مناسک حج

مؤلف: آیۃ العظمی سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ
احکام فقہی اور توضیح المسائل


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


مناسک حج

مصنف: آیۃ العظمی سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ


وجوب حج

ہر صاحب شرائط مکلف پر حج واجب ہے جو کہ قرآن و سنت قطعیہ سے ثابت ہے ۔(شرائط کا بیان آگے آئے گا )

حج ارکان دین میں سے ایک رکن ہے اور ا س کا وجوب ضروریات دین میں سے ہے ۔حج کے وجوب کا اقرار کرتے ہوئے اس کا ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے جب کہ خود حج کا انکا ر اگرکسی غلطی یا شک شبہ کی وجہ سے نہ ہو تو کفرہے ۔پروردگار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے :

وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین

اور لوگوں پر واجب ہے کہ محض خدا کے لیے خانہ کعبہ کاحج کریں جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو ۔او جس نے استطاعت کے باوجود حج سے انکا ر کیا تو خد اسارے جہاں سے بے نیاز ہے ۔ (آل عمران آیت ۹۷) شیخ کلینی رحمةاللہ علیہ معتبر ذرائع سے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ امام نے فرما یا کہ جو شخص حج الاسلام کیے بغیر مرجائے جب کہ ا س کا حج نہ کرناکسی قطعی ضرورت ،بیماری یا حکومت کی طرف سے رکاوٹ نہ ہو تو وہ یہودی یا نصرانی موت مر ا۔

اس موضوع پر بہت زیادہ روایتیں ہیں جو حج کے وجوب پر دلالت کرتیں ہیں مگر ہم اختصار کے خاطر ان کو پیش نہیں کر تے ۔اور اپنے مقصدکی خاطر مذکورہ بالاآیت اور روایت پر ہی اکتفاکریں گے ۔

شریعت مقدسہ میں ہر مکلف پر حج ایک مرتبہ واجب ہے جسے حج الاسلام کہا جاتاہے ۔بعض اوقات ممکن ہے کہ حج ایک یا زیادہ مرتبہ واجب ہو جائے مثلا کسی کے بدلے حج کرنے یا اجیر وغیرہ بنے کے صورت میں ۔جس کا بیان آگے آئے گا۔

مسئلہ نمبر ۱ ۔جب شرائط ثابت ہونے کی صور ت میں حج واجب ہوجائے ۔توحج واجب فوری ہے ۔لہذا استطاعت کے پہلے سال ہی حج کی ادائیگی واجب ہے چنانچہ اگر مکلف پہلے سال حج نہ کرے تودوسرے سال انجام دے ۔اسی طرح آئندہ سالوں میں عدم ادائیگی کی صورت میں وجوب باقی رہے گا ۔حج کے واجب فروی ہونے کی دو صورتیں ہیں ۔

۱ ۔جیساکہ علماء میں مشہور ہے کہ واجب فروی ہونا شرعی ہے ۔

۲ ۔احتیاط کی بنا پر واجب فوری ہونا عقلی ہے ۔تاکہ واجب میں بلاعذرتاخیر کی وجہ سے عذا ب کا مستحق نہ ہو ۔

ان میں سے پہلی صور ت احوط اور دوسری صور ت اقوی ہے لہذا اگر اطمینان نہ ہونے کے باوجود کہ آئندہ حج انجام دوں گا پھر بھی جلدی نہ کرے تو اگر بعد میں انجام دے بھی دے تو گستاخ قرار پائے گااور عدم ادائیگی کی صورت میں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا ۔

( ۱) جب حج واجب ہو جائے تو اسکے مقدمات ووسائل کو اس طرح تیار کرنا ضروری کہ حج کو وقت پر ادا کیا جاسکے ۔اگر قافلے متعدد ہوں اور اطمینان ہو کہ جس کے ساتھ بھی جاؤں گا حج ادا ہوجائیگاتو مکلف کو اختیار ہے کہ جسکے ساتھ مرضی ہو جائے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ جسے کے ساتھ زیادہ اطمینان ہو اسکے ساتھ کے جائے اور ایسے قافلے کے ساتھ تاخیر کرنا جائز نہیں ہے سوائے اسکے کہ اطمینان ہو کہ دوسراقافلہ مل جائے گا جس کے ساتھ جانا اور حج کرنا ممکن ہو گااسی خشکی ،بحری اور ہوائے راستے سے جانے کے بارے میں بھی یہی حکم ہے ۔

( ۳) اگر استطاعت ہونے کے بعد اسی سال حج پر جانا واجب ہوجائے اور کوئی شخص اس اطمینان کے ساتھ کہ تاخیر کے باوجود اسی سال حج کرسکے گا جانے میں تاخیر کرے لیکن اتفاقا کسی تاخیر کے وجہ سے حج نہ کرسکے تو تاخیر کرنے میں معذورشمار ہوگا اور اظہر یہ ہے کہ حج اس کے ذمہ ثابت نہ ہو گا اسی طرح دوسرے ان تمام موارد میں اگر کسی اتفاقکی وجہ سے حج نہ سکے تو معذور سمجھا جائے گا بشرطیکہ اسکی طرف سے کوئی کوتاہی نہ اور کمی ہوئی ہو ۔

شرائط وجو ب حج

۱ ۔بلوغت :

نابالغ پر حج واجب نہیں ہے چاہے وہ قریب بلوغ بھی کیوں نہ ہو لہذااگر بچہ حج کرے تو یہ حج ،حج الاسلام کی کفایت نہ کرے گا اگرچہ اظہر یہ ہے کہ اسکا حج صحیح ہے ۔

( ۴) جب ایک بچہ گھر حج کرنے کے لیے نکلے اور میقات پر احرام باندھے سے پہلے بالغ ہوجائے اور مستطیع بھی ہوجائے جاہے استطاعت اسی جگہ حاصل ہوئی ہو تو بلا اشکال اس کاحج ،حج الاسلام شمار ہوگا اسی طرح اگر احرام باندھے سے پہلے مزدلفہ وقوف سے پہلے بالغ ہو جائے تو اپنے حج کوتما م کرے اور اقوی یہ ہے کہ یہ حج بھی حج الاسلام شما ر ہوگا۔

( ۵) اگر کوئی اپنے آپ کو نابالغ سجھتے ہوئے مستحب حج کرے اور حج کے بعد یا حج کے درمیان پتہ چلے کہ وہ بالغ ہے تو یہ حج ،حج الاسلام شمار ہوگا لہذا اسی کو کافی سمجھے ۔

( ۶) ممیز بچے پر حج کرنا مستحب ہے لیکن بعیدنہیں کہ اسکی حج صحیح ہونے میں اسکے ولی کی اجازت شر طہ ہو جیساکہ فقہاء کے درمیان مشہور ہے ۔

( ۷) بالغ شخص کے حج صحیح ہونے میں والدین کی اجازت مطلقانہیں ہے لیکن اگر اسکے مستحب حج پر جانے سے ماں پاب میں سے کسی ایک کو اذیت ہو مثلاراستے کے وہ جو خطرات اسے پیش آسکتے ہیں ان سے وہ ڈرتے ہوں اوراس بناپر انہیں اذیت ہو تو اس شخص پر حج کے لیے جانا جائز نہیں ہے ۔

( ۸) غیر ممیز بچے یا بچی کے ولی کے لئے مستحب ہے کہ وہ ان کو حج کرائے اس طرح کہ انکو احرام باندھے اس کو تلبیہ کہلوائے اور تلبیہ سکھائے اور اگر وہ بچہ یا بچی سیکھنے کے قابل ہوں (یعنی جو بزی انہیں کہنے کو کہیں کہہ سکیں )اور اگر سیکھانے کے قابل نہ ہوں تو خو د انکی جانب سے تلبیہ کہے اور احرام والے شخض کا جن چیزوں سے بچنا واجب ہے بچے ولی کے لیے جائز ہے کہ اگر وہ فخ کے راستے سے جارہاہو تومقام فخ تک بچے کے سلے ہوئے کپڑے یا جو انکے حکم میں آئے انہیں اتارنے میں تاخیر کرے ،افعال حج میں سے جنہیں یہ بچہ یا بچی انجام دے سکتے ہواسکو انجام دینے کو کہے اور جو انجام نہ دے سکتے ہوں ان کو خود ولی اس کی نیابت میں انجام دے ،اس کو طواف کرے صفا مروہ کے درمیاں سعی کرائے ،عرفات اور مشعر میں وقوف کراے ،اگر بچہ یابچی رمی (کنکرمارنے )کرناے پر قادرہوں تو اسے رمی کرنے کو کہے اور قادر نہ ہوں تو اس کی طرف سے خود رمی کرے نماز طواف پڑھے ،سر مونڈھے اور دیگر اعمال کا بھی حکم یہی ہے ۔

( ۹) غیر ممیز بچے کا ولی بچے کو احرام پہنا سکتاہے چاہے خوداحرام پہنے ہوئے بھی ہو ۔

( ۱۰) احرام یہ ہے کہ ولی ،جس ) غیر ممیز بچے کو حج کرانامستحب ہے وہ شخص جس کے پاس بچے کی دیکھ بھا ل اور سرپرستی کا اختیار ہو چاہے وہ ما ں باپ ہوں یا کو ئی اور جس کی تفصیل "کتاب النکاح "میں موجود ہے ۔

( ۱۱) بچے کے اخراجات اگر وپن میں رہنے سے زیادہ ہوں تو زائد مقدارولی کے ذمے ہوگی لیکن اگر بچے کی حفاظت کی خاطر یا مصلحتاساتھ لے جانا مقصود ہو اور حج کے اخراجات ،سفر کے خرجات کی نسبت زائدہوں تو بچے کے مال سے صرف سفر کے خراجات اداکیے جاسکتے ہیں ،حج کے اکراجات نہیں ۔

( ۱۲) غیر ممیز بچے کی قربانی کا خرچہ ولی کے ذمہ ہے اسی طرح بچے کے شکار کا کفارہ نھی ولی کے ذمہ ہے لیکن وہ کفارات جو موجبات کفارہ کو عمداانجام دینے کی وجہ سے ہوتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ بچے کے انجام دینے کی وجہ سے نہیں ہوتے چاہے بچہ ممیز کیوں نہ ہو لہذا ان کفارات کی ادائیگی نہ ولی کے ذمہ ہے اور نہ ہی بچہ کے مال سے نکالنا واجب ہے ۔

۲ ۔عقل :

دیوانے شخص پر حج واجب نہیں ہے لیکن جسے دیوانگی کے دورے پڑتے ہوں اور اسکے ٹھیک ہونے کا زمانہ اتنا ہو کہ حج سے متعلق ابتدائی امور اور افعال حج انجام دے سکتاہو مزید یہ کہ مستطیع بھی ہو تو اس پر حج واجب ہے چاہے باقی اوقات میں دیوانہ رہے اسی طرح دیوانگی ایام حج میں ہوتی ہے تو واجب ہے کہ صحت کی حالت میں نائب مقرر کرے ۔

۳ ۔آزادی :

۴ ۔استطاعت :

اس میں چند چیزیں معتبرہیں ۔

الف)وقت وسیع ہو یعنی مقدس مقامات (مکہ) پر جانے اور واجب اعمال انجام دینے کے لئے وقت کافی ہو لہذا اگر مال یا باقی شرائط ایسے وقت میں حاصل ہوں کہ مکہ جانے اور واجب اعمال بجالانے کے لئے وقت کافی نہ ہو یا وقت تو وسیع لیکن اتنی ز حمتیں ہوں جو عام طور پر برداشت نہیں کی جاتیں تو حج واجب نہیں ہو گا اس صورت میں مال کو اگلے سال تک سنبھالنے کے واجب ہونے سے متعلق حکم مسئلہ ۳۹ میں دیکھیں (ب) جسمانی صحت اور توانائی رکھتا ہولہذا اگر بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے مقامات مقدسہ (مکہ) جانے کی قدرت نہ رکھتا ہو یا سفر کر سکتا ہو مگر وہاں مثلا شدید گرمی کی وجہ اتنی مدت ٹھہر نہ سکتا ہو کہ اعمال حج انجام دے سکے یا وہاں ٹھہرنا اس کے لئے شدید زحمت اور تکلیف کا سبب بنتا ہو تو اس پرخود حج پر جانا واجب نہیں لیکن مسئلہ ۶۳ میں مذکورہ تفصیل کے مطابق نائب بنانا واجب ہو جائے گا

(ج) راستہ خالی ہو یعنی راستہ کھلا اور پر امن ہو لہذا راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا جان و مال و عزت کا خطرہ نہ ہو جس کی وجہ سے میقات یا دوسرے مقدس مقامات تک پہنچنا ،نا ممکن ہو ورنہ حج واجب نہیں ہو گا یہ جانے کا حکم ہے لیکن واپسی کا مفصل حکم آگے آئے گا واپسی کے خرچے کا تفصیل مسئلہ ( ۲۲) کی طرح احرام باندھنے کے بعد بیماری دشمنی یا کسی اور وجہ سے مکلف کا مقدس مقامات کی زیارت کو نہ جا سکنے سے متعلق مخصوص احکام کا ذکر انشاء اللہ مصدود و محصور کی بحث میں ہو گا

( ۱۳) اگر حج کے لئے دو راستے ہوں دور والا پر امن اور نزدیک والا پر خطر ہو تو اس صورت میں حج ساقط نہیں ہو گا بلکہ پر ا من راستے حج پر جانا واجب ہو گا چاہے وہ راستہ دور والا ہی ہو لیکن اگر دور والے راستے سے جانے کی وجہ سے کئی شہروں سے گزرنا پڑے اور عام تاثر یہ نہ ہو کہ راستہ کھلا اور پر امن ہے تو اس پر حج واجب نہیں ہو گا

( ۱۴) اگر کسی کے پاس اپنے شہر میں مال ہو جو حج پر جانے کی وجہ سے ضائع ہو جاے گا اور اس مال کا ضائع ہونا اس شخص کے لئے بہت زیادہ ضرر، و نقصان کا باعث بنے تو حج پر جانا واجب نہیں ہے

اگر حج کو انجا م دینا حج سے زیادہ اہم واجب یا حج کے مساوی واجب کے چھوٹنے کا سبب بنے (مثلا ڈوبتے ہوئے یا جلتے ہوئے شخص کو بچانا واجب ہے ) توحج کو چھوڑ کر زیادہ اہم واجب کام انجام دے اور اگر حج کی وجہ سے حج کے مساوی واجب کام چھوٹ رہا ہو تو مکلف کو اختیار ہے چاہے حج کرے یا دوسرے واجب کو انجام دے بعینہ یہی حکم ہے کہ جب حج کو انجام دینا ایسے حرام کام کو انجام دینے پر موقوف ہو کہ جس سے بچنا حج سے زیادہ اہم یا حج کے مساوی ہو

( ۱۵) اگر کوئی شخص حج کی وجہ سے کوئی اہم کام چھوٹ جانے یا ایسا حرام کام کہ جس سے بچنا حج سے اہم ہو انجام دے کر حج کرے تو گویا کہ یہ شخص اہم واجب کو چھوڑنے اور حرام کام کو سرانجام دینے سے گنہگار ہو گا مگر ظاہر ہے کہ اس کا حج ،حج الاسلام شمار ہو گا بشرطیکہ باقی تمام شرائط موجود ہوں ۔یہ حکم ان دوشخص میں فرق نہیں رکھتاکہ جس شخص پر حج پہلے سے واجب ہویا جسکی استطاعت کا پہلا سال ہو ۔

( ۱۶) اگر راستے میں کوئی دشمن موجود ہوکہ ہسے ہٹاناپیسے دینے پر موقوف ہو تو اگر پیسے دینے کی وجہ سے زیادہمقصان اٹھانا پڑے تو دشمن کو پیے دینا واجب نہیں ہے اور اس سے حج ساقط ہو جائے گا ۔ورنہ پیسے دینا واجب ہو گا لیکن دشمن کی راضی کرنے اور راستہ کھولنے کے لیے پیسے دینا واجب نہیں ہے ۔

( ۱۷) اگر سفر حج مثلا صرف بحری راستے پ رمنحصر ہوجائے اور عقلاء کے نزدیک اس سفر میں غرق یا مرض لاحق ہونے یا اسی طرح کا کوئی اور مسئلہ یا اسی پریشانی و خوف لاحق ہوناے کا احتمال ہو کہ جسے برداشت کرنا مشکل ہو اور علاج بھی ممکن نہ ہو تو وجوب حج ساقط ہوجائیگا ۔لیکن اگر اسکے باوجود حج کیا جائے تو اظہر یہ ہے کہ حج صحیح ہو گا۔

(د)نفقہ (خرچہ )جسے زادراحلہ بھی کہا جاتاہے رکھتاہو ۔زاد سے مراد ہر وہ چیزجسی کی سفر میں ضرورت ہو مثلا کھانے پینے یا دوسری ضروریات سفر کی چیزیں ،اور راحلہ سے مراد سواری ہے ۔زادراحلہ کے لیے لازم ہے کہ وہ انسان کی حیثیت کے مطابق ہوں ۔یہ ضروری نہیں کہ خود راحلہ رکھتاہو بلکہ کافی کہ اتنی مقدارمیں مال (چاہے نقد رقم ہو یا کسی ور صورت میں )رکھتاہو جس سے زادراحلہ مہیا کرسکے ۔

( ۱۸) سواری کی شرط اس وقت ہے جب اسکی ضرورت ہو لیکن اگر کوئی شخص بغیر زحمت و مشقت پیدل چل سکتاہے اور پیدل چلنا اسکی شان کے خلاف بھی نہ ہو تو پھر سواری کی شرط نہیں ۔

( ۱۹) ضروریات سفر اور سواری کا معیار وہ ہے جو فعلاموجود ہو لہذا کسی پر استطاعت اس جگہ حاصل ہونے میں ہے جہاں انسان مقیم ہے نہ کہ اسکے ابائی شہر میں ،لہذااگر مکلف تجارت یا کسی اور وجہ سے کسی دوسرے شہر جائے اور وہاں ضروریات سفر اور سواری یا اتنی نقدی مہیا ہو کہ حج کر سکے تو واجب ہو جائے گا اگرچہ وہ اپ)نے شہر میں ہو تا تو مستطیع نہ ہو تا۔

( ۲۱) مکلف کی اگر کوئی جائداد ہو جسے صحیح قیمت پر خریدنے والا نہ مل رہا ہو اور حج کرنا اس کو بیچنے پر موقوف ہو تو بیچنا واجب ہے چاہے کم قیمت پر بیچنا پڑے لیکن اگر کم قیمت پر بیچنا زیادہ نقصان کا باعث ہو تو واجب نہیں ہے ۔اگرحج کے اخراجات استطاعت والے سال کی نسبت آئندہ سال زیادہ ہوں مثلااس سال سواری کا کرایہ زیادہ ہو تو حج کو آئندہ سال تک ملتوی کرنا جائز نہیں ہے جیساکہ گزشتہ مسائل میں بیاں ہو چکا ہے کہ حج کو استطاعت کی سال میں ادا کران اواجب ہے ۔

( ۲۲) ہج کے واجب ہونے میں واپسی کا خرچ اسوقت شرط ہے جب حاجی وطن واپس آنے کا ارداہ رکھتاہو ۔لیکن اگر ارادہ نہ ہو اور کسی دوسرے شہر میں رہنے اک ارادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس شہرمیں واپسی کا کرچہ رکھتاہو چنانچہ وطن واپسی کا خرج رکھنا ضروری نہیں ہے ۔اسی طرح جس شہر میں جاناچاہتاہے اگر کا خرچ اپنے شہر سے زیادہ ہو تو اس شہر کا خرچ رکھنا ضروری نہیں بلکہ اپنے وطن واپس لوٹنے کا خرچ حجکے واجب ہونے کے لیے کافیہے۔سوائے اسکے کہ (دوسرے )شہر میں رہنے پر مجبور ہو (تو اس دوسرے شہر تک پہنچنے کا خرچ شرط قرار پائے گا)۔

(ہ)رجوع بہ کفایہ ۔

یعنی حج سے واپس آکر اپنے اور اپنے ہل و ایال خرچ کاانتظام اس طرح کر سکتاہو کہ مباداوہ دوسروں کی مددکے محتاج نہ ہوجائیں یا زحمت و مشقت میں نہ پڑ جائیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ مکلف کو حج پر جانے کی وجہ سے اپنے یا اپنے اہل وعیال کے فقر وتنگدستی میں مبتلاہونے کا خوف نہ ہو چنانچہ اس شخص پر حج واجب نہیں ہے جو صرف ایام حج میں کماسکتاہواور اگر وہ حج پر چلاجائے تو کسب معاش نہیں کرپائے گاجس کی وجہ سے پورا سال یا بعض ایام میں زندگی کے اخراجاتکو پورانہیں کر سکے گا ۔اسی طرح اس شخص پر بھی حج واجب نہیں ہے جسکے پاس اتنا مال ہو جو حج کی اخراجات کے لیے تو کافی ہو لیکن وہی مال اسکے اور اسکے عیال کے گزارے کا ذریعہ ہو اوروہ اپنی شان ے مطابق کسی اور ذرائعسے مال نہ کم اسکتاہو اس مسئلے سے یہ واضح ہو جاتہے کہ حج کے لیے ضروریات زندگی کی چیزیں بیچنا واجب نہیں ہے ااور نہ ہی جو کیفیت اورکمیت (مقدار)کے لحا ظ سے اسکی حیثیت کے مطابق ہو ں لہذ ااگر رہائشی کھر عمدہ لباس اور گھر کا اثاثہ حیثیت کے مطابق ہوں اور اسی طرح کسب معاش میں کام آنے والے آلات کاریگری یا کتابیں جو اہل علم کے لیے لازمی ہوں تو انکو بیچن اواجب نہیں ہے خلاصہ یہ ہے کہ جو چییں انسان کی زندگی کے لییے ضروری ہوں اور حج کی خاطر ان کے استعمال سے زحمت و مشقت کا سامنا ہو تو ان چیزیوں کی وجہ سے مکلف مستطیع نہیں ہو گا ۔لیکن اگر مذکورہ چیزیں ضرورت سے اتنی زیادہ ہوں جو حج کے خرچ کے لیے کافی ہو یا اگر کافی نہ بھی ہوں لیکن دوسرامال موجود ہو جس کو ملا کر حج کا خرچ پورا کی اجاسکتاہو تو یہ شخص مستطیع شمار ہو گا اور اس پر حج واجب ہوگا چاہے ضرورت سے زیادہ چیزیوں کو بیچ کر حج کے اخراجات پورے کرناپڑیں ۔بلکہ اگرکوئی بڑا گھر رکھتاہو جسے بیچ کراس سے کم قیمت پر ایساگھر مل سکتاہو جسمیں یہ اور اسکے اہل و عیال بغیر زحمت اور تکلیف کے زندگی گزار سکتے ہوں اور زائد قم حج پر جانے اور آنے اور اہل وعیل کے خرچے کے کافی ہو یا اگر جافی نہ ہو لیکن کچھ مال ملا کرکافی ہو تو بڑے گھر کو بیچ کر حج پرجانا واجب ہو گا۔

( ۲۳) اگر ضرورت کی ایسی چیز جسے بیچ کر حج پرجانا واجب نہ ،کی ضرورت کچھ عرصے بعد ختم ہو جائے تو حج واجب ہوجائیگا۔چاہے اسے بیچ کر جانا پڑے ۔مثلا عورت کے پاس زینت کے لیے زیور ہوں جن کی اسے ضرورت جن کی اسے ضرورت ہو اور بعد میں بڑھاپے یا کسی ور وجح سے ضرورت نہ رہے تو اس ضورت میں حج واجب ہے چاہے اسے زیورات بیچ کرجانا پڑے ۔

( ۲۴) اگر سکی کا ذاتی مکان ہو اور اسے رہنے کے لی ایسی جگہ مل جائے جسمیں بغیر تکلیف کے یا کسی ہرج کے زندگی گزارسکتاہو مثلا وقف والی جگہ ہو جسمیں یہ رہ سکتاہو اوراسکے ہاتھ نکل جان کا خوف نہ ہو تو جب گھر کی قیمت حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو یا اگر کافی نہ اور دوسرامال موجود ہو جسے ملا کر اخراجات حج پورے کی یجاسکتے ہوں ،تو حج کر نا واجب ہے چاہے اپنے گھر کو بیچنا پڑے یہی حکم کتب علمی میں ہے اور دوسری ضرورت کی چیزیوں کا۔

( ۲۵) اگر کوئی سفر حج کا پوراخرچہ رکھتاہو یا گھر شادی کی ضرورت یا دوسرے وسائل زندگی کی ضرورت یا کو ئی اور ضرورت ہو تواگر حج پر مال خرچ کرن اتکلیف کا سبب بنے تو حج واجب نہیں گا ،ورنہ واجب ہو گا۔

( ۲۶) اگر انسان کااپنا مال کسی کے ذمہ قرض ہو اور تمام اخراجات حج یا بعض اخراجات حج کے لیے اس مال کی ضرورت تو درج ذیل ضورتوں میں اس پر ہج واجب ہو گا ۔

(الف )قرض کی مدت تمام ہو چکی ہو اور مقروض قرض دینے پر امادہ ہو ۔

(ب)قرض کی مدت پوری ہوچکی ہو اور مقروض رقم دینے میں ٹال مٹول کر رہا ہو یا قرض ادا نہ کر رہا ہو اور اسے ادائیگی پر مجبور کرنا ممکن ہو چاہے حکومتی عدالتوں کی طرف رجوع کرنا پڑے ۔

(ج )مقروض انکار کرارہا ہو ار قرض ثابت کرکے وصول کرنا ممکن ہو ی اثابت کرن اممکن نہ ہو مگر اسکا بدل وصول کرناممکن ہو ۔

(د)مقروض قرض کو قبل از وقت ادکردے ۔لیکن اگریہ ادائیگی مقروض کے اس مفروضے پر موقوف ہو کہ قرض کا جلدی اداکرنا خود مقروض کے مفاد میں ہے ۔جیساکہ اکثر ایس اہوتاہے تو ایسی صورت میں قرض خواہ پر حج واجب نہیں ہوگا ۔

درج ذیل صورتوں میں اگر قرض کی مقدارکو اس سے کمتر قیمت پر فروخت کرنا ممکن ہو اور یہ کم ی قرضدار کے لیے بڑے نقصان کا سسب بھی نہ ہو اوراسکے فروخت سے ہاصل ہونے والی رقم حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو جاہے کچھ اور مقدار کو ملانے سے ہی کیوں نہ ہو تو اس پر ہج واجب ہے لیکن اگر یہ صورتیں موجود نہ ہوں تو اس پر حج واجب نہیں ۔

(الف )ایس قرض جس کی مدت پوری ہوئی ہو لیکن مقروض اسک ی اڈائیگی کی استطاعتنمہ رکھتا ہو ۔

(ب)ایس قرض جس کی مدت پوری ہو چکی ہو مگر قرض دار ادانہیں کر رہا اور وصولی کے لیے مجبور بھی نہیں کیا جاسکتایا ایسا کرن اقرض خواہ کے لیے مشقت اور تکلیف کا باعث ہو ۔

(ج )ایس رض جسکی مدت پوری ہو چکی ہو اور مقروض اس قرض کا انکا ر کردے اور اسے پورا وصول کرنا یا اس کا عوض حاصل کرن ابھی ممکن نہ ہو یا قرضخواہ کے لیے مشقتاور تکلیفکا سبب بنے ۔

(د)قرضکی مدت پوری نہ ہو اور اسکی ادائیگی کو مقررہ میعاد تک موخر خرنا مقروض کے فایدے میں ہو اور اسوہ اسے میعاد سے پہلے ادابھی نہ کرسکتاہو۔

( ۲۷) پشیہ ور افراد مثلا لوہار ،معمار،بڑھئی وعیرہ جنکی مدنی آپنے اور اپنے گھر والوں کے خرچے کے لیے کا فی ہو تو ان پر حج واجب ہو جائیگا ۔

( ۲۸) جو شخض وجوہات شرعیہ مثلا خمس اورزکواة وغیرہ پر زندگی بسر کرتاہواور عام طور پر اسکے اخرجاتبغیر مشقت کے پوراہونا یقینی ہوں تو اگراسکو اتینی مقدار میں مال مل جائے جو اسکے حج کے خراجاتاور سفر اوراسکے دوران گھروالوں کے خرچے کے لے کافی ہوتب بعید نہیں کہ اس پر حج واجب ہو جائیگا اور اسی طرح اس شخص پر جس کی پوری زندگی کے ا خراجات کا کفیل و ذمہدارکوئی اورشخص ہو یا اس شخص پ ر،جو اپنے پاس موجود مال سے حچج کرے تو حج سے پہلے اور بعد کی زندگی میں کو ئی فرق پید نہیں ہو تو حج واجب ہو جائیگا ۔

( ۲۹) اگر کوئی شخص اتنی مقدار مال کا مالک بنے جو حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو مگر اسکی ملکیت متزلزل ہو تو اگر یہ شخص اتنی قدرت رکھتاہے کہ جس سے مال ملا ہے اسکا حق فسخ ختم کردے چاہے اسمال میں منتقل کرنے والے تصرف کی وجہ سے یا یسے تصرف کی وجسے جو مال میں تبدیلی پید اکردے تو ظاہر ہے کہ یہ استطاعت ثابت ہو جائے گی مثلاہبہ اور بخشش میں جوواپس ہونے کے قابل ہوں تو ایسا ہی حکم ہے ۔لیکن اگر حق فسخ ختم نہ کر سکتاہو تو استطاعت مشروط ہوگی کہ وہ شخصجسسے مال ملا ہے فسخ نہ کرے ۔لہذااگر اعمال حج تمام ہونے سے پہلے یا بعد میں مال دینے والے نے فسخ کردیا توپتح چلے گا کہ شروع سے ہی استطاعت نہیں تھی تو ظاہر یہ ہے کہ اس قسم کلی متزلزل ملکیت کی صورت میں حج کے لیے نکلنا واجب نہیں ہے سوائے اسکے کہ انسان کو اطمیں ان ہو نہ کہ احتمال کہ فسخ نہیں کرے گا ۔

( ۳۰) مستطیع کے لیے یہ واجب نہیں ہے کہ وہ اپنی ہی مال سے حج کرے لہذا اگر مال خرچ کیے بغیر یا دوسرے کے مال سے خواہ غصب شہ ہو حج کرے تو کافی ہے ۔لیکن اگر طواف یا نماز طواف میں ستر پوشی کونے والاکپڑاغصبی ہو تو احوط یہ کہ اس پر اکتفا نہکرے اگر قربانی کی رقم غصبی ہو تو حج نہیں ہو گا۔لیکن اگر قربانی ادھار خریدے اور پھر اسکی رقم غصبی مال سے اداکرے تو اس صورت میں حج صحیح ہوگا۔

( ۳۱) کسب وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو حج کے لیے مستطیع بنانا واجب نہیں ہے لہذا اگر کوئی کسی کو مال ہبہ کرتاہے جو سفر حج کے لیے کافی ہو تو مال کا قبول کرن اواجب نہیں ہے اسی طرح اگر کوئی کسی کو خدمت کے لیے جیر بنانا چاہے اور وہ اس اجرت سے مستطیع ہو جائے تو چاہے خدمت کرنا اسکی شان کے خالف بھی نہ ہو پھر بھی قبول کرن اواجب نہیں ہے لیکن اگر کوئی سفر حج کے لیے اجیر ہو اور اسکی اجرت سے وہ مستطیع ہوجائے تو اس پر حج واجب ہوگا۔

( ۳۲) اگر کوئی نیابتی حج کے لیے جیر بنے اور اجرت کی وجہ سے خود بھی مستطیع ہو جائے تو اگر حج نیابتی کو اسی سال انجام دینے کے شرط ہو تو پہلے حج نیابتی انجام دے اور اگلے سال تک اسکی استطاعت باقی رہے تو اس پر حج واجب ہو گا ورنہ نہیں ۔اگر حج نیابتی اسی سال انجام دینے کی شرط نہ ہو تو پہلے اپنا حج انجام دے ۔سوائے اس صورت کے کہ اطمیں ان ہوکہ آئندہ سال وہ اپنا حج انجام دے سکے گا (تو اپنا ہج پہلے بجالاناواجب ہے )۔

( ۳۳) اگر کوئی شخص اتنی مقدار قرض لے جو حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو تو اسپر حج واجب نہیں ہے چاہے بعد میں قرض اداکرنے پر قادر ہو ۔لیکن اگر قرض اد کرنے کی مہلت اتنی زیادہ ہو کہ عقلا اس لمبی مدت کی وجہ سے قرض کو قابل اعتبار نہسمجھتے ہوں تو حج واجب ہو جائے گا۔

( ۳۴) اگرکسی کے پاس اتن امال ہو جو حج کے خراجات کے لیے کافی ہو اور اس مال کے برابر قرض بھی بھی ہو یا قرض اداکرنے پر وہ مال حج کے اخراجات کے لیے کافی نہ رہے تو اظہر یہ ہے کہ اسپر حج واجب نہیں ہے ۔اس سے فرق نہیں پڑتا کہ قرض کا وقت پور ہو چکا ہو یا ابھی مدت پوری نہ ہوئے ہو سوائی اسکے کہ قرض اد کرنیکی مہلت زیادہ ہو مثلا ۵۰ سال کہ عقلااسے قابل اعتبار نہیں سمجھتے ہوں ۔اسی فرق نہیں پڑتا کہ قرض پہلے ہواور مال بعد میں حاصل ہو یا مال پہلے ہو اور قرض بعدمیں حاصل ہو مگر یہ کہ مقروضنہونیمیں اس سے کوہتائی نہ ہوئی ہو ۔

( ۳۵) اگر کسی شخص پ رخمس یا زکواة واجب ہو اوراسکے پاس اتنی مقدار میں مال ہے کہ اگر خمس یا زکواة ادکردے تو حج کے ا خراجات کے لیے کافی نہ رہے تو اس پر خمس یا زکوای اد کرنا واجب ہو گا ۔اور حج واجب نہیں ہو گا۔س ساے فقر نہیں پ)ڑتا کہ خمس وزکواة اسی مال پر واجب ہو یا اس سے پہلے پر واجب تھا اور مال اب ملاہو۔

( ۳۶) اگرکسی پرحج واجب ہو اور اس خمس و زکواة یا اور کوئی واجب حق ہو تو صروری ہے کہ اسے ادا کرے چونکہ سفر حج کی وجہ سے انکی ادائیگی میں تاخیرنہیں کرسکتا۔اگر طواف یا نماز طواف میں ساتر یا قربانی کی قمیت میں پر خمس واجب ہو تو اسک احکم وہی ہے جو غصبی مال کا ہکم ہے جو مسئلہ نمبر ۳۰ میں بیان ہو چکا ہے ۔

( ۳۷) گرکسی کے پاس کوئی مال موجودہو اوراسے معلوم نہ کہ یہ مال حج کے کراجات کے لیے کافی ہے یا نہیں تو احیتاط واجب کی بنا پر تحقیق کرنا واجب ہے ۔

( ۳۸) اگر کسی کے پاس اس کی دسترس سے باہر اتنا مال ہو جو حج کے خراجات کے لیے کافی ہو یا دوسر مال ملاکر جو اسکے پاس موجودہواگر اسمال میں تصرف کرنی یا کسی کو وکیل بناکر بیچنے پر قادر نہہو تو اس پر ہج وجاب نہیں ہے ورنہ واجب ہے ۔

( ۳۹) اگر کوئی سفر حج کا خرچہ رکھتاہو اور حج خی زمانے میں حج پر جانے پر قادر ہو تو اس پر حج واجب ہوجائیگا ۔اگر یہ اس مال میں اتنا تصرف کرے جسکی وجح سی اسکی استطاعت ختم ہو جائے اوریہ کہ اسکا جبران وتدارک بھی نہ کر سکتاہو اور اسکے لیے واضح جو کہ حج کے زمانے من حج پر جانے پر قادر تھ اتو اظہر یہ ہی کہ حج اس کے ذمہ ثابت ہوجائیگا لیکن افر اسکے لیے واضح نہ ہو کہ زمانہ ہج میں حج پر جانے پر قادر تھا تو اظہر یہ ہے کہ حج اسکے ذمہ ثابت نہیں ہوگا ۔

پہلی صورت میں جب مال میں سے اتنا خرچ کردے جسمے وجہ سے استطاعت ختم ہوجائے جیسے مال کو کم قمیمت پر بیچ د ے یا تحفہ کردے تو یہ تصرف صحیح ہو گا لیکن اگر زحمت و مشقت سے بھی حج پر جانے پر قادر نہ ہو تو گنہگار ہو گا۔

( ۴۰) ظاہر یہ ہے خراجات سفر اور سواری کا اس کی اپنی ملکیت میں ہوناشرط نہیں ہے لہذا اگر اسکے پاس ایسامال ہو جسے خرچ کرنے کی اسے اجازت ہو اور یہ نال حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو ارو دوسری شرائط بھی موموجود ہوں تو حج واجب ہوجائے کی لیکن ہج پر جانااس وقت واجب ہوگاجب مال کو استعمال کرنے کی اجازت شرعاواپس نہ لے لی جاسکتی ہو یا اطمیں ان ہو کہ جازت واپس نہیں لیگا ۔

( ۴۱) جس طرح حج کے ہونیمیں اخراجات سفر اور جاتے واقتسواری ک اہو انا شرط ہے اسی طرح اعمال حج کے پوار ہونے تک ان کاباقی رہنا بھی شرط ہیں لہذااگر حج پرجانے سے پہلے یا سفر کے دوران مال ضالئع ہو جائے تو حج واجب نہیں ہو گا او مال کے ضائع ہونے سے پتہ چلتاہے کہ یہ شخصشروع سے ہی مستطیع نہیں تھا۔اسی طرح اگر کوئی مجبورا کوئی قرضہ اسکے ذمہ آجائے مثلاغلطی سے کسی کا مال تلف ہوجائے اور یہ اس مال کاضامن ہو ۔چنانچہ اسے یہ مال دینا پڑے تو اسپر حج واجب نہیں ہو گا لیکن اگر جان بوجھ کر کسی کا مال تلف کردے تو حج ساقط نہیں ہو گا بلکہ حج اسکے ذمے باقی رہے گا ۔لہذ اس پر حج واجب ہو گا چاہے اسے زحمتو مشقت ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے اور اگر اعمال حج انجام کرنی کے بعد یا دوران میں واپسی کا خرچہ تلف ہوجائے تو اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ شخصشروع سے ہی مستطیع نہے تھ ابلکہ اسکا یہ ہج کافی ہو گا اور بعد میں اس پرحج واجب نہیں ہوگا۔

( ۴۲) اگر کسی کے پاس حج کا کرچہ تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ حج کے لیے کافی ہے یا اس سے غافل تھا یا وجوب حج کو نہیں جانتاتھا یا وجوب حج سے غافل تھاپھر مال کے ضائع ہونے اور استطاعت کے ختم ہونے کے بعداسکو پتہ چلا ی ایاد آیا تو اگر اپنے نہ جاننے اور غفلت میں معذور تھا یعنی اسمیں اسکی کوہتائی نہیں تھی تو حج اسکے ذمہ ثابت نہیں ہو گاورنہ طاہر یہ ہے کہ اگر باقی تما مشرائط پائی جاتی تھیں تو اس پر حج ثابت اور واجب ہو جائے گا ۔

( ۴۳) جس طرح اخراجات اور سواری کے موجود ہونے سے استطاعت پید اہو جاتی ہے اسی طرح اگر کوئی اخراجات سفر اور سواری یااسکی قیمت بخشش کرے تو اسسے بھی استطاعت پید ا ہواجائے گی افر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ دینے والاایک شخص ہو یا کئی شخص ہوں لہذا اگر کوئی یہ پیشکش کرے کہ وہ حج کے لیے کراجات سفر سواری اور کھر والوں کا خرجہ فراہم کرئا ارواسکے قول پر اطمیں ان ہو تو حج واجب ہوجائے گا ۔اسی طرح اگر کوئی مال دے کتاکہ اسے حج میں خرچ کیا جائے اور وہ مال حج پرآنے ا ور جانے اور گھروالوں کے خرچے کے لیے کافی ہو تو ہج واجب ہو جائے گا ۔جاہی جو مال دیاجارہا ہے اسکا مالک بنا دے یا صرف اسکو استعمال کرنے کی اجازت دے ۔لیکن متزلزل ملکیت (یعنی جو شرعا واپس لی جا سکتی ہو )استعمال کرنے کی اجاز ت کا حکم مسئلہ نمبر ۲۹ اور ۳۰ میں بیان ہو چکا ہے ۔اگر حج کے اخراجات کی ایک مقدار موجود ہو اور باقی مقدار کوئی بخش دے تو حج واجب ہو جائے لیکن اگر صرف جانے کے اخراجات دے اور واپسی کے اخراجات نہ ہوں تو مسئلہ نمبر ۲۲ میں موجود تفصیل کے مطابق حج واجب نہیں ہو گا ۔اسی طرح اگر اہل و عیال کا خرچہ نہ دیاجائے تو اس پر حج واجب نہیں ہو گا سوائے اسکے کہ انکا کرجہ خود رکھتاہو ۔یا حج پرنہ جانے کے باوجو د ان کے اخراجات برداشت نہ کرسکتاہویا بغیر اخرجات کے گھروالوں کو چھوڑنے کی وجہ سے حرج و مشقت میں نہ پڑتاہو اور گھروالوں کا نفقہ اس پر واجب نہ ہو ۔

( ۴۴) اگر مرنے والا کسی دووسرے کے لئے مال کی وصیّت کرے تاکہ وہ اس سے حج انجام دے اور مال اس کے حج اور اہل وعیال کے اخراجات کے لئے کافی ہو تو مسئلہ ۴۳ میں موجود تفصیل کے مطابق وصیت کرنے والے کے مرنے کے بعد حج اس پر واجب ہو جائے گا اسی طرح اگر مال کو حج کے لئے وقف یا نذر کیا جائے یا وصیت کیجائے

او ر واقف کا متولّی یا نذر کرنے والا یاوصی یہ مال کسی کوبخش دے تو اس پر حج واجب ہو جائے گا

( ۴۵) رجوع بہ کفایت جس کے معنی شرط پنجم میں بیان ہوچکے ہیں ، بخشش سے پیدا ہونے والی استطاعت میں شرط نہیں ہے لیکن اگر اس کی آمدنی صرف ایام حج میں ہو اور وہ اس آمدنی سے پورے سال کے اخراجات کو پورا کرتا ہو اوراگر وہ حج کرنے جائے توپورا یا کچھ ایام کے اخراجات کو پورا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہوتو اس پر حج واجب نہیں ہو گا سوائے اس کے کہ اس کواس وقت کا خرچ بھی دے دیا جائے اگر کسی کے پاس کچھ مال پہلے سے موجود ہو جو حج کے اخراجات کے لئے کافی نہ ہواور باقی مقدار کوئی اسے بخشش دے تو اظہر یہ ہے کہ حج کے واجب ہونے میں رجوع بہ کفایت معتبر ہوگا

( ۴۶) اگرایک شحص کسی کو مال دیدے کہ وہ اس سے حج انجام دے تو اس کو قبول کرنا واجب ہے لیکن اگر مال دینے والا حج کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دے یا مال دے او رحج کا ذکر نہ کرے تو ان د ونوں صورتوں میں مال کوقبول کرنا واجب نہیں ہے

( ۴۷) بخشش سے پیدا ہونے والی استطاعت میں قرض مانع نہیں ہوتا(یعنی قرض کے باوجود انسان بخشش کی وجہ سے مستطیع ہو سکتا ہے) لیکن اگرحج پر جانے سے قرض وقت پر ادا نہ کیا جا سکتا ہوتو چاہے قرض کی مدت تمام ہوچکی ہو یا ابھی باقی ہو حج پر جانا واجب نہیں ہے

( ۴۸) اگر مال کچھ افراد کو دیا جائے کہ ان میں سے کوئی ایک حج کر لے تو جو پہلے قبول کر لے صرف اس پر حج واجب ہو گا دوسرے افراد پرواجب نہیں ہوگا اور اگر کوئی بھی قبول نہ کرے اگرچہ قدرت رکھتے ہوں تو ظہر یہ ہے کہ حج کسی پر بھی واجب نہیں ہو گا

( ۴۹) جس شخص کو مال دیا جارہا ہے اس پر حج اس صورت میں واجب ہو گا کہ اتنی مقدارمیں مال دیا جائے کہ اس کے مستطیع ہونے کی صورت میں جو حج کا پہلا فریضہ بنتا ہواسے انجام دے سکے ورنہ واجب نہیں ہو گا مثلااگر کسی کا فریضہ حج تمتع ہو اور اسے حج افراد یا قران کے لئے مال دیا جائے یا اسی طرح کی کوئی بھی صور ت ہو تو اس پر قبولکرنا واجب نہیں ہے اسی طرح جوشخص حج اسلام انجام دے چکا ہو اس پر بھی قبول کرناواجب نہیں ہے لیکن اگر کسی کے ذمہ حج اسلام باقی اور وہ تنگدست ہو چکا ہو اور اس کومال دیا جائیتو اگر قبول کیے بغیر حج انجام نہ دے سکتا ہوتو قبول کرنا واجب ہے اسی طرح وہ شخص جس پر نذر وغیرہ کی وجہ سے حج واجب ہو اور مال کو قبول کیے بغیر حج انجام دینے پر قادر نہ ہوتو اس پر بھی قبول کرنا واجب ہے

( ۵۰) اگر کسی کو حج کے لئے مال دیا جائے او روہ مال سفر کے دوران ضائع ہو جائے تو وجوب حج ساقط ہوجائے گا لیکن اگر سفر کو اپنے مال سے جاری رکھنے پر قادر ہو یعنی اس جگہ سے حج کی استطاعت رکھتا ہو تو حج واجب ہو جائے گا اور یہ حج حج الاسلام شمار ہو گا مگر وجوب کے لئے شرط ہے کہ واپسی پر اپنے اوراپنے گھر والوں کے اخراجات کوپورا کرسکے

( ۵۱) اگر ایک شخص دوسرے سے کہے کہ میرے نام پر قرض لے کا اپنا حج انجام دو اور بعد میں قرض کو ادا کر دینا تو دوسرے شخص پر قرض لینا واجب نہیں ہے لیکن اگر پہل اشخص قراض لے کر دے تو پھر اس پر واجب ہو جائے گا ۔

( ۵۲) ظاہر یہ ہے کہ قربانی کی قیمت مال بشخسنے والے کے ذمے ہے لہذا مال بخشنے والا قربانی کے قیت کے علاوہ باقی اخراجات حج دے تو مال لینے والے ر حج واجب ہونے ۴ یں اسکال ہے ساویے اسکے کہ قربانی کو اپنے مال سے خریدنے پر قادرہواورقربانی پر خرچ کرنی سے اسے تکلیف وتنگدستی کا سامنا نہ ہوتو حج واجب ہو جائے ورنہ قبول کرنا واجب نہیں۔ ہے ۔لیکن ظاہر یہ ہی کہ کفارات مال دینے والے لنے والے پر واجب ہیں ۔

( ۵۳) حج بدل(وہ حج جو کسی کے مال دینے کی وجہ سے واجب ہوجائے )حج الاسلام کے لیے کافی ہے لہذابعد میں اگر مستطیع ہوبھی جائے تو دوسری مرتبہ حج واجب نہیں ہوگا ۔

( ۵۴) مال بخشنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا مال واپس لے لے چاہے دینے والے نے احرام باندھاہو یا نہ باندھا ہو لیکن اگر احرام باندھنے کے بعد واپس لے تو اظہر یہ ہے کہ اگر مال لینے والے کے لیے تکلیف و تنگدستی کا باعث نہ ہو تو چاہے مستطیع نہ بھی ہو تو حج کو پور کرے اور حج مکمل کرنے کے ور واپسآنے کے تمام کرجات مال بخشنے والے ذمہ ہونگے لیکن اگر مال بخشنے والاراستے میں مال واپس لے تو صرف واپسی کا خرچ مال بخشنے والے کے ذمہ ہوگا۔

( ۵۵) اگر کسی کو زکواة فی سبیل اللہ کے حصہ سے دی جائے ہ وہ اسے حج پر خرچ کرے اور اسمیں مصلحت عامہ بھی ہو اور حوط کی بنا پر ۔حاکم شرع بھی اجازت بھی دے دے تو اس پر حج واجب ہو جائیگا ۔اور اگر سہم سادات سے یا زکواة کے سہم فقراء سے کسی کو مال دیا جائے اور شرط رکھی جائے کہ سے حج پر خرچ کرے گا تو یہ شرط صحیح نہیں ہے اور اس سے استطاعتبذلی حاصل نہیں ہوتی ۔

( ۵۶) اگر کوئی بخشش شدہ ما ل سے حج کرے اور بعد میں پتہ چلے کہ وہ مال تو غصبی تھا تو یہ حج حج اسلام شمار نہیں ہو گی اور مال بخشنے والے سے اپنے مال کا مطالبہ کرے لہذا اگر مال دینے والامال لینے والے سے اپنا مال حاصل کر لیتاہے تو اگر مال لینے والے کو اس مال کے غصبی ہونے کا علم پہلے سے نہ ہو تو وہ بخششے کرنے والے سے مطالبہ کرنے کا حق رکھتاہے بصورت دیگر مطالبے کا حق نہیں رکھتا۔

( ۵۷) اگر کوئی مستطیع نہ ہو مگر پھر بھی مستحب حج اپنے لیے یا کسی اور کے لیے اجرت پر یا بغیر اجرت کے انجام دے تو اسکا یہ حج حج السلام شمار نہ ہو گا لہذا اسکے بعدجب بھی مستطیع ہو حج انجام دیناواجب ہے ۔

( ۵۸) اگرکسی کو یقین ہو کہ میں مستطیع نہیں ہوں اور مستحب کے عنوان سے حج کرے مگر نیت یہ ہو کہ اس وقت جو میری ذمہ داری ہے اسے انجام دے رہا ہوں پھر بعد میں معلوم ہو کہ میں مستطیع تھاتو وہ حج حج الاسلام کے لیے کافی ہے ۔اور دوبارہ حج کرنا واجب نہیں ہے ۔

( ۵۹) اگر زوجہ مستطیع ہوتوحج کرنے کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں اور نہ ہی شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ حج الاسلام کے لیے یا کسی اور واجب کے لیے لیکن اگرحج کا وقت وسیع ہو تو بیوی کو پہلے قافلے سے روک سکتا ہے ۔طالق رجعی والی عورت جب تک عدت میں ہے بیوی کا حکم ہے ۔

( ۶۰) جب عورت مستطیع ہو جائے اور سکی جان کو کطرہ نہ ہو تو محرم کا ساتھ ہونا شرط ہیں ہے اگر جان کا خطرہ ہو تو ضروری ہے کہ کوئی ایسا شخص ساتھ ہو جسکی وجہ سے اسکی جان محفوظ ہو چاہے اس شخص کو اجرت دینا پڑے اور لبتہ اجرت دینے پر قادر ہو ورنہ اس پر حج واجب نہیں ہے ۔

( ۶۱) اگر کوئی شخص نذر کرے مثلا ہرسال عرفہ کے دن کربلامیں حضرت امام حسین کی زیارت کرے گااور بعد میں مستطیع ہوجائے تو اس پر حج واجب ہو جائے گااور نذر ختم ہوجائے گی اور یہی حکم ہر اس نذرک اہے جو حج سے متصادم ہو رہی ہو ۔

( ۶۲) اگر مستطیع شخص خودحج کرنے پر قادر ہو تو اسے خود ہج کرنا ہو گالہذا اگر کوئی دوسرا شخصاجرت پر یا بغیر اجرت کے اسکی طرف سے حج کرے تو کافی نہیں ہے ۔

( ۶۳) اگر کسی پر حج واجب ہو جائے مگر بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے خود انجام دینے پر ادر نہ ہو یا تکلیف کا باعث ہ وار آئندہ بغیر تکلیف کے حج ادا کرنے کی امید بھی نہ ہو تو حج کے لیے کسی کونائب بناناواجب ہے اسی طرح جو شخص ضرورت مند ہو مگر اعمال حک خود انجام دینے پر قادر نہ ہو ی اخود انجام دینا حرج و تکلیف کا سبب ہو تو وہ شخص بھی کسی کو نائب بنائے جسطرح حج کوفورا انجام دینا واجب ہے اسی طرح نائب بنانا بھی واجب فوری ہے ۔

( ۶۴) اگر مستطیع شخص (کسی عذر کی وجہ سے )خود حج انجام دینے پر قادر نہ ہو اور نائب اسکی جانب سے حج کرے اور وہ مستطیع شخص مرجائے جب کہ اس کا عذر باقی ہو تو نائب کا حج کافی ہو گا ۔اگرچہ حج اسکے ذمہ مستقر ہی کیوں نہ ہو ۔لةکن اگر مرنے سے پہلے عذر ختم ہوجائے تو احوط یہ ہے کہ اگر خودحج کرسکتاہے ہو توخودکرے ۔اگر نائب کے احرام باندھنے کے بعد اسک اعذر ختم ہوجائے تو خود اس پر حج کرنا واجب ہے ۔اگرچہ احوط یہ ہے کہ نائب بھی اعمال حج پورے کرے ۔

( ۶۵) اگر کوئی خود حج انجام نہ دے سکتا ہواور نائب بنانے پر بھی قادر نہ ہو تو حج ساقط ہوجائیگا ۔لیکن اگر حج اسکی ذمہ واجب ہو چکا تھا تو اسکے مرنے کے بعد حج کی قضا کرانا واجب ہے ۔ورنہ قضاء واجب نہیں ہے ۔اگر نائب بنایا ممکن تھا لیکن نائب نہ بنائے اور مر جائے تو اسکی طرف سے قضاء کراناواجب ہے ۔

( ۶۶) اگر نائب بنانا واجب ہو اور نائب نہ بنائے لیکن شخص بلامعاوضہ اسکی جانب سے حج انجام دے تو یہ حج کافی نہیں ہو گااور احتیاط کی بناپر نائب بنانا واجب رہے گا ۔

( ۶۷) اگر نائب بنانے کی بابت واضح ہو کہ میقات سے نائب بنانا کافی ہے اوراپنے سہر س ینائب بنایا ضروری نہیں ہے۔

( ۶۸) جس شخص کے ذمہ حج واجب ہو ار وہ حج کے ہرام کے بعد حرم میں مر جائے تویہ حج الاسلام سے کفایت کریگاجاہے اسکاحج تمتع ہو،قران ہ ویاافراداوراگرعمرئہ تمتع کے درمیاں مرجائے تب بھی حج کے لیے کافی ہے اور اسی قضا واجب نہیں ہے اور اگر سے پہلے مرجائے تو قضاکرانا واجب ہے چاہے احرام کے بعد حرم میں داخل ہونے سے پہلے مر ے یا حرج میں داخل ہونے کے بعدبغیر احرام کے اورظاہر یہ کہ حکم حج الاسلام کے لیے مخصوص ہے اور وہ حج جونذر یا افساد (کسی کے حج ے باطل ہونے )کی وجہ سے واجب ہو ئے ہوں ان پر یہ حکم جاری نہیں ہو گابلکہ عمرہ مفردہ میں بھی یہ حکم جاری نہیں ہوتا۔اس بناپر ان میں سے کسی ایک پر بھی کافی ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔اگرکوئی احرام کے بعد مرجائے اور حج اسکے ذمہ گذشتہ سالوں سے واجب نہ تو وہ حرم میں داخل ہونے کے بعد مرجائے تو اسکا حج ،حج الاسلام شمار ہوگا لیکن اگر حرم میں داخل ہونے سے پہلے مرجائے تو ظاہر یہ ہے کہ اسکی طرف سے قضاواجب نہیں ہے ۔

( ۶۹) مستطیع کافر پر حج واجب ہے لیکن جب تک کافرہے اسکا حج صحیح نہیں ہو گااگر استطاعت ختم ہونے کے بعدمسلمان ہو تو حج اس پر واجب نہیں ہے ۔

( ۷۰) مرتد (جو اسلام سے پھر جائے )پر حج واجب ہے لیکن اگر ارتدادکی حالت میں حج کرے تو یہ حج صحیح نہیں ہے لیکن توبہ کرنے کے بعد حج کرے تو صحیح ہے اور اقوی یہ ہی کہ مندرجہ بالاحکم مرتد فطری کے لیے بھی ہے ۔

( ۷۱) اگر کوئی غیر شیعہ مسلمان حج کرے اور بعد میں شعیہ ہوجائے تو دوبارہ حج کرناواجب نہیں ہے لیکن یہ حکم اس صورت میں ہی خہ اپنے مذہب کے مطابق صحیح حج کیا ہو۔اسی طرح اگر اسے نے مذہب شیعہ کے مطابق حج ادا کیا ہو اور قصد قربت حاصل ہوگئی ہو تو حج صحیح ہو گا ۔

( ۷۲) جب کسی پر حج واج ہو اور وہ اسے انجان دینے میں سستی اور تاخیر سے کام لے یہاں تک کہ اس کی استطاعت ختم ہو جائے توجس سے بھی ممکن ہو حج کو اداکناواجب ہے اہے مشقت و زحمت برداشت کرنا پڑے ۔اگر حج سے پہَے مرجاےْ تو اواجب ہے کہ اسکی ترکہ سے ہج کی قضا کریں اور اگر کوئی اسکی مرنے کے بعدبغیر اجرت کے اسی رف سے حج اناجم دے تو بھی صحیح ہوگا ۔


حج کی وصیت

جوشخص مرنے کے قریب ہو اسکے ذمہ حج الاسلام ہو تو اگر اسکے پاس ااتنی مقدار میں مال ہو ہو حک ے خراجات کے للیے کافی ہو تو اس پرلازم ہے کہ ایس اانتظام کرے کہ اسے اطمیں ان ہوجائے کہ اسکی مرنے کے بعد اسی جانب سے حج اداکیاجائے گاہاہے گواہوں کے موجودگی میں وصیت کرے ۔لیکن اگر اسکے کے پاس مال موجود نہ ہواور حتمال ہو کہ اسکے مرنے کے بعد کوئی شخص بلا معاوضہ اسکی طرف سے حج کرے تب بھی وصیت کرنا واجب ہے کسی کے ذمہ حج واجب ہو اور وہ مرجائے تو واجب ہے کہ حج کی قضا اسکی اصل ترکہ میں سے کرائی جائے چاہے اسنے وصیت نہ کی ہو اور اسی طرح اگر اسنے وصیت تو کی ہو مگر حجکے خراجات کو ثلث مال (ایک تہائی )س مخصوص نہ کی اہو رتو اس صورت میں بھی حج کے خراجات کو اصل ترکہ سے لیا جائے گا ۔اور اگر حج کی وصیت بھی کی ہو اور اسکے اخرجات کو مال کے ایک تہائی حصے سے لینے کی شرط بھی کی ہوتو اگرتہائی مال حج کے خراجات کیلیے کافی ہو تواواجب ہے کہ حج کو ثلث مال سے کرایا جائے اور باقی وصیتوں پر حج مقدم ہو گا اور ثلثمال حک ے خراجات کے کافی نہ ہو تو کمی کواصل ترکہ سے پوراکیا جائے گا ۔

( ۷۴) اگر کوئی شخص جس پر حج واجب ہو مرجائے ر اسل اکچھ مال کسی اور کے پاس امانت کے طور رکھا ہو تو اکہاگیا ہے کہ امیں شخص کو احتمال ہو کہ اگر ورثا ء کوواپس کردے گاتو ورثا مرحومکی جانب سے حج انجام نہیں دیں گے تو امیں خی لے جائز ہے بلکہ واجب ہے کہ کہ وہ خود یا کسی کو نائب بناکر مرحوم کی جانبسے حج انجام دے اوراگرمال حج کے خرجات سے زیادہ ہو تو اباقی مال ورثاء کو واپس کردے ۔لیکن یہ حکم اشکال سے خالی نہیں ہے ۔

( ۷۵) اگر کوئی شخص جسکے ذمہ حج الاسلام ہو مرجائے اور اس پر خمسواجب ہو ی ازکواة اورترکہ (وہ مال جو مرنے والا چھوڑ کا مرتاہے )کم ہو جس مال پر خمس یا زکواة واجب ہواس مال سے خمس یازکواة نکالاجائے گا اور افگر خمس وزکواة اسکے ذمہ ہوں مگر وہ مال موجود نحہو جس پر خمس و زکواة واجب تھاتو پھر حج مقدم ہوگااور اگر اسکے ذمہ کوئی قرض ہو تو بعید نہیں ہے کہ قرض حج پر مقدم ہوجائے ۔

( ۷۶) اگر کوئی مر جائے اور اسکے ذمہ میں حج الاسلام واجب ہو جب تک حج مرنے والے باقی ہو ۔اسکے ورثاکو ترکہ میں ایسا تصرف جائز نہیں ہو نیت کی قض احج کے منافی ہو ارو اس سے فرق نہیں پڑتاکہ حج خی خراجات ترکہ سے کم ہوں تو زائد رقم کا تصرف کرنے میں کو ئی حرج نہیں ہے چاہے اس تصرف کی وجہ سے زائد مقدار ضائع ہوجائے ۔

( ۷۷) اگر مرنے والے کے ذمہ حج الاسلام ہو اور اس کا ترکہ حج کے خراجات کے لیے کافی نہ ہو تو اگر اسکے ذمہ کوئی قرض یا خمس و زکواة ہو تو واجب ہے کہ اسک اترکہ اسکی ادائیگی پر خرچ کیالیکن اگرکوئی قرضہ وغیرہ نہ ہو تو اسک اترکہ اسکے ورثا کے لے ہوگا اور ورثا پر اواجب نہیں کہ حج کی ادائیگی کے لیے خراجات حج کو اپنے مال سے پوراکرین ۔

( ۷۸) اگر مرنے والے کے ذمہ حج الاسلام وجب ہو تو اسکے مرنے کے بعد اسکا نائب بنانا اس کے وطن سے ضروری نہیں ہے ۔بلکہ میقات حتیکہ مکہ کے قریب ترین میقات سے نائب بنانا بھی کافی ہے اگرچہ حوط یہ ہے ہ اسکے اپنے والن ساے نائب بنانا چاہیے اگر مرنے والی کا ترکہ حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو تو کسی بھی میقات سے نائب بنایاجاسکتاہے بلکہ جسمیقات سے اجرت وا چرچہ کم ہو اس میقات سے نائب بنیاجائی ۔اگرچہ حتیاط مستحب یہ ہے کہ کہ اگر مال کافی ہوتو اسکے شہر سے نائب بنایا جائے اس صورت میں زائد اجرت اس کے بالغ ورثاکی رصامندی سے ان کے مال سے دی جائے گی نہ کہ نا بالغ ورثا کے حصہ سے ۔

( ۷۹) اگر مرنے والے کے ذمہ حج الاسلام اور اسک اترکہ حج کے اخراجات کے کے لیے کافی ہو تو حتیاط واجب یہ ہی کہ حج اداکرنے میں جلدی کرنی چاہے اسکے مال سے کسی کو اجرت پر حج کے لیے بھیجنا پڑے ۔اگر پہلے سال میقات سے اجیر نہ ملے تو احتیاط واجب یہ ہی خہ اسکے وطن سے نائب واجیر مقرر کریں او ر اگلے سال تک تاخیر نہکریں چاہے معلوم ہو کہ اگلے سال میقات سے اجیر مل جائے گا۔اور اس صورت میں (جب نائب کو وطنسے مقرر کریں )میقات سے زائدخرچہ نابالغ ورثا کے حصہ سے نہیں لیا جا سکتا۔

( ۸۰) اگر مرنے والے کے ذمہ حج الاسلام اور اسک اترکہ حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو اور حج (بدل کے لیے )نائب معمول سے زیادہ قیمت پر ہی ملنا ممکن ہو تو احیتاط واجب یہ ہے کہ زیادہ قیمت دے کرنائب بنایاجائے اورورثا مراث کا حصہ زیادہ کرنے کے لیے آئندہ سال تک تاخیر نہیں کرسکتے لیکن اس صور ت میں معمول سے زیادہ قیمت کو نابالغ ورثاکے حصہ سے نہیں لیا جاسکتا ۔

( ۸۱) اگر مرنے کے بعض ورثا اقرارکریں کہ اس پر حج اسلام واجب تھ ااورباقی ورثااسکا انکا ر کریں تو صرف اقرار کرنے والوں پواجب ہے کہ مال وراثت کی نسبت سے اپنے مال میں سے حج کے لیے خرچہ دیں (مثلااگر اقرار کرنے والوں کے حصے نصف ارث آیا ہو توح کے لیے اخراجات کا نصف خرچہ دیں )لہذا مقدار ہج کے خراجات کے لیے کافی ہو چاہے کسی اور کے ملانے کی وجہ سے پورے ہو رہیں ہوں ی اکسی اور طرحسے حج کے خراجات کے لیے کافی ہو تونائب بنانا واجب ہوگا ورنہ نہیں اور اقرارکرنے والوں پر اپنے حصے سے یا اپنے دوسرے مال سے کمی کو پورا کرناواجب نہیں ہے ۔

( ۸۲) اگر مرنے والے کے ذمہ حج الاسلام ہو اور کوئی بلا معاوضہ اس کی جانب سے حج انجام دے تو کافی ہے اور ورثاء کے لئے مرنے والے کے مال سے نائب بنانا واجب نہیں ہے اسی طرح اگر مرنے والا ایک تہائی مال سے حج کی وصیت کرکے مرے اور کوئی شخص بلا معاوضہ اس کی جانب سے حج کو انجام دیدے تو کافی ہے اور ایک تہائی مال سے نائب بنانا واجب نہیں ہے لیکن حج کے اخراجات کے برابرمال کو ایک تہائی مال میں سے ورثہ نہیں دیا جائے گا بلکہ مرنے والے کی نظر میں جو نیکی کا کام ہو اس میں صرف کیا جائے گا

( ۸۳) اگر مرنے والے کے ذمہ حج الاسلام ہواور اسنے اپنے شہر سے نائب بنانے کی وصیت کی ہو تو اس کے شہر سے نائب بنانا واجب ہے لیکن میقات کی نسبت زائد اخراجات کو ایک تہائی مال سے ادا کیا جائے گا اور اگر حج کی وصیتکرے لیکن جگہ کا معین نہ کرے تو میقات سے نائب بنانا کافی ہے مگر یہ کہ کو ئی ایسی علامت یا قرینہ ہو جس سے ظا ہر ہو کے مرنے والے کا ارادہ اپنے شہر سے نائب بنانے کا تھا مثلا مرنے والا حج کے لئے اتنی مقدار معین کرے جو اس کے شہر کیلئے کافی ہو(تو اس کے ارادے کے مطابق عمل کیا جائے )

( ۸۴) اگر مرنے والا اپنے شہر سے حج کرنے کی وصیت کرے لیکن وصی یا وارث میقات سے نائب بنائیں تو اگر مرنے والے کے مال سے نائب کو خرچہ دیا ہو تو اجارہ باطل ہوگا لیکن اجیر کے حج انجام دینے پر مرنے والا بری الذمہ ہو جائے گا

( ۸۵) اگر مرنے والا کسی دوسرے شہر سے حج کی وصیت کرے مثلا وصیت کرے کہ نجف سے کسی کو نائب بنایا جائے تو ا س وصیت پر عمل کرنا واجب ہے او رمیقات سے زائد اخراجات کوتہائی مال سے لیا جائے گا

( ۸۶) اگر مرنے والا وصیت کرے کہ اس کی جانب سے حج الاسلام انجام دیا جائے او راسکے لئے اجرت معین کرے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے لہذا اگر اجرت معمول کے مطابق ہو تو مرنے والے کے اصل مال سے ادا کی جائے گی ، ورنہ معمول سے زائد مقدار کو تہائی مال سے ادا کیا جائے

( ۸۷) اگر مرنے والا کسی ایسے مال معین سے حج کی وصیت کرے جس کے بارے میں وصی کو معلوم ہو کہ اس مال پر خمس او رزکواةواجب ہے تو وصی پر واجب ہے کہ پہلے خمس نکالے اورپھر باقی مال حج پ رخرچ کرے اور اگر باقی مال حج کیاخراجات کیلئے کافی نہ ہو تو ضروری ہے اصل مال سے کمی کو پورا کرے بشرطیکہ وصیت حج الاسلام کی ہو لیکن اگر وصیت تعدّدمطلوب کی بناء پر ہو یعنی وصیت کرنے والے کی نظر میں دو چیزیں ہو ں ایک یہ کہ کوئی کار خیر انجام پائے اور دوسری یہ کہ وہ کار خیر حج ہو تو مرنے والے کی نظر میں جو بھی کار خیر ہو مال اس پر خرچ کیا جائے او راگر وصیت تعدّد مطلوب کی بناء پر نہ ہو تو مال معین سے بچنے والی مقدارورثاء میں تقسیم ہو گی

( ۸۸) اگر مرنے والے کی طرف سے حج کے لیے نائب بنانا واجب ہو جائے چاہے وصیت کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ،اور وہ شخص (مثلاوصی یا وارث)جس پر نائب بنانا واجب تھا غفلت کرے یامال ضائع ہوجائے تو یہ شخص ضامن ہو گااوراس پر اپنی مال سے نائب بناناواجب ہے ۔

( ۸۹) اگر یہ معلوم ہوجائے ہ میت کے ذمہ حج واجب ہے اور یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے انجام دیا تھا یانہیں تو قضاکرانا واجب ہے اور اسکے اخراجات اصل مال سے لیے جائیں گے ۔

( ۹۰) حج کے لیے صرف مرنے والانائب بنانے سے برالذمہ نہیں ہو تالہذااگر پتہ چلے کہ نائب نے حج نہیں کیا تو چاہے کسی عذرکی وجہ سے یا بغیر کسی عذر کے تو دوسرانائب بناناواجب ہے اور اسکے اخرجات اصل مال سے ادا کیے جا

ئیں گے ۔اگر پہلی اجرت مرنے والے کے مال سے دی ہو اور اسکو واپس لینا اگر ممکن ہو تو واپس لیا جائے ۔

( ۹۱) اگر اجیر متعددہوں تو اظہر یہ ہیکہ ایسے شخص کواجیر بنایاجائے کہ جس کانئب بننا مرنے والے کی شان و حیثیت کے منافی نہ ہو چاہے دوسرا کم قیمت پرجانے پر راضی ہو اور نائب ایک تہائی مال سے بنایا جارہاہو اورچاہے ورثا کے حصے میں کمی ہو رہی ہو اور وہ راضی نہ ہوں لیکن یہ حکم اس صورت میں مشکل ہے جب درج بالاطریقے سے اجیر بنانادوسرے مالی واجبات مثلاقرض و زکواة جو مرنے والے کے ذمہ ہوں یاةغیر مالی واجبات جن کی مرنے والینے وصیت کی ہو ،سے متصادم ہو ۔

( ۹۲) نائب مرنے والے کے شہر سے یامیقات سے نائب بنانا واجب ہے اوراس میں وارث کی تقلید یا اجتہاد کو مدنظر رکھاجائے نہ کہ مرنے والے کی لہذااگر مرنے والاے کا اعتقاد یہ ہو کہ اپنے شہر سے حج واجب ہے جبکہ وارثاعتقاد یہ ہو کہ میقات سے بھی نائب بنانا جائز ہے تو وارث پر واجب نہیں ہے کہ وہ مرنے والے کے شہر سے نائب بنائے ۔

( ۹۳) اگر مرنے والے ذمہ حج الاسلام ہو مگر اسکی میراث و ترکہ نہ ہوتو وارث پر نائب بنانا واجب نہیں لیکن مستحب ہے خصوصا مرنے والے کے اقرباکیلیے مستحب ہے کہ وہ مرنے والے کو بری الذمہ کرائیں ۔

( ۹۴) اگر مرنے والا حج کی وصیت کرے اور معلوم ہوکہ یہ حج الاسلام ہے تو اگر ایک تہائی مال سے حج کرانے کی وصیت نہ کی ہو تو پھر حج کے اخراجات کو اصل مال سے لیا جائے گا اور اگر معلوم ہو کہ جس حج کی وصیت کی ہے وہ حج االاسلام نہیں ہے یا حج االاسلام ہونے میں شک ہو تو پھر حج کے اخراجات ایک تہائی ما ل سے لیے جائے گے ۔

( ۹۵) اگر مرنے والا حج کی وصیت کرے اور کسی خا ص شخص کو اسکے لیے معین کرے تو وصیت پر عمل کرنا واجب ہے اور اگر یہ خاص شخص معمول سے زیادہ اجرت طلب کررہاہو اور حج ،حج الاسلام ہو تو پھر معمول سے زیادہ اجرت ترکہ کے ثلث (تہائی)مال سے ادا کی جائے گای اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اگر ولیت تعدد مطلوب کی بنا پر ہو (یعنی ین وصیت سے مرنے والے کی غرض یہ ہو کہ حج انجام پائے اوراسی خاص شخص کے توسط سے انجام پائے یعنی دونوں چیزیں ہوں )یا حج الاسلام کی وصیت کی گئی ہو تو پھر کسی ایسے شخص کو نائب بناناچاہیے جو معمول کے مطابق اجرت لے رہاہو ۔

( ۹۶) اگر مرنے والاحج کی وصیت کرے اور اسکے لیے مال بھی معین کرے مگر کوئی اس قیمت پرجانے کے لیے راضی نہ ہو تو اگر حج ،حج الاسلام ہو اصل مال سے کمی کو پوراجائے گا۔اور اگر حج ،حج الاسلام کے علاوہ ہو اور وصیت تعددکی مطلوب کی بناپر ہو یعنی وصیت سے میت کی غرض دو چیزیں ہوں ایک یہ کہ کوئی کارخیر انجام پائے اور دوسری یہ کہ کارخیر حج ہو ۔تو اس مال معین کو میت کی نظر میں جو کار خیر تھے اس پر خرچ کیا جائے گا ۔ورنہ وصیت باطل ہے اور یہ مال معین میراث ک حصہ شمار ہو گا ۔

( ۹۷) اگر کوئی اپنا گھر اس شرط پر بیچے خریدار اس قیمت کو اسکے مرنے کے بعد حج پر خرچ کرے تو گھر کی قمیمت میراث کا حصہ شمار ہوگی اور گر حج ،حج الاسلام ہو تو شرط لازم ہوجائے گی اور تو اس واجب ہے کہ گھر کیقیمت کو حج کی اجرت میں صرف کرے لیکن اجرت معمول کے مطابق ہو ورنہ زیادہ مقدار کو ثلث مال سے لیا جائے گا ۔اور اگر حج ،حج الاسلام کے علاوہ ہو تب بھی شرط لازم ہے اورحج کی پوری اجر ت کو ایک تہائے مال سے لیاجائے گا اوراگر ایک تہائے مال حج کے اخراجات کے لیے جافی نہ ہو تو زائد مقدارمیں شرط لازم نہیں ہو گی ۔

( ۹۸) اگر کوئی اپنا گھر کسی کو اس شرط پردے دے کہ وہ اسکے مرنے کے بعد اسکی طرف سے حج کرائے گا تو یہ معاہدہ صحیح اور لازم ہے (یعنی اس پر عمل کرناضروری ہے )اور یہ گھر مالک کی ملکیت سے خارج ہو جائے گا اور اس گھر کو میراث میں شمار نہیں کیا جائے چاہے حج مستحب بھی ہو اور وصیت کا حکم اس گھر پر جاری نہیں ہوگا یہی حکم اس وقت بھی ہے جب کوائی اپناگھر کسی اور کی ملکیت میں اس شرط پر دے کہ وہ اسکے مرنے کے بعدوہ اس کو بیچ کر گھر کی قیمت سے اس کی جانب سے حج کرائے گا یہ صورتیں صحیح اور لازم ہیں چاہے وہ جس چیز کو بیچ کر شرط کیا ہے ۔مستحب عمل ہی ہو اور وارثوں کا گھر پر کوئی حق نہیں ہو گا ۔اگر وہ شخص جس پر شرط کی تھی شرط کی مخالفت کرے تو ورثاء معاملہ ختم کرنے کا حق نہیں رکھتے لیکن مرنے والے کا سر پرست چاہے وہ وصی ہو حاکم شرع معاملہ ختم کر سکتا ہے اور اگر مرنے والے کا سرپرست معاملہ ختم کردے تو مال مرنے والے کی ملکیت میں لوٹ ,آئے گا اور میراث کا حصہ بن جا ئے گا ۔

( ۹۹) اگر وصی (وہ شخص جسکے نام وصیت کی گئی ہو )مرجائے اور پتہ نہ چلے کہ وصی نے مرنے سے پہلے کسی کو نائب مقرر کیاہے یا نہیں تو اصل مال سے نائب بنانا واجب ہے بشرطیکہ حج ،حج الاسلام ہو لیکن اگر حج الاسلام کے علاوہ کوئی اور حج ہو تو پھر ثلث مال سے نائب بنایا جائے گا ۔اوراگر ولی نے حج کی مقدار کے مطابق مال لیا ہو اور وہ مال موجود بھی ہو تو اسکو واپس لیا جائے گا۔ چاہے یہ احتمال ہو کہ وصی نے اپنے مال سے نائب بنا دیاہوگا ۔اور بعد میں ةاپنے مال کے بدلے مرنے والے کے مال سے لیے ہوں گے ۔اور اگر مال موجود نہ ہو تو وصی ضامن نہیں ہو گا اس لیے کہ احتمال ہے کہ بغیر کوتاہی کے مال ضائع ہو گیاہو ۔

( ۱۰۰) اگر وصی سے لاپرواہی کے بغیر مال ضائع ہو جائے تو ہوجائے تو وہ ضامن نہیں ہو گا ۔اور اگرحج ،حج الاسلام ہو تو واجب ہے کہ باقی ترکہ سے نائب بنایا جائے ۔حج الاسلام کے علاوہ حج ہو تو باقی ثلث مال سے نائب بنایا جائے اگرباقی مال ورثا میں تقسیم ہو چکا ہو تو ان کے حصے کی نسبت اجرت کے لیے واپس لیاجائے گا ۔یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب کوئی حج کے لیے نایب بنے اور حج ادا کرنے سے پہلے مر جاے اور اسکا ترکہ نہ ہو اور اگر ہو اس سے واپس لینا ممکن نہ ہو ۔

( ۱۰۱) اگر وصی سے نائب مقرر کرنے سے پہلے مال ضائع ہوجائے اور پتہ نہ چلے کہ ولی سے لاپرواہی ہوئی ہے یانہیں تو وصی سے اس مال کے بدلے مال لینا جائز نہیں ہے ۔

( ۱۰۲) اگرمرنے والا حج الاسلام کے علاوہ کسی حج کیلیے مال معین کی وصیت کرے اور اہتمال ہو کہ یہ مال معین ایک تہائی مال سے زیادہ ہے ۔تو اس مقدار مال کو ورثاء کی اجازتکے بغیر صرف کرنا جائز نہیں ہے ۔


نیابت کے ا حکام

( ۱۰۳) حج کے لیے نائب میں چند شرائط کا ہونا معتبر ہے ۔

( ۱) بلوغ۔نابالغ بچے کا کسی دوسرے کیلیے حج الاسلام یا کوئی دوسر ا واجب حج کران کافی نہیں ہے ۔بلکہ بنابر احوط ممیز بچہ (یعنی ا چھے برے ی تمیز رکھنے والا)کا بھی یہی حکم ہے ۔لیکن مستحبی حج میں بعید نہیں کہ ولی کی اجازت سے ممیز بچہ کا نائب بننا صحیح ہو ۔

( ۲) عقل۔دیوانے شخص کو نائب بناناکافی نہیں ہے چاہے دیوانگی مستقل ہو یا کھبی کبھی اسکا دورہ پڑتاہے او وہ دورے کی حالت میں حج کرے البتہ سفیہ کونائب بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

( ۳) ایمان۔آئیمہ کی امامت کے منکر غیر مومن کو نائب بناناکافی نہیں ہے اور اگر وہ ہمارے مذہب کے مطابق حج کرے تب بھی نبابر احوط کافی نہیں ہے ۔

( ۴) فارغ الذمہ۔ یعنی نائب جانتاہوکہ جس سال اس نے نیابت کاحج اناجام دینا ہے س سال اسکے ذمہ کوئی اور واجب حج نہیں ہے ۔یا اس سے غافل نہیں ہے لیکن اگر وجوب کو نہ جانتاہو یااس سے غافل ہو تو ایسے شخص کو نائب بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ شرط اجارہ کے صحیح ہونیکی شرط ہے نہ کہ نائب کا حج صحیح ہونیکی ۔

لہذا اس صورت میں جب کہ نائب پر حج واجب ہو اور وہ کسی کی طرف سے حج کرے تو جس کا حج کرے گا وہ بری الذمہ ہوجائے گا لیکن نائب طے شدہ اجرت کای بجائے معمول کے مطابق اجر ت کا مستحق ہو گا۔

( ۱۰۴) نائب میں عدالت کی بجائے حج انجام دینی کے بارے میں منوب عنہ (جسکی نیابت میں حج کر رہاہے )کا مطمئن ہونا معتبر ہے ناقابل اطمئنان نائب کا حج انجام دینے کے بارے میں خبر کوکافی سمجھنے میں اشکال ہے ۔

( ۱۰۵) منوب عنہ (جس کی طرف سے حج کر رہاہے )کا بری الذمہ ہونے کیلیے نائب کا صحیح طرحسے حج کرنا معتبر ہے لہذ انائب کیلیے ضروی ہے کہ وہ اعمال و حکاو حج کو صحیح طرح سے جانتاہو ہاہے کسی دوسرے شخص کی راہنمائی سے اعمال حج کی ادائیگی کے وقت ہی جان لے جب شک ہو کہ نائب اعمال حج کو صحیح طرح سے بجالا یاہے یا نہیں چاہے یہ شک اس وجہ سے ہو کہ خود نائب کا اعمال حج کو صحیح طرح سے جاننامشکوک ہو توبعید نہیں کہ حج کو صحیح سجھا جائے ۔

( ۱۰۶) ممیز بچے کی نیابت کی جاسکتی ہے جس طرح دیوانہ شخص کی ،بلکہ دیوانہ شخص کو اگر دیوانگی کا دورہ کھبی کھبی پڑتاہو اور لمعلوم ہو کہ ہمشیہ ایام حج میں دیوانگی کا دورہ پڑتاہے تو صحت کی حالت میں نائب بناناواجب ہے ۔اسی طرح اس صورت میں بھی بنانا واجب ہو گا جب صحتمندی کی حالت میں حج اس پر واجب ہو چکا ہو چاہے مرتے وقت دیوانگی کی حالت میں ہو ۔

( ۱۰۷) نائب اور منوب عنہ کا ایک جنس ضوری نہیں ہے ۔لہذا عورت کی طرف سے مرد اور مرد کی طرف سے عورت کا نائب بنناصحیح ہے ۔

( ۱۰۸) صرورہ(جو پہلی مرتبہ حج کر رہاہو)غیر صرورہ اور صرورہ دونوں کی طرف سے نائب بن سکتاہے چاہے نائب یامنوب عنہ مرد ہو یا عورت کہا گیا ہے کہ صرورہ ک ونائب بنا نا مکروہ ہے لیکن یہ کراہت ثابت نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کے لیے جو مالی استعاعت کے باوجود خود حج نہ کرستاہو بعید نہیں ہے کہ صرورہ کو نائب بنانااولی اور بہتر ہو ،جیساکہ وہ شخص جس پر حج واجب اور ثابت ہو چکا ہو او مرجائے تو اولی اور بہت یہ ہے کہ صرورہ کو اسکی طرف سے نائب بنایاجائے ۔

( ۱۰۹) منوب عنہ کا مسلامن ہونا شرط ہے لہذا کافر کی طرف سے نیابت صحیح نہیں ہے اگر کافر ہالت استطاعت میں مرجائے اور سکے وارث مسلمان ہوں تو ان پر واجب نہیں ہے کہ اس کی طرفسے حج کرائیں ۔اسی طرح اگر ناصبی ہوتو اسکی نیابت بھی جائز نہیں ہے سوائے اسکے کہ وہ ناصبی ،باپ ہو ،باپ کے علاوہ باقی رشتہ داروں کی جانب سے نائب بنانے میں اشکال ہے ۔لیکن حج انجام دے کر اسکاثواب ان کو ہدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

( ۱۱۰) زندہ شخص کی مستحبی حج میں نیابت کی جاسکتی ہے چاہے اجرت لے کر ہو یا بغیر اجرت کے ۔اسی طرح اگر واجب حج ہو اور خود انجام سینے سے معذور ہو تو جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے نائب بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسکے علاوہ زندہ شخص کی نیابت جائز نہیں ہے مردہ شخص کی طرف سے ہرحالت میں نیابت جائز ہے چاہے اجرت لے کر ہو یا بغیر اجرت کے چاہے واجب حج ہو یا مستحب ۔

( ۱۱۱) نیابت کے صحیح ہونے میں نیابت کا قصد ضروری ہے یعنی منوب عنہ کو کسی بھی طرح سے مشخص و معین کرے البتہ نام لے کر معین کرن اضروری نہیں ہے تاہم تمام مواطن و موافق میں ایسا کرنا مستحب ہے

( ۱۱۲) جس طرح کسی کا نیابتی حج اجرت لے کر یامفت انجام دینا صحیح ہے اسی طرح جعالہ یا کسی عقد و معاملہ میں شرط کرنے یا کسی اور طرح سے بھی نیابت صحیح ہے ۔

( ۱۱۳) ظاہر ہے کہ نائب کی شخصیت اسی شخص کی طرح ہے جو خود اپناحج کر رہاہو مگر بعض اعمال حج کو بالکلیا مقررہ طریقے سے صیح طور پر انجام نہ دے سکتاہو ۔لہذانائب کا حج بعض موقعوں پر صحیح ہوگا اورمنوب عنہ بری الذمہ ہو گا جبکہ دوسرے موارد میں باطل ہو گا۔ لہذا اگر عرفات میں وقوف اختیاری سے عاجز ہو اور وقوف اضطراری انجام دے تو اسکا حج صحیح ہو گا اور منوب عنہ بری الذمہ ہو جائے گا ۔ لیکن اگر دونوں وقوف سے عاجز ہو تو اسکا حج باطل ہے اور ایسے شخص ک ونائب بنانا جسکے بارے میں پہلے سے معلوم ہو کہ یہ عمل اختیاری انجام نہ دے سکے گاحتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے ۔یہاں تک کہ بلامعاوضہ بھی اگر کسی کی طرف سے حج کرے تو اسکے عمل پر اکتفا کرنامشکل ہے ۔البتہ ایسے شخص کو نائب بنانے میں کوئی حرج نہیں جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ محرمات احرام مثلاسائے میں رہنایا کوئی ور ہرام کام میں سے کسی اور کا مرتکب ہو گا چاہے عذر کی وجہ سے یا بغیر کسی عذر کے اسی طرح اس شخص کو بھی نائب بنانے میں کوئی حرج نہیں جس کے نارے میں معلوم ہو کہ ایسے واجبات حج کو چھوڑ دے گا جن کی وجہ سے حج کی صحت پر ضرر نہیں پہنچتا،چاہے انہیں جان بوجھ کر چھوڑاجائے مثلا طواف النساء یا گیاریہوں اور بارہوں شب کو منی میں رہنا۔

( ۱۱۴) اگر نائب احرام باندھنے سے پہلے مرجائے تو منوب عنہ بری الذمہ نہی ہو گا ۔لہذا اگر نائب بنانا ضروری ہے تو کسی اور شخص کو نائب بنایا جائے ۔لیکن احرام باندھنے اور حرم میں جانے کے بعد مرا ہو تو حوط یہ ہے کہ منوب عنہ بری الذمہ ہو جائے گا اور اس حکم میں حج الاسلام اور دوسرے حج برابر ہیں لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب نائب اجرت لے کر حج پر گیاہواور اگر اجرت کے بغیر حج کر رہاہو تو پھر منوب عنہ کا بری الذمہ ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے ۔

( ۱۱۵) اگر اجیر احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعدمرجائے جبکہ میت کو بری الذمہ کرنے کے لیے نائب بنایاہو تو یہ اجیر پوری اجرت کا مستحق ہوگا لیکن اگر اسے اعمال حج انجام دینے کے لیے نائب و اجیر بنایاہو او اجارہ میں ایک سے زیادہ چیزوں کو مدنظر رکھاگیاہو ۔(یعنی دو مقاصد ہوں ایک تو ذمہ سے بری ہو جائے اور دوسر ااعمال انجام پائیں )تو پھ ر جتنے اعمال انجام دیے ہوں انکی نسبت سے اجرت کا مستحق ہو گا ۔(مثلاایک تہائی اعمال انجام دے ہوں تو ایک تہائی اجرت کا مستحق ہو گا)لیکن اگر اجیر نائب (نائب )احرام سے پہلے مر جائے تو اجرت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔لابتہ اگر عمل کے مقدمات بھی اجارہ (معاملہ )میں داخل ہوں یعنی اجارہ سے دو چیزیں مقصود ہوں ایک اعمال انجام پانا اور دوسرامقدمات انجام پانا تو اس وقت جتنی مقدار کو انجام دیاہو اتنی اجرت کا مستحق ہو گا ۔

( ۱۱۶) اگر کسی کو شہر سے حج کرنے کے لیے چیر بنایاجائے اور راستہ معین نہ کیا جائے تو اجیرکو ختیار ہے کہ جس راستے سے چاہے جائے اور اگر راستح معین کیا گیاہو تو خلاف ورزی جائز نہیں ہے ۔لیکن اگر اجر خلاف ورزی کرکے اعمل حج انجام دے تو ار راستہ اجارہ میں شرط نہ ہو یہ کہ جارہکا حصہ ہو تو اجیر پوری اجرت کا مستحق ہو گااگر راستہ کو اعمال حجکا جز سمجھ کر اجارہ کیاہو تو اس وقت نائب بنانے والے کو حق حاصل ہو گا اور فسخ کرنے کی صورت میں اجیر ان اعمال کی جنکو انجام دے چکا ہو معمول کے مطابق اجرت لے گا نہ کہ راستہ طے کرنے کی چرت اور اگر معاملہ ختم نہ کرے تو پھر پوری طے شدہ اجرت کا مستحق ہو گا۔لیکن نائب بنانے والے کو اجیر سے طے شدہ راستے سے نہ جانے کی صور ت میں بقایاجات واپس لینے کا حق حاصل ہے ۔

( ۱۱۷) اگر کوئی معین سال میں کسی کا حج خود انجام دینے کے لیے نائب بنے تو اسی سال میں دوسرے شخص کا حج خود انجام دینے کے لیے نائب نہیں بن سکتالیکن اگر دونوں اجاروں کے سال جدا ہوں یاکسی ایک میں یا دونوں میں خود انجام دینے کی شرط نہ ہو تو دنوں اجارے صحیح ہوں گے ۔

( ۱۱۸) جو شخص کسی معین سال میں کسی کا حج انجام دینے کیلیے اجیر بنے تو جائز نہیں کہ وہ نائب بنانے والے کی رضامندی کے بغیر اس حج کو معین سال سے پہلے یا بعد میں انجام دے ۔چنانچہ اگر تاخیر کردے تو ااگرچہ منوب عنہ (جس کی جانب سے حج کیاہو )بری الذمہ ہو جائے گا لیکن نائب بنانے والے کو معاملہ ختم کرنے کا حق ہو گا ۔یعنی اجارہ ختم کرنے کی صورت میں اجیر کسی اجرت کا حقدار نہیں ہو گا اور یہ اسی صور ت میں ہے کہ جب اجارہ معین شدہ سال میں حج کرنے کا ہو ۔لیکن اگر اجارہ تو حج کرنے کا ہو ار سال محضشرظ ہوتو نائب معمول کے مطابق اجرت کا مستحق ہو گا ۔بلکہ اجارہ ختم نہ کرنے کی صورت میں اجیر طے شدہ اجرت کا مستحق ہوگا۔ اسکے برعکس اگراجارہ معین شدہ سال میں حج کرنے کا ہو اور اجیر اسکی خلاف ورزی کرے تو اس نتیجہ میں بچنے والی رقم کا مطالبہ کرنیکا حق نائب بنانے والے کوحاصل ہے ۔

اسی طرح اگر اجیر حج کومعین سال سے پہلے انجام دے دے اور جس حج کے لیے اجارہ کیاہو وہ حج الاسلام ہو تومنوب عنہ فارغ الذمہ ہوجائے گااگرچہ اجیر نے معینہ سال سے لپہلے انجام دیاہو تو اب چونکہ منوب عنہ تو فارغ الذمہ ہو گیاہے لہذا معین شدہ سال میں ہج انجام دینا ممکن ہی نہیں تو اجرت سے متعلق حکم وہ ہے جو قبل ازیں تاخیرکی صورت میں ہو چکا ہے ۔او راگر ایسانہ ہو یعنی مستحب حج انجا م دینے کے لیے اجیر بنایا گیاہو کہ مثلاآئندہ سال حج اناجم دے اور اجیر اسی سال انجام دیدے تو اگر اجارہ معین شدہ سالمیں حج کرنیکا ہو تو اجیر اجرت کا مستحق نہیں ہوگابلکہ واجب ہے کہ حج معینہ شدہ سال میں انجام دے او اگراجارہ میں سال محض شرط ہو تو بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ اجر نے اس شرط کو ختم نہ کیاہواور اگر کر دیاہوتو پھر اجیرطے شدہ قیمت کا مستحق ہوگا۔

( ۱۱۹) اگر اجیر دشمن کے روکنے یا بیامری کی وجہ سے اعمال حج انجامنہ دے سکے تو اسکاحکم خود اپنا حج انجام دینے والے انسان کی طرح ہے جو دشمن یا بیامری کی وجہ سے اپنا حج انجام نہ دے سکے جسکی تفصیل آگے آئے بیان ہو گی ۔لہذا اگر حج کا جارہ اسی سال کے لیے مقید ہو تو اجارہ فسخ ہوجائے گا اور اگراسی سال سے مقید نہ ہو تو حج اس کے ذمہ باقی رہے گا ۔لیکن اگر سال کا یقین شرط کی صورت میں ہو تو امیر بنانے والے کو خیار تخلف (شرط کی خلاف ورزی کی بنا پر ختیار )حاصل ہو جائے گا۔

( ۱۲۰) اگر نائب کوئی یسا کام انجام دے جسکی وجہ سے کفارہ واجب ہوتاہو تو کفارہ اپنے مال سے اداکرے گا۔چاہے پیسے لے کر نائب بنا ہو یا بغیر پیسوں کے ۔

( ۱۲۱) اگر کسی کو حج کے لیے معین اجرت پر نائب بنایا جائے اور اجرت حج کے اخراجات سے کم نکلے تو اجر پ راجرت پوری کرنا واجب نہیں ہے ،اسی طرح حج کے خرجات سے زیادہ نکلے تو واپس لنیے کا حق بھی نہیں رکھتا۔

( ۱۲۲) اگرکسی ک وواجب یا مستحب حج کے لیے نائب بنایا جائے اور نائب اپنے حج کومعشر سے پہلے جماع کے ذریعے اپنے حج کوفاسد کردے تو اس پر واجب ہے کہ حج کو مکمل کرے اوراس حج سے منوب عنہ بری الذمہ ہو جائے گالیکن نائب پر واجب ہوجائے گا کہ آئندہ سال حج کرے اور ایک اونٹ کفارہ بھی دے ۔تاہم ظاہر یہ ہے کہ اجیر اجرت کا مستحق ہو گا جاہے آئندہ سال عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے حج نہ بھی کرے ۔بلامعاوضہ حج کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے ۔فرق صرف یہی ہے کہ مستحق اجرت نہیں ہے ۔

( ۱۲۳) طاہر یہ ہی کہ اجیر حج انجام دینے سے پہلے اجرت کا تقاضاکرنیکا حق رکھتاہے چاہے حج سے پہلے اجرت دینے کی شرط واضح نہ بھی کی ہو اس لیے کہ اس شرط پر قرینہ موجودہے اور وہ یہ کہ عام طور پر چرت پہلے دی جاتی ہے کیونکہ اجیرکے لیے اجرت لینے سے پہلے حج پر جانااور عمل بجالانا ممکن نہیں ہوتا۔

( ۱۲۴) اگر کوء ی خود حج کرنے کے لیے نائب بنے تو اسے حق نہیں ہے کہ نائب بنانے والے کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو نائب بنائے لیکن اگراجارہ کے ذریعے عمل اپنے ذمہ لے اور خود انجام دینے کی شرط نہ کرے تو پھر اس کے لیے جائز ہے کہ اس حج کے لیے کسی دوسرے کو نائب بنائے ۔

( ۱۲۵) اگر کسی کو وسیع وقت میں حج تمتع کے لیے نائب بنایاجائے اور اتفاقا وقت تنگ ہوجائے اورنائب حج عمرہ کو حج افراد سے بدل کر حج افراد انجام دے اورنعد میں عمرہ مفردہ انجام دے تو منوب عنہ بری الذمہ ہو جائے گا ۔اور اگر اجارہ عمرہ تمتع او حج تمتع کے اعمال انجا م دینے کا ہو تو نائب اجرتک امستحق نہیں ہو گا لیکن منوب عنہ کوبری الذمہ کرنے کا ہو تومستحق ہو گا۔

( ۱۲۶) مستحبی حجمیں ایک شخص کئی افراد کا نائب بن سکتاہے لیکن واجب حج میں ایک شخص ایک یا دوسے زیادہ کا نائب نہیں بن سکتاسوائے اس صورت کے کہ جب دو یا دو سے زیادہ افراد پر حج مشترک طور پر واجب ہوا ہومثلادو افراد منت مانیں کہ اگرہمار ا کام ہو گیاتو ہم ملکر کسی کو حج پر بھیجیں گے ،اس صورت میں دونوں کے لیے اپنے جانب سے ایک شخص کو حج پربھیجیں گے ،اس صورت میں دونوں کیلیے اپنی جانب سے ایک شخص کو نائب بناکر بھیجناجائز ہے ۔

( ۱۲۷) مستحب حج میں کئی افرا د ایک ہی شخص کی نیابت کرسکتے ہیں چاہے منوب عنہ زندہ ہو یا مردہ اور چاہے نائب اجرت لے کر حج کر رہاہویا بغیر اجرت کے ۔اسی طرح واجب حج میں بھی ایک شخص پر متعدد ہ جواجب ہوں ۔مثلاکسی زندہ یامردہ شخص پر دو حج واجب ہوں اور دونوں نذر سے واجب ہوئے ہوں یا مثلاایک حج الاسلام ہو اور دوسرانذر سے واجب ہواہیتو کئی افرادایک شخص کی نیابت کرنا جایز ہے یعنی ایک کو حج الاسلام کے لیے دوسرے کو دوسرے حج کے لیے بنایاجاسکتاہے ۔اسی طرح ایک شخص کی جانب سے دوافراد ک وایک کو واجب حج کیلیے اوردوسرے کو مستحب حج کے لیے نائب بناناجائز ہے ۔بلکہ بعید نہیں ہے کہ اس احتمال کو بنا پرکہ ایک شخص کاحج جاقص ہو سکتاہے احتیاط کی خاطر ایک شخص کی ایک واجب حج کیلیے دو نائب بنانا جائز ہو۔

( ۱۲۸) طواف فی نفسہ مستحب لہذا طاف میں جائز ہے کہ مرنے والے کی طرف سے نیابت کی جائے اسی طرح اگر زندہ (منوب عنہ )مکہ میں نہ ہو ای مکہ میں ہو لیکن خود طواف نہ کر سکتاہوتو اسکی طرف سے بھی نیابت کرنا جائزہے ۔

( ۱۲۹) نائب نیابتی حج کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جانب سے یا کسی اور جانب سے عمرہ مفردہ کر سکتاہے جس طرح کہ اپنی یا کسی اور کی جانب سے طوافکرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔


عمرہ کی اقسام

( ۱۳۵) عمرہ بھی حج کی طرح کبھی واجب ہوتاہے ور کبھی مستحب اور عمرہ یا مفردہ ہو تاہے یا تمتع ۔

( ۱۳۶) حج کی طرح عمرہ بھی ہر صاحب شرائط مستطیع پر واجب ہے اورحج کی طرح واجب فوری ہے لہذا عمرہ کی استطاعت رکھنے والے پر چاہے وہ حج کی استطاعت نہ بھی رکھتاہو عمرہ واجب ہے ۔لیکن طاہر یہ ہی کہ جس کا فریضہ حج تمتع ہو اور اسکی استطاعت نہ رکھتاہو بلکہ عمرہ مفردہ کی استطاعت رکھتاہوتو اس پ رعمرہ مفردہ واجب نہیں ہے لہذا ایسے شخص کے مال سے عمرہ مفردہ کے لیے نائب بنانا جومستطیع ہو گیا ہو او رایام حج سے پہلے مرجائے واجب نہیں ہے ۔اسی طرح حج کے لیے اجیر بننے والے پر حج نیابتی کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ مفردہ انجام دیناواجب نہیں ہے اگرچہ عمرہ کی استطاعت رکھتاہو۔لیکن مناسب ہے کہ ان موارد میں احیتاط کو ترک نہ کرے اسی طرح وہ شخص جو حج تمتع کرے تو یقینااس پر عمرہ مفردہ واجب نہیں ہے ۔

( ۱۳۷) سال کے ہر مہینے میں عمرہ مفردہ کرنا مستحب ہے اور دو عمروں کے درمیاں تیس دن کا وقفہ ضروری نہیں ہے ۔لہذ اایک ماہ کے آخر اور دوسرے ماہ کے اول میں عمرہ کرنا جائز ہے ایک مہینے میں دو عمرے کرنا چاہے اپنی طرف سے یاکسی اور کی طرف سے جائز نہیں ہے ۔تاہم دوسرا عمرہ رجعاانجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اسی طرح اگرایک عمرہ اپنے لیے اوردوسرا عمرہ کسی اور کی طرف سے یا دونوں عمرے دو مختلف افرادکی طرف سے ہوں تو پھر ایک ماہ میں دو عمرے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔عمرہ مفردہ اورعمرہ تمتع کے درمیان تیس د ن فاصلہ ہونے کی شرط میں اشکال ہے ۔وہ شخص جوذوالحجہ میں عمرہ تمتع کرے ار ادہ رکھتاہو کہ اعمال حج کے بعد عمرہ مفردہ انجام دے گا تواسکے احوط یہ ہے کہ عمرہ کو ماہ محرم تک تاخیر کرے ۔اسی طرح وہ شخص جو عمرہ مفردہ شوال میں کرے اور ارداہ رکھتا ہو کہ اس کے بعد عمرہ تمتع نجام دے گا ہوط یہ ہے کہ عمرہ اسی مہینے میں انجام نہ دے ۔ عمرہ مفردہ کو عمرہ تمتع اور حج تمتع کے درمیان طاہر یہ ہے کہ عمرہ تمتع باطل ہوجاتاہے لہذا عمرہ تمتع دوبارہ کرنا ضوروری ہے ۔لیکن اگر حج کے لیے یوم ترویہ ( ۸ ذی الحجہ )تک مکہ میں رہے تو جواس وقت عمرہ مفردہ انجا م دے چکا ہے وہ عمرہ تمتع شمار ہو گا اوراسکے بعد حج تمتع کرے ۔

( ۱۳۸) جس طرح عمرہ مفردہ استطاعت کی وجہ سے واجب ہوجاتاہے اسی طرح نذر، قسم عہ دوغیرہ بھی واجب جاتاہے ۔

( ۱۳۹) ذیل میں چند چیزوں کے علاوہ عمرہ مفردہ اورعمرہ تمتع کے اعمال مشترک ہیں جن کی تفصیل آگے آئیگی۔

۱ ۔عمرہ مفردہ میں طواف النساء واجب ہے جب کہ عمرہ تمتع میں واجب نہیں ہے ۔

۲ ۔عمرہ تمتع صرف حج کے مہینوں میں انجام دیاجاسکتاہے جوشوال ،ذی القعدہ اورذ والحجہ ہیں جب کہ عمرہ مفردہ کو سا ل کے کسی مہینہ میں انجام دیاجاسکتاہے تاہم ماہ رجب میں فضیلت ہے ۔

۳ ۔عمرہ تمتع کے حرام سے باہر آناصرف تقصیر (کچھ بال کٹوانا )پر منحصر ہے جب کہ عمرہ مفردہکے احرام سے تقصیر سے بھی باہر آسکتے ہیں اور حلق (بال منڈوانے )سے بھی تاہم حلق افضل ہے یہ حکم مردوں ے لیے ہے جب کلہ عورتوں کے لیے تقصیر معین ہے چاہے عمرہ تمتع کے احرام باہرآناہو یا عمرہ مفردہ کے احرام سے ۔

۴ ۔ عمرہ تمتع اورحج تمتع ایک ہی سال میں انجام دینا واجب ہے جس کی تُ ئیگی ۔جبکہ عمرہ مفردہ میں یہ واجب نہیں ہے ۔ لہذا جس شخص پر حج افراد وعمرہ مفردہ واجب ہو وہ ایک سال میں حج ارو دوسرے سال میں عمرہ کر سکتاہے ۔

۵ ۔وہ شخص عمرہ مفردہ میں جو سعی سے پہلے حجامت کرلے تو بغیر اشکال کے اس کا عمل باطل ہوجائیگا اوردوبارہ انجام دینا واجب ہوگایعنی آئندہ ماہ تک مکہ میں رکے اور پھر سے عمرہ کرے ،جب کہ عمرہ تمتع میں اگرسعی سے پہلے جماع کرے تو اسکا ہخمیہ نہیح ی جیساکہ مسئلہ ۲۲۰ میں آئے گا۔

( ۱۴۰) عمرہ مفردہ کے لیے احرام ان ہی میقاتوں سے باندھنا واجب ہے جہاں سے عمرہ تمتع کااحرام باندھا جاتاہے میقات کا بیان آگے آئیگا ۔ لیکن اگر مکلف مکہ میں ہو اورعمرہ مفردہ کا اراداہ کرے تو اس کے لیے جائز ہے کہ حرم سے باہرنزدیک ترین مقام مثلاحدیبیہ جعرانہ تنعیم سے احرام باندھے اس کے لیے میقات جا کر احرام باندھنا واجب نہیں ہے تاہم جس شخص نے اپنا عمرہ مفردہ سعی سے پہلے جماع کی وجہ سے باطل کردیا ہو اسے کسی ایک میقات پر جا کر احرام باندھنا پڑیگا اور احوط یہ ہی کہ حرم سے باہر نزدیک ترین مقام سے حرام باندھناکافی نہیں ہوگا جیساکہ مسئلہ ۲۲۳ میں تفصیلا نہ آئے گا ۔

( ۱۴۱) مکہ میں بلکہ حرم میں بھی بغیر احرام کے داخل ہونا جائز نہیں ہے لہذا اگر کوئی حج کے مہینوں (شوال ذی القعدہ ، ذی الحجہ)کے علاوہ کسی مہینے میں داخل ہو نا چاہے تو اس پر واجب ہے کہ عمرہ مفردہ کا احرام باندھے ۔سوائے ا ن لوگوں کے جو مسلسل کام کے لیے آتے جاتے ہیں ۔مثلالکڑ ہارااورچرواہاوغیرہ ۔اسی طرح وہ لوگ جو عمرہ تمتع اور حج تمتع یا عمرہ مفردہ انجام دے کر مکہ سے باہر جائیں تو ان کے لیے اسی مہینہ میں احرام کے بغیر مکہ میں جانا جائز ہے ۔عمرہ تمتع کے بعد او رحج تمتع سے پہلے مکہ سے باہر آنے والو ں کا حکم مسئلہ ۱۵۳ میں آئے گا ۔

( ۱۴۲) جو شخص حج کے مہینوں ( شوال ،ذالقعدہ ،ذی الحجہ )میں عمرہ مفردہ انجام دے اور یوم ترویہ ( ۸ ذی الحجہ)تک مکہ میں رہے اور حج کا قصد کرے تو اس کا عمرہ، عمرہ تمتع شمار ہو گالہذا وہ حج تمتع کرے اس حکم میں واجب ور مستحب حج کا فرق نہیں ۔


حج کی قسمیں

( ۱۴۳) حج کی تین قسمیں ہیں۔تمتع ،افراد اور قران ۔حج تمتع ان افراد اکا فریضہ ہے جن کے وطن اورمکہ کے درمیان سولہ فرسخ سے زیادہ فاصلہ ہو جب افراد و قران مکہ کے رہنے والوں اورا ن لوگوں کا فریضہ ہے جن کے وطن اور مکہ میں سولہ فرسخ سے کم فاصلہ ہو ۔

( ۱۴۴) جن کا فریضہ حج تمتع ہو انکے لیے حج افراد و قران اوراسی طرح جن کا فریضہ قران و افراد ہو ان کے لیے حج تمتع کافی نہیں ہے لیکن کبھی کھبی حج تمتع والے کا فریضہ تبدیل ہوکر حج افرد ہو جاتاہے جس کا ذکر آگے آئیگا اور یہ حکم حج الاسلام کا ہے جب کہ مستحب حج نذر کردہ او روصیت کردہ وہ حج جن کی قسم معین نہ کی ہوتو دوروالوں اور قریب والوں کو تینوں اقسام حج میں اختیار ہے اگرچہ حج تمتع افضل ہے ۔

( ۱۴۵) دورکارہنے والااگر مکہ میں رہائش اختیار کرلے تو جب وہ تیسرے سال میں داخل ہو گا فریضہ تمتع سے تبدیل ہو کر افراد یا قران ہو جائے گا ۔لیکن تیسرے سال میں دخل ہونے سے پہلے اس پر حج تمتع واجب ہو گا اور اس حکم میں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہمکہ میں رہائش سے پہلے مستطیع ہوا ہے اور حج اس پر واجب ہوا ہے یا رہائش کے دوران مستطیع ہو اہے اور حج اس پر واجب ہو ہے اسی طرح اس سے بھی فرق نہیں پڑتاکہ مکہ کو وطن قرار دے کر یا قرار نہ دے کر رہائش اختیار کرے اور یہی حکم ان افرا د کیلیے بھی ہے جو مکہ کے اطراف سولہ فرسخ میں رہائش اختیار کریں ۔

( ۱۴۶) اگر کوئی شخص مکہ میں رہائش ا ختیار کرے اور اپن افریضہ تبدیل ہونے سے پہلے حج تمتع کرنے کا اراداہ کرے تو کہا گیاہے ہ اس کے لیے حرم سے باہر قریب ترین مقام سے حرام باندھنا جائز ہے لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں ہے او را حوط یہ ہے کہ وہ کسی میقات پر جاکر احرا م باندھے ،بلکہ احوط یہ ہی کہ ان شہر والوں کے میقات پر جائے ۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ہر اس شخص کا ہے جو مکہ میں ہو او ر حج تمتع کا ارادہ کرنا چاہے حج مستحب ہی ہو ۔

حج تمتع ۔

( ۱۴۷) یہ حج دو عبادتوں حج اور عمرہ سے مل کر بنتاہے ۔کبھی کبھی صرف حج کوحج تمتع کہتے ہیں حج تمتع میں عمرہ تمتع کوپہلے انجام دینا واجب ہے ۔

( ۱۴۸) عمرہ تمتع میں پانچ چیزیں واجب ہیں ۔

۱ ۔کسی ایک میقات سے ا حرام باندھناجس کی تفصیل آگے آئیگی ۔

۲ ۔خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنا۔

۳ ۔نماز طواف

۴ ۔صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا ۔

۵ ۔تقصیر ۔یعنی سر،داڑھی یا مونچھوں کے کچھ بال کٹوانا۔

جب حاجی تقصیر انجام دیدے تو احرام سے فارغ ہو جاتاہے لہذ ااحرام کی وہ چیزیں جو اس پر حرام ہوئی تھیں وہ اس پر حلال ہوجائیں گی ۔

( ۱۴۹) مکلف پر واجب ہے کہ نویں ذی الحجہ کے نزدیک ہونے پر خود کو اعمال حج کے لیے تیار کرے ۔

واجبات حج تیرہ ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ۔

۱ ۔مکہ سے ا حرام باندھنا جس کی تفصیل آگے آئیگی ۔

۲ ۔وقوف عرفت یعنی نویں ذی الحجہ کے دن زوال آفتاب کے بعد غسل اورظہر و عصر کی اکٹھی نماز اداکرنے کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک عرفات کے مقام پر قیام کرنا ۔عرفات مکہ سے چار فرسخ کے فاصلے پر ہے ۔

۳ ۔وقوف مزدلفہ یعنی شب عید قربان کے کچھ حصے سے طلوع آفتاب سے کچھ پہلے تک مزدلفہ (مشعر )میں قیام کرنا ۔مزدلفہ عرفات و مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نا م ہے ۔

۴ ۔رمی جمرہ عقبہ (کنکر مارنا )عید قربان کے دن منی کے مقام پر رمی کرنا منی مکہ سے تقریبا ایک فرسخ کے فاصلے پرہے ۔

۵ ۔عید کے دن یاایام تشریق ( ۱۱،۱۲،۱۳ ذی الحجہ) میں منی کے مقام قربانی کرنا ۔

۶ ۔سر منڈوانا یا سر ،داڑھی یا مونچھوں کے کچھ بلا کاٹنا(حلق یا تقصیر)اور اسکے بعد احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں حلال ہونجائیگی سوائے احیتاط واجب کی بنا پر عورت خوشبو اور شکارکے ۔

۷ ۔مکہ واپس آنے کے بعد خانہ خدا کی زیارت کا طواف کرنا ۔

۸ ۔نماز طواف اد اکرنا۔

۹ ۔صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا۔اس عمل کے بعد خوشبوبھی حلال ہوجائے گی ۔

۱۰ ۔طواف النساء۔

۱۱ ۔نماز طواف النساء۔اس عملکے بعدعورت (بیوی )بھی حلال ہوجائیگی ۔

۱۲ ۔گیارہ اوربارہ کی رات منی میں گزارنا بلکہ بعض صورتوں میں تیرھویں کی شب بھی منی میں گزارناجسکا ذکر آگے آئے گا۔

۱۳ ۔رمی جمرات گیارہ اور بارہ کو دن کے وقت تینوں جمرات(اولی ،وسطی اور عقبہ)کو کنکریاں مارنا بلکہ اظہر یہ ہے کہ جو شخص تیرھویں رات منی میں گزارے تو وہ تیرھویں کے دن بھی رمی کرے ۔

( ۱۵۰) حج تمتع میں ذیل میں درج چیزیں شرط ہیں ۔

۱ ۔ نیت ۔یعنی حج تمتع کو ادا کر نے کی نیت کرے لہذا اگر کسی دوسرے حج کی نیت کرے یا نیت میں تردد کرے تو یہ حج صحیح نہیں ہو گا ۔

۲ ۔عمرہ اور حج دونوں کو حج کے مہینوں (شوال ذی القعدہ ، ذی الحجہ)میں انجام دے لہذااگر عمرہ کاایک حصہ شوال سے پہلے انجام دے تو عمرہ صحیح نہیں ہو گا۔

۳ ۔عمرہ اورحج ایک ہی سال میں ننچم دینا ضروری ہے لہذ ااگر ایک سال عمرہ تنتع اوردوسرے سال حج تمتع انجام دے تو حج تمتع صحیح نہ ہو گا اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اگے سال تک مکہ میں قیام کرے یا عمرہ کے بعد وطن واپس لوٹ جائے اور دوبارہ آئے اور اس سی بھی فرق نہیں پڑتا کہ عمرہ کے بعد احرام تقصیر کے بعد کھول دے یاآئندہ سال تک حالت احرام میں باقی رہے ۔

۴ ۔حالت اختیار میں حج اک احرام شہر مکہ سے باندھے اور بہترین مقام مسجدالحرام ہے لیکن اگرکسی وجہ سے مکہ سے حرام نہ باندھ سکے تو جہاں سے ممکن ہو وہاں سے باند ھ لے ۔

۵ ۔ایک شخص کی ةطرف سے عمرہ تمتع اورحج تمتع کے تمام اعمال ایک ہی شخص انجام دے سکتاہے ۔لہذا اگر دوافراد کو اس طرح سے نائب بنایا جائے کہ ایک کو عمرہ تمتع کے لیے اوردوسرے کو حج کے لیے تو یہ صحیح نہیں ہو گا ۔چاہے منوب عنہ زندہ ہویا مردہ اسی طرح اگرایک ہی شخص عمرہ و حج دونوں کرے لیکن عمرہ ایک کی جانب سے اور حج دوسرے کی جاب سے تو یہ بھی صحیح نہیں ہوگا۔

( ۱۵۱) مکلف کا عمرہ تمتع کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعدحج تمتع اداکیے بغیر مکہ سے نکلنابنا براحوط جائز نہیں ہے سوائے اسکے کہ اسے کو ئی کوم ہو چاہے وہ ضروری نہ بھی ہو تاہم اعمال حج کے فوت ہونے کا خوف نہ ہو لہذ ااسے معلوم ہوکہ وہ مکہ واپس آکر حج کیلیے احرام باند ھ سکے گاتو اظہر یہ ہے کہ بغیر احرا م کے مکہ سے نکلنا جائز ہے ورنہ حج کے لیے احرام باندھ کیلیے اپنے کام کے لیے جائے اس صور ت میں ظاہر یہ ہے کہ اس پر مکہ واپس آنا واجب نہیں ہے بلکہ وہ اپنی جگہ سے ہی عرفات جاسکتاہے ۔اگر کوئی عمرہ تمتع انجام تو اسکے لیے حالت اخیتار میں حج تمتع کو چھوڑناجائزنہیں ہے ۔چاہے حج مستحب ہی ہو لیکن اگر حج انجام دینا ممکن نہ ہو تو احوط یہ ہے کہ عمرہ تمتع کو عمرہ مفردہ قراردے کر طواف النساء انجام دے ۔

( ۱۵۲) آظہر یہ ہے کہ حج تمتع کرنے والے کیلیے عمرہ کے اعمال مکمل کرنے سے پہلے مکہ سے باہر جانا جائز ہے جبکہ مکہ واپس آناممکن ہو اگرچہ احوط یہ ہے کہ نہ جائے ۔

( ۱۵۳) عمرہ تمتع کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد مکہ سے باہرکسی دوسری جگہ جاناحرام ہے نہ کہ ان نئے محلوں میں جو اب شہر مکہ کا حصہ شمار ہوتے ہیں ۔اور قدیم محلوں ک حکم رکھتے ہیں لہذا حاجی کاعمرہ تمتع کی اعمال سی فارغ ہونے کے بعد ان نئے محلوں میں کسی کام سے یا بغیر کام کے جاناجائز ہے ۔

( ۱۵۴) جب حاجی عمرہ تمتع کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد بغیر احرام کے مکہ سے باہر جائے تو اسکی دوصورتیں ہیں ۔

( ۱) جس مہینے میں عمرہ کیا تھا اسکے تمام ہونے سے پہلے اگر مکہ واپس آئے تو ضروری ہے کہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہو اور مکہ سے حج تمتع کا احرام باند ھ کرعرفات جائے ۔

( ۲) جس مہینے میں عمرہ کیاہو اس کے ختم ہونے کے بعدمکہ واپس آئے تو ضروری ہے کہ مکہ واپس آنے کیلیے عمرہ کا احرام باندھے ۔

( ۱۵۵) جس شخص کا فریضہ حج تمتع ہو اگرحجافراد یا قران انجام دے تواس کا فریضہ ساقط نہیں ہوگا اس حکم سے وہ شخص مستثنی ہے جو عمرہ تمتع شروع کرے لیکن پورا کرنے کا وقت باقی نہ رہے ۔اور یہ شخص اپنی نیت کو حج افراد کی طرف پھیر لے اور حج کے بعد عمرہ مفردہ بجالائے وقت تنگ ہونے کے اس حد میں کہ جس کی وجہ سے حج افراد کی طرف عدول جائز ہوتاہے فقہاء کاختلاف ہے اظہر یہ ہے کہ عدول ا س وقتواجب ہو گا جب عرفہ کے دن زوال آفتاب سے پہلے عمرہ کے اعمال کوپورا نہ سکتاہولیکن اگر زوالآفتاب سے پہلے اعمال کو مکمل کرنا ممکن ہو چاہے یو م ترویہ ( ۸ ذی الحجہ )میں یاجاہے اسکے بعد تو اس صورت میں عدول کا جائز ہونااشکال سے خالی نہیں ہے ۔

( ۱۵۶) وہ شخص جسکا فریضہ حج تمتع ہو اروہ عمرہ کا احرام باندھنے سے پہلے جانتاہو کہ وہ عرفاہ کے دن زوال آفتاب تک عمرہ کے اعمال مکمل نہیں کرسکے گا تو اسکاافراد یا قران کی طرف عدول کرناکفایت نہیں کرے گا ۔بلکہ اگر حج اسکے ذمہ قرار پائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ آئند ہ سال حج تمتع انجام دے ۔

( ۱۵۷) اگر کوئی وسیع وقت میں حج تمتع کا احرام باندھے لیکن طواف اور سعی میں جان بوجھ کر عرفہ کے دن زوال آفتاب تک تاخیر کرے تواس کاعمرہ باطل ہوجائیگا اور اظہر یہ ہے کہ حج اراد کی طرف عدول کرنا کافی نہیں ہوگا اگرچہ احوط یہ ہے کہ رجا ء حج افراد کے اعمال انجام دے بلکہ طواف نمازطواف سعی اور حلق یا تقصیر کو عمرہ میں بنابر احوط عمومی نیت( یعنی حج افراد ور عمرہ مفردہ دونوں کو شامل کرنے والی )سے انجام دے ۔

حج افراد۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوچکاہے کہ حج تمتع کے دو جز ہیں ایک عمرہ تمتع اور دوسراحج۔ اسک پہلا جز دوسر چز سے ملاہو اہے اورعمرہ ،حج پر مقدم کیا جاتاہے ۔جبکہ حج افراد از خودایک مستقل عمل ہے اور جیساکہ بتایاجاچکا ہے یہ مکہ اور اسکے اطراف سولہ فرسخ میں رہنے والوں کا فریضہ ہے ۔اور مکلف کو اخیتار ہے کہ حج افراد انجام دے یا قران ۔جب مکلف حج افراد کے ساتھ عمرہ مفردہ بھی انجام دے سکتاہو تو مستقص طور پر عمرہ مفردہ بھی واجب ہو جائے گا ۔لہذااگر کوئی حج افرادو عمرہ میں سے کوئی ایک عمل انجام دے سکتاہو تو صرف وہ عمل واجب ہو گا جو خود انجام دے اور اگر ایک وقت میں ایک عمل کو انجام دے سکتا ہو اور دوسرے وقت میں دوسرے عمل کو تو اس پر واجب ہے کہ ان اوقات میں اپنے فریضہ کو انجام دے ۔ اگر ایک ہی وقت میں دونوں کو انجام دینا ممکن ہو تو دونوں کو انجام دینا واجب ہے ۔اس صورت میں فقہاء کے درمیان مشہور ہے کہ حج افراد کو عمرہ مفردہ سے پہلے انجام دے اور یہی احوط ہے ۔

( ۱۵۸) حج فراد اور حج تمتع کے تمام اعمال ذیل میں درج ذیل چند چیزوں کے علاوہ مشترک ہیں ۔

( ۱) حج تمتع میں عمرہ اور حج کو حج کے مہینوں (شوال ،ذی القعدہ اورذی الحج ) میں ایک ہی سال م یں انجام دینا معتبر ہے جیساکہ پہلے بیان ہو چکا ہے جب کہ حج افرد میں واجب نہیں ہے ۔

۲ ۔حج تمتمع میں قربانی واجب ہے جبکہ افرد میں نہیں ہے ۔

۳ ۔ طواف کو سعی اور وقوف عرفات و مشعر سے پہلے انجام نہ دیاجائے سوائے کسی عذ رکے جیساکہ مسئلہ ۴۱۲ میں آئے گا ۔جب کہ افراد میں جائز ہے ۔

۴ ۔حج تمتع کا حرام مکہ سے باندھا جاتاہے ۔جبکہ افراد کا حارامو کسی ایک میقات سے باندھاجاتاہے ۔یہ مسئلہ میقات کی بحث میں آئیگا ۔

۵ ۔عمرہ تمتع کا حج تمتع سے پہلے انجام دینا واجب ہے ۔جبکہ حج افرد میں ایسا نہیں ۔

( ۱۵۹) مستح ب حج کا احرم باندھنے والے کے لیے عمرہ تمتع کی طرف عدول کرنا جائز ہے ۔لہذ اوہ تقصیر کرے اور احرام کھول د یلیلکن اگر سعی کے بعد تلبیہ پڑھ چکا ہو تو پھر عمرہ تمتع کی طر ف عدول نہیں کر سکتا۔

( ۱۶۰) حج افردا کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہونے والے کے لیے مستحب طواف کرنا جائز ہے لیکن جس مورد میں عمرہ تمتع کی طرف عدول کرناجائز ہو اور یہ عدول کا قصد نہ رکھتا ہو تو حوط اول یہ ہی خہ وہ نماز طواف سے فارغہونے کے بعد دوبارہ تلبیہ کہے ۔ یہ احتیاط واجب طواف میں بھی جاری ہوگی ۔

حج قران۔

( ۱۶۱) حج قران حج افرد کے ساتھ تمام پہلوں میں مشترک ہے ۔

سواء ے سکے کہ حج قران میں احرام باندھتے وقت حاجی کو قربانی ساتھ رکھنا ہوتی ہے اوراسی لیے اس پر قربانی واجب ہے ۔حج قران میں احرام تلبیہ کہنے کے علاوہ اشعار (حیوان پر علامت لگانا )اور تقلید( حیوان کی گردن میں کسی چیز کا لٹکانا) سے بھی منعقد ہو سکتاہے اور جب کوئی حج قران کا احرام باندھ لے ت واسکے لے حج تمتع کی طرف عدول جائز نہیں ہے ۔

مستحب حج

( ۱۳۰) جس شخص کے لیے حج کرنا ممکن ہو اسے چاہے کہ وہ حج کرے چاہے وہ استطاعت نہ بھی رکھتاہو ۔یا حج الاسلام انجام دے چکا ہو۔بلکہ اگر ممکن ہو تو ہر سال حج کرن امستحب ہے ۔

( ۱۳۱) مناسب ہے کہ مکہ سے آتے وقت دوبارہ حج کے لیے انے ی نیت ہو ،بلکہ بعض رویات میں وارد ہے نہ آنے کی نیت کرن اموت کو قریب کرتاہے ۔

( ۱۳۲) مستحب ہے کہ جس میں استطعات نہ ہو اسے حج کریاجائے ۔جس طرح حج کے لیے قرض کرنا مستحب ہے جب ادا کرنے کا اطئمنان ہو اسی طرح حچ میں زیادہ خرچ کرنا بھی مستحب ہے ۔

( ۱۳۳) فقیر کے لیے جائزہے کہ جب اسکو سہم فقراء میں سے زکواة دی جائے تو اسکو مستحب حج پر خرچ کرے ۔

( ۱۳۴) شادی شد ہ عورت کے لیے مستحب حج کی لیے شوہر کی اجازت ضروری ہے ۔طلاق رجعی کی عدت گزارنے والے کے لیے بھی یہی حکم ہے لیکن طلاق نائب والی عورت کے لیے شوہر کی اجازت معتبر نہیں ہے ۔او جس عورت کا شوہر مر گیا ہو اس کے لیے عدہ وفات میں حج کرنا جائز ہے ۔


احرا م کے میقات ۔

اسلامی شریعت مقدسہ نے احرام باندھنے کے لیے چند جگہیں مقر ر کیں ہیں جہاں سی احرام باندھنا واجب ہے اور اسی جگہ کو میقات کہتے ہیں ۔جن کی تعداد نو ہے ۔

ذوالحلفیہ ۔

یہ مدینہ کے نزدیک واقع ہے یہ مدینہ میں رہنے ولوں کے اور ہر اس شخض کے لیے جو مدینہ کے راستے حج کے لیے جانا چاہیں ۔ احوط یہ ہے کہ احرام مسجد شجرہ سے نباندھا جائے کیونکہ مسجد سے باہر باندھا ہو ا احرام کافی نہیں ہے ۔چاہے وہ مسجد کے مقابل ،دائیں ،بائیں کھڑے ہو کرباندھا جائے سوائے اس عورت کے جو حالت حیض میں ہو یا حائضہ کا حک م رکھتی ہو ۔

( ۱۶۲) بلاکسی عذر یا بیماری یا کمزوری کے ذوالحلفیہ (مسجد شجرہ )سے حجفہ تک احرام باندھنے میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے ۔

وادی عقیق ۔

یہ اہل عراق ،نجد اور ہر اس شخض کے لیے جو اس کے راستے حج کے لیے جائے ۔ اسکے تین حصے ہیں ۔

پہلے حصے کو مسلخ دوسرے کو غمرہ ،تیسرے کوذات عرق کہتے ہیں ۔ احوط اولی یہ ہے کہ تقیہ ،بیماری یاکوئی ارو روکاوٹ نہ ہو تو حاجی کو ذات عرق پہنچنے سے پہلے احرام باندھ لینا چاہے ۔

( ۱۶۳) کہا گیا ہے کہ تقیہ کی حالت میں ذات عرق سے پہلے لباس اتارے بغیر چھپ کر احرم باندھنا جائز ہے اور جب ۔ذات عرق پہنچ جائے تو اپنے کپڑے اتارکر احرام باندھ لے اور اس پر کفارہ بھی واجب نہیں ہو مگر یہ قول اشکال سے خالی نہیں ہے ۔

حجفہ ۔

یہ اہل شام ،مصر اور مغرب والوں بلکہ ہر اس شخض کا میقات جو اس راستے سے گزرے حتی کہ بنابر اظہر اس شخص کا بھی جو ذوالحلیفہ سے گزر کر آیاہولیکن کسی وجہ سے یا بغیر کسی وجہ کے احرم نہ باندھ سکا ہو ۔

یلملم ۔

یہ اہل یمن اور ہر شخص کامیقات ہے جو اس راستے سے آئے یلملم ایک پہاڑی کا نام ہے ۔

قرن منازل

یہ طائف اور اس راستے آنی والوں کا میقات ہے گزشتہ چار میقاتوں میں احرام وہاں موجود مسجد سے باندھنا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر اسجگہ سے جس پر میقات کا نام صادق آئے احرام باندھا جاسکتاہے ۔ اور اگر اسے یقین نہ ہو سکے تو اس سے پہلے نذر کرکے احرام باندھ سکتاہے کیونکہ یہ حالت اختیاری میں بھی جائز ہے ۔

۶ ۔مذکورہ میقاتوں میں سے کسی ایک کا متوازی ۔

یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ان راستو ں سے آرہے ہوں جہاں سے مذکورہ بلامواقیت نہ آتے ہو ں ۔چنانچہ اس وقت ان میقاتوں کے متوازی سے احرام باندھا جاسکتاہے ۔متوازی میقات سے وہ جگہ مرادہے کہ اگر انسان قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہو تو مذکورہ بالا میقاتوں میں س ے کوئی اسکے سیدھے یا الٹے ہاتھ میں اس طرح پڑے کہ اگر متوازی میقات سے گزر جائے تو مذکورہ میقات اسکی پشت میں آئیگی ۔

متوازی میقات کی پہچان کے لیے عرفا تصدیق کافی ہے ۔عقلی طور تحقیق اور غور فکر ضروی نہیں ہے ۔ اگر حاجی اپں ے راتسے مے ایسی دو جگہوں سے گزرے جن میں سے ہر ایک میقات کے متوازی ہو تو احوط اورلی یہ ہے کہ پہلی جگہ سے احرام باندھے۔

مکہ

جس طرح یہ تمتع میقا ت ہے اسی طرح مکہ اور اطراف مکہ میں رہنے والوں کے لیے یہ افراد و قران کا میقات بھی ہے چاہے ان کا فریضہ اہل مکہ کے فریضے کی طرف منتقل ہو ا ہو یا نہیں لہذاان کے لیے جائز ہے کہ حج افراد و قران کے لیے مکہ سے اہرام باندھنا ضروری نہیں ہے ۔ اگرچہ عورت کے علاوہ فرادکے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی میقات مثلا جعرانہ پر جا کر احرام باندھیں احواط اولی یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں جو مکہ تھا وہاں سے احرام باندھا جائے تاہم اظہر یہ ہے کہ نئے محلوں سے بھی احرام باندھا اجاسکتاہے سوائے ان حصوں کے جو احرام سے باہر ہیں ۔

محل رہائش

یہ ان کا میقات ہے جن کی رہائش گاہ میقات کی نسبت مکہ سے زیدہ قریب ہو انکیلیے اپنے گھرسے احرام باندھنا جائز ہے ۔اور میقات جانا ضروری نہیں ہے ۔

۹ ۔ ادنی حل (مثلاحدیبیہ ،جعرانہ ،اورتنعیم )

یہ عمرہ مفردہ کے لیے میقات ہے ان لوگوں کے لیے جو حج قرن و افراد سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ مفردہ کرناچاہتے ہوں ۔ بلکہ ہر اس شخص کے لے جو مکہ میں ہو ار عمرہ مفردہ کرنا چاہتاہو ۔سوائے اس صورت میں جو مسئلہ ۱۴۰ میں گزر چکی ہے ۔

میقات کے احکام

( ۱۶۴) میقات سے پہلے حرام باندھنا جائز نہیں ہے ۔ لہذا حالت احرام میں میقات سے گزر جانا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے خود میقات سے احرام باندھ اجائے ،سوائے مندرجہ ذیل صورتوں کے ۔

۱ ۔ میقات سے پہلے احرام کی نذر کرے ۔ لہذ انذر کی وجہ سے میقات سے پہلے احرام باندھنا صحیح ہو گا ۔اور میقات سے دوبارہ احرام باندھنا یاگزرنا ضروری نہیں ہے ۔ بلکہ ایسے راستے سے مکہ جانا بھی جائز ہے جس میں میقات نہ ائیں اور واجب حج یا مستحب حج یا عمرہ مفردہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا لیکن اگر احرام حج یا عمرہ مفردہ کے لیے ہو تواس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ احرام حج کے مہینوں سے پہلے نہ جیساکہ پہلے بیان ہو چکا ہے ۔

۲ ۔ جب رجب میں عمرہ مفردہ کا قصد کرے اور خوف ہو کہ اگر احرم باندھنے میں تاخیر کرے گ ایا میقات تک پہنچنے کا انتظار کر ے گا تو رجب میں عمرہ اد نہیں کر سکے گا تو اسکے لے میقات سے پہلے احرام باندھنا جائز ہے ۔ار عمرہ ماہ رجب کا ہی شمار ہوگا ۔ چاہے باقی اعمال شعبان میں انجام دے اور اس حکم میں واجب یا مستحب عمرہ میں فرق نہیں ہے ۔

( ۱۶۵) مکلف کو جب میقات پر پہنچنے کا یقین ہوجائے یادلیل موجودہو تو واجب ہے کہ احرام باندھے ۔اگر اس کو میقات پر پہنچنے کا شک ہو تو احرام باندھنا جائز نہیں ہے ۔

( ۱۶۶) اگر کوئی میقات سے پہلے احرام باندھنے کے نذر کرے اورپھر نذر کی مخالفت کرتے ہوئے میقات سے احرام باندھے تو اسک احرام باطل نہیں ہوگا ۔ تاہم اگراس نے جان بوجھ کر مخالفت کی ہو تو نذرتوڑنے کا کفارہ اس پر واجب ہو جائے گا۔

( ۱۶۷) قبل از میقات کی طرح بعد از میقات بھی احرام باندھنا جائز نہیں ہے ۔لہذ اجو شخص حج یا عمرہ کرنا یا مکہ یا حرم میں داخل ہونا چاہے تواس کے لیے اختیاری حالت میں بغیر احرام میقات سے گزرنا جائز نہیں ہے ۔چاہے اگے دوسرامیقات موجودہو ۔ چنانچہ اگر کسی میقات سے گزر جائے تو ممکنہ صورت میں واپس لوٹنا واجب ہے ۔ تاہم اس حکم سے وہ مستثنی ہے جو ذوالحلیفہ سے بلا عذر احرام کے بغیر گزر کر حجفہ پہنچ جائے لہذا اظہر یہ ہے کہ اس شخص کے لیے حجفہ سے حرام باندھنا کافی ہے ۔ لکین گنہگار ہوگا ۔ احوط یہ ہے کہ مکلف متوازی و مقابل میقات سے بھی بغیر احرام کے نہ گزرے اگرچہ بعید نہیں کہ آگے کوئی اور میقات موجود ہو تو متوزی میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز ہو ۔ ایسا مسافر جس کا حج ،عمرہ ،حرم میں داخل ہونے یامکہ میں داخل ہونے کاارداہ نہ ہو ۔ بلکہ حرم سے باہر ہی کام (پیشہ وارانہ ) ہو ۔ اگر میقات سے گزرنے کے بعد حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے عمرہ مفردہ کے لیے ادنی حل (حرم سے باہر نزدیک ترین مقام )سے حرام باندھنا جائز ہے ۔

( ۱۶۸) مذکورہ بالا صورت کے علاوہ اگر مکلف جان بوجھ کر میقات سی بغیراہرام کے گھرے تو دو صورتیں بنیں گی ۔

۔میقات تک واپسی کی ممکنہ صورت میں واپس جاکر میقات سے احرام باندھنا واجب ہے چاہے حرم کے اند رسے واپس جایاجائے یاباہرسے لہذا ایس اکرنے سی بغیر اشکال کے عمل صحیح ہوگا۔

۔ میقات تک ممکنہ صورت نہ ہوتو چاہے حرم کے اندر ہو یا باہر اور اندر ہونے کے صورت میں باہر آسکتا ہو یانہیں تو اظہر یہ ہے کہ حج باطل ہے ۔ اور میقات کے علاوہ کسی اورجگہ سے احرام کافی نہیں ہو گا اور مستطیع ہونے کے صورت میں آئندہ سال حج کی ادائیگی واجب ہوگی ۔

۱ ۔اگر میقات واپس جانا ممکن ہو تو واجب ہے کہ میقات واپس جاکر میقات سے ہرام باندھے ۔

۲ ۔حرم میں جاچکا ہو اور میقات تک جاناممکن نہ ہو لیکن حرم سے باہر جانا ممکن ہو تو لازم ہے کہ حرمسے باہر جائے ور وہاں سے احرام باندھے اور اولی یہ ہے کہ حرم سے جتنا دورہونا ممکن ہو اتنا دور جاکر ہرام باندھے ۔

۳ ۔ حرم میں داخل ہو جکا ہو اور حرم سے باہر جانا ممکن نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ جہاں پر ہو وہاں سے اہرام باندھے چاہے مکہ میں داخل ہو چکا ہو ۔

۴ ۔ حرم سے باہر ہواور میقتات تک واپس ناجا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں جتنا ممکن ہو اتنا واپس جائے اور پھر احرام باندھے ۔

مذکورہ چار صورتوں میں اگر مکلف نے بیان شدہ وظائف پر عمل کی اتو اس عمل صحیح ہو گا۔ احرم کو میقات سے پہلے یا بعد میں باندھنے والا شخص خواہ لاعلمی یابھول کی وجہ سے ایسا کرے تارک احرام کا حکم رکھتا ہے ۔

( ۱۷۰) اگر حائضہ مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے میقات سے احرام نہ باندھے اور ہرم میں داخل ہوجاے تو احوط یہ ہے کہ اگر میقات تک واپس نہیں جا سکتی تو حرم سے باہر جائے اوروہاں سے احرام باندھے بلکہ اس صورت میں احوط یہ ہے کہ جتنا ممکن ہو اتنا حرمسے دور جاکر احرام باندھے بشرطیکہ اسکا یہ عمل حج کے چھوٹ جانے کا سبب نہ بنے اور اگر یہ اس کے لیے ممکن نہ ہوتو وہ اسکے لیے دوسروں کے ساتھ برابر ہے اور اسکا حکم وہی ہے جو مسئلہ ۱۶۹ میں بیان ہوچکا ہے ۔

( ۱۷۱) اگر کسی کا عمرہ باطل ہو جائے خواہ اسکی وجہ احرام کا باطل ہونا ہو تو ممکنہ صورت میں اسکی قضا کرنا واجب ہے اور اگر دوبارہ انجام نہ دے خواہ اسکی وجہ تنگی وقت ہو تو اسکا حج باطل ہوجائے گاتو ضروری ہے کہ آئندہ سال دوبارہ حج کرے ۔

( ۱۷۲) فقہاء کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ افر مکلف بھول جائے یا لاعملی کی وجہ سے بغیر احرام کے عمرہ کرے تو اسکا عمرہ صحیح ہے ۔ لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں ہے اوراس صورت میں احوط یہ ہی کہ اگرممکن ہو تو قبل ازیں مذکورہ شدہ طریقے کے مطابق دوبارہ عمرہ کرے ۔

( ۱۷۳) سابقہ مسئلوں میں بیان ہوچکاہے کہ اگر کسی کا گھر مکہ سے دور ہو اوروہ شخص حج کرنا چاہے تو پہلطے پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک سے عمرہ کاا حرام باندھنا واجب ہے ۔لہذا اگر اسکا راستہ میقاتوں سے گزرتاہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔ لیکن اگر اسکا راستہ کسی میقات سی گزرتاہو تو جیساکہ آجکے زمانے میں بیشتر حجاج جدہ ایرپورٹ پر اترتے ہیں ،ان میں سے بعض ہاجی مدینہ منورہ جانے پر اعمال حج وعمرہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔جب کہ معلوم ہے کہ جدہ میقات نہیں ہے ۔ بلکہ متوازی میقات ہونا بھی نہ ثابت ہے اور نہ ہی اطمئنان ہے لہذا اس صورت میں حجاج ذیل تین صورتوں میں سے کسی ایک انتخاب کریں ۔

۱ ۔نذر کا احرام اپنے وطن یا بعض مواقیت کے گزرنے سے پہلے باندھ لیں ۔اس میں کوئی اشکال نہیں ہے جب سورج سائے میں ہونا لازم نہ آتاہو مثلاسفر رات کاہواسی طرح بارش سے بچنا مقصود نہ ہو ۔

۲ ۔ جدہ سے کسی میقات یا متوازی میقات پر جائے یا ایسی جگہ جائے جو میقات کے پیچھے ہو اور وہاں سے نذر کرکے احرم باندھے مثلارابغ جوحجفہ کے پیچھے ہے ۔ اور مشہور شہر ہے جو عام راستے سے جدہ سے ملاہواہے ۔اورحجفہ کی نسبت یہاں تک پہنچناآسان ہے ۔

۳ ۔جدہ میں ہی نذرکرکے احرام باندھ لے بشرطیکہ معلوم ہو خواہ سرسی طور پرہی سہی کہ حرم اور جدہ کے درمیان ایک متقات متوازی حصہ موجود ہو جیسالہ وہ حصہ حجفہ سے متوازی و مقابل ہونا بعید نہیں ہے ۔ البتہ اگر اس بات کا صرف احتمال ہواورعلم نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے جدہ نیں نذر کر کے احرام بندھنا جائز نہیں ہے ۔ لیکن اگر حاجی جدہ آئے اورمیقات یا میقات کا حکم رکھنے والی جگہ پر جانے ارادہ رکھتاہو اور بعدمیں نہ جاسکے تو اس صوت میں جدہ سے نذر کر کے احرام باندھنا جائز ہے اوراظہر یہ ہے کہ اس صورت میں حرم میں داخل ہونے سے پہَیحرام کی تجدید کرنالازم نہیں ہے ۔

( ۱۷۴) جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکاہے کہ حج تمتع کرنے والے پر واجب ہے کہ حج تمتع کا احرام مکہ سے بدھے لہذا اگرجان بوجھ کر حج تمتع کا احرام کسی اور جگہ سے باندھے توااسکا احرم صحیح نہیں ہوگا۔ چاہے مکہ منیں احرام باندھ کرداخل ہو ۔لہذا اگرممکن ہو تو پھر سے مکہ سے احرام باندھے ورنہ حج باطل ہوگا۔

( ۱۷۵) اگر حج تمتع کرنے والا مکہ سے احرام بھل جائے تو ممکنہ صورت میں مکہ جانا واجب ہے ۔ ورنہ جس جگہ ہو وہیں سے احرام باندھ لے چاہے عرفات میں ہی ہواوراس کا حج صحیح ہو گا ۔ یہی حکم اس شخص کا ہے جسے مسئلہ معلوم نہ ہو ۔

( ۱۷۶) اگرکوئی حج کے احرام کوبھول جائے اوراعمال حج کرنے کے بعد یاد آئے تو اسکا حج صحیح ہوگا اورجو شخص مسئلہ نہ ناتاہواس کابھی یہی حکم ہے ۔


احرام کاطریقہ

احرام میں تین چیزیں واجب ہیں ۔

نیت ۔

یعنی مکلف ارادہ کرے کہ عمرہ یا حج قربة الی اللہ انجام دوں گا ۔نیت میں معتبر نہیں کہ اعمل کوتفصیل سی جانتاہو۔ بلکہ اجمالی معرفت بھی کافی ہے ۔ لہذا اگرنیت کرتے وقت مثلاعمرہ میں جو کچھ واجب ہے تفصیلا نہ جانتاہوتو ایک ایک عمل کو رسالہ عملیہ یا قابل اعتماد شخص سے سیکھ کر انجام دینا کافی ہے۔

نیت میں چند چیزیں معتبر ہیں

۱ ۔ قصد قربت وقصد اخلاص ،جیساکہ ساری عبادتوں میں ضروری ہیں ۔

۲ ۔ خاص جگہ سے احرام کی نیت کرنا ،اس کی تفصیل میقاتوں میں بیان ہوچکی ہے ۔

۳ ۔ احرام کو معین کرنا کہ عمرہ کا ہے یاحج کا اورحج کی صورت میں معین کرنا کہ حج تمتع کاہے یا قران کااورکسی کی جانب سے حج کر رہا ہو تو نیابت کا قصد کرنااورکسی جانب سے قصد نہ کرنا ہی کافی ہو گا کہ عبادت خود اسکی جانب سے ہے ۔ اظہر یہ ہے کہ جو حج نذرکی وجہ سے واجب ہواہو اسکی ساقط ہونے کے لیے کافی ہے کہ نذر کردہ عمل اسکی انجامکردہ عمل پر منطبق ہوجائے اوراسکا صحیح ہونا حج نذر ہونے پر موقوف نہیں ہے ۔ جس طرح اس شخص کیلیے جو حج کرے تو اس حج کوحج اسلام سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے کہ جو حج الاسلام اس پر واجب تھا وہ اس عمل پر جسے یہ بجالایا ہے منطبق ہوجائے اورمزید کسی قصد کی ضرورت نہیں ہے۔

( ۱۷۷) نیت کے صحیح ہونے کے لیے معتبر نہیں کہ زبان سے کہے اگرچہ مستحب ہے جس طرح قصد قربت میں دل سے گزارنا معتبر نہیں ہے بلکہ داعی کافی ہے (یعنی عبادت پرابھارنے والے چیز قربت خداہو)جیساکہ دوسری عبادات میں داعی کافی ہے ۔

( ۱۷۸) احرام کے صحیح ہونے میں محرامات احرام کو ترک کرنیکا عزم اول سے آخر تک ہونا معتبر نہیں ہے ۔ اس بناء پراس بناء پر محرمات کو انجام دینے کا عزم ہو پھر بھی احرام صحیح ہوگا۔لیکن عمرہ مفردہ کے احرام کے دوران اگرکوئی اپنی بیوی سے ،سعی سے فارغ ہونے سے پہلے ،جماع کا ارادہ رکھتاہو یاجماع کرنے میں متردد ہوتو طاہر یہ ہے کہ اس کا احرا م باطل ہے ۔ اور بناء بر احوط استمناء کا بھی یہی حکم ہے ۔ اگر احرام کے وقت جماع یا استمناء کو ترک کرنے اک عزم ہومگر بعد میں اس عزم پر باقی نہ رہے یعنی احرام کے بعد دونوں افعال میں سے کسی ایک کو انجام دینے کا قصد کرے تو اس کااحرام باطل نہیں ہو گا۔

تلبیہ ۔

تلبیہ اس طرح کہے ۔ لبیک اللھم لبیک ،لبیک لاشریک لک لبیک اوراحوط اولی ہے کہ اس جملے کا اضافہ کرے ۔ ان الحمد ونعمة لک والملک ،لاشریک لک ۔ اور جائز ہے کہ اس جملے کے آخر میں لبیک کا اضافہ کرے اوریوں کہے لاشریک لک لبیک ۔

( ۱۷۹) نامز میں تکبیرة الاحرام کی طرح تلبیہ کے الفاظ بھی سیکھنا اورصحیح اداکرنا ضروری ہے ۔ خواہ کسی دوسرے شخص کی مدد سے صحیح ادا کرسکے ۔ لیکن اگرکسی کو تلبیہ یاد نہ ہو اور کوئی پڑھانے والا بھی نہ ہو تو جسطرح سے ادا کرسکتاہو اد اکرے ۔ بشرطیکہ اتنا غلط نہ ہوکہ عمومی کطور پرتلبیہ ہی نہ سمجھا جائے ۔ اور اس صور ت میں احوط یہ ہے کہ جمع کرے یعنی دوسری زبانکے حروف مگر عربی زبان میں تلبیہ پڑھے ،ترجمہ بھی پڑھے اور کسی کو تلبیہ پڑھنے کے لیے نائب بھی بنائے ۔

( ۱۸۰) اگر کسی حادثے میں گونگاہونے والا شخص اگر تلبیہ کے کچھ الفاط کی کچھ مقدر ادا کرسکتاہو تو جتنی مقدار تلبیہ کہہ سکتاہے کہے اور اگر بالکل ادانہ کرسکتاہو تو تلبیہ کودل سے گزارے اور دل سے گزارتے وقت اپنے ابان اور ہونٹوں کو حرکت دے اوراپنی انگلی سے اس طرح اشارہ کرے کہ گویاالفاظ تلبیہ کی تصویر پیش کر رہاہے ۔ لیکن وہ شخص جو پیدائشی گونگاہو یاپیدائشی گونگے کی طرح ہو تو وہ اپنی زبان اورہونٹوں کو اس طرح حرکت دے جس طرح تلبیہ کہنے والا شخص حرکت دیتاہے ۔ اور اس کے ساتھ انگلی سے بھی اشارہ کرے ۔

( ۱۸۱) عیر ممیز بچے کی طرف سے دوسرا شخص تلبیہ کہے ۔

( ۱۸۲) حج تمتع ،عمرہ تمتع ،حج افراداور عمرہ مفردہ کے حرام بغیرتلبیہ کے نہیں باندھے جاسکتے ۔لکین حج قران کا احرام نہ صرو تلبیہ بلکہ اشعار (جانور پر علامت لگانا )اورتقلید (جانور کے گلے میں کوئی چیز لٹکانا)سے بھی باند ھا جاسکتاہے ۔ اشعار اونٹ کی قربانی کے لیے مخصوص ہے جب جب کہ تقلید تمام جانوروں میں مشترک ہے ۔ اولی وبہتر یہ ہے کہ اون تکی قربانی میں اشعارو تقلید کو جمع کیا جائے اوراحج قران کرنے والااگر اپنے احرام کو شعاریا تقلید سے باندھے تو احوط اولی یہ ہے کہ تلبیہ بھی کہے ۔

تلیبہ یہ ہی کہ اونٹ کے کوہان کوایک طرف سے چیرکر خون الودہ کیاجائے تاکہ معلوم ہو کہ یہ قربانی ہے ۔ اور احوط یہ ہی کہ دائیں حصہ کو چیراجاے لیکن اگر قربانی کیلیے اونٹ زیادہ ہوں تو ایک شخص دو اونٹوں کے درمیان میں کھڑا ہوکر ایک اونٹ کے دائیں اوردوسرے ے بائیں جانب سے کوہان کو چیرناجائز ہے ۔

تقلید یہ ہے کہ حاجی رسی یا چمڑے کاپٹہ یانعلین یااسی طرح کی کویی چیز قربانی کی گردن میں لٹکائے تاکہ پتہ چلے کہ یہ قربانی ہے ۔ بعید نہیں ہے کہ تقلیدکی بجائے تجلیل کافی ہو اورتجلیل یہ ہے کہ حاجی کپڑے یااسی طرح کی کسی چیز سے قربانی کو ڈھانپدے تاکہ معلوم ہو کہ یہ قربانی ہے ۔

( ۱۸۳) احرم کے صحیح ہونے میں حدث اصغر یا اکبر سے پاک ہونا شرط نہیں چنانچہ وہ شخص جو حدث اصغر یااکبر کی وجہ سے محدث ہوا ہو مثلامجنب ،حائض اورنساء وغیرہ تواس کا احرام صحیح ہے ۔

( ۱۸۴) تلبیہ یاحج قران کرنے والے کے لیے اشعار یا تقلید کی منزلت سیدی ہے جیسے نماز پڑھنے والے کے لیے تکبیرة الاحرام کی ہے ۔ لہذا تلبیہ یا حج قران کی صورت میں اشعار و تقلیدکے بغیر احرام نہیں باندھا جاسکتا۔ چنانچہ اگر کوئی احرام کی نیت کرکے احرام باندھ لے اور تلبیہ کہنے سے پہَلے محرمات احرام میں سے سی کا مرتکب ہو تو نہ گنہگارہو اورنہ ہی اس پر افارہ واجب ہو گا ۔

( ۱۸۵) افضل یہ ہے کہ جو مسجد شجرہسے حرام باندھے وہ تلبیہ کو اول بیدا،جو ذی الحلفیہ کی آخرم یں ہے اورجہاں سے زمیں ہموار ہوتی ہے تک تاخیر کرے ۔ اگرچہ احوط یہہے کہ تلبیہ کہنے میں کہنے میں جلدی کرے (یعنی میقات میں کہے )اور بلند آواز یں کہنے میں بیدا ء تک تاخیر کرے یہ حک م مرد کی لیے ہے جب کہ عور ت کوکسی بھی مقام پر تلبیہ کنہے کے لیے اواز کو بلند نہیں کرنی چاہیے ۔

دیگر میقاتوں سے ہرام باندھنے والوں کے لیے اولی اوبہتر یہ ہے کہ چند قدم چلں ۴ ے تک تلبیہ کو تاخیر کریں اسی طرح مسجدالحرامسے اہرام باندھنے والوں کیلیے اولی وبہتر یہ ہے کہ تلبیہ کو رقطاتک تاخیرکریں ۔رقطاردم سے پہلے کا مقام ہے ۔ ردم مکہ میں ایک جگہ کانام ہے جسے آجکل مدعی کہتے ہیں ۔جومسجدراعیہ کے قریب کا مقام ہے ۔ اورمسجدجن سے پہلے کا مقام ہے ۔

( ۱۸۶) تلبیہ ایک دفعہ کہنا واجب ہے جب کہ زیادہ کہنا بلکہ جتنی مرتبہ کہہ سکتاہو اسکاتکرارکرنامستحبہے اورعمرہ تمتع اداکرنے والے کے لیے احوط یہ ہے کہ جب پرانے مکہ کے گھروں کے مقام پہنچے تو تلبیہ کہنابند کردے اورپرانے مکہ کے گھروں کا مقاماس شخص کیلیے جو مکہکی اوپری جانب سے مدینہ کے راتے آئے اسکی حد عقبہ مدینین ہے ۔ اورجو شخص مکہ کے نچلے حصہ سے آئے ۔اسکی حد عقبہ ذی طوی ہے ۔اسی طرح عمرہ مفردہ انجام دینے والے کے لیے اوحوط یہ ہے کہ اگر وہ حرم کے باہر سے داخل ہو تو حرم میں داخل ہوتے وقت تلبیہ کہنا بند کردے لیکن اگراس نے ادنی حل کے مقام سے احرام باندھ اہو تو پھر مکہ کے گھروں کو نظر آنیکی جگہسے تلبیہ کہنا بند نہ کرے اور کسی بھی حجکا ادااکرنے والاتلبیہ کوعرفہ کے دن زوال کے وقت بندکردے۔

( ۱۸۷) اگر کوئی احرام کے دو کپڑے پہننے کے بعداوراس جگہ سے گزرنے سے پہلے جس جگہ تلبیہ کہنے میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے شک کرے کہ تلبیہ کہی ہے یا نہیں تو سمجھے کہ نہیں کہی اور اگرتلبیہ کنہے کے بعد شک کرے کہ صحیح تلیبہ کہی ہے یا نہیں تو سمجھے کہ صحیح تلبیہ کہی ہے ۔

احرام کے دو کپڑوں (لنگ اورچادر )کا پہننا۔

۳ ۔احرام کے دو کپڑوں (لنگ اورچادر )کا پہننا۔مگر انہیں اس لباس کو اتارنے کے بعد پہناجائے جس کا پہننا احرام والے پر حرام ہے ۔ اس سی بچے مستثنی ہیں اوربجے لباس اتارنے میں مقام فخ تک تاخیر کرسکتے ہیں ۔جب کہ وہ اس راستے سے جارہے ہوں ۔

طاہر یہ ہے کہ ان دو کپڑوں کو پہننے کا کوئی طریقہ معتبر نہیں ہے چنانچہ ایک جس طرح چاہے لنگ کے طورپر استعمال کرے اوردوسرے کو چادر کے طور پربغل سے نکال کر کندھے پر ڈال لے یا کسی بھی طرح سے اوڑھے اگرچہ اوحوط یہ ہے کہ جس طرح عام طور پر ان کپڑوں کو استعمال کیاجاتاہے اسی طرح استعمال کرے ۔

( ۱۸۸) اظہر یہ ہے کہ احرام کے دو کپڑوں کا پہننا واجب ہے اور احرام کے درست ثابت ہونے میں بطور شرط نہیں ہے ۔

احیتاط یہ ہے کہ لنگ اتناہو کہ ناف سے لے کر زانو ت ک چھپالے اورچادر اتنی ہو کہ دونوں کندھوں ،دونوں بازوں اورکمر کاکافی حصہ چھپالے ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ احرام کونیت اورتلبیہ سے پہلے پہنے اوراگر نیت اورتلبیہ کواحرما سے پہلے انجام دے تو احوط اولی یہ ہے کہ احرامکے بعددوبارہ نیت اورتلبیہ کا اعادہ کرے ۔

( ۱۹۰) اگر کوئی مسئلہ نہ جاننے کی بنا پر یابھول کر قمیص پر حرام باندھ لے تو قمیص اتار دے ،اسکا احرام صحیح ہو گا۔ بلکہ اظہر یہ ہے کہ اگرجان بوجھ ک ر قمیص کے اوپر احرام باندھ لے تب بھی اس کا احرم (قمیص اتارنے کی بعد )صحیح ہو گا۔

لیکن اگر احرام کے بعد قمیص پہن لے تو اسک احرام بغیر شک کے صحیح ہے ۔ تاہم لازم ہے کہ قمیص پھاڑ دے ۔ اورپاؤں کی طرف سے اتاردے ۔

( ۱۹۱) حالت احرام میں خواہ شروع میں یا بعد میں سردی یا گرمی سے بچنے کے لیے یا کسی دوسری وجہ سے دوکپڑوں سے زیادہ پہننے میں اشکا ل نہیں ہے ۔

( ۱۹۲) احرامکے کپڑے میں جو شرائط معتبر ہیں جو نمازی کی لباس میں معتبر ہیں ۔ چانچہ لازم ہے کہ حرام لے لباس میں خالص ریشم یا درندوں کی اجزاء نہ ہوں بلکہ احوط یہ ہے کہ کسی بھی حرامگوشت جانور کے اجزااورسونے کی تاروں کابناہوا نہ ہو اسی طرح ضروری ہے کہ پاک ہو تاسہم جو نجاست نماز میں معاف ہے وہ احرام میں بھی معاف ہے ۔

( ۱۹۳) احوط یہ ہے کہ لنگ ایسے کپڑے کا نہ ہو جس سے بد ن ظاہرہو بلکہ بدن کو چھپانے والا ہو مگر یہ شرط چادر میں معتربر نہیں ہے ۔

( ۱۹۴) لباس احرام میں احوط اولی یہ ہے کہ دونوں کپڑے بنے ہونے ہوں اور چمڑے کھال اور کمبل کی طرح نہ ہوں ۔

( ۱۹۵) مردوں کیلئے لنگ اور چادر پہننا واجب ہے جب کہ عورتوں کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنے عام لباس پر احرام باندھ سکتی ہیں بشرطیکہ ان میں ذکر شدہ شرائط موجود ہوں ۔

( ۱۹۶) اگرچہ ریشم کا لباس پہننا صرف مردوں پر حرام ہے ۔ اور عورتوں پ رحرام نہیں ہے ۔ مگر احوط یہ ہے کہ عورتو ں کے احرام کا کپڑا بھی ریشم کا نہ ہو بلکہ احوط یہہے کہ عورتیں حالت احرام میں خالص ریشم کی کوئی بھی چیز نہ پہنیں ۔ مگر یہ کہ ضرورت ہو جسے گرمی یا سردی سے حفاظت کے لیے پہنناپڑے ۔

( ۱۹۷) اگر حرام باندھنے ے بعد ایک یادونوں کپڑے نجس ہوجائیں ۔ تو احوط یہ ے کہ اس کو پاک کرنے یا تبدیل کرنیمیں جلدی کرے ۔

( ۱۹۸) احرم کے کپڑوں کو ہر وقت پہنے رکھنا ضروری نہیں ہے ۔ چنانچہ چادر کو کندھے سے ہٹانے میں خواہ خواہ ضرورت کے تحت ہٹائے یا بلاضرورت کے ۔ کوئی اشکال نہیں ہے ۔ اسی طرح جب دوسری چادر میں شرائط موجودہوں تو بدلابھی نہیں جاسکتاہے ۔

احرام میں ترک کی جانے والی چیزیں ۔

گذشتہ مسائل میں بیان ہو اکہ تلبیہ اور تلبیہ کاحکم رکھنے والی چیزوں (مثلا اشعار و تقلید حج قران میں ) کے بغیر احرام نہیں باندھا جاسکتا چاہے نیت بھی کر لی جائے

جب مکلف احرام باندھ لے تو ذیل میں درج پچیس چیزیں اس پر حرام ہو جاتی ہیں

( ۱) خشکی کے جانور کا شکار

( ۲ ) جماع کرنا

( ۳) عورت کا بوسہ لینا

( ۴) عورت کو مس کرنا

( ۵) عورت کو دیکھنا اور چھیڑچھاڑ کرنا

( ۶) استمناء

( ۷) عقد نکاح

( ۸) خوشبو لگانا

( ۹) مردوں کے لئے سلا ہو ا کپڑا یا ایسا کپڑا پہننا جو سلے ہوئے لباس کے حکم میں آتا ہو

( ۱۰) سرمہ لگانا

( ۱۱) آئینہ دیکھنا

( ۱۲) مردوں کے لئے بند جوتے یا موزے پہننا

( ۱۳) فسوق (جھوٹ بولنا ، مغلظات بکنا )

( ۱۴) بحث و جھگڑا کرنا ایسا طرز عمل اختیا ر کرنا جو کسی مومن کے لئے اہانت کا باعث ہو

( ۱۵) جسم کی جوئیں وغیرہ مارنا

( ۱۶) آرائش کرنا بننا سورنا

( ۱۷) بدن پر تیل ملنا

( ۱۸ ) بدن کے بال صاف کرنا

( ۱۹) مردوں کیلئے سر ڈھانپنا اسی طرح پانی میں سر ڈبونا اور یہ عورتوں پر بھی حرام ہے

( ۲۰ ) عورتوں کا اپنے چہرے کو چھپانا

( ۲۱) مردوں کا سائے میں رہنا

( ۲۲) جس سے خون نکالنا

( ۲۳) ناخن کاٹنا

( ۲۴) ایک قول کے مطابق دانت نکالنا

( ۲۵) ہتھیار لے کر چلنا


خشکی کے جانور کا شکا ر

( ۱۹۹) محرم کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا ، ہلاک کرنا زخمی کرنا یا ان کے کسی عضو کو توڑنا بلکہ کسی قسم کی اذیت جائز نہیں اسی طرح محل ّ (جوحالت احرام میں نہ ہو ) کے لئے بھی حرم میں حیوانات کو اذیت پہنچانا جائز نہیں یہاں خشکی کے جانو ر سے مراد وہ جانور ہیں جو جنگلی ہو ں چاہے اس وقت کسی وجہ سے پالتو ہوگئے ہوں او ر ظاہر یہ ہے کہ اس حکم میں حلال و حرام گوشت جانور میں فرق نہیں

( ۲۰۰) محرم کے لئے خشکی کے جانور کو شکار کرنے میں کسی او رکی مدد کرنا بھی حرام ہے خواہ دوسرا شخص محرم ہو یا محل یہاں تک کہ اشارہ وغیرہ کے ذریعے بھی مدد کرنا حرام ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ محرم شخص ہر اس کام میں جو خودمحرم پر حرام ہیں جو مسئلہ ( ۱۹۹ ) میں بیان ہوئے کسی دوسرے کی مد دنہ کرے

( ۲۰۱) محرم کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ شکار کو اپنے پاس محفو ظ رکھے چاہے احرام سے پہلے حود اس نے کیا ہویا کسی او رنے حرم میں کیا ہویا حرم سے باہر

( ۲۰۲) محرم کیلئے شکار کا کھانا جائز نہیں چاہے محل نے حرم سے باہر شکار کیا ہو اسی طرح محل کے لئے بھی اس حیوان کا گوشت کھانا جسے محرم (احرام والے شخص نے سے شکار کیا ہو، خواہ شکار کو مارا ہو یا شکا ر کر کے ذبح کیا ہو بنابر احوط حرام ہے نیز محل پر اس حیوان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے جسے کسی محرم یا کسی اور شخص نے حرم میں شکار یا ذبح کیا ہو ۔

( ۲۰۳) بری جانوروں کا بھی وہی ہخم ہے جو خود جاانوروں کا حکم ہے ۔ چنانچہ بعید نہیں کہ اس حیوان کے انڈے کوکھانا ،توڑنا اوراٹھانا بھی محرم پر حرام ہے ۔ لہذا احوط یہ ہی کہ انڈوں کے اٹھانے کھانے اورتوڑے میں بھی کسی کی مدد بھی نہ کرے ۔

( ۲۰۴) جیسا کہ بیان ہو اہے کہ یہ مسائل خشکی کے مانوروں کی لیے مخصوص ہیں اورٹڈی بھی انہیں میں سے ہے ۔ لیکن دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دریائی حیونات سے مراد وہ جانورہیں جو صرف پامی میں زندگی گزارتے ہوں مثلامچھلی ،۔خشکی اورپانی دونوں میں زندگی گزرانے والے جانوروں کاشمار خشکی کے جانوروں ۴ میں ہوگ ا۔ اگرچہ اظہر یہ ہے ةکہ وہ حیوان جس کے خشکی کے ہونے میں شک ہو ،اسکا شکار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

( ۲۰۵) جس طرح خشکی کے جانورکا شکار حرام ہے اسی طرح ہلاک کرنا،خواہ شکار نہ بھی کرے حرام ہے اس حکم سے چدن چیزیں مستثنی ہیں ۔

۱ ۔پالتو جانورچاہے کسی وجہ سے وحشی بن گئے ہوں مثلابھیڑ گائے ۔اونٹ اور پرندے جو مستقل طور اڑ نہیں سکتے مثلامرغ ،چینی مرغ وغیرہ کو ذبح کرنا محرم کے لیے جائز ہے ۔ اسی طرح ان حیوانات کو بھی ذبح کر نا جائزہے جنکے پالتو ہونے کا احتمال ہو ۔

۲ ۔ درنوں او رسانپ وغیرہ جن سے محرم کواپنی جان کا خطرہ ہوتو انکومارنا جائز ہے ۔

۳ ۔ درندہ صفت پرندے جو حرم کے کبوتروں کو اذیت دیں انکو مارناجائز ہے ۔

۴ ۔زہریلا سیاہ سانپ بلکہ ہر خطرناک سانپ ،بچھواو ر چوہا،انکو ہر ہال میں مارنا جائزہے اور انکو مارنیمیں کوئی کدفارہ نہیں ہے ۔ مشہور قول کے بناپرشیر مستثنی ہے ۔ مزید

بر آں جن درندوں سے جان کا خوف نہ ہو ان کو مارنے سے کفارہ واجب ہو جاتا ہے ا ور ان کا کفارہ ان کی قیمت ہے ۔

( ۲۰۶) محرم کے لئے کوے او ر شکاری باز کو تیر مارنا جائز ہے اور اگر وہ تیر لگ جانے سے مر جائیں تو کفارہ واجب نہیں ہے ۔

شکار کے کفارات

( ۲۰۷) اگر محرم شتر مرغ کو ہلاک کر دے تو ایک اونٹ کفارہ دینا ہو گا اگر جنگلی گائے کو مارے تو ایک گائے کا کفارہ دے بنابر احوط وحشی گا ئے کو بھی مارنے کا بھی یہی حکم ہے ہرن اورخرگوش کے مارنے پر ایک بکری دے بنابر احوط لومڑی کو مارنے کا بھی یہی حکم ہے

( ۲۰۸) جو شخص ایسے جانور کا شکار کرے جس کا کفارہ اونٹ ہواور اس کے پاس اتنا مال نہ ہوجس سے اونٹ خرید سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے اور ہر مسکین کوایک مدّ (تقریبا ۷۵۰ گرام )کھانا دے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو ( ۱۸ ) روزے رکھے اگر وہ ایسا جانور ہو کہ جس کا کفارہ گائے ہو او رگائے خریدنے کے پیسے نہ ہوں تو تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے او رکھانا نہ کھلا سکتا ہو ( ۹) روزے رکھے اگروہ ایسا جانور ہو جسکا کفارہ بکری ہو اور اگر بکری نہ خرید سکتا ہو تو( ۱۰) مسکینوں کو کھانا کھلائے او ریہ بھی نہ کر سکے تو ۳ دن روزے رکھے

( ۲۰۹) قطاة، چکور اورتیتر کو مارنے پر بھیڑکا ایسا بچہ جو دودھ چھوڑ کرگھاس چرناشروع کر دے بطور کفارہ دینا واجب ہے چڑیا ، چنڈول اور ممولا وغیرہ مارنے پر اظہر یہ ہے کہ ایک مد طعام دے او رمذکورہ پرندوں کے علاوہ کبوتر یا کوئی اور پرندہ مارنے پر ایک دنبہ کفارہ دے او ران کے بچے کو مارنے پر ایک بکری کا بچہ یا بھیڑ کا بچہ کفارہ دے اورانڈے کہ جس میں بچہ حرکت کر رہا ہو ،کا بھی یہی حکم ہے اور اگر انڈے میں بچہ ہو جو حرکت نہ کر رہا ہو توایک درھم کفارہ دے بلکہ بنابر احوط اگرانڈے میں بچہ نہ بھی ہو توبھی ایک درھم کفارہ دے ایک ٹڈی کے قتل پرایک کھجور یا مٹھی بھرطعام کفارہ دے اور مٹھی بھر طعام دینا افضل ہے اور اگر متعدد ٹڈیاں ہو ں توکفارہ بھی متعدد ہو جائے گا لیکن اگر عمومی طورپر وہ بہت زیادہ شمار ہوں تو کفارہ پھر ایک بکری دینا ہو گا

( ۲۱۰) جنگلی چوہے ، خار پشت او رسوسمار (گوہ) وغیرہ مارنے پر بکری کا بچہ او رصحرائی چھپکلی مارنے پر مٹھی بھر کفارہ دے

( ۲۱۱) زنبور (بھڑ) کو عمدا مارنے پر کچھ مقدارطعام کفارہ دے تاہم اذیت سے بچنے کے لئے مارنے پر کوئی کفارہ نہیں ہے

( ۲۱۲) اگر محرم حرم سے باہر شکار کرے تو اس کو ہر حیوان کے مطابق کفارہ دیناہوگااور جن حیوانات کے لئے کفارہ معیّن نہ ہو تو انکی بازار میں موجود ہ قیمت کفارہ کے طور پر دے اور اگر کسی حیوان کو محل (بغیر احرام والا ) شخص مار دے تو اس کی قیمت کفارہ دے سوائے شیر کے اظہر یہ ہے کہ اس کا کفارہ ایک میں ڈھا دینا ہوگا اور اگر محرم حرم میں شکار کرے تو اسے دونوں کو جمع کر کے دینا ہوگا

( ۲۱۳) محرم کے لئے ایسے راستے کو ترک کرنا جس پر ٹڈے زیادہ ہوں واجب ہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو تو پھر ان کے مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے

( ۲۱۴) اگر کچھ لوگ جو کے حالت احرام میں ہوں مل کر شکار کریں تو ان میں سے ہر ایک کوعلیحدہ کفارہ دیناپڑے گا

( ۲۱۵) شکار کئے گئے جانور کا گوشت کھانے کا کفارہ او رشکار کرنے کا کفارہ برابرہے چنانچہ اگرکسی نے حالت احرام میں شکار کیا اور پھر اس کو کھا لیاتو دو کفارے واجب ہوں گے ایک شکار کا ، دوسرا کھانے کا

( ۲۱۶) محرم کے علاوہ اگر کوئی ارو شخص شکار کو لے کرحرم میں داخل ہو تو اس پر واجب ہے کہاسے چھوڑ دے ۔ چنانچہ اگر وہ نہ چھوڑے اور وہ مجائے تو اس پر کفارہ دیناواجب ہے مسئلہ نمبر ۲۰۱ میں بیان شدہ تمام صورتوں میں احرام باندھتے وقت شکار کو ساتھ رکھنا حرام ہے ۔ چنانچہ اگر اس نے آزاد نہ کیااوروہمرگیا تو کفارہ دے اوراحوط یہ ہے ہ خواہ حرم میں داخلہونے سے پہلے بھی مرجائے تب بھی کفارہدے ۔

( ۲۱۷) حیوان کا شکاریااس کا گوشت کھانے پر کفارہ واجب ہوجاتاہے ۔اوراس سے فرق نہیں پڑتاکہ یہ فعل جان بوجھ کر کرے یا بھول کریا لاعلمی کی وجہ سے سرزد ہو اہو ۔

( ۲۱۸) شکار کے تکرار سے کفارہ بھی مکر ر ہوجاتاہے ۔ چاہے اس کی وجہ غلطی ،یابھول یا لاعلمی ہو اسی طرح ابغیر احرامولاشخص عمدا حرم میں اور محرم شخص متعدد احراموں میں شکار کا تکرار کریں تو تو کفارہ بھی مکرر ہوجائے ۔ لیکن اگر محرم عمدا ایک ہی اہرام میں شکار کی تکرار کرے تو صرف ایک کفارہ واجب ہو جائے بلکہ یہ ن افراد میں سے ہوگا جن کے بارے میں خدانے کہاکہ ومن عادفینتقم اللہ منہ یعنی جو تکرار کرے گا اللہ اس سے انتقام لے گا۔


بقیہ محرمات احرام کے مسائل

جماع

( ۲۱۹) محرم پر عمرہ تمتع کے دوران ، عمرہ مفردہ کے دوران اور اثنائے حج نماز طواف النساء سے پہلے جماع کرنا حرام ہے

( ۲۲۰) اگر عمرہ تمتع کرنے والا عمدا اپنی بیوی سے جماع کرے توچاہے قبل (آگے )میں کرے یا دبر (پیچھے ) میں کرے اگر سعی کے بعد کیا ہوتو اس کا عمرہ باطل نہیں ہو گا تا ہم کفارہ واجب ہوگا اور بنابر احوط کفارے میں ایک اونٹ یا ایک گائے دیاور اگر سعی سے فارغ ہو نے سے پہلے جماع کرے تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو بیان ہوچکا او راحوط یہ ہے کہ اپنا عمرہ تمام کرے پھر اس کے بعد حج کرے او رپھر آئندہ سال ان کودوبارہ انجام دے

( ۲۲۱) اگر حج کے لئے احرام باندھنے والا جان بوجھ کر اپنی بیوی کے ساتھ مزدلفہ کے وقوف سے پہلے جماع کرے خواہ قبل میں کرے یا دبر میں،تو اس پر کفارہ واجب ہے او ر واجب ہے کہ اس حج کو پورا کرے اور آئندہ سال اس کا اعادہ کرے خواہ حج واجب ہو یا مستحب ، عورت کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر وہ احرام کی حالت میں ہو اور حکم کو جانتی ہو اوراس عمل پر راضی ہو تواس پر کفارہ واجب ہے او رضروریہے کہ حج کوپورا کر کے آئندہ سال اس کا اعادہ کرے لیکن اگر عورت کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو تو اس پھر کچھ واجب نہیں ہے اورشوہر پر دو کفارے واجب ہیں جماع کا کفارہ ایک اونٹ ہے او راگر اونٹ نہ دے سکے تو ایک بکری کفارہ دیاور اس حج میں واجب ہے کہ شوہر و بیوی جدا جدا رہیں یعنی دونوں اس وقت تک ایک جگہ جمع نہ ہوں جب تک کوئی تیسرا موجودنہ ہویہاں تک کہ دونوں اعمال حج سے فارغ ہو جائیں حتی کہ منی کے اعمال سے بھی فارغ ہو کر اس جگہ جائیں جہاں جماع کیا تھا لیکن اگر کسی اور راستے سے آئیں( یعنی جماع کی جگہ اس راستے میں نہ ہو)توجائز ہے کہ اعمال تمام ہونے کے بعد وہ ایک ساتھ آئیں اسی طرح دوبارہ کیے جامے والے حج میں بھی جماع کرنے والی جگہ پر پہنچنے سے لے کر منی میں ذبح کرنے تک دونوں کا جدا رہنا واجب ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ اس وقت تک جدارہیں جب تک کہ تمام اعمال حج سے فارغ ہو کر واپس اس جگہ آ جائیں جہا ں جماع ہوا تھا

( ۲۲۲) اگر محرم عمدا وقوف مشعرکے بعد اور طواف النساء سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرے تو سابقہ مسئلہ میں بیان شدہ کفارہ واجب ہے لیکن حج کااعادہکدنا واجب نہیں او ریہی حکم ہے اگر طواف النساء کا چوتھا چکر مکمل کرنے سے پہلے جما ع کرے لیکن اگرچوتھا چکر مکمل ہونے کے بعدہو تو کفارہ بھی واجب نہیں ہے

( ۲۲۳) اگر محرم عمرہ مفردہ میں عمدا اپنی بیوی سے جماع کرے تو سابقہ بیان شدہ کفارہ اس پر واجب ہے اور سعی کے بعد جماعکرنے پر اس کا عمرہ باطل نہیں ہوگا لیکن اگر سعی سے پہلے کر ے تو اس کا عمر ہ باطل ہوجائے گاچنانچہ واجب ہے کہ اگلے مہینے تک مکہ میں رہے اور مشہور پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات سے عمرہ کا اعادہ کرنے کے لئے احرام باندھے، بنابر احوط ادنی حل سے احرام باندھنا کافی نہیں ہے اور یہ بھی احوط ہے کہ باطل ہونے والے عمرہ کو بھی مکمل کریا۔

( ۲۲۴) اگر محل (بغیراحرام ولا)شخص اپنی حراموالی بیوی کے ساتھ جماع کرے تو اگر بیوی راضی ہوت وعورت پر وواجب ہے کہ ایک اونٹ کفارہ دے ۔ لیکن اگر راضی نہ ہو بلکہ مجبوری ہو تو کچھ واجب نہیں ہے ہے اور احوط ہے کہ شووہر اپنی بیوی پر واجب ہونے ولے کفارے کا نقصان ادا کرے یعنی کفارے کی قیمت ادا کرے ۔

( ۲۲۵) اگر محرم شخص لاعلمی کی وجہ سے یا بھول کی وجہ سے اپنی بیوی سے جماع کرے تو اس کا عمرہ اور حج صحیح ہے اور اس پعر کفارہ بھی واجب نہیں ہے ۔ یہ حکم کفارہ کا موجب بننے والے محرمات انجام دینے میں بھی جاری ہوگا ۔جن کی تفصیل آگے آئے گی ۔یعنی لاعلمیی یا بھول کی وجہ سے محرم ان محرمات کا مرتکب ہو تو اس پر کفارہ وجاب نہیں ہو گ ا۔ تاہم مندرجہذیل بعض موارد مستثنی ہیں ۔

۱ ۔ حج یا عمجرہ میں طواف کرنا بھول جائے ۔ یہاں تک کہ اپنے ۔شہر واپس آ کر اپنی بیوی سے مجامعت کرے ۔

۲ ۔عمرہ تمتمع میں سعی کی کچھ مقدار بھول جائے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ سعی مکمل ہوگئی ہے احرام سی فار غ ہو جائے ۔

۳ ۔ اگر بلاوجہ اپنے سر یا داڑھی پر ہاتھ پھیری جس کی وجہ سے ایک سی زیادہ بال گر جائیں ۔

۴ ۔ اگرکوئی لاعملی کی وجہ سے خوشبودار تیل یاجسمیں خوشبو ملائے گئی ہو اپنے بدن میں ملے ان سب کا حکم اپنی جگہ پر آئے گا۔

عورت کا بوسہ لینا۔

( ۲۲۶) محرم کا لذت کے ارادہ سے اپنی بیوی کا بوسہ لیناجائز نہیں ہے ۔ چنانچہ اگر اس نے لذت سی بوسہ لیا اور منی نکل گئی تو اونٹ کفارہ واجب ہوجائے گی اوراگر منی خارج نہ ہو ت وبعید نہیں کہ ایک گوسفند کا کفارہ واجب ہو اگر لذت سے بوسہ لیاہو احتیاط واجب یہ ہی ہ ایک بکری کفارہ دے ۔

( ۲۲۷) اگر محل (بغیر احرام والا)شخص اطنی بیوی کا بوسہ لے تو احتیاط یہ ہی ہ ایک بکری کفارہ د ے۔

۴ ۔ محرم کا شہوت کے ساتھاپنی بیوی کو مس کرنا ،اٹھانایااپنے بازؤں میں بھیچنا جائز نہیں ہے ۔ اور اگر کسی نے ایس اکیا تو لازمہے کہ ایک بکر ی کفارہ دے خواہ منی خارج ہو یا نہ ہو ۔لیکن اگرایساکرنا لذت کے لیے ہو تو کفارہ واجب نہیں ہے ۔

عورت کو دیکھنااورچھیڑ چھاڑ کرنا۔

( ۲۲۹) محرم کے لیے جائز نہیں کہ اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے چنانچہ اگر ایس اجنرے سے منی خارج ہو جائے ت وایک اونٹ کفارہ دے اوراگر اونٹ نہ دے سکتاہو تو ایک بکری دے اگر شوہر کو معلوم ہو کہ شہوت سے دیکھنے کی وجہ سے منی خارج ہو جائے گی تو واجب ہے کہ وہ نہ دیکھے بلکہ احوط اولی یہ ہے کہ جاہے منی خارج ہو یانہ ہو شہوت سے اپنی بیوی کی طرف نگاہ کرے ۔ چنانچہ شہوت کی نظر سے بیوی ک ودیکھنے پر اگرمنی خارج ہو تو اہوط یہ ہے کہ کفارہدے جو کہ ایک اونٹ ہے ۔ لیکن اگر منی خارج نہ ہو یا بغیر شہوت کے دیکھنے پر منی خارج ہو تو پھر کفارہواجب نہیں ہے ۔

( ۲۳۰) اگر محرم اجنبی عورت کوایسی نگاہ سے دیکھے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے اور منی نہ نکلے تو کفارہ واجب نہیں ہے ۔ اور اگر منی نکل آئے تو لازم ہے کہ کفارہ دے ۔ اور احوط یہ ہی کہ اگرمالدار ہوتو ایک اونٹ کفارہ دے اور اگر متوسط ہو تو ایک گائے اوراظہر یہ ہے کہ ایک فقیر کو ایک بکری کفارہ دے ۔

( ۲۳۱) محرم کا اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ نے یا باتیں کرنے سے لزت حاصل کرناجائز ہے اگرچہ احوط یہ ہے کہ محرم اپنی بیوی سے ہر قسم کی لذت حاصل کرنے کو تر ک کرے ۔


استمناء ۔

( ۲۳۲) استمنا ء کی چند اقسام ہیں ۔

۱ ۔ عضو تناسل کو ہاتھ سے ملنا یا کسی اور چیز سے مطلقا حرام ہے ۔ حج میں اسکا حکم وہی ہے جو جماع کا اور عمرہ مفردہ میں بھی بنابر احوط اسک احکم یہی ہے ۔ لہذا اگر محرم مذکورہ عمل کو احرام حج میں مشعر کے وقوف سے پہلے انجام دیتو لازم ہی کہ کفارہ دے اور اس حج کو تمام کرے اور آئندہ سال اس حج کا اعادہ بھی کرے اگر عمرہ مفردہ میں میں سعی سی فارغ ہونے سے پہلے یہ عمل انجام دے تو احتیاط واجبکی بناپر کفارہ دے ۔ اس عمرہ کو تمام کر کے اگے ماہ اسکا اعادہ بھی کرے ۔

۲ ۔ اپنی بیوی کا بوسہ لینے ،چھونے ،دیکھنے یا چھیڑ چھاڑ کے ذریعے استمناء وہی حکم رکھتاہے جو گزشتہ مسئلہ میں بیان ہوچکا ہے ۔

۳ ۔عورت سے متعلق باتیں سننے سے یااس کے اوصاف یا اس کاخیال و تصور کرنے سے استمناء کرن ابھی محرم پرحرام ہے ۔لیکن اظہر یہ ہے کہ موجب کفارہ نہیں ہے ۔

نکاح کرنا۔

( ۲۳۳) محرم کا نکاح کرنایا کسی دوسر یکا نکاح پڑھناجائز نہیں ہے چاہے دوسراآدمی محرم ہو یا نہ ہو ،چاہے نکاح دائمی ہویا غیر دائمی اور مذکورہ تمام صورتوں میں عقد باطل ہے ۔

( ۲۳۴) اگر محرم کا کسی عورت سے نکاح کردیاجائے اور وہ اسکے ساتھ جماع کرے تو اگر یہ لوگ حکم شرعی بلحاظ موضوع جانتے تھے تو محرم ،عورت اورنکاح خواں پر ایک ایک اونٹ کفارہ واجب ہے اوراگر ان میں سے بعض حکم شرعی بلحاظ موضوع جانتے ہوں اور بعض نہ جانتے ہوں تو جو نہیں جانتے تھے ان پر کفارہ واجب نہیں ہوگ ااس سے فرق نہیں پڑتا کہ نکاح خواں اور عورت محرم تھے یانہیں ۔

( ۲۳۵) فقہاکے درمیاں مشہور ہے کہ محرم کے لیے کسی نکاح کی کی محفل میں شریک ہو نا جائز نہیں ہے حتی کہ بنابر احوط اولی نکاح پر گواہی بھی نہ دے خواہ احرام باندھنے سے پہلے نکاح کی محفل میں شریک ہوا ہو ۔

( ۲۳۶) احوط اولی یہ ہی کہ محرم نکاح کے لیے پیش کش بھی نہ کرے تاہم طلاق رجعی میں محرم رجوع کرسکتاہے ۔جسطرح طلاق دینابھی جائز ہے ۔

خوشبو لگانا۔

( ۲۳۷) محرم کے لیے خوشبو کا استعمال حرام ہے چاہے سونگھے ،کھانے ،ملنے ،رنگ یابخارات لینے کی صورت میں ہو اسی طرح ایس لبناس پہننا بھی حرام ہے جس میں خوشبو کے اثرات باقی ہو ں ۔خوشبوسے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے جسم ،لباس یاخوراک کو خوشبودار کیاجائے ۔ مثلا مشک عنبر ،ورس اورزعفران وغیرہ ۔ اظہریہ ہے کہ محرم تمام معرف خوشبوؤں مثلا گل محمدی ،کل یاسمیں،ل رازقی وغیرہ سے اجتناب کرے تاہم خلوق کعبہ (خاص قسم کی خوشبو)کو سونگھنے سے اجتناب کرنایااسکو جسم پر یالباس پر ملنے سے پرہیز کرنا واجب نہیں ہے ۔ خلوق کعبہ ایک عطر ہے جو کہ زعفا اور دوسری چیزوں سے بنایاجاتاہے اوراس سے کعبہ معظمہ کومعطر کیاجاتاہے ۔

( ۲۳۸) ریاحین کو سونگھنا محرمکے لیے حرام ہے چاہے وہ ریاحین ہو جنسے عطر تیار کیاجاتاہے مثلایاسمیں،گلاب وغیرہ یاان کے علاوہ دوسرے پودے ریاحین ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جن سے خوشبوآتی ہے اورانہیں سونگھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔اظہریہ ہے کہ بعض صحرائی خودراؤ سبزیوں کی خوشبو کو سونگھنا حرام نہیں ہے مثلاشیح (ایک قسم کی گھاس ہے )اذخر(خوشبودار گھاس )خزامی (ایک خوشبودار پودا)کا سونگھنااشکال نہیں رکھتا۔ لیکن خثوشبداپھلوں اور سبزیوں مثلاسیب ،بہ(ایک قسم کا پھل )اور طودینہ کوکھانامحرم کے لیے جایز ہے ۔ لیکن احوط یہ ہے کہ کھاتے وقت نہیں نہ دیکھے یہی حکم خوشبودار تیل کاہے چنانچہ اظہر یہ ہے ہ مہک دار تیل جو کھانے میں استمال ہوتاہے اور عام طور پر رطرات میں شمار نہیں ہو ااسکا کاھان جائز ہے لیکن احوط یہ ہی کھاتے وقت نہ سونگھے ۔

( ۲۳۹) صفامرورہ کے درمیاں سعی کرتے وقت اگر وہاں عطر بیچنے والے موجود ہوں تو محرم کا اپنے آپ کو خوشبوسے بچانا واجب نہیں ہے لیکن سعی کے علاوہ اس پر واجب ہے کہ خوشبو سونگھنے سے اپنے آپ کو بچائے سوائے خصوق کعبہ کے سونگھنے سے ،جیسے مسئلہ ۲۳۷ میں بیان ہو اہے کہ کعبہ کی خوشبوسونگھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

( ۲۴۰) اگر محرم عمدا کوئی خوشبودارچیز کھائے یالیسا لباس پہنے جس میں خوشبو کا ا ثر باقی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ایک بکر اکفارہ دے لیکن ان دو موارد کے علاوہ خوشبوکیاسعمتال پر کفارہ واجب نہیں ہے ۔لیکن اگرچہ احوط یہہے کہ کفارہ دے ۔

( ۲۴۱) محرم کا بدبو کی وجہ سے اپنے ناک کو بند رکھنا حرام ہے ۔ تاہم اس مقام سے تیزی سے گزر جانیمیں کوئی حرج نہیں ہے ۔

۔ مرد کے لیے سلا ہو ایاایسا لباس پہنناجو سلے ہوئے لباس کے حکم آتاہو ۔

( ۲۴۲) محرعم کے لیے جائز نہیں کہ یسا لباس پہنے جس میں بٹن یا ایسی چیز ہو جو بتنکا کام دے سکتی ہو (یعنی ایسی چیز جس کا حیک حصہ دوسرے حصہ سے بٹن یاکسی ایسی چیزسے ملاہو ہو ) اسی طرح زردہ کی طرح لباس کا پہننا بھی جائز نہیں ہے (یعنی ایسا لبا س جس میں آستین گریباں ہو اورسر کو گریبان اورہاتھوں کو آستینوں سینکالے )اسی طرح پاجامہ اوراس جیسی چیز وں مثلاپتلون وغیرہ کو شرمگاہ کے چھپانے کے لیے پہنناجائز نہیں ہے ۔ ۔سوائے اس کے کہ ا ن میں بٹن نہہوں ۔ او راحتیاط واجب یہ ہے کہ عموما استعمال ہونے والے لباس مثلاقمیص ،قبا،جنہ اوردوسرے عربی لباس نہ پہنے خواہ ان میں بٹن لگے ہوئے ہوں یا نہ ہوں۔لیکن مجبوری کی حالت میں قمیص یا کسی ایسی چیز کا اپنے کندھوں پر قباڈالانا،قباکوالٹا کر کے پہننا،قبالی اتینوں سے اپناہاتھ نکالے بغیر پہنناجائز ہے ۔ مذکورہ حکم میں لباس کا سلاہو ا،بنا ہو ا،یاتہدارہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ محرم کے لیے پیسوں ے تھیلی کا کمر سے باندھنا جائز ہے ۔ چاہے سلی ہوئے ہو ۔مثلاہمیان (وہ چیز جسمیں پیسے رکھ کرکمرسے باندھا جاتاہے ۔)اورمنطقہ (ایس کمبند جسے مخلتف مقاصد کے لیے کمر سے باندھاجاتاہے )اسی طرح ہرنیا کے مرض میں مبتلامحرم فتق بند(ایس کمر بند جو مریض انتڑیوں کونیچے آنے سے روکتاہے ۔)چاہے سلاہو بوقت ضروت استعمال کرسکتاہے ۔اسی طرح محرم کے لیے سوتے وقت یااس کے علاوہ اپنے جسم کو(سوائے سرکے )سلے ہوئے لحاف وغیرہ کے ڈھانپنا جائز نہیں ہے ۔

( ۲۴۳) احوط یہ ہے کہ محرم اپنی لنگ کو اپنی گردن میں ڈال کر نہ باندھے بلکہ کسی جگہ پر بھی نہ باندھے اورسوئی وغیرہ سے بنھی اسی مضبوط نہ کرے بلکہ بنابر اہوط چادر میں بھی گرہ نمہلگائے لیکن سوئی وغیرہسے چاد کو مضبوط ومحکم کرنے میں کوئی حر ج نہیں ہے ۔

( ۲۴۴) عورت کے لیے حالت احرام میں سوائے دستانوں کے ہر قسم کاسلاہوا لبا سپہنناجائز ہے ۔

( ۱۴۵) اگر محرم عمد ایسا لباس پہنے جس کا پہننااس کے لیے جائز نہیں تھاتوواجب ہے کہ ایک بکری کفارہ دے بلکہ احوط یہ ہے کہ اگر مجبورا پہنے تب بھی کفارہ دے ۔ اگر اس نے کئی مرتبہ اس لباس کو پہنا یا یک مشت کئی لباس پہنے ہوں تو ان کے عدد کے مطابق کفارہ دے مثلاکچھ کپڑوں ک وایک دوسرے کے اوپر ایک ہی مرتبہ پہنے جب کہ وہ مختلف لباس ہوں تب بھی انک ییتعداد کے برابر کفارہ دے ۔

سرمہ لگانا

( ۲۴۶) سرمہلگانے کی دوصورتیں ہیں ۔

۱ ۔سیاہ سرمہ لگانا ایس سرمہ لگایا جائے جسے عرف عام میں زینت شمار کیاجاتاہوتو اظہریہ ہے کہ محرم کے لیے زینت کی خاطر سرمہ لگاناحرام ہے ۔بلکہ احوط یہ ہی کہ اگر زینت کی لیے نہ بھی لگائے تب بھی حرام ہے ۔لیکن بحالت مجبوری مثلابطور دوائی سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

۲ ۔سیاہ سرمہ یاایسا سرمہکہ جو زینت کی لے استعمال ہوتاہے ان دونوں قسم کے سرمہ کے علاوہ کوئی اور سرمہ لگائے تو اگر زینت کے لیے نہ لگائے تو کوئی حرج نہیں ہے ورنہ احوط یہ ہے کہ اس سرمہ کو بھی نہ لگائے ۔ تمامصورتوں میں مے نسرمہ لگانے پر کفارہ واجب نہیں ہے اگرچہ حرام سرمہ لگانے کی صورت میں بہتر ہے کہ ایک بکری کفارہ دے ۔

۱۱ ۔محرم کے لیے زینت کی خاطر آئینہ دیکھنا جائز نہیں ہے لکین کسی دوسری غرض مثلااپنے چہرے کے زخم پر مرحم لگانے کے لئیے یا چہری پر وضوکے لیے پانی پہچننے سے روکاوٹ تلاش کرنے کیلیے یا ڈرائیورکا پیچھے آنے والی گاڑی کو دیکھنے کے لیے یا کسی اور ڑورت کے لیے آئینہ دیکھنا جائز ہے اور تمام صورتوں میں وہ چیزیں جو صاف شفاف ہوں اورآئینہ کا کام دی سکتی ہوں آئینہ کا حکم رکھتی ہیں ۔ وہ شخص زینت کے لیے آئینہ دیکھے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ تلبیہ دوبارہ کہے ۔تاہم عینک لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اگر چشمہ لگانے میں عرفا زینت شمارہوتو اس سے اجتناب کرناچاہیے ۔

مردوں کے لیے بو ٹ یا موزے پہننا۔

( ۲۴۸) محرممرد کے لیے ایس چیز پہننا حرام ہے جو اسکے پاؤں کے اوپر کا تمام حصہ ڈاھانپ لے مثلا بو ٹ او رموزے ۔ سوائے مجبوری کے مثلامرد کو ہوائی چپل ایسی ہی کوئی اور چپل نہ مل سکے اور مجبورا بوٹ پہنناپڑے لیکن اہوط یہ ہی کہ اوپر کا حصہ پھاڑ کرپہنے تاہم ایسی چیزپہننا جائز ہے جوپاؤں کے بعض حصوں کو چھپائے ۔ اسی طرح بو ٹ و موزے وغیرہ پہنے بغیر پاؤں کے اوپر کے حصے کو چھپانا مثلا بیٹھکر چادر کو اپنے پاؤں پر لپیٹنا جائز ہے ۔ بوٹ یااس جیسی چیزوں کو پہننے سے کفارہ واجب نہیں ہے ۔

چہے مجبرا پہنے یا بعیر مجبوری کے لیکن موزے یاا س جیسی چیز کو عمدا پہننے بنابر اہوط کفارہ واجب ہوجائیگا جو کہ ایک بکری ہے ۔ عورتوں کے لیے بوٹ یا موزے یااس جیسی کوئی اور چیز جو پاؤں کے اوپر کے حصے کو چھپا دے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

۔فسوق۔(جھوٹ بولنا،گالی گلوچ کرنا اورفخر و غرور کرنا)

( ۲۴۹) فسوق میں جھوٹ بولنا،گالی دینااورفخر کرنا شامل ہے اگرچہ فسوق ہر حال میں حرام ہے مگر حالت حرام میں اس کی حالت تاکیدی ہے ۔ فخر کرنے سے مرادیہ ہے کہ کوئی اپنے حسب نسب ،مال ،رتبہ یا اس جیسی چیزوں پر فخر کرے ۔ فخر اس وقت حرام ہے جب اسک یبن اپر مومن کی توہین یا تحقیر ہو رہی ہو ورنہ حرام نہیں ہے ۔ نہ محرم پر اور نہ غیر محرم پرفسوق کا استغفار کے علاوہ اور کچھ کفارہ نہیں ہے اگرچہ احوط یہ ہے کہ ایک گائے کا کفارہ دے


جدال(یعنی بحث و جھگڑا کرنا )

( ۲۵۰) محرم کا اس طرح سے بحث یا جھگڑا کرنا جس میں اللہ کی قسم کھا کر کسی چیز کو ثابت کیا جائے یا کسیچیز کا انکا ر کیا جائے حرام ہے ۔ اظہر یہ ہے کہ قسم میں صرو ان دو لفظوں بلی واللہ یا لاواللہ کا لحاظ کرنا معتبر نہیں حی بلکہ ذات حقیقی کی قسم ہو تو کافی ہے چاہے اسم مخصوص اللہ کے ذریعے قسن کھائے یا اسکے علاوہ کسی اور اسم سے اور چاہے قسم لا،یا ,,بلی ،،سے شروع ہو یا نہ ہو ،اسی طرح حاہے قسم عربی زبان میں کھائے یا کسی اور زبان میں ،اللہ کے نام کے علاوہ کسی اورمقدس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے چہ جائے کہ کوئی یوں کہے کہ میری جان کی قسمایس ہے ایسا نہیں ہے ۔ اسی طرح خبر دینے کے علاوہ قسم کا کوئی اثر نہیں ہے مثلا کسی سے التما س کرنے کے لیے قسم کھانااور کہنا کہ,, اللہ کی قسم مجھے فلاں چیز دی دو ،،خود اپنے ارادے کی تاکید کے لیے قسم کھاناکہ میں مستقبل میں یہ کام کرونگا اوریوں کہنا کہ ,,اللہ میں فلاں چیز تمہیں دونگا،،فقہاکا کہنا ہے کہ سچی قسم میں جدال متحقق ہونے میں قسم کا تین مرتبہ پے در پے تکرار کرنا ضروری ہے ۔ ورنہ جدال متحقق نہیں ہو گا تاہم یہ قول اشکا ل سے خالی نہیں ہے اگرچہ احوط اسکے خلاف میں ہے یعنی ایک مرتبہ میں بھی جدال متحقق ہوجائے گا ۔ اور جھوٹی قسم میں جدال کے متحقق ہونے میں بلااشکال تعدد معتبر نہیں ہے ۔

( ۲۵۱) حرمت جدال سے ہروہ مورد مستثنی ہے کہ ۔جہاں قسم کو ترک کرنے سے مکلف کو نقصان ہورہاہو جیسے قسم کو ترک کرنے کی وجہ سے اسکا حق ضائع ہو جائے گا ۔

( ۲۵۲) اگر کسل کرنے والاتین مرتبہ پے در پے سچی قسم کھائے تو اس پر ایک بکری کفارہ واجب ہو گی اور تین مرتبہ سے زیادہ تکرار کرنے کای وجہ سے متعدد کفارہ نہیں ہو گا ۔ لیکن اگر تین یا زیادہ مرتبہ قسم کھانے کے بعدپھر تین یازیادہ مرتبہ قسمیں کھائے تو ان دو صورتوں میں کفارہ بھی متعدد ہو جائیگا ۔ اگرایک جھوٹی قسم کھائے تو ایک مرتبہ پر ایک بکری اوور دومرتبہ پر دو بکری اورتین مرتیبہ قسم کھانے پر ایک گائے کفارہ واجب ہے تین مرتبہ سے زیادہ قسم کھانے پ رکفارہ نہ دی اہو تو ایک ہی کفارہ واجب ہو گا ۔ تاہم دوسری مرتبہ جھوٹی قسم کا کفرہ دینے کے بعد تیسری مرتبہ جھوٹی قسم کھانے پر ایک بکری ہی کفارہ ہوگی نہ کہ گائے ۔

جسم کی جوئیں مارنا۔

( ۲۵۳) محرم کے لیے جوئیں مارنا اور بنابر احوط اپطنے لباس یا جسمسے نکا ل کر باہرپھیکنا جائز نہیں ہے ۔ تاہم جسم کةی ایک جگہ سے پکڑ کردوسری جگہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگر کوئی جوؤں کو ماردے یا پھینک دے تو احوط اولی یہ ہے کہ مٹھی بھر کھانا کفارہ دے ۔ احوط یہ ہے کہ اگر مچھر ،کھٹمل اور ان جیسے جانور محرم کو ضرر نہ پہچائیں تو انکو بھی نہ مارے لیکن اظہر یہ ہے کہ انہیں اپنے قریب آنے سے روکنا جائز ہے ۔ اگرچہ احوط یہ ہے کہ اس کو بھی ترک کرے ۔

آرائش کرنا(بناؤ سنگھار کرنا)

( ۲۵۴) احوط یہ ہے کہ محرم مرد اور عورت اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچائیں جو عموما زینت شمار ہوتی ہے ۔ خواہ زینت کا قصد کرے یانہ کرے ویسے تو عام طور پر مہندی لگانا بھی زینت میں شمار ہجوتاہے لیکن اگر مہندی لگانا زینت میں شمار نہ ہوتاہو مثلا علاج کی غرض سی استعمال کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح احرام باندھنے سے پہلے لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ چاہے اسک ے اثرات احرام باندھنے تک باقی رہیں ۔

( ۲۵۵) زینت کے بغیر انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ چنانچہ انگوٹھی پہننا ایک مستحب عمل ہونے کی وجہ سے،یا گم ہونے سے بچانے کے لیے ،طواف کے چکروں کو شمار کرنے کی لیے یا سی طرح کے کسی اور کام کے لیے پہننے میں کوئی حرج نہیں تاہم احوة یہ ہے کہ زینت کے لیے نہ پہنے ۔

( ۲۵۶) محرم عورت کے لیے زینت کی نیت سے زیوارات پہنان حرام ہے بلکہ احوط یہ حی خہ اگر زینت شمار ہوتے ہوں تو زینتکی نیت کی بغیر بھی نہ پہنے تاہم اتنی مقدار میں زیورات پہنناجنہیں وہ عام طور پر احرم سے پہلے پہنتی تھی اس حکم سے مستثنی ہے لیکن احوط اولی یہ ہے کہ زیورات پہن کراپنے شوہر یا دوسرے محرم مردوں کو نہ دیکھائے مذکورہ بالا تمام موارد میں اگر کوئی زینت کرے تو کو ئی کفارہ واجب نہیں ہے ۔

تیل لگانا۔

( ۲۵۷) محرم کے لیے تیل لگانا حرام ہے چاہے وہ خوشبودار نہ بھی ہولیکن خوشبودار تیل کھاناجائز ہے چاہے وہ تیل اچھی خوشبو الاہوجیساکہ مسئلہ ۲۳۸ میں بیان ہوامحرم کے لیے بعیر خوشبو کاتیل بغیر دوا کے استعمال کرنا جائزہ ہے بلکہ ضرورت ومجبوری کے وقت خوشبودار تیل چاہے اسکی خوشبوطبعی ہو یا ملائی گئی ہو استعال کرنا بھی جائز ہے ۔

( ۲۵۸) عمدا خوشبودار تیل اسکی خوشبو خواہ طبعی ہو یا غیر طبعی استعمال کرنے اک کفارہ ایک بکری ہے ۔ اور اگرتت لاعملی کی وجہ سے استعمال کیاجائے تو دونوں تیلوں کا کفارہ بنابر احوط ایک فقیر کوکھانا کھلاناہے ۔

بدن کے بال صاف کرنا ۔

( ۲۵۹) محرم کا اپنے یا کسی دوسرے کے بدن سے بال صاف کرنا جائز نہیں ہے چاہے دوسرا بغیر احرام کے ہی کیوں نہ ہو اور چاہے مونڈ کر صاف کرے یا اکھاڑ کر اس حکم میں بالوں کے کمیا زیادہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ بلکہ ایک بال کا کچھ حصہ مثلا آدھا بال کاٹنا جائز نہیں ہے لیکن اگر سر میں جوئیں زیادہ ہونے کے وجہ سے اسے اذیت اورتکلیف ہوتی ہو تو پھر سر منڈوانا جائز ہے ۔ اسی طرح سے اگر ضرورت ہو تو بال صاف کرنابھی جائز ہے وضو یا غسل اور تیمم یانجاست سے پاک ہونے یا ایسی روکاوٹ کو دورکرتے وقت جو جسم سے چپکی ہوئی ہو حدث یاخبث طہارت سے مانع بن رہی ہو یا کسی اورضرورت کے وقت اگر بال گریں تو کوئی حرج نہیں ہے جبکہ وہ اسکا قصد نہ رکھتاہو ۔

( ۲۶۰) بغیر ضرورت کے سر منڈوانے کا کفراہایک بکری یاتین دن کے روزے یا چھ مسکینوں کوکھاناکھلاناہے ۔ ہر مسکین کا طعام دو مد (یعنی تقریبا ۱۵۰۰ ۔گرام کے برابر ہے )اگر محرم اپنی دنوں بغلوں کے نیچے کے بالوں کو نوچ کر نکالے تو ایک بکری کا کفارہ دے اوراحوط یہ ہے کہ اگر ایک بغل کے نیچے کے بال نوچ کر نکالے تب بھی ایک بکری کا کفارہ دے ۔ اگر داڑھی یا کسی اور جگہ کے بال نکالے تو ایک مسکین کو مٹھی بھر کھانا دے۔

مذکورہ بالاموارد میں اگر کوئی منڈنے یا نوچ کر نکالنے کے علاوہ کسی اورطرح سے بال نکالے تو احوط یہ ہے کہ اسکابھی یہی حکم ہے ۔ اگر محرم کسی دوسرے کا سر مونڈے تو دوسرا سر مونڈوانے والاحالت ہرام میں ہو یا بُغیر حرام کے تو محرم پرکوئی کفارہ واجب نہیں ہے ۔

( ۲۶۱) محرم کے لیے اس طرح سر کھجانے میں جہ جب بال نہ گریں یا خون نہ نکلے کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہی حکم بدن کھجانے کابھی ہے ۔ اگر محرم بلاوجہ اپنا سر یا داڑھی پر ہاتھ پھیر ے اور ایک یا کچھ بلا گر جائیں تو مٹھی بر کھاناصدقہ دے ۔ اور اگر وضوکرتے وقت کچھ بال گریں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے ۔

مردوں کے لیے سرڈھانپنا۔

( ۲۶۲) محرم مر دکے لیے مقنع یاکپڑے یا دوپٹے وغیرہ سے اپنا پورا سر یا کچھ حصہ ڈھانپنا جائز نہیں ہے ۔بلکہ احوط یہ ہے کہ گیلی مٹیی یا جھاڑی وغیرہ کے ذریعے بھی سر نہ ڈھانپے تاہم مشک کا تسمہ یا سر درد کی وجہ سے سر پر رومال باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس مسئلہ میں سر سے مراد بال اگنے کی جگہ ہے اوراقرب یہ ہے کہ اس میں دونوں کان بھی شامل ہیں ۔

( ۲۶۳) بدن کے کسی حصے مثلاہاتھوں سے سر ڈھانپنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس سے بھی اجنتاب ضروری ہے ۔

( ۲۶۴) محرم کے لیے پورے سر کو پانی یابنابر احوط کسی اورچیز میں ڈبونا جائز نہیں ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ اس حکم میں مر د اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اورسر سے مرادگردن کے اوپر کا پوراحصہ ہے ۔

( ۲۶۵) احوط یہ ہے کہ اگر محرم سر کو چھپائے تو ایک بکری کفارہ دے اورجن موارد میں سر چھپانا جائز نہیں ہے یا مجبورا سر چھپائے توظاہر یہ ہےْ کہ کوئی کفارہ واجب نہیں ہے ۔

عورتوں کے لیے چہرے کا چھپانا۔

( ۲۶۶) حالت اہرام میں عورتوں کے لیے برقعہ ،نقاب یا چہرے سے چپکنے والی چیز سے چہرہ چھپانا حرام چنانچہ احوط یہ ہے کہاپنے چہرے یا چہرے کے کچھ حصے کوبھی کسی چیز سے نہ چھپائے تاہم سوتے وقت اور نامز میں سر چھپاتے وقت مقدمہ کے طور پر جب سر پر موجود چادر کو لٹکانے سے نہ چھپ سکتاجوتو چہرے کا کچھ حصہ ڈانپنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

( ۲۶۷) حالت احرام میں عورت اپنی چادر کو لٹکاکر ،نامحرم پردہ کر سکتی ہے یعنی سر پر موجود چادر کو اپنی ناک بلکہ گردن کے مقابل تک کھینچ لے۔اور اظہر یہ ہے کہ چادر کے اس حصے کوہاتھ وغیرہ سے چہرے سے دور رکھنا واجب نہیں ہے ۔ اگرچہ احوط ہے ۔

( ۲۶۸) احوط اولیٰ یہ ہے کہ چہرہ ڈھانپنے کاکفارہ ایک بکری ہے ۔

مردوں کا سائے میں رہنا

( ۲۶۹) سائے میں ہونا دو طرح سے تصور کیا جاسکتا ہے :

۱ ۔ متحرک اشیاء مثلا چھتری، محمل کی چھت ، گاڑی یا ہوائی جہاز کی چھت ، وغیرہ کے زیر سایہ چلنا ، جب کہ سایہ دار چیز مذکورہ مثالوں کی طرح اس کے سر کے اوپرہوں تومحرم مرد پر حرام ہے خواہ وہ سوار ہو یا پیدل تاہم بدل کے نیچے کھڑاہونا جائز ہے ۔ لیکن اگر سائیہ دار چیز اسکی سیک طرف مثلا سامنے یا پیچھے ہو تو ظاہریہ ہی کہ پیدل شخَص کے لیے ایسا سایہ جائز ہے لہذا محمل یا گاڑی کے سائے میں چلنا محرم مرد کے لے جائز ہے اور سوار کے لیے احتیاط یہ ہے کہ وہ اس سے پرہیز کرے سوائے اسک یکہ عام سورج سے بچنے کا نہ ہو یعنی وہ چیزکھلی ہوئی گاڑی کی دیوار میں محرم مرد کسی ایک طرف ہوں اوراتنی چھوٹی ہو محرم کا سر اور سینہ اس سی نہ چھپتاہو ۔

۲ ۔ ثابت اور غیر متحرک اشیاء مثلادیواریں ،درخت و پہاڑ یا انہیں جیسی کسی اور چیز کے سائے میں ہو نا محرم مرد کے لیے بنا بر احوط جائز ہے خواہ سوار ہو یا پیدل ۔ اسی طرح محرم کا اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو بچاناسورج کی تپش سے بچانا جائز ہے اگرچہ ہواط اس کو ترک کرنے میں ہے ۔

( ۲۷۰) سائے میں ہونے سے مراد اپنے اآپ کو سورج سے بچاناہے اوراحوط یہ ہے کہ اس حکم میں سورج کے ساتھ بارش کو بھی شامل کیاجائے لیکن اظہریہ ہے ہ ہو ا،سردی ،گرمی ،یاان جسیی دوسری چیزوں سیاپنے آپ کو بچانا جائز ہے لیکن احتیاط اسمیں بھی ترک کرنے میں ہے ۔ چنانچہ بنابر احوط جب بارش نہ ہو رہی ہو تو محرم کے لیے چھت والی گاڑی یا کسی اور چیز میں سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگرچہ یہ سواری محرم شخص کو ہو اسے بچا رہی ہو ۔

( ۲۷۱) زةر سایہ چنے کی چو حرم ت بیان ہو ئے ہے وہ حالت سفر میں مخصوص ہے ۔ لہذااگر محرم کسی جگہ پہنچے او راس جگہ کو رہنے کے لیے منتخب کرے یا نہ کرے مثلا دوران سفر آرام کرنے یا دوستوں سے ملاقات کرنے یا کسی اور وجہ سے رکے تو اس وقت سائے میں رہنے میں اشکا ل نہیں ہے ۔ لیکن اس صورت میں کہ جب یہ کسیجگہ پہنچنے اور رہنے ے لیے قرار دے مگر چاہتاہو کہ اپنے کاموں کو انجام دینے کے لیے ادھر ادھر جائے مثلا مکہ میں پہنچے اورچاہتاہو کہ طواف سعی کرنے کے بعد مسجد الحرام جائے یا مثلا منی پہنچے اورقربان یا رمی جمرات کے لیے جانا چاہتاہوتو اس صورعت میں اسکے لیے چھت والی گاڑی میں یا چھتری سے سر پر سائہ کرن اجائز ہے یا نہیں ۔ اس کے جواز کا حکم دینا کافی مشکل ہے ۔چنانچہ احتیاط کو ترک نہیں کرناچاہیے ۔

( ۲۷۲) اگر محرم اپنے آپ کو سورج سے بجائے تو اس پر کفارہ واجب ہے ۔اورظاہر یہ ہے کہ کفارہ واجب ہونے میں اختیاری حالت اور مجبوری کی حالت ہونے میں فرق نہیں ہے ۔ لہذ ااگر کوئی باربار سائے میں چلے تو ااظہر یہ ہے کہ ہر احرام کے لیے ایک کفارہ دے ۔ اگرچہ ہر دن کے لیے ایک کفارہ بنابر احوط کافی ہے اوراکفارہ میں ایک بکری کافی ہے ۔

جسم سے خون نکالنا۔

احوط یہ ہے کح محرم کے لیے اپنے چسن سے کون نکالنا جائزنہیں ہے ۔سوائے کسی مجبوری ے یاضرورت کے گرچہ فصد کھولنے ،حجامت ،دانت نکلوانے ،جسم کو کھجانے یا کسی اوروجہ سے ۔ لیکن اظہر یہ ہے کہ مسواک کرنا جائزہے چاہے اسکی وجہ سے خون نکلے احوط اولی یہ حی کہ بغیر ضرورت کے خون نکالنے کا کفارہ ایک بکری ہے ۔

ناخن کاٹنا۔

محرم کے لیے ناخن کاٹناجائز نہیں ہے ۔ اگرچہ کچھ مقدار میں کاٹے ،سوائے کسی مجبوری وضرورت مثلاناخن باقی رکھنے میں اذیت وتکلیف ہوتی ہو ۔ یعنی اگرناخن کاکچھ حصہ ٹوٹ ۔گیاہو اورباقی حصہ میں دردہورہاہو توباقی ناخن کو کاٹنا بھی جائز ہے ۔

( ۲۷۴) ہاتھ یا پاؤں کا ایک ناخن کاٹنیکا کفارہ ایک مدیعنی تقریبا ۷۵۰ گرام کھاناہے ۔چنانچہ اگردوناخن کاٹے تو کفارہ دو مد طعام اوراسی طرح نوناخنوں تک (ناخن کاٹنے کے لحاظ سے کفارہ ہو گا)۔ لیکن اگرہاتھ اور پاؤں کے پورے ناخن متعدد نشتوں میں کاٹے تو کفارہ دو بکریاں (ایک ہاتھ اوردوسری پاؤں کے ناخنوں کے لیے )ہوگا ۔ اوراگر ایک ہی نشت میں کاٹے تو پھر ایک بکری کفارہ واجب ہو گا ۔

( ۲۷۵) اگر محرم ایسے شخص کے فتوی پر عمل کرنتے ہوئے ناخن کاٹے جس نے ناخن کاٹنے کے جائز ہونے کا فتوی غلطی سے دیا ہو اورکاٹتے ہوئے خون نکل آئے تو احوط یہ ہے کہ کفارہ فتوی دینے والے پر واجب ہے ۔

دانت نکلوانا ۔

( ۲۷۶) بعَض فقہاء نے محرم کے لیے دانت نکلوانا حرام قرار دیا ہے چاہے خوان نہ بھی نکلے اوراس کا ایک دنبہ کفارہ واجب ہے ۔لیکن اس حکم کی دلیل میں تامل ہے ۔ بلکہ بعید نہیں ہے کہ یہ کا م جائز ہو ۔

اسلحہ رکھنا۔

( ۲۷۷) محرم کے لیے اسلحہ پہننا بلکہ بنابر احوط اس طرح ساتھ رکھنا کہ مسلح شمار ہو جائز نہیں ہے ۔ اسلحہ سے مراد ہر وہ چیز جو عموما اسلحہ کہلاتی ہے مثلا۔تلوار،بندوق،تیروغیرہ تاہم زرہ سپر وغیرہ حفاظتی آلات ہیں نہ کہ اسلحہ ۔

( ۲۷۸) محرم کے پا ساسلحہ ہونے میں جبکہ اس نے پہنا ہو ان ہ ہو کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح اسلحہ ساتھ رکھنا جبکہ عرفا مسلح شمار نہ ہو تاہو کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی ترک کرنا احوط ہے ۔

( ۲۹۷) حالت اختیاری میں اسلحہ رکھناحرام ہے ۔ لیکن وقت ضرورت مثلادشمن ی اجوری کا خوف ہو تو جائز ہے ۔

( ۲۸۰) بغیر ضرورت کے اسلحہ ساتھ رکھنے کا کفارہ ایک دنبہ ہے ۔ ابتک محرم پر حرام ہونے والی چیزی ں بیان ہوئی ہیں ۔ذیل میں ہرم میں حرم ہونے والے امور بیان کیے جارہی ہیں ۔


محرمات حرم ۔

۱ ۔خشکی کے حیوانات کا شکارکرناجیساکہ مسلئہ ا ۹۹ میں بیان ہو اہے ۔

۲ ۔ حرم میں اگنے والی کسی چیز کو اکھاڑنا یا کاٹنا خواہ وہ درخت ہو یا کوئی اور چیز لیکن معمول کے مطابق چلنے سے گھاس اکھڑے یا جانور یا کھانے کیلیے جانور کو حرم میں چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن حیوانات کیلیے ذخیرہ کرنے کے لیے گھاس نہیں توڑا جہاسکتاچاہے وہ جانور اونٹ ہی کیوں نہ ہو۔درست ترین قول کے مطابق گھاس وغیرہ اکھاڑنے یا توڑنے لکے حکم سے چند چیزیں مستثنی ہیں۔

( ۱ ) اذخر ۔ جو مشہور خوشبودار گھاس ہے ۔

(ب)کھجور اور دوسرے پھلدار درخت

(ج)وہ درخت یاگھاس جسے خود لگایاہو یعنی اپنی ملکیت میں یا کسی دوسرے کی ملکیت میں ہو۔

(د)وہ درخت یاگھاس جو کسی کے گھر میں اگیں لیکن اسکی ملکیت میں یانے سے پہلے اس گزر میں موجود درخت اورگھاس وغیرہ کاحکم باقی تامم درختوں اورگھاس کے حکم جیس اہے ۔

( ۲۸۱) و ہدرخت جس کی جڑیں حرم میں اور شاخیں حرم سے باہر ہوں یا ایسا درخت جسکی جڑیں حرم میں ہوں افور شاخیں باہر ہوں وہ پور ادرخت حرم میں شمار ہو گا۔

( ۲۸۲) درخت اکھاڑنے کا کفارہ اس درخت کی قیمت ہے ۔ اور درخت کے کچھ حصے کوکاٹنا کا کفارہ کچھ حصے کی قیمت ہے گھاس کو کاٹنے یا اکھاڑنے کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔

۳ ۔حرم کے باہر کسی پر ظلم کر کے حرم میں پناہ لینے والے شخص پر حد ،قصاص یا تعزیرجاری کرناجائز نہیں ہے ۔لیکن ظالم کو کھانااورپانی نہ دیاجائے ۔نہ ہی اس سے بات چیت کی جائے اورنہ ہی اس سے خرید وفرخت کی جائے نہ ہی اسکو کوئی پناہ یاجگہ دے جائے یہاں تک کہ وہ حرم سے باہر آنے پر مجبور ہو جائے اورپھر اسے پکڑ کر اسے اس کے جرم کی سز ادی جائے

۴ ۔ ایک قول کے مطابق حرم میں پڑی ہوئی کسی چیز کو اٹھانا حرام ہے ۔ جبکہ اظہر یہ ہی خہ سخت مکروہ ہے ۔ چنانچہ اگرکوئی شخص حرمن میں پڑی ہوئے چیز اٹھالے اوراس پر کوئی اسی علامت نہ ہوجسکی وجہ سے اسے اسکے مالک تک پہنچایاجاسکے تو ااسے اپنی ملکیت میں لینا جائز ہے خواہ وہ چیز ایک درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی ہی کیون نہ ہو۔ لیکن اگر اس پر کوئی ایسی علامت ہو جسکی وجہ سے اسے اسکی مالک تک پہنچا یاجاسکتاہو اور اسکی مالیت ایک درہم ساے کم ہو تواعلان کرناواجب نہیں ہے اوراحوط یہ ہے کہ اسکے مالک کی طرف سے صدقہ کردے اگر اسی قیمت ایک درہم یااس سے زیادہ ہوتو پھر پوواراایک سال تک اعلان کرن اواجب ہے اوراسکے باوجودمالک نہ ملے تواحوط یہ ہے کہ مالک کی طرفسے صدقہ کردے۔

کفارے کے جانور ذبح کرنے کی جگہ۔

( ۲۸۳) اگر محرم پر عمرہ مفردہ میں شکار ککی وجہ سے کفارہ واجب ہو تو اجانور کو مکہ مکرمہ میں ،اگر عمرہ تمتعیا حج کیاہرام میں شکار کرے توکفارے کے جانور کو منی میں ذبح کرے ۔ جب شکارکے علاوہ کسی ار وجہ سے کفارہ واجب ہو جائے تو اہتیاط کی بن اپر یہی حکم ہے ۔

( ۲۸۴) اگرم محرم پر شکار یاکسی اوروجہ سے(جانور ذبح کرنے کا )کفارہ واجب ہوجائے اوروہ اسے کسی عذر یا بغیرعذرکے مکہی منی میں ذبح نہ کرے توا ظہر یہ ہے کہ کسی بھی گجہ ذبح کرناجائز ہے ۔

کفارہ کا مصرف (کفارہ خرچ کرنے کی جگہ)

محرم پر واجب ہونے والے کفارات کو فقراء ومساکین پر صدقہ کرناواجب ہے اوراحوط یہ ہے کہ کفارہ دینے والاا س میں سے کچھ نہ کھائے اوراگر خود کھالے تو احتیاط یہ ہے کہ ج سمیقدار من کھایاہو اسکی قیمت فقراء میں صدقہ کرے ۔


طواف

عمرہ تمتع میں دوسراواجب عمل طواف ہے طواف کو عمدا چھوڑنے سے حج باطل ہوجاتاہے چاہے اس حکم کا علم ہو یانہ ہو اورحکم سے ناآشنا شخص پربنابر احوط ایک اونٹ کفارہ ہو گا۔

طواف ترک کرنے کا مطلب یہ ہی کہطواف انجام دینے میں اتنی تاخیر کی جائے کہ عرفہ کے دن زوال سے پہلے اعمال عمرہ ادانہ کیے جاسکیں ۔ اظہر یہ ہے کہ اگر عمرہ باطل ہوجائے تو احرام بھی باطل ہوجاتاہے چنانچہ عمرہ تمتع سے حج افراد ِمی طرف عدول و رجوع کرناکافی نہیں ہے ۔ اگرچہ احوط ہے ۔ یعنی حج افردکے اعمال انجام دے جائیں بلکہ احوط یہ ہے کہ طواف ،نامز طواف ،سعی ،حلق یاتقصیر کوحج افرادوعمرہ تمتع کی عمومی نیت سے انجام دے کہ ان دو میں سے جو واجب ہے اسے انجام دے رہاہوں ۔

شرائط طواف۔

طواف میں چند چیزیں شرط ہیں ۔

۔ نیت ۔ طواف قربت کی نیت اور خضوع کے ساتھ خداکا حکم اوربندگی کی بچاآوری کے لیے انجام دے ۔ طواف میں عبادت کو معین کرنا ہبھی معتبر ہے جیساکہ حرام کی نیت کے مسئلہ میں بیان ہو چکاہے ۔

۔ طہارت ۔ حدث اکبر واصغرسے پاک ہو،چنانچہ عمدا یا لاعلمی یابھول کر حالت حدث میں کیا ہو ا طواف باطل ہے ۔

( ۲۸۵) اگر طواف کے دوران حدث صادر ہو جائے تو ااسکی چند صورتیں ہیں ۔

( ۱) چوتھا چکر مکمل کرنے سے پہلے ہوتو طواف باطل ہو جائیگا چنانچہ پاک ہونے کے بعد طوف دوبارہ انجام دینا ضروری ہے بلکہ اظہر یہ ہے کہ چوتھے چکر کے نصف تک پہنچنے کے بعد بھی اگر حدث صادر ہوتب بھی طواف باطل ہے اوردوبارہ انجام دینا ضروری ہے ۔

(ب) چوتھا چکر مکملہونے کے بعد غیراختیارة طور پر حدث صادر ہو تو اپنا طواف قطع کرکے طہارت کرے اوربعد از طہارت اپناطواف وہیں سے شروع کرکے مکمل کرے جہاں سے چھوڑاتھا۔

(ج) چوتھا چکر مکمل ہونے کے بعد اختیاری طور پر ہدث صادر ہو تو احوط یہ ہے کہ طہارت کے بعد اس طواف کو پوراکرے اوراسکا اعادہ بھی کرے ۔

( ۲۸۶ ) اگر طواف شروع کرنے سے پہلے طہارت میں شک ہو تو اگر جانتا ہو کہ پہلے طہارت پر تھا اور بعد میں حدث کے صادر ہونے میں شک ہو تو اس شک کی پروہ نہ کی جائے ورنہ طواف سے پہلے طوا ف کرنا واجب ہے

( ۲۸۷) طواف سے فارغ ہونے کے بعد طہارت میں شک ہو تو شک کی پروہ نہ کی جائے ،تاہم طواف کو دوبارہ انجام دینا احوط اور نماز طواف کے کئے طہارت کرنا واجب ہے

( ۲۸۸) اگر مکلف کسی عذر کی وجہ سے وضو نہ کر سکتا ہو اور عذر کے زائل ہونے کی امید بھی نہ ہو تو تیمم کر کے طواف انجام دے اور اگر تیمم بھی نہ کر سکتا ہو تو اس پر اس شخ کا حکم جاری ہو گا جو طواف کرنے پر قادر نہ ہو اگر امید نہ ہو کہ تیمم کر سکے گا تو طواف کے لئے نائب بنانا ضروری ہے اور احوط یہ ہے کہ خود بغیر طہارت کے طواف کرے

( ۲۸۹) حائض اور نفسائپر ایام ختم ہونے کے بعد اور مجنب شخص پر طواف کے لئے غسل کرنا واجب ہے اور اگر غسل نہ کر سکتے ہوں اور امید بھی نہ ہو کہ غسل کر سکیں گے تو پھر تیمم کر کے طواف انجام دیں نیز احوط ا ولی یہ ہے کہ کسی کو طواف کے لئے نائب بنا دیا جائے اگر تیمم بھی نہ کر سکتا ہواورامید بھی نہ ہو کہ بعد دمیں تیمم کر سکے گا تو کسی کو طواف کے لئے نائب بنانا ہی معین ہے ۔

( ۲۹۰) اگرکوئی عورت احرام کے دوران یا احرام سے پہلے یا بعد میں مگر طواف سے پہلے حائض ہو جائے اوور اتنا وقت ہو کہ ایام حیض گزرنے کے بعداورحج کا وقت آنے سے پہلے وہ اعمال عمرہ کوبجا لاسکے تو پاک ہونے کے بعد غسل کر کے اعمال عمرہ انجام دے اور اگر اتنا وقت نہ ہوتو اس کی دو صورتیں ہیں:

۱ احرام سے پہلے یا احرام کے باندھتے وقت حیض آئے تو اس کا حج ، حج افراد میں تبدیل ہوجائے گا چنانچہ حج افراد مکمل کرنے کے بعد اگر ممکن ہو تو عمرہ مفردہ انجام دے

۲ احرام حج کے بعد حیض آئیتو احوط یہ ہے کہ پہلی صورت کی طرح عمرہ تمتع حج افراد میں بدل دے اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ عمرہ تمتع پربھی باقی رہناجائز ہے یعنی طواف اورنماز طواف کے بغیر عمرہ تمتع کے اعمال انجام دے اس کے بعد سعی کرے اور تقصیر کرے اور پھر حج کیلئے احرام باندھ کر منی میں اعمال انجام دینے کے بعد مکہ واپس آکر حج کے طواف سے پہلے عمرہ کا طواف اورنماز طواف کی قضا ء انجام دے اگر عورت کو یقین ہوکے اس کا حیض باقی رہے گا اوروہ طواف نہیں کر سکے گی یہاں تک کہ منی سے واپسآجائے اورسا کا سبب خواہ قافلے والوں کا عدم صبر ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ طواف او رنماز طواف کیلئے نائب بنائے اور پھر سعی کو خود انجام دے

( ۲۹۱) اگر عورت طواف کے دوران حائض ہو جائے تواگر چوتھا چکرمکمل ہونے سے پہلے حیض آئے تو طواف باطل ہوگا اور اسکا حکم وہی ہے جوگزشتہ مسئلہ میں بیان ہوا اگر چوتھا چکرمکمل ہونے کے بعد حیض آئے ت وجتنا طواف وہ کرر چکی ہے وہ صحیح ہوگا اور اس پر واجب ہے کہ حیض سے پاک ہونے اورغسل کرنے کے بعد اسے مکمل کرے نیز احوط اولی یہ ہے کہ اس طواف کومکمل کرنے کے بعد اس کا اعادہ بھی کرے یہ حکم وقت کے وسیع ہونے کی صورت میں ہے ، اگر وقت تنگ ہو توسعی اورتقصیر کر کے حج کے لئے احرام باندھے اور باقی طواف کی قضاء جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوامنی سے واپس آکر حج کے طواف سے پہلے انجام دے

( ۲۹۲) اگر عورت طواف کے انجام دینے کے بعد مگر نماز طواف سے پہلے حیض دیکھے تواس کا طواف صحیح ہوگا اور یہ عورت پاک ہونے اورغسل کرنے کے بعدنماز طواف انجام دے اگر وقت تنگ ہو تو پھر سعی اورتقصیر کرکے حج کے طواف سے پہلے نماز طواف کی قضا ء انجام دے ۔

( ۲۹۳) اگر عورت کو طواف اور نماز طواف کے بعدپتہ چلے کہ وہ حائضہ ہے اور یہ نہ جانتی ہو کہ حیض طواف سے پہلے یا دوران طواف یا نمازطواف سے پہلے یانماز طواف کے یا نماز طواف کے بعد آیا ہے تو طواف اور نماز طواف کو صحیح سمجھے اگر یقین ہو کہ حیض طواف سے پہلے یا دوران نماز آیا ہے تو اس کا وہی حکم ہے جو گزشتہ مسئلہ میں بیان ہوا

( ۲۹۴) اگر عورت عمرہ تمتع کیلئے احرام باندھے اوراعمال کو انجام دینا بھی ممکن ہو اوریہ جاننے کہ بعدمیں حائض ہونے اور وقت کی کمی کی وجہ سے اعمال انجام نہیں دے سکے گی اعمال کوانجام نہ دے اور حائض ہوجائے نیز حج سے پہلے اعمال عمرہ انجام دینے کا وقت بھی نہ بچے توظاہریہ کہ اس کا عمرہ بھی باطل ہوجائے گا اوراس کاحکم بھی وہی ہے جواحکام طواف کے شرو ع میں بیان ہوچکا ہے

( ۲۹۵) مستحب طواف میں حدث اصغر سے پاک ہونا معتبرنہیں ہے اسی طرح قول مشہور کی بناء پرحدث اکبر سے بھی پاک ہونا معتبر نہیں ہے لیکن نماز طواف طہارت کے بغیر صحیح نہیں ہے ۔

( ۲۹۶) وہ شخص جو کسی عذر کے وجہ سے کسی خاص طریقے سے طہارت کرتا ہو وہ اپنی اسی طہارت پر اکتفا کرے مثلا جبیرہ والا شخص یا وہ شخص جو اپنا پیشاب یاپاخانہ نہ روک سکتا ہو ، اگرچہ مبطون (جوپاخانہ نہ روک سکے )کیلئے احوط یہ کہ اگرممکن ہو توجمع کرے یعنی خودبھی خاص طریقے سے طہارت کرکے طواف اور نماز انجام دے اور کسی کو نائب

بھی بنائے

وہ عورت جسے استحاضہ آئے تو اگر اس کا استحاضہ ,,قلیلہ ،، ہوتو طواف اور نماز طواف کے لئے ایک ایک وضو کرنا ,,متوسطہ،،ہوتودونوں کیلئے ایک ایک وضو علاوہ ایک غسل اور اگر ,,کثیرہ ،، ہوتو دونوں کیلئے ایک ایک غسل کرے اوراگرحدث اصغر سے پاک ہو تو وضوکی ضرورت نہیں ہے ورنہ احوط اولی یہ ہے کہ وضو بھی کرے

خبث سے طہارت

تیسری چیز جو طواف میں معتبرہے وہ ہے خبث سے پاک ہونا ہے چنانچہ نجس لباس یا بدن میں طواف صحیح نہیں ہے احوط یہ ہے کہ ایک درہم سے کم خون جو نماز میں معاف ہے وہ طواف میں معاف نہیں ہے اسی طرح چھوٹے لباس مثلا جراب وغیرہ کی نجاست جو کہ نماز کیلئے مضر نہیں لیکن طواف کیلئے مضر ہے وہ نجاست بھی طواف کیلئے مضر ہے جس کے ساتھ نمازمکمل نہیں ہو سکتی لیکن متنجس چیز کے کو طواف کی حالت میں اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے نجاست کم لگی ہو یا زیادہ

( ۲۹۷) اگر حالت طواف میں بدن یا لباس پر زخم یا پھوڑے کا خون لگا ہو جب کہ زخم یا پھوڑا ابھی صحیح نہ ہوا ہو اور پاک یا تبدیل کرنا بہت زیادہ تکلیف کا سبب ہو اسی طرح بحالت مجبوری بدن یا لباس نجس ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر پاک یا تبدیل کرنے میں بہت سی مشقت یا تکلیف نہ ہو تو احوط یہ ہے کہ نجاست کو دور کرناوواجب ہے ۔

( ۲۹۸) اگر کسی کواپنے بدن یا لباس کے نجس ہونے کا علم نہ وہ اورطواف کے بعد پتہ چلے تو اس کا طواف صحیح ہے اوراعادہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ اسی طرح جب نجاست کا نماز طواف سے فارغ ہونے کے بعد پتہ چلے جب کہ نما ز سے پہلے اس نجاست کے موجود ہونے کا شک نہ ہو یا پہلے سے شک ہو مگر کتحقیق کر چکا ہو اور نجاست کا پتہ نہ چلا ہو تو نماز طواف بھی صحیح ہو گی لیکن اگرکسی کو پہلے سے نجاست کاشک ہو اوراس نے تحقیق بھی نہ کی ہو اور پھر نماز کے بعد اسے نجاست کا پتہ چلے تو احتیاط واجب کی بنا پرنماز دوبارہ پڑھے ۔

( ۲۹۹) اگر کوئی شخص بھول جائے کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اوراسے طواف کے بعد یادآئے تو اظہر یہ ہے کہاسکا طواف صحیح ہے اگرچہ اعادہ کرنااحواط ہے نماز طواف کے بعد یاد آئے تو اگر اسکا بھولنالاپرواہی کی وجہ سے ہو تو احوط یہ ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے ۔ورنہ اظہر یہ ہے کہ اعادہ ضروری نہیں ہے ۔

( ۳۰۰) اگر دوران طواف بدن یا لباس کے نجس ہونے کا پتہ چلے یا طواف سے فارغ ہونے سے پہلے اس کا بدن یا لباس نجس ہو جائے تو اگر موالات عرفی منقطع کیے بغیرنجاست دورکرنا ممکن ہو چاہے اس کے لیے ستر پوشی کی معتبر مقدار کا لحاظ رکھتے ہوئے نجس کپڑا اتارنا پڑے یا پاک کپڑامیسر ہونے کی صورت میں نجس کپڑااتار کر پاک کپڑاپہننے ہر دوصورتوں میں نجاست دور کر کے طواف پوراکرے اوراسکے بعد کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہ جاتی ورنہ احوط یہ ہے کہ طواف بھی پوارکرے اورنجاست دورکرنے کے بعد اسکا اعادہ بھی کرے اعادہ اس صورت میں کرے جب کہ نجاست کا علم یا نجاست کالگناچوتھاچکر مکمل کرنے سے پہلے ہو اگرچہ اعادہ کرنامطلقا ً واجب نہیں ہے ۔

مردوں کاختنہ شدہ ہونا ۔

طواف میں چوتھی شرط مردوں کا ختنہ شدہ ہونا ہے ۔ احوط بلکہ اظہر یہ ہے کہ ممیز بچے میں بھی یہ شرط معتبر ہے لیکن غیر ممیز بچہ میں جسے اسکا ولی طواف کرائے ۔ اس شرط کا معتبر ہونا ظاہرہے اگرچہ ا س صورت میں بھی احوط یہ ہے کہ اسے معتبر سمجھاجائے ۔

( ۳۰۱) محرم خواہ بالغ ہویاممیز بچہ اگرچہ ختنہ طواف نہ کرے تو طواف کافی نہیں ہوگا۔لہذا ختنہ کے بعد دوبارہ طواف نہ کرے تو احوط یہ ہے کہ طواف مطلقا ترک کرنے والے کے حکم میں ہوگااورطواف کے ترک کرنے والے کے احکام جو آئندہ بیان ہونے والے ہیں اس پر بھی جاری ہوں گے ۔

( ۳۰۲) ایساشخص جس کا اختنہ نہ ہو ہو اوروہ مساوروہ مستطیع ہوجائے تو اگر اسی سال ختنہ کرئے کے حج پر جاسکتاہوتو حج پر جائے ورنہ ختنہ کرنے تک حج میں تاخیر کرے ۔ اگر ختنہ کراناکسی نقصان ،رکاوٹ ،تکلیف یاکسی اور وجہ سے ممکن نہ ہو تو حج ساقط نہ ہوگالیکن احوط یہ ہے کہ حج عمرہ میں خود بھی طواف کرے اورکسی کو نائب بھی بنائے اورنماز طواف نائب کے طواف کے بعدپڑھے ۔

شرمگاہ کو چھپانا۔

احوط یہ ہے کہ حالت طواف میں بھی اتنی ہی مقدار میں شرمگاہ کو چھپانا واجب ہے جتنی مقدار کا نماز میں اولی بلکہ احوط یہ ہے کہ جو نمازی کے لباس کی شرائط معتبر ہیں ساتر (وہ چیزیں جن سے شرمگاہ کو چھپایاجائے )میں ،بلکہ طواف کرنے والے کے تمام لباس میں ان شرائط کا خیال رکھاجائے ۔


واجبات ِ طواف۔

طواف میں آٹھ چیزیں معتبر ہیں ۔

۱ ۔ ۲ ۔ہر چکر کو حجر اسودسے شروع کرکے اسی پر ختم کرنا ۔طاہر یہ ہے کہ یہ شرط اس وقت حاصل ہوگی جب حجر اسود کے جس حصے سے چکر شروع کیاجائے وہیں پر ختم کرے ۔اگرچہ احوط یہہے کہ ابتدا و انتہاء میں اپنے بدن کو تمام حجر اسودسے گزارے ۔اس احتیاط کے لیے کافی ہے کہ حجر اسود سے کچھ پہلے کھڑاہوجائے اورطواف کی نیت اس جگہ سے کی جائے جہاں سے حقیقت میں حجر اسود سے سامنا ہو رہاہو ۔پھر خانہ کعبہکی گرد سات مرتبہ چکر لگائے جائیں اورآخری چکر کے اختتام پر حجر اسود سے یہ نیت کرتے ہوئے تھوڑاآگے تک جائے کہ طواف کہ طواف معتبر مقام سے پرپوراہوجائے ۔ اس طرح یقین ہوجائیگا کہ حقیقت می حجر اسود جس جگہ سے شروع ہوناتھا اورجہاں ختم ہوناتھاوہ اس عمل سے حاصل ہوگیا ہے ۔

۳ ۔طواف کرتے وقت خانہ کعبہ کو اپنے بائیں طرف قرار دے چنانچہ اگر دوران طواف کسی رکن کو بوسہ دینے یارش کی وجہ سے کعبہ کی طرف رخ یا پشت ہوجائے یاکعبہ دائیں جانب قرار پائے تواتنی مقدار طواف میں شمار نہیں ہوگی ۔کعبہ کو بائیں طر ف قرار دنیے میں ظاہر ہے کہ اگر عرفایہ کہا جائے کہ کعبہ حاجیکے بائیں طرف ہے تو کافی ہے جیساکہ نبی کریم کاسواری پر طواف کرنے سے ظاہر ہے ہوتاہے ۔ لہذا جب جسم کعبہ کے چاروں ارکان اورحجر اسمعیل کے دووں سروں سے گزر رہاتو جسم کو بائیں جانب کعبہ کی طرف کرنے میں دقت اٹھانے بدن کو موڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

۴ ۔حجراسمعیل کو بھی طواف میں شامل کرنا یعنی حج اسمعیل کے باہر سے چکر لگایاجائے نہ ہی اس کے اوپر سے گزرے اور نہ ہی اندرسے ۔

۵ ۔طواف کرنے والادیوار کعبہ اوراسکے اطراف میں وجود چبوترے (شازروان )سے ہٹ کر چلے ۔

۶ ۔کعبہ کے گرد سات چکر لگانا سات سے کم کافی نہیں ہونگے اگر کوئی جان بوجھ کر سات سے زیادہ چکر لگائے تو اسکااطواف باطل ہو جائگا۔ جسکا بیان بعد میں آئے گا۔

۷ ۔ساتو ں چکر اس طرحسے کیے جائیں خہ عرفا اسے پیے در پے شمارہوں یعنی بأغیر زیادہ توقفکے ایک کے بعد ایک بجالایاجئے ۔ اس حکم سے کچھ موارد مستثنی ہیں ۔ ج سکا بیان بعد میں آئے گا ۔

۸ ۔ طوااف کرنے ولااپنے ارداے اور اختیار سے کعبہ گرد چکر لگائے اگر رش یا کسی ور وجہ سے کچھ مقدار بے اختیار ی کی وجہ سے بجالائے تو یہ کافی نہیں ہو گا اور اسکاجبران ور تدارک کرنا ضروری ہے ۔

( ۳۰۳) فقہا ء کے درمیاں مشہورہی کہ کعبہ اور مقام ابراہیم کی درمیان چکر لگایاجائے ۔ جس کا فاصلہ ساڑھے چھبیس ہاتھ ہے (۱۲/۲میٹر) چونکہ حجر اسمعیل کو طوافکے اندر رکھنے ے وجہ سے حجر اممعیل کی جانب سے زیادہ نہیں ہے ۔ لکین بیعد نہیں کہ طواف اس حصے سے زیادہ میں بھی جائز ہو مگر کراہتکے ساتھ خصوصا ً اس شخص کے لیے جو ا مقدار میں طواف نہ کر سکتاہو یا اس مقدار میں اس کیلیے طواف کرنا حر ج و مشتق کا باعث ہولیکن اگر اس مقدار میں طواف کرنا ممکن ہو تو احتیاط ملحوظ خاطر رکھنا بہترہے ۔

مطاف(وہ جگہ جہاں طواف کیاجائے )سے خارج ہو نا ۔

( ۳۰۴) اگرطواف کرنے والامطاف سے خارج ہو کرکعبہ میں داخل ہوجائے تو ااسکاطواف باطل ہوجائے گاجو دوبارہ کرباہوگا۔اگر آدھے طواف کے بعد مطاف سے باہر ہوتو بہتریہ ہے کہ پہلے اس طواف کو پورا کرے اورپھردوبارہ طواف کرے ۔

( ۳۰۵) اگر کوئی مطاف سے نکل کر چبوترے سے (شازروان )پر جلے تو اتنی مقدار میں طواف باطل ہو گا چنانچہ اتنی مقدار کا تدارک وجبران کرنا ضروری ہے ۔احوط اولی یہ ہے کہ اتنی مقدار تدارک اورطواف پوراکرنے کے بعد یہ طواف دوبارہ بھی کرے ۔اسی طرح احوط اولی یہ ہے طواف کرنے والادوران طواف اپنے ہاتھث کعبنہ کی دیوار تک ارکان وغیرہ کو چھونے کے لییے نہ پھلائے ۔

( ۳۰۶) اگرطواف کرنے ولا حج اسمعیل کے اندرچلا جائے چاہے مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے یا بھول کر تو اس کا یہ چکرباطل ہوجائے گااورضروری ہے کہ اسے دوبارہ انجام دے ۔احوط یہ ہے کہ طواف پوراکرنے کے بعددوبارہ انجام دے ۔ حجر اسمعیل کے اوپرسے گزرنے کا بنابر احوط وہ حکم ہے جو حکم اندرجانے کا ہے نیزاحوط یہ ہے کہ طواف کرتے وقت حجراسمعیل کی دیوار ہاتھ نہ رکھے ۔

طواف کوتوڑنااورطواف کے چکروں کا کم ہونا۔

( ۳۰۷) مستحب طواف کی طرح واجب طواف بھی کسی ضرورت و مجبوری سے بلکہ بنابر اظہر بلاضرورت و مجبری بھی توڑناجائز ہے ۔

( ۳۰۸) اگر واجب طواف چوتھاچکر پوراہونے سے پہلے بغیرکسی وجہ کے توڑاجائے تو طواف باطل ہوجائے کا وردوبارہ بجالانا ضروری ہے لیکن اگر چوتھا چکر پورا کرنے کے بعد توڑاجائے تو احوط یہ ہے کہ اس طواف کو بھی پوراکرے اوردوبارہ بھی انجام دے ۔ تاہم مستحب طواف میں کہ جہاں سے توڑا جائی وہیں سے شروع کر کے پوراکرے ۔چاہے چو تھے چکر سے پہلے توڑے یا بعد میں جب تک کہ عرفاموالات ختم نہ ہوجائے ۔

( ۳۰۹) اگر عورت کو دوران طواف حیض آجائے تو اواجب ہے کہ طواف توڑ کر فورامسجدالحرام سے باہر نکل جائے اوراس طواف کا حکم مسئلہ نمبر ۲۹۱ میں بیان ہو چکا ہے ۔اسی طرح اگر طواف کرنے ولایسے دوران طواف حدث سرزد ہوجائے یا دوران طواف اسے بدن یا لباس کے نجس ہونے کا پتہ چل جائے اسکا حکم مسئلہ نمبر ۲۸۵ اورتین سومیں بیان ہوچکا ہے ۔

( ۳۱۰) اگر بیماری یا اپنی یا کسی مومن بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی اپنا واجب طاف کر چوتھا چکر سے پہلے توڑے تو ظاہر یہ ہے کہ طواف باطل ہے اور دوبارہ کرنا ضروری ہے ۔ لیکن اگر چوتھے چکر کے بعد توڑے تو اظہر یہ ہے کہ طواف صحیح ہوگالہذا واپس آکر جہاں سے توڑاتھا وہیں سے شروع کرے اور احوط یہ ہے کہ اسے پواراکرنے کے بعد دوبارہ بھی بجالائے تاہم مستحب طواف میں جائز ہے کہ جہاں سے چھوڑاتھا وہیں سے شروع کرے چاہے چوتھے چکر سے پہلے چھوڑا ہو۔

( ۳۱۱) طواف کے دوران آڑام کرن ابیٹژنا یا لیٹنا جائزہے لیکن ضروری ہے کہ اتنی دیر بیٹھے یالیٹے کہ تسلسل کاتائثر ختم نہ ہو۔ چنانچہ اتنی دیرلیٹنے یا بیٹھنے سے تسلسل ٹوٹ جائے طواف باطل ہوجائے گالہذا پھر سے شروع کرنا ضروری ہے ۔

( ۳۱۲) اگرکوئی واجب نماز کو وقت پر پڑھنے کے لیے یا نماز کو جماعت سی پرنے کی لیے یا نافلہ نماز کو پڑھنے کے لیے جب کہ اسکا وقت تنگ ہو طواف توڑے تو جہاں سے طواف چھواڑ ہے نماز کے بعد وہیں سے شروع کرے چاہے طواف واجب ہویا مستحب اورچاہے چوتھے چکر سے پہلے چھوڑاہو یا بعد میں اگرچہ احوط یہ ہے کہ جب طواف چوٹھے چک رسے پہلے چھوڑا ہو تواس طواف کو پورا کرکے دوبارہ طواف کرے ۔

( ۳۱۳) اگر طواف میں بھولے کمی ہوجائے اورتسلسل ختم ہونے سے پہلے یا د آجائے تو کمی کو پور اکرے اوراسکاطواف صحیح ہوگا۔اسی طرح اگر تسلسل ختم ہونے کے بعد یاد آئے اورایک یا دو یا تین چکر بھولاہوتو انہیں بجالائے اوراس کاطواف بھی صحیح ہوجائے گا۔اگر خود انجام دینے )ر قادر نہ ہو چاہیے اس لیے ک اپنے شہر واپس آکر یاد آیا ہو کسی کونائب بنائے ۔لیکن اگر تین سے زیادہ چکر بھول گیا ہوہو تو واپس جاجتنے چکر کم ہوں انہیں انجام دے ۔احوط یہ ہے کہ اس طوافر کو پوراکرنے کے بعد دوبارہ بھی انجام دے ۔

طواف میں زیادتی

طواف میں زیادتی کی پانچ صورتیں ہیں۔

۱ ۔طواف کرنے والا زیادتی کواس طواف یادوسرے طواف کا جز نہ سمجھے یعنی سات چکر پورے کرنے کے بعد مستحب کی نیت سے ایک اور چکر انجام دینے سے طواف باطل نہیں ہوگا۔

۲ ۔طوافشروع کرتے وقت ہی ایہ ارادہ ہوکہ زائد حصے کو اس طواف کے جزکی نیت سے انجامدی گ اتواس صورت جین اسک اطواف ولااشکال باطل ہے اورضرفوریہظہ طواف کو دوبارہ انجام دے ۔۔ اسی طرح اگرطواف کے دوران اس قسم کا اراداہ کرے اورکچھ حصہ زیادہ انجام دے توایہی حکم ہے ۔ لیکن اگر زیادہ حصہ انجام نہ دے تواگرزیادتی کے ارادے سے نیت کرنے سے پہلے والے چکر کے باطل ہونے میں اشکال ہے ۔

۳ ۔زائد چکر اس نیت سے کرے کہ جس طواف سے فارغ ہو اہے یہ اس کا جز ہے جب عرفا موالات ختم نہ ہوئی ہویعنی طواف سے طواف سے فارغ ہونے کے بعد زاید چکر کا جز ہونے کا قصد کرے تو اظہر یہ ہے کہ طواف باطل ہے ۔

۴ ۔زائد چکر اس نیت سے کرے کہ یہ دوسرے طواف کاجز ہے اورپھر دوسرے طواف کو کوئی بھی جخر بجانہ لائے تو اس صورت میں نہ ہی زیادتی وجود میں آیئگی اورنہ ہی قران ہو گا لیکن بعض صورتوں میں ممکن ہے کہ اس وجہسے طواف کرنے والے کو قصد قربت حاصل نہ ہو نے کی وجہ سے اس کا طواف باطل بھی ہو سکتاہے مثلاکوئی شخص قران کی نیت رکھتاہو جو کہ حرام ہے اورجانتابھی ہو کہ قران کی وجہ سے طواف باطل ہوجاتاہے تواس صورت میں قصد قربت ثابت نہیں اگرچہ اتفاقا عملی طورپر قران بھی واقع نہ ہو ۔

( ۳۱۴) اگر سہواطواف میں چکر زیادہ ہو جائے اوررکن عراقی تک پہنچنے کے بعدیاد آئے تو زائد چکر کو اباقی چکروں کے ساتھ ملاکر طواف کو پورا کرے ۔بنابر احوط یہ ہی ک طواف واجب یا مستحب کا تعین کیے بغیر یعنی مطلقا قصد قربت سے انجام سے دے اوراس کے بعد جار رکعت نماز پڑھے افضل بلکہ احوط یہ ہے کہ دونوں نمازوں کوجداجدا پڑھے یعنی دورکعت سعی سے پہلے و اجب طواف کی نیت سے اوردو رکعت سعی کے بعدمستحب طواف کی نیت سے اسی طرح اگر رکن عراقی تک پہنچنے سے پہلے یا دآئے تو بھی بنا بر احوط یہی حکم ہے ۔

چکروں کی تعدادمیں شک

( ۳۱۵) چکروں کی تعدادیا چکروں کے صحیح ہونے کے بارے میں شک طواف کے بعد یا موقع گزرجانے کے بعد شک ہو تو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے ۔اسی طرح اگر تسلسل کے ختم ہونے یا نماز طواف شروع کرنے کے بع دشک ہو تو اسکی بھی پرواہ نہ کی جائے ۔

( ۳۱۶) اگر سات چکروں کا یقین ہو اورزیادہ کے بار ے میں شک ہو کہ یہ آٹھواں چکر تھاتو ایسے شک کی پرواہ نہ کی جائے اوریہ طواف صحیح ہو گالیکن اگر یہ شک آخری چکرپورا ہونے سے پہلے ہو تو ااظہر یہ ہے کہ طواف باطل ہے چنانچہ احوط یہ ہے کہ رجاء اسے بھی پوراکرے اوردوبارہ بھی انجام دے ۔

( ۳۱۷) اگر چکر کے اختتام یاچکر کے دوراں کہ تیسرا چکر ہے کہ چوتھا یاپانچوان یا چھٹا ،یاسات چکر وں سے کم کا اورشک ہو تو طواف باطل ہوجائے گا حتی کہ اگر چکر کے اختتام پر چھ اورسات کا شک ہوجائے تب بھی احوط یہ ہے کہ طواف باطل ہے اگر اسی طرح سات سے کم یا زیادہ کاشک ہو مثلاآخر ی چکر کا چھٹا کا ساتواں یا آٹھواں ہونے میں شک ہو تب بھی طواف باطل ہے ۔

( ۳۱۸) اگر کسی کو چھ اور سات میں شک ہو اور حکم نہ جاننے کی وجہ سے وہ چھٹا سمجھتے ہوئے اپناطواف تمام کرے اور اس کی جہالت ،جبران و تدارک کا وقت ختم ہونے تک برقرار رہے تو بعیدنہیں کہ اکس طواف صحیح ہو ۔

( ۳۱۹) طواف کرنے کے لیے جائز ہے کہ کہ اگر اس کے ساتھی کو اسکے چکر وں کی تعداد ک ایقین ہو تو اوہ اسکی بات پر اعتماد کر سکتاہے ۔

( ۳۲۰) اگر کوئی عمرہ تمتع میں جان بوجھ کرطواف چھوڑ دے تو چاہے حکم و مسئلہ جانتا ہو اورطواف ار عمرہ کے باقی اعمال ربز عرفہ کے زوال آفتاب تک انجام دینا ممکن نہ ہو تو اسکا عمرہ باطل ہو گا چنانچہ احوط یہ ہے کہ اگر مسئلہ نہ جانتاہو تو ایک اونٹ کفارہ بھی دے جیسا کہ اسک اذکرع طواف کے باب میں گزر چکا ہے ۔اگر حج میں جان بوجھ کر طواف چھوڑ دے تو اخواہ مسئلہ جانتاہو یا نہ جانتاہو اور اسکا طواف کا جنران کرنا بھی ممکن نہ ہو ،اسکا حج باطل اور۔اگر مسلئکہ نہ جاننے کی وجہ سے چھوڑا ہو تو ایک اونٹ کفارہ دینابھی ضروی ہے ۔

( ۳۲۲) اگر بھول کر طواف چھوڑ دے اوراسکا وقت ختم ہونے سے پہلے یاد آجائے تو اسکا تدارک و جبران کرے اور اظہر یہ ہے کہ سعی بھی طواف کے بعد دوبارہ انجام دے ۔ اگر وقت ختم ہونے کے بعدیاد آئے مثلا عمرہ تمتع کا طواف وقوف عرفات تک بھولارہے یا حج کا طواف ماہ ذی الحجہ تمام ہونے تک یا د نہ آئے تو طواف کی قضا واجب ہے اوراحوط یہ ہے کہ سعیء بھی طواف کے بعدددوبارہ انجام دے ۔

( ۳۲۳) اگر کوئی طواف بھول جائے یہاں تک کہ وطن واپس پہنچ کر اپنی بیوی سے مجامعت کرلے تو واجب ہے کہ اگر حج کا طواف بھولا ہو تو ایک قربانی منیٰ بھیجے اوراگرعمہ کا طپواف بھولاہوتو ایک قربانی مکہ بھیجے اوردنبہ کی قربانی کافی ہے ۔

( ۳۲۴) اگر بھولا ہوا طواف اس وقت یاد آے جب خو د طواف انجام دے سکتاہو تو طواف کی قضا بجا لائے چاہے احرام اتار چکا ہو تاہم دوبارہ احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگرمکہ سے نکل جانے کے بعد یاد آئے تو مکہ میں داخل ہونے کے لیے احرم باندھنا ضروی ہے ۔سوائے ان حالتوں کے جن کا بیان مسئلہ ۱۴۱ میں ہو چکا ہے ۔

( ۳۲۵) وہ چیزیں جو محرم پر حرام تھیں اور جن کا حلال ہونا طواف پر موقوف تھا وہ طو اف بھولنے والے پر ا سوقت تک حلال نہیں ہو نگی جب تک وہ خود یا اسک نائب طواف کی قضا نہ کرے ۔

( ۳۲۶) اگر مکلف کسی بیماری ،ہڈی ٹوٹنے یا کسی اور وجہ سے خود طواف نہ کر سکتاہو اور نہ ہی کسی کی مدد سے انجام دے سکتا ہو تو واجب ہے کہ اسے طواف کروایا جائے یعنی کوئی دوسرا شخص اسے کندھوں پر اٹھاکرطواف کرائے یا کسی گاڑی وغیرہ میں بیٹھاکر طواف کراے ،احوط اولی یہ ہے کہ طواف کرتے وقت حاجی کے پاؤں زمیں کو چھو رہے ہوں ۔ اگر اس طرح سے بھی طواف کرنا ممکن نہ ہو تو واجب ہے کہ اگر نائب بنا سکتا ہوتو نائب بنائے جو اس کی جانب سے طواف کرے ۔ اگر نائب نہ بنا سکتاہو مثلا بیہوش ہو تو اسکاولی یا کوئی اور شخص اسکی جانب سے طواف کرے یہی حکم نماز طواف کا بھی ہے لہذ ااگر مکلف قدرت رکھتا ہو تو خود نماز پڑھے اور اگرخود نہ پڑھ سکتاہو تو کسی کو نائب بنائے (حائض اور نفساء کا حکم شرائط طواف میں بیان ہو چکا ہے )۔


نماز طواف

عمرہ تمتع میں تیسرا واجب نمازطواف ہے ۔

یہ دو رکعت نماز ہے جو طواف کے بعد پڑھی جاتی ہے ۔ یہ نماز نماز فجرکی طرح ہے لیکن اسکی قرائت میں بلند آواز یاآہستہ سے پڑھنے میں اختیار ہے واجب ہے کہ یہ نماز مقا م ابراہیم کے قریب پڑھی جائے اور اظہر یہ ہے کہ مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھنا ضروری ہے ۔ اگر مقام ابراہیم کے قریب پیچھے کی طرف پڑھنا ممکن نہ تو احوط یہ کہ جمع کرے یعنی مقا م ابراہیم کے کسی ایک طرف بھی نما ز پڑھے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دور کھڑے ہوکر بھی نماز پڑھے ۔اگر جمع کرنا بھی ممکن نہ ہو تو ان دو جگہوں میں جہاں ممکن ہو وہاں پڑھے اور ان دو جگہوں پر بھی اگر ممکن نہ ہو تو احوط اولی یہ ہے کہ مقام ابراہیم کے پیچھے قریب نماز پڑھنا ممکن ہو جائے تو احو ط اولی یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے ۔ یہ واجب طواف کا حکم ہے جب کہ مستحب طو اف میں مکلف کو حق ہے حتی کہ اختیاری طو ر پر بھی کہ مسجدمیں جس جگہ چاہے نماز پڑھے ۔

( ۳۲۷) جو شخص جان بوجھ کر نماز طاف نہ پڑھے تو احوط یہ ہے کہ اس کاحج باطل ہے ۔

( ۳۲۸) احوط یہ ہے کہ طواف کے بعد فورا نماز طواف پڑھی جائے یعنی عرفا طواف اور نماز طواف میں فاصلہ نہ ہو۔

( ۳۲۹) اگر نماز طواف بھول جائے اور وہ اعمال جو ترتیب میں اسک ے بنعد ہیں مثلا سعی کے بعد اسے یاد آئے تو نماز طواف پڑھے اور جو اعمال انجام دے چکا ہو ان کا دوبارہ انجام دینا ضروری نہیں ہے اگر چہ تکرار کرنب احوط ہے ۔ لیکن اگر سعی کے دوران یاد آجائے تو سعی چھو ڑ کر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھے اور پھر سعی کو جہاں سے چھوڑ اتھا وہاں سے شروع کرکے تمام کرے ۔اگر مکہ سے نکل جانیکے بعد یاد آئے تو اگر مشقت وزحمت کا باعث نہ ہو تو احوط یہ ہے کہ واپس جاکر نماز کو اس جگہ پر پڑھے ورنہ جہاں یاد آئے وہیں پڑھ لے ۔ حرم جاکرپڑھنا ضروری نہیں ہے خواہ لوٹنا ممکن ہو ۔ جو شخصمسلئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نماز طواف نہ پڑھے اسک احکم وہ ہے جو نماز بھول جانے والے کا ہے اور جاہل قاصر و مقصر کے حکم میں فرق نہیں ہے ۔

( ۳۳۰) اگر کوئی مر جائے اور اس پر نماز طواف واجب ہو اور قضا نمازو ں کے باب میں مذکورہ شرائط موجود ہوں تو اسکا بڑا بیٹا اسکی قضا انجام دے ۔

( ۳۳۱) اگر نماز کی قرائت میں اعراب کی غلطی ہو اور وہ اس کی درستگی نہیں کر سکتاتو اس غلطی کے ساتھ سورہ حمد کا پڑھنا کافی ہے بشرطیکہ زیادہ مقدار اچھی قرائت کے ساتھ پڑھ سکتاہو ۔

لیکن اگر زیادہ قرائت درست قرائت درست قرائت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتاتو احتیاط یہ ہے کہ اپنی اس قرائت کے ساتھ پورے قران میں جو درست قرائت کر سکتاہو قرا ئت کرے اورف اگر یہ ناممکن ہو تو تسبیحات پڑھے ۔

اگر وقت کی تنگی کی وجہ سے پوری قرائت درست نہیں کر سکتااسی زیادہ مقدار سدست کرسجتا ہو تو اسی کو پڑھے ۔ اگر اس کی بضع زیادہ مقدار بھی درست قرائت نہ کرسکے تو قرآن کی وہ آیات جن قرائت درست پڑھ سکتا ہے پڑھے مگر اتنا پڑھے کہ عرف می اسے قرآئت قرتآن کہ اجاسکے اور گر یہ بھی نہیں کرسکتا تو تسبیحا تکا پڑھنا کا فی ہے ۔ جو کچھ بیان ہو وہ سورہ حمد کے بارے میں اور سوررہ حمدکی بعد والی سورہ کے بارے میں ظاہر یہ ہے کہ جس شخص نے اسے یاد نہیں کیا یایاد نہیں کر سکتا اس پر واجب نہیں ہے اور مذکلورہ حکم اہر اس شخص کے لیے ہے جوصحیح قرآئت نہیں کر سکتا ہے ۔چاہے نہ سکیھنے میں ہی مقصر ہی کیوں نہ ہوں لیکن مقصر ہونے کی صورت میں احوط اولی یہ ہے کہ مذکورہ طریقاے سے نماز پڑھے اور جماعت کے ساتھ بھی پڑھے نیز اپنی طرف سے کسی کو نائب بنائے جو اسکی طرف سے نماز اداکرے ۔

( ۳۳۲) اگر قرائت میں اعراب کو صحیح اد ا نہ کر سکتا ہو اور نہ جانننے نمیں معذورہو تو اسکی نماز صحیح ہوگیاور دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور اس پر بھول کر نماز طواف چھوڑ دینے والے کے احکا م جاری گا۔


سعی

عمرہ تمتع کا چو تھا واجب سعی ہے ۔

سعی کو قصد قربت اور خلوص سے ادا کرن امعتبر ہے ۔ شرمگاہ کو چھپانا یا حدث و خبث سے پاک ہو نا شرط نہیں تاہم بہتر یہ ہے کہ طہارت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

( ۳۳۳) سعی کو طواف افر نماز طواف کی بعد انجام دینا چاہے لہذا اگر کوئی طواف یا نماز طواف سے پہلے انجام دے تو طواف اور نماز کے بعد دوبارہ انجام دینا واجب ہے ۔ وہ شخص کو طواف بھول جائے اور اسے سعی کے بعد اسے یاد اسکا حکم بیان ہوچکا ہے ۔

( ۳۳۴) سعی کی نیت میں یہ معین کرنا معتبر ہے کہ یہج عمرہ کی سعی ہے یا حج کی ۔

( ۳۳۵) سعی میں سات چکرہیں ۔پہلاچکر صفا سے شروع ہو مروہ پر ہے جب کہ دوسر ا چکر مروہ سے شروع ہو کر صفاپر ختم ہوتاہے اورتیسراچکر پہلے چکر کی طرح ہوگااسی طرح چکروں کوشمار کیا جائے گا۔

یہا ں تک کہ ساتواں چکر مروہ کپر ختم ہو گا ہرچکر صفاومروہ کے درمیاں کا پوراراستہ طے کرنا معتبر ہے اور ان پہا ڑیوں پر چڑھنا واجب نہیں اگرچہ اولی اور حوط ہے ۔ اسی طرح احوط ہے کہ اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ حقیقت میں پورا راستہ طے کرتے ہوئے مروہ کے ابتدائی حصے تک جائے اور باقی چکر بھی اسطرح مکمل کرے ۔

( ۳۳۶) اگر کوئی مروہ سے سعی شروع کرے چاہے بھولے سے شروع کرے پھر بھی جو چکر اس نے لگایا ہے وہ بیکار ہوگا اور ضروری ہے کہ سعی کو پھر سے شروع کرے ۔

( ۳۳۷) سعی میں )یدل چلنا معتبر نہیں ہے بلکہ حیوان دیاکسی ور چیز پر سوار ہو کر بھی سعی کی جاسکتی ہے ۔لیکن افضل چلنا ہے ۔

( ۳۳۸) سعی سے متعارف راستے سے آنا اورجانامعتبر ہے ۔لہذااگر کوئی غیر مترارف راستے سے مسجدالحرام یا کسی اورراستے سے جائے یا آیے تویہ کافی نہیں ہے ۔تاہم بالکل سیدھا یا جانا یا آنامعتبر نہیں ہے ۔

( ۳۳۹) مروہ کی طرف جاتے ہوئے اورمروہ کی افر اور صفا کی طرف جاتے ہوئے صفا کی طرف رخ ہونا ضروری ہے ۔لہذااگر کوئی مروی کی طرف جاے ہوثئے پشت کرلے یا صفا طرف واپس آتے ہوئے صف اکی جانب پشت کرے تو یہ کافی نییں ہے لیکن آتے یا جاتے ہوئے دائیں بائیں یا طپیچھے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

( ۳۴۰) احوط یہ ہے کہ طو اف کی طرح سعری میں بنھی موالات عرفی کو ملحوظ رکھا جائے تاہم صفا یا مروہ یا انکے درمیانی راستے میں آرام کے لیے بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگرچہ احوط یہ ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیان تھکنے کے علاوہ نہ بیٹھا جائے ۔اسی طوح سعی کو روک کر نماز افضل وقت میں پڑھنا اور نماز کے برد سعی جو دوبارہ ویہں سے شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔سعی کو کسی ضرورت کے بغیر کسی ضرورت کے لیے توڑنا بھی جائز ہے ۔لیکن اگفگر تسلسل خرم ہوجائے تو احوط یہ ہے کہ اس سعی کو بھی مکمل کرے اور دوبارہ بھی انجام دے ۔

احکام سعی ۔

سعی ارکان حج میں سے ایک رکن ہے لہذا اگر کوئی مسلئلہ نہ جانتے ہوئے یا خود سعی کے بارے میں علم نہ رکھنے کی وجہ سے جان بوجھ کر سعی کواس وقت تک ترک کردے کہ اعمال عمرہ کو عرفہ کے دن زوال آفتاب سے پہلے تک انجام دینا ممکن نہ ہو تو اسکا حج باطل ہے ۔اسکاحکم وہی ہے جو اس طرح طواف کو چھوڑ دینے والے کا حکمن ہے جوطواف کے باب میں بیان ہوچکاہے ۔

( ۳۴۱) اگر بھول کر سعی چھوٹ جائے تو جب بھی یاد آئے خواہ اعمال حج سے فارغ ہونے کے بعد یاد آئے سعی ادا کی جائے اگر خواد ادا کرنا ممکن نمہ ہو یا حرج و مشقت و زحت جو تو کسی دوسرے کو سعی کے لیے نائب بنایاجائے اور دونوں صورتوں میں حج صحیح ہوگا ۔

( ۳۴۲) جو شخص سعی کو اس کے وقت مقررہ پر انجام دینے پر قادر نہ ہو حعی ک کسی کی مدد سے بھی سعی نہ کر سکتاہو تو واجب ہے کہ کسی کی مدد طلب کرے تاکہ وہ دوسرت شخص اسے کندھوں پر اٹھاکر یایاکسی گاڑی وغریہ نیں بیٹھا کر سعی کرائے ۔اگر اسطرح سے بھی سعی نہ کر سکتاہو تو کسی کو سعی کے لیے نائب بنائے اور نائیب بنانے پر قادر نہ ہو مثلابیہوش ہو تو اسکا ولی یاکوئی ور شخص اسی جانب سے سعی انجام دے ،اس طرح اس کا حج صحیح ہو گا ۔

( ۳۴۳) طواف اور نماز طواف سے فارغ ہونے کے بعد احتیاط کی بناء پر سعی میں جلدی کی جائے ۔ اگرچہ طاہر یہ ہے کہ رات تک تاخیر کرناجائز ہے ۔تاکہ تھکن دورہوجائے یاگرمی کی شدت کم ہوجائے ۔بلکہ اقوی یہ ہے کہ بغیرسبب کے بھی رات تک تاخیر کرناجائز ہے لیکن حالت اختیار میں اگلے دن تک تاخیر کرناجائز نہیں ہے ۔

سعی میں چکروں کے زیادہ ہونے ک وہی ہے جو طواف میں چکروں زیادہ ہونے کا ہے لہذ ا طواف کے بابب میں مذکورہ بیان کی مطابق سعی میں بھی جان بوجھ کرزیادتی کی جائے توسعی باطل ہو گی ۔ لکین اگ رمسلئکہ نہ جانتا ہو تو اظہریہ ہے کہ زیادتی کی وجہ سے سعی باطل نہیں ہو گی اگرچہ احوط یہ ہے کہ سعی دوبارہ انجام دی جائے ۔

( ۳۴۵) اگر غلطی سے سعی میں اضافہ ہو جائے تو سعی صحیح ہوگی اور ایک چکر یا اس سے زیادہ اضافہ ہو تو مستحب یہ ہیکہ اس سعی کی بھی سات چکر پورے کیے جائیں تاکہ یہ پہلی سعی کے علاوہ مکمل سعی ہوجائے چنانچہ ا سکی سع کا اختتام صفاپر ہو گا۔

( ۳۴۶) اگر کوئی جان بو جھ کر سعی کے چکروں کو کم یا زیادہ انجام دے جاہے مسئلہ جانتے ہوئے یانہ جانتے ہوئے تو اسکا حکم اس شخص کی حکم کی طرح ہے جو جان بوجھ کر سعی کو چھو ڑدے جس کا بیان پہلے ہوچکا ہے ۔ لیکن اگر بھول کر کمی ہوجائے تو اطحر یہ ہے کہ جب یاد آجائے تو اس وقت اس کمی کو پورا کرے چاہے وہ ایک چکر ہو یا ایک سے زیادہ چکر ہوں اگر سعی کا وقت ختم ہونے کے بعد یاد آئے مثلا عمرہ تمتمع کی سعری میں کم ی عرفات میں یہاد ؤآئے کیا حک کی سع ی من کمی جکی طرف ۔ماہ ذالحجہ گزرنے کے بعد متوجہ ہو تو یہ کہ کمی کو پور اکرنے کے بعد سعی کو بھی دوبارہ انجام دی جائے ۔ اگر خود انجام نہ دے سکتاہو یا خود انجام دینے میں زحمت و مشقت ہو تو کسی نائب بنانے اور احتیاط یہ ہی کہ نائب بھولے ہوئے چکر کا جبران بھی کرے سعی بھی دوبارہ انجام دے ۔

( ۳۴۷) اگرکسی سے عمرہ تمتمع کی سعی میں بھول کر کمی ہوجاے اور یہ شخص یہ سمجھتے ہوئے کہ سع سے فارغ جوگیا ہے احرام کھو ل دے تو احوط یہ ہے کہ ایک گائے کفا رہ دے اوربیان شدہ تعرتیجب کے مطابق سعی کو مکمل کرے ۔

سعی میں شک

سعی کا موقع گزرنے کے بعد اگر رسعی کے چکروں کی تعداد یا انکے صحیح ہونے کی بارے میں شک ہوتو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے مثلاعمرہ تمتع میں تقصیر کے بعد سرعی کے چکروں کی تعداد یا صحیح ہونے کا شک یا حج میں طواف النساء شروع ہونے کے بعرد شک ہوتو اس شک ی پرواہ نہ کی جائے ۔ اگر سعی سے فارغ ہونے کے بعد ہی چکروں کے زیادہ ہونے کے بارے میں شک ہو تو سعی کو صحیحح سمجھاجائے ۔ اگر چکروں کے کم ہونے کا شک تسلسل ختم ہونے سے پہلے ہوتو سعی باطل ہو گی بلکہ احتیاط کی بناپر تسلسل ختم ہونے کے بعد شک ہو تب بھی سعی باطل ہو گی ۔

( ۳۴۸) اگر چکر کے اختتام پر زیادہ ہونے کا شک ہو مثلا مروہ پہنچ کر شک ہو کہ یہ ساتواں چکر تھا یا نواں تو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے اور یہ سعی صحیح ہوگی ۔اگر چکرکے دوران یہ شک ہو تو سعی باطل ہے اور واجب ہے کہ سعی پھر سے شروع کی جائے ۔

( ۳۴۹) سعی کے دوران شک کا حکم وہی ہے جو طواف کے دوران چکروں کی تعداد میں شک کا حکم ہای چنانچہ سعی کے دوران چکرواں کی تعرداد کی شک سے ہر صورت میں سعی باطل ہے ۔


تقصیر

عمرہ تمتع میں پانچوان واجب تقصیر ہے ۔

تقصیر میں قصد قربت اور خلوص معتبر ہے تقصیر کا مطلب یہ ہے کہ حاکی اپنے سر، داڑھی یامونچھوں کے کچھ بال کاٹے ۔اظہر یہ ہے کہ کاٹنے کی بجائے نوچنا کافی نہیں ہے ۔ فقہاء کے درمیان مشہور ہے کہ ہگااتھ پاؤں کا کوہئیناخن کاٹنے سے بھی تقصیر وجود میں آجاتی ہے لیکن احؤط یہ ہے کہ ناخن کاتنے کو کافی نئہ سججھا جائے ورف اور بال کاٹنے تک اسکو کاٹنے میں تاخیرکی جائے ۔

( ۳۵۰) عمرہ تمتع کے احرام کو صرف تقصیر ہی کے ذریعے کھولاجاسکتاہے ۔ سر منڈوانا کافی نہیں ہے بلکہ سر منڈوانا حرام ہے لہذ اکوئی جان بثجھ کر سر مونڈھ لے تو ضوفر ی ہے کہ ایک بکری کفارہ دے بلکہ احوط اولی یہ ہے کہ چاہے جان بوجھ کر نہ بھی مونڈھے تب بھی کفارہ دے ۔

( ۳۵۱) اگر کوئی سعی کے بعد اور تقصیرسے پہلے اپنی بیوی ساتھ جان بوجھ کر ہمبستری کرے تو ایک اونٹ کفارہ دے جیسا کہ تروک احرام کی بحث میں بیان ہو ا۔لیکن حکم شرعی نہ جانتے ہوئے یہ فعل انجام دے تو اظہر یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا ۔

( ۳۵۲) تقصیر کو سعی کے بعد انجام دینا چاہے لہذ اسعی ک ومکمل ہونے سے پہلی تقصیر اانجام دینا جائز ہے ۔

( ۳۵۳) سعی کے بعد تقصیر فوراانجام دیناواجب نہیں اور جائز ہے کہ تقصیر کو کسی بھی جگہ انجام دے خواہ سعی کی جگہ پر یا اپنے گھر میں یا کسی اور جگہ ۔

( ۳۵۴) اگر کوئی جان بوجھ کر تقصیر چھوڑ دے اور پھر حج کی لیے حرام باندھ لے تو ظاہر ہے کہ اسک اعمرہ باطل ہو جائے گا اور اس کا حج ،حج افراد میں تبدیل ہوجائے لہذ ا اگر حج کے بعد اگر ممکن ہو ت عمرہ مفردہ کرے اور احوط یہ ہے کہ اگلے سال دوبارہ حج انجام دے ۔

( ۳۵۵) جب عمرہ تمتع میں محرم شخص تقصیر انجام دے تو جو چیزیں احرم ی وجہ سے حرام ہوئے تھیں حلال ہوجائیں گی حتی کہ اظہر یہ ہے کہ سر منڈوانا بھی حلال ہوجائے گا اگرجہ احوط یہ ہے کہ عید الفطر سے تیس دن گزرنے تک سر مونڈنے سے اجتناب کرے ۔ اگر کوئی یہ جانتے ہوئے بھی عمد اسر مونڈھے تو احوط اولی یہ ہی خہ ایک قربانی کفارہ دے ۔

( ۳۵۷) عمرہ تمتع میں طو اف النساء واجب نہیں ہے کیکن رجا کیا جاسکتاہے ۔


احرام حج

پہلے بیان ہوچکا ہگے کہ حج کے واسجبات تیرہ ہیں جن کا اجمالا ذکر کیاگیا اور اب ان کی تفصیل بیان کی جارہی ہے ۔

احرام ۔

احرام ِ حج کا اول وقت ترویہ کی دن ( ۸ ذی الحجہ )زوال کا وقت ہے ۔ تاہم بوڑھے او ربیمارشخص کو جب ہجوم کاخوف ہو تو ان کے لیے جائز ہے کہ ترویہ کے دن سے پجلے دوسرے لوگوں کے نکلنے سے پہلے احرام باندھ کر مکہ سی نکل جائیں ۔اسی طرح وہ شخص جس کی لیے طواف حج ک ودو وقوف سے پہلے انجام دیناجائز ہے ۔ مثلاوہ عورت جسے حیض کا خوف ہوتو اس کے لیے بھی پہلے احرام باندھنا جائز ہے ۔ پہلے بیان ہو چکاہے ۔کہ عمرہ تمتع سے فارغ ہونے کے بعد کسی وقت بھی حج کے احرام میں مکہ سے کسی کام کے لیے باہرجانا جائز ہے مذکورہ موقعوں کے علاوہ بھی تین دن پہلے بلکہ اظہر یہ ہی کہ تین دن سے پہلے بھی احرام باندھنا جائز ہے ۔

( ۳۹۸) جسطرح عمرہ تمتع کرنے والے کے لیے تقصیر سے پہلے حج کے لیے ہرام بناندھنا جائز نہیں ہے اسی طرح حج رنے والے کی لیے ہبھی حج کے احرام کو اتارنے سے پہلے عمرہ مفردہ کے لیے احرام باندھناجائز بہیں ہے حاجی پر طواف النساء کی علاوہ کچھ باقی نہ رہا ہو تب بھی بنابر احوط احتیاط حجاک ہرام اتارنے سے پہلے عمرہ مفردہ کا حرام نہیں باندھ سکتا۔

( ۳۵۹) جو شخص اختیاری طور پر یوم عرفہ کی وقوف کا پوار وقت عرفہ میں حاصل کرسکتاہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ احرام باندھنے مجین اتنی دیر کرے کہ پھر عرفہ کے وقوف کا وقت پورا حاصل نہ کرسکے ۔

( ۳۶۰) حج اور عمرہ کے اہرام کے طریقہ واجنبات اورمحرمات ایک ہی ہے صرف نیت کا فرق ہے ۔واجب ہے ۔

( ۳۶۱) واجب ہے کہ احرام مکہ سے باندھاجائے جیساکہ میقاتوں کی بحث میں بیان ہو ا۔ احرام باندھنے سب سے افضل جگہ مسجد الحرام ہے ۔اور مستحب ہے کہ مقام ابراہیم یا حجر اسمعیل میں دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد احران باندھا جائے ۔

( ۳۶۲) جو شخص بھول کر یاحکم شرعی نہ جاننے کی وجہ سے حرام کو چھو ڑدے یہاں تک کہ مکہ سے باہر چلاجائے پھر اسے یاد آئے یامسئلہ کا پتہ چلے تو اس پر مکہ واپس جانا واجب ہے خواہ عرفات سے واپس جانا پڑے اور پھر مکہ سے احرام باندھے ۔ اگر وقت تنگ ہونے یاکسی اور وجہ سے واپس نہ جاسکتاہوتو جہاں ہو وہیں سے احرام باندھ لے ۔یہی حکم ہے جب وقوف عرفات کے بعد یاد آئے یا مسئلہ پتہ چلے خواہ مکہ واپس جانااور وہاں سے احرام باندھا ممکن ہو اگر یادہی نہ آئے یامسئلہ ہی پتہ نہ چلے یہاں تک کہ حج سے فارغ ہو جائے تو حج صحیح ہو گا ۔

( ۳۶۲) اگر کوئی احرم کو واجب جانتے ہوئے جانب بوجھ کر چھوڑ دے یہاں رک ہ عرفات میں وقوف کا وقت نھی اسکی وجہ سے ختم ہو جائے تو اس کا حج باطل ہو گا ۔لیکن اگروقوف ۔۔جوکہ رکن ہے ۔۔کہ ختم ہونے سے پہلے احرام کا جبران کرلے تو اگرچہ گنہگار ہو گا تاہم اس کا حج باطل نہیں ہو گا۔

( ۳۶۴) احتیاط یہ ہے کہ حج تمتع کرنے وال اشخص حج کا حرام باندھنے کے بعد او عرفات سے نکلنے سے پہلے مستحب طواف نہ کرعے اور افگر کوئہے مستحب طواف کرے تو احو ط اولی یہ ہے کہ طواف کے بعد دوبارہ تلبیہ کہے ۔


وقوف عرفات

حج تمتع کے واجبات میں دوسرا واجب وقوف عرفات ہے ۔ جسے قربة الی اللہ اور خلوص نیت سے انجام دینا چاہیے ۔وقوف عرفات سے مراد یہ ہے کہ حاجی عرفات میں موجود ہواس سے فرق نہیں پڑتاسواری کی حالت میں ہو پیادہ ،متحرک ہو یاحالت سکون میں ۔

( ۳۶۵) میدان عرفات کی حدود عرنہ ،ثوبہ اور نمرہ کے میدان سے ذی المجاز تک اور مازین کے آخر موقف (وقوف کی جگہ )تک ہے ۔ البتہ یہ خود حدود عرفات ہیں اور وقوف کی جگہ سے خارج ہے ۔

( ۳۶۶) ظاہر یہ ہے کہ رحمت نامی پہاڑی وقوف کی جگہ میں شامل ہے لیکن پہاڑی کے دامن میں بائیں جانب قیام کرنا افضل ہے۔

( ۳۶۷) وقوف میں معتبر یہ ہے کہ وہاں سے رہنے کی نیت سے ٹھہرے پس اگر حاجی اول وقت میں وہاں ٹھہرنے کی نیت کرے مثلاآخر تک سوتا رہے یا بیہوش رہے تو یہ کافی ہے ۔لیکن اگر نیت سے پہلے سوتارہے یابہوش رہے تو وقو ف ثابت نہیں ہو گا۔اسی طرح اگر وقوف کی نیت کرکے وقوف کا پورا وقت سوتا رہے یابیہوش رہے تو اس وقوف کے کافی ہونے میں اشکا ل ہے ۔

( ۳۶۸) واجب ہے کہ نویں ذی الحجہ کوعرفات میں حاضر ہو اور بنا بر احتیاط زوالِ آفتاب کی ابتدا سے غروب تک وہاں رہے اظہر یہ ہے کہ زوال سے اتنی دیر تاخیر کرسکتاہے کہ غسل کرکے ظہر و عصر کی نماز ملا کر پڑھ لے ۔اگرچہ اس پوارے وقرت میں وہاں رہنا واجب ہے اور کوئی جان بوجھ کر چھوڑ ے تو گنہگار ہوگا مگر یہ کہ یہ رکن نہیں ہے ۔یعنی اگر وقوف کے وقت اگر کچھ مقدار چھوڑ دے تواسکاحج باطل نہیں ہو گا ۔تاہم اگرکوئی اختیار پورا وقوف چھوڑ دے تو اسکا حج باطل ہوجائے گا۔لہذا وقوف میں سے جو رکن ہے وہ فی الجملہ (یعنی کچھ مقدار قیام )رکن ہے (نہ کہ پوراوقوف)۔

( ۳۶۹) اگر کوئی شخص بھو ل کر یا لاعلمی کی وجہ سے کسی اور عذر کی وجہ سے عرفات کے اختیاری قیام (دن میں قیام )کو حاصل نہ کرسکے تو اسکے لیے وقوف اضطراری ہے ۔۔۔شب عید ضروری ہے اور اسک احج صحیحح ہوگااور اگر جان بوجھ کر وقوف اضطراری کو چھوڑ دے تو حج باطل ہو جائیگا ۔یہ حکم اس وقت ہے کہ جب اسکے لیے وقوف اضطراری کو اس طرح سے حاصل کرنا ممکن ہو کہ اس کی وجہ سے طلوع آفتاب سے پہلے وقوف معشر ختم نہ ہوتاہو ۔لیکن اگر عرفات میں وقوف اضطراری سے وقت مقررہ وقوف معشر کے ختم ہونے کا خوف ہو تو صرف وقوف معشر پر اکتفا کرناواجب ہے اور اسک احج صحیح ہو گا۔

( ۳۷۰) جاب بوجھ کر غروب آفتاب سے پہلے عرفات سے باہر جانا حرام ہے لیکن اس کی وجہ سے حج باطل نہیں ہوتاچنانچہ اگر کوئی جاکر واپس آجائے تو اسکا کفارہ واجب نہیں ہے ورنہ ایک اونٹ کفارہ واجب ہو گا ۔جسے عید دن قربان کے دن نحر کرے ۔ اہوط یہ ہے کہ اونٹ کو منی جین اربان کرے نہ کہ مکہ میں اگرقربانی کرناممکن نہ ہو تو مکہ میں یاراستے میں یاگھر واپس آکر اٹھارہ روزے رکھے ۔احوج اولی یہ ہے کہ روزے پے در پے رکھے یہی حکم اس شخص کیلیے ہے بھی ہے جہو بھول کرف یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے عرفات سے باہر نکلے ۔لہذ اجب بھی اسے یاد آئیے یا مسئلہ پتہ چلے اس پر عرفات میں واپس جابن اواجب ہے او اگر واپس نہ جائے تو احوط یہ ہے کہ کفارہ دے ۔

( ۳۷۱) چونکہ حج کے بعض اعمال مثلاوقوف عرفات و مشعر ،فمی جمرات اور منی میں رات گزارنے کے لیے دن او رات مخصوص ہیں تو مکلف کا وظیفہ یہہے کہ وہ اس مہینے کے چاندکے بارے میں تحقیق کرے تاکہ اعمال حج کو ان کے مخصوص دن یارات میں ادا کر سکے ۔جب ان مقدس مقامات کے قاضی کے نزدیک چاند ثابت ہوجائے اور وہ اسکے مطابق حکم کرے ،جب کہ چاند کا ثابت ہو ان قوقانین شرعیہ کے مطابق نہ ہو تو بعض فقہاء نی کہا ہے کہ قاضی خ ہکم اس شخص کی لیے حجت ہے افور قابل عمل ہے جسے احتما ل ہو کہ یہ حکم واقع کے مطابق ہے لہذ ااس مکلف کیلیے ضروری ہے کہ وہ اس حکم کی اتباع کرے اور چاند کے ثابت ہونے کی اثار سے مربوط حج کے اعمال مثلاوقوف عرفات و مشعراورمنی میں رات گزراناوغیرہ کو حکم کے مطابق انجام دے چنانچہ اگر اس نے حکم کے مطابق عمل کیا تو اسکا حج صحیح ہوگا ورنہ باطل ہو گا ۔ بعض فقہاء نے یہاں تک فرمایا ہے کہ تقیہ کے سبب اس وقت قاضی کی حکم کی اتباع کرنا کافی ہے جب حکم کے واقع کے مطابق ہونے کا احتمال نہ ہو لیکن چونکہ دونوں قول انتہائی مشکل ہیں لہذ ااگر مکلف کے لیے اعمال حج کو انکے شریعی طریقے سے ثابت شدہ وقت خاص میں انجام دینا ممکن ہو اوروہ انجام دے تو بنا بر اظہر اسکا حج مطلقا صحیح ہوگا ۔ لیکن اگر اعمال حج کو کسی بھی عذ ر کی وجہ سے اس طرح انجام نہ دے اور وقوفین میں قاضی کی حکم کی پیروی بھی نہ کرے تو اس کا حج باطل ہونے میں کوئے شک نہیں ہے ۔اگر قاضی کے حکم کی اتباع کرے تو اس کا حج صحیح ہونے میں اشکال ہے ۔

وقوفِ مزدلفہ (مشعر)

حج تمتع کے واجبات میں سے تیسرا واجب وقوف مزدلفہ ہے ۔ مزدلفہ اس جگہ کا نام ہے جسے مشعر الحرام کہتہے ہیں اس موقوف کی حدود مازمیں سے حیاض اوروادی مہسیرتک ہیں یہ مقامات موقوف کی حدود ہیں ۔ خود وقوف کی جگہ میں شا مل نہیں ہیں ۔سوائے اس وقت کے جب ہجوم زیادہ ہو او ر وقوف کی جگہ تنگ ہورہی ہو تو اس وقت جائز ہے کہ مازین کی طرف سے اوپر جائیں (مازمیں عرفات اور مشعر الحرام کی درمیان ایک گھاٹی کا نام ہے )۔

( ۳۷۲) حج کرنے والے پر عرفات سے نکلے کے بعد واجب ہے کہ شب عید سے صبح تک کچھ وقت مزدلفہ میں قیام کرے احوط یہ ہے کہ مزدلفہ میں طلوع آفتاب تک رہے ۔اگر چہ اظہر یہ ہے کہ مزدلفہ سے وادی مہسر جانے کے لیے طلوع سے کچھ پہلے نکلنا جائز ہے تاہم وادی مہسر سے منیٰ کی طرف طلو ع آفتاب سے پہلے جاناجائز نہیں ہے ۔

( ۳۷۳) مذکورہ تمام وقت اختیاریطو ر پر مزدلفہ میں رہنا واجب ہے ۔ مگر یہ کہ وقوف ومیں سے جو رکن ہے وہ کچھ مقدار میں ٹھہرناہے چنانچہ اگرکوئی شب عید کا کچھ حصہ مزدلفہ میں ررہے پھر وہاں سے طلوع آفتاب سے پہلے نکل جائے تو اظہر یہ ہے کہ اس کا حج صحیح ہو گا۔لیکن اگر مسئلہ جانتے ہوئے نکلے تو اس پر ایک بکری کفارہ وہوگی ۔اور مسئلہ نہ جانتے ہوئے نکلے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے ۔ اس طرح اگرطلوع فجرو طلوع آفتابکے درمیان کچھ مقدار مزدلفہ میں رہے اور کچھ مقدار نہ رہے خواہ جان بوجھ کرنہ رہاہو اس کا حج صحیح ہے اور کفارہ بھی واجب نہیں ہے اگرچہ کہ گنہگار ہوگا۔

( ۳۷۴) مزدلفہ میں وقت مقررہ میں وقوف (قیام کرنا)واجب ہے اس حکم سے بعض افراد مثلاخائف عورتیں ،بچے ،بوڑھے اورمریض جیسے کمزورلوگ اور وہ لوگ جو ان افرادکے امور کی سرپرستی کرتے ہوں مستثنیٰ ہیں لہذ ا ان افراد کے لیے شب عید مزدلفہ میں رہنے کے بعد طلوع فجر سے پہلے منی کے لیے روانہ ہو نا جائز ہے۔

( ۳۷۵) وقوف مزدلفہ کے لیے قصد قربت اور خلوص نیت معتبرہیں یہ بھی معتبر ہے کہ ارادے و اختیارسے وہاں رہے جیسا کہ وقوف عرفات میں بیان ہو چکا ہے

۔( ۳۷۶) جو شخص مزدلفہ میں وقوف اختیاری (شب عید سے طلوع آفتاب تک رہنا )بھولنے یا کسی اور وجہ سے حاصل نہ کرسکے تو وقوف اضطراری عید کے دن طلوع آفتاب سے زوال کے درمیان کچھ دیروہاں رہنا کافی ہو گا۔اگر کوئی وقوف اضطراری کو جان بوچھ کردے تو اس کا حج باطل ہو گا

دونوں یا کسی ایک وقوف کو حا صل کر نا

پہلے بیان ہو چکا ہے لہ وقوف اور وقوف مزدلفہ میں سے ہر ایک کی دو قسیں ہیں وقوف اختیاری اور وقوف اضطراری اگر مکلف دونمو وقوف اختیاری حاصل کرے تب رو کوہی اشکال نہیں ہے اور اگر وقوف احتیاری کسی عزر کی وجاہ سے حاصل نہ کر دکے تو اس کی چند صورتیں ہیں

۱ ۔ دونوں وقوف کے اخریاری و اضطراری میں سے کوئی حاصل نہ ہو تو حج واطل یوگا اور واجب ہے لہ اس حج لے احرام سے عمرہ مفردہ انجام ،دیا جاہے اگر یہ حج حج الاسلام تھا رو واجب ہے کہ اگر استطاعت باقی ہو یاحج اس کے ذمہ ثابت و واجب ہو چکا ہو تو آہندہ سال دوبرہ حج کرے

۲ عرفات جا وقوف اختیاری اور مزدلفہ کا وقوف اضطراتی حاصل ہو

۳ ۔عت فات کا وقوف اضطراتی اور مزدلفہ لا ورف اختیاری حا صل ہو درج والا دونوں صورتوں میں بلا اشکال حج صحیح ہے

۴ عرفات کا وقوف اضطراری حاصل ہوں تو اظہر یہ ہے لہ حج صحیح ہے اگر چہ احوط طج ہے لہ اگلے سال دوبرہ حج لیا جاے جیسا کہ پہلی صورت میں ذلر ہوا

۵ ۔ صرف مزدلفہ دوونں کے وقوف اضطرارے حصال ہو تو حج صحیح ہے

۶ ۔ صرف مزدلفہ کا وقوف اضطراری حاصل تو اظہر ین ہے کہ حج باطل ہو جاے گا اور عمرہ مفردہ میں تبدیل ہو جاے گا

۷ ۔ صرف عتفات کا وقوف اختیاری حاصل ہر تو اظوہر یہ ہے کہ حج باطل ہو جاے گا اور عمرہ مفردہ میں تبودیل ہو جاے گا اس حکم سے یہ موتد مستثنی ہے لہ جب حاجی مزدلفہ کے وقت اختیاری میں منی جاتے ہوے مزدلفہ سے گزتے لیکن مسلہ نہ جانے کی وجہ سے وہاں قیام کی نیت نہ کرے تو اگر وہاں سے گزرتے ہوے یزلر خدا کیا ہو تو بعید نہیں ہء کہ اس کا حج صحیح ہو

۸ ۔ صرف عففات کا وقوف اصطراری حاصل ہو ا ہو تو اس کا حج بواطل ہو گا الور عمرہ مفردہ میں تبدیل ہو جاہے گا


منی اور اس کے واجبات

حاجی پر واجب ہے لہ وقوف مزدلکہ کے وعد منی جانےء کے لیے نکلے تاکہ وہ اعمال جو منیٰ میں واجب ہیں انہیں انجام دے سکے اور یہ تین اعمال ہیں جنکی تفصیل درج ذیال ہے

رمی جمراہ عقبہ(جمرہ عقبہ کو کنکر مارنا)

واجبات حج میں سے چوتھاواجب عید قربان کے دن جمرہ عقبہ کو کنکر مارن اہے اس میں چنبد چیزیں معتبرہیں ۔

۱ ۔قصدقربت اورخلوص نیت ۔

۲ ۔رمی سات کنکرں سے ہو ،اس سے کم کافی نہیں اسی طرح کنکروں کے علاوہ کسی ور چیز سے مارناکافی نہیں ہے ۔

۳ ۔ایک ایک کر کے سا ت کنکرمارے جائیں چنانچہ ایک ہی مرتبہ میں دویازیادہ کنکر مارناکافی نہیں ہے ۔

۴ ۔جو کنکر جمرہ تک پہنچے وہ ی شمار ہوگا چنانچہ جو کنکر جمرہ تج نہ پہنچے وہ شمار نہیں ہو گا۔

۵ ۔کنکر پھینکنے کی وجہ سے جمرہ تک پہنچے ،چنانچہ جمرہ پر رکھ دینا کافی نہیں ہے ۔

۶ ۔کنکر کو پھیکنا اور جمرہ تک پہنچنا ہاجی کے پھینکنے کی وجہ سے ہو چنانچہ اگر کنکر حاجی کے ہاتھ میں اور حیوان یا کسی ور انسان کے ٹکرانے کی وجہ سے کنکر جمرہ کو لگ جائیے تو یہکافی نہیں ہے اسی طرح اگر حاجی کنکر پھینکے اور وہ حیوان یا کسی انسانپر جاکرے اوراس کے حرکت کرنے کے وجہ سے جمرہ کو لگ جائے تو کافی نہیں ہے ۔ لیکن کنکر اپنے راستے میں کسی چیز کو لگ کر پھر جمرہ کو لگے مثلا کنکر سخت زمیں کو لگ کر پھر جمرہ کو لگے تو ظاہر یہ ہے کہ یہ کافی ہے ۔

۷ ۔رمی ہاتھ سے کرے پس اگر منہ سے یاپاؤں سے کرے تو کافی نہیں ہے اسی طرح ہوط یہ ہے جہ کسی آلے سے مثلا غلیل وغیرہ کے ذریعے سے رمی کرنا کافی نہیں ہے ۔

۸ ۔رمی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب ک درمیان ہو ،تاہم عورتیں او وہ تمام افراد جن کے لیے مشعر سے رات نکلنا جائیز ہے شب عید رمی کر سکتے ہیں ۔

( ۳۷۷) کنکروں میں دو چیزیں معتبر ہیں ۔

۱ ۔اگرکسی کو کنکر لگنے میں شک ہو تو وہ سمجھے کہ نہیچ لگا سوائے اس کے کہ شک موقع گزرنے ک بعد ہو مثلا قربانی کے بعد یا حلق کے بعد یا رات شروع ہونے کے بعد شک ہو ۔

( ۳۷۸) کنکروں میں دو چیزیں معتبر ہیں ۔

۱ ۔کنکروں کو حرم کی حدود سے سوائے مسجدالحرام اور مسجد الخیف کے اٹھائیں جائیں افضل یہ ہیں کہ مشعر سے اٹھا یا جائے ۔

۲ ۔ نابر احتیاط کنکر پہلے سے استعمال شدہ نہ ہوں یعنی کنکروں کو پہلے رمی کے لے یا استعمال نہ کیا گیاہومستحب ہے کہ کنکر رنگدار ،نقطہ دار اور نرم ہوں نیز حم کی لاحاظ سے انگی کے پور کے برابر ہوں جسے رمی کر نے والا کثڑا ہو کر اور ب اطہارت ہو کر م کرے

۳۷۹ ۔ اگر جمرہ کی لمبا ئی کو بڑھایا جائے اور اس زائد مقدار پر رمی کے کافی ہونے میں اشکال ہے احوط یہ ہے کہ جمرہ کی پہلے ہو مقدار تھی اسی پر رمی کی جائے اگر پرانی مقدار پر رمی کرنا ممکن نہ ہو تو خود زائد مقدار پر رمی کی جائے اور پرانی مقدپر پر لومی کرنے کے لئے کسی کو ن بھی بنانا جائے اس مسئلہ میں مسئلہ جاننے اور نہ جاننے والے اور بثول جانے والے مکیں فرق نہیں ہے

۳۸۰ ۔ اگر کوئی بھولنے یا مسئلہ نہ جاننے یا کسی اور وجہ سذے عید کے دن رمی یہ کرے تو جب یاد آئے یا عذر دور ہو جائے تو رمی انجام دے اگر یہ عذر رات میں دور ہو تو ضروری ہے کہ دن تک تاخیر کرے جس جس کا بیجن جمروں کی رمی کی بحث میں آئے گا ظاہر یہ ہے کہ عذر دور ہونے کے بعد جبران کرنا اسوقت واجب ہے جب حا جی منی میں بلکہ مکہ میں ہو حتی کہ اگر عذر وسبب تیرہویں ذی الحجہ کے بعد دورہو اگر چہ احوط یہ ہے کہ اس صورت میں رمی جکو آئندہ سال خود یا نائب کے ذریعے دوبرہ انجام دے اگر مکہ دے نکلنے کے بعد عذر زائل ہو تو مکہ واپس جانا واجب نہیں ہے بلکہ احوط اولَی یہ ہے کہ آئندہ سال خود یا نا ئب کے ذریعے رمی انجام دے

۳۸۱ ۔اگر کوئی بھول جانے جا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے عید کے دن رمی نہ کرے پھر اسے طواف کے بعدیاد آئے یا مسلہ پتہ چلے اور وہ رمی انجام دے تو دوبرہ طواف کرنا واجب نہیں ہے تاہم احتیاط یہ ہے کہ اسے دوبارہ انجام دے اور اگر رمی کو بھولنے یا مسلہ نہ جاننے کے علاوہ کسی اور وجہ دے چھوڑا ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس کا طواف باطل ہو گا لہذا رمی لرنے کے بعد طواف کو دوبارہ انجام دینا واجب ہے

منی میں قربانی

قربانی کرنا حج تمتع کے واجبات میں سے پانچواں واجب ہے اس میں قصد قربت اور خلوص معتبرہے قربانی یوم عید سے پہلَے نہ لرے سوائے اس شخص کے جسے خوف ہو چنا چہ خائف شخص کیَلئے شب عید قربانی کرنا جائز ہے احتیاطی کی بانئگ رپ قربانی رمی کی بعد کرنا واجہب ہے لیکنا گر کوئی بھول کر ای مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے قربانی رمی سے پہلے کرے تو اس کی قربانی صحیح ہو گیا ور دوبارہ کرنا ضروری نہیں ہے واجہ ہے کہ قربانی منی میں ہو تاہما گر حاجیوں کے زایدہ ہونیا ور جگہ کم ہونے کی وجہ سے منی میں قربانی کرنا ممکن نہ ہو توبعید نہیں ہے کہ وادی محسر میں قربانی کرنا جائز ہو اگرچہ احوط یہ ہے کہ ایام تشریق ( ۱۱’۱۲‘۱۳ ذی الحجہ ) کے آخر تک منی میں قربانی نہ کر سکنے کا جب تک یقین نہ ہو اس وقت تک وادی محسر میں قربابی نہ کی جائے ۔

۳۸۲ ۔ احتیاط یہ ہہے کہ قربانی عید قربان کے دن ہو اگرچہا قوای یہ ہے کہ قربانی کو ایام تشریق کے آخر تک تاخیر کرنا جائز ہے احتیاط یہ ہے کہر ات حتی کہ ایام تشریق کے آخر تک تاخیر کرنا جائز ہے احتیاط یہ ہے کہ رات حتی کہ ایام تشریق کی درماینی راتوں میں بھی قربانی نہ کی جائے سوائے اس شخص کے جسے خوف ہو ۔

۳۸۳ ۔ اگر مستقل طور پر قربانی کرنے رپ قدر ہو تو ایک قربانی ایک شخص سے کفایت کرے گی اور اگر اکیلا شخص قربانی پر قادر نہ ہو تو اس کا حکم مسئلہ ۳۹۶ میں آئے گا ۔

( ۳۸۴) ۔ واجب ہے کہ قربانی کا جانور اونٹ گائے یا بکری وغیرہ ہو اونٹ کا فی ہو گا جب وہ پانچ سال مکمل کرکے چھٹے سال داخل ہو چکاہو ،گاے اوربکری بنا بر احوط اس وقت کافی ہوں گے جب دو سال مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں اوردنبہ اس وقت کافی ہوگا جب سات مہینے پورے کر کے آٹھویں مہینے میں ڈاخل ہو جائے ۔اگر قربانی ککرنے کے بعد پتہ چلے کہ جانور مقررہ عمر سے چھوٹاتھا تو کافی نییں ہوگا اور قرابنی دوبارہ کرنی پڑے گی قربانی کے جانور کا سالم الاعضا ہونا مرتتبر ہجیے چنانچہ کانا لنگڑ ا،کان کٹآ یا اند دسے سینگ ٹؤٹا ہواہو تو کافی نیں یے اپہجر جج ہظ ہخصجی جانوربھی کافی نہیں ہے ،سوائے اس کے کہ غیر خصی جانور نہ مل رہاہو معتبر ہے کہ جانور عرفا کمزور نہ ہو اور ا حوط اولی یہ ہہے کہ مریض یا ایسا جانور جسکے بیضتیں (انڈے )کی رگیں یا خو ر بیضتیں دبائے ہوئے نہہوں ۔اتنا بوڑھا بھی نہ ہو کہ اسکا بھیجا ہینہ ہو للیکن اگر اسکے کاب چیر ے ہوئے یئا سوراخ والے ہوں تو کوئے حرج نہیں ہے ۔ اگرچہ احوط یہ ہے کہ یہ بھی سالم ہو ۔ احوط اوللی یہ ہے کہ قربانی کا جانور پیدائشی طور پر سینگ و بغیر دم والا نہو ۔

( ۳۸۵) اگر کوئی قربانی کا جانور صیح وسالم سمجھ کر خریدے اور قمیت دینے کے بعرد عیب دار ثابت ہو تو طاہر ہے کہ اس جانورکو کافی سمجھنا جائز ہے ۔

( ۳۸۶) اگر قربانی کے دنوں (عید کا دن اور ایام تشریق )میں شرائط ولاکوئیے جانور (مثلا اونٹ گائے و بکری وغیرہ )نہ ملے تو احوط یہ ہے کہ جمع کرے یعنی جانور مل رہاہو اسے ذبح کرے اور قربانی کی بدلے روزے بھی رکھے یہی حکم اس وقت بھی ہے جب اس کے پاس فاقد الشرائط جانور(جسمیں پور شرائط نہ پائی جائیں ) کے پیسے ہوں ۔اگر باقی ماہ ذی الحجہ میں شرائط والا جانور ممکن ہو تو احوط یہ ہے کہ دو چیزوں (فاقد الشرائط جانور کی قربانی کے بدلے روزے )کے ساتھ اس کو ملائے ۔

( ۳۸۷) اگر جانور کو موٹا سمجھ کر خرید اجائی اور بعدمیں وہ کمزور نکلے تو یہی جانور کافی ہے خواہ قربانی سے پہلے پتہ جَے یا بعدمیں لیکن اگر خود اسکے پاس مثلا دنبہ ہو اور اس گمان سے یہ موٹا ہے ذبح کری مگر بعد میں پتہ چلے کہ وہ کمزور تھا تو احوط یہ ہے یہ قربانی کافی نہیں ہوگی ۔

( ۳۸۸) اگر جانور ذبح کرنے کے بعد شک ہو کہ جانور شرائط والاتھا یا نہیں تو اسکا شک کی پرواہ نہ کی جائے اگر ذبح کے بعد شک ہوکہ قربانی منی میں کی ہے یا کسی ارو جگہ تو اس جگہ تو اسکا بھی یہیحکم ہے لیکن اگرخود ذبح کرنے میں شک ہو کہ ذبح کیا بھی تھ اکہ نہیں تو اگر موقع گزرنے کے بعد حلق یاتقصیر کے بعد شک ہو تو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے اگر موقع گزرنے سے پہلے ہی شک ہو تو قربانی کرنی ہو گی ۔اگرجانور کے کمزور ہونے کے بارے میں شک ہواورقصد قربت کے ساتھ ا س امید پر کہ جانور ذبح کی اجائے کہ کمزور نہیں ہے اور ذبح کرنے کے بعد پتہ چلے کہ واقعی کمزور نہیں تھا تو ایہ قربانی کافی ہوگی ۔

( ۳۸۹) اگر کوئی حج تمتع کی قربانی کی لیے صحیح جانور خریدے اور خریدنے کی بعد مریض یاعیب دار ہوجائے یا کوئے عض و ٹوٹ جائے تو اس جانور کا کا فی ہو نا مشکل ہے بلکہ اس پر اکتفا کرنا صحیح نہیں ہے احوط یہ ہے ہ جانور ک وبھی ذبح کرے ور اگر اسے بیچ دے تو اسکی قمیمت کو صدقہ کردے ۔

( ۳۹۰) اگر قربانی کے لیے خریداگیا جانور گم ہوجائے او رنہ ملے نیز اور پتہ نہ چلے کہ کسی نے اس جانب سے قربانی تو واجب ہے کہ دوسراجانور خریدے ۔اور دوسر جانورذبح کرنے سی پہلے ،پہلاجامور مل جائے تو پہلے جانور کو ذبح کیاجائے ور دوسرے میں اختیار ہے چاہے ذبح کری یا نہ کرے ار وہ اس کے دوسرے اموال کی طرح ہے ،تاہم احوط اولی یہ ہی کہ اسے بھی ذبح کرے ۔اگر پہلا جامور دوسرے کو ذبح کرنے کے بعد ملے تواحوط یہ ہے پہلے والے جانور کو بھی ذبح کرے ۔

( ۳۹۱) اگرکسی کو دبنہ ملے اور وہ جانتا ہو کہ یہ قربانی کے لیے ہے افر اسکی مالک سے گم ہو گی اہے رو اسکے لہایئزہ ہز کہ اسک ے مالک کی جانب سے اسے ذبح کردے اگری اسجانور کے مالک کو اس قربانی کا علم ہوجائے تو وہ اس کو کافی سمجھ سکتاہے ۔جس کوجانور ملا ہو اسکے لیے احوط یہ ہةے کہ وہ اسے ذبح کرنے سے پئہلے بارھیوں ذی الحجہ کی عصر تک اعلان کرے ۔

( ۳۹۲) وہ شخص جسے قربان ی کے ایام میں اجنور نہ ملے جبکہ اسکی قیمت موجود ہو تو احوط یہ ہے کہ قربانی کے بدلے میں روزے بھی رکھے اور اگر ممکن ہو تو ماہ ذی الحجہ میں قربانی بھی کرے ،چاہے اس کے لیے کسی قابل اطمیں ان شخص کو پیسے دینے پریں کہ وہ آخر ذی الحجہ تج جانور خریدکر اس کی جانب سے قربانی کردے ور اگر ذی الحجہ تمام ہوجائے اور جانور نہ ملے تو اگلے سال اس کی جانب سے قربانی کرے ۔تاہم بیعید نہیں ہے کہ کہ صرف روسزوں پر اکتفا کرنا جائز ہو اور ایام تشریق گزرنے کے بعد قربانی ساقط ہو جائے ۔

( ۳۹۳) اگر کوئی شخص قربانی کا جانور ہاصل نہ کس سکتاہو اور نہج ہی اسکی قیمت رکھتا ہو تو قربانی کی بدلے میں دس روزے رکھے انمیں سے تین ذی الحجہ میں بنابر احوط ۷،۸،۹ کو رکھے اور اس سے پہلے نہ رکھے اور باقی سات روزے اپنے وطن واپس جانے کے بعد رکھے ۔مکہ میں یا راتسے میں رکھناکافی نہیں اگر مکہ میں واپس نہ جائے مکج میں ہی قیاام کرے رف اسے جاہے کہ اتنا صبر کرے کہ سک ے ساتھی اپطنے شہر پہنچ جائیں یا ماہ ذی الحجہ تمام ہوجائے پھر یہ روزے رکھھے پہلے تین روزے پے در پے رکھن امعتبر ہے جبکہ باقی سات میں معتبر نہیں ہے اگرچہ احوط ہے کہ اسی طرح پہلے تین روزوں میں یہ مبھی مرعتبر ہے کہ عمرہ تمتع کا احرام باندھے کے نعد رکھے ،چنانچہ اگر احرام سے پہلے روزے رکھے تو کافی نہیں ہوہ ں گے ۔

( ۳۹۴) وہ مکلف جس پر دوران حج تین دن روزے رکھنا واجب ہو اگر تینوں روزی عید سے پہلے نہ رکھ سکی تو بنا بر احتیاط ۹ ۸ اور ۹ اور ایک دن منیس ے واپس آ کر روزہ رکھنا کافی نہیں ہو گا فضل یہ ہے کہ وہ ان روزوں کو ایام تشریق ختم ہونے کے بعد شروع کرے اگرچہ اس کیلئے اجئز ہے کہا گر وہ تیرھویں ذیل اہچہ سے پہلے منی سے واپس آ جائے تو تیرھویں ذی الحجہ سے شروع کرے بلکہ ا ظہر یہ ہے کہ اگر منی سے تیرھیوں ذی لاحجہ کو بھی آئے تب بھی شروع کر سکتا ہے

احوط اولی یہ ہے کہ ایام تشریق کے بعد فوراََ روزے رکھے اور بغیر عذر کے تاخیر نہ کرے اگر منی سے واپس آنے کے بعد روزے نہ رکھ سکتا ہو تو راستے میں ای اپنے وطن پہنچ کر روزے رھکے لین احوط اولی یہ ہے کہ ان تین روزوں اور سات روزوںٰ جو اس نے وطن واپس آ کر رکھنا ہے کو جمع نہ کرے اگر محرم کا چاند نظر آں ے تک یہ تین روزے نہ رکھ سکے تو پھر روزی ساقط ہو جائیں گے اور آئندہ سال قربانی کرنا معین ہو جائے گا

۳۹۵ ۔ جس کیلئے قربانی کرنا ممکن نہ ہو اور نہ ہیا س کے اپس قربانی کیلئے پیسے موجود ہوں اور حج میں تین روزے رکھے اور قیام قربانی گزرنے سے پہلے قربانی کرنے پر قادر ہو جائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ قربانی کرے

۳۹۶ ۔ اگر اکیلے قربانی کرنے پر قادر نہ ہو لیکن کسی کے ساتھ مل کر قربانی کر سکتا ہو تو احوط یہ ہے کہ کسی کے ساتھ مل کر قربانی بھی کریا ور مذکورہ تریب کے مطابق روزی بھی رکھے ۔

۳۹۷ ۔ اگر جانور ذبح کرنے کیلئے کسی کو نائب بنایا جائیا ور شک ہو کفہ نائب نے اس کی جانب سے قربانی کی ہے یا نہیں تو یہی سمجھاجائے کہ قربانی نہیں کی اور اگر نائب خبر دے کہ قربانی کر دے ہے لیکن اطمیں ان نہ آئے تو اکتفا کرنا مشکل ہے

۳۹۸ ۔ جو شرائط قربانی کے جانور میں معتبر ہیں وہ کفارے کے جانور میں معتبر ہوں

۳۹۹ ۔ ذبح یا نحرجو واجب ہے چاہے حج کی قربانی ہو یا کفار اس میں خود ذبح یا نحر کرنا معتبر نہیں ہے بلکہ اختیار حالت میں بھی کسی دوسرے کو نائب بنانا جائز ہے تاہم ضروری ہے کہ ذبح کی نیت نائب کرے اور قربانی کرنے والے پر نیت کرنا شرط نہیں ہیا گر چح احوط ہے کہ وہ بھی نیت کرے نائب کیلئے مسلمانوں ہونا ضروری ہے

حج تمتع کی قربانی کا مصرف

احوط اولی یہ ہے کہ نقصان دہ نہ ہونے کی صورت میں حج تمتع کرنے والا اپنی قربانی کی کچھ مقدار کھائے چاہے کم مقدار ہی کائے قربانی اک ایک تہائی حصہ اپنے یا اپنے گھر والون کیلئے مخصوص کرنا جائز ہے اسی طرح جائز ہے کہا س کے دوسرے ایک تہائی حصے کو جس مسلمان کو چاہے ہدیہ دے اور تسیرا تہائی حصہ احتیاط واج کی بناء پر مسلمان فقراء کو صدقہ دے اگر صدقہ دینا ممکن نہ ہو یا زیادہ زحمت و مشقت کا سبب ہو تو صدقہ دینا ساقط ہو جائے گا یہ واجب نہیں ہے کہ قربانی کا گوشت خود فقیر ہی کو دیا جائے بلکہ اس کے وکیل کو بھی دیا جا سکتا ہے چاہے قربانی کرنے والا فقیر کا وکیل ہی ہو وکیل اپنے موکل کی اجازت سے اس گوشت میں تصرف مژلاھبہ فروخت یا واپس کر سکتا ہے اگر منی میں موجود افراد میں سے کسی وک گوشت کی ضرورت نہ ہو تو گوشت کو منی سے باہر لے جانے جائز ہے

۴۰۰ ۔ وہ تہائی حصہ جو صدقہ دے رہا ہو اور وہ تہائی حصہ جو ھدیہ دے رہا ہو انہیں جدا کرنا شرط نہیں ہے بلکہ صرف وصول شرط ہے چنانچہ اگر تہائی مشاع کو صدقہ کرے اور فقیر وصول کر لے خواہ پورے جانور کو قبضے میں لینے کی وجہ سے تو یہ کافی ہے اور تہائی ھدیہ کی صورت بھی یہی ہے

۴۰۱ ۔ صدقہ و ھدیہ کو قبضے میں لینے والوں کیلئے جائز ہے کہ ہ اس حصے میں جس طرح سے جاہیں تصرف کریں لہذا وہ اسے کسی غیر مسلم کو بھی دے سکتے ہیں

۴۰۲ ۔ اگر کوئی جانور کی قربانی کرے اور بعد میں وہ چوری ہو جائے یا کوئی زبردستی اس سے چھین لے تو قربانی کرنے والا ضامن نہیں ہے لیکن اگر مالک خود اسے چھین لے تو قربانی کرنے والا ضامن نہیں ہے لیکن اگر مالک خود اسے ضائع کر دے چاہے غیر مستحق کو دینے کی وجہ سے تو احوط یہ ہے کہ فقراء کے حصے کا ضامن ہو گا۔

حلق یا تقصیر

حج کے واجبات میں سے چھٹا واجب حلق ٰ یعنی سر مونڈنا یا تقصیر ٰیعنی کچھ بال کاٹنا ہے اس میں قصد قربت اور اخلاص معتبر ہے اس عمل کی عید کے دن سے پہلے حتی کہ شب عی میں بھی انجام دینا جائز نہیں ہے سوائے اس شخص کے جسے خوف ہو لہذاس کے لئیے احوط یہ ہے کہ حمرہ عقبہ کی رمی اور قربانی کے جانور کے حصول کے بعد انجام دے احوط اولی یہ ہے کہ ذبح و نحر کے بعد انجام دے البتہ عید قربانی کے دن کے وقت سیآ گے تاخیر نہ کی جائیا گر رمی سے پہلے یا قربانی کا جانور حاصل کرنے سے پہلے بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے حلق یا تقصیر انجام دے تو کافی ہو گا اور دوبار انجام دینا ضروری نہیں ہے

۴۰۳ ۔ مرد کو حلقو تقصیر میں اختیار ہے البتہ حلق افضل ہے سوائے اس شخص کے کہ جس نے جوؤں سے بچنے کی خاطر شہد یا گوند سے سر کے بالوں کو چپکا یا ہو یا جس نے سر کے بالوں کو جمع کرکے باندھ کر لپیٹا ہوا ہو یا ضرورہ ٰ پہلی مرتبہ حج پر جانے والا ہو تو ان کیلئے احتیاط واجہ یہ ہے کہ یہ حلق کو اختیار کریں

۴۰۵ ۔ جو شخص حلق کرنا چاہتا ہو اور جانتا ہو کہ حجام اس کا سر سے حلق کر ائے بلکہ انتہائی باریک مشین سے سر مونڈوانٰے یا اگر اسے ہقل و تقصیر میں اختیار ہو تو پہلے تقصیر کرائے اور پھر اگر چاہے تو استرے سے سر مونڈوائے اگر اس بیان شد حکم کی مخالفت کرے تو بھی کفایت کرے گا اگرچہ گنہگار ہو گا

۴۰۶ ۔ حنشی مشکلہ نے اگر نہ اپنے بالوں کو چپکایا ہو نہ الجھا کر باندھا ہو یا اس کا پہلا سال نہ ہو تو اس پر تقصیر واجب ہے ورنہ پہلے تقصیر کرے اور احوط یہ ہے کہا س کے بعد حلق بھی کرے

۴۰۷ ۔ جب محرم حلق یا تقصیر انجام دیتو وہ چیزیں جو احرام کیوجہ سے حرام ہوئی تھیں حلال ہو جائیں گی سوائے بیوی خوشبو اور بنا بر احوط شکار کے ظاہر یہ ہے کہ حلق و تقصیر کے بعد بیوی جو حرام ہے تو صرف جماع حرام نہیں ہے بلکہ باقی تمام لذتیں بھی حرام ہیں جو احرام کی وجہ سے حرام ہوئی تھیں البتہ اقوی یہ ہے کہ تقصیر یا حلق کے بعد کسی عورت سے عقد نکاح پڑھنا یا نکاح جپر گواہ بنا جائز ہے

۴۰۸ ۔ واجب ہے کہ حلق و تقصیر منی میں ہو اور اگر حاجی جان بوجھ کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے منی میں انجام نہ دے اور باہر چلا جائے تو اس پر واجب ہے کہ منی واپس جائے اور وہاں ہقل یا تقصیر انجام دے بنا بر احواط بھولنے والے کا بھی یہی حکم ہے اگر واپس جانا ممکن نہ ہو یا بہت مشکل ہو تو جہاں موجود ہو وہیں پر حلق یا تقصیر انجام دے اور اپنے بال ممکن ہو تو منی بھیجے جو شخض جان بوجھ کر منی کے علاوہ کسی اور جگہ حلق یا تقصیر انجام دے تو یہ کافی ہو گا لیکن اگر ممکن ہو تو واجہ ہے کہ اپنی بال منی بھیجے

۴۰۹ ۔ اگر کوئی بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے حلق یا تقصیر انجام نہ دے اور اعمال حج سے فارغ ہونے کے بعد آئے یا مسئلہ پتہ چلے تو حلق یا تقصیر انجام دے اظہر یہ ہے کہ طواف و سعی کو دوبارہ کرنا ضروری نہیں ہے اگرچہ احوط ہے ۔


حج کا طوا ف نماز طواف اور سعی

واجبات حج میں سے ساتواں آٹھواں اور نواں واجب طواف نماز طواف اور سعی ہیں

۴۱۰ ۔ حج کے طواف نماز طواف اور سعی کو ہی طریقہ اور شرط ہیں جو عمرہ کے طواف نماز طواف اور سعی میں بیاں کی گئی ہیں

۴۱۱ ۔ مستحب ہے کہ طواف حج عید قربانی کے دن انجام دیا جائے اور بنا بر احوط گیارھیوں ذی الحجہ سے زیادہ تاخیر نہ کی جائے اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ تاخیر کرنا جائز ہے بلکہ ایام تشریق سے کچھ مقدار دیر کرنا بلکہ آخری ذی الحجہ تک تاخیر کا جائز ہونا قوت سے کالی نہیں ہے

۴۱۲ ۔ احوط یہ ہے کہ حج کے دووقوف عرفات و مزدلفہ سے پہلے حج کے طواف نماز طواف اور سعی کو انجام نہ دیا جائے اگر کوئی مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے پہلے انجام دے تو کافیہونے میں اشکال ہے اگرچہ وجہ سے خالی نہیں ہے ۔

درج بالا حکم سے بعض موارد مسثنی ہیں

۱ ۔ وہ عورتیں جنہیں حیض یا نفاس آنے کا خوف ہے

۲ ۔ بوڑھا شخص مریض زخمی اور وہ افراد جن کیلئے مکہ واپس آنا مشکل ہو یا وہ افراد جن کیلئے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے واپس آ کر طواف کرنا مشکل ہے

۳ ۔ وہ شخص جو کسی ایسی چیز سے ڈرتا ہو جس کی وجہ سے وہ مکہ واپس نہیں آ سکے گا ۔ چنانچہ درج بالا افراد کیلئے طواف نماز طواف اور سعی کو احرام حج کے بعد دونوں وقوف سے پہلے انجام دینا جائز ہے احوط اولی یہ ہے کہا گر بعد میں آخری ذی الحجہ تک ممکن ہو تو دوبارہ بھی انجام دیں ۔

۴۱۳ ۔ طواف حج کو دونوں وقوف کے بعد انجام دینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ طواف کو حلق و تقصیر کے بعد انجام دے تو طواف کو دوبارہ انجام دینا واجب ہے اور ضروریہے کہا یک بکری کفارہ دے ۔

۴۱۴ ۔ جو شخص حج میں طواف نماز طواف اور سعی خود انجام دینے سے عاجز ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو عمرہ میں یہ اعمال انجام نہ دے سکنے والے کا ہے جو مسئلہ ۳۲۶ اور ۳۴۲ میں بیاں ہو ا وہ عورت جسے حیض یا نفاس آ جائے اور اتنا ٹھہرنا کہ پاک ہو کر طواف بجا لائے ممکن نہ ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ طواف اور نماز طواف کے لئے کسی کو نائب بنائے بنائے پھر نائب کے طواف کے بعد سعی کو خود انجام دے

۴۱۵ ۔ حج تمتع کرنے والے پر طواف نماز طواف اور سعی سے فارغ ہو جانے کے بعد خوشبو بھی حلال ہو جائے گی جبکہ بیوی مسئلہ ۴۰۷ میں موجود تفصیل کے مطابق اور احوط کی بناء پر شکار حرام رہیں گے ۔

۴۱۶ ۔ جس شخص کیلئے طواف اور سعی کی ادئیگی دونوں وقوف سے پہلے جائز ہو اور وہ طواف اور سعی دونوں وقوف سے پہلے انجام دے تو ایسے شخص کیلئے خوشبو اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ منی کے اعمال مژلا رمی و ذبح و حلق یا تقصیر انجام نہ دیدے

طواف النساء

واجبات حج میں سے دسواں اور گیارھواں واجب طواف النساء اور اس کی نماز ہے یہ دونوں اگرچہ واجب ہیں لیکن رکن نہیں ہیں اس لئے اگر انہیں جان بوجھ کر چھوڑ بھی دیا جائے تب بھی حج باطل نہیں ہوتا ۔

۴۱۷ ۔ طواف النساء مردوں اور عورتوں سب پر واجب بے چنانچہ اگر کوئی مرد اسے چھوڑ دے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گیا ور اگر عورت اسے چھوڑ دے تو اس کا شوہر اس پر حرام ہو جائے گا نیابتی حج میں نائب طواف النساء کو منسوب عنہ ٰ جس کی جانب سے حج کر رہا ہے کی جانب سے انجام دینہ کہ اپنی جانب سے ۔

۴۱۸ ۔ طواف النساء اور اس کی نماز کی شرائط اور طریقہ وہی ہے جو حج کے طواف اور اس کی نماز کا ہے صرف نیت کا فرق ہے

۴۱۹ ۔ وہ شخص جو طواف النساء اور اس کی نماز خود انجام نہ دے سکتا ہو اس کا حکم وہی ہے جو عمرہ کو طواف اور اس کی نماز خود انجام نہ دے سکنے والے کا ہے جو کہ مسئلہ ۳۲۶ میں بیان ہو چکا ہے ۔

۴۲۰ ۔ جو شخص چاہے مسئلہ جانتا ہو یا نہ جانتا ہو جان بوجھ کر یا بھولنے کی وجہ سے طواف النساء انجام نہ دے تو ا سکا جبران و تدارک کرنا واجب ہے اور جبران کرنے سے پہلے اس کی بیویا س پر حلال نہیں ہو گی لہذا اگر خود انجام دینا ممکن نہ ہو یا بہت مشکل ہو تو جائز ہے ہ کسی کو نائب بنانے نائب کا اس کی جانب سے وطاف انجام دینے پر اس کی بیوی اس پر حلال ہو جائے گیا گر یہ شخص طواف النساء کے جبران سے پہلے مر جائے اور اس کا ولی یا کوئی اور اس کی جانب سے طواف کی قضاء کرے تو کوئی اشکال نہیں ہے ورنہ احوط یہ ہے کہ اس کے بالغ ورثا کی اجازت سے ان کے مال سے قضاء کرائی جائے ۔

۴۲۱ ۔ طواف النساء کو سعی سے پہلے انجام دینا جائز نہیں ہے چنانچح اگر کوئی طواف النساء کو عمدا سعی سے پہلے انجامد ے تو ضروری ہے کہ سعی کے بعد دوبارہ انجام دے لیکن اگر حکم شرعی نہ جاننے یا بھول کر ایسا کیا ہو تو اظہر یہ ہے کہ کفایت کرے گا اگرچہ دوبارہا دائیگی احوط ہے ۔

۴۲۲ ۔ مسئلہ ۴۱۲ ۔ میں مذکور افراد کیلئے طواف النساء کو دونوں وقوف سے پہلے انجام دینا جائز ہے لیکن منی کے اعمال مژلا رمی ذبح اور حلق یا تقصیر سے پہلے ان کیلئے بیوی حلال نہیں ہو گی ۔

۴۲۳ ۔ اگر عورت حائض ہو جائے اور قافلہ اس کی طہارت کا انتظار نہ کرے نیز قافلے سے جدا ہونا بھی ممکن نہ ہو تو اس کیلئے جائز ہے کہ طواف النساء کو چھوڑ کر قافلے کے ساتھ وطن واپس آ جائے تاہم احوط یہ ہے کہ کسی کو طواف النساء اور اس کی نماز کیلئے نائب بنائے اگر طواف النساء کا چوتھا چکر پورا ہونے کے بعد حیص آئے تو اس کے لئے جائز ہے کہ باقی کو چھوڑ کر قافلے کے ساتھ واپس آ جائے اور احوط یہ ہے کہ ابقی طواف اور اس کی نماز کیلئے کسی کو نائب بنائے ۔

۴۲۴ ۔ طواف النساء کی نماز بھول جانے کا وہی حخم ہے جو عمرہ کے طواف کی نماز کو بھول جانے کا ہے جو مسئلہ ۴۲۹ ۔ میں بیان ہو چکا ہے

۴۲۵ ۔ مرد کا طواف النساء اور اس کی نماز انجام دینے پر اس کی بیویا ور اسی طرح عورت کا طواف النساء اور اس کی نماز انجام دینے پر کا شہور حلال ہو جائیں گے احوط یہ ہے کہ شکار تیرھویں ذی الحجہ زوال آفتاب تک حرام رہے گا اوراس کے بعد احرما کی وجہ سے حرام ہونے والی تمام چیزیں حلا ل ہو جائیں گی ۔


منی میں رات گزارنا

واجبات حج میں سے بارھویں واجب منی میں گیارہ اور بارہ کی رات گزارنا ہے اس میں قصد قربت اور خلوص نیت معتبر ہے اگر حاجی عید کے دن طواف اور سعی کرنے کیلئے مکہ جائے تو منی میں راگت گزارنے کیلئے واپس آنا واجب ہے حالت احرام میں شکار سیا جتناب نہ برتنے والے شخص پر تیرھویں ذی الحجہ کی شب بھی منی میں گزارنا واجہ ہے اسی طرح وہ شخص بھی کہ جس نے اپنی بیوی سے نزدیکی کی ہو بناء بر احوط تیرھویں ذی الحجہ کی شب منی میں گزارے مذکورہ اشخاص کے علاوہ باقی حجاج کیلئے جائز ہے کہ بارہ تاریخ کو ظہر کے بعد منی سے باہر چلے جائیں لیکن اگر وہاں رکیں یہاں تک کہ تیرھویں رات آ جائے تو ضروری ہے کہ تیرھویں کی رات بھی طولع فجر تک وہیں گزاریں ۔

۴۲۶ ۔ اگر منی سے نکلنے کیلئے اپنی جگہ سے سفر کا آغاز کیا جائے لیکن ہجوم وغیرہ کی وجہ سے غروب سے پہلے منی کی حدود سے باہر نہ جایا جا سکے تو اگر رات منی میں گزارنا ممکن ہو تو منی میں قیام کرے لیکنا گر ممکن نہ ہو یا حرج وشدید تکلیف کا باعژ ہو تو منی سے نکلنا جائز ہے تاہم بنا ور احتیاط ایک دنبہ کفار دے

۴۲۷ ۔ قبل ازیں ذکر شدہ سبب کے علاوہ یہ معتبر نہیں ہے کہ منی میں پوریر ات گزاری جائے چنانچح اول شب سے نصف شب تک قیام کے بعد منیس ے جایا جا سکتا ہے لیکن اگر اول شب یا اس سے پہلے کوئی نکلے تو ضروری ہے کہ طلوع فجر سے پہلے بلکہ بناء بر احتیاط نصف شب سے پہلے منی واپس آ جائے جو شخص اول شب سے نصف شب تک منی میں قیام کے بعد نکلے اس کیلئے احوط اولی یہ ہے کہ طلوع فجر سے پہلے مکہ میں داخل نہ ہو ۔

۴۲۸ ۔ منی میں رات گزارنا جن افراد پر واجہ ہے ان میں سے درج ذیل چند لوگ مستژنی ہیں

۱ ۔ وہ شخص جس کیلئے منی میں رات گزارنا زحمت اور تکلیف کا باعژ ہو یا سے اپنی جان مال یا عزت کا خطرہ ہو

۲ ۔ وہ شخص جو منی سے اول شب یا اس سے پہلے نکل جائے اور مکہ میں آدھی رات سے پہلے عبادت مفیں ۴ شغول ہو کر طولع فجر تک تمام وقت ضروری حاجات مژلا کھانے پینے کے علاوہ عبادت میں گزارنے کی وجہ سے واپس نہ آ سکے

۳ ۔ وہ جو مکہ سے منی جانے کیلئے نکلیا ور عقبہ مدینین سے گزر جائے تو اس کیلئے جائز ہے کہ راستے میں منی پہنچنے سے پہلے سو جائے

۴ ۔ وہ لوگ جو مکہ میں حاجیوں کو پانی پہنچاتے ہیں

۴۲۹ ۔ جو منی میں رات نہ گزارے اس پر ہر رات کے بدلے ایک دنبہ کفارہ واجب ہے مذکورہ چار گروہوں میں سے دوسرے تیسرے اور چوتھے رپ کفار واجب نہیں ہے لیکن پہلا گروہ بنابر احوط کفار دے اسی طرح وہ شخص بھی کفارہ دے جو بھولنے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے رات منی میں نہ گزارے ۔

۴۳۰ ۔ جو شخص منی سے جا چکا ہو اور پھر تیرھویں شب کسی کام سے منی واپس پہنچ جائے تو اس پر یہ رات منی میں گزارنا واجب نہیں ہے

رمی جمرات

واجبات حج میں سے تیرھواں واجب تین جمرات اولی وسطی اور جمرہ عقبہ کو رمی کرنا (کنکر مارنا ) ہے واجہ ہے کہ رمی گیارھیوں اور بارھیوں ذی الحجہ کو کی جائے اور تیرھویں شب منی میں گزارنے والوں پر بنی بر احوط تیرھیوں ذی الحجہ کے دن میں بھی رمی کرنا وجاہ ہے حالت اکتیار میں خود رمی کرنا واجہ ہے اور نیابت کافی نہیں ہو گی

۴۳۱ ۔ واجہ ہے کہ رمی جمرہ اولی سے شروع کرے پھر جمرہ وسطی کو اور پھر جمرہ عقبہ کو رمی کرے اگر بھول یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اس سے مختلف عمل کرے توا جہ ہے کہ پھر وہیں سے رمی شروع کرے جہاں سے ترتیب حاصل ہو جائے لیکن اگر پہلے جمرہ کوچار کنکنر مارنا شروع کر دے تو پہلے والے کو باقی تین کنکر مارنا کافی ہے اور دوسرے جمرہ کو دوبارہ کنکر مارنا ضروری نہیں ہے ۔

۴۳۲ ۔ واجہ واجب چیزیں جو واجبات حج کے چوتھے واجب جمرہ عقبہ کی رمی کی ذیل میں بیان ہو ئیں تینوں جمرات کی رمی میں بھی واجب ہے ۔

۴۳۳ ۔ واجب ہے کہ رمی جمرات دن کے وقت کی جائے اس حکم سے چروا ہے اور ہر وہ شخص جو خوف بیماری یا کسی اور وجہ سے دن کے وقت منی میں نہ رہ سکتا ہو مستژنی ہیں چنانچہ ان افراد کیلئے ہر دن کی رمی ازس دن کی رات میں کرنا جائز ہے لیکنا گر ہر شب میں بھی ممکن نہ ہو تو تمام راتوں کی رمی ایک شب میں کرنا جائز ہے

۴۳۴ ۔ جو شخص گیارہ تاریخ کو دن کے وقت بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے رمی نہ کرے تو واجہ ہے کہ ابرہ تاریخ کو اس کی قضا کرے اور جو بارہ تاریخ کی رمی کو بھول کریا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نہ کر سکے تو وہ تیرہ تاریخ کو اس کی قضاء کرے احوط یہ ہے کہ جان بوجھ کر رمی نہ کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے بناء بر احتیاط ادا اور قضا میں فرق رکھے اور قضا کو ادا سے پہلے انجام دے احوط اولی یہہے کہ قضا کو دن کے شروع میں اور ادا کو زوال کے وقت انجام دے ۔

( ۴۳۵) جو شخص جان بوجھ کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے رمی جمرات کو انجامنہ دے اورپھر مکہ میں ااسے جیا اء ۷ یا مسلہ پتہ چلے ت واجو ہے کہ منیواپس جائے اور وہاں رمی کرے ۔ اگر دو یا تین دن کی رمی چھوڑ تو اہوط یہ ہے کہ وجس دن کی رمیپہلے چھوڑ چھٹی ہو اسکی قضا پہلطے انجام دے اوثثر دونوں کی عمنی کے درمیاں کچھ فاصلہ رکھے ۔ اگر مکہ سے نکلنے کے بعد یاد ایئے یا مسلئکہ پتہ چلے تو رمی بجالانے کے لیے واپس جان الازن نہیں ہے تاہم احوط اولی یہ ہی کہ اگر اکلے سال خود حج پرجائے تو قض اکرے اثو راگر خود نہ جائے تو سکی کو قضاکے لیے نائب بنائے ۔

( ۴۳۶) وہ شخص جو خود رمی نہ کرسکے مثلا مریض ہو تو کسی کو نائب بنائے ارو بہتر یہ ہے کہ اگفر ممکن ہو تو رمی کے وقت وہاں موجود ہو اور نائب اسکے سامنے رمی انجامن دے ۔ اگر نایب اسک ی جانب سے رمی انجام دے ۔اور خودرمی کا وقت ختم ہونے سے پہلے عذر ختم ہونے سے مایو امہ ہو اور اتفاقا عذر ختم ہوجایئے تو احوط یہ ہے کہ خود بھی رمی کرے ۔ لیکن جو شخص نائیب نہ بنا سلتاہو مثلا بیہوش ہو تو تو اسکا ولی یا کوئے شخص اس کی جانب سے رمی کرے ۔

( ۴۳۷) جو شخص ایام تشریق ( ۱۱،۱۲،۱۳ ذی الحجہ )میں جان بوجھ کر رمی چھوڑ دے تو اسکا حج باطل نہیں ہو گا ،احوط یہ ہے کہ اگر آئندہ ساخود حج کرے تو خود ورنہ بنایب کے ذریعے اسکی قضااکرے ۔


مصدود کے احکام

( ۴۳۸) مصدود وہ شخص ہے کہ جسے دشمن یا کوئی اور احرام باندھنے کے بعد حج کے اعمال کی بجا آوری کے لیے مقدس مقامات پرجانے سے رو کے ۔

( ۴۳۹) ج سشخ صکو عمرہ مفردہ سے روکا جائے اگر وہ قرنای جککو سارو لایئا ہو تو اسک ے لیے قربانی کے ذبح یا نحر کرنے کے ذریعے احرم کو اسی جگہ پر کھولانا جائنب ہے جہاں ساسے روکا گیا ہو ۔ اگر قربیانی کا جانور ساتھ نہ لایئا ہو اور احرم کھولنا چاہتاہو تو ضروری ہے کہ قربانی کا جانور حاصل کرے اور اسے زبح یا نحر کرکیحرم کھولے ،بنابر احتیاط قربانی کیے بغیر احرم بہ کھولے حتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں ذبح یا بہر کے ستھ حلق یا تقصیر بھی انجام دے ۔وہ شخص جسے عمرہ تمتع کے ساتھ ساتھ حج سے بھی روکا جائے تو اسکا وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہو اہے ۔ لیکن اگر اسکو دونوں وقوف کے بعد کعبہ جانے سے روکا جائیے تو بعید نہیں ہے کہ اس کا فریضہ ،،حج افراد ،، میں تبدیل ہوجائے گا۔

( ۴۴۰) وہ شخص جسے حج تمتع سے روکا جائے تگ اگر دونوں وقوف یا صرف ایک وقف مشعر سے روکاتو احتیاط یہ ہے کہ طواف کرتتے سعی ،حلق اور ذبح کرکے احرام کھول دے ۔اگر صرف طواف اور سعی کرنے سے روکا جاے اور نایب بنانا ممکن نہ ہو تو چنانچہ ار احرم کھولنا چاہتاہہو تو احوط یہ ہے کہ قربانی کرے اور حلق یق تقصیر انجام دے ۔ لیکن اگر نایب بنانا ممکن ہو ت وبعید نہیں ہے جہنائب بنا کافی ہو لہذ ااپنے طواف افر سعی کے لیے نایب بنائے اور نیاب کے طو اف کرنے کے بع دنماز طواف خو د پڑھے ۔ اگر اعمال بجالانے کے لیے منی میں پہنچنے سے روکا جائے تواگرنائب بنانان ممکن ہو تو رمی اور قرنبانی کے لیے نیائب بنائے اور پھر حلق یا تقصیر انجام دے ، اگر ممکن ہو تو اپنے بال منی میں بھیج دے پھر باقی اعمال انجام دے ۔ لیکن اگر نایب بنانان ممکن نہ ہوتو قربانی کرنا واجب نہیں ہو گا ہے ۔لہذا قربانی کے بدلے روزے رکھے ۔ اسی طرح رمی واجب نہیں رہے گی ۔ تاہم احتیاط یہ ہے کہ رمی اگلے سال خود یانائب کے ذریعے انجام دے ۔اب باقی تمام اعمال مثلاحلق یا تقصیر و اعمال کو مکہ میں انجام دے اور ان اعمال سے فارغ ہونے کے بعد رتمام مہرمات اس پر حلال ہو جائیں گے ہتی کہ زوجہ بھی حلال ہو جائے گی اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔

( ۴۴۱) جسے حج یا عمرہ سے روکا جائے اور قربانی کرنے کی وجہ سے وہ احرم کھول دے تو یہ حج و عمرہ کافی نیں یج بلکہ اگر اوہ حج اسلام انجام دینا جہتاہو اور اسے روکا جائیاور وہج قربان یکی وجہ سے ہرام کھول دے تو اس پر واجب ہے اگر استعطاعت باقی ہو یا حج اسکے ذمے ثابت ہو تو آئندہ سال حج پر جائے ۔

( ۴۴۲) اگر منی میں رات گزارنے اور رمی جمرات کرنے سے روک جائے تو اس سے حج متاثر نہیں ہوگا چنانچہ اس شخص پر مصدود کا حکم جاری نہیں ہو گا ۔ لیکن اگ گراسی سا رمی کے لیے نائب بنانا ممکن ہو تو کسی کو نائب بنائے ورنہ اہوط اولی یہ ہے کہ آئبندہ سال خو د یا نائب کے ذریعے اس کی قضا کرے۔

( ۴۴۳) مصدود شخص جو قربانی کرے اس میں اس سے فرق نہیں پڑتاہکہ قربانی کا جانور اونٹ ،گائے یابکری ہو ۔ اگر قربانی کرنا ممکن نہ ہو تو احوط یہ ہے کہ اسکے بدلے ۱۰ دن روزے رکھے ۔

( ۴۴۴) اگر حج کے لیے حرم امپہننے ولا وقوف معشر سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرے تو واجب ہے کہ اپنے حج کو پور کرے اور دوبارہ بھی بجالائے ۔ جیسا کہ محرمات حرام میں بیان ہو ہے ۔ پھر اگر اسکو حج تمام کرنے سے روکا جائے تو اس پر مصدود کے ہاکام جاری ہوں گے ۔لکین احرام کھونے کے لیے قربانی دینے کے علاوہ اس پرجماع کاکفارہ بھی واجب ہو گا۔

محصور کے احکام

( ۴۴۵) محصوور وہ شخص ہے کہ جو احرام باندھنے کے بعد اعمال حج یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے مریض یا کسی اور وجہ سے مقدس مقامات تک پہنچ نہ سکے

( ۴۴۶) اگر کوئی شخص عمرہ مفردہ یا عمرہ تمتع میں محصور ہوجائے اور احرام کھولنا چاہیے تو اس کا فریضہ ہے کہ قربانی یااسکی قیمت اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھیجے اور ان سے وعدہ لے کہ قربانی کو وقت معین میں مکہ میں انجا م دیں گے اور پھر جب وقت معین آجائے تویہ شخص جہاں وہیں پر ہے یا تقصیر کرے اوراحرام کھول دے ۔ لیکن اگر ساتھی نہ ہونے کی وجہ سے قربانی یا اس کی قیمت بھیجنا ممکن نہ ہو تو اس کی لیے جائز ہے کہ جہاں ہو وہیں پر قربانی کرے اور احرام کھول دے ۔ اگر حج میں محصور ہو جائے

تواس کا حکم وہی ہے جو اوپر بیان ہو اہے مگر قربانی کو منیٰ میں عید کے دن کرنے کو کہے ۔

مذکورہ موارد میں محصور پر بیوی کے علاوہ باقی تمام چیزیں حلال ہوجائیں گی اور بیوی اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک حج یا عمرہ میں طواف اور صفا و مروہ کے درمیاں سعی انجام نہ دے ۔

( ۴۴۷) اگر کوئی عمرہ کے احرام کے بعد بیمارہوجائے اور قربانی کو مکہ بھجوا دے اور پھر اس قدر تندرست ہوجائے کہ خود سفر کرنا اور قربانی سے پہلے مکہ میں پہنچنا ممکن ہو تواسے چاہیے کہ خود مکہ میں پہنچے اور اگر اس کا فریضہ عمرہ مفردہ ہو تو عرفہ کے دن زوال آفتاب سے پہلَے اعمال کو مکمل کر سکتا ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ورنہ ظاہر یہ ہے کہ ا س کا حج افراد میں تبدیل ہو جائے گا ۔ دونوں صورتوں میں اگر قربانی نہ بھیجے اور صبر کرے یہاں تک کہ اس کی بیماری کم ہوجائے اور یہ خود سفر کرنے پر قادر ہوجائے تب بھی یہی حکم ہے ۔

( ۴۴۸) اگر حج کے احکام کے بعد حاجی بیمار ہوجائے اور قربانی بھیجنے کے بعد بیماری کم ہوجائے اور گمان ہوکہ حج ہوجائے گا تو اعمال حج میں شامل ہونا واجب ہے چنانچہ اگردنوں وقوف یا صرف وقوف مشعر حاصل ہو توجیسے کہ بیان ہو ااس کا حج ہو گیا لہذا اعمال حج اور قربانی انجا م دے ۔ لیکن اگر کوئی بھی وقوف حاصل نہ کر سکے تاہم اس کے پہنچنے سے پہلے اس جانب سے قربانی اد ا نہ کی گئی ہوتو اس کا حج عمرہ مفردہ میں تبدیل ہو جائے گا اوراگر اسکی جانب سے قربانی اد اکر دی گئی ہو تو یہ تقصیر یا حلق انجام دے اور بیوی کے علاوہ باقی تمام چیزیں اس پر حلا ل ہوجائیں گی ۔ بیوی اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک حج اور عمرہ میں طواف اور سعی بجا نہ لائے لہذا اگر انہیں انجام دے گا تو عورت بھی حلال ہوجائے گی ۔

( ۴۴۹) اگر حاجی بیماری یا کسی اور وجہ سے طواف و سعی کے لیے نہیں پہنچ سکتا ہو تو اس کے لیے نائب بنانا جائز ہے ۔ اور نائب کے لیے طواف کے بعد نمازطواف خود انجام دے ۔ اگر منیٰ میں جاکر وہاں کے اعمال انجام دینے سے محصور ہو تو رمی اور ذبح کے لیے نائب بنائے اور حلق یا تقصیر انجام دے ممکن ہو تو اپنے بال منیٰ بھیجے ۔ اس کے بعد باقی تمام اعمال انجام دے اور اس کا حج پورا ہو جائے گا ۔

( ۴۵۰) اگر کوئی محصور ہوجائے اور اپنی قربانی بھجوا دے اور اس سے پہلے کہ قربانی اپنی جگہ پہنچے اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کیلیے سر مونڈنا جائز ہے ۔ لہذا اگر سر مونڈے تو واجب ہے کہ جس جگہ ہو وہیں ایک بکری ذبح کرے یاتین دین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ہر مسکین کو دو مد ہر مد تقریبا ۷۵۰ گرام کھانا دے ۔

(! ۲۵) حج یا عمرہ میں محصور ہونے ولا اگر قربانی بھجواکر احرام کھول دے تو اسکا حج یا عمرہ ساقط نہیں ہوا لہذا حج اسلام انجام دینے والا اگر محصور ہو جائے اور قربانی بھیج کر احرام کھول دے تو اس پر واجب ہے کہ اگر استطاعت باقی ہو تو یا حج اس کے ذمہ ثابت ہو چکا ہو تو اگلے سال حج اسلام بجا لائے ۔

( ۴۵۲) اگر محصور کے پاس قربانی یا اس کے پیسے نہ ہوں تو وہ اس کے بدلے دس روزے رکھے ۔

( ۴۵۳) اگر محرم کے لیے حج یا عمرہ کے اعمال کی ادائیگی کے لیے مقدس مقامات تک خود جانا محصورو مصدود ہونے کے علاوہ کسی اور وجہ سے ممکن نہ ہو توا گر عمرہ مفردہ کے لیے احرام باندھنا ہو تو اسکے َیے جائزہے کہ وہ جس جگہ ہو وہیں قربانی کرے اور بنا پر احتیاط اس کیسا تھ حلق یا تقصیر انجام دے کر احرام کھول دے ۔ اسی طرح جب عمرہ تمتع کا احرام ہو اور حج کو حاصل کرنا بھی ممکن نہ ہو تو یہی حکم ہے ورنہ ظاہریہ ہے کہ ا س کا فریضہ حج افراد میں تبدیل ہوجائے گا ۔ اگر طواف و سعی کے مقام تک پہنچنا یامنی کے اعمال بجا لانے کیلیے منی جانان ممکنن ہہ ہو تو اس ک اوہی ہخم ہے جو مسئلہ ۴۴۹ میں بیان ہو اہے ۔

( ۴۵۴) فقہاء کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ حج یا عمرہ کرنے ولاجب قربانی ساتھ نہ لائے اور اس نے خد ا سے شرط کی ہو کہ اگر اعمال حج مکمل کرنے سے معذور ہو گیا تو احرام کھول دونگا ۔ اور پھر کوئی عذر پیش آجا ئے مثلا بیماری دشمن یا کسی اور وجہ سے کعبہ یاوقوف کی جگہوں پر نہ پہنچ کسی تو اس شرط کے نتیجہ میں عذر پیش آنے پر حرام کھول سکتا ہے ۔ اور تمام چیزیں اس پر حلال ہوجا ئیں گی اور حران کھولنے کے لیے قاربابی دینا وار حلق و تقصیر کرنا ضروری ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی محصور ہوجائے تو بیوی کے حلال ہونے کے لیے طواف و سعی واجب نہیں ہیں یہ قول اگرچہ وجہسے خالی نہیں ہے مگر احتیاط واجب یہ ہے کہ جب محصور یامصدود ہوجائے تو جو حکام حرام کھولنے کے لیے بتائے گئے ہیں ان کی رعایت کریاور شرط کے نتیجہ محل ہونے پر مذکورہ آثار مرتب نہ کرے ۔

یہاں تک واجبات حج کو بیان کیا گیا اب ہم حج کے آداب بیان کریں گے ۔ فقہا ء نے حج کے لیے بہت زیادہ آداب ذکر کئے ہیں جن کی گنجائیش اس مختصر سی کتاب میں نہیں ہے لہذا ہم چند آداب بیان کرنے پر اکتفا کریں گے ۔

یہ جان لینا چاہیے کہ مذکورہ آداب میں سے بعض مستحب ہونا قاعدہ تسامح فی ادلتہ السنن پر مبنی ہے چنانچہ ضروری ہے کہ انہیں رجا مطلوبیت کی نیت سے ناجم دیاجائے نہ کہ اس نیت سیہ یہ شارع مقدس سے وارد ہوئے ہیں یہی حکم مکروہات میں بھی ہے جو آگے بیان کئے جائیں گئے ۔


متفرق آداب

مستحبات احرام

۱ ۔احرام پہننے سے پہلے بدن کو پاک صاف کرنا جاخن کاٹنا مونچھوں کی تراش خراش کرنا زیر بغل اور زیر ناف بالوں کو صاف کرنا مستحب ہے ۔

۲ ۔ جو شخص حج کرنا چاہتا ہو وہ ابوتدا ذیعقدہ سے ارو جو عمرہ مفردہ کرنا چاہتا ہ وہ ایک مہینہ پہلے سے سر اور داڑھی کے بال بڑھائے ۔ بعض فقہاء اسکے واجب ہونے کے قائل ہی انکا قول اگرچہ ضعیف ہے مگر احوط ہے ۔

۳ ۔ احرام کے لیے میقات سے غسل کرنا اور اظہر یہ ہی خہ حائض و نفسا کے لیے بھی یہ غسل کرنا صحیح ہے ۔ اگر میقات پر پانی نہ ملنے کا خوف ہو اس سے پہلے غسل کرے پھر اگر میقات میں پانی مل جائے تو دوبارہ غسل کرے ۔اگر غسل کرنے کے بعد حدث اصغر صادر ہو یا ایسی چیز کھائے یا پہنے جو محرم پر حرام ہو تو دوبارہ غسل رکے جو غسل دن میں کرے گا وہ اگلی شب تک کافی ہو گا اور جو رات میں غسل کریگا وہ اگلے دن کے آکر تک کافی ہے ۔

۴ ۔ احرام کے دو کپڑے پہنے

۵ ۔ دونوں کپڑ ے سوتی ہوں ۔

۶ ۔ نماز ظہر کے بعد احرام باندھے اور اگر نماز ظہر کے بعد نہ باندھ سکتا ہو تو کسی اور واجب نماز کے بعد باندھے ورنہ دو رکعت نافلہ نماز پڑھنے ے بعد باندھے جب کہ چھ رکعت افضل ہے ۔ پہلی رکعت میں سورة الحمد اور سورة توحید اوردوسری رکعت میں سورة الحمد کے بعد سورة الکافرون پڑھے ۔ نماز سے فارغ ہوکر خدا کی حمد و ثنا ء بیان کرے اور رسول اکرم اور انکی پاک آل پر درود بھیجے۔

۷ ۔احرام کی نیت کو زبان سے تلفظ کرے اور بیت کی الفاظ تلبیہ کے ساتھ ملائے۔

۸ ۔مرد تلبیہ بلند آواز میں کہیں ۔

۹ ۔حالت احرام میں نیند سے بیدار ہو کر ہر نماز کے بعد سوار ہوتے وات سواری سے اترتے وقت ٹیلے کے اوپر چڑھتے ہوئے یا اترتے ہوئے سوار شخص سے ملاقات کے وقت اور سحر کے وقت تلبیہ کو کثرت سے پڑھنا مستحب ہے چاہے محرم مجنب یا حائض ہو ۔عمرہ تمتع کرنے والا تلبیہ کو اس وقت تک کہتا رہے جب تک اسے پرانے مکہ کے گھر نظر نہ ائیں اور حج تمتع میں عرفہ کے دن زوال تک تلبیہ کہتا رہے جیسا کہ مسئلہ۱۸۶ میں بیان ہوچکا ہے ۔

مکروہا ت احرام

احرام میں چند چیزیں مکروہ ہیں ۔

۱ ۔ سیاہ کپڑے سے احرام باندھنا بلکہ احوط ہے ہ اسے ترک کریدیں چونکہ احرام میں سفید کپڑا افضل ہے ۔

۲ ۔ زردرنگ خے بستر اور تکیہ پ سونا

۳ ۔ میلے کپڑے سے احرام باندھنا تاہم اگرا حرام باندھنے کے بعد میلا ہوتو بہترہے کہ جب تک احرام کی حالت میں ہے اسے نہ دھوئے البتہ احرام بدلنے میں کوئی حرج نہیں ہی ۔

۴ ۔منقش یا اس جیسے کپڑے سے احرام باندھنا۔

۵ ۔احرام سے پہلے مندیی لگانا جب کہ اس کا اثر حرام کے وقت تک باقی رہے ۔

۶ ۔حمام میں جانا اولی بلکہ احوط یہ ہیہ محمرماپنے جسم کو من ملے اور نہگھے ۔

۷ ۔ کسی کے بکارنے کے جوابن میں لبیک کہنا بلکہ اسے ترک کرنا احوط ہے ۔

حرم میں داخل ہونے کے مستحبات

حرم میں داخل ہوتے وقت چند چیزیں مستحب ہیں۔

۱ ۔ حرم پہنچ کر سواری سے اترنا اورداخل ہونے کے لیے غسل کرنا ۔

۲ ۔ حرم میں داخل ہوتے وقت جوتے اتار کر انہیں خضوع و خشوع کی نیت سے ہاتھ میں پکڑنا۔

حرم میں داخلَ ہوتے وقت دعا کا پڑھنا

الل ه م انک قلت فی کتابک المنزل

۴ ۔ حرم میں داخل ہوتے وقت اذخر (خوشبودار گھاس) میں سے کچھ مقدار کا چبانا۔

مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام میں داخل ہو نے کے آداب

جو شخص مکہ میں دخل ہونا چہاتا ہو اس کے لککی مستحب ہے ہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے اورسکون و وقار کے ساتھ داخل ہجو ۔ مدینے کیرستے سے آنے ولے کے لے مستحب ہے کہ وہ مکہ کی بالائی سمت سے داخل ہو اورجاتے وقت مکجہ کی زیریں سمت والے راستے سے باہر جائے ۔

مستحب ہے ہ مسجد الحرام میں ننگے پیر سکون و وقار اور خشوع کے ساتھ باب بنی شیبہ سے داخل ہو ۔ اگرچہ یہ دروازہ مسجد کی وسیع ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا مگر بعض افرادکا کہنا ہے کہ یہ باب السلام کے مقابل ہے چنانچہ بہتر یہ ہی کہ باب السلام سے داخل ہو کر یہاں تک کہ ستونونں سے گزر جائے ۔

مستحب ہے کہ مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوکریہ کہے۔

السلام علیک ایها النبی ورحمة الله وبرکاته بسم الله وباالله ومن الله و ما شائالله والالسم علی انبیاء الله و رسله والسلام علی رسول الله والسلام علی ابراهیم خلیل الله والحمد الله رب العالمین ۔


نماز طواف کے آداب

نماز طواف میں پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ توحید اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ کافرون پڑھنا مستحب ہے نماز سے فارغ ہو کر خدا کی حمد ثناء بیان کرے اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وآل محمد علیہم ا لسلام پر درود بھیجے اور خدا سے قبولیت کی دعا کرے

امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے نماز طواف کے بعد سجدہ کیا اور سجددہ میں فرمایا

سجد وج ه ی لک تعبد ا ورق لااله الا انت حقا حقا الاول قبل کل شئی والاخر بعد کل شئی و ه ا انا ذابین یدیک ناصیتی بیدک ، واغفرلی انه لا یغفر الذنب العظیم غیرک فاغفرلی فانی مقر بذنوبی علینفسی ولا یدفع الذنب العظیم غیرک

مستحب ہے کہ صفا جانے سے پہلے آب زم زم پیے اور کہے

اللهم اجعله علما نافعا ورزقا واسعا وشفا من کل داء و سقم

اگر ممکن ہو تو نماز طواف کے بعد آبزم زم کے کنویں کی طرف آئے اور اس سے ایک یا دو ڈول آبزم زم لے اور اس میں سے کجھ پانی پی کر باقی اپنے سر کمر اور پیٹ پر ڈالے اور یہ دعا پڑھے

اللهم اجعله علما نافعا ورزقا واسعا وشفا من کل داء و سقم

پھر حجر اسود کی طرف آئے اور وہاں سے صفا کی طرف روانہ ہو جائے

سعی کے آداب

مستحب ہے کہ سکون اور وقار کے ساتھ حجر اسود کے مقابل دروازیسے صفا کی طرف جائے اور جب صفا پر چڑھے تو کعبہ کی طرف دیکھے اور اس رکن کی طرف متوجہ فو جس میں حجر اسود ہے اور اللہ کے حمد ثناء بیان کرے اور اس کی نعمتوں کو یاد کرے پھر سات مرتبہ اللہ اکبر سات مرتبہ الحمد للہ اور سات مرتبہ لاالاہ الا اللہ کہے اور پھر تین مرتبہ کہے

لا اله الا الله وحده لاشیرک له ، له الملک وله الحمد یحیی و یمیت وهو علیکل شئی قدیر

پھر محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم اور آل محمد علیہم السلام پر درود بھیجے اور پھر تین مرتبہ کہے

الله اکبر الحمد لله علی ما ه دانا والحمد لله علی مآ اولانا والحمد لله الحی القیوم والحمد لله الحی الدائم

پھر تین مرتبہ کہے

اش ه د ان لا اله الا الله و اش ه د ن ان محمد اعبده ورسوله ، لانعبد الا یاه مخلصین له الدین ولو کره المشرکین

پھر تین مرتبہ کہے

الل ه م انی اسئک العفو والعافیة والیقین فی الدینا والاخرة

پھر تین مرتبہ کہے

الل ه م اتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة وقنا عذاب النار

پھر سو مرتبہ اللہ اکبرسو مرتبہ لاالہ الا اللہ سو مرتبہ الحمد للہ اور سو مرتبہ سبحان اللہ کھے اور پھر یہ دعا پڑہے

لاالهالا الله و حده وحده انجز وعده و نصر عبده و غلب الحزاب و حده بارک لی فی الموت و فیما بعد لامو الل ه م انی اعوذبک من ظلمة القبر و وحشته الل ه م اظلنی فی اظل عرشک یوم لا ظل الا ظلک

پھر تکرار کے ساتھ اپنے دین اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اللہ کے سپرد کر ے اور کہے

استودع اللہ الرحمن الرحیم الذی لا تضیع و دائعہ دینی و نفسی و اھلی اللھم استعملی علی کتابک و سنة نبیک و توافنی علی ملة و اعذنی من الفتنة

پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہ کر اسے دوبارہ دو مرتبہ پڑھے اور پھر ایک مرتبہ تکبیر کہ کر پھر اسے دوبارہ پڑھے اور اگر یہ پورا ممکن نہ ہو تو جتنا ممکن ہو اتنا پڑھے امیرالمومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب آپ صفا پر چڑھتے تھے تو کعبہ رخ ہو کر ہاتھ بلند کر کے یہ دعا پڑھتے تھے

الل ه م اغفرلی کل ذنب اذنبته قط فان عدت فعد علی بالمغفرة فانک انت الغفور الرحیم الل ه م افعل بی ما انت اهله فانک ان تفعل ان تفعل بی ماانت اهله ترحمنی وان تعذبنی فانت غنی عن عذابی محتاج الی رحمتک فیا من انا محتاج الی رحمة ارحمنی ، الل ه م لا تفعل بی ما ا ا ه له فانک ان تفعل ان تفل بی ما نا ا ه له ، تعذبنی ولن تظلمنی اصبحت اتقی عدلک ولا اخاف جورک ، فیما هو عل لایجور ارحمنی

چھٹے امام علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ

اگر تم چاھتے ہو کہ تمھارا مال زیادہ ہو تو صفا پر زیادہ ٹھرو مستحب ہے کہ سعی سکون اور وقار کے ساتھ کی جائے یہاں تک کہ پہلے منارہ کے مقام تک پہنچے اور وہاں سے دوسرے منارہ کی طرف ھرولہ یعنی تیزتیز چلے لیکن عورتوں کے لٰے ھرولہ مستحب نہیں ہے وہاں سے سکون اور وقار سے چلتے ہوئے مروہ پر چڑھے اور پر پہنچ کر وہی اعمال انجام دے جو صفا پر انجام دئے تھے اور اسی پرح مروہ سے صفا واپس لوٹے اگر سوار ہو کر سعی کر رہا ہو تو دوناں مناروں کے درمیان سواریکو تھوڑا تیز کرے اور مناسب ہے کہ گریہ طاری کرنے کی کوشش کرے اور بارگاہ الہی میں گڑ گڑا کر کثرت سے دعاکرے


احرام سے وقوف عرفات تک کے آداب

جب حج کے لئے احرام باندہ کر مکہ سے باہر نکلے تو راسے میں آواز بلند کئے بغیر تلبیہ کہے ابطح پر پہنچ کر آواز کو بلند کرے اور منی کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہے

الل ه م ایاک ارجو ایاک ادعو فبلغنی املی و اصلح لی عملی

پھر سکون و وقار سے ذکر خدا کرتے ہوئے منی جائے اور منی پہنچ کر یہ دعا پڑھے

الحمد الله الذی اقد منی ه ا صالحا فی عافیة و بلغنی ه ذا المکان

پھر یہ دعا پڑھے

الل ه م و ه ذه منی و هی مما مننت به علی اولیائک من المناسک فاسئلک علی محمد ال محم دو ان تمن علی فی ه ا بما مننت علی اولیائک واهل طاعتک وانما اناعبدک و فی قبضتک

حاجی کے لئے مستحب ہے کہ شب عرفہ اللہ کی اطاعت گزاری کرتے ہوئے منی میں گزارے افضل یہ ہے کہ عبادت میں مشغول رہے خصوصامسجد خیف میں نماز پڑھنے کے بعد طلوع شمس تک تعقیبات پڑھے ااور پھر عرفات طرف جائے ۔ طلوع آفتاب سے پہلے بھی منی سے نکلنے سے پہلے کوئی حرج نہیں ہے ۔جب عرفاتکی طرف متوجہ کی طرف متوجہ ہو تو یہ دعا پڑھے ۔

الل ه م الیک صمدت وایاک اعتمدت ووج ه ک اردت فاسئلک ان تبارک لی فی رحلتی و ان تقضی لی حاجتی وان تجعلنی ممن تبا ه ی به الیوم من هو افضل منی

پھر عرفات پہنچنے تک تلبیہ کہے

وقوف عرفات کے آداب

وقوف عرفات کی مستحبات بہت سی ہیں ۔ جن میں سے چند بیان کی جارہی ہیں ۔

۱ حالت وقوف میں باطہارت ہونا

۲ ۔ زوال کے وقت غسل کرنا

۳ ۔دعااوراللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اپنے کو ہر چیز سی فارغ کردینا

۴ ۔ پہاڑ کے دامن میں الٹے ہاتھ کی طرف وقوف کرنا۔

۵ ۔نماز ظہر و عصر کو ایک اذان اوردواقامت کے ساتھ جمع کر کے پڑھنا

۶ ۔ جتنا ممکن ہو منقول دعاؤں کو پڑھنا تاہم منقول دعائیں افضل ہیں ۔ منقول دعاؤں میں سے ایک دعا عرفہ کے دن امام حسین علیہ السلام کی دعاہے ۔ اس دعا کے بارے میں روایت ہے کہ بشر و بشیر جو غالب اسدی کے فرزند تھے کہتے ہیں کہ عرفات میں جب عصر کا وقت ہو ا ہم امام حسین علیہ السلام کے قریب تھے امام حسین علیہ السلام نے چند اہل بیت فرزندوں اور ماننے والوں کے ساتھ حالت خشوع و خضوع اورسکون کے ساتھ اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور پہاڑ کی دائیں جانب روبقبلہ کھڑے ہو کر اپنے ہاتھں کوچہرہ مبارک کے برابر ت اس طرح بلند کیا جیسے کوئے مسکین کھانا مانگ رہاہو اور پھر اس دعا کو پڑھا

وقوف مزدلفہ کے آداب

یہ بہت زیادہ ہیں ہم ان میں سے چند بیان کریں گے ۔

۱ ۔ عرفات سے سکون اور وقار کیاساتھ استغفار کرتے ہوئے روانہ ہون اور سیدھے ہاتھ کی طرف سرخ ٹیلے کے قریب پہنچ کر یہ دعا پڑ ھیں ۔

الل ه م ارحم مرقفی وزد فی عملی وسلم لی دینی وتقبل مناسکی

۔معتدل رفتار کے ساتھ چلنا

۔نماز مغرب و عشاء کو مزدلفہ کر ایک آذان اور اقامت کے ساتھ پڑھنا چاہے ایک تہائی رات گزر جائے ۔

۔ راستے کے دائیں طرف وادی کے درمایں پہنجچ کر مشعر کے کے قرتین ہے سواری سے اتر جائے ور پہلی مرتبہ حج کرنے ولاے کے لیے مستحب جگ مشعر الحرام کی زمیں پر پیر رکھے۔

۔رات عبادت اور منقولہ و غیر منقولہ دعاؤں میں گزارے منقولہ دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ی

الل ه م هذه جمع الل ه م انی اسئلک ان تجمع لی فی ه ا جوامع الخیر الل ه م لاتویسنی من لاخیر الذی سئلتک ان تجمعه لی فی قلبی و اطلب الیک ان تعرفنی ما عرفت اولیایک فی منزلی هذا اوان یقینی جوامع الشر

۶ ۔صبح تک طہارت میں رہے پھرع نماز فجر ادا کرکے خداکی حمد ثنا کبیان کرے اسکی نعمتوں کو اور محبوتوں کو یاد کرے اور نبی کریم پر درود بھیجے اوریہ دعا پڑھے۔

الل ه م رب المشعر الحرم فک رقبتی من النار وااوسع علی من رزقک الحلال ودراعنی شر فسقة الجن واالنس ، الل ه م انت خیر مطلوب الیه و خیر مدعو وخیر مسئول ولکل وافد جائزآة فاچعل جائزت فی موطنمی هذا ان تقلیلنی عثرتی وتقبل معذرتی وان تجاثز عن خطیئتی ، ثم الجعل التقوی من الدنا زادی

۷ ۔مزدلفہ سے رمی کے لیے سسرت کنکر اٹھائے ۔

۸ ۔جب وادی محسر سے گزرنے لگے تو سو قدم تیز تیز چلے اور یہ دعا پڑھے۔

الل ه م سلم لی ع ه دی واقبل توبتی واجب دعوتی واخلفنی بخیر میممن ترکت بعدی


رمی جمرات کے مستحاب

رمی جمرات میں چند چیزیں مستحب ہیں

۱ ۔ کنکر مارتے وقت باطہارت ہونا

۲ ۔جب کنکر ہاتھ میں پکڑے تو یہ دعا پڑھے۔

الل ه م هذه حصیاتی فاحص ه ن الی وارفع ه ن فی عملی

۳ ۔ہر کنکر پھینکتے وقت یہ دعا پڑھے

الله اکبر الل ه م ادحر عنی الشیطان الل ه م تصدیقا بکتابک وعلی سنة نبیک ، الل ه م اجعله حجا مبرور و عملا مقبولا وسیعا مشکورا و ذنبا مغفورا

۴ ۔کنکر مارنے والا جمرہ عقبہ سے داس یا پندرہ ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو

۵ ۔ جمرہ عقبہ کوسمانے اور پشت بقلبلہ کھڑے ہوکر کنکر مارنا جب کہ جمرہ اولی و وسطی کو قبلہ رخ ہوکر کنکر مارنا ۔

۶ ۔ کنکر کو انگوٹھے پر رکھ کر انگشت شہادت کے ناخن سے پھیکنا

۷ ۔ منی میں اپنے خیمہ میں واپس آکر یہ دعا پڑھنا ۔

الل ه م بک و ثقت و علیک توکلت فنعم الرب و نعم المولی و نعم النصیر

قربانی کے آداب

قربانی میں چند چیزیں مستحب ہیں ۔

۱ ۔قربانی کے لیے اونٹ یا گائے ہو ورنہ دنبہ ہو

۲ ۔ جانور موٹا

۳ ۔ ذبح یا نحر کرتے وقت یہ دعاپڑھے

وج ه ت وج ه ی للذی فطر السماوات ولارض حنیفا و ما انا من المشرکین ، ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمیں لاشریک له و بذالک امرت و انا من المسلمیں ، الل ه م منک ولک بسم الله والله اکبر ، الل ه م تقبل منی

۴ ۔ذبح خود کرے اوراگر یہ ممکن نہ تو چھری پر ہاتھ رکھے اور ذبح کرنے والا اس کا ہاتھ پڑھ ر ذبح کرے ورنہ ذبح کرتے ہوئے دیکھے اور اگر اپنا ہاتھ ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر رکھے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

حلق سر مونڈوانے کے مستحبات

حلق میں درج ذیل مستحبات ہیں ۔

۱ ۔سر کو دائیں طرف سے منڈوانا شروع کرے اورحلق کے وقت یہ دعا پڑھے

الل ه م اعطنی بکل شعرة نورا یوم القیامة

۲ ۔ منی میں اپنے خیمہ میں اپنے بال دفن کرے۔

۳ ۔حلق کے بعد داڑھی اور مونچھوں کی تراش خراش کرے اور اپنے ناخن کاٹے۔

حج کے طواف اور سعی کے آداب

عمرہ کے طواف ، نماز طواف اور سعی کے جوا آفداب بیانہوئے وہی آداب حج کے طواہ ، نماز طواف اورسعی کے بھی ہیں عید کے دن طواف کرنا مستحب ہے جب مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو تو یہ دعا پڑھے

الل ه م اعنی علینسکلک و سلمنی له او لسمه لی اسئلک مسالة العلیل الذلیل المعترف نذنبه ، ان تغفرلیذنوبنی و ان ترجعنی بحجتی الل ه م انی عبدک والبلک بلدک ، والبیت بیتک ، جئت اطلب رحمتک واوم طاعتک متبعا لامرک راضیا بقدر ، اسئلک مسالة المضطر الیک ، المطیع لامر ک المشفق من عذابک ، الخائف لعقوبتک ، ان تبلغنی عفوک و تجیرنی من النار برحمتک

پھر حجر اسود کے پاس آئے اور اسے مس کر کے ہا تھ کو بوسا دے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو حجر اسود کے سامنے کھڑا ہو کر تکبیر کہے اوروہ دعا پڑھے جو مکہ آنے کے بعد طوا ف کے وقت پڑھی تھی جسکا بیان ,,مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے داخل ہو نے کے آداب ،، میں ہو چکا ہے ۔

ایام منیٰ کے آداب

ایام تشریق میں منیٰ میں قیام کرنا اور وہاں سے باہر نہ جانا مستحب ہے حتی کہ مستحب طواف کے لیے بھی باہر نہ جائا جائے منی میں پندرہ نمازوں کے بعد تکبیر کہنا مستحب ہے اور پندرہ نمازوں میں پہلی نماز عید کے دن ظہرکی نماز ہے ۔ باقی مہیوں میں دس نمازوں کے بعد تکبیر مستحب ہے ۔ بہتر ہے کہ تکبیر اس طرح سے کہی جائے

الله اکبر الله اکبر لااله الا الله و الله اکبر ولله الحمد الله اکبر علیی ماهدنا الله اکبر علی مارزقنا من بهیمة الانام والحمد لله علی ماابلانا

مستحب ہے کہ فریضہ و نافلہ نمازوں کو مسجد خفیف میں پڑھے ابو حمزہ ثمالی نے پانچویں امام علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپں ے فرمای کہجس نے منی سے بارہ جانے سے پہلے مسجد خفیف می سو رکعت ناز پڑھی اسے ستر سال کی عبادت کا وثواب ملے گا اور جو وہاں سو مرتبہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھا جائے گا ۔ جو سومرتبہ لاالہ الا اللہ کہے گا تو اس کا ثواب ایسا ہے کہ جسیے کسی کو مووت سے نجات دینے کاثواب ہے اور جو سو مرتبہ الحمد اللہ کہے گا اس کو عراقین کے خراج جنتا مال راہ خدا میں صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔

مکہ معظمہ کے آداب

مکہ میں درج ذیل چند چیزیں مستحب ہیں ۔

۱ ۔ کثرت سے ذکر خدا کرنا ووارقرآن پڑھنا

۲ ۔مکہ میں ایک قرآن ختم کرنا ۔

۳ ۔آب زم زم پی کر یہ کہنا چاہیے

الل ه م اجعله علما نا فعا ورزقا واسعا وشفآء من کل داء سقم

پھر یہ دعا پڑھو

بسم الله و بالله والشکر لله

۴ ۔کثرت سے کعبہ کو سیکھنا

۵ ۔کعبہ کے دس طواف کرنا رین ابتدا شب میں تین آخر شب میں دو فجر کے بعد ار دو طواف ظہر کے بعد۔

۶ ۔مکہ میں قیام کے دوران ۳۶۰ طواف کرنا اور اگر یہ ممکن نہ تو ۵۲ طواف کرنا ور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو جتنے طواف ممکن ہو اتنے طواف کرے۔

پہلی مرتبہ حج کرنے والے کے لیے کعبہ میں داخل ہونا مستحب ہے کہ داخل ہونے سے پہلے غسل کرے اور داخل ہونتے وقت یہ دعا پڑھے ۔

الل ه م انک قلت ومن دخله کاآنا فامنی من عذاب النار

اس کے بعد دنوں ستونوں کے درمیاں سرخ پھتر پر دو رکعت نماز پرھے پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ حم سجدہ اور دودسری رکعت میں سورہ حمد کے بع طپورے قرں سیکوئے بنھی ۵۵ آیات پڑھے۔

۸ ۔کعبہ کے حاروں کونوں میں نماز پڑھے اور نماز کے بعد کہے ۔

اللهم من تهیا اوتعبا اواعد اوستعدا لوفادة الی ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

مستحب ہے کہ کعبہ سے نکلتے ووقت تین مرتبہ تکبیر کے بعد کہے

الل ه م لا تج ه د بلا ئنا ربنا ولا تشمت بنا اعدآئنا فانک انت الضآر النافع

پھر باہر آئے ور کعبہ رخ ہوکر سیڑھیوں کو اپنے بائیں جانب قرار د ے کر سیڑھیوں کینزدیک دو رکعت نماز پڑھے۔

طواف وداع

جوشخص مکہ سے رخصت ہونا چاہے اس کیلے مستحب ہے کہ وہ طواف وداع بجالائے اور ہر چکر میں ممکن ہو تو حجر اسود اوررکن یمانی کو مس کرے اورجب مستجار تک پہنچے تو مستحبات صفحہ ۳۳۵ پر بیان ہو چکے ہیں ۔ وہ بجالائے اور خدا سے دعا کرے پھر حجر اسود کو مس کرے اور پانے شکم کوخانہ کعبہ سے ملا دے ور اپنا ایک ہاتھ حجر اسود پر اوردوسراہاتھ دروازے کی طرف رکھے پھر خدا پھر خدا کی حمد و ثنا بجالائے اور ار پیغمبر اور انکی آل پر درود بھیجے ارو پھر کہے

اللهم صل علی محمد عبدک و رسولک و نبیک وامینک و حبیبک و نجیک و خیرتک من خلقک اللهم کما بلغ رسالاتک و جاهد فی سبیلک و صدع بامرک واوذی فی جبنک و عبدک حری اتاه الیقین اللهم اقلبنی مفلحا منحا مستجابا لی فافضل مایرع به احد من و فدک من المغفرة البرکةوالرحمة الرضوان العافیة

اور مستحب ہے کہ باب الحناطین سے نکلے جو رکن شامی کے سامنے ہے اور کدا سے دوبارہ کانے کی توفیق طلب کرے اور مستحب ہے کہ نکلتے وقت ایک درہم کی کھجور خرید کر فقراء کو صدقہ دے۔


فہرست

وجوب حج ۴

شرائط وجو ب حج ۵

۱ ۔بلوغت : ۵

۲ ۔عقل : ۶

۳ ۔آزادی : ۶

۴ ۔استطاعت : ۶

(ہ)رجوع بہ کفایہ ۔ ۹

حج کی وصیت ۱۹

نیابت کے ا حکام ۲۵

عمرہ کی اقسام ۳۰

حج کی قسمیں ۳۲

حج تمتع ۔ ۳۲

حج افراد۔ ۳۵

حج قران۔ ۳۶

مستحب حج ۳۷

احرا م کے میقات ۔ ۳۸

ذوالحلفیہ ۔ ۳۸

وادی عقیق ۔ ۳۸

حجفہ ۔ ۳۸


یلملم ۔ ۳۸

قرن منازل ۳۹

مکہ ۳۹

محل رہائش ۳۹

میقات کے احکام ۴۰

احرام کاطریقہ ۴۴

نیت ۔ ۴۴

تلبیہ ۔ ۴۵

احرام کے دو کپڑوں (لنگ اورچادر )کا پہننا۔ ۴۶

احرام میں ترک کی جانے والی چیزیں ۔ ۴۸

خشکی کے جانور کا شکا ر ۵۰

شکار کے کفارات ۵۱

بقیہ محرمات احرام کے مسائل ۵۳

جماع ۵۳

عورت کا بوسہ لینا۔ ۵۴

عورت کو دیکھنااورچھیڑ چھاڑ کرنا۔ ۵۵

استمناء ۔ ۵۶

نکاح کرنا۔ ۵۶

خوشبو لگانا۔ ۵۷

سرمہ لگانا ۵۸


مردوں کے لیے بو ٹ یا موزے پہننا۔ ۵۹

جدال(یعنی بحث و جھگڑا کرنا ) ۶۰

جسم کی جوئیں مارنا۔ ۶۰

آرائش کرنا(بناؤ سنگھار کرنا) ۶۱

تیل لگانا۔ ۶۱

بدن کے بال صاف کرنا ۔ ۶۱

مردوں کے لیے سرڈھانپنا۔ ۶۲

عورتوں کے لیے چہرے کا چھپانا۔ ۶۳

مردوں کا سائے میں رہنا ۶۳

جسم سے خون نکالنا۔ ۶۴

ناخن کاٹنا۔ ۶۴

دانت نکلوانا ۔ ۶۵

اسلحہ رکھنا۔ ۶۵

محرمات حرم ۔ ۶۶

کفارے کے جانور ذبح کرنے کی جگہ۔ ۶۷

کفارہ کا مصرف (کفارہ خرچ کرنے کی جگہ) ۶۷

طواف ۶۸

شرائط طواف۔ ۶۸

خبث سے طہارت ۷۱

مردوں کاختنہ شدہ ہونا ۔ ۷۲


شرمگاہ کو چھپانا۔ ۷۲

واجبات ِ طواف۔ ۷۳

مطاف(وہ جگہ جہاں طواف کیاجائے )سے خارج ہو نا ۔ ۷۴

طواف کوتوڑنااورطواف کے چکروں کا کم ہونا۔ ۷۴

طواف میں زیادتی ۷۵

چکروں کی تعدادمیں شک ۷۶

نماز طواف ۷۹

سعی ۸۱

احکام سعی ۔ ۸۲

سعی میں شک ۸۳

تقصیر ۸۴

احرام حج ۸۵

احرام ۔ ۸۵

وقوف عرفات ۸۷

وقوفِ مزدلفہ (مشعر) ۸۸

دونوں یا کسی ایک وقوف کو حا صل کر نا ۸۹

منی اور اس کے واجبات ۹۱

رمی جمراہ عقبہ(جمرہ عقبہ کو کنکر مارنا) ۹۱

منی میں قربانی ۹۲

حج تمتع کی قربانی کا مصرف ۹۵


حلق یا تقصیر ۹۶

حج کا طوا ف نماز طواف اور سعی ۹۸

طواف النساء ۹۹

منی میں رات گزارنا ۱۰۱

رمی جمرات ۱۰۲

مصدود کے احکام ۱۰۴

محصور کے احکام ۱۰۵

متفرق آداب ۱۰۸

مستحبات احرام ۱۰۸

مکروہا ت احرام ۱۰۹

حرم میں داخل ہونے کے مستحبات ۱۰۹

نماز طواف کے آداب ۱۱۱

سعی کے آداب ۱۱۱

احرام سے وقوف عرفات تک کے آداب ۱۱۳

وقوف عرفات کے آداب ۱۱۳

وقوف مزدلفہ کے آداب ۱۱۴

رمی جمرات کے مستحاب ۱۱۵

قربانی کے آداب ۱۱۵

حج کے طواف اور سعی کے آداب ۱۱۶

ایام منیٰ کے آداب ۱۱۶


مکہ معظمہ کے آداب ۱۱۷

طواف وداع ۱۱۸

مناسک حج

مناسک حج

مؤلف: آیۃ العظمی سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 36