یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
توضیح المسائل(آقائے فاضل لنكراني)
آیت اللہ محمد فاضل لنكراني
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقلیدکے احكام
مسئله۱ اصول دين ميں تقليدجايزنهيں ہے بلكہ مسلمان كو چاہیےكہ اصول دين كو دليل سےجان لےاوريقين ركھتاہو,ليكن فروع دين ميں اگرمجتهد ہے تواپنےاجتهاد كے مطابق عمل كرے, اور اگرمجتهدنهيں ہےتوچاہيےكہ كسى دوسرے مجتهدكى تقليد كرے, اس كےعلاوه احتياط پربهى عمل كرسكتاہے يعنى اپنےاعمال كواس طرح بجالائےكہ اس كويقين ہوجائےكہ اس نےاپنی شرعى ذمہ دارى كوپورا كردياہے مثلا اگركسى شئےكوبعض مجتهدين حرام اور بعض غيرحرام جانتےہوں تواس كوترك كردے, اوراگربعض مجتهدين كسى كام كو واجب اوربعض مستحب كہتےہوں تواس كوقطعا بجالائے ,اوراسى طرح واجب ہے كہ احتياط كرنے كى كيفيت ميں بهى احتياط كرے, يعنى اگراحتياط كئى طريقوں سے ممكن ہوتواس كوچاہیے كہ احتياط كے مطابق طريقہ كواختيار كرے.
مسئله ۲ : جس شخص كوتقليدكرناچاہیے اگرتقليدسے انحراف كرے تواس كاعمل باطل ہوگا,ہاں دوصورتوں ميں عمل باطل نهيں ہوگا :
۱- اس كاعمل واقع اورنفس الامركے سات مطابقت ركھتاہو-
۲- اس كاعمل اس مجتهدكے فتوى كے مطابق ہوجس كى تقليدكرناعمل كوبجالاتے وقت اس شخص پرلازم تھا-
مسئله ۳: احكام ميں تقليدكامطلب يہ ہے كہ اپنےعمل كو مجتهد كےحكم كےمطابق بجالائے اورايسےمجتهدكى تقليدكرنى چاہیے جس ميں مندرجہ ذيل اوصاف ہوں:
مردہو,بالغ ہو,عاقل ہو,شيعه اثناعشرىہو,حلال زاده ہو,زنده ہو, عادل ہو,(عادل سےمرادوه شخص ہےجس كےباطن ميں ايساخوف خداہوجواسےگناه كبيرہ سے روكےاورواجبات كوبجلانےپرمجبوركرے) اوراس كےعلاوه باانصاف اوربامروت ہو,اوريہ چيزاس كےظاهرى حسن كردارسےمعلوم ہوجاتى ہواوراحتياط واجب يہ ہےكہ مرجع تقليددنياميں حريص نہ ہو,اوراس كودوسرے مجتهدوں سےاعلم ہونا ضرورى ہے,اور اعلم سےمراديہ ہےكہ حكم كوسمجهنےميں اپنے زمانے كے تمام مجتهدين سے زياده مهارت ركھتاہو
مسئله۴: اگردومجتهداعلميت كےلحاظ سےبرابرہوں تواحتياط واجب يه ہےكہ اتقى اوراورع كى تقليدكرے ۔
مسئله۵: مجتهداوراعلم كى تين طريقوں سےشناخت كى جا سكتى ہے:
۱- انسان كويقين يااطمينان حاصل ہوجائے مثلاانسان خوداہل علم ہواورمجتهد اعلم كى شناخت كرسكتاہو
۲- اهل علم ميں سےدوعادل كسى كےاعلم ہونےكى تصديق كريں بشرطيكہ دودوسرے عادل اہل علم ان كے خلاف گواہى نه ديں
۳- علمى محفلوں ميں اتنامشہورہوكہ انسان كواس كےاعلم ہونےكايقين يااطمينان ہوجاے۔
مسئله۶ : اگرقطعى طورسے اعلم كى شناخت مشكل ہوتواس كوچاہیے كہ ايسے شخص كى تقليدكرےجس كےاعلم ہونےكا گمان ركھتاہوبلكہ اگركسى كےبارےميں مختصرسااحتمال اعلميت ہوتواسى کی تقليدكرناضرورى ہے,اوراسى طرح يقين ركھتاہوكہ دو شخص ياعلم ميں برابرہيں ياان ميں سےايك بطورمعين اورمشخص احتمالادوسرےسےاعلم ہے اوردوسرے كےاعلم ہونےكےمتعلق يہ احتمال نہ دےتواس معين شخص كى تقليدكرے,اوراگراس كى نظرميں چنددوسروں سےاعلم اورآپس ميں برابرہوں توان ميں سے كسى ايك کی تقليدكرے.
مسئله۷ : مجتهدكافتوى معلوم كرنے كے تين طريقے ہيں:
۱- خودمجتهدسے سنے.
۲- دوعادل شخص سےسننااوراگرايك عادل سےسنےاس پر اعتمادنهيں كرسكتا مگريہ كہ اس عادل كےكہنےسےيقين يا اطمينان حاصل ہو.
۳- ايسے رسالہ عمليہ ميں ديكہے جوقابل اطمينان ہو.
مسئله۸: تقليدصرف واجبات اورمحرمات ميں ضرورى ہے,ليكن مستحبات ميں تقليد واجب نهيں ہےسوائےاس مستحب كےجس ميں واجب ہونے كااحتمال ہو,
مسئله۹ : جب تك مجتهدكافتوى بدلنےكاگمان ہوجستجولازم نهيں ہے.
مسئله۱۰ :جس مجتهدكى انسان تقليدكررہاہےاگروه مجتہد مر جائےتب بهى اسى كى تقليدپرباقى رہناجائزہےبشرطيكہ مرنےوالا مجتهد اورزنده مجتهددونوں علمى حيثيت سےمساوى ہوں,ليكن ان دونوں ميں سےاگرايك اعلم ہو تواعلم سےتقليدواجب ہے, اور مجتهد كى تقليدپرباقى رہنےميں مسائل كےلحاظ سےكوئى فرق نهيں,اس كے فتوى پرعمل كياہويانہ كياہوباقى ره سكتاہے.
مسئله۱۱ : ايك مجتهدكى تقليدچہوڑكردوسرےمجتهدكى تقليدكرنا جائزہے, اوراگر دوسرامجتداعلم ہوتوتقليدبدلناواجب ہے.
مسئله۱۲ : اگرمجتهدكافتوى بدل جائےتوجديد(نئے)فتوى پرعمل كرناچاہیے، اور پہلےفتوى پرباقى رهناجائزنهيں ہےہاں اگرپہلے فتوى احتياط كےمطابق ہوتواس پر عمل كرنااحتياط كى حيثيت سے نہ تقليدجائزہے.
مسئله۱۳ : اگرمكلف(بالغ وعاقل شخص)ايك مدت تك اپنى عبادات كسى مجتهد سےتقليدكيےبغيربجالاياہوليكن ان كى مقدارسے آگاه نہ ہوتوايسى صورت ميں اگراس مجتهدكےفتوےكےمطابق عمل كيا ہوجس كىتقليدكرنااس كس ذمہ دارى تهى تواس كى عبادات صحيح ہيں,اوراگراس كےمطابق بجانہ لاياہوتواگروه مجتهد جس سے تقليد كرنااس كى ذمہ دارى تهى وه ايسى عبادات كى قضابجالانےكو واجب جانتاہوتواس شخص پرواجب ہےكہ ان عبادات كى قضابجالائےاتنى مقدارجس سےاپنے برى الذمہ ہونے كايقين حاصل ہوجائے.
مسئله۱۴ : ہرمكلف پرواجب ہےكہ(تقليداعلم)كےمسئلہ ميں كسى مجتهداعلم سے تقليدكريے.
مسئله۱۵: اگرايك مجتهدعبادات كےاحكام ميں اوردوسرامجتهد معاملات كےاحكام ميں اعلم ہوتواحتياط يہ ہےكہ تقليدكودوحصوں ميں تقسيم كردے يعنى عبادات ميں پهلے مجتهد كى اورمعاملات ميں دوسرےمجتهد كى تقليدكرے.
مسئله۱۶: جتناعرصہ اعلم كےتلاش ميں لگتاہےاس ميں مكلف كےلئے ضرورى ہےكہ احتياط پرعمل كرے.
مسئله۱۷: اگرمجتهداعلم كسىمسلہ ميں فتوى دےتواس كامقلد دوسرےمجتهد كے فتوى پرعمل نهيں كرسكتاليكن اگروه فتوى نہ دے بلكہ احتياط كوواجب قراردے تومقلد كواخيتاركاحق حاصل ہے يا تواس احتياط پرعمل كرےياايسےمجتهدكى طرف رجوع كرےكہ جس كا علم اس پهلےمجتهدسے كمترہويعنى دوسرے نمبربرہو.
طهارت كے احكام
پانی كے احكام
مسئلہ ۱۸: پانى ياتومطلق ہوتاہے يامضاف.
مضاف پانى :وه ہےجسےتنہاپانى نہ كہہ سكيں(بلكہ اسے كسى دوسرى چيزكى طرف نسبت ديكرپانى كهيں)جيسے پھولوں كا عرق, نمك كاپانى,پھولوں كاعرق وغيره.
مطلق پانى :وه پانى ہےجس كوبغيركسى قيدوشرط كےپانى كہا جاسكےجيسےعام پانى,اورمطلق پانى كى پانچ قسميں ہيں:
۱-كرپانى
۲- قليل پانى
۳- جارى پانى
۴- بارش كاپانى
۵- كنويں كاپانى
۱-كر پانى
مسئلہ ۱۹: ايك كرپانى اس مقداركوكہتےہيں كہ اگرايسابرتن ہو جو ساڑھےتين بالشت لمباساڑھےتين گهراساڑھےتين بالشت چوڑاہو اوراس كوپانى سےبھردياجائے تووه پانى كربھر ہوگا,يااس كاوزن بيس مثقال كم ايك سواٹهائيس من تبريزى ہو, اوركلوكي لحاظ سےتين سوچوراسى كلوگرام ہوتاہے.
مسئله۲۰ : اگرعين نجس جيسےپيشاب ياخون كربھرپانى ميں گر جائےتووه اس وقت تك نجس نهيں ہوگاجب تك اس كارنگ, بو يا ذائقہ نہ بدل جائے.
مسئله۲۱ : اگركربھرپانى كی بونجاست كےعلاوه كسى اور چيز سے بدل جائے تووه پانى نجس نهيں ہوگا.
مسئله۲۲ : اگركرسےزياده پانى ميں عين نجس مثلاخون گر جائے اوراس كےكسى ايك حصہ كومتغيركردےاورغيرمتغيرپانى كر بھريااس زياده ہوتو جتناحصہ متغيرہواہےصرف وہىنجس ہوگا اور اگرباقى مانده كرسےكم ہوتو سب نجس ہوجائگا.
مسئله۲۳ : اگرفوارےكاپانى كرسےمتصل ہوتووه نجس پانى كوپاك كردےگا,ليكن اگر فوارےكاپانى ايك ايك قطره نجس پانى پرگرے تواسےپاك نهيں كرتا,ہاں اگرفوارےكےاوپركوئى چيزركھ دى جائے جس كےنتيجہ ميں اس كاپانى قطره قطره ہونےسے پهلےنجس پانى سےمتصل ہوجائے تو نجس پانى كوپاك كرديتاہے اوراحتياط واجب يہ ہےكہ فوارے كاپانى نجس پانى سے مخلوط ہوجائے.
مسئله۲۴ : اگرنجس چيزكوايسےنل كےنيچےركھ كردہوديں جو كر سےمتصل ہےتوجوپانى اس سےٹپك رہاہےپاك ہے،البتہ اگر اس ٹپكنےوالے پانى ميں نجاست كارنگ,بو,ذايقہ پيداہوگياہوتووه پانى نجس ہے.
مسئلہ۲۵ : اگركركےپانى كاكچھ حصہ جم كربرف كى صورت اختيار كرےاورباقى مانده كرنہ ہوتوعين نجاست كےلگنےسےيہ پانى نجس ہو جائےگااوربرف بهىجس قدرپگهلتى جائےگى نجس ہوتى جائگى.
مسئلہ ۲۶ : جوپانى كربھريااس سےزياده ہواگراس كےبارےميں شك ہوكہ كرسےكم ہوگياہےتووه كركےحكم ميں ہوگا,اسى طرح وه پانى جو كرسےكم ہواورشك كرےكہ كربھرہوگياہوگاتوكرسےكم حكم ركہےگا.
مسئلہ۲۷ : پانى كاكرہونادوطريقہ سےمعلوم كياجاسكتاہے:
۱- خودانسان كويقين يااطمينان حاصل ہوجائے.
۲- دوعادل آدمى گواہى ديں كہ يہ پانى كربھرہے.
۲ ۔قليل پانى
مسئلہ۲۸ : قليل پانى سےمرادوه پانى ہےجوزمين سےجوش مار كرنكلےاوركرسےكم ہو.
مسئلہ۲۹ : نجس چيزاگرقليل پانى ميں گرجائےتووه قليل پانى نجس ہوجاتاہےليكن اگرقليل پانى اوبرسےنجس چيزپرڈال ديں توجتناپانى نجس چيزسےملاہےوه نجس ہےباقى پاك,اوراگرقليل پانى فواره كى طرح نيچےسےاوپرجارہاہےاورنجس چيزسےمل رہاہے تونيچےكاحصہ نجس نهيں ہوگااوراگرنجس نيچےكےحصہ سےمل جائے اوراوپروالاحصہ نجس ہوگا.
مسئلہ۳۰: وه قليل پانى جونجس چيزپرڈالاجائےاوروه اس سے جداہو جائےتووه پانى نجس ہے,اوراسى طرح بنابراقوى وه قليل پانى جوعين نجاست دورہونےكےبعدجس نجس پردہونےكےليے ڈالا جائ اوراس سے جداہوجائےتواس سےبهى اجتناب كياجائے, صرف وه پانى كہ جس سے پيشاب وپاخانہ كےمقام دھوياجاتاہے پانچ شرطوں كےساتھ پاك ہے:
۱- نجاست كارنك,بوياذائقہ اس پانى ميں پيدانہ ہو.
۲- باہرسےكوئى نجاست اس پانى تك نہ پهنچى ہو.
۳- كوئى اورنجاست مثلاخون ياپيشاب اس كےساتھ نہ ہو.
۴- پاخانہ كے ذرات بانى ميں دكھائى نه دے رہے ہو.
۵- پاخانہ كےاطراف ميں معمول سےزياده نجاست نہ پھيلى ہو.
۳- جارى پانى
مسئلہ۳۱ : جارى پانى وه پانى ہےجوزمين سےجوش ماركرنكلے اوربهنے لگےجيسے چشمےاورزيرزمين بهنے والاپانى.
مسئلہ۳۲ : جارى پانى چاہےكرسےكم ہوپهربهى نجاست كے ملنےسے نجس نهيں ہوتاہاں اگرنجاست سے رنگ بو,ياذايقہ بدل جائےتونجس ہوجاتاہے.
مسئلہ۳۳ : اگرجارى پانى ميں نجاست پڑجائےاوراس كےايك حصہ كےرنگ,بو,ياذائقہ كوبدل دےتووه حصہ نجس ہوجائے گااورپانى كاوه حصہ جوچشمےسےمتصل ہےچاہےكرسےكم ہو پاك رہيگا.البتہ نہركےديگرپانى اگركرسےكم ہواتونجس ہوجائے گا,ہاں اگروه متغيرنهيں ہواہےاور چشمے سےمتصل ہےتوپاك ہے.
مسئلہ۳۴ : ايسےچشمےكاپانى جوبهنےوالانہ ہوليكن اگراس ميں سےپانى لےلياجائےتووه پهرجوش مارنےلگے,جارىكے حكم ميں ہے, يعنى نجاست كےملنےسےنجس نهيں ہوتاجب تك اس كارنگ,بوياذائقہ بدل جائے.
مسئلہ۳۵ : ايساپانى جونہروں كےكنارےٹہراہوتاہےاورنہروں سے متصل ہوتاہےجارىكےحكم ميں ہے,يعنى نجاست كےملنےسے نجس نهيں ہوتا.
مسئلہ۳۶: جوجشم اوركاريز(زيرزمين بهنےوالابانى)كبهى جوش مارنےلگتا ہو اوركبهى رك جاتا ہووه جس زمان ميں جوش مارتے ہوں جارى پانى كاحكم ركھتےہيں.
مسئلہ۳۷ : حماموں ميں حوض كاپانى جس كااتصال منبع(پانى كےبڑے ذخيره)سےہوتاہےوه جارى پانى كےحكم ميں ہے.
مسئلہ۳۸ : شهروں،حماموں اورعمارتوں ميں نلوں كےذريع جو پانى پهنچاياجاتاہےاگركرسےمتصل ہوتوجارى پانى كےحكم ميں ہے.
مسئلہ۳۹ : وه پانى جوزمين سےنہ پہوٹےليكن زمين په بہہ رہاہوا گركرسےكم ہوتونجاست پڑجانےسےنجس ہوجائكا, ہاں اگر اوپرسے نيچے كى طرف زورسےگرےاورنچلےحصہ سےنجاست لگ جائےتواوپروالاحصہ نجس نهیں ہوگا.
مسئلہ۴۰ : اگرايسى نجس چيزپرجس ميں عين نجاست نہ ہو ايك مرتبہ بارش برسےجائےتوجس جگہ بارش كاپانى پڑےگاوه پاك ہوجائے گى,اورقالين,درىاورلباس وغيره كانچوڑناضرورى نهيں ہے,البتہ بارش كے دوتين قطروں كاپڑجاناكافى نهيں بلكہ اس اندازه سےبرسےكہ لوگ كهيں بارش ہورہى ہے.
مسئلہ۴۱ : اگربارش كسى عين نجس پربرسےاوراس كى چهينٹيں دوسرى چيزوں پرپڑيں تووه پاك ہےبشرطيكہ اس ميں عين نجاست يااس كےصفات موجودنہ ہوں.مثلااگربارش خون پر برسےاوراس كى چهينٹيں دوسرى چيزوں پرپڑيں,اگراس ميں خون يااس كےصفات موجود ہوں تووه نجس ہے.
مسئلہ ۴۲ ۔ اگرزمین یاچھت کے اوپرعین نجاست ہوتوبارش کے دوران جوپانی نجاست کوچھوکرچھت سے ٹپکے یاپرنالے سے گرے وہ پاک ہے لیکن جب بارش ختم ہوجائے اورمعلوم ہوکہ اب جوپانی گررہاہے وہ کسی نجاست کوچھوکرآرہاہے تووہ پانی نجس ہوگا۔
مسئلہ ۴۳ ۔ جس نجس زمین پربارش ہوجائے وہ پاک ہوجاتی ہے اوراگربارش کاپانی زمین پربہنے لگے اورچھت کے نیچے اس مقام پرجاپہنچے جونجس ہے تووہ جگہ بھی پاک ہوجائے گی۔
مسئلہ ۴۴ ۔ بارش برسنے سے کیچڑبن جانے والی مٹی کے بارے میں اگرمعلوم ہوکہ بارش کاپانی اس کے تمام اجزاء تک پہنچ چکاہے تووہ پاک ہے۔
مسئلہ ۴۵ ۔ اگربارش کاپانی کسی جگہ جمع ہوجائے خواہ کرسے کم ہی کیوں نہ ہواوربارش کے دوران کسی نجس چیزکواس میں دھویاجائے اورنجاست سے پانی کارنگ،بویاذایقہ بھی نہ بدلے تووہ نجس چیزپاک ہوجائے گی۔
مسئلہ ۴۶ ۔ اگرایسے قالین پربارش برسے جونجس زمین کے اوپراوربارش کاپانی نجس زمین پرجاری ہوجائے توقالین نجس نہیں ہوگااورزمین بھی پاک ہوجائے گی۔
مسئلہ ۴۷ ۔ اگربارش کاپانی یاکوئی دوسراپانی کرسے کم مقدارمیں کسی گڑھے میں جمع ہوجائے توبارش رک جانے کے بعدکسی نجاست کے ملنے سے وہ پانی نجس ہوجائے گا۔
۵ ۔ کنویں کاپانی :
مسئلہ ۴۸ ۔ کنویں کاپانی جوکہ زمین سے جوش مارکرنکلے وہ پاک ہے خواہ کرسے کم ہواوراگرکوئی نجس چیزاس میں گرجائے توکنویں کاپانی نجس نہیں ہوتاجب تک پانی کارنگ،بویاذائقہ بدل جائے لیکن مستحب ہے کہ ہرنجس چیزکے لئے کچھ پانی باہرنکال کرپھینک دیں(جس کی تفصیل فقہ کی بڑی کتابوں میں موجودہے)
مسئلہ ۴۹ ۔ اگرعین نجس گرنے کی وجہ سے کنویں کے پانی کارنگ ،بو یاذائقہ بدل جائے اوربعدمیں یہ تغیرختم ہوجائے توجب تک تازہ پانی جوش ما رکرنہ نکلے اوراس میں مل نہ جائے وہ پاک نہ ہوگا۔
پانی کے احکام :
مسئلہ ۵۰ ۔ مضاف پانی جس کامفہوم شروع میں بیان کردیاگیاہے نجس چیزکوپاک نہیں کرتاہے اوراس سے وضووغسل بھی صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۵۱ ۔ مضاف پانی جس کسی نجس چیزسے ملے گاتوفورانجس ہوجائے گاصرف دوصورتوں میں نجس نہیں ہوگا۔
۱ ۔ اوپرسے نیچے ڈالنے میں مثلاگلاب دان سے نجس ہاتھ پرعرق ڈالاجائے تووہ عرق جوگلاب دان میں ہے وہ نجس نہیں ہوگا۔
۲ ۔ جومضاف پانی فوارے کی طرح نیچے سے اوپرجارہاہوتواوپرکاجتناحصہ نجاست سے ملے گاوہی نجس ہوگا،نیچے کاحصہ پاک رہے گا۔
مسئلہ ۵۲ ۔ اگرنجس مضاف پانی،جاری یاکرپانی سے اس طرح مل جائے کہ اب اس کومضاف پانی نہ کہیں توپاک ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۵۳ ۔ جوپانی مطلق تھااب اگرشک ہوجائے کہ مضاف ہوگیاہے یانہیں؟تووہ مطلق پانی کاحکم رکھتاہے،یعنی اس سے نجس چیزوں کو پاک کیاجاسکتاہے اوراس سے وضووغسل بھی کیاجاسکتاہے،اسی طرح اگرمضاف پانی کے بارے میں شک ہوجائے کہ مطلق پانی ہواہے کہ نہیں تووہ مضاف پانی کے حکم میں ہے،یعنی نجس چیزکوپاک نہیں کرتاہے اوراس سے وضووغسل بھی صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۵۴ ۔ جس پانی کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ مطلق ہے یامضاف اورپہلے کی حالت بھی معلوم نہ ہوتووہ نجس شئے کوپاک نہیں کرسکتا اوراس سے وضووغسل بھی باطل ہے،لیکن یہ پانی اگرکربھریا اس سے زیادہ ہوتواگرکوئی نجس چیزاس سے مل جائے تووہ پانی نجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۵۵ ۔ اگرعین نجس جیسے خون،پیشاب پانی میں گرجائے اورا س کارنگ ،بویاذائقہ بدل جائے تونجس ہوجائے گا،خواہ کرپانی ہویا جاری ،ہاں اگرعین نجس کے قریب ہونے کی وجہ سے پان میں اس نجاست کی بوآجائے تووہ پانی نجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۵۶ ۔ جس پانی کارنگ،بویاذائقہ نجاست کی وجہ سے بدلاہو،اگراس کارنگ،بویاذائقہ ،کر،جاری یابارش کے پانی سے ملاقات کی وجہ سے ختم ہوجائے تووہ پانی پاک ہوگالیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ کر،جاری یابارش کے پانی سے مخلوط ہوجائے۔
مسئلہ ۵۷ ۔ نجس چیزکواگرکریاجاری پانی میں دھوئیں توجوپانی اس نجس چیزسے گررہاہے(یعنی دھون) پاک ہے۔
مسئلہ ۵۸ ۔ جوپانی پہلے پاک تھاپھرشک ہوجائے کہ نجس ہواکہ نہیں تووہ پاک ہے اورجوپانی پہلے نجس تھااگراس کے بارے میں شک ہوجائے کہ پاک ہواکہ نہیں تووہ نجس ہے۔
مسئلہ ۵۹ ۔ نجس حیوانات(جیسے کتا،سور)کاجھوٹاپانی نجس ہے اوراس کاپیناحرام ہے،لیکن حرام گوشت جانوروں جیسے بلی اوردرندے کاجھوٹاپانی پاک توہے مگراس کاپینامکروہ ہے۔
بیت الخلاء كے احكام
پيشاب اورپاخانہ كرنا
مسئلہ۶۰ انسان کےلئےواجب ہےکہ دوسروں سےاپنی شرم گاه کوچھپائے, چاہے بیت الخلاء میں ہوبكهيں اورخواه ديكهنےالا اس كامحرم ہى كيوں نہ ہو,جيسے ماں,بہن يانامحرم, يہاں تك كہ مميز(سمجهدار)بچوں سےبهىچهپاناواجب ہےالبتة مياں بيوى كےليے ضرورى نهيں ہےكہ وه ايك دوسرےسےچهپبائيں.
مسئلہ۶۱ : شرمگاه كوہرچيزسےچهپاياجاياسكتاہےيہاتك كہ ہاتھ سے بهى چهپاناصحيح ہے.
مسئله۶۲:پيشاب ياپاخانہ كرتےہوئےپشت بہقبلہ اورروبقبلہ نهيں بيٹهنا چاہیے.
مسئلہ۶۳ : اگرپيشاب ياپاخانه كرتےہوئےپشت بہ قبلہ يا رو بقبلہ ہواور صرف شرمگاه كو موڑليناكافى نهيں ہے,البتة اگرجسم روبہ قبلہ ياپشت بقبلہ نہ ہوتواحتياط واجب ہےكہ شرمگاه كوروبہ قبلہ يا پشت بقبلہ نہ كرے.
مسئلہ۶۴: پيشاب وپاخانہ كےمقام كودہوتےوقت اوراستبراء كرتے وقت روبہ قبلہ ياپشت بہ قبلہ ہونےميں كوئى حرج نهيں ہے,ليكن احتياط مستحب يہ ہےكہ اس حالت ميں بهى روبہ قبلہ ياپشت بہ قبلہ نہ ہو.
مسئلہ۶۵ : اگرشرمگاه كوغيرمحرم سےچهپانےكےلئےانسان كو مجبوراقبلہ رخ ياپشت بہ قبلہ بيٹهناپڑےتوكوئىمضائقہ نهيں ہےاور اسى طرح اگركسى اورضرورت كىوجہ سےبهى مجبوراروبہ قبلہ يا پشت بہ قبلہ بيٹهناپڑےتوكوئى حرج نهيں ہے.
مسئلہ۶۶ : احتياط واجب ہےكہ بڑےلوگ پيشاب ياپاخانہ كےلئے بچوں كوروبہ قبلہ ياپشت بہ قبله نہ بٹهائيں,ليكن اگربچہ خودہى بيٹه جائیں تورركناواجب نهيں ہے.
مسئلہ۶۷ : چارجگہوں پرپيشاب ياپاخانہ كرناحرام ہے:
۱- بندگليوں ميں جب تك ان گليوں كےمالك اجازت نہ ديں.
۲- كسى كى ملكيت ميں جب تك اس كى اجازت نہ ہو.
۳- وه جگہ جومخصوص لوگوں كےلئےوقف ہوجيسےمدرسہ جوطالب علموں كےلئےوقف ہو.
۴- مؤمنين كى قبورپرجب كہ ان كى بےحرمتى كاباعث ہو.
مسئله۶۸ : تين صورتيں ايسىہيں جہاں پاخانہ كومقام كوصرف پانى ہى سےپاك كرسكتےہي:
۱- پاخانہ كےساتھ كوئى دوسرى نجاست مثلاخون باہرآئے
۲- باہرسےكوئى نجاست مقام پاخانہ برلگ جائے.
۳- پاخانہ معمول سےزياده پھيل گياہواورپاخانہ كےمقام كے اطراف كوبهى آلوده كردياہو.
اوران تين صورتوں كےعلاوه انسان كواختيارہےكہ وه مقام پاخانہ كوپانى سےدہوئےيااسطريقےسےجسكاذكربعدميں آئےگا,كپڑےاورپتهركے ٹكڑے سےصاف كرلے,اگرچہ پانى سے دھو نا بہترہے.
مسئلہ۶۹: پيشاب كامقام پانى كےعلاوه كسىاورچيزسےپاك نهيں ہو سكتا,اگرپيشاب برطرف كرنےكےبعدمقام پيشاب كوايك مرتبہ دہو ليا جائےتوكافى ہے,اگرچہ احتياط مستحب دومرتبہ دھونا ہے,ليكن وه اشخاص جن كاپيشاب غيرفطرى مقام سےخارج ہوتاہووه اس مقام كو دومرتبہ دہوئيں بالخصوص اگروه ايسى ہوكہ جس سےعام طورپر پشاب خارج نهيں ہوتا۔
مسئلہ۷۰ : مقام پاخانہ كو پانى سےدہونےكى صورت ميں پاخانہ كاكائى ذره باقى نهيں رہناچاهئیے,البتہ رنگ وبوكےباقى ره جانےميں كوئى حرج نهيں لهذااگرپهلى مرتبہ دہونےسے پاخانہ كاكوئى ذره باقى نهيں رہا تودوباره دہونےكى ضرورت نهيں.
مسئلہ۷۱ : اگرپاخانہ كےمقام كوپتهرياكاغذسےصاف كرے تواگرچہ اس كاپاك ہونام محل تامل (مشكل)ہےليكن نماز پڑهنا جائزہے.
مسئلہ۷۲ : يہ ضرورى نهيں كہ پتهرياكپڑےكےتين ٹكڑوں سے مقام پاخانہ كوصاف كيا جائےبلكہ ايك پتهركےتين گوشوں سے ياايك كپڑے كے تين گوشوں سےپاك كريں توكافى ہے,ليكن پتهرياكپڑے كا استعمال تين مرتبہ سےكم نہ ہو,البتہ مقام پاخانہ كو ہڈى اورگوبرياان جيزوں سےصاف كرناجن كااحترام ضروى ہے مثلاايساكاغذجس پرخداكانام لكها ہواہوصاف كرےتونمازنهيں پڑھ سكتے.
مسئلہ۷۳ : اكرشك ہوجائےكہ پيشاب وپاخانہ كےمقام كوصاف كيا تھاكہ نهيں تو احتياط واجب يہ ہےكہ طهارت كرےاگرچہ ہميشہ پيشاب وپاخانہ كےفورابعدطهارت كرتارہتاہو.
مسئلہ۷۴ : اگرنمازكےبعدشك كرےكہ مخصوص مقام كوپاك كياتها كہ نهيں تونماز صحيح ہے,ليكن بعدوالى نمازكےلئ طهارت ضرورىہے.
استبراء :
مسئله۷۵ : استبراء ايك مستحب عمل ہےجس كومردپيشاب كے بعدانجام ديتے ہيں تاكہ پيشاب كےبعدجوقطره رگوں ميں ره گئے ہيں نكل جائيں,اس كےلئےكئ طريقه ہيں,بهترين طريقہ يہ ہےكہ پيشاب كرنےكےبعدمقام پاخانہ كونجس ہونےكى صورت ميں پهلےاسےپاك كرلياجائےاس كےبعدبائيں ہاتھ كى انگلى سے پاخانہ والى جگہ سےعضو تناسل كى جڑتك تين مرتبہ كهينچےپهرانگوٹہے كوعضوتناسل كےاوپرانگوٹھےكےساتھ والى انگلى كونيچےركھكرتين مرتبہ سپارى تك سونتےاورپهرتين دفعہ سپارىكو نچوڑے.
مسئلہ ۷۶ ۔ بیوی سے خوش فعلی کرتے ہوئے جورطوبت نکلتی ہے جسے”مذی“ کہتے ہیں پاک ہے،اوراسی طرح وہ رطوبت جوکبھی منی کے بعدنکلتی ہے اورجسے ”وذی “ کہتے ہیں پاک ہے بشرطیکہ وہ مقام منی اورپیشاب سے آلودہ نہ ہو۔ اوراسی طرح وہ رطوبت جوکبھی پیشاب کے بعدنکلتی ہے جس کوودی “ کہتے ہےں پاک ہے بشرطیکہ اسے پیشاب نہ لگاہو،اوراگرانسان پیشاب کرنے کے بعداستبراء کرے اوراس کے بعدکوئی رطوبت خارج ہو،جس کے بارے میں یہ شک ہوکہ یہ پیشاب ہے یاان مذکورہ بالاچیزوں میں سے کوئی ایک ہے تووہ پاک ہوگی۔
مسئلہ ۷۷ ۔ اگرشک ہوکہ استبراء کیایانہیں تومشکوک رطوبتوں سے اجتناب کرے اوروہ نجس ہوگی اوراگراس سے قبل کرلیاتھاوہ باطل ہوجائے گا،لیکن اگراستبراء کیاہولیکن یہ معلوم نہ ہوکہ صحیح کیاتھاکہ نہیں تووہ مشکوک رطوبت پاک ہے،اس کی پرواہ نہ کرے اوروضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۷۸ اگراستبراء نہ کیاہولیکن کافی دیرگذرنے کے بعدیقین یااطمنان حاصل ہوجائے کہ پیشاب مثانہ میں باقی نہیں رہااوررطوبت خارج ہونے کے بعدشک کرے کہ وہ پاک ہے یانہیں تووہ تری پاک ہوگی اوروضو بھی باطل نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۷۹ ۔ اگرانسان پیشاب کے بعداستبراء کرے اوراس کے بعدوضوکرے اوروضوکے بعدخارج ہونے والی رطوبت کے بارے میں اسے یقین ہوجائے کہ یایہ پیشاب ہے یامنی تواحتیاط واجب یہ ہے کہ غسل کرے اوروضوبھی کرے،لیکن اگروضونہ کیاہوتوپھر وضو کرنا ہی کافی ہے۔
مسئلہ ۸۰ ۔ عورت کے لئے استبراء نہیں ہے ،اگراس سے کبھی مشکوک رطوبت نکلے بھی توپاک ہے اوروضووغسل کی ضرورت نہیں ہے۔
بیت الخلاء کے مستحبات ومکروہات۔
مسئلہ ۸۱ ۔ مستحب ہے کہ رفع حاجت کے لئے ایسی جگہ بیٹھاجائے کہ جہاں بالکل کوئی نہ دیکھ سکے اوربیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں اورنکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں رکھے،اسی طرح مستحب ہے کہ رفع حاجت کے لئے سرڈھانپے اوربدن کاوزن بائیں پاؤں پرہو۔
مسئلہ ۸۲ ۔ رفع حاجت کے وقت چانداورسورج کے سامنے بیٹھنا مکروہ ہے لیکن اگرشرمگاہ کوچھپالے تومکروہ نہیں ہے،اوراسی طرح ہواکے رخ پیشاب کرنا،شاہراؤں،گلی،کوچوں،ڈیوڑھیوں،پھل داردرختوں کے نیچے بیٹھنااورکچھ کھانازیادہ دیرتک بیٹھنا،دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنامکروہ ہے،اسی طرح اس حالت میں باتیں کرنامکروہ ہے لیکن اگربات کرنے پرمجبورہویاذکرالہی کررہاہوتوکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۸۳ ۔ کھڑے ہوکرپیشا ب کرنااورسخت چیزپرپیشاب کرنا اور کیڑے مکڑوں کے سوراخوں میں پیشاب کرنااورپانی میں پیشاب کرناخصوصاٹہرے ہوئے پانی میں مکروہ ہے۔
مسئلہ ۸۴ ۔ پیشاب وپاخانہ کوروکے رکھنامکروہ ہے اوراگرنقصان کا باعث ہوتوجائزنہیں ہے۔
مسئلہ ۸۵ ۔ سونے سے پہلے،نمازسے پہلے،جماع سے پہلے اورمنی خارج ہونے کے بعدپیشاب کرنامستحب ہے۔
نجاسات
مسئلہ ۸۶: ۱ ۔ پیشاب ۲ ۔ پاخانہ ۳ ۔ منی ۴ ۔ مردار ۵ ۔ خون ۶ ۔ کتا ۷ ۔ سور ۸ ۔کافر ۹ ۔ شراب ۱۰ فقاع ۱۱ ۔ نجاست خوراونٹ کاپسینہ۔
۱ ۔ ۲ پیشاب وپاخانہ ۔
مسئلہ ۸۷ ۔ انسان اورہرگوشت حیوان جوخون جہندہ رکھتاہے یعنی اگراس کی رگ کوکاٹ دیں توخون دھارمارکرنکلے ،اس کاپیشاب وپاخانہ نجس ہے ۔
مسئلہ ۸۸ ۔ حرام گوشت پرندوں کافضلہ حرام ہے ۔
مسئلہ ۸۹ ۔ نجاست کھانے والے حیوان کاپیشاب وپاخانہ نجس ہے ،اسی طرح اس حیوان کاپیشاب وپاخانہ بھی نجس ہے جس سے کسی حیوان نے وطی کی ہویعنی برافعل کیاہو،اوراس بھیڑنے سورکادودھ پیاہواوراس کاگوشت مضبوط ہواہواس کے پیشاب وپاخانہ سے اجتناب کرناچاہئے۔
۳ ۔ منی
مسئلہ ۹۰ ۔ خون جہندہ رکھنے والے حیوان کی منی نجس ہے ۔
۴ ۔ مردار
مسئلہ ۹۱ ۔ خون جہندہ رکھنے والے حیوان کامردارنجس ہے ،خواہ وہ خودسے مراہویادستورشرع کے خلاف اس کوذبح کیاگیاہو،لیکن مچھلی چونکہ خون جہندہ نہیں رکھتی اس لئے پانی میں بھی ا گر مر جائے توبھی پاک ہے ۔
مسئلہ ۹۲ ۔ مردارکے وہ اجزاء جس میں روح نہیں ہوتی جیسے پشم ،بال ،ہڈیاں،دانت ،وہ پاک ہیں بشرطیکہ وہ کتے کے طرح نجس العین نہ ہو۔
مسئلہ ۹۳ ۔ جن اجزاء میں روح ہوتی ہے اگران کوزندہ انسان یاحیوان کے بدن سے جداکیاجائے تونجس ہیں،چاہے تھوڑاساگوشت ہو۔
مسئلہ ۹۴ ۔ جوکھال ہونٹ ،سراورانسان کے بدن کے دوسرے حصوں سے جداہوجاتاہے پاک ہے ،اگرچہ انسان خودکھینچ کرالگ کریں، بشرطیکہ گرنے کا وقت قریب ہو۔
مسئلہ ۹۵ ۔ مرغی کاوہ انڈاجومرغی کے پیٹ سے نکلتاہے اگرچہ اوپروالی چھال سخت نہ ہوئی ہوپاک ہے۔
مسئلہ ۹۶ ۔ اگربھیڑیابکری کابچہ (میمنا) مرجائے ان کے شیردان موجودپنیرمایہ پاک ہے لیکن اس کے ظاہری حصہ کودھوناضروری ہے۔
مسئلہ ۹۷ ۔ غیراسلامی ملکوں سے جوچیزیں لائی جاتی ہیں جیسے ،مکھن ،پنیر،بہنے والی ادویات ،پالش ،صابن ،عطر،کپڑے ،وغیرہ اگرانسان کوان کے نجس ہونے کایقین نہیں ہے تویہ سب پاک ہیں۔
مسئلہ ۹۸ ۔ گوشت چربی اورکھال جومسلمان کے ہاتھ میں ہوپاک ہے لیکن اگرمعلوم ہوکہ اس مسلمان نے کافرسے لیاہے اورضروری تحقیق نہیں کی ہے تووہ نجس نہیں ہوگالیکن اس کاکھاناحرام ہے اورایسے چمڑے سے تیارشدہ لباس میں نمازپڑھناجائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۹۹ ۔ انسان اورہرخون جہندہ رکھنے والے حیوان کاخون نجس ہے لہذاوہ جانورجوخون جہندہ نہیں رکھتے جیسے مچھلی اور مچھران کاخون پاک ہے۔
مسئلہ ۱۰۰ ۔ جس حلال گوشت جانورکوشریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیاجائے ،اوراس کامعمول کے مطابق خون نکل جائے توجسم میں باقی رہ جانے والاخون پاک ہے ،لیکن اگرحیوان کے سرکوبلندجگہ پررکھیں یاسانس لینے کی وجہ سے خون واپس بدن میں چلاجائے تووہ خون نجس ہے۔
مسئلہ ۱۰۱ ۔ مرغی کے انڈے میں جوخون ہوتاہے وہ نجس نہیں ہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ اس سے اجتناب کریاجائے۔
مسئلہ ۱۰۲ ۔ وہ زردی جوزخم کے اطراف میں ٹھیک ہوجانے کی حالت میں پیداہوجاتی ہے ،اگرمعلوم نہ ہوکہ خون ہے یاخون سے مخلوط ہے توپاک ہے۔
۱۰۳ ۔ دودھ دوہتے وقت اس میں جوخون دکھائی دیتاہے وہ نجس ہے اوردودھ کوبھی نجس کردیتاہے۔
مسئلہ ۱۰۴ ۔ دانتوں سے نکلنے والاخون اگرلعاب دہن سے ملنے کی وجہ سے ختم ہوجائے توپاک ہے اورایسی صورت میں اس لعاب دہن کونگلنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۱۰۵ ۔ وہ خون جوناخن یاچمڑے کے نیچے چوٹ لگنے کی وجہ سے بے جان ہوجاتاہے ،اگروہ ایسی حالت اختیارکرے کہ اسے اب خون نہ کہاجائے تووہ پاک ہے اگراسے خون کہتے ہیں توجب تک کھال اورناخن کے نیچے ہے ،وضو،غسل اورنمازمیں کوئی اشکال نہیں اور سوراخ ہوجانے کی صورت میں اگردشوارنہ ہوتووضووغسل کرتے وقت دھولیں اوراس کے اوپرکپڑارکھ کرترہاتھ پھیردیں۔
۱۰۶ ۔ اگرمعلوم نہ ہوکہ کھال کے نیچے کے جوسیاہی ہے وہ بے جان خون ہے یاچوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت کارنگ بدل گیاہے توپاک ہے۔
مسئلہ ۱۰۷ اگرہنڈیا کے جوش کھاتے وقت خون کاایک ذرہ بھی اس میں گرجائے توپوراسالن اوراس کابرتن نجس ہوجائے گا،اورسالن کاابلنا اورآگ کی حرارت اسے پاک نہیں کرسکے گی۔
۶ ۔ ۷ کتااورسور
مسئلہ ۱۰۸ ۔ خشکی کے کتے اورسورنجس ہیں یہاں تک کہ بال ،پنجہ ،ناخن،ہڈیاں،اورجسم سے نکلنے والی دوسری رطوبتیں بھی نجس ہیں،البتہ دریائی کتے اورسورپاک ہیں۔
۸ ۔ کافر
مسئلہ ۱۰۹ ۔ کافرسے مرادوہ شخص ہے جوخداکونہ مانے یاخداکے لئے شریک قراردے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونہ مانے تویہ نجس ہے۔مگراہل کتاب جوپاک ہیں جن کاحکم مسئلہ نمبر ۱۱۴ میں بیان ہوگا،اوراسی طرح جوشخص دین ا سلام کی ضروری چیزوں کوسمجھتے ہوئی انکارکرے اوراس کاانکاردرحققت نبوت اوررسالت کاانکارہو تو ایسا شخص بھی نجس ہے ،لیکن اگراس کویہ علم نہ ہوکہ ضروریات دین میں سے ہے لیکن منکرہوجائے تواس سے احتیاطااجتناب کاجائے۔
مسئلہ ۱۱۰ ۔ کافرکے نجس ہونے کے بارے میں جوکچھ کہاگیاہے اس میں اس کے تمام اجزائے بدن شامل ہیں حتی کہ بال اورناخن بھی۔
مسئلہ ۱۱۱ ۔ اگرکسی نابالغ بچے کے ماں باپ اوردادی ،داداکافرہوں تووہ بچہ بھی نجس ہوگا،لیکن اگران میں سے کوئی ایک مسلمان ہوتووہ بچہ پاک ہوگا۔
مسئلہ ۱۱۲ ۔ اگرکسی کے متعلق یہ علم نہ ہوکہ وہ مسلمان ہے یانہیں اوراس کی سابقہ حالت بھی معلوم نہ ہو،تووہ پاک ہے ،البتہ مسلمانوں کے باقی احکام اس شخص پرجاری نہیں ہوں گے مثلاوہ مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتاہے اوراسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۱۱۳ ۔ اگرکوئی مسلمان بارہ اماموں میں سے کسی ایک کوگالی دے یاان سے دشمنی رکھے تووہ نجس ہے۔
مسئلہ ۱۱۴ ۔ مرتدملی ہویافطری )نجس ہے البتہ اہل کتاب جیسے یہوداورنصاری پاک ہیں۔
۹ ۔ شراب
مسئلہ ۱۱۵ ۔ شراب اورہروہ سیال چیزجوانسان کومست کردے نجس ہے لیکن بھنگ وحشیش جونشہ آورہے لیکن ذاتابہنے والی نہیں ہے وہ پاک ہے چاہے پانی ملاکراس کوسیال بنالیں۔
مسئلہ ۱۱۶ ۔ صنعتی الکحل (اسپریٹ) جس کودروازے ،میز اور کرسی وغیرہ کورنگنے کے کام میں استعمال ہوتے ہیں اگریہ معلوم نہ ہوکہ مست کرنے والی اوربہنے والی چیزسے بنایاگیاہے وہ پاک ہے۔
مسئلہ ۱۱۷ ۔ اگرانگوریااس کاپانی خودبخودابل جائے یاآگ کے ذریعہ اسے ابالاجائے تواس کاپیناحرام ہے لیکن نجس نہیں ہے ۔
مسئلہ ۱۱۸ ۔ کھجور،منقی،کشمش اوران کاشیرہ اگرجوش کھاجائے تواس کے کھانے میں کوئی اشکال نہیں ہے اورپاک ہے۔
۱۰ ۔ فقا ع
مسئلہ ۱۱۹ ۔ بیئرجوجوسے بنائی جاتی ہے اورجس کوآب جوکہتے ہیں وہ حرام ہے اورشراب کی طرح نجس ہے لیکن وہ (آب جو) جس کو طبیب، حضرات حاصل کرتے ہیں اورجس کوماء الشعیرکہتے ہیںَ اور وہ نشہ آورنہیں ہے پاک اورحلال ہے۔
حرام سے مجنب ہونے والے کاپسینہ
مسئلہ ۱۲۰ ۔ جوشخص فعل حرام سے جنب ہواہواس کاپسینہ نجس نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ جس جسم ا ورلباس پریہ پسینہ ہواس کے ساتھ نمازنہ پڑھی جائے۔
مسئلہ ۱۲۱ ۔ بیوی سے حالت حیض میں یاماہ رمضان کے روزے میں ہمبستری کرناحرام ہے اوراگرپسینہ آجائے تواحتیاط واجب کی بناء پرایسے پسینہ کے ساتھ نمازنہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۲ ۔ اگرحرام سے مجنب ہونے والاغسل نہ کرسکے اورغسل کے بدلے تیمم کرے توبھی احتیاط واجب کی بناء پرپسینے سے نماز میں اجتناب کرے ۔
مسئلہ ۱۲۳ ۔ اگرکوئی شخص حرام سے جنب ہوجائے اورپھراس عورت سے جماع کرے جواس کے لئے حلال ہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ایسے پسینہ سے نماز نہ پڑھے لیکن اگرپہلے حلال عورت سے جماع کرے اوربعدمیں حرام کامرتکب ہوتوایسے پسینے سے اجتناب واجب نہیں ہے۔
۱۱ ۔ نجاست کھانے والے اونٹ کاپسینہ
مسئلہ ۱۲۴ ۔ نجاست کھانے والے اونٹ کاپسینہ نجس ہے لیکن دیگرنجاست کھانے والے حیوانات کے پسینہ سے اجتناب کرناواجب نہیں ہے۔
نجاست ثابت ہونے کے طریقے۔
مسئلہ ۱۲۵ ۔ کسے چیزکانجس ہوناتین طریقوں سے ثابت ہوسکتاہے:
۱ ۔ خودانسان کویقین پیداہوجائے یہاں پرگمان کافی نہیں ہے ،اگر گمان نہ ہوکہ فلاں چیزنجس ہے تواس سے اجتناب ضروری نہیں ہے ۔ہاں اگرگمان ایساہوکہ اطمینان کاباعث بنے کے ہاں ایساگمان ہی شمارہوتا ہو توایسی صورت میں اجتناب لازم ہوجاتاہے ۔لہذا ایسے ہوٹلوں میں کھانا کھانااورچائے پیناکہ جہاں ایسے اشخاص کھاناکھاتے ہوں کہ جوپاک ونجس کی پرواہ نہیں کرتے توکوئی اشکال نہیں رکھتاجب تک انسان کویقین یااطمینان نہ ہوکہ جوکھانااسے دیاجارہاہے وہ نجس ہے۔
۲ ۔ صاحب ید : یعنی جس کے اختیارمیں وہ چیزہے کسی چیزکے نجس ہونے کی خبردیں،مثلاانسان کی بیوی یاملازم کہے کہ یہ برتن یاکوئی اورچیزجواس کے قبضہ میں رہتی ہے نجس ہے۔
۳ ۔ دوعادل اس کے نجس ہونے کی گواہی دیں اوراگرایک عادل کہہ دے کہ نجس ہے توبھی احتیاط لازم یہ ہے کہ اس چیزسے اجتناب کرے۔
مسئلہ ۱۲۶ ۔ اگرمسئلہ سے ناوافقیت کی بناء پرانسان کومعلوم نہ ہوکہ یہ چیزنجس ہے یاپاک مثلامعلوم نہ ہوکہ حرام سے مجنب کاپسینہ پاک ہے یانہیں تومسئلہ پوچھناچاہئیے ،لیکن اگرمسئلہ شرعی سے واقف ہے مگرشک ہے کہ یہ چیزنجس ہے یاپاک ،مثلاشک ہے کہ یہ خون ہے یانہیں یامعلوم نہ ہومچھرکاخون ہے یاانسان کاخون تووہ پاک ہے۔
مسئلہ ۱۲۷ ۔ اگرکوئی چیزپہلے نجس تھی پھرشک ہوجائے کہ پاک ہوئی کہ نہیں تونجس ہے اوراگرکوئی چیزپاک تھی اورپھرشک ہوجائے کہ نجس ہوئی کہ نہیں توپاک ہے اوراگران چیزوں کے پاک یانجس ہونے کاعلم حاصل کرسکتاہے تب بھی جستجوضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۸ ۔ اگرمعلوم ہوکہ ایسے دوبرتن یادوایسے لباس جو انسان کے استعمال میں ہیں ان میں سے کوئی ایک نجس ہے مگریہ معلوم نہیں کہ کونسانجس ہے تودونوں سے اجتناب کرناچاہئیے ،لیکن اگریہ معلوم نہ ہوکہ اپنالباس نجس ہواہے یادوسرے اجنبی شخص کاجواس کے استعمال میں نہیں ہے پھربھی احتیاط یہ ہے اپنے لباس اجتناب کرے گرچہ یہ احتیاط ضروری نہیں ہے۔
پاک چیزیں کیسے نجس ہوتی ہیں۔
مسئلہ ۱۲۹ ۔ جب کوئی پاک چیزنجس چیزسے لگ جائے اوران دونوں میں سے ایک گیلی ہوتوپاک چیزنجس ہوجائے گی،لیکن اگردونوں خشک ہوں یاتری اتنی کم ہوکہ سرایت نہ کرے تونجس نہیں ہوگی۔
مسئلہ ۱۳۰ ۔ اگرپاک چیزنجس چیزسے لگ جائے اورانسان کوشک ہوکہ دونوں یاان میں سے ایک ترتھی یانہیں تووہ پاک چیزنجس نہیں ہوگی۔
مسئلہ ۱۳۱ ۔ دوچیزیں جن کے بارے میں معلوم ہوکہ ایک نجس ہے لیکن یہ معلوم نہ ہوکہ کون سے نجس ہے توان دونوں میں سے کسی ایک کے لگ جانے سے کوئی چیزنجس نہیں ہوتی ،اوراگردوچیزوں میں سے ایک پہلے نجس تھی اوراب معلوم نہ ہوکہ وہ پاک ہوگئی ہے یانہیں، اب اگرکوئی پاک چیز اس شئے کی ساتھ لگ جائے تووہ نجس ہوجائے گی۔
مسئلہ ۱۳۲ ۔ زمین ،کپڑایااس کی مانندکوئی چیزاگررطوبت رکھتی ہواورنجس چیز اس سے متصل ہوجائے تووہی حصہ نجس ہوگااورباقی پاک رہے گا،اوریہی صورت خربوزہ ،کھیراوغیرہ کی ہے۔
مسئلہ ۱۳۳ ۔ گھی (تیل)اورشیرہ اگرسیال ہوتوایک قطرہ کے نجس ہوجانے سے پورانجس ہوجاتاہے ،لیکن اگرجمع ہواہوتوجہاں پرنجاست لگی ہے صرف وہی نجس ہوگا۔
مسئلہ ۱۳۴ ۔ بدن کاوہ حصہ جس پرپسینہ ہواگروہ نجس ہوجائے تو پسینہ جہاں جہاں سرایت کرے گاوہ حصہ نجس ہوجائے گااورجہاں نہیں پہنچے گاوہ جگہیں پاک رہیں گی۔
۱۳۶ ۔ گلے یاناک سے جوسودا،بلغم ،صفراباہرآتے ہیں اگران میں خون ہوتوجہاں خون لگاہے وہ نجس اورباقی پاک ہوگاپس اگرمنہ سے باہریاناک سے باہروہ لگ جائے توجس کے متعلق یقین ہوکہ خون والاحصہ اسے لگاہے وہ نجس ہوگااورجس کے متعلق شک ہوکہ نجس حصہ اس سے لگاہے یانہیں تووہ پاک ہے۔
مسئلہ ۱۳۷ ۔ اگرکسی ایسے برتن کوجس کے نیچے سوراخ ہوجیسے لوٹے ،نجس زمین پررکھ دیں توجب تک پانی سوراخ سے باہر آرہا ہوتولوٹے میں موجودپانی نجس نہیں ہوگالیکن اگرپانی اس سے باہرنہ آرہاہواورنجس پانی جولوٹے کے نیچے جمع ہوگیاہے سوراخ کے ذریعہ لوٹے والے پانی سے متصل ہوتولوٹے میں موجودپانی بھی نجس ہوجائے گا۔ ہاں اگرسوراخ نجس زمین سے متصل نہ ہواورلوٹے کے نیچے کاپانی بھی لوٹے اندرونی حصہ کاپانی کے ساتھ متصل نہ ہوتولوٹے میں جوپانی ہے پاک ہے اورنجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۳۸ ۔ اگرکوئی چیزبدن میں داخل ہوکرنجاست تک پہنچ جائے توبدن سے باہرنکل آنے پراگرنجاست سے آلودہ نہ ہوتووہ پاک ہوگی لہذا اگرحقنہ کے آلات یاان کاپانی یا”ٹیکے کی“سوئی اورچاقووغیرہ بدن میں داخل ہوں اورباہرآنے کے بعدنجاست سے آلودہ نہ ہوں تونجس نہیں ہوں گے اوراسی طرح لعاب دہن اورناک کے غلاظت کاحکم ہے اگراندرخون سے مل جائے اورجب باہرآئے توخون آلودہ نہ ہو۔
نجاستوں کے احکام
مسئلہ ۱۳۹ ۔ قرآن کے خط اورورق کونجس کرناحرام ہے اوراگرنجس ہوجائے توفورا پاک کرناچاہیے۔
مسئلہ ۱۴۰ ۔ جلدقرآن کونجس ہونے کی صورت میں پاک کیاجائے۔
مسئلہ ۱۴۱ ۔ عین نجس پرقرآن رکھناجیسے خون ،اورمردار،حرام ہے اوراس کووہاں سے اٹھالیناچاہئیے۔
مسئلہ ۱۴۲ ۔ نجس روشنائی سے قرآن لکھنااگرچہ ایک ہی حرف کیوں نہ ہوحرام ہے اوراگرلکھاجاچکاہوتواس کودھویایاچھیلایاجائے یاکوئی ایساکام کیاجائے کہ جس سے تحریرمٹ جائے اوراگرنہ مٹے توبھی اسے دھوناضروری ہے۔
مسئلہ ۱۴۳ ۔ کافرکے ہاتھ میں قرآن دیناحرام ہے اوراس سے لیناواجب ہے ۔ ہاں اگراس کوقرآن دینے یااس کے پاس قرآن ہونے کامقصدتحقیق کرنااوردین کامطالعہ کرناہواورانسان کویقین ہوکہ کافرقرآن مجیدکوگیلے ہاتھ بھی نہیں لگائے گاتوکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۴ ۔ اگرقرآن یادعاء کاورق یاایساورق جس پرخدایارسول یا آئمہ کانام لکھاہوکسی نجس جگہ پرجیسے بیت الخلاء میں گرجائے توفورااس کاباہرنکالنااورپاک کرناواجب ہے چاہے اس میں کچھ خرچ کرناپڑے اوراگراسے باہرنکالناممکن نہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ اگروہ بیت الخلاء ہوتواس وقت تک استعمال نہ کریں جب تک کہ یہ یقین نہ ہوجائے کہ وہ ورق ختم ہوچکاہے اوراسی طرح اگرتربت سیدالشہداء علیہ السلام بیت الخلاء میں جاپڑے اور اس کانکالناممکن نہ ہوتوجب تک یہ یقین نہ ہوجائے کہ وہ بالکل ختم ہوچکی ہے تواس وقت تک بیت الخلاء میں جانے سے اجتناب کیاجائے۔
مسئلہ ۱۴۵ ۔ نجس چیزکاکھاناپیناحرام ہے اورعین نجس کابچوں کوکھلانابھی حرام ہے ۔ ہاں اگربچہ خودہی نجس کھاناکھارہاہویانجس ہاتھ کے ساتھ غذاکونجس کردے اوراسے کھانے لگے تواس کوروکناواجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۱۴۶ ۔ نجس چیزبیچنے یاعاریة(ادھار) دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اوراطلاح دینابھی ضروری نہیں ہے،لیکن اگریہ معلوم ہوکہ خریداراس کوکھانے، پینے ،نمازیااس جیسی چیزوں میں استعمال کرے گاتواسے مطلع کردیناچاہئیے۔
مسئلہ ۱۴۷ ۔ اگرکوئی کسی کونجس چیزکھاتے ہوئے یانجس لباس میں نمازپڑھتے ہوئے دیکھے مگراس کواطلاع نہیں ہے تواس کوبتانا ضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۸ ۔ اگرکسی کے گھریافرش یادری کاکوئی حصہ نجس ہو اوریہ دیکھے کہ بدن،لباس یاکوئی اورچیزمہمان کی تری کے ساتھ نجس چیزسے لگ رہی ہے انھیں بتاناضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۹ ۔ اگرمیزبان کھاتے وقت متوجہ ہوجائے کہ کھانانجس ہے تومہمانوں کوبتادیناچاہئیے ،لیکن اگرکوئی ایک مہمان اس بات کی طرف متوجہ ہوجائے تواس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ دوسروں کوبتائے۔
مسئلہ ۱۵۰ ۔ اگرادھاپرلی ہوئی چیزکے نجس ہوجائے تواگرمعلوم ہوکہ اس کامالک اسے کھانے یاپینے میں استعمال کرے گاتوواجب ہے کہ مالک کواس کے نجس ہونے کی اطلاع دے۔
مسئلہ ۱۵۱ ۔ اگرکوئی بالغ بچہ ایسی چیزکے نجس ہونے کی خبردے جو اس کے اختیارمیں ہے،یاوہ کسی چیزکے پانی سے پاک کردینے کی اطلاع دے تواس کی بات کوقبول نہیں کاجاتاہے ،ہاں اگروہ بچہ ممیزہو یعنی وہ اچھائی برائی کوسمجھنے کی صلاحیت رکھتاہو،یاوہ بلوغ کے نزدیک ہوتواس کی بات قبول کرلینابعیدازجوازنہیں ہے۔
مطہرات
مسئلہ ۱۵۲ ۔ جوچیزیں نجس کوپاک کرتی ہیں وہ دس ہیں اوران کو”مطہرات“ کہتے ہیں:
۱ ۔ پانی ۲۔ زمین ۳۔ سورج ۴۔ استحالہ ۵۔ انتقال ۶۔اسلام ۷۔ تبعیت۔
۸۔ عین نجاست کادورہونا ۹۔ نجاست کھانے والے حیوان کااستبراء ۔
۱۰۔ مسلمان کاغائب ہونا ۔ ا ن تمام چیزوں کی تفصیل آئندہ مسائل میں بیان کی جائے گی
۱ ۔ پانی
مسئلہ ۱۵۳ ۔ پانی چارشرائط کے ساتھ نجس چیزکوپاک کرتاہے۔
۱ ۔ مطلق ہو : لہذامضاف پانی جیسے گلاب اورعرق بید،نجس چیزکوپاک نہیں کرسکتے۔
۲ ۔ پاک ہو ۳ ۔ نجس چیزدھوتے وقت پانی مضاف نہ ہوجائے اورنجاست کارنگ،بو،ذائقہ اس میں پیدانہ ہو۔
۴ ۔ دھونے کے بعدعین نجاست دورہوجائے ،ہاں قلیل پانی میں کچھ مزیدشرائط ہیں جن کابعدمیں ذکرکیاجائے گا۔
مسئلہ ۱۵۴ ۔ نجس برتن کوقلیل پانی میں تین مرتبہ دھوناچاہیے لیکن کریاجاری پانی میں صرف ایک مرتبہ دھوناکافی ہے ،اوراگرکتاکسی برتن کوچاٹ لے یااس سے پانی یاکوئی دوسری سیال چیزلے توپہلے اس کوپاک مٹی سے مانجھناچاہیے اوراس کے بعداحتیاط واجب کی بناء پردومرتبہ کریاجاری پانی سے یاقلیل پانی سے دھوئیں،اوراسی طرح اگرکتے کالعاب دہن کسی برتن میں گرگیاتب بھی احتیاط واجب یہ ہے کہ اسی طرح پاک کریں۔
مسئلہ ۱۵۵ ۔ اگرکتے نے کسی ایسے برتن میں منہ ماراہوکہ جس کادھانہ چھوٹاہواوراسے مٹی سے مانجھانہ جاسکتاہوتوپھرمٹی کواس میں ڈال کراتنازیادہ ہلایاجائے کہ مٹی پورے برتن تک پہنچ جائے اوراس کے علاوہ برتن کے پاک ہونے میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۵۶ ۔ اگرکسی برتن سے سورکوئی بہنے والی چیزپی لی ہوتواس کوقیلیل پانی سے سات مرتبہ دھوناچاہیے اورکروجاری میں بھی بناء براحتیاط واجب سات مرتبہ دھویاجائے لیکن مٹی سے ما نجھناضروری نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب مانجھناہے۔
مسئلہ ۱۵۷ ۔ جوبرتن شراب سے نجس ہوگیاہے توچاہیے کہ تین مرتبہ قلیل پانی سے دھوئیں اورسات مرتبہ دھونامستحب ہے۔
مسئلہ ۱۵۸ ۔ نجس مٹی سے بنے ہوئے کوزے کویاجس میں نجس پانی سرایت کرگیاہوتواگراس کریاجاری پانی میں رکھاجائے توجہاں تک پانی پہنچے گاوہ پاک ہوجائے گااوراگراس کاباطن بھی پاک کرنامقصود ہوتوکریاجاری پانی میں اتنی دیررکھاجائے کہ پانی سا رے برتن میں سرایت کرجائے اورفقط تری کااس میں چلے جاناکافی نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۵۹ ۔ قلیل پانی سے برتن کوپاک کرنے کے دوطریقے ہیں:
۱ ۔ اس کوتین مرتبہ قلیل پانی سے بھرکرخالی کردیں۔
۲ ۔ تین مرتبہ اس میں تھوڑاساپانی ڈال کراس طرح ہلائیں کہ پانی ہرنجس جگہ تک پہنچ جائے پھراس کوپھینک دیں۔
مسئلہ ۱۶۰ ۔ دیگ اوربڑے پتیلے کوتین مرتبہ پانی سے بھرکرپھینک دینے سے یہ برتن پاک ہوجاتے ہیں،اورایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اوپرسے چاروں طرف اس طرح پانی ڈلیں کہ پانی ہرطرف پہنچ جائے پھرجوپانی جمع ہوگیاہے اس کوپھینک دیں(اسی طرح تین دفعہ کریں) اورجس برتن سے پانی نکال کرپھینکاگیا ہے احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کوہرمرتبہ دھولیاکریں۔
مسئلہ ۱۶۱ ۔ اگرنجس چیزکوعین نجاست دورہوجانے بعدجاری یاکرپانی میں ڈبودیں توپاک ہوجائے گا،لیکن بچھانے والی کسی چیزیالباس وغیرہ کونچوڑنا ضروری ہے تاکہ اس کاپانی نکل جائے۔
مسئلہ ۱۶۲ ۔ پیشاب سے نجس ہونے والی چیزکودومرتبہ دھونا کافی ہے ایک مرتبہ اس پرپانی ڈالاجائے اورپانی اس سے جداہوجائے اوراس میں پیشاب بھی باقی نہ رہے اورجب دوسری مرتبہ اس پرپانی ڈالاجائے گاوہ پاک ہوجائے گی ،لیکن لباس ،دری اوردیگرایسی چیزوں میں ہردفعہ نچوڑنابھی ضروری ہے تاکہ غسالہ بھی باہرنکل جائے،اورغسالہ اس پانی کوکہتے ہیں جوعمومادھونے کے وقت خودبخودیانچوڑنے کے ذریعہ اس چیزسے گرتاہے۔
مسئلہ ۱۶۳ ۔ اگرکوئی چیزایسے دودھ پیتابچہ جس کے دوسال پورے نہ ہوں نجس ہوجائے جوابھی کھانانہیں کھاتاہواورخنزیرکادودھ بھی اس نے نہ پیاہوتواس چیزپرایک مرتبہ پانی ڈالنے سے وہ چیزپاک ہوجائے گی،لیکن احتیاط مستحب یہ ہے دورمرتبہ پانی ڈالیں،کپڑا اوراس قسم کی چیزوں کونچوڑنابھی ضروری نہیں ہے۔
۱۶۴ ۔ اگرکوئی چیزپیشاب کے علاوہ کسی دیگرنجاست سے نجس ہوجائے توعین نجس دورہونے کے بعداس پرایک ہی مرتبہ پانی ڈالاجائے اوروہ پانی جداہوجائے تووہ پاک ہوجائے گی اوراسی طرح اگرپہلی دفعہ ہی جب اس پرپانی ڈالا جارہاہے تووہ پاک ہوجائے گی لیکن کپڑے وغیرہ کونچوڑنابھی چاہیے۔
مسئلہ ۱۶۵ ۔ اگرتاگے سے بنی ہوئی نجس چٹائی کوکریاجاری پانی میں ڈبودیں یانل کے نیچے رکھ دیں اورنل کھول دیں توعین نجاست زائل ہوجانے کے بعدوہ چیزپاک ہوجائے گی۔
مسئلہ ۱۶۶ ۔ اگرگہیوں،چاول،صابن وغیرہ کاظاہری حصہ نجس ہوجائے توجاری یاکر پانی میں ڈبونے سے پاک ہوجاتاہے،اوراگران کااندرونی حصہ نجس ہوجائے توکسی طرح پاک نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ ۱۶۷ ۔ اگرانسان کوشک ہوکہ نجس پانی صابن کے اندربھی گیاہے کہ نہیں توصابن کاباطن پاک ہے۔
مسئلہ ۱۶۸ ۔ اگرچاول یاگوشت یااس قسم کی چیزوں کاظاہرنجس ہوجائے اورانھیں کسی برتن میں رکھ دیں تین مرتبہ پانی ڈالنے کے بعدانڈیل دیاجائے تووہ پاک ہوجائیں گی اوران کابر تن بھی پاک ہوجائے گا،لیکن اگرکپڑے جیسے چیزکوجس کانچوڑناضروری ہے برتن میں رکھ کردھوناچاہیں توہردفعہ میں اس پرپانی ڈالیں اوراسے دبادیں اوربرتن کوٹیڑھاکریں تاکہ جمع شدہ غسالہ باہرنکل جائے۔
مسئلہ ۱۶۹ ۔ اگرنجس رنگے ہوئے لباس کوجاری،کریانل کے پانی کے نیچے رکھ دیں اورپانی رنگ کی وجہ سے مضاف ہونے سے پہلے تمام جگہ تک پہنچ جائے تولباس پاک ہوجائے گا،چاہے نچوڑتے وقت اس سے مضاف یارنگین پانی نکلے۔
مسئلہ ۱۷۰ ۔ اگرکپڑے کوکریاجاری پانی میں دھویاجائے اوراس میں پانی کاجالاوغیرہ نظرآئے لیکن یہ احتمال نہ ہوکہ یہ پانی کے پہنچنے میں مانع ہے تووہ کپڑا پاک ہے۔
مسئلہ ۱۷۱ ۔ اگرکپڑاوغیرہ دھونے کے بعداس میں تھوڑی سی مٹی یاکسی بھی نجس شئی کے ٹکڑے نظرآئیں اورمعلوم ہوجائے کہ مطلق پانی اس مٹی یااس شئے کے نیچے پہنچ گیاہے تووہ پاک ہے لیکن اگرنجس پانی مٹی یااس شئے کے اندرونی حصہ کولگاہے تومٹی اوراس شئے کاظاہرپاک اورباطن نجس ہوگا۔
مسئلہ ۱۷۲ ۔ نجس چیزکودھوتے وقت اگرعین نجاست دورہوجائے اوررنگ یابوباقی رہ جائے توکوئی حرج نہیں ہے،مثلااگرکپڑے سے خون کو دورکردیاگیاہو اورکپڑے کودھویاگیاہولیکن خون کارنگ اس میں موجودہوتووہ پاک ہے البتہ اگررنگ یابوکی وجہ سے یقین یااحتمال ہوکہ نجاست کے ذرے اس میں موجود ہیں تووہ نجس رہے گی۔
مسئلہ ۱۷۳ ۔ جاری ،کریانل کی پانی کے نیچے نجس بدن سے عین نجاست دورہوجائے توبدن پاک ہوجاتاہے پانی سے باہرآکردوبارہ پانی میں جاناضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۴ ۔ اگرنجس غذادانتوں میں پھنس جائے تومنہ میں پانی لے کراس طرح پھرائیں کہ تمام نجس اجزاء تک پہنچ جائے تووہ نجس غذاپاک ہوجاتی ہے ۔ البتہ باقی شرائط کوبھی مدنظررکھناچاہیے۔
مسئلہ ۱۷۵ ۔ اگرداڑھی یاسرکے گھنے بالوں کوقلیل پانی سے پاک کرناہوتونچوڑنابھی ضروری ہے تاکہ غسالہ جداہوجائے۔
مسئلہ ۱۷۶ ۔ اگربدن یاکپڑے کے کسی حصہ کوقلیل پانی سے دھویاجائے تواس کے وہ متصل کنارے جوعادتااسے پاک کرتے وقت نجس ہوجاتے ہیں وہ نجس جگہ کے پاک ہونے کے ساتھ ہی پاک ہوجائیں گے اوریہی حکم ہے اگرکسی پاک چیزکونجس کے ساتھ رکھ دیں اوردونوں پرپانی ڈالاجائے،مثلااگرایک انگلی کوپاک کرنے کے لئے تمام انگلیوں پرپانی ڈالاجائے اورنجس پانی تمام انگلیوں کولگ جائے تونجس انگلی کے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ تمام انگلیاں پاک ہوجائیں گی۔
مسئلہ ۱۷۷ ۔ اگرگوشت اورچربی نجس ہوجائے تودوسری چیزوں کی طرح پاک ہوجاتی ہے،اسی طرح اگربدن یالباس پرتھوڑی سی چکنائی ہوجوپانی کے پہنچنے میں مانع نہ ہوتووہ بھی دھونے سے پاک ہوجاتی ہے۔
مسئلہ ۱۷۸ ۔ اگربرتن یابدن نجس ہوجائے اورپھراتناچکناہوجائے کہ پانی برتن یابدن تک نہ پہنچ سکتاہوتوایسی صورت میں بدن یابرتن کوپاک کرنے کے لئے پہلے چربی کودورکریں تاکہ پانی وہاں تک پہنچ سکے۔
مسئلہ ۱۷۹ ۔ اگرکس نجس چیزکوجس میں عین نجاست نہ ہوایسی ٹونٹی کے نیچے رکھ دیاجائے جوکرسے متصل ہوتووہ ایک دفعہ دھونے سے پاک ہوجائے گی اوراگرعین نجاست اس میں ہواوروہ ٹونٹی کے نیچے رکھنے یاکسی اوروجہ سے دورہوجائے تووہ پانی جواس چیزسے گررہاہے اس میں نجاست کارنگ یابویاذائقہ نہ ہوتووہ ٹونٹی کے پانی سے پاک ہوجائے گا،لیکن اگراس سے گرنے والے پانی میں عین نجاست کارنگ یابویاذائقہ پایاجاتاہوتواتنی دیرتک ٹونٹی کوچھوڑے رکھاجائے کہ جوپانی گررہاہے اس میں نجاست کارنگ،بویاذائقہ باقی نہ رہے۔
مسئلہ ۱۸۰ ۔ اگرکسی چیزکوپاک کرنے کی بعدیقین ہوجائے کہ یہ پاک ہوگئی لیکن بعدمیں شک ہوکہ ٹھیک سے پاک کیاتھاکہ نہیں تووہ پاک ہے۔
مسئلہ ۱۸۱ ۔ وہ زمین جس پرپانی نہیں بہہ سکتااگرنجس ہوجائے تو قلیل پانی سے پاک نہیں ہوگی ،لیکن وہ زمین جوکنگریلی یارتیلی ہوکہ جب بھی اس پرپانی ڈالاجائے تووہاں جذب ہوجاتاہے ،قلیل پانی سے پاک ہوجائے گی البتہ ریت کانچلاحصہ نجس رہے گا۔
مسئلہ ۱۸۲ ۔ پتھریااینٹ سے فرش شدہ ایسی سخت زمین جس میں پانی جذب نہیں ہوتااگرنجس ہوجائے توقلیل پانی سے پاک ہوجائے گی لیکن ضروری ہے کہ اتناپانی اس پرڈالاجائے کہ جوچلنے لگے اوراگراس پرڈالاہواپانی کسی سوراخ سے باہرنکل جائے توتمام زمین پاک ہوجائے گی، اوراگرباہرنہ جائے توجہاں پانی جمع ہوگاوہ جگہ نجس رہے گی اوراسے پاک کرنے کے لئے گڑھاکھوداجائے گاجس میں پانی جمع ہواورپھرپانی اس سے باہر نکالنے کے بعداسے پاک مٹی سے پرکردیں۔
مسئلہ ۱۸۳ ۔ اگرنمک کاپتھراوراس قسم کی چیزوں کاظاہری حصہ نجس ہوجائے توقلیل پانی سے اسے پاک کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۴ ۔ اگرپگھلی ہوئی نجس چینی کوقندبنادیاجائے توکریاجاری پانی میں رکھنے سے پاک نہیں ہوگی۔
۲ ۔ زمین
مسئلہ ۱۸۵ ۔ زمین پاؤں کے تلوے اورجوتے کے نچلے نجس حصہ کوتین شرائط کے ساتھ پاک کرتی ہے :
۱ ۔ زمین پاک ہو ۲ ۔ خشک ہو ۳ ۔ عین نجاست زائل ہوجائے اورزمین ،مٹی ،پتھر،اینٹوں یاسمٹ وغیرہ کافرش ہو، لیکن فرش،چٹائی ،سبزہ پرچلنے سے پیرکے اورجوتے کے نجس تلے پاک نہیں ہوتے،اورجونجاست زمین پرچلنے کے علاوہ لگ گئی ہوتوزمین پرچلنے کی وجہ سے اس کاپاک ہونا مشکل ہے۔
مسئلہ ۱۸۶ ۔ جس زمین کافرش لکڑی سے بناہویاتارکول کی بنی ہوئی سڑک پرچلنے سے نجس جوتے کاتلااورنجس تلوے کاپاک ہونامشکل ہے۔
مسئلہ ۱۸۷ ۔ پیرکے تلووں اورجوتے کے تلووں کوپاک کرنے کی غرض سے تھوڑاراستہ طے کیاجائے یاپیروں کوزمین پررگڑاجائے توپاک ہوجاتے ہیں لیکن بہترہے کہ کم ازکم پندرہ زراع تقریباساڑھے سات میٹرچلے۔
مسئلہ ۱۸۸ ۔ یہ ضروری نہیں کہ تلواترہوبلکہ اگرخشک بھی ہوتوراستہ چلنے سے پاک ہوجاتا ہے۔
مسئلہ ۱۸۹ ۔ پیراورجوتوں کے کنارے جوآلودہ زمین پرچلنے سے نجس ہوجاتے ہیں تووہ بھی تلایاتلواکے پاک ہوجانے کے بعدپاک ہوجائیں گے۔
مسئلہ ۱۹۰ ۔ وہ لوگ جوہتھیلی اورگھٹنوں کے سہارے راستہ طے کرتے ہیں ان کی ہتھیلی اورگھٹنوں کاپاک ہونامحل اشکال ہے،اسی طرح مصنوعی پیروں،عصا کے نیچے کاحصہ،چارپایوں کے کھر(یاٹاپ) گاڑی،سائیکل وغیرہ کے پہیوں کاپاک ہونابھی محل اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۹۱ ۔ نجاست کے وہ چھوٹے ذرات اگرتلوں یاتلووں میں چلنے کے بعدباقی رہ جائیں تواحتیاط واجب کی بناء پران ذرات کودورکریں،البتہ رنگ وبوکے باقی رہ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۹۲ ۔ جوتے کااندرونی حصہ اورپاؤں کے تلوے کی وہ مقدارجوزمین پرنہیں لگتی راہ چلنے سے پاک نہیں ہوگی،اورجراب کے نیچلے حصہ کاپاک ہونامحل اشکال ہے،اگرجوراب کے تلوے چمڑے کے ہوں تووہ زمین پرچلنے سے پاک ہوجائیں گے۔
۳ ۔ سورج
مسئلہ ۱۹۳ ۔ سورج کی گرمی زمین اورچھت مکان ،دروازہ،کھڑکی اورمیخ جس کودیوارمیں ٹھونکاگیاہوان سب کوکچھ شرائط کے ساتھ پاک کرتی ہے۔
۱ ۔ نجس چیزمیں متعدی رطوبت ہو،لہذااگرخشک ہوپہلے ترکردیں تاکہ آفتاب کے ذریعہ خشک ہو۔
۲ ۔ عین نجاست کوسورج پڑنے سے پہلے دورکرنا۔
۳ ۔ آفتاب کی روشنی براہ راست اس پرپڑے یہ نہ ہوکہ بادل وغیرہ کے پیچھے سے آفتاب کی روشنی پڑے،ہاں اگربادل اتناباریک ہوکہ سورج کی روشنی کوروک نہ سکے توکوئی حرج نہیں ہے۔
۴ ۔ نجس چیزسورج کی تپش سے ہولیکن اگرہوایاکسی اورگرمی کی وجہ سے خشک ہوتوکافی نہیں ہے،ہاں اگردوسری چیزاتنی کم ہوکہ لوگ کہیں کہ سورج کی حرارت سے خشک ہوئی ہی توکافی ہے۔
۵ ۔ یہ کہ سورج عمارت وغیرہ کی نجس مقدارکوایک ہی دفعہ خشک کرے لہذااگرایک دفعہ توزمین اورنجس عمارت کے اوپروالے کوخشک کرے اورپھرنچلے حصہ کوتوصرف اس کااوپروالاحصہ ہی پاک ہوگااورنچلاحصہ نجس رہے گا۔
۶ ۔ زمین اورعمارت کے اوپروالاحصہ جس پرسورج پڑرہاہے اورباقی حصہ ہوایاکسی دوسرے پاک جسم کافاصلہ نہ ہو۔
مسئلہ ۱۹۴ ۔ سورج کی روشنی نجس چٹائی ،درخت ،گھاس کوپاک کردیتی ہے۔
مسئلہ ۱۹۵ ۔ اگرسورج کی روشنی نجس زمین پرپڑے پھرشک ہوکہ آیاسورج کی روشنی پڑنے کے وقت ترتھی یانہیں یااس کی تری سورج کے تپش سے خشک ہوئی یانہیں،تووہ زمین نجس ہے اوراسی طرح اگرشک ہوکہ سورج کی روشنی پڑنے سے پہلے عین نجاست دورہوئی تھی کہ نہیں یایہ خشک ہوکہ سورج کی روشنی پڑنے سے کوئی چیزمانع ہے یانہیں۔
مسئلہ ۱۹۶ ۔ اگرسورج نجس دیواریازمین کے ایک حصہ پرپڑے اوراس کوخشک کردے تووہی حصہ پاک ہوگا،لیکن اگردیواراتنی پتلی ہے کہ اس کی ایک طرف سورج پڑنے سے دوسری طرف بھی خشک ہوجائے توپاک ہوجائے گی۔
۴ ۔ استحالہ
مسئلہ ۱۹۷ ۔ اگرعین نجس اس طرح متغیرہوجائے کہ جنس بدل جائے اوراس پراس کاسابقہ نام ہی صدق نہ آئے بلکہ اسے کچھ اورکھاجانے لگے تووہ پاک ہوجاتی ہے،مثلانجس لکڑی کوجلاکرخاکسترکردیں،یاکتانمک کی کان میں گرنمک بن جائے،لیکن اگرجنس متغیرنہ ہو،صرف صفت متغیرہوجائے جیسے گہیوں کاآٹابنالیاجائے تووہ پاک نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۹۸ ۔ نجس مٹی کاکوزہ یااینٹ نجس ہے اورنجس لکڑی کاکوئلہ بھی نجس ہے اوراس سے اجتناب کرناچاہئیے۔
مسئلہ ۱۹۹ ۔ اگرنجس چیزکے بارے میں شک کریں کہ اس کااستحالہ ہوگیاہے کہ نہیں تونجس ہے۔
مسئلہ ۲۰۰ ۔ اگرشراب خودبخودیاکسی اوروجہ سے مثلاسرکہ ونمک اس میں ڈالنے سے سرکہ بن جائے تووہ پاک ہوجائے گی۔
مسئلہ ۲۰۱ ۔ نجس انگورسے بنی ہوئی شراب سرکہ ہوجانے سے پاک نہیں ہوتی،حتی کہ اگرباہرسے کوئی نجاست شراب میں پڑجائے توسرکہ ہوجانے کے بعدبھی احتیاط واجب یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیاجائے۔
مسئلہ ۲۰۲ ۔ نجس انگور،کشمش یاخرماسے جوسرکہ بنایاجاتاہے وہ نجس ہے۔
مسئلہ ۲۰۳ ۔ اگرانگوریاکھجورکاتلچھٹ ان میں موجودہواوراس میں سرکہ ڈال دیاجائے توکوئی حرج نہیں اورنیزاگرکجھور،کشمش انگورکے سرکہ ہوجانے سے پہلے کھیرااوربینگن وغیرہ ان میں ڈال دیاجائے توکوئی حرج نہیں۔
مسئلہ ۲۰۴ ۔ انگورکاوہ پانی جس میں آگ کے ذریعہ ابال آگیاہواگراتناابلے کہ اس کے دوحصے کم ہوجائیں اورایک حصہ باقی رہ جائے تووہ نجس نہیں ہوگاالبتہ اس کاکھاناحرام ہے لیکن اگراس کامست کرنے والاہوناثابت ہوجائے توحرام ہے اورنجس بھی ہوگاتوفقط وہ سرکہ بننے سے پاک اورحلال ہوگا۔
مسئلہ ۱۰۵ ۔ اگرکچے انگورکے خوشوں کے درمیان انگورکے دانے بھی ہوں اوران سب کاپانی اس طرح لیاجائے کہ آبخورہ کہاجانے لگے اورانگورکی مٹھاس اس میں بالکل موجودنہ ہوتووہ پاک اوراس کاپیناحلال ہے۔
مسئلہ ۲۰۶ ۔ جس چیزکے بارے میں معلوم نہ ہوکہ ناپختہ انگورہے یاانگورتواگرآگ پرجوش کھاجائے توحرام نہیں ہوتا۔
۵ ۔ انتقال
مسئلہ ۲۰۷ ۔ اگرانسان یاکسی خون جہندہ رکھنے والے حیوان کے بدن کاخون ایسے حیوان کے بدن میں چلاجائے جوخون جہندہ نہیں رکھتااوراسی کے بدن کاخون شمارہونے لگے توپاک ہے اوراسی کوانتقال کہتے ہیں لہذاوہ خون جوکہ جونک ،انسان کے بدن سے چوس لیتی ہے پاک نہیں ہے کیوں کہ اس کے بدن کاخون شمارنہیں ہوتا۔
مسئلہ ۲۰۸ ۔ اگرکوئی اپنے بدن پربیٹھے ہوئے مچھرکومار ڈالے اورمچھرکاخون نکلے اورمعلوم نہ ہوکہ یہ خودمچھرکاخون ہے یاانسان کاہے جس کواس نے ابھی تازہ چوساہے توپاک ہے،اوراسی طرح ہے اگریہ معلوم ہوکہ جواس کاخون چوساہے وہ ا ب مچھرکاجزوشمارہوتاہے ،لیکن اگرخون چوسنے اورمچھر کومارنے کے درمیان کم مدت گزری ہوکہ عرفاکہاجائے کہ یہ انسان کاخون ہے تووہ خون نجس ہوگا،یامعلوم نہ ہوسکے کہ اسے مچھرکاخون کہتے ہیں یاانسان کاخون توبھی نجس ہوگا۔
۶ ۔ اسلام لانا
مسئلہ ۲۰۹ ۔ اگرکافرکلمہ شہادتین ،یعنی ”اشہدان لاالہ الااللہ واشہدان محمدارسور ل ا للہ “ پڑھے تومسلمان ہوجائے گااوراس کابدن،لعاب دہن ،ناک کاپانی اورپسینہ پاک ہوجائے گا،لیکن اگرمسلمان ہوتے وقت عین نجاست اس کے بدن کولگی ہوتواس عین نجاست کودورکرکے بدن کوپاک کرے بلکہ اگرمسلمان ہونے سے پہلے عین نجاست دورہوگئی ہوتوبھی اس کی جگہ کوپاک کرے۔
مسئلہ ۲۱۰ ۔ اگرکفرکی حالت میں اس کاترلباس بدن کولگ جائے تومسلمان ہونے کے وقت وہ لباس اس کے بدن پرنہ ہوتووہ لباس نجس ہے بلکہ اگربدن پرہوتوپھربھی اس لباس سے اجتناب کاجائے۔
مسئلہ ۲۱۱ ۔ اگرکافرزبان سے کلمہ پڑھے اوریہ معلوم نہ ہوکہ وہ دل سے مسلمان ہوا ہے یانہیں تووہ پاک ہے،لیکن اگرمعلوم ہوکہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہواہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس سے اجتناب کرے۔
۷ ۔ تبیعت
مسئلہ ۲۱۲ ۔ تبیعت کامطلب یہ ہے کہ کوئی چیزکسی دوسری چیزکے ضمن میں پاک ہوجائے۔
مسئلہ ۲۱۳ ۔ اگرشراب سرکہ بن جائے توجہاں تک شراب یاانگورجوش کھاتے ہوئے برتن میں لگاہے وہ بھی ضمناپاک ہوجائے گااوراگرڈھکنے تک رطوبت پہونچی ہے توسرکہ بننے کے بعدوہ ڈھکنابھی پاک ہوجائے گا،بلکہ اگرجوش کھاتے وقت برتن سے نکل کراس کی پشت پرلگ جائے توسرکہ ہونے کے بعدبرتن کی پشت پاک ہوگی۔
مسئلہ ۲۱۴ ۔ جس پتھرپرمیت کوغسل دیتے ہیں اورجس کپڑے سے میت کی شرمگاہ کوڈھانپتے ہیں اورمیت کوغسل دینے والے کے ہاتھ ،اسی طرح کیسر،صابن یہ سب غسل تمام ہونے کے بعدپاک ہوجاتے ہیں۔
مسئلہ ۲۱۵ ۔ اگرکوئی شخص کسی چیزکواپنے ہاتھ سے دھورہاہے تو اس چیزکے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی پاک ہوجائے گا۔
مسئلہ ۲۱۶ ۔ لباس وغیرہ کواگرقلیل پانی سے پاک کریں اورمعمول کے مطابق اتنانچوڑدیں کہ غسالہ خارج ہوجائے توکپڑے میں باقی رہ جانے والاپانی پاک ہے۔
مسئلہ ۲۱۷ ۔ اگرنجس برتن کوقلیل پانی سے دھوئیں توجس پانی کو پاک کرنے کے لئے برتن پرڈالاگیاہے اس کے جداہونے کے بعدتوجوقطرے اس میں رہ جاتے ہیں وہ پاک ہیں۔
۸ ۔ عین نجاست کادورہونا۔
مسئلہ ۲۱۸ ۔ اگرجانورکابدن عین نجاست سے جسے خون یانجس شدہ چیزسے مثلانجس پانی سے آلودہ ہوجائے،اب اگروہ نجاست دورہوجائے توجانورکابدن پاک ہوجائے گااوریہی حکم ہے باطن بدن کا،یعنی اگرانسان کے جسم کااندرونی حصہ ”منہ یاناک کااندرونی حصہ“ نجس ہوجائے تونجاست کے دورہوتے ہی وہ پاک ہوجاتاہے ،اوراسی طرح اگرمسوڑھے سے خون آجائے اورلعاب دہن میں مل کرختم ہوجائے۔
مسئلہ ۲۱۹ ۔ اگرمنہ یادانتوں میں فذاباقی رہ جائے اورمنہ کے اندرخون آجائے اوریہ معلوم نہ ہوکہ غذامیں خون لگاہے کہ نہیں تووہ غذاپاک ہے،اورخون غذاکولگ جائے تواحتیاط واجب کی بناپرنجس ہے اورمصنوعی دانت کابھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۲۲۰ ۔ بدن کاکوئی حصہ جس کے بارے میں انسان کومعلوم نہ ہوکہ یہ بدن کاظاہری حصہ ہے یاباطنی ،اگروہ نجس ہوجائے تواس کوپاک کرناواجب نہیں ہے اگرچہ احتیاط پاک کرنے میں ہے۔
مسئلہ ۲۲۱ ۔ اگربدن،لباس،فرش یااسی طرح کی کسی چیزپرنجس گردوغباربیٹھ جائے اوردونوں خشک ہوں تونجس نہیں ہوں گے،لیکن اگران میں سے کوئی ایک ترہوتوگردوغبارکی جگہ کوپاک کرناچاہئیے۔
۹ ۔ نجاست کھانے والے حیوان کااستبراء۔
مسئلہ ۲۲۲ ۔ اگرکوئی حیوان انسان کاپاخانہ کھانے کاعادی ہوجائے تواس کاپیشاب وپاخانہ نجس ہے اوراگراس کوپاک کرناچاہیں توحیوان کواستبراء کرناچاہئیے ،یعنے حیوان کواتنے دن تک پاک غذادی جائے کہ پھراس پرنجاست خوارصادق نہ آئے ،اونٹ کوچالس دن،گائے کوبیس دن،بھیڑکودس دن،مرغابی کوپانچ دن گھرکی مرغیوں کوتین دن اوردوسرے حیوانات کوبھی اسی اعتبارسے پاک غذادی جائے کہ نجاست کھاناان پرصادق نہ آئے۔
۱۰ ۔ مسلمان کاغائب ہونا
مسئلہ ۲۲۳ ۔ اگرمسلمان کابدن یالباس یاایسی چیزجواس کے اختیارمیں ہونجس ہوجائے اوروہ بھی سمجھ لے کہ نجس ہوگیاہے اس کے بعدوہ مسلمان غائب ہوجائے تواگرانسان کواحتمال ہوکہ ا س نے پاک کرلیاہوگایاجاری پانی میں پڑنے کی وجہ سے وہ چیزپاک ہوگئی ہو تواس سے اجتناب ضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۲۴ ۔ اگرخودانسان کویقین ہوجائے کہ نجس چیزپاک ہوگئی ہے یادوعادل کس نجس چیزکے پاک ہوجانے کی خبردیں تووہ چیزپاک ہے اسی طرح اگرصاحب یدپاک ہونے کی خبردے تواس کوبھی قبول کرلیناچاہئے یایہ تومعلوم ہوکہ مسلمان نے اس کوپاک کیاہے لیکن پتہ نہیں کہ درست پاک کیاہے کہ نہیں،تب بھی پاک ہے۔
مسئلہ ۲۲۵ ۔ اگرکوئی شخص انسان کے لباس کوپاک کرنے کے لئے وکیل بن جائے اورلباس بھی اس کے اختیارمیں ہوتواگرکہے میں نے اس کوپاک کیاتواس کاقول قبول کرلیناچاہئے اوروہ لباس پاک ہے۔
مسئلہ ۲۲۶ ۔ اگرکسی شخص کونجس چیزکے پاک ہونے پریقین نہیں آتا تواس کوچاہئے کہ دوسروں کے طریقے پرقناعت کرلے اوریقین پیداکرنااس کے لئے ضروری نہیں ہے۔
برتنوں کے احکام:
مسئلہ ۲۲۷ ۔ مرداریانجس العین جیسے کتا،سورکی کھال سے بنایا جانے والابرتن یامشک کااستعمال کھانے ،پینے یاوضو،غسل کرنے میں جائز نہیں ہے، بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ جن کاموں میں طہارت شرط نہیں ہے ان کی کھال یامشک کواستعمال نہ کیاجائے۔
مسئلہ ۲۲۸ ۔ سونے،چاندی کے برتن میں کھانا،پینایاان کااستعمال کرنا حرام ہے بلکہ ان چیزوں سے کمروں کوسجانابھی جائزنہیں ہے،لیکن انھیں محفوظ رکھنا حرام نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۲۹ ۔ سونے ،چاندی کے برتن بنانااوران کے بنانے کی ا جرت لینا حرام نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۳۰ ۔ سونے اورچاند کے برتن کی خریدوفروخت حرام نہیں ہے اوران برتنوں کوبیچ کرجوپیسہ وصول کیاجاتاہے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۳۱ ۔ چائے کی پیالی یااستکان”یعنی شیشے کی پیالی“ کی حفاظت کے لئے جوبرتن سونے یاچاندی سے بنائے جاتے ہیں اگراستکان کو ان سے نکال لینے کے بعد ان کوبرتن کہاجائے توان کااستعمال تنہایااستکان سمیت حرام نہیں ہے،اوراگربرتن نہیں کہتے توان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۳۲ ۔ جس برتن پرسونے یاچاندی کے پانی کی ملمع کاری ہواس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۳۳ ۔ اگرسونے چاندی کے ساتھ کوئی اوردھات ملاکرکوئی ایسابرتن بنائیں جس کوسونے یاچاندی کابرتن نہ کہاجاسکے تواس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۳۴ ۔ اگرانسان سونے اورچاندی کے برتن میں پڑی ہوئی غذاکواس مقصدوغرض سے دوسرے برتن میں ڈال دے کہ سونے اورچاندی کے برتن کوخالی کرے توکوئی اشکال نہیں ہے ،البتہ اگردوسرے برتن سے کھانے کی غرض سے سونے اورچاندی کے برتن کوخالی کرے تویہ حرام ہوگا۔
مسئلہ ۲۳۵ ۔ حقہ کے سرپوش ،تلوااورچھری کے نیام اورقرآن مجیدکے شیرازہ (ڈبیہ) کوجوسونے چاندی سے بنائے گئے ہیں استعمال کرناجائزہے اسی طرح سونے اورچاندی کے عطردان وغیرہ اورسرمہ دانی کوبھی استعمال کرسکتاہے۔
مسئلہ ۲۳۶ ۔ مجبوری کی صورت میں سونے،چاندی کے برتن کا استعمال جائزہے،لیکن وضواورغسل کے لئے مجبوری کی حالت میں بھی ان کواستعمال نہیں کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۲۳۷ ۔ اگریہ شک ہوکہ برتن سونے یاچاندی کاہے یاکسی اوردھات کاتواس کااستعمال جائزہے۔
وضوکرنے کاطریقہ
مسئلہ ۲۳۸ ۔ وضومیں منہ اورہاتھوں کادھونااورسرکے اگلے حصے اورپیروں کے اوپروالے حصہ پرمسح کرناواجب ہے۔
مسئلہ ۲۳۹ ۔ چہرے کوپیشانی کے اوپر،یعنی جہاں سے سرکے بال اگتے ہیں،سے تھوڑی کے نیچے تک (لمبائی میں) اورچورائی میں بیچ والی انگلی اورانگوٹھے کے درمیان جتناحصہ آجائے اس کادھوناضروری ہے ،اس میں سے اگرتھوڑاسابھی نہ دھویاگیاتووضوباطل ہے اس لئے یہ یقین پیداکرنے کے لئے کہ پوری مقداردھولی ہے تھوڑابتائی ہوئی مقدارسے زیادہ دھولیناچاہئے۔
مسئلہ ۲۴۰ ۔ اگرکسی کاچہرہ یاہاتھ معمول سے بڑایاچھوٹاہوتواس کوعام لوگ کی طرف دیکھناچاہئے،جتناعام طورسے لوگ اپنے چہرے کودھوتے ہیں اس کوبھی اتناہی دھوناہوگا،اسی طرح جس کے بال اگنے کی جگہ بہت اوپریابہت نیچے ہوتووہ بھی عام لوگوں کی طرح اپنے چہرے کودھوناہوگا،لیکن اگراس کاہاتھ اورچہرے دونوں معمول کے خلاف ہوالبتہ ایک دوسرے سے مناسبت ان میں موجودہوتوپھرعام لوگوں کی حالت کودیکھناضروری نہیں ہے اوراس کوپہلے مسئلہ میں بیان شدہ دستورکے مطابق وضوکرے۔
مسئلہ ۲۴۱ ۔ اگراحتمال ہوکہ میل کچیل اس کے ابرواورآنکھوں اورہونٹوں کے کناروں پرلگی ہے جس کی وجہ سے پانی بدن تک نہیں پہنچ سکتاتواگریہ احتمال عرفا درست ہوتووضوکرنے سے پہلے دیکھ بھال کرے اگرموجودہواسے دورکردے۔
مسئلہ ۲۴۲ ۔ جن لوگوں کے ڈاڈھی ہے اگرڈاڈھی گھنی ہے کھال دکھائی نہیں دیتی توبالوں کادھوناکافی ہے،جلد تک پہنچاناضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۴۳ ۔ اگرشک ہوکہ جلدبالوں کے اوپرسے دکھائی دیتی ہے کہ نہیں تواحتیاط واجب ہے کہ بال وکھال دونوں کودھوئے۔
مسئلہ ۲۴۴ ۔ ناک اندرونی حصہ اورآنکھوں اورہونٹوں کے بندکرلینے کے بعدجوحصہ دکھائی نہیں دیتااس کادھوناواجب نہیں ہے ،لیکن یہ یقین پیداکرنے کے لئے کہ جن چیزوں کادھوناضروری تھاوہ دھوئی جاچکی ہیں واجب ہے کہ ان میں سے بھی کچھ مقداردھوئے۔
مسئلہ ۲۴۵ ۔ چہرے کواحتیاط واجب کی بناء پراوپرسے نیچے کی طرف دھوناچاہئے اوراگرنیچے سے اوپرکی طرف دھویاگیاتووضوباطل ہے، اور ہاتھوں کوکہنیوں سے انگلیوں کی طرف دھوناضروری ہے۔
مسئلہ ۲۴۶ ۔ اگرہاتھ کوترکرکے چہرے اورہاتھوں پرپھیرے اورہاتھ میں اتنی تری ہوکہ اس کودھوناکہاجاسکے توکافی ہے۔
مسئلہ ۲۴۷ ۔ چہرے کودھونے کے بعدداھنے ہاتھ کوکہنی سے لے کرانگلیوں کے سرے تک دھوناچاہئے اس کے بعدبائیں ہاتھ کوبھی اسی طرح دھوناچاہئے۔
مسئلہ ۲۴۸ ۔ یہ یقین کرلینے کے لئے کہ کہنی پوری دھوئی گئی ہے کچھ اوپرسے دھوئے۔
مسئلہ ۲۴۹ ۔ عموماچہرے کودھونے سے پہلے ہاتھوں کوکلائی تک دھوتے ہیں لیکن یہ وضوکے لئے کافی نہیں چہرے کودھونے کے بعد جس وقت داہنے اوربائیں ہاتھ کودھوئے توپورے ہاتھ کودھوناچاہئے اگرصرف گٹے تک دھوئے تووضوباطل ہے۔
مسئلہ ۲۵۰ ۔ وضوکے لئے چہرے اورہاتھوں کوپہلی مرتبہ دھوناواجب ہے اوردوسری مرتبہ جائزہے لیکن تیسری مرتبہ یااس سے زیادہ حرام ہے،پہلی مرتبہ سے مرادیہ ہے کہ پورے عضوکودھوئے خواہ ایک چلوسے یاکئی چلوسے جب پورادھولے گاتوایک مرتبہ شمارہوگاخواہ ایک مرتبہ کاقصدکیاہویانہ کیاہو۔
مسئلہ ۲۵۱ ۔ ہاتھوں کودھونے کے بعدوضوکے پانی کی تری جوہاتھ میں رہ گئی ہے اسی سے سرکے اگلے حصہ کامسح کرناچاہئے اوریہ ضروری نہیں ہے کہ مسح داہنے ہاتھ سے ہویااوپرسے نیچے کی طرف ہاتھ کھینچے۔
مسئلہ ۲۵۲ ۔ مسح کی جگہ پیشانی کے مدمقابل سرکااگلاچوتھائی حصہ ہے اوراس کی جس جگہ پراورجتنامسح ہوجائے کافی ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ لمبائی میں ایک انگلی کے برابراورچوڑائی میں تین انگلیوں کے برابرمسح کرے۔
مسئلہ ۲۵۳ ۔ سرکامسح بالوں پریاجلدپرکیاجاسکتاہے ،لیکن اگرکسی کے سرکے بال اتنے لمبے ہوں کہ کنگھاکرنے سے چہرے پرآجاتے ہوں یاسرکے دوسرے حصہ تک پہنچ جاتے ہوں توبالوں کی جڑوں پرمسح کرے یاوضوسے پہلے سرمیں مانگ نکالے تاکہ ہاتھ دھونے کے بعدسرکی کھاپرآسانی سے مسح کرسکے اوراگران بالوں کوجوچہرے تک یادوسری جگہ تک پہنچ جاتے ہیں سرکے اگلے حصہ میں اکھٹاکرے اوران پرمسح کرے یاان بالوں پرمسح کرے جوسرکے دوسرے حصے کے ہیں اوراگلے حصے پرآپہنچے ہیں تومسح باطل ہے۔
مسئلہ ۲۵۴ ۔ سرکے مسح کے بعداسی ہاتھ کی باقی ماندہ تری سے پیروں کی انگلیوں کے سرے سے پیرکی پشت کے ابھارتک پیروں کامسح کرے۔
مسئلہ ۲۵۵ ۔ پاؤں کے مسح کی چوڑائی جتنی مقداربھی ہوکافی ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ اپنی پوری ہتھیلی سے پاؤں کے اوپروالی سطح کامسح کیاجائے۔
مسئلہ ۲۵۶ ۔ احتیاط واجب ہے کہ پاؤں کے مسح میں ہاتھ کوانگلیوں کے سرے پررکھے اورپاؤں پرتدریجامسح کرے اوراگرپورے ہاتھ کوپاؤں پررکھے اورتھوڑاساکھینچے توصحیح نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۲۵۷ ۔ سراورپیروں کے مسح کے لئے ہاتھ کوان کے اوپرکھینچے اوراگرہاتھ کوروک کرسریاپیرکوحرکت دے تووضوباطل ہے،لیکن اگرمعمولی ساسریاپیرہل جائے توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۵۸ ۔ مسح کی جگہ کوخشک ہوناچاہئے اوراگراتناترہوکہ ہتھیلی کی تری اس پراثرنہ کرے تومسح باطل ہے،ہاں اگرتری اتنی کم ہے کہ مسح کے بعدجوتری اس میں نظرآئے عرفاکہاجائے کہ یہ ہتھیلی کی تری ہے توکوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۵۹ ۔ اگرہاتھ کی تری ختم ہوجائے تووضوکے دیگراعضاء سے تری لے سکتاہے اوراس سے مسح کرسکتاہے لیکن وضوکے علاوہ دوسرے پانی سے جائزنہیں ہے۔
مسئلہ ۲۷۰ ۔ اگرصرف سرکے مسح کے لئے تری ہوتوسرکامسح اسی تری سے کرے اورپیروں کے مسح کے لئے دوسرے اعضاء سے تری لے لے۔
مسئلہ ۲۷۱ ۔ جوراب اورجوتے کے اوپرمسح کرناباطل ہے،ہاں اگرشدید سردی یاچوریادرندوں وغیرہ کے خوف سے موزہ یاجوتانہ اتارسکے تواسی کے اوپرمسح کرلیناکافی ہے۔ اوراگرجوتے کااوپری حصہ نجس ہے توکوئی پاک چیزاس پررکھ کرمسح کرے۔
مسئلہ ۲۷۲ ۔ اگرپیرکی پشت نجس ہواورپاک کرناممکن نہ ہوتوتیمم کرناچاہئے۔
وضوارتماسی
مسئلہ ۲۷۳ ۔ وضورارتماسی یہ ہے کہ انسان چہرہ اورہاتھوں کووضوکی نیت سے دھونے کے لئے اوپرسے نیچے پانی میں ڈبوئے یاان کوپانی میں ڈبولینے کے بعدوضوکی نیت سے باہرنکالے اوراگرپانی کے ا ندرڈبوتے وقت اس نے وضوکی نیت کی تھی اوران کوپانی سے باہرنکالنے اورپانی کے قطرات گرنے سے بندہونے تک وضوکی نیت باقی رکھے تواس کاوضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۲۷۴ ۔ وضوئے ارتماسی میں ضروری ہے کہ چہرہ اوردونوں ہاتھ اوپرسے نیچے کی طرف دھوئے جائیں یعنی جس وقت چہرہ یاہاتھ کوپانی میں ڈبوئے اوروضوکی نیت کرے توچہرے کوپیشانی کی طرف سے اورہاتھوں کو کہنی کی طرف سے پانی میں ڈبوئے اوراگران چیزوں کوپانی سے نکالتے وقت وضوکی نیت کرے توچہرے کوپیشانی کی طرف سے اورہاتھ کوکہنی کی طرف سے باہرنکالے۔
مسئلہ ۲۷۵ ۔ اگربعض اعضاء کاوضوارتماسی ہواوربعض کاارتماسی نہ ہوتوجائزہے اورکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۷۶ ۔ وضوکرنے کے لئے مستحب ہے کہ جب پانی پرنظرپڑے تو یہ دعاپڑھے :
بسم الله وبالله والحمدلله الذی جعل الماء طهوراولم یجعله نجسا“
اورجب وضوسے پہلے اپنے ہاتھوں کودھوئے تویہ دعاپڑھے :
”اللهم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطهرین“
اورکلی کرتے وقت یہ دعاپڑھے :
اللهم لقنی حجتی یوم القاک واطلق لسانی بذکرک “
اورناک میں پانی ڈالتے وقت یہ دعاپڑھے :
اللهم لاتحرم علی ریح الجنةواجعلنی ممن یشم ریحهاوروحهاوطیبها“
اورچہرہ دھوتے وقت یہ کہے :
اللهم بیض وجهی یوم تسودفیه الوجوه ولاتسودوجهی یوم تبیض فیه الوجوه“
اورداہنے ہاتھ کودھوتے وقت یہ دعاپڑھے :
”اللهم اعطنی کتابی بیمینی والخلدفی الجنان بیساری وحاسبنی حسابا یسیرا“
اوربائیں ہاتھ کودھوتے وقت یہ دعاپڑھے :
”اللهم لاتعطنی کتابی بشمالی ولامن وراء ظهری ولاجعلهامغلولةالی عنقی واعوذبک من مقطعات النیران “
اورجب سرکامسح کرے تویہ پڑھے :
اللهم غشنی برحمتک وبرکاتک وعفوک “
اورجب پیر وں کامسح کرتے وقت یہ دعاپڑھے :
”اللهم ثبت قدمی علی الصراط یوم تزل فیه الاقدام واجعل سعی فی مایرضیک عنی یاذالجلال والاکرام“
وضوکے شرائط
وضوکے صحیح ہونے میں تیرہ چیزیں ہیں :
۱ ۔ وضوکاپانی پاک ہو
۲ ۔ مطلق ہو۔
مسئلہ ۲۷۷ ۔ مضاف اورنجس پانی سے وضوباطل ہے چاہے نہ جانتاہویابھول گیاہواوراگراس وضوسے نمازپڑھ لی ہے تواس نمازکودوبارہ صحیح وضوکے ساتھ اعادہ کرے۔
مسئلہ ۲۷۸ ۔ اگرمٹیالے مضاف پانی کے علاوہ دوسراپانی نہ ہوتواگر نماز کاوقت تنگ ہوتوتیمم کرے اوراگروقت وسیع ہوتواتناصبرکرے کہ پانی صاف ہوجائے۔
۳ ۔ وضوکاپانی مباح ہو
مسئلہ ۲۷۹ ۔ غصبی پانی سے وضوکرنایاایسے پانی سے جس کے متعلق معلوم نہ ہوکہ اس کامالک راضی ہے کہ نہیں حرام اورباطل ہے ،لیکن اگرپہلے راضی تھااب معلوم نہیں کہ رضامندی واپس لے چکاہے یانہیں اس کا وضوصحیح ہے،اوراسی طرح اگروضوکاپانی غصبی جگہ پرگرجائے تواس کاوضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۲۸۰ ۔ علوم دینی کے مدارس کے پانی سے جس کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ سب کے لئے وقف ہے یاصرف اسی مدرسے کے طلاب کے لئے وقف ہے تواگرعام طورسے لوگ وضوکرتے ہوں جس سے یہ اندازہ ہوکہ یہ عام لوگوں کے لئے وقف ہے تب کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۲۸۱ ۔ اگرکوئی مسجدمیں نمازنہیں پڑھناچاہتا(صرف وضو کرنا چاہتاہے) تواگراس کومعلوم نہیں کہ یہ عام لوگوں کے لئے وقف ہے یاخصوصی (یعنی صرف انہیں لوگوں کے لئے وقف ہے جووہاں نمازپڑھناچاہتے ہیں) تواگرعام لوگ وضوکرتے ہوں جس سے یہ اندازہ ہوکہ یہ عام لوگوں کے لئے وقف ہے تووہاں وضوکرسکتاہے۔
مسئلہ ۲۸۲ ۔ ہوٹلوں اورمسافرخانوں وغیرہ کے حوض میں وضوکرناجواس میں نہ ٹہرتے ہوں ایسی صورت میں صحیح ہے کہ جب عام طورپران میں سے لوگ بھی وضوکرتے رہتے ہوں جس سے اندازہ ہوکہ ہرایک کووضوکرنے کی اجازت ہے۔
مسئلہ ۲۸۳ ۔ بڑی نہروں سے وضوکرناجائزہے چاہے یہ بھی معلوم نہ ہوکہ اس کامالک راضی ہے لیکن اگران کامالک وضوکرنے سے صراحتامنع کرے تواحتیاط واجب ہے کہ وضونہ کرے۔
مسئلہ ۲۸۴ ۔ اگربھولے سے غصبی پانی سے وضوکرلیاہوتووضوصحیح ہے۔
۴ ۔ وضوکے پانی کابرتن مباح ہو۔
۵ ۔ وضوکے پانی کابرتن سونے چاندی کانہ ہو۔
مسئلہ ۲۸۵ ۔ اگروضوکاپانی غصبی بر تن میں ہے اوراس کے علاوہ دوسراپانی نہیں ہے توتیمم کرناچاہئیے اوراگروضوکرتاہے توباطل ہے اوراگرپانی موجودہو پھرغصبی برتن سے وضوارتماسی کرے یاان برتنوں سے منہ اورہاتھ پرپانی ڈالے تواس کاوضوباطل ہے اوراگرچلویاکسی دوسری چیزسے پانی لے کرمنہ اورہاتھوں پرڈالے تواس کاوضوصحیح ہے،اگرچہ غصبی برتن میں تصرف کرنے کی وجہ سے اس نے گناہ کیاہے،اورسونے یاچاندی کے برتن میں سے پانی لینااوروضوکرنااحتیاط واجب کی بناء پرغصبی برتن کی طرح ہے۔
مسئلہ ۲۸۶ ۔ اگرکسی امام یاامامزادہ کے صحن میں جوپہلے قبرستان زمیں کوخاص طورسے قبرستان کے لئے وقف کیاتھاتواس حوض یانہرسے وضوکرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
۶ ۔ وضوکے اعضاء دھوتے وقت یامسح کرتے وقت پاک ہوں۔
مسئلہ ۲۸۷ ۔ اگرایک عضوکاوضویامسح ختم ہوجائے اوروہ وضومکمل ہونے سے پہلے نجس ہوجائے تووضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۲۸۸ ۔ اگراعضائے وضوکے علاوہ جسم کاکوئی حصہ نجس ہوتو وضوکرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن پیشاب وپاخانہ کے مقام کےلئے بہتر یہ ہے کہ پہلے اس کوپاک کرے پھروضوکرے۔
مسئلہ ۲۸۹ ۔ اگراعضائے وضومیں کوئی ایک نجس ہواوروضو کے بعدشک کرے کہ وضوسے پہلے اس نجس عضوکوپاک کیاتھایانہیں، چنانچہ اگروضوکرتے وقت اس عضوکے پاک اورنجس ہونے کی طرف ملتفت نہ تھاتووضوباطل ہے اور اگراسے علم ہوکہ وہ ملتفت تھایاشک کرے کہ ملتفت تھایانہیں توپھر وضو صحیح ہے،اورہرصورت میں اس نجس عضوکوپاک کرناضروری ہے۔
مسئلہ ۲۹۰ ۔ اگرچہرے یاہاتھوں کی کوئی جگہ کٹ گئی ہواوراس کاخون بندنہ ہورہاہواورپانی بھی اس کے لئے نقصان دہ نہ ہوتواس حصہ کوکریاجاری پانی میں ڈبودیں یانل کے نیچے کردیں اوراس کوتھوڑاسادبائیں تاکہ خون بندہوجائے اسی کے بعداسی حکم کے مطابق جوپہلے بیان کیاگیاوضوئے ارتماسی کرے۔
۷ ۔ وضواورنمازکے لئے وقت کافی ہوں
مسئلہ ۲۹۱ ۔ اگروقت اتناتنگ ہوکہ اگروضوکرتاہے تونمازکے تمام واجبات یاکچھ واجبات وقت کے بعدہوں گے توپھرتیمم کرناچاہئیے،لیکن ا گرتیمم اوروضوکے لئے وقت برابرہوتوپھروضوکرے۔
مسئلہ ۲۹۲ ۔ جس کوتنگی وقت کی وجہ سے نمازتیمم سے پڑھنی چاہئیے تھی اگروہ وضوسے پڑھے تواس کی نمازصحیح ہے خواہ اسی نماز کے لئے وضوکرے یاکسی اورکام کوانجام دینے کے لئے وضوکرے۔
۸ ۔ قربت کی نیت سے وضوکرے،
یعنی صرف خداکے لئے اس کام کوبجالائے ،چنانچہ ریاکاری،خودنمائی یاٹھنڈک وغیرہ کی نیت سے کرے تووضوباطل ہے۔
مسئلہ ۲۹۳ ۔نیت کازبان سے کہناضروری نہیں اورنہ دل میں کرناضروری ہے بس اتناکافی ہے کہ اگراس سے پوچھاجائے کہ کیاکررہے ہوتووہ کہہ دے کہ و ضوکررہاہوں۔
۹ ۔ وضومیں ترتیب کالحاظ رکھے ،
یعنی پہلے چہرہ اس کے بعدداہناہاتھ،اس کی بعدبایاں ہاتھ،اس کے بعدسرکا مسح اس کے بعدپاؤں کامسح کرے،اوراحتیاط واجب کی بناء پرداہنے پیرکوبائیں پیرسے پہلے مسح کرے،اوراگروضواس ترتیب سے نہ کرے تووضوباطل ہوگا۔
۱۰ ۔ وضوکے تمام افعال کویکے بعددیگرے بجالائے۔
مسئلہ ۲۹۴ ۔ اگروضوکے افعال میں اتنافاصلہ ہوجائے کہ اس وقت جس عضوکودھورہاہے یامسح کررہاہے،اس سے پہلے کہ تمام اعضاء جن پرمسح کیا ہے یادھویاہے خشک ہوچکے ہوں تووضوباطل ہوجائے گااوراگرفقط ایک عضوکی تری خشک ہوگئی ہومثلاجب بائیں ہاتھ کودھورہاہے تودائیں ہاتھ یامنہ کی تری خشک ہوگئی ہوتوبہتریہ ہے کہ نئے سرے سے وضوکرے۔
مسئلہ ۲۹۵ ۔ اگرافعال وضوکوپے درپے بجالائے لیکن ہواکی گرمی یاجسم کی حرارت وغیرہ کی وجہ سے اعضاء کی رطوبت خشک ہوجائے تو وضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۲۹۶ ۔ وضوکرتے ہوئے راستہ چلنے میں کوئی حرج نہیں ہے،اس لئے کہ اگرچہرہ اورہاتھوں کودھوکرچندقدم چلنے کے بعدسروپیرکامسح کرے تواس کاوضو صحیح ہے۔
۱۱ مباشرت
(یعنی انسان اپنے چہرے اورہاتھوں کوخوددھوئے اورسروپیروں کامسح کرے) اوراگردوسراوضوکرائے یامددکرے تواس کاوضوباطل ہے۔
مسئلہ ۲۹۷ ۔ جوشخص خود وضوکرنے پرقادرنہ ہواس کوچاہئے کہ دوسرے کی مددسے وضوکرے اوردوسراشخص اگراس کی اجرت مانگے اوریہ دے سکتاہو تودینا چاہئے اورنیت وضوخود اسی شخص اورنائب دونوں کوکرنی چاہئے،اوراس کواپنے ہاتھ سے مسح کرناچاہئے اوراگروہ نہیں کرسکتاتودوسرااس کے ہاتھ کوپکڑکرمسح کی جگہ پرپھرائے اوراگریہ چاہے ممکن نہ ہوتواس کے ہاتھ سے تری لے کراس کے سراورپیروں کامسح کرانا چاہئے لیکن اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ تیمم بھی کرے۔
مسئلہ ۲۹۸ ۔ جوافعال وضوانسان خودبجالاسکتاہواس میں کسی دوسرے سے مدد نہیں لینی چاہئے۔
۱۲ ۔ پانی کااستعمال باعث نقصان نہ ہو۔
مسئلہ ۲۹۹ ۔ اگرنقصان کاخوف ہویایہ خطرہ ہوکہ اگرپانی سے وضوکرے گاتوپیاسا رہ جائے گاتواسے وضونہیں کرناچاہئے،لیکن اگروہ نہیں جانتاکہ پانی اس کے لئے نقصان دہ ہے اوروضوکرلیتاہے اوراسے بعدمیں معلوم ہوکہ اس کے لئے پانی کااستعمال ضرررسان تھاتواس کاوضوصحیح ہے،اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس وضوسے نمازنہ پڑھے اورتیمم کرے اوراگراس نے اسی وضوسے نمازپڑھ لی تواحتیاط مستحب ہے کہ دوبارہ نماز کااعادہ کرے۔
مسئلہ ۳۰۰ ۔ اگرپانی کی کم مقداراس کے لئے باعث نقصان نہ ہوتواسی مقدارسے وضوکرناچاہئے۔
۱۳ ۔پانی کے پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
مسئلہ ۳۰۱ ۔ اگرمعلو م ہوکہ کوئی چیزاعضاء وضوسے چپکی ہوئی ہے لیکن شک ہوکہ پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ ہے کہ نہیں تواس کودور کر دینا چاہئے یاپانی کواس کے نیچے تک پہنچایاجائے۔
مسئلہ ۳۰۲ ۔ اگرناخن کے نیچے تھوڑاسامیل جمع ہوجائے تووضومیں اشکال نہیں ہے، لیکن اگرناخن اتارلے پھراس میل کووضوکرنے کے لئے دورکرنا پڑے گا اورنیزاگرناخن معمول سے زیادہ بڑے ہوں اورمیل کچیل اس ناخن کے نیچے ظاہری حصہ شمارہوتی ہوتوجومعمول سے زیادہ ہے اسے دورکیاجائے۔
مسئلہ ۳۰۳ ۔ اگرجلنے یاکسی اوروجہ سے اعضائے وضوپرآبلے پڑجائیں توان کادھونااوران کے اوپرمسح کرلیناکافی ہے اوراگران میں سوراخ ہوجائے توان کے نیچے پانی کاپہنچاناضروری نہیں ہے،بلکہ اگراس کے ایک طرف کی کھاجداہوجائے تودوسری طرف کے نیچے پانی کاپہنچاناضروری نہیں ہے،لیکن اگرکھال اس طرح اکھڑجائے جوکبھی اکھڑکہ بدن سے چپک جاتی ہے اوکبھی اوپراٹھ جاتی ہے تواس کے نیچے پانی کاپہنچاناضروری ہے یااسے کاٹ دیاجائے۔
مسئلہ ۳۰۴ اگرانسان کویہ احتمال یہ ہوکہ اعضاء وضوپرکوئی مانع موجودہے تواگراس کایہ احتمال عقلی ہوتواس کی تحقیق کرنی چاہئیے، مثلاگل کاری یارنگ کاری کی بعدشک ہوکہ کچھ گل یارنک اس کے ہاتھ پرلگارہ گیاہے،توتحقیق کرے یاہاتھ کواتنارگڑے کہ اسے اطمنان ہوجائے کہ اگرکچھ لگاتھاتووہ دورہوگیاہے یااس کے نیچے پانی پہنچ گیاہے۔
مسئلہ ۳۰۵ ۔ جس جگہ کودھونایااس پرمسح کرناہے اس پرجتنی بھی میل ہواگرمیل پانی کے بدن تک پہنچنے سے مانع نہیں تواس کاکوئی حرج نہیں اوریہی حکم ہے ا گر چوناوغیرہ کرنے کے بعدکوئی سفیدچیزبدن پرلگی ہے جوجلد تک پانی کے پہنچنے سے مانع نہیں ہے ہاں اگریہ شک کرے کہ اس کے ہوتے ہوئے پانی اس کے نیچے جلدتک پہنچ رہاہے یانہیں تواس کودورکرے۔
مسئلہ ۳۰۶ اگروضوکرنے سے پہلے اسے معلوم ہوکہ بعض اعضاء وضوپررکاوٹ موجود ہے جوپانی کوجلدتک پہنچے سے روکتی ہے لیکن وضوکرلینے کے بعدشک ہواکہ وضوکرتے وقت پانی جلدتک پہنچ گیاہے یانہیں تواس کاوضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۳۰۷ ۔ اگروضوکے بعضص اعضاء پرکوئی چیزموجودہوکہ جس کے ہوتے ہوئے کبھی پانی اس کے نیچے پہنچ جاتاہے اورکبھی نہیں پہنچتااب اگروضوکرلینے کے بعدشک ہوجائے کہ پانی اس کی نیچے پہنچا تھایانہیں تو اگرجانتاہے کہ میں وضوکرتے وقت اس کے نیچے پانی کے پہنچنے کی طرف ملتفت نہیں تھاتودوبارہ وضوکرے۔
مسئلہ ۲۰۸ ۔ اگروضوکے بعداپنے ہاتھ میں کوئی چیزدیکھے اورمعلوم نہ ہوکہ وضوکرتے وقت یہ چیزتھی کہ نہیں تواس کاوضوصحیح ہے لیکن اگراسے علم ہے کہ وضوکرتے وقت وہ اس مانع کی طرف ملتفت نہیں تھاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ وضوکرے۔
مسئلہ ۳۰۹ ۔ اگروضوکے بعدشک ہوکہ اعضاء وضوپرکوئی ایسی رکاوٹ موجودتھی جوپانی کے جلدتک پہنچنے سے روکتی ہے یاموجودنہیں تھی تواس کاوضو صحیح ہے۔
وضوکے احکام
مسئلہ ۳۱۰ جوشخص اموروضویاشرائط وضو،مثلاپانی کے پاک ہونے یااعضاء وضوپرمانع کے موجودہونے کے بارے میں زیادہ شک کرے تواس کواپنے شک کی پرواہ نہیں کرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۱۱ ۔ اگرانسان باوضوہواورشک کرے کہ وضوباطل ہواکہ نہیں تووہ اس پربناء رکھے کہ وضوباقی ہے ،لیکن اگرپیشاب کے بعداستبراء کے بغیروضو کیاہواوراس کے بعدتری خارج ہوجائے اوریہ نہیں جانتاہوکہ یہ تری پیشاب کی ہے یاکوئی اورچیزتواس کاوضوباطل ہے۔
مسئلہ ۳۱۲ ۔ اگرکوئی شک کرے میں نے وضوکیاہے یانہیں تواسے وضوکرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۱۳ ۔ جسے معلوم ہوکہ میں نے وضوکیاتھااورایک حدث بھی سرزدبھی ہواتھامثلاپیشاب کیاتھا،لیکن یہ معلوم نہ ہوکہ دونوں میں سے پہلے کونسا کام کیاہے تواگریہ صورت نمازسے پہلے درپیش ہوتووضوکرے اوراگرحالت نمازمیں پیش آئے تونمازتوڑدے اوروضوکرے اوراگرنماز کے بعدپیش آئے وضوکرے اورپڑھی ہوئی نمازکودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۳۱۴ ۔ اگرنماز کے بعدشک ہوکہ وضوکیاتھاکہ نہیں تواس کی نمازصحیح ہے لیکن بعدکی نمازوں کے لیے وضوکرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۱۵ ۔ اگرنماز پڑھنے کے دوران شک ہوجائے کہ وضوکیاتھاکہ نہیں تونماز باطل ہے اس کوچاہئے کہ وضوکرے اورنمازپڑھے۔
مسئلہ ۳۱۶ ۔ اگرنماز پڑھنے کے بعدشک کرے کہ اس کاوضونماز سے پہلے باطل ہواہے یانمازکے بعدتوجونماز پڑھ چکاہے وہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۳۱۷ ۔ اگرانسان کوایسامرض لاحق ہوجائے جس میں قطرہ قطرہ پیشاب آتاہویاپاخانہ کوروک نہ سکتاہوتواگراس کومعلوم ہوکہ اول وقت سے آخروقت نمازتک وضوکرنے اورنمازپڑھنے کی مہلت مل جائے گی تونماز کواسی مہلت کے وقفہ میں اداکرے اورصرف واجبات نمازپراکتفاء کرناچاہئے اوراگراتناموقع نہ ہوتواذان واقامت وقنوت کوچھوڑدے۔
مسئلہ ۳۱۸ ۔ اگروضوونماز کاوقت نہیں ملتالیکن نماز میں صرف چندمرتبہ پیشاب آتاہے اوراس طرح ہوکہ اگرہومرتبہ وضوکرناچاہے تواس کے لئے مشکل نہ ہوتواس صورت میں بناء براحتیاط واجب ایک پانی کابرتن اپنے پہلومیں رکھے اورجب پیشاب سرزدہووضوکرے اوربقیہ نمازکوپڑھے ،اوراسی طرح اگرایسی بیماری رکھتاہوکہ اثناء نمازمیں چندبارپاخانہ اس سے خارج ہواورباربار وضو کرنا بھی اس کے لئے مشکل نہیں تووہ پانی کابرتن اپنے قریب رکھ لے اورجب بھی پاخانہ خارج ہووضوکرکے بقیہ نمازکوپڑھے۔
مسئلہ ۳۱۹ ۔ اگرکسی کوپے درپے پاخانہ آتاہے تواگروہ نمازکاکچھ حصہ وضوسے اداکرسکتاہے توپاخانہ کے بعدہردفعہ وضوکرتارہے یہاں تک کہ اس کے لئے وضوکرنامشکل ہوجائے۔
مسئلہ ۳۲۰ ۔ جس شخص کاپیشاب باربارنکلتاہوتواگردونوں تواگردونمازوں کے درمیان ایک قطرہ پیشاب بھی اس سے خارج نہ ہوتووہ ایک ہی وضوسے دونوں نمازوں کوپڑھ سکتاہے اوراثنائے نمازمیں خارج ہونے والے قطرات سے کوئی اشکال پیدانہیں ہوتا۔
مسئلہ ۳۲۱ ۔ جسے باربار پیشاب یاپاخانہ خارج ہوتارہتاہے اگروہ نمازکا کوئی حصہ بھی وضوکے ساتھ نہیں پڑھ سکتاتووہ چندنمازیں ایک ہی وضو سے پڑھ سکتاہے مگراختیاری حالت میں پیشاب یاپاخانہ کرے یاکوئی ایسی چیزاس سے سرزدہوجووضوکوباطل کردیتی ہے توپھرنہیں پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۳۲۲ ۔ اگرکسی کوایسی بیماری ہوکہ ریاح روکنے پرقادرنہیں ہے تووہ ان لوگوں کے وظیفہ پرعمل کرے جوپاخانہ روکنے پرقادرنہیں ہیں۔
مسئلہ ۳۲۳ ۔ جس کاپاخانہ پے درپے نکلتاہواس کووضوکے بعدفورا نماز شروع کردینی چاہئے اورنمازاحتیاط،سجدہ اوربھولے ہوئے تشہدکوبجالانے کے لئے دوسرے وضوکی ضرورت نہیں ہے بشرط کہ نمازاوران چیزوں کے درمیان فاصلہ نہ کرے۔
مسئلہ ۳۲۴ ۔ جس شخص کوپیشاب کے قطرات آتے رہتے ہیں تواس کوچاہئے کہ نمازکے لئے(کسی تھیلی کے ذریعہ جس میں روئی وغیرہ رکھی ہوجوپیشاب کودوسری جگہ تک جانے سے روکے) اپنے کونجاست سے بچائے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ہرنمازسے پہلے مقام پیشاب کوجوکہ نجس ہے دھولیاجائے ،اور اسی طرح وہ شخص جسے باربارپاخانہ آتاہے اگراس کے لئے ممکن ہوتونمازپڑھنے کی مقدارپاخانہ کودوسری جگہوں تک لگنے سے روکے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اگرمشقت نہ ہوتوہرنمازکے لئے مقام پاخانہ کوپاک کرے۔
مسئلہ ۳۲۵ ۔ جوشخص باربار پیشاب وپا خانہ سے اپنے آپ کومحفوظ نہیں رکھ سکتااگراس کے لیے ممکن ہوتوبمقدارنماز،پیشاب وپا خانہ کوروکے اگراس چہ اس پرکچھ حرج بھی ہوتاہوبلکہ اگراس بیماری کاعلاج آسانی سے ہوسکے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ علاج کرائے۔
مسئلہ ۳۲۶ ۔ جولوگ اس بیماری میں مبتلاہیں صحت یاب ہونے کے بعداوپردرج شدہ قاعدے کے مطابق بیماری میں پڑھی ہوئی نمازوں کی قضاان کے لئے ضروری نہیں ہے ،البتہ اگرنمازکاوقت ختم ہونے سے پہلے اچھے ہوجائیں تو جس نماز کاوقت باقی ہے اس کااعادہ کرناچاہئے۔
جن چیزوں کے لئے وضوکرناچاہئے:
مسئلہ ۳۲۷ ۔ جن چیزوں کے لئے وضوکرناچاہئے
مسئلہ ۳۲۷ ۔ چھ چیزوں کے لئے وضوکرناواجب ہے :
۱ ۔ نمازمیت کے علاوہ تمام واجب نمازوں کے لئے ۔
۲ ۔ بھولے ہوئے سجدے اورتشہدکے لئے اگراس سے نماز کے درمیان کوئی حدث مثلاپیشاب سرزدہوجائے۔
۳ ۔ واجب طواف کے لئے۔
۴ ۔ اگرنذریاعہدیاقسم کھائے کہ وضوکروں گااورباطہارت رہوں گا۔
۵ ۔ جب نذکرے کہ اپنے بدن کے کسی حصہ کوقرآن سے مس کروں گا۔
۶ ۔ نجس شد ہ قرآن کوپاک کرنے کے لئے یانجاست کی جگہ سے اس کو نکالنے کے لئے مجبورہوکہ ہاتھ یابدن کاکوئی حصہ قرآن سے مس کرے،لیکن اگروضو کی مقدارتک قرآن کے نجس رہنے میں ہے حرمتی ہوتووضوکئے بغیرقرآن کوبیت الخلاء وغیرہ سے باہرنکال لیناچاہئے یااگرنجس تھاتواسے پاک کرلیاجائے اورجہاں تک ممکن ہوقرآن کے حروف کوہاتھ لگانے سے اجتناب کرے۔
مسئلہ ۳۲۸ ۔ بغیروضوکے قران کی تحریرکوچھوناحرام ہے،لیکن دوسری زبانوں میں جوترجمے ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ حکم نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۲۹ ۔ اگربچہ یادیوانہ بغیروضو،قرآن کی تحریرکوچھوئے تواس کوروکناواجب نہیں ہے لیکن اگران سے کوئی ایساکام سرزدہوجوقرآن کی بے احترامی کاسبب ہوتوروکناواجب ہے۔
مسئلہ ۳۳۰ ۔ جوشخص باوضونہ ہواس کے لئے بہترہے کہ نام خداکوجس لغت میں بھی لکھاہواہومس نہ کرے۔
مسئلہ ۳۳۱ ۔ اگروقت نمازکے داخل ہونے سے پہلے باطہارت رہنے کی نیت سے وضویاغسل کرلیاجائے توصحیح ہے۔
مسئلہ ۳۳۲ ۔ اگروقت کے داخل ہونے کایقین کرنے کے بعدواجب کرے اوربعدمیں پتہ چلے کہ وقت داخل نہیں ہواتھاتواس کاوضوصحیح ہے۔
مسئلہ ۳۳۳ ۔ نمازمیت،زیارت اہل قبور،مسجداورحرم آئمہ علیہم السلام میں جانے کے لئے وضوکرنامستحب ہے اورقرآن مجیدکواپنے پاس رکھنے لکھنے اورپڑھنے اورحاشیہ قرآن کومس کرنے اورسونے کے لئے بھی وضوکرنا مستحب ہے اورجوباوضوہواس کے لئے دوبارہ وضوکرنامستحب ہے اوراگرمذکورہ کاموں کے لئے وضوکیاہے توہروہ کام جسے باوضوبجالاناضروری ہے وہ اس وضوسے کیاجاسکتاہے،مثلااس وضوسے نمازپڑھی جاسکتی ہے۔
وہ چیزیں جن سے وضوباطل ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۳۳۴ ۔ سات چیزیں وضوکوباطل کردیتی ہیں :
۱ ۔ پیشاب کانکلنا۔ ۲ ۔ پاخانہ کانکلنا
۳ ۔ وہ ریح جوپاخانہ کے مقام سے خارج ہوتی ہے۔
۴ ۔ وہ نیند کہ جس کے ذریعہ نہ آنکھ دیکھ سکے اورنہ کان سن سکے اوراگر آنکھ تونہیں دیکھ سکتی لیکن کان سنتے ہیں تووضوباطل نہیں ہوگا۔
۵ ۔ وہ تمام چیزیں جوعقل کوزائل کردیتی ہیں،جیسے مستی،بے ہوشی، دیوانگی۔
۶ ۔ استحاضہ جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
۷ ۔ جس کام کے لئے غسل کی ضرورت پڑے،جیسے جنابت۔
وضوجبیرہ کے احکام
جس چیزسے زخم یاٹوٹے ہوئے عضوکوباندھ دیتے ہیں اوراس کے اوپردوارکھتے ہیں اس کوجبیرہ کہتے ہیں۔
مسئلہ ۳۳۵ ۔ اگراعضاء وضومیں سے کسی عضوپرزخم،پھوڑاہویاوہ عضوٹوٹ گیاہواوراس کااوپری حصہ کھلاہواورخون نہ ہواورپانی بھی مضرنہ ہوتوحسب معمول وضوکرے۔
مسئلہ ۳۳۶ ۔ اگرزخم ،پھوڑایاشکستگی چہرے یاہاتھوں پرہواواس کااوپری حصہ کھلاہولیکن پانی ڈالنااس کے لئے مضرہوتواس کے اطراف کادھولیناکافی ہے، البتہ اگرگیلے ہاتھ کاپھیرنامضرنہ ہوتواپناگیلاہاتھ اس پرپھیرے اوراگر مضر ہو توایک پاک کپڑارکھ کراس پرگیلے ہاتھ پھیرے اوراگریہ بھی مضرہویازخم نجس ہو اوراسے پاک بھی نہ کیاجاسکتاہوتواس کے اطراف کوجیساکہ وضومیں بیان کیاگیاہے اوپرسے نیچے دھویاجائے اوراحتیاط واجب ہے کہ آخری صورت میں جس بیماری کاذکرکیاگیاہے اس میں تیمم بھی کرے۔
مسئلہ ۳۳۷ ۔ اگرزخم،پھوڑایاٹوٹی ہوئی ہڈی مسح کی جگہ پرہواوراس پر مسح نہ کرسکتاہوتواس پرایک پاک کپڑارکھ کرکپڑے کے اوپروضوکے پانی کی تری سے مسح کرے،اوراگرکپڑارکھناممکن نہ ہوتوبغیرمسح کے وضوکرے اور تیمم بھی کرے۔
مسئلہ ۳۳۸ ۔ اگرزخم،پھوڑایاٹوٹی ہوئی ہڈی پرکپڑا،چونایااسی قسم کوکوئی چیزبندھی ہے اوراس کاکھولنازیادہ نقصان اورتکلیف کاباعث بھی نہیں ہے اورپانی بھی نقصان دہ نہیں ہے تواس کوکھول کروضوکرے ،چاہے وہ زخم وغیرہ چہرہ اورہاتھ پرہوں یاسرکے اگلے حصے اورپاؤں پر۔
مسئلہ ۳۳۹ ۔ اگرزخم،پھوڑایاٹوٹی ہوئی ہڈی چہرہ یاہاتھوں پرہواوراس کوکھولاجاسکے تواگرچہ اس پرپانی ڈالنامضرہولیکن ترہاتھ کاپھیرناضررنہ رکھتاہوتوترہاتھ اس کے اوپرپھیرناواجب ہے۔
مسئلہ ۳۴۰ ۔ اگرزخم کاکھولناممکن نہ ہولیکن زخم اورجوچیززخم کے اوپررکھی ہوئی ہے وہ پاک ہے اورزخم تک پانی پہنچاناممکن ہے اورضرربھی نہیں رکھتاتوایسی صورت میں زخم کے اوپرپانی پہنچاناضروری ہے اوراگرزخم یا اس کے اوپروالی چیزنجس ہوچنانچہ اسے دھونااورپانی کازخم تک پہنچانا بغیر زحمت اٹھائے ممکن ہے توپانی سے اس کودھویاجائے اوروضوکرتے وقت پانی زخم تک پہنچایاجائے اوراگرپانی زخم کے لئے مضرہویاپانی کازخم تک پہنچانا ممکن نہ ہویازخم نجس ہواوراسے دھونابھی ممکن نہ ہوتوزخم کے کناروں کووضومیں بیان کردہ صورت کے مطابق دھویاجائے اوراگریہ ”یعنی زخم کے اوپروالی چیز“ پاک ہے تواس کے اوپرمسح کیاجائے اوراگرچہرہ نجس ہے یااس کے اوپرہاتھ نہیں پھیراجاسکتا،مثلااس کے اوپرایسی دوائی لگی ہے جوہاتھ سے چمٹ جاتی ہے توکوئی پاک کپڑااس کے اوپراس طرح رکھاجائے کہ وہ جبیرہ کاحصہ شمارہواورترہاتھ اس پرپھیرلیاجائے اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ وضوکرے اورتیمم بھی بجالائے۔
مسئلہ ۳۴۱ ۔ اگرپورے چہرہ یاایک ہاتھ پرجبیرہ بندھاہواتوجبیرہ والے احکام اس پرجاری ہوں گے اوروضوجبیرہ کرناواجب ہوگا،لیکن اگر وضوکے اکثرو بیشتراعضاء کوگھیرے ہوئے ہوتوپھراحکام جبیرہ جاری نہیں ہوں گے اوراسے تیمم کرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۴۲ ۔اگرجبیرہ وضوکے تمام اعضاء کوگھیرے ہوئے توتیمم کرے۔
مسئلہ ۳۴۳ ۔ جس کی ہتھیلی یاانگلیوں میں جبیرہ ہواوروضوکرتے وقت گیلاہاتھ اس پرپھیرچکاہوتوسروپیرکے مسح کواسی تری سے انجام دے سکتا ہے اوراگروہ تری کافی نہ ہوتووضوکے دیگراعضاء سے رطوبت لے سکتاہے۔
مسئلہ ۳۴۴ ۔ اگرجبیرہ پاؤں کے اوپروالے پورے حصہ کوگھیرے ہولیکن تھوڑی سی مقدارانگلیوں کی طرف اورکچھ حصہ پاؤں کے اوپروالی طرف کھلاہوتوجوجگہ کھلی ہے وہاں توپاؤں کے اوپرجہاں جبیرہ ہے وہاں جبیرہ پرمسح کرے۔
مسئلہ ۳۴۵ ۔ اگرچہرے یاہاتھوں پرکئی جبیرہ ہیں توان کے درمیان والے حصہ کودھوئے اوراگرجبیرہ سے پاؤں کے اوپرہیں توان کے درمیان والے حصوں کامسح کرے اورجہاں جبیرہ ہے وہاں جبیرہ کے حکم پرعمل کرے۔
مسئلہ ۳۴۶ ۔ اگرجبیرہ زخم کے اطراف کومعمول سے زیادہ گھیرے ہوے ہواوراس کوہٹاناممکن بھی نہ ہوتوجبیرہ والے قاعدہ عمل پرکریں اور بناء براحتیاط تیمم بھی کریں،اوراگراضافی جبیرہ کاہٹادیناممکن ہوتواس کوہٹادیں،پس اگرزخم چہرہ اورہاتھوں پرہے تواس کے کناروں کودھو لے اوراگرسریاپاؤں کے اوپرہے تواس کے اطراف کامسح کرے اورزخم کی جگہ پرجبیرہ کے حکم پرعمل کرے۔
مسئلہ ۳۴۷ ۔ اگراعضاء وضوپرزخم ،جراحت ،شکستگی کاتووجودنہیں ہے لیکن کسی دوسرے اسباب کی بناء پراس کے لئے پانی نقصان دہ ہے توتیمم کرے،لیکن اگرپانی صرف چہرہ اورہاتھ کے کچھ حصہ ہی کے لئے نقصان دہ ہوتواس کے اطراف کوبھی دھوئے اورتیمم بھی کرے۔
مسئلہ ۳۴۸ ۔ اگروضوکے کسی اعضاء کی رگ سے خون نکالاجائے اوراسے دھوناممکن نہ ہویانقصان دہ ہوتواگراس کے اوپرباندھاہواتو جبیرہ کے احکام پرعمل کرے اوراگرکھلاہواہے تواس کے اطراف کودھونے کے بعداحتیاط واجب یہ ہے کہ کپڑااس کے اوپررکھیں اورترہاتھ اس کے اوپرپھیرجائے۔
مسئلہ ۳۴۹ ۔ اگراعضاء وضویاغسل پرکوئی ایسی چپکی ہوئی ہے جس کااکھاڑناممکن نہیں ہے یابہت زیادہ مشقت کاباعث ہے توجبیرہ کے احکام پرعمل کرے۔
مسئلہ ۳۵۰ ۔ غسل جبیرہ کاطریقہ وضوجبیرہ کی طرح ہے لیکن احتیاط واجب کی بناء پراس کوغسل ترتیبی بجالائے نہ ارتماسی۔
مسئلہ ۳۵۱ ۔ جس کافریضہ تیمم ہے اگراس کے اعضاء تیمم میں زخم پھوڑاہویاہڈی ٹوٹ گئی ہوتووہ وضوجبیرہ کی طرح تیمم جبیرہ کرے۔
مسئلہ ۳۵۲ ۔ جس کافریضہ وضوء جبیرہ یاغسل جبیرہ کے ساتھ نمازپڑھنا ہو اگراس کومعلوم ہے کہ آخروقت تک اس کاعذردورنہ ہوگاتواول وقت نمازپڑھ سکتاہے لیکن اگرامیدہوکہ آخروقت تک عذربرطرف ہوجائے گاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ انتظارکرے ،اب اگراس کاعذردور نہ ہوتوآخروقت میں وضویاغسل جبیرہ کرکے نمازاداکرے۔
مسئلہ ۳۵۳ ۔ اگرکوئی شخص آنکھ کی بیماری کی وجہ سے پلکیں بند کرکے رکھتاہوتواسے وضواورغسل جبیرہ کرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۵۴ ۔ جس شخص کویہ معلوم نہ ہوکہ آیامجھے تیمم کرناہے یاوضوجبیرہ تواحتیاط و اجب یہ ہے کہ دونوں بجالائے۔
مسئلہ ۳۵۵ ۔ جن نمازوں کووضوجبیرہ سے پڑھاہووہ صحیح ہیں اورجب عذردورہوجائے توبعدوالی نمازوں کے لئے بھی وضوکرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگراسے معلوم نہیں تھاکہ اس کی شرعی تکلیف جبیرہ ہے یاتیمم اوروہ دونوں کوبجالایاہوتوپھربعدوالی نمازوں کے لئے وضوکرے۔
واجب غسل
سات غسل واجب ہیں :
۱ ۔ غسل جنابت
۲ ۔ غسل حیض
۳ ۔ غسل نفاس
۴ ۔ غسل استحاضہ
۵ ۔ غسل مس میت
۶ ۔ غسل میت ۷ ۔ وہ مستحبی غسل جونذر،عہد،قسم کی وجہ سے واجب ہوجائے۔
غسل جنابت کے احکام
مسئلہ ۳۵۶ ۔ انسان دوچیزوں سے جنب ہوتاہے۔
اول : جماع (جنسی آمیزش)
دوم : منی کانکلنا،چاہے خواب میں نکلے یابیداری میں،کم نکلے یازیادہ شہوت کے ساتھ ہویابغیرشہوت کے اپنے اختیارسے ہونہ ہو۔
مسئلہ ۳۵۷ ۔ اگرانسان سے کوئی رطوبت خارج ہواورمعلوم نہ ہوکہ منی ہے یاکوئی اوررطوبت،پس اگرشہوت کے ساتھ اچھل کرنکلے اوراس کے نکلنے کے بعدبدن سست ہوگیاہوتووہ رطوبت منی کاحکم رکھتی ہے لیکن اگران تین علامات میں سے ساری یاکچھ موجودنہ ہوں تووہ رطوبت منی کے حکم میں نہیں آئے گی،البتہ مریض اورعورت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اچھل کرباہرآئے بلکہ اگرصرف شہوت کے ساتھ نکلے تووہ منی کے حکم میں ہوگی۔
مسئلہ ۳۵۸ ۔ منی خارج ہونے کے بعدپیشاب کرنامستحب ہے اوراگر پیشاب نہ کرے اورغسل کے بعدکوئی رطوبت باہرآجائے جس کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ منی ہے کہ کوئی دوسری رطوبت تووہ منی کے حکم میں ہوگی۔
مسئلہ ۳۵۹ ۔ اگرانسان جماع کرے اورعضوتناسل ختنہ گاہ کی مقدارتک یااس سے زیادہ داخل ہوجائے،مدخول چاہے عورت ہویامرد،قبل میں ہویادبر، دونوں بالغ ہوں یانابالغ،منی خارج ہویانہیں،ان تمام صورتوں میں دونوں جنب ہوجائیں گے۔
مسئلہ ۳۶۰ ۔ اگرشک ہوکہ عضوتناسل ختنہ گاہ کی مقدارتک داخل ہواہے یانہیں تواس پرغسل واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۶۱ ۔ اگرکوئی (معاذاللہ) کسی حیوان سے بدفعلی کرے اور منی باہرآجائے تووہ جنب ہوجاتاہے اوراس کے لئے غسل کافی ہے ،لیکن اگرمنی نہ نکلے توبناء براحتیاط واجب نمازاوراس قسم کی چیزوں کے لئے غسل ووضودونوں کرے،البتہ اگراس فعل سے پہلے باوضوتھاتوصرف غسل کافی ہے۔
مسئلہ ۳۶۲ ۔ اگرمنی اپنی جگہ سے حرکت کرے لیکن باہرنہ نکلے توغسل واجب نہیں ہے ،اسی طرح اگرشک ہوکہ منی باہرنکلی یانہیں تب بھی غسل واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۶۳ ۔ جوشخص غسل نہ کرسکتاہولیکن تیمم کرسکتاہووہ نمازکاوقت داخل ہونے کے بعدبغیرکسی وجہ سے اپنی بیوی سے جماع کرے تواشکال رکھتاہے ،لیکن اگرلذت حاصل کرنے کے لئے ہویاجماع نہ کرنے سے اسے کوئی خوف وخطرہ لاحق ہوسکتاہوتوپھراشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۶۴ ۔ اگراپنے لباس میں منی دیکھے اوریقین ہوجائے کہ یہ اسی کی ہے توغسل کرے اورجن نمازوں کے بارے میں یقین ہوکہ حالت جنابت سے پڑھی ہیں توان کی قضاکرے،لیکن جن نمازوں کے بارے میں شک ہوان کی قضالازم نہیں ہے ۔
جوکام مجنب پرحرام ہیں :
مسئلہ ۳۶۵ ۔ پانچ چیزیں مجنب پرحرام ہیں :
۱ ۔ خط قرآن،اسم خدا،اسمائے انبیاء ،اسمائے آئمہ ،بناء براحتیاط واجب،کاچھونا۔
۲ ۔ مسجدالحرام اورمسجدالنبی میں جاناچاہے ایک دروازہ سے جاکردوسرے سے نکل جائے۔
۳ ۔ دیگرمساجدمیں ٹہرنا،لیکن اگرایک دروازہ سے داخل ہوکردوسرے سے نکل جائے یاکوئی چیزاٹھانے کے لئے جائے توکوئی حرج نہیں ہے ،اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ حرم آئمہ میں بھی نہ ٹہرے،اگرچہ بہتریہ ہے کہ جومسجدالحرام اورمسجدنبوی کاحکم ذکرہواہے حرم آئمہ میں بھی اسی حکم پرعمل کرے۔
۴ ۔ مسجدمیں کوئی چیزرکھنا۔
۵ ۔ مندرجہ ذیل سورتوں میں سے کسی کاپڑھناجن کے پڑھنے سے سجدہ واجب ہوجاتاہے اوروہ چارسورتیں ہیں :
الف : سورہ ”الم تنزیل “ پارہ نمبر ۲۱ سورہ ۳۲ ۔
ب : سورہ ”حم سجدہ “ پارہ نمبر ۲۴ سورہ ۴۱ ۔
ج : سورہ ”والنجم “ پارہ نمبر ۲۷ سورہ ۵۳ ۔
د : سورہ ” علق “ پارہ نمبر ۳۰ سورہ ۹۶ ۔
جوچیزیں مجنب کے لئے مکروہ ہیں :
۱ ۔ ۲ ۔ کھانااورپینا،البتہ وضوکرنے کے بعدمکروہ نہیں ہے ۔
۳ ۔ ۔واجب سجدہ والی سورتوں کے علاوہ سات سے زیادہ آیات قرآن کاپڑھنا۔
۴ ۔ جلدقرآن،حاشیہ قراں،دوسطروں کے بیچ کے حصہ کوبدن کے کسی حصہ سے مس کرنا۔
۵ ۔ قرآن مجیداپنے ساتھ رکھنا
۶ ۔ سونالیکن اگروضوکرلے یاپانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کرلے توپھرسونامکروہ نہیں ہے۔
۷ ۔ بالوں میں خضاب کرناوغیرہ
۸ ۔ جسم پرتیل اورمختلف اقسام کی کرییمیں ملنا۔
۹ ۔ احتلام کے بعدجماع کرنا۔
غسل جنابت :
مسئلہ ۳۶۶ ۔ جنابت دورکرنے اورپاک ہونے کے لئے غسل جنابت کرنا مستحب ہے،لیکن واجب نمازوغیرہ کے لئے غسل جنابت واجب ہے،اور نماز میت،سجدہ شکر،قرآن کے واجبی سجدوں(جب واجب سجدے کی آیت کو کسی دوسرے سے سن لے) کے لئے غسل جنابت واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۶۷ ۔ غسل جنابت کرتے وقت واجب یامستحب کی نیت کرناضروری نہیں ہے صرف قصدقربت اوراطاعت حکم خداوندی کی خاطر بجالاناکافی ہے۔
مسئلہ ۳۶۸ ۔ اگرکسی کویقین ہوجائے کہ غسل وقت سے پہلے تھاتو اس کاغسل صحیح ہے۔
مسئلہ ۳۶۹ ۔ غسل خواہ واجب ہویامستحب دوطرح سے کیاجاسکتاہے ترتیبی اورارتماسی۔
غسل ترتیبی:
مسئلہ ۳۷۰ ۔ غسل ترتیبی کاطریقہ یہ ہے کہ نیت کے بعدپہلے سراور گردن کودھوئے اس کے بعدداہنی طرف کواس کے بعدبائیں طرف کو،اوراگرجان بوجھ کریابھولے سے یامسئلہ نہ جانے کی وجہ سے اس ترتیب سے غسل نہ کرے تواس کاغسل باطل ہوگا۔
مسئلہ ۳۷۱ ۔ آدھی ناف نصف شرمگاہ کوداہنے بدن کے ساتھ اور دوسرے نصف کوبائیں بدن کے ساتھ دھوئے لیکن بہتریہ ہے کہ پوری ناف اور شرمگاہ داہنی طرف کے ساتھ بھی اوربائیں طرف کے ساتھ بھی دھوئے۔
مسئلہ ۳۷۲ ۔ یہ یقین کرنے کے لئے کہ بدن کے تینوں حصوں،سروگردن،داہنی طرف،بائیں طرف کودھولیاہے ایک حصہ کودھوتے وقت تھوڑاسا دوسرا حصہ بھی دھولے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ بدن کے داہنے حصہ کے ساتھ پھرگردن کے داہنے حصہ کواوربائیں حصہ کے ساتھ گردن کے بائیں حصہ کودھولے۔
مسئلہ ۳۷۳ ۔ اگرغسل کرنے کے بعدیہ معلوم ہوکہ بدن کاکچھ حصہ دھونے کے بغیررہ گیاہے لیکن وہ حصہ کون ساہے یہ معلوم نہ ہوتودوبارہ غسل کرے۔
مسئلہ ۳۷۴ ۔ اگرغسل کے بعدمعلوم ہوکہ کچھ حصہ دھونے سے رہ گیاہے تواگربائیں طرف کاہے توصرف اتناحصہ کادھولیناکافی ہے اوراگرداہنی طرف کاہے تواس کادھونے کے بعدبائیں طرف کوپھردوبارہ دھوئے اوراگرسروگردن کاحصہ رہ گیاہوتواس کودھونے کے بعد داہنی اوربائیں طرف کودوبارہ دھوناچاہئے۔
مسئلہ ۳۷۵ ۔ اگرغسل مکمل ہونے سے پہلے بائیں طرف کاکچھ حصہ دھوئے جانے کے بارے میں شک گذرے توصرف اسی مقدارکا دھولیناکافی ہے،لیکن اگربائیں جانب کوجب دھورہاہے توسروگردن یااس کے کچھ حصے کودھونے میں شک کرے توایسے شک کی پروہ نہ کرے۔
غسل ارتماسی :
مسئلہ ۳۷۶ ۔ غسل ارتماسی کامطلب یہ ہے کہ نیت کرکے پورابدن کوایک ہی دفعہ یاآہستہ آہستہ پانی میں ڈبوناچاہئے خواہ وہ حوض اورتالاب ہویاآبشارہوکہ پانی ایک ہی مرتبہ میں پورے بدن پرگرتاہے۔
مسئلہ ۳۷۷ ۔ غسل ارتماسی میں اگرپورابدن پانی میں ہواورنیت کرکے بدن کوحرکت دیدے تواس کاغسل صحیح ہے۔
مسئلہ ۳۷۸ ۔ اگرغسل ارتماسی کے بعدمعلوم ہوکہ بدن کاکچھ حصہ دھونے سے رہ گیا،چاہے وہ حصہ معلوم ہویانہ ہوتودوبارہ غسل کرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۷۹ ۔ اگرغسل ترتیبی کے لئے وقت نہ ہواورغسل ارتماسی کے لئے وقت ہوتوارتماسی کرناچاہئے۔
مسئلہ ۳۸۰ ۔ جس نے واجب روزہ رکھاہویاحج یاعمرہ کااحرام باندھ رکھاہووہ غسل ارتماسی نہ کرے اوراپنے سرکوپانی میں نہ ڈبوئے، لیکن اگربھولے سے غسل ارتماسی کرے توصحیح ہے۔
غسل کرنے کے احکام :
مسئلہ ۳۸۱ ۔ غسل ارتماسی میں پہلے سے تمام بدن پاک ہوناچاہئے لیکن غسل ترتیبی میں پورے بدن کاپاک ہوناضروری نہیں ہے اوراگر تمام بدن نجس ہواورہرحصے کوغسل ے پہلے پاک کرلیاجائے توکافی ہے۔
مسئلہ ۳۸۲ ۔ حرام میں جنب ہونے والے کاپسینہ نجس نہیں ہے اورایساشخص گرم پانی سے غسل کرسکتاہے اورصحیح ہے۔
مسئلہ ۳۸۳ ۔ اگربدن کاتھوڑاساحصہ بھی دھونے سے رہ جائے توغسل باطل ہے،لیکن اندرونی حصے جیسے کان اورناک کااندرونی حصہ یاآنکھ کے اندرکاحصہ دھونالازم نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۸۴ ۔ جس حصہ کے بارے میں شک ہوکہ وہ ظاہربدن میں داخل ہے یاباطن میں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اسے دھولیاجائے۔
مسئلہ ۳۸۵ ۔ اگرکان کی بالی کاسوراخ یااس جیساکوئی اورسوراخ اس قدرکھلاہوکہ اس کااندرونی حصہ دکھائی دے اوربدن کاظاہرشمارکیا جائے تواسے دھوناضروری ہے ورنہ اس کادھوناضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۸۶ ۔ غسل کرتے وقت جوچیزیں بدن تک پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ ہوان کاالگ کردیناضروری ہے اورجب تک دورہونے کایقین پیدانہ ہوغسل نہ کرے اوراگرغسل کرلے توغسل باطل ہے۔
مسئلہ ۳۸۷ ۔ اگرغسل کرتے وقت کسی شخص کوشک ہوجائے کہ کوئی ایسی چیزاس کے بدن پرہے یانہیں جوبدن تک پانی پہنچنے میں مانع ہو، اگراس کاشک عقلاء کی نظرمیں بجاہوتوضروری ہے کہ چھان بین کرے حتی کہ مطمئین ہوجائے کہ کوئی ایسی رکاوٹ موجود نہیں ہے ۔
مسئلہ ۳۸۸ ۔ ان چھوٹے بالوں کوجوبدن کاحصہ شمارہوتے ہیں دھونا چاہئے اوربناء براحتیاط بڑے بال اوران کے نچلے حصہ کوبھی دھونا ضروری ہے۔
مسئلہ ۳۸۹ ۔ جن شرائط کاوضومیں ذکرکیاجاچکاہے،مثلاپانی کاپاک ہونااورغصبی نہ ہوناوغیرہ غسل کے لئے بھی یہی شرائط ہیں،البتہ غسل میں یہ ضروری نہیں ہے کہ اوپرسے نیچے کی جانب دھوئے،اسی طرح غسل ترتیبی میں اعضاء کے دھونے میں فاصلے ہوجانے سے بھی کوئی حرج نہیں ہوتا،صرف جولوگ اپنے پیشاب پاخانہ کونہیں روک سکے ان کے لئے ضروری ہے کہ پے درپے اعضاء کودھوئیں اورفورانماز پڑھ لیں اوریہی حکم مستحاضہ عورت کے لئے بھی ہے۔
مسئلہ ۳۹۰ ۔ جس شخص کاارادہ یہ ہوکہ حمام والے کو(غسل کے پیسے) نہیں دے گایااس کی رضامعلوم کرنے کے بغیرادھارپرنہاناچاہتاہو تواگرچہ بعدمیں حمام والے کوراضی کرلے پھربھی اس کاغسل باطل ہے۔
مسئلہ ۳۹۱ ۔ جس شخص کایہ ارادہ ہوکہ حرام پیسہ یاوہ مال جس کاخمس نہیں دیا حمام والے کودے گاتواس کاغسل باطل ہے۔
مسئلہ ۳۹۲ ۔ اگرحمامی راضی ہوکہ حمام کے پیسہ قرض کے طورپررہ جائیں لیکن غسل کرنے والے کی نیت یہ ہے کہ میں اس کوپیسہ نہیں دوں گا یامال حرام سے دوں گاتواس کے غسل میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۳۹۳ ۔ اگرکوئی شخص مقام پاخانہ ”مقعد“ کوحمام کے حوض کے پانی سے پاک کرے اورغسل کرنے سے پہلے شک کرے کہ چونکہ اس نے حمام کے حوض سے طہارت کی ہے اس لئے حمام والااس کے غسل کرنے پرراضی نہیں ہے یانہیں تواگروہ غسل سے پہلے حمام والے کوراضی کرلے توصحیح ہے ورنہ اس کاغسل باطل ہے۔
مسئلہ ۳۹۴ ۔ اگرشک ہوکہ غسل کیاکہ نہیں توغسل کرے لیکن غسل کے بعدشک کرے کہ اس کاغسل صحیح تھاکہ نہیں تواس کی پروہ نہ کرے۔
مسئلہ ۳۹۵ ۔ اگرغسل کرتے وقت حدث اصغرسرزدہوجائے (مثلاپیشاب نکل آئے) تووہ اس طرح کرسکتاہے کہ غسل کوپوراکرے اوراس کے بعدوضو کرلے اوربہتریہ ہے کہ غسل کواحتیاطامافی الذمہ(یعنی جوکچھ اس کاوظیفہ ہے)یااسی کوپوراکرے یادوبارہ کرنے کی نیت سے پھرسے شروع کرے،لیکن اس صورت میں بھی غسل کے بعدوضوواجب ہے۔
مسئلہ ۳۹۶ ۔ اگرکوئی اس خیال سے کہ غسل اورنمازدونوں کے لیے وقت موجودہے اورنماز کے لئے غسل کرے تواگرچہ غسل کے بعداسے معلوم ہوکہ جتناوقت غسل کے لئے درکارتھااتنانہیں تھاتوبھی اس کاغسل صحیح ہے۔
مسئلہ ۳۹۷ ۔ اگرکوئی مجنب ہواہواوراس نے نمازیں بھی پڑھیں ہوں پھراس کوشک ہوجائے کہ غسل کاتھاکہ نہیں توپڑھیں نمازیں صحیح ہیں،لیکن بعدکی نمازوں کے لئے غسل کرے۔
مسئلہ ۳۹۸ ۔ جس شخص پرچندغسل واجب ہیں وہ تمام کی نیت سے ایک ہی غسل کرسکتاہے یایہ کہ ان کے لیے علیحدہ علیحدہ غسل کرے۔
مسئلہ ۳۹۹ ۔ جوشخص مجنب ہواگراس کے بدن کے کسی حصہ پرآیت قرآن یاخداوندمتعال کانام لکھاہواہوتواس لکھے ہوئے پرہاتھ رکھناحرام ہے اوراگرغسل کرناچاہے توپانی اپنے بدن پراس طرح پہنچائے کہ اس کاہاتھ ان تحریروں کونہ لگے۔
مسئلہ ۴۰۰ ۔ غسل جنابت کے ساتھ بغیروضونماز پڑھ سکتاہے ،لیکن اگرکوئی اورغسل کیاہواس کے ساتھ نمازنہیں پڑھی جاسکتی بلکہ وضوبھی کرناپڑے گا۔
استحاضہ
عورتوں کوجوخون آتاہے اس میں سے ایک استحاضہ ہوتاہے اوراس وقت عورت کومستحاضہ کہتے ہیں۔
مسئلہ ۴۰۱ ۔ خون استحاضہ زیادہ ترزردرنگ،سرداورفشاروجلن کے بغیرآتاہے،لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی سیاہ یاسرخ اورگرم وگاڑھابھی آجائے اورفشار وجلن سے نکلے۔
مسئلہ ۴۰۲ ۔ استحاضہ کی تین قسمیں ہیں :
۱ ۔قلیلہ
۲ ۔ متوسطہ
۳ ۔ کثیرہ۔
استحاضہ قلیلہ : اس خون کوکہتے ہیں کہ عورت جب روئی اپنی شرمگاہ میں داخل کرے تووہ خون سے آلودہ ہوجائے لیکن دوسری طرف سے باہرنہ نکلے۔
استحاضہ متوسطہ : یہ ہے کہ خون روئی کے اندرتک چلاجائے اوردوسری طرف کوبھی لگ جائے لیکن اس پٹی تک نہ پہنچے جوعموماعورتیں خون سے محفوظ رہنے کے لئے باندھ لیتی ہیں۔
استحاضہ کثیرہ : وہ ہے جوروئی سے باہرنکل کرپٹی تک بھی پہنچ جائے۔
استحاضہ کے احکام :
مسئلہ ۴۰۳ ۔ استحاضہ قلیلہ میں عورت کوچاہئے کہ وہ ہرنماز کے لئے ایک وضوکرے اورشرمگاہ کے باہروالے حصہ تک اگرخون پہنچ جائے تواسے بھی پاک کرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ روئی کوبدلے یادھوئے۔
مسئلہ ۴۰۴ ۔ اگرنماز سے پہلے یااثنائے نمازمیں عورت استحاضہ متوسطہ دیکھے تواس نماز کے لئے غسل کرے،اگراستحاضہ متوسطہ میں نمازصبح کے لیے غسل کرے توپھردوسری صبح تک استحاضہ قلیلہ والے احکام جوسابقہ مسئلے میں بیان کئے جاچکے ہیں عمل کرے،اوراگرجان بوجھ کریابھول کرنماز صبح کے لئے غسل نہ کرے تونماز ظہرین کے لیئے غسل کرناچاہئے اوراگرنمازظہرین کے لئے بھی غسل نہ کرے تومغربین سے پہلے غسل کرے۔
مسئلہ ۴۰۵ ۔ استحاضہ کثیرہ میں علاوہ ان امورکوبجالانے کے جواستحاضہ متوسطہ والی عورت کرتی ہے جیساکہ گذشتہ مسئلہ میں بتایاجاچکاہے،چاہئے کہ ہرنماز کے لئے اوپروالی پٹی کوبدل دے یاپاک کرے نیزایک غسل نمازظہروعصرکے لئے اورایک غسل مغرب وعشاء کے لئے بھی کرے اورظہروعصر کی نمازکوپے درپے پڑھے اوراگرفاصلہ کردیاتونمازعصرکے لئے دوبارہ غسل کرناپڑے گا،اوراگرنمازمغرب وعشاء کے درمیان بھی فاصلہ ہوجائے توعشاء کے لئے دوبارہ غسل کرے۔
مسئلہ ۴۰۶ ۔ اگرنمازکاوقت داخل ہونے سے پہلے وضویاغسل کرلیا ہوتو نماز کے وقت بناء براحتیاط واجب اس کااعادہ کرناچاہئے۔
مسئلہ ۴۰۷ ۔ استحاضہ متوسطہ اورکثیرہ والی عورت جووضواورغسل دونوں کوانجام دیتی ہے جس کوبھی بجالائے صحیح ہے ،لیکن بہتریہ ہے کہ پہلے وضوکرے۔
مسئلہ ۴۰۸ ۔ اگراستحاضہ قلیلہ والی عورت نمازصبح کے بعدمتوسطہ ہوجائے اورنمازظہر وعصرکے لئے غسل کرے ،اوراگرنمازظہروعصرکے بعد متوسطہ ہوجائے تو مغرب وعشاء کے لئے غسل کرے۔
مسئلہ ۴۰۹ ۔ استحاضہ کثیرہ یامتوسطہ والی عورت اگرنمازکے وقت کے داخل ہونے سے پہلے اس نمازکے لئے غسل کرے تووہ غسل باطل ہے،بلکہ اگراذان صبح کے قریب تہجدکی نماز کے لئے غسل کرے اورنمازتہجدپڑھے توبھی احتیاط واجب یہ ہے کہ صبح ہونے کے بعددوبارہ غسل اوروضوکرے۔
مسئلہ ۴۱۰ ۔ مستحاضہ عورت ہرنماز کے لئے چاہے وہ نمازواجب ہویامستحب علیحدہ علیحدہ وضوکرے اوراگرجس نمازکوپڑھ چکی ہے اوردوبارہ احتیاطاپڑھناچاہے یاجس نمازکوفرادی پڑھ چکی ہے دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھناچاہے تواسے وہ تمام کام کرناپڑیں گے جومستحاضہ کے لئے بیان کئے جا چکے ہیں،البتہ نمازاحتیاط،بھولے ہوئے سجدہ اورتشہداورسجدہ سہوکے لئے اگرنماز کے فورابعدانہیں بجالائے تواستحاضہ والے کام بجالانے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۴۱۱ ۔ مستحاضہ عورت کوخون رک جانے کے بعدصرف پہلی نماز کے لئے استحاضہ والے کام انجام دیناچاہئے۔
مسئلہ ۴۱۲ ۔ اگرعورت کومعلوم ہوکہ اسکا استحاضہ کس قسم کاہے توجب وہ نمازپڑھناچاہے توکچھ روئی اپنی شرمگاہ میں داخل کرکے کچھ دیرانتظارکرے اورپھرباہرنکال کرکہ استحاضہ کس قسم کاہے جب معلوم ہوجائے توتینوں اقسام میں سے جس قسم کاہواسی کے احکام بجالائے،اور اگراسے علم ہوکہ میرے نماز پڑھنے کے وقت تک استحاضہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی تووقت کے داخل ہونے سے پہلے بھی یہ امتحان کرسکتی ہے۔
مسئلہ ۴۱۳ ۔ اگرمستحاضہ عورت نے اپنی جانچ کرنے سے پہلے نمازشروع کردی تواگراس نے قصدقربت کاتھااورجواس کی شرعی تکلیف تھی اس پرعمل کیامثلاواقعا اس کااستحاضہ قلیلہ تھااوراس نے استحاضہ قلیلہ والے کام انجام دئیے تھے تواس کی نمازصحیح ہے،اوراگراس نے قصدقربت نہیں کیاتھایااس کاعمل اس کے وظیفہ کے مطابق نہیں تھامثلااس کااستحاضہ متوسطہ تھااوراس نے قلیلہ والے کام انجام دئیے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۴۱۴ ۔ اگرمستحاضہ عورت اپنے بارے میں تحقیق نہ کرسکے توضروری ہے جواس کایقینی وظیفہ ہواس کے مطابق عمل کرے،مثلااگروہ یہ جانتی ہوکہ اس کااستحاضہ قلیلہ ہے یامتوسطہ توضروری ہے کہ استحاضہ قلیلہ کے افعال انجام دے اوراگرنہ جانتی ہوکہ اس کااستحاضہ متوسطہ ہے یاکثیرہ توضروری ہے کہ استحاضہ متوسطہ کے احکام پرعمل کرے لیکن اگروہ جانتی ہوکہ اس سے پیشتراسے ان تین اقسام میں سے کونسی قسم کااستحاضہ تھاتوضروری ہے کہ اس قسم کے استحاضہ کے مطابق اپناوظیفہ انجام دے۔
مسئلہ ۴۱۵ ۔ اگراستحاضہ کاخون اندرموجودہے لیکن باہرنہیں نکلاہوتو وضواورغسل باطل نہیں ہوگا،اوراگرخون باہرنکل آئے اگرچہ تھوڑاساہی کیوں نہ ہوتواس تفصیل کے مطابق جس کابیان گزرچکاہے وضواورغسل باطل ہوگا۔
مسئلہ ۴۱۶ ۔ اگرمستحاضہ نمازکے بعداپنی جانچ کرے اورخون نہ دیکھے تواپنے اسی وضوکے ساتھ دوسری نمازپڑھ سکتی ہے اگرچہ اسے علم ہوکہ دوبارہ خون آجائے گا۔
مسئلہ ۴۱۷ ۔ مستحاضہ عورت اگریہ جانتی ہے کہ جس وقت سے وہ وضویاغسل میں مشغول ہوئی ہے خون اس کی شرمگاہ سے باہرنہیں آیاحتی کے نمازکے بعدتک بھی نہ ہی شرمگاہ کے اندرہے اورنہ ہی باہرآئے گاتونمازپڑھنے میں تاخیرکرسکتی ہے۔
مسئلہ ۴۱۸ ۔ اگرمستحاضہ کومعلوم ہے کہ نمازکاوقت گزرنے سے پہلے وہ پوری طرح پاک ہوجائے گی یاجتنی دیرنمازپڑھے گی خون رکارہے گاتواس کوصبرکرناچاہئے اورجب پاک ہوجائے توغسل یاوضوکرکے نمازپڑھے۔
مسئلہ ۴۱۹ ۔ اگروضواورغسل کے بعدظاہری طورپرخون رک جائے اورمستحاضہ عورت کوعلم ہوکہ اگرنمازمیں تاخیرکردے تووضووغسل اورنمازجتناوقت بالکل پاک رہے گی تواسے نمازمیں تاخیرکردیناچاہئے ،اورجس وقت بالکل پاک ہوجائے دوبارہ وضواورغسل کرے اورنمازپڑھے اوراگرنماز کاوقت تنگ ہوجائے توضروری نہیں کہ وضواورغسل کودوبارہ بجالائے بلکہ اسی حالت میں نمازپڑھے۔
مسئلہ ۴۲۰ ۔ مستحاضہ کثیرہ اورمتوسطہ جب پورے طورپرخون سے پاک ہوجائیں تواسے غسل کرناچاہئے لیکن اگراسے معلوم ہوکہ جب گزشتہ نمازکے لئے غسل میں مشغول ہوئی تھی اس وقت سے اب تک خون نہیں آیاتواس کے لئے دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۴۲۱ ۔ مستحاضہ کوغسل یاوضوکے بعدفورانمازمیں مشغول ہوجاناچاہئے البتہ ا ذان واقامت کہنے سے نمازسے پہلے کی دعاؤں کوپڑھنے اورخودنمازمیں بھی مستحبات کومثلاقنوت وغیرہ کوپڑھ سکتی ہے۔
مسئلہ ۴۲۲ ۔ اگرمستحاضہ غسل اورنماز کے درمیان فاصلہ ڈال دے تواسے دوبارہ غسل کرکے بلافاصلہ نمازشروع کرناپڑے گی البتہ اگرخون شرمگاہ کی فضامیں موجودنہ ہوتوغسل ضرروی نہیں ہے ۔
مسئلہ ۴۲۳ ۔ اگرخون بہہ کرآگیاہواوربندہی نہیں ہوتاتواگراس کے لئے مضرنہ ہوتوپھرغسل سے پہلے اوراس کے بعدروئی کے ذریعہ خون کوباہرآنے سے روکے اوراگرہمیشہ جاری نہیں رہتاتوپھرصرف وضووغسل کے بعدخون کوباہرنکلنے سے روکے،اوراگراس نے کوتاہی کی اورخون باہرنکل آیاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ غسل کرے اوروضوبھی کرے اوراگرنمازپڑھ چکی ہے تودوبارہ پڑھناہوگی۔
مسئلہ ۴۲۴ ۔ اگرغسل کے وقت خون بندنہ ہوتوغسل کے لئے کوئی ضررنہیں ہے البتہ اگراثناء غسل استحاضہ متوسطہ کثیرہ ہوجائے توواجب ہے کہ غسل نئے سرے سے شروع کرے۔
مسئلہ ۴۲۵ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ مستحاضہ عورت اگرروزے سے ہوتوسارادن جہاں تک ممکن ہوخون کونکلنے سے روکے۔
مسئلہ ۴۲۶ ۔ مستحاضہ عورت کہ جس کے پرغسل واجب ہواس کاروزہ اس صورت میں صحیح ہے کہ وہ دن میں وہ غسل انجام دے جودن کی نمازوں کے لئے واجب ہیں اورنیزجس رات کے بعدکے وہ دن وہ روزہ رکھناچاہتی ہواس رات کی مغرب وعشاء کی نمازکاغسل کرے لیکن اگرنمازمغرب وعشاء کاغسل نہ کرے،البتہ نمازتہجدپڑھنے کے لئے اذان صبح سے پہلے غسل کرے اوردن میں بھی جوغسل دن کی نمازوں کے لئے ضروری ہیں وہ انجام دے تواس کاروزہ صحیح ہوگا۔
مسئلہ ۴۲۷ ۔ اگرروزہ دارعورت نمازظہروعصرک بعدمستحاضہ ہوجائے تواس دن کے روزے کے لئے غسل کی ضرورت نہیں ہے ۔
مسئلہ ۴۲۷ ۔ اگراستحاضہ قلیلہ نمازسے پہلے متوسطہ یا کثیرہ ہوجائے تواس کوچاہئے کہ متوسطہ اورکثیرہ والے افعال بجالائے جوکہ بیان کئے جاچکے ہیں اوراگرمتوسطہ کثیرہ ہوجائے توکثیرہ والے افعال بجالائے اوراگروہ استحاضہ متوسطہ کے لئے غسل بھی کرچکی ہے توبیکارہے بلکہ اس کودوبارہ کثیرہ کے لئے غسل کرناہوگا۔
مسئلہ ۴۲۹ ۔ اگرنمازکے درمیان مستحاضہ کثیرہ ہوجائے تونماز کوتوڑ کر استحاضہ کثیرہ کے لئے غسل کرے اوروضوکرے اوردوسرے کام بجالانے کے بعداسی نمازکواداکرے اوراگروضووغسل کے لئے وقت نہیں رہاتواسے دوتیمم کرناہوں گے ایک غسل اوردوسراوضوکے بدلے اوراگرغسل اوروضومیں سے ایک کاوقت ہے تواس کوبجالائے اوردوسرے بدلے تیمم کرلے اوراگرتیمم کے لئے بھی وقت نہیں تونمازکوتوڑناجائزنہیں بلکہ اسی کوپوراکرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی قضاء بھی بجالائے اوریہی حکم ہے اگراثناء نمازمیں استحاضہ قلیلہ متوسطہ یاکثیرہ ہوجائے۔
مسئلہ ۴۳۰ ۔ اگرنمازکے درمیان خون بندہوجائے اورمستحاضہ کومعلوم نہ ہوکہ اندرسے بھی خون بندہواہے یانہیں تواگرنمازکے بعدمعلوم ہوجائے کہ بندہوگیاتھاتووضووغسل اورنمازکودوبارہ انجام دے بنابراحتیاط واجب۔
مسئلہ ۴۳۱ ۔ اگرمستحاضہ کثیرہ متوسطہ ہوجائے توپہلی نمازکے لئے کثیرہ والے اوربعدوالی نمازوں کے لیے متوسطہ والے عمل بجالائے،مثلا اگرنماز ظہرسے پہلے استحاضہ کثیرہ متوسطہ ہوجائے تونمازظہرکے لئے غسل کرے اورنمازعصرومغرب وعشاء کے لیے صرف وضوکرے اوراگراس نے نمازظہرکے لئے غسل نہ کیا ہو اوراب صرف نمازعصر کے لئے وقت ہوتونمازعصرکے لئے غسل کرے اوراگرنمازعصرکے لئے بھی غسل نہ کیاہوتوپھرنمازمغرب کے لئے غسل کرے اوراگراس کے لئے بھی غسل نہ کیاہواورصرف نمازعشاء کے لئے وقت باقی ہوتونمازعشاء کے لئے غسل کرے۔
مسئلہ ۴۳۲ ۔ اگرہرنمازسے پہلے استحاضہ کثیرہ والی کاخون بندہوجائے اوردوبارہ شروع ہوتوہرنمازکے لئے اس کوغسل کرناہوگا۔
مسئلہ ۴۳۳ ۔ اگراستحاضہ کثیرہ قلیلہ ہوجائے توپہلی نمازکے لئے استحاضہ کثیرہ والاعمل اورباقی نمازوں کے لئے قلیلہ والے احکام پرعمل کرے گی اوراگرمتوسطہ قلیلہ ہوجائے توبھی پہلی نماز کے لئے متوسطہ والے اورباقی نمازوں کے لئے قلیلہ والے احکام پرعمل کرے گی۔
مسئلہ ۴۳۴ ۔ اگرمستحاضہ احکام واجبہ میں سے کسی کام کوترک کردے یہاں تک کہ روئی کابدلناتواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۴۳۵ ۔ اگرمستحاضہ قلیلہ نمازکے علاوہ وہ کام انجام دیناچاہتی ہوجس کےلئے وضوکاہوناشرط ہے،مثلااپنے بندن کاکسی حصہ سے قرآن مجید کے الفاظ کوچھوناچاہتی ہوتووضوکرنااس کے لئے بناء براحتیاط واجب ضروری ہے اوروہ وضوجونمازوں کے لئے کیاتھا کافی نہیں ہے ۔
مسئلہ ۴۳۶ ۔ اگرمستحاضہ اپنے واجب غسل بجالائے تواس کے لئے مسجدمیں جانااوراس میں ٹہرنا،ان سورتوں کاپڑھناجن میں سجدہ واجب ہیں اورشوہرکا اس سے ہمبستری کرناحلال ہوجائے گا،اگرچہ اس نے دوسرے وہ کام نہ کئے ہوں جونمازواجب کےلئے ضروری ہیں،مثلاوضوکرناروئی اورپٹی کابدلنا۔
مسئلہ ۴۳۷ ۔ مستحاضہ کثیرہ یامتوسطہ اگرچاہے نمازکے وقت سے پہلے اپنے بدن کاکوئی حصہ قرآن مجیدکے الفاظ سے مس کرے توغسل کرے اوروضوبھی کرے۔
مسئلہ ۴۳۸ ۔ مستحاضہ پرنمازآیات واجب ہے اوراس نماز کے لئے بھی اسے وہ تمام کام کرنے پڑیں گے جونمازیومیہ کے لئے بتائے جاچکے ہیں۔
مسئلہ ۴۳۹ ۔ جب نمازیومیہ کے وقت میں مستحاضہ پرنمازآیات واجب ہوجائے تونمازآیات کے لئے علیحدہ تمام وہ کام بجالائے جونمازیومیہ کے لئے بجالاتے ہیں اوردونوں کوایک غسل ووضوسے نہیں پڑھ سکتی اگرچہ دونوں کوایک دوسرے کے بعدفوراہی بجالاناہو۔
مسئلہ ۴۴۰ ۔ اگرمستحاضہ نمازقضاء پڑھناچاہے توہرنمازکے لئے وہ تمام کام کرے جوادانماز کے لئے کرتی تھی۔
مسئلہ ۴۴۱ ۔ اگرعورت کومعلوم ہوکہ جوخون اس سے آرہاہے وہ زخم کاخون نہیں ہے اوروہ خون شرعی طورپرحیض اورنفاس کاحکم بھی نہیں رکھتاتواسے استحاضہ کے دستورپرعمل کرناچاہئے بلکہ اگرشک کرے کہ یہ خون استحاضہ ہے یاکوئی اورقسم تواگرکسی اورخون کی علامات اس میں نہ پائی جاتی ہوں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ استحاضہ والے کام انجام دے۔
حیض :
حیض وہ خون ہے جوغالباہرمہینے چنددنوں کے لئے عورت کے رحم سے خارج ہوتاہے اورعورت کوخون حیض دیکھنے کے زمانہ میں حائض کہتے ہیں ۔
مسئلہ ۴۴۲ ۔ خون حیض اکثراوقات گاڑھاگرم اورسیاہی مائل بہ سرخ یا صرف سرخ رنگ کاہوتاہے،اچھل کرتھوڑی سی جلن کے ساتھ آتاہے۔
مسئلہ ۴۴۳ ۔ سیدانیاں ساٹھ سال پورے ہونے کے بعدیائسہ ہوجاتی ہیں، یعنی انہیں خون حیض نہیں آتااورغیرسادات عورتیں پچاس سال پورے ہونے کے بعدیائسہ ہوجاتی ہیں۔
مسئلہ ۴۴۴ ۔ لڑکی کوجوخون نوسال سے پہلے آئے اورعورت کوجوخون یائسہ ہونے کے بعدآئے وہ حیض کے احکام نہیں رکھتا۔
مسئلہ ۴۴۵ ۔ حاملہ اوردودھ پلانے والی عورتوں کوبھی خون حیض آسکتاہے۔
مسئلہ ۴۴۶ ۔ جس لڑکی کومعلوم نہ ہوکہ نوسال کی ہوچکی ہے کہ نہیں آگروہ ایساخون دیکھے جس میں حیض کی علامتیں نہ ہوں تووہ حیض نہیں ہے اوراگرحیض کی علامتیں موجودہوں توبھی اسے حیض نہیں کہاجاسکتا۔
مسئلہ ۴۴۷ ۔ جس عورت کوشک ہوکہ وہ یائسہ ہوئی کہ نہیں آ گراس کے خون آئے اوروہ نہ جانتی ہوکہ حیض ہے کہ نہیں تواس خون کوحیض فرض کرے اورسم جھ لے کہ ابھی یائسہ نہیں ہوئی ہے۔
مسئلہ ۴۴۸ ۔ حیض کی مدت تین دن سے کم اوردس دن سے زیادہ نہیں ہوتی ،بلکہ اگرتھوڑی سی مدت بھی کم ہوتوحیض نہیں ہے ۔
مسئلہ ۴۴۹ ۔ پہلے تین دن پے درپے خون آناچاہئے،اس لئے اگردودن خون دیکھے اورایک دن ٹہرکرخون آئے توحیض نہیں ہے ۔
مسئلہ ۴۵۰ ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پورے تین دن خون باہرنکلتارہےبلکہ اگرشرمگاہ میں موجودہوتوکافی ہے اوراگرتین دنوں میں تھوڑے سے وقت کے لئے پاک ہوجائے اوراس کے پاک رہنے کی مدت اتنی کم ہے کہ لوگ کہیں کہ پورے تین دن خون شرمگاہ میں موجودرہاہے توبھی حیض ہے۔
مسئلہ ۴۵۱ ۔ پہلی اورچوتھی رات کوخون دیکھناضروری نہیں ہے لیکن دوسری اورتیسری رات خون کورکنانہیں چاہئے،لہذااگرپہلے دن کی اذان صبح سے لے کرتیسرے دن کے غروب تک لگاتارخون آئے یااگرپہلے دن پھرسے خون آناشروع ہواورچوتھے دن اسی وقت بندہوجبکہ دوسری اورتیسری رات بالکل منقطع نہ ہوتوحیض ہے۔
مسئلہ ۴۵۲ ۔ اگرتین دن پے درپے خون دیکھے پھرخون رک جائے اورپھردوبارہ خون دیکھے توجن دنوں میں خون دیکھاہے اورجن دنوں میں پاک ہواگروہ سب ملاکردس دن سے زیادہ نہ ہوتوجن دنوں میں درمیان میں وہ پاک رہی ہے وہ بھی حیض کے دن شمارہوں گے۔
مسئلہ ۴۵۳ ۔ اگرتین دن سے زائداوردس دن سے کم خون دیکھے اوراسے علم نہ ہوکہ وہ پھوڑے کاخون ہے یاحیض کاتواگرنہ جانتی ہوکہ پھوڑاشرمگاہ کی بائیں طرف ہے یادائیں طرف ہے اگرہوسکے توکچھ روئی شرمگاہ میں رکھے اورپھرباہرنکالے اگرروئی پربائیں جانب سے خون لگ کرآئے خون حیض ہوگا اوراگرشرمگاہ کی داہنی جانب سے لگ کرآئے توپھوڑے کاخون ہوگا۔
مسئلہ ۴۵۴ ۔ اگرتین دن سے زیادہ اوردس دن سے کم خون آئے اوریہ معلوم نہ ہوکہ یہ حیض ہے یازخم کاخون ہے تواگرپہلے حیض تھاتواسے بھی حیض قراردے گی اوراگرپہلے پاک تھی توپاک قراردے گی اورگرپہلے پاک تھی توپاک قراردے گی،لیکن اگرنہ جانتی ہوکہ پاک تھی یاحیض سے تھی توان تمام امورکوجوحائضہ عورت پرحرام ہیں انہیں ترک کرے اورجوعبادات غیرحائضہ انجام دیتی ہے انہیں آنجام دے۔
مسئلہ ۴۵۵ ۔ اگرکوئی خون دیکھے اورشک کرے کہ حیض ہے یانفاس توحیض کے شرائط اگرموجود ہوں تواسے حیض قراردے۔
مسئلہ ۴۵۶ ۔ اگرکوئی خون دیکھے اورمعلوم نہ ہوسکے کہ حیض کاہے یابکارت کاتواپناامتحان کرے یعنی کچھ روئی شرمگاہ میں رکھے اورکچھ دیرانتظارکے بعدباہرنکالے تواگرصرف کناروں پرخون لگاہوتوخون بکارت ہے ہے اگرروئی کے تمام حصوں پرلگاہوں توحیض سمجھاجائے۔
مسئلہ ۴۵۷ ۔ اگرتین دن سے کم مدت تک خون آئے اوربندہوجائے اورتین دن کے بعددوبارہ خون آئے تودوسرے خون میں اگرحیض کی شرائط موجودہوتووہ حیض ہے اورپہلاخون حیض نہیں ہے ۔
احکام حیض
مسئلہ ۴۵۸ ۔ حائضہ عورت پرچندچیزیں حرام ہیں :
۱ ۔ تمام وہ عبادتیں جن میں وضو،غسل یاتیمم کی ضرورت پڑتی ہے ،جیسے نماز،لیکن جن عبادات میں طہارت کی شرط نہیں ہے ان کوبجالاسکتی ہے جیسے نمازمیت۔
۲ ۔ تمام وہ چیزیں جومجنب پرحرام ہیں اوران کاذکرجنابت کے احکام میں کیاجاچکاہے ۔
۳ ۔ شرمگاہ میں جماع کرنا جومرداورعورت دونوں کے لئے حرام ہے ،اگرچہ بمقدارجائے ختنہ داخل ہواورمنی بھی خارج نہ ہوبلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ ختنہ والی جگہ سے کم مقداربھی داخل نہ کرے اورحیض والی عورت کودبرمیں بھی داخل نہ کرے چونکہ سخت مکروہ ہے۔
مسئلہ ۴۵۲ ۔ ان دنوں میں بھی جماع کرنہ حرام ہے کہ جویقینی طورپر حیض کے دن نہیں لیکن شرعاعورت کوانہیں حیض کے دن سمجھناہے،لہذاوہ عورت کہ جودس دن سے زیادہ خون دیکھے اوراس دستورکے مطابق جوبعد میں بیان کیاجائے گاعمل کرے (کہ وہ اپنی رشتہ دارعورتوں کی عادت کے دنوں کوحیض قراردے) تواس کاشوہران دنوں میں اس سے ہم بستری کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۴۵۳ ۔ اگراپنی بیوی سے حالت حیض میں ہمبستری کرے تو کفارہ دینابناء براحتیاط واجب ہے،اگرہمبستری پہلی تھائی میں ہوتواٹھارہ چنے کے برابرسوناکفارہ کے طورپرفقیرکودے،اوراگردوسری تھائی میں ہوتونودانوں کے برابرسونااوراگر تیسرے تھائی میں ہوتوساڑھے چاردانوں کے برابرسونادے مثلااگرکسی عورت کی عادت چھ روزہے توپہلے دودن میں(پہلی تھائی) اٹھارہ دانے سونے اورتیسرے چوتھے دن یارات میں نودانے اورپانچویں یاچھٹے دن رات میں ساڑھے چاردانے دینے پڑیں گے۔
مسئلہ ۴۵۴ ۔ حیض والی عورت کی دبرمیں داخل کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا
مسئلہ ۴۵۵ ۔ اگرسونے کی قیمت جماع کرنے کے وقت اورفقیرکودیتے وقت اختلاف رکھتی ہوتوجس وقت فقیرکودے رہاہے اس وقت کاحساب کرے۔
مسئلہ ۴۵۶ ۔ اگرکوئی شخص حیض کے پہلے،دوسرے اورتیسرے حصہ میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرے تواسے تینوں کفارے دینے پڑیں گے کہ جن کی مجموعی مقدارساڑھے اکتیس چنے کے دانے کے برابربنتی ہے۔
مسئلہ ۴۵۷ ۔ اگرکوئی حالت حیض میں جماع کرنے کے بعدکفارہ اداکردے اورپھرجماع کرے تودوبارہ کفارہ اداکرے۔
مسئلہ ۴۵۸ ۔ اگرحائضہ سے چندمرتبہ جماع کرے اوردرمیان میں کفارہ ادانہ کرے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ہرجماع کےلئے علیحدہ علیحدہ کفارہ اداکرے۔
مسئلہ ۴۵۹ ۔ اگرمردہمبستری کرتے وقت سمجھے کہ عورت حائض ہوگئی ہے توچاہئے کہ فوراالگ ہوجائے اوراگرجدانہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ کفارہ دے۔
مسئلہ ۴۶۰ ۔ اگرمردحائض سے زناکرے یاکسی اجنبی حائض عورت سے یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ میری بیوی ہے ہمبستری کرے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ کفارے دے بلکہ ضروری ہے کہ کفارہ دے۔
مسئلہ ۴۶۱ ۔ اگرکوئی کفارہ نہیں دے سکتاتوبنابراحتیاط اتنی مقدارصدقہ اداکرے کہ جس سے ایک بھوکافقیرسیرہوجائے اوراگریہ بھی ممکن نہیں ہے تواستغفارکرے اورجب ممکن ہوکفارہ دے۔
مسئلہ ۴۶۲ ۔ عورت کوحالت حیض میں طلاق دیناجس طرح کتاب طلاق میں بیان ہوگاباطل ہے۔
مسئلہ ۴۶۳ ۔ اگرعورت کہے کہ میں حائضہ ہوں یاحیض سے پاک ہوچکی ہوں تواس کی بات مان لینی چاہئے۔
مسئلہ ۴۶۴ ۔ اگرعورت نماز کے درمیان حائضہ ہوجائے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۴۶۵ ۔ اگرحالت نمازمیں شک ہوجائے کہ حیض شروع ہوگیاکہ نہیں تواس کی نمازصحیح ہے،اوراگرنمازکے بعدمعلوم ہوجائے کہ حالت حیض میں تھی توجونمازپڑھ چکی ہے باطل ہے۔
مسئلہ ۴۶۶ ۔ عورت جب حیض سے پاک ہوجائے تواسے اپنی نماز،عبادتوں کوبجالانے کے لئے غسل کرناچاہئے اوراگرپانی نہ مل سکے توتیمم کرے،غسل حیض کاطریقہ غسل جناتب کی طرح ہے،لیکن نماز کے لئے غسل سے پہلے یابعدمیں وضوبھی کرناچاہئے اوربہتریہ ہے کہ غسل سے پہلے وضوکرے۔
مسئلہ ۴۶۷ ۔ عورت جب خون حیض سے پاک ہوجائے چاہے ابھی غسل نہ کیاہوپھربھی اس کی طلاق صحیح ہے اوراس کاشوہراس سے ہمبستری کرسکتاہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل سے پہلے مجامعت نہ کرے،البتہ جودوسرے کام حیض کے وقت اس پرحرام تھے جیسے مسجدوں میں ٹہرنا،قرآن کی تحریرکوچھونا وہ اس وقت تک جائزنہ ہوں گے جب تک غسل نہ کرے۔
مسئلہ ۴۶۸ ۔ اگرپانی غسل اوروضودونوں کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ صرف وضوکے لئے کافی ہے تواسے وضوکرلیناچاہئے اورغسل کے بدلے تیمم کرے اوراگرکسی کے بھی پانی نہیں ہے تواسے دوتیمم کرنے پڑیں گے ،ایک غسل کے لئے اورایک وضوکے بدلے۔
مسئلہ ۴۶۹ ۔ روزانہ کی نمازیں جن کوعورت نے حالت حیض میں نہیں پڑھی اس کی قضا نہیں ہے ،لیکن واجب روزے کی قضاکرناچاہئے۔
مسئلہ ۴۷۰ ۔ جب نمازکاوقت داخل ہوجائے اورعورت کومعلوم ہوکہ اگرنمازمیں تاخیرکی توحائضہ ہوجائے گی توفورانمازپڑھنی چاہئے۔
مسئلہ ۴۷۱ ۔ اگرعورت نمازپڑھنے میں تاخیرکرے اوراول وقت میں سے اتناوقت گذرجائے کہ جس میں ایک نمازپڑھی جاسکتی ہواوروہ حائضہ ہوجائے تو اس نماز کی قضاء اس پرواجب ہے،لیکن جلدی پڑھنے اورآہستہ اوردوسرے ایسے امورکے بارے میں ضروری ہے اپنی حالت کالحاظ کرے،مثلاوہ عورت جوسرمیں نہیں ہے اول وقت میں نمازظہرنہ پڑھے تواس کی قضاء اس پراس صورت میں واجب ہوگی جب چاررکعت نمازپڑھنے کے برابروقت اس کیفیت سے جس کاذکرہوااول ظہرسے گذرجائے اوروہ حائض ہوجائے،اوراس عورت کے لئے جوسفرمیں ہودورکعت پڑھنے کے برابروقت گزرجاناکافی ہے،اور اسی طرح ان شرائط کالحاظ رکھے جن کوحاصل کرناہے جیسے لباس اوربدن کی طہارت،لہذااگران چیزوں کوحاصل کرنے اورایک رکعت نمازپڑھنے جتناوقت گزرجائے اوروہ حائض ہوجائے تواس کی قضاء اس پرواجب ہے ورنہ واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۴۷۲ ۔ اگرآخروقت میں پاک ہوجائے اورغسل ووضواوردیگر مقدمات، مثلا لباس کاتیارکرنایااس کاپاک کرنااورایک رکعت یااس سے زیادہ کے لئے وقت موجودہوتواسے نمازپڑھناہوگی اوراگرنہیں پڑھی تواس کی قضابجالاناہے۔
مسئلہ ۴۷۳ ۔ اگرحائضہ کے لیے پاک ہونے کے بعدغسل اوروضوکرنے کی مقداروقت نہیں ہے ،لیکن تیمم کرکے وقت کے اندرنمازپڑھ سکتی ہے تووہ نمازاس پرواجب نہیں ہے ،لیکن اگرتنگی وقت کے علاوہ اس کی شرعی ذمہ داری ہی تیمم ہومثلاپانی اس کے لیے مضرہوتواسے تیمم کرکے نمازپڑھناچاہئے۔
مسئلہ ۴۷۴ ۔ اگرعورت حیض سے پاک ہونے کے بعدشک کرے کہ نماز کے لئے مقدارکافی وقت باقی ہے کہ نہیں تواس کواپنی نمازپڑھنی چاہئے۔
مسئلہ ۴۷۵ ۔ اگراسے خیال تھا کہ اتناوقت نہیں ہے جس میں مقدمات نمازمہیاہوجائیں اورایک رکعت نمازپڑھی جاسکے اوراس نے نمازنہیں پڑھی بعد میں معلوم ہواکہ اتناوقت تھاتواسے وہ نمازقضاپڑھنی پڑے گی۔
مسئلہ ۴۷۶ ۔ حائض عورت کے لئے مستحب ہے کہ نمازکے وقت خودکو خون سے پاک کرے اورروئی یاکپڑے کے بنے ہوئے پیڈکوبدل کروضوکرے اوراگر وضوممکن نہیں ہے توتیمم کرے اوراپنی جانمازپرروبقبلہ بیٹھ کرذکرالہی ودعا وصلوات میں مشغول ہوجائے۔
مسئلہ ۴۷۷ ۔ قرآن کی تلاوت کرنا،اس کاہمراہ رکھنا،حواشی قرآن کاچھونا،دوسطروں کے بیچ کوچھونا،مہندی کاخضاب لگاناحائض کے لئے مناسب نہیں ہے اورمکروہ ہے۔
حائض عورتوں کی قسمیں :
مسئلہ ۴۷۸ ۔ حائضہ عورتوں کی چھ قسمیں ہیں :
۱ ۔ صاحب عادت وقتیہ اورعددیہ
،یعنی جودوماہ تک مسلسل معین وقت میں خون دیکھے اوردونوں مہینوں میں خون آنے کے بعددن برابرہوں، مثلادونوں مہینوں میں پہلی سے ساتویں تک دیکھے۔
۲ ۔ صاحب عادت وقتیہ،اس عورت
کوکہتے ہیں جودوماہ مسلسل وقت معین میں خون دیکھے لیکن دونوں مہینوں میں خون کے دن برابرنہ ہوں،مثلاایک مہینہ میں پہلے سے ساتویں تک اوردوسرے میں پہلی سے آٹھویں تک دیکھے۔
۳ ۔ صاحب عادت عددیہ،
وہ عورت ہے جومسلسل دوماہ معین دنوں تک خون دیکھے مگروقت ا لگ الگ ہو،مثلاپہلے مہینہ میں پانچویں سے دسویں تک اوردوسرے مہینہ میں بارہوی سے سترہویں تک دیکھے۔
۴ ۔ مضطربہ،
وہ عورت ہے جس کے چندمہینہ خون آیاہو،لیکن اس کی عادت معین نہ ہوئی یااگرپہلے عادت تھی بھی تووہ اب ختم ہوگئی ہے اورنئی عادت معین ہوئی ہے ۔
۵ ۔ مبتدئیہ،
جس عورت نے پہلی بارخون دیکھاہواس کومبتدئیہ کہتے ہیں۔
۶ ۔ ناسیہ ،
جوعورت اپنی عادت بھول گئی ہووہ ناسیہ ہے۔
ان میں سے ہرایک کے احکام ہیں جوآئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔
۱ ۔ صاحب عادت وقتیہ وعددیہ :
مسئلہ ۴۷۹ ۔ جوعورتیں وقت اورعددکی عادت رکھتی ہیں تین قسمیں ہیں :
۱ ۔ وہ عورت جس سے مسلسل دومہینوں میں ایک معین وقت پرخون آئے اور وہ ایک معین وقت پرہی پاک ہوجائے،مثلامسلسل دومہینوں میں اسے مہینے کی پہلی تاریخ کوخون آئے اورساتویں روزپاک ہوجائے تواس عورت کی حیض کی عادت مہینے کی پہلی تاریخ سے ساتویں تاریخ تک ہے۔
۲ ۔ وہ عورت جوخون سے پاک نہ ہولیکن دومہینے مسلسل چندمعین دن،مثلا پہلی تاریخ سے لے کرآآٹھویں تاریخ تک جوخون دیکھتی ہے اس میں خون حیض کی علامات موجودہیں،یعنی گاڑھا،سیاہ گرم اوراچھل کرجلن کے ساتھ نکلتاہے اوراس کے علاوہ جوخون دیکھتی ہے اس میں استحاضہ والی علامات پائی جاتی ہیں تواس کی عادت پہلی سے لے کرآٹھ تاریخ تک ہوگی۔
۳ ۔ جوعورت دومہینے مسلسل معین وقت میں خون دیکھتی رہی اوراس کے بعدتین دن اس سے زیادہ خون دیکھے پھرایک باریاایک سے زیادہ دن پاک رہے اوروہ دوبارہ خون دیکھے اورجتنے دن اس نے خون دیکھاہے اوروہ درمیانی دن جن میں پاک رہی سب کامجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہواوردنوں اوردونوں مہینوں کے تمام دن جن میں پاک رہی مجموعاان کی تعدادایک جیسی تھی تواس کی عادت تمام وہ دن ہیں کہ جن میں خون دیکھاہے اوردرمیان پاک رہی ہواوریہ ضروری نہیں ہے کہ درمیان میں پاکیزگی کے دن دونوں مہینوں میں ایک جتنے ہوں،مثلا اگرپہلے مہینہ میں پہلی سے تیسری تک خون دیکھے اور اتنی دن پا ک رہے اورپھرتین دن خون دیکھے اوردوسرے مہینہ تین خون دیکھنے کے بعدتین دن یاکم وبیش پاک رہی ہواوردوبارہ خون دیکھے اورسب کوملاکرنودن بنتے ہیں یہ سب ایام حیض کے ہوں گے اوراس کی عادت نودن قرارپائے گی۔
مسئلہ ۴۸۰ ۔ عادت عددیہ اوروقتیہ رکھنے والی عورت اگرعادت کے دنوں میں یادوتین پہلے دوتین دن بعدخون دیکھے ،یعنی اس طرح کہ کہاجائے کہ اس کاحیض آگے یاپیچھے ہوگیاہوتواگرچہ اس خون میں حیض کی علامت موجودنہ ہوں وہ ان احکام پرعمل کرے گی جوحائضہ عورت کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔اوراگربعدمیں اسے معلوم ہوجائے کہ وہ حیض نہیں تھی،مثلاتین دن سے پہلے پاک ہوجائے تواسے ان عبادات کی قضاکرنی پڑے گی جووہ بجانہیں لائی۔
مسئلہ ۴۸۱ ۔ عادت وقتیہ عددیہ رکھنے والی عورت اگرچنددن عادت سے پہلے اورعادت کے تمام دن اورکچھ دن عادت کے بعدخون دیکھے اورمجموعادس دن سے زیادہ نہ ہوعادت توتمام حیض ہوگا،لیکن اگرمجموعادس دن سے زیادہ ہوجائے توجوخون عادت کے دنوں میں اتارہاوہ حیض ہے اورجواس سے پہلے یابعددیکھتی رہی استحاضہ ہوگا،اوران عبادات کی قضا کرے گی جوعبادت کے دنوں سے پہلے اوربعدبجانہیں لائی ہے توان کی قضاکرے گی ،اوراگرعادت کے تمام دنوں کے ساتھ کچھ عادت کے بعدبھی خون دیکھتی رہی اوران کامجموعہ دس دن سے زیادہ نہیں توتمام حیض ہوگا،اوراگردس دن سے زیادہ ہے توصرف عادت والے دنوں کاخون حیض اورباقی استحاضہ ہوگا۔
مسئلہ ۴۸۲ ۔ جس عورت کی عادت وقتیہ عددیہ ہے اگرعادت کے کچھ دنوں کے ساتھ عادت سے چنددن پہلے خون دیکھے اوران کامجموعہ دس دن سے زیادہ بھی نہ ہوتوتمام حیض ہوگا،اوراگردس دن سے زیادہ ہوجائے تووہ دن جوعادت میں سے ہیں اورکچھ دن عادت کے پہلے کے جن کامجموعہ عادت کے برابرہوجائے حیض اوراس سے پہلے کے دنوں کواستحاضہ قراردے اور اگرعادت کے کچھ دنوں کے ساتھ عادت کے بعدکے چنددن کون دیکھے اوران کا مجموعہ دس دن سے زیادہ نہ ہوتوتمام حیض ہوگااوراگرزیادہ ہوجائے توعادت کے دنوں کے ساتھ چنددن بعدعادت کے کہ جن کی مجموعی مقدارعادت کے برابرہوحیض قراردے اورباقی استحاضہ۔
مسئلہ ۴۸۳ ۔عادت والی عورت کاخون اگرتین یازیادہ دن تک آنے کے بعدرک جائے اورپھردوبارہ خون آئے اوران دونوں خون کادرمیانی فاصلہ دس دن سے کم ہواورمجموعادس سے زیادہ ہو(مثلاپانچ دن خون آیاہوپھرپانچ دن رک گیاہواور پھر پانچ دن دوبارہ آیاہو) تواس کی چندصورتیں ہیں :
۱ ۔ پہلی بارکاخون تمام یااس کی کچھ مقدارعادت کے دنوں میں ہواوردوسرا خون چوپاک ہونے کے بعدآیاہے عادت کے دنوں میں نہ ہو اس صورت میں ضروری ہے کہ پہلے تمام خون کوحیض اوردوسرے خون کواستحاضہ قراردے۔
۲ ۔ پہلاخون ایام عادت میں نہ ہواوردوسراتمام خون یااس کی کچھ مقدارعادت کے دنوں میں ہوتودوسرے تمام خون کوحیض اورپہلے کواستحاضہ قراردے۔
۳ ۔ پہلے اوردوسرے خون کی کچھ مقدارایام عادت میں ائے اورایام عادت میں انے والاپہلاخون تین دن سے کم نہ ہواوردرمیانی پاکیزگی کے ایام اوردوسے خون کاکچھ حصہ جوایام عادت میں ایاہویہ ملکردس دن سے زیادہ نہ ہوں تویہ تمام حیض ہے اورایام عادت سے پہلے آنے والاخون پہلے خون کاکچھ اورایام عادت کے بعدآنے والادوسرے خون کاکچھ حصہ استحاضہ ہوگا،مثلااگرعورت کی عادت مہینے کی تیسرے سے دسویں تاریخ تک ہواوراسے کسی مہینے کی پہلی سے چھٹی تاریخ تک آئے توتیسری سے دسویں تک حیض ہے اورگیارہویں سے پندرہویں تاریخ تک آنے والاخون استحاضہ ہے۔
۴ ۔ پہلے اوردوسرے خون کی کچھ مقدارعادت کے دنوں میں ائے لیکن پہلاخون تین دن سے کم ہوتوایسی عورت کوچاہئے کہ دونوں خون آنے کے پورے دن درمیانی پاکیزگی کے ایام ملاکران چیزوں کوترک کردے جوحائض پرحرام ہیں جن کاذکرپہلے ہوچکاہے اوراستحاضہ والی عورت نے جن چیزوں کو بجالانا ہے انہیں بجالائے۔
مسئلہ ۴۸۴ ۔ عادت وقتیہ اورعددیہ رکھنے والی عورت اگرعادت کے دنوں میں خون نہ دیکھے اوردوسرے دنوں میں ایام عادت کے مطابق خون دیکھے تواگر اوقات عادت کے بعدہوتوخون کے آنے پراسے حیض قراردے اوراگروقت عادت سے پہلے آئے اوراس میں حیض کی علامتیں موجودہوں تواسے حیض قرار دے اوراگرحیض کی علامات اس میں نہ ہوتوتین دن تک تمام وہ چیزیں جوحائض پرحرام ہیں انہیں ترک کرے اوراستحاضہ والی عبادت بجالائے یہاں تک کہ معلوم ہوجائے کہ یہ خون حیض ہے یااستحاضہ۔
مسئلہ ۴۸۵ ۔ عادت عددیہ اوروقتیہ رکھنے والی عورت اگرعادت کے دنوں میں خون دیکھے لیکن اس کے دنوں کی تعدادایام سے کم یازیادہ ہو اوران ہی عادت کے بعددوبارہ عادت کے دنوں کے مطابق خون دیکھے،تودونوں خون کے دنوں میں جوکام حائض پرحرام ہیں انہیں ترک کرے اوراستحاضہ والے اموربجالائے۔
مسئلہ ۴۸۶ ۔ عادت وقتیہ اورعددیہ رکھنے والی عورت اگردس دن سے زیادہ خون دیکھے توجس خون کوعادت کے دنوں میں دیکھاہے وہ حیض ہے اگرچہ اس میں حیض کی علامات موجود نہ ہوں اورجوخون عادت کے دنوں کے بعدآیاہے وہ استحاضہ ہے،چاہے اس میں حیض کی علامتیں پائی جاتی ہوں یانہیں،مثلاجس عورت کی عادت پہلی تاریخ سے لے کرساتویں تک تھی،اگرپہلے سے لے کربارہویں تک خون دیکھے تواس کے پہلے سات دن حیض اوربعدکے پانچ دن استحاضہ ہوں گے۔
۲ ۔ صاحب عادت وقتیہ :
مسئلہ ۴۸۷ ۔ عادت وقتیہ رکھنے والی عورتیں تین گروہ ہیں :
۱ ۔ وہ عورت جودوہ ماہ مسلسل معین وقت میں خون حیض دیکھتی رہے اورچنددن کے بعدپاک ہوجائے لیکن ان دنوں کی تعدادایک جیسی نہیں ہے ،مثلا دومہینے مسلسل مہینے کی پہلی تاریخ کوخون دیکھے لیکن پہلے مہینے ساتویں مہینے اوردوسرے مہینے آٹھویں کوخون سے پاک ہوجائے،تواس کوچاہئے کہ مہینہ کی پہلی تاریخ کوخون حیض کواپنی عادت کاپہلادن قراردے۔
۲ ۔ جوعورت خون سے پاک ہی نہیں ہوتی (پورے مہینے خون آتاہے)لیکن دوماہ مسلسل معین وقت پرآیاہے اوراس میں حیض کی علامتیں پائی جاتی ہوں اورباقی خون میں استحاضہ والی علامات ہوں،اوردنوں کی تعدادجن میں خون حیض کی علامات موجودہیں دونوں مہینوں میں ایک جیسی نہ ہو،مثلاپہلے مہینہ میں پہلی سے لے کرسات تاریخ تک اوردوسرے مہینے میں پہلے سے لے کرآٹھ تک اس کے خون میں حیض کی علامات اورباقی میں استحاضہ والی علامات ہوں تویہ عورت بھی مہینہ کی پہلی تاریخ کواپنی عادت حیض کاپہلادن قراردے گی۔
۳ ۔ جوعورت دوماہ مسلسل معین وقت میں تین دن یااس سے زیادہ خون دیکھے اوراس کے بعدپاک ہوجائے دوبارہ پھرتین دن یااس سے زیادہ خون دیکھے اورتمام وہ دن جن میں خون دیکھاہوان دونوں سمیت جن میں درمیانی وقفہ میں پاک رہی ہے دس دن سے زیادہ نہ ہوں لیکن دوسرے مہینہ کے دن پہلے سے زیادہ یاکم ہوں،مثلاپہلے مہینے میں اٹھ دن اوردوسرے مہینے میں نودن تھے تویہ عورت بھی مہینہ کی پہلی تاریخ کواپنے حیض کی عادت ابتداء قراردے۔
مسئلہ ۴۸۸ ۔ عادت وقتیہ رکھنے والی عورت اگراپنی عادت میں یاعادت سے دوتین دن پہلے یابعدمیں اس طرح خون دیکھے کہ کہاجائے کہ اس کاحیض آگے یاپیچھے ہوگیاہے توحائض عورتوں کے احکام پرعمل کرے چاہے اس خون میں حیض کے علامات ہوں یانہ ہوں،لیکن اگربعدمیں معلوم ہوجائے کہ وہ حیض نہیں تھامثلاتین دن سے پہلے پاک ہوگئی ہوتوجوعبادتیں وہ بجالائی تھی انہیں قضاکرے۔
مسئلہ ۴۸۹ ۔ عادت وقتیہ والی عورت اگردس دن سے زیادہ خون دیکھے اورحیض کے دنوں کوعلامتوں کی بناء پرتشخیص نہ دے سکے تواپنی رشتہ دارعورتوں کی عادت دنوں کے برابرحیض قراردے(چاہے باپ یاماں کی طرف سے رشتہ دارہوںزندہ یامردہ)لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب ان سب کے حیض کے دنوں کی تعدادایک جیسی ہو،لیکن اگران میں اختلاف ہو،مثلاکسی کی عادت پانچ دن اوربعض کی عادت سات دن ہوتوپھرا ن کی عادت کواپناحیض نہیں بنا سکتی مگریہ کہ جن عورتوں کی عادت دوسری عورتوں سے مختلف ہے وہ بہت کم ہوں تواس صورت میں زیادہ عورتوں کی عادت حیض قراردے۔
مسئلہ ۴۹۰ ۔ عادت وقتیہ رکھنے والی عورت جواپنی رشتہ دارعورتوں کی عادت کے برابردنوں کوحیض قراردیتی ہے تووہ ہرمہینہ اس دن کواپنااول حیض قراردے جواس کی عادت کاپہلادن ہے،مثلاجوعورت ہرمہینہ کی پہلی تاریخ کوخون دیکھتی ہے اورکبھی ساتویں اورکبھی آٹھویں دن پاک ہوجاتی ہے،اگروہ کسی مہینہ میں بارہ خون دیکھے اوراس کی رشتہ دارعورتوں کوعادت سات دن ہے تووہ مہینہ کے پہلے سات دنوں کوحیض قراردے اورباقی کواستحاضہ قراردے۔
مسئلہ ۴۹۱ ۔ عادت وقتیہ رکھنے والی عورت دواسے اپنی رشتہ دارعورتوں کی عادت کوحیض قراردیناہے اگراس کی رشتہ دارعورتیں نہ ہوں یاان کی عادت کے دنونکی تعدادایک جیسی نہ ہوتواسے چاہئے کہ ہرمہینہ جس دن خون دیکھے اس دن سے لے کرتین یاچھ یاسات دن تک خون حیض اورباقی کواستحاضہ قراردے اوربعدمیں بھی اتنے ہی دنوں کوحیض قراردے۔
۳ ۔صاحب عادت عددیہ
مسئلہ ۴۹۲ ۔ عادت عددیہ رکھنے والی عورتیں تین قسم ہیں :
۱ ۔ وہ عورت ہے جس کے حیض کے دنوں کی تعداددومہینوں میں پے درپے ایک جیسی رہی ہومگروقت بدل جاتاہے تواس صورت میں جتنے دن وہ خون دیکھتی ہے وہ اس کی عادت کے ہوں گے،مثلااگراس نے پہلے مہینے پہلی سے لے کرپانچویں تک اوردوسرے مہینہ گیارہویں سے لے کرپندرہویں تک خون دیکھا ہے توا سکی عادت پانچ دن ہوگی۔
۲ ۔ جوعورت خون سے پاک نہیں ہوتی(پورے مہینہ خون آتاہے) لیکن دوماہ مسلسل معین وقت پرخون آتاہے اوراس میں حیض کی علامتیں پائی جاتی ہیں اورباقی میں استحاضہ کی علاماتیں پائی جاتی ہیں اوردونوں مہینوں کے وہ دن جن میں علامات حیض پائی جاتی ہیں ان کی تعدادایک جیسی ہے لیکن ان کاوقت ایک جیسانہیں،تواس صورت میں جتنے دنوں میں حیض کی علامتیں پائی جاتی ہیں وہ اس کی عادت ہوں گے،مثلااگرایک مہینے میں پہلی تاریخ سے لے کرپانچویں تک اورودسری میں گیارہویں سے لے کرپندرہویں تک اس کے خون میں حیض کی علامات تھیں اورباقی میں استحاضہ کی تواس عادت کے دنوں کی تعدادپانچ دن ہوگی۔
۳ ۔ جوعورت مسلسل تین یااس سے زیادہ دن خون دیکھے اورایک دن یااس سے زیادہ پاک رہے اوردوبارہ خون دیکھے اورپہلے اوردوسرے مہنیے میں خون دیکھنے کاوقت مختلف ہوتواگرتمام وہ دن جن میں خون دیکھاہے اوروہ درمیانی دن جن میں پاک رہی ہے دس دن سے زیادہ نہ ہوں اوردنوں کی تعداد بھی ایک جیسی ہوتوتمام وہ دن جن میں متفرق طورپرخون دیکھاہے اس کی عادت حیض شمارہوں گے اورضروری نہیں کہ درمیانی پاک رہنے والے دنوں کی تعداددونوں مہنیوں میں ایک جیسی ہو،مثلااگرپہلے مہینہ میں پہلی تاریخ سے لے کرتیسری تک خون دیکھے اوردودن پاک رہے اورپھرتین دن خون دیکھے اوردوسرے مہینے گیارہویں تاریخ سے لے کرتیرہویں تک خون دیکھے اوردودن یاکم وبیش پاک رہے اورپھرخون دیکھے توسب ملاکرآٹھ دن سے زیادہ نہ بنیں تواس کی عادت آٹھ دن ہوگی۔
مسئلہ ۴۹۳ ۔ عادت عددیہ رکھنے والی عورت اگراپنی عادت سے زیادہ خون دیکھے اوردس دن سے زیادہ خون آجائے تواگرتمام خون ایک ہی قسم کاہوتوبنابر احتیاط واجب جس دن سے خون دیکھاہے اس سے اپنی عادت کے مطابق دنوں تک کوحیض قراردے اورباقی کواستحاضہ،اوراگرتمام خون ایک جیسانہ ہوبلکہ چنددنوں میں حیض کی اورکچھ دنوں میں استحاضہ کی علامات پائی جائیں،تواگروہ جن میں حیض کی علامتیں موجودہیں ان کی تعداداس کی عادت کے دنوں کے برابرہے توپھرانہیں دنوں کوحیض اوربقیہ کواستحاضہ قراردے،اوراگرحیض کی علامات والے دنوں کی تعدادعادت کے دنوں سے زیادہ ہے توعادت کی مقدارکو حیض اوربقیہ کواستحاضہ قراردے،اوراگرحیض کی علامات والے دنوں کی تعدادعادت کے ایام سے کم ہے توان دنوں کے ساتھ چنددن اورملائے کہ جن کی مجموعی تعدادعادت کے برابرہوجائے حیض قراردے اورباقی کواستحاضہ قراردے۔
۴ ۔ مضطربہ :
مسئلہ ۴۹۴ ۔ مضطربہ سے مرادوہ عورت ہے جوچندماہ خون دیکھے لیکن اس کی عادت معین نہ ہوسکی ہو،اگراسے دس دن سے زیادہ خون آئے اورتمام خون ایک جیساہوتواگراس کی رشتہ دارعورتوں کی عادت سات دن ہے توسات دن کوحیض اورباقی کواستحاضہ قراردے اوراگرکم ہو،مثلا پانچ دن ہوتوپھران ہی پانچ دنوں کوحیض قراردے اورسات دنوں اوراس کی عادت کے درمیان جودودن کافرق ہے ان دونوں میں جوچیزیں حائض پرحرام ہیں انہیں ترک کرے اورامور استحاضہ کوبجالائے ،یعنی استحاضہ والی عورت کے لئے جوعبادت کاطریقہ بیان کیاگیاہے اس کے مطابق اپنی عبادات بجالائے اوراگراس کی رشتہ دار عورتوں کی سات دن سے زیادہ ہو،مثلانودن ہوتوسات دن حیض کے ہوں گے اوراس کی عادت اورنودنوں میں جودودنوں کافرق ہے اس میں استحاضہ والی عبادات بجالائے اورحائض پرجوحرام ہیں انہیں ترک کرے۔
مسئلہ ۴۹۵ ۔ اگرمضطربہ دس دن سے زیادہ خون دیکھے جس میں چنددنوں کے خون میں حیض کی علامت اورچنددوسرے دنوں میں خون میں استحاضہ کی علامات ہوں تواگروہ خون کہ جس میں حیض کی علامات ہوں توتین دن سے کم یادس دن سے زیادہ مدت تک نہ آیاہوتوجوخون حیض کی علامت رکھتاہیے وہ حیض اورباقی استحاضہ ہوگا،اوراگرحیض کی علامات والاخون تین دن سے کم ہوتواپنی رشتہ دارعورتوں کی طرف دیکھناچاہئے اگران کی سات دن ہے توسات دن کاحیض اورباقی استحاضہ قراردے،اوراگررشتہ دارعورتوں کی عادت سات دن سے کم یاسات دن سے زیادہ ہوتواس دستورپرعمل کرے جوگزشتہ مسئلہ میں بیان کیاجاچکاہے اوراسی کوحیض قراردے یعنی سات دن تک حائض ہوگی اورباقی ایام میں اس دستورپرعمل کرے گی جوگزشتہ مسائل میں بیان ہوچکاہے اوراسی طرح ہے اگرجس خون میں حیض کی علامات موجودتھیں اس کے دس دن گزرنے سے پہلے دوبارہ خون دیکھے جب کہ اس میں بھی حیض کی علامات ہوں،مثلاپانچ دن سیاہ رنگ کاخون دیکھے اورنودن زردرنگ کاخون اورپھردوبارہ پانچ دن سیاہ رنگ کاخون دیکھے تواس پہلے خون کوحیض کاخون قراردے اور باقی کے متعلق سات دن تک جودستورپہلے مسئلہ میں بیان کیاگیاہے اس کے مطابق عمل کرے ۔
۵ ۔ مبتدئیہ :
مسئلہ ۴۹۶ ۔ مبتدئیہ ،یعنی جوعورت پہلی مرتبہ خون دیکھے ،اگردس دن سے زیادہ خون دیکھے اورسب ایک ہی طرح کاہوتومسئلہ سابق کے مطابق اپنی رشتہ دارعورتوں کے مطابق حیض قراردے اورباقی کواستحاضہ۔
مسئلہ ۴۹۷ ۔ اگرمبتدئیہ دس دن سے زیادہ خون دیکھے جس میں چنددن کے خون میں حیض کی علامات ہوں اورباقی میں استحاضہ کی علامتیں ہوں،تووہ خون جسمیں حیض کی علامات ہوں اگرتین دن سے کم اوردس دن سے زیادہ نہ ہوتووہ سب حیض ہے اورجس میں حیض کی علامات نہ ہوں وہ استحاضہ ہے،لیکن ا گردس دن گزرنے سے پہلے خون کے جس میں حیض کی علامات تھیں دوبارہ خون آئے اوراس میں بھی حیض کی علامات ہوں،مثلاپانچ دن سیاہ خون آئے تواسے چاہئے کہ پہلے آنے والے خون کوجس میں حیض کی علامات پائی جاتی ہیں حیض قراردے اوردونوں کی تعین میں اپنی رشتہ دارعورتوں کی طرف رجوع کرے اورباقی ایام کواستحاضہ قراردے۔
مسئلہ ۴۹۸ ۔ اگرمبتدئیہ دس دن سے زیادہ خون دیکھے جس میں چنددن کے خون میں حیض کی علامات ہوں اورچنددن میں استحاضہ کی علامات ،لیکن جس خون میں حیض کی علامات ہوں وہ تین دن سے کم یادس دن سے زیادہ آیاہوتواسے چاہئے پہلے آنے والے خون کوجس میں حیض کی علامات تھیں حیض قراردے اورایام کی تعین میں اپنی رشتہ دارعورتوں کی طرف رجوع کرے اورباقی ایام کواستحاضہ قراردے۔
۶ ۔ ناسیہ :
مسئلہ ۴۹۹ ۔ ناسیہ ،یعنی وہ عورت جواپنی عادت بھول گئی ہواگردس دن سے زیادہ دیکھے تواسے چاہئے کہ جس خون میں حیض کی علامات ہوں دس دن تک اسے حیض قراردے اورباقی ایام کواستحاضہ قراردے اوراگرعلامات کے ذریعہ حیض کی تشخیص نہ کرسکتی ہوتواحتیاط واجب کی بناء پرپہلے سات دن کوحیض اور باقی ایام کواستحاضہ قراردے۔
حیض کے مختلف مسائل :
مسئلہ ۵۰۰ ۔ مبتدئیہ ،مضطربہ،ناسیہ اورعادت رکھنے والی عورت جس وقت ایساخون دیکھے جس میں حیض کی علامات ہویااسے یقین ہوکہ یہ تین دن تک رہے گاتواس کوفوراعبادت ترک کردینی چاہئے اوراگربعدمیں پتاچلے کہ وہ حیض نہیں تھاتوچھوڑی ہوئی عبادتوں کی قضاکرے لیکن اگراسے یقین نہ ہوکہ تین دن تک خون رہے گااوراس میں حیض کی علامات بھی موجودنہ ہوں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ تین دن تک وہ استحاضہ والے کام کریں اورجوکام حیض والی عورت پرحرام ہیں وہ ترک کریں اوراگرتین دن گزرنے سے پہلے پاک نہ ہوتوپھراسے حیض قراردے۔
مسئلہ ۵۰۱ ۔ جوعورت صاحب عادت ہے ،خواہ وقتیہ اورعددیہ ہویافقط عددیہ ہویافقط وقتیہ ہو،اگردوماہ مسلسل اپنی عادت کے خلاف خون دیکھے کہ جس کاوقت یاعددیادونوں ایک دوسرے کی طرح ہوں تواس کی عادت جس طرح ان دومہینوں میں اس نے دیکھاہے اس کی طرف پلٹ آئے گی،مثلااگر وہ مہینے کی پہلی تاریخ سے ساتویں تک خون دیکھتی ہے اورپاک ہوجاتی تھی اب اگروہ دومہینہ دسویں سے سترہویں تک خون دیکھے اورپاک ہوجائے تودسویں سے سترہویں تک اس کی عادت بن جائے گی۔
مسئلہ ۵۰۲ ۔ ایک مہینہ سے مرادخون دیکھنے کی ابتدائی وقت سے لے کرتیس دن تک ہے نہ مہینہ کی پہلی سے مہینہ کی آخری دن تک ہے۔
مسئلہ ۵۰۳ ۔ جوعورت ایک ماہ میں صرف ایک مرتبہ خون دیکھتی ہے اگرکسی مہینہ میں دومرتبہ خون آجائے اوراس میں حیض کی علامتیں بھی ہو،چنانچہ درمیان کے جن دنوں میں پاک رہی تھی اگروہ دس دن سے کم نہ ہوں تودونوں کوحیض قراردے۔
مسئلہ ۵۰۴ ۔ اگرتین دن یااس سے زیادہ خون دیکھے جس میں حیض کی علامات ہوں اس کے بعددس دن یااس سے زیادہ خون دیکھے جس میں استحاضہ کی علامت ہواورپھرتین دن ایساخون دیکھے جس میں حیض کی علامات ہوں توپہلااوردوسراخون کوجس میں حیض کی علامات موجود ہیں حیض قراردیناچاہئے۔
مسئلہ ۵۰۵ ۔ اگرعورت دس دن سے پہلے پاک ہوجائے اوراس کومعلوم ہوکہ اندربھی خون نہیں ہے اسے غسل کرکے اپنی عبادتوں کوبجالاناچاہئے، چاہے اسے یقین ہوکہ دس دن تمام ہونے سے پہلے اس کودوبارہ آجائے گالیکن اگراسے یقین ہوکہ دس دن پورے ہونے سے پہلے اسے دوبارہ خون آئے گاتووہ غسل نہ کرے اورنماز بھی نہیں پڑھ سکتی،بلکہ حیض والی عورت کے احکام پرعمل کرے۔
مسئلہ ۵۰۶ ۔ اگرعورت دس دن سے پہلے پاک ہوجائے لیکن اسے یہ احتمال ہوجائے کہ اندخون موجودہے توتھوڑی سی روئی اندرداخل کرکے دیکھ لیناچاہئے،اگرصاف ہوتوغسل کرے اورعبادتوں کوبجالائے اوراگرصاف نہ ہوچاہے خون کے پانی ہی سے آلودہ ہوتواگراس کی حیض کی عادت مقررنہیں ہے یااس کی عادت دس دن ہے تواسے انتظارکرناپڑے گااوراگروہ دس دن سے پہلے پاک ہوجائے توغسل کرے اوراگردسویں دن پاک ہویااس کاخون دس دن سے تجاوزکرے تودسویں دن کے آخری وقت غسل کرے تواگراس کی عادت دس دنوں کم ہوتواگراسے یقین ہوکہ دس روزپورے ہونے سے پہلے یادسویں دن کے آخری وقت پاک ہوجائے گی توغسل نہ کرے اوراگراسے احتمال ہوکہ اس کاخون دس سے زیادہ ہوجائے گاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ ایک دن عبادت کوترک کرے اواس کے بعددس دن تک عبادت ترک کرسکتی ہے،لیکن بہتریہ ہے کہ دسویں دن تک استحاضہ والی عورت کے احکام کوبجالائے اوران کاموں کوجوحائض پرحرام ہیں ترک کرے،پس اگروہ دس دن تمام ہونے سے پہلے یادسویں دن کے آخری وقت میں خون سے پاک ہوجائے تووہ تمام حیض ہوگا اوراگردس دن سے آگے بڑھ گیاتوپھراپنی عادت کوحیض اورباقی کو استحاضہ قراردے اوران عبادات کی قضاکرے جوعادت کے دنوں کے بعدادانہیں کرتی رہی۔
مسئلہ ۵۰۷ ۔ اگرچنددن کوحیض قراردے اورعبادات کوترک کردے اوربعدمیں معلوم ہوجائے کہ یہ حیض نہیں تھاتونمازاورروزہ جوان دنوں ترک کرتی رہی ہے اس کی قضاکرے اوراگرچنددن اس خیال سے عبادت کرتی رہی ہے کہ یہ خون حیض نہیں تھابعدمیں معلوم ہوجائے کہ یہ خون حیض تھاتواگران دنوں روزہ رکھتی رہی ہے توان کی قضاکرے۔
احکام نفاس :
مسئلہ ۵۰۸ ۔ بچہ کے پہلے ہی جزوکے بطن مادرسے باہرآتے ہی جوخون بھی آئے اگردس دن سے پہلے یادسویں دن کے آخرمیں خون آنابند ہوجائے تووہ خون نفاس ہے اورنفاس کی حالت میں عورت کونفساء کہتے ہیں۔
مسئلہ ۵۰۹ ۔ بچے کے جسم کے پہلے حصہ کے باہرآنے سے پہلے جو خون عورت دیکھے وہ نفاس نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۱۰ ۔ یہ ضروری نہیں کہ بچہ کی خلقت پوری ہوبلکہ اگرخون کالوتھڑابھی رحم سے خارج ہواورخودعورت کومعلوم ہویاچاردائیاں یہ کہیں کہ اگریہ رحم میں باقی رہتاتوانسان بن جاتاتوجوخون اسے دس دن تک آئے گاوہ نفاس ہوگا۔
مسئلہ ۵۱۱ ۔ ممکن ہے کہ نفاس ایک لحظہ سے زیادہ نہ آئے لیکن دس دن سے بہرحال زیادہ نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۵۱۲ ۔ اگرشک ہوکہ کوئی چیزساقط ہوئی ہے یانہیں یاجوکچھ ضائع ہواہے اگروہ رہ جاتاتوانسان بن جاتایہ نہیں توجوخون نکلے وہ نفاس نہیں ہے اورجستجو کرنابھی لازم نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۱۳ ۔ مسجدمیں ٹہرنااورمسجدالحرام اورمسجدالنبی میں داخل ہونااوربدن کے کسی حصہ سے حروف قرآن کوچھونااوردوسرے امورجوحیض والی عورت کے لئے حرام ہیں نفاس والی کے لئے بھی حرام ہیں اورجو چیز حائض کے لئے واجب یامستحب یامکروہ ہیں وہ نفساء کے لئے بھی واجب، مستحب یامکروہ ہیں۔
مسئلہ ۵۱۴ ۔ حالت نفاس میں عورت کوطلاق دیناباطل ہے اوراس سے ہمبستری کرناحرام ہے اوراگرشوہراس سے ہمبستری کرلے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ جس طرح احکام حیض میں بیان ہوچکاہے کفارہ اداکرے۔
مسئلہ ۵۱۵ ۔ خون نفاس سے پاک ہونے کے بعدعورت کوغسل کرکے عبادتوں کوانجام دیناچاہئے اوراگردوبارہ اسے خون آجائے تواگروہ دن جن میں خون دیکھاان دنوں سمیت کہ درمیانی عرصہ میں جن میں پاک رہی ہے مجموعادس دن یااس سے کم ہوں توسارے خون کونفاس قراردے اورجن دنوں میں پاک رہی ہے اگراس نے روزہ رکھاہے تواس کی قضابجالائے ۔
مسئلہ ۵۱۶ ۔ اگرعورت بظاہرنفاس سے پاک ہوجائے مگراحتمال ہوکہ اندر خون ہوسکتاہے توتھوڑی سی روئی اندرداخل کرکے چیک کرے اگرپاک ہوتو غسل کرکے اپنی عبادتوں کوانجام دے۔
مسئلہ ۵۱۷ ۔ اگرخون نفاس دس دن سے زیادہ آجائے اوروہ عورت حیض میں عادت رکھتی ہوتواس کی عادت کے دنوں کے برابرنفاس ہوگاباقی استحاضہ اوراگرعادت نہیں رکھتی تھی تودس دن تک نفاس ہے باقی استحاضہ اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ جس عورت کی عادت معین ہے وہ عادت کے بعدسے اورجس کی عادت نہیں ہے وہ بچہ جننے کے دس دن کے بعدسے اٹھارہ دن تک استحاضہ والے اموربجالائے اوروہ کام جونفاس والی عورت پرحرام ہیں انہیں ترک کردے۔
مسئلہ ۵۱۸ ۔ جس عورت کی عادت حیض میں دس دن سے کم ہواوراس کونفاس عادت سے زیادہ آجائے توعادت کے دنوں کے برابرنفاس قراردے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ایک یادویادس دن تک عبادت کوترک کرے اوراگردس دن سے زیادہ ہوجائے توایام عادت کوحیض اورباقی کواستحاضہ قراردے اوراگرعبادت ترک کی ہے توقضابجالائے۔
مسئلہ ۵۱۹ ۔ بہت سی عورتوں کووضع حمل کے ایک ماہ یااس سے بھی زیادہ دنوں تک خون آتاہے ایسی عورتوں کی اگرحیض میں عادت معین ہوتواپنی عادت کی تعدادکے مطابق اتنے دنوں تک نفاس قراردے اورنفاس کے دس دن گزرنے کے بعدجوخون دیکھے گرچہ ماہانہ عادت کے دنوں میں ہی کیوں نہ آجائے وہ استحاضہ ہوگا،مثلاجس عورت کی عادت حیض میں ہرمہینہ کی بیسویں سے ستائیس تک تھی اگراس نے مہینہ کی دس تاریخ کوبچہ جنااورایک مہینہ یازیادہ مسلسل خون آتارہاتوسترہویں تاریخ تک نفاس ہوگااورسترہویں سے لے کردس دن تک یہاں تک کہ وہ خون جواس کی عادت کے دنوں میں تھاجوکہ بیسویں سے لیکرستائیسویں تک تھی استحاضہ ہوگااوردس دن گزرنے کے بعدجوخون دیکھے اگروہ اسی کی عادت کے دنوں میں ہے توحیض ہوگا،چاہے اس میں حیض کی علامات پائی جائیں یانہ پائی جائیں اوراگرخون اس کی عادت کے دنوں میں نہیں،اگرچہ اس میں حیض کی علامات موجودبھی ہوتوبھی اسے استحاضہ قراردے۔
مسئلہ ۵۲۰ ۔ جن عورتوں کووضع حمل کے بعدایک ماہ یااس سے زیادہ مدت تک خون آتارہاہے اگران کی ماہواری کی عادت نہیں ہے تواول کے دس دن نفاس ہیں اوراس کے بعدکے دس دن استحاضہ ہیں،اس کے بعدکے خون میں اگرحیض کی علامت ہے توحیض ورنہ وہ بھی استحاضہ ہے۔
غسل مس میت :
مسئلہ ۵۲۱ ۔ اگرانسان کے مردہ کوٹھنڈاہونے کے بعداورغسل سے پہلے کوئی مسل کرے (یعنی اس کے بدن کاکوئی حصہ میت کے بدن سے چھوجائے) تواس پرمس میت کاغسل واجب ہوجاتاہے،خواہ نیندمیں مس کرے یابیداری میں،بااختیارمس کیاہویابے اختیار،انتہایہ ہے کہ اگرکسی کاناخن یاہڈی بھی میت کے ناخن سے یاہڈی سے مس ہوجائے توغسل واجب ہے لیکن اگرمردہ حیوان کوچھولے توغسل واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۲۲ ۔ ایسے مردہ کوچھونے سے جس کاتمام بدن سردنہ ہواہو غسل واجب نہیں ہوتاچاہے وہ جگہ سردہوچکی ہوجس کومس کیاہے۔
مسئلہ ۵۲۳ ۔ اگراپنے بالوں کومیت کے بدن اس سے اس طرح مس کرے کہ مس میت صادق نہ آئے یااپنابدن میت کے بالوں سے یااپنے بال اس کے بالوں سے مس کرے توغسل واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۲۴ ۔ مردہ بچے کے مس کرنے کے لیے حتی کہ اس سقط شدہ بچے کے لئے بھی جوپورے چارمہینے کاہوچکاہے غسل مس میت واجب ہے،بلکہ بہتریہ ہے کہ اس سقط شدہ بچے کے مس کرنے کے لئے بھی غسل کیاجائے جوچارمہینے سے کم کاہے لہذااگرچارمہینے کابچہ مردہ دنیا میں ائے تواس کی ماں غسل مس میت کرے بلکہ اگربچہ چارمہینے سے کم کاہوتوبھی بہترہے اس کی ماں غسل مس میت کرے۔
مسئلہ ۵۲۵ ۔ اگرماں کے مرنے کے بعدکوئی بچہ دنیامیں ائے تووہ بالغ ہونے کے بعدغسل مس میت کرے۔
مسئلہ ۵۲۶ ۔ اگرانسان اس میت کوچھولے کہ جس کے تینوں غسل مکمل ہوگئے ہیں تواس پرغسل کرناواجب نہیں ہے ،لیکن اگرتیسرے غسل کے پورے ہونے سے پہلے اس کے جسم کے کسی حصہ کومس کرے تواسے غسل مس میت کرناپڑے گااگرچہ اس حصہ کاتیسرا غسل بھی پوراہوچکاہے۔
مسئلہ ۵۲۷ ۔ اگرنابالغ یادیوانہ بچہ میت کومس کرے توبالغ اورعاقل ہونے کے بعداس پرغسل مس میت واجب ہے۔
مسئلہ ۵۲۸ ۔ اگرکسی زندہ یاایسے مردہ سے کہ جس کوغسل نہیں دیاگیاہے کوئی ایساٹکڑاجداہوجائے جس میں ہڈی ہواوراس جدہ شدہ حصہ کوغسل دینے سے پہلے چھولیاہوتواسے غسل مس میت کرناپڑے گا،لیکن اگرجدہ شدہ حصہ میں ہڈی نہ ہواوروہ میت سے جداہواہوتواسے چھونے سے غسل واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۵۲۹ ۔ کسی ایسی ہڈی اوردانتوں کے مس کرنے سے جوکسی مردہ انسان کے بدن سے جداہوئی ہواوراسے غسل بھی نہ دیاگیاہواحتیاط واجب کی بناء پرغسل کرناچاہئے لیکن ایسی ہڈی اوردانت کے مس کرنے سے جوزندہ سے جداہوئی ہے اوراس پرگوشت نہ ہوغسل واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۳۰ ۔ غسل مس میت غسل جنابت کی طر ح کیاجاتاہے لیکن جس نے غسل مس میت کیاہے نمازپڑھنے کے لئے اسے وضوکرناچاہئے۔
مسئلہ ۵۳۱ ۔ اگرکئی مردوں کومس کرے یاایک ہی مردہ کوچندبارچھولے توسب کے لئے ایک غسل کافی ہے۔
مسئلہ ۵۳۲ ۔ جس پرغسل مس میت واجب ہووہ مسجدمیں جاسکتاہے اورسورہ ہائے سجدہ کوپڑھ سکتاہے ،اپنی بیوی سے ہمبستری کرسکتاہے لیکن نمازوطواف وغیرہ کے لئے غسل اوروضوکرناضروری ہے۔
محتضر کے احکام :
مسئلہ ۵۳۳ ۔ محتضریعنی جوشخص جان کنی کے عالم میں ہواس کواس طرح چت لٹاناچاہےے کہ دونوں پیروں کے تلوے روبقبلہ ہوں چاہے مرنے والامردہویا عورت بڑاہویاچھوٹااوراگرپورے طورسے اس طرح لٹاناممکن نہ ہوتوجتناممکن ہے اس طریقہ پررجاء عمل کیاجائے (یعنی حکم خداکی اطاعت کی امیدپر) اوراگراسے لٹاناکسی طرح بھی ممکن نہ ہوتواسے قبلہ رخ بٹھادیاجائے اوراگریہ بھی نہ ہوسکے توپھرداہنی کروٹ یابائیں کروٹ اسے قبلہ رخ لٹاجائے۔
مسئلہ ۵۳۴ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک میت کاغسل پورانہ ہوجائے اسے قبلہ رخ رکھاجائے لیکن غسل پوراہونے کے بعدبہتریہ ہے کہ اسے اس طرح رکھاجائے کہ جس حالت میں اس پرنمازپڑھتے ہیں۔
مسئلہ ۵۳۵ ۔ محتضرکوروبہ قبلہ لٹاناہرمسلمان پرواجب ہے اوراس کے ولی سے اجازت لنیالازم نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۳۶ ۔ مستحب ہے کہ محتضرکوشہادتین،بارہ اماموں کااقرار، اسلام کے تمام عقائداس طرح تلقین کریں کہ وہ سمجھ لے اوریہ بھی مستحب ہے کہ مرتے دم تک تکرارکرتے رہیں۔
مسئلہ ۵۳۷ ۔ مستحب ہے کہ محتضرکویہ دعااس طرح تلقین کریں کہ وہ سمجھ جائے : اللہم اغفرلی الکثیرمن معاصیتک واقبل منی الیسیرمن طاعتک یامن یقبل الیسیرویعفوعن الکثیراقبل منی الیسیرواعف عنی الکثیر،انک انت العفوالغفور۔ ا للہم ارحمنی فانک رحیم۔
مسئلہ ۵۳۸ ۔ اگرکسی کی جان مشکل سے نکل رہی ہوتومستحب ہے کہ اس کی نمازکی جگہ پراس کولٹادیں۔
مسئلہ ۵۳۹ ۔ محتضرکوراحت پہنچانے کے لئے مستحب ہے کہ اس کے سرہانے سورہ ”یسین“ و”صافات“واحزاب وآیةالکرسی “ اورسورہ”اعراف“ کی ۵۴ ویں ایت یعنی ”ان ربکم الله الذی خلق السموات “ اورسورہ بقرةکی آخری تین آیت پڑھنامستحب ہے بلکہ جتناقرآن ممکن ہوپڑھیں۔
مسئلہ ۵۴۰ ۔ محتضرکوتنہاچھوڑدینایااس کے پیٹ پرکسی وزنی چیزکا رکھنامجنب وحائض کااس کاپاس رہنا،رونا،بات چیت کرنا،صرف عورتوں کواس کے پاس چھوڑدینامکروہ ہے۔
موت کے بعدکے احکام :
مسئلہ ۵۴۱ ۔ مستحب ہے کہ مرنے کے بعدمیت کے منہ کوبند کردیا جائے تاکہ وہ کھلانہ رہے،آنکھوں کواورٹھڈی کوباندھ دیں،ہاتھ پاؤں کوسیدھا کردیں، میت پرایک چادرڈال دیں، اوراگررات کومرجائے تواس کے مرنے کی جگہ چراغ روشن کیاجائے ،تشییع جنازہ کے لئے مومنین کواطلاع دیں، دفن میں جلدی کریں،لیکن اگرمرنے کایقین نہ ہوتویقین ہونے تک صبرکریں اوراگرمیت حاملہ ہے جبکہ اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہے توضروری ہے کہ اس کے دفن میں اتنی تاخیرکی جائے کہ اس کے بائیں پہلوکوچاک کرکے بچے کونکال لیا جائے اورپھراسے سی دیاجائے۔
میت کے غسل، کفن، نمازاوردفن کے احکام :
مسئلہ ۵۴۲ ۔ ہرمسلمان میت کاغسل،کفن، نمازاوردفن اگرچہ بارہ امام کوماننے والانہ بھی ہوہرمکلف پرواجب کفائی ہے،یعنی اگربعض اشخاص نے ا نجام دیدیا توسب سے ساقط اوراگرکسی نے نہ دیاتوسب گنہگارہیں۔
مسئلہ ۵۴۳ ۔ اگرکوئی غسل وکفن ودفن میں مشغول ہوجائے تو دوسروں پراقدام کرناواجب نہیں ہے لیکن اگروہ اپنے کام کوادھوراچھوڑدے تو دوسروں کوتکمیل کرناچاہئے۔
مسئلہ ۵۴۴ ۔ اگرکسی کویقین ہوجائے کہ دوسرا شخص میت کے امور میں مشغول ہے تواس پران کاموں میں اقدام کرناضروری نہیں،لیکن اگراسے شک یا گمان ہے توپھراقدام کرناہوگا۔
مسئلہ ۵۴۵ ۔ اگرکسی کومعلوم ہوجائے کہ غسل، کفن، نمازیادفن میت باطل طریقہ پردیاگیاہے تودوبارہ انجام دیناچاہئے لیکن اگرگمان یاشک ہوکہ صحیح بجالایاگیاہے یاغلط توپھراقدام کرناضروری نہیں۔
مسئلہ ۵۴۶ ۔ میت کے غسل وکفن، نمازودفن کے لئے اس کے ولی سے اجازت لینی چاہئے ۔
مسئلہ ۵۴۷ ۔ عورت کاولی غسل،کفن ودفن میں اس کاشوہرہے اوراس کے بعدوہ مردہیں جومیت سے میراث پاتے ہیں،وہ عورتوں سے مقدم ہیں اورمیراث ہی کی ترتیب سے ولایت ہے۔
مسئلہ ۵۴۸ ۔ اگرکوئی کہے کہ میں میت کاولی یاوصی ہوں یامیت کے ولی نے مجھے اجازت دی ہے کہ اس کے اعمال بجالاؤں جبکہ کوئی اورشخص اس طرح کی دعوی نہ کرے تواس صورت میں اس شخص کی بات قابل قبول ہوگی اورمیت کے اموراسی کے سپردہوں گے۔
مسئلہ ۵۴۹ ۔ اگرمیت اپنے کاموں کے لئے اپنے ولی کے علاوہ کسی اورکومعین کرجائے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ولی اوروہ شخص دونوں اجازت دیں، لیکن میت نے جس شخص کوان امورکی انجام دہی کے لئے معین کیاہے ضروری نہیں ہے کہ وہ شخص قبول بھی کرلے،لیکن اگرقبول کرلیاتواسے وصیت کے مطابق عمل کرناچاہئے۔
غسل میت کے احکام :
مسئلہ ۵۵۰ ۔ میت کوتین غسل دیناواجب ہے :
۱ ۔ ایسے پانی سے جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں۔
۲ ۔ ایسے پانی سے جس میں کافورملاہو۔
۳ ۔ خالص پانی کے ساتھ۔
مسئلہ ۵۵۱ ۔ بیری کے پتے اورکافوراتنے زیادہ نہ ہوں کہ پانی کومضاف کردیں اوراتنے کم بھی نہ ہوں کہ یہ نہ کہاجاسکے کہ اس میں بیری کے پتے اورکافور ملے ہوئے ہیں۔
مسئلہ ۵۵۲ ۔ اگرضرورت کے مطابق بیری کے پتے اورکافورنہ مل سکے توبناء براحتیاط واجب جتنی مقدارکے پتے میسرہوں اسے پانی میں ڈالاجائے لیکن اس قدرکم نہ ہوں کہ یہ نہ کہاجاسکے کہ بیری اورکافوراس پانی میں نہیں ملائے گئے ہیں۔
مسئلہ ۵۵۳ ۔ جس شخص نے حج کااحرام باندھاہواگروہ صفااورمروہ کے درمیان سعی مکمل کرنے سے پہلے مرجائے تواسے کافورکے پانی سے غسل نہ دیں بلکہ کافورکے بدلے خالص پانی سے غسل دیاجائے گااوراسی طرح ہے اگرعمرہ کے احرام میں بال کاٹنے سے مرجائے ۔
مسئلہ ۵۵۴ ۔ اگربیری کے پتے اورکافوریاان میں سے کوئی نہ مل سکے یاان کااستعمال جائزنہ ہومثل غصبی ہوتوان میں سے جوبھی ممکن نہ ہواس کے بدلے میت کوخالص پانی سے غسل دیاجائے گا۔
مسئلہ ۵۵۵ ۔ میت کوغسل دینے والے کودوازدہ امامی، بالغ، عاقل ہونا چاہئے اورغسل کے لازمی مسائل کوجاننے والاہوناچاہئے۔
مسئلہ ۵۵۶ ۔ میت کوغسل دینے والاکوقصدقربت رکھناچاہئے یعنی غسل حکم خدابجالانے کے لئے انجام دے اوراگرتیسرے غسل کے آخر تک اسی نیت پرباقی رہے توکافی ہے اورعلیحدہ نیت کی ضرورت نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۵۷ ۔ مسلمان کابچہ چاہے زناسے پیداہواہواس کاغسل واجب ہے،کافراوراس کی اولادکاغسل کفن اوردفن شریعت میں جائزنہیں ہے اورجو شخص بچپن سے دیوانہ ہواوردیوانگی کی حالت میں ہی بالغ ہوجائے تواگراس کے ماں باپ یاان میں سے کوئی ایک مسلمان ہوتواسے غسل دیناچاہئے اوراگران میں سے کوئی مسلمان نہ ہوتوپھرغسل دیناجائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۵۸ ۔ سقط شدہ بچہ اگرچارماہ یااس سے زیادہ کاہوتواسے غسل دیاجائے گااوراگرچارماہ کانہیں تواسے کپڑے میں لپیٹ کرغسل کے بغیردفن کردیں۔
مسئلہ ۵۵۹ ۔ مردعورت کواورعورت مردکوغسل نہیں دے سکتے اورغسل باطل ہے،البتہ میاں بیوی ایک دوسرے کوغسل دے سکتے ہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کوغسل نہ دیں۔
مسئلہ ۵۶۰ ۔ مردتین سال سے کم عمرکی بچی کوغسل دے سکتاہے اورعورت تین سال سے کم عمرکے بچے کوغسل دے سکتی ہے۔
مسئلہ ۵۶۱ ۔ اگرمردکی میت کوغسل دینے کے لئے کوئی مردنہ مل سکے توجوعورتیں اس کی محرم اوررشتہ دارہیں جیسے ماں،بہن،پھوپھی اور خالہ اگرچہ رضاعیت سے ہواس مردکوغسل دے سکتی ہے زیرلباس سے، اسی طرح اگرعورت کی میت کوغسل دینے کے لئے عورت نہ مل سکے تواس عورت کے محرم مرداس کوغسل دے سکتے ہیں البتہ لباس کے اوپرسے۔
مسئلہ ۵۶۲ ۔ اگرمرد کی میت کومردیاعورت کی میت کوعورت غسل دے توبہتریہ ہے کہ شرمگاہ کے علاوہ اس کے پورے بدن کوبرہنہ کرلے۔
مسئلہ ۵۶۳ ۔ میت کی شرمگاہ پرنگاہ کرناحرام ہے اورغسل دینے والااگر دیکھ لے توگنہگارہوگاغسل باطل نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۵۶۴ ۔ اگرمیت کاکوئی عضونجس ہوگیاہوتوغسل دینے سے پہلے اس کوپاک کردیں اوراحتیاط واجب ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے میت کے پورے جسم کونجاست سے پاک کریں۔
مسئلہ ۵۶۵ ۔غسل میت کاطریقہ غسل جنابت کی طرح ہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک غسل ترتیبی ممکن ہوارتماسی نہ دیں البتہ غسل ترتیبی میں یہ جائزہے کہ بدن کے تینوں حصوں کوترتیب سے پانی میں ڈبودیں۔
مسئلہ ۵۶۶ ۔ اگرعورت حالت حیض میں یامردحالت جنابت میں مرجائے تووہی غسل میت کافی ہے۔
مسئلہ ۵۶۷ ۔ میت کوغسل دینے کے لئے مزدوری لیناجائزنہیں ہے ،البتہ مقدمات کے لئے اجرت لینے میں اشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۶۸ ۔ اگرپانی نہ ملے یامیت کابدن ایساہوکہ اس کوغسل نہ دیا جاسکتاہوتومیت کوہرغسل کے بدلے ایک تیمم دیں۔
مسئلہ ۵۶۹ ۔ میت کوتیمم دینے والاشخص میت کے روبروبیٹھے اوراپنے ہاتھوں کوزمین پرمارے اورمیت کے چہرے اورہتھیلیوں کی پشت پرہاتھ پھیرے اوراگرممکن ہوتو ا حتیاط لازم یہ ہے کہ میت کے ہاتھوں سے بھی اس کوتیمم کروائے۔
کفن کے احکام :
مسئلہ ۵۷۰ ۔ مسلمان میت کوتین کپڑوں میں کفن دیناواجب ہے : ایک لنگ دوسراپیراہن (قمیض) تیسرے سرتاسری(چادر)۔
مسئلہ ۵۷۱ ۔ لنگ ایسی ہوکہ ناف سے زانوتک تمام اطراف بدن کوچھپا سکے اوربہتریہ ہے کہ سینہ سے پیروں تک پہنچ جائے اوربناء براحتیاط واجب قمیض کاندھے سے آدھی پنڈلی تک تمام بدن کوچھپاسکنے والی ہواوربہتریہ ہے کہ پاؤں کے اوپرتک پہنچ جائے اورچادر اتنی لمبی ہوکہ سراورپیروں کی طرف سے باندھناممکن ہواورچوڑائی اتنی ہوکہ ایک طرف کاحصہ دوسری طرف ڈالاجاسکے۔
مسئلہ ۵۷۲ ۔ لنگ کی وہ مقدارجوناف سے گھٹنوں تک چھپائے اورپیراہن کی وہ مقدارجوکندھے سے نصف پنڈلی تک چھپائے یہ واجب کفن کی مقدار ہے اوراس سے زیادہ مقدارجوگزشتہ مسئلہ میں بیان ہوچکی ہے یہ مستحب کفن کی مقدارہے۔
مسئلہ ۵۷۳ ۔ اگرمیت کے وارث بالغ ہوں اوریہ اجازت دیدیں کہ کفن کے مقدارواجب اورمستحب کوان کے حصہ وراثت سے لے لیاجائے توکوئی اشکال نہیں ہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ واجب کفن کی مقدارسے زیادہ اوراسی طرح وہ مقدارجو احتیاط ضروری ہے نابالغ وارث کے حصہ سے نہ لی جائے۔
مسئلہ ۵۷۴ ۔ اگرکوئی وصیت کرجائے کہ مستحب کفن کی مقداراس کے مال کے تیسرے حصہ سے لی جائے یایہ وصیت کرے کہ مال کاتیسرا حصہ اس کے اپنے مصارف پرخرچ کیاجائے لیکن مصرف معین نہ کرے یاصرف کچھ مقدارکامصرف معین کرجائے تومستحب کفن کی مقداراس کے مال کے تیسرے حصہ سے لی جاسکتی ہے۔
مسئلہ ۵۷۵ ۔ عورت کاکفن شوہرکے ذمہ ہے چاہے عورت خودمالدار ہواور جس عورت کوطلاق رجعی دی گئی ہے اَگروہ عدت تمام ہونے سے پہلے مرجائے تواس کابھی کفن شوہرکے ذمہ ہوگااوراگرشوہرنابالغ یادیوانہ ہوتوولی شوہرکواس کے مال سے کفن دیناچاہئے۔
مسئلہ ۵۷۶ ۔ میت کاکفن اس کے رشتہ داروں پرواجب نہیں ہے اگرچہ زندگی میں اس کے مخارج ان ہی پرواجب ہوں۔
مسئلہ ۵۷۷ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ کفن کے تینوں ٹکڑے اتنے باریک نہ ہوں کہ میت کابدن نیچے سے دکھائی دے۔
مسئلہ ۵۷۸ ۔ غصبی کپڑے میں کفن دیناجائزنہیں ہے چاہے کفن کے لئے کوئی دوسری چیزمہیانہ ہوسکے اوراگرمیت کوغصبی کفن دیاگیاہواوراس کامالک راضی نہ ہوتومیت کے بدن سے اس کفن کااتارلیناواجب ہے چاہے اس کودفن بھی کرچکے ہوں، لیکن بناء براحتیاط مجبوری کی حالت میں مردارکی کھال میں کفن دیناجائزہے۔
مسئلہ ۶۷۹ ۔ نجس چیزاورخالص ریشمی کپڑے اورسونے کی تاروں سے بنے ہوئے کپڑے میں میت کوکفن دیناجائز نہیں ہے لیکن اگرمجبوری ہوتوکوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۸۰ ۔ میت کوایسے کپڑے میں کفن دیناجوحرام گوشت جانورکی اون یابالوں سے تیارکیاگیاہوحالت اختیارمیں جائز نہیں ہے لیکن اگرحلال گوشت جانورکے کھال کواس طرح سے بنائیں کہ اسے جامہ کہاجائے اوراسی طرح حلال گوشت جانور کے بالوں اورپشم سے بنے ہوئے کفن میں کوئی اشکال نہیں آگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان دونوں میں بھی کفن نہ دیاجائے۔
مسئلہ ۵۸۱ ۔ اگرکفن بیرونی نجاست سے یاخودمیت کی نجاست سے نجس ہوجائے تواگرکفن ضائع نہ ہوتاجتناحصہ نجس ہوااسے دھونایاکاٹناضروری ہے لیکن اگرمیت کوقبرمیں رکھ چکے ہوں توبہترہے کہ اسے کاٹ دیں بلکہ اگر میت کوقبرسے باہرنکالنامیت کی اہانت کاباعث بنتاہوتوپھرکاٹناہی واجب ہے اور اگراس کادھونایاکاٹناممکن نہ ہواوربدل دیناممکن ہوتوضروری ہے کہ بدل دیں۔
مسئلہ ۵۸۲ ۔ حج یاعمرے کااحرام باندھتے ہوئے اگرکوئی مرجائے تو دوسروں کی طرح اس کوبھی کفن دیں اوراس کے سراورچہرے کوچھپانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۸۳ ۔ مستحب ہے کہ انسان صحت وسلامتی کی حالت میں کفن،بیری کے پتے اورکافوراپنے لئے مہیاکررکھے۔
احکام حنوط :
مسئلہ ۵۸۴ ۔ غسل تمام ہونے کے بعدمیت کوحنوط کرناواجب ہے ،یعنی سجدہ کے ساتوں مقامات : پیشانی،دونوں ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے، دونوں پیروں کے انگوٹھے پرکافورکاملنااورمستحب ہے کہ ناک کے سرے پربھی کافور ملاجائے اورکافور کوپساہوااورتازہ ہوناچاہئے،اگرپراناہونے کی وجہ سے اس کی خوشبوختم ہوچکی ہوتووہ کافی نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۸۵ ۔ میت کوحنوط کرنے میں اعضاء سجدہ کے درمیان ترتیب ضروری نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب ہے کہ پہلے کافور میت کی پیشانی پرملاجائے ۔
مسئلہ ۵۸۶ ۔ بہتریہ ہے کہ میت کوکفن پہنانے سے پہلے حنوط کرلیاجائے اگرچہ کفن پہناتے وقت اوربعدمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۸۷ ۔ احرام حج باندھے ہوئے اگرکوئی شخص سعی سے پہلے مرجائے توحنوط کرناجائزنہیں ہے اوراسی طرح اگرکوئی احرام عمرہ باندھے ہوئے بال کاٹنے سے پہلے مرجائے اسے حنوط کرناجائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۸۸ ۔ جوعورت وفات کی عدت میں ہواس کے لئے خوشبولگانا حرام ہے لیکن اگرمرجائے توحنوط کرناواجب ہے۔
مسئلہ ۵۸۹ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ میت کومشک،عنبراوردوسرے عطریات سے معطرنہ کریں یاحنوط کے لئے کافورکے ساتھ کوئی دوسری خوشبونہ ملائی جائے۔
مسئلہ ۵۹۰ ۔ مستحب ہے کہ کافورکے ساتھ تھوڑی سی خاک شفا ملادیاجائے لیکن وہ کافورایسی جگہوں پرنہ لگے کہ جس سے بے حرمتی ہوتی ہو،لیکن اتنی زیادہ بھی نہ ہوکہ اسے کافورنہ کہاجاسکے۔
مسئلہ ۵۹۱ ۔ اگرغسل وحنوط دونوں کے لئے کافورکافی نہ ہوتوغسل کومقدم کریں اوراگرکافورساتوں اعضاء کے لئے کفایت نہ کرے توپیشانی کومقدم کریں۔
مسئلہ ۵۹۲ ۔ دوتروتازہ لکڑیوں کامیت کے ہمراہ قبرمیں رکھنامستحب ہے۔
نمازمیت کے احکام :
مسئلہ ۵۹۳ ۔ مسلمان میت پرنمازپڑھنااگرچہ بچہ ہوواجب ہے،البتہ ضروری ہے کہ بچے کے ماں باپ یاان میں سے کوئی ایک مسلمان ہواوروہ بچہ پورے چھ سال کاہو۔
مسئلہ ۵۹۴ ۔ نمازمیت غسل،حنوط وکفن کے بعدپڑھنی چاہئے، اگراس سے پہلے یااس کے درمیان پڑھی جائے تونمازباطل ہے چاہے بھول کرہویا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ہو۔
مسئلہ ۵۹۵ ۔ نمازمیت میں نہ تووضو،غسل اورتیمم کی شرط ہے اورنہ بدن ولباس کے پاک ہونے کی اوراگرلباس بھی غصبی ہوتو بھی کوئی حرج نہیں،البتہ احتیاط مستحب ہے کہ دوسری نمازوں میں جن امورکی رعایت کی جاتی ہے اس میں بھی کی جائے۔
مسئلہ ۵۹۶ ۔ نمازمیت کوقبلے کی طرف چہرہ کرکے پڑھناواجب ہے اسی طرح میت کونمازی کے سامنے اس طرح چت لٹانا واجب ہے کہ میت کاسرنمازی کے داہنی طرف اورپیربائیں طرف رہیں۔
مسئلہ ۵۹۷ ۔ نمازی کی جگہ میت سے اونچی یانیچی نہ ہو،ہاں تھوڑی سی اونچائی یانیچائی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۵۹۸ ۔ نمازی کومیت سے دورنہ ہوناچاہئے ،ہاں جماعت پڑھنے والے اگردورہوں توکوئی حرج نہیں ہے ،بس صف سے اتصال ہوناچاہئے۔
مسئلہ ۵۹۹ ۔ نمازی میت کے سامنے کھڑاہوالبتہ اگرنمازجماعت کے ساتھ پڑھی جارہی ہے اورجماعت کی صف میت کے دونوں طرف بڑھ جائے توان لوگوں کی نمازجومیت کے مقابل نہیں ہیں اشکال نہیں رکھتی۔
مسئلہ ۶۰۰ ۔ میت اورنمازی کے درمیان کوئی پردہ یادیوارحائل نہ ہوالبتہ میت اگرتابوت میں رکھی ہوتوکوئی اشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۰۱ ۔ نمازمیت پڑھتے وقت میت کی شرمگاہ چھپی ہونی چاہئے اوراگراسے کفن دیناممکن نہ ہوتواس کی شرمگاہ کواگرچہ تختہ، اینٹ وغیرہ سے چھپاناپڑے تب بھی چھپایاجائے۔
مسئلہ ۶۰۲ ۔ نمازمیت کھڑے ہوکرقصدقربت کی نیت سے پڑھنی چاہئے،نیت کے وقت میت کومعین کرناچاہئے، مثلا میں اس میت پرنمازپڑھتاہوں قربةالی اللہ۔
مسئلہ ۶۰۳ ۔ اگرکوئی ایسانہ ہوجوکھڑے ہوکرمیت پرنمازپڑھ سکے توبیٹھ کرپڑھے۔
مسئلہ ۶۰۴ ۔ اگرمیت نے کسی معین شخص کے لئے وصیت کردی ہوکہ فلاں شخص میری نمازجنازہ پڑھے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ وہ شخص ولی میت سے اجازت لے اورولی کے لئے بھی احتیاط واجب ہے کہ اجازت دے۔
مسئلہ ۶۰۵ ۔ کسی میت پرچندمرتبہ نمازپڑھنی مکروہ ہے لیکن اگرمیت اہل علم اورمتقی انسان ہوتومکروہ نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۰۶ ۔ اگرمیت کوجان بوجھ کر،بھولے سے یامجبوری سے بغیر نمازکے دفن کردیاجائے یادفن کے بعدمعلوم ہوکہ جونماز اس میت پرپڑھی گئی تھی وہ باطل ہے توجب تک اس کابدن سالم ہے اس کی قبرپرنمازاسی ترتیب سے پڑھنی واجب ہے۔
نماز میت پڑھنے کاطریقہ :
مسئلہ ۶۰۷ ۔ نماز میت میں پانچ تکبیریں ہیں ،اگرنمازمیں پانچ تکبیریں اس ترتیب سے کہے توکافی ہے :
نیت کے بعدپہلے تکبیرکہے اورپڑھے :
اشهدان لااله الاالله وان محمدارسول الله
اوردوسری تکبیرکے بعدکہےاللهم صل علی محمد وآل محمد ۔
اورتیسری تکبیر کے بعدکہے :اللهم اغفرللمومنین والمومنات ۔
اورچوتھی تکبیرکے بعدکہے :الله اغفرلهذاالمیت ۔
اوراگرعورت کی میت ہے توکہے :اللهم اغفرلهذه المیت ۔
اوراس کے بعدپانچویں تکبیرکہہ کرنمازختم کردے ۔
ویسے بہترہے کہ پہلی تکبیر کے بعداس طرح کہے :
اشهدان لااله الاالله وحده لاشریک له الهاواحدا احداصمدا فردا حیاقیوما دائماابدالم یتخذصاحبةولاولدا،واشهدان محمدا عبده ورسوله ارسله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله ولوکره المشرکون، بشیرا ونذیرا بین یدی الساعة
اوردوسری تکبیرکے بعداس طرح کہے :
اللهم صل علی محمدوآل محمدوبارک علی محمدوآل محمد وارحم محمدوآل محمدکافضل ماصلیت وبارکت وترحمت علی ابراهیم وآل ابراهیم انک حمید مجید وصل علی جمیع الانبیاء والمرسلین
اورتیسری تکبیرکے بعداس طرح کہے :
اللهم اغفرللمؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات الاحیاء والاموات تابع بینناوبینهم بالخیرات انک علی کل شئی قدیر ۔
اورچوتھی تکبیرکے بعداگرمیت مردکی ہے تواس طرح کہے :
اللهم ان هذاالمسئی قدامناعبدک وابن عبدک وابن امتک نزل بک وانت خیرمنزول به اللهم انک قبضت روحه الیک وقداحتاج الی رحمتک ،وانت غنی عن عذابه اللهم انالانعلم منه الاخیراوانت اعلم به منا،اللهم ان کان محسنافزدفی احسانه وان کان مسئیافتجاوز عنه واغفرلناوله، اللهم اجعله عندک فی اعلی علیین واخلف علی اهله فی الغابرین وارحمه برحمتک یاارحم الراحمین ۔
اورپانچویں تکبیرکہہ کرنمازختم کردے
لیکن اگرعورت کی میت ہوتوچوتھی تکبیرکے بعداس طرح کہے :
اللهم ان هذه المسئة قدامناامتک وابنة عبدک وابن امتک نزلت بک وانت خیرمنزول بها اللهم انک قبضت روحه الیک وقداحتاج الی رحمتک ،وانت غنی عن عذابه ،اللهم انالانعلم منها الاخیراوانت اعلم بها منا،اللهم ان کانت محسنةفزدفی احسانها وان کانت مسئیةفتجاوز عنها واغفرلناوله، اللهم اجعلها عندک فی اعلی علیین واخلف علی اهلها فی الغابرین وارحمها برحمتک یاارحم الراحمین ۔
مسئلہ ۶۰۸ ۔ تکبیروں اوردعاؤں کویکے بعددیگرے اس طرح پڑھے کہ نمازاپنی صورت سے خارج نہ ہوجائے۔
مسئلہ ۶۰۹ ۔ جوشخص نمازمیت کوجماعت سے پڑھے وہ بھی تمام تکبیروں اوردعاؤں کوخودبھی پڑھے۔
نمازمیت کے مستحبات
مسئلہ ۶۱۰ ۔ نمازمیت میں چندچیزیں مستحب ہیں :
۱ ۔ نمازمیت پڑھنے والے کوباوضوباغسل یاباتیمم ہونامستحب ہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم اس وقت کرے جب وضووغسل ممکن نہ ہویااگروضویاغسل کرتاہے تونمازمیت میں شریک نہیں ہوسکتا۔
۲ ۔ اگرمردکی میت ہے توامام جماعت یافرادی نمازپڑھنے والامیت کے کمرکے سامنے کھڑاہواوراگَرمیت عورت کی ہے تواس کے سینے کے مقابل کھڑاہو۔
۳ ۔ ننگے پاؤں پڑھے۔
۴ ۔ ہرتکبیرکہتے وقت ہاتھوں کوبلندکرے۔
۵ ۔ میت اوراس میں اتناکم فاصلہ ہوکہ اگرہواکی وجہ سے اس کالباس ہلے توجنازہ سے لگے۔
۶ ۔ نمازمیت کوباجماعت اداکرے۔
۷ ۔ اگرجماعت ہوتوپیش نمازتکبیراوردعاؤں کوزورزورسے پڑھے اورجولوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں وہ آہستہ پڑھیں۔
۸ ۔ جماعت اگرچہ ماموم ایک ہی ہووہ امام کے پیچھے کھڑاہو۔
۹ ۔ نمازپڑھنے والامیت اورمؤمنین کے لئے بہت دعاکرے۔
۱۰ ۔ نمازمیت ایسی جگہ پڑھے جہاںزیادہ تعدادمیں لوگ آسکیں۔
۱۱ ۔ حائض اگرنمازمیت جماعت سے پڑھے توایک صف میں الگ کھڑی ہو۔
مسئلہ ۶۱۱ ۔ نمازمیت مسجدمیں پڑھنامکروہ ہے لیکن مسجدالحرام میں مکروہ نہیں ہے ۔
دفن کے احکام :
مسئلہ ۶۱۲ ۔ میت کواس طرح دفن کرناواجب ہے کہ اس کی بدبوباہرنہ آنے پائے اورجانوربھی وہاں تک نہ پہنچ سکیں،اوراگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوتوبھی احتیاط واجب یہ ہے کہ قبرکی گہرائی جیسے اوپرذکرکیاگیاہے ویسے ہی ہونے چاہئے اوراگرخطرہ ہوکہ جانورمیت کے جسم کوضررپہنچائے گاتوقبرکوپختہ بنادیں۔
مسئلہ ۶۱۳ ۔ اگرمیت کوزمین میں دفن کرناممکن نہ ہوتواس کوکسی جگہ یاتابوت میں رکھے ۔
مسئلہ ۶۱۴ ۔ دفن کرتے وقت میت کوقبرمیں داہنی کروٹ اس طرح لٹائیں کہ قبلہ کی طرف چہرہ ہو۔
مسئلہ ۶۱۵ ۔ اگرکوئی شخص کشتی میں مرجائے اوراس کے بدن کے خراب ہونے کاڈرنہ ہواورکشتی میں رکھنے سے کوئی چیزمانع نہ ہوتوصبرکریں اورخشکی پرپہنچ کراس کودفن کردیں،ورنہ کشتی میں غسل وحنوط وکفن دے کرنمازپڑھ کر اس کی بدن ایسی چیزمیں رکھ کر اس کا منہ مضبوطی سے بندکردیں جس کی وجہ سے پانی کے جانوراس بدن تک رسائی حاصل نہ کرسکیں اوراس کوسمندرمیں ڈال دیں اوراگرممکن ہوتواسے سمندرمیں ایسی جگہ ڈال دیں جہاں فوراجانورکالقمہ نہ بنے۔
مسئلہ ۶۱۶ ۔ اگرخطرہ ہوکہ دشمن میت کی قبرکھودکرمیت کونکال لے گااوراس کاکان،ناک،یاکوئی اورعضوکاٹ لے گاتواگرممکن ہوجس طرح پہلے والے مسئلہ میں بیان کیاگیاہے اسی کے مطابق عمل کرتے ہوئے اس کوسمندرمیں ڈال دیں۔
مسئلہ ۶۱۷ ۔ جہاں ضروری ہوتوقبرکوپختہ کرنے کاخرچ اوراسی طرح سمندرمیں پھینکنے کاخرچ میت کے اصل مال سے لیاجائے گا۔
مسئلہ ۶۱۸ ۔ اگرکافرہ عورت مرجائے اوراس کے پیٹ میں بچہ بھی مرجائے اوراس بچے کاباپ مسلمان ہوتوعورت کوقبرمیں بائیں کروٹ لٹایاجائے گاتاکہ بچے کاچہرہ قبلے کی طرف رہے، بلکہ اگرروح بھی بچے کے بدن میں داخل نہ ہوئی ہوتب بھی بنابراحتیاط واجب اسی قاعدہ پرعمل کرے۔
مسئلہ ۶۱۹ ۔ غیرمسلموں کے قبرستان میں مسلمان کادفن کرنااور مسلمانوں کے قبرستام میں کافرکودفن کرناجائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۲۰ ۔ مسلمان کوایسی جگہ دفن کرناجہاں اس کی بے احترامی ہوحرام ہے جیسے اس جگہ پردفن کرناجہاں کوڑاڈالاجاتاہے۔
مسلہ ۶۲۱ ۔ میت کوغصبی جگہ پردفن نہیں کرناچاہئے اورنہ ان جگہوں پردفن کرناجاہئے جودفن کے لئے وقف نہیں ہے جیسے مساجداوروہ جگہ جہاں دوسرے مقصدکے لئے وقف ہو۔
مسئلہ ۶۲۲ ۔ دوسرے مردکی قبرمیں میت کودفن کرناجائزنہیں ہے مگریہ کہ قبرپرانی اورپہلی میت کانشان باقی نہ رہاہوتودفن کرسکتے ہیں۔
مسئلہ ۶۲۳ ۔ میت کی جوچیزجداہوجائے چاہے وہ بال،ناخن،دانت ہواس کومیت کے ساتھ دفن کردیناچاہئے،اورجوناخن یاجودانت زندگی میں جداہوجائے اس کامیت کے ساتھ دفن کرنامستحب ہے۔
مسئلہ ۶۲۴ ۔ اگرکوئی کنویں میں مرجائے اوراس کانکالناممکن نہ ہوتو کنویں کوبندکردیں اوراسی کنویں کواس کی قبرقراردیدیں۔
مسئلہ ۶۲۵ ۔ اگرماں کے رحم میں بچہ مرجائے اوراس کارحم میں رہنا ماں کے لئے خطرہ ہوتوجوسب سے آسان راستہ ہواس طرح اس کونکال لیں، یہاں تک کہ اگرمجبورہوں کہ بچہ کوٹکڑاٹکرا کرناپڑے توکردیں، اوراس کام میں پہلے نمبرپراس کاشوہر ہے کہ وہ اس کام کوانجام دیے بشرطیکہ وہ اہل فن ہو اورددوسرے نمبرپروہ عورت ہے جواہل فن ہواوراگریہ ممکن نہ ہوتوجومحرم اہل فن ہوں یہ کام انجام دے اوریہ بھی نہ ہوسکے تومجبورانامحرم اہل فن مرد سے استفادہ کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۶۲۶ ۔ اگرماں مرجائے اورپیٹ میں بچہ زندہ ہوتوفوراان لوکوں کے ذریعہ جن کاسابق مسئلہ میں اشارہ کیاگیاہے، بائیں پہلوکوچاک کرکے بچہ کونکال لیں اگرچہ بچہ کے زندہ رہنے کی امیدبھی نہ ہو۔
دفن کے مستحبات :
مسئلہ ۶۲۷ ۔ مستحب ہے کہ دفن میں مندرجہ ذیل امورکوملحوظ رکھیں:
۱ ۔ قبرکومتوسط انسان کے قدکے برابرکھودیں۔
۲ ۔ میت کونزدیک ترین قبرستان میں دفن کردیں،البتہ دوروالاقبرستان کسی اعتبارسے بہترہوتووہاں دفن کریں،مثلا وہاں متقی افراددفن ہوں یافاتحہ کے لئے زیادہ ترلوگ وہاں جاتے ہوں۔
۳ ۔ دفن کے وقت جنازہ کوقبرکے قریب زمین پررکھیں اورتین دفعہ اٹھاکرتھوڑا تھوڑاقبرکے نزدیک لے جائیں اورہردفعہ زمین پررکھیں اوراٹھالیں اورچوتھی دفعہ قبرمیں اتاردیں۔
۴ ۔ اگرمردکی میت ہوتوتیسری دفعہ سرکی طرف سے زمین پررکھیں اور چوتھی دفعہ سرکی طرف سے قبرمیں داخل کریں اورا گر عورت کی ہوتو تیسری دفعہ اسے قبرکے قبلہ کی طرف رکھیں اورچوڑائی میں سے قبرمیں داخل کیاجائے،اورقبرمیں اتارتے وقت قبرپرایک چادرتان دیں۔
۵ ۔ تابوت سے جنازہ بہت آرام سے نکالیں اوربہت سکون سے قبرمیں اتاردیں،دفن سے پہلے اوردفن کے وقت کی دعائیں منقول ہیں انھیں پڑھیں۔
۶ ۔قبرمیں لحدبنادیں اورمیت کوقبرمیں رکھ دیں اوراس کے کفن کی گرہیں کھول دیں اورمیت کے چہرے کوخاک پررکھ دیں اورمٹی کاایک تکیہ سااس کے سرکے نیچے بنادیں۔
۷ ۔ میت کے پیچھے کچھ مٹی یااینٹ وغیرہ رکھ دیں تاکہ جس میت کوداہنی کروٹ لٹائیں توپیچھے کی طرف پلٹ نہ جائے ۔
۸ ۔ لحدبندکرنے سے پہلے دایاں ہاتھ میت کے دائیں کندھے پرماریں اوربایاں ہاتھ زورسے میت کے بائیں کندھے پر رکھیں اورمنہ اس کے کان کے قریب لے جائیں اوراسے زورسے حرکت دیں اورتین دفعہ کہیں : ”اسمع افهم یافلان ابن فلان “ اورفلاں بن فلاں کی جگہ میت اوراس کے باپ کانام لیں،مثلاتین مرتبہ کہیں : اسمع افہم یامحمدبن علی“ ۔
اوراس کے بعدکہیں :
هل انت علی العهدالذی فارقتناعلیه من شهادةان لااله الاالله وحده لاشریک له وان محمدا صلی الله علیه وآله عبده ورسوله وسیدالنبین وخاتم المرسلین وان علیاامیرالمومنین وسیدالوصین وامام افترض الله طاعته علی العالمین وان الحسن والحسین وعلی بن الحسین ومحمدبن علی وجعفربن محمدوموسی بن جعفروعلی بن موسى ومحمدبن علی وعلی بن محمد والحسن بن علی والقائم الحجةالمهدی صلوات الله علیهم ائمة المؤمنین وحجج الله علی الخلق اجمعین وائمتک ائمةهدی بک ابراریافلان بن فلان ۔ اورفلاں بن فلاں کی جگہ میت اوراس کے ماں باپ کانام لیں اورکہیں :
اذااتاک الملکان المقربان رسولین من عندالله تبارک وتعالی وسئلاک عن ربک وعن نبیک وعن دینک وعن کتابک وعن قبلتک وعن ائمتک فلاتخف ولاتحزن وقل فی جوابهماالله ربی ومحمد صلی الله علیه وآله نبی والاسلام دینی والقرآن کتابی والکعبةقبلتی وامیرالمومنین علی بن ابی طالب امامی والحسن بن علی المجتبی امامی والحسین بن علی الشهیدبکربلاامامی وعلی زین العابدین ومحمدالباقرامامی وجعفرالصادق امامی وموسی الکاظم امامی وعلی الرضاامامی ومحمدالجوادامامی وعلی الهادی امامی والحسن العسکری امامی والحجةالمنتظرامامی،هؤلاء صلوات الله علیهم اجمعین ائمتی وسادتی وقادتی وشفعائی بهم اتولی ومن اعدائهم اتبرء فی الدنیاوالاخرة،ثم اعلم یافلان بن فلان اورفلان بن فلان کی جگہ میت اوراس کے باپ کانام لیں اوربعدمیں کہیں:
ان الله تبارک وتعالی نعم الرب وان محمدا صلی الله علیه وآله نعم الرسول وان علی بن ابی طالب واولاده المعصومین الائمةالاثنی عشرنعم الائمةوان ماجاء به محمدصلی الله علیه وآله حق وان الموت حق وسؤال منکرونکیرفی القبرحق والبعث حق والنشورحق والصراط حق والمیزان حق وتطایرالکتب حق وان الجنةوالنارحق وان الساعةآتیةلاریب فیهاوان ا لله یبعث من فی القبور ، پھرکہے: افهمت یافلان اورفلان کی جگہ پرمیت کانام لیں اوربعدمیں کہیں :
ثبتک الله بالقول الثابت وهدیک الله الی صراط مستقیم عرف الله بینک وبین اولیائک فی مستقرمن رحمته،
پھرکہے :
اللهم جاف الارض عن جنبیه واصعدبروحه الیک ولقنه من برهانا اللهم عفوک عفوک ۔
مسئلہ ۶۲۸ ۔ مستحب ہے کہ جوشخص میت کوقبرمیں اتارے وہ باطہارت ہوبرہنہ سراوربرہنہ پاہواورمیت کی پائیتی کی طرف سے قبرسے باہر نکلے اورمیت کے اقرباء کے علاوہ جولوگ موجودہوں وہ ہاتھ کی پشت سے قبر پرمٹی ڈالیں اوراناللہ واناالیہ راجعون پڑھیں اوراگرمیت عورت ہوتواس کامحرم اسے قبرمیں اتارے اوراگرمحرم نہ ہوتوعزیزواقرباء اسے قبرمیں اتاریں۔
مسئلہ ۶۲۹ ۔ قبرکوبصورت مربع مستطیل یامربع بنائیں اورچارانگلیوں کے برابرزمین سے بلندبنائیں اوراس پرکوئی ایسی نشانی نصب کردیں جس سے وہ پہنچانی جائے ،قبرکے اوپرپان چھڑکیں،پانی چھڑکنے کے بعدجولوگ موجودہیں قبرپراپنے ہاتھوں کواس طرح رکھیں کہ انگلیاں کھلی ہوں اورخاک میں گاڑدیں پھرسات مرتبہ”اناانزلناہ“ پڑھیں اورمیت کے لئے طلب بخشش کریں۔
اوراس دعاء کوپڑھیں :
اللهم جاف الارض عن جنبیه واصعدالیک روحه ولقه منک رضوانا اسکن قبره من رحمتک ماتغنیه به عن رحمةمن سواک ۔
مسئلہ ۶۳۰ ۔ تشیع جنازہ کرنے والے کے چلے جانے کے بعدمستحب ہے کہ میت کاولی یاجس کوولی اجازت دے میت کوان دعاؤں کی تلقین کرے جو شریعت کی طرف سے معین ہیں۔
مسئلہ ۶۳۱ ۔ صاحبان عزاء کوتعزیت پیش کرنامستحب ہے، لیکن اگرایک گزرچکی ہواوروہ فراموش ہوگئی ہواورتعزیت دینے سے پھروہ مصیبت یادآنے کا اندیشہ ہوتوترک کرنابہترہے، نیزیہ بھی مستحب ہے کہ میت کے گھروالوں کے لئے تین دن تک کھانابھیجیں اوران کے پاس اوران کے گھرمیں کھانامکروہ ہے۔
مسئلہ ۶۳۲ مستحب ہے کہ انسان رشتہ داروں کی موت پراورخصوصا بیٹے کی موت پرصبرکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اورجب بھی میت یادائےانالله واناالیه راجعون کہے، میت کے لئے قرآن پڑھے اورماں باپ کی قبرپرخداوند متعال سے اپنی حاجت طلب کرے اورقبرپختہ بنائے تاکہ جلدی خراب نہ ہو۔
مسئلہ ۶۳۳ ۔ کسی کی موت پربدن وچہرے کونوچنا، طمانچہ مارناجائز نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۳۴ ۔ باپ اوربھائی کی موت کے علاوہ کسی اورکی میت پر گریبان چاک کرناجائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۳۵ ۔ اگرشوہراپنی بیوی یابیٹے کی موت پراپنالباس پھاڑڈالے یاعورت میت کی مصیبت پراپنے چہرے کواس طرح زخمی کرے کہ خون نکل آئے یابالوں کونوچ ڈالے توکفارہ دے، ایک غلام آزادکرے یادس فقیروں کوکھاناکھلائے یاان کولباس پہنائے اوراگران میں سے کسی ایک پربھی قدرت نہ رکھتاہوتوتین روزے رکھے،بلکہ اگرخون بھی نہ نکلے جب بھی احتیاط واجب کی بناء پراسی قاعدہ کے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ ۶۳۶ ۔ احتیاط واجب ہے کہ میت پرروتے وقت بہت بلندآوازسے نہ روئے اورنہ فریادکرے۔
نمازوحشت :
مسئلہ ۶۳۷ ۔ مستحب ہے کہ قبرکی پہلی رات میت کے لئے دورکعت نمازوحشت پڑھے جس کاطریقہ یہ ہے،پہلی رکعت میں الحمد کے بعدایک مرتبہ آیة الکرسی اوردوسری رکعت میں الحمدکے بعددس مرتبہ اناانزلناہ پڑھے اورسلام کے بعدکہے۔
اللهم صل علی محمدوآل محمدوابعث ثوابهاالی قبرفلاں (فلاں کی جگہ پرمیت کانام لے )
مسئلہ ۶۳۸ ۔ دفن کی رات جس وقت بھی چاہے نمازوحشت پڑھ سکتاہے لیکن نمازعشاء کے بعدزیادہ مناسب ہے۔
مسئلہ ۶۳۹ ۔ اگرمیت کوکسی دورکے شہرمیں لے جاناہویاکسی اورغرض سے دفن میں تاخیرہوجائے تونمازوحشت میں بھی قبر کی پہلی رات تک تاخیرکی جائے۔
قبرکھولنے کے احکام :
مسئلہ ۶۴۰ ۔ مسلمان کی قبرکھولناحرام ہے چاہے وہ قبربچے یادیوانہ کی ہولیکن اگراس کابدن مٹی سے مل کرمٹی بن گیاہے تواشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۴۱ ۔ امام زادوں شہیدوں، علماء اورصالحین کی قبورکا کھولنااگرچہ سالہاسال گزرجائے حرام ہے۔
مسئلہ ۶۴۲ ۔ چندجگہوں پرقبرکھولناحرام نہیں ہے :
۱ ۔ اگرمیت غصبی زمین میں دفن ہوگئی ہواورمالک زمین راضی نہ ہو۔
۲ ۔ کفن یاکوئی دوسری چیزجومیت کے ساتھ دفن ہوگئی ہویامیت کے اموال میں سے ایسی چیزجس کاتعلق ورثاء سے ہووہ میت کے ساتھ دفن ہوگئی ہواورورثاء راضی نہ ہوں کہ وہ چیزمیت کے ساتھ قبرمیں رہے، لیکن اگرمیت نے وصیت کردی ہو کہ کوئی دعاء،قرآن، انگوٹھی ا س کے ساتھ دفن کردی جائے تواگروصیت حصے سے زیادہ میں نہ ہواوراسراف بھی نہ ہوتوقبر کو نہیں کھول سکتے۔
۳ ۔ میت بغیرغسل یاکفن کے دفن ہوگئی ہویایہ معلوم ہوجائے کہ اس کاغسل باطل تھایااس کاکفن دستورشرعی کے مخالف تھایااسے قبرمیں قبلہ رخ نہیں لٹایاگیاتھا۔
۴ ۔ کسی حق کاثابت کرنامیت کے بدن کے دیکھنے ہی پرموقوف ہو۔
۵ ۔ میت کوایسی جگہ پردفن کردیاگیاہوجہاں اس کی بے حرمتی ہوجیسے کافروں کاقبرستان یاجہاں کوڑاوغلاظت ڈالاجاتاہے۔
۶ ۔ کسی ا یسے شرعی مقصدکوانجام دینے کے لئے جس کی اہمیت قبر کھولنے سے زیادہ ہومثلازندہ بچہ کوحاملہ عورت کے پیٹ سے نکالنامقصودہو۔
۷ ۔ جس جگہ یہ خوف ہوکہ درندہ میت کے بدن کوکوئی نقصان پہنچائے گایا سیلاب اسے بہالے جائے گا، یادشمن لاش نکال لے جائے گا۔
۸ ۔ جہاں پرمیت کاتھوڑاساحصہ میت کے ساتھ دفن نہ ہواہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس حصہ کواس طرح دفن کریں کہ میت کابدن ظاہرنہ ہو۔
مستحب غسل :
مسئلہ ۶۴۳ ۔ مستحب غسل شریعت میں بہت ہیں ان میں سے چندکاذیل میں ذکرکیاجاتاہے۔
۱ ۔ غسل جمعہ : اس کاوقت اذان صبح سے ظہرتک ہے اوربہتریہ ہے کہ ظہرکے قریب بجالایاجائے اوراگرظہرتک غسل نہ کرسکے توعصرجمعہ تک اداء وقضاء کی نیت کئے بغیربجالائے اوراگرجمعہ کوغسل نہ کرسکے تواحتیاط یہ ہے کہ ہفتہ کوصبح سے لے کر غروب تک کسی وقت قضاکرے،اورجس کوخطرہ ہوکہ جمعہ کے دن پانی نہ مل سکے گاوہ جمعرات کوغسل کرے،بلکہ شب جمعہ اس امیدپرکہ مطلوب خداہے غسل بجالائے تووہ صحیح ہے اورمستحب ہے کہ انسان غسل جمعہ کے وقت یہ کہے :
اشهدان لااله الاالله وحده لاشریک له وان محمداعبده ورسوله اللهم صل علی محمدوآل محمدواجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطهرین ۔
۲ ۔ ماہ رمضان کی راتوں کاغسل : اس کامطلب یہ ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی رات اورتمام طاق راتوں مثلاتیسری اورپانچویں اور ساتویں رات کاغسل کرنامستحب ہے اوراکیسویں کی رات سے ہررات کوغسل کرنامستحب ہے،اورپہلے، پندرہویں، سترہویں انیسویں، اکیسویں پچیسویں،ستائیسویں، انیسویں اورتئیسویں رات کے غسل کی زیادہ تاکیدکی گئی ہے لیکن اکیسویں رات سے آخرماہ تک مغرب وعشاء کے درمیان غسل کرے اوریہ بھی مستحب ہے کہ تئیسویں رات کوابتداء رات کے غسل کے علاوہ رات کے آخری حصہ میں ایک اوربھی غسل کیاجائے۔
۳ ۔ غسل عیدین : عیدفطراورعیدقربان،ان کاوقت اذان صبح سے غروب تک ہے اوربہتریہ ہے کہ نمازعیدسے پہلے بجالائے اوراگرظہرسے غروب تک بجالائے تواحتیاط یہ ہے کہ بقصدرجاء انجام دے۔
۴ ۔ عیدالفطرکی رات کاغسل : اس کاوقت اول مغرب سے اذان صبح تک ہے اوربہتریہ ہے کہ اول سب ہی کرلیاجائے ۔
۵ ۔ ذوالحجہ کی آٹھویں اورنویں تاریخ کے دن کاغسل اورنویں کے دن بہترہے کہ ظہرکے قریب غسل کیاجائے۔
۶ ۔ اول رجب، نیمہ رجب، ستائیسویں رجب اورآخررجب کوبھی غسل مستحب ہے ۔
۷ ۔ عیدغدیر(اٹھارہ ذی الحجہ) بہتریہ ہے کہ ظہرسے پہلے غسل بجالائے ۔
۸ ۔ ذوالحجہ کی چوبیسویں کے دن کاغسل۔
۹ ۔ عیدنوروزکے دن کاغسل اورپندرہ شعبان (ولایت حضرت امام زمانہ﷼)سترہ ربیع الاول(ولادت رسول اکرم)اور پچیسویں ذیقعدہ کے دن کاغسل یہ رجاء بجالائے۔
۱۰ ۔ نومولودکوغسل دینامستحب ہے۔
۱۱ ۔ اس عورت کاغسل جس نے نامحرم کے لئے خوشبولگائی ہو۔
۱۲ ۔ اس شخص کاغسل جونشہ کی حالت میں سوجائے۔
۱۳ ۔ اس شخص کاغسل جس نے اپنے بدن کاکچھ حصہ اس میت کے ساتھ مس کیاہوجس کوغسل دیاجاچکاہے۔
۱۴ ۔ اس شخص کاغسل جس نے چاندگرہن یاسورج گرہن کے وقت جان بوجھ کرنمازنہ پڑھی ہوجبکہ پورے چاندیاسورج کوگرہن لگاہو۔
۱۵ ۔ اس شخص کاغسل جوسولی چڑھے شخص کودیکھنے کے لئے جائے اوراسے دیکھ بھی لے لیکن اگراتفاقایامجبورانگاہ پڑگئی ہویاگواہی دینے کے لئے گیاہے توپھراس کے لئے غسل مستحب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۴۴ ۔ مقدس مقامات میں جانے کے لئے غسل کرنامستحب ہے،ان میں سے حرم مکہ، شہرمکہ، مسجدالحرام،خانہ کعبہ، حرم مدینہ، شہرمدینہ، مسجدنبوی حرم ائمہ معصومیں میں داخل ہونے کے لئے اوراگرایک دن میں کئی مرتبہ مشرف ہوتوصرف ایک غسل کافی ہے، اگرکوئی چاہتاہے کہ ایک ہی دن میں مکہ مکرمہ داخل ہوکرمسجدالحرام میں بھی داخل ہویامدینہ منورہ میں داخل ہوکرمسجدالنبوی میں بھی داخل ہوتوصرف ایک غسل کافی ہے،اسی طرح زیارت رسول ا کرم کے لئے اورزیارت ائمہ معصومین کے لئے غسل مستحب ہے چاہے زیارت دورسے کرے یانزدیک سے اورنشاط عبادت کے لئے حاجت طلب کرنے کے لئے، توبہ کے لئے ،سفرپرجانے کے لئے خصوصازیارت سیدالشہداء کاسفرہوتوانسان کے لئے غسل کرنامستحب ہے، اگرگزشتہ غسلوں میں سے کوئی ایک بجالائے اوراس کے بعدکوئی ایساکام کرے جووضوکوباطل کردیتاہے مثلاسوجائے تومستحب ہے کہ دوبارہ غسل کرے۔
مسئلہ ۶۴۵ ۔ مستحب غسل سے انسان کوئی ایساکام نہیں کرسکتاکہ جس میں وضوضروری ہے ،مثلانماز۔
مسئلہ ۶۴۶ ۔ اگرکسی پرچندمستحبی غسل ہوتووہ سب کی نیت سے ایک غسل کرسکتاہے۔
تیمم
سات جگہوں پروضویاغسل کے بجائے تیمم کرناچاہئے :
تیمم کے موارد
پہلامورد
جہاں پر وضویاغسل بھرکےلئے پانی کاملناممکن نہ ہو۔
مسئلہ ۶۴۷ ۔ اگرانسان شہروآبادی میں ہواورپانی نہ ملے تواتنی تلاش کرنی چاہئے کہ پانی ملنے سے مایوس ہوجائے اوراگربیابان میں ہو اوروہ کوہستانی یانشیب وفرازوالاعلاقہ ہے یادرختوں وغیرہ کی وجہ سے اس کوعبور کرنامشکل ہوتوچاروں طرف ایک تیرپھینکے جانے کے برابرجیسے کے پہلے زمانہ کمان سے تیرپھینکاکرتے تھے پانی کی تلاش کرے اوراگرہموار زمین ہواور کوئی رکاوٹ نہ ہوتوچاروں طرف دوتیرکی مسافت کے برابرپانی تلاش کرے۔
مسئلہ ۶۴۸ ۔ اگرچاروں طرف میں بعض طرف نشیب وفرازہواوربعض طرف ہموارہوتوہرطرف اس کے دستورکے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ ۶۴۹ ۔ جس جانب کے متعلق یقین ہوکہ پانی نہیں ہے تواس طرف جستجوبھی ضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۶۵۰ ۔ اگریہ یقین ہوجائے کہ معین فاصلہ سے زیادہ دوری پرپانی موجودہے اورنمازکاوقت بھی تنگ نہیں ہے تواگرخلاف معمول مشقت نہ ہوتوپانی کی تلاش میں وہاں تک جاناچاہئے،لیکن اگراحتمال ہویاگمان ہوکہ معین فاصلے سے زیادہ دوری پرپانی موجودہے توجستجولازم نہیں ہے ، لیکن اگریہ اطمینان ہوتوبناء براحتیاط واجب جستجوضروری ہے۔
مسئلہ ۶۵۱ ۔ یہ ضروری نہیں کہ پانی کہ تلاش میں انسان خودجائے بلکہ کوئی دوسرامطئن شخص کوتلاش کے لئے بھیج سکتاہے، اسی طرح کئی آدمیوں کی طرف سے اگرایک آدمی (جومورداطمینان ہو) چلاجائے توکافی ہے۔
مسئلہ ۶۵۲ ۔ اگراسے احتمال ہوکہ میرے سامان یاقافلہ میں پانی ہے تواسے تلاش کرناچاہئے تاکہ پانی نہ ہونے کایقین حاصل ہویاپانی یحاصل کرنے سے مایوس ہوجائے ۔
مسئلہ ۶۵۳ ۔ اگرنمازکے وقت سے پہلے پانی تلاش کرچکاہے اورپانی نہیں ملاہے اوروہ نمازکے وقت اسی جگہ رہے تونمازکاوقت آنے کے بعددوبارہ پانی کی تلاش لازم نہیں ہے۔
مسئلہ ۶۵۴ ۔ اگروقت نمازداخل ہونے کے بعدتلاش کرے اورپانی نہ ملے اوردوسری نمازکے وقت تک اسی جگہ ٹہرارہے تواگرپانی میسرآنے کا احتمال ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ پانی کی تلاش میں جائے۔
مسئلہ ۶۵۵ ۔ اگرکسی کواپنی جان یااپنے مال کے سلسلے میں چور ڈاکویادرندے کاخوف ہویاپانی کی تلاش اتنی کٹھن ہوکہ وہ اس صعوبت کوبرداشت نہ کرسکے یانمازکاوقت اتناتنگ ہوجس میں تلاش نہ کرسکتا ہوتو تلاش ضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۵۶ ۔ اگرجان بوجھ کر اس وقت تک پانی کی تلاش میں نہ جائے جب تک نمازکاوقت تنگ نہ ہوجائے توایساشخص گنہگارہے مگرتیمم سے اس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۶۵۷ ۔ جس کوپانی نہ ملنے کایقین ہواسی لئے پانی کی تلاش میں نہ جائے اورتیمم سے نمازپڑھ لے پھرنمازکے بعدپتہ چلے کہ اگرپانی کی تلاش میں جاتا توپانی مل جاتاتواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۶۵۸ ۔ اگرپانی کی تلاش کے بعدتیمم کرکے نمازپڑھے اوربعدمیں پتہ چلے کہ پانی وہاں موجودتھااس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۶۵۹ ۔ جوشخص وقت نمازداخل ہونے کے بعدباوضوہواورجانتاہوکہ اگرمیراوضوٹوٹ گیاتوپھرنمازکے لئے وضونہیں کرسکوں گاتواگروضوکو برقرار رکھ سکتاہے تواسے باطل نہیں کرناچاہئے۔
مسئلہ ۶۶۰ ۔ اگروقت نمازسے پہلے باوضوہواوراسے علم ہوکہ اگروضو ٹوٹ گیاتوپانی ملناممکن نہیں ہے تواگروضوکوبرقراررکھ سکتاہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کوباطل نہ کرے۔
مسئلہ ۶۶۱ ۔ اگرکسی کے پاس بمقداروضویاغسل پانی ہواوروہ جانتاہو کہ اگراس پانی کوپھینک دے گاتودوسراپانی نہیں ملے گاتواگرنمازکاوقت داخل ہوچکاہے تواس پانی کابہاناحرام ہے اوراحتیاط واجب ہے نمازکے وقت سے پہلے بھی پانی کونہ بہائے۔
مسئلہ ۶۶۲ ۔ جس کومعلوم ہے کہ پانی نہیں ملے گااگروہ وقت نمازکے داخل ہونے کے بعداپنے وضوکوباطل کرے یاجوپانی اس کے پاس ہے اسے پھینک دے تواس نے گناہ کیاہے لیکن تیمم کے ساتھ اس کی نمازصحیح ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس نمازکی قضابجالائے۔
تیمم کادوسرامورد :
مسئلہ ۶۶۳ ۔ اگرکنویں میں پانی ہواورکمزوری یاکوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے یاچورکے خوف یاکسی اوروجہ سے پانی تک رسائی نہ ہوسکتی ہوتوتیمم کرے۔
مسئلہ ۶۶۴ ۔ اگرکنویں سے پانی نکالنے کے لئے رسی اورڈول کی ضرورت ہوتواس کانتظام کرناچاہئے یاکرایہ پرلیناچاہئے چآہے اس کی قیمت معمول سے چندگنازیادہ ہو،لیکن اگررسی اورڈول کاانتظام کرنایاباوضوکے پانی پانی کاخریدنااتنازیادہ گراں ہوکہ جس اس کے لئے ضرررساں ہوتوانتظام کرنایا خریدناواجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۶۵ ۔ اگرکنویں کھودنے میں زیادہ مشقت نہ ہوتوپانی حاصل کرنے کے لئے کنویں کھودنابنابراحتیاط واجب ہے۔
مسئلہ ۶۶۶ ۔ اگرکوئی احسان جتائے بغیرتھوڑاساپانی بخشش کے طورپردے توقبول کرلیناچاہئے۔
تیمم کاتیسرامورد :
مسئلہ ۶۶۷ ۔ پانی تومو جودہے لیکن ڈرہے کہ وضوکرنے سے بیمار ہوجائے گایابیماری لمبی ہوجائے گی،یاسخت ہوجائے گی یاعلاج مشکل ہوجائے گاتوان صورتوں میں تیمم کرے، البتہ اگرگرم پانی سے وضوکرسکتا ہواور اس کے لئے ضرررساں نہ ہوتوگرم پانی سے وضویاغسل کرے۔
مسئلہ ۶۶۸ ۔ یہ ضروری نہیں کہ ضررکایقین ہو،بلکہ اگراحتمال بھی ہوجب کہ وہ احتمال معقول ہواوراس سے خوف پیداہوجائے توتیمم کرناچاہئے۔
مسئلہ ۶۶۹ ۔ جوشخص آنکھ کے درد میں مبتلاہواورپانی اس کے لئے نقصان دہ ہوتیمم کرے۔
مسئلہ ۶۷۰ ۔ جس کومعلوم ہوکہ پانی اس کے لئے مضرہے اس لئے تیمم کیا اوربعدمیں نمازپڑھنے سے پہلے معلوم ہوجائے کہ پانی مضرنہیں تھاتواس کاتیمم باطل ہے لیکن اگرنمازکے بعدمعلوم ہوتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۶۷۱ ۔ جس کومعلوم ہوکہ پانی نقصان نہیں کرے گااوراس نے وضویاغسل اوربعدمیں پتہ چلاکہ پانی اس کے لئے مضرتھاتووضواورغسل صحیح ہے۔
تیمم کاچوتھامورد :
مسئلہ ۶۷۲ ۔ اگرکسی کے پاس کافی پانی ہولیکن اگراس سے وضویاغسل کرے توخطرہ ہے کہ وہ یااس کے بچے یااس کے دوست یااس کے ساتھی، ملازم یاخادمہ پیاس سے ہلاک ہوجائیں گے یابیمارہوجائیں گے یاضرورت سے زیادہ مشقت وزحمت میں مبتلاہوجائیں گے تواس کوتیمم سے نمازپڑھنی چاہئے اورپانی کومحفوظ رکھناچاہئے،اسی اگراسے یہ ڈرہوکہ اس کااپنا یاکسی دوسرے کاجانورپیاس سے مرجائےگا توپانی اسے پلادے اورخودتیمم کرے اوریہی حکم ہے اگرکوئی شخص جس کی جان محفوظ رکھناواجب ہواس طرح پیاسہ ہے کہ اگراسے پانی نہ دیاگیاتووہ تلف ہوجائے گا۔
مسئلہ ۶۷۳ ۔ اگرکوئی پاک پانی کے ساتھ ساتھ نجس پانی بھی پینے کی مقداربھررکھتاہے تونجس پانی سے استفادہ نہیں کرسکتا۔ پاک پانی کوپینے کے لئے رکھے اورتیمم سے نمازپڑھے، البتہ نجس پانی حیوان کودے سکتاہے۔
تیمم کاپانچواں مورد :
مسئلہ ۶۷۴ ۔ جس کے پاس صرف اتناپانی ہوکہ اگراس سے وضویاغسل کرے توبدن یالباس کوپاک کرنے کے لئے کچھ نہیں بچتاتواس کوچاہئے کہ پانی سے بدن یالباس کوپاک کرے اس کے بعدتیمم سے نمازپڑھے، لیکن اگراس کے پاس کوئی ایسی چیزنہیں ہے جس سے تیمم کرسکے توپانی سے وضویاغسل کرے اورنجس بدن یانجس لباس سے نمازپڑھے۔
تیمم کاچھٹامورد :
مسئلہ ۶۷۵ ۔ اگرکسی کے پاس سوائے ایسے پانی یابرتن جس کااستعمال حرام ہے اورکوئی پانی یابرتن نہ ہو، مثلاپانی یابرتن غصبی ہے یاسونے وچاندی کابرتن ہے تووضویاغسل کے بجائے تیمم کرے۔
تیمم کاساتواں مورد :
مسئلہ ۶۷۶ ۔ اگروقت اتناتنگ ہوکہ وضویاغسل کرے توپوری نمازیا اس کاکچھ حصہ وقت کے بعداداہوگاتووہ شخص تیمم کرے۔
مسئلہ ۶۷۷ ۔ اگرجان بوجھ کہ نمازمیں اتنی تاخیرکردے کہ وضویا غسل کاوقت نہ رہے توگناہ کیالیکن اس کی نمازتیمم سے صحیح ہے اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس نمازکی قضاء بجالائے۔
مسئلہ ۶۷۸ ۔ جس کوشک ہوکہ وقت تنگ ہوگیاکہ نہیں اس کووضو یاغسل کرلیناچاہئے۔
مسئلہ ۶۷۹ ۔ اگرکسی نے تنگی وقت کی وجہ سے تیمم کرکے نماز پڑھی اورنمازکے بعدجوپانی اس کے پاس تھاضائع ہوگیا اب اگرچہ اس نے اپنے تیمم کونہ توڑاہوتواس صورت میں جب کہ ا س کاشرعی وظیفہ تیمم کرناہوتووہ دوبارہ تیمم کرے۔
مسئلہ ۶۸۰ ۔ اگرکسی نے تنگی وقت کی وجہ سے تیمم کرکے نماز شروع کردی اورنمازکے درمیان جوپانی اس کے پاس تھاضائع ہوگیاتوبعدوالی نمازوں کےلئے دوبارہ تیمم کرے، پہلے تیمم کے ساتھ نمازنہیں پڑھ سکتا۔
مسئلہ ۶۸۱ ۔ اگروضویاغسل کرکے (بغیرمستحبات مثلااقامت وقنوت)کے نمازپڑھ سکتاہے توایساہی کرے، بلکہ اگرسورہ کابھی وقت نہ ہوتواس کوبھی چھوڑدے اوروضوسے نمازپڑھے۔
وہ چیزیں جن پرتیمم کرناصحیح ہے۔
مسئلہ ۶۸۲ ۔ مٹی، ریت، ڈھیلے اورپتھرپرجبکہ یہ چیزیں پاک ہوں تیمم کرناصحیح ہے اورپکی مٹی جیسے، اینٹ اورکوزہ پربھی صحیح ہے۔
مسئلہ ۶۸۳ ۔ چونے کے پتھر، گچ کے پتھر، سنگ مرمر، سنگ سیاہ اوراس طرح کے دوسرے پتھروں پرتیمم جائزہے، لیکن جواہرات پرجیسے عقیق وفیروزہ کے پتھروغیرہ پرتیمم باطل ہے اوربناء براحتیاط واجب گچ وپختہ چونا پر تیمم نہ کیاجائے۔
مسئلہ ۶۸۴ ۔ پہلے مسئلہ میں بتائی ہوئی چیزیں اگردستیاب نہ ہوسکیں تولباس وغیرہ پرجوگردوغبارہے اس پرتیمم کرلیں، اوراگرغباربھی نہ ملے توگیلی مٹی پرتیمم کرے اوراگروہ بھی نہ ہوتواحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازبغیرتیمم کے پڑھے اوربعدمیں قضاء بھی بجالائے۔
مسئلہ ۶۸۵ ۔ اگرفرش وغیرہ کوجھاڑنے سے مٹی مہیاہوسکے توگردپر تیمم کرناباطل ہے اوراگرگیلی مٹی کوخشک کرکے مٹی تیارہوسکتی ہے توگیلی مٹی پرتیمم کرناباطل ہے۔
مسئلہ ۶۸۶ ۔ جس کے پاس پانی تونہ ہومگرقدرتی برف یاکارخانوں میں بنائی ہوئی برف ہوتواگرممکن ہوکہ اس کوپگھلاکرپانی کرے اورپھراس سے وضویاغسل کرے، اوراگرممکن نہ ہواوراس کے پاس تیمم کے لئے کوئی چیزنہ ہوتواحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازبغیروضواورغسل کے پڑھے اوراحتیاط واجب کی بناء پربعدمیں اس کی قضاء بھی بجالائے۔
مسئلہ ۶۸۷ ۔ اگرخاک اورریت کے ساتھ گھاس یادوسری چیزیں مخلوط ہوں تواس سے تیمم جائزنہیں ہے، لیکن اگرمٹی اورریت میں گھاس اتنی کم ہوکہ اس کاشمارہی نہ ہواس سے تیمم کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۶۸۸ ۔ اگرتیمم کے لئے خاک وغیرہ نہ ہولیکن خریدسکتاہو تو خریدناواجب ہے۔
مسئلہ ۶۸۹ ۔ مٹی کی دیوارپرتیمم صحیح ہے، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب تک خشک زمین یاخشک مٹی مل سکے اس وقت تک ترزمین اورترمٹی پرتیمم نہ کرے۔
مسئلہ ۶۹۰ ۔ جس چیزپرتیمم کرے وہ پاک ہوناچاہئے اوراگرکوئی ایسی پاک چیزنہ ملے کہ جس پرتیمم صحیح ہے تونمازاس پرواجب نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب ہے کہ بغیرتیمم اوروضوکے نمازپڑھے اوراحتیاط واجب ہے کہ اس کی قضابھی بجالائے۔
مسئلہ ۶۹۱ ۔ اگرانسان کویقین ہوکہ فلان چیزسے تیمم صحیح ہے اوراس سے تیمم کرے اوربعدمیں معلوم ہوجائے کہ اس سے تیمم باطل تھاتوجتنی نمازیں اس تیمم سے پڑھی ہیں انھیں دوبارہ بجالائے۔
مسئلہ ۶۹۲ ۔ جس چیزپرتیمم کرے وہ غصبی نہ ہو۔
مسئلہ ۶۹۳ ۔ غصبی فضامیں تیمم باطل نہیں ہے ، لہذااگرکوئی شخص اپنی ملکیت میں ہاتھ زمین پرمارے اوربغیراجازت کے دوسرے کے ملک میں داخل ہوجائے اورہاتھ پیشانی پرپھیرے تواس کاتیمم باطل نہیں ہے ۔
مسئلہ ۶۹۴ ۔ اگرنہ جانتاہوکہ تیمم کی جگہ غصبی ہے یابھول جائے توتیمم صحیح ہے اگرچہ بھولنے والاہی خودغصب کرنے والاہو۔
مسئلہ ۶۹۵ ۔ جوشخص کسی غصبی جگہ پرقیدکردیاگیاہے اگروہاں کاپانی اورمٹی غصبی ہیں توتیمم سے نمازپڑھے۔
مسئلہ ۶۹۶ ۔ مستحب ہے کہ جس چیزپرتیمم کررہاہے اس میں کچھ گردوغبارہوجوہاتھ میں رہاجائے اوراس پرہاتھ مارنے کے بعدمستحب ہے کہ ہاتھ کوحرکت دے تاکہ گردگرجائے۔
مسئلہ ۶۹۷ ۔ گڑھے والی زمین، راستے کی مٹی اورشورہ زارزمین پربشرطیکہ اس پرنمک نہ جم گیاہو،تیمم کرنامکروہ ہے اوراگر شورزارزمین پرنمک جم گیاہواورپرتیمم باطل ہے۔
تیمم کرنے کاطریقہ :
مسئلہ ۶۹۸ ۔ تیمم میں چارچیزیں واجب ہیں :
۱ ۔ نیت ۔
۲ ۔ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کواکھٹاایسی چیزپرمارناجس پرتیمم کرناصحیح ہے۔
۳ ۔ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوپوری پیشانی اوراس کے دونوں طرف جہاں سے سرکے بال اگتے ہیں، ابرووں تک اورناک کے اوپرتک کھینچے اوراحتیاط واجب ہے کہ دونوں ابروں پربھی مسح کرے۔
۴ ۔ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کوداہنے ہاتھ کی پوری پشت پرپھیرے اوراس کے بعدداہنے ہاتھ کی ہتھیلی کوبائیں ہاتھ کی پوری پشت پرپھیرے۔
مسئلہ ۶۹۹ ۔ تیمم خواہ وضوکے بدلے میں ہویاغسل کے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرتیمم غسل کے بدلے میں ہوتوہاتھوں کودومرتبہ زمین پرمارے اس طرح کہ ایک مرتبہ ہاتھوں کوزمین پرمارکرپیشانی پرپھیرے اوردوسری مرتبہ ہاتھوں کوزمین پرمارکرہاتھوں کی پشت پرپھیرے، بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ وضوکے بدلے تیمم میں بھی یہی طریقہ اختیارکیاجائے، یعنی دومرتبہ ہاتھوں کوزمین پرمارے، بلکہ اس سے بہتریہ ہے کہ تیمم کوتین مرتبہ ہاتھوں کوزمین پرمارنے سے انجام دے،دومرتبہ یکے بعددیگرزمین پرہاتھوں کومارے اورپیشانی پرپھیرے اورتیسری مرتبہ زمین پرمارے اورہاتھوں کی پشت پرپھیرے۔
تیمم کے احکام
مسئلہ ۷۰۰ ۔ پوری پیشانی اورپوری ہتھیلیوں کی پشت کامسح ضروری ہے، اگرتھوڑاسابھی مسح سے رہ گیاتوتیمم باطل ہے چاہے جان بوجھ کرچھوڑدے یابھولے سے چھوٹ جائے، لیکن بہت زیادہ وقت کی بھی ضرورت نہیں ہے ، بس اتناکافی ہے کہ کہاجائے پوری پیشانی اوردونوں ہاتھوں کی پشت کامسح کرلیاہے۔
مسئلہ ۷۰۱ ۔ یہ یقین پیداکرنے کے لئے کہ اس نے ہاتھ کی پوری پشت کامسح کیاہے کلائی سے کچھ مقداراوپرسے مسح کرے، البتہ انگلیوں کے درمیان کامسح ضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۰۲ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ پیشانی اورہتھیلیوں کی پشت کامسح اوپرسے نیچے کی طرف کیاجائے اورافعال تیمم کوپے درپے بجالاناچاہئے اوراگرافعال تیمم کے درمیان اتنافاصلہ ہوجائے کہ تیمم کی صورت ہی باقی نہ رہے توتیمم باطل ہے۔
مسئلہ ۷۰۳ ۔ نیت کرتے وقت یہ معین کرناضروری ہے کہ یہ تیمم وضوکے بدلے میں ہے یاغسل کے بدلے میں ہے، اوراگرغسل کے بدلے میں ہوتوغسل کو معین کرے اوراگرغلطی سے وضوکے بدلے کہنے کے بجائے غسل کے بدلے یاغسل کے بدلے کہنے کے بجائے وضوکے بدلے کی نیت کرے یامثلا جو تیمم غسل جنابت کے بدلے تھااس میں غسل مس میت کی نیت کرے تواگر اس کی یہ غلطی تشخیص کی غلطی نہ ہوتواس کاتیمم باطل ہے۔
مسئلہ ۷۰۴ ۔ تیمم میں پیشانی، ہاتھوں کی ہتھیلیاں اورہاتھوں کی پشت پاک ہونی چاہئے، البتہ اگرہتھیلی نجس ہواوراس کوپاک نہ کرسکتاہوتواسی طرح تیمم کرے۔
مسئلہ ۷۰۵ ۔ تیمم کے اعضاء پرجوجورکاوٹیں ہوں ان کودورکرناچاہئے اگرہاتھوں میں انگوٹھی ہوتواتاردے۔
مسئلہ ۷۰۶ ۔ اگرپیشانی یاہتھیلیوں کی پشت یاہتھیلیوں پرزخم ہواوراس پرکوئی کپڑایاکوئی دوسری ایسی چیزبندھی ہوجس کاکھولناممکن نہ ہویاکھولنے سے نقصان ہوتاہوتواسی طرح تیمم کرے۔
مسئلہ ۷۰۷ ۔ اگرپیشانی یاہاتھوں کی پشت پربال ہوں توکوئی حرج نہیں ہے لیکن اگراس کے بال پیشانی پرآگئے ہوں تو ان کوپیچھے ہٹالے۔
مسئلہ ۷۰۸ ۔ اگراسے احتمال ہوکہ پیشانی، ہتھیلی یاہاتھوں کی پشت پرکوئی رکاوٹ ہے تواگراس کااحتمال لوگوں کی نظرمیں درست ہے تواس کی جستجوکرے یہاں تک کہ اسے یقین یااطمینان ہوجائے کہ کوئی مانع نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۰۹ ۔ اگرکوئی خودتیمم نہیں کرسکتاتونائب مقررکرے جواس کے ہاتھوں کوزمین پرمارے یااگریہ ممکن نہیں ہے توزمین پررکھے اوراسی کے ہاتھ سے اس کوتیمم کراے اوراگریہ ممکن نہ ہوتونائب اپنے ہاتھ کوایسی چیزپر مارے جس پرتیمم کرناصحیح ہواوراپنے ہاتھ کواس کی پیشانی اورہاتھ کی پشت پرپھیرے۔
مسئلہ ۷۱۰ ۔ اگرتیمم کرنے کے درمیان میں شک ہوجائے کہ اس سے قبل والے حصہ یاجزء کوبھول گیاہے یانہیں توپرواہ نہ کرے اوراس کاتیمم صحیح ہے، اسی طرح اگرکسی جزء کے بجالانے کے بعدشک کرے کہ اس کوصحیح طریقہ سے بجالایاہے کہ نہیں توبھی پرواہ نہ کرے اوراس کاتیمم صحیح ہے۔
مسئلہ ۷۱۱ ۔ اگربائیں ہاتھ کے مسح کے بعدشک کرے کہ تیمم درست کیاہے یانہیں تواس کاتیمم صحیح ہے۔
مسئلہ ۷۱۲ ۔ جس کافریضہ تیمم ہے وہ نمازکے وقت سے پہلے تیمم نہ کرے،البتہ اگرکسی دوسراواجب یامستحب کام کے لئے تیمم کیاہواورنماز کے وقت تک اس کاعذرباقی رہے تواسی تیمم سے نمازپڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۷۱۳ ۔ جس کاوظیفہ تیمم ہواگریقین رکھتاہوکہ آخر وقت تک اس کاعذرباقی رہے گاتووہ تیمم سے اول وقت میں نماز پڑھ سکتاہے لیکن اگریقین رکھتاہوکہ آخری وقت تک اس کاعذردورہوجائے گاتوانتظارکرے اوروضویاغسل کے ساتھ نمازپڑھے یاپھرتنگی وقت میں تیمم کے ساتھ نمازپڑھے۔
مسئلہ ۷۱۴ ۔ جوشخص تیمم سے نمازپڑھتاہووہ اس حال میں قضانماز بھی پڑھ سکتاہے اگرچہ وہ یہ احتمال دیتاہوکہ اس کاعذرجلد ہی دورہوجائے گا، لیکن اگراسے عذرکے زائل ہونے کایقین ہوتونمازقضاکے فوت ہونے سے پہلے تک عذرکے برطرف ہونے کاانتظارکرناچاہئے۔
مسئلہ ۷۱۵ ۔ جوشخص وضویاغسل نہیں کرسکتااس کے لئے تیمم سے مستحبی نمازیں پڑھنی جائزہے حتی کہ ا ول وقت میں بھی پڑھ سکتاہے بشرطیکہ آخروقت تک عذرکے زائل ہونے کاعلم نہ رکھتاہو۔
مسئلہ ۷۱۶ ۔ جس شخص نے احتیاطاغسل جبیرہ اورتیمم دونوں کئے ہوں، مثلاایک زخم اس کی پشت میں ہواگروہ غسل اورتیمم کرنے کے بعدنمازپڑھے اورنمازکے بعداس سے حدث اصغرصادرہو،مثلاوہ پیشاب کرلے توبعدکی نمازوں کے لئے ضروری ہے کہ وضوکرے۔
مسئلہ ۷۱۷ ۔ جوشخص پانی نہ ہونے کی وجہ سے یاکسی اوروجہ سے تیمم کرے عذرختم ہوجانے کے بعداس کاتیمم خودبخودباطل ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۷۱۸ ۔ جوچیزیں وضوکوباطل کردیتی ہیں وہ وضوکے بدلے کئے ہوئے تیمم کوبھی باطل کردیتی ہیں اورجوچیزیں غسل کوباطل کردیتی ہیں وہ غسل کے بدلے کئے ہوئے تیمم کوبھی باطل کردیتی ہیں۔
مسئلہ ۷۱۹ ۔ اگرکسی پرکئی غسل واجب ہوجائیں اوروہ غسل نہ کرسکے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ہرغسل کے بدلے ایک تیمم کرے۔
مسئلہ ۷۲۰ ۔ جوشخص غسل نہیں کرسکتااگرکسی ایسے کام کو بجالاناچاہتاہوکہ جس کے لئے غسل واجب ہے تواسے چاہئے کہ غسل کے بدلے تیمم کرے اوراگروضونہیں کرسکتااورایساکام کرناچاہتاہے کہ جس کے لئے وضوواجب ہے تووضوکے بدلے تیمم کرے۔
مسئلہ ۷۲۱ ۔ اگرغسل جنابت کے بدلے تیمم کرے تواس تیمم کے ساتھ وضوکی ضرورت نہیں ہے ،لیکن اگرکسی اورغسل کے بدلے تیمم کرے تووضو کرناپڑے گااوراگروضونہیں کرسکتاتووضوکے بدلے تیمم کرے۔
مسئلہ ۷۲۲ ۔ اگرغسل کے بدلے میں تیمم کیاہواوراس کے بعدایساکام کرے جس وضوباطل ہوجاتاہے اگربعدوالی نمازوں کے لئے غسل نہ کرسکے تو وضوکرے اوراگروضونہ کرسکتاہوتووضوکے بدلے تیمم کرے۔
مسئلہ ۷۲۳ ۔ جس شخص کاشرعی وظیفہ یہ ہوکہ وضوکے بدلے اور غسل کے بدلے بھی تیمم کرے توبس دوتیمم اس کے لئے کافی ہیں تیسرے کی ضرورت نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۲۴ ۔ جس کافریضہ تیمم ہے اگرکسی کام کے لئے تیمم کرے توجب تک تیمم اوراس کاعذرباقی ہے وہ تمام ان کاموں کوانجام دے سکتاہے جن میں وضویاغسل کی شرط ہے، لیکن اگرتیمم کووقت تنگ ہونے کی وجہ سے کیاہے یاپانی کی موجودگی میں نمازمیت یاسونے کے لئے تیمم کیاتھاتواس طہارت سے فقط وہ کام انجام دے سکتاہے جس کے لئے تیمم کیاتھا۔
مسئلہ ۷۲۵ ۔ چندمقام پرمستحب ہے کہ انسان جونمازیں تیمم سے پڑھ چکاہے انہیں دوبارہ پڑھے :
۱ ۔ جہاں پانی نہ ہویاپانی کے استعمال میں کوئی رکاوٹ موجودہواور عمدا خود کومجنب کرکے تیمم سے نمازپڑھے۔
۲ ۔ جہاں اسے علم یاگمان تھاکہ پانی نہیں ملے گااوراس کے باوجوداس نے جان بوجھ کراپنے آپ کومجنب کیااورتیمم سے نمازپڑھی۔
۳ ۔ جہاں جان بوجھ کرپانی کی تلاش میں نہ جائے اورتنگ وقت میں تیمم سے نمازپڑھے اوربعدمیں پتہ چلے کہ اگرتلاش کرتاتوپانی مل جاتا۔
۴ ۔ جان بوجھ کرنمازمیں تاخیرکی اورآخروقت میں نمازتیمم سے پڑھی۔
۵ ۔ جس کوعلم یاگمان ہوکہ پانی نہیں ملے گاپھربھی اپنے پاس موجودپانی کوضائع کرکے تیمم سے نمازپڑھی ہو۔
نماز کے مسائل :
نماز کے احکام
نمازتمام عبادتوں میں سب سے زیادہ اہم ہے روایت میں ہے کہ اگرنمازقبول ہوگئی تودیگراعمال بھی قبول کرلئے جائیں گے اوراگرنمازنہ قبول کی گئی تودیگر اعمال بھی قبول نہ کئے جائیں گے۔
اسی طرح روایت میں ہے کہ پنجگانہ نمازپڑھنے والے کے گناہ اس طرح بخش دئیے جائیں گے جس طرح نہرکے پانی سے پانچ وقت نہانے والے کے بدن سے کثافت دورہوجاتی ہے اورانسان کے لئے بہترہے کہ نمازاول وقت پڑھاکرے اوراس کی اہمیت کاقائل ہواورجوشخص نمازکوکم اہمیت دے گویاکہ نماز نہیں پڑھی پیغمبراسلام کافرمان ہے کہ جوشخص نمازکواہمیت نہ دے اوراس کوخفیف سمجھے وہ آخرت کے عذاب کامستحق ہے چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک دن رسول اکرم نے ایک شخص کومسجدمیں نمازپڑھتے دیکھاجورکوع وسجودکامل طورسے نہیں بجالارہاتھاتوآنحضرت نے فرمایا:اگریہ شخص مرجائے اوراس کی نمازکایہی عالم ہوتومیرے دین پرنہیں مرے گا پس انسان کوچاہئے کہ تیزی سے نمازنہ پڑھے اورجوچیزیں حواس کی پراکندگی کاسبب بنتی ہیں ان سے پرہیز کرے، نماز میں کلمات کے معانی کی طرف توجہ رکھنااورخضوع وخشوع سے نمازپڑھنااوریہ سمجھناکہ کس سے گفتگوکررہاہے، اپنے کوعظمت وبزرگی خداکے مقابلے میں بہت ہی چھوٹاجاننا۔ معصومین کے حالات زندگی میں لکھاہے کہ نمازکے وقت یادخدامیں اس طرح محوہوجاتے تھے کہ اپنے سے بھی بے خبرہوجاتے تھے حضرت علی کے پاؤں میں تیرکاپھل رہ گیاتھانماز کی حالت میں نکال لیاگیاآپ کوخبربھی نہیں ہوئی۔
نمازکوقبولیت اوراس کی فضیلت وکمال کے لئے واجب شرائط کے علاوہ چنداموربھی ہیں جن کورعایت کرنامناسب ہے :
۱ ۔ نمازسے پہلے اپنی خطاؤں سے توبہ اوراستغفارکرے۔
۲ ۔ جوگناہ نمازکی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں ا ن سے پرہیزکرے، جیسے حسد،تکبر،غیبت،حرام مال کھانا، نشہ آورچیزوں کاپینا، خمس وزکات نہ دینا، بلکہ ہرگناہ سے پرہیزکرناچاہئے۔
۳ ۔ جوامورحضورقلب اورنمازکی قدروقیمت کوکم کرتے ہوں ان کوانجام نہ دین۔ مثلاغنودگی کی حالت میں،پیشاب وپاخانہ روک کر،شوروغل کے درمیان نمازنہ پڑھے،ایسی جگہ بھی نمازنہ پڑھے جہاں توجہ ہٹ جاتی ہو۔
۴ ۔ جن چیزوں سے نمازکاثواب زیادہ ہوتاہے ان کوبجالانا،مثلاپاکیزہ لباس پہننا،بالوں میں کنگھاکرنا، مسواک کرنا، خوشبولگانا، عقیق کی انگوٹھی پہننا۔
واجب نمازیں :
چھ نمازیں واجب ہیں :
۱ ۔ روزانہ کی نمازیں ۲ ۔ نمازآیات ۳ ۔ نمازمیت ۴ ۔ طواف واجب کی نماز(جیسے عمرہ تمتع اورعمرہ مفردہ میں نماز طواف، حج تمتع اورطواف النساء کی نمازطواف)
۵ ۔ والدین کی قضاء نمازیں جوبڑے بیٹے پرواجب ہیں ۶ ۔ سنتی نمازیں جونذر،عہدیاقسم کے ذریعہ واجب ہوتی ہیں۔
۱ ۔ نمازپنجگانہ :
روزانہ پانچ نمازیں واجب ہیں : ظہروعصر، یہ دونوں چارچاررکعت ہیں ، مغرب یہ تین رکعت ہے ، عشاء یہ چاررکعت ہے، نمازصبح جودورکعت ہے۔
مسئلہ ۷۲۷ ۔ سفرمیں چاررکعتی نمازیں،آئندہ شرائط کے مطابق دورکعت ہوجاتی ہیں۔
نمازظہروعصرکاوقت :
مسئلہ ۷۲۸ ۔ سب سے بہترطریقہ وقت ظہرکے داخل ہونے کا معلوم کرنے کا شاخص ہے(ایک سیدھی لکڑی یاکوئی اورچیزہموارزمین پرعمودی طورسے گاڑ دیں سورج نکلنے کے بعداس کاسایہ مغرب کی طرف ہوگا، جیسے جیسے سورج بلندہوتارہے گاسایہ کم ہوتاجائے گاجب سایہ کمی کے آخری درجہ تک پہنچ جائے تویہ ظہرکاوقت ہے اورپھرجب بڑھنے لگے اورمشرق کی طرف پلٹے تویہ نمازظہرین کااول وقت ہے، البتہ بعض شہروں میں جیسے مکہ مکرمہ میں سال کے بعض دنوں میں سایہ بالکل ختم ہوجاتاہے، ایسی جگہوں پرجب سایہ ختم ہوکرپھرسے ظاہرہونے لگے تونمازظہروعصرکاوقت آجاتاہے۔
مسئلہ ۷۲۹ ۔ لکڑی یااسی قسم کی دوسری چیزجوظہرکے وقت کومعین کرنے کے لئے زمین پرنصب کی جاتی ہے اسے شاخص کہتے ہیں۔
مسئلہ ۷۳۰ ۔ نماز ظہروعصردونوں کاایک وقت مخصوص اورایک وقت مشترک ہوتاہے،نمازظہرکے وقت مخصوص اول وقت ظہر سے اتنی دیرتک رہتاہے جتنی دیرمیں نمازظہرپڑھی جاسکے اورنمازعصرکامخصوص وقت جب غروب آفتاب میں صرف ایک نماز کاوقت رہ جائے توہوتاہے اوراگرکسی نے اس وقت تک نمازظہرنہیں پڑھی تواب اس کی قضاء ہوگئی اب صرف نمازعصر پڑھے، ظہرکی قضاء کرے، ان دونوں(ظہروعصر) کے مخصوص وقتوں کے درمیان کاوقت مشترک وقت ہوتاہے اوراگرکوئی شخص غلطی سے اسے مشترک وقت میں نمازظہریاعصرمیں سے ایک کودوسری کی جگہ پڑھ لے تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۷۳۱ ۔ اگربھولے سے نمازظہرپڑھنے سے پہلے نمازعصرپڑھنے لگے اورپڑھنے میں متوجہ ہوتواگروہ وقت مشترک ہوتوعصرکی نیت سے ظہرکی نیت کی طرف پلٹ جائے اورقصدکرلے کہ اگرجوکچھ پڑھاہے وہ ظہرسے متعلق ہے اورباقی نماز پوری کرکے نمازعصرپڑھے اوراگروقت ظہرکامخصوص وقت ہوتونیت کونمازظہرکی طرف پلٹادے اورنمازکوپوراکرے اس کے بعدنمازاداکرے اوراحتیاط مستحب ہے کہ نمازعصرکے بعددوبارہ نمازظہر کو پڑھے۔
مسئلہ ۷۳۲ ۔ نمازجمعہ دورکعت ہے جمعہ کے دن ظہرکے بدلے میں پڑھی جاتی ہے پیغمبراسلام اورامام معصوم اوران کے نائب خاص کے زمانے میں واجب عینی ہے، لیکن غیبت کبری کے زمانہ میں واجب تخیری ہے، یعنی انسان کونمازجمعہ اورنماز ظہرکے درمیان اختیارہے کہ جس کوچاہے پڑھے لیکن جس زمانہ میں حکومت عدل اسلامی ہواس میں احتیاط یہ ہے کہ جمعہ ترک نہ ہو۔
مسئلہ ۷۳۳ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ نمازجمعہ کونمازظہرکے اول وقت عرفی سے مؤخرنہ کیاجائے اوراگراسے تاخیرہوجائے تونمازجمعہ کے بجائے نمازظہراداکرناچاہئے۔
مسئلہ ۷۳۴ ۔ جیساکہ مسئلہ( ۷۳۰) میں بیان کیاگیاہے کہ نمازظہر وعصراورمغرب وعشاء کے لئے ہرایک کااپناایک مخصوص وقت ہوتاہے، پس اگر کوئی جان بوجھ کرنمازعصرکونمازظہرکے مخصوص وقت میں پڑھے یابالعکس تو اس کی نمازباطل ہے، اوراگرکوئی شخص کسی اورنمازکو،نمازصبح کی قضایا اس قسم کی دوسری نمازکونمازظہریانمازمغرب کے مخصوص وقت میں پڑھے تواس کی نمازصحیح ہے۔
نمازمغربین کاوقت :
مسئلہ ۷۳۵ ۔ جب مشرق کی طرف سے اٹھنے والی سرخی سرسے گزرجائے تومغرب کاوقت داخل ہوجاتاہے اوریہ سرخی غروب آفتاب کے وقت پیدا ہوتی ہے۔
مسئلہ ۷۳۶ ۔ مغرب وعشاء کے بھی دووقت ہیں : ۱ ۔ اختصاصی ۲ ۔ اشتراکی مغرب کااختصاصی وقت غروب آفتاب کے بعدسے اتنی دیرتک رہتاہے جتنی دیرمیں ادمی تین رکعت نمازپڑھ سکے اوراگرمسافرنمازعشاء کومغرب کے اختصاصی وقت میں پڑ ھے تواس کی نمازباطل ہے، اورنمازعشاء کااختصاصی وقت جب آدھی رات میں صرف نمازعشاء پڑھنے کاوقت رہ جائے، اوراگرکسی نے جان بوجھ کراس وقت تک نمازمغرب نہیں پڑھی توپہلے نمازعشاء کوپڑھے اس کے بعدمغرب کی قضاء کرے اوران دونوں مخصوص وقتوں کے درمیان کاوقت مشترک وقت ہے، اگرکوئی مشترک وقت میں غلطی سے نمازعشاء کومغرب سے پہلے پڑھ لے اورنمازکے بعدمتوجہ ہوکہ مغرب نہیں پڑھی تواس کی نمازصحیح ہے، نمازمغرب کواس کے بعدبجالائے۔
مسئلہ ۷۳۷ ۔ مخصوص اورمشترک وقت جس کواس سے پہلے والے مسئلہ میں بیان کیاگیاہے اشخاص کے اعتبارسے فرق رکھتاہے، مثلاظہر وعصروعشاء کامخصوص وقت مسافرکے لئے دورکعت کے برابرہے اورحاضرکے لئے چاررکعت پڑھنے کے برابرہے۔
مسئلہ ۷۳۸ ۔ اگربھولے یاغفلت سے نمازعشاء شروع کردے اوردرمیان میں متوجہ ہوکہ مغرب کی نمازنہیں پڑھی، چنانچہ اگرپوری نمازیااس کاکچھ حصہ مشترک وقت میں پڑھاہے اورچوتھی رکعت کے رکوع میں نہیں گیاتونیت مغرب کی طرف پلٹادے اورنمازکوختم کرے اوراس کے بعدنمازعشاء پڑھے اوراگرچوتھی رکعت کے رکوع میں جاچکاہے تونمازعشاء کوتمام کرکے اس کے بعدنمازمغرب پڑھے لیکن اگرجوکچھ پڑھاہے نمازمغرب کے مخصوص وقت میں پڑھاہے تواس کی نمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۷۳۹ ۔ نمازعشاء کاآخری وقت آدھی رات ہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ رات کاشمارغروب آفتاب سے اذان صبح تک کرے لیکن نمازشب اوراس کی مانندچیزوں کے لئے غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک حساب کرسکتاہے۔
مسئلہ ۷۴۰ ۔ اگرکسی عذرکی وجہ سے نمازمغرب یاعشاء کوآدھی رات تک نہیں پڑھاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ اذان صبح سے پہلے تک اداء وقضاء کی نیت بغیربجالائے۔
نمازصبح کاوقت :
مسئلہ ۷۴۱ ۔ اذان صبح کے قریب مشرق کی طرف سے ایک سفیدی اوپرکی طرف اٹھتی ہے جسے فجراول کہتے ہیں، جب وہ سفیدی مشرق کی طرف اورافق میں پھیل جائے توفجردوم اوروہ اول نمازصبح ہے،اورنمازصبح کاآخری وقت سورج نکلنے تک ہے۔
اوقات نمازکے احکام :
مسئلہ ۷۴۲ ۔ انسان اس وقت نماز پڑھ سکتاہے جب وقت کے داخل ہونے کایقین ہوجائے یادوعادل آدمی وقت داخل ہونے کی خبردے بشرطیکہ ان دونوں کی خبراورگواہی حسی ہو، مثلاگواہی دیں کہ شاخص کاسایہ کم ہونے کے بعدبڑھناشروع ہوگیاہے اوروقت شناس ومورداطمینان شخص کی اذان بھی کافی ہے۔
مسئلہ ۷۴۳ ۔ اندھایاوہ شخص جوقیدخانہ میں ہے یااس قسم کاعذر رکھنے والے کے لیے احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک وقت کے داخل ہونے کایقین نہ ہوجائے نمازشرو ع نہ کرے، لیکن اگرآسمان میں بادل، غبارجیسی رکاوٹ کی وجہ سے وقت کے داخل ہونے کایقین نہیں حاصل کرسکتے اگرگمان قوی پیداہوجائے تونمازپڑھ سکتے ہیں۔
مسئلہ ۷۴۴ ۔ اگراوپربیان کئے گئے قواعدکی بناپرنمازشروع کردے اور اثنائے نمازپڑھنے لینے کے بعدمعلوم ہوکہ پوری نماز وقت سے پہلے پڑھ لی ہے تونمازکااعادہ کرے لیکن اگرنمازہی میں معلوم ہوجائے یانمازکے بعدپتہ چلے کہ وقت داخل ہوگیاتھا تونمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۷۴۵ ۔ اگرانسان وقت کے داخل ہونے سے باخبرہوئے بغیرغفلت یافراموشی سے نمازپڑھ لے اوراس کی پوری نماز وقت کے اندرہوئی ہوتواس کی نمازصحیح ہے لیکن اگرپوری نمازیااس کاکچھ حصہ وقت سے پہلے واقع ہواہوتواس کی نمازباطل ہے، بلکہ اگرنمازکے بعدمعلوم ہوجائے کہ اثناء نمازمیں وقت داخل ہوگیاتھاتب بھی احتیاط واجب یہ ہے کہ اس نمازکودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۷۴۶ ۔ اگراسے یقین ہوکہ وقت داخل ہوگیاہے اوروہ نمازشروع کرے اوراثناء نمازمیں یہ شک ہوجائے کہ وقت داخل ہواتھایانہیں تواس کی نمازباطل ہے، ہاں اگراثناء نمازمیں یقین ہوجائے کہ وقت ہوگیاہے لیکن یہ شک ہوکہ جتنی نماز پڑھ چکاہوں وہ وقت میں تھی یانہیں تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۷۴۷ ۔ تنگی وقت میں اگرمستحبات کی ادائیگی سبب بنے کہ کچھ واجبات وقت کے بعدواقع ہوں توان مستحبات کوچھوڑ دیناچاہئے، مثلااگرقنوت پڑھنے کی وجہ سے نمازکاکچھ حصہ وقت کے بعدپڑھناپڑے گاتوقنوت نہ پڑھے، اگرقنوت پڑھے توگنہگارہوگا، البتہ اس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۷۴۸ ۔ ---------------------------------------------------------------------
مسئلہ ۷۴۹ ۔ جوشخص مسافرنہیں آگراس کے پاس مغرب تک پانچ رکعات پڑھنے کاوقت ہے تووہ نمازظہراورعصردونوں کو پڑھے اوراگراس سے کم وقت ہوتوصرف نمازعصرپڑھے اوراس کے بعدنمازظہرکی قضاء کرے اوراگر آدھی رات تک پانچ رکعات پڑھنے کاوقت ہے تونمازمغرب وعشاء دونوں کوپڑھے اوراگراس سے کم وقت ہوتوصرف عشاء پڑھے اوربعدمیں نماز مغرب کوبجالائے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ادایاقضاء کی نیت نہ کرے۔
مسئلہ ۷۵۰ ۔ مسافرکواگرمغرب تک تین رکعت کاوقت ہونمازظہراورعصر دونوں پڑھے اوراگراس سے کم ہوتوصرف عصرپڑھے اوربعدمیں نمازظہرکی قضاء کرے اوراگرآدھی رات تک اس کے پاس صرف چاررکعت کاوقت ہے تومغرب اورعشاء دونوں پڑھے اوراگراس سے کم ہوتوصرف نمازعشاء پڑھے اوربعدمیں مغرب کواداء یاقضا کی نیت کے بغیربجالائے اوراگرنمازعشاء پڑھنے کے بعداسے معلوم ہوجائے کہ ایک رکعت یااس سے زیادہ وقت آدھی رات تک باقی ہے توفورانماز مغرب کواداکی نیت سے بجالائے۔
مسئلہ ۷۵۱ ۔ مستحب مؤکدہے کہ نمازکواول وقت فضیلت میں پڑھے روایات میں اس کی بہت تاکیدکی گئی ہے اورجتنااول وقت کے قریب پڑھے گااتنابہترہے مگریہ کہ تاخیرکسی اوروجہ سے بہترہو، مثلاانتظارکرے تاکہ نمازجماعت کے ساتھ پڑھے۔
مسئلہ ۷۵۲ ۔ جب انسان کوئی ایساعذررکھتاہوکہ اگراول وقت میں نمازپڑھناچاہے تومجبورہے کہ تیمم کے ساتھ نمازپڑھے چنانچہ اگراسے معلوم ہویااحتمال ہوکہ عذرآخروقت تک باقی رہے گاتووہ اول وقت نمازپڑھ سکتاہے ، لیکن اگرمثلااس کالباس نجس ہو، یااورکوئی عذررکھتاہواوراحتمال دے کہ اس کاعذردوررہے گاتواحتیاط واجب ہے کہ اتناانتظارکرے کہ اس کاعذردورہوجائے اوراگراس کاعذردورنہ ہوتواخروقت میں نمازپڑھے اورضروری نہیں کہ اتناوقت تک انتظارکرے یہاں تک کہ صرف نماز کے واجب افعال بجالاسکے بلکہ اگرمستحبات نماز،مثلااذان واقامت اورقنوت کاوقت ہوتونجس لباس کے ساتھ نمازکو ان مذکورہ مستحبات سمیت بجالاسکتاہے۔
مسئلہ ۷۵۳ ۔ جس کوشکیات وسہویات نمازمعلوم نہ ہونااوراحتمال ہوکہ نمازمیں کوئی بات پیش آسکتی ہے توان شکیات وسہویات کویادکرنے کے لئے احتیاط واجب کی بناپرنمازکواول وقت سے مؤخرکرے، لیکن اگراطمینان ہوکہ بطورکامل اداکرے گاتواول وقت نمازپڑھناجائزہے، تواگراثناء نمازمیں کوئی ایسامسئلہ پیش نہ آئے جس کاحکم اسے معلوم نہیں تواس کی نمازصحیح ہے اوراگرنمازپڑھتے ہوئے کوئی ایسامسئلہ درپیش ہوجائے جس کونہیں جانتاتواحتمال کے دوطرفوں میں سے کسی ایک پرعمل کرے اورنمازکے بعدمسئلہ معلوم کرے اورنمازباطل ہوتودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۷۵۴ ۔ اگرنمازکاوقت وسیع ہے اورکوئی صاحب حق اس سے حق کامطالبہ کرتاہے توامکان کی صورت میں پہلے اس کاقرض اداکرے اس کے بعدنمازپڑھے، اسی طرح اگرکوئی اورایساکام پیش آئے کہ جسے فورابجالاناہے، مثلایہ دیکھے کہ مسجد نجس پڑی ہے توپہلے مسجدکوپاک کرے اوراس کے بعدنمازپڑھے اوراگراس نے پہلے نمازپڑھ لی تووہ گنہگارہوگا، لیکن اس کی نمازصحیح ہے۔
نمازوں کی ترتیب :
مسئلہ ۷۵۵ ۔ نمازظہروعصرترتیب سے پڑھی جائے گی، یعنی پہلے ظہرپھرعصر،اسی طرح مغرب وعشاء میں ترتیب ہے، اگر کوئی عمدانمازعصر کوظہرسے پہلے یاعشاء کومغرب سے پہلے پڑھے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۷۵۶ ۔ اگرنمازظہرکوشروع کرے اوردرمیان میں یادآجائے کہ ظہر پڑھ چکاہے تونمازعصرکی نیت نہیں کرسکتااس کی نماز باطل ہوجائے گی، یہی صورت مغرب وعشاء کی ہے۔
مسئلہ ۷۵۷ ۔ اگرنمازعصرپڑھتے ہوئے اسے یقین ہوجائے کہ نمازظہرنہیں پڑھی تواپنی نیت نمازظہرکی طرف پلٹادے اوراگر پلٹانے کے بعدرکن نمازمیں مشغول ہوجائے اوربعدمیں اسے یادآئے کہ اس نے نمازظہرپڑھ لی تھی تواحتیاط واجب ہے کہ نیت نمازعصرکی طرف پلٹ دے اورنمازپوری پڑھنے کے بعددوبارہ نمازعصرپڑھے، لیکن اگررکن نمازمیں داخل ہونے سے پہلے اسے یادآجائے تووہ نیت کونمازعصرکی طرف پلٹادے اورجوکچھ وہ نمازظہرکی نیت سے پڑھ چکاہے وہ دوبارہ عصر کی نیت سے پڑھے اوراس کی نمازصحیح ہوگی اگرچہ مستحب یہ ہے کہ نمازعصرکودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۷۵۸ ۔ اگرنمازعصرپڑھتے ہوئے شک ہوجائے کہ نمازظہرپڑھی کہ نہیں تونیت کونمازظہرکی طرف پلٹادے اورنمازعصر کوبعدمیں پڑھے البتہ اگروقت اتناکم ہے کہ نمازکے ختم ہوتے ہی مغرب کاوقت ہوجائے گاتووہ نمازعصر کی نیت سے پوری کرے اورنمازظہرکی قضاضروری نہیں۔
مسئلہ ۷۵۹ ۔ اگرنمازعشاء میں چوتھی رکعت کے رکوع سے پہلے شک کرے کہ نمازمغرب پڑھی ہے یانہیں، تواگروقت اتناکم ہوکہ نمازتمام کرنے کے بعدآدھی رات ہوجائے گی توعشاء کی نیت سے نمازکوتمام کرے اوراگروقت زیادہ ہے توپھرنیت کونمازمغرب کی طرف پھیردے اورپھرنمازعشاء پڑھے۔
مسئلہ ۷۶۰ ۔ اگرنمازعشاء میں چوتھی رکعت کے رکوع کے بعدشک کرے کہ نمازمغرب پڑھی تھی یانہیں تواس کونمازتمام کرے اوراس کے بعدنمازمغرب پڑھے اوراگریہ شک نمازعشاء کے اختصاصی وقت میں ہوتوپھرنمازمغرب کاپڑھناضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۶۱ ۔ اگرانسان کسی نمازکواحتیاط دوبارہ پڑھے اورنمازکے دوران اسے یادآئے کہ اس نمازسے پہلے والی نمازکونہیں پڑھی تونیت کواس نمازکی طرف نہیں پلٹ سکتا، مثلاجب وہ نمازعصراحتیاطاپڑھ رہاہواگراسے یادآجائے کہ اس نے نمازظہر نہیں پڑھی تونیت کونمازظہرکی طرف نہیں پلٹ سکتا۔
مسئلہ ۷۶۲ ۔ قضاء نمازسے اداکی طرف اورمستحب نمازسے واجب کی طرف عدول کرناجائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۶۳ ۔ اگرادانمازکاوقت وسیع ہوتونمازکے دوران قضاکی طرف عدول جائزہے لیکن یہ اس وقت ہے جب عدول ممکن بھی ہو، مثلاظہرکی نمازپڑھتے ہوئے صبح کی قضاء نمازکی طرف اسی وقت عدول کرسکتاہے جب ظہرکی تیسر ی رکعت میں داخل نہ ہواہو۔
مستحب نمازیں :
مسئلہ ۷۶۴ ۔ مستحبی نمازیں بہت زیادہ ہیں اوران ہی کونافلہ کہتے ہیں، نافلہ نمازوں میں رات دن کے نوافل کی بہت تاکیدہوئی ہے اوران کی تعدادروزجمعہ کے علاوہ ایام میں چونتیس رکعت ہے : نافلہ ظہرآٹھ رکعت، نافلہ عصرآٹھ رکعت، نافلہ مغرب چارکعت، نافلہ عشاء دورکعت، نافلہ شب گیارہ رکعت، نافلہ صبج دورکعت۔
--------------------------------------------------------------
--------------------------------------------------------------
مسئلہ ۷۶۵ ۔ گیارہ رکعت نافلہ شب میں اٹھ رکعت نمازشب کے نافلہ کی نیت سے دورکعت نافلہ شفع اورایک نافلہ وترکے عنوان سے پڑھی جائیں گی اوراس کی تفصیل دعاؤں کی کتابوں میں تحریرکی گئی ہے۔
مسئلہ ۷۶۶ ۔ تمام نوافل کوبیٹھ کرپڑھاجاسکتاہے، لیکن بہتریہ ہے کہ ہردورکعت کوایک رکعت شمارکرے، مثلاآٹھ رکعت نافلہ ظہرکواگربیٹھ کرپڑھے توسولہ رکعت پڑھے اوراگروترکوبیٹھ کردورکعت پڑھے۔
مسئلہ ۷۶۷ ۔ نافلہ ظہرسفرمیں ساقط ہے، سفرمیں نہیں پڑھناچاہئے، البتہ نافلہ عشاء کواس نیت سے کہ شایدمطلوب ہوں بجالایاجاسکتاہے۔
نوافل یومیہ کاوقت :
مسئلہ ۷۶۸ ۔ نافلہ ظہرکاوقت نمازعصرسے پہلے ہے اول ظہرسے شروع ہوتاہے اورجب شاخص کاسایہ ۷ ۔ ۲ سے زیادہ ہوجائے توختم ہوجاتاہے، مثلااگرشاخص کی بلندی ۷۰ سنٹی میٹرہے توجب سایہ جوظہرکے بعدپیداہوتاہے ۲۰ سنٹی میٹرکوپہنچے گاتونافلہ ظہرکاوقت ختم ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۷۶۹ ۔ نافلہ عصرجونمازعصر سے پہلے پڑھی جاتی ہے اس کاوقت اس وقت ختم ہوجاتاہے جب شاخص کاسایہ ۷ ۔ ۴ پہنچ جائے اگرکوئی نافلہ ظہریاعصرکوان کے مقررہ وقت کے بعدپڑھناچاہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ نافلہ ظہرکوظہرکے بعداورنافلہ عصرکوعصرکے بعدبجالائے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ادایاقضاء کی نیت کرے۔
مسئلہ ۷۷۰ ۔ نافلہ مغرب کاوقت نمازمغرب کے بعدسے اس وقت تک رہتاہے جب تک مغرب کی سرخی ختم نہ ہوجائے، یعنی وہ سرخی جوغروب آفتاب کے بعدسے پیداہوتی ہے۔
مسئلہ ۷۷۱ ۔ نمازعشاء ختم ہونے کے بعدسے نصف شب تک نافلہ عشاء کاوقت رہتاہے اوربہترہے کہ نمازعشاء کے بعدبلافاصلہ پڑھاجائے۔
مسئلہ ۷۷۲ ۔ نافلہ صبح کاوقت نمازصبح سے پہلے ہے اوراس کاوقت آدھی رات کے بعدگیارہ رکعت نمازتہجدکی مقداروقت گزرنے کے بعدسے شروع ہوتاہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ فجراول سے پہلے نہ پڑھیں مگریہ کہ بلافاصلہ نمازتہجدکے بعدپڑھ لین توایسی صورت میں کوئی مانع نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۷۳ ۔ نافلہ شب کاوقت نصف شب سے اذان صبح تک رہتاہے،لیکن بہتریہ ہے کہ اذان صبح کے نزدیک پڑھی جائے۔
مسئلہ ۷۷۴ ۔ مسافراوروہ شخص جس کے لئے نمازتہجدکاآدھی رات کے بعدپڑھنامشکل ہویااسے ڈرہوکہ بروقت نہ پڑھ سکے تووہ ابتداء رات میں انہیں پڑھ سکتاہے۔
نمازغفیلہ :
مستحبی نمازوں میں سے ایک نمازغفیلہ ہے جومغرب وعشاء کے درمیان پڑھی جاتی ہے اس کاوقت نمازمغرب کے بعدمغرب کی طرف والی سرخی زائل ہونے تک ہے یہ نمازدورکعت ہے پہلی رکعت میں حمدکے بجائے سورہ کے یہ آیت پڑھے۔
وذاالنون اذذهب مغاضبافظن ان لن یقدرعلیه فنادی فی الظلمات ان لااله الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین فاستجبناله ونجیناه من الغم وکذلک ننجی المؤمنین ۔
اوردوسری رکعت میں حمدکے بعدبجائے سورہ کے یہ آیت پڑھے :
وعنده مفاتیح الغیب لایعلمهاالاهوویعلم مافی البروالبحروماتسقط من ورقة الایعلمهاولاحبةفی ظلمات الارض ولارطب ولایابس الافی کتاب مبین ۔
اورقنوت میں یہ پڑ ھے :
اللهم انی اسالک بمفاتیح الغیب اتی لایعلماالاانت ان تصل علی محمدوآل محمدوان تفعل بی کذاوکذا ۔
اورکذاوکذاکی جگہ اپنی حاجتوں کوطلب کرے اس کے بعدکہے :
اللهم انت ولی نعمتی والقادرعلی طلبتی تعلم حاجتی فاسلک بحق محمد وآل محمد علیه وعلیم السلام لماقضیتهالی ۔
قبلہ کے احکام :
مسئلہ ۷۷۶ ۔ خانہ کعبہ جومکہ مکرمہ میں ہے وہ تمام دنیاکے مسلمانوں کاقبلہ ہے جوشخص جہاں بھی ہواسی کے روبرونماز پڑھے اورجوشخص دورہواگراس طرح کھڑاہوکہ لوگ کہیں روبہ قبلہ نمازپڑھ رہاہے توکافی ہے، اوریہی حکم ہے دوسرے امورجنہیں قبلہ رخ انجام دیناہے، مثلاجانورکوذبح کرنا۔
مسئلہ ۷۷۷ ۔ جوشخص واجب نمازکھڑے ہوکرپڑھ رہاہواگراس طرح کھڑاہو کہ لوگ کہیں روبہ قبلہ نمازپڑھ رہاہے کافی ہے اورضروری نہیں ہے کہ اس کے گھٹنے اورانگلیوں کی نوک روبہ قبلہ ہو۔
مسئلہ ۷۷۸ ۔ جوشخص بیٹھ کے نمازپڑھ رہاہواگروہ معمول کے مطابق نہیں بیٹھ سکتااوربیٹھتے وقت پاؤں کے تلوے زمین پرلگائے ہوئے ہے توضروری ہے کہ نمازکے موقع پراس کاچہرہ، شکم، سینہ قبلہ رخ ہوں اورپاؤں کی پنڈلیاں قبلہ رخ ہوناضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۷۹ ۔ اگرکوئی بیٹھ کرنمازنہیں پڑھ سکتاتوداہنی کروٹ اس طرح لیٹے کہ پورااگلاحصہ روبہ قبلہ ہواوراگرممکن نہ ہوتوبائیں کروٹ اس طرح لیٹے کہ پورااگلاحصہ روبہ قبلہ ہواوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتواس طرح چت لیٹے کہ پیروں کے تلوے قبلہ کی طرف ہوں۔
مسئلہ ۷۸۰ ۔ نمازاحتیاط اوربھولے ہوئے تشہدوسجدہ میں روبہ قبلہ ہونا چاہئے اورسجدہ سہومیں بھی احتیاط مستحب یہی ہے۔
مسئلہ ۷۸۱ ۔ مستحبی نمازوں کوراہ چلتے اورسواری (مثلاکار،ریل گاڑی،ہوائی جہاز اورکشتی) پربھی پڑھاجاسکتاہے اورایسی صورت میں روبہ قبلہ ہوناضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۷۸۲ ۔ قبلہ کی تشخیص کے لئے بہت سے طریقہ ہیں پہلے توکوشش کرے تاکہ یقین ہوجائے، دوعادل یاایک ایساشخص جوقابل اطمینان ہواورحسی علامات سے گواہی دے یاایسے شخص کے قول پرجوعلمی قاعدے سے قبلہ کوپہنچانتاہواورقابل اطمینان بھی ہوعمل کیاجاسکتاہے اوراگریہ چیزیں ممکن نہ ہوں تواس گمان پربھی عمل کرسکتاہے جومسلمانوں کی محرابوں، قبروں،یا دوسرے ذر ائع سے حاصل ہوں، حتی کہ اگرایک فاسق یاکافرجوعلمی قاعدے سے قبلہ کوپہچانتاہواس کی بات سے قبلہ کے بارہ میں گمان حاصل ہوجائے توکافی ہے۔
مسئلہ ۷۸۳ ۔ جوشخص قبلہ کی سمت کے بارے میں گمان کرے اگروہ اس سے قوی ترگمان حاصل کرسکتاہے تووہ اپنے گمان پرعمل نہیں کرسکتا، مثلااگرمہمان صاحب خانہ کے کہنے پرقبلے کی سمت کے بارے میں گمان پیداکرلے لیکن کسی دوسے طریقہ سے (مثلاقبلہ نمازسے) زیادہ قوی گمان پیداکرسکتاہوتواسے صاحب خانہ کے کہنے پرعمل نہیں کرناچاہئے۔
مسئلہ ۷۸۴ ۔ عام طورسے جوقبلہ نمااستعمال ہوتے ہیں اگریہ صحیح ہوں توشناخت قبلہ کے لئے بہترین ذرائع ہیں اوراس سے حاصل ہونے والاگمان دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والے گمان سے کم نہیں ہے بلکہ شایددقیق ترہے۔
مسئلہ ۷۸۵ ۔ اگرقبلہ کی جہت کونہیں جانتاتومساجد کے محراب اورمسلمانوں کی قبورکے ذریعے قبلہ کی سمت کومعلوم کرتاہے تواگر نماز پڑھنے سے پہلے اپنی کوشش یاجدیدآلات سے، مثلاقبلہ نماکے ذریعہ کسی دوسری طرف قبلہ ہونے کااطمینان ہواورعلم پیداکرلے تواحتیاط واجب ہے کہ مساجدکے محراب اورمسلمانوں کی قبور کوقبلہ کی شناخت کامعیارنہ بنائے خصوصااگریہ گمان اورظن غالب ہوجائے کہ اس جگہ رہنے والے لوگ مساجدکے محراب اورقبوربنانے میں زیادہ باریک بینی سے کام نہیں لیتے رہے تواس طرف یاان اطراف کی طرف رخ کرکے نمازنمازپڑھے جس کی طرف قبلہ ہونے کے متعلق اطمینان یاقوی گمان ہو۔
مسئلہ ۷۸۶ ۔ اگرقبلہ معلوم کرنے کاکوئی ذریعہ نہ ہواورقبلہ چارمختلف سمتوں میں مساوی شک ہوتواگرنمازکاوقت وسیع ہوتوچارنمازچاروں طرف منہ کرکے پڑھے اوراگروقت کم ہوتوجتنی مقداروقت ہونمازپڑھے، مثلاایک نمازپڑھنے جتناوقت ہوتواس نمازکوجس طرف منہ کرکے چاہے پڑھے اورنمازوں کواس طرح پڑھے کہ اسے یقین ہوجائے کہ ان میں سے ایک نمازقبلہ رخ پڑھی گئی ہے۔
مسئلہ ۷۸۷ ۔ اگریقین یاگمان ہوکہ قبلہ دوطرف میں سے ایک طرف ہے تودونوں طرف منہ کرکے نمازپڑھناچاہئے، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ گمان کی صورت میں چاروں طرف منہ کرکے نمازپڑھے۔
مسئلہ ۷۸۸ ۔ جوشخص چندطرف نمازپڑھناچاہتاہواگروہ ظہر،عصر، مغرب، عشاء کوپڑھناچاہتاہے توبہترہے کہ پہلی نمازکوچاروں طرف پڑھ لے پھردوسری شروع کرے۔
مسئلہ ۷۸۹ ۔ جس شخص کوقبلے کی سمت کایقین نہ ہواگرنماز کے علاوہ کوئی ایساکام کرناچاہے جس میں قبلہ کی طرف رخ کرناضروری ہے، مثلاحیوان کوذبح کرناہوتواپنے گمان پرعمل کرے اوراگرگمان نہ حاصل ہوسکے توجس طرف ذبح کردے صحیح ہے۔
مسئلہ ۷۹۰ ۔ اگرقبلہ کے بارے میں اسے گمان حاصل ہواورنمازشروع کردے پھراثناء نمازمیں کسی دوسری طرف قبلہ ہونے کاگمان پیداہوجائے تواسے باقیماندہ نمازدوسرے طرف پڑھنی چاہئے، لیکن اگرپہلی نمازکی جتنی مقدارپڑھی تھی وہ قبلہ سے دائیں یابائیں یاپشت بہ قبلہ پڑھی گئی ہے توایسی صورت میں اس نمازکوقبلہ رخ تمام کرے اوراحتیاط مستحب ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۷۹۱ ۔ اگرقبلہ کی تحقیق کئے بغیرغفلت یاسستی کی وجہ سے نمازپڑھے اورنمازپڑھنے کے بعدمعلوم ہوجائے کہ درست سمت قبلہ میں پڑھی گئی ہے اورنمازمیں قصدقربت بھی رکھتاتھاتواس کی نمازصحیح ہے، لیکن اگرنمازکے بعدمعلوم ہوجائے کہ سمت قبلہ کی طرف نہیں پڑھی گئی تواس کی نمازباطل ہے اوردوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۷۹۲ ۔ اگربھیڑ، بکری یااونٹ کوعمداسمت قبہ کی مخالف طرف ذبح یانحرکرے توان کاگوشت کھاناحرام ہے، لیکن اگریہ کام بھول جانے یاجاہل ہونے اورمعذورہونے کی وجہ سے کیاگیاہے توان کاگوشت کھاناحلال ہے۔
نمازکی حالت میں بدن کاچھپانا :
مسئلہ ۷۹۳ ۔ نمازپڑھتے ہوئے مردکاآگاپیچھاچھپاہوناچاہئے، چاہے اس کوکوئی نہ دیکھ رہاہواوربہترہے کہ ناف سے زانوتک چھپالے۔
مسئلہ ۷۹۴ ۔ نماز کی حالت میں عورت کاساراجسم چھپاہوناچاہئے حتی کہ بال اورسربھی صرف چہرہ اورگٹوں تک ہاتھ اورپاؤں کھلے رہ سکتے ہیں،لیکن یہ یقین کرلینے کے لئے کہ مقدارواجب کوچھپالیاہے تھوڑاساچہرے کے اطراف اورگٹوں سے نیچے کوبھی چھپالے۔
مسئلہ ۷۹۵ ۔ نمازاحتیاط،بھولے ہوئے سجدہ،یاتشہدبلکہ بناء براحتیاط واجب سجدہ سہوکے وقت بھی نماز کی طرح اپنے کوچھپاناچاہئے۔
مسئلہ ۷۹۶ ۔ عورتوں کے لئے مصنوعی بالوں اورپوشیدہ زینتوں(جیسے ہاتھ کے کڑے وغیرہ اورگردن بند) اورچہرے کوآرایش کونامحرم سے چھپاناواجب ہے۔
مسئلہ ۷۹۷ ۔ اگرانسان جان بوجھ کرنمازمیں اپنی شرمگاہ نہ چھپائے تواس کی نمازباطل ہے، بلکہ اگرمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نہ چھپائے توبھی احتیاط واجب ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۷۹۸ ۔ اگرنمازپڑھنے میں معلوم ہوجائے کہ جس چیزکاچھپانا، مثلا(شرمگاہ) واجب ہے وہ ظاہرہے توفوراچھپالے اوراگراس کے چھپانے میں کافی وقفہ لگ جائے تواحتیاط واجب ہے کہ اپنے کوچھپاکرنمازختم کرکے دوبارہ پڑھے، لیکن اگرنماز کے بعدمعلوم ہوکہ مقدارواجب کونہیں چھپایاتھاتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۷۹۹ ۔ اگرحالت قیام میں اس اس کی شرمگاہ کواس کالباس چھپائے رہتاہے، لیکن ممکن ہے کہ کسی دوسری حالت میں، مثلارکوع یاسجودمیں نہ چھپائے توجس وقت اس کی شرمگاہ ننگی ہوجاتی ہے اگراسے کسی طریقے سے چھپالیتاہے تواس کی نماز صحیح ہے، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایسے لباس سے نمازنہ پڑھے۔
مسئلہ ۸۰۰ ۔ نمازمیں اپنے کودرخت کے پتوں اورگھاس سے چھپایا جاسکتاہے، لیکن احتیاط مستحب ہے کہ ان چیزوں کا استعمال اس وقت کرے جب کوئی دوسری چیزنہ ہو۔
مسئلہ ۸۰۱ ۔ اگرمٹی کے علاوہ کچھ نہ ہوتووہ چھپانے والی چیزنہیں ہے اورننگانمازپڑھ سکتاہے، ہاں احتیاط مستحب ہے کہ ایک مرتبہ برہنہ نمازپڑھ لے اورایک مرتبہ مٹی سے شرمگاہوں کوچھپاکرنمازپڑھے۔
مسئلہ ۸۰۲ ۔ اگربدن کوچھپانے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں ہے ، لیکن احتمال ہے کہ آخر وقت تک کچھ مل جائے گاتو احتیاط واجب یہ ہے کے نمازمیں تاخیرکرے، اگرکچھ نہ ملے توآخروقت میں اپنے وظیفہ کے مطابق نمازپڑھے۔
مسئلہ ۸۰۳ ۔ اگرکسی شخص کے پاس نمازمیں اپنے آپ کوڈھانپنے کے لئے حتی درخت کے پتے اورگھاس بھی نہ ہواورآخر وت تک ملنے کااحتمال نہ ہوتواگرکوئی نامحرم اس کودیکھ رہاہے توبیٹھ کرنماز پڑھے اوراس طرح اپنی شرمگاہ کوچھپائے اوراگرکوئی نہیں دیکھ رہاہے توکھڑے ہوکرنمازپڑھے اورشرمگاہ کوہاتھوں سے چھپالے اوررکوع وسجوداشاروں سے کرے ا ورسجدہ کے لئے تھوڑاسازیادہ جھک جائے۔
نمازی کے لباس کی شرائط :
نمازی کے لباس میں چھ شرطیں ہیں :
۱ ۔ لباس پاک ہو۔ ۲ ۔ بناء براحتیاط واجب غصبی نہ ہو ۔ ۳ ۔ مردارکے اجزاء کانہ ہو۔
۴ ۔ حرام گوشت حیوان کے اجزاء کانہ بناہو۔ ۵ ۔ ۶ ۔ اگرنمازی مردہے تواس کالباس خالص ریشمی یاخالص سونے کے تاروں سے بناہوانہ ہو۔ ان کی شرح آئندہ مسائل میں ائے گی۔
پہلی شرط :
مسئلہ ۸۰۵ ۔ نماز ی کے لباس کوپاک ہوناچاہئے اوراگرکوئی عمدانجس بدن یانجس لباس میں نمازپڑھے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۰۶ ۔ جس شخص کویہ معلوم نہ ہوکہ نجس بدن ا ورلباس میں نمازباطل ہے تواگروہ نجس بدن یالباس سے نمازپڑھے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۰۷ ۔ اگرمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے کسی نجس چیزکے متعلق معلوم نہ ہوکہ یہ نجس ہے، مثلااسے معلوم نہ ہوکہ نجاست کھانے والے اونٹ کاپسینہ یاکافرکاپسینہ نجس ہے اوراس سے نمازپڑھے تواس کی نمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۸۰۸ ۔ اگرلاعلمی میں نجس بدن یالباس میں نمازپڑھے اوربعدمیں نجس ہونے کاعلم ہوتواس کی نمازصحیح ہے، لیکن احتیاط مستحب ہی ہے کہ اگروقت موجودہوتونمازدوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۸۰۹ ۔ اگرپہلے نجاست کاعلم تھاپھربھول گیااورنجاست کے ساتھ نمازپڑھ لی تونمازکااعادہ کرے چاہے نمازپڑھتے میں یادآجائے یانمازکے بعدیادآئے اوراگرنمازکاوقت گزرگیاہے توقضاء کرے۔
۸۱۰ ۔ اگرنمازپڑھتے میں بدن یالباس نجس ہوجائے یانمازپڑھتے میں متوجہ ہوجائے کہ اس کابدن لباس نجس ہوگیاہے، لیکن یہ نہیں جانتاکہ پہلے ہی سے نجس تھایانمازپڑھنے میں نجس ہواتواگرپانی کاملناممکن ہے اوربدن یالباس کااس طرح پاک یالباس کااس طرح بدل لیناممکن ہے کہ نمازکی صورت نہیں بگٹرتی تواسی وقت پاک کرلے یابدلے لے اورپھرنمازکوپڑھے، لیکن اگریہ ممکن نہ ہوتونمازکوتوڑدے اورپاک بدن وپاک لباس سے نمازپڑھے اوریہ سب اس صورت میں ہے جب نمازکاوقت تنگ نہ ہو۔
مسئلہ ۸۱۱ ۔ جوشخص تنگ وقت میں نمازپڑھ رہاہواگرنمازپڑھتے میں اس کالباس نجس ہوجائے اورقبل اس کے کہ نمازکاکوئی حصہ نجاست کے ساتھ پڑھے اسے معلوم ہوجائے کہ نجس ہوگیاہے یااسے معلوم ہوجائے کہ لباس نجس ہے، لیکن شک کرے کہ ابھی نجس ہوایاپہلے سے نجس تھاتواگرپاک کرنے یابدلنے یالباس اتارنے سے نمازکی صورت نہیں بگڑتی اوروہ لباس اتار سکتاہے تووہ اپنے لباس کوپاک کرے یابدل دے اوراگرکوئی اورچیزشرمگاہ کوچھپانے کے لئے موجودہے تولباس اتاردے اورنمازتمام کرے لیکن اگرشرمگاہ کوئی اورچیزسے چھپاہوانہ ہواورلباس کوبھی پاک نہیں کرسکتااورنہ بدل سکتاہے، لباس کواتاردے اورجوطریقہ ننگے لوگوں کے لئے بتایاجاچکاہے اس کے مطابق نمازتمام کرے، لیکن اگرلباس پاک کرنے یابدلنے سے نمازہوجائے یاسردی وغیرہ کی وجہ سے لباس کونہیں آتارسکتاتواسی حالت میں نمازکوتمام کرے اوراس کی نماز صحیح ہے۔
مسئلہ ۸۱۲ ۔ اگرکوئی تنگ وقت میں نمازپڑھ رہاہے اورنمازپڑھتے میں بدن نجس ہوجائے اورقبل اس کے نمازکاکوئی حصہ نجاست کے ساتھ پڑھے متوجہ ہوجائے یااسے معلوم ہوکہ اس کابدن نجس ہے ا ورشک کرے کہ ابھی نجس ہوایاپہلے سے نجس تھا تواگربدن کوپاک کرنے سے نمازکی صورت نہیں بگڑتی توبدن کوپاک کرے اوراگرنمازکی صورت بگڑتی ہے تواسی حالت میں نمازتمام کرے اوراس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۱۳ ۔ جوشخص اپنے لباس یابدن کے پاک ہونے میں شک کرے اورنمازپڑھ لے اورنمازکے بعداسے معلوم ہوکہ اس کابدن یالباس نجس تھاتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۱۴ ۔ اگرنجس لباس کوپاک کرے اوریقین ہوجائے کہ پاک ہوگیاپھرنمازپڑھے اورنمازکے بعدمعلوم ہوکہ ابھی پاک نہیں ہے تواحتیاط واجب کی بناپراگرنمازکاوقت باقی ہے دوبارہ پڑھے اوراگروقت گزرگیاہے تواس نمازکی قضاء بجالائے۔
مسئلہ ۸۱۵ ۔ اگراپنے بدن یالباس میں کوئی خون دیکھے اوراسے یقین ہوجائے کہ یہ خون نجس نہیں ہے ، مثلامچھرکاخون ہے، لیکن نمازکے بعدمعلوم ہوجائے کہ وہ خون نجس تھاجس کے ساتھ نمازپڑھی جاسکتی تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۱۶ ۔ اگراپنے بدن یالباس میں خون دیکھے اوریقین کرے زخم یاپھوڑے کاہے جس کاخون نمازمیں کوئی حرج نہیں رکھتااورنمازپڑھ لے بعدمیں پتہ چلے کہ خون زخم اورپھوڑے کانہیں تھاتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۱۷ ۔ اگرکسی چیزکے نجس ہونے کوبھول جائے اورگیلابدن یالباس اس سے متصل ہوجائے اورنمازپڑھنے کے بعدیاد آئے تواس کی نمازصحیح ہے، لیکن اگرگیلابدن اس چیزسے متصل ہوجائے جس کے نجس ہونے کوبھول گیاہواوراپنے کوپاک کئے بغیرغسل کرے تواس کاغسل اورنمازدونوں باطل ہیں، اوراسی طرح اگراعضاء وضومیں سے کوئی تری کے ساتھ نجس چیزسے لگ جائے جس کے نجس ہونے کوانساب بھول چکاہواوراس کوپاک کرنے سے پہلے وضوکرلے اورنمازپڑھ لے تواس کاوضواورنمازباطل ہیں۔
مسئلہ ۸۱۸ ۔ جس کے پاس صرف ایک لباس ہواوراس کالباس اوربدن دونوں نجس ہوجائے اورپانی بھی اتناہی ہوکہ صرف ایک کوپاک کیاجاسکتاہوتواگرلباس اتارناممکن نہ ہوتوبدن کوپاک کرے اورنمازکواسی دستورکے مطابق پڑھے جوننگوں کے نماز پڑھنے کابیان کیاجاچکاہے اوراگرسردی یاکسی اورعذرکی وجہ سے لباس نہ اتارسکتاہوتواگرنجاست دونوں کی مساوی ہو، مثلادونوں کوپیشاب یاخون لگاہے یابدن کی نجاست شدیدترہویازیادہ مقدارمیں ہو، مثلابدن کی نجاست پیشاب ہے جس کاحکم یہ ہے کہ قلیل پانی سے دومرتبہ دھویاجائے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ بدن کوپاک کرے اوراگرلباس کی نجاست شدیدترہویازیادہ ہوتواس کواختیارحاصل ہے کہ بدن یالباس جس کوچاہے پاک کرے۔
مسئلہ ۸۱۹ ۔ اگرکسی کے پاس نجس لباس کے علاوہ دوسرا لباس نہ ہواورنمازکاوقت تنگ ہویایہ احتمال نہ ہوکہ آخر وقت تک دوسرا پاک لباس مل سکے گاتونمازکواس دستورکے مطابق پڑھے جوننگوں کےلئے بیان کیاگیا، لیکن اگراس کے لئے سردی یاکسی اورعذرکی وجہ سے لباس اتارناممکن نہ ہوتواسی لباس میں نمازپڑھے اوراس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۲۰ ۔ جس کے پاس دولباس ہوں اوران دونوں میں ایک لباس نجس ہولیکن یہ نہیں معلوم کہ کونسانجس ہے تونمازکے وقت کے وسیع ہونے کی صورت میں دونوں کے ساتھ نمازپڑھے، مثلااگرنمازظہروعصرپڑھناچاہتاہے توہرایک کے ساتھ ایک نمازظہراورایک نمازظہرپڑھے لیکن اگروقت تنگ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکوننگوں کے دستورکے مطابق بجالائے اوربناء براحتیاط واجب اس نمازکوپاک لباس سے پھرقضاء کرے۔
دوسری شرط :
مسئلہ ۸۲۱ ۔ بناء براحتیاط واجب نمازی کالباس مباح ہوناچاہئے، اگرکوئی جان بوجھ کرغصبی لباس میں نمازپڑھے یہاں تک کہ تاگایابٹن غصبی ہوتونمازبناء براحتیاط واجب باطل ہے اورغیرغصبی لباس میں نمازکواعادہ کرناچاہئے۔
مسئلہ ۸۲۲ ۔ جوشخص یہ جاتاہوکہ غصبی لباس پہنناحرام ہے، لیکن یہ نہ جانتاہوکہ ایسے لباس کے ساتھ نمازپڑھناباطل ہے اگرعمداغصبی لباس کے ساتھ نمازپڑھے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازباطل ہے اورغیرغصبی لباس میں نمازکواعادہ کرے۔
مسئلہ ۸۲۳ ۔ اگرلاعلمی یابھول جانے کی وجہ سے غصبی لباس میں نمازپڑھے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن اگرخودغاصب ہواور بھول کرنمازپڑھ لے تویہاں پراحتیاط واجب ہے کہ نمازکااعادہ کرے۔
مسئلہ ۸۲۴ ۔ غصبی اشیاء چھوٹی ہوں یابڑی جیسے رومال، تسبیح اگرنمازپڑھنے والے کے ساتھ ہوں تونمازباطل ہونے کاسبب نہیں بنتی ہیں۔
مسئلہ ۸۲۵ ۔ اگرکوئی اپنی جان کی حفاظت کےلئے غصبی لباس میں نمازپڑھتاہوتونمازصحیح ہے، اسی طرح اگراس لباس کی حفاظت کے لئے کہ مباداچوریااس قسم کے لوگ نہ اٹھالیں اس لباس کوپہن کرنمازپڑھتاہے تونمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۲۶ ۔ اگرکوئی شخص نہ جانتاہویابھول جائے کہ اس کالباس غصبی ہے اورنمازپڑھتے ہی متوجہ ہوجائے تواگربدن پرکوئی ایسی چیزہوجس سے اپنی شرمگاہ کوچھپاسکتاہوتوفورانمازتسلسل توڑے بغیرغصبی لباس کواتاردے اس کی نمازصحیح رہے گی اوراسے اپنی اس نمازکوپوراکرناچاہئے، لیکن اگرشرمگاہ کوکسی دوسری چیزسے نہ چھپاسکتاہویالباس اتارنے سے نمازکی صورت کوبگڑتی ہے اوراس کے پاس ایک رکعت پڑھنے جتناوقت بھی ہوتوضروری ہے کہ نمازتوڑدے اورغیرغصبی لباس کے ساتھ نمازپڑھے اوراگراتنابھی وقت نہ ہوتونمازکی حالت میں لباس اتاردے اوربرہنہ لوگوں کی نمازکے مطابق نمازپوری کرے۔
مسئلہ ۸۲۷ ۔ ان پیسوں سے کہ جس کاخمس یازکات نہ دی ہولباس خریدکراس میں نمازپڑھے توصحیح نہیں ہے اورنمازباطل ہے، لیکن اگرلباس ایسی رقم کے عوض خریدے جواس نے اپنے ذمہ لی ہواوربوقت معاملہ یہ ارادہ رکھتاہوکہ رقم ایسے مال سے ادا کرے گاجس کاخمس ، زکات ادانہیں ہواہے تواس صورت میں اگرکوئی اوررقم اس کے پاس ہوجس کاخمس یازکات واجب نہ ہوتواگراپنے ذمہ رقم لے کرخریداری کرے اوررقم کی ادائیگی ایسے مال سے کرے جس کاخمس ادانہیں کیاہے تواس کی نماز صحیح ہے ورنہ باطل ہے۔
تیسری شرط :
مسئلہ ۸۲۸ ۔ نمازی کالباس اس مردہ حیوان کانہ ہوجوخون جہندہ رکھتاہے، بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوسرے ان مردہ حیوانوں کے اجزاء کابھی نہ ہوجوخون جہندہ نہیں رکھتے (جیسے مچھلی،سانپ)۔
مسئلہ ۸۲۹ ۔ نمازی کے پاس مردارکے اجزاء میں سے جوروح رکھتے ہیں کوئی چیزاس کے ساتھ نہ ہوخواہ وہ لباس کی صورت میں نہ ہو۔
مسئلہ ۸۳۰ ۔ اگرمردارکہ وہ اجزاء جوروح نہیں رکھتے جیسے بال اون،نمازی کے ہمراہ ہوتوکوئی حرج نہیں ہے اورنمازصحیح ہے۔
چوتھی شرط :
مسئلہ ۸۳۱ ۔ نمازی کالباس حرام گوشت حیوان کے اجزاء کانہ ہو، بلکہ اگراس کے بال بھی نمازی کے ہمراہ ہوں گے تونماز باطل ہے۔
مسئلہ ۸۳۲ ۔ اگرکسی حرام گوشت جانورکالعاب دہن، ناک یاکوئی دوسری رطوبت نمازی کے بدن یالباس پرہو(مثلابلی کالعاب دہن) توجب تک ترہے اورنجاست موجودہے تواس کے ساتھ نمازباطل ہے، لیکن اگرخشک ہوجائے اورعین برطرف ہوجائے تونمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۸۳۳ ۔ کسی انسان کابال، پسینہ یالعاب دہن اگرنمازی کے بدن یالباس پرہے تونمازمیں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۳۴ ۔ اگرشک ہوکہ یہ لباس حرام گوشت حیوان کاہے یاحلال گوشت حیوان کاتواس میں نمازصحیح ہے چاہے وہ ملک کے اندربنایاگیاہویاباہر۔
مسئلہ ۸۳۵ ۔ اگرانسان کواحتمال ہوکہ بٹن صدف،یعنی سیپ سے ہے اوروہ ایک حیوان سے ہے تواس کے ساتھ نمازپڑھنا جائزہے اوراگریقین ہوکہ بٹن صدف سے ہے اوراحتمال دے کہ ایسے حیوان سے ہے جوگوشت نہیں رکھتاتوبھی اس کے ساتھ نمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۳۶ ۔ خزکی کھال میں نمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ سنجاب کی کھال سے نمازمیں اجتناب کرے۔
مسئلہ ۸۳۷ ۔ اگرایسے لباس کے ساتھ نمازپڑھے جس کے متعلق نہ جانتاہوکہ حرام گوشت جانورسے بنایاگیاہے تواس کی نماز صحیح ہے لیکن اگربھول کرکے اس سے نمازپڑھے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکواعادہ کرے۔
مسئلہ ۸۳۸ ۔ آج کل جومصنوعی کھال پلاسٹک کے مادے سے بنائی جاتی ہے یااسی طرح کی کسی دوسری چیزسے تواس میں نمازپڑھی جاسکتی ہے اوراگرشک ہوکہ یہ مصنوعی کھال ہے یاواقعی اوروہ بھی حرام گوشت جانورکی ہے یامردہ کی تواس میں بھی ا شکال نہیں ہے ۔
پانچویں اورچھٹی شرط :
مسئلہ ۸۳۹ ۔ سونے کی تاروں سے بنے ہوئے لباس میں مردوں کی نماز جائزنہیں ہے اوراس سے نمازباطل ہوجاتی ہے، البتہ عورتوں کے لئے نمازیاغیر نمازمیں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۴۰ ۔ سونے سے زینت مردوں کے لئے حرام ہے جیسے سونے کی انگوٹھی، سونے کی کلائی گھڑی وغیرہ اورنمازبھی باطل ہوجاتی ہے اوربنابراحتیاط واجب یہ ہے کہ سونے کی عینک سے بھی اجتناب کریں، لیکن یہ سب چیزیں عورتوں کے لئے نمازاورنمازکے علاوہ دونوں میں جائزہیں۔
مسئلہ ۸۴۱ ۔ اگرمردکومعلوم نہ ہواوراسی انگوٹھی یالباس سے جوسونے سے بنے ہیں نمازپڑھ لے تواس کی نمازصحیح ہے، البتہ اگر بھول گیاہوکہ اس کی انگوٹھی یالباس سونے کاہے اوراس کے ساتھ نمازپڑھے تو بنابراحتیاط واجب نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۴۲ ۔ سونے سے زینت اورسونے کی تاروں سے بناہوئے لباس مردوں کے لئے حرام ہے آشکارہویاپنہان اورنماز بھی اس کے ساتھ باطل ہے، پس اگراندرونی لباس، مثلابنیان وغیرہ سونے کی تارسے بناہویاگردن میں لٹکی ہوئی سونے کی زنجیربظاہرنظرنہ آئے توبھی حرام ہے اورنمازکوباطل کردیتی ہے۔
مسئلہ ۸۴۳ ۔ خالص ریشمی لباس مردوں کے لئے نمازاورنمازکے علاوہ دونوں میں حرام ہے اوراحتیاط واجب کی بناپرٹوپی اور ازاربندکابھی یہی حکم ہے اوراس میں نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۴۴ ۔ اگرپورے لباس کااستریااس کے کچھ حصے کااسترخالص ریشم کاہوتووہ مردکے لئے حرام اوراس میں نمازباطل پڑھناباطل ہے۔
مسئلہ ۸۴۵ ۔ اگرسونے کی انگوٹھی یاسونے کی کلائی یااس قسم کی دوسری چیزمردکے جیب میں ہوتوکوئی اشکال نہیں ہے اورنماز بھی باطل نہیں ہوتی۔
مسئلہ ۸۴۶ ۔ جس لباس کے لئے معلوم نہ ہوکہ خالص ریشم کاہے یاکسی اورچیزکااس کے پہننے میں اشکال نہیں ہے اوراس سے نمازبھی باطل نہیں ہوتی۔
مسئلہ ۸۴۷ ۔ اگرریشم کارومال یااسی قسم کی دوسری چیزمرد کے جیب میں ہوتوکوئی اشکال نہیں ہے اورنمازبھی باطل نہیں ہوتی۔
مسئلہ ۸۴۸ ۔ ریشمی لباس عورتوں کے لئے نمازمیں اورنمازکے علاوہ بھی جائزہے۔
مسئلہ ۸۴۹ ۔ اضطراری ومجبوری کی حالت میں خالص ریشمی، سونے کے تارسے بنے ہوئے غصبی مردارکے اجزاء سے بنے ہوئے لباس کے پہننے میں کوئی اشکال نہیں ہے ، اوراگرمجبوری آخروقت تک باقی رہے تواس لباس کے ساتھ نمازپڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۸۵۰ ۔ اگرلباس ریشم اوردوسری چیزسے مخلوط ہوتومردکے لئے اس کوپہننااورنمازپڑھناصحیح ہے اس شرط کے ساتھ کہ دوسری چیزان اشیاء میں سے ہوجن کے ساتھ نمازپڑھی جاسکتی ہو،لیکن اگرغیرریشم اتناکم ہوکہ اس کاشمارہی نہ ہوتومردکے لئے جائزنہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۵۱ ۔ اگرسوائے غصبی اوراس لباس کے جومردارسے بنایاگیاہے اس کے پاس اورکوئی لباس نہیں اورلباس پہننے پر مجبور نہیں توبرہنہ لوگوں کے لئے جودستورہے اس کے مطابق نمازپڑھے۔
مسئلہ ۸۵۲ ۔ اگرحرام گوشت جانورسے تیارشدہ لباس کے علاوہ کوئی اورلباس نہ ہواورلباس پہننے پرمجبورہوتواسی لباس کے ساتھ نمازپڑھے اوراگرمجبورنہ ہوتوبرہنہ لوگوں کے لئے بیان شدہ طریقوں کے مطابق پرنمازپڑھے اوراحتیاط واجب ہے کہ ایک مرتبہ نمازاسی لباس کے ساتھ بھی پڑھے۔
مسئلہ ۸۵۳ ۔ اگرسوائے ریشمی لباس یاسونے کے تارسے بنے ہوئے لباس مردکے پاس نہ ہوتواگرلباس پہننے پرمجبورنہ ہوتوبرہنہ لوگوں کے دستور کے مطابق نمازپڑھے۔
مسئلہ ۸۵۴ ۔ اگرکوئی ایسی چیزنہیں کہ جس سے اپنی شرمگاہ کو نمازمیں چھپائے تواگرممکن ہوتوخریدے یاکرایہ پرلے لے لیکن اگراس کے مہیا کرنے میں اتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں جواس کی حیثیت سے زیادہ ہیں یااگرپیسے اس میں خرچ کرے نقصان کاباعث ہے توبرہنہ لوگوں کے دستورکے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ ۸۵۵ ۔ جس کے پاس لباس نہیں ہے اگرکوئی دوسراشخص اس کوبخش دے یاعاریتا دیدے اورزیادہ احسانمندی اورناراضگی کاباعث نہ ہوتوقبول کرلیناچاہئے بلکہ اگربطوربخشش مانگنایاعاریتالینا اس کے لئے سخت نہ ہوتولیناچاہئے۔
مسئلہ ۸۵۶ ۔ بنابراحتیاط واجب انسان کوشہرت والے لباس پہننے سے اجتناب کرناچاہئے اوراس سے مراد وہ لباس ہیں جس کارنگ، سلائی اس جیسے اشخاص کامعمول نہیں،البتہ اگراس لباس سے نمازپڑھے توکوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۵۷ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ مردعورتوں کامخصوص لباس اورعورتیں مردوں کامخصوص لباس نہ پہنیں لیکن نمازمیں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۵۸ ۔ اگرکسی کے پاس(ساتر) یعنی شرمگاہ کوڈھانپنے والی کوئی چیزموجودنہ ہواوریہ احتمال ہوکہ آخروقت میں پیداہو جائے گی تواحتیاط واجب ہے کہ نمازکواول وقت سے مؤخرکرے اورساترکے ساتھ نمازپڑھے۔
مسئلہ ۸۵۹ ۔ جوشخص لیٹ کرنمازپڑھ رہاہے اگربرہنہ ہوتوبنابراحتیاط واجب اس کالحاف یاگدانجس اورخالص ریشم کانہ ہو اورنہ ہی ان چیزوں کاہو جن کااوپرذکرکیاگیاہے۔
وہ مقامات کہ جن میں نمازی کے بدن یالباس کاپاک ہوناضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ ۸۶۰ ۔ تین مقامات پراگرنمازی کالباس یابدن نجس ہوتواس کی نمازصحیح ہے :
۱ ۔ زخم یاجراحت یاپھوڑے کی وجہ سے نمازی کالباس یابدن خون آلودہ ہو۔
۲ ۔ لباس یابدن پرخون ایک درہم سے کم ہو (درہم تقریباانگشت شہادت کے ایک پورے کے برابرہوتاہے)۔
۳ ۔ جب آدمی نجس بدن یالباس سے نمازپڑھنے پرمجبورہو۔
ا وردوصورتیں ایسی ہیں کہ جن میں اگرنمازی کاصرف لباس نہیں ہوتواس کی نمازصحیح ہے :
۱ ۔ موزہ، ٹوپی ، ازاربند جیسی چھوٹی چیزیں نجس ہوں۔
۲ ۔ بچہ کی پرورش کرنے والی عورت کالباس ، ان کی تشریح آئندہ مسائل میں ائے گی۔
مسئلہ ۸۶۱ ۔ اگرنمازی کے بدن
مسئلہ ۸۶۱ ۔ اگرنمازی کے بدن یالباس میں زخم یاجراحت یاپھوڑے کاخون ہواوربدن یالباس کاپاک کرنابہت مشکل کام ہوتوجب تک یہ چیزیں ٹھیک نہ ہوجائیں اسی حالت میں نمازپڑھ سکتاہے، یہی حکم اس کثافت کاہے جوخون کے ساتھ آتی ہے یاوہ دواجوزخم پرلگائی جاتی ہے اگرنجس ہوجائے۔
مسئلہ ۸۶۲ ۔ اگرجس کے کسی کٹے ہوئے حصہ یااس زخم کاخون جو جلدی درست ہوجائے گااوراس کا دھنابھی آسان ہے اوررہ ایک درہم یااس سے زیادہ ہونمازی کے بدن یالباس میں لگاہوتواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۶۳ ۔ زخم سے فاصلہ پرجوجگہ ہے وہ خواہ بدن ہویالباس اگر نجس ہوجائے تواس کوپاک کرناہوگا، البتہ وہ مقامات مستثنی ہیں جہاں عموما خون زخم سے سرایت کرتاہی ہے۔
مسئلہ ۸۶۴ ۔ اگرمنہ یاناک کے اندرزخم ہواوراس سے بدن یالباس تک خون پہنچے تواسے پانی کے ساتھ دھوئیں اوراس کے ساتھ نمازپڑھناصحیح نہیں ہے، لیکن بواسیرکے خون کے ساتھ نمازپڑھ سکتے ہیں اگرچہ اس کے دانے اندرہوں۔
مسئلہ ۸۶۵ ۔ جس کے بدن میں زخم ہے اگروہ اپنے بدن یالباس میں خون دیکھے اورمعلوم نہ ہوکہ اسی زخم کاہے یاکوئی دوسراخون ہے تواس کے ساتھ نمازپڑھناجائزہے ۔
مسئلہ ۸۶۶ ۔ اگربدن پرکئی زخم ہوں اوراتنے نزدیک ہیں کہ ایک زخم شمارکیاجاتاہے توجب تک سب نہ اچھے ہوجائیں ان کے خون کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن اگراتنے دوردورہیں کہ ہرایک الگ زخم شمارہوتاہے توجوٹھیک ہوجائے اس کے خون سے بدن ولباس کوپاک کریں۔
مسئلہ ۸۶۷ ۔ اگرسوئی کی نوک کے بربربھی خون حیض نمازی کے بدن یانمازی کے لباس پرلگاہواتواس کی نمازباطل ہے، اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ خون نفاس اوراستحاضہ کابھی یہی حکم ہے، اوربہتریہ ہے کہ حرام گوشت جانورکے خون سے اجتناب کرے۔ لیکن ان کے علاوہ کوئی خون، مثلاانسانی بدن کاخون یاحلال گوشت جانورکاخون اگرچہ بدن اورلباس کے کئی مقامات پرلگاہوتواگرمجموعاایک درہم سے کم ہو، تواس میں نمازپڑھی جاسکتی ہے۔
مسئلہ ۸۶۸ ۔ اگرلباس میں استرنہ ہواورخون لباس پڑے اوراس کی دوسری طرف تک پہنچ جائے تووہ ایک ہی خون شمارہوگا لیکن اگراس کی دوسری طرف پرالگ خون لگ جائے توہرایک کوعلیحدہ خون شمارکیاجائے لہذااگروہ خون جولباس کے دونوں طرف لگاہے مجموعادرہم سے کم ہے تونماز صحیح ہے اوراگرزیادہ ہے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۶۹ ۔ اگرلباس میں استرہے اورخون استرمیں سرایت کرگیاہے تو ہرایک الگ خون شمارہوگالہذااگرلباس اوراسترکا خون ملاکردرہم سے کم ہوتو نمازصحیح ہے اوراگرزیادہ ہوتونمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۸۷۰ ۔ اگربدن یالباس پرلگاہواخون درہم سے کم تھااورکچھ تری سے لگ گئی تواگروہ خون اورتری بمقداردرہم یااس سے زیادہ ہوتونمازاس کے ساتھ باطل ہے، بلکہ اگرتری اورخون دونوں ملاکردرہم سے کم ہوتب بھی اس کے ساتھ نمازپڑھنا مشکل ہے مگریہ کہ تری خون میں مستہلک اورختم ہوجائے تونمازصحیح ہے ورنہ باطل۔
مسئلہ ۸۷۱ ۔ اگربدن یالباس خون آلودتونہ ہو، لیکن خون سے متصل ہونے کی وجہ سے نجس ہوجائے توجتناحصہ نجس ہواہے اگرچہ درہم سے کم ہواس کے ساتھ نمازنہیں پڑھ سکتا۔
مسئلہ ۸۷۲ ۔ اگرلباس یابدن پردرہم سے کم خون ہواوردوسری نجاست، مثلاپیشاب اس پرگرجائے توپھراس لباس سے نماز پڑھنی جائزنہیں ہے۔
مسئلہ ۸۷۳ ۔ اگرنمازی کے چھوٹے لباس، مثلاٹوپی اوررومال جس سے شرمگاہ نہیں چھپائی جاسکتی نجس ہوں تواگروہ مرداراور حرام گوشت جانورسے تیارنہ کئے گئے ہوں توان کے ساتھ نمازصحیح ہے، اسی طرح اگرانگوٹھی، عینک وغیرہ نجس ہوتونماز جائزہے۔
مسئلہ ۸۷۴ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسی نجس چیزجس سے شرمگاہ کوچھپائی جاسکتی ہے نمازی کے ساتھ نہ ہواورجوشخص اس مسئلہ کونہ جانتاہواورایک مدت اسی طرح نمازپڑھتارہاہوتوان نمازوں کی قضابجالاناضروری نہیں ہے، لیکن ایسی نجس چیزیں جوشرمگاہ کونہیں چھپاسکتی جیسے چھوٹارومال، چابی، چاقو،نجس کرنسی توان کے نمازی کے ساتھ ہونے سے کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۸۷۵ ۔ جوعورت بچے کی تربیت کرتی ہے اورایک لباس سے زیادہ اس کے پاس نہیں ہے تواگروہ دوسرالباس کاانتظام کرسکتی ہے تواگردن رات کے اندرایک مرتبہ اپنے لباس کودھوئے تواس میں نمازپڑھ سکتی ہے چاہے اس کالباس بچہ کے پیشاب سے نجس ہوگیاہو، لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ شب وروزمیں جس نمازسے پہلے اس کالباس نجس ہواہے اس پہلی نماز کے لئے اپنے لباس کودھوئے اسی طرح اگرعورت کئی لباس رکھتی ہولیکن مجبوری سے ان سب کوپہنے لہذااگرشب وروز میں ایک مرتبہ ان سب کوبیان کردہ طریقہ سے دھولے توکافی ہے۔
نمازی کے لباس کے مستحبات :
مسئلہ ۸۷۶ ۔ نمازی کے لباس میں چندچیزیں مستحب ہیں جن میں سے :
تحت الحنک کے ساتھ عمامہ، عباکاپہن لینا بالخصوص پیش نمازکے لیے، سفیدلباس کاپہننا، پاکیزہ ترین لباس پہننا، خوشبواستعمال کرنا، عقیق کی انگوٹھی پہننا۔
نمازی کے لباس کے مکروہات :
چندچیزیں نمازی کے لباس میں مکروہ ہیں اوران میں سے یہ ہیں :
سیاہ لباس پہننا، گندہ وکثیف لباس پہننا، تنگ لباس پہننا، جوآدمی نجاست سے پرہیزنہیں کرتااس کالباس پہنناخصوصاشرابی کا، ایسالباس پہنناس پرتصویربنی ہو، لباس کے بٹن کھولنا، ایسی انگوٹھی پہنناجس پرانسان یاحیوان کی صورت کندہ ہو۔
نمازی کی جگہ :
نمازی کی جگہ میں چندشرط معتبرہیں :
پہلی شرط : مباح ہو
مسئلہ ۸۷۸ ۔ غصبی ملک، قالین اورتخت پرنمازپڑھنے میں اشکال ہے اورنمازباطل ہے، البتہ غصبی چھت کے نیچے اورغصبی خیمے کے اندرنماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۸۷۹ ۔ اس جگہ نمازپڑھناجس کی منفعت دوسرے کی ملکیت ہو(مثلاکرائے پرہو) توکرایہ دارکی اجازت کے بغیراس میں نمازپڑھناباطل ہے،اوراسی طرح ایسے ملک میں نمازپڑھناجودوسرے کے حق سے متعلق ہو، مثلامیت نے وصیت کردی ہوکہ اس کے ثلث(تہائی) مال کوفلاں مال میں خرچ کریں توجب تک ثلث کوجدانہ کردیاجائے اس ملک میں نمازنہیں پڑھی جاسکتی۔
مسئلہ ۸۸۰ ۔ جوشخص مسجدمیں بیٹھاہواگرکوئی اس کی جگہ غصب کرکے اس میں نمازپڑھے توبنابراحتیاط واجب اپنی نمازکااعادہ کرے۔
مسئلہ ۸۸۱ ۔ اگرنمازپڑھنے کے بعدپتہ چلے کہ یہ جگہ غصبی ہے تواس کی نمازصحیح ہے اسی طرح اگرکسی کے غصبی ہونے کوجانتاہومگربھولے سے نمازپڑھ لے اوربعدمیں یادآئے تونمازصحیح ہے بشرطیکہ خودنمازپڑھنے والاغاصب نہ رہاہوورنہ اس کی نمازمیں اشکال ہے۔
مسئلہ ۸۸۲ ۔ اگرکسی کویہ معلوم ہوکہ یہ جگہ غصبی ہے مگرمسئلہ نہ معلوم ہوکہ غصبی جگہ میں نمازصحیح نہیں ہے اگروہ ایسی جگہ پرنماز پڑھے اس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۸۳ ۔ جوشخص سواری پرواجب نمازکوپڑھنے کے لئے مجبورہواور سورای کاجانوریاس کی زین غصبی ہوتواس کی نماز باطل ہے، اسی طرح اگر مستحبی نمازسورای پرپڑھے۔
مسئلہ ۸۸۴ ۔ غصبی زمین کہ جس کا فی الحال کوئی مالک معین نہ ہو اسے اپنے استعمال میں لاناجائزنہیں ہے اوراس میں نماز پڑھناباطل ہے اوراس سلسلہ میں شرعی تکلیف کومعلوم کرنے کے لئے جامع الشرائط مجتہدسے رجوع کرناچاہئے اوراسی طرح ہے ا گرتعمیراوربلڈنگ بنانے کے سامان جیسے لوہا،اینٹیں وغیرہ کوغصب کرکے اس سے گھریادوکان بنالیاجائے اورسامان کے مالک معلوم نہ ہوتوایسی جگہ پرنمازپڑھناجائزنہیں ہے اورضروری ہے کہ جامع الشرائط مجتہدسے رجوع کیاجائے۔
مسئلہ ۸۸۵ ۔ اگرکوئی ایک ملک میں دوسراشریک رکھتاہے اورشریک کاحصہ جدانہیں ہے تووہ شخص اپنے شریک کی اجازت کے بغیراس مال میں تصرف نہیں کرسکتااورنہ نمازپڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۸۸۶ ۔ وہ مال کہ جس کاخمس یازکات نہ دی گئی ہواس سے خریدی ہوئی جائدادمیں تصرف حرام ہے اوراس میں نمازباطل ہے، اوراسی طرح اگر ذمے میں خریدے اورخریدتے وقت نیت رہی ہوکہ اس کی قیمت اس مال میں سے دے گاجس کاخمس یازکات ادانہیں کی۔
مسئلہ ۸۸۷ ۔ اگرقرائن سے صاحب ملک کی رضامندی روشن وقطعی ہوتووہاں نمازپڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے چاہے وہ زبان سے بھی کہے اوراسی کے برعکس اگرزبان سے اجازت دے لیکن معلوم ہوکہ دل سے راضی نہیں ہے تونمازنہیں پڑھ سکتا۔
مسئلہ ۸۸۸ ۔ اس میت کے ملک میں جس کے ذمہ خمس یازکات ہے تصرف کرنااورنمازپڑھناحرام اورباطل ہے مگریہ کہ ورثاء کوارادہ ہوکہ میت کاقرض ادا کرے۔
مسئلہ ۸۸۹ ۔ اس میت کی ملک میں جس کے ذمہ لوگوں کاقرض ہے تصرف کرنااورنمازپڑھناحرام اورباطل ہے جب کہ اس کاقرضہ اس کی جائیدادکے برابرہو، البتہ ورثاء کی جزئی تصرفات جیسے تجہیز میت (یعنی کفن ودفن کے عمومی اخراجات) میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن اگرمیت کاقرضہ اس کے متروکہ مال سے کم ہواوریہ علم ہوکہ قرض خواہ راضی ہے اورورثاء بھی قرضہ کی ادائیگی پرمصمم ارادہ رکھتے ہیں توایسی جائیدادمیں تصرف جائزاوراس میں نمازپڑھنابلااشکال ہے، لیکن ایسی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ ولی میت سے بھی اجازت حاصل کریں۔
مسئلہ ۸۹۰ ۔ اگرمیت کے بعض ورثاء نابالغ دیوانے یاغائب ہوں توان کی ملکیت میں تصرف کرنااورنمازپڑھناجائزنہیں ہے، البتہ جزوی تصرفات جومیت کے اٹھانے میں رسوم ہیں اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۸۹۱ ۔ مسافرخانوں،حماموں اوران جیسی جگہوں میں جن میں مسافراورخریدار حضرات آیاجایاکرتے ہیں نمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن غیرمسافراورخریدارکے لئے اگرمالک کی رضامندی کے قرائن موجودہیں تونماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مخصوص مقامات پرمالک کی اجازت کے بغیرنمازپڑھناجائزنہیں ہے البتہ اگرمالک تصرف کی اجازت دیدے تواس سے معلوم ہوجاتاہے کہ نمازکے لئے بھی راضی ہے، مثلاکسی کودوپہر شام کے کھانے یاآرام کرنے کے لئے دعوت دے تواس سے نمازکی رضایت کاعلم ہی ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۸۹۲ ۔ زراعت اورغیرزراعت کی ان بڑی زمینوں پرجن کے (چاروں طرف) دیوارنہیں ہے اورفعلااس میں زراعت بھی نہیں ہے ان میں نمازپڑھنا، بیٹھنا،سونااورجزوی تصرفات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے وہ شہر ودیہات سے قریب ہوں یادورہوں اورچاہے ان زمینوں کے مالک نابالغ ہوں یابڑے، لیکن اگرمالک صریح طورسے کہہ دے کہ میں راضی نہیں ہوں یامعلوم ہوکہ وہ دل سے راضی نہیں ہے تواس میں تصرف حرام ہے اورنمازمیں بھی اشکال ہے۔
دوسری شرط : نمازوں کی جگہ متحرک نہ ہو
مسئلہ ۸۹۳ ۔ نمازی کی جگہ متحرک نہیں ہوناجاہئے، اگروقت کی تنگی یادوسری ضرورت کی بناپرنمازکشتی یاموٹرگاڑی وغیرہ میں پڑھنے پرمجبورہو اورقبلہ بدلتارہتا ہوتوجتنابھی ممکن ہووہ خودبھی قبلہ کی طرف مڑتاجائے، البتہ مڑتے وقت کچھ نہ پڑھتے لیکن اگرنمازکی صورت بگڑجائے اورموالات باقی نہ رہے نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۸۹۴ ۔ ٹرک،کشتی، ریل گاڑی، ہوائی جہازوغیرہ جب کھڑے ہوں توان میں نمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۸۹۵ ۔ گہیوں، جواورریت کے ڈھیروغیرہ جہاں پرٹھرانہیں جاسکتا ہے نمازپڑھناباطل ہے لیکن اگرحرکت تھوڑی سی ہوجس سے نمازکے واجبات اور باقی شرائط ادا کئے جاسکتے ہیں ہیں توپھرنمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۸۹۶ ۔ جب بارش وہوایالوگوں کی بھیڑبھاڑ کی وجہ سے اطمینان نہ ہوکہ نمازکوتمام کرپائے گاتواگرنمازکوتمام کرنے کی امیدسے شروع کرے اوراتفاق سے کوئی اوراتفاق سے کوئی رکاوٹ درپیش نہ آئے تونمازصحیح ہے، اورجس جگہ پررکنا حرام ہوجیسے جہاں چھت کے گرنے کااندیشہ ہویاپھاڑ کے گرنے یاسیلاب آنے کاخطرہ ہووہاں نماز نہ پڑھے لیکن اگرنمازپڑھ لے توصحیح ہے صرف اس نے حرام کاارتکاب کیاہے، اوراسی طرح اس جگہ نمازنہ پڑھے جہاں اٹھنابیٹھناحرام ہوجیسے وہ بچھو،جس پرخداکانام لکھاہولیکن اگرنماز پڑھے نماز صحیح ہے اورحرام کاارتکاب کیاہے۔
تیسری شرط : ایسی جگہ نمازپڑھے جہاں واجبات کوانجام دے سکے
مسئلہ ۸۹۷ ۔ اتنی نیچی چھت کے نیچے نمازباطل ہے جہاں ادمی کھڑانہ ہوسکے یاجگہ اتنی تنگ ہوکہ رکوع وسجودنہ کرسکے اوراگرایسی جگہ نمازپڑھنے پرمجبورہوجائے توجتناممکن ہوقیام رکوع اورسجودکوبجالائے۔
مسئلہ ۸۹۸ ۔ انسان کوچاہئے کہ ادب کوپیش نظررکھتے ہوئے رسول اکرم اورآئمہ معصومین کی قبروں کے آگے نمازنہ پڑھے اوراگرآگے نمازپڑھنے سے بے احترامی ہوتی ہوحرام ہے اورنمازبھی باطل ہے البتہ قبرمطہرکے برابرنمازپڑھناباطل نہیں ہے تاہم معصوم کااحترام اورآداب کی رعایت ملحوظ رکھنابہتراورپسندیدہ عمل ہے۔
مسئلہ ۸۹۹ ۔ اگرحالت نمازمیں نماز پڑھنے والے شخص اورقبرمطہرکے درمیان کوئی حائل، مثلادیوارہوجس کی وجہ سے بے حرمتی نہ ہوتی ہوتوکوئی اشکال نہیں ہے لیکن صندوق اورضریح مبارک اوروہ کپڑاجواس پرپڑاہوا ہے حائل اورفاصلہ بننے کے لیے کافی نہیں ہے۔
چوتھی شرط :
مسئلہ ۹۰۰ ۔ یہ ہے کہ اگرنمازی کی جگہ نجس ہے توایسی ترنہ ہوکہ اس کی رطوبت بدن یالباس سے لگ جائے مگریہ کہ وہ نجاست نماز میں معاف ہوتی ہو، لیکن اگروہ جگہ نجس ہوجہاں پیشانی رکھنی ہے تواگرچہ وہ جگہ خشک ہی کیوں نہ ہوتب بھی نماز باطل ہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازی کی پوری جگہ نجس نہ ہو۔
مسئلہ ۹۰۱ ۔ نمازمیں عورت مرد کے پیچھے کھڑی ہواوربہترہے کہ عورت کے سجدہ کی جگہ مردکے سجدہ کی جگہ سے کچھ پیچھے ہو، لہذااگر عورت مردکے آگے یابرابرکھڑی ہوتونمازباطل ہے، اس حکم میں محرم ونامحرم میں کوئی فرق نہیں ہے زوجہ وشوہرہوں یانمازواجب ومستحب ہوں کوئی فرق نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۰۲ ۔ اگرعورت مردکے پہلویامردکے آگے کھڑی ہواوردونوں ایک ساتھ نماز شروع کریں تودونوں کی نمازباطل ہے، لیکن اگرکسی نے پہلے شروع کردی ہوتواس کی نمازصحیح ہے اوردوسرے کی باطل ہے۔
مسئلہ ۹۰۳ ۔ اگرمردوعورت کے درمیان دیواریاپردہ وغیرہ ہویاتقریبادس زارع ( ۵ میٹر) کافاصلہ ہوتواشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۰۴ ۔ اگرعورت دوسری منزل پرنمازپڑھ رہی ہوخواہ مرد کے آگے یابرابرشمارہوتی ہواس کی نمازصحیح ہے اگرچہ بلندی اس کی دس زراع یعنی پانچ میٹرسے کم ہی کیوں نہ ہو۔
پانچویں شرط :
مسئلہ ۹۰۵ ۔ نمازی کے کھڑے ہونے کی جگہ اس کے گھٹنے رکھنے کی جگہ سے چارملی ہوئی می مقدارسے زیادہ اونچی یانیچی نہ ہواوراحتیاط واجب یہ ہے کہ پاؤں کی انگلیوں کی مقدارسے زیادہ اونچی یانیچی نہ ہو۔
مسئلہ ۹۰۶ ۔ مردکانامحرم عورت کے ساتھ ایسی جگہ ہوناجہاں دوسرانہ آسکتاہوخلاف احتیاط ہے اوراحتیاط یہ ہے کہ ایسی جگہ نمازنہ پڑھیں، لیکن اگران میں سے ایک نمازپڑھنے میں مشغول ہواوردوسراجواس کے ساتھ نامحرم ہے داخل ہوجائے توجوشخص نمازپڑھ رہاہے اس کی نمازمیں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۰۷ ۔ اس جگہ نمازپڑھناجومجلس گناہ ہے،مثلا شراب خانہ، قمارخانہ، یاجہاں لوگ غیبت کرتے ہیں اورگانابجاتے ہیں نماز پڑھنااحتیاط کے خلاف ہے۔
مسئلہ ۹۰۸ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ واجب نمازکوخانہ کعبہ میں اوراس کی چھت پرنہ پڑھیں لیکن مجبوری کی حالت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۰۹ ۔ خانہ کعبہ میں اوراس کی چھت کے اوپرمستحب نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ خانہ کعبہ کے اندر ہرگوشہ کے مقابلے میں دورکعت نمازپڑھیں۔
وہ مقامات جہاں نمازمستحب ہے :
مسئلہ ۹۱۰ ۔ نمازکومسجدمیں اداکرنامستحب ہے حدیث میں اس کی بہت تاکیدآئی ہے سب سے بہترتومسجدالحرام ہے، اس کے بعدمسجدالنبی، اس کے بعدمحلہ مسجدکوفہ ہے، اس کے بعدمسجدبیت المقدس ہے، اس کے بعدہرشہرکی جامع مسجدہے، اس کے بعدمحلہ وبازارکی مسجدہے۔
مسئلہ ۹۱۱ ۔ عورتوں کاگھرمیں نمازپڑھنابہترہے اوراگرنامحرم سے بخوبی اپنی حفاظت کرسکتی ہوں تومسجدمیں بہترہے اوراگرمسائل اسلامی کایادکرنامسجدکے علاوہ کہیں اورممکن نہ ہوتومسجدجاناواجب ہے۔
مسئلہ ۹۱۲ ۔ حرم آئمہ میں نمازپڑھنامستحب ہے،بلکہ مسجدسے بہترہے اورحدیث میں ہے حضرت علی کے حرم میں ایک نمازکاثواب دولاکھ نمازوں کے برابرہے۔
مسئلہ ۹۱۳ ۔ زیادہ مسجدمیں جانااوراس مسجدمیں جاناجس میں کوئی نمازی نہ ہومستحب ہے اورمسجدکے پڑوسی جب تک ان کے لئے عذرنہ ہومسجدمیں نمازکو ترک کرنااس کے لئے مکروہ ہے۔
مسئلہ ۹۱۴ ۔ جولوگ بے اعتنائی کی وجہ سے مسلمانوں کی مسجدوں میں حاضرنہیں ہوتے بہترہے کہ ان سے رابطہ دوستی نہ کیاجائے ان کے ساتھ کھانانہ کھایاجائے ان سے کسی کام میں مشورہ نہ لیاجائے، ان کاہمسایہ نہ بنے، ان سے لڑکی نہ لی جائے، نہ ان کولڑکی دی جائے۔
وہ مقامات جہاں نمازمکروہ ہے :
مسئلہ ۹۱۵ ۔ چندمقامات پرنمازپڑھنامکروہ ہے اوران میں سے، حمام، زمین نمک زار، کسی بیٹھے ہوئے یاکھڑے ہوئے انسان کے مقابلے میں،کھلے ہوئے دروازے کے سامنے، شاہراوں میں،سڑکوں پر، گلیوں میں بشرطیکہ لوگوں کی آمدورفت میں مزاحمت نہ ہواوراگرمزاحمت ہوتوحرام ہے اورنمازبھی باطل ہے، آگ اورچراغ کے سامنے، باورچی خانہ کے اندر، جہاں بھی آگ کی بھٹی ہو، کنویں کے سامنے، ایسے گڑھے کے سامنے جس میں فاضل پانی ڈالاجاتاہے، تصویرومجسمہ کے سامنے، مجسمہ سے مرداجاندارکامجسمہ ہے، البتہ اس پرپردہ ڈال دیں توکوئی حرج نہیں ہے، ایسے کمرہ میں جس میں کوئی مجنب موجودہو، جہاں تصویرہوچاہ نمازی کے سامنے نہ ہو،قبرکے سامنے اورقبرکے اوپراورقبرستان میں۔
مسئلہ ۹۱۶ ۔ اگرانسان کسی ایسی جگہ پرنمازپڑھ رہاہوکہ جہاں لوگ اس کے سامنے سے گزررہے ہوں تومستحب ہے کہ اپنے آگے کوئی چیزرکھ دے تاکہ نمازی اورلوگوں میں رکاوٹ بن جائے حتی کہ عصاء، تسبیح یارسی وغیرہ کارکھنابھی کافی ہے۔
مسجدکے احکام :
مسئلہ ۹۱۷ ۔ مسجدکانجس کرناحرام ہے اورجس کومعلوم ہوجائے فورانجاست کودورکرناچاہئے چاہے مسجدکی زمین ہویانچلی اوراوپروالی چھت ہویادیوارکاداخلی حصہ ہواوراحتیاط واجب یہ ہے کہ دیواروں کے باہری حصہ کوبھی نجس نہ کریں اوراگرنجس ہوجائے تونجاست کودورکریں مگریہ کہ وقف کرنے والے نے اس کوجزء مسجدنہ قراردیاہو۔
مسئلہ ۹۱۸ ۔ اگرمسجدکوپاک نہ کرسکتاہویاپاک کرنادوسروں کی مددپر موقوف ہواورکوئی مددگارمل نہ رہاہوتواحتیاط واجب ہے کہ ایسے لوگوں کواطلاع کردے جواس کوپاک کرسکیں۔
مسئلہ ۹۱۹ ۔ اگرمسجدکی کوئی ایسی جگہ نجس ہوجائے جس کی طہارت اس کے کھودے جانے یاگرانے پرموقوف ہوتواس کوکھودڈالیں یااگرزیادہ خراب کرنا نہیں پڑتی ہوخراب کریں اورجوجگہ کھودی گئی ہواسے پرکرنااور جوخراب کی گئی ہواسے بناناواجب نہیں ہے، لیکن اگرمسجدکونجس کرنے والاشخص کھودے یاخراب کرے توحتی الامکان اس جگہ کوپرکرے اورتعمیرکرے۔
مسئلہ ۹۲۰ ۔ اگرمسجدکوغصب کرلیں اوراس کی جگہ مکان وغیرہ بنائیں یاشہر،گلی کووسعت دتے وقت کچھ حصہ مسجدکاگلی یاسڑک میں اس طرح آجائے کہ اسے مسجدنہ کہاجائے، توبھی احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے نجس کرناحرام ہے اورپاک کرناواجب ہے۔
مسئلہ ۹۲۱ ۔ میت کوغسل سے پہلے مسجدمیں رکھنااگرنجاست کے سرایت یامسجدکی بے احترامی کاسبب نہ بنے توممنوع نہیں ہے، لیکن بہتریہ ہے کہ میت کومسجدمیں نہ رکھیں،البتہ غسل دینے کے بعدکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۲۲ ۔ حرم رسول اورائمہ کونجس کرناحرام ہے اوراگرنجس ہوجائے اوراس کانجس رہنابے حرمتی کاباعث ہواس کوپاک کرناواجب ہے، بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگربے حرمتی نہ بھی ہوتب بھی اس کوپاک کریں۔
مسئلہ ۹۲۳ ۔ اگرمسجدکے فرش نجس ہوجائیں بناء براحتیاط واجب اس کوپاک کرناضروری ہے،لیکن اگرپانی سے دھونے کی وجہ سے خراب ہوجاتی ہے اورنجس جگہ کوکاٹنابہترہے تواسے کاٹ دیاجائے اوراگرنجس کرنے والاکاٹے تواس کانقصان بھی اداکرے۔
مسئلہ ۹۲۴ ۔ عین نجاست (مثلاپیشاب،خون)کامسجدمیں لے جانااگر مسجدکی بے احترامی ہوتوحرام ہے،ا وراسی طرح متنجس (یعنی جوچیز نجس ہوگئی ہوجیسے نجس لباس، نجس جوتا) کامسجدمیں لے جانااگربے احترامی ہوحرام ہے۔
مسئلہ ۹۲۵ ۔ مجلس،مذہبی جشن وغیرہ کے لئے اگرمسجدکومزین کریں یاسیاہ پوش کریں اورچائے وکھانے پینے کاسامان لے جائیں تواگراس سے مسجدکوکوئی نقصان نہیں پہنچتااورنمازپڑھنے میں رکاوٹ بھی نہیں ہے توکوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۲۶ ۔ احتیاط واجب کی بناء پرمسجدکوسونے سے مزین نہیں کرناچاہئے اوراسی طرح جاندارچیز(جیسے انسان وحیوان وغیرہ) کی تصویرمسجدمیں نقش نہ کریں، لیکن غیرجاندارچیزوں کی تصویرنقش کرنامکروہ ہے۔
مسئلہ ۹۲۷ ۔ اگرمسجدگربھی جائے تب بھی اس کی زمین بیچی نہیں جاسکتی اورنہ کسی ک ی ملکیت یاسڑک میں اسکتی ہے۔
مسئلہ ۹۲۸ ۔ مسجدکے دروازوں،کھڑکیوں،اوردوسری چیزوں کوبیچناحرام ہے، بلکہ ان چیزوں کواسی مسجدکی تعمیرمیں خرچ کریں اوراگراس مسجدکے کام نہ آسکے تودوسری مسجدوں میں لگائیں اوراگردوسری مسجدوں کے بھی کام نہ آسکیں تب بینچ ڈالیں اورممکن ہوتورقم کواسی مسجدکی تعمیرمیں ورنہ دوسری مسجدوں کی تعمیرمیں لگائیں۔
مسئلہ ۹۲۹ ۔ مسجدکابنانامستحب ہے اورمسجداگرگرجائے تواس کی مرمت بھی مستحب ہے اوربہترین کام ہے اوراگرمسجداس قدرمنہدم ہوجائے کہ اس کی مرمت ناممکن ہوجائے تواس کی مکمل طورپرگراکردوبارہ بناسکتے ہیں، بلکہ وہ مسجدجوخراب نہیں ہوئی لوگوں کی ضرورت کے مطابق اس کوگراکے وسیع کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۹۳۰ ۔ مسجدکوصاف کرنا، چراغ جلانا،اس کی ضروریات کوپوراکرنامستحب ہے اورمسجدمیں جانے والے کے لئے خوشبولگانا، پاکیزہ لباس پہننا مستحب ہے مسجدمیں داخل ہوتے وقت جوتوں کے تلووں کودیکھناکہ کہیں اس میں کوئی نجاست تونہیں رہ گئی ہے اوریہ بھی مستحب ہے کہ مسجدمیں داخل ہوتے وقت داہناپیراورنکلتے وقت دایاں پیررکھے، مسجدمیں سب سے پہلے آئے اورسب سے بعدمیں جائے۔
مسئلہ ۹۳۱ ۔ مسجدمیں داخل ہوکردورکعت تحیت واحترام مسجدکی نمازپڑھنامستحب ہے اوراگرکوئی دوسری واجب یامستحب نماز پڑھ لے تب بھی کافی ہے۔
مسئلہ ۹۳۲ ۔ بغیرمجبوری مسجدمیں سونا،دنیاکے بارے میں گفتگوکرنا، ایسے شعارپڑھناجس میں نصیحت وغیرہ نہ ہومکروہ ہے، اسی طرح تھوکنا، ناک چھینکنا، بلغم کاتھوکنا، آوازبلندکرنا، چینخناچلانا، البتہ اذان کے لئے آوازبلندکرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۳۳ ۔ بچوں اوردیوانوں کومسجدمیں جانے کی اجازت دینامکروہ ہے لیکن اگربچوں کالاناکسی مزاحمت کاسبب نہ ہواوربچوں کومسجداور نمازسے رغبت دلانے کاسبب ہوتومستحب ہے۔
مسئلہ ۹۳۴ ۔ جوشخص لہسن،پیازوغیرہ کھائے ہواوراس کے منہ کی بدبوسے لوگوں کوتکلیف ہوتی ہوتواس کامسجدمیں جانامکروہ ہے۔
اذان واقامت :
مسئلہ ۹۳۵ ۔ روزانہ کی نمازوں سے پہلے اذان واقامت کاکہنامرداور عورت کے لئے مستحب ہے، لیکن عیدین کی نمازسے پہلے مستحب ہے تین مرتبہ ”الصلاة“ کہے اوردوسری واجب نمازوں کے لئے تین مرتبہ ”الصلاة“ بقصدرجاء اورامیدمطلوبیت کہیں۔
مسئلہ ۹۳۶ ۔ مستحب ہے کہ برکت وثواب کی امیدسے ولادت کے پہلے دن یاناف گرنے سے پہلے بچہ کے داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہیں۔
مسئلہ ۹۳۷ ۔ اذان میں حسب ترتیب ذیل اٹھارہ جملے ہیں :
۱ ۔ اللہ اکبر، چارمرتبہ
۲ ۔ اشہدان لاالہ الااللہ، دومرتبہ
۳ ۔ اشہدان محمدارسول اللہ ،دومرتبہ
۴ ۔ حی علی الصلاة، دومرتبہ۔
۵ ۔ حی علی الفلاح ،دومرتبہ
۶ ۔ حی علی خیرالعمل ، دومرتبہ۔
۷ ۔ اللہ اکبر، دومرتبہ۔
۸ ۔ لاالہ الااللہ، دومرتبہ۔
اقامت کے سترہ جملے ہیں اس طرح کہ تمام چیزیں اذان ہی کی مانندہیں سوائے اس کے کہ اقامت کے شروع میں دومرتبہ ”اللہ اکبر“کہے اوراس کے آخرمیں ایک مرتبہ ”لاالہ الااللہ“ کہے لیکن ”حی علی خیرالعمل“ کے بعددومرتبہ ”قدقامت الصلاة“ کااضافہ ہوگا۔
مسئلہ ۹۳۸ ۔ اشہدان علیاولی اللہ اذان واقامت کاجزنہیں ہے، لیکن اشہدان محمدا رسول اللہ کے بعدبقصدقربت اورتبرک کہنابہترہے۔
اذان اوراقامت کاترجمہ :
۱ ۔ اللہ اکبر، : خدااس سے بزرگ وبرترہے کہ اس کی توصیف یہاں کی جائے۔
۲ ۔ اشہدان لاالہ الااللہ، : میں گواہی دیتاہوں کہ خداکے علاوہ کوئی اورمعبودنہیں ہے۔
۳ ۔ اشہدان محمدارسول اللہ ، : میں گواہی دیتاہوں کہ محمدخداکے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔
۴ ۔ حی علی الصلاة، : نماز کے لیے جلدی کرو۔
۵ ۔ حی علی الفلاح ، : کامیابی کے لئے جلدی کرو۔
۶ ۔۴ حی علی خیرالعمل ، : بہترین عمل کے لئے جلدی کرو۔
۷ ۔ اللہ اکبر، : اللہ سب سے بزرگ ہے ۔
۸ ۔ قدقامت الصلاة : نمازقائم ہوگئی ۔
۹ ۔ لاالہ الااللہ، : خداکے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔
مسئلہ ۹۳۹ ۔ اذان واقامت کے جملوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہئے اوراگرمعمول سے زیادہ فاصلہ آگیاتوپھرنئے سرے سے شروع کرناہوگا۔
مسئلہ ۹۴۰ ۔ اگراذان اوراقامت میں اوازگلے میں پھیرے تواگرغناہوجائے (یعنی ایسی طرزسے آوازنکالناجولہوولعب کی محفلوں کے مناسب ہو) حرام وباطل ہے اوراگرغنانہ ہوتومکروہ ہے۔
مسئلہ ۹۴۱ ۔ ہرایسی نمازجوسابقہ نمازکے ہمرہ پڑھی جائے اس کی اذان ساقط ہوجاتی ہے خواہ دونمازوں کاجمع کرنامستحب ہویانہ ہو، اورمندرجہ ذیل مقامات پراذان ساقط ہوجاتی ہے اوربناء براحتیاط واجب ان مواقع پراذان نہ کہناچاہئے :
۱ ۔ جمعہ کے دن اگرنمازعصرکونمازجمعہ کے ساتھ پڑھنامقصودہے تو عصرکی اذان ساقط ہے۔
۲ ۔ عرفہ کے دن نمازعصرکی اذان ساقط ہے ا گرظہروعصرکو ملاکرپڑھنا مقصودہے، عرفہ سے مرادنوذی الحجہ ہے۔
۳ ۔ جوشخص مشعرالحرام میں ہے اورمغرب وعشاء کی نمازملاکرپڑھنا چاہتاہے اس پرعیدقربان کی رات نمازعشاء کی اذان ساقط ہے۔
۴ ۔ وہ مستحاضہ عورت جس کوظہرکے بعدبلافاصلہ عصراورمغرب کے بعدبلافاصلہ عشاء کی نمازپڑھنی ہواس سے عصروعشاء کی اذن ساقط ہے۔
۵ ۔ جوشخص پیشاب وپاخانہ کوروکنے پرقادرنہیں ہے اس سے بھی عصروعشاء کی اذان ساقط ہے۔
۶ ۔ ان پانچ نمازوں سے اذان اس وقت ساقط ہوگی جب گزشتہ نمازاور اس نمازکے درمیان بالکل فاصلہ نہ ہویامعمولی فاصلہ ہواوراگرنافلہ پڑھے توفاصلہ حاصل ہوجاتاہے اوراگرہرنمازکوجداگانہ پڑھاجائے توہرنمازکے لئے اذان اوراقامت دونوں کاپڑھنامستحب ہے۔
مسئلہ ۹۴۲ ۔ اگرنمازجماعت کے لئے اذان اوراقامت کہی جائے توجماعت میں شریک ہونے والے سب کےلئے کافی ہے چاہے اذان واقامت کہتے وقت موجودہویاسناہویانہیں۔
مسئلہ ۹۴۳ ۔ اگرنمازجماعت کے لئے مسجدمیں جائے اوردیکھے کہ نماز ختم ہوچکی ہے لیکن صفیں ابھی تک باقی ہیں تواپنی نمازکے لئے اذان واقامت نہ کہے بشرطیکہ پہلے والی جماعت کے لئے اذان واقامت کہی جاچکی تھی۔
مسئلہ ۹۴۴ ۔ جہاں پرکچھ لوگ نمازجماعت میں مشغول ہیں یاابھی ان کی نمازجماعت ختم ہوئی ہے اورصفیں باقی ہیں اگرکوئی فرادی یادوسری منعقدہونے والی جماعت کے ساتھ نمازپڑھناچاہتاہے تواس سے پانچ شرط کے ساتھ اذان واقامت ساقط ہے :
۱ ۔ پہلی والی نماز کے لئے اذان واقامت کہی گئی ہو۔
۲ ۔ پہلی والی جماعت صحیح رہی ہو۔
۳ ۔ دونوں نمازیں ایک ہی جگہ پرہوں،بس اگرنمازجماعت مسجدکے اندرہوئی ہواوروہ مسجدکی چھت پرنمازپڑھناچاہے تومستحب ہے کہ اذان واقامت کہے۔
۴ ۔ دونوں نمازیں اداہوں۔
۵ ۔ اس کی نمازاورجماعت کی نمازکاوقت مشترک ہو، مثلادونوں نماز ظہریانمازعصرپڑھیں یاجماعت نمازظہرہواوراس کی نمازعصرہویابالعکس۔
مسئلہ ۹۴۵ ۔ اگرکوئی گزشتہ شرائط میں سے دوسری شرط کے بارے میں شک کرے یعنی اسے شک ہوکہ جماعت کی نمازصحیح تھی یانہیں توبھی اس سے اذان اوراقامت ساقط ہے، لیکن اگروہ دوسری چارشرایط میں سے کسی ایک میں شک کرے توبہترہے کہ رجاء مطلوبیت کی نیت سے اذان واقامت کہے۔
مسئلہ ۹۴۶ ۔ کسی بھی اذان دینے والے کی اذان کوسن کردہرانا مستحب ہے، لیکن ”حی علی الصلاة--“سے لے کر”حی علی خیرالعمل“تک ثواب کی امیدسے کہے۔
مسئلہ ۹۴۷ ۔ جس نے دوسرے شخص سے اذان اوراقامت سنی ہوچاہے دہرایاہویانہیں تواگراس اذان واقامت اوراس نمازکے درمیان جسے یہ پڑھناچاہتا ہے زیادہ فاصلہ نہ ہوتواس کے لئے جائز ہے کہ اذان اوراقامت نہ کہے۔
مسئلہ ۹۴۸ ۔ عورت کی اذان لذت کے ساتھ سن کر مردکی اذان ساقط نہیں ہوتی، بلکہ بغیرلذت کے بھی بنابراحتیاط واجب ساقط نہیں ہوگی،لیکن مرد کی اذان سن کرعورت سے اذان ساقط ہوجاتی ہے۔
مسئلہ ۹۴۹ ۔ جن جماعت میں مردوعورت دونوں شریک ہوں نمازجماعت کی اذان واقامت مردکوکہناچاہئے، البتہ عورتوں کی جماعت میں عورتوں کی اذان واقامت کافی ہے۔
مسئلہ ۹۵۰ ۔ اقامت کواذان کے بعدکہنی چاہیے اوراگراذان سے پہلے کہیں توصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۵۱ ۔ اگراذان واقامت کے کلمات بغیرترتیب کے کہے،مثلا ”اشہدان لاالہ الااللہ “سے پہلے ”اشہدان محمدارسول اللہ“ کہے توضروری ہے کہ پلٹ کرترتیب کی رعایت کرے۔
مسئلہ ۹۵۲ ۔ اذان اوراقامت کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ رکھے اوراگراتنا فاصلہ رکھے کہ اقامت اس اذان سے مربوط نہ سمجھی جائے تودوبارہ رکھے اسی طرح اذان واقامت اورنمازکے درمیان فاصلہ زیادہ نہ دے ورنہ اذان واقامت کااعادہ کرے۔
مسئلہ ۹۵۳ ۔ اذان واقامت کوصحیح عربی میں کہناچاہئے، چنانچہ اگرغلط کہے یاترجمہ کرے(کسی بھی زبان میں)توصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۵۴ ۔ اذان واقامت وقت نمازکے داخل ہونے کے بعدکہی جائے اوراگرجان بوجھ کریابھول کروقت سے پہلے کہدیں توباطل ہے۔
مسئلہ ۹۵۵ ۔ اگراقامت کہنے سے پہلے شک ہوجائے کہ اذان کہی ہے کہ نہیں تو اذان کہہ لے، لیکن اگراقامت شروع کرنے کے بعدشک ہوکہ اذان کہی ہے کہ نہیں تواپنے شک پراعتناء نہ کرے۔
مسئلہ ۹۵۶ ۔ اگراذان واقامت کہتے وقت کسی حصے سے پہلے شک کرے کہ اس سے پہلے والاحصہ کہہ چکاہوں یانہیں تومشکوک حصہ کوکہے لیکن اگرکسی حصہ کوکہتے وقت شک کرے کہ اس سے پہلے والاحصہ کہاہے یانہیں تواس کاکہناضروری نہیں۔
مسئلہ ۹۵۷ ۔ اذان واقامت کہتے وقت روبہ قبلہ کھڑاہونامستحب ہے،باوضو یاغسل ہو، بلندآوازسے کہے اورکھینچے اوراذان کے جملوں میں تھوڑاسافاصلہ دے، اذان کہتے وقت بات نہ کرے۔
مسئلہ ۹۵۸ ۔ اقامت کہتے وقت مستحب ہے کہ بدن آرام سے ہو،اقامت کواذ ۱ ن کے بہ نسبت بہت آہستہ کہے اوراس کے جملے ایک دوسرے سے ملاکر نہ کہے اورجملوں میں فاصلہ اذان کے بہ نسبت زیادہ ہو۔
مسئلہ ۹۵۹ ۔ مستحب ہے کہ اذان واقامت کے درمیان ایک قدم اٹھائے یاتھوڑی دیربیٹھ جائے یاسجدہ کرے یادعاکرے یاذکرکہے یاتھوڑی دیرخاموش ہوجائے یابات کرے یادورکعت نمازپڑھے، لیکن نمازصبح کی اذان واقامت کے درمیان بات نہ کرنااورنمازمغرب کی اذان واقامت کے درمیان نمازپڑھنامستحب نہیں ہے۔
مسئلہ ۹۶۰ ۔ جس کواذان کے لئے اذان معین کیاجائے بہترہے کہ وہ عادل ہو،وقت شناس ہو، بلندآوازہو،اس کی آوازمناسب ہو،اذان کوبلندجگہ پرکہے، اگرلاوڈسپیکرسے اذان کہی جائے توکوئی حرج نہیں کہ مؤذن نیچے ہو۔
مسئلہ ۹۶۱ ۔ ریڈیووغیرہ سے اذان کاسن لینانمازکے لئے کافی نہیں ہے، بلکہ خودنمازی حضرات ہی اذان کہیں۔
مسئلہ ۹۶۲ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ اذان ہمیشہ نمازکے قصدسے کہی جائے اوردخول وقت کااعلان کرنے کے لئے اذان کہناجبکہ اس کے بعدنمازپڑھنے کاقصدنہ ہوتومشکل ہے۔
مسئلہ ۹۶۳ ۔ اگرنمازپڑھنے کے لئے اذان واقامت کہے اوراس کے بعدایک گروہ اس سے کہے کہ وہ انھیں نمازپڑھائے یاوہ چاہے کہ نمازکوکسی کی اقتداء میں پڑھے توپہلے کہی گئی اذان اوراقامت کافی نہیں ہے، مستحب ہے دوبارہ کہے۔
نمازکے واجبات :
واجبات نمازگیارہ ہیں :
۱ ۔ نیت
۲ ۔ قیام ۔
۳ ۔ تکبیرةالاحرام، یعنی اللہ اکبراول نمازمیں کہنا۔ ۴ ۔ رکوع۔
۵ ۔ سجود۔
۶ ۔ قرائت ۔
۷ ۔ ذکر۔
۸ تشہد۔
۹ ۔ سلام۔
۱۰ ۔ترتیب۔
۱۱ ۔ موالات(اجزائے نمازکاپے درپے بجالانا)۔
مسئلہ ۹۶۴ ۔ واجبات نمازکی دوقسمیں ہیں : رکنی ،غیررکنی : رکنی وہ وہ واجبات ہیں کہ اگران کوبجانہ لائے یازیادہ کردیاجائے تونمازباطل ہوجاتی ہے چاہے کمی یازیادتی عمداہویاسہواواشتباہاہو، لیکن غیررکنی میں نمازاس وقت باطل ہوتی ہے جب جان بوجھ کرکم یازیادہ کرے اوراگربھولے سے اشتباہاکمی یازیادتی ہوجائے تونمازصحیح ہے اورنمازکے ارکان پانچ ہیں:
۱ ۔ نیت ۔ ۲ ۔ تکیبرةالاحرام۔ ۳ ۔ قیام متصل بہ رکوع، یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونااورتکبیرةالاحرام کہتے وقت اوررکوع میں جانے سے پہلے۔
۴ ۔ رکوع
۵ ۔ دوسجدے۔
۱ ۔ نیت
مسئلہ ۹۶۵ ۔ نمازکوبقصدقربت،یعنی صرف فرمان خداکاانجام دہی کے لئے بجالاناچاہئے اوریہ ضروری نہیں ہے کہ نیت دل سے کرے یامثلازبان سے کہے کہ چاررکعت نمازظہرپڑھتاہوں قربة الی اللہ۔
مسئلہ ۹۶۶ ۔ اگرنمازظہریاعصرمیں یہ نیت کرے کہ چاررکعت نماز پڑھتاہوں اورمعین نہ کرے کہ ظہرہے یاعصرتواس کی نمازباطل ہے اوراسی طرح اگرکسی پرنمازظہر کی قضالازم ہے اوروہ نمازظہرکے وقت نمازقضایانمازظہرکوپڑھناچاہتاہے توجوبھی نمازپڑھتاہے اس کی نیت میں معین کرے۔
مسئلہ ۹۶۷ ۔ ابتداء سے آخرتک نمازہی کی نیت رہنی چاہئے اوراگرغافل ہوجائے اوریہ خیال نہ رہے کہ کیاکررہاہے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۹۶۸ ۔ جوشخص ریاکاری کے لئے نمازپڑھے گااس کی نمازباطل ہے اوراگرخدااورلوگ دونوں پیش نظرہوں جب بھی اس کاعمل باطل ہے۔
مسئلہ ۹۶۹ ۔ اگرنمازکاکچھ بھی حصہ غیرخداکے لئے بجالایاتواس کی نمازباطل ہے چاہے وہ حصہ واجب ہو، مثلاحمدوسورہ یامستحب ہوجیسے قنوت، بلکہ اگراصل نمازتوخداکے لئے پڑھے لیکن لوگوں کودکھانے کے لئے مسجدمیں یامخصوص وقت، مثلااول وقت میں یامخصوص طریقہ سے، مثلاجماعت کے ساتھ نمازپڑھے تب بھی باطل ہے۔
۲ ۔ تکبیرةالاحرام :
مسئلہ ۹۷۰ ۔ ہرنمازکی ابتداء میں”اللہ اکبر“ کہناواجب اوررکن ہے اور”اللہ“اور”اکبر“ کے حروف اوردونوں کلموں(اللہ) اور(اکبر) کوایک دوسرے کے بعدفورا کہے اوریہ دونوں الفاظ صحیح عربی میں کہے جائیں اوراگرغلط عربی یامثلا ان کاترجمہ فارسی میں کہاجائے توصحیح نہیں۔
مسئلہ ۹۷۱ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکی تکبیرةالاحرام کواس چیزسے نہ ملائے جواس سے پہلے پڑھے، مثلااقامت یادعاجوتکبیرسے پہلے پڑھتے ہیں۔
مسئلہ ۹۷۲ ۔ اگرانسان چاہے کہ اللہ اکبراس چیزکے ساتھ ملادے جواس کے بعدپڑھناچاہتاہے ، مثلا”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ تواکبرکی ”ر“ کوپیش کے ساتھ پڑھے۔
مسئلہ ۹۷۳ ۔ تکبیرةالاحرام کہتے وقت بدن آرام کے ساتھ ہواوراگرحالت حرکت میں عمداتکبیرةالاحرام کہی تونمازباطل ہے اوراگرسہواایساکرے تواحتیاط واجب ہے کہ کوئی ایساکام کرے جس سے نمازباطل ہوجائے (مثلاپشت بہ قبلہ ہوجائے) پھردوبارہ تکبیرکہے۔
مسئلہ ۹۷۴ ۔ تکبیرةالاحرام ،حمدسورہ اورنمازکے دوسرے اذکارکواس طرح اداکرے کہ اگرکوئی رکاوٹ نہ ہوتوکم سے کم خودسن لے۔
مسئلہ ۹۷۵ ۔ جولوگ کسی بیماری یاگونگے پن کی وجہ سے”اللہ اکبر“ کوصحیح طریقہ سے ادانہیں کرسکتے جتنابھی اداکرسکتے ہوں اداکریں اوراگربالکل ادانہیں کرسکتے تواشارہ سے کہیں اورزبان سے اداکریں جوگونگوں اوربہروں میں رائج ہے اوردل میں بھی گزاریں۔
مسئلہ ۹۷۶ ۔ مستحب ہے کہ تکبیرةالاحرام سے پہلے کہے :
یامحسن قداتاک المسئی وقدامرت المحسن ان یتجاوزعن المسئی انت المحسن واناالمسئی بحق محمدوآل محمدصل علی محمدوآل محمدوتجاوزعن قبیح ماتعلم منی۔
ترجمہ : اے احسان کرنے والے اللہ!تیری بارگاہ میں گنہگارآیاہے تونے نیکوکاروں کوحکم دیاہے کہ گنہگاروں کومعاف کردیاکریں تونیکوکارہے میں گنہگارہوں، محمدوآل محمدکے طفیل میں ان پررحمت نازل فرمااورمیری جن برائیوں سے توواقف ہے ان کومعاف فرمادےد
مسئلہ ۹۷۷ ۔ تکبیرةالاحرام کہتے وقت اوردیگرتکبیروں کواداکرتے ہوئے ہاتھوں کوکانوں تک اٹھانامستحب ہے اوراس کابرعکس مشکل ،بلکہ ناجائزہے۔
مسئلہ ۹۷۸ ۔ اگرشک ہوکہ تکبیرةالاحرام کہی ہے کہ نہیں تواگرحمدکے پڑھنے میں مشغول ہوگیاہے تب تواپنے شک کااعتنانہ کرے اوراگرابھی حمدشروع نہیں کی توضروری ہے کہ تکبیرةالاحرام کہہ لے۔
مسئلہ ۹۷۹ ۔ اگرتکبیرةالاحرام کہنے کے بعدشک کرے کہ صحیح کہی ہے کہ نہیں تواگرتکبیرةکہنے کے بعدشک ہواہے توپروہ نہ کرے۔
۳ ۔ قیام :
مسئلہ ۹۸۰ ۔ قیام تکبیرةالاحرام کہتے وقت اورقیام رکوع میں جانے سے پہلے جس کوقیام متصل بہ رکوع کہتے ہیں یہ دونوں رکن ہے لیکن حمدوسورہ پڑھتے ہوئے اوراسی طرح رکوع کے بعدوالاقیام واجب توہے مگررکن نہیں ہے، لہذااگران کوکوئی بھول کرچھوڑدے تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۹۸۱ ۔ واجب ہے کہ تکبیرةکہنے سے پہلے اوراس کے بعدتھوڑی دیرکھڑارہے تااسے یقین ہوجائے کہ قیام (کھڑے ہونے) کی حالت میں تکبیرکہی ہے۔
مسئلہ ۹۸۲ ۔ اگررکوع بھول جائے اورحمدوسورہ کے بعدبیٹھ جائے پھریادآئے کہ رکوع نہیں کیاہے ضروری ہے کہ کھڑاہوجائے پھررکوع کرے اوراگرخمیدگی کی حالت میں رکوع کی طرف پلٹے تواس کی نمازباطل ہے کیوں کہ قیام متصل بہ رکوع کوترک کردیا۔
مسئلہ ۹۸۳ ۔ قیام کی حالت میں بدن کوحرکت نہیں دینی چاہئے نہ کسی طرف جھکناچاہئے، نہ کسی چیزپرٹیک لگاناچاہئے، البتہ اگرمجبوری کی وجہ سے ہویارکوع کی طرف جھکتے ہوئے پاؤں کوحرکت دے توکوئی حرج نہیں۔
مسئلہ ۹۸۴ ۔ اگربھولے سے قیام کی حالت میں حمدوسورہ کے لئے بدن کوحرکت دے یاکسی طرف جھک جائے تونمازباطل نہیں ہے لیکن اگرتکبیرةالاحرام کہتے ہوئے یاقیام متصل بہ رکوع کے وقت ہوتوبناء براحتیاط واجب نمازکوتمام کرکے دوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۹۸۵ ۔ واجب یہ ہے کہ حالت قیام میں دونوں پاؤں زمین پرہوں لیکن یہ ضروری نہیں کہ بدن کابوجھ دونوں پیروں پرہواگربوجھ ایک پاؤں پربھی ہوتوکوئی ا شکال نہیں۔
مسئلہ ۹۸۶ ۔ اگرپیروں کوضرورت سے زیادہ پھیلا دے کہ کھڑے ہونے کی شکل سے خارج ہوجائے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۹۸۷ ۔ اگرنمازمیں تھوڑاساآگے یاپیچھے ہوناچاہے یابدن کوداہنی یابائیں طرف حرکت دیناچاہے توکچھ نہ کہے صرف ”بحول اللہ وقوتہ واقوم واقعد“ کوحرکت کی حالت میں کھڑے ہوتے ہوئے کہناچاہئے اورنمازکے واجب ذکراداکرتے ہوئے بھی بدن ساکن ہوناچاہئے، بلکہ احتیاط واجب ہے کہ مستبحی ذکروں میں بھی اس معنی کی رعایت کی جائے۔
مسئلہ ۹۸۸ ۔ اگرحالت حرکت میں کوئی ذکرکہے مثلارکوع میں جاتے وقت یاسجدہ میں جاتے وقت تکبیرکہے تواگراس قصدسے کہے کہ یہ وہ ذکرہے جس کانمازمیں دستوردیاگیاہے تواحتیاطانمازدوبارہ پڑھے اوراگراس قصدسے نہ کہے بلکہ مطلق ذکرمقصودہوتونمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۹۸۹ ۔ الحمدپڑھتے وقت ہاتھ اورانگلیوں کوحرکت دینے میں کوئی اشکال نہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ انہیں حرکت نہ دے۔
مسئلہ ۹۹۰ ۔ اگرحمدوسورہ پڑھتے ہوئے یاتسبیحات پڑھتے ہوئے بے اختیارتھوڑی سی حرکت بدن میں ہوجائے کہ بدن سکون کی حالت سے خارج ہوجاے یاہجوم کی وجہ سے دھکالگے اوراس کوحرکت ہوجائے تواحتیاط واجب ہے کہ حالت حرکت میں جتناپڑھاہے بدن ساکن ہونے کے بعداس کودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۹۹۱ ۔ اگرنمازپڑھتے ہوئے قیام سے عاجزہوتے ہوجائے توبیٹھ جائے اوربیٹھنے سے عاجزہوجائے تولیٹ جائے، لیکن جب تک بدن ساکن نہ ہوجائے کچھ نہ پڑھے مگریہ کہ کسی چیزکے پرھنے میں قربت مطلقہ کاقصدہو۔
مسئلہ ۹۹۲ ۔ جوشخص کھڑے ہوکر نمازنہ پڑھ سکے توچاہئے کہ بیٹھ کرپڑھے لیکن اگرعصایادیواروغیرہ کے سہارے سے کھڑاہوسکتاہے یاپیروں کوایک دوسرے سے دوررکھ کرکھڑاہوسکتاہوتویہی کرے،ہاں اگریہ سب ممکن نہ ہوتویہاں تک کہ رکوع کی حالت کی طرح بھی نہیں کھڑاہوسکتاتوسیدھابیٹھ کرنمازپڑھے۔
مسئلہ ۹۹۳ ۔ انسان جب تک بیٹھ کر نمازپڑھ سکتاہے چاہے کسی چیزکے سہارے سے ہی توپھریہی کرے لیٹ کرنمازنہ پڑھے اوراگرکسی بھی طرح بیٹھ کرنہیں پڑھ سکتاتوداہنی کروٹ لیٹ کرپڑھے مگراس طرح لیٹے کہ بدن کاپوراحصہ روبہ قبلہ ہواوراگریہ نہ کرسکے توبائیں کروٹ لیٹ کرپڑھے اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتواس طرح چت لیٹ جائے کہ پیروں کے تلوے روبہ قبلہ ہوں۔
مسئلہ ۹۹۴ ۔ جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھتاہے اگرالحمدوسورہ کے بعدکھڑے ہوکررکوع کرسکتاہے توکھڑاہوجائے اورقیام سے رکوع میں جائے اگرایسانہیں کرسکتاتورکوع بھی بیٹھ کرکرے ۔
مسئلہ ۹۹۵ ۔ اگرکوئی کمزوری کی بناپرنمازلیٹ کرپڑھتاہوتواگردرمیان میں تھوڑاساحصہ بیٹھ کرپڑھ سکتاہے تواتنابیٹھ کرپڑھے یاکھڑاہوسکتاہے توکھڑے ہوکرپڑھے، البتہ جب تک بدن سکون میں نہ ہوکچھ نہ پڑھے مگرقصدقربت مطلقہ سے۔
مسئلہ ۹۹۶ ۔ اگرکھڑے ہونے کی طاقت تورکھتاہے مگرجانتاہے کہ کھڑے ہوکرنمازپڑھنے سے نقصان پہنچے گایابیماری لمبی ہوجائے گی توبیٹھ کرنمازپڑھے اوراگراس سے بھی نقصان کااندیشہ ہوتولیٹ کرنمازپڑھے۔
مسئلہ ۹۹۷ ۔ اگرکسی کویہ احتمال ہوکہ آخری وقت تک وہ کھڑاہوکرنمازپڑھ سکے گاتواول وقت نمازپڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۹۹۸ ۔ مستحب ہے کہ قیام کی حالت میں بدن کوسیدھارکھے شانوں کوجھکادے، ہاتھوں کورانوں پررکھے، انگلیوں کوبندکرے، سجدہ کی جگہ پرنظررکھے، بدن کابوجھ دونوں پیروں پربرابررکھے، خضوع وخشوع کے ساتھ ہو، مرداپنے پیروں کوکچھ کھلارکھیں، عورتیں اپنے پیروں کوملاکررکھیں۔
۴ ۔ قرائت :
مسئلہ ۹۹۹ ۔ روزانہ کی واجب نمازوں کی پہلی اوردوسری رکعت میں پہلے الحمداوراس کے بعدایک پوری سورہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۰۰ ۔ تنگی وقت میں یاایسی جگہ جہاں چوریادرندہ کاخطرہ ہوسورہ کونہیں پڑھناچاہئے، اسی طرح اگرکسی اہم کام میں جلدی ہوتب بھی سورہ کوچھوڑسکتے ہیں۔
مسئلہ ۱۰۰۱ ۔ اگرجان بوجھ کرسورہ کوحمدسے پہلے پڑھ لے تواس کی نمازباطل ہے، اوراگراشتباہاایساکرے اورسورہ درمیان میں اسے یادآجائے توپلٹ کرصحیح پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۰۲ ۔ اگرحمدیاسورہ یادونوں کوبھول جائے اورحدرکوع میں پہنچ جانے کے بعدیادآئے تونمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۰۳ ۔ اگررکوع میں جانے سے پہلے معلوم ہوجائے کہ حمدوسورہ نہیں پڑھاتوانہیں پڑھیں اوراگریہ معلوم ہوکہ سورہ نہیں پڑھاتوفقط اسے پڑھے البتہ اگرمعلوم ہوجائے کہ صرف حمدنہیں پڑھی توپہلے حمداوراس کے بعدسورہ دوبارہ سورہ پڑھے اوراگر جھکااوررکوع تک پہنچنے سے پہلے معلوم ہوگیاکہ حمدوسورہ یاصرف سورہ یاصرف حمدنہیں پڑھی توکھڑاہوجائے اوراگزشتہ دستورپرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۰۰۴ ۔ اگرکوئی شخص جان بوجھ کرواجب نمازمیں ان چارسوروں میں سے ایک سورہ پڑھے جن میں سجدہ کی آیت ہے تونمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۱۰۰۵ ۔ اگربھولے سے سورہ سجدہ کی تلاوت شروع کردی ہے اورآیت سجدہ پہنچنے سے پہلے متوجہ ہوجائے توبناء براحتیاط حالت نمازمیں اشارہ سے سجدہ کرے اورجوسورہ پڑھ چکاہے اسے کافی سمجھے۔
مسئلہ ۱۰۰۶ ۔ اگرحالت نمازمیں ایةسجدہ سن لے تواس کی نمازصحیح ہے جب کہ اشارہ سے سجدہ کرلیاہو۔
مسئلہ ۱۰۰۷ ۔ مستحبی نمازوں میں سورہ کوچھوڑسکتاہے حتی کہ ان مستحبی نمازوں میں بھی چھوڑسکتاہے جونذرکی وجہ سے واجب ہوئی ہوں، البتہ جن مستحبی نمازوں میں مخصوص سورے واردہوئے ہیں ان کواسی طرح پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۰۸ ۔ نمازجمعہ اورجمعہ کے دن نمازظہرکی پہلی رکعت میں حمدکے بعدسورہ جمعہ کاپڑھنامستحب ہے اوردوسری رکعت میں سورہ منافقین کااورجب ان دونوں میں(جمعہ، منافقین) سے کسی ایک کوشروع کردے تواحتیاط واجب ہے کہ دوسرے سورہ کی طرف عدول نہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۰۹ ۔ سورہ قل ہواللہ “ اورسورہ”قل یاایہاالکافرون“ سے کسی دوسرے کی طرف عدول جائزنہیں ہے، لیکن نمازجمعہ اورجمعہ کے دن ظہرمیں اگربھولے سے ان دونوں(قل ہواللہ احد،قل یاایہاالکافرون)میں سے کسی ایک کوشروع کردے اورنصف تک نہ پہنچاہوتوان کوچھوڑکرسورہ جمعہ یامنافقین پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۰۱۰ ۔ اگرنمازجمعہ یاجمعہ کے دن نمازظہرمیں جان بوجھ کر”قل ہواللہ احد“یاقل یاایھاالکافرون“ کوپڑھے تواگرچہ نصف تک نہ پہنچاہواحتیاط واجب یہ ہے کہ انہیں چھوڑکرسورہ جمعہ یامنافقین نہیں پڑھ سکتا۔
مسئلہ ۱۰۱۱ ۔ اگرنمازمیں قل ہواللہ اورقل یاایھاالکافرون کے علاوہ کوئی بھی سورہ شروع کردے تواس کوچھوڑکردوسرے سورہ کوپڑھ سکتاہے، بشرطیکہ نصف تک نہ پہنچاہو۔
مسئلہ ۱۰۱۲ ۔ اگرسورہ کے کچھ حصہ کوبھول جائے یاتنگی وقت کی وجہ سے پوراسورہ نہ پڑھ سکے تواس کوچھوڑکردوسراسورہ پڑھ سکتاہے خواہ نصف سے گزرچکاہویاابھی تک نہ پہنچاہویاسورہ قل ہواللہ ،قل یاایھاالکافرون ہو۔
مسئلہ ۱۰۱۳ ۔ مردوں پر واجب ہے صبح اورمغرب وعشاء کی نمازمیں حمدوسورہ کوبلندآوازسے پڑھیں اورمردوعورت پردونوں واجب ہے کہ حمدوسورہ نمازظہرو عصرمیں اہستہ پڑھیں۔
مسئلہ ۱۰۱۴ ۔ مردکوپورے طورپرمتوجہ رہناچاہئے کہ نمازصبح، مغرب وعشاء میں حمدوسورہ کے تمام کلمات یہاں تک کہ ان کاآخری حرف بلندآوازسے پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۱۵ ۔ عورت نمازصبح، مغرب اورعشاء میں الحمداورسورہ کوبلنداورآہستہ پڑھ سکتی ہے لیکن اگرکوئی نامحرم اس کی آوازسن رہاہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ آہستہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۱۶ ۔ جہاں قرائت بلندہونی چاہئے وہاں عمداآہستہ پڑھنے سے اورجہاں اہستہ ہونی چاہئے وہاں عمدابلندآوازپڑھنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے، لیکن اگربھولے سے یامسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایساکرے تونمازصحیح ہے، اوراگرحمدوسورہ پڑھتے وقت معلوم ہوجائے کہ اشتباہ کیاہے توضروری نہیں کہ جتناحصہ پڑھ چکاہے اسے دوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۱۷ ۔ اگرکوئی قرائت ضرورت سے زیادہ بلندآوازمیں چیخ کرپڑھے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۱۸ ۔ اگرکوئی قرائت وذکرکوصحیح پڑھنانہیں جانتااسے سیکھاناچاہئے اوروہ لوگ جوصحیح تلفظ نہیں سیکھ سکتے جس طرح بھی تلفظ کرسکتے ہوں اسی طرح پڑھیں اورایسے اشخاص کے لئے احتیاط مستحب ہے کہ جتنابھی ممکن ہونمازکوجماعت سے پڑھیں۔
مسئلہ ۱۰۱۹ ۔ جوشخص حمدوسورہ یانمازکے دیگراذکارکواچھی طرح نہیں جانتااورسیکھ سکتاہے تواگرممکن ہوتونمازجماعت کے ساتھ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۲۰ ۔ احتیاط واجب کی بناء پرواجبات نمازسیکھانے کی اجرت نہیں لی جاسکتی لیکن مستحبات کے سکھانے کی اجرت لی جاسکتی ہے۔
مسئلہ ۱۰۲۱ ۔ اگرحمدوسورہ کے کلمات میں سے ایک کلمہ کونہیں جانتایاجان بوجھ کراسے نہیں کہتایاکسی حرف کوکسی حرف سے اس طرح بدل دیتاہے، مثلا”ض“ کی جگہ ”ز“ کہتاہے یازیروزبرکوغلط پڑھتاہے یاتشدیدحذف کردے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۲۲ ۔ اگرکسی کلمہ کویااس کے تلفظ کوصحیح جانتاتھا اوراسی طرح پڑھتارہااوربعدمیں معلوم ہوکہ غلط تھاتواحتیاط مستحب ہے کہ اعادہ کرے اوراگروقت باقی نہ ہوتوقضاکرے۔
مسئلہ ۱۰۲۳ ۔ ا گرکسی لفظ کے زیروزبرسے واقف نہ ہوتوسیکھنا ضروری ہے لیکن اگرکوئی کلمہ ایساہے کہ جس کے آخروقف کرناجائز ہے اوریہ ہمیشہ وقف کرے توپھرسیکھناضروری نہیں ہے،اوراسی طرح اگریہ نہیں جانتاوہ لفظ س سے یاص سے ا داکرناچاہئے توسیکھ لے اوراگرجمع کرے اوردونوں طریقوں سے پڑھے، یعنی ایک مرتبہ س اورایک مرتبہ ص تواس کی نمازباطل ہے، مثلااھدناالصراط المستقیم میں مستقیم کوایک دفعہ س سے اورایک دفعہ ص سے پڑھے، مگریہ کہ اس کلمہ کودونوں طریقوں سے پڑھاگیاہواوریہ بھی حقیقت تک رسائی کی امیدسے دونوں پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۲۴ ۔ اگرکسی تلفظ میں”واو“ ہواوراس لفظ سے پہلے والے حرف پر پیش ہواور”واو“ کے بعدہمزہ ہوتوبہترہے کہ واوکومد کے ساتھ کھینچ کرپڑھے، اسی طرح اگرکسی لفظ میں الف ہواورالف سے پہلے حرف پرزبرہواوربعدوالے حرف پرہمزہ ہومثلا جاء توبہترہے کہ اس الف کومد کے ساتھ پڑھے، اوراگر کسی لفظ میں ی ہواوری سے پہلے حرف پرزبرہواوربعدوالے حرف پرہمزہ ہومثلا جیء توبہترہے کہ ی کومدکے ساتھ پڑھے اوراگران حروف واو،الف،ی کے بعدہمزہ کے بجائے کوئی ساکن حرف ہوتب بھی ان تینوں حروف کومدکے ساتھ پڑھنابہترہے، مثال کے طورپر”ولاالضاٴلین “میں الف کے بعدحرف لام ساکن ہے تواس کے الف کومدکے ساتھ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۲۵ ۔ اقوی یہ ہے کہ نمازمیں وقف بحرکت اوروصل بہ سکون میں کوئی حرج نہیں ہے وقف بحرکت کامطلب یہ ہے کہ کلمہ کے آخری حرکت کااظہارکرے اور(اسی کے ساتھ) کسی ایک کلمہ اوراس کے بعدوالے کلمہ میں فاصلہ دے، مثلاکہے الرحمن الرحیم اور الرحیم کی میم کے نیچے زیردے اورپھرکچھ فاصلہ کے بعدکہے مالک یوم الدین اوروصل بہ سکون کامطلب یہ ہے کہ آخرکلمہ کوزیر وزبرکے بغیرپڑھے اورفورااس کے بعدوالی آیت یاکلمہ کوکہے، مثلاالرحمن الرحیم میں الرحیم کی میم کوساکن پڑھ کرفورامالک یوم الدین کہے۔
مسئلہ ۱۰۲۶ ۔ تین رکعتی اورچاررکعتی نماز کی تیسری وچوتھی رکعت میں اختیارہے صرف حمدپڑھے(بغیرسورہ) یاتین مرتبہ تسبیحات اربعہ، یعنی سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر، اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ تسبیحات اربعہ تین مرتبہ پرھے، یہ بھی کرسکتاہے کہ ایک رکعت میں حمداورایک رکعت میں تسبیحات پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۲۷ ۔ تنگی وقت میں تسبیحات اربعہ کوایک مرتبہ پڑھناچاہئے۔
مسئلہ ۱۰۲۸ ۔ مرداورعورت پرواجب ہے کہ نماز کی تیسری اورچوتھی رکعت میں حمدیاتسبیحات اربعہ کوآہستہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۲۹ ۔ اگرتیسری یاچوتھی رکعت میں الحمدپڑھے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ بسم اللہ کوبھی آہستہ پڑھے خصوصا ماموم اورفرادی نماز پڑھنے والے کے لئے۔
مسئلہ ۱۰۳۰ ۔ جوشخص تسبیحات اربعہ یادنہیں کرسکتایادرست نہیں پڑھ سکتاتووہ تیسری اورچوتھی رکعت میں الحمدپڑھے۔
مسئلہ ۱۰۳۱ ۔ اگرتیسری یاچوتھی رکعت کاگمان کرتے ہوئے پہلی اوردوسری رکعت میں تسبیحات پرھے اوررکوع سے پہلے یاد آجائے توضروری ہے کہ پلٹ کرحمدوسورہ پڑھے لیکن اگررکوع میں یااس کے بعدمتوجہ ہوتواس کی نمازصحیح ہے، البتہ احتیاط مستحب ہے کہ دوسجدہ سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۰۳۲ ۔ اگرنمازکی آخری دورکعت میں اس خیال سے کہ یہ پہلی دورکعت ہیں الحمدپڑھے یانمازکی پہلی دورکعت میں اس گمان سے کہ یہ آخری دورکعات ہیں الحمدپڑھے چاہے یہ بات رکوع سے پہلے یارکوع کے بعدمعلوم ہوجائے تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۳۳ ۔ اگرتیسری اورچوتھی رکعت میں حمدپڑھناچاہتاتھالیکن زبان سے تسبیحات نکل گئے یااس کے برعکس تسبیحات پڑھناچاہتاتھالیکن زبان سے حمدجاری ہوگیاتوکافی نہیں ہے، بلکہ پلٹ کردوبارہ تسبیحات یاحمدکوپڑھے لیکن اگرایک چیزکوپڑھنااس کی عادت تھی اوروہی اس کی زبان پرآئی اوراس کے خزانہ دل میں اسی کاقصدتھاتونمازکوتمام کرے اوراس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۳۴ ۔ جس شخص کی عادت ہے کہ تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیحات پڑ ھتاہے اگربغیرقصدکے حمدپڑھناشروع کردے تواقوی یہ ہے کہ اس کوچھوڑ دے اوردوبارہ الحمدیاتسبیحات پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۳۵ ۔ تسبیحات کے بعداستغفارکرنا مستحب ہے، مثلا”استغفراللہ ربی واتوب الیہ“ کہے اورجوشخص استغفارمیں مشغول ہے اگرشک کرے کہ تسبیحات کوپڑھاہے یانہیں توشک کی پرواہ نہ کرے،اسی طرح اگرنمازی رکوع کے لیے جھکنے سے پہلے جب کہ استغفارنہیں کہہ رہاشک کرے کہ الحمدیاتسبیحات پڑھے ہیں یانہیں توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۳۶ ۔ اگرتیسری یاچوتھی رکعت کے رکوع میں یارکوع میں جاتے ہوئے شک کرے کہ حمدیاتسبیحات پڑھے ہیں یانہیں تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۳۷ ۔ اگرنمازی شک کرے کہ آیااس نے کوئی آیت یاجملہ درست پڑھاہے یانہیں تواگربعدوالی چیزمیں مشغول نہیں ہواتواس آیت یاجملے کوصحیح طورپرپڑھے لیکن اگربعدکی کسی چیزکے پڑھنے میں مشغول ہوچکاہے تواگروہ چیزرکن ہے، مثلاحالت رکوع میں شک کرے کہ سابقہ جملات صحیح پڑھاہے یانہیں تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے،اوراگروہ چیزرکن نہیں ہے ، مثلااللہ الصمد کہتے وقت شک کرے کہ قل ہواللہ احد درست پڑھاہے یانہیں توپھربھی اپنے شک کی پرواہ نہ کرے، لیکن اگراحتیاطااس آیت یاجملہ کوبطورصحیح کہے کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ چندمرتبہ شک کرے اورتکرارکرے، لیکن اگروسوسے کی حدتک پہنچ جائے توپرواہ نہ کرے اوراگرپرواہ کرتاہے توبناء براحتیاط واجب نمازکودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۳۸ ۔ ------------------------------------------------------------
مسئلہ ۱۰۳۹ ۔ مستحب ہے کہ نمازوں میں پہلی رکعت کے اندراناانزلناہ اوردوسری رکعت میں قل ہواللہ احد پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۴۰ ۔ مکروہ ہے کہ پوری پنجگانہ نمازمیں کسی ایک میں قل ہواللہ نہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۴۱ ۔ سورہ قل ہواللہ اورسورہ الحمدکوایک ہی سانس میں پڑھنامکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۰۴۲ ۔ جس سورہ کوپہلی رکعت میں پڑھاہے اسے دوسری رکعت میں پڑھنامکروہ ہے سوائے قل ہواللہ احدکے اس کودونوں رکعتوں میں پڑھنامکروہ نہیں ہے۔
۵ ۔ رکوع :
مسئلہ ۱۰۴۳ ۔ ہررکعت میں قرائت کے بعدایک رکوع کرناچاہئے، یعنی اتناجھکے کہ ہاتھوں کوزانوں پررکھ سکے۔
مسئلہ ۱۰۴۴ ۔ اگررکوع کی مقدارتوجھکے لیکن ہاتھ گھٹنوں پرنہ رکھے احتیاط کے خلاف ہے اوراحتیاط یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کوگھٹنوں پررکھے۔
مسئلہ ۱۰۴۵ ۔ اگررکوع معمول کے خلاف بجالائے، یعنی دائیں یابائیں طرف جھک جائے اگرچہ اس کے ہاتھ زانوتک پہنچ رہے ہوتوصحیح نہیں۔
مسئلہ ۱۰۴۶ ۔ جھکنارکوع کی نیت سے ہوبنابراین اگرکسی جانورکو مارنے کے لئے جھکے تواس کورکوع نہیں شمارکیاجاسکتا،بلکہ کھڑاہوجائے اورپھررکوع کے قصدسے جھکے۔
مسئلہ ۱۰۴۷ ۔ جس کے ہاتھ زانودوسروں سے مختلف ہوں، مثلااس کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں کہ اگرتھوڑاساجھک جائے توہتھیلی زانوتک پہنچ جائے یااس کازانوبہت نیچے ہوتوایسے لوگ عام آدمیوں کی طرح جھکیں۔
مسئلہ ۱۰۴۸ ۔ بیٹھ کرنمازپڑھنے والارکوع کے لئے اتناجھکے کہ اس کاچہرہ زانوں کے مقابل ہوجائے اوربہتریہ ہے کہ اس کاچہرہ سجدہ کی جگہ کے قریب تک پہنچے۔
مسئلہ ۱۰۴۹ ۔ رکوع میں ذکرکرناواجب ہے اوررکوع کاذکربنابراحتیاط واجب تین مرتبہ ”سبحان اللہ“ یاایک مرتبہ ”سبحان ربی العظیم وبحمدہ“ کہناہے۔
مسئلہ ۱۰۵۰ ۔ ذکررکوع کوصحیح عربی میں کہناضروری ہے اورمستحب ہے کہ ذکررکوع تین مرتبہ یاپانچ یاسات مرتبہ کہے۔
مسئلہ ۱۰۵۱ ۔ واجب ذکراداکرتے ہوئے بدن کاسکون وآرام کی حالت میںضروری ہے اورمستحب ذکرکے لئے بھی بدن کاساکن ہونابنابراحتیاط واجب ہے اگراس کوذکررکوع کے قصدسے کہے۔
مسئلہ ۱۰۵۲ ۔ اگرذکرواجب کہتے ہوئے کوئی دھکادیدے یاکسی اورمجبوری کی بنابر بدن حرکت میں اجائے توسکون کے بعد دوبارہ کہے بنابراحتیاط مستحب البتہ معمولی سی حرکت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۰۵۳ ۔ رکوع میں پہنچنے اوربدن کے ساکن ہونے سے پہلے اگرعموماذکررکوع کہہ لے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۵۴ ۔ واجب ذکرکے تمام ہونے سے پہلے اگرعمداسرکورکوع سے اٹھالے تو نمازباطل ہے اوراگرسہواایساکیاگیاہوتواگررکوع کی حالت سے خارج ہوجانے سے پہلے متوجہ ہوجائے توبدن کے ساکن ہونے کی صورت میں دوبارہ ذکر کہے اوراگررکوع سے خارج ہونے کے بعدمتوجہ ہوتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۵۵ ۔ اگررکوع میں ذکرپڑھنے کی مقدارنہیں ٹھرسکتاتواگررکوع کی حدودسے خارج ہونے سے پہلے پڑھ سکتاہے توپڑھے اوراگرپوراذکرنہیں پڑھ سکتا تواٹھتے وقت پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۵۶ ۔ اگربیماری یاکسی اوروجہ سے رکوع میں سکون سے نہیں رہ سکتاتواس کی نماز صحیح ہے، لیکن حالت رکوع سے خارج ہونے سے پہلے واجب ذکر پڑھ لے یعنی ”سبحان ربی العظیم وبحمدہ “ یاتین مرتبہ سبحان اللہ کہے۔
مسئلہ ۱۰۵۷ ۔ جولوگ رکوع کی حدتک نہیں جھک سکتے اگروہ کسی چیزپرتکیہ کرکے جھک سکتے ہوں توجھکیں اوراگریہ ممکن نہ ہوتوجتناجھک سکتے ہوں جھکیں اوراگربالکل جھک نہ سکتے ہوں توبیٹھ کررکوع کریں اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ ایک اورنمازپڑھے کہ جس میں رکوع کے لئے سرکااشارہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۵۸ ۔ جوشخص قیام کی حالت میں نمازپڑسکتاہے لیکن کھڑے ہوکریابیٹھ کررکوع نہیں کرسکتاتووہ قیام کی حالت میں نمازپڑھے اوررکوع کے لئے سرکے ساتھ اشارہ کرے اوراگرسرسے اشارہ بھی نہیں کرسکتاتونیت رکوع سے آنکھیں بندکرے اورذکررکوع پڑھے اوررکوع سے سراٹھانے کی نیت سے آنکھیں کھول دے اوراگراس سے بھی عاجزہے تودل میں رکوع کی نیت کرے اورذکرکہے۔
مسئلہ ۱۰۵۹ ۔ جوشخص کھڑے ہوکریابیٹھ کررکوع نہیں کرسکتااوررکوع کے لیے بیٹھ کر تھوڑاساجھک سکتاہے یاکھڑے ہوکراشارہ کرسکتاہے تووہ کھڑے ہوکر نمازپڑھے اوررکوع کے وقت بیٹھ جائے اورجتناہوسکے رکوع کے لئے جھکے۔
مسئلہ ۱۰۶۰ ۔ اگرکوئی رکوع کی حدتک پہنچنے کے بعداوربدن کے سکون حاصل ہونے کے بعدسراٹھالے اوربدن کے سکون کے بعدرکوع کی نیت سے اتناجھکے تواس کی نمازباطل ہے اوراگررکوع کی مقدارجھکنے اوربدن کے سکون کے بعدرکوع کی نیت سے اتناجھکے کہ مقداررکوع سے آگے بڑھ جائے اوردوبارہ رکوع کی طرف پلٹ آئے توبناء براحتیاط واجب اس کی نمازباطل ہے اوربہتریہ ہے کہ نماز ختم کرنے کے بعداعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۶۱ ۔ رکوع ختم کرکے سیدھاکھڑاہوناواجب ہے پھربدن ساکن ہونے کے بعدسجدہ میں جائے اوراگرکوئی عمدااس کام کوترک کردے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۶۲ ۔ اگرکوئی رکوع کوبھول جائے اورسجدہ سے پہلے متوجہ ہوجائے توپلٹ جائے اورپہلے سیدھاکھڑاہوپھررکوع میں جائے اوراگرجھکی ہوئی حالت میں رکوع کی طرف پلٹاتواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۶۳ ۔ اگرپیشانی زمین پرلگنے بعدمتوجہ ہوجائے کہ رکوع نہیں کیاہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ کھڑاہوجائے اوررکوع بجالائے اورنمازکوتمام کرکے دوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۶۴ ۔ رکوع میں جانے سے پہلے جب آدمی ابھی کھڑاہی ہو”اللہ اکبر“کہنامستحب ہے اوررکوع کی حالت میں دونوں گھٹنوں کوپیچھے رکھے اورپیٹھ سیدھی رکھے، گردن کھینچی ہوئی اوربالکل پیٹھ کے برابرہو، اوردونوں پیروں کے بیچ میں نگاہ کرے اوررکوع سے اٹھنے اورسیدھاکھڑاہوجانے کے بعدجب بدن ساکن ہواس وقت ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہے۔
مسئلہ ۱۰۶۵ ۔ عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ رکوع میں ہاتھوں کوگھٹنوں سے اوپررکھیں اورگھٹنوں کے پیچھے کی طرف نہ دھکیلیں۔
۶ ۔ سجدے :
مسئلہ ۱۰۶۶ ۔ نمازخواہ واجب ہویامستحب ا س کی ہررکعت میں دوسجدے واجب ہیں، یہ سجدے رکوع کے بعدکئے جاتے ہیں اورسجدہ میں سات چیزیں زمین پرہوناچاہئے :
۱ ۔ پیشانی ۲ ۔ ۳ ۔ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں۔ ۴ ۔ ۵ ۔ دونوں گھٹنوں۔ ۶ ۔ ۷ ۔ دونوں پیروں کے انگوٹھے کے سرے۔
مسئلہ ۱۰۶۷ ۔ دونوں سجدے مل کرایک رکن ہیں کہ اگرکھبی دونوں سجدوں کوخواہ عمدایابھولے سے ترک کردے یادوسجدوں کی جگہ چارسجدے بجالائے تونماز باطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۶۸ ۔ اگرعمداایک سجدہ کی کمی یازیادتی ہوجائے تونمازباطل ہے لیکن اگربھولے سے ہوتواس سے نمازباطل نہیں ہوجاتی۔
مسئلہ ۱۰۶۹ ۔ اگرپیشانی کوعمدایابھولے سے زمین پرنہ رکھے توسجدہ نہیں ہوگالیکن اگرپیشانی توزمین پرہواورکسی عضوکوبھولے سے زمین پرنہ رکھے یابھول کرذکرسجدہ نہ کہے توسجدہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۷۰ ۔ سجدہ میں کوئی ساذکرخداکہے توکافی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ مقدارذکرتین مرتبہ”سبحان اللہ“ یاایک مرتبہ ”سبحان ربی الاعلی وبحمدہ“ سے کم نہ ہو اورمستحب یہ ہے کہ ”سبحان ربی الاعلی وبحمدہ“ تین یاپانچ یاسات مرتبہ کہے۔
مسئلہ ۱۰۷۱ ۔ سجدہ میں بھی ذکرواجب کی ادائیگی کی حدتک بدن ساکن ہوناچاہئے مستحب ذکرکرتے ہوئے بھی بدن ساکن ہوناچاہئے بشرطیکہ ذکرکوذکرسجدہ کے قصدسے کہاہو۔
مسئلہ ۱۰۷۲ ۔ بدن ساکن ہونے سے پہلے اگرسجدہ شروع کردے توسجدہ باطل ہے اسی طرح اگرتھوڑاساذکرسجدہ سے سراٹھاتے ہوئے اداکرے جب بھی سجدہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۰۷۳ ۔ اگراس سے پہلے کہ پیشانی زمین تک پہنچے اوربدن میں سکون آجائے بھولے سے ذکرسجدہ کہے اورسجدہ سے سراٹھانے سے قبل معلوم ہوجائے کہ اشتباہ کیاہے تودوبارہ بدن کے سکون کی حالت میں ذکربجالائے۔
مسئلہ ۱۰۷۴ ۔ اگرسجدے سراٹھانے کے بعدمعلوم ہوجائے کہ بدن کے سکون سے پہلے ذکرکہاتھایاذکرختم ہوجانے سے پہلے سراٹھالیاتونمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۷۵ ۔ جس و قت ذکرنہ کررہاہوتوسات اعضاء میں سے کچھ کوپیشانی کے علاوہ زمین سے اٹھاسکتاہے یاایک جگہ سے دوسری جگہ جگہ رکھ سکتاہے، لیکن ذکرکرتے وقت جائزنہیں ہے اورنمازباطل ہوجاتی ہے۔
مسئلہ ۱۰۷۶ ۔ اگرسجدہ کاذکرتمام ہونے سے پہلے بھول کرپیشانی زمین سے اٹھالے تودوبارہ زمین پرنہیں رکھ سکتا اوراسے ایک شجدہ شمارکرناچاہئے لیکن دوسرے اعضاء کوبھولے سے اٹھالے توانہیں دوبارہ زمین پررکھے اورذکرسجدہ کہے۔
مسئلہ ۱۰۷۷ ۔ ضروری ہے کہ پہلے سجدہ کے بعدبیٹھ جائے اورجب بدن ساکن ہوجائے تودوبارہ سجدہ میں جائے۔
مسئلہ ۱۰۷۸ ۔ پیشانی کی جگہ پاؤں کی جگہ سے ملی ہوئی چارانگلیوں سے زیادہ بلندیاپست نہ ہو۔
مسئلہ ۱۰۷۹ ۔ ڈھلوان والی زمین میں کہ جس کاڈھلوان صحیح طورپرمعلوم نہیں احتیاط واجب یہ ہے کہ پیشانی کی جگہ پاؤں کی جگہ سے ملی ہوئی چارانگلیوں سے زیادہ بلندنہ ہو۔
مسئلہ ۱۰۸۰ ۔ اگربھول کرپیشانی ایسی جگہ پررکھے جوپاوں کی انگلیوں اورگھٹنوں کے سروں سے ملی ہوئی چارانگلیوں سے زیادہ اونچی ہو،اگر بلندی اتنی ہوکہ اس کوسجدہ نہ کہاجاسکے توسرکواٹھاکرکسی ایسی چیزپررکھے جس کی اونچائی چارملی ہوئی انگلیوں سے کم ہواوراس حالت میں پیشانی کووہاں سے گھسیٹ کرجگہ بدل سکتاہے، لیکن اگراتنی ہے کہ اس کوسجدہ کہتے ہیں توواجب ہے کہ پیشانی کووہاں سے گھسیٹ کرایسی جگہ رکھے جس کی اونچائی چارملی ہوئی انگلیوں کے برابریا کم ہواوراگرپیشانی کاکھینچناممکن نہ ہوتواحتیاط یہ ہے کہ نمازکوتمام کرکے پھردوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۸۱ ۔ پیشانی اورجس چیزپرسجدہ کرناہے ان کے درمیان کوئی چیزحائل نہ ہوپس اگرسجدگاہ پراتنی میل ہوکہ پیشانی سجدہ گاہ تک نہ پہنچے توسجدہ باطل ہے البتہ اگرسجدگاہ کاصرف رنگ بدلاہوتوکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۰۸۲ ۔ سجدہ میں ہتھیلیوں کوزمین پررکھناچاہئے لیکن مجبوری کی حالت میں ہتھیلیوں کی پشت کورکھے اوریہ بھی ممکن نہ ہوتوگٹوں کورکھے اوراگروہ ممکن نہ ہوتوکہنی تک ہاتھ کاجوحصہ رکھ سکے رکھے اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتوبازوکوزمین پررکھے۔
مسئلہ ۱۰۸۳ ۔ بناء براحتیاط واجب سجدہ کے وقت پاؤں کے دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پرہوں،دوسری انگلیوں کازمین پرہوناکافی نہیں ہے، بلکہ اگرپیرکے انگوٹھے کاناخن اتنابڑاہوکہ سرے زمین پرنہ لگے تونمازباطل ہے اوراگرکوئی مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھتارہاہے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازیں اعادہ کریں۔
مسئلہ ۱۰۸۴ ۔ اگرکسی کاانگوٹھاتھوڑاساکٹاہوتوباقی زمین پررکھے اوراگرانگوٹھاہی نہ ہویابہت کم باقی ہے تودوسری انگلیوں کوزمین پررکھے اوراگرانگلیاں نہ ہوں توباقی ماندہ پیرکاکچھ حصہ زمین پررکھے۔
مسئلہ ۱۰۸۵ ۔ اگرغیرمعمولی طریقہ سے سجدہ کرے، مثلاسینے اورپیٹ کوزمین پررکھے تواحتیاط واجب کی بناء پرنمازدوبارہ پڑھے اوراگرلیٹ کر ساتوں اعضاء کوزمین پررکھے تب بھی نمازکااعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۸۶ ۔ سجدگاہ یاجس پرسجدہ کرتے ہیں پاک ہو، لیکن پاک سجدگاہ کونجس فرش پررکھدے یاسجدگاہ کی ایک طرف نجس ہواوراس نے پیشانی پاک طرف پررکھی ہے توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۰۸۷ ۔ اگرپیشانی پرپھوڑاوغیرہ ہواورسجدگاہ وغیرہ پرسجدہ نہ کرسکے توپیشانی کے کنارے کوسجدگاہ پررکھے یادونوں طرف سجدگاہ رکھے اوراس کے بیچ کی جگہ خالی رکھے اورسجدگاہ کوزمین سے اتنابلندرکھے کہ پھوڑااس میں اجائے۔
مسئلہ ۱۰۸۸ ۔ اگرپھوڑایازخم پوری پیشانی پرہوتوپیشانی کے باہردونوں طرف میں سے کسی ایک طرف سجدہ کریں اوراگریہ ممکن نہ ہوتوتھوڑی کوسجدگاہ پررکھیں اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتوبناء براحتیاط واجب چہرے کے جس حصہ کوممکن ہوسجدگاہ پررکھیں اوراگرچہرے کے کسی حصے پرسجدہ ممکن نہ ہوتوسرکے اگلے حصے پرسجدہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۸۹ ۔ جوشخص پیشانی زمین پرنہ رکھ سکتاہوتوجتناجھک سکتاہواتناتوجھک جائے اورسجدگاہ یاکوئی ایسی چیزجس پرسجدہ صحیح ہواس کواونچائی پررکھ لے تاکہ پیشانی اس تک پہنچ جائے اوراس پرسجدہ کرے لیکن اگرسجدگاہ کواٹھاکرپیشانی سے لگائے توصحیح نہیں ہے، ہتھیلیوں، گھٹنوں، پیروں کے انگوٹھوں کوحسب معمول زمین پررکھے۔
مسئلہ ۱۰۹۰ ۔ اگرجھک نہ سکتاہوتوسجدہ کے لئے بیٹھ جائے اورسرسے اشارہ کرے یہ بھی ممکن نہ ہوتوآنکھوں سے اشارہ کرے، یعنی سجدہ کی نیت سے آنکھوں کوبندکرے اورسراٹھانے کی نیت سے کھول دے، اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتودل میں سجدہ کی نیت کرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ہاتھ یااس قسم کی چیز سے سجدہ کے لئے اشارہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۹۱ ۔ جوشخص بیٹھ نہیں سکتاتووہ کھڑے ہوکرسجدہ کی نیت کرے اورسرسے اشارہ کرے، یہ بھی ممکن نہ ہوتو آنکھوں سے، یہ بھی ممکن نہ ہوتودل میں سجدہ کی نیت کرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ہاتھ یااس جیسی شئی سے سجدہ کے لئے اشارہ کرے۔
مسئلہ ۱۰۹۲ ۔ اگرپیشانی سجدہ کی جگہ سے بے اختیاراٹھ جائے توضروری ہے کہ حتی الامکان اسے دوبارہ سجدہ کی جگہ سے پرنہ جانے دے اوریہ ایک سجدہ شمار ہوگاچاہے ذکرسجدہ پڑھاہویانہیں، اوراگرسرکونہ روک سکے اوربے اختیارسجدہ کی جگہ پہنچ جائے تووہی ایک سجدہ شمارہوگااوراگرذکرنہ پڑھاہوتواسے پڑھے۔
مسئلہ ۱۰۹۳ ۔ تقیہ کی صورت میں بچھونے وغیرہ پرسجدہ کیاجاسکتاہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ نمازکے لئے دوسری جگہ جائے تاکہ سجدہ گاہ پرسجدہ کرسکے البتہ ا گروہیں پرپتھریاچٹائی پرسجدہ کرناممکن ہوتوواجب ہے کہ ایساکرے۔
مسئلہ ۱۰۹۴ ۔ کسی ایسی چیزپرسجدہ کرناجس پربدن ساکن نہیں رہ سکتاہوباطل ہے، لیکن اگرگڈایاکسی دوسری چیزپرسجدہ کرے کہ ابتداء میں وہ متحرک ہے لیکن آخرمیں ایک جگہ پررک جاتی ہے توکوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۰۹۵ ۔ اگرانسان مجبوررہے کہ کیچڑوالی زمین پرنمازپڑھے تواگربدن اورلباس کاآلودہ ہونا اس کے لئے مشقت کاباعث نہ ہوتوسجدہ اورتشہدکومعمول کے مطابق بجالائے اوراگرمشقت کاباعث ہوتوکھڑے ہوکرنمازپڑھے اورسجدہ کے لئے سرسے اشارہ کرے اورتشہدبھی حالت قیام میں بجالائے اوراگراس مشقت کے بوجودسجدہ اورتشہدمعمول کے مطابق بجالائے تواس کی نماز صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۰۹۶ ۔ دوسرے سجدہ جہاں پرتشہدواجب نہیں ہے، مثلانمازظہروعصروعشاء کی تیسری رکعت تووہاں بھی دوسرے سجدے کے بعدایک لحظہ بیٹھ جانابہترہے پھر بعدکی رکعت کے لئے کھڑاہو،اس عمل کانام ”جلسہ استراحت“ ہے۔
وہ چیزیں جن پرسجدہ صحیح ہے :
مسئلہ ۱۰۹۷ ۔ سجدے کے وقت پیشانی زمین پرہویاان چیزوں پرہوجوزمین سے اگتی ہیں جیسے لکڑی اوردرختوں کے پتے لیکن وہ چیزیں جوکھانے اورپہننے کے کام میں ائی ہیں ان پرسجدہ جائزنہیں ہے، لیکن معدنیات ، مثلاسونا، چاندی، عقیق، فیرزہ، پرسجدہ جائزنہیں ہے، البتہ معدنی پتھروں پرجیسے سنگ مرمراورسنگ سیاہ پرسجدہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۰۹۸ ۔ انگورکے پتوں پرسجدہ کرناجبکہ تازہ ہوں جائزنہیں ہے، لیکن ان کے خشک ہوجانے کے بعدان پرسجدہ کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۱۰۹۹ ۔ گھاس وغیرہ جوزمین سے اگتی ہے اورحیوانوں کی غذاہیں ان پرسجدہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۱۰۰ ۔ ان پھولوں پربھی سجدہ کیاجاسکتاہے جوانسان کی غذانہیں ہے لیکن وہ پھول اورگھاس جودواؤں میں استعمال ہوتی ہے جیسے گل بنفشہ، گل گاوزبان سجدہ صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۱۰۱ ۔ اس گھاس پرسجدہ صحیح نہیں ہے جوبعض شہروں میں کھائی جاتی ہے اوربعض میں نہیں،اسی طرح کچے پھلوں پربھی جائزنہیں ہے، لیکن توتون پرسجدہ جائزہے۔
مسئلہ ۱۱۰۲ ۔ چونے اورگچ کے پتھرپرسجدہ صحیح ہے،اسی طرح پختہ جسیم اورچونے اوراینٹ اورمٹی کے پکے ہوئے برتنوں اوران سے ملتی جلتی چیزوں پربھی سجدہ کیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۱۱۰۳ ۔ اگرکاغذایسی چیزوں سے بنایاجائے جس پرسجدہ کرناصحیح ہے، مثلالکڑی اوربھوسے سے تواس پرسجدہ جائزہے، اسی طرح روئی سے بنے ہوئے کاغذ پرسجدہ جائزہے، لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ ریشم سے بنے ہوئے کاغذپرسجدہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۰۴ ۔ سب سے بہترچیزسجدہ کے لئے تربت حضرت سیدالشہداء ہے اوراس کے بعدخاک اوراس کے بعدپتھراوراس کے بعدگھاس ہے۔
مسئلہ ۱۱۰۵ ۔ اگرایسی چیزنہ ہوجس پرسجدہ صحیح ہے یاگرمی یاسردی یاتقیہ کی وجہ سے اس پرسجدہ نہیں کرسکتاتووہ اپنے لباس پرسجدہ کرے جوکتان یاروئی سے بنایاگیاہواوراگرکسی اورچیزسے بنایاگیاہو، مثلا(اون)سے تواسی پراوراگریہ بھی نہ ہوتواپنی ہتھیلی کی پشت پرسجدہ کرے اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتواحتیاط کی بناء پرمعدنی چیزوں پر، مثلاعقیق پرسجدہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۰۶ ۔کیچڑاورایسی نرم مٹی پرجس پیشانی سکون سے نہ ٹک سکے اگرکچھ نیچے جانے کے بعدٹک جائے توسجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۱۰۷ ۔ اگرپہلے سجدہ میں سجدگاہ پیشانی سے چپک جائے تودوسرے سجدہ کے لئے اگراسی طرح سجدہ میں جائے اورالگ نہ کرے کوئی حرج نہیں ہے، لیکن بہتریہ ہے کہ ا س کوالگ کردیں۔
مسئلہ ۱۱۰۸ ۔ اگرنمازپڑھنے میں وہ چیزاختیارسے نکل جائے جس پرسجدہ جائزہے اورکوئی دوسری چیزبھی موجودنہ ہوتواگروقت وسیع ہے اوردوسری جگہ پرایسی چیزموجودہوجس پرسجدہ کرناصحیح ہے تونمازکوتوڑدے اوراگروقت تنگ ہویاکوئی چیزجس پرسجدہ کرناصحیح ہے نہ ہوتواپنے لباس پرجوروئی اوراس جیسے سے بناہے سجدہ کرے اوراگر یہ بھی ممکن نہ ہوتوہاتھوں کی پشت پراوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتوکسی معدنی چیزپرعقیق جیسے سجدہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۰۹ ۔ اگرسجدہ کی حالت میں متوجہ ہوکہ پیشانی ایسی چیزپررکھی ہے کہ جس پرسجدہ جائزنہیں ہے تواگرممکن ہوپیشانی کوکھینچ کراس چیزپررکھے جس پرسجدہ صحیح ہے اوراگراس پردسترس نہیں رکھتااوروقت بھی تنگ ہے توپچھلے مسئلہ کے قاعدہ پرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۱۱۰ ۔ اگرسجدہ کے بعدمتوجہ ہوکہ سجدہ ایسی چیزپرکیاہے جس پرسجدہ جائزنہیں تھاتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۱۱۱ ۔ غیرخداکے لئے سجدہ کرناحرام ہے ،آئمہ کی قبروں کے سامنے جوبعض لوگ پیشانی کوزمین پررکھتے ہیں اگرشکرخداکے لئے ہے توکوئی حرج نہیں ہے اوراگراس سے امام کوسجدہ کرنامقصودہے توحرام ہے۔
سجدہ کے مستحبات ومکروہات :
مسئلہ ۱۱۱۲ ۔ سجدہ میں چندچیزیں مستحب ہیں :
۱ ۔ رکوع سے سراٹھانے کے بعدجب جسم ساکن ہوجائے توسجدہ میں جانے کے لئے تکبیرکہے اورجوشخص بیٹھ کرنمازپڑھ رہاہے جب بیٹھ جائے سجدہ میں جانے کے لئے تکبیرکہے۔
۲ ۔ مردپہلے ہاتھوں کوزمین پررکھے اورعورتیں پہلے گھٹنوں کوزمین پررکھیں۔
۳ ۔ جس چیزپرسجدہ صحیح ہے اس پرپیشانی کے علاوہ ناک کوبھی رکھنامستحب ہے۔
۴ ۔ سجدہ کی حالت میں ہاتھوں کی انگلیوں کوملائے رکھے اورکان کے پاس روبقبلہ رکھے۔
۵ ۔ سجدہ میں دعاء کرے خداسے اپنی حاجتوں کوطلب کرے اورایک اچھی اورمناسب دعایہ ہے :
یاخیرالمسئولین ویاخیرالمعطین ارزقنی وارزق عیالی من فضلک فانک ذوالفضل العظیم۔
ترجمہ
ائے بہترین ذات کہ جس سے لوگ اپنی حاجتوں کوطلب کرتے ہیں اوراے بہترین عطاکرنے والے اپنے فضل وکرم سے مجھے اورمیرے عیال کورزق دے کیونکہ توہی فضل عظیم کامالک ہے ۔
۶ ۔ سجدہ کے بعدبائیں ران پربیٹھے اورداہنے پاؤں کی پشت کوبائیں پیرکے تلوے پررکھے اوراس کو”تورک“کہتے ہیں۔
۷ ۔ سجدہ اول کے بعدجب بدن ساکن ہوجائے توکہیں”استغفراللہ ربی واتوب الیہ“۔
۸ ۔ ہرسجدہ کے بعدجب بیٹھ جائے اوراس کابدن ساکن ہوجائے توتکبیرکہے۔
۹ ۔ سجدہ کوطول دے اورتسبیح وحمدوذکرکرے اوربیٹھے وقت دونوں ہاتھ رانوں پررکھے۔
۱۰ ۔ دوسرے سجدہ میں جانے کے لئے بدن کے سکون کی حالت میں”اللہ اکبر“کہے۔
۱۱ ۔ سجدہ میں درودبھیجے۔
۱۲ ۔ اٹھتے وقت پہلے گھٹنوں کوزمین سے اٹھائے اس کے بعددونوں ہاتھوں کو۔
۱۳ ۔ مرداپنی کہنیاں اورشکم زمین سے نہ چمٹائیں اوربازؤں کوپھلوں سے الگ رکھیں اورعورتیں اپنی کہنیاں اورشکم زمین سے چمٹائیں اوراعضاء بدن ایک دوسرے سے ملاکررکھیں اورسجدے کے باقی مستحبات مفصل کتب میں بیان کئے گئے ہیں۔
قرآن کے واجب سجدے :
مسئلہ ۱۱۱۴ ۔ قرآن مجیدکے چارسوروں میں سجدہ کی آیت ہے :
۱ ۔ سورہ ”الم سجدہ“ تنزیل آیت ۳۲ ۔
۲ ۔ سورہ” حم سجدہ “ آیت ۴۱ ۔
۳ ۔ سورہ ”والنجم“ آیت ۵۳ ۔
۴ ۔ سورہ ”اقراء“ آیت ۹۶ ۔
انسان جب بھی سجدہ کی آیت کوپڑھے یاسنے اس پرسجدہ واجب ہوجاتاہے اوراگربھول جائے توجب بھی یادآجائے اوراگرخودنہ سنے لیکن کان میں سجدہ کی آیت پڑھائے توبناء براحتیاط واجب سجدہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۱۵ ۔ اگرانسان خودآیت سجدہ کوپڑھے اوراسی حالت میں کسی سے سنے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دو سجدہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۱۶ ۔ نمازکے علاوہ اگرسجدہ میں ہواورآیت سجدہ پڑھے یاسنے توسجدہ سے سراٹھاکردوبارہ سجدہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۱۷ ۔ اگرآیت سجدہ ٹیپ سے یاریڈیوسے سنے توسجدہ کرناضروری ہے۔
مسئلہ ۱۱۱۸ ۔ بناء براحتیاط واجب قرآن کے واجب سجدوں میں بھی پیشانی ایسی چیزپررکھے جس پرسجدہ جائزہے، لیکن وہ تمام شرائط جونماز میں واجب ہیں اس میں واجب نہیں ہیں۔
مسئلہ ۱۱۱۹ ۔ قرآن کے واجب سجدہ میں اس طرح عمل کرے کہ کہا جائے اس نے سجدہ کیاہے، یعنی نیت اورسجدہ کی ظاہری صورت کافی نہیں ہے ۔
مسئلہ ۱۱۲۰ ۔ قرآن کے سجدہ کے لئے صرف سجدہ میں چلاجاناکافی ہے ذکرواجب نہیں ہے لیکن ذکرکرنابہترہے اوربہترہے کہ یہ ذکرکہے :
لاالہ الااللہ حقاحقا،لاالہ الااللہ ایمانا وتصدیقا، لاالہ الااللہ عبودیة ورقا،سجدت لک یارب تعبداو رقا لامستنکفا ولامستکبرابل اناعبدذلیل ضعیف خائف مستجیر۔
مسئلہ ۱۱۲۱ ۔ قرآن کے واجب سجدے میں تکبیرةالاحرام ،تشہداورسلام نہیں ہے،لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ سجدہ سے سراٹھانے کے بعدتکبیرکہے۔
۷ ۔ تشہد :
مسئلہ ۱۱۲۲ ۔ ہرنمازکی دوسری رکعت میں تشہدواجب ہے ،اسی طرح نمازمغرب وعشاء ظہروعصرکی آخری رکعت میں بھی تشہدواجب ہے تشہدکاطریقہ یہ ہے کہ دوسری رکعت میں دوسرے سجدہ کے بعدجب بیٹھ جائے اوربدن ساکن ہو، تب تشہدپڑھے اورصرف اتناکہناکافی ہے:
اشہدان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ واشہدان محمدا عبدہ ورسولہ، اللہم صل علی محمد وآل محمد۔
مسئلہ ۱۱۲۳ ۔ تشہدکے کلمات کوصحیح عربی میں ترتیب کے ساتھ پے درپے اداکرے۔
مسئلہ ۱۱۲۴ ۔ اگرتشہدبھول جائے اوربعدوالی رکعت کے رکوع سے پہلے یادآجائے توبیٹھ جائے اورتشہدپڑھے پھراٹھ کرنمازکوآگے بڑھائے، لیکن اگررکوع میں یارکوع کے بعدیادآئے تواس کی نمازصحیح ہے اورا س کوتمام کرے اورنمازکے بعدتشہدکی قضاء کرے اوردوسجدہ سہوبحالائے ۔
مسئلہ ۱۱۲۵ ۔ تشہدمیں بائیں ران پربیٹھنااوردائیں پاؤں کی پشت کوبائیں پاؤں کے تلوے پررکھنامستحب ہے اورتشہدسے پہلے ”الحمدللہ “ یابسم اللہ وباللہ والحمدللہ وخیرالاسماء للہ“ کہنامستحب ہے اورتشہدمیں ہاتھوں کوران پررکھنااورانگلیوں کوملاکررکھنامستحب ہے اوراپنی گودمیں نظررکھے اورتشہدختم کرکے کہے :
وتقبل شفاعتہ وارفع درجتہ ۔
مسئلہ ۱۱۲۶ ۔ مستحب ہے کہ عورتیں تشہدپڑھتے وقت اپنی رانیں ملاکررکھیں۔
۸ ۔ سلام :
مسئلہ ۱۱۲۷ ۔ تمام نمازوں کی آخری رکعت میں تشہدکے بعدسلام کہناواجب ہے۔ بیٹھے ہوئے جب بدن ساکن ہوکہے: ”السلام علیک ایہاالنبی ورحمةاللہ وبرکاتہ“ اوراس کے بعدواجب ہے کہ یہ کہے :” السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ “یاکہے : ”السلام علیناوعلی عباداللہ الصالحین“ لیکن اگریہ سلام کہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے بعد”السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ“ کوبھی کہے۔
مسئلہ ۱۱۲۸ ۔ اگرنمازکے سلام کوبھول جائے اورایسے وقت میں یادآئے کہ نمازکی صورت ابھی بگڑی نہیں ہے اورجوکام عمدایاسہوانمازکوباطل کردیتے ہیں ان میں سے کسی کام کوانجام بھی نہیں دیاہے(مثلاپشت بہ قبلہ نہیں ہوا)توضروری ہے کہ سلام کہ لے اوراس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۱۲۹ ۔ اگرنمازکے سلام کوبھول جائے اورایسے وقت یادآئے جب صورت نمازبگڑگئی ہولیکن ایساکام نہیں کیاجس کے عمدایاسہواکرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے توسلام ضروری نہیں ہے اس کی نمازصحیح ہے، اوراگرصورت نمازکے بگڑنے سے پہلے ایساکوئی کاڈالاہوجس سے نمازباطل ہوجاتی ہے تواس کی نمازباطل ہے۔
۹ ۔ ترتیب :
مسئلہ ۱۱۳۰ ۔ اگرعمدانمازکی ترتیب کی خلاف ورزی کرے، مثلاسورہ کوحمدسے پہلے یاسجدہ کورکوع سے پہلے بجالائے نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۳۱ ۔ اگرکسی رکن کوبھول جائے اوراس کے بعدوالارکن بجالائے ، مثلارکوع کرنے سے پہلے دوسجدہ کرے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۳۲ ۔ اگرکسی رکن کوبھول جائے اورا س کے بعدوالی چیزکوبجالائے جورکن نہ ہو،مثلادوسجدے کرنے سے پہلے تشہدپڑھ لے تووہ اس رکن کوبجالائے اورجس چیزکوبھی غلطی سے پڑھ لی ہے دوبارہ پڑھے اوراحتیاط واجب کی بناء پرہراضافی کام کے لئے دوسجدے سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۱۳۳ ۔ اگرکسی غیررکن کوبھول جائے اوربعدوالے رکن کوبجالائے، مثلاالحمدبھول گیااوررکوع میں چلاگیاتواس کی نمازصحیح ہے،اوربھولے ہوئے حمدکےلئے احتیاط واجب کی بناپردوسجدے سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۱۳۴ ۔ اگرکسی غیررکن کوبھول جائے اوربعدوالی چیزمیں جووہ بھی غیررکن ہے مشغول ہوجائے، مثلاحمدبھول جائے اورسورہ پڑھ لے تواگربعدوالے رکن میں جاچکاہے، مثلارکوع میں جانے کے بعداسے یادآجائے کہ حمدکونہیں پڑھاہے تووہ آگے بڑھ جائے اوراس کی نمازصحیح ہے اوراحتیاط واجب کی بناپرہرواجب کے لئے جوبھول جائے دوسجدہ سہوبجالائے اوراگربعدوالے رکن میں مشغول نہ ہواہوتوپہلے بھولے ہوئے چیزکوبجالائے اوربعدمیں جس چیزکوغلطی سے بجالایادوبارہ پڑھ لے اوربنابراحتیاط واجب دوسجدے سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۱۳۵ ۔ اگرپہلے سجدہ کودوسراسجدہ کے خیال سے یادوسراکواس خیال سے کے پہلاہے بجالائے تواس کی نمازصحیح ہے اوراس کاپہلاسجدہ اوردوسراسجدہ دوسراشمارہوگا۔
۱۰ ۔موالات :
مسئلہ ۱۱۳۶ ۔ نمازی کوموالات کی بھی رعایت کرنی چاہئے، یعنی نمازکے کاموں کے درمیان،مثلارکوع،سجود،تشہدکے درمیان اتنافاصلہ نہ کرے کہ صورت نمازسے خارج ہوجائے اوراگرایساکرے گاتونمازباطل ہے خواہ عمداکرے یاسہوا۔
مسئلہ ۱۱۳۷ ۔ اگرنمازمیں جان بوجھ کراس کے حروف اورکلمات کے درمیان فاصلہ رکھے تو اس کی نمازباطل ہے اوراگرسہوااتنافاصلہ کردے کہ قرائت وکلمات کی صورتتوختم ہوجائے،لیکن نمازکی صورت باقی رہے توپلٹ کرصحیح طریقے سے بجالاناضروری ہے اوراگربعدوالے رکن میں داخل ہوچکاہوتواس کی نمازصحیح ہے پلٹنے کی ضرورت نہیں ہے،مگرتکبیرةالاحرام میں کہ اگراس کے کلمات میں اتنافاصلہ ہوجائے کہ تکبیرةالاحرام کی شکل وصورت سے خارج ہوجائے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۳۸ ۔ رکوع،سجود،قنوت کاطول دینا،قرائت میں لمبے لمبے سورہ پڑھناموالات کوختم نہیں کرتے۔
قنوت :
مسئلہ ۱۱۳۹ ۔ ہرواجب ومستحب نمازمیں دوسری رکعت میں قرائت کے بعدرکوع سے پہلے قنوت مستحب ہے اورنمازوتراگرچہ ایک رکعت ہے مگر اس میں رکوع سے پہلے قنوت مستحب ہے اورنمازجمعہ میں ایک قنوت پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے اورایک دوسری رکعت میں رکوع کے بعدہے اورنمازآیات میں پانچ قنوت ہیں اورنمازعیدین میں پہلی رکعت میں پانچ اوردوسری رکعت میں چارقنوت ہیں۔
مسئلہ ۱۱۴۰ ۔ اگرقنوت پڑھناچاہے تواحتیاط واجب کی بناء پرہاتھوں کوچہرے کے مقابل تک بلندکرے اورمستحب ہے کہ ہتھیلیاں اسمان کی طرف ہوں اوردونوں ہاتھوں کوملائے رکھے اورنگاہ ہتھیلیوں پررکھے۔
مسئلہ ۱۱۴۱ ۔ قنوت میں چاہے جوذکرپڑھے جائزہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ ”سبحان اللہ“ کہنابھی کافی ہے لیکن بہترہے کہ منقول دعائیں مثلایہ دعاپڑھے : لاالہ الااللہ الحلیم الکریم، لاالہ الااللہ العلی العظیم، سبحان اللہ رب السموات السبع ورب الارضین السبع ومافیہن ومابینہن ورب العرش العظیم والحمدللہ رب العالمین۔
مسئلہ ۱۱۴۲ ۔ قنوت کوبلندپڑھنامستحب ہے،لیکن نمازجماعت میں اس طرح نہ پڑھے کہ امام اس کی آوازکوسنے۔
مسئلہ ۱۱۴۳ ۔ اگرقنوت کوعمداچھوڑدے تواس کی قضانہیں ہے اوربھولے سے چھوٹ جائے اوررکوع میں پہنچنے سے پہلے یادآجائے تومستحب ہے کھڑے ہوکرپڑھ لے اوررکوع میں یادآجائے تورکوع کے بعدقضاکرنامستحب ہے،اوراگرسجدہ میں یادآجائے تونمازکے سلام کے بعدقضاء کرے۔
نمازکاترجمہ :
۱ ۔ سورہ حمدکاترجمہ :
بسم اللہ الرحمن الرحیم خداوندرحمن ورحیم کے نام سے شروع کرتاہوں۔
الحمدللہ رب العالمین ساری تعرفیں اس خداکے لئے مخصوص ہیں جوجہانوں کاپرورش کرنے والاہے۔
الرحمن الرحیم جودنیامیں سب پررحم کرنے ولاہے اورآخرت میںصرف مؤمنین پررحم کرنے والاہے۔
مالک یوم الدین قیامت وجزاکے دن کامالک ہے۔
ایاک نعبدوایاک نستعین پروردگارہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اورصرف تجھ سے مددمانگتے ہیں۔
اہدناالصراط المستقیم ہم کوصراط مستقیم پرثابت قدم رکھ ۔
صراط الذین انعمت علیہم ایسے لوگوں کاراستہ جن پرتونے اپناانعام نازل کیاہے ۔
غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین ان لوگوں کاراستہ نہیں جن پرتونے غضب نازل کیااورنہ گمراہوں کاراستہ ۔
۲ ۔ سورہ اخلاص کاترجمہ :
بسم اللہ الرحمن الرحیم قل ہواللہ احد ائے پیغمبرکہہ دیجئے وہ خدائے یکتاہے۔
اللہ الصمد وہ خداجوسب سے بے نیازمگرسب اس کے نیازمندہیں۔
لم یلدولم یولد کوئی اس سے نہیں پیداہواورنہ وہ کسی سے پیداہوا۔
ولم یکن لہ کفوا احد اورکوئی اس کامثل ونظیرنہیں ہے ۔
۳ ۔ ذکررکوع اورسجودکاترجمہ :
سبحان ربی العظیم وبحمدہ میراعظیم پروردگارہرعیب ونقص سے پاک ومنزہ ہے اورمیں اس کی حمدکرتاہوں۔
سبحان ربی ا لاعلی وبحمدہ میراپروردگارجوہرایک سے بالاترہے اورہرعیب ونقص سے پاک ومنزہ ہے اورمیں اس کی حمدکرتاہوں۔
۴ ۔ رکوع اورسجودکے بعدکے اذکارکاترجمہ :
استغفراللہ ربی واتوب الیہ میں مغفرت طلب کرتاہوں اس خداسے جومیراپالنے والاہے اورمیں اس کی طرف رجوع کرتاہوں
بحول اللہ وقوتہ واقوم اقعد خداکی مدداورقوت سے اٹھتابیٹھتاہوں۔
۵ ۔ قنوت کاترجمہ :
لاالہ الااللہ الحلیم الکریم، لاالہ الااللہ العلی العظیم :
کوئی لائق پرستش نہیں سوائے اس خداکے جوصاحب علم وکرم ہے خدائے بلندمرتبہ اورصاحب بزرگی وعظمت کے علاوہ کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے ۔
سبحان اللہ رب السموات السبع ورب الارضین السبع ومافیہن ومابینہن ورب العرش العظیم والحمدللہ رب العالمین :
پاک ومنزہ ہے وہ جوسات آسمانوں،زمینوں اوران دونوں کے اندراوران کے درمیان کی ہرچیز،اورعرش عظیم کاپروردگارہے، حمدوثناء مخصوص ہے اس خدا کے لئے جوتمام موجودات کامالک ہے۔
۶ ۔ تسبیحات کاترجمہ :
سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ ا لااللہ واللہ اکبر :
خداوندعالم پاک ومنزہ ہے حمدوتعریف اسی کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدانہیں ہے، خدااس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔
۷ ۔ تشہدکاترجمہ :
اشہدان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ
میں گواہی دیتاہوں کہ خداکے علاوہ کوئی پرستش کے قابل نہیں ہے وہ یگانہ اوراس کاکوئی شریک نہیں ہے ۔
واشہدان محمدا عبدہ ورسولہ، اللہم صل علی محمد وآل محمد :
اورمیں گواہی دیتاہوں کہ محمدخداکے بندے اوراس کے رسول ہیں، خداوندمحمداوران کی آل پاک پر درودبھیج۔
۸ ۔ سلام کاترجمہ :
السلام علیک ایہاالنبی ورحمةاللہ وبرکاتہ ائے نبی ! آپ پرسلام ہواورخداکی رحمت وبرکت ہو۔
السلام علیناوعلی عباداللہ الصالحین ہم پراورخداکے تمام نیک بندوں پرسلام ہو۔
السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ ائے نمازیو! تم پرسلام اورخداکی رحمت وبرکتیں ہو۔
تعقیبات نماز :
مسئلہ ۱۱۴۴ ۔ نمازی کے لئے نماز کے بعدذکرودعاء وتلاوت قرآن میں مشغول ہونامستحب ہے اوراسی کو”تعقیب“ کہتے ہیں اوربہترہے کہ اپنی جگہ سے اٹھنے اوروضوباطل ہونے سے پہلے روبہ قبلہ ہوکرتعقیبات پڑھے اوریہ ضروری نہیں کہ تعقیبات عربی میں پڑھے لیکن بہتریہ ہے کہ دعاؤں کی کتابوں میں جو بیان ہے اس کے مطابق عمل کرے اوران میں سے سب سے اہم تسبیحات فاطمہ زہراء ہے کہ ۳۴ مرتبہ ”اللہ اکبر“ اور ۳۳ مرتبہ”الحمدللہ “ اور ۳۳ مرتبہ ”سبحان اللہ“( اسی ذکرشدہ ترتیب سے)۔
مسئلہ ۱۱۴۵ ۔ نمازکے بعددوسرے مستحبات میں سجدہ شکرہے کہ پیشانی کوبقصدشکرزمین پررکھے کافی ہے لیکن بہترہے کہ سومرتبہ یاتین مرتبہ یاایک مرتبہ کہے ”شکرا للہ“ یا”شکرا“یا”عفوا“ اوریہ بھی مستحب ہے کہ جب بھی انسان کوکوئی نعمت ملے یاکوئی مصیبت دورہوفوراسجدہ شکراداکرے۔
درود :
مسئلہ ۱۱۴۶ ۔ جب انسان نبی اسلام کانام نامی اسم گرامی خواہ خواہ احمدیامحمدبلکہ لقب وکنیت جیسے مصطفی،ابوالقاسم وغیرہ سنے تودرودبھیجنامستحب ہے، حتی اگرنماز میں بھی ہو۔
مسئلہ ۱۱۴۷ ۔ آنحضرت کااسم گرامی لکھتے وقت بھی درودلکھنا مستحب ہے، بلکہ جب بھی حضرت کویادکرے درودبھیجے۔
مبطلات نماز :
مسئلہ ۱۱۴۸ ۔ بارہ چیزیں نمازکوباطل کردیتی ہیں ان کومبطلات نمازکہتے ہیں :
۱ ۔ نمازکے درمیان اس کی شرطوں میں سے کوئی شرط فوت ہوجائے مثلا دوران نمازمعلوم ہوجائے کہ مکان غصبی ہے۔
۲ ۔ طہارت باطل ہوجائے :
نمازکے درمیان ایساکام کرے جس سے طہارت وضووغیرہ ٹوٹ جائے خواہ عمداہویاسہوا یامجبورا، البتہ جوشخص پیشاب، پاخانہ کونہیں روک سکتااس کووضوکے احکام میں بتائے ہوئے قاعدہ پرعمل کرناچاہئے،اسی طرح اگرحالت نمازمیں مستحاضہ عورت کوخون آجائے تواگروہ مستحاضہ کے لئے معین شدہ دستورپرعمل کرتی رہی ہے تواس کی نمازباطل نہیں ہوگی۔
مسئلہ ۱۱۴۹ ۔ جوبے اختیارسوجائے، مثلاسجدہ میں سوگیااوریہ معلوم نہ ہوکہ وہ سجدہ نمازمیں تھایاسجدہ شکرمیں تونمازکااعادہ کرے،لیکن اگرنمازکاختم ہونے کاعلم رکھتاہولیکن شک کرے کہ نیند نمازکے دوران آئی تھی یانمازکے بعدتواس کی نمازصحیح ہے ۔
مسئلہ ۱۱۵۰ ۔ جس کومعلوم ہے کہ اپنے اختیارسے سوگیاتھالیکن یہ شک ہے کہ نمازکے بعدسویاتھایاحالت نمازمیں تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۱۵۱ ۔ اگرحالت سجدہ میں نیندسے بیدارہواورشک کرے کہ نمازکایہ آخری سجدہ ہے یاسجدہ شکرہے تواس نمازکودوبارہ پڑھے۔
۳ ۔ ہاتھ باندھنا:
مسئلہ ۱۱۵۲ ۔ اگرکوئی شخص بعض اسلامی فرقوں کی طرح ہاتھ باندھ کرنمازپڑھے تواس کی نمازباطل ہے، یہاں تک کہ اگرادب کے قصدسے ہاتھوں کوباندھ یاسینہ پرہاتھ رکھ کرنمازپڑھے توچاہے اس کے مشابہ نہ بھی ہواحتیاط واجب کی بناپرنمازکااعادہ کرے،لیکن اگربھولے سے ہویامجبوری سے ہو،یاکسی دوسرے کام کی وجہ سے ہو،مثلاہاتھ کھجانے کے لئے توکوئی اشکال نہیں ہے۔
۴ ۔ آمین کہنا :
حمدکے بعدآمین کہنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے،لیکن اگراشتباہاکہہ لیاہویاتقیہ کی وجہ سے ہوتوکوئی اشکال نہیں ہے۔
۵ ۔ پشت بہ قبلہ ہونا:
اگرعمدا یابھولے سے پشت بہ قبلہ ہوجائے یامکمل طورسے قبلہ کے داہنے یابائیں طرف مڑجائے خواہ عمداہویابھولے سے اسی طرح اگراتنامڑجائے کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ روبہ قبلہ ہے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۵۳ ۔ اگرعمدایاسہواسرکوپشت کی جانب موڑدے جس سے پشت کودیکھ سکے تونمازباطل ہے لیکن اگرسرکوتھوڑاساموڑلے جان بوجھ کر یاغلطی سے تواس کی نمازباطل نہیں ہوگی۔
۶ ۔ بات کرنا :
اگرنمازمیں عمدابات کرے چاہے ایک جملہ یاایک کلمہ یہاں تک کہ کوئی کلمہ معنی دارزبان سے جاری کرے خواہ ایک حرفی ہویااس سے زیادہ نمازکوباطل کردیتی ہے اوراگرسہواہونمازباطل نہیں ہوتی۔
مسئلہ ۱۱۵۴ ۔ اگرایسالفظ کہے جس میںصرف ایک حرف ہو،مثلا”ق“ جس کے معنی عربی میں بچنے کے ہیں،اوراس میں معنی بھی ہوں اوروہ معنی کاقصدبھی کرے تونمازباطل ہے اوراگرمعنی کاقصدنہ کرے لیکن اس کی طرف متوجہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکااعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۵۵ ۔ کھانسنے ،آہ کرنے اورچھینکنے سے نمازباطل نہیں ہوتی ہے چاہے یہ عمداہو،لیکن ”آخ اورآہ“ اوراس کے مانندجس میں دوحرف ہوں ان کواگرعمداکہاجائے تونمازباطل ہوجاتی ہے۔
مسئلہ ۱۱۵۶ ۔ اکرکسی جملہ کو،مثلا”اللہ اکبر“کوذکرخداکی نیت سے کہے اورکہتے وقت آوازبلندکردے کہ جس سے دوسرے کوکچھ سمجھنامقصود ہوتوکوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگرکسی جملہ کودوسرے کوکچھ سمجھانے کے لئے صرف کہدے نمازکوباطل کردیتی ہے۔
مسئلہ ۱۱۵۷ ۔ تلاوت قرآن،دعا نمازمیں عربی زبان میں احتیاط واجب کی بناپرجائزہے سوائے وہ سورے جن میں سجدہ کی آیت ہے۔
مسئلہ ۱۱۵۸ ۔ حمدوسورہ کی آیتوں،رکوع وسجودکے ذکراورتسبیحات کے تکرارمیں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن وسوسہ کی وجہ سے ہوتونمازباطل ہوجاتی ہے۔
مسئلہ ۱۱۵۹ ۔ نمازی کوحالت نمازمیں کسی کوسلام نہیں کرناچاہئے لیکن اگردوسرااس کوسلام کرے توجواب دیناواجب ہے، لیکن اس طرح جواب دے کہ لفظ سلام کاپہلے ذکرہو،مثلاکہے”السلام علیکم ۔یا۔ سلام علیکم “ اور”علیکم السلام“ نہیں کہناچاہئے۔
مسئلہ ۱۱۶۰ ۔ نمازکے علاوہ بھی سلام کاجواب دینافوراواجب ہے اوراگرجان بوجھ کریابھولے سے جواب سلام میں اتناتاخیرکردے کہ جب جواب دینا چاہے اس سلام کاجواب شمارنہ ہوتواگرحالت نمازمیں ہے توجواب نہ دے اوراگرحالت نمازمیں نہیں ہے توجواب دیناواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۱۶۱ ۔ واجب ہے کہ سلام کاجواب اس طرح دے کہ سلام کرنے والاسن لے، لیکن اگرسلام کرنے والابھراہے توآوازکوبلندکرے یااشارہ سے اس طرح جواب دے کہ وہ سنے یاجواب سلام کی طرف متوجہ ہو۔
مسئلہ ۱۱۷۲ ۔ سلام کاجواب،جواب کے ارادے سے دیناچاہئے نہ کہ بعض آیات قرآنی کی تلاوت یادعاکی نیت سے۔
مسئلہ ۱۱۷۳ ۔ اگرعورت،نامحرم مردحتی کہ اچھابراسمجھنے والابچہ اگرنمازی کوسلام کرے تونمازی اس کاجواب دے سکتاہے اوربہتریہ ہے کہ دعاکی نیت سے جواب دے۔
مسئلہ ۱۱۷۴ ۔ اگرنمازی سلام کاجواب نہ دے توگنہگارہوگالیکن اس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۱۷۵ ۔ اگرکوئی نمازی پرغلط سلام کرے اس طرح کہ سلام ہی شمارنہ ہوتواس کاجواب واجب نہیں ہے،اوراگرسلام شمارہوتاہوتواس کاجواب دیناواجب ہے اوربہترہے دعاکی نیت سے جواب دے۔
مسئلہ ۱۱۷۶ ۔ اگرسوخی، مذاق، تفریح کے عنوان سے سلام کیاجائے اس کاجواب واجب نہیں ہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ غیرمسلم کے سلام کے جواب میںصرف ”علیک“ کہے۔
مسئلہ ۱۱۶۷ ۔ اگرکوئی مجمع میں اکرسلام کرے توسب پرسلام کاجواب دیناواجب ہے لیکن اگرایک شخص بھی جواب دیدے توکافی ہے۔
مسئلہ ۱۱۶۸ ۔ اگرکوئی شخص چندآدمیوں پرسلام کرے اورسلام کرنے والاجس شخص پرسلام کرنے کی نیت نہیں رکھتااگروہ جواب دیدے توبھی ان آدمیوں پرجواب دیناواجب ہے۔
مسئلہ ۱۱۶۹ ۔ اگرچندآدمیوں کوسلام کرے اوران میں سے بعض نمازمیں مشغول ہوں اورنمازپڑھنے والے کوشک ہوکہ سلام کرنے والے نے میرابھی قصد کیاہے کہ نہیں تواس کوجواب نہیں دیناچاہئے، اسی طرح اگراسے معلوم ہوکہ سلام کرنے ولے نے میرابھی قصدکیاہے لیکن اگردوسرے نے جواب دیدیا ہے توپھراس نمازی کوجواب نہیں دیناچاہئے، لیکن اس صورت میں کہ اگردوسرے لوگ جواب نہ دیں تونمازی کوجواب دیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۱۷۰ ۔ سلام کرنامستحب مؤکدہے اوربہتریہ ہے کہ سوارپیادہ کو،کھڑاہواشخص بیٹھے ہوئے کواورچھوٹابڑے کوسلام کرے۔
مسئلہ ۱ ۱۱۷ ۔ اگردوشخص ایک ساتھ ایک دوسرے کوسلام کریں تواحتیاط واجب ہے کہ دونوں ایک دوسرے کوجواب دیں۔
مسئلہ ۱۱۷۲ ۔ حالت نمازکے علاوہ مستحب ہے کہ سلام کاجواب سلام سے بہتردیاجائے ،مثلااگرکوئی کہے”سلام علیکم“ توجواب میں”سلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ کہے۔
۷ ۔ آوازسے ہنسنا :
ساتویں چیزسے جس نمازباطل ہوجاتی ہے وہ آوازکے ساتھ ہنسناہے( یعنی قہقہ لگانا) خواہ وہ عمداہویاسہوا، لیکن سہوکی صورت میں اگرنمازکی صورت بگڑجائے تونمازباطل ہے، البتہ تبسم ومسکرانے سے نمازباطل نہیں ہوتی ہے۔
مسئلہ ۱۱۷۳ ۔ اگرقہقہ کوروکنے کے لئے اپنے پراس طرح جبرکرے کہ اس کی حالت متغیرہوجائے رنگ سرخ ہوجائے، بدن ہلنے لگے اوراس طرح ہوکہ نماز گزارکی حالت سے خارج ہوجائے تواس کی نمازباطل ہے۔
۸ ۔ آوازسے رونا۔
دنیاوی کام کے لئے زورسے رونا نمازکوباطل کردیتی ہے، اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ دنیاوی کام کے لئے بغیرآوازکے بھی گریہ نہ کرے، لیکن اگرروناخوف خداسے ہواورآخرت کے لئے ہونمازباطل نہیں ہوتی بلکہ یہ بہترین عمل ہے۔
۹ ۔ صورت نمازکاختم ہوجانا :
جن چیز وں سے نمازکی صورت ختم ہوجاتی ہے جیسے تالی بجانا، ناچنااوراچھلناوغیرہ ان سے نمازباطل ہوجاتی ہے خواہ وہ چیزیں جان بوجھ کربجالائی جائیں یا بھولے سے ،لیکن جن چیزوں سے نمازکی صورت نہ بگڑتی ہواس میں کوئی اشکال نہیں ہے مثلاہاتھ سے اشارہ کرنا۔
مسئلہ ۱۱۷۴ ۔ اگرنمازمیں اتنی دیرخاموش ہوجائے کہ نمازکی صورت باقی نہ رہے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۷۵ ۔ اگرنمازمیں کوئی کام کرے یاتھوڑی دیرسکوت کرے پھرشک ہوجائے کہ اتنی دیرکی خاموشی نمازکوباطل کرتی ہے کہ نہیں تواس کی نمازصحیح ہے۔
۱۰ ۔ کھاناپینا :
اس طرح کھاناپیناجس سے نمازکی صورت ختم ہوجائے نمازکوباطل کردیتاہے حتی اگرنمازکی صورت باقی رہے توبھی احتیاط واجب کی بناء پرنماز باطل ہوگی۔
مسئلہ ۱۱۷۶ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسے کھنانے پینے سے پرہیزکرے جوموالات نمازکوختم کردیتے ہیں اگرچہ نمازکی صورت باقی رہے۔
مسئلہ ۱۱۷۷ ۔ اگرمنہ میں کھانے کے کچھ ذرات رہ گئے ہوں اورنمازمیں ان کونگل لے تونمازباطل نہیں ہوتی لیکن اگرقندیاچینی یااس قسم کی کوئی چیزمنہ میں رہ گئی ہواورحالت نمازمیں اہستہ آہستہ پانی ہوکہ اندرچلی جائے اورنمازی کامقصودبھی یہی ہوتونمازمیں اشکال ہے۔
۱۱ ۔ دورکعتی اورتین رکعتی نمازکی رکعتوں میں شک :
اگردورکعتی یاتین رکعتی نمازمیں رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے یاچاررکعتی نمازمیں پہلی اوردوسری رکعت کے بارے میں شک ہوجائے تونماز باطل ہے۔
۱۲ ۔ رکن کی کمی یازیادتی کرنا :
اگرارکان نمازمیں سے کسی رکن میں کمی یازیادتی کرے خواہ عمداہو یابھولے سے تواس کی نمازباطل ہوجاتی ہے جیسے رکوع کی کمی یازیادتی یادونوں سجدوں کی کمی یازیادتی ہاں اگروہ چیزیں جورکن نہیں ہیں تواگرعمداکمی یازیادتی کی ہوتب تونمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۱۱۷۸ ۔ اگرنمازکے بعدشک ہوکہ نمازپڑھتے میں کوئی ایساکام جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے بجالایاہے یانہیں توپرواہ نہ کرے اس کی نمازصحیح ہے۔
جوچیزیں نمازمیں مکروہ ہیں :
مسئلہ ۱۱۷۹ ۔ حالت نمازمیں داہنے بائیں دیکھنامکروہ ہے، اسی طرح ڈاڑھی یااپنے ہاتھوں سے کھیلنا،انگلیوں کوایک دوسرے میں پھنسانا، تھوکنا، قرآن یاکتاب یاانگوٹھی کی تحریرپڑھنامکروہ ہے، اسی طرح حمدوسورہ وذکرپڑھتے ہوئے کسی کی بات سننے کے لئے چپ ہوجانا، اورہروہ کم جونمازکے خضوع وخشوع کوختم کردے مکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۱۸۰ ۔ نیندکی حالت میں اورپیشاب، پاخانہ روک کرنمازپڑھنامکروہ ہے اسی طرح تنگ وچست لباس، موزہ پہننامکروہ ہے، اوربھی مکروہات ہیں جومفصل کتابوں میں درج ہیں۔
جہاں نمازکاتوڑناجائزہے :
مسئلہ ۱۱۸۱ ۔ واجب نمازکااختیاراتوڑناجائزنہیں ہے، البتہ مالی یابدنی نقصان سے بچنے کے لئے نمازکوتوڑدینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۱۸۲ ۔ اگرنمازی کی جان یاایسی شخص کی جان خطرے میں پڑجائے جس کابچاناواجب ہے اورنمازتوڑے بغیروہ ٹل نہ سکتاہوتونمازکا توڑ دینا جائزہے اسی طرح جس مال کی حفاظت واجب ہے اس کے بچانے کے لئے بھی نمازتوڑی جاسکتی ہے، لیکن ایک مختصرسے مال کے لئے جس کی کوئی اہمیت نہ ہونماز کوتوڑنامکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۱۸۳ ۔ اگروسیع وقت میں نمازکے دوران قرض خواہ اپناقرض مانگنے آجائے تواگرحالت نمازمیں اداکرسکتاہے اداکردے اوراگر نماز توڑ نے کے بغیر ادا کرناممکن نہیں تونمازتوڑدے اورقرض اداکرے اورپھرنمازپڑھے۔
مسئلہ ۱۱۸۴ ۔ اگرنمازپڑھتے میں پتہ چل جائے کہ مسجدنجس ہوگئی تواگروقت تنگ ہے تونمازکوتمام کرے لیکن اگروقت وسیع ہے اورمسجدکے پاک کرنے سے نمازپراثرنہ پڑتاہوتومسجدکوپاک کرے لیکن اگرنمازپراثرپڑتاہوتو نمازکوتوڑدے اورمسجدکوپاک کرنے کے بعدنمازپڑھے۔
مسئلہ ۱۱۸۵ ۔ جن مقامات پرنمازکاتوڑناواجب ہے اگرنہ توڑے توگنہگارہے لیکن نمازصحیح ہے اگرچہ احتیاط مستحب ہے کہ اعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۸۶ ۔ اگررکوع سے پہلے متوجہ ہوجائے کہ اذان واقامت نہیں کہی ہے اوروقت وسیع ہے توبہترہے کہ نمازکوتوڑکراذان واقامت کہہ کردوبارہ نماز شروع کرے۔
شکیات نماز:
شکیات نمازکی ۲۳ قسمیں ہیں(جوحسب ذیل ہیں)
۱ ۔ جوشکوک نمازکوباطل کردیتے ہیں وہ آٹھ ہیں۔ ۲ ۔ جن شکوک کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے وہ چھ ہیں ۳ ۔ جن شکوک کاتدارک ممکن ہے وہ نوہیں :
۱ ۔وہ شک جن کی وجہ سے نمازباطل ہوجاتی ہے:
مسئلہ ۱۱۸۷ ۔ وہ آٹھ قسم کے شک جونمازکوباطل کردیتے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے کہ :
۱ ۔ دورکعتی نمازوں کی رکعتوں کے بارے میں شک ہوجیسے نمازصبح، نمازقصرلیکن اگرمستحبی نمازدورکعت ہے یانمازاحتیاط تواس میں رکعتوں میں شک ہونے سے نمازباطل نہیں ہوتی۔
۲ ۔ تین رکعتی نمازکی رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے جیسے مغرب۔
۳ ۔ چارکعتی نمازکی رکعتوں میں شک ہوجائے بشرطیکہ اس میں پہلی رکعت شک میں شامل ہو، مثلاایک رکعت پڑھی یازیادہ۔
۴ ۔ چاررکعتی نمازمیں دوسرے سجدہ کاذکرختم ہونے سے پہلے نمازی شک کرے کہ اس نے دورکعتیں پڑھی ہیں یازیادہ(اس کی تفصیل معلوم کرنے کے لئے صحیح شکوک کی چوتھی صورت کامطالعہ کیاجائے)۔
۵ ۔ دواورپانچ یااس سے زیادہ میں شک ہو۔
۶ ۔ تین یاچھ اس سے زیادہ میں شک ہو۔
۷ ۔ یہی نہ معلوم ہوکہ کتنی رکعتیں پڑھیں ہیں۔
۸ ۔ چاراورچھ یااس سے زیادہ میں شک ہوخواہ دوسراسجدہ مکمل کرنے سے پہلے ہویابعدمیں لیکن اگردوسرے سجدے کے بعدچاراورچھ رکعتوں کے درمیان یاچاراورچھ سے زیادہ میں شک پیش آئے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ چاررکعتوں پربناء رکھتے ہوئے نمازکوتمام کرے اوربعدمیں دوسجدے سہوبجالائے اوراس کے بعدنمازکواعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۸۸ ۔ باطل میں شکوک میں اگرکوئی صورت نمازپڑھتے ہوئے پیش آئے توفورانمازکونہیں توڑسکتابلکہ پہلے غوروفکرکرے اگرکسی طرف ظن نہ قائم ہوشک ہی رہے تب نمازکوتوڑے۔
۲ ۔ ناقابل اعتبارشکوک:
مسئلہ ۱۱۸۹ ۔ جن شکوک کی طرف توجہ نہیں دینی چاہئے وہ حسب ذیل ہیں:
۱ ۔ محل گزرجانے کے بعدشک، مثلارکوع میں پہنچنے کے بعدشک ہوکہ حمدپڑھی یانہیں۔
۲ ۔ سلام کے بعدشک
۳ ۔ وقت نمازگزرجانے کے بعدشک ۔
۴ ۔ کثیرالشک، یعنی بہت زیادہ شک کرنے والے کاشک اگروقت نماز میں ہوتواپنے شک پرعمل کرے
اورنمازپڑھے اوراگروقت سے خارج ہوتوشک کی اعتناء نہ کرے۔
۵ ۔ امام اورماموم کاشک ۔
۶ ۔ مستحبی نمازوں میں شک ۔
پہلاشک ،محل گزرجانے کے بعدشک:
مسئلہ ۱۱۹۰ ۔ اگرنمازمیں شک کرے کہ افعال واجبہ میں سے کسی عمل کوانجام دیاہے یانہیں،مثلاشک کرے کہ سورہ الحمدپڑھی ہے یانہیں تواگراس کے بعدوالے کام میں مشغول نہیں ہواتوپھرمشکوک کوبجالائے لیکن اگربعدوالے کام میں مشغول ہوچکاہے توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۹۱ ۔ اگرحمدوسروہ کی آیتوں میں شک ہوجائے کہ پہلی آیت پڑھی یانہیں یاکسی کلمہ میں شروع کرنے کے بعدشک ہوجائے کہ اس سے پہلے والاکلمہ پرھاکہ نہیں توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۹۲ ۔ اگررکوع یاسجودکرلینے کے بعدشک کرے کہ واجبات کواداکیاہے کہ نہیں، مثلاذکرپڑھایانہیں بدن کاسکون تھایانہیں،توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۹۳ ۔ سجدہ میں جاتے ہوئے اکرشک کرے کہ رکوع بجالایا یانہیں،یاقیام متصل بہ رکوع بجالایایانہیں توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۱۹۴ ۔ اگراٹھتے وقت شک ہوکہ تشہدبجالایاکہ نہیں توشک کی پرواہ نہ کرے، لیکن اٹھتے وقت اگرشک کرے کہ سجدہ بجالایاکہ نہیں توپلٹ کرسجدہ بجالائے۔
مسئلہ ۱۱۹۵ ۔ بیٹھ کریالیٹ کرنمازپڑھنے والااگرحمدیاتسبیحات پڑھتے ہوئے شک کر ے کہ سجدہ یاتشہدبجالایاکہ نہیں توپرواہ نہ کرے، لیکن اگرحمدوتسبیحات شروع کرنے سے پہلے شک ہوجائے توبجالاناچاہئے۔
مسئلہ ۱۱۹۶ ۔ اگرارکان نمازمیں سے کسی کے متعلق شک ہوکہ اسے بجالایاہے کہ نہیں تواگراس کے بعدوالے کام میں مشغول نہیں ہواتواس کوبجالائے اوراگراس کے بعدیادآئے کہ اس رکن کوتوبجالاچکاہے توچونکہ رکن زیادہ ہوگیاہے نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۹۷ ۔ اگرشک کرے کہ وہ عمل جورکن نہیں ہے بجالایاہے کہ نہیں تواگربعدوالے عمل میں مشغول نہیں ہواتواس کوبجالائے مثلاسورہ پڑھنے سے پہلے شک کرے کہ الحمدپڑھاہے کہ نہیں توالحمدکوپڑھے اوراگرانجام دینے کے بعدیادآئے کہ اس عمل کوبجالاچکاتھاتونمازصحیح ہے کیونکہ رکن زیادہ نہیں ہواہے۔
مسئلہ ۱۱۹۸ ۔ اگرکسی رکن کے متعلق شک ہوکہ اس کوبجالایاہے کہ نہیں،مثلاتشہدپڑھتے ہوئے شک کرے کہ دوسجدے بجالایاتھایانہیں اپنے شک کی پرواہ نہ کرے اوراگربعدمیں یادآئے کہ اس رکن کوبجالایاتوچنانچہ بعدوالے رکن میں داخل نہیں ہواہے تواس کوبجالائے اوراگربعدوالے رکن میں مشغول ہوچکاہے تواس کی نمازباطل ہواہے،مثلااگربعدوالی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یادآجائے کہ دوسجدے نہیں کئے توانہیں بجالائے اوراگررکوع میں یااس کے بعداسے یادآجائے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۱۹۹ ۔ اگرکسی غیررکنی عمل کے بجالانے میں شک کرے تواگراس کے بعدوالے کام میں مشغول ہوگیاتواپنے شک کی پرواہ نہ کرے، مثلاسورہ پڑھتے ہوئے شک کرے کہ الحمدپڑھی ہے کہ نہیں تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے اوراگربعدمیں یادآجائے کہ اسے بجانہیں لایاتھا تواگربعدوالے رکن کوشروع نہیں کرچکاتواسے بجالائے اوراگربعدوالے رکن کوشروع کرچکاہے تواس کی نمازصحیح ہے، لہذااگرقنوت میں یادآجائے کہ سورہ الحمدنہیں پڑھی تواس کوپڑھے اوراگررکوع میں یادآئے تواس کی نمازصحیح ہے اورالحمدترک کرنے کے لئے دوسجدے سہوبجالائے، اوراگرترک شدہ واجب،تشہدیاسجدہ ہوتوان کی قضا بھی واجب ہے۔
مسئلہ ۱۲۰۰ ۔ اگرشک ہوکہ نمازکے سلام کوبجالایاکہ نہیں یاشک ہوکہ صحیح کہاتھاکہ نہیں تواگردوسری نمازمیں مشغول ہوگیاہے یاکسی ایسی کام میں مصروف ہے کہ جس سے نمازٹوٹ جاتی ہے اورحالت نمازسے باہرچکاہے تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے اوراگران باتوں سے پہلے ہے توپلٹ کرسلام کہہ لیناضروری ہے، لیکن اگرسلام کے صحیح کہنے میں شک کرے توبہرصورت اپنے شک کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے اگرچہ کسی دوسرے کام میں مشغول ہواہویانہ۔
دوسرا:سلام کے بعدشک:
مسئلہ ۱۲۰۱ ۔ نمازکاسلام تمام کرنے کے بعداگرشک ہوکہ اس کی نمازصحیح تھی کہ نہیں، مثلاشک ہوکہ رکوع اداکیاہے یانہیں یاچاررکعتی نمازکے سلام کے بعدشک کرے کہ چاررکعت پڑھی یاپانچ تووہ اپنے شک کی پرواہ نہ کرے، لیکن اگراس کے شک کی دونوں پہلوایسی ہوں کہ ہرایک سے نمازباطل ہوتی ہو، مثلاچاررکعتی نمازکے سلام کے بعدشک کرے کہ تین رکعت پڑھی ہیں یاپانچ رکعت تواس کی نمازباطل ہے۔
تیسرا:وقت کے بعدشک:
مسئلہ ۱۲۰۲ ۔ وقت نمازگزرجانے کے بعداگرشک ہوکہ نمازپڑھی تھی یانہیں حتی کہ اگرگمان بھی ہوکہ نہیں پڑھی تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے، لیکن اگرابھی نماز کاوقت باقی ہواورشک ہوجائے تونمازپڑھ لے بلکہ اگرگماں بھی ہوکہ نمازپڑھی لی ہے جب بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۰۳ ۔ وقت نمازگزرجانے کے بعداگرشک کرے کہ نمازصحیح پڑھی ہے کہ نہیں توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۰۴ ۔ ظہروعصرکی نمازکاوقت گزرجانے کے بعدمعلوم ہوکہ صرف چاررکعت پڑھی ہے مگریہ نہ معلوم ہوکہ ظہرکی نیت سے پڑھی تھی یاعصرکی نیت سے؟ تومافی الذمہ (یعنی وہ نمازجواس پرواجب ہے) کی نیت سے چاررکعت قضانمازپڑھے۔
مسئلہ ۱۲۰۵ ۔ اگرمغرب وعشاء کاوقت گزرجانے کے بعدپتہ چلے کہ دونوں میں سے کوئی ایک ہی نمازپڑھی ہے، لیکن معلوم نہیں وہ مغرب کی تھی یاعشاء کی؟ تومغرب کی اورعشاء کی بھی قضاء کرے۔
چوتھا:کثیرالشک (جس کوزیادہ شک ہوتاہو)
مسئلہ ۱۲۰۶ ۔ اگرکسی ایک نمازمیں تین مرتبہ شک ہویاتین نمازوں میں پے درپے شک ہوتووہ کثیرالشک ہے، مثلاصبح ،ظہروعصرکی نمازوں میں شک کرے تواگرزیادہ شک کرنے کامنشاء غیظ وغضب یاخوف،حواس کی پریشانی نہ ہوتووہ اس شک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۰۷ ۔ کثیرالشک اگرکسی چیزکے بجالانے میں شک کرے چنانچہ اس چیزکوبجالانانمازکوباطل کرتاتوبنارکھے کہ بجالایاہے ، مثلااگرشک ہوکہ رکوع کیا ہے کہ نہیں تورکوع کرنے پربنارکھتاہے اوراگراس چیزکوبجالانا نمازکوباطل نہیں کرتاتوبنارکھے کہ بجانہیں لایاہے، مثلااگرشک کرے کہ ایک رکوع بجالایا یادورکوع توبناء اس پررکھے کہ ایک ہی بجالایاہے کیونکہ رکوع کی زیادتی نمازکوباطل کردیتی ہے۔
مسئلہ ۱۲۰۸ ۔ اگرکسی کومخصوص جگہ پرزیادہ شک ہوتواس شک کی پرواہ نہ کرے، لیکن دوسرے مقامات پرجوشک ہوں ان پرشک کے دستورکے مطابق عمل کرے، مثلاکسی کوزیادہ شک اس بات میں ہوکہ سجدہ کیاہے یانہیں،اگراسے رکوع کرنے میں شک ہوتوضروری ہے شک کے حکم پرعمل کرے،یعنی اگرابھی کھڑاہے تورکوع کرے اوراگرسجدہ میں چلاگیاتوشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۰۹ ۔ اگرکسی کوصرف معین نماز(مثلانمازظہر) میں شک ہوتاہے تواس میں شک کی پرواہ نہ کرے، باقی نمازوں میں شک کے احکام پرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۲۱۰ ۔ اگرکسی کوکسی خاص جگہ زیادہ شک ہوتاہے(مثلاجس وقت لوگوں کے درمیان نمازپڑھے) توصرف اسی جگہ پراپنی شک کی پرواہ نہ کرے، باقی جگہوں میں شک کے احکام پرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۲۱۱ ۔ اگرکسی کوشک ہوکہ وہ کثیرالشک ہوگیاہے کہ نہیں تویہ سمجھے کہ نہیں ہواہے،اسی طرح اگرکوئی کثیرالشک تھاتوجب تک یقین نہ ہوجائے کہ اب اپنی عام حالت پرواپس آگیاہے اس وقت تک اپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۱۲ ۔ جس کوزیادہ شک ہوتاہواگرکسی رکن(مثلارکوع) کے بجالانے میں اس کوشک ہوکہ بجالایاکہ نہیں؟ اوروہ اپنے شک کی پرواہ نہ کرے اوربعدمیں یادآئے کہ نہیں بجالایاتواگربعدوالے رکن میں داخل نہیں ہواتب توبجالائے اوراگربعدوالے رکن میں داخل ہوگیاہے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۲۱۳ ۔ جس کوزیادہ شک ہوتاہواگرکسی چیزجورکن نہیں ہے اس کوشک ہوکہ بجالایاکہ نہیں؟ اوروہ اپنے شک کی پرواہ نہ کرے اوربعدمیں یادآئے کہ انہیں بجالایاتھاتواگربجالانے کے محل سے نہیں گزراتواسے بجالائے اوراگراس کے محل سے گزرچکاہے تواس کی نمازصحیح ہے،مثلاشک کرے کہ سورہ حمدپڑھی ہے یانہیں اوراس کی پرواہ نہیں کی تواگرقنوت میں یادآجائے کہ سورہ حمدنہیں پڑھی تواسے پڑھے اوراگررکوع میں یادآئے تواس کی نمازصحیح ہے۔
پانچویں:امام وماموم کاشک:
اگرامام جماعت نمازکی رکعتوں کی تعدادمیں شک کرے، مثلانہیں جانتاہوکہ تین رکعت پڑھی یاچاررکعت پڑھی، اورماموم کویادہوکہ چاررکعت پڑھی ہے توکسی طرح امام کوسمجھادے اورامام کوچاہئے کہ اس کے مطابق عمل کرے اورنمازاحتیاط پڑھنابھی ضروری نہیں ہے،اس کے برعکس اگرامام کومعلوم ہوکہ کتنی رکعت پڑھی لیکن ماموم کوشک ہوتوماموم کوچاہئے کہ امام کی پیروی کرے اپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔
چھٹا:مستحبی نمازوں میں شک:
مسئلہ ۱۲۱۵ ۔ اگرمستحبی نمازوں کی رکعتوں میں شک ہوتواختیارہے کہ چاہے کم پربناء رکھے یازیادہ پرالبتہ اگرزیادہ پربناء رکھنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے توکم پربناء رکھے،مثلا اگرایک ودومیں شک ہوتواختیارہے ایک پربناء رکھے یادوپرلیکن اگردویاتین میں شک ہوتوپھردوہی پربناء رکھنی ہوگی۔
مسئلہ ۱۲۱۶ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ رکن کی کمی نافلہ کوباطل کردیتی ہے لیکن رکن میں زیادتی نافلہ کوباطل نہیں کرتی، تواگرنافلہ کے کسی عمل کوبھول جائے اوراس وقت یادآئے جب بعدوالے رکن میں داخل ہوچکاہے تواس کام کوبجالائے اورپھراس رکن کواداکرے، مثلااگررکوع کی حالت میں اسے یادآئے کہ سورہ نہیں پڑھاتووہ پلٹ آئے اورسورہ کوپڑھے اورپھردوبارہ رکوع میں جائے۔
مسئلہ ۱۲۱۷ ۔ اگرنافلہ کے کسی عمل میں شک کرے چاہے وہ رکن ہویاغیررکن تواگراس کامحل نہیں گزراتواسے بجالائے اوراگراس کامحل گزرچکاہے توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۱۸ ۔ نمازمستحبی میں اپنے ظن وگمان پراس وقت تک عمل کرے جب تک نمازکے باطل ہونے کاسبب نہ ہو، مثلااگرگمان ہے کہ دورکعت ہے تواسی پربناء رکھے اوراگرگمان ہے ایک رکعت توضروری ہے کہ ایک رکعت اورپڑھے۔
مسئلہ ۱۲۱۹ ۔ اگرکوئی ایساکام کرے جس سے واجب نمازمیں سجدہ سہوواجب ہوجاتاہوتواس کام کے کرنے پرمستحبی نمازمیں سجدہ سہوواجب نہیں ہوگا، اسی طرح مستحبی نمازمیں بھولے ہوئے سجدہ وتشہدکی قضانہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۲۰ ۔ اگرشک کرے کہ مستحب نمازپڑھی ہے یانہیں تواگرنمازجعفرطیارکی طرح اس کے لئے کوئی معین وقت نہ ہوتوبنارکھے کہ میں نے نہیں پڑھی اوراسی طرح اگروقت معین ہولیکن وقت گزرجانے سے پہلے یہ شک کرے جیسے نوافل یومیہ، لیکن اگروقت معین گزرجانے کے بعدشک کرے کہ نمازپڑھی ہے کہ نہیں توشک کی پر واہ نہ کرے۔
۳ ۔ صحیح شکوک:
مسئلہ ۱۲۲۱ ۔ نوصورتیں ایسی ہیں کہ اگرچاررکعتی نمازوں کی رکعتوں میں شک ہوپہلے تھوڑی سی فکرکرنی چاہئے اگرکسی طرف کایقین یاگمان حاصل ہوتواسی طرف کولے لے اورنمازکوتمام کرے ورنہ ان دستوروں کے مطابق عمل کرے جوبیان کئے جائیں گے۔
۱ ۔ دوسرے سجدہ سے سراٹھانے کے بعدشک ہوکہ یہ دوسری رکعت ہے یاتیسری توتیسری مان کرایک رکعت اورپڑھ کرنمازتمام کرے اورنمازکے بعدایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکر(جس طرح بیان کیاجائے گا) پڑھے یادورکعت بیٹھ کرپڑھے۔
۲ ۔ دوسرے سجدہ سے سراٹھانے کے بعدشک ہوکہ دوسری رکعت ہے یا چوتھی توچارمان کرنمازتمام کرے اورنمازکے بعددورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھے۔
۳ ۔ دوسرے سجدہ سے سراٹھانے کے بعدشک ہوکہ دوسری رکعت یہے تیسری یاچوتھی ہے توچوتھی سمجھ کرنمازتمام کرے نمازکے بعددورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکراوراس کے بعددورکعت نمازاحتیاط بیٹھ کرپڑھے لیکن اگرپہلے سجدہ کے بعدیادوسرے سجدہ سے سراٹھانے سے پہلے ایسے شک پیش آئے تواس کے لئے جائزہے کہ نمازکوختم کردے اوردوبارہ پڑھے۔
۴ ۔ دوسرے سجدہ سے سراٹھانے کے بعدشک ہوکہ یہ چوتھی رکعت ہے یاپانچویں توچوتھی مان کرنمازتمام کرے اورنمازکے بعددوسجدہ سہوبجالائے، لیکن اگر پہلے سجدہ کے بعدیادوسرے سجدہ سے سراٹھانے سے پہلے یہ شک پیش آئے تواحتیاط واجب ہے کہ جودستوربیان کیاگیاہے اس پرعمل کرے اورنمازکو دوبارہ بھی پڑھے ۔
۵ ۔ جہاں بھی تین وچارمیں شک ہو،چارفرض کرکے نمازختم کرے نمازکے بعدایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکریادورکعت بیٹھ کرپڑھے۔
۶ ۔ قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ یہ چوتھی رکعت ہے یاپانچویں توفورابیٹھ جائے اورتشہدپڑھ کرسلام نمازبجالائے، اس کے بعد ایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکریادورکعت بیٹھ کرپڑھے۔
۷ ۔ قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ یہ تیسری رکعت ہے یایہ کہ پانچویں توبیٹھ جائے اورتشہدپڑھ کرسلام نمازبجالائے اس کے بعددورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھے۔
۸ ۔ قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ یہ تیسری ہے یاچوتھی ہے یاپانچویں ہے توبیٹھ جائے اورتشہدپڑھ کرسلام نمازبجالائے، اس کے بعددورکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکرپڑھے اوردورکعت نمازاحتیاط بیٹھ کرپڑھے ۔
۹ ۔ قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ پانچویں رکعت ہے یاچھٹی توفورابیٹھ جائے اورتشہدپڑھ کرسلام نمازبجالائے اوردوسجدہ سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۲۲ ۔ اگرکسی کوصحیح شکوک میں سے کوئی شک درپیش ہوتووہ نمازکوتوڑنہیں سکتااوراگرنمازتوڑدی توگنہگارہوگالہذااگرکوئی ایساکام کئے بغیرجوکہ نماز کوباطل کردیتاہے (مثلاقبلہ سے منہ پھیرلینا) نئے سرے سے نمازشروع کردے تودوسرے نمازبھی باطل ہوگی اوراگرکوئی ایساکام کرنے کے بعددوسری نماز میں مشغول ہواتوپھراس کی دوسری نمازصحیح ہوگی۔
مسئلہ ۱۲۲۳ ۔ اگرکوئی ایساشک پیداہوجائے جس کے لئے نمازاحتیاط واجب ہوتی ہے چنانچہ کسی شخص نے نمازتمام کرنے کے بعد نمازاحتیاط پڑھے بغیر نئے سرے سے نمازپڑھی توگنہگارہوگا۔ اب اگراس نے کوئی ایساکام کرنے کے بغیرنمازنئے سرے سے پڑھی جس کام سے نمازباطل ہوجاتی ہے تواس کی دوسری نمازبھی باطل ہوگی اوراگرکوئی ایساکام انجام دینے کے بعدنمازشروع کی ہے تودوسری نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۲۲۴ ۔ اگرکسی کوصحیح شکوک میں سے کوئی شک درپیش ہوفوراانسان غوروفکرکرے لیکن اگروہ چیزیں کہ جن کے ذریعہ سے یقین یاایک طرف کاگمان حاصل ہوناممکن ہے اسے پیش نہ آئیں اوراس کاشک دورنہ ہوتواگرتھوڑی دیراورفکرکرلے توکوئی اشکال نہیں،مثلا سجدہ میں شک کرے توسجدہ کے بعدتک غوروفکرمیں تاخیرکرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۲۲۵ ۔ اگرشروع میں کسی ایک طرف گمان ہوگیااورشک کی حالت پیداہوگئی توشک کے دستورپرعمل کرے اوراس کے برعکس اگرپہلے شک کی صورت پیداہواوربعدمیں کسی ایک طرف کاگمان ہوجائے توگمان کے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ ۱۲۲۶ ۔ جس کویہ نہ معلوم ہوکہ جوحالت پیداہوئی ہے وہ”شک“ہے یا”ظن“ توضروری ہے احتیاط پرعمل کرے اورہرایسے مقام پراحتیاط کے مخصوص طریقے ہیں جومفصل کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔
مسئلہ ۱۲۲۷ ۔ اگرنمازکے بعدمعلوم ہوکہ اثنائے نمازمیں حالت تردید رکھتاتھا، مثلادویاتین رکعتیں پڑھیں ہیں اورتین پربناء رکھی، لیکن معلوم نہیں کہ اس کاتین رکعت پربناء رکھنا،تیسری رکعت کاگمان ہوجانے کی وجہ سے تھایادونوں طرف کے مساوی ہونے کی وجہ سے تھاتواحتیاط واجب ہے کہ نمازاحتیاط پڑھ لے ۔
مسئلہ ۱۲۲۸ ۔ تشہدپڑھتے ہوئے یابعدوالی رکعت میں داخل ہونے کے بعدشک ہوکہ دونوں سجدوں کوبجالایاہے کہ نہیں؟ اوراسی وقت ایک ایساشک ہوجائے جودونوں سجدوں کے تمام کرنے کے بعدہوتاہے تونمازصحیح رہتی( مثلادوسری یاتیسری رکعت کاشک ہوجائے) توبنارکھے کہ سجدوں کوبجالایاہے اورشک کے قاعدہ پرعمل کرے اس کی نمازصحیح ہے، لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۲۹ ۔ اگرتشہدمیں مشغول ہونے سے قبل یااٹھنے سے پہلے ان رکعات میں جن میں تشہدنہیں ہے، شک ہوکہ دونوں سجدے بجالایاہے یانہیں اورایسے موقع پرایک اورشک جودونوں سجدوں کے پوراکرنے کے بعدصحیح ہوتاہے پیداہوجائے تواس کی نمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۱۲۳۰ ۔ اگرقیام کی حالت میں تین اورچاریاتین اورپانچ رکعت میں شک کرے اوراسے یادآئے کہ دوسجدے اس سے پہلی والی رکعت کے بجانہیں لایا تواس کی نمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۱۲۳۱ ۔ اگرنمازی کاپہلاشک دورہوجائے تودوسرے شک کے مطابق عمل کرے، مثلاپہلے شک ہواکہ دوسری رکعت ہے یاتیسری اس کے بعدیقین ہوگیاکہ تین رکعت پڑھ چکاہے اورشک ہوگیاکہ یہ تیسری رکعت ہے یاچوتھی توتیسری اورچوتھی رکعت کے شک کے قاعدہ پرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۲۳۲ ۔ اگرنمازی کویہ معلوم ہے کہ نمازکے وسط میں شک ہواتھالیکن یہ نہیں معلوم کہ دواورتین میں شک ہواتھایاتین اورچارمیں تواحتیاط واجب ہے کہ دونوں کے دستورپرعمل کرے اورنمازکابھی اعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۳۳ ۔ اگرنمازکے بعدپتہ چلے کہ حالت نمازمیں ایک شک پیش آیاہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ باطل شک تھایاصحیح شک اوراگرصحیح شک تھاتوکونساقسم ہے تواحتیاط واجب ہے کہ جن صحیح شکوک کااحتمال ہے ان کے دستورکے مطابق عمل کرے اورپھرنمازدوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۳۴ ۔بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کواگرایساشک ہوجائے جس کے لئے ایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھنی چاہئے یادورکعت بیٹھ کرتوایک رکعت نمازبیٹھ کرپڑھے یاایساشک ہوجائے کہ جس کے لئے دورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھنی چاہئے تووہ دورکعت بیٹھ کرپڑھے۔
مسئلہ ۱۲۳۵ ۔ کھڑے ہوکرنمازپڑھنے والااگرنمازاحتیاط پڑھتے وقت قیام سے عاجزہوجائے توبیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی طرح نمازاحتیاط پڑھے جس کا حکم اس سے پہلے والے مسئلہ میں بیان کیاگیاہے۔
مسئلہ ۱۲۳۶ ۔ جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھتاہواگرنمازاحتیاط پڑھتے وقت کھڑے ہونے کی طاقت پیداہوجائے تواس کواس شخص کے وظیفہ پرعمل کرناچاہئے جوکھڑے ہوکرنمازاحتیاط پڑھتاہے۔
نمازاحتیاط کاطریقہ:
مسئلہ ۱۲۳۷ ۔ رکعتوں میں شک کی وجہ سے جونمازاحتیاط پڑھی جاتی ہے اس کاطریقہ یہ ہے کہ نماز کے سلام کے بعدفورااحتیاط کی نیت کرکے ”اللہ اکبر“ کہے اورصرف حمدپڑھے( دوسراسورہ نہ پڑھے) اورپھرعام نمازوں کی طرح رکوع دونوں سجدے بجالائے اوراگرنمازاحتیاط ایک رکعت ہے تودونوں سجدوں کے بعدتشہدوسلام پڑھ کرختم کرے اوراگردورکعت ہے تودونوں سجدوں کے بعدپہلی رکعت کی طرح ایک رکعت اورپڑھے اورتشہدکے بعد سلام پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۳۸ ۔ نمازاحتیاط میں سورہ اورقنوت نہیں ہے اوراس کوآہستہ پڑھناضروری ہے اورنیت بھی زبان پرنہ لائیں حتی کہ ”بسم اللہ“ کوبھی بناء براحتیاط واجب آہستہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۳۹ ۔ اگرنمازاحتیاط پڑھنے سے پہلے یادآجائے کہ میں نے جونمازپڑھی ہے وہ صحیح ہے توپھرنمازاحتیاط کی ضرورت نہیں ہے، اوراگرنمازاحتیاط پڑھتے ہوئے یادآئے تواس کواختیارہے جی چاہے نمازاحتیاط کوتوڑدے، جی چاہے تومکمل کرلے۔
مسئلہ ۱۲۴۰ ۔ اگرنمازاحتیاط شروع کرنے سے پہلے یادآجائے کہ نمازکی رکعتیں کم تھیں اورابھی ایساکوئی کام نہیں کیاجس سے نماز باطل ہوتی ہوجاتی ہے توجتنی مقدارکم ہے اس کوپوراکرے اوربے جاسلام کی وجہ سے احتیاطادوسجدہ سہوبجالائے اوراگرکوئی ایساکام کرچکاہے جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے تونماز کااعادہ کرے ۔
مسئلہ ۱۲۴۱ ۔ اگرنمازاحتیاط پڑھنے کے بعدیادآجائے کہ نمازکی کمی بالکل نمازاحتیاط کے برابرتھی(مثلاتین وچارمیں شک کی وجہ سے ایک رکعت نمازاحتیاط پڑھی ہواورنمازاحتیاط کے بعد یادآئے کہ میری اصلی نمازتین رکعت تھی) تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۲۴۲ ۔ اگرنمازاحتیاط پڑھنے کے بعدیادآجائے کہ کمی نمازاحتیاط نمازسے کم تھی ، مثلادواورچارکے شک میں دورکعت نمازاحتیاط پڑھی، بعدمیں یاد آئے کہ نمازتین رکعت پڑھی تھی توبناء براحتیاط واجب بلافاصلہ نمازکی کمی کوپوراکرے اوراگرابھی کوئی ایساکام نہیں کیاجس سے نمازباطل ہوجاتی ہے تواصل نمازکااعادہ بھی کرے۔
مسئہ ۱۲۴۳ ۔ اگرنمازاحتیاط پڑھنے کے بعدیادآجائے کہ نمازکی کمی نمازاحتیاط سے زیادہ تھی اوراس نے نمازاحتیاط کے بعدکوئی ایساکام نہیں کیاجس سے نماز باطل ہوجاتی ہے تواس کمی کوپوراکرے اوراصل نمازکابھی اعادہ کرے اوراگرکوئی ایساکام کرچکاہے جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے تونمازکااعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۴۴ ۔ اگردوتین اورچارمیں شک کرے اوردورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھنے کے بعدیادآئے کہ نمازدورکعت پڑھی تھی توضروری نہیں ہے کہ دورکعت نمازاحتیاط بیٹھ کرپڑھے۔
مسئلہ ۱۲۴۵ ۔ اگرتین اورچارکے درمیان شک کرے اوردورکعت نمازاحتیاط بیٹھ کریاایک رکعت کھڑے ہوکرپڑھتے وقت یادآئے کہ نمازتین ہی رکعت پڑھی تھی تونمازاحتیاط تمام کرے اوراس کی نمازصحیح ہوگی۔
مسئلہ ۱۲۴۶ ۔ اگردوتین اورچارمیں شک کرے اوردورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھتے دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یادآئے کہ نمازتین رکعت پڑھی تھی توبیٹھ جائے اورنمازاحتیاط کوایک رکعت پرختم کرے اوراحتیاط واجب کی بناء پردوبارہ نمازبھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۴۷ ۔ اگرنمازاحتیاط کی حالت میں اسے پتہ چلے کہ نمازکی کمی نمازاحتیاط سے کم یازیادہ تھی تواگرنمازاحتیاط کواس نمازکی کمی کے مطابق پورانہ کرسکے تونمازاحتیاط کوچھوڑدے اورنمازکی کمی پوراکرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکودوبارہ بھی پڑھے مثلاتین اورچاروالے شک میں جب دورکعت نمازاحتیاط بیٹھ کرپڑھ رہاہے اسے یادآئے کہ نمازدورکعت پڑھی تھی توچونکہ دورکعت بیٹھ کرپڑھی جانے والی نمازکودورکعت کھڑے ہوکرپڑھی جانے والی نمازکے برابر حساب نہیں کرسکتاہے، لہذابیٹھ کرپڑھی جانے والی نمازاحتیاط کوچھوڑدے اوردورکعت نمازکی کمی کوپوراکرے اوراحتیاطانماز کودوبارہ بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۴۸ ۔ اگرشک کرے کہ نمازاحتیاط کوبجالایاہوں کہ نہیں تواگروقت گزگیاہے توشک کی پرواہ نہ کرے اوراگروقت باقی ہے اورایساکام بھی نہیں کیاہے جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے تونمازاحتیاط پڑھے لیکن اگرکسی اورکام میں مشغول ہوچکاہے یاایساکام جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے کرلیاہویانمازاورشک کے درمیان کافی وقت گزرچکاہے تواحتیاطانمازاحتیاط کوبجالائے اوردوبارہ نمازبھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۴۹ ۔ اگرنمازاحتیاط میں کسی رکن کوزیادہ کرے یامثلاایک رکعت کی جگہ دورکعت پڑھ لے تونمازاحتیاط باطل ہوجائے گی اوربعیدنہیں ہے کہ ایسی حالت میں فقط اصل نمازکااعادہ کرنے پراکتفاء کرے۔
مسئلہ ۱۲۵۰ ۔ نمازاحتیاط پڑھتے ہوئے اگراس کے کسی عمل میں شک کرے تواگرمحل نہیں گزراتواسے بجالائے اوراگرمحل گزرچکاہے توشک کرے کہ الحمدپڑھی ہے کہ نہیں تواگررکوع سے پہلے ہوحمدکوپڑھ لے ا وراگررکوع میں ہوتواپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۵۱ ۔ اگرنمازاحتیاط کی رکعتوں کی تعدادمیں شک ہوجائے توزیادہ پربناء رکھے لیکن اگرزیادتی نمازکے کے باطل ہونے کے سبب ہوتونمازکو اعادہ کرے اورنمازاحتیاط پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۵۲ ۔ بھولے سے نمازاحتیاط میں اگراجزاء غیررکنی کی کمی یازیادتی ہوجائے تواس کے لئے سجدہ سہوواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۵۳ ۔ اگرنمازاحتیاط میں سلام کے بعدشک کرے کہ کسی اجزاء یاشرط کوبجالایاہے کہ نہیں تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۵۴ ۔ اگرنمازاحتیاط میں تشہدیاسجدہ کوبھول جائے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ سلام کے بعداس کی قضابجالائے ۔
مسئلہ ۱۲۵۵ ۔ اگرسجدہ یاتشہدکی قضا، یاسجدہ سہونمازی پرواجب ہواورعین اسی وقت نمازاحتیاط بھی اس پرواجب ہوتواقوی یہ ہے کہ پہلے نمازاحتیاط پڑھ لے۔
مسئلہ ۱۲۵۶ ۔ نمازکی رکعتوں کے بارے میں گمان کاحکم یقین کے حکم کی طرح ہے، مثلااگرچاررکعتی نمازمیں گمان کرے کہ چاررکعت پڑھی ہیں تواسے نماز احتیاط پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگرگمان رکعتوں میں نہ ہو(افعال کے بارے میں ہو) توضروری ہے کہ احتیاط پرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۲۵۷ ۔ روزانہ کی پنجگانہ نمازوں کے لئے ”شک ،سہو،ظن“ کے جواحکام بیان کئے گئے ہیں وہ تمام دیگرواجب نمازوں میں بھی موجود ہیں،مثلااگرنمازآیات میں شک ہوکہ ایک رکعت پڑھی یادورکعت؟چونکہ اس کاشک دورکعتی نمازمیں ہے اس لئے نمازباطل ہے۔
سجدہ سہو
مسئلہ ۱۲۵۸ ۔ سلام نمازکے بعدتین چیزوں کے لئے دوسجدے سہوبجالاناچاہئے(بیان کئے جانے والے قاعدہ کے مطابق):
۱ ۔نمازکی حالت میں سہواکلام کرے ۲ ۔ بھولے ہوئے سجدہ کے لئے
۳ ۔ دوسرے سجدے کے بعدشک ہوجائے کہ چوتھی رکعت ہے یاپانچویں۔
اوردوچیزوں کے لئے احتیاط واجب کی بناء پرسجدے سہوبجالاناچاہئے ۔
۱ ۔ بے جاسلام کے لئے، مثلاپہلی رکعت میں سلام دینا۔ ۲ ۔ بھولے ہوئے تشہدکے لیئے۔
مسئلہ ۱۲۵۹ ۔ اگرانسان بھولے سے یہ خیال کرتے ہوئے کہ نمازختم ہوگئی ہے گفتگوکرنے سے دوسجدہ سہوواجب ہے۔
مسئلہ ۱۲۶۰ ۔ وہ حرف جوآہ کھینچنے اورکھانسنے سے پیداہوں ان کے لئے سجدہ سہوواجب نہیں لیکن اگرمثلابھولے سے آخ یاآہ کہے توسجدہ سہوکرناپڑے گا۔
مسئلہ ۱۲۶۱ ۔ اگرکسی چیزکوغلط پڑھ کردوبارہ صحیح پڑھے تواس سے سجدہ سہوواجب نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۱۲۶۲ ۔ اگرنمازمیں چندکلمے یاچندجملے اس طرح کہے کہ نمازگزارکی صورت سے خارج نہ ہواوروہ سب ایک ہی شمارکئے جائیں توسب کے لئے دوسجدہ سہوکافی ہے۔
مسئلہ ۱۲۶۳ ۔ اگربھولے سے تسبیحات اربعہ نہ کہے یاتین مرتبہ سے کم یازیادہ کہے تواحتیاط مستحب ہے کہ نمازکے بعددوسجدے سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۶۴ ۔ اگرایسی جگہ جہاں نمازکاسلام نہیں کہناچاہئے بھول کرکہے”السلام علیناوعلی عباداللہ الصالحین“ یاکہے ”السلام علیکم ورحمةاللہ برکاتہ“ تودوسجدہ سہوکرلے اوراگرغلطی سے ان دوسلاموں کاکچھ حصہ کہے یاغلطی سے کہے” السلام علیک ایھاالنبی ورحمةاللہ وبرکاتہ“ تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ دوسجدے سہوکے بجالائے۔
مسئلہ ۱۲۶۵ ۔ اگرایسی جگہ پرجہاں سلام نہ کہناچاہئے اشتباہاتینوں سلام کہہ دے توسب کے لئے دوسجدہ سہوکافی ہیں، لیکن احتیاط یہ ہے کہ چندبارسجدہ سہوبجالائے، ایک سجدہ سہوان سب کے لئے اورپھردوسجدے ہرایک کے لئے علیحدہ علیحدہ بجالائے۔
مسئلہ ۱۲۶۶ ۔ اگرایک سجدہ یاتشہدبھول جائے اوربعدوالی رکعت کے رکوع سے پہلے یادآئے توپلٹ کربجالائے اورجن چیزوں کوزیادہ بجالایاان کے لئے سجدہ سہوواجب نہیں۔
مسئلہ ۱۲۶۷ ۔ اگررکوع میں یااس کے بعدیادآئے کہ ایک سجدہ یاتشہد گزشتہ رکعت سے بھول گیاہے تونمازکے سلام کے بعدسجدہ یاتشہد کی قضا کرے اوربعدمیں دوسجدے سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۶۸ ۔ اگرواجب سجدہ سہوکوعمدانمازکے سلام کے بعدبجانہ لائے توگناہ کارہے جتنی بھی جلدی ہوسکے بجالائے اوراگربھول کربجا لائے توجب بھی یادآئے فورابجالائے اورضروری نہیں کہ نمازدوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۶۹ ۔ اگریہ شک ہوکہ کوئی ایساکام انجام دیاہے کہ نہیں کہ جس سے سجدہ سہوواجب ہوجائے تواس پرکوئی چیزواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۷۰ ۔ اگرشک ہوکہ اس پردوسجدہ سہوواجب ہوئے ہیں یاچارتو صرف دوسجدہ سہوکابجالاناکافی ہے۔
مسئلہ ۱۲۷۱ ۔ اگرمعلوم ہوکہ دوسجدے سہومیں سے ایک کوبجانہیں لایاتودوسجدے سہوبجالائے اوراکرمعلوم ہوکہ بھولے سے تین سجدے سہو بجالایاتودوبارہ دوسجدے سہوبجالائے۔
سجدہ سہوکاطریقہ:
مسئلہ ۱۲۷۲ ۔ سجدہ سہوکاطریقہ یہ ہے کہ نمازکے بعدبلافاصلہ سجدہ سہوکی نیت کرکے سجدہ میں چلاجائے اورکہے ”بسم اللہ وباللہ وصلی اللہ علی محمد وآلہ“ یاکہے ”بسم اللہ وباللہ اللہم صلی علی محمد وآلہ محمد“ لیکن بہترہے کہ کہے”بسم اللہ وباللہ السلام علیک ایہاالنبی ورحمة اللہ وبرکاتہ“ اوریہ احتیاط کے مطابق ہے اس کے بعدسجدہ سے سراٹھاکربیٹھ جائے اوردوبارہ سجدہ میں جاکروہی ذکرپڑھے اورسجدہ سے سراٹھاکربیٹھ جائے اور تشہدوسلام پڑھ کرنمازتمام کرے۔
بھولے ہوئے تشہدوسجدہ کی قضا:
مسئلہ ۱۲۷۳ ۔ بھولے ہوئے تشہدیاسجدہ کی قضامیں نمازکی تمام شرائط )مثلاطہارت،قبلہ دوسری شرطیں) لازم ہیں اوربلافاصلہ نماز کے فورابعدبجالانی چاہئے ۔
مسئلہ ۱۲۷۴ ۔ اگرکئی سجدے یاتشہدبھول جائے، مثلاپہلی رکعت میں ایک سجدہ اوردوسری رکعت میں بھی ایک سجدہ بھول جائے تونمازکے بعددونوں سجدوں کی قضاسجدہ سہوکے ساتھ بجالائے اوریہ ضروری نہیں کہ معین کرے کہ پہلے سجدہ کی قضاہے یادوسری۔
مسئلہ ۱۲۷۵ ۔ اگرایک سجدہ وتشہدکوبھول جائے تواحتیاط واجب ہے کہ جس کوپہلے بھولاہواس کی قضابھی پہلے کرے اوراگریہ معلوم نہ ہوکہ پہلے کون سابھولاہے تواحتیاطا ایک سجدہ اس کے بعدایک تشہدپھرایک سجدہ کی قضاکرے تاکہ یقین ہوجائے کہ جس ترتیب سے بھولاہے اسی ترتیب سے قضابجالایا۔
مسئلہ ۱۲۷۶ ۔ اگراس خیال سے کہ پہلے سجدہ بھولاتھاپہلے اس کی قضابجالائے اورتشہدپڑھنے کے بعدیادآئے کہ پہلے تشہدبھولاتھاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ سجدہ کی قضاکرے اوراسی طرح اگرتشہدکواس خیال سے پہلے بجالائے۔
مسئلہ ۱۲۷۷ ۔ اگرنمازکے بعدکوئی ایساکام کرڈالے جس سے صورت نمازختم ہوجائے یانمازباطل ہوجائے(مثلاپشت بہ قبلہ ہوجائے) توسجدہ وتشہدکی قضاکرناضروری ہے اوربنابراحتیاط واجب نمازکااعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۷۸ ۔ اگرسلام نمازکے بعدیادآئے کہ آخررکعت کاایک سجدہ بھول گیاہے توبھولے ہوئے سجدہ کی قضابجالائے اورپھردوسجدے سہو بجا لائے، خواہ ایساکام جس سے صورت نمازختم ہوجاتی ہے کیاہویانہیں، اوراگرآخری رکعت کے تشہدکوبھول گیاہوتوبھولے ہوئے تشہد کی قضابجالائے اوراس کے بعدسجدے سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۷۹ ۔ اگرسلام نمازاورقضائے سجدہ یاتشہدکے درمیان کوئی ایساکام کرے جس سے سجدہ سہوواجب ہوجاتاہو،مثلا(بھول کربات کرے) توضروری ہے کہ سجدہ یاتشہدکی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۲۸۰ ۔ اگرمعلوم ہوکہ سجدہ یاتشہدکوبھولاہے مگرکس کوبھولا ہے یہ یادنہیں تودونوں کی قضاکرے اورجس کوجی چاہے پہلے بجالائے۔
مسئلہ ۱۲۸۱ ۔ اگرشک ہوکہ سجدہ یاتشہدکوبھولاہے کہ نہیں؟ توقضا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۸۲ ۔ اگرمعلوم ہوکہ سجدہ یاتشہدکوبھولاہے اورشک کرے کہ بعدوالی رکعت کے رکوع سے پہلے اس کوبجالایایانہیں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۲۸۳ ۔ اگرنمازی کے ذمہ سجدہ یاتشہدکی قضاکے ساتھ سجدہ سہوبھی ہوتونمازکے بعدپہلے تشہدیاسجدہ کی قضاکرے اس کے بعدسجدہ سہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۸۴ ۔ اگریہ شک ہوجائے کہ میرے ذمہ بھولے ہوئے تشہدیاسجدے کی جوقضاواجب تھی اس کونمازکے بعدبجالایاکہ نہیں؟ چنانچہ اگرنمازکاوقت باقی ہوتوتشہدیاسجدہ کی قضاکرے ا وراگروقت گزرگیاہے جب بھی بنابراحتیاط واجب اس کی قضابجالائے۔
نمازکے اجزاء اورشرائط میں خلل:
مسئلہ ۱۲۸۵ ۔ نمازکے واجبات میں سے عمداکسی بھی چیزحتی کہ ایک طرف کی کمی یازیادتی کرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے۔
مسئلہ ۱۲۸۶ ۔ اگرمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اجزاء نمازمیں سے کسی چیزکوکم یازیادہ کردے تونمازباطل ہے چاہے وہ رکن ہویاغیررکن۔
مسئلہ ۱۲۸۷ ۔ اگرنمازکے درمیان معلوم ہوجائے کہ اس کاغسل باطل تھایاوضواوران کے بغیرنمازشروع کردی تھی تونمازتوڑدے اوردوبارہ وضویاغسل کے ساتھ نمازپڑھے، اوراگرنمازکے بعدیہ بات معلوم ہوتوبھی دوبارہ وضویاغسل کے ساتھ نمازبجالائے اوراگروقت گزرچکاہے تواس کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۲۸۸ ۔ اگررکوع میں پہنچنے کے بعدیادآئے کہ گزشتہ رکعت کے دوسجدے بھول گیاتھاتواس کی نمازباطل ہے اوراگررکوع سے پہلے یادآئے توپلٹ کردوسجدے کرے اورکھڑے ہوکرحمداورسورہ یاتسبیحات پڑھے اورنمازمکمل کرلے۔
مسئلہ ۱۲۸۹ ۔ اگر”السلام علینا“ یا”السلام علیکم“ کہنے سے پہلے اسے یادآئے کہ آخری رکعت کے دوسجدے بجانہیں لایاتودوسجدے بجالائے اورتشہدپڑھے اورسلام دے۔
مسئلہ ۱۲۹۰ ۔ اگرسلام نمازسے پہلے یادآئے کہ ایک رکعت یااس سے زیادہ آخر نمازمیں نہیں پڑھی توجتنی رکعت بھول چکاہوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۹۱ ۔ اگرسلام نمازکے بعدیادآئے کہ ایک رکعت یااس سے زیادہ آخر نمازسے نہیں پڑھی توآگرکوئی ایساکام جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے کرچکاہے (مثلاقبلہ کی طرف پشت کرلینا) تواس کی نمازباطل ہے اوراگرایساکوئی کام جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے نہ کیاہوتو فورابھولے ہوئے مقدارکوبجالائے۔
مسئلہ ۱۲۹۲ ۔ جب نمازسلام کے بعدایساعمل جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے کرلے، مثلاقبلہ کی طرف پشت کرنا، اوربعدمیں یادآئے کہ آخری دوسجدر بھول گیاتونمازباطل ہے، لیکن اگرایساکام جس سے نمازباطل ہوجاتی ہے نہ کیاہواوراسے یادآئے توبھولے ہوئے سجدوں کوبجالائے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکودوبارہ بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۹۳ ۔ اگرنمازکومعلوم ہوجائے کہ نمازوقت سے پہلے پڑھی ہے یاقبلہ کی طرف پشت کرکے پڑھی ہے یاداہنی یابائیں طرف پڑھی ہے تواس کودوبارہ پڑھے اوراگروقت گزرگیاہے توقضاکرے۔
مسافرکی نماز:
مسافرآٹھ شرطوں کے ساتھ چاررکعتی نمازکودورکعت پڑھے:
پہلی شرط آٹھ فرسخ شرعی سے کم نہ ہو۔
مسئلہ ۱۲۹۴ ۔ جس کی آمدورفت آٹھ فرسخ ہوجاتی ہواگرجاناچارفرسخ سے کم نہ ہوتونمازکوقصرپڑھے، لہذااگرجاناتین فرسخ اورآناپانچ فرسخ تونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۹۵ ۔ اگرآمدورفت ملاکرآٹھ فرسخ ہوتونمازقصرپڑھے خواہ اسی دن یارات کوپلٹ آئے یاکچھ فاصلہ کے بعد۔
مسئلہ ۱۲۹۶ ۔ اگرسفرآٹھ فرسخ سے کچھ کم ہویاشک ہوکہ سفرآٹھ فرسخ ہے کہ نہیں؟ تونمازقصرنہ کرے، اورشک کی صورت اگرتحقیق باعث مشقت ہے تونمازپوری پڑھے اوراگرمشقت زیادہ نہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ تحقیق کرے پس اگردوعادل گواہ کہیں یالوگوں کے درمیان مشہورہوکہ آٹھ فرسخ ہے تونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۲۹۷ ۔ اگرایک عادل بتائے کہ یہ سفرآٹھ فرسخ ہے توظاہریہ ہے کہ اس خبرسے مسافت ثابت نہیں ہوتی اوراس سے جمع کرنا،یعنی قصراورتمام دونوں پڑھنابھی وا جب نہیں ہے، البتہ احتیاط اسی میں ہے۔
مسئلہ ۱۲۹۸ ۔ اگریہ یقین ہوجائے کہ اس کاسفرآٹھ فرسخ ہے نمازکوقصرپڑھے بعدمیں پتہ چلے کہ آٹھ فرسخ کی مسافت نہیں تھی تواس کی نماز باطل ہے تودوبارہ چاررکعت پڑھے اوراگروقت گزرگیاہے توقضاکرے۔
مسئلہ ۱۲۹۹ ۔ اگریقین ہوکہ مسافت آٹھ فرسخ نہیں ہے یاشک ہوکہ آٹھ فرسخ ہے کہ نہیں لیکن راستہ میں معلوم ہوگیاکہ آٹھ فرسخ ہے تونماز کوقصرپڑھے اورجوپوری پڑھ چکاہے ان کااعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۳۰۰ ۔ دوایسے مقامات جن کافاصلہ چارفرسخ سے کم ہواگر چندمرتبہ رفت وآمدکرے تواس کی نمازقصرنہ ہوگی چاہے اس کاسفر آٹھ فرسخ یااس سے زیادہ کاہوگیاہو۔
مسئلہ ۱۳۰۱ ۔ اگرکسی مقام کے دوراستے ہوں ایک راستہ آآٹھ فرسخ سے کم ہواوردوسراآٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہوتواگرپہلے راستے سے جائے توپوری نمازپڑھے اوراگردوسرے راستے سے جائے توقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۰۲ ۔ اگرشہرکی دیوراہے توآٹھ فرسخ کی مسافت کاحساب شہرکی دیوارسے کرناچاہئے اوراگردیوارنہیں شہرکے آخری گھروں سے ہوگا، اورغیرمعمولی بڑے شہروں کاکوئی خاص اورعلیحدہ حکم نہیں ہے جب تک ایک محلہ سے دوسرے محلہ تک جانے کوعرفاسفرشمارنہ کیاجائے۔
دوسری شرط:ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو۔
اگرکوئی شخص ایسی جگہ تک کاسفرکرے جوآٹھ فرسخ سے کم ہواور پھرمقصدتک پہنچنے کے بعدیہ ارادہ کرے کہ میں ابھی اورسفر کروں گااور مجموعی طورپرمسافت کی آٹھ فرسخ ہوتوچونکہ اس نے ابتداء سے آٹھ فرسخ کے سفرکاقصدنہیں کاتھااس لئے پوری نمازپڑھے گالیکن اگرراستے میں یامنزل پرپہنچ کرمزیدآٹھ فرسخ کا یااس سے زیادہ کاقصدکرے تواس کی نمازقصرہوگی۔
مسئلہ ۱۳۰۳ ۔ گمشدہ چیزکوتلاش کرنے والاچونکہ اس کونہیں معلوم کہ کتناسفرکرے گاکیونکہ جب تک اس کامقصدپورانہ ہوجائے وہ سفرکرے گااس لئے وہ نماز پوری پڑھے گا، البتہ واپسی پراگردس دن ٹہرنے کی جگہ یاوطن تک آٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہوتاہوتونمازقصرپڑھے گا۔
مسئلہ ۱۳۰۴ ۔ مسافراس صورت میں نمازقصرپڑھے گاکہ پختہ ارادہ رکھتاہوکہ آٹھ فرسخ تک جائے پس جوشخص شہرسے نکلے اوراس کاقصدیہ ہے کہ ساتھی ملنے کی صورت میں سفرکرے گاتواگراسے ساتھی مل جانے کایقین ہوتونمازقصرہواوراگریہ اطمینان نہ ہوتونمازی پوری پڑھے گا۔
مسئل ہ ۱۳۰۵ ۔ جس کاارادہ آٹھ فرسخ کرنے کاہوتوجب ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں شہرکی دیوارنظرنہ آئے اوراذان بھی سنائی نہ دے تونمازقصرپڑھے اگرچہ روزانہ تھوڑاتھوڑاسفرکرے، لیکن اگرروزانہ اتناکم راستہ طے کرتاہے کہ لوگ نہیں کہے کہ مسافر ہے تونمازپوری پڑھے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ قصراورتمام دونوں میں جمع کرے۔
مسئلہ ۱۳۰۶ ۔ جس کاسفردوسرے کے تابع ہو، مثلاملازم جوکہ ا پنے آقاکے ساتھ سفرکررہاہے تواگراس کومعلوم ہے کہ اس کاسفرآٹھ فرسخ ہے تب تونمازکوقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۰۷ ۔ جس کاسفردوسرے کے تابع ہواگراسے معلوم ہویاگمان رکھتاہوکہ چارفرسخ سے پہلے وہ جداہوکرواپس آجائے تونمازی پوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۰۸ ۔ جس کاسفردوسرے کے تابع ہواگراسے شک ہوکہ چارفرسخ سے پہلے جداہوجائے گایانہیں توظاہریہ ہے کہ پوری نمازپڑھے مگریہ کہ اطمینان رکھتاہوکہ چارفرسخ پہنچنے سے پہلے جدانہیں ہوگا،اوراسی طرح اگرشک کاسبب یہ ہوکہ کسی مانع پیداہونے کااحتمال ہوتواگریہ احتمال لوگوں کی نظرمیں بجاہوتوضروری ہے کہ نمازقصرپڑھے۔
تیسری شرط:راستے میں اپناارادہ نہ بدل دے۔
اگرمسافرچارفرسخ تک پہنچنے سے پہلے سفرکاارادہ بدل دے یاترددحاصل ہوجائے تونماز پوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۰۹ ۔ اگرچارفرسخ کے بعدسفرکاارادہ بدلے تواگرٹھرنے میں اورواپسی میں تردد ہوجائے یاوہیں پردس ٹھرناچاہے تونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۱۰ ۔ اگرچارفرسخ کے بعدسفرکاارادہ بدلے اورواپسی کاارادہ ہوتونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۱۱ ۔ اگرکسی جگہ جانے کے لئے روانہ ہواورکچھ راستہ طے کرنے کے بعددوسری جگہ کی طرف جانے کاارادہ کرے اگرپہلی جگہ سے لے کرجہاں تک جاناچاہتاہے آٹھ فرسخ ہے تونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۱۲ ۔ اگرایسی جگہ کاقصدکرے جس کی مسافت آٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہواورآٹھ فرسخ سے پہلے ترددکاشکارہوجائے کہ باقی راستہ جائے یانہ جائے اوروہاں تھوڑی دیرٹہرکر طے کرلے کہ باقی راستہ بھی طے کروں گاتونماز کوقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۱۳ ۔ اگرمسافرآٹھ فرسخ سے پہلے ترددکاشکارہوجائے کہ باقی راستہ جائے یانہ جائے اورتردد کی صورت میں تھوڑا راستہ بھی چلاہواس کے بعدسفرکے جاری رکھنے کافیصلہ کیاہوتواگرباقی بچاہواراستہ اورترددمیں مبتلاہونے سے پہلے قصدکے ساتھ طے کیاہواراستہ دونوں ملاکرآٹھ فرسخ یازیادہ ہوجاتاہے توپھرنمازکوقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۱۴ ۔ اگرآٹھ فرسخ جانے سے پہلے مرددہوجائے کہ باقی راستہ جائے یانہ جائے اورترددکی حالت میں کچھ راستہ طے کیااس کے بعدسفرجاری رکھنے کافیصلہ کیاتواگربقیہ سفرآٹھ فرسخ ہویاکہ جاناچارفرسخ ہوجوکہ واپسی کے ساتھ آٹھ فرسخ ہوجائے تونمازقصرپڑھے، لیکن اگرترددسے پہلے اورترددکے بعدجومسافت ہیں سب ملاکرآٹھ فرسخ ہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازقصربھی پڑھے اورپوری بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۱۵ ۔ جس شخص کویہ علم نہ ہوکہ آٹھ فرسخ پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرے گایانہیں یادس دن کسی جگہ ٹہرے گایانہیں تواس کونمازپوری پڑھنی چاہئے ۔
مسئلہ ۱۳۱۶ ۔ وہ شخص جوآٹھ فرسخ پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرناچاہتاہے یاکسی جگہ دس دن رہناچاہتاہے، اسی طرح وہ متردد شخص جس نے گزرنے اوررہنے کاارادہ ترک کردے تب بھی ضروری ہے کہ نمازپوری پڑھے، لیکن اگرباقی ماندہ راستہ آٹھ فرسخ ہویاچارفرسخ ہواورجانے آنے کاارادہ بھی ہوتوضروری ہے کہ نمازقصرپڑھے۔
پانچویں شرط:اس کاسفرکسی حرام کے لئے نہ ہو۔
اگرچوری، خیانت یاکسی دوسرے حرام کام کے لئے سفرکرے تونماز پوری پڑھے اسی طرح اگرخودسفرحرام ہو، مثلاایساسفرجو اس جواس کے بدن کے لئے اچھاخاصانقصان دہ ہویاعورت شوہرکی اجازت کے بغیرسفرکرے یالڑکاماں باپ کی ممانعت کے باوجودسفرکرے کہ جس سے والدین کواذیت ہوتونمازپوری پڑھنی چاہئے، البتہ اگرسفرواجب ہوجیسے اس پرحج واجب ہوتوماں باپ، شوہرکی رضامندی شرط نہیں ہے اورنمازقصرہے۔
مسئلہ ۱۳۱۷ ۔ جوسفرماں باپ کے لئے اذیت کاباعث ہووہ حرام ہے اورانسان کے لئے ضروری ہے ایسے سفرمیں نمازپوری پڑھے اورروزہ بھی رکھے۔
مسئلہ ۱۳۱۸ ۔ اگرخودسفرحرام نہ ہواورنہ ہی حرام کے لیے سفرہولیکن اثنائے سفرمیں گناہ کرے، مثلاشراب پئے یاغیبت کرے یالوگوں پرظلم کرے تونمازقصررہے گی۔
مسئلہ ۱۳۱۹ ۔ اگرکسی واجب کام سے فرارکے لئے سفرکرے تونماز پوری ہوگی، مثلامقروض اپناقرض اداکرسکتاہے اورقرض خواہ بھی مطالبہ کررہاہے ،لیکن وہ قرض نہ دینے کے لئے مسافرت کرجائے اورراستہ میں قرض اداکرناممکن نہ ہوتوبنابراحتیاط واجب نمازقصربھی پڑھے اورپوری بھی،لیکن اگرترک واجب کے لئے مخصوصاسفرنہ کرے تونمازکوقصرپڑھے اوراحتیاط مستحب ہے قصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۲۰ ۔ اگرسفرتوحرام نہ ہولیکن غصبی سواری پرسفرکرے تونمازکوقصرپڑھے لیکن اگرغصبی زمین میں سفرکرے توبنابر احتیاط واجب نمازقصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۲۱ ۔ اگرکسی ظالم کے ساتھ سفرکرے اوراس کی مسافت ظالم کی مددشمارکی جائے تواس کاسفرحرام ہے اس لئے نمازکو تمام پڑھے، ہاں اگرمجبورہو یا ایک اہم ترین فریضہ کی انجام دہی مقصودہو،مثلاکسی مظلوم کی جان بچانے کے لئے اس ظالم کے ساتھ سفرکرے تونمازقصررہے گی۔
مسئلہ ۱۳۲۲ ۔ سیروتفریح کی غرض سے یاتبدیلی آب وہواکی خاطرسفرجائزہے اورنمازبھی قصرہے۔
مسئلہ ۱۳۲۳ ۔ اگرلہوولعب کے لئے یاخوش گزارنی کے لئے شکارپرجائے توسفرحرام ہے اورنمازپوری پڑھنی چاہئے اوراگر روزی کمانے کے لئے شکارپہ جائے تواس کاسفرجائزہے اورنمازقصرہے اوراگرآمدنی بڑھانے کے لئے سفرہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازقصربھی پڑھے اورپوری بھی پڑھے لیکن روزہ رکھناچاہئے۔
مسئلہ ۱۳۲۴ ۔ گناہ کے سفرسے پلٹ کرآنے والااگرتائب ہوجائے تونمازقصرپڑھے اوراگرتوبہ نہیں کہ تونمازپوری پڑھے جب کہ لوگوں کی نظرمیں اس کاواپس آنے کاسفربھی سفرمعصیت کاحصہ شمارہوتاہواوراحتیاط مستحب ہے کہ قصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۲۵ ۔ گناہ کاسفرکرنے والااثناء راہ میں اپنے ارادہ سے پلٹ جائے اورباقی سفرآٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہویاآمد ورفت کامجموعہ آٹھ فرسخ ہواورآنے جانے کاارادہ بھی رکھتاہواورجاناچارفرسخ ہوتونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۲۶ ۔ اگرگناہ کی نیت سے سفرنہ کرے لیکن راستہ میں ارادہ بدل جائے اورباقی راستہ گناہ کے ارادے سے سفرکرے تونمازپوری پڑھے، ہاں اس قصدسے پہلے جونمازیں قصرپڑھ چکاہے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
چھٹی شرط:صحرانشین خانہ بدوش نہ ہو۔
جولوگ خانہ بدوش ہوں، یعنی ان کاکوئی مخصوص وطن نہ ہوبلکہ جہاں بھی ان کے اوران کے حیوانوں کے لئے پانی اورخوراک مل جائے وہیں قیام کرلیتے ہیں توایسے افراد سفرمیں اپنی نمازپوری پڑھیں گے۔
مسئلہ ۱۳۲۷ ۔ اگرکوئی صحرانشین پڑاوکی جگہ اوراپنے حیوانات کے لئے چراگاہ تلاش کرنے کے لئے سفرکرے اوراس کاسفرآٹھ فرسخ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازقصراورتمام دونوں پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۲۸ ۔ اگرخانہ بدوش حضرات دوسرے لوگوں کی طرح حج، یاتجارت یاایسی مسافرت کریں جوان کی زندگی کاجزء نہ ہوتونمازقصرپڑھیں۔
ساتویں شرط: اس کامشغلہ اورکام مسافرت نہ ہو۔
ڈرائیور، پائلیٹ، کشتی چلانے والے، شتربان اوران جیسے حضرات اگرچہ اپنے گھرکاسامان لے جانے کے لئے ہی سفرکریں توپہلے سفرکے علاوہ نمازپوری پڑھیں لیکن پہلے سفرمیں اگرچہ زیادہ طولانی ہوجائے ان کی نمازقصرہوگی۔
مسئلہ ۱۳۲۹ ۔ جس کاپیشہ مسافرت ہواگروہ اپنے پیشے کے علاوہ کسی دوسرے کام کے لئے سرکرے، مثلاحج یازیارت یاکسی اورمقصدکے لئے جائے، تودوسرے مسافروں کی طرح وہ بھی نمازقصرپڑھے لیکن اگرڈرائیوراپنی گاڑی کوکرایہ پردے اورضمنا خودبھی زیارت کرے توڈرائیورکوپوری نمازپڑھنی چاہئے۔
مسئلہ ۱۳۳۰ ۔ وہ قافلہ بردارجوحاجیوں کومکہ پہنچانے کے لئے صرف حج کے مہینوں میں سفرکرتاہے وہ نمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۳۱ ۔ جس شخص کاپیشہ قافلہ برداری ہواوروہ حاجیوں کوراہ دورسے مکہ لے جاتاہے اگروہ تمام سال یاسال کا اکثرحصے سفرمیں رہے تونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۲۳۲ ۔ سال کے کچھ حصے میں مسافرت جس کاپیشہ ہو، مثلاوہ ڈرائیورجوصرف گرمیوں یاسردیوں میںڈرائیونگ کرتاہے توجس سفرمیں اپنے کام میں مشغول ہے اس میں نمازپوری پڑھے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازقصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۳۳ ۔ جوشخص صرف شہرکے اندرڈرائیوری کرتاہے اگراتفاقا شہرسے باہرسفرپہ جائے اورمسافت آٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہوتونماز قصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۳۴ ۔ جس کاپیشہ مسافرت ہواگردس روزیااس سے زیادہ کسی جگہ رہ جائے خواہ وہ اس کاوطن ہویانہ ہواورخواہ پہلے ہی سے دس دن کی نیت کی ہویانہ کی ہوتودس دن کے بعدجوپہلاسفرکرے اس میں نمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۳۵ ۔ جس کاپیشہ مسافرت ہواگروطن کے علاوہ کسی جگہ دس دن رہ جائے توپہلے سفرجودس دن کے بعدکرے نمازقصرپڑھے ا وراگرابتداء سے دس دن رہنے کاارادہ نہ رکھتاہوتواحتیاط واجب کی بناء پرنمازقصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۳۶ ۔ جس کاپیشہ مسافرت ہے ا گرشک ہوکہ دس دن قیام کیاتھاکہ نہیں توپھرنمازپوری پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ ۱۳۳۷ ۔ جن لوگوں نے اپناکوئی وطن نہیں بنایابلکہ سیروسیاحت میںزندگی بسرکرتے ہیںوہ نمازپوری پڑھیں گے۔
مسئلہ ۱۳۳۸ ۔ جس کاپیشہ سفرتونہیں ہے لیکن کسی شہریادیہات میں اس کامال ہے جس کولادنے کے لئے پے درپے سفرکرتا ہے تووہ اپنی نماز قصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۳۹ ۔ جوشخص اپنے وطن کوچھوڑدے اوراپنے لئے دوسراوطن انتخاب کرناچاہتاہے تومسافرت میں نمازقصرپڑھے اگرخانہ بدوش نہ ہو۔
آٹھویں شرط : حدترخص تک پہنچ جائے ۔
جوشخص حدترخص تک پہنچ جائے، یعنی وطن یااپنے ٹہرنے کی جگہ سے اتنادورہوجائے کہ شہرکی اذان کی آوازکونہ سنے اورشہرکی دیواروں کونہ دیکھے، لیکن ہوامیں گردوغباروغیرہ نہ ہوجودیکھنے میں رکاوٹ بنے یاسننے کی مانع ہواوریہ ضرروی نہیں کہ اتنادورہوجائے کہ میناراورگنبدبھی نظرنہ آئیں بلکہ اگراتنی مقداردورہوجائے کہ شہرکے گھروں کی دیواریں پوری طور پرپہچان میں نہ آتی ہوں توکافی ہے، اوراگرکوئی اس جگہ سے جہاں دس دن رہنے کاقصدکیاہوآٹھ فرسخ تک نکلنے کاارادہ کرکے نکلے اگرحدترخص پہنچنے سے پہلے نمازپڑھناچاہتاہے احتیاط واجب یہ ہے کہ پوری اورقصردونوں پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۳۴۰ ۔ سفرکرنے والااگرایسی جگہ پہنچ جائے کہ اذان سنائی نہ دے لیکن شہرکی دیوریں نظرآتی ہویااس کے برعکس ہوتوایسی جگہ پرنمازکواحتیاط واجب کی بناء پرقصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۴۱ ۔ جومسافروطن کوپلٹ رہاہوجب وطن کی دیوارکودیکھ لے اوراذان آوازسن لے تونمازپوری پڑھے، اسی طرح وہ مسافرجوکسی جگہ دس دن رہناچاہتاہے جب اس کی دیواردیکھے اوراذان سن لے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازمیں تاخیرکرے یہاں تک کہ منزل پنہچ جائے یانمازقصراورپوری دونوں پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۴۲ ۔ اگرشہربلندجگہ پرہے جودورسے نظرآتاہے یااتنانیچے ہے کہ انسان تھوڑاسادورہوجائے اس کی دیوارنہیں دیکھ سکتاتوجوشخص ایسے شہرسے سفرکرناچاہتاہے وہ جب اتنادورنکل جائے کہ اگریہ شہرہموارزمین میں ہوتاتواس کی دیواروہاں نظر نہ آتی تونمازقصرپڑھے اوراسی طرح اگرگھروں کی پستی وبلندی معمول سے زیادہ ہے تومعمول کااندازہ لگادیاجائے۔
مسئلہ ۱۳۴۳ ۔ اگرایسی جگہ سے سفرکرے جہاں گھراوردیوارنہیں توجب ایسی جگہ پہنچ جائے کہ اگراس جگہ دیوارہوتی تواس جگہ سے نظرآتی تونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۴۴ ۔ اگراتنادورہوجائے کہ اسے معلوم نہ ہوکہ جوآوازسن رہاہے یہ اذان کی آوازہے یاکسی اورچیزکی تونمازقصر پڑھے لیکن اگراسے معلوم ہوکہ اذان کہی جارہی ہے لیکن اس کے کلمات میں تشخیص نہیں کرسکتاتونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۴۵ ۔ اگراتنادورہوجائے کہ آخری گھروں کی اذان تونہیں سن سکتالیکن شہرکی اذان جوعام طورسے بلندجگہ پر کہی جاتی ہے سن رہاہے تونمازقصرنہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۴۶ ۔ اگرایسی جگہ پہنچ جائے کہ شہرکی اذان جومعمولابلند جگہ پردی جاتی ہے نہ سنے، لیکن وہ اذان جودوسری بہت بلند جگہ پردی جاتی ہے اسے سن لے تونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۴۷ ۔ اگرکسی کی آنکھ یاکان یااذان کی آوازمعمول کے مطابق نہ ہوتواسے اس جگہ نمازقصرپڑھناچاہئے جہاں متوسط بینائے والے لوگ آبادی کی دیواروں کونہ دیکھ سکیں اورمتوسط قوت سماعت والے لوگ عام طورپر ہونے والی اذان کی آواز نہ سن سکیں۔
مسئلہ ۱۳۴۸ ۔ اگرکسی کوشک ہوکہ حدترخص تک پہنچاکہ نہیں اورنمازپڑھناچاہتاہے تونمازپوری پڑھے، اورواپسی پربھی اگر شک کرے حدترخص پہنچایانہیں تونمازقصرپڑھے اورجس مقام پراشکال لاحق ہوجائے وہاں یاتونمازنہ پڑھے یاقصراورپوری دونوں پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۴۹ ۔ مسافراگرسفرکے دوران اپنے وطن سے عبورکرے جب ایسی جگہ پہنچ جائے کہ وطن کی وہاں سے دیواردیکھے اور اذان سن لے تونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۵۰ ۔ مسافراگرسفرکے دوران وطن پہنچ جائے توجب تک وطن میں ہے نمازپوری پڑھے لیکن اگرچاہے کہ وہاں سے آٹھ فرسخ تک جائے اورآئے توجب حدترخص پہنچ جائے نمازکوقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۵۱ ۔ وطن سے مرادوہ جگہ ہے جس کوانسان اپنی زندگی گزارنے کے لئے منتخب کرتاہے خواہ وہاں پیداہواہویاپیدا نہ ہوا ہواورخواہ ماں باپ کاوطن ہویاخوداس نے اپنے لئے منتخب کیاہوبشرطیکہ وہاں ہمیشہ رہنے کاقصدرکھتاہو۔
مسئلہ ۱۳۵۲ ۔ اگرانسان کسی جگہ کوجواس کاوطن نہیں ہے کچھ مدت تک رہنے کے لئے انتخاب کرے اوراس کے بعددوسری جگہ جانے کاارادہ رکھتاہوتووہ جگہ اس کاوطن شمارنہیں ہوگی۔
مسئلہ ۱۳۵۳ ۔ اپنے اصلی وطن کے علاوہ کوئی جگہ جب تک وہاں ہمیشہ رہنے کاقصدنہ رکھتاہواس کاوطن شمارنہیں ہوگی مگریہ کہ بغیرقصدکے اتنااس جگہ پررہے کہ وہاں کے رہنے والے لوگ یہ کہیں کہ یہ اس شخص کاوطن ہے۔
مسئلہ ۱۳۵۴ ۔ ہوسکتاہے کہ انسان دوجگہوں پرقیام کرے، مثلاچھ ماہ ایک شہرمیں اورچھ ماہ دوسرے شہرمیں رہے تودونوں شہر اس کے وطن میں شمارہوں گے لیکن اگردوسے زیادہ مقامات کوزندگی گزارنے کے لئے اختیار کیاہے تواحتیاط واجب کی بناء پرتیسری جگہ اوراس سے زیادہ نمازقصربھی اورپوری بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۵۵ ۔ اصلی وطن اورغیراصلی وطن کے علاوہ دیگرکسی بھی جگہ اگردس دن کاقصدنہ کرے تواس کی نمازقصرہوگی خواہ کوئی ملکیت وہاں رکھتاہویانہیں، خواہ وہاں چھ ماہ گزارچکاہویانہیں۔
مسئلہ ۱۳۵۶ ۔ اگرکسی ایسی جگہ پہنچ جائے جوکبھی اس کاوطن رہاہواوراب اس کوچھوڑدیاہویاایسی جگہ پہنچے جواس کااختیارکردہ وطن تھااوراب وہاں رہنے کاقصدنہ رکھتاہوتونمازپوری نہ پڑھے اگرچہ ابھی تک کوئی دوسراوطن اختیارنہ کیاہو۔
مسئلہ ۱۳۵۷ ۔ اگرمسافرکسی جگہ مسلسل دن رہنے کاارادہ کرے یااس کومعلوم ہوکہ مجبورایہاں دس دن رکناپڑے گاتواس کی نمازوہاں پوری ہوگی۔
مسئلہ ۱۳۵۸ ۔ اگرمسافرکسی جگہ دس دن رہنے کاارادہ رکھتاہے توضروری نہیں کہ پہلی رات اورگیارہویں رات بھی وہاں گزارنے کاقصد کرے پس اگروہ قصدکرے کہ پہلے دن کی اذان صبح سے دسویں دن کے غروب تک یہاں رہے گاتوہ پوری نمازپڑھے اوراس طرح مثلا اس کاقصدیہ ہوکہ پہلے دن کے ظہرسے لے کرگیارہویں دن کے ظہرتک رہے گاتونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۵۹ ۔ جومسافرکسی جگہ دس دن رہناچاہتاہے تووہ اس صورت میں نمازپوری پڑھے گاکہ ایک جگہ ہی رہنے کاقصدکرے لیکن اگرقصد کرے کہ دس دن نجف اورکوفہ میں رہوں گاتونمازقصرپڑھناچاہئے۔
مسئلہ ۱۳۶۰ ۔ جس مسافرنے کسی جگہ دس دن ٹہرنے کاارادہ کیاہو اگروہ شروع ہی سے ارادہ رکھتاہوکہ دس دن کے قیام کے دوران اطراف میں بھی جائے گاتوجس جگہ جاناچاہتاہے اگروہ حدترخص سے زیادہ دورنہیں ہے تب تونمازکوپوری پڑھے اوراگروہ جگہ حدترخص سے باہرہوتوسارے دن میں نمازقصرپڑھے گالیکن اگرایک دوگھنٹے کے لئے جائے اورپلٹ آئے چاہے روزانہ ایساہوتوسارے دن میں نمازپوری پڑھے گا۔
مسئلہ ۱۳۶۱ ۔ اگرمسافرکاارادہ دس دن قیام کانہ ہولیکن یہ ارادہ رکھتاہوکہ مثلااگرمیرادوست آجائے گایااچھاسامکان مل جائے گاتودس دن قیام کروں گاتوایسی صورت میں اس کی نمازقصرہوگی۔
مسئلہ ۱۳۶۲ ۔ اگرمسافرکاارادہ ہوکہ کسی جگہ پردس دن قیام کرے گالیکن یہ بھی احتمال ہوہ ہوسکتاہے کوئی رکاوٹ پیداہوجائے تواگرلوگ اس قسم کے احتمال کواہمیت نہ دیتے ہوں تونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۶۳ ۔ اگرمسافرکومعلوم ہوکہ آخرماہ میں دس دن یادس سے زیادہ باقی ہیں اوروہ قصدکرے کہ کسی جگہ پرآخرماہ تک رہوں گاتونماز پوری پڑھے لیکن اگراس کومعلوم نہ ہوکہ آج مہینہ کی کونیسی تاریخ ہے اورآخرماہ میں کتنے دن رہ گئے ہیں اس کے باوجود وہ قصدکرے کہ آخرماہ تک قیام کروں گاتونمازقصرپرھے اگرچہ واقعی آخرماہ میں دس دن یااس سے زیادہ باقی ہوں۔
مسئلہ ۱۳۶۴ ۔ اگرمسافردس دن کے قیام کاارادہ کرنے کے بعدمنصرف ہوجائے یامرددہوجائے تواگریہ انصراف یاتردد کوئی چاررکعتی نماز پڑھنے سے پہلے ہواہوتواس کی نمازقصرہے اوراگرایک چاررکعتی نمازپڑھ لینے کے بعدانصراف یاتردد کی صورت ہوئی ہے توجب تک وہاں ہے نمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۶۵ ۔ جس مسافرنے کسی جگہ دس دن رہنے کاارادہ کیاہووہ اگرروزہ رکھ لے اورظہرکے بعدوہاں رہنے سے منصرف ہوجائے تواگرایک چاررکعتی نمازوہاں پڑھ چکاہے تواس کاروزہ صحیح ہے اورجب تک وہاں رہے اپنی نمازیں پوری پڑھے اوراگروہاں ایک چاررکعتی نمازنہیں پڑھ چکاہے تونمازیں قصرپڑھے اوراس دن کاروزہ صحیح ہوگااوربعدوالے دنوں میں روزہ نہیں رکھ سکتا۔
مسئلہ ۱۳۶۶ ۔ اگرشک ہوجائے کہ چاررکعتی نمازپڑھنے کے بعدمنصرف یامردد ہواہے یااس سے پہلے، تونمازقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۶۷ ۔ اگرمسافرقصرکی نیت سے نمازشروع کرے اوراثنائے نمازمیںعزم محکم کرلے کہ دس دن یازیادہ قیام کروں گاتونمازکوچار رکعت پرتمام کرے۔
مسئلہ ۱۳۶۸ ۔ اگرکسی جگہ دس دن رہنے کاارادہ تھااورچاررکعتی نمازشروع کی لیکن نمازکے درمیان پختہ ارادہ کرلیاکہ دس دن قیام نہیں کروں گاتواگرابھی تیسری رکعت نہیں شروع کی ہے تونمازکوقصرکرے اوردورکعت پرختم کردے اورباقی نمازوں کوبھی قصرپڑھے اوراگر تیسری رکعت میں پہنچ گیاہے تواس کی نمازباطل ہے جب تک وہاں پررہے اپنی نمازقصرپڑھے اگرچہ تیسری رکعت کے رکوع میں پہنچ گیاہے، لیکن احتیاط واجب ہے کہ نمازکوقصربھی پڑھے اورپوری بھی۔
مسئلہ ۱۳۶۹ ۔ جس نے کسی جگہ دس دن کے قیام کاارادہ کرلیاہو اگردس دن سے زیادہ بھی رہے توجب تک سفرنہ کرے نماز پوری پڑھتا رہے یہ ضروری نہیں کہ دس دن گزرنے کے بعدپھردس دن ٹہرنے کی نیت کرے۔
مسئلہ ۱۳۷۰ ۔ دس دن ٹہرنے والے مسافرکوحق ہے کہ مستحبی روزہ رکھے ، واجبی روزہ تواس کورکھناہی ہوگا، ا سی طرح وہ نماز ظہروعصر، عشاء کے نوافل بھی پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۳۷۱ ۔ جس مسافرنے کسی جگہ دس دن ٹہرنے کاقصدکرلیاہو اگرایک چاررکعتی نمازپڑھنے کے بعدایک ایسی جگہ چلاجائے جوچار فرسخ سے کم ہواورپھرجائے قیام پرواپس آجائے تونمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۷۲ ۔ جس مسافرنے کسی جگہ دس دن ٹہرنے کاقصد کرلیاہواگرایک چاررکعتی نمازپڑھنے کے بعدایک ایسی جگہ چلاجائے جوچار فرسخ سے کم ہواوردس دن قیام کرناچاہے توراستے میں اورجائے قیام پرنمازپوری پڑھے، لیکن اگردوسری جگہ آٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہو توراستہ میں نمازقصرپڑھے اوردوسرے جائے قیام پرجہاں دس دن کے قیام کاارادہ ہے وہاں نمازپوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۷۳ ۔ جس مسافرنے کسی جگہ دس دن کے قیام کاارادہ کرلیاہواگرایک چاررکعتی نمازپڑھنے کے بعدچاہے کہ ایسی جگہ جائے جوچار فرسخسے کم ہوتواگرمرددہوکہ وہ اپنے پہلے محل کی طرف پلٹ آئے گایانہیں یابالکل پلٹ آنے سے غافل ہویایہ کہ پلٹ آنے کوچاہتاہے لیکن مرددہے کہ دس دن یہاں رہے گایانہیں یاوہاں دس دن رہنے اور وہاں سفرکرنے سے غافل ہوتوجب سے جاتاہے لوٹنے تک اورلوٹنے کے بعدنمازیں پوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۷۴ ۔ اگرمسافریہ سوچتے ہوئے کسی جگہ دس دن کاارادہ کرے کہ اس کے دوست بھی دس ٹہرنے والے ہیں اورایک چاررکعتی نماز پڑھنے کے بعدمعلوم ہوکہ دوستوں نے اقامہ عشرہ کی نیت نہیں کی ہے اوریہ بھی اپنی نیت سے منصرف ہوجائے توجب تک وہاں رہے نماز پوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۷۵ ۔ اگرمسافرآٹھ فرسخ تک پہنچنے کے بعدتیس دن تک کسی جگہ رک جائے اوران تیس دنوں میں جانے اوررہنے کے درمیان مردد رہے توتیس دن گزرجانے کے بعداگرچہ تھوڑاساوقت ہی وہاں رہے تونمازپوری پڑھے،اوراگرآٹھ فرسخ تک پہنچنے سے پہلے جانے میں مردد ہوجائے توجس وقت سے مردد ہواہے نمازپوری پڑھے گا۔
مسئلہ ۱۳۷۶ ۔ اگرکوئی مسافرکسی جگہ نودن یااس سے کم قیام کاارادہ کرے اورجب یہ مدت پوری ہوجائے توپھراتنے ہی دنوں کاقصد کرے تووہ اس طرح تیس دن تک نمازقصرپڑھے گااوراکتیسویں روزسے نمازپوری پڑھنے لگے۔
مسئلہ ۱۳۷۷ ۔ جومسافرتیس دن تک مرددرہا تووہ اس صورت میں نمازپوری پڑھے گاکہ اگرتیس دن ایک ہی جگہ رہتالیکن اگرکسی دوسری جگہ رہاہے توتیس دن کے بعدبھی نمازقصرپڑھے۔
قصرکے مختلف مسائل:
مسئلہ ۱۳۷۸ ۔ مسافرکوچارجگہوں پراختیارہے چاہے نمازپوری پڑھے یاقصرپڑھے: ۱ ۔ شہرمکہ۔ ۲ ۔ مدینةالنبی۔ ۳ ۔مسجدکوفہ۔ ۴ ۔ حرم حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام، بلکہ وہ مسجدجوحرم کے ساتھ متصل ہے اس میں بھی نمازپوری یاقصر پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۳۷۹ ۔ جس کومعلوم ہے کہ وہ مسافرہے اوریہ بھی جانتاہے کہ مسافرکونمازقصرپڑھنی چاہئے اگروہ عمداپوری نمازپڑھتاہے ان چار جگہوں کے علاوہ تواس کی نمازباطل ہے، اسی طرح اگربھول جائے کہ مسافرکی نمازقصرہے اورپوری پڑھ لے توبنابراحتیاط واجب نماز کواعادہ کرے اوروقت نہ ہونے کی صورت میں قضاکرے۔
مسئلہ ۱۳۸۰ ۔ جوشخص جانتاہے کہ وہ مسافرہے اورنمازکوقصرپڑھنی چاہئے اگرملتفت ہوئے بغیراپنی عادت کے مطابق پوری نمازپڑھے تواس کی نمازباطل ہے، اوراسی طرح ا گرحکم مسافراورسفرکوبھول جائے تواگروقت ہوتونمازدوبارہ پڑھے بلکہ اگروقت نہ بھی ہوتواحتیاط واجب کی بناپراس کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۳۸۱ ۔ جس مسافرکویہ نہیں معلوم کہ اسے نمازقصرپڑھنی چاہئے اگروہ نمازپوری پڑھ لے تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۳۸۲ ۔ جس مسافرکواجمالی طورسے یہ معلوم ہوکہ نمازقصرہے اگروہ بعض جزئیات کونہیں جانتا، مثلااس کویہ معلوم نہیں ہے کہ قصرکے لئے آٹھ فرسخ کی مسافرت شرط ہے، اوروہ نمازپوری پڑھ لے تونمازکابطورقصراعادہ کرے اوراگروقت نہ ہوتوبطورقصرقضاکرے۔
مسئلہ ۱۳۸۳ ۔ وہ مسافرجوجانتاہے کہ سفرمیں نمازقصرپڑھنی چاہئے اگراس گمان سے پوری نمازپڑھے کہ سفرآٹھ فرسخ سے کم ہے توجب اسے معلوم ہوجائے کہ اس کاسفرآٹھ فرسخ تھاتونمازکوبطورقصراعادہ کرے اوراگروقت نکلاہوتوقضاکوبطورقصربجالائے۔
مسئلہ ۱۳۸۴ ۔ اگرکوئی یہی بھول جائے یکہ میں مسافرہوں اورنمازپوری پڑھ لے پس اگروقت کے اندریادآجائے تب توقصرپڑھ لے اوراگر وقت گزرگیاہے توقضانہیں ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ اگرحکم کوبھولاتھاتووقت گزرنے کے بعدبھی اس کی قضاواجب ہے۔
مسئلہ ۱۳۸۵ ۔ جس کافریضہ پوری نمازپڑھناہو،اگروہ عمدایااشتباہا یاسہوا،سے نمازقصرپڑھ لے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۳۸۶ ۔ اگرچاررکعتی نمازپڑھتے ہوئے یادآجائے کہ وہ تومسافرہے یامتوجہ ہوجائے کہ اس کاسفرآٹھ فرسخ کاہے تواگرابھی تیسری رکعت کے رکوع میں چلاگیاہے تواس کی نمازباطل ہے اوراگرایک رکعت کے لئے بھی وقت ہوتونمازکوبطورقصرپڑھناضروری ہے۔
مسئلہ ۱۳۸۷ ۔ جوشخص نمازمسافرکے بعض خصوصیات کونہ جانتاہو مثلانہیں جانتاکہ جوشخص چارفرسخ تک جائے اوراسی دن یارات پلٹ آئے تواسے نمازقصرپڑھنی چاہئے اب اگرچاررکعتی نمازکی نیت سے شروع کی اورتیسری رکعت کے رکوع سے پہلے اسے مسئلہ معلوم ہوگیاتونمازدورکعت پرختم کردے، اوراگررکوع میں ملتفت ہوجائے تواس کی نمازباطل ہے تونمازکوبطورقصراعادہ کرے اگرایک رکعت کی مقداروقت سے باقی ہو۔
مسئلہ ۱۳۸۸ ۔ جس مسافرکونمازپوری پڑھنااگرمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے قصرکی نیت سے مشغول نمازہواوردوران نمازمسئلہ معلوم ہوگیا تونماز چارکعت پرختم کرے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازتمام ہونے کے بعددوبارہ اس نمازکوچاررکعت پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۸۹ ۔ اگرکوئی اوقت مسافرتھااوراس نے نمازنہیں پڑھی اس کے بعدوطن یاجہاں دس دن قیام کاارادہ تھاوہاں اگیاتونمازپوری پڑھے، اس کے برعکس اگراول وقت وطن میں یاجہاں دس دن قیام کاارادہ تھاوہاں تھااورنماز پڑھے بغیرسفرپڑروانہ ہوگیاتوسفرمیں نماز کوقصرپڑھے۔
مسئلہ ۱۳۹۰ ۔ سفرمیں چھوٹی ہوئی نمازوں کی جگہ قضاء بھی بطورقصرہوگی چاہے اس کواپنے وطن میں پڑھے، اسی طرح وطن میں چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضابطورتمام کرے چاہے قضاسفریہ میں کرے۔
مسئلہ ۱۳۹۱ ۔ مسافرکے لئے مستحب ہے کہ ہرقصرنمازکے بعدتیس مرتبہ ”سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر“ پڑھے۔
نمازقضا:
مسئلہ ۱۳۹۲ ۔ جوشخص واجب نمازکواس کے وقت میں نہ پڑھے اس پراس نمازکی قضاواجب ہے ، چاہے اس نے پورے وقت سوجانے کی وجہ سے یامستی کی وجہ سے نمازنہ پڑھی ہولیکن حائض یانفساء عورت سے حیض ونفاس میں جوروزانہ نمازچھوٹ گئی ہے اس کی قضا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۳۹۳ ۔ جس شخص کووقت گزرجانے کے بعدمعلوم ہوکہ پڑھی ہوئی نمازباطل تھی تواس نمازکی قضااس پرواجب ہے۔
مسئلہ ۱۳۹۴ ۔ اگربچہ نمازکاوقت ختم ہونے سے پہلے بالغ ہوجائے اگرچہ ایک رکعت جتناوقت ہی باقی ہوتونمازاداکی صورت میں اس پرواجب ہے لہذااگرنہ پڑھے تواس کی قضاواجب ہے اوریہی حکم ہے اگرعورت حالت حیض یانفاس میں ہواوروقت تمام ہونے سے پہلے ان کاعذربرطرف ہوجائے۔
مسئلہ ۱۳۹۵ ۔ جس شخص پرنمازجمعہ واجب ہے اگروہ اسے وقت پربجانہ لائے تواس پرلازم ہے کہ نمازظہرپڑھے اورنمازظہربھی اگرچھوٹ جائے تواس کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۳۹۶ ۔ واجب نمازکی قضادن رات میں جب چاہے بجالائے چاہے سفرمیں ہویاحضرمیں لیکن اگرگھرمیں سفرکی قضانمازیں بجالانا چاہے توقصربجالائے اوراگرحضرکی قضانمازوں کوسفرمیں بجالاناہوتوپوری قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۳۹۷ ۔ ایسی جگہوں پرجہاں مکلف کوقصرواتمام میں اختیارہے جیسے مسجدالحرام، اگرکچھ نمازیں چھوٹ جائے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ان جگہوں کے علاوہ جب قضابجالائے توقصرپڑھے اوراگران ہی مقامات پرقضاکوبجالاناہوتواسے اختیارہے چاہے قصرپڑھے، چاہے پوری پڑھے۔
مسئلہ ۱۳۹۸ ۔ جس کے ذمہ قضانمازیں ہوں اسے سستی نہیں کرنی چاہئے لیکن فوری اسے بجالاناواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۳۹۹ ۔ جس کے ذمہ قضانمازیں ہوںوہ مستحبی نمازیں پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۴۰۰ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ قضانمازوں میں ترتیب کی رعایت کی جائے اوروہ نمازیں جن کی ادامیں ترتیب ضروری ہے جیسے نماز ظہروعصرتولازم ہے ان کی قضامیں بھی ترتیب کی رعایت کی جائے۔
مسئلہ ۱۴۰۱ ۔ اگرکوئی شخص چاہے کہ یومیہ نمازوں کے علاوہ چندنمازوں کی مثلانمازآیات کی قضاکرے یامثلاکسی ایک یومیہ نمازکی اورچند غیریومیہ کی قضاکرے توان کاترتیب کے ساتھ قضاکرناضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۰۲ ۔ جس کوعلم نہ ہوکہ جونمازیں اسے سے قضاہوئی ہیں ان میں پہلی نمازکونسی ہے توضروری نہیں ہے کہ اس طرح پڑھے کہ ترتیب حاصل ہوجائے جس کوچاہے اسے پہلے پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۴۰۳ ۔ اگرمیت کی نمازقضاپڑھواناچاہیں اورورثہ کومیت سے جونمازیں فوت ہوئیں ہیں اس کی ترتیب کاعلم ہوتوضروری ہے کہ ترتیب کی رعایت کی جائے بنابراین متعدداشخاص کوایک میت کاایک ہی وقت میں میت کی قضانمازیں پڑھنے کے لئے اجیربناناصحیح نہیں ہے، اگرمتعدداجیرہوں توہرکے لئے جداگانہ وقت مقررکیاجاناچاہئے۔
مسئلہ ۱۴۰۴ ۔ جس کی کئی نمازیں قضاہوں اوران کی تعدادنہ جانتاہو مثلااس کومعلوم نہیں ہے کہ چاردن کی نمازچھوٹی ہے یاپانچ دن کی تواس کے لئے کم مقدارپراکتفاکرلیناکافی ہے لیکن اگرپہلے اس کوتعدادمعلوم رہی ہولیکن سہل انگاری کی وجہ سے بھول گیاتب احتیاط واجب ہے کہ زیادہ مقدارکوپڑھے۔
مسئلہ ۱۴۰۵ ۔ اگرکسی شخص پراسی دن کی قضانمازکاپڑھناہوجس دن کی اداکاپڑھنااس پرواجب تھاتواحتیاط واجب یہ ہے کہ ادانمازسے پہلے قضاپڑھ لے۔
مسئلہ ۱۴۰۶ ۔ کسی زندہ آدمی کی قضانمازیں اس کی زندگی میں کوئی بھی نہیں پڑھ سکتاخواہ وہ زندہ آدمی معذورہو۔
مسئلہ ۱۴۰۷ ۔ قضانمازوں کوجماعت کے ساتھ بھی پڑھاجاسکتاہے چاہے امام جماعت کی نمازاداہویاقضاہویہ بھی ضروری نہیں ہے کہ دونوں ایک ہی نمازپڑھیں،مثلااگرکوئی شخص صبح کی نمازکوامام کی نمازظہریاعصرکے ساتھ پڑھے توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۰۸ ۔ ایسابچہ جونیک وبدکوسمجھتاہواس کونمازاوردیگرعبادتوں کاعادی بنانامستحب ہے، بلکہ اس کوقضانمازوں کی تشویق (شوق دلانا) بھی مستحب ہے۔
والدین کی قضانمازیں بڑے بیٹے پرواجب ہیں:
اگرباپ اپنی نمازوں کوکسی عذرکی وجہ سے نہ پڑھ سکاتوبڑے بیٹے پرواجب ہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ وہ نمازیں جونافرمانی خداسے ترک کیاہووہ بھی واجب ہیں کہ باپ کے مرنے کے بعداس کی قضانمازیں پڑھے یاکسی کواجرت دے کرپڑھوائے، اوریہی حکم ہے اگر باپ نے بیماری یاسفرکی وجہ سے جن روزوں کونہ رکھاہواوراپنی زندگی میں بجالانے پرقدرت رکھتاہوتوبڑے بیٹے کے لئے ضروری ہے باپ کی وفات کے بعدان کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۴۰۹ ۔ احتیاط واجب ہے کہ ماں کی قضاروزے ،نمازیں جواس سے فوت ہوگئے ہوں بڑے بیٹے کوبجالاناچاہئے۔
مسئلہ ۱۴۱۰ ۔ بڑے بیٹے پرصرف وہ قضانمازیںواجب ہیں جووالدین سے قضاہوئی ہیں لیکن وہ نمازیں جواجرت کی وجہ سے یاکسی اوروجہ سے والدین پرواجب ہوئی تھی اوران کے ذمہ تھی ان کی قضابڑے بیٹے پرواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۱۱ ۔ میت کی قضانمازیں بیٹے کے بیٹے پرواجب نہیں ہیں جبکہ میت کی موت کے وقت وہی سب سے بڑاہو، اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اگرمیت کی کوئی اولادنہ ہوتووہ قضانمازوں کوبجالائے۔
مسئلہ ۱۴۱۲ ۔ ماں باپ کے مرتے وقت اگربڑالڑکانابالغ ہوتوجس وقت بھی بالغ ہوجائے اس وقت ماں باپ کے نمازوں کی قضابجا لائے، البتہ اگربالغ ہونے سے پہلے مرجائے تودوسرے لڑکوں پرکوئی تکلیف نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۱۳ ۔ اگرمیت کاایک لڑکاعمرکے لحاظ سے بڑاہودوسرا بالغ ہونے کے اعتبارسے بڑاہوتونمازکی قضااس پرواجب ہے جوعمرکے لحاظ سے بڑاہے۔
مسئلہ ۱۴۱۴ ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ بڑابیٹامیت کاوارث بھی ہو بلکہ اگرایسے اسباب (جیسے قتل،کفر) کی وجہ سے ارث سے محروم اورممنوع ہوتوبھی قضااس پرواجب ہے۔
مسئلہ ۱۴۱۵ ۔ اگریہی معلوم نہ ہوکہ بڑابیٹاکون ہے تونمازورو زوں کی قضاکسی پرواجب نہیں ہے، ہاں احتیاط مستحب ہے کہ وہ لڑکے آپس میں تقسیم کرلیں یاانہیں بجالانے کے لئے قرعہ اندازی کرکے ایک معین کردیں۔
مسئلہ ۱۴۱۶ ۔ اگرمیت نے وصیت کی ہوکہ اس کی قضانمازیں اورروزہ کے لئے اجیربنایاجائے تواگراجیرنمازاورروزوں کوصحیح طورپر بجالائے تواس کے بعدبڑے بیٹے پرکچھ واجب نہیں ہے، اسی طرح اگرکوئی دوسراشخص نمازوں اورروزوں کوبغیراجرت اداکردے توبڑے بیٹے سے ساقط ہیں۔
مسئلہ ۱۴۱۷ ۔ بڑابیٹاقضانمازوں کواپنے وظیفے کے مطابق عمل کرے بلندآوازسے یاآہستہ پڑھنے کے لحاظ سے لہذاضروری ہے کہ اپنی ماں کی صبح، مغرب اورعشاء کی قضانمازیں بلندآوازسے پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۱۸ ۔ اگردوبیٹے جڑواں پیداہوئے ہوں توجوبچہ پہلے باہرآیاہووہ بڑاکہلوائے گااگرچہ دوسرے کانطفہ پہلے منعقدہوچکاہو۔
مسئلہ ۱۴۱۹ ۔ اگرکوئی شخص وقت کے درمیانی حصہ میں اتنی مقدارگزرنے کے بعدجس میںوہ نمازپڑھ سکتاتھامرجائے تواس کی قضابڑے بیٹے پرواجب ہوگی۔
مسئلہ ۱۴۲۰ ۔ اگرمیت کابڑالڑکانہ ہویاباپ کی قضانمازیں پڑھنے سے پہلے مرجائے تودوسرے بیٹے پرقضاواجب نہیں ہے، ہاں اگرمیت نے وصیت کی ہوتواس کے مال کے تیسرے حصے سے اس پرعمل کیاجائے۔
نمازجماعت:
مسئلہ ۱۴۲۱ ۔ واجب نمازوں کوجماعت کے ساتھ پڑھنامستحب ہے خصوصانمازیومیہ کوجماعت کے ساتھ پڑھناچاہئے اورعلی الخصوص صبح، مغرب اورعشاء کے لئے زیادہ تاکیدکی گئی ہے، خصوصاجولوگ مسجدکے پڑوسی ہوں یااذان کی آوازسنتے ہوں۔
مسئلہ ۱۴۲۲ ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگرایک آدمی امام جماعت کی اقتداء کرے توہررکعت کاثواب ایک سوپچاس نمازکے برابرہے کہ اگر دوآدمی اقتدا کریں توہررکعت کاثواب چھ سونمازکے برابرہے اورنمازیوں کی تعدادجتنی بڑھتی جائے گی ان کاثواب بھی بڑھتاجائے گا، اور اگردس آدمیوں سے زیادہ اقتداکرنے والے ہوں تواگرتمام آسماں کاغذبن جائیں، تمام دریاروشنائی بن جائیں اوردرخت قلم بن جائیں اورتمام ملائکہ وجن وانس مل کرلکھیں تب بھی ایک رکعت کاثواب نہیں لکھ سکتے۔
مسئلہ ۱۴۲۳ ۔ بے اعتنائی اورسبک شمارکرتے ہوئے جماعت میں شریک نہ ہوناجائزنہیں ہے اورمناسب نہیں ہے کہ انسان بغیرعذرکے نماز جماعت ترک کرے۔
مسئلہ ۱۴۲۴ ۔ نمازجماعت کے لئے صبرکرنامستحب ہے، اول وقت تنہانمازپڑھنے سے جماعت کے ساتھ پڑھنابہترہے اسی طرح مختصرنماز جماعت لمبی فرادی نمازسے افضل وبرترہے۔
مسئلہ ۱۴۲۵ ۔ اگرجماعت ہونے لگے توجولوگ فرادی نمازپڑھ چکے ہیں ان کے لئے مستحب ہے کہ دوبارہ جماعت سے پڑھ لیں اوراگر بعد میں معلوم ہوجائے کہ پہلی نمازباطل تھی تودوسری کافی ہے۔
مسئلہ ۱۴۲۶ ۔ جس امام جماعت نے ایک جماعت کونمازپڑھادی ہواس کے لئے دوسری جماعت کودوبارہ نمازپڑھاناجائزہے۔
مسئلہ ۱۴۲۷ ۔ جس کونمازمیںوسواس ہوتاہواوراس کاوسواس نمازمیں اشکال کاسبب بنتاہوتواگرجماعت سے نمازپڑھنے میںوسواس سے چھٹکارمل ہی جاتاہے تواس کونمازجماعت ہی سے پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ ۱۴۲۸ ۔ اگروالدین اپنی اولاددکوحکم دیے کہ نمازجماعت کے ساتھ اداکریں، تواگروہ نمازجماعت نہ پڑھے ان کی بے حرمتی ہوجائے تونمازباجماعت پڑھناان کے لئے واجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۴۲۹ ۔ کسی بھی مستحب نمازکوسوائے نمازاستسقاء( جو طلب باران کے لئے ہوتی ہے) اورنمازعیدالفطروعیدقربان کے (جوغیبت امام زمانہ میں مستحب ہیں) جماعت سے نہیں پڑھاجاسکتا۔
مسئلہ ۱۴۳۰ ۔ نمازیومیہ کی ہرنمازکوامام کی ہرنمازکے ساتھ اقتداکرکے پڑھاجاسکتاہے، البتہ اگرامام احتیاطانمازکااعادہ کررہاہوتواس میں اقتدا نہیں کی جاسکتی، مگریہ کہ دونوں احتیاط کی لحاظ سے ایک جیسے ہوں اورایک نمازپڑھتے ہوں توہوسکتاہے۔
مسئلہ ۱۴۳۱ ۔ اگرامام جماعت قضانمازپڑھ رہاہوتب بھی اس کی اقتداکی جاسکتی ہے، لیکن اگروہ نمازکواحتیاطاقضاکررہاہویاکسی دوسرے کی نمازقضااحتیاطاپڑھ رہاہواگرچہ بغیراجرت ہوں تواس کی اقتدامیں اشکال ہے، لیکن اگرانسان کوعلم ہوکہ جس کے لئے نمازقضاپڑھی جارہی ہے اس سے یقینانمازفوت ہوئی ہے توایسی صورت میں اس کی اقتداء میں پڑھنابلااشکال ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۲ ۔ اگرامام محراب میں ہواورکوئی اس کے پیچھے اقتدانہ کئے ہوئے ہوتوجولوگ محراب کے دونوں طرف کھڑے ہیں اورمحراب کی دیوارکی وجہ سے امام کونہیں دیکھ سکتے ہوںوہ لوگ امام کی بھی اقتدانہیں کرسکتے، بلکہ اگرامام کے پیچھے اقتدابھی کئے ہوں توجولوگ اسے کے دونوں طرف کھڑے ہیں اورمحراب کی وجہ سے امام کونہیں دیکھ سکتے توان کی جماعت بھی احتیاط واجب کی بناپرصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۳ ۔ اگرصفوں کی لمبائی کووجہ سے لوگ صفوں کے دونوں کناروں پرکھڑے ہیں اورامام کونہیں دیکھ سکتے توان کی نمازمیں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح اگرکوئی صف بہت لمبی ہواوراس کے دونوں کناروں پرکھڑے ہوئے لوگ اپنے اگلی صف کودیکھ پارہے ہوں تب بھی ان کی جماعت صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۴ ۔ اگرنمازجماعت کی صفیں مسجدکے دروازے تک پہنچ جائیں توجوشخص دروازہ کے مقابل صف کے پیچھے کھڑاہے اس کی نمازصحیح ہے اوراسی طرح ان لوگوں کی نمازیں بھی صحیح ہیں جواس شخص کے پیچھے کھڑے ہوں، لیکن جواس دروازے کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اوراگلی صف کونہ دیکھ رہے ہوں تواحتیاط واجب کی بناپران کی اقتداصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۵ ۔ جوشخص ستوں کے پیچھے کھڑاہے اگرداہنی یابائیں طرف کے ماموم کے واسطے سے امام سے متصل ہے توکافی ہے، اوراگرمتصل نہ ہوتواقتداصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۶ ۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم سے بلندترنہ ہو،ہاں اگرتھوڑی سی بلندہوتوکوئی حرج نہیں ہے اسی طرح اگرنشیبی زمین ہواورامام اس طرف کھڑاہوجوبلندہے تواگرنشیب بہت زیادہ نہ ہواوراس کوزمین کی سطح کہتے ہوں توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۷ ۔ اگرماموم کے قیام کی جگہ امام کے قیام کی جگہ سے اتنی اونچی ہوجتنی قدیم زمانہ کی تھی کہ سب کوایک اجتماع کی مقدار جتنی سمجھی جاتی ہوتویہ بلااشکال ہے، لیکن اگربلندی دورحاضرکی چندمنزلہ بلڈنگ جتنی ہوتوپھرجماعت میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۸ ۔ اگرایک صف کے نمازیوں کے درمیان ممیزبچہ ہواورفاصلہ ہوجائے تواگراس کی نمازباطل ہونے کاعلم نہ ہوتواقتداجائز ہے۔
مسئلہ ۱۴۳۹ ۔ امام جب تکبیرکہہ کرنمازمیں داخل ہوتواگراگلی صفیں امادہ نمازہوں توسب ہی تکبیرکہہ کرنمازمیں داخل ہوسکتے ہیں۔
مسئلہ ۱۴۴۰ ۔ اگریہ معلوم ہوکہ اگلی صفوں میں سے کسی ایک صف کی نمازباطل ہے توبعدوالی صفوں میں اقتدا نہیں کرسکتے، لیکن اگرمعلوم نہ ہوکہ اگلی صف والوں کی نمازصحیح ہے کہ نہیں تواقتداکرسکتے ہیں۔
مسئلہ ۱۴۴۱ ۔ اگرماموم کومعلوم ہوکہ امام کی نمازقطعاباطل ہے، مثلاوہ جانتاہے کہ امام بے وضوہے، تواس کی اقتدانہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۱۴۴۲ ۔ اگرماموم کونمازکے بعدپتہ چلے کہ امام عادل نہیں تھایاخدانخواستہ کافرتھایااس کی نمازباطل تھی توماموم کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۴۳ ۔ اثنائے نمازمیں اگرماموم کوشک ہوجائے کہ نیت جماعت کی تھی کہ نہیں، تواگرایسی حالت میں ہوکہ اطمینان ہوجائے کہ مشغول جماعت ہے(مثلاامام کی حمدوسورہ کوسن رہاہے) تونمازکوجماعت کے ساتھ تمام کرے، لیکن اگراطمینان پیدانہ ہوتونمازکوفرادی کی نیت سے تمام کرے۔
مسئلہ ۱۴۴۴ ۔ انسان نمازجماعت کے درمیان فرادی کی نیت کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۴۴۵ ۔ اگرامام کے حمدوسورہ کے بعدماموم الگ ہوجائے اورفرادی کی نیت کرے توحمدوسورہ کاپڑھناضروری نہیں ہے، لیکن اگرحمد وسورہ کے ختم ہونے سے پہلے فرادی کی نیت کرے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ حمدوسورہع ازسرنوپڑھے۔
مسئلہ ۱۴۴۶ ۔ اگراثناء نمازمیں فرادی کی نیت کرے توپھردوبارہ جماعت میں نہیں اسکتا، لیکن اگرمردد ہوجائے کہ فرادی کی نیت کرے یانہ کرے توپھرآخرمیں طے کرلے کہ جماعت ہی سے پڑھوں گاتواس کی جماعت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۴۷ ۔ اگرشک ہوکہ فرادی کی نیت کی تھی تویہ بنارکھے کہ فرادی کی نیت نہیں کی تھی۔
مسئلہ ۱۴۴۸ ۔ جس وقت امام رکوع میں ہواس وقت امام کی اقتداء کرکے رکوع میں چلاجائے اوررکوع میں امام سے ملحق ہوجائے تواس کی نمازصحیح ہے، چاہے امام نے ذکررکوع کہاہویانہیں، اوریہ اس کی پہلی رکعت شمارہوگی لیکن اگررکوع کی حدتک جھک لیکن امام سے ملحق نہ ہوسکے توجماعت باطل ہے۔
مسئلہ ۱۴۴۹ ۔ اگرامام رکوع میں ہواورماموم اقتداکرے اوراثناء رکوع میں شک کرلے امام سے ملحق ہواکہ نہیں تونمازباطل ہے اوراحتیاط یہ ہے کہ نمازکوتمام کرے اوردوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۵۰ ۔ جس وقت امام رکوع میں ہے اسی وقت اگراقتداکرے اوربمقداررکوع جھکنے سے پہلے امام رکوع سے کھڑاہوجائے توفرادی کی نیت کرے یاصبرکے کہ امام دوسری رکعت کے لئے کھڑاہواوریہ اس کواپنی پہلی رکعت شمارکرے، لیکن اگرامام کی دوسری رکعت کے لئے کھڑاہونے میں اتنی دیرلگتی ہوکہ اس شخص کے متعلق نہ کہاجاسکے کہ نمازجماعت پڑھ رہاہے تواسے چاہئے کہ فرادی کی نیت کرلے۔
مسئلہ ۱۴۵۱ ۔ اگراول نمازیاحمدوسورہ کے درمیان اقتداکرے اوراپنے کوامام کے ساتھ رکوع میں نہ پہنچائے تواس کی جماعت صحیح ہے اوراسے رکوع بجالاناچاہئے۔
مسئلہ ۱۴۵۲ ۔ اگرایسے وقت پہنچے جب امام نمازکاآخری تشہدپڑھ رہاہواوروہ ثواب جماعت حاصل کرناچاہے تونیت کرکے تکبیرة الاحرام کہے اوربیٹھ جائے اورامام کے ساتھ تشہدمیں شریک ہوجائے لیکن سلام نہ پڑھے چپ چاپ بیٹھارہے یہاں تک کہ امام کاسلام ختم ہوجائے اس کے بعدکھڑے ہوکراپنی نمازپڑھے، یعنی حمدوسورہ وغیرہ پڑھے اوراس کواپنی پہلی رکعت قراردے۔
مسئلہ ۱۴۵۳ ۔ ماموم امام سے آگے نہ کھڑاہواوراحتیاط واجب کی بنا پرامام سے تھوڑاساپیچھے کھڑاہواوراگرماموم کاقدامام سے اتنالمباہوکہ رکوع کے وقت امام سے آگے ہوجائے توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۵۴ ۔ امام وماموم اوراسی طرح خودمامومین میں ایک دوسرے کودیکھنے سے کوئی چیزمانع نہ ہو، ہاں اگرماموم عورت ہوتواس کے اورمردوں کے درمیان حائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگرامام اورماموم دونوںعورت ہوتوان کاحکم مردوںوالاہے۔
مسئلہ ۱۴۵۵ ۔اگرنمازجماعت شروع ہوجانے کے بعدامام اورماموم کے درمیان یامامومین کے درمیان کوئی پردہ وغیرہ جس سے اس کی پشت وغیرہ نظرنہ آئے حائل ہوجائے توخودبخودنمازفرادی ہوجاتی ہے اورصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۵۶ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ماموم کے سجدہ کی جگہ اورامام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان ایک معمولی قدم سے زیادہ کا فاصلہ نہ ہو، اسی طرح جس شخص کاامام سے اتصال اگلی صف میں کھڑے ہونے والے ماموم کے ذریعہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہےکہ اس شخص کے سجدہ کی جگہ اوراگلی صف والے ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان بھی اتنافاصلہ زیادہ نہ ہو، اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ ماموم کے سجدہ کی جگہ اوراس کے آگے ولے شخص کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان بالکل فاصلہ نہ ہو۔
مسئلہ ۱۴۵۷ ۔ اگرماموم کااتصال امام سے بائیں یادائیں طرف کے مامومین کی وساطت سے ہواورآگے سے امام سے متصل نہ ہوتواگر ایک معمولی قدم سے زیادہ کافاصلہ نہ ہوتواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۵۸ ۔ اگرنمازمیں امام اورماموم کے درمیان یاماموم اوردیگرماموم جس کی وساطت سے اتصال ہوکے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ ہوجائے توان کی نمازفرادی ہوگی اورصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۵۹ ۔ اگراگلی صف کے تمام لوگوں کی نمازختم ہوجائے یاسب کے سب فرادی کی نیت کرلیں تواگرفاصلہ ایک معمولی قدم سے زیادہ نہ ہوتوبعدوالی صف کی نمازبطورجماعت صحیح ہوگی اوراگرمذکورہ مقدارسے زیادہ فاصلہ ہوتوان کی نمازبطورفرادی صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۶۰ ۔ اگردوسری رکعت میں اقتداکرے توقنوت وتشہدامام کے ساتھ ہی پڑھ لے اوراحتیاط یہ ہے کہ تشہدپڑھتے وقت گھٹنوں کوزمین سے بلندکرے صرف ہاتھوں کی انگلیوں کواورپیروں کوزمین پررکھے رہے(بالکل اس طرح بیٹھے جیسے اٹھناچاہتاہو) امام کے تشہدکے بعدکھڑاہوجائے حمدوسورہ پڑھے اگرسورہ کے لئے وقت نہ ہوتوصرف حمدپڑھے اوراپنے کوامام کے ساتھ رکوع میں پہنچادے یافرادی کی نیت کرے اورنمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۶۱ ۔ جوشخص امام کی دوسری رکعت میں شریک ہووہ اپنی دوسری رکعت میں(جوامام کی تیسری ہے) دونوں سجدوں کے بعدبیٹھ کر بمقدارواجب تشہدپڑھے اوراٹھ کرامام کے ساتھ شریک ہوجائے اب اگرتین مرتبہ تسبیحات پڑھنے کاوقت نہ ہوتوایک مرتبہ تسبیح پڑھ کر رکوع یاسجدہ میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔
مسئلہ ۱۴۶۲ ۔ اگرامام کی تیسری یاچوتھی رکعت ہواورماموم جانتاہوکہ اگرابھی شریک ہوکرحمدپڑھے گاتوامام کورکورع میں نہیں پائے گاتواحتیاط واجب ہے کہ صبرکرے جب امام رکوع میں پہنچ جائے تونیت کرکے شریک ہوجائے۔
مسئلہ ۱۴۶۳ ۔ اگرکوئی امام کی تیسری یاچوتھی رکعت میں شریک ہوتوحمدوسورہ کوپڑھے اوراگراتناوقت نہ ہوتوفقط حمدپڑھ کر امام کے رکوع میں پہنچادے لیکن اگرسجدہ میں امام سے جاملے توبہتریہ ہے کہ احتیاطا نمازدوبارہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۶۴ ۔ جس کویہ معلوم ہوکہ اگرسورہ یاقنوت پڑھے گاتورکوع میں امام سے نہیں مل پائے گاتواسے نہیں پڑھنی چاہئے لیکن اگرپڑھ لی تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۶۵ ۔ جس شخص کواطمینان ہوکہ سورہ پڑھ کرامام کورکوع میں پالے گا،تواحتیاط واجب ہے کہ سورہ کوپڑھے۔
مسئلہ ۱۴۶۶ ۔ جس شخص کواطمینان ہوکہ سورہ پڑھ کرامام کورکوع میں پالے گا،اگروہ سورہ کوپڑھے اوراتفاق سے رکوع میں امام کے ساتھ نہ پہنچ سکے تواس کی جماعت صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۶۷ ۔ اگرامام حالت قیام میں ہے اورماموم کونہیں معلوم کہ یہ امام کی کونسی رکعت ہے پھربھی شریک جماعت ہوسکتاہے شریک ہوکر قصدقربت سے حمدوسورہ پڑھے اس کی نمازصحیح ہے چاہے معلوم ہوجائے کہ امام کی پہلی یادوسری رکعت ہے۔
مسئلہ ۱۴۶۸ ۔ اگریہ خیال کرتے ہوے کہ امام کی پہلی یادوسری رکعت ہے وہ حمدوسورہ نہ پڑھے اوررکوع کے بعدمعلوم ہوکہ تیسری یا چوتھی تھی تواس کی نمازصحیح ہے، لیکن اگررکوع سے پہلے معلوم ہوجائے توحمدوسورہ دونوں پڑھے اوراگروقت نہ ہوتوصرف حمدپڑھے اوررکوع میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔
مسئلہ ۱۴۶۹ ۔ اگریہ خیال کرتے ہوئے کہ امام کی تیسری یاچوتھی رکعت ہے وہ حمدوسورہ پڑھے اوررکوع کے بعدیارکوع سے پہلے معلوم ہوکہ امام کی پہلی یادوسری رکعت ہے تواس کی نمازصحیح ہے اوراگراثناء حمدوسورہ پتہ چلے ان کومکمل کرناضروری نہیں ہے
مسئلہ ۱۴۷۰ ۔ اگرمستحبی نمازپڑھ رہاہواورجماعت منعقدہوجائے تواگراسے یہ اطمینان نہ ہوکہ وہ نمازتمام کرکے جماعت سے شریک ہوسکتا تومستحب ہے کہ مستحبی نمازکوچھوڑدے اورجماعت سے شریک ہوجائے بلکہ اگریہ اطمینان نہ ہوکہ وہ پہلی رکعت میں جماعت کوپالے گاتوبھی مستحب ہے کہ اس دستورپرعمل کرے۔
مسئلہ ۱۴۷۱ ۔ اگرواجب نمازپڑھ رہاہواورجماعت شروع ہوجائے اوروہ ابھی تیسری رکعت میں نہیں پہنچاہے اورخطرہ ہے کہ اگرنماز کوتمام کرتاہے توجماعت نہیں مل سکے گی تومستحب ہے کہ نیت کومستحبی نمازکی طرف بدل دے اوردورکعت پرختم کرکے جماعت میں شریک ہوجائے۔
مسئلہ ۱۴۷۲ ۔ اگرامام کی نمازختم ہوجائے اورماموم تشہدیاسلام پڑھنے میں مشغول ہوتوضروری نہیں ہے کہ فرادی کی نیت کرے۔
مسئلہ ۱۴۷۳ ۔ جوشخص امام سے ایک رکعت پیچھے ہوجب امام تشہدپڑھنے لگے تووہ فرادی کی نیت کرسکتاہے اورکھڑے ہوکرنمازتمام کرے یااپنے گھٹنوں کوزمین سے اٹھاکراوراپنی انگلیوں کواورپیروں کوپنجوں کوزمین پرٹیک کراٹھنے والے کی صورت میں انتظارکر یہاں تک کہ امام سلام کہہ لے پھراٹھ کراپنی باقی نماز پڑھے۔
امام جماعت کے شرائظ:
مسئلہ ۱۴۷۴ ۔ امام جماعت کے لئے بالغ، عاقل، حلال زادہ، شیعہ اثناعشری اورصحیح قرائت والاہوناضروری ہے اوراحتیاط واجب کی بناپر مردہوناچاہئے اوراگرممیزبچہ جواچھائی اوربرائی کوسمجھتاہے دوسرے ممیزبچے کی اقتداکرلے توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۷۵ ۔ جس امام کوعادل سمجھتاتھااگرشک کرے کہ وہ عدالت پرباقی ہے کہ نہیں تواس امام کی اقتداکرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۴۷۶ ۔ کھڑے ہوکرنمازپڑھنے والا، بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی اقتدانہیں کرسکتااوربیٹھ کرنمازپڑھنے والالیٹ کر نمازپڑھنے والے کی اقتدانہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۱۴۷۷ ۔ بیٹھ کر نمازپڑھنے والا، بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی اقتداکرسکتاہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ لیٹ کرنمازپڑھنے والا، بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی اقتدانہ کرے۔
مسئلہ ۱۴۷۸ ۔ اگرامام تیمم یاوضوئے جبیرہ کے ساتھ نمازپڑھ رہاہوتواس کی اقتداکی جاسکتی ہے لیکن اگرکسی عذرکی بناپرمجبورانجس لباس میں نمازپڑھ رہاہوتوبنابراحتیاط واجب اس کی اقتدانہیں کی جاسکتی۔
مسئلہ ۱۴۷۹ ۔ جوشخص پیشاب یاپاخانہ کے روکنے پرقادرنہیں ہے احتیاط واجب کی بناپراس کی اقتدانہیں کی جاسکتی اورنہ مستحاضہ کی اقتداہو سکتی ہے۔
مسئلہ ۱۴۸۰ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ جوشخص جذام یابرص کابیمارہووہ امام جماعت نہ بنے اورجس پرشرعی حدجائی ہوگئی ہووہ بھی امام جماعت نہ بنے۔
جماعت کے احکام:
مسئلہ ۱۴۸۱ ۔ ماموم کوچاھئے کہ امام کواپنی نیت میں معین کرے لیکن امام کے نام کاجانناضروری نہیں ہے، اگرصرف یہ نیت کرے کہ امام حاضرکی اقتدامیں نمازپڑھتاہوں توکافی ہے۔
مسئلہ ۱۴۸۲ ۔ حمدوسورہ کے علاوہ ماموم کوتمام چیزیں پڑھنی چاہئے لیکن اگرامام کی تیسری یاچوتھی رکعت ماموم کی پہلی یادوسری رکعت ہوتوپھر ماموم کوحمدوسورہ بھی پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ ۱۴۸۳ ۔ اگرماموم نمازصبح، مغرب وعشاء میں امام کی قرائت کی آوازسن رہاہوتواگرچہ کلمات کی تشخیص نہ کرتاہوحمدوسورہ نہ پڑھے، لیکن اگر نہ سن رہاہوتوحمدوسورہ کاپڑھنامستحب ہے لیکن آہستہ پڑھے اوراگرسہوابلندآوازسے پڑھے توکوئی اشکال نہیں۔
مسئلہ ۱۴۸۴ ۔ اگرماموم امام کے حمدوسورہ کے بعض کلمات کوسن رہاہوتواحتیاط واجب ہے کہ حمدوسورہ نہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۸۵ ۔ اگرماموم بھولے سے یااس خیال سے کہ جوآوازسن رہاہے وہ امام کی نہیں ہے حمدوسورہ کوپڑھے اوربعدمیں پتہ چلے کہ وہ امام کی آوازتھی تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۸۶ ۔ اگرشک ہوکہ امام کی آوازسن رہاہے یانہیں یایہ شک ہوکہ جوآوازسنائی دے رہی ہے امام کی ہے یانہیں تواس صورت میں قربت مطلقہ کی نیت سے حمدوسورہ پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۴۸۷ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ماموم نمازظہروعصرکی پہلی اوردوسری رکعت میںحمدوسورہ نہ پڑھے اورمستحب ہے کہ اس کی جگہ صرف ذکرپڑھتارہے۔
مسئلہ ۱۴۸۸ ۔ امام سے پہلے ماموم تکبیرة الاحرام نہیں کہہ سکتابلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک امام پوری تکبیرمکمل نہ کرلے ماموم تکبیرة الاحرام نہ کہے۔
مسئلہ ۱۴۸۹ ۔ اگرماموم امام کے سلام کوسن رہاہویاسے معلوم ہوکہ امام کسی وقت سلام دے گاتووہ امام سے پہلے سلام نہ پڑھے اوراگرعمدا امام سے پہلے سلام پڑھ لے تواشکال ہے اوراگربھولے سے امام سے پہلے سلام دے تواس کی نمازصحیح ہے اوردوبارہ سلام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۴۹۰ ۔ امام سے پہلے ماموم تکبیرةالاحرام اورسلام نہیں کہہ سکتاالبتہ دیگراذکارمیں کوئی مانع نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہی ہے کہ اگرامام کی آوازکوسن رہاہوتواس سے پہلے کوئی ذکرنہ کرے۔
مسئلہ ۱۴۹۱ ۔ افعال نمازجیسے رکوع وسجودوغیرہ میں سے کسی بھی فعل کوماموم امام سے پہلے نہ بجالائے بلکہ امام کے ساتھ یااس کے بعدبجالائے اوراگرکوئی شخص جان بوجھ کریہ کام امام سے پہلے یاکچھ مدت کے بعدبجالائے تووہ گنہگارہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکوتمام کرنے کے بعددوبارہ بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۹۲ ۔ اگربھولے سے امام سے پہلے سرکورکوع سے اٹھائے تودوبارہ رکوع میں چلاجائے امام کے ساتھ دوبارہ سراٹھائے، یہاں پررکوہ کی زیادتی سے نمازباطل نہیں ہوتی، البتہ اگردوبارہ رکوع میں جائے اورقبل اس کے کہ یہ رکوع میں پہنچے امام رکوع سے سراٹھالے تواس کی نمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۴۹۳ ۔ اگرماموم یہ خیال کرکے کہ امام نے سجدہ سے سراٹھایاتوخود بھی سراٹھالے(اب اگرامام سجدہ ہی میں ہے) تودوبارہ سجدہ میں چلاجائے اوراگریہی صورت دونوں سجدوں میں پیش آجائے تودوسجدے کی زیادتی (جورکن ہے) نمازکوباطل نہیں کرے گی۔
مسئلہ ۱۴۹۴ ۔ جس شخص نے غلطی سے امام سے پہلے سجدہ سے سراٹھایا، اگروہ دوبارہ سجدہ میں جائے اورامام سجدہ سے اسی وقت سراٹھالے تواگریہ صورت صرف ایک سجدہ میں پیش آئے تب تونمازصحیح ہے لیکن اگردونوں سجدوں میں یہی صورت درپیش ہوتونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۴۹۵ ۔ اگرماموم اشتباہارکوع یاسجدہ سے سراٹھالے اورسہوا یااس خیال سے کہ اگردوبارہ رکوع یاسجدہ میں جاؤں گاتوامام کونہ پاسکوں گااس لئے رکوع یاسجدہ میں نہ جائے تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۴۹۶ ۔ اگرسجدہ سے سراٹھائے اوریہ دیکھے کہ امام ابھی سجدہ میں ہے چنانچہ وہ اس خیال سے کہ امام کاپہلاسجدہ ہے امام کے ساتھ سجدہ کرنے کی نیت سے سجدہ میں چلاجائے اوربعدمیں معلوم ہوکہ امام کادوسراسجدہ تھاتواس کابھی دوسراسجدہ شمارہوگااوراگرماموم اس خیال سے کہ امام کادوسراسجد ہ ہے سجدہ میں چلاجائے بعدمیں معلوم ہوکہ امام کاپہلاسجدہ تھاتویہ جماعت کے امام کی اتباع شمارہوگی اوراسے چاہئے کہ دوبارہ امام کے ساتھ سجدہ میں چلاجائے اوردونوںصورتوں میں احتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکوباجماعت تمام کرکے دوبارہ بھی پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۹۷ ۔ اگرماموم سہواامام سے پہلے رکوع میں اس طرح چلاجائے کہ اگرسراٹھالے توامام کی قرائت کاکچھ حصہ مل جائے گاتوفورا سر اٹھالے اورامام کی قرائت کودرک کرے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں جائے اوراگرجان بوجھ کرواپس نہ لوٹے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی نمازباطل ہے اورہردورکوع میںذکرپڑھے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ پہلے رکوع میں ایک مرتبہ ذکرصغیرسے زیادہ نہ پڑھے۔
مسئلہ ۱۴۹۸ ۔ اگربھولے سے امام سے پہلے رکوع میں جائے اوراگریہ جانتاہے کہ سراٹھانے کے بعدامام کی قرائت کاکوئی حصہ نہیں ملے گا، اگرامام کے رکوع میں پہنچنے تک خودرکوع میںصبرکرلے تواس کی نمازصحیح ہوگی۔
مسئلہ ۱۴۹۹ ۔ اگربھولے سے امام سے پہلے سجدہ میں جائے، چنانچہ صبرکرے یہاں تک کہ امام سجدہ پہنچ جائے تواس کی نمازصحیح ہوگی۔
مسئلہ ۱۵۰۰ ۔ جس رکعت میں تشہدنہیں ہے اگرامام بھولے سے تشہدپڑھنے لگے یاجس وقت قنوت نہیں ہے قنوت پڑھنے لگے توماموم تشہد یاقنوت کوتونہ پڑھے، لیکن نہ امام سے پہلے کھڑاہوسکتاہے نہ رکوع میں جاسکتاہے، بلکہ کسی ذریعہ سے امام کی غلطی کی طرف امام کومتوجہ کردے اوراگرنہ ہوسکے توصبرکرے جب امام کاتشہدیاقنوت ختم ہوجائے توامام کے ساتھ باقی نمازکوتمام کرے۔
جماعت کے مستحبات:
مسئلہ ۱۵۰۱ ۔ اگرماموم صرف ایک مردہوتوامام کے داہنی طرف کھڑاہواوراگرصرف ایک عورت ماموم توامام کے داہنی طرف اتنے پیچھے کھڑی ہوکہ اس کے سجدہ کی جگہ امام کے گھٹنوں یاقدموں کے پاس ہواوراگرایک مرداورایک عورت یاایک مردوچندعورتیں ہوں تومستحب ہے کہ مردامام کے داہنی طرف اورعورتیں امام کے پیچھے کھڑی ہوں،اوراگرچندمرداورعورتیں بھی ہوں تومردامام کے پیچھے اورعورتیں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوں۔
مسئلہ ۱۵۰۲ ۔ مستحب ہے کہ امام صف کے وسط میں اوراہل علم وفضیلت وتقوی پہلی صف میں کھڑے ہوں۔
مسئلہ ۱۵۰۳ ۔ مستحب ہے کہ جماعت کی صفیں اس طرح منظم ہوں کہ مامومین کے شانے ایک دوسرے سے ملے ہوں اورہرصف میں جولوگ کھڑے ہوں ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔
مسئلہ ۱۵۰۴ ۔ مستحب ہے کہ ”قدقامت الصلاة“ کے بعدتمام لوگ کھڑے ہوجائیں اورنمازکے لئے تیارہوجائیں۔
مسئلہ ۱۵۰۵ ۔ مستحب ہے کہ امام سب سے کمزورماموم کی حالت کالحاظ رکھے، اتنی جلدی نہ کرے کہ کمزورلوگ ساتھ نہ دے سکیں اوررکوع وسجودوقنوت وغیرہ میں اتنی دیرنہ کرے کہ کمز ورلوگ برداشت نہ کرسکیں، البتہ اگروہ جانتاہے کہ جتنی لوگ اس کے پیچھے نمازپڑھ رہے ہیں سب ہی طول کوپسندکرتے ہیں تب طول دے۔
مسئلہ ۱۵۰۶ ۔ مستحب ہے کہ امام حمدوسورہ پڑھتے وقت اتنی بلندآوازسے پڑھے کہ مامومین سن لیں مگریہ بھی نہ ہوکہ چلاکرپڑھنے لگے۔
مسئلہ ۱۵۰۷ ۔ اگرامام رکوع میں سمجھ لے کہ کچھ لوگ ابھی آئے ہیں اورجماعت میں شریک ہوناچاہتے ہیں تومستحب ہے رکوع کوتھوڑاساطول دیدے تاکہ وہ لوگ شریک ہوسکیں، لیکن عام طورسے رکوع جتنی دیرمیں کرتاہے اس کے دوگنے سے زیادہ طول نہ دے چاہے اس کومعلوم ہوایک یاکئی جماعت اورجماعت میں شریک ہوناچاہتے ہیں۔
جماعت کے مکروہات:
مسئلہ ۱۵۰۸ ۔ اگرصفوں میں جگہ ہوتونمازکوتنہاکھڑاہونامکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۵۰۹ ۔ مکروہ ہے کہ ماموم ذکرکواتنی ز ورسے کہے کہ امام سنے۔
مسئلہ ۱۵۱۰ ۔ مسافریعنی جوظہروعصروعشاء کوقصرپڑھتاہو،مقیم حضرات کی امامت کرنامکروہ ہے، اسی طرح مسافرمقیم کی اقتدانہ کرے۔
نمازآیات کاطریقہ
مسئلہ ۱۵۲۷ ۔نمازآیات دورکعت ہے اورہررکعت میں پانچ رکوع ہیں اوراس کاطریقہ یہ ہے :
نیت کے بعدتکبیرة الاحرام کہہ کر ایک حمدوپوراسورہ پڑھے پھررکوع کرکے کھڑاہواوردوبارہ حمدوسورہ پڑھ کررکوع میں جائے پھر سہ بارہ رکوع سے کھڑے ہوکر حمدوپوراسورہ پڑھ کررکوع کرے اورچوتھی بارکھڑے ہوکر حمدوپوراسورہ پڑھے پھررکوع کرکے پانچویں بارکھڑا ہوکر حمدوسورہ پڑھ کررکوع کرے، پانچواں رکوع کرکے جب کھڑاہوتودوسجدے بجالائے، اسی طرح سے دوسری رکعت بھی پڑھے اورتشہد وسلام پڑھ کر نمازختم کرے۔
مسئلہ ۱۵۲۸ ۔ نمازآیات میں یہ بھی ممکن ہے کہ کہ نیت وتکبیرة الاحرام کے بعد ایک مرتبہ حمدپڑھے پھرکسی سورہ کوپانچ حصوں پرتقسیم کرکے پہلاحصہ پڑھے، مثلا : ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھے اوررکوع میں چلاجائے رکوع سے اٹھ کر حمدپڑھے بغیر”قل ہو اللہ احد“ کہے اوررکوع میں چلاجائے پھررکوع سے اٹھ کر حمدپڑھے بغیر” اللہ الصمد“ کہے اوررکوع میں جائے پھررکوع سے اٹھ کر”لم یلدولم یولد“ کہے اوررکوع میںچلاجائے پھررکوع سے اٹھ کر ”ولم یکن لہ کفوااحد“ کہہ کر رکوع کرے پھررکوع سے کھڑے ہوکر دونوں سجدے کرے اوررکعت دوم بھی رکعت اول کی طرح بجالائے پھر تشہدوسلام پڑھ کر نمازتمام کرے۔
مسئلہ ۱۵۲۹ ۔ نماز آیات میں ایک رکعت پہلے طریقے سے اوردوسری دوسرے طریقے سے بھی پڑھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۵۳۰ ۔ جوچیزیں نمازپنجگانہ میں واجب ومستحب ہیں وہی نمازآیات میں بھی واجب ومستحب ہیں صرف نمازآیات میں اذان واقامت نہیں ہے، بلکہ اس کے بجائے تین مرتبہ ”الصلاة “کہاجاتاہے۔
مسئلہ ۱۵۳۱ ۔ مستحب ہے کہ پانچویں اوردسویں رکوع کے بعد”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہے، اسی طرح ہررکوع میں جانے سے پہلے اوراٹھنے کے بعد تکبیرکہے لیکن پانچویں اوردسویں رکوع کے بعد تکبیرکہنامستحب ہے۔
مسئلہ ۱۵۳۲ ۔ مستحب ہے کہ دوسرے، چوتھے، چھٹے، آآٹھویں اوردسویں رکوع سے پہلے قنوت پڑھے اوراگرصرف ایک قنوت دسویں رکوع سے پہلے پڑھ لے توبھی کافی ہے۔
مسئلہ ۱۵۳۳ ۔ اگرنمازآیات میں شک کرے کہ کتنی رکعت پڑھی ہے اورذہن کسی طرف کا فیصلہ نہ کرسکے تونمازباطل ہے۔
مسئلہ ۱۵۳۴ ۔ اگرشک ہوکہ پہلی رکعت کے آخری رکوع میں ہے یادوسری رکعت کے پہلے رکوع میں اورذہن کسی طرف کافیصلہ نہ کرسکے تونمازباطل ہے، لیکن اگرشک ہوکہ چاررکوع کئے ہیں یاپانچ اورابھی تک سجدہ کی طرف نہ جھکاہوتوپھرجس رکوع کے متعلق شک ہے اسے دوبارہ بجالائے اوراگرسجدہ میں جانے کے لئے جھک گیاہے تواس شک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ ۱۵۳۵ ۔ نمازآیات کاہررکوع رکن ہے اگرعمدایاسہواکم یازیادہ ہوجائے تونمازباطل ہے۔
نمازجمعہ
مسئلہ ۱۵۳۶ ۔امام زمانہ کی غیبت میں نمازجمعہ واجب تخیری ہے( یعنی مکلف کوجمعہ کے دن اختیارہے کہ نمازجمہ پڑھے یانمازظہر) لیکن نمازجمعہ ظہرسے افضل ہے اورظہراحوط ہے اوراگرزیادہ احتیاط کرناہوتودونوں کوبجالائے۔
مسئلہ ۱۵۳۷ ۔ نمازجمعہ کوظہرکے بدلے میں پڑھ لیناکافی ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ ظہرکوبھی پڑھ لے۔
نمازجمعہ کی شرائط
مسئلہ ۱۵۳۸ ۔ نمازجمعہ کوجماعت کے ساتھ پڑھناچاہئے اورانفردی طورپر پڑھناصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۵۳۹ ۔ نمازیومیہ کی جماعت میں جوشرائط ہیں وہ سب یہاں نمازجمعہ میں بھی معتبرہیں، مثلا حائل نہ ہونا، فاصلہ نہ ہو اوردیگر شرائط۔
مسئلہ ۱۵۴۰ ۔ امام جماعت کی جوشرائط ہیں وہ سب ہی امام جمعہ میں شرط ہیں، مثلا : عقل، ایمان، عدالت، حلال زادہ ہونا، لیکن نمازجمعہ میں عورتوں اوربچوں کی پیش نمازی جائزنہیں ہے، اگرچہ دیگر نمازوں میں ممیزبچہ دوسرے بچوں کے لئے پیش نمازی کرسکتاہے، اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ عورتیں پیش نمازی نہ کرے۔
مسئلہ ۱۵۴۱ ۔ مسافر، عورت، بوڑھا، اندھا، دیوانہ، نابالغ، اورغلام پرنمازجمعہ واجب نہیں ہے، اس لئے نمازجمعہ مردوں پر اورجولوگ سالم وتندرست ہیں اورعاقل وبالغ ہیں ان پرنمازجمعہ واجب ہے، بشرطیکہ ان کے رہنے کی جگہ کے درمیان اورنمازجمعہ کی جگہ میں دوفرسخ (چھ میل شرعی) سے زیادہ فاصلہ نہ ہو، لہذااگرکسی میں گزشتہ شرائط موجودنہ ہوتونمازجمعہ کے لئے گھرسے نکلنااس کے لئے واجب نہیں ہے چاہے باعث مشقت وحرج بھی نہ ہو۔
مسئلہ ۱۵۴۲ ۔ دونمازجمعہ کے درمیان ایک فرسخ سے کم کافاصلہ نہیں ہوناچاہئے۔
مسئلہ ۱۵۴۳ ۔ نمازجمعہ منعقد ہونے کے لئے کم ازکم پانچ آدمیوں کاہوناضروری ہے جن میں سے ایک امام ہے، ورنہ منعقد نہیں ہوگی، لیکن اگر سات آدمی یااس سے زیادہ تعدادہواس کی فضیلت بڑھتی جائے گی۔
مسئلہ ۱۵۴۴ ۔ اگرنمازجمعہ کی ضروی شرائط موجودہوجائے توشہر، دیہات،گاؤں کے رہنے والوں پرحتی کہ خانہ بدوش لوگوں پرنمازجمعہ واجب ہوگی۔
مسئلہ ۱۵۴۵ ۔ جن لوگوں پرنمازجمعہ واجب نہیں ہے اگروہ نمازجمعہ میں شریک ہوں تو توان کی نمازصحیح ہے اورظہرکی جگہ پرشمارہوجائے گی، لیکن اگردیوانہ نمازجمعہ میں شریک ہوجائے اس کی نمازصحیح نہیں ہے، لیکن نابالغ بچہ کی نمازصحیح ہے لیکن بچہ سے تکمیل عدد جائزنہیں ہے اورنہ صرف بچوں سے نمازجمعہ منعقدہوسکتی ہے۔
مسئلہ ۱۵۴۶ ۔ مسافرنمازجمعہ میں شریک ہوسکتاہے اوراگرشرکت کی تونمازظہرپڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، ا لبتہ بہت سے مسافر، غیرمسافر کولئے بغیرکسی جگہ نمازجمعہ منعقدکرناچاہیں تونہیں ہوسکتی بلکہ مسافرین نمازظہرپڑھنی واجب ہے، اسی طرح مسافرسے نماز جمعہ میں جوعدد معتبرہے اس کوتکمیل نہیں کرسکتے، ہاں اگرمسافرکسی جگہ دس دن رہنے کاقصدکرے تونمازجمعہ قائم کرسکتے ہیں۔
مسئلہ ۱۵۴۷ ۔ عورتیں نمازجمعہ میں شریک ہوسکتی ہیں اوران کی نمازصحیح ہے اورنمازظہرکے بدلے میں کافی ہے لیکن عورتیں بہ تنہائی نماز جمعہ قائم نہیں کرسکتیں جس طرح مکمل عدد نہیں ہوسکتی۔
مسئلہ ۱۵۴۸ ۔ خنثی مشکل(یعنی وہ شخص جوکسی بھی طریقہ سے معلوم نہ ہومرد ہے یاعورت) کے لئے نمازجمعہ میں شریک ہوناجائزہے لیکن امامت نہیں کرسکتا،اسی طرح عددکی بھی تکمیل نہیں کرسکتا۔
نمازجمعہ کاوقت
مسئلہ ۱۵۴۹ ۔ نمازجمعہ کااول وقت زوال سے شروع ہوتاہے اورجب شاخص کاسایہ ۷/۲ سے زیادہ ہوجائے توختم ہوجاتاہے یعنی ایک گھنٹہ زوال کے گزرجانے کے تک ہےں، لیکن احتیاط واجب ہے کہ اول زوال سے زیادہ تاخیرنہ ہوجائے اوراکرتاخیرہوگئی تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازظہربجالائے۔
مسئلہ ۱۵۵۰ ۔ اگرامام جمعہ خطبہ کوزوال سے پہلے شروع کردے اورزوال کے موقع پرختم کردے اورنمازجمعہ پڑھادے توصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۵۵۱ ۔ امام جمعہ کے لئے جائزنہیں ہے کہ خطبوں کواتناطولانی کرے کہ نمازجمعہ کاوقت گزرجائے، ا وراگرایساکیاتونمازظہرپڑھے کیونکہ نمازجمعہ اگرفوت ہوجائے تواس کی قضانہیں ہے۔
مسئلہ ۱۵۵۲ ۔ اگرلوگوں نے نمازجمعہ شروع کی اورجمعہ کاوقت ختم ہوگیاتوایسی صورت میں اگرایک رکعت بھی وقت کے اندرہوگئی ہے تب تو جمعہ صحیح ہے ، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ جمعہ مکمل کرکے نمازظہربھی پڑھے، اوراگرایک رکعت بھی وقت کے اندرنہ ہوتونمازجمعہ باطل ہے، لیکن ا حتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کوتمام کرے اورپھرنمازظہرپڑھے۔
مسئلہ ۱۵۵۳ ۔ اگرجان بوجھ کرنمازجمعہ میں اتنی تاخیرکردے کہ صرف ایک رکعت کاوقت باقی رہ جائے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ نماز ظہر کوبجالائے۔
مسئلہ ۱۵۵۴ ۔ اگریقین ہوکہ ابھی اتناوقت باقی ہے جس میں مختصرواجبی خطبے اورمختصرطریقہ سے دونوں رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں تونماز جمعہ اورظہرکے پڑھنے میں اختیارہے جس کوچاہے پڑھے، لیکن اگریقین ہوجائے کہ اب اتنابھی وقت باقی نہیں ہے توظہرکاپڑھناواجب ہے، اوراکروقت باقی ہونے میں شک ہواورنمازپڑھ لے توصحیح ہے لیکن اگربعدمیںمعلوم ہوجائے کہ ایک رکعت کے لئے بھی وقت باقی تھا تب ظہرپڑھنی چاہئے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر ایک رکعت بھی وقت میں واقع ہوئی ہوپھربھی نمازظہرپڑھے۔
مسئلہ ۱۵۵۵ ۔ اگریہ معلوم ہوکہ وقت باقی ہے لیکن اس میںشک ہے کہ اتنی دیرمیں نمازجمعہ پڑھی جاسکتی ہے یانہیں تونمازجمعہ کاشروع کردیناصحیح ہے، اب اگراتناوقت تھاتونمازجمعہ صحیح رہے گی ورنہ نمازظہرپڑھنی پڑے گی، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس صورت میں نماز ظہر ہی پڑھے۔
مسئلہ ۱۵۵۶ ۔ اگروسیع وقت میں معتبرتعدادکے ساتھ امام نمازجمعہ شروع کرے اورموجودہ مامومین کے علاوہ کوئی دوسراماموم خطبہ اورنماز کے ابتدائی حصہ کونہ پاسکے مگر اسے امام کے ساتھ ایک رکعت مل جائے تواسے امام کے ساتھ ایک رکعت جمعہ کی پڑھناچاہئے، اس کے بعدایک رکعت اورفرادی پڑھنی چاہئے، اس طرح اس کی نمازصحیح ہوگی (بشرطیکہ دوسری رکعت کے لئے نمازجمعہ کاوقت باقی ہو) لیکن اگرکوئی شخص دوسری رکعت کے رکوع کی تکبیرامام کے ساتھ نہ پاسکے تواس کے لئے بہتریہ ہے کہ چاررکعت ظہرکی پڑھے۔
نمازجمعہ کی کیفیت
۱۵۵۷ ۔ نمازصبح کی طرح نمازجمعہ دورکعت ہے اورمستحب ہے کہ حمدوسورہ کوبلندآوازسے پڑھی جائے اورپہلی رکعت میں حمدکے بعدسورہ جمعہ اوردوسری رکعت میں حمدکے بعدسورہ منافقون پڑھنامستحب ہے۔
مسئلہ ۱۵۵۸ ۔ نمازجمعہ میں دوقنوت مستحب ہیں ایک پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے اوردوسری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت۔
مسئلہ ۱۵۵۹ ۔ نماز جمعہ میں دوخطبہ ہیں جوکہ اصل نماز کی طرح واجب ہیں اوردونوں خطبے امام جمعہ کوپڑھناچاہئے، اورنمازجمعہ بغیرخطبے کے منعقد نہیں ہوگی۔
مسئلہ ۱۵۶۰ ۔ دونوں خطبوں کونمازجمعہ سے پہلے پڑھناچاہئے اوراگربالعکس بجالائے باطل ہے اوروقت باقی ہونے کی صورت میں نمازجمعہ کودوبارہ خطبے کے بعد بجالاناچاہئے لیکن اگرکسی نے مسئلہ سے ناواقف ہونے یاغلطی سے اس طرح کرے توخطبوں کواعادہ کرنابلکہ نمازکابھی اعادہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۵۶۱ ۔ جمعہ کوخطبوں کوزوال سے اتنے پہلے شروع کرناجائزہے کہ خطبوں کے ختم ہوتے ہوئے زوال کاوقت ہوجائے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ زوال کے وقت خطبے پڑھے جائیں۔
مسئلہ ۱۵۶۲ ۔ دونوں خطبوں میں حمدالہی واجب ہے اوراحتیاط مستحب ہے کہ الفاظ ”اللہ“ سے شروع ہواوراس کے بعداحتیاط واجب کی بناء پر”اللہ“ کی ثنا وتوصیف کی جائے اورپہلے خطبہ میں درود احتیاط وجوبی کی بناء پرضروری ہے اوردوسرے میں علی الاقوی درود واجب ہے، ا ورتقوی، خوف خدا کی وصیت پہلے خطبہ میں واجب ہے اوردوسرے خطبے میں احتیاط واجب ہے، اسی طرح ایک چھوٹے سورہ کاپڑھناپہلے خطبہ میں علی الاقوی اوردوسرے خطبہ میں احتیاط کی بناپرواجب ہے، اوراحتیاط مستحب اورمؤکد دوسرے خطبہ میں یہ ہے کہ درودوسلام کے بعدآئمہ معصومین پردرودبھیجے اورتمام مؤمنین ومؤمنات کے لئے استغفارکرے، ویسے سب سے بہتریہ ہے کہ مولائے کائنات یااہل بیت علیہم السلام کے جوخطبے منقول ہیں ان میں سے کسی ایک خطبے کوپڑھے۔
مسئلہ ۱۵۶۳ ۔ خطیب جمعہ کوبلیغ ہوناچاہئے یعنی موقع ومحل کی مناسبت سے خطابت کرنے کااہل ہواورایسے جملہ استعمال کرے جوفصیح ہوں، ان میں سخت اور مشکل عبارات نہ ہو، دنیامیں مسلمانوں پرجوبیت رہی ہے اس سے واقف ہو، خصوصااپنے ا طراف کے حالات سے باخبرہو، اسلام اورمسلمانوں کی مصلحتوں کوپہنچاننے والاہو، بہادرہواللہ کے بارے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے نہ ڈرتاہو، زمان ومکان کے لحاظ سے اظہارحق اورابطال باطل کرنے والاہو، جن چیزوں سے تاثیرکلام بڑھتی ہے ان کاپابندہو، مثلااوقات نمازکاپابندہو، اس میں اولیاء وصلحاء کے اوصاف پائے جاتے ہوں، اس کے قول وفعل میں مطابقت ہو، جن چیزوں سے خوداس کی یااس کے کلام کی ا ہمیت کم ہوتی ہوان سے پرہیزکرنے والاہو، یہاں تک کہ زیادہ مزاح کرنے والاہو، باتونی اوربے معنی کلام کرنے والانہ ہواوریہ سب باتیں دنیااوراس کی ریاست کے لئے نہ ہوں، کیونکہ ہرغلطی کاسبب حب دنیاہے تویہ خصوصیت اگرخطیب میں موجود ہوتواس کاکلام لوکوں کے دلوں میں اثراندازہوگا۔
مسئلہ ۱۵۶۴ ۔ خطبہ پڑھنے والے امام جمعہ کو اپنے خطبہ میں مسلمانوں کی دینی، دنیاوی، مصالح، اسلامی اورغیراسلامی ملکوں میں مسلمانوں کی مفادات، مسلمانوں کے دینی اوردنیاوی ضرورتوں کوایسے سیاسی اوراقتصادی مسائل جوبراہ راست معاشرہ اسلامی کے استقلال اورحیثیت کے متعلق ہوں، ان کومسلمانوں کی دوسروں کے ساتھ طرزمعاشرت کوبیان کرناچاہئے، اسی طرح ان کودوسری ظالم اورسامراجی حکومتوں کے دخیل ہونے سے ڈراناچاہئے، خصوصامختصریہ ہے کہ حج وعیدین کی طرح نمازجمعہ اوراس کے خطبے بہت بڑی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ مسلمان اپنے سیاسی مسائل سے بہت ہی زیادہ غفلت برتتے ہیں جبکہ اسلام وہ دین ہے جس کی ہرشان وحالت سیاست پرمبنی ہے اوراسلام کادین سیاست ہوناہراس شخص پر ظاہر ہے جواسلام کے سیاسی، حکومتی،اقتصادی، اجتماعی احکام پرادنی تدبررکھتاہو، پس وہ لوگ جوخیال کرتے ہیںدین سیاسب سے جداہے نہ اسلام کی معرفت رکہتے ہیں اورنہ سیاست کوجانتے ہیں۔
مسئلہ ۱۵۶۵ ۔ امام جمعہ کے لئے مستحب ہے کہ گرمی، سردی، ہرزمانہ میںعمامہ باندھے، یمنی یاعدنی ردااوڑھے، پاک وپاکیزہ لباس پہنے، خوشبولگائے، سکون ووقارسے رہے، منبرپرجاکرحاضرین کوسلام کرے، اس کارخ لوگوں کی طرف ہواورلوگوں کارخ اس کی طرف ہو، خطبہ پڑھتے وقت کمان، عصا، تلوار وغیرہ پرٹیک لگائے ہو، خطبہ سے پہلے مؤذن کے اذان کہتے وقت منبرپربیٹھارہے۔
مسئلہ ۱۵۶۶ ۔ خطیب کاکھڑا ہوناخطبہ پڑھتے وقت واجب ہے نیزخطیب اورامام کاایک ہی ہوناضروری ہے، اگرخطیب کھڑانہیں ہوسکتاتوجوشخص کھڑے ہوکرخطبہ پڑھے وہی نمازبھی پڑھائے اوراگرعاجزخطیب کے علاوہ کوئی دوسرانہیں ہے تونمازظہرپڑھنی چاہئے اورجمعہ ساقط ہے۔
مسئلہ ۱۵۶۷ ۔ خطبوں کوآہستہ پڑھناجائزنہیں ہے خصوصامواعظ اورنصائح کواوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اتنی بلندآوازسے خطبہ پڑھاجائے کہ کم ازکم چار آدمی سن لیں بلکہ بہتریہ ہے کہ اتنی زورسے خطبہ پڑھے کہ تمام حاضرین سن لیں بلکہ ایساکرنا احوط ہے ورنہ وعظ ونصیحت کےلئے اورضروی مسائل بتانے کے لئے بڑئے مجمع میں لاؤڈسپیکر استعمال کرے۔
مسئلہ ۱۵۶۸ ۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ خطیب خطبوں کے درمیان خطابت سے مربوط باتوں کے علاوہ دوسری گفتگونہ کرے، ہاں خطبوں کے بعدنماز شروع کرنے تک گفتگو کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۵۶۹ ۔ دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیربیٹھنا بھی واجب ہے۔
مسئلہ ۱۵۷۰ ۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ خطیب اورسننے والے خطبہ دیتے وقت حدث اورخبث سے پاک اورباطہارت ہوں۔
مسئلہ ۱۵۷۱ ۔ سننے والوں کاامام کی طرف خطبہ پڑھتے وقت رخ رکھنااورنمازمیں جتنی توجہ جائزہے اس سے زیادہ خطبہ میں بھی ادہرادہرملتفت نہ ہونا مستحب ہے۔
مسئلہ ۱۵۷۲ ۔ خطبہ کوکان لگاکرسننا واجب ہے، اسی طرح خطبہ کے درمیان باتیں نہ کرنااوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ مامومین خاموش رہیں، ہاں گفتگونہ کرنی چاہئے ۔
مسئلہ ۱۵۷۳ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ حمدوصلوات کوخطیب عربی زبان میں ہی پڑھے چاہئے خطبے پڑھنے والااورسننے والے دونوں غیرعربی ہوں، البتہ وعظ وغیرہ کو غیرعربی میں بھی کہاجاسکتاہے، بلکہ احتیاط مستحب ہے کہ وعظ اوردیگر امورجومسلمین کے مصالح سے متعلق ہوں سننے والوں ہی کی زبان میں ہوں اوراگر وہ مختلف زبانوں کے جاننے والے ہوں توان کی زبان میں کہاجائے، البتہ اگرتعدادواجبی تعدادسے زیادہ ہے توواجبی تعدادوالوں کی زبان پراکتفاء کرناجائزہے، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ سننے والوں کی زبان میں خطبہ کہاجائے۔
مسئلہ ۱۵۷۴ ۔ نمازجمعہ میں صرف ایک اذان کافی ہے، لہذا جمعہ کے دن دوسری اذان بدعت اورحرام ہے۔
نمازجمعہ کے احکام
مسئلہ ۱۵۷۵ ۔ جس امام کی اقتداء میں نمازجمعہ اداکی ہے اس کی اقتداء میں نمازعصرپڑھی جاسکتی ہے، البتہ اگرکوئی احتیاط پرعمل کرناچاہے توعصرکو جماعت سے پڑھنے کے بعدپھرظہرین کوفرادی بھی پڑھ لے، لیکن اگرامام وماموم نمازجمعہ کے بعدعصرسے پہلے احتیاطا نمازظہرفرادی پڑھ لیں تونمازعصرمیں امام جمعہ کی اقتداء کی جاسکتی ہے اوراس سے احتیاط حاصل ہوجائے گی۔
مسئلہ ۱۵۷۶ ۔ نمازجمعہ پڑھنے والے ماموم اورامام اگراحتیاطا نمازظہرپڑھیں تواس میں بھی اقتداء کی جاسکتی ہے، البتہ جن مامومین نے نمازجمعہ نہیں پڑھی بلکہ صرف ظہراحتیاطی میں اقتداء کی ہے توان کے لئے صرف اس نمازکاپڑھناکافی نہیں ہے، بلکہ نمازظہرکادوبارہ پڑھناواجب ہے۔
مسئلہ ۱۵۷۷ ۔ پہلی رکعت میں امام کے ساتھ رکوع پاجانے والاماموم اگراژدھام وغیرہ کی وجہ سے امام کے ساتھ سجدہ نہ کرسکے اوراسے امام کے بعدسجدہ کرکے رکوع سے پہلے یارکوع میں امام سے مل جاناممکن ہوتوایساکرلیناچاہئے اس کی نمازصحیح رہے گی، اوراگریہ ممکن نہ ہوتورکوع میںامام کی متابعت نہ کرے، بلکہ جب امام دوسری رکعت کے لئے سجدہ اول میں پہنچے تواس کے ساتھ سجدے بجالائے اورنیت یہ رہے کہ دونوں سجدے پہلی رکعت ہیں، ایساکرنے سے امام کے ساتھ ایک رکعت مکمل ہوجائے گی پھردوسری رکعت اکیلاکھڑے ہوکرپڑھ لے اوراس کی نمازصحیح ہے، لیکن اگراس نے یہ نیت کرلی کہ یہ دونوں سجدے دوسری رکعت کے ہیں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ان دونوں کوکالعدم سمجھ کر پہلی رکعت کے لئے سجدے کرے اوردوسری رکعت پڑھ لے، اورنمازکے بعد نمازظہرکوبھی بجالائے۔
مسئلہ ۱۵۷۸ ۔ اگرماموم دسری رکعت میں، تکبیرکہہ کر رکوع میں جائے پھراسے شک ہوکہ امام رکوع میں تھایانہیں اورمیں نے اسے رکوع میں پالیاہے یا نہیں تواس کی یہ نمازجمعہ کی نمازنہ ہوگی اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اسے ظہرقراردے کر مکمل کرناچاہئے اوردوبارہ نمازظہرپڑھے۔
مسئلہ ۱۵۷۹ ۔ اگرخطبے کے بعداورامام کے نمازشروع کرنے کے بعد مامومین تکبیرسے پہلے چلے جائیں توبظاہرجمعہ منعقد نہ ہوگااورباطل ہے اورامام کے لئے جائزہے کہ اس کوچھوڑکرنمازظہرشروع کرے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ ظہرکی نیت کرکے مکمل کرے پھردوبارہ نمازظہربھی پڑھے اوراس سے بھی زیادہ احتیاط کی صورت یہ ہے کہ شروع کی ہوئی نمازکوتوجمعہ کی طرح پڑھے اس کے بعدظہرکی نماز پڑھے۔
مسئلہ ۱۵۸۰ ۔ اگرامام کے ساتھ چارآدمی نمازجمعہ شروع کردیں، چاہے تکبیرہی میں اقتداء کی ہو، پھرایک آدمی کے علاوہ بقیہ چھوڑ کرچلے جائیں تونمازباطل ہے، چاہے امام کے علاوہ سب ہی چلے گئے ہوں یاامام کے ساتھ دوایک آدمی رہ گئے ہوں یاامام چلاگیاہواورچاروں ماموم رہ گئے ہوں، اورچاہے ان لوگوں نے ا یک رکعت یااس سے بھی کم نمازپڑھی ہولیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازجمعہ کوتمام کریں اوراس کے بعدظہرکوبجالائیں، ہاں اگردوسری رکعت کے بالکل آخرمیں بلکہ دوسری رکعت کے رکوع کے بعدہی چھوڑ کرچلے جائے تونمازجمعہ صحیح ہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے بعدنمازظہرکوبھی بجالائے۔
مسئلہ ۱۵۸۱ ۔ اگرلوگوں کی تعدادنصاب جمعہ( یعنی پانچ آدمی) سے زیادہ ہوتوکچھ لوگوں کے چلے جانے سے کوئی اثرنہیں پڑے گا بشرطیکہ بقیہ لوگوں کی تعداد نصاب بھرہو۔
مسئلہ ۱۵۸۲ ۔ اگرنمازجمعہ کے انعقادکے لئے پانچ نفرجمع ہوجائیں پھرخطبہ کے درمیان یابعدنمازجمعہ سے پہلے متفرق ہوجائیں اورجانے والے پلٹ کربھی نہ آئیں اورنہ وہاں اتنے آدمی اورہوں جن سے واجب عدد پوری ہوجائے توسب پرنمازظہرمعین ہوگی۔
مسئلہ ۱۵۸۳ ۔ اگرتعدادواجب میں سے بعض مومنین واجب بھر خطبہ سننے سے پہلے ہی اٹھ کرچلے جائیں اورزیادہ دیرکئے بغیرواپس آجائیں اورامام نے بھی ان لوگوں کے چلے جانے کے بعد سے خطبہ روک دیاہوتوجہاں سے روکاہے وہیں سے پھرشروع کردے اوراگرامام نے خطبہ کونہ روکاہو توجہاں سے ان لوگوں نے نہیں سنااتنے حصے کودوبارہ پڑھ لے، البتہ اگرجانے والے اتنی دیربعدپلٹے ہوں جس سے خطبہ کی وحدت عرفیہ ختم ہوگئی ہوتوشروع سے خطبہ کااعادہ کرناچاہئے، اسی طرح اگرجانے والے تونہیں پلٹے لیکن ان کے بدلے کچھ دوسرے لوگ آگئے ہوںتب بھی امام کے خطبہ پھرسے پڑھناچاہئے۔
مسئلہ ۱۵۸۴ ۔ اگرتعدادواجب خطبے کے درمیان یابعدمیں متفرق ہوجائیں اورپھرواپس پلٹ آئیں، یہاں اگرتفرق واجب بھر خطبہ سننے کے بعد ہواہوتو خطبے کودوبارہ پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، چاہے دیرسے واپس پلٹ آئیں، اوراگرتفرق واجب بھر خطبہ سننے سے پہلے ہی واقع ہوجائے، یہاں اگرتفرق نمازجمعہ کوچھوڑدینے کی نیت سے واقع ہواہوتو احتیاط واجب یہ ہے کہ ہرحالت میں پھرسے خطبہ پڑھاجائے، لیکن اگرکسی عذرکی وجہ سے گئے ہوئے ہوں مثلابارش وغیرہ، اب اگراتنی دیرہوجائے جس سے وحدت عرفیہ ختم ہوجائے توپھرسے خطبہ کاپڑھناواجب ہے، ہاں اگروحدت عرفیہ باقی ہوتواسی پربنا رکھے اورنمازجمعہ کوتمام کرے اورصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۵۸۵ ۔ تین میل کے اندردوسری نمازجمعہ منعقدنہیں ہوتی ہے، اب اگر تین میل کافاصلہ ہوتودونوں جماعتیں صحیح ہیں اوردوسری کامعیاردونوں نماز جمعہ کاجائے وقوع ہے نہ وہ شہرجن میں جمعہ منعقدہوتی ہو، اس لئے بڑے بڑے شہروں میں جن کی لمبائی چند فرسخ ہے کئی نمازجمعہ منعقد ہوسکتی ہیں۔
مسئلہ ۱۵۸۶ ۔ جس جگہ نمازجمعہ پڑھناچاہیں وہاں احتیاط مستحب ہے کہ پہلے یہ معلوم کرلیناچاہئے کہ حدشرعی کے اندراسی وقت یااس سے پہلے کوئی نماز جمعہ تونہیں ہوتی۔
مسئلہ ۱۵۸۷ ۔ تین میل سے کم میں ہونے والی دونمازجمعہ اگرایک ساتھ شروع ہوں تودونوں باطل ہیں، ورنہ جوپہلے شروع ہوئی ہے وہ صحیح ہے، چاہے صرف تکبیرة الاحرام پہلے کہی گئی ہواورچاہے نمازجانتے ہوں کہ دوسری نمازبعدمیں ہوئی ہے یانہ جانتے ہوں، اسی طرح بعدوالی نمازباطل ہے چاہے اس کے نمازیوں کومعلوم ہوکہ اس سے پہلے نمازجمعہ ہوئی ہے یانہ معلوم ہو، نمازکی صحت کادارومدارنمازہی کے تقدم وتاخرپرہے، خطبہ کے آگے پیچھے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس لئے اگر ایک جماعت کاخطبہ پہلے شروع ہواوردوسری کی نمازپہلے شروع ہوئی ہوتودوسری نمازصحیح رہے گی پہلی باطل ہوجائے گی۔
مسئلہ ۱۵۸۸ ۔ اگریہ معلوم ہوکہ حدشرعی کے اندرکوئی اورنمازجمعہ ہوتی ہے لیکن شک ہواسی وقت ہوتی ہے یااس سے پہلے ہوتی ہے مشکوک ہو، تودوسری نماز جمعہ منعقد کرسکتے ہیں، اسی طرح اگرشک ہوکہ حدشرعی کے اندرکوئی نمازجمعہ منعقدہوتی ہے کہ نہیں۔
مسئلہ ۱۵۸۹ ۔ نمازجمعہ پڑھ لینے کے بعد اگردوسری نمازجمعہ ہونے کاعلم ہواوردونوں جماعتوں کے بارے میں آگے پیچھے ہونےکااحتمال ہوتوبظاہردونوں پر نہ جمعہ کااعادہ واجب ہے نہ ظہرکااگرچہ احوط یہی ہے کہ اعادہ واجب ہے، اب اگرکوئی تیسری جماعت جوان دونوں جمعوں میں شریک نہیں ہوئی ہے تیسرا جمعہ پڑھناچاہتی ہے توجب تک اسے جمعوں کے باطل ہونے کاعلم نہ ہوجائے اس وقت تک تیسراجمعہ نہیں پڑھاجاسکتا، البتہ اگرایک نمازکے صحیح ہونے کااحتمال بھی ہوتب بھی تیسری جماعت کابرپاہوناجائزنہیں۔
مسئلہ ۱۵۹۰ ۔ خریدوفروخت یااس کے علاوہ دوسرے معاملات جمعہ کے دن اذان کے بعد ہمارے زمانہ میں جب کہ نمازجمعہ واجب تعیینی نہیں ہے حرام نہیں ہے۔
عیدفطراورعیدقربان کی نماز
مسئلہ ۱۵۹۱ ۔ یہ نماززمان حضور امام میں واجب ہے اوراس کوجماعت سے پڑھناچاہئے لیکن ہمارے زمانہ میں جوغیبت کازمانہ ہے، مستحب ہے اوراس نماز کوجماعت سے اورفرادی دونوں طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔
مسئلہ ۱۵۹۲ ۔ عیدین کی نمازکاوقت عیدکے دن طلوع آفتاب سے ظہرتک ہے۔
مسئلہ ۱۵۹۳ ۔ مستحب ہے کہ عیدین قربان کی نمازکوتھوڑاآفتاب چڑھ جانے کے بعدپڑھیں اورعیدالفطرمیں آفتاب چڑھ جانے کے بعد افطارکرنامستحب ہے اورفطرہ دے کرنمازعیدپڑھے۔
مسئلہ ۱۵۹۴ ۔ عیدفطروقربان کی نمازدورکعت ہے پہلی رکعت میں حمدوسورہ پڑھنے کے بعد پانچ تکبیرکہے اورہرتکبیرکے بعدقنوت پڑھے اورپانچویں قنوت کے بعدتکبیرکہہ کر رکوع میں جائے اس کے بعددوسجدے کرکے کھڑا ہواوردوسری رکعت میں چارتکبیرکہے اورہرتکبیرکے بعدقنوت پڑھے پھرپانچویں تکبیرکہہ کر رکوع میں جائے اس کے بعددوسجدے کرکے تشہدوسلام پڑھ کرنمازتمام کرے۔
مسئلہ ۱۵۹۵ ۔ ویسے توقنوت میں ہردعاکافی ہے لیکن بقصدثواب اس دعاکاپڑھنامناسب ہے:
اللہم اہل الکبریاء والعظمة واہل الجودوالجبروت واہل العفووالرحمة واہل التقوی والمغفرة اسالک بحق ہذا الیوم الذی جعلتہ للمسلمین عیدا ولمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ ذخراوشرفا وکرامة ومزیدا ان تصلی علی محمد وآل محمد وان تدخلنی فی کل خیرادخلت فیہ محمدا وآل محمدا وان تخرجنی من کل سوء اخرجت منہ محمدا وآل محمد صلواتک علیہ وعلیہم اللہم انی اسالک خیرماسالک بہ عبادک الصالحون واعوذبک ممااستعاذ منہ عبادک المخلصون۔
مسئلہ ۱۵۹۶ ۔ مستحب ہے عیدین کی نمازمیں قرائت بلندآوازسے پڑھے۔
مسئلہ ۱۵۹۷ ۔ ان نمازوں میں کسی مخصوص سورہ کی شرط نہیں ہے لیکن بہتریہ ہے کہ پہلی رکعت میں ”والشمس /سورہ ۹۱“ اوردوسری رکعت میں سورہ ”غاشیہ / سورہ ۸۸“ پڑھے یایہ کہ پہلی رکعت میں سورہ ”سبح اسم/ سورہ ۸۷“ اوردوسری رکعت میں سورہ ”والشمس“ کوپڑھے۔
مسئلہ ۱۵۹۸ ۔ مستحب ہے کہ عیدالفطرمیں نمازسے پہلے کھجورسے افطارکریں اورعیدقربان میں نمازکے بعدتھوڑاساقربانی کاگوشت کھائیں۔
مسئلہ ۱۵۹۹ ۔ مستحب ہے کہ نمازکے لئے پیدل ننگے پیراوروقارکے ساتھ جائیں اورنمازسے پہلے غسل کریں اورسفیدعمامہ باندھیں۔
مسئلہ ۱۶۰۰ ۔ نمازعیدمیں مستحب ہے کہ زمین پرسجدہ کریں اورتکبیر کہتے وقت ہاتھوں کوبلندکریں اورنمازکوبلند آوازسے پڑھیں۔
مسئلہ ۱۶۰۱ ۔ نمازعیدکوصحرامیں پڑھنامستحب ہے لیکن مکہ میں مستحب یہ ہے کہ مسجدالحرام میں پڑھی جائے۔
مسئلہ ۱۶۰۲ ۔ شب عیدفطر، نمازمغرب وعشاء کے بعداورروزعید نمازصبح وظہروعصرکے بعد اورنمازعیدکے بعدان تکبیروں کوپڑھنامستحب ہے:
اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد اللہ اکبر علی ماہدانا۔
مسئلہ ۱۶۰۳ ۔ عیدقربان میں دس نمازوں کے بعد گزشتہ تکبیروں کوکہے عیدقربان کونمازظہرکے بعد سے بارہویں کی نمازصبح کے بعد تک دس نمازیں ہوتی ہیں، البتہ ان تکبیروں میں اتنااضافہ اورکردے:
اللہ اکبر علی مارزقنا من بھیمة الانعام والحمدللہ علی ماابلانا۔
اوراگرعیدقربان کے دن منی میں ہوتوان تکبیروں کوپندرہ نمازوں کے بعدکہے یعنی عیدکے دن نمازظہرکے بعدسے تیرہ ذی الحجہ کی نمازصبح کے بعدتک کہے۔
مسئلہ ۱۶۰۴ ۔ نمازعیدکوچھت کے نیچے پڑھنامکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۶۰۵ ۔ اگرنمازکی تکبیروں یاقنوتوں میں شک کرے تواگراس کامحل گزرچکاہوتوشک کی پرواہ نہ کرے اوراگر محل باقی ہوتوکم پربنا رکھے اوراگر بعد میں پتہ چلے کہ پہلے کہہ چکاتھا توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۰۶ ۔ اگرسہوقرائت یاتکبیروں یاقنوتوں کوبھول جائے اوررکوع میں پہنچنے کے بعد یاد آئے تواس کی نمازصحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۰۷ ۔ اگررکوع یادوسجدے یاتکبیرة الاحرام بھول جائے تواس کی نمازباطل ہوگی۔
مسئلہ ۱۶۰۸ ۔ اگرنمازعیدمیں ایک سجدہ یاتشہد بھول جائے تواحتیاط مستحب ہے کہ نمازکے بعد رجاء ا (ثواب کی امیدسے) اس کوبجالائے اوراگرکوئی ایساکام کرے جس کے کرنے سے نمازپنجگانہ میں سجدہ سہوکرنا پڑتاہے تواحتیاط مستحب یہ ہےکہ نمازکے بعد دوسجدے سہورجاء ا بجالائے۔
نمازاجارہ
مسئلہ ۱۶۰۹ ۔ انسان کے مرنے کے بعد اس کی نمازاورباقی تمام عبادات وغیرہ کوجنہیں وہ اپنی زندگی میں بجانہیں لایاتھا کسی کومزدوری دے کر پڑھوایا جاسکتاہے اوراگرکوئی شخص اجرت لئے بغیربجالائے توبھی صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۱۰ ۔ رسول خدااورآئمہ معصومین کی زیارت جیسی مستحبی چیزوں کے لئے زندہ کی طرف سے اجیربنایاجاسکتاہے، اسی طرح مستحب اعمال بجالاکر اس کاثواب مردوں یازندوں کوہدیہ کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۶۱۱ ۔ میت کی قضانمازوں کو بجالانے کی لئے جوشخص اجیرہواس کے لئے ضرروی ہے کہ نمازکے مسائل کواچھی طرح جانتاہو، یاتقلیدسے یااحتیاط پر عمل کرے یامجتہدہو۔
مسئلہ ۱۶۱۲ ۔ اجیر(مزدور) کوچاہئے کہ نیت کرتے وقت میت کومعین کرے لیکن اس کے نام کاجانناضروری نہیں بلکہ اتنی بھی نیت کافی ہے کہ میں نمازاس شخص کی طرف سے پڑھ رہاہوں کہ جس کے لئے میں اجیربنایاگیاہوں۔
مسئلہ ۱۶۱۳ ۔ نائب کوچاہئے کہ اپنے کومیت کی جگہ فرض کرے اورمیت کے ذمہ جوعبادتیں ہیں ان کی قضاکرے اوراگرعمل انجام دے کر اس کاثواب میت کوہدیہ کرے تواپنے قرض سے سبکدوش نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۱۴ ۔ ایسے انسان کواجیربنایاجائے جس کے متعلق اطمینان ہوکہ وہ نمازکوصحیح طریقہ سے انجام دے سکتاہے اوراگرنمازیں پڑھنے کے بعدشک کرے کہ اس نے صحیح پڑھی ہیں یانہیں توبلااشکال ہے۔
مسئلہ ۱۶۱۵ ۔ جس نے کسی شخص کومیت کی نمازپڑھنے کے لئے اجیربنایاہواگرمعلوم ہوجائے کہ اس نے نمازیں نہیں پڑھیں یاباطل پڑھی ہیں توان نمازوں کودوبارہ پڑھوانے کے لئے اجیربنائے۔
مسئلہ ۱۶۱۶ ۔ اگرکوئی شک کرے کہ اجیرنے عمل انجام دیاہے یانہیں تواس کے کہنے پرقناعت نہیں کرناچاہئے، دوبارہ اجیرمقررکرے لیکن اگر شک کرے کہ اس کاعمل صحیح تھایانہیں توپھردوبارہ اجیربناناضروری نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۱۷ ۔ معذور(یعنی وہ شخص جوتیمم کے ساتھ یابیٹھ کرنمازپڑھتاہے) کومیت کی طرف سے اجیرنہیں بنایاجاسکتااگر چہ میت کی نمازاسی حالت میں قضا ہوئی ہو۔
مسئلہ ۱۶۱۸ ۔ مرد عورت کی اورعورت مردکی نیابت کرسکتی ہے اورآہستہ یابلند پڑھنے میں اپنے وظیفہ کے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ ۱۶۱۹ ۔ میت کی قضانمازوں کے بارے میں اگرمعلوم ہوکہ کس ترتیب سے قضاہوئی تھی توضروری ہے کہ ترتیب سے پڑھاجائے اوراگرترتیب کاعلم نہ ہوتوترتیب کاخیال رکھناضروری نہیں ہے مگرایک دن کی ظہراورعصرکی نمازیامغرب وعشاء کی نمازان میںترتیب بہرحال ضروری ہے۔
مسئلہ ۱۶۲۰ ۔ اگرمیت کی نمازکے لئے متعدد لوگوں کواجیربنایاجائے توہرایک کے لئے کوئی وقت معین کرناچاہئے، مثلاایک سے قراردادکی جائے کہ تم کوصبح سے لے کر ظہرتک قضانمازیں میت کی پڑھنی ہوں گی اوردوسرے سے ظہرسے لیکر رات تک کی شرط کرلی جائے، نیزہرایک اجیرکے لئے جونمازاس نے پڑھنی ہویاعصرسے اوراسی طرح ان کے ساتھ طے کرے کہ ہرمرتبہ ایک دن کی نمازوں کوپوراکریں اوراگرناقص چھوڑدیں توحساب میں شامل نہ کرے اورجب دوبارہ پڑھناچاہیں توایک دن رات کی نمازوں کو اول سے شروع کرے۔
مسئلہ ۱۶۲۱ ۔ اگرکوئی اجیربن جائے کہ مثلاایک سال میں میت کی نمازیں ختم کرلے، اب اگروہ ایک سال ختم ہونے سے پہلے سے مرجائے توجن نمازوں کے متعلق علم ہوکہ اس نے نہیں پڑھی بناء براحتیاط واجب انہیں دوبارہ کسی اوراجیرسے پڑھواناچاہئے اورجن نمازوں کے متعلق احتمال ہوکہ اس نے نہیں پڑھیں ان کے لئے بھی احتیاط واجب کی بناپراجیربنایاجائے۔
مسئلہ ۱۶۲۲ ۔ اگراجیراجرت پرلئے ہوئے نمازوروزہ کوپوراکئے بغیرمرجائے اورپوری اجرت پہلے لے چکاہوتواگراس سے یہ شرط کرلی گئی ہوکہ وہی تمام نمازوں کواداکرے توجتنی نمازیں رہ گئی ہیں ان کی اجرت مردہ اجیرکے مال سے لے لی جائے اوراگرایسی شرط نہیں کی گئی تھی توورثاء کوچاہئے کہ اس کے مال سے کسی کواجیرکریں تاکہ باقیماندہ نمازیں وہ پڑھے ا وراگرمردہ اجیرکے پاس کوئی مال نہ ہوتوپھرورثاء پرکچھ واجب نہیں ہے، لیکن ان کے لئے بہترہے کہ میت کے قرض اداکریں۔
مسئلہ ۱۶۲۳ ۔ اگر اجیرعمل تمام کرنے سے پہلے مرجائے اوراس پربھی اپنی قضانمازیں ہوں توپہلے اس مرنے والے اجیرکے مال سے وہ نمازیں جواجرت پر پڑھوائی جائیں کہ جن کی وہ اجرت لے چکاتھا، اب اگران کی اجرت دینے کے بعدکچھ رقم بچ جائے اوراجیروصیت کرگیاہوکہ اس کی اپنی قضانمازیں پڑھوائی جائیں اوراس کے وارث بھی اجازت دیں تواس اجیرکی اپنی تمام نمازوں کے لئے کسی کواجیربنایاجائے اوراگروارث نے اجازت نہ دی ہوتواس مال کے تیسرے حصے کو اس کی نمازوں کے پڑھوانے پرخرچ کیاجائے۔
روزے کے احکام
مسئلہ ۱۶۲۴ ۔ روزہ یہ ہے کہ فرمان خداوندی کی اطاعت کے لئے اذان صبح سے لے کر مغرب تک روزے کوباطل کرنے ولی چیزوں سے اجتناب کیاجائے، اس کی تفصیل آئندہ مسائل میں ہوگی۔
نیت
مسئلہ ۱۶۲۵ ۔ نیت کے لئے نہ تواس کازبان پرجاری کرناضروری ہے اورنہ دل سے گزارنا صرف اتنانظرمیں رکھناکافی ہے کہ اطاعت خداکے لئے اذان صبح سے مغرب تک روزہ توڑنے والی کسی چیزکااستعمال نہیں کرے گا اوراذان صبح سے کچھ پہلے اورمغرب کے تھوڑی دیربعد تک مفطرات سے اجتناب کرے تاکہ یقین حاصل ہوجائے کہ اس پوری مدت میں روزہ رہاہے۔
مسئلہ ۱۶۲۶ ۔ واجب ومعین روزے میں جیسے رمضان المبارک کاروزہ اگرابتداء شب سے لے کر اذان صبح تک کسی وقت بھی کل روزہ رکھنے کی نیت کرے توبلااشکال ہے، اوراگر بھول جائے کہ رمضان کاروزہ ہے یاکوئی اورواجب معین کااوراذان ظہرسے پہلے متوجہ ہوجائے تواگرروزہ کوباطل کردینے والاکوئی کام ا نجام نہیں دیاہوتونیت کرے اوراس کاروزہ صحیح ہوگا، اوراگرکوئی ایساکام جوروزے کوباطل کردیتاہے اس سے سرزدہوچکاہویاظہرکے بعدمتوجہ ہوتواس کاروزہ باطل ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مغرب تک ایساکوئی کام انجام نہ دے جوروزے کوباطل کردیتاہے اوراس روزے کی قضاء بھی بجالائے، لیکن مستحبی روزے کی نیت کاوقت رات کے شروع سے لے کردوسرے دن مغرب ہونے سے پہلے تک رہتاہے کہ وہ نیت کرسکے لہذااگر اس فاصلہ میں کوئی ایساکام نہ کرے جس سے روزہ باطل ہوتومستحبی روزہ کی نیت کرسکتاہے لہذا اورروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۲۷ ۔ اگرروزہ کی نیت کے بغیرسوجائے اوراذان ظہرسے پہلے جاگے اوروہ فورا نیت کرے تواس کاروزہ صحیح ہوگا چاہے وہ روزہ واجب ہویامستحب لیکن اگرظہرکے بعدبیدارہوتوپھرواجب روزہ کی نیت نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۱۶۲۸ ۔ اگرکوئی رمضان کے علاوہ کوئی دوسرا روزہ رکھناچاہتاہے تواس کومعین کرناہوگا، مثلانیت کرے کہ قضا کاروزہ یانذرکاروزہ رکھتاہوں لیکن رمضان میں یہی کافی ہے کہ نیت کرے کل روزہ رکھوں گا، بلکہ اگراسے معلوم نہیں ہے کہ یہ رمضان ہے یامعلوم تھامگربھول گیااوردوسرے کسی روزے کی نیت کرلی تب بھی وہ رمضان کاہی روزہ شمارہوگا۔
مسئلہ ۱۶۲۹ ۔ اگرعلم ہوکہ رمضان کامہینہ ہے اورپھرجان بوجھ کررمضان کے علاوہ کسی اورروزہ کی نیت کرلے توپھروہ روزہ نہ رمضان کاشمارہوگا اورنہ ہی وہ روزہ جس کااس نے قصدکیاتھا۔
مسئلہ ۱۶۳۰ ۔ اگراذان صبح سے پہلے نیت کرلے اوربعدمیں مست ہوجائے اوردن میں ہوش آئے اورکوئی کام روزہ کے خلاف نہ کیاہوتواحتیاط واجب ہے کہ اس دن کاروزہ تمام کرے اوراس کی قضاء بھی کرے۔
مسئلہ ۱۶۳۱ ۔ اگراذان صبح سے پہلے نیت کرلے اوربے ہوش ہوجائے اوردن میں ہوش آجائے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس دن کاروزہ تمام کرے اوراگر تمام نہیں کیاتواس کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۶۳۲ ۔ اگراذان صبح سے پہلے نیت کرلے اورسوجائے اورمغرب کے بعد بیدارہوجائے تواس کاورزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۳۳ ۔ اگررمضان کی پہلی تاریخ سمجھ کرپہلی کی نیت سے روزہ رکھے لیکن بعدمیںاسے معلوم ہوجائے کہ دوسری یاتیسری تھی تواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۳۴ ۔ اگرکسی کومعلوم نہ ہویابھول جائے کہ رمضان ہے اورروزہ نہ رکھے اورظہرسے پہلے متوجہ ہوتواگرکوئی روزہ کوباطل کرنے والاکام بجانہ لایاہوتو اس کاروزہ باطل ہے لیکن مغرب تک روزہ باطل کرنے والے کسی کام کاارتکاب نہ کرے اوررمضان کے بعد اس کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۶۳۵ ۔ بچہ اگراذان صبح سے بالغ ہوجائے توروزہ رکھے اوراگراذان کے بعدبالغ ہوتواس دن کاروزہ اس پرواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۳۶ ۔ اجارہ پرروزہ رکھنے والااپنے لئے مستحبی روزہ رکھ سکتاہے لیکن جس کے ذمہ ماہ رمضان کے قضاروزے ہوں اس کے لئے مستحبی روزہ رکھناجائز نہیں ہے، اورجس کے ذمہ کوئی دوسرا واجب روزہ ہواس کے لئے بنابراحتیاط واجب روزہ رکھناجائزنہیں ہے، لیکن اگربھول کر مستحبی روزہ رکھ لے اورظہر سے پہلے یادآجائے توواجب روزہ کی نیت کرسکتاہے اوراگرظہرکے بعدہوتواس کاروزہ باطل ہے اوراگر مغرب کے بعدیادآجائے تواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۳۷ ۔ ماہ رمضان میں ظہرسے پہلے مسلمان ہوجانے والے کافر پربنابراحتیاط واجب روزہ واجب ہوجاتاہے اوراگرروزہ نہیں رکھاتواس کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۶۳۸ ۔ ماہ رمضان میں اگرمریض ظہرسے پہلے اچھاہوجائے اوراس وقت روزہ باطل کرنے والاکوئی ایساکام انجام نہ دیاہوتوروزہ کی نیت کرلے لیکن اگر ظہرکے بعداچھاہوتواس دن کاروزہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۳۹ ۔ ماہ رمضان میں ہررات کو دوسرے دن روزہ رکھنے کی نیت کرلیناکافی ہے لیکن بہترہے کہ اس کے علاوہ پہلی رات کوپورے مہینہ کی بھی نیت کرلے۔
مسئلہ ۱۶۴۰ ۔ یوم الشک، یعنی جس دن شک ہوکہ آج پہلی رمضان ہے یاتیسویں شعبان، تووہ روزہ واجب نہیں ہے اوراگرروزہ رکھناچاہے توماہ رمضان کی نیت سے نہیں رکھ سکتالیکن اگرقضایااس جیسے کسی روزہ کی نیت کرے اورچنانچہ بعدمیں معلوم ہوجائے کہ وہ دن رمضان کاتھاتووہ رمضان کاشمارہوگا۔
مسئلہ ۱۶۴۱ ۔ اگریوم الشک کادن قضاکی نیت سے یامستحبی روزہ کی نیت سے روزہ رکھ لے اوردن میں کسی وقت معلوم ہوجائے کہ آج رمضان ہے توپھر اس کوروزہ رمضان کی نیت کرنی پڑے گی اگرچہ ظہرکے بعدملتفت ہو، لیکن اگراس مشکوک دن میں رمضان کی نیت سے روزہ رکھے توباطل ہے اگرچہ فی الواقع رمضان ہی ہو۔
مسئلہ ۱۶۴۲ ۔ اگرماہ رمضان یادوسرے معین واجب روزہ میں روزہ کی نیت روگردان ہوجائے تواس کاروزہ لیکن اگرروزہ باطل کرنے والے کسی کام کو بجالانے کی نیت کرے، اگربجانہ لائے اس کاروزہ صحیح ہے، اسی طرح مستحبی روزے اورغیرمعین واجبی روزے میں اگر ظہرسے پہلے دوبارہ نیت کرے تواس کاروزہ صحیح ہے۔
روزہ کوباطل کرنے والی چیزیں
مسئلہ ۱۶۴۳ ۔ روزہ کوباطل کرنے والی چیزیںدس ہیں :
۱ ۔کھانا ۲ ۔ پینا۔ ۳ ۔ جماع۔ ۴ ۔ استمناء(یعنی اپنے ساتھ کوئی ایساکام کرنا جس سے منی باہرآجائے)۔ ۵ ۔ رسول خدا اورآئمہ پرجھوٹ باندھنا۔ ۶ ۔ غلیظ غبارکاحلق میں پہنچانا۔ ۷ ۔ سرپانی میں ڈبونا۔ ۸ ۔ جنابت یاحیض یانفاس پرصبح تک باقی رہنا۔ ۹ ۔ کسی بہنے والی چیزسے حقنہ (اینما) کرنا۔ ۱۰ ۔ جان بوجھ کرقے کرنا۔
ان کی شرح آئندہ مسائل میں بیان ہوگی۔
۱ ۔ ۲ ۔ کھانااورپینا
مسئلہ ۱۶۴۴ ۔ جان بوجھ کرکھانے پینے سے روزہ باطل ہوجاتاہے خواہ وہ عام طورسے کھائی جا نے والی چیزہوجیسے روٹی، پانی یاعام ط
طورسے کھانے پنیے والی چیزنہ ہوجیسے خاک اوردرخت کاشیرہ، خواہ کم ہویازیادہ حتی کہ اگرسوئی کے دھاگے کومنہ کے پانی سے ترکر ے اوردوبارہ منہ میں لے جائے اوراس کی تری کونگل لے تواس کاروزہ باطل ہوجائے گا، اسی طرح مسواک کی تری، البتہ اگریہ رطوبت بہت کم ہوجوتھوک میں گھل مل کر ختم ہوجائے توروزہ باطل نہ ہوگا، اسی طرح دانتوں میں جوغذاباقی رہ جائے جب دانتوں سے باہرنکل آئے اسے نگلنے پربھی روزہ باطل ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۱۶۴۵ ۔ بھول کرکھانے پینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۱۶۴۶ ۔ ان انجکشنوں اورسرموں سے پرہیزکرناچاہئے جوغذاکے بجائے استعمال ہوتے ہیں، ہاں عضوکوسن کردینے والے انجکشن یادواکے انجکشن کے لگوانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۴۷ ۔ (سحری) کھاتے وقت اگرمعلوم ہوجائے کہ صبح ہوگئی توجوکچھ منہ میں ہواگل دے اوراگرعمدا نگل لے توروزہ باطل ہے اورکفارہ بھی واجب ہے۔
مسئلہ ۱۶۴۸ ۔ روزہ داراگرناقابل برداشت حدتک پیاساہوجائے اوربیماریاہلاک ہونے کاخوف ہوتوبقدرضرروت پانی پی سکتاہے لیکن اس کاروزہ باطل ہوجائے گا اوراگر رمضان کامہینہ ہے تواسے چاہئے کہ دن کے بقیہ حصے میں وہ کام کرنے سے پرہیزکرے جن سے روزہ باطل ہوجاتاہے۔
مسئلہ ۱۶۴۹ ۔ روزہ رکھنے والے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ صبح کی اذان سے پہلے دانتوں کومانجھے اوران میں خلال کرے اگرچہ احتمال ہوکہ دانتوں کے بیچ میں رہ جانے والی غذادن میں حلق سے اترجائے گی، لیکن اگرمعلوم ہوکہ دانتوں کے بیچ میں رہ جانے والی غذا دن میں حلق سے اترجائے گی توصبح کی اذان سے پہلے دانتوں کوصاف کرے اورخلال کرے اوراگرایسانہیں کیاتوروزہ باطل ہوگاچاہے کوئی چیزحلق سے اترجائے کہ نہیں۔
مسئلہ ۱۶۵۰ ۔ تھوک کونگلناروزے کوباطل نہیں کرتاچاہے وہ تھوک کھٹاس یااسی طرح کی کسی چیزکے تصورسے منہ میںجمع ہوگیاہو۔
مسئلہ ۱۶۵۱ ۔ سروسینہ کے اختلاط(بلغم وغیرہ) اگرمنہ کے اندرتک نہیں پہنچے توان کے نگلنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اکرمنہ کے اندرتک پہنچ جائیں تواحتیاط واجب ہے کہ حلق سے نیچے نہ اتاریں۔
مسئلہ ۱۶۵۲ ۔ بچہ کے لئے کھانے کوچبانا اوراسی طرح کھانے وغیرہ کوچکھناپانی یادوا سے منہ کودھونے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ کوئی چیزحلق سے نہ اترے اوراگر بغیر ارادہ حلق سے نیچے چلی جائے توکوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر پہلے سے جانتاہوکہ بے اختیار منہ میں چلی جائے توکوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر پہلے سے جانتاہوکہ بے اختیار منہ میں چلی جائیگی توروزہ باطل ہے ہی قضاوکفارہ بھی ہے۔
مسئلہ ۱۶۵۳ ۔ کمزوری کی وجہ سے روزہ چھوڑا نہیں جاسکتا، ہاں اگر کمزوری اس حد تک ہوجائے کہ اس کابرداشت کرنا بہت ہی مشکل ہوتوروزہ کھاسکتاہے۔
۳ ۔ جماع
مسئلہ ۱۶۵۴ ۔ جماع (عورت سے ہم بستری کرنا) دونوں کے روزے کوباطل کردیتاہے، چاہے قبل میں ہویادبرمیں، چھوٹے سے ہویابڑے سے، چاہے صرف ختنے کی مقدارکے برابرداخل ہواہواورمنی بھی نہ نکلی ہو، لیکن اگراس سے کم داخل ہواہواورمنی بھی نہ نکلے توروزہ باطل نہیں ہوگا، لیکن جس شخص کاآلت تناسل کٹاہواہواگر وہ ختنہ گاہ جتنی مقدارداخل کرے اوردخول صادق آئے تواس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۶۵۵ ۔ اگرکوئی بھولے سے جماع کرے یاخواب کی حالت میں ہویاجماع پراس قدرمجبورکیاجائے کہ اس کااختیار نہ رہے توروزہ باطل نہیں ہوتا لیکن اگر جماع کرتے ہوئے یادآجائے یامجبوری ختم ہوجائے توفورا جماع کوترک کردے ورنہ اس کاروزہ باطل ہوجائے گی۔
مسئلہ ۱۶۵۶ ۔ اگرشک ہوکہ ختنے کی مقداربرابرداخل ہواتھا یانہیں تواس کاروزہ صحیح ہے، اسی طرح عضوتناسل کٹاہوا آدمی اگر شک کرے دخول ہواہے یانہیں تواس کاروزہ صحیح ہے۔
۴ ۔ استمنا
مسئلہ ۱۶۵۷ ۔ اگرروزہ داراپنے ساتھ کوئی ایساکام کرے جس سے منی باہرآجائے تواس کاروزہ باطل ہوجاتا ہے لیکن اگر بے اختیاری طورسے منی نکل آئے تواس کاروزہ باطل نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۵۸ ۔ روزہ دارکوچاہئے معلوم ہو کہ دن میں سونے سے احتلام ہوجائے گا پھربھی وہ سوسکتاہے خاص طورپرجب نہ سونا اس کے لئے تکلیف کاباعث ہو، اوراگرمحتلم ہوجائے توکوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۵۹ ۔ جس روزہ دارکواحتلام ہواہووہ پیشاب یاپیشاب کے بعداستبراء کرسکتاہے، لیکن اگراس کوعلم ہوکہ اس کام سے باقی ماندہ منی نکل آئے گی اگر غسل کرلیاہوتواستبراء نہیں کرسکتا، اوراگرمنی نکلتے وقت روزہ دارجاگ جائے تومن روکناواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۶۰ ۔ جس روزہ دارکواحتلام ہواہے اگروہ جانتاہے کہ غسل سے پہلے پیشاب نہ کرنے کی صورت میں غسل کے بعدمنی باہرآجائے گی توبہترہے کہ پہلے پیشاب کرے اگرچہ واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ ۱۶۶۱ ۔ اگرروزہ دارمنی نکالنے کے ارادہ سے استمناء کرے تواگرمنی نہ نکلے اس کاروزہ باطل نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۶۲ ۔ اگرروزہ داراپنی بیوی سے بغیرمنی نکلنے کے قصدکے چھیڑ چھاڑ کرے تواگراس کی عادت ہوکہ اتنی چھیڑ چھاڑ سے منی نکل آتی ہواورمنی نکل آئے تواس کاروزہ باطل ہے، اوراگر اس کی عادت بھی نہ ہوکہ اتنی چھیڑ چھاڑ سے منی نکل آتی ہولیکن اتفاقا منی نکل آئے توپھر روزہ میں اشکال ہے، البتہ اگروہ پہلے سے مطمئن ہوکہ منی باہرنہیںآئے گی تواشکال نہیں ہے۔
۵ ۔خداورسول پرجھوٹاالزام لگانا
مسئلہ ۱۶۶۳ ۔ اگرروزہ دارخداورسول کی طرف یاائمہ معصومین کی طرف جھوٹ کی نسبت دے خواہ زبان سے یالکھ کریااشارے سے یاکسی اورطریقے سے تو اس کاروزہ باطل ہے چاہے وہ فورا توبہ کرلے، اوراحتیاط واجب کی بناپرباقی انبیاء کرام اورحضرت فاطمہ زہرا کی طرف جھوٹ نسبت دینے کابھی یہی حکم ہے۔
اگرکوئی ایسی روایت نقل کرناچاہتاہے جس کے سچ یاجھوٹ ہونے کا علم نہیں ہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ جس سے اس روایت کوسناہے یاجس کتاب میں پڑھاہے اس کاحوالہ دےدے ، مثلا فلاں راوی نے یہ کہا یافلاں کتاب میں یہ لکھاہے کہ رسول خدانے فرمایا،لیکن اگروہ خودبھی بطورقطع کسی خبرکوبیان کرے تواس کاروزہ باطل نہیں ہوگا اگرچہ اس کے جھوٹاہونے کاظن رکھتاہویااحتمال دیتاہو۔
مسئلہ ۱۶۶۴ ۔ اگرروزہ دارکسی بات کے بارے میں اعتقاد رکھتاہوکہ وہ واقعی قول خدا یاقول پیغمبرہے اوراسے اللہ تعالی یانبی اکرم سے منسوب کرے اوربعدمیں معلوم ہوکہ یہ نسبت صحیح نہ تھی تواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۶۵ ۔ اگرکسی بات کے بارے میں جانتے ہوئے کہ جھوٹ ہے خدایا رسول اکرم کی طرف نسبت دے اوربعدمیں اسے پتہ چلے کہ جوکچھ اس نے کہاتھا وہ درست تھا تواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۶۶ ۔ اگردوسرے کے گڑھے ہوئے جھوٹ کوخدایارسول کی طرف جان بوجھ کرمنسوب کرے تواس کاروزہ باطل ہے لیکن اگراس سے نقل کرے تواس کاروزہ اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۶۶۷ ۔ اگرروزہ دارسے سوال کیاجائے کہ کیارسول اکرم نے ایسافرمایاہے؟ اورعمداہاں کہے جب کہ رسول نے اس کو نہ کہایاعمدا (نہیں) کہے جبکہ رسول اکرم نے فرمایاہوتواس کے روزہ میںا شکال ہے۔
مسئلہ ۱۶۶۸ ۔ اگرخداورسول کی طرف سے کوئی درست بات کونقل کرے لیکن بعد میں یہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہاتھایارات کوان کی طرف کسی جھوٹ کو نسبت دے لیکن دن میں جب کہ روزہ سے ہوکہہ دے جوبات میں نے رات کوکہی تھی وہ سچ ہے تواس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
۶ ۔ غلیظ غبار حلق تک پہنچانا
مسئلہ ۱۶۶۹ ۔ غلیظ غبارکوحلق تک پہنچانے سے روزہ باطل ہوجاتاہے، چاہے ایسی چیزہوجس کاکھاناحلال ہو، مثلا آٹایاحرام ہو، مثلا(مٹی)۔
مسئلہ ۱۶۷۰ ۔ احتیاط واجب ہے کہ روزہ دارسگریٹ، تمباکو ودیگر دخانیات کے استعمال سے پرہیز کرے اورغلیط بھاپ بھی حلق میں نہ پہنچائے۔
مسئلہ ۱۶۷۱ ۔ اگرہوایاجھاڑو دینے سے غلیظ غباراٹھے اوراحتیاط نہ کرنے کی وجہ سے حلق میں پہنچ جائے اگریقین یاگمان ہوکہ غبار یادھواں حلق تک نہیں پہنچے گا توروزہ صحیح ہے، اسی طرح اگراپنے روزہ دارہونے کوبھول جائے اوراحتیاط نہ کرے یابے اختیار اوربغیر ارادہ حلق میں پہنچ جائے توروزہ باطل نہیں ہوتا۔
۷ ۔ سرکوپانی میں ڈبونا
مسئلہ ۱۶۷۲ ۔ احتیاط واجب کی بناء پر روزہ دارپورے سرکوپانی میں جان بوجھ کرنہ ڈبوئے اوراگر ڈبویااس دن کی قضابجالائے لیکن اگر پورابدن اورتھوڑا سا سرپانی کے اندرہوتوروزہ باطل نہ ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۷۳ ۔ اگرآدھے سرکوایک دفعہ اورآدھے سرکودوسری دفعہ پانی میں ڈبوئے تواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۷۴ ۔ اگرشک کرے کہ اس کاپوراسر پانی میں ڈوباہے یانہیں تواس کا روزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۷۵ ۔ اگرپورے سرکو پانی میں ڈبودے صرف تھوڑے سے بال پانی سے باہوہوں توروزہ باطل ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۷۶ ۔ اگرسرکوگلاب کے عرق میں ڈبوئے تواحتیاط واجب کی بناپرروزہ باطل ہوجائے گاچنانچہ احتیاط واجب یہ ہے کہ سرکو دوسرے مضاف پانی اوربہنے والی چیزوں میںڈبونے سے روزہ باطل نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۷۷ ۔ اگرروزہ دارغیراختیاری طورسے پانی میں گرجائے یاکوئی اس کوپانی میں دھکیل دے اوراس کاسرپانی میں ڈبوب جائے یابھولے سے خودہی سرکوپانی میں ڈبولے توروزہ باطل نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۷۸ ۔ اگرعادت یہ ہو کہ پانی میں گرنے سے اس کاسر پانی میں ڈوب جاتا ہوتواگر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کوپانی میں ڈال دے اورپوراسرڈوب جائے تواس کاروزہ باطل ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۷۹ ۔ جوشخص روزہ دار ہونے کوبھول جائے اورتمام سر پانی میں ڈبودے یاکوئی شخص زبردستی کسی کے سر کوپانی میںڈبودے توجب بھی اس کویاد آجائے یاوہ شخص اپناہاتھ اس کے سرسے اٹھالے توفورا سرپانی سے باہر نکال لے اوراگر باہر نہیں نکالاتواس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۶۸۰ ۔ اگرروزہ یاد نہ ہواوربھولے سے غسل کی نیت سے سرکوپانی میں ڈبوے توروزہ اورغسل دونوں صحیح ہیں۔
مسئلہ ۱۶۸۱ ۔ جس شخص کوعلم ہوکہ وہ روزہ سے ہے پھرجان بوجھ کر غسل کی نیت سے سرکوپانی میں ڈبودے تواگراس کاروزہ واجب معین ہے جیسے رمضان تواحتیاط واجب کی بناپر غسل دوبارہ کرے اورروزہ کی بھی قضابجالائے، لیکن اگرروزہ مستحبی ہویا واجب غیرمعین ہو(مثلاکفارہ کاروزہ) توپھر غسل صحیح ہوگا لیکن روزہ باطل ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۶۸۲ ۔ اگرکسی کوڈوبنے سے بچانے کے لئے ا پناپوراسر پانی میں ڈبودے تواگرچہ اس کوغرق ہونے سے بچاناواجب ہی کیوں نہ ہوپھر بھی اس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
۸ ۔ جنابت ،حیض، نفاس پراذان صبح تک باقی رہنا
مسئلہ ۱۶۸۳ ۔ اگرمجب صبح تک جان بوجھ کر غسل نہ کرے یااگر اس کاوظیفہ تیمم کرناتھا لیکن جان بوجھ کرتیمم نہ کرے تواس کاروزہ باطل ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۸۴ ۔ اگرماہ رمضان کے علاوہ کسی اورواجب روزہ میں اذان صبح تک غسل وتیمم نہ کرے تواگرعمدا نہ ہوبلکہ مثلا کوئی رکاوٹ بن جائے توروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۸۵ ۔ جوشخص مجنب ہوگیاہو اوراس کاواجب روزہ کہ جس کاوقت معین ہے، مثلا رمضان کاروزہ رکھناہولیکن جان بوجھ کرغسل میں تاخیرکردے یہاں تک غسل کاوقت تنگ ہوجائے تووہ تیمم کرکے روزہ رکھ سکتاہے اوراس کاروزہ بھی صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۸۶ ۔ اگرماہ رمضان میں مجنب غسل کرنا بھول جائے اورایک دن گزرجانے کے بعدیادآئے تواس کوچاہئے کہ اس روزہ کی قضاکرے، اوراگر چنددن گزرنے کے بعدیادآئے تواس کوچاہیے کہ اس روزہ کی قضاکرے، اوراگر چنددن گزرجانے کے بعدیادآجائے تواس کواتنے روزے قضاکرنے ہوں گے جویقینی طورپربغیرغسل کے رکھے ہیں، مثلااگر معلوم نہ ہوکہ تین دن بغیرغسل کے رہاہے یاچاردن توتین دن کے روزوں کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۶۸۷ ۔ جوشخص ماہ رمضان کی رات میں غسل وتیمم کاوقت نہیں رکھتااگر خود کومجنب کرے تواس کاروزہ باطل ہے اوراس پرقضااورکفارہ دونوں واجب ہوں گے لیکن اگرتیمم کے لئے وقت ہواوراپنے آپ کومجنب کرے اس کاروزہ تیمم کے ساتھ صحیح ہے اورگناہ کاربھی نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۷۸ ۔ جوشخص ماہ رمضان کی رات میں جنب ہواورجانتاہوکہ اگرسوجائے گا توصبح تک بیدارنہ ہوپائے گا تواس کوسونانہیں چاہئے اوراگروہ سوجائے اورصبح تک بیدارنہ ہوتواس کاروزہ باطل ہے اوراس پرکفارہ اورقضا دونوں واجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۶۸۹ ۔ اگرمجنب رمضان کی رات میں سوجائے اورپھرجاگ جائے تواگر احتمال ہوکہ دوبارہ سوجائے گاتوغسل کے لئے بیدارہوجائے گا عادت کے مطابق تواس صورت میں یہ شخص سوسکتاہے۔
مسئلہ ۱۶۹۰ ۔ جوشخص رمضان کی رات میں مجنب ہواورجانتاہویااسے احتمال ہوکہ اگرسوجائے گاتواذان صبح سے پہلے جاگ جائے گا اوریہ عزم محکم تھاکہ تھاکہ جاگنے کے بعدغسل کرے گااوریہ طے کرکے سوجائے اوراذان تک بیدارنہ ہوتواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۹۱ ۔ جب کوئی شخص ماہ رمضان کی رات میں مجنب ہواہواوراس علم ہویااحتمال ہوکہ اگر وہ سوجائے تواذان صبح سے پہلے بیدارہوجائے گا لیکن اس بات سے غافل ہوکہ جاگنے کے بعدغسل کرناچاہئے اس صورت میں سوجائے اوراذان صبح تک بیدارنہ ہوتواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۹۲ ۔ جوشخص ماہ رمضان میں مجنب ہے اوراسے علم یااحتمال ہوکہ اذان صبح سے پہلے بیداہوجائے گااورجاگنے کے بعد غسل کرنے کاارادہ رکھتا ہویامردد ہوکہ وہ غسل کرے یانہیں چنانچہ اگرسوجائے اوربیدارنہ ہوتواس کاروزہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۶۹۳ ۔ اگرمجنب ماہ رمضان میں سوجائے اوربیدارہواوراس کوعلم یااحتمال ہوکہ اگردوبارہ سوجائے تواذان صبح سے پہلے بیدارہوجائے گا اوریہ بھی ارادہ رکھتاہوکہ اٹھنے کے بعدغسل کرے گا، چنانچہ وہ دوبارہ سوجائے اوراذان تک بیدارنہ ہوتواس کوروزہ کی قضاکرناپڑے گی اوراسی طرح ہے اگر دوسری دفعہ نیند سے بیدارہولیکن پھرتیسری دفعہ سوجائے اوراحتیاط واجب کی بناپر تیسر دفعہ کفارہ بھی واجب ہے۔
مسئلہ ۱۶۹۴ ۔ جس نیند میں احتلام ہواہو وہ پہلی نیند شمارنہیں ہوگی لیکن اگراس نیند سے بیدارہوکر پھر سوجائے تووہ پہلی نیند شمارہوگی۔
مسئلہ ۱۶۹۵ ۔ اگرروزہ دارکودن میں احتلام ہوجائے تواس پرفورا غسل کرنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب ہے کہ فورا غسل کرے۔
مسئلہ ۱۶۹۶ ۔ اگررمضان میں اذان صبح کے بعد بیداہواوراپنے کومحتلم پائے تواگرچہ اس کوعلم ہوکہ یہ احتلام اذان سے پہلے ہواہے پھربھی اس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۶۹۷ ۔ جوشخص ماہ رمضان کے قضاروزے رکھناچاہتاہواگروہ اذان صبح تک جنب کی حالت میں باقی رہااگرچہ جان بوجھ کرایسانہ کرے تب بھی اس کاروزہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۶۹۸ ۔ جوشخص ماہ رمضان کیے قضاروزے رکھناچاہتاہواگراذان صبح سے پہلے ہواہے تواگران قضاروزو ں کاوقت تنگ ہو، مثلاپانچ روزے اس کوقضارکھنے ہوں اورماہ رمضان کے چاند میں بھی صرف پانچ دن باقی ہوں توبنابراحتیاط واجب اس دن کاروزہ رکھے اوررمضان کے بعداس روزے کوپھررکھے اوراگران روزوں کاوقت تنگ نہ ہوتوپھرکسی اوردن روزے رکھے۔
مسئلہ ۱۶۹۹ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ اگرواجب روزہ کاوقت معین ہوتووہ بھی ماہ رمضان کے روزہ کی طرح ہے کہ اگر روزہ دار جان بوجھ کر جنابت کی حالت میں اذان صبح تک باقی رہے اس کاروزہ باطل ہوگا، بلکہ کفارہ بھی ہوتاہے اگراس روزہ کاکفارہ ہو، مثلا نذرکاروزہ جوکفارہ رکھتاہے۔
مسئلہ ۱۷۰۰ ۔ اگررمضان اوراس کی قضا کے علاوہ کسی دوسرے واجب روزے میں صبح کی اذان تک غیرعمدی طورپر مجنب رہے تو اس کاروزہ صحیح ہے چاہے وقت معین ہویانہ ہو۔
مسئلہ ۱۷۰۱ ۔ اگرعورت اذان صبح سے پہلے حیض یانفاس سے پاک ہوجائے اورجان بوجھ کرغسل یااس کاوظیفہ شرعی تیمم ہواوروہ تیمم نہ کرے تواس کاروزہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۷۰۲ ۔ اگرعورت اذان صبح سے پہلے حیض یانفاس سے پاک ہوجائے اورغسل کرنے وقت باقی نہ ہو چنانچہ وہ کوئی واجب روزہ جیسے رمضان رکھنا چاہتی ہوتوتیمم کرے اس کاروزہ صحیح ہوگا اورصبح تک اس کوبیداررہنی چاہئے اوراگر کوئی مستحب روزہ یاکوئی واجب روزہ جس کاوقت معین نہ ہورکھناچاہتی ہوتوتیمم کے ساتھ روزہ نہیں رکھ سکتی۔
مسئلہ ۱۷۰۳ ۔ اگرعورت اذان صبح کے قریب حیض یانفاس سے پاک ہواورغسل وتیمم دونوں کے لئے وقت باقی نہ ہویایہ کہ کوئی عورت صبح کی اذان کے بعد خبردارہوکہ وہ اذان صبح سے پہلے پاک ہوچکی تھی تواس کاروزہ رمضان اورواجب معین میںصحیح ہوگا، لیکن اگر رمضان کاقضا روزہ ہوتوپھر روزہ کے صحیح ہونے میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۷۰۴ ۔ اگرعورت اذان صبح کے بعد حیض یانفاس سے پاک ہویادن میں کسی وقت حیض یانفاس کاخون دیکھے اگر چہ مغرب کے نزدیک ہوتواس کاروزہ بطل ہے۔
مسئلہ ۱۷۰۵ ۔ اگرعورت غسل حیض یانفاس کرنا بھول جائے اورایک یاکئی دنوں کے بعداسے یادآئے توجوروزہ وہ رکھ چکی ہے صحیح ہے اوراحتیاط مستحب کی بناپر ان کی قضابھی بجالائے۔
مسئلہ ۱۷۰۶ ۔ اگرعورت اذان صبح سے پہلے ماہ رمضان میں حیض یانفاس سے پاک ہوجائے لیکن غسل کرنے میں اذان صبح تک کوتاہی کرے اوروقت کی تنگی میں تیمم بھی نہ کرے تواس کاروزہ باطل ہے، ہاںاگر کوتاہی نہ کرے، بلکہ منتظر ہوکہ عورتوں والے حمام کھل جائیں اگرچہ وہ اس صورت میںتین مرتبہ سوجائے اوراذان صبح تک غسل نہ کرے ، اب اگروہ تیمم کرچکی ہوتواس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۷۰۷ ۔ مستحاضہ عورت اگر اپنے غسل کواحکام استحاضہ میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق بجالائے اس کاروزہ صحیح ہے۔
مسئلہ ۱۷۰۸ ۔ جس کسی نے میت کوچھواہواوراس پرغسل مس میت واجب ہو وہ غسل مس میت کئے بغیر روزہ رکھ سکتاہے اوراگر روزہ کی حالت میں بھی میت کومس کرلے تواس کاروزہ باطل نہیں ہوگا۔
۹ ۔ بہنے والی چیزوں سے انیمالینا
مسئلہ ۱۷۰۹ ۔ بہنے والی چیزوں سے حقنہ لینا اگرچہ مجبوری کی وجہ سے ہویامثلا علاج وغیرہ کے لئے ہی کیوں نہ ہوتوروزہ کو باطل کردیتاہے، ا لبتہ شیاف (خشک چیزوں سے انیما) کااستعمال علاج کے لئے کوئی اشکال نہیں رکھتااور احتیاط واجب یہ ہے کہ ان چیزوں سے اجتناب کیاجائے جومشکوک ہیں کہ روان ہے یاخشک۔
۱۰ ۔ جان بوجھ کر قے کرنا
مسئلہ ۱۷۱۰ ۔ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ باطل ہوجاتاہے، چاہے وہ مرض وغیرہ کی وجہ سے ہو، البتہ بے اختیاری طورسے یابھول کرقے کردینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۱۷۱۱ ۔ اگررات میں ایسی چیزکھائے جس کے بارے میں معلوم ہوکہ دن میں بے اختیارقے ہوجائے گی تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس روزہ کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۷۱۲ ۔ اگرروزہ دارقے کوروک سکتاہے اوراس کے لئے ضرر اورمشقت کاباعث نہ ہوتواسے قے روکناچاہئے۔
مسئلہ ۱۷۱۳ ۔ اگرروزہ دارکے حلق میں کوئی چیز(مکھی) چلی جائے چنانچہ وہ اس حدتک اندرچلی گئی ہواس کے نیچے لے جانے کونگلنانہ کہاجائے توضروری نہیں کہ اسے باہرنکالاجائے اوراس کاروزہ صحیح ہوگا، لیکن اگرمکھی اس حدتک اندرنہ گئی ہواوراس کانکالنا ممکن ہوتوضروری ہے کہ باہرنکالے اوراگراس کے نکالنے کی وجہ سے قے آجائے تواس روزہ کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۷۱۴ ۔ اگربھول کرکوئی چیزنگل جائے اوراس کے پیٹ میں پہنچنے سے پہلے اسے یادآجائے کہ وہ روزہ سے ہے تواگراس حدتک نیچے چلی گئی ہوکہ اگر اس کوپیٹ میں داخل کرے تواسے کھانانہیں کہاجاسکتاتوپھر اسے باہرنکالناضروری نہیں ہے اوراس کاروزہ بھی صحیح ہے، ا وراگر وہ چیزابھی حلق کی ابتداء یاوسط تک پہنچی ہوتواسے باہرنکالے اوراس پرقے کرناصادق نہیں آتا۔
مسئلہ ۱۷۱۵ ۔ اگرکسی کویقین ہوکہ ڈکار لینے سے کوئی چیزباہرآجائے گی تواسے جان بوجھ کر ڈکارنہیں لیناچاہئے، ہاں اگراسے یقین نہ ہوتوپھر اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۱۶ ۔ اگرکوئی شخص ڈکارلے اورکوئی چیزبغیراختیارکے گلے یامنہ تک آجائے تواسے چاہئے کہ اس چیزکوباہرپھینک دے اوراگربغیراختیارکے اندر چلی جائے توپھراس کاروزہ صحیح ہے۔
روزہ کوباطل کرنے والی چیزوں کے احکام
مسئلہ ۱۷۱۷ ۔ اگرانسان عمدا اپنے ارادے واختیارسے ایساکام بجالائے جوروزہ کو باطل کردیتاہے تواس کاروزہ باطل ہوجائے گا، ہاں اگرعمدا نہ ہوتو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، چاہے رمضان کاروزہ ہویاغیررمضان، چاہے واجب ہویامستحب، لیکن مجنب اگراس تفصیل سے جومسئلہ ( ۱۶۰۹) میں گزرچکاہے صبح کی اذان تک سوجائے اورغسل نہ کرے تواس کاروزہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۷۱۸ ۔ اگرروزہ دارسہوا ایساکام کرے جوروزہ کوباطل کردیتاہے اورپھر اس خیال سے کہ اس کاروزہ باطل ہوچکاہے عمدا دوبارہ مبطلات میں سے کوئی ایک کام بجالائے تواس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۷۱۹ ۔ اگرکوئی چیزروزہ دارکے حلق میں زبردستی ڈالی جائے یااس کے سرکوپانی میں زبردستی ڈبودیاجائے تواس کاروزہ باطل نہیں ہوگا لیکن اگرکوئی شخص کسی کومجبورکرے کہ وہ خود اپنے روزہ کاباطل کردے، مثلا اس سے کہے کہ یہ غذا کھاؤ ورنہ تجھ کو مال، جانی نقصان اٹھاناپڑے گا اوروہ نقصان سے بچنے کے لئے وہ چیزکھالے تو اس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۷۲۰ ۔ روزہ دارکوکسی ایسی جگہ نہیں جاناچاہئے کہ جس کے متعلق اسے علم ہوکہ اس کے منہ میں کوئی چیززبردستی ڈالی جائے گی یااسے مجبورکیاجائے گا کہ وہ اپنے روزہ کوباطل کرے، لیکن اگرجانے کاارادہ ہواورپھر نہ جائے یاجانے کے بعداس کے منہ میں کوئی چیزنہ ڈالی گئی تواس کاروزہ صحیح ہے، لیکن اگر مجبور وناچار ہوکرکوئی ایساکام کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے اوراس بات کاپہلے سے علم ہوتواس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
جوچیزیں روزہ دارکے لئے مکروہ ہیں
مسئلہ ۱۷۲۱ ۔ چندچیزیں روزہ دارکے لئے مکروہ ہیں ان میں سے یہ بھی ہیں:
۱ ۔ آنکھوں میں دواڈالنا۔ ۲ ۔ سرمہ لگانا اگراس کی بویامزہ حلق تک پہنچ جائے۔ ۳ ۔ ایسے کام کرنا جس سے کمزوری پیداہو مثلاخون نکالنا، حمام جانا۔
۴ ۔ نسوارلینااگر معلوم نہ ہوکہ حلق تک پہنچ جائے گی، لیکن اگرمعلوم ہوکہ حلق تک پہنچ جائے گی توجائزنہیں ہے۔ ۵ ۔ خوشبودار گھاس کوسونگھنا۔ ۶ ۔عورت کا پانی میں بیٹھنا۔ ۷ ۔ خشک چیزوں سے حقنہ لینا۔ ۸ ۔ بدن پرپہنے ہوئے لباس کو بھگونا۔ ۹ ۔ دانت کانکلوانا اورہروہ کام کرنا جس سے منہ سے خون آجائے۔ ۱۰ ۔ تازہ لکڑی سے مسکواک کرنا۔ ۱۱ ۔ بیوی کوپیارکرنا جب کہ منی نکلنے کے قصدسے نہ ہو یاکوئی ایساکام کرے جس کی وجہ سے شہوت حرکت میں آجائے اوراگر یہ کام منی کے باہرآنے کے قصدسے بجالائے اورمنی نکل آئے تواس کاروزہ باطل ہوجائے گا۔
جہاں قضاوکفارہ دونوں واجب ہیں
مسئلہ ۱۷۲۲ ۔ اگررمضان کے روزہ میں عمدا قے کرے توفقط اس کی قضا واجب ہے اوراگررات میں مجنب ہوجائے اورتین مرتبہ بیدارہوکہ سوجائے صبح تک جنابت پرباقی رہے یاعمدا حقنہ لے یاسرپانی میں ڈبوئے یاخداورسول پرجھوٹ باندھے توبنابراحتیاط واجب کفارہ بھی دے، ا وراگرجان بوجھ کر کوئی دوسرا ایساکام کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے تواس پرقضاوکفارہ دونوں واجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۷۲۳ ۔ اگرمسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ایساکام کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے تواگروہ مسئلہ معلوم کرسکتاتھا توبنابراحتیاط واجب اس پرکفارہ واجب ہوگااوراگرمسئلہ کاجاننا اس کے لئے ممکن نہیں تھا یامسئلہ کی طرف بالکل اس کاخیال نہ ہویایقین رکھتاہو کہ اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا، تواس پرکفارہ واجب نہیں ہے۔
روزہ کاکفارہ
مسئلہ ۱۷۲۴ ۔ جس پررمضان کے روزے کاکفارہ واجب ہے اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہئے یادومہینے متصل اس تفصیل کے ساتھ جومسئلہ بعدمیں بیان ہوگا روزے رکھے یاساٹھ فقیروں کواتناکھاناکھلائے کہ وہ سیر ہوجائیں یاہرایک مسکین کوایک مد تقریبا جودس چھٹانک گندم یاجووغیرہ کھانے کی چیزیں دیں اور اگریہ چیزیں اس کے لے ممکن نہ ہوں تو اس کواختیارہے چاہے اٹھارہ دن روزے رکھے یاجتنے مد دے سکتاہے فقیرکو دے اوراگر کھانا نہیں دے سکتا اورنہ اٹھارہ دن روزہ رکھ سکتاہے توان دونوں میں سے جتنا ممکن ہووہ کرے اوراگروہ بھی ممکن نہ ہوتواسے استغفار کرناچاہئے اگرچہ صرف ایک مرتبہ استغفراللہ کہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ جب بھی کفارہ دینا اس کے لئے ممکن ہوتوکفارہ اداکرے۔
مسئلہ ۱۷۲۵ ۔ جس شخص کودومہینہ متصل کفارہ رمضان کے روزے رکھنے ہوں اسے چاہئے کہ اکتیس روزے بالکل ایک دوسرے کے بعد پے درپے رکھے اوراگر باقی روزے پے درپے نہ رکھے توکوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۲۶ ۔ جس کودومہینہ روزے کفارہ کے لئے رکھنے ہو تواسے چاہئے کہ ایسے وقت میںشروع کرے کہ اکتیس دن کے درمیان عیدقربان وغیرہ جن میں روزہ رکھنا حرام ہے نہ آئے۔
مسئلہ ۱۷۲۷ ۔ جب کوئی شخص پے درپے متصل روزے رکھ رہاہو اگربغیر کسی عذر کے ایک دن روزہ نہ رکھے یااس وقت شروع کرے کہ درمیان میں ایک ایسا دن آجائے کہ جس کاروزہ رکھنا اس پر واجب ہے، مثلا جیسے کسی دن کی نذر کرچکاہوکہ وہ اس دن روزہ رکھے گا توپھرایسے شخص کو دوبارہ ابتداء سے روزہ رکھنا پڑیں گے۔
مسئلہ ۱۷۲۸ ۔ وہ روزے جوپے درپے رکھنے ہیں اگران کے درمیان کوئی عذر پیش آئے، مثلا یہ کہ حیض یانفاس کاخون آجائے یاایساسفرکرناپڑ جائے کہ جس کے جانے پرمجبورہو توجب اس کاعذر دورہوجائے تودوبارہ ابتداء سے روزے رکھنا واجب نہیں ہے، بلکہ باقی روزے عذر کے دورہو جا نے کے بعد رکھنا شروع کردے۔
مسئلہ ۱۷۲۹ ۔ اگرروزہ کوحرام چیزسے توڑے خواہ وہ چیزاصلا حرام ہو، مثلا شراب یازنا یاکسی وجہ سے حرام ہوگئی ہومثلا اپنی بیوی سے حالت حیض میں مجامعت کرے توتینوں کفارے اس پرواجب ہیں، یعنی ایک غلام آزاد کرے، دومہینے روزہ رکھے، ساٹھ مسکینوں کوکھاناکھلائے یاہرایک مسکین کوایک مد کھانا گندم یاجو روٹی وغیرہ دے، اوراگر تینوں کفارے دینے ممکن نہ ہوں توپھر ان میں سے جو ممکن ہے اسے انجام دے۔
مسئلہ ۱۷۳۰ ۔ اگرروزہ دار خدایارسول کی طرف جھوٹ نسبت دے توصرف ایک کفارہ ہے تینوں کفارے واجب نہیں ہیں۔
مسئلہ ۱۷۳۱ ۔ اگرروزہ داررمضان کے ایک دن میں کئی جماع کرے تواس پر ہرجماع کے لئے ایک کفارہ واجب ہوگا اوراگر جماع حرام ہوتواس پر ہرمرتبہ تینوں کفارے واجب ہوں گے۔
مسئلہ ۱۷۳۲ ۔ اگرروزہ داررمضان کے دن میں جماع کے علاوہ کئی مرتبہ ایسے کام بجالائے جن سے روزہ باطل ہوجاتاہے توان کاموں کے لئے ایک ہی کفارہ ہے اوراحتیاط مستحب کی بناپر متعدد کفارے دے۔
مسئلہ ۱۷۳۳ ۔ اگرروزہ دار بطورحرام جماع کرے اوراس کے بعد اپنی بیوی سے ہمبستری کرے، توتینوں کفارے دینا بھی واجب ہوں گے اورایک غلام آزاد کرنایادومہینہ روزہ رکھنا یاساٹھ فقیرکے پیٹ بھرکھانا بھی واجب ہے۔
مسئلہ ۱۷۳۴ ۔ اگرروزہ داراپنے روزے کوحلال چیزسے باطل کرے، مثلا پانی پی لیااوراس کے بعدایساکام بھی کرے جوکہ حرام ہے اورروزہ کوبھی باطل کرتاہے، مثلا حرام کھاناکھائے توایک کفارہ کافی ہے۔
مسئلہ ۱۷۳۵ ۔ ڈکارلینے سے اگر روزہ دار کے منہ میں کوئی چیز آجائے تواگر اسے عمدا نگل لے اس کاروزہ باطل ہے اوراس کی قضابجالانا چاہئے اورکفارہ بھی اس پرواجب ہوگا اوراگراس چیزکاکھانا حرام ہے، مثلا ڈکارکے ساتھ خون یاکوئی ایسی چیز آجاے جوغذا کی شکل وصورت سے خارج ہوگئی ہواوراس کوجان بوجھ کردوبارہ نگل لے توپھر اس روزے کی قضاکرنی پڑے گی اوراس پر تینوں کفارے بھی واجب ہوں گے۔
مسئلہ ۱۷۳۶ ۔ اگرکسی معین دن کے لئے روزے کی نذر کی ہو اورپھر اس دن عمدا روزہ باطل کردے تووہ ایک غلام آزاد کرلے یا دومہینہ مسلسل روزے رکھے یاساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے۔
مسئلہ ۱۷۳۷ ۔ اگرکوئی کسی کے کہنے پر کہ مغرب ہوچکی ہے افطارکرے حالانکہ خود وقت کی تشخیص کرسکتاہے، اوربعد میں ہوکہ ابھی معلوم ہوکہ ابھی مغرب نہیں ہوئی تھی توبنابراحتیاط اس پرقضا اورکفارہ واجب ہے۔
مسئلہ ۱۷۳۸ ۔ جس نے عمدا اپناروزہ باطل کردیاہواگر ظہرکے بعدسفر کرے یاظہر سے پہلے کفارہ سے بچنے کے لئے سفر کرے، بلکہ اگراسے اتفاقا ظہرسے پہلے مسافرت کرنی پڑجائے توبھی بنابراحتیاط اس پرکفارہ واجب ہے۔
مسئلہ ۱۷۳۹ ۔ اگرعمدا روزہ باطل کرے لیکن اس کے بعد میں کوئی عذر، مثلا حیض یانفاس یابیماری وغیرہ پیش آئے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۴۰ ۔ اگرکسی کویقین ہوکہ ماہ رمضان کی پہلی ہے اورعمدا اس دن کے روزہ کوباطل کردے اوربعدمیں معلوم ہوجائے کہ شعبان کی آخری تاریخ تھی تواس پرکفارہ واجب نہیں ہے،اسی طرح اگرانسان کوشک ہوکہ رمضان کاآخری دن ہے یاشوال کی پہلی تاریخ اورپھرعمدا اپناروزہ باطل کرے اوربعدمیں معلوم ہوجائے کہ شوال کی پہلی تھی۔
مسئلہ ۱۷۴۱ ۔ اگرروزہ دارماہ رمضان میں اپنی روزہ داربیوی سے جماع کرے چنانچہ اگراس نے بیوی کواس کام پر مجبورکیاہے تواس پراپنااوربیوی دونوں کاکفارہ واجب ہے اوراگر بیوی خود مجامعت پرراضی ہوتوپھرہرایک پرایک کفارہ واجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۷۴۲ ۔ اگرروزہ دارماہ رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ جوسورہی ہو جماع کرے تومردپر ایک کفارہ واجب ہوگا اورعورت کاروزہ صحیح ہے اوراس پر کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۴۳ ۔ اگرمرداپنی بیوی کو جماع کے علاوہ کسی اورکام پرمجبور کرے کہ جس سے روزہ باطل ہوتاہے تومردپرعورت کاکفارہ واجب نہیں بلکہ عورت پربھی کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ ۱۷۴۴ ۔ جوشخص مسافرت یابیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا اپنی روزہ داربیوی کوجماع پر مجبورنہیں کرسکتا اوراگربیوی کوجماع پرمجبورکرے تواس کاکفارہ اس کے اوپر واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۷۴۵ ۔ انسان کوکفارہ اداکرنے میں کوتاہی نہیں کرناچاہئے لیکن فورا اداکرنا بھی واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۴۶ ۔ اگرانسان پرکفارہ واجب ہوجائے اورکئی سالوں تک ادان کرے تواس کفارہ پرکوئی چیزاضافہ نہ ہوگی۔
مسئلہ ۱۷۴۷ ۔ جس کوکفارہ میں ساٹھ مسکینوں کوکھاناکھلاناہواگر اس کوساٹھ مسکین مل سکتے ہوں توپھرایک فقیر کوایک مدسے زیادہ نہیں دے سکتا یاایک فقیرکو ایک دفعہ سے زیادہ کھانانہیں کھلاسکتا، ہاں اگرانسان کواطمینان ہوکہ فقیر کھانا اپنے اہل وعیال کودے گا یان کوکھلائے گا توپھر ہرایک فقیرکے اہل وعیال کے لئے اگر چہ بچے بھی کیوں نہ ہوایک مد علیحدہ دے سکتاہے۔
مسئلہ ۱۷۴۸ ۔ جوشخص ماہ رمضان کی قضاکاروزہ رکھے ہوئے ہواگر وہ ظہر کے بعدجان بوجھ کراپناروزہ باطل کردے تواس پر دس مسکینوں میں سے ہرایک کوایک مدکے حساب سے طعام دینا واجب ہے اوراگرانہیں دے سکتا تواس کے عوض میں تین روزے رکھے اوراحتیاط مستحب ہے کہ ساٹھ مسکینوں کوطعام دے۔
جہاں صرف قضا لازم ہے
مسئلہ ۱۷۴۹ ۔ چندصورتوں میں صرف روزہ کی قضاواجب ہے کفارہ واجب نہیں ہے وہ درج ذیل ہیں :
۱ ۔ جب رمضان کی رات میں مجنب ہواورجس کی تفصیل مسئلہ( ۱۶۴۰) میں گزرچکی ہے اذان صبح تک دوسری نیندسے بیدارنہ ہو۔
۲ ۔ مبطلات روزہ کوانجام نہ دے مگرروزہ کی نیت نہ کرے یاریاء کی نیت کی ہویانیت کرے کہ وہ روزہ سے نہیں ہے۔
۳ ۔ رمضان میں غسل جنابت کرنابھول جائے اورایک دن یاکئی دن روزے رکھے۔
۴ ۔ رمضان میں یہ تحقیق کئے بغیر کہ صبح ہوگئی ہے کہ نہیں ایساکام کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے بعدمیں پتہ چلے کہ صبح ہوچکی تھی، اسی طرح اگرتحقیق کے بعدشک یاگمان ہوصبح ہوگئی ہے اورپھرکوئی ایساکام بجالائے کہ جوروزہ کوباطل کردیتاہے اوربعدمیں معلوم ہوجائے کہ صبح ہوچکی تھی تواس دن کی قضااس پرواجب ہے، لیکن اگرتحقیق کے بعدگمان یایقین ہوجائے کہ صبح نہیں ہوئی اورکوئی چیزکھالے لیکن بعدمیں معلوم ہوجائے کہ صبح ہوچکی تھی توقضاواجب نہیں ہے، اوراگرتحقیق کے بعدشک ہوجائے کہ صبح ہوچکی ہے یانہیں اورایساکام کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے پھرمعلوم ہوکہ صبح ہوچکی تھی توبنابراحتیاط واجب اس دن کی قضابجالائے۔
۵ ۔ اگرکوئی کہے کہ صبح نہیں ہوئی ہے ابھی وقت باقی ہے اورانسان اس کے کہے سے ایساکام کرے جوروزہ باطل کردیتاہے اوربعدمیں پتہ چلے کہ صبح ہوچکی تھی تواس صورت میں بھی قضالازم ہے۔
۶ ۔ کوئی کہے کہ صبح ہوچکی ہے لیکن انسان کویقین نہ آئے یاخیال کرے کہ مذاق کررہاہے اورایساکام کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے پھرپتہ چلے کہ صبح ہوچکی تھی توقضالازم ہے۔
۷ ۔ اگرنابینایاکوئی اورمعذورانسان کسی کے کہنے پرافطارکرے اوربعدمیں معلوم ہوکہ اس وقت مغرب نہیں ہوئی تھی، بلکہ اگر جھوٹے انسان کے کہنے پرافطارکرے تواس پرکفارہ بھی واجب ہوگا۔
۸ ۔ اگرمطلع صاف ہواورتاریکی کی وجہ سے یقین ہوجائے کہ مغرب ہوچکی ہے اورافطارکرلے بعدمیں پتہ چلے کہ مغرب نہیں ہوئی تھی، لیکن اگرمطلع بادل کی وجہ سے صاف نہ ہواورگمان ہوجائے کہ مغرب ہوچکی ہے اورافطارکرے بعدمیں پتہ چلے کہ مغرب نہیں ہوئی تھی توا س پر قضاواجب نہیں۔
۹ ۔ ٹھنڈک پہنچانے کے لئے یابغیرکسی مقصدکے منہ میں پانی لے کرچاروں طرف پھرائے اورغیراختیاری طورسے پانی حلق سے نیچے چلاجائے توقضارکھے، ہاں اگرروزہ دار ہونے کوبھول جائے اورپانی پی لے یاوضوکے لئے منہ میں پانی ڈالے اوربغیراختیارکے پانی اندرچلاجائے توپھراس پرقضا واجب نہیں ہے۔
۱۰ ۔ اگرکوئی شخص اخراج منی کے قصدکے بغیراپنی بیوی سے شوخی کررہاہے اورمنی نکل آئے اوراس طرح منی نکالنابھی اس کی عادت میں نہ ہوتوقضا مستحب ہے۔
مسئلہ ۱۷۵۰ ۔ اگرپانی کے علاوہ کوئی چیزمنہ میں رکھے اوربغیراختیارکے اندرچلی جائے یاناک میں پانی ڈالے اوربغیراختیارکے اندرچلاجائے توپھراس کی قضاواجب نہیں ۔
مسئلہ ۱۷۵۱ ۔ روزہ دارکے لئے زیادہ کلی کرنامکروہ ہے اگرکلی کے بعدلعاب دہن کونگلناچاہے توبہتریہ ہے کہ پہلے تین مرتبہ آب دہن کوباہرتھوک دے۔
مسئلہ ۱۷۵۲ ۔ اگریہ معلوم ہوکہ کلی کرنے کی وجہ سے بے اختیارپانی منہ میں چلاجائے گا توکلی نہیں کرنی چاہئے۔
مسئلہ ۱۷۵۳ ۔ اگرماہ رمضان میں تحقیق کے بعدیقین کرے یاگمان کرے کہ صبح نہیں ہوئی اورپھرروزہ کوباطل کرنے والاکوئی کام بجالائے اوربعدمیں معلوم ہوکہ صبح ہوچکی تھی توقضاواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۵۴ ۔ اگرانسان کوشک ہوکہ مغرب ہوئی ہے یانہیں تووہ شخص افطارنہیں کرسکتا، لیکن اگرشک ہوکہ صبح ہوئی ہے یانہیں توایسے کام کرسکتاہے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہے اورتحقیق کرنابھی واجب نہیں ہے۔
قضاروزہ کے احکام
مسئلہ ۱۷۵۵ ۔ اگردیوانہ عاقل ہوجائے تواس پرروزوں کی قضاواجب نہیں کہ جن میں وہ دیوانہ رہاتھا۔
مسئلہ ۱۷۵۶ ۔ اگرکافرمسلمان ہوجائے تواس پران دنوں کی قضاواجب نہیں کہ جن میں وہ کافرتھا، اسی طرح اس دن کاروزہ واجب نہیں جس میں مسلمان ہوا، ہاں اگرظہر سے پہلے مسلمان ہوجائے اورروزہ کوباطل کرنے والاکوئی کام بجانہ لایاہوتو بنابراحتیاط واجب نیت کرے اورروزہ رکھے اوراگر نہیں رکھا اس کی قضابجالائے، لیکن اگر مرتد مسلمان ہوجائے توجتنے دن مرتدرہااس زمانے کے روزوں کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۷۵۷ ۔ مستی کی حالت میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضالازم ہے چاہے مست کرنے والی چیزکواشتباہا یاعلاج کے لئے کھایاہو۔
مسئلہ ۱۷۵۸ ۔ اگرکسی عذرکی وجہ سے چنددن روزہ نہ رکھاہو اوربعدمیں شک ہوکہ اس کاعذر کب برطرف ہواتھاتواس صورت میں وہ کم مقدارکہ جس کاوہ احتمال دیتاہے کہ روزہ نہیں رکھاقضاکرسکتاہے، مثلا وہ شخص کہ جورمضان سے پہلے سفرکوگیاتھالیکن اسے معلوم نہ رہے کہ پانچویں رمضان کوواپس آیاتھا یاچھٹی کوتووہ صرف پانچ دن روزہ رکھے، اسی طرح اگر کسی کویہ علم نہ ہوکہ عذرکس دن پیداہواتھاتووہ کم مقدارکی قضا کرے، مثلا رمضان کی آخری دنوں میںسفرکرے اوررمضان کے بعدلوٹے لیکن اسے معلوم نہ ہوکہ اس نے پچیسویں رمضان کوسفر کیاتھایاچھبیسویں کوتووہ کم مقدارکویعنی پانچ دن کوقضاکرسکتاہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ زیادہ مقدار، یعنی چھ دنوں کی قضاکرے جب کہ سفر کاوقت معلوم ہولیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ زیادہ مقدار، یعنی چھ دنوں کی قضاکرے جب کہ سفر کاوقت معلوم ہولیکن مقدار معلوم نہ ہو۔
مسئلہ ۱۷۵۹ ۔ اگرکسی کے ذمہ کئی ماہ رمضان کے روزے ہوں توجس کی قضا چاہے پہلے بجالائے، ہاں اگر آخری رمضان کی قضاکا وقت تنگ ہو، مثلا آخری رمضان کے پانچ دن کی قضااس کے ذمہ ہواورآئندہ رمضان تک صرف پانچ دن رہ گئے ہوں توپھر بنابراحتیاط واجب آخری رمضان کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۷۶۰ ۔ اگرکئی رمضان کے روزے ہوں تواگروہ روزہ میں نیت معین نہ کرے کہ کس رمضان کی قضاکررہاہے توپھر وہ روزے پہلے سال کی قضا محسوب ہوں گے۔
مسئلہ ۱۷۶۱ ۔ اگرکسی کوقضاروزہ رکھناہوتواگراس روزے کی قضاکاوقت تنگ نہ ہوتووہ ظہرسے پہلے روزہ کوبھی توڑ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۷۶۲ ۔ اگرکسی دوسرے شخص کے روزہ کی قضاکررہاہو تواحتیاط واجب یہ ہے کہ ظہرکے بعد اس روزے کوباطل نہ کرے۔
مسئلہ ۱۷۶۳ ۔ اگرکوئی بیماری یاحیض، نفاس کی وجہ سے رمضان کاروزہ نہ رکھے اوررمضان ختم ہونے سے پہلے مرجائے تونہ رکھے ہوئے روزوں کی قضا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۶۴ ۔ اگرکوئی بیماری کی وجہ سے رمضان کاروزہ نہ رکھ سکے اوربیماری آئندہ سال تک باقی رہے تونہ رکھے ہوئے روزوں کی قضاواجب نہیں ہے صرف ہرروز کے عوض ایک مد (تقریبا ۷۵۰ گرام) گہیوں یاجواوراس کے مانند کوئی چیزفقیرکودے، لیکن اگربیماری کے علاوہ کے کسی اورعذر کی بناپر (مثلاسفر کی وجہ سے) روزہ نہ رکھ سکے اوریہ عذر اگلے رمضان تک باقی رہے تونہ رکھے ہوئے روزوں کی ماہ رمضان کے بعدقضاکرناچاہئے اوراحتیاط واجب کی بنا پرہردن کے لیے ایک مدکھانا فقیروں کودے۔
مسئلہ ۱۷۶۵ ۔ اگرکسی بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے اوررمضان کے بعد بیماری ختم ہوجائے لیکن کوئی دوسرے عذر پیش آجائے جس کی وجہ سے اگلے رمضان تک قضاروزے نہ رکھ سکاہوتوپھران روزوں کی قضابجالاناچاہئے، اسی طرح اگر رمضان میں مرض کے علاوہ کوئی اورعذر پیداہوجائے اور رمضان کے بعدختم ہوجائے اوراگلے رمضان تک مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے توجوروزے چھوٹے ہیں ان کی قضاکرنا ضروری ہے اوربنابراحتیاط واجب ہرروزے کے لئے ایک مد طعام فقیرکودے۔
مسئلہ ۱۷۶۶ ۔ اگرانسان کسی عذر کی وجہ سے رمضان کاروزہ نہ رکھ سکے اورعذر برطرف ہوجانے کے باوجود آئندہ رمضان تک جان بوجھ کر قضانہ کرے تورمضان کے بعدروزوں کی قضارکھے اورہردن کے عوض ایک مد طعام کفارد دے۔
مسئلہ ۱۷۶۷ ۔ اگرروزے کی قضامیں کوتاہی کرے یہاں تک کہ وقت تنگ ہوجائے اورتنگی وقت میں عذر پیداہوجائے توقضابھی کرے اورکفارہ بھی دے، اسی طرح اگرکوتاہی نہیں کی تھی لیکن اتفاق سے وقت کی تنگی میں کوئی عذر پیداہوجائے توقضاکرے اوراحتیاط واجب کی بناپر ہردن کے عوض ایک مدغذا کفارہ میں دے۔
مسئلہ ۱۷۶۸ ۔ اگرانسان کئی سال بیماررہنے کے بعد اچھاہو اوراگلے رمضان تک قضا کاوقت باقی ہوتوصرف اخری رمضان کے روزوں کی قضاکرے اورگزشتہ سالوں کے لئے ہردن کے لئے ایک مد کھانافقیرکودے۔
مسئلہ ۱۷۶۹ ۔ جس کوروزوں کے لئے مدطعام فقیروں کودیناہے تو چنددنوں کاکفارہ ایک ہی فقیرکودے سکتاہے۔
مسئلہ ۱۷۷۰ ۔ اگررمضان کی قضاکوکئی سال تک بجالانے میں تاخیر کرے تواسے ان روزوں کی قضابجالانی ہوگی اورہرایک دن کے عوض ایک مد غذا کفارہ میں دے۔
مسئلہ ۱۷۷۱ ۔ اگررمضان کے روزے عمدا نہ رکھے توان کی قضاکرنا پڑے گی اورہر ایک روزے کے عوض دومہینے روزے رکھے یاساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے یاایک غلام آزاد کرے، پس اگروہ اگلے رمضان تک قضانہ کرے توہرایک روزے کے لئے ایک مدطعام دینابھی ضروری ہوگا۔
مسئلہ ۱۷۷۲ ۔ اگرکوئی عمدا روزہ نہ رکھے اورپھروہ دن کئی مرتبہ وہ کام بھی کرے جوکہ روزہ کوباطل کردیتاہے، مثلا کئی مرتبہ مجامعت کرے توہر مرتبہ کے لئے ایک کفارہ دیناہوگا۔
مسئلہ ۱۷۷۳ ۔ باپ کے مرنے کے بعد بڑے بیٹے کوچاہئے کہ اس کے روزوں کی قضابجالائے جیسے کہ قضانماز کے مسائل میں بیان کیاگیا اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ماں کے روزے بھی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۷۷۴ ۔ اگرباپ پررمضان کے علاوہ کوئی ا ورواجب روزہ، مثلا نذرکا روزہ ہوتوان کی قضا بھی بنابراحتیاط واجب بڑا لڑکا بجالائے۔
مسافر کے روزے کے احکام
مسئلہ ۱۷۷۵ ۔ جس مسافرکو چاررکعتی نمازوں کوسف میں قصرپڑھنا ہے وہ ان دنوں کاروزہ بھی نہیں رکھ سکتا، اورجومسافر نماز پوری پڑھتا ہو، مثلا اس کاسفر، سفر معصیت ہویااس کاشغل ہی سفر ہوتواس کو سفرمیں روزہ رکھناہوگا۔
مسئلہ ۱۷۷۶ ۔ ماہ رمضان میں سفرکرنا حرام نہیں ہے لیکن اگر روزہ سے بچنے کے لئے سفرکرے تومکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۷۷۷ ۔ ماہ رمضان کے علاوہ اگر انسان پرکسی معین دن کا روزہ واجب ہو، مثلا نذر کرلیاہوکہ پندرہ شعبان کوروزہ رکھوں گاتواس دن سفرکرسکتاہے، اوراسی طرح اگررمضان کے روزوں کی قضااس کے ذمہ ہواوروقت تنگ ہوچکا ہوتوبھی سفر کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۷۷۸ ۔ اگرکسی نے نذر کی ہوکہ روزہ رکھے لیکن اس کادن معین نہ کرے، توپھر وہ ایسے روزوں کوسفرکی حالت میں نہیں رکھ سکتا، لیکن اگروہ نذر کرے کہ فلاں دن کے روزہ کوسفر کی حالت میں بجالاؤں گا توپھراس کوچاہئے کہ اس دن سفرمیں روزہ رکھے اوراگر نذرکی ہوکہ فلاں مخصوص دن سفرمیں ہویانہیں روزہ رکھوں گاتواگر چہ سفر میں بھی ہوتب بھی وہ اس دن روزہ رکھے۔
مسئلہ ۱۷۷۹ ۔ مسافراپنی طلب حاجت کے لئے تین دن مدینہ منورہ میں بھی مستحبی روزہ رکھ سکتاہے۔
مسئلہ ۱۷۸۰ ۔ جس شخص کوعلم نہ ہوکہ مسافر کاروزہ باطل ہے اورسفرمیں روزہ رکھے لیکن دن میں کسی وقت اس کومعلوم ہوجائے کہ اس کاروزہ باطل ہے تواس کاروزہ باطل ہوگا اوراگرمغرب تک معلوم نہ ہوتوروزہ صحیح ہوگا۔
مسئلہ ۱۷۸۱ ۔ جوشخص بھول جائے کہ وہ مسافرہے یابھول جائے کہ مسافر کاروزہ باطل ہے اورروزہ رکھ لے تواس کاروزہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۷۸۲ ۔ ظہرکے بعد سفرکرنے والے مسافرکو اپنا روزہ پوراکرناچاہئے اوراگر ظہرسے پہلے سفرکرے تووہ جب حد ترخص تک پہنچ جائے، یعنی جب شہرکی دیواریں دکھائی نہ دیں اوراذان کی آواز سنائی نہ دے تواس کواپناروزہ توڑنا پڑے گا اوراگراس سے پہلے روزہ توڑ دے توبنابر احتیاط واجب کفارہ بھی اس پرواجب ہے۔
مسئلہ ۱۷۸۳ ۔ اگرمسافرظہرسے پہلے اپنے وطن یاایسی جگہ پرپہنچ جائے کہ جہاں دس دن رہنے کاقصدرکھتاہے تواگراس وقت تک کوئی ایساکام نہ کیاہو جس سے روزہ باطل ہوتا ہے تواس کوچاہئے کہ اس دن کاروزہ رکھے اوراگرایساکام کرچکاہے توپھراس دن کاروزہ اس پرواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۸۴ ۔ مسافراوروہ شخص جوروزہ رکھنے سے معذور ہواس کے لئے ماہ رمضان کے دنوں میں جماع کرنااورسیرہوکرکھانا پینا مکروہ ہے۔
جن لوگوں پرروزہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۷۸۵ ۔ جوشخص بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا یاروزہ اس کے لئے باعث مشقت ہے تواس پر روزہ واجب نہیں ہے لیکن دوسری صورت میں ہردن کے لیے ایک مدطعام فقیرکودے۔
مسئلہ ۱۷۸۶ ۔ جوشخص بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا اگررمضان کے بعد روزہ رکھ سکے تو احتیاط مستحب کی بناپر روزوں کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۷۸۷ ۔ اگرانسان میں ایسی بیماری ہو کہ زیادہ پیاس لگتی ہے اوروہ پیاس کوبرداشت نہ کرسکتاہویاباعث مشقت ہوتواس پرروزہ واجب نہیں ہے لیکن دوسری صورت میں، یعنی جب پیاس اس کے لئے باعث مشقت ہوتواس کوہر روزہ کے لئے ایک مد طعام فقیرکودے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ پانی نہ پیئے اوراگربعد میں روزے رکھنے پرقادرہوجائے توان روزوں کی قضابجالائے۔
مسئلہ ۱۷۸۸ ۔ حاملہ عورت جس کاوضع حمل قریب ہو اورروزہ بچہ کے لئے مضر ہوتواس پر روزہ رکھناواجب نہیں، اسی طرح اگرروزہ رکھنا خودعورت کے لئے مضرہوتوبھی اس پرروزہ واجب نہیں، لیکن ہرروز کے لئے ایک مدطعام فقیرکودے، ہاں ان دونوں صورتوں میں روزوں کی قضابجالانی ہوگی۔
مسئلہ ۱۷۸۹ ۔ دودھ پلانی والی عورت چاہے بچہ کی ماں ہویادایہ ہویابغیر اجرت کے دودھ پلانے والی ہو اگرروزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہواور بچہ کے لئے مضرہوتو اس پرروزہ واجب نہیں ہے، اسی طرح اگرروزہ خودعورت کے لئے مضرہو توبھی اس پرروزہ واجب نہیں ہے اوراس صورت میں ہردن کے لئے ایک مدطعام فقیرکودے گی، اوردونوں صورتوں میں ان روزوں کی قضابعدمیں بجالانی ہوگی، البتہ اگرکوئی ایسی عورت مل سکتی ہوکہ بچے کوبغیراجرت کے دودھ پلاتی رہے یادودھ پلانے کی اجرت ماں یاباپ یاکسی اجنبی شخص سے اس کومل سکے توبچہ دوسری عورت کو دے اورخود روزہ رکھے۔
چاندثابت ہونے کاطریقہ
مسئلہ ۱۷۹۰ ۔ پہلی کاچاندپانچ طریقوں سے ثابت ہوتاہے :
۱ ۔ انسان خود چانددیکھے۔
۲ ۔ اتنے لوگوں کی گواہی جس سے یقین ہوجائے ، اسی طرح ہروہ چیز جس سے یقین حاصل ہوجائے۔
۳ ۔ شعبان کے تیس دن گزرجانے سے رمضان کی پہلی تاریخ ثابت ہوجاتی ہے یاپہلی رمضان سے تیس دن گزجانے سے شوال کی پہلی تاریخ ثابت ہوجاتی ہے۔
۴ ۔ دوعادل مردوں کی گواہی، لیکن اگردونوں چاند کے اوصاف ایک دوسرے سے مختلف بتائیں یاان کی شہادت خلاف واقع ہو، مثلایہ کہیں کہ چاند کااندرونی دائرہ افق کی طرف تھاتوپھرچاند ثاتب نہیں ہوگا، ہاں بعض خصوصیات کی تشخیص میں ان دونوں میں اختلاف ہوجائے، مثلاایک کہے کہ چاند اونچا تھا اوردوسراکہے اونچانہیں تھا توبھی ان کے کہنے سے چاندکی پہلی ثاتب ہوجائے گی۔
۵ ۔ حاکم شرع حکم دے کہ آج پہلی ہوگئی ہے۔
مسئلہ ۱۷۹۱ ۔ جب حاکم شرع حکم دے کہ آج چاند کی پہلی تاریخ ہے توجوشخص اس کی تقلیدمیں نہیں ہے اس کوبھی حاکم کاحکم ماننا ہوگا، البتہ جس کویقین ہوکہ حاکم شرع نت اشتباہ کیاتووہ اس پرعمل نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۱۷۹۲ ۔ علم نجوم کے ماہرین کی پیشین گوئی سے چاندکی پہلی ثابت نہیں ہوگی لیکن اگر کسی کوان کے کہنے سے یقین ہوجائے تواس پرعمل کرنا چاہئے۔
مسئلہ ۱۷۹۳ ۔ چاند کااونچاہونایاغروب ہونا اس کی دلیل نہیں ہے کہ سابقہ رات کوچاند کی پہلی تاریخ تھی۔
مسئلہ ۱۷۹۴ ۔ جب کوئی شخص ماہ رمضان کی پہلی ثابت نہ ہونے کی وجہ سے روزہ نہ رکھے اگردوعادل کہہ دیں کہ گزشتہ رات ہم نے چانددیکھاہے تواس کو چاہئے کہ اس روزہ کی قضاکرے۔
مسئلہ ۱۷۹۵ ۔ جب ایک شہرمیں چاندکی پہلی ثابت ہوجائے تودوسرے شہروالوں کے لئے اس کاکوئی فائدہ نہیں ہے مگر جب وہ دونوںشہر ایک دوسرے سے قریب ہویاانسان کومعلوم ہوکہ ان دنوں کاافق ایک ہے۔
مسئلہ ۱۷۹۶ ۔ تاراورٹیلی گراف سے پہلی ثابت نہیں ہوتی مگرجب دونوں شہرایک دوسرے کے نزدیک یاافق میں برابرہوں اورانسان کوعلم ہوکہ ٹیلی گراف مجتہد کے حکم کی بناپر یادوعادل مردوں کی شہادت پردیاگیاہے۔
مسئلہ ۱۷۹۷ ۔ جس دن کے بارے میں شک ہوکہ آج آخری رمضان ہے یاپہلی شوال ہے توروزہ رکھناچاہئے لیکن اگرمغرب سے پہلے ثابت ہوجائے کہ آج پہلی شوال ہے توروزہ افطارکرناہوگا۔
مسئلہ ۱۷۹۸ ۔ قیدی کواگرماہ رمضان کایقین نہ ہوسکے تواپنے گمان پرعمل کرے اورگمان بھی ممکن نہ ہوتو جس مہینہ میں چاہے روزہ رکھے لیکن گیارہ مہینے گزرجانے کے بعد دوبارہ ایک ماہ روزہ رکھے اوراگربعدمیں اس کے خلاف ثابت ہوجائے وہ روزے صحیح ہیں اوراگرثابت ہوجائے کہ رمضان نہیں ہوا تو دوبارہ روزہ رکھنا چاہئے۔
حرام اورمکروہ روزے
مسئلہ ۱۷۹۹ ۔ عیدالفطر اورعیدقربان میں روزہ رکھناحرام ہے، اسی طرح اس دن میں جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوکہ آخری شعبان ہے یا پہلی رمضان ہے، رمضان المبارک کی نیت سے روزہ رکھے توحرام ہے۔
مسئلہ ۱۸۰۰ ۔ عورت کے مستحبی روزے رکھنے سے اگرشوہر کاحق برباد ہوتاہوتوشوہرکی اجازت کے بغیرروزہ نہیں رکھ سکتی، اسی طرح اگر شوہرمستحب روزہ رکھنے سے منع کرے تو احتیاط واجب کی بناپر روزہ نہیں رکھناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۰۱ ۔ اولادکے مستحبی روزے اگروالدین یادادا کے لئے اذیت کے باعث ہوں توان کے لئے روزہ رکھنا جائزنہیں ہے، بلکہ اگران کے لئے سبب اذیت نہ بھی ہومگر وہ مستحبی روزہ سے منع کریں توروزہ نہ رکھیں۔
مسئلہ ۱۸۰۲ ۔ اگرلڑکاباپ کی اجازت کے بغیر مستحبی روزے رکھے اوراس کاباپ دن میں روزہ رکھنے سے منع کرے توافطارکرناضروری ہے۔
مسئلہ ۱۸۰۳ ۔ جس کومعلوم ہویاگمان ہوکہ روزہ اس کے لئے نقصان دہ ہے تووہ روزہ نہ رکھے اگرچہ ڈاکٹر کہے کہ مضرنہیں ہے اوراسی طرح اگراسے معلوم ہوکہ روزہ رکھنااس کے لئے مضرنہیں ہے اگرچہ ڈاکٹر کہیں مضرہے، توپھربھی روزہ رکھناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۰۴ ۔ جس کاعقیدہ ہوکہ روزہ اس کے لئے مضرنہیں ہے اوروہ روزہ رکھے اورمغرب کے بعد پتہ چلے کہ روزہ اس کے لئے مضرتھا تو اس کی قضا بجالانا چاہئے۔
مسئلہ ۱۸۰۵ ۔ جب کسی کواحتمال ہوکہ روزہ رکھنا اس کے لئے مضرہے اوراس احتمال سے اس کوڈر پیداہو، اگر وہ احتمال لوگوں کی نظرمیں صحیح ہو تواس کوروزہ نہیں رکھناچاہئے اورروزہ رکھے تواس کاروزہ صحیح نہیں ہوگا، مگریہ کہ قصدقربت کی نیت سے روزہ رکھے اوربعدمیں معلوم ہوجائے کہ اس کے لیے مضرنہیں تھا۔
مسئلہ ۱۸۰۶ ۔ بیان کئے گئے روزوں کے علاوہ بھی کچھ حرام روزے ہیں جن کاذکر بڑی کتابوں میں ہے۔
مسئلہ ۱۸۰۷ ۔ روزہ رکھناعاشورکے دن یااس دن کہ جس کے متعلق شک ہوکہ عرفہ کادن ہے یاکہ عید قربان کا مکروہ ہے، لیکن عاشورہ میں مستحب ہے کہ انسان عصرکے وقت تک کھانے، پینے سے پرہیزکرے۔
مستحب روزے
مسئلہ ۱۸۰۸ ۔ پورے سال میں سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ رکھناحرام ہے یامکروہ کہ جن کاذکر ہوچکاہے روزہ رکھنا مستحب ہے اوربعض دنوں کے متعلق بہت تاکید کی گئی ہے ان میں سے یہ ہیں :
۱ ۔ ہرماہ کی پہلی اوراخری جمعرات اورہردسویں تاریخ کے بعدوالاپہلابدہ اوراگر کوئی ان روزوں کوبجانہ لائے تومستحب ہے کہ ان کی قضاکرے اوراگر اصلا روزہ نہ رکھے تومستحب ہے کہ ہردن کے لئے ایک مدطعام یا ۶/۱۲ نخود چاندی کسی فقیرکودے۔
۲ ۔ ہرماہ کی تیرہویں، چودہویں اورپندرہویں کو۔
۳ ۔ پورے ماہ رجب اورماہ شعبان اوران دوماہ میں سے کچھ دن اگر چہ ایک ہی دن کیوں نہ ہو۔
۴ ۔ عید نوروزکے دن، ذی قعدہ کی پچیس اورانتیس اورذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے لے کرنویں تک، یعنی یوم عرفہ تک، لیکن اگرروزہ رکھنے کی وجہ سے ضعف پیداہوجائے اورعرفہ کی دعاؤں کونہ پڑھ سکے توپھر اس کے لئے روزہ مکروہ ہے، عیدغدیر( ۱۸ ذی الحجہ )، محرم کی پہلی اورتیسری، عید میلادالنبی( ۱۷ ربیع الاول) رسول خداکے مبعث کادن( ۲۷ رجب المرجب) اوراگرکوئی مستحبی روزہ رکھے توآخرتک پوراکرنااس پرواجب نہیں، بلکہ اگرکوئی مومن بھائی اس کوکھانے کی دعوت دیتاہے تومستحب ہے کہ اس کودعوت قبول کرے اوردن میں افطارکرے۔
مسئلہ ۱۸۰۹ ۔ چھ آدمیوں کے لئے اگرچہ روزہ دارنہ بھی ہومستحب ہے ان کاموں سے بچیں جوروزہ کوباطل کردیتے ہیں :
۱ ۔ وہ مسافرکہ جس نے سفرکے دوران روزہ کوباطل کرنے والاکام انجام دیاہواورظہرسے پہلے وطن میں یاجہاں دس دن ٹہرنے کاارادہ رکھتاہے پہنچ گیاہے۔
۲ ۔ وہ مسافرجوظہرکے بعد اپنے وطن یااس جگہ کہ جہاں دس دن رہناہوپہنچ جائے۔
۳ ۔ وہ بیمارکہ جو ظہرسے پہلے ٹھیک ہوجائے لیکن اس نے روزہ کوباطل کرنے والاکوئی کام انجام دیاہو۔
۴ ۔ وہ مریض جوظہرکے بعدٹھیک ہوجائے۔
۵ ۔ وہ عورت جودن کے کسی حصہ میں خون حیض یانفاس سے پاک ہوجائے۔
۶ ۔ وہ کافر کہ جورمضان کے کسی دن میں مسلمان ہوجائے۔
مسئلہ ۱۸۱۰ ۔ روزہ دارکے لئے مستحب ہے کہ روزہ افطارکرنے سے پہلے مغرب وعشاء کی نمازپڑھ لے، لیکن اگرحضورقلب کے ساتھ نہ پڑھ سکتا ہویاکوئی شخص افطارکے لئے اس کاانتظارکررہاہو، توبہترہے کہ پہلے افطارکرے لیکن بس اتنا کہ جس کے بعدنمازکواس کے فضیلت کے وقت میں پڑھ سکے۔
خمس کے احکام
مسئلہ ۱۸۱۱ ۔ خمس سات چیزوں پرواجب ہوتاہے :
۱ ۔ کاروبار کے منافع
۲ ۔ معدن (کان) ۔
۳ ۔ گنج (خزانہ)۔
۴ ۔ حلال مال جوحرام مال میں مخلوط ہوجائے۔
۵ ۔ دریامیں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات۔
۶ ۔ جنگ کامال غنیمت ۔
۷ ۔ جوزمین مسلمان کافرذمی سے خریدے۔
ان سب کے احکام آئندہ مسائل میں بیان ہوں گے۔
۱ ۔ کاروبار کانفع
مسئلہ ۱۸۱۲ ۔ جب انسان تجارت یاصنعت یاکسی اورکاروبار سے کوئی مال حاصل کرتا ہے اگرچہ کسی میت کی نمازیاروزہ اجرت پرپڑھ کر اس سے کچھ مال حاصل کیاہو چنانچہ اس مال سے خو د اپنے اہل وعیال کے سالانہ اخراجات پرصرف کرنے کے بعدجوبچ جائے اس بچت میں سے خمس، یعنی پانچواں حصہ اس طریقے کے مطابق اداکرے جس کی تفصیل بعدمیں بیان ہوگی۔
مسئلہ ۱۸۱۳ ۔ اگرکسب کے بغیرکوئی مال ہاتھ آجائے، مثلا کوئی مال کسی نے اسے بخش دیاہوتواگرایسے مال سے سالانہ اخراجات نکال کر کوئی چیز بچ جائے تواس کاخمس بنابراحتیاط واجب اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۱۴ ۔ عورت کوجومہر ملتاہے اس پرخمس واجب نہیں ہے اسی طرح وہ میراث جوکسی کوپہنچتی ہے لیکن اگرایسے شخص کاترکہ ورثہ مل جائے کہ جس سے بہت دوررکارشتہ تھااوراسے رشتہ کی خبربھی نہ تھی توپھراحتیاط واجب یہ ہے کہ اس ارث کے مال سے سال کے اخراجات کرچکنے کے بعد اگرکوئی چیزبچ جائے اس کاخمس اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۱۵ ۔ اگرکوئی مال میراث میں ملے اورمعلوم ہوکہ میت نے اس کاخمس ادانہیں کیاہے تواس مال کاخمس دیناہوگا اسی طرح اگراس مال میں جووارث کوملاہے خمس واجب نہ ہولیکن میراث پانے والاجانتاہوکہ میت کے ذمے خمس واجب الاداء تھا تواس کواس کے مال سے خمس اداکرناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۱۶ ۔ اگرقناعت کی وجہ سے سال کے اخراجات سے کچھ بچ جائے تواس کاخمس دیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۱۷ ۔ جب کسی کاخرچ کوئی دوسرادیتاہو توخودسے حاصل کردہ پورے مال کاخمس دیناچاہئے اوراگراس مال سے کچھ حصہ زیارات اوراس قسم کی چیزوں پرخرچ کیاہوتوجومال باقی اس کاخمس دیناہوگا۔
مسئلہ ۱۸۱۸ ۔ جب کسی ملک کو معین افراد، مثلا اپنی اولادکے لئے وقف کیاہواوراولاداس ملک میں زراعت کرنے یادرخت لگانے سے کچھ مال حاصل کرے تو جب وہ مال ان کے سالانہ خرچ سے زیادہ ہوتواس کاخمس بھی دیناواجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۸۱۹ ۔ مستحق افراد جوخمس وزکات لیتے ہیں چاہے سالانہ اخراجات کے بعد اس سے کچھ بچ جائے پھربھی اس بچت پر خمس نہیں ہے، البتہ اگرخمس وزکات سے حاص کردہ مال سے نفع حاصل ہو، مثلا خمس میں ملے ہوئے درخت میں پھل پیداہوتواس نفع سے سال بھرکا خرچ نکالنے کے بعد بچت ہواس بچت پرخمس واجب ہے، اسی طرح اگر صدقہ مستحبی لے تواس کاخمس احتیاط واجب کی بناپردیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۲۰ ۔ اگرایسے روپیہ سے کہ جس پرخمس واجب تھا خمس دئیے بغیرکوئی چیزخریدے، یعنی بیچنے والے سے کہے کہ اس مال کواس رقم سے خریدرہاہوں توخمس کی مقدارکے برابرمعاملہ باطل ہے البتہ اگرحاکم شرع اجازت دیدے معاملہ صحیح ہے اوراس خریدی ہوئی چیزکاپانچواں حصہ حاکم شرع کودے اوراگر خریدی ہوئی چیزنہ ہوتواس کی قیمت سے پانچواں حصہ حاکم شرع کودیدے۔
مسئلہ ۱۸۲۱ ۔ اگرکوئی چیزخریدے اورمعاملہ کے بعد اس کی قیمت ایسے روپئے سے اداکرے کہ جس کاخمس ادانہیں کیاتھا توجومعاملہ اس نے کیاہے وہ صحیح ہے لیکن چونکہ قیمت اس رقم سے دی تھی جس کاخمس ادانہیں کیاتھا اس لئے بمقدارخمس رقم کامقروض رہے گا اوراگراتنی رقم بیچنے والے کے پاس موجودہوتوحاکم شرع اس رقم کولے لے گا اوراگروہ رقم باقی نہیں ہے توحاکم شرع خریداریابیچنے والے سے(کسی سے بھی) مطالبہ کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۲۲ ۔ اگرکوئی ایسامال خریدے جس کاخمس نہ دیاہوتوخمس کی مقدارکے برابراگرحاکم شرع اجازت نہ دے، معاملہ باطل ہے، البتہ اگرحاکم شرع اجازت دیدے توصحیح ہے اورایسی صورت میں معاملہ والی رقم کاخمس حاکم شرع کودیناہوگا اوراگربیچنے والے کودیاہے تواس سے لے کر حاکم شرع کودے۔
مسئلہ ۱۸۲۳ ۔ جس چیزکاخمس نہ دیاہواگرکسی کوکوئی بخش دے تواس چیزکے خمس کامالک وہ نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۸۲۴ ۔ کافریاایسے شخص سے جوخمس کاعقیدہ نہیں رکھتاکوئی مال کسی کے پاس آئے تواس کاخمس واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۸۲۵ ۔ تاجراورکاسب اورصنعت گروغیرہ جب کسب شروع کریں اس وقت سے لے کر ایک سال گزرنے تک ان کے سال کے مخارج کے بعد جو چیزبچ جائے تواس کاخمس واجب ہے، لیکن وہ شخص جس کاکام کاسبی کرنانہیں، اگراتفاق سے اسے کسی معاملہ میں کوئی منافع حاصل ہوتوفائدہ حاصل ہونے کے وقت سے جب ایک سال گزرجائے تواس مقدارکاخمس جواس کے سال کی اخراجات سے بچ جائے دیناواجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۸۲۶ ۔ انسان کوسال کے درمیان جب نفع حاصل ہوتواس وقت بھی خمس دے سکتاہے اورآخرسال تک مؤجربھی کرسکتاہے اورخمس دینے کے لئے شمس سال معین کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۲۷ ۔ جب کوئی تاجر یاکاسب کی طرح خمس نکالنے سال معین کرے اگروہ منفعت حاصل کرنے کے بعد سال ختم ہونے سے پہلے مرجائے توپھراس منفعت سے صرف اس کے مرنے کے وقت تک کے مصارف کم کرلئے جائیں گے اورباقی ماندہ منفعت سے خمس دیناواجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۸۲۸ ۔ اگرتجارت کے لئے خریدی ہوئی چیزکی قیمت چڑھ جائے اوروہ تجارتی اورآمدنی کے اعتبارسے اس چیزکونہ بیچے اورپھرسال کے درمیان اسی چیز کی قیمت گرجائے توقیمت کی جومقداربڑھ گئی تھی اس کاخمس دیناواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۸۲۹ ۔ اگرتجارت کے لئے خریدی ہوئی چیزکی قیمت چڑھ جائے لیکن وہ اسے امیدپر فروخت نہ کرے کہ اورزیادہ مہنگی ہوجائے اوریوں ہی سال کے ختم ہونے تک فروخت نہ کرے اورپھراس کی قیمت گرجائے پھرتوجومقداربڑھ گئی تھی اس کاخمس دیناواجب ہے۔
مسئلہ ۱۸۳۰ ۔ اگرمال تجارت کے علاوہ کوئی مال اس کے پاس تھاکہ جس کاخمس دے چکاہے یااس پرخمس ہی نہیں ہے تواگراس کی قیمت بڑھ جائے توجتنی قیمت بڑھ گئی ہے اس پرخمس نہیں ہے لیکن اگراس کوبیچ ڈالے توجتنی قیمت بڑھی تھی اس بڑھی قیمت کا خمس دے، لیکن اگر کوئی درخت خریدے اوربڑاہوجائے یابھیڑ بکری موٹی ہوجائے تواگران کے رکھنے سے اس کاارادہ یہ تھاکہ ان سے کوئی منفعت حاصل کرے توزیادتی کاخمس دیناپڑے گا۔
مسئلہ ۱۸۳۱ ۔ اگراس نیت سے باغ لگائے کہ جب اس کی قیمت چڑھ جائے گی تب بیچوں گا تواگراس کے بیچنے کاوقت آگیاہوتواس کاخمس اداکرے، لیکن اگرنیت یہ رہی ہوکہ اس باغ کے پھل کوکھائیں گے توپھلوں کاخمس دے اوراحتیاط کی بناپر پھلوں کے بڑھنے کی قیمت کاخمس بھی اداکرلے۔
مسئلہ ۱۸۳۲ ۔ اگرکوئی شخص بیداورچنار(وہ درخت جن کی پرورش صرف لکڑی کے لئے ہوتی ہے) وغیرہ کے درخت لگائے توجوسال ان کے بیچنے کاہے اگر چہ نہ بیچے ان کاخمس اداکرے، اسی طرح اگر ان درختوں کی شاخوں سے نفع اٹھائے جوعموما ہرسال کی آمدنی سال کے اخراجات سے بڑھ جائے توضروری ہے کہ ہرسال کے خاتمے پراس زیادہ کاخمس دے۔
مسئلہ ۱۸۳۳ ۔ جس کے کئی کاروبارہیں، مثلاجائیداد کاکرایہ خریدوفروخت اورزراعت بھی کرتاہے توہرکاروبارکے منافع کاحساب ایک ساتھ کرے اوراگر اس میں نفع ہواہے تواس کاخمس دے اوراگرایک کاروبارسے نفع حاصل کرے اوردوسرے سے نقصان اٹھائے تواحتیاط واجب کی بناپر جونفع حاصل کیاہے اس کاخمس اداکرے، لیکن اگراس کے یہاں دوقسم کی تجارت ہوتواس صورت میں ایک تجارت کانقصان کاتدارک دوسری تجارت کے نفع سے کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۳۴ ۔ انسان جواخراجات فائدہ حاصل کرنے کے لئے کرے، مثلا دلالی اورباربرداری وغیرہ کے سلسلے میں جوکچھ خرچ کرے توان مصارف کواخراجات میں شمارکرناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۳۵ ۔ ضروریات زندگی پرخمس نہیں ہے، یعنی انسان اپنے سالانہ اخراجات مثلاکھانا،لباس، مکان، گھریلوسامان، شادی بیاہ، لڑکی کاجہیز، زیارت، بخشش، عطیہ، مہمان داری وغیرہ پرجوآمدنی خرچ کرتاہے اگراس کی شان سے زیادہ نہیں ہے اوروقت حاجت آپہنچاہے اورفضول خرچی بھی نہ کی ہوتوان مصارف کاخمس نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۸۳۶ ۔ جن اموال کوانسان نذراورکفارہ وغیرہ میں خرچ کرتاہے وہ سالانہ اخراجات میں شمارہوتے ہیں، اسی طرح جومال دوسروں کودیتاہے یاانعام دیتاہے اگراس کی شان سے زیادہ نہیں ہے توسالانہ اخراجات میں شمارہوگا۔
مسئلہ ۱۸۳۷ ۔ اگرانسان بیٹی کاجہیز اکھٹاتیارنہ کرسکتاہواورمجبورہوکہ ہرسال تھوڑا تھوڑا کرکے اکھٹاکرے، یاایسے شہرمیں ہوجہاں معمول یہ ہے کہ ہرسال جہیزکے کچھ مقدار تیارکرتے ہیں، اوراس کے مہیاکرنے کی ضرورت ہوتواگردرمیان سال اس سال کے منافع سے جہیزخریدے تواس پرخمس واجب نہیں ہوگالیکن اگراس سال کے منافع سے آئندہ سال جہیزتیارکرے توخمس واجب ہوگا۔
مسئلہ ۱۸۳۹ ۔ جومال حج یادوسری زیارات کے سفرپرخرج کرے اگروہ مال سواری کی طرح ہوکہ جس کی عین باقی رہ جاتی ہے اوراس کی منفعت سے استفادہ کیاجاتاہے تووہ اس سال کے مخارج میں شمارہوگا کہ جس سال میں سفرکی ابتداء کی ہے اگرچہ اس کاسفرآئندہ سال کے کچھ حصہ تک طوالت پکڑجائے، ہاں اگروہ مال خوراک کی طرح ہوکہ استعمال کرنے سے ختم ہوجاتاہے تواس مقدارکاخمس دے جوبعدوالے سال میں واقع ہواہے۔
مسئلہ ۱۸۴۰ ۔ کسب وتجارت سے مال حاصل کرنے والے کے پاس اگرکوئی دوسرا ایسامال بھی ہوجس کاخمس واجب نہیں ہواکرتا، تووہ شخص اپنے سال بھر کے خرچ کاحساب صرف کسب کے منافع سے کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۴۱ ۔ اگرمنفعت کسب سے کھانے پینے کی جوچیزیں سال بھر کے لئے خریدی ہیں سال کے آخرمیں بچ جائیں توان کاخمس دے اوراگران کی قیمت اوررقم دینا ہے اگرسال کی قیمت کوحساب کرناہوگا۔
مسئلہ ۱۸۴۲ ۔ اگرکاروباری نفع سے خمس دینے سے پہلے کوئی گھریلوسامان خریدے تواگردوران سال سے اس کی احتیاج برطرف ہوجائے اس پرواجب ہے کہ اس کاخمس دے اوریہی حکم ہے زیورات وغیرہ کااگراثناء سال ان زیورات سے تزین کاوقت گزرجائے
مسئلہ ۱۸۴۳ ۔ اگرکسی سال اسے نفع حاصل نہیں ہواتواس سال کے اخراجات آنے والے سال کے منافع سے کم نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۱۸۴۴ ۔ اگرابتداء سال میں کوئی نفع نہیں ہوااوراصل پونجی سے خرچ کرتارہااورسال پوراہونے سے پہلے نفع حاصل ہواتوجتنی مقدارسرمایہ سے صرف کی ہے اس کومنافع سے پوراکرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۴۵ ۔ اگرایک کاروبار کے اصل سرمایہ کاکچھ حصہ بغیرکوتاہی کے تلف ہوجائے یانقصان کی وجہ سے کم ہوجائے اوربقیہ سے نفع کمائے جوکہ سال کے خرچ سے بچ جائے توجتنی مقدارسرمایہ سے کم ہوئی ہے وہ منافع سے لے سکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۴۶ ۔ اگرسرمایہ کے علاوہ کوئی اورچیزتلف ہوجائے تووہ اس نفع سے وہ چیزنہیں حاصل کرسکتا، البتہ اگراسی سال اس چیزکی ضرورت آپڑے توپھر دوران سال کاروبار کے منافع سے اس کوحاصل کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۴۷ ۔ اگرابتداء سال میں اپنے اخراجات کے لئے قرض لے اورسال پوراہونے سے پہلے نفع حاصل کرے توقرض کے مقدارکواس نفع سے کم نہیں کرسکتاہے۔
مسئلہ ۱۸۴۸ ۔ اگرسال بھرنفع نہ ہواوراپنے اخراجات کے لئے قرض لیتارہاتوآئندہ سالوں کے منافع سے اپناقرض ادانہیں کرسکتا، ہاں اس صورت میں اورگزشتہ مسئلہ کی صورت میں وہ اس قرض کوسال کے دوران کے منافع سے اداکرسکتاہے اورمنافع کی اس مقدارسے خمس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۸۴۹ ۔ اگرمال میں زیادتی کے لئے یاایسی جائیداد خریدنے کے لئے جس کی ضرورت نہیں ہے قرض کرلے توکاروبارکے نفع سے اس قرض کوادانہیں کرسکتا لیکن اگر قرض پرلیاہوامال اس قرض سے خریدی ہوئی چیزتلف ہوجائے توپھرکاروبار کے نفع سے اس قرض کواداکرسکتاہے جبکہ قرض کواداکرنے پرمجبور ہو۔
مسئلہ ۱۸۵۰ ۔ انسان کے لئے جائزہے کہ ہرچیزکاخمس اسی چیزسے اداکرے یاخمس کے مقدارقیمت اداکرے، لیکن دوسری چیزسے پہلی والی چیزکاخمس دینا حاکم شرع کی اجازت سے ہوناچاہئے ورنہ اس میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۸۵۱ ۔ جب تک کسی مال کاخمس ادانہ کرے اس مال میں تصرف نہیں کرسکتااگرچہ خمس دینے کاارادہ رکھتاہو۔
مسئلہ ۱۸۵۲ ۔ جس شخص کوخمس دیناہے اس کے لئے جائزنہیں ہے کہ خمس اپنے ذمے لے لے، یعنی اپنے کوخمس لینے والوں کامقروض جان لے اوراس مال میں تصرف کرنا شروع کردے اوراگراس نے تصرف کیااورمال تلف ہوگیاتواسے خمس دیناپڑے گا۔
مسئلہ ۱۸۵۳ ۔ جس کوخمس دیناہے اگرحاکم شرع سے مصالحت کرلے توپھرپورے مال مین تصرف کرسکتاہے ، اورمصالحت کے بعد جونفع حاصل ہووہ اس کا اپناہوگا۔
مسئلہ ۱۸۵۴ ۔ اگردوآدمی آپس میں شریک ہوں اورایک اپنے منافع سے خمس نکالتاہواوردوسرانہ نکالے اورسال بعدمیں اس مال کو جس کاخمس نہیں دیاگیاہے اپنے شریک کے ساتھ کاروبارمیں شرکت کے لئے سرمایہ قراردے توان مین سے کوئی بھی اس مال میں تصرف نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۱۸۵۵ ۔ اگرکسی چھوٹے بچے کے سرمایہ تھا اوراس سے نفع حاصل ہواتواس کے ولی پرواجب ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے اس کاخمس اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۵۶ ۔ جس مال کے بارے میں یقین ہوکہ اس کاخمس نہیں دیاگیااس میں تصرف نہیں کیاجاسکتاہے، لیکن جس مال کے بارے میں شک ہوکہ اس کاخمس دیاگیاہے یانہیں اس میں تصرف کرناجائزہے۔
مسئلہ ۱۸۵۷ ۔ جس شخص نے ابتداء تکلیف سے خمس ادانہیں کیااگروہ کوئی جائیدادخریدے اوراس کی قیمت بڑھ جائے تواگراس نے جائیدادکواس مقصدکے لئے نہ خریداہوکہ اس کی قیمت زیادہ ہوجائے تواسے بیچ ڈالوں گا، مثلا اس نے کوئی زمین زراعت کے لئے خریدی تھی اگربیچنے والے کو وہ رقم دی ہے کہ جس کاخمس ادانہیں کیااوراس سے کہاکہ یہ جائیداداس رقم سے خریدرہاہوں، تواگرحاکم شرع اس معاملہ کی اجازت دے تومعاملہ صحیح ہے اورخریدی جانے والی قیمت کاخمس اداکرناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۵۸ ۔ جس شخص نے ابتداء تکلیف سے خمس ادانہیں کیااگروہ کاروباری نفع سے کوئی ایسے چیزخریدے کہ جس کی اسے ضرورت نہ ہواوراس کے خریدکے بعد ایک سال گزرجائے تواس کاخمس اداکرے اوراگرگھرکاسامان یاکوئی اورچیزخریدے کہ جس کی اسے ضرورت ہے اوراپنی شان کے بھی مطابق ہے خریداہو، تواگراسے معلوم ہے کہ میںنے اس سال کے درمیان کے منافع سے خریداہے تواس کے خمس دینے کی ضرورت نہیں ہے، اوراگر یہ معلوم نہ ہوکہ دوران سال خریداہے یاسال ختم ہونے کے بعدتواحتیاط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع کے ساتھ مصالحت کرے۔
۲ ۔ معدن (کان)
مسئلہ ۱۸۵۹ ۔ اگرسونایاچاندی، پیتل، تانبا، مٹی کاتیل، پھٹکری، کوئلہ، فیروزہ، عقیق ،نمک یااس قسم کی دوسری چیزوں کی کان سے کوئی چیزاس کے ہاتھ آجائے، بشرطیکہ وہ بمقدارنصاب ہوتواس کاخمس دیناپڑے گا۔
مسئلہ ۱۸۶۰ ۔ کان کانصاب احتیاط کی بناپرایک سوپانچ مثقال چاندی یاپندرہ مثقال سوناہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اخراجات وغیرہ کم کرنے سے پہلے نصاب کاحساب کیاجائے، البتہ وہ مقدارجس کاخمس اداکرناہے اس سے اخراجات کم کرنے کے بعداداکیاجائے گا۔
مسئلہ ۱۸۶۱ ۔ جوفائدہ کان سے حاصل کیاگیاہے اگراس کی قیمت پندرہ مثقال سونے کے برابرنہ ہوتواس کاخمس اس صورت میں واجب ہے جب صرف یہ مال یادوسرے کاروبار کی منفعت کرنے کامجموعہ اس کے مصارف سال سے بڑھ جائے۔
مسئلہ ۱۸۶۲ ۔ گچ،چونا، نمکین مٹی، اورسرخ مٹی احتیاط واجب کی بناپرمعدنی چیزوں سے شمارہوتے ہیں اوران کاخمس دیناہوگا۔
مسئلہ ۱۸۶۳ ۔ جس کوکان سے کوئی چیزحاصل ہوئی ہواس کاخمس اداکرناچاہئے، چاہے کان زمین کے اوپرہویانیچے، چاہے ایسی زمین میں ہوجوکسی کی ملکیت ہے یاجس کاکوئی مالک نہ ہو۔
مسئلہ ۱۸۶۴ ۔ اگریہ معلوم نہ ہوکہ جوچیزیں میں نے کان سے نکالی ہے نصاب کے برابرہے یانہیں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ وزن کرنے سے یاکسی اورطریقہ سے اس کی قیمت معلوم کرلے۔
مسئلہ ۱۸۶۵ ۔ اگرچندآدمی کوئی چیزکان سے نکالیں تووہ اخراجات جواس کوحاصل کرنے کے لئے ہوئے ہیں انہیں نکالنے کے بعداگرہرایک کاحصہ نصاب کے برابرہے توان کواس کاخمس دیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۶۶ ۔ اگرایسی کان سے کچھ نکالے جوکسی کی ملک میں ہواوراس کی اجازت نہ ہوتوجوکچھ ہاتھ آئے گاوہ مالک زمین کاہے اورچونکہ مالک نے اس کے نکالنے پرکچھ خرچ نہیں کیالہذا تمام اس چیزکاخمس اداکرے جوکہ کان سے نکلی ہے۔
مسئلہ ۱۸۶۷ ۔ اجرت پرکانیں نکلواناجائزہے اوراجرت دینے والااس کامالک ہوگابشرطیکہ اجرت دینے والاخاص طورسے اوراسی مقصدکے لئے مقررکیاگیا ہویاجتنی منافع ہوگی سب اجرت دینے والاکے لئے ہو، لیکن اگراجرت دینے والابطورمطلق اجیرہوتواگروہ اس سے قصدتملک کرے، اس شئی کامالک ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۸۶۸ ۔ اگرکان ایسی آبادزمین سے ہوں جس کومسلمانوں نے اپنی طاقت اورقوت سے حاصل کیاہوجیسے ایران اورعراق کی اکثرزمینیں، تواگر کوئی مسلمان ان زمینوں سے کوئی کان نکالے تووہ اس کامالک ہوگااوراس کاخمس اداکرے لیکن اگرغیرمسلم نکالے اس کامالک نہیں ہوگا، اسی طرح اگرکوئی کافر ایسی زمین سے کان نکالے کہ جومسلمانوں کے فتح کے موقع پربنجرزمین ہوتوبھی اس کامالک نہیں ہوگا۔
۳ ۔ گنج (خزانہ)
مسئلہ ۱۸۶۹ ۔ خزانہ وہ مال ہے جوزمین، پہاڑیادیوارمیں چھپاہواہواورکوئی اسے پالے اوروہ اس طرح ہوکہ اسے گنج (خزانہ) کہاجاسکے۔
مسئلہ ۱۸۷۰ ۔ اگرانسان کسی ایسی زمین میں سے خزانہ حاصل کرے جوکسی کی ملکیت نہیں تووہ اس کااپنامال ہوگا اوراس کاخمس دیناپڑئے گا۔
مسئلہ ۱۸۷۱ ۔ خزانہ کانصاب احتیاط کی بناپرایک سوپانچ مثقال چاندی یاپندرہ مثقال سوناہے، یعنی اگراس چیزکی قیمت جوخزانہ سے ملی ہے ان اخراجات کے بعدجواسے حاصل کرنے میں کئے گئے ہیں پندرہ مثقال ( ۶ تولہ) سونے کے برابرہوتواس کاخمس دے۔
مسئلہ ۱۸۷۲ ۔ اگرایسی زمین میں جوکسی شخص سے خریدی ہے کوئی خزانہ مال جائے اوراسے یہ معلوم ہوکہ ان لوگوں کامال نہیں جومجھ سے پہلے اس کامالک تھے تویہ اس کااپناہی مال ہوگا اوراسے اس کاخمس دیناپڑئے گا لیکن اگریہ احتمال ہوکہ ان میں سے کسی ایک کاہے تواس کااطلاع دے اب اگریہ معلوم ہوجائے کہ اس کامال نہیں تواس سے پہلے والے مالک کواطلاع دے اوراحتیاط واجب کی بناء پراسی ترتیب سے سب لوگوں کومطلع کرے جواس سے پہلے اس زمین کے مالک تھے، اب اگرمعلوم ہوکہ ان میں سے کسی کامال نہیں ہے تواپناہی مال سمجھ کر اس کاخمس اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۷۳ ۔ اگرمتعدد برتنوں میں سے جوکہ ایک جگہ دفن ہیں کچھ مال ملے کہ جس کی مجموعی قیمت پندرہ مثقال سوناہوتواس کاخمس اداکرے، البتہ اگر چند جگہوں سے خزانہ حاصل ہوتوا ن میں سے جس کی قیمت اس مقدارکے برابرہوتواس کاخمس دے اورجس کی قیمت اس مقدارکونہ پہنچے اس پرکوئی خمس نہیں۔
مسئلہ ۱۸۷۴ ۔ اگردوآدمیوں کوخزانہ ملے کہ ان میں سے ہرایک کے حصے کی قیمت پندرہ مثقال سوناہوتودونوں کوخمس اداکرناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۷۵ ۔ اگرکوئی شخص ایک جانورخریدے اوراس کے پیٹ سے کوئی مال ملے تواگریہ احتمال ہوکہ یہ بیچنے والے کامال ہے تواسے اطلاع سے اوراگر معلوم ہوجائے کہ اس کی ملکیت نہیں تواحتیاط واجب کی بناپرترتیب واراورپہلے مالکوں کواطلاع دے، اب اگرمعلوم ہوجائے کہ ان میں سے کسی کی ملکیت نہیں تواحتیاط واجب کی بناپراس کاخمس دیناچاہئے اگرچہ نصاب سے کم ہو، لیکن اگرمچھلی خریدے اوراس کے پیٹ سے جواہرات ملیں تووہ اس کااپنامال ہوگا اورکسی کواطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہے اوراحتیاط واجب ہے کہ اس کاخمس اداکرے۔
۴ ۔ مال حلال مخلوط بہ حرام
مسئلہ ۱۸۷۶ ۔ اگرحلال مال حرام کے ساتھ اس طرح مال جائے کہ انسان ان میں سے ایک کودوسرے سے تمیزنہ کرسکے ا ورمالک مال حرام اوراس کی مقدار بھی معلوم نہ ہوتوپورے مال کاخمس دیناچاہئے اورخمس دینے کے بعد باقی مال بھی حلال ہوجائے گا، اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اس خمس کومافی الذمہ کی نیت سے مالک کی طرف سے اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۷۷ ۔ اگرحلال مال حرام سے مل جائے اورانسان کوحرام کی مقدارمعلوم ہولیکن اس کے مالک کونہ پہچانتاہوتواتنی مقدارکومالک کی طرف سے بطور صدقہ دیدے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع سے اس کی اجازت بھی لے۔
اگرحلال مال حرام سے مل جائے اورانسان کوحرام کی مقدارمعلوم نہ ہولیکن مالک کوپہچانتاہوتوایک دوسرے کوراضی کریں، اگرصاحب مال راضی نہ ہوتواگر انسان کومعلوم ہوکہ یہ معین چیزتواس کی ملکیت ہے لیکن اس سے زیادہ بھی اس کی ملکیت ہے کہ نہیں مشکوک ہوتوجس مقدارکایقین ہووہ اس کودیدے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ زیادہ مقدارجس کی متعلق احتمال ہے کہ اس کی ملکیت ہے وہ بھی اس کودیدے۔
مسئلہ ۱۸۷۸ ۔ اگراس حلال مال کاخمس جوحرام سے ملاہواہے دیدے اوربعدمیں اسے معلوم ہوکہ حرام کی مقدارخمس سے زیادہ تھی تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ جتنی مقدارکے متعلق علم ہے کہ یہ خمس سے زیادہ ہے اس کومالک کی طرف سے بطورصدقہ دیدے۔
مسئلہ ۱۸۷۹ ۔ اگرمال حلال جومال حرام سے ملاہواہے اس کاخمس دیدے اس کے بعدمالک مل جائے تواس کاضامن نہیں ہوگا، لیکن اگراس مال کوجس کے مالک کونہیں پہچانتاتھامالک کی طرف سے صدقہ دیدے اس کے بعدمالک مل جائے تواس کاضامن ہے اوراتنی مقداراسے دیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۸۰ ۔ اگرمال حلال حرام سے مل جائے اورحرام کی مقدارمعلوم ہواورانسان کویہ علم ہوکہ اس کامالک ان چندمعین اشخاص میں سے کوئی ایک ہے لیکن اس کاتعین نہ ہوسکے تواس کوقرعہ اندازی کرنی چاہئے جس کانام نکلامال اسی کودیدے۔
۵ ۔ غوطہ خوری سے حاصل ہونے والے جواہرات
مسئلہ ۱۸۸۱ ۔ غوطہ خوری کے ذریعہ سمندرسے جوموتی، مونگے وغیرہ نکلتے ہیں ان کاخمس دیناواجب ہے، چاہے نکالی ہوئی چیزاگنے والی ہویامعدنی تواگر باہرنکالنے کے اخراجات کم کرنے کے بعداس کی قیمت اٹھارہ نخودچنے کے دانے کے برابرسوناہوتواس کاخمس دیاجائے چاہے ایک ہی دفعہ اسے دریاسے نکالا گیاہویاکئی مرتبہ اورجوکچھ نکالاہے وہ ایک جنس سے ہویامختلف سے، البتہ اگرچندافرادنکالیں توجس کے حصے کی قیمت اٹھارہ نخودسوناہے صرف اس کوخمس دینا پڑے گا۔
مسئلہ ۱۸۸۲ ۔ اگردریامیں غوطہ لگانے کے بغیرکسی اورذریعہ سے جواہرات کوباہرنکالے اوراخراجات کم کرنے کے بعدان کی قیمت اٹھارہ نخودسونے کے برابر ہوتواحتیاط مستحب ہے کہ اس کاخمس دے، لیکن اگردریاکے اوپریاکنارہ سے جواہرات حاصل کرے تواس صورت میں خمس دیناپڑے گاجب کہ یہ کام اس کاشغل ہواورصرف اسی کام سے یادوسری منافع کے ساتھ سال بھرکے اخراجات سے زیادہ ہو۔
مسئلہ ۱۸۸۳ ۔ مچھلی اوراس قسم کے دوسرے حیوانات جن کوبغیرغوطہ خوری کے دریاحاصل کیاجاتاہے ان پرصرف اس صورت میں خمس واجب ہوگا جب ان کوکاروبار کے لئے حاصل کیاجائے اورصرف اس کام کے منافع یادوسرے کسب کے منافع کے ساتھ ملاکرسال بھرکے خرچ سے زیادہ ہو۔
مسئلہ ۱۸۸۴ ۔ اگرانسان بغیراس ارادہ کے کہ وہ دریاسے کوئی چیزنکالے دریامیں غوطہ لگائے اوراتفاق سے کچھ جواہرات اس کے ہاتھ آجائے تواگر ملکیت کا قصدکرے اس کاخمس اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۸۵ ۔ اگرانسان دریامیں غوطہ لگائے اورکوئی جانورباہرنکالے اوراس کے پیٹ سے کوئی موتی نکال آئے جس کی قیمت اٹھارہ نخود سونایااس سے زیادہ ہوتواگر وہ جانورصدف جیساہوکہ جس کے شکم میں عموماموتی ہوتی ہے تواس خمس دے اوراگراتفاقااس جانورنے جوہرنکلاہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کاخمس دیاجائے۔
مسئلہ ۱۸۸۶ ۔ اگردجلہ وفرات جیسے بڑے بڑے دریاؤں میں غوطہ لگاکرجواہرات نکالے تواگروہ دریاایسے ہیں کہ جن میں جواہرات بناکرتے ہیں تب اس کاخمس نکالناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۸۷ ۔ اگرپانی میں غوطہ لگائے اورکچھ عنبرنکالے کہ جس کی قیمت اٹھارہ نخودسوناسے زیادہ ہوتواس کاخمس دے اوراگرپانی کی سطح یاکنارہ سے اس کے ہاتھ آئے توچاہے اس کی قیمت اٹھارہ نخودسونا بھی نہ ہوتوبنابراحتیاط واجب اس کاخمس دے۔
مسئلہ ۱۸۸۸ ۔ جس شخص کاکاروبارغوطہ لگانایاکانیں نکالناہے اگروہ اس کاخمس اداکرے اورپھراس کے سال کے خرچہ سے بھی کچھ بچ جائے توضروری نہیں کہ دوبارہ اس کاخمس اداکرے۔
۶ ۔ مال غنیمت
مسئلہ ۱۸۸۹ ۔ اگرمسلمان بحکم امام علیہ السلام کفارسے جنگ کریں توجوبھی چیزاس جنگ میں ان کے ہاتھ آئے اس کومال غنیمت کہاجاتاہے اورجواخراجات اس غنیمت کے لئے کئے گئے ہیں، جیسے حفاظت، حمل ونقل وغیرہ میں جوصرف ہواہے اوروہ مقدارجسے امام مناسب سمجھتے ہوئے صرف فرمائیں اوروہ چیزیں جوصرف ا مام ہی سے مخصوص ہیں ان سب چیزوں کومال غنیمت سے الک کرکے بقیہ مال کاخمس نکالناچاہئے۔
۷ ۔ کافرذمی جوزمین مسلمان سے خریدے۔
مسئلہ ۱۸۹۰ ۔ اگرکافرذمی کسی مسلمان سے کوئی زمین خریدے تواس کاخمس اسی زمین سے اداکرے یااس کی قیمت دے(اس کے علاوہ اگرکوئی مال دیناچاہے حاکم شرع کی اجازت سے ہوناچاہئے) اوراسی طرح اگرمکان، دوکان اوراس قسم کی کوئی چیزکسی مسلمان سے خریدے تواگرزمین کی قیمت الگ کرکے بیچاگیاہوتواس زمین کاخمس دے اوراگرگھر، دوکان کواکھٹابیچے اورزمین اس کے ضمن میں قصدقربت ضروری نہیں ہے، بلکہ حاکم شرع بھی جب یہ خمس لے رہاہوتواس کے لئے ضروری نہیں کہ قصدقربت کرے۔
مسئلہ ۱۸۹۱ ۔ کافرذمی جوزمین کسی مسلمان سے خریدے چاہے اس کوکسی دوسرے مسلمان ہی کے ہاتھ بیچے پھربھی اس کوزمین کاخمس دیناپڑئے گا، اورکافر ذمی مرجائے اوریہ زمین کسی مسلمان کواس کے ترکہ میں سے ملے تواس کاخمس اسی زمین سے یااس کے اورمال سے اداکرے۔
مسئلہ ۱۸۹۲ ۔ اگرکافرذمی زمین خریدتے وقت شرط کرے کہ اس کاخمس نہیں دے گایایہ شرط کرے کہ اس کاخمس بیچنے والادے گاتواس کی شرط صحیح نہیں اوراس کاخمس اداکرناچاہئے، البتہ اگریہ شرط کرے کہ بیچنے والاخمس کی مقدارکافرذمی کی طرف سے خمس لینے والوں کواداکرے تواس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۸۹۳ ۔ اگرمسلمان کوئی زمین خریدوفروخت کے بغیرکافرکی ملک قراردے اوراس کاعوض لے لے، مثلااس کے ساتھ مصالحت کرے توکافرذمی کواس کاخمس دیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۹۴ ۔ اگرکافرذمی بچہ ہواوراس کاولی اس کے لئے زمین خریدے یااس کووراثت میں ملے تواس کے ولی پرلازم ہے کہ اس کاخمس اس زمین سے دے یااس کی قیمت اداکرے۔
خمس کامصرف
مسئلہ ۱۸۹۵ ۔ خمس کودوحصوں میں تقسیم کیاجائے ، ایک حصہ سہم سادات ہے اوراحتیاط واجب کی بناپراس کومجتہدجامع الشرائط کی اجازت سے فقیرسیدیا یتیم سیدیااس سیدکودیاجائے جوسفرمیں بے خرچ ہوجائے، اوردوسرا آدھاحصہ سہم امام علیہ السلام ہے جواس زمانہ میں مجتہدجامع الشرائط کودیاجائے یاایسے مصرف میں صرف کیاجائے کہ جس کی اجازت وہ مجتہددیدے، لیکن اگرانسان سہم امام دوسرے مجتہدکودیناچاہے جس کی تقلید نہیں کرتاتواس صورت میں صرف اجازت ہے کہ دنوں مجتہدسہم امام کوایک ہی طریقہ پرخرچ کرتے ہوں۔
مسئلہ ۱۸۹۶ ۔ جس یتیم سیدکوخمس دیناچاہیں اس کافقیرہوناشرط ہے، البتہ اگرکوئی سیدسفرمیں تنگ دست اورپریشان ہوتواس کوخمس دیاجاسکتاہے چاہے وہ اپنے وطن میں فقیرنہ بھی ہو۔
مسئلہ ۱۸۹۷ ۔ وہ سیدجوسفرمیں بے خرچ ہوگیاہے اگراس کاسفر،سفر معصیت ہوتواس کوخمس نہ دیاجائے۔
مسئلہ ۱۸۹۸ ۔ جوسیدعادل نہیں ہے اسے خمس دیاجاسکتاہے، البتہ وہ سیدجواثناعشری نہ ہواس کوخمس نہیں دیناچاہئے۔
مسئلہ ۱۸۹۹ ۔ اگرگناہ کارسیدکوخمس دینامعصیت میں تقویت کاسبب بنتاہوتواسے خمس نہیں دیاجاسکتا، اسی طرح اس سیدکوجوکھلم کھلاگناہ کرتاہے خمس نہیں دینا چاہئے چاہے اس کی معصیت میں تقویت کاسبب بھی نہ بنتاہو۔
مسئلہ ۱۹۰۰ ۔ اگرکوئی کہتاہے کہ میں سیدہوں تواسے خمس نہیں دیاجاسکتاجب تک دوعادل اس کے سیدہونے کی تصدیق نہ کریں یالوگوں کے درمیان اس طرح معروف ہوکہ انسان کویقین یااطمینان پیداہوجائے کہ سیدہے۔
مسئلہ ۱۹۰۱ ۔ جوشخص اپنے شہرمیں سیدمشہورہے تواگرچہ کسی انسان کواس کے سیدہونے کایقین نہ ہولیکن وثوق اور اطمینان ہوتب بھی اسے خمس دے سکتاہے۔
مسئلہ ۱۹۰۲ ۔ جس کی بیوی سیدانی ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ وہ اس کواپناخمس نہ دے جب کہ وہ اسے اپنے مصارف میں صرف کرے، البتہ اگرسیدانی کے دوسرے ایسی اخراجات ہوجواس کے شوہرپرواجب نہ ہوں توپھرجائزہے کہ شوہراس عورت کواپناخمس دے تاکہ وہ ان پرصرف کرے۔
مسئلہ ۱۹۰۳ ۔ اگرکسی سیدانی کے اخراجات کسی پرواجب ہوں اوروہ اس کی بیوی نہ ہوتواحتیاط واجب ہے کہ وہ خمس سے اس کی خوراک وپوشاک نہیں دے سکتا، البتہ اگرکچھ خمس کی رقم اس سیدانی کی ملکیت کردے کہ وہ انہیں دوسرے اخراجات میں صرف کرے جوکہ خمس دینے والے پرواجب نہیں ہیں تواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۹۰۴ ۔ جس فقیرسیدکے اخراجات کسی دوسرے شخص پرواجب ہیں اوروہ اس سیدکے اخراجات نہیں دے سکتاتواس سیدکوخمس دیاجاسکتاہے۔
مسئلہ ۱۹۰۵ ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ایک سال کے اخراجات سے زیادہ کسی فقیرسیدکوخمس نہ دیاجائے۔
مسئلہ ۱۹۰۶ ۔ اگرکسی کے شہرمیں کوئی سیدمستحق نہ ہواوریہ احتمال بھی نہیں رکھتاکہ کوئی یہاں مل جائے گایاخمس کی رقم کامحفوظ رکھنامستحق کے ملنے تک ممکن نہ ہو تووہ خمس کسی دوسرے شہرمیں لے جائے اورمستحق تک پہچائے اورخمس کے دوسرے شہرمیں لے جانے کے اخراجات خمس میں سے لے سکتاہے اوراگرخمس تلف ہوجائے تواگراس کے حفاظت میں اس نے کوتاہی کی ہے تواس کاعوض دے اوراگرکوتاہی نہیں کی توپھراس پرکوئی چیزواجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۹۰۷ ۔ اگراپنے شہرمیں کوئی مستحق نہیں لیکن احتمال دیتاہے کہ شایدکوئی مل جائے تواگرچہ مستحق کے ملنے تک خمس کی حفاظت ممکن ہوتوبھی خمس دوسرے شہرمیں لے جاسکتاہے اب اگرخمس کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کی اوروہ تلف ہوگیاتواس کوکچھ نہیں دیناہوگا، البتہ خمس کے لے جانے کاخرچہ خمس سے نہیں لے سکتا۔
مسئلہ ۱۹۰۸ ۔ اگراپنے شہرمیں مستحق مل جائے توبھی خمس دوسرے شہر میں لے جاسکتاہے اوروہاں کسی مستحق کودے سکتاہے، البتہ لے جانے کاخرچہ خود ادا کرے گا اوراگرخمس تلف ہوجائے تواگرچہ اس کی حفاظت میں کوتاہی بھی نہ کی ہوتب بھی وہ ضامن ہے۔
مسئلہ ۱۹۰۹ ۔ اگرحاکم شرع کی اجازت سے خمس دوسرے شہرلے جائے اوروہ تلف ہوجائے توپھردوبارہ خمس دینے کی ضرورت نہیں، اوریہی حکم ہے اگرکسی ایسے شخص کودے جوحاکم شرع کی طرف سے خمس لینے میں وکیل ہے اوروہ اس شہرسے دوسرے شہرکی طرف لے جائے۔
مسئلہ ۱۹۱۰ ۔ اگرخمس اس مال سے نہ دے، بلکہ حاکم شرع کی اجازت سے کسی دوسری چیزسے اداکرے تواس شئے کی واقعی قیمت کاحساب لگائے، اب اگر قیمت سے زیادہ حساب کیاہے اورمستحق اس قیمت پرراضی ہوجائے تب بھی جتنی مقدارزیادہ حساب کیاہے وہ اس کودیناپڑے گا۔
مسئلہ ۱۹۱۱ ۔ اگرکسی شخص کاکسی سید پرقرض ہوتووہ اپنے قرض کوخمس میں سے حساب کرسکتاہے اوربنابراحتیاط واجب وہ خمس اس مستحق کواداکرے اوراس کے بعد مستحق اس سے قرض کوپلٹادے۔
مسئلہ ۱۹۱۲ ۔ مستحق خمس لے کر مالک کونہیں بخش سکتا، اگرکسی کے ذمہ کافی مقدارمیں خمس باقی ہے اوروہ فقیرہوچکاہواوراسے مالدارہونے کی امیدبھی نہ ہواور وہ یہ چاہے کہ مستحقین کامقروض نہ رہے تواگرمستحق راضی ہوجائے کہ خمس اس سے لے کر اسے بخش دے تواس میں کوئی اشکال نہیں۔
مسئلہ ۱۹۱۳ ۔ اگرخمس کوحاکم شرع یااس کے وکیل یاکسی سید سے دست گردانی کرے (یعنی خمس دے کرواپس لے اورارادہ رکھتاہوکہ آئندہ سال اداکرے) تووہ آئندہ سال کے منافع سے وضع نہیں کرسکتاہے، مثلاکوئی شخص دوہزارروپئے بعنوان خمس مقروض ہے اوردوسرے سال کے اخراجات نکال کر بیس ہزار روپئے بچ جاتے ہیں تووہ بیس ہزارکاخمس اداکرے اوردوہزارروپئے جوبعنوان خمس مقروض ہے اپنی باقی ماندہ رقم سے اداکرے۔
فہرست
تقلیدکے احكام ۴
طهارت كے احكام ۷
پانی كے احكام ۷
۱-كر پانى ۷
۲ ۔قليل پانى ۸
۳- جارى پانى ۹
۵ ۔ کنویں کاپانی : ۱۰
پانی کے احکام : ۱۰
بیت الخلاء كے احكام ۱۲
پيشاب اورپاخانہ كرنا ۱۲
استبراء : ۱۳
بیت الخلاء کے مستحبات ومکروہات۔ ۱۴
نجاسات ۱۶
۱ ۔ ۲ پیشاب وپاخانہ ۔ ۱۶
۳ ۔ منی ۱۶
۴ ۔ مردار ۱۶
۶ ۔ ۷ کتااورسور ۱۸
۸ ۔ کافر ۱۸
۹ ۔ شراب ۱۸
۱۰ ۔ فقا ع ۱۹
حرام سے مجنب ہونے والے کاپسینہ ۱۹
۱۱ ۔ نجاست کھانے والے اونٹ کاپسینہ ۱۹
نجاست ثابت ہونے کے طریقے۔ ۱۹
پاک چیزیں کیسے نجس ہوتی ہیں۔ ۲۰
نجاستوں کے احکام ۲۱
مطہرات ۲۴
۱ ۔ پانی ۲۴
۲ ۔ زمین ۲۷
۳ ۔ سورج ۲۸
۴ ۔ استحالہ ۲۹
۵ ۔ انتقال ۳۰
۶ ۔ اسلام لانا ۳۰
۷ ۔ تبیعت ۳۰
۸ ۔ عین نجاست کادورہونا۔ ۳۱
۹ ۔ نجاست کھانے والے حیوان کااستبراء۔ ۳۲
۱۰ ۔ مسلمان کاغائب ہونا ۳۲
برتنوں کے احکام: ۳۲
وضوکرنے کاطریقہ ۳۴
وضوارتماسی ۳۶
وضوکے شرائط ۳۷
۱ ۔ وضوکاپانی پاک ہو ۳۷
۲ ۔ مطلق ہو۔ ۳۷
۳ ۔ وضوکاپانی مباح ہو ۳۷
۴ ۔ وضوکے پانی کابرتن مباح ہو۔ ۳۸
۵ ۔ وضوکے پانی کابرتن سونے چاندی کانہ ہو۔ ۳۸
۶ ۔ وضوکے اعضاء دھوتے وقت یامسح کرتے وقت پاک ہوں۔ ۳۸
۷ ۔ وضواورنمازکے لئے وقت کافی ہوں ۳۹
۸ ۔ قربت کی نیت سے وضوکرے، ۳۹
۹ ۔ وضومیں ترتیب کالحاظ رکھے ، ۳۹
۱۰ ۔ وضوکے تمام افعال کویکے بعددیگرے بجالائے۔ ۴۰
۱۱ مباشرت ۴۰
۱۲ ۔ پانی کااستعمال باعث نقصان نہ ہو۔ ۴۰
۱۳ ۔پانی کے پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ ۴۱
وضوکے احکام ۴۲
وضوجبیرہ کے احکام ۴۵
واجب غسل ۴۸
غسل جنابت کے احکام ۴۸
جوکام مجنب پرحرام ہیں : ۴۹
جوچیزیں مجنب کے لئے مکروہ ہیں : ۵۰
غسل جنابت : ۵۰
غسل ترتیبی: ۵۰
غسل ارتماسی : ۵۱
غسل کرنے کے احکام : ۵۲
استحاضہ ۵۳
استحاضہ کے احکام : ۵۴
حیض : ۵۹
احکام حیض ۶۰
حائض عورتوں کی قسمیں : ۶۳
۱ ۔ صاحب عادت وقتیہ اورعددیہ ۶۳
۲ ۔ صاحب عادت وقتیہ،اس عورت ۶۴
۳ ۔ صاحب عادت عددیہ، ۶۴
۴ ۔ مضطربہ، ۶۴
۵ ۔ مبتدئیہ، ۶۴
۶ ۔ ناسیہ ، ۶۴
۱ ۔ صاحب عادت وقتیہ وعددیہ : ۶۴
۲ ۔ صاحب عادت وقتیہ : ۶۷
۳ ۔صاحب عادت عددیہ ۶۸
۴ ۔ مضطربہ : ۶۹
۵ ۔ مبتدئیہ : ۷۰
۶ ۔ ناسیہ : ۷۰
حیض کے مختلف مسائل : ۷۱
احکام نفاس : ۷۲
غسل مس میت : ۷۵
محتضر کے احکام : ۷۶
موت کے بعدکے احکام : ۷۷
میت کے غسل، کفن، نمازاوردفن کے احکام : ۷۷
غسل میت کے احکام : ۷۸
کفن کے احکام : ۸۰
احکام حنوط : ۸۱
نمازمیت کے احکام : ۸۲
نماز میت پڑھنے کاطریقہ : ۸۳
نمازمیت کے مستحبات ۸۴
دفن کے احکام : ۸۵
دفن کے مستحبات : ۸۷
نمازوحشت : ۸۹
قبرکھولنے کے احکام : ۹۰
مستحب غسل : ۹۱
تیمم ۹۳
تیمم کے موارد ۹۳
پہلامورد ۹۳
تیمم کادوسرامورد : ۹۴
تیمم کاتیسرامورد : ۹۵
تیمم کاچوتھامورد : ۹۵
تیمم کاپانچواں مورد : ۹۶
تیمم کاچھٹامورد : ۹۶
تیمم کاساتواں مورد : ۹۶
وہ چیزیں جن پرتیمم کرناصحیح ہے۔ ۹۷
تیمم کرنے کاطریقہ : ۹۸
تیمم کے احکام ۹۹
نماز کے مسائل : ۱۰۲
نماز کے احکام ۱۰۲
واجب نمازیں : ۱۰۲
۱ ۔ نمازپنجگانہ : ۱۰۳
نمازظہروعصرکاوقت : ۱۰۳
نمازمغربین کاوقت : ۱۰۴
نمازصبح کاوقت : ۱۰۵
اوقات نمازکے احکام : ۱۰۵
نمازوں کی ترتیب : ۱۰۷
مستحب نمازیں : ۱۰۸
نوافل یومیہ کاوقت : ۱۰۹
نمازغفیلہ : ۱۰۹
قبلہ کے احکام : ۱۱۰
نمازکی حالت میں بدن کاچھپانا : ۱۱۲
نمازی کے لباس کی شرائط : ۱۱۴
پہلی شرط : ۱۱۴
دوسری شرط : ۱۱۶
تیسری شرط : ۱۱۷
چوتھی شرط : ۱۱۷
پانچویں اورچھٹی شرط : ۱۱۸
نمازی کے لباس کے مستحبات : ۱۲۲
نمازی کے لباس کے مکروہات : ۱۲۳
نمازی کی جگہ : ۱۲۳
پہلی شرط : مباح ہو ۱۲۳
دوسری شرط : نمازوں کی جگہ متحرک نہ ہو ۱۲۵
تیسری شرط : ایسی جگہ نمازپڑھے جہاں واجبات کوانجام دے سکے ۱۲۵
چوتھی شرط : ۱۲۶
پانچویں شرط : ۱۲۶
وہ مقامات جہاں نمازمستحب ہے : ۱۲۷
وہ مقامات جہاں نمازمکروہ ہے : ۱۲۸
مسجدکے احکام : ۱۲۹
اذان واقامت : ۱۳۰
اذان اوراقامت کاترجمہ : ۱۳۱
نمازکے واجبات : ۱۳۵
۱ ۔ نیت ۱۳۵
۲ ۔ تکبیرةالاحرام : ۱۳۶
۳ ۔ قیام : ۱۳۷
۴ ۔ قرائت : ۱۳۹
۵ ۔ رکوع : ۱۴۳
۶ ۔ سجدے : ۱۴۶
سجدہ کے مستحبات ومکروہات : ۱۵۰
ترجمہ ۱۵۱
قرآن کے واجب سجدے : ۱۵۱
۷ ۔ تشہد : ۱۵۲
۸ ۔ سلام : ۱۵۳
۹ ۔ ترتیب : ۱۵۳
۱۰ ۔موالات : ۱۵۴
قنوت : ۱۵۵
نمازکاترجمہ : ۱۵۵
۲ ۔ سورہ اخلاص کاترجمہ : ۱۵۶
۳ ۔ ذکررکوع اورسجودکاترجمہ : ۱۵۶
۴ ۔ رکوع اورسجودکے بعدکے اذکارکاترجمہ : ۱۵۶
۵ ۔ قنوت کاترجمہ : ۱۵۶
۶ ۔ تسبیحات کاترجمہ : ۱۵۷
۷ ۔ تشہدکاترجمہ : ۱۵۷
۸ ۔ سلام کاترجمہ : ۱۵۷
تعقیبات نماز : ۱۵۷
درود : ۱۵۸
مبطلات نماز : ۱۵۸
۱ ۔ نمازکے درمیان اس کی شرطوں میں سے کوئی شرط فوت ہوجائے مثلا دوران نمازمعلوم ہوجائے کہ مکان غصبی ہے۔ ۱۵۸
۲ ۔ طہارت باطل ہوجائے : ۱۵۸
۳ ۔ ہاتھ باندھنا: ۱۵۹
۴ ۔ آمین کہنا : ۱۵۹
۵ ۔ پشت بہ قبلہ ہونا: ۱۵۹
۶ ۔ بات کرنا : ۱۵۹
۷ ۔ آوازسے ہنسنا : ۱۶۱
۸ ۔ آوازسے رونا۔ ۱۶۲
۹ ۔ صورت نمازکاختم ہوجانا : ۱۶۲
۱۰ ۔ کھاناپینا : ۱۶۲
۱۱ ۔ دورکعتی اورتین رکعتی نمازکی رکعتوں میں شک : ۱۶۲
۱۲ ۔ رکن کی کمی یازیادتی کرنا : ۱۶۳
جوچیزیں نمازمیں مکروہ ہیں : ۱۶۳
جہاں نمازکاتوڑناجائزہے : ۱۶۳
شکیات نماز: ۱۶۵
۱ ۔وہ شک جن کی وجہ سے نمازباطل ہوجاتی ہے: ۱۶۵
۲ ۔ ناقابل اعتبارشکوک: ۱۶۵
پہلاشک ،محل گزرجانے کے بعدشک: ۱۶۶
دوسرا:سلام کے بعدشک: ۱۶۷
تیسرا:وقت کے بعدشک: ۱۶۸
چوتھا:کثیرالشک (جس کوزیادہ شک ہوتاہو) ۱۶۸
پانچویں:امام وماموم کاشک: ۱۶۹
چھٹا:مستحبی نمازوں میں شک: ۱۶۹
۳ ۔ صحیح شکوک: ۱۷۰
نمازاحتیاط کاطریقہ: ۱۷۳
سجدہ سہو ۱۷۵
سجدہ سہوکاطریقہ: ۱۷۷
بھولے ہوئے تشہدوسجدہ کی قضا: ۱۷۷
نمازکے اجزاء اورشرائط میں خلل: ۱۷۸
مسافرکی نماز: ۱۸۰
پہلی شرط آٹھ فرسخ شرعی سے کم نہ ہو۔ ۱۸۰
دوسری شرط:ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو۔ ۱۸۱
تیسری شرط:راستے میں اپناارادہ نہ بدل دے۔ ۱۸۱
پانچویں شرط:اس کاسفرکسی حرام کے لئے نہ ہو۔ ۱۸۲
چھٹی شرط:صحرانشین خانہ بدوش نہ ہو۔ ۱۸۴
ساتویں شرط: اس کامشغلہ اورکام مسافرت نہ ہو۔ ۱۸۴
آٹھویں شرط : حدترخص تک پہنچ جائے ۔ ۱۸۵
قصرکے مختلف مسائل: ۱۸۹
نمازقضا: ۱۹۱
والدین کی قضانمازیں بڑے بیٹے پرواجب ہیں: ۱۹۲
نمازجماعت: ۱۹۵
امام جماعت کے شرائظ: ۲۰۰
جماعت کے احکام: ۲۰۱
جماعت کے مستحبات: ۲۰۳
جماعت کے مکروہات: ۲۰۴
نمازآیات کاطریقہ ۲۰۴
نمازجمعہ ۲۰۵
نمازجمعہ کی شرائط ۲۰۵
نمازجمعہ کاوقت ۲۰۶
نمازجمعہ کی کیفیت ۲۰۷
نمازجمعہ کے احکام ۲۱۰
عیدفطراورعیدقربان کی نماز ۲۱۲
نمازاجارہ ۲۱۴
روزے کے احکام ۲۱۷
نیت ۲۱۷
روزہ کوباطل کرنے والی چیزیں ۲۱۹
۱ ۔ ۲ ۔ کھانااورپینا ۲۱۹
۳ ۔ جماع ۲۲۰
۴ ۔ استمنا ۲۲۱
۵ ۔خداورسول پرجھوٹاالزام لگانا ۲۲۲
۶ ۔ غلیظ غبار حلق تک پہنچانا ۲۲۲
۷ ۔ سرکوپانی میں ڈبونا ۲۲۳
۸ ۔ جنابت ،حیض، نفاس پراذان صبح تک باقی رہنا ۲۲۴
۹ ۔ بہنے والی چیزوں سے انیمالینا ۲۲۷
۱۰ ۔ جان بوجھ کر قے کرنا ۲۲۷
روزہ کوباطل کرنے والی چیزوں کے احکام ۲۲۸
جوچیزیں روزہ دارکے لئے مکروہ ہیں ۲۲۸
جہاں قضاوکفارہ دونوں واجب ہیں ۲۲۹
روزہ کاکفارہ ۲۲۹
جہاں صرف قضا لازم ہے ۲۳۲
قضاروزہ کے احکام ۲۳۳
مسافر کے روزے کے احکام ۲۳۵
جن لوگوں پرروزہ واجب نہیں ہے۔ ۲۳۶
چاندثابت ہونے کاطریقہ ۲۳۷
حرام اورمکروہ روزے ۲۳۸
مستحب روزے ۲۳۹
خمس کے احکام ۲۴۱
۱ ۔ کاروبار کانفع ۲۴۱
۲ ۔ معدن (کان) ۲۴۶
۳ ۔ گنج (خزانہ) ۲۴۷
۴ ۔ مال حلال مخلوط بہ حرام ۲۴۸
۵ ۔ غوطہ خوری سے حاصل ہونے والے جواہرات ۲۴۹
۶ ۔ مال غنیمت ۲۵۰
۷ ۔ کافرذمی جوزمین مسلمان سے خریدے۔ ۲۵۱
خمس کامصرف ۲۵۱