اسلامی مذاهب کی نظر میں فقهی منابع استنباط

مؤلف: آیت الله مکارم شیرازی
اصول فقہ مقارن


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


اسلامی مذاہب کی نظر میں فقهی منابع استنباط

ترجمه از کتاب “منابع استنباط فقهی از نظر مذاہب اسلامی ”

مؤلف آیۀ الله مکارم شیرازی

استادراہنما

مولانا اخلاق حسین پکھناروی

دانش پژوه

سید نسیم رضا

زمستان ۱۳۸۸


اہداء

اس ناچیز کوشش کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے بھائی ، داماد ، وصی اور حقیقی جانشین امیر المومنین علیہ السلام ، حضرت زہرا علیہا السلام اور ان کی گیارہ اولاد پاک جنہوں نے اپنے لہو سے اسلام کو سینچا

اور

علمائے اسلام ، شہداء ، صلحا ، ذوی الحقوق کو ہدیہ کرتا ہوں

اور

خدا سے دعا کرتا ہوں کہ روز قیامت ائمہ ہدیٰ کو میرا ، میرے والدین کا شفیع قرار دے

اور اس اسلامی ملک کی ہر طرح سے حفاظت فرما ۔


اظہار تشکر

اس خالق کائنات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے ہمیں لامتناہی نعمتوں سے نوازا اور ہماری ہدایت کے لئے انبیاء و رسل بھیجے اور ان کی راہ کو باقی رکھنے کے لئے ائمہ کو منتخب کیا ۔

اس کریمۂ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا شکریہ جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ اپنے دستر خوان علم پر مدعو کیا اور مجھے خوشہ چینی کا موقع دیا ، استاد محترم مولانا اخلاق حسین پکھناروی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی راہنمائی سے کتاب کو مزید مفید بنا دیا ۔ نیز ہمسر محترمہ سکینہ خاتون صاحبہ نے بھی اس کتاب کی تکمیل میں کافی تعاون کیا ۔

آخر میں ان تمام اہل علم کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ جنہوں نے ہر طرح سے میری مدد کی خصوصاً جامعۃ العلوم کے مسؤلین اور اساتید خصوصاً آقای مرادی جنہوں نے واقعاً ہر طرح سے بندۂ ناچیز کی مدد کی اورمیرے علمی مقام کو یہاں تک پہونچایا کہ میں اس قابل بن سکوں ایک فارسی کتاب کو اپنی مادری زبا ن میں منتقل کر کے طلباء و مومنین کے حوالے کرسکوں جو میرے لئے روز آخرت کام آئے ۔

" گر قبول افتدزہ عز و شرف "


عرض مترجم

خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے منابع استنباط فقہی از نظر مذاہب اسلامی مولف آیۃ اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی دام ظلہ العالی کی کتاب کے ترجمہ کی توفیق دی یقیناً اردو سماج میں ان موضوعات جيسي کتابوں کے ترجمہ کی ضرورت ہے جہاں اہل سنت کے فرقہ اپنے پورے وجود سے اسلام کے صحیح اور حقیقی چہروں کو مخدوش کر رهے ہيں اور ائمہ علیہم السلام کی ان صحیح السند احادیث کو چاہے وہ احکام یا اصول و عقائد کے بارے میں ہو یا کسی او رموضوع کے تحت ہوں ۔ مخدوش کر کے لوگوں کے سامنے پیش کررہےہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا جواب دینے کے لئے بہترین طریقہ اور راستہ ان جیسی کتابوں کی نشر و اشاعت ہے ۔

آخر میں خداوند متعال سے ہم دعا گو ہيں کہ ہمیں ان جیسی کتابوں کے ترجمہ کی توفیق عنایت فرمائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مذہب حقہ کی خدمت کرسکيں ۔

سید نسیم رضا زیدی


چكيده :

اس رساله ميں سب سے پهلے مقدمه پيش كيا گيا ہے جس ميں استنباط اصطلاحي اور لغوي تعريف مقدمات استنباط ، تاثير زمان و مكان استنباط خطرات استنباط ، افراط و تفريط استنباط كو پيش كيا گيا ہے اسي طرح اس رساله ميں مورد اتفاق منابع اور مورد اختلافي استنباط سے بحث كي گئي ہے مورد اتفاق منابع استنباط ۔

۱ـ قرآن :

عدم تحريف قرآن كي بحث نيز نصوص اور ظواہر كي حجيت اسي طرح حجيت ظواہر پر قائم ہونے والي دليليں اس مبحث ميں بيان كي گئي هيں ۔

۲ـ سنت :

سنت رسول(ص)كي حجيت اور سنت معصوميں عليهم السلام كي حجيت اور حجيت پر ہونے والے اعترضات و شبهات اور اس كے جوابات پيش كئے گئے هيں ۔ اسي طرح سے سنت صحابه اور اقسام سنت كو بيان كيا گياہے۔

۳ـ اجماع :

تعريف اجماع ، اجماع كي حجيت اہل سنت كي نظر ميں حجيت اجماع اماميه كي نظر ميں اجماع پر ہونے والي قرآني دليليں حجيت اجماع پر قائم ہونے والي روائي دليليں نيز اقسام اجماع كو بيان كيا گيا ہے مزيد مخالفيں اجماع كا جواب بھي مطرح كيا گياہے۔

۴ـ عقل :

عقل كے سلسلے ميں تقريبا ً اكثر فقهي مباحث جس ميں دو گروه هيں اصحاب حديث اور اصحاب راي نيز تشيع كا مسلك عقل كے سلسلے ميں بيان كياگيا ہے عقل كي حجيت اور اس پر ہونے والے اعتراضات كا جواب ديا گيا ہے۔


منابع مورد اختلاف :

قياس :

قياس كي تعريف اس كي حجيت كے سلسلے ميں بحث كي گئي ہے مزيد اس كي جو بھي قسم كے دلايل پر نقد و اعتراض كيا گيا ہے اور قياس كے اقسام كي تحليل كي گئي ہے جيسے قياس منصوص العلة قياس اولويت ، قياس تنقيح المناط ۔

استحسان :

تعريف استحسان اس كے اقسام مزيد اس كي حجيت پر ہونے والي بحث مطرح كي گئي ہے اسي طرح استحسان كے اقسام كا جزئي جايزه ليا گيا جيسے مصالح معتبر ،مصالح ملغي اور مصالح مرسله كے سلسلے ميں مكمل بحث كي گئي ہے۔

سد و فتح ذرايع:

تعريف سد و فتح ذرايع اور اس كے اقسام و حجيت كے سلسلے ميں بحث كي گئي ہے۔

عرف :

عرف كي تعريف اس كے اقسام اور اس كے متعلق ہونے والي بحث كو بيان كيا گياہے۔


مقدمه:

استنباط:

استخراج احکام کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ میں ایک لفظ استباط ہے استنباط کے لغوی اور اصطلاحی معنیٰ و مفهوم کی وضاحت کے لئے لغت اور فقه و اصول کی کتابوں سے مدد لی جائے گی

استنباط کے لغوی معنی :

راغب اصفهانی اپنی کتاب المفردات غریب القرآن میں لکھتے ہیں :نبط لفظ قرآن مجید میں بھی استعمال ہوا ہے چنانچه ارشاد خداوندی ہے :

( وَإِذَا جَاءهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلاَّ قَلِيلاً )

حالانکہ اگر رسول اور صاحبانِ امر کی طرف پلٹا دیتے تو ان سے استفادہ کرنے والے حقیقت حال کا علم پیدا کرلیتے ، یهاں( يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ ) -(۱) سے مرادیستخرجونه منهم (یعنی وه اپنےعلم سے حقیقت کا پته لگالتے ہیں )

اور استنباط باب استفعال سے ہےجو جس ریشه نبط ہے اور نبط وه پانی ہے جو نکلا ہوا ہے اور فرس نبط اس گھوڑے کو کهتے ہیں جس کے بغل اور پیٹ پر سفیدی نمودار ہو-(۲)

صاحب منجدالطلاب اس کلمه کے بارے میں لکھتے ہیں :نبط نبطًا و نبوطاً الماء ؛ پانی جاری ہو ناشروع ہوگیا

نبط و نبط و انبطُ تنبط و استنبط البئر یعنی اس نے کیویں کا پانی نکالااستنبط الشئ یعنی مخفی چیزکو آشکار کیا استنبطه یعنی اس نے اختراع اور ایجاد کیااستنبط من فلان خیرا یعنی اس نے فلاں شخص سے کیا خوب چیزنکالی استنبط الفقیه یعنی فقیه نے اپنے استنباط سے احکام کو کشف کیا –(۲)

____________________

۱ نساء ، آیه ، ۸۳

۲ .راغب المفردادات فی غریب القرآن ، ص ۴۸۱.

۳ منجد الطلاب ترجمه محمد بندریگی ، ص۵۵۹


المعجم العربی الحدیث ( فرهنگ لاروس ) میں آیا ہے :

نبط البئر یعنی کنویں سے پانی نکالانبط العلم یعنی علم کو آشکار کیا اور پھیلایاانّبط یعنی گھوڑے کے بغل اور پیٹ پر سفیدی کا ابھرنا یا بھیڑکے پهلو اسی سفیدی کا نشان اسی طرح سب سے پهلا پانی جوکنویں کی ته میں دکھائی دے(۲)

ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا :انبط :

الماء الذی بنبطُ من قعر البئر اذا حفرت : نبط ایسا پانی جوکنواں کھودتے وقت ظاہر ہو

نبط الماء نبع : یعنی پانی ابلااستنبطه و استنبط منه علماً و خیراً و مالا استخرجه : اس کو استنباط کیا یعنی اس سے علم خیر اور مال کو کشف کیا یعنی اس سے نکالا.

الاستنباط : الاستخراج کرنا استباط یعنی استخراج ،استنبط الفقیه یعنی فقیه نے باطن کو اپنے اجتهاد اور دانائی کے ذریعه استخراج کیا.

قال الزجاج معنیٰ َ ا سْتَنبِطُونَك فی اللغة یستخرجونک ، لغت میں اس کو استنباط کیا یعنی اس سے استخراج کرنا اور استنباط کاریشه نبط ہے اور نبط وه پهلا پانی ہے جو کنویں کی تیه سے نکلے.

استباط کے اصطلاحی معنی :

دراسات فی ولایةالفقیه و فقه الدولة الاسلامیه کےمؤلف لسان العرب کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں میں کهتاہوں : خداوند متعال کا حکم آپ حیات یا ایک نفیس اور قمتی شئ ہے جو مصادرو منابع کے سینے میں دفن ہے جسے فقیه کشف کرتا ہے(۲)

____________________

۱ خلیل اجر فرهنگ لاروس ، ج ۲ ، ص۲۰۲۱

۲ منطور دراسات فی ولایۀ الققیه وفقه الدولۀ الاسلامیه ، ج ۲ ٌ۷۲


استاد شهیدمرتضیٰ مطهری فرماتے ہیں :

(فقها نے فقهی جستجو کے لئے) جو دوسرا لفظ استعما ل کیا ہے وه کلمه استنباط ہے یه لفظ اس بات کی حکایت کرتاہے که علماء اسلام احکام کے سلسلے میں ایک خاص احسا س کے حامل ہیں.

لفظ استنباط زمین کے نچلے حصه سے پانی نکالنے کے معنیٰ میں ہے علماء اسلام نے اس بات کی جانب توجه کی که الفاظ کے سینے میں معانی کا صاف و شفاف پانی رواں دواں ہے جس کو کشف کرنے کے لئے خاص فن اور جهاد کی ضرورت ہے عربی زبان اور اس کے قواعد کو جاننے و الاعصر آدمی سے واقف آدمی اس بات کا دعوی نهیں کرسکتا که میں قرآن وسنت کی مدد سے اسلامی دستورات و قوانین کو کشف کرسکتا ہوں استنباط کا هنر زمین کے نچلے حصه سے پانی کا نکالناہے غزالی نے اپنی کتاب المستصفی میں ایک لطیف تعبیر کا استعمال کیا ہے وه ادله شرعی کو درخت احکام کو اس کاپھل اور عمل استنباط جوکه ادله شرعی سے استخراج احکام کا نام ہے کو استثمار یعنی (پته) سے تعبیر کرتے ہیں(۱)

شهید مطهر ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :

کلمه استنباط معنا کے اعتبار سے (فقه وفقیه) سے مشابه ہے یه کلمه ماده نبط سے مشتق ہے اور زمین سے پانی نکالنے کے معنیٰ میں ہے گویا فقهاء نے استخراج احکام میں اپنی تلاش و کوشش کو زمین سے پانی نکالنے سے تشبیه دی کیونکه وه بھی گهرائی سے احکام کے صاف و شفاف پانی کو استخراج کرتے ہیں(۲)

ادوار استنباط از دیدگاہ مذاہب اسلامی نامی کتاب میں آیا ہے :

کلمه استنباط ماده نبط سے ماخوز ہے اور لغت میں زمین کی گهرائی سے پانی نکالنے کے معنیٰ میں ہے اور اصطلاح میں احکام شرعی کو استخراج کرنے کے معنیٰ میں ہے یعنی ادله معتبر اور خاص عنصر سے جدید مسائل اور ہونے والے محادثوں کا استخراج کرنا اسی بناپر استنباط اجتهاد کا مترادف ہے مجتهد عرف متشرعه میں اس پراطلاق ہوتاہے جو احکام شرعیه کو عناصر خاصه اور عناصر مشترک سے اسنتباط اور استخراج کرے تو اس پر مستبط اور مفتی کابھی اطلاق ہوتاہے.(۳)

____________________

۱ علی دوانی ، عصندالله، شیخ طوسی ، مقاله ( النهامی ، از شیخ طائفه ، از مرتضی مطهری ، ص۳۴۳

۲ مطهری ، علوم و اصول سے شناخت ، اصول فقه ، و فقیه ،ص۱۰

۳ جناتی ، اورد لااحتیاط ، ص ۲۴


عمید زنجانی کهتے ہیں :

استنباط ریشه نبط سے ماخوذ ہے اور لغت میں زمین کی گهرائیوں سے پانی نکالنے کے معنی میں آیا ہے اور اصطلاح میں الفاط کے باطنی معنی کو نکالنے کے لئے استعمال ہوتاہے(۱)

ابوالحسن محمدی بھی کهتے ہیں :

استنباط استخراج کے معنیٰ میں ہے اور حقوق کی اصطلاح میں اجتهاد کا مترادف ہے اور اس سے مراد یه ہے که قواعد کلی کو مصادیق فرعی پر منطبق کرنا اور احکام فرعی کو اصول سے اور قواعد کلی سے استخراج کرنا.

استنباط کا تاریخچه:

اس سے پهلے که استنباط کے معنی و مفهوم بیان ہو ، مناسب ہے که ابتدائی اجتهاد و استنباط کی مختصر تاریخ بیان کریں تا که معلوم ہو که طول تاریخ میں اجتهاد کن ادوار سے گذرا اور کن مراحل کو پشت سر گذارکر یهاں تک پهنچا

اجتهاد تاریخ میں مختلف مراحل و ادوار سے گذراہے جیسا که محمد علی انصاری تاریخ حصر الاجتهاد نامی کتاب کے مقدمه میں لکھتے ہیں :

بهت مشکل ہے که اجتهاد کے تمام ادوار کو بطور کامل بیان کیا جائے لیکن کلی طور پر سنی اور شیعه مکتب فقه میں اس کی جستجو کی جاسکتی ہے

سنی مکتب :

حقیقت میں سنی مدرسه فقه تین تاریخی مراحل سے گذرا ہے

۱- رسول خد(ص)کا دور

۲- صحابه و تابعیں کا دور.

۳- ائمه اربعه کا دور

۴- باب اجتهاد کے انسداد کا دور ( تقلید کا دور ).

ان تمام مراحل کی تفصیل اس رساله کی قدرت سے باہر ہے

____________________

۱ عباس علی ، زنجانی ، اصول فقه کی بحث سے ، ص۱۰


مقدمات استنباط :

فقهای شیعه کے نظریات:

شهید ثانی ، علم فقه کو باره علوم پر استورا جانتے ہیں : تصریف لغت ، اشتقاق ،معانی بیان، بدیع، اصول فقه،منطق، رجال ،حدیث ،تفسیر آیات الاحکام

صاحب معالم استنباط مطلق کو نو چیز پر متوقف جانتے ہیں

۱- ادبیات عرب اعم از لغت و صرف و نحو سے آشنائی.

۲- آیات الاحکام کا علم چاہیے وه مراجعه کتاب کے ذریعه ہی کیوں نه ہو

۳- سنت معصومین اور کتب حدیث کی جا کناری اور ہر موضوع سے مربوط احادیث کو ڈھونڈنے اور مراجعه کرنے کی قدرت و صلاحیت.

۴- علم رجال اور راویان کے حالات کی جانکاری.

۵- اصول فقه کا علم او رمسائل اصول میں استنباط کی قدرت کیونکه استنباط احکام اسی علم پر متوقف ہیں اور ایک مجتهد کے لئے یه علم تمام علوم سے مهم ترهے

۶- انعقاد اجماع کے موارد کی آشنائی.

۷- علم منطق کی واقفیت کیونکه اقامه برهان اور صحت استدلال اسی پر متوقف ہے

۸- فروع مسائل کو اصول کی جانب لوٹانے اورتعارض ادله کی صورت میں راجح کو مرجوح پر تشخیص دینے اور نتیجه گیری کی صورت

۹- دیگر امور کے علاوه فروع فقهی کا جاننا اس دور میں لازم ہے.(۱)

فاضل نے کتاب الوافیه کے تقریبا چالس صفحه اسی بحث سے مخصوص کیے ہیں. وه بھی مجتهد کے لئے مذکوره علوم میں نو علوم کو لازم جانتے ہیں ، لغت ،صرف ،نحو، اصول ، کلام اورعلوم عقلی ، تفسیر آیات الاحکام اور علوم نقلی میں احکام کی احادیث اور رجال کا علم

____________________

۱ معالم الاصول ، المطالب التاسع فی الاجتهاد و التقلید.


پھر وه علم کلام کے سلسله میں فرماتے ہیں :

بعض مسائل کلامی استنباط میں دخیل ہیں جیسے تکلیف میں قدرت کی شرط کا ہونا اور اسی طرح متکلم حکیم کے کلام میں خلاف ظاہر اراده کا قبیح ہونا اور بعض دوسرے مسائل جیسے “خدا و رسول کا صدق گفتار صحت اعتقادیں دخیل ہے نه که استنباط احکام” ان کی نظر میں احادیث احکام میں معتبر کتابوں کا ہونا بھی کافی ہے ان کی نظر میں دس علوم ایسے بھی ہیں جن کی دخالت استنباط میں جزئی ہے اور ان علوم کو استنباط کے تکمیل شرط میں قرار دیا جاسکتا ہے که عبارت ہیں:

۱- معانی

۲- بیان.

۳- بدیع ،که بعض موارد میں دلیل لفظی سے استفاده کے لئے ان تین علوم کی ضرورت ہے

۴- ریاضیات کا علم،ریاضیات مالی اور اقتصادی مباحث بالخصوص ارث دین ارو وصیت کی بحث میں کام آتاہے

۵- علم ہی ئت، یه علم وقت اور قبله کی بحث میں بهت ضروری ہے

۶- هندسه کا علم ، یه علم اندازه گیری کے کام آتا ہے مثلا آب کرکی اندازه گیری کے لئے یه علم مددگار ہے.

۷- علم طب ، خاص طور پر نکاح کی بحث میں جهاں عورت اور مرد کے جسمانی عیوب کے مسائل پیش آتے ہیں

۸- فروع فقهی کا علم یعنی مسائل فقهی اور اس سلسلے میں پیش کئے سوالات کی آشنائی ، حقیقت میں اس کام کے لئے قواعد کے مواقع ،موادر خلاف اور اقوال وفتاوا سے آشنائی

۹- فروع جزئی کو قواعد اور اصول کلی کی جانب لوٹانے کی قدرت لیکن فقهای معاصر کے نزدیک استنباط کے لئے صرف یه علم کافی ہیں :

۱- ادبیات عرب.

۲- علم رجال

۳- اصول فقه

اور مجتهد کے لئے ضروری نهیں که وه ادبیات عرب میں صاحب نظر ہو پس اس اعتبار سے استنباط کے لئے صرف رجال اور اصول فقه کافی ہیں


مقدمات استنباط اہل سنت کی نظر میں :

اہل سنت کی نظر میں استنباط کے عمومی شرائط کچھ اس طرح ہیں

۱- بلوغ

۲- عقل

۳- نظافت

۴- ایمان

اور استنباط کے اساسی شرائط میں وه علوم ہیں که جن سے آگاہهی لازم ہے

۱- ادبیات عرب.

۲- قرآن کریم

۳- سنت نبوی

۴- اصول فقه

۵- قواعد فقهی

۶- استعداد فطری

استنباط کے تکمیلی شرائط :

۱- مورد استنباط دلیل قطعی سے فاقد ہو

۲- فقها ءکے موارد اختلاف امور سے آگاہی

۳- عرف سے واقفیت (عرف در زمان حاضر).

۴- اصل برائت سے آشنا ئی.

۵- عدالت اور صلاحیت

۶- ورع اور تقوا

۷- درگاہ رب العزت میں الهام صواب کے لئے نیازی مندی احساس

۸- اعتماد به نفس

۹- عمل اور علم و گفتار میں موافقت


ضرورت استنباط:

وه موضوعات که جس پر گفتگو ہوجانی چاہیئے ان میں سے ایک بحث اہمیت و ضرورت استباط ہے مکتب اسلام استنباط پذیر مکتب ہے اور استنباط اسلام میں ایک لازم عمل ہے فقه شیعه میں صدر اسلام ہی سے استنباط کا دروازه کھلا تھا اور آج بھی کھلا ہے اور ہمیشه زنده مجتهد کی تقلید واجب ہے اسی بناپر فقه تشیع زنده اور کامل فقه ہے اور ہر زمانے میں تمام مشکلات کا جواب دینے والی ہے مسلمانوں نے قرن اول ہی سے استنباط کرنا شروع کردیا تھا استنباط اپنے صحیح مفهوم کے ساتھ اسلام کے لازمی امور میں سے ایک ہے اس کے کلیات کچھ اس طرح تنظیم ہوئے ہیں که یه کلیات استنباط پذیر ہیں استنباط یعنی اصول کلی اور اصول ثابت کا کشف کرنا اور انهیں جزئی اورمتغیر موارد پر تطبیق دینا ہے استنباط پذیر کلیات کے علاوه عقل کا منابع اسلامی قرار پانے سے استنباط آسان ہوگیاہے ،(۱)

اسلام میں استنباط کی ضرورت کے اثبات کے لئے کافی دلائل موجود ہیں جس میں سے ہم اس حصه میں صرف پانچ دلیلوں کو پیش کریں گے

الف : خاتمیت؛

ب: احکام اسلام اور ان کے اہداف کا کلی ہونا؛

ج: ابدی ہونا؛

د: جهان شمول ہونا ؛

ھ: جامعیت.

____________________

۱ مرتضی مطهری ، مقدمه چستی اسلام،۳ و حی نبوت ، ص۱۵۰


خاتمیت :

ہر مسلمان جوپیغمبر(ص)کی رسالت اور خاتمیت کا مقصد ہے اسے شرع وعقل کی روشنی میں استنباط کو بھی ماننا پڑے گا قراں مجید میں ختم نبوت کے سلسله میں آیا ہے

( مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا )

” محمد تمہارے مُردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن و ہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء علیھم السّلام کے خاتم ہیں.(۱)

آیت کا تیور بتارها ہے که اس آیت کے نزول سے پهلے بھی پیغمبر اسلام کے ذریعه نبوت کا اختتام مسلمانوں کےدرمیان ایک شناخته شده بات تھی ، مسلمان جس طرح آپ کو رسول خدا جانتے تھے اسی طرح آپ کے خاتم الانبیاء ہونے سےبھی واقف تھے یه آیت فقط اس بات کی یاد آوردی کرادتی ہےت که پیغمبر کو فلاں شخص کے منه بولےباپ سے مت پکارو بلکه اسے اسی حقیقی عنوان یعنی رسول الله اور خاتم النبین سے خطاب کرو.(۲)

احکام اسلامی اور اس کے اہداف کا کلی ہونا:

رسول اکرم (ص)نے اپنے اور اپنے کلام کے بارےمیں فرمایا:أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَ أُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ مجھے جامع اور کلی کلام عطا کیا گیا(۳)

عبدالله ا بن عباس کهتے ہیں :میں نے رسول خدا سے سناکه آپ نے فرمایا:

و أَعْطَانِي اللَّهُ خَمْساً وَ أَعْطَى عَلِيّاً خَمْساً أَعْطَانِي جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَ أَعْطَى عَلِيّاً جَوَامِعَ الْعِلْمِ .(۴) . آیات قرآن سے استفاده ہوتا ہے که قرآن میں اصول احکام اور کلی قواعد بیان کئے گئے ہیں اور مجتهد خاتم النبین کے دور میں اصول احکام اور قواعد کلی کی مدد سے استنباط کرتے ہوئے احکام جزئی کو کشف کرسکتے ہیں(۵)

____________________

۱ .احزاب ، ۴۰

۲ مرتضیٰ مطهری ختم نبوت ، ص۱۰

۳ مجلسی ، بحارالانوار ،ج۱۶، ص ۳۲۳

۴ .مجلسی ، گذشته،ص۳۱۷

۵ .محمد ابراہیم جناتی ، منابع استناط از دیدگاہ اسلامی ، ص ۲۸۸.


جاودانگی اسلام :

خاتم النبین کی رسالت کی ایک خصوصیت یه ہے که ان کی حکومت ان کی شریعت ان کے لائے گئے احکام ہمیشه باقی رهنے والے ہیں-(۱)

قرآن میں صریحًا یه بات آئی ہے که خدا کی ذات وه ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور آئین حق کے ساتھ بھیجا تاکه ، آئین محمد(ص)کو تمام آئین پر غالب قراردے چاہے یه بات مشرکین پر گران کیوں نه گذرے.(۲)

دین اسلام کلی بھی ہےاور دائمی بھی ، اسلام ایک ابدی مکتب ہے جو کره زمین کے تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے جو روز قیامت تک اس دنیا میں آتے رهیں گے فقه میں استنباط شریعت کی بقا اور اس کی ترقی کی ضامن ہے استنباط اسلام کے جاویدانی ہونے کی ایک شرط ہے اس لئے که ہر موضوع اور ہر نئے مسئله میں قرآن و سنت کی مدد سے استنباط کرکے نئے احکام کشف اور استخراج کئے جا سکتے ہیں اور اس طرح دوسرے قوانین سے بے نیاز ہو سکتے ہیں اور صحیح استنباط ہر زمانے میں اور قیامت تک آنے والے سوالوں کا جوا دینے کی صلاحیت رکھتاہے

اسلام کا جهانی ہونا :

پیامبر اسلام تمام انسانوں کے پیامبر ہیں اس کی رسالت کا دایره اتنا وسیع ہے جس میں ساری دنیا سمیٹ جاتی ہے قرآن نے بھی اس حقانیت کی تصریح کردی ہے خدانے پیغمبر (ص)کو حکم دیا که اپنی رسالت کے جهانی ہونے کا اعلان کردیجئے ، کهه دیجئے ای لوگو میں تم سب کی جانب خدا کا فرستاده پیغمبر ہوں.(۳)

اسلام ایسا دین ہے که جو انسان کی زندگی تا قیام قیامت استوار نے کے لئے آیا ہے. اسلام کے قوانین میں اتنی قدرت ہے که ہمیشه ہر ملیت کی راہنمائی اور ان کے امور کو اداره کرسکتا ہے اسلام اس عتبار سے ایک جهانی نظام ہے اور کسی خاص جماعت یا معین مکان سے مخصوص نهیں ہے اسلام میں صحیح استنباط کی روشنی تمام ضرورتوں کا کامل جواب ہے

____________________

۱ مجلسی ، بحارلانوار ، ج۱۶ ،ص۳۳۲

۲ .سوره توبه ، آیه ، ۳۳ ،سوره فتح ، آیه ،۲۸ ، سوره صف آیه ، ۹،سوره اعراف آیه،۱۵۸

۳ سباء ، ۲۸


جامعیت:

اسلام ایک جامع مذهب جس میں انسانی زندگی کےتمام ابعاد کو مورد توجه قرار دیا گیاہے ، اسلام انسان کی فردی اور اجتماعی مادی اور معنوی ضرورتوں کو پورا کرتاہے قرآن بھی اس بات کی تصریح کرتے ہوئے سوره نحل کی ایک آیت میں فرماتاہے :

( وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ )

اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گزاروں کے لئے ہدایت ،رحمت اور بشارت ہے-(۱)

اسی بناپر ہمارا عقیده ہے که اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو تمام ابعاد فردی، اجتماعی اقتصادی سیاسی اور ثقافتی اور تمام امور میں منظم نظام کا حامل ہے اسلام میں انسان کی زندگی کا کوئی عمل حکم سے خالی نهیں ہے

صاحب کشف القناع کهتے ہیں :تکلیف شرعی اور استقرار شریعت کے عقلی او رنقلی دالائل سے ثابت ہوجانے کے بعد ہمارے لئے مسلم ہے که زندگی کا کوئی ایسا مسئله نهیں ہے جس میں خدا کا حکم اولی نه ہو که اس میں اختلاف نهیں ہے(۲)

البته واضح ہے که اسلام میں ان تمام نیازمندیوں کا جواب صرف استنباط کی روشنی میں ممکن ہے مجتهد یں کرام جو اس فن کے ماہر ہیں وه ہمیشه لوگوں کے فکری اور اجتماعی مشکلات کا جواب دیتے ہیں اس لئےمر جعیت اور استنباط مکتب اسلام کے لازمی امور میں شمار ہوتے ہیں

____________________

۱ نحل ، ۸۹

۲ اسدالله تستری ، معروف به محقق کاظمی ، کشف القناع عن وجوه حجیۀ االاجماع ، ص ۶۰


استنباط اصحاب کو استنباط کی تعلیم :

مکتب اہل بیت کی روایات میں صاف نظر آتاہے که خود پیغمبرگرامی اسلام(ص)اور ائمه معصومیں علیهم السلام نے اپنے صحابیوں کو استنباط اور اس کی روشوں کی تعلیم دی ہے وه روایات جن میں آیاہے که خود ائمه علیهم السلام نے بنفس نفیس استنباط کے راستے کو انتخاب کیا اور استنباط کی صحیح راہ اور فقه اسلامی کی روشنی کے ذریعه قرآن وسنت سے استنباط کیا اور اس شیوه پر اپنے اصحاب کو بھی تعلیم دی یه روایات اس حقیقت سے پرده اٹھاتی ہیں که ائمه اطهار علیهم السلام کے زمانے میں اصحاب امام کے درمیان استنباط رائج اور معمول تھا اور ائمه اپنے اصحاب کو اس کام کی دعوت کرتے اور بعض موارد میں امام سے سوال کے بجائے خود استنباط کرنے کا حکم دیتے تھے .اور کبھی کسی سوال کے جواب میں ان کویاد دلاتے تھے که یه حکم استدلال اور استنباط کے ذریعے قابل استخراج ہے اس دلیل کی وجه سے ہمارا اعتقاد ہے که اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جس کے پاس اجتماعی ، ثقافتی اقتصادی اور سیاسی پروگرام ہیں حکم شرعی زندگی کی تمام آنے والی ضرورتوں کو پورا کرتاہے اور انسان کی زندگی میں کوئی حادثه بھی حکم سے خالی نهیں ہے(۱)

____________________

۱ یاد نامه علامه امینی ، ص۲۷۳و ۲۷۲


خثعمیه کا رسول خد(ص)سےسوال اور اس کاجواب :

ایک خاتون که جس کا نام خثعمیه تھا اس نے رسول خد(ص)سے سوال کیا که میرے والدکا حج واجب ره گیاہے اگر میں ان کی نیابت میں اس حج کو قضا کروں تو یه کام ان کے لئے فائده مند ہے؟

پیغمبر(ص)نے فرمایا:اگرتمهارے والد کسی کے قرضدار تھے کیا اس قرضه کا اداکرنا تمهارے والد کے لئے فائده مند ہے ؟ خثعمیه نے کها جی ضرورفائده مندهے رسول خد(ص)نے فرمایا:پس خدا کا دین قضا کو بجالانے کے لئے زیاده سزاوار ہے-(۱)

رسول خد(ص)نےاس روایات میں صغری اور جز کو کبری اور کلی پر تطبیق دی ہے اور کلمه دین کی عمومیت سے دین کے ہر قضا کو بجالانے کے وجوب کو بیان کیا ہے.مرحوم مظفر(رح) نے اس روایت کو بیان کرنے کے بعد ان دلائل کے سلسلے میں جسے اہل سنت سنت پیامبر سے قیاس کو ثابت کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں کهتے ہیں:

یه بات که پیغمبرنے قضای حج کے حکم میں قیاس کا سهارا لیاہےمعنی نهیں رکھتی اس لئے که پیغمبرخود صاحب شریعت ہیں اور احکام کو بذریعه وحی خدا سے دریافت کرتے ہیں کیا پیغمبر(ص)قضای حج کے حکم سے آگاہ نهیں تھے که انهیں اس حکم تک پهنچنے کے لئے قیاس کا سهارا لیناپڑا؟

ای برادران اہل سنت مالکم کیف تحکمون تمهیں کیاہواہے یه کسے حکم لگارهے ہوحدیث کے صحیح ہونے کی صورت میں اس حدیث کا مقصد خثعمیه کو تطبیق علم سے آگاہ کرناہے اس چیز کو جس کے بارے میں اس نے پیغمبر سے سوال کیا ہے اور وه عام وجوب قضا ہے یعنی دین کے ہر عمل کو ادا کرنا واجب ہے اس لئے که خثعمیه پر یه بات مخفی تھی که حج ایسادینی قرض ہے جس کا میت کی جانب سے قضا کرنا واجب ہے اور جبکه خداکا دین اس قضا کا سب سے زیاده سزاوار ہے.(۲)

____________________

۱ جناتی ، منابع احتیاط از دیدگاہ ، مذاہب اسلامی ، ص ۲۸۲ ؛ سید جعفر شهیدی و محمد رضا حکمی

۲ محمد رضا ، مظفر(رح)، اصول الفقه، ج۲،ص ۱۷۱


حضرت علی کے کلام میں استنباط کی تعلیم:

فضل ابن شاذان نے الایضاح میں لکھا:اہل سنت کی روایت کے اعتبارسے قدامه بن مظعون نے شراب پی اور اجرای حدکا فرمان اس پر جاری ہوا اس نے سوره مائده کی آیت سے استنادکیا

( لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُواْ إِذَا مَا اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّأَحْسَنُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ )

“جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو کچھ کھا پی چکے ہیں جب کہ وہ متقی بن گئے اور ایمان لے آئے اور نیک اعمال کئے اور پرہیز کیااور ایمان لے آئے اور پھر پرہیز کیا اور نیک عمل کیا اور نیک اعمال کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے-(۱)

اورکها :مجھ پر حد جاری نهیں ہوسکتی کیونکه میں اس آیت کا مصداق ہوں ، عمرنے اس پر حد جاری نه کرنے کا فیصله کیا لیکن امام علینے عمر سے کها : اس آیت کے مصداق نه کھاتے ہیں اور نه پیتے ہیں سوائے اس چیز کے جوان پر خداکی جانب سے حلال ہو ...اگرقدامه بن مظعون شراب کے حلال ہونے کا دعوی کرے تو اسے قتل کردو اور اگر اقرار کرے که شراب حرام ہے تو پھر شرب خمر کے جرم پر تازیانه لگاؤ عمرنے کها کتنے تازیانه لگاؤں؟ امام نےفرمایا:شرابخوار جب شراب پیتاہے تو هذیان بکتاہے اور جب هذیان بکتاہے تو تهمت لگاتاہے پس اس پر افترا اور تهمت کی حد جاری کرو، چنانچه اس کو اسی تازیانے لگائے گئے-(۲) .

اس روایت سے واضح ہوتاہے که قدامه نے سادگی سے آیت کے ذریعه استناد کرکےعمرکو فریب دے دیا اور وه حدجاری کرنےکے فیصله کو ترک کربیٹھے اور جس کی طرح حضرت علی نے عمر کو ان کی غلطی سے آگاہ کیا اور کس طرح شرب خمر کی حد کو بیان کیا ہے اور اس طرح عمر کو استنباط کا طریقه سکھایا

____________________

۱ سوره مائده ، آیه ،۹۳

۲ .فضل بن شاذان ، الایضاح ، ص ۱۰۱و۱۰۲


فضل بن شاذان ایک اور روایت نقل کرتے ہیں که:

جس میں امام علی نے قرآن کی روشنی میں عمر کو حمل کی حد اقل مدت کو کشف کرنے کا طریقه سکھایا فضل بن شاذان لکھتے ہیں :

ان روایات میں جوتم نے ذکر کیں ہیں کوئی بھی مخالف و موافق اس کا انکار نهیں کرسکتا انهی میں ایک روایت جریربن مغیره کی ہے جو ابراہیم نخعی سے نقل ہے که عمربن خطاب نے کسی عورت کے سنگساری کا حکم دیاجو شادی کے چھ مهنیے بعد ہی صاحب اولاد ہوئی اور شوهر نے اس بچه کو اپنانے سے انکار کیا.امام علی بھی وهیں موجود تھے آپ نے اس حکم پر اعتراض کیا اور فرمایا: اس عورت کا حکم قرآن میں موجود ہے ، عمر نے کها کهاں ہے اور کیاہے ؟امام نے فرمایا: قرآن میں آیاہے که “وحمله وفصاله ثلاثون شهرا” دوران حمل اور دودھ چھوڑنے کی مدت تیس مهینےهے –(۱)

عمرنے کها یه کیا آیت ہے ؟ امامنے فرمایا: خداوند عالم فرماتاہے :

( وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ) ” اور مائیں اپنی اولاد کو دو برس کامل دودھ پلائیں گی.(۲)

یه حکم ان خواتین کے لئے ہے جو دو ھدینے کی مدت کو تکمیل کرنا چاہتی ہیں اگر دودھ دینے کی مدت ۲۴مهینے ہوتو حمل اور بارداری کی مدت چھ مهینے سے کم نهیں ہوگی عمر نےکها اگر علی نه ہوتے تو عمر هلاک ہوجاتاہے، پھر حکم دیا که اس عورت کو آزاد کیاجائے.(۳)

اس روایت میں بھی امام علینے ظاہر قرآن سے استنتاد کے ذریعے بارداری کی حد اقل مدت کو بیان کیا اور قرآن سے استنباط کا طریقه تفسیر قرآن بالقرآن کی روشنی میں سکھایا : اور عمرکو احکام دینی میں اشتباہی فتوی دینے سے روکا.

____________________

۱ احقاق ، آیه۱۵

۲ سوره بقره ، آیه ۲۳۳

۳ فضل بن شاذان الایضاح،ص۹۸


امام صادق نے استنباط کے شیوه کو بیان کیا ہے :

موسی بن بکرکهتے ہیں:

میں نے امام صادق سے عرض کیا که ایک شخص غشی اور بهوشی کی حالت میں ا یک ،دو یا تین دن تک پڑارهے ایسے شخص کو اپنی کتنی نمازوں کی قضاکرنا چاہیئے؟ امامنے فرمایا: کیا میں تمهیں بتلاؤں که یه مسئله اور اس کے اشتباہ کو نظر میں لے آؤں ؟

پھر امامنے فرمایا: ہر وه چیزجو خدا انسان پر مسلط کرے لهذا خدا اپنے بندوں کے عذرکوماننے کا زیاده سزوارهے اور یه بات ایسے در سے ہے جس کے ہر ایک درسے هزار در کھلتے ہیں-(۱) .

امام صادق نےاس روایت میں اپنے صحابی کو استنباط احکام شرعی کی دعوت اور ایک کلی قاعده کی تعلیم دی ہے تاکه وه خود دوسرے فروعات کو اس کلی حکم کے ذریعے کشف کرے اسی لئے فرمایا:یه بات ایسے در سے ہے جس سے هزار باب کھلتے ہیں

شبهات :

استنباط کے شبهات :

۱- استنباط کے ذریعے اصلا حکم کشف نهیں کیا جاسکتا او ریه ایک نا ممکن بات ہے کیونکه خود شریعت خاموش ہے جو کچھ ہم کتاب و سنت سے استخراج کرتے ہیں در حقیقت یه ہمارے ذهن کی انچ اور ہمارے اپنے نظریات ہیں جسے ہم قرآن و سنت کا ما حصل بناکر پیش کرتے ہیں

۲- جو افراد منابع استنباط سے احکام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کا غیر کی تقلید کرنا جایز نهیں (اور اسی طرح جو افراد دوسروں سے تقلید کروانے کے لئے استنباط کرتے ہیں ایسے گروه کی تقلید جایز نهیں ).

۳- استنباط کی ضرورت اور کاربرد وهاں ہے جهاںهم قوانیں شریعت کو ثابت جانتے ہیں اور احکام اسلامی کو ناقابل تغیر مانتے ہیں .لیکن یه بات بھی واضح ہے که ہر روز انسان کی ضروریات بدلتی جارهی ہیں انسان کی زمان و مکان کے اعتبار سے بدلتی ضرورتوں اور در پیش مسائل میں استنباط بی معنی ہیں پس ان امور اور مسائل استنباط کے علاوه دوسرے مسائل کی ضرورت ہے جس سے ان نیازمندیوں کا جواب دیاجاسکتا جیسے قیاس استحسان وغیره..

____________________

۱ کلینی ، اکافی ،ج ۳ ، و فروع کافی ، ج ۱ ص۸۳و۸۸


استنباط میں افراط و تفریط :

افراط و تفریط صرف غیر دینی امور میں ہی رائج نهیں ہے بلکه امور دینی جیسے استنباط احکام بھی اس سے مستثنیٰ نهیں ، استنباط احکام میں بھی بعض علماء اسلام اعم از شیعه و سنی نے افراط و تفریط کا راسته اپنایا اگرچه اہل سنت استنباط حکام میں افراط و تفریط کے راستے پر پیغمبر اکرم(ص)کی وفاتت کے بعد ہی چل پڑے او رانهوں نے اس بهانے کے ساتھ دین میں ایسی ایسی بدعتیں رائج کردیں که عالم اسلام آج اس کا خمیازه بھگت رها ہے

احادیث پیغمبر سے دوری اور قرآن سے صحیح استفاده نه کرنے کی بناپر وه ایسے راستوں پر چل نکلے جو افراط و تفریط تک پهونچتے تھے

بعض احادیث گرا ہوگئے اور اسے ظاہر بن گئے که صرف ظواہر احادیث و قرآن پر اکتفار کیا عقل و تفکر، تدبر و تفحص کے صحیح طریقوں کو چھوڑ بیٹھے صرف اپنی ظاہری عقلوں کو معیار بنا بیٹھے ، بعض نے احادیث پیغمبر(ص)پر پابندی لگاکے صرف قرآن سے اپنی ناقص عقلوں کے ذریعه دین کی تفسیر کرنا چاہی، تفسیر پیغمبر(ص)اور تفسیر اہل بیت علیهم السلام کا راسته چھوڑ کر کون اپنی ناقص عقل کی تفسیر کے ذریعه صحیح دین تک پهونچے سکتا ہے نتیجه وهی ہوا جو ہونا تھا کوئی افراطی بن بیٹھا کو ئی تفریطی

سنی علماء نے کبھی تو قیاس کو جایز بنایا اور کبھی سدذرایع ، مصالح مرسله کا راسته اپنایا اور کبھی دوسرے استقرائی طریقوں پر گامزن ہوئے او راسی طرح ایک مختصر مدت تک بعض شیعه علماء بھی استنباط احکام میں صرف قرآن و روایات کو منبع مانتے ہوئے عقل کی حجیت پر معترض ہوئے اور انهوں نے عقل کو بعنوان منبع استنباط ماننے سے انکا رکردیا اگرچه سبھی علماء شیعه عقل کے استقرائی اور ظنی طریقوں مثلا قیاس و مصالح مرسله و کو بعنوان مبنع استنباط نهیں مانتے لیکن تقریبا سبھی علماء شیعه عقل برهان و عقل قطعی کی منبعیت کے قائل ہیں صر ف بعض شیعه علماء جوکه اخباری ہیں عقل قطعی و برهانی کو بھی عقل ظنی و استقرائی کی طرح حجت نهیں مانتے اور اس کے منبع استنباط ہونے سے انکار کرتے ہیں.

پس اس کا نتیجه یه ہوا که بعض روایات پر بغیر کسی تحقیق کے عتماد کربیٹھے اور بعض نے ایسا راسته اپنایا که احادیث کو کوئی وقعت ہی نهیں دی بلکه صرف اپنی ناقص عقلوں کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے تو وه افراط کے راستے پر چل پڑے اوریه تفریط کے جس سے شعیت میں اخباری گری اور سنیوں میں چار فقهی مسلک جو که آج موجود ہیں اور بقیه دیگر فرقے جوکه متعرض ہوگئے وجود میں آئے


استنباط کو لاحق خطرسےبچانا :

تحریر کا یه حصه استنباط کو لاحق خطرات کی شناخت سے مربوط ہے که جسکا خلاصه آپ کے پیش خدمت ہے

۱- قرآن سے دوری:

علامه طباطبائی (رح) اپنی مشهور و معروف تفسیر المیزان میں اسلامی علوم کی قرآن سے دوری اور قرآن سے کناره کشی کے سلسلے میں لکھتے ہیں :

“اگر اسلامی علوم کی ماہیت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا که یه علوم اس انداز سے ڈھالے گئے گویا ایک طالب علم بغیر قرآن کے ان تمام علوم کو سیکھ سکتاہے چنانچه ہم دیکھتے ہیں که وه صرف نحو، بیان، لغت ،حدیث،رجال، درایه، فقه و اصول تمام علوم میں اجتهاد کی حدتک مهارت حاصل کرتاہے لیکن قرآن پڑھنے کی توفیق نهیں ہوتی ، قرآن مجید تو بس ثواب کا ذریعه اور بچوں کو خطروں سے بچانے کا وسیله ہے”

قرآن سے دوری کئی خطرات کاباعث ہے :

الف : آیات الاحکام کا محدود کرنا :

فقهاء نے آیات الاحکام کی تعداد پانچ سو یا اس سے کمتر بتائی ہے اور ان میں چند آیات ہیں جو استنباط کے کام آتی ہیں کیونکه کچھ آیتں تومکرر ہونے کی وجه سے حذف ہوجاتی ہیں اور کچھ میں صرف ضروریات احکام کا بیان ہے پس فقیه جن آیات سے استنباط کرتاہے وه بهت ہی کم ہیں اسی بناپر علماء اصول جب علم رجال کی ضرورت اور فوائد پر دلیل پیش کرتے ہیں تو کهتے ہیں که اکثراحکام کا دار مدار احادیث ہیں جبکه قرآن کی ہر آیت منبع استنباط اور آیات الاحکام شمار ہوتی ہیں

ب: ظهور قرآن پر روایت کا مقدم کرنا:

قرآن کریم صریح طورپر یه حکم دیتا ہے قیام عدالت اور خدا کو گواہ پیش کیا کروچاہیے یه گواہی تمهارے یا تمهارے والدین واقرابا کے خلاف ہی کیوں نه جاتی ہو

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ ) “اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقربا ہی کے خلاف کیوں نہ ہو”-


شیخ طوسی (رح) ,,خلاف،،میں اجماع اور روایات کی بنیاد پر یه فتوی دیتے ہیں باب کے خلاف بچه کی گواہی قابل قبول نهیں ہے جبکه محقق (رح) نے شرائع میں اس کی تردید کی ہے

۲- احتیاط کے سلسلے میں فردی نگاہ :

بعض فقهی فتوے جیسے ربامیں چاره اندیشی ، جهاد، وه درخت پر جو کسی کی ملکیت میں نه ہوں ان کو توڑنے کا جواز شخصی ملکیت میں ملنے والے دفینه کی ملکیت کا جواز ، اس کی دلیل ہے که فقهاء گرامی اپنے استنباط میں مسلمانوں کے فردی مشکلات کو حل کرتے ہیں اور اجتماعی مشکلات کی طرف توجه نهیں کرتے ایسی فکر شیعوں کی حاکمیت اور سیاسی قدرت سے دوری کا سبب ہوگی

آیۃ الله خمینی(رح) رساله عملیه کو منابع و نصوص دینی سے مقایسه کرتے ہوئے لکھتے ہیں :قرآن اور کتب حدیث جو که اسلامی احکام و دستورات کے منابع میں شمار ہوتے ہیں ان میں اور رساله عملیه جوکه مجتهدین کا تدوین ہو کیا ہواتاہے. ان دونوں میں جامعیت اور اجتماعی زندگی پر تاثیر گذاری کے اعتبار سے کلی طور پڑا تفاوت پایا جاتاہے

قرآن کے مقابله میں رساله کی جامعیت ایک فیصد بھی نهیں ہے

۳- فردی استنباط :

چند صدیوں سے احتیاط کو جو بلاگریبانگر کئے ہوئے ہے وه فردی استنباط ہے اس معنی میں که ایک فرد اپنی عصمت کے ذریعه علمی مشروط کئے بغیر کی استنباط اور استخراج احکام کا آغاز کرتاہے

یه عمل اس لئے ایک آفت ہے کیونکه علم فقه ایک وسیع علم ہے جس کی مختلف شاخیں اور مختلف ابعاد اور اس سے مربوط تمام علوم پر احاطه کرنا کسی ایک شخص کی قدرت سے باہر ہے اس لئے استنبا ط کرنے والے کو چاہئیے پهلے دوسرے صاحب نظر افراد کے ساتھ علمی تبادله اور مشورت کرلے پھر اپنی رائ اور فتوی کا علان کرے.تقریبا نصف صدی سے یه کام فقهاء کے درمیان شروع ہوگیا لیکن ابھی تک کامل صورت اختیار نهیں کی لیکن ایران کی اسلامی جمهوری حکومت میں شورای ٰنگهبان نامی ایک شوریٰ ہے جس میں ایران کے چند فقیه اس کی عضویت رکھتے ہیں اور مجلس میں پاس ہوئے قوانین کو شرعیت کے آئینه میں پرکھتے ہیں اور اس کے سلسله میں اظهار رای کرتے ہیں او ریه کام خود ایک طرح کا غیر عبادی مسائل میں شورای اجتهاد ہے


۴- فهم و تفسیر نص میں جمود کا ہونا :

مجتهدین کے دامن سے چمٹی ہوئی ایک اور آفت جمود فکری ہے دینی نصوص بالخصوص الفاظ روایات میں جمود پایاجاتاہے ، جمو د اس معنی میں که حدیث میں جولفظ آگیا بس اسی پر اکتفاکیاجاتاہے دیگر مشابه موارد جوکه شابه قطعی رکھتے ہیں ان کی تعلیم نهیں دی جاتی یه آفت در حقیقت اخباریوں کی خصوصیات کا حصه ہے جو بهت سارے اصولیوں اور مجتهدین کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے

اور جو چیز اس آفت کا مقابله کرسکتی ہے وه ہے فهم نصوص به تعبیر دیگر جهاں نص دلالت قطعی نه رکھے بلکه ظنی الداله ہو او ریه یقین بھی ہو که متکلم حکیم دوراندیش، انسان شناس اور ظاہر و باطن امور سے آگاہ ہے ان امور کی روشنی میں نصوص کو سمجھاجائے اور اس کی تفسیر کی جائے ورنه بند زهنیت کے ساتھ حدیث و روایت کی جستجو کرنا شریعت کو کمزور دکھانے کے علاوه کچھ نهیں کرسکتا

۵- موضوع شناس یا وه جدید علوم سے بے توجهی :

ہر حکم شرعی کسی نه کسی موضوع پر مترتب ہوتاہے جیسے سورای سوار کولئے ہوئے ہو فقهاء موضوع کی تعریف میں کهتے ہیں :

هوالامرالذی یترتب علیه الحکم الشرعی

موضوع ایسی چیز ہے که جس پر حکم کو لکھاجاتاہے.

فقهاء نے موضوع کی کئی دسته بندیاں کی ہیں او ریه فقیه که کو کن موضوعات میں تشخیص دینے کی ذمه داری ہے اس میں اختلاف ہے .مرحوم آیۃ حکیم R نے موضوعات کو شرعی اور غرفی میں تقسیم کیا ہے اور ان ہی کو روشن اور غیر روشن میں تقسیم کرتے ہیں ان کے نزدیک صرف غیر روشن موضوعات کو تشخیص دینا فقیه کے ذمه ہے

صاحب عروه موضوعات کو چار قسموں میں تقسیم کرتے ہیں :

۱- شرعی.

۲- عرفی.

۳- لغوی.

۴- خارجیه


اور صرف موضوعات شرعی کی تشخیص کو فقیه کا وظیفه جانتے ہیں اس میں تردید نهیں ہے که موضوعات شرعی میں فقهی اور دینی اصولوں کے تحت کام ہوتاہے لیکن دوسرے موضوعات میں فقهاء کے نزدیک اختلاف ہے لیکن بے شک موضوعات عرفی اور موضوعات خاص کو دینی مطالعات کی روشنی میں تشخیص نهیں دیاجاسکتا اس میں عرف اور مهارتوں کا سهارا لینا ضروری ہے آج علوم کے پھیلنے سے ان موضوعات کا جاننا بهتر ہوگیا ہے .اگر فقهاء اس نکته کی جانب توجه کریں او ر موضوعات کی شناخت میں ماہرین سے مدد لیں تو ان کا فتوا اپنے موضوع کے مطابق ہوگا

استاد محمد رضا حکیمی اجتهاد مطلوب تک پهنچنے کا راسته بتاتے ہوئے کهتے ہیں اگر مجتهد فتوی دینے سے پهلے موضوعات کی شناخت میں ماہر ین سے مددلے خاص طور پر اقتصادی، سیاسی ،دفاعی،ثقافتی اور جهانی موضوعات میں کیونکه موضوعات کی ماہرانه تشخیص حکم کو بدل دیتی ہے اگر بهتر تعبیر میں کها جائے اگر موضوع واقعیکی تشیخیص ہوجائے اور تمام ابعاد مشخص ہوجائیں تاکه حکم اور فتوی اپنی صحیح شکل میں استنباط ہوسکے

۶- عوام زدگی:

فقهاء اور مجتهدیں استنباط احکام شرعی کے دوران خود پر معتبر دلائل کی پیروی کو لازم جانتے ہیں ، اسی کےمطابق قدم بڑھاتے ہیں اور فتوی دیتے ہیں لیکن بعض اوقات دلیل کے علاوه دوسرے دغدغه فقیه کے سامنے ہوتے ہیں جو اسے دلیل کی پیروی سے روکتے ہیں اور وه دغدغه عبارت ہیں اجماع ،شهرت، کسی خاص دیندار گروه کی خوشی یا نه خوشی.اجماع اور شهرت کا خوف اس حدتک اہمیت رکھتا ہے که اجماع اور شهرت کا ثابت ہونا ان علماء اور متفکران کو جوحضور کے زمانه کےذریعه سےنزدیک تھےمطلب کو کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے ہیں

ممکن ہے که یهاں کوئی قرینه اور شاہد یا کوئی دلیل و تائید موجود تھی جو دھرے زمانی فاصله کی ختم کر دیا البته یه بات قابل غور و فکر ہے که بهت سارے ایسے فقیه بھی تھے اور ہیں جنهوں نے اجماع اور شهرت کے فتوی دیاہے

گرچه انهیں بھی بعض مسائل میں اجماع اور شهرت کا خیال تھا بهرحال اگر شهرت اور اجماع کو قابل اعتنا مان لیاجائے تب بھی عوام زدگی اور بعض دینی گروهوں کی خوشنودی کی کوئی توجیه نهیں کی جاسکتی لیکن میدان عمل میں فقهاء نے اسی گروه کی خوشنودی یا مخالفت کے خوف سے اپنی رائ اور اظهار نظر سے چشم پوشی کی ہے


۷- فقیه مقارن پر توجه دینا :

اسلامی فقیه نے مسلسل اپنی حیات میں بهت سے ایسے فکری حوادث کا مشاہد کیا ہے جس کی وجه سے تقسیم بندی اور نام گذاری وجود میں آئی جیسے فقه فقه المذهب، فقیه اخبارگری فقه ظاہری، تاریخ میں ایسے حوادث کا پیش آنا ایک دورسرے پر ناظر ہوتے ہیں کوئی شک و تردید نهیں رکھتا اگر چه ایک ایک اپنے راستے پر چلا اور کوئی بھی ایک دوسرے سے نزدیک یا قریب نهیں رکھتا لیکن شروع میں مسائل اور جعرافی اعتبار سے فقیه کے معزرو ہونے کی بناپر یه ایک دوسرے کے ناظر تھے اس بنا پر دور سے مذاہب کی شناخت اور آگاہی کے بغیر فقهی مسائل کو سمجھنا احتیاط کے لئے نه ور ستی اور غلط فهمی کا سبب بنے گا.

۸- زمان سے دوری اور پرانے مسائل کو پیش کرنا:

زمان شناس اور اس میں حضور اور زندگی کی ہر شرائط کو درک کرنا اور دینی معارف علماء کے زمه ہیں علماء اور فقهاء کو چاہیے که وه معارف دینی جو دوسرں کے زمه کررهے ہیں ان میں پهلے زمان شناس کو مقدم کریں

استنباط میں زمان و مکان کی تاثیر:

جوکچھ بیان کیا گیا اس سے واضح ہوتاہے که“ اجتهاد میں زمان و مکان ”کی بحث تاریخی اعتبار سے آغاز فقه شیعه کی پیدائش کے ساتھ ساتھ ہے اور یه بحث فقه کی ترقی اور تازگی اور واقعاتت و حوادث کی جوابدهی میں خاص اہمیت کی حامل ہے موجوده دور میں اس فقهی مبناکے علمدار آیۀالله خمینی R تھے ہماری کوشش یه ہے اس سلسلے میں ان کے بعض نکات اور جودیگردانشمندوں نے بیان کیا ہے اسے مختصر اور آشنائی کی حدتک بیان کریں. اس لئے که اس موضوع میں تفصیلی گفتگو بالخصوص اس بحث میں موجود اختلاف نظر ایک مستقل کتاب کی طلبگارهے ہم نے پهلے بھی اس نکته کی جانب اشاره کیا ہے که ہمارے عقیده کے حساب سے اسلام میں کوئی قانونی خلاءنهیں پایاجاتا اس لئے قیاس ورای کے سهارے کی کوئی ضرورت نهیں ہے

اگر ہمارا هدف قانوں سازی ہوتا تواس صورت میں ہم قیاس ورائ وغیره پرتکیه کرتے اور اس کی ضرورت اہمیت کے اثبات پر زورلگاتے اور یه کوشش کرتے که کسی طرح ہمارا بنائے ہوئے قانون کی کوئی ضرورت نهیں ہے بلکه جس طرح امام صادق نے فرمایا:


یه اور اس جیسے (احکام و مسائل) کو کتاب خداسےسمجھاجاسکتاہے ، پس عمل کی صورت میں ہم اپنی ذمه داری اور تکلیف شرعی (جو ادله شرعی سے کشف احکام) کو ادا کرتے ہیں هاں یه ضرورهے که چونکه ہم معصوم نهیں ہیں اس لئے بهرحال خطاکاامکان ہے اس لئے ہم تخطئه (امکان خطا) کے قائل ہیں نه که تصویب کے .زمان و مکان کی نیازمندوں کی شناخت ہر دور میں اہم رهی ہے .لیکن ہمارے دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے ہم ان نیامندوں کی شناخت کے بغیر رائج مشکلات و مسائل تو حل نهیں کرسکتے خاص طور سے حکومت اسلامی میں انسان کی فردی اور اجتماعی، سیاسی ، اقتصادی، و حقوقی، مسائل کی جانب توجه نه کی گئی تو وه اپنے مسائل بیگانوں سے حل کروائیں اور یه اسلام و مسلمانوں کے حق میں بهت بڑی خیانت ہوگی .آیۀ الله خمینی R فقه شیعه کی غنایئیت کے پیش نظر اس سلسلے میں فرماتے ہیں :میں سنتی فقه اور اجتهاد جواہری کا قائل ہوں او راس سے تجاوز کو جایز نهیں سمجھتا اجتهاد کی وهی پرانی روش صحیح اور درست ہے اس کےمعنی یه نهیں که اسلامی فقه میں نوآوری اور پیشرفت و ترقی نهیں ہے بلکه زمان اور مکان اجتهاد کے دو اہم ترین اور فیصله کن عناصرهیں جو مسئله پهلے ہی سے کسی حکم کا حامل تھا اب وهی مسئله ممکن ہے جدید سیاسی، اقتصادی ،اور اجتماعی روابط کے پیش نظر اس کا حکم بدل جائے یعنی اقتضادی سیاسی اور اجتماعی روابط کی دقیق شناخت کی بناپروه موضوع اول جو قدیم حکم کا حامل ہے وهی موضوع ان جدید روابط کی وجه سے ایک نیا موضوع بن گیاہے.


اور نیا موضوع اس لئے نیاحکم چاہتاہے پس مجتهدکو چاہیے ، که اپنے دورکے مسائل سے آگاہ ہو او ران پر احاط رکھے. ایک اور جگه فقهاء کی موجود مسائل سے آشنائی کے سلسلے میں فرماتے ہیں: حوزے اور روحانیت کو چاہیئے که سماج کی فکر اور مستقبل کی باگ ڈور کو ہمیشه اپنے هاتھ میں رکھیں زیرا ممکن ہے لوگوں کے امور کو آج اپنے مشکلات کے حل کے لئے اسلام کے جدید مسائل کی ضرورت محسوس کرے ،اس لئے علماء اسلام کو ابھی سے آینده در پیش مسائل کی فکر کرنی ہوگی(۱)

زمان و مکان کی تاثیر گذاری اتنی اہم ہے که غیر مستقیم طورپر ناخوداگاہ اچانک فقیه که استنباط میں ظاہر ہوجائے اسی لئے ایک زمان شناش فقیه کا اجتهاد موجود مسائل سں ناآشنا فقیه کے نزدیک نادرست اور غیر فنی ہوگا.

شهید مطهری فرماتے ہیں :اگر کوئی فقهاء کے فتووں کا ایک دوسرے سے مقابله اور مقایسه کرے اور ضمنا فقیه کے حالات اور اس کے ظرز تفکر کو نظر میں رکھے تو اسے اندازه ہوگا که کسی فقیه کے ساتھ حالات اور خارجی اطلاعات کا اس کے فتوون پر کتنا اثر پڑاہے یهاںتک که فقیه عرب کے فتووں سے عرب کی بو اور عجم کے: فتوں سے عجم کی بو آتی ہے ایک دھاتی کا فتوی دھات کی بو اور ایک شهرکا فتوی شهر کی بودےگا.

یه دین دین خاتم ہے اور کسی خاص زمانے سے مخصوص نهیں ہے اور اس کا تعلق تمام مناطق اور تمام ادوار سے ہے اسلام ایسادین ہے که جو انسان کی زندگی کے نظام اور ترقی کے لئے آیا ہے

کیسے ممکن ہے که کوئی فقیه موجوده حاکم نظاموں سے بے خبر ہو او زندگی کے تکامل اور ترقی پر ایمان نه رکھتاہو اور اس کے باوجود اس دین کے اعلی دستورات جو انهی موجوده نظام کے لئے آئے ہیں اور اس ترقی وور کامل طور سے صحیح استنباط کرسکے(۲)

البته شهید مطهری (رح) کے اس بیان کو بصورت کلی ماننا تامل ہے کیونکه اس کے موارد بهیت محدود ہے شهید کے مذکوره قول صرف انهی موارد سے مربوط ہیں ورنه ساری فقه اور سارے فقهاء زیر سوال آجائیں گے

____________________

۱ .صحیفه نور ،ج۲۱،ص ۹۸

۲ شهید مطهری ، اجتهاد در اسلام مجموعه آثار ،ج۲۰ ص۱۸۱و۱۸۲


تمهید

ہماری گفتگو کا عنوان ہے منابع استنباط فریقین کی نظر میں ، روشن ہے که اس وسیع موضوع پر تحقیق کےلئے ایک مقاله نهیں بلکه ضخیم کتابوں کی ضرورت ہے اسی لئے ہم اس موضوع پر سرسری نگاہ دوڑاتے ہوئے صرف کلی مسائل کے بیان پر اکتفا کریں گے امید ہے اہل تحقیق اس موضوسع کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرکے اس کے ہر ایک گوشے پر مستقل تحقیق کریں گے ۔

چند اہم نکات

مقدمه میں لازم ہے که اہم نکات کی جانب توجه دلائی جائے :

پهلانکته

صرف نظام تکوین ہی نهیں بلکه نظام تشریع بھی خدا کے اختیار اور اس کے اراده کے تحت ہے اسی لئے خدا کے علاوه کسی کو قانون سازی اور شرعی احکام کو وضع کرنے کا حق نهیں ہے فقهاء کی تو دور کی بات ہےخود انبیاء کو بھی حق نهیں ملا ان کی ذمه داری صرف تبلیغ کرنا اور احکام کو و اضح اور روشن طور پر بیان کرنا تھا چنانچه قرآن مجید میں ارشاد ہے ،

( ما عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ )

“"رسول پر تبلیغ کے علاوه کوئی ذمه دارری نهیں”" ۔.(۱)

ایک مقام پر ارشاد ہے :

( قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ )

“"انهوں نے کها که علم تو بس الله کے پاس ہے اور میں اسی کے پیغام کو پهنچادیتا ہوں ”"(۲)

رسول خد(ص)که جسکی برتری تمام انبیاء پر ثابت اور مسلم ہے انهیں بھی وضع احکام کا حق نهیں اسی لئے قرآن نےکهیں بھی انهیں شارع کی حیثیت سے نهیں پهچنوایا بلکه مبلغ کی حیثیت سے انهیں پهچنوایا ہے چنانچه ارشاد رب العزت ہے:

( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ )

“" اے پیغمبر! آپ اس حکم کوپهنچادیں جو آپ کے پرورد گار کی طرف سےنازل کیا گیا ”"(۳)

____________________

۱ مائده ، ۹۹

۲ احقاف ، ۲۳

۳ مائده ، ۶۷


سورۂ نحل میں آیا ہے که غیر خدا کی جانب سے احکام وضع کیا جانا در حقیقت خداکی حاکمیت اور اس کی ولایت کا انکار کرنا ہے اپنی جانب سے حلال و حرام کا تعین کرنا ذات خداوندی پر بهتان باندھنا ہے خداوند عالم ایسے افراد کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

( وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـذَا حَلاَلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ )

“اور خبردار جو تمهاری زبانیں غلط بیانی سے کام لیتی ہیں اس کی بنا پر نه کهو که یه حلال ہے اور یه حرام ہے جواس طرح خدا پر جھوٹا بهتان باندھتے ہیں ان کے لئے فلاح و کامیابی نهیں ہے ”۔(۱)

حاکمیت صرف اور صرف خدا سے مخصوص ہے تنها وهی ذات ہے جو کائنات کے سا تھ تکوینی نظام کو اپنی قدرت و تدبیر سے چلاتا ہے خداکی اسی انحصار ی حاکمیت کو (توحید در خالقیت ) او رتوحید د رربوبیت ، سے تعبیر کیا جاتاہے ۔ خدا کے علاوه کسی اور کی حاکمیت کا تصور بھی نهیں کیا جاسکتا اسی لئے خداوند عالم بڑے تعجب او ر سوالیه انداز میں پو چھتا ہے:

( هل مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاء وَالْأَرْضِ ) ۔.

“"کیا خدا کے علاوه بھی کوئی خالق ہے جو آسمان و زمین سے روزی دیتا ہو ”"۔(۲)

قرآن مجید کئی مقام پر واضح او رمطلق طور پر بیان کرتا ہے که حکم اور دستور دینا صرف خدا کا حق ہے ۔

( وَاللّهُ يَحْكُمُ لاَ مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ ) ۔.

“الله ہی حکم دینے والا ہے کوئی ان کے حکم کو ٹالنے والا نهیں ”۔(۳)

جس طرح تکوینی نظام میں خدا کی انحصاری حاکمیت کو توحید در خالقیت او رتوحید در ربوبیت سے تعبیر کیا جاتا ہے بالکل اسی

____________________

۱. نحل ،۱۱۶

۲ فاطر ، ۳

۳ رعد ، ۴۱


طرح نظام تشریع میں اس حاکمیت کو توحید د رحکومت سے تعبیر کیا جاتاہے یه مطلب بھی قرآن میں کئی مقامات پر پیش کیا گیا :

( إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ) ۔.

“بے شک حکم کرنے کا حق خدا کو ہے اور اسی نے حکم دیا که اس کے علاوه کسی کی عبادت نه کی جائے که یهی مستحکم اور سیدھا دین ہے ”۔(۱)

صرف دو صورتوں میں غیر خدا کی جانب سے حکم صادر ہوسکتا ہے ، ایک یه که اسکا حکم کرنا الله کے اذن سے ہو جیسے که جناب داوُد کو خطاب ہوا :

( يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ ) ۔.

“" اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لهذ تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصله کرو ”"۔.(۲)

دوسرے یه که اس کے حکم کی بازگشت حکم خدا کی جانب ہو یعنی در حقیقت اس کا حکم الله کی مشیت او راس کے حکم و اراده کے مطابق اور حمایت پرور دگار کے ساتھ ہو یعنی مستقل اور دلخواہی کے ہمراہ نه ہو ۔

( وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ ) ۔.

“"اور پیغمبر آپ ان کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق بھی فیصله کریں ”"۔(۳)

خدا کے علاوه کسی اور کے حکم کی شرط یه ہے که اس کا حکم الله کے حکم اور مشیت کے مطابق ہو ، اسی صورت میں غیر خدا کا حکم کرنا اوردستور دینا توحید در حکومت سے منافات نهیں رکھتا اس لئے که یه کام در حقیقت خدا کے اذن سے انجام پاتا ہے خلاصه یه که ہر صورت میں حق قانون اور حق حکومت خدا سے مخصوص ہے ۔

____________________

۱ یوسف ، ۴۰

۲. ص ، ۲۶

۳ مائده ، ۴۹


دوسرا نکته

تمام فقهاء اسلام اپنے اختلاف مذهب کے باوجود اہم ترین منابع استنباط میں اشتراک نظر رکھتے ہیں ہر ایک کے نزدیک قرآن وسنت استنباط احکام کے اساسی ترین رکن شمار ہوتے ہیں ، ان کے اختلاف کی وجه صرف قرآن فهمی او رسنت کو سمجھنے کا فرق ہے اجماع کی حجیت کے معیار اورعقل کی اہمیت و ارزش کا فرق ہے ۔ان کے علاوه اور بھی فقهی منابع ہیں جو تمام مذاہب اسلامی میں مورد اتفاق نهیں بلکه ان میں اختلاف پایا چاتا ہے جیسے قیاس استحسان و غیره که ان کا ذکر آئنده مباحث میں ہوگا ۔

تیسرا نکته

فقهائے اسلام منابع استنباط کے استعمال میں ایک خاص نظم کا لحاظ رکھتے ہیں عام طور پر جو راسته یقین تک پهنچتا ہے اسے تمام دوسرے راستوں پر مقدم رکھتے ہیں اس کے بعد دلائل ظنی که جسے امارات کها جاتا ہے رجوع کرتے ہیں اگر اس کے باوجود شک و تردیدباقی ره جائے تب ادله احکام ظاہری کی نوبت آتی ہے ۔

توضیح :

منابع استناط ہمیشه یقین آور نهیں ہوتے بلکه بعض منابع صرف حکم شرعی کا گمان دلاتے ہیں اور بعض اوقات شک وجدانی بھی بر طرف نهیں کرتے اسی لیے فقیه پر لازم ہےکه ادله ظنی اور قواعد و اصول جو حالت شک میں انسان کے وظیفه ءعملی کو مشخص کرتے ہیں ان اصول وقواعد کے اعتبار و ارزش کو مشخص کرے اور وه علم جس میں ان مباحث پر گفتگو ہوتی ہے "علم اصول" کهاجاتا ہے اور وه حکم جو حالت شک میں ادله ءظنی اور اصول عملیه کے جاری کرنے سے حاصل ہوا اسے "حکم ظاہری" کهتے ہیں لیکن احکام ظاہری کی حجیت کے دلائل کوقطع و یقین کے ذریعے ثابت ہونا شرط ہے اسی لئے مشهور کا کهنا ہے :

ظنیة الطریق لاتنافی قطعیة الحکم ۔.

دلیل ظنی حکم کے قطعی ہونے سے منافات نهیں رکھتی ۔

اہل سنت کے بعض علماء کے نزدیک دلائل استنباط کی ترتیب کچھ اس طرح ہے :

ان کے نزدیک سب سے پهلی دلیل جو ایک مجتهد کو تما م دلائل سے بے نیاز کرتی ہے اجماع ہے اگر کسی مسئله پر اجماع موجود ہو تو دوسری دلیلوں کی جستجو لازم نهیں ہے اسی لئے اگر کتاب و سنت اجماع کے خلاف ہوں تو کتا ب و سنت کی تاویل کرنی ہوگی یا اس حکم کو مسنوخ تسلیم کرنا ہوگا ۔

____________________

۲ .الاتقان ،ج۴ ،اللباب فی اصول الفقه ،ص ۵۱


اجماع کے دوسرے مرتبه پر کتاب و سنت معتبر ہے اور آخر میں خبرواحد و قیاس سے استفاده کیا جاتاہے ۔

مذکوره مقدمات اور نکات کے پیش نظر اپنی بحث کا آغاز ان منابع کے ذکر سے گریں گے جو فریقین کے نزدیک معتبر اور متفق ہیں ۔

"فریقین کے مورد اتفاق منابع استباط ”

الف: قرآن

احکام الهی کا اہم ترین اور بنیادی ترین منبع و مدرک قرآن ہے ، قرآن عقائد، تاریخ، اخلاق او راحکام کامجموعه ہے احکام سے مربوطه حصه کو اصطلاح میں آیات الاحکام “"یا ”" احکام القرآن کهتے ہیں ۔

کها جاتاہے که قرآن میں من جمله پانج سو آیتیں احکام سے مربوط ہیں لیکن بعض یه مانتے ہیں قرآن کی اکثر آیات کسی نه کسی جهت سے استنباط احکام میں کام آتی ہیں کبھی صریح طورپر احکام کا ذکر ملتا ہے اور کبھی اسنتباط کے ذریعے انهیں کشف کیا جاتاہے استنباط میں کبھی ایک آیت کو دوسری آیت سے ملاکر حکم مشخص کیا جاتاہے اور کبھی کسی آیت کو ایسی روایت که جس میں اس کی تفسیر بیان کی گئی ہو اضافه کیا جاتا ہے اور احکام استنباط کئے جاتے ہیں لیکن ہماری نظر میں یه بات ایک قسم کی مبالغه آرائی ہے "کشف الظنون " میں احکام القرآن کی سب سےپهلی کتاب شافعی کی کتاب مانی گئی جب که ابن ندیم نے "الفهرست"میں کلبی کی "حکام القرآن "کو پهلی کتاب شمار کیا ہے ابو نصر محمد بن سائب بن بشربن کلبی امام صادق کےاصحاب اور مذهب امامیه کے بزرگ دانشمندوں میں شمار ہوتے ہیں شیخ آقابزرگ تهرانی اپنی کتاب"الذریعه " میں ندیم کی کتاب کا حواله دیتے ہوئے لکھتے ہیں که احکام القرآن کےسلسله میں سب سے پهلی کتاب محمد بن سائب کلبی نے لکھی نه که شافعی نے اس لئے که محمد بن سائب کلبی کی وفات۱۴۲ هجری میں ہوئی جب که شافعی نے ۱۵۵ هجری میں وفات پائی ۔

آیات الاحکام سے مربوط کتابیں تو بهت زیاده ہیں نه جانے تاریخ کے نشیب وفراز میں کتنی کتابیں تباہ و برباد ہو گئیں که جن کا کهیں صرف نام موجود ہے اور بعض کے تو نام بھی نهیں معلوم انهی تباہ شده نایاب کتابوں میں “النهایةفی تفسیر خمس ماہ آیة” ہے که جس کا ذکر صاحب کنز العرفان نے مکرر اپنی کتاب میں کیا اور اس سے مطالب بھی نقل کیے ہیں بهر حال قرآن سے تین مباحث ہمارے مدّ نظر ہیں ۔

۱- صدور قرآن کی بحث یعنی یه ثابت کرنا که قرآن خدا کی جانب سے ہے ۔

۲- عدم تحریف قرآن کی بحث ۔

۳- احکام و استنباط پر قرآن سے استناد و دلیل پیش کرنا ۔


۱ - قرآن کی تعریف :

یهاں قران سے مراد یهی مقدس کتاب ہے جو آج ہمارے اختیار میں ہے اس کے الفاظ خدا کی جانب سے ہیں مشهور کی نظر میں اس کی نگارش جمع و ترتیب اور تدوین سبھی کام رسول خد(ص) کےزمانے میں اور آپ ہی کے حکم سے انجام پائے پھر یه کتاب مسلمانوں کے درمیاں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو رهی.

قرآن خود اپنی تعریف میں کهتاہے :

( قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ ) (۱)

“حق و انصاف اور سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والی ہے”

اور قرآن بھی اسی حقیقت پر مشتمل ہے جس حقیقت پر گذشته پیغمبروں کی شریعت تھی چنانچه قرآن اس سلسلے میں فرماتاہے :( شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ) (۲) “ اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی پیغمبرنے تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم علیه السّلام موسٰی علیه السّلام اور عیسٰی علیه السّلام کو بھی کی ہے”

اسی با ت کو بطور جامع فرماتاہے :

( وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَـؤُلاء وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ) (۳)

“ اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے”

____________________

۱ سوره ،احقاف ، آیه ،۳۰

۲ سوره شوری ، آیه ۱۳

۳ سوره نحل ، آیه ۸۹


۳ - دین و شریعت کی شناخت میں قرآن کی مرجعیت:

ان مذکوره آیات کا خلاصه یه ہے که قرآن تمام آسمانی کتابوں کے مقاصد کی حقیقت پر مشتمل ہے یهی نهیں بلکه اس سے کهیں زیاده حقائق اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اور اعتقاد وعمل سے مربوط ہر وه چیز جو راہ سعادت کو طے کرنے کے لئے ضروری ہے اس کتاب میں کامل طور پر بیان کئی گئی ہے اور اس کا یهی کامل و تمام ہونا اس بات کی بهتریں دلیل ہے که اس کی صحت و اعتبار کسی خاص زمانے سے مخصوص نهیں ہے دین و شریعتت کی شناخت میں قرآن کی مرجعیت پر مذکوره آیات کے علاوه متعدد روایات میں بھی تاکید آئی ہے ان میں سے بعض روایت ہم یهاں نقل کرتے ہیں.

امام صادق فرماتے ہیں :

مَا مِنْ أَمْرٍ يَخْتَلِفُ فِيهِ اثْنَانِ إِلَّا وَ لَهُ أَصْلٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَكِنْ لَا تَبْلُغُهُ عُقُولُ الرِّجَالِ(۱)

اور امام باقر سے نقل ہواہے : “إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَدَعْ شَيْئاً يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْأُمَّةُ إِلَّا أَنْزَلَهُ فِي كِتَابِهِ وَ بَيَّنَهُ لِرَسُولِهِ ص وَ جَعَلَ لِكُلِّ شَيْ‏ءٍ حَدّاً وَ جَعَلَ عَلَيْهِ دَلِيلًا يَدُلُّ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ عَلَى مَنْ تَعَدَّى ذَلِكَ الْحَدَّ حَدّاً(۲)

رسول خد(ص) نے بھی ایک حدیث میں قرآن کی تعریف میں فرمایا:

وَ هُوَ الدَّلِيلُ يَدُلُّ عَلَى خَيْرِ سَبِيلٍ وَ هُوَ كِتَابٌ فِيهِ تَفْصِيلٌ وَ بَيَانٌ وَ تَحْصِيلٌ وَ هُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ وَ لَهُ ظَهْرٌ وَ بَطْنٌ فَظَاهِرُهُ حُكْمٌ وَ بَاطِنُهُ عِلْمٌ ظَاهِرُهُ أَنِيقٌ وَ بَاطِنُهُ عَمِيق(۳)

اسی طرح امام صادق سے روایت ہے که :

كُلُّ شَيْ‏ءٍ مَرْدُودٌ إِلَى الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ وَ كُلُّ حَدِيثٍ لَا يُوَافِقُ كِتَابَ اللَّهِ فَهُوَ زُخْرُفٌ(۴)

اب یه بات واضح ہوگئی که قرآن شناخت دین بالخصوص شریعت اور اسلام کے عملی احکام کی شناخت کا اساس ترین منبع ہے. اس خصوصیات کے پیش نظر اس کتاب آسمانی سے مربوط چند مباحث کو ذیل میں پیش کرتے ہیں .(مترجم)

____________________

۱ اصول کافی ، کتاب فضل العلم ، باب الرد الی الکتاب و السنه ، حدیث ۶

۲ اصول کافی ج۱، ص .۶۰

۳ .گذشته حواله ،حدیث ۲.

۴ اصول کافی ، کتاب فضل العلم ، باب الاخذ بالسنه و شواہد الکتاب ، حدیث ۳


قرآن الله کا کلام ہے

"قرآن الله کا کلام ہے "یه بحث ایک کلامی بحث ہے جس میں شواہد و دلائل کی روشنی میں یه ثابت کیا جاتاہے که قرآن الله کا کلام ہے ۔ تمام مسلمانوں کا عقیده بھی یهی ہے وه قرآن کو الله کی وحی مانتے ہیں-(۱)

جو اس نے اپنے حبیب ، حضرت محمد مصطفی(ص) پر نازل کی ، وقت نزول پیغمبر(ص)کو یه یقین حاصل تھا که یه کلام الله کی جانب سے ہے اور نزول و دریافت کے بعد پیغمبر(ص)خدا بغیر کسی کم و کاست کے اسے لوگوں تک پهنچایا کرتے اور ان پر تلاوت کرتے تھے اس وقت سے آج تک قرآن میں کوئی تغیر و تبدل اور کوئی تحریف نهیں ہوئی ، آج جو کتاب ہمارےهاتھ میں ہے یه وهی حقیقی قرآن اور الله کا واقعی کلام ہے یهاں تک که بعض افراد کے عقیده کے مطابق آیات و سور کی ترتیب اور ان کا آغاز و اختتام سب اسی ترتیب سے ہے جس ترتیب سے قرآن نازل ہوا اور یه قرآن وهی قرآن ہے جسے خدانے جبرئیل امین کے ذریعے پیغمبر امین پر بھیجا تھا۔(۲)

قرآن کے وحی الهی ہونے کا مطلب یه نهیں ہے قرآن صرف معنی و مفهوم میں وحی ہو بلکه اس کے تمام الفاظ بھی الله ہی کی جانب سے ہیں یهیں سے قرآن اور روایات کے درمیان فرق واضح ہوجاتاہے اس لئے که اکثر احادیث عینًا پیامبر و ائمه علیهم السلام کے کلمات نهیں ہیں بلکه اصحاب نے پیامبر سے جو کچھ سنا اسے اپنے الفاظ میں نقل معنی کیا ہے ائمه علیهم السلام نے تغیر عبارات و الفاظ کی اس شرط کے ساتھ اجازت دی که معنی و مفهوم حدیث باقی رهے-(۳)

فقهائے امامیه محدثین او راکثر اہل سنت احادیث میں نقل معنی کو جایز جانتے ہیں فقط اہل سنت کے بعض محدثین اسے جایز نهیں جانتے ۔

____________________

۱- (مترجم) مفتاح الکرامه ، ج ۲ ، ص ۳۹۰ .)

۲ اصول الفقه ، ج۲ ،ص ۵۱

۳ الفوائد الحایریه ، وحید بهبهانی ، ص۲۸۴


لیکن قرآن میں نقل معنی جایز نهیں ہیں پیغمبر خدا نے تمام آیتوں کو ویسے ہی بیان کیا جیسے وه نازل ہوئیں ، یهاں تک که وه آیتیں جس میں خدانے صرف پیغمبر کو خطاب کیا اور کلمه قل کے ذریعه رسول کو مورد خطاب قرار دیتے ہوئے اپنے پیغام کو پهنچایا او رکها “( قل هو الله احد ) ” اے رسول !آپ کهدیجئے الله ایک ہے یهاں پیغمبر خدا اگر چاہتے تو کلمه قل کو حذف کرکے خود پیغام کو لوگوں تک پهنچادیتے اور کهتے (هو الله احد ) الله ایک ہے ۔ لیکن پیغمبر جب لوگوں کے لئے آیات کی تلاوت کرتے تو جیسے آپ نے آیت کو دریافت کیا ویسے ہی بغیر کسی حذف و اضافه کے اسے پهنچادیتے اس لیئے که کسی کو یه حق حاصل نهیں ہے که قرآن سے کسی کلمه کو کم یا زیاد ه کرے یا فقط نقل معنی کرے ۔(۴)

رسول (ص)کی جانب سے عدم تحریف کی دوسری مثال که جس میں خدانے فرمایا :

( لتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا )(۵)

اور دوسری جگه فرمایا :

( وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا )(۶)

پهلی آیت میں من سے پهلے واو نهیں ہے اور دوسری آیت میں و او کا ذکر ہے پیغمبر نے اس دو قسم کی وحی کو حفظ امانت کے ساتھ بغیر کسی تغیر کے لوگوں تک پهنچایا ہے

علم کلام اور علوم قرآن میں بے شمار دلائل ہیں که جس کے ذریعه حقانیت قرآنی کو ثابت کیا گیا حقانیت اس معنی میں که موجود ه قرآن جو ہمارےدرمیان ہے یه وهی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم(ص)پر نازل ہوا تھا اس مطلب کو صدر اسلام سے لے کر آج تک وجوه اعجاز او رتواتر کے ذریعے ثابت کیا جاسکتا ہے مرحوم جواد بلاغی نے وجوه اعجاز کی تعداد باره اور صاحب مناہل العرفان نے چوده اور بعض نے جیسے که سیوطی نے "معرک الاقران میں ۳۵ وجوه اعجاز بیان کیے ہیں ۔

____________________

۴ معالم الدین ، ص۲

۵ شوری ،۷

۶ انعام ، ۹۲


۳- موجوده قرآن کی حجیت :

قرآن کا شمار دلیل نقلی میں ہوتاہے ، اور ہر دلیل نقلی میں سند و دلالت کی بحث لازم ہے محققین کے نزدیک اس بات میں کوئی شک نهیں که جو قرآن آج ہمارے هاتھوں میں ہے یه وهی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم(ص) اور ائمه علیهم السلام کے زمانے میں لوگوں کے درمیان موجود تھا اس لئے که موجوده قرآن تواتر کے ذریعے نقل ہوا ہے یعنی مسلمانوں کی ایک نسل سے دوسری نسل تک پهنچا اور اس میں کوئی کمی یا زیادتی نهیں ہوئی ہے اس کے علاوه ائمه علیهم السلام نے لوگوں کے هاتھوں میں موجوده قرآن کی حجیت کی تائید کی ہے

اصولیوں کے نزدیک موجوده قرآن کی حجیت ایک اصل مسلم ہے اسی لئے جب علم اصول میں ادله استنباط کی بات آتی ہے تو وهاں حجیت قرآن پر بحث نهیں کی جاتی کیونکه اسےتصدیق مبادی ی کے عنوان سے استنباط احکام کے لئے قبول کیا جا چکاہے

عظیم شیعه فقیه صاحب مفتاح الکرامه سید محمد جواد عاملی تواتر قرآن کے سلسله میں دوسرے فقهاء کے بیانات نقل کرنے کے بعد کهتے ہیں بحکم عادت قرآن کی تمام تفاصیل یعنی اس کے اجزاء، الفاظ ،حرکات و سکنات اور ہر آیت کا اپنے مقام میں قرار پانا یه سب تواتر سے ثابت ہونا چاہئیے کیونکه نقل قرآن کے لئے انگیزه اور علت موجود تھے ، اس لئے که قرآن تمام احکام کی اساس اور معجزه دین شمار ہوتاہے


عدم تحریف قرآن

تمام اسلامی محققین خواہ شیعه ہو یا سنی سبھی کے نزدیک زمان نزول سے لیے کر آج تک قرآن میں ذره برابر تحریف نهیں ہوئی آج جو قرآن ہمارے درمیان ہے یه وهی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم(ص)پر نازل ہوا ۔ قرآن میں احتمال تحریف ان شبهات میں سے ہے جس کی کوئی اساس نهیں یهاں تحریف سے مراد قرآن میں کمی یا زیادتی ہے که قرآن اس قسم کی تحریف سے محفوظ ہے ۔

تحریف کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں بعض ضعیف اور بعض تحریف معنوی اور بعض کلمات اور جملات قرآن کی تفسیر کے معنی میں ہے بعض یه تصور کرتے ہیں که تحریف کی یه روایات صرف شیعوں کی کتاب میں ہیں جبکه ایسی روایات برادران اہل سنت کی کتابوں میں بھی نظر آتی ہیں مثال کے طور پر آپ صرف مسند احمد کی جلد اول اور صحیح ترمذی کی جلد پنجم مراجعه کیجئے آپ کو ہماری بات کی تصدیق ہوجائے گی لیکن یه روایات مذکوره مطالب کے علاوه کتاب او رسنت معتبر کے بھی مخالف ہیں کیونکه قرآن ایسی کتاب ہے جس میں باطل کا گزر بھی نهیں ہے چنانچه خداوند عالم سوره فصلت میں ارشاد فرماتاہے :

( لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ” ) (۱)

یه آیت قرآن میں ہر قسم کے باطل کے نفوذ کا انکار کرتی ہے (جس میں تحریف بھی شامل ہے ) پس قرآن بطور مطلق نفوذ باطل کا انکار کررها ہے زمان نزول اور اس کے بعد کسی بھی یا گروه کے ذریعه قرآن میں تحریف ہونا ناممکن ہے ۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہے ۔

( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ )(۲)

اس کے علاوه حدیث ثقلین میں قرآن اور عترت پیغمبر(ص)کا حوض کوثر تک ساتھ ہونا اور مسلمانوں کو روزقیامت تک ان سے تمسک کاحکم دینا اس بات کی دلیل ہے که قرآن رهتی دنیا تک تحریف سے پاک ہے کیونکه تحریف شده کتاب کی ایسی پیروی کا حکم کوئی کسی کو نهیں دیتا ہے ۔

____________________

۱ فصلت ، ۴۲

۲ حجر ، ۹


حقیقت یه ہے که تحریف کا دعوی اسلام کے رکن اساسی سے جنگ کرنا ہے اور افسوس که بعض مغرض افراد مسلمانوں میں تفرقه افکنی اور ایجاد اختلاف کی خاطر اور وحدت کی دلسوز آواز کو دبانے کے لئے ہمیشه فتنه برپا کرتے ہیں اختلافی مسائل کو ہوا دے کر اتحاد کی فضا کو خراب کرتے ہیں وه ہمیشه بعض اسلامی مذاہب کو عقیده تحریف کے لئے متهم کرتے ہیں اور جب انهیں موقع ملتا ہے ہمیشه اسی مسئله کو پیش کرتے ہیں اور وه نهیں جانتے که دوسرے مذهب کی اس مخالفت سے وه خود تو قوی نهیں ہوں گے لیکن ناخود آگاہ قرآن کی تضعیف اور شبهء تحریف کو زنده کرنے کا باعث بنیں گے ،جو چیز مسلم ہے وه یه ہے که فریقین کی اکثریت تحریف کی مخالف ہے او راسے ردکرتی ہے اسی لئے کسی بھی اسلامی فرقه کی جانب تحریف کی نسبت نهیں دی جاسکتی اور وه قلیل جماعت جو عقیده تحریف پراڑی ہوئی ہے ان کا عقیده عدم تحریف کے محکم و متقن دلائل کے آگے بےاساس ہوجاتا ہے ۔

بھلا وه کتاب کیسے تحریف کاشکار ہوگی جسے آغاز نزول سے لے کر اب تک نماز اور غیر نماز خلوت وجلوت میں صبح وشام قرائت کیا جاتاہے او رجس کتاب کو ہر دور میں هزاروں حافظوں نے حفظ کیا ہو خود نزول کے وقت چالس افراد نے اس وحی الهی کو لکھا جس کتاب میں مسلمانوں کی مورد نیازتعلیم موجود ہو اور وه اس عظیم کتا ب سے ہر روز استنباط و استفاده کرتے ہوں، ایسی کتاب کی تحریف کا تصور جهل و غفلت او ر نادانی کی دلیل ہے ۔


نصوص اور ظواہر قرآن کی حجیت

گذشته بحث میں روشن ہوگیا که قرآن مجید صدور کے لحاظ سے قطعی ہے اب ہماری بحث دلالت قرآن کے بارے میں ہے اس میں کوئی شک نهیں که قرآن کی آیات قابل فهم ہیں لیکن ایسا بھی نهیں ہے که سارے کاسارا قرآن دلالت کے لحاظ سے قطعی اور یقینی ہو اس لئے که خود قرآن نے آیات کو محکم اور متشابه میں تقسیم کیا ہے جیساکه ارشاد ہے :

"( مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ) "

“جس میں سے کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں” ۔

لیکن آیات متشابه کو آیات محکمات کی روشنی میں تفسیر کیا جاسکتا ہے ۔

دوسرا مطلب یه ہے که خود محکمات بھی دوقسموں میں تقسیم ہوتے ہیں :

۱- بعض نصوص ا س حدتک اپنے معنی پر روشن طریقه سے دلالت کرتے ہیں که ان میں اختلاف معنی کا تصور بھی محال ہے ۔

۲- اور بعض نصوص ظواہر کے لحاظ سے ظنی الدلاله ہیں ۔

اہم بحث انهی ظواہر کی حجیت کے بارے میں ہے ۔ تمام علمائے اسلام ظواہر قرآن کو فی الجمله حجت مانتے ہیں گرچه بعض اخباریوں نے حجیت ظواہر کو مورد تردید قرارد یا ہے ان کی باتوں سے یه سمجھ میں آتا ہے ظهور قرآن بطور مطلق حجت ہے لیکن قرآن کی ایک خصوصیت یه ہے که اس میں کوئی ظهور واقع نهیں ہوا ہے اور جو ظواہر قرآن شمار ہوتے ہیں وه در حقیقت متشابهات ہیں که جسے ہم ظواہر سمجھ بیٹھتے ہیں ۔

حجیت ظواہر کے دلائل

کلی طور پر الفاظ قرآن کے ظواہر کا حجت ہونا مسلمات میں سے ہے که جس پر کسی دلیل و برهان کی ضرورت نهیں پھربھی حجیت ظواہر پردو دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔


۱- ارتکاز عقلا

عام طور پر لوگ گفتگو کے دوران جو الفاظ اداکرتے ہیں انهی الفاظ کے ظواہر پر اعتماد کرتے ہیں معاملات کی اسناد کا عدالت کے مقدمات ، مکاتبات اور استدلال میں انهی ظواہر پر اعتماد کیا جاتا ہے او رهر قائل کے ظواہر سخن کو فائده اورنقصان میں حجت قرار دیاجاتا ہے شارع مقدس نےبھی اہل سخن کے اس طریقه کو نهیں چھوڑا اور لوگوں سے گفتگو میں کسی نئی روش کو ایجاد نهیں کیا بلکه انهیں کے طریقه کی تائید کرتے ہوئے ظواہر قرآن کوحجت قرار دیا ہے ۔

۳- وضع الفاظ

حقیقت و مجاز اور کنایه و استعاره کا مقصدتفهیم و تفهم ہے ایک دوسرے کی بات کو سمجھ اور سمجھانے کے لئے انهیں وضع اور قوانین لغت کو مرتب کیا گیا اب اگر ظواہر کو حجت قرار نه دیا جائے تو وه عمل خلاف مقصد لازم آئے گا پس ظواہر قرآن حجت ہیں ۔(۳)

حجیت ظواہر قرآن اور اخباری مسلک

اخباری ظواہر قرآن کی حجیت کو مسلم مانتے ہیں ان کا کهنا ہے ظاہر قرآن حجت ہے مگر یه که ظواہر کی تاویل،تخصیص یا نسخ پر کوئی دلیل موجود ہو –(۴)

اس بحث کو شیعوں نے اپنی علم اصول کی کتابوں میں مفصل طریقه سے بیان کیا ہے ۔ اس کی وجه وه فکر ہے جو اخباری مسلک کے درمیان پیداہوئی ان کا کهناتھا که ظواہر قرآن سے احکام اسنتباط کرناناممکن ہے و ه کهتے ہیں متعدد روایات ہیں جس میں قرآن کی تفسیر اور اس سے احکام کے استنباظ سے منع کیا گیا ہےاس لئے ہمارے سامنے اب ایک راسته ہے که ضروریات دین کے علاوه تمام امور میں صرف روایات معصومین پر کان دهریں ان تعبیرکے حساب سے“ سماع الصادقین” پر گامزن رهیں ۔(۵)

اور وه کبھی کهتے ہیں : قرآن کا علم صرف پیغمبر(ص)اور ائمه علیهم السلام سے مخصوص ہے اس لئے قرآن کے حقیقی مخاطب وه ہیں نه که دوسرِے لوگ اس لئے فهم قرآن میں لازم ہے که ان کی جانب رجوع کیا جائے –(۶)

____________________

۳ انوار الاصول ، ج۲ ،ص ۳۲۴ /۳۲۳

۴ المهذب فی اصول الفقه المقارن ، ج۳ ،ص ۱۲۰۲

۵ الفوائد المدنیه ،ص۴۷

۶ هدیه البرار ، ص۱۵۵


. علمائے امامیه نے اخباریوں کے اس عقیده کی شدت سے مخالفت کی اور ان کا جواب دیا لیکن افسوس که بعض افراد یا اخباری اور دوسروں کے درمیان فرق نهیں کرتے ہیں یا نهیں چاہتے وه اخباریوں کی خاص فکر کو تمام مکتب اہل بیت کے علماء کی جانب نسبت دیتے ہیں ۔ اس موضوع سے مربوط روایات کی تحقیق اور دانشمندان شیعه کی آراء کو جاننے کے بجائے بعض مخصوص روایات کو اکٹھا کرکے بلکه بعض روایات کو کانٹ چھانٹ کر بغیر کسی تحقیق اور دوسری روایات سے مقابله کئےے بغیر اور مخصوص و مقید یا ناسخ و معارض کی توجه کے بغیر اخباریوں کے عقیده قرآن کو تمام علمائےشیعه کی جانب نسبت دیتے ہیں اور اسےی مذهب اہل بیت علیهم السلام کے مسلّم عقائد پر شمار کرتے ہیں-(۷) ۔

عجب تو یه ہے که اہل سنت نے انهی کتابوں میں سے ایک کتاب میں قرآن کے بارے میں ان مطالب کی نسبت شیعوں کی جانب دی اور اس کا حواله اخباریوں کی کتاب مشارق السموس الدریه سے دیا –(۸) ۔

بهرحال اخباریوں نے روایات کے ظواہر سے استدلال کیا جب که کوئی بھی روایت ان کے ادعا پر دلالت نهیں کرتی(۹)

انهی میں سے وه روایات بھی ہیں جو تفسیر بالرأی سے نهی کرتی ہیں جب که که ظواہر قرآن جوکه ادبیات عرب کے مطابق اور سب کے لئے قابل فهم ہے اسے چھوڑ کر اپنے خواہشات اور میلانات کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنے کو کهتے ہیں بعبارت دیگر اپنے افکار اور پیشد رویوں کو قرآن پر تحمیل کرنا جایز نهیں اور اس بات کا ظواہر قرآن سے اس کا کوئی ربط نهیں ہے؟؟

یا وه روایات جو کهتی ہیں فهم قرآن صرف پیامبر(ص)اور ائمه معصوم علیهم السلام سے مخصوص ہے(۱۰)

____________________

۷ .اصول مذهب شیعه الاثنی عشریه ، ج۱ ،ص۱۵۵ به بعد

۸ موقف الرفضه فی القرآن ، ص ۳۶۲

۹ وسائل شیعه ،ج۱۸ ، ابواب صفات القاضی باب ۱۳ ، ح۲۸/۶۶/۷۹

۱۰ سابقه مدرک ، ح۳/۶/۹/۱۰/۱۲/۱۵ وغیره


جب که ان روایات کا اشاره متشابهات اور بطون قرآن کی جانب ہے نه که ظواہر قرآن کیونکه ائمه اہل بیت بارها اپنے اصحاب کو قرآن کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیتے اور تشویق فرماتے تھے یهاں تک که تعارض روایات کی صورت میں فرماتے جو حدیث قرآن سے مطابقت رکھتی ہو اسے لے اور جو حدیث ظاہر قرآن کے خلاف ہو اسے چھوڑدو ہم بعض احادیث میں پڑھتے ہیں : جس وقت ایک راوی نے کسی مئله مسئله میں امام سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا :

یعرف هذا و امثاله من کتاب الله عزوجل -(۱۱)

( و ماجعل علیکم فی الدین من حرج )

یا جس وقت راوی نے امام سے پوچھا آپ کے پاس کیاا دلیل ہے که سرکے ایک حصه کا مسح، وضو ء میں کافی ہے آپ نے فرمایا :

"لمکان الباءوَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ ". ۔(۱۲)

“ آیت میں باء کا پایاجانا کیونکه باء باء تبعیض اور بعض کے معنی میں ہے”(۱۳) ۔

حجیت نصوص اور ظواہر قرآن کا مسئله اتنا واضح ہے که اس میں کسی طولانی گفتگو کی گنجائش نهیں اور اخباری مسلک کے افکار متروک ہوچکے ہیں اور حوزه های علمیه میں آج ان افکار کا کوئی خریدار نهیں بلکه کها جاسکتا ہے که اخباری مسلک کے افکار کا شمار منقرض اور نابود شده عقائد میں ہوتا ہے ۔

____________________

۱۱ سابقه مدرک ،ب۹

۱۲ مائده ، ۶

۱۳ وسائل الشیعه ، ج۱ باب ۲۳ ابواب وضو ،ح۱


سنت

تمام علماء اسلام کا اتفاق ہے که اسنتباط احکام کا دوسرا منبع سنت ہے اہل سنت کے نزدیک قرآن کے علاوه پیغمبر (ص)سے صادر ہوئی ہر چیز سنت کهلاتی ہے چاہے وه قول ہو فعل ہو یا تقریر مگر اس شرط کے ساتھ که قول وفعل و تقریر پیغمبر احکام شرعیه سے مربوط ہوں –(۱) مکتب اہل سنت کے فقهانے سنت کو عمومیت بخشتے ہوئے کها ہے که سنت قول و فعل و تقریر معصوم (پیغمبراور ائمه اہل بیت علیهم السلام ) پر مشتمل ہے(۲) ۔ (مترجم)(۳)

سنت رسول کی حجیت

سنت رسول (ص)کی حجیت مختلف دلائل سے قابل اثبات ہے اگرچه آنحضرت (ص)کی نبوت و رسالت کو ماننے کے بعد حجیت سنت کے بارے میں کوئی شک باقی نهیں رهتا پھر بھی اس مطلب پر قرآن اور روایات کے ذریعه استدلال کیا جاسکتا ہے ۔(مترجم )(۴)

خداوند عالم سورۂ مبارکه حشر کی ساتویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے :

"( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ) "(۵)

اس آیهء کریمه کے اطلاق سے واضح ہے که اسمیں رسول کے تمام اوامر و نواہی شامل ہیں اس لئے آپ نے جس چیزکا حکم دیا جس چیز سے روکا اور جو کچھ بھی آپ خدا کی جانب سے لیےکر آئے ان تمام اوامر و نواہی میں پیغمبر کا اتباع اور ہر قول هل فر فعل اور ہر تقریر میں آپ کی اطاعت بھی واجب ہے ۔ خداوند عالم نے اس اطاعت مطلق کا حکم دینے کے بعد خبردار کرتے ہوئے کها :

"( وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) "

“خبردار سنت رسول سے روگردانی شدید عذاب کا باعث ہے” ۔(۶)

اس کے علاوه سوره نجم کی تیسر ی اور چوتھی آیت میں فرماتا ہے :

"( وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) "(۷)

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے که آپ کا ہر قول خداکی جانب سے ہے دوسری تعبیر میں یه که آپ کا ہر کلام وحی خدا ہے فقط فرق یه ہے که اس وحی کا ایک حصه قرآن تو دوسرا حصه حدیث رسول کهلاتاہے ۔

____________________

۱. المهذب فی اصول الفقه المقارن ،ج۲ ،ص۶۰۷

۲ الاصول العامه ،ص ۱۶۱ اصطلاحات الااصول ، ص۱۴۱ ---۳ .(مترجم)---۵ حشر ، ۷

۶ حشر ، ۷ .---۷ نجم ، ۳/۴


سنت ائمه علیهم السلام کی حجیت

سنت معصومین ، سنت پیغمبر(ص)کی طرح حجیت رکھتی ہے اس بات کو مختلف دلائل کے ذریعه ثابت کیا جاسکتاہے ائمه کے افعال و اقوال کی حجیت اوران کی اطاعت و عصمت یه سارے مسائل کلامی ہیں اور ان کے بارے میں علم کلام میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے .مکتب اہل بیت علیهم السلام کے ماننے والے یه عقیده رکھتے ہیں که ائمه علیهم السلام مجتهدین میں سے نهیں جو اپنے حدس و گمان پر اجتهاد کرتے ہوں اور اس اجتهاد کی روح سے اختلاف فتوی کا شکار ہوں –(۸) ۔

پھر یه فتوے ان مقلدین کے لئے حجت ہوتے ہوں جنکے نزدیک مجتهد کے شرائط اجتهاد محرز ہوں ۔ بلکه مکتب اہل بیت علیه السلام کے پیروکاروں کے نزدیک امامت ایک الهیٰ منصب ہے جو خدا کی جانب سے ان کو عطاہوا ائمه علیهم السلام ان الهیٰ احکامات کے حقیقی مبلغ ہیں وه جو احکام جو گذشته معصوم سے ان تک پهنچے ہیں چنانچه حضرت علی فرماتے ہیں :(۹)

رسول خدانے مجھ پر علم کے وه ابواب کھولے ہیں که ان میں ہر ایک باب سے کئی باب کھلتے جاتے ہیں۔

اور ایک روایت میں فضیل بن یسار امام باقر سے نقل کرتے ہیں که آپ نے فرمایا :اگر ہم بھی اوروں کی طرح حدس و گمان او راپنی رائے کے مطابق حکم کرتے تو ان کی طرح گمراہ ہوتے بلکه ہمارا ہر حکم ہمارے پروردگار کی جانب سے قائم کیے گئے روشن برهان پر ہوتا ہے وه روشن برهان که جسےخدانے پیغمبر کے لئے اور پیغمبر نے ہمارے لئے بیان کیا ہے :

بینة من ربنا بینها نسبیه فینها نسبیه لنا ۔.(۱۰)

ہرچیز سے پهلے سنت اہل بیت علیه اسلام کی حجیت حدیث ثقلین سے ہے که جس میں قرآن کے ساتھ تمسک عترت کو واجب قرار دیاگیا ۔

یه حدیث اہل سنت کے در میان متواتر ہے جسے ۳۶ صحابیوں نے نقل کیا ہے(۱۱)

شیعه محدثین کے علاوه ۱۸۰ علماء اور محدثین اہل سنت نے اسے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے بعض طرق نقل میں آیا ہے که یه حدیث آپ نے حجة الوداع میں بیان فرمائی اور بعض روایتوں میں آیاہے که اسے آپ نے اواخر عمر میں بیماری کے دوران بیان کیا اور وروایات کی تیسری قسم وه جس میں آیا میں بیان ہواہے که آپ نے حجة الوداع کے بعد غدیر خم میں اس حدیث کو بیان کیا

____________________

۸ .(مترجم)---۹ مناقب آل ابی طالب به نقل از حافظ ابو نعیم ، ج ۲ ،ص ۴۴یه روایت شیخ صدوق ، ۲۴ سندوں کے ساتھ نقل کی ، خصال ،ص۶۴۲

۱۰. بصائر الدرجات ، ص ۳۱۹ ا بحارالانوار ، ج ۲ ، ص۱۷۲

۱۱. جامع احادیث شیعه ، ج۱ ،ص۴۶ اور اس کے بعد


اور چوتھی قسم ان روایتوں کی ہے جس میں آیا ہے که آپ نے طائف سے لوٹنے کے بعد یه حدیث بیان کی یه اختلاف طرق بتاتے ہیں که پیغمبر(ص)کتاب و عترت کی اہمیت کے پیش نظر مختلف مواقع اور مناسبتوں میں اسے دهرایا کرتے تھے(۱۲)

بهرحال اس حدیث میں پیغمبر اسلام (ص)نے تمسک اہل بیت کو تمسک قرآن کی مانند واجب قرار دیا ہے اور گمراہیوں سے نجات کا ذریعه بتایا ہے اس طرح دوسری روایات ہیں ۔

اہل بیت علیهم السلام کو سفینهء نجات(۱۳) اور اہل زمین کےلئے امان قرار دیا ہے(۱۴) - احادیث اور ان کے مدارک فریقین کی کتابوں میں موجود ہیں(۱۵) ۔

____________________

۱۲. الصواعق المحرقه ، ص ۱۵۰

۱۳. صواعق المحرقه ، ص ۱۵۰

۱۴ وهی مدرک ، ص ۱۵۱ /۲۳۴، مستدر حاکم ،ص۱۳۶

۱۵ ( .مترجم)


۵- تعریف سنت :

سنت کبھی واجب کے مقابل مستحب کے معنی میں آتاہے اور کبھی بدعت کے مقابل شریعت کے معنی میں آتاہے یه دو اصطلاحی معنی فقه و کلام کے ہیں لیکن علم اصول میں سنت عبارت ہے “قول معصوم وفعله و تقریر” اس تعریف میں سنت کی تین قسموں کی جانب اشاره ہے سنت قولی یعنی گفتار معصوم اور سنت فعلی یعنی وه عمل جسے امام نے انجام دیا اور سنت تقریری یعنی امام کی تائید جسے ہم دوسروں کے اعمال پر امام معصوم کے سکوت سے سمجھتے ہیں

اہل سنت سنت کی تعریف میں لکھتے ہیں :

قول النبی(ص) وفعله و تقریره(۱) یا وه قول وفعل و تقریر جو نبی سے صادر ہو(۲) . انهوں نے سنت صحابه کوبھی سنت نبوی سے ملحق کردیاہے ان کے مقابل شیعوں نے ائمه اہل بیت علیهم السلام کی سنت کو سنت نبوی سے ملحق کیا ہے اور چونکه شیعه پیغمبر(ص) اور اہل بیت علیهم السلام کی عصمت کے قائل ہیں اسی لئے عصمت کو حجیت سنت کا ملاک جانتے ہیں اور سنت کی تعریف میں اہل بیت علیهم السلام کی جامع صفت جوکه عصمت ہے استعمال کرتے ہیں. (مترجم)

____________________

۱- .شوکانی محمد بن علی ، ارشاد الفحول ، ص ۶۷

۲ خلاف ، عبدالوهاب ، علم اصول لافقه ، ص۳۴


۶. - سنت نبوی کی حجیت

اگرچه سنت نبوی ایک واضح امر ہے اور فی الجمله تمام اسلامی فرقوں کے لئے محل اتفاق ہے اور حجیت سنت پیغمبر(ص) کی بهترین دلیل خود آیات قرآنی ہیں

۱-( قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ ) “ آپ کہئے کہ ہمارا دعو ٰی یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس خدائی خزانے ہیں یا ہم عالم الغیب ہیں اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مُلک ہیں. ہم تو صرف وحی پروردگار کا اتباع کرتے ہیں اور پوچھئے کہ کیا اندھے اور بینا برابر ہوسکتے ہیں آخر تم کیوں نہیں سوچتے ہو”

۲- و( َمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ) (۲) “ اور ہم نے کسی رسول کو بھی نہیں بھیجا ہے مگر صرف اس لئے کہ حکِم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے”

۳-( وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًا ) (۳) “ جو رسول کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ لے گا تو ہم نے آپ کو اس کا ذمہ دار بناکر نہیں بھیجا ہے”.

۴-( قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) (۴) “ اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو- خدا بھی تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے”

۵-( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ) (۵) “مسلمانو! تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے”

____________________

۱ سوره انعام ، آیه ۵۰ .---۲ سوره ،نساء ، آیه ۶۴ .---۳. سوره نساء، آیه ۸۰ ---۴.سوره، آل عمران، آیه ۳۱.

۵- سوره، احزاب آیه ۲۱


۶-( وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ) (۶) “اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مذِدوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان کی طرف بھی وحی کرتے رہے ہیں تو ان سے کہئے کہ اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرو”

یه آیات عصمت پیغمبر(ص) پر بهترین نقلی دلیل ہے کیونکه ان میں سے کسی بھی آیت میں پیغمبر(ص) کی پیروی کو کسی قید سے مشروط نهیں کیاگیا بلکه آپ کی اطاعت کا مطلق حکم دیاگیاہے اور یه اطلاق آپ کے قول وفعل و سکوت کی حجیت کو ثابت کرتاہے

(مترجم)

____________________

۶ سوره ،نحل آیه ۴۳


۷- سنت اہل بیت کی حجیت :

شیعوں کی نظر میں امامان اہل بیت علیهم السلام کی تعداد باره ہے که جن میں سب سے پهلے حضرت علی ابن ابی طالب اور آخری امام حجت ابن الحسن عج الله فرج ہے اور ان میں ہر ایک کے بعد دوسرا منصب امامت پر فائز رها .امامان اہل بیت علیهم السلام علم الدنی کے حامل اور مثل پیغمبر(ص) ہر عمدی اور سهوی خطاؤں سے معصوم تھے قرآن کی کئی ایک آیات سے عصمت ائمه علیهم السلام کو ثابت کیا جاسکتا ہے

پهلی آیت آیه تطهیر:

( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) “بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیهم السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے”(۱)

مفسرین او رمتکلمین نے اس آیه کریمه کے ذیل میں سیر حاصل بحث کی او راس آیت کے ذریعه عصمت ائمه علیهم السلام کو ثابت کیا ہے

دوسری آیت آیه اولی الامر ہے :

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً ) “ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں”(۲)

فخررازی نے صریحا کها که یه آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے لیکن انهوں نے اولی الامر کو اجماع پر تطبیق دیا ہے او رهم اولی الامر کو اہل بیت علیهم السلام پر تطبیق دیتے ہیں ان مباحث کی تفصیل کے لئے علم کلام کی کتابوں کی جانب رجوع کرنا ہوگا ان آیتوں کے علاوه وه آیتیں جو حضرت علی کی ولایت کو ثابت کرتی ہیں ان سے بھی عصمت ائمه علیهم السلام پر استدلال کیا جاسکتاہے جیسے:

( إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ) “ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوِٰ دیتے ہیں”(۳)

(مترجم)

____________________

۱- سوره ، احزاب ،آیه ۳۳ .---۲. سوره ، نساء ، آیه ۵۹ .---۳ سوره ،مایده، آیه ۵۵


۸- سنت اہل بیت کی حجیت :

سنت اہل بیت کی حجیت پر عقلی دلیلوں کو دوطریقوں سے پیش کیا گیا ہے ایک تو وه دلیلیں جو اہل بیت علیهم السلام کی عصمت کو ثابت کرتی ہیں یه دلیلیں بالکل رسول خد(ص) کی عصمت کے بارے میں پیش کی جاتی ہیں

دوسری وه دلیلیں جو رسول خد(ص) کے لئے خلیفه اور جانشیں کی ضرورت کو ثابت کرتی ہیں ایسا ہی خلیفه خصوصیات و تفصیلات احکام کو بیان کرنے کا ذمه دار ہے

یه دونوںعقلی دلائل ویسی ہیں جو ہم نے نبی اکرم(ص) کے بارے میں بیان کی ہیں چونکه امام معصوم علیهم السلام پیغمبر(ص) کی ہدایتوں کو بڑھانے والا ہے

خلیل بن احمد فراہیدی نے حضرت علی کی امامت پر کیا بهترین دلیل پیش کی ہے :“ استغناؤه عن الکل و احتیاج الکل الیه دلیل علی انه امام الکل ”.(۱)

یهی بات دیگر ائمه علیهم السلام پر بھی صادق آتی ہے کیونکه کسی بھی تاریخ میں یه نقل نهیں ہوگا که وه کسی جواب میں عاجز ہوئے ہوں یا کسی سےعلمی فیض اٹھایا ہو یا کسی سے درس لیاہو بلکه وه ہمیشه معلم اور عوام و خواص کے مربی رهے ہیں

____________________

۱- ر، ک : حکیم ، محمد تقی ، الاصول العامه للفقه المقارن ، ص ۱۸۹


سنت اہل بیت کی حجیت پر چند شبهات

ائمه معصومین علیهم السلام کی احادیث کی حجیت پر اہم ترین اعتراضات تین ہیں :

پهلا اعتراض :

یه ہے که دین اسلام پیغمبر (ص)کی حیات میں کامل ہو چکا تھا جیسا که آیهء اکمال سے استفاده ہوتا ہے :

"( الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا ) "(۱)

اسی طرح پیغمبر خد(ص)نے بھی فرمایا:

ِ“ مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَ قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَ مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا وَ قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْه ”۔‏.

“جو چیز تمهیں جنت سے نزدیک اور جهنم سے دور کرتی ہے میں نے تمهیں اس کا حکم دیا اور جوچیز تمهیں جنت سے دور اور جهنم سے نزدیک کرنے والی ہے اس سے روک دیا ہے(۲) ۔

اس کے معنی یه ہوئے که وه سارے واجبات و محرمات جو تمهیں جنت اور جهنم تک لیےجانے والے ہیں میں انهیں بیان کرچکا ہوں ۔

اسی بناپر دین میں کوئی نقص نهیں ہے جسے سنت معصومین سے دور کیا جائے پس خدا اور رسول کے علاوه کسی بھی شخص یا اشخاص کو مدرک شریعت نهیں مانا جاسکتا کیونکه ان کی سنت کو حجت ماننا گویا زمان پیغمبر میں دین کو ناقص جاننا ہے اور یه خلاف قرآن و حدیث ہے ۔

____________________

۱ مائده ، ۳

۲ کافی ،ج۲ ص۷۴ ، کنزالعمال ،ج۴ ،ص۲۴


جواب :

یقینا پیغمبر کے زمانے میں دین کامل تھا اور اس کا کامل ہونا قطعی ہے لیکن پهلے ہمیں یه جاننا ہوگا که اکمال سے کیا مراد ہے ۔

اولا : یه اعتراض ہم سے پهلے خود اہل سنت پر وارد ہوتا ہے جو سنت صحابه، قیاس، استحسان ، دین میں منطقه الفراغ کے وجود اور اجتهاد بالرائ کو حجت مانتے ہیں انهیں بھی اپنے نظریه اور آیه ءاکمال کے درمیان تضاد کو بر طرف کرنا چاہیئے ۔

ثانیا : اکمال دین اور ہے ابلاغ دین اور ، دین یقینا پیغمبر کے دور میں کامل ہوگیا اور جو ائمه علیهم السلام نے لوگوں کو بیان کیا وه تکمیل دین کے عنوان سے نهیں بلکه تبلیغ دین کے عنوان سے تھا ان کے احکام و بیانات ان کی شخصی رائ کا نتیجه نهیں تھے که دین کو کامل کرتے بلکه به احکامات اس دین کی تبلیغ تھے جو رسول کے دور میں تکمیل ہوچکا تھا ۔

امام باقر فرماتے ہیں :

لَوْ أَنَّا حَدَّثْنَا بِرَأْيِنَا ضَلَلْنَا كَمَا ضَلَّ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا وَ لَكِنَّا حَدَّثْنَا بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّنَا بَيَّنَهَا لِنَبِيِّهِ (ص)فَبَيَّنَهُ لَنَا

“اگر ہم اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر حکم دین کرتے تو ہم انهی کی طرح گمراہ ہوجاتے جو ہم سے پهلے گمراہ ہوگئے تھے لیکن ہمارے احکام اس ہدایت الهیٰ کی روشنی میں ہوتے ہیں جو اس نے اپنے نبی کو عطاکی اور پھر پیغمبر نے ہمیں اس ہدایت سے نوازا(۳) ۔

روایت میں آیا ہے که امام موسی کاظم کے ایک صحابی جن کا نام سماعه تھا انهوں نے امام سے پوچھا : آپ جوکچھ فرماتے ہیں وه قرآن و سنت کے مطابق ہے یا آپ کی اپنی رائے ہے ؟

حضرت نے جواب دیا :

بَلْ كُلُّ شَيْ‏ءٍ نَقُولُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّتِهِ

“هم جو کچھ بھی کهتے ہیں وه قرآن اور سنت پیغمبر (ص)کے مطابق ہوتا ہے ” ۔(۴)

____________________

۳ بصائر الدرجات ، ص ۳۱۹ ، بحارالانوار ،ج۲ ، ص ۱۷۲ ، ایسی روایت کنزالعمال کی تیرهویں جلد ،۱۶۴ پر امیرالمؤمنین سے نقل ہوئی ہے

۴ .بصائر الدرجات ، ص۳۲۱ ، بحارالانوار ،ج۲ ، ص۱۷۴


ایک اور روایت میں آیا ہے :

بَلْ كُلُّ شَيْ‏ءٍ نَقُولُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّتِهِ

“هم اہل رائےنهیں ہیں ( ہمارا ہر قول پیغمبر(ص)کے قول کی نقل ہے ) ”(۵)

بهرحال مدرسه اہل بیت کا عقیده یه ہے که امام علم الهیٰ کا خزانه دار، محافظ شریعت اور وارث پیغمبر ہے امام اسرار الهیٰ کا راز دار، حامل کتاب اور داعی الی الله ہے ائمه معصومین وه ہیں جو “ "( لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ ) ” " فرمان الهیٰ سے تجاوز نهیں کرتے بلکه اس کے فرمان کے مطیع اور اس کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہیں "( وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ ) " –(۶) ابن سعد طبقات میں نقل کرتا ہے که علی علیه السلام سے سوال ہوا :

آپ اکثر روایات رسول خد(ص)سے کیوں بیان کرتے ہیں ؟

حضرت نے جواب دیا : اس لئے که میں جو بھی سوال کرتا پیامبر مجھے بتلاتے اور جهاں خاموش رهتا پیغمبر خود گفتگو کا آغاز کرتے ۔کوئی ایسی آیت ناز له نهیں ہوئی جس کی شأن نزول مجھے معلوم نه ہو(۷) ۔

پیغمبر (ص)نے حضرت امیر سے فرمایا:جو چیز میں آپ کے لئے املا کرا رهاہوں اسے لکھئے حضرت علی نے کها :یارسول الله (ص)کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں که کهیں بھول نه جاؤں پیغمبر(ص)نے فرمایا : نهیں بلکه میں نے خدا سے دعا کی ہے که آپ میرے علم کے حافظ رهیں ، اس لئے یه آپ کےلئے نهیں بلکه آپ کے بعد آنے والے اماموں کےلئے لکھئے پھر آپ نے امام حسن کی جانب اشاره کرکے فرمایا : آنے والے اماموں میں سب سے پهلا امام ہے پھر حسین کی جانب اشاره کرکے کها یه دوسرا امام ہے اور اسی کی نسل سے امامت کا سلسله چلے گا –(۸) ۔

____________________

۵ کافی ، ج۱ ، ص۵۷

۶ انبیاء ، ۲۷

۷ طبقات ابن سعد ، ج ۲ ص ۳۳۸

۸ ینابیع الموده ، ج۱،ف ص۷۳


اس آخری روایت سے ایک اور اشکال کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے وه یه ہے که اہل سنت کهتے ہیں : اکثر حدیثیں امام باقر اور امام صادق علیه ہماالسلام سے نقل ہیں جب که انهوں نے رسول کو درک نهیں کیا پس ان کی حدیثیں سند کے لحاظ سے مرسل ہیں یعنی نقل روایات میں پیغمبر اور وه ائمه که جنهوں نے رسول کو درک نهیں کیا ان کے در میان کے واسطے ساقط ہیں اور یه مشخص نهیں ہے که ان احادیث کو کسی نے اہل بیت کےلئے پیغمبر سے نقل کیا اور ظاہر ہے که خبر مرسل حجیت نهیں رکھتی ۔

جواب یه که: روایات میں ائمه کی جانب سے سلسلهء سند مشخص کیا جاچکا ہے جیساکه امام صادق علیه اسلام هشام بن سالم ، حمادبن عثمان اور دوسروں سے فرمایاکرتے تھے :

”"حدیثی حدث ابی و حدیث ابی حدیث حدی و حدیث جدی ،حدیث الحسین و حدیث الحسین حدیث الحسن و حدیث الحسن ،حدیث امیرالمؤمنین و حدیث امیرالمؤمنین حدیث رسول الله ،وحدیث رسول الله قول الله عزوجل

" “میری حدیث میرے بابا کی حدیث ہے اور میرے بابا کی حدیث میرے جد کی حدیث ہے اور میرے جد کی حدیث حسین علیه السلام کی حدیث اور حسین کی حدیث حسن مجتبیٰ کی حدیث ہے اور حسن مجتبیٰ کی حدیث امیرالمؤمنین کی حدیث ہے اور حضرت امیر کی حدیث رسول خدا کی حدیث ہے اور رسول کی حدیث خدائے برترکا قول ہے –(۹)

ایک روایت میں نقل ہواہے که جب جابر نے امام باقر سے کها که آپ اپنی حدیث کی سند بیان کیجیئے ”؟

امام علیه السلام نے فرمایا: میں اپنے والد اور رسول خدا سےحدیث نقل کرتاہوں پھر فرمایا:

وکلمات احدثک بهذا الاسناد

میری ہر حدیث کی سند یهی ہے ۔(۱۰)

البته ائمهء اطهار اپنی احادیث کی سند ہمیشه پیغمبر تک نهیں پهنچاتے تھے بلکه اگر ان کی بزم میں اہل سنت بھی حاضر ہوتے تو اس وقت آپ سند کو کامل کرتے تھے اور اپنی سند کو رسول تک پهنچاتے تھے اسی لئے بعض اہل سنت جو راویان اہل بیت میں شمار ہوتے ہیں غالبا ان کی روایات کیس سند رسول (ص)سے متصل ہے ۔

____________________

۹ کافی ،ج۱،ص۵۳

۱۰ امالی مفید ، ص۴۲


دوسرا اشکال :

اگر پیغمبر وه احکام جسے ائمه علیهم السلام لوگوں تک بیان کرنے والے ہیں جانتے تھے اور آپ نے انهیں ابلاغ نهیں کیا گویا انهوں نے حق کو چھپایاہے جبکه کتمان حق حرام ہے جیساکه قرآن میں آیاہے :

( لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ ) (۱)

یا ایک مقام پر فرماتا :

( إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَـئِكَ يَلعَنُهُمُ اللّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ) (۲)

“جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں”۔

بنابر این چونکه پیغمبر کو تمام احکام کا علم ہے اور ان کا وظیفه ابلاغ ہے پس ان پر لازم ہے که وه احکام کو لوگوں تک پهنچائیں نه یه که اپنے وظیفه کو دوسروں کے حوالے کردے که وه احکام بیان کریں ۔

جواب :

سب سے پهلی بات تو یه ہے که "کتمان ما انزل الله " سے مراد اس چیز کا مخفی کرنا ہے که جس کا اعلان کرنا واجب ہو اور ابلاغ احکام کے خاص شرائط اور قوانین ہی جو که زمان و مکان طرز بیان کے لحاظ سے اور یه که یه احکام کسے بیان کرنے ہیں ا ہے ان میں ان سب امور کی رعایت لازم ہے ۔

توضیح مطلب :

بعض احکام ایسے ہیں که جس کا موضوع محقق نهیں ہے یا بیان احکام کی مصلحت نهیں ہے ، اسی لئے خود رسول اسلام کے دور میں احکام تدریجا بیان ہوتے تھے باوجود یکه پیغمبر احکام سے آگاہ تھے لیکن موضوع یا مصلحت کے نه ہونے کی وجه سے بیان کرنے سے گریز کرتے لیکن کسی نے پیغمبر پر یه اعتراض نهیں کیا که آپ تمام احکام کو جاننے کے باوجود کیوں اتنی تاخیر سے تدریجی طور پر

____________________

۱ آل عمران ، ۱۸۷.

۲ بقره ،۱۵۹


۲۳ سال کے عرصه میں بیان کیا اور کیوں حق کو چھپایا ؟ اس لئے سب جانتے ہیں که ایک ہی زمانے میں تمام احکام بیان کرنا لوگوں کےلئے سنگیں تھا او ردین سے فرار کا سبب بن سکتا تھا اسی لئے پیغمبر نے اسے تدریجی طور پر بیان کیا اور بعض احکام کے ابلاغ کی ذمه داری اہل بیت کے سپرد کی ۔

اس کے علاوه الهیٰ پیغام کے ابلاغ کا مطلب یه نهیں ہے که احکام کو ایک ایک مسلمان کے کان میں سنایاجائے بلکه اگر ایک خاص گروه تک اسے پهنچایا جائے جو دوسروں تک ابلاغ کرنے والے ہیں ان پر بھی ابلاغ و بیان اور عدم کتمان صادق آئے گا ورنه یه اشکال تمام پیغمبروں اور تمام جاننے والوں پر وارد ہوگا که انهوں نے کیوں حق کو چھپایاہے ؟

تیسرا اشکال

شیعوں کے عقیده کے اعتبار سے ائمهء اطهار مقام عصمت پر فائز ہیں اور ان کاعلم اور ان کی حقانیت مسلم ہے پس اگر ایسا ہے تو پھر ان سے منقول روایات میں تناقض و تعارض نهیں پایاجانا چاہیئے کیونکه تعارض و تناقض ان کے علمی مقام اور عظمت سے سازگار نهیں ہے جب که شیعوں کی کتابوں میں احادیث میں تعارض اور تناقض پایا جاتاہے ؟

جواب:

اولا: تعارض کا مسئله صرف ائمهء کی احادیث ہی نهیں بلکه احادیث نبوی میں بھی موجود ہے اور اہل سنت نے بھی اپنی اصولی کتابوں میں تعارض روایات اور کیفیت جمع و ترجیح سے بحث کی ہے ۔

ثانیا: مختلف عوامل ہیں جو تعارض اخبار کا سبب بنتے ہیں جس میں سے بعض اسباب کی جانب یهاں اشار ه کیا جاتاہے :

۱- راوی کا فهم روایات میں غلطی کرنا ۔

اکثر موارد میں نصوص میں کوئی تعارض نهیں تھا بلکه راوی نے پیغمبر (ص)یا امام کے کلام کو سمجھنے میں غلطی کے شکار ہوئے ہیں ۔

۲- قرینه لفظ اور حال کا ضایع ہوجانا ۔

صدور روایات کے زمانے میں ان روایات کے ساتھ کچھ قرائن تھے خاص طورسے قرینه و سیاق جو که تقطیع روایات کی وجه سے ضایع ہوگئے جس کی وجه سے روایات میں تعارض پیداہوگیا ۔

۳- راویوں کا نقل معنیٰ کرنا تعارض کا سبب بنا ۔

۴- پیغمبر اکرم (ص)اور ائمه ء علیهم اسلام کا احکام کو تدریجا بیان کرنا ۔

۵- ظالم حکام سے تقیه کا مسئله سبب بنا که ائمه کے اقوال یا رفتار میں تعارض کا توهم پایاجائے ۔


۶- مخاطب کی رعایت کرنا ۔

بعض اوقات سوال کرنے اوالے کی وضعیت اور شرائط ایسے ہوتے ہیں جودوسروں سے فرق کرتے ہیں اور اس کے سوال کا جواب اس کی شرائط کے مطابق ہوتا ہے لیکن وه شخص اپنے سے مربوط جواب کو بصورت مطلق سب کے لئے نقل کرتا ہے که فلاںمسئله میں امام کا قول یه ہے ۔

۷- کلام امام میں مخالفین اور مغرضین کی جانب سے تحریف کیاجانا ۔

اس لئے که ہمیشه ہر دور میں مغرض اور منافق افراد رهے ہیں یهاں تک خود پیغمبر کے دور میں ایسے افراد تھے جو احادیث میں تحریف کرتے تھے ۔ چنانچه رسول خدا (ص)سے نقل ہوا ہے که آپ نے فرمایا:

“"کثرت علیّ الکذبه ”"

“مجھ پر جھوٹ باند ھنے والے زیاده ہوگئے ہیں ” ۔(۳)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

من قال علی مالم اقل فلیتبوا مقعده من النار

“جو کوئی میری جانب اس چیز کی نسبت دے جو میں نے نهیں کهی اس کا ٹھکانه جهنم ہے ” ۔(۴)

تاریخ اور روایات میں ایسے افراد کا نام آتاہے جن کی احادیث میں دست کاری اور تحریف کی ترویج کی وجه سے سرزنش اور مذمت کی گئی ہے ۔

۸- حکومت کے وقتی احکام

جیسے امیرالمؤمنین کی حکومت کے دور میں اونٹ پر وجوب زکوٰة کا خاص حکم تھا ایک مدت کے بعد ختم ہوگیا ۔

____________________

۳ غیبت نعمانی ، ص۷۶ ، احتجاج طبرسی ،ج۱،ص۳۹۳، کنز العمال،ج۱۶،ص۵۵۵

۴ .کنز العمال ،ج۱۰،ص۲۹۰


فعل معصوم سے استنباط کی کیفیت

چونکه الفاظ کی دلالت اپنے معانی پر افعال سے گویا تر ہے اور مقاصد کو مخاطب تک پهنچانے میں سریع تر ہے اس لئے معصوم سے صادر شده امر ونهی ، وجوب و حرمت پر ظهور رکھتی ہے اور اس قسم کے ظهورات قابل استناد ہیں لیکن کیا فعل معصوم امر امام کی مانند وجوب پر دلالت کرتا ہے ؟ کیا امام کا کسی فعل کو ترک کرنا حرمت پر دلالت کرتاہے ۔

فعل معصوم جواز فعل ( بمعنیٰ عدم حرمت ) سے زیاده دلالت نهیں کرتاہے یعنی امام کی جانب سے کسی فعل کا انجام دیاجانا اس بات کی دلیل ہے که وه حرام نهیں ہے لیکن وه فعل سے وجوب پر دلالت نهیں کرسکتا بالکل اُسی طرح که امام کی جانب سے کس عمل کا ترک کیاجانا صرف عدم وجوب پر دلالت کرے جیسے پیغمبر یا امام کسی کام کو حکم یا عبادت کی تعلیم کےلئے انجام دیں یا جیسے کوئی معصوم فعل یا ترک فعل کو مستمر طور پرمسلسل انجام دیں بعض نے اس استمرار کو وجوب یا حرمت کی دلیل قرار دی ہے ۔

اگر کها جائے : پیغمبر کا فعل وجوب پر دلالت کرتا ہے کیونکه قرآن میں فعل پیغمبر کی تأ سی اور رسول کے تمام اعمال کی پیروی کو واجب قرار دیاگیا ہے اگرچه وه فعل خود پیغمبر پر واجب نه ہو جیساکه ارشاد ہے :

( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ ) (۱)

“مسلمانو! تمهارے میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہءعمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے” ۔

ہمارا جواب یه ہوگا :

تأ سی کی تعریف میں کها گیا ہے :

ان تفعل مثل فعله علی وجهه من اجل فعله (۲)

"پیغمبر (ص)کی تأ سی یه ہے که پیغمبر نے جس کام کو جس طرح اور جس نیت سے انجام دیا تم بھی اسی انداز اور اسی نیت سے انجام دو " ۔

پس اگر پیغمبر (ص)نے واجب کی نیت سے انجام دیا تو ہم بھی واجب کی نیت سے انجام دیں گے اور اگر آپ نے مستحب اور مباح کی نیت کی تو ہم بھی استحباب اور اباحه کی نیت کریں گے نه یه که پیغمبر (ص)نے جو عمل انجام دیا وه ہم پرواجب ہو اور خود پیغمبر(ص)پر واجب نه ہو ۔

____________________

۱ احزاب ، ۲۱

۲ شرح المعالم ، ج۲ ،ص۳۹۰


تقریر معصوم کی حجیت کیسے ثابت ہوگی ؟

تقریر یعنی معصوم کا اس فعل پر سکوت کرنا جو آپ کے سامنے (یا آپ کی غیبت میں مگر آپ کی اطلاع کے ساتھ) انجام پالیے ۔

تقریر کیے حجیت و اعتبار کی دلیل یه ہے که اگر وه فعل یاقول حرام اور منکر ہوتا تو معصوم ضرور مخالفت کرتا کیونکهه نهی از منکر واجب ہے ۔

بعض نے کها که : تقریر معصوم حجت نهیں ہے کیونکه نهی از منکر اور ارشاد جاہل کو ارشاد کرنا ہمیشه اور ہر جگه واجب نهیں جیسے کوئی عمل شارع کی جانب سے مودر انکار قرار پائےلیکن مکلف پر اس کاکوئی اثر نهیں ہو تو دوباره اس عمل سے روکنے کی ضرودت ضرورت نهیں ہے ۔

جواب یه ہے که :

یه فرض محل کلامہماری بحث سے خارج الک ہے کیونکه محل کلامہماری بحث ان موارد میں ہے که جهاں نهی از منکر کے واجب ہونے کے شرائط موجود ہوں ۔


سنت صحابه

جمهور اہل سنت، اہل بیت علیهم السلام کی سنت کے بجائے صحابه کی سنت کو حجت مانتے ہیں-(۱)

تاکه ان کی سنت کے ذریعه ادله شرعیه کی کمی کو پورا کیاجاسکے ان کے نزدیک صحابی رسول اس مسلمان کو کهتے ہیں جس نے پیغمبر (ص)کی زندگی درک کی ہو –(۲)

اوراس دنیا سے مسلمان اٹھاہو اس کے علاوه اہل سنت کا تمام اصحاب رسول (ص)کے بارے میں اتفاق ہے که جس پر صحابی کا اطلاق ہو وه یقینًا عادل ہے-(۳)

جب که مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کے نزدیک اصحاب پیغمبر(ص)کا امتیاز اور افتحار صحابیت کی وجه سے بڑا مقام ہے لیکن وه یه نهیں مانتے که سب کے سب بلااستثنا عادل ہوں اس لئے که جهاں اصحاب پیغمبر(ص)میں عظیم المرتبت شخصیات گزری ہیں وهیں پر قرآن و تاریخ و حدیث کی روشنی میں کچھ ایسے بھی افراد تھے جو عادل نهیں تھے جسکی وجه سے قرآن وحدیث میں انکی مذمت بھی کی گئی،

اہل سنت عدالت صحابه پرقرآن اور حدیث سے استدلال کرتے ہیں چنانچه قرآن کی تین آیتیں پیش کرتے ہوئے کهتے ہیں که خداوند سبحان کا ارشاد ہے :

"( كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) "(۴)

“تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظرعام پر لایا گیا ہے” ۔

اور دوسری آیت یه پیش کرتے ہیں :

"( وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ ) "(۵)

“ اور تحویل قبلہ کی طرح ہم نے تم کو درمیانی اُمت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو ” ۔

____________________

۱ الموقعات شاطبی ، ج ۴ ،ص ۷۴

۲ الاصحابه فی تمیز الصحابه ، ج۱،ص۱۵۷

۳ .وهی مدک ،ص ۱۶۲

۴ آل عمران ، ۱۱۰

۵ بقره ، ۱۴۳


اورتیسری آیت جو پیش کی جاتی ہے وه یه ہے :

"( لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ) "

“یقینا خدا صاحبانِ ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے ” ۔(۶)

ان تین آیتوں سے یه استدلال کیا جاتا ہے که خیر امت اور امت وسط سے مراد اصحاب ہیں یه اصحاب وهی ہیں که جنهیں خدا مؤمن مانتاہے اور ان سے راضی ہے پس جو افراد خیر امت اور مؤمن ہوں اور الله ان سے راضی ہو یعنی ان کے افعال ،رفتار و گفتار سے راضی ہے پس ان کی سنت بھی حجت ہوگی ۔

جب که پهلی اور دوسری آیت کا تعلق صحابی سے مخصوص نهیں بلکه اس میں تمام امت شامل ہے انهی تین آیتوں میں سے تو یه آیت ان اصحاب سے مخصوص ہے جو بیعت رضوان میں شریک تھے پس تمام صحابی اسمیں شامل نهیں ہیں اس کےکیوں کی علاوه الله کی رضایت بیعت رضوان سے مربوط تھی یعنی خدا بیعت رضوان میں ان کے موقف سے راضی تھا اس کا مطلب یه نهیں که خدا ان کے تمام کاموں سے راضی رهے گا ۔

دانشمندان اہل سنت نے قرآن کے علاوه احادیث و روایات سے بھی استدلال کیا ہے جس میںمںی سب سے اہم اور معروف روایت یه ہے ارشاد پیغمبر (ص)هے که :

أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم ”۔(مترجم) ‏.(۷)

“میرے اصحاب کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے اس میں جس کسی کی اقتداء کروگے ہدایت پاؤگے ”۔(۸)

جب که ابن حزم نے اسی روایت کو ساقط، مکذوب، اور غلط جاناہے اس کے علاوه بعض روایات میں یه آیا ہے ۔

اهل بیتی كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُم اهْتَدَيْتُم ”۔‏.

“میرے اہل بیت کی مثال ستاروں جیسی ہے ان میں جس کی اقتداء کروگے ہدایت پاؤگے” ۔(۹)

اور یه حدیث ثقلین جیسی متواتر حدیث سے بالکل ہم اہنگ ہے ۔ اس کے علاوه قرآن مجید میں ان اصحاب کا جو جنگ میں رسول کوپیٹھ دکھا کر بھاگ گئے یا وه اصحاب جنهوں نے دستورات پیغمبر (ص)سے سرپیچی کی ہے یا ان پر اشکلالات کیئے ہیں

ان سب کا تذکره کیا اور بعض کو صریحاً فاسق قرار دیا ہے ایک جگه فرمایا :

____________________

۶ فتح ، ۱۸

۷ (مترجم)-- ۸ میزان الاعتدال ، ج۱ فص۴۱۳/۶۰۷ .---۹ .الاحکام ابن حزم،ج۶ ، ص۸۱۰


"( وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُواْ مِنْهَا رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ ) "

“اور ان ہی میں سے وہ بھی ہیں جو خیرات کے بارے میں الزام لگاتے ہیں کہ انہیں کچھ مل جائے تو راضی ہوجائیں گے اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائیں گے” ۔(۱۰)

اور ایک جگه فرمایا:

"( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ) "

“ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے ” ۔(۱۱) اہل سنت کے اکثر مفسرین نے کها یه آیت ولید عقبه کے بارے میں نازل ہوئی اور ولیدا بن عقبه مسلماً صحابی پیغمبر(ص)هے ،ابن عاشور نے اپنی تفسیر میں اس قول کو مورد اتفاق جانا ہے اور کها ہے که اس سلسلے میں روایات بهت زیاده ہیں ۔ اس کے علاوه سوره، نور سوره احزاب ،سوره برائت اور سوره منافقوں میں ایسے افراد کا ذکر ہے جو بظاہر مسلمان اور صحابی رسول تھےلیکن باطن میں مناقق تھے تھے،داستان افک کے جس کے سلسله میں سوره نور کی پندره آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں جس گروه کی سرزنش کی گئی وه سب بظاہر مسلمان اور صحابی پیغمبر تھے بهر حال صحابه اپنے تمام احترام کے باوجود ان میں بعض صالح اور بعض غیر صالح افراد تھے اسی لئے سب کے اقوال کویکساں طور پر حجت نهیں مانا جاسکتا ۔ اس کے علاوه بعض مشهور اور سرشناس صحابه کے کام ایسے ہیں جو کسی بھی طرح قابل توجیه نهیں ہیں اور کوئی منطق اسے قبول نهیں کرسکتی کیا ہم یه جانتے ہیں که جنگ جمل کی آگ بھرکانے والے طلحه اور زبیر جیسے معروف صحابی تھے جنهوں نے امام وقت کے خلاف خروج کیا اور ستّره هزار مسلمانوں کے قتل کا سبب بنے کیا ایسے افعال کی کوئی منطقی دلیل ہے ؟ کیا ایسے افراد کی سنت حجت ہوسکتی ہے ۔اسی طرح ہم یه بھی جانتےهیں که معاویه نے یهی کام اپنے وقت کے امام حضرت علی علیه السلام کے ساتھ انجام دیا جس کی وجه سے جنگ صفین میں ایک لاکھ مسلمان تهه تیغ ہوئے کیا یه قتل و غارتگری توجیه کے قابل ہے ؟

کیا ایسے افراد کو اب عادل مانا جائے گا ؟

کیا ایسے افراد کو مجتهد کهنا اور ان کے افعال کو خطائے اجتهادی کهه کر توجیه کرنا کوئی عقلی بات ہے ؟ اگر ایسا ہے تو ہر دور میں اسی عنوان کےتحت ہر قسم کے گناہ کی تو جیه کی جاسکتی ہے کیا کوئی دانشمند ایسی باتوں کو قبول کرسکتاہے ؟ بهرحال ہم مصاحبت پیغمبر کی وجه سے صحابه کا احترام کرتے ہیں لیکن انهیں تمام مسلمانوں کی طرح دو یاچند گروهوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ان میں سے ان افراد کی روایت قبول کرتے ہیں جو عادل ہوں ۔

____________________

۱۰ توبه ، ۵۸ .---۱۱ حجرات ، ۶


۹- سنت صحابه کی حجیت پر دلیل نقل :

سنت صحابه کی حجیت پر جو دلیلیں نقل ہوئی ہیں بالخصوص جو روایات پیش کی گئی ہیں ان میں سندی اشکال اور خود اہل سنت کے محدثیں کی جانب سے ان روایات کے جھوٹ اور جعلی ہونے کی تصریح کے علاوه دلالت کے اعتبار سے بھی مخدوش ہے کیونکه ہم دیکھتے ہیں که صحابه کی سیرت میں اختلاف بلکه تناقص پایاجاتا ہے اور کسے ممکن ہے سیرت کے اس آشکار اختلاف کے باوجود ان کی سیرت بطور مطلق حجت قرار پائے

صحیح بخاری میں پیغمبر اکرم(ص) سے انس نے روایت کی که پیغمبر(ص) نے فرمایا:

لیردن علی ناس من اصحابی الحوض حتیّ اذا عرفتهم اختلجوا دونی فاقول اصحابی فیقول لاتدری ما اخدثو بعدک (۱)

کسےممکن ہے اس روایت کے ہوتے ہوئے صحابه کی عدالت اور ان کی سنت کو حجت ماناجائے اور کسی طرح اس صحابی کی سنت کو ثابت کی جائے که جس نے فقط کچھ دن پیغمبر(ص) کے ساتھ گذار ہیں کیا مصاحبت کا مرتبه ایمان سے بڑھ کر ہے ؟

جب ایمان کے لئے نهیں کها جاسکتا که ایمان عصمت اور گناہوں کے عدم ارتکاب کا باعث ہے تو بھلا مصاحبت سے اسے معجزه کی کیسے امید رکھی جاسکتی ہے

قابل غور بات یه ہے که اہل بیت علیهم السلام سے دوری اور رسول(ص) علم کے باب ہے اور اہل بیت علیهم السلام کی روایتوں سے دوری نے انهیں شرعی احکام کے استنباط کرنے میں مشکل اور گرفتاری میں ڈال دیا اور پھر خلفاء کے اعمال کو صحیح ثابت کرنے کے چکر میں عصمت صحابه جیسے امور کے قائل ہوگئے اور انهی امور کو استنباط فقهی میں داخل کردیا جسکی وجه سے ایسی مشکلات کا شکار ہوگئے جو آج تک ان کے دامن گیر ہے

____________________

۱- (مترجم)صحيح بحاري ، كتاب الرقاق ، باب في الحوض ، حديث نمبر۱۴۴۱.


سنت تک پهنچنے کے راستے

جیساکه یه بات گذر چکی که قول وفعل تقریر معصوم کو سنت کهتے ہیں اسی لئے اخبار اور احادیث سنت نهیں بلکه سنت کی حکایت کرتے ہیں اور درحقیقت سنت تک پهنچنے کے راستے شمار ہوتے ہیں ۔

یهاں پر سنت کی تلاش اور اس تک پهنچنے کے بعض قطعی او ربعض غیر قطعی راستون کو پیش کیاجاتاہے –(۱) ۔

الف : سنت تک پهنچنے کے قطعی راستے

۱- خبر تواتر

امت اسلامی اور معصومین کے درمیان زمانی فاصله کی وجه سے روایات متعدد واسطوں سے آئی ہے ۔

۱- اہل سنت کے ایک گروه نے خبر کی تین قسمیں کی ہیں :

ایک خبر وه ہے که جس کی تصدیق واجب ہے اورایک خبر وه ہےکه جس کی تکذیب واجب ہے اور ایک وه ہے که جس میں توقف کیاجانا چاہیئے. ان کا کهنا جس خبر کی تصدیق واجب ہے اس کی سات قسمیں ہیں ۔

(۱)خبرمتواتر

(۲) خبر واحد

(۳) خبر رسول الله (ص)

(۴) خبر امت پیغمبر (ص)کیونکه امت کی عصمت پیغمبر (ص)کی جانب سے مختص ہوچکی ہے ضمنا ہر اس شخص کی خبر جسے امت سچا اور راستگو مانتی ہے وه اسی چوتھی قسم میں داخل ہے ۔

(۵) ہر اس شخص کی خبر جو الله، رسول اور امت کی اخبار سے مطابقت رکھتی ہو ۔

(۶)هر وه خبر جسے مخبر و پیغمبر کے آگے بیان کرے اور پیغمبر اس کی تکذیب نه کریں ۔

(۷) ہر وه خبر که جسے مخبر کسی جماعت کے آگے بیان کرے اور جماعت اس خبر کی تکذیب نه کرے البته اس شرط کے ساتھ که ان کا پشت پرده سازش اور باہم توافق کرنامحال ہو ۔ لیکن وه خبر که جس کا تکذیب کرنا و اجب ہے اس کی چار قسمیں ہیں :

____________________

۱ .المصتفیٰ، ج۱ ،ص ۱۴۴/۱۴۲


۱- وه خبر جو عقل ضروری اور عقل نظری کے حکم یا حسن ومشاہده اور اخبار متواتر کے خلاف ہو ۔

۲- وه خبر جو کتاب وسنت واجماع کے مخالف ہو ۔

۳- وه خبر که جسے کثیر جماعت نے جھوٹی خبر قرار دیا ہو او رعادتا اس خبر کے خلاف انکا پشت پرده توافق کرنا ناممکن ہو ۔

۴- ایسی خبر که جسے ایک کثیر جماعت نقل کرنے سے انکار کرے جبکه اس کے نقل کرنے کا امکان موجود ہو ۔

اور خبر کی تیسری قسم :

وه خبر ہے که جس میں خبر کا سچا اور جھوٹا ہونا مشخص نه ہو اور کتب حدیث میں اکثر اخبار اسی قسم کی ہیں

اسے او ریه اخبار امت تک پهنچتی ہیں اور جنتا یه فاصله بڑھتا جائے اتنے ہی واسطے بڑھتے جاتے ہیں ہر واسطه کو اصطلاحاً طبقه کها جاتا ہے ۔ خبر متواتر وه خبر ہے که ان طبقات میں سے ہر ایک طبقه میں ایساگروه موجود ہو که جس کا کذب وجعل حدیث پر توافق کرنا عام طور پر ناممکن ہو اسی لئے خبر متواتر یقین آور ہے(۲) ۔

۲- وه خبرواحد جو قرینه قطعیه کے ہمراہ ہو

جو روایت حد تواتر تک نه پهنچے اسے اصطلاحاً خبرواحد کهتے ہیں کبھی خبرواحد میں ایسے قرائن ہوتے ہیں جس سے یقین ہوجاتا ہے که یه خبر معصوم سے صادر ہوئی ہے ، اخباری علماء کے نزدیک کتب اربعه کی روایات ان خبرواحد جیسی ہیں جو قرینه قطعیه کے ہمراہ ہوں اسی لئے ان کی نظر میں کتب اربعه کی ساری روایات حجت ہیں اور اسی لئے وه روایات کی صحیح ، ضعیف، مرسل اور مرفوع جیسی تقسیم بندی کو قبول نهیں کرتے اور یهی حال اہل سنت کے اکثر محدثین کا ہے وه بھی صحاح سته خاص طور سے بخاری اور صحیح مسلم کی تمام روایات کو حجت مانتے ہیں(۳)

____________________

۲ مصباح الاصول ،ج۲ ،ص ۱۹۲

۳ حدائق الناظره ، ج۱ ،ص ۲۳


۳- اجماع

مذهب امامیه کا اجماع چونکه رائے معصوم کا کاشف ہے اس لئے حجت ہے اور اسی بناپر خبرمعصوم اور وه خبر جو محفوف به قرینهسے ملی ہو کی مانند کاشف سنت ہے لیکن اہل سنت کے نزدیک اجماع دلائل استنباط میں مستقل دلیل شمار ہوتی ہے ۔اسی لئے ہم اہل سنت کی رعایت کرتے ہوئے اسے آئنده صفحات میں مستقل عنوان کے تحت پیش کریں گے اور اس سلسله میں فریقین کے نظریات کو بیان کریں گے ۔

۴- سیرۀ عقلاء

تمام لوگوں کا چاہے وه مسلمان ہوں یا غیر مسلمان کسی فعل کو بطور مستمرمسلسل انجام دینا یا ترک کرنا سیره یا بنائے عقلاء کهلاتا ہے مگر سیرۂ عقلا کے حکم شرعی ہونے کےلئے معصوم کی تائید اور امضاءضروری ہے اور معصوم کا کسی فعل کی انجام دهی سے روکنا اس فعل کی تائید او رامضا ء کےلئے کافی ہے-(۴)

کیونکه اگر وه فعل حرام ہوتا تو امام کےلئے اس فعل سے روکنا لازم ہوتا ۔

۵- سیرۀمسلمین

وه افراد جو دین اسلام کے پابند ہیں ان کا کسی فعل کو انجام دینا یا ترک کرنا ایک طرح سے مسلمانوں کاعملی اجماع شمار ہوتا ہے کسی عمل کی انجام دهی اور ترک عمل میں انکاا موقف اور ان کی روش سیرۂمسلمین کهلاتی ہے یه سیرت اگر زمانه ءمعصوم سے متصل ہو تو حجت ہوگی کیونکه سیرت مسلمین اس بات کی دلیل ہے که ان کی سیرت معصوم سے صادر دشده قول یا فعل سے ماخوذ ہے لیکن اگر ان کی سیرت کا زمانه ء معصوم سے متصل ہونا مشخص نه تو ایسی صورت میں وه سیرت حجت نهیں ہوگی کیونکه شاید یه سیرت اسلامی سماج میں ایک عادت بن گئی ہو اس لئے که بعض اوقات کسی شخص یا گروه کی خاص روش اور رفتار اس حدتک لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے جو دھیرے دھیرے ایک رسمی اور عمومی عادت بن جاتی ہے کسی عادت کی ابتداء میں علماء اور متدین افراد کی سهل انگاری او رغفلت کی وجه سے یا اس کے خلاف کوئی ٹھوس موقف اختیار نه کرنے کی وجه سے یاموقف تو اختیار کیا لیکن اس عادت کو مٹانے میں اس موقف کے کافی نه ہونے کی وجه ہے سے اکثر لوگ اس میں دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اہسته اہسته وه عادت اتنی مضبوط ہوجاتی ہے که اکثر افراد اس عادت کا احترام کرنے لگتے ہیں آج مساجد کے خرچے اور تشریفاتی امور انهی سهل انگاریوں کا نتیجه ہوں ہیں جوآج ایک عادت بن گئی اور لوگ اسے ہی سیرت مسلمین سمجھ بیٹھے ہیں –(۵) ۔

____________________

۴ اصول القه ، ج۲ ،ص ۱۷۱

۵ اصول الفقه، ج۲ ، ص ۱۷۵


ب: سنت دستیابی حاصل کرنے سنت کے غیر قطعی راستے

به بات گذرچکی ہے که جس طرح کشف سنت کے کچھ قطعی راستے ہیں اسی طرح کچھ غیر قطعی راستے بھی ہیں که جن کا خود بخود کوئی اعتبار نهیں کیونکه حکم شرعی کی دلیل کا قطعی ہونا لازمی ہے صرف احتمال و گمان کی عقل کے نزدیک کوئی ارزش نهیں ہے قرآن ظن و گمان کی پیروی کو قابل قبول نهیں جانتا :

"( وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ) "

“ گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے” ۔(۶)

"( وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً ) "

“ اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے مت جانا کہ روزِ قیامت سماعتً بصارت اور قوائے قلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا-(۷) ۔

لیکن اگر یه غیر قطعی راستے معقول ہوجائیں اور ان کے اعتبار پر قطعی دلائل موجود ہوں تو یهی غیر قطعی راستے حجت ہوں گے اور ان پر عمل ظن و گمان کی پیروی نهیں ہوگی ۔

وه غیر قطعی لیکن معتبر راستے کچھ اس طرح ہیں :

۱- خبرواحد

ایسی خبر که جس کے راوی تمام یا کسی ایک طبقه میں ایک یا ایک سے زیاده ہوں لیکن حدتواتر تک نه پهنچیں تو ایسی خبر یقین آور نهیں ہوگی او رایسی خبر کو اصطلاح میں خبرواحد کهتے ہیں ۔

خبر واحد کی بحث منابع استنباط کے اہم ترین مباحث میں سے ہے اور اس کی حجیت میں علماء کے درمیان اختلاف پایاجاتا ہے سید مرتضیٰ S ابن زهره S ابن براج S طبرسی(۸) اور ابن ادریس S اس کی حجیت کا انکار کرتے ہیں اہل سنت میں قدریه اور فرقه ظاہریه(۹) کے بعض افراد اسکی حجیت کے منکر ہیں جب که شیخ طوسی اور فقهائے تشیع کے اکثر بزرگ افراد اسی طرح تمام اخباری او ر اہل سنت کے اکثر افراد خبرواحد کی حجیت کے قائل ہیں(۱۰) ۔

____________________

۶ نجم،۲۸ .----۷ اسراء ،۳۶

۸ کفایه الاصول ،ج۲،ص۷۹

۹ روضه الناظر ،ج۱ ،ص۳۱۳

۱۰ وهی مدرک ،


حجیت خبرواحد کے شرائط میں کوئی ایک مشخص رائے نهیں ہے مسلک امامیه کے قدما ء اس خبر واحد کومعتبر مانتے ہیں جو قرائن صحت کے ہمراہ ہو چاہے وه قرائن صحت داخلی ہوں جیسے راوی کی وثاقت یا خارجی ہوں جیسے کسی معتبر کتاب میں اس کا وجود یا کسی کتاب میں اس کی تکرار ، اور روایت غیر معتبر اسی روایت کو مانتے ہیں جس میں اس قسم کے قرائن موجود نه ہوں(۱۱)

لیکن چھٹی صدی سے شیعه علماء نے خبر واحد کی حجیت کےلئے راوی کی عدالت کو شرط قرار دیا ہے اور بعض نے راوی کی وثاقت کو شرط قرار دیا اور اسی نظریه کی اساس پر روایات کی چار قسمیں کیں صحیح، حسن، موثق اورضعیف البته اخباری کتب اربعه کی تمام روایات کو حجت مانتے ہیں اور حدیث کی مذکوره تقسیم بندی کو غلط اور بے اثر جانتے ہیں لیکن ان کے پاس اپنے نظریه کے اثبات میں کوئی قابل قبول دلیل نهیں ہے ۔

روایت صحیح

اہل سنت کے نزدیک وه خبر واحد که جس کی سند متصل ہو ( یعنی جس کے سلسلهء سند میں کوئی افتاد گی نه ہو ) اورجس کے راوی عادل مضبط اور مخفی عیب سے دور ہوں ایسی روایت کو روایت صحیح کهتے ہیں :

“"ماتصل سند بعدول ضابطین بلا شذوذ ولاعلة خفیة ”"

روایت حسن

اس روایت کوکهتے ہیں جس روایت کے صدور اورا س کے رجالی شناخته شده ہوں مگر روایت صحیح کی حدتک نه ہوں ۔

“"ماعرف مخرجه و رجاله لاکرجال الصحیح ”"

روایت ضعیف

وه روایت ہے که جس میں روایت حسن کے درجات سے کوئی درجه نه ہوں اور خود روایت ضعیف کے کئی مرتبے ہیں ۔

“"ماقصر عن درجه الحسن وتفاوت درجاته فی الضعف بحسب بعده من شروط الصحة ”"(۱۲)

____________________

۱۱ .مقباس ال ہدایه فی علم الدرایایه ،ج۱،ص۱۹/۲۴

۱۲ امنی المطالب ، ص ۱۷


۱- شهرت

فقهاء اور اصولویوں کے ایک گروه نے شهرت کو منابع استنباط میں سے ایک شمار کیا ہے –(۱) جانا چاہیئے که شهرت کی تین قسمیں ہیں :

الف: شهرت روائی

ان کے نزدیک یه اصطلاح اہل خیرت کے یهاں رائج ہے جس حدیث کے راوی زیاده ہوں لیکن حدتواتر تک نه پهنچے ایسی روایت کو "وه خبر مشهور "(مستفیض ) کهتےهیں اور تعارض روایات کی صورت میں شهرت روائی کو مرجحات روایت میں شمار کیا ہے –(۲) ۔

یعنی اگر دو روایتیں صدیوں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے معارض ہوں اور ان میں ایک روایت شهرت روائی رکھتی ہو اور کئی راویوں نے اسے نقل کیا ہو تو ایسی روایت کو دوسری روایت پر ترجیح دی جائے گی اور اس ترجیح کی دلیل خود شهرت ہے جو اطمینان اور وثوق کا باعث ہے اس کے علاوه بعض روایات میں که جس میں مقبوله عمرابن خنظله بھی ہے اس بات کی تصریح کی گئی ہے چنانچه اس حدیث میں عمرابن حنظله نے امام صادق علیه السلام سے سوال کیا که : اگر راویوں میں سے دو راوی جن میں دونوں ہی مورد وثوق واطمینان ہوں اور آپ کی حدیث میں اختلاف کریں تو کیا کرنا چاہیئے ؟

امام علیه السلام نے بعض مرحجات کو گنوانے کےبعد فرمایا:

يُنْظَرُ إِلَى مَا كَانَ مِنْ رِوَايَتِهِمْ عَنَّا فِي ذَلِكَ الَّذِي حَكَمَا بِهِ الْمُجْمَعُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِكَ فَيُؤْخَذُ بِهِ مِنْ حُكْمِنَا بِهِ الْمُجْمَعُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِكَ وَ يُتْرَكُ الشَّاذُّ الَّذِي لَيْسَ بِمَشْهُورٍ عِنْدَ أَصْحَابِك(۳) ..”

“یعنی ان دو روایتوں میں جو روایت اصحاب کے درمیان مشهور ہو اسے مقدم رکھتے ہوئے دوسری روایت کو چھوڑدیں. شهرت روائی کو بعض اہل سنت نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے

____________________

۱ اصول الفقه،ج۲ ،۱۶۳

۲ انوار الاصول ،ج۱ ص ۶۷

۳ .کافی ،ج۱ ، ص۶۷


انهوں نے خبر کو تین قسموں میں تقسیم کیا ۱) متواتر ۲) مشهور ۳) واحد اور حدیث مشهور یعنی وه حدیث جو راویوں کی زبان پر رائج ہو کو خبر غیر مشهور (واحد) پر مقدم رکھا کیونکه یه خبر اطمینان آور ہے –(۴) ۔

لیکن انهوں نے شهرت کی ایک اورقسم کو مرجحات میں قرار دیا ہے اور وه شهرت راوی ہے نه که شهرت روائی ان کا کهنا ہے که اگر ایک حدیث کا راوی دوسری حدیث کے راوی سے زیاده شهرت رکھتا ہو تو اسکی روایت کو دوسری روایت پر مقدم کریں گے ۔

اس شهرت کی کئی قسمیں بتائی گئیں ہیں ۔ ایک یه کهاول راوی کبار صحابه میں ہو کیونکه یه عالی منصب اسے کذب و دروغ سے باز رکھے گا دوم یه که ایک نام کا مالک دو نام والے پر رحجان رکھتا ہے سوم یه که معروف النسب راوی مجهول النسب راوی پر مقدم ہے چهارم یه که ان راویوں کے نام جو افراد ضعیف کے نام سے مشتبه نه ہوں ان راویوں پر مقدم ہیں جن کے ناموں میں اشتباہ ہوتا ہے اور اسی طرح وه راوی جو حفظ وضبط روایت کیلئے مشهور ہیں یا ثقات و عدول سے نقل کرتے ہیں مقدم ہیں(۵) ۔

____________________

۴ التعارض والترجیح ،عبداللطیف عبد الشمس ، ج۲ ،ص۱۶۹

۵ انوار الاصول ،ج۲ ، ص۴۲۳


ب:شهرت عملی

وه روایت جس میں فقهاء کے درمیان اس پر عمل اور استناد مشهور ہو-(۱) . اس شهرت کو شهرت عملی کهتے ہیں اوردو مقام پر اس سے استفاده کیا جاتا ہے ۔

۱- پهلے یه که باب تعارض کے مرجحات میں جهاں فقهاء کهتے ہیں اگر ہم یه مانتے ہوں که جو چیز واقعیت سے نزدیک تر ہو مرجح ہوگی پس شهرت عملی بھی مرجیح ہوگی لیکن صرف اس صورت کهمیں فقه کے قدیم علماء اور گذشتگان کی روایت کے مطابق عمل ہو ۔

۲- دوسرے یه که سند روایت کے ضعف کو بر طرف کرنے میں شهرت عملی سے کام لیا جاتا ہے یعنی جب بھی کوئی روایت قوانین کے حساب سے ضعیف ہو لیکن کئی علماء اور فقهاء نے اس روایت کے مطابق فتوا دیا ہو تو ان کا فتوی اور عمل سند روایت کے ضعف کو بر طرف کرتا ہے اور اس روایت کو قابل اعتما دبناتا ہے اسی طرح که جس طرح کوئی خبر صحیح اور معتبر ہو لیکن فقهاء اس روایت سے گریز کریں اور کوئی اعتنا نه کریں تو ایسی روایت درجهء اعتبار سے ساقط ہو جائے گی لیکن بعض فقها جیسے صاحب مدارک وغیره شهرت اور اعراض کے ذریعه ضعف سند کی برطرفی یا سند کے بے اعتبار کرنے کوقبول نهیں کرتے –(۲) ۔

ج: شهرت فتوائی

شهرت فتویٰ سے مراد یه ہے که اگر کوئی فتویٰ اجماع کی حدتک پهنچے اور فتویٰ شاذ کے مقابل قرار پائے تو بعض مسلک امامیه کے اصولی یه مانتے ہیں که شهرت فتویٰ امارات معتبره میں سے ایک ہے ان کا کهنا ہے که ہر چند کسی فقیه کا فتویٰ دوسرے فقیه کےلئے حجت نهیں ہوتا لیکن یهی فتویٰ جب شهرت کی حدتک پهنچ جائے اور فتویٰ دینے والے زیاده ہوں تو دوسرے فقیه کےلئے یهی شهرت اور فتویٰ کی کثرت حکم شرعی پر دلیل بنےگی که وه بھی اسی حکم کو استنباط کرے شهید اول نے کتاب "ذکری" میں اس نظریه کو قبول کیا ہے –(۳) ۔

____________________

۱ اصول الفقه ، ج۲ ،ص ۲۵۲

۲ مصباح الاصول ، ج۲ ، ص۱۴۳

۳. ذکری ، للشیعه مقدمه مؤلف ، ج۱ ، ص۵۲


لیکن دوسرے گروه کا یه ماننا ہے که شهرت فتویٰ معتبر نهیں ہے اور اس پر منبع استنباط کے عنوان سے تکیه نهیں کیا جاسکتا .جو شهرت فتویٰ کو حجت مانتے ہیں ان کی دلیل یه ہے که :اگر خبر واحد سے حاصل ہونے والا ظن خبر واحد سے حاصل شده ظن سے کهیں زیاده قوی تر ہے –(۴) اور دوسری دلیل یه که زراره اور عمرابن حنظله کی روایت میں آیا ہے جو مشهور ہے اسے لے لو اور جو شاذ و نادر ہے اسے چھوڑ دو اسی طرح شهرت فتویٰ کے طرفداروں نے اپنے مدعا پرآیهءنبا کے ذیل میں وارد شده جمله سے مدد لی ہے –(۵)

جس میں خداوند عالم فرماتا ہے :

"( أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ) "

“اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے ” ۔(۶)

ان دلیلوں کے کئی جواب دیے گئے ہیں جس کی تفصیل اصول کی مفصل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

بعض نے قدماء کے نزدیک مفهوم شهرت اور متاخرین کی شهرت میں فرق کیا ہے ان کا کهنا ہے که :

تاریخ تشیع میں آرائے فقهی کئی مراحل سے گذرے ہیں ابتداء میں یعنی عصر تشریع میں لوگ روایات و احادیث کو خود ائمه علیهم السلام سے دریافت کرتے اور پھر ان پر عمل کرتے تھے اس کے بعد جو مرحله آیا اس میں احادیث کو کتاب اور جزوات میں جمع کیا گیا جس سے اصول اربعماہ ( یعنی چارسو اصل اور کتاب ) وجود میں آئے پھر تیسرے مرحلے میں علمائے دین نے انهیں کتابوں اور جزوات کو مترتب اور منظم کرنا شروع کیا اس کے بعد چوتھا مرحله فتووں کا مرحله ہے جس میں حذف سند اور تخصیص و تقیید اور جمع و ترجیح کے بعد متن احادیث کے مطابق فتوا دیا جانے لگا چنانچه شیخ صدوق نے اپنی کتاب "من لایحضر ه الفقیه" میں یهی کام کیا ہے اب آخری اور پانچواں مرحله تطبیق و تفریع احادیث کا دور ہے اور یهیں سے جدید اور فرعی مسائل کو استنباط کیا جانے لگا ۔

اسی لئے مرحلهء پنجم پانچویں مرحله سے پهلے شهرت فتویٰ وثوق و اطمینان کا موجب تھا لیکن پانچویں مرحله میں فقهاء کے فتووں میں حدس و استنباط کا جنبه پیدا ہوگیا اسی لئے اس مرحله کے فتوے آنے والے فقهاء کےلئے حجت نهیں ہوں گے –(۷)

____________________

۴. انوار الاصول ، ج۲ ، ص۴۱۷

۵ .فوائد الاصول ، ج ۳ ، ص۱۵۵

۶ انوار الاصول ، ج ۲ ،ص ۴۲۳

۷ وهی مدرک


. اہل سنت کی کتابوں میں شهرت فتویٰ کے مسئله کو ایک اور انداز میں پیش کیا گیا ہے ان لوگوں نے بحث اجماع میں یه مسئله اٹھایا که آیا اکثر یت کی آراء پر اجماع تحقق پاتا ہے یا نهیں ؟

جمهور اہل سنت نے کها ہے که قول اکثریت اور قول مشهور سے اجماع ثابت نهیں ہوتا لیکن معتزله کے مشهور عالم ابوالحسن حناط اور ابن جریر طبری اور ابوبکر رازی نے کها ہے :

ایک یا دو فرد کی مخالفت اجماع کو نقصان نهیں پهنچاتی اور ابن حاجب کا کهنا ہے که کسی مسئله میں مخالفت شاذ ہی کیوں نه ہو اجماع کو قطعیت سے گرادیتا ہے لیکن اس کے باوجود اتنی بڑی اکثریت (اجماع )کو حجت جانتی ہے –(۸) ۔

غزالی نے کها-(۹) : امت کی عصمت اور حجیت ثابت ہے لیکن اگر کوئی قول شهرت تک پهنچ جائے ( مگر اجماع تک نه پهنچے ) تو یه شهرت حجت نهیں ہے کیونکه اختلاف کے ثابت ہوتے ہی حجیت ساقط ہوجائےگی جیسا که ارشاد خداوندی ہے :

"( وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ) "

“اگر کسی چیزمیں اختلاف کا شکار ہوجاؤ تو اس کا فیصله الله پر چھوڑ دو ”

____________________

۸ .اصول الفقه الاسلامی ، ج ۱ ،ص ۵۱۸

۹ المستفیٰ، ج۱ ، ص۱۱۷


کتاب و سنت کے مشترک مباحث ۔

کتاب و سنت کے اختصاصی مباحث کے علاوه ان کے مشترک مباحث کوبھی "ادلهء نقلی" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ادله نقلی کی تقسیمات ۔

آیات و روایات جو که منابع استنباط کے لئے دو عمده دلیلیں ہیں ہر ایک دلیل خودبخود ایک دوسرے مل کر مختلف قسموں میں تقسیم ہوتی ہیں ۔

دلیل خاصل و عام ۔

ایسی دلیل جو که حکم کو تمام افراد موضوع یا متعلق موضوع یا مکلف کے شامل حال ہو اسے اصطلاح دلیل"عام" کهتے ہیں .اور کبھی عام او رخاص میں تعارض ہو تو دلیل عام پر دلیل خاص کے ذریعے تخصیص لگائی جاتی ہے یعنی بعض افراد مصادیق عام ہے سے خارج ہوجاتے ہیں اور اس طرح خاص ،عام پر( ظاہر و اظهر یا قرینه او رذوالقرینه کے ملاک کی وجه سے ) مقدم ہوجاتا ہے مثال کے طور پر خداوند عالم ایک آیت میں ارشاد فرماتا ہے ۔

"( كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) "

“تم پر روزه اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوںپر لکھے گئے تھے شایدتم اسی طرح متقی بن جاؤ ” ۔(۱)

اور اس کے بعد والی آیت میں فرماتا ہے :

"( فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ) "

“اس کے بعد بھی کوئی شخص مریض ہے یا سفر میں ہے تو اتنے ہی دن دوسرے زمانے میں رکھ لے گا ” ۔(۲)

ان آیات میں پهلی آیت کا حکم عام ہے جس سے ثابت ہوتا ہے که جو ان، بوڑھا ،مریض( مسافر نو پر روزه واجب ہے لیکن دوسری آیت میں تخصیص سے بعض افراد خارج ہوگئے ) شیعوں متاخر فقهاء اور اکثر اہل سنت کا اس بات پر اتقاف ہے ۔. قرآن کے عمومی حکم پر که خبر واحد کے زریعه تخصیص لگائی جاسکتی ہے لیکن امامیه کے قدیم علماء میں سید مرتضیٰ S کی جانب نسبت دی گئی ہے که وه قرآن کے عمومی حکم کے خبرواحد سے تخصیص لگانے کو جائز نهیں مانتے تھے اور اہل بیت میں عیسی بن ابان متوفی ۲۲۱ هجری عدم جواز کاقائل تھا مگر یه که دلیل عام پچھلے مرحله میں دلیل قطعی سےتخصیص پاچکی ہو که اس صورت میں قرآن کو خبرواحد سے تخصیص دینا جایز ہے اور اہل سنت سے ایک اور شخصیت قاضی ابوبکر کی ہے جنهوں نے اس مسئله میں توقف کیا ہے-(۳)

____________________

۱ بقره ، ۱۸۳ .---۲ بقره ، ۱۸۴ .---۳ الاحکام فی اصول الاحکام ، ج۱/۲ ، ص۵۲۵


خبر واحد کے ذریعه قرآن سے عموم کو تخصیص دینے کی مثال یه ہے که قرآن فرماتا ہے ۔

"( يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ ) "

“اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے” ۔(۴)

اس آیت میں باپ کے انتقال پر تمام اولاد کےلئے ارث مشخص کی ا گئییا اور ضمنا یه بتایا گیا که بیٹے کا ارث بیٹی کے ارث سے دو برابر ہے لیکن اس حکم پر بعض روایات کی وجه سے تخصیص لگائی گئی کیونکه جیسا که بیٹا باپ کاقاتل ہو تو اسے ارث نهیں ملے گا ۔

“ "القاتل لایرث ممن قتله ”"(۵)

دلیل مطلق و مقید :

مطلق اس لفظ کو کهتے ہیں که جس میں کو ئی قید و شرط نه ہواور اپنے تمام افراد کو شامل ہو مثلا جس وقت کها جائے۔ “"احلّ الله البیع ”" اس میں معاملات کی تمام قسمیں شامل ہوجائیں گی ۔

مقید اس لفظ کو کهتے ہیں جس میں لفظ قید کے ساتھ ذکر ہو جیسے “"نهی النبی عن بیع الغرر ”"یعنی پیغمبر نے مجهول اور مبهم معاملات سے منع کیا ہے ۔ محققین کے نزدیک مشهور یهی ہے که لفظ مطلق اس صورت میں تمام افراد کو شامل ہوگا که اس کے مقدمات حکمت اسمیں جمع ہوں .یعنی

اولا ً: متکلم مقام بیان اور تمام مقصود بیان کرے ۔

ثانیا: کوئی قید نه لگائی گئی ہو ۔

ثالثا: لفظ مطلق سے خاص افراد کا تبادر نه ہو ۔

رابعا : پڑھنے والے والا کی اپنی نظر میں اس لفظ کا قدر متیقن نظرمیں نه رکھے ۔

اس صورت میں مطلق تمام افراد کو شامل ہوگا اور بغیر کسی دلیل کے جو تقید پر دلالت کرے اطلاق سے صرف نظر نهیں کیا جاسکتا حدیث کے زریعے ذریعے قرآنی اطلاقات کو قید لگانے کاا مکان قطعی ہے کیونکه قرآن کے کئی احکام فقط کلی صورت میں ذکر کئے ہیں اور اس کے مشخصات کو روایات میں بیان کیا گیا ہے عبادات کے سلسله میں قرآن میں کلی طور پر نماز روزه اور حج وغیره کا ذکر کیا ہے اسی طرح معاملات میں کلی طور پر بیع کی حلیت، ربا کی حرمت اور دوسرے معاملات کا ذکر کیا ہے ان تمام موارد میں ان احکام کی کیفیت ،شرائط، اجزاء اور موانع کو روایات میں مشخص کیا جاتاہے اس کے نتیجه میں قرآن کے اطلاقات پرقید لگتی ہے ۔

____________________

۴ نساء ، ۱۱ .---۵ .دعائم الاسلام ،ج۲ ص۳۸۶ ،ح۱۳۷۵ ، مستدرک الوسایل ،ج۱۷ ،ص ۱۴۶ ، ح۲۰۹۹۸


دلیل حاکم و محکوم :

دلیل حاکم یه ہے که دلیل محکوم کو نظر میں رکھتی ہے اور دلیل محکوم کے موضوع کو وسعت دیتی یا قید لگاتی ہے۔ دلیل حاکم اگرچه ظاہرا دلیل محکوم کے موضوع پر نظر رکھتی ہے لیکن در واقع موضوع کو وسعت دیے کر یا وسعت کو تنگ کرکے حکم کی نفی یا اثبات کرتی ہے ان مثالوں کی جانب توجه کیجئے :

قرآن نے ربا کو حرام کرتے ہو ئے کها :" :( وَحَرَّمَ الرِّبَا ) "(۱) اب اگر کسی روایت میں آئے“ "لاربا بین الوالد والولد(۲) " یه روایت دلیل حاکم شمار ہوگی اور آیت دلیل محکوم کیونکه دلیل محکوم کیلئے موضوع (ربا) کو که دلیل حاکم (روایت ) کے ذریعه محدود کیا گیا اگر دلیل حاکم بظاہر موضوع ربا کو نفی کررهی ہے لیکن اس سے مراد یه ہے یهاں حرمت ربا کو اٹھالیا گیا اس لئے که حقیقت میں حکم کو قید تو لگا یا گیا لیکن نفی ربا کو اس مورد میں منحصر کیا که جهاں طرفین پدر اور فرزند نه ہو ں ۔

دوسرا دوسری مثال : قرآن نے وضو کو نماز کیلئے شرط قرار دیا اور کها :

"( إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ ) "(۳)

“جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو دھوؤ ”

. اب اگر کوئی روایت ملے که جس میں کهاجائے :

الطواف بالبیت صلاة ”.(۴)

یهاں پر دلیل حاکم کے ذریعے دلیل محکوم کے موضع (صلاة ) کو وسعت دی گئی اور طواف کعبه کو مصادیق نماز میں شمار کیا گیا لیکن حقیقت یه ہے که شرط طهارت کے حکم وضعی کو غیر نماز کےلئے ثابت کیا گیا دلیل حکومت دلیل کا ملاک یه ہے اگر دلیل محکوم نه ہو تو دلیل حاکم لغو ہوگی –(۵)

. واضح تر یه که جس وقت یه کها جارها ہے که “"الطواف بالبیت صلاة ”" اس کا مفهوم یه ہے که مخاطب نے نماز اور اس کے احکام کو سن رکھا ہے اور اس روایت کا مقصد یه ہے که جو احکام نماز کے ہیں وهی احکام طواف پر بھی جاری ہون ہوں گے نه یه که نماز حقیقت میں طواف کا مصداق ہو ۔

____________________

۱ بقره ، ۲۷۵

۲ وسایل الشیعه، ج۱۳ ، ابواب الربا ، باب ، ۷

۳ مائده ، ۶ .---۴ .عوالی اللئالی ،ج۲ ،ص۱۶۷ ،ح۳ ---۵ رسائل ،فرائد الاصول ، ص۴۳۲


دلیل وارد و مورد :

دلیل وارد ، دلیل مورود کےلئے حقیقی مصداق تعین کرتی ہے یا اس کے مصداق کی نفی کرتی ہے جیسے حجیت خبر واحد کے دلائل جو برائت عقلی ( قبح عقاب بلابیان ) پر وارد ہے کیونکه حقیقت میں بیان حکم شرعی کیلئے ہے پس یهاں برائت کی کوئی جگه نهیں –(۶)

یعنی خبر واحد که کسی حکم پر دلالت کررهی ہے اور جس سے بیان الهیٰ حاصل ہو رها ہے ایسی دلیل کے ہوتے ہوئے مکلف قبح عقاب بلابیان سے تمسک نهیں کرسکتا ۔

دلیل مجمل و مبین :

خطاب مجمل یه ہے که خطاب اپنے مقصود پر واضح طور پر دلالت نه کرے اور متکلم کا مقصد اس سلسلے میں روشن نه ہو ۔

مبین اس خطاب کو کهتے ہیں جس کی دلالت واضح و روشن ہو اور نص اور ظاہر کلام سے شامل ہو به عنوان مثال آیت شریفه میں آیا ہے :

( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُواْ أَيْدِيَهُمَا )

چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ۔(۷)

لیکن اس آیت میں یه مشخص نهیں ہے که هاتھ کو اس کے کس حصه سے کا ٹاجائے کیونکه انگلیوں کے پورسے لیے کر کاندھے تک کئی جوڑ ہیں اور ان میں سے کسی بھی مفصل کو جدا کرنے سے قطع ید صادق آتا ہے پس یه کلام مجمل ہے یعنی اپنے مقصود کو واضح طور سے بیان نهیں کررها ہے اور قرآن میں کسی اورمقام پر قطع ید کے مصادیق بیان نهیں کئے گئے پس اس آیت کی توضیح و تفسیر و تبین کےلئے روایات کی جانب مراجعه کرنا ہوگا تا که قطع ید کی حد معین ہوجائے پهلی دلیل کو مجمل اور دوسری دلیل کو مبین کهتے ہیں ۔

____________________

۶ رسائل ، فرائد الاصول ، ص۴۳۲

۷ مائده ، ۳۸


مفهوم و منطوق :

وه معنا جو بطو ر مستقیم کسی لفظ سے سمجھ میں آئیں اسے منطوق کها جاتاہے اور وه معنا جو بطور مستقیم لفظ سے نه سمجھے جائیں بلکه منطوق کالازمه ہوں اور اس سے اشاره استفاده کیاجائے اسے اصطلاحاً مفهوم کهتے ہیں مثلا جب بھی یه کها جائے که عورت اگر مرد کو جنسی حوالے سے راضی کرے تو نفقه کی حقدار ہے اس کا مفهوم یه ہے اگر عورت نافرمان ہو تو نفقه کا حق نهیں رکھتی ۔

اقسام مفهوم :

مفهوم کی دو قسمیں ہیں ۔

اگر حکم مفهوم و منطوق میں ایک دوسرے کے موافق ہوں ہون تو اسے مفهوم موافق کهاجاتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں ،کبھی لفظ مفهوم بر پر اولویت کے ذریعے دلالت کرے تو اسے مفهوم اولویت کهتے ہیں جیسے قرآن میں آیا ہے:

"( فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ ) "(۱)

اس آیهء کریمه میں ماں باپ کو برابھلا کهنا حرام قرار دیا گیاہے کیونکه جب آیت کا منطوق یه ہے که ماں باپ سے ایسی بات نه کرنا جو ان کی ناراضگی کا سبب ہو تو اس کا مفهوم یه ہے که ان کو برابھلا کهنا او رانهیں ر ان سے گالی گلوج کرنا او رانهیں مارنا پیٹنا به درجه ء اولیٰ حرام ہوگا ۔

اور کبھی منطوق و مفهوم بطور مساوی ایک دوسرے پر دلالت کرتے ہیں جیسے قیاس منصوص العله-(۲) کے موارد جیسے یه کها جائے :

“"لاتشرب الخمر لانه مسکر

" انگور کی شراب مت پیو که اس سے نشه چڑھتا ہے ، اس کا مفهوم یه ہے که جو شراب مستی آور ہو حرام ہے

اگر مفهوم کا حکم منطوق کے حکم کے مخالف ہو تو اس مفهوم کو مفهوم مخالف کهتے ہیں اور مفهوم مخالف کی جمله چھ قسمیں ہیں ۔

____________________

۱ اسراء ، ۲۳

۲ .اللباب فی اصول الفقه ، ص ۱۶۰/۱۵۹


۱- مفهوم شرط جسیے بیوی کے نفقه کی مثال جو اوپر بیان ہوچکی ۔

۲- مفهوم وصف ۔

۳- مفهوم غایت ۔

۴- مفهوم حصر ۔

۵- مفهوم عد د ۔

۶- مفهوم لقب ۔

حجیت مفاہیم کی بحث د رحقیقت میں وجود مفهوم کی بحث ہے یعنی بحث اس میں ہے که کیا شرط مفهوم رکھتا ہے که یا نهیں تا که اس سے حکم شرعی کو استنباط کیا جاسکے-(۳) یا مفهوم نهیں رکھتا

مفهوم موافق کی حجیت میں کوئی تردید نهیں ، انواع قیاس کی بحث میں اس بات کی توضیح آئے گی لیکن مفهوم مخالف اور اس کی تمام اقسام کے سلسلے میں مفصل مباحث ہیں اور ان میں سے بعض اقسام کے حجت ہونے یا نه ہونے پر دلائل پیش کئے گئے ہیں که جسے اصول کی مفصل کتابوں میں مطالعه کیا جاسکتاہے ۔(۴)

ناسخ و منسوخ :

نسخ یعنی گذشت زمانے کے ساتھ حکم کا اٹھا لینا اسلام میں وقوع نسخ پر تمام مسلمانوں کا تفاق ہے سوره بقرۂ میں صریحا حکم قبله کے نسخ ہونے اور اس کا رخ بیت المقدس سے کعبه کی جانب موڑدیے جانے کے خبردی گئی ہے ، قرآن کی دیگر آیات میں بھی وقع نسخ کی تائید ملتی ہے جیسے یه آیت ،(۵)

"( مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ) "

“ ہم جب بھی کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا دلوں سے محو کردیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی جیسی آیت ضرور لے آتے ہیں ”۔

____________________

۳ .انوار الاصول ، ج۲ فص ۲۰

۴ کفایة الاصول، ج۱ ،ص۳۰۰ ، انوار الاصول ،ج۲

۵ .بقره ، ۱۴۲.


قرآن میں قرآن کے ذریعه کتنے موارد نسخ کے موارد ہے اسکے سلسلے میں اختلاف ہے بعض فقهاء ومفسرین نے اس کا دائره اتنا وسیع کردیا که تمام تقیید و تخصیص کے موارد کو نسخ قرار دیا ہے اور کسی نے اتنا محدود کردیا که فقط آیهء نجویٰ کے –(۶) ایک مورد کو مصداق نسخ قرآن به قرآن شمار کیا ہے –(۷) ۔

خبر واحد کے ذریعے نسخ کرنا ممکن نهیں :

اکثر علمائے اسلام کانظریه خبر متواتر کے ذریعے نسخ کرنا جائز ہے شافعی علماء او راکثر علمائے اہل ظاہر اسے جائز نهیں مانتے-۸ اور خبر واحد کے ذریعے حکم قرآن کو نسخ کرنا شیعه اور اہل سنت دونوں کے نزدیک ممنوع ہے. کیونکه نسخ ایک اہم او رنادر مسئله ہے اگر نسخ متحقق ہو تو لازم کے ہےکه یه نسخ تواتر اور قرائن قطعیه کے ساتھ ہو بر خلاف تخصیص و تقید کے بر خلاف که ایک امر رائج ہے فقط ایک گروه ہے جس نے ایک صورت کو مستثنیٰ کی ہے اور کها ہے که خبر واحد کے ذریعے حکم قرآن کا نسخ کرنا صرف حیات پیغمبر(ص)میں جائز ہے-(۹) ۔

علامه حلی S نے منتهی میں کها ہے که :دلیل قطعی ( چاہے وه قرآن ہو یا سنت متواتر ) کو خبر واحد کے ذریعے نسخ کرنا جائز نهیں ہےکیونکه دلیل قطعی خبر واحد سے اقوی ہے پس خبر واحد اور دلیل قطعی کے تعارض کی صورت میں دلیل قطعی پر عمل کرنامشخص ہے ۔(۱۰)

حدیث کے ذریعه قرآن کی تخصیص و تقیید کا امکان :

اصولاً قرآن حامل کلیات مسائل وذریعه احکام کے کلی مسائل کا حامل ہےاس لئے جزئیات و شرائط شرائط، قیود و احکام کےلئے رسول(ص)خدا کی جانب سے بیان کرده تفسیر کی جانب رجوع کرنا لازمی ہے مثلا نماز کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے وه کچھ اس طرح ہے که :

"( وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ ) -(۱۱) "( وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ ) "(۱۲) ( حَافِظُواْ عَلَى الصَّلَوَاتِ ) "(۱۳)

___________________

۶ .مجادله ، ۱۲/۱۳ .----۷ البیان ، آیة الله خویی، ص ۴۰۳/۳۰۶ .----۸ الاحکام ، فی الاصول الاحکام ،ج۲،ص۱۳۸ .--۹ روضة الناظر ابن قدامه ،ج۱ ،ص۲۲۸

۱۰ منتهی المطلب ،ج۲ ص۲۲۸ .---۱۱ .بقره ، ۴۳

۱۲ بقره ، ۴۵

۱۳ بقره ، ۲۳۸


لیکن اس نماز کے انجام دینے کی کیفیت اور اس کے شرائط اس کے اجزاء و موانع اور مستحبات و مکروهات اسی طرح مقدمات او رهزار فروع دیگر که جیسے آیات کے ذریعے حاصل نهیں کیا جاسکتا اگرچه بعض جزئیات کا ذکر ملتاہے جیسے ۔

"( إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ ) "

“جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوںکو دھوؤ اور اپنے سر اور گٹّے تک پیروں کا مسح کرو –(۱۴) ۔

اسی طرح اور بھی آیات که جس میں بعض جزئیات نماز کا ذکر ملتاہے لیکن اس کل کے باوجود وضو اور نماز کے کئی جزئی مسائل ہیں که جسے صرف روایات کی مدد کی روسے ہی حل کیا جاسکتاہے ۔

اسی بنیاد پر یه بحث پیش کی جاتی ہے که کیا خبر واحد کے ذریعه قرآن کے عموم واطلاق و تخصیص یا تقیید لگائی جاسکتی ہے ۔ اگثر فقهائے اسلام نے خبر واحد کے ذریعه تخصیص و تقیید کو ممکن جاناہے صرف اہل سنت کے ایک مختصر گروه نے اسے ممنوع قرار دیاہے ، قاضی ابوبکر باقلانی نے اس مسئله میں توقف کیا اور بعض تفصیل کے قائل ہیں جن میں عیسی ابن ابات نے کها: اگر قرآن کا حکم عام دلیل قطعی ( یعنی قرآن خبر متواتر اور دلیل عقلی قطعی وغیره ) کےذریعه تخصیص پاچکا ہو تو ایسے حکم کو خبر واحد کے ذریعے تخصیص دینا جائز ہے و رنه جائر جائز نهیں ہے،-(۱۵) که خبر واحد کے ذریعه تخصیص و تقید قرآن کے جواز کے بارے میں کها جاسکتاہے که :

بعض آیات میں پیغمبر (ص)کو مبین قرآن م سےتعارف کرایا گیا ہے جیساکه ارشاد ہے :

"( وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ ) "

“ آپ کی طرف بھی ذکرکو(قرآن)نازل کیا ہے”-(۱۶)

___________________

۱۴ مائده ، ۶

۱۵ الاحکام ، فی اصول الاحکام ،ج۱ ،ص۵۲۵

۱۶ نحل ، ۴۴


یه آیات قرآنی کی تبین و تفسیر میں سخن پیغمبر(ص)کی حجیت پر دلیل ہے چاہے سخن پیغمبر خبر متوا تر کی صورت میں ہو با خبر واحد کی صورت میں چاہے آپ کیا سخن قرآن کے متشابهات قرآن کی تفسیر ہو یا ظواہر قرآن کی تفسیر یں، ہر صورت میں آپ کا قول حجت ہے آپ کی جانب سے لگائی گئی تخصیص و تقیید بھی ایک طرح کی تبیین و تفسیر ہے ۔. اہل بیت کا بیان اور آپ حضرات تفسیر و تبیین پیغمبر سے ملحق او رمعتبر ہیںے ۔ اس الحاق و اعتبار کی دلیل حدیث ثقلین اور دیگر احادیث ہیں اس کے علاوه خود اہل بیت علیهم السلام نے صریحاً کها ہے که ہم جوکچھ بھی کهتے ہیں پیغمبر کی جانب سے کهتے ہیں-(۱۷) اصحاب پیغمبر کی سیرت اور سیرۂمسلمین اس لئے حجت ہے که وه احکام کی جزئیات اور تفصیلات کو ان موثق افراد سے لیتے تھے که جسے پیغمبر سے نقل کیا گیا ہو یهاں پر دو سوال اٹھتے ہیں ۔

۱- قرآن حجت قطعی ہے اور بدون تردید خدا کی جانب سے نازل ہوا ہے ۔. لیکن خبرو احد تو حجت قطعی ہے اور دلیل قطعی کو غیر قطعی دلیل کے ذریعے مقاائسه کرنا عقلاً جائز نهیں ہے اسی لئے خبر واحد کی وجه سے قرآن کے اطلاقات و عمومات سے هاتھ اٹھا لینا صحیح نهیں ہے ۔

جواب :

اس سوال کا جواب یه ہے که قرآن صدور کے لحاظ سے قطعی ہے لیکن دلالت کے لحاظ سے اس کے عمومات و اطلاقات قطعی نهیں ہیں او راس کی حجیت صرف اس وقت ہے جب حجیت ظواہر کے خلاف کوئی قرینه موجود نه ہو ۔

۲- یه بات پهلے گذرچکی که ( عرض حدیث بر کتاب )والی روایات اقتضا کرتی ہیں جوکچھ قرآن کے خلاف ہو اسے دور هٹادیاجائے پس اگر خبر واحد عموم قرآن کو تخصیص دیتی ہے یه تخصیص قرآن کے خلاف ہے پس ایسی خبرواحد کو چھوڑدیاجانا چاہیے ۔

جواب:

یه ہے که عرف عقلامیں دلیل خاص کو ، دلیل عام کےلئے مخالف و معارض نهیں شمار کیا جاتا بلکه ایسی دلیل کو مبین قرآن اور قرینه شمار کیاجاتاہے اسی لئے جهاں کهیں بھی دو دلیلوں کے در میان عموم و خصوص کی نسبت ہو وهاں پر باب تعارض کے قواعد کو اجرا نهیں کیا جاتا کیونکه ان دلائل کو ایک دوسرے کا معارض شمار نهیں کیا جاتا ۔

____________________

۱۷ کافی ،ج۱ ،ص۵۳


اجماع :

اجماع استنباط احکام کی تیسری دلیل ہے یه دلیل اہل سنت کے نزدیک بهت زیاده اہمیت کی حامل ہے ان کی نظر میں خلافت کی مشروعیت کا تعلق اجماع کی مشروعیت پر ہے اس سے پهلے "ترتیب منابع استباط " کی بحث میں ابن تیمیه سے نقل کیا جاچکا ہے که وه دلیل جو مجتهد کو دیگر تمام ادله سے بے نیاز کرتی ہے یهاں تک که کتاب و سنت بھی اس دلیل کی وجه سے منسوخ کی جاسکتی ہیں یا ان کی تأویل کی جاسکتی ہے وه دلیل اجماع ہے ۔

ابن تیمیه کا کهنا ہے :

اہل سنت کے نزدیک اجماع کی اہمیت کی وجه ہی سے انهیں "اہل سنت و الجماعت " کها جاتا ہے –(۱)

لیکن مذهب اہل بیت علیهم السلام کے فقهاء اجماع کے سلسلے میں اہل سنت سے جدا کچھ او رنظریه رکھتے ہیں اہم ابتدا ء میں ا هل سنت کی دلیلوں کو مختصر طور سے بیان کرنے کے بعد اجماع کے سلسلے میں مکتب اہل بیت علیهم السلام کی انظر بیان کریں گے۔(مترجم)(۲)

اجماع اہل سنت کی نظر میں :

اہل سنت نے اجماع کی مختلف تعریفیں کی ہیں بعنوان مثال اجماع یعنی " امام امت اسلامیه کا کسی مسئله پر اتفاق" اہل حل وعقد کا اتفاق –(۳) یا رحلت پیغمبر (ص)کے بعد تمام مجتهدین کا اتفاق-(۴) یا رحلت پیغمبر (ص)کے بعد امت محمد(ص)کے ہم عصر مجتهد ین کا دینی امور میں کسی ایک امر پر اتفاق –(۵) یا اہل حرمین کا متفق ہونا-(۶) ۔

لیکن سوال یه ہے که آخر اجماع او رحکم الهیٰ میں یه کونسا ربط او رکیسا تلازم ہے ؟ کسی طرح بعض یا تمام افراد کا کسی حکم میں اتفاق نظر رکھنا اسے حکم الهیٰ ثابت کرتا ہے ؟ کتاب و سنت کے ہوتے ہوئے اسے مستقل منبع استنباط شمار کرنا بلکه اجماع کو قرآن وسنت سے بالاتر سمجھنا کهاں تک صحیح ہے ؟ کیا یه ممکن ہے ؟ اور ایسے اجماع کی حجیت پر کیا دلیل ہے؟ اہل سنت نے اجماع کو ایک مستقل دلیل کے عنوان سے اس کی حجیت پر مختلف دلیلیں پیش کی ہیں ان دلائل کا خلاصه یه ہے که قرآن حدیث دونوں سے اجماع کی حجیت ثابت ہے ۔

____________________

۱ مجموع فتاویٰ ، ابن تیمیه ،ج۲ ،ص ۲۴۶

۲ (مترجم)--- ۳ المستصفی ، ج۱ ،ص ۱۷۳ ۳ الاحکام ،ج۱ ،ص۲۵۴ .---۴ تفسیر فخررازی، ج ۹ ، ص ۱۵۰

۵ المهذب ، فی اصول الفقه ، المقارن ،ج۲،ص ۹۰۰ .---۶ انوار الاصول ، ج ۲ ، ص ۳۹۳


۱۰- اجماع :

اجماع کی تعریف :

لغت میں اجماع عزم و اراده محکم کو کهتے ہیں جیسا که آیه( قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيَّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللّهُ فَقُلْ أَفَلاَ تَتَّقُونَ ) (۱) اور آیه( ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ ) (۲) میں آیاہے اور کبھی اجماع اتفاق رای کے معنی میں آیا ہے جسے اس آیه شریفه میں آیاہے که:( فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِ وَأَجْمَعُواْ أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـذَا وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ ) “یہ طے کرلیا کہ انہیں اندھے کنویں میں ڈال دیں”(۳) لیکن اجماع کے اصطلاحی معنی میں ایسا اختلاف پیدا ہوگیا که اس کی جامع تعریف پیش کرنا ممکن نهیں ہے سوائے اس کے که ہم کهیں اجماع یعنی ایک خاص قسم کا اتفاق جو حکم شرعی کے لئے دلیل بن سکے لیکن یه کن افراد کا اتفاق اجماع میں خصوصیت پیدا کرتاہے جو حکم شرعی کے لئے دلیل بن سکے اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں

۱- سارے امت اسلامی کا تفاق

۲- زمانے میں اس زمانے کے مجتهدین کا اتفاق

۳- اہل مکه اور مدینه کا اتفاق

۴- خلفای راشدین کا اتفاق

۵- اہل مدینه کا اتفاق

۶- شیخیں یعنی ابوبکر، عمر کا اتفاق

۷- اس گروه کا اتفاق جس میں کوئی ایک معصوم ہو

ان اقوال کے پیش نظر اجماع کی حجیت کے اقوال بھی مختلف ہیں اور اس اختلاف کا واضح اثر شیعه فقهاء کی پیش کرده تعریف سے آشکار ہے

____________________

۱- ۱ سوره یونس ، آیه ۷۱.

۲ سوره یوسف ، آیه ۱۰۲

۳ سوره ،یوسف، آِیه ۱۵


صاحب معالم R اجماع کی تعریف میں کهتے ہیں :

الاجماع فی الاصطلاح اتفاق خاص وهو اتفاق من یعتبر قوله من الامه

علامه حلی R تهذیب الاصول میں لکھتے ہیں :

الاجمعاع و هو اتفاق اهل الحل و العقد من امة محمد

صاحب قوانین R کا کهنا ہے :

الاجماع هو اجماع جماعت یکشف اتفاقهم عن رای المعصوم

اور شهید صدر فرماتے ہیں :

الاجماع اتفاق عدد کبیر من اهل النظر والتقوی فی الحکم بدرجه توجب احراز الحکم الشرعی

آخری دو تعریفوں کی خصوصیات ہماری مدنظر ہے جو آنے والی مباحث کے دوران آشکار ہوں گی .(مترجم)

حجیت اجما ع پر قرآنی دلیل :(۱) مترجم)

اہل سنت کے نزدیک قرآن قرآں کی کئی آیتیں اجماع کی حجیت پر دلالت کرتی ہیں جیسے سوره نساء میں خداوند عالم ارشاد فرماتاہے ۔

"( وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا ) "

“اور جو شخص بھی ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول سے اختلاف کرے گا اور مومنین کے راستہ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا اسے ہم ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھر گیا ہے اور جہّنم میں جھونک دیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے”-(۲) ۔

اس آیت سے وه استدلال کرتے ہیں جس طرح مخالفت پیغمبر (ص)عذاب کا سبب ہے اسی طرح سبیل مؤمنین کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلنا بھی عذاب کا باعث بنے گا اگر ایسا نهیں ہے تو پیغمبر کی مخالفت کے ساتھ مخالفت مؤمنین کاذکر بے مقصد و بے نتیجه ہوگا ۔

____________________

۱ .( مترجم)

۲ نساء ، ۱۱۵


ان کی دوسری قرآنی دلیل اسی سوره کی آیت نمبر ۵۹ میں ہے جس میں ارشاد رب العزت ہے که :

"( فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ ) "

“پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو ”-(۳)

. اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کهتے ہیں :

اس آیت کا مفهوم یه ہے که جب مسلمانوں میں اتفاق نظر ہو اور کسی قسم کا نزاع ان کے درمیان نه ہو تو خدا و ر رسول کی جانب رجوع کرنا لازم نهیں پس اس کا مطلب یه ہے ان موارد میں اجماع ہی حجت ہے اور یهی حجیت اجماع کے معنیٰ ہیں-(۴) ۔

.۱۱- حجیت اجماع پرقرآن سے دلیل :

حجیت اجماع پر جودلیلیں پیش کی گئی ان پر قرآن کی سوره نساء کی ایک سوچوده آیتیں ہیں جس کے بارے میں : ابوحامد غزالی نے کها ہے که یهاں مؤمین کی متعابعت سے مراد تمام امور میں بطور مطلق اطاعت واجب ہے بلکه مؤمنین کی متابعت پیامبر کی متعابعت کاہی ادامه ہے اور اس وجه سے واجب ہے

دوسری دلیل : سوره بقره کی ایک سوتنتالیس ویں آیت ہے :

( وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلاَّ عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللّهُ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ )(۵) “اور تحویل قبلہ کی طرح ہم نے تم کو درمیانی اُمت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو”

____________________

۳ نساء ، ۵۹ .کشاف ، ج۱ ،ص۵۶۵؛ احکام القرآن حصاص ،ج۲ ،ص ۳۹۶

۴ الاحکام فی اصول الاحکام ،ج۱ ،ص ۱۹۸

۵-. سوره بقره ، آیه ، نمبر ۱۴۳


صورت استدلال :

امت وسط یعنی وه امت جو اہل خیر وعدالت ہے اور اسی امت سے حق کے علاوه کچھ امید نهیں کی جاسکتی اس لئے ان کا اجماع قطعا حجت ہوگا

شافعی کی جانب نسبت دی گئی ہے که اس نے بھی اس آیت سے اجماع پر استدلال کیا ہے

استدلال کا جواب :

واضح ہے که اہل عدالت اور اہل خیر سے بھی خطا سرزد ہوسکتی ہے چاہے وه تنها ہوں یا باہم اتفاق رکھتے ہوں.

تیسری آیت سوره آل عمران کی ایک سودسویں آیت ہے:( كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ) (۲) “تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظرعام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو”

صورت استدلال :

امت اسلامی بهترین امت شمار ہوتی ہے اور یه اس بات کی دلیل ہے که یه امت خطا سے دور ہے

جواب :

امت اسلامی کی برتری امربالمعروف و نهی از منکر کے فریضه کو انجام دینے سے ہے اس سے اجماع کی عصمت ثابت نهیں ہوتی یه آیات مهم ترین آیات تھیں جو ممکن ہے بعض کے نزدیک اجماع کی حجیت کے لئے مستقل منبع ہو لیکن جیساکه اہل سنت بھی اعتراف کرتے ہیں ان میں سے کوئی آیت اپنے مدعی کے اثبات کے لئے کافی نهیں ہے.(مترجم)

____________________

۲ سوره آل عمران ، آیه ۱۱۰


حجیت اجماع پر روایی دلیل :

اہل سنت سنن ابن ابی ماجه کی ایک مشهور و معروف روایت کو حجیت اجماع کے اثبات میں پیش کرتے ہیں جس میں پیغمبر اکرم (ص)کا ارشادهے ۔

ان امتی لاتجتمع علی ضلالة ”.(۱)

“بے شک میری امت گمراہی پر جمع نهیں ہوسکتی ” ۔

ایک اور نقل کے حساب سے آیا ہے که آپ نے فرمایا:

سئلت الله ان لایجمع امتی علی ضلالة فاعطانیها ”۔(۲)

“میں نے خدا سے دعا کی که میری امت گمراہی پر جمع نه ہو خدانے میری اس دعا کو مستجاب قرار دیا”۔

ان دو احادیث سے انهوں نے حجیت اجماع پر استدلال کیا ہے ۔

مخالفین اجماع کا جواب :

لیکن مخالفین اجماع نے اس سے مستقل دلیل ماننے سے انکار کرتے ہوئے مذکوره تمام دلائل کو مورد تنقید و قرار دیا ہے اور کها ہے که پهلی آیهء کریمه میں مخالفت پیغمبر اور سبیل مؤمنین سے انحراف کی جانب اشاره دو چیزکی جانب اشاره نهیں ہے بلکه راہ مؤمنین سے انحراف اسی مخالفت پیغمبر کی تاکید ہے پس مؤمنین کا راسته کوئی مستقل چیز نهیں ہے کیونکه مؤمنین اسی راسته کو چاہیئے تھےهے جسے پیغمبر (ص)نے بتایا تھا ( یهی جواب غزالی کی کتاب المستصفی میں بھی ملتاہے)-(۳)

اس کے علاوه راہ مؤمنین سے هٹ کر کسی اور راستے پر چلنے سے مراد اسلام و امکاناس کے ارکان کا انکار ہے پس اس آیت کا ربط فقه کے ضروری مسائل سے بالکل بھی نهیں ہے ۔

اگر فرض کرلیا جائے که یه تمام دلائل صحیح ہیں تب بھی قرآن کی رو سے اجماع صرف اس صورت میں حجت ہے که تمام مسلمان بغیر کسی استثناء کے ایک راسته کا انتخاب کریں اور یه چیزوه نهیں جو فقیه کی مشکل حل کرسکے ۔

____________________

۱ وهی مدرک ( سنن ابن ماجه ) ج۲ ،ص ۱۳۰۳

۲ ہمان مدرک ،

۳ المستصفی ،ص۱۳۸


رهی بات دوسری آیت کی تو اس آیت میں دستور دیا جارها که اختلاف میں فیصله کو الله اور پیغمبر کے حوالے کردو اور ان سے انصاف چاہو ظاہر ہے که اس مطلب کا فقهی مسائل سے کوئی ربط نهیں ہے ۔

اس کے علاوه اگر اس آیت کی دلالت کو حجیت اجماع کےلئے مان بھی لیاجائے تب بھی یه آیت اس اجماع کا ذکر کررهی ہے جس میں تمام مؤمنین شریک ہوں .لیکن روایت کے سلسلے میں بعض محدثین نے اعتراض کرتے ہوئے کها که اس روایت کی سنت ضعیف ہے اس مطلب کی تفصیل شرح (نووی) جو که صحیح مسلم کی شرح ہے ملے گی-(۱) ۔

روایت کی سند کے علاوه اس کی دلالت میں بھی اشکال ہے کیونکه ضلالت وگمراہی غالبا اصول دین میں انحراف کےلئے استعمال ہوتے ہیں لهذا یه تعبیر اس فقیه کےلئے جو کسی فقهی مسئاله مسئله میں خطاب کاشکار ہے استعمال نهیں ہوتی یه کوئی نهیں کهتا که وه فقیه ضلالت کے راستے پر گامزن ہے ۔

اگر سند ودلالت کے اشکالات سے صرف نظر کریں تب بھی حجیت اجماع و هاں ثابت ہے که جهاں ساری امت کسی امر پر اتفاق نظر رکھتی ہو اور یه مطلب اجماع کی مذکوره تعریفات کے خلاف ہےجیسے کها گیا که اجماع سے مراد اہل مدینه کا یا اہل حل وعقد کاا تفاق ہے ۔

البته علمائے امامیه کهتے ہیں که اگر کسی مسئله پر ساری امت کا اتفاق ہو تو یه اجماع حجت ہے کیونکه وه معصوم کو کا امت کا جزء مانتے ہیں اور امت کی برترین فرد مانتے ہیں یهاں تک که علمائے امامیه کے اجماع کو رائے معصوم کےلئے کاشف مانتے ہیں ۔

اجماع امامیه کی نظر میں :

مسلک امامیه کی نظر گذشته مطالب سے واضح ہوچکی ہے که ان کی نظر میں اجماع ، حکم شرعی کےلئے مستقل دلیل نهیں بن سکتی مگریه که اجماع رائے معصوم کی کاشف ہو یعنی رائے ونظر معصوم کو کشف کرتی ہو اس لئے که ۔

اولا : تمام فقهاء امامیه بالاتفاق خود کو ائمه علیهم السلام کے پیروکار جانتے ہیں اور کبھی بنا بغیردلیل کے بات نهیں کرتے پس اسکا مطلب یه ہے که وه ہر بات امام کی رائے کے مطابق کرتے ہیں پس فقهاء کا اجماع بھی رائے معصوم کا کاشف ہوگا ۔

ثانیا: فقهاء کے اجماع سے فقیه کو رائے معصوم کا یقین کی حدتک گمان پیدا ہوجاتا ہے کیونکه جب ایک فقیه کا فتویٰ دوسرے فقیه کےلئے حکم شرعی کا گمان پیدا کرتا ہے تو بھلا تمام فقیهوں کا فتویٰ کیسے یقین آور نه ہوگا ۔

____________________

۱ شرح صحیح مسلم ، نووی ، ج۱۳ ، ص ۶۷


ثالثا: جهاں کسی حکم پر کوئی مدرک ( یعنی دلیل شرعی یا اصل ) ہمارے پاس نه ہو ایسے مقام پر علماء کا اجماع علماء اس بات کی دلیل ہے که ان کے پاس اس حکم کی کوئی معتبر دلیل ہے اور اس سے معلوم ہوتاہے که فقها نے اس حکم کو بلا واسطه یا ان وسائط سے جو ہم تک نهیں پهنچے امام معصوم علیهم السلام سے لیا ہے ۔یهاں تک بعض دانشمند سابقه فقهاء کے درمیان کسی مسئله کی شهرت کو اسی اجماع کے ذریعه حجت شمار کرتے ہیں اس بات کی طرف توجه ضروری ہے که اگر علمائے امامیه اس اجماع کو اجماع حدسی سے تعبیر کرتے ہیں اس کا مطلب یه نهیں ہے که یهاں حدس به معنای ظن وگمان ہو بلکه یهاں حدس سے مراد یه وه علم ویقین ہے جو حس اور ائمه علیهم السلام کے مشاہده سے حاصل نهیں ہوا بلکه علماء کے اجماع سے حدس یقینی پیدا ہوا ہے ۔

دلیل عقل :

استنباط کا چوتھا منبع اور چوتھی دلیل اجمالی طور پر سبھی کےلئے مورد اتفاق ہے دلیل عقل ہے اگر چه دلیل عقل کے بارے میں فقهائے اسلام کا موقف یکسان یکساں نهیں ۔ مترجم(۱)

توضیح مطلب :

اہل سنت کے درمیان استباط کے دو نمایاں شیوه پائے جاتے ہیں جسے اصحاب حدیث اور اصحاب رائے کے عنوان سے ایک دوسرے سے جدا کیا جاسکتاہے ۔

یه دو گروه ایک دوسرےکےشیوۂ اسنتباط اور روش ومسلک کو غلط جانتے ہیں ہر ایک دوسرے مسلک کو باطل کرتا اور ایک دوسرے کو سرزنش کرتا نظر آتا ہے ۔

گروه اول : اصحاب حدیث :

اصحاب حدیث کے نزدیک استنباط میں اصلی تکیه گاہ ادله نقلی ہیں –(۲) خاص طور سے حدیث ، سلف صالح کی سیرت اور قول صحابه ( البته سیرت وقول صحابه کو حدیث ہی کی جانب لوٹا یا جاتا ہے )

دوسرا گروه : اصحاب رائے :

اس گروه کا خیال ہے که فقهی نیاز مندیوں کےلئے احادیث کی مقدار کم ہے اور تما م مسائل کی جواب دهی کے لئے ناکافی ہے اس لئے کوئی چاره نهیں سوائے یه که ہم استنباط احکام میں کتاب و سنت کے علاوه دوسری دلیلوں پر بھی تکیه کریں ۔

____________________

۱ .( مترجم)

۲ تاویل مختلف الحدیث ، ص ۵۱


کها جاتا ہے که ابو حنیفه کے نزدیک رسول خدا (ص)سے روایت شده احادیث میں صرف ۱۷ حدیثیں قابل اعتماد تھیں –(۳) اسی لئے ا ن کے نزدیک ادله احکام او رمنابع استنباط چار ہیں ۔

۱- کتاب

۲- سنت

۳- اجماع

ان تین منابع کے بعد چوتھی دلیل اور منبع قیاس ہے-(۴) اسی کو بعض نے قیاس و اجتهاد-(۵) تو کسی نے العقل و استصحاب سے تعبیر کیا ہے-(۶) ہماری نظر میں اہل سنت دلیل عقلی کو قیاس اور استحسان وغیره کا مترادف مانتے ہیں-(۷) ُ

اہل سنت نے اصول فقه میں عقلی مسائل کو تحلیلی او رمنظم طریقه سے پیش نهیں کیا جب که یه مباحث استنباط میں دخیل ہیں متاخرین شیعه نے جن عقلی مباحث کو اپنی اصول کی کتابوں میں منظم اور مرتب طریقه سے یپش کیا اور وسیع پیمانه پر ان کی چھان بین کی وهی مطالب مختصر اور پراکنده طور پر اہل سنت نے اپنی اصول کی کتابوں میں بیان کیئے ہے مثال کے طور پر وه بھی حسن و قبح افعال کا حسن اور قبح ہونا اصل اباحه وجوب مقدمه واجب اجتماع امر ونهی کا محال ہونا یا سقوط حرج از خلق سے حرج کا ساقط ہونا اور سقوط تکلیف از عاجز سے تکلیف کا ساقط ہونا عاجز وغیره ہے یا غافل و ناسی کا مکلف ہونا محال ہے اس قسم کے عقل مباحث عقل ان کی کتابوں میں پراکنده طور پر پائے جاتے ہیں ان کی کتابوں میں ہمیں یه عبارات ملتی ہیں:

۱-المعتزله یقولون بحسن الافعال و قبحها

۲-جامعة من المعتزله یقولون بان الافعال علی الاباحه

۳-مالایتم الواجب الابه هل یوصف بالوجوب

۴-یحتمل ان یکون الشئی واجبا و حراما

۵-استحالة تکلیف الغافل و الناسی

____________________

۳ تاریخ ابن خلدون ،ج۲ ، ص۲ ، ص ۷۹۶ ، فصل ششم علوم حدیث .---۴ فواتح الرحموت ، ج۲ ، ص ۲۴۶ ، المذهب فی اصول الفقه المقارن ، ج ۲ ، ص ۹۵۶

۵ المعتمد فی اصول الفقه ، بصری معتزلی ،ج ۲ ، ص ۱۸۹

۶ المتصفی ، ج ۱ ، ص ۲۱۷ .---۷ للددله العقلیه و علاقتها بالنفطیه


دلیل عقلی فقهی منابع میں سے ایک منبع :

شیعوں کے نزدیک دلیل عقلی اہل سنت کی دلیل قیاس سے الگ ہے کیونکه قیاس دلیل عقلی تو ہے لیکن ظنی ہے اور شیعوں کے نزدیک دلیل عقلی فقط قطعی میں منحصر ہے دلیل عقلی کے تاریخچه سے پته چلتاہے که فقیه کے نزدیک یه دلیل لفظی یا اصول عملی سے بالکل الگ ہے بلکه فقهاء تو عقل کو ایک دلیل عام مانتے ہوئے اس سے کبھی مباحث الفاظ کے ضمن میں تو کبھی قیاس و استصحاب کے ضمن میں کام لیتے ہیں

شیخ مفید (رح)م۴۱۳ ھ اپنے مختصر اصولی رساله میں کتاب وسنت رسول(ص) و ائمه معصومیں علیهم السلام کو اصول احکام شمار کرتے ہیں اور عقل کو ان اصول تک پهنچنے کا راسته بتاتے ہیں

شیخ مفید (رح) کی بات سے یه سمجھ میں آتاہے که فقهی منابع صرف کتاب اور سنت رسول اور سنت ائمه معصومیں ہیں اور عقل کا شمار فقهی منابع میں نهیں ہوتا بلکه اس کی حیثیت صرف ان منابع کو کشف کرنے کی حدتک ہے

شیخ طوسی م۴۶۰ ھ عدۀ الاصول میں عقل کے بارے میں فرماتے ہیں که شکر منعم محسنات عقلی اور ظلم و کذب عقلی قباحتوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن عقل کا حکم شرعی کے لئے دلیل واقع ہونا یه بات ان کے کلام سے واضح نهیں ہوتی

ابن ادریس م۵۹۸ھ۵شاید وه پهلے فقیه امامی ہیں که جنهوں نے کامل صراحت کے ساتھ عقل کو کتب و سنت کی صف میں شمار کرتے ہوئے اسے منابع فقهی کا جز شمار کیا ہے لیکن انهوں نے سرائر کے مقدمه میں دلالت عقل اور اس کی حجیت کے دائره کے بارے میں کوئی بات نهیں کی

محقق حلیم۶۷۶ھ نے اپنی کتاب المعتبر میں دلیل عقلی کی دوقسمیں بیان کی ہے

ایک وه دلیل جو مستقلات عقلی سے مربوط ہے جیسے عدل کی اچھائی اور ظلم کی قباحت

دوسری دلیل نقل الفاظ و مفاہیم کے باب سے مربوط ہے البته ان کی تقسیم بندی بهت زیاده اہمیت کی حامل ہے

شهید اول (رح)م۷۸۶ھ نے بھی کتاب ذکری کے مقدمه میں محقق حلی کی ان دوقسموں کو نقل کرنے کے بعد مسئله ضد اور مقدمه واجب منفعت میں جاری اصل اباحه اور حرمت مضار کو پهلی قسم میں شمار کیا اور برائت اصلی و استصحاب کو دوسری قسم میں ،یهاں بھی ملاحظ کیا جاسکتاہے که دلیل عقلی کے مصادیق کی تشخیص میں اشتباہات ہوئے ان کی توضیح بعد میں آئے گی در کتاب صاحبمعالم(رح)۱ ۱۰۱۱ھ دلیل عقل کے بارے میں کوئی قابل توجه بات نهیں سنی گئی.


فاضل تونی (رح)م۱۰۷۱ھ سب سے پهلے شخص ہیں که جنهوں نے تفصیل کے ساتھ دلیل عقل کی بحث کو چھیڑا اور اسے سات قسموں تک پهنچا یا انهوں نے مستقلات عقلیه اور مستقلات غیر عقلیه کو بطور کامل ایک دوسرے سے جدا کیا اور حکم شرعی میں عقل کی دلالت کو پهلی اور دوسری قسم میں اچھی طرح توضیح دی .اس طرح کها جاسکتاہے که ان کے بعد دلیل عقلی کی بحث کامل طور پر واضح ہوئی فاضل تونی (رح) اخباریوں کے عروج کے دور سے گذررهے تھے اور دیکھ رهے تھے که اخباریوں کی جناب سےعقل کے خلاف اور احکام شرعی میں عقل سے کام لئے جانے پر شدید اعتراضات ہورهے ہیں جس کی وجه دلیل عقلی کے بارے میں وه ابهامات ہیں جو شیعه دانشمندان کے بیان میں پائے جاتے ہیں اسی لئے فاضل تونی (رح) کی جانب سے الوافیه میں اعلی سطح پر بیان شده مباحث عقل کے لئے داد دینا چاہئیے کیونکه انهوں نےکافی حدتک بحث عقلی کے ابهامات کو بر طرف کیا

فاضل تونی (رح) کے بعد میرزقمی (رح)م۱۲۳۱ ھ نے قوانین الاصول میں اور صاحب حدائق نے اپنے مقدمه میں دلیل عقلی کوبیان تو کیا لیکن اس کے بارے میں دل پر بحث نهیں کی اورشیخ انصاری R و آخوند خراسانی(رح) نے بھی اپنی کتابوں میں کوئی نیاباب اس مسئله میں نهیں کھولا بلکه متقدمین کی روش پر مستقلات غیر عقلیه کے اکثر مباحث کو الفاظ کے باب میں داخل کردیا

شیخ محمد حسین اصفهانی (رح)م۱۲۵۰ھ نے الفصول الغرویه میں دلیل عقلی میں مستقل باب کھول کر اس پر سیر حاصل بحث کی ہے

سب سے بهترین کتاب که جس میں دلیل عقلی کی بحث کو بخوبی بیان کیاگیا وه مرحوم محمدرضا مظفر(رح) کی اصول مظفر ہے وه متقدمین کے آثار کے درمیان کتاب المحصول اثر سید محسن اعراجی کاظمی م۱۲۲۷ ھ میں بیان شده مباحث عقلی اور خود مرحوم مظفر(رح) کے شاگرد شیخ محمد تقی اصفهانی (رح) م۱۲۴۸ ھ نے جو مباحث معالم الدین کے حاشیه میں موسوم جو ہدایۀ المسترشدین میں پیش کئے ہیں انهیں بهتر اور لائق تحسین جانا ہے اصول مظفر کے بعد حلقات الاصول میں شهید صدر (رح)نے ادله عقلی کو بهترین انداز میں پیش کیا پھر بھی مستقلات عقلیه سے مربوط مباحث مرحوم مظفر کی کتاب میں زیاده روشن ہیں اور شهید صدر (رح) کا کمال مستقلات غیر عقلیه کے باب کے باب میں بے نظرهے


دلیل عقلی کی تعریف :

دلیل عقلی کی دقیق تعریف بھی علم اصول کے تکامل کا نتیجه ہے البته دلیل عقلی کی ابھی کوئی مشهور جامع تعریف نهیں پیش کی گئی اسی لئے یهاں دلیل عقلی کی اہم ترین تعریف پر اجمالی طور پر نظر ڈالتے ہیں او ران کی خصوصیات میں وارد ہوئے بغیر فقط تعریف پر اکتفا کرتے ہیں.

قوانین الاصول میں میرزا ی قمی کی تعریف :

هو حکمی عقلی یوصل به الی الحکم الشرعی و ینتقل من العلم بالحکم العقلی الی العلم بالحکم الشرعی ”.

تعریف صاحب فصول :

کل حکم عقلی یمکن التوصل بصحیح النظر الی حکم شرعی

تعریف مرحوم مظفر :

کل حکم للعقل یوجب القطع بالحکم الشرعی او کل قضیة یتوصل بها الی العلم القطعی بالحکم الشرعی ”.

ان مذکوره تعریفوں میں آخری دو تعریفین ہماری توجه کا مرکز ہیں

عقل کے با ب میں تشیع کا مسلک تشیع د اور موقف با ب عقل :

ابتداء میں لازم ہے که فقهائے اہل بیت علیهم السلام کے ردمیان عقلی مباحث کا تاریخچه او راس کے سیر و تحول پر سرسری نگاہ ڈالی جائے پھر اس سلسلے میں شیعوں کی آخری تحقیقات کو پیش کیا جائے ۔

بعض متقدمین نے دلیل عقلی کی بحث کو پیش ہی نهیں کیا اور جنهوں نے پیش کیا ہے :

اولا : ان کی عبارات میں ابهام پایا جاتاہے اور یه مشخص نهیں ہو جاتا که آخر استنباط میں عقل کا مقام اور اس مقام کیا ہے کیونکه بعض متقدمین عقل کو قرآن وسنت کے سمجھنے کا ذریعه ارور بعض دیگر منابع ا ستنباط کی طرح اسے مستقل منبع استنباط قرار دیتے ہیں –(۱) مگر اس شرط کے ساتھ که عقل ،کتاب و سنت و اجماع کے طول میں ہو نه که عرض میں یعنی جب مذکوره تین دلیلیں مفقود ہوں تب دلیل عقل کی نوبت آتی ہے-(۲) ۔

____________________

۱ اوائل المقالات شیخ مفید ، ص۱۱، کنزالفوائد کراجکی ،ص ۱۸۶

۲ .سرائر ابن ادریس ، ص۲


ثانیا : یه که متقدمین نے دلیل عقلی کے مشخص و مصادیق پیش نهیں کیے اسی لئے بعض نے اسے برائت اور بعض نے اسے استصحاب سے تعبیر کیا ہے اور بعض نے صرف استصحاب میں منحصر مانا ہے

دهرے دھیرے دهرے دھیرے آنے والے قرنوں میں یه بحث کافی حدتک ساف ستھره اور روشن انداز میں پیش کی گئی اور دلیل عقلی کو دو اساسی قسموں میں تقسیم کیا گیا :

۱- وه دلیل جو شارع کی جانب سے کسی خطاب پر متوقف ہو اسے لحن الخطاب ، فحوی الخطاب اور دلیل خطاب میں منحصر جاناگیا ہے ۔

لحن الخطاب یعنی عقل کا الغائے خصوصیت پر دلالت کرنا ۔

فحوی الخطاب یعنی مفهوم اولویت ۔

دلیل الخطاب یعنی مفهوم مخالف ۔

۲- دلیل عقل کی دوسری قسم وه موارد ہیں که جهاں عقل کسی خطاب اور قرآن و سنت کی لفظی دلیل کے بغیر دلالت کرے جیسے حسن وقبح عقلی-(۳) ۔

دلیل عقلی کی ان دو قسموں کو سب سے پهلے شهد اول نے تکمیل کیا شهید اول نے اپنی مایه ء ناز کتاب ذکری میں دوسری قسم کل مباحث پرکی برائت اصلی اور وه موارد که جهاں امر اقل واکثر کے درمیان دائر ہو وهاں اقل کو انتخاب کرنا اور استصحاب میں ان تین بحثوں کو انهوں نے اضافه کیا ہے-(۴) ۔

اس کے بعد متاخرین نے دلیل عقلی کو جامع تر اور روشن تر پیش کرنے کی کوشش کی اور دلیل عقل کے مباحث کو دو بنیادی مراحل میں آگے بڑھایا :

____________________

۳ معتبر محقق حلی ، ص ۶

۴ ذکری ، مقدمه ، ص ۵


مرحلهء اول :

دلیل عقلی کے موارد و مصادیق کا بیان البته وه مصادیق جو حکم شرعی پر منتهی تمام ہوئی یه یحث صغروی ہے ۔

مرحلهء دوم :

عقلی دلیل کی حجیت کے دلائل (بحث کبروی )

مرحله اول ،حکم عقلی کے موارد ومصادیق:

پهلا مرحله دلیل عقلی کے مصادیق کا مشخص اور معین کرنا ہے علمائے علم اصول کے نزدیک تین مقام ایسے ہیں جهاں دلیل عقلی حکم شرعی پر مشتمل ہوتی ہے ۔

۱- وه موارد که جهاں گفتگو احکام شرعی کے علل و مبادی سے مربوط ہو ۔

۲- وه موارد که جهاں بحث خود احکام شرعی سے مربوط ہو ۔

۳- وه موارد که جهاں پر احکام شرعی کے معلولات کو زیر بحث لایا جائے-(۵) ان تیں موارد میں دلیل عقلی حکم شرعی پر مشتمل ہوتی ہے بهت جلد ان میں ہر ایک کی مثالیں پیش کی جائیں گی ۔

پهلامقام احکام عقلی کا احکام شرعی کے مبادی علل سے مربوط ہونا

اس سلسلے میں علماء فقهاء نے کها ہے که

اولا: احکام و دستورات الهیٰ سے صرف نظر خود انسان کے اختیاری افعال میں حسن و قبح پایا جاتا ہے یعنی بعض افعال عقل کی نظر میں انجام دینے کے قابل ہوتے ہیں که جنهیں انجام دیاجانا چاہیے (ما ینبغی ان یفعل ) ایسے افعل که جس کا انجام دینے والا عقلا ءکی نظر میں قابل مدح و ستائش او ران افعل کے ترک کرنے والا عقلاء کی نظر میں قابل سرزنش و ملا مت قرار پاتاہے اس کی بهترین مثال عدل ہے چون کیونکه ذاتی طور سےا حسن رکھتاہے اور عقلا ءکی نظر میں عدل برتنے انجام دینے والا قابل مدح ہوتا ہے ۔

اور بعض افعال عقلا قبیح ہوتے ہیں که جن کا ترک کرنا ضروری ہے (مالاینبغی ان یفعل ) اور عقلاء کی نظر میں ان افعال کا انحام دینےوالا قابل مذمت و سرزنش قرار پاتا ہے که جس کی بهترین مثال ظلم ہے ظلم ذاتا قبیح اور ظالم عقلا ءکی نگاہ میں قابل مذمت ہے ۔

____________________

۵ انوار لاصول ، ج۲ ،ص۴۹۵


ثانیا : یه که حسن و قبح عقلی او رحکم شرعی میں عقلی ملازمه پایا جاتا ہے البته یهاں ایک تیسری بحث بھی ہے که کیا اس ملازمهءعقلی سے حاصل ہونے والا قطع اور یقین شارع کی نظر میں حجت ہے ؟ انشاء الله اسکی بحث آئنده صفحات میں آئے گی ۔

پهلی بحث میں اشاعره نے حسن وقبح وعقلی کا نکار کیا ہے وه حسن وقبح کو شریعت کے اعتبار ی امور میں شمار کرتے ہیں اور کهتے ہیں فعل حسن وه ہے که جسے شارع حسن شمار کرے اور قبح وه ہے جسے شارع قبیح قرار دے چنانچه ان کا یه جمله مشهور ہے :

الحسن ما حسنه الشارع والقبیح ما قبّحه الشارع ۔.

انهوں نے اسی مسئله کو نسخ کی اساس و بنیاد قرار دیتے ہوئے کها که حسن وقبح شرعی کی اساس پر ہی شارع کو حق حاصل ہے که وه کسی فعل کو ایک مدت تک واجب اور پھر حرام قرار دے –(۶) لیکن" عدلیه " کے نزدیک حسن قبح شرعی نهیں بلکه عقلی اور ذاتی ہے-(۷) اور شارع اسی کا حکم دیتاہے جو حسن ہے اور اس فعل سے روکتاہے جو قبیح ہے ۔ شارع ہر گز ظلم کوواجب اور مباح اور عدل کو حرام یا مکروه قرار نهیں دیتا ۔

دوسری بحث میں اخباریوں نے حکم عقلی اور حکم شرعی کے ملازمه کا انکا رکیا وه کهتے ہیں اگر فرض بھی کرلیں که عقل حسن وقبح کو درک کرتی ہےتب بھی شارع پر عقلا لازم نهیں که وه مطابق عقل حکم دے اصولیوں میں صاحب فصول نے اس نظریه کو اختیار کیا ہے –(۸) ۔

اخباریوں نے اپنے اس دعوی کے اثبات میں کئی دلائل پیش کیےهیں ان کی سب سے پهلی دلیل یهی ہے که عقل میں اتنی قدرت و طاقت نهیں ہےکه وه تمام احکام کی حکمتوں کو درک کرسکے شاید بعض ایسی مصلحتیں ہوں جو عقل پر مخفی ہوں اگر ایسا ہے تو ہم حکم عقل اور حکم شرع کے درمیان ملازمه کو ثابت نهیں کرسکتے ہیں ۔

اس کے علاوه کئی موارد ایسے ہیں جهاں حکم شرعی تو ہے لیکن کوئی مصلحت نهیں جیسے وه احکام و دستورات جو صرف جو انسان کےل امتحان کےلئے جاری کئے گئے اور اسی طرح وه موارد جهان مصلحت تو ہے لیکن حکم شرعی نهیں جیسے مسواک کرنے کے بارے میں رسول خدا (ص)سے نقل ہوا ہے که اگر مشقت نه ہوتی تو میں اسے امت پر واجب کرتا اسی طرح کئی ایسے موارد ہیں جهاں صرف بعض افراد میں ملاک موجود ہے جب که حکم شرعی تمام افراد سے متعلق ہے جیسے نسب کی حفاظت کےلئےعده کا رکھنا واجب ہے ۔

____________________

۶ شرح المقاصد تفتازانی ، ج۴ ، ص۲۸۲ ، سیر تحلیل کلام اہل سنت از حسن بصری تا ابو الحسن الشعری ، ص ۳۶.

۷ مصباح الاصول ، ج۳،ص ۳۴

۸ الفصول الغرویه ، ص ۳۱۹، اصول الفقه ، ج۱ ،ص۲۳۶


اخباریوں کا جواب یه ہے که : جب شارع خود عاقل بلکه تمام عقلا کا سید و سردار ہے اس کے لئے کوئی معنی نهیں رکھتا که جو چیز تمام عقلا کے نزدیک مورد اتفاق ہو اور ایسے امور میں سے ہو جو حفظ نظام او رنوع انسانی کی بقا سے مربوط ہوں اس چیز کا حکم نه دے بلکه اگرحکم نه دے تو یه خلاف حکمت ہے اور اس کا حکم نه کرنا اس بات کی دلیل ہے که وه حکم عقلا کے نزدیک مورد توافق نهیں ہے یه بات معنی نهیں رکھتی که عقل حکم مستقل ہو او راس پر تمام جوانب روشن ہوں پھر یه دعوی ٰ کریں که حکم کی بعض جهتیں عقل پر مخفی ہیں-(۹) اور مسواک کرنے کی مصلحت میں مشقت خود جزء ملاک ہے یعنی مشقت کی وجه سے شارع نے حکم مسواک کو روک دیا رهی بات ان احکام کی جو امتحان کی غرض سے جاری کئےے گئے تو ان امتحانی احکامات کا شمار حقیقی احکامات میں نهیں ہوتا که ہم اس میں مصلحت تلاش کریں اگرچه ان احکامات کے ل مقدمات میں مصلحت ضرور کار فرما ہے ۔

مدت کے مسئلے میں مصلحت نوعی کافی ہے تاکه تمام موارد میں عورتوں پر مدت کا حکم لگا یا جائے خاص طور پر ان موارد یں میں که جهاں یه امتیاز کرناممکن نه ہو یامشکل ہو کس مورد میں حفظ نسب ، تحقق پائے گا اورکس مورد میں تحقق نهیں پائے گا خلاصه یه که ان مثالوں میں یا تو حکم عقل نهیں ہے یا صحیح تشخص نهیں دیا گیا ورنه حکم عقل کی قطعیت کے بعد شارع کی جانب سے اس کی مخالفت کرنا ناممکن ہے ۔

دوسرا مقام: احکام عقلی حکم شرعی کے دا ئرے میں :

یه مقام ان موارد سے مربو ط ہے که جهان جهاں عقل مستقل حکم نه رکھتی ہو بلکه ابتداء میں ایک شرعی حکم ہو که جس سے دوسرے حکم شرعی کے اثبات میں مدد لی جائے بطور مثال :

اگر کسی عمل کا واجب ہونا ثابت ہو تو عقل حکم کرتی ہے که اس عمل کے وجوب اور اس عمل کے مقدمه کے درمیان ملازمه عقلی موجود ہے نتیجتا یه کها جاسکتا ہے که وه مقدمه، وجوب شرعی رکھتا ہے ۔

یهاں پر مباحث هفتگانه کی بحث آئے گی یعنی وه سات موارد که جهاں حکم عقل کی مد دسے حکم شرعی کے اسنتباط میں مدد لی جاتی ہے که و ه سات موارد یه ہیں ۔

۱- مقدمه واجب کا وجوب ۔

۲- ضد واجب کا حرام ہونا ۔

۳- ایک ہی شئی میں امر و نهی کا امکان یا امتناع ۔

____________________

۹ اجود التقریر ات ،ج ۲ ،ص۳۸


۴- اجزاء( یعنی امر واجب کی ادائیگی میں مامور کی اطاعت کا کافی ہونا ) ۔

۵- اس عبادت و معامله کا فاسد ہونا جومورد نهی قرار پائے ۔

۶- قیاس اولویت ۔

۷- بحث ترتب ۔-(۱)

تیسرا مقام: احکام عقلی احکام کا احکام کے نتائج احکام سے ارتباط

یهاں پر نتیجه ءحکم کے ذریعه حکم شرعی کا پته لگایا جاتاہے یعنی معلول کے ذریعه علت کا پته لگایا جاتاہے که جسے اصطلاحاً ( کشف انی ّ) کهتے ہیں بعنوان مثال کے طور سے شبه محصور میں علم اجمالی ہو ( یعنی یه معلوم ہو که شراب پینا حرام ہے مگر یه نهیں معلوم یه سامنے جو گلاس رکھا ہو ا ہے اس میں شراب ہے یاپانی ہے اور کیا اس کا پینا جائز ہے یا حرام ) تو ان موارد میں چونکه اس میں نتیجهء حکم ( یعنی صحت عقاب ) کا اجمالی علم ہے اس نتیجهءحکم کی مدد سے حکم شرعی جیسے وجوب احتیاط ( یعنی موافقت قطعیه کے وجوب ) کو کشف کیا جاسکتا ہے-(۲) ۔

مرحلهء دوم: دلیل عقلی کی حجیت کے دلائل

دلیل عقل سے مراد عقل کےوه قطعی قضیے ہیں که جن کی حجیت ایک مسلم امرهے کیونکه ہم ہر چیز کو قطع و یقین کے راستے سے جانتے اور پهنچانتے ہیں یهاں تک کهجیسے اصول دین خدا ،پیغمبر(ص)اور تمام مذهبی عقاید کا تعلق اسی عقل قطع و یقین عقل سے ہے اسی طرح تمام علوم کے علمی مسائل کو اسی راستے سے درک کیا جاتا ہے ۔

دوسری بعبارت دیگر میں قطع و یقین کی حجیت ایک ذاتی امر ہے او راگر لازم ہو که ہم قطع و یقین کی حجیت کو دیگر یقینی دلائل کے ذریعےثابت کریں تو اس سے دور او رتسلسل لازم آئے گا ۔

هاں اگر حجیت عقل سے مراد عقل ظنی ہو نه که عقل قطعی تو اس عقل ظنی کی حجیت کےلئے ایک قطعی اور یقینی دلیل کی ضرورت ہے مثلا اگر کوئی قیاس ظنی یا استحسان اور اس کے مانند جیسے امور کو حجت مانے تو اس کی حجیت کو دلیل قطعی کے ذریعه ثابت کرنا ہوگا ۔

____________________

۱ باوجود یکه تمام مباحث عقلی ہیں لیکن آج انهیں مباحث الفاظ میں ذکر کیا جاتا ہے شاید مباحث الفاظ میں ذکر کرنے کی علت یه ہے که احکام ان احکام کے تابع ہیں جو کتاب و سنت سے لئے جاتے ہیں

۲ انوار الاصول ، ج ۲ ، ص۵۱۵


دلیل عقل کی حجیت پر اشکالات

جس طرح دلیل عقل کی حجیت کو ثابت کیا گیا اس کے پیش نظر دلیل عقل کی حجیت پر اشکال نهیں ہونا چاہئیے لیکن اس کے باوجود اخباریوں نے دلیل عقلی کی حجیت پر اعتراضات کیے ہیں ان کے اعتراضات سے اندازه ہوجائے گا که یه تمام شبهات عقل قطعی کی جانب توجه نه کرنے کی وجه سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان کے اہم اعتراضات کچھ اس طرح ہیں،

۱- استنباط میں عقل کی دخالت کا نتیجه یه ہوگا که قیاس و استحسان حجیت پاجائیں گے اخباریوں کی جانب سے اصولیوں کی ایک مذمت یهی ہے خاص طور سے بعض اہل سنت جو ادلهء اربعه کے بیان میں چوتھی دلیل قیاس اور استحسان کو قرار دیتے ہیں پس یهیں سے روشن ہوجاتا ہے که اخباریوں کے نزدیک دلیل عقل کا تنها فائده حجیت قیاس کی حجیت ہے نهیں تو کم ازکم اہم ترین ثمره ضرور ہے اس اشکال کا جواب روشن ہے کیونکه شیعه اصولیوں کا اتفاق ہے که قیاس و استحسان حجت نهیں رکھتے اس کے علاوه یه دونوں دلیلیں دلائل ظنی میں شمار ہوتیے ہیں اس لئے محل بحث سے خارج ہیں ۔

۲-عقلی استدلال دو طرح ہیں

بعض عقلی دلیلوں کے فقط حسی نهیں یا حس کے نزدیک ہیں جیسے ریاضیات اور هندسه کے مسائل اس قسم کی عقلی دلائل میں خطاب کا امکان نهیں اور یه مسائل دانشمندوں کے در میان اختلاف کا سبب نهیں بنتے کیونکه فکری خطاؤں کا تعلق ماده سے ملی ہوئی صورت سے ہے لیکن جن دلائل کے مواد حس یا اس سے نزدیک به حس ہوں ان میں ماده اور صور کے ذریعه خطا کا امکان نهیں ہے کیونکه جن قضیوں کا تعلق شناخت صور سے ہے وه قضیے دانشمندوں کے نزدیک واضح امور میں شمار ہوتے ہیں ۔

لیکن بعض مواد ، عقلی مسائل میں حس سے دور ہیں جیسےحکمت طبیعی اور حکمت الهیٰ کے مسائل یا علم اصول فقه یا وه مسائل جو فقهی مگر عقلی ہوں ان مسائل میں صرف عقل پر تکیه نهیں کیا جاسکتا اور نه منطق کے ذریعه اسے ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکه علم منطق ذهن کو صور میں خطا در صور کرنے سے محفوظ رکھتا ہے نه مواد میں خطا سے اور فرض یه ہے که یه قضیے احساس سے دور ہیں اسی لئے اس قسم کے قضیوں میں دانشمندوں کے درمیان کافی اختلافات پائے جاتے ہیں اور اگر کها جائے که ادله ءنقلی میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے تو اس کا جواب یه ہےکه مسائل شرعی میں اختلاف مقدمات عقلیه کے اضافه سے پیدا ہوتا ہے ۔


جواب

اولا : جیساکه گذر چکا دلیل عقلی کی حجیت اس کے قطعی ہونے کی صورت میں ہے اور جس شخص کو کسی چیز کا قطع و یقین ہو اس میں خلاف کا احتمال نهیں دیاجاتا لیکن دلیل ظنی جو که خطا پذیر ہے محل بحث سے خارج ہے ۔

ثانیا : بهت سے اخباری آپس میں اختلاف رکھتے ہیں جب که وه حجیت عقل کے منکر ہیں اور عقل کو ادلهء نقلیه میں بھی داخل بھی نهیں کرتے ۔

۲- ایک اور اشکال ان روایات کی وجه سے ہے جس میں ظاہر استنباط احکام میں عقل کے استعمال کی سرزنش کی گئی ہے او ران ان روایات کے تین گروه ہیں –(۱) ۔

گروه اول

وه روایات که جن میں رائے پرعمل به کرنے رائے سے منع کیا گیا ہو مثلا روایات میں آیا ہے که مؤمن کی علامت یه ہے که وه اپنے دین کو اپنے پروردگار سے لے نه که لوگوں کی رائے سے-(۲) ۔

ایک اور روایت میں آیا ہے : فقط پیغمبر اکرم(ص)کی رائے حجت ہے نه کسی اور کی –(۳)

کیونکه خداوند عالم نے سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا :

"لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللّهُ "

“لوگوں کے درمیان حکم خدا کے مطابق فیصلہ کریں” ۔(۴)

ایک اور حدیث میں آیا ہے که جس وقت سوره "اذا جاء نصر الله والفتح " نازل ہوا تو پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:

خداوند عالم نے میرے بعد اٹھنے والے فتنوں میں جهاد کو مؤمنین پر واجب قرار دیا

وه میرے بعد دین میں بدعت در دین ( یعنی جس وقت لوگ اپنی رأئے پر عمل کریں گے ) سے جهاد کریں گے –(۵) ۔

____________________

۱ انوار الاصول ،ج۲ ،ص۲۷۵

۲ ان المؤمن اخذ دینه عن ربه ولم یا خذه عن رأیه ، وسایل شیعه ،ج۱۸ ، باب ۶، از ابواب صفات القاضی ،ج۱۱،اسی طرح حدیث ۱۴ ہے

۳ .گزشته،ح۲۸

۴ نساء ،۱۰۵

۵ .گزشته ، باب ،۶،ح ۵۰


گروه دوم

وه روایات که جن میں حقائق قرآن او راحکام کو عقل کے ذریعه درک کرنا غیرممکن بتایا گیا ہے عبدالرحمن بن حجاج کهتے ہیں : میں نے امام صادق علیه السلام سے سنا ہے که آپ نے فرمایا:

لیس شئی ابعد من عقول الرجال عن القرآن ”۔.(۶)

قواعد فقهیه

فقیه کےلئے مهم ترین امو رمیں سے ایک امر که جس میں تحقیق و جستجو لازم ہے ، قواعد فقه ہیں ۔ قواعد فقه سے کئی ایک مباحث او راستنباط احکام میں استفاده کیا جاتاہے او رکبھی خارجی موضوعات میں مشکلات کے حل کےلئے ان سے مدد لی جاتی ہے ۔

مهم ترین قواعد که جن کی تعداد تیس سے زیاده ہے ان میں سے چند قاعدے یه ہیں قاعده ضرر ولاحرج ،قاعده صحت ،قاعده میسور ،قاعده ید، قاعده تجاوز وفراغ ،قاعده ضمان ، قاعده اتلاف ، قاعده غرر ، قاعده اقرار ، وغیره ان قواعد کے مدارک و مستندات قرآن او روه ورایات ہیں جو پیامبر اعظم و ائمه معصومین علیهم السلام سے وارد ہوئے ہیں اور ان میں بعض قواعد وه ہیں جو تمام عقلائے عالم کے درمیان رائج ہیں جسے اسلام نے بھی صحیح ماناہے مثال کے طور پر قاعده لاحرج ( یعنی جن تکالیف میں انسان عسروحرج اور ضرر و زیان میں گرفتار ہو ، جب تک وه عسرو حرج باقی ہے وه تکالیف مکلف کی گردن سے ساقط ہیں ) ۔

اس قاعده کو سورۂحج کی ایک آیت سے اخذ کیا گیا ہے جس میں ارشاد ہے :

"( وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ) "(۷)

“اور دین میں کوئی زحمت قرار نهیں دی ہے” ۔

اس کے علاوه رسول اسلام(ص)کی معروف حدیث ، حدیث“" لاضر ولاضرار...”" که جس کا ذکر تمام منابع اسلامی میں آیا ہے استفاده ہوتاہے که وه احکام جو مسلمانوں کےلئے ضرر و زیان کا سبب ہیں ان کی گردن سے ساقط ہیں اسی طرح قاعده "حجیت قول ذی الید" ایسا قاعده ہے جو تمام عقلا کے درمیان جاری ہے اور شارع مقدس نے اسے صحیح ماناہے ۔

یه قواعد بهت اہم اور مفید ہیں ، فقیه ان قواعد کی مدد سے انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی کے متعدد مشکلات اور جدید مسائل کو ( بالخصوص و ه مسائل که جن کے بارے میں کوئی خاص روایت وارد نهیں ہوئی ہے ) آسانی سے حل کرسکتا ہے اگر کوئی فقیه قواعد فقه پر کامل تسلط نه رکھے وه ابواب فقیه کے اکثر بالخصوص جدید مسائل کے حل میں عاجز رهے گا-(۸) ۔

____________________

۶ گزشته حواله ، باب ۱۰ ،ح۲۲، باب ۱۱ ،ح ۳۲ ، باب ۶ ، ح ۷ .---۷ حج ، ۷۸

۸ قواعد فقه سے بیشتر اشنائی اور ان کے مدرک دلائل اور تقسیمات سے کامل وافقیت کے لئے آیة الله مکارم شیرازی کی کتاب القواعد الفقیه کی جانب رجوع کیا جاسکتاہے


اصول عملیه

اصول عملیه سے مراد وه قواعد واصول ہیں که جس وقت فقیه معتبر شرعی دلائل جیسے کتاب و سنت و اجماع دلیل و عقلی تک دسترسی پیدا نه کرسکے ایسی صورت میں وه انهی اصول عملیه کی جانب رجوع کرتاہے مثال کےطور پر جب بھی یه شک کرے که کیا فلاں موضوع خمس و زکات سے متعلق ہے یا نهیں اور اس سلسله میں ادلهء اربعه سے بھی کوئی دلیل نه ملے تو وه ایسی صورت میں ( اصل برائت ) کی جانب رجوع کرتاہے اصل برائت یعنی اصل یه ہے که جب تک کسی معتبر دلیل سے تکلیف شرعی ثابت نه ہو تب تک مکلف پر کوئی ذمه داری نهیں ہے ۔

اسی طرح اگرفقیه کو کسی فعل کے وجوب یا حرمت عملی میں شک ہو یعنی یه نه معلوم ہو که یه عمل واجب ہے یا حرام اور اس عمل کی حرمت و وجوب پر کوئی دلیل بھی موجود نه ہو تو ایسی صورت میں فقیه ( اصل تخییر) کی جانب رجوع کرتاہے جس میں مکلف مختار ہوتا ہے که اس فعل کو انجام دے یا اجتناب کرے۔ اگر موارد شک کےموارد میں کوئی سابقه پهلے سے کوئی حالت موجود ہو ، بعنوان مثال کے طور پر مکلف یه جانتاہو که عصیر عنبی ( انگور کارس آگ ) پر پکنے اور غلیان سے پهلے پاک تھا ، جب بھی اسے یه شک ہو که غلیان باعث نجاست ہے یا نهیں اور اس کے اثبات میں کوئی معتبر دلیل بھی نه ہو تو سابقه پهلی والی حالت سے( استصحاب) کرکے اس پر طهارت کا حکم لگائے گا ۔

اور کبھی کسی چیز میں شک کرے لیکن اس مشکوک کے اطراف میں واجب و حرام کا اجمالی علم ہو مثال کے بطور مثال پر مکلف یه جانتاہے که کام معیشت کے مقدمات فراہم کرنے کےلئے کیا جائے اس میں نماز واجب ہے لیکن یه نهیں معلوم که آیا نماز قصر ہے یا تمام ، پس حالت سفر میں وجوب نماز کا اجمالی علم تو ہے لیکن نماز کے قصر یا تمام ہونے میں شک ہے ۔. اور نماز کے قصر یا تمام ہونے پر کوئی معتبر دلیل بھی نهیں ایسی صورت میں مکلف اصل احتیاط کی بنیاد پر اپنا عملی وظیفه مشخص کرتے ہوئے دونوں حکم بجالائے گا یعنی نماز کو تمام اور قصر دونوں طرح سے انجام دے گا تاکه اسے برائت ذمه یعنی ذمه داری کی ادائیگی کا یقین ہوجائے کیونکه شبهات محصوره میں علم اجمالی کاہونا احتیاط کا باعث ہوتا ہے ۔ برائت و استصحاب تخییر و احتیاط یه چاورں اصول اصول عملیه کهلاتے ہیں جنهیں مجتهد معتبر شرعی دلیل نه ہونے کی صورت میں اور شک میں موجود ه شرائط کے مطابق ان میں سے کسی ایک اصل کی مدد سے اپنے اور مقلدین کے عملی وظفیه کو مشخص کرتاہے ۔


ب دوسری عبارت دیگر میں کسی بھی حالت میں فقیه پر کشف احکام کشف کرنے کے راستے مسدود نهیں بلکه کھلے ہوئے ہیں فقیه استنباط کی اس میں سنگلاخ وادی میں کبھی معتبر اجتهادی دلائل تک پهنچتاہے اور ان دلائل کی مدد سے احکام کو کشف کرتاہے .اور کبھی کسی حکم میں شک و شبه کا شکار ہوتاہے پهلی صورت میں وه دلیل کے مطابق فتوی دیتاہے اور دوسری صورت میں ان چار اصولوں کی مدد سے وظیفه عملی معین کرتاہے پس جن امور میں اصل حکم میں شک ہو که واجب ہے یا حرام تو وهاں اصل برائت جاری کرتاہے اور جن موارد میں واجب یا حرام میں سے کسی ایک امر کے درمیان شک ہو تو اصل تخییر سے مدد لی جاتی ہے اور جن موارد میں حکم سابقه پهلی حالت رکھتا ہو ( چاہے وجوب ہو یا حرمت ) تو ان موارد میں استصحاب کے مطابق سابقه پهلی حالت پر حکم لگایاجائے گا او رجن موارد میں واجب دو یا چند احتمال میں محصور ہو یا یه که حرام چند احتمالات میں محصور ہو تو ایسی صورت میں احتیاط کا حکم لگایاجائے گا یعنی اصل احتیاط کے حساب سے واجب کے تمام احتمالات انجام دینے ہوں گے اور دوسری صورت میں حرام کے تمام احتمالات سے اجتناب کرنا ہوگا ۔

یهاں پر دو نکته قابل توجه ہیں

الف : اصول عملیه (یعنی برائت و استصحاب و تخییر و احتیاط ) کی ہر اصل محکم او رمعتبر دلیل پر استوار ہے فقط فرق اتنا ہے که کسی اصل کی دلیل عقلی ہے جسے اصل تخییر او رکسی اصل کی دلیل شرعی ہے جیسے اصل استصحاب اور کسی اصل کی دلیل عقلی اور شرعی دونوں ہے جیسے اصل برائت و احتیاط ہے ان چاروں اصولوں کو علم اصول کی کتابوں میں ان کے دلائل کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔(۹)

ب: مذکوره چار اصول کو کبھی شبهات حکمیه اور کبھی شبهات موضوعیه میں جاری کیا جاتاہے ۔ شبهات حکمیه یعنی وه مقامات که جهاں حکم شرعی معلوم ومشخص نه ہو (جیسے اوپر بیان کی گئی تمام مثالیں ) شبهات موضوعیه یعنی وه مقام که جهاں حکم شرعی تو مشخص ہے لیکن موضوع خارجی کی وضعیت روشن نهیں بطور مثال کے طور پر: ہم جانتے ہیں که اسلام میں مست کرنےوالے مشروبات اسلام میں بطور قطعی طور پرحرام نهیں لیکن ہمیں شک ہے که کیا یه مایع و مشروب جو ہمارے سامنے ہے مسکر ہے یا نهیں اس قسم کے موارد میں برائت او راسی طرح مناسبت کے حساب سے دوسرے اصولوں کو جاری کیا جائے گا ، اصول عملیه کے شرائط و خصوصیات او رکیفیت اجراء کے سلسله میں مباحث بهت زیاده دقیق ہیں : اسی لئے صرف ایک مشّاق مجتهد ہی نهایت دقت و مشق کے بعد انهیں جاری کرسکتاہے اور اصول اجراء کرنےئے اصول کے راستے تلاش کرسکتاہے ۔

____________________

۹ کتاب انوار اصول اور دیگر کتابوں کی جانب رجوع کیا جائے


استنباط کے مورد اختلاف منابع

اب تک جن منابع کے بارے میں گفتگو ہوئی وه سارے منابع استنباط کے مورد اتفاق منابع ہیں ان کے علاوه اور بھی منابع ہیں که جن میں فقهاء اتفاق نظر نهیں رکھتے پهلے یه بات گذر چکی که مصادر اور منابع احکام ایسے ہونے چاہئیے جس سے قطع و یقین حاصل ہو اور اگر ان سے ظن و گمان حاصل ہوتا ہوتو اس صورت میں کوئی ایسی قطعی دلیل ہو جو اس ظن و گمان کے اعتبار و حجیت کو ثابت کرے ۔

کتاب کے اس حصه میں جن منابع اسنتباط پر گفتگو ہوگی یه وه موارد ہیں که جس پر (اجتهاد رائے) کا کلمه صادق آتاہے۔ اس لئے که اجتهاد کی دو اصطلاح ہیں :

الف : عام طور پر اجتهاد اسے کهتے ہیں جس میں فقیه ادلهءشرعیه کے ذریعه حکم شرعی کو کشف کرنے کی کوشش کرتاہے اس طریقه کا اجتهاد تمام علمائے اسلام کے نزدیک معتبر اور مورد اتفاق ہے ۔

ب: اجتهاد به معنای خاص وه اجتهاد ہے که جسے اجتهاد بالرأئے کها جاتا ہے اس اجتهاد میں مجتهد استحسان، مصالح مرسله اور وه موارد که جن میں نص موجود نه ہو سد و فتح ذرایع سے کام لیتاہے اسی لئے بعض افراد کلمه اجتهاد کو قیاس کا مترادف مانتے ہیں –(۱)

اجتهاد کی یه دوسری قسم اہل سنت سے مخصوص ہے ، اخباریوں کی جانب سے شیعه اصولیوں پر جو اعتراضات ہوئے او راجتهاد کو مذموم قرار کیا دیا گیا اس کی وجه یهی تھی که وه ان دو قسم کے اجتهاد میں فرق کے قائل نهیں ہوئے اور یه سمجھ بیٹھے که شیعه مجتهدین کا اجتهاد اہل سنت کے اجتهاد کی طرح اجتهاد بالرأئے پر استورا ہے اسی لئے انهوں نے مجتهدین اور ان کے اجتهاد کی سخت مخالفت کی ۔

اگرچه (اجتهاد بالرأئے )کے طرفداروں نے استحسان ،قیاس او ردیگر تمام موارد کے اعتبار و حجیت پر کتاب و سنت سے دلیلیں پیش کی ہیں لیکن ہماری نظر میں اس قسم کے اجتهادات کی دو وجهیں ہیں :

الف : ایک وجه خود صحابه ءکرام ہیں بعض صحابه ءکرام کا اجتهاد بالرأئے سے کام لینا جب که دیگر صحابه ءاس قسم کے اجتهاد کے سخت مخالفت تھے جناب ابن عباس اور عبدالله بن مسعود کے بارے میں نقل ہوا ہے که وه اجتهاد بالرأئے کرنے والوں کو مباہل ه کی دعوت دیتے تھے حضرت علی علیه السلام سے روایت ہےکه آپ نے فرمایا :

____________________

۱ روضة الناضر ، ج۲ ،ص۱۴۱


لوکان الدین بالرأی لکان المسح علی باطنة الخف اولی من ظاهره ”۔.

اگر نظام دین اجتهاد بالرأئ پر قائم ہوتا تو تلوے پر مسح کرنا پیر کی پشت پا پر مسح کرنے سے بهتر سمجھاجاتا-(۲) ۔ وه افراد جو اجتهاد بالرائے میں سرفهرست ہیں اورشهرت رکھتے ہیں ان میں سب سے پهلے عمرابن خطاب ہے اور اصحاب کے بعد ابو حنیفه کو امام اہل الرأئے کا امام کهاگیا اسی وجه سے اکثر علماء و محدثین نے ابو حنیفه کی مذمت کی ہے-۳ مکتب رائےکی نسبت فقهائے کوفه کی جانب دی گئی جب که ان کے مقابل فقهائے مدینه کو مکتب حدیث سے یاد کیا گیا-(۴) . وه افراد که جن کا نام اصحاب الرأئے میں آتا ہے ان میں سے چند نام یه ہیں ابو یوسف ابن سماء ابو مطیع بلخی اور بشیر مرلسی-(۵) ۔

ب: اجتهاد بالرأئے کے رواج کی دوسری وجه یه که رحلت پیغمبر (ص)کے بعد وصول احکام کے راستے بند ہوگئے جیسے ہی آپ نے وفات پائی وحی کا سلسله منقطع ہوگیا اور لوگ خاندان وحی یعنی اہل بیت پیغمبر(ص)سے دور ہوگئے جس کی وجه سے وه حقیقی احکام جو شارع کے مورد نظر تھے ان تک پهنچنے کا راسته بند ہوگیا اور یهی بات اجتهاد بالرائے کی تقویت کا سبب بنی ب دوسری عبارت دیگر میں انسداد احکام کا تصور اجتهاد بالرائے کا سبب بنا کیونکه روز مره کے حوادث و واقعات سے حالات کی تبدیلی اور وسائل و آلات کی ترقی کی وجه سے ہر روز نئے نئے مسائل وجود میں آتے رهے که جس کی تعداد کم نه تھی او ریه تصور کیا جانے لگا تھا که ایک طرف نصوص دینی ان مسائل کے جواب کےلئے کافی نهیں دوسری طرف دین اسلام آخری دین الهیٰ ہے جو رهتی دینا تک قائم و دائم رهنے اور تمام وظایف کو بیان کرنے والا ہے پس لازم ہے که اس قسم کے اجتهاد ات کو حجت قرار دے کر جدید مسائل میں استنباط احکام کا رسته کھولاجائے ۔

اس کے برعکس پیروان مکتب اہل بیت علیهم السلام ائمه معصومین علیهم السلام کی سنت کو پیغمبر(ص)کی سنت کے برابر جانتے تھے اس لئے انهیں احادیث کی دسترسی میں کوئی مشکل یپش نهیں آئی اور وه اس لحاظ سے غنی رهے اور واضح ہے که سنت میں ایسے کلی اور عام قواعد موجود ہوتے ہیں جنهیں جزئی موارد پر تطبیق دیاجاسکتا ہے کیونکه ان کلی قواعد میں موارد شک ، فقدان نص یا تعارض نصوص کی صورت میں مکلفین کے وظائف کو بیان کیا گیا ہے-(۶) اسی لئے اجتهاد بالرائے کی نوبت ہی نهیں آئی اس لئے که وه اصول جن کا ذکر اوپر گذر چکا وه رفع انسداد کو دور کرنے کےلئے کافی ہیں ۔

بهرحال ہم یهان اجتهاد بالرائے کے چند مصادیق کو بیان کرتے ہیں ۔

____________________

۲ الاحکام فی اصول ا لااحکام ، ج ۴ ، ص ۴۷ ، سنن بهیقی ، ج۱ ، ۲۹۲ .--۳ تاریخ بغدادی ،ج ۱۳ ، ص ۴۱۳ ---.۴ مناہج الاجتهاد فی الاسلام ، ص ۱۱۵ .---۵ مناہج الاجتهاد فی الاسلام ، ص ۱۱۷ .--۶ اسی کتاب میں مسائل مستحدثه کے عنوان کے تحت جو مطالب آئے ہیں ان کی جانب رجوع کریں


قیاس (مترجم)

کسی خاص موضوع کےحکم کو دوسرےموضوعات پر جاری کرنے کو قیاس کهتے ہیں(مترجم)-(۱) . قیاس کی چار قسمیں ہیں:-(۲)

۱ (مترجم) قیاس کی تعریف :

قیاس لغت میں اندازه گیری کے معنی میں آیاہے مثلا کهاگیاہے که قست الثوبُ بالذراع ،کپڑے کو ذرایع کے ذریعه ناپا

لیکن اصطلاح میں اس کی مختلف تعریفین کی گئی ہیں الاصول العامه للفقه المقارن نامی کتاب میں آیا ہے که “قیاس عبارت ہے که فرع کا حکم شرعی کی حالت میں اپنے اصل کے برابر ہونا ”.

استاد عبدالوهاب خلاّف قیاس کی تعریف میں کهتے ہیں :

قیاس اصولیوں کے نزدیک ایسا مسئله که جس پر نص موجود نه ہو اسے کسی ایسے مسئله سے که جس پر نص آئی ہےملحق کرنا او ریه الحاق اس حکم سے ہے که جس کے لئے نص وارد ہوئی ہے اس لئے که دونوں مسئله علت حکم کے اعتبار سے مساوی ہیں(۲)

مرحوم مظفر فرماتے ہیں :

امامیه کی نظر میں قیاس کی بهترین تعریف یه ہے که :

هواثبات حکم فی محّل بعلة لثبوته فی محّل آخر بتلک العلةّ .(۳)

قیاس یعنی ایک حکم کو جو اس کی علت کی وجه سے ثابت ہے اسے دوسرے مقام پر اسی علت کی وجه سے ثابت کرنا

۲ (مترجم) قیاس کے ارکان :

قیاس کے چار رکن ہیں :

۱- اصل که وهی مقیس علیه ہے حکم اصل شارع کی جانب سے صادر ہوا ہے اور روشن ہے جسیے شراب کی حرمت

____________________

۱-(مترجم) الاصول العامه للفقه المقارن ، ص ۳۰۵

۲ .علم اصول الفقه ، ص۵۲

۳ اصول الفقه مظفر ، ج۳ ،ص۸۳


۲- فرع وهی مقیس ہے که جس کا حکم شرعی معلوم نهیں اور قیاس کرنے والا یه چاہتاہے که اس کے حکم شرعی کو ثابت کرے مثال میں فرع یا مقیس وهی فقاع ہے.

۳- علت یعنی وه جهت مشترک جو اصل و فرع کے درمیان ہے که جسے اصطلاح میں جامع بھی کهتے ہیں مثال میں “جامع” وهی مسکر ہوناہے جو که شراب اور فقاع میں مشترک ہے

۴- حکم ، حکم سے مراد وهی حکم شرعی ہے که جو اصل پر وارد ہوا دوسری عبارت میں حکم اصل روشن اور معتبر شرعی دلیل سے ثابت ہواہو جیسے شرب کا حرام ہونا مخالفوں کی.

۱- قیاس منصوص العله

یه ہے که شارع کسی حکم میں علت کا ذکر کرے اور چونکه حکم کا دار و مدار علت پر ہوتاہے .پس فقیه ان موضوعات میں که جن میں وه علت موجود ہے حکم کو ایک موضوع سےدوسرے موضوعات پر جاری کرتا ہے مثال کے طورپر شارع کهے :

لاتشرب الخمر لا نه مسکر.

شراب مت پیو کیونکه شراب نشه آور اور مست کرنے والی ہے ۔

اگر یهاں پر فقیه حرمت کے حکم کو دیگر مست کننده اشیاء پر جاری کرے تو یه عمل قیاس مصنوص العله کهلائے گا-(۱) کیونکه لاتشرب الخمر در حقیقت “لاتشرب المسکر” ہے ۔

۲- قیاس اولویت

اس قیاس کو کهتے ہیں جس میں ایک موضوع کے حکم کو اولویت قطعی کی بنیاد پر دوسرےموضوع پر جاری کیا جاتا ہے جیسا که خداوند عالم نے فرمایا:

"( فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ ) "

“ ماں باپ کے آگے اف نه کرنا ” ۔(۲)

یه جمله اولویت قطعی کی بنیاد پر دلالت کرتاہے که ماں باپ کو برا بھلا کهنا حرام ہے کیونکه جب اف کرنا حرام ہے تو برابھلا کهنا کیسے جایز ہو سکتاہے ۔

____________________

۱ اصطلاحات الاصول ، ص۲۲۶.

۲ اسراء ، ۲۳


۳- قیاس ہمراہ تنقیح مناط کے ساتھ

یه قیاس وهاں جاری ہوتاہے جهاں موضوع کے ساتھ حالات و خصوصیات کا ذکر ہو لیکن ان حالات و خصوصیات کا اصل حکم میں کوئی دخل نه ہو پس ایسی صورت میں فقیه ان حالات و خصوصیات سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف حکم کو نظر میں رکھتاہے اور اس حکم کو دوسرے حکم پر جاری کرتاہے مثال کے طور پر آیه تیمم میں مذکو ر ہے :

"( فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ ) "

“اگر پانی نه ملے تو تیمم کرو” ۔(۳)

جب که ہم جانتے ہیں خود پانی کا ہونا یا نه ہونا حکم تیمم میں موضوعیت نهیں رکھتا اسی لئے اگر پانی ہو اور وضو کرنے والے کے لئے ضرر رساں ہو تب بھی حکم تیمم جاری ہے یعنی پانی کے ضرر رساں ہونےکی صورت میں اس پر تیمم واجب ہے اور مثال بالکل اس مثال جیسی ہے که کوئی شخص یه سوال کرے که اگر کوئی مرد مسجد میں نماز ظهر پڑھ رها ہو اور اسے تیسری اور چوتھی رکعت کے درمیان شک ہوتو ایسی صورت میں نماز گزار کا کیا وظیفه ہے ؟ امام اس کے جواب میں یه کهے که وه چوتھی رکعت پر بنا قرار دے اور ایک رکعت نماز احتیاط بجلائے اب یهاں پر فقیه تنقیح مناط کا سهار الیتے ہوئے اس حکم کو ہر چار رکعتی نماز پر جاری کرسکتاہے کیونکه نماز ظهر یا مسجد کا ہونا اور شک کرنے والے کا مرد ہونا ان میں سے کوئی بھی مورد موضوع کے لئے قید نهیں بلکه ایک حالت ہے پس ان حالات کو حذف کرکے خود اصل حکم کو مشابه موضوع مشابه پر جاری کیا جاسکتاہے ۔

قیاس مستنبط العله

اس قیاس کو کهتے ہیں جس میں اپنے ظن و گمان سے علت کشف کرتاہے اور حکم کو ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر جاری کرتا ہے پهلے موضوع کو اصل یا مقیس علیه کهتے ہیں اور اس موضوع کا حکم مسلم و مفروض ہے دوسرے موضع کو فرع یا مقیس کهتے ہیں کیونکه اس موضوع کا کوئی حکم نهیں فقط اصل حکم میں مشترک ہونے کے گمان پر پهلے موضوع کے حکم کو اس پر جاری کیا جاتاہے ابتدائی تین قسموں میں قیاس تمام فقها کے نزدیک حجت ہے کیونکه کسی میں بھی اصل وقوع کا وجود نهیں بلکه مقیس اور مقیس علیه دونوں اصل ہیں ب دوسری عبارت دیگر میں خود دلیل کے ذریعے ہر دو موضوع کے لئے حکم ثابت کیاجاسکتاہے-(۴)(۵)(۶)

____________________

۳ نساء ، ۱۱۵ .---۴ انوار الاصول ، ج ۲،ص ۵۱۹ ---۵ اتحاف زری البصائر ، شرح روضة الناظر ، ج ۴،ص۲۱۴۴.

۶ ر.ضة الناظر ،ج۲ ،ص۱۵۱.


قیاس کی چوتھی قسم یعنی مستنبط العله اہل سنت کے نزدیک حجت ہے خاص طور پر ابو حینفه کے پیروکار که انهیں قیاس پر بهت زیاده اعتماد ہے لیکن مکتب اہل بیت علیهم السلام کے ماننے والے اس قیاس کا انکار کرتے ہیں اسی طرح اہل سنت میں نظام اور اس کے تابعین اسی طرح گروه ظاہریه جس میں ا بن حزم او رداود وغیره شامل ہیں اور بعض معتزله که جس میں جعفربن حرب ، جعفر بن مبشر ، محمد بن عبدالله اسکا فی کا نام آتا ہے یه سب قیاس کو باطل جانتے ہیں بلکه ابن حزم نے قیاس کے خلاف ابطال القیاس نامی مستقل کتاب بھی لکھی –(۷) حنبلیوں کی جانب سے بطلان قیاس کی نسبت دی گئی ہے اور احمدبن حنبل کا کلام بھی اسی معنی کی جانب اشاره کرتا ہے کیونکه انهوں نے کها :

یحتسب المتکلم فی الفقه هذین الاصلین المجمل والقیاس ۔.

فقیه مجمل اور قیاس سے اجتناب کرتا ہے ۔

لیکن اس کے اس کلام کی توجیه یوں کی گئی که اس سے مراد بطلان قیاس د رمقابل نصنفی کے مقابل میں قیاس باطل ہے –(۸)

آج وهابی جو اپنے اپ کو حنبلی مسلک کهتے ہیں وه دین میں قیاس در دین پر اعتماد کرتے ہیں اور اسے حجت مانتے ہیں ۔

قیاس کی چوتھی قسم ککی ے دلائل حجیت کے دلائل پر نتقید

فرض یه ہے که قیاس کی یه قسم حکم شرعی پر یقین نهیں دلاتی بلکه فقط حکم کے احتمال کو بیان کرتی ہے کیونکه موضوعات کا ایک یا چند جهت سے مشترک اور مشابه ہونا اس بات کی دلیل نهیں ہے که وه حکم میں بھی مشترک ہوں اور جن مواردمیں عقل بھی حسن وقبح کی اساس بنیاد پر مستقل اور قطعی حکم نه لگا سکے ایسی صورت میں احکام شرعی کے ملاک کو قطعی طور پر کشف کرنا نا ممکن ہے بلکه یهاں پر صرف شارع ہے جو احکام کے ملاک اور فلسفه کو بیان کرسکتاہے اسی لئے اس قیاس کی حجیت پر دلیل ضروری ہے اہل سنت نے جو دو دلیلیں پیش کیں ہیں وه کچھ اس طرح ہیں ۔

۱- قرآن میں آیا ہے :

"( فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ) "

“اے صاحبان خرد عبرت حاصل کرو” ۔(۹)

____________________

۷ .حشر ، ۲

۸ اصول الفقه،ج۲ ،ص ۱۹۲

۹ ابطال القیاس ، ص ۳۰


اس دلیل کی تفصیل یه ہے که اعتبار عبورکے معنی میں ہے ایک چیز سے دوسری چیز تک عبور کرنا دوسری بعبارت دیگر میں ایک شبیه سے دوسری شبیه تک عبور کرنا او رقیاس بھی ایک طرح کا عبور ہے اس میں اصل کے حکم سے فرع کے حکم تک عبور کیا جاتاہے مذکوره آیت میں ہمیں اس عبور یعنی قیاس کی ترغیب دی گئی ہے ۔

جواب :

اس آیت سے استدلال کی کمزوری اور ضعف واضح ہے کیونکه اعتبار حوادث و وقایع سے عبرت لینے اور نصیحت لینے کے معنی میں ہے خاص طور پر اس آیت پر اگر توجه کی جائے تو معلوم ہوگا که یه آیت اہل کتاب اور کفار کی شرنوشت کو بیان کررهی ہے که خدا نے اس طرح ان کے دل میں و حشت ڈال دی که وه خود اپنے اور مؤمنین کے هاتھوں اپنے گھروں کو توڑ رهے تھے اور قرآن یه چاہتاہے که اس واقعه سے عبرت لو پس معلوم ہو ا که اس آیت کا دین کے احکام فرعی میں قیاس سے کوئی تعلق نهیں-(۱۰) ابن حزم اپنی کتاب (البطال القیاس ) میں کهتاہے : کیسے ممکن ہے که خداوند اس آیت میں ہم کو دین میں قیاس کا حکم دے اور یه بیان نه کرے که ہم کهاں کس چیز کا کس چیزسے قیاس کریں اس قیاس کے حدود و شرائط کیا ہیں ؟ اور اسے بغیر کسی توضیح کے مبهم چھوڑدے-(۱۱) ۔

۲- اہل سنت کی دوسری قرآنی دلیل یه ہے که خداوند عالم ارشاد فرماتاہے :

"قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ ، قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ "

“ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا ”۔(۱۲)

منکرین معاد نے پیغمبر سے سوال کیا کون ہے جو بوسیده هڈیوں میں جان ڈال دے ؟

خدانے فرمایا:

اے پیغمبر! آپ کهدیجئے که جس نے تمهیں عدم سے وجود بخشا وهی تمهیں دو باره زنده کرے گا ۔

قیاس کے طرفداران قیاس کهتے ہیں که اس آیت میں قیاس کے ذریعه استدلال کیا گیا کیونکه یه آیت وه دو چیزیں که جن کا حکم مشابه ہو ان کے مساوی ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی لئے جو شخص یه انکار کررهاہے که بوسیده هڈیاوں قیامت میں دوباره زنده نهیں ہوسکتیں اسے کها جارها ہے که ان هڈیاں کا زنده کرنا انسان کو عدم سے وجود بخشنے جیسا ہے یعنی جیسے وه ممکن تھا ویسے یه بھی ممکن ہے ۔

____________________

۱۰ یسٰ،۷۹/۷۸.---۱۱ روم ، ۲۷

۱۲ مسند احمد ،باب حدیث معاذبن جبل ،ج۵،ص ۲۳۰، ح۲۱۵۹۵


جواب :

قیاس کے مخالفین قیاس جواب دیتے ہیں که اس آیت میں امر تکوینی میں قیاس کیاگیا ہے اور امر تکوینی کا قیاس قطعی ہوتاہے کیونکه عقل کهتی ہے که جو آغاز آفرنیش میں یه قدرت رکھتا ہے که اس کائنات کو عدم سے وجود بخشے یقینا وه یه قدرت بھی رکھتاہے که قیامت کے بعد اسے دوباره لوٹا دے بلکه یه کام اس کےلئے پچھلے کام سے آسان ترهے جیسا که خود قرآن کا ارشاد ہے :

"( وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ) "

“اور وہی وہ ہے جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور یہ کام اس کے لئے بے حد آسان ہے” ۔(۱۳)

یه قیاس حقیقت میں قطعی عقلی ہے در حالیکه ہماری بحث قیاسات ظنی میں ہے ۔

۳- روایات کے اعتبار سے حجیت قیاس پر مهم ترین استدلال معاذبن جبل کی حدیث سے کیاگیا اس حدیث کے ذریعه قیاس ظنی کے علاوه باب استحسان، مصالحه مرسله ،سد وفتح ذرایع کی حجیت پر نیز استدلال کیا گیا ہے

اس حدیث میں آیا ہے که جس وقت پیغمبر (ص)نے معاذبن جبل کو یمن میں قضاوت کے لئے بھیجنا چاہا تو ان سے کها :

اے معاذ !کس طرح قضاوت کروگے ؟

معاذ نے کها :

کتاب وسنت کے ذریعه

آپ نے فرمایا:

اگر وه حکم کتاب و سنت میں نه ہو تو کیا گروگے ؟

کها که :

اجتهد رأیی ولا الوِ ”۔.(۱۴)

“" میں اپنی رأئے کے ذریعے اجتهاد کروں گا اور مسئله کو بلا حکم نهیں چھوڑوں گا ”" ۔

اس حدیث سے یه استدلال کیا گیا که کلمه (اجتهاد رأئے ) سے ظاہر ہوتاہے که کتاب و سنت پر تکیه کئے بغیر حکم لگانے کو اجتهادبالرائے کهتے ہیں اور اسی طرح کا اجتهاد عمومیت رکھتا ہے جس میں قیاس ظنی بھی شامل ہوجاتا ہے ۔

____________________

۱۳ وهی مدرک

۱۴ ملخص البطال القیاس ، ص ۱۴، تهذیب التهذیب ،ج۲ ،ص ۲۶۰


جواب :

قیاس ظنی کے مخالفین نے اس حدیث کا جواب یوں دیا که

۱- اول تو یه روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے کیونکه اسے حارث بن عمر کے واسطه سے بیان کیا ہے بخاری اورترمذی نے حارث کو مجهول جانا ہے اور دوسروں نے بھی اسے ضعفا میں شمار کیا ہے اس کے علاوه خود حارث نے اسے "حمص کے کچھ لوگوں " سے نقل کیا ہے اس لئے یه روایت مرسل اور غیر متصل ہے

۲- دوسری یه که یه روایت ان تمام روایات سے تعارض رکھتی ہے جس میں اجتهاد رای کی مذمت کی گئی خاص طور سے معاذ کی وه روایت جس میں پیغمبر (ص)نے معاذ کو یمن کی جانب حرکت کرنے سے پهلے کها :

جس چیز کا علم نه ہو اس کے بارے میں قضاوت مت کرنا اور اگر کسی حکم میں مشکل پیش آجائے تو اس وقت تک صبر کرنا جب تک تمهیں صحیح حکم سے آگاہ نه کروں یا پھر مجھے خط بھیجنا تاکه میں اس کا جواب بھیجوں چنانچه مذکوره روایت کی عربی عبارت یه ہے که

لمابعثنی رسول الله الی یمن قال : لاتقضین ولاتفصلن الا بماتعلم و ان اشکل علیک امر فقف حتی تبینه او تکتب الی فیه ”۔(۱۵)

ایک اور روایت که جسے ابوهرهره نے نقل کیا اس میں آیا ہے :

تعمل هذه الامة برهة من کتاب الله ثم تعمل برهة بسنة رسول الله ثم تعمل بالرأی فاذا عملوا بالرأی فقد ضلوا واضلو ” ۔.(۱۶)

“"یه امت ایک مدت تک کتاب خدا پر عمل کرے گی پھر ایک مدت تک سنت پر عمل پیرا ہوگی اس کے بعد خود اپنے آراء پر عمل کرنے لگے گی اور جب ایسا ہونے لگے تو وه تو خود کو بھی گمراہ کریں گے اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنیں گے” ۔(۱۷) (مترجم)

____________________

۱۵ سنن ابن ماجه ،ج۱ ،ص ۲۱ ، ح ۵۰

۱۶ کنز العمال ، ج ۱ ف ص۱۸۰ ، ح ۹۱۰

۱۷ (مترجم)


۱۵-نتیجهء بحث :

گذشته مطالب کے پیش نظر علماء امامیه اور دوسرے قیاس کےمخالفوں کی نظر میں استنباط احکام میں قیاس کی کوئی ارزش و اہمیت نهیں ہے اور اس قیاس سے حاصل ہونے والے ظن و گمان کے لئے ایسی عام اور روشن دلیلیں ہیں جو ظن پر عمل کرنے کو حرام جانتی ہیں قیاس پر عمل کی حرمت پر قطعی دلیلوں میں وه روایات ہیں جو نمونه کےطور پر آپ کے سامنے پیش کیے گئے .لیکن جیسا پهلے بھی بیان ہوچکا ہے که علماء اہل سنت کے ایک گروه جیسے حنفیوں اور دوسروں نے قیاس کو حکم شرعی کے لئے مصدر ومبنا مانا ہے اور اس کی حجیت و اعتبار پر کتاب وسنت و اجماع سے دلیلں پیش کی ہیں ، قیاس مخالفوں کے نزدیک یه لیلیں ناقص اور مردود ہیں طولانی بحث کے خوف سے مخالفین کی دلیلوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فقط ایک اشاره ان باتوں کی جانب کیا جارها ہے جو سر خسی نےاپنے اصول میں کهیں ہیں

جمهور علماء نے حجیت قیاس پر کتاب و سنت وعقل سے دلیلیں پیش کی ہیں مثلا قرآن سے( فَاعْتَبِرُوا يا أُولِي الْأَبْصارِ.* إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصار*إِن كنتم للرُّيَّا تَعْبُرون )

اور دوسری آیات سے استدلال کیاہے

میری نظر میں یه ان آیات کا قیاس سے کوئی ربط نهیں ہے اور سنت میں جو دلیل پیش کی گئی که پیغمبر(ص) کی جانب سے معاذبن یمن کو بھیجا جانا اور حکم صادر کرنے کے بارے میں پیغمبر(ص) کا سوال تھا اس کے جواب میں کهنا میں خود اجتهاد کرتاہوں اور پیغمبر(ص) کا اپنے اصحاب سے امور جنگ میں مشورت کرنا یه تمام باتیں جو قیاس کے اعتبار و حجیت کے لئے دلیل بناکر پیش کی گئیں اس کا قیاس سے کوئی ربط نهیں ہے

(مترجم)

____________________

۱. معارج الاصول ، ص ۱۸۷و ۱۸۸

. اصول سرفسی ، ج ۳ ص۱۲۵ تا ۱۳۰


استحسان

استحسان منابع اجتهاد میں بعض اہل سنت کی جانب سے بیان کرده ایسی اصطلاح ہے که جس کی مختلف تعریفیں ذکر کی گئیں ہیں

۱ - بعض نے کها که ایسی دلیل جو مجتهد کے ذهن میں خطور کرے لیکن اس کی تبیں کے لئے مجتهد کے پاس مناسب عبارت نه ہو وه استحسان کهلاتی ہے-(۱) ۔

۲- استحسان یعنی وه چیز جومجتهد کو اچھی لگے لیکن اس کی کوئی شرعی دلیل نه ہو-(۲) (۳) بعض نے کها که کسی قیاس کو اس سےقوی تر قیاس سے تخصیص دینے کو استحسان کهتے ہیں یا قیاس مخفی کو قیاس جلی پر مقدم کرنے کو استحسان کهتے ہیں

۳- قیاس سے دلیل اقوی کی جانب عدل کرنے کو استحسان کهتے ہیں اور وجود نص ، سهولت ،مصلحت مصلحت،اجماع ،ضرورت یا عرف و عادت کو محرکات عدول میں شمار کیا گیا ہے ۔(۴)

ان تعریفات میں اختلاف ہی نهیں بلکه تضاد بھی پایا جاتا ہے کیونکه اگر تعریف کو بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا که بعض تعریفات میں خود مجتهد یا عقل مجتهد کی عقل کوتعریف کی اساسبنیاد تعریف قرار دیا گیا جیساکه پهلی اور دوسری تعریف سے واضح ہوتا ہےکه لیکن دوسری تعریفات میں یه خصوصیت نهیں پائی جاتی اسی طرح بعض تعریفات کے مطابق استحسان کو قیاس کا نقطهء مقابل قرار دیا گیا لیکن دوسری تعریفات میں استحسان کو ایک قسم کاقیاس شمار کیا گیا اور شاید استحسان کامعروف ترین معنی وهی حکم ہے جس پر نص نه ملے لیکن عقل مجتهد کی عقل اسے پسند کرتی ہو ۔ابو حنیفه کی نظر میں استحسان حجت ہے اور یهی نسبت مالک وحنبلی کی جانب بھی دی گئی ہے –(۵) مالک کا یه جمله معروف ہے که ۹۰ در صد فقه استحسان پر استوار ہے لیکن ان کےمقابل بعض دیگر اہل سنت خاص طور سے شافعی-(۷) اور بعض حنفی جسے شاطبی اور طحاوی نے اس کی حجیت کا انکار کیا ہے-(۸) اسی طرح امامیه زیدیه او رظاہر یه کےنزدیک بھی استحسان باطل اور غیر معتبر ہے-(۹) ۔

استحسان کی حجیت پر آیات و روایات دونوں سے استدلال کیا گیا ہے قرآن سے سوره زمر کی تین آیات اور سوره اعراف کی ایک سو پنتالسیویں آیت سے استدلال کیا گیا ہے ۔

"( فَبَشِّرْ عِبادِالَّذينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَه‏ وَاتَّبِعُوا اَحسنَ ما أُنْزِلَ مِنْ رَبِّكُم‏"‏* )

“بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں” ۔(۱۰)

____________________

۱ الاحکام فی اصول الاحکام ،ج۴ ،ص ۱۵۷ .---۲ کتاب قوانین میں اس تعریف کی نسبت اہل سنت کی جانب دی گئی .---۳ المبسوط سید حسنی ،ج۱۰،ص۱۴۵

۴ الموسوعة الفقهیه المیسره ،ج۲،ص۴۳/۴۴.---۵ اصول الفقه ،محمد ابوزهره ، ص ۲۶۳ .---۶ الامام الشافعی ،ج۱۰ ،ص۱۱۹ .---۷ ابطال القیاس ابن حزم ، ص۵۱

۸ الاصول العامر ،ص۳۶۳ .---۹ زمر، ۱۷/۱۸ .---۱۰ الاحکام فی اصول لااحکام ،ج ۳ /۴،ص ۱۶۵


سوره زمرکی آیت نمبر ۵۵سے بھی یهی استدلال کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سوره اعراف کی آیت نمبر ۱۴۵سےاستدلال کیا گیا که

"( فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِهَا ) "

“مضبوطی کے ساتھ پکڑلو اور اپنی قوم کوحکم دو کہ اس کی اچھی اچھی باتوں کو لے لیں” ۔

ان آیات میں مشاہده سے واضح ہوتاہے که خداوند عالم نے قول احسن کی پیروی کی ترغیب دلاتی دلائی ہے او راحسن کی پیروی کے لئے لازم ہے که پهلے احسن کی شناخت ہو لیکن چونکه مصادیق احسن کو لوگوں کے لئے بیان نهیں کیاگیا اسی لئے اس کی ذمه داری خود لوگوں پر چھوڑدی(۱۱)

جواب

غزالی نے اس استدلال کا جواب دیتے ہوئے کها که آیات کا مفاد یه نهیں ہے که جو تم بهتر سمجھو اس کی پیروی کرو بلکه ان آیات کا مفهوم یه ہے که احسن واقعی کی پیروی کرو اور خداوند عالم نے لوگوں کو پهنچوادیا که احسن واقعی کیا ہے احسن واقعی کتا ب و سنت کی موافقت ہے کیونکه احکام ان مصالح اور مفاسد کے تباع ہے جسے شریعت نے کاملا احاطه کیا ہے اور عقل بشر اور عقل بشر کو سوائے خاص موارد کے ان مصالح اور مفاسد تک رسائی نهیں لیکن اس چیز کو جسے لوگ بهتر اور اچھا سمجھتے ہیں صرف ہوا اور ہوس ہے جهت استحسان کی حجیت پرعبدالله بن مسعود کی روایت سے بھی استدلال کیا گیا ہے ۔مارای المسلمون حسنا فهو عبدالله حسن یعنی جس چیز کولو گ بهتر سمجھیں وهی چیز خداکے نزدیک بهترهے ۔(۱۲) مخالفین استحسان کے مخالفوں نے اس استدلال کا جواب دیتے ہوئے کها

۱- یه جمله عبدالله بن مسعود کا قول ہے نه پیغمبر (ص)کا فرمان جو حجت ہو مگر یه که ہم قول صحابی کو حجت مانیں.

۲- کلمه روئیت در حقیقت میں علم و اطمینان کے معنی میں ہے یعنی جو چیز مسلمانوں کے نزدیک بطور قطع طور پرنیکو ہو خدا کے نزدیک بھی نیکو ہوگی اور یه بات استحسان جو دلیل ظنی ہے میں شامل نهیں ہوگی اسی لئے ماننا پڑے گا که حدیث حسن و قبح عقلی سے مربوط ہے که جس کا در ک کرنا سب کےلئے ممکن ہے پس موارد ظن وگمان کے موارد جو که ہمارا موردعادی بحث میں ہے شامل نهیں ہوگا(۱۳)

۳- آمدی او رغزالی اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے کهتے ہیں که یه حدیث اجماع مسلمین پر دلالت کرتی ہے نه اس بات پر که جسے افراد مسلمین بهتر سمجھیں خدا بھی اسے بهتر سمجھے گا(۱۴)

۴- یه بھی غزالی کا قول ہے که یه حدیث خبر واحد ہے اور خبر واحد سے اصول کو ثابت نهیں کیا جاسکتا ۔(۱۵)

____________________

۱۱ .المستصفی ، ج ۱ ،ص۴۱۱ ، روضة الناظر ،ج۱ ،ص۴۷۵ .---۱۲ مسند احمد ،ج۱ ص۳۷۹ .---۱۳ انوار الاصول ،ج۲ ،ص۵۳۳ .--۱۴ الاحکام ،ج۴ ،ص۱۵۹، المستصفی ،ص ۱۷۲ .--۱۵ المستصفی ، ص ۱۷۲


مصالح مرسله

یه اصطلاح ان مصلحتوں کےلئے استعمال ہوتی ہے جسے کے بارے میں شریعت کا کوئی خاص یا عام خطاب موجود نه ہولیکن شریعت کے مزاج اور مذاق شریعت سے اسے مشخص کیا جاسکتاہے ۔وه مصلحتیں دوقسم کی ہوتی ہیں :

۱- مصالح معتبره

وه مصلحتیں جن کے اعتبار اور رعایت میں شرعی دلائل موجود ہوں ۔

۲- مصالح ملغی

وه مصلحتیں جسے شارع مقدس نے بے ارزش سمجھا اور ان کی رعایت کو لازم نهیں جانا جسے دشمن کے آگے تسلیم ہونا اگرچه اس میں حفظ جان کی مصلحت ہے لیکن چونکه اسلام خطر ے میں پڑرها ہے اس لئے حفظ نفس کی مصلحت کو لغو کرکے جهاد کا دستور دیا پس دین کا بچانا مصلحت ہے چاہے اس میں جان ہی کیوں نه چلی جائے ۔

۳- مصالح مرسله

وه مصلحتیں جو اجتبار یا الغاء شرعی سے آزاد ہیں-(۱) مصالح مرسله کو بطور مطلق حجت مانتے ہیں جب که جمهور اہل سنت اس کی حجیت کے منکر ہیں یهاں تک که بعض مالکیوں نے کها که مالک سے بعید ہے که مصالح مرسله کو حجت مانے-(۲) لیکن بعض اس میں تفصیل کے قابل ہیں اور کهتے ہیں : فقط وه ضروری مصلحتیں جو قطعی اور بدیهی ہوں معتبر ہیں-(۳) مصالح مرسله کےلئے جو مثال پیش کی گئی وه یه ہے که اگر کفار جنگ کے دوران ان کی آڑ میں مسلمانوں کو نقصان پهچانا چاہیں ایسی صورت میں ان سے مقابله لازمی ہے کیونکه اگر ان سے مقابله نه کیا گیا تو وه مسلمانوں کو بھی نقصان پهنچائیں گے اور خود اسیروں کو بھی قتل کردیں گے لیکن اگر ان سے مقابله کیا جائے تو ایسی صورت میں اسیر مارے جائیں گے چاہے کفار کے هاتھوں مارے جائیں یا مسلمانوں کے هاتھوں تو یهاں مصالح مرسله کے مطابق مسلمانوں کا قتل جائز ہے کیونکه شریعت کا مزاج یهی ہے که مسلمانوں کے مصالح کو مقدم رکھا جائے اور مسلمان اسیروں کا قتل مصالح مسلمین سے نزدیک تر ہے –(۴)

____________________

۱ .اصول الفقه الاسلامی ، ص ۲۸۶

۲ ارشاد العقول ، ج ۲ ،ص ۱۸۴

۳ اصول الفقه الاسلامی ، ص ۲۸۹

۴ المستصفی ، ج۱ ، ص ۴۲۴


مصالح مرسله اور استحسان کا فرق یه تبایا گیاکه استحسان میں غالبا قواعد و نصوص عامه سے ایک قسم کا استثناء پایا جاتا ہے دوسری بعبارت دیگر میں استحسان ثابت شده احکام سے ایک قسم کا عدول ہے لیکن مصالح مرسله ان موارد سے مربوط ہے که جهاں حکم کے لئے کوئی شرعی دلیل نهیں ہے بلکه فقیه مزاج شریعت کے پیش نظر مصلحت کی بنیاد پر حکم لگاتاہے البته استحسان میں بھی مصلحت پائی جاتی ہے لیکن یه مصلحت اکثرا وقات استثنائی شکل اختیار کرجاتی ہے –(۵) ۔

مصالح مرسله کو حجت ماننے والوں کی دلیل یه ہے که احکام مصالح کے تابع ہیں اور تمام مصالح نصوص میں مذکور نهیں ہیں کیونکه مصلحتیں زمان و مکان کے لحاظ سے بدلتی رهتی ہیں اگر صرف ان مصلحتوں پر تکیه کیا جائے جس کا ذکر نصوص میں ہو تو ایسی صورت میں گئی ایک مصلحتیں که جن کا ذکر نصوص میں نهیں آیا ہے ان سے هاتھ دھونا پڑے گا اور یه بات شارع کی غرض وهدف کے خلاف ہے –(۶) ۔

جواب :

مسلما احکام مصالح کے تابع ہیں اور اگر وه مصلحتیں نصوص اور ادله شرعیه میں معتبر شمار کی گئیں یا یه مصلحتیں ادراک عقلی کے اعتبار سے مستقلات عقلیه کامقام رکھتی ہوں اور فقیه کے لئے یقین آور ہوں تو یهی قطع و یقین فقیه کے لئے حجت ہوگا لیکن اگر مصلحت ایسی ہو که جس کو معتبر جاننے یا الغاء کرنے کے لئے کوئی دلیل نه ہو اور صرف حکم شرعی کا گمان پیدا ہوتا ہو تو ایسی مصلحت کی بنیاد پر کسی حکم کو معتبر ماننے کے لئے دلیل قطعی کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی دلیل نهیں جو اس حکم کو ثابت کرے کیونکه ظن و گمان میں اصل عدم حجیت ہے –(۷) جیساکه قرآن میں ارشاد ہے :

"( وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ) "

“ گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے” ۔(۸)

خلاصه یه که اگر مصالح مرسله قطع و یقین تک پهنچ جائیں تو ان کی حجیت مسلم ہے لیکن مصالح ظنی میں اشکال ہے کیونکه ان کے اعتبار پر کوئی قطعی دلیل ہمارے پاس نهیں ہے ۔

____________________

۵ اصول الفقه الاسلامی ، ص ۲۹۹/۲۹۸

۶ اصول الفقه اسلامی ،ص ۲۵۹

۷ انوار الا صول ،ج۲ ، ص۵۳۸

۸ نجم ، ۲۸


سد و فتح ذرایع

“"ذرایع ”" ذریعه کی جمع اور وسیله کے معنی میں ہے ۔(مترجم )-(۱) سد اور فتح کھو لنے اور بند کرنے کے معنا میں ہے اور یه اصطلاح علماء اور فقهائےاہل سنت کے درمیان رائج ہے اہل سنت کاکهنا ہے چونکه مصلحتوں کا جلب کرنا اورمفاسد کا دفع کرنا لازم ہے اس لئے بعض افعال کو بطورر مستقیم حرام قرار دیاگیا جیسے چوری اور زنا لیکن بعض افعال کو براہ راست حرام قرار نهیں دیا گیا کیونکه وه اعمال بذات خود حرام نهیں ہیں لیکن چونکه ارتکاب حرام کا سبب بنیں گے اس لئے شارع نے انهیں حرام کردیا جیسے اجنبی عورت کی ہم نشینی ۔ چون چوں که افراد سد ذرایع کی حجیت کے قائل ہیں وه کهتے ہیں جو راستے محرمات الهیٰ تک پهنچاتے ہیں یا حرام کا موں کا سبب بنتے ہیں ان راستوں کو بند کردینا چاہیے اسی طرح جود افراد “"فتح ذرایع” " کو حجت جانتے ہیں وه کهتے که وه وسائل اور وه راستے جو واجبات الهیٰ کے انجام دینے کاسبب بنتے ہیں انهیں کھلا رکھنا چاہئیے مالک سد وفتح ذرایع کے ساتھ قاعده کو فقه کے اکثر ابواب میں قابل اجراء جانتاہے معروف ہے که مالک نے کها : تکالیف شرعی کا ایک چوتھا ئی حصه سد وفتح ذرایع کے ذریعه استخراج ہوتا ہے ۔ ظاہر یه دو اصطلاحیں (مقدمه حرام کی حرمت ) اور مقدمه واجب کے وجوب کی جانب لوٹتی ہیں شیعون شیعوں نے اپنی اصول فقه کی کتابوں میں اس بحث کو مقدمه واجب کی بحث میں پیش کیا ہے ۔

البته سد ذرایع کے لئے ایک اور معنی ذکر کیا گیا ہے اور وه شرعی چارۂکار یا شرعی حیله کے راستے کو بند کرنا ہے مثال کے طور پر اگر کوئی ربا سے فرار کی خاطر اپنے مال کو اونچی قمیت پر ادھار بیچ دے اور یه شرط لگائے که خریدار اسے سستے داموں پر دوباره اسی شخص کو بیچ دے که جس سے خریدا ہے سد ذرایع کے طرفداروں نے اسی سدذرایع کی اساس پر عمل کو حرام قرار دیا ہے کیونکه اس کے ذریعه ربا میں گرفتار ہونے کا خطره ہے اس بات پر یه اشکال وارد ہوتا ہے که اگر سد و فتح ذرایع پهلے معنا کے مطابق ہو تو یه بحث حکم عقلی کے موارد میں نوع دوم سے مربوط ہے که جسکی بحث گزشته مباحث میں گذر چکی اور جهاں مقدمه واجب و حرام کی بحث کو وهاں بیان کیا جاچکا اور اگر سد وفتح ذرایع سے مراد دوسرا معنی ہو ، تو ربا میں حیله شرعی کا استعمال دوسری جهتوں سے معامله کو باطل کرتاہے ۔. اور وه یه ہےکیوں که ان شموارد میں طرفین کی جانب سے انشاء اورمعامله میں قصد جدی نهیں پایا جاتا اسی دلیل کی وجه سے معامله عقلا باطل ہے۔ پس سد وفتح ذرایع کامسئله استنباط احکام کا کوئی منابع نهیں بلکه عقل کے حکم قطعی کا ایک جزء ہے ۔ (مترجم )-(۶)

____________________

. اعلام الموقعین ،ج۳،ص۱۷۶ .---۲ اصول الفقه الاسلامی ،ص۳۰۰ .---۳ الموافقات ،ج ۴ ،ص ۱۴۱ .--۴ البته سد وفتح ذرایع اور مقدمه حرام و واجب ، کے درمیان جو کچھ تفاوت ہے اسے ہم نے اختلاف فتاوی کی علتوں میں بیان کیا ہے .--۵ انوارالا صول، ج۲ ،ص۵۴۲

۶ .(مترجم)


۱۶- ذرایع کی قسمیں اور انکا حکم :

ابتداء میں ذرایع کو دوقسموں میں تقسیم کرنے کے بعد منع اور منع نه ہونے کے حواله سے اس کا حکم بیان کریں گے

ذرایع کی دو قسمیں :

ایک تو وه سه گانه تقسیم ہے جو مالکی فقیه قرافی نے انجام دی دوسیری چھار گانه تقسیم ہے جو ابن قیّم کی جانب سے پیش ہوئی

الف - قرافی تقسیم :

شوکانی اپنی کتاب ارشاد الفحول میں قرافی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں .صرف مالک ہی سدذرایع کا قائل نهیں بلکه تمام علماء اس کے قائل ہیں اور مالکیه کا اس کے علاوه کوئی اعتبار نهیں که وه بهت زیاده سدذرایع کے قائل ہیں.

پھر وه قرافی کی سه گانه تقسیم بیان کرتے ہوئے کها ہے

۱- جو چیز علماء کی نظر میں معتبر ہے (یعنی علماء کا سدذرایع پر اتفاق ہے ) جیسے مسلمانوں کی گذرگاہ پر کنواںکھودنا اور ان کے کھانے میں زهرملانا اور ایسے شخص کے سامنے بتوں کو برابھلا کهنا که جس کے لئے معلوم ہے که وه اپنے بتوں کی توهین سن کر خدا کو برابھلا کهتاہے

۲- وه موارد جو علماء کے نزدیک غیر معتبر ہیں ( یعنی سدذرایع کے عنوان سے حکم کا مبنا قرار نهیں پاتے)جیسے درخت انگور کا اگانا اور اس ڈرسے کهیں انگور شراب میں تبدیل نه کی جائے درخت انگور کو اگانے سے روکنا یه مورد علماء کے نزدیک غیر معتبر ہے گرچه ممکن ہے که یه درخت حرام کے تحقق کا وسیله بنے.

۳- وه موارد که جهاں سد کےلازم ہونے یا نه ہونے میں اختلاف ہو جیسے بیع اجال یعنی مهلت دار بیع یه ہمارے نزدیک حرام میں پڑنے کا ذریعه ہے اس لئے ہم اس مورد میں سدذرایع کے قائل ہیں لیکن دوسرے اس مساله میں ہمارے مخالف ہیں

ب- ابن قیّم کی تقسیم :

۱- ابن قیّم نےاپنی کتاب اعلام الموقعین میں ذریعه کو نتائج کے اعتبار سے چار قسمتوں میں تقسیم کیا ہے.

ایسا وسیله اور ذریعه که جس کا وضع کرنا اس لئے ہو که مفسد ه دور ہو جائے جیسے شراب کا پینا اس کا مفسده مستی اور عقل کی تباہی ہے اسی طرح قذف که اس کا مفسده دوسروں پر تهمت لگانا ہے یا زنا که اس کا مفسده نسب کا درهم و برهم ہونا اور خاندانی روابط کا بگاڑ ہے


۲- ایسا وسیله اور ذریعه جو که ایک مباح امر کے لئے وضع ہوا ہے لیکن اس کا فساد اس کی مصلحت سے کهیں زیاده ہے اور اکثر اوقات مفسده کا سبب بنتاہے جیسے آیام وفات میں بیوه عورت کا سجنا سنورنا

۳- ایسا ذریعه جو امر مباح کے لئے وضع ہوا لیکن لوگ خواہ نحواہ اسے حرام تک پهنچنے کا ذریعه قرار دیں گےجیسے ایسا عقد جو تحلیل کی نیت سے باندها جائے یا ایسا کاروبار جو ربا کی نیت سے انجام دیا جائے

۴- ایسا ذربعه جو امر مباح کے لئے وضع ہوا لیکن ایسی میں مفسده بھی ممکن ہے پھر بھی اس کی مصلحت مفسده سے کهیں زیاده ہے جیسے منگنی شده لڑکی کو دیکھنا یا اس عورت کی جانب نگاہ کرنا جو اس کے حق میں گواہی دے رهی ہو

ابن قیّم کی نظر میں پهلی اور چوتھی قسم محل نزاع و بحث نهیں ہے کیونکه شارع نے قسم اول کو منع اور قسم دوم کو مباح جانا ہے .لیکن دوسری او رتیسری قسم میں اختلاف ہے که کیا شریعت نے ان موارد کو مباح جانا یا حرام .(مترجم)

۱۷- سد ذرایع کی حجیت کی دلیلیں :

جوافراد سد ذرایع کی حجیت کے قائل ہیں اور اسے احکام فقهی کا مصدر و مبنع سمجھتے ہیں انهوں نے اس کے اثبات میں بعضی آیات روایات کا سهار لیا ہے ہم یهاں پر ان کی چند نقلی دلیلیں بغیر کسی توضیح و نقد کے ذیل میں بیان کرتے ہیں

قرطبی نے اپنی تفسیر میں کها :

قد دل علی هذا الااصل الکتب والسنة ” اس اصل پر کتاب وسنت دلالت کرتی ہے

اس کے بعد وه قرآن سے چند آیات بطور استناد پیش کرتے ہیں :

۱-( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقُولُواْ رَاعِنَا وَقُولُواْ انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ْوَلِلكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ )

۲- ایمان والو! راعنا (ہماری رعایت کرو) نہ کہا کرو “انظرنا ” کہا کرو اور غور سے سنا کرو اور یاد رکھو کہ کافرین کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے”.(۲)

اس آیت سے وجه تمسک یه بتاتے ہیں که یهود کلمه (راعنا) کو اپنی زبان پر لاتے تھے یه کلمه ان زبان میں سب و دشنام کے معنی میں ہے چونکه خدا جانتا تھا که یهود اس کلمه کو سب و دشنام کے لئے استعمال کرتے ہیں اسی لئے خدا نے اس لفظ کے استعمال سے روکا

_____________________


۲-( وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ )

“اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے”(۳)

اس آیت میں وجه تمسک کے بارے میں کهتے ہیں خدانے اس آیت میں بت پرستوں کو برابھلا کهنے سے روکا ہے تاکه کهیں بت پرست بھی جواب میں خداوند عالم ( معاذالله ) مورد سب و دشنام قرار دیں

۳- مورد استدلال آیات میں ایک آیت یه بھی ہے

( وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) (۴)

“اور خبردار اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے ہوئے ہیں اس کا اظہار ہوجائے ”

قرطبی نے سنت سے کئی ایک روایات کوسد ذرایع کے لئے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے

۱- صحیح مسلم میں پیغمبر(ص) سے روایت ہے که آپ نے فرمایا: “الحلال بین والحرام بین و بینهما امور متشابهات فمن اتقّی الشبهات استبرا الدینه و عرضه و من وقع فی الشبهات وقع فی الحرام کالراعی یّرعی حوال حمی یوشک ان یقع فیه(۵)

حلال بھی واضح اور حرام بھی روشن ہے اور ان کے درمیان شبهناک امور بھی ہیں لهذا جو کوئی شبهناک چیزوں سے پرهز کرے اس نے اپنے دین اور آبرو کو حفظ کرلیا اور جو شبهناک امور میں پڑگیا در حقیقت حرام چیزوں میں گرفتار ہوگیا بالکل اس کسان کی طرح جو اپنے بھیڑ،بکریوں کو ایسی کھائی کے پاس سے چڑانے لے جائے که جهاں عنقریب ان کا گرنا قطعی ہو

____________________

۱- الجامع الاحکام القرآن ، ج ۲ ، ص۵۸

۲ سوره ،بقره، آیه ، ۱۰۴

۳ سوره انعام ، آیه ، ۱۰۸

۴ سوره نور ، آیه ۳۱

۵ .الجامع الاحکام القرآن ، ج ۲ ف ص ۵۹


۲- پیغمبر(ص) نے فرمایا:

اِن من الکبائر شتم الرجل والدیه قالوا: یا رسول الله و هل یشتم الرجل والدیه ؟ قال : نعم یسب أباه و یُسب أمکم(۶)

گناہ کبیره میں سے انسان اپنے ماں باپ کو برا بھلا کهے پیغمبر(ص) کے اطرافیوں نے کها اے رسول خدا کیا انسان اپنے والدین کو برا بھلا کهتاہے ؟ پیغمبر(ص) نے فرمایا هاں انسان کسی کے باپ کو گالی دیتاہے وه اس کے باپ کو گالی دیتا ہے یه دوسروں کی والده کو گالی دیتاہے دوسروں اس کی ماں کو گالی دیتے ہیں

حیساکه اس سے واضح ہے دوسروں کے والدین کو برا بھلا کهنا یا گالی دینا اس بات کا سبب ہے که گالی دینے والے کے ماں باپ کو گالی پڑے گی اس لئے سدذرایع کے ذریعه دوسروں کو گالی دینے سے روکا گیا ہے

قرطبی نے آیات روایات سے استدلال کے بعد کها :

یه سدذرایع کی دلیلیں تھیں جو ہم نے بیان کی اورمالکیوں نے کتاب آجال ( مهلت دار بیع ) اور دوسرے مسایل بیع کو اسی سد ذرایع کی اساس پر حل کرتے ہیں لیکن شافعی کتاب آجال کے قائل نهیں ہیں کیونکه ان کے نزدیک بیع آجال مختلف اور مستقل عقود میں سے ہے .(مترجم)

____________________

۶ گذشته حواله سے ، ج۲ ، ص ۵۹


تعارض ادله

منابع استنباط کے مباحث میں آخری گفتگو تعارض ادله کے بارے میں ہے ۔

مقدمه کے عنوان میں اس مطلب کا ذکر ضروری ہے که کبھی دولیلوں کے درمیان (تعارض اتبدائی ) نظر آتا ہے لیکن چونکه اس قسم کے تعارض ابتدائی میں جمع عرفی موجود ہوتاہے یا ان دو دلیلوں میں ایک دوسری دلیل پر حاکم ہوتی ہے اس لئے یه تعارض کی ابتدائی بحث تعارض سے خارج ہے۔ اسی لئے دلیل عام یه کهے، سارے دانشمندوں کا احترام کرو اور اسی کے مقابل دلیل خاص وارد ہو که بے عمل عالم کا احترام مت کرنا این دو دلیلوں یا ان جیسی دلیلوں میں عرف کی نظر میں کوئی تعارض نهیں بلکه جمع عرفی کا تقاضا یه ہے که دلیل خاص کو دلیل عام پر مقدم کیا جائے خاص کو عام پر مقدم کرنے کانتیجه یه ہوتا ہے که عالم بے عمل کے سلسلے میں ہم دلیل خاص پر عمل کریں گے اور عالم بے عمل کے علاوه تمام علماء کے احترام کے لئے دلیل عام حجت ہوگی دوسری بعبارت دیگر میں سارے افراد دلیل عام کی عمومیت پر باقی ہوں گے-(۱)

. اسی طرح جن موارد میں دو دلیلوں کے درمیان ابتداء میں تعارض نظر آتا ہے لیکن ایک دلیل جو دوسری دلیل پر حاکم ہوتی ہے جیسے عناوین اولی پر عناوین ثانوی حاکم ہوتے ہیں یهاں بھی پچھلے موردکی طرح کوئی تعارض نهیں پایا جاتا جیسےے کوئی دلیل یه کهے-(۲)

غیر اسلامی ذبیحه کا کھانا حرام ہے لیکن دوسری دلیل میں یه آئے که مجبوری کی صورت میں اس کا کھانا جائز ہے ۔

ایسی دو دلیلیں آپس میں تعارض نهیں رکھتیں بلکه دوسری دلیل پهلی دلیل پر حاکم اور مقدم ہوتی ہے-(۳)

اسی طرح اگر اماره اوراصل کے درمیان تعارض ہو تو یه تعارض بھی ابتدائی تعارض ہے جسے در حقیقت تعارض شمار نهیں کها کیا جاتا کیونکه اماره کے ہوتے ہوئے اصل کی نوبت نهیں آتی اس لئے که اماره اصل پر حکومت یا ورود رکھتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر قاعده صحت (اصاله الصحة ) که جسے اکثر افراد اماره شمار کرتے ہیں استصحاب فساد سے تعارض رکھے (مثلا ہمیں یه شک ہوکه فلاں انجام شده معامله صحیح تھا یا فاسد ) یهاں پر اصالة الصحة استصحاب پر یعنی اصل عدم انعقاد معامله کے منعقد نه ہونے پر مقدم ہے ۔

____________________

۱ البته یه تذکر لازم ہے که جهاں کهیں دو دلیلں مل جائیں.

۲ دلیل حاکم و محکوم کی توضیحات ادله لفظی کی تقسیمات میں گذر چکی ہے

۳ انوار الاصول ، ج ۳،ص ۵۰۶


بهر حال کبھی تعارض دو شرعی دلیلوں کے درمیان واقع ہوتاہے اور کبھی دو اصل کے درمیان، اگر استصحاب اور دیگر تین اصول ( یعنی اصل برائت و تخییر و احتیاط ) سے تعارض ہو تو استصحاب کومقدم کیا جائے گا کیونکه حجیت استصحاب کے دلائل کا تقاضا یه ہے که زمان دوم ( یعنی در شک کے زمانے میں ) سابقه پهلے یقینی امر پر بنا رکھی جائے بعبارت دیگر اصل استصحاب اصل محرز ہے

اس لئے دیگر اصول پر مقدم ہوگی دو استصحاب کے درمیان تعارض ہو اور ان کے درمیاان سببیت اور مسببیت پائی جائے تو استصحاب سببیی مقدم ہوگا ور نه ہر دو اصل ساقط و بی اثر ہوجائیں گی جیسے وه پانی جو پهلے کر تھا اور اب اس کی کریت میں شک ہو اور پانی سے نجس لباس دھویا جائے ایسی صورت میں استصحاب سببی(یعنی پانی کی کریت کا استصحاب )جاری ہوگا اور لباس میں نجاست کےاستصحاب ( جو که استصحاب مسببی ہے ) کی جانب توجه نهیں کی جائے گی ۔.

دو دلیلوں کے تعارض کی صورت میں کچھ ترجیحات پیش کی گئی ہیں اگر ان دو دلیلوں میں کسی بھی دلیل میں ترجیحات پائی جائیں تو اسی دلیل کو مقدم رکھا جائے گا اور اگر کوئی دلیل دوسری دلیل پر کسی قسم کا امتیاز رکھے اور ان میں تعادل برقرار ہو تو ایسی صورت میں یا تو دونوں دلیلیں ساقط ہوجائیں گی یا ان میں سےایک دلیل کو حجت مانا جائے گا یا پھر احتیاط کی جائے گی اور ان تینوں فیصلوں میں فقهاء اور اصولیوں کے مبنا فرق کرتے ہیں ہر کسی نے-(۴)

ایک راسته چنا ہے اکثر فقهاء کے نزدیک مذکوره بالا قاعده یعنی خصوصیت کی صورت میں ترجیح اور تعادل کی صورت میں تخییر،احتیاط کو تمام امارات میں جاری اور ساری جانتے ہیں-(۵)

لیکن یهاں اہم ترین بحث یه ہے که اگر دو روایتوں میں تعارض ہو که ایسا تعارض اکثر وبیشتر پیش آتاہے او رفقیه کے مختلف ابواب میں متعارض روایات کا سامنا کرنا پڑتاہے مثال کےطور پر وه روایات جس میں وزن اورمساحت کے لحاظ سے کر کی مقدار بتائی گئی ہے یا وه روایات که جن میں اہل کتاب خواتین سے ازواج کی حرمت یا عدم حرمت بیان کی گئی ہے ۔. ان روایات میں تعارض پایا جاتا ہے گذشته مباحث میں سنت ائمه پر جو اشکالات ہوئے ہیں وهاں ہم نے تعارض روایات کی مختلف علتوں کو بیان کیا ہے لیکن یهاں پر تعارض کے علاج اور دو متعارض حدیثوں سے برخورد کے طریقوں پر گفتگوهے ۔

___________________

۴ رسائل ، فرائد الاصول ، ص ۴۱۴

۵ گزشته حواله ، ص ۴۴۱


روایات و اخبار میں قواعد تعارض کے اجراء کا طریقه بیان کیا گیا ہے اجمالی طور پر اکثر فقهاء تاثیر مرجحات کو جانتے ہیں صرف باقلانی ابو علی اور ابو هاشم جبانی ان امتیازات او رمزیتوں کو بے اثر جانتے ہیں اور ہر مقام پر احکام تعادل کو جاری مانتے ہیں لیکن فریقین کے نزدیک مشهور ہے اور اخبار متواتر کا تقاضا بھی یهی ہے که جس روایات کو مقدم کیا جائے ۔

روایات میں کئی ایک مرجحات اور امتیازات روایات کو بیان کیا گیاہے که جن میں بعض مرجحات سند سے اور بعض امتیازات دلالت سے مربوط ہیں ے۔.جیسے روایت کا مشهور ہونا اور فقهاء کا اس پر عمل کرنا ، راوی کا عادل تر ہونا یا اس کا اصدق اور افقه ہونا اسی طرح روایت کا کتاب وسنت سے موافقت رکھنا اور اسی طرح کے دوسرے امتیازات اہل سنت نے دیگر امتیازات ،اور ترجحات بیان کیے ہیں

جیسے راوی کا زمان پیغمبر (ص)سے نزدیک تر ہونا یا مدت صحبت کا طولانی تر ہونا اور رسول خدا (ص)سے مستقیم حدیث کا سننا ،حکم روایت کا راوی سے مرتبط ہونا ، راوی کا مشهور ہونا راوی کا مُسن ہونا ، راوی کے اسلام کا متاخر ہونا ، راوی کالغت عرب سے واقف اور اعلم ہونا ، راویوں کی کثرت ہونا ، واسطوں کی قلت اور نقل معنا کے بجائے روایت میں عین الفاظ کا ہونا ، روایت کا قولی ہونا یعنی فعل پیغمبر کی حکایت کے مقابل قول پیغمبر کا ہونا-(۶)

اس بات کی توجه کرتے ہوئے اکثر مرجحات منصوص نهیں ہیں اورروایات میں ان کا ذکر نهیں ہے ان مرجحات کو اپنے مبنا کے حساب سے قبول کریں گے که قبول مرحجات میں ہمارا مبنا کیا ہے ؟ کیا قول مرجحات میں موارد منصوص سے ( یعنی وه موارد جو متن حدیث میں ذکر ہوئے ہیں )تجاوز کرسکتے ہیں یا نهیں ؟ اگر کرسکتے ہیں تو یه مرجحات ہمارے لئے قابل قبول ہون ہوں گے و رنه نهیں ہونگے لیکن اگر دو روایتوں میں تعادل برقرار ہواور کسی بھی روایت کو ایک دوسرےپر ترجیح حاصل نه ہو ، تو ایسی صورت میں علماء کے درمیان اختلاف نظر موجود ہے یعنی بعض ددونوں روایتوں کو حجیت سے ساقط جانتے ہیں اور نتیجتاً اصول عملیه کی جانب رجوع کرتے ہیں کیونکه دلیل اجتهادی کے ساقط ہونے کی صورت میں اصل عملی کی جانب رجوع کیا جاتاہے ۔

ان کے مقابل دوسرا گروه اس بات کا قائل ہے که دونوں روایتیں قابل عمل ہیں اور تیسرا گروه احتیاط کا قائل ہے اور چوتھا گروه توقف اور پانچواں گروه تخییر کا قائل ہے ۔

یه بحثیں اصول کی معروف کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔(مترجم(۷) )

الحمد لله الرب العالمین

____________________

۶ رسائل فرائد الاصول ، ص ۴۴۹ ؛ کفایة الاصول ،ج۲ ، ص ۳۹۲

۷ (مترجم)


عرف :

فقهاء کے نزدیک عرف بھی ادله استنباط میں شمار ہوتاہے جس کی تعریف میں کهتے ہیں وه چیز جو لوگوں کے درمیان متعارف معمول ہو ں اور ان کی عملی اور گفتاری سیرت کا جز ہوں

عرف اگر مذکوره معنی میں ہو تو عادت کا مترادف ہوگا اسی لئے عرف کی تعریف میں کها گیا “ عاده جمهور قوم فی قول ا و عملی”

قول و فعل میں کسی قوم کی عادت کو عرف کهتے ہیں

عرف کی تقسیمات :

۱- عرف خاص اور عرف عام :

عرف خاص کسی خاص زمانے یا منطقه یا اہل فن کے عرف کو عرف خاص کهتے ہیں ، مثلا زمان پیغمبر(ص)کے عربوں کا عرف شهر مدینه کے لوگوں کا عرف یا اہل بازار کا عرف

عرف عام :

عام لوگوں کا عرف که جس میں زمان مکان یا کسی خاص فن کی قید نه ہو

توجه رهے که عرف عام یا خاص ہونا ایک امر نسبی ہے ، کبھی ایک ہی عرف ایک لحاظ خاص سے اور دوسرے لحاظ سے عام ہوتا ہے

۲- عرف عملی اور عرف قولی :

عرف عملی جیسے بیع معاطاتی یعنی خرید و فروش میں لوگوں کی عادت یه ہے که صیغه جاری کرنے کے بغیر ہی معاملات انجام دیتے ہیں یه عادت کئی قوموں کے عوام و خواص میں اور ہر زمانےمیں رائج رهی ہے

عرف قولی :

جیسے عراقیوں کی عادت ہے که لفظ ولد کو فقط بیٹوں کے لئے استعمال کرتے ہیں بیٹیوں کے لئے ہیں یا بعض مناطق کے لوگ مچھلی کے لئے گوشت کا لفظ استعمال نهیں کرتے اب اگر کوئی قسم کھائے که میں گوشت نهیں کھاؤں گا اور کھالے تو عرف قولی کی بنا پر نه اس نے اپنی قسم توڑی ہے اور نه اس پر کفاره لگے گا


عرف صحیح اور عرف فاسد :

عرف صحیح اس عرف کو کهتے ہیں جو دوسری شرعی دلیل جیسے قرآن یا سنت کے مخالف نه ہو مثال کے طور ر بعض علاقه کے لوگوں کی عادت یه ہے که دلهن والے رخصتی سے پهلے دلهے سے نقدی مھرلیتے ہیں تا دلهن کا جهیز خرید سکیں

عرف فاسد :

جیسے معاملات میں ربا انجام دینا یا شراب پینا یا اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں عورتوں کا پرده کے معامله میں سهل انگاری سے کام لینا

مذاہب اسلامی میں عرف کی حجیت :

اہل سنت کے اکثر مذاہب کے نزدیک عرف کی جانب رجوع کرنامورد قبول واقع ہوا ہے

حنفیوں کے نزدیک عرف کے ذریعه احکام شرعی کا اثبات خاص طور سے معاملات میں بهت رائج ہے ان کے نزدیک جب تک عرف پر عمل سے روکنے والی کوئی نص نه ہو تب تک عرف ثبوت احکام میں دلیل تام سمجھی جائے گی یهاں تک که اگر قیاس عرف کے خلاف ہو تو قیاس کو رد کردیاجائے گا کیوں که قیاس پر عمل کرنا لوگوں کی زحمت کا باعث ہے اسی لئے کبھی کبھی عرف مصالح مرسله میں شمار ہوتا ہے

ابو حنیفه اور اس کے ماننے والے کابعض احکام میں اختلاف ہے کیونکه انھونےعرف کو مختلف دیکھا ہے.

مالک بن انس اکثر موارد میں شرعی احکاام کو اہل مدینه کے عرف پر معین کرتے تھے

اما م شافعی جب مصر میں وارد ہوئے تو انهوں نے اکثر احکام بدل دیے کیوں که وه اہل مصر کی عرف کو عراق و حجاز کے عرف سے جدا پاتے تھے.


اہل سنت کے فقهائ نے کچھ قواعد ایسے بنائے ہیں جو عرف کے اعتبار ہونے کی وجه سے دلیل شرعی کے عنوان سے بنائے گئے ہیں ان میں سے بعض قواعد که جس کا ذکر مجله الاحکام العدلیه میں ہوا ہے وه عبارت ہیں :

العادة محکمة؛ استعمال الناس حجة یجب العمل بها ؛ المعروف و عرفا کا لمشروط شرطا ؛ التعیین بالعرف کالتعیین بالنص ؛ لاینکر تغیر الاحکام بتغیر الازمان ؛ الثابت بالعرف کالثابت بالنص

عرف فاسد کی رعایت واجب نهیں کیونکه دلیل شرعی کے خلاف ہے مگر یه که (عرف ضرورت کے باب سے آیا ہو) ایسی صورت میں کهتے ہیں( الضرورات تبیح المحذورات )لیکن مجتهد کو چاہئیے که صحیح کا لحاظ کرے جیسا که رسول خد(ص)نے لوگوں کی کئی ایک اچھی عادتوں کا لحاظ کیا اور کبھی سکوت کے ذریعه اور کبھی صراحت کے ساتھ ان عادتوں کی تائید کی

عرف کی جانب رجوع کرنے میں ایک مورد باب خیار عیب ہے کون سی چیز عیب اور موجب فسخ ہے اور کون سی چیز عیب نهیں ہے اس کی تشخیص کے لئے عرف کی جانب رجوع کیا جائے گا اسی طرح ودیعه کی دیکھ دیکھ کتنی مدت تک ہونی چاہیئے که کوئی یه نه کهے که ودیعه کی حفاظت میں کوتاہی کی گئی اس مسئله میں بھی عرف کی جانب رجوع کرنا ہوگا لیکن شیعوں کی نظر میں عرف کی جانب رجوع کے موارد ایک جیسے نهیں ہیں

۱- کبھی عرف کی جانب اس لئے رجوع کیا جاتاہے که ظهور لفظی کو تشخیص دیا جائے جیسے لفظ ولد یا گوشت که جس کی مثال گذر چکی ان جیسے موارد میں عرف قولی کی جانب رجوع کرنا ظهور عرفی کی تشخیص کے لئے قابل قبول ہے لیکن روشن ہے که یهاں عرف حکم شرعی کی دلیل نهیں ہے

۲- کبھی کسی حکم شرعی کے موضوع کامصداق تلاش کرنے کے لئے عرف کی جانب رجوع کیا جاتا ہے جیسے فقه میں آیا ہے که ودیعه کی حفاظت واجب ہے اور اس میں کوتاہی ضمان کا موجب ہوگا لیکن زمان و مکان کے اعتبار سے عرف بھی اسی زمان و مکان کے مطابق ہوگا اس لئے اسی عرف کی روشنی میں حفظ یا کوتاہی کا مصداق تلاش کیا جائے گا یهاں بھی عرف کا حکم کی شناخت میں کوئی کردار نهیں

۳- کبھی عرف کی جانب اس لئے رجوع کیا جاتا ہے تاکه اس سے حکم شرعی کو کشف کیا جائے حیسے منقولات کے وقف کا جائز ہونا یا اخذ ظاہر کا جائز ہونا یا عقد فضولی کا صحیح ہونا شیعه اصولیوں میں سیره عقلا اور سیره متشرعه کی بحث اور حکم شرعی میں ان کا کردار اسی عرف سے مربوط ہے


لیکن عرف کی طرف رجوع یعنی سیره کی طرف رجوع سےمراد یه نهیں ہے که عرف ایک دوسری مستقل دلیل جو ادله شرعی کے عرض میں ہے کیونکه سیره عقلا یا سیره متشرعه اس وقت حجت ہے جب شارع کے مخالف نه ہو اور شارع کی مخالف سمجھنے اور نه سمجھنے کے ہے شرعی دلیل یعنی کتاب و سنت کی جانب رجوع کرنا ہوگا لهذا سیره عقلا کی حجیت معتبر دلیل شرعی کی حجیت کی وجه ہے یعنی کتاب و سنت کی حجیت کی وجه سے

لیکن سیره متشرعه کی حجیت کے لئے شارع کی تائید کی ضرورت نهیں کیونکه سیره مشترعه شارع کی راہنمائی کے بغیر وجود میں اہی نهیں سکتی کسی گروه کا متشرعه ہونا اس بات کی دلیل ہے که یه سیرت دستور شرعی سے ماخوذ ہے اور دلیل شرعی کی بنا پر صورت پاتی ہے

عرف کی حجیت کے دلایل اور ان کا جواب :

اہل سنت میں عرف کے قائل فقهاء نے اس کی حجیت پر چند دلیلیں پیش کی ہیں

۱- عبدالله بن مسعود کی روایت

ماراه المسلمون حسناً فهو عندالله حسن

اگثر فقهاء نے اسی حدیث پر اعتماد کیا ہے اس حدیث کی سند میں جو تھامناقشه اس سندی کی بحث گذر چکی بعض نے اس روایت کی سند کے صحیح ہونے کے بارے میں کها ہے که صحابی جب بھی مقام تشریع میں کچھ کهیں تو اسے قول رسول سے ماخو ذ سمجھنا چاہیئے پس اگر عبدالله بن مسعود نے اپنے سے یه بات کهی تو اس کے حدیث نبوی ہونے کے لئے کافی ہے

جواب :

اس بات کا تعلق قول صحابی یا مذهب صحابه کی حجیت سے ہے.

اسلام نے مختلف مواردمیں عرف جاہل ی کی تائید کی ہے جیسے ازدواج میں عورت اور مرد کا کفو ہونا یا قاتل که پدری رشته داروں پر قتل خطا ئی کا دیه قرار دینا

جواب :

اگر سیره عقلا ء کی حجیت شارع کی تائید سے ہے تو اس حجیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اگر اس سے مراد ہر عرف کی حجیت کا اثبات ہےتو یه تسلیم نهیں کرتے بلکه تمهارے نزدیک بھی یه قابل قبول نهیں کیونکه اگر قبول ہوتا تو عرف صحیح اور عرف فاسد میں تقسیم نهیں کرتے


فهرست منابع اور ماخذ

v آلاءالرحمن فی تفسیر القرآن ، شیخ محمد جواد بلاغی ، مرکز الطاعة و النشر فی مؤسسة البعثه ، مطبوعه اول ،۱۴۲۰ ق ۔

v ابطال القیاس ، ابن حزم اندلسی ۔

v اتحاف ذوی البصائر ،شرح روضة الناظر ، فی اصول الفقه ، ڈاکٹر عبدالکریم بن علی بن محمد النمله ، مکتبة الرشد ، ریاض،۱۴۲۲ ق ۔

v الاتقان فی علوم القرآن ، جلال الدین سیوطی ، مطبوعه ، دوم ، منشورات رضی ۔

v اجود التقریرات ، تقریرات درس آیة الله میرزا محمد حسین نائینی ، سید ابوالقاسم خویی ، کتابفروشی مصطفوی، قم۔

v احکام القرآن ، ابوبکر احمدبن علی رازی جصاص ، دارالکتب العلمیه ، بیروت ،مطبوعه اول ، ۱۴۱۵ ۔

v الاحکام فی الاصول الاحکام ، سیف الدین ابوالحسن علی بن علی محمد آمدی ، دارلکتب العلمیه ۔

v الادلة العقلیه و علاقتھا بالنقلیه ، ڈاکٹر محمد سعید شخاته ۔

v ارشاد الفحول ، محمد بن علی بن محمد شوکانی ، تحقیق احمد عزوعنانه ، دارالکتاب العربی ، بیروت ، چاپ دوم ۱۴۲۱ ق۔

v الاصابة فی تمییز الصحابة ، ابن حجر عسقلانی ، دار احیاء التراث ، بیروت مطبوعه اول ۔

v الاصو ل العامة للفقه المقارن ، سید محمد تقی حکیم ، تحقیق مجمع جهانی اہل بیت علیهم السلام قم ، پاپ دوم،۱۴۱۸ق ۔

v اصول الفقه ، شیخ محمد رضا مظفر ، دارالنعمان ، نجف اشرف ، مطبوعه دوم ، ۱۳۸۶ق ۔

v اصول الفقه الاسلامی ، محمد ابوزهره ، دارالفکر العربی ،۱۳۷۷ق ۔

v اصول مذهب الشیعة الاثنی عشریه ، ڈاکٹر ناصر بن عبدالله بن علی القفاری ، دارالرضاللنشر و التوزیع،مطبوعه سوم ، ۱۴۱۸ ق ۔

v امالی مفید ، ابو عبدالله محمدبن محمدبن نعمان ُعکبری بغدادی ، انتشارات جامعه مدسین حوزه علیمه قم ،چاپ چھارم،۱۴۱۸ ق ۔

v انوار الاصول ، تقریرات درس آیة الله مکارم شیرازی ، احمد قدسی ، انتشارات نسل جوان ، مطبوعه دوم ، ۱۴۱۶ ق۔

v انوار الفقاھة ، آیة الله ناصر مکارم شیرازی ، مدرسه الامام امیرالمؤمنین علیه السلام مطبوعه دوم ، ۱۴۱۳ ق ۔

v اوائل المقالات ، محمدبن محمدبن نعمان عکبری ،شیخ مفید قدس سره ۔

v بحارالانوار ، محمدباقر مجلسی ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ،مطبوعه سوم ، ۱۴۰۳ ق ۔

v بحوث فی الاصول ، تقریرات درس شهید آیة الله صدر ، سید محمود هاشمی ، المجمع العلمی للشهید صدر ،مطبوعه اول، ۱۴۰۵ق ۔

v بصائر الدرجات ، ابوجعفر محمدبن حسن بن فروخ الصفار القمی ۔


v البیان فی تفسیر القرآن ابوالقاسم الخویی ، مطبعة العلیمه قم ، چاپ۱۳۹۴ق۔

v تاریخ ابن خلدون ، عبدالرحمن بن خلدون ، مغربی ، دارالکتاب اللبنانی ۔

v تاویل مختلف الحدیث ، عبدالله بن مسلم ، ابن قتیبه ، دارالجیل ، بیروت ، ۱۴۱۱ق ۔

v تعارض الادله الشرعیه ، تقریرات درس آیة الله سید محمد باقر صدر ، سید محمود هاشمی ، لمکتبة الاسلامیه الکبری، مطبوعه دوم ، ۱۳۹۶ ق ۔

v تفسیر القرآن بالقرآن عندالعلامة الطباطبایی ، ڈاکٹر خضیر جعفر ، دارالقرآن الکریم ، قم مطبوعه اول ،۱۴۱۱ق۔

v تفسیر بیضاوی ، ناصر الدین ابو سعید عبدالله بن عمربن محمد شیرازی بیضاوی ، مؤسسة الاعلمی ، بیروت،۱۴۱۰ق۔

v تفسیر عیاشی ، ابو نصر محمدبن مسعود بن عیاشی سمرقندی ، المکتبة العلمیة الاسلامیه ۔

v تفسیر قاسمی (محاسن التأویل ) محمد جمال الدین القاسمی ، دارالفکر ، بیروت ، مطبوعه اول ، ۱۴۱۱ ق ۔

v التفسیرالکبیر ، فخررازی ، مکتب الاعلام الاسلامی ، قم مطبوعه سوم ، ۱۴۱۳ ق ۔

v توحید صدوق ، ابو جعفر محمدبن علی بن حسین بن بابویه قمی ، مؤسسة الاعلمی ، بیروت ۔

v تهذیب التھذیب ، ابن حجرعسقلانی ، دارالکتب العلمیة ، بیروت ،مطبوعه اول ، ۱۴۱۵ ق ۔

v جامع احادیث الشیعه ، اسماعیل معزی ملایری ، نشر صحف ، قم ، ۱۴۱۳ ق ۔

v الجامع الاحکام القرآن ، ابو عبدالله محمدبن احمد الانصار القرطبی ، دارالکتب العلمیة ، بیروت مطبوعه پنجم۔

v الحدائق الناصرة فی احکام العترة الطاہره ، شیخ یوسف بحرانی ، انتشارات جامعه مدرسین حوزه علمیه قم ،مطبوعه اول ، ۱۳۶۳ش ۔

v الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور ، جلال الدین سیوطی ، دارالفکر بیروت ،۱۴۱۴ ق ۔

v الدرایة فی علم مصطلح الحدیث ، زین الدین عاملی ( شهید ثانی ) مطبعة النعمان ، نجف اشرف ۔

v الذریعة الی تصانیف الشیعه ، شیخ آقای بزرگ تهرانی ، دارالاضواء بیروت ، مطبوعه سوم ، ۱۴۰۳ق ۔

v ذکریٰ الشیعة فی احکام الشریعه ، ابو عبدالله محمدبن مکی عاملی ، مکتبة بصیرتی ۔

v رجال کشی ، اختبار معرفة الرجال ، مؤسسة آل البیت علیهم السلام لاحیاء التراث ۔


v روضة الناظر و جنة المناظر فی اصول الفقه علی مذهب احمدبن حنبل ، موفق الدین عبدالله بن احمد بن قدامه.مؤسسة الریان ، بیروت ۔

v السرائر الحاوی التحریر الفتاوی ، ابو جعفر محمدبن منصور بن احمدبن ادریس حلی ، انتشارات جامعه مدرسین حوزه علمیه قم ، مطبوعه چهارم ،۱۴۱۷ ق ۔

v سنن ابن ماجه ، حافظ ابو عبدالله محمد بن یزید قزوینی ، دارالفکر بیروت ۔

v سنن الکبری ، حافظ ابوبکر احمدبن حسین بن علی بیهقی ، دارالفکر بیروت ،مطبوعه اول ۔

v شرح المعالم فی اصول الفقه لابن التلمسانی ، عبدالله محمدبن علی شرف الدین ابو محمد الفهری المصری ، عالم الکتب بیروت ، مطبوعه اول ۱۴۱۹ق ۔

v شرح المقاصر تفتازانی ، مسعود بن عمربن عبدالله ، سعد الدین تفتازانی ، تحقیق ڈاکٹر عبدالرحمن عمیره ، عالم الکتب بیروت ، مطبوعه ، اول ، ۱۴۰۹ق

v شرح نووی بر مسلم ، محیی الدین نووی ، دارالکتاب العربی ، بیروت مطبوعه دوم ، ۱۴۰۷ ق ۔

v شرح نهج البلاغه ، لابن الحدید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ۔

v صحیح بخاری ، ابو عبدالله محمدابن اسماعیل بخاری ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ۔

v صحیح ترمذی ، ابو عیسیٰ محمدبن عیسیٰ الترمذی ،۔

v صحیح مسلم ، امام ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری نیشابوری ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ۔

v الصواعق المحرقه علی اہل الرفض والضلال والذندقه ، ابوالعباس احمدبن محمدبن علی بن حجر ہی تمی ، مؤسسة الرساله ، مطبوعه اول ، ۱۴۱۷ ق ۔

v الطبقات الکبری معروف به طبقات ابن سعد ، محمدبن سعد ،مطبوعه دارالصادق ، بیروت ۔

v طیب بصری معتزلی ، دارالکتب العلمیه ، بیروت ۔

v عوالی اللئالی ، محمدبن علی بن ابراہیم الاحسائی ، معروف به ابن ابی جمهور ، مطبعة سیدالشهدا علیه السلام،مطبوعه اول.۱۴۰۳ق ۔


v فرائد الاصول (رسائل ) شیخ مرتضیٰ انصاری ،مطبوعه محشی به حاشیه ملارحمت الله ، کتابفروشی مصطفوی ، قم،۱۳۷۶ق۔

v الفوائد الحائریه ، محمدباقر بن محمد اکمل ( وحید بهبهانی ) مجمع الفکر الاسلام ،مطبوعه اول ، ۱۴۱۵ق ۔

v فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت (حاشیه کتاب المستصفی ) ۔

v الفهرست فی اخبار العلماء الصنفین من القدما و المحدثین و اسماء کتبهم ، محمدبن اسحق الندیم ۔

v قاعدة الفراغ والتجاوز ، سید محمود هاشمی ، مطبوعه اول ، دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم ، ۱۴۰۸ ق ۔

v قرآن کریم ۔

v القواعد الفقهیه ، آیة الله ناصر مکارم شیرازی ، منشورات دارالعلم ، بیروت مطبوعه چهارم ، ۱۴۰۱ق ۔

v قوانین الاصول ، ابوالقاسم بن حسن گیلانی معروف به میرازی قمی ، دارالطباعة استاد علی قلیخان ، ۱۲۹۹ ق ۔

v الکافی ، ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی ،مصحح : علی اکبر غفاری ، دارالاضواء، بیروت ، ۱۴۰۵ ق ۔

v الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوه التأویل ، جارالله محمود بن عمر زمخشری۔

v کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ، ملاکاتب شلبی معروف حاجی خلیفه ، دارالکتب العلمیة بیروت ۔

v کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد ، جمال الدین حسن بن یوسف بن علی بن مطهر (علامه حلی ) مؤسه الاعلمی ، بیروت مطبوعه اول ، ۱۳۹۹ ق ۔

v کفایة الاصول ، آخوند ملامحمد کاظم خراسانی ، به خط طاہر خوشنویس ، انتشارات علمیه اسلامیه ۔

v کنز العرفان فی فقه القرآن ، جمال الدین مقدادبن عبدالله سیوری ۔

v کنز الفوائد الاما م الفتح شیخ محمدبن علی بن عثمان الکراجکی الطرابلسی ، دار الاضواء بیروت ۱۴۰۵ق ۔

v کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال ، علی متقی هندی ، مؤسسة الرساله ، ۱۴۱۳ق ۔

v اللباب فی اصول الفقه ، صفوان عدنان داودی ، دارالقلم ، دمشق ، مطبوعه اول ، ۱۴۲۰ق۔

v المبسوط ، شمس الدین سرخی ، دارالمعرفة بیروت ۱۴۱۴ ق ۔

v مجمع البحرین طریحی ۔


v مجموعه فتاوای ابن تیمیه ، تقی الدین احمدبن تیمیه حرّانی دشمقی حنبلی ، دارالوفاء ، مطبوعه اول ،۱۴۱۸ق ۔

v المحلی بالآ ثار ، ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی ، دارالفکر بیروت ، ۱۴۰۸ ق ۔

v المستدرک علی الصحیحین ، حافظ ابو عبدالله محمد بن عبدالله الحاکم النیشابوری ، دارالکتب العلمیه ، بیروت ،مطبوعه اول،۱۴۱ ق ۔

v المستصفی من علم الاصول ، ابو حامد محمدبن محمدبن محمد غزالی طوسی ، مؤسسة الرسالة ،مطبوعه اول ،۱۴۱۷ ق ۔

v مسند احمد، ابو عبدالله شیبانی ، دار احیاء التراث العربی ، مطبوعه سوم ، بیروت ۱۴۱۵ ق۔

v مصباح الاصول ، تقریر درس آیة الله خویی ، سیدمحمد سرور واعظ حسینی ، مطبوعه نجف ، ۱۳۸۶ ق ۔

v معالم الدین ، ابو منصور جمال الدین حسن بن زید الدین ( ابن شهید الثانی ) ،خط عبدالرحیم ،۱۴۹۷ ق ۔

v المعتبر ، ابوالقاسم الحلّی (محقق حلّی)،به خط محمدباقر تفرشی ، ۱۳۱۸ ق ۔

v معترک الاقران ، جلال الدین سیوطی ، دارالکتب العلمیه ، بیروت ، مطبوعه اول ، ۱۴۰۸ ق ۔

v المعتمد فی اصول الفقه ، ابو الحسین محمدبن علی بن طیب بصری معتزلی ، دارالکتب العلمیه ، بیروت ۔

v مقدمه مرآة العقول ، سید مرتضیٰ عسکری ، داارالکتب الاسلامیه ، تهران، ۱۴۰۴ ق ۔

v مقیاس ال ہدایة فی علم الدرایة ، شیخ عبدالله مامقانی ، ۔

v ملخص ابطال القیاس ، سعید الافغانی ۔

v من لایحضر ه الفقیه ، ابو جعفر محمدبن علی بن حسین بن بابویه قمی ، دارالاضواء بیروت ،مطبوعه ششم ،۱۴۰۵ ق ۔

v مناہل العرفان فی علوم القرآن ، شیخ محمد عبدالعظیم زرفانی ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۴۱۶ ق ۔

v منهاج السنة النبویة فی نقض کلام الشیعة والقدریه ، ابوالعباس احمد بن تیمیه حرانی دمشقی حنبلی ، مطبوعه اول ، ۱۳۲۲ ق۔

v الموافقات فی اصول الاحکام ، حافظ ابو اسحاق ابراہیم شاطبی ، دارالفکر ۔

v الموسوعة الفقهیة المیسره ،محمد علی انصاری ،مجمع الفکر الاسلامی ، مطبوعه اول ، ۱۴۱۵ ق ۔

v موقف الرافضة فی القرآن ، مامادوکا رامبیری ،مکتبة ابن تیمیه ۔

v المهذب فی اصول الفقه المقارن ، ڈاکٹر عبدالکریم بن علی بن محمد نملة ، مکتبة الرشد ، ریاض ، مطبوعه اول ، ۱۴۲۰ ق ۔

v میزان الاعتدال فی نقد الرجال ، حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذهبی ، دارالکتب العلمیه ، بیروت ۔

v المیزان فی تفسیر القرآن ، سید محمد حسین طباطبایی ، مؤسسه مطبوعاتی اسماعیلیان ، قم ۱۳۹۰ ق ۔


v نظرات فی اصول الفقه ، ڈاکٹرعمر سلیمان الاشقر ، دارالنفائس ، بیروت ،مطبوعه اول ،۱۴۱۹ ق ۔

v نهج البلاغه ، باتحقیق ڈاکٹر صبحی صالح ۔

v وسائل الشیعه ، محمدبن حسن الحرّالعاملی ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، مطبوعه ، چهارم ، ۱۳۹۱ ق ۔

v ہدایة الابرار الی طریق الائمه الاطهار علیهم السلام ، حسین بن شهبا الدین کرکی عاملی ، مؤسسه احیاء الاحیاء ۔

ینابیع الموده لذوی القربی علیهم السلام ، سلیمان بن ابراہیم حسینی بلخی قندوزی حنفی ، دارالاسوة ، مطبوعه اول ، ۱۴۱۶ ق ۔


فہرست

اہداء ۴

اظہار تشکر ۵

عرض مترجم ۶

چكيده : ۷

۱ـ قرآن : ۷

۲ـ سنت : ۷

۳ـ اجماع : ۷

۴ـ عقل : ۷

منابع مورد اختلاف : ۸

قياس : ۸

استحسان : ۸

سد و فتح ذرايع: ۸

عرف : ۸

مقدمه: ۹

استنباط: ۹

استنباط کے لغوی معنی : ۹

استباط کے اصطلاحی معنی : ۱۰

استنباط کا تاریخچه: ۱۲

سنی مکتب : ۱۲


مقدمات استنباط : ۱۳

فقهای شیعه کے نظریات: ۱۳

مقدمات استنباط اہل سنت کی نظر میں : ۱۵

استنباط کے تکمیلی شرائط : ۱۵

ضرورت استنباط: ۱۶

خاتمیت : ۱۷

احکام اسلامی اور اس کے اہداف کا کلی ہونا: ۱۷

جاودانگی اسلام : ۱۸

اسلام کا جهانی ہونا : ۱۸

جامعیت: ۱۹

استنباط اصحاب کو استنباط کی تعلیم : ۲۰

خثعمیه کا رسول خد(ص)سےسوال اور اس کاجواب : ۲۱

حضرت علی کے کلام میں استنباط کی تعلیم: ۲۲

امام صادق نے استنباط کے شیوه کو بیان کیا ہے : ۲۴

شبهات : ۲۴

استنباط کے شبهات : ۲۴

استنباط میں افراط و تفریط : ۲۵

استنباط کو لاحق خطرسےبچانا : ۲۶

۱- قرآن سے دوری: ۲۶

قرآن سے دوری کئی خطرات کاباعث ہے : ۲۶


الف : آیات الاحکام کا محدود کرنا : ۲۶

ب: ظهور قرآن پر روایت کا مقدم کرنا: ۲۶

۲- احتیاط کے سلسلے میں فردی نگاہ : ۲۷

۳- فردی استنباط : ۲۷

۴- فهم و تفسیر نص میں جمود کا ہونا : ۲۸

۶- عوام زدگی: ۲۹

۷- فقیه مقارن پر توجه دینا : ۳۰

۸- زمان سے دوری اور پرانے مسائل کو پیش کرنا: ۳۰

استنباط میں زمان و مکان کی تاثیر: ۳۰

تمهید ۳۳

چند اہم نکات ۳۳

پهلانکته ۳۳

دوسرا نکته ۳۶

تیسرا نکته ۳۶

توضیح : ۳۶

"فریقین کے مورد اتفاق منابع استباط ” ۳۷

الف: قرآن ۳۷

۱ - قرآن کی تعریف : ۳۸

۳ - دین و شریعت کی شناخت میں قرآن کی مرجعیت: ۳۹

قرآن الله کا کلام ہے ۴۰


۳- موجوده قرآن کی حجیت : ۴۲

عدم تحریف قرآن ۴۳

نصوص اور ظواہر قرآن کی حجیت ۴۵

حجیت ظواہر کے دلائل ۴۵

۱- ارتکاز عقلا ۴۶

۳- وضع الفاظ ۴۶

حجیت ظواہر قرآن اور اخباری مسلک ۴۶

سنت ۴۹

سنت رسول کی حجیت ۴۹

سنت ائمه علیهم السلام کی حجیت ۵۰

۵- تعریف سنت : ۵۲

۶. - سنت نبوی کی حجیت ۵۳

۷- سنت اہل بیت کی حجیت : ۵۵

پهلی آیت آیه تطهیر: ۵۵

دوسری آیت آیه اولی الامر ہے : ۵۵

۸- سنت اہل بیت کی حجیت : ۵۶

سنت اہل بیت کی حجیت پر چند شبهات ۵۷

پهلا اعتراض : ۵۷

جواب : ۵۸

دوسرا اشکال : ۶۱


جواب : ۶۱

توضیح مطلب : ۶۱

تیسرا اشکال ۶۲

جواب: ۶۲

فعل معصوم سے استنباط کی کیفیت ۶۴

تقریر معصوم کی حجیت کیسے ثابت ہوگی ؟ ۶۵

سنت صحابه ۶۶

۹- سنت صحابه کی حجیت پر دلیل نقل : ۶۹

سنت تک پهنچنے کے راستے ۷۰

الف : سنت تک پهنچنے کے قطعی راستے ۷۰

۱- خبر تواتر ۷۰

اور خبر کی تیسری قسم : ۷۱

۲- وه خبرواحد جو قرینه قطعیه کے ہمراہ ہو ۷۱

۳- اجماع ۷۲

۴- سیرۀ عقلاء ۷۲

۵- سیرۀمسلمین ۷۲

ب: سنت دستیابی حاصل کرنے سنت کے غیر قطعی راستے ۷۳

۱- خبرواحد ۷۳

روایت صحیح ۷۴

روایت حسن ۷۴


روایت ضعیف ۷۴

۱- شهرت ۷۵

الف: شهرت روائی ۷۵

ب:شهرت عملی ۷۷

ج: شهرت فتوائی ۷۷

کتاب و سنت کے مشترک مباحث ۔ ۸۰

ادله نقلی کی تقسیمات ۔ ۸۰

دلیل خاصل و عام ۔ ۸۰

دلیل مطلق و مقید : ۸۱

دلیل حاکم و محکوم : ۸۲

دلیل وارد و مورد : ۸۳

دلیل مجمل و مبین : ۸۳

مفهوم و منطوق : ۸۴

اقسام مفهوم : ۸۴

ناسخ و منسوخ : ۸۵

خبر واحد کے ذریعے نسخ کرنا ممکن نهیں : ۸۶

حدیث کے ذریعه قرآن کی تخصیص و تقیید کا امکان : ۸۶

جواب : ۸۸

جواب: ۸۸

اجماع : ۸۹


ابن تیمیه کا کهنا ہے : ۸۹

اجماع اہل سنت کی نظر میں : ۸۹

۱۰- اجماع : ۹۰

اجماع کی تعریف : ۹۰

حجیت اجما ع پر قرآنی دلیل :(۱) مترجم) ۹۱

.۱۱- حجیت اجماع پرقرآن سے دلیل : ۹۲

صورت استدلال : ۹۳

استدلال کا جواب : ۹۳

صورت استدلال : ۹۳

جواب : ۹۳

حجیت اجماع پر روایی دلیل : ۹۴

مخالفین اجماع کا جواب : ۹۴

اجماع امامیه کی نظر میں : ۹۵

دلیل عقل : ۹۶

توضیح مطلب : ۹۶

گروه اول : اصحاب حدیث : ۹۶

دوسرا گروه : اصحاب رائے : ۹۶

دلیل عقلی فقهی منابع میں سے ایک منبع : ۹۸

دلیل عقلی کی تعریف : ۱۰۰

قوانین الاصول میں میرزا ی قمی کی تعریف : ۱۰۰


تعریف صاحب فصول : ۱۰۰

تعریف مرحوم مظفر : ۱۰۰

عقل کے با ب میں تشیع کا مسلک تشیع د اور موقف با ب عقل : ۱۰۰

مرحلهء اول : ۱۰۲

مرحلهء دوم : ۱۰۲

مرحله اول ،حکم عقلی کے موارد ومصادیق: ۱۰۲

پهلامقام احکام عقلی کا احکام شرعی کے مبادی علل سے مربوط ہونا ۱۰۲

دوسرا مقام: احکام عقلی حکم شرعی کے دا ئرے میں : ۱۰۴

تیسرا مقام: احکام عقلی احکام کا احکام کے نتائج احکام سے ارتباط ۱۰۵

مرحلهء دوم: دلیل عقلی کی حجیت کے دلائل ۱۰۵

دلیل عقل کی حجیت پر اشکالات ۱۰۶

۲-عقلی استدلال دو طرح ہیں ۱۰۶

جواب ۱۰۷

گروه اول ۱۰۷

گروه دوم ۱۰۸

قواعد فقهیه ۱۰۸

اصول عملیه ۱۰۹

یهاں پر دو نکته قابل توجه ہیں ۱۱۰

استنباط کے مورد اختلاف منابع ۱۱۱

قیاس (مترجم) ۱۱۳


۱ (مترجم) قیاس کی تعریف : ۱۱۳

۲ (مترجم) قیاس کے ارکان : ۱۱۳

۱- قیاس منصوص العله ۱۱۴

۲- قیاس اولویت ۱۱۴

۳- قیاس ہمراہ تنقیح مناط کے ساتھ ۱۱۵

قیاس مستنبط العله ۱۱۵

قیاس کی چوتھی قسم ککی ے دلائل حجیت کے دلائل پر نتقید ۱۱۶

جواب : ۱۱۷

جواب : ۱۱۸

جواب : ۱۱۹

۱۵-نتیجهء بحث : ۱۲۰

استحسان ۱۲۱

جواب ۱۲۲

مصالح مرسله ۱۲۳

۱- مصالح معتبره ۱۲۳

۲- مصالح ملغی ۱۲۳

۳- مصالح مرسله ۱۲۳

جواب : ۱۲۴

سد و فتح ذرایع ۱۲۵

۱۶- ذرایع کی قسمیں اور انکا حکم : ۱۲۶


الف - قرافی تقسیم : ۱۲۶

ب- ابن قیّم کی تقسیم : ۱۲۶

۱۷- سد ذرایع کی حجیت کی دلیلیں : ۱۲۷

تعارض ادله ۱۳۰

عرف : ۱۳۳

عرف کی تقسیمات : ۱۳۳

۱- عرف خاص اور عرف عام : ۱۳۳

عرف عام : ۱۳۳

۲- عرف عملی اور عرف قولی : ۱۳۳

عرف قولی : ۱۳۳

عرف صحیح اور عرف فاسد : ۱۳۴

عرف فاسد : ۱۳۴

مذاہب اسلامی میں عرف کی حجیت : ۱۳۴

عرف کی حجیت کے دلایل اور ان کا جواب : ۱۳۶

جواب : ۱۳۶

جواب : ۱۳۶

فهرست منابع اور ماخذ ۱۳۷


اسلامی مذاهب کی نظر میں فقهی منابع استنباط

اسلامی مذاهب کی نظر میں فقهی منابع استنباط

مؤلف: آیت الله مکارم شیرازی
زمرہ جات: اصول فقہ مقارن
صفحے: 152