھا تو وہ کم مقدار کی قضا کر سکتا ہے مثال کے طور پر ماہ رمضان کے آخر ی ایام ميں سفر کرے اور رمضان کے بعد لوٹے اور نہ جانتا ہو کہ پچيسویں رمضان کو سفر کيا تھا یا چھبيسویں کو تو وہ کم مقدار یعنی پانچ دن کی قضا پر اکتفا کر سکتا ہے ، اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ زیادہ دنوں کی قضا کرے۔


مسئلہ ١٧٠ ۶ جس پر چند رمضان کے مهينوں کے روزوں کی قضا ہو تو کسی کی بھی قضا پهلے انجام دینے ميں کوئی حرج نہيں ہے ، ليکن اگر آخری ماہ رمضان کے قضا روزوں کا وقت تنگ ہو مثلا آخری رمضان کے پانچ روزوںکی قضا اس پر ہو اور رمضان آنے ميں بھی پانچ دن رہ گئے ہوں تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ پهلے آخری رمضان کی قضا کرے۔

مسئلہ ١٧٠٧ جس شخص پر کئی رمضان کے مهينوں کے روزوں کی قضا واجب ہو، اس کے لئے قضا کرتے وقت یہ معين کرنا ضروری نہيں ہے کہ یہ کس رمضان کے روزوں کی قضا ہے مگر یہ کہ دونوں روزوں ميں اثر کے اعتبار سے اختلاف ہو۔

مسئلہ ١٧٠٨ انسان ماہِ رمضان کے قضا روزے ميں ظہر سے پهلے اپنا روزہ باطل کر سکتا ہے ، ليکن اگر قضا کرنے کا وقت تنگ ہو تو احتياطِ واجب کی بناپر اپنا روزہ باطل نہيں کر سکتا ۔

مسئلہ ١٧٠٩ جس نے کسی ميت کا قضا روزہ رکھا ہو احتياط مستحب یہ ہے کہ زوال کے بعد روزہ نہ توڑے۔

مسئلہ ١٧١٠ اگر بيماری، حيض یا نفاس کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے اور رمضان کے مکمل ہونے سے پهلے یا رمضان ختم ہونے کے بعد اور قضا پر قدرت حاصل کرنے سے پهلے مر جائے تو چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧١١ جس شخص نے بيمار ی کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے ہو ں اور اس کی بيمار ی اگلے سال کے رمضان تک باقی رہے تو چھوڑے ہوئے روزوںکی قضا اس پر واجب نہيں ہے اور ضروری ہے کہ ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے، ليکن اگر اس نے کسی اور عذر مثلاًسفر کی وجہ سے روزے نہ رکھے ہوں اور اس کا عذر اگلے رمضان تک باقی رہے تو ضروری ہے کہ چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا کرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر ہر دن کے لئے ایک مد طعام بھی فقير کودے۔

مسئلہ ١٧١٢ اگر کوئی شخص بيمار ی کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے اور رمضان کے بعد اس کی بيماری تو ختم ہو جائے ليکن کوئی دوسرا عذر پيش آ جائے کہ جس کی وجہ سے اگلے رمضان تک روزے کی قضا نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ نہ رکھے ہوئے روزوں کی قضا کرے۔

اسی طرح اگر اس نے ماہ رمضان ميں بيمار ی کے علاوہ کسی اور عذر کی وجہ سے روزے نہ رکھے ہوں اور رمضان کے بعد اس کا عذر تو برطرف ہو جائے ليکن اگلے سال کے رمضان تک بيمار ی کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے تو ضروری ہے کہ نہ رکھے ہوئے روزوں کی قضا کرے۔ اور دونوں صورتوں ميں احتياطِ واجب یہ ہے کہ ہر دن کے لئے ایک مد طعام بھی فقير کو دے۔

مسئلہ ١٧١٣ جو شخص ماہ رمضان ميں کسی عذر کی وجہ سے روزے نہ رکھے اور رمضا ن کے بعد عذر بر طرف ہوجانے کے باوجود اگلے سال کے رمضان تک عمداً ان روزوں کی قضا نہ کر ے تو ضروری ہے کہ ان روزوں کی قضا بھی کرے اور ہر دن کے لئے فقير کو ایک مد طعام بھی دے۔


مسئلہ ١٧١ ۴ اگر روزوں کی قضا کرنے ميں اتنی کوتاہی کرے کہ وقت تنگ ہوجائے اور وقت کی تنگی ميں عذر پيش آ جائے تو ضروری ہے کہ قضا روزے رکھے اور ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے۔ اسی طرح اگر عذر کے وقت پختہ ارادہ رکھتا ہو کہ عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزوں کی قضا کرے گا ليکن اس سے پهلے کہ قضا کرے وقت کی تنگی ميں عذرپيش آجائے تو ضروری ہے کہ ان روزوں کی قضا بھی کرے اور ہر دن کے لئے احتياطِ واجب کی بنا پر ایک مدطعام بھی فقير کو دے۔

مسئلہ ١٧١ ۵ اگر کسی انسان کی بيماری کئی سال تک طولانی ہوجائے تو صحت یاب ہونے کے بعد ضروری ہے کہ آخری رمضان کے روزے قضا کرے اور پچهلے سالوں کے ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے۔

مسئلہ ١٧١ ۶ جس شخص پر ہر دن کے لئے ایک مُد طعام فقير کو دینا ضروری ہو تو و ہ چند دنوں کا کفارہ ایک ہی فقير کو بھی دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٧١٧ اگر رمضان کے قضا روزوں کو چند سالوں تک انجام نہ دے تو ضروری ہے کہ قضا کرے اور پهلے سال کی تاخير کی وجہ سے ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے، البتہ بعد کے چند سالوں کی تاخير کی وجہ سے اس پر کوئی چيز واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٧١٨ اگر رمضان کے روزے جان بوجه کر نہ رکھے تو ضروری ہے کہ اس کی قضا بھی انجام دے اور ہر دن کے لئے یا ایک غلام کو آزاد کرے یا ساٹھ فقيروں کو طعام دے یا دو مهينے کے روزے رکھے اور اگر آئندہ رمضان تک ان روزوں کی قضا انجام نہ دے تو ہر دن کے لئے فقير کو ایک مد طعام بھی دے۔

مسئلہ ١٧١٩ اگر رمضان کا روزہ جان بوجه کر نہ رکھے اور دن ميں چند مرتبہ جماع یا استمنا کرے تو احتياطِ واجب کی بناپر ہر بار کے لئے کفارہ دے، ليکن اگر چند مرتبہ روزہ باطل کرنے والا کوئی اورکام انجام دے مثلاًچند مرتبہ کھانا کھائے تو ایک کفارہ کافی ہے ۔

مسئلہ ١٧٢٠ باپ کے مرنے کے بعد ضروری ہے کہ اس کا بڑا بيٹا مسئلہ نمبر ” ١٣٩٨ “ميں بيان شدہ تفصيل کے مطابق اس کے روزوں کی قضا بجا لائے۔

مسئلہ ١٧٢١ اگر باپ نے رمضان کے علاوہ کوئی اور واجب روزہ مثلاًنذر کا روزہ نہ رکھا ہو تو واجب ہے کہ بڑا بيٹا اس کی بھی قضا کرے، ليکن اگر باپ کسی کے روزے رکھنے کے لئے اجير بنا ہو اور ان کو نہ رکھا ہو تو بڑے بيٹے پر اس کی قضا ضروری نہيں ۔


مسافر کے روزوں کے احکام

مسئلہ ١٧٢٢ جس مسافر کی ذمہ داری ہے کہ چار رکعتی نمازوں کو سفر ميں دورکعت پڑھے، ضروری ہے کہ روزہ نہ رکھے اور جس مسافر کو اپنی نمازیں پوری پڑھنا ہيں ، مثلاًوہ شخص جس کا پيشہ ہی سفر کرنا ہو یا اس کا سفر گناہ کاسفر ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ سفر ميں روزہ رکھے۔

مسئلہ ١٧٢٣ ماہ رمضا ن ميں سفر کرنے ميں کوئی حرج نہيں ليکن مکروہ ہے ، چاہے روزے سے فرار کرنے کے لئے نہ ہو، مگر یہ کہ سفر اس کی ضرورت کی وجہ سے ہو یا جيسا کہ بعض روایتوں ميں آیا ہے حج یا عمرہ کے لئے ہو۔

مسئلہ ١٧٢ ۴ اگر ماہ رمضان کے روزے کے علاوہ کوئی دوسرا معين روزہ انسان پر واجب ہو جس کا تعلق حق الناس سے ہو مثلاً یہ کہ انسان اجير بنا ہو کہ کسی معين دن ميں روزہ رکھے گا تو وہ اس دن سفر نہيں کر سکتا۔ یهی حکم احتياطِ واجب کی بنا پر نذر کے علاوہ دوسرے واجب معين روزوں جيسے اعتکاف کے تيسرے دن کے روزے کا ہے ۔ ہاں، اگر کوئی روزہ نذر کی وجہ سے معين ہوا ہو تو اقوی یہ ہے کہ وہ اس دن سفر کر کے اس کے بجائے کسی اور دن روزہ رکھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٧٢ ۵ اگر کوئی روزہ رکھنے کی نذر کرے ليکن معين نہ کرے کہ کس دن روزہ رکھے گا تو اس روزے کو سفر ميں انجام نہيں دے سکتا، ليکن اگر نذر کرے کہ سفر ميں کسی معين دن روزہ رکھے گا تو ضروری ہے کہ اس روزے کو سفر ميں انجام دے ۔اسی طرح اگر نذر کرے کہ فلاں دن روزہ رکھے گا خواہ سفر ہو یا نہ ہو تو ضروری ہے کہ چاہے سفر ميں ہو اس دن روزہ رکھے۔

مسئلہ ١٧٢ ۶ مسافر طلب حاجت کی غرض سے تين د ن مدینہ منورہ ميں مستحب روزے رکھ سکتا ہے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ وہ تين دن بده، جمعرات اور جمعہ ہوں۔

مسئلہ ١٧٢٧ جو شخص نہ جانتا ہو کہ مسافر کا روزہ باطل ہے اگر وہ سفر ميں روزہ رکھ لے اور دن ميں کسی وقت اسے مسئلہ معلوم ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے ، ليکن اگر مغرب تک معلوم نہ ہو تو اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٧٢٨ اگر بھول جائے کہ وہ مسافر ہے یا بھول جائے کہ مسافر کا روزہ باطل ہے اور سفر ميں روزہ رکھ لے تو اس کا روزہ باطل ہے ۔

مسئلہ ١٧٢٩ اگر روزہ دار ظہر کے بعد سفر کرے تو ضروری ہے کہ اپنا روزہ پورا کرے اور اگر ظہر سے پهلے سفر کرے تو حد تر خص تک پهنچنے پر اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اور اگر اس سے پهلے روز ہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے تو اس پر کفارہ واجب ہو جائے گا۔


مسئلہ ١٧٣٠ اگر مسافر ماہ رمضان ميں خواہ فجرسے پهلے ہی سفر ميں ہو یا روزے سے ہو اور سفر کرے، اگرظہر سے پهلے اپنے وطن یا کسی ایسی جگہ پهنچ جائے جهاں اس کا دس دن رہنے کا ارادہ ہو اور اس نے روزے کو باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس دن روزہ رکھے اور اگر انجام دے دیا ہو تو اس دن کا روزہ باطل ہے ۔

مسئلہ ١٧٣١ اگر مسافر ظہر کے بعد اپنے وطن یا کسی ایسی جگہ پهنچے کہ جهاں وہ دس دن رہنا چاہتا ہو تو اس دن کا روزہ صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧٣٢ مسافر اور روزہ رکھنے سے معذور افراد کے لئے ماہِ رمضان کے دن ميں جماع کرنا، ضرورت سے زیادہ کھانا اور خود کو مکمل طور پر سيراب کرنا مکروہ ہے ۔

وہ افراد جن پر روزہ رکھنا واجب نهيں

مسئلہ ١٧٣٣ جو شخص بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو یااس کے لئے روزہ رکھنا مشقّت کا باعث ہو تو اس پر سے روزے کی ذمہ داری کو اٹھ ا ليا گيا ہے ۔ ہاں، دوسری صورت ميں ضروری ہے کہ ہر روزے کے بدلے ميں فدیہ دے جو کہ ایک مد طعام ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ گندم دے۔

مسئلہ ١٧٣ ۴ جو شخص بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھے، اگر ماہ رمضان کے بعد روزہ رکھنے پر قادر ہوجائے تو جو روزے نہيں رکھے ان کی قضا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧٣ ۵ اگر انسان کو ایسی بيماری ہو کہ اسے زیادہ پياس لگتی ہو اور اس کے لئے پياس کو برداشت کرنا ممکن نہ ہو یا باعث مشقت ہو تو اس سے روزے کی ذمہ داری کو اٹھ ا ليا گيا ہے ، ليکن دوسری صورت ميں ضروری ہے کہ ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے اور احتياط مستحب یہ هے کہ مجبوری سے زیادہ مقدار ميں پانی نہ پئے اور ماہ رمضان کے بعد اگر روزہ رکھنے پر قادر ہو جائے تو جو روزے نہيں رکھے ان کی قضا واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٧٣ ۶ جس عورت کے وضع حمل کا وقت قریب ہو اور روزہ اس کے حمل یا خود اس عورت کے لئے نقصان دہ ہو تو اس کا روزہ صحيح نہيں اور پهلی صورت ميں ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے۔ یهی حکم احتياط مستحب کی بنا پر دوسری صورت کے لئے ہے اور جو روزے نہيں رکھے ہيں ضروری ہے کہ ان کی قضا کرے۔

مسئلہ ١٧٣٧ جو عورت بچے کو دودھ پلاتی ہو اور اس کا دودھ کم ہو خواہ وہ بچے کی ماں ہو یا دایہ ہو، اجرت کے ساته دودھ پلائے یا بغير اجرت کے، اگر روزہ اس بچے کے لئے یا خود اس عورت کے لئے نقصان دہ ہو تو اس عورت کا روزہ صحيح نہيں ہے اور پهلی صورت ميں ضروری ہے کہ ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقير کو دے۔ یهی حکم احتياطِ مستحب کی بنا پر دوسری صورت کے لئے بھی


ہے اور جو روزے نہيں رکھے ان کی قضا ضروری ہے اور یہ حکم اس وقت ہے کہ جب بچے کے دودھ کے لئے کوئی اور طریقہ ميسر نہ ہو اور اگر ميسر ہو تو واجب ہے کہ وہ عورت روزہ رکھے۔

مهينے کی پهلی تاريخ ثابت ہونے کا طريقہ

مسئلہ ١٧٣٨ مهينے کی پهلی تاریخ چند چيزوں سے ثابت ہوتی ہے :

١) انسان خود چاند دیکھے ۔

٢) اتنے لوگ جن کے کهنے پر یقين یا اطمينان آجاتا ہے ، کہيں کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ اسی طرح ہر وہ چيز جس کی وجہ سے یقين یا اطمينان حاصل ہو جائے۔

٣) دوعادل مرد کہيں کہ ہم نے ایک ہی رات ميں چاند دیکھا ہے ليکن اگر چاند کی خصوصيت ایک دوسرے سے مختلف بيان کریں تو مهينے کی پهلی تاریخ ثابت نہيں ہوتی۔ یهی حکم اس وقت ہے جب یہ دونوں تصدیق کے قابل نہ ہوں مثلاًجب مطلع صاف ہو، چاند دیکھنے والے افراد زیادہ ہو ں اور ان دو کے علاوہ باقی افراد کوشش کے باوجود نہ دیکھ پائيں۔

۴) ماہِ شعبان کی پهلی سے تيس دن گزر جائيں جس سے ماہِ رمضان کی پهلی ثابت ہو جاتی ہے اور ماہِ رمضان کی پهلی سے تيس دن گزر جائيں جس سے شوال کی پهلی ثابت ہو جاتی ہے ۔

مسئلہ ١٧٣٩ مهينے کی پهلی کا حاکم شرع کے حکم سے ثابت ہو نا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۴ ٠ مهينے کی پهلی نجوميوں کی پيشن گوئی سے ثابت نہيں ہوتی، ليکن اگر انسان کو ان کے کهنے سے یقين یا اطمينان حاصل ہو جائے تو اس پر عمل ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۴ ١ چاند کا اونچاہونا یا دیر سے غروب ہونا اس بات کی دليل نہيں کہ گذشتہ رات مهينے کی پهلی رات تهی، ليکن اگر ظہر سے پهلے چاند نظر آئے تو یہ مهينے کا پهلا دن شمار ہو گا اور چاند کے گرد حلقے کے ذریعے پچهلی رات کا چاند رات ثابت ہونا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۴ ٢ اگر کسی کے لئے ماہِ رمضان کی پهلی ثابت نہ ہو اور وہ روزہ نہ رکھے اور بعد ميں ثابت ہوجائے کہ گذشتہ رات ہی چاند رات تھی تو ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے۔

مسئلہ ١٧ ۴ ٣ اگر کسی شہر ميں مهينے کی پهلی تاریخ ثابت ہوجائے تو دوسرے شهروں ميں بھی خواہ دور ہوں یا نزدیک، خواہ ان کا افق ایک ہو یا نہ ہو، رات مشترک ہونے کی صورت ميں چاند ثابت ہو جاتا ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۴۴ مهينے کی پهلی ٹيلی گرام سے ثابت نہيں ہوتی مگر یہ کہ انسان جانتا ہو کہ ٹيلی گرام، شرعی دليل کی بنياد پر کيا گيا ہے ۔


مسئلہ ١٧ ۴۵ جس دن کے بارے ميں انسان کو معلوم نہ ہو کہ رمضان کا آخری دن ہے یا شوال کا پهلا دن، ضروری ہے کہ روزہ رکھے ليکن اگر مغرب سے پهلے معلوم ہو جائے کہ شوال کی پهلی ہے تو ضروری ہے کہ افطار کر لے۔

مسئلہ ١٧ ۴۶ اگر قيد ميں موجود شخص کے پاس ماہِ رمضان ثابت ہونے کا کوئی طریقہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اپنے گمان پر عمل کرے چاہے کسی بھی طریقے سے حاصل ہوا ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو جس مهينے کے متعلق احتمال ہو کہ ماہِ رمضان ہے ، صحيح ہے کہ روزہ رکھ لے، ليکن ضروری ہے کہ اس مهينے سے گيارہ مهينے گذرنے کے بعد دوبارہ ایک مهينہ روزہ رکھے اور اگر بعد ميں معلوم ہو جائے کہ جس چيز کا اس نے گمان کيا تھا یا جسے اختيار کيا تھا وہ ماہِ رمضان نہيں تھا تو اگر یہ معلوم ہو کہ ماہِ رمضان اس مهينے سے پهلے تھا تو یہ کافی ہوگا اور اگر معلوم ہو کہ ماہِ رمضان اس مهينے کے بعد تھا تو ضروری ہے کہ قضا کرے۔

حرام اور مکروہ روزے

مسئلہ ١٧ ۴ ٧ عيد فطر اور عيد قربان کے دن روزہ رکھنا حرام ہے ۔ نيز جس دن کے بارے ميں انسان کو معلوم نہ ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پهلی، اگر پهلی رمضان کی نيت سے روزہ رکھے تو حرام ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۴ ٨ اگر بيوی کے مستحب روزہ رکھنے کی وجہ سے شوهرکا حق ضائع ہو تو ضروری ہے کہ روزہ نہ رکھے اوراحتياط مستحب یہ ہے کہ اگر شوہر کا حق ضائع نہ بھی ہوتب بھی شوہر کی اجازت کے بغيرمستحب روزہ نہ رکھے۔

مسئلہ ١٧ ۴ ٩ اولاد کا مستحب روزہ رکھنا اگر ماں باپ کی اذیت کا سبب ہو تو حرام ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۵ ٠ اگر اولاد باپ کی اجازت کے بغير کوئی مستحب روزہ رکھ لے اور دن ميں باپ اسے منع کرے، اگر بچے کی مخالفت کرنا باپ کی اذیت کا باعث ہو تو ضروری ہے کہ افطار کر لے۔ یهی حکم اس وقت ہے جب ماں اسے منع کرے اور اس کی مخالفت کرنا اذیت کا باعث ہو۔

مسئلہ ١٧ ۵ ١ جو شخص جانتا ہو کہ روزہ اس کے لئے مضر نہيں اگرچہ ڈاکٹر کهے کہ نقصان دہ ہے ، ضروری ہے کہ روزہ رکھے اور جس شخص کو قابل ذکر ضرر کا یقين یا گمان ہو یا اس چيز کا خوف ہو جس کا خوف عقلا کے نزدیک صحيح ہوتو چاہے ڈاکٹر کهے کہ ضرر نہيں ہے ضروری ہے کہ روزہ نہ رکھے اور اگر روزہ رکھ بھی لے تو صحيح نہيں ہے ، مگر یہ کہ روزہ اس کے لئے مضر نہ تھا او راس نے قصدِقربت کيا تھا کہ اس صورت ميں اس کا روزہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۵ ٢ اگر انسان کو احتمال ہو کہ روزہ اس کے لئے قابلِ ذکر ضرر کا باعث ہے اور اس احتمال کی وجہ سے اسے خوف ہو جائے، اگر اس کا احتمال عقلا کی نظر ميں صحيح ہو تو ضروری ہے کہ روزہ نہ رکھے اور اگر روزہ رکھ لے تو باطل ہو گا مگر یہ کہ روزہ مضر نہ ہو اور اس نے قصدِقربت کيا ہو۔


مسئلہ ١٧ ۵ ٣ جس شخص کا عقيدہ یہ ہو کہ روزہ اس کے لئے قابل توجہ ضررکا باعث نہيں اگروہ روزہ رکھ لے اور مغرب کے بعد معلوم ہو کہ روزہ اس کے لئے قابلِ توجہ ضررکا باعث تھا تو ضروری ہے کہ اس کی قضا بجا لائے۔

مسئلہ ١٧ ۵۴ مذکورہ روزوں کے علاوہ اور حرام روزے بھی ہيں جنہيں مفصّل کتابوں ميں بيان کيا گيا ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۵۵ عاشور کے دن کا روزہ بنا بر احتياطِ واجب جائز نہيں اور اس دن کا روزہ مکروہ ہے جس کے بارے ميں شک ہو کہ عرفہ کا دن ہے یا عيد قربان کا۔

مستحب روزے

مسئلہ ١٧ ۵۶ مذکورہ حرام اور مکروہ روزوں کے علاوہ سال کے تمام دنوں کا روزہ مستحب ہے ، جب کہ بعض ایام کے بارے ميں زیادہ تاکيد کی گئی ہے جن ميں سے بعض یہ ہيں :

١) ہر ماہ کی پهلی اور آخری جمعرات اور دسویں تاریخ کے بعد آنے والا پهلا بده اور اگر کوئی شخص یہ روزے نہ رکھے تو مستحب ہے کہ قضا کرے اور اگر بالکل روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو ١٢٫ ۶ ) سکہ دار چنے کے برابر چاندی فقير کو )

مستحب ہے کہ ہر دن کے لئے ایک مد طعام یا پھر ۶ ۔ ١٢دے۔

٢) ہر مهينے کی تيرہویں، چودهویں اور پندرہویں تاریخ۔

٣) رجب اور شعبان کا پورا مهينہ، اور ان دو مهينوں ميں سے کچھ دن اگرچہ ایک ہی دن ہو۔

۴) عيد نوروز کا دن۔

۵) شوال کی چوتھی تاریخ سے نویں تاریخ تک کے ایام۔

۶) ذی القعدہ کی پچيسویں اور انتيسویں کا دن۔

٧) ذی الحجہ کی پهلی تاریخ سے نویں (روزِعرفہ )تک، ليکن اگر روزے کی کمزوری کی وجہ سے روزِعرفہ کی دعائيں نہ پڑھ سکے تو اس دن کا روزہ مکروہ ہے ۔

٨) عيد غدیر کا مبارک دن( ١٨ /ذی الحجہ )۔

٩) روزِمباہلہ ( ٢ ۴ / ذی الحجہ )۔

١٠ ) محرم کے پهلے، تيسرے اور ساتویں دن۔

١١ ) پيغمبر اکرم(ص) کی ولادت باسعادت کے دن ( ١٧ /ربيع الاول)۔

١٢) ١ ۵/ جمادی الاوّل کے دن۔


١٣ )حضرت رسول اکرم(ص)کی بعثت کے دن ( ٢٧ /رجب)۔

اگر کوئی شخص مستحب روزہ رکھے تو اسے پورا کرنا واجب نہيں ،بلکہ اگر اس کا مومن بهائی اسے کھانے کی دعوت دے تو مستحب ہے کہ اس کی دعوت قبول کرلے اور دن ميں ہی چاہے ظہر کا وقت گذر چکا ہو روزہ افطار کر لے۔

وہ صورتيں جن ميں مبطلاتِ روزہ سے پرہيز مستحبہے

مسئلہ ١٧ ۵ ٧ چند افراد کے لئے مستحب ہے کہ ماہِ رمضان ميں چاہے روزے سے نہ ہوں، روزہ باطل کرنے والے کاموں سے پرہيز کریں:

١) وہ مسافر جس نے سفر ميں روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دیا ہو اور ظہر سے پهلے اپنے وطن یا کسی ایسی جگہ پهنچ جائے جهاں اس کا دس دن قيام کا ارادہ ہو۔

٢) وہ مسافر جو ظہر کے بعد اپنے وطن یا ایسی جگہ پهنچ جائے جهاں و ہ دس دن قيام کرنا چاہتا ہو۔

٣) وہ مریض جو ظہر کے بعد تندرست ہو جائے۔ یهی حکم ہے جب وہ ظهرسے پهلے تندرست ہو جائے اور روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے چکا ہو۔

۴) وہ عورت جو دن ميں کسی وقت حيض یا نفاس کے خون سے پاک ہو جائے۔

مسئلہ ١٧ ۵ ٨ مستحب ہے کہ روزہ دار نمازمغرب وعشا کو افطار سے پهلے پڑھے، ليکن اگر کوئی دوسر ا شخص اس کا منتظر ہو یا وہ کھانے کی زیادہ خواہش رکھتا ہو کہ جس کی وجہ سے وہ قلبی توجہ کے ساته نمازنہ پڑھ سکتا ہو تو بہتر ہے کہ پهلے افطار کرے، ليکن جس قدر ممکن ہو نماز کو وقت فضيلت ميں پڑھے۔

اعتکاف

اعتکاف عبادات ميں سے ہے اور شرعاًاعتکاف یہ ہے کہ انسان قربة الی الله کی نيت سے مسجد ميں توقف وقيام کرے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اس کا قيام کسی عبادت مثلاًنمازکو انجام دینے کی نيت سے ہواور اعتکاف کے لئے کوئی خاص وقت معين نہيں ہے بلکہ جب بھی روزہ رکھنا صحيح ہے اعتکاف کرنا بھی صحيح ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۵ ٩ اعتکا ف ميں کچھ چيزوں کا خيال رکھنا ضروری ہے :

١) اعتکاف کرنے والا عاقل ہو اور مميز بچے کا اعتکاف کرنا صحيح ہے ۔

٢) قصدِقربت جيسا کہ وضو کے باب ميں بيان کيا گيا ہے ۔

٣) روزہ، لہٰذا جس شخص کا روزہ باطل ہے جيسے وہ مسافر جس نے دس دن قيام کا ارادہ نہ کيا ہو، وہ اعتکاف نہيں کر سکتا۔

۴) یہ کہ مسجدالحرام، مسجدنبوی، مسجد کوفہ، مسجد بصرہ یا جامع مسجد ميں ہو۔


۵) اس فرد کی اجازت سے ہو جس کی اجازت ضروری ہے ، لہٰذا بيوی کا اعتکاف شوہر کی اجازت کے بغير جب کہ شوہر کی حق تلفی ہو رہی ہو، صحيح نہيں ہے ۔

۶) تين دن اور اُن تين دنوں کے درميان کی دو راتيں اسی مسجد ميں گزارے جس ميں اعتکاف کر رہا ہے اور بغير کسی ضروری کا م کے مسجد سے باہر نہ جائے۔ البتہ مریض کی عيادت، تشييع جنازہ اور تجهيزِميت جيسے غسلِ ميت، نماز اور دفن کے لئے مسجدسے باہر جا سکتا ہے ۔

جن صورتوں ميں مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے ، اس کا م کی انجام دهی کے وقت سے زیادہ باہر نہ ٹھ هرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر نزدیک ترین راستے سے مسجد کو لوٹے اور مسجد سے باہر نہ بيٹھے اور اگر بيٹھنے پر مجبور ہو جائے تو ممکنہ صورت ميں سائے ميں نہ بيٹھے۔

مسئلہ ١٧ ۶ ٠ اعتکاف شروع کرنے کے بعد اس کے واجب معين، مثلاًجب اس نے نذر کی ہو کہ کسی خاص وقت ميں اعتکاف کرے گا، نہ ہونے کی صورت ميں دو روز گذرنے سے پهلے وہ اعتکاف سے پلٹ سکتا ہے اور اسے توڑ سکتا ہے ، ليکن اگر نيت کے وقت ہی شرط لگا دی ہو کہ کوئی کام پيش آنے کی صورت ميں اس کو اعتکاف توڑ نے کا اختيار ہو تو دو دن گزرنے کے بعد بھی اعتکاف توڑ سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۶ ١ اعتکاف کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ خود کو چند چيزوں سے بچائے اور ان چيزوں کو انجام دینے سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے ،ليکن جماع کے علاوہ مندرجہ ذیل امور کا ترک کرنا اس صورت ميں جبکہ اعتکاف واجب معين نہ ہو احتياط کی بنا پر ہے :

١) جماع کرنا اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ استمنا، عورت کو شهوت کے ساته مس کرنے اور شهوت کے ساته بوسہ لينے سے بھی اجتناب کرے۔

٢) خوشبو لگانا۔

٣) خرید وفروخت، کہ اس سے اعتکاف باطل ہوجاتا ہے البتہ سودا باطل نہيں ہوتا اور احتياط واجب یہ ہے کہ ہر قسم کی تجارت سے، چاہے مصالحت، مضاربہ اور اجارہ یا ان جيسی چيزوں کے ذریعے ہو، اجتناب کرے اور اگر کسی چيز کی خرید وفروخت پر مجبور ہو جائے اور اس کے لئے کوئی وکيل بھی نہ مل سکے تو جائز ہے ۔

۴) کسی پر غالب ہونے اور اپنے فضل کا اظهار کرنے کے لئے ممارات یعنی جدال کرنا، چاہے دنيوی امور ميں ہو یا اخروی امور ميں ۔

مسئلہ ١٧ ۶ ٢ اگر واجب اعتکاف ميں جان بوجه کر جماع کرے، چاہے دن ميں ہو یا رات ميں ، اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ مسلسل روزے رکھے یا ساٹھ مسکينوں کو کھانا کھلائے۔


اور جماع کے علاوہ دوسرے ان امور کی ادائيگی سے جن سے بچنا ضروری ہے ، کفارہ واجب نہيں ہوتا۔

مسئلہ ١٧ ۶ ٣ اگر اعتکاف کرنے والا غلطی سے اعتکاف باطل کرنے والا کوئی کام انجام دے تو اس کے اعتکاف کا صحيح ہونا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۶۴ اگر مذکورہ بالا چيزوں ميں سے کسی کے ذریعے اعتکاف باطل کرے تو اعتکاف کے واجبِ غيرِ معين ہونے کی صورت ميں ، مثلًا جب اس نے وقت معين کئے بغير اعتکاف کرنے کی نذر کی ہو، ضروری ہے کہ اسے دوبارہ انجام دے اور اگر اعتکاف واجب معين ہو مثلاًاس نے معين وقت ميں اعتکاف کرنے کی نذر کی ہو یا اعتکاف تو مستحب ہو ليکن اسے باطل کرنے والا کام دو دن گزرنے کے بعد انجام دیا ہو تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے اور اگر دو دن مکمل ہونے سے پهلے اعتکاف مستحب کو باطل کيا ہو تو اس کی قضا نہيں ۔

مسئلہ ١٧ ۶۵ ایک اعتکاف سے دوسرے اعتکاف کی طرف نيت پهيرنا جائز نہيں ہے ، چاہے دونوں اعتکاف واجب ہوں، مثلاًایک نذر اور دوسرا قسم کے ذریعے خود پر واجب کيا ہو، یا دونوں مستحب ہوں، یا ایک واجب اور دوسرا مستحب ہو، یا ایک خود کے لئے ہو اور دوسرے ميں کسی کا نائب یا اجير ہو، یا دونوںکسی کی نيابت ميں ہو ں۔

مسئلہ ١٧ ۶۶ اگر اعتکاف کرنے والا شخص غصبی قالين پر بيٹھے تو گنهگار ہے ليکن اس کا اعتکاف باطل نہيں ہوگا، ليکن اگر کوئی شخص کسی جگہ سبقت کر کے اپنی جگہ بنا چکا ہو اور اعتکاف کرنے والا اس کی رضایت کے بغير اس سے وہ جگہ لے لے تو اس جگہ اس کا اعتکاف باطل ہے ۔

مسئلہ ١٧ ۶ ٧ اگر اعتکاف کرنے والے پر غسل واجب ہو جائے تو اگر مسجد ميں اس غسل کی ادائيگی ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو تو مسجد سے نکلنا جائزنہيں ہے جيسے غسلِ مس ميت انجام دینا، ليکن اگر اس غسل کو مسجد ميں کرنے ميں کوئی رکاوٹ ہو جيسے غسل جنابت جس کا لازمی نتيجہ یہ ہے کہ انسان جنابت کے ساته مسجد ميں رہے، تو ضروری ہے کہ مسجد سے نکلے ورنہ اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔


خمس کے احکام

مسئلہ ١٧ ۶ ٨ سات چيزوں پر خمس واجب ہوتا ہے :

١) کمانے سے حاصل ہونے والا فائدہ

٢) کان

٣) دفينہ

۴) حلال مال جو حرام مال سے مخلوط ہو جائے

۵) جواہرات جو سمندر ميں غوطہ لگانے سے حاصل ہوتے ہيں

۶) جنگ کا مالِ غنيمت

٧) وہ زمين جو کافر ذمی مسلمان سے خریدے اور ان کے احکام مندرجہ ذیل مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

١۔ کمانے سے حاصل ہونے والا منافع

مسئلہ ١٧ ۶ ٩ جب بھی انسان تجارت، صنعت یا دوسرے پيشوں سے مال حاصل کرے چاہے مثال کے طور پر وہ کسی ميّت کے لئے انجام دئے گئے نماز اور روزے کی اجرت ہی کيوں نہ ہو اور وہ مال اس کے اور اس کے اہل وعيال کے سال بھر کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو ضروری ہے کہ اس مال کا خمس یعنی پانچواں حصہ، بعد ميں بيان کئے جانے والے طریقے کے مطابق ادا کرے۔

مسئلہ ١٧٧٠ اگر کمائے بغير کوئی مال دستياب ہو مثلاًکوئی چيز اسے بخش دی جائے اور وہ چيز لوگوں کی نگاہوں ميں قابلِ توجہ قدر و قيمت کی حامل ہو تو ضروری ہے کہ سال بھر کے اخراجات کے بعد اس کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ ١٧٧١ عورت کے مہر اور مردکو طلاقِ خلع کے عوض ملنے والے مال پر خمس نہيں ہے ۔

اسی طرح وارث کو ملنے والی ميراث پر بھی خمس نہيں ہے ۔ ہاں، اگر مثال کے طور پر کسی شخص سے رشتہ داری رکھتا ہو ليکن اس سے ميراث ملنے کا گمان نہ ہو تو ضروری ہے کہ سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہونے کی صورت ميں اس کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ ١٧٧٢ اگر ایسے شخص کی ميراث سے انسان کو کچھ مال ملے جو خمس کا اعتقاد رکھتا ہو اور انسان جانتا ہو کہ مرحوم نے خمس ادا نہيں کيا تھا تو ضروری ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے اس مال کا خمس نکالے اور اگر خود اس مال پر خمس نہ ہو ليکن وارث جانتا ہو کہ مرحوم کے ذمے خمس واجب الادا ہے تو دوسرے قرضوں کی طرح خمس بھی اُس مال ميں آجائے گا کہ جب تک اسے ادا نہ کر دے مال ميں تصرف کا حق نہيں رکھتا۔ البتہ جب مال سے خمس نکالنا چاہے تو ضروری ہے کہ حاکم شرع سے اجازت لے۔


مسئلہ ١٧٧٣ اگر کفایت شعاری کی وجہ سے سال بھر کے اخراجات ميں سے کوئی چيز بچ جائے تو اس کا خمس نکالنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٧٧ ۴ جس شخص کے تمام اخراجات کوئی دوسرا شخص دیتا ہو ضروری ہے کہ حاصل ہونے والے تمام مال کا خمس دے۔

مسئلہ ١٧٧ ۵ اگر کسی جائيداد کو معين افراد پر مثلاًاپنی اولاد پر وقف کر دے اور اس جائيداد ميں کهيتی باڑی اور شجرکاری کرے اور اس سے کوئی چيز حاصل ہو جو ان کے سال بھر کے اخراجات سے زائد ہو تو ان پر اس کا خمس دینا ضروری ہے ۔ اسی طرح اگر کسی اور طریقے سے بھی اس جائيداد سے کوئی منافع حاصل کریں، مثلاًاس کا کرایہ وصول کریں تو ان پر سال بھر کے اخراجات سے زائد مقدار کا خمس دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٧٧ ۶ جو مال فقير نے بطورِ خمس و زکات ليا ہو اگر سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر فقير اس لئے ہوئے مال سے کوئی منافع حاصل کرے مثلاًبطور خمس لئے ہوئے درخت سے پھل حاصل ہوں اور وہ اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہوں تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور کسی سے بطور صدقہ ليا جانے والا مال بھی اگر سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو تو اس کا خمس دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٧٧٧ جس رقم کا خمس نہ دیا گيا ہو اگر عين اس رقم سے کوئی چيز خریدے یعنی فروخت کرنے والے سے کهے کہ ”یہ چيز ميں اس رقم سے خریدتا ہوں“، تو اگر حاکم شرع اس سودے کے پانچویں حصے کی اجازت دے دے تو سودا صحيح ہو گا اور خریدار کے لئے ضروری ہے کہ اس چيز کا خمس حاکم شرع کو دے اور اگر حاکم شرع اجازت نہ دے تو اس سودے کا پانچواں حصہ باطل ہے ۔ اب اگر وہ رقم جو بيچنے والے نے لی تھی تلف نہ ہوگئی ہو تو حاکمِ شرع اس رقم سے خمس لے گا اور اگر وہ رقم تلف ہو جائے تو فروخت کرنے والے یا خریدار سے اس کے عوض کا مطالبہ کرے گا۔

مسئلہ ١٧٧٨ اگر کسی چيز کو ذمے پر خریدے او ر سودا ہو جانے کے بعد اس کی قيمت ایسی رقم سے ادا کرے جس کا خمس نہ نکالا گيا ہو تو سودا صحيح ہے جب کہ خریدار اس رقم کے پانچویں حصے کی بہ نسبت فروخت کرنے والے کا مقروض ہو گا۔ ہاں، جو رقم فروخت کرنے والے کو ملی ہے اگر وہ تلف نہ ہو گئی ہو تو حاکم شرع اسی رقم سے خمس لے گا جب کہ تلف ہو جانے کی صورت ميں خریدار یا فروخت کرنے والے سے اس کے عوض کا مطالبہ کرے گا۔


مسئلہ ١٧٧٩ اگر کوئی ایسا مال کہ جس کا خمس نہ دیا گيا ہو خریدے اور حاکم شرع اس چيز کے پانچویں حصے کے سودے کی اجازت نہ دے تو اتنی مقدار کا سودا باطل ہے اور حاکم شرع اس مال کا پانچواں حصہ لے سکتا ہے اور اگر اجازت دے دے تو سودا صحيح ہے اور خریدار کے لئے ضروری ہے کہ اس مال کے عوض کا پانچواں حصہ حاکم شرع کو دے اور اگر بيچنے والے کو دے چکا ہے تو اس سے واپس لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٧٨٠ انسان کوئی ایسی چيز جس کا خمس نہ دیا گيا ہو، کسی کو بخش دے تو اس چيز کا پانچواں حصہ اس تک منتقل ہی نہيں ہو تا۔

مسئلہ ١٧٨١ اگر کافر یا کسی ایسے شخص سے جو خمس دینے کا عقيدہ ہی نہ رکھتا ہو کوئی مال شيعہ اثنا عشری کے ہاتھ آئے تو اس کا خمس نکالنا واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧٨٢ تاجر، کاروباری، صنعت کار اور ان جيسے افراد جس وقت سے منافع حاصل کریں، جو کہ ان کے سال کی ابتدا ہے ، ایک سال گزرنے کے بعد ضروری ہے کہ سال بھر کے اخراجات سے زائد مقدار کا خمس دیں۔ ہاں، جو شخص کا روباری نہ ہو اگر اتفاقاًاسے منافع مل جائے تو ضروری ہے کہ نفع حاصل ہونے کے ایک سال بعد سال بھر کے اخراجات سے زائد مقدار کا خمس دے۔

مسئلہ ١٧٨٣ سال بھر ميں جب بھی کوئی منفعت کسی شخص کے ہاتھ آئے جو اس کے اخراجات سے زیادہ ہو تو اس کا خمس اسی وقت دے سکتا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ سال کے آخر تک خمس کی ادائيگی ميں تاخيرکر دے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ قمری سال کو خمس کا سال قرار دے۔

مسئلہ ١٧٨ ۴ جس شخص کا تاجر اور کاروباری شخص کی طرح خمس دینے کے لئے سال مقرر ہو، اگر کوئی منفعت حاصل کرے اور دوران سال اس کا انتقال ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کے مرنے کے وقت تک کے اخراجات کو اس منفعت سے نکال کر باقی مقدار کا خمس دیا جائے۔

مسئلہ ١٧٨ ۵ اگر تجارت کی غرض سے خریدی ہوئی چيز کی قيمت بڑھ جانے کے باوجود اسے فروخت نہ کرے اور سال مکمل ہونے سے پهلے ہی اس کی قيمت گر جائے تو قيمت کی بڑھی ہوئی مقدار کا خمس اس پر واجب نہيں ہو گا۔

مسئلہ ١٧٨ ۶ اگر تجارت کی غرض سے خریدی ہوئی چيز کی قيمت بڑھ جائے اور سال مکمل ہونے کے بعد تک اس اميد پر اسے فروخت نہ کرے کہ ابهی قيمت اور بڑھے گی اور اس کی قيمت گرجائے توا گر اس نے تاجروں کے درميان رائج وقت تک ہی اس چيز کو رکھا ہو تو قيمت کی بڑھی ہوئی مقدار کا خمس واجب نہيں ہے ، ليکن اگر اس سے زیادہ مدت تک کسی عذر کے بغير اس چيز کو رکھا تھا تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ اس بڑھی ہوئی مقدار کا خمس دے۔


مسئلہ ١٧٨٧ اگر مال تجارت کے علاوہ کوئی دوسرا مال اس کے پاس ہو جس پر خمس نہ ہو تو یہ مال وراثت کے ذریعے ملنے کی صورت ميں اگر اس کی قيمت بڑھ جائے تو چاہے اسے بيچ بھی دے، بڑھی ہوئی قيمت کا خمس دینا واجب نہيں ۔ یهی حکم اس وقت ہے جب عوض دئے بغير کسی چيز کا مالک بن جائے چاہے اس چيز پر شروع سے خمس نہ ہو مثلاًایسا گھر اسے بخش دیا گيا ہو جس کی اسے ضرورت بھی ہو اور سال کے خرچے ميں وہ گھر استعمال بھی ہوا ہو یا اس چيز پر خمس ہو ليکن اسی مال سے اس کا خمس بھی دیا جا چکا ہو، مثلاًحيازت کے ذریعے کسی چيز کا مالک بنا ہو اور اس کا خمس بھی دے چکا ہو۔

ليکن اگر عوض دے کر مالک بنا ہو اور اس کی قيمت بڑھ جائے تو جب تک اس چيز کو فروخت نہ کرے اس کا خمس نہيں ہے اور اگر فروخت کر دے تو اخراجات کا حصہ نہ ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ بڑھی ہوئی مقدار کا خمس دے اور اخراجات کا حصہ ہونے کی صورت ميں احتياط واجب یہ ہے کہ بڑھی ہوئی مقدار کا خمس دے اور دونوں صورتوں ميں اگر سال کے اخراجات ميں ہی ختم ہوجائے تو اس کا خمس نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٧٨٨ اگر کوئی شخص اس ارادے سے باغ لگائے کہ قيمت بڑھنے کے بعد اسے فروخت کر دے گا تو ضروری ہے کہ پهل، درختوں کی نشوونما اور باغ کی بڑھی ہوئی قيمت کا خمس دے اور اگر اس کا ارادہ یہ ہوکہ باغ کے پهلوں سے تجارت کرے گا تو ضروری ہے کہ پھل اور درخت کی نشوونما کا خمس دے اور اگر اس کا ارادہ ان پهلوں کو اپنے ذاتی استعمال ميں لانے کا ہو تو ضروری ہے کہ استفادے سے زیادہ ہونے کی صورت ميں پهلوں کا خمس دے۔

مسئلہ ١٧٨٩ اگر بيد، چنار یا ان جيسے درخت لگائے، اگر ان کا خمس دے چکا ہو تو ضروری ہے کہ ہر سال ان کے بڑھنے کا خمس دے۔ اسی طرح اگر درخت کی ان شاخوں سے کوئی منفعت حاصل کرے جو ہر سال کاٹی جاتی ہيں اور صرف ان شاخوں کی قيمت یا دوسری آمدنيوں کے ساته مل کر، اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ سال کے آخر ميں ان کا خمس ادا کرے۔ ہاں، اگر اصل درختوں کا خمس ہی نہ نکالا ہوا ہو اور وہ درخت بڑھے بھی ہوں تو ضروری ہے کہ اصل درخت کا خمس، اس خمس کے حصے کے بڑھے ہوئے حصے کا خمس اور اصل درخت کے بڑھے ہوئے حصے کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ ١٧٩٠ جس شخص کی آمدنی کے متعدد ذرائع ہوں، مثلاًجائيداد کا کرایہ ليتا ہو، خرید و فروخت اور کهيتی باڑی بھی کرتا ہو، ضروری ہے کہ سال بھر کی کمائی کے بعد اخراجات سے زائد منافع کا خمس ادا کرے اور اگر ایک پيشے سے منافع حاصل ہو، جب کہ دوسرے پيشے سے نقصان ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ منافع کا خمس نکال دے۔

مسئلہ ١٧٩١ جو اخراجات انسان فائدہ حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے ، مثلاًدلالوں اور سامان اٹھ انے والے مزدوروں کا خرچہ، یہ منفعت حاصل کرنے کا خرچہ حساب ہوگا اور اسے منفعت سے نکالا جاسکتا ہے اور اتنی مقدار کا خمس واجب نہيں ۔


مسئلہ ١٧٩٢ آمدنی کا جو حصہ سال بھر ميں خوراک، لباس، گهریلوسامان، مکان کی خریداری، بيٹے کی شادی، بيٹی کے جهيز، زیارات اور ان جيسی چيزوں کے لئے خرچ ہوجائے، اگر اس کی حيثيت سے زیادہ نہ ہوں تو ان پر خمس واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٧٩٣ جو مال انسان نذر اور کفارے پر خرچ کرے وہ اس کے سالانہ اخراجات کا حصہ ہے ۔ اسی طرح وہ مال بھی جو انسان کسی کو تحفے یا انعام کے طور پر دے، اگر اس کی حيثيت سے زیادہ نہ ہو تو اس کے سالانہ اخراجات ميں شمار ہوگا۔

مسئلہ ١٧٩ ۴ اگر انسان کسی ایسے شہر ميں زندگی گزارتا ہو جهاں لڑکيوں کے جهيز کے لئے معمولاًہر سال کچھ نہ کچھ تيار کيا جاتا ہے ، اگر انسان اس طریقے کے بغير لڑکی کا جهيز تيار نہ کر سکتا ہو اور جهيز نہ دینا بھی اس کی حيثيت کے منافی ہو تو دوران سال اسی سال کی آمدنی سے جهيز خریدنے پر کوئی خمس واجب نہيں ، ليکن اگر اس سال کی منفعت سے اگلے سال ميں جهيز لے تو اس کا خمس دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٧٩ ۵ جو مال انسان حج وزیارات کے لئے خرچ کرتا ہے وہ اسی سال کے اخراجات ميں شمار ہوتے ہيں جس سال خرچ کر رہاہے اور اگر اس کا سفر اگلے سال تک طولانی ہوجائے تو پچهلے سال کی جتنی آمدنی اگلے سال ميں خرچ کرے، اس کا خمس نکالنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٧٩ ۶ جو شخص اپنے پيشے یا کاروبار سے منفعت حاصل کرے اور اس کے پاس کچھ ایسا مال بھی موجود ہو جس پر خمس واجب الادا نہ ہو تو وہ اپنے سال بھر کے اخراجات کا حساب صرف اپنی آمدنی سے کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٧٩٧ جو اشيائے خورد و نوش انسان نے اپنی آمدنی سے سال بھر کے خرچ کے لئے خریدی ہوں، اگر سال کے آخر ميں اس سے کچھ بچ جائے تواس کا خمس نکالنا ضروری ہے اور اگر اس کی قيمت خمس کے طور پر دینا چاہے تو خریداری کے وقت سے قيمت بڑھ جانے کی صورت ميں ضروری ہے کہ سال کے آخر ميں جو قيمت ہو اس کے حساب سے خمس دے۔

مسئلہ ١٧٩٨ اگر خمس کی ادائيگی سے پهلے کوئی شخص اپنی آمدنی سے گھر کے لئے کوئی سامان خریدے تو جس وقت اس سامان کی ضرورت باقی نہ رہے خمس واجب نہيں ۔ یهی حکم خواتين کے زیورات کے لئے ہے جب ان کے لئے ان زیورات کو زینت کے لئے استعمال کرنے کا وقت گزر چکا ہو۔

مسئلہ ١٧٩٩ اگر کسی سال کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتو اس سال کے اخراجات کو اگلے سا ل کی آمدنی سے نہيں نکالا جا سکتا۔

مسئلہ ١٨٠٠ اگر سال کی کی ابتدا ميں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو اور سرمایہ استعمال کرنا پڑجائے پھر سال مکمل ہونے سے پهلے فائدہ حاصل ہوجائے تو سرمائے سے اٹھ ائی ہوئی مقدار کو فائدے سے نہيں نکالا جاسکتا۔


مسئلہ ١٨٠١ اگر تجارت یا اس جيسی چيزوں ميں سرمائے کی کچھ مقدار تلف ہو جائے تو تلف سے پهلے حاصل ہونے والے منافع سے اس مقدار کو نکال سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٠٢ اگر کسی شخص کی سرمائے کے علاوہ کوئی ملکيت تلف ہو جائے تو حاصل ہونے والے فائدے سے اسے مهيا نہيں کرسکتا، مگر یہ کہ اسی سال ميں اس چيز کی ضرورت ہو کہ اس صورت ميں دوران سال حاصل ہونے والی آمدنی سے اسے مهيا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٠٣ اگر سال کی ابتدا ميں اپنے اخراجات کے لئے قرضہ لے اور سال مکمل ہونے سے پهلے کوئی منفعت حاصل ہو جائے تو اس منفعت سے قرضے کی مقدار نہيں نکال سکتا، مگر یہ کہ منفعت حاصل ہونے کے بعد قرضہ ليا گيا ہو۔ البتہ وہ دوران سال حاصل ہونے والے فائدے سے اپنا قرضہ ادا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٠ ۴ اگر پورے سال کوئی فائدہ حاصل نہ ہو اور اخراجات کے لئے قرضہ لينا پڑے تو اگلے سال کی آمدنی سے اس قرضے کی مقدار کو نہيں نکال سکتا۔ ہاں، دوران سال کی آمدنی سے قرضہ ادا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٠ ۵ اگر مال ميں اضافے یا ایسی جائيداد جس کی ضرورت نہ ہو، خریدنے کے لئے قرضہ لے، تو آمدنی سے اس قرضے کو ادا نہيں کر سکتا۔ ہاں، اگر قرض ليا ہوا مال یا اس قرض سے خریدی ہوئی چيز ضائع ہو جائے تو دوران سال کی آمدنی سے یہ قرضہ ادا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٠ ۶ انسان ہر چيز کا خمس اسی چيز سے یا واجب مقدار ميں رائج کرنسی سے دے سکتا ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع کی اجازت کے بغير کسی اور چيز سے خمس نہ دے۔

مسئلہ ١٨٠٧ جس شخص کے مال پر خمس واجب ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تو جب تک وہ خمس ادا نہ کر دے حاکم شرع کی اجازت کے بغير اس مال ميں تصرف نہيں کر سکتا چاہے اس کا خمس دینے کا ارادہ ہی ہو۔ ہاں، اپنے حصے ميں اعتباری تصرفات جيسے فروخت کرنا، صلح کرنا وغيرہ کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٠٨ جس شخص پر خمس واجب ہو وہ یہ نہيں کر سکتا کہ خمس اپنے ذمے لے لے یعنی خود کو خمس کے مستحقين کا مقروض سمجھ لے اور پچهلے مسئلے ميں بيان شدہ اعتبار سے اپنے مال ميں تصرف کرے اور اگر تصر ف کرے اور وہ مال تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ ١٨٠٩ جس شخص پر خمس واجب ہو اگر وہ حاکم شرع سے مصالحت کر کے خمس اپنے ذمے لے لے تو اپنے مال ميں تصرف کر سکتا ہے اور مصالحت کے بعد جو فائدہ بھی اس سے حاصل ہو گا وہ اسی کا ہو گا۔


مسئلہ ١٨١٠ جو شخص کسی کے ساته شریک ہو اور اپنے حصے کے فائدے سے خمس دے دے، جب کہ اس کا شریک اپنے منافع کا خمس نہ دے اور اگلے سال خمس نہ دئے ہوئے مال سے شراکت کے لئے سرمایہ دے تو دونوں ميں سے کوئی بھی اس مال ميں تصرف نہيں کر سکتا، مگر یہ کہ خمس نہ دینے والا شریک خمس پر عقيدہ ہی نہ رکھتا ہو تو اس صورت ميں دوسرا شریک اس مال ميں تصرف کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨١١ اگر نابالغ بچہ سرمائے کا مالک ہو اور اس سے فائدہ بھی حاصل ہو تو اس پر خمس واجب ہو جاتاہے اور ولی پر اس مال کا خمس نکالنا واجب ہے اور اگر ولی نہ دے تو ضروری ہے کہ بچہ بالغ ہونے کے بعد ادا کرے۔

مسئلہ ١٨١٢ جس شخص کو کسی سے کوئی مال ملے اور اسے یقين ہو کہ اس نے اس مال کا خمس اد انہيں کيا ہے تو اس مال ميں تصرف نہيں کر سکتا، مگر یہ کہ وہ شخص خمس پر عقيدہ ہی نہ رکھتا ہو۔ احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم اس وقت ہے جب شک ہو کہ اس نے اس مال کا خمس دیاہے یا نہيں ۔

مسئلہ ١٨١٣ اگر کوئی شخص اپنی آمدنی سے دوران سال کوئی ایسی جائيداد یا ملکيت خریدے جو اس کی سالانہ ضرورت اور اخراجات ميں شمار نہ ہو تو سال مکمل ہونے پر اس کا خمس دینا واجب ہے اور اگر خمس نہ دے اور اس کی قيمت بڑھ جائے تو ضروری ہے کہ اس کی موجودہ قيمت کا خمس دے۔یهی حکم جائيداد کے علاوہ دوسری چيزوں مثلاًقالين وغيرہ کاہے۔

مسئلہ ١٨١ ۴ اگر خمس نہ نکالے ہوئے مال سے مثلاًکوئی جائيداد خریدے اور اس کی قيمت بڑھ جائے، تو اگر اس نے اس جائيداد کو قيمت بڑھ جانے پر بيچنے کے لئے نہ خریدا ہو مثلاًکسی زمين کو زراعت کے لئے خرید ا ہو تو اس صورت ميں کہ اس نے یہ ملکيت اپنے ذمے پر خریدی ہو اور خمس نہ نکالے ہوئے مال سے اس کی قيمت ادا کی ہو، ضروری ہے کہ خریدی ہوئی قيمت سے اس کا خمس اد اکرے، ليکن اگر خمس نہ نکالی ہوئی رقم بيچنے والے کو یہ کہہ کر دی ہوکہ جائيداد ميں اس مال سے خرید رہا ہوں، تو حاکم شرع کے اس سودے کے پانچویں حصے کی اجازت دینے کی صورت ميں ضروری ہے کہ خریدا ر اس جائيداد کی موجودہ قيمت کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ ١٨١ ۵ جس شخص نے مکلف ہونے کے بعد شروع سے خمس نہ دیا ہو اگر اس نے اپنے کاروبار کے منافع سے کوئی ایسی چيز خریدی ہو جس کی اسے ضرورت نہ ہو اور اسے منفعت کمائے ایک سال گزر گيا ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر اس نے گھر کا سازوسامان اور ضرورت کی چيزیں اپنی حيثيت کے مطابق خریدی ہوں اور جانتا ہو کہ اس نے یہ چيزیں سال کے دوران ہونے والے منافع سے خریدی ہيں جس سال ميں اسے فائدہ ہوا ہے تو ان پر خمس دینا ضروری نہيں ہے ، ليکن اگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے یہ چيزیں سال کے دوران خریدی ہيں یا سال ختم ہونے کے بعد تو احتياط واجب کی بنا پر حاکم شرع سے مصالحت کرے۔


٢۔ معدنی کانيں

مسئلہ ١٨١ ۶ اگر کوئی شخص سونے، چاندی، سيسے، تانبے، لوهے، پيٹروليم، کوئلے، فيروزے، عقيق، پهٹکری، نمک اور دوسری معدنی کانوں سے کوئی چيز نکالے اور وہ چيز نصاب کے مطابق ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨١٧ کان سے نکلی ہوئی چيز کا نصاب ١ ۵ مثقال رائج سکہ دار سونا ہے ۔ یعنی اگر کان سے نکالی ہوئی کسی چيز کی قيمت ١ ۵ مثقال سکہ دار سونے تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس پر جو اخراجات آئے ہوں انہيں نکال کر جو باقی بچے اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨١٨ اگر کان سے نکالی ہوئی چيز کی قيمت ١ ۵ مثقال سکہ دار سونے تک نہ پهنچے تو اس پر خمس دینا اس صورت ميں ضروری ہے کہ جب صرف یہ منفعت یا اس کے دوسرے کاروباری منافع سے اس منفعت کو ملاکر، اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو جائے۔

مسئلہ ١٨١٩ چونا، جپسم، چکنی مٹی اور سرخ مٹی پر معدنی چيزوں کے حکم کا اطلاق نہيں ہوتا اور انہيں باہر نکالنے والے پر اس صورت ميں خمس دینا ضروری ہے جب صرف یہ یا اس کے دوسرے کاروباری منافع سے اس منفعت کو ملاکر، اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو جائے۔

مسئلہ ١٨٢٠ جو شخص کان سے کوئی چيز نکالے تو ضروری ہے کہ خمس دے، خواہ وہ کان زمين کے اوپر ہو یا زمين کے اندر اور خواہ ایسی زمين ميں ہو جو اس کی ملکيت ہو یا ایسی زمين ميں ہو جس کا کوئی مالک نہ ہو۔

مسئلہ ١٨٢١ اگر کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ جو چيز اس نے کان سے نکالی ہے اس کی قيمت ١ ۵ مثقال سکہ دار سونے کے برابر ہے یا نہيں تو احتياط کی بنا پر اگر ممکن ہو تو وزن کر کے یا کسی اور طریقے سے اس کی قيمت معلوم کرے اور ممکن نہ ہونے کی صورت ميں اس پر خمس نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٨٢٢ اگر کئی افراد مل کر کان سے کوئی چيز نکاليں اور اس کی قيمت ١ ۵ مثقال سکہ دار سونے تک پهنچ جائے اگرچہ ان ميں سے ہر ایک کا حصہ اس مقدار سے کم ہو پھر بھی احتياط کی بنا پر ضروری ہے کہ اس پر کيا ہوا خرچہ نکالنے کے بعد اس کا خمس دیں۔

مسئلہ ١٨٢٣ اگر کوئی شخص معدنی چيز کو اس زمين سے جو دوسرے کی ملکيت ميں ہو، مالک کی اجازت کے بغير نکالے تو جو چيز نکالی جائے وہ اسی مالک کی ہے اور اگر نصاب کی مقدار تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ جو چيز نکالی گئی ہو، مالک اس پوری چيز کا خمس دے۔


٣۔ دفينہ

مسئلہ ١٨٢ ۴ وہ مال جو زمين، درخت، پهاڑ یا دیوار ميں چھپا ہوا ہو اور کوئی اسے وہاں سے نکالے اور اس کی صورت یہ ہو کہ لوگ اسے دفينہ کہيں ۔ تو وہ اگر نصاب کی مقدار تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨٢ ۵ اگر انسان کو کسی ایسی زمين سے دفينہ ملے جو کسی کی ملکيت نہ ہو تو وہ اس کا اپنا مال ہے اور ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨٢ ۶ دفينے کا نصاب، اگر چاندی ہو تو ١٠ ۵ مثقال سکہ دار چاندی اور اگر سونا ہو تو ١ ۵

مثقال سکہ دار سونا ہے ۔ یعنی ان دو ميں سے جو چيز ملے اگر اس کی قيمت حدنصاب کے مطابق ہو تو ضروری ہے کہ اس پر جو اخراجات آئے ہوں انہيں نکالنے کے بعد ان کا خمس دے اور اگر سونے اور چاندی کے علاوہ کوئی دوسری چيز ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اگرچہ ان دو کی حد تک نہ پهنچے ضروری ہے کہ اخراجات نکالنے کے بعد اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨٢٧ اگر کسی شخص کو ایسی زمين سے دفينہ ملے جو اس نے کسی اور سے خریدی ہو اور اسے معلوم ہو کہ یہ ان لوگوں کا مال نہيں ہے جو اس سے پهلے اس زمين کے مالک تهے تو وہ خود اس کا ہو جائے گا اور ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔ ليکن اگر احتمال دے کہ سابقہ مالکوں ميں سے کسی ایک کا مال ہے تو احتياط کی بنا پر اسے اطلاع دے اور اگر معلوم ہو کہ اس کا مال نہيں ہے تو جو اس سے پهلے زمين کا مالک تھا اسے اطلاع دے اور اسی ترتيب سے ان سب کو اطلاع دے جو اس سے پهلے زمين کے مالک تهے اور اگر معلوم ہو جائے کہ ان ميں سے کسی کا مال نہيں ہے تو وہ مال خود اس کا ہو جائے گا اور ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨٢٨ اگر کسی شخص کو ایسے کئی برتنوں سے مال ملے جو ایک جگہ دفن ہوں اور اس مال کی مجموعی قيمت چاندی ميں ١٠ ۵ مثقال سکہ دار چاندی یا سونے ميں ١ ۵ مثقال سکہ دار سونا ہو تو ضروری ہے کہ اس مال کا خمس دے، ليکن اگر مختلف مقامات سے دفينے مليں تو ان ميں سے جس دفينے کی قيمت مذکورہ مقدار تک پهنچ جائے ضروری ہے کہ اس مال کا خمس دے اور جس دفينے کی قيمت مذکورہ مقدار تک نہ پهنچے اس پر خمس نہيں ہے ۔ ہاں، اگر دفينہ سونے چاندی کے علاوہ کوئی دوسری چيز ہو تو دونوں صورتوں ميں احتياط واجب کی بنا پر نصاب کو ملاحظہ کئے بغير اس مال کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨٢٩ جب کسی دو افراد کو ایسا دفينہ ملے جو سونا یا چاندی ہو، اگر اس کی قيمت چاندی ميں ١٠ ۵ مثقال سکہ دار چاندی یا سونے ميں ١ ۵ مثقال سکہ دار سونے تک پهنچ جائے خواہ ان ميں سے ہر ایک کا حصّہ اس مقدار جتنا نہ ہو احتياطِ واجب کی بنا پر اس کا خمس دیں۔ اسی طرح جب وہ دفينہ سونے چاندی کے علاوہ کوئی اور چيز ہو تو اگرچہ نصاب تک نہ پهنچے اس کا خمس دینا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١٨٣٠ اگر کوئی شخص جانور خریدے اور اس کے پيٹ سے اسے کوئی مال ملے تو اگر وہ جانور، بيچنے والے کا پالتوهو مثلاً مچهلياں جنہيں پالا جاتا ہے یا جانور جنہيں گھر یا باغ ميں چارہ دیا جاتا ہے تو واجب ہے کہ بيچنے والے کو اطلاع دے اور اگر معلوم ہو کہ وہ مال اس کا نہيں ہے تو یہ مال خریدار کا ہوگا اور اگر اس کے سال کے مخارج ميں خرچ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اس صورت کے علاوہ مثلاً مچھلی جسے شکاری نے سمندرسے شکار کيا ہو یا جانور جسے صحرا سے شکار کيا گيا ہو اگر احتمالِ عقلائی ہو کہ بيچنے والے کا مال ہے تو احتياطِ واجب کی بنا پر اسے اطلاع دے اور اگر معلوم ہو کہ اس کا مال نہيں ہے تو یہ مال خریدار کا ہو گا اور اگر اس کے سال کے مخارج ميں خرچ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

۴ ۔حلال مال جو حرام مال ميں مخلوط ہو جائے

مسئلہ ١٨٣١ اگر حلال مال، حرام مال کے ساته اس طرح مل جائے کہ انسان انہيں ایک دوسرے سے الگ نہ کرسکے اور حرام مال کے مالک اور اس مال کی مقدار کا بھی علم نہ ہو اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ حرام مال کی مقدار خمس سے کم ہے یا زیادہ تو تمام مال کا خمس دینا ضروری ہے اور احتياطِ واجب کی بنا پر اس خمس کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی نيت سے، خمس اور صدقہ کی نيت کے بغير، ایسی جگہ استعمال کرے جهاں خمس اور صدقہ استعمال کيا جاتا ہے اور خمس دینے کے بعد باقی مال حلال ہے ۔

مسئلہ ١٨٣٢ اگر حلال مال، حرام مال سے مل جائے اور انسان حرام کی مقدار جانتا ہو ليکن اس کے مالک کو جستجو کے بعد بھی نہ پہچانے تو ضروری ہے کہ اتنی مقدار اس مال کے مالک کی طرف سے صدقہ کر دے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ حاکم شرع سے بھی اجازت لے۔

مسئلہ ١٨٣٣ اگر حلال مال، حرام مال سے مل جائے اور انسان حرام کی مقدار نہ جانتا ہو ليکن اس کے مالک کو پہچانتا ہو، تو اس صورت ميں کہ ان دو مالوں کا ملناآپس ميں شراکت کا باعث بن جائے، مثلاً حلال گهی حرام گهی کے ساته مل جائے، تو ایک دوسرے کو راضی کرلينے کی صورت ميں جس بات پر راضی ہوجائيں، وهی معّين ہو جائے گی، ليکن اگر ایک دوسرے کو راضی نہ کر سکيں تو جس مقدار کا یقين ہے کہ وہ دوسرے کی ہے ضروری ہے کہ وہ مقدار اسے دے دے ۔

اور جب دو مالوں کا ملنا شراکت کا باعث نہ ہو مثلاً وہ کوئی ایسا مال ہو جس کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوں تو ضروری ہے مقدار کے اعتبار سے جس مقدار کا یقين ہے اتنی مقدار اسے دے اور خصوصيت کے اعتبار سے قرعہ اندازی کے ذریعے طے کریں۔ ہاں، دونوں صورتوں ميں احتياط مستحب یہ ہے کہ جس مقدار کا احتمال دے کہ اس کی ہے ، اس سے زیادہ مقدار ميں دے۔


مسئلہ ١٨٣ ۴ اگر کوئی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے دے اور بعد ميں اسے پتہ چلے کہ حرام کی مقدار خمس سے زیادہ تھی اور معلوم ہو جائے کہ کتنا زیادہ تھی تو ضروری ہے اسے اس کے مالک کی طرف سے اور احتياطِ واجب کی بنا پر حاکم شرع کی اجازت سے صدقہ دے اور اگر مقدار معلوم نہ ہو تو پهلا خمس دینے کے بعد باقی بچنے والے مال ميں مسئلہ ” ١٨٣١ “ کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ ١٨٣ ۵ اگر کوئی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے دے یا ایسا مال جس کے مالک کو نہ پہچانتا ہو، مال کے مالک کی طرف سے صدقہ کر دے اور بعد ميں اس کا مالک مل جائے تو اسے کوئی چيز دینا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ١٨٣ ۶ اگر حلال مال، حرام مال سے مل جائے اور حرام کی مقدار معلوم ہو اور انسان جانتا ہو کہ اس کا مالک چند معلوم لوگوں ميں سے ہی کوئی ایک ہے ليکن یہ نہ جان سکے کہ کون ہے تو امکان کی صورت ميں احتياطِ واجب کی بنا پر سب کو راضی کرے اور اگر ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ مالک کا تعين قرعہ اندازی کے ذریعہ ہو۔

۵ ۔غوطہ خوری کے ذريعے حاصل ہونے والے موتی

مسئلہ ١٨٣٧ اگرغوطہ خوری کے ذریعے یعنی سمندر ميں غوطہ لگاکرموتی اور مرجان یا دوسرے جواہرات نکالے جائيں، خواہ وہ اگنے والی چيزوں سے ہوں یا معدنيات ميں سے، اگر ان کی قيمت ١٨ سکہ دار سونے کے چنوں کے برابر ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دیا جائے، اگرچہ اس پر خرچ ہونے والے اخراجات کو نکالنے کے بعد خمس دینا ہوگا۔ خواہ انہيں ایک دفعہ ميں سمندر سے نکالا گيا ہو یاایک سے زیادہ دفعہ ميں اس طرح سے کہ عرف عام ميں اسے ایک غوطہ کها جاتا ہو اور خواہ باہر نکالی جانے والی چيز ایک جنس ہو یا چند اجناس ہوں، ایک غوطہ خور باہر لایا ہو یا احتياطِ واجب کی بنا پر چند غوطہ خور باہر لائے ہوں۔

مسئلہ ١٨٣٨ اگر سمندر ميں غوطہ لگائے بغير دوسرے ذرائع سے جواہر و موتی نکالے جائيں تو احتياط کی بنا پر سابقہ مسئلے ميں بيان شدہ طریقے کے مطابق اس پر خمس واجب ہے ، ليکن اگر پانی کی سطح یا سمندر کے کنارے سے موتی حاصل کرے تو ان کا خمس اس صورت ميں دینا ضروری ہے کہ جب حاصل شدہ موتی تنها یا اس کے کاروبار کے دوسرے منافع سے مل کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہوں۔

مسئلہ ١٨٣٩ مچهليوں اور ان جيسے دوسرے جانوروں کا خمس جنہيں انسان سمندر سے حاصل کرتا ہے اس صورت ميں واجب ہوتا ہے جب ان چيزوں سے حاصل کردہ منافع تنها یا کاروبار کے دوسرے منافع سے مل کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہوجائيں۔


مسئلہ ١٨ ۴ ٠ اگر انسان کسی چيز کے نکالنے کا ارادہ کئے بغير سمندر ميں غوطہ لگائے اور اتفاق سے کوئی موتی اس کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اسے اپنی ملکيت ميں لينے کا ارادہ کرے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے بلکہ احتياطِ واجب یہ ہے کہ ہر حال ميں اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨ ۴ ١ اگر انسان سمندر ميں غوطہ لگائے اور کوئی جانور نکال لائے اور اس کے پيٹ ميں سے اسے کوئی موتی ملے جس کی قيمت ١٨ مسکوک سونے کے چنوں کی قيمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اگر وہ جانور سيپی کی مانند ہو جس کے پيٹ ميں عموماً موتی ہوتے ہيں تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر کوئی ایسا جانور ہو جس نے اتفاقاً موتی نگل ليا ہو تو اس کا خمس اسی صورت ميں واجب ہوتا ہے جب اس سے حاصل کردہ فائدہ تنها یا کاروبار کے دوسرے منافع سے مل کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو۔

مسئلہ ١٨ ۴ ٢ اگر کوئی شخص بڑے دریاؤں ميں غوطہ لگائے اور موتی نکال لائے تو اگر اس دریا ميں موتی پيدا ہوتے ہوں تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

مسئلہ ١٨ ۴ ٣ اگر کوئی شخص پانی ميں غوطہ لگائے اور کچھ عنبر نکال لائے جس کی قيمت ١٨

سکہ دار سونے کے چنوں کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر پانی کی سطح یا سمندر کے کنارے سے ملے ہوں، تو اگرچہ ان کی قيمت ١٨ سونے کے چنوں سے کم ہو احتياط کی بنا پر اس کا خمس دینا واجب ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۴۴ جس شخص کا پيشہ غوطہ خوری، دفينہ نکالنا یا کان کنی ہو، اگر وہ ان کا خمس ادا کر دے اور پھر اس کے سال بھر کے اخراجات سے کچھ بچ جائے تو دوبارہ خمس دینا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۴۵ اگر بچہ کوئی معدنی چيز نکالے یا اس کے پاس حلال مال ميں حرام مال ملا ہو یا اسے کوئی دفينہ مل جائے یا سمندر ميں غوطہ لگاکر موتی نکال لائے تو ضروری ہے کہ بچے کا ولی اس کا خمس دے اور اگر ولی خمس ادا نہ کرے تو ضروری ہے کہ بچہ بالغ ہونے کے بعد خود خمس ادا کرے۔

۶ ۔مال غنيمت

مسئلہ ١٨ ۴۶ اگر مسلمان امام عليہ السلام کے حکم سے کفار سے جنگ کریں اور کچھ چيزیں جنگ ميں ان کے ہاتھ لگيں تو انہيں غنيمت کها جاتا ہے ۔ ان ميں منتقل ہونے والی چيزوں ميں سے اس مال کی حفاظت یا حمل و نقل وغيرہ کے مصارف، جو کچھ امام عليہ السلام اپنی مصلحت کے مطابق خرچ کریں اور جو مال، خاص امام عليہ السلام کا حق ہے ، ضروری ہے کہ ان (تين چيزوں) کو عليحدہ کرنے کے بعد باقی ماندہ کا خمس ادا کيا جائے اور اگر امام عليہ السلام کی اجازت کے بغير جنگ کریں اور غنيمت ان کے ہاتھ


لگے، تو اگر امام عليہ السلام کے ہوتے ہوئے ہو تو سارا مال امام عليہ السلام کا ہے اور اگر زمانہ غيبت ميں ہو تو اخراجات نکالنے کے بعداحتياط کی بنا پر اس کا خمس ادا کریں۔

٧۔ وہ زمين جو کافر ذمی کسی مسلمان سے خريدے

مسئلہ ١٨ ۴ ٧ اگر کافر ذمی مسلمان سے زمين خریدے تو ضروری ہے کہ وہ کافر اس کا خمس اسی زمين سے یا اپنے دوسرے مال سے مسئلہ ” ١٨٠ ۶ “ ميں ذکر شدہ بيان کے مطابق دے، اگرچہ اس زمين پر عمارت وغيرہ تعمير ہو مثلاً گھر اور دکان کی زمين۔ اسی طرح اگر سودا گھر ، دکان یا ان جيسی کسی چيز کا ہو تو اس کا بھی یهی حکم ہے ۔ یہ خمس ادا کرنے کے لئے قصد قربت ضروری نہيں ہے بلکہ حاکم شرع کے لئے بهی، جو اس سے خمس ليتا ہے ، قصد قربت ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۴ ٨ اگر کافر ذمی مسلمان سے خریدی ہوئی زمين کسی دوسرے مسلمان کے ہاتھوں فروخت کر دے توکافر کی گردن سے خمس ساقط نہيں ہوتا۔یهی حکم اس وقت ہے جب کافر مرجائے اور وہ زمين کسی مسلمان کو بطورِ ميراث ملے۔

مسئلہ ١٨ ۴ ٩ اگر کافر ذمی زمين خریدتے وقت شرط کرے کہ خمس نہ دے یا شرط کرے کہ بيچنے والا خمس دے تو اس کی یہ شرط فاسد ہے اور ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔هاں، اگر شرط کرے کہ بيچنے والا، اس کی طرف سے خمس کی مقدار، خمس کے مالکوں تک پهنچائے توبيچنے والے پر واجب ہے کہ شرط پر عمل کرے ليکن جب تک بيچنے والا خمس ادا نہ کردے،ذمی خریدار سے ساقط نہيں ہوتا۔

مسئلہ ١٨ ۵ ٠ اگر مسلمان زمين کوخرید و فروخت کے بغير کافر ذمی کی ملکيت بنائے اور اس کا عوض لے مثلاً اس کے ساته مصالحت کرے، تب بھی ضروری ہے کہ کافر ذمی اس کا خمس ادا کرے۔

مسئلہ ١٨ ۵ ١ اگر کافر ذمی نابالغ ہو اور اس کا ولی اس کے لئے زمين خریدے، اس پر بھی خمس واجب ہے ۔

خمس کا استعمال

مسئلہ ١٨ ۵ ٢ ضروری ہے کہ خمس دو حصّوں ميں تقسيم کيا جائے۔ اس کا ایک حصّہ سادات کا حق ہے جو ضروری ہے کہ یاکسی یتيم و فقير سيد کے ولی کو دیا جائے تاکہ اس کے اخراجات ميں صرف کرے یا کسی فقير سيد کو یا کسی ایسے سيد کوجو سفر ميں ناچار ہوگيا ہو، دیا جائے اور احتياط واجب یہ ہے کہ سهم سادات، عادل فقيہ کی اجازت سے دیا جائے۔ جبکہ خمس کا دوسرا حصّہ امام عليہ السلام کا ہے جو موجودہ زمانے ميں ضروری ہے کہ اس کے مصارف کی معرفت رکھنے والے عادل فقيہ کو دیا جائے یا کسی ایسی جگہ استعمال کيا جائے جهاں خرچ کرنے کی وہ اجازت دے اور احتياط کی بنا پر اس فقيہ عادل کا اعلم ہونا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۵ ٣ جس یتيم سيد کو خمس دیا جائے ضروری ہے کہ وہ فقير ہو، ليکن جو سيد سفر ميں ناچار ہو جائے خواہ وہ اپنے وطن ميں فقير نہ بھی ہو اسے خمس دیا جاسکتا ہے ۔


مسئلہ ١٨ ۵۴ جو سيد سفر ميں ناچار ہوگيا ہو اگر اس کا سفر گناہ کا سفر ہو تو اسے خمس نہيں دیا جاسکتا۔

مسئلہ ١٨ ۵۵ جو سيد عادل نہ ہو اسے خمس دیا جاسکتا ہے ليکن جو سيد اثناعشری نہ ہو اسے خمس نہيں دیا جاسکتا۔

مسئلہ ١٨ ۵۶ جو سيد گناہکار ہو اگر اسے خمس دینے سے گناہ کرنے ميں اس کی مدد ہوتی ہو تو ضروری ہے کہ اسے خمس نہ دیا جائے اور جو سيد اعلانيہ گناہ کرتا ہو اگرچہ اسے خمس دینے سے گناہ کرنے ميں اس کی مدد نہ ہوتی ہو احتياطِ واجب کی بنا پر اسے خمس نہيں دیا جاسکتا۔

مسئلہ ١٨ ۵ ٧ جو شخص کهے کہ ميں سيد ہوں اسے خمس نہيں دیا جا سکتا، مگر یہ کہ دو عادل اس کے سيد ہونے کی تصدیق کردیں یا لوگوں کے درميان اس طرح مشهور ہو کہ انسان کو اس کے سيد ہونے کا یقين یا اطمينان ہو جائے اور بعيد نہيں ہے کہ کسی کا سيد ہونا ایک قابل اعتماد شخص کی بات سے بھی ثابت ہو جائے جب کہ اس کی کهی ہوئی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو۔

مسئلہ ١٨ ۵ ٨ جو شخص اپنے شہر ميں سيد مشهور ہو اگرچہ انسان کو اس کے سيد ہونے کا یقين یا اطمينان نہ ہو اسے خمس دیا جاسکتا ہے ، بشرطيکہ اس کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو۔

مسئلہ ١٨ ۵ ٩ اگر کسی شخص کی بيوی سيدانی ہو تو وہ اسے اپنے اخراجات پر صرف کرنے کے لئے خمس نہيں دے سکتا۔ ہاں، اگر کچھ اور لوگوں کی کفالت اس کی بيوی پر واجب ہو اور وہ ان کے اخراجات نہ دے سکتی ہو تو انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی بيوی کو خمس دے تاکہ وہ زیر کفالت افراد پر خرچ کرے۔ اسی طرح اپنی سيدانی بيوی کو واجب نفقہ کے علاوہ دوسرے اخراجات پر صرف کرنے کے لئے بھی خمس دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۶ ٠ اگر انسان پر کسی سيد یا ایسی سيدانی کے اخراجات واجب ہوں جو اس کی بيوی نہ ہو، تو وہ خوراک، پوشاک اور باقی واجب اخراجات اپنے خمس سے نہيں دے سکتا۔ ہاں، اگر خمس کی کچھ رقم اس غرض سے دے کہ وہ غير واجب اخراجات پر خرچ کریں تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٨ ۶ ١ جس فقير سيد کے اخراجات کسی دوسرے شخص پر واجب ہوں اور وہ اس سيد کے اخراجات نہ دے سکتا ہو یا دینے کی طاقت رکھتا ہو اور نہ دیتا ہو تو اس سيد کو خمس دیا جاسکتا ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۶ ٢ احتياطِ واجب یہ ہے کہ کسی ایک فقير سيد کو اس کے ایک سال کے اخراجات سے زیادہ خمس نہ دیا جائے۔

مسئلہ ١٨ ۶ ٣ اگر کسی شخص کے شہر ميں کوئی مستحق سيد نہ ہو اور اسے یقين یا اطمينان ہو کہ بعد ميں بھی نہيں ملے گا یا مستحق سيد کے ملنے تک خمس کی حفاظت کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ خمس دوسرے شہر لے جائے اور مستحق کو پهنچا دے اور خمس دوسرے شہر لے جانے کے اخراجات خمس ميں سے لے سکتا ہے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ یہ اخراجات حاکم شرع کی اجازت


سے لے اور خمس تلف ہو جانے کی صورت ميں اگر اس کی نگهداشت ميں کوتاہی برتی ہو تو ضامن ہے اور اگر کوتاہی نہ برتی ہو تو ضامن نہيں ۔

مسئلہ ١٨ ۶۴ اگر کسی شخص کے شہر ميں کوئی مستحق سيد نہ ہو تو اگرچہ اسے یقين یا اطمينان ہو کہ بعد ميں مل جائے گا اور اس مستحق کے ملنے تک خمس کی حفاظت کرنا بھی ممکن ہو تب بھی وہ خمس دوسرے شہر لے جاسکتا ہے اور اگر وہ خمس کی نگهداشت ميں کوتاہی نہ برتے اور وہ تلف ہو جائے تو ضامن نہيں ، ليکن وہ خمس دوسری جگہ لے جانے کے اخراجات خمس ميں سے نہيں لے سکتا۔

مسئلہ ١٨ ۶۵ اگر کسی شخص کے اپنے شہر ميں خمس کا مستحق مل جائے تو اس صورت ميں اسے بھی دوسرے شہر لے جایا جا سکتا ہے کہ اسے خمس دینے ميں سستی نہ کها جاسکے، اور مستحق کو پهنچائے ليکن ضروری ہے کہ اسے لے جانے کے اخراجات خود ادا کرے اور اس صورت ميں اگر خمس تلف ہو جائے تو اگرچہ اس کی نگهداشت ميں کوتاہی نہ برتی ہو وہ اس کا ضامن ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۶۶ اگر کوئی شخص حاکم شرع کی اجازت سے خمس دوسرے شہر لے جائے اور تلف ہو جائے تو وہ ذمہ دار نہيں ہے ۔ اسی طرح اگر حاکم شرع کے وکيل یا کسی ایسے فرد کو دے دے جسے حاکم شرع نے خمس وصول کرنے کی اجازت دی ہواور وہ خمس کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جائے تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٨ ۶ ٧ جيسا کہ مسئلہ ” ١٨٠ ۶ “ ميں بتایا گيا ہے کہ حاکم شرع کی اجازت کے بغير رائج کرنسی کے علاوہ کوئی دوسری جنس خمس کے بدلے دینا احتياطِ واجب کی بنا پر جائز نہيں ہے اور جائز ہونے کی صورت ميں مثلاً حاکم شرع اجازت دے دے، جائز نہيں ہے کہ کسی چيز کی قيمت اس کی اصل قيمت سے زیادہ لگا کر اسے بطور خمس دیا جائے، اگرچہ مستحق اس قيمت پر راضی ہو۔

مسئلہ ١٨ ۶ ٨ جس شخص کو خمس کے مستحق سے کچھ لينا ہو احتياط کی بنا پر اپنا قرضہ خمس کی رقم سے حساب نہيں کرسکتا ليکن ایساکرسکتا ہے کہ اس مستحق کو خمس دے دے اور بعد ميں وہ مستحق اپنا قرضہ اسے چکا دے۔ یہ بھی کيا جا سکتا ہے کہ مستحق سے وکالت لے کر خود اس کی طرف سے خمس وصول کرے اور پھر اپنا قرض اس سے حساب کر لے۔

مسئلہ ١٨ ۶ ٩ مستحق خمس لے کر واپس مالک کو نہيں بخش سکتا جب کہ واپس بخشنے سے حق امام عليہ السلام اور حق سادات ضائع ہو رہا ہو۔هاں، اس صورت کے علاوہ واپس بخش دینے ميں کوئی حرج نہيں ہے ، مثلاً جس شخص کے ذمے خمس کی زیادہ رقم واجب ہو اور وہ فقير ہوگيا ہو اور چاہتا ہو کہ خمس کے مستحق لوگوں کا مقروض نہ رہے تو اگر خمس کا مستحق راضی ہو جائے کہ اس سے خمس لے کر اسی کو بخش دے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔


زکات کے احکام

مسئلہ ١٨٧٠ زکات نو چيزو ں پر واجب ہے :

(١) گيہوں

(٢) جو

(٣) کھجور

( ۴) کشمش

( ۵) سونا

( ۶) چاندی

(٧) اونٹ

(٨) گائے

(٩) بھيڑ اور جو شخص ان نو چيزوںميں سے کسی ایک کا مالک ہو تو ضروری ہے کہ بعد ميں بيان کی جانے والی شرائط کے مطابق مقررہ مقدار کو کسی ایسے مقام پر خرچ کرے کہ جن کا حکم دیا گيا ہے ۔

مسئلہ ١٨٧١ ”سلت-“جو ایک ایسا دانہ ہے کہ نرمی ميں گيہوںکی طرح ہوتا ہے اور جوَکی خاصيت رکھتا ہے اور ”علس“ جو گيہوں کی طرح ہوتا ہے ،احتياط مستحب ہے کہ ان کی زکات دی جائے۔

زکات واجب ہونے کے شرائط

مسئلہ ١٨٧٢ زکات اس صورت ميں واجب ہوتی ہے کہ جب مال مقررہ نصاب کی مقدار تک پهنچ جائے،جس کا تذکرہ بعد ميں آئے گا اور اس کا مالک بالغ،عاقل اور آزاد ہو اور اپنے مال ميں تصرف کر سکتا ہو۔

مسئلہ ١٨٧٣ اگر انسان گيارہ مهينے گائے،بھيڑ،اونٹ،سونے یا چاندی کا مالک ہو تو ضروری ہے کہ بارہویں مهينے کی پهلی تاریخ کو اس کی زکات ادا کرے ليکن اگلے سال کی ابتدا کا حساب بارہواں مهينہ ختم ہونے کے بعد کرے۔

مسئلہ ١٨٧ ۴ اگر گائے،بھيڑ،اونٹ،سونے یا چاندی کا مالک سال کے دوران بالغ ہو جائے مثلاًکوئی بچہ محرم کی پهلی کو چاليس بھيڑوں کا مالک بنے اور دو مهينے گزرنے کے بعد بالغ ہو جائے تو محرم کی پهلی سے گيارہ مهينے گزرنے کے بعداس پرکوئی زکات واجب نہيں بلکہ بالغ ہونے کے گيارہ ماہ گزرنے کے بعد اس پر زکات واجب ہو گی،ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ محرم کی پهلی سے گيارہ مهينے گزرنے کے بعد اگر زکات کی باقی شرائط موجود ہوں تو ان کی زکات ادا کرے۔


مسئلہ ١٨٧ ۵ گندم اور جوَ کی زکات اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب انہيں گندم اور جوَ کها جا سکے اور کشمش کی زکات اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب انہيں انگور کها جاسکے اور کھجور کی زکات اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب عرب انہيں ”تمر“ (کھجور) کہيں ۔ گندم اور جوَ ميں زکات دینے کا وقت وہ ہے جب دانے کو بهوسے سے الگ کيا جائے اور کھجور اور کشمش ميں اس وقت ہے کہ جب وہ خشک ہو گئے ہوں اور اگر زکات ادا کرنے ميں اس وقت سے، بغير کسی سبب کے، تاخير کرے جب کہ مستحق بھی موجودهو تو وہ ضامن ہو گا۔

مسئلہ ١٨٧ ۶ گندم،جوَ،کشمش اور کھجور کی زکات واجب ہونے کے وقت،کہ جس کا تذکرہ پچهلے مسئلے ميں کيا گيا،اگر ان کا مالک بالغ،عاقل،آزاد اور اپنے مال ميں تصرف کرنے ميں صا حب اختيار ہو تو ضروری ہے کہ ان کی زکات دے،اگرچہ اس وقت سے پهلے تمام یا کچھ شرائط نہ رکھتا ہو اور اگر اس وقت کوئی ایک بھی شرط نہ ہو تو زکات واجب نہيں ہو گی۔

مسئلہ ١٨٧٧ اگر گائے،بھيڑ،اونٹ،سونے یا چاندی کا مالک پورے سال یا اس کے کچھ حصہ ميں دیوانہ رہا ہو تو اس پر زکات واجب نہيں ہو گی۔

مسئلہ ١٨٧٨ اگر گائے،بھيڑ،اونٹ،سونے یا چاندی کا مالک سال کے کچھ حصے ميں نشہ ميں یا بے ہوش رہا ہو تو اس پرسے زکات ساقط نہيں ہو گی۔ یهی حکم اس وقت ہے کہ جب گندم، جو،کھجور اورکشمش کی زکات واجب ہونے کے وقت وہ بے ہوش ہو۔

مسئلہ ١٨٧٩ جس مال کو انسان سے غصب کر ليا گيا ہو اور وہ اس ميں تصرف نہ کر سکتا ہو اس ميں زکات نہيں ، ليکن اگر غصب شدہ مال گندم یا جوَ کی زراعت،کھجور کا درخت یا انگور کی بيل ہو اور زکات واجب ہونے کے وقت غاصب کے ہاتھ ميں ہو تو جس وقت بھی مالک کو یہ مال مل جائے احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ زکات دے۔

مسئلہ ١٨٨٠ اگر سونا،چاندی یا کوئی دوسری چيز جس پر زکات واجب ہے ، قرض کے طور پر لے اور وہ ایک سال اس کے پاس رہے تو ضروری ہے کہ قرض لينے والا اس کی زکات دے،جب کہ قرض دینے والے پر زکات واجب نہيں ۔

گندم،جو،کھجور اورکشمش کی زکات

مسئلہ ١٨٨١ گندم،جو،کھجور اور کشمش کی زکات اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب وہ نصاب کی مقدار تک پهنچ جائيں اور ان کا نصاب ٣٠٠ صاع ہے اور ہر صاع ٢ ۵ ء ۶ ١ ۴ مثقال صيرفی ہے کہ جو تقریباً ٨ ۴ ٧ کلو گرام ہوتا ہے ۔

مسئلہ ١٨٨٢ جس انگور،کھجور،جو اور گندم پر زکات واجب ہو گئی ہو، اگر ان ميں سے زکات دینے سے پهلے خود مالک یا اس کے اہل و عيال کهائيں یا فقير کو زکات کے علاوہ کسی اور نيت سے دے تو استعمال شدہ مقدار کی زکات دینا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١٨٨٣ اگر گندم،جو، کھجور اور انگور کی زکات واجب ہونے کے بعد اس کا مالک مرجائے تو ضروری ہے کہ زکات کی مقدار کو اس کے مال سے دیاجائے،ليکن اگر زکات کے واجب ہونے سے پهلے مر جائے تو ورثاء ميں سے جس وارث کاحصہ نصاب تک پهنچ جائے اس کے لئے اپنے حصے کی زکات دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٨٨ ۴ جو شخص حاکم شرع کی جانب سے زکات کی جمع آوری پر مامور ہو وہ خرمن بنانے کے موقع پر، جب گندم اور جو کو بهوسے سے الگ کيا جاتاہے ، ا سی طرح تازہ کھجور کے خشک ہونے کے بعد اور انگور کے کشمش ہونے کے بعد زکات کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر مالک نہ دے اور جس چيز پر زکات واجب ہو گئی ہو وہ تلف ہو جائے تو اس کا عوض دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٨٨ ۵ اگر کھجور کے درخت،انگور کی بيل یا گندم اور جو کی زراعت پر ان کا مالک بننے کے بعد زکات واجب ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان کی زکات دے۔

مسئلہ ١٨٨ ۶ اگر گندم،جو،کھجور یا انگور کی زکات کے واجب ہونے کے بعد زراعت وغيرہ کو فروخت کر دے تو فروخت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی زکات ادا کرے۔

مسئلہ ١٨٨٧ اگر انسا ن سارا گندم،جو، کھجور یا انگور خریدے اور جانتا ہو کہ فروخت کرنے والے نے اس کی زکات دے دی ہے تو اس پر زکات واجب نہيں ہے اور اگر جانتا ہے کہ اس کی زکات نہيں دی،تو اس صورت ميں کہ فروخت کرنے والا اس کی زکات ادا کر دے سودا صحيح ہے ،اسی طرح اگر خریدار زکات ادا کر دے، جسے وہ فروخت کرنے والے سے لے سکتا ہے ۔

ان دو صورتوں کے علاوہ اگر حاکم شرع واجب زکات والی مقدار کے سودے کی اجازت نہ دے تو اس مقدار کا سودا باطل ہو گا اور حا کم شرع زکات کی مقدار کو خریدار سے لے سکتا ہے اور اگر واجب زکات والی مقدار کے سودے کی اجازت دے دے تو سودا صحيح ہو گا اور خریدار کے لئے ضروری ہے کہ اس مقدار کی قيمت حاکم شرع کو دے اور جبکہ اس مقدار کی قيمت فروخت کرنے والے کو بھی دی ہو تو اس سے واپس لے سکتا ہے ۔

اور اگرخریدار شک کرے کہ بيچنے والے نے اس کی زکات ادا کی ہے یا نہيں تو فی الحا ل اس مال پر زکات واجب نہ ہونے کا حکم لگانا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ١٨٨٨ اگر گندم،جو،کھجور اور کشمش کا وزن تازہ ہونے کے وقت نصاب تک پهنچ جائے اور خشک ہو جانے کے بعد اس مقدار سے کم ہو جائے تو ان کی زکات واجب نہيں ہو گی۔

مسئلہ ١٨٨٩ اگر گندم،جو، کھجور اور انگور کو خشک ہونے سے پهلے استعمال ميں لائے، چنانچہ یہ مقدار خشک ہونے کی صورت ميں نصاب تک پهنچ رہی ہو تو ان کی زکات دینا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١٨٩٠ کھجور تين قسموں پر مشتمل ہے :

١) وہ کھجور کہ جسے خشک کيا جاتا ہے اور اس کی زکات کا حکم بيان ہو چکا ہے ۔

٢) وہ کھجور کہ جسے اس کے ”رطب“(تازہ) ہو نے کی حالت ميں کهایا جاتا ہے ۔

٣) وہ کھجور کہ جسے اس کی کچی حالت ميں کهایا جاتا ہے ۔

دوسری قسم کی مقدار اگر اتنی ہو کہ خشک ہونے کی حالت ميں نصاب کی مقدار تک پهنچ جائے تو بنا بر احتياطِ واجب اس کی زکات واجب ہو گی،البتہ تيسری قسم کی کھجور ميں زکات واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٨٩١ جس گندم، جو، کھجور اور کشمش کی زکات دے دی گئی ہو اگر وہ کئی سالبهی اس کے پاس رہيں تو اس پر دوبارہ زکات واجب نہيں ہوتی۔

مسئلہ ١٨٩٢ اگر گندم،جو ،کھجور اور انگور بارش یا نہر کے پانی سے پهلے پھوليںيا زمين کی ١٠ ) ہو گی اور اگر ڈول یا اس جيسی چيز سے / نمی سے استفادہ کریں تو ان کی زکا ت دسواں حصہ( ١

٢٠ ) ہو گی۔ / آبياری ہو تو ان کی زکات بيسواں حصہ( ١

مسئلہ ١٨٩٣ اگر گندم،جو،کھجور اور انگور کو بارش وغيرہ کا پانی بھی دیا جائے اور وہ ڈول اور اس جيسی چيز کے پانی سے بھی استفادہ کریں تو اگر اس طرح ہو کہ عرف ميں کها جائے کہ ان کی ٢٠ ) ہو گی اور اگر کها / آبياری ڈول اور اس جيسی چيز سے ہوئی ہے تو ان کی زکات بيسواں حصہ( ١

(١٠/ جائے کہ ان کی آبياری بارش اور ان جيسی چيزوں سے ہوئی ہے تو ان کی زکات دسواں حصہ( ١

۴ ٠ )واں حصہ ہو گی۔ / ہو گی اور اگر کها جائے کہ دونوں سے آبياری ہوئی ہے تو ان کی زکات ( ٣

مسئلہ ١٨٩ ۴ چنانچہ شک کرے اور نہ جانتا ہو کہ عرف کی نگاہوں ميں دونوں سے آبياری ہوئی ۴) واں حصہ دینا کافی ہے ۔ /٣ ہے یا یہ کہ مثلاً بارش سے ہوئی ہے تو اس صورت ميں ( ٠

مسئلہ ١٨٩ ۵ اگر شک کرے اور نہ جانتا ہو کہ عرف کہ نگاہوں ميں دونوں سے آبياری ہوئی ہو ٢٠ ) دینا کافی / یا یہ کہ ڈول اور اس جيسی چيز سے آبياری ہوئی ہے تو اس صورت ميں بيسواں حصہ( ١هو گا۔ اسی طرح اگر ساته ميں کوئی تيسرا احتمال بھی آجائے کہ عرف کهے کہ بارش کے پانی سے آبياری ہوئی ہے تب بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٨٩ ۶ اگر گندم،جو،کھجور اور انگور کی آبياری بارش اور اس جيسی چيزوں سے ہوئی ہواور ڈول یا اس جيسی چيز سے آبياری کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو اس کے باوجود ڈول کا پانی بھی دیا جائے جب کہ ڈول کا پانی فصل کے زیادہ ہونے ميں مددگار ثابت نہ ہو تو ان کی زکات دسواں حصہ ١٠ ) ہو گی،اور اگر ڈول اور اس کی مانند چيز سے آبياری ہو اور بارش یااس جيسے پانی کی /١)


ضرورت نہ ہو ليکن بارش یا اس کی مانند پانی سے بھی آبياری ہو اور وہ فصل کے زیادہ ہونے ميں مدد ٢٠ ) ہو گی۔ / نہ کرے تو ان کی زکات بيسواںحصہ ( ١

مسئلہ ١٨٩٧ اگر کسی زراعت کی آبياری ڈول اور اس جيسی چيزوں سے کی جائے اور اس کے برابر والی زمين ميں دوسری زراعت ہو جو پهلی زمين کی نمی سے استفادہ کر لے اور اسے آبياری کی ضرورت ہی پيش نہ آئے تو جس زراعت کی آبياری ڈول وغيرہ کے پانی سے ہوئی ہو اس کی زکات ٢٠ ) اور اس کے برابر والی زراعت اگر کسی اور مالک کی ہو تو اس کی زکات دسواں / بيسواں حصہ( ١

١٠ ) ہے اور اگر دوسری زراعت بھی پهلے مالک ہی کی ہو تو بھی احتياطِ واجب کی بنا پر یهی / حصہ( ١حکم ہے ۔

مسئلہ ١٨٩٨ نصاب کو دیکھتے وقت گندم،جو ،کھجور اور انگور پر کئے گئے اخراجات کوفصل سے نکالا نہيں جا سکتا، لہٰذا اگر ان ميں سے ایک بھی اخراجا ت کے حساب سے پهلے حدِنصاب تک پهنچ جائے تو اس کی زکات دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٨٩٩ جس بيج کو زراعت کے لئے استعمال کيا گيا ہو خواہ اس کا اپنا ہو یا خریداہوا،نصاب کو دیکھتے وقت اسے فصل سے نکالا نہيں جا سکتا بلکہ جتنی فصل حاصل ہوئی ہو اسے مکمل طور پرشامل کرتے ہوئے نصاب کو دیکھا جائے گا۔

مسئلہ ١٩٠٠ جو چيز حکومت اصل مال سے ليتی ہے اس پر زکات واجب نہيں ، مثال کے طور پر اگر زراعت کا حاصل ٨ ۵ ٠ کلوگرام ہو اور حکومت ۵ ٠ کلوگرام بطور ٹيکس لے تو زکات صرف ٨٠٠کلو گرام پر واجب ہو گی۔

مسئلہ ١٩٠١ وہ اخراجات جو انسان نے زکات واجب ہونے سے پهلے کئے ہوںاحتياطِ واجب کی بنا پر زکات دیتے وقت اس بات کی اجازت نہيں ہے کہ اتنی مقدار الگ کر لے اور باقی کی زکات دے دے۔

مسئلہ ١٩٠٢ زکات واجب ہونے کے بعد جواخراجات کئے جائيں اور جو کچھ زکات کی مقدار کی نسبت خرچ کرے، حاکم شرع سے اجازت لے کر اسے زکات سے جدا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٠٣ زکات واجب ہونے سے پهلے زکات دینا جائز نہيں ہے اور زکات واجب ہونے کے بعد ضروری نہيں ہے کہ گندم اور جوکی فصل کاٹے جانے اور دانے وبهوسے کے جدا ہونے یا کھجور اور انگور کے خشک ہونے تک صبر کرے، بلکہ زکات واجب ہوتے ہی زکات کی مقدار کی قيمت معلوم کر کے اسے زکات کی نيت سے دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٠ ۴ زکات واجب ہو جانے کے بعد اصل زراعت یا کھجور اور انگور کو فصل کی کٹائی یا چننے سے پهلے ہی مستحق،حاکم شرع یا ان کے وکيل کو بطور مشاع دے سکتا ہے اور اس کے بعد کے اخراجات ميں وہ بھی شریک ہونگے۔


مسئلہ ١٩٠ ۵ اس صورت ميں کہ جب زراعت،کھجور یا انگور ميں سے اصل مال ہی حاکم شرع،مستحق یا ان کے وکيل کے حوالے کر دے تو فصل کی کٹائی یا کھجور و انگور کے خشک ہونے کا وقت آنے تک،ان چيزوں کو اپنی زمينوں پر رہنے دینے کے لئے اجرت طلب کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٠ ۶ اگر کسی شخص کے پاس چند شهروں ميں کہ جن ميں فصل پکنے کا موسم ایک دوسرے سے مختلف ہو اور ان کی زراعت اور پھل ایک ساته حاصل نہ ہوتے ہوں،گندم،جو،کھجور یا انگور ہو اور وہ سب کے سب ایک ہی سال کی فصل شمار ہو تو اگر پهلے والی چيز نصاب تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس فصل کے پکنے پر اس کی زکات دے دے اور باقی فصلوں کی زکات ان کی تياری کے وقت ادا کرے اور اگر پهلے پکنے والی چيز نصاب کے برابر نہ ہو تو صبر کرے یهاں تک کہ اس کی بقيہ فصليں پک جائيں،اب اگر ساری فصليں مجموعی طور پر نصاب تک پهنچ جائيں تو اس کی زکات واجب ہو گی اور اگر نصاب تک نہ پهنچے تو اس کی زکات واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ ١٩٠٧ اگر انگور یا کھجور کا درخت ایک سال ميں دو مرتبہ پھل دے تو مجموعی طور پر نصاب تک پهنچنے کی صورت ميں احتياطِ واجب کی بنا پر اس کی زکات واجب ہے ۔

مسئلہ ١٩٠٨ اگر کسی کے پاس تازہ کھجور یا انگور کی اتنی مقدارہو کہ جس کی خشک شدہ مقدار نصاب تک پهنچ جاتی ہو، تو اگر زکات کی نيت سے اس تازہ مقدار ميں سے اتنی مقدار زکات کے مصرف ميں لائے جو اگر خشک ہوتی تو واجب زکات کے برابر ہوتی تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٩٠٩ اگر خشک کھجور یا کشمش کی زکات کسی پر واجب ہو تو خود پر واجب شدہ زکات کی نيت سے تازہ کھجور یا انگور نہيں دے سکتا۔ اسی طرح اگر تازہ کھجور یا انگور کی زکات اس پر واجب ہو تو خود پر واجب شدہ زکات کی نيت سے خشک کھجور یا کشمش نہيں دے سکتا۔ اسی طرح احتياطِ واجب کی بنا پر یہ بھی نہيں کر سکتا کہ ان ميں سے تازہ کی جگہ خشک اور خشک کی جگہ تازہ کو قيمت زکات کے طور پر دے دے۔

مسئلہ ١٩١٠ جو شخص مقروض ہو اور اس کے پاس ایسا مال بھی ہو جس پر زکات واجب ہو چکی ہو اگر وہ مر جائے تو ضروری ہے کہ پهلے اس کے مال سے واجب شدہ زکات کو ادا کيا جائے اس کے بعد اس کے قرض کو ادا کيا جائے۔

مسئلہ ١٩١١ جو شخص مقروض ہو اور اس کے پاس جوَ،گندم،کھجور یا انگور بھی ہو اگر وہ مر جائے اور اس سے پهلے کہ ان کی زکات واجب ہو وارث اس کے قرض کو کسی دوسرے مال سے دے دیں تو جس وارث کا حصہ حد نصاب تک پهنچے اس کے لئے زکات دینا ضروری ہے او ر اگر زکات واجب ہونے سے پهلے اس کا قرضہ نہ دیں تو اگر مرنے والے کا سارا ما ل اس کے قرض جتنا


ہو تو زکات واجب نہيں ہو گی اور اگر مرنے والے کا مال اس کے قرض سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ جس مال پر زکات واجب ہو اسے تمام مال کی نسبت دیکھاجائے جيسے آدهی ایک تھائی یا ایک چوتھائی وغيرہ کی نسبت اور اسی نسبت سے (قرضے کی مقدار)زکات والے مال سے نکالی جائے اور باقی وارثوں ميں تقسيم کر دیا جائے اور اس کے بعد اب جس وارث کا حصہ نصاب کی حد تک پهنچے گا اس پر زکا ت واجب ہوگی۔

مسئلہ ١٩١٢ اگر جس گندم،جو،کھجور اور کشمش پر زکات واجب ہو چکی ہو اس ميں گھٹيا اور اعلیٰ دونوں قسميں ہوں تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ اعٰلی قسم کی زکات گھٹيا قسم سے نہ دے۔

سونے اور چاندی کا نصاب

مسئلہ ١٩١٣ سونے کے دو نصاب ہيں :

١) سونے کا پهلا نصاب ٢٠ مثقال شرعی ہے کہ جس کا ہر مثقال ١٨ چنے کے برابرہے جو بنا بر مشهورصيرفی (معمولی) مثقال کا تين چوتھائی ہے ،لہٰذا جب سونے کی مقدار ٢٠ مثقال شرعی،جو ١ ۵ مثقال صيرفی ہوتا ہے ،تک پهنچ جائے تو باقی شرائط کے ہوتے ہوئے جن کا تذکرہ گزرچکا ۴ ٠ )جو ٩چنے کے برابر ہوتا ہے ،زکات کی بابت دے / ہے ،انسان پر ضروری ہو کہ چاليسواں حصہ( ١اور اگر سونا اس مقدار تک نہ پهنچے تو ا س کی زکات واجب نہيں ۔

٢) سونے کا دوسرا نصاب ۴ مثقال شرعی ہے جو تين مثقال صيرفی (معمولی)هوتاہے ،یعنی اگر پندرہ مثقال پر تين مثقال کا اضافہ ہو جائے تو پورے اٹھ ارہ مثقال کی زکات چاليسویں حصے کے اعتبار سے دینا ضروری ہے اور اگر تين مثقال سے کم کا اضافہ ہو تو صرف پندرہ مثقال کی زکات دے دے اور اس سے زیادہ پر زکات نہيں ۔ اسی طرح جس قدر اضافہ ہوتا جائے یعنی اگر پورے تين مثقال کا اضافہ ہو تو ضروری ہے کہ سارے سونے کی زکات دی جائے اور اگر اس سے کم کا اضافہ ہو تو جتنی مقدار کا اضافہ ہو اس پر زکا ت نہيں ۔

مسئلہ ١٩١ ۴ چاندی کے دو نصاب ہيں -:

١) چاندی کا پهلا نصاب ١٠ ۵ صيرفی (معمولی) مثقال ہے یعنی اگر چاندی کی مقدار ١٠ ۵ مثقال تک پهنچے اور گذشتہ باقی تما م شرائط بھی موجود ہوں تو انسان پر واجب ہے کہ اس کا چاليسواں حصہ جو دو مثقال اور پندرہ چنے کے برابر ہوتا ہے ، زکات کی بابت دے اور اگر اس مقدار تک نہ پهنچے تو اس کی زکات واجب نہيں ۔


٢) چاندی کا دوسرا نصاب ٢١ مثقال ہے یعنی اگر ١٠ ۵ مثقال پر ٢١ مثقال کا اضافہ ہو جائے تو پورے ١٢ ۶ مثقال کی زکات چاليسویں حصے کے اعتبار سے دینا ضروری ہے اور اگر ٢١ مثقال سے کم کا اضافہ ہو تو صرف ١٠ ۵ مثقال کی زکا ت دینا ضروری ہے اور اس سے زیادہ پر زکات نہيں ۔ اسی طرح جس قدر اضافہ ہوتا جائے یعنی اگر پورے ٢١ مثقال کا اضافہ ہو تو ان تمام کی زکات دینا ضروری ہے اور اگر اس سے کم کا اضافہ ہو تو ٢١ مثقا ل سے کم اضافہ شدہ مقدار پر زکات نہيں ،لہٰذا انسان کے پاس جتنا سونا اور چاندی ہو تو اگر اس کا چاليسواں حصہ دے دے تو اس نے نہ صرف یہ کہ واجب شدہ زکات دے دی ہے بلکہ بعض اوقات تو واجب مقدار سے بھی زیادہ ادائيگی ہو جاتی ہے مثلاً جس شخص کے پاس ١١٠ مثقال چاندی ہو اگر وہ اس کا چاليسواں حصہ دے دے تو ١٠ ۵ مثقال کی زکات جو اس پر واجب تھی وہ تو دے ہی دی اور کچھ مقدار اس ۵ مثقال کے لئے بھی دے دی جو واجب نہيں تھی۔

مسئلہ ١٩١ ۵ جس شخص کا سونا یا چاندی نصاب کے برابر ہو اگرچہ اس نے اس کی زکات ادا کر دی ہو ليکن جب تک اس کی مقدار پهلے نصاب سے کم نہ ہو ہر سال اس کی زکات ادا کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٩١ ۶ سونے اورچاندی کی زکات اس صورت ميں واجب ہے کہ جب ان کو سکوں کی شکل ميں ڈهال دیا گيا ہو اور ان سے لين دین کرنا رائج ہو اور اگر ان کے سکے اپنی صورت کهو بھی چکے ہوں تب بھی ان کی زکات دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ١٩١٧ جو سکے دار سونا اور چاندی عورت اپنی زینت کے کام ميں لاتی ہے اس صورت ميں کہ اس سے لين دین کا رواج باقی ہو یعنی اب بھی انہيں سونے اور چاندی کا سکہ ہی سمجھا جاتا ہو توبنابر احتياط ان کی زکات واجب ہے ،ليکن اگر ان سے لين دین کا رواج باقی نہ ہو تو زکات واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ ١٩١٨ جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو ليکن ان ميں سے کوئی بھی نصاب تک نہ پهنچا ہو مثلاً ١٠ ۴ مثقال چاند ی اور ١ ۴ مثقال سونا ہو تو اس پر زکات واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ١٩١٩ جيسا کہ پهلے بھی بيان ہوا، سونے اور چاندی کی زکات اس صورت ميں واجب ہوتی ہے کہ جب انسان گيارہ مهينے مسلسل نصاب کی مقدار کا مالک ہو،لہٰذا اگر گيارہ مهينے کے دوران اس کا سونا اور چاندی پهلے نصاب سے بھی کم ہو جائے تو اس پر زکات واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٩٢٠ اگر گيارہ مهينوں کے دوران ميں جو سونا اور چاندی اس کے پاس ہو انہيں سونے یا چاندی یا کسی اور چيز سے تبدیل کر لے یا انہيں پگهلا لے تواس پر زکات واجب نہيں ، ليکن اگر ان کاموں کوزکات سے بچنے کے لئے انجام دیا ہو تو احتياط مستحب یہ ہے کہ زکات دے۔


مسئلہ ١٩٢١ اگر بارہویں مهينے ميں سونے اور چاندی کے سکوں کو پگهلا دے تو ان کی زکات دینا ضروری ہے اور اگر پگهلانے کی وجہ سے ان کی قيمت یا وزن کم ہو جائے تو ضروری ہے کہ پگهلانے سے پهلے جو زکات اس پر واجب تھی اسے ادا کرے۔

مسئلہ ١٩٢٢ جو سونا اور چاندی اس کے پاس موجود ہو اگر اس ميں اعلیٰ اور گھٹيا دونوں قسميں ہوں تو اعلیٰ اور گھٹيا ميں سے ہر ایک کی زکا ت خود ان سے دے سکتا ہے ،ليکن بہتر یہ ہے کہ ان تمام کی زکات اعلیٰ سونے اور چاندی سے دے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ ان تمام کی زکات گھٹيا قسم سے نہ دے۔

مسئلہ ١٩٢٣ جس سونے اور چاندی کے سکوں ميں دوسری کوئی دهات معمول سے زیادہ ملی ہوئی ہو اگر انہيں سونے اور چاندی کے سکے کها جائے تو اس صورت ميں کہ جب خالص سونا اور چاندی نصاب کی حد تک پهنچ جائے اس پر زکات واجب ہو گی،اسی طرح اگر خالص سونا اور چاندی نصاب کی حد تک نہ پهنچے ليکن وہ سکے خود نصاب کی حد تک پهنچ رہے ہوں تو احتيا ط واجب یہ ہے کہ ان کی زکات ادا کی جائے،ليکن اگر انہيں سونے اور چاندی کے سکے ہی نہ کها جائے تو اگرچہ ان کی خالص مقدار نصاب کی حد تک پهنچ بھی جائے،اقویٰ یہ ہے کہ ان پر زکات واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٩٢ ۴ سونے اور چاندی کے جو سکے انسان کے پاس ہوں اگر ان ميں دوسری دهات معمول کے مطابق ملی ہوئی ہو تو وہ یہ نہيں کر سکتا کہ ان کی زکات ایسے سونے اور چاندی کے سکوں سے دے جن ميں دوسری دهات معمول کی مقدار سے زیادہ ملی ہو ليکن اگر اس قدر دے دے کہ اسے یقين ہو جائے کہ ان سکوں ميں موجود خالص سونا اور چاندی اس پر واجب شدہ زکات کے اندازے کے برابر ہے تو کوئی حرج نہيں ۔ اسی طرح اس صورت ميں کہ ان کی قيمت اس پر واجب شدہ زکات کے برابر ہو اور وہ انہيں واجب زکات کی قيمت کے اعتبار سے دے تب بھی کوئی حرج نہيں ۔

اونٹ،گائے اور بھيڑکی زکات

مسئلہ ١٩٢ ۵ اونٹ،گائے اور بھيڑ کی زکات ميں بيان شدہ شرائط کے علاوہ دو شرائط اور بھی ہيں :

١) جانورپورے سال بيکار رہا ہو،البتہ اگر پورے سال ميں ایک دو دن کام کيا بھی ہو تو اقویٰ یہ ہے کہ ان پر زکات واجب ہے ۔

٢) یہ کہ سار اسال وہ بيابان سے چارہ کھائے،لہٰذا اگر پورے سال یا ان کے کچھ حصے ميں کٹائی کيا ہوا چارہ کھائے یا اس زراعت سے ،جو اِن کے مالک یا کسی اور کی ملکيت ہو چارہ کھائے تو اس کی زکات نہيں ،البتہ اگر پورے سال کے دوران ایک دودن مالک کے چارے سے کھائے تو اقویٰ یہ ہے کہ ان پر زکات واجب ہے ۔


مسئلہ ١٩٢ ۶ اگر انسان اپنے اونٹ،گائے اور بھيڑکے لئے کسی ایسی چراگاہ کو جسے کسی نے کاشت نہ کيا ہو خریدے یا کرائے پر لے تو احتياطِ واجب کی بنا پر ان کی زکا ت دے،ليکن اگر اس ميں چرانے کے لئے خراج (محصول) دینا پڑا ہو تو زکات واجب ہے ۔

اونٹ کا نصاب

مسئلہ ١٩٢٧ اونٹ کے بارہ نصاب ہيں :

۵ عدد کہ جن کی زکات ایک بھيڑ ہے اور جب تک اونٹوں کی تعداد اس مقدار تک نہ (١

پهنچے اس پر زکات نہيں ۔

١٠ عدد اور ان کی زکات ٢ بھيڑیں ہيں ۔ (٢

١ ۵ عدد اور ان کی زکات ٣ بھيڑیں ہيں ۔ (٣

٢٠ عدد اور ان کی زکات ۴ بھيڑیں ہيں ۔ ( ۴

٢ ۵ عدد اور ان کی زکات ۵ بھيڑیں ہيں ۔ ( ۵

٢ ۶ عدداور ان کی زکات ایک ایسی اونٹنی ہے جو دوسرے سال ميں داخل ہو گئی ہو۔ ( ۶

٣ ۶ عدداور ان کی زکات ایک ایسی اونٹنی ہے جو تيسرے سال ميں داخل ہو گئی ہو۔ (٧

۴۶ عدداور ان کی زکات ایک ایسی اونٹنی ہے جو چوتھے سال ميں داخل ہو گئی ہو۔ (٨

۶ ١ عدد اور ان کی زکا ت ایک ایسی اونٹنی ہے جو پانچویں سال ميں داخل ہو گئی ہو۔ (٩

٧ ۶ عدد اور ان کی زکات دو ایسی اونٹنياں ہيں جو تيسرے سال ميں داخل ہو گئی ہوں۔ (١٠

٩١ عدد اور ان کی زکات دو ایسی اونٹنياں ہيں جو چوتھے سال ميں داخل ہو گئی ہوں۔ (١١

١٢١ عدداور ان سے زیادہ کہ ان ميں ضروری ہے کہ یا چاليس چاليس ( ۴ ٠، ۴ ٠ )عدد کا (١٢

حساب کيا جائے اور ہر چاليس عدد کے لئے ایک ایسی اونٹنی دے جو تيسرے سال ميں داخل ہو گئی ہو یا پچاس پچاس( ۵ ٠، ۵ ٠ )عدد کا حساب کيا جائے اور ہر پچاس عدد کے ليے ایک ایسی اونٹنی د ے جو چوتھے سال ميں داخل ہو گئی ہو یا چاليس اور پچاس کا حساب کرے ليکن ہر صورت ميں اس طرح حساب کرنا ضروری ہے کہ کوئی چيز باقی نہ رہے یا اگر کوئی چيز باقی رہ بھی جائے تو نو( ٩)عدد سے زیادہ نہ ہو مثال کے طور پر اگر اس کے پاس ١ ۴ ٠ اونٹ ہوں تو ١٠٠ اونٹوں کے لئے دو ایسی اونٹنياں دے جو چوتھے سال ميں داخل ہو چکی ہوں،اور چاليس اونٹوںکے لئے ایک ایسی اونٹنی دے جو تيسرے سال ميں داخل ہو چکی ہو۔زکات ميں جو اونٹ دیا جائے اس کا مادہ ہونا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١٩٢٨ دونصابوں کی درميانی تعداد پر زکات واجب نہيں ہے ،لہٰذا اگر اس کے اونٹوں کی تعدادپانچ سے زیادہ ہو جائے جو کہ پهلا نصاب ہے تو جب تک یہ تعداد دس تک نہ پهنچے جو کہ دوسرا نصاب ہے ضروری ہے کہ ان ميں سے صرف پانچ اونٹوں کی زکات دے۔ بعد کے نصابوں کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

گائے کا نصاب

مسئلہ ١٩٢٩ گائے کے دو نصاب ہيں :

١) گائے کا پهلا نصاب تيس ( ٣٠ ) عدد ہے یعنی جب گائے کی تعداد ٣٠ ہو تو بيان شدہ شرائط کے موجود ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ ایک بچهڑا جو دوسرے سال ميں داخل ہو گيا ہو زکات کے طور پر دے جو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نرہو۔ یهی حکم(احتياطِ واجب کی بنا پر بچهڑے کا نرَ ہونا)ہر اس مقام پر ہے جب ایسا بچهڑا دینا ضروری ہو جو دوسرے سال ميں داخل ہو گيا ہو مگر یہ کہ ان کی تعداد ٩٠ تک پهنچ جائے کہ بنابر احتياطِ واجب ضروری ہے کہ تين مادہ بچهيا جو دوسرے سال ميں داخل ہو چکی ہوں زکات کے طور پر دی جائيں۔ -

٢) گائے کا دوسرا نصاب چاليسگائيں ہے اور ان کی زکات ایک مادہ بچهيا ہے کہ جو تيسرے سال ميں داخل ہو چکی ہو۔

تيس اور چاليس کی درميانی مقدار پر زکات واجب نہيں ۔ مثال کے طور پر جس کے پاس ٣٩ گائيں ہوں اس پر صرف ٣٠ عدد کی زکات دینا ضروری ہے ،نيز اگر اس کے پاس چاليس سے زیادہ گائيںہوں تو جب تک یہ مقدار ۶ ٠ تک نہ پهنچے ضروری ہے کہ ان ميں سے چاليس عددکی زکات دے اور جب یہ تعداد ۶ ٠ تک پهنچے تو چونکہ اب اس کے پاس پهلے نصاب کے دو برابر گائيں ہيں ، لہٰذا ضروری ہے کہ دو ایسے بچهڑے دے جو دوسرے سال ميں داخل ہو گئے ہوں اور اسی طرح جس قدر تعداد بڑھتی جائے ضروری ہے کہ ٣٠،٣٠ یا ۴ ٠، ۴ ٠ یا ٣٠ اور ۴ ٠ کاحساب کرے اور بيان کئے گئے طریقے کے مطابق ان کی زکات دے ليکن اس طرح حساب کرنا ضروری ہے کہ کوئی چيز باقی نہ رہے یا جوچيز باقی رہ جائے وہ نو( ٩) عد د سے زیادہ نہ ہو،مثلاًاگر اس کے پاس ٧٠ گائيںهو تو ضروری ہے کہ ان کی زکات ٣٠ اور ۴ ٠ کے حساب سے نکالے یعنی ٣٠ عدد کے لئے ٣٠ کی زکات اور ۴ ٠ عددکے لئے ۴ ٠ کی زکات دے اس ليے کہ اگر صرف ٣٠ عد د کے اعتبار سے حساب کرے گا تو دس عدد گائيں بغير زکات دئے رہ جائيں گی۔

بھيڑ کا نصاب

مسئلہ ١٩٣٠ بھيڑ کے پانچ نصاب ہيں :

۴ ٠ عدد اور ان کی زکات ایک بھيڑ ہے اور جب تک بھيڑیں چاليس نہ ہو جائيں ان پر (١

زکات واجب نہيں ۔


١٢١ عدد اور ان کی زکات ٢بھيڑیں ہيں ۔ (٢

٢٠١ عدد اور ان کی زکات ٣ بھيڑیں ہيں ۔ (٣

٣٠١ عدد اور ان کی زکات ۴ بھيڑیں ہيں ۔ ( ۴

۴ ٠٠ یا اس سے زیادہ ہيں کہ جن کو سو سو عدد کر کے حساب کيا جائے گا اور ان ميں ( ۵

سے ہر سو عدد کے لئے ایک بھيڑ دینا ضروری ہے ۔ اور ضروری نہيں ہے کہ زکات کو خودانهی بھيڑوں ميں سے دے،بلکہ اگر کوئی دوسری بھيڑ دے دے یا اس کی قيمت کے مطابق رقم دے دے تو بھی کافی ہے ۔

مسئلہ ١٩٣١ دو نصابوں کی درميانی تعداد پر زکا ت واجب نہيں ہے ،پس اگر کسی کی بھيڑوں کی تعداد پهلے نصاب سے جو کہ چاليس ہے زیادہ ہو تو جب تک دوسرے نصاب تک، جو کہ ایک سو اکيس ہے ، نہ پهنچے ان ميں سے صرف چاليس عدد کی زکات دینا اس کے لئے ضروری ہے اور ان سے زیادہ پر زکات نہيں ۔بعد کے نصابوں ميں بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٩٣٢ نصاب کی مقدار تک پهنچنے والے اونٹ،گائے اور بھيڑ پر زکات واجب ہے خواہ وہ تمام نر ہوں یا مادہ یا کچھ نر ہوں اور کچھ مادہ۔

مسئلہ ١٩٣٣ زکات واجب ہونے ميں گائے اور بهينس ایک جنس شمار ہوتی ہيں اور عربی اور غير عربی اونٹ ایک جنس ہيں اور اسی طرح بکری،بھيڑ اور مينڈها آپسميں کوئی فرق نہيں رکھتے۔

مسئلہ ١٩٣ ۴ اگر زکات کے لئے بھيڑ دے تو بنابر احتياط ضروری ہے کہ کم ازکم دوسرے سال ميں داخل ہو گئی ہو اور اگر بکری دے تو بنا براحتياط ضروری ہے کہ تيسرے سا ل ميں داخل ہو چکی ہو۔

مسئلہ ١٩٣ ۵ جس بھيڑ کو زکات کی بابت دے رہا ہو اگر اس کی قيمت دوسری بھيڑوں کے مقابلے ميں کچھ کم ہو تو کوئی حرج نہيں ، ليکن بہتر ہے کہ ایسی بھيڑ دے جس کی قيمت اس کی تمام بھيڑوں سے زیادہ ہو۔ یهی حکم گائے اور اونٹ کے بارے ميں ہے ۔

مسئلہ ١٩٣ ۶ اگر کئی افراد آپس ميں شریک ہوں تو ان ميں سے جس کا حصہ پهلے نصاب تک پهنچ جائے ضروری ہے کہ زکات دے اور جس کا حصہ پهلے نصاب سے کم ہو اس پر زکات واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٩٣٧ اگر ایک شخص کے پاس چند مختلف جگہوں ميں گائے، اونٹ یا بھيڑیں ہوں اور ان سب کی مقدار مل کر نصاب تک پهنچ جاتی ہو تو ضروری ہے کہ ان کی زکات دے۔

مسئلہ ١٩٣٨ گائے،بھيڑ یا اونٹ، جو کسی شخص کے پاس ہيں خواہ وہ بيمار یانقص والے ہوں،ان کی زکات دینا ضروری ہے ۔


مسئلہ ١٩٣٩ اگر جو گائے،بھيڑ اور اونٹ اس کے پاس ہيں وہ سب بيمار یا نقص دار یا بوڑھے ہو ں تو ان کی زکات کا جانور وہ خود ان ميں سے دے سکتا ہے ،ليکن اگر سب سالم، بے عيب اور جوان ہوں تو ان کی زکات ميں بيمار یا نقص دار یا بوڑھا جانور نہيں دے سکتا،بلکہ اگر ان ميں سے کچھ سالم اور کچھ مریض،کچه نقص دار اور کچھ بے عيب اور کچھ بوڑھے اور کچھ جوان ہوں تو ضروری ہے کہ ان کی زکات کے لئے سالم،بے عيب اور جوان جانور دے۔

مسئلہ ١٩ ۴ ٠ اگر گيارہواں مهينہ ختم ہونے سے پهلے موجودہ گائے،بھيڑ اور اونٹ کو کسی دوسری چيز سے تبدیل کر دے یا جو نصاب اس کے پاس ہو اسے اسی جنس کے نصاب کی مقدار سے تبدیل کرے،مثلاً چاليس بھيڑیں دے اور چاليس بھيڑ یں ہی لے لے تو ان پر زکات واجب نہيں ۔

مسئلہ ١٩ ۴ ١ جس شخص پر گائے،بھيڑ اور اونٹ کی زکات ادا کرنا ضروری ہو اگر وہ ان کی زکات کو اپنے دوسرے مال سے دے تو جب تک ان جانوروں کی تعداد نصاب سے کم نہ ہو ہر سال زکات دینا ضروری ہے اور اگر ان کی زکات خود ان جانوروں ميں سے دے اور وہ پهلے نصاب سے کم ہو جائيں تو اس پر زکات واجب نہيں ہو گی مثلاًجس کے پاس چاليس بھيڑیں ہوں اگر وہ اپنے دوسرے مال سے ان کی زکات دے دے تو جب تک اس کی بھيڑیں چاليس سے کم نہ ہوںضروری ہے کہ ہر سال ایک بھيڑ دے اور اگر خود ان ميں سے دے دے تو جب تک دوبارہ چاليس تک نہ پهنچ جائيں اس پر زکات واجب نہيں ہو گی۔

زکات کا مصرف

مسئلہ ١٩ ۴ ٢ زکات کو آٹھ مقامات پر استعمال کيا جا سکتا ہے :

١) فقير: فقير وہ شخص ہے کہ جس کے پاس خود اپنے اور اپنے اہل وعيال کے سال بھر کے اخراجات نہ ہوں،اور وہ شخص کہ جس کے پاس کوئی ایسی صنعت،ملکيت یا سر مایہ ہو کہ جس سے وہ اپنے سال بھر کے اخراجا ت کو چلا سکے تو وہ فقير نہيں ہے ۔

٢) مسکين : یہ وہ شخص ہے کہ جو فقير سے بھی زیادہ سخت زندگی گزار رہا ہو۔

٣) وہ شخص جو امام عليہ السلام یا نائب امام عليہ السلام کی طرف سے زکات کی جمع آوری،اس کی نگرانی،اس کے حساب کی جانچ پڑتال اور اسے امام عليہ السلام یا نائب امام عليہ السلام یا فقراء تک پهنچانے پر مامور ہو۔

۴) ایسے مسلمان جو خداوند تعالیٰ کی وحدانيت اور حضورِ اکرم(ص) کی رسالت کی گواہی دیتے ہيں ليکن راہِ اسلام ميں ثابت قدم نہيں ہيں ، تاکہ انہيں زکات دے کر ان کے ایمان کو مضبوط کيا جائے۔ البتہ جب کسی جگہ فقير ہو او ر کيفيت یہ ہو کہ زکات یا فقير کو دی جا سکتی ہو یا ایسے مسلمانوں کو تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ فقير کو دی جائے اور ساتویں مورد ميں بھی اس احتياط کا خيال رکھنا ضروری ہے ۔


۵) ایسے مسلمان غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کے لئے جو سختی ميں مبتلا ہوں۔ اسی طرح اگر زکات کا کوئی مصرف نہ ہو تو ایسے غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کے لئے بھی جو سختی ميں نہ ہوں۔

۶) وہ مقروض جو اپنا قرض ادا نہ کر سکتا ہو جب کہ اسے گناہ کے کام ميں خرچ نہ کيا ہو۔

٧) فی سبيل الله یعنی وہ نيک امور کہ جن کو قصد قربت سے انجام دیا جا سکتا ہے اور احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ امور عمومی مصلحت رکھتے ہوں جيسے مسجد و دینی مدرسے بنانا،هسپتال تعمير کروانا،بوڑہوں کے لئے آسایشگاہ بنوانا اور اسی طرح کے دوسرے کام۔

٨) ابن السبيل، یعنی وہ مسافر جو سفر ميں رہ گيا ہو۔

ان کے احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

مسئلہ ١٩ ۴ ٣ احتياطِ واجب یہ ہے کہ فقير اور مسکين اپنے اور اپنے اہل و عيا ل کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ زکات نہ ليں اور اگر ان کے پاس کچھ رقم یا سامان موجود ہو تو صرف اپنے سال بھر کے کم پڑنے والے اخراجات ليں۔

مسئلہ ١٩ ۴۴ جس شخص کے پاس اپنے سال بھر کے اخراجات کے لئے مال موجود ہو اگر وہ اس ميں سے کچھ خرچ کر دے اور بعد ميں شک کرے کہ باقی ماندہ مال اس کے ایک سال کے اخراجات کے برابرہے یا نہيں تو وہ زکات نہيں لے سکتا۔

مسئلہ ١٩ ۴۵ جس صنعت گر،مالک یا تاجر کی آمدنی اس کے سال بھر کے اخراجات سے کم ہو وہ اپنے کم پڑنے والے اخراجات کے لئے زکات لے سکتا ہے اور ضروری نہيں ہے کہ کام کے اوزار یا ملکيت یا اپنے سرمائے کو اپنے اخراجات ميں استعمال کرے۔

مسئلہ ١٩ ۴۶ جس فقير کے پاس اپنے سال بھر کا خرچ نہ ہو اگر اس کے پاس کوئی ایسا گھر ہو جو اس کی ملکيت ہو اور وہ اس ميں رہتا ہو یا سواری کا ذریعہ رکھتا ہو تو اگر ان کے بغير زندگی بسر نہ کر سکتا ہو،چاہے اپنی آبرو کی حفاظت کے لئے ہی سهی،وہ زکات لے سکتا ہے اور یهی حکم اس کے گھر کے سامان،برتن،گرمی و سردی کے لباس اور ضرورت کی باقی چيزوں کے بارے ميں ہے ،اور جس فقير کے پاس یہ سب کچھ نہ ہو اگر وہ ان کی احتياج رکھتا ہو توزکات سے ان چيزوں کو خرید سکتاہے۔

مسئلہ ١٩ ۴ ٧ جس فقير کے لئے هنر کا سيکهنا مشکل نہ ہو ضروری ہے کہ سيکهے اور زکات لے کر زندگی بسر نہ کرے، ليکن جب تک سيکهنے ميں مشغول ہو زکات لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩ ۴ ٨ جو شخص پهلے فقير تھا اور کہتا ہو کہ ميں فقير ہوں جب کہ اس کے فقر کے ختم ہونے کا شک ہو تو اگرچہ اس کے کهنے سے اطمينان حاصل نہ ہو،اسے زکات دی جا سکتی ہے اور جس کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ فقير تھا یا نہيں اور وہ کهے کہ ميں فقير ہوں،اگر اس کے کهنے سے اطمينان حاصل نہ ہو تو بنا بر احتياطِ واجب اسے زکات نہيں دی جاسکتی۔


مسئلہ ١٩ ۴ ٩ جو شخص فقر کا اظهار کرتا ہو جب کہ وہ پهلے فقير نہيں تھا تو اگر اس کے کهنے سے اطمينان حاصل نہ ہو تو اسے زکات نہيں دی جا سکتی۔

مسئلہ ١٩ ۵ ٠ جس شخص پر زکات واجب ہو چکی ہو اور کوئی فقير اس کا مقروض ہو،وہ قرض کی اس مقدار کو زکات کی نيت سے حساب کر سکتا ہے ،ليکن اگر جانتا ہو کہ فقير نے اس مال کو گناہ ميں خرچ کر دیا ہے تو قرض کی ادائيگی کے لئے دی جانے والی زکات سے حساب نہيں کر سکتا۔

مسئلہ ١٩ ۵ ١ اگر فقير مر جائے اور ا س کا مال اس کے قرض کے برابر نہ ہو تو انسان اپنے مطلوبہ قرض کی مقدار کو زکات کی بابت ميں حساب کر سکتا ہے ۔ ليکن اگر جانتا ہو کہ فقير نے اس مال کو گناہ ميں خرچ کيا ہے تو وہ اپنے مطلوبہ قرض کو قرض کی ادائيگی کے لئے دی جانے والی زکات سے حساب نہيں کر سکتا ہے ۔

اور اگر ميت کا مال اس کے قرضے کے برابر ہو اور اس کے وارث اس کا قرض نہ دیں یا کسی اور وجہ سے انسان اپنا قرضہ واپس نہ لے سکتا ہو تو بنابر احتياطِ واجب ضروری ہے کہ اپنا قرضہ زکات کی بابت ميں حساب نہ کرے۔

مسئلہ ١٩ ۵ ٢ انسان زکات کے عنوان سے جو چيز فقير کودے رہا ہو ضروری نہيں ہے کہ اسے بتائے کہ یہ زکات ہے ، بلکہ اگر فقير شرم محسوس کر رہا ہو تو مستحب ہے کہ اس بات کا اظهار کئے بغير زکات کی نيت سے دے دے۔

مسئلہ ١٩ ۵ ٣ اگر کسی کو فقير سمجھتے ہوئے زکات دے دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ وہ فقير نہيں تھا یامسئلہ کی لاعلمی کی بنا پر کسی ایسے شخص کو زکات دے دے جس کے بارے ميں جانتا ہو کہ فقير نہيں ہے ،چنانچہ دیا گيا مال اگر باقی ہو تو ضروری ہے کہ اس سے مال واپس لے کر مستحق کو دے دے اور اگر واپس نہ لے سکے تو اس زکات کا عوض اپنے مال سے دے اور اگر دیا گيا مال ختم ہو چکا ہو تو اگر زکات لينے والا جانتا تھا کہ یہ زکات ہے تو انسان اس شخص سے عوض لے کر فقير کو دے سکتا ہے ليکن اگر وہ یہ نہيں جانتا تھاکہ یہ زکات ہے تو اس سے کوئی چيز نہيں لے سکتا بلکہ ضروری ہے کہ اس زکات کا عوض اپنے مال سے مستحق تک پهنچائے۔

مسئلہ ١٩ ۵۴ جو شخص مقروض ہواور اپنا قرض ادا نہ کر سکتا ہو اگرچہ ا س کے پاس سال بھر کے اخراجات ہوں وہ اپنے قرض کی ادائيگی کے لئے زکات لے سکتا ہے ليکن ضروری ہے کہ جو مال بطور قرضہ ليا ہو اسے معصيت ميں خرچ نہ کيا ہو۔

مسئلہ ١٩ ۵۵ اگر انسان کسی ایسے مقروض شخص کو زکات دے دے جو قرض کو ادا نہ کر سکتا ہو اور بعد ميں معلوم ہو کہ اس نے قرض کو معصيت ميں خرچ کيا تھا تو اگر وہ مقروض فقير ہو تو جو زکات اسے دی ہے ،اسے فقراء کو دی جانے والی زکات کی بابت حساب کر سکتا ہے ۔


مسئلہ ١٩ ۵۶ جو شخص مقروض ہو اور قرض ادا نہ کر سکتا ہو اگرچہ وہ فقير نہ بھی ہو توبهی انسان اپنے مطلوبہ قرض کو زکات کی بابت حساب کر سکتا ہے ،ليکن فقير نہ ہونے کی صور ت ميں اگر جانتا ہو کہ اس نے قرضہ لئے ہوئے مال کو معصيت ميں خرچ کيا ہے تو اسے زکات کی بابت حساب نہيں کر سکتا۔

مسئلہ ١٩ ۵ ٧ جس مسافر کا خرچہ ختم ہو گيا ہو یا اس کی سواری بيکار ہو گئی ہو، اگر اس کا سفر معصيت کا سفر نہ ہو اور قرض لے کر یا کسی چيز کو بيچ کراپنے آپ کو منزلِ مقصود تک نہ پهنچا سکتا ہو،اگرچہ اپنے وطن ميں وہ مسافر فقير نہ ہو پھر بھی زکات لے سکتا ہے ،ليکن اگر کسی دوسرے مقام پر پهنچ کر قرضہ لے سکتا ہو یا اپنی کسی چيز کو بيچ کرزادِسفر مهيا کر سکتا ہو تو صرف اتنی مقدار ميں زکات لے سکتاہے جس سے وہ اس مقام تک پهنچ جائے۔

مسئلہ ١٩ ۵ ٨ جس مسافر نے سفر ميں رہ جانے کی وجہ سے زکات لی ہو اگر اپنے وطن پهنچنے کے بعد مالِ زکات ميں سے کوئی چيز بچ جائے تو اگر وہ مال، زکات دینے والے کو نہ لوٹا سکتا ہو یا اس تک مال پهنچانے ميں مشقت کا سامنا ہو تو ضروری ہے کہ حاکم شرع کویہ بتا کر دے دے کہ یہ مال زکات ہے ۔

مستحقين زکات کی شرائط

مسئلہ ١٩ ۵ ٩ زکات لينے والے شخص کاشيعہ اثنا عشری ہونا ضروری ہے ،لہٰذا اگر کسی کو شيعہ اثنا عشری سمجھتے ہوئے زکات دے دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ وہ شيعہ نہيں تھا تو ضروری ہے کہ دوبارہ زکات دے۔

مسئلہ ١٩ ۶ ٠ اگر کوئی شيعہ اثنا عشری بچہ یا دیوانہ فقير ہو تو انسان اس کے ولی کو اس نيت سے کہ دی جانے والی چيز بچے یا دیوانے کی ملکيت ہو، زکات دے سکتا ہے اور ولی کے ليے بھی ضروری ہے کہ اسی نيت سے زکات لے۔

مسئلہ ١٩ ۶ ١ اگر بچے یا دیوانے کے ولی تک رسائی نہ رکھتا ہو تو وہ خود یا کسی امين شخص کے ذریعے زکات کو بچے یا دیوانے کے مصرف ميں لا سکتا ہے اور ضروری ہے کہ جس وقت زکات ان کے مصرف ميں لائی جا رہی ہو اس وقت زکات کی نيت کرے اور اگر بچے یا دیوانے کے ولی تک رسائی رکھتا ہو تو بنابر احتياطِ واجب ولی کے ذریعے یا اس کی اجازت سے ان کے لئے خرچ کرے۔

مسئلہ ١٩ ۶ ٢ بهيک مانگنے والے فقير کو زکات دی جاسکتی ہے ليکن جو فقير زکات کو معصيت ميں خرچ کرتا ہو اسے زکات نہيں دی جاسکتی۔

مسئلہ ١٩ ۶ ٣ کهلم کهلا گناہ کبيرہ انجام دینے والے،بے نمازی اور احتياطِ واجب کی بنا پرشرابی کو زکات نہيں دی جا سکتی۔


مسئلہ ١٩ ۶۴ جو مقروض اپنے قرض کو ادا نہ کر سکتا ہو اگرچہ اس کے اخراجات انسان پر واجب ہوں،اس کے قرض کو زکات سے ادا کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩ ۶۵ انسان ایسے افراد کے اخراجات کو جن کا خرچہ اس پر واجب ہو جيسے اولاد ،زکات سے نہيں دے سکتا ليکن اگر ان کے اخراجات نہ دے تو دوسرے انہيں زکات دے سکتے ہيں ۔

مسئلہ ١٩ ۶۶ اگر انسان اپنے بيٹے کو اس کی بيوی،نوکراور نوکرانی کا خرچہ چلانے کے لئے زکات دے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ١٩ ۶ ٧ اگر بيٹے کو دینی اور علمی کتابوں کی ضرورت ہو تو باپ ان کو زکات سے خرید کربيٹے کو استفادہ کے لئے دے سکتا ہے اور اگر سبيل الله کے حصے ميں سے خرید نا چاہے تو بنا براحتياط ضروری ہے کہ اس ميں عمومی مصلحت ہو۔

مسئلہ ١٩ ۶ ٨ باپ،شادی کی ضرورت رکھنے والے بيٹے کو شادی کرنے کے ليے اپنی زکات دے سکتا ہے ۔ بيٹے کے لئے باپ کی بہ نسبت بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ١٩ ۶ ٩ ایسی عورت کو جس کا شوہر اس کے اخراجات دیتا ہو یا نہ دیتا ہو ليکن وہ اسے اخراجات دینے پر مجبور کر سکتی ہو،زکا ت نہيں دی جا سکتی۔

مسئلہ ١٩٧٠ جس عورت نے متعہ کيا ہو اگر وہ فقير ہو تو اس کا شوهراور دوسرے افراد اسے زکات دے سکتے ہيں ،ليکن اگر اس کے شوہر نے عقد کے ضمن ميں شرط رکھ دی ہو کہ وہ اس کے اخراجات بھی برداشت کرے گا یا کسی اور وجہ سے اس عورت کے اخراجات دینا شوہر پر واجب ہو تو اگر وہ شوہر اس کے اخراجات دے رہا ہو تو اس عورت کو زکات نہيں دی جا سکتی۔

مسئلہ ١٩٧١ بيوی اپنے فقير شوہر کو زکات دے سکتی ہے اگرچہ شوہر اس زکات کو اسی کے اخراجات ميں صرف کرے۔

مسئلہ ١٩٧٢ سيد،غيرِ سيد سے زکات نہيں لے سکتا ليکن اگر خمس یا اور شرعی اموال اس کے اخراجات کے لئے کافی نہ ہوں اورغير سيد کی زکات لينے پرمجبور ہو تو اپنے روزانہ کے اخراجات کے مطابق زکات لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٧٣ جس شخص کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ سيد ہے یا نہيں اسے زکات دی جا سکتی ہے ۔

زکات کی نيت

مسئلہ ١٩٧ ۴ ضروری ہے کہ انسان زکات کو قصدِ قربت جيسے کہ وضو کے مسائل ميں بيان کيا گيا،اور خلوص کے ساته دے اور نيت ميں معين کرے کہ جو چيز دے رہا ہے وہ مال کی زکات ہے یا فطرہ ہے ۔


مسئلہ ١٩٧ ۵ جس شخص پر چند اموال کی زکات واجب ہو گئی ہو تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ دی جانے والی زکات کے بارے ميں معين کرے کہ کس مال کی زکات ہے ،چاہے زکات کے طور پر رقم دے رہا ہو یا اس مال کی جنس سے ہی زکات دے رہا ہو۔

مسئلہ ١٩٧ ۶ اگر کوئی شخص کسی کو اپنا وکيل بنائے کہ وہ اس کے مال کی زکات نکالے تو وکيل کے لئے ضروری ہے کہ فقير کو زکات دیتے وقت مالک کی جانب سے زکات کی ادائيگی کی نيت کرے اور احتياط یہ ہے کہ اس وقت مالک بھی زکات کی ادائيگی کی نيت کئے ہوئے ہو۔

اور اگر مالک کسی کو وکيل بنائے کہ جو زکات تمہيں دے رہا ہو ں اسے فقير تک پهنچا دو تو ضروری ہے کہ مالک اس وقت نيت کرے جب وکيل فقير کو زکات دے رہا ہو اور احتياط مستحب یہ ہے کہ وکيل کو زکات دیتے وقت ہی نيت کرلے اور زکات کے فقير تک پهنچنے تک اپنی نيت پر باقی رہے۔

مسئلہ ١٩٧٧ اگر قصدِ قربت کے بغير زکات فقير کو دے دے اور مال کے تلف ہونے سے پهلے زکات کی نيت کر لے تو وہ زکات شمار ہو گی۔

زکات کے متفرق مسائل

مسئلہ ١٩٧٨ انسان کے لئے ضروری ہے کہ جو اور گندم کو بهوسے سے الگ کئے جانے کے وقت اور کھجور و انگور کے خشک ہونے کے موقع پران چيزوں کی زکات فقيرکو دے دے یا اپنے مال سے جدا کرلے اورسونے، چاندی، گائے، بھيڑ اور اونٹ کی زکات گيارہواں مهينہ مکمل ہونے پر فقير کو دے دے یا اپنے مال سے الگ کر لے۔اور اگر کسی خاص فقير کا منتظر ہو یا کسی ایسے فقير کو زکات دینا چاہتا ہو جو کسی اعتبار سے دوسروں پر برتری رکھتا ہو تو وہ یہ کر سکتا ہے کہ زکات کو الگ نہ کرے،بشرطيکہ اسے لکھ کر محفوظ کرلے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ تين مهينے سے زیادہ تاخير نہ کرے۔

مسئلہ ١٩٧٩ زکات کو الگ کر لينے کے بعد فوری طور پر اسے مستحق کو دینا ضروری نہيں ،ليکن اگر کسی ایسے شخص تک دسترسی رکھتا ہو جسے زکات دی جا سکے تو احتياطِ مستحب یہ ہے کہ زکات دینے ميں تاخير نہ کرے۔

مسئلہ ١٩٨٠ جو شخص زکات کو مستحق تک پهنچا سکتا ہو اگر نہ پهنچائے اور اس کی کوتاہی کی وجہ سے زکات تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ١٩٨١ جو شخص زکات کو مستحق تک پهنچا سکتا ہو اگر نہ پهنچائے، تو اس صورت ميں کہ اس کی نگرانی ميں کوتاہی نہ کرے اور کسی شرعی مقصد کی وجہ سے زکات نہ پهنچائی ہو مثلا یہ کہ وہ کسی افضل مصرف یا کسی معين فقير کا منتظر ہو تو ضامن نہيں ہے جب کہ اس صورت کے علاوہ ضامن ہے ۔


مسئلہ ١٩٨٢ اگر زکات کو مال سے جدا کر لے تو بقيہ مال ميں تصرف کر سکتا ہے اور اگر کسی دوسرے مال سے جدا کر لے تو تمام مال ميں تصرف کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٨٣ انسان جس زکات کو عليحدہ کرچکا ہو اسے اپنے لئے لے کر اس کی جگہ کوئی دوسری چيز نہيں رکھ سکتا۔

مسئلہ ١٩٨ ۴ اگر عليحدہ رکھی گئی زکات سے کوئی فائدہ حاصل ہو مثلاً جس بھيڑکو زکات کے لئے رکھا تھا وہ بچہ دے تو وہ فقير کا مال ہے ۔

مسئلہ ١٩٨ ۵ اگر زکات کو عليحدہ کرتے وقت کوئی مستحق حاضر ہو تو بہترہے کہ وہ زکات اس کو دے دے، مگر یہ کہ کوئی ایسا شخص اس کی نظر ميں ہو جسے زکات دینا کسی اعتبار سے بہتر ہو۔

مسئلہ ١٩٨ ۶ اگر حاکمِ شرع کی اجازت کے بغير زکات کے لئے عليحدہ رکھے گئے مال سے تجارت کرے اور اسے نقصان ہو جائے تو اگر اس نے ذمہ پر سودا کيا ہو اور اس مال کو مافی الذمہ کی نيت سے دے تو نقصا ن مالک کا مانا جائے گا اور وہ زکات کا ضامن ہے اور اگر سودا عينِ مال پر واقع ہو ا ہو تو سودا باطل ہے اور حاکمِ شرع کی اجازت سے بھی صحيح نہيں ہو سکتا۔

اور اگر اسے فائدہ حاصل ہو تو اگر سودا ذمہ پر ہو اور اس مال کو مافی الذمہ ادا کرنے کی نيت سے دیا ہو تو فائدہ اس کا ہے اور وہ زکات کا ضامن ہے ۔ جب کہ اگر سودا عين مال پر ہوا ہو اور حاکم شرع اس کی اجازت دے دے تو ضروری ہے کہ سارا منافع فقير کو دے۔

مسئلہ ١٩٨٧ اگر زکات واجب ہونے سے پهلے کوئی چيز زکات کی بابت فقير کو دے تو وہ زکات نہيں مانی جائے گی۔ ہاں،زکات واجب ہونے کے بعد اگر فقير کو دی گئی چيز تلف نہ ہوئی ہو اور فقير بھی اپنے فقر پر باقی ہو تو اسے دی جانے والی چيز کو زکات کی بابت حساب کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٨٨ جو فقير کسی شخص سے یہ جانتے ہوئے کہ اس پر زکات واجب نہيں ہوئی ہے زکات لے لے اور وہ زکات فقير کے پاس تلف ہو جائے تو وہ ضامن ہو گا،لہٰذا جب اس شخص پر زکات واجب ہو اور فقير اپنے فقر پر باقی ہو تو اسے دی جانے والی چيز کے عوض کو زکات کی بابت حساب کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ١٩٨٩ جو فقير نہ جانتا ہو کہ انسان پر زکات واجب نہيں ہوئی ہے اگر وہ کوئی چيز زکات کی بابت لے لے اور وہ اس کے پاس تلف ہو جائے تو وہ ضامن نہيں ہو گا اور انسان اس کے عوض کو زکات کی بابت حساب نہيں کر سکتا۔

مسئلہ ١٩٩٠ مستحب ہے کہ گائے،بھيڑ اور اونٹ کی زکات آبرومند فقيروں کو دے اور زکات دینے ميں اپنے رشتے داروں کو دوسروں پر،اہل علم وکمال کو ان کے علاوہ پر اور دستِ سوال دراز نہ کرنے والوں کو ہاتھ پهيلانے والوں پر مقدم رکھے،ليکن اگر کسی فقير کو زکات دینا کسی اور اعتبار سے بہتر ہو تو مستحب ہے کہ زکات اسے دے۔


مسئلہ ١٩٩١ زکات کو اعلانيہ اور مستحب صدقے کو مخفی طور پر دینا افضل ہے ۔

مسئلہ ١٩٩٢ اگر زکات دینے والے شخص کے شہر ميں نہ کوئی مستحق ہو اور نہ ہی اسے زکات کے لئے مقررہ مصارف ميں سے کسی مصرف ميں لا سکتا ہو،پس اگر اسے بعد ميں کسی مستحق کے مل جانے کی اميد بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ زکات کو دوسرے شہر ميں لے جا کر اس کے مصر ف ميں لائے اور زکات کو اس شہر تک لے جانے کے اخراجات زکات ميں سے نکال سکتا ہے اور احتياطِ واجب یہ ہے کہ حاکمِ شرع کی اجازت سے نکالے اور اگر زکات تلف ہو جائے تو اس صورت ميں کہ اس نے زکات کی حفاظت ميں کوتاہی نہ کی ہو ضامن نہيں ہو گا۔

مسئلہ ١٩٩٣ اگر اپنے شہر ميں مستحق مل جائے تب بھی زکات کو دوسرے شہر ميں لے جا سکتاہے ليکن ضروری ہے کہ دوسرے شہر تک لے جانے کے اخراجات اپنی جيب سے دے اور زکات تلف ہو جانے کی صورت ميں ضامن بھی ہو گا، مگر یہ کہ حاکمِ شرع کی اجازت سے لے گيا ہو۔

مسئلہ ١٩٩ ۴ زکات کے طور پر دی جانے والے گيہوں، جو، کشمش اور کھجور کے ناپ تول کی اجرت دیناخود مالک کی ذمہ داری ہے ۔

مسئلہ ١٩٩ ۵ جو شخص دو مثقال اور ١ ۵ چنے کے برابر یا اس سے زیادہ مقدارکی چاندی زکات کی بابت دینے کا ذمہ دار ہو احتياطِ مستحب یہ ہے کہ ایک فقير کو دو مثقال اور ١ ۵ چنے کے برابر چاندی سے کم نہ دے۔ نيزاگر اس پر چاندی کے علاوہ کوئی دوسری چيز جيسے گندم یا جو واجب ہوں اور اس کی قيمت دو مثقال اور ١ ۵ چنے چاندی کے برابر پهنچ جائے تو احتياطِ مستحب یہ ہے کہ ایک فقير کو اس مقدار سے کم نہ دے۔

مسئلہ ١٩٩ ۶ مکروہ ہے کہ انسان مستحق سے در خواست کرے کہ اس سے لی گئی زکات کو اسی کے ہاتھ فروخت کردے ليکن اگرمستحق لی جانے والی چيز کو فروخت کرنا چاہتا ہو تو قيمت لگانے کے بعد اسے زکات دینے والا اس کو خریدنے ميں دوسروں پر مقدم ہے ۔

مسئلہ ١٩٩٧ اگر انسان شک کرے کہ اس نے واجب شدہ زکات ادا کر دی ہے یا نہيں تو جس مال پر زکات واجب ہوئی تھی اگر وہ موجود ہو تو ضروری ہے کہ زکات ادا کرے خواہ اس کا شک پچهلے سالوں کی زکات کے بارے ميں ہو اور اگر وہ مال تلف ہو چکا ہو تو اس پر زکات نہيں خواہ وہ اسی سال کے بارے ميں ہو۔

مسئلہ ١٩٩٨ فقير یہ نہيں کر سکتا کہ زکات کی مقدار سے کم پر مصالحت کر لے یا کسی چيزکو مهنگی قيمت پر زکات کی بابت قبول کر لے یا زکات کو مالک سے لے کر اسے ہی بخش دے ليکن جس شخص پر زکات واجب ہو اور فقير ہو گيا ہو اور زکات نہ دے سکتا ہو اگر وہ توبہ کرنا چاہتا ہو تو فقيراس سے زکات لے کر اسی کو بخش سکتا ہے ۔


مسئلہ ١٩٩٩ فقهائے کرام اعلیٰ الله مقامهم کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ انسان زکات سے کسی زمين کو وقف کر سکتا ہے یا قرآن یا دینی کتب یا دعاؤں کی کتب کو خرید کر وقف کر سکتا ہے اور اس وقف کا متولی خود کو یا اپنی اولاد کو بنا سکتا ہے ، ليکن حاکمِ شرع سے رجوع کئے بغيرمالک کا وقف اور متولی معين کرنے پر ولایت رکھنا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٠٠٠ انسا ن یہ نہيں کر سکتا کہ زکات سے کوئی ملکيت خریدے اور اپنی اولاد پر یا ان افراد پر جن کے اخراجات اس پر واجب ہيں وقف کر دے تاکہ وہ اس کی آمدنی کو اپنے اخراجات کے لئے استعمال کریں۔

مسئلہ ٢٠٠١ انسان چاہے فقير نہ ہو یا ہو اور سال بھر کے اخراجات کے لئے زکات لے چکاہو،حج و زیارات پر جانے یا ان جيسی چيزوں کے لئے سهمِ سبيل الله سے زکات لے سکتا ہے اور احتياطِ واجب کی بنا پر اطاعت ہونے کے علاوہ معتبر ہے کہ ان امور ميں عمومی مصلحت بھی ہو جيسے مقدساتِ دین کا احترام اور ترویج دین وغيرہ۔

مسئلہ ٢٠٠٢ اگر مالک کسی فقير کو اپنے مال کی زکات کی ادائيگی پر وکيل بنائے اور فقير احتمال دے کہ مالک کی نيت یہ تھی کہ وہ خود ا س زکات سے کچھ نہ لے تو وہ اس زکات سے خود کے لئے کچھ نہيں لے سکتا۔هاں،اگر یقين یا اطمينان رکھتا ہو کہ مالک کی نيت یہ نہيں تھی تو خود اپنے لئے بھی لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٠٠٣ اگر فقير اونٹ،گائے،بھيڑ،سونا یا چاندی زکات کی بابت لے اور زکات واجب ہونے کے مذکورہ شرائط اس مال ميں جمع ہو جائيں تو ضروری ہے کہ ان کی زکات دے۔

مسئلہ ٢٠٠ ۴ اگر دو افراد ایسے مال ميں شراکت دار ہوں جس ميں زکات واجب ہو چکی ہو اور ان ميں سے ایک اپنے حصے کی زکات دے دے اور پھر آپس ميں مال کو تقسيم کر ليں تو جو زکات ادا کر چکا ہے اس کے لئے خود کے حصے ميں تصرف کرنے ميں کوئی حرج نہيں ، چاہے جانتا ہو کہ شریک نے اپنے حصے کی زکات نہيں دی ہے ۔

مسئلہ ٢٠٠ ۵ جس شخص پر خمس یازکات واجب ہو،کفارہ،نذر یا ان جيسی چيزیں بھی اس پر واجب ہوں اور قرض دار بھی ہو اگر وہ ان تمام کو ایک ساته ادا نہ کر سکتا ہوتو جس مال پر خمس یا زکات واجب ہوئی تهی، اگر تلف نہ ہوگيا ہو تو ضروری ہے کہ خمس وزکات ادا کرے اور اگر تلف ہو گيا ہو تو بنا بر احتياطِ واجب مال کو قرض،خمس اور زکات ميں نسبت کے اعتبار سے تقسيم کردے اور ان کی ادائيگی کو کفارے اور نذر کردہ مال کی ادائيگی پر مقدم رکھے۔

مسئلہ ٢٠٠ ۶ جس شخص پر خمس یا زکات واجب ہو، حج بھی اس پر واجب ہو اور مقروض بھی ہو، اگر مرجائے اور اس کا مال ان سب کے لئے کافی نہ ہو،تو جس ما ل پر خمس یا زکات واجب ہوئے تهے اگر وہ تلف نہ ہو ا ہو تو ضروری ہے کہ زکات یا خمس کو ادا کيا جائے اور اس کے باقی مال کو حج اور قرض پر تقسيم کيا جائے۔


اور اگر وہ مال کہ جس پر خمس یا زکات واجب ہو ئی تھی تلف ہو گيا ہو تو اگر وہ صرورہ تھا، یعنی پهلی مرتبہ اس کا حج پر جانا ہو اتها اور حج کے راستے ميں احرام سے پهلے ہی مر گيا، تو ضروری ہے کہ اس کے مال کو حج ميں خرچ کيا جائے اور اگر کچھ مال بچ جائے تو اسے خمس،زکات اور قرض ميں نسبت کے اعتبار سے تقسيم کر دیا جائے اور اس صورت کے علاوہ حج،خمس وزکات پر تو مقدم ہے ليکن اس کا قرض پر مقدم ہونا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٠٠٧ اگر ایسا شخص علم حاصل کرنے ميں مصروف ہوجوعلم حاصل نہ کرنے کی صورت ميں روزی کماسکتا ہو تو اگر اس علم کا حاصل کرنا اس پر واجب عينی ہو یا واجبِ کفائی ہو ليکن کوئی دوسرااس ذمہ داری کو انجام دینے کے لئے آگے نہ بڑھ رہا ہو تو فقرا کے حصے سے زکات دی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح سبيل الله کے حصے سے بھی اس کو زکات دی جا سکتی ہے ،ليکن اس صورت ميں احتياطِ واجب یہ ہے کہ اس کے علم حاصل کرنے ميں عمومی مصلحت بھی ہو۔

اور اگر اس علم کا حاصل کرنا اس کے لئے مستحب ہو تو فقرا کے حصے سے اسے زکات دینا جائز نہيں ليکن سبيل الله کے حصے سے دی جا سکتی ہے اور بنا بر احتياط ضروری ہے کہ اس کے علم حاصل کرنے ميں عمومی مصلحت بھی ہو اور اگر اس کا علم حاصل کرنا نہ واجب ہو نہ مستحب ہو تو اسے زکات دینا جائزنہيں ۔

زکات فطرہ

مسئلہ ٢٠٠٨ جو شخص عيدِ فطر کی رات بوقت غروب بالغ و عاقل ہو اور فقير و غلام نہ ہو، یعنی سورج کے غروب ہونے سے پهلے، چاہے ایک لمحہ کے لئے ہی ان شرائط کے ساته ماہِ رمضان کو پالے توضروری ہے کہ اپنے اور ان افراد کے لئے جو اس کا کھانا کھاتے ہوں،فی نفر ایک صاع جو تين کلوکے قریب ہوتا ہے ، گندم، جوَ، کھجور، کشمش، چاول یا ان جيسی کوئی چيز مستحق کو دے اور احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ چيز اس کے علاقے ميں غذا کے طور پر رائج ہو۔ اگر ان ميں سے کسی ایک کی قيمت بھی دے دے توکافی ہے اور احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ عيد کی رات ميں غروب کے وقت جو شخص بے ہوش ہو وہ بھی فطرہ نکالے۔

مسئلہ ٢٠٠٩ جس شخص کے پاس اپنے اور اپنے اہل وعيا ل کے سال بھر کے اخراجات کی رقم نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا کمائی کا ذریعہ رکھتا ہو کہ اپنے اور اپنے اہل و عيال کے سال بھر کے اخراجات چلا سکے تو وہ فقير ہے اور اس پر فطرہ دینا واجب نہيں ۔

مسئلہ ٢٠١٠ انسان کے لئے ان تمام افراد کا فطرہ نکالنا واجب ہے جو عيدفطر کی رات ميں غروب کے وقت اس کا کھانا کھانے والے شمار ہوں،چهوٹے ہوں یا بڑے،مسلمان ہوں یا کافر،ان کا خرچ دینا اس پر واجب ہویا نہ ہو اور اس کے اپنے شہر ميں ہوں یا دوسرے شہر ميں ۔


مسئلہ ٢٠١١ اگر اس شخص کو جو اس کا کھانا کهاتا ہو اور دوسرے شہر ميں ہو وکيل بنا دے کہ وہ اس کے مال سے خود کا فطرہ دے دے، تو اگر اسے اطمينان ہو کہ وہ فطرہ دے دے گا تو موکل پر اس کا فطرہ نکالنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ٢٠١٢ ان مهمانوں کا فطرہ جو عيد فطر کی رات کو غروب سے پهلے صاحب خانہ کی رضامندی سے آ ئے ہوں اور فطرہ واجب ہونے کے وقت اس کا کھانا کھانے والے شمار ہوتے ہوں،صاحب خانہ پر واجب ہے ۔

مسئلہ ٢٠١٣ وہ مهمان کہ جو شب عيدفطر کو غروب سے پهلے صاحب خانہ کی رضایت کے بغيرآئے ہوں اور کچھ وقت اس کے پاس رہيں تو بنا بر احتياطِ واجب ضروری ہے کہ ان کا فطرہ وہ خود بھی دیں اور ميزبان بھی دے اور اسی احتياط کا خيال رکھنا اس شخ-ص کے بارے ميں بھی ضروری ہے کہ جس کا خرچہ دینے کے لئے انسان کو مجبور کيا گيا ہو۔

مسئلہ ٢٠١ ۴ اس مهمان کا فطرہ جو عيد فطر کی رات غروب کے بعد پهنچا ہو،صاحب خانہ پر واجب نہيں اگرچہ غروب سے پهلے اس کو دعوت دی گئی ہو اور وہ افطار بھی اس کے گھر کرے۔

مسئلہ ٢٠١ ۵ جو شخص عيد فطر کی رات ميں غروب کے و قت دیوانہ ہو اس پر فطر ہ نکا لنا واجب نہيں ۔

مسئلہ ٢٠١ ۶ اگر غروب سے پهلے بچہ بالغ ہو جائے یا دیوانہ عاقل ہو جائے یا فقير غنی ہو جائے تو فطرہ واجب ہونے کے باقی شرائط کے ہوتے ہوئے فطرہ نکالنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٠١٧ جس شخص پر عيد فطر کی رات ميں غروب کے وقت فطرہ واجب نہ ہو اگر عيد کے دن ظہر سے پهلے تک فطرہ واجب ہونے کے شرائط اس ميں پيدا ہو جائيں تو احتياط مستحب یہ ہے کہ فطرہ نکالے۔

مسئلہ ٢٠١٨ جو کافر عيد فطر کی رات غروب کے بعد مسلمان ہوا ہو اس پر فطرہ واجب نہيں ليکن جو مسلمان شيعہ نہيں تھا اگر چاند دیکھنے کے بعد شيعہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ فطرہ نکالے۔

مسئلہ ٢٠١٩ جس شخص کے پاس صرف ایک صاع جو تين کلو کے قریب ہوتا ہے گندم یا اس جيسی کوئی چيز ہو،مستحب ہے کہ فطرہ دے اور اگر اہل و عيا ل والا ہو اور ان کا فطرہ بھی دینا چاہتا ہو تو وہ فطرے کی نيت سے اس ایک صاع کو اپنے اہل وعيال ميں سے کسی ایک کو دے سکتا ہے اوروہ بھی اسی نيت سے کسی دوسرے کو دے یهاں تک کے بات آخری فرد تک پهنچ جائے اور بہتر ہے کہ آخری فرد یہ چيز کسی ایسے شخص کو دے جو خود ان ميں سے نہ ہو اور اگر ان ميں سے کوئی چھوٹاہو تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ اس کا ولی اس کو خود کے لئے قبول کر کے بچے کے لئے فطرے کی نيت سے دے دے اور اگر بچے کے لئے قبول کر لے تو پھر احتياطِ واجب یہ ہے کہ اسے کسی اور کو نہ دے۔


مسئلہ ٢٠٢٠ اگر عيد فطر کی رات غروب کے بعد بچہ پيدا ہو یا کوئی اس کا کھانا کھانے والا شمار ہو تو ان کا فطرہ نکالنا واجب نہيں اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ جو افراد غروب کے بعد سے لے کر عيد کے دن ظہر سے پهلے تک اس کا کھانا کھانے والے شمار ہوں ان کا فطرہ نکالے۔

مسئلہ ٢٠٢١ اگر انسان کسی کا کھانا کهاتا ہو اورغروب سے پهلے اس کا شمار کسی اور کا کھانا کھانے والوں ميں ہو جائے تو اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہو گا کہ اب جس کا کھانا کھانے والا بن گيا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر لڑکی غروب سے پهلے شوہر کے گھر رخصت ہو جائے تو اس کا فطرہ شوہر پر دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٠٢٢ جس شخص کا فطرہ دینا کسی اور کی ذمہ داری ہو اس پر اپنا فطرہ دینا واجب نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٢٣ اگر انسان کا فطرہ دینا کسی اور پر واجب ہو اور وہ اس کا فطرہ نہ دے تو فطرہ واجب ہونے کے شرائط کی موجودگی ميں احتياط مستحب یہ ہے کہ اپنا فطرہ خود دے۔

مسئلہ ٢٠٢ ۴ جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے پر واجب ہو اگر وہ اپنا فطرہ خود دے دے تو جس پر فطرہ واجب تھا اس کی ذمہ داری ختم نہيں ہوتی۔

مسئلہ ٢٠٢ ۵ جس عورت کا شوہر اس کے اخراجات نہ دیتا ہو اگر وہ کسی اور کا کھانا کهاتی ہو تو اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے اور اگر کسی اور کا کھانا نہ کهاتی ہو تو وجوبِ فطرہ کی شرائط کی موجودگی ميں ضروری ہے کہ خود اپنا فطرہ دے۔

مسئلہ ٢٠٢ ۶ جو شخص سيّد نہيں وہ سيّد کو اپنا فطرہ نہيں دے سکتا یهاں تک کہ اگر کوئی سيّد اس کا کھانا کهاتا ہو تب بھی وہ اس کی طرف سے نکالا ہوا فطرہ کسی دوسرے سيّد کو نہيں دے سکتا۔

مسئلہ ٢٠٢٧ اس بچے کا فطرہ جو ماں یا دایہ کا دودھ پيتا ہو اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراجات برداشت کرتاہو ليکن اگر ماں یا دایہ اپنے اخراجات کو بچے کے مال سے نکا لتی ہو تو بچے کا فطرہ کسی پر واجب نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٢٨ انسان اگرچہ اپنے اہل و عيال کے اخراجات مال حرام سے دیتا ہو پھر بھی ضروری ہے کہ ان کا فطرہ حلال مال سے دے۔

مسئلہ ٢٠٢٩ اگر انسان کسی کو اجير بنائے اور شرط یہ رکھی گئی ہو کہ اس کے اخراجات بھی دے اور اس شرط پر عمل بھی کرے تو ضروری ہے کہ اس کا فطرہ بھی ادا کرے، ليکن اگر شرط یہ رکھی گئی ہو کہ اس اخراجات کی مقدار اسے دے مثلاًکچه رقم اسے مخارج کے لئے دے ليکن نفقہ کے عنوان سے نہ ہو،خواہ وہ اس کے کام کی مزدوری کے حساب سے ہو یا کسی اور حساب سے،تو اس کا فطرہ دیناواجب نہيں ۔


مسئلہ ٢٠٣٠ اگر کوئی شخص عيد فطر کی رات غروب کے بعد مر جائے تو ضروری ہے کہ اس کا اور اس کے اہل و عيال کا فطرہ اس کے مال سے دیا جائے، ليکن اگر غروب سے پهلے مر جائے تو اس کا اور اس کے اہل و عيال کا فطرہ اس کے مال سے دینا واجب نہيں ۔

فطرے کا مصرف

مسئلہ ٢٠٣١ علما ميں مشهور قول یہ ہے کہ فطرے کا مصرف وهی ہے جو مال کی زکات کا مصرف ہے ليکن احتياطِ واجب یہ ہے کہ فطرہ فقراء کو دیا جائے جن کا شيعہ اثنا عشری ہونا بھی ضروری ہے اورمومن نہ ملنے کی صورت ميں کسی غير ناصبی مسلمان کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٠٣٢ اگر کوئی شيعہ اثنا عشری بچہ مسئلہ نمبر” ١٩ ۶ ٠ “ اور” ١٩ ۶ ١ “ ميں بتائے گئے اعتبار سے فقير ہو تو وہ فطرے کو اس بچے کے استعمال ميں لا سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٠٣٣ جس فقير کو فطرہ دیا جائے اس کا عادل ہونا ضروری نہيں ،ليکن احتياطِ واجب یہ ہے کہ شرابی،بے نمازی اور کهلم کهلا گناہ کبيرہ کرنے والے کو فطرہ نہ دیا جائے۔

مسئلہ ٢٠٣ ۴ ایسے شخص کو فطرہ نہيں دیا جاسکتا جو اسے معصيت ميں استعمال کرتا ہو۔

مسئلہ ٢٠٣ ۵ احتياطِ واجب یہ ہے کہ ایک فقير کو ایک صاع جو کہ تقریباً تين کلو ہوتا ہے ،سے کم فطرہ نہ دیا جائے۔ ہاں، چند صاع دینے ميں حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٣ ۶ جس چيز کی اعلیٰ قسم کی قيمت اس کی گھٹيا قسم سے دگنی ہومثلاجس گندم کی قيمت اس کی گھٹيا قسم سے دگنی ہو اس سے آدها صاع دینا کافی نہيں بلکہ اگر یہ آدها صاع فطرے کی قيمت کے طور پر دے تب بھی کافی نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٣٧ انسان یہ نہيں کر سکتا کہ آدها صاع ایک چيز مثلا گندم سے اور باقی آدها کسی دوسری چيز مثلا جَو سے دے اوراسے فطرے کی قيمت کے ارادے سے دینا بھی کافی نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٣٨ مستحب ہے کہ فطرہ دینے ميں اپنے فقير رشتہ داروں کو دوسروں پر مقدم رکھے اور اس کے بعد فقير پڑوسيوں کو اور مستحب ہے کہ دین،فقہ اور عقل کے اعتبار سے برتری رکھنے والوں کو مقدم رکھے۔

مسئلہ ٢٠٣٩ اگر انسان کسی شخص کو فقير سمجھ کر فطرہ دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ فقير نہيں تھا تو اسے دیا جانے والا مال تلف نہ ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ واپس لے کر فقير کو دے اور اگر واپس نہ لے سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے مال سے فطرے کا عوض دے۔


مال تلف ہوجانے کی صورت ميں اگر فطرہ لينے والا جانتا تھا کہ اسے دی جانے والی چيز فطرہ ہے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے اور اگر نہيں جانتا تھا تو اس کا عوض دینا اس پر واجب نہيں اور ضروری ہے کہ انسان دوبارہ فطرہ دے۔

مسئلہ ٢٠ ۴ ٠ جو شخص کهے کہ ميں فقير ہوں اگر جانتا ہو کہ وہ پهلے فقير تھا تو اسے فطرہ دیا جا سکتا ہے اور جس کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ وہ فقير تھا یا نہيں اور کهے کہ ميں فقير ہوں اگر اس کی بات سے اطمينان حاصل نہ ہو تو بنابر احتياطِ واجب اسے فطرہ نہيں دیا جاسکتا اور اگر جانتا ہو کہ پهلے فقير نہيں تھا تو جب تک اس کی بات سے اطمينان حاصل نہ ہوجائے اسے فطرہ نہيں دیا جا سکتا۔

فطرے کے متفرق مسائل

مسئلہ ٢٠ ۴ ١ انسان کے لئے ضروری ہے کہ فطرہ قصدِ قربت،جيسا کہ وضو کے مسائل ميں بيان کيا گيا،اور اخلاص کے ساته دے اور فطرہ دیتے وقت فطرہ دینے کی نيت کرے۔

مسئلہ ٢٠ ۴ ٢ ماہِ رمضان سے پهلے فطرہ دینا صحيح نہيں ہاں ماہ رمضان داخل ہونے کے بعد دے سکتا ہے اگر چہ احتياط یہ ہے کہ ماہ رمضان ميں بھی نہ دے البتہ یہ کيا جا سکتا ہے کہ ماہ رمضان سے پهلے فقير کو قرض دے اور فطرہ واجب ہونے کے بعد قرض کو فطرے کی بابت حساب کر لے۔

مسئلہ ٢٠ ۴ ٣ ضروری ہے کہ فطرے کے طور پر دی جانے والے گيہوں یا کسی اور چيز ميں کوئی اور چيزیا مٹی ملی ہوئی نہ ہواور اگر کوئی چيز ملی ہوئی ہو ليکن فطرے کی چيز خالصاً ایک صاع کے برابر ہو اور اسے ملی ہوئی چيز سے جدا کرنا زحمت اور خرچے کا باعث نہ ہو یا ملی ہوئی چيز کی مقدار اتنی کم ہوکہ اسے خالص گندم ہی کها جائے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٠ ۴۴ احتياطِ واجب کی بنا پر کسی نقص رکھنے والی چيز سے فطرہ دینا کافی نہيں ۔

مسئلہ ٢٠ ۴۵ جو شخص کئی افراد کا فطرہ دے رہا ہو ضروری نہيں کہ وہ سب کے لئے ایک ہی چيز دے مثلا اگر کچھ کے فطرے ميں گندم اور کچھ کے فطرے ميں جَو دے توکافی ہے ۔

مسئلہ ٢٠ ۴۶ عيد فطر کی نماز پڑھنے والے شخص کے لئے احتياطِ واجب کی بنا پرضروری ہے کہ نماز عيد سے پهلے فطرہ دے دے، ليکن اگر نماز عيد نہ پڑھے تو فطرہ دینے ميں ظہر تک تاخير کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٠ ۴ ٧ اگر اپنے مال کی کچھ مقدار فطرے کی نيت سے عليحدہ رکھے ليکن عيد کے دن ظہر تک مستحق کو نہ دے تو جب بھی اسے دے فطرے کی نيت کرے۔


مسئلہ ٢٠ ۴ ٨ اگر فطرہ واجب ہونے کے وقت فطرہ نہ دے اور نہ ہی جدا کرے تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ بعد ميں اس نيت سے فطرہ دے کہ جو خدا مجھ سے چاہتا ہے اسے ادا کر رہا ہوں۔

مسئلہ ٢٠ ۴ ٩ اگر فطرہ جدا کردے تو اسے اپنے لئے اٹھ ا کر اس کی جگہ دوسرا مال نہيں رکھ سکتا۔

مسئلہ ٢٠ ۵ ٠ اگر انسان کے پاس کوئی ایسا مال ہو جس کی قيمت فطرے سے زیادہ ہو تو اگر وہ فطرہ دئے بغير نيت کرے کہ اس مال کی کچھ مقدار فطرے کے لئے ہے ،اس طرح سے کہ اس ميں کچھ اس کا مال ہو اور کچھ فطرہ ہو تو اس ميں اشکال ہے ليکن اگر تمام مال فقير کودے دینا چاہتا ہو تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٠ ۵ ١ اگر فطرے کے لئے رکھا ہوا مال تلف ہوجائے تو فقير تک دسترسی رکھنے کے باوجود فطرے کی ادائيگی ميں تاخير کی صورت ميں ضروری ہے کہ اس کا عوض دے اور اگر فقير تک دسترسی نہ ہو اور اس کی حفاظت ميں کوتاہی نہ کی ہو تو ضامن نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢٠ ۵ ٢ اگر اپنے علاقے ميں مستحق مل جائے تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ فطرہ دوسری جگہ نہ لے جائے اور اگر دوسری جگہ لے جائے اور تلف ہوجائے تو اس کا عوض دینا ضروری ہے ۔

حج کے احکام

مسئلہ ٢٠ ۵ ٣ بيت الله کی زیارت اور مقررہ اعمال کی ادائيگی کو حج کہتے ہيں جو مندرجہ ذیل شرائط رکھنے والے پر پوری زندگی ميں ایک مرتبہ واجب ہوتا ہے :

١) بالغ ہو ٢) عاقل ہو ٣) آزادهو ۴) حج پر جانے کی وجہ سے کسی ایسے حرام کام کو کہ جس کا ترک کرنا حج سے زیادہ اہم ہو انجام دینے پر یا کسی ایسے واجب عمل کو جو حج سے زیادہ اہم ہو ترک کرنے پر مجبور نہ ہو۔

۵) استطاعت رکھتا ہو۔

مستطيع ہونے کے لئے چند چيزیں معتبر ہيں :

١) اس کے پاس زادِ راہ اور سواری یا اتنا مال ہو کہ اسے مهيا کر سکے۔

٢) ایسی صحت اور اتنی طاقت رکھتا ہو کہ مکہ جا کر حج کو بجا لا سکے۔

٣) راستے ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور اگر راستہ بند ہو یا انسان کو خوف ہو کہ راستے ميں یا اعمال حج کی ادائيگی کے دوران اس کی جان یا آبرو چلی جائے گی یا اس کے مال کو لوٹ ليا جائے گا تو اس پر حج واجب نہيں ليکن اگرکسی دوسرے راستے سے جانا ممکن ہو اگرچہ وہ راستہ دور ہو ضروری ہے کہ اس راستے سے جائے۔


۴) اس کے پاس اعمالِ حج کی ادائيگی کے برابر وقت ہو۔

۵) جن افراد کے اخراجات دینا اس پر واجب ہے جيسے بيوی اور بچے اور جن افراد کے اخراجات دینا لوگ ضروری سمجھتے ہيں جيسے وہ نوکر یا ملازمہ جس کی اسے ضرورت ہو،ان سب کے اخراجات اس کے پاس موجود ہوں۔

۶) واپس لوٹنے کے بعد اپنے اور اہل وعيال کے لئے اپنی حيثيت کے مطابق کام دهندہ،کهيتی باڑی،ملکيت کی آمدنی یا کوئی اور ذریعہ معاش رکھتا ہو تاکہ زندگی گزارنے ميں مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مسئلہ ٢٠ ۵۴ جس شخص کے لئے ذاتی مکان اتنا ضروری ہو کہ اس کے نہ ہوتے ہوئے حرج ومشقت ميں پڑ جائے تو اس پر حج اسی وقت واجب ہو گا کہ جب گھر کی رقم بھی اس کے پاس موجود ہو۔

مسئلہ ٢٠ ۵۵ جو عورت حج پر جا سکتی ہو اگرپلٹنے کے بعد اس کے پاس مال نہ ہو اور اس کا شوہر بھی اس کا خرچ نہ دے اور وہ زندگی گزارنے ميں حر ج ومشقت ميں پڑجائے تو اس پر حج واجب نہيں ۔

مسئلہ ٢٠ ۵۶ اگر کسی کے پاس زادِ راہ اور سواری کا جانور نہ ہو اور دوسرا اسے حج پر جانے کی پيشکش کرے اور کهے:”سفرِ حج کے دوران تمهارا اور تمهارے اہل و عيال کا خرچہ ميں دوں گا“،تو یہ اطمينان رکھنے کی صورت ميں کہ وہ اس کا خرچہ دے گا،اس پر حج واجب ہو جائے گا۔

مسئلہ ٢٠ ۵ ٧ اگر حج پر آنے جانے اوراس دوران ميں اہل واعيا ل کا خرچہ کسی کو اس شرط پربخشا جائے کہ حج ادا کرو تو واجب ہے کہ قبول کرے اور حج بھی اس پر واجب ہو جا ئے گا چاہے واپسی پر اپنی زندگی گزارنے کے لئے مال نہ رکھتا ہویا مقروض ہو مگر یہ کہ قرض ادا کرنے کا وقت پهنچ گيا ہو،قرض خواہ مطالبہ بھی کر رہا ہو اور مقروض حج نہ کرنے کی صورت ميں (هی) قرض کی ادائيگی پر قدرت رکھتا ہو یا قرض مدت دار ہو ليکن مقرو ض جانتا ہو کہ حج کرنے کی -صورت ميں وہ وقت پر قرض ادا نہيں کر سکے گا۔

مسئلہ ٢٠ ۵ ٨ اگر کسی کے حج پر آنے جانے اور اس مدت ميں اس کے اہل وعيا ل کے اخراجات کسی کو یہ کہہ کر دئے جائيں کہ حج پر جاؤ ليکن یہ مال اس کی ملکيت ميں نہ دیا جائے تو اطمينان رکھنے کی صورت ميں کہ اس سے مال واپس نہيں ليا جائے گا،اس پر حج واجب ہو جائے گا۔

مسئلہ ٢٠ ۵ ٩ اگر مال کی اتنی مقدار جو حج کے لئے کافی ہو کسی کو اس شرط پر دی جائے کہ سفرِ حج کے دوران مال دینے والے کی خدمت کرے تو اس پر حج واجب نہيں ہوتا۔

مسئلہ ٢٠ ۶ ٠ اگر کسی کو مال کی کچھ مقدار دی جائے اور حج اس پر واجب ہو جائے چناچہ اگر وہ حج کر لے تو چاہے بعد ميں اسے اتنا مال مل جائے کہ اپنے وطن سے حج پر جا سکے،دوبارہ حج اس پر واجب نہيں ہو گا۔


مسئلہ ٢٠ ۶ ١ اگر تجارت کے لئے مثلاّجّدہ تک جا ئے ا ور اتنامال اس کے ہاتھ لگے کہ وہاں سے مکہ جانے کے لئے شرائط استطاعت موجود ہوں تو ضروری ہے کہ حج کرے اور حج کر لينے کی صورت ميں چاہے بعد ميں اتنا مال مل جائے کہ اپنے وطن سے مکہ جا سکتا ہو،دوبارہ حج واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٠ ۶ ٢ جو شخص بذاتِ خود کسی دوسرے کی جانب سے حج کرنے پر اجير بنا ہو اگر وہ خود نہ جاسکے اور کسی دوسرے کو اپنی جانب سے بھيجنا چاہے تو ضروری ہے کہ جس نے اسے اجير بنایا تھا اس سے اجازت لے۔

مسئلہ ٢٠ ۶ ٣ اگر کوئی شخص مستطيع ہونے کے باوجود حج نہ کرے اور فقير ہو جائے تو ضروری ہے کہ زحمت برداشت کر کے ہی سهی بعد ميں حج کرے۔اور اگر کسی طرح حج پر نہ جا سکتا ہو اور کوئی اسے حج کے لئے اجير بنا ئے تو ضروری ہے کہ مکہ جا کر جس شخص کے لئے اجير بنا ہے اس کے حج کو بجا لائے اور اگرممکن ہو تو اگلے سال تک مکہ ميں ٹھ هرے اور اپنے لئے حج کرے اور اگر ممکن ہو کہ اجير بن کر اجرت نقد لے اور جس نے اسے اجير بنایا ہے وہ راضی ہوجائے کہ اس کا حج آئندہ سال انجام دیا جائے تو ضروری ہے کہ پهلے سال اپنے لئے اور آئندہ سال جس کے لئے اجير بنا تھا اس کا حج کرے۔

مسئلہ ٢٠ ۶۴ اگر استطاعت کے پهلے سال ميں مکہ جائے اور شریعت کے اعتبار سے مقررہ وقت ميں عرفات اور مشعرالحرام ميں نہ پهنچ سکے تو اس صور ت ميں کہ اس کے لئے پهلے جا کر پهنچنا ممکن نہ تھا اگر آئندہ سالوں ميں مستطيع نہ ہو تو اس پر حج واجب نہيں ۔ ليکن اگر اس کے لئے جلدی نکل کر ان مقامات تک پهنچنا ممکن تھا یا وہ پچهلے سالوں ميں مستطيع ہونے کے باوجود حج پر نہيں گيا تھا تو ضروری ہے کہ چاہے زحمت برداشت کر کے ہی سهی حج کرے۔

مسئلہ ٢٠ ۶۵ جو شخص استطاعت کے پهلے سال ميں حج نہ کرے اور بعد ميں ب-ڑھاپے،بيماری یا ناتوانی کی وجہ سے حج نہ کر سکے یا اس کے لئے کوئی حرج ہو اور نا اميد ہو جائے کہ بعد ميں وہ بغير حرج کے خود حج کر سکے گا تو ضروری ہے کہ فوراًکسی دوسرے کو اپنی طرف سے بھيجے بلکہ اس پهلے سال ہی جس ميں حج پر جانے کی مقدار ميں مال ملا ہو،اگر بڑھاپے،بيماری یا ناتوانی کی وجہ سے حج نہ کر سکتا ہو یا اس کے لئے کوئی حرج ہو اور بعد ميں حج کرنے سے نااميد ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ کسی کو اپنی جانب سے حج ادا کرنے کے لئے بھيجے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر وہ خود مرد ہو تو کسی ایسے شخص کو نائب بنا ئے جو پهلی بار حج پر جا رہا ہو۔

مسئلہ ٢٠ ۶۶ جو شخص کسی دوسرے کی طرف سے حج کے لئے اجير بنا ہو ضروری ہے کہ طواف النساء بھی اس کی طرف سے بجا لائے اور اگر انجام نہ دے تو عور ت خود اس اجير پر حرام ہو جائے گی۔


مسئلہ ٢٠ ۶ ٧ اگر طواف النساء کو جهالت کی وجہ سے انجام نہ دے یا صحيح طور پر بجا نہ لایا ہو یا بھول جائے تو احتياطِ واجب یہ ہے کہ خود بجا لائے اور اگر انجام دینے پر قدرت نہ رکھتا ہو یا حرج ہو تو کسی کو نائب بنا سکتا ہے ليکن جان بوجه کر انجام نہ دینے کی صورت ميں ضروری ہے کہ خود پلٹے اور بجالائے مگر یہ کہ اس کے لئے ممکن نہ ہو یا حرج ہو تو کسی کو نائب بنا سکتا ہے ۔

”اور مسائلِ حج کی تفصيلات مناسکِ حج ميں مذکور ہيں “۔

امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے احکام

مکلف پر اہم ترین واجبات ميں سے ایک امر بالمعروف اور نهی عن المنکر ہے ۔

ارشادِ رب العزت ہے :

و( َالْمُو مِْٔنُوْنَ وَ الْمُو مِْٔنَاتُ بَعْضُهُمْ ا ؤَْلِيَاءُ بَعْضٍ یَّا مُْٔرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهونَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) ترجمہ: اور مومن مرد اور عورتيں، ان ميں سے بعض افراد دوسرے بعض کے دوست ہيں ، یہ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرتے ہيں ۔

امر بالمعروف اور نهی عن المنکرانبياء خدا عليهم السلام کا راستہ ہے ۔ اسی الهی ذمہ داری کے ذریعے باقی دینی فرائض اور قوانين مرحلہ عمل تک پهنچتے ہيں ۔ اسی سے رزق و روزی حلال ہوتے ہيں ، لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہوتی ہے اور حق اپنے اصل حقدار تک پهنچتا ہے ۔اسی سے زمين منکرات اور برائيوں کی آلودگی سے طهارت پاکر اچھائيوں اور نيکيوں سے آباد ہوتی ہے ۔

امام صادق عليہ السلام کی یهی حدیث کافی ہے جس ميں آپ عليہ السلام فرماتے ہيں کہ:رسول اکرم(ص) نے فرمایا:”تمهاری کيا کيفيت ہوگی جب تمهاری عورتيں فاسد اور تمهارے جوان فاسق ہو جائيں گے جب کہ تم امر بالمعروف یا نهی عن المنکر نہ کر رہے ہوگے؟“

کهاگيا:”کيا ایسا ہوجائے گا، یا رسول الله(ص) !!؟“

فرمایا:”هاں، بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔تمهارا کيا حال ہوگا جب تم امر بالمنکر اور نهی عن المعروف کروگے؟“

کها:”اے الله کے رسول(ص)! کيا ایسا ہوجائے گا!؟“ فرمایا:”هاں، بلکہ اس سے بھی بدتر، کيا حال ہوگا تمهارا جب تم معروف کو منکر اور منکر کو معروف سمجھو گے!؟“

مسئلہ ٢٠ ۶ ٨ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرنا ان شرائط کی موجودگی ميں جن کا تذکرہ کيا جائے گا، واجب کفائی ہے ، یعنی اگر مومنين کی اتنی تعداد اپنی اس شرعی ذمہ داری کو پورا کردے کہ کافی ہوجائے تو دوسروں کی ذمہ داری بھی ختم ہوجائے گی، ورنہ سب گنهگار ہوں گے۔


مسئلہ ٢٠ ۶ ٩ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر چند شرائط کی موجودگی ميں واجب ہوتے ہيں :

١) امر و نهی کرنے والا ، معروف اور منکر کا علم رکھتا ہو، لہٰذا جو شخص خود جاہل ہو کہ معروف کيا ہے اور منکر کيا، ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ کام اپنے ذمہ نہ لے، بلکہ جاہل شخص کا امربالمعروف اور نهی عن المنکر کرنا خود ایک منکر ہے جس سے نهی کرنا ضروری ہے ۔

٢) اس بات کا احتمال ہو کہ بات کا اثر ہوگا۔ لہٰذا اگر جانتا ہو کہ معروف کو ترک کرنے والا یا منکر کو انجام دینے والا بات کا اثر نہ لے گا تو امر و نهی واجب نہيں ہيں ۔

٣) معروف کو ترک کرنے والا یا منکر کو انجام دینے والا اپنے عمل کو چھوڑ نہ چکا ہو، لہٰذا اگر وہ اپنا عمل چھوڑ چکا ہو یا احتمال ہو کہ اپنا عمل چھوڑ چکا ہے تو امرو نهی واجب نہيں ہيں ۔

۴) وہ شخص معروف کو ترک کرنے یا منکر کو انجام دینے ميں معذور نہ ہو۔ معذور، مثلاً یہ کہ اس کا مجتهد اس عمل کو حرام یا واجب نہ سمجھتا ہو، چاہے امر و نهی کرنے والے کے اجتهاد یا تقليد کے اعتبار سے وہ کام حرام یا واجب ہو۔

۵) یہ کہ اگر اس بات کا علم نہ ہو کہ بات کا اثر ہوگا تو ضروری ہے کہ اس کے امر ونهی کے نتيجے ميں کسی مسلمان کی جان، مال یا آبرو کو ضرر نہ پهنچ رہا ہو۔جب کہ اگر جانتا ہو کہ اثر ہوگا تو ضروری ہے کہ اہم اور مهم کا خيال کرے، لہٰذا اگر امر بالمعروف یا نهی عن المنکر خود اس معروف یا منکر کی اہميت کے اعتبار سے نقصان کے مقابلے ميں شرعاً زیادہ اہم ہو تو امر و نهی کی ذمہ داری ختم نہ ہوگی۔

مسئلہ ٢٠٧٠ جب بھی یقين یا اطمينان کی بنا پر کسی مکلف کے لئے ثابت ہوجائے کہ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کی شرائط موجودہيں تو امر و نهی واجب ہوجاتے ہيں ، جب کہ اگر کسی ایک شرط کے بارے ميں بھی شک ہو تو واجب نہيں ہيں ۔

مسئلہ ٢٠٧١ اگر معروف کوترک کرنے والا یا منکر کو انجام دینے والا یہ دعویٰ کرے کہ اپنے کام ميں شرعی عذر رکھتا ہے توپہر امر ونهی واجب نہيں ہيں ۔

مسئلہ ٢٠٧٢ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ دین ميں بدعت کو رواج دینے والوں اور ان لوگوں سے جو دین ميں فساد اور عقائد حقّہ کے تزلزل کا باعث بنتے ہيں ، برائت و بيزاری کا اظهار کرے اور دوسروں کو ان کے فتنہ و فساد سے بچائے۔

مسئلہ ٢٠٧٣ ترکِ معروف یا انجام منکر کی اطلاع حاصل کرنے کے لئے لوگوں کے گهروں ميں گهسنا اور ان کے بارے ميں تجسس کرنا جائز نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٠٧ ۴ امر بالمعروف و نهی عن المنکر اس صورت ميں واجب نہيں ہيں کہ جب امر و نهی کی وجہ سے امر و نهی کرنے والا ایسی مشقت اور حرج ميں پڑ جائے جسے عام طور پر عرف ميں برداشت نہيں کيا جاتا، سوائے اس مقام کے جهاں شریعت کی نگاہ ميں کام کی اہميت اتنی زیادہ ہو کہ حرج کی وجہ سے بھی ذمہ داری ختم نہ ہورہی ہو، مثلاً دین یا مسلمانوں کی جان کی حفاظت۔

مسئلہ ٢٠٧ ۵( یَا اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَهْلِيْکُمْ نَارًا وُّقُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ) یعنی اے ایمان لانے والو! اپنے آپ اور اپنے اہل کو جهنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندهن انسان اور پتّھر ہوں گے۔

خداندعالم کے اس فرمان کی روشنی ميں ہر مکلف پر واجب موکد ہے کہ اپنے اہل و عيال کو امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرے ، جن چيزوں کا خود کو حکم دیتا ہے انہيں بھی حکم دے اور جن چيزوں سے خود کو روکتا ہے انہيں بھی روکے۔

مسئلہ ٢٠٧ ۶ ہر مکلف پر واجب ہے کہ منکرات سے دل ميں کراہت رکھے، چاہے ان کو رکوا نہ سکتا ہو۔

امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرنے کے لئے پهلے قلبی کراہت کا اظهار کرے، چاہے وہ اس طریقے سے ہو کہ معروف کو ترک کرنے والے یا منکر کو انجام دینے والے سے تعلقات توڑ لے اور زبان کے ذریعے وعظ و نصيحت، معروف کے ثواب اور منکر کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے معروف کی جانب راغب اور منکر سے دور کرے۔

اگر یہ دو طریقے اثر انداز نہ ہوں اور مار پيٹ کے بغير روکنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس طرح سے ہو کہ قصاص اور دیت کا سبب نہ بنے، لہٰذا مثلاً کوئی زخم آنے کی صورت ميں اگر جان بوجه کر ہو تو زخمی شخص قصاص کر سکتا ہے اور غلطی سے ہو تو دیت لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٠٧٧ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ امرو نهی کرتے وقت شارع مقدس کے اس مقصد کو ذهن ميں رکھے کہ گمراہ کی راہنمائی ہو اور فاسد شخص کی اصلاح ہو۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب وہ کسی بھی گنهگار شخص کو اپنے بدن کے ایک فاسد عضو کی مانند سمجھے اور جس طرح سے اپنے پارہ تن کے معالجہ کے لئے تگ و دو کرتا ہے اسی انداز سے ان لوگوںکے علاج کے لئے کوشش کرے جو روحانی امراض و مفاسد ميں مبتلا ہيں ۔

امربالمعروف و نهی عن المنکر کرنے والے کو اس بات سے غافل نہيں ہونا چاہئے کہ شاید اس گنهگار کے نامہ اعمال ميں کوئی ایسی نيکی ہو جس کی وجہ سے خداوند متعال اسے بخش دے، جب کہ خود اس کے نامہ اعمال ميں کوئی ایسا گناہ ہو کہ جس کی وجہ سے خداوند متعال اس کا مواخذہ کرے۔

مسئلہ ٢٠٧٨ مستحبات کے سلسلے ميں امر بالمعروف کرنا مستحب ہے ۔


خاتمہ:

اگر چہ ہر گناہ بڑا ہے ، اس لئے کہ خداوند متعال کی عظمت و جلال اور کبریائی کی کوئی حد نہيں ۔ لہٰذا اس بات کے مدنظر کہ خدائے متعال کی معصيت، در حقيقت علی و عظيم خدا کی معصيت ہے ، بڑی چيز ہے ۔ روایت ميں آیا ہے :”یہ مت دیکھو کيا گناہ کيا ہے ، بلکہ یہ دیکھو کہ نافرمانی کس کی کر رہے ہو“۔ البتہ گناہوں کو آپس ميں پرکھنے کے اعتبار سے بعض گناہ زیادہ بڑے ہيں اور ان کا عذاب زیادہ شدید ہے ۔ بعض گناہوں پر صراحت کے ساته یا ضمنی طور پر عذاب اور آگ کی وعيد سنائی گئی ہے ۔ اہلبيت عصمت عليهم السلام کی روایات ميں انہيں گناہ کبيرہ کها گيا ہے ، جب کہ اس آیہ کریمہ کے اعتبار سے کہ:

( اِنَ تَجْتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَا تُنْهونَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَيِّئَاتِکُمْ )

ترجمہ: اگر ان گناہان کبيرہ سے دوری اختيار کروگے جن سے تمہيں روکا گيا ہے ، تو ہم تمهاری برائيوں اور خرابيوں سے پردہ پوشی کریں گے۔

ان گناہوں سے بچنا دوسرے گناہوں کی بخشش کا سبب ہے ۔

بعض فقهاء اعلی الله مقامهم نے ان گناہوں کی تعداد ٧٠ تک جب کہ کچھ اور بزرگان نے ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ بتا ئی ہے ۔ ہم اُس فهرست ميں سے زیادہ پيش آنے والے گناہوں کا تذکرہ کر رہے ہيں :

١) خداوند متعال سے شرک اور کفر اختيار کرنا کہ جو کسی بھی گناہِ کبيرہ سے قابلِ قياس ہی نہيں ۔

٢) خداوندمتعال کی رحمت اور شفقت سے نا اميد اور مایوس ہونا۔

٣) خداوند متعال کی سزائے اعمال سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھنا۔

۴) خدا کی جھوٹی قسم کھانا۔

۵) ان چيزوں کا انکار کرنا جنہيں خداوند متعال نے نازل فرمایا ہے ۔

۶) اولياء الهی سے جنگ کرنا۔

٧) قطع طریق اور زمين ميں فساد پهيلانے کے ذریعے خدا اور رسول صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے جنگ کرنا۔

٨) پروردگار کے نازل کردہ احکام کے علاوہ کسی چيز کا حکم لگانا۔

٩) خدا، رسول(ص) اور اوصياء عليهم السلام سے جھوٹ منسوب کرنا۔

١٠ ) مساجد ميں ذکر خداوند متعال سے روکنا اور انہيں مخروبہ بنانے کی کوشش کرنا۔


١١ ) واجب زکات نہ نکالنا۔

١٢ ) واجب جهاد ميں شرکت نہ کرنا۔

١٣ )مسلمانوں کا کفار کے ساته جنگ سے فرار کرنا۔

١ ۴ ) اضلال یعنی خداوند متعال کے راستے سے گمراہ کرنا۔

١ ۵ ) گناہان صغيرہ پر مصر ہونا۔

١ ۶ ) جان بوجه کر نماز یا کسی اور واجب الهی کو ترک کرنا۔

١٧ )ریا کاری کرنا۔

١٨ )لهو (لعب)، مثلاً غنا اور ستار بجانے ميں مشغول ہونا۔

١٩ ) ظالم کو ولی بنانا۔

٢٠ )ظالم کی مدد کرنا۔

٢١ ) عهد و قسم کو توڑ دینا۔

٢٢ )تبذیر ( مال کو فاسد کرنا اور اسے بے کار ميں خرچ کرنا)

٢٣ )اسراف۔

٢ ۴ ) شراب نوشی۔

٢ ۵ ) جادو۔

٢ ۶ ) ظلم۔

٢٧ )غنا۔

٢٨ )عاق والدین ہونا(ماں باپ کو اذیت دینا اور ان سے بدسلوکی کرنا)

٢٩ )قطع رحم۔

٣٠ )لواط۔

٣١ )زنا۔

٣٢ )پاکدامن عورت پر زنا کی تهمت لگانا۔

٣٣ )دلّالی (عورت اور مرد کو زنا کے لئے یا دو مردوںکو لواط کے لئے ایک دوسرے سے ملوانا)


٣ ۴ ) چوری۔

٣ ۵ ) سود خوری۔

٣ ۶ ) سحت ( حرام ) کھانا۔ جيسے شراب کی قيمت، زانيہ کی اجرت یا وہ رشوت جو حاکم حکم لگانے کے لئے لے۔

٣٧ )ناپ تول ميں کمی کرنا۔

٣٨ )مسلمانوں سے غشّ (ملاوٹ) کرنا۔

٣٩ )یتيم کا مال ظلم کرتے ہوئے کھانا۔

۴ ٠ )جھوٹی گواہی دینا۔

۴ ١ )گواہی چھپا نا۔

۴ ٢ )مومنين کے درميان گناہ و فواحش کو پهيلانا۔

۴ ٣ )فتنہ۔

۴۴ ) سخن چينی (چغلخوری) کرناجو مومنين کے درميان افتراق کا سبب ہو۔

۴۵ ) مومن سے نازیبا گفتگو کرنا، اس کی توهين کرنااور اسے ذليل کرنا۔

۴۶ ) مومن پر بہتان (تهمت) لگانا۔

۴ ٧ )غيبت کرنا۔ غيبت یہ ہے کہ مومن کی غير موجودگی ميں اس کے چھپے ہوئے عيب کو ظاہر کرنا، چاہے زبان کے ذریعے اسے ظاہر کرے یا اپنے عمل سے، اگر چہ اس عيب کو ظاہر کرتے وقت اس کی توهين اور ہتک حرمت کا ارادہ نہ ہو ، جب کہ اگر توهين کی غرض سے کسی کا عيب ظاہر کرے تو دو گناہوں کا ارتکاب ہوگا۔غيبت کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ توبہ کرے اور احتياطِ واجب کی بنا پر جس کی غيبت کی ہے اس سے معافی مانگے، سوائے اس کے کہ معافی مانگنا خود فساد کا سبب ہو۔

چند مقامات پر غيبت جائزہے :

١) فسق ميں تجاہر کرنے والا، یعنی کهلم کهلا فسق کرنے والا اور اس کی غيبت اسی گناہ کی حد تک کرنا جائز ہے ۔

٢) مظلوم ظالم کی اس ظلم ميں غيبت کرے جو اس پر ہوا ہے ۔

٣) مشورہ کے موقع پر، کہ نصيحت کی نيت سے مشورہ دینے والا اس حد تک غيبت کر سکتا ہے کہ نصيحت ہوجائے۔

۴) دین ميں بدعت گزاری کرنے والے اور اس شخص کی غيبت جو لوگوں کی گمراہی کا باعث ہو۔

۵) فاسق گواہ کے فسق کو ظاہر کرنے کے لئے غيبت، یعنی اگر گواہی دینے والا فاسق ہو تو اس لئے کہ کہيں اس کی گواہی سے کسی کا حق ضائع نہ ہوجائے ، جائز ہے کہ غيبت کر کے اس کے فسق کو ظاہر کر د یا جائے۔


۶) کسی شخص کی جان، مال یا آبرو کو نقصان سے بچانے کے لئے اس کی غيبت کرنا۔

٧) گناہ گار کو گناہ سے بچانے کے لئے اس کی غيبت جب کہ اس کے بغير اسے گناہ سے بچانا ممکن نہ ہو۔

خريد و فروخت کے احکام

مسئلہ ٢٠٧٩ کاروباری شخص کے لئے سزاوار ہے کہ وہ خریدو فروخت کے احکام سيکه لے بلکہ جن مقامات پر تفصيلی یا اجمالی طور پر یقين یا اطمينان رکھتا ہو کہ نہ جاننے کی وجہ سے کسی واجب کو چھوڑ دے گا یا حرام کو انجام دے دے گا تو ان پيش آنے والے مسائل کا سيکهنا ضروری ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روایت ہے :

”جو شخص تجارت کرنا چاہتا ہو ضروری ہے کہ اپنے دین ميں دانا ہو تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ اس کے لئے کيا حلال ہے اور کيا حرام ہے اور جو شخص دین کی سمجھ بوجه نہ رکھتے ہوئے تجارت کرے تو وہ شبہہ ناک معاملات ميں پهنس جائے گا۔“

مسئلہ ٢٠٨٠ اگر انسان مسئلے سے لاعلمی کی بنا پر نہ جانتا ہو کہ جو سودا اس نے کيا وہ صحيح ہے یا باطل تو وہ اس سودے پر اس کے اثرات کو مرتب نہيں کر سکتا اور نہ ہی سودے کی بابت لئے گئے مال ميں تصرف کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٠٨١ جس شخص کے پاس مال نہ ہو اوراس پر کچھ اخراجات واجب ہو ں جيسے بيوی بچے کا خرچ تو ضروری ہے کہ کمائے اور مستحب کاموںکے لئے جيسے اہل وعيال کی زندگی ميں وسعت دینے کے لئے اور فقراء کی دستگيری کے لئے کمانا مستحب ہے ۔

خريدوفروخت کے مستحبات

خریدو فروخت ميں چند امور مستحب ہيں جن ميں سے چند یہ ہيں :

١) چيزکی قيمت ميں خریداروں کے درميان فرق نہ رکھے مگر ایمان،فقر اور ان ہی جيسے امور کی وجہ سے جو ترجيح دینے کا باعث ہيں ۔

٢) چيزکی قيمت ميں سختی نہ کرے سوائے اس مقام کے جهاں سختی نہ کرنے کی وجہ سے اسے دهوکہ ہو جائے گا۔

٣) جو چيز فروخت کر رہا ہو اسے کچھ زیادہ د ے اور جو چيز خرید رہا ہو اسے کچھ کم لے۔

۴) اس کے ساته سودا کرنے والا شخص اگر پشيمان ہو کر اس سے سودا توڑ نے کا تقاضا کرے تو اس کے تقاضے کو قبول کرلے۔


مکروہ معاملات

مسئلہ ٢٠٨٢ اہم مکروہ معاملات یہ ہيں :

١) جائيداد جيسے زمين،مکان،باغ اور پانی فروخت کر دیناسوائے اس کے کہ اس رقم سے کوئی اور جائيداد خرید لی جائے۔

٢) قصائی کا کام کرنا ۔

٣) کفن بيچنا ۔

۴) پست لوگوں سے سودا کرنا ۔

۵) اذان صبح اور سورج نکلنے کے درميان سودا کرنا یا سودے کے لئے چيز کو پيش کرنا۔

۶) گندم،جوَ اور ان جيسی چيزوں کی خریدوفروخت کو اپنا پيشہ قرار دینا۔

٧) جس چيز کو کوئی شخص خرید رہا ہو اسے خریدنے کے لئے سودے ميں دخل اندازی کرنا۔

حرام اور باطل معاملات

مسئلہ ٢٠٨٣ بعض سودے باطل ہيں مگر حرام نہيں ،بعض حرام ہيں مگر باطل نہيں جب کہ بعض حرام ہيں اور باطل بهی۔ ان ميں سے اہم یہ ہيں :

١) بعض عين نجس اشياء جيسے نشہ آور مشروبات اور سو رٔ کی خریدو فروخت کہ یہ دونوں باطل اورحرام ہيں ۔اسی طرح نجس مردار اور غير شکاری کتے کی خرید وفروخت کہ یہ دونوں باطل اور بنا بر احتياط حرام ہيں ۔

اس کے علاوہ عين نجس چيزوں ميں اگر عقلاء کے اعتبار سے کوئی حلال فائدہ اٹھ ایا جاسکتا ہو جيسے پاخانہ کو کهاد بنا دینا یا مریض کو خون دینا تو ان کی خریدو فروخت صحيح اور حلال ہے ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ ان کو ترک کيا جائے۔

٢) غصبی مال کی خرید وفروخت جو کہ مالک کی اجازت کے بغير باطل ہے ليکن شرعی ذمہ داری کے اعتبارسے حرام نہيں بلکہ غصبی مال ميں خارجی تصرفات حرام ہيں ۔

٣) ایسی چيزوں کی خریدوفروخت کرنا جن کی لوگوں کی نگاہ ميں کوئی قيمت نہيں اور جن کی خریدوفروخت کو لوگوں کی نظروں ميں بے وقوفانہ عمل سمجھا جاتاہوجيسے لوگوں کی نظر ميں قيمت نہ رکھنے والے جانوروں کی خریدوفروخت، باطل ہے مگر حرام نہيں ۔

۴) ایسی چيزوں کی خریدوفروخت کرنا جو معمولاًحرام کاموں ميں استعمال ہوتی ہيں مثلاًجوئے کے آلات،باطل اور حرام ہيں ۔

۵) ایسا سودا کرنا کہ جس ميں سود ہو باطل اور حرام ہے ۔


۶) ایسی چيز کا فروخت کرنا جس ميں ملاوٹ کی گئی ہو جب کہ یہ ملاوٹ ظاہر نہ ہو اور بيچنے والا بھی خریدار کو نہ بتائے جيسے چربی ملے ہو ئے گهی کا فروخت کرنا یا ملاوٹ والی چيز کو قيمت قرار دینا۔ اس قسم کا سودا حرام ہے اور بعض صورتوں ميں کہ جن کا تذکرہ کيا جائے گا،باطل ہے ۔

حضوراکرم(ص) نے اس طرح فرمایا : ”مسلمانوں کے ساته ملاوٹ کا سودا کرنے والا مسلمانوں سے نہيں “۔

حضرت(ص)سے روایت ہے : ”جو شخص اپنے مسلمان بهائی کے ساته ملاوٹ کرے خدا اس کی روزی سے بر کت اٹھ ا ليتا ہے اس کے ذریعہ معاش کو اس پر فاسد کر دیتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے “۔

مسئلہ ٢٠٨ ۴ ایسی نجس شدہ پاک چيز کو فروخت کرنے ميں کوئی حرج نہيں جسے پاک کرنا ممکن ہو ليکن اگر خریدار اس چيز کو کھانے پينے جيسی چيز وں ميں استعمال کے لئے لے رہا ہویا ایسے کام کے لئے لے رہا ہو جس کے صحيح ہونے کے لئے ظاہری طهارت کافی نہيں مثلاً پانی کو وضو یا غسل ميں استعمال کے لئے لے رہا ہو تو اس کے نجس ہونے کی اطلاع دینا ضروری ہے اور احتياطِ واجب کی بنا پر یهی حکم اس وقت ہے جب لباس نجس ہو گيا ہو اور خریدار واقعاً پاک لباس کے ساته نماز پڑھنا چاہتا ہو اگرچہ لاعلمی ميں نماز پڑھنے والے کے لئے بدن اور لباس کا ظاہری طور پر پاک ہونا کافی ہے ۔

مسئلہ ٢٠٨ ۵ نجس شدہ پاک چيز جسے پاک کرنا ممکن نہ ہو اگر عقلاء کی نظر ميں اس سے حلال استفادے کی کوئی صورت ہو تو اس کی خرید وفروخت ميں کوئی حرج نہيں ليکن اگر خریدار اسے کھانے پينے جيسی چيزوں ميں استعمال کرنا چاہتا ہو یا نجاست اس کے ایسے عمل کے باطل ہونے کا باعث بنے جس ميں طهارت شرط ہے ۔ جيسے کوئی نجس مٹی کا تيل جلانے ميں استعمال کرنا چاہتا ہوليکن یهی تيل کھانے یا اس کے بدن کے نجس ہونے کا باعث بن جائے جس کی وجہ سے اس کا وضو یا غسل ہی باطل ہوجائے تو خریدار کو اس کی نجاست کی اطلاع دینا واجب ہے اور اگر بدن کی نجاست وضو یاغسل کے باطل ہونے کا سبب نہ بنے ليکن خریدار واقعی پاک لباس کے ساته نماز پڑھنا چاہتا ہو تب بھی احتياطِ واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢٠٨ ۶ کهائی جانے والی نجس دواوں کی خرید وفروخت باطل ہے جن سے عقلاء کے نزدیک کھانے کے علاوہ کوئی حلال فائدہ نہ اٹھ ایا جا سکتا ہو،هاں اگر کوئی فائدہ ہو تو صحيح ہے ليکن خریدار کو اس کی نجاست کی اطلاع دینا ضروری ہے ۔

اور اگروہ دوا کهائی جانے والی نہ ہو تو اس کی خریدوفروخت جائز ہے ۔ ليکن گذشتہ مسئلے ميں بيان شدہ تفصيلات کے مطابق خریدا ر کو نجاست کی اطلاع دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٠٨٧ جوتيل اورگهی غيراسلامی ممالک سے درآمدکيا جاتا ہے اگران کے نجس ہونے کاعلم نہ ہوان کی خریدو فروخت ميں کوئی حرج نہيں ۔ یهی حکم اس صورت ميں ہے کہ جب ان کے نجس ہونے کا علم ہو ليکن عقلائی حلال فائدہ بھی رکھتے ہو ں ليکن


اس صورت ميں ضروری ہے کہ مسئلہ نمبر” ٢٠٨ ۵ “ ميں بيان شدہ تفصيلات کے مطابق خریدار کو نجاست کی اطلاع دے دی جائے۔

اور وہ گهی جو جانور سے اس کی جان نکلنے کے بعد حاصل کيا جاتا ہے چاہے اس جانور کو شریعت کے طریقے کے مطابق ذبح کئے جانے کا احتمال ہو ليکن اگر اسے کسی کافر سے ليا جائے جب کہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اس نے کسی مسلمان یا مسلمانوں کے بازار سے اسے حاصل کيا ہے یا اگر اسے غير اسلامی ممالک سے لایا گيا ہو،اس کا کھانا حرام اور خریدوفروخت باطل ہے اور اس پر نجس چيز کے احکام جاری ہوں گے۔

مسئلہ ٢٠٨٨ اگر لومڑی یا اس جيسے جانور کوشریعت کے مقررہ طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے مارا گيا ہو یا وہ خود مر گيا ہو تو اس کی کھال کی خریدوفروخت باطل ہے اور بنا بر احتياط حرام ہے ۔

مسئلہ ٢٠٨٩ جو چمڑا غير اسلامی ممالک سے در آمد کيا جاتا ہے یا کسی کافر کے ہاتھ سے ليا جاتاہے جب کہ یہ ثابت نہ ہو کہ اس نے اسے کسی مسلمان یا مسلمانوں کے بازار سے ليا ہے ،چاہے اس بات کا احتمال ہو کہ یہ چمڑا شریعت کے مقررہ طریقے سے ذبح شدہ جانور کاہے ،اس کی خریدوفروخت باطل ہے اور اس ميں نماز جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٠٩٠ چمڑا یا جانور کے جان دینے کے بعد اس سے حاصل کيا جانے والا گهی اگر مسلمان کے ہاتھ سے ليا جائے ليکن انسان جانتا ہو کہ اس مسلمان نے اسے کسی کافر کے ہاتھ سے یہ تحقيق کئے بغير ليا ہے کہ یہ شریعت کے مقررہ طریقے سے ذبح کئے گئے جانور کے ہيں یا نہيں تو ان کی خریدوفرخت باطل ہے اور اس چمڑے کے ساته نماز پڑھنا اور اس گهی کو کھانا جائز نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٩١ نشہ آور مشروبات کی خریدوفروخت حرام اور باطل ہے ۔

مسئلہ ٢٠٩٢ غصبی مال کا مالک کی اجازت کے بغير فروخت کرنا باطل ہے اور فروخت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ خریدار سے لی ہو ئی رقم اسے واپس لوٹا دے۔

مسئلہ ٢٠٩٣ اگر خریدار سودا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ليکن جو چيز خرید رہا ہے اس کی قيمت نہ دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ سودا صحيح ہے اور واجب ہے کہ فروخت کرنے والے کو اس کی قيمت ادا کرے۔

مسئلہ ٢٠٩ ۴ اگر خریدار کوئی چيز ذمے پر خریدے اور اس کی قيمت حرام مال سے ادا کرے تویہ سودا صحيح ہے مگر جب تک وہ اس کی قيمت حلال مال سے ادا نہ کردے وہ برئ الذمہ نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢٠٩ ۵ آلاتِ لهوجيسے گٹار اور ساز کی خریدوفروخت حرام ہے اور احتياطِ واجب کی بنا پر یهی حکم چھوٹے سازوں کا بھی ہے جسے بچے کهلونے کے طور پر استعمال کرتے ہيں ۔ البتہ مشترکہ آلات جيسے ریڈیو اور ٹيپ ریکارڈر کی خریدوفروخت اگر حرام ميں استعمال کے لئے نہ ہو تو کوئی حرج نہيں ۔


مسئلہ ٢٠٩ ۶ ایسی چيزجس سے حلال فائدہ اٹھ ایا جا سکتا ہے اگر کسی حرام ميں استعمال کرنے والے کو اس نيت سے بيچی جائے کہ وہ اسے حرام ميں استعمال کرے مثلاًانگور اس ارادے سے بيچے کہ ا س سے شراب تيا ر کی جائے تو اس کا سودا حرام اور باطل ہے ليکن اگر نيت یہ نہ ہو بلکہ صرف یہ جانتا ہو کہ خریدار اس انگور سے شراب تيار کرے گا تو اسے بيچنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٠٩٧ جاندار کا مجسمہ بنانا،اور احتياطِ واجب کی بنا پر اس کی پينٹنگز بنانا حرام ہے ،البتہ اس کی خریدو فروخت کرنا اور اسے اپنے پاس رکھنا جائز ہے اگرچہ احوط یہ ہے کہ انہيں بھی ترک کيا جائے۔

مسئلہ ٢٠٩٨ جوئے،چوری یا باطل سودے سے حاصل ہونے والی چيز سے سودا کرنا کسی اور کے مال سے سودا کرنے کا حکم رکھتا ہے جس کے صحيح اور نافذ ہونے کے لئے اس کے مالک یا ولی کی اجازت ضروری ہے ،(کہ جس کے بغير)اس مال ميں تصرف حرام ہے اور جس کسی کے ہاتھ ميں بھی ہو ضروری ہے کہ مالک یا اس کے ولی کو لوٹا دے۔

مسئلہ ٢٠٩٩ اگر چربی ملا ہوا گهی فروخت کرے، چنانچہ اگر سودے ميں اسے معين کر دیا گيا ہو مثلاًکهے کہ یہ ایک من گهی فروخت کرتا ہوں تو دوصورتيں ہيں :

١) اس ملی ہوئی چربی کی مقدار اتنی ہو کہ عرفاًیہ کها جائے کہ ایک من گهی ہے ليکن اس ميں ملاوٹ ہوئی ہے تو یہ سودا صحيح ہے ،هاں خریدار کو سودا فسخ کرنے کا حق ہے ۔

٢) ملی ہوئی چربی کی مقدار اتنی ہوکہ عرفًا اسے گهی نہ کها جاسکے بلکہ یہ کها جائے کہ یہ گهی اور چربی ہے تو اس صورت ميں چربی کی مقدار کا سودا باطل ہے اور چربی کے مقابلے ميں لی گئی رقم خریدارکی ہے جب کہ چربی خود بيچنے والے کا مال ہے اور خریدار خالص گهی کی بہ نسبت سودے کو بھی فسخ کر سکتا ہے ۔

اور اگر بيچا جانے والا گهی معين نہ ہو بلکہ ایک من گهی ذمے پر فروخت کرے اور بعد ميں چربی ملا ہو اگهی دے دے تو خریدار اس گهی کو واپس کر کے خال--ص گهی کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١٠٠ اگر وزن یا پيمانے سے فروخت کی جانے والی چيزکی کچھ مقدار اسی چيز سے زیادہ کے عوض فروخت کرے مثلاً ایک من گندم کو ڈیڑھ من گندم کے عوض فروخت کرے تو یہ سودهے اور حرام اور یہ سودا بھی باطل ہے یهی حکم اس وقت بھی ہے جب دونوں ميں سے ایک سالم اور دوسری نقص والی ہو یا ایک اعلیٰ اور دوسری گھٹيا ہو یا دونوں کی قيمتيں مختلف ہو ں ليکن اگر خرید وفروخت کے وقت ایک کی مقدار دوسری سے زیادہ ہو تب بھی سود اور حرام اور سودا باطل ہے ، لہٰذا اگر ثابت تانبا دے کر اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا تانبا لے یا ثابت قسم کا پيتل دے کر اس سے زیادہ مقدار ميں ٹوٹا ہوا پيتل لے یا گهڑا ہو سونا دے کر اس سے زیادہ مقدار ميں بغير گهڑا ہو سونا لے تو یہ سود اور حرام ہوں گے اور سودا بھی باطل ہوگا۔


مسئلہ ٢١٠١ اگر اضافی لی گئی چيز فروخت کی جانے والی چيز کے علاوہ سے ہو مثلاًایک من گندم کو ایک من گندم اور ایک روپے کے عوض فروخت کرے تب بھی یہ سوداور حرام ہے اور سودا باطل ہے بلکہ اگر کوئی چيز زیادہ نہ لے ليکن شرط رکھے کہ خریدار اس کے لئے کوئی کام انجام دے پھر بھی یہ سود اور حرام ہے اور سودا باطل ہے ۔

مسئلہ ٢١٠٢ جو چيزیں وزن یا پيمانے سے فروخت کی جاتی ہيں اگر سودا کرنے والا چاہے کہ سودے ميں سود نہ آئے تو اس بات کا خيال رکھنا ضروری ہے کہ سودے کی دونوں اطراف ميں سے کسی ایک ميں کوئی اضافہ جو پچهلے مسئلے ميں بيان شدہ تفصيل کے مطابق اضافے کے حکم ميں ہے وجود ميں نہ آئے مثلاً(یہ کر ليں کہ) ایک من گندم اور ایک رومال کو ڈیڑھ من گندم نقد کے عوض فروخت کرے تاکہ آدها من گندم اس ایک رومال کا عوض ہوجائے ۔ یهی حکم ہے اگر دونوں اطراف ميں کوئی چيز بڑھادی جائے مثلاًایک من گندم اور ایک رومال کو ڈیڑھ من گندم اور ایک رومال کے عوض گزرے ہوئے مسئلے کا خيال رکھتے ہوئے فروخت کردے۔

مسئلہ ٢١٠٣ اگر کسی ایسی چيز کو جسے کپڑے کی طرح ميٹراور گز کے حساب سے فروخت کيا جاتا ہے یا ایسی چيز کو جيسے اخروٹ اور انڈے کی طرح تعداد کے حساب سے فروخت کيا جاتا ہے ،فروخت کرے اور اس سے زیادہ لے تو اگر سودا دو معين چيزوں کے درميا ن ميں ہو تو کوئی حرج نہيں یا اسی طرح اگر ذمے پر فروخت کرے اور ان کے درميان فرق ہو جيسے دس عدد بڑے انڈوں کو گيارہ عدد درميانی اندازے کے انڈوں کے عوض ذمے پر فروخت کرے،ليکن اگر ان کے درميان کسی قسم کا فرق نہ ہو تو سودے کا صحيح ہونا محلِ اشکال ہے اور اسی طرح کاغذی نوٹوں کا زیادہ کے عوض فروخت کرنا جو اگر چہ گنے جاتے ہيں ،اگر دونوں ایک ہی جنس سے ہوں خواہ دونوں معين ہوں یا ایک معين اور دوسرا ذمے پر ہو محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢١٠ ۴ جس چيز کو کچھ شهروں ميں وزن یا پيمانے سے اور کچھ شهروں ميں تعداد کے حساب سے فروخت کيا جاتا ہو،تو ان ميں سے کسی طریقے کے غالبی نہ ہونے کی صورت ميں ہر شہر ميں وہيں کے رواج کے مطابق حکم جاری ہوگا۔ اسی طرح اگر زیادہ تر شهروں ميں اسے وزن یا پيمانے کے حساب سے فروخت کيا جاتا ہو اور کچھ شهروں ميں تعداد کے اعتبار سے پھر بھی یهی حکم ہے اگرچہ احتياط اس ميں ہے کہ اس چيز کو اسی چيز کی زیادہ مقدار کے عوض نہ بيچا جائے۔

مسئلہ ٢١٠ ۵ بيچی جانے والی چيز اور اس کا عوض ایک ہی جنس سے نہ ہو ں تو زیادہ لينے ميں کوئی حرج نہيں ،لہٰذا اگر ایک من چاول کو دو من گندم کے عوض فروخت کرے تو سودا صحيح ہوگا۔

مسئلہ ٢١٠ ۶ اگر بيچی جانے والی چيز اور اس کے عوض کو ایک ہی چيز سے حاصل کيا گيا ہو تو ضروری ہے کہ زیادہ نہ ليا جائے،لہٰذا اگر ایک من گائے کے گهی کو ڈیرہ من گائے کے پنير سے فروخت کيا جائے تو یہ سود اور حرام ہے اور سودا باطل ہے ۔یهی حکم اس وقت بھی ہے جب پکے ہوئے پھل کو اسی جنس کے کچے پھل کے عوض فروخت کيا جائے۔


مسئلہ ٢١٠٧ سودی معاملات ميں جوَاور گندم ایک ہی چيز سمجھے جائيں گے،لہٰذا مثلاًاگر ایک من گندم کو ایک من اور پانچ چھٹا نک جوَ کے عوض فروخت کرے تو یہ سود اور حرام ہے اور سودا باطل ہے نيز اگر مثال کے طور پر دس من جوَ خریدے تاکہ فصل کی صفائی کی ابتدا ميں دس من گندم عوض کے طور پر دے تو چونکہ جوَ کو نقد ليا ہے اور گندم کچھ عرصے بعد دے گا تو یہ ایسا ہے جيسے زیادہ مقدار لی ہو، لہٰذا حرام اور سودا باطل ہے ۔

مسئلہ ٢١٠٨ مسلمان کافر حربی سے سود لے سکتا ہے اور اس کافر سے جو اسلام کی پناہ ميں ہو سودی سودا کرنا جائز نہيں ،هاں سودا ہوجانے کے بعد اگر سود لينا اس کی شریعت ميں جائز ہو تو لے سکتا ہے اور باپ بيٹا اور دائمی مياں بيوی ایک دوسرے سے سود لے سکتے ہيں ۔

بيچ نے والے اور خريدار کے شرائط

مسئلہ ٢١٠٩ بيچنے والے اور خریدار کے کچھ شرائط ہيں :

١) بالغ ہو ں۔

٢) عاقل ہوں۔

٣) سفيہ(نادان) نہ ہوں۔یعنی اپنے مال کو بےکار کاموں ميں صرف نہ کریں۔

۴) خرید وفروخت کا ارادہ رکھتے ہوں۔ پس اگر مثلاًمذاق ميں کهے کہ ميں نے اپنا مال بيچ دیا تو سودا وجود ميں ہی نہيں آئے گا۔در حقيقت خریدنے اور بيچنے کا ارادہ سودے کی حقيقت ميں شامل ہيں ،سودے کے لئے شرطِ صحت نہيں ہے ۔

۵) کسی نے انہيں ناحق مجبور نہ کيا ہو،البتہ اگر مجبور ہوں ليکن بعد ميں راضی ہو جائيں تو سودا نافذهو گا۔

۶) یہ کہ جس جنس اور عوض کو دے رہے ہوں ان کے مالک ہوں یا مالک پر ولایت یا اس کی جانب سے وکالت یا اجازت رکھتے ہوں۔

ان سب کے احکام آئندہ مسائل ميں بيا ن کئے جائيں گے۔

مسئلہ ٢١١٠ اس نا بالغ بچے کے ساته سودا کرنا جو آزادانہ طور پر سودا کر رہا ہو،اس کے اپنے مال ميں باطل ہے ليکن اگر سودا ولی کے ساته ہو اور نابالغ مميز بچہ صرف سودے کا صيغہ جاری کرے تو سودا صحيح ہو گااور اگر چيز یا رقم کسی اور کی ہو اور وہ بچہ اس کے مالک کی طرف سے بطور وکيل اس چيز کو فروخت کرے یا اس رقم سے کوئی چيز خریدے تو اگرچہ وہ مميز بچہ تصرف ميں آزاد ہو،سودا صحيح ہے اور اگر بچہ سودے ميں بيچی گئی چيز اور دی گئی رقم،ایک دوسرے تک پہچانے کا وسيلہ ہو تو اگرچہ مميز نہ بھی ہو تو پھر بھی کوئی حرج نہيں ،ليکن بيچنے والے اور خریدارکو یقين یا اطمينان ہونا ضروری ہے کہ بچہ چيز یا رقم اس کے مالک تک پهنچا دے گا۔


مسئلہ ٢١١١ اگر نا بالغ بچے سے جب کہ اس کے ساته سودا کرنا صحيح نہ ہو،کوئی سودا کرے اور کوئی چيز یا رقم اس بچے سے لے،تو اگر وہ چيز یا رقم بچے کا اپنا مال ہو تو ضروری ہے کہ اس کے ولی تک پهنچائے اور اگر کسی دسرے کا مال ہو تو ضروری ہے کہ یا اس کے مالک کو دے یا اس کے مالک سے رضامندی طلب کرے اور اگر اس کے مالک کو نہ پهنچانتا ہو اور اس کو پہچاننے کا کوئی ذریعہ بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ بچے سے لی گئی چيز کو اس کے مالک کی طرف سے ردّ مظالم کی بابت ميں فقير کو دے اور احتياطِ واجب کی بنا پر اس کام کے لئے حاکم شرع کی اجازت حاصل کرے۔

مسئلہ ٢١١٢ اگر کوئی شخص کسی مميز بچے کے ساته،جب کہ اس کے ساته سودا کرنا صحيح نہ ہو،سودا کرے اور وہ چيز یا رقم جو بچے کو دی ہو ضائع ہو جائے تو وہ شخص اس بچے سے، اس کے بالغ ہونے کے بعد اس چيز یا رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے ،ليکن اگر بچہ مميز نہ ہو تو پھروہ مطالبے کا حق نہيں رکھتا۔

مسئلہ ٢١١٣ اگر خریدار یا فروخت کرنے والے کو ناحق کسی سودے پر مجبور کيا جائے تو سودے کے بعد راضی ہو جانے کی صورت ميں سودا صحيح ہے ،ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ سودا کيا جائے۔

مسئلہ ٢١١ ۴ اگر انسان کسی کے ما ل کو اس کی اجازت کے بغير فروخت کردے تو جب تک اس مال کا مالک اس کے فروخت کرنے پر راضی نہ ہو اور اجازت نہ دے سودا بے اثر رہے گا۔

مسئلہ ٢١١ ۵ بچے کا باپ اور دادا نيز باپ کا وصی اور دادا کا وصی جسے انہوں نے بچے کے امور پر نگراں قرار دیا ہو،بچے کے مال کو فروخت کر سکتے ہيں اور بنا بر احتيا ط واجب ضروری ہے کہ سودا بچے کی مصلحت ميں ہو،اور ان ميں سے کسی کے نہ ہونے کی صورت ميں عادل مجتهدبهی بچے کی مصلحت کی صورت ميں اس کا مال فروخت کر سکتا ہے ،اسی طرح دیوانے اور غائب کے مال کو بھی بوقت ضرورت بيچ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١١ ۶ اگر کوئی شخص کسی کا ما ل غصب کر کے فروخت کر دے اور فروخت ہو جانے کے بعد مال کا مالک سودے کی اجازت دے دے تو سودا نافذ ہو گا اور غاصب کی جانب سے خریدار کو دی گئی چيز اور سودے کے وقت سے اجازت دینے کے وقت تک،اس چيز کے سارے فائدے خریدار کے ہو ںگے اور خریدار کی جانب سے غاصب کو (قيمت کے طور پر) دی گئی چيز اور سودے کے وقت سے (اجازت دینے کے وقت تک) اس چيز کے سارے فائدے اس (اصل) مالک کی ملکيت ہوں گے جس کے مال کو غصب کيا گيا تھا۔

مسئلہ ٢١١٧ اگر کوئی شخص کسی کے مال کو غصب کر کے اس ارادے سے فروخت کر دے کہ اس کے عوض حاصل ہونے والی رقم اس کا اپنا مال ہو تو اگر صاحبِ مال سودے کی اجازت دے دے تو سودا نافذهو گا ليکن رقم مالک کا مال ہو گی نہ کہ غاصب کا مال۔


بيچی جانے والی چيز اور اس کے عوض کے شرائط

مسئلہ ٢١١٨ جس چيز کو فروخت کيا جا رہا ہو اور جس چيز کو اس کے عوض ليا جا رہا ہو اس کی پانچ شرطيں ہيں ؛

١) یہ کہ اس کی مقدار وزن یا پيمانہ یا گنتی یاان جيسی چيزوں کے ذریعے معلوم ہو۔

٢) یہ کہ وہ ان چيزوں کو ایک دوسرے کے حوالے کر سکيں،اور اگر فروخت کرنے والا مثلاًکوئی ایسا مال فروخت کرے کہ جسے وہ خریدار کے حوالے نہ کر سکتا ہو ليکن خریدنے والا اس کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو کافی ہے ، لہٰذا مثا ل کے طور ایسے بهاگے ہوئے گهوڑے کو فروخت کرنا کہ دونوں ميں سے کوئی بھی اس کو حاصل کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو،باطل ہے ،ليکن اگر اسی بهاگے ہوئے گهوڑے کو ایک اور ایسی چيز کے ساته ملا کر بيچ دے جسے خریدار کے حوالے کر سکتا ہو تو اگرچہ و ہ گهوڑا ہاتھ نہ لگ سکے،سودا صحيح ہے اور احتيا ط یہ ہے کہ بهاگے ہوئے غلام اور کنيز کے علاوہ،ایسی کسی چيز کو بيچنے کے لئے طریقہ یہ اختيا ر کرے کہ کسی بھی قيمت رکھنے والی چيز کو بيچے اورسودے ميں یہ شرط لگا دے کہ اگر وہ بهاگی ہوئی چيز مل گئی توخریدار کی ہو گی۔

٣) جنس وعوض ميں موجود وہ خصوصيات معين ہوں جن سے قيمت پر اثر پڑتا ہے ۔

۴) یہ کہ ملکيت طِلق ہو،لہٰذا وقف شدہ مال فروخت کرنا جائز نہيں مگر کچھ مقامات پر کہ جن کا تذکرہ بعد ميں آئے گا۔

۵) خودچيز کو فروخت کرے نہ کہ اس کی منفعت کو،پس اگر ایک سال کے لئے گھر کی منفعت کو فروخت کرے تو یہ صحيح نہيں ۔هاں، اگر خریدار رقم کی بجائے اپنی ملکيت کی منفعت کو دے،مثلاًکسی سے قالين خریدے اور قيمت کے طور پر ایک سال کے لئے اپنے گھر کی منفعت دے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

ان کے احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

مسئلہ ٢١١٩ جس چيز کا کسی شہر ميں ،وزن یاپيمانے کے ذریعے سودا کيا جاتا ہو تو اس شہر ميں بنا بر احتياط ضروری ہے کہ وہ چيز وزن یا پيمانہ کے ذریعے ہی خریدی جائے،ليکن اسی چيز کو جس شہر ميں مشاہدے سے خریدا جاتا ہو، مشاہدے کے ذریعے خرید سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١٢٠ جس چيز کی وزن کے ذریعے خریدوفروخت کی جاتی ہو،اس کا سودا پيمانے کے ذریعے بھی کيا جا سکتا ہے ،اس طرح کہ اگر مثال کے طور پر دس من گندم فروخت کرنا چاہتا ہو تو ایک من گندم کی گنجائش رکھنے والے پيمانے کے ذریعے سے دس پيمانے دے۔

مسئلہ ٢١٢١ اگر بيان کی گئی شرائط ميں سے کوئی ایک شرط بھی نہ ہو تو سودا باطل ہے ،ليکن اگر دونوں مالک ایک دوسرے کے مال ميں تصرف کرنے پر راضی ہو ں اور تصرف بھی ایسا نہ ہو جو ملکيت پر موقوف ہو تو کوئی حرج نہيں ۔


مسئلہ ٢١٢٢ وقف شدہ چيز کا سودا باطل ہے ليکن اگر وہ اس طرح خراب ہو جائے یا خراب ہونے والی ہو کہ اس چيز سے وہ فائدہ اٹھ انا کہ جس کے لئے اسے وقف کيا گيا ہے ،ممکن نہ رہے مثلاًمسجد کی چٹائی اس طرح بوسيدہ ہو جائے کہ اس پر نماز نہ پڑھی جاسکے تو اسے فروخت کر دینے ميں کوئی حرج نہيں اور اگر ممکن ہو تو ضروری ہے کہ اس کے عوض کو اسی مسجد ميں کسی ایسی جگہ جو وقف کرنے والے کے مقصد سے نزدیک تر ہو،استعمال کيا جائے۔بہر حال ضروری ہے کہ وقف اور اسی طرح اس کے عوض کا تصرف متولی کرے اور اس کے نہ ہونے کی صورت ميں حاکم شرع کی اجازت سے ہو۔

مسئلہ ٢١٢٣ جن افراد کے ليے کسی چيز کو وقف کيا گياہو،جب بھی ان کے درميان اس طرح اختلاف پيدا ہو جائے کہ وقف کے مال کو نہ بيچنے کی صورت ميں وقف ميں مالی یا کسی جانی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس مال کو فروخت کيا جا سکتا ہے اورضروری ہے کہ اس کے عوض ميں کوئی مال خریدا جائے جس کے فوائد کو پهلے والے وقف کے مطابق وقف کرنے والے کے معين کردہ مواردميں استعمال کيا جائے اور یہ ممکن نہ ہونے کی صورت ميں اسے اس مصرف ميں جو وقف کرنے والے کے مقصد کے قریب تر ہو،لایا جائے۔ یهی حکم اس وقت بھی لگے گا جب وقف کرنے والے نے وقف کے وقت ہی شرط رکھ دی ہو کہ اگر مصلحت،وقف کے مال کو بيچ دینے ميں ہے تو اسے بيچ دیا جائے۔

مسئلہ ٢١٢ ۴ ایسی ملکيت کا خرید وفروخت کرنا جو کسی دوسرے کو کرایہ پر دی جاچکی ہو اشکال نہيں رکھتا ليکن کرایے کی مدت ختم ہونے تک اس کے فوائد کرایے دار کا ہی حق ہوں گے۔اور اگر خریدار نہ جانتا ہو کہ اس ملکيت کو کرایے پر دیا جا چکاہے یا اس گمان سے کہ کرایے کی مدت کم ہے ملکيت کو خرید لے تو صورتِ حال سے مطلع ہونے پراس سودے کو توڑ سکتاہے۔

خريد وفروخت کا صيغہ

مسئلہ ٢١٢ ۵ خرید وفروخت کے لئے عربی ميں صيغہ پڑھنا ضروری نہيں ،لہٰذا اگر فروخت کرنے والا مثال کے طور پر اردو ميں کهے:”ميں نے اس مال کو اس رقم کے عوض فروخت کيا“،اور خریدار کهے:”ميں نے قبول کيا“،تو سودا صحيح ہو گا،ليکن خریدار اور فروخت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ قصدِ انشاء رکھتے ہوں یعنی ان دو جملوں کے کهنے سے ان کا مقصد خرید وفروخت ہو۔

مسئلہ ٢١٢ ۶ اگر سودے کے وقت صيغہ نہ پڑھا جائے ليکن فروخت کرنے والا اور خریدار،اس لين دین سے خرید وفروخت کا ارادہ کریں تو سودا صحيح ہے اور دونوں مالک ہو جائيں گے۔

پھلوں کی خريد وفروخت

مسئلہ ٢١٢٧ اس پھل کو فروخت کرنا جس کا پھول گر گيا ہو اور پھل اپنے ابتدائی مرحلے ميں داخل ہو چکاہو، درخت سے توڑنے سے پهلے بھی صحيح ہے ۔ نيز بيلوں پر لگے ہوئے کچے انگور فروخت کرنے ميں بھی کوئی حرج نہيں ، ليکن درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ضروری ہے کہ لال یا پيلا ہونے سے پهلے فروخت نہ کيا جائے۔


مسئلہ ٢١٢٨ ایک سال کا پھل اس کے کونپل بننے سے پهلے،کسی چيز کو ساته ملا ئے بغير فروخت کرنا جائز نہيں ہے ،البتہ دو یا اس سے زیادہ سالوں کا پھل فروخت کرنایا کسی چيز کو ساته ملاتے ہوئے ایک سال کا پھل فروخت کرنا جائزهے،اور احتياط مستحب یہ ہے کہ پھل کے کونپل بن جانے کے بعد اس سے پهلے کہ پھول گرے اور پھل اپنے ابتدائی مرحلے ميں داخل ہو،بيچنے کے ليے اس کے ساته زمين سے ہی حاصل ہونے والی کوئی چيز مثلاً سبزیجات یا کوئی اور مال ملا کر بيچا جائے یا ایک سال سے زیادہ کا پھل بيچا جائے۔

مسئلہ ٢١٢٩ درخت پر لگی ہوئی کھجور اگر لال یا پيلی ہو چکی ہو تو اسے بيچنے ميں کوئی حرج نہيں ،ليکن اس کی قيمت اسی درخت پر لگی ہوئی کھجور کو قرار نہيں دیا جا سکتا۔ اسی طرح احتياط واجب یہ ہے کہ کسی اور کھجور کو بھی چاہے معين ہو یا ذمے پر،اس کا عوض قرار نہ دیا جائے۔

البتہ اگر کسی شخص کے پاس ایک کھجور کا درخت کسی دوسرے کے گھر ميں ہو تو درخت کا مالک اگر ان کھجوروں کی مقدار کا اندازہ لگا کر اس گھر کے مالک کو بيچ دے اور اس کا عوض بھی کھجوریں ہی قرار دے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢١٣٠ کهيرے،بينگن اور سبزیاں جن کی سال ميں کئی فصليں اترتی ہيں ،ان کو ظاہر ونمایاں ہو جانے کے بعد یہ طے کرتے ہوئے کہ خریدار سال ميں ان کی کتنی فصليں اتارے گا،بيچنا جائز ہے ۔

مسئلہ ٢١٣١ اگر گند م او ر جوَ کے خوشے کو دانہ پڑنے کے بعد گندم اور جوَ کے علاوہ کسی اور چيز کے عوض فروخت کيا جائے تو کوئی حرج نہيں ،البتہ اسی خوشے سے حاصل ہونے والے گندم یا جوَکے عو ض ميں بيچنا جائز نہيں ۔اسی طرح احتياطِ واجب کی بنا پر اس خوشے کی جوَ یا گندم کے علاوہ کسی اور جوَ یا گندم کے عو ض بيچنا بهی،چاہے جوَ یا گندم معين ہو یا نہ ہو، جائز نہيں ہے ۔

نقد اور ادهار

مسئلہ ٢١٣٢ اگر کسی چيز کو نقد فروخت کيا جائے تو خریدار اور فروخت کرنے والا ایک دوسرے سے چيز اور رقم کا مطالبہ کر کے اپنی تحویل ميں لے سکتے ہيں ۔

اور اموال کو تحویل ميں دینا، خواہ منقول ہوں یاغير منقو ل، یہ ہے کہ دوسرے کے تصرف ميں موجود رکاوٹوں کو برطرف کر دیاجائے۔

مسئلہ ٢١٣٣ ادهار سودے ميں ضروری ہے کہ مدت مکمل طور پر معلوم ہو، لہٰذا اگر کسی چيز کو فروخت کرے کہ فصل کی کٹائی کے وقت اس کی رقم لے تو چونکہ مدت مکمل طور پر معين نہيں ہوئی لہٰذا سودا باطل ہو گا۔


مسئلہ ٢١٣ ۴ اگر کسی چيز کو ادهار پر فروخت کرے تو طے شدہ مدت کے ختم ہونے سے پهلے اس کی قيمت کا خریدار سے مطالبہ نہيں کر سکتا۔ ہاں، اگر خریدار مر جائے اور اس کا اپنا مال ہو تو فروخت کرنے والامدت کے ختم ہونے سے پهلے اس کے وارثوں سے قيمت کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١٣ ۵ اگر کسی چيز کو ادهار پر فروخت کرے تو طے شدہ مدت ختم ہونے کے بعد خریدار سے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے ، ليکن اگر خریدار قيمت ادا نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ یا اسے مهلت دے اور یا پھرمعاملے کو ختم کردے اور اگر بيچی گئی چيز موجود ہو تو اسے واپس لے لے۔

مسئلہ ٢١٣ ۶ اگر کسی ایسے شخص کو ادهار بيچے جو چيز کی قيمت نہ جانتا ہو اور نہ ہی اس کی قيمت اس کو بتائے تو سودا باطل ہو گا،ليکن اگر کسی ایسے شخص کو جو چيز کی نقد قيمت کو جانتاہو ادهار دے اور مهنگی قيمت لگائے مثلاً کهے کہ اس ادهار ميں دی ہوئی چيز کی قيمت نقد قيمت سے ایک روپے پر دس پيسے کے حساب سے زیادہ لوں گا اور خریدار قبول کر لے تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢١٣٧ جس شخص نے کسی چيز کو ادهار پر فروخت کياہو اور اس کی رقم لينے کی مدت کو طے کر ليا ہو اگر مثلاًآدهی مدت گزرنے کے بعد خریدار سے کهے کہ قيمت کی اتنی مقدار مجھے نقد دے دواور باقی تمہيں معاف کرتا ہوں تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔

معاملہ سلف

مسئلہ ٢١٣٨ معامل ۂ سلف یہ ہے کہ خریدار نقد رقم دے کر کسی چيز کو بيچنے والے کے ذمہ پر خریدے کہ کچھ مدت کے بعد اس چيز کو بيچنے والے سے لے۔یہ سودا ادهار سودے کے بالکل برعکس ہے ۔

اور اگر خریدار کهے:” ميں یہ رقم دیتا ہوں تاکہ مثلاچھ مهينے کے بعد فلاں چيز کو لوں کہ جو تمهارے ذمہ پر ہے “ اور فروخت کرنے والا کهے:” ميں نے قبول کيا“یا فروخت کرنے والا رقم لے کر کهے:” ميں فلاں چيز کو اپنے ذمہ پر فروخت کرتا ہوں کہ چھ ماہ بعد تمہيں دوں“، تو یہ سودا صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢١٣٩ اگر سونے یا چاندی کو خواہ وہ رقم کی صورت ميں ہو یا نہ ہو بطورِ سلف فروخت کرے اور اس کی قيمت ميں سونا یا چاندی ہی لے، چاہے وہ رقم کی صورت ميں ہو یا نہ ہو ،سودا باطل ہو گا ۔ ليکن اگر کسی چيز یا ایسی رقم کو جو سونے یا چاندی کی صورت ميں نہ ہو بطور سلف فروخت کرے اور اس کی قيمت ميں کوئی چيز یا سونا چاندی لے تو خواہ وہ رقم کی صورت ميں ہو یا نہ ہو، سودا صحيح ہو گا ۔


معاملہ سلف کے شرائط

مسئلہ ٢١ ۴ ٠ معامل ۂ سلف کے سات شرائط ہيں :

١) ان خصوصيا ت کو معين کيا جائے جو چيز کی قيمت پر اثر انداز ہوتی ہيں اور ان خصوصيات کا اس طرح معين کرنا کہ عرفِ عام ميں یہ کها جائے کہ اس کی خصوصيا ت معلوم ہو گئی ہيں ، کافی ہے اور ان چيز وں ميں کہ جن کی صفات اور خصوصيات دیکھے بغير معين نہيں ہو سکتی ہيں جيسے جواہرات اور اس جيسی چيزیں ، معاملہ سلف صحيح نہيں ہے ۔

٢) خریدار اور بيچنے والے کے ایک دوسرے سے الگ ہونے سے پهلے خریدار مکمل قيمت بيچنے والے کو ادا کرے یا بيچنے والا قيمت کی مقدار ميں خریدار کا مقروض ہو اور اس کا قرضہ نقد رقم یا ایسے ادهار کی صورت ميں ہو جس کی مدت پوری ہو چکی ہو اور اپنے اس قرض کو چيز کی قيمت کے طور پر حساب کرے اور بيچنے والا بھی اس حساب کو قبول کرے۔

اور اگر قيمت کا کچھ ادا کرے تو صرف اس قيمت کی بہ نسبت سودا صحيح ہو گا اور بيچنے والے کو یہ اختيار ہو گا کہ سودا ختم کر دے۔

٣) مدت کو اس طرح معين کيا جائے کہ مکمل طور پر معلوم ہو ،لہٰذا اگر مثلاًکهے کہ فصل کی کٹائی کے وقت چيزکو تمهارے حوالے کروں گا تو چونکہ مدت مکمل طور پر معلوم نہيں ہوئی ہے ، لہٰذا سودا باطل ہو گا۔

۴) چيز تحویل ميں دینے کے لئے معين کيا جانے والا وقت ایسا ہو کہ بيچنے والا اس وقت چيز کو تحویل ميں دے سکے۔

۵) چيزکا قبضہ دینے کی جگہ، اس صورت ميں معين ہونا ضروری ہے کہ جب جگہوں کا مختلف ہونا قبضہ دینے ميں دشواری یا مالی نقصان کا سبب ہو، ليکن اگر قرائن سے اس کی جگہ معلوم ہو تو اس جگہ کا نام لينا ضروری نہيں ۔

۶) چيز کی مقدار کو وزن، پيمانہ، گنتی یا ان جيسی چيزوں سے معين کيا جائے اور ان چيزوں کو بھی بطورِ سلف فروخت کرنے ميں کوئی حرج نہيں جنہيں عام طور پر دیکھ کر خریدا جاتاہے ، بشرطيکہ اخروٹ اور انڈے کی بعض اقسام کی طرح اس کے افراد ميں اس قدر کم فرق ہو جسے لوگ اہميت نہيں دیتے ۔

٧) جس چيز کو فروخت کيا جارہا ہو اگر وہ ان چيزوں سے ہو کہ جنہيں وزن یا پيمانے سے فروخت کيا جاتا ہے تو اس کا عوض اسی چيز سے نہ ہو مثلاًگندم کو گندم کے عوض بطور سلف فروخت نہيں کيا جاسکتا ۔

معاملہ سلف کے احکام

مسئلہ ٢١ ۴ ١ جس چيز کو انسان نے بطور سلف خریدا ہو اسے مدت پوری ہونے سے پهلے بيچنے والے کے علاوہ کسی اور شخص کے ہاتھ نہيں بيچ سکتا ہے اور اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر بيچنے والے کو بھی نہيں بيچ سکتا ہے ۔ ہاں، مدت پوری ہونے کے


بعد اس چيز کو بيچنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ، اگرچہ خریدار نے مطلوبہ چيز اپنے قبضے ميں نہ لی ہو، ليکن اگر بيچنے والے کو قيمت کی جنس سے ہی بيچے تو ضروری ہے کہ چيز کی قيمت سے زیادہ پر نہ بيچے۔ ناپ یا تول کر بيچی جانے والی اشياء کو قبضے ميں لینے سے پهلے بيچنا جائز نہيں ہے ، ليکن اگر سرمايہ سے زیادہ پر نہ بيچے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۴ ٢ اگر بيچنے والا اُس چيز کوجس کا سودا بطور سلف ہوا ہو، وقت مقررہ ميں خریدار کے سپرد کردے تو خریدار کے لئے اس کا قبول کرنا ضروری ہے اور اگر جس چيز کا سودا ہوا ہو اس سے بہتر چيز دے جس کا شمار اسی جنس سے ہو تو بھی خریدار کے لئے قبول کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۴ ٣ اگر بيچنے والا، جس چيز کا سودا ہوا ہو اس سے گھٹيا چيز دے تو خریدار کو اختيار ہے کہ وہ قبول نہ کرے۔

مسئلہ ٢١ ۴۴ اگر بيچنے والا اُس چيز کے علاوہ کوئی دوسری چيز دے جس کا سودا ہوا تھا تو خریدار کے راضی ہونے کی صورت ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۴۵ جس چيز کو بطورِ سلف بيچا گيا ہو، اگر وہ اس وقت نایاب ہوجائے جب اسے خریدار کے سپرد کرنا ضروری ہو اور بيچنے والے کے لئے مهيا کرنا ممکن نہ رہے تو خریدار کو اختيار ہے کہ یا تو چيز کے دستياب ہونے تک صبر کرے یا سودا فسخ کرکے اپنی رقم واپس لے لے۔

مسئلہ ٢١ ۴۶ اگر کوئی شخص کسی چيز کو بيچے اور يہ طے پائے کہ کچھ عرصے کے بعد چيز دے گا اور رقم بھی کچھ عرصہ کے بعد لے گا تو سودا باطل ہے ۔

سونے و چاندی کی سونے و چاندی کے عوض فروخت

مسئلہ ٢١ ۴ ٧ اگر سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض بيچا جائے خواہ وہ سکّے کی صورت ميں ہو یا نہ ہو، اگر ان ميں سے ایک کا وزن دوسرے سے زیادہ ہو توسودا حرام اور باطل ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۴ ٨ اگر سونے کو چاندی کے عوض یا چاندی کو سونے کے عوض بيچا جائے تو سودا صحيح ہے اور ضروری نہيں ہے کہ دونوں کا وزن مساوی ہو۔

مسئلہ ٢١ ۴ ٩ اگر سونے یا چاندی کو سونے یا چاندی کے عوض بيچا جائے تو بيچنے والے اور خریدنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پهلے چيز اور اس کے عوض کا تبادلہ کرليں اور اگر معاملہ شدہ جنس کی کچھ مقدار کا بھی تبادلہ نہ کریں تو ایسی صورت ميں سودا باطل ہے ۔


مسئلہ ٢١ ۵ ٠ اگر بيچنے والے یا خریدنے والے ميں سے کوئی ایک طے شدہ مال پورا پورا دوسرے کے سپرد کردے ليکن دوسرا کچھ مقدار حوالے کرے اور پھر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائيں تو اگرچہ اتنی مقدار کی نسبت سودا صحيح ہے ، ليکن جس کو پورا مال نہ ملا ہو وہ سودا فسخ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۵ ١ اگر کان ميں موجود چاندی کی مٹی کو خالص چاندی سے اور اسی طرح کان ميں موجود سونے کی مٹی کو خالص سونے سے بيچا جائے تو سودا باطل ہے ، مگر يہ کہ بيچنے والا جانتا ہو کہ مٹی ميں موجود سونے یا چاندی کی مقدار خالص سونے یا چاندی کے برابر ہے ۔ ہاں، چاندی کی مٹی کو سونے کے عوض اور سونے کی مٹی کو چاندی کے عوض بيچنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

وہ مقامات جهاں انسان معاملہفسخ (ختم) کر سکتاہے

مسئلہ ٢١ ۵ ٢ سودا فسخ کرنے کے حق کو ”خيار“ کہتے ہيں ۔ خریدار اور بيچنے والے کو گيارہ صورتوں ميں سودا فسخ کرنے کا اختيار ہے :

١) خریدار اور بيچنے والا سودے کے بعد ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں اگرچہ اس مقام سے باہر آگئے ہوں جهاں معاملہ طے پایا تھا۔ اس خيار کو ”خيارِ مجلس“ کها جاتا ہے ۔

٢) خریدار یا بيچنے والے کو خریدوفروخت یا اس کے علاوہ کسی چيز ميں دهوکا ہواہو۔ اس خيار کو ”خيارِ غبن“ کہتے ہيں ۔

٣) سودے ميں طے کيا جائے کہ ایک خاص مدت تک دونوں یا کسی ایک کو سودا فسخ کرنے کا اختيار ہے اور اس خيار کو ”خيارِ شرط“ کہتے ہيں ۔

۴) فریقین ميں سے کوئی اپنے مال کو اس کی اصلی حالت سے بہتر بتائے اور اس طرح پےش کرے کہ لوگوں کی نظروں ميں مال کی قيمت بڑھ جائے۔ اس خيار کو ”خيارِ تدلےس“ کہتے ہيں ۔

۵) فریقین ميں سے ایک فریق دوسرے کے ساته شرط باندهے کہ وہ ایک کام بجا لائے گا اور اس شرط پر عمل نہ ہو یا يہ شرط کی جائے کہ وہ مال چند خصوصيات کا حامل ہو اور وہ خصوصيت اس مال ميں نہ پائی جائے، ان دونوں صورتوں ميں شرط کرنے والا سودا فسخ کرسکتا ہے ۔

اس خيار کو ”خيارِ تخلّف شرط“ کہتے ہيں ۔

۶) چيز یا اس کے عوض ميں عےب ہو۔ اس خيار کو ”خيارِ عےب“ کہتے ہيں ۔

٧) معلوم ہوجائے کہ فریقین نے جس چيز کا سودا کيا تھا اس کی کچھ مقدار دوسرے شخص کا مال ہے ۔اس صورت ميں اگر اس مقدار کا مالک اس سودے پر راضی نہ ہو تو خریدار سودا فسخ کرسکتا ہے یا اگر اتنی مقدار کا عوض دے چکا ہو تو اسے واپس لے سکتا


ہے اور اس کی دو قسميں ہيں :

١لف) وہ معين مقدار بطورِ مشاع ہو۔ یهاں ”خيارِ شرکت“ کا مقام ہے ۔

ب) وہ معين مقدار جداگانہ ہو۔ یهاں ”خيارِ تبعضِ صفقہ“ کا مقام ہے ۔

٨) مال کا بيچنے والا مال جو کہ معين ہے اور ذمہ پر نہيں ہے ، کی خصوصيات کو خریدار کے سامنے بيان کرے جب کہ خریدار نے اس مال کو نہ دےکها ہو اور بعد ميں معلوم ہو کہ چيز وےسی نہيں ہے جیسی بتلائی گئی تھی۔ اس صورت ميں خریدار سودا فسخ کرسکتا ہے ۔ اس خيار کو ”خيارِ رویت“کہتے ہيں ۔

٩) خریدار خریدی ہوئی چيز کی قيمت تین روز تک نہ دے جب کہ اس نے دیر سے ادائیگی کی کوئی شرط بھی نہ رکھی ہو۔ اس صورت ميں اگر بيچنے والے نے مال خریدار کے سپرد نہ کيا ہو تو سودا فسخ کرسکتا ہے ، ليکن اگر خریدی ہوئی شَے بعض ایسے پهلوں کی طرح ہو جو ایک دن پڑے رہنے سے خراب ہوجاتے ہيں تو ایسی صورت ميں اگر رات تک ادائیگی نہ کرے جب کہ شرط بھی نہ رکھی ہو کہ دیر سے قيمت ادا کرے گا تو بيچنے والا سودا فسخ کرسکتا ہے ۔ اسے ”خيارِ تاخیر “ کہتے ہيں ۔

١٠ ) جو شخص کوئی حیوان خریدے، تین روز تک سودا فسخ کرسکتا ہے اور اگر کسی چيز کو حيوان کے بدلے بيچا ہو تو بيچنے والا تین روز تک سودا فسخ کرسکتا ہے ۔ اسے ”خيار حیوان“ کہتے ہيں ۔

١١ ) بيچنے والا اس چيز کا قبضہ نہ دے سکے جسے بيچ چکا ہو، مثلاً جس گهوڑے کو بيچا ہو وہ بهاگ جائے، تو اس صورت ميں خریدار سودا فسخ کرسکتا ہے ۔ اسے ”خيارِ تعذرِ تسلےم“ کہتے ہيں ۔

ان کے احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔

مسئلہ ٢١ ۵ ٣ اگر خریدار چيز کی قيمت سے واقف نہ ہو یا سودا کرتے وقت غفلت برتے اور رائج قيمت سے زیادہ پر خریدلے، پس اگر اتنا مهنگا خریدا ہو کہ لوگ اسے اہميت دیتے ہوں اور چھوٹ نہ برتتے ہوں تو خریدار سودا فسخ کرسکتا ہے ۔

اسی طرح اگر بيچنے والا قيمت سے واقف نہ ہو یا سودے کے وقت غفلت برتے اور رائج قيمت سے کم پر فروخت کردے، پس اگر لوگ اسے اہميت دیتے ہوں اور چھوٹ نہ برتتے ہوں تو بيچنے والا سودا فسخ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۵۴ ” بیعِ شرط“ ميں ، مثال کے طور پر ایک لاکه روپے کا مکان ۵ ٠ ،ہزار روپے ميں بيچ دیا جائے اور طے کيا جائے کہ اگر بيچنے والا مقررہ مدت تک رقم پلٹادے تو سودا فسخ کرسکتا ہے ، اگر خریدار اور بيچنے والا خریدنے اور بيچنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو سودا صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢١ ۵۵ ” بیعِ شرط“ ميں اگر بيچنے والے کو اطمينان ہو کہ خواہ وہ مقررہ مدت ميں رقم واپس نہ بھی کرے تب بھی خریدار املاک اسے واپس کردے گا تو سودا صحيح ہے ، ليکن اگر وہ مدت ختم ہونے تک رقم واپس نہ کرے تو وہ خریدار سے املاک کی واپسی کا مطالبہ نہيں کرسکتا ہے اور اگر خریدار مقررہ مدت آجانے کے بعدمرجائے تو اس کے ورثاء سے املاک کی واپسی کا مطالبہ نہيں کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۵۶ اگر مثلاًاعلیٰ قسم کی چائے کو معمولی قسم کی چائے کے ساته ملادے اور اسے اعلی قسم کی چائے کے نام پر فروخت کرے اور خریدنے والا یہ بات نہ جانتاہو تو وہ سودا توڑ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۵ ٧ اگر سودا اس مال پر ہو کہ جو خارج ميں ہے ،نہ کہ ذمہ پر اور پھر خریدار کو پتہ چلے کہ اس مال ميں کوئی عيب ہے مثلا کوئی جانور خریدے اور معلوم ہوکہ اس کی ایک آنکه نہيں ہے ، تواگر وہ عيب سودے سے پهلے مال ميں تھا ليکن اسے اس بات کا علم نہيں تھا تو وہ سودا توڑ کر بيچنے والے کو وہ مال لوٹا سکتاہے اور اگر واپس کرنا ممکن نہ ہو مثلاًاس مال ميں کوئی تبدیلی واقع ہوگئی ہو یا وہ مال ميں کوئی ایسا تصرف کر چکا ہو جو مال کو واپس کرنے ميں رکاوٹ ہو تو اس صورت ميں مال کی سالم اور معيوب حالتوں کی قيمت کو معين کيا جائے اور بيچنے والے کو دی جانے والی رقم سے سالم اور معيوب حالت کی قيمتوں کے فرق کی مقدار نسبت کے اعتبار سے واپس لے لے۔مثال کے طور پر جس مال کو چار روپے ميں خریدا ہو اور پتہ چلے کہ وہ معيوب ہے تو اس صورت ميں کہ اس کے سالم کی قيمت آٹھ روپے ہو اور اس کے معيوب کی قيمت چھ روپے ہو، تو چونکہ سالم اور معيوب کی قيمتوں کا ۴) یعنی ایک / ۴) ہے ، تو وہ دی ہوئی رقم کا ایک چوتھائی( ١ / فرق نسبت کے اعتبار سے ایک چو تھائی( ١روپيہ بيچنے والے سے لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۵ ٨ اگر فروخت کرنے والے کو پتہ چلے کہ اس معين خارجی ميں کہ جس کے عوض اپنا مال فروخت کيا تھا ، کوئی عيب ہے ۔ تو اگر وہ عيب سودے سے پهلے عوض ميں تھا اور وہ نہيں جانتا تھا تو وہ سودا توڑ کر یہ عوض اس کے مالک کو لوٹا سکتا ہے اور اگر تبدیلی یا ایسے تصرف کی وجہ سے جو لوٹانے ميں رکاوٹ ہو ، نہ لوٹا سکتا ہو تو وہ سالم اور معيوب کی قيمت کے فرق کی نسبت کو سابقہ مسئلے ميں بتائے گئے طریقے کے مطابق لے سکتاہے۔

مسئلہ ٢١ ۵ ٩ اگر سودا ہونے کے بعد اور مال سپرد کرنے سے پهلے اس ميں کوئی عيب پيدا ہوجائے تو خریدار سودا توڑ سکتاہے۔اسی طرح اگر مال کے عوض ميں سودا ہونے کے بعد اور قبضہ سے پهلے کوئی عيب پيدا ہوجائے تو بيچنے والا سودا توڑ سکتاہے ۔ليکن اگر قيمت کا فرق لينا چاہيں تو یہ جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۶ ٠ اگر سودے کے بعد مال کے عيب کا علم ہوجائے توفوری طور پر سودا توڑنا ضروری نہيں بلکہ بعد ميں بھی سودا توڑنے کا حق رکھتا ہے ۔ اگر چہ احوط یہ ہے کہ تاخير نہ کی جائے۔


مسئلہ ٢١ ۶ ١ جب کوئی چيز خریدنے کے بعد اس کے عيب کا علم ہو تو اگرچہ بيچنے والا موجود نہ ہو وہ سودا توڑ سکتا ہے ۔ باقی خيارات ميں بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۶ ٢ چار صورتوں ميں خریدار، مال ميں موجود عيب کی وجہ سے نہ سودا توڑ سکتا ہے اور نہ ہی قيمتوں کا فرق لے سکتاہے :

١) خریدتے وقت ہی وہ مال کے عيب سے واقف ہو ۔

٢) مال کے عيب پر راضی ہوجائے۔

٣) سودے کے وقت کهے:”اگر مال ميں کوئی عيب ہوگا تو ميں واپس نہيں دوں گا اور قيمت کا فرق بھی نہيں لوں گا“۔

۴) فروخت کرنے والا سودے کے وقت کهے ”ميں اس مال کو اس ميں موجود ہر عيب کے ساته فروخت کرتا ہوں“، ليکن اگر عيب کو معين کر دے او ر کهے: ” ميں مال کو اس عيب کے ساته فروخت کرتاہوں“ اور بعد ميں معلوم ہوکہ کوئی اور عيب بھی ہے تو خریدار اس عيب کی خاطر جسے فروخت کرنے والے نے معين نہيں کيا تھا ، مال کو واپس کر سکتا ہے اور اگر واپس نہ کرسکے تو قيمت کا فرق لے لے۔

مسئلہ ٢١ ۶ ٣ چند صورتوں ميں ، جس شخص کے پاس معيوب مال پهنچا ہو، معاملہ کو عيب کی وجہ سے فسخ نہيں کر سکتا بلکہ صرف قيمت کے فرق کا مطالبہ کر سکتاہے :

١) جب عين مال تلف ہو چکا ہو۔

٢) جب وہ چيزاس کی ملکيت سے نکل چکی ہو، مثلاً کسی کو وہ چيز بيچ چکا ہو یا بخش چکا ہو۔

٣) وہ مال تبدیل ہو چکا ہو، مثلاً جو کپڑا خریدا ہو اسے کاٹ چکا ہو یا اسے رنگ کروا چکا ہو۔

۴) اس صورت ميں کہ اگرچہ وہ چيز اس کی ملکيت سے باہر نہ گئی ہو ليکن اس پر کوئی معاملہ انجام پا چکا ہو مثلاً اسے کرائے پر دے چکا ہو یا گروی رکھوا چکا ہو۔

۵) قبضہ لينے کے بعد اس ميں کوئی عيب پيدا ہو چکا ہو، ليکن اگر خریدی ہوئی چيز معيوب حيوان ہو اور تين دن گزرنے سے پهلے اس ميں کوئی اور عيب پيدا ہوجائے تو چاہے اس پر قبضہ کر چکا ہو، پھر بھی خيارِحيوان کا حق رکھنے کے اعتبار سے سودا توڑ سکتا ہے ۔ یهی حکم اس صورت ميں ہے کہ جب خيارِ شرط کے اعتبار سے فسخ کا حق رکھتا ہو۔

مسئلہ ٢١ ۶۴ اگر انسان کے پاس کوئی ایسا مال ہو جسے اس نے خود نے نہ دیکھا ہو، بلکہ کسی اور نے اس کی خصوصيات اسے بتائی ہوں اور وہ وهی خصوصيات خریدنے والے کو بتا کر مال بيچ دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ اس کامال اس سے بہتر تھا تو وہ معاملہ ختم کر سکتا ہے ۔


خريد و فروخت کے متفرق مسائل

مسئلہ ٢١ ۶۵ اگر بيچنے والا اپنی چيز کی قيمتِ خرید، گاہک کو بتائے تو ضروری ہے کہ ان تمام چيزوں کا تذکرہ کرے جن کی وجہ سے قيمت کم یا زیادہ ہوتی ہے ، چاہے اسی قيمت پر یا اس سے کم پر بيچے، مثلاً بتائے کہ ادهار خریدی ہے یا نقد، لہٰذا اگر بعض خصوصيات کا تذکرہ نہ کرے اور بعد ميں گاہک کو معلوم ہو تو وہ سودا ختم کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۶۶ اگر انسان کسی چيز کی قيمت معين کرتے ہوئے کسی کو دے اور کهے: ”یہ چيز اس قيمت پر بيچ دو اور اس سے جتنا مهنگا بيچو وہ تمهارے کام کی اجرت ہے “۔ تو وہ شخص جتنی زیادہ قيمت پر بھی بيچے، سب کا سب اصل مالک کا مال ہے اور اجارہ باطل ہے ۔ ہاں، بيچنے والا، مشهور قول کی بنا پر، اپنے کام کی اجرت المثل اصل مالک سے لے سکتا ہے ، ليکن اگر اجرت المثل بيچنے والے کے راضی ہونے والی مقدار سے زیادہ ہو تو احتياطِ واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اضافی مقدار ميں اصل مالک کے ساته مصالحت کرے۔ ہاں، اگر بطور جعالہ معاملہ کرے اور کهے:”اگر تم نے اس سے زیادہ قيمت پر بيچ دیا تو اضافی مقدار تمهاری ہوگی“، تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢١ ۶ ٧ اگر قصائی نر جانور کا گوشت بيچے اور اس کی جگہ مادہ کا گوشت دے تو گنهگار ہے اور اگر گوشت کو معين بھی کيا ہو اور کها ہو کہ ميں یہ نر جانور کا گوشت بيچ رہا ہوں تو گاہک معاملہ فسخ کر سکتا ہے ، جب کہ اگر اسے معين نہ کيا ہو تو گاہک کے اس گوشت پر راضی نہ ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ اسے نر کا گوشت دے۔

مسئلہ ٢١ ۶ ٨ اگر خریدار کپڑے والے سے کهے:”مجھے ایسا کپڑا چاہئے جس کا رنگ پکا ہو“، تو اگرکپڑے والا اسے کچے رنگ کا کپڑا بيچ دے تو گاہک سودا ختم کر سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١ ۶ ٩ سودے ميں قسم کھانا، اگر سچی ہو تو مکروہ ہے اور جھوٹ ہو تو حرام ہے ۔

شراکت کے احکام

مسئلہ ٢١٧٠ شراکت یہ ہے کہ ایک مال کے، چاہے وہ مال عين ہو یا ذمہ، مشاع طور پرنصف، ثلث یا اسی طرح کی نسبت کے اعتبار سے، دو یا دوسے زیادہ مالک ہوں۔

شراکت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہيں : غير اختيار ی وجہ جيسے وراثت۔

اختياری وجہ، چاہے وہ وجہ کوئی خارجی عمل ہو مثلاً دو افراد مل کر کوئی مال حيازت کے ذریعے اپنی ملکيت ميں ليں یا کوئی عقد، مثلاً دو افراد جو دو عليحدہ عليحدہ مال کے مالک ہوں، دونوں ميں سے ہر ایک اپنے آدهے مال کا مشاع طور پر دوسرے کے آدهے مشاع سے خرید و فروخت یا مصالحت وغيرہ کے ذریعے معاوضہ کرے۔


اسی طرح دومالوں کے آپس ميں اس طرح مل جانے سے بھی کہ ان دونوں کے درميان فرق باقی نہ رہے، شراکت حاصل ہو جاتی ہے ، چاہے وہ دونوں مال ایک ہی جنس سے ہوں یا دو الگ الگ اجناس سے۔اور عقدی شراکت، جس کے احکام بيان کئے جائيں گے، یہ ہے کہ دو یا اس سے زیادہ افراد آپس ميں قرار داد طے کریں کہ مشترک مال سے معاملہ کيا جائے اور نفع و نقصان ميں سب آپس ميں شریک ہوں۔

مسئلہ ٢١٧١ اگر دو یا زیادہ افراد اپنے کام سے ملنے والی مزدوری ميں شراکت کریں، مثلا اگر چندمزدور آپس ميں طے کریں کہ ہميں جتنی بھی مزدوری ملے گی آپس ميں تقسيم کر ليں گے تو یہ شراکت صحيح نہيں ہے ۔ ہاں، اگر ان ميں سے ہر ایک آپس ميں اس بات پر مصالحت کر لے کہ ایک معينہ مدت تک اپنی آدهی کمائی اور اس کی آدهی کمائی آپس ميں بانٹ ليں اور وہ بھی اسے قبول کر لے تو وہ اپنی مزدوریوں ميں شریک ہو جائيںگے۔

اور اگر کسی عقدِ لازم کے ضمن ميں یہ شرط رکہيں کہ دونوںميں سے ہر ایک اپنی آدهی مزدوری دوسرے کو دے تو اگرچہ آپس ميں شریک نہ بنيںگے ليکن ضروری ہے کہ شرط پر عمل کریں۔یهی حکم اس وقت ہے جب عقدِ جائز کے ضمن ميں شرط رکھی ہو، البتہ اس وقت تک جب تک عقد باقی ہو۔

مسئلہ ٢١٧٢ اگر دو افراد آپس ميں اس طرح شراکت کریں کہ دونوں ميں سے ہر ایک اپنے اعتبار سے ایک چيز خریدے، ليکن اس چيز کو استعمال کرنے ميں جو دونوں نے عليحدہ عليحدہ خریدی ہے آپس ميں شریک ہوں، تو یہ صحيح نہيں ہے ۔ ہاں، اگر دونوںميں سے ہر ایک دوسرے کو وکيل بنا دے کہ جو چيز تم نقد یا ادهار ، ما فی الذمہ پر خریدوگے، اس ميں سے ایک مشاع نسبت مثلاً نصف یا ثلث، ميرے ذمّے پر خریدو اور پھر دونوں اس طرح ایک چيز اپنے اور اپنے شریک کے لئے خریدیں کہ دونوں پر اس کی قيمت ادا کرنا ضروری ہوجائے، تو شراکت صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢١٧٣ شراکت کے عقد کے ذریعے شریک بننے والوںکے لئے ضروری ہے کہ عاقل و بالغ ہوں، ارادے و اختيار سے آپس ميں شراکت کریں اور اپنے مال ميں تصرف کر سکتے ہوں۔ لہٰذا سفيہ، یعنی وہ شخص جو اپنا مال بے کار کاموںميں استعمال کرتا ہے ،چونکہ اپنے مال ميں تصرف کا حق نہيں رکھتا، اگرشراکت کرے تو صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١٧ ۴ اگر شراکت کی قرارداد ميں یہ شرط رکہيں کہ کام کرنے والا، زیادہ کام کرنے والا یا جس کے کام کی اہميت زیادہ ہے ، زیادہ منافع کا حقدار ہو تو ضروری ہے کہ شرط کے مطابق اسے زیادہ منافع دیا جائے، ليکن اگر شرط رکہيں کہ جو کام نہيں کرتا، یا کم کام کرتا ہے یا جس کے کام کی اہميت زیادہ نہيں ہے ، وہ زیادہ منافع لے تو یہ شرط باطل ہے ۔ ہاں، اگر یہ شرط رکہيں کہ اضافی مقدار اس کی ملکيت ميں دے دی جائے تو یہ شرط صحيح ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ۔


مسئلہ ٢١٧ ۵ اگر یہ طے کریں کہ سارا نفع ایک شخص کا ہو یا سارا نقصان کوئی ایک برداشت کرے تو یہ قرارداد باطل ہے اور شراکت کا صحيح ہونا بھی محل اشکال ہے ، ليکن اگر یہ شرط کریں کہ ایک فرد جتنے نفع کا مالک بنے گا سارا اپنے شریک کو دے دے گا یا سارے ضرر ميں سے جتنا حصہ شریک کا ہوگا، اپنے مال سے اس کی ملکيت ميں دے گا تو شراکت صحيح ہے اور شرط پر عمل کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢١٧ ۶ اگر یہ شرط نہ رکھی گئی ہو کہ کسی ایک شریک کا زیادہ منافع ہوگا تو دونوں کا سرمایہ مساوی ہونے کی صورت ميں وہ نفع و نقصان ميں برابر کے شریک ہوں گے،جب کہ اگر ان کا سرمایہ مساوی نہ ہو تو نفع نقصان بھی سرمائے کی مقدار کے اعتبار سے ہوگا، مثلاً اگر دو افراد شراکت کریں جن ميں سے ایک کا سرمایہ دوسرے کے مقابلے ميں دگنا ہو، تو منافع یا ضرر ميں بھی اس کا حصہ دو برابر ہوگا، خواہ دونوں نے برابر کام کيا ہو یا کسی ایک نے کم کام کيا ہو یا بالکل کام نہ کيا ہو۔

مسئلہ ٢١٧٧ اگر شراکت کی قرارداد ميں شرط کریں کہ خرید و فروخت دونوں مل کر کریں گے یا دونوں عليحدہ عليحدہ معاملہ کریں گے یا دونوںميں سے صرف کوئی معاملہ کرے گا تو شرط پر عمل کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢١٧٨ اگر یہ طے نہ کيا جائے کہ دونوں ميں سے کون سرمائے سے خرید و فروخت کرے گا تودونوںميں سے کوئی بھی دوسرے کی اجازت کے بغير اس سرمائے سے سودا نہيں کر سکتا۔

مسئلہ ٢١٧٩ اس شریک کے لئے، جس کے اختيار ميں شراکت کا سرمایہ ہے ، ضروری ہے کہ شراکت کی قرارداد پر عمل کرے، مثلاً اگر طے ہوا ہو کہ خریداری ادهار پر ہوگی یا ہر چيز نقد بيچی جائے گی یا یہ کہ خریداری کسی خاص جگہ سے ہوگی تو ضروری ہے کہ اسی طریقے سے عمل کرے۔ہاں، اگر اس سے کوئی بات بطور خاص طے نہ کی ہوتو ضروری ہے کہ معمول کے مطابق معاملہ کرے اور اگر سفر پر شراکت کا مال ساته لے جانے کا معمول نہ ہو یا مال کے لئے خطرے کا احتمال ہو تو ساته لے کر نہ جائے۔

مسئلہ ٢١٨٠ جو شریک شراکت کے مال سے خرید و فروخت کرتا ہو، اگر قرارداد کی خلاف ورزی کرے یا قرارداد نہ ہونے کی صورت ميں معمول کے خلاف عمل کرے، ان دوصورتوں ميں دوسرے شریک کے حصے کی بہ نسبت معاملہ فضولی ہوگا، لہٰذا اگر شریک اس کی اجازت نہ دے تووہ اپنا عين مال یا عين مال کے تلف ہوجانے کی صورت ميں اپنے مال کا عوض لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١٨١ جو شرےک شرکت کے سرمائے سے معاملہ کرتا ہے اگر افراط نہ کرے اور سرمائے کی دےکه بهال ميں کوتاہی نہ کرے اور اتفاقاً سرمائے کی کچھ مقدار یا تمام کا تمام سرمايہ تلف ہوجائے تو ضامن نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١٨٢ جو شرےک شرکت کے سرمائے سے معاملہ کرتا ہے اگر کهے کہ سرمايہ تلف ہوگيا ہے اور حاکم شرع کے سامنے قسم کھائے تو اس کی بات قبول کرنا ضروری ہے ۔


مسئلہ ٢١٨٣ اگر تمام شرکاء جنہوں نے ایک دوسرے کو تصرف کی اجازت دی ہو اجازت واپس لے ليں تو ان شرکاء ميں سے کوئی بھی شراکت کے مال ميں تصرف نہيں کرسکتا اور اگر ان ميں سے کوئی ایک اپنی اجازت سے پلٹ جائے تو دوسرے شرےک تصرف کا حق نہيں رکھتے، ليکن جو شرےک اپنی اجازت سے پلٹ گيا ہے وہ شرکت کے مال ميں تصرف کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١٨ ۴ جب بھی شرکاء ميں سے کوئی شرےک تقا ضا کرے کہ شرکت کے سرمائے کو تقسےم کردیا جائے، اگرچہ شراکت مدت والی ہو، دوسروں کے لئے ضروری ہے کہ مان ليں، سوائے اس صورت ميں کہ جب تقسےم، مشترک مال کے علاوہ کسی اور مال کے ضمےمے کی محتاج ہو، جسے ”قسمت ردّ“ کہتے ہيں یا تقسےم سے شرکاء کو قابل ذکر نقصان پهنچ رہا ہو۔

مسئلہ ٢١٨ ۵ اگر شرکاء ميں سے کوئی ایک مرجائے یا دیوانہ یا بے ہوش ہوجائے تو دوسرے شرکاء، شرا کت کے مال ميں تصرف نہيں کرسکتے۔ یهی حکم اس وقت ہے جب شرکاء ميں سے کوئی ایک سفيہ ہوجائے یعنی اپنے مال کو بے کار کاموں ميں صرف کرے یا حاکم شرع اسے دیواليہ ہونے کی وجہ سے ممنوع التصرف کردے۔

مسئلہ ٢١٨ ۶ اگر کوئی شرےک اپنے لئے کوئی چيز ادهار خریدے تو نفع اور نقصان اس کے ذمہ ہے ليکن اگر شرکت کے لئے خریدے اور شرکت کا اطلاق ادهار والے معاملات کو بھی شامل کر رہا ہو تو نفع اور نقصان ميں تمام شرکاء شرےک ہونگے۔ یهی حکم اس وقت ہے کہ جب شراکت کی قرارداد ميں ادهار معاملات شامل نہ ہوں ليکن وہ شرکت کے لئے ادهار پر خرید لے اور دوسرا شریک اس کی اجازت دے دے۔

مسئلہ ٢١٨٧ اگر شراکت کے سرمائے سے کوئی معاملہ کئے جانے کے بعد معلوم ہو کہ شرکت باطل تهی، تو اگر صورت یہ ہو کہ معاملے کی اجازت ميں شراکت کے صحيح ہونے کی قيد نہ ہو یعنی اگر شرکاء کو معلوم ہوتا کہ شرکت صحيح نہيں ہے تب بھی ایک دوسرے کے مال ميں تصرف پر راضی ہوتے تو معاملہ صحيح ہے اور اس معاملے سے حاصل ہونے والا مال سب کا ہوگا۔ ہاں، اگر ا س طرح نہ ہو تو جو لوگ دوسروں کے تصرف کرنے پرراضی نہ تهے اگر معاملے کی اجازت دیں تو معاملہ صحيح ورنہ باطل ہوگا اور هرصورت ميں فقهاء اعلی الله مقامهم کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ ”ان ميں سے جس نے بھی شراکت کے لئے کوئی کام کيا ہے ، اگر بلا معاوضہ کام کرنے کے ارادے سے نہ کيا ہو تو اپنی محنت کی معمول کے مطابق اجرت دوسرے شرکاء سے اپنے کام کی نسبت کے اعتبار سے لے سکتا ہے “، ليکن ظاہر يہ ہے کہ اجازت نہ دینے کی صورت ميں اجرت کے مستحق نہ ہوں گے اور اجازت کی صورت ميں اجرت کا مستحق ہونا محل اشکال ہے اور احوط مصالحت ہے ۔


مصالحت کے احکام

مسئلہ ٢١٨٨ صُلح یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کے ساته اس بات پر اتفاق کرے کہ اپنے مال یامنافع سے کچھ مقدار اس کی ملکيت ميں دے دے یا اس کے لئے مباح کردے یا اپنا قرض یا حق معاف کردے تاکہ دوسرا بھی اس کے عوض اپنے مال یا منافع کی کچھ مقدار اسے دے دے یا اس کے لئے مباح کردے یا قرض یا حق سے دستبردار ہوجائے۔ اور مذکورہ چيزوں ميں سے کسی پر کوئی عوض لئے بغير مصالحت کرنا محلِ اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢١٨٩ عقد صلح ميں ضروری ہے کہ طرفين ميں سے ہر ایک عاقل و بالغ ہوں، مصالحت کا قصد رکھتے ہوں اور کسی نے انہيں مصالحت کرنے پر ناحق مجبور نہ کيا ہو۔هاں، اگر زبردستی کی گئی ہو اور بعد ميں وہ راضی ہوجائيں تو صلح نافذ ہوگی۔ اسی طرح ضروری ہے کہ سفيہ اور دیواليہ ہونے کی وجہ سے حاکم شرع کی طرف سے ممنوع التصرف نہ ہوں۔

مسئلہ ٢١٩٠ ضروری نہيں ہے کہ صلح کا صيغہ عربی زبان ميں پڑھا جائے بلکہ جن الفاظ سے بھی پتہ چلے کہ فریقین نے آپس ميں مصالحت کی ہے وہ مصالحت صحيح ہے ۔ اسی طرح معاطات، بلکہ مصالحت کے ارادے سے اگر ایک دے اور دوسرا لے لے تو مصالحت ہو جاتی ہے ۔

مسئلہ ٢١٩١ اگر کوئی شخص اپنی بھیڑ یں چرواہے کو دے تاکہ وہ مثلاً ایک سال ان کی دےکه بهال کرے اور ان کا دودھ سے استعمال کرے اور گهی کی کچھ مقدار مالک کو دے تو اگر چرواہے کی محنت اور اس گهی کے مقابلے ميں جو بھيڑوں کے دودھ سے نہ بنا ہو، وہ شخص اپنی بھيڑوں کے دودھ پر مصالحت کرلے تو کوئی حرج نہيں ہے ، بلکہ اگر بھیڑ وں کو ایک سال کے لئے چرواہے کو کرایہ پر دے تاکہ وہ ان کا دودھ استعمال کرے اور اس کے عوض گهی کی معينہ مقدار اُسے دے دے جوکرایہ دی ہوئی بھیڑ وں کے دودھ سے نہ بنا ہو تو اس ميں بھی کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١٩٢ اگرکوئی شخص اپنے قرض یا حق کے بدلے کسی دوسرے سے مصالحت کرنا چاہے تو يہ مصالحت اس صورت ميں صحيح ہے کہ جب دوسرا اسے قبول کرلے۔ ہاں، اگر اپنے قرض یا حق سے دستبردار ہونا چاہے تو دوسرے کا قبول کرنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ٢١٩٣ اگر مقروض اپنے قرضے کی مقدار جانتا ہو جب کہ قرض خواہ کو اس کا علم نہ ہو تو اگر اس مقدار سے کم پر مصالحت کرے مثلاً اس کو پچاس روپے لینے ہوں اور دس روپے پر مصالحت کرے تو اضافی رقم مقروض کے لئے حلال نہيں ہے ، مگر یہ کہ اپنے قرضے کی مقدار کے متعلق قرض خواہ کو بتائے اور اسے راضی کرلے یا صورت ایسی ہو کہ اگر قرض خواہ کو قرضے کی مقدار کا علم ہو تا تب بھی وہ اس مقدار یعنی دس روپے پر مصالحت کرليتا۔


مسئلہ ٢١٩ ۴ اگر دو اشخاص دو ایسی چيزوں کے سلسلے ميں جو ایک ہی جنس سے ہوں اور جن کے وزن معلوم ہوں آپس ميں مصالحت کریں تو احتياط واجب يہ ہے کہ ایک چيز کا وزن دوسری چيز سے زیادہ نہ ہواور اگر ان کا وزن معلوم نہ ہو تو اگرچہ اس بات کا احتمال ہو کہ ایک چيز کا وزن دوسری چيز سے زیادہ ہے اور وہ مصالحت کرليں تو مصالحت صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢١٩ ۵ اگر دو اشخاص کو ایک شخص سے قرضہ وصول کرنا ہو یا دو اشخاص کو دوسرے دو اشخاص سے کچھ لینا ہو اور اپنی اپنی طلب پر ایک دوسرے سے مصالحت کرنا چاہتے ہوں اور دونوں کی طلب ایک ہی جنس سے ہو اور ایک وزن ہو مثلاًدونوں کو دس من گندم لینی ہو تو ان کی مصالحت صحيح ہے ۔ یهی حکم اس وقت ہے جب طلب کی جنس ایک نہ ہو مثلاً ایک نے دس من چاول اور دوسرے نے بارہ من گندم لینی ہو تب بھی مصالحت صحيح ہے ليکن اگر ان کی طلب ایک ہی جنس کی ہو اور وہ ایسی چيز ہو جس کا سودا عموماً تول کر یا ناپ کر کيا جاتا ہے تو اگر ان کا وزن یا پےمانہ ےکساں نہ ہو تو ان کی مصالحت ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢١٩ ۶ اگر کسی شخص کو کسی دوسرے سے اپنا قرضہ کچھ مدت کے بعد واپس لینا ہو اور وہ مقروض کے ساته مقررہ مدت سے پهلے معين مقدار سے کم پر مصالحت کرے اور اس کا مقصد يہ ہو کہ اپنے قرضے کا کچھ حصہ معاف کردے اور باقی نقد لے لے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢١٩٧ اگر دو اشخاص کسی چيز پر آپس ميں مصالحت کرليں تو ایک دوسرے کی رضامندی سے اس صلح کو توڑ سکتے ہيں ۔ اسی طرح اگر صلح کے ضمن ميں دونوں کو یا کسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کا حق دیا گيا ہو تو جو شخص وہ حق رکھتا ہو، صلح کو فسخ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢١٩٨ جب تک خریدار اور بيچنے والا ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں معاملہ کو فسخ کرسکتے ہيں ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایک جانور خریدے تو وہ تین دن تک معاملہ فسخ کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ اسی طرح اگر خریدار خریدی ہوئی جنس کی قيمت تین دن تک نہ دے اور جنس کا قبضہ نہ لے تو بيچنے والا معاملہفسخ کرسکتا ہے ، ليکن جو شخص کسی مال پر مصالحت کرے وہ ان تین وں صورتوں ميں مصالحت فسخ کرنے کا حق نہيں رکھتا۔ ہاں، اگر مصالحت کادوسرا فریق مصالحت کا مال دینے ميں غیر معمولی تاخیر کرے تو اس صورت ميں مصالحت فسخ کی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح باقی خيارات ميں بهی، جن کا ذکر خریدوفروخت کے احکام ميں آیا ہے ، مصالحت فسخ کی جاسکتی ہے ۔

مسئلہ ٢١٩٩ جو چيز بذریعہ مصالحت ملے اگر وہ عےب دار ہو تو مصالحت فسخ کی جاسکتی ہے ، ليکن اگر بے عےب اور عےب دار کے مابین قيمت کا فرق لینا چاہے تو اس ميں اشکال ہے ۔


مسئلہ ٢٢٠٠ اگر کوئی شخص اپنے مال پر دوسرے سے مصالحت کرے اور اس کے ساته شرط کرے کہ جس چيز پر ميں نے تجه سے مصالحت کی ہے میر ے مرنے کے بعد مثلاً تو اسے وقف کردے گا اور دوسرا شخص بھی اس کو قبول کرے تو اس شرط پر عمل ضروری ہے ۔

کرائے کے احکام

مسئلہ ٢٢٠١ کوئی چيز کرائے پر دینے والے اور کرائے پر لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ بالغ و عاقل ہوںاور کسی نے انہيں ناحق اس پر مجبور نہ کيا ہو۔ ہاں، اگر زبردستی ہو ليکن معاملے کے بعد وہ راضی ہو جائيں تو کرائے کا معاملہ صحيح ہے ۔ يہ بھی ضروری ہے کہ اپنے مال ميں حق تصرف رکھتے ہوں، لہٰذا سفيہ اور وہ شخص جو دیواليہ ہونے کی وجہ سے حاکم شرع کی طرف سے اپنے مال ميں ممنوع التصرف ہوچکا ہو، اپنے ولی یا قرض خواہوں کی اجازت کے بغير کوئی چيز نہ کرائے پر لے سکتے ہيں اور نہ کرائے پر دے سکتے ہيں ۔ ہاں، وہ شخص جو دیواليہ ہوچکا ہے اپنے آپ کو اور اپنی خدمات کو کرايہ پر دے سکتا ہے اور اس کے لئے اجازت لينے کی ضرورت نہيں ۔

مسئلہ ٢٢٠٢ انسان دوسرے کی طرف سے وکيل بن کر اس کا مال کرائے پر دے سکتا ہے یا اس کے لئے کوئی چيز کرائے پر لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٠٣ اگر بچے کا ولی یا سرپرست، اس کا مال کرائے پر دے یا بچے کو کسی کا اجير مقرر کردے تو کوئی حرج نہيں ۔

اور اگر بچے کے بالغ ہونے کے بعد کی کچھ مدت کو بھی اجارے کی مدت کا حصہ قرار دیا جائے تو بچہ بالغ ہونے کے بعد باقی ماندہ اجارہ فسخ کرسکتا ہے ، ليکن اگر بچے کے بالغ ہونے کے بعد کی کچھ مدت کو اجارہ کی مدت کا حصہ بنانے ميں کوئی ایسی مصلحت ہو جس کا خيال رکھنا شرعا واجب ہو تو بالغ ہونے کے بعد کی مدت کے لئے بھی اجارہ نافذ ہوگا اور احتياط واجب يہ ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے ہو۔

مسئلہ ٢٢٠ ۴ جس نابالغ بچے کا سرپرست نہ ہو اسے عادل مجتهد کی اجازت کے بغير اجارے پر نہيں ليا جاسکتا اور جس شخص کی رسائی عادل مجتهد تک نہ ہو وہ چند عادل مومنين سے اجازت لے کر بچے کو اجارے پر لے سکتا ہے اور اگر چند نہ ہوں تو ایک عادل مومن کی اجازت بھی کافی ہے ۔

مسئلہ ٢٢٠ ۵ اجارہ دینے اور لینے والے کے لئے ضروری نہيں کہ صيغہ عربی زبان ميں پڑہيں ، بلکہ اگر مالک کسی سے کهے کہ: ”ميں نے اپنا مال تمہيں اجارے پر دیا“ اور دوسرا کهے کہ:”ميں نے قبول کيا“، تو اجارہ صحيح ہے ، بلکہ اگر وہ زبان سے کچھ نہ کہيں اور مالک اپنا مال اجارے کے قصد سے مستاجر کو دے اور وہ بھی اجارے کے قصد سے لے تو اجارہ صحيح ہوگا۔


مسئلہ ٢٢٠ ۶ اگر کوئی شخص چاہے کہ اجارے کا صيغہ پڑھے بغير کوئی کام کرنے کے لئے اجير بن جائے تو جےسے ہی وہ کام کرنے ميں مشغول ہوگا اجارہ صحيح ہوگا۔

مسئلہ ٢٢٠٧ جوشخص بول نہ سکتا ہو اگر وہ اشارے سے سمجھادے کہ اس نے کوئی جائيداد اجارے پر دی یا لی ہے تو اجارہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٢٠٨ اگر کوئی شخص ایک جائيداد اجارے پر لے اور اس کا مالک يہ شرط لگائے کہ صرف وهی اس سے استفادہ کرسکتا ہے اور کسی دوسرے کو منتقل نہيں کرسکتا تو مستاجر اسے کسی دوسرے کو استعمال کے لئے اجارہ پر نہيں دے سکتا۔ ہاں، اگر شرط کرے کہ منفعت سے خود فائدہ اٹھ ائے گا تو مستاجر چاہے تو کسی دوسرے کو بھی اس صورت ميں اجارہ پر دے سکتا ہے کہ خود ہی اس منفعت سے فائدہ اٹھ ائے۔

مثلاً کوئی شخص مکان کرائے پر لے اور کسی ایسے شخص کو کرائے پر دے جسے شرط یا ایسی ہی کسی چيز سے پابند کر چکا ہو کہ وہ اس کے لئے بھی رہا ئش کا بندوبست کرے گا اور پھر وہ شخص اسی گھر ميں اسے رہنے کی جگہ دے دے یا مثلاً عورت کوئی گھر کرائے پر لے ا ور پھر اپنے شوہر کو کرائے پر دے دے اور شوہر اُس عورت کو اُسی گھر ميں رکھے۔

ایسی صورت ميں جب مستاجر کے لئے وهی چيز کسی اور کو کرائے پر دینا جائز ہے ، اگر وہ مکان،دکان یا کشتی اور اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر کمرہ اور چکّی کو لی گئی مقدار سے زیادہ مقدار پر کرائے پر دینا چاہے تو ضروری ہے کہ اس ميں کوئی کام مثلاً مرمت اور سفيدی وغيرہ کرادے یا اس جنس کے علاوہ کسی اور جنس کے بدلے کرائے پر دے جس پر اس نے خود اسے کرائے پر ليا ہے مثلاً اگر روپے کے بدلے کرائے پر ليا ہے تو گندم یا کسی اور چيز کے بدلے کرائے پر دے۔

مسئلہ ٢٢٠٩ اگر اجير کسی انسان سے شرط کرے کہ وہ صرف اسی کا کام کرے گا اور کسی کا کام نہيں کرے گا تو اسے کسی دوسرے شخص کو بطور اجارہ نہيں دیا جاسکتا۔ ہاں، اگر شرط کرے کہ اس کے کام سے خود فائدہ اٹھ ائے جيسا کہ پچهلے مسئلے ميں بيان کيا جا چکاہے تو اُسے دوسرے کواجا رہ پر دے سکتے ہيں ۔

اور اس صورت ميں کہ جب دوسرے کو اجارے پر دے سکتا ہے ، اگر اسی چيز پر اجارے پر دے جس پر خود اجارے پر ليا تھا تو زیادہ قيمت نہيں لے سکتا، ليکن اگر کسی اور چيز پر اجارے پر دے تو زیادہ لے سکتا ہے ۔

اور اگر کوئی شخص خود کو کسی کا اجير بنائے تو اس کام کی انجام دهی کے لئے کسی اور شخص کو کم قيمت پر اجيرنہيں بنا سکتا۔ ہاں، اگر خود کچھ کام انجام دے چکا ہو تو پھر کسی دوسرے کو کم اجرت پر اجير بنا سکتا ہے ۔


مسئلہ ٢٢١٠ اگر کوئی شخص مکان، دکان، کشتی، اجير اور اسی طرح بنا بر احتياط واجب کمرے و چکّی کے علاوہ کوئی اور چيز اجارہ کرے اور مالک نے اُس سے يہ شرط نہ کی ہو کہ کسی اور کو اجارہ پر نہ دینا تو جس مقدار پر اس نے وہ چيز کرائے پر لی ہو اگر اس سے زیادہ پر کسی کو کرائے پر دے دے تو بھی کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٢١١ اگر کوئی شخص مکان یا دکان مثال کے طور پر ایک سال کے لئے سو روپے کرایہ پر لے اور اس کا آدها حصّہ خود استعمال کرے تو باقی آدها حصہ سو روپے کرائے پر دے سکتا ہے ، ليکن اگر ا س آدهے کو اس مقدار سے زیادہ کرائے پر دینا چاہے جس پر اس نے خود ليا ہے ، مثلا ١٢٠ روپے کرايہ پر دینا چاہے تو ضروری ہے کہ اس ميں کوئی کام مثلاً مرمت کا کام انجام دیا ہو یا اجارے کی جنس کے علاوہ کسی اور چيز کے عوض کرائے پر دے۔

کرائے پر دئے جانے والے مال کے شرائط

مسئلہ ٢٢١٢ جو مال اجارہ پر دیا جائے اس کے چند شرائط ہيں :

١) وہ مال معين ہو، لہذااگر کوئی شخص کهے کہ ميں نے اپنے مکانات ميں سے ایک مکان تمہيں کرائے پر دیا تو يہ صحيح نہيں ہے ۔

٢) مستاجرمال کو دےکه لے یا اجارہ پر دینے والا شخص اپنے مال کی خصوصيات اس طرح بيان کرے کہ اس کے بارے ميں مکمل معلومات حاصل ہو جائيں۔

٣) اجارہ پر دئے جانے والا مال دوسرے فریق کے سپرد کرنا ممکن ہو، لہٰذا بهاگے ہوئے گهوڑے کو اجارہ پر دینا باطل ہے ، مگر یہ کہ مستاجر کے لئے اس پر تسلط حاصل کرنا ممکن ہو۔

۴) اس مال سے استفادہ کرنا اس کے ختم یا کالعدم ہوجانے پر موقوف نہ ہو، لہٰذا روٹی،پهلوں اور دوسری کھانے والی اشياء کو، جن سے فائدہ اٹھ انا ان کے ختم ہوجانے پر ہی موقو ف ہے ، اجارہ پر دینا باطل ہے ۔

۵) مال سے وہ فائدہ اٹھ انا ممکن ہو جس کے لئے کرائے پر دیا جائے، لہٰذا ایسی زمين کا زراعت کے لئے کرائے پر دینا جس کے لئے بارش کا پانی کافی نہ ہو اور دوسرے کسی پانی سے بھی اس کی سنچائی ممکن نہ ہو ، باطل ہے ۔

۶) جو چيز کرائے پر دی جارہی ہو وہ کرائے پر دینے والے کا اپنا مال ہو اوراگر کسی دوسرے کا مال کرائے پر دیا جائے تو معاملہ اس صورت ميں صحيح ہے کہ جب ا س مال کا مالک اجازت دے دے۔

مسئلہ ٢٢١٣ درخت کا اس مقصد سے کرائے پر دینا کہ اس کے پھل سے فائدہ اٹھ ایا جائے گا، جب کہ فی الحال اس ميں پھل نہ لگے ہوں، کوئی حرج نہيں ہے ۔ جانور کو اس کے دودھ کے لئے کرائے پر دینے کا بھی یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ٢٢١ ۴ عورت اس مقصد کے لئے اجير بن سکتی ہے کہ اس کے دودھ سے فائدہ اٹھ ایا جائے اور اس کے لئے شوہر سے اجازت لينا ضروری نہيں ، ليکن اگر اس کے دودھ پلانے سے شوہر کی حق تلفی ہوتی ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغير عورت اجير نہيں بن سکتی۔

کرائے پر دئے جانے والے مال سے فائدہ اٹھ انے کے شرائط

مسئلہ ٢٢١ ۵ جس استفادہ کے لئے مال کرائے پر دیا جاتا ہے اس کی چار شرطيں ہيں :

١) حلال ہو، لہٰذا دکان کو شراب بيچنے کے لئے کرايہ پر دینا اور اسی طرح شراب کی حمل و نقل کے لئے وسائل کرايہ پر دینا باطل ہے ۔

٢) ان کاموں کے لئے پےسہ خرچ کرنا سفاہت اور غیر عقلائی نہ ہو۔ اسی طرح وہ عمل شریعت ميں بغير کسی اجرت کے انجام دینا واجب نہ ہو، لہٰذا ميت کی تجهيز کے لئے اجير ہونا جائز نہيں ۔

٣) اگر کرايہ پر دی جانے والی چيز سے کئی فائدے اٹھ انا ممکن ہوں تو ضروری ہے کہ ان فائدوں کو جو مستاجر اٹھ ائے گا معين کریں، مثلاً حیوان جو سواری اور وزن اٹھ انے کے لئے استعمال ہوتا ہے ، معين کریں کہ فقط سواری کے لئے ہے یا فقط وزن اٹھ انے کے لئے ہے یا تمام فائدوں کے لئے۔

۴) فائدہ اٹھ انے کی مدت معين کرے۔ ہاں، اگر مدت معلوم نہ ہو ليکن تعین عمل سے جهالت دور ہوجائے تو کافی ہے ، جےسے کسی کو دس روز تک کپڑے سینے کے لئے کرائے پر بلائيں یا درزی سے طے کریں کہ معين لباس کو مخصوص طریقے سے سےئے۔

مسئلہ ٢٢١ ۶ اگر اجارہ کی مدت کی شروعات کو معين نہ کریں تواس کی ابتدا معاہدہ واقع ہونے کے بعد سے ہے ۔

مسئلہ ٢٢١٧ اگر مثلاً گھر کو ایک سال کے لئے کرائے پر دیا جائے اور اس کی شروعات کو معاہدے کے ایک ماہ بعد قرار دیا جائے تو اجارہ صحيح ہے ، اگرچہ معاہدے کے وقت گھر دوسرے کے اجارے پر ہو۔

مسئلہ ٢٢١٨ اگر مدتِ اجارہ کو طے نہ کرے اور کهے :”جب بھی گھر ميں رہو گے گھر کا کرایہ ماہانہ دس روپے ہے “، تو اجارہ صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢١٩ اگر مستاجر سے کهے : ”گہر کو ماہانہ دس روپے کرایہ پر تمہيں دیا“ یا کهے : ”گہر کو ایک مهينہ کے لئے دس روپے ميں تمہيں کرایہ پر دیا اور اس کے بعد تم جتنا بھی رہو ہر مهينے کا کرایہ د س روپے ہے “، تو اس صورت ميں کہ اجارہ کی شروعات کو معين کردیں یا (اس کی ابتداء) معلوم ہو تو پهلے مهينے کا اجارہ صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢٢٢٠ وہ گھر جهاں مثلاً زائرین و مسافرین رہتے ہيں اور معلوم نہيں کہ کتنا رہيں گے، اگر اجارہ کی صورت ميں قرارداد اس طرح رکہيں کہ مثلاً ہر روز ایک روپيہ دیں گے تو چونکہ اجارہ کی مدت طے نہيں کی، پهلی رات کے علاوہ کا اجارہ صحيح نہيں ہے اور مالک پهلی رات کے بعد جب چاہے ان کو نکال سکتا ہے ۔هاں، پهلی رات کے بعد مالک کی اجازت سے گھر کو استعمال کرنے ميں کوئی حرج نہيں ۔

کرايہ کے مختلف مسائل

مسئلہ ٢٢٢١ جو مال مستاجر کرائے کے طور پر دے رہا ہو وہ مال معلوم ہونا چاہئے، لہٰذا اگر ایسی چيزیں ہوں جن کا لین دین تول کر کيا جاتا ہے مثلاً گندم تو ان کا وزن معلوم ہونا چاہئے اور اگر ایسی چيزیں ہوں جن کا لین دین گن کر کيا جاتا ہے مثلاً رائج الوقت سکّے تو ان کا عدد معلوم ہواور اگر وہ چيزیں گهوڑے اور بھیڑ کی طرح ہوں تو ضروری ہے کہ کرایہ پر دینے والا انہيں دےکه لے یا مستاجر ان کی خصوصيات بتادے۔

مسئلہ ٢٢٢٢ اگر زمين زراعت کے لئے اجارہ پر دی جائے اور اس کی اجرت اسی زمين یا کسی ایسی زمين کی فصل کو قرار دیا جائے جو اس وقت موجود نہ ہو تو اجارہ صحيح نہيں ہے اور اگر مال اجارہ بالفعل موجود ہو یا ما فی الذمہ پر اجارہ کيا جائے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢٢٣ جس نے کوئی چيز کرائے پر دی ہو جب تک چيز کا قبضہ نہ دے دے اجرت کے مطالبے کا حق نہيں رکھتا، سوائے اس کے کہ شرط رکھی ہو کہ قبضہ دینے سے پهلے اجارہ دیا جائے۔

اسی طرح اگر کسی کام کے لئے اجير ہوا ہو تو اس کام کے انجام دینے سے پهلے اجرت کے مطالبے کا حق نہيں رکھتا مگر يہ کہ کام سے پهلے اجرت دینے کی شرط کرلی ہو یا معمول ہی اسی طرح کا ہو جےسے حج، قضا نماز یا روزے کے لئے کسی کو اجير بنانا۔

مسئلہ ٢٢٢ ۴ جب اجارہ پر دی گئی چيز کاقبضہ دے دے، اگرچہ مستاجر قبضہ نہ لے یا قبضہ تو لے ليکن مدت کے اختتام تک فائدہ نہ اٹھ ائے تو ضروری ہے کہ کرایہ ادا کرے۔

مسئلہ ٢٢٢ ۵ اگر انسان اس طرح اجير بنے کہ معين روز ميں کوئی کام انجام دے گا اور وہ اس روز کام کرنے کے لئے حاضر ہو تو جس نے اسے اجير کيا ہے ضروری ہے کہ اس کی مزدوری اسے دے چاہے اس سے کام نہ لے مثلاً اگر درزی کو کسی خاص دن کام پر بلائے اور درزی بھی آجائے تو اگرچہ اسے سينے کے لئے کپڑا نہ دے، پھر بھی اجرت دینا ضروری ہے ، چاہے درزی بےکار بيٹھا رہے اور چاہے اپنے یا کسی دوسرے کے لئے کام کررہا ہو۔


مسئلہ ٢٢٢ ۶ اگر اجارہ کی مدت ختم ہوجانے کے بعد معلوم ہو کہ اجارہ باطل تھا تومستاجر کے لئے ضروری ہے کہ اجرت المثل دے، ليکن اگر اجرت المثل اُس مقدار سے زیادہ ہو جو اجارہ ميں معين کی گئی تھی تو اگر اجارہ دینے والا خود صاحب مال یا اُس کا وکيل ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ طے شدہ مقدار سے زائد ميں مصالحت ہو۔ اسی طرح اگر اجارہ کی کچھ مدت گزرنے کے بعد معلوم ہو کہ اجارہ باطل تھا تو گزری ہوئی مدت کے بارے ميں بھی یهی حکم جاری ہوگا۔

مسئلہ ٢٢٢٧ اگر کرائے پر لی ہوئی چيز تلف ہوجائے، تو اگر اس کی دےکه بهال ميں کوتاہی نہ کی ہو اور اس سے فائدہ اٹھ انے ميں افراط سے کام نہ ليا ہو تو ضامن نہيں ہے ۔ نےز مثلاً اگر کپڑے درزی کو دئے ہوں اور وہ اُس سے ضائع ہوجائيں جب کہ درزی نے افراط نہ کيا ہو اور اس کی دےکه بهال ميں بھی لاپرواہی نہ کی ہو تو ضامن نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢٢٨ جب بھی صنعت گر کسی لی ہوئی چيز کو ضائع کرے تو ضامن ہے ۔

مسئلہ ٢٢٢٩ اگر قصائی حیوان کو ذبح کرے اور حرام کردے، چاہے مزدوری لی ہو یا مفت ميں ذبح کيا ہو، ضروری ہے کہ اس کی قيمت صاحب حیوان کو دے۔

مسئلہ ٢٢٣٠ اگر حیوان کرائے پر لے اور معين کرے کہ کتنا وزن اس پر رکھا جائے گا، اگر اس مقدار سے زیادہ وزن رکھا جائے اور وہ حیوان مر جائے یا معیوب ہوجائے تو ضامن ہے ۔ اسی طرح اگر وزن کی مقدار معين نہ کی ہو ليکن معمول سے زیادہ وزن لادنے سے حیوان مر جائے یا معیوب ہوجائے پھر بھی ضامن ہے اور دونوں صورتوں ميں جهاں زائد مقدار کا استعمال کيا گيا ہے اجرت المثل دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٢٣١ اگر حیوان کو کسی ایسے سامان کے لئے اجارہ کيا جائے جو ٹوٹنے والا ہو، اگر وہ حیوان پهسل جائے یا بهاگ جائے اور سامان ٹوٹ جائے تو صاحب حیوان ضامن نہ ہوگا، ليکن اگر حیوان کو مارنے یا اس جيسی کسی دوسری وجہ سے جس کی اجازت مالک نے نہيں دی تھی کوئی ایسا کام کرے جس سے حیوان زمين پر گر جائے اورسامان توڑ دے تو ضامن ہے ۔

مسئلہ ٢٢٣٢ اگر کوئی شخص کسی بچے کا اس کے ولی کی اجازت سے ختنہ کرے اور اس بچہ کو ضرر پهنچے یا وہ مر جائے چنانچہ اگر معمول سے زیادہ کاٹا ہو تو ضامن ہے ۔ ہاں، اگر معمول سے زیادہ نہ کاٹا ہو، ولی کی طرف سے بچے کے لئے نقصان دہ ہونے یا نہ ہونے کی پہچان کی ذمہ داری اسے نہ سونپی گئی ہو، اپنے کام ميں مهارت بھی رکھتا ہو اور علاج ميں کوتاہی بھی نہ کی ہو تو ضرر کی صورت ميں ضامن نہ ہونا محل اشکال ہے ، سوائے اس کے کہ ولی سے اس بات کی برائت لے لی ہو، البتہ تلف کی صورت ميں اگر ولی سے برائت نہ لی ہو تو ضامن ہے ۔


مسئلہ ٢٢٣٣ اگر طبےب اپنے ہاتھوں سے مرےض کو دوا پلائے اور معالجہ ميں خطاء کرے اور مرےض کو نقصان پهنچے یا مرجائے تو طبےب ضامن ہے ، ليکن اگر کهے:”فلاں دوا فلاں مرض کے لئے فائدہ مند ہے “ اور دوا کے استعمال کو مرےض پر چھوڑ دے اور اُس دوا کے کھانے کی وجہ سے مرےض کو نقصان پهنچے یا وہ مر جائے تو طبےب ضامن نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢٣ ۴ جب طبےب مرےض سے کهے:”اگر تمہيں کوئی نقصان پهنچے تو ميں ضامن نہيں ہوں“ جب کہ اپنے کام ميں مهارت بھی رکھتا ہو اور اپنی احتياط بھی کی ہو اور مرےض کو نقصان پهنچے یا مر جائے تو ضامن نہيں ہے چاہے طبےب نے اپنے ہاتھوں سے دوا دی ہو۔

مسئلہ ٢٢٣ ۵ مستاجر اور اور اجارہ پر دینے والا دونوں ایک دوسرے کی رضایت کے ساته معاملہ ختم کرسکتے ہيں ۔ اسی طرح اگر اجارہ ميں شرط کریں کہ دونوں یا ان ميں سے کوئی ایک معاملہ ختم کرنے کا حق رکھتے ہوں تو وہ اجارہ کی قرارداد کے مطابق معاملہ کو ختم کر سکتے ہيں ۔

مسئلہ ٢٢٣ ۶ اگر مستاجر یا اجارہ پر دینے والا شخص اجارے کے بعد سمجھے کہ اس کے ساته دهوکہ ہوا ہے تو وہ اجارہ ختم کرسکتے ہيں ، ليکن اگر اجارہ کی قرارداد ميں شرط کرچکے ہوں کہ حتی دهوکے کی صورت ميں بھی کسی کو عقد اجارہ کو فسخ کرنے کا اختيار نہ ہو تو اجارہ ختم نہيں کرسکتے۔

مسئلہ ٢٢٣٧ اگر اجارہ پر دینے کے بعد اور قبضہ دینے سے پهلے کوئی شخص اس چيز کو غصب کرلے تو مستاجر اس اجارہ کو فسخ کرسکتا ہے اور وہ چيز جو اجارہ دینے والے کو دی ہے واپس لے سکتا ہے ۔ یہ بھی کر سکتا ہے کہ اجارہ کو فسخ نہ کرے اور جتنی مدت وہ چيز غاصب کے اختيار ميں رہی ہو معمول کے مطابق اس سے اجارہ وصول کرے جو کہ اجرت المثل ہے ۔ پس اگر ایک حیوان کو ایک مهينے کے لئے دس روپے اجارہ پر ليا تھا اور کسی نے دس روز کے لئے غصب کيا ہو اور اس دس روز کی اجرت المثل پندرہ روپے ہو تو وہ غاصب سے پندرہ روپے لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٣٨ اگراجارہ پر لی گئی چيز قبضہ ميں لے لے اور پھر کوئی اسے غصب کرلے تو اجارہ کو ختم نہيں کرسکتا، بلکہ فقط اتنا حق رکھتا ہے کہ اُس چيز کا کرايہ اجرت المثل کی مقدار ميں غاصب سے لے لے۔

مسئلہ ٢٢٣٩ اگر مدتِ اجارہ ختم ہونے سے پهلے مال کو مستاجر کے ہاتھوں فروخت کردے تو اجارہ ختم نہيں ہوتا اور مستاجر کے لئے اجارہ کا مال دینا ضروری ہے ۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب مال کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دے۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ٠ اگر مدت اجارہ کی شروعات سے پهلے مال اس طرح خراب ہوجائے کہ اس سے کسی طرح سے فائدہ نہ اٹھ ایا جاسکے یا اس فائدے کے قابل نہ رہے جس کے لئے اجارہ پر دیا گيا تھا تو اجارہ باطل ہو جائے گا اور وہ رقمجو کہ مستاجر نے دی تھی مستاجر کو دوبارہ مل جائے گی اور اگر کيفيت یہ ہو کہ اس سے کچھ تهوڑا ہی فائدہ اٹھ ایا جا سکتا ہو تو وہ اجارہ ختم کرسکتا ہے ۔


مسئلہ ٢٢ ۴ ١ اگر کسی جائيداد کو اجارہ پر لے جو اجارہ کی کچھ مدت گزرنے کے بعد اس طرح خراب ہوجائے کہ بالکل استفادہ کے قابل نہ رہے یا جس چيز کے لئے اجارہ پر دیا گيا تھا اس چيز کے لئے قابل استفادہ نہ رہے تو باقی ماندہ اجارہ کی مدت باطل ہوجائے گی اور وہ گذشتہ مدت کے اجارہ کو ختم کرکے اس کے بدلے اجرت المثل دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ٢ اگر کوئی مکان جومثلاً دو کمرے والا ہو، کرائے پر دے اور اس کا ایک کمرہ خراب ہوجائے تو اس صورت ميں کہ وہ خصوصيت جو کہ ختم ہو چکی ہے مورد اجارہ نہ ہو اور فوراً اس کمرے کو بنادے اور کوئی استفادہ بھی ضائع نہ ہوا ہو تو اجارہ باطل نہيں ہوتا اور مستاجر اجارہ کو ختم نہيں کرسکتا، ليکن اگر اس کمرے کو بنانے ميں اتنی دیر لگ جائے کہ مستاجر کے استفادے کی کچھ مقدار ختم ہوجائے تو اس فوت شدہ استفادہ کی مقدار ميں اجارہ باطل ہوگا اور مستاجر پوری مدتِ اجارہ کو فسخ کرکے جتنا استفادہ اس نے کيا ہے اس کے بدلے اجرت المثل دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ٣ اگر مال اجارہ پر لینے یا دینے والا مرجائے تو اجارہ باطل نہيں ہوتا۔ ہاں، اگر اجارہ پر دینے والے کا مکان اپنا نہ ہو مثلاً کسی دوسرے شخص نے اس کے لئے وصيت کی ہو کہ جب تک وہ زندہ ہے مکان کی آمدنی اس کا مال ہوگا تو اگر وہ مکان کرائے پر دے دے اور اجارہ کی مدت ختم ہونے سے پهلے مرجائے تو اس کے مرنے کے وقت سے اجارہ فضولی ہوگا اور اگر موجودہ مالک اجارہ کی بقيہ مدت کی اجازت دے دے تو اجارہ صحيح ہے اور اجارہ پر دینے والے کی موت کے بعد اجارہ کی باقی ماندہ مدت کی ملنے والی اجرت موجودہ مالک کو ملے گی۔

مسئلہ ٢٢ ۴۴ اگر کوئی کام کرانے والا شخص کسی معمار کو اس مقصد سے وکيل بنائے کہ وہ اس کے لئے کاریگر مهيا کردے تو معمار نے جو کچھ اس شخص سے ليا ہے اگر کاریگروں کو اس سے کم دے تو زائد مال اس پر حرام ہے اور ضروری ہے کہ وہ رقم مالک کو واپس کر دے، ليکن اگر معمار اجير بن جائے کہ عمارت کو مکمل کردے گا اور اپنے لئے يہ اختيار حاصل کرے کہ خود بنائے گا یا دوسرے سے بنوائے گا تو اس صورت ميں کہ کچھ کام خود کرے اور باقی کام دوسروں سے اس اجرت سے کم اجرت پر کروائے جس پر وہ خود اجير بنا ہے تو زائد رقم اس کے لئے حلال ہوگی۔

مسئلہ ٢٢ ۴۵ اگر کپڑا رنگنے والا طے کرے کہ مثلاً کپڑا نيل سے رنگے گا اور نيل کے بجائے کسی اور چيز سے رنگ دے تو اسے اجرت لینے کا حق نہيں ہے ۔


جعالہ کے احکام

مسئلہ ٢٢ ۴۶ جعالہ سے مراد يہ ہے کہ انسان طے کرے کہ اس کے لئے انجام دئے جانے والے کام کے بدلے ميں معين شدہ مال دے گا مثلاً يہ کهے:”جو کوئی یا کوئی معين شخص میر ی گمشدہ چيز ڈهونڈ لائے گا ميں اسے دس روپے دوں گا یا گمشدہ چيز کا آدها دوں گا۔“

جو شخص يہ قرار داد باندهے اسے جاعل اور جو شخص وہ کام انجام دے اسے عامل کہتے ہيں ۔

جعالہ و اجارہ ميں بعض فرق ہيں ۔ ان ميں سے ایک يہ ہے کہ اجارے ميں صيغہ پڑھے جانے کے بعد اجير ضامن ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام انجام دے اور وہ شخص بهی، جس نے اسے اجير بنایا تھا، اجرت کی بہ نسبت اجير کا مقروض بن جاتا ہے ، جب کہ جعالہ ميں چاہے عامل کوئی معين فرد ہو،اس کے پاس اختيار ہے کہ کام انجام نہ دے اور جب تک عامل کام انجام نہ دے جاعل اس کا مقروض نہيں ہوتا۔ دوسرا يہ کہ اجارے ميں قبول شرط ہے ليکن جعالہ ميں قبول شرط نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ٧ جاعل کا عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے اور اپنے ارادے و اختيار سے بغير کسی ناحق زبردستی کے قرارداد باندهے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ شرعاً اپنے مال ميں تصرّف کرسکتا ہو، لہٰذا سفيہ یعنی جو اپنا مال فضول کاموں ميں خرچ کرتا ہو یا دیواليہ جو حاکم شرع کے حکم سے اپنے مال ميں تصرّف نہ کرسکتا ہو، کا جعالہ صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ٨ جو کام جاعل کروانا چاہتا ہو ضروری ہے کہ بے فائدہ یا حرام یا ان واجبات ميں سے نہ ہو جن کا بلامعاوضہ بجا لانا شرعاً ضروری ہو،لہٰذا اگر کوئی کهے رات کے وقت جو تارےک جگہ پر جائے گا یا شراب پےئے گا یا واجب نماز پڑھے گا ميں اسے دس روپے دوں گا تو جعالہ صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۴ ٩ جس مال کے دئے جانے پر جعالہ کيا ہو، اگر اسے معين کرے مثلاً کهے:” جو کوئی میر ا گهوڑا ڈهونڈ کر لائے گا، يہ گندم اسے دوں گا،“ يہ بتانا ضروری نہيں ہے کہ گندم کهاں کی ہے اور اس کی قيمت کتنی ہے ۔ اسی طرح اگر مال کو معين نہ کرے مثلاً کهے:”جو کوئی میر ا گهوڑا ڈهونڈلائے اسے دس من گندم دوں گا،“ جعالہ صحيح ہے ، ليکن احتياط مو کٔد يہ ہے کہ اس کی پوری خصوصيات معين کرے۔

مسئلہ ٢٢ ۵ ٠ اگر جاعل کام کے لئے معين اجرت مقرر نہ کرے، مثلاً کهے:”جو شخص ميرے بچے کو ڈهونڈ کر لائے گا اسے ميں کچھ مال دوں گا“، ليکن اس کی مقدار معين نہ کرے، تو جب کوئی شخص اس کا کام انجام دے، ضروری ہے کہ اسے اتنی اجرت دے جتنا لوگوں کی نگاہوں ميں اس کے کام کی اہميت ہو۔


مسئلہ ٢٢ ۵ ١ اگرعامل نے جاعل کی قرارداد سے پهلے وہ کام انجام دے دیا ہو یا قرارداد کے بعد اس نيت سے وہ کام انجام دے کہ اس کے بدلے رقم نہيں لے گا تو پھر وہ اجرت لینے کا حق نہيں رکھتا۔

مسئلہ ٢٢ ۵ ٢ عامل کے کام شروع کرنے سے پهلے جاعل، جعالہ کو منسوخ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۵ ٣ عامل کے کام شروع کرنے کے بعد اگر جاعل جعالہ منسوخ کرنا چاہے تو اس ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۵۴ عامل کام کو ادهورا چھوڑ سکتا ہے ليکن کام کو ادهورا چھوڑنے پر جاعل کو نقصان پهنچتا ہو تو ضروری ہے کہ کام کو مکمل کرے مثلاً کوئی شخص کهے:”جو کوئی میر ی آنکه کا آپرےشن کرے ميں اسے اس قدر معاوضہ دوں گا“ اور سرجن اس کا آپرےشن شروع کردے اور صورت يہ ہو کہ اگر آپرےشن مکمل نہ کرے تو آنکه ميں عےب پيدا ہوسکتا ہے ، تو ضروری ہے کہ اسے مکمل کرے او راگر ادهورا چھوڑدے تو جاعل سے اجرت لینے کا اسے کوئی حق نہيں ہے بلکہ عےب و نقصان کا ضامن بھی ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۵۵ اگرعامل کام ادهورا چھوڑدے اور وہ کام ایسا ہو جےسے گهوڑا ڈهونڈنا کہ جسے مکمل کئے بغير جاعل کو کوئی فائدہ نہ ہوتو عامل، جاعل سے کسی چيز کا مطالبہ نہيں کرسکتا اور اگر اجرت کو کام مکمل کرنے سے مشروط کردے تب بھی یهی حکم ہے مثلاً کهے:”جو کوئی میر ا لباس سےئے گا ميں اسے دس روپے دوں گا“، ليکن اگر اس کی مراد يہ ہو کہ جتنا کام کيا جائے اتنی اجرت دے گا تو پھر ضروری ہے کہ جتنا کام ہوا ہو اتنی اجرت عامل کو دے دے اگرچہ احتياط يہ ہے کہ دونوں مصالحت کے طور پر ایک دوسرے کو راضی کرليں۔

مزارعہ کے احکام

مسئلہ ٢٢ ۵۶ مزارعہ سے مراد يہ ہے کہ مالک یا وہ شخص جو مالک کے حکم ميں ہو مثال کے طور پر ولی یا مالکِ منفعت یا مالکِ انتفاع یا وہ شخص جس کا حق زمين سے متعلق ہوجيسے کسی زمين کے گرد سنگ چينی کی وجہ سے پيدا ہونے والا حق،کاشتکار سے معاہدہ کرے کہ اپنی زمين اس کے اختيار ميں دے تاکہ وہ اس ميں کاشتکاری کرے اور پيداوار کا کچھ حصہ مالک یا اس شخص کو دے جو مالک کے حکم ميں ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۵ ٧ مزارعہ ميں چند باتوں کا خيال رکھنا ضرور ی ہے :

١) مالک کی طرف سے ایجاب اور کاشتکار کی طرف سے قبول، اس طرح کہ زمين کا مالک کاشتکار سے کهے:”ميں نے زمين تمہيں کهيتی باڑی کے لئے دی “ اور کاشتکار بھی کهے: ”ميں نے قبول کيا “۔ یا بغير اس کے کہ زبانی کچھ کہيں مالک کاشتکار کو کهيتی باڑی کے ارادے سے زمين دے دے اور کاشتکار اسے اپنی تحویل ميں لے لے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ایجاب کاشتکار کی طرف سے اور قبول مالک کی طرف سے ہو۔


٢) زمين کا مالک اور کاشتکار دونوں عاقل اور بالغ ہوں، کسی نے انہيں مزارعہ کے معاملے پر ناحق مجبور نہ کيا ہو اور مالک اپنے مال ميں تصرف سے شرعاً ممنوع نہ ہو جيسے سفيہ اور دیواليہ جسے حاکم شرع نے اپنے مال ميں تصرف کرنے سے روک دیا ہو۔ یهی حکم کاشتکار کے لئے اس وقت ہے جب مزارعہ کی وجہ سے اس کو اپنے مال ميں جو کہ ممنوع التصرف تھا،تصرف کرنا پڑے۔

٣) زمين کی پيداوار ميں دونوں مشترک ہوں، لہٰذا اگر شرط کریں کہ تمام پيداوار یا ابتدائی یا آخر کی فصل ان ميں سے کسی ایک کا مال ہو تو مزارعہ باطل ہے ۔

۴) زمين کی پيداوار ميں ہر ایک کا حصہ بطور مشاع مثلاً نصف یا ایک تھائی وغيرہ ہو۔ لہٰذا اگر مالک کهے:”اس زمين ميں کهيتی باڑی کرو اور جو تمهارا جی چاہے مجھے دے دینا،“ یا معين مقدار مثلاً پيداوار ميں سے دس من مالک یا کاشتکار کے لئے مقرر کریں تومزارعہ باطل ہے ۔

۵) جتنی مدت کے لئے زمين کاشتکار کے قبضے ميں رہنی ہو، ضروری ہے کہ اسے معين کریں اور ضروری ہے کہ وہ مدّت اتنی ہو کہ اس مدت ميں پيداوار حاصل ہونا ممکن ہو اور اگر مدت کی ابتدا ایک مخصوص دن سے اور مدت کا اختتام فصل تيار ہونے کو مقرر کردیں تو کافی ہے ۔

۶) زمين کاشت کے قابل ہو، اگر اس ميں کاشت کرنا ممکن نہ ہو ليکن ایسا کام کيا جاسکتا ہو جس سے کاشت ممکن ہوجائے تو مزارعہ صحيح ہے ۔

٧) اگر کسی مخصوص چيز کی کاشت دونوں کے مدّ نظر ہو تو کاشتکار جو چيز کاشت کرے اسے معين کرنا ضروری ہے ، ليکن اگر کسی مخصوص چيز کی کاشت مدّنظر نہ ہو یا جو چيز کاشت کرنا چاہيں اس کا علم ہو تو اسے معين کرنا ضروری نہيں ہے ۔

٨) مالک،زمين کو معين کرے اس طرح کہ مورد نظر ٹکڑا مردّد نہ ہو اور ظاہر يہ ہے کہ معين جگہ ميں بطور کلی تعےین کرنا ،معين کرنے کے لئے کافی ہے اگرچہ زمين کے ٹکڑے آپس ميں مختلف ہوں۔

٩) جو اخراجات ان ميں سے ہر ایک کو کرنا ضروری ہيں انہيں معين کریں ليکن جو اخراجات ہر ایک کو کرنا ضروری ہوں اگر اس کا علم ہو تو معين کرنا ضروری نہيں ۔

مسئلہ ٢٢ ۵ ٨ اگر مالک،کاشتکار سے طے کرے کہ جو کچھ زمين کی اصلاح اور آبادکاری ميں خرچ ہوگا اور جو مقدار ٹيکس کے طور پر دیناہوگی، اسے نکالنے کے بعد باقی کو اپنے درميان تقسےم کریں گے تو صحيح ہے ۔ اسی طرح اگر طے کرے کہ پيداوار کی کچھ مقدار اس کی ہوگی تو اگر جانتے ہوں کہ اس مقدار کو کم کرنے کے بعد کچھ باقی بچ جائے گا تو مزارعہ صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢٢ ۵ ٩ اگر مزارعہ کی مدت ختم ہوجائے اور فصل دستياب نہ ہو تو اگر مالک اس بات پر راضی ہو کہ اجرت پر یا بغيرا جرت کے، فصل اس کی زمين ميں کهڑی رہے اور کاشتکار بھی راضی ہو تو کوئی حرج نہيں اور اگر مالک راضی نہ ہو تو اس صورت ميں جب فصل کے زمين ميں باقی رہنے سے مالک کو کوئی نقصان نہ ہو، کوئی قابل ذکر منفعت بھی ضائع نہ ہورہی ہو اور فصل کی عدم دستيابی ميں کاشتکار کی کوتاہی بھی نہ ہو تو مالک کاشتکار کو زمين ميں سے فصل کاٹنے پر مجبور نہيں کرسکتا، بلکہ ضروری ہے کہ فصل تيار ہونے تک صبر کرے تاکہ کاشتکار کو نقصان نہ ہو اور کاشتکار کے لئے ضروری ہے کہ اس زیادہ مدت کے لئے زمين کو استعمال کرنے پر مالک کو اجرت المثل دے۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ٠ اگر کوئی ایسی صورت پےش آجائے کہ زمين ميں کهيتی باڑی کرنا ممکن نہ ہو مثلا زمين کا پانی بند ہوجائے تو مزارعہ ختم ہوجاتا ہے اور اگرکاشتکار بلاوجہ کهيتی باڑی نہ کرے تو اگر زمين اس کے تصرف ميں رہی ہو اور مالک کا اس ميں کوئی تصرف نہ رہا ہو تو ضروری ہے کہ معمول کے مطابق مدت کا کرايہ مالک کو دے۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ١ اگر مالک اور کاشتکار صيغہ پڑھ چکے ہوں تو ایک دوسرے کی رضامندی کے بغير مزارعہ منسوخ نہيں کرسکتے اور اسی طرح اگر مالک نے مزارعہ کے قصد سے کسی کو زمين دے دی ہو اور اس نے بھی تحویل لے لی ہو، تو ایک دوسرے کی رضامندی کے بغير مزارعہ منسوخ نہيں کرسکتے ليکن اگر مزارعہ کے معاہدے کے سلسلے ميں انہوں نے يہ شرط طے کی ہو کہ ان ميں سے دونوں یا کسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کا حق ہوگا تو جو معاہدہ انہوں نے کر رکھا ہو اس کے مطابق معاملہ فسخ کرسکتے ہيں ۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ٢ اگر مزارعہ کے معاہدے کے بعد مالک یا کاشتکار مرجائے تو مزارعہ فسخ نہيں ہوتا بلکہ ان کے وارث ان کی جگہ لے ليتے ہيں ليکن اگر کاشتکار مرجائے اور انہوں نے يہ شرط رکھی ہو کہ کاشتکار خود کاشت کرے گا تو مزارعہ فسخ ہوجاتا ہے ۔ اس صورت ميں اگر پيداوار نمایاں ہوچکی ہو تو ضروری ہے کہ کاشتکار کا حصّہ اس کے ورثاء کو دیں اور جو دوسرے حقوق کاشتکار کو حاصل ہوں وہ بھی اس کے ورثاء کومیر اث ميں مل جاتے ہيں اور کاشت حاصل ہونے تک اس کا زمين ميں باقی رہنے کا وهی حکم ہے جو مسئلہ ” ٢٢ ۵ ٩ “ ميں بيان ہوچکا ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ٣ اگر کاشت کے بعد پتہ چلے کہ مزارعہ باطل تھا تو جو بےج ڈالا گيا تھا اگر وہ مالک کا مال ہو توجو فصل ہاتھ آئے گی وہ بھی اسی کی ہوگی۔ اس صورت ميں مالک کے لئے ضروری ہے کہ کاشتکار کی اجرت، جو کچھ اس نے خرچ کيا ہو اور کاشکار کے حیوانوں اور دوسرے وسائل کا کرايہ دے۔

اور اگر بےج کاشتکار کا مال ہو تو فصل بھی اسی کی ہوگی اور ضروری ہے کہ زمين کا کرايہ اور جو کچھ مالک نے خرچ کيا ہو اور مالک کے وسائل کا کرايہ دے اور اس کاشتکاری ميں جو کام مالک نے انجام دیا ہو اس کی اجرت دے۔


دونوں صورتوںميں اگر اجرت المثل اور جو خرچ کيا ہو وہ معاہدے کی مقدار سے زیادہ ہوں تو زیادہ کا استحقاق محل اشکال ہے اور احوط مصالحت ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۶۴ اگر بےج کاشتکار کا مال ہو اور کاشت کے بعد فریقین کو پتہ چلے کہ مزارعہ باطل تھا تو اگر مالک اور کاشتکار رضامند ہوں کہ اجرت پر یا بلا اجرت فصل زمين پر کهڑی رہے تو کوئی اشکال نہيں ہے اور اگر مالک راضی نہ ہو تو حکم وهی ہے جو مسئلہ ” ٢٢ ۵ ٩ “ ميں بيان ہوچکا ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۶۵ اگر پيداوار جمع کرنے اور مزارعہ کی مدت ختم ہونے کے بعد کاشت کی جڑیں زمين ميں رہ جائيں اور د وسرے سال سرسبز ہوجائيں اور پيداوار دیں تو اگر مالک یا کاشتکار نے جڑوں ميں اشتراک کا معاہدہ نہ کيا ہو تو اگرچہ زمين کے مالک کی مالکيت دوسرے سال کی پيداوار کی بنسبت صحت سے خالی نہيں ہے ليکن احوط يہ ہے کہ اگر کاشتکار بےج کا مالک ہو تو آپس ميں مصالحت کریں۔

مضاربہ کے احکام

مضاربہ سے مراد يہ ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کو کوئی مال دے کہ وہ اس مال سے تجارت کرے اور اس تجارت سے ہونے والے منافع کو آپس ميں بطور مشاع یعنی نصف یا ثلث وغيرہ کے اعتبار سے تقسےم کریں۔

صاحب مال کو مالک اور تجارت کرنے والے کو عامل کہتے ہيں ۔ مضاربہ ميں ایجاب و قبول شرط ہے ، چاہے لفظ کے ذریعے ہو یا فعل کے ذریعے، مثال کے طور پر مالک مضاربہ کے عنوان سے عامل کو مال دے اور عامل مال لے کر اسے قبول کرے۔

مسئلہ ٢٢ ۶۶ مضاربہ کے صحيح ہونے کے لئے چند شرائط ضروری ہيں :

١) مالک اور عامل بالغ و عاقل اور مختار ہوں اور مالک سفاہت یا دیواليہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال ميں ممنوع التصرف نہ ہو اور سفيہ عامل کے ساته مضاربہ کا صحيح ہونا بھی محل اشکا ل ہے ۔

٢) مالک اور عامل ميں سے ہر ایک کے لئے نفع کی شرح معين ہو مثلاً نصف یا ایک تھائی یا ایک چوتھائی وغيرہ۔

٣) يہ کہ نفع مالک اور عامل کے درميان ہو پس اگر شرط کی جائے کہ اس نفع ميں سے کچھ مقدار ایسے شخص کے لئے ہو جو کام ميں شرےک نہ ہو تو مضاربہ باطل ہے ۔

۴) عامل تجارت کرسکتا ہو اگرچہ اس کے لئے دوسرے کی مدد لے۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ٧ اقویٰ يہ ہے کہ مضاربہ کے صحيح ہونے کے لئے مال کا سونے یا چاندی کے سکوں کی شکل ميں ہونا ضروری نہيں بلکہ نوٹ جيسے دوسرے اموال سے انجام دینا بھی جائز ہے ليکن ایسا مال جو دوسرے کے ذمّے ہو مثال کے طور پر ایسا مال جو


انسان کسی دوسرے سے قرض خواہ ہو، کے ساته جائز نہيں اور منافع سے مضاربہ کرنا مثال کے طور پر گھر کی سکونت سے مضاربہ، محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ٨ مضاربہ کے صحيح ہونے کے لئے مال کا عامل کے تصرّف ميں ہونا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر مال مالک کے تصرّف ميں ہو اور عامل فقط معاملے کو انجام دے تو مضاربہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٢ ۶ ٩ اگر مضاربہ صحيح ہو تو مالک اور عامل نفع ميں شرےک ہوتے ہيں اور اگر صحت کے بعض شرائط کی عدم موجودگی کی وجہ سے مضاربہ فاسد ہو تو پورا نفع مالک کا مال ہے اور ضروری ہے کہ مالک عمل کی اجرت المثل،عامل کو دے اور اگراجرت المثل عامل کے لئے مقررہ حصّے سے زیادہ ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ عامل اور مالک اضافی مقدار ميں مصالحت کریں۔

مسئلہ ٢٢٧٠ مضاربہ ميں نقصان و ضرر مالک کے ذمّے ہے اور اگر يہ شرط کی جائے کہ نقصان عامل یا دونوں کے ذمّے ہوگا تو شرط باطل ہے ليکن اگر يہ شرط کی جائے کہ مالک کو کاروبار ميں ہونے والا نقصان عامل پورا کرے اور اپنے مال ميں سے مالک کو بخش دے تو یہ شرط صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٢٧١ مضاربہ جائز معاملات ميں سے ہے اور مالک یا عامل ميں سے کوئی ایک جس وقت چاہيں مضاربہ کو فسخ کرسکتے ہيں خواہ عمل شروع کرنے سے پهلے خواہ عمل انجام دینے کے بعد،خواہ نفع حاصل ہونے سے پهلے خواہ نفع حاصل ہونے کے بعد۔

مسئلہ ٢٢٧٢ عامل نے مالک سے جو مال ليا ہو اسے مالک کی اجازت کے بغير اپنے یا کسی دوسرے کے مال کے ساته مخلوط نہيں کرسکتا اگرچہ اس عمل سے مضاربہ باطل نہيں ہوتا ليکن اگر مال کو مخلوط کرے اور تلف ہوجائے تو عامل ضامن ہے ۔

مسئلہ ٢٢٧٣ مالک خریدوفروخت ميں جن خصوصيات کو معين کرے مثلاً يہ کہ عامل معينہ چيز خریدے اور معينہ قيمت پر بيچے ضروری ہے کہ عامل ان پر عمل کرے ورنہ معاملہ فضولی ہوگا اور اس کا صحيح ہونا مالک کی اجازت پر موقوف ہے ۔

مسئلہ ٢٢٧ ۴ اگر مالک کسی معاملے ميں عامل کو سرمايہ کے اعتبار سے محدود اور مقید نہ کرے، توعامل جس طرح چاہے معاملہ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٧ ۵ اگر عامل ،مالک کی اجازت سے سفر کرے اور يہ شرط نہ کی گئی ہوکہ سفر کا خرچہ عامل کے ذمّے ہے تو سفر اور تجارت کے لئے خرچ ہونے والی رقم سرمائے سے اٹھ ائی جائے گی اور اگر عامل چند مختلف مالکوں کے لئے کام کرتا ہو تو ہر مالک کے کام کی نسبت خرچہ تقسےم ہوگا۔

مسئلہ ٢٢٧ ۶ کام ميں منافع ہونے کی صورت ميں عامل نے تجارت کے مقدماتی کاموں اور سفر کے خرچ کے لئے جو کچھ سرمائے سے ليا ہو،وہ رقم نفع سے نکال کر سرمايہ ميں ملائی جائے گی اور باقی بچنے والے نفع کو معاہدے کے مطابق تقسےم کریں گے۔


مسئلہ ٢٢٧٧ مضاربہ ميں يہ شرط نہيں ہے کہ مالک ایک شخص ہو اور عامل بھی ایک شخص ہو بلکہ چند مالک اور ایک عامل یا چند عامل اور ایک مالک بھی ہوسکتا ہے ، چاہے ان چند عاملوں کے لئے نفع سے حاصل ہونے والا جو حصہ طے ہوا ہے وہ مساوی یا مختلف ہو۔

مسئلہ ٢٢٧٨ اگر دو شخص سرمائے ميں شرےک ہوں اور عامل ایک شخص ہو اور شرط کریں کہ مثلاً آدها نفع عامل کے لئے ہو اور باقی آدها دو مالکوں کے درميان بطور تفاضل ہو یعنی ایک کا حصہ دوسرے سے زیادہ ہو باوجود اس کے کہ دونوں کا سرمايہ برابر ہو یا شرط کریں کہ باقی آدها دو مالکوں کے درميان مساوی تقسےم ہوگا باوجود اس کے کہ ایک کا سرمايہ دوسرے سے زیادہ ہو مضاربہ باطل ہے ، مگر يہ کہ ان ميں سے کسی ایک کے لئے وہ زیادہ مقدار تجارت کے سلسلے ميں کسی کام کو انجام دینے کے عوض ميں ہو کہ اس صورت ميں صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٢٧٩ اگر مالک یا عامل مرجائے تو مضاربہ باطل ہوجاتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٨٠ جائز نہيں ہے کہ عامل نے جو سرمايہ مالک سے ليا ہو مالک کی اجازت کے بغير اس سرمايہ کے ساته کسی دوسرے شخص کے ساته مضاربہ کا معاہدہ کرے یا اس سرمائے کے ساته کام کسی دوسرے شخص کے سپرد کرے یا سرمائے کے ساته کسی اور کو تجارت کے لئے اجير کرے اور اگريہ تصرفات مالک کی اجازت کے بغير انجام پائيں اور مالک بھی اجازت نہ دے اور مال تلف ہوجائے عامل ضامن ہے ۔ ہاں، کام کے مقدمات کو انجام دینے کے لئے اجير لینے یا کسی کو وکيل بنانے ميں کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٢٨١ مالک اور عامل ميں سے ہر ایک دوسرے کے لئے شرعی طور پر جائز کام کی شرط کرسکتا ہے مثلاً ان ميں سے ایک دوسرے پر شرط کرے کہ مال دے یا کوئی کام انجام دے اور اس شرط کو پورا کرنا واجب ہے ،خواہ عامل تجارت اور کام انجام نہ دے یا انجام دیا ہو اور نفع حاصل نہ ہوا ہو۔

مسئلہ ٢٢٨٢ جيسے ہی تجارت ميں نفع حاصل ہو عامل کے لئے جو حصہ مقرر کيا گيا ہو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے اگرچہ ابهی نفع تقسےم نہ ہوا ہو ليکن جو بھی نقصان ہوا ہو اس کا جبران اور تلافی ہوگی اور معاملے ميں نفع حاصل ہونے کے وقت اگر مالک تقسےم کرنے پر راضی نہ ہوتو عامل کو حق نہيں ہے کہ مالک کو تقسےم پر مجبور کرے اور اگر عامل تقسےم کرنے پر راضی نہ ہو تو مالک اسے تقسےم قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٨٣ اگر نفع تقسےم کریں اور تقسےم کے بعد سرمائے ميں کوئی خسارہ وارد ہوجائے اور اس کے بعد کوئی نفع حاصل ہو جو خسارہ سے کم نہ ہو تو وہ خسارہ اس نفع سے ادا ہوگا اور اگر نفع خسارہ سے کم نہ ہو تو وہ خسارہ اس نفع سے ادا ہوگا اور اگر نفع خسارہ سے کم ہو تو ضروری ہے کہ عامل اس خسارہ کو جو نفع اس نے ليا ہے اس سے ادا کرے پس اگر خسارہ نفع سے کمتر ہو تو خسارہ سے بچنے والا مال اس کا ہوگا اور اگر خسارہ نفع سے زیادہ ہو تو نفع سے زیادہ مقدار عامل کے ذمّے نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٢٨ ۴ جب تک مضاربہ کا معاہدہ باقی ہو سرمائے پر وارد ہونے والے خسارے کا جبران کام سے حاصل ہونے والے نفع سے ہوگا، خواہ نفع خسارہ سے پهلے ہوا ہو یا بعد ميں او راگرکام شروع کرنے سے پهلے خسارہ وارد ہو اور سرمائے کی کچھ مقدار تلف ہوجائے تو اس خسارے کا جبران نفع سے ہوگااور اگر پورا کا پورا سرمايہ تلف ہوجائے جب کہ کسی نے اسے تلف نہ کيا ہو تو مضاربہ باطل ہوجائے گا اور اگر کوئی اسے تلف کرے اور تلف کرنے والا اس کا عوض دے دے تو مضاربہ باطل نہيں ہوتا۔

مسئلہ ٢٢٨ ۵ اگر عامل،مالک کے ساته يہ شرط کرے کہ سرمائے پر وارد ہونے والے خسارے کا جبران نفع سے نہ ہوگا، تو يہ شرط صحيح ہے اور عامل کے حصّے سے کم نہ ہوگا۔

مسئلہ ٢٢٨ ۶ مالک اور عامل، جےسا کہ پهلے بيان ہوچکا، جس وقت چاہيں مضاربہ کے معاہدے کو فسخ کرسکتے ہيں اگرچہ عمل انجام دینے کے بعد اور نفع حاصل ہونے سے پهلے ہو ليکن اگر عامل مالک کی اجازت سے سفر کرے اور سرمائے کی کچھ مقدار سفر پر خرچ کرے اورمضاربہ فسخ کرنا چاہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ مالک کو راضی کرے۔

مسئلہ ٢٢٨٧ اگر نفع حاصل ہونے کے بعدمضاربہ فسخ ہو تو ضروری ہے کہ نفع معاہدے کے مطابق مالک اور عامل کے درميان تقسےم ہو اگر ان ميں سے کوئی ایک تقسےم کرنے پر راضی نہ ہو تو دوسرے کو حق حاصل ہے کہ اسے تقسےم پر مجبور کرے۔

مسئلہ ٢٢٨٨ اگر مضاربہ فسخ ہوجائے اور مضاربہ کا مال یا اس کی کچھ مقدار قرض ہو توضروری ہے کہ عامل اسے مقروض سے لے کر مالک کو لوٹادے۔

مسئلہ ٢٢٨٩ اگر مضاربہ کا سرمايہ عامل کے پاس ہو اور وہ مرجائے تو اگر معين طور پر معلوم ہو تو مالک کو دیا جائے گا اور اگر معين طور پر معلوم نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے قرعہ کے ذریعے معين کياجائے یا مالک عامل کے ورثاء کے ساته مصالحت کرے۔

مساقات اور مغارسہ کے احکام

مسئلہ ٢٢٩٠ اگر انسان کسی کے ساته معاہدہ کرے کہ پھل دار درختوں کو جن کا پھل خود اس کا مال ہو یا اس پھل پر اس کا اختيار ہو ایک مقررہ مدت کے لئے کسی دوسرے شخص کے سپرد کرے تاکہ وہ ان کی نگهداشت کرے اور انہيں پانی دے اور جتنی مقدار بطور مشاع آپس ميں طے کریں اس کے مطابق وہ ان درختوں کا پھل لے لے تو ایسا معاملہ مساقات کهلاتا ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩١ بيد اور چنار جيسے درختوں ميں ، جو پھل نہيں دیتے، مساقات کا معاملہ صحيح نہيں ہے اور مهندی وغيرہ کے درخت ميں کہ جن کے پتے کام آتے ہيں ، محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩٢ مساقات کے معاملے ميں صيغہ پڑھنا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر درخت کا مالک مساقات کی نيت سے اسے کسی کے سپرد کرے اور جس شخص کو کام کرنا ہو وہ بھی اسی نيت سے تحویل لے لے تو معاملہ صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢٢٩٣ مالک اور جو شخص درختوں کی نگهداشت کی ذمہ داری لے ضروری ہے کہ دونوں عاقل و بالغ ہوں اور کسی نے انہيں ناحق مجبور نہ کيا ہو اور نےز يہ کہ مالک شرعاً اپنے مال ميں ممنوع التصرف نہ ہو مثال کے طور پر سفيہ جو اپنے مال کو فضول کاموں ميں خرچ کرتا ہو اور دیواليہ جو حاکم شرع کے حکم سے اپنے مال ميں تصرف نہ کرسکتا ہو اور یهی حکم عامل کے لئے اس وقت ہے جب اس کے عمل سے اس کے مال ميں تصرف لازم آتا ہو۔

مسئلہ ٢٢٩ ۴ مساقات کی مدت کا معين ہونا ضروری ہے اور جس مدت ميں پھل دستياب ہوتے ہوں اس سے کم مدت نہ ہو اور اگراس کی ابتدا کو معين کریں اور اس کا اختتام اس وقت قراردیں جب اس سال کے پھل دستياب ہوں تو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩ ۵ ضروری ہے کہ ہر فریق کا حصّہ پيداوار کا بطور مشاع نصف یا ایک تھائی وغيرہ ہو اور اگر يہ معاہدہ کریں کہ مثلاً سو من پھل مالک کے اور باقی کام کرنے والے کے،تو معاملہ باطل ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩ ۶ ضروری ہے کہ مساقات کا معاملہ پھل ظاہر ہونے سے پهلے طے کرليں یا پيداوار کے ظاہر ہونے کے بعد اس کے پکنے سے اتنا پهلے طے کرليں جب کہ ابهی آبياری جيسا کچھ ایسا کام باقی ہو جو درختوں کی نگهداشت اور پهلوں ميں اضافے کے لئے ضروری ہو۔ ان دو صورتوں کے علاوہ اگرچہ پھل توڑنے اور اس کی نگهداشت جيسے کام کی ضرورت ہو معاملہ صحيح نہيں ہے بلکہ اگر پهلوں کے زیادہ اور بہتر ہونے کے لئے آبياری کی ضرورت نہ ہوتو اگرچہ درخت کی نگهداشت کے لئے کوئی کام ضروری ہو پھر بھی معاملہ کا صحيح ہونا محل اشکا ل ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩٧ خربوزے اور کهیر ے جےسے پهلوں ميں ، جن کے پودوں کی جڑیں ثابت نہ ہوں، مساقات کا معاملہ محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩٨ جو درخت بارش کے پانی یا زمين کی نمی سے استفادہ کرتا ہو اور جسے آبياری کی ضرورت نہ ہو ،اگر اسے پهلوں کے زیادہ یا بہتر ہونے کے لئے بيلچہ چلانے اور کهاد دینے جےسے کاموں کی ضرورت ہو تومساقات صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٢٩٩ دو افراد جنہوں نے مساقات کی ہو باہمی رضامندی سے معاملہ فسخ کرسکتے ہيں نےز اگر مساقات کے معاہدے کے ضمن ميں يہ شرط طے کریں کہ ان دونوں کو یا ان ميں سے کسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کا حق ہوگا تو ان کے طے کردہ معاہدے کے مطابق معاملہ فسخ کرنے ميں کوئی اشکال نہيں اور اگرمساقات کے معاملے ميں کوئی شرط طے کریں اور اس شرط پر عمل نہ ہو تو جس شخص کے فائدے کے لئے وہ شرط کی گئی ہو وہ معاملہ فسخ کرسکتا ہے اور شروط کے باقی موارد کی طرح طرفِ مقابل کو حاکم شرع کے ذریعہ شرط پر عمل کرنے پر مجبور بھی کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٣٠٠ اگر مالک مرجائے تو مساقات کا معاملہ فسخ نہيں ہوتا بلکہ اس کے وارث اس کی جگہ پاتے ہيں ۔


مسئلہ ٢٣٠١ درختوں کی پرورش جس شخص کے سپرد کی گئی ہواگر وہ مرجائے اور معاہدے ميں يہ شرط نہ کی گئی ہو کہ وہ خود درختوں کی پرورش کرے گا تو اس کے ورثاء اس کی جگہ لے ليتے ہيں اور اگر ورثاء خود درختوں کی پرورش کا کام انجام نہ دیں اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کسی کو اجير مقرر کریں تو حاکم شرع مردے کے مال سے کسی کو اجير مقرر کرے گا اور اس سے جو آمدنی ہوگی اسے مردے کے ورثاء اور مالک کے درميان تقسيم کردے گا اور اگر یہ شرط کی گئی ہو کہ وہ خود درختوں کی پرورش کرے گا تو اس کے مرنے کے بعد معاملہ فسخ ہوجائے گا۔

مسئلہ ٢٣٠٢ اگر يہ شرط کی جائے کہ تمام پید وار مالک کا مال ہوگی تو مساقات باطل ہے ۔ ایسی صورت ميں پھل مالک کے ہوں گے اور کام کرنے والا اجرت طلب نہيں کرسکتا، ليکن اگر مساقات کسی اور وجہ سے باطل ہو تو ضروری ہے کہ مالک آبياری اور دوسرے کام کرنے کی اجرت درختوں کی پرورش کرنے والے کو معمول کے مطابق دے ليکن اگر معمول کے مطابق اجرت طے شدہ اجرت سے زیادہ ہو تو اس اضافی مقدار کی ادائيگی کا لازم ہونا محل اشکال ہے اور احوط صلح ہے ۔

مسئلہ ٢٣٠٣ اگر زمين دوسرے کے سپرد کردے تاکہ وہ اس ميں درخت لگائے اور جو کچھ حاصل ہو وہ دونوں کا ہو تو اس معاملے کو جسے مغارسہ کہتے ہيں اور یہ باطل ہے ۔ لہٰذا اگر درخت صاحب زمين کے تهے تو پرورش کے بعد بھی اسی کے ہوں گے اور ضروری ہے کہ پرورش کرنے والے کو اجرت دے، مگر يہ کہ وہ اجرت کام کرنے والے سے طے شدہ حصّے سے زیادہ ہو تو اس صورت ميں اضافی مقدار کی ادائيگی کالازم ہونا محل اشکال ہے اور احتياط صلح ميں ہے جب کہ اگر یہ درخت اس شخص کے ہيں جس نے ان کی تربيت کی تھی تو تربيت کے بعد بھی یہ اسی کے رہيں گے اور ان درختوں کو اکهاڑ بھی سکتا ہے ، ليکن انہيں اکهاڑنے سے جو گڑھے ہوں ضروری ہے ان گڑہوں کو پر کرے اور جس دن سے اس نے زمين ميں درخت کاشت کئے ہوں اس کا کرايہ زمين کے مالک کو دے مگر يہ کہ زمين کا کرايہ درختوں کی نگهداشت کے عوض مالک کے طے شدہ حصے سے زیادہ ہو کہ اس صورت ميں اضافی مقدار کی ادائيگی کا لازم ہونا محل اشکال ہے اور احوط صلح ہے ۔

اسی طرح مالک بھی اسے مجبور کرسکتا ہے کہ درختوں کو اکهاڑے اور اگر درخت اکهاڑنے سے ان ميں کوئی عےب پيدا ہو تو صاحب زمين کی ذمہ داری نہ ہوگی ليکن اگر صاحب زمين خود درختوں کو اکهاڑے اور ان ميں عےب پيدا ہو تو ضروری ہے کہ قيمت کے فرق کی مقدار درختوں کے مالک کو دے اور درختوں کا مالک اسے مجبور نہيں کرسکتا کہ اجارہ یا اجارے کے بغير درختوں کو زمين ميں باقی رہنے دے۔ اسی طرح صاحب زمين اسے مجبور نہيں کرسکتا کہ اجارہ یا اجارے کے بغير درختوں کو زمين ميں باقی رہنے دے۔


وہ افراد جو اپنے مال ميں تصرف نهيں کرسکتے

مسئلہ ٢٣٠ ۴ جو بچہ بالغ نہ ہوا ہو وہ مال یا اپنی ذمہ داری پر مثال کے طور پر يہ کہ ضامن بنے یا قرض کرے یا اس طرح کے کاموں ميں شرعاً تصرف نہيں کرسکتا اور یهی حکم اپنے نفس ميں مالی تصرف کا بھی ہے مثال کے طور پرخود کو کرائے پر دے یا مضاربہ یا مزارعہ اور اس طرح کے کام کرے۔ ہاں، مال ميں اس کی وصيت کا حکم مسئلہ نمبر ” ٢٧ ۶ ١ “ ميں آئے گا۔

اور بلوغ کی نشانی ان تین چيزوںميں سے ایک ہے :

١) لڑکے ميں ناف کے نيچے اور شرم گاہ کے اوپر سخت بالوں کا اگنا۔

٢) منی کا خارج ہونا۔

٣) لڑکے ميں عمر کے پندرہ قمری سال پورے ہونا، اور لڑکی ميں عمر کے نو قمری سال پورے ہونا، اور جس لڑکی کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ نو سال پورے ہوچکے یا نہيں اسے حےض آنا۔

مسئلہ ٢٣٠ ۵ چھرے، ہونٹوں کے اوپر، سینے اور بغل کے نيچے سخت بالوں کا اگنا، آواز کا بهاری ہونا اور ایسی ہی دوسری علامات بالغ ہونے کی نشانياں نہيں ہيں مگر يہ کہ انسان ان کی وجہ سے بالغ ہونے کا یقین یا اطمينان کرلے۔

مسئلہ ٢٣٠ ۶ دیوانہ اپنے مال اور ذمہ داری ميں تصرف نہيں کرسکتا۔ اسی طرح اپنے نفس ميں مالی تصرفات کا بھی یهی حکم ہے اور سفيہ یعنی جو اپنے مال کو فضول کاموں ميں خرچ کرتا ہو اپنے مال اور ذمہ داری ميں مثال کے طور پر يہ کہ ضامن بنے یا قرض کرے اپنے ولی کے اذن یا اجازت کے بغير تصرف نہيں کرسکتا اور اسی طرح اپنے نفس ميں ولی کے اذن یا اجازت کے بغير مالی تصرف نہيں کرسکتا مثال کے طور پر يہ کہ خود کو کرائے پر دے یا مضاربہ یا مزارعہ کا عامل بنے اور اس طرح کے کام کرے اور دیواليہ یعنی جسے قرض خواہوں کے مطالبہ کی وجہ سے حاکم شرع نے اپنے مال ميں تصرف سے منع کيا ہو اپنے مال ميں قرض خواہوں کے اذن یا اجازت کے بغير تصرف نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٢٣٠٧ جو شخص کبهی عاقل اور کبهی دیوانہ ہوجائے اس کا دیوانگی کی حالت ميں اپنے مال ميں تصرف کرنا صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٠٨ انسان کو اختيار ہے کہ مرض الموت کے عالم ميں اپنا مال اپنے آپ، عيال، مهمانوں اور ان کاموں پر جو فضول خرچی ميں شمار نہ ہوتے ہوں جتنا چاہے صرف کرے اور اگر اپنا مال کسی کو بخش دے یا قيمت سے سستا فروخت کرے اگرچہ ثلث مال سے زیادہ ہو اور ورثاء بھی اجازت نہ دیں اس کا تصّرف صحيح ہے ۔


وکالت کے احکام

وکالت سے مراد يہ ہے کہ وہ کام جسے انسان خود انجام دینے کاحق رکھتا ہو اور اسے کرنے کے لئے اس کااپنا ہونا شرط نہ ہو اسے دوسرے کے سپرد کردے تاکہ وہ اس کی طرف سے اس کام کو نجام دے مثلاً کسی کو اپنا وکيل بنائے تاکہ وہ اس کا مکان بيچ دے یا کسی عورت سے اس کا نکاح کردے لہٰذا سفيہ چونکہ اپنے مال ميں تصرف کا حق نہيں رکھتا اس لئے وہ اپنے ولی کی اجازت کے بغير اپنے مکان کو بيچنے کے لئے کسی کو وکيل نہيں بناسکتا اور اسی طرح دیواليہ جو حاکم شرع کے حکم سے اپنے مال ميں ممنوع التصرف ہوچکا ہو اپنے مال ميں تصرف کے لئے کسی کو وکيل نہيں بناسکتا مگر يہ کہ قرض خواہوں سے اذن یا اجازت لے لے۔

مسئلہ ٢٣٠٩ وکالت ميں صيغہ پڑھنا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر انسان دوسرے شخص کو سمجھادے کہ اس نے اسے وکيل مقرر کيا ہے اور وہ بھی سمجھا دے کہ اس نے وکيل بننا قبول کرليا ہے مثلاً وہ اپنا مال دوسرے کو دے کہ وہ اس کی طرف سے بيچ دے اور دوسرا شخص وہ مال لے لے تو وکالت صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣١٠ اگر انسان ایک ایسے شخص کو وکيل مقرر کرے جو دوسرے شہر ميں ہو اور اس کو وکالت نامہ بهےج دے اور وہ وکالت نامہ قبول کرلے تو اگرچہ وکالت نامہ اسے کچھ عرصے بعد ملے وکالت صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣١١ مو کٔل یعنی وہ شخص جو دوسرے کو وکيل بنائے اور وہ شخص جو وکيل بنے ضروری ہے کہ دونوں عاقل ہوں اور قصد و اختيار سے اقدام کریں اور کسی نے انہيں ناحق مجبور نہ کيا ہو اور مو کٔل کے لئے بالغ ہونا بھی ضروری ہے مگر یہ کہ اسے ان کاموں ميں جن کو ممےّز بچے کا انجام دینا صحيح ہو وکيل بنائے مثال کے طور پر دس سالہ بچہ جسے حق ہے کہ وصيت کرے۔

مسئلہ ٢٣١٢ جو کام انسان انجام نہ دے سکتا ہو یا شرعاً انجام نہ دینا چاہئے اسے انجام دینے کے لئے وہ دوسرے کا وکيل نہيں بن سکتا مثلاً جو شخص حج کا احرام بانده چکا ہو چونکہ ضروری ہے کہ نکاح کا صيغہ نہ پڑھے اس لئے وہ صيغہ نکاح پڑھنے کے لئے دوسرے کا وکيل نہيں بن سکتا۔

مسئلہ ٢٣١٣ اگر کوئی شخص اپنے تمام کام انجام دینے کے لئے دوسرے شخص کو وکيل بنائے تو صحيح ہے ليکن اگراپنے کاموں ميں سے ایک کام کرنے کے لئے دوسرے کو وکيل بنائے اور کام معين نہ کرے تو وکالت صحيح نہيں ہے ۔ ہاں اگر وکيل کو چند کاموں ميں سے ایک کام جس کا وہ انتخاب کرے انجام دینے کے لئے وکيل بنائے مثلاً اسے کهے: ”تم وکيل ہو کہ گھر کو فروخت کرنے یا کرائے پر دینے ميں جسے چاہو اختيار کرو“، تو وکالت صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣١ ۴ اگر وکيل کو معزول کردے یعنی کام سے برطرف کردے تو وکيل اطلاع مل جانے کے بعد اس کام کو انجام نہيں دے سکتا ليکن اگر اطلاع ملنے سے پهلے اس نے وہ کام کردیا ہو تو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣١ ۵ وکيل خود کو وکالت سے کنارہ کش کرسکتا ہے خواہ مو کِّٔل موجود نہ ہو۔


مسئلہ ٢٣١ ۶ جو کام وکيل کے سپرد کيا گيا ہو اس کام کے لئے وہ کسی دوسرے کو وکيل مقرر نہيں کرسکتا ليکن اگر مو کِّٔل نے اجازت دی ہو کہ کسی کو وکيل کرے تو جس طرح اس نے کها ہو اسی طرح وہ عمل کرسکتا ہے ، لہٰذا اگر اس نے کها ہو ”میر ے لئے وکيل مقرر کرو“ تو ضروری ہے کہ اس کی طرف سے وکيل مقرر کرے ليکن کسی کو اپنی جانب سے وکيل مقرر نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٢٣١٧ اگر وکيل مو کِّٔل کی اجازت سے کسی کو اس کا وکيل بنائے تو پهلا وکيل اس وکيل کو معزول نہيں کر سکتا اور اگر پهلا وکيل مرجائے یا مو کِّٔل اسے معزول کردے تو دوسرے وکيل کی وکالت باطل نہيں ہوتی۔

مسئلہ ٢٣١٨ اگر وکيل مو کِّٔل کی اجازت سے کسی کو خود اپنی طرف سے وکيل مقرر کرے تو مو کِّٔل اور پهلا وکيل اس وکيل کومعزول کرسکتے ہيں اور اگر پهلا وکيل مرجائے یا معزول ہوجائے تو دوسری وکالت باطل ہوجاتی ہے ۔

مسئلہ ٢٣١٩ اگر کسی کام کے لئے چند اشخاص کو وکيل مقرر کرے اور انہيں اجازت دے کہ ان ميں سے ہر ایک ذاتی طور پر اس کام کو انجام دے تو ان ميں سے ہر ایک اس کام کو انجام دے سکتا ہے اور اگران ميں سے کوئی ایک مرجائے تو دوسرے کی وکالت باطل نہيں ہوتی ليکن اگر يہ نہ کها ہو کہ سب مل کر یا عليحدہ عليحدہ انجام دیں یا کها ہو کہ سب مل کر انجام دیں، تو عليحدہ سے اسے انجام نہيں دے سکتے اور اگر ان ميں سے کوئی ایک مرجائے تو باقی اشخاص کی وکالت باطل ہوجاتی ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢٠ اگر وکيل یا مو کِّٔل مرجائے تو وکالت باطل ہوجاتی ہے اور نےز جس چيز ميں تصرف کے لئے کسی شخص کو وکيل مقرر کيا جائے اگر وہ چيز تلف ہوجائے مثلاً جس بھیڑ کو بيچنے کے لئے کسی کو وکيل مقرر کيا ہو وہ بھیڑ مرجائے تو وکالت باطل ہوجائے گی اور ان ميں سے کوئی ایک دیوانہ یا بے ہوش ہوجائے تو وکالت کا اس طرح سے باطل ہو جانا کہ دیوانگی یا بے ہوشی سے افاقے کے بعد بھی عمل کو انجام نہ دے سکے اور اس کے لئے نئی توکيل کی ضرورت ہو، محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢١ اگر انسان کسی کو ایک کام کے لئے وکيل مقرر کرے اور اسے کوئی چيز دینا طے کرے تو کام انجام پانے کے بعد ضروری ہے کہ وہ چيز اسے دے دے۔

مسئلہ ٢٣٢٢ جو مال وکيل کے اختيار ميں ہو اگر وہ اس کی نگهداشت ميں کوتاہی نہ کرے اور جس تصرف کی اسے اجازت دی گئی ہو اس کے علاوہ اس ميں اور تصرف نہ کرے اور اتفاقاً وہ مال تلف ہوجائے تو اس کے لئے اس کاعوض دیناضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢٣ جو مال وکيل کے اختيار ميں ہو اگر وہ اس کی نگهداشت ميں کوتاہی برتے یا جس تصرف کی اجازت ہو اس کے علاوہ اس ميں کوئی اورتصرف کرے اور وہ مال تلف ہوجائے تو ضامن ہے ، لہٰذا اگر جس لباس کے لئے کها جائے کہ اسے بيچ دو اگر وہ اسے پهن لے اور وہ لباس تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔


مسئلہ ٢٣٢ ۴ اگر وکيل کو مال ميں جس تصرف کی اجازت دی گئی ہو اس کے علاوہ کوئی اور تصرف کرے مثلاً اسے جس لباس کے بيچنے کے لئے کها جائے وہ اسے پهن لے اور بعد ميں وہ تصرف کرے جس کی اسے اجازت دی گئی ہو تو وہ تصرف صحيح ہے ۔

قرض کے احکام

کسی مسلمان کو خصوصاً مومنین کو قرض دینا مستحب کاموں ميں سے ہے ۔ قرآن مجید ميں اس کے بارے ميں حکم ہوا ہے اور مو مٔنین کوقرض دینا خدا کو قرض دینا شمار کيا گيا ہے ، قرض دینے والے کو مغفرت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔ احادےث ميں بھی اس کے متعلق تاکید گئی ہے ۔ پیغمبر اکرم(ص) سے روایت ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بهائی کو قرض دے اس کے لئے ہر درہم کے مقابلے ميں احد کے پهاڑ کے وزن کے برابر رضویٰ اور طور سيناء کی پهاڑیوں جتنی نےکياں ہيں اور اگرمقروض سے نرمی برتے تو بغير حساب و عذاب اور برق رفتاری سے پل صراط سے گزرجائے گا اور اگر کسی سے اس کا مسلمان بهائی قرض مانگے اور وہ نہ دے تو خدائے عز و جل بهشت ا س پر حرام کردیتا ہے ۔ اور امام جعفر صادق عليہ السلام سے روایت ہے کہ اگر ميں قرض دوں تو میر ے لئے قرض دینا اس سے زیادہ پسندید ہ ہے کہ اس جےسا کوئی صدقہ دوں۔

مسئلہ ٢٣٢ ۵ قرض ميں صيغہ پڑھنا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر ایک شخص دوسرے کو کوئی چيز قرض کی نيت سے دے اور دوسرا بھی اسی نيت سے لے لے تو قرض صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢ ۶ جب قرض ميں مدت کی شرط نہ کی گئی ہو یا مدت مکمل ہوچکی ہو،تو جب بھی مقروض اپنا قرض ادا کرے ضروری ہے کہ قرض خواہ اسے قبول کرے۔

مسئلہ ٢٣٢٧ اگر قرض کے صيغے ميں قرض کی واپسی کی مدت معين کردی جائے تو قرض خواہ مدت کے ختم ہونے سے پهلے اپنے قرضے کی واپسی کا مطالبہ نہيں کرسکتا، ليکن اگر مدت معين نہ کی گئی ہو تو قرض خواہ جب بھی چاہے اپنے قرض کی واپسی کامطالبہ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢٨ اگر قرض خواہ ،جب مطالبے کا حق رکھتا ہو، اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرے اور مقروض قرض ادا کرسکتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ فوراً ادا کرے اور اگر تا خٔیر کرے تو گنهگار ہے ۔

مسئلہ ٢٣٢٩ اگر مقروض کے پاس اس کی شان کے مطابق ایک گھر ہو کہ جس ميں وہ رہتا ہو اور گھر کا سامان اور چيزیں جنہيں رکھنے پر مجبور ہے ، کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسری چيز نہ ہو تو قرض خواہ ا س سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہيں کرسکتا، بلکہ ضروری ہے کہ مقروض کے قرض ادا کرنے کے قابل ہونے تک صبر کرے۔


مسئلہ ٢٣٣٠ جو شخص مقروض ہو اور اپنا قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اگر وہ کوئی ایسا کام کرسکتا ہو جس ميں اس کے لئے مشکل یا حرج نہ ہو تو واجب ہے کہ کام کرے اور اپنا قرض ادا کرے۔

مسئلہ ٢٣٣١ جس شخص کو اپنا قرض خواہ نہ مل سکے اور اس کے ملنے کی امید بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ قرضے کا مال قرض خواہ کی طرف سے فقير کو صدقہ دے دے اور احتياط واجب کی بنا پر حاکم شرع سے اجازت لے اور اگر اس کا قرض خواہ سید نہ ہو تو احتياط مستحب يہ ہے کہ اس کے قرضے کا مال سید فقير کو نہ دے۔

مسئلہ ٢٣٣٢ اگر ميت کا مال اس کے کفن و دفن کے واجب اخراجات اور قرض سے زیادہ نہ ہو تو اس کا مال انهی امور پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اس کے وارث کو کچھ نہيں ملے گا۔

مسئلہ ٢٣٣٣ اگر کوئی شخص سونے یا چاندی کے سکے قرض لے اور بعد ميں ان کی قيمت کم ہوجائے تو اگر وهی مقدار جو اس نے لی تھی واپس کردے تو کافی ہے اور اگر ان کی قيمت بڑھ جائے تو بھی ضروری ہے کہ اتنی ہی مقدار واپس کرے جو لی تھی ليکن دونوں صورتوں ميں اگر مقروض اور قرض خواہ کسی اور بات پر رضا مند ہوجائيں تو اس ميں کوئی اشکال نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٣ ۴ کسی شخص نے جو مال ليا ہو اگر تلف نہ ہوا ہو اور صاحب مال اس کا مطالبہ کرے تو احتياط مستحب يہ ہے کہ مقروض وهی مال مالک کو دے دے۔

مسئلہ ٢٣٣ ۵ اگر قرض دینے والا شرط کرے کہ وہ جتنی مقدار ميں مال دے رہا ہے اس سے زیادہ واپس لے گا مثلاً ایک من گندم دے اور شرط کرے کہ ایک من پانچ کيلو واپس لوں گا یا دس انڈے دے اور کهے کہ گيارہ انڈے واپس لوں گا تو يہ سود اور حرام ہے ، بلکہ اگر شرط کرے کہ مقروض اس کے لئے کوئی کام انجام دے یا جو چيز اس سے لی ہے اسے کسی چيز کے ساته ملا کر واپس دے مثلاً ایک روپيہ جو قرض ليا ہے اسے ایک ماچس کی ڈبياکے ساته واپس کرے تو بھی یہ سود اور حرام ہے ۔ اسی طرح اگر یہ شرط کرے کہ جو چيز قرض دے رہا ہے اسے مخصوص طریقے سے واپس لے گا مثلا بغير گهڑے سونے کی مقدار دے اور شرط کرے کہ گهڑا ہوا سونا واپس لے گا تب بھی يہ سود اور حرام ہے ۔ ہاں، اگر قرض خواہ کوئی شرط نہ لگائے بلکہ مقروض خود قرضے کی مقدار سے کچھ زیادہ واپس کرے تو کوئی حرج نہيں بلکہ ایسا کرنا مستحب ہے ۔

مسئلہ ٢٣٣ ۶ سود دینا سود لینے کی طرح حرام ہے اور اقویٰ يہ ہے کہ جو شخص سود پر قرض لے وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے اگرچہ احوط يہ ہے کہ اس ميں تصرّف نہ کرے۔

مسئلہ ٢٣٣٧ اگر کوئی شخص گندم یا اس جیسی کوئی چيز سودی قرضے کے طور پر لے اور اسے کاشت کرے تو اقویٰ يہ ہے کہ وہ پيداوار کا مالک ہوجاتا ہے اگرچہ احوط يہ ہے کہ اس ميں تصرّف نہ کرے۔


مسئلہ ٢٣٣٨ اگر کوئی شخص لباس خریدے اور اس کی قيمت کپڑے کے مالک کو سودی قرضے کے طور پر لی ہوئی رقم سے یا ایسی حلال رقم سے جو اس رقم کے ساته مخلوط ہے ، ادا کرے تو اس لباس کے پهننے اور اس کے ساته نماز پڑھنے ميں کوئی اشکال نہيں ۔ اسی طرح اگر بيچنے والے سے کهے: ”ميں يہ لباس اس مال سے خرید رہا ہوں“، تو اس کا بھی یهی حکم ہے اگرچہ احوط يہ ہے کہ اس لباس کو استعمال نہ کرے۔

مسئلہ ٢٣٣٩ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ رقم دے کہ دوسرے شہر ميں اس کی جانب سے کم رقم لے تو اس ميں کوئی اشکال نہيں ہے اور اسے صرف برات کہتے ہيں ۔

مسئلہ ٢٣ ۴ ٠ اگر کوئی شخص کسی کو قرض اس شرط پر دے کہ چند دن بعد دوسرے شہر ميں اس سے زیادہ لے گا مثلاً ٩٩٠ روپے دے کہ دس دن بعد دوسرے شہر ميں ہزار روپے لے گا تو يہ سود اور حرام ہے ،ليکن جو شخص زیادہ لے رہا ہو اگر وہ اس اضافی مقدار کے مقابلے ميں کوئی جنس دے یا کوئی کام کردے تو پھر کوئی اشکال نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۴ ١ اگر قرض خواہ کو کسی سے قرض واپس لینا ہو اور وہ چيز سونا یا چاندی یا ناپی یا تولی جانے والی جنس نہ ہو تو وہ شخص اس چيز کو مقروض یا کسی اور کے پاس کم قيمت پر بيچ کر اس کی قيمت نقد وصول کرسکتا ہے ۔ليکن اگر قرض کرنسی نوٹ ہوں تو ان کا اسی کرنسی کے نوٹوں ميں کم قيمت پر بيچنا محل اشکال ہے ۔ ہاں، کسی اور کرنسی مثلاً روپوں کو ڈالر ميں بيچنے ميں کوئی اشکال نہيں ہے ۔ اسی طرح مقروض کو دی ہوئی رقم ميں سے کچھ مبلغ کم کرکے باقی قرض نقد کی صورت ميں لے سکتا ہے ۔

حوالہ دينے کے احکام

مسئلہ ٢٣ ۴ ٢ اگر کوئی شخص اپنے قرض خواہ کو حوالہ دے کہ وہ اپنا قرض ایک اور شخص سے لے لے اور قرض خواہ اس بات کو قبول کرلے تو اس کے بعد جب یہ حوالہ بعد ميں آنے والی شرائط کے ساته محقق ہوجائے گا تو جس شخص کے نام حوالہ دیا گيا ہے وہ مقروض ہوجائے گا اور اس کے بعد قرض خواہ پهلے مقروض سے اپنے قرض کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٢٣ ۴ ٣ ضروری ہے کہ مقروض اور قرض خواہ عاقل و بالغ ہوں۔ ضروری ہے کہ کسی نے انہيں ناحق مجبور نہ کيا ہو اور سفيہ، یعنی اپنا مال فضول کاموں ميں خرچ کرنے والے نہ ہوںمگر يہ کہ ولی سے اذن یا اجازت لے ليں۔ ہاں، اگر بری یعنی ایسے شخص کی طرف حوالہ دیا گيا ہو جو حوالہ دینے والے کا مقروض نہ ہو، جب کہ حوالہ دینے والا سفيہ ہو تو اس ميں کوئی اشکال نہيں ۔

اسی طرح شرط ہے کہ مقروض اور قرض خواہ دیواليہ ہونے کی وجہ سے حاکم شرع کے حکم سے اپنے اموال ميں ممنوع التصّرف نہ ہو چکے ہوں، ليکن اگر حوالہ بری کی طرف دیا گيا ہو جب کہ حوالہ دینے والا ممنوع التصرف ہو تو اس ميں کوئی اشکال نہيں ۔


٢٣ ۴ ایسے شخص کے نام حوالہ دینا جو مقروض نہ ہو اسی صورت ميں صحيح ہے جب مسئلہ ۴

وہ قبول کرے اور اگر انسان جس شخص کا کسی جنس ميں مقروض ہو اسے کسی دوسری جنس کا حوالہ دینا چاہے مثلاً جو شخص جَو کا مقروض ہے گندم کا حوالہ دے تو جب تک قرض خواہ قبول نہ کرے حوالہ صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۴۵ انسان جب حوالہ دے تو ضروری ہے کہ وہ اس وقت مقروض ہو۔ لہٰذا اگر وہ کسی سے قرض لینا چاہتا ہو تو جب تک اس سے قرض نہ لے لے اسے کسی کے نام کا حوالہ نہيں دے سکتا کہ جو قرض اسے دے وہ اس شخص سے وصول کرلے۔

مسئلہ ٢٣ ۴۶ حوالہ دینے والے اور قرض خواہ کے لئے حوالے کی مقدار اور اس کی جنس کا جاننا ضروری ہے ، لہٰذا اگر مثال کے طور پر کوئی شخص دس من گندم اور دس روپے کا مقروض ہو اور اس سے کهے ”ان دو قرضوں ميں سے ایک فلاں شخص سے لے لو“ اور اس قرضے کو معين نہ کرے تو صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۴ ٧ اگر قرض واقعاً معين ہو ليکن حوالہ دینے کے وقت مقروض اورقرض خواہ کو اس کی مقدار یا جنس کا علم نہ ہو تو حوالہ صحيح ہے مثلاً اگر کسی کا قرضہ رجسٹر ميں لکھا ہو اور رجسٹر دےکهنے سے پهلے حوالہ دے اور بعد ميں رجسٹر دےکهے اور قرض خواہ اپنے قرض کی مقدار بتادے تو حوالہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۴ ٨ قرض خواہ کو اختيار ہے کہ حوالہ قبول نہ کرے اگرچہ جس کے نام حوالہ دیا جائے وہ فقير نہ ہو اور حوالہ کے ادا کرنے ميں کوتاہی بھی نہ کرے۔

مسئلہ ٢٣ ۴ ٩ جو شخص حوالہ دینے والے کا مقروض نہ ہو اور حوالہ قبول کرلے توحوالہ ادا کرنے سے پهلے حوالہ دینے والے سے حوالے کی مقدار کا مطالبہ نہيں کرسکتا اور اگر قرض خواہ اپنے قرض سے تهوڑی مقدار پر صلح کرلے تو حوالہ قبول کرنے والا حوالہ دینے والے سے فقط اتنی مقدار کا ہی مطالبہ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵ ٠ حوالہ محقق ہونے کے بعد حوالہ دینے والا اور جس کے نام حوالہ دیا گيا ہے حوالہ منسوخ نہيں کرسکتے اور جب حوالہ دئے جانے کے وقت، جس کے نام حوالہ دیا گيا ہے وہ فقير نہ ہو، اگرچہ وہ بعد ميں فقير ہوجائے قرض خواہ بھی حوالہ منسوخ نہيں کرسکتا۔ اسی طرح ا گر حوالہ دئے جانے کے وقت فقير ہو ليکن قرض خواہ يہ بات جانتا ہو تب بھی یهی حکم ہے ۔ ہاں، اگر قرض خواہ کو علم نہ ہو کہ فقير ہے اور بعد ميں پتہ چلے کہ مالدار ہوگيا ہے تو قرض خواہ حوالہ منسوخ کرسکتا ہے اور اپنا قرضہ حوالہ دینے والے سے لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵ ١ اگر مقروض، قرض خواہ اور جس کے نام حوالہ دیا گيا ہو، جب کہ اس کا قبول کرنا حوالہ کے صحيح ہونے ميں شرط ہو مثال کے طور پر جب وہ حوالہ دینے والے کا مقروض نہ ہو، یا ان ميں سے کوئی ایک اپنے لئے حوالہ منسوخ کرنے کے حق کی شرط کرے تو کئے گئے معاہدے کے مطابق وہ حوالہ منسوخ کرسکتا ہے ۔


مسئلہ ٢٣ ۵ ٢ اگر حوالہ دینے والا خود قرض خواہ کا قرضہ ادا کردے، تو اگر يہ کام اس شخص کی درخواست پر ہوا ہو جس کے نام حوالہ دیا گيا تھا جب کہ وہ حوالہ دینے والے کا مقروض بھی ہو تو جو کچھ دیا ہے وہ اس سے لے سکتا ہے اور اگر اس کی درخواست کے بغير دیا ہو یا وہ حوالہ دینے والے کا مقروض نہ ہو تو پھر اس نے جو کچھ دیا ہو اس کا مطالبہ اس سے نہيں کرسکتا۔

رہن کے احکام

مسئلہ ٢٣ ۵ ٣ رہن يہ ہے کہ جس شخص کے ذمّے کسی کا کوئی مالی حق واجب الادا ہو وہ اپنے مال کی کچھ مقدار اس کے پاس گروی رکھوائے کہ اگر اس کا حق نہ دے تو صاحب حق اس گروی والی چيز سے حاصل کرسکے مثال کے طور پر مقروض اپنا کچھ مال گروی رکھوائے کہ قرض نہ دینے کی صورت ميں قرض خواہ اپنا قرض اس مال سے لے لے۔

مسئلہ ٢٣ ۵۴ رہن ميں صيغہ پڑھنا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر اپنا مال گروی رکھنے کی نيت سے قرض خواہ کو دے اور وہ اسی نيت سے لے لے تو رہن صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵۵ ضروری ہے کہ گروی رکھوانے والا اور گروی رکھنے والا عاقل و بالغ ہوں، کسی نے انہيں ناحق مجبور نہ کيا ہو اور گروی رکھوانے والا دیواليہ اور سفيہ نہ ہو مگر يہ کہ دیواليہ کے قرض خواہوں اور سفيہ کے ولی کی اجازت یا اذن ہو اور سفيہ اور دیواليہ کے معنی مسئلہ ٢٣٠ ۶ “ ميں گذرچکے ہيں ۔ ”

مسئلہ ٢٣ ۵۶ انسان وہ مال گروی رکھ سکتا ہے جس ميں شرعاً تصرف کرسکتا ہو اور اگر کسی دوسرے کا مال اس کے اذن یا اجازت سے گروی رکھ دے تو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵ ٧ جس چيز کو گروی رکھا جارہا ہو ضروری ہے کہ اس سے قرض کی مقدار کو حاصل کيا جا سکے چاہے وہ انسان کی ملکيت نہ ہوجيسے وہ زمين جس پر سنگ چينی کی وجہ سے انسان کا حق ہو۔ لہٰذا اگر شراب یا اس جیسی چيز کو گروی رکھے تو رہن باطل ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵ ٨ جس چيز کوگروی رکھا جارہاہے اس سے جوفائدہ ہوگا وہ اس چيز کے مالک کی ملکيت ہوگا اور ان مسائل ميں مالک سے مراد صاحب حق بھی ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۵ ٩ گروی رکھنے والے نے جو مال بطور گروی ليا ہو اس مال ميں اس کے مالک کی اجازت کے بغير تصرف نہيں کرسکتا اور اسی طرح مالک بھی اس مال ميں کوئی ایسا تصرف نہيں کر سکتا جو گروی رکھنے والے کے حق کے ساته منافات رکھتا ہو۔


مسئلہ ٢٣ ۶ ٠ فقهاء اعلی الله مقامهم کی ایک جماعت نے فرمایا ہے : ” قرض خواہ نے جو مال بطور گروی ليا ہو اگر اس کے مالک کی اجازت سے بيچ دے تو اس کا عوض گروی کے مال کی مثل ہے اور یهی حکم اس وقت ہے کہ جب اس کے مالک کی اجازت کے بغير بيچ دے اور مقروض بعد ميں اجازت دے“، ليکن يہ حکم محل اشکال ہے مگر يہ کہ عقد کے ضمن ميں ، چاہے اسی بيع ميں ، شرط رکھ

دے کہ مقروض عوض کو گروی رکھے گا، کہ اس صورت ميں اس پر واجب ہے کہ شرط پوری کرے، یا شرط رکھ دے کہ عوض بھی گروی ہوگا کہ اس صورت ميں خود شرط کی وجہ سے عوض گروی ہوجائے گی۔

مسئلہ ٢٣ ۶ ١ جس وقت مقروض کو قرض ادا کردینا چاہئے اگر قرض خواہ اس وقت مطالبہ کرے اور مقروض نہ دے تو اس صورت ميں اگر قرض خواہ اسے بيچنے اور اس سے اپنا قرضہ وصول کرنے کی وکالت رکھتا ہو تو وہ گروی مال کو فروخت کرکے اپنا قرضہ وصول کرسکتا ہے ، جب کہ اگر قرض خواہ وکالت نہ رکھتا ہو تو ضروری ہے کہ مقروض سے اجازت لے اوراگر اس تک دسترسی نہ رکھتا ہو تو حاکم شرع سے اجازت لے اور اگر حاکم شرع تک بھی رسائی نہ ہو تو عادل مو مٔنین سے اجازت لے اور ہر صورت ميں اگر کوئی چيز بچ جائے تو ضروری ہے کہ وہ مقروض کو دے۔

مسئلہ ٢٣ ۶ ٢ اگر مقروض کے پاس اس مکان کے علاوہ جو اس کی شان کے مطابق ہو اور جس ميں وہ رہتا ہو اور گھر کا سامان اور دوسری چيزیں جن کو رکھنے پر مجبور ہو، کے سواکوئی چيز نہ ہو تو قرض خواہ اس سے اپنے قرض کا مطالبہ نہيں کرسکتا، ليکن مقروض نے جو مال بطور گروی دیا ہو اگرچہ مکان اور سامان ہی کیوں نہ ہو قرض خواہ اسے بيچ کر اپنا قرض وصول کرسکتا ہے ۔

ضمانت کے احکام

مسئلہ ٢٣ ۶ ٣ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کا قرضہ ادا کرنے کے لئے ضامن بننا چاہے تو اس کا ضامن بننا اس وقت صحيح ہوگا جب وہ کسی لفظ سے، چاہے عربی زبان ميں نہ ہو یا کسی عمل سے قرض خواہ کو سمجھادے کہ ميں تمهارے قرض کی ادائیگی کے لئے ضامن بن گيا ہوں اور قرض خواہ اسے قبول کرلے اور مقروض کا رضامند ہونا شرط نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۶۴ ضامن اور قرض خواہ دونوں کے لئے ضروری ہے کہ عاقل و بالغ ہوں اور کسی نے انہيں ناحق مجبور نہ کيا ہو اور سفيہ و دیواليہ نہ ہوں مگر سفيہ کے ولی اور قرض خواہوں کے اذن یا اجازت سے۔

مقروض ميں ان شرائط کا ہونا ضروری نہيں ہے ، لہٰذا اگر ضامن بنے کہ بچے،یا دیوانے یا سفيہ یا دیواليہ کا قرض ادا کرے گا تو صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢٣ ۶۵ جب کوئی شخص ضامن بننے کے لئے کوئی شرط رکھے مثلاً کهے: ”اگر مقروض نے تمهارا قرض ادا نہ کيا تو ميں ضامن ہوں“ تو اس کے ضامن ہونے ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۶۶ انسان جس شخص کے قرض کی ضمانت دے رہا ہے ضروری ہے کہ وہ مقروض ہو، لہٰذا اگرکوئی شخص کسی سے قرض لینا چاہتا ہو تو جب تک وہ قرض نہ لے لے اس وقت تک کوئی شخص اس کا ضامن نہيں بن سکتا۔

مسئلہ ٢٣ ۶ ٧ انسان اسی صورت ميں ضامن بن سکتا ہے جب قرض خواہ،مقروض اور قرض کی جنس فی الواقع معين ہوں، لہٰذا اگر دو اشخاص کسی ایک شخص کے قرض خواہ ہوں اور انسان کهے:

”ميں ضامن ہوں کہ تم ميں سے ایک کا قرض ادا کردوں گا“، تو چونکہ اس نے معين نہيں کيا کہ کس کو قرض ادا کرے گا اس لئے اس کا ضامن بننا باطل ہے ۔ اسی طرح اگر کسی کو دو اشخاص سے قرض وصول کرنا ہو اور کوئی شخص کهے: ”ميں ضامن ہوں کہ ان دو ميں سے ایک کا قرض ادا کردوں گا“، تو چونکہ اس نے معين نہيں کيا کہ ان دونوں ميں سے کس کا قرض ادا کرے گااس لئے اس کا ضامن بننا باطل ہے اور اسی طرح اگر کسی نے ایک دوسرے شخص سے مثال کے طور پر دس من گندم اور دس روپے لینے ہوں اور کوئی شخص کهے: ”ميں تمهارے دونوں قرضوں ميں سے ایک کی ادائیگی کا ضامن ہوں“، اور معين نہ کرے کہ گندم کا ضامن ہے یا روپوں کے لئے تو يہ ضمانت صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣ ۶ ٨ اگر قرض خواہ اپنا قرض ضامن کو بخش دے تو ضامن مقروض سے کوئی چيز نہيں لے سکتا اور اگر وہ قرضے کی کچھ مقدار بخش دے تو ضامن اس مقدار کا بھی مطالبہ نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٢٣ ۶ ٩ اگر کوئی شخص کسی کا قرضہ ادا کرنے کے لئے ضامن بن جائے تو پھر وہ ضامن ہونے سے انکار نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٢٣٧٠ احتياط واجب کی بنا پر ضامن اور قرض خواہ يہ شرط نہيں کرسکتے کہ جس وقت چاہيں ضامن کی ضمانت منسوخ کردیں۔

مسئلہ ٢٣٧١ اگر انسان ضامن بننے کے وقت قرض خواہ کا قرضہ ادا کرنے کے قابل ہو تو خواہ وہ بعد ميں فقير ہوجائے قرض خواہ اس کی ضمانت منسوخ کرکے پهلے مقروض سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔ یهی حکم اس وقت ہے جب ضمانت دیتے وقت ضامن قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو ليکن قرض خواہ يہ بات جانتے ہوئے اس کے ضامن بننے پر راضی ہوجائے۔

مسئلہ ٢٣٧٢ اگر انسان ضامن بنتے وقت قرض خواہ کا قرضہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو اور قرض خواہ اس وقت نہ جانتا ہوا ور بعد ميں صورت حال سے واقف ہو تو اس کی ضمانت منسوخ کرسکتا ہے ، ليکن اس سے پهلے کہ قرض خواہ کی صورت حال معلوم ہو ضامن قرضے کی ادائیگی پر قادر ہوجائے، پھر اگر قرض خواہ اس کی ضمانت منسوخ کرنا چاہے تو اس ميں اشکال ہے ۔


مسئلہ ٢٣٧٣ اگر کوئی شخص مقروض کی اجازت کے بغير ا س کا قرضہ ادا کرنے کے لئے ضامن بن جائے تو وہ مقروض سے کچھ نہيں لے سکتا۔

مسئلہ ٢٣٧ ۴ اگر کوئی شخص مقروض کی اجازت سے اس کے قرضے کی ادائیگی کا ضامن بنے تو جس مقدار کے لئے ضامن بنا ہو اسے ادا کرنے کے بعد مقروض سے اس کا مطالبہ کرسکتا ہے ليکن جس جنس کا وہ مقروض تھا اگر اس کے بجائے کوئی اور جنس قرض خواہ کو دے تو جو چيز دی ہو اس کا مطالبہ مقروض سے نہيں کرسکتا مثلاً اگر مقروض کو دس من گندم دینے ہوں اور ضامن دس من چاول دے دے تو ضامن مقروض سے دس من چاول کا مطالبہ نہيں کرسکتا ليکن اگر مقروض خود چاول دینے پر رضا مند ہوجائے تو پھر کوئی اشکال نہيں ۔

کفالت کے احکام

مسئلہ ٢٣٧ ۵ کفالت سے مراد يہ ہے کہ انسان یہ بات اپنے ذمہ لے کہ جس وقت قرض خواہ چاہے گا وہ مقروض کو اس کے حوالے کردے گا اور جو شخص اس طرح کی ذمہ داری قبول کرے اسے کفيل کہتے ہيں ۔

مسئلہ ٢٣٧ ۶ کفالت اس وقت صحيح ہے جب کفيل کسی بھی الفاظ ميں خواہ عربی زبان کے نہ ہوں یا کسی عمل سے قرض خواہ کو يہ بات سمجھادے کہ ميں ذمہ ليتا ہوں کہ جس وقت تم چاہو گے ميں مقروض کو تمهارے حوالے کردوں گا اور قرض خواہ یا اس کا ولی بھی اس بات کو قبول کرلے۔

مسئلہ ٢٣٧٧ کفيل کے لئے ضروری ہے کہ عاقل و بالغ ہو، مال ميں تصرف لازم آنے کی صورت ميں ضروری ہے کہ سفيہ اور دیواليہ نہ ہو مگر سفيہ کے ولی اور قرض خواہوں کے اذن یا اجازت کے بعد، اسے کفيل بننے پر ناحق مجبور نہ کيا گيا ہو اور وہ اس بات پر قادر ہو کہ جس کا کفيل بنے اسے حاضر کرسکے۔

مسئلہ ٢٣٧٨ ان پانچ چيزوں ميں سے کوئی ایک کفالت کو کالعدم کردیتی ہے :

١) کفيل مقروض کو قرض خواہ کے حوالے کردے یا مقروض خود اپنے آپ کو قرض خواہ کے حوالے کردے،یا کوئی تيسرا شخص مقروض کو قرض خواہ کے حوالے کرے اور وہ قبول کرے۔

٢) قرض خواہ کا قرضہ ادا کردیا جائے۔

٣) قرض خواہ اپنے قرضے سے دستبردار ہوجائے یا کسی دوسرے کو بےع یا صلح یا حوالہ یا اس طرح کے طریقوں سے منتقل کردے۔

۴) مقروض مرجائے۔


۵) قرض خواہ کفيل کو کفالت سے بری الذمہ قرار دے دے۔

مسئلہ ٢٣٧٩ اگر کوئی شخص مقروض کو زبردستی یا مکاری سے قرض خواہ سے آزاد کرادے اور قرض خواہ کی مقروض تک پهنچ نہ ہو تو جس شخص نے اسے آزاد کرایا ہو ضروری ہے کہ وہ مقروض کو قرض خواہ کے حوالے کردے اور اگر حوالے نہ کرے تو ضروری ہے کہ اس کا قرض ادا کرے۔

امانت کے احکام

مسئلہ ٢٣٨٠ اگر ایک شخص کوئی مال کسی کو دے اور کهے: ”تمهارے پاس امانت رہے“، اور وہ قبول کرے یا کوئی لفظ کهے بغير صاحب مال اس شخص کو سمجھادے کہ وہ اسے مال حفاظت کے لئے دے رہا ہے اور وہ بھی حفاظت کے مقصد سے لے لے تو ضروری ہے کہ وہ آنے والے امانت کے احکام پر عمل کریں۔

مسئلہ ٢٣٨١ امانت دار اور وہ شخص جو مال بطور امانت دے دونوں کا عاقل ہونا ضروری ہے ۔

لہٰذا اگر کوئی شخص کسی مال کو دیوانے کے پاس امانت کے طور پر رکھے یا دیوانہ کوئی مال کسی کے پاس امانت کے طور پر رکھے تو صحيح نہيں ہے ۔

جو شخص اپنے مال کو امانت رکھوائے اس کا بالغ ہونا ضروری ہے اور سمجھ دار بچہ کسی دوسرے کے مال کو اس کی اجازت سے کسی کے پاس امانت رکھے تو جائز ہے اور سمجھ دار بچے کے پاس امانت رکھوانا جب کہ وہ اس کی حفاظت کرسکتا ہو اور امانت کی حفاظت کرے اور بچے کے مال ميں تصر ف لا زم نہ آتا ہو تو کوئی حرج نہيں ۔

شرط ہے کہ جو شخص اپنا مال امانت رکھوائے سفيہ اور دیواليہ نہ ہو مگر سفيہ کے ولی اور دیواليہ کے قرض خواہوں کے اذن یا اجازت کے بعد، ليکن سفيہ اور دیواليہ کے پاس امانت رکھوانا جب کہ اس سے ان کا اپنے مال ميں تصرف لازم نہ آتا ہو کوئی حرج نہيں ہے اور لازم آنے کی صورت ميں ولی اور قرض خواہوں کے اذن یا اجازت کے بعد کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢٣٨٢ اگر کوئی شخص بچے سے کوئی چيز اس کے مالک کی اجازت کے بغير بطور امانت قبول کرلے تو ضروری ہے کہ وہ چيز اس کے مالک کو دے دے اور اگر وہ چيز خود بچے کی ہو اور ولی نے اسے کسی کے پاس امانت رکھوانے کی اجازت نہ دی ہو تو ضروری ہے کہ وہ چيز بچے کے ولی تک پهنچائے اور اگر اس مال کے پہچانے ميں کوتاہی کرے اور وہ مال تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے اور اگر امانت رکھوانے والا دیوانہ ہو تو اس کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢٣٨٣ جو شخص امانت کی حفاظت نہ کرسکتا ہو اگر امانت رکھوانے والا اس کی اس حالت سے باخبر نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ شخص امانت قبول نہ کرے۔


مسئلہ ٢٣٨ ۴ اگر انسان صاحب مال کو سمجھائے کہ وہ اس کے مال کی حفاظت کے لئے تيار نہيں اور صاحب مال پھر بھی مال چھوڑ کر چلا جائے اور وہ مال تلف ہوجائے تو جس شخص نے امانت قبول نہ کی ہو وہ ذمہ دار نہيں ہے ليکن احتياط مستحب يہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس مال کی حفاظت کرے۔

مسئلہ ٢٣٨ ۵ جو شخص کسی کے پاس کوئی چيز بطور امانت رکھوائے وہ جس وقت چاہے امانت واپس لے سکتا ہے اور اسی طرح امانت لینے والا بھی جب چاہے صاحب مال کو امانت لوٹا سکتاہے۔

مسئلہ ٢٣٨ ۶ اگر کوئی شخص امانت کی نگهداشت سے منصرف ہوجائے اور امانت داری منسوخ کردے تو ضروری ہے کہ جس قدر جلدهوسکے مال اس کے مالک یا وکيل یا اس کے ولی کو پهنچادے یا انہيں اطلاع دے کہ مال کی رکھوالی کے لئے تيار نہيں ہے اور اگر بغير عذر کے مال ان تک نہ پهنچائے یا اطلاع بھی نہ دے اور مال تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢٣٨٧ جو شخص امانت قبول کرے اگر اس کے پاس اسے رکھنے کے لئے مناسب جگہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کے لئے مناسب جگہ مهيا کرے اور امانت کی اس طرح رکھوالی کرے کہ لوگ يہ نہ کہيں کہ اس نے رکھوالی کرنے ميں کوتاہی کی اور اگر غیر مناسب جگہ ميں رکھے اور امانت تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢٣٨٨ جس شخص نے امانت قبول کی ہو اگرتعدّی کرے یعنی زیاہ روی کرے مثال کے طور پر جو سواری اس کے پاس امانت ہو اس کے مالک کی اجازت کے بغير اس پر سواری کرے، یا تفرےط کرے یعنی اس امانت کی رکھوالی ميں کوتاہی کرے مثال کے طور پر اسے ایسی جگہ رکھے جهاں وہ ایسی غیر محفوظ ہو کہ کوئی خبر پائے تو لے جائے، تو وہ ضامن ہے اور اگر تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض اگر مثلی ہے تو مثل اور اگر قےمی ہے تو اس کی قيمت ادا کرے اور ان دو صورتوں کے علاوہ ضامن نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٨٩ اگر صاحب مال اپنے مال کی نگهداشت کے لئے کوئی جگہ معين کرے اور جس شخص نے امانت قبول کی ہو اس سے کهے کہ مال کی حفاظت حتما اسی جگہ کرنا اور اگر ضائع ہوجانے کا احتمال ہو تب بھی تم اسے کہيں اور نہ لے جانا تو اسے کسی اور جگہ لے جانا جائز نہيں ہے اور اگر لے جائے تو ضامن ہے ۔

مسئلہ ٢٣٩٠ اگر صاحب مال اپنے مال کی نگهداشت کے لئے کوئی جگہ معين کرے اور امانت قبول کرنے والا يہ جانتا ہو کہ وہ جگہ صاحب مال کی نظر ميں کوئی خصوصيت نہيں رکھتی بلکہ محفوظ جگہوں ميں سے ایک ہے تو وہ اس مال کو کسی ایسی جگہ جو زیادہ محفوظ ہو یا پهلی جگہ جتنی محفوظ ہو لے جاسکتا ہے اور اگر مال وہاں تلف ہوجائے تو ضامن نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٣٩١ اگر صاحب مال دیوانہ ہوجائے تو جس شخص نے امانت قبول کی ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ فوراً امانت اس کے ولی کو پهنچائے یا اس کے ولی کو اطلاع دے اور اگر کسی شرعی عذر کے بغير مال اس کے ولی کو نہ پهنچائے اور اسے اطلاع دینے ميں بھی کوتاہی کرے اور مال تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢٣٩٢ اگر صاحب مال مرجائے تو امانت دار کے لئے ضروری ہے کہ فوراً مال اس کے وارث تک پهنچائے یا اس کے وارث کو اطلاع دے اور اگر کسی شرعی عذر کے بغير مال اس کے وارث کو نہ پهنچائے یا اس کو اطلاع دینے ميں کوتاہی کرے اور مال تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے ليکن اگریہ جاننے کے لئے کہ جو شخص کہتا ہے کہ ميں ميت کا وارث ہوں واقعاً ٹھ ےک کہتا ہے یا نہيں ،یا ميت کا کوئی اور بھی وارث ہے یا نہيں مال نہ دے اور اطلاع دینے ميں بھی کوتاہی کرے اور مال تلف ہوجائے تو وہ ذمہ دار نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٣٩٣ اگر صاحب مال مرجائے اور اس کے کئی وارث ہوں تو جس شخص نے امانت قبول کی ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ مال تمام ورثاء کو دے یا اس شخص کو دے جسے باقی ورثاء نے مال لینے پر ما مٔور کيا ہو لہٰذا اگر وہ دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغير تمام مال کسی ایک وارث کو دے دے تو دوسروں کے حصوں کا ذمہ دار ہے اور اگر مرنے والا مال سے متعلق وصی معين کر چکا ہو تو اس کی اجازت بھی شرط ہے ۔

مسئلہ ٢٣٩ ۴ جس شخص نے امانت قبول کی ہو اگر وہ مر جائے یا دیوانہ ہوجائے تو اس کے وارث یا ولی کے لئے ضروری ہے کہ جس قدر جلد ہوسکے صاحب مال کو اطلاع دے یا امانت اس تک پهنچائے۔

مسئلہ ٢٣٩ ۵ اگر امانت دار اپنے آپ ميں موت کی نشانياں دےکهے اگر اسے اطمينان ہو کہ امانت اس کے مالک تک پهنچ جائے گی مثال کے طور پر اس کا وارث امین ہو اور امانت کے بارے ميں اسے اطلاع ہوا ور اسی طرح اگر اسے اطمينان ہو کہ امانت کا مالک اس کے ورثاء کے پاس امانت کے رہنے پر راضی ہے تو ضروری نہيں کہ امانت کو اس کے مالک یا وکيل یا ولی تک پهنچائے یا وصيت کرے اگرچہ احوط يہ ہے کہ امانت کو اس کے مالک یا وکيل یا ولی تک پهنچائے اور اگر ممکن نہ ہو تو امانت حاکم شرع کو دے دے۔

اس صورت کے علاوہ جس طرح ممکن ہو حق کو اس کے مالک یا وکيل یا ولی تک ضرور پهنچائے اور اگر ممکن نہ ہو تو وصيت کرے اور گواہ بنائے اور وصی اور گواہ کو صاحب مال کا نام،مال کی جنس وخصوصيات اور جگہ بتائے۔

مسئلہ ٢٣٩ ۶ اگر امانت دار اپنے آپ ميں موت کی نشانياں دےکهے اور سابقہ مسئلے ميں بيان کی گئی ذمہ داری پر عمل نہ کرے اور وہ امانت ضائع ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے،اگرچہ اس کی نگهداشت ميں کوتاہی نہ کی ہو اور صحت یاب ہوجائے یا کچھ مدت کے بعد پشےمان ہو اور وصيت کرے اور چاہے مال بھی وصيت کے بعد تلف ہوجائے۔


احکام عاريہ

مسئلہ ٢٣٩٧ عاریہ یہ ہے کہ انسان اپنا مال دوسرے کو دے تا کہ وہ بغير کسی عوض کے اس سے استفادہ کرے۔

مسئلہ ٢٣٩٨ عاریہ ميں صيغہ پڑھنا ضروری نہيں ہے اور اگر مثال کے طور پر کوئی شخص عاریہ کے قصد سے کسی کو لباس دے اور وہ بھی اسی قصد سے لے تو عاریہ صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٣٩٩ غصبی چيز کا یا اس چيز کا بطور عاریہ دینا جو انسان کی ملکيت ميں ہو ليکن اس سے حاصل ہونے والی منفعت پر کسی اور شخص کا حق ہو یا اس کی ملکيت ميں ہو مثلاً یہ کہ اس نے وہ چيز کرایہ پر دے رکھی ہو، اسی صورت ميں صحيح ہے جب غصبی چيز کا مالک یا وہ شخص جو عاریہ دی جانے والی چيز کی منفعت کا مالک ہے یا اس پر اس کا حق ہے اس کے عاریہ دئے جانے پر راضی ہو جائے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠٠ جس چيز کی منفعت انسان کی ملکيت ميں ہو مثلاً اس چيز کو کرائے پر لے رکھا ہو، اسے کسی ایسے شخص کو جو اس مال پر قابل اطمينان ہو یا مالک کی اجازت سے بطور عاریہ دے سکتا ہے ليکن اگر اجارہ ميں یہ شرط رکھی ہو کہ خود وہ شخص اس مال سے استفادہ کرے گا تو اسے کسی دوسرے شخص کو بطور عاریہ نہيں دے سکتاہے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠١ دیوانے اور بچے کا اپنے مال کو بطور عاریہ دینا صحيح نہيں ہے ۔ اسی طرح سفيہ اور مُفلس کا اپنے مال کو عاریہ دینا (بهی) صحيح نہيں ہے مگر یہ کہ سفيہ کا ولی اور وہ اشخاص جو مُفلس سے قرض خواہ ہوں وہ اس بات کی اجازت دے دیں اور اگر ولی اس بات ميں مصلحت سمجھتا ہو کہ جس شخص کا وہ ولی ہے اس کا مال عاریہ پر دے دے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠٢ جس شخص نے کوئی چيز عاریةً لی ہو اگر وہ اس کی نگهداشت ميں کوتاہی نہ کرے اور اس سے معمول سے زیادہ استفادہ بھی نہ کرے اور اتفاقاً وہ چيز تلف ہو جائے تو وہ شخص ضامن نہيں ہے ليکن اگر فریقين آپس ميں شرط رکہيں کہ اگر وہ چيز تلف ہوجائے تو عاریہ لينے والا ذمہ دار ہوگا یا جو چيز بطور عاریہ لی گئی ہو وہ سونا یا چاندی ہو تو عاریہ لينے والے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠٣ اگر کوئی شخص سونا یا چاندی بطور عاریہ لے اور یہ شرط رکھے کہ تلف ہونے کی صورت ميں وہ ذمہ دار نہيں ہوگا۔ پس اگر تلف ہو جائے تو وہ شخص ذمہ دار نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠ ۴ اگر عاریہ دینے والا مرجائے تو عاریہ لينے والے کی وهی ذمہ داری ہے جسے مسئلہ نمبر ٢٣٩٢ ميں بيان کيا گيا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠ ۵ اگر عاریہ دینے والے کی کيفيت ایسی ہو جائے کہ وہ شرعا اپنے مال ميں تصرف نہ “ کرسکتا ہو مثلاً دیوانہ ہو جائے تو عاریہ لينے والے کی ذمہ داری وهی ہے جسے مسئلہ نمبر ” ٢٣٩١ميں بيان کيا گيا ہے ۔


مسئلہ ٢ ۴ ٠ ۶ عاریہ عقد جائز ہے اور عاریہ دینے اور لينے والا دونوں، کسی وقت بھی عاریہ کو ختم کرنے کا اختيار رکھتے ہيں ۔ لہذا، عاریہ دینے والا کسی بھی وقت دی ہوئی چيز واپس لے سکتا ہے مگر اس مقام پر جهاں زمين کو ميت کے دفن کرنے کی غرض سے عاریہ پر دیا گيا ہو کہ وہاں ميت کے دفن ہونے کے بعد قبر کهود کر زمين کو واپس نہيں لے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠٧ ایسی چيز کا بطور عاریہ دینا باطل ہے جس سے حلال طریقے سے استفادہ نہ ہوسکتا ہو مثلاً لهو و لعب اور قمار بازی کے آلات۔ اسی طرح کھانے اور پينے کے لئے سونے یا چاندی کے برتن کا بطور عاریہ دینا، بلکہ احتياط واجب یہ ہے کہ دیگر کاموں کے لئے حتی سجاوٹ کی خاطر بھی دینا صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠٨ بھيڑوں کو ان کے دودھ اور اون سے استفادہ کرنے کے لئے اور نر حيوان کو مادہ حيوان سے ملانے کے لئے عاریةً دینا صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٠٩ اگر چيز کو عاریةً لينے والا اسے اس کے مالک یا مالک کے وکيل یا ولی کو دے دے اور پھر وہ چيز تلف ہو جائے تو عاریہ لينے والا ضامن نہيں ہے ليکن اگر وہ مال کے مالک یا اس کے وکيل یا ولی کی اجازت کے بغير مال کو کسی دوسری جگہ لے جائے تو اگر چہ وہ جگہ ایسی ہو جهاں مال کا مالک عموماً اسے لے جاتا ہو مثلاً یہ کہ گهوڑے کو ایسے اصطبل ميں باندهے جو اس کے مالک نے اس کے لئے بنایا تھا، پھر بھی وہ ضامن ہے اور تلف ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢ ۴ ١٠ اگر کوئی شخص کسی نجس چيز کو ایسے کام کے لئے عاریہ دے جس ميں طهارت شرط ہو مثلاً نجس برتن بطور عاریہ دے تا کہ اس ميں کھانا کهایا جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ جو شخص اس چيز کو عاریہ لے رہا ہو اسے اس کے نجس ہونے کے بارے ميں بتا دے اور اگر نجس لباس کو نماز پڑھنے کے لئے بطور عاریہ دے تو ضروری نہيں ہے کہ اس کے نجس ہونے کے بارے ميں اطلاع دے مگر یہ کہ لباس کو عاریةً لينے والا چاہتا ہو کہ واقعی پاک لباس ميں نماز پڑھے کہ اس صورت ميں احتياط واجب یہ ہے کہ لباس کے نجس ہونے کے بارے ميں اطلاع دے دے۔

مسئلہ ٢ ۴ ١١ جو چيز کسی شخص نے عاریةً لی ہو اسے وہ اس کے مالک کی اجازت کے بغير کسی دوسرے کو اجارے پر یا عاریةً نہيں دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ١٢ جو چيز کسی نے عاریةً لی ہو اگر وہ اسے مالک کی اجازت سے کسی اور شخص کو عاریةً دے دے تو اگر وہ شخص جس نے پهلے وہ چيز عاریةً لی تھی مرجائے یا پاگل ہو جائے تو دوسرا عاریہ باطل نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۴ ١٣ اگر انسان جانتا ہو کہ جو مال اس نے عاریةً ليا ہے وہ غصبی ہے تو ضروری ہے کہ اسے اس کے اصل مالک تک پهنچائے اور عاریہ دینے والے کو وہ چيز واپس نہيں دے سکتا ہے ۔


مسئلہ ٢ ۴ ١ ۴ اگر انسان ایسے مال کو بطور عاریہ لے جس کے بارے ميں جانتا ہو کہ وہ غصبی ہے اور اس سے فائدہ اٹھ ائے اور اس سے وہ مال تلف ہو جائے تو مالک اس مال کا عوض اور وہ فائدہ جو عاریہ لينے والے نے اٹھ ایا ہے اس کا عوض خود اس عاریہ لينے والے سے یا مال غصب کرنے والے سے طلب کرسکتا ہے اور اگر مالک عاریہ لينے والے سے عوض لے تو وہ جو کچھ مالک کو دے اس کا مطالبہ عاریہ دینے والے سے نہيں کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ١ ۵ اگر انسان نہ جانتا ہو کہ جس مال کو بطور عاریہ ليا ہوا ہے وہ غصبی ہے اور مال اس سے تلف ہو جائے تو اگر مال کا مالک اس کا عوض اس سے لے لے تو وہ بھی جو کچھ مال کے مالک کو دیا ہے اس کا مطالبہ عاریہ دینے والے سے کرسکتا ہے ليکن اگر وہ چيز جسے بطور عاریہ ليا ہو سونا یا چاندی ہو یا عاریہ دینے والے نے شرط رکھی ہو کہ اگر وہ چيز تلف ہو جائے تو اس کا عوض دے تو پھر جو کچھ اس نے مال کے مالک کو دیا ہو اس کا مطالبہ عاریہ دینے والے سے نہيں کرسکتا ہے ۔

هبہ کے احکام

هبہ یہ ہے کہ انسان کوئی عوض لئے بغير، کسی کو کسی چيز کا مالک بنا دے۔ ضروری ہے کہ جو چيز اس طرح بخشی گئی ہو وہ چاہے مشاع طور پر ہی سهی ليکن عين ہو، منفعت نہ ہو۔ اس سے فرق نہيں پڑتا کہ وہ چيز خارج ميں موجود ہو یا ذمّے پر ہو۔ ہاں، ذمّے پر موجود ہونے کی صورت ميں ضروری ہے کہ جس کے ذمّے پر ہے اس کے علاوہ کسی اور کو بخشے اور اگر اسی کو بخش دے جس کے ذمّے پر ہے تو پھر وہ بری الذمہ ہوجائے گا اور بخشنے والا دوبارہ بخشی ہوئی چيز کو واپس نہيں لے سکتا۔

مسئلہ ٢ ۴ ١ ۶ هبہ ميں ایجاب و قبول ضروری ہے ، چاہے اسے الفاظ کے ذریعے انجام دیا جائے مثلاً کهے:”یہ کتاب ميں نے تمہيں بخش دی،“ اور جسے کتاب بخشی گئی ہے وہ کهے:”ميں نے اسے قبول کيا،“ اور چاہے عمل کے ذریعے اسے انجام دیا جائے مثلاً کتاب کو بخشنے کی نيت سے کسی کو دے اور وہ بھی اسے قبول کرنے کی نيت سے لے لے۔

مسئلہ ٢ ۴ ١٧ ضروری ہے کہ هبہ کرنے والا بالغ و عاقل ہو، اپنے ارادے سے هبہ کرے، اسے هبہ کرنے پر مجبور نہ کيا گيا ہو، سفيہ یا دیواليہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال ميں ممنوع التصرف نہ ہو چکا ہو اور جو مال بخش رہا ہے اس کا مالک ہو یا اس مال پر ولایت رکھتا ہو، ورنہ هبہ ”فضولی“کهلائے گا اور اس کے صحيح ہونے کے لئے صاحبِ اختيار فرد کی اجازت ضروری ہوگی۔

مسئلہ ٢ ۴ ١٨ هبہ ميں قبضہ ميں لينا ضروری ہے ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کو کوئی چيز بخشے تو جب تک دوسرا شخص اسے اپنے قبضے ميں نہ لے لے هبہ محقق نہيں ہوتا۔جسے مال بخشا گيا ہو ضروری ہے کہ وہ اسے هبہ کرنے والے کی اجازت سے اپنے قبضے ميں لے، ليکن اگر مال پهلے ہی سے اس کے تصرف ميں ہو جسے بخشا جا رہا ہو تو قبضے کے لئے یهی کافی ہے ۔


غير قابلِ انتقال چيزیں، مثلاً زمين اور گھر کا قبضہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ تصرف کی راہ ميں موجود رکاوٹوں کو ہٹا دے اورمال کا اختيار اس کے ہاتھ ميں دے دے جسے بخشا گيا ہے ، جب کہ قابل انتقال چيزوں ميں قبض کا مطلب یہ ہے کہ مال دوسرے کو دے دے اور دوسرا بھی اسے لے لے۔

مسئلہ ٢ ۴ ١٩ اگر مال کسی ایسے فرد کو دے جو ابهی بالغ نہ ہوا ہو یا دیوانہ ہو تو ضروری ہے کہ ان کا ولی اسے قبول کرے اور اس مال کا قبضہ لے۔ ہاں، اگر خود ولی ان کو کوئی ایسی چيز بخشے جو اس ولی کے ہاتھ ميں ہو تو قبضہ لينے کے لئے اس کا ولی کے ہاتھ ميں ہونا ہی کافی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢٠ اگر اپنے ارحام یعنی رشتہ داروں ميں سے کسی کو کوئی چيز هبہ کرے تو اس کا قبضہ دے دینے کے بعد دوبارہ ان سے واپس نہيں لے سکتا۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب هبہ کرنے والا هبہ لينے والے پر کوئی شرط لگائے جس پر عمل ہو جائے یا هبہ لينے والا هبہ کے عوض ميں کوئی چيز هبہ کرنے والے کو دے دے۔

مذکورہ مقامات کے علاوہ اگر هبہ دی گئی چيز عيناً باقی ہو تو اسے واپس لے سکتا ہے ۔ ہاں، اگر وہ چيز تلف ہوچکی ہو یا اسے کسی اور کو منتقل کيا جاچکا ہو یا اس ميں کوئی تبدیلی رونما ہوچکی ہو مثلاً وہ کوئی کپڑا ہو جسے رنگا جا چکا ہوتو پھر واپس نہيں لے سکتا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢١ هبہ لازم ہونے کے احکام ميں مياں اور بيوی کا شمار رشتہ داروں ميں نہيں ہوتا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢٢ اگر کوئی مال کسی کو بخشے اور اس کے ضمن ميں شرط لگائے کہ وہ بھی کوئی مال اسے دے یا اس کے لئے کوئی جائز کام انجام دے تو جس شخص کے لئے شرط لگائی گئی ہو ضروری ہے کہ وہ اس شرط پر عمل کرے اور هبہ کرنے والا اس شرط پر عمل درآمد سے پهلے هبہ دینے سے پلٹ سکتا ہے ۔ اسی طرح اگر جس پر شرط لگائی گئی ہو وہ شرط پر عمل نہ کرے یا نہ کرسکے تو بھی هبہ کرنے والا پلٹ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢٣ اگر هبہ کرنے والا یا جسے مال هبہ کيا گيا ہے ، قبضہ لينے سے پهلے مرجائے تو هبہ باطل ہوجاتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢ ۴ اگر هبہ کرنے والا قبضہ دینے کے بعد مرجائے تو اس کے وارث اس هبہ کو واپس نہيں لے سکتے۔ اسی طرح اگر وہ شخص مرجائے جسے هبہ کيا گيا ہے تو بھی هبہ کرنے والا اسے واپس نہيں لے سکتا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢ ۵ هبہ سے جس طرح الفاظ کے ذریعے پلٹا جا سکتاہے مثلاً یہ کہہ کر:”ميں اپنی کی ہوئی بخشش سے پلٹتا ہوں،“ اسی طرح عمل کے ذریعے بھی یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے ، مثلاً پلٹنے کے ارادے سے دوسرے شخص سے هبہ کی ہوئی چيز واپس لے لے یا وهی چيز هبہ سے پلٹنے کے ارادے سے کسی اور کے حوالے کردے۔

رجوع یعنی پلٹنے کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ضروری نہيں ہے کہ جسے هبہ کيا گيا تھا اسے بھی معلوم ہو کہ هبہ دینے والا اب اپنے هبہ سے پلٹ چکاہے۔


مسئلہ ٢ ۴ ٢ ۶ جو مال کسی کو بخشا جائے اور هبہ لينے والے کی ملکيت ميں اس ميں کوئی ایسا اضافہ ہو جو عليحدہ سے ہو یا عليحدہ کيا جا سکتا ہو، مثلاً بکری هبہ ميں دی ہوجو بچہ جنے یا درخت پر پھل لگ جائيں تو یہ هبہ لينے والے کا مال ہی سمجھے جائيں گے اور هبہ دینے والا اگر ان مثالوں ميں اپنے هبہ کو واپس لينا چاہے تو بکری کا بچہ یا پھل واپس نہيں لے سکتا۔

نکاح کے احکام

عقد ازدواج کے ذریعے عورت اور مرد ایک دوسرے پر حلال ہو جاتے ہيں ۔ عقد کی دو قسميں ہيں :

١) عقد دائمی ٢) عقد موقت یا غير دائمی عقد دائمی وہ عقد ہے کہ جس ميں ازدواج کے لئے کسی مدت کا تعين نہ ہو اور جس عورت سے اس قسم کا عقد کيا جائے اسے دائمہ کہتے ہيں ۔

اور عقد غير دائمی یہ ہے کہ جس ميں ازدواج کی مدت معين ہو مثلاً عورت سے ایک گهنٹے یا ایک دن یا ایک مهينہ یا ایک سال یا اس سے زیادہ مدت کے لئے عقد کيا جائے، ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ عقد کی مدت عورت اور مرد کی عمر سے یا ان ميں سے کسی ایک کی عمر سے زیادہ نہ ہو اور جس عورت سے اس قسم کا عقد کيا جائے اسے متعہ کها جاتا ہے ۔

عقد کے احکام

مسئلہ ٢ ۴ ٢٧ ازدواج چاہے دائمی ہو یا غير دائمی اس ميں صيغہ پڑھنا ضروری ہے اور فقط مرد اور عورت کا راضی ہونا کافی نہيں ہے ۔ عقد کا صيغہ مرد اور عورت اگر چاہيں تو خود بھی پڑھ سکتے ہيں یا کسی اور کو وکيل بناسکتے ہيں جو ان کی طرف سے پڑھے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢٨ وکيل کا مرد ہونا ضروری نہيں ہے بلکہ عورت بھی عقد کا صيغہ پڑھنے کے لئے کسی دوسرے کی جانب سے وکيل ہوسکتی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٢٩ عورت اور مرد جب تک اس بات کا یقين یا اطمينان پيدا نہ کرليں کہ ان کے وکلاء نے صيغہ پڑھ ليا ہے اس وقت تک نکاح کے احکام اور آثار کو جاری نہيں کرسکتے ہيں اور اس بات کا گمان کہ وکيل نے صيغہ پڑھ ليا ہوگا کافی نہيں ہے اور اگر وکيل کہہ دے کہ ميں نے صيغہ پڑھ ليا ہے تو اس صورت ميں کافی ہے کہ وہ قابل بهروسہ ہواور اس کی بات کے بر خلاف بات کا گمان نہ ہویا اس کے قول سے اطمينان حاصل ہوجائے۔ ان دو مذکورہ صورتوں کے علاوہ اس کی خبر پر اکتفا کرنے ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٣٠ اگر عورت کسی کو وکيل مقرر کرے اور اس سے کهے کہ تم ميرا عقد دس دن کے لئے فلاں شخص کے ساته پڑھ دو اور دس دن کی ابتدا کو معين نہ کرے تو وہ وکيل جن دس دنوں کے لئے چاہے اسے اس مرد کے عقد ميں لاسکتا ہے ، ليکن اگر وکيل کو معلوم ہو کہ عورت کا مقصد کسی خاص دن یا گهنٹے کا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ عورت کے قصد کے مطابق صيغہ پڑھے۔


مسئلہ ٢ ۴ ٣١ عقد دائمی یا غير دائمی کا صيغہ پڑھنے کے لئے ایک ہی شخص دونوں کی طرف سے وکيل بن سکتا ہے اور انسان یہ بھی کرسکتا ہے کہ عورت کی طرف سے وکيل بن جائے اور اس سے خود ہی دائمی یا غير دائمی عقد کرے۔ ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ عقد دو اشخاص پڑہيں مخصوصاً اس صورت ميں جب انسان اپنے آپ سے عقد کرنے کے لئے وکيل بنا ہو۔

عقد دائمی پڑھنے کا طريقہ

مسئلہ ٢ ۴ ٣٢ اگر عورت اور مرد خود اپنے دائمی عقد کا صيغہ پڑہيں اور پهلے عورت کهے:”زَوَّجْتُکَ نَفْسِیْ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْم ،“یعنی ميں نے معين شدہ مہر پر اپنے آپ کو تمهاری زوجہ بنایا اور اس کے بعد عرفاً بلا فاصلہ مرد کهے:”قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْم،“ یعنی ميں نے معين شدہ مہر پر ازدواج کو قبول کيا یا کهے:”قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ“ اور اسی ازدواج کا قصد کرے جس کا مہر معين ہوچکا ہو تو عقد صحيح ہے ۔اور اگر وہ کسی دوسرے کو وکيل مقرر کریں جو ان کی طرف سے صيغہ عقد پڑہيں تو اگر مثال کے طور پر مرد کا نام احمد اور عورت کا نام فاطمہ ہو اور عورت کا وکيل کهے:

زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ فَاطِمَةَ مُوَکِّلَکَ اَحْمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْمِ

اور اس کے بعد عرفی موالات کے ختم ہوئے بغير مرد کا وکيل کهے:

قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ اَحْمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْمِ

تو عقد صحيح ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ عورت کا وکيل یوں کهے:

زَوَّجْتُ مُوَکِّلَکَ اَحْمَدَ مُوَکِّلَتِیْ فاَطِمَةَ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْمِ “۔

اور احتياط مستحب یہ ہے کہ مرد کے الفاظ عورت کے الفاظ کے مطابق ہوں مثلاً اگر عورت ”زَوَّجْتُ“ کهے تو مرد بھی ”قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ “ کهے، اگرچہ ”قَبِلْتُ النِّکَاحَ“ کهنے ميں بھی کوئی حرج نہيں ہے ۔

عقد غير دائمی کے پڑھنے کا طريقہ

مسئلہ ٢ ۴ ٣٣ اگر خود عورت اور مرد چاہيں تو غير دائمی عقد کا صيغہ عقد کی مدت اور مہر معين کرنے کے بعد پڑھ سکتے ہيں ۔ لہٰذا اگر عورت کهے:”زَوَّجْتُکَ نَفْسِیْ فِی الْمُدَّةِ الْمَعْلُوْمَةِ عَلی الْمَهْرِالْمَعْلُوْمِ “ اور اس کے بعد عرفی موالات کے ختم ہوئے بغير مرد کهے:”قَبِلْتُ هٰکَذَا “ تو عقد صحيح ہے ۔

اور اگر وہ کسی اور شخص کو وکيل بنائيں اور پهلے عورت کا وکيل مرد کے وکيل سے کهے:”زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ مُوَکِّلَکَ فِی الْمُدَّةِ الْمَعْلُوْمَةِ عَلَی الْمَهر الْمَعْلُوْمِ، “ پھر عرفی موالات کے ختم ہوئے بغير مرد کا وکيل کهے: ”قَبِلْتُ لِمُوَکِّلِیْ هٰکَذَا “ تو عقد صحيح ہوگا۔


عقد کے شرائط

مسئلہ ٢ ۴ ٣ ۴ عقد ازدواج کی چند شرطيں ہيں :

١) بنا بر احتياط واجب عقد کا صيغہ، صحيح عربی ميں پڑھا جائے اور اگر خود مرد اور عورت صحيح عربی ميں صيغہ نہ پڑھ سکتے ہوں تو عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان ميں بھی پڑھ

سکتے ہيں ، مگر ضروری ہے کہ ایسے الفاظ کہيں جو ”زَوَّجْتُ“ و ”قَبِلْتُ“ کے معنی کو سمجھا دیں، ا گرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو کسی ایسے شخص کو اپنا وکيل بنائيںجو صحيح عربی پڑھ سکتا ہو ۔

٢) مرد اور عورت یا ان کے وکيل جو صيغہ پڑھ رہے ہوں وہ ١نشاء کا قصد رکھتے ہوں یعنی اگر خود مرد اور عورت صيغہ پڑھ رہے ہوں تو عورت کا”زَوَّجْتُکَ نَفْسِیْ“ کهنا اس قصد سے ہو کہ وہ خود کو اس مرد کی بيوی قرار دے اور مرد کا ”قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ“ کهنا اس قصد سے ہو کہ وہ اس کا اپنی بيوی بننا قبول کرے اور اگر مرد اور عورت کے وکيل صيغہ پڑھ رہے ہوں تو ”زَوَّجْتُ“ اور ”قَبِلْتُ“کهنے سے ان کا قصد یہ ہو کہ وہ مرد اور عورت جنہوں نے انہيں وکيل بنایا ہے ایک دوسرے کے مياں بيوی بن جائيں۔

٣) جو شخص صيغہ پڑھ رہا ہو اس کا عاقل ہونا ضروری ہے اور جو شخص بالغ نہ ہو ليکن انشاء عقد کرسکتا ہو اگر وہ ولی کے اذن یا اس کی اجازت کے بغير اپنے لئے صيغہ پڑھ لے تو یہ باطل ہے ، البتہ ولی کی اجازت کے ساته کوئی حرج نہيں ہے ۔ ہاں، اگر کسی اور کا وکيل بن کر صيغہ پڑھے تو اس کا عقد صحيح ہے ۔

۴) اگر عورت اور مرد کے وکيل یا ولی صيغہ پڑھ رہے ہوں تو وہ عقد کے وقت عورت اور مرد کو معين کرليں مثلاً ان کے نام ليں یا ان کی طرف اشارہ کریں۔ پس جس شخص کی کئی لڑکياں ہوں اگر وہ کسی مرد سے کهے:”زَوَّجْتُکَ اِحْدیٰ بَنَاتِی“ یعنی ميں نے اپنی بيٹيوں ميں سے ایک کو تمهاری بيوی بنایا اور مرد کهے:”قَبِلْتُ“ یعنی قبول کيا تو چونکہ عقد کرتے وقت لڑکی کو معين نہيں کيا گيا لہٰذا عقد باطل ہے ۔

۵) عورت اور مرد ازدواج پر راضی ہوں اور اگر عورت ظاہر ميں ناپسندیدگی سے اجازت دے اور معلوم ہو کہ دل سے راضی ہے تو عقد صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٣ ۵ اگر عقد ميں ایک حرف بھی غلط پڑھا جائے اس طرح کہ اس کا مطلب بدل جائے تو عقد باطل ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٣ ۶ جو شخص عربی زبان کے قواعدسے واقف نہ ہو اگر صيغہ عقد کو صحيح طرح پڑھے اور عقد ميں موجود ہر لفظ کے معنی جانتا ہو اور ہر لفظ سے اس کے معنی کا قصد کرے تو وہ عقد پڑھ سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٣٧ اگر کسی عورت کا عقد کسی مرد کے ساته ان کی اجازت کے بغير کر دیا جائے اور بعد ميں عورت اور مرد اس عقد کی اجازت دے دیں تو عقد صحيح ہے ۔


مسئلہ ٢ ۴ ٣٨ اگر عورت اور مرد دونوں کو یا ان ميں سے کسی ایک کو ازدواج پر مجبور کيا جائے تو اس صورت ميں کہ عقد خود انہوںنے پڑھا ہو اگر عقد پڑھے جانے کے بعد راضی ہو جائيں تو عقد صحيح ہے اور اگر کسی اور نے پڑھا ہو تو اجازت دینے سے مثلاً یہ کہہ دینے سے کہ ہم اس عقد سے راضی ہيں ، عقد صحيح ہو جائے گا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٣٩ باپ اور دادا اپنے نابالغ فرزند کا یا دیوانے فرزند کا جو دیوانگی کی حالت ميں بالغ ہوا ہو عقد کرسکتے ہيں اور بچہ، بالغ ہونے کے بعد، جب کہ پاگل، عاقل ہونے کے بعد اگر اس عقد ميں جو اس کے لئے کيا گيا تھا کوئی خرابی نہ پائے تو اسے ختم نہيں کرسکتا ہے اور اگر خرابی پائے تو اسے اس عقد کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختيار ہے ۔ ہاں، اس صورت ميں کہ نابالغ لڑکے اور لڑکی کا باپ ان کا ایک دوسرے سے عقد کر دیں اور وہ بالغ ہونے کے بعد اس کی اجازت نہ دیں تو طلاق یا عقد جدید کے ذریعے احتياط ترک نہ کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۴۴ ٠ جو لڑکی بالغ ہوچکی ہو اور رشيدہ ہو یعنی اپنی مصلحت کی پہچان رکھتی ہو، اگر شادی کرنا چاہے اور کنواری ہو تو احتياط واجب کی بنا پر اس کے لئے باپ یا دادا سے اجازت لينا ضروری ہے جب کہ ماں یا بهائی کی اجازت ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۴ ١ اگر لڑکی کنواری نہ ہو یا کنواری ہو ليکن باپ یا دادا سے اجازت لينا ممکن نہ ہو یا باعث حرج ہو اور لڑکی کو شادی کی احتياج ہو تو باپ یا دادا سے اجازت لينا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۴ ٢ اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ بچے کی شادی کردیں تو لڑکے پر بالغ ہونے کے بعد اس عورت کا خرچہ دینا ضروری ہے ۔ البتہ بالغ ہونے سے پهلے کے اخراجات کے سلسلے ميں جب کہ اس زمانے ميں عورت اس کی خواہشات کے لئے حاضرہو اورلڑکا بھی لذت حاصل کر سکتا ہو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ مصالحت کر کے یا کسی اور طریقے سے اپنے بری الذمہ ہونے کا یقين حاصل کرے۔

مسئلہ ٢ ۴۴ ٣ اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ لڑکے کی شادی کر دیں تو اگر لڑکا عقد کے وقت مال رکھتا ہو تو وہ عورت کے مہر کا مقروض ہے اور اگر وہ عقد کے وقت مال نہ رکھتا ہو تو اس کے باپ یا دادا کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت کا مہر دیں۔

وہ عيوب جن کی وجہ سے عقد فسخ کيا جاسکتا ہے

مسئلہ ٢ ۴۴۴ اگر مرد کو عقد کے بعد پتہ چلے کہ عورت ميں مندرجہ ذیل عيبوں ميں سے کوئی عيب موجود ہے تو وہ عقد کو فسخ کرسکتا ہے ۔

١) پاگل پن

٢) کوڑھ پن (جذام)


٣) برص (سفيد داغ)

۴) اندهاپن

۵) اپاہج ہونا یا مفلوج ہونا مگر یہ کہ اس کے کسی عضو کا مفلوج ہونا اس قسم کا ہو کہ اسے عرفاً عيب شمار نہ کيا جائے۔

۶) افضاء یعنی اس کے پيشاب اور حيض کا مخرج یا حيض اور پاخانے کا مخرج ایک ہوگيا ہو۔

٧) عورت کی شرمگاہ ميں ایسا گوشت یا ہڈی ہوجو جماع سے مانع ہو۔

مسئلہ ٢ ۴۴۵ اگر عورت کو عقد کے بعد پتہ چلے کہ اس کا شوہر عقد سے پهلے دیوانہ رہا ہے یا آلہ تناسل نہيں رکھتا ہے یا عقد کے بعد ليکن مجامعت سے پهلے آلہ تناسل کٹ جائے یا یہ جان لے کہ اسے کوئی ایسی بيماری ہے جس کی وجہ سے مجامعت پر قادر نہيں ہے گرچہ یہ مرض عقد کے بعد اور نزدیکی کرنے سے پهلے ہی لاحق ہوا ہو، ان تمام صورتوں ميں عقد کو ختم کرسکتی ہے مگر اس صورت ميں جب کہ شوہر اس سے تعلقات قائم نہيں کرسکتا ہے ضروری ہے کہ عورت حاکم شرع کی طرف رجوع کرے اور حاکم شوہر کو ایک سال کی مهلت دے گا پس اگر اس مدت ميں شوہر اس عورت سے یا کسی اور عورت سے تعلقات قائم کرنے پر قدرت پيدا نہ کرے تو اس کے بعد عورت عقد فسخ کرسکتی ہے ۔

اور اگر مرد عقد کے بعد پاگل ہو جائے، چاہے نزدیکی سے پهلے ہو یا بعد ميں ، احتياط واجب کی بنا پر عورت طلاق کے بغير عليحدگی اختيار نہيں کرسکتی ہے اور اگر مرد کا آلہ تناسل نزدیکی کرنے کے بعد کٹ جائے یا نزدیکی کے بعد کوئی ایسا مرض پيدا ہو جائے کہ اب نزدیکی نہ کرسکے تو ایسی صورت ميں عورت عقد کو فسخ کرنے کا حق نہيں رکھتی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۴۶ اگر عورت کو عقد کے بعد پتہ چلے کہ اس کے شوہر کے تخم نکال دئے گئے ہيں تو اگر اس امر کو عورت پر مخفی رکھا گيا ہو اور اسے دهوکا دیا گيا ہو وہ عقد کو ختم کرسکتی ہے اور اگر اسے دهوکا نہ دیا گيا ہو اور وہ عقد کو ختم کرنا چاہے تو طلاق کے ذریعے احتياط کو ترک نہ کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۴۴ ٧ اگر عورت اس بنا پر عقد ختم کردے کہ مرد مجامعت پر قادر نہيں تو شوہر کے لئے آدها مہر دینا ضروری ہے ليکن اگر ان کے علاوہ دوسرے مذکورہ نقائص ميں سے کسی ایک کی بنا پر مرد یا عورت عقد ختم کریں تو اگر مرد نے عورت سے مجامعت نہ کی ہو تو کوئی چيز بھی اس پر واجب نہيں ہے اور اگر تعلقات قائم کرلئے ہوں تو ضروری ہے کہ پورا مہر دے۔ ہاں، اگر خود عورت نے مرد کو دهوکا دیا ہو تو اس صورت ميں مرد پر کوئی چيز دینا واجب نہيں ہے ۔

وہ عورتيں جن سے ازدواج حرام ہے

مسئلہ ٢ ۴۴ ٨ محرم عورتوں مثلاً ماں، بهن، بيٹی، پهوپهی، خالہ، بهتيجی، بهانجی اور ساس کے ساته ازدواج حرام ہے ۔


مسئلہ ٢ ۴۴ ٩ اگر کوئی شخص کسی عورت سے عقد کرے تو خواہ اس سے مجامعت نہ بھی کرے اس عورت کی ماں، نانی اور دادی اور جتنا سلسلہ اوپر چلاجائے سب عورتيں اس مرد کی محرم ہو جاتی ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ٠ اگر کوئی شخص کسی عورت سے عقد کرے اور اس کے ساته مجامعت کرے تو پھر اس عورت کی لڑکی، نواسی، پوتی اور جتنا سلسلہ نيچے چلا جائے سب عورتيں اس مرد کی محرم ہو جاتی ہيں خواہ وہ عقد کے وقت موجود ہوں یا بعد ميں پيدا ہوں۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ١ اگر کسی مرد نے ایک عورت کے ساته عقد کيا ہو ليکن مجامعت نہ کی ہو تو جب تک وہ عورت اس کے عقد ميں ہے اس وقت تک وہ اس عورت کی بيٹی سے ازدواج نہيں کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ٢ انسان کی پهوپهی اور خالہ اور اس کے باپ کی پهوپهی اور خالہ اور دادا کی پهوپهی اور خالہ اور دادی کی پهوپهی اور خالہ اور ماں کی پهوپهی اور خالہ اور نانا یا نانی کی پهوپهی اور خالہ اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلا جائے سب اس کی محرم ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ٣ شوہر کا باپ اور دادا اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اور شوہر کا بيٹا، پوتا اور نواسا اور جس قدر یہ سلسلہ نيچے چلا جائے خواہ وہ عقد کے وقت دنيا ميں موجود ہوں یا بعد ميں پيدا ہوں سب عورت کے محرم ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۴۵۴ اگر کوئی شخص کسی عورت سے عقد کرے تو خواہ وہ عقد دائمی ہو یا غير دائمی جب تک وہ عورت اس کے عقد ميں ہے وہ اس کی بهن کے ساته عقد نہيں کرسکتا۔

مسئلہ ٢ ۴۵۵ اگر کوئی شخص اس ترتيب کے مطابق جس کا ذکر کتاب طلاق ميں کيا جائے گا اپنی بيوی کو طلاق رجعی دے تو وہ عدت کے دوران اس کی بهن سے عقد نہيں کرسکتا ہے اور اسی طرح سے جب وہ متعہ کی عدت گذار رہی ہو تو احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ، ليکن طلاق بائن کی عدت کے دوران اس کی بهن سے عقد کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۵۶ انسان اپنی بيوی کی اجازت کے بغير اس کی بهانجی یا بهتيجی سے ازدواج نہيں کرسکتا ہے ليکن اگر وہ بيوی کی اجازت کے بغير ان سے عقد کرلے اور بعد ميں بيوی اجازت دے دے تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ٧ اگر بيوی کو پتہ چلے کہ اس کے شوہر نے اس کی بهانجی یا بهتيجی سے عقد کرليا ہے اور کچھ نہ کهے، جب کہ اس کی خاموشی اس کی رضامندی کی دليل نہ بنے۔ پس اگر بعد ميں راضی نہ ہو تو ان کا عقد باطل ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ٨ اگر انسان اپنی خالہ زاد بهن سے عقد کرنے سے پهلے اس کی ماںسے زنا کرے تو پھر وہ اپنی خالہ زاد بهن سے عقد نہيں کرسکتا ہے اور احتياط واجب کی بنا پر پهوپهی زاد بهن کا بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۵ ٩ اگر کوئی شخص اپنی پهوپهی زاد بهن یا خالہ زاد بهن سے شادی کرے اور اس سے مجامعت کرنے کے بعد اس کی ماں سے زنا کرے تو یہ کام ان کی جدائی کا سبب نہيں ہوگا، ليکن اگر اس سے مجامعت کرنے سے پهلے اس کی ماں سے زنا کرلے تو احتياط واجب یہ ہے کہ اسے طلاق دے کر اس سے جدا ہو جائے۔


مسئلہ ٢ ۴۶ ٠ اگر کوئی شخص اپنی پهوپهی یا خالہ کے علاوہ کسی اور عورت سے زنا کرے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ اس کی بيٹی سے عقد نہ کرے اور اگر کسی عورت سے عقد کرنے کے بعد اس سے مجامعت کرنے سے پهلے اس کی ماں سے زنا کرے تو احتياط واجب یہ ہے کہ اسے طلاق دے کر اس سے جدا ہو جائے۔ ہاں، اگر اس سے مجامعت کرنے کے بعد اس کی ماں سے زنا کرے تو اس عورت سے جدائی اختيار کرنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۶ ١ مسلمان عورت اپنے آپ کو کافر کے عقد ميں نہيں لاسکتی ہے اور مسلمان مرد بھی اہل کتاب کے علاوہ کافرہ عورتوں سے عقد نہيں کرسکتا ہے ، ليکن اہل کتاب عورتوں مثلاً یهود و نصاریٰ سے متعہ کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ ان سے دائمی ازدواج نہ کيا جائے ۔

اور بعض فرقے مثلاً خوارج، غُلاة اور نواصب جو اگرچہ کفّار کے حکم ميں ہيں ليکن اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہيں ، مسلمان عورتيں یا مرد ان کے ساته دائمی یا غير دائمی عقد نہيں کرسکتے۔

مسئلہ ٢ ۴۶ ٢ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو طلاق رجعی کی عدت ميں ہو تو بنا بر احتياط وہ عورت اس شخص پر حرام ہو جاتی ہے اور اگر کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو متعہ یا طلاقِ بائن یا وفات کی عدت ميں ہو تو بعد ميں اس کے ساته عقد کرسکتا ہے ۔ طلاق رجعی، طلاق بائن، عدہ متعہ اور عدہ وفات کے معنی طلاق کے احکام ميں آئيں گے۔

مسئلہ ٢ ۴۶ ٣ اگر انسان کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو شوہر نہ رکھتی ہو اور عدت ميں بھی نہ ہو تو بعد ميں اس عورت سے عقد کرسکتا ہے ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ ایسی عورت سے جس کا زنا کروانا آشکار ہو،جب تک کہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے توبہ کرلی ہے شادی نہ کرے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اس عورت کے خونِ حيض آ نے تک صبر کرے اور پھر اس سے شادی کرے۔ ہاں، اگر کوئی دوسرا شخص اس عورت سے شادی کرنا چاہے تو یہ احتياط مستحب ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۶۴ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے عقد کرے جو دوسرے کی عدت ميں ہو تو اگر مرد اور عورت دونوں یا ان ميں سے کوئی ایک جانتا ہو کہ عورت کی عدت ختم نہيں ہوئی ہے اور یہ بھی جانتے ہوں کہ عدت کے دوران عورت سے عقد کرنا حرام ہے تو اگر چہ مرد نے عقد کے بعد اس عورت سے مجامعت نہ بھی کی ہو، وہ عورت ہميشہ کے لئے اس پر حرام ہوجائے گی۔

مسئلہ ٢ ۴۶۵ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے عقد کرے جو دوسرے کی عدت ميں ہو اور اس سے مجامعت کرے تو خواہ اسے یہ علم نہ ہو کہ وہ عورت عدت ميں ہے یا نہ جانتا ہو کہ عدت کے دوران ميں عورت سے عقد حرام ہے ، وہ عورت ہميشہ کے لئے اس پر حرام ہو جائے گی۔


مسئلہ ٢ ۴۶۶ اگر کوی شخص یہ جانتے ہوئے کہ عورت شوہر دار ہے اور اس سے عقد کرنا حرام ہے اس سے شادی کرے تو ضروری ہے کہ اس سے عليحدگی اختيار کرلے اور وہ اس پر ہميشہ کے لئے حرام ہو جائے گی اور اگر اس شخص کو علم نہ ہو کہ یہ عورت شوہر دار ہے ليکن اس نے عقد کے بعد اس سے مجامعت کی ہو تب بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۶ ٧ اگر شوہر دار عورت زنا کرے تو اپنے شوہر پر حرام نہيں ہوگی۔ پس اگر وہ عورت توبہ نہ کرے اور اپنے کام پر باقی رہے تو بہتر یہ ہے کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے ليکن ہر صورت ميں شوہر پر مہر دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۶ ٨ طلاق یافتہ عورت اور وہ عورت جو متعہ ميں رہی ہو اور اس کے شوہر نے متعہ کی مدت بخش دی ہو یا مدت ختم ہوگئی ہو تو اگر وہ کچھ مدت کے بعد دوسرا شوہر کرے اور بعد ميں شک کرے کہ آیادوسرے شوہر سے عقد کے وقت پهلے شوہر کی عدت ختم ہوئی تھی یا ختم نہيں ہوئی تھی تو اگر اس حالت ميں احتمال ہو کہ عقد کے وقت وہ عدت سے غافل نہيں تھی تو یہ دوسرا عقد صحيح ہے ورنہ اس کا صحيح ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴۶ ٩ جس شخص نے کسی لڑکے کے ساته لواط کيا ہو اگر وہ لواط کرنے والا بالغ ہو تو اس لڑکے کی ماں، بهن اور بيٹی لواط کرنے والے پر حرام ہيں ۔ اسی طرح احتياط کی بنا پر اس لڑکے کی نانی اور نواسی بھی حرام ہوجاتی ہے ۔ جب کہ اگر لواط کروانے والا بالغ ہو یا لواط کرنے والا بالغ نہ ہو اور عقد ہو جائے تو احتياط واجب یہ ہے کہ عورت مرد سے طلاق کے ذریعے عليحدگی اختيار کرے۔

یهی حکم نانی یا نواسی سے کئے جانے والے عقد کے لئے ہے ۔ ہاں، اگر انسان گمان یا شک کرے کہ دخول ہوا ہے یا نہيں تو وہ عورتيں حرام نہيں ہوں گی ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧٠ اگر کوئی شخص کسی لڑکے کی ماں یا بهن سے شادی کرے اور شادی کے بعد اس لڑکے سے لواط کرے تو وہ عورتيں اس پر حرام نہيں ہوں گی اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اپنی زوجہ سے طلاق کے ذریعے عليحدگی اختيار کرلے مخصوصاً جب اس کی زوجہ اس لڑکے کی بهن ہو اور اگر اغلام کرنے والا اپنی بيوی کو طلاق دے دے تو احتياط واجب یہ ہے کہ دوبارہ اس سے ازدواج نہ کرے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧١ ساگر کوئی شخص احرام کی حالت ميں کسی عورت سے عقد کرے تو اس کا عقد باطل ہے اور اگر جانتا تھا کہ احرام کی حالت ميں شادی کرنا حرام ہے تو وہ عورت اس پر ہميشہ کے لئے حرام ہو جائے گی۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧٢ جو عورت احرام کی حالت ميں ہو اگر وہ کسی ایسے مرد سے عقد کرے جو احرام کی حالت ميں نہ ہو تو اس کا عقد باطل ہے اور اگر عورت پهلے سے جانتی تھی کہ احرام کی حالت ميں عقد کرنا حرام ہے تو احتياط کی بنا پر وہ مرد ہميشہ کے لئے اس پر حرام ہو جائے گا۔


مسئلہ ٢ ۴ ٧٣ اگر مرد طواف النساء کو جو حج اور عمرہ مفردہ کے اعمال ميں سے ایک عمل ہے بجا نہ لائے تو اس کی بيوی اوردوسری عورتيں جو احرام کے سبب اس پر حرام ہوئيں تہيں اس کے لئے حلال نہيں ہوں گی۔ اسی طرح اگر عورت طواف النساء نہ کرے تو مرد اس کے لئے حلال نہيں ہوگا، ليکن اگر یہ لوگ بعد ميں طواف النساء انجام دے دیں تو حلال ہو جائيں گے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧ ۴ جس نابالغ لڑکی سے عقد کيا گيا ہو اس کے بالغ ہونے تک اس سے مجامعت کرنا حرام ہے ، ليکن اگر کوئی شخص لڑکی کے نو سال مکمل ہونے سے پهلے اس سے مجامعت کرے تو لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس سے مجامعت حرام نہيں ہے خواہ وہ افضاء ہوچکی ہو۔ (افضا کے معنی مسئلہ نمبر ٢ ۴۴۴ ميں بتائے جاچکے ہيں )

مسئلہ ٢ ۴ ٧ ۵ وہ آزاد عورت جسے اس کے شوہر نے تين مرتبہ طلاق دے دی ہو، اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے ليکن اگر ان شرائط کے ساته کسی دوسرے مرد سے شادی کرے جو طلاق کے احکام ميں آئيں گے تو پھر دوسرے شوہر کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد اور اس کی عدت گزر جانے کے بعد پهلا شوہر دوبارہ اس سے عقد کرسکتا ہے ۔

دائمی عقد کے احکام

مسئلہ ٢ ۴ ٧ ۶ جس عورت کا دائمی عقد ہو جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغير گھر سے باہر نہ نکلے اور یہ بھی ضروری ہے کہ شوہر کی ہر جائز لذت کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے خود کوشوہر کے سامنے پيش کردے اور بغير کسی شرعی عذر کے شوہر کو مجامعت سے نہ روکے اور اگر وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو بجالائے تو اس کی غذا، لباس، رہا ئش اور اس کے علاوہ ہر وہ چيز جس کی اسے ضرورت ہے اس کا متعارف مقدار ميں مهيا کرنا شوہر پر واجب ہے اور اگر شوہر ان چيزوں کو فراہم نہ کرے تو چاہے ان چيزوں کو مهيا کرنے کی قدرت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو وہ بيوی کامقروض ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧٧ اگر عورت ان کاموں ميں جن کا ذکر سابقہ مسئلے ميں ہوا ہے اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے تو وہ گنهگار ہے اور وہ غذا، لباس،رہا ئش، دیگر ضروریات اور ہم بستر ہونے کا حق نہيں رکھتی، ليکن اس کا مہر ضایع نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧٨ مرد کو یہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ بيوی کو گھر کے کام انجام دینے پر مجبور کرے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٧٩ بيوی کے سفر کے اخراجات اگر وطن ميں رہنے کے اخراجات سے زیادہ ہوں تو ان کا دینا شوہر پر واجب نہيں ہے مگر ایسا سفر ہو جس کے اخراجات عرف ميں اُس کا نفقہ شمار ہوتے ہوں مثلاً یہ کہ وہ بيمار ہو اور علاج کے لئے سفر کرنا ضروری ہو کہ اس صورت ميں سفر کے اخراجات متعارف مقدار ميں شوہر پر واجب ہوں گے۔ اسی طرح اگر شوہر بيوی کو سفر پر لے جانا چاہتا ہو تب بھی یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ٢ ۴ ٨٠ جس عورت کے اخراجات اس کے شوہر کے ذمے ہوں اور شوہر اسے خرچہ نہ دے تو مطالبہ کرنے اور شوہر کے منع کرنے کے بعد وہ اپنا خرچہ اس کی اجازت کے بغير اس کے مال سے لے سکتی ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس سلسلے ميں حاکم شرع سے اجازت لے لے اور اگر اس کے لئے شوہر کے مال سے ليناممکن نہ ہو اور امور حسبيّہ کے متولی کے ذریعے شوہر کو مجبور کرنا بھی ممکن نہ ہو، تو اگراپنی معاش کا بندوبست خود کرنے پر مجبور ہو تو جس وقت وہ اپنی معاش کا بندوبست کرنے ميں مشغول ہو اس وقت ميں شوہر کی اطاعت اس پر واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨١ احتياط واجب کی بنا پر مرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر چار راتوں ميں سے ایک رات اپنی دائمی منکوحہ بيوی کے پاس رہے اور اگر دو بيویاں رکھتا ہو اور ایک کے پاس ایک رات گذاری ہے تو اس پر واجب ہے کہ چار راتوں ميں سے کوئی ایک رات دوسری کے پاس بھی گذارے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨٢ مرد کے لئے جائز نہيں ہے کہ وہ اپنی دائمی جوان بيوی سے چار ماہ سے زیادہ مدت تک مجامعت نہ کرے اور احتياط واجب کی بنا پر اگر بيوی جوان نہ ہو تب بھی یهی حکم ہے مگر یہ کہ بيوی راضی ہو یا یہ کہ مرد کے لئے مجامعت ضرر یا حرج کا باعث ہو جب کہ یہ ضرر و حرج عورت کے لئے پيش آنے والے ضرر یا حرج سے ٹکرا نہ رہا ہو یا یہ کہ عورت اس کی نافرمان ہو یا یہ کہ عقد کے وقت عورت کے ساته شرط کی گئی ہو کہ مجامعت کا اختيار مرد کے پاس ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨٣ اگر دائمی عقد ميں مہر معين نہ کيا جائے تو عقد صحيح ہے اور اگر مرد عورت کے ساته مجامعت کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا مہر اسی جيسی عورتوں کے مہر کے مطابق دے دے، البتہ اگر متعہ ميں مہر معين نہ کيا جائے تو عقد باطل ہو جاتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨ ۴ اگر دائمی عقد پڑھتے وقت مہر دینے کی مدت معين نہ کی جائے تو عورت مہر لينے سے پهلے شوہر کو مجامعت کرنے سے روک سکتی ہے قطع نظر اس کے کہ مرد مہر دینے پر قادر ہو یا نہ ہو ليکن اگر وہ مہر لينے سے پهلے مجامعت پر راضی ہو جائے اور شوہر اس سے مجامعت کرے تو بعد ميں وہ بغير شرعی عذر کے شوہر کو مجامعت کرنے سے نہيں روک سکتی ہے ۔

متعہ (ازدواج موقت)

مسئلہ ٢ ۴ ٨ ۵ عورت کے ساته متعہ کرنا اگرچہ لذت حاصل کرنے کے لئے نہ بھی ہو تب بھی صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨ ۶ احتياط واجب یہ ہے کہ مرد نے جس عورت سے متعہ کيا ہو اس کے ساته چار مهينے سے زیادہ مجامعت ترک نہ کرے مگر یہ کہ وہ راضی ہو جائے۔


مسئلہ ٢ ۴ ٨٧ جس عورت کے ساته متعہ کيا جا رہا ہو اگر وہ عقد ميں یہ شرط عائد کرے کہ شوہر اس سے مجامعت نہ کرے تو عقد اور اس کی عائد کردہ شرط صحيح ہے اور شوہر اس سے فقط دوسری لذتيں حاصل کرسکتا ہے ، ليکن اگر وہ بعد ميں راضی ہو جائے تو شوہر اس سے مجامعت کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨٨ جس عورت کے ساته متعہ کيا گيا ہو خواہ وہ حاملہ بھی ہو جائے تب بھی خرچہ لينے کا حق نہيں رکھتی ہے مگر یہ کہ اس نے عقد متعہ یا کسی دوسرے لازم عقد ميں اس بات کی شرط رکھ دی ہو، اسی طرح اس وقت خرچ لينے کا حق رکھتی ہے جب کسی عقد جائز ميں شرط رکھی ہو بشرطيکہ وہ عقد جائز باقی رہے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٨٩ جس عورت کے ساته متعہ کيا گيا ہو وہ ہم بستری کا حق نہيں رکھتی ہے اور شوہر سے ميراث بھی نہيں پاتی ہے اور شوہر بھی اس سے ميراث نہيں پاتا ہے مگر یہ کہ ميراث پانے کی شرط عائد کی ہو تو اس صورت ميں جس نے ایسی شرط عائد کی ہو وہ ميراث پاتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩٠ جس عورت سے متعہ کيا گيا ہو اگرچہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ خرچ اور ہم بستری کا حق نہيں رکھتی اس کا عقد صحيح ہے اور اس وجہ سے کہ وہ ان امور سے ناواقف تھی اس کا شوہر پر کوئی حق پيدا نہيں ہوتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩١ جس عورت سے متعہ کيا گيا ہو وہ شوہر کی اجازت کے بغير گھر سے باہر نکل سکتی ہے ليکن اگر اس کے باہر نکلنے سے شوہر کا حق ضایع ہو رہا ہو تو اس کا باہر نکلنا حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩٢ اگر کوئی عورت کسی مرد کو وکيل بنائے کہ معين مدت اور معين رقم کے عوض اس کا خود اپنے ساته متعہ پڑھے اور وہ مرد اس کا دائمی عقد اپنے ساته پڑھ لے یا معينہ مدت یا مقررہ مہر کے علاوہ پر عقد متعہ پڑھ دے تو پتہ چلنے پر اگر عورت اس کی اجازت دے دے تو عقد صحيح ہے ورنہ باطل ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩٣ اگر باپ یا دادا محرم بن جانے کی غرض سے کسی لڑکی کا عقد تهوڑی مدت کے لئے مثلاً ایک گهنٹے کے لئے اپنے ایسے بيٹے سے کر دیں جو لذت حاصل کرنے کی صلاحيت رکھتا ہو تو یہ عقد صحيح ہے اور باپ یا دادا اس بيٹے کے فائدہ و مصلحت کا خيال رکھتے ہوئے عقد کی مدت عورت کو بخش سکتے ہيں ۔ اسی طرح باپ یا دادا محرم بن جانے کی غرض سے کسی شخص کا عقد اپنی ایسی نابالغ بيٹی سے کرسکتے ہيں جس سے لذت اٹھ ائی جاسکتی ہو اور دونوں صورتوں ميں ضروری ہے کہ عقد کی وجہ سے نابالغ بچے کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پهنچے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩ ۴ اگر باپ یا دادا اپنی لڑکی کا عقد محرم بن جانے کی خاطر کسی سے کر دیں جب کہ وہ لڑکی دوسری جگہ پر ہو اور معلوم نہ ہو کہ وہ زندہ ہے یا مرگئی ہے تو اگر وہ لڑکی عقد کی مدت ميں اس قابل ہو کہ اس سے لذت اٹھ ائی جاسکے تو ظاہراً محرم بننا حاصل ہو


جائے گا۔ ہاں، اگر بعد ميں پتہ چلے کہ وہ لڑکی زندہ نہيں تھی تو عقد باطل ہے اور وہ لوگ جو عقد کی وجہ سے بظاہر محرم بن گئے تهے نامحرم ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩ ۵ اگر مرد غير دائمی ازدواج کی مدت عورت کو بخش دے تو اگر اس نے اس کے ساته مجامعت کی ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام چيزیں جن کا عهد کيا تھا اسے دے دے اور اگر اس نے اس کے ساته مجامعت نہ کی ہو تو ضروری ہے کہ ان چيزوں کی آدهی مقدار اسے دے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ تمام چيزیں دے دے۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩ ۶ مرد کے لئے جائز ہے کہ جس عورت کے ساته اس نے پهلے متعہ کيا ہو اور عقد کی مدت تمام ہوگئی ہو یا اس نے مدت بخش دی ہو ليکن عدت کی مدت ابهی پوری نہ ہوئی ہو، اس سے دائمی عقد کرلے یا دوبارہ متعہ کرلے۔

نگاہ کرنے کے احکام

مسئلہ ٢ ۴ ٩٧ مرد کے لئے نامحرم عورت کے بدن اور اس کے بال کو دیکھنا حرام ہے خواہ ایسا کرنا لذت کے قصد سے ہو یا نہ ہو اور خواہ ایسا کرنا حرام ميں پڑنے کے خوف کے ساته ہو یا نہ ہو اور مرد کے لئے اس کے چھرے اور ہاتھوں کو دیکھنا جب کہ ایسا کرنا لذت کے ساته ہو یا حرام ميں پڑنے کے خوف کے ساته ہو، حرام ہے اور احتياط مستحب یہ ہے کہ قصدِ لذت اور حرام ميں پڑنے کے خوف کے بغير بھی اس کے چھرے اور کلائيوں تک ہاتھوں کو نہ دیکھے ۔ اسی طرح عورت کا نامحرم مرد کے بدن کو دیکھنا بھی حرام ہے سوائے ان مقامات کے کہ شریعت کے پيروکار اور دیندار اشخاص کی روش یہ ہو کہ وہ انہيں نہ چھپا تے ہوں جيسے سر، چہرہ ، گردن، ہاتھ اور پنڈليوں تک پاؤں، کہ ان مقامات کا دیکھنا عورت کے لئے قصدِ لذت اور حرام ميں پڑنے کے خوف کے بغير جائز ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩٨ وہ عورتيں کہ جنہيں اگر نامحرم سے اپنے بدن کو نہ چھپا نے پر روکا جائے تو اُن پر کچھ اثر نہ ہو چاہے کافر ہوں یا مسلمان ان کے بدن کے ایسے حصّوں کو دیکھنا جنہيں عام طور پر چھپا نے کی عادت نہ رکھتی ہوں جب کہ یہ دیکھنا قصدِ لذت اور حرام ميں پڑنے کے خوف کے ساته نہ ہو تو جائز ہے ۔

مسئلہ ٢ ۴ ٩٩ عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بال اور بدن کو نامحرم مرد سے چھپا ئے اور اس صورت ميں جب کہ عورت اپنے آپ کو دکھانا چاہتی ہو اور مرد بھی لذت کے ساته دیکھ رہا ہو اس پر چھرے اور ہاتھوں کو کلائيوں تک بھی چھپا نا واجب ہے اور اسی طرح اس صورت ميں بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے جب عورت تو دکهاوے کا قصد نہ رکھتی ہو مگر مرد لذت کے قصد سے دیکھ رہا ہو۔اور سر اور بالوں کو نابالغ لڑکے سے چھپا نا واجب نہيں ہے مگر اس صورت ميں جب کہ اس نابالغ لڑکے کی شهوت کے ابهرنے کا باعث بن رہا ہو احتياط واجب یہ ہے کہ اس سے بھی سر اور بالوں کو چھپا ئے۔


مسئلہ ٢ ۵ ٠٠ کسی شخص کی شرمگاہ دیکھنا حتی مميّز بچہ جو برے بهلے کی تميز رکھتا ہو اس کی شرمگاہ دیکھنا بھی حرام ہے ، اگرچہ ایسا کرنا شيشے کے پيچهے سے یا آئينے ميں یا صاف پانی وغيرہ ميں ہی کيوں نہ ہو اور مياں اور بيوی ایک دوسرے کا پورا بدن دیکھ سکتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠١ جو مرد اور عورت آپس ميں محرم ہوں وہ قصدِ لذت کے بغير شرمگاہ کے علاوہ ایک دوسرے کا پورا بدن دیکھ سکتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠٢ ایک مرد کا دوسرے مرد کے بدن کو اور ایک عورت کا دوسری عورت کے بدن کو قصدِ لذت سے دیکھنا حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠٣ نامحرم عورت کی تصویر دیکھنا جب کہ انسان اسے جانتا ہو اور وہ ان خواتين ميں سے ہو جنہيں اگر نامحرم کے سامنے دکهاوا کرنے سے روکا جائے تو قبول کرلے، بنابر احتياط جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠ ۴ اگر ایک عورت کسی دوسری عورت یا اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کی شرمگاہ کو دهونا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہاتھ پر کوئی چيز لپيٹ لے تا کہ اس کا ہاتھ دوسری عورت یا مرد کی شرمگاہ تک نہ پهنچے اور اگر کوئی مرد کسی دوسرے مرد یا اپنی بيوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کی شرمگاہ کو دهونا چاہے تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠ ۵ اگر عورت کسی نامحرم مرد سے علاج کروانے پر مجبور ہو اور مرد بھی علاج کرنے ميں مجبور ہو کہ اسے دیکھے اور اس کے بدن کو ہاتھ لگائے تو یہ جائز ہے ليکن اگر دیکھ کر علاج کرسکتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہاتھ نہ لگائے اور اگر ہاتھ لگاکر علاج کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسے نہ دیکھے اور ہر صورت ميں اگر دستانے پهن کر علاج کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ ہاتھ سے علاج نہ کرے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠ ۶ اگر انسان کسی سے علاج کروانے پر مجبور ہو جائے اور وہ شخص بھی علاج کرنے کے لئے اس کی شرمگاہ دیکھنے کے علاوہ کو ئی چارہ کار نہ رکھتا ہو تو بنا بر احتياط واجب اسے چاہئے کہ آئينہ ميں دیکھ کر اس کا علاج کرے، ليکن اگر شرمگاہ کو دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو یا آئينہ ميں دیکھ کر علاج کرنا مشقت کا باعث بن رہا ہو تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

شادی کے مختلف مسائل

مسئلہ ٢ ۵ ٠٧ جو شخص بيوی کے نہ ہونے کی وجہ سے فعلِ حرام ميں مبتلا ہو جائے اس پر شادی کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٠٨ اگر شوہر عقد ميں یہ شرط عائد کرے کہ عورت کنواری ہو اور عقد کے بعد معلوم ہو جائے یا خود عورت اقرار کرلے یا دوعادل مردوں کی گواہی سے ثابت ہو جائے کہ عقد سے پهلے ہی کسی سے مجامعت کے سبب اس کی بکارت زائل ہوچکی تھی تو اگرچہ مرد کے لئے خيارِ فسخ کے ثابت ہونے کا احتمال موجود ہے ليکن احتياط واجب یہ ہے کہ اگر عقد کو فسخ کرے تو طلاق بھی دے اور مرد کنواری اور غير کنواری عورت کے مہر کے مابين فرق کی نسبت کو دیکھتے ہوئے مقررہ مہر ميں سے اسی نسبت کے مطابق لے سکتا ہے خواہ وہ عقد فسخ کردے یا اس پر باقی رہے۔


مسئلہ ٢ ۵ ٠٩ نامحرم مرد اور عورت کا کسی ایسے خلوت کے مقام پر رہنا کہ جهاں کوئی دوسرا یهاں تک کہ مميّز بچہ بھی نہ ہو، حرام کے ارتکاب کے احتمال کی صورت ميں جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ١٠ اگر کوئی مرد عورت کا مہر عقد ميں معين کر دے اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ مہر نہيں دے گا اور عورت کا عقد پر راضی ہونا اس کے مہر دینے کے ارادے پر موقوف نہ ہو تو عقد صحيح ہے ليکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مہر دے۔

مسئلہ ٢ ۵ ١١ وہ مسلمان جو دین اسلام کو چھوڑ کر کافر ہوجائے مرتد کهلاتا ہے ۔ (کفر کے معنیٰ مسئلہ نمبر ١٠٧ ميں گذرچکے ہيں )

اور مرتد کی دو قسميں ہيں :

١) فطری ٢) ملی مرتد فطری اسے کہتے ہيں جو ایسے ماں باپ سے پيدا ہوا ہو جو دونوں یا ان ميں سے کوئی ایک مسلمان ہو اور پھر یہ شخص بالغ اور عقل کے کامل ہونے کے بعد اپنے اختيار سے دین اسلام کو ترک کردے۔

اور مرتد ملّی اسے کہتے ہيں جو کافر ماں باپ سے پيدا ہوا ہو اور پھر مسلمان ہونے کے بعد دوبارہ اسلام کو ترک کر دے۔

مسئلہ ٢ ۵ ١٢ اگر عورت شادی کے بعد مرتد ہو جائے پس اگر اس کے شوہر نے اس کے ساته جماع نہ کيا ہو تو اس کا عقد باطل ہو جاتا ہے اور کوئی عدت بھی نہيں ہے اور اگر جماع کيا ہو ليکن نو سال پورے نہ ہوئے ہوں یا یہ کہ یائسہ ہو تو بھی یهی حکم ہے ۔ ہاں، اگر نو سال پورے ہوگئے ہوں اور یائسہ بھی نہ ہو (جس کے معنی مسئلہ نمبر ۴۴ ١ ميں گذر چکے ہيں ) تو ضروری ہے کہ اسی طریقے کے مطابق عدت گذارے جو طلاق کے احکام ميں بيان کيا جائے گا اور اگر عدت کے آخر تک مرتد رہے تو عقد باطل ہے اور اگر عدت کے دوران مسلمان ہو جائے تو عقد کے باقی رہنے ميں اشکال ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اگر مرد اس کے ساته رہنا چاہے تو دوبارہ عقد کرے اور اگر اس سے عليحدگی اختيار کرنا چاہے تو اسے طلاق دے دے۔

مسئلہ ٢ ۵ ١٣ وہ مرد جس کے ماں باپ ميں سے کوئی ایک مسلمان ہو اگر وہ مرتد ہو جائے تو اس کی بيوی اس پر حرام ہو جاتی ہے اور ضروری ہے کہ وفات کی عدت کے برابر عدت رکھے جس کا بيان طلاق کے احکام ميں ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۵ ١ ۴ وہ مرد جو غير مسلم والدین سے پيدا ہو ليکن بعد ميں مسلمان ہو گيا ہو اور شادی کے بعد مرتد ہوجائے تو اگر اس نے اپنی بيوی سے جماع نہ کيا ہو یا اس کی بيوی کے نو سال مکمل نہ ہوئے ہوں یا اس کی بيوی یائسہ ہو تو عقد باطل ہو جائے گا اور اُسے عدت رکھنے کی ضرورت نہيں اور اگر جماع کرنے کے بعد مرتد ہو جائے اور اس کی بيوی کے نو سال پورے ہوگئے ہوں اور وہ یائسہ بھی نہ ہو تو اس عورت کے لئے ضروری ہے کہ طلاق کی عدت کے برابر کہ جس کا ذکر احکام طلاق ميں آئے گا عدت رکھے اور اگر عدت تمام ہونے تک مسلمان نہ ہو تو عقد باطل ہے اور اگر عدت تمام ہونے سے پهلے مسلمان ہو جائے تو عقد کا باقی رہنا محل اشکال ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ اگر بيوی کے ساته رہنا چاہتا ہو تو دوبارہ عقد کرے اور اگر عليحدگی اختيار کرنا چاہے تو طلاق دے دے۔


مسئلہ ٢ ۵ ١ ۵ اگر عورت عقد ميں مرد کے ساته یہ شرط رکھے کہ وہ اسے شہر سے باہر نہيں لے جائے گا اور مرد بھی اس شرط کو قبول کرلے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے رضامندی کے بغير شہر سے باہر نہ لے جائے۔

مسئلہ ٢ ۵ ١ ۶ اگر عورت کی پهلے شوہر سے ایک بيٹی ہو تو دوسرا شوہر اس لڑکی کا عقد اپنے اس بيٹے سے کرسکتا ہے جو اس بيوی سے نہ ہو اور اگر مرد کسی لڑکی کا عقد اپنے بيٹے سے کرے تو اس لڑکی کی ماں سے خود شادی کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ١٧ اگر کوئی عورت زنا کے سبب حاملہ ہو جائے تو اس صورت ميں جب کہ وہ عورت یا وہ مرد جس نے اس سے زنا کيا ہو یا وہ دونوں مسلمان ہوں اس عورت کے لئے بچہ گرانا جائز نہيں ہے اور اگر مسلمان نہ ہوں تو بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ١٨ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو نہ شوہر دار ہو اور نہ ہی کسی کی عدت ميں ہو، زنا کرے تو اگر اس طریقے کے مطابق استبرا کرنے کے بعد جس کا ذکر مسئلہ ٢ ۴۶ ٣ ميں ہوا ہے اس عورت سے عقد کرے اور پھر ان سے کوئی بچہ پيدا ہو تو اگر نہ جانتے ہوں کہ بچہ حلال نطفے سے ہے یا حرام نطفے سے تو وہ بچہ بغير اشکال کے حلال زادہ ہے ليکن اگر استبرا کرنے سے پهلے عقد کيا ہو اور پھر جماع کيا ہو تو اس ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ١٩ اگر مرد کو معلوم نہ ہو کہ عورت عدت ميں ہے اور وہ اس سے شادی کرلے تو اگر عورت کو بھی اس بارے ميں علم نہ ہو اور ان کا بچہ پيدا ہو تو وہ حلال زادہ ہے اور شرعاً ان دونوں کا فرزند ہوگا، ليکن اگر عورت جانتی ہو کہ وہ عدت ميں ہے تو شرعاً بچہ باپ کا فرزند ہوگا اور جو شخص عدت ميں ہونے کا یقين رکھتا ہو اور اس کے پورا ہونے کے بارے ميں مشکوک ہو وہ اسی شخص کے حکم ہے جو جانتا ہے کہ وہ عدت ميں ہے اور ہر صورت ميں ان کا عقد باطل ہے اور وہ ایک دوسرے پر حرام ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢٠ اگر کوئی عورت کهے کہ ميں یائسہ ہوں تو ضروری ہے کہ اس کا کهنا قبول نہ کيا جائے ليکن اگر کهے کہ ميں شوهردار نہيں ہوں تو اس کی بات قبول کی جائے گی۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢١ اگر عورت کهے کہ ميں شوهردار نہيں ہوں اور کوئی شخص اس سے شادی کرلے اور پھر بعد ميں کوئی کهے کہ اس عورت کا شوہر موجود ہے پس اگر شرعاً اس کی بات ثابت نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کی بات کو قبول نہ کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢٢ جب تک لڑکا یا لڑکی دو سال کے نہ ہو جائيں ان کا باپ انہيں ان کی ماں سے جدا نہيں کرسکتا ہے اور احتياط واجب یہ ہے کہ لڑکی کو سات سال تک اس کی ماں سے جدا نہ کرے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢٣ اگر شادی کی درخواست کرنے والا لڑکا دینداری اور اخلاق ميں اچھا ہو تو مستحب ہے کہ بالغ لڑکی کی شادی کرنے ميں جلدی کی جائے ۔


مسئلہ ٢ ۵ ٢ ۴ اگر بيوی شوہر کے ساته اس شرط پر اپنے مہر کی مصالحت کرے کہ وہ دوسری شادی نہيں کرے گا تو بيوی بعد ميں مہر نہيں لے سکتی ہے اور شوہر پر بھی واجب ہے کہ دوسری شادی نہ کرے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢ ۵ جو شخص ولدالزنا ہو اگر وہ کسی عورت سے شادی کرلے اور اس کا بچہ پيدا ہو تو وہ حلال زادہ ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢ ۶ اگر کوئی شخص ماہِ رمضان المبارک کے روزوں ميں یا حيض کی حالت ميں اپنی بيوی سے مجامعت کرے تو وہ گنهگار ہے ليکن اگر اس مجامعت کے نتيجے ميں ان کا کوئی بچہ پيدا ہو تو وہ حلال زادہ ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢٧ جس عورت کو یقين ہو کہ اس کا شوہر مثلاً سفر ميں مرگيا ہے اگر وہ وفات کی عدت، جس کی مقدار احکامِ طلاق ميں بتائی جائے گی، کے بعد شادی کرے و بعد ازاں اس کا پهلا شوہر سفر سے واپس آجائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسرے شوہر سے جدا ہو جائے اور وہ پهلے شوہر پر حلال ہوگی ليکن اگر دوسرے شوہر نے اس سے مجامعت کی ہو تو عورت پر عدت گذارنا ضروری ہے اور دوسرے شوہر پر ضروری ہے کہ اس جيسی عورتوں کے مہر کے مطابق اسے مہر ادا کرے ليکن عدت کے زمانے کا خرچہ دوسرے شوہر کے ذمے نہيں ہے ۔

رضاعت (دودھ پلانے) کے احکام

مسئلہ ٢ ۵ ٢٨ اگر کوئی عورت ایک بچے کو ان شرائط کے ساته دودھ پلائے جو مسئلہ ٢ ۵ ٣٨ ميں ذکر کی جائيں گی تو وہ بچہ مندرجہ ذیل لوگوں کا محرم بن جاتا ہے :

١) خود وہ عورت اور اسے رضاعی ماں کہتے ہيں ۔

٢) عورت کا شوہر جس کی بدولت دودھ ہے اور اسے رضاعی باپ کہتے ہيں ۔

٣) اس عورت کے ماں باپ چاہے یہ سلسلہ کتنا ہی اُوپر چلا جائے اور خواہ وہ اس عورت کے رضاعی ماں باپ ہی کيوں نہ ہوں۔

۴) اس عورت کے وہ بچے جو پيدا ہوچکے ہيں یا بعد ميں پيدا ہوں۔

۵) اس عورت کے بچوں کی اولاد خواہ یہ سلسلہ کتنا ہی نيچے چلا جائے اور خواہ وہ اولاد اس کے بچوں سے وجود ميں آئی ہو یا انہوں نے دودھ پلایا ہو۔

۶) اس عورت کی بهنيں اور بهائی خواہ وہ رضاعی ہی ہوں یعنی دودھ پينے کی وجہ سے اس عورت کے بهن بهائی بن گئے ہوں۔

٧) اس عورت کا چچا اور پهوپهی خواہ وہ رضاعی ہی کيوں نہ ہوں۔

٨) اس عورت کا ماموں اور اس کی خالہ خواہ وہ رضاعی ہی کيوں نہ ہوں۔


٩) اس عورت کے اس شوہر کی اولاد جس کی بدولت دودھ ہے جهاں تک بھی یہ سلسلہ نيچے چلا جائے اور اگر چہ اس کی اولاد رضاعی ہی کيوں نہ ہو۔

١٠ ) اس عورت کے اس شوہر کے ماں باپ جس کی بدولت دودھ ہے جهاں تک بھی یہ سلسلہ اُوپر چلا جائے اور اگر چہ وہ ماں باپ رضاعی ہوں۔

١١ ) اس عورت کے اس شوہر کے بهن بهائی جس کی بدولت دودھ ہے گرچہ اس کے رضاعی بهن بهائی ہی کيوں نہ ہوں۔

١٢ ) اس عورت کے اس شوہر کے چچا، پهوپهی، ماموں اور خالہ جس کی بدولت دودھ ہے جهاں تک بھی یہ سلسلہ اُوپر چلا جائے خواہ وہ رضاعی ہی ہوں۔

اور ان کے علاوہ کئی اور لوگ بھی دودھ پلانے کی وجہ سے محرم بن جاتے ہيں جن کا ذکر آئندہ مسائل ميں کيا جائے گا۔

مسئلہ ٢ ۵ ٢٩ اگر کوئی عورت کسی بچے کو ان شرائط کے ساته دودھ پلائے جن کا ذکر مسئلہ ٢ ۵ ٣٨ ميں کيا جائے گا تو اس بچے کا باپ اس عورت کی نسبی لڑکيوں سے شادی نہيں کرسکتا ہے ۔ ہاں، اس کا اس عورت کی رضاعی لڑکيوں سے شادی کرنا جائز ہے گرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اُن سے بھی شادی نہ کرے اور وہ ان لڑکيوں سے بھی شادی نہيں کرسکتا ہے جو اس عورت کے اس شوہر کی بيٹياں ہيں کہ اس عورت کا دودھ جس کی بدولت ہے ، خواہ وہ بيٹياں نسبی ہوں یا رضاعی اور ان دونوں صورتوں ميں اگر اس وقت (یعنی اس عورت کے بچے کو دودھ پلانے کے وقت) ان ميں سے کوئی عورت اس کی بيوی ہو تو اس کا عقد باطل ہو جاتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣٠ اگر کوئی عورت کسی بچے کو ان شرائط کے ساته دودھ پلائے جن کا ذکر مسئلہ ٢ ۵ ٣٨ ميں کيا جائے گا تو اس عورت کا وہ شوہر کہ دودھ جس کی بدولت ہے وہ اس بچے کی بهنوں کا محرم نہيں بنتا ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ ان سے شادی نہ کرے۔ نيز شوہر کے رشتہ دار بھی اس بچے کے بهائی بهنوں کے محرم نہيں بن جاتے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣١ اگر کوئی عورت ایک بچے کو دودھ پلائے تو وہ اس کے بهائيوں کی محرم نہيں بن جاتی ہے اور اس عورت کے رشتہ دار بھی اس بچے کے بهائی بهنوں کے محرم نہيں بنتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣٢ اگر کوئی شخص اس عورت سے جس نے کسی لڑکی کو پورا دودھ پلایا ہو، شادی کرے اور اس سے جماع کرلے تو پھر وہ اس لڑکی سے عقد نہيں کرسکتاہے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣٣ اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے شادی کرلے تو پھر وہ اس عورت سے شادی نہيں کرسکتا ہے جس نے اس لڑکی کو پورا دودھ پلایا ہو۔


مسئلہ ٢ ۵ ٣ ۴ انسان کسی ایسی لڑکی سے شادی نہيں کرسکتا جسے اس کی ماں یا دادی نے پورا دودھ پلایا ہو۔ نيز اگر کسی شخص کی سوتيلی ماں نے اس شخص کے باپ کی بدولت موجود دودھ کسی لڑکی کو پلایا ہو تو یہ شخص اس لڑکی سے شادی نہيں کرسکتا ہے اور اگر کوئی شخص کسی شير خوار بچی سے عقد کرے اور اس کے بعد اس کی ماں یا دادی اس شيرخوار بچی کو دودھ پلا دے یا اس کی سوتيلی ماں اس کے باپ کی بدولت موجود دودھ اس بچی کو پلا دے تو عقد باطل ہو جاتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣ ۵ کوئی شخص اس لڑکی سے شادی نہيں کرسکتا جسے اس شخص کی بهن یا بهابهی نے جب کہ دودھ بهائی کی بدولت ہو ، پورا دودھ پلایا ہو۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب اس شخص کی بهانجی، بهتيجی یا بهن یا بهائی کی نواسی یا پوتی نے اس لڑکی کو دودھ پلایا ہو۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣ ۶ اگر کوئی عورت اپنی بيٹی کے بچے یعنی اپنے نواسے یا نواسی کو پورا دودھ پلائے تو اس عورت کی بيٹی اپنے شوہر پر حرام ہو جائے گی اور اگر وہ عورت اُس بچے کو دودھ پلائے جو اس کی بيٹی کے شوہر کی دوسری بيوی سے پيدا ہوا ہو تب بھی یهی حکم ہے ، ليکن اگر کوئی عورت اپنے بيٹے کے بچے یعنی پوتے یا پوتی کو دودھ پلائے تو اس کی بهو جو کہ دودھ پيتے بچے کی ماں ہے ، اپنے شوہر پر حرام نہيں ہوگی۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣٧ اگر کسی لڑکی کی سوتيلی ماں اُس لڑکی کے شوہر کے بچے کو اس لڑکی کے باپ

کی بدولت موجود دودھ پلائے تو وہ لڑکی اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے خواہ وہ بچہ اسی لڑکی کے بطن سے ہو یا کسی دوسری عورت کے بطن سے ہو۔

دودھ پلانے کے ذريعے محرم بننے کی شرائط

مسئلہ ٢ ۵ ٣٨ محرم بننے کے لئے دودھ پلانے کی آٹھ شرائط ہيں :

١) بچہ زندہ عورت کا دودھ پئے۔لہٰذا اگر بچہ مردہ عورت کے سينے سے دودھ پئے تو اس کا کوئی فائدہ نہيں ۔

٢) عورت کا دودھ ولادت کی وجہ سے ہو اور حرام کا نہ ہو۔لہٰذا اگر زنا کی وجہ سے عورت کی چھاتی ميں دودھ آجائے اور کسی بچے کو پلائے تو اس سے وہ بچہ کسی کا محرم نہيں بن سکتا۔

٣) بچہ چھاتی سے ہی دودھ پئے، لہٰذا گر دودھ صرف اس کے گلے ميں انڈیل دیا جائے تو کوئی فائدہ نہيں ۔

۴) خالص ددوه پئے جو کسی اور چيز سے ملا ہوا نہ ہو۔

۵) دودھ ایک ہی شوہر کا ہو۔لہٰذا اگر دودھ پلانے والی عورت کو طلاق دے دی جائے، پھر وہ دوسری شادی کرلے اور اس سے حاملہ ہوجائے اور زچگی سے پهلے تک پهلے شوہر والا دودھ باقی ہو اور مثلاً آٹھ مرتبہ زچگی سے پهلے، پهلے شوہر والا دودھ اور سات مرتبہ زچگی کے بعد دوسرے شوہر والا دودھ کسی بچے کو پلائے تو یہ بچہ کسی کا محرم نہيں بنے گا۔


۶) بچہ دودھ کی قے نہ کردے اور اگر قے کردے تو احتياط واجب کی بنا پر وہ افراد جو دودھ

پلانے کی وجہ سے اس کے محرم بنيں گے اس سے شادی نہ کریں اور نہ ہی اس پرمحرمانہ نظر ڈاليں۔

٧) پندرہ بار یا ایک شب و روز سير ہو کر اس طرح دودھ پئے کہ جس کا ذکر اگلے مسئلے ميں آئے گا یا اتنا دودھ اسے پلائے کہ کها جائے کہ اس دودھ سے اس کی ہڈیاں مضبوط ہوئی ہيں اور اس کے بدن پر گوشت چڑھا ہے ۔ اگر دس بار اس کو دودھ پلائے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ دودھ پينے کی وجہ سے جو اس کے محرم بنتے ہيں ، وہ اس سے شادی نہ کریں، اور محرمانہ نظر بھی اس پرنہ ڈاليں۔

٨) بچہ دو سال کا نہ ہو چکا ہو۔ لہٰذا اگر دو سالہ ہو جانے کے بعد کسی عورت کا دودھ پئے تو اس وجہ سے کسی کا محرم نہيں بنے گا، بلکہ اگر مثلاً دو سال مکمل ہونے سے پهلے آٹھ مرتبہ اور دوسال مکمل ہونے کے بعد سات مرتبہ دودھ پئے تو بھی کسی کا محرم نہيں بنے گا۔ ہاں، اگر دودھ پلانے والی عورت کے زچگی کے بعد سے دو سال گزر چکے ہوں اور ابهی اسے دودھ آتا ہو اور کسی بچے کو دودھ پلائے تو وہ بچہ مذکورہ افراد کامحرم بن جائے گا۔

مسئلہ ٢ ۵ ٣٩ ضروری ہے کہ بچہ ایک روز و شب ميں کوئی غذا نہ کھائے یا کسی اور کا دودھ

نہ پئے ۔ ہاں، اگر اتنی مختصر غذا کھائے کہ اسے درميان ميں غذا کھانا نہ کها جا سکے تو کوئی حرج نہيں ۔ اسی طرح ضروری ہے کہ پندرہ مرتبہ ایک ہی عورت کا دودھ پئے اور اس پندرہ مرتبہ کے درميان کسی اور عورت کا دودھ نہ پئے۔ ہر مرتبہ ميں بغير کسی فاصلے کے مکمل سير ہو کر دودھ پئے۔

هاں، اگر درميان ميں سانس لينے کے لئے رکے یا کچھ صبر کرے ، اتنا کہ پهلی مرتبہ چھاتی منہ ميں لينے سے لے کر سير ہونے تک عرفاً یہ کها جائے کہ اس نے حقيقتاً ایک ہی بار دودھ پيا ہے ، تو کوئی حرج نہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵۴ ٠ اگرعورت اپنے شوہر کا دودھ کسی بچے کو پلائے، پھر دوسری شادی کرے اور دوسرے شوہر کا دودھ کسی اور بچے کو پلائے تو یہ دونوں بچے آپس ميں محرم نہيں بنتے۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ آپس ميں شادی نہ کریں، ليکن ایک دوسرے کو محرمانہ نگاہوں سے نہيں دیکھ سکتے۔

مسئلہ ٢ ۵۴ ١ اگر عورت ایک ہی شوہر کا دودھ چند بچوں کو پلائے تو یہ سارے بچے آپس ميں اور اس عورت اور اس کے شوہر کے محرم بن جاتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵۴ ٢ اگر کسی مرد کی چند بيویاں ہوں اور ان ميں سے ہر ایک، مذکورہ شرائط کے ساته ایک ایک بچے کودودھ پلائے،تو یہ سارے بچے آپس ميں ، اس مرد اور اس کی تمام بيویوں کے محرم بن جائيں گے۔


مسئلہ ٢ ۵۴ ٣ اگر کسی کی دودھ پلانے والی دو بيویاں ہوں اور ان ميں سے ایک، ایک بچے کو آٹھ مرتبہ اور دوسری سات مرتبہ دودھ پلائے تو وہ بچہ کسی کا محرم نہيں بنے گا۔

مسئلہ ٢ ۵۴۴ اگر عورت ایک شوهرکے دودھ سے ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو مکمل دودھ

پلائے تو لڑکی کے بهائی بهن ، لڑکے کے بهائی بهن کے محرم نہيں بنتے۔

مسئلہ ٢ ۵۴۵ انسان اپنی بيوی کی اجازت کے بغير اس کے رضاعی بهائی یا بهن کی بيٹی سے شادی نہيں کر سکتا۔ اسی طرح اگر مرد کسی لڑکے سے لواط کرے تواس کی رضاعی بهن، بيٹی یا ماں اور احتياط واجب کی بنا پر اس کی رضاعی دادی یا نواسی سے ازدواج نہيں کرسکتا۔ احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم اس وقت بھی ہے جب لواط کرنے والا بالغ نہ ہو یا جس سے لواط کيا گيا ہو وہ بالغ ہو۔ اور جن مقامات پر احتياط کا تذکرہ کياگيا اگر لواط کے بعد شادی ہوئی ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ طلاق دے دے۔

مسئلہ ٢ ۵۴۶ جس عورت نے کسی کے بهائی کو دودھ پلایا ہو وہ خود اس کی محرم نہيں بنتی اگرچہ احتياط مستحب یہ ہے کہ اس سے ازدواج نہ کرے۔

مسئلہ ٢ ۵۴ ٧ انسان بيک وقت دو بهنوں سے شادی نہيں کر سکتا چاہے وہ رضاعی بهنيں ہی ہوں۔ اگر کوئی شخص دو عورتوں سے شادی کرلے اور بعد ميں معلوم ہو کہ وہ آپس ميں بهنيں ہيں تو اگر دونوں کے ساته ایک ساته شادی کيا ہو تو اختيار ہے کہ ان ميں سے جس کو چاہے اختيار کرے اور اگر ایک وقت ميں نہ ہو تو پهلا عقد درست ہوگا اور دوسرا باطل۔

مسئلہ ٢ ۵۴ ٨ اگر عورت اپنے شوہر کا دودھ مندرجہ ذیل افراد ميں سے کسی کو پلائے تواس کا شوہر اس پر حرام نہيں ہوتا اگرچہ بہتر ہے کہ احتياط کرے:

١) اپنے بهائی یا بهن کو۔

٢) اپنے چچا، پهوپهی، ماموں یا خالہ کو۔

٣) اپنے چچا زاد یا ماموں زاد کو۔

۴) اپنے بهائی کے بچے کو۔

۵) اپنے دیور یا نند کو۔

۶) اپنی بهن کے بچے یا شوہر کی بهن کے بچے کو۔

٧) شوہر کے چچا، پهوپهی، ماموں یا خالہ کو۔


٨) اپنے شوہر کی کسی اور بيوی کے نواسے، نواسی، پوتے یا پوتی کو۔

مسئلہ ٢ ۵۴ ٩ اگر کوئی عورت کسی شخص کی پهوپهی زاد یا خالہ زاد بهن کود وده پلائے تووہ اس شخص کی محرم نہيں بنتی، ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ اس سے شادی نہ کرے۔

مسئلہ ٢ ۵۵ ٠ جس شخص کی دو بيویاں ہوں اگر ان ميں سے ایک دوسری کے چچا زاد کو دودھ

پلائے تو جس عورت کے چچا زاد کو دودھ پلایا ہے وہ اپنے شوہر پر حرام نہيں ہوتی۔

دودھ پلانے کے آداب

مسئلہ ٢ ۵۵ ١ بچے کو دودھ پلانے کے لئے اس کی ماں سے بہتر کوئی نہيں ۔ اور سزاوار ہے کہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لئے اپنے شوہر سے اجرت نہ لے اور اچھا ہے کہ شوہر اجرت دے دے اور اگر ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لئے دایہ سے زیادہ اجرت طلب کرے تو شوہر اس سے بچہ لے کر دایہ کو دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۵ ٢ مستحب ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کے لئے جس دایہ کا انتخاب کيا جائے وہ اثناءعشری، صاحب عقل و عفت اور خوبصورت ہو۔ مکروہ ہے کہ دایہ کم عقل، بدصورت، بد اخلاق یا زنازادی ہو۔یہ بھی مکروہ ہے کہ کسی ایسی عورت کو دایہ بنایا جائے جس نے حرام کا بچہ جنا ہوا ہو۔

دودھ پلانے کے مختلف مسائل

مسئلہ ٢ ۵۵ ٣ احتياط مستحب یہ ہے کہ عورتيں ہر بچے کو دودھ نہ پلائيں، کيونکہ ممکن ہے کہ بعد ميں بھول جائيں کہ کس کس کو دودھ پلایا ہے اور نتيجتاً دو محرم آپس ميں شادی کر ليں۔

مسئلہ ٢ ۵۵۴ سزاوار ہے کہ جو افراد رضاعی رشتہ دار ہوں وہ ایک دوسرے کا احترام کریں ليکن یہ ایک دوسرے سے ميراثنہيں پاتے اور انسان کے اپنے رشتہ د اروں پر جو حقوق ہوتے ہيں ان کے حقدار بھی نہيں ہوتے۔

مسئلہ ٢ ۵۵۵ مستحب ہے کہ بچے کو پورے دوسال دودھ پلایا جائے۔

مسئلہ ٢ ۵۵۶ اگر دودھ پلانے کی وجہ سے شوہر کا حق ضائع نہ ہورہا ہو تو عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغير بھی دوسروں کے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے ۔ ہاں، کسی ایسے بچے کو دودھ پلانا جائز نہيں ہے کہ جس کو د وده پلانے کے نتيجے ميں وہ خود اپنے شوہر پر حرام ہو جائے۔


البتہ مشهور علما اعلی الله مقامهم کا یہ فرمانامحل اشکال ہے کہ:”اگر شوہر نے کسی شير خوار بچی سے عقد کيا ہو توضروری ہے کہ اس کی بيوی اسے دودھ نہ پلائے کيونکہ اگر اسے دودھ پلائے گی تو خود اپنے شوہر کی ساس بن جائے گی اور نتيجتاً اپنے شوہر پر حرام ہو جائے گی۔“هاں، وہ شير خوار بچی اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی، چاہے دودھ اسی شوہر کا ہو یا کسی اور کا جبکہ شوہر اس سے دخول کر چکا ہو۔

مسئلہ ٢ ۵۵ ٧ فقهاء اعلی الله مقامهم کی ایک جماعت نے فتوی دیا ہے :”اگر کوئی چاہے کہ اس کی بهابهی اس کی محرم بن جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی شير خوار بچی سے مثلاً دو دن کے لئے متعہ کرے اور ان دنوں ميں اس کی بهابهی مسئلہ نمبر ٢ ۵ ٣٨ ميں بيان شدہ شرائط کے مطابق اس بچی کو دودھ پلائے، اس طرح وہ اس کی رضاعی ساس بن جائے گی۔“ليکن یہ فتوی اشکال سے خالی نہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵۵ ٨ اگر مرد کسی عورت سے عقد کرنے سے پهلے کهے کہ رضاعی ہونے کی وجہ سے یہ عورت اس پر حرام ہوچکی ہے ، مثلاًکهے:”ميں نے اس کی ماں کا دودھ پيا ہوا ہے ۔“ تو اگر اس کی بات کی تصدیق ممکن ہو تو وہ اس عورت سے شادی نہيں کر سکتا اور اگر شادی کے بعد یہ بات کهے اور عورت بھی اس کی بات کو قبول کرلے تو عقد باطل ہوگا۔ تو اگر مرد نے اس عورت سے نزدیکی نہ کی ہو یا کی ہو ليکن نزدیکی کے وقت عورت جانتی ہو کہ وہ اس مرد پر حرام ہے تو عورت مہر کی حقدار نہ ہوگی، جبکہ اگر نزدیکی کے بعد معلوم ہوکہ وہ اس مرد پر حرام تھی تو مردکے لئے ضروری ہے کہ اس عورت کو وہ مہر دے جو اس جيسی عورتوں کا ہوتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۵ ٩ اگر عورت عقد سے پهلے کهے : ”ميں دودھ پينے کی وجہ سے فلاں مرد پر حرام ہوچکی ہوں۔“ اور اس کی تصدیق کرنا ممکن ہو تو وہ اس مرد سے شادی نہيں کر سکتی ا ور اگر عقد کے بعد یہ بات کهے تو اس کا حکم وهی ہے جو مرد کے عقد کے بعد کهنے کا تھا جس کا حکم پچهلے مسئلے ميں بيان کيا جا چکا۔

مسئلہ ٢ ۵۶ ٠ وہ دودھ پلانا جو محرم بننے کا سبب ہوتا ہے ، دو طریقوں سے ثابت ہوجاتا ہے :

١) یقين یا اطمينان پيدا ہوجائے۔

٢) دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتيںيا چار عادل عورتيں گواہی دیں، ليکن ضروری ہے کہ ان ميں سے ہر ایک دودھ پلانے کی شرائط کی گواہی بھی دیں، مثلاً گواہی دیں کہ ہم نے دیکھا کہ اس بچے نے ٢ ۴ گهنٹے اس عورت کی چھاتی سے دودھ پيا ہے اور درميان ميں کوئی اور چيز بھی نہيں کهائی اور اسی طرح کی باقی شرائط کی بھی تشریح کریں جن کا ذکر مسئلہ نمبر ٢ ۵ ٣٨ ميں کيا گيا۔

مسئلہ ٢ ۵۶ ١ اگر شک ہو کہ بچے نے اتنا دودھ پيا ہے یا نہيں کہ جس بنا پر وہ محرم بن جائے یا گمان ہو کہ اتنا دودھ پی چکا ہے تو وہ بچہ کسی کا محرم نہيں بنتا اگرچہ بہتر یہ ہے کہ احتياط کی جائے۔


طلاق کے احکام

مسئلہ ٢ ۵۶ ٢ جو مرد اپنی بیوی کو طلاق دے ضروری ہے کہ بالغ ہو اگرچہ دس سالہ لڑکے کا طلاق دینا صحتسے خالی نہيں ہے ليکن ضروری ہے کہ احتياط کی رعایت کی جائے اور(ضروری ہے کہ) عاقل ہو اور اپنے اختيار سے طلاق دے اور اگر اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کيا جائے اور طلاق دے تو طلاق باطل ہے اورطلاق دینے کا ارادہ بھی ضروری ہے لہٰذا اگر طلاق کا صيغہ مزاحا کهے تو طلاق صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۶ ٣ ضروری ہے کہ عورت طلاق کے وقت حےض و نفاس کے خون سے پاک ہو اور شوہر نے اس پاکی ميں اس کے ساته نزدےکی نہ کی ہو اور ان دو شرائط کی تفصيل آئندہ مسائل ميں بيان ہوگی۔

مسئلہ ٢ ۵۶۴ عورت کو تین صورتوں ميں حےض و نفاس کی حالت ميں طلاق دینا صحيح ہے :

١) اس کے شوہر نے نکاح کے بعد اس سے نزدےکی نہ کی ہو۔

٢) معلوم ہو کہ حاملہ ہے اور اگر معلوم نہ ہو اور اس کو اس کا شوہر حےض کی حالت ميں طلاق دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ حاملہ تھی تو احتياط واجب ہے کہ اسے دوبارہ طلاق دے۔

٣) غائب ہونے کی وجہ سے مرد معلوم نہ کرسکتا ہو کہ اس کی بیوی حےض و نفاس سے پاک ہے یا نہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵۶۵ اگر عورت کو خون حےض سے پاک سمجھتے ہوئے طلاق دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ طلاق دیتے وقت وہ حالت حےض ميں تھی تو اس کی طلاق باطل ہے اور اگر اسے حالت حےض ميں سمجھتے ہوئے طلاق دے اور بعد ميں معلوم ہو کہ وہ پاک تھی تو طلاق صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۶۶ جس شخص کو معلوم ہو کہ اس کی بیوی حالت حےض یا نفاس ميں ہے اگر وہ غائب ہوجائے مثلاً سفر پر چلا جائے اور طلاق دینا چاہے اور اس کی حالت پر اطلاع حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ جب تک اسے اپنی بیوی کے پاک ہونے کا یقین یا اطمينان نہ ہو جائے صبر کرے اور بعد ميں اسے طلاق دے۔

مسئلہ ٢ ۵۶ ٧ اگر کوئی غائب شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اگر اپنی بیوی کے بارے ميں معلوم کرسکتا ہو کہ حےض یا نفاس کی حالت ميں ہے یا نہيں تو ضروری ہے کہ جس طریقے سے بھی اسے یقین یا اطمينان حاصل ہو اس کے ذریعے معلوم کرے اور اگر معلوم نہ کرسکتا ہو تو اپنی غيبت کے ایک مهينے بعد اسے طلاق دے سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵۶ ٨ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے جبکہ وہ حےض و نفاس سے پاک ہو ہم بستری کرے اور اسے طلاق دینا چاہے تو ضروری ہے کہ اتنا انتظار کرے کہ وہ دوبارہ حےض دےکهنے کے بعد پاک ہوجائے ليکن وہ بیوی جو نو سال کی نہ ہوئی ہو یا معلوم ہو


کہ حاملہ ہے اگر ان کو نزدےکی کرنے کے بعد طلاق دے تو اشکال نہيں ہے اور اگر یائسہ ہو تب بھی یهی حکم ہے اور یائسہ کے معنی مسئلہ نمبر ۴۴ ١ ميں بيان ہو چکے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵۶ ٩ اگر ایسی عورت سے ہم بستری کرے جو حےض و نفاس سے پاک ہو اور اس پاکی کے دوران اسے طلاق دے دے تو اگر بعد ميں معلوم ہوجائے کہ بوقت طلاق حاملہ تھی تو احتياط واجب کی بنا پر اسے دوبارہ طلاق دے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧٠ اگر ایسی عورت سے ہم بستری کرے جو حےض ونفاس سے پاک ہو اور پھر غائب ہوجائے مثلاً سفر کرے تو اگر سفر ميں اسے طلاق دینا چاہے اور اس کی حالت کے بارے ميں اطلاع حاصل نہ کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ ایک مهينہ صبر کرے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧١ اگر مرد اپنی ایسی بیوی کو طلاق دینا چاہے جسے پيدائشی طور پر یا کسی عارضی وجہ سے حےض نہ آتا ہو تو جب سے اس نے اس عورت سے ہمبستری کی ہے تین ماہ تک اس سے ہم بستری کرنے سے اپنے آپ کو روکے رکھے اور اس کے بعد اس کو طلاق دے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧٢ ضروری ہے کہ طلاق صحيح عربی صيغے اور لفظ ”طالق“ سے پڑھی جائے اور دو عادل مرد اسے سنيں اور اگر شوہر خود صيغہ طلاق جاری کرنا چاہے اور اس کی بیوی کا نام مثلا فاطمہ ہو تو یوں کهے ”زَوْجَتِیْ فَاطِمَةُ طَالِقٌ“ یعنی میر ی بیوی فاطمہ آزاد ہے اور اگر کسی دوسرے کو وکيل کرے تو وہ وکيل کهے ”زَوْجَةُ موَکِّلِی فَاطِمَةُ طَالِقٌ“ اور جب عورت معين ہو تو نام ذکر کرنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧٣ جس عورت کے ساته متعہ کيا گيا ہو مثلاً ایک ماہ یا ایک سال کے لئے اس سے عقد کيا گيا ہو تو اس کی طلاق نہيں ہے اور اس کی جدائی اس طرح ہے کہ یا مدت تمام ہوجائے یا مرد اسے مدت بخش دے مثلاً کهے ميں نے تجهے مدت بخشی اور گواہ قرار دینا اور عورت کا حےض و نفاس سے پاک ہونا لازم نہيں ہے ۔

طلاق کی عدت

مسئلہ ٢ ۵ ٧ ۴ نو سال سے کم عمر عورت اور یائسہ عورت کی کوئی عدت نہيں ہے ، یعنی اگرچہ شوہر نے اس سے ہم بستری کی ہو وہ طلاق کے فوراً بعد ہی کسی سے شادی کرسکتی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧ ۵ جس عورت کی عمر نو سال ہوگئی ہو اور وہ یائسہ بھی نہ ہو اگر اس کا شوہر اس سے ہم بستری کرے اور طلاق دے دے تو طلاق کے بعد ضروری ہے کہ عدت رکھے اور ایسی آزاد عورت کی عدت جو مستقےم اور متعارف طریقے پر حےض دےکهتی ہو یعنی ایسی عورت نہيں ہے جو تین یا چار مهينے ميں ایک بار حےض دےکهتی ہے ، یہ ہے کہ جب وہ طهارت کے عالم ميں ہو اور


اس پاکی کے دوران اس کے شوہر نے اس سے ہمبستری نہ کی ہو اور اس پاکی ميں ہی طلاق دے دے جب کہ وہ طلاق کے بعد بھی چاہے ایک لمحہ ہی سهی، پاک رہی ہو، تو اس کی عدت يہ ہے کہ اتنا صبر کرے کہ دوبارہ حےض دےکهنے کے بعد پاک ہوجائے اور جےسے ہی تےسرا حےض دےکهے اس عورت کی عدت تمام ہوجائے گی۔ لہٰذا اب وہ نکاح کرسکتی ہے ليکن اگر اس سے نزدےکی کئے بغير طلاق دی ہو تو عدت نہيں ہے یعنی وہ فوراً نکاح کرسکتی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧ ۶ جس عورت کو حےض نہ آتا ہو اور اس کی عمر ان عورتوں کی عمر ہو جن کو حےض آتا ہے تو اگر اس کا شوہر ہم بستری کرنے کے بعد اس کو طلاق دے تو ضروری ہے کہ طلاق سے تین مهينے تک عدت رکھے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧٧ جس عورت کی عدت تین ماہ ہو اگر اسے ابتدائے ماہ ميں ہی طلاق دی جائے تو تین قمری مهينے یعنی جب سے چاند نظر آیا ہے اس وقت سے لے کر تین ماہ تک عدت رکھے اور اگر مهينے کے درميان اسے طلاق ہوئی ہو تو مهينے کے باقی ایام، اس کے بعد دو مهينے اور اس کے علاوہ جتنے دن پهلے ماہ سے کم تهے اتنے چوتھے مهينے سے گذارے اور احتياط واجب کی بنا پر چوتھے مهينے اتنے دن عدت رکھے کہ ان کامجموعہ پهلے مهينے کے ناقص دنوں کے ساته تےس ہوجائے،مثلا بےسویں دن غروب کے وقت طلاق دے اور يہ مهينہ انتےس دن کا ہو تو ضروری کہ اس ماہ کے باقی نو دن، اس کے بعد دو ماہ اور پھر چوتھے مهينے کے بےس اور احتياط واجب کی بنا پرچوتھے مهينے کے اکےس دن عدت ميں گذارے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧٨ اگر حاملہ عورت کو طلاق دی جائے اور اس کا بچہ زنا سے نہ ہو تو اس کی عدت بچہ پيدا ہونا یا ساقط ہونا ہے ۔ لہٰذا اگر مثلاً طلاق کے ایک گهنٹہ بعد اس کا بچہ پيدا ہو تو اس کی عدت تمام ہوجائے گی۔

مسئلہ ٢ ۵ ٧٩ جس عورت کی عمر نو سال ہوجائے اور وہ یائسہ نہ ہو اور اس کا مثلاً ایک ماہ یا ایک سال کے لئے متعہ ہوجائے تو اگر اس کا شوہر اس سے ہم بستری کرلے اور اس کی مدت پوری ہوجائے یا شوہر اسے مدت بخش دے تو ضروری ہے کہ دو حےض کی مقدار ميں عدت رکھے اور نکاح نہ کرے اور حےض نہ آتا ہو تو پینتالےس روز عدت رکھے اور اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت يہ ہے کہ بچہ پيداہوجائے یا ساقط ہوجائے اور احتياط مستحب يہ ہے کہ بچہ جننے اور پینتالےس دن ميں سے جو زیادہ ہو اتنی مدت تک عدت ميں رہے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨٠ طلاق کی عدت اس وقت شروع ہوتی ہے جب طلاق کا صيغہ مکمل ہوجائے چاہے عورت کو معلوم ہو کہ اسے طلا ق ہوئی ہے یا معلوم نہ ہو۔ لہٰذا اگر عدت تمام ہونے کے بعد اسے معلوم ہو کہ اسے طلاق دے دی گئی تھی تو ضروری نہيں ہے کہ دوبارہ عدت رکھے۔


اس عورت کی عدت جس کا شوهر مر گيا ہو

مسئلہ ٢ ۵ ٨١ جس عورت کا شوہر مر گيا ہو اگر حاملہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ چار مهينے دس دن عدت رکھے یعنی نکاح کرنے سے گرےز کرے چاہے اس کے شوہر نے اس سے نزدےکی کی ہو یا نہ کی ہو اور چاہے نابالغ ہو یا بالغ ہو اور چاہے یائسہ ہو یا یائسہ نہ ہو اور چاہے اس کا عقد نکاح دائمی ہو یا موقت ہو۔اور اگر حاملہ ہو تو ضروری ہے کہ بچہ متولد ہونے تک عدت رکھے، ليکن اگر چار ماہ اور دس دن گزرنے سے پهلے ہی اس کا بچہ متولد ہوجائے تو ضروری ہے کہ شوہر کی وفات سے چار مهينے دس دن تک عدت رکھے۔اور اسے وفات کی عدت کہتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨٢ آزاد عورت جو عدہ وفات ميں ہو اس پر بدن اور لباس ميں زینت حرام ہے مثلا سرمہ لگانا،عطر استعمال کرنا اور رنگین لباس پهننا۔ البتہ یہ حکم نابالغ اور پاگل عورت پر نہيں ہے اور ولی پر انہيں روکنا واجب نہيں ہے اور جس عورت سے متعہ کيا گيا ہو اور اس کی مدت دو دن یا اس سے کم ہو اس پر زینت کرنا حرام نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨٣ اگر عورت کو یقین ہو کہ شوہر مر گيا ہے اور وہ عدت پوری کرنے کے بعد نکاح کرے پھر معلوم ہو کہ اس کا شوہر بعد ميں مرا تھا تو ضروری ہے کہ دوسرے شوہر سے جدا ہوجائے اور حاملہ ہونے کی صورت ميں احتياط واجب کی بنا پر بچہ پيدا ہونے تک جو طلاق کی عدت ہوتی ہے ، دوسرے شوہر کے لئے طلاق کی عدت رکھے اور اس کے بعد پهلے شوہر کے لئے وفات کی عدت رکھے جبکہ اگر حاملہ نہ ہو تو پهلے شوہر کے لئے عدت وفات اور بعد ميں دوسرے شوہر کے لئے وطی بالشبهہ کی عدت رکھے جو کہ طلاق کی عدت کی طرح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨ ۴ وفات کی عدت کی ابتدا اس وقت سے ہوتی ہے جب عورت کو شوہر کے مرنے کی اطلاع ملے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨ ۵ اگر عورت کهے کہ اس کی عدت مکمل ہوگئی ہے تو اس کی بات قبول کی جائے گی بشرطیکہ طلاق یا شوہر کے مرنے کے بعد اتنا عرصہ گزرگيا ہو کہ جس عرصہ ميں عدت کا مکمل ہونا ممکن ہو۔

طلاق بائن اور طلاق رجعی

مسئلہ ٢ ۵ ٨ ۶ طلاق بائن وہ طلاق ہے جس ميں مرد اپنی بيوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرنے کا حق نہيں رکھتا ہے یعنی اسے عقد نکاح کے بغير اپنے پاس پلٹا نہيں سکتا ہے اور اس کی پانچ قسميں ہيں :

١) اس عورت کی طلاق جس کے نو سال مکمل نہ ہوئے ہوں ٢) یائسہ عورت کی طلاق ٣) اس عورت کی طلاق جس کے شوہر نے نکاح کے بعد اس سے نزدےکی نہ کی ہو ۴) اس عورت کی تےسری طلاق جسے تین دفعہ طلاق دی گئی ہو ۵) طلاق خلع و مبارات ان کے احکامات بعد ميں ذکر ہوں گے اور ان کے علاوہ طلاق رجعی ہے یعنی جب تک عورت عدت ميں ہے اس کا شوہر رجوع کرسکتا ہے ۔


مسئلہ ٢ ۵ ٨٧ جس نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی ہو اس پر حرام ہے کہ اسے اس گھر سے نکالے جس ميں طلاق کے وقت موجود تھی ليکن بعض صورتوں ميں جےسے فحاشی اور عورت کے زنا کرنے کی صورت ميں اسے گھر سے باہر نکالنے ميں اشکال نہيں ہے اور عورت پر بھی حرام ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغير غیر ضروری کاموں کے لئے گھر سے باہر نکلے۔

رجوع کرنے کے احکام

مسئلہ ٢ ۵ ٨٨ طلاق رجعی ميں مرد دو طرح سے اپنی بیوی کی طرف رجوع کرسکتا ہے :

١) کوئی ایسا لفظ کهے کہ جس سے اس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ اسے اپنی زوجيت ميں پلٹا رہا ہے نہ يہ کہ خبردے کہ اس نے اسے اپنی زوجيت ميں پلٹا ليا ہے ۔

٢) رجوع کے قصد سے کوئی ایسا کام کرے جس سے معلوم ہوجائے کہ اس نے رجوع کرليا ہے جےسے چھونا اور بوسہ لینا۔اور نزدےکی کرنے سے بھی رجوع متحقق ہوجاتا ہے اور اگر چہ قصد رجوع سے نہ ہو۔

مسئلہ ٢ ۵ ٨٩ رجوع کرنے کے لئے ضروری نہيں ہے کہ مرد گواہ رکھے ليکن گواہ رکھنا افضل ہے اور اسی طرح عورت کو بھی خبر دینا ضروری نہيں ہے بلکہ اگر کسی کے علم ميں لائے بغير رجوع کرے تب بھی اس کا رجوع صحيح ہے اور اگر دعویٰ کرے کہ ميں نے رجوع کرليا ہے تو اگر عدت ميں ہو تو ثابت کرنا لازم نہيں ہے اور اگر عدت تمام ہونے کے بعد ہو تو ضروری ہے کہ ثابت کرے۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩٠ جس مرد نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی ہو اگر بیوی سے مال لے کر اس بات پر صلح کرلے کہ رجوع نہيں کرے گا تو واجب ہے کہ صلح کی قرارداد کے مطابق عمل کرے، ليکن اگر رجوع کرے تو رجوع صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩١ اگر آزاد عورت کو دو مرتبہ طلاق دے اور ہر مرتبہ رجوع کرے یا اسے دو مرتبہ طلاق دے کر ہر مرتبہ اس سے عقد کرے یا ایک طلاق کے بعد رجوع اور دوسری کے بعد عقد کرے تو تےسری طلاق کے بعد عورت اس پر حرام ہوجائے گی ليکن اگر تےسری طلاق کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کرے تو چند شرائط کے ساته پهلا شوہر حلال ہوجائے گا یعنی اب اس سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے اور وہ شرائط درج ذیل ہيں :

١) دوسرے شوہر کے ساته عقد دائمی کرے اور اگر مدت والا عقد(متعہ) کرے مثلاً ایک مهينہ یا ایک سال کے لئے عقد کرے اور اس سے جدا ہوجائے تو پهلاشوہر اس سے عقد نہيں کرسکتا ہے ۔

٢) دوسرا شوہر اس کے ساته آگے سے نزدےکی کرے اور اس طرح دخول کرے کہ دونوں جماع کی لذت محسوس کریں۔

٣) دوسرا شوہر اسے طلاق دے یا مر جائے۔


۴) دوسرے شوہر کی عدت طلاق یا عدت وفات تمام ہوجائے۔

۵) احتياط واجب کی بنا پر دوسرا شوہر بالغ ہو۔

طلاق خلع

مسئلہ ٢ ۵ ٩٢ جس عورت کو اپنے شوہر سے کراہت ہو اور خوف ہو کہ وہ اس کے واجب حقوق کی رعایت نہ کرسکے گی اور حرام ميں مبتلا ہوجائے گی اور وہ اپنے شوہر کو مہر یا کوئی دوسرا مال بخشے کہ وہ اسے طلاق دے دے تو اس طلاق کو طلاق خلع کہتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩٣ اگر شوہر خود طلاق خلع کا صيغہ پڑھنا چاہے تو مثلاً اگر اس کی بیوی کا نام فاطمہ ہو تو ما ل لینے کے بعد کهے: ”زَوْجَتِی فٰاطِمَةُ خَلَعْتُهٰا عَلٰی مٰا بَذَلَتْ “ یعنی میر ی بیوی فاطمہ کو اس مال کے بدلے جو اس نے دیا ہے طلاق خلع دیتاہوں۔

اور احتياط مستحب کی بنا پر خلع پر مشتمل جملے کے بعد ”هِیَ طَالِقٌ“ بھی کهے، البتہ بیوی معين ہونے کی صورت ميں نام لینا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩ ۴ اگر عورت کسی کو وکيل کرے کہ اس کا مہر شوہر کو بخشے اور شوہر بھی اسی کو وکيل بنائے کہ اس کی بيوی کو طلاق دے تو اگر مثلاً شوہر کا نام محمد اور بیوی کا نام فاطمہ ہو تو وکيل طلاق کا صيغہ اس طرح پڑھے: ”عَنْ مُوَکِّلَتِی فاٰطِمَةَ بَذَلَتُ مَهْرہا لِمُوَکِّلِی مُحَمَّدٍ لِےَخْلَعَهَا عَلَيہ“ اور اس کے بعد فوراً بعد احتيا ط کی بنا پر موالات عرفی ختم ہونے سے پهلے کهے: ”زَوْجَةُ مُوَکِّلِی خَلَعْتُهَا عَلیٰ مَا بَذَلَتْ“ اور اگر عورت کسی کو وکيل کرے کہ مہر کے علاوہ کوئی چيز شوہر کو بخشے تاکہ وہ طلاق دے تو ضروری ہے کہ وکيل”مَهْرہا “ کے لفظ کے بجائے اس چيز کو ذکر کرے، مثلاً اگر ہزار روپے دئے ہوں تو ضروری ہے کہ کهے: ”بَذَلْتُ اَلْفَ رُوْبِيَةٍ“

طلاق مبارات

مسئلہ ٢ ۵ ٩ ۵ اگر مياں بیوی دونوں ایک دوسرے سے کراہيت رکھتے ہوں اور بیوی مرد کو طلاق دینے کے لئے مال دے تو اس طلاق کو مبارات کہتے ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩ ۶ اگر شوہر مبارات کا صيغہ جاری کرنا چاہے اور مثلاً ا س کی بیوی کا نام فاطمہ ہو تو کهے: ”بَارَا تُْٔ زَوْجَتِیْ فَاطِمَةَ عَلٰی مَا بَذَلَتْ فَهِیَ طَالِقٌ“ یعنی ميں اور میر ی بیوی فاطمہ اس مال کے بدلے ميں جو اس نے مجھے دیا ہے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہيں تو وہ آزاد ہے ، اور اگر کسی اور کو وکيل کرے تو ضروری ہے کہ وکيل کهے ”بَارَا تُْٔ زَوْجَةَ مُوَکِّلِیْ فَاطِمَةَ عَلٰی مَا بَذَلَتْ فَهِیَ طَالِقٌ “ یا کهے: ”عَنْ قِبَلِ مُوَکِّلِیْ بَارَا تُْٔ زَوْجَتَهُ فَاطِمَةَ عَلیٰ مَا بَذَلَتْ فَهِیَ طَالِقٌ “ اور ذکر کئے گئے صيغوں ميں ”فَهی طَالِقٌ“ کو ذکر کرنے کا لزوم احتياط واجب کی بنا پر ہے اور اگر ”عَلیٰ مَا بَذَلَتْ “ کے بجائے ”بِمَا بَذَلَتْ “کهے تو بھی کوئی حرج نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢ ۵ ٩٧ ضروری ہے کہ طلاق خلع و مبارات کے صيغے صحيح عربی ميں پڑھے جائيں، ليکن اگر عورت شوہر کو اپنا مال بخشنے کے لئے اردو ميں کهے: ”ميں نے طلاق حاصل کرنے کے لئے فلاں مال تمہيں بخش دیا“ تو کوئی حرج نہيں ہے اور اگر مرد عربی ميں طلاق نہ دے سکتا ہو تو احتياط واجب ہے کہ وکيل کرے اور اگر وکيل بھی نہ کرسکتا ہو تو جس لفظ سے بھی جو عربی صيغے کے مترادف ہو طلاق خلع یا مبارات دے، صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩٨ اگر عورت طلاقِ خلع کی عدت کے دوران اپنا مال واپس مانگ لے تو شوہر رجوع کرسکتا ہے اور عقد کے بغير اسے دوبارہ اپنی زوجہ بنا سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۵ ٩٩ شوہر جو مال طلاق مبارات کے لئے ليتا ہے ضروری ہے کہ مہر سے زیادہ نہ ہو ليکن اگر طلاق خلع ميں مهرسے زیادہ ہو تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

طلاق کے متفرق احکام

مسئلہ ٢ ۶ ٠٠ اگر نا محرم عورت کو اپنی بیوی سمجھ کر اس سے نزدےکی کرے تو ضروری ہے کہ عورت عدت رکھے چاہے عورت کو معلوم ہو کہ اس کا شوہر نہيں ہے یا گمان ہو کہ اس کا شوہر ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠١ اگر ایسی عورت سے زنا کرے جس کے بارے ميں معلوم ہو کہ وہ اس کی بیوی نہيں ہے تو اس کے لئے عدت رکھنا ضروری نہيں ہے ، چاہے اسے معلوم ہو کہ يہ میر ا شوہر نہيں ہے یا گمان ہو کہ شوهرہے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠٢ اگر کوئی مرد کسی عورت کو دهوکہ دے کر اپنے شوہر سے طلاق دلوائے اور وہ عورت اس کی بیوی بن جائے تو طلاق اور عقد صحيح ہيں ليکن دونوں نے گناہ عظےم کيا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠٣ جب بھی عورت عقد کے ضمن ميں شوہر سے شرط کرے کہ اگر شوہر سفر پرجائے یا چھ مهينے تک اسے خرچہ نہ دے تو اس کو طلاق کا حق حاصل ہوگا تو يہ شرط باطل ہے ليکن اگر شرط کرے کہ اگر شوہر سفر پر جائے یا چھ مهينے کا خرچہ نہ دے تو اس کی جانب سے بیوی اپنی طلاق کے لئے وکيل ہوگی اور کيفيت یہ ہو کہ طلاق مشروط ہو، وکالت مشروط نہ ہو تو شرط صحيح ہے اور جب شرط حاصل ہوجائے اور خود کو طلاق دے تو طلاق صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠ ۴ جس عورت کا شوہر گم ہوگيا ہو اگر وہ دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ عادل مجتهد کے پاس جائے اور اس کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠ ۵ جو شخص دائمی پاگل ہو اس کے باپ اور دادا مصلحت کا خيال رکھتے ہوئے اس کی بیوی کو طلاق دے سکتے ہيں ۔


مسئلہ ٢ ۶ ٠ ۶ باپ اور دادا اپنے نابالغ بچے کی دائمی بیوی کو طلاق نہيں دے سکتے ہيں اور اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ بچے کا کسی عورت سے متعہ کریں تو بچے کی مصلحت کا خيال رکھتے ہوئے اس عورت کی مدت بخش سکتے ہيں اگرچہ بچے کے بالغ ہونے کا کچھ زمانہ متعہ کی مدت کا ہو جےسے چودہ سالہ بچے کا کسی عورت سے دو سال کے لئے متعہ کيا گيا ہو۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠٧ اگر مرد کے لئے شریعت کے معين کردہ طریقے سے دو افراد کی عدالت ثابت ہو جائے اور ان کے سامنے عورت کو طلاق دے تو جس شخص کے نزدےک ان کی عدالت ثابت نہ ہو وہ شخص بھی عدت تمام ہونے کے بعد اس عورت سے اپنا یا کسی اور کا عقد کرسکتا ہے ،اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح نہ کرے اور نہ ہی کسی اور کے ساته اس کا نکاح کروائے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠٨ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بتائے بغير طلاق دے تو اگر اس کا خرچہ اسی طرح دیتا رہے جےسے اس کے بیوی ہوتے وقت دیتا تھا اور مثلاً ایک سال کے بعد کهے کہ ميں ایک سال پهلے تجهے طلاق دے چکا ہوں اور شرعاً ثابت بھی کردے تو جس عرصہ ميں وہ اس کی بیوی نہيں تهی، اس عرصہ ميں دیا ہوا نفقہ اگر عورت نے استعمال نہ کيا ہو تو اس کا مطالبہ کرسکتا ہے ليکن وہ چيزیں جو يہ استعمال کرچکی ہے ان کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔

غصب کے احکام

غصب يہ ہے کہ انسان ظلم کرتے ہوئے کسی کے مال یا حق پر مسلط ہوجائے۔ ایسا کرنا بڑے گناہوں ميں سے ہے کہ اگر کوئی انجام دے تو قيامت کے دن سخت عذاب ميں مبتلا ہوگا۔پیغمبر اکرم(ص) سے مروی ہے کہ جو بھی کسی سے ایک بالشت زمين غصب کرے تو اس زمين کو اس کے سات طبقوں کے ساته طوق کی مانند اس کی گردن ميں ڈال دیا جائے گا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٠٩ اگر انسان عام لوگوں کے لئے بنائی گئی مسجد،مدرسہ،پل اور دوسری جگہوں سے لوگوں کو استفادہ نہ کرنے دے تو اس نے ان کا حق غصب کياہے۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب کوئی شخص مسجد ميں اپنے لئے کسی جگہ کا انتخاب کرے اور دوسرا شخص اسے اس جگہ سے استفادہ نہ کرنے دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ١٠ جو شخص کوئی چيز قرض خواہ کے پاس گروی رکھواتا ہے ضروری ہے کہ وہ چيزاسی کے پاس رہے تاکہ قرضہ ادا نہ کرنے کی صورت ميں وہ اپنا قرضہ اس سے حاصل کرلے، لہٰذا اگر قرضہ ادا کرنے سے پهلے اس سے وہ چيز چھین لے تو اس نے اس کا حق غصب کيا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ١١ جو مال کسی کے پاس گروی رکھا گيا ہو اگر کوئی تےسرا شخص اسے غصب کرلے تو اس چيز کا مالک اور قرض خواہ دونوں ہی غصب کرنے والے سے اس چيز کا مطالبہ کرسکتے ہيں ۔ اب اگر وہ چيز ا س سے لے ليں تو پھر بھی وہ گروی ہی رہے گی اور اگر وہ چيز تلف ہوگئی ہو اور اس کا معاوضہ ليں تو وہ معاوضہ بھی اس چيزکی طرح گروی رہے گا۔


مسئلہ ٢ ۶ ١٢ اگر انسان کوئی چيزغصب کرلے تو ضروری ہے کہ اس کے مالک کو واپس کرے اور اگر وہ چيز تلف ہوجائے تو اس کا عوض دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ١٣ اگر غصب شدہ چيز سے کوئی نفع حاصل ہو مثلاً اگر غصب شدہ بھیڑ سے بچہ پيدا ہو تو وہ مالک کی ملکيت ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی نے مکان غصب کيا ہو تو اگرچہ اس ميں رہا ئش اختيار نہ کی ہو تب بھی اس کا کرايہ ادا کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ١ ۴ اگر کسی بچے یا دیوانے سے اس کے مال ميں سے کوئی چيز غصب کرلے تو ضروری ہے کہ اس کے ولی کو لوٹائے اور اگر تلف ہوگئی ہو تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ١ ۵ جب دو آدمی مل کر کسی چيز کو غصب کریں تو اگرہر شخص آدهے حصے پر مسلط ہو تو دونوں آدهے آدهے حصے کے ضامن ہيں اور اگر دونوں پورے پر مسلط ہوں تو ہر ایک پورے کا ضامن ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ١ ۶ اگر غصب شدہ چيز کسی اور چيز سے مخلوط کردے مثلاً غصب کئے ہوئے گندم کو جو سے مخلوط کردے تو اگر ان کو جدا کرنا ممکن ہو، چاہے باعث زحمت ہو، ضروری ہے کہ جدا کرکے مالک کو واپس کرے۔

مسئلہ ٢ ۶ ١٧ اگر انسان ایسی چيزغصب کرے جس ميں کوئی کام کيا گيا ہو مثلاً وہ سونا جس سے گوشوارہ بنایا گيا ہو اور اسے خراب کردے تو ضروری ہے کہ ا س کے مادّے کے ساته اس کام اور صفات کی قيمت بھی مالک کو دے اور اگر خرابی کے بعد مادّہ کی قيمت اس کی پهلی والی قيمت سے کم ہوگئی ہو تو ضروری ہے کہ دونوں قيمتوں کا فرق بھی ادا کرے اور اگر کهے کہ اسے پهلے کی طرح بنادیتا ہوں، تو مالک کے لئے قبول کرنا ضروری نہيں ہے اور مالک بھی اسے پهلے کی طرح کا بنانے پر مجبور نہيں کرسکتا ۔

مسئلہ ٢ ۶ ١٨ اگر غصب شدہ چيز کو اس طرح بدل دے کہ پهلے سے بہتر ہوجائے مثلاً غصب کئے ہوئے سونے کا گوشوارہ بنادے اور مالک کهے کہ اسی طرح واپس کرو، تو ضروری ہے کہ واپس دے دے اور اپنی محنت کی اجرت نہيں لے سکتا۔ اسی طرح مالک کی اجازت کے بغير یہ حق بھی نہيں رکھتا کہ اسے پهلی حالت ميں لے آئے اور اگر بغير اجازت اسے پهلی حالت ميں لے آئے تو اس صفت کی قيمت کا ضامن ہونا محل اشکال ہے اور احوط یہ ہے کہ مصالحت کرے۔

مسئلہ ٢ ۶ ١٩ اگر غصب شدہ چيز کو اس طرح بدل دے کہ وہ پهلے سے بہتر ہوجائے اور مالک کهے کہ اس کو پهلی صورت ميں تبدیل کرو تو واجب ہے کہ اسے پهلی شکل ميں لے آئے اور اگر تبدیلی کی وجہ سے اس کی قيمت پهلی قيمت سے کم ہوجائے تو ضروری ہے کہ قيمت کا فرق بھی مالک کو دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢٠ اگر غصب کی ہوئی زمين ميں زراعت کرے یا درخت لگائے تو زراعت،درخت اور پھل اس کی ملکيت ہے ۔ ہاں، اگر مالک اپنی زمين ميں اس غاصب کی زراعت اور درخت رکھنے پر راضی نہ ہو تو ضروری ہے کہ غاصب فوراً اپنی زراعت اور


درخت زمين سے اکهاڑ لے چاہے نقصان ہی کيوں نہ ہو اور ضروری ہے کہ جتنی مدت زراعت اور درخت اس زمين ميں رہے ہيں اس کا کرايہ ادا کرے بلکہ اس سے بھی پهلے کی مدت یعنی جب سے غصب کيا ہے اس وقت کا کرایہ بھی دے اور جو خرابياں زمين ميں پيدا ہوگئی ہيں انہيں ٹھ ےک کرے مثلاً درختوں کی جگہ پُر کرے اور اگر ان چيزوں کی وجہ سے زمين کی قيمت پهلے کی نسبت کم ہو گئی ہو تو ضروری ہے کہ اس کا فرق بھی دے اور غاصب، زمين کے مالک کو مجبور نہيں کرسکتا کہ زمين اسے بيچ دے یا کرائے پر دے اور زمين کا مالک بھی اس کو مجبور نہيں کرسکتا کہ يہ درخت اور زراعت اسے بيچ دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢١ اگر زمين کا مالک اس بات پر راضی ہو جائے کہ کهيتی اور درخت اس کی زمين پر باقی رہيں تو غصب کرنے والے کے لئے ضروری نہيں ہے کہ انہيں زمين سے اکهاڑے، ليکن ضروری ہے کہ غصب کرنے کے وقت سے راضی ہونے تک کا کرایہ زمين کے مالک کو دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢٢ اگر غصب شدہ چيز تلف ہوجائے اور وہ چيز قےمی ہو یعنی ایسی ہو کہ اس صنف کی اشياء کی خصوصيات ميں ان کی اہميت اور عقلاء کی دلچسپی کے اعتبار سے معمولاً فرق موجود ہو جےسے حیوانات، تو ضروری ہے کہ اس کی قيمت ادا کرے اور اگر اس کی بازاری قيمت غصب سے لے کر ادا کرنے تک مختلف ہوں تو احتياط واجب کی بنا پر غصب سے لے کر تلف کی مدت تک کی قيمتوں ميں سے سب سے زیادہ والی قيمت ادا کرے اور احتياط مستحب ہے کہ غصب سے لے کر ادائيگی کرنے تک کی قيمتوں ميں سے سب سے زیادہ والی قيمت ادا کرے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢٣ اگر غصب شدہ چيز تلف ہوجائے اور مثلی ہو یعنی اس صنف کی اشياء کی خصوصيات ميں ان کی اہميت اور عقلاء کی دلچسپی کے اعتبار سے معمولاً فرق موجود نہ ہو جےسے گندم و جو کی طرح دانے دار چيزیں تو نوعی اور صنفی خصوصيات ميں اسی غصب شدہ چيز کی مثل ادا کرے مثلاً اگر بارش سے سينچی گئی گندم غصب کرے تو اس کے بدلے پانی کے ذریعے سينچی گئی گندم نہيں دے سکتا۔ اسی طرح اگر بارش سے سينچی گئی اعلی گندم غصب کرے تو گھٹيا گندم نہيں دے سکتا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢ ۴ اگر بھیڑ جیسی کوئی چيز غصب کرے اور وہ تلف ہوجائے تو اگر اس کی بازاری قيمت تبدیل نہ ہوئی ہو ليکن جتنا عرصہ اس کے پاس رہی ہو اس عرصہ ميں صحت مندهوگئی ہو تو ضروری ہے کہ صحت مندبھیڑ کی قيمت دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢ ۵ اگر غصب شدہ چيز کو کوئی دوسرا اس سے غصب کرلے اور وہ چيز تلف ہوجائے تو مالک کو حق ہے کہ ان دونوں ميں سے جس سے چاہے پورے مال کا عوض یا بعض کا عوض لے سکتا ہے پس اگر پهلے غاصب سے عوض لے لے تو پهلے نے جو کچھ دیا ہے اس کا مطالبہ دوسرے سے بھی کرسکتا ہے ، البتہ اگر دوسرے سے عوض لے لے تو وہ پهلے سے مطالبہ نہيں کرسکتا ہے ۔


مسئلہ ٢ ۶ ٢ ۶ اگر خریدو فروخت ميں ایسا معاملہ واقع ہو جس ميں معاملہ کی شرائط ميں سے کوئی ایک شرط موجود نہ ہو جےسے جس چيز کی مقدار معلوم ہونا ضروری تھا اسے مقدار جانے بغير فروخت کرے تو معاملہ باطل ہے اور اگر بيچنے اور خریدنے والا معاملے سے قطع نظر کرتے ہوئے اس بات پر راضی ہوجائيں کہ ان ميں سے ہر ایک دوسرے کے مال ميں تصرف کرے تو اس ميں کوئی اشکال نہيں ہے ورنہ جو چيز انہوں نے ایک دوسرے سے لی ہے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کوواپس کردیں اور اگر ہر ایک کا مال دوسرے کے ہاتھ ميں تلف بھی ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے چاہے انہيں معاملے کے باطل ہونے کا معلوم تھا یا نہيں ، لہٰذا اگرتلف شدہ مال مثلی ہو تو اس کا مثل دے اور اگر قےمی ہو تو تلف ہوتے وقت کی قيمت دے اگرچہ احوط يہ ہے کہ مال ہاتھ ميں لینے سے لے کر تلف ہونے تک کی قيمتوں ميں سے سب سے زیادہ والی قيمت دے اور اس سے زیادہ احوط يہ ہے کہ مال ہاتھ ميں لینے سے لے کر قيمت ادا کرنے تک کی قيمتوں ميں سے سب سے زیادہ والی قيمت دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢٧ جب بھی مال فروخت کرنے والے سے دیکھنے یا اپنے پاس رکھنے کے لئے مال لے تاکہ پسند آنے کی صورت ميں اسے خریدسکے اور يہ مال تلف ہوجائے تو اس مال کے عوض کے ضامن ہونے کا حکم لگانا محل اشکال ہے اور احوط يہ ہے کہ مصالحت کرے۔

گرا پڑا مال پانے کے احکام

مسئلہ ٢ ۶ ٢٨ اگر انسان کو حيوان کے علاوہ کوئی ایسا گراپڑا مال ملے جس ميں اس کے مالک کی شناخت کی کوئی علامت، چاہے اسی اعتبار سے کہ وہ مال چند معين افراد ميں سے ایک کا ہے ، موجود ۶ چنے کے برابر سکے دار چاندی سے کم ہو تو اس کے / نہ ہو اور اس کی قيمت ایک درہم یعنی ١٢لئے جائز ہے کہ اسے اٹھ ا کر اپنی ملکيت ميں لے لے اور اس کے مالک کے بارے ميں جستجو کرنا بھی ضروری نہيں ، البتہ احتياط مستحب یہ ہے کہ وہ مال اس کے مالک کی جانب سے کسی فقير کو صدقہ دے دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٢٩ اگر کوئی ایسا مال ملے جس ميں مالک کی کوئی نشانی ہو اور اس مال کی قيمت ایک درہم سے کم ہو تو اگر اس کا مالک معلوم ہو، چاہے اسی اعتبار سے کہ وہ مالک چند معين افراد ميں سے ایک ہے تو جب تک اس کی رضایت کا یقين نہ ہوجائے اس کی اجازت کے بغير نہيں اٹھ ا سکتا، جب کہ اگر اس کا مالک کسی بھی اعتبار سے معلوم نہ ہو تو اسے اپنے لئے اٹھ ا سکتا ہے ، البتہ احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس کا مالک مل جانے کے بعد اگر وہ چيز باقی ہے تو وهی چيز ورنہ اس کا عوض مالک کو دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣٠ اگر انسان کو مالک کی علامت رکھنے والی کوئی چيز ملے، چاہے اس کا مالک مسلمان ہو یا ایسا کافر ہو کہ جس کا مال محترم ہوتا ہے اور اس چيز کی قيمت بھی ایک درہم تک پهنچ جائے تو ضروری ہے کہ چيز ملنے والے دن سے لے کر ایک سال تک لوگوں کے اجتماع کے مقام پر اس کے بارے ميں اعلان کرے۔


مسئلہ ٢ ۶ ٣١ انسان اگر خود اعلان نہ کرنا چاہے تو کسی قابل اطمينان فرد سے کہہ کر بھی اعلان کروا سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣٢ اگر ایک سال تک اعلان کے باوجود مالک نہ ملے اور وہ مال بھی حرم مکہ کے علاوہ کسی اور مقام سے ملا ہو تو چاہے تو وہ اسے اپنے پاس سنبهال کر رکھ سکتا ہے کہ جب بھی اس کامالک ملے گا اسے دے دے گا اور چاہے تو اسے مالک کی طرف سے کسی فقير کو صدقہ دے دے یا خود اسے لے لے، ليکن جب بھی اس کا مالک ملے اس کا حق ہوگا کہ وہ یہ مال مانگ لے۔ البتہ اگر وہ مال حرم ميں ملا ہو تو ضروری ہے کہ اسے مالک کی طرف سے فقرا کو صدقہ دے دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣٣ اگر انسان نے ایک سال تک اعلان کے بعد بھی اس چيز کا مالک نہ ملنے کی صورت ميں اپنے پاس اصل مالک کے لئے سنبهال کر رکھا ہو اور وہ چيز تلف ہوجائے تو اگر اس چيز کی حفاظت ميں کوتاہی بھی نہ کی ہو اور زیادہ روی بھی نہ کی ہوتو ضامن نہيں ہے ، ليکن اگر اسے اپنے لئے ليا ہو اور وہ چيز تلف ہوجائے تو مالک کے ملنے اور مطالبہ کرنے کی صورت ميں ضامن ہے ، جبکہ اگر مالک کی طرف سے صدقہ کرچکا ہو تو مالک کی مرضی ہے کہ وہ اس صدقہ پر راضی ہو جائے یا اپنے مال کا عوض صدقہ دینے والے سے لے لے اور صدقے کا ثواب صدقہ دینے والے کو مل جائے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣ ۴ جس شخص کو مال ملا ہو اور اس نے مذکورہ طریقے کے مطابق اعلان نہ کروایا ہو تو گنهگار ہونے کے باوجود اس کی ذمہ داری ختم نہيں ہوئی اور ضروری ہے کہ بتلائے گئے طریقے پر عمل کرے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣ ۵ اگر کسی پاگل یا بچے کو کوئی ایسی چيز ملے جس کا اعلان کرنا ضروری ہے تو ولی اعلان کرنے کے مذکورہ طریقے پر عمل کر سکتا ہے ، ليکن اگر ولی وہ چيز اس پاگل یا بچے سے لے لے تو پھر اس پر اعلان کرنا واجب ہو جائے گا اور ایک سال گزرنے پر بھی اگر مالک نہ ملے تو ولی کو چاہئے کہ یا تو اس کو اصل مالک کے لئے سنبهال کر رکھے یا پاگل یا بچے کے لئے لے لے یا اصل مالک کی طرف سے صدقہ دے دے اور اگر بعد ميں اس کا مالک ملے اور صدقے پر راضی نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ ولی اپنے مال ميں سے اس کا عوض دے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣ ۶ اگر انسان اعلان کرنے کے سال کے دوران ہی مالک کے ملنے سے نا اميد ہوجائے تو ملے ہوئے مال کو اپنی کی ملکيت ميں لينا تو اشکال رکھتا ہے ليکن اگرچاہے تو اصل مالک کی طرف سے صدقہ دے سکتا ہے ، البتہ احتياط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع سے اجازت لے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣٧ اگر اعلان کے سال کے دوران ہی مال تلف ہوجائے جب کہ مال کی حفاظت کرنے ميں کوتاہی یا زیادہ روی کی ہو تو ضامن ہے ورنہ ضامن نہيں ۔


مسئلہ ٢ ۶ ٣٨ اگر ایسا مال ملے جس کی قيمت تو ایک درہم تک پهنچ جاتی ہو ليکن اس کی پہچان ممکن نہ ہو، مثلاً اس ميں علامت تو ہو ليکن ایسی جگہ سے ملی ہو کہ یقين ہو کہ وہاں اعلان کرنے سے اس کا مالک نہيں ملے گا، یا سرے سے اس ميں کوئی علامت ہی نہ ہو تو پهلے دن سے ہی اس کے مالک کی طرف سے صدقہ دے سکتا ہے جو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے ہو۔

مسئلہ ٢ ۶ ٣٩ اگر انسان کو کوئی چيز ملے جسے اپنی سمجھ کر اٹھ الے اور بعد ميں پتہ چلے کہ وہ اس کی نہيں تھی تو گذشتہ مسائل ميں گمشدہ چيزوں کے بارے ميں بتلائے گئے سارے احکام اس پر لاگو ہوںگے۔

مسئلہ ٢ ۶۴ ٠ اعلان کرتے وقت ضروری نہيں ہے کہ ملنے والی چيز کی جنس کا بھی تذکرہ کرے ، بلکہ اگر اتنا بھی کہہ دے کہ مجھے ایک چيز ملی ہے تو کافی ہے مگر یہ کہ جس کی وہ چيز ہے اس پر تاثير کے اعتبار سے جنس کا اعلان کئے بغير کوئی فائدہ نہ ہو۔

مسئلہ ٢ ۶۴ ١ اگر کسی کو کوئی چيز ملے اور دوسرا کهے کہ یہ ميری ہے اوراس ميں موجود نشانيوں کا تذکرہ بھی کردے تب بھی صرف اسی صورت ميں اسے وہ چيز دے سکتا ہے جب اسے اطمينان ہوجائے کہ یہ اس کی ہے ۔ البتہ ان علامتوں کا تذکرہ ضروری نہيں ہے جن کی طرف عام طور پر مال کے مالک کی بھی توجہ نہيں ہوتی۔

مسئلہ ٢ ۶۴ ٢ اگر کسی کو ملی ہوئی چيز کی قيمت ایک درہم تک پهنچ رہی ہو ليکن وہ شخص اعلان نہ کرے بلکہ اسے مسجد وغيرہ ميں رکھ دے اور وہ چيز تلف ہوجائے یا کوئی اور شخص اسے اٹھ ا لے تو ضامن وهی شخص ہوگا جسے وہ چيز ملی تھی۔

مسئلہ ٢ ۶۴ ٣ اگر انسان کو پھل اور سبزیجات وغيرہ جيسی کوئی چيز ملے جو ایک سال تک باقی رہنے کے قابل نہ ہو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جب تک انہيں کوئی نقصان نہ پهنچے، سنبهال کر رکھے۔ اب اگر اس کا مالک نہ ملے تو حاکم شرع یا اس کے وکيل کی اجازت سے اور اگر ان ميں سے کوئی نہ ہوتو ممکنہ صورت ميں دو عادل مومنين کی اجازت سے اس کی قيمت معلوم کرکے اسے بيچ دے یا خود خرید لے اور اس کی قيمت سنبهال کر رکھ دے اور احتياط واجب یہ ہے کہ چيز ملنے سے ایک سال تک اعلان کرے اور اگر اس کا مالک نہ ملے تو مسئلہ نمبر ٢ ۶ ٣٢ ميں ذکر شدہ طریقے پر عمل کرے۔

مسئلہ ٢ ۶۴۴ جو چيز انسان کو پڑی ہوئی ملی ہو اور وہ وضو و نماز کے وقت انسان کے پاس ہو تو اگر انسان کا ارادہ یہ ہو کہ اس کے مالک کو ڈهونڈ کر اسے دے دے گا تو کوئی حرج نہيں ورنہ اس چيز ميں تصرف کرنا چاہے اپنے پاس رکھنے کا تصرف ہی ہو، حرام ہے ، البتہ صرف اس لئے کہ وہ چيز اس کے پاس ہے اس کے وضو و نماز باطل نہيں ہو جائيں گے۔

مسئلہ ٢ ۶۴۵ اگر کسی شخص کا جوتا چوری ہو جائے اور اس کی جگہ اسے دوسرا جوتا پڑا ہوا ملے اور اسے یقين ہوجائے یا قرائن سے اطمينان آجائے کہ چھوڑا ہوا جوتا اسی جوتا اٹھ انے والے شخص کا ہے اور وہ اس بات پر بھی راضی ہے کہ یہ شخص اپنے جوتے کے عوض اس کا جوتا اٹھ الے، تو یہ شخص اپنے جوتے کے عوض ميں وہ جوتا اٹھ ا سکتا ہے ۔یهی حکم اس وقت بھی ہوگا جب


اسے معلوم ہو کہ اس کا جوتا ناحق اور ظلم کرتے ہوئے اٹھ ایا گيا ہے ، البتہ اس صورت ميں ضروری ہے کہ چھوڑے ہوئے جوتے کی قيمت اس کے اپنے جوتے سے زیادہ نہ ہو ورنہ قيمت کی اضافی مقدار ميں مجھول المالک کا حکم جاری ہوگا۔مذکورہ دوصورتوںکے علاوہ چھوڑے ہوئے جوتے ميں مجھول المالک کا حکم جاری ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶۴۶ اگر انسان کے پاس مجھول المالک کا مال ہویعنی معلوم نہ ہو کہ اس کا مالک، چاہے چند معين کے افراد کے درميان ہی سهی، کون ہے اور اس مال کو گرا پڑا مال نہ کها جا سکے تو ضروری ہے کہ اس کے مالک کے بارے ميں اس وقت تک جستجو کرے جب تک اس کے ملنے سے نا اميد نہ ہو جائے اور مایوسی کے بعد ضروری ہے کہ اسے فقرا کو صدقے کے طور پر دے دے جو کہ احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے ہواور اگر بعد ميں اس کا مالک مل بھی جائے تو ضامن نہيں ہے ۔

جانوروں کو ذبح اور شکار کرنے کے احکام

مسئلہ ٢ ۶۴ ٧ اگر حلال گوشت جانور کو ، چاہے جنگلی ہو یا پالتو، گردن سے یا کسی اور طریقہ سے جس کی تفصيل بعد ميں آئے گی، تذکيہ کيا جائے تو جان نکلنے کے بعد اس کا بدن پاک اور مندرجہ ذیل موارد کے سوا گوشت حلال ہے :

١) ایسا حلال گوشت چار پايہ اور اس کی نسل جس کے ساته کسی بالغ شخص نے بد فعلی کی ہو۔ اگر بد فعلی کرنے والا نابالغ ہو تو بھی احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

٢) وہ حیوان جو انسانی نجاست کھانے کا عادی ہو جب کہ شریعت ميں معين شدہ طریقے کے مطابق اس کا استبرا نہ کيا گيا ہو۔

٣) وہ بکری کا بچہ جس کی ہڈیاں سو رٔنی کا دودھ پی کر مضبوط ہوئی ہوں۔ اور اس کی نسل احتياط واجب کی بنا پر بھیڑ کے بچے کا بھی یهی حکم ہے ۔

۴) وہ بکری یا بھيڑ کا بچہ جس نے سو رٔنی کا دودھ پيا ہو ليکن اس کی ہڈیاں اس سے مضبوط نہ ہوئی ہوں جبکہ شریعت ميں معين طریقے کے مطابق ان کا استبرا نہ کيا گيا ہو۔

مسئلہ ٢ ۶۴ ٨ حلال گوشت جنگلی جانور مثلاً هرن، چکور اور پهاڑی بکری اور ایسے حلال گوشت جانور جو پالتو ہوں ليکن کسی وجہ سے جنگلی بن گئے ہوں مثلاً وہ پالتو گائے اور اونٹ جو بهاگ جانے کی وجہ سے جنگلی ہو گئے ہوں، اگر ان کو آئندہ ذکر ہونے والے طریقے کے مطابق شکار کيا جائے تو وہ پاک اور حلال ہيں البتہ حلال گوشت پالتو جانور مثلاً پالتو بھیڑ ،بکری ، مرغی اور وہ حلال گوشت جنگلی جانور جو تربيت کرنے سے پالتو ہوگيا ہے ،شکار کرنے کی وجہ سے پاک اور حلال نہيں ہوتے۔


مسئلہ ٢ ۶۴ ٩ حلال گوشت جنگلی جانور اسی صورت ميں شکار کرنے سے پاک اور حلال ہوتا ہے جب وہ بهاگ یا اڑ سکتا ہو لہٰذا هرن کا بچہ جو بهاگ نہيں سکتا یا چکور کا بچہ جو اڑ نہيں سکتا، شکار کرنے سے پاک اور حلال نہيں ہوگا اور اگرہرن اور اس کے نہ بهاگ سکنے والے بچے کو ایک ہی تیر سے شکار کریں تو هرن حلال اور بچہ حرام ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶۵ ٠ اگر مچھلی جےسا خون جهندہ نہ رکھنے والا حلال گوشت جانور، آئندہ بيان کئے جانے والے تذکيہ کے طریقے کے علاوہ کسی اور وجہ سے مرجائے تو پاک ہے ليکن اس کا کھانا حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶۵ ١ اگر سانپ جےسے خون جهندہ نہ رکھنے والے حرام گوشت جانور کو ذبح کيا جائے تو حلال نہيں ہوگا ليکن اس کا مردار پاک ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶۵ ٢ کتّا اور سورذبح یا شکار کرنے سے پاک نہيں ہوتے اور ان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے ۔ اور وہ حرام گوشت جانور جو بھیڑ ئے اور چيتے کی طرح درندے اور گوشت خور ہيں اگر انہيں آئندہ بيان کئے جانے والے طریقے کے مطابق ذبح کيا جائے یا تیر وغيرہ سے ان کا شکار کيا جائے تو وہ پاک ہيں ليکن ان کا گوشت حلال نہيں ہوگا اور اگر شکاری کتے کے ذریعے ان کا شکار کيا جائے تو ان کا پاک ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶۵ ٣ ہاتھی،رےچه،اور بندر کو اگر آئندہ بيان کئے جانے والے طریقے کے مطابق ذبح یا تیر وغيرہ سے شکار کيا جائے تو پاک ہيں ليکن چوهے جےسے چھوٹے جانور جو زمين کے اندر رہتے ہيں اگر وہ خون جهندہ رکھتے ہوں اور ان کی جلد قابل استفادہ نہ ہو، ذبح یا شکار کرنے سے پاک نہيں ہوتے ہيں اور اگر ان کی کھال قابل استفادہ ہو تو ان کا پاک ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶۵۴ اگر زندہ جانور کے شکم سے مردہ بچہ باہر نکلے یا نکالا جائے تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے ۔

جانوروں کے ذبح کرنے کا طريقہ

مسئلہ ٢ ۶۵۵ حیوان کو ذبح کرنے کا طریقہ يہ ہے کہ اس کی گردن ميں موجود مری یعنی کھانے کی نالی، حلقوم یعنی سانس کی نالی اور اس پر محيط دو بڑی رگوں کو جنہيں چار رگ کها جاتا ہے ، گلے کے ابهار کی نچلی جانب سے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے اور انہيں صرف کھول دینا کافی نہيں ہوگا ۔

مسئلہ ٢ ۶۵۶ اگر چار رگوں ميں سے بعض کو کاٹ دیں اور حیوان کے مرنے تک صبر کریں اور اس کے بعد باقی کو کاٹيں تو حلال اور پاک نہيں ہوگا اور یهی حکم احتياط واجب کی بنا پر اس وقت بھی ہے جب چاروں رگوں کو جانور کے مرنے سے پهلے کاٹيں ليکن ان کو معمول کے مطابق ایک ساته نہ کاٹيں۔


مسئلہ ٢ ۶۵ ٧ اگر بکری کی گردن کے کچھ حصے کو بھيڑیا اس طرح نوچ لے کہ چار رگيں باقی ہوں یا بدن کے کسی حصے کو نوچ لے ليکن بکری زندہ ہو تو بعد ميں آنے والی شرائط کے مطابق ذبح کرنے کی صورت ميں حلال اور پاک ہوجائے گی اور اگر بکری کی گردن اس طرح نوچے کہ گردن کی جن چار رگوں کو کاٹنا ضروری ہے وہ باقی نہ بچيں تو يہ بکری حرام ہوجائے گی۔ ہاں، اگر کچھ رگوں کو اس طرح نوچے کہ اس سے اوپر یا نيچے سے اس رگ کو کاٹنا ممکن ہو تو اس حیوان کا حلال ہونا محل اشکال ہے ۔

جانور ذبح کرنے کی شرائط

مسئلہ ٢ ۶۵ ٨ جانور ذبح کرنے کی چندشرائط ہيں :

١) جانور ذبح کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمان مرد،عورت یا مسلمان کا ممےز بچہ ہو جو اچھائی اور برائی کو سمجھتا ہے اور اگر کفار،نواصب،خوارج اور وہ غلات جو کافر کے حکم ميں ہيں جيسے حضرت امیر المومنین عليہ السلام کو خدا ماننے والے افراد، حیوان کو ذبح کریں تو وہ حیوان حلال نہيں ہوگا۔

٢) حیوان کا گلا کسی لوهے کی چيز سے ذبح کریں اور لوہا نہ ملنے کی صورت ميں شےشے یا تيز پتّھر جیسی تيز دهار والی چيز سے چار رگوں کو کاٹا جاسکتا ہے ليکن اس صورت ميں احتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جانور ایسی حالت ميں ہو کہ اگر اسے ذبح نہ کيا جائے تو مرجائے یا کسی وجہ سے اس کو ذبح کرنا ضروری ہو۔

٣) ذبح کرتے وقت جانور کے بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ ہو اور جو شخص جانتا ہو کہ جانور کو روبقبلہ ذبح کرنا ضروری ہے اگر عمداً جانور کو روبقبلہ نہ کرے تو جانور حرام ہوجائے گا۔

هاں، اگر بھول جائے یا مسئلہ نہ جانتا ہو یا قبلہ معين کرنے ميں غلطی کرے یا قبلہ کی سمت نہ جانتا ہو یا جانور کو قبلہ رخ نہ کرسکتا ہو اور ذبح کرنا ضروری ہو تو کوئی اشکال نہيں ہے ۔

۴) جب جانور کو ذبح کرنے لگے یا چھری اس کی گردن پر رکھے تو ذبح کرنے کی نيت سے خدا کا نام لے اور بسم الله یا الله اکبر اور ان جےسے ذکر کافی ہيں بلکہ صرف الله کهنا بھی کافی ہے اور اگر ذبح کے قصدکے بغير خدا کا نام لے تو يہ حیوان پاک نہيں ہوگا اور اس کا گوشت حرام ہے ليکن اگر بھول کر خدا کا نام نہ لے تو اشکال نہيں اور احتياط مستحب ہے کہ جب بھی یاد آئے خدا کا نام لے اور کهے: ”بِسْمِ اللّٰہِ عَلیٰ اَوَّلِہ وَ (عَلیٰ) آخِرِہ“۔

۵) حیوان ذبح ہونے کے بعد حرکت کرے اگرچہ وہ اپنی آنکه یا دم جیسی چيز کو حرکت دے یا اپنے پاؤں زمين پر مارے اور يہ حکم اس وقت ہے جب ذبح کرتے وقت جانور کا زندہ ہونا مشکوک ہو ورنہ ضروری نہيں ہے ۔ يہ بھی واجب ہے کہ اس حيوان کے بدن سے اس کے اعتبار سے معمول اور متعارف مقدار ميں خون نکلے۔


۶) احتياط واجب کی بنا پر پرندوں کے علاوہ باقی جانوروں ميں روح نکلنے سے پهلے جانور کی گردن جدا نہ کرے بلکہ يہ کام پرندوں ميں بھی محل اشکال ہے ۔ ليکن اگر غفلت یا چاقو کے تيز ہونے کی وجہ سے سر جدا ہوجائے تو اشکال نہيں ہے ۔

اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر اس سفيد رگ کو بھی جو گردن کے مهروں سے دم تک جاتی ہے اور جسے حرام مغز کہتے ہے ، عمداً جدا نہ کرے ۔

٧) احتياط واجب کی بنا پر ذبح کرنے کی جگہ سے ذبح کرے اور گدّی سے ذبح نہ کرے۔ اسی طرح احتياط واجب کی بنا پر جائز نہيں ہے کہ چاقو رگوں کے نيچے گهونپ کر باہر کی جانب رگوں کو جدا کرے۔

اونٹ نحر کرنے کا طريقہ

مسئلہ ٢ ۶۵ ٩ اگر اونٹ کو نحر کرنا چاہيں تاکہ مرنے کے بعد پاک اور حلال ہو تو ضروری ہے کہ حیوان ذبح کرنے کی شرائط کے ساته لوهے کی چھری یا لوهے کی کوئی اور چيز جو تيز ہو، سینہ اور گردن کے درميانی حصے ميں گهونپ دے۔

مسئلہ ٢ ۶۶ ٠ جب چھری اونٹ کی گردن ميں گهونپناچاہيں تو بہتر ہے کہ اونٹ کهڑا ہو ليکن اگر اس نے اپنے زانو زمين پر رکھے ہوں یا پهلو کے بل اس طرح ليٹا ہوا ہو کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ روبقبلہ ہو اور اس کی گردن کی نشيب والی جگہ ميں چھری گهونپ دی جائے تو کوئی اشکال نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶۶ ١ اگر اونٹ کی گردن کے نشيب ميں چھرا گهونپنے کے بجائے اسے ذبح کریں یا بکری اور گائے جےسے جانوروں کو ذبح کرنے کے بجائے نحر کریں تو ان کا گوشت حرام اور بدن نجس ہے ، ليکن اگر ذبح کرنے کے بعد اونٹ زندہ ہو اور اس کی گردن کے نشيب والے حصے ميں چھرا گهونپ دیا جائے تو اس کا گوشت حلال اور بدن پاک ہے اور اگر بکری اور گائے جےسے جانور کو نحر کرنے کے بعد مرنے سے پهلے ذبح کردیا جائے تو حلال اور پاک ہيں ۔

مسئلہ ٢ ۶۶ ٢ اگر حیوان سرکش ہو جائے اور اس کو شریعت کے معين شدہ طریقہ سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو یا کنویں ميں گرنے کی وجہ سے احتمال ہو کہ وہيں مرجائے گا اور اس کو وہاں شرعی طریقہ سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے جس حصے کو بھی تلوار،نےزہ یا خنجر جیسی چيز سے زخم لگایا جائے اور اسی زخم کی وجہ سے مرجائے تو حلال ہوجائے گا اور اس کا روبقبلہ ہونا ضرورری نہيں ہے ليکن ضروری ہے کہ حیوان ذبح کرنے کی دوسری شرائط موجود ہوں۔


وہ چيزيں جو حےوان ذبح کرتے وقت مستحب ہيں

مسئلہ ٢ ۶۶ ٣ حیوان ذبح کرنے ميں چند چيزیں مستحب ہيں :

١) بکرا ذبح کرتے وقت اس کے آگے کی دو اور پےچهے کی ایک ٹانگ باندهی جائے اور گائے ذبح کرتے وقت اس کی چاروں پیر بندهے ہوئے ہوں اور دم کهلی ہو اور بیٹھے ہوئے اونٹ کو نحر کرتے وقت اس کے دونوں اگلے پیر نيچے سے زانو یا بغل کے نيچے تک ایک دوسرے سے بندهے ہوئے ہوں اور پےچهے والے پیر کهلے رہيں اور مستحب ہے کہ پرندے کو ذبح کرنے کے بعد چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ پهڑپهڑا سکے۔

٢) جانور کو ذبح کرنے والا شخص قبلہ رخ ہو۔

٣) جانور کو ذبح کرنے سے پهلے اس کے سامنے پانی رکھا جائے۔

۴) ایسا انتظام کریں کہ جانور کو تکلےف کم سے کم ہو، مثلاً چھری اچھی طرح تيز کریں اور جانور کو جلدی جلدی ذبح کریں۔

وہ چيزیں جو جانور کو ذبح کرنے ميں مکروہ ہيں

مسئلہ ٢ ۶۶۴ چند چيزیں جانور ذبح کرنے ميں مکروہ ہيں :

١) بنا بر مشهور روح نکلنے سے پهلے حیوان کی کھال اُتارنا اور احتياط واجب یہ ہے کہ اس کام کو ترک کردیا جائے۔

٢) جانور کو ایسی جگہ ذبح کرنا جهاں اس جےسا کوئی دوسرا جانور اسے دےکه رہا ہو جےسے بھیڑ ،بکری اور اونٹ کو دوسرے بھیڑ ،بکری اور اونٹ کے سامنے ذبح کرنا جبکہ وہ اسے دےکه رہے ہوں۔

٣) حيوان کو رات کے وقت ذبح کرنا، مگر یہ کہ اس کے مرجانے کا خوف ہو۔ یهی حکم جمعہ کے دن زوال سے پهلے کا ہے ، البتہ اگر ضروری ہو تو کوئی حرج نہيں ۔

۴) انسان اپنے پالے ہوئے جانور کو خود ذبح کرے۔

اسلحہ سے شکار کرنے کے احکام

مسئلہ ٢ ۶۶۵ اگر حلال گوشت رکھنے والے جنگلی جانور کا اسلحے سے شکار کيا جائے اور وہ مرجائے تو پانچ شرائط کے ساته وہ حلال ہوجاتا ہے اور اس کا بدن پاک ہوتا ہے :

١) شکار ميں استعمال کيا جانے والا اسلحہ چھری اور تلوار کی طرح کاٹنے والا ہو یا نيزے اور تير کی طرح تيز ہو۔ اگر جال لکڑی یا پتّھر وغيرہ سے جانور کا شکار کيا جائے تو جانور پاک نہيں ہوتااور اس کا کھانا بھی حرام ہے ۔اگر جانور کو گولی سے شکار کيا جائے اور گولی ایسی تيز ہو کہ جانور کے بدن ميں گهس جائے اور اسے چير دے تو جانور پاک اور حلال ہے ليکن اگر گولی تيز نہ ہو بلکہ پریشر کی وجہ


سے جانور کے بدن ميں گهس کر اسے ماردے یا اپنی حرارت کی وجہ سے جانور کے بدن کو جلادے اور جانور اس وجہ سے مر جائے تو جانور کا پاک اور حلال ہونا محل اشکال ہے ۔

٢) شکاری مسلمان ہو یا مسلمان کا ایسا بچہ ہو جو اچھے اور برے کی پہچان رکھتا ہو۔ لہٰذا کفار یا وہ افراد جو کافر کے حکم ميں ہيں جيسے نواصب، خوارج یا غلات مثلاً وہ افراد جو امير المومنين عليہ السلام کو خدا مانتے ہيں ، اگر کسی جانور کو شکار کریں تو وہ جانور حلال نہيں ہوگا۔

٣) اسلحہ حيوان کو شکار کرنے کے لئے ہی استعمال کيا گيا ہو۔ لہٰذا اگر کسی جگہ کا نشانہ ليا ہو اور اتفاقاً کسی جانور کو لگ جائے تو وہ جانور پاک نہيں ہوگااور اس کا کھانا بھی حرام ہوگا۔

۴) اسلحہ استعمال کرتے وقت خدا کا نام لے۔ اگر جان بوجه کر خدا کا نام نہ لے تو شکار حلال نہيں ہوگا۔ ہاں، اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہيں ۔

۵) جانور کے پاس اس وقت پهنچے جب یا جانور مر چکا ہو یا اس کو ذبح کرنے کا وقت نہ بچا ہو۔ ہاں، اگر اتنا وقت بچا ہو اور اسے ذبح نہ کرے یهاں تک کہ جانور مر جائے تو شکار حرام ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶۶۶ اگر دو آدمی شکار کریں جب کہ ان ميں سے ایک قصد کرے اور دوسرا نہ کرے یا ایک مسلمان ہو اور دوسرا کافر یا ان ميں سے ایک خدا کا نام لے اور دوسرا عمداً خدا کا نام نہ لے تو جانور حلال نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶۶ ٧ اگر جانور گولی لگنے کے بعد پانی ميں گر جائے اور انسان جانتا ہو کہ جانور گولی اور پانی دونوں کی وجہ سے مرا ہے تو جانور حلال نہيں ہوگابلکہ اگر یہ یقين نہ ہو کہ جانور صرف گولی کی وجہ سے مرا ہے تو بھی حلال نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶۶ ٨ اگر غصبی کتے یا اسلحے سے جانور کا شکار کرے تو شکار حلال بھی ہوگا اور اس کی ملکيت ميں بھی آجائے گاليکن ایک تو وہ گنهگار ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اسلحہ یا کتے کی اجرت اس کے مالک کو دے۔

مسئلہ ٢ ۶۶ ٩ اگر تلوار یا کسی بھی ایسی چيز سے جس سے شکار صحيح ہے ، مسئلہ نمبر ٢ ۶۶۵

ميں ذکر شدہ تمام شرائط کے ساته کسی جانور کا شکار کرے اور حيوان کے اس طرح دو ٹکڑے کردے کہ جانور کا سر اور گردن ایک حصے ميں آجائے اور وہ جانور کے پاس اس وقت پهنچے جب جانور مر چکا ہو تو دونوں حصے حلال ہوں گے۔ یهی حکم اس وقت بھی ہے جب جانور زندہ ہو ليکن اس کوذبح کرنے کا وقت نہ بچا ہو۔ ليکن اگر ذبح کرنے کا وقت بچا ہو اور یہ ممکن ہو کہ جانور ابهی کچھ دیر اور زندہ رہے گاتو جس حصے ميں سر اور گردن نہيں ہيں وہ حصہ تو حرام ہے اور سرو گردن والے حصے کو اگر شریعت ميں مقررہ طریقے کے مطابق ذبح کر دیا جائے تو حلال ورنہ حرام ہے ۔


مسئلہ ٢ ۶ ٧٠ اگر لکڑی، پتّھر یا اور کسی ایسی چيز سے جس سے شکار صحيح نہيں ہے جانور کے دو حصے کردے تو سروگردن کے بغير والا حصہ تو حرام ہے اور جس حصے ميں سر و گردن ہے اگر وہ حصہ زندہ ہو اور اس بات کا امکان ہو کہ جانور ابهی کچھ دیر اور زندہ رہے گا اور اس کو شریعت کے مقررہ طریقے کے مطابق ذبح کر دیا جائے تو وہ حصہ حلال ہو گا ورنہ وہ بھی حرام ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧١ اگر کسی جانور کے بدن سے شکار یا ذبح کرنے کے بعد زندہ بچہ نکلے تو شریعت کے مقرر کردہ طریقے سے ذبح کردینے پر وہ بچہ حلال ورنہ حرام ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧٢ اگر کسی جانور کا شکار کيا جائے یا اسے ذبح کيا جائے اور اس کے بدن سے مردہ بچہ نکلے تو اگر اس بچے کی خلقت مکمل ہو چکی ہو اور اس کے بدن پر بال یا اون آ چکے ہوں اور اس کے مرنے کا سبب بھی اس کی ماں کا شکار ہوجانا یا ذبح ہوجانا ہو اور اس بچے کو ماں کے پيٹ سے نکالنے ميں معمول سے زیادہ تاخير بھی نہ کی گئی ہو تو وہ بچہ پاک اورحلال ہوگا۔

شکاری کتے کے ساته شکار کرنا

مسئلہ ٢ ۶ ٧٣ کتا اگر کسی حلال گوشت جنگلی جانور کا شکار کرے تو چھ شرائط کے ساته وہ جانور پاک اور حلال ہوگا:

١) کتے کی تربيت اس انداز سے کی گئی ہو کہ جب بھی اسے شکار کے لئے بھيجا جائے چلا جائے اور جب بھی اسے روک ليا جائے رک جائے۔ اور احتياط واجب کی بنا پر اس کی عادت یہ ہو کہ مالک کے پهنچنے سے پهلے شکار کو نہ کهاتا ہو ليکن اگر وہ خون پينے کا عادی ہو یا کبهی کبهی گوشت کهاتا ہو تو کوئی حرج نہيں ہے ۔

٢) اسے شکار کے لئے بھيجا جائے ۔ لہٰذا اگر کتا خود سے شکار کے پيچهے جائے اور اس کا شکار کرلے تو اس کا کھانا حرام ہے ، بلکہ اگر کتا خود سے شکار کے لئے جائے اور پيچهے سے مالک آواز لگائے تاکہ کتا اور رفتار سے شکار تک پهنچے اور کتا بھی مالک کی آواز کی وجہ سے تيزی دکھائے، پھر بھی احتياط واجب یہ ہے کہ اس شکار کو نہ کهایا جائے۔

٣) کتے کو شکار پر بھيجنے والا یا مسلمان ہو یا مسلمان کا ایسا بچہ ہو جو بهلے برے کی تميز رکھتا ہو۔لہٰذا اگر کافر، ناصبی، خارجی یا ایسا غالی جو کافر کے حکم ميں ہو، کتے کو شکار پر بھيجے تو اس کتے کا کيا ہوا شکار حرام ہے ۔

۴) کتے کو بھيجتے وقت خدا کا نام لے ۔ لہٰذا اگر جان بوجه کر خدا کا نام نہ لے تو وہ شکار حرام ہے ۔ ہاں، اگر نام لينا بھول جائے تو کوئی حرج نہيں ۔

۵) شکار کيا ہوا جانور کتے کے دانتوں سے لگے ہوئے زخم کی وجہ سے مرے۔ لہٰذا اگر کتا شکار کا گلا گهونٹ دے یا شکار بهاگنے کی وجہ سے یا خوف کے مارے مر جائے تو حلال نہ ہوگا۔


۶) کتے کو شکار پر بھيجنے والا خود شکار کے پاس اس وقت پهنچے جب شکار مر چکا ہو یا زندہ تو ہو ليکن اتنا وقت نہ ہو کہ اسے ذبح کيا جا سکے، البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ اس نے شکار کے پاس جانے ميں سستی نہ کی ہو۔ لہٰذا گر شکار کے پاس اس وقت پهنچے جب اسے ذبح کرنے جتنا وقت باقی ہو اور وہ اس کوذبح نہ کرے یهاں تک کہ وہ جانور مر جائے تو وہ شکار حلال نہ ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧ ۴ کتے کو شکار پر بھيجنے والااگر اس وقت پهنچے جب اسے ذبح کرنا ممکن تو ہو ليکن مثلاً چاقو نکالنے یا ایسے ہی کسی کام ميں سستی برتے بغير ہی وقت گزر جائے اور جانور مر جائے تو وہ حلال ہے ۔ ہاں، اگر اس کے پاس کوئی ایسی چيز ہی نہ ہو جس سے حيوان کو ذبح کيا جاسکے اور حيوان مر جائے تو وہ حلال نہ ہوگا۔ البتہ اگر ایسی صورتحال ميں کتے کو اس پر چھوڑ دے کہ وہ اسے مار دے تو حلال ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧ ۵ اگر کچھ کتوں کو بھيجے جو مل کر جانور کا شکار کریں، جب کہ ان سب ميں مسئلہ نمبر ٢ ۶ ٧٣ ميں بيان شدہ شرائط موجود ہوں تو شکار حلال ہوگا اور اگر ان ميں سے ایک ميں بھی وہ ساری شرائط نہ ہوں تو شکار حرام ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧ ۶ اگر کتے کو کسی جانور کے شکار کے لئے بھيجے اور کتا کسی اور جانور کا شکار کر لے تو وہ جانور حلال اور پاک ہوگا۔نيز اگر اس جانور کے ساته کسی اور جانور کا شکار کر لے تو دونوں حلال اور پاک ہوں گے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧٧ اگر چند افراد مل کر کتے کو شکار کے لئے بھيجيں اور ان ميں سے ایک بھی کافر ہو یا اس پر کافر کے احکام جاری ہوتے ہوں تو وہ شکار حرام ہے ۔ یهی حکم اس وقت ہے جب ان ميں سے کوئی جان بوجه کر خدا کا نام نہ لے اور اگر بھيجے جانے والے کتوں ميں سے ایک بھی تربيت شدہ نہ ہو جيسا کہ مسئلہ نمبر ٢ ۶ ٧٣ ميں بتایا گيا ہے ، تو وہ شکار حرام ہوگا۔

مسئلہ ٢ ۶ ٧٨ اگر شکاری کتے کے علاوہ کوئی جانور جيسے باز یا کوئی اور جانور کسی جانور کا شکار کرے تو وہ شکار حلال نہيں ہے ۔ ہاں، اگر اس جانورکے پاس ایسے وقت ميں پهنچ جائے کہ ابهی حيوان زندہ ہو اور شریعت کی معين کردہ طریقے کے مطابق اسے ذبح کر دیا جائے تو وہ جانور حلال ہوگا۔

مچهلی کا شکار

مسئلہ ٢ ۶ ٧٩ اگر چھلکوں والی مچھلی کو پانی سے اس وقت نکال ليا جائے جب وہ ابهی زندہ ہواور پانی سے باہر آکر مرے تو وہ پاک ہے اور اس کا کھانا حلال ہے ۔جبکہ اگر پانی ميں مر جائے تو پاک ہے ليکن اس کا کھانا حرام ہے ۔هاں، اگر مچهيرے کے جال ميں مر جائے تو اس کا کھانا حلال ہے ۔

البتہ بغير چھلکوں کی مچھلی حرام ہے ، چاہے اسے پانی سے زندہ ہی نکالا جائے اور پانی سے باہر جان دے ۔


مسئلہ ٢ ۶ ٨٠ اگر مچھلی پانی سے باہر آگرے یا موج اسے پانی سے باہر اچھال دے یا پانی زمين ميں چلا جائے اور مچھلی رہ جائے اور کوئی شخص اس کے مرنے سے پهلے اسے ہاتھ یا کسی اور وسيلے سے پکڑ لے تو مرنے کے بعد وہ مچھلی حلال ہوگی۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨١ مچهيرے کا مسلمان ہونا یا مچھلی پکڑتے وقت اس پر خدا کا نام لينا ضروری نہيں ۔

هاں، یہ ضروری ہے کہ مسلمان نے اسے مچھلی پکڑتے ہوئے دیکھا ہو یا کسی اور طریقے سے اسے یقين ہو یا اس کے پاس شرعی دليل ہو کہ مچھلی کو پانی سے زندہ حالت ميں پکڑا گيا ہے یا پانی کے اندر ہی مچهيرے کے جال ميں مری ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨٢ ایسی مردہ مچھلی جس کے بارے ميں معلوم نہ ہو کہ اسے پانی سے زندہ پکڑا گيا ہے یا مردہ، اگر کسی مسلمان کے ہاتھ ميں ہو تو حلال ہے اور اگر کسی کافر کے ہاتھ ميں ہو جب کہ اس نے اسے کسی مسلمان سے نہ ليا ہو توچاہے وہ یہ کهے کہ ميں نے اسے زندہ پکڑا ہے ، حرام ہے ، مگر یہ کہ شرعی گواہی آجائے یا کوئی قابل اعتماد شخص جس کی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو، اس بات کی گواہی دے کہ اسے اس نے پانی سے زندہ پکڑا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨٣ زندہ مچھلی کھانا جائز ہے اگرچہ احوط یہ ہے کہ اس سے پرہيز کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨ ۴ اگر زندہ مچھلی کو بهونا جائے یا پانی سے باہر، جان دینے سے پهلے ہی اسے مار دیا جائے تو اسے کھانا جائز ہے ليکن احتياط مستحب یہ ہے کہ اسے کھانے سے پرہيز کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨ ۵ اگر مچھلی کو پانی کے باہر دو حصوں ميں کاٹ دیا جائے اور اس کا ایک حصہ اسی کيفيت ميں جب ابهی زندہ ہو پانی ميں گر جائے تو احتياط کی بنا پر پانی سے باہر رہ جانے والے حصے کو کھانا جائز نہيں ۔

ٹڈی کا شکار

مسئلہ ٢ ۶ ٨ ۶ اگر ٹڈی کو ہاتھ سے یا کسی اور طریقے سے زندہ پکڑ ليا جائے تو وہ مرجانے کے بعد حلال ہوجاتی ہے ۔یہ ضروری نہيں ہے کہ اسے پکڑنے والا مسلمان ہو یا اسے پکڑتے وقت خدا کانام لے۔ البتہ اگر کسی کافر کے ہاتھ ميں مردہ ٹڈی ہو جسے اس نے کسی مسلمان سے نہ ليا ہو اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس نے اسے زندہ پکڑا ہے یا نہيں تو وہ حرام ہے چاہے کافر کا کهنا ہو کہ اس نے اسے زندہ پکڑا ہے ، مگر یہ کہ اس مسلمان کے پاس شرعی گواہی آجائے یا ایک قابل اعتماد شخص جس کی بات کے برخلاف بات کا گمان نہ ہو، گواہی دے دے کہ کافر نے اسے زندہ پکڑا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨٧ ایسی ٹڈی کھانا حرام ہے جس کے پر نہ نکلے ہوں اور ابهی پرواز کے قابل نہ ہوئی ہو۔


کھانے پینے کی چيزوں کے احکام

مسئلہ ٢ ۶ ٨٨ گھریلو مرغی،کبوتر اور مختلف قسم کی چڑیوں کا گوشت حلال ہے ۔ اور بلبل، مینا اور چنڈول چڑیوں ہی کی اقسام ہيں ۔

چمگادڑ، مور، کوّے کی تمام اقسام اور ہر وہ پرندہ جو شاہے ن، عقاب اور باز کی مانند پنجے رکھتا ہو یا اڑتے وقت پروں کو حرکت کم دیتا ہو اور سید ها زیادہ رکھتا ہو ان کا گوشت حرام ہے ۔ اسی طرح ہر اس پرندے کا گوشت بھی حرام ہے جس کا پوٹا، سنگدانہ اور پاؤں کی پشت کا کانٹا نہ ہو ليکن اگر يہ معلوم ہو کہ اڑتے وقت اس کا پروں کو حرکت دینا سید ها رکھنے کے مقابلے ميں زیادہ ہے تو اس صورت ميں اس کا گوشت حلال ہے ۔

اور ابابيل اور هد هد کو مارنا اور ان کا گوشت کھانا مکروہ ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٨٩ اگر زندہ جانور کے جسم سے ایک ایسے حصّے کو جدا کيا جائے جو روح رکھتا ہو جےسے چربی یا گوشت تو وہ حصّہ نجس اور حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩٠ حلال گوشت حیوانات کے کچھ اجزا حرام ہيں اور ان کی تفصيل کچھ اس طرح ہے :

١) خون

٢) فضلہ(پاخانہ)

٣) عضو تناسل

۴) شرمگاہ

۵) بچہ دانی

۶) غدود

٧) بيضے

٨) وہ چيزجو بهےجے ميں ہوتی ہے اور چنے کے دانے کی شکل کی ہوتی ہے ۔

٩) حرام مغز جو رےڑھ کی ہڈی ميں ہوتا ہے

١٠ ) پِتّہ

١١ ) تلی


١٢ ) مثانہ(پيشاب کی تهيلی)

١٣ ) آنکه کا ڈهيلا احتياط واجب کی بنا پر اس چربی سے جو رےڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف ہوتی ہے اور اس چيز سے جو سُم کے درميان ميں ہوتی ہے ، جسے ذات الاشاجع کہتے ہيں ، اجتناب کرے۔ يہ احتياط چربی ميں زیادہ تاکید کے ساته ہے ۔ اور پرندوں ميں خون و فضلہ جو کہ یقیناً حرام ہيں ، کے علاوہ مذکورہ بالا اشياء ميں سے جو بھی چيز موجود ہو، احتياط واجب يہ ہے کہ ا س کے کھانے سے پرہےز کيا جائے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩١ حرام گوشت جانور کا پيشاب پینا حرام ہے ۔ یهی حکم حلال گوشت جانور کے پيشاب کا ہے اور ہر اس چيز کا کھانا و پینا جائز نہيں ہے جس سے انسان کی طبےعت نفرت کرے، ليکن ضرورت پڑنے پر اونٹ،گائے اور بھیڑ کے پيشاب کو بےماری سے شفا کی خاطر پینے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩٢ مٹی کھانا حرام ہے اور اسی طرح سے احتياط واجب کی بنا پر زمين کے دیگر اجزاءمثلاً خاک،ریت اور پتّھر کا کھانا بھی حرام ہے ، البتہ داغستان کی مٹی اور ارمنی مٹی کو علاج کی غرض سے کھانے ميں اس صورت ميں کوئی حرج نہيں جب علاج اسے کھانے ميں ہی منحصر ہو۔ علاج کی غرض سے تربت حضرت سید الشهداء عليہ السلام کی اتنی تهوڑی مقدار کھانے ميں کوئی حرج نہيں ہے جو ایک معمولی چنے کی مقدار سے زیادہ نہ ہو اور بہتر يہ ہے کہ تربت کو مثلاً پانی ميں حل کرليا جائے تاکہ مٹی ختم ہوجائے اور پھر بعد ميں اس پانی کو پی ليا جائے۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩٣ ناک کا پانی اور سینہ کے بلغم وغيرہ جو منہ ميں آجائيں اس کا نگلنا حرام نہيں ہے ۔

اسی طرح جو غذا خلال کرتے وقت دانتوں کے درميان سے نکلے اگر طبےعت انسان اس سے نفرت نہ کرے تو اس کے نگلنے ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩ ۴ ایسی چيز کا کھانا جو انسان کی موت کا سبب بنے یا انسان کے لئے سخت نقصان کا باعث ہو حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩ ۵ گهوڑے، خچر اور گدهے کے گوشت کا کھانا مکروہ ہے اور اگر کوئی ان سے وطی کرلے تو خود وہ حیوان، اس کی نسل اور اس کے دودھ کا پینا حرام ہوجاتا ہے اور پيشاب اور ليد نجس ہوجاتی ہے اور ضروری ہے کہ ایسے جانوروں کو دوسرے شہر ميں لے جاکر بيچ ڈالا جائے اور وطی کرنے والے کے لئے لازم ہے کہ اس جانور کی قيمت اس کے مالک کو دے اور اگر حلال گوشت جانور مثلاً گائے یا بھیڑ سے وطی کی جائے تو ان کا پيشاب اور گوبر نجس ہوجاتا ہے اور اس کے گوشت کا کھانا اور دودھ کا پینا بھی حرام ہے اور اسی طرح اس کی نسل کا حکم ہے اور ضروری ہے کہ فوراً اس حیوان کو قتل کرکے جلادیا جائے اور وطی کرنے والے کے لئے لازم ہے کہ اس جانور کی قيمت اس کے مالک کو دے۔


مسئلہ ٢ ۶ ٩ ۶ اگر بکری کا دودھ پيتا بچہ سو رٔنی کا دودھ اتنی مقدار ميں پی لے کہ اس کی ہڈیاں اس کے دودھ سے مضبوط ہوجائيں تو وہ خود اور اس کی نسل حرام ہوجاتی ہے اور احتياط واجب کی بنا پر شیر خوار بھيڑکے بچے کابهی یهی حکم ہے ۔ ہاں، اس مقدار سے کم پینے کی صورت ميں احتياط واجب کی بنا پر اس وقت حلال ہوگا جب اس کا استبرا کيا جائے۔ ان جانوروں کا استبرا يہ ہے کہ سات دن تک بکری یا بھیڑ کے تهنوں سے دودھ پيئيں اور اگر انہيں دودھ کی احتياج نہ ہو تو سات دن تک گهاس کهائيں۔

اس حیوان کا بھی گوشت حرام ہے جس نے انسانی نجاست کھانے کی عادت کرلی ہو اور اگر اس کا استبرا کيا جائے تو حلال ہوجاتا ہے اور اس کے استبرا کی کےفيت مسئلہ نمبر ٢٢ ۶ ميں بيان کی جاچکی ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩٧ شراب او دیگر منشيات کا پیناحرام ہے ۔ اس کی مذمت ميں بہت سی روایات آئی ہيں اور ان ميں سے بعض کا مضمون تقرےباً يہ ہے کہ: پروردگار کی نافرمانی نشہ آور چيز پینے سے زیادہ کسی دوسری چيز سے نہيں ہوئی ہے ۔ امام جعفرصادق عليہ السلام سے پوچها گيا کہ شراب کا پینا زیادہ گناہ کا سبب بنتا ہے یا نماز کا ترک کرنا؟ آپ عليہ السلام نے فرمایا شراب کا پینا اس لئے کہ شراب پینے والے کی ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ اپنے پروردگار کو نہيں پہچانتا۔

حضرت رسول اکرم(ص) سے مروی ہے کہ شراب ہر گناہ کی ابتدا ہے ۔

بعض روایتوں ميں شراب پینے کو زنا اور چوری سے زیادہ بدتر شمار کيا گيا ہے اور خدا نے شراب کو اس لئے حرام کيا ہے کہ يہ ام الخبائث اور ہر برائی کی ابتدا ہے ۔

شراب پینے والا اپنی عقل کهو بیٹھ تا ہے ، اس لئے اسے اپنے پروردگار کی پہچان نہيں رہتی اور وہ ہر طرح کے گناہ کا ارتکاب، کسی بھی عزت کی پامالی، کسی بھی قرےبی رشتہ دار سے قطع رحم اور کسی بھی برائی کو انجام دے دیتا ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩٨ ایسے دستر خوان پر بیٹھنا جهاں شراب پی جارہی ہو اس وقت حرام ہے جب انسان کو انہيں کا ایک فرد سمجھا جائے اور ایسے دستر خوان سے کوئی چيز کھانا بھی حرام ہے ۔

مسئلہ ٢ ۶ ٩٩ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو جو بهوک یا پياس کے سبب قرےب المرگ ہو روٹی اور پانی دے اور اس کو مرنے سے بچائے۔


کھانے اور پینے کے مستحبات اور مکروهات

وہ روایات جن پر فتوی دینے کے سلسلے ميں اعتماد کيا گيا ہے گرچہ وہ مستحب اور مکروہ شرعی کو بيان نہيں کررہی ہيں بلکہ اس فائدہ اور نقصان کو بيان کررہی ہيں جو ان امور(یعنی مستحب کے بجالانے اور مکروہ سے بچنے) پر مترتب ہوتے ہيں ۔

مسئلہ ٢٧٠٠ کھانا کھانے کے سلسلے ميں چند چيزیں مستحب ہيں

١)کھانا کھانے سے پهلے دونوں ہاتھ دهوئے۔

٢)کھانا کهالینے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ دهوئے اور رومال سے خشک کرے۔

٣)ميزبان سب سے پهلے کھانا کھانا شروع کرے اور سب کے بعد کھانے سے ہاتھ کهینچے اور کھانا کھانے سے قبل سب سے پهلے ميزبان اپنے ہاتھ دهوئے اور اس کے بعد جو شخص اس کے دائيں طرف بیٹھ ا ہو وہ دهوئے اور اسی طرح سلسلہ وار دهوئيں یهاںتک کہ نوبت اس شخص تک آجائے جو اس کے بائيں طرف بیٹھ ا ہو اور کھانا کھانے کے بعد جو شخص ميزبان کے دائيں طرف بیٹھ ا ہو سب سے پهلے وہ ہاتھ دهوئے اور اسی طرح دهوتے چلے جائيں یهاں تک کہ نوبت ميزبان تک پهنچ جائے۔

۴) کھانا کھانے کی ابتدا ميں بسم الله الرحمن الرحےم پڑھے ليکن اگر دسترخوان پر کئی قسم کے کھانے ہوں تو ان ميں سے ہر غذا کی ابتدا ميں بسم الله پڑھنا مستحب ہے ۔

۵) کھانا سیدہے ہاتھ سے کھائے۔

۶) تین انگلیوں یا اس سے زیادہ سے کھائے اور دو انگلیوں سے نہ کھائے۔

٧)اگر چند لوگ ایک دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو ہر ایک اپنے سامنے سے کھائے۔

٨)چهوٹے چھوٹے لقمہ بنائے۔

٩)دستر خوان پر زیادہ دیر بیٹھے اور کھانا کھانے کو طول دے۔

١٠ )کھانے کو اچھی طرح چبائے۔

١١ )کھانا کهالینے کے بعد پروردگار کی حمد کرے۔

١٢ )انگلیوں کو چاٹے۔

١٣ )کھانا کهالینے کے بعد مسواک کرے ،البتہ انار،رےحان اور سرکنڈہ کی لکڑی سے اور کھجور کے درخت کے پتے سے خلال نہ کرے۔


١ ۴ ) جو غذا دسترخوان سے باہر گرجائے اسے جمع کرے اور کهالے اگر جنگل ميں کھانا کھائے تو مستحب ہے کہ جو کچھ گرے اسے پرندوں اور جانوروں کے لئے چھوڑ دے۔

١ ۵ ) دن اور رات کی ابتدا ميں کھانا کھائے اور دن کے درميان اور رات کے درميان ميں کھانا نہ کھائے۔

١ ۶ ) کھانا کھانے کے بعد پيٹھ کے بل لیٹے اور دایاں پاؤں بائيں پاؤں پر رکھے۔

١٧ )کھانا شروع کرتے وقت اور کهالینے کے بعد نمک چکهے۔

١٨ )پھل کھانے سے پهلے انہيں پانی سے دهولے۔

مسئلہ ٢٧٠١ کھانا کھاتے وقت چند چيزیں مکروہ ہيں :

١) بهرے پيٹ پر کھاناکھانا۔

٢)بہت زیادہ کھانا۔

٣)کھانا کھاتے وقت دوسروں کے منہ کی طرف دےکهنا۔

۴) گرم کھانا کھانا۔

۵) جو چيز کهایا پی رہا ہو اسے پهونک مارنا۔

۶) دسترخوان پر روٹی رکھ دینے کے بعد کسی اور چيز کا انتظار کرنا۔

٧)روٹی کو چھری سے کاٹنا۔

٨)روٹی کو کھانے کے برتن کے نيچے رکھنا۔

٩)ہڈی سے چپکے ہوئے گوشت کو یوں کھانا کہ ہڈی پر بالکل گوشت باقی نہ رہے۔

١٠ )پھل کا چھلکا اتارنا۔

١١ )پھل پورا کھانے سے پهلے پهینک دینا۔

مسئلہ ٢٧٠٢ پانی پینے ميں چند چيزیں مستحب ہيں :

١)پانی چوسنے کے طرز پر پئے۔

٢)دن ميں کھڑے ہوکر پئے۔

٣)پانی پینے سے پهلے بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم اور پینے کے بعد الحمدُ لِلّٰہ کهے۔

۴) پانی تین سانسوں ميں پئے۔


۵) پانی خواہش کے ساته پئے۔

۶) پانی پینے کے بعد حضرت امام حسین عليہ السلام اور ان کے اہل بيت عليهم السلام کو یاد کرے اور ان کے قاتلوں پر لعنت بهےجے۔

مسئلہ ٢٧٠٣ زیادہ پانی پینا ،مرغن کھانے کے بعد پانی پینا،اور رات کو کھڑے ہو کر پانی پینا مذموم شمار کيا گيا ہے ۔ نےز بائيں ہاتھ سے پانی پینا اور اسی طرح کوزے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے اور اس جگہ سے پینا جهاں کوزے کا دستہ ہو مذموم شمار کيا گيا ہے ۔

نذر و عهد کے احکام

مسئلہ ٢٧٠ ۴ نذر يہ ہے کہ انسان خدا (کی رضا) کے لئے اپنے آپ پر واجب کرلے کہ وہ کسی اچھے کام کو بجالائے گا اور کوئی ایسا کام جس کا نہ کرنابہتر ہو ترک کردے گا۔

مسئلہ ٢٧٠ ۵ نذر ميں ضروری ہے کہ صيغہ پڑھا جائے اور عربی ميں پڑھنا ضروری نہيں ہے پس اگر انسان یوں کهے ”اگر میر ا مرےض صحت یاب ہوگيا تو الله تعالیٰ کے لئے مجھ پر ضروری ہے کہ ميں دس روپے فقير کودوں“ تو اس کی نذر صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧٠ ۶ نذر کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ بالغ و عاقل ہو اور اپنے اراداہ و اختيار سے نذر کرے۔ لہذا، اگر کوئی غصے ميں آنے کے سبب بے اختيار نذر کرے یا اسے نذر کرنے پر مجبور کيا جائے تو اس کی نذر صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٠٧ مُفَلَّس یعنی جس شخص کوحاکم شرع نے اپنے اموال ميں تصرف سے روک دیا ہو یا سفيہ یعنی وہ شخص جو اپنے مال کو فضول کاموں ميں خرچ کرتا ہے ، اگرنذر کرے کہ کسی فقير کو مال دیں گے تو نذر صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٠٨ اگر شوہر اپنی بيوی کو نذر کرنے سے روکے تو وہ ایسے کسی کام کی نذر نہيں کرسکتی ہے جس کا پورا کرنا شوہر کے حقوق کے منافی ہو بلکہ اس صورت ميں شوہر کی اجازت کے بغير نذر باطل ہے اور ایسی نذر کے صحيح ہونے ميں اشکال ہے جو عورت اپنے مال ميں شوہر کی اجازت کے بغير کرے جب کہ نذر حج،زکات، ماں باپ سے حسن سلوک اور رشتہ داروں سے صلہ رحم کے علاوہ ہو۔

مسئلہ ٢٧٠٩ اگر عورت شوہر کی اجازت سے نذر کرے تو شوہر نہ ہی اس کی نذر کو ختم کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے نذر پر عمل کرنے سے روک سکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٧١٠ اگر بیٹا باپ کی اجازت کے بغير یا باپ کی اجازت سے نذر کرے تو ضروری ہے کہ اسے پورا کرے ليکن اگر ماں باپ اس عمل کو بجالانے سے روک دیں جس کی اس نے نذر کی ہو تو اس کی نذر صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧١١ انسان اس کام کے لئے نذر کرسکتا ہے جس کا انجام دینا اس کے لئے ممکن ہو لہٰذا اگر کوئی شخص مثلاً پید ل کربلا نہ جاسکتا ہو اور پید ل کربلا جانے کی نذر کرے تو اس کی نذر صحيح نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٧١٢ اگر کوئی شخص کسی حرام یا مکروہ کام کو بجالانے یا کسی واجب یا مستحب کام کو ترک کرنے کی نذر کرے تو اس کی نذر صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧١٣ اگر کوئی شخص کسی مباح کام کو بجالانے یا ترک کرنے کی نذر کرے جبکہ اس کام کا بجالانا یا ترک کرنا ہر اعتبار سے مساوی ہو تو اس کی نذر صحيح نہيں ہے ، اور اگر اس کام کا بجالانا ایک لحاظ سے بہتر ہو اورانسان اسی لحاظ کا قصد کرتے ہوئے نذر کرے مثلاً يہ نذر کرے کہ غذا تناول کروں گا تاکہ عبادت ميں توانائی مل سکے تو اس کی نذر صحيح ہے اور اسی طرح اگر اس کام کو ترک کرنا ایک لحاظ سے بہتر ہو اور انسان اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے نذر کرے کہ اس کام کو ترک کردوں گا مثلاً چونکہ تمباکو صحت کے لئے نقصان دہ ہے اس لئے نذرکرے کہ اسے استعمال نہيں کرے گا تو اس کی نذر صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧١ ۴ اگر انسان نذر کرے کہ اپنی واجب نمازوں کو ایسی جگہ پڑھے گا جهاں بغير کسی وجہ کے نماز پڑھنے سے ثواب ميں اضافہ نہيں ہوتا ہے مثلاً يہ کہ نذر کرے کہ نماز کمرے ميں پڑھے گا تو اگر وہاں نماز پڑھنا کسی لحاظ سے بہتر ہو مثلاً يہ کہ کمرے ميں تنهائی ہے جس کی وجہ سے حضور قلب پيدا ہوگا تو اس کی نذر اس لحاظ کو مدنظر رکھنے کی وجہ سے صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧١ ۵ اگر انسان کسی عمل کو بجالانے کی نذر کرے تو جس طرح نذر کی ہو اسی طریقے سے بجالانا ضروری ہے ۔ لہٰذا اگر نذر کرے کہ مهينے کی پهلی تارےخ کو صدقہ دے گایا روزہ رکھے گا تو اگر اس دن سے پهلے یا بعد ميں اس عمل کو بجالائے تو يہ کافی نہيں ہے اور اسی طرح اگر نذر کرے کہ جب اس کا مرےض صحت یاب ہوجائے گا تو وہ صدقہ دے گاتو اگر مرےض کی صحت یابی سے پهلے صدقہ دے دے تو يہ کافی نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧١ ۶ اگر روزہ رکھنے کی نذر کرے ليکن اس کا وقت معين نہ کرے پس اگر ایک دن روزہ رکھ لے تو يہ کافی ہے اور اگر نماز پڑھنے کی نذر کرے اور اس کی تعداد اور خصوصيات معين نہ کرے تو ایک دو رکعتی نماز پڑھ لينا کافی ہے اور اگر صدقہ دینے کی نذر کرے اور صدقہ کی جنس اور مقدار معين نہ کرے تو اگر ایک ایسی چيز دے دے کہ کها جائے کہ صدقہ دے دیا ہے تو پھر ا س نے اپنی نذر کو پورا کرليا ہے اور اگر نذر کرے کہ قربةً الی الله کوئی کام بجالائے گا تو ایک نماز بجالانے سے یا ایک روزہ رکھنے سے یا کوئی چيز صدقہ دینے سے نذر پوری ہو جائے گی۔

مسئلہ ٢٧١٧ اگر کوئی شخص کسی مخصوص دن ميں روزہ رکھنے کی نذر کرے تو اسی دن روزہ رکھنا ضروری ہے اور جان بوجه کر اس دن روزہ نہ رکھنے کی صورت ميں قضا کے علاوہ کفارہ بھی دینا ضرروی ہے اور يہ کفارہ قسم توڑنے کا کفّارہ ہے جسے مسئلہ نمبر ٢٧٣ ۴ ميں بيان کيا جائے گا ليکن اس دن وہ اس بات کا اختيار رکھتا ہے کہ سفر پر چلا جائے اور روزہ نہ رکھے اور اگر اس دن سفر کی حالت ميں ہو تو ضروری نہيں ہے کہ کسی مقام پر دس دن ٹھ هرنے کا ارادہ کرے اور روزہ رکھے اور اگر سفر یا مرض کی وجہ سے


روزہ نہ رکھے تو قضا کرنا ضروری ہے ۔ اسی طرح اگر حےض کی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو احتياط واجب کی بنا ء پر قضا کرنا ضروری ہے اور بھر حال دونوں صورتوں ميں کفّارہ واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧١٨ اگر انسان حالت اختيار ميں اپنی نذر پر عمل نہ کرے تو کفّارہ دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٧١٩ اگر انسان يہ نذر کرے کہ ایک وقت معين تک کسی عمل کو انجام نہيں دے گاتو اس وقت معين کے گذرنے کے بعد وہ اس عمل کو بجا لا سکتا ہے ور اگر بھولے سے یا مجبوراً وقت معين کے گذرنے سے پهلے اس عمل کو انجام دے دے تو کوئی حرج نہيں ہے ليکن يہ پھر بھی ضروری رہے گا کہ اس وقت تک اس عمل کو انجام نہ دے اور اگر معينہ وقت کے گذرنے سے پهلے دوبارہ بغير کسی عذر کے اس عمل کو انجام دے تو کفّارہ دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٧٢٠ اگر کوئی شخص کسی عمل کو انجام نہ دینے کی نذر کرے ليکن کوئی وقت معين نہ کيا ہو تو اگر بھولے سے یا مجبوراً یا غفلت کی وجہ سے اس عمل کو انجام دے دے تو اس پر کفّارہ واجب نہيں ہے ليکن بعد ميں جب بھی اختياراً اس عمل کو بجالائے تو کفّارہ دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٧٢١ اگر کوئی شخص نذر کرے کہ ہر ہفتے ایک معين دن مثلاً ہر جمعہ کو روزہ رکہوں گا تو اگر اس جمعہ کو عید فطر یا قربان آجائے یا جمعہ کے دن کوئی عذر پےش آجائے مثلاً سفر کرلے یا مرےض ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھے اور اس کی قضا بجالائے اور اگر حےض کی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو احتياط واجب کی بنا پر یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢٧٢٢ اگر کوئی شخص نذر کرے کہ ایک معينہ مقدار ميں صدقہ دے گاپس اگر وہ صدقہ دینے سے پهلے مرجائے تو اس کے مال ميں سے اتنی مقدار صدقہ دینا ضروری نہيں ، ليکن بالغ ورثاء

کے لئے احتياط مستحب يہ ہے کہ وہ اپنے حصے ميں سے اتنی مقدار ميت کی طرف سے صدقہ دے دیں۔

مسئلہ ٢٧٢٣ اگر کوئی شخص کسی خاص فقير کو صدقہ دینے کی نذر کرے تو وہ صدقہ کسی اور شخص کو نہيں دے سکتا اور اگر وہ فقير مر جائے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ اس کے ورثاء کو دے۔

مسئلہ ٢٧٢ ۴ اگر کوئی شخص نذر کرے کہ ائمہ عليهم السلام ميں سے کسی ایک مثلاً حضرت امام حسین عليہ السلام کی زیارت کرے گا تواگر وہ کسی دوسرے امام عليہ السلام کی زیارت کے لئے جائے تو يہ کافی نہيں ہے اور اگر کسی عذر کے سبب اس امام عليہ السلام کی زیارت کو نہ جاسکے تو اس پر کچھ بھی واجب نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٢ ۵ اگر کوئی شخص زیارت کی نذر کرے اور زیارت کے غسل اور نماز کی نذر نہ کرے تو اس کے لئے انہيں بجالانا ضروری نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٧٢ ۶ اگر کوئی شخص ائمہ عليهم السلام یا ان کی اولاد ميں سے کسی ایک کے حرم کے لئے مال خرچ کرنے کی نذر کرے اور کوئی خاص مَصرف مد نظر نہ رکھے تو ضروری ہے کہ اس مال کو حرم کی تعمیر ،روشنی اور قالین وغيرہ جيسے امور پر خرچ کرے۔

مسئلہ ٢٧٢٧ اگر کوئی شخص خود امام عليہ السلام کے لئے کوئی چيز نذر کرے تو جس مدّ ميں خرچ کرنے کا قصد کيا ہو اسی ميں خرچ کرنا ضروری ہے اور اگر معين مَصرف کا قصد نہ کيا ہو تو ضروری ہے کہ ایسی جگہ خرچ کرے جس کی امام عليہ السلام سے نسبت ہو مثلاً اس امام عليہ السلام کے تنگ دست زائرین پر خرچ کرے یا اس امام عليہ السلام کے حرم کے اخراجات ميں صرف کردے مثلاً تعمیر وغيرہ ميں یا ایسی جگہ خرچ کرے جو امام عليہ السلام کی تعظےم و تکرےم کا سبب بنے اور احتياط مستحب يہ ہے کہ اس کے ثواب کو بھی اسی امام عليہ السلام کے لئے هديہ کردے اور اگر کوئی چيز کسی امام عليہ السلام کی اولاد کے لئے نذر کرے تب بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢٧٢٨ جس بھیڑ کو صدقہ کے لئے یا ائمہ عليهم السلام ميں سے کسی ایک کے لئے نذر کيا گيا ہو اگر وہ نذر کے مصرف ميں لائے جانے سے پهلے دودھ دے دے یا بچہ جنے تو نذر کرنے والا اس دودھ اور بچے کا مالک ہوگا البتہ بھیڑ کی اون اور جس مقدار ميں وہ فربہ ہوجائے وہ نذر کا حصہ ہے ۔

مسئلہ ٢٧٢٩ جب بھی کوئی شخص يہ نذر کرے کہ اگر مرےض تندرست ہوگيا یا اس کا مسافر واپس آگيا تو وہ ایک کام کو انجام دے گا۔ پس اگر پتہ چلے کہ نذر کرنے سے پهلے ہی مرےض تندرست ہوگيا ہے یا مسافر واپس آگيا ہے تو نذر پر عمل کرنا ضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٣٠ اگر ماں یا باپ نذر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی سید سے کریں گے تو مکلف ہونے کے بعد لڑکی اس بارے ميں خود مختار ہے اور والدین کی نذر کی کوئی اہميت نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٣١ جب بھی کوئی شخص خدا سے عهد کرے کہ اگر اس کی شرعی حاجت پوری ہوجائے تو وہ کوئی نےک عمل انجام بجالائے گا تو حاجت کے پورا ہوجانے کے بعد نےک عمل کا انجام دینا ضروری ہے ۔ نےز اگر وہ کوئی حاجت نہ ہوتے ہوئے عهد کرے کہ عمل خیر کو بجالائے گا تو اس عمل کا بجالانا اس پر واجب ہوجائے گا۔ یهی حکم احتياط واجب کی بنا پر دونوں صورتوں ميں اس وقت بھی ہے جب وہ ایک مباح عمل ہو۔

مسئلہ ٢٧٣٢ عهد ميں بھی نذر کی طرح صيغہ پڑھا جائے گا اور ضروری ہے کہ جس چيز کا عهد کيا گيا ہو وہ مرجوح(ہر وہ کام جس کا نہ کرنا بہتر ہو) نہ ہو ليکن جس چيز کا عهد کياگيا ہو اس کا راجح ہونا(ہر وہ کام جس کا انجام دینا اس کے ترک کرنے سے بہتر ہو) جس طرح کہ مشهور علما کا نظريہ ہے ،محل اشکال ہے ۔


مسئلہ ٢٧٣٣ اگر کوئی شخص اپنے عهد پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے کفّارہ دینا ضروری ہے یعنی ایک غلام آزاد کرے یا ساٹھ فقيروں کو پيٹ بھر کر کھانا کهلائے یا دو مهينہ مسلسل روزہ رکھے۔

قسم کھانے کے احکام

مسئلہ ٢٧٣ ۴ اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ کسی کام کو انجام دے گا یا کسی کام کو ترک کرے گا مثلاً قسم کھائے کہ روزہ رکھے گا یا تمباکو استعمال نہيں کرے گا، تو اگر جان بوجه کر مخالفت کرے تو کفارہ دینا ضروری ہے یعنی ایک غلام آزاد کرے یا دس فقيروں کو پيٹ بھر کر کھانا کهلائے یا دس فقيروں کو لباس پهنائے اور اگر ان ميں سے کسی ایک کو بھی انجام نہ دے سکتا ہو تو تين روز مسلسل روزہ رکھے۔

مسئلہ ٢٧٣ ۵ قسم کے لئے چند شرائط ہيں :۔

١) ضروری ہے کہ قسم کھانے والا بالغ و عاقل ہو اور اپنے ارادہ و اختيار کے ساته قسم کھائے۔ لہٰذا بچے، پاگل، مست اور اس شخص کا قسم کھانا صحيح نہيں ہے جسے مجبور کيا گيا ہو اور اگر کوئی شخص غصے کے عالم ميں بغير کسی ارادے کے قسم کھائے تو اس کا بھی یهی حکم ہے ۔ سفيہ اور مفَلَّس کا قسم کھانا اُس صورت ميں صحيح نہيں ہے جب اس کی وجہ سے مال ميں تصرف کرنا ضروری ہو رہا ہو۔

٢) ضروری ہے کہ انسان جس کام کو انجام دینے کی قسم کها رہا ہو وہ حرام یا مکروہ نہ ہو اور جس کو ترک کرنے کی قسم کها رہا ہو واجب یا مستحب نہ ہو۔ اور کسی ایسی قسم پر عمل واجب ہونا محل اشکال ہے جو کسی ایسے مباح کام کے بارے ميں ہو جس کا انجام دینا یا نہ دینا دین و دنيا ميں کوئی فائدہ نہ رکھتا ہو ۔

٣) قسم کھانے والا الله تعالیٰ کے ناموں ميں سے کسی ایسے نام کی قسم کھائے جو اس کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لئے استعمال نہ ہوتا ہو مثلاً خدا اور الله۔ اور اگر کسی ایسے نام کی قسم کھائے جو غير خدا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہو ليکن خدا کے لئے اس قدر استعمال ہوتا ہو کہ جب بھی کوئی وہ نام لے تو خدا کی ذات ذهن ميں آتی ہو مثلاً اگر کوئی خالق اور رازق کی قسم کھائے تو یہ قسم بھی صحيح ہے بلکہ اگر کسی ایسے نام کی قسم کھائے جو خدا اور غير خدا دونوں کے لئے بولا جاتا ہو اور خدا کا قصد کرے تب بھی احتياط واجب یہ ہے کہ اس قسم پر عمل کرے۔

۴) قسم کھانے والا قسم کے الفاظ زبان پر لائے اور اگر قسم کو لکھے یا دل ميں ارادہ کرے تو یہ صحيح نہيں ہے ليکن اگر گونگا شخص اشارے سے قسم کھائے تو صحيح ہے ۔


۵) قسم پر عمل کرنا اس کے لئے ممکن ہو اور اگر قسم کھانے کے وقت عمل کرنا ممکن ہو ليکن بعد ميں عاجز ہو جائے تو اس وقت سے اس کی قسم ختم ہو جائے گی اور اگر نذر یا قسم یا عهد پر عمل کرنا ناقابل برداشت مشقت کا باعث بنے تو بھی یهی حکم ہے ۔

مسئلہ ٢٧٣ ۶ اگر باپ بيٹے کو یا شوہر بيوی کو قسم کھانے سے روکے تو ان کی قسم صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٣٧ اگر بيٹا باپ کی اجازت کے بغير اور بيوی شوہر کی اجازت کے بغير قسم کھائے تو باپ اور شوہر ان کی قسم توڑ سکتے ہيں بلکہ ظاہر یہ ہے کہ باپ اور شوہر کی اجازت کے بغير ان کی قسميں صحيح نہيں ہيں ۔

مسئلہ ٢٧٣٨ اگر انسان بھولے سے، مجبوری ميں یا غفلت کی وجہ سے اپنی قسم پر عمل نہ کرے تو اس پر کفارہ واجب نہيں ہے اور اگر اسے مجبور کيا جائے کہ وہ اپنی قسم پر عمل نہ کرے تو بھی اس کے لئے یهی حکم ہے اور وہ قسم جو وسواسی شخص کهاتا ہے مثلاً یہ کهے کہ والله ميں ابهی نماز ميں مشغول ہوتا ہوں اور وسواس کی وجہ سے مشغول نہ ہوسکے تو اگر اس کا وسواس اس قسم کا ہو کہ قسم پر عمل نہ کرنا اس کے اختيار ميں نہ ہو تو اس پر کوئی کفارہ نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧٣٩ اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ ميں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے پس اگر اس کی بات سچی ہو تو اس کا قسم کھانا مکروہ ہے اور اگر اس کی بات جھوٹی ہو تو اس کا قسم کھانا حرام ہے اور یہ بڑے گناہوںميں سے ہے ۔ ليکن اگر وہ اپنے آپ کو یا کسی مسلمان کو ظالم کے شر سے نجات دلانے کی خاطر جھوٹی قسم کھائے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ہے بلکہ بعض اوقات تو جھوٹی قسم کھانا واجب ہو جاتا ہے ۔

هاں اگر توریہ کرسکتا ہو یعنی قسم کھاتے وقت اس طرح نيت کرے کہ جھوٹ نہ ہو تو احتياط واجب یہ ہے کہ توریہ کرے مثلاً اگر ظالم شخص کسی کو اذیت پہچانا چاہے اور انسان سے پوچهے کہ کيا تم نے فلاں شخص کو دیکھا ہے ؟ اور انسان نے اسے ا یک گهنٹہ پهلے دیکھا ہو تو وہ کهے کہ ميں نے اسے نہيں دیکھا ہے اور ارادہ یہ کرے کہ پانچ منٹ پهلے نہيں دیکھا ہے ۔

احکام وقف

مسئلہ ٢٧ ۴ ٠ اگر کوئی شخص کسی چيز کو وقف کر دے تو وہ خود یا دوسرے افراد نہ ہی اس چيز کو بخش سکتے ہيں اور نہ ہی اسے بيچ سکتے ہيں اور کوئی بھی اس وقف شدہ مال ميں سے ميراث نہيں پاتا۔ ليکن بعض صورتوں ميں کہ جن کا ذکر مسئلہ نمبر ٢١٢٢ اور ٢١٢٣ ميں ہوچکا ہے وقف شدہ چيز کا بيچنا صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴ ١ وقف کا صيغہ عربی زبان ميں پڑھنا ضروری نہيں بلکہ اگر کوئی شخص مثال کے طور پر یوں کهے ”ميں نے اپنے گھر کو وقف کر دیا“ تو یہ کافی ہے ۔ اسی طرح عمل سے بھی وقف ثابت ہو جاتا ہے مثلاً کوئی شخص وقف کی نيت اور ارادے سے چٹائی مسجد ميں ڈال دے یا کسی عمارت کو مسجد کے ارادے سے بنائے۔ اور عمومی وقف شدہ چيزیں مثلاً مسجد اور مدرسہ یا وہ چيز


جو فقراء یا سادات وغيرہ کے لئے وقف کی جائے، ایسے وقف کے صحيح ہونے کے لئے کسی کے قبول کرنے کی شرط نہيں ہے بلکہ ایسے وقف ميں جو مخصوص لوگوں کے لئے ہو مثلاً اولاد کے لئے ان ميں بھی اقوی یہ ہے کہ قبول کرنا معتبر نہيں ہے گرچہ احتياط قبول کرنے ميں ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴ ٢ اگر کوئی شخص اپنی کسی چيز کو وقف کرنے کے لئے معين کرے اور وقف کا صيغہ پڑھنے سے پهلے ارادہ بدل دے یا مر جائے تو وقف واقع نہيں ہوگا۔

مسئلہ ٢٧ ۴ ٣ جو شخص کسی مال کو وقف کر رہا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس مال کو وقف کا صيغہ پڑھنے کے وقت سے ہميشہ کے لئے وقف کر دے اور اگر مثال کے طور پر یہ کهے کہ یہ مال ميرے مرنے کے بعد وقف ہے تو یہ صحيح نہيں ہے کيونکہ وقف کے پڑھے جانے کے وقت سے اس کی موت تک یہ چيز وقف نہيں ہوئی ہے اور اگر یہ کهے کہ یہ مال دس سال تک وقف ہے اور پھر نہيں ہے یا یہ کهے کہ یہ مال دس سال تک وقف ہے پھر پانچ سال وقف نہيں ہے پھر دوبارہ وقف ہو جائے گا تو بھی صحيح نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴۴ خصوصی وقف (جس ميں وقف خاص افراد کے لئے ہو) اس وقت صحيح ہوگا جب وقف کرنے والا مال کو اُن افراد کے سپرد کر دے جن کے لئے وقف کيا گيا ہے یا ان کے وکيل یا ولی کے سپرد کر دے ليکن اگر کسی چيز کو اپنے نابالغ بچوں کے لئے وقف کرے اور پھر ان کی جانب سے (بطور ولی) اس چيز کو اپنی تحویل اور اختيار ميں لے لے تو وقف صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴۵ عمومی وقف شدہ چيزوں مثلاً مدارس و مساجد وغيرہ ميں قبضہ دینے کی شرط نہيں ہے گرچہ احوط ہے ۔ قبضہ لينے کا مطلب یہ کہ مثلاً مسجد کے وقف ميں کوئی ایک شخص وہاں نماز پڑھے یا قبرستان کے وقف ميں کوئی شخص وہاں دفن ہو جائے۔

مسئلہ ٢٧ ۴۶ وقف کرنے والے کا بالغ ہونا ضروری ہے اور ایسے مميز بچے کا وقف کرنا جسے ولی کی جانب سے اجازت ہو جب کہ وقف ميں مصلحت ہو اور وقف شدہ چيز کی مقدار معمول کے مطابق ہو تو ایسے وقف کا صحيح ہونا بعيد نہيں ہے ۔ اسی طرح ضروری ہے کہ وقف کرنے والا عاقل ہواور ارادہ کے ساته وقف کرے اور یہ بھی کہ کسی نے اسے مجبور نہ کيا ہو اور شرعاً وہ اپنے مال ميں تصرف کرنے کا حق رکھتا ہو۔لہٰذا سفيہ یعنی وہ شخص جو اپنے مال کو فضول کاموں ميں خرچ کرتا ہے اور اسی طرح مُفَلَّس یعنی وہ شخص جسے حاکم شرع نے اپنے مال ميں تصرف کرنے سے روک دیا ہو، اگر یہ لوگ کسی چيز کو وقف کریں تو یہ وقف نافذالعمل نہيں ہوگا مگر یہ کہ ولی یا اس کے قرض خواہ اسے اجازت دے دیں۔


مسئلہ ٢٧ ۴ ٧ اگر کوئی شخص کسی مال کو ماں کے بطن ميں موجود بچے کے لئے جو ابهی دنيا ميں نہ آیا ہو وقف کرے تو اس وقف کے صحيح ہونے ميں اشکال ہے ليکن اگر کوئی مال ایسے لوگوں کے لئے وقف کيا جائے جو ابهی موجود ہوں اور پھر اِن کے بعد اُن لوگوں کے لئے وقف کيا جائے جو بعد ميں پيدا ہوںگے تو اگر چہ وقف کرتے وقت ماں کے بطن ميں بھی موجود نہ ہوں پھر بھی وقف صحيح ہے مثلاً اگر کوئی شخص کسی چيز کو اپنی اولاد کے لئے وقف کرے کہ ان کے بعد اس کے پوتوں کے لئے وقف ہوگی اور ہر گروہ کے بعد آنے والا گروہ اس وقف سے استفادہ کرے تو وہ وقف صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴ ٨ اگر کوئی شخص کسی چيز کو اپنے آپ پر وقف کرے مثلاً کوئی دکان وقف کر دے تا کہ اس کی آمدنی اس کے مرنے کے بعد اس کے مقبرے پر خرچ کی جائے تو یہ وقف صحيح نہيں ہے ليکن اگر مثال کے طور پر وہ کوئی مال فقراء کے لئے وقف کردے اور پھر خود بھی فقير ہو جائے تو وقف کے منافع سے استفادہ کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۴ ٩ اگر وقف کرنے والا وقف شدہ چيز کے لئے کسی کو متولی بنائے تو اس شے کا اختيار اسی متولی کے لئے ہے جسے وقف کرنے والے نے معين کيا ہے اور اگر کسی کو متولی نہ بنائے اور مال کو مخصوص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کيا ہو تو بالغ ہونے کی صورت ميں وہ لوگ اس سے استفادہ کرنے ميں خود مختار ہيں اور اگر نابالغ ہوں تو اس سلسلے ميں اختيار ان کے ولی کے پاس ہوگا ليکن ایسے تصرفات ميں حاکِم شرع کی اجازت ضروری ہے جن کا تعلق وقف شدہ چيز کی بہتری یا آئندہ نسلوں کی بهلائی سے ہو۔

مسئلہ ٢٧ ۵ ٠ اگر مثال کے طور پر کوئی شخص کسی مال کو فقراء یا سادات کے لئے وقف کرے یا اس نيت سے وقف کرے کہ اس سے ملنے والا نفع بطور خيرات دیا جائے تو اگر اس نے وقف شدہ چيز کے لئے متولی معين نہ کيا ہو تو اس کا اختيار حاکِم شرع کو ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۵ ١ اگر کوئی شخص کسی جگہ کو مخصوص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کرے کہ ایک پشت کے بعد دوسری پشت اس سے استفادہ کرتی رہے تو اگر وقف کا متولی اس مال کو کرائے پر دے دے اور مر جائے تو اجارہ باطل نہيں ہوتا ہے ۔ ليکن اگر اس جگہ کا کوئی متولی نہ ہو اور جن افراد کے لئے وقف کيا گيا ہو ان ميں سے پهلا گروہ اس مال کو کرائے پر دے دے اور کرائے کی مدت کے مابين وہ گروہ مرجائے تو اگر دوسرا گروہ اس اجارے کے جاری رہنے کی اجازت نہ دے تو اجارہ باطل ہو جائے گا اور اگر کرایہ دار نے پوری مدت کا کرایہ ادا کر رکھا ہو تو پهلے گروہ کی موت کے وقت سے اجارے کی مدت کے خاتمے تک کا کرایہ وہ اُن کے مال ميں سے لے سکتا ہے ۔


مسئلہ ٢٧ ۵ ٢ اگر وقف شدہ جائيداد خراب ہو جائے تب بھی وہ وقف شدہ ہی رہتی ہے مگر یہ کہ وقف کسی خاص مقصد کے لئے کيا گيا ہو۔ ایسی صورت ميں اس مقصد کے فوت ہوتے ہی وقف ختم ہو جائے گا جيسے کسی گھر کو رہنے کے لئے وقف کيا جائے پس جيسے ہی یہ مقصد فوت ہوگا وقف باطل ہو جائے گا اور اس چيز کو وقف کرنے والے یا اس کے نہ ہونے کی صورت ميں اس کے ورثاء کی طرف پلٹا دیا جائے گا ۔

مسئلہ ٢٧ ۵ ٣ اگر کسی جائيداد کا کچھ حصّہ بطور مشاع وقف شدہ ہو اور کچھ حصہ وقف نہ ہو تو اگر اس وقف شدہ حصّے کا کوئی معين متولی ہو تو وہ اور غير وقف شدہ حصّہ کا مالک اہل خبرہ کی رائے کے مطابق اس جگہ کی تقسيم کرسکتے ہيں اور متولی نہ ہونے کی صورت ميں حاکم شرع اور غير وقف شدہ حصّہ کا مالک اس جگہ کو تقسيم کریں گے۔

مسئلہ ٢٧ ۵۴ اگر وقف شدہ چيز کا متولی اس ميں خيانت کرے تو حاکم شرع اس کے ساته ایک امين شخص کو معين کرے گا جو اسے خيانت کرنے سے روکے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو حاکم شرع اس متولی کے بجائے کسی دیانتدار متولی کو معين کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۵۵ جو قالين امام بارگاہ کے لئے وقف کی گئی ہو اسے نماز پڑھنے کے لئے مسجد ميں نہيں لے جایا جاسکتا ہے گرچہ وہ مسجد امام بارگاہ کے قریب ہی ہو۔

مسئلہ ٢٧ ۵۶ اگر کسی جائيداد کو مسجد کی مرمت کے لئے وقف کرے جب کہ اس مسجد کو مرمت کی ضرورت نہ ہو اور توقع بھی نہ ہو کہ مسجد کو مرمت کی ضرورت پڑے گی اس طرح سے کہ اس جائيداد کی آمدنی کو مسجد کی مرمت کے لئے سنبهالنا غير عقلائی ہو تو ایسے وقف کا صحيح ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۵ ٧ اگر کوئی شخص کسی جائيداد کو وقف کرے تا کہ اس کی آمدنی کو مسجد کی مرمت پر خرچ کيا جائے اور امام جماعت اور مسجد کے موذن کو دیا جائے تو اگر معلوم ہو یا اطمينان ہو کہ ہر ایک کے لئے کتنی مقدار معين کی ہے تو اس طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے اور اگر یقين یا اطمينان نہ ہو تو ضروری ہے کہ پهلے مسجد کی مرمت کرائی جائے اور اگر کچھ بچ جائے تو احتياط واجب یہ ہے کہ امام جماعت اور موذن اس رقم کی تقسيم ميں ایک دوسرے سے مصالحت کرليں۔

وصيت کے احکام

مسئلہ ٢٧ ۵ ٨ وصيت یہ ہے کہ انسان تاکيد کرے کہ اس کے مرنے کے بعداس کے لئے فلاں فلاں کام کئے جائيں یایہ کهے کہ اس کے مرنے کے بعداس کے مال کی کچھ مقدار فلاں شخص کی ملکيت ہوگی یا یہ کہ یوں کهے کہ اس کے مال کی کچھ مقدار کا کسی کو مالک بنا دیا جائے یااسے وقف کردیاجائے یانيک کاموں ميں صرف کياجائے یااپنی اولادکے لئے اوران لوگوں کے لئے جواس کی کفالت ميں ہوں کسی شخص کونگراں اورسرپرست مقررکرے۔جس شخص کووصيت کی جائے اسے وصی کہتے ہيں ۔


مسئلہ ٢٧ ۵ ٩ جوشخص بول نہ سکتاہواگروہ اشارے سے اپنامقصدسمجھادے تووہ هرکام کے لئے وصيت کرسکتاہے بلکہ جوشخص بول سکتاہواگروہ بھی اس طرح اشارے سے وصيت کرے کہ اس کامقصدسمجھ ميں آجائے تووصيت صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ٠ اگرایسی تحریرملے جس پرمرنے والے کے دستخط یا مہر ثبت ہو تو اگروہ تحریرمرنے والے کے مقصد کو سمجھا رہی ہو اور یہ معلوم ہو کہ اس نے یہ تحریر وصيت کی غرض سے لکھی ہے تواس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ١ ضروری ہے کہ وصيت کرنے والا عاقل ہواور اسے وصيت کرنے پرمجبورنہ کيا گيا ہو۔ دس سالہ بچے کی وصيت اس کے ایک تھائی مال ميں اس وقت نافذالعمل ہوگی جب وہ مميزهو،اس کی وصيت عقلائی ہواوروصيت رشتہ داروں یانيک کا موں کے بارے ميں ہو اور احتياط واجب یہ ہے کہ سات سالہ مميزبچے کی وصيت پرکسی ایسے مصرف ميں جومناسب ہواس کے مال کی کچھ مقدار کوخرچ کرکے وصيت پرعمل کياجائے۔ سفيہ کی وصيت پر عمل کرنا اگر مال ميں تصرف پرموقوف ہوتواس کی وصيت نافذنہيں ہوگی ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ٢ جس شخص نے خودکشی کے قصدسے مثلااپنے آپ کوزخمی کرلياہویازهرکھالياہواوراسی کے سبب وہ مر جائے اس کی وصيت اپنے مال کے بارے ميں صحيح نہيں ہے ۔ البتہ اگر اس کام سے پهلے ہی وصيت کر چکا ہو تو صحيح ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ٣ اگر انسان وصيت کرے کہ اس کے مال ميں سے ایک چيز کسی دوسرے کی ہوگی تو اس صورت ميں جب کہ وہ دوسرا شخص و صيت کو قبول کرلے خواہ اس کا قبول کرنا وصيت کرنے والے کی زندگی ميں ہی کيوں نہ ہو وہ وصيت کرنے والے کے مرنے کے بعد اس چيز کا مالک بنے گا بلکہ ظاہر یہ ہے کہ قبول کرنے کوئی شرط نہيں ہے ۔ ہاں، اگر وہ وصيت کو ٹھ کرا دے تو یہ چيز وصيت کے نافذهونے ميں رکاوٹ ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶۴ جب بھی انسان اپنے آپ ميں موت کی نشانياںدیکھے تو ضروری ہے کہ لوگوں کی امانتو ں کے سلسلے ميں اپنی اس ذمہ داری کے مطابق عمل کرے جومسئلہ نمبر ٢٣٩ ۵ ميں بيان کيا گيا ہے اور اگر لوگوں کا مقروض ہو اور قرض واپس کرنے کا وقت آچکا ہو اور قرض خواہ مطالبہ بھی کررہا ہو تو ضروری ہے کہ انہيں قرضہ اداکردے اور اگروہ خود قرضہ اداکرنے کے قابل نہ ہو یا قرض کی ادائيگی کا وقت نہ آیا ہو یا قرض خواہ ابهی مطالبہ نہ کر رہا ہو تو ضروری ہے کہ اس بات کا اطمينان حاصل کرے کہ قرض ادا کر دیا جائے گا چاہے اس کے لئے وصيت کرے اور اس پر کسی کو گواہ بنائے۔

مسئلہ ٢٧ ۶۵ جو شخص اپنے آپ ميں موت کی نشانياںدیکھ رہا ہو اگر زکات وخمس اور ردّمظالم اس کے ذمے واجب الادا ہو ں اور وہ انہيں فوراً ادا نہ کرسکتا ہو تو اگر اس کے پاس اپنا مال ہو یا احتمال ہو کہ کوئی دوسر اشخص ان چيزوں کی ادائيگی کر دے گا تواس کے لئے ضروری ہے کہ وصيت کرے اور اگر اس پر حج واجب ہو تو اس کے لئے بھی یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ٢٧ ۶۶ جو شخص اپنے آپ ميں موت کی نشانياں دیکھ رہا ہو اگر اس کی نماز اور روزے قضاہوئے ہوں توضروری ہے کہ ان کے بجالانے کے بارے ميں وصيت کرے مثلایہ کہ وصيت کرے کہ اس کے مال سے ان عبادات کی ادائيگی کے لئے کسی کو اجير بنایا جائے اور اگر مال نہ ہو ليکن اس بات کا احتمال ہو کہ کوئی شخص بلا معاوضہ ان عبادات کو بجالائے گا تب بھی اس کے لئے وصيت کرنا ضروری ہے اوراگر اس کی قضانمازیں اورروزے اسی تفصيل کے مطابق جو مسئلہ نمبر ١٣٩٨ ميں گزری ،بڑے بيٹے پر ہوں تواسے اطلاع دینا ضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ٧ جو شخص اپنے آپ ميں موت کی نشانياں دیکھ رہا ہواگر اس کا مال کسی کے پاس ہو یا ایسی جگہ چھپا یا ہو جس کا ورثاء کو علم نہ ہوتو اگر لا علمی کی وجہ سے ورثاء کا حق ضائع ہورہا ہو تو ضروری ہے کہ انہيں اطلاع دے اوراپنے نابالغ بچوں کے لئے نگراں اور سر پرست مقررکرنا ضروری نہيں ہے ليکن اس صورت ميں جب کہ نگران کے نہ ہونے سے بچوں کا مال ضا یع ہورہا ہو یا خود بچے ضائع ہو رہے ہوں توضروری ہے کہ ان کے لئے ایک امين نگران کو مقررکرے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ٨ ضروری ہے کہ وصی عاقل ہو اور احوط یہ ہے کہ بالغ بھی ہو ليکن اگر کسی نابالغ کو وصی کے ساته اس طرح ملا دیا جائے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد اس وصی کے ساته شامل ہوکر کاموں کی انجام دے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔اورمسلمان کے وصی کامسلمان ہونااس وقت ضروری ہے جب وصی بنناکسی دوسرے مسلمان پرحق ولایت ثابت کررہا ہوجيسے موصی کے نابالغ مسلمان بچوں کانگراں اورولی بننا۔

اور ان امورميں جووصيت کرنے والے کے علاوہ کسی اورسے متعلق ہوں،جيسے واجبات کی ادائيگی اورنابالغ بچوں کے مال ميں تصرف وغيرہ ، وصی کاقابل اطمينان ہوناضروری ہے ۔ ليکن وہ امورجوموصی سے مربوط ہوں اورواجبات ميں سے نہ ہوں جيسے موصی کایہ وصيت کرناکہ اس کے ایک تھائی مال کونيک کاموں ميں خرچ کياجائے ، ایسے امورميں وصی کاقابل اطمينان ہوناضروری نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٧ ۶ ٩ اگرکوئی شخص کچھ لوگوں کواپناوصی معين کرے تواگراس نے اجازت دی ہوکہ ان ميں سے هرایک اکيلا بھی وصيت پرعمل کرسکتاہے توضروری نہيں ہے کہ وہ وصيت انجام دینے ميں ایک دوسرے سے اجازت ليں اوراگروصيت کرنے والے نے ایسی کوئی اجازت نہ دی ہوتوخواہ اس نے سب کومل کروصيت پرعمل کرنے کوکهاہویانہ کها ہو، سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کی رائے کے مطابق وصيت پرعمل کریں اوراگرکسی شرعی عذر نہ ہونے کے باوجودوہ لوگ ایک ساته وصيت پرعمل کرنے پرتيارنہ ہوں توحاکم شرع انہيں اس کام پر مجبور کرے گا اور اگر وہ لوگ حاکم شرع کی اطاعت نہ کریں یاکوئی عذرشرعی رکھتے ہوں توحاکم شرع ان ميں سے کسی ایک شخص کے بجائے دوسرے کومعين کرے گا۔


مسئلہ ٢٧٧٠ اگرکوئی شخص اپنی وصيت سے پلٹ جائے مثلا پهلے کهے کہ اس کاایک تھائی مال فلاں شخص کودے دیاجائے اوربعدميں کهے کہ اسے نہ دیاجائے تووصيت باطل ہوجاتی ہے اوراگرکوئی شخص اپنی وصيت ميں تبدیلی کرے مثلاپهلے ایک شخص کواپنے بچوں کانگراں بنائے اوربعدميں کسی اورکونگراں مقررکرے تواس کی پهلی وصيت باطل ہوجائے گی اورضروری ہے کہ اس کی دوسری وصيت پرعمل کياجائے ۔

مسئلہ ٢٧٧١ اگروصيت کرنے والاکوئی ایساکام کرے جس سے پتہ چلے کہ وہ اپنی وصيت سے منصرف ہوگياہے یاکوئی ایساکام کرے جواس کی وصيت کے منافی ہوتووصيت باطل ہوجائیگی۔

مسئلہ ٢٧٧٢ اگرکوئی شخص وصيت کرے کہ ایک معين چيزکسی شخص کو دے دی جائے اوربعد ميں وصيت کرے کہ اس چيزکانصف حصہ کسی اورکودیاجائے توضروری ہے کہ اس چيزکے دوحصے کئے جائيں اوران دونوں اشخاص ميں سے هرایک کوایک حصہ دیاجائے ۔

مسئلہ ٢٧٧٣ اگرکوئی شخص اپنے مال کی کچھ مقدار مرض الموت ميں کسی کو بخش دے اور وصيت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی ایک مقدار کسی کو دی جائے توضروری ہے کہ وہ مال جواس نے بخشا تھا اسے اصل مال سے نکاليں جيسا کہ مسئلہ نمبر ٢٣٠٨ ميں گذر چکا ہے ، ليکن جس مال کے بارے ميں وصيت کی تھی اسے ایک تھائی مال سے نکالاجائے۔

مسئلہ ٢٧٧ ۴ اگرکوئی شخص و-صيت کرے کہ اس کے مال کاتيسراحصہ بيچا نہ جائے اوراس سے حاصل ہونے والی آمدنی کوکسی کام ميں خرچ کياجائے تواس کے کهنے کے مطابق عمل کرناضروری ہے ۔

مسئلہ ٢٧٧ ۵ اگرکوئی شخص مرض الموت ميں کهے کہ وہ اتنی مقدارميں کسی شخص کامقروض ہے تواگراس پریہ تهمت لگائی جا ئے کہ اس نے یہ بات ورثاء کونقصان پهنچانے کے لئے کی ہے تو اس نے قرضے کی جو مقدار معين کی ہے وہ اس کے مال کے تيسرے حصے سے دی جائے گی اوراگراس پریہ تهمت نہ لگائی جائے تواس کااقرارنافذهے اورقرضہ اس کے اصل مال سے ادا کيا جائے گا ۔

مسئلہ ٢٧٧ ۶ جس شخص کے بارے ميں انسان وصيت کرے کہ کوئی چيزاسے دی جائے اس کاوصيت کرنے کے وقت موجودهونا ضروری نہيں ہے لہذااگرکوئی انسان وصيت کرے کہ فلاں چيزاس بچے کودے دی جائے جس کے بارے ميں ممکن ہوکہ فلاں عورت اس سے حاملہ ہوجائے گی تو اگروہ بچہ موصی کی موت کے بعد موجود ہو تو ضروری ہے کہ وہ چيزاسے دی جائے اوراگروہ بچہ موجود نہ ہوتواس صورت ميں جبکہ موصی کی وصيت یادوسرے قرائن سے یہ سمجھ ميں آرہا ہو کہ موصی کی نگاہ ميں بچہ کی عدم موجودگی کی صورت ميں اس مال کوایک دوسرے مصرف ميں خرچ کرناضروری ہے تو موصی کی نظرکے مطابق عمل کياجائے ورنہ وصيت باطل ہوجائے گی اورمال ورثاء کومنتقل ہوجائے گا اوراگریہ وصيت کرے کہ اس کے مال ميں سے کوئی چيزکسی


دوسرے شخص کی ہوگی پس اگروہ شخص موصی کے مرنے کے وقت موجودهوتووصيت صحيح ہے ورنہ باطل ہوجائے گی اوروصيت شدہ مال ورثاء کی جانب منتقل ہوجائے گا ۔

مسئلہ ٢٧٧٧ اگرانسان کوپتہ چلے کہ کسی نے اسے وصی بنایاہے ميت کے کفن ودفن کے مسئلے کے علاوہ جس کاحکم مسئلہ نمبر ۵۵۵ ميں بيان ہوچکاہے ، تو اگروہ موصی کواطلاع دے دے کہ وہ اس کی وصيت پرعمل کر نے کے لئے تيار نہيں ہے توضروری نہيں ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعدوصيت پرعمل کرے ليکن اگرموصی کے مرنے سے پهلے انسان کویہ پتہ نہ چلے کہ اسے وصی بنایاہے یاپتہ چل جائے ليکن موصی کواس بات کی اطلاع نہ دے کہ وہ وصيت پرعمل کرنے کے لئے تيار نہيں ہے تواگروصيت پرعمل کرناباعث مشقت نہ ہوتوضروری ہے کہ اس کی وصيت کوانجام دے اوراگروصی، موصی کے مرنے سے پهلے اس وقت اس جانب متوجہ ہوجب مرض کی شدت یا کسی دوسری رکاوٹ کی بنا پرموصی کسی اورکووصی نہ بناسکتاہوتواحتيا ط کی بنا پرضروری ہے کہ وصيت کوقبول کرلے۔

مسئلہ ٢٧٧٨ اگرموصی کاانتقال ہوجائے تووصی وصيت کے کاموں کی انجام دهی کے لئے کسی دوسرے شخص کومعين کرکے خودان کاموں سے کنارہ کشی اختيارنہيں کرسکتاہے ہاں اگروصی یہ جانتاہوکہ مرنے والے کامقصودیہ نہيں تھاکہ وصی بذات خودان کاموں کوانجام دے بلکہ اس کامقصودفقط یہ تھاکہ کام کردئے جائيں تواپنی طرف سے کسی دوسرے شخص کووکيل مقررکرسکتاہے ۔

مسئلہ ٢٧٧٩ اگرکوئی شخص دوافرادکواکهٹے وصی بنائے تواگران دونوں ميں سے ایک مرجائے یاپاگل ہوجائے توحاکم شرع اس کے بجائے کسی دوسرے شخص کومعين کرے گااوراگردونوں مرجائيں یاپاگل ہوجائيں توحاکم شرع دوسرے دواشخاص کومعين کرے گاليکن اگرایک شخص وصيت پرعمل کرسکتاہوتودواشخاص کامعين کرنالازم نہيں ہے ۔ یهی حکم اس صورت ميں بھی ہے جب ان دونوں ميں سے کوئی ایک یادونوں کافرہوجائيں جب کہ وصی بننے کے نتيجے ميں وصی، ولی بھی بن رہا ہو مثلا نابالغ بچوں کی نگرانی اس کے ذمے آرہی ہو۔

مسئلہ ٢٧٨٠ اگروصی اکيلا یا دوسرے سے مددلينے کے باوجود ميت کے کام انجام نہ دے سکے توحاکم شرع اس کی مددکرنے کے لئے ایک اورشخص کومعين کرے گا۔

مسئلہ ٢٧٨١ اگرميت کے مال کی کچھ مقدارتلف ہوجائے تواگروصی نے اس کی حفاظت ميں کوتاہی کی ہومثلاغيرمحفوظ جگہ پرمال کو رکھ دیا ہو یا زیادہ روی کی ہو مثلاً مرنے والے نے وصيت کی ہوکہ مال کی اتنی مقدارفلاں شهرکے فقراء کودے دے اوروہ مال کودوسرے شهرلے جائے اورراستے ميں مال تلف ہوجائے تووہ ضامن ہے اوراگرحفاظت ميں کوتاہی یا زیادہ روی نہ کی ہو تو وہ ضامن نہيں ۔


مسئلہ ٢٧٨٢ جب بھی انسان کسی شخص کووصی مقررکرے اوریہ کهے کہ اس کے مرجانے کی صورت ميں فلاں شخص وصی ہوگاتوپهلے وصی کے مرنے کے بعددوسرے وصی پرلازم ہے کہ وہ ميت کے کام کوانجام دے ۔

مسئلہ ٢٧٨٣ استطاعت کی وجہ سے واجب ہونے والا حج اور ایسا قرضہ اور حقوق مثلا خمس، زکوٰة اور ردّ مظالم، جن کااداکرناميت کے لئے واجب ہو، انہيں ميت کے اصل مال سے دیناضروری ہے اگرچہ ميت نے ان چيزوں کے بارے ميں وصيت نہ کی ہواوراگروصيت کی ہوکہ ایک تھائی مال سے انہيں اداکياجائے تووصيت پرعمل کرناضروری ہے اوراگرایک تھائی مال کافی نہ ہوتواصل مال سے نکال لياجائے گا۔

مسئلہ ٢٧٨ ۴ اگرميت کامال قرضے، واجب حج اور واجب الادا حقوق کی ادائيگی کے بعد بچ جائے تو اگر اس نے وصيت کی ہوکہ اس کاایک تھائی مال یااس کی کچھ مقدارکوایک معين مصر ف ميں استعمال کياجائے تواس وصيت پرعمل کرناضروری ہے اوراگروصيت نہ کی ہوتوجوکچه بچے وہ ورثاءکامال ہے ۔

مسئلہ ٢٧٨ ۵ جن اموال کے بارے ميں ميت نے وصيت کی ہو اگر وہ اس کے ایک تھائی مال سے زیادہ ہو تو مال کے تيسرے حصّے سے زیادہ کے بارے ميں اس کی وصيت اس صورت ميں صحيح ہے جب ورثاء کوئی ایسی بات کہيں یا ایسا کام کریں کہ معلوم ہو جائے کہ انہوں نے وصيت کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دے دی ہے اور ان کا صرف راضی ہونا کافی نہيں ہے اور اگر وہ موصی کے مرنے کے کچھ عرصے کے بعد اجازت دیں تو بھی صحيح ہے اور اگر بعض ورثاء اجازت دے دیں اور بعض اجازت نہ دیں تو جنہوں نے اجازت دی ہے ان کے حصّوں کی حدتک وصيت نافذ العمل ہے ۔

مسئلہ ٢٧٨ ۶ جن اموال کے بارے ميں ميت نے وصيت کی ہو اگر وہ اس کے ایک تھائی مال سے زیادہ ہو اور اس کے مرنے سے پهلے ورثاء وصيت پر عمل کرنے کی اجازت دے دیں تو اس کے مرنے کے بعد اپنی اجازت سے نہيں پھر سکتے۔

مسئلہ ٢٧٨٧ اگر مرنے والا وصيت کرے کہ اس کے مال کے ایک تھائی حصّے سے خمس و زکات یا اس کا کوئی اور قرضہ ادا کيا جائے اور اس کی قضا نمازوں اور روزوں کے لئے اجير مقرر کيا جائے اور کوئی مستحب کام مثلاً فقيروں کو کھانا بھی دیا جائے تو ضروری ہے کہ پهلے اس کا قرضہ ایک تھائی مال سے ادا کيا جائے اور اگر کچھ بچ جائے تو روزوں اور نمازوں کے لئے اجير مقرر کيا جائے اور اگر پھر بھی کچھ بچ جائے تو جو مستحب کام اس نے معين کيے ہوں اس پر خرچ کيا جائے اور اگر اس کے مال کا ایک تھائی حصّہ صرف اس کے قرضے کے برابر ہو اور ورثاء بھی ایک تھائی مال سے زیادہ خرچ کرنے کی اجازت نہ دیں تو پھر ایک تھائی مال کو قرض، نمازوں اور روزوں کے مابين تقسيم کيا جائے گا اور مالی واجبات ميں کم پڑجانے والی مقدار کو اصل ترکہ ميں سے نکالا جائے گا۔


مسئلہ ٢٧٨٨ اگر کوئی شخص وصيت کرے کہ اس کا قرضہ ادا کيا جائے اور اس کی نمازوں اور روزوں کے لئے اجير مقرر کيا جائے اور کوئی مستحب کام بھی انجام دیا جائے تو اگر اس نے یہ وصيت نہ کی ہو کہ یہ کام ایک تھائی مال ميں سے کئے جائيں تو ضروری ہے کہ اس کا قرضہ اس کے اصل مال ميں سے دیا جائے اور پھر جو کچھ بچ جائے اس کا ایک تھائی حصّہ نماز روزوں کی ادائيگی اور مستحب کام کے لئے استعمال کيا جائے اور اگر ایک تھائی مال ان کاموں کے لئے کافی نہ ہو تو ورثاء کی اجازت کی صورت ميں ضروری ہے کہ اس کی وصيت پر عمل کيا جائے۔ اور اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو ضروری ہے کہ نماز اور روزوں کی اجرت ایک تھائی مال سے ادا کی جائے اور پھر اگر کچھ بچ جائے تو وصيت کرنے والے نے جن مستحب کاموں کا کها ہے اس پر خرچ کيا جائے۔

مسئلہ ٢٧٨٩ اگر کوئی شخص کهے کہ مرنے والے نے وصيت کی تھی کہ اتنی رقم مجھے دے دی جائے تو اگر دو عادل مرد اس کے قول کی تصدیق کریں یا وہ قسم کھائے اور ایک عادل مرد بھی اس کے قول کی تصدیق کرے یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتيں یا چار عادل عورتيں اس کے قول کی گواہی دیں تو جتنی مقدار وہ طلب کر رہا ہو اسے دینا ضروری ہے اور اگر صرف ایک عادل عورت گواہی دے تو جس چيز کا وہ مطالبہ کر رہا ہو اس کا ایک چوتھائی حصّہ اسے دینا ضروری ہے اور اگر دو عادل عورتيں گواہی دیں تو ضروری ہے کہ مطلوبہ مقدار کا آدها حصّہ اور اگر تين عورتيں گواہی دیں تو تين چوتھائی حصّہ اسے دے دیا جائے اور اگر دو کتابی کافر مرد جو اپنے مذهب ميں عادل ہوں اس کے قول کی تصدیق کریں تو اس صورت ميں جب کہ مرنے والا وصيت کرنے پر مجبور ہوگيا ہو اور عادل مرد اور عورتيں بھی وصيت کے وقت موجود نہ ہوں ضروری ہے کہ مطلوبہ شے اسے دے دی جائے۔

مسئلہ ٢٧٩٠ اگر کوئی شخص کهے کہ ميں ميت کا وصی ہوں کہ اس کے مال کو کسی کام ميں خرچ کروں یا یہ کهے کہ ميت نے مجھے اپنے بچوں کا نگراں بنایا تھا تو ضروری ہے کہ اس کا قول اسی وقت قبول کيا جائے جب دو عادل مرد اس کے قول کی تصدیق کریں۔

مسئلہ ٢٧٩١ مشهور یہ ہے کہ : ”اگر مرنے والا وصيت کرے کہ اس کے مال کی اتنی مقدار فلاں شخص کی ہوگی اور وہ شخص وصيت کو قبول کرنے یا ٹھ کرانے سے پهلے مرجائے تو جب تک اس کے ورثاء وصيت کو ٹھ کرا نہ دیں وہ اس چيز کو قبول کرسکتے ہيں “۔ ليکن بعيد نہيں ہے کہ وہ شحص اگر وصيت کرنے والے کے بعد مرا ہو تو اس کے وارثوں کو وہ چيز ميراث ميں مل جائے۔ البتہ یہ حکم اس صورت ميں ہے جب وصيت کرنے والا اپنی وصيت سے پلٹ نہ گيا ہو ورنہ اس شخص کے ورثاء کا کوئی حق اس چيز پر نہيں رہے گا۔


وراثت کے احکام

مسئلہ ٢٧٩٢ جن افرادکورشتہ داری کی وجہ سے ميراث ملتی ہے ان کے تين گروہ ہيں :

”پهلاگروہ “:ميت کے باپ ،ماں اوراولادہيں اوراولادنہ ہونے کی صورت ميں اولادکی اولادجهاںتک یہ سلسلہ نيچے چلاجائے۔ ان ميں سے جودوسرے کے مقابلے ميں ميت سے زیادہ قریب ہواسے ميراث ملے گی اورجب تک اس گروہ ميں سے ایک شخص بھی موجودهودوسرے گرو ہ کوميراث نہيں ملتی ہے ۔

”دوسراگروہ“: دادا،دادی ،نانا،نانی،بهن اوربهائی ہيں اوربهن اوربهائی نہ ہونے کی صورت ميں ان کی اولاداوراولادميں سے جوبهی ميت سے قریب ترہواسے ميراث ملتی ہے ۔اورجب تک اس گروہ ميں سے ایک شخص بھی موجودهوتيسرے گروہ کوميراث نہيں ملتی ہے ۔

”تيسراگروہ “: چچا،پهوپهی ،ماموں ،خالہ اوران کی اولادهے ۔اورجب تک ميت کے چچاو ںٔ ،پهوپهيوں ،مامو ؤں اورخالاو ںٔ ميں سے ایک شخص بھی زندہ ہوان کی اولاد کوميراث نہيں ملتی ہے ليکن اگرميت کے وارث صرف ایک پدری چچااورایک پدری ومادری چچاکابيٹاہوتوپدری ومادری چچازادبهائی کوميراث ملے گی اورپدری چچاکوميراث نہيں ملے گی ۔اس صورت کے علاوہ ميں احتياط واجب یہ ہے کہ مصالحت سے تقسيم کی جائے خصوصاجب ان دونوں کے ساته دوماموں یاخالہ ہوں۔

مسئلہ ٢٧٩٣ اگرميت کے چچا،پهوپهی ،ماموں ،خالہ اوران کی اولاد در اولاد ميں سے کوئی بھی زندہ نہ ہوتوميت کے ماں باپ کے چچا،پهوپهی ،ماموں اورخالہ کوميراث ملے گی اوراگریہ نہ ہوں توان کی اولادکوميراث ملے گی اوراگریہ بھی نہ ہوں توميت کے دادا،دادی، نانااور نانی کے چچا،پهوپهی ،ماموںاورخالہ کوميراث ملے گی اوراگریہ بھی نہ ہوں توان کی اولادکوميراث ملے گی ۔

مسئلہ ٢٧٩ ۴ شوهراوربيوی عنقریب ذکرہونے والی تفصيل کے مطابق ایک دوسرے سے ميراث پاتے ہيں ۔

پهلے گروہ کی ميراث

مسئلہ ٢٧٩ ۵ اگرپهلے گروہ ميں ميت کاصرف ایک ہی وارث ہومثلاماں ،باپ ،اکلوتا بيٹا، یا بيٹی ہوں توميت کا تمام مال اسے ملتاہے اوراگربيٹے یا بيٹياں وارث ہوں تو مال کو یوں تقسيم کيا جائے کہ ہر بيٹے کو بيٹی سے دگنا حصہ ملے۔

مسئلہ ٢٧٩ ۶ اگرميت کے وارث فقط باپ اورماں ہوں تومال کے تين حصے ہوں گے۔دوحصے باپ کواورایک حصہ ماں کو ملے گا ليکن اگر ميت کے ایسے دوبهائی یاچاربهنيں یاایک بهائی اوردوبهنيں ہوں کہ جوسب کے سب مسلمان ،آزاداورایک باپ کی اولادہوں خواہ ان کی ماں مشترک ہو یا عليحدہ عليحدہ ہواوران ميں سے کوئی حمل کی صورت ميں نہ ہو تواگرچہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کوميراث نہيں ملے گی ليکن ان کی وجہ سے ماں کومال کاچھٹاحصہ اورباقی باپ کوملتاہے ۔


مسئلہ ٢٧٩٧ اگرميت کے وارث فقط ماں باپ ہوں اوراکلوتی بيٹی ہواورسابقہ مسئلہ ميں ذکرشدہ شرائط کے ساته اس کے دوبهائی ،چاربهنيں یاایک بهائی اوردوبهنيں نہ ہوں تومال کے پانچ حصے کرکے ماں باپ کوایک ایک اوربيٹی کوتين حصے دئے جائيں گے اوراگرگذشتہ مسئلے ميں ذکرشدہ شرائط کے ساته دوبهائی ،چاربهنيں یاایک بهائی موجودہوں توماں کے مال کے چھ حصے کرکے ماں باپ کوایک ایک ،بيٹی کوتين اورآخری حصے کے چارحصے کرکے تين حصے بيٹی کو اور ایک حصہ باپ کو دیاجائے گا۔یعنی حقيقت ميں ترکہ کے چوبيس حصے ہوں گے جن ميں سے پندرہ حصے بيٹی کو،پانچ حصے باپ کواورچارحصے ماں کومليں گے ۔اگرچہ احتياط مو کٔد ہے کہ باپ اور بيٹی کی رضایت سے ترکہ کے پانچ حصے کئے جائيں ۔

مسئلہ ٢٧٩٨ اگرميت کے وارث فقط ماںباپ اوراکلوتابيٹاہوں تومال کے چھ حصے کرکے ماں باپ کو ایک ایک اوربيٹے کو چارحصے مليں گے اوراگرصرف لڑکے یاصرف لڑکيا ں ہوں تویہ چار حصے ان ميں برابرتقسيم کئے جائيں گے اوراگر لڑکے اورلڑکياں دونوں ہوں توان چارحصوں کو ان کے درميان اس طرح تقسيم کياجائے گاکہ ہر لڑکے کو لڑکی سے دگنا ملے ۔

مسئلہ ٢٧٩٩ اگرميت کے وارث ماں یا باپ اوراکلوتابيٹایابيٹے ہوں تومال کے چھ حصے کرکے ایک حصہ ماں یاباپ اورپانچ حصے بيٹے کو دئے جائيں گے اوراگر چند بيٹے ہوں تو ان پانچ حصوں کوان کے درميان برابرتقسيم کردیا جائے گا۔

مسئلہ ٢٨٠٠ اگرميت کے وارث فقط باپ یاماں اورایک بيٹا اور ایک بيٹی ہوں تومال کے چھ

حصے کرکے ایک حصہ ماں یا باپ کو ملے گااورباقی اس طرح تقسيم کياجائے گا کہ بيٹے کو بيٹی سے دگنا ملے ۔

مسئلہ ٢٨٠١ اگرميت کے وارث فقط ماں یاباپ اوراکلوتی لڑکی ہوں تو مال کے چار حصے کر کے ایک حصہ ماں یاباپ کو اورباقی اکلوتی بيٹی کودیاجائے گا۔

مسئلہ ٢٨٠٢ اگرميت کے ورثاء ميں فقط ماں یاباپ اوربيٹياں ہوں تو مال کے پانچ حصے کرکے ماں یاباپ کوایک اورچارحصے بيٹياں آپس ميں برابر تقسيم کریں گی۔

مسئلہ ٢٨٠٣ اگرميت کی اولادنہ ہوتواس کے بيٹے کی اولاد چاہے وہ بيٹی ہی کيوں نہ ہو ميت کے بيٹے کاحصہ اوربيٹی کی اولاد چاہے وہ بيٹا ہی کيوں نہ ہوميت کی بيٹی کاحصہ ليں گے مثلاًميت کاایک نواسہ اورایک پوتی ہوتومال کے تين حصے کرکے ایک حصہ نواسے کواوردوحصے پوتی کودئے جائيں گے ۔

دوسرے گروہ کی ميراث

مسئلہ ٢٨٠ ۴ دوسرے گروہ کے وہ افرادجورشتہ داری کی وجہ سے کسی سے ميراث ليتے ہيں ان ميں ميت کے دادا، دادی، نانا، نانی، بهائی اوربهنيں ہيں ۔اوراگربهائی بهنيں نہ ہوں توان کی اولاد اور اولاد در اولاد کو ميراث ملے گی۔


مسئلہ ٢٨٠ ۵ اگرميت کاوارث فقط ایک بهائی یابهن ہوتوسارامال اسے ملے گا۔اگرمادری وپدری بهنيں یابهائی ہوں توان ميں مال کوبطورمساوی تقسيم کياجائے گا اور اگر مادری وپدری بهنيں اوربهائی دونوں ہوںتو هربهائی کوبهن کادگنا حصہ ملے گا۔مثال کے طور پراگرميت کے مادری وپدری دوبهائی اورایک بهن ہوں تومال کے پانچ حصے کرکے هربهائی کودواوربهن کوایک حصہ ملے گا۔

مسئلہ ٢٨٠ ۶ اگرميت کے پدری ومادری بهائی بهن ہوں تو صرف پدری بهائی بهنوں کوميراث نہيں ملے گی۔ اوراگرپدری ومادری بهن بهائی نہ ہوں تواگرصرف ایک پدری بهائی یابهن ہوتوسارامال اسے ملے گااوراگرچندپدری بهائی یاپدری بهنيں ہوں تومال ان ميں برابرتقسيم ہوگا۔اوراگرپدری بهائی اوربهنيں دونوں ہوں توهربهائی کوبهن سے دگنا ملے گا۔

مسئلہ ٢٨٠٧ اگرميت کے ورثاء ميں سے فقط ایک مادری بهن یابهائی یعنی ان کااورميت کاباپ جدا ہو، موجود ہو تو سارا مال اسے ملے گااوراگرمادری بهنيں یابهائی ہوں یادونوںہوں تومال ان ميں مساوی طورپرتقسيم ہوگا۔

مسئلہ ٢٨٠٨ اگرميت کے مادری وپدری بهائی بهن ،پدری بهائی بهن اورایک مادری بهائی یابهن ہوتوپدری بهائی بهن کوميراث نہيں ملے گی اورمال کے چھ حصے کرکے ان ميں سے ایک حصہ مادری بهن بهائی اپنے درميان مساوی طورپرتقسيم کریں گے اورباقی پدری ومادر ی بهائی بهنوں کواسی طرح دیاجائے گاکہ هربهائی کوبهن کادگنا حصہ ملے ۔

مسئلہ ٢٨٠٩ اگرميت کے پدری ومادری بهائی بهن ،پدری بهائی بهن اورچندمادری بهائی اوربهنيں ہوں توپدری بهائی اور بهن کوميراث نہيں ملے گی اورمال کے تين حصے کرکے ایک حصہ مادری بهن بهائيوں ميں مساوی طورپرتقسيم کياجائے گااورباقی پدری ومادری بهائی بهنوں کے درميان اس طرح تقسيم کياجائے گاکہ هربهائی کوبهن سے دگنا ملے۔

مسئلہ ٢٨١٠ اگرميت کے ورثاء ميں فقط پدری بهائی بهن اورایک مادری بهائی یابهن ہوتومال کے چھ حصے کرکے ایک حصہ مادری بهائی یابهن کواورباقی پدری بهائی بهنوں ميں اس طرح تقسيم کياجائے گاکہ هربهائی کوبهن کادگنا ملے گا۔

مسئلہ ٢٨١١ اگرميت کے وارث فقط پدری بهن بهائی اورمادری بهائی بهن ہوں تومال کے تين حصے کرکے ایک حصہ مادری بهن بهائيوں ميں مساوی طورپرتقسيم کياجائے گااور باقی پدری بهائی بهنوں کواس طرح دیاجائے گاکہ هربهائی کوبهن کادگنا حصہ ملے ۔

مسئلہ ٢٨١٢ اگرميت کے ورثاء ميں فقط بهائی بهن اوربيوی ہی ہوں توبيوی کواس کے حصہ کی ميراث ملے گی جس کی تفصيل آ ئندہ بيان ہوگی اوربهائی بهنوںکوسابقہ مسائل کی روشنی ميں ان کے حصے کی ميراث ملے گی اوراگرعورت مرجائے اوراس کے وارث فقط بهائی بهن اورشوهرہوںتوآدهی ميراث شوهرکوملے گی ۔اور بهائی بهنوں کوسابقہ مسائل کی تفصيل کے مطابق ميراث دی جائے گی البتہ بيوی یاشوهرکوميراث ملنے کی وجہ سے مادری بهائی بهائی بهنوں کی ميراث ميں کمی نہيں کی جائے گی بلکہ پدری ومادری یاپدری بهائی بهنوں کے حصے ميں کمی واقع ہوگی۔ مثلااگرميت کے وارث کے شوهر،مادری بهائی بهن اورمادری وپدر ی بهن بهائی ہوں توآدهامال شوهرکوملے گااوراصل مال کاتيسراحصہ مادری بهائی بهنوں کودیاجائے گااورباقی مال پدری ومادری بهائی بهنوں کاحصہ ہے


لہذااگرسارامال مثلاً چھ روپيہ ہوتوتين روپے شوهرکواوردوروپے مادری بهائی بهنوں کواورایک روپيہ پدری ومادری بهن بهائيوں کودیاجائے گا۔

مسئلہ ٢٨١٣ اگرميت کے بهائی بهن نہ ہوں توان کاحصہ ان کی اولادميں تقسيم ہوگااورمادری بهن بهائيوں کاحصہ ان کی اولادکے درميان برابرتقسيم کياجائے گااورپدری ومادری اورپدری بهائی بهنوں کی اولادميں ان کاحصہ اس طرح تقسيم ہوگاکہ هربهائی کوبهن کادگنا ملے ۔اگرچہ احتياط یہ ہے کہ آپس ميں مصالحت کی جائے ۔

مسئلہ ٢٨١ ۴ اگرميت کے ورثاء ميں دادا،دادی،نانااورنانی ميں سے صرف ایک ہی زندہ ہوتوسارامال اسے ملے گا۔ ميت کے دادااورناناکے ہوتے ہوئے اس کے پرنانااورپرداداکوميراث نہيں ملے گی اوراگرميت کے وارث فقط دادا اور دادی ہوں تومال کے تين حصيہوں گے جن ميں سے دوحصے داداکواورایک حصہ دادی کودیاجائے گا اور اگر وارث فقط نانا اور نانی ہوں توان کے درميان مال کوبطورمساوی تقسيم کياجائے گا۔

مسئلہ ٢٨١ ۵ اگرميت کے ورثاء ميں دادا یا دادی ميں سے ایک اورنانا یا نانی ميں سے بھی ایک زندہ ہوتومال کے تين حصے کرکے دوحصے دادایادادی کواورایک حصہ نانایانانی کوملے گا۔

مسئلہ ٢٨١ ۶ اگردادا،دادی ،نانااورنانی ميت کے وارث ہوں تومال کے تين حصے کرکے ایک حصہ نانانانی ميں مساوی طورپراوردوحصے دادادادی کواوراس طرح دئے جائيں گے کہ داداکودادی سے دگنا زیادہ ملے گا۔

مسئلہ ٢٨١٧ اگرميت کے وارث فقط بيوی ،دادا،دادی،نانااورنانی ہوں توبيوی کواس کا حصہ ملے گاجس کی تفصيل آئندہ بيان ہوگی اوراصل مال کاتيسراحصہ نانانانی کے درميان برابرتقسيم کياجائے گااورباقی دادادادی کے درميان اس طرح تقسيم کياجائے گاکہ داداکودادی کادگنا حصہ ملے گا۔اوراگروارث شوهر،دادا،دادی،نانااورنانی ہوں توشوهرکوآدهامال اوردادا،دادی ،نانااورنانی کوسابقہ تفصيل کے مطابق ميراث دی جائے گی۔

مسئلہ ٢٨١٨ جب ایک بهائی یابهن ،یاچند بهائی یا بهنيں اوردادا یا دادی یا نانا یا نانی یا ان ميں سے چند وارث بنيں تواس کی چند صورتيں ہيں :

١) سب مادری ہوں یعنی نانا،نانی اورمادری بهن بهائی ہوں تواس صورت ميں ان کے درميان مال کوبرابرتقسيم کيا جائے گا اگرچہ ان ميں کچھ مرد اور کچھ عورتيں ہوں ۔

٢) سب پدری ہوں اس صورت ميں اگرسب عورتيں یاسب مردہوں توبهی مال سب ميں برابرتقسيم کياجائے گا اور اگر مرد و عورت دونوں ہوں تو ہر مرد کو عورت سے دگنا ملے گا۔


٣) دادادادی ہوںاورپدر ی ومادری بهائی بهن ہوں اس کاحکم سابقہ صورت والاہے جوکہ مسئلہ ٢٨٠٩ ميں بيان کيا گياہے کہ اگرپدری بهائی یابهن پدری ومادری بهائی یابهن کے ساته جمع ہوجائيں توپدری بهائی بهنوں کوميراث نہيں ملتی ہے ۔

۴) دادا،دادی،نانااورنانی ميں سے بعض ہوں چاہے سب مردہوں یاعورتيں یادونوں ہوں اوراسی طرح بهائی اوربهنيں بھی ہوں تواس صورت ميں مادری رشتہ داروں یعنی مادری بهائی ،بهن ،نانااورنانی جوبهی ہوں ان کوترکہ کا تيسرا حصہ ملے گا جو اِن ميں مساوی طور پر تقسيم کياجائے گااگرچہ بعض مرداوربعض عورتيں ہوں اورپدری رشتہ داروں کوترکہ کے تين حصوں ميں سے باقی دوحصے اس طرح دئے جائيں گے کہ ہر مرد کو عورت کادگنا ملے اوراگرسب مرد یا عورتيں ہوں توا ن کے درميان برابرتقسيم کيا جائے گا۔

۵) دادایادادی اورمادری بهائی یابهن وارث بنيں تواس صورت ميں اگربهائی یابهن ایک ہی ہو تواسے مال کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر زیادہ ہو تو مال کاتيسراحصہ سب ميں برابرتقسيم کياجائے گااوردونوں صورتوں ميں باقی مال دادا یا دادی کاہے اوراگردونوں زندہ ہوں تودادا کو دادی سے دگنا ملے گا۔

۶) نانا یا نانی اور پدری بهائی وارث بنيں تواس صورت ميں نانایانانی کے لئے تيسراحصہ ہے اگرچہ ان ميں سے صرف ایک ہی زندہ ہواورباقی دوحصے بهائی کے لئے ہيں اگرچہ ایک ہی بهائی ہواوراگرنانا یا نانی کے ساته پدری بهن وارث بنے توایک ہی بهن ہو تواسے آدها مال ملے گا اوراگر متعدد ہوں توتمام مال کادوتهائی انہيں ملے گا اور دونوں صورتوں ميں ناناکے لئے ایک تھائی ہے ۔لہذاگرایک بهن ہوفریضہ مال اداکرنے کے بعد چھٹاحصہ اضافی بچے گا۔اور اقویٰ یہ ہے کہ یہ حصہ بهن کوملے گااگرچہ احوط یہ ہے کہ مصالحت کی جائے ۔

٧) نانا،نانی ميں سے کوئی ایک یادادا اور دادی ميں سے کوئی ایک یا ان کے ساته پدری بهائی یابهنيں وارث ہوں خواہ وہ ایک ہو یا کئی ہوںتواس صورت ميں نانا یا نانی کے لئے تيسراحصہ ہے جو ان دونوں کے زندہ ہونے کی صورت ميں دونوں ميں برابرتقسيم ہوجائے گا چاہے یہ مرد اور عورت ہونے کے اعتبار سے مختلف ہوں اورباقی دوحصے دادا،دادی اور پدری بهائی بهن کے لئے ہيں جو مردوں اور عورتوں کے جمع ہونے کی صورت ميں مردوں کو عورتوں کا دگنا اور صرف مرد یا صرف عورتيں ہونے کی صورت ميں برابرتقسيم کياجائے گا۔اوراگران دادااورنانایادادی اورنانی کے ساته مادری بهائی یابهنيں وارث ہوں تو مادری رشتہ داروں یعنی نانا،نانی اورمادری بهن بهائيوں کے لئے تيسراحصہ ہے جوسب ميں برابرتقسيم کياجائے گا اگرچہ بعض مرداوربعض عورتيں ہوں اوردادا،دادی کوباقی دوحصے مليں گے اورمختلف ہونے کی صورت ميں مردوں کودگنا اورایک صنف ہونے کی صورت ميں سب کوبرابرملے گا۔


٨) پدری بهائی بهن ،مادری بهائی بهن اوردادااوردادی وارث ہوں تواس صورت ميں اگرایک مادری بهن یا بهائی ہو تواسے اصل ترکہ ميں سے چھٹاحصہ ملے گا اورایک سے زیادہ ہوتوترکہ کاتيسراحصہ سب ميں برابرتقسيم کياجائے گا اور باقی پدری بهائيوں یابهنوں اور دادا یا دادی کے لئے ہے ۔

لہذااگرسب ایک صنف ہوں تومساوی تقسيم ہوگا ورنہ مردکوعورت سے دگنا ملے گا۔اگران بهائی اوربهنوں کے ساته نانایانانی ہوںتونانایانانی ، مادری بهائی یابهنوں کے درميان تيسراحصہ برابرتقسيم کياجائے گااورپدری بهائی بهنوں کے لئے دوتهائی ہے کہ اگرسب ایک صنف سے ہوں تو برابر تقسيم ہوگااور مختلف ہونے کی صورت ميں مردوں کودگنا ملے گا۔

مسئلہ ٢٨١٩ جب ميت کے بهائی یابهن ہوںتوان کی اولادکوميراث نہيں ملے گی ليکن یہ حکم اس وقت جاری نہيں ہوگاجب ان کوميراث دینے سے بهائی یابهن کے حصہ ميں کمی نہ آتی ہو۔مثلااگرميت کاپدری بهائی اورنانازندہ ہوں توپدری بهائی کودو تھائی اور ناناکوایک تھائی ميراث ملے گی اوراس صورت ميں اگرميت کے مادری بهائی کا بيٹا بھی ہو توبهائی کابيٹااورنانا اس تيسرے حصے ميں شریک ہوں گے ۔

تيسرے گروہ کی ميراث

مسئلہ ٢٨٢٠ تيسرے گروہ ميں چچا،پهوپهی ،ماموں ،خالہ اوران کی اولاد سابقہ تفصيل کے مطابق اس صورت ميں ميراث ليں گے جب پهلے اوردوسرے گروہ ميں سے ميراث کاکوئی حق دارموجود نہ ہو۔

مسئلہ ٢٨٢١ اگرميت کاوارث صرف ایک چچایاپهوپهی توسارامال اسے ملے گاچاہے یہ وارث ميت کے باپ کا پدری ومادری یا صرف پدری یا صرف مادری رشتہ دار ہو اور اگر چند چاچے یاپهوپهياں وارث ہوں اورسب مادری و پدری یا صرف پدری ہوں توسارامال ان ميں برابرتقسيم کياجائے گااوراگرچچے اورپهوپهياں دونوں ہوں اورسب پدری ومادری یاپدری ہوں توچچاکوپهوپهی کادگنا ملے گا۔مثلااگرورثاء ميں دوچاچے اورایک پهوپهی ہوں تومال کے پانچ حصے کرکے ایک حصہ پهوپهی کواورباقی چارحصے دوچاچوں ميں برابرتقسيم کئے جائيں گے ۔

مسئلہ ٢٨٢٢ اگرميت کے وارث صرف چندمادری چاچے یامادری پهوپهياں ہوں توان ميں مال کوبرابرتقسيم کياجائے گا۔ليکن اگرمادری چچااورپهوپهی دونوں وارث ہوں احتياط واجب کی بنا پرمال کی تقسيم ميں مصالحت کریں ۔

مسئلہ ٢٨٢٣ اگرميت کے وارث چچااورپهوپهی ہوں اوران ميں سے بعض پدری، بعض مادری اوربعض پدری اورمادری ہوں توپدری چچااورپهوپهی کوميراث نہيں ملے گی ۔لہذااگرميت کاایک مادری چچا یا پهوپهی ہو تو بنا بر مشهور، مال کے چھ حصوں ميں سے ایک حصہ مادری چچا یا پهوپهی کو اور باقی پدری ومادری چچااورپهوپهی کو دیا جائے گا۔


اوراگریہ نہ ہوں پدری چچااورپهوپهی کودیاجائے گاليکن احيتاط واجب کی بنا پرپانچ حصوں ميں سے ایک حصے ميں چچا و پهوپهی پدرو مادری یا پدری چچاوپهوپهی ،مادری چچاوپهوپهی سے مصالحت کریں اوراگرمادری چچااورپهوپهی دونوں ہوں تومال کے تين حصے کرکے دوحصے مادری وپدری چچاوپهوپهی کو اوراگریہ نہ ہوں توپدری چچاوپهوپهی کودئے جائيں گے اورایک حصہ مادری چچااورپهوپهی کودیاجائے گااورتمام صورتوں ميں پدری ومادری چچااورپدری چچا کو پدری ومادری یاپدری پهوپهی سے دگنا دیاجائے گااوراحتياط واجب یہ ہے کہ مادری چچااورپهوپهی ایک دوسرے کے ساته مصالحت کریں۔

مسئلہ ٢٨٢ ۴ اگرميت کے وارث صرف ایک ماموں یا ایک خالہ ہوں توسارامال انہيں ملے گا اوراگرماموں اورخالہ دونوں ہوں اورسب پدری ومادری یاپدری یامادری ہوں توبنا بر مشهورمال ان کے درميان برابرتقسيم کياجائے گا۔ليکن احتياط واجب ہے کہ خالہ اورماموں تقسيم ميں ایک دوسرے سے مصالحت کریں ۔

مسئلہ ٢٨٢ ۵ اگرميت کے وارث صرف ایک مادری ماموں یاخالہ اورپدری ومادری خالہ اورماموں ہوں اورپدری مادری ماموں وخالہ نہ ہونے کی صورت ميں پدری خالہ اورماموں ہوں تو مشهور یہ ہے :”مال کے چھ حصوں ميں سے ایک حصہ مادری ماموں یاخالہ کواورباقی پدری ومادری یاپدری خالہ اور ماموں کودیاجائے گااورجب مادری خالہ اورماموں دونوں ہوں تومال کے تين حصوں ميں سے ایک حصہ مادری ماموں اورخالہ کواوردوحصے پدری ومادری خالہ ،ماموں یا پدری خالہ اورماموں کودئے جائيں گے“۔ ليکن احتياط واجب ہے کہ دونوں صورتوں ميں مادری رشتہ دار، پدری رشتہ داروں سے اسی طرح ماموں اورخالہ بھی ایک دوسرے سے مصالحت کریں ۔

مسئلہ ٢٨٢ ۶ اگرميت کے وارث ایک یاچند ماموں یاایک یا چند خالہ یاماموں وخالہ اورایک یاچندچچایاایک یاچندپهوپهياں یاچچاوپهوپهياں ہوں تو مال کے تين حصوں ميں سے ایک حصہ ماموں یاخالہ یادونوں کو اور باقی چچا،پهوپهی یادونوں کوملے گا۔

مسئلہ ٢٨٢٧ اگرميت کے وارث ایک ماموں یاایک خالہ اورچچااورپهوپهی ہوں تواگرچچااورپهوپهی پدری و مادری یاپدری ہوتو مال کے تين حصوں ميں سے ایک حصہ ماموں یاخالہ کواورباقی دوحصہ مال کے تين حصہ کر کے دوحصے چچا کو اور ایک حصہ پهو پهی کو دیں گے لہذااس (ترکہ )مال کے نوحصے ہوںگے جن ميں سے تين ماموں یاخالہ کو اور چار حصے چچا کو اور دو حصے پهوپهی کو دیں گے ۔

مسئلہ ٢٨٢٨ اگرميت کے وارث ایک ماموں یا خالہ اورایک مادری چچا یا پهوپهی اور پدری و مادری یا پدری چچا اور پهوپهی ہوں توما ل کے تين حصے کرکے ایک حصہ ماموں یاخالہ کو دئے جائيںگے اور مشهوریہ ہے کہ:”باقی دو حصوں کے چھ حصے کرکے ایک مادری چچا یا پهوپهی کو اور باقی پدری ومادری یاپدری چچا و پهوپهی کو اس طرح دیں گے کہ چچا کو پهوپهی کا دگنا ملے۔ لہٰذا اگرمال کے نوحصے کریں توتين حصے ماموں یاخالہ کواورایک حصہ مادری چچا یا پهوپهی کواورباقی پانچ حصے پدری ومادری یا پدری چچا و پهوپهی کو دیں گے ليکن احتياط واجب ہے کہ پدری چچاوپهوپهی پانچویں حصے ميں مادری چچاوپهوپهی سے صلح کرليں ۔


مسئلہ ٢٨٢٩ اگرميت کے ورثاء ميں کچھ پدری ومادری یاپدری یامادری ماموں اورخالہ ہوں اورچچااورپهوپهی بھی ہوں تومال کے تين حصوں ميں سے دوحصے چچاوپهوپهی کودیں گے اور اگرچچاوپهوپهی پدری ومادری یاپدری ہوں توچچاکوپهوپهی سے دگنا ملے گااوراگرمادری ہوں تواحتياط واجب کی بنا پرتقسيم ميں آپس ميں مصالحت کریں اورباقی ایک تھائی ماموں اورخالاو ںٔ کوملے گااوراحتياط واجب کی بنا پرتقسيم ميں مصالحت کریں ۔

مسئلہ ٢٨٣٠ اگرميت کے وارث مادری ماموں یاخالہ اورچندپدری ومادری ماموں یا خالہ یا پدری ماموں اور خالہ جبکہ پدری و مادری ماموں و خالہ نہ ہوں اور اس کے چچاو پهوپهی ہوں تومال کے تين حصے کرکے دوحصے سابقہ دستورکے مطابق چچااورپهوپهی کے درميان تقسيم ہوں گے اوربچاہواایک حصہ بھی سابقہ دستورکے مطابق تقسيم ہوگا۔

مسئلہ ٢٨٣١ اگرميت کے چچا،پهوپهی ،ماموں اورخالہ نہ ہوں توجومقدار چچا و پهوپهی کو ملتی ہے ان کی اولاد کو اور جو مقدار ماموں اورخالہ کوملتی ہے ان کی اولادکودی جائے گی ۔

مسئلہ ٢٨٣٢ اگرميت کے وارث اس کے باپ کاچچا،پهوپهی، ماموں ،خالہ اور اس کی ماں کاچچا، پهوپهی، ماموں اورخالہ ہوں تو مال کے تين حصے ہوں گے۔ مشهور یہ ہے کہ :”ان ميں سے ایک حصہ ميت کی ماں کے چچا،پهوپهی ،ماموں اورخالہ کے درميان مساوی تقسيم ہوگااورباقی دوحصوں کے تين حصے کرے ایک تھائی ميت کے باپ کے ماموں اورخالہ کے درميان برابرتقسيم ہوگااورباقی دوحصے ميت کے باپ کے چچااورپهوپهی کواس طرح دیں گے کہ چچاکوپهوپهی کادگنا ملے “۔ ليکن احتياط واجب ہے کہ ميت کی ماں کے چچا،پهوپهی ،ماموں اورخالہ اصل مال کے تيسرے حصے ميں ایک دوسرے سے مصالحت کریں ۔اوراسی طرح باپ کے ماموں اورخالہ دوتهائی کے تيسرے حصے ميں اورميت کے باپ کے چچااورپهوپهی ،تقسيم ميں مسئلہ نمبر ٢٨٢٣ کے طریقے کے مطابق عمل کریں ۔

مياں بيوی کی ميراث

مسئلہ ٢٨٣٣ اگربيوی مرجائے اور اس کی کوئی اولادنہ ہو تو آدها حصہ شوہر کو اور باقی دوسرے وارثوں کوملے گا اوراگر اس موجودہ شوہر یا دوسرے شوهرسے اولادهو توسارے مال کاچوتھائی حصہ شوہر کو اور باقی دوسرے ورثاء کو ملے گا۔

مسئلہ ٢٩٣ ۴ اگرمردمرجائے اوراس کی کوئی اولادنہ ہوتوما ل کاچوتھائی حصہ بيوی کواورباقی دوسرے ورثہ کوملے گا اور اگراس بيوی یا دوسری بيوی سے اولادهو تومال کاآٹھ واں حصہ بيوی اورباقی دوسرے ورثہ کو ملے گااوربيوی کو زمين، گهر، باغ، کهيتی اوردوسری زمينوں سے ميراث نہيں ملے گی اورنہ ہی ان کی قيمت سے اورزمين پربنی عمارت اوردرختوں سے ميراث ملے گی ليکن اگرباقی ورثہ عمارت اوردرخت کی قيمت دیناچاہيں توعورت کے لئے اسے قبول کرنا ضروری ہے اورباغ ،زراعت اوردوسری زمينوں پر موجود درخت، زراعت وعمارت کابهی یهی حکم ہے ۔


مسئلہ ٢٩٣ ۵ جن چيزوں سے بيوی کوميراث نہيں ملتی جيسے گهرکی زمين، اگران ميں تصرف کرناچاہے توضروری ہے کہ دوسرے ورثہ سے اجازت حاصل کرے۔ اسی طرح دوسرے ورثہ عورت کے حصے، مثلاً عمارت اوردرخت ميں سے اس کاحق دئے بغير، چاہے اس حق کی قيمت ادا کرکے ہی سهی، بيوی کی اجازت کے بغيراس ميں تصرف نہ کریں۔

مسئلہ ٢٩٣ ۶ اگرعمارت، درخت اور ان جيسی چيزوںکی قيمت لگانا چاہيں تاکہ قيمت سے عورت کا حصہ ادا کيا جائے توفرض کياجائے کہ اگریہ چيزیں خراب ہونے تک اجارے پر دئے بغير، اس زمين ميں باقی رہيں تواس کی کياقيمت ہے ۔ اس قيمت سے عورت کاحصہ دیاجائے گا۔

مسئلہ ٢٩٣٧ کاریزے کے جاری ہونے کی جگہ اوران جيسی چيزیں زمين کے حکم ميں ہيں اوراینٹيں اوراس جيسی چيزیں جواس ميں استعمال کی گئی ہوں عمارت کے حکم ميں ہيں ۔

مسئلہ ٢٩٣٨ اگرميت کی بيویاں ایک سے زیادہ ہوں اوراولادنہ ہوتومال کاچوتھاحصہ اوراگراولادهوتوآٹھ واں حصہ سابقہ طریقے کے مطابق سب بيویوں ميں برابرتقسيم کياجائے گااگرچہ شوہر نے سب یابعض بيویوں کے ساته نزدیکی نہ کی ہو۔ ليکن اگراس نے مرض الموت ميں کسی عورت سے شادی کی ہواورنزدیکی کئے بغيرمرگياہوتواس عورت کوميراث اورمهردونوں نہيں مليں گے ۔

مسئلہ ٢٨٣٩ اگرعورت مرض الموت ميں شادی کرکے مرجائے توشوهرکواس سے ميراث ملے گی اگرچہ شوہر نے نزدیکی نہ کی ہو۔

مسئلہ ٢٨ ۴ ٠ اگربيوی کواحکام طلاق ميں گذری ہوئی ترتيب کے مطابق طلاق رجعی دے اوروہ عدت کے دوران مرجائے توشوهرکواس سے ميراث ملے گی اوراگرشوهرعدت کے دوران مرجائے تو بيوی کوبهی اس سے ميراث ملے گی ليکن اگرعدہ ختم ہونے کے بعدیاطلاق بائن کے عدہ ميں ان ميں سے کوئی مرجائے تودوسرے کوميراث نہيں ملے گی ۔

مسئلہ ٢٨ ۴ ١ اگرشوهرنے مرض ميں بيوی کوطلاق دی ہواوربارہ قمری مهينہ گزرنے سے پهلے مرجائے توعورت کوتين شرائط کے ساته ميراث ملے گی :

١) اس مدت ميں شادی نہ کی ہواوراگرشادی کی ہوتواحتياط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ آپس ميں صلح کریں۔

٢) شوهرسے انس نہ ہونے کی وجہ سے اسے طلاق دینے کے لئے مال نہ دیاہوبلکہ اگر کچھ مال نہ بھی دیا ہو ليکن طلاق بيوی کے تقاضے کی وجہ سے ہوتوبهی اسے ميراث ملنامحل اشکال ہے ۔

٣) شوهرنے جس مر ض ميں عورت کوطلاق دی ہواس مرض کے دوران ،اس مرض یا کسی اوروجہ سے مرجائے لہذا وہ اگراس مرض سے صحت یاب ہوجائے یاکسی اوروجہ سے اس کا انتقال ہوجائے توبيوی کوميراث نہيں ملے گی ۔

مسئلہ ٢٨ ۴ ٢ شوهرنے اپنی بيوی کے پهننے کے لئے جوکپڑے مهياکئے ہوں وہ شوهرکے مرنے کے بعدشوہر کامال ہے ، اگرچہ بيوی ان کپڑوں کوپهن چکی ہو۔


ميراث کے متفرق مسائل

مسئلہ ٢٨ ۴ ٣ اگرباپ مرجائے تو اس کا قرآن ،انگوٹھی ،تلواراورپهنے ہوئے کپڑے بڑے بيٹے کے ہيں ۔ اگرشروع والی تين چيزیں ایک سے زیادہ ہوں مثلادوقرآن یادوانگوٹھی تواحتياط واجب ہے کہ بڑابيٹاان ميں دوسرے ورثاء کے ساته مصالحت کرے۔ اسی طرح کتاب ،اونٹ کے پالان ،سواری کے اونٹ اورتلوارکے علاوہ باقی اسلحہ ميں احتياط واجب یہ ہے کہ مصالحت کرے ۔

مسئلہ ٢٨ ۴۴ اگرميت کے ایک سے زیادہ بڑے بيٹے ہوں مثلادوبيویوں سے ایک ساته دوبيٹے پيداہوئے ہوں توسابقہ مسئلہ ميں جوچيزیں بيان ہوئی ہيں دونوں آپس ميں برابرتقسيم کریں گے ۔

مسئلہ ٢٨ ۴۵ اگرميت مقروض ہواوراس کاقرضہ مال کے برابریازیادہ ہوتوجن چيزوں کے بارے ميں بيان ہواکہ بڑے بيٹے کی ہيں ضروری ہے کہ ميت کے قرض ميں اداکر دی جائيں اوراگرقرض مال سے کم ہوتوضروری ہے کہ جوچيزیں بڑے بيٹے کوملتی ہيں ان سے قرض کوتناسب کے لحاظ سے اداکياجائے۔ مثلااگراس کے سارے مال کی ماليت ساٹھ روپے ہوں اوران ميں سے بيس روپے ان چيزوں کی ماليت ہوجوبڑے بيٹے کوملی ہيں اورقرض تيس روپے ہو تو ضروری ہے کہ بڑابيٹااپنے اختصاصی حصے ميں سے دس روپے قر ض کی بابت اداکرے ۔

مسئلہ ٢٨ ۴۶ مسلمان کوکافرسے ميراث ملتی ہے ليکن کافرکومسلمان سے ميراث نہيں ملتی ہے چاہے وہ مرنے والے کاباپ یابيٹا ہی کيوں نہ ہو۔

مسئلہ ٢٨ ۴ ٧ اگرکوئی اپنے رشتہ دار کو عمدا اور ناحق قتل کرے تو قاتل، مقتول سے ميراث نہيں پاتا ہے ۔ ليکن اگرخطا کرتے ہوئے قتل کرے مثلا اگر ہوا ميں پتّھر پھينکے اوراتفاقاًاس کے کسی رشتہ دارکولگ جائے اوروہ مرجائے تواس کوميراث ملے گی ليکن قتل کی دیت ميں سے ميراث لينامحل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٨ ۴ ٨ جب بھی ميراث تقسيم کرناچاہيں تواس بچے کے لئے جو شکم مادرميں ہوکہ اگرزندہ پيداہوتو اس کوميراث ملے گی۔ تو اگر شکم ميں ایک سے زیاد ہ بچوں کااحتمال نہ ہو توضروری ہے کہ ایک حصہ عليٰحدہ رکھاجائے اوراحتياط واجب کی بنا پرایک لڑکے کے حصہ کوعليٰحدہ رکھاجائے اورباقی مال کوورثہ آپس ميں تقسيم کریں ليکن اگر عقلائی احتمال اس بات کا ہو کہ پيٹ ميں ایک سے زیادہ بچے ہوں گے تو بنابر احتياط ضروری ہے کہ جتنا احتمال ہے اتنا حصہ عليحدہ رکھ دیا جائے اور باقی مال آپس ميں تقسيم کرليں مگر یہ کہ وثوق اوراطمينا ن ہوکہ محتمل کاحق ضائع نہيں ہوگاتواس صورت ميں وہ ایک سے زائدحصے کوآپس ميں تقسيم کرسکتے ہيں ۔


ملحقات

بينک سے مربوط مسائل

بينک کی دو قسميں ہيں :( ١)اسلامی بینک( ٢)غیر اسلامی بینک اسلامی بينک کی تین صورتيں ہيں :

١) پرائيویٹ بینک

٢) سرکاری بینک

٣) سرکاری اور عوامی مشترکہ بینک اظہر يہ ہے کہ سرکاری اور مشترکہ بینکوں سے جائز معاملات کرنا صحيح ہے گرچہ احوط ہے کہ ان دونوں بینکوں سے رقم نکالنے اور اسے استعمال کرنے کے سلسلے ميں حاکم شرع سے اجازت لے لے۔

مسئلہ ٢٨ ۴ ٩ اسلامی بینکوں سے سود و فائدہ کی شرط کے ساته قرض لینا یا انہيں قرض دینا سود اور حرام ہے ليکن انسان چند صورتوں پر عمل کرکے اپنے آپ کو سود سے بچا سکتا ہے مثلاً قرض لینے والا بينک یا اس کے وکيل سے کوئی چيز بازاری بهاؤ سے ایک خاص فيصد مثلاً ١٠ یا ٢٠ فيصد زیادہ قيمت پر خریدے اور يہ شرط رکھے کہ بينک اس کی مطلوبہ رقم ایک خاص مدت تک اسے بطور قرض دے گا یا مثلاً يہ کہ بينک یا اس کے وکيل کو کوئی چيز بازاری بهاؤ سے ایک خاص فيصد کمتر قيمت پر بيچے اور شرط رکھے کہ بينک اس کی مطلوبہ رقم ایک خاص مدت تک اسے بطور قرض دے گا۔

اسی طرح بينک کو قرضہ دینے کے سلسلے ميں بھی اسی طریقے پر عمل کرسکتا ہے مثلاً يہ کہ بينک کوئی چيز بازاری قيمت سے زیادہ پر اس شخص سے خرید لے یا کوئی چيز بازاری بهاؤ سے کم قيمت پر اسے بيچ دے اور يہ شرط رکھے کہ وہ شخص ایک خاص مدت تک بينک کو قرضہ دے گا۔

یهی نتائج اجارہ، مصالحت اور قرض کی شرط والے هبہ سے بھی حاصل کئے جاسکتے ہيں ۔

مسئلہ ٢٨ ۵ ٠ سابقہ مسئلہ ميں بيان ہوا کہ بينک کو قرض دینے کا حکم بينک سے قرض لینے کی مانند ہے اور اگر قرض کی قرارداد ميں سود وفائدہ کی شرط ہو تو يہ ربا اور حرام ہے اور اس سلسلے ميں جمع کروائی ہو یعنی ایسے اکاؤنٹ ميں جس Fixed Deposit Account ميں فرق نہيں ہے کہ رقم ميں پےسہ رکھوانے والا معاملے کے مطابق ایک خاص مدت تک اپنی رقم کو استعمال نہيں کرسکتا ہے یا ميں یعنی ایسے اکاؤنٹ ميں جس ميں پےسہ رکھوانے والا ہر وقت اپنی رقم کو Current Account

استعمال کرسکتا ہے البتہ اگر سود کی شرط نہ لگائے اور اپنے آپ کو سود کی رقم کا حقدار نہ سمجھے تو اگرچہ بينک اسے سود دے پھر بھی ایسے بينک ميں رقم رکھوانا جائز ہے ۔


مسئلہ ٢٨ ۵ ١ غیر اسلامی بینکوں سے جن کا سرمايہ کافروں کا ہوتا ہے رقم لینے ميں کوئی حرج نہيں ہے چاہے سرمايہ سرکاری ہو یا پرائيویٹ اور اسی طرح ان ميں رقم رکھوانا اور سود لینا بھی جائز ہے ۔ اسی طرح سود کی رقم کو استنقاذ کے عنوان سے بھی لے سکتا ہے ۔

ايل سی (لیٹر آف کریڈٹ)

ایل سی کی دو قسميں ہيں برائے امپورٹ L/C ١) ایل سی جو شخص بيرونی ممالک سے کوئی چيز امپورٹ کرنا چاہے تو قواعد کے مطابق اس کے لئے کھولنے کے بعد بينک کی ذمہ L/C کھولے اور L/C ضروری ہے کہ اپنے ملک کی کسی ایک بينک ميں داری ہے کہ جب خریدار اور بيچنے والے کے درميان خط و کتابت یا خریدار کے ملک ميں موجود بيچنے والے نمائندے سے رابطہ کے ذریعے معاملہ واقع ہوجائے تو بيچنے والے کی جانب سے موصول شدہ رسید جو کہ جنس کی مقدار اور کوالٹی کے اعتبار سے تمام خصوصيات کو بيان کررہی ہو، Invoice

اس کی بابت بيچنے والے کو اسی کے ملک ميں موجود بينک کے ذریعے اتنی رقم کی ادائیگی کردے جس پر طرفین متفق ہوں اور اس اقدام کے ذریعے بينک خریدار سے اشياء کی پوری قيمت کا کچھ فيصد مثلاً ١٠ یا ٢٠ فيصد وصول کرے گا اور پھر بيچنے والے کو معاملہ پورا ہونے کی خبر دے گا تاکہ بيچنے والا جنس کی قيمت کی وصولی کے لئے ان اشياء سے متعلقہ دستاویز بينک کے سپرد کرے اور پھر بينک ان دستاویز کو تحویل ميں لینے کے بعد جو ان تمام خصوصيات کے مطابق ہوں جن پر کھلتے وقت اتفاق کيا تھا بيچنے والے کو پوری ادائیگی کردیگا۔ L/C طرفین نے ایل سی

٢)برائے ایکسپورٹ L/C ایل سی

جو شخص کسی چيز کو بيرون ملک ایکسپورٹ کرنا چاہے تو قواعد کے مطابق ضروری ہے کہ کھولے تاکہ بينک ایکسپورٹ کے L/C بيرون ملک موجود خریدار اپنے ملک کی کسی بينک ميں ایل سی کھولنے کے مذکورہ مراحل کو طے کرنے کے بعد ایکسپورٹ کرنے والے شخص سے L/C لئے ایل سی رابطہ کرے اور جنس کو خریدار کے اور اس کی قيمت کو بيچنے والے کے سپرد کرے۔

کھولنے کا طریقہ کار ایک L/C لہٰذا امپورٹ اور ایکسپورٹ کے سلسلے ميں بينک کے ایل سی ہی ہے ۔اور بعض اوقات چيز کا ایکسپورٹریا اس کا نمائندہ اور وکيل، امپورٹر سے معاملہ طے کرنے سے پهلے ہی اشياء کی دستاویزات کو جو اُن کی قسم،مقدار،کوالٹی اور دیگر مشخصات پر مشتمل ہوتی ہيں بينک کے سپرد کردیتا ہے اور بينک کو وکيل بناتا ہے کہ جو شخص بھی ان اشياء کو خریدنا چاہے ان دستاویزات کو اس کے سامنے پےش کرے اور اگر خریدار معين شدہ قيمت پر راضی ہوجائے تو اس سے کھولنے کا تقاضا کرے اور بينک بھی اسی ترتےب سے جسے بيان کيا گيا چيز کو خریدار L/C ایل سی کے اور قيمت کو بيچنے والے کے سپرد کرنے کے مراحل کو انجام دیتا ہے ۔


L/C کا کھولنا اور بينک کے لئے ایل سی L/C کا کھولنا

مسئلہ ٢٨ ۵ ٢ بينک ميں ایل سی دیگر ذمہ داریوں کو انجام دینا جائز ہے ۔

کھولنے اور اس سے متعلقہ ذمہ L/C مسئلہ ٢٨ ۵ ٣ بينک کے لئے جائز ہے کہ وہ ایل سی کهلوانے والے سے وصول کرے۔ L/C داریوں کو انجام دینے کے لئے ایک مخصوص رقم کھولنا اور ایک مخصوص رقم کی وصولی کو چند موضوعات L/C شرعی اعتبار سے ایل سی پر تطبیق کيا جاسکتا ہے کہ ان ميں سے تین عناوین کو بيان کيا جارہا ہے ۔

کھولنے L/C کھولنے والا بينک کو ایل سی L/C ١) اجارہ کے عنوان سے ہو یعنی ایل سی L/C کے لئے اجير بنائے اور مطلوبہ جنس کی قيمت کا ایک خاص فيصد جس پر بينک اور ایل سی کھولنے والا متفق ہوں اجرت کے طور پر بينک کو ادا کرے۔

کھولنے والا بينک کے ساته طے کرے کہ L/C ٢) جعالہ کے عنوان سے ہو یعنی ایل سی کھولے تو وہ ایک مخصوص رقم بينک کو ادا کرے گا اور بينک ایل L/C اگر بينک اس کے لئے ایل سی کھولنے کے بعد حق رکھتا ہے کہ و ہ مخصوص رقم اس سے لے لے۔ L/C سی کھولی جائے، اس طرح سے کہ بينک درخواست شدہ L/C ٣) خرید وفروخت کے عنوان سے رقم کو فارن کرنسی کی صورت ميں جنس بيچنے والے کے مُلک کی کرنسی ميں اسے ادائیگی کرے گا کھولنے والے امپورٹر سے اس کے مُلک ميں رائج کرنسی ميں عوض وصول کرے گا L/C اور ایل سی اور پھر اس فارن کرنسی کو اپنا فائدہ رکھتے ہوئے اضافی قيمت پر امپورٹر کو اس کے ملک کی کرنسی کے عوض بيچ دے گا۔اب چونکہ یہ معاملہ دو الگ کرنسيوں ميں ہوا ہے لہذااس ميں کوئی حرج نہيں ہے ۔

بينک کا مال کی حفاظت کرنا

بعض اوقات بينک امپورٹر کے اکاو نٔٹ ميں مال کی حفاظت کرتا ہے ، اس طرح سے کہ امپورٹر اور ایکسپورٹر کے مابین معاملہ طے پاجانے، درخواست شدہ رقم کی ایکسپورٹر کو ادائیگی اور جنس اور اس کی دستاویزات، امپورٹر کے مُلک ميں بھيجنے اور بينک کی طرف سے امپورٹر کو جنس کی وصولی کی اطلاع دینے کے بعد،جب امپورٹر جنس وصول کرنے ميں تاخیر کرتا ہے تو بينک امپورٹر کے اکاؤنٹ ميں جنس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے بدلے ایک معين رقم وصول کرتا ہے ۔

جب کہ بعض اوقات بينک ایکسپورٹر کے حساب ميں مال کی حفاظت کرتا ہے ، اس طرح سے کہ کروا دیتا ہے اور دستاویزات بينک کو Load ایکسپورٹر کسی سابقہ معاہدہ اور معاملہ کے بغير مال بهےج دیتا ہے تاکہ بينک اسے مُلک کے تاجروں کے سامنے پےش کرے ليکن (جب تک)کوئی اسے نہيں خریدتا ہے ، بينک اس مال کی ایکسپورٹر کے حساب ميں حفاظت کرتا ہے اور اس کے بدلے ميں ایک معين اجرت اس سے ليتا ہے ۔


مسئلہ ٢٨ ۵۴ مذکورہ دونوں صورتوں ميں یعنی چاہے بينک امپورٹر کے لئے جنس کی حفاظت کرے یا ایکسپورٹر کے لئے، اگر مال کی حفاظت کی اجرت لینا معاملہ کے ضمن ميں شرط کے طور پر ہو، چاہے يہ شرط ارتکازی ہو یعنی طرفین کے ذهن ميں ہو اور وہ اس شرط سے غافل نہ ہوں جيسا کہ ان جےسے معاملات ميں رائج ہے یا يہ کہ مال کی حفاظت امپورٹر یا ایکسپورٹر کی درخواست اور کهنے سے بينک نے کی ہو تو بينک کے لئے اجرت لینا جائز ہے ليکن ان دونوں صورتوں کے علاوہ بينک حق نہيں رکھتا ہے کہ مال کی حفاظت کے سلسلے ميں کوئی چيز بطور اجرت وصول کرے۔اور اگر اور دستاویز کا بهےجنا امپورٹر اور ایکسپورٹر کے مابین سابقہ Loading بينک کی طرف سے مال کی معاہدہ کے سبب ہو اور بينک دستاویزات کی وصولی کے بارے ميں اطلاع امپورٹر کو دے دے اور وہ دستاویزات نہ لے تو بينک اپنے حق کو یعنی ایکسپورٹر کو جو مطلوبہ رقم ادا کی ہے ،اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے اُن اختيارات سے فائدہ اٹھ اتے ہوئے جو ان جےسے موارد ميں ایکسپورٹر بينک کو دیتا ہے ،جنس کسی اور کو بيچ سکتا ہے ۔

بينک گارنٹی

بعض اوقات کوئی شخص حکومت یا بعض لوگوں کے لئے کسی کام کو انجام دینے کا ٹھ ےکہ قبول کرتا ہے جےسے مدرسہ یا هسپتال کی عمارت بنانا یا سڑک بنانا وغيرہ اور معاہدہ کے ضمن ميں ٹھ ےکہ دینے والا ٹھ ےکید ار سے ایک معين رقم کی بينک گارنٹی کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ اطمينان حاصل کرسکے کہ ٹھ ےکید ار اپنے وعدہ کے مطابق کام انجام دے گا لہٰذا اگر وہ پورے کام یا معاہدہ کی شرائط کو انجام نہ دے تو اس بينک گارنٹی سے متوقع نقصان کا ازالہ کرسکے اور معين رقم کو حاصل کرسکے اور اس مقصد کے لئے ٹھ ےکید ار بينک سے رابطہ کرتا ہے اور بينک سے درخواست کرتا ہے کہ جاری کرے اور بينک ضروری شرائط کے Guaranty Letter ٹھ ےکہ دینے والے کی مطلوبہ رقم کا جاری کردیتا ہے اور ٹھ ےکید ار سے Guaranty Letter مهيا ہونے کے بعد ٹھ ےکید ار کے لئے جاری کرنے کے عوض ضمانت شدہ رقم کی نسبت سے اجرت وصول کرتا ہے ۔ Guaranty Letter

مسئلہ ٢٨ ۵۵ بينک گارنٹی کا معاہدہ ہر اس چيز سے ہوجاتا ہے جو اس پر دلالت کرے، چاہے لفظی ہو جےسے زبانی ایجاب و قبول یا عملی ہو جو اس پر دلالت کرے۔ اس سے کوئی فرق نہيں پڑتا کہ ضامن ٹھ ےکہ دینے والے سے وعدہ کرے کہ ٹھ ےکید ار ضمانت شدہ رقم ادا کرے گا یا ٹھ يکيدار سے يہ وعدہ کرے کہ ٹھ ےکہ دینے والا اپنے وعدوں اور شرائط کو پورا کرے گا اور وعدہ خلافی کی صورت ميں ضمانت شدہ رقم ادا کرے گا۔


مسئلہ ٢٨ ۵۶ اگر ٹھ ےکید ار معاہدہ کی خلاف ورزی کرے تو اس پر واجب ہے کہ اپنی لگائی ہوئی شرط یعنی ضمانت شدہ رقم کی ادائیگی کو پورا کرے جبکہ يہ شرط معاہدہ کے ضمن ميں رکھی Guaranty Letter گئی ہو اور اگر ضمانت شدہ رقم کی اد ائیگی نہ کرے تو ٹھ ےکہ دینے والے کا اجراء ٹھ ےکید ار Guaranty Letter جاری کرنے والے بينک سے رابطہ کرے گا اور چونکہ کی درخواست پر ہوا ہے لہٰذا وہ بينک کا ضامن ہوگا اور جو کچھ بينک ادا کرے گا ٹھ ےکید ار پر اس رقم کی ادائیگی ضروری ہے ا ور بينک حق رکھتا ہے کہ اس سے مطالبہ کرے اور وصول کرے۔

جاری کرنے کے عوض ٹھ ےکید ار سے جو معين Guaranty Letter مسئلہ ٢٨ ۵ ٧ بينک اجرت ليتا ہے وہ جائز ہے اور بينک کا ٹھ ےکید ار سے معاملہ چند طریقوں سے صحيح ہوسکتا ہے ۔ ان ميں سے ایک يہ ہے کہ معاملہ اجارہ کی صورت ميں ہو یعنی ٹھ ےکيدار بينک کو مذکورہ کام کے لئے ایک معين رقم پر اجير بنائے یا يہ کہ جعالہ کی صورت ميں ہو یعنی ٹھ ےکہ دار مذکورہ کام کی انجام دهی کے عوض ادا کرنے والے کمےشن کو جعل قرار دے جُعل یعنی وہ رقم جو عقد جعالہ ميں کسی کام کے عوض قرار دی جاتی ہے ۔

حصص کی فروخت ( shares )

کی Notes اپنے حصص اور با قيمت دستاویز Share Holder Companies بعض اوقات فروخت کے لئے بينک کو وسيلہ قرار دیتے ہيں اور بينک اپنے واسطہ بننے کی طے شدہ اجرت لے کر حصص اور دستاویزات کی فروخت کے لئے اقدام کرتا ہے ۔

Share مسئلہ ٢٨ ۵ ٨ يہ معاہدہ بينک کے ساته جائز ہے چاہے اجارے کی صورت ميں ہو یعنی کمپنياں بينک کو حصص اور با قيمت اسناد کی فروخت کے سلسلے ميں معين رقم کی ادائیگی Holder

پابند Share Holder Company کے عوض اجير بنائے اور چاہے جعالہ کی صورت ميں ہو یعنی ہوجائے کہ اگر بينک اس کے لئے يہ کام انجام دے تو اس رقم کو اسے ادا کرے گا اور دونوں صورتوں ميں بينک کو يہ حق حاصل ہے کہ مذکورہ کام کو انجام دینے کے بعد معينہ اجرت وصول کرے۔


کے حصص کی خرید و فروخت جائز ہے Share Holders Companies مسئلہ ٢٨ ۵ ٩ميں سودی معاملات جےسے حرام معاملات انجام نہ پاتے ہوں اور جو Companies بشرطیکہ ان حرام معاملات کو انجام دیتی ہوں ان کے حصص کی خریدوفروخت اس صورت ميں جائز Companies نہيں ہے جب حرام معاملہ سے حاصل شدہ منافع کمپنی کے سرمايہ کا حصہ ہوں اور اس صورت کے علاوہ صرف حصص کی خریدوفروخت جائز ہے البتہ ضروری ہے کہ اس کمپنی کے حرام منافع سے بچا جائے۔

اندرونی اور بيرونی حوالے کے احکام) Drarft

ڈرافٹ کی چند قسميں ہيں :

یعنی وہ شخص جس کا بينک ميں اکاؤنٹ ہو اور بينک سے معاملے کے Client ١) يہ کہ لئے بينک سے رابطہ کرتا ہو کی بينک ميں رقم موجود ہو اور وہ بينک سے تقاضا کرے کہ اس کے چےک یا حوالہ کو اندرون یا بيرون مُلک موجود کسی ایک بينک کے ذمہ جاری کرے یا تقاضا کرے کہ اس کی رقم بينک ہی کے دوسرے شہر ميں موجود کسی دوسری برانچ یا بيرون مُلک موجود برانچ کو ادا اپنی رقم مطلوبہ مقام سے وصول کرے اور بينک اس بات کاحق رکھتا ہے کہ اس Client کرے اور پھر سے اجرت وصول کرے اور اس اجرت لینے کو اس طریقے سے صحيح کها Client کام کے لئے نے رقم Client جاسکتا ہے کہ چونکہ بينک کے لئے ضروری نہيں ہے کہ وہ اس مقام کے علاوہ جهاں جمع کروائی تھی کسی دوسری برانچ ميں رقم کی ادائیگی کرے۔ لہٰذا اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کو رقم کی ادائیگی Clinet لے تاکہ Comission کی خاطر بينک کے لئے جائز ہے کہ وہ اجرت کسی دوسرے شہر یا مُلک ميں کرے۔

کی بينک ميں کوئی رقم موجود نہ ہو اور بينک اس کے لئے چےک Client ٢) يہ کہ کی Client یا ڈرافٹ جاری کرے تاکہ اندرون مُلک یا بيرون مُلک موجود وہ بينک جس کا Cheaque

کو قرضہ دے یا يہ کہ بينک دوسری برانچ کے سربراہ سے Client بينک سے حساب و کتاب ہو اس کو قرضہ دے۔ يہ کام (درحقیقت) بينک کا اپنے کسی حساب و کتاب والی Client درخواست کرے کہ کو قرضہ دے رہے ہيں وکيل بنانا ہے کہ Client بينک کو یا اپنی دوسری برانچ کے سربراہ کو جو کو قرضہ دے یا يہ کہ خود اس شخص کو وکيل بنانا ہے کہ رقم وصول کرے اور بطور قرض اس client


رقم کا مالک بن جائے اور اس وکيل بنانے کی خدمات دینے کے لئے بينک ا س شخص سے اجرت لے سکتا ہے ۔ Comission

اور اگر بيرون مُلک بينک ميں جس رقم کا حوالہ دے وہ اُسی ملک کی کرنسی ميں ہو اور اسی طریقہ سے جس کا ذکر کيا گيا بينک سے وہ رقم اپنے لئے بطور قرض وصول کرے تو بينک Client

سے مطالبہ کرے اور بينک یہ بھی کرسکتا Client کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسی بيرونی کرنسی کا کے client لے کر اپنے اس حق کو چھوڑ دے یا یہ کہ اس غیر مُلکی کرنسی کو Comission ہے کہ ملک کی مقامی کرنسی ميں ہی کچھ زیادہ قيمت پر تبدیل کرلے۔

٣) یہ کہ کوئی شخص اپنے شہر ميں موجود بينک کو رقم دے تاکہ اسی کے برابر رقم اندرون مُلک یا بيرون ملک موجود اس بينک سے حساب و کتاب رکھنے والے بينک سے وصول کرسکے مثلاً رقم نجف اشرف ميں بينک ميں جمع کروائے تاکہ بغداد ميں وصول کرسکے یا شام و لبنان یا کسی اور ملک ميں وصول کرسکے اور بينک اسی کام کے لئے کچھ پےسے زیادہ لے تو یہ بينک کا کام اور مذکورہ رقم کا لینا جائز ہے اور کچھ رقم زیادہ لینے کا صحيح ہونا اس اعتبار سے ہے کہ قرض ميں حرام سود وہ اضافی رقم ہے جو قرض ہے اور جسے قرض دینے والا مقروض سے ليتا ہے ليکن اگر مقروض، قرضہ دینے والے سے اضافی رقم لے تو جائز ہے اور اگر وہ دونوں الگ الگ کرنسياںہوں مثلاً ایر انی تومان اور عراقی دینار تو بينک یہ بھی کر سکتا ہے کہ فارن کرنسی کو کچھ زیادہ قيمت پر لوکل کرنسی ميں کو بيچ دے ۔ client

۴) يہ کہ کوئی شخص بينک کی کسی ایک برانچ سے کوئی رقم لے اور بينک سے درخواست کرے کہ وہ کسی دوسری برانچ ميں اس رقم کی ادائیگی کرے گا، جب کہ اس سلسلے ميں بينک نے نہ درخواست کی تھی نہ ہی اسے ضروری قراردیا تھا اور بينک اس درخواست کو قبول کرنے کے لئے ایک مخصوص رقم اس شخص سے لے تو اس اضافی رقم کا لینا ان دو طریقوں ميں سے کسی ایک طریقے سے جائز ہے ۔

الف) اگر وہ دو رقم دو جنس سے ہوں مثلاً يہ کہ کوئی شخص بينک سے ایر انی ریال لے اور اس کے عوض ميں بينک اس سے ایر انی ریال کے علاوہ کسی دوسری کرنسی ميں رقم وصول کرے۔اس صورت ميں بينک اس شخص سے اس فارن کرنسی کو ایک اضافی رقم کے ساته اس رقم سے تبدیل کرے گا جو اسے دی تھی۔


ب)چونکہ بينک پر شرعاً ضروری نہيں ہے کہ جو رقم اسے دی تھی وہ کسی دوسرے مقام پر اس سے وصول کرے اور بينک کو يہ حق حاصل ہے کہ اس شخص کی درخواست کو قبول نہ کرے پس وصول کرسکتا ہے ۔ comission بينک اپنے اس حق سے دستبرداری کے سبب اس شخص سے مسئلہ ٢٨ ۶ ٠ بينک ڈرافٹ کی مختلف اقسام اور ان کی فقهی موضوعات پر تطبیق کے سلسلے ميں جو کچھ بيان ہوا وہ تمام احکام لوگوں کے بارے ميں بھی جاری ہوں گے مثلاً يہ کہ کوئی شخص کسی ودسرے شخص کو کسی مقام پر رقم دے تاکہ کسی دوسرے مقام پر وهی رقم یا اس کے برابر رقم وصول کرسکے اور وہ دوسرا شخص کچھ رقم اضافی لے یا يہ کہ کسی شخص سے کسی مقام پر کچھ رقم لے اور اس کے برابر رقم اضافی رقم کے ساته کسی دوسرے شہر یا ملک ميں ادا کرے۔

مسئلہ ٢٨ ۶ ١ اس سلسلے ميں فرق نہيں ہے کہ حوالہ کرنے والا جس شخص یا بينک کی طرف حوالہ کررہا ہو اس کے پاس اس کی رقم ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں ميں حوالہ کرنا صحيح ہے ۔

بينک کے انعامات

a/c بعض اوقات بينک لوگوں کو اس بات کا شوق و ترغيب دلانے کے لئے کہ وہ بينک ميں اپنا زیادہ مقدار ميں رقم بينک ميں جمع کروائيں، کسی انعام کا a/c holders کھوليں یا بينک کے موجودہ اعلان کرتے ہيں جو قرعہ اندازی کے ذریعے اس شخص کو دیتے ہيں جس کے نام قرعہ نکل آئے۔

مسئلہ ٢٨ ۶ ٢ بينک کے انعامات کی دو قسميں ہيں :

١) يہ کہ قرعہ اندازی بينک پر لازم نہ ہو بلکہ وہ فقط شوق دلانے کی خاطر قرعہ اندازی کررہا ہو۔ ایسی صورت ميں يہ قرعہ اندازی والا طریقہ جائز ہے اور جس کے نام قرعہ نکل آئے وہ انعام لے سکتا ہے اگرچہ بينک کے سرکاری یا مشترکہ ہو نے کی صورت ميں احتياط یہ ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے انعام ليا جائے۔

٢) يہ قرعہ اندازی شرط کے طور پر ہو اوربينک پر لازم ہو اور بينک اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے قرعہ اندازی کروائے کہ ایسی صورت ميں قرعہ اندازی کا عمل جائز نہيں ہے اور جس کے نام قرعہ نکل آئے اس کے لئے انعام لینا بھی جائز نہيں ہے ۔

بينک کا پرونوٹ ( ١)کی وصولی اور اسے کےش کرنا

کے پرونوٹ Clients یا Account Holders يہ بھی ہے کہ وہ اپنے service بينک کی ایک وصول کرتا ہے ۔ اس کی کيفيت یہ ہوتی ہے کہ بينک ادائیگی کے مقررہ وقت سے پهلے پرونوٹ کی ادائیگی کرنے والے شخص کو بينک ميں اس پرونوٹ کی موجودگی،اسکا سیر یل نمبر اس کی رقم کی مقدار اور ادائیگی کے مقررہ وقت کے بارے ميں اطلاع دیتا ہے تاکہ وہ


مقررہ وقت پر ادائیگی کے لئے کے اکاؤنٹ ميں Client تيار ہوجائے اور بينک پرونوٹ کی وصولی کے بعد، اس ميں موجود رقم اپنے کے لئے بينک service منتقل کردیتا ہے یا نقدکی صورت ميں اسے ادا کردیتا ہے اور اس وصول کرتا ہے ۔ Comission جو چيک بينک کے پاس رکھوائيں انہيں وصول clients يہ بھی ہے کہ service بينک کی ایک کرتا ہے ،اور بينک اس سرویس کے عوض کميشن ليتا ہے ۔

کی چند صورتيں ہيں : Comission مسئلہ ٢٨ ۶ ٣ پرونوٹ کی وصولی اور ١)پرونوٹ کی ادائیگی کرنے والے شخص کی بينک ميں رقم جمع ہے اور اس پرونوٹ ميں لکھا ہوا ہے کہ قرض خواہ وقت مقررہ پر بينک سے رابطہ کرے گا اور بينک پرونوٹ کی رقم قرض دار کے اکاؤنٹ سے نکال کر قرض خواہ کو بصورت نقد ادا کرے گا یا قرض خواہ کے اکاؤنٹ ميں منتقل کردے گااور اس کام کا مطلب يہ ہے کہ پرونوٹ کی ادائیگی کرنے والے شخص نے اپنے قرض خواہ کو بينک کے حوالہ کردیا ہے اور چونکہ اس کی بينک ميں رقم جمع ہے اور بينک اس کی مقروض ہے لہٰذا حوالہ صحيح ہے اور بينک کے قبول کرنے کی ضرورت نہيں ہے ۔اس صورت ميں جبکہ بينک قرض لینا جائز نہيں ہے ۔ Comission کی رقم ادا کررہا ہے اس کے لئے ٢)پرونوٹ کی ادائیگی کرنے والے شخص کی بينک ميں کوئی رقم جمع نہ ہو اور بينک اس کا مقروض نہ ہو ا ور وہ پرونوٹ کی رقم کو بينک کی طرف حوالہ کرے تو اس کام کا مطلب یہ ہے کہ یہ حوالہ بری الذمّہ شخص یعنی وہ شخص جو حوالہ کرنے والا کا مقروض نہيں ہے ،کی طرف ہے ۔ یہ حوالہ جائز ہے اور بينک اس حوالہ کو قبول کرتا ہے اور اس کی رقم کی ادائیگی کرتا ہے اور حوالہ قبول کرنے کے عوض پرونوٹ کی ادائیگی کرنے والے شخص سے کمےشن وصول کرتا ہے اور يہ لینا بھی جائز ہے ۔ Comission خود اپنے پرونوٹ کو جو کسی جانب سے حوالہ نہيں ہوا ہے رقم کی Account Holder (٣وصولی کے لئے بينک کے سپرد کرے اور اس کام کو جعالہ کے عنوان سے انجام دیا جاسکتا ہے اور جُعل یعنی وہ چنر جو جعالہ ميں عوض کے طور پر قرار دی جاتی ہے کے عنوان سے کمےشن کی وصولی بھی جائز ہے بشرطیکہ بينک کی مداخلت فقط قرضہ کی رقم کی وصولی کے لئے ہو ليکن اگر کو بھی قرار دیا گيا ہو تو بينک ایسا کام نہيں کرسکتا۔ down payment اس قرضہ پر سود اور

فارن کرنسی کی خريدوفروخت

مسئلہ ٢٨ ۶۴ فارن کرنسی کی خریدوفروخت مثلاً دینار کو تومان کے عوض بيچنا، خواہ قيمت خرید سے زیادہ، کم یا مساوی قيمت پر بيچاجائے، جائز ہے اور اس سے کوئی فرق نہيں پڑتا کہ سودا فوری نوعيت کا ہو یا مدت دار ہو۔


Current Account

جس شخص کا بينک ميں کرنٹ اکاؤنٹ ہو اور اُس نے اپنے اکاؤنٹ ميں رقم جمع کروائی ہو، اسے بينک ميں اپنی موجودہ رقم کی حد تک رقم نکالنے کا حق ہے ، ليکن بعض اوقات بينک اپنے پر اعتماد کی وجہ سے اس کے حساب ميں رقم نہ ہونے کے باوجود بھی ایک معين Account Holder کها جاتا ہے اور بينک اس معين رقم کو قرض دے over draft رقم نکالنے کی اجازت دیتا ہے اور اسے کر منافع حاصل کرتا ہے ۔ يہ قرض دینا اورفائدہ لینا جائز نہيں ہے ۔

پرونوٹس (هنڈی) کی خريدوفروخت

کسی بھی چيز کی ماليت دو ميں سے کسی ایک سبب کی بنا پر ہوتی ہے :

١)وہ چيز ایسے فوائد اور خصوصيات کی حامل ہو جس کے باعث عقلا اس کی طرف رغبت کریں جےسے کھانے پینے اور پهننے اوڑھنے کی چيزیں۔

٢) کوئی ایسی ذات جو خود صاحبِ اعتبار ہواس چيز کے لئے ماليت کااعتبار کرے، جيسے جن کے لئے حکومتيں ماليت کا اعتبار کرتی ہيں ۔ stamp کرنسی نوٹ اور مسئلہ ٢٨ ۶۶ بيع (خریدو فروخت)اور قرض ميں موضوع اور حکم کے اعتبار سے چند فرق ہيں :

١)موضوع کے اعتبار سے بيع یہ ہے کہ کسی عين کو اضافے ميں عوض کے ساته تبدیل کر دیا جائے، چاہے وہ اضافہ ملکيت ہو یا حق۔ جب کہ قرض یہ ہے کہ کسی عين کو مقروض کی ملکيت ميں دے دیا جائے اور مقروض اس عين کے مثلی ہونے کی صورت ميں اس کی مثل کا اور قيمی ہونے کی صورت ميں اس کی قيمت کا ضامن ہوتا ہے ۔

جبکہ احکام کے اعتبار سے بھی ان دونوں ميں کچھ فرق ہيں جن ميں سے چند کی طرف اشارہ کيا جارہا ہے :

١)بيع اور قرض ميں سود کا معيار الگ ہے ۔ قرض ميں کسی طرح کے اضافے کی بھی شرط لگائی جائے وہ سود اور حرام ہے ۔ جبکہ بيع ميں سود یہ ہے کہ خریدی اور بيچی جانے والی چيز ایک ہی جنس سے ہوں اور انہيں وزن یا پيمانے سے بيچا جائے، تو جو اضافہ ہوگا وہ سود اور حرام ہوگا۔

لہٰذا اگر ایک جنس سے نہ ہوں یا انہيں پيمانے یا وزن سے نہ بيچا جائے تواضافی مقدار حرام نہ ہوگی، جيسے وہ اجناس جنہيں گن کربيچا جاتا ہے ۔

٢)اگر بيع ميں سودی معاملہ ہو تو معاملہ باطل ہوجاتا ہے اور عين و عوض ایک دوسرے کی ملکيت ميں منتقل ہی نہيں ہوتے جبکہ قرض ميں سودی قرض کے باوجود قرض باطل نہيں ہوتااور قرض لينے والا، قرض کے طور پر لی ہوئی مقدار کا مالک بن جاتا ہے ۔ ہاں، قرض خواہ اس شرط شدہ اضافی مقدار کا مالک نہيں بنتا۔


مسئلہ ٢٨ ۶ ٧ تمام کاغذی نوٹ مثلاً عراقی دینار، امریکن ڈالر، روپيہ وغيرہ ماليت رکھتے ہيں ، اس اعتبار سے کہ ہر ملک کی طرف سے ان کے ملک ميں رائج کرنسی نوٹوںکے لئے ماليت کا اعتبار کر دیاگيا ہے جو پورے ملک ميں قابل قبول اور رائج ہوتا ہے اور اسی لئے ان نوٹوں کو ماليت مل جاتی ہے ۔ جبکہ یہ ممالک جب چاہيں ان نوٹوںکو ماليت اور اعتبار سے گرا سکتے ہيں ۔

یہ بھی طے ہے کہ یہ نوٹ وزن یا پيمانے سے فروخت نہيں ہوتے ہيں ۔ اسی لئے بعض فقهاءرضوان الله تعالی عليهم نے فرمایا ہے کہ:” ان نوٹوں کو انہيں کے جنس کی نوٹوں سے اضافے کے ساته عوض کرنا بھی جائز ہے ۔ اسی طرح ان نوٹوں کو جب کہ یہ کسی کے ذمے قرض کی صورت ميں ہوں، کم یا زیادہ نقد پر بيچنا بھی جائز ہے “۔ليکن اعتباری ماليت والی چيزوںکا معاملہ جنہيں گن کر خرید وفروخت کياجاتاہے ، اگر اسی کی جنس سے کم یا زیادہ پر بيچا جائے، محل اشکال ہے ۔

هاں، اگرکم مقدار کا مالک زیادہ مقدار کے مالک سے اس بات پر مصالحت کرلے کہ زیادہ مقدار والا اپنی مقدار اسے بخش دے اور وہ بھی اپنی کم مقدارزیادہ مقدار والے کو بخش دے تو اس ميں کوئی حرج نہيں ۔مثلاً نوسو روپے کا مالک مصالحت کی نيت سے ہزار روپے والے سے کهے:”ميں تم سے اس بات پر مصالحت کرتا ہوں کہ تم ہزار روپے مجھے بخش دو اور ميں نوسو روپے تمہيں بخش دوں“۔

مسئلہ ٢٨ ۶ ٨ ریال والے پرونوٹ جو لوگوں اور تاجروں ميں رائج ہيں اور ان سے معاملہ بھی کياجاتا ہے ، یہ کرنسی نوٹ کی طرح نہيں ہيں جن کے خود کے لئے ماليت کا اعتبار کياگيا ہو، بلکہ یہ ایک طرح سے اس قرضے کی سند کے طور پر ہوتا ہے جو پرونوٹ پر سائن کرنے والے ذمہ دار شخص کے ذمے واجب الادا ہوتا ہے ۔ لہٰذا جب خریدار، بيچنے والے کو پرونوٹ دیتا ہے تو حقيقتاً اس نے خریدی ہوئی چيزکی قيمت نہيں دی ہوتی ہے ، اسی لئے اگریہ پرونوٹ بيچنے والے کے پاس جل جائے یا گم ہوجائے تو بيچنے والے کا کچھ بھی مال ضائع نہيں ہوا ہے اور خریدار بھی بری الذمہ نہيں ہوجاتا۔

جبکہ اگر قيمت کے طور پر کرنسی نوٹ دئے ہوتے اور بيچنے والے کے پاس سے گم ہوگئے ہوتے تو یهی مانا جاتا کہ اسی کا نقصان ہوا ہے اور وهی اس کا ذمہ دار ہے ۔

مسئلہ ٢٨ ۶ ٩ پرونوٹ کی دو اقسام ہيں :

١)وہ جو واقعی قرض کا ثبوت ہو۔ یعنی پرونوٹ پر سائن کرنے والا شخص پرونوٹ ميں لکھی ہوئی مقدار کا واقعاً مقروض ہو اور پرونوٹ در حقيقت اس کے لئے ایک سند کی مانند ہو۔

٢)در حقيقت کوئی قرض نہ ہو بلکہ اس کی صرف ایک کاغذی حيثيت ہو۔


پهلی صورت ميں جبکہ پرونوٹ کا مالک اس پرونوٹ کی بنياد پر ایک مدت دار قرض کا قرض خواہ ہے ، وہ اس پرونوٹ کو اس صورت ميں اس کی اصل مقدار سے کم یا زیادہ پر بيچ سکتا ہے کہ جب کہ کرنسی مختلف ہو یعنی روپے کو ڈالر ميں بيچا جارہا ہو اور خود قيمت کو ادهار نہ رکھا جا رہا ہو۔ليکن اگر کرنسياں مختلف نہ ہوں مثلاً روپے کے پرونوٹ کو روپے اور ڈالر کے پرونوٹ کو ڈالر کے عوض بيچا جا رہا ہو تو اس کا جائز ہونا محل اشکال ہے ۔هاں، اگر مسئلہ نمبر ٢٨ ۶ ٧ ميں بيان کئے گئے طریقے کے مطابق مصالحت کا معاملہ کيا جائے تو کوئی حرج نہيں ۔

دوسری صورت ميں جو کہ کاغذی پرونوٹ ہے ، پرونوٹ کا مالک اسے کسی اور کے ہاتھ نہيں بيچ سکتااس لئے کہ پرونوٹ سائن کرنے والے کے ذمے حقيقتاً کوئی قرض واجب الادا نہيں ہے ، بلکہ یہ پرونوٹ اس لئے دیا گيا ہے کہ پرونوٹ کا مالک اس سے فائدہ اٹھ ا سکے۔ اس طرح کے پرونوٹ سے شرعی اعتبار سے فائدہ اٹھ انے کا طریقہ یہ ہے کہ پرونوٹ سائن کرنے والا شخص اس شخص کو وکالت دے جسے اس نے پرونوٹ لکھ کر دیا ہے ، کہ پرونوٹ کی مقدار کو جو مثلاً ۵ ٠ امریکی ڈالر ہے اور جو ٣٠٠٠ روپئے کے برابر ہے ، اس کی ماليت سے کم مقدار مثلاً ٢ ۵ ٠٠ روپئے پر پرونوٹ سائن کرنے والے کے کھاتے ميں بينک کو بيچ دے اوراس کے پاس یہ وکالت بھی ہو کہ ان ٢ ۵ ٠٠ پاکستانی روپوں کو اس سائن کرنے والے کی طرف سے اپنے آپ کو پھر سے ۵ ٠ امریکی ڈالر کے عوض بيچ دے۔ اس کا نتيجہ یہ ہوگا کہ پرونوٹ کا مالک ، پرونوٹ سائن کرنے والے کا اتنی مقدار ميں مقروض ہوجائے گا جتنی مقدار ميں پرونوٹ سائن کرنے والا بينک کا مقروض بنا ہے ، یعنی ۵ ٠ امریکی ڈالر۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بينک پرونوٹ کے مالک کو پرونوٹ ميں لکھی ہوئی مقدارقرض دے دے اور پرونوٹ کے طور پر service charges کا مالک بينک کی جانب سے کسی پيشگی شرط کے بغير کچھ مقدار بينک کے رجسٹر ميں لکھی ہوئی مقدار کے مطابق اس وقت ادا کرے جب وہ یہ قرضہ لوٹائے گا۔ ليکن کی چاہے ضمنی طور پر ہی سهی شرط لگائی گئی ہو تویہ سودی قرضہ بن service charges اگر ان جائے گا۔وہ شخص جس نے پرونوٹ کی ذمہ داری لی تھی پرونوٹ سے فائدہ اٹھ انے والے شخص سے رجوع کرسکتا ہے اور تمام پرونوٹ کی رقم لے سکتا ہے کيونکہ فائدہ اٹھ انے والے شخص نے بينک کو پرونوٹ کی ذمہ داری والے شخص کے لئے حوالہ دیا ہے ۔

Bank Service

بينکنگ کے کاروبار کی دو قسميں ہيں :

١)ایسے کام جن کا تعلق سودی معاملات سے ہے ۔ ایسے کاموں ميں حصہ لينا جائز نہيں ہے اور ميں نوکری کر رہا ہے تو وہ اس کام کے لئے تنحواہ نہيں department اگر کوئی شخص کسی ایسے لے سکتا۔


٢)ایسے کام جن کا سود سے کوئی تعلق نہيں ہے ۔ ان کاموں کے انجام دینے ميں کوئی حرج نہيں ہے اور اس کی اجرت لينا بھی جائز ہے ۔

بيمہ کے احکام

بےمہ، در حقيقت کمپنی اور پالےسی ہولڈر کے مابین اس بات پر معاہدہ ہوتا ہے کہ پالےسی ہولڈر، بےمہ کمپنی کو مال کی ادائیگی کرے گا خواہ وہ خودِ مال ہو یا کسی چيز کی منفعت ہو یا کوئی کام کاج کی صورت ميں ہو اور اسی طرح خواہ اس کی ادائیگی ےکمشت ہو یا اقساط کی صورت ميں ہو اور اس کے عوض بےمہ کمپنی معاملہ کی طے شدہ صورت کے مطابق اسے یا کسی اور کو پهنچنے والے نقصان کی ادائیگی کی ذمہ دار ہوگی۔

مسئلہ ٢٨٧٠ بےمہ کی کئی قسميں ہيں جےسے زندگی کا بےمہ،سلامتی کا بےمہ،مال کا بےمہ اور چونکہ ان تمام قسموں کا حکم ایک ہے لہٰذا انواع و اقسام کے بيان کی ضرورت نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٨٧١ بےمہ معاملات ميں سے ہے اور ایجاب و قبول سے ثابت ہوجاتا ہے مثلاً يہ کہ بےمہ کرنے والا کهے:”ميں ا س بات کا پابند ہوں کہ اتنی مقدار ميں مال کی ادائیگی کی صورت ميں (تمهاری) جان یا مال کو پهنچنے والے نقصان کا ازالہ کروں گا“ اور وہ شخص جو بےمہ کروانا چاہتا ہے کهے کہ: ”ميں نے قبول کيا“ یا یوں کہ بےمہ کروانے والا کهے: ”ميں اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ جان و مال کے نقصان کے ازالہ کے بدلہ ميں معين مقدار ميں مال کی ادائیگی کروں گا“ اور بےمہ کرنے والا قبول کرے۔

یہ معاملہ بھی دوسرے معاملات کی مانند قول و عمل، دونوں سے ثابت ہوجاتا ہے اور اس معاملے ميں معاملات کے عمومی شرائط جےسے بالغ اور عاقل ہونا،ارادہ ہونا، زبردستی کا نہ ہونا،معاملہ کے طرفین کا سفيہ یا مفلس نہ ہونا، معتبر ہيں ۔یہ بھی ضروری ہے کہ جس چيز کا بےمہ کيا جائے مثلاً جان یا مال اور جان یا مال کا بےمہ جن ممکنہ خطرات سے کيا جارہا ہو، معين ہوں۔ اسی طرح مال کی ادائیگی اگر اقساط کی صورت ميں ہو تو ماہانہ یا سالانہ قسط اور بےمہ کی ابتدا اور انتها کا وقت بھی معين ہو۔

مسئلہ ٢٨٧٢ بيمہ کی تمام قراردادوں کی اقسام کو بيمہ کرنے والے کی طرف سے اس بات کی ذمہ داری لينا کہ بيمہ ہونے والے کو نقصان کی صورت ميں وہ ادائيگی کا پابند رہے گا کرسکتے ہيں گرچہ احتياط یہ ہے کہ جو بيمہ ہوا ہے وہ معين مال کو بيمہ کرنے والے سے اس بات کی شرط کرتے ہوئے کہ نقصان کی صورت ميں وہ ادائيگی کرے گا صلح کرے اور بيمہ کرنے والے پر نقصان کا جبران کرنا واجب ہوجائے گا، اور اسی طرح جب معين مال بيمہ کرنے والے کی طرف سے عين ہو بيمہ کی قرار داد کو نقصان کی صورت ميں بيمہ کرنے والے کی ادائيگی کو هبہ مشروط قرار دیا جاسکتا ہے کہ بيمہ کرنے والے پر اس شرط کی پابندی واجب ہے ۔


مسئلہ ٢٨٧٣ عقد بيمہ نقصان کی صورت ميں صلح ہو یا هبہ مشروط، خسارت کی صورت ميں اگر بيمہ کرنے والا ادائيگی نہ کرے اور شرط پر عمل نہ کرے،تو بيمہ ہونے والا شرط کی مخالفت ہونے کی صورت ميں اختيار رکھتا ہے کہ صلح یا هبہ کو فسخ کرے اور جو کچھ پهلے بيمہ کی اقساط ادا کرچکا ہے واپس لے لے۔

مسئلہ ٢٨٧ ۴ بيمہ کی قرار داد کے مطابق بيمہ ہونے والا اگر قسطوں کو ادا نہ کرے تو بيمہ کرنے والے پر خسارت کا ازالہ کرنا واجب نہيں اور بيمہ ہونے والا جن اقساط کی ادائيگی کرچکا ہے ان کو واپس لينے کا حق نہيں رکھتا۔

مسئلہ ٢٨٧ ۵ بيمہ کی قرار دار صحيح ہونے کے لئے معين مدت معتبر نہيں ہے کہ یک سالہ ہو یا دوسالہ بلکہ جو قرار داد ان دونوں کے درميان ہوئی ہے مدت اسی کے تابع ہے ۔

مسئلہ ٢٨٧ ۶ اگر چند سرمایہ گذار کسی کمپنی کی بنياد رکہيں اور ان ميں سے سب یا کوئی ایک سرمایہ گذار شرکت کی قرار داد کے ضمن ميں دوسروں پر شرط رکھے کہ اگر اس کو جانی یا مالی معينہ خسارت ہو اور حادثہ کی نوعيت تعيين کرے، حادثہ کے وقوع کی صورت ميں جب تک شرکت کی قرارداد باقی ہو واجب ہے کمپنی اس شرط پر عمل کرے اور اس کی خسارت کا ازالہ اپنے فائدہ سے کرے۔

پگڑی کے احکام

رائج معاملات ميں سے ایک پگڑی ہے اور پگڑی يہ ہے کہ کرائے پر حاصل کی ہوئی چيز کو خالی کرنے اور اسے کسی اور کے حوالے کرنے کا حق مستاجر کے پاس ہو یا کرايہ زیادہ کرنے اور کرائے پر دی ہوئی چيز کو واپس لینے کا حق مالک کو نہ ہو۔

مسئلہ ٢٨٧٧ اس معاملہ کا صحيح ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ مستاجر کے لئے کوئی حق ثابت ہو اور يہ حق مکان اور دوکان کرائے پر لینے سے حاصل نہيں ہوتا ہے اگرچہ اجارے کی مدت طویل ہو یا کاروبار و کام کی نوعيت یا مستاجر کی شخصيت اس جگہ کی قيمت یا اس ميں لوگوں کی توجهات کے اضافے کا باعث بنتی ہو اگرچہ عرف اور حکومتی قانون کی نگاہ ميں مستاجر کو حقدارسمجھا جاتاہے ليکن یہ صحيح نہيں ہے اس طریقہ سے اجارے پر لی ہوئی چيز ميں اجارے کی مدت ختم ہونے کے بعد مستاجر کا ہر تصرف حرام ہے اور مستاجر کے ہاتھ ميں يہ چيز اور اس کے تمام فائدے ظلم کے عنوان سے ہيں اور وہ اس کا ضامن ہے اور مستاجر کا اس جگہ کو کسی دوسرے شخص کو کرائے پر دینا فضولی ہے اور اگر مالک اس کی اجازت نہ دے توفاسد ہے ۔

البتہ شرط مشروع کے ذریعے اس حق کو مستاجر کے لئے ثابت کيا جاسکتا ہے ۔ جےسے عقد اجارہ کے ضمن ميں شرط کردی جائے، چاہے اجارے پر دینے والا شرط قبول کرنے کے لئے رقم وصول کرے یا نہ کرے، کہ اجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اس جگہ کو اسی مستاجر کو یا جسے مستاجر معين کرے اور اسی طرح ہر اس مستاجر کو جسے اس پهلے والے مستاجر نے معين کيا ہو، کو پهلے والے کرائے پر اجارہ دے گا۔ تو اس صورت ميں حق شرط کے تقاضے کے مطابق ہر کرائے دار پگڑی لے کر اس جگہ کو چھوڑ سکتا


ہے اور موجر کو شرط پوری کرنے کے وجوب کے تقاضے کے مطابق يہ حق نہيں پهنچتا ہے کہ وہ پهلے مستاجر کو یا جس کو اس نے معين کيا ہو یا ہر وہ مستاجر جسے پهلے والے مستاجر نے معين کيا ہو، کو کرائے پر دینے سے روک لے۔

مسئلہ ٢٨٧٨ اگر عقد اجارہ ميں شرط رکھی جائے کہ مستاجر پرانے کرائے پر اجارہ کی تجدید کرکے جب تک چاہے رہ سکتا ہے تو مستاجر گھر خالی کرنے کے لئے پگڑی لے سکتا ہے اگرچہ موجر پابند نہيں ہے کہ پگڑی دینے والے کو کرائے پر دے۔

قاعدہ الزام کی بعض فروعات

مسئلہ ٢٨٧٩ اہل سنت کے چند علما کے علاوہ اکثر کے نزدےک عقد نکاح کے صحيح ہونے کے لئے گواہوں کا حاضر ہونا شرط ہے اور حنفی،حنبلی اور شافعی صيغہ نکاح کے اجرا کے وقت کو گواہوں کے حاضر ہونے کا وقت مانتے ہيں اور مالکی نے اس وقت کو دخول سے پهلے تک وسعت دی ہے ، جب کہ يہ شرط علمائے اماميہ کے نزدےک معتبر نہيں ہے لہٰذا اگر کوئی سنّی شخص جو اپنے مشهور علما کا تابع ہو، گواہوں کی غیر حاضری ميں نکاح کرے تو اس کے مذهب کے مطابق یہ عقد باطل ہے اور وہ عورت اس کی بيوی نہيں بنی۔ اس صورت حال ميں شيعہ مذهب رکھنے والا مرد قاعدہ الزام کی رو سے اس عورت سے شادی کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٨٠ اہل سنت کے علما کے فتوے کے مطابق کوئی شخص ایک وقت ميں پهوپهی،بهتےجی اور خالہ ،بهانجی کو اپنی زوجيت ميں نہيں رکھ سکتا ہے اور وہ دونوں ميں سے کسی ایک سے شادی کرسکتا ہے ۔ لہٰذا اگر دونوں سے ایک ساته عقد کرے تو دونوں عقد باطل ہيں اور اگر ایک ساته نہ ہو تو دوسرا عقد باطل ہے ليکن علمائے اماميہ کے نزدےک پهوپهی یا خالہ کی اجازت سے دونوں کے ساته عقد صحيح ہے ۔ لہٰذا اگر کوئی سنی پهوپهی اور بهتےجی یا خالہ اوربهانجی سے ایک ساته عقد کرے تو دونوں عقد باطل ہيں ا ور شےعہ قاعدہ الزام کی رو سے دونوں ميں سے کسی کے ساته بھی عقد کرسکتا ہے اور اگر دونوں عقد ایک ساته نہ ہوں تو شےعہ دوسری سے عقد کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٨١ اہل سنت کے نزدےک جس یائسہ عورت یا نابالغ لڑکی کے ساته اس کے شوہر نے جماع کيا ہو اگر اسے طلاق دی جائے تو اس پر عدت رکھنا واجب ہے اگرچہ نابالغ لڑکی کے بارے ميں اہل سنت کے بعض علما تفصيل کے قائل ہيں ليکن مذهب تشےع ميں یائسہ اور نابالغ لڑکی پر طلاق کی صورت ميں عدت واجب نہيں ہے ۔

اس بنا پر اہل سنت پابند ہيں کہ عدت کے احکام کی رعایت کریں پس اگر یائسہ عورت یا نابالغ لڑکی سنّی سے شےعہ ہوجائے تو اس پر عدت رکھنا لازم نہيں ہے اور اگر طلاق رجعی ہو تو جائز ہے کہ عدت کے ایام کا نفقہ سنّی شوہر سے مانگے اور جائز ہے کہ ان ایام ميں دوسرے شخص سے عقد کرے۔ اسی طرح اگر سنی مرد شےعہ ہوجائے تو اس کے لئے طلاق شدہ یائسہ عورت اور نابالغ لڑکی کی بهن سے شادی کرنا جائز ہے جبکہ وہ مذهب اہل سنت کے مطابق ابهی تک عدت ميں ہيں ۔ اور اس پر عورت کے عدت کے احکام کا خيال رکھنا ضروری نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٨٨٢ اگر سنی مرد دو عادل گواہوں کی غیر موجودگی ميں اپنی بیوی کو طلاق دے یا اپنی بیوی کے بدن کے کسی جزء مثلاً اپنی بیوی کی انگلی کو طلاق دے تو ان کے مذهب کے مطابق يہ طلاق صحيح ہے ليکن مذهب اماميہ کے مطابق باطل ہے اس بنا پر شےعہ مرد قاعدہ الزام کی رو سے اس طلاق یافتہ عورت کی عدت تمام ہونے کے بعد اس سے عقد کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٨٣ اگر سنی مرد اپنی حائضہ بیوی کو طلاق دے یا ان طهارت کے دنوں ميں اسے طلاق دے جس ميں اس سے جماع کيا ہو تو اس کے مذهب کے مطابق يہ طلاق صحيح ہے ليکن مذهب اماميہ کے مطابق باطل ہے لہٰذا شےعہ مرد قاعدہ الزام کی رو سے عدت تمام ہونے کے بعد اس عورت سے عقد کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٨ ۴ ابوحنےفہ اور اہل سنت کے بعض دوسرے فقهاء کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو زبردستی دهمکی کی وجہ سے طلاق دے تو ان کے مذهب کے مطابق يہ طلاق صحيح ہے ليکن مذهب اماميہ کے نزدےک باطل ہے ۔ لہٰذا جس عورت کو جبر و اکراہ کی وجہ سے طلاق دی گئی ہو اور وہ عورت ابوحنےفہ یا اس کے ہم نظريہ لوگوں کی پیر وکار ہو تو شےعہ مر دقاعدہ الزام کی رو سے عدت تمام ہونے کے بعد اس عورت سے شادی کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٨ ۵ اگر کوئی سنی مرد قسم کھائے کہ ميں فلاں کام نہيں کروں گا اور انجام دیا تو میر ی بیوی مطلقہ ہوجائے گی تو اگر يہ کام انجام دے تو اس کے مذهب کے مطابق اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی اور شےعہ مذهب کے نزدےک طلاق والی قسم منعقد نہيں ہوتی۔ لہٰذا قاعدہ الزام کی رو سے شےعہ مرد کے لئے عدت تمام ہونے کے بعد اس عورت سے شادی کرنا جائز ہے ۔ اسی طرح مذهب اہل سنت ميں لکھ کر طلاق دینا جائز ہے اور شےعہ مذهب ميں لکھ کر طلاق دینے سے واقع نہيں ہوتی۔ لہٰذا قاعدہ الزام کی رو سے جس عورت کو لکھ کر طلاق دی گئی ہو شےعہ مرد عدت ختم ہونے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٨ ۶ ابن قدامہ کے نقل کے مطابق ابوحنےفہ کا فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چيز کو بيچنے والے کی جانب سے اس چيز کی خصوصيات سن کر خریدے جبکہ اس نے خود اس چيز کو نہ دےکها ہو اور پھر بعد ميں دےکهے تو اگرچہ وہ چيز ان خصوصيات کی حامل ہو جنہيں بيچنے والے نے بتایا تھا پھر بھی خریدار کے لئے خيار رویت ثابت ہے جبکہ مذهب اماميہ ميں اس مورد ميں خيار رویت نہيں ہے پس اس بنا پر اگر کوئی شےعہ کسی ابوحنےفہ کے پیر وکار بيچنے والے سے کوئی چيز اس طرح خریدے کہ وہ بيچنے والا اس کی خصوصيات کو بيان کرے اور يہ شےعہ دےکهے بغير خریدے اور پھر بعد ميں دےکهے تو قاعدہ الزام کی رو سے اس شےعہ کے لئے خيار رویت ثابت ہو جائے گا۔


مسئلہ ٢٨٨٧ کتاب المغنی ميں ابن قدامہ نے نقل کيا ہے کہ حنفی اور شافعی مذهب ميں اگر کسی کو معاملہ ميں دهوکا ہوجائے تو وہ خيار غبن نہيں رکھتا پس اس بنا پر اگر کوئی شےعہ کسی شافعی یا حنفی مذهب کے ماننے والے سے کوئی چيز خریدے اور بعد ميں پتہ چلے کہ بيچنے والے کو دهوکا ہوا ہے تو قاعدہ الزام کی رو سے شےعہ خریدار، بيچنے والے کو پابند کر سکتا ہے کہ وہ معاملہ کو پورا کرے۔

مسئلہ ٢٨٨٨ ابوحنےفہ کا مذهب يہ ہے کہ عقدِ سَلَم، جس ميں ایک چيز کو کلی طور پر ایڈوانس ميں نقد رقم لے کر بيچ دیا جاتا ہے ، کے صحيح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ چيز سودے کے وقت خارج ميں موجود ہو، ليکن شےعہ مذهب ميں معاملہ سَلَم کی صحت کے لئے یہ شرط معتبر نہيں ہے ۔ پس اس بنا پر اگر کوئی شےعہ کسی حنفی سے معاملہ سَلَم کرے اور وہ جنس خارج ميں موجود نہ ہو تو قاعدہ الزام کی رو سے وہ شےعہ حنفی بيچنے والے کو پابند کرسکتا ہے کہ يہ معاملہ باطل ہے اور یهی حکم اس وقت بھی رہے گا جب معاملہ کے وقت خریدار حنفی ہو اور بعد ميں شےعہ ہوجائے۔

مسئلہ ٢٨٨٩ اگر کوئی سنّی شخص مرجائے اور پسماندگان ميں فقط ایک سنّی لڑکی چھوڑ جائے اور اس مرنے والے کا ایک بهائی بھی ہو۔ پس اگر وہ شےعہ ہو یا اس کے مرنے کے بعد شےعہ ہوجائے تو قاعدہ الزام کی رو سے شےعہ بهائی کو يہ حق حاصل ہے کہ وارثوں کا حصہ نکال کر ميت کے ترکہ ميں سے جو کچھ بچ جائے وہ تعصےب کے عنوان سے لے لے گرچہ تعصےب مذهب شےعہ ميں باطل ہے اور اسی طرح اگر مرنے والے کے ورثاء ميں فقط ایک سنی مذهب بهن ہو اور پدری و مادری چچا بھی موجود ہوں پس اگر اس کا چچا شےعہ ہو یا بهتےجے کے مرنے کے بعد شےعہ ہوجائيں تو قاعدہ الزام کی رو سے جو کچھ تعصےب کے عنوان سے اُن تک پهنچ رہا ہو اسے لے سکتا ہے ۔ یهی حکم دیگر تمام تعصےب کے موارد کے لئے ہے ۔

مسئلہ ٢٨٩٠ سنّی مذهب ميں مرنے والے کی بیوی مرنے والے کے تمام اثاثہ جات یعنی رقوم، سامان، زمين، باغات اور ان کے علاوہ دیگر تمام چيزیں میر اث ميں پاتی ہے جبکہ اماميہ مذهب ميں مرنے والے کی بیوی کو زمين یا اس کی قيمت میر اث ميں نہيں ملتی ہے ۔ لہٰذا اگر مرنے والا سنّی ہو اور اس کی بیوی شےعہ ہو تو قاعدہ الزام کی رو سے بیوی کو زمين سے میر اث ملے گی۔

قاعدہ الزام کی رو سے ذکر شدہ مسائل ميں سے یهاں بعض کا تذکرہ کيا گيا ہے اس کے علاوہ دیگر موارد مثلاً وارث کے لئے وصيت،حالت احرام ميں عقد، پڑوسی کے لئے حق شفعہ، خيار شرط،خيار تصريہ وغيرہ بھی ان موارد ميں سے ہيں جهاں قاعدہ الزام جاری ہوتا ہے ۔

پوسٹ مارٹم کے احکام

مسئلہ ٢٨٩١ مسلمان مردے کے بدن کا پوسٹ مارٹم جائز نہيں ہے اور پوسٹ مارٹم کرنے والے پر مسلمان جنين والی دیت اس تفصيل کے مطابق جو کتاب دیات ميں مذکور ہے ، لازم ہے ۔


مسئلہ ٢٨٩٢ غیر ذمّی کافر کے مردہ بدن کا پوسٹ مارٹم جائز ہے ۔ البتہ کافرذمّی کا پوسٹ مارٹم جائز ہونا اور اس صورت ميں کافرذمّی کے لئے جنين والی دیت کا ثابت نہ ہونا محل اشکال ہے ۔ ہاں، اگر ایسا کرنا ان کے دین ميں جائز ہو تو اس صورت ميں کوئی مانع نہيں ہے اور اگر ميت کا مسلمان یا ذمّی ہونا مشکوک ہو تو اس کے بدن کا پوسٹ مارٹم جائز ہے ۔

مسئلہ ٢٨٩٣ اگر کسی مسلمان کی زندگی کسی انسان کے پوسٹ مارٹم پر متوقف ہو اور کسی غير مسلم یا مشکوک الاسلام کا پوسٹ مارٹم ممکن نہ ہو اور اس مسلمان کو بچانے کا کوئی اور راستہ بھی نہ هو تو اس صورت ميں فوت شدہ مسلمان کے بدن کا پوسٹ مارٹم جائز ہے ۔ البتہ اس صورت ميں مسلمان جنين بچے والی دیت، دیّات کے مسائل ميں بتائی جانے والی تفصيل کے مطابق، پوسٹ مارٹم کرنے والے پر واجب ہو جائے گی۔

مسئلہ ٢٨٩ ۴ کسی زندہ شخص کو لگانے کے لئے مسلمان ميت کے آنکه وغيرہ جےسے اعضاء کو نکالنا جائز نہيں ہے اور جدا کرنے والے شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس عضو کی دیت ادا کرے جو کہ مسلمان جنين کے اعضاء والی دیت ہے ۔ ليکن اگر مسلمان کو زندہ رکھنا اس پر موقوف ہو کہ مسلمان ميت کے اعضا جدا کرکے اُسے لگائے جائيں تو جائز ہے ليکن ضروری ہے کہ جدا کرنے والا ان کی دیت ادا کرے اور پیوندکاری کے بعد جب وہ عضو زندہ بدن کا حصہ بن جائے تو اس پر زندہ بدن کے احکام جاری ہوں گے۔

اگر کوئی اپنی زندگی ميں وصيت کرے کہ مرنے کے بعد اس کے اعضاء ميں سے کسی عضو کو جدا کرکے دوسرے کو لگایا جائے تو اس وصيت کا صحيح ہونا محل اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٨٩ ۵ اگر کوئی شخص راضی ہوجائے کہ اس کی زندگی ميں اس کا کوئی عضو کاٹ کر دوسرے کو لگایا جائے تو اگر يہ عضو اعضائے رئےسہ ميں سے ہو کہ جن کو کاٹنے سے اس کی زندگی کو نقصان پهنچے یا اس ميں نقص یا عےب پيدا ہوجائے تو اس عضو کو کاٹنا جائز نہيں ہے اور اگر اس عضو کا کاٹنا ضرر یا عےب کا باعث نہ بنے جےسے تهوڑی سی کھال یا ران کا گوشت جو دوبارہ آجاتے ہوں تو اس عضو کو اس کی رضایت سے کاٹنا جائز ہے اور وہ شخص اس عضو سے دست بردار ہونے کے عوض رقم وصول کرسکتا ہے ۔

مسئلہ ٢٨٩ ۶ جو بےمار اپنے بدن ميں خون منتقل کرنے کے محتاج ہوں انہيں خون کا عطيہ دینا جائز ہے اور خون کے عوض رقم وصول کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے اور ہر صورت ميں ضروری ہے کہ خون دینے سے خون دینے والے کی جان کو خطرہ نہ ہو۔


مسئلہ ٢٨٩٧ جس کافر ميت کا پوسٹ مارٹم جائز ہو یا جس ميت کا مسلمان یاذمی ہونا مشکوک ہو اس کے بدن سے کسی عضو کو کاٹ کر مسلمان کو لگانا جائز ہے اور جب يہ مسلمان کے بدن کا جزء بن جائے تو اس پر مسلمان کے بدن کے احکام جاری ہوں گے۔اسی طرح نجس العین حیوان کے اعضاء کو مسلمان کے بدن ميں لگانا جائز ہے اور مسلمان کے بدن کا جزء بننے کے بعد اس عضو پر مسلمان کے بدن کے احکام جاری ہوں گے۔

مصنوعی ذريعہ توليد کے احکام

مسئلہ ٢٨٩٨ اجنبی مرد کا نطفہ عورت کے رحم ميں داخل کرنا جائز نہيں ہے چاہے يہ عمل اجنبی شخص انجام دے یا شوہر اور مذکورہ فرض ميں يہ عمل اگرچہ حرام ہے مگر زنا نہيں ہے اور جس عورت کے رحم ميں نطفہ داخل کيا گيا ہو اگروہ بچہ جنے تو بچہ صاحبِ نطفہ کا ہے اور اس پر اولاد کے تمام احکام جاری ہوں گے اور جس عورت نے نطفہ منتقل ہونے کی وجہ سے بچہ جنا ہے وہ اس کی ماں ہے اور اس پر اولاد کے احکام جاری ہوں گے۔

مسئلہ ٢٨٩٩ مرد کا نطفہ لے کر بچہ پيدا کرنے کی خاطر مصنوعی رحم ميں اس کی پرورش کرنا جائز ہے مگر یہ کہ يہ کام کسی حرام کام کے ارتکاب پر موقوف ہو تو پھر يہ کام حرام ہے ۔ جب اس طریقے سے بچہ پيدا ہو تو اگر اس ميں عورت کا مادّہ توليد شامل نہ ہو تو يہ بچہ صاحبِ نطفہ کا ہے اور دونوں پر باپ بیٹے کے احکام جاری ہوں گے ليکن اس کی ماں کوئی نہ ہوگی اور جب عورت کا مادّہ توليد بھی شامل ہو تو يہ عورت بھی اس بچہ کی ماں ہوگی۔

مسئلہ ٢٩٠٠ اگر شوہر مصنوعی طریقے سے اپنی بیوی کے رحم ميں اپنی منی داخل کرے تو ایسا کرنا جائز ہے اور اگر شوہر کے علاوہ کوئی اور يہ کام کرے تو اگر اس کام کو انجام دینا حرام کام کے ارتکاب پر موقوف ہو تو يہ حرام ہے اور جو بچہ اس مصنوعی ذریعہ توليد سے پيدا ہو اس پر اولاد کے احکام مترتب ہوں گے۔

حکومت کی بنائی ہوئی سڑکوں کے احکام

مسئلہ ٢٩٠١ وہ سڑکيں جن کے راستے ميں لوگوں کے مکانات اور جائيداد موجود ہوں اور حکومت زبردستی انہيں منهدم کرکے وہاں سڑکيں نکالے اُن پر چلنا جائز ہے ليکن مالک کی اجازت کے بغير ان جگہوں سے نکلنے والے ملبے کا استعمال جائز نہيں ہے ۔

مسئلہ ٢٩٠٢ وہ مسجدیں جو سڑکوں کے راستے ميں ہوں اور(اب) سڑکوں کا حصّہ بن گئی ہوں احتياط واجب يہ ہے کہ ان جگہوں پر مسجد کے احکام کی رعایت کی جائے ليکن اگر وہ جگہيں نجس ہوجائيں تو ان کا پاک کرنا واجب نہيں ہے ۔ وقف شدہ املاک اگر سڑکوں کے راستے ميں آجائيں تو ان کا وقف ہونا ختم نہيں ہوجاتا اور ان ميں وقف کے لئے متعين شدہ خاص متولی یا حاکمِ شرع یا اس کے وکيل کی اجازت کے بغير کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہيں ہے ۔


مسئلہ ٢٩٠٣ عمومی وقف شدہ چيزیں مثلاً مسجد وغيرہ اگر سڑکوں کا حصّہ بن جائيں تو ان سے گذرنا جائز ہے ليکن خاص لوگوں کے لئے وقف شدہ چيزیں مثلاً اولاد اور مدرسوں کے لئے وقف شدہ مقامات سے گذرنے ميں اشکال ہے ۔

مسئلہ ٢٩٠ ۴ سڑک بنانے کے بعد مسجد کی زمين سے جو کچھ باقی رہ جائے اگر وہ اتنا ہو کہ نماز اور دیگر عبادات کے لئے اس سے استفادہ کيا جاسکے تو مسجد کے احکام اس باقی رہ جانے والی جگہ پر مترتب ہوں گے اور تمام وہ کام جو دین دار لوگوں کی نظر ميں مسجد سے منافات رکھتے ہيں وہاں جائز نہيں ہوں گے۔

مسئلہ ٢٩٠ ۵ اگر مسلمانوں کا قبرستان سڑک ميں آجائے اور سڑک کا جزء بن جائے پس اگر قبرستان کی زمين کسی کی ملکيت ہو تو اس زمين کا حکم ذاتی جائيداد کا حکم ہے کہ جس کا بيان مسئلہ اول ميں گزر چکا ہے اور اگر زمين وقف شدہ ہو تو اس کا حکم دوسرے اور تےسرے مسئلہ ميں بيان ہوا ہے مگر يہ کہ ان زمينوں سے گزرنا مسلمان ميتوں کی بے حرمتی کا سبب بن رہا ہو کہ اس صورت ميں وہاں سے گزرنا جائز نہيں ہے ۔

اگر وہ زمين نہ ہی کسی کی ملکيت ميں ہو اور نہ ہی وقف شدہ ہو تو اسے استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ ميتوں کی بے حرمتی نہ ہو رہی ہو۔

پهلے فرض کی بنا پر ا س زمين پر باقی ماندہ ملبے کا استعمال اس کے مالک کی اجازت کے بغير جائز نہيں ہے اور دوسرے فرض کی بنا پر دیگر منفعتوں کے استعمال ميں متولی خاص اور اس کے نہ ہونے کی صورت ميں حاکم شرع یا اس کے وکيل کی اجازت ضروری ہے جب کہ تےسرے فرض کی بنا پر ان چيزوں کے استعمال ميں کسی کی اجازت ضروری نہيں ہے ۔

نماز و روزہ کے کچه مسائل

مسئلہ ٢٩٠ ۶ اگر روزہ دار رمضان کے مهينے ميں غروب آفتاب کے بعد ہوائی جهاز سے ایسی جگہ سفر کرے جهاں سورج غروب نہ ہوا ہو تو وہاں پهنچنے کے بعد غروب آفتاب تک امساک کرنا واجب نہيں ہے چاہے اس نے اپنی منزل پر افطار کيا ہو یا نہيں ۔

مسئلہ ٢٩٠٧ اگر مکلف اپنی منزل پر نماز پڑھنے کے بعد ایسی جگہ سفر کرے جهاں ابهی تک صبح نہ ہوئی ہو یا نماز ظہر و عصر پڑھنے کے بعد ایسی جگہ سفرکرے جهاں ظہر نہ ہوئی ہو یا نماز مغرب پڑھنے کے بعد ایسی جگہ سفر کرے جهاں ابهی تک مغرب نہ ہوئی ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ پڑھی ہوئی نمازیں دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ ٢٩٠٨ اگر اپنی منزل پر نماز نہ پڑھی ہو مثلاً سورج طلوع ہوگيا ہو اور نماز فجر نہ پڑھی ہو یا سورج غروب ہوگيا ہو اور نماز ظہر و عصر نہ پڑھی ہو اور پھر ایسی جگہ سفر کرے جهاں ابهی تک فجر یا مغرب نہ ہوئی ہو تو احتياط واجب کی بنا پر جو نمازیں اس سے قضا ہوگئی ہوں انہيں مَافِی الذِّمّہ کی نيت سے، ادا و قضا کی نيّت کے بغير انجام دے۔


مسئلہ ٢٩٠٩ اگر کوئی ہوائی جهاز سے سفر کرے اور ہوائی جهاز ميں نماز پڑھنا چاہے تو اگر رو بقبلہ ہو کر تمام شرائط کے ساته انجام دینا ممکن ہو تو اس کی نماز صحيح ہے اور اگر رو بقبلہ ممکن نہ ہو تو اگر نماز کے وقت ميں گنجائش ہو کہ اترنے کے بعد روبقبلہ نماز پڑھ سکتا ہو تو اس صورت ميں ہوائی جهاز ميں نماز پڑھنا باطل ہے ا ور اگر نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ اترتے اترتے نماز قضا ہوجائے گی تو واجب ہے کہ ہوائی جهاز ميں اُس طرف منہ کرکے نماز پڑھے جس کے بارے ميں یقين ہو کہ قبلہ یهاں ہے اور اگر یقين پيدا نہ ہو تو جس طرف قبلہ کا گمان ہو وہاں نماز پڑھے اور اگر گمان بھی نہ ہو تو جس طرف چاہے نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ احتياط مستحب ہے کہ چاروں طرف منہ کرکے نماز پڑھے اور اگر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا ممکن ہی نہ ہو تو يہ شرط اس سے ساقط ہے ۔

مسئلہ ٢٩١٠ اگر کوئی ایسے ہوائی جهاز ميں سوار ہو جس کی رفتار زمين کی رفتار کے برابر ہو اور مشرق سے مغرب کی جانب حرکت کرے اور ایک عرصہ تک زمين کے گرد چکر لگاتا رہے تو احتياط واجب کی بنا پر ہر چوبےس گهنٹے ميں اپنی پنجگانہ نمازیں پڑھے اور پھر ان نمازوں اور روزے کی قضا بھی کرے۔اگر ہوائی جهاز کی رفتار زمين سے دگنا ہو تو واجب ہے کہ نماز صبح طلوع فجر کے وقت اور ظہر و عصر زوال آفتاب کے وقت اور مغرب و عشا غروب کے وقت پڑھے۔اگر رفتار اتنی زیادہ ہو کہ مثلاً ہر ٣ گهنٹے ميں ایک بار زمين کا چکر لگاتا ہو تو احتياط واجب کی بنا پر نمازوں کو طلوع فجر، زوال آفتاب اور غروب کے وقت پڑھے اور ہر چوبےس گهنٹے ميں ایک بار دوبارہ پنجگانہ نمازیں پڑھے۔اگر ہوائی جهاز مغرب سے مشرق کی جانب حرکت کرے اور اس کی رفتار زمين کی رفتار کے برابر یا کم ہو تو واجب ہے کہ نمازوں کو طلوع فجر،زوال آفتاب اور غروب کے وقت پڑھے۔اور اگر ہوائی جهاز کی رفتار زمين کی حرکت سے اتنی زیادہ ہو کہ مثلاً ہر تین گهنٹے ميں ایک بار زمين کے گرد چکر لگاتا ہو تو سابقہ احتياط کی رعایت کی جائے۔

مسئلہ ٢٩١١ جس شخص کی ذمہ داری سفر ميں بھی روزہ رکھنے کی ہو جےسے وہ اشخاص جن کا پےشہ سفر ہو اگر طلوع صبح اور روزہ کی نيّت کے بعد ہوائی جهاز کے ذریعہ دوسری منزل کی طرف سفر کریں جهاں ابهی تک صبح نہ ہوئی تو اس کے لئے مفطرات انجام دینا جائز ہے ۔

مسئلہ ٢٩١٢ اگر کوئی شخص ماہ رمضان ميں ظہر کے بعد سفر کرے اور دوسرے شہر پهنچے کہ جهاں ابهی تک ظہر نہ ہوئی ہو تو واجب ہے کہ خود کو روزہ باطل کرنے والی چيزوں سے بچائے اور روزہ مکمل کرے۔

مسئلہ ٢٩١٣ اگر فرض کيا جائے کہ مکلف ایسی جگہ ہے جهاں چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات ہوتی ہو تو اگر ایسے شہر کی طرف سفر کرسکتا ہو جهاں وہ اپنے نماز روزے اوقات شرعيہ کے مطابق انجام دے سکے تو هجرت کرنا واجب ہے اور اگر هجرت نہ کرسکتا ہو تو احتياط واجب کی بنا پر چوبےس گهنٹے ميں ایک بار پنجگانہ نمازیں انجام دے اور ان کی قضا بھی کرے ا ور ضروری ہے کہ روزے بھی قضا کرے۔


فقهی اصطلاحات

(الف)

اجرة المثل:کسی چيز یا کام کی معمول کے مطابق اجرت ممکن ہے یہ اجرت طے شدہ اجرت سے کم یا زیادہ یا برابر ہو۔

اجرة المسمّٰی:طے شدہ اجرت ،یعنی وہ اجرت ہے جو معاہدے طے کی گئی ہو۔

اجير:وہ شخص جو کرائے کے معاہدے کے مطابق اجرت کے عوض کا م انجام دیتا ہے احتلام:سوتے ميں انسان سے منی کا خارج ہونا جو بلوغ کی نشانيوں ميں سے ہے ۔

احوط:احتياط کے مطابق۔

استبراء :نجاست اور آلودگی سے تطهير۔ چار مقامات پر استعمال ہوتا ہے ۔

( ١۔پيشاب سے استبراء۔وہ خاص فعل جو مرد پيشاب کرنے کے بعد انجام دیتے ہيں ۔(مسئلہ ٧٣

٢۔منی سے استبراء :منی خارج ہونے کے بعد پيشاب کرنا ۔

( ٣۔نجاست کھانے والے حيوان کا استبراء ۔(مسئلہ ٢٢ ۶

( ۴ ۔عورت کا حيض کے ذریعے استبراء ہونا۔(مسئلہ ٢ ۴۶ ٣

استطاعت :قابليت ،یعنی حج کے کے اعمال کو انجام دینے کی صلاحيت و قابليت رکھنا ۔اس کی تفصيل مسئلہ ٢٠ ۵ ٣ بيان ہو چکی ہے ۔

استمناء:مسئلہ ١ ۵ ٨٠ ۔

استيفاء:حاصل کرنا۔

افلاس:مسئلہ ٢٣٠ ۶ ۔

وطن سے اعراض:انسان کا اپنے وطن کو ہميشہ کے لئے چھوڑنے کا ارادہ کرنا۔

افضاء:مسئلہ ٢ ۴۴۴ ۔

اسباب امالہ:حقنہ کے آلات۔

الزام کرنا:مجبور کرنا۔

امساک (پرہيزکرنا):اپنے آپ کو کسی کام کے انجام دینے سے روکنا جيسے روزے کی حالت ميں روزہ باطل کرنے والی چيزوں سے بچنا۔


اولی:بہتر۔

اہل کتاب:مسئلہ ١٠٧ ۔

(ب)

بالغ:شخص جو بلوغ شرعی کی عمر کو پهنچ گيا ہو۔مسئلہ ٢٣٠ ۴ ۔

بعيد نہيں ہے :یہ فتوی ہے ،مگر یہ کہ کلام ميں اس کے بر خلاف کوئی قرینہ ہو۔

(ت)

تذکيہ :اُن اعمال کوانجام دینا جو پاک ہونے یا جانور کے حلال ہونے کے لئے شریعت نے معين کئے ہيں ۔

تطهير :پاک کرنا۔

تعدّی:زیادہ روی ،تجاوز تفریط:کوتاہی کرنا۔

تمکّن:صلاحيت رکھنا،توانائی رکھنا۔

تقنّع:سر اور چہرہ کا بعض حصہ چھپنا۔

توکيل:وکيل بنانا۔

توریہ:اس طرح گفتگو کرنا کہ جھوٹ نہ ہو۔مسئلہ ٣٧٣٩ ۔

تدليس:کسی چيز کو خلاف واقع (بہتر)ظاہر کرنا۔مسئلہ ٢١ ۵ ٢ ۔

تکليف الزامی؛وہ ذمہ داری جو لازمی ہو جيسے واجب یا حرام ۔

تبرّع: اجرت کی غرض کے بغير کسی کام کو انجام دینا۔

(ث)

ثمن :چيز یا مال کی قيمت۔


(ج)

جاہل قاصر:وہ جاہل جو عذر کو رکھتا ہو۔

جاہل مقصر:وہ جاہل جس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔

جماع:همبستری۔

جهر:بلند آواز،بلند آواز سے پڑھنا۔

(ح)

حاکم شرع:وہ مجتهد جو شرعا حکم کرنے کا حق رکھتا ہو۔

حدث اصغر: جو چيز فقط وضو کا سبب بنتی ہے ۔مثلاً پيشاب و پاخانہ کا خارج ہونا۔

حدث اکبر:جو چيز غسل کا سبب بنتی ہے جيسے جماع وحيض۔

حد ترخص:نماز مسافر کی آٹھ ویں شرط ميں بيان ہو چکا ہے ۔

حرج:ایسی سختی اور دشواری جو عام طورپر قابل تحمل نہ ہو۔

حضر:سفر کے مقابلہ ميں استعمال ہوتا ہے ۔

حق التحجير: وہ حق جو کسی غير آباد زمين کوکسی بھی طرح گھير لينے کے ذریعے حاصل ہو۔

(خ)

خبرہ:ماہر فن۔

خوارج:وہ لوگ جو امام معصوم عليهم السلام پر خروج کریں جيسے خوارج جنگ نهروان۔

خيار:مسئلہ ٢١ ۵ ٢ ۔


(د)

دائمہ:وہ عورت جو عقد دائم کے ذریعے کسی کی بيوی ہو۔(احکام ازدواج)

دعای فرج :لاٰ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ الحَليمُ الکَریم،لاٰ اِلَہَ اِلاَّ اللّٰہُ العَلِیُّ الْعَظيم،سُبْحانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمواتِ السَّبع وَرَبِّ الْاَرَضينَ السَّبعِ وَمٰا فيِهنَّ وَمٰا بَيْنَهُنَّ وَرَبِّ العَرشِ العَظيمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰالَمين ۔

دبر:مقعد

(ذ)

ذمیّ:اہل کتاب کافر جيسے یهودی و عيسائی جو ذمہ کی شرائط کو مانتے ہوئے مسلمان حکومت کی پناہ ميں آجائے۔

ذراع:بازو۔

(ر)

ربا:سود۔ مسئلہ ٢١٠٠ و ٢٣٣ ۵ ۔

رضاعی:دودھ پلانے کے احکام۔مسئلہ ٢ ۵ ٢٨ ۔

(س)

سال خمس:منافع کے حاصل ہونے کے بعد پورا ایک سال مسئلہ ١٧٨٢ ۔

سال قمری:چاند کے بارہ مهينے۔

(ش)

شاخص:مسئلہ ٧٣ ۴ ۔

شارع مقدس:شریعت کو بنانے والا۔

شاہد:گواہ۔


(ص)

صغيرہ :وہ لڑکی جو بلو غ کی عمر تک نہ پهنچی ہو۔ مسئلہ ٢ ۵ ٨١ ۔

صيغہ:وہ جملہ جو کسی عقد(مثلاًخریدو فروخت )یا ایقاع (مثلاًطلاق)کا سبب بنے۔

(ط)طهارت ظاہری:جو چيزیں طهارت کے لحاظ سے مشکوک ہوں اس کے متعلق شارع کا طهارت کا حکم دینا ۔

(ع)

عدول:عادل کی جمع۔مسئلہ ٢

کسی چيز سے پلٹنا جيسے جماعت کی نيت سے فرادیٰ کی نيت۔

عرف:عام لوگ۔مسئلہ ١٩ ۶ ۔

عمداً:جانتے بوجهتے کسی کام کو انجام دینا۔

عورت:شرمگاہ،جس کو چھپا نا شریعت ميں واجب ہے ۔

عيال :بيوی۔وہ لوگ جن کے کھانے پينے کا بند و بست کيا جارہا ہوو۔

(غ)

غائط:پيخانہ۔

غبن :کسی چيز کا اصلی قيمت سے بہت اختلاف کے ساته اس انداز سے معاملہ کرناکہ قيمت کا یہ اختلا ف عوام الناس کے نزدیک چھوڑا نہ جاتا ہو۔

غسالہ:مسئلہ ١ ۶ ١ ۔

(ف)

فرادیٰ:نماز جو انسان تنها پڑھے۔

فرج:شرمگاہ۔


(ق)

قُبْل:آگے کی شرمگاہ۔

قصد اقامہ:کسی مسافر کا کسی مقام پر دس دن یا اس سے زیادہ قيام کا ارادہ۔

قرشية:سيد عورت۔

قصد رجاء:کسی عمل کو انجام دینے یا ترک کرنے کا رادہ اس احتمال کے ساته کہ یہ کام خدا کی جانب سے حکم رکھتا ہے ۔

قصد قربت:وضو کی آٹھ ویں شرط ملاحظہ کيجئے۔

قصد قربت مطلقہ:شارع کے حکم کی تعميل خوا ہ یہ حکم در حقيقت واجب ہو مستحب ۔

قضا:کسی کام کو انجام دینا جس کا وقت گذر چکا ہو۔

قيّم :سرپرست۔

(ک)

کافر حربی:وہ کافر جو شرائط ذمہ کو قبول نہيں کرتا اور مسلمانوں سے کوئی معاہدہ نہيں ہے ۔

کلی در معين:ایسی کلی جس کا انطباق کسی خاص و معين موردیا موارد سے باہر نہ ہو۔

(م)

مابہ التفاوت:دوچيزوں کے درميان قيمت کے فرق کی مقدار (دوچيزوں کی قيمت یا ایک چيز کی قيمت دو مختلف حالتوںميں )

مال الاجارة:وہ مال کہ جو کرایہ دار،کرائے کے عنوان سے ادا کرے۔

ما فی الذمة:وہ چيز جو کسی شخص کی گردن پر ہو۔

ماہ هلالی :قمری مهينہ ۔پچهلی ماہ کی رو یٔت هلال سے لے کر اگلے ماہ کی رو یٔت هلال کی مدت ۔

مو ؤنة:اخراجات ،مخارج۔

متعہ:وہ عورت جو عارضی عقد کے ذریعے مر د کے نکاح ميں آئے۔

متنجس:وہ چيز جو بذات خود پاک ہے ،ليکن نجس چيز سے ملنے کی بنا پر نجاست سے آلودہ ہو جائے۔


متولی:صاحب ولایت ،شرعی اختيار رکھنے والا۔

مجھول المالک:وہ مملوک کہ جس کا مالک معلوم نہ ہو اور اس کا حکم گمشدہ مال کے حکم کی مانند نہيں ۔

مجزی ہے :کافی ہے ،شرعی تکليف کو ادا کر دیتا ہے ۔

محتضر :وہ شخص جو جان دے رہا ہے ۔

محتلم :وہ شخص جس کی سوتے ميں منی خارج ہو جائے۔

محل اشکال :رجوع کيجئے مسئلہ ٧۔

محل تا مٔل ہے :مسئلہ۔ ٧ پر رجوع کيجئے۔

مد:تقریبا: ١٠ چھٹانک۔

مذکی:تذکيہ شدہ،مسئلہ ٢ ۶۴ ٧ پر رجوع کيجئے۔

مرتد:مسئلہ ٢ ۵ ١١ ۔پر رجوع کيجئے مرتد فطری:مسئلہ ٢ ۵ ١١ رجوع کيجئے۔

مرتد ملی:مسئلہ ٢ ۵ ١١ پر جوع کيجئے۔

معصتم:وہ پانی جو نجس سے ملنے کے بعد نجس نہ ہو،جيسے آب کر،بارش کا پانی اور جاری پانی۔

مستهلک:ختم ہو چکا ہو،گهس چکاہو،نابود ہو چکا۔

مسکرات:نشے ميں لانے والی اشياء۔

مضمضہ:منہ ميں پانی گهمانا، کلی کرنا۔

مطهر:پاک کرنے والی چيز۔

مظالم :وہ چيز جو انسان کی گردن اور ذمے پر ہواور اس چيز کا مالک (اگر چہ بعض معين افراد کے ضمن ميں بهی)معلوم نہ ہو یا اس چيز کے مالک تک رسائی نہ ہو۔

مفلّس:جس کا دیواليہ نکل چکاہو۔اور بحکم حاکم شرع اپنے مال و دولت ميں تصرف نہيں کر سکتا۔

مفطر:روزے کو باطل کرنے والی چيز۔

مميز:وہ بچہ جو اچھا اور بُرا سمجھ سکے۔

موالات :ایک کے پيچهے ایک پے در مستمرة الدم:وہ عورت جس کا خون مسلسل جاری ہو اور منقطع نہ ہو۔


موقوفہ:وقف شدہ۔

( موکل :وکيل بنانے والا ۔(مسئلہ ٢٣١١

معتنی بہ:قابل توجہ ،قابل اعتناء۔

(ن)

نصاب: حدیا معين مقدار۔

(و)

وطئی:نزدیکی اور ہمبستری کے معنی ميں ہے ۔

ولایت :اختيار شرعی کا مالک ہونا۔

ولی:وہ شخص جو کسی شرعی سبب کی بنا ء پر صاحب اختيار ہو۔

(ی)

یائسہ:جس عورت کی عمر اتنی ہوگئی ہو۔کہ جس کے بعد اس کو ماہواری نہ ہوتی ہو۔


فہرست

تقليد کے احکام ۴

احکام طهارت ۸

مطلق اور مضاف پانی ۸

١۔ کرُ پانی ۸

٢۔ قليل پانی ۹

٣۔ جاری پانی ۱۰

۴ ۔ بارش کا پانی ۱۱

۵ ۔ کنويں کا پانی ۱۲

پانی کے احکام ۱۲

بيت الخلاء کے احکام ۱۴

استبراء ۱۶

رفع حاجت کے مستحبات اور مکروهات ۱۷

نجاسات ۱۸

١۔ ٢) پيشاب اور پاخانہ ) ۱۸

٣۔ منی ۱۹

۴ ۔ مردار ۱۹

۵ ۔ خون ۲۰

۶- ۔ ٧) کتا اور سو رٔ ) ۲۰

٨۔ کافر ۲۱


٩۔ شراب ۲۱

١٠ ۔ فقاّع (جوَ کی شراب) ۲۲

نجاست ثابت ہونے کے طريقے ۲۲

پاک چيز کيسے نجس ہوتیہے ۲۳

احکام نجاسات ۲۵

مطهرات ۲۶

١۔ پانی ۲۷

٢۔ زمين ۳۲

٣۔ سورج ۳۳

۴ ۔ استحالہ ۳۴

۵ ۔ انقلاب ۳۴

۶ ۔ انتقال ۳۵

٧۔ اسلام ۳۶

٨۔ تبعيت ۳۶

٩۔ عين نجاست کا دور ہونا ۳۷

١٠ ۔ نجاست کھانے والے حيوان کا استبرا ۳۸

١١ ۔ مسلمان کا غائب ہوجانا ۳۸

١٢ ۔ معمول کے مطابق ذبيحہ کے خون کا بہہ جانا ۳۹

برتنوں کے احکام ۳۹

وضو ۴۱


ارتماسی وضو ۴۴

وضو کے وقت کی مستحب دعائيں ۴۴

وضو صحيح ہونے کی شرائط ۴۵

پهلی شرط: وضو کا پانی پاک ہو۔ ۴۵

دوسری شرط: وضو کا پانی مطلق ہو۔ ۴۵

تيسری شرط: یہ کہ وضو کا پانی مباح ہو اور احتياط واجب کی بناپر جس فضاميں وضو کررہاہے وہ بهی مباح ہو۔ ۴۶

چوتھی شرط : یہ کہ وضو کے پانی کا برتن مباح ہو۔ ۴۷

پانچویں شرط:وضو کے پانی کا برتن احتياط واجب کی بنا پر سونے اور چاندی کا نہ ہو۔ ۴۷

چھٹی شرط:وضو کے اعضاء دهوتے وقت اور مسح کرتے وقت پاک ہوں اگر چہ یہ طهارت ۴۷

ساتویں شرط:وضو اور نما زکے لئے وقت ميں گنجائش ہو۔ ۴۸

آٹھ ویں شرط:وضو قصد قربت اور خلوص کے ساته کرے۔ ۴۸

نویں شرط:وضو کو بيان شدہ ترتيب کے مطابق انجام دے، ۴۸

دسویں شرط:وضو کے افعال پے درپے انجام دے۔ ۴۹

گيارہویں شرط:انسان خود اپنا چہرہ اور ہاتھ دهوئے اور سر اور پاؤں کا مسح کرے۔ ۴۹

بارہویں شرط:وضو کرنے والے کے لئے پانی کے استعمال ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ ۴۹

تيرہویں شرط:اعضائے وضو تک پانی پهنچنے ميں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ ۵۰

احکام وضو ۵۱

وہ چيزيں جن کے لئے حدث سے پاک ہونا ضروری ہے ۵۳

مبطلات وضو ۵۵

جبيرہ وضوکے احکام ۵۵


جنابت کے احکام ۵۹

وہ چيزيں جو جنب پر حرام ہيں ۶۰

وہ چيزيں جو جنب شخص پر مکروہ ہيں ۶۱

غسل جنابت ۶۱

غسل ترتيبی ۶۲

غسل ارتماسی ۶۳

غسل کے احکام ۶۳

استحاضہ ۶۶

احکام استحاضہ ۶۷

حيض ۷۲

حائضہ کے احکام ۷۴

حائضہ عورتوں کی اقسام ۷۷

٢۔وقتيہ عادت والی عورت ۸۱

٣۔عدديہ عادت والی عورت ۸۲

۴ ۔ مضطربہ ۸۳

۵ ۔مبتدئہ ۸۴

۶ ۔ ناسيہ ۸۵

حيض کے متفرق مسائل ۸۶

نفاس ۸۸

غسلِ مسِ ميّت ۹۰


محتضر کے احکام ۹۱

مرنے کے بعد کے احکام ۹۲

غسل، کفن، نماز اور دفن ميّت کے احکام ۹۲

غسل ميت کا طريقہ ۹۴

کفن کے احکام ۹۶

حنُوط کے احکام ۹۸

نمازِ ميّت کے احکام ۹۹

نمازِ ميّت کا طريقہ ۱۰۰

نمازِ ميّت کے مستحبات ۱۰۲

دفن کے مستحبات ۱۰۴

نمازِ وحشت ۱۰۷

نبشِ قبر ۱۰۷

مستحب غسل ۱۰۸

تيمم ۱۱۰

تيمم کی پهلی صورت ۱۱۰

تيمم کی دوسری صورت ۱۱۳

تيمم کی تيسری صورت ۱۱۳

تيمم کی چوتھی صورت ۱۱۴

تيمم کی پانچويں صورت ۱۱۴

تيمم کی چھٹی صورت ۱۱۵


تيمم کی ساتو يں صورت ۱۱۵

وہ چيزيں جن پر تيمم کرناصحيحہے ۱۱۶

وضو يا غسل کے بدلے تيمم کرنے کا طريقہ ۱۱۷

تيمم کے احکام ۱۱۸

نماز کے احکام ۱۲۲

واجب نماز يں ۱۲۴

روزانہ کی واجب نماز يں ۱۲۴

ظهر اور عصر کی نماز کا وقت ۱۲۴

مغرب و عشا کی نماز کا وقت ۱۲۵

صبح کی نماز کا وقت ۱۲۶

اوقاتِ نماز کے احکام ۱۲۶

وہ نماز يں جنهيں ترتيب سے پڑھنا ضروریہے ۱۲۹

مستحب نماز يں ۱۳۰

روزانہ کی نوافل کا وقت ۱۳۱

نمازِ غفيلہ ۱۳۲

قبلے کے احکام ۱۳۲

نماز ميں بدن کا ڈهانپنا ۱۳۴

نمازی کے لباس کی شرائط ۱۳۵

پهلی شرط ۱۳۶

دوسری شرط ۱۳۸


تيسری شرط ۱۳۹

چوتھی شرط ۱۴۰

پانچويں شرط ۱۴۰

چھٹی شرط ۱۴۱

نمازی کے لباس ميں مکروہ چيزیں ۱۴۵

نماز پڑھنے کی جگہ ۱۴۵

پهلی شرط ۱۴۵

دوسری شرط ۱۴۷

تيسری شرط ۱۴۸

چوتھی شرط ۱۴۸

پانچويں شرط ۱۴۸

چھٹی شرط ۱۴۹

ساتويں شرط ۱۴۹

وہ مقامات جهاں نمازپڑھنا مستحب ہے ۱۵۰

وہ مقامات جهاں نماز پڑھنا مکروہ ہے ۱۵۰

مسجد کے احکام ۱۵۱

اذان اور اقامت ۱۵۳

اذان اور اقامت کا ترجمہ ۱۵۴

واجباتِ نماز ۱۵۷

نيت ۱۵۸


تکبيرةالاحرام ۱۵۹

قيام(کھڑا ہونا ) ۱۶۰

قرائت ۱۶۲

رکوع ۱۶۸

سجود ۱۷۱

سجدے کے مستحبات اور مکروهات ۱۷۷

قرآن مجيد کے واجب سجدے ۱۷۸

تشهد ۱۷۹

نماز کا سلام ۱۸۰

ترتيب ۱۸۰

موالات ۱۸۱

قنوت ۱۸۲

نماز کا ترجمہ ۱۸۳

٢۔سورہ اخلاص کا ترجمہ ۱۸۳

٣۔رکوع، سجود اور ديگر اذکار کا ترجمہ ۱۸۴

۴ ۔قنوت کا ترجمہ ۱۸۴

۵ ۔تسبيحات اربعہ کا ترجمہ ۱۸۴

۶ ۔تشهد اور سلام کا ترجمہ ۱۸۵

تعقيباتِ نماز ۱۸۵

پيغمبر اکرم(ص) پر صلوات ۱۸۶


مبطلات نماز ۱۸۶

وہ چيزيں جو نماز ميں مکروہ ہيں ۱۹۱

وہ صورتيں جن ميں واجب نماز توڑ ی جا سکتیہے ۱۹۱

شکياتِ نماز ۱۹۲

وہ شک جو نماز کو باطل کر ديتے ہيں ۱۹۲

وہ شک جن کی پروا نهيں کرنی چاہئے ۱۹۳

١۔جس فعل کا موقع گزر گيا ہو اس ميں شک کرنا ۱۹۳

٢۔سلام کے بعد شک کرنا ۱۹۵

٣۔ وقت کے بعد شک کرنا ۱۹۶

۴ ۔کثيرالشک کا شک کرنا ۱۹۶

۵ ۔پيش نماز اور مقتدی کا شک ۱۹۷

۶ ۔مستحب نمازميں شک ۱۹۸

صحيح شکوک ۱۹۹

نماز احتياط ۲۰۲

سجدہ سهو ۲۰۶

سجدہ سهو کا طريقہ ۲۰۸

بھولے ہوئے سجدے اور تشهد کی قضا ۲۰۸

نماز کے اجزاء یا شرائط کو کم یا زیادہ کرنا ۲۰۹

مسافر کی نماز ۲۱۱

پهلی شرط ۲۱۱


دوسری شرط ۲۱۳

تيسری شرط ۲۱۴

چوتھی شرط ۲۱۵

پانچويں شرط ۲۱۵

چھٹی شرط ۲۱۷

ساتويں شرط ۲۱۷

آٹھ ويں شرط ۲۱۸

نماز مسافر کے مختلف مسائل ۲۲۴

قضا نماز ۲۲۶

باپ کی قضا نماز جو بڑے بيٹے پر واجب ہے ۲۲۹

نماز جماعت ۲۳۰

امام جماعت کے شرائط ۲۳۷

جماعت کے احکام ۲۳۸

نمازجماعت ميں امام اور ماموم کا وظيفہ ۲۴۱

وہ چيزيں جو نمازجماعت ميں مستحب ہيں ۲۴۱

وہ چيزيں جو نمازجماعت ميں مکروہ ہيں ۲۴۲

نماز آيات ۲۴۲

نماز آيات کا طريقہ ۲۴۴

عيد فطر و عيدقربان کی نمازيں ۲۴۶

نماز کے لئے اجير بنانا ۲۴۹


روزے کے احکام ۲۵۱

نيت ۲۵۱

مبطلاتِ روزہ ۲۵۴

١۔ کھانا اور پينا ۲۵۵

٢۔ جماع ۲۵۶

٣۔ استمنا ۲۵۷

۴ ۔ خدا اور رسول صلی الله عليہ و آلہ سے جهوٹ منسوب کرنا ۲۵۷

۵ ۔ غبار حلق تک پهنچانا ۲۵۸

۶ ۔ سر کو پانی ميں ڈبونا ۲۵۹

٧۔ جنابت، حيض اور نفاس پر اذان صبح تک باقی رہنا ۲۶۰

٨۔ حقنہ لينا ۲۶۳

٩۔ قے کرنا ۲۶۳

روزہ باطل کر نے والی چيزوں کے احکام ۲۶۴

وہ چيزيں جو روزہ دار کے لئے مکروہ ہيں ۲۶۴

روزے کا کفارہ ۲۶۵

وہ مقامات کہ جن ميں صرف روزے کی قضا واجبہے ۲۶۹

قضا روزے کے احکام ۲۷۰

مسافر کے روزوں کے احکام ۲۷۳

وہ افراد جن پر روزہ رکھنا واجب نهيں ۲۷۴

مهينے کی پهلی تاريخ ثابت ہونے کا طريقہ ۲۷۵


حرام اور مکروہ روزے ۲۷۶

مستحب روزے ۲۷۷

وہ صورتيں جن ميں مبطلاتِ روزہ سے پرہيز مستحبہے ۲۷۸

اعتکاف ۲۷۸

خمس کے احکام ۲۸۱

١۔ کمانے سے حاصل ہونے والا منافع ۲۸۱

٢۔ معدنی کانيں ۲۸۸

٣۔ دفينہ ۲۸۹

۴ ۔حلال مال جو حرام مال ميں مخلوط ہو جائے ۲۹۰

۵ ۔غوطہ خوری کے ذريعے حاصل ہونے والے موتی ۲۹۱

۶ ۔مال غنيمت ۲۹۲

٧۔ وہ زمين جو کافر ذمی کسی مسلمان سے خريدے ۲۹۳

خمس کا استعمال ۲۹۳

زکات کے احکام ۲۹۶

زکات واجب ہونے کے شرائط ۲۹۶

گندم،جو،کھجور اورکشمش کی زکات ۲۹۷

سونے اور چاندی کا نصاب ۳۰۲

اونٹ،گائے اور بھيڑکی زکات ۳۰۴

اونٹ کا نصاب ۳۰۵

گائے کا نصاب ۳۰۶


بھيڑ کا نصاب ۳۰۶

زکات کا مصرف ۳۰۸

مستحقين زکات کی شرائط ۳۱۱

زکات کی نيت ۳۱۲

زکات کے متفرق مسائل ۳۱۳

زکات فطرہ ۳۱۷

فطرے کا مصرف ۳۲۰

فطرے کے متفرق مسائل ۳۲۱

حج کے احکام ۳۲۲

امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے احکام ۳۲۵

خاتمہ: ۳۲۸

چند مقامات پر غيبت جائزہے : ۳۳۰

خريد و فروخت کے احکام ۳۳۱

خريدوفروخت کے مستحبات ۳۳۱

مکروہ معاملات ۳۳۲

حرام اور باطل معاملات ۳۳۲

بيچ نے والے اور خريدار کے شرائط ۳۳۷

بيچی جانے والی چيز اور اس کے عوض کے شرائط ۳۳۹

خريد وفروخت کا صيغہ ۳۴۰

پھلوں کی خريد وفروخت ۳۴۰


نقد اور ادهار ۳۴۱

معاملہ سلف ۳۴۲

معاملہ سلف کے شرائط ۳۴۳

معاملہ سلف کے احکام ۳۴۳

سونے و چاندی کی سونے و چاندی کے عوض فروخت ۳۴۴

وہ مقامات جهاں انسان معاملہفسخ (ختم) کر سکتاہے ۳۴۵

خريد و فروخت کے متفرق مسائل ۳۴۹

شراکت کے احکام ۳۴۹

مصالحت کے احکام ۳۵۳

کرائے کے احکام ۳۵۵

کرائے پر دئے جانے والے مال کے شرائط ۳۵۷

کرائے پر دئے جانے والے مال سے فائدہ اٹھ انے کے شرائط ۳۵۸

کرايہ کے مختلف مسائل ۳۵۹

جعالہ کے احکام ۳۶۳

مزارعہ کے احکام ۳۶۴

مضاربہ کے احکام ۳۶۷

مساقات اور مغارسہ کے احکام ۳۷۰

وہ افراد جو اپنے مال ميں تصرف نهيں کرسکتے ۳۷۳

وکالت کے احکام ۳۷۴

قرض کے احکام ۳۷۶


حوالہ دينے کے احکام ۳۷۸

رہن کے احکام ۳۸۰

ضمانت کے احکام ۳۸۱

کفالت کے احکام ۳۸۳

امانت کے احکام ۳۸۴

احکام عاريہ ۳۸۷

هبہ کے احکام ۳۸۹

نکاح کے احکام ۳۹۱

عقد کے احکام ۳۹۱

عقد دائمی پڑھنے کا طريقہ ۳۹۲

عقد غير دائمی کے پڑھنے کا طريقہ ۳۹۲

عقد کے شرائط ۳۹۳

وہ عيوب جن کی وجہ سے عقد فسخ کيا جاسکتا ہے ۳۹۴

وہ عورتيں جن سے ازدواج حرام ہے ۳۹۵

دائمی عقد کے احکام ۳۹۹

متعہ (ازدواج موقت) ۴۰۰

نگاہ کرنے کے احکام ۴۰۲

شادی کے مختلف مسائل ۴۰۳

رضاعت (دودھ پلانے) کے احکام ۴۰۶

دودھ پلانے کے ذريعے محرم بننے کی شرائط ۴۰۸


دودھ پلانے کے آداب ۴۱۱

دودھ پلانے کے مختلف مسائل ۴۱۱

طلاق کے احکام ۴۱۳

طلاق کی عدت ۴۱۴

اس عورت کی عدت جس کا شوهر مر گيا ہو ۴۱۶

طلاق بائن اور طلاق رجعی ۴۱۶

رجوع کرنے کے احکام ۴۱۷

طلاق خلع ۴۱۸

طلاق مبارات ۴۱۸

طلاق کے متفرق احکام ۴۱۹

غصب کے احکام ۴۲۰

گرا پڑا مال پانے کے احکام ۴۲۳

جانوروں کو ذبح اور شکار کرنے کے احکام ۴۲۶

جانوروں کے ذبح کرنے کا طريقہ ۴۲۷

جانور ذبح کرنے کی شرائط ۴۲۸

اونٹ نحر کرنے کا طريقہ ۴۲۹

وہ چيزيں جو حےوان ذبح کرتے وقت مستحب ہيں ۴۳۰

وہ چيزیں جو جانور کو ذبح کرنے ميں مکروہ ہيں ۴۳۰

اسلحہ سے شکار کرنے کے احکام ۴۳۰

شکاری کتے کے ساته شکار کرنا ۴۳۲


مچهلی کا شکار ۴۳۳

ٹڈی کا شکار ۴۳۴

کھانے پینے کی چيزوں کے احکام ۴۳۵

کھانے اور پینے کے مستحبات اور مکروهات ۴۳۸

نذر و عهد کے احکام ۴۴۰

قسم کھانے کے احکام ۴۴۴

احکام وقف ۴۴۵

وصيت کے احکام ۴۴۸

وراثت کے احکام ۴۵۵

پهلے گروہ کی ميراث ۴۵۵

دوسرے گروہ کی ميراث ۴۵۶

تيسرے گروہ کی ميراث ۴۶۰

مياں بيوی کی ميراث ۴۶۲

ميراث کے متفرق مسائل ۴۶۴

ملحقات ۴۶۵

بينک سے مربوط مسائل ۴۶۵

ايل سی (لیٹر آف کریڈٹ) ۴۶۶

٢)برائے ایکسپورٹ L/C ایل سی ۴۶۶

L/C کا کھولنا اور بينک کے لئے ایل سی L/C کا کھولنا ۴۶۷

بينک کا مال کی حفاظت کرنا ۴۶۷


بينک گارنٹی ۴۶۸

حصص کی فروخت ( shares ) ۴۶۹

اندرونی اور بيرونی حوالے کے احکام) Drarft ۴۷۰

بينک کے انعامات ۴۷۲

بينک کا پرونوٹ ( ١)کی وصولی اور اسے کےش کرنا ۴۷۲

فارن کرنسی کی خريدوفروخت ۴۷۳

Current Account ۴۷۴

پرونوٹس (هنڈی) کی خريدوفروخت ۴۷۴

Bank Service ۴۷۶

بيمہ کے احکام ۴۷۷

پگڑی کے احکام ۴۷۸

قاعدہ الزام کی بعض فروعات ۴۷۹

پوسٹ مارٹم کے احکام ۴۸۱

مصنوعی ذريعہ توليد کے احکام ۴۸۳

حکومت کی بنائی ہوئی سڑکوں کے احکام ۴۸۳

نماز و روزہ کے کچه مسائل ۴۸۴

فقهی اصطلاحات ۴۸۶


توضیح المسائل(آقائے وحيد خراسانی)

توضیح المسائل(آقائے وحيد خراسانی)

مؤلف: آية الله العظمیٰ حاج شيخ حسين وحيد خراسانی مدظلہ العالی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 511