طُلوعِ عشق

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
گوشہ خاندان اوراطفال


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


طلوع عشق

ازدواجي سفر شروع کرنے والے نوجوانوں کو

حضرت آيۃ اللہ العظميٰ خامنہ اي

کي نصيحتيں

جمع آوری :

حجتہ الاسلام جواد علي اکبري

ناشر :

نشر ولايت پاکستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہيں


بسم الله الرحمن الرحيم

آپ کي ازدواجي زندگي کے آغاز پر، جو آپ کے جسم و جان اور قسمت و سر نوشت کا ملاپ ہے، صدقِ دل سے آپ تمام بيٹے اور بيٹيوں کو ہديہ تبريک پيش کرتا ہوں۔

ميں آپ کو يہي سفارش کروں گاکہ ايک دوسرے سے ’’محبت‘‘ کيجئے، اُن سے وفادار رہيے اور خود کو ايک دوسرے کي سرنوشت ميں شريک جانيں۔

مشترکہ زندگي ميں ايک دوسرے سے الجھنے سے پرہيز کريں اور چھوٹي اور بے اہميت غلطيوں کو نظر انداز کرديں۔

خدا وند عالم آپ کو خوش بختي، شيريں زندگي اور روحاني ارتقائ عطا فرمائے اور محبت سے لبريز آپ کے گھر کو تندرست اور صالح اولاد کے وجود سے گرمي اور وشني بخشے، اِنْ شَائَ اللّٰہ

سيد علي خامنہ اي


انتساب

کائنات کے سب سے بہترين اور کامل ترين نوجوانوں،

علي علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیھا

کے نام!

کہ جن کي نو سالہ ازدواجي زندگي ہم سب کے ليے تاقيامت مشعلِ راہ ہے۔


سخن ناشر

ٍ ’’طلوعِ عشق‘‘ ،دراصل عشق و محبت اور عہد و پيمان کے راستے پر قدم اٹھانے والے اور اپني ازدواجي زندگي کا آغاز کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکي کے نئے سفر کي شروعات ہے۔

’’طلوعِ عشق‘‘،درحقيقت رہبرِ عالي قدر کي خطباتِ نکاح کے موقع پر ہونے والي مشفقانہ نصيحتيں ہيں کہ جو انہوں نے مختلف سالوں ميں ارشاد فرمائيں۔ يہ کتاب ’’دفتر نشرِ فرہنگِ اسلامي‘‘تہران سے ٢٠٠٤ئ ميں طباعت ہونے والي ’’مطلع عشق‘‘ کي پانچويں اشاعت کا اردو ترجمہ ہے۔

’’طلوعِ عشق‘‘ ،سماجي اور گھريلو مسائل کو اپنے اچھوتے اور نئے انداز سے بيان کرکے اُن کا صحيح اور عقلي و منطقي راہِ حل پيش کرتي ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پُرنشيب و فراز والے اس ازدواجي راستے کي باريکيوں، نزاکتوں، حساسيت اور مشترکہ زندگي کے شريکوں کي ذمے داريوں کو بھي بيان کرتي ہے۔ اُميد ہے کہ کتاب کا مطالعہ آپ کي ازدواجي زندگي کو خوشحال اور معاشرتي فضا کو شيريں زندگي کے ليے ساز گار بنانے ميں آپ کي بھرپور مدد کرے گا۔

نشرولايت پاکستان کا قيام ٢٠٠٢ ئ ميں عمل ميں لايا گيا۔ اس ادارے کا مقصد رہبرِ معظّم ولي امر مسلمين جہان حضرت آيت اللہ العظميٰ امام خامنہ اي حفظہ اللہ کے تمام مطبوع اور غير مطبوع آثار کي حفاظت اور اُنہيں اُردو زبان ميں منتقل کرنا ہے۔

نشر ولايت پاکستان، دشمن کي ثقافتي يلغار کو روکنے کے ليے کوشاں ہے۔ اور يہ کتاب بھي اسي سلسلے کي ايک کڑي ہے۔ اُميد ہے کہ طلوعِ عشق آپ کے علمي ذوق ميں اضافے کا سبب بنے گي۔

نشرولايت پاکستان(مرکز حفظ و نشر آثار ولایت)


مقدمہ

انتظار کا سخت آزما سفر اپنے اختتام کو ہے، دو خوشحال اور چمکتے دمکتے چہروں کے آمنے سامنے ہونے اور رُخ زيبا سے نقاب الٹے جانے کے ساتھ يہ ’’شيريں انتظار‘‘ اپنے ’’وصل‘‘ ميں تبديل ہو جائے گا اور يوں دو دھڑکتے ہوئے دلوں کو اپني اپني حقيقي زندگي کے خوابوں کي تعبير نصيب ہو گي۔

مومن اور نوراني نوجوان لڑکے اور لڑکياں اس خدائي اور آسماني ’’رشتہ ازدواج‘‘ کي دہليز پر کھڑے ہيں۔ يہ ايک ايسا رشتہ ہے کہ جس میں منسلک ہو کر وہ ’’ايک جان دو قالب‘‘ ہو جائيں گے اور يہ ايک ايسي مضبوط گرہ ہے جو دو تقديروں کو ايک ساتھ زندگي کے سفر پر لا کھڑا کرے گي۔

ملن اور بندھن کي اس محفل ميں ايک طرف اپنے احساسات و نشاط سے بھرپور، عفت و حيا کي چادر ميں لپٹي ہوئي ناز و سرور اور محبت سے سرشار اور اپني آرزوں کے ساتھ زندگي کے نئے سفر اور نئے راستے پر نظريں جمائے دُلہنيں موجود ہيں تو دوسري جانب اميد و شوق اور مصمم ارادوں کے مالک، عشق سے لبريز اور زندگي کے نشيب و فراز والي اس نئي اور طويل راہ پر اپني منزل کي جانب خوف و اضطراب کے ساتھ نظريں جمائے ہوئے دولہا کھڑے ہيں تو تيسري جانب خوشي و مسرت ميں ڈوبے ہوئے والدين کہ جن کي آنکھوں ميں خوشي کے آنسو ان کي محبت و شفقت کے بھرپور احساسات کي عکاسي کر رہے ہيں، جو اپنے بوستان حيات کے گُلوں کے ملاپ کے منتظر ہيں۔

سب کي نظريں ’’اُس آنے والے‘‘ کے راستے کي جانب لگي ہوئي ہيں جو اپنے ’’آسماني کلام‘‘ کے ذريعے عشق و محبت ميں فريفتہ و مجذوب، دولہا اور دلہنوں کے دلوں کو ہميشہ کے لئے آپس ميں ملا دے گا۔

يہ کتنا روشن اور نوراني معاہدہ زندگي ہے کہ جہاں فرمانِ الٰہي(۱) کا اجرائ ہو گا اور زيبائي اور خوبصورتي کے خالق کي سب سے زيادہ خوبصورت نشاني سب کے سامنے ظہور کرے گي(۲) اور يہ سب سنت نبوي ۰ اور سيرہ علوي کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔(۳)

خاندان نبوت ۰ کي مودّت سے لبريز ’’دل‘‘، ولادت و خوشيوں کے ان ايام ميں اپني فلاح و سعادت کے لئے ايک دوسرے کے ساتھ عہد و پيمان کے رشتے ميں منسلک ہوتے ہيں اور يوں يہ دو عاشق کبوتر پَر سے پَر ملائے بہشت بريں اور قداست و پاکيزگي کے بلند آشيانے کيلئے اپني پرواز کا آغاز کرتے ہيں۔

شريعت محمدي ۰ ميں ’’ازدواج‘‘ يا ’’شادي‘‘ کو بہت سہل و آسان بنايا گيا ہے جب کہ ’’عقد‘‘ يا ’’نکاح‘‘ ميں بھي کسي قسم کي سختي نہيں رکھي گئي ہے۔ دولہا اور دلہن، شرائط کا خيال رکھتے ہوئے خود بھي اپنا نکاح پڑھ سکتے ہيں۔ ليکن سب کي خواہش يہي ہوتي ہے کہ ان دو دلوں اور دو خاندانوں کے ملاپ، زندگي ميں برکت کے نزول اور اچھے شگون کے لئے کتنا ہي اچھا ہو کہ اس مرحلے کو کسي ايسے شخص کے ہاتھوں ميں سونپيں کہ جو آدابِ شريعت سے بھي آگاہ ہو اور پاک و پاکيزہ روح اور نيک صفات کا مالک بھي، تا کہ اس کے پاکيزہ وجود کي برکت، رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والوں کے چراغ عشق کو پہلے سے زيادہ روشن کر دے، ان کي محبت و دلگرمي کو پہلے کي نسبت اور زيادہ گرما دے اور ’’اس‘‘ کے وجود کي مٹھاس ان کي نئي زندگي ميں مزيد شيريني گھول دے۔

اور اس سے بڑھ کر کيا سعادت ہو گي کہ زندگي کي اس مشترکہ جدوجہد کي بنياد رکھنے والا زمانے کا ولي فقيہ، اہل ايمان کے دلوں کا محبوب اور نائب امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف ہو !

ايک محترم شخصيت دولہا اور دلہنوں کي کثير تعداد کے سامنے کھڑي ہوتي ہے، تمام نکاح نامے

اس کے ساتھ ہيں اور وہ ايک ايک کر کے تمام دولہا اور دلہنوں کا نام پکارتا اور انہيں لازمي ہدايات ديتا ہے۔

____________________

١ ’’وانکحوا الا يامٰي منکم والصالحين من عبادکم وامائکم ۔‘‘ (سورہ نور ٣٢)

٢ ’’ومن آياته ان خلق لکم من انفسکم ازوا لتسکنوا اليها وجعل منکم مودَّةً ورحمةً ‘‘۔ (سورہ مريم ٢١)

٣النکاح سنّتي فمن رغب عن سنتي فليس منّي ۔ (بحار الانوار، جلد ١٠٠، صفحہ ٢٢٠)


تمام نکاح ناموں ميں مشترک چيز ’’مہر‘‘ کا ايک ہونا ہے يعني صرف ’’١٤ سکے(۱) ۔ ‘‘ البتہ بہت سے دُولہاوں نے اس کے ساتھ ساتھ حج، مکہ مدينہ کي زيارتوں اور عتبات عاليات کے سفر يا اپنے اپنے شوق و ذوق کے مطابق بہت سے دوسرے معنوي اور روحاني تحفوں کا بھي انتظام کيا ہے۔ يہ ہے اس محفل ميں آنے کي شرط۔ وہ اپني ہدايات کو جاري رکھتا ہے: ’’آغا‘‘ دلہنوں کي جانب سے وکيل ہيں جب کہ جناب محمدي گلپايگاني دولہاوں کي طرف سے اپني وکالت کے فرائض انجام ديں گے۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں دلہنيں خدا کي عطا کردہ نعمت کيلئے کرامت و بزرگي اور سرفرازي کا احساس کرتي ہيں اور دل ہي دل ميں دولہاوں پر اپني برتري جتاتي ہيں۔ دولہا حضرات تھوڑي سے دير کے لئے افسردہ تو ہوتے ہيں ليکن فوراً ہي اپنے دل کو اس خيال سے تسلي ديتے ہيں کہ اصل قصہ تو ’’اَنکَحتُ (ميں نے تمہارا نکاح کيا)‘‘ کا ہے کہ جسے ’’آغا‘‘ اپني زبان مبارک سے ادا کريں گے۔ بس يہيں سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس شريکہ حيات کا کتنا خيال رکھنا چاہيے کہ جس کا ’’وکيل‘‘ نائب امام جيسي شخصيت ہو !

’’تمام چيزيں تيار ہيں‘‘ ! ايک بلند آواز محفل پر طاري سکوت کو توڑتي ہے تو دوسري جانب ’’شوقِ وصل‘‘ اور عشق ميں دھڑکنے والے دلوں کي دھڑکنوں کو اور تيز کر ديتي ہے، وصال کا وقت آ گيااور منزل قريب آتي نظر آ رہي ہے۔

اور تھوڑي دير بعد امام بارگاہ کے وسيع و عريض ہال کے کونے ميں بنے ہوئے دروازے سے پردے کو ہٹايا جاتا ہے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالي فرجہ الشريف کے نائب کا چہرہ پر نور اپني تمام نورانيت، خوبصورتي، جذابيت اور مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ خورشيد ولايت کے ظہور پر حاضرين کے لبوں پر صلوات کے نغمہ جاويد کي گونج اور آنکھوں سے اشک شوق کا جاري ہونا دراصل سينوں ميںدھڑکنے والے ان مجذوب و فريفتہ دلوں کا پتہ دے رہا ہے جو شکر گزاري اور سپاس کے جذبات کے ساتھ اپنے زندگي کے شيريں لمحات کا جشن منا رہے ہيں۔ ’’آغا‘‘ اپني مہربان آنکھوں سے حاضرين کو سيراب کرتے ہيں اور سب کو ’’خوش آمديد‘‘ کہتے ہيں۔

____________________

١ ايران ميں آج کل رسم ہے کہ مہر کو سونے کے سکوں کي شکل ميں رکھا جاتا ہے۔ ہر سونے کا سکہ (سکہ بہار آزادي) آج کل تقريباً پاکستاني ۷۵۰۰/= روپے کا ہے۔ (مترجم)


اِن محافل کي رسم کے مطابق ابتدا ميں رہبر عالي قدر اپنے پدرانہ اور مشفقانہ انداز ميں چند مختصر مگر پُر معنيٰ جملے، حکمتوں سے لبريز قيمتي گوہروں اور درس زندگي کے قيمتي نکات کو خوش بختي کے راستے پر قدم اٹھانے والوں کي نظر کرتے ہيں۔ اے کاش سر زمين ايمان کے تمام دولہا اور دلہن کہ جو اس مہربان اور شفيق پدر کے روحاني بيٹے اور بيٹياں ہيں، اپني اپني زندگي کے آغاز پر اِن حکمت ہائے گوہر بار سے بہرہ مند ہوتے اور اپنے طولاني اور يادگار سفر کے لئے اس دسترخوانِ کرم سے توشہ راہ مہيا کرتے!

نکات کے بيان کے بعد دلوں کا يہ محبوب ايک ايک کر کے تمام دلہنوں سے وکيل بننے کي اجازت ليتا ہے۔

يہ وہ مقام ہے کہ جہاں کوئي بھي دلہن ’’جي‘‘ کہنے ميں نخرے يا شرم اور پس و پيش سے کام نہيں ليتي کيونکہ يہ لمحات لوٹ کر آنے والے نہيں۔ ’’آغا‘‘ چند دلہنوں سے اجازت لينے کے بعد باري آنے والي دلہن کا نام ليتے ہيں اور مہر کي رقم اور نکاح نامے ميں موجود ديگر شرائط کے بيان کے ساتھ اُس سے وکالت کي اجازت طلب کرتے ہيں دوسري دلہنوں کي طرح جلدي جلدي ’’جي‘‘ کہنے کے بجائے يہ دلہن چپ رہتي ہے۔ حاضرين حيرت ميں ڈوب جاتے ہيں۔ ’’آغا‘‘تھوڑي دير صبر کرتے ہيں، ’’اگر آپ نے مجھے اپنا وکيل نہيں بنايا تو ميں آگے بڑھ جاوں گا ‘‘۔ دلہن فرطِ جذبات سے گلے ميں لگے پھندے کو دور کرتے ہوئے لب کھولتي ہے: ’’آغا ايک شرط ہے !‘‘ حاضرين اور تعجب کرتے ہيں۔ ’’ميري بيٹي کيا شرط ہے ؟‘‘۔دلہن نے پہلے سے زيادہ پُر اعتمادلہجے ميں کہا: ’’اس شرط پر آپ کو اپنا وکيل بناتي ہوں کہ آپ روزِ قيامت ميري اور ميرے والد کي شفاعت کريں گے‘‘۔ حاضرين ميں سے کوئي با آواز بلند کہتا ہے : ’’آغا يہ سپاہ اسلام کے عظيم جنرل شہيد کي دختر ہيں‘‘۔ حاضرين منقلب ہو جاتے ہيں۔ آغا متواضع لہجے ميں فرماتے ہيں کہ ’’ميري بيٹي ! يہ تمہارے شہيد والد ہيں کہ جو ہم سب کي شفاعت کريں گے! ‘‘ اسلام اور حضرت زہرا سلام اللہ عليہا کے ان انصاروں کے ذکر سے محفل ميں دوسرے معنوي رنگ پھيل جاتے ہيں۔ ’’آغا‘‘ کے بعد محمدي صاحب نے بھي دولہاوں سے وکالت لي اور اب صيغہ عقد يا نکاح پڑھانے کے لئے تمام چيزيں تيار ہيں۔


پہلي بات

ازدواج يا شادي: ناموسِ فطرت اور قانونِ شريعت

دريچہ

اب آسماني ملاپ کا وہ پُر شکوہ لمحہ نزديک آ پہنچا ہے۔

دو ہمسفر نوجوان، خداوند عالم کي مرضي اور رضا کے مطابق چاہتے ہيں کہ ايک دوسرے کے ہاتھ ميں ہاتھ دے کر زندگي کے راستے پر قدم اٹھائيں اور اپنے بلند و بالا اہداف کي طرف حرکت کريں۔

يہ کيسا مضبوط اور اہم عہد و پيمان ہے !

انسان کي طبع اور جبلّت اپنے ’’جوڑے‘‘ کي متلاشي ہے جب کہ جان و دل ميں موجزن يہ دريائے پُر تلاطم صرف ’’ہمسر‘‘ اور ’’ہم رتبہ اور ہم پلہ‘‘ ہي سے ساکن ہو سکتا ہے، بے قرار روح ’’اُس‘‘ کے بغير پھيکے پن اور خلا کا احساس کرتي ہے۔

خدا بھي ان ميں سے ہر ايک کو دوسرے کے بغير پسنديدہ نگاہوں سے نہيں ديکھتا ہے جب کہ پيغمبر اکرم ۰ نے ’’شادي‘‘ کو اپني سنت، رضائے الٰہي تک پہنچنے کي راہ اور نصف دين کو محفوظ کرنے کا وسيلہ قرار ديا ہے۔ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے

يہ دونوں نوجوان، زندگي کے اس ’’معاہدے‘‘ کے متعلق زيادہ جاننا چاہتے ہيں کہ تا کہ وہ علم اور آگاہي کے ساتھ ’’قبول ہے‘‘ کہہ سکيں۔ لہٰذا اس ’’سيد‘‘ کي باتوں کو سننا کس قدر شيريں ہے !

زندگي کا ہدف

زندگي ايک طولاني سفر ہے کہ جس ميں مختلف منزليں ہيں ليکن اس کا ايک بلند بالا ہدف بھي ہے۔ زندگي ميں انسان کا ہدف يہ ہونا چاہيے کہ وہ اپنے اور ديگر موجوداتِ عالم کے وجود کو اپنے معنوي کمال کے لئے استعمال کرے۔

حقيقت تو يہ ہے کہ ہم اس دنيا کے لئے خلق نہيں ہوئے ہيں۔ ہم نے دنيا ميں اس حالت ميں قدم رکھا ہے کہ ہميں اس ميں آنے کا کوئي اختيار نہيں تھا۔ ہم اس دنيا ميں ايک ايسے بچے کي مانند ہيں جو دوسروں سے اثر ليتا ہے، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ہماري عقل رُشد پيدا کرتي ہے اور ہم اختيار اور انتخاب کي قدرت کے مالک بن جاتے ہيں۔ يہ وہ جگہ ہے کہ جہاں لازمي ہے کہ انسان صحيح انداز سے سوچے، صحيح چيز کا انتخاب کرے اور اپنے اُس انتخاب کے مطابق قدم اٹھائے اور آگے بڑھے!

اگر انسان اس فرصت کو غنيمت جانے اور اس دنيا کے چند دنوں سے کہ جب تک وہ يہاں ہے، بہترين استفادہ کرے تو وہ اپنے آپ کو کمال تک پہنچا سکتا ہے اور جس دن اِس دنيا سے رخصت ہو گا تو وہ اُس شخص کي مانند ہو گا کہ جو زندان سے رہائي پاتا ہے اور يہيں سے حقيقي زندگي کا آغاز ہوتا ہے۔

شادي، اسلامي اقدار کا جلوہ

سب سے پہلي اور بنيادي بات يہ ہے کہ يہ شادي کہ جسے خداوند عالم نے (انساني رشد و کمال کے لئے بہترين) روش و طريقہ قرار ديا ہے اور انساني خلقت بھي اسي کا تقاضا کرتي ہے، خداوند عالم کے اسرار ميں سے ايک سِرّ، اس کي نعمتوں ميں سے ايک نعمت اور حيات بشري کے مظاہر ميں سے ايک ناقابلِ اجتناب مظہر ہے۔ ايسا ہو سکتا تھا کہ خداوند عالم آسماني قوانين ميں شادي کو لازم اور واجب يا جائز قرار ديتا اور لوگوں کو چھوڑ ديتا کہ وہ (ازروئے ناچاري يا ازروئے اختيار) شادي کريں۔ ليکن اس نے يہ کام نہيں کيا بلکہ ’’ازدواج‘‘ کو ايک ’’قدر‘‘ ( VALUE ) قرار ديا ہے يعني جو بھي رشتہ ازدواج ميں منسلک نہيں ہو گا وہ خود کو اس فضيلت سے محروم کر دے گا۔

خداوند عالم کا اصرار

اسلام کي رُو سے گھر بسانا ايک فريضہ ہے اور يہ ايسا عملي فريضہ ہے کہ مرد و عورت مل کر اس کام کو ايک ’’خدائي امر‘‘ اور ايک ’’وظيفے‘‘ کے تحت انجام ديں۔ اگرچہ کہ ’’شادي‘‘ کو شرعاً زمرہ واجبات ميں (براہ راست) ذکر نہيں کيا گيا ہے ليکن اسلامي تعليمات ميں اس امر کے لئے اتني توجہ اور ترغيب دلائي گئي ہے کہ انسان سمجھ جاتا ہے کہ خداوند عالم اس امر کے لئے کتنا اصرار کرتا ہے۔ يہ اصرار صرف ايک کام کو معمولي طور سے انجام دينے کے لئے نہيں ہے بلکہ ايک يادگار واقعے اور انساني زندگي اور معاشرے پر تاثير گزار امر کي حيثيت سے اس پر توجہ دي گئي ہے، لہٰذا اسي لئے نوجوان لڑکے اور لڑکي کے بندھن پر اتني زيادہ ترغيب دلائي گئي ہے اور ’’جدائي‘‘ اور ’’دوري‘‘ کو مذمت کي نگاہ سے ديکھا گيا ہے۔

خداوند عالم مرد اور عورت کي تنہائي کو پسند نہيں کرتا !

خداوند عالم مرد اور عورت کي تنہا زندگي کو پسنديدہ نگاہ سے نہيں ديکھتا ہے۔ خاص طور پر وہ جو نوجوان ہوں اور شادي اور گھر بسانے کي دہليز پر کھڑے ہو کر بھي تنہائي کو ترجيح ديں۔ ليکن يہ صرف نوجوان لڑکے لڑکيوں سے مخصوص نہيں ہے۔ خداوند عالم مشترک ازدواجي زندگي سے خوش ہوتا ہے۔ ايک مرد اور عورت کا تمام زندگي اکيلے زندگي گذارنا، اسلام کي نگاہ ميں کوئي مطلوب چيز نہيں ہے۔ ايسا انسان، معاشرے ميں ايک بيگانے موجود کي مانند ہے۔ اسلام کي خواہش يہ ہے کہ ايک گھرانہ، انساني معاشرے کي ايک حقيقي اکائي ہو نہ کہ ايک اکيلا انسان۔

وقت پر شادي = سنّت نبوي ۰

ايک مشہور و معروف روايت ميں رسول اکرم ۰ نے ارشاد فرمايا کہ ’’نکاح ميري سنت ہے‘‘۔ البتہ، تخليق انساني کي ايک خاص روش ہے اور تمام انسانوں اور تمام اقوام و اديان ميں يہ روش رہي ہے۔ پس حضرت ۰ نے کيوں فرمايا کہ يہ ميري سنت ہے؟ آخر اس کو اپني سنت قرار دينے اور اپنے رفتار و عمل سے مخصوص کرنے کے کيا اسباب ہيں؟ شايد يہ سب اس جہت سے ہو کہ اسلام نے گھر بسانے کے لئے بہت زيادہ تاکيد کي ہے جب کہ دوسري شريعتوں اور اديان ميں شادي پر کم تاکيد کي گئي ہے۔ آپ ملاحظہ کيجئے کہ اسلام نے ’’شادي‘‘اور ’’گھر بسانے‘‘ پر جو تاکيد کي ہے کہ وہ دنيا کے کسي بھي مکتبِ فکر اور دنيا ميں رائج کسي بھي فلسفے اور سياست ميں موجود نہيں ہے۔ اسلام اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ لڑکے اور لڑکياں اس سن و سال ميں شادي کريں کہ جس ميں وہ (جسماني و عقلي طورپر) شادي کے قابل ہوجائيں۔

نکاح، فطري تقاضے کو پورا کرنے کے علاوہ ايک ديني اور اسلامي سنت بھي ہے۔ اس بنا پر يہ بہت آسان ہے کہ جو بھي اس عمل کے لئے کہ فطرت و ضرورت جس کا تقاضا کرتي ہے اقدامات کرے گا وہ ثواب بھي حاصل کرے گا۔ لہٰذا وہ سنت نبوي ۰ کي ادائيگي اور رسول اکرم ۰ کے حکم کي اطاعت کي غرض سے شادي کے لئے اقدامات کرے گا۔ شادي ايک فطري آئين اور خداوند عالم کي طرف سے دکھائي گئي ايک راہ ہے جب کہ رسول اکرم ۰ نے اسے اپني سنت قرار ديا ہے۔ اس کا سبب يہ ہے کہ اسلام نے اس مسئلے پر بہت زيادہ اور خاص تاکيد کي ہے، کيوں ؟ کيونکہ يہ مسئلہ بہت اہميت کا حامل ہے اور انساني تربيت ميں خاندان کي تشکيل کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہيں۔ اسي طرح فضائل و کمالات کے ارتقا اور تربيتي، روحي، عملي اور ہمدردي و محبت کے لحاظ سے ايک صحيح و سالم انسان کي (مکمل) ظاہري و باطني تعمير ميں يہ عنصر بنيادي کردار کا حامل ہے۔

جواني کے عشق و شوق ميں شادي

حضرت ختمي مرتبت ۰ اس بات پر بہت زيادہ تاکيد فرماتے تھے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکياں جلدي شادي کريں۔ البتہ اپنے ميل و رغبت اور اختيار سے، نہ يہ کہ دوسرے ان کي جگہ فيصلہ کريں۔ ہميں چاہيے کہ اپنے معاشرے ميں اس بات کو رواج ديں۔ نوجوانوں کو مناسب سن و سال ميں کہ جب ان کي نوجواني کي بہار اپنے عروج پر ہو، عشق و شوق کي اس جوش و گرمي کے ساتھ شادي کرني چاہيے۔ يہ بات بہت سے افراد کے نظريات اور خيالات کے بر خلاف ہے کہ جو يہ خيال کرتے ہيں کہ جواني کے زمانے کي شادي دراصل ’’وقت سے پہلے کِھلنے والا پھول‘‘ ہے کہ جو جلد ہي مرجھا جاتا ہے ليکن حقيقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر شادي اور اس کے فلسفے کو صحيح طور پر درک کيا جائے اور يہ صحيح طور پر انجام پائے تو جو اني کي شادياں اچھي اور بہت پائيدار ثابت ہوں گي اور ايسے خاندان ميں مياں بيوي مکمل طور پر ايک دوسرے کے سچے دوست اور اچھے جيون ساتھي ثابت ہوں گے۔

وقت ِ ضرورت، رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونا

اسلام کي يہي خواہش ہے کہ يہ مقدس امر اپنے صحيح وقت پر کہ جب اِس کي ضرورت محسوس کي جائے جتنا جلدي ممکن ہو، انجام پائے۔ يہ وہ امور ہيں جو صرف اسلام ہي سے مخصوص ہيں۔ يعني جتني جلدي ہو بہتر ہے۔ جلدي اس لئے کہ وہ وقت کہ جب لڑکا و لڑکي اپنے جيون ساتھي کي ضرورت محسوس کريں تو يہ کام جتنا جلدي ممکن ہو انجام پائے، بہتر ہے۔ اس کا سبب يہ ہے کہ اوّلاً، رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے کے دامن ميں چھپي ہوئي خير و برکات اپنے صحيح وقت پر انسان کو حاصل ہوں گي قبل اس کے کہ زمانہ گزرے يا اس کي زندگي کا بہترين حصہ گزرجائے۔ دوسري بات يہ کہ وقت پر شادي جنسي انحرافات اور بے راہ روي کا راستہ روکتي ہے۔ لہٰذا حديث ميں ارشاد ہوا ہے کہ ’’مَنْ تَزَوَّجَ اَحرَزَ نَصْفَ دِيْنِهِ ‘‘(۱) (جس نے وقت پر شادي کي اس نے اپنا نصف دين محفوظ کر ليا)۔ اس روايت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے دين و ايمان کو متزلزل کرنے والے آدھے حملے اور ان کو لاحق خطرات صرف جنسي انحرافات اور بے راہ روي کي وجہ سے ہيں۔

شادي کي برکتيں اور فوائد

رشتہ ازدواج ميں منسلک ہو کر ايک دوسرے کا شريک حيات اور جيون ساتھي بننا اور ’’خوشحال گھرانے‘‘ کي ٹھنڈي فضا ميں سانس لينا دراصل زندگي کے اہم ترين امور سے تعلق رکھتا ہے۔ شادي، مرد اور عورت دونوں کے روحاني آرام و سکون اور مل جل کر زندگي کي گاڑي کو دلگرمي کے ساتھ چلانے کا ايک وسيلہ ہے۔ يعني ايک دوسرے کي ڈھارس باندھنے، اطمينان قلب اور ايک ’’غمخوار‘‘ و ’’مونس‘‘ کي تلاش کا وسيلہ ہے کہ جس کا وجود مياں بيوي کي مشترکہ زندگي کا جزوِلا ينفک ہے۔

شادي، انسان کي جنسي، شہوتي اور جبلّتي جيسي فطري ضرورتوں کا مثبت جواب دينے کے علاوہ توليد نسل اور صاحب اولاد ہونے جيسي زندگي کي بڑي خوشيوں کو بھي اپنے ہمراہ لاتي ہے۔

____________________

١ بحار الانوار، جلد، ١٠٠ صفحہ ٢١٩


پس آپ شادي کے مادّي اور معنوي پہلووں پر توجہ کيجئے کہ جب ايک انسان شادي کو اس نظر سے ديکھتا ہے تو وہ شادي کو مبارک و مسعود امر اور مفيد حکم پاتاہے۔ البتہ شادي کا سب سے اہم فائدہ ’’گھر بسانا‘‘ ہے جب کہ ديگر مسائل دوسرے درجے کے ہيں يا اس ’’گھر بسانے‘‘ والے امر کي مدد کرنے والے ہيں مثلاً توليد نسل يا بشري غرائز اور جبلّتوں کي سيرابي کا انتظام کرنا۔ نسلِ بشر کي ابتدا و بنياد، شادي ہے، عَالَم کي بقا شادي سے وابستہ ہے، تہذيب و تمدّن اور ثقافتيں شادي ہي کے ذريعے آنے والي نسلوں تک منتقل ہوتي ہيں اور سياسي اور ديگر جہات سے معاشروں کا استقلال و آزادي، شادي سے ہي منسلک ہے۔ غرضيکہ شادي اپنے دامن ميں بے شمار فوائد رکھتي ہے۔

شادي کي شرائط کمال

شريعت ميں حکم ديا گيا ہے کہ رشتہ ازدواج کو مضبوطي سے قائم رکھا جائے ليکن اس کے ساتھ ساتھ مياں بيوي کي مشترکہ زندگي سے متعلق بہت سي شرائط کو بھي بيان کيا گيا ہے۔ مثلاً ازدواجي زندگي کے اخلاق و عمل کے بارے ميں کہ جب آپ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہو جائيں تو اپني بيوي يا شوہر کے لئے اپنے اخلاق کو اچھا بنائيے، مشترکہ زندگي ميں اس کي مدد کيجئے، عفو و درگذر سے کام ليں، ايک دوسرے سے محبت کريں، اس کے سچے اور مخلص دوست بنيں اور اس سے وفا داري کريں۔ يہ سب شريعت کے احکام اور دستور ہيں۔

البتہ شادي ميں ’’مادّي شرائط‘‘ کو بہت آسان رکھا گيا ہے۔ جو چيز شادي ميں اہم ہے وہ اپنے شريک حيات کے بشري پہلو اور اس کے انساني احساسات کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہے۔ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے لڑکے لڑکيوں کو چاہيے کہ اپني زندگي کي آخري سانسوں تک ايک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق سے پيش آئيں کيونکہ يہ سب امور اس بندھن اور اس رشتے کي حفاظت کرتے ہيں۔

شريعتِ مقدسہ نے انسان کے اجتماعي روابط اور تعلقات ميں ’’شادي‘‘ جيسے اس انساني امر پر دستخط تو کئے ہيں ليکن ساتھ ہي بہت سي شرائط بھي رکھي ہيں۔ ان جملہ شرائط ميں سے ايک شرط يہ ہے کہ يہ انساني امر ايک انسان کے دوسرے انسان سے رابطے کے دائرے سے خارج ہو کر ايک تجارتي لين دين کے معاملے ميں تبديل نہ ہو جائے۔ اس چيز کو شريعت ہرگز پسند نہيں کرتي ہے۔ البتہ يہ شرائط، شادي کي شرائط کمال ميں شمار کي جاتي ہيں نہ کہ اس کے صحيح ہونے کي(۱) ، ليکن بہر حال يہ شرائط ہيں۔

اسلام کي نظر ميں کفو اور ہم پلّہ ہونے کا تصور

شريعت ِ مقدسہ ميں شادي کے لئے جس چيز کو متعين کيا گيا ہے وہ لڑکے اور لڑکي کا ايک دوسرے کا کفو اور ہم پلہ ہونا ہے۔ کفو اور ہم پلہ ہونے کے سلسلے ميں جو چيز قابل اہميت ہے وہ ايمان ہے يعني دونوں کو مومن، متقي اور پرہيزگار ہونا چاہيے اور يہ کہ دونوں اسلامي تعليمات پر اعتقاد رکھنے والے اور ان پر عمل کرنے والے ہوں۔ جب يہ چيز حاصل ہو جائے تو بقيہ دوسري (مادّي) چيزوں کي کوئي اہميت نہيں رہتي۔ جب شادي کرنے والے لڑکے لڑکي کي پاکدامني، تقويٰ اور طہارت و پاکيزگي معلوم ہو اور دونوں ايک دوسرے کے کفو اور ہم پلہ ہوں تو بقيہ دوسري چيزيں خدا خود فراہم کر دے گا۔

اسلام ميں اس مشترکہ جدوجہد اور زندگي کا معيار کہ جس کا نام ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا ہے، دين و تقويٰ سے عبارت ہے۔المومن کفو المومنة والمسلمُ کفو المسلمة (۲) يعني مومن مرد، مومن عورت کا کفو ہے جب کہ مسلمان مرد مسلمان عورت کا ہم پلہ ہے۔ يہ ہے دين کا بتايا ہوا معيار۔

البتہ جو بھي راہِ خدا ميں آگے آگے، پيشقدم، دوسروں سے زيادہ فدا کاري کرنے والا، دوسروں کي نسبت زيادہ آگاہ اور بندگانِ خدا کے لئے زيادہ ہمدرد اور انہيں نفع پہنچانے والا ہو گا وہ سب سے بہتر اور بلند مقام کا حامل ہے۔ ممکن ہے کہ عورت اس مقام کي مالک نہ ہو تو اس ميں کوئي قباحت نہيں، ليکن عورت کو چاہيے کہ خود کو اس بلند مقام کي طرف حرکت دے يا ممکن ہے کہ عورت کا مقام مردسے زيادہ بلند ہو اور مرد اس رتبے کا حامل نہ ہو۔ پس مرد کو چاہيے کہ اس بلند مقام و منزل کي جانب قدم اُٹھائے۔

____________________

١ ہرچيز کي کچھ شرائط ہوتي ہيں ۔ کچھ شرائط اس عمل کے صحيح ہونے اور کچھ اس کے کمال سے متعلق ہوتي ہيں۔ مثلاً نمازکي شرائط صحت يا صحيح ہونے کي جملہ شرائط ميں سے چند شرط يہ ہيں کہ نمازي کا بدن ،لباس اور نماز کي جگہ پاک ہو اور غصبي نہ ہو کہ اگر ان کا خيال نہ رکھا جائے تو نماز باطل ہے۔ ليکن کچھ شرائط نماز کے کمال سے متعلق ہيں مثلاً حضور قلب اور توجہ سے نماز کي ادائيگي ہو، خوف ِ خدا سے گريہ کرنا اور اپني ہر نماز کو آخري نماز ِ سمجھ کر ادا کرنا وغيرہ۔يعني اگر ان شرائط نماز کا خيال نہ رکھا جائے تو بھي يہ نماز فقہي طور پر صحيح ہے۔ ليکن دين مقدس اسلام نے شرائط کمال پر بہت زور ديا ہے کہ جو نمازکو کمال کي طرف لے جاتي ہيں ۔ اسي طرح شادي کي شرط کمال يہ ہے کہ شادي ايک تجاري معاملے ميں تبديل نہ ہونے پائے ليکن اگر کہيںايسا ہو کہ مہر اور جہيز زيادہ رکھا جائے تو ان کي وجہ سے خود شادي کے فقہي طور پر صحيح ہونے پر کوئي اثر نہيں پڑے گا اور شادي اپني جگہ مکمل صحيح ہوگي ليکن اسلام کو يہ بات ہرگز پسند نہيں۔ (مترجم)

٢ وسائل الشيعہ، جلد٠ ٢، صفحہ ٦٧


عاقل اور غافل انسان کا فرق

ايک وقت انسان شادي کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’پروردگارا! ميں شادي کر رہا ہوں اور اپني ايک فطري ضرورت کو پورا کر رہا ہوں‘‘۔ ممکن ہے کہ اس کي طبيعت و مزاج ہي اسي طرح کا ہو کہ وہ خدا کا شکر کرے اگر چہ کہ وہ اپني زبان سے يہ جملے ادا نہ کرے يا ذہن ميں بھي نہ لے کر آئے۔ ليکن توجہ رہے کہ انسان کي فطري ضرورت صرف اُس کي جنسي خواہش کو ہي پورا نہيں کرتي بلکہ مرد و عورت دونوں رشتہ ازدواج ميں منسلک ہو کر اپني مشترک زندگي کا آغاز کرتے ہيں، اپنا گھر بساتے اور اپنے چھوٹے سے خاندان کو وجود ميں لے کر آتے ہيں۔ يہ بھي انسان کي ضرورتيں ہيں اور ديگر ضروريات کي مانند اس کا وجود انساني حيات کے لئے اشد ضروري ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ ’’خداوندا ! ميں اپني اس فطري ضرورت کو پورا کر رہا ہوں، ميں تيرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے موقع فراہم کيا، مجھے اجازت دي، مجھے يہ وسيلہ عطا کيا اور مجھے اچھي شريکہ حيات نصيب ہوئي۔ ميں شادي کے بعد بھي اپني نئي زندگي ميں پوري کوشش کروں گا کہ تيري رضا اور خوشنودي کے مطابق عمل کروں‘‘۔ يہ ايک طرح سے شادي کرنا اور اپني نئي زندگي کا آغاز کرنا ہے۔ ايک اور انسان ہے جو شادي تو کرتا ہے ليکن نہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے، نہ اپني شريکہ حيات کي قدر و قيمت جانتا ہے اور نہ ہي اس فرصت کو غنيمت شمار کرتا ہے کہ جو اُسے حاصل ہوئي ہے۔ يہ آدمي مست اور غافل انسان کي مانند ہے۔ اگر ايسي زندگي کو دوام بھي حاصل ہوجائے تو بھي يہ کبھي شيريں نہيں ہو سکے گي اور نہ ہي اس ميں ايک دوسرے کي نسبت اپني ذمہ داريوں کا خيال رکھا جائے گا۔

شادي کي نعمت کا شکرانہ

آپ کو چاہيے کہ زندگي کے اس مرحلے کو کہ جب آپ اپني ازدواجي زندگي کا آغاز کرتے ہيں اور اپنے گھرانے کي بنياديں مضبوطي سے رکھتے ہيں، خداوند عالم کي عظيم نعمتوں ميں سے ايک نعمت تصور کريں اور اس کا شکرانہ بجا لائيں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا ديا ہوا ہے’’مابنامن نعمة فمن اللّٰه ‘‘(۱) ۔ ليکن اس نعمت کي طرف توجہ اورنعمت دينے والي ذات کي ياد آوري بہت اہميت کي حامل ہے۔ بہت سي ايسي نعمتيں ہيں کہ جن کي طرف انسان توجہ بھي نہيں کرتا۔ بہت سے لوگ ہيں کہ جو شادي کرتے ہيں اور بہت سي خوبيوں کے مالک بن جاتے ہيں، اچھي اور شيريں زندگي انہيں نصيب ہوتي ہے اور وہ بہترين زندگي گزارتے ہيں ليکن اس بات کي طرف بالکل متوجہ نہيں ہوتے کہ يہ کتني عظيم نعمت ہے کہ اُنہيں اپني قسمت اور مستقبل کو اچھا بنانے والا کتنا اہم موقع نصيب ہوا ہے۔ جب انسان يہ نہ سمجھ سکے تو وہ نعمت کا شکريہ بھي ادا نہيں کرسکتا اور نتيجے کے طور پر رحمت الٰہي سے محروم ہو جاتا ہے جو انسان کے شکر کي وجہ سے اس پر نازل ہوتي ہے۔

لہٰذا انسان کو چاہيے کہ اس بات کي طرف توجہ کرے کہ يہ کتني بڑي نعمت ہے اور اس نعمت کا شکرانہ کيسے ادا کيا جا سکتاہے؟ ايک وقت انسان شکريے کو فقط اپني زبان سے ادا کرتا ہے کہ ’’خدايا تيرا شکر ہے‘‘، ليکن يہ شکر اس کے دل کي گہرائيوں تک سرايت نہيں کرتا ہے ايسا شکر صرف لقلقہ زباني ہے اور اس کي کوئي قيمت نہيں۔ ليکن ايک وقت انسان اپنے دل کي گہرائيوں سے خدائے متعال کا شکر گزار ہوتا ہے اور ايسا شکر بہت اہميت کا حامل ہوتا ہے۔ ايسا انسان سمجھتا ہے کہ خداوند متعال نے اسے ايک نعمت دي ہے اور وہ حقيقت ميں اپنے شکر کا اظہار کرتا ہے۔ يہ شکر کا بہترين درجہ ہے۔ جب بھي ہم خداوند عالم کا شکريہ ادا کرتے ہيں تو اس شکرانے کي وجہ سے ہم پر ايک عمل کي انجام دہي لازم ہو جاتي ہے۔ بہت خوب، اب جب کہ خداوند کريم نے آپ کو يہ نعمت دي ہے تو اس کے بدلے ميں آپ کو کيا کام انجام دينا چاہيے؟ اس نعمت کے جواب ميں ہم سے ہماري قدرت سے زيادہ عمل کي توقع نہيں کي گئي ہے نعمت کے مقابلے ميں جو چيز ہم سے مطلوب ہے وہ يہ ہے کہ ہم اس نعمت سے اچھا برتاو کريں اور اس اچھے برتاو کو اسلام ميں معيّن کيا گيا ہے کہ جسے خانداني اخلاق و حکمت سے تعبير کيا جاتا ہے۔ يعني زندگي ميں ہميں کيا عمل اختيار کرنا چاہيے تا کہ ہماري زندگي ايک اچھي زندگي ہو۔

شادي کس لئے، مال و جمال کے لئے يا کمال کے لئے؟

اگر کوئي مال و جمال کے لئے شادي کرے تو روايت کے مطابق ممکن ہے کہ خداوند عالم اسے مال و دولت اور خوبصورتي دے اور يہ بھي ممکن ہے کہ اسے ان چيزوں سے محروم رکھے۔ ليکن اگر کوئي تقويٰ اور عفت و پاکيزگي کے حصول کے لئے شادي کرے تو خداوند عالم اسے مال و دولت بھي دے گا اور حسن و خوبصورتي بھي عطا کرے گا۔ ممکن ہے کہ کوئي يہ کہے کہ حسن و خوبصورتي تو عطا کرنے والي کوئي چيز نہيں ہے يعني کسي کے پاس خوبصورتي ہے يا نہيں ہے ! (دينے يا نہ دينے سے اس کا کيا تعلق؟) اس کے معني يہ ہيں کہ خوبصورتي آپ کے دل اور نگاہوں ميں ہے۔ اگر انسان کسي کو کہ جو بہت خوبصورت نہ ہو، پسند کرے تو وہ اسے اچھا لگے گا يا وہ کسي کو پسند نہيں کرتا ہرچند کہ وہ بہت خوبصورت ہي کيوں نہ ہو، تو وہ اسے اچھا نہيں لگے گا۔

____________________

١ بحار الانوار، جلد ٤٩، صفحہ ٢٦٩ (ہمارے پاس جو بھي نعمت ہے وہ خدا ہي کي عطا کردہ ہے)۔


اسلامي روش ہي بہتر ہے

عيسائيت اور يہوديت سميت ديگر اديان ميں يہ رشتہ (شاد ي) مختلف صورتوں ميں موجود ہے۔ اسلام نے اِن اديان کي شادي کے طريقے کو معتبر جانتے ہوئے مرد و عورت کو مياں بيوي قرار ديا ہے اور ان کي اولاد کو بھي حلال زادہ سمجھا ہے۔

اسلام ميں شادي کا تصور، طريقہ اور روش بقيہ تمام اديان اور اقوام کے طريقہ ازدواج سے زيادہ بہتر ہے۔ شادي کے مقدمات، اس کي اصل و بنياد نيز اس کا دوام و بقا انسان کي مصلحت کے عين مطابق رکھا گيا ہے۔ البتہ دوسرے اديان ميں ہونے والي شادياں بھي ہمارے نزديک معتبر اور قابل احترام ہيں يعني وہ نکاح جو ايک عيسائي کے لئے اُس کے گرجا گھر يا ايک يہودي کے لئے اُس کے مَعْبَد (کنيسہ) ميں يا ہر قوم کے اپنے اپنے خاص طريقے سے انجام ديا جاتا ہے وہ ہمارے نزديک صحيح ہے اور ہم اسے باطل نہيں کہتے ہيں۔ ليکن جو طريقہ اسلام نے معين کيا ہے وہ دوسروں سے بہتر ہے کہ جس ميں شوہر اور بيوي دونوں کے لئے الگ الگ حقوق، مشترکہ ازدواجي زندگي کے آداب اور ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننے کي روش بھي بيان کي گئي ہے۔ ’’اسلامي بنياد‘‘ يہي ہے کہ ايک گھرانہ تشکيل پائے اور وہ خوش بخت اور خوشحال بھي ہو۔

نکاح کے چند بول کے ذريعے ؟

يہ نکاح جو ہم پڑھتے ہيں، در حقيقت اس کے چند بول (صيغوں ) کے ذريعے ہم دو اجنبيوں اور مختلف ماحول و خاندان کے لڑکے لڑکي کو ايک دوسرے سے ملا ديتے ہيں۔ يوں يہ آپس ميں اس طرح شير و شکر ہو جاتے ہيں کہ يہ پوري دنيا سے زيادہ ايک دوسرے کے لئے محرم، ايک دوسرے کے سب سے نزديک اور مہربان و غمخوار بن جاتے ہيں۔ دوسري بات يہ کہ ہم اس نکاح کے ذريعے انساني معاشرے ميں ايک نئي اکائي ايجاد کرتے ہيں اور يوں معاشرے کا يہ انساني اجتماع ’’گھرانے‘‘ کي اکائي سے تشکيل پاتا ہے۔ تيسري بات يہ کہ آپ دونوں انسان ہيں، ايک بيوي ہے اور ايک شوہر کہ آپ ميں سے ہر ايک کو دوسرے کي ضرورت ہے اور ہم اس نکاح کے چند جملے پڑھ کر آپ کي ان ضرورتوں کے مثبت حل کا سامان کرتے ہيں۔

ہم يہ تين کام انجام ديتے ہيں۔ يہ آپ کي زندگي کي ابتدا بھي ہے اور بنياد بھي اب اس کے بعد آگے خود آپ کي ذمہ داري ہے۔

سب سے اہم ترين فائدہ

رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے اور اپنا گھر بسانے کو اسلام ميں بہت زيادہ اہميت دي گئي ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہيں ليکن اس کا سب سے اہم ہدف اور فائدہ اپنا گھر بسانا ہے۔ مياں بيوي کے درميان محبت و خلوص اور ايثار و فدا کاري کا يہ رشتہ اور معاشرے ميں گھرانے کي ’’اکائي‘‘ کي تشکيل دراصل مرد و عورت دونوں کے روحاني آرام و سکون، کمال اور اُن کي شخصيت کے رشد اور پختگي ميں بہت موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سب کے بغير مرد کا وجود بھي ناقص ہے اور عورت کا وجود بھي نا مکمل رہتا ہے۔ دوسرے تمام مسائل کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ اگر يہ گھرانہ، صحيح و سالم اور محبت و خلوص کي فضا ميں تشکيل پائے تو يہ معاشرے کے موجودہ اور آئندہ حالات پر اثر انداز ہو گا۔

ازدواجي زندگي کا آغاز دراصل گھرانے کي تشکيل کے لئے اقدام کرنا ہے جب کہ گھر کو بسانا درحقيقت تمام اجتماعي روابط کي اصلاح اور انساني تربيت کي بنياد ہے۔

درحقيقت شادي عبارت ہے لڑکے اور لڑکي کي اپني مشترکہ ازدواجي زندگي شروع کرنے اور گھر بسانے سے۔ لڑکا اور لڑکي ايک دوسرے کو ديکھيں (اور پسند کريں)، شرعي عقد (نکاح) پڑھا جائے اور يہ ايک دوسرے کے مياں بيوي بن جائيں اور يوں محبت و خلوص کي فضا ميں ايک گھرانے کي بنياد رکھي جاتي ہے۔ خداوند عالم ہر لحاظ سے صحيح و سالم اور مسلمان گھرانے کو پسند کرتا ہے۔ جب ايک گھرانہ تشکيل پاتا ہے تو اس پر بہت سي برکتيں بھي نازل ہوتي ہيں، مياں بيوي کو اپني بہت سي ضرورتوں کا مثبت حل مل جاتا ہے اور انساني نسل اپنا سفر جاري رکھتي ہے۔ ان تمام مراحل ميں اصل چيز اولاد، خوبصورتي و زيبائي اور مال و دولت نہيں ہے بلکہ اصل جوہر يہ ہے کہ دو انسان مل کر اپني مشترکہ ازدواجي زندگي کا آغاز کرتے ہيں چنانچہ اس مشترکہ زندگي کي فضا اور ماحول کو صحيح و سالم ہونا چاہيے۔

اس گھرانے کي بنياد رکھنا بذات خود سب سے اہم عنصر ہے۔ خلقت بشر کي اساس اس پر رکھي گئي ہے کہ ايک مرد و عورت مل کر باہمي شراکت و رضا مندي سے اس اکائي کي بنياد رکھيں تا کہ زندگي آساني سے، بغير کسي مشکل و تشويش خاطر کے انساني حاجت و ضرورت کي جواب دہي کے لئے آگے بڑھے۔ اگر يہ سب چيزيں نہ ہوں تو جان ليں کہ زندگي اپني ايک ٹانگ کے سہارے چل رہي ہے۔


دوسري بات

محبت و خلوص ميں تشکيل پانے والا گھرانہ اور خانداني نظام زندگي

دريچہ

اب ہمارے بہترين اور عزيز ترين لڑکے اور لڑکياں جان گئے ہيں کہ ’’رشتہ ازدواج‘‘ ميں منسلک ہونے اور اس مقدس بندھن کا سب سے بہترين نتيجہ اور اصل ہدف ’’گھرانے‘‘ کي بنياد رکھنا ہے۔

آج کے زمانے ميں سب ہي ’’گھرانے‘‘ کے متعلق باتيں کرتے ہيں اور سب ہي کو اس بارے ميں تشويش لاحق ہے۔ معاشرتي اور تاريخي علوم کے ماہرين کسي بھي معاشرے کي سب سے پہلي اور بنيادي ترين شکل ’’گھرانے‘‘ کو قرار ديتے ہيں۔ اس طرح ماہرين نفسيات بھي انسانوں کے نفساني حالات کي جڑوں کو ’’گھرانے‘‘ ميں ہي تلاش کرتے ہيں۔ جب کہ تربيت کے شعبے سے منسلک مفکرين اور دانش مند حضرات ’’گھر‘‘ کو ہي تربيتي امور کا مرکز جانتے ہيں اور اجتماعي مصلح حضرات بھي ہر قسم کي اصلاح طلب تبديلي و انقلاب کو ’’گھرانے‘‘ سے ہي مربوط قرار ديتے ہيں اور

سچ مچ، گھرانے کي اہميت کتني زيادہ ہے؟

اسلام کي اس بارے ميں کيا نظر ہے؟

کس طرح ايک ’’گھرانے‘‘ کي بنيادوں کو مستحکم بنايا جا سکتا ہے؟

اور ، اور، اور

اسلام اور معاشرے ميں ’’گھرانے‘‘ کے مقام و منزلت اور اس کے مختلف اثرات کو اسلام کے مايہ ناز مفکر اور فلسفہ شناس دانشمند کي حيثيت سے اپنے ہر دلعزيز قائد و رہبر سے سننا اس عظيم بنياد کو رکھنے والے نوجوانوں کے لئے راہ گُشا ہے۔

کلمہ طيبہ يا پاک بنياد

گھرانہ ’’کلمہ طيبہ‘‘ ١ کي مانند ہے اور کلمہ طيبہ کي خاصيت يہ ہے کہ جب يہ وجود ميں آتا ہے تو مسلسل اس کے وجود سے خير و برکت اور نيکي ہي ملتي رہتي ہے اور وہ اپنے اطراف کي چيزوں ميں نفوذ کرتا رہتا ہے۔ کلمہ طيبہ وہي چيزيں ہيں کہ جنہيں خداوند متعال نے انسان کي فطري ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کي صحيح بنيادوں کے ساتھ اُسے تحفہ ديا ہے۔ يہ سب کلمہ طيبہ ہيں خواہ وہ معنويات ہوں يا ماديات۔

انساني معاشرے کي اکائي

جس طرح ايک انساني بدن ايک اکائي ’’سيل‘‘ يا ’’خليے‘‘ سے تشکيل پاتا ہے کہ ان خليوں کي نابودي،خرابي اور بيماري خود بخود اور فطري طور پر بدن کي بيماري پر اختتام پذير ہوتي ہے۔ اگر ان اکائيوں ’’خليوں‘‘ ميں پلنے والي بيماري بڑھ جائے تو خطرناک شکل ميں بڑھ کر پورے انساني بدن کے لئے خطرے کا باعث بن سکتي ہے۔ اسي طرح انساني معاشرہ بھي اکائيوں سے مل کر بنا ہے جنہيں ہم ’’گھرانہ‘‘ کہتے ہيں۔ ہر گھر اور گھرانہ انسان کے معاشرتي بدن کي اکائي ہے۔ جب يہ صحيح و سالم ہوں گے اور صحيح اور اچھا عمل انجام ديں گے تو معاشرے کا بدن بھي يقيناًصحيح و سالم ہو گا۔

اچھا گھرانہ اور اچھا معاشرہ

اگر کسي معاشرے ميں ايک گھرانے کي بنياديں مستحکم ہو جائيں، مياں بيوي ايک دوسرے کے حقوق کا خيال رکھيں، آپس ميں خوش رفتاري، اچھے اخلاق اور باہمي تعاون سے پيش آئيں، مل کر مشکلات کو حل کريں اور اپنے بچوں کي اچھي تربيت کريں تو وہ معاشرہ بہترصورتحال اور نجات سے ہمکنار ہوجائے گا اور اگر معاشرے ميں کوئي مصلح موجود ہو تو وہ ايسے معاشروں کي باآساني اصلاح کر سکتا ہے۔ ليکن اگر صحيح و سالم اور اچھے گھرانے ہي معاشرے ميں موجود نہ ہوں تو کتنے ہي بڑے مصلح کيوں نہ آ جائيں وہ بھي معاشرے کي اصلاح نہيں کر سکتے۔

١ سورہ ابراہيم کي آيت ٢٤ کي طرف اشارہ ہے کہ ارشاد رب العزت ہے : ’’اللہ تعاليٰ نے کلمہ طيبہ کي مثال پيش کي ہے جيسے ايک شجر طيبہ کہ جس کي جڑيں زمين ميں مستحکم ہوں اور شاخيں آسمان ميں پھيلي ہوئي ہوں اور اپنے رب کے حکم سے اپنا پھل بھي لے کر آتا ہے‘‘۔

ہر وہ ملک کہ جس ميں گھرانے کي بنياديں مضبوط ہوں تو اس ملک کي بہت سي مشکلات خصوصاً معنوي اور اخلاقي مشکلات اس مستحکم اور صحيح و سالم گھرانے کي برکت سے دور ہو جائيں گي يا سرے ہي سے وجود ميں نہيں آئيں گي۔ يہ بندھن اور ملاپ اور زندگي کا نيا روپ دراصل خداوند عالم کي بڑي نعمتوں ميں سے ايک نعمت اور اُس کے اسرارِ خلقت ميں سے يک سرّ ہے۔ اسي طرح معاشروں کي صحت و سلامتي اور اصلاح و بہتري نيز ان کے بقا اور دوام کا دارو مدار اسي ازدواجي زندگي پر ہے۔

اگر ايک گھرانہ صحيح صورت ميں تشکيل پائے اور منطقي، عقلي اور اخلاقي اصول دونوں مياں بيوي پر حاکم ہوں اور وہ گھر، خدا او ر شريعت مقدسہ کے معيّن شدہ اصولوں کے مطابق چلے تو يہ گھرانہ اصلاح معاشرہ کي بنياد قرار پائے گا نيز اس معاشرے کے تمام افراد کي سعادت کي بنياد بھي يہي گھر بنے گا۔

گھر کو بسانا دراصل انسان کي ايک اجتماعي ضرورت ہے۔ چنانچہ اگر کسي معاشرے ميں ’’گھرانے‘‘ صحيح و سالم اور مستحکم ہوں، حالاتِ زمانہ ان کے پائے ثبات ميں لغزش پيدا نہ کريں اور وہ مختلف قسم کي اجتماعي آفات سے محفوظ ہوں تو ايسا معاشرہ اچھي طرح اصلاح پا سکتا ہے، اس کے باشندے فکري رشد پا سکتے ہيں، وہ روحاني لحاظ سے مکمل طور پر صحيح و سالم ہوں گے اور ممکن ہے کہ وہ نفسياتي بيماريوں سے بھي دور ہوں۔

اچھے گھرانے سے محروم معاشرہ نفسياتي بيماريوں کا مرکز ہے

اچھے گھرانوں سے محروم معاشرہ ايک پريشان، غير مطمئن اور زبوں حالي کا شکار معاشرہ ہے اور ايک ايسا معاشرہ ہے کہ جس ميں ثقافتي، فکري اور عقائدي ورثہ آنے والي نسلوں تک با آساني منتقل نہيں ہوسکتا۔ ايسے معاشرے ميں انساني تربيت کے بلند مقاصد آساني سے حاصل نہيں ہو پاتے يا اس ميں صحيح و سالم گھرانوں کا فقدان ہوتا ہے يا ان کي بنياديں متزلزل ہوتي ہيں۔ ايسے معاشروں ميں انسان اچھے تربيتي مراکز اور پرورش گاہوں ميں بھي اچھي پرورش نہيں پا سکتے۔

صحيح و سالم گھرانے کا فقدان اس بات کا سبب بنتا ہے کہ نہ اس ميں بچے صحيح پرورش پاتے ہيں، نہ نوجوان اپني صحيح شخصيت تک پہنچ سکتے ہيں اور انسان بھي ايسے گھرانوں ميں کامل نہيں بنتے۔ جب کہ اس گھر سے تعلق رکھنے والے مياں بيوي بھي صالح اور نيک نہيں ہوں گے، اس گھر ميں اخلاقيات کا بھي فقدان ہو گا اور گذشتہ نسل کے اچھے اور قيمتي تجربات بھي اگلي نسلوں تک منتقل نہيں ہو سکتے ہيں۔ جب ايک معاشرے ميں اچھا گھرانہ موجود نہ ہو تو جان ليجئے کہ اس معاشرے ميں ايمان اور دينداري کو وجود ميں لانے والا کوئي مرکز موجود نہيں ہے۔

ايسے معاشرے کہ جن ميں گھرانوں کي بنياديں کمزور ہيں يا جن ميں اچھے گھرانے سرے ہي سے وجود نہيں رکھتے يا کم ہيں يا اگر ہيں تو ان کي بنياديں متزلزل ہيں تو وہ فنا اور نابودي کے دھانے پر کھڑے ہيں۔ ايسے معاشروں ميں نفسياتي الجھنوں اور بيماريوں کے اعداد و شمار ان معاشروں سے زيادہ ہيں کہ جن ميں اچھے اور مستحکم گھرانے موجود ہيںاور مرد و عورت گھرانے جيسے ايک مظبوط مرکز سے متصل ہيں۔

غير محفوظ نسليں

انساني معاشرے ميں گھرانہ بہت اہميت اور قدر و قيمت کا حامل ہے۔ آنے والي نسلوں کي تربيت اور معنوي، فکري اور نفسياتي لحاظ سے صحيح و سالم انسانوں کي پرورش کے لئے گھرانے کے فوائد تک نہ کوئي پہنچ سکتا ہے اور تعليم و تربيت کے ميدان ميں نہ ہي کوئي چيز بھي گھر و گھرانے کي جگہ لے سکتي ہے۔ جب خانداني نظامِ زندگي بہتر انداز ميں موجود ہو تو ان کروڑوں انسانوں ميں سے ہر ايک کے لئے ديکھ بھال کرنے والے (والدين جيسے دو شفيق وجود) ہميشہ ان کے ہمراہ ہوں گے کہ جن کا کوئي بھي نعم البدل نہيں ہوسکتا۔

’’گھرانہ‘‘ ايک امن و امان کي داوي محبت اور پُر فضا ماحول کا نام ہے کہ جس ميں بچے اور والدين اس پر امن ماحول اور قابل اعتماد فضا ميں اپني روحي، فکري اور ذہني صلاحيتوں کو بہتر انداز ميں محفوظ رکھتے ہوئے ان کي پرورش اور رُشد کا انتظام کر سکتے ہيں۔ ليکن جب خانداني نظام ہي کي بنياديں کمزورپڑ جائيں تو آنے والي نسليں غير محفوظ ہو جاتي ہيں۔

انسان، تربيت، ہدايت اور کمال و ترقي کے لئے خلق کيا گيا ہے اور يہ سب اہداف صرف ايک پر امن ماحول ميں ہي حاصل کئے جا سکتے ہيں۔ ايسا ماحول کہ جس کي فضا کو کوئي نفسياتي الجھن آلودہ نہ کرے اور ايسا ماحول کہ جس ميں انساني صلاحيتيں اپنے کمال تک پہنچيں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے ايسے ماحول کا وجود لازمي ہے کہ جس ميں تعليمات ايک نسل کے بعد دوسري نسل ميں منعکس ہوں اور ايک انسان اپنے بچپنے سے ہي صحيح تعليم، مددگار نفسياتي ماحول اور دو فطري معلّموں يعني والدين کے زير سايہ تربيت پائے جو عالَمِ دنيا کے تمام انسانوں سے زيادہ اس پر مہربان ہيں۔

اگر معاشرے ميں صحيح خانداني نظام رائج نہ ہو تو انساني تربيت کے تمام اقدامات ناکام ہو جائيں گے اور اس کي تمام روحاني ضرورتوں کو مثبت جواب نہيں ملے گا۔ يہي وجہ ہے کہ انساني تخليق اور فطرت ايسي ہے کہ جو اچھے گھرانے، صحيح و کامل خانداني نظام کے پُر فضا اور محبت آميز ماحول اور والدين کي شفقت و محبت کے بغير صحيح و کامل تربيت، بے عيب پرورش اور نفسياتي الجھنوں سے دور اپني لازمي روحاني نشو و نما تک نہيں پہنچ سکتي ہے۔ انسان اپني باطني صلاحيتوں اور اپنے احساسات و جذبات کے لحاظ سے اسي وقت کامل ہو سکتا ہے کہ جب وہ ايک مکمل اور اچھے گھرانے ميں تربيت پائے۔ ايک مناسب اور اچھے نظام زندگي کے تحت چلنے والے گھر ميں پرورش پانے والے بچوں کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ نفسياتي لحاظ سے صحيح و سالم اور ہمدردي اور مہرباني کے جذبات(۱) سے سرشار ہوں گے۔

ايک گھرانے ميں تين قسم کے انسانوں کي اصلاح ہوتي ہے۔ ايک مرد ہيں جو اس گھر کے سرپرست يا والدين ہيں، دوسرے درجے پر خواتين کہ جو ماوں کا کردار ادا کرتي ہيں اور تيسرے مرحلے پر اولاد کہ جو اس معاشرے کي آنے والي نسل ہے۔

اچھے گھرانے کي خوبياں

ايک اچھا گھرانہ يعني ايک دوسرے کي نسبت اچھے، مہربان، پُر خلوص جذبات و احساسات کے مالک اور ايک دوسرے سے عشق و محبت کرنے والے مياں بيوي جو کہ ايک دوسرے کي جسماني اور روحاني حالت کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق ايک دوسرے کي مدد کريں، ايک دوسرے کي فعاليت، کام کاج اور ضرورتوں کو اہميت ديں اور ايک دوسرے کے آرام و سکون اور بہتري و بھلائي کو مدّنظر رکھيں۔ يہ سب پہلے درجے پر ہيں۔

____________________

١ ماہرين نفسيات اس بات کے قائل ہيں اور ہماري احاديث و روايات بھي اس مطلب پر تاکيد کرتي ہيں کہ گھر ميں والدين کا اپني اولاد سے ہمدردي، محبت، شفقت اور مہرباني و پيار سے پيش آنا بچوں کي تربيت اور ان کي نشو و نما ميں بہت زيادہ موثر ہے۔ والدين کا خشک رويہ بچوں سے مہرباني، ہمدردي، اور پيار و محبت کو سلب کر لے گا اور وہ بچے سخت مزاج، ناقص اور نا ہموار طبيعت کے مالک ہوں گے۔ (مترجم)


دوسرے درجے پر اس گھرانے ميں پرورش پانے والي اولاد ہے کہ جس کي تربيت کے لئے وہ احساس ذمّہ داري کريں اور مادي اور معنوي لحاظ سے انہيں صحيح و سالم پرورش کا ماحول فراہم کريں۔ ان کي خواہش يہ ہوني چاہيے کہ ان کے بچے مادي اور معنوي لحاظ سے سلامتي اور بہتري تک پہنچیں، انہيں بہترين تعليم و تربيت ديں، انہيں مودّب بنائيں، اچھے طريقوں سے اپني اولاد کو برے کاموں کي طرف قدم بڑھانے سے روکيں اور بہترين صفات سے ان کي روح کو مزيّن کريں۔ ايک ايسا گھر دراصل ايک ملک ميں ہونے والي تمام حقيقي اصلاحات کي بنياد فراہم کر سکتا ہے۔ چونکہ ايسے گھرانوں ميں اچھے انسان ہي اچھي تربيت پاتے ہيں اور بہترين صفات کے مالک ہوتے ہيں۔ جب کوئي معاشرہ شجاعت، عقلي استقلال، فکري آزادي، احساس ذمہ داري، پيار و محبت، جرآت و بہادري، وقت پر صحيح فيصلہ کرنے کي صلاحيت، دوسروں کي خير خواہي اور اپني خانداني پاکيزگي و نجابت کے ساتھ پرورش پانے والے لوگوں کا حامل ہو گا تو وہ کبھي بد بختي و روسياہي کے شکل نہيں ديکھے گا۔

اچھے خانداني نظام ميں ثقافت کي منتقلي کي آساني

ايک معاشرے ميں اس کي تہذيب و تمدّن اور ثقافت کے اصولوں کي حفاظت اور آئندہ آنے والي نسلوں تک ان کي منتقلي اچھے گھرانے يا بہترين خانداني نظام کي برکت ہي سے انجام پاتي ہے۔

رشتہ ازدواج ميں نوجوان لڑکے لڑکي کے منسلک ہونے کا سب سے بہترين فائدہ ’’گھر بسانا‘‘ ہے۔ اس کا سبب بھي يہي ہے کہ اگر ايک معاشرہ اچھے گھرانوں، خانداني افراد اور بہترين نظام تربيت پر مشتمل ہو تو وہ بہترين معاشرہ کہلائے جانے کا مستحق ہے اور وہ اپني تاريخي اور ثقافتي خزانوں اورورثہ کو بخوبي احسن اگلي نسلوںں تک منتقل کرے گا اور ايسے معاشرے ميں بچے بھي صحيح تربيت پائيں گے۔ چنانچہ وہ ممالک اور معاشرے کہ جن ميں خانداني نظام مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو وہاں ثقافتي اور اخلاقي مسائل پيش آتے ہيں۔

اگر موجودہ نسل اس بات کي خواہش مند ہے کہ وہ اپنے ذہني اور فکري ارتقائ، تجربات اور نتائج کو آنے والي نسلوں کو منتقل کرے اور ايک معاشرہ اپنے ماضي اور تاريخ سے صحيح معنيٰ ميں فائدہ حاصل کرے تو يہ صرف اچھے گھرانوں يا اچھے خانداني نظام زندگي کے ذريعے ہي ممکن ہے۔ گھر کي اچھي فضا ميں اس معاشرے کي ثقافتي اور تاريخي بنيادوں پر ايک انسان اپنے تشخص کو پاتا ہے اور اپني شخصيت کي تعمير کرتا ہے۔ يہ والدين ہي ہيں کہ جو غير مستقيم طور پر بغير کسي جبر اور تصنّع (بناوٹ) کے فطري اور طبيعي طور پر اپنے فکري مطالب، عمل، معلومات، عقائد اور تمام مقدس امور کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرتے ہيں۔

خوشحال گھرانہ اور مطمئن افراد

اسلام ’’گھرانے‘‘ پر مکمل توجہ ديتاہے اور گھرانے پر اس کي نظر خاص الخاص اہتمام کے ساتھ جمي ہوئي ہيں کہ جس کي وجہ سے خانداني نظام يا گھرانے کو انساني حيات ميں مرکزيت حاصل ہے۔ اسي لئے اس کي بنيادوں کو کمزور يا کھوکھلا کرنے کو بدترين فعل قرار ديا گيا ہے۔

اسلام ميں گھرانے کا مفہوم يعني ايک چھت کے نيچے دو انسانوں کي سکونت، دو مختلف مزاجوں کا بہترين اور تصوراتي روحاني ماحول ميں ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا، دو انسانوں کے انس و الفت کي قرار گاہ اور ايک انسان کے ذريعے دوسرے انسان کے کمال اور معنوي ترقي کا مرکز، يعني وہ جگہ کہ جہاں انسان پاکيزگي حاصل کرے اور اسے روحاني سکون نصيب ہو۔ يہ ہے اسلام کي نگاہ ميں خوشحال گھرانہ اور اسي ليے اسلام اس مرکز ’’گھرانے‘‘ کو اس قدر اہميت ديتا ہے۔

قرآن کے بيان کے مطابق اسلام نے مرد و عورت کي تخليق، ان کے ايک ساتھ زندگي گزارنے اور ايک دوسرے کا شريکِ حيات بننے کو مياں بيوي کے لئے ايک دوسرے کے آرام و سکون کا باعث قرار ديا ہے۔

قرآن ميں ارشاد ِ خداوندي ہے کہ ’’وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْکُنَ اِلَيْهَا ‘‘(۱)

____________________

١ سورہ اعراف ١٨٩


جہاں تک مجھے ياد ہے قرآن ميں دو مرتبہ ’’سکون‘‘ کي تعبير آئي ہے(۱)

خداوند عالم نے انساني جوڑے کو اس کي جنس (انسانيت) سے ہي قرار ديا ہے يعني عورت کا جوڑا مرد اور مرد کا جوڑا عورت کو قرار ديا ہے تا کہ ’’لِيَسْکُنَ اِلَيْھَا‘‘ يعني يہ انسان خواہ مرد ہو يا عورت، اپنے مياں يا بيوي سے آرام و سکون حاصل کرے۔

يہ آرام و سکون دراصل باطني اضطراب کي زندگي کے پُر تلاطم دريا سے نجات و سکون پانے سے عبارت ہے۔ زندگي ايک قسم کا ميدان جنگ ہے اور انسان اس ميں ہميشہ ايک قسم کے اضطراب و پريشاني ميں مبتلا رہتا ہے لہٰذا يہ سکون بہت اہميت کا حامل ہے۔ اگر يہ آرام و سکون انسان کو صحيح طور پر حاصل ہو تو اس کي زندگي سعادت و خوش بختي کو پا لے گي، مياں بيوي دونوں خوش بخت ہو جائيں گے، اور اس گھر ميں پيدا ہونے والے بچے بھي بغير کسي نفسياتي دباو اور الجھن کے پرورش پائيں گے اور خوش بختي ان کے قدم چومے گي ۔ صرف مياں بيوي کے باہمي تعاون، اچھے اخلاق و کردار اور پُرسکون ماحول سے اس گھرانے کے ہر فرد کے لئے سعادت و خوش بختي کي زمين ہموار ہو جائے گي۔

زندگي کي کڑي دھوپ ميں ايک ٹھنڈي چھاوں

جب مياں بيوي دن کے اختتام پر يا درميان ميں ايک دوسرے سے ملاقات کرتے ہيں تو دونوں ايک دوسرے سے يہي اميد رکھتے ہيں کہ انہوں نے گھر کے ماحول کو خوش رکھنے، اسے زندہ بنانے اور تھکاوٹ اور ذہني الجھنوں کو دور کر کے اسے زندگي گزارنے کے قابل بنانے ميں اپنا اپنا کردار موثر طريقے سے ادا کيا ہوگا۔ ان کي ايک دوسرے سے توقع بالکل بجا ہے۔ اگر آپ بھي يہ کام کر سکيں تو حتماً انجام ديں کيونکہ اس سے زندگي شيريں اور ميٹھي ہوتي ہے۔

انسان کي زندگي ميں مختلف ناگزير حالات و واقعات کي وجہ سے طوفان اٹھتے ہيں جس ميں وہ ايک مضبوط پناہ گاہ کا متلاشي ہوتا ہے۔ مياں بيوي کا جوڑا اس طوفان ميں ايک دوسرے کي پناہ ليتا ہے۔ عورت اپنے شوہر کے مضبوط بازوں کا سہارا لے کر اپنے محفوظ ہونے کا احساس کرتي ہے اور مرد اپني بيوي کي چاہت و فدا کاري کي ٹھنڈي چھاوں ميں سکھ کا سانس ليتا ہے۔ مرد اپني مردانہ کشمکش والي زندگي ميں ايک ٹھنڈي چھاوں کا ضرورت مند ہے تا کہ وہاں کي گھني چھاوں ميں تازہ دم ہو کر دوبارہ اپنا سفر شروع کرے۔ يہ ٹھنڈي چھاوں اسے کب اور کہاں نصيب ہو گي؟ اس وقت کہ جب وہ اپنے گھر کي عشق و الفت، مہرباني اور محبت سے سرشار فضا ميں قدم رکھے گا، جب وہ اپني شريکہ حيات کے تبسّم کو ديکھے گا کہ جو ہميشہ اس سے عشق و محبت کرتي ہے، زندگي کے ہر اچھے و بُرے وقت ميں اس کے ساتھ ساتھ ہے، زندگي کے ہر مشکل لمحے ميں اس کے حوصلوں ميں پختگي عطا کرتي ہے اور اسے ايک جان دو قالب ہونے کا احساس دلاتي ہے۔ يہ ہے زندگي کي ٹھنڈي چھاوں۔

____________________

١ومِن آياته آن خلق لکم من آنفسکم آزواجاً لتسکنوا اِليها (سورہ روم ٢١)


بيوي بھي اپني روز مرہ کي ہزاروں جھميلوں والي زنانہ زندگي ميں (صبح ناشتے کي تياري، بچوں کو اسکول کے لئے تيار کرنا، گھر کو سميٹنا اور صفائي، دوپہر کے کھانے کي تياري، بچوں کي اسکول سے آمد اور دوپہر کا کھانا کھلانا، سلانا، نماز، شام کي چائے، شوہر کي آمد اور رات کے کھانے کي فکر جيسي ديگر) دسيوں مشکلات اور اور مسائل کا سامنا کرتي ہے، خواہ وہ گھر سے باہر کام ميں مصروف ہو اور مختلف قسم کي اجتماعي اور سياسي فعاليت کو انجام دے رہي ہو يا گھر کي چار ديواري ميں گھريلو کام کاج ميں عرقِ جبيں بہا رہي ہو کہ اس کے اندرون ِ خانہ کام کي زحمت و سختي اور اہميت گھر سے باہر اُس کي فعاليت سے کسي بھي طرح کم نہيں ہے۔ ايک صنف ِ نسواں اپني لطيف و ظريف روح کے ساتھ جب ان مشکلات کا سامنا کرتي ہے تو اسے پہلے سے زيادہ آرام و سکون اور ايک مطمئن شخص پر اعتماد اور تکيہ کرنے کي ضرورت ہوتي ہے۔ ايسا شخص کون ہے؟ وہ اس کے وفادار شوہر کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟ !

انسان مشين تو نہيں ہے !

انسان کوئي گاڑي يا مشين تو نہيں ہے، انسان روح (اور جسم) سے مرکب ہے، وہ معنويت کا طالب، ہے، وہ ہمدردي و مہرباني اور ايثار و فدا کاري کے جذبات و احساسات کا نام ہے اور وہ زندگي کي کڑي دھوپ ميں آرام و سکون کا متلاشي ہے اور آرام و سکون صرف گھر کي فضا ميں ہي اسے ميسر آ سکتا ہے۔

گھر کے ماحول کو آرام دہ ماحول ہونا چاہيے۔ مياں بيوي ميں ايک دوسرے کے لئے موجود ہمدردي اور ايثار و محبت کے يہ احساسات ان کے اندروني سکون ميں اُن کے مددگار ثابت ہوتے ہيں۔ اس آرام و سکون کا ہرگز يہ مطلب نہيں ہے کہ انسان اپنے کام کاج کو متوقف اور فعاليت کو ترک کر دے، کام کاج اور فعاليت بہت اچھي اور ضروري ہے۔ اس آرام و سکون کا تعلق دراصل زندگي کي مشکلات و مسائل سے ہے۔ انسان کبھي کبھي اپني زندگي ميں پريشان ہو جاتا ہے تو اس کي بيوي اسے سکون ديتي ہے اور مرد اپنے مضبوط بازوں سے بيوي کے وجود کو سنبھالتا اور اسے سہارا ديتا ہے تا کہ اسے آرام مل جائے۔ يہ سب اسي صورت ميں ممکن ہے کہ جب گھر کي فضا اور ماحول آپس کي چپقلش، لڑائي جھگڑوں، باہمي نا اتفاقي اور مشکلات کا شکار نہ ہو۔

اچھے گھر کا پر سکون ماحول

ہر انسان کو خواہ مرد ہو يا عورت، اپني پوري زندگي ميں شب و روز مختلف پريشانيوں اور مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور غير متوقع حالات و واقعات سے اس کي زندگي اضطراب کا شکار رہتي ہے۔ يہ حادثات و واقعات انسان کو اعصابي طور پر کمزور، خستہ تن اور اس کي روح کو بوجھل اور طبيعت و مزاج کو چڑ چڑا بنا ديتے ہيں۔ ايسي حالت ميں جب انسان ايک گھر کي خوشگوار فضا ميں قدم رکھتا ہے تو اس کا روح افزا ماحول اور سکون عطا کرنے والي نسيم اسے توانائي بخشتي ہے اور اسے ايک نئے دن و رات اور خدمت و فعاليت انجام دينے کے لئے آمادہ و تيار کرتي ہے۔ اسي لئے خانداني نظام زندگي يا گھرانہ، انساني حيات کي تنظيم ميں بہت کليدي کردار ادا کرتا ہے۔ البتہ يہ بات پيش نظر رہے کہ گھر کو صحيح روش اور اچھے طريقے سے چلانا چاہيے۔

ايک پُر سکون گھرانے سے مياں بيوي کو حاصل ہونے والے فائدے، گھر کي چار ديواري سے باہر ان کے ديگر فوائد کے اعداد و شمار کو زيادہ کرتے اور انہيں قدر و قيمت اور کيفيت عطا کرتے ہيں۔ رشتہ ازدواج کے بندھن ميں ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا اور گھر بسانا مياں بيوي کے لئے زندگي کا بہترين ہديہ ہے۔ يہ روحاني آرام و سکون، زندگي کي مشترکہ جدوجہد کے لئے ايک دوسرے کو دلگرمي دينے، اپنے لئے نزديک ترين غمخوار ڈھونڈنے اور ايک دوسرے کي ڈھارس باندھنے کا ايک وسيلہ ہے کہ جو انسان کي پوري زندگي کے لئے بہت ضروري ہے۔

گھريلو فضا ميں خود کو تازہ دم کرنے کي فرصت

ايک گھر ميں رہنے والے مياں بيوي جو ايک دوسرے کي زندگي ميں شريک اور معاون ہيں، گھر کے پُر فضا ماحول ميں ايک دوسرے کي خستگي، تھکاوٹ اور اکتانے والي يکسانيت کو دور کر کے کھوئي ہوئي جسماني اور ذہني قوتوں کو بحال اور اپني ہمت کو تارہ دم کر کے خود کو زندگي کي بقيہ راہ کو طے کرنے کے لئے آمادہ کر سکتے ہيں۔ آپ جانتے ہيں کہ زندگي ايک ميدان جنگ ہے، پوري زندگي عبارت ہے ايک بڑي مدت والي جنگ سے، فطري و طبيعي عوامل سے جنگ، اجتماعي موانع سے جنگ اور انسان کي اپني اندروني دنيا سے جنگ کہ جسے جہاد نفس کہا گيا ہے لہٰذا انسان ہر وقت حالت جنگ ميں ہے۔ انسان کا بدن بھي ہر وقت جنگ ميں ہے اور وہ ہميشہ مضرّ عوامل سے لڑائي ميں مصروف عمل ہے اور جب تک بدن ميں اس لڑائي کي قدرت اور قوت مدافعت موجود ہے آپ کا جسم صحيح و سالم ہے۔ ضروري بات يہ ہے کہ انسان ميں يہ مبارزہ اور جنگ درست سمت ميں اپني صحيح، منطقي اور اچھي روش و طريقے اور صحيح عوامل کے ساتھ انجام پاني چاہيے۔

زندگي کي اس جنگ ميں کبھي استراحت و آرام لازمي ہوتا ہے۔ زندگي ايک سفر اور مسلسل حرکت کا نام ہے اور اس طولاني سفر ميں انسان کي استراحت گاہ اس کا گھر ہے۔

مشترکہ زندگي کي قرارداد کا احترام کرنا

گھر بسانا اور گھر آباد کرنا ايک قرارداد اور معاہدہ ہے۔ يہ کوئي ايسا معمولي کام نہيں ہے کہ دو چيزوں کو آپس ميں ملا ديں اور انہيں ان کے حال پر چھوڑ ديں، نہيں ! يہ ايک ايسا معاہدہ ہے جو سب کے لئے مورد اطمينان ہے اور تمام افراد کے لئے قابل اعتماد عہد و پيمان ہے۔ اس کي بقا اسي صورت ميں ممکن ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنے والے دونوں افراد، ان کا معاشرہ اور قانون اس کا احترام کرے ليکن اگر اس سے بے اعتنائي برتي جائے تو يہ معاہدہ باقي نہيں رہے گا۔

خانداني نظام زندگي ميں جنسي خواہش کي اہميت

اسلام نے انسان کي جنسي خواہش کو گھرانے کي تشکيل کي بنياد قرار ديا ہے يعني اسے ايک اچھے گھرانے کے استحکام کا وسيلہ بنايا ہے۔ اسي بات کو اس طرح بھي بيان کيا جا سکتا ہے کہ جب مياں بيوي دونوں پاکدامن، عفيف، ديندار، خدا سے ڈرنے والے اور اسلام کے دستور کے مطابق اپني شہوت و جنسي خواہشات ميں گناہوں سے دوري اختيار کرنے والے ہوں تو اس وقت مياں بيوي کي ايک دوسرے کے ليے ضرورت زيادہ بڑھ جائے گي اور جب وہ ايک دوسرے کي زيادہ ضرورت محسوس کريں گے تو اس خاندان کي بنياديں کہ جو مياں بيوي ہيں، پہلے سے اور زيادہ مستحکم ہو جائيں گي۔

اسلام يہ چاہتا ہے کہ خاندان کي اس بنياد و اساس کو ختم نہ ہونے دے۔ اسلام کي خواہش ہے کہ انسان اپنے گھرانے سے باہر کہيں اور اپني جنسي خواہش کي سيرابي کا انتظام نہ کريں کہ کہيں ايسا نہ ہو کہ اپنے گھر والوں کي نسبت بے اعتنا، لا ابالي اور بے بند و بار ہو جائيں۔ اسي لئے اسلام ان انحرافات کا راستہ روکتا ہے۔

دينداري، خاندان کي حقيقي صورت

اپنے گھر کو آباد کرنے اور اس کي حفاظت کے لئے اسلامي احکام کا خيال رکھنا ضروري ہے تا کہ يہ گھر ہميشہ آباد اور خوشحال رہے۔ لہٰذا آپ، ديندار گھرانوں ميں کہ جہاں مياں بيوي اسلامي احکامات کا خيال رکھتے ہيں، ديکھيں گے کہ وہ سالہا سال مل جل کر زندگي بسر کرتے ہيں اور مياں بيوي کي محبت ايک دوسرے کے لئے ہميشہ باقي رہتي ہے، ہرگزرنے والا دن ان کي چاہت ميں اضافہ کرتا ہے، ايک دوسرے سے جدائي اور فراق کا تصور بھي دونوں کے لئے مشکل ہو جاتا ہے اور ان کے دل ايک دوسرے کي محبت سے سرشار ہوتے ہيں۔ يہ ہے وہ محبت و چاہت جو کسي خاندان کو دوام بخشتي ہے اور يہي وجہ ہے کہ اسلام نے ان تمام چيزوں کو اہميت دي ہے۔

اگر اسلام کے بتائے ہوئے طريقے اور روش پر عمل کيا جائے تو ہمارا خانداني نظام پہلے سے زيادہ مستحکم ہو جائے گا جس طرح گذشتہ زمانے ميں-- طاغوتي دور حکومت ميں--جب لوگوں کا ايمان سالم اور محفوظ تھا اور ہمارے گھرانے اور خانداني نظام مستحکم و مضبوط تھے، اس ماحول ميں مياں بيوي ايک دوسرے سے پيار کرنے والے تھے اور پر سکون ماحول ميں اپني اولاد کي تربيت کرتے تھے اور آج بھي يہي صورتحال ہے۔ وہ گھرانے اور خاندان جو اسلامي احکامات اور آداب کا خيال رکھتے ہيں وہ غالباً دوسروں کي بہ نسبت مضبوط و مستحکم اور بہتر گھرانے ہوتے ہيں اور وہ اپنے بچوں کو پر سکون ماحول فراہم کرتے ہيں۔

گھر کي حفاظت ميں مياں بيوي کا کردار

زندگي کے اس نئے سفر کا آغاز کرنے والے لڑکے اور لڑکي کو چاہيے کہ اپنے اس عہد و پيمان کي حفاظت کريں۔ ان ميں سے کسي ايک کي بھي يہ ذمہ داري نہيں ہے کہ اگر ان دونوں ميں سے کوئي ايک بھي کوئي بھي کام انجام دے تو دوسرا اسے برداشت کرے، نہيں۔ بلکہ دونوں کو چاہيے کہ ايک دوسرے کي مدد کريں تا کہ وہ کام انجام پائے۔ ہم يہ نہيں کہہ سکتے کہ اس مشترکہ زندگي ميں شوہر کي زيادہ ذمہ داري ہے يا بيوي کے حصے کا کام زيادہ ہے، نہيں ! بلکہ اس گھر کي بنياد اور دو انسانوں کے اس اجتماع کي کہ جس کي تعداد ميں بتدريج اضافہ ہو گا، حفاظت کرنا دونوں کي ذمہ داري ہے۔

آپ کو چاہيے کہ گھر کے ماحول کو افسردہ، خراب، حد سے زيادہ جذباتي اور اس کي بنيادوں کو متزلزل کرنے والي تمام چيزوں سے اجتناب کريں۔ مياں بيوي دونوں کو چاہيے کہ اپنے تمام کاموں کي بنياد مشترکہ جدوجہد، تعاون اور ايک دوسرے کا ساتھ دينا قرار ديں۔ ايک اچھے گھرانے کي تمام خير و برکت مياں بيوي کے کردار و عمل سے وابستہ ہوتي ہے جو آخر کار انہي کے بچوں کو نصيب ہو گي۔ يہ کوئي ايسي چيز نہيں ہے کہ جس ميں کسي ايک کا عمل کافي سمجھا جائے (اور دوسرا ہاتھ پر ہاتھ رکھے بيٹھا رہے يا خاموش رہے)۔خدانخواستہ اگر گھر کا ماحول ايک دوسرے کي نسبت عدم محبت و عدم اطمينان اور خلوص و فدا کاري کے فقدان سے خراب ہو جائے تو گلستانِ حيات ميں لگنے والي آگ کا دھواں مياں بيوي دونوں کي آنکھوں ميں جائے گا۔

اپنے گھر کي بنيادوں کي حفاظت کي سب سے بڑي ذمہ داري خود مياں بيوي پر عائد ہوتي ہے۔ درگذشت، عفو،باہمي مدد و تعاون، مہرباني اور اپنے اخلاق و محبت سے کہ ان ميں سب سے زيادہ موثر محبت کا عنصر ہے، دونوں اس عمارت کو ہميشہ کے لئے قائم اور شاد و آباد رکھ سکتے ہيں۔

اسلامي معاشرے ميں اچھے خاندان کي صفات

اسلامي معاشرے ميں مياں بيوي زندگي کے سفر ميں ايک ساتھ، ايک دوسرے سے متعلق، ايک دوسرے کي نسبت ذمہ دار، اپني اولاد کي تربيت اور اپنے گھرانے کي حفاظت کے لئے مسؤل اور جوابدہ تصور کئے جاتے ہيں۔ آپ ملاحظہ کيجئے کہ اسلام ميں گھرانے اور خاندان کي اہميت کتني زيادہ ہے!

اسلامي ماحول ميں خاندان کي بنياديں اتني مضبوط و مستحکم ہيں کہ کبھي آپ ديکھتے ہيں کہ ايک ہي گھر ميں دو نسليں زندگي گزار ديتي ہيں اور دادا، باپ اور بيٹا (پوتا) باہم مل کر ايک جگہ زندگي گزارتے ہيں۔ يہ کتني قيمتي بات ہے۔ نہ ان کے دل ايک دوسرے سے بھرتے ہيں اور نہ يہ ايک دوسرے کي نسبت بدگمان و بد بين ہوتے ہيں بلکہ ايک دوسرے کي مدد کرتے ہيں۔

اسلامي معاشرے ميں يعني ديندار اور مذہبي فضا ميں ہم مشاہدہ کرتے ہيں کہ دو آدمي ايک طويل عرصے تک باہم زندگي بسر کرتے ہيں اور ايک دوسرے سے بالکل نہيں اکتاتے بلکہ ايک دوسرے کے ليے ان کي محبت و خلوص زيادہ ہو جاتا ہے اور ايک دوسرے کے لئے ان کي الفت، انس اور چاہت ميں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے اور يہ سب آثار، دينداري، مذہبي ہونے اور خداوند عالم کے بتائے ہوئے احکام و آداب ِ اسلامي کي رعايت کرنے کا ہي نتيجہ ہيں۔

اسلام اور اسلامي ثقافت و تمدّن ميں خاندان کو دوام حاصل ہے۔ گھر ميں دادا، دادي اور ماں باپ سبھي تو موجود ہيں جو اپنے پوتے پوتيوں کو اپنے ہاتھوں پر جوان کرتے ہيں۔ يہي لوگ ہيں کہ جو آداب و رسوم کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرتے ہيں اور پچھلي نسل اپني تاريخي اور ثقافتي ورثے آنے والي نسل کے ہاتھوں ميں با حفاظت تھماتي ہے۔ ايسے ماحول ميں ايک دوسرے سے کٹ کر رہنے، تنہائي اور عُزلت نشيني اختيار کرنے اور مہرباني و محبت سے عاري سلوک روا رکھنے کے تمام دروازے اس گھر کے تمام افراد کے لئے بند ہيں۔


تيسري بات

مغرب ميں عشق کا غروب اور ہمدردي و مہرباني کا فقدان

دريچہ

اپنے پاس موجود چيزوں کي قدر شناسي اور سپاس گزاري کي حس کي تقويت کے لئے ايک درمياني راستہ بھي موجود ہے ارو وہ ان لوگوں کو بغور ديکھنا اور مشاہدہ کرنا ہے۔

جو ان چيزوں سے يکسر محروم ہيں يا کم بہرہ مند ہيں۔

اپنے پاس موجود اس نعمت عظميٰ کے شکرانے کے لئے کتنا ہي بہتر ہو کہ ہم ان معاشروں پر نگاہ ڈاليں کہ جنہوں نے خداوند عالم

کي اس بڑي اور عظيم نعمت کو ہر ايرے غيرے کي باتيں سننے اور دل کے فريب کھانے سے گنوا ديا اور آج اس گناہ کبيرہ کے عذاب کا تازيانہ

ان کے مايوس اور افسردہ چہروں پر مارا جا رہا ہے۔

جي ہاں ہم ’’مغرب‘‘ کي ہي بات کر رہے ہيں !

يعني وہ تاريک سر زمين کہ جس کے باسيوں کے آسمانِ زندگي سے خورشيدِ عشق کب کا رختِ سفر باندھ چکاہے اور ان کي ترستي ہوئي آنکھوں ميں ’’مہرباني و محبت کے‘‘ ايک ايک قطرے کي تمنا کو بخوبي مشاہدہ کيا جا سکتا ہے۔

خانداني نظام کے شيرازے کا بکھرنا دراصل غضب الٰہي کا وہ طوفان ہے کہ جس نے اس غربت کدے کے باشندوں سے خوش بختي کو چھين ليا ہے۔

ہم ان کے لئے ہمدردي اور انسان دوستي کے جذبات رکھتے ہيں، کاش ان کے لئے کوئي کام کيا جا سکتا!

ليکن بہت دير ہو چکي ہے۔ اب بہتر يہ ہے کہ ہم اپني فکر کريں اور ’’خانداني حرمت‘‘ کا پاس نہ رکھنے والوں اور اپني بے لگام شيطاني شہوت کے نيزوں سے اپني سعادت و خوش بختي کو زخمي اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کے حالات سے عبرت ليں۔

وہ ہم سے حسد کرتے ہيں اور حاسد کے حسد سے ڈرنا اور خدا کي پناہ طلب کرني چاہيے۔

’’وَمِنْ شَرٍّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ‘‘(۱)

اور ميں حاسد کے شر سے اللہ کي پناہ کا طالب ہوں کہ جب وہ حسد کرے۔

مغرب کے ظاہر پر پڑے ہوئے خوبصورت دبيز پردوں کو ہٹا کر اِس ’’حادثے‘‘ کي حقيقت تک پہنچنا آسان نہيں ہے۔

اہلِ مغرب کا کسي بھي واقعے و حقيقت کو چھپا کر اُسے مصنوعي زينت و آرائش دينے، خبروں کو سنسر کرنےاور اپني تباہ شدہ زندگي کے عوامل و اسباب کو چھپانے کا اُن کا ’’ہنر‘‘زبان زد خاص و عام ہے۔

اس کے لئے نگاہ عميق اور ديد روشن کي ضرورت ہے تا کہ اِس ’’حادثے‘‘ کي حقيقت سے پردہ اٹھائے ! اور اس کام کے ليے

ہمارے ہر دلعزيز رہبر سے زيادہ موزوں اور کون ہے؟ !

____________________

١ سورہ فلق ٥


اپنے تشخص سے بے خبر نسل

آج کل مغربي ممالک ميں جس چيز کا مشاہدہ کيا جا رہا ہے وہ اپنے تشخص سے بے خبر نسل کي حيراني و سرگرداني سے عبارت ہے کہ جہاں ايک ہي شہر ميں رہنے والے ماں باپ سالہا سال اپني اولاد سے بے خبر ہيں تو دوسرے شہروں کي بات چھوڑ ديجئے ! ايسا ماحول کہ جہاں خاندانوں کا شيرازہ بکھرا ہوا ہے اور لوگ تنہا ہيں (يہ ہیں اس معاشرے کي خصوصيات)۔

يورپي اور امريکي ممالک ميں بے شوہر عورتوں اور بغير بيوي والے مرد حضرات کے اعداد و شمار بہت زيادہ ہيں کہ جس کانتيجہ والدين کي شفقت سے محروم، آوارہ اور جرائم کا پيش خيمہ بننے والے بچوں کي صورت ميں نکلتا ہے اور وہاں جرم و گناہ کي فضا حاکم ہے۔ يہ خبريں جو آپ سنتے ہيں کہ کسي اسکول، روڈ يا ريل گاڑي ميں ايک لڑکا سامنے آ کر اچانک لوگوں کو قتل کرنا شروع کر ديتا ہے اور کئي لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار ديتا ہے، ايسے ايک يا دو واقعات نہيں ہيں۔ دوسري جانب جرائم انجام دينے والے افراد کے سن و سال کا گراف بھي نيچے آ رہا ہے۔ پہلے بيس سالہ نوجوان جرائم ميں ملوث تھے ليکن اب سولہ سترہ سال کے لڑکے انہي جرائم کا ارتکاب کر رہے ہيں۔ بلکہ اب تو امريکہ ميں تيرہ چودہ سالہ بچے بھي يہ کام انجام دے رہے ہيں اور بہت آساني سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار ديتے ہيں۔ ايک معاشرہ جب اس منزل پر پہنچ جائے تو گويا اس معاشرے کا شيرازہ بالکل بکھر گيا ہے اور اس بکھرے ہوئے معاشرے کو دوبارہ جمع کرنا تقريباً غير ممکن ہے۔

مغرب کا گناہ ِ کبيرہ

دنيائے مغرب کي سب سے بڑي مشکل خانداني مسائل اور گھريلو نظام زندگي سے بے توجہي برتنا ہے۔ اہل مغرب اپنے خانداني نظام زندگي کي حفاظت ميں ناکام ہو گئے ہيں۔ مغرب ميں خاندان يا گھريلو نظام زندگي، اجنبيت، بے اعتنائي اور تحقير و اہانت کا شکار ہے۔ اہل مغرب کي يہي مشکل ان کي تہذيب و تمدن کو ديمک کي مانند آہستہ آہستہ چاٹ کر کھوکھلا کر رہي ہے اور صنعتي اور علمي پيش رفت کے با وجود مغرب ہلاکت و نابودي کي طرف گامزن ہے۔

عالم بشريت کے لئے مغربي تمدن کا سب سے بڑا گناہ يہ ہے کہ اس نے شادي اور خاندان کي تشکيل کو لوگوں کي نگاہوں ميں سبک اور ہلکا اور ايک لباس بدلنے کي مانند کر ديا ہے۔ يہ ہے ان کے يہاں مياں بيوي کي زندگي کا تصور۔

وہ ممالک کہ جن ميں خانداني نظام زندگي ضائع اور برباد ہو رہا ہے حقيقت ميں اُن کي تہذيب و ثقافت کي بنياديں لرز رہي ہيں اور آخر کار يہ تباہ و برباد ہو جائيں گي۔

نہ اُنس و محبت ، نہ شوہر اور نہ

دنيائے مغرب ميں باوجوديکہ بہت سي حکومتيں علم و ثروت اور مضبوط سياست کے لحاظ سے غني ہيں ليکن خانداني نظام زندگي ميں وہاں کے باشندوں کي زندگي بہت افسوسناک ہے۔ ہمارے يہ خانداني اجتماعات اور تقريبات کہ جہاں خاندان کے بڑے چھوٹے سب ايک جگہ جمع ہوتے ہيں، ايک دوسرے سے محبت کرتے ہيں، مہرباني، ہمدردي اور محبت نے انہيں تسبيح کے دانوں کي مانند ايک جگہ جمع کيا ہوا ہے، يہ ايک دوسرے سے مکمل تعاون کرتے ہيں ، ايک دوسرے کي احوال پرسي کرتے اور دوسروں کو اپني ذات کا حصہ سمجھتے ہيں، اخوت و بھائي چارگي کے ساتھ رہتے ہيں اور باہم شير و شکر ہو جاتے ہيں۔ يہ چيزيں ہمارے معاشرے ميں بہت عام نوعيت کي ہيں اور رائج ہيں۔ ليکن مغرب ميں ان چيزوں کا دور دور تک کوئي نام و نشان نہيں ہے۔ کتني ہي خواتين تنہا زندگي بسر کرتي ہيں۔ اکيلي رہنے والي عورت اپنے خاندان سے دور ايک اپارٹمنٹ ميں زندگي بسر کرتي ہے، صبح کام کے لئے نکلتي ہے تو جب بھي تنہاہوتي ہے اور جب رات کو تھکي ہاري گھر لوٹتي ہے تو کوئي نہيں ہو تا کہ جو دن بھر کے اس کے خستہ بدن کي تھکاوٹ اور روح کے بوجھل پن کو دور کرنے کے لئے اس کا استقبال کرے صرف گھر کي تنہائي ہي اس کا استقبال کرتي ہے۔ نہ انس و محبت، نہ کوئي شوہر، نہ کوئي بچہ، نہ کوئي پوتا يا نواسا اور نہ کوئي اور جو گرم جوشي سے اسے گھر ميں خوش آمديد کہے۔ اس معاشرے ميں لوگ اجتماع ميں بھي رہتے ہوئے تنہا ہيں۔ ايسا کيوں ہے؟ اس لئے کہ وہاں کے معاشرے ميں خانداني نظام زندگي فراموش کر ديا گيا ہے۔

بہت افسوسناک بات ہے کہ آج مغرب ميں خانداني نظام زندگي آہستہ آہستہ رُو بہ زوال ہے اور اس کے آثار ميں اپني ثقافت اور تہذيب و تمدن سے لا عملي، اپنے تمدني تشخص سے بے خبري اور گناہ و جرائم قابل ذکر ہيں کہ جن ميں وہاں کے عوام گرفتار ہيں۔ روز بروز ان ميں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان کي بچي ہوئي جمع پونجي بتدريج ختم ہو رہي ہے۔

جنسي آزادي اور خانداني نظام کي تباہي

مغرب ميں خصوصاً امريکہ اور شمالي يورپ کے بعض ممالک ميں يہ بات مشہور ہے کہ خانداني نظام کي بنياديں بہت کمزور ہيں، کيوں؟ اس کا سبب يہ ہے کہ وہاں جنسي آزادي اور جنسي بے راہ روي بہت زيادہ ہے۔ جب کسي معاشرے پر بے غيرتي اور بے عفتي اپنے سياہ پروں کو پھيلا دے تو اس کا مطلب ہے کہ مياں بيوي (مرد و عورت) اپني اس جنسي ضرورت و خواہش کو گھر کے علاوہ کہيں اور سے پورا کريں گے۔ ايسے ماحول ميں ’’خاندان‘‘ ايک بے معنيٰ لفظ، معاشرے پر ٹھونسي ہوئي چيز اور ايک ڈيکوريشن پيس (نمائشي چيز) ہے لہٰذا ايسے ماحول ميں وہ لوگ مہرباني، ہمدردي اور ايک دوسرے کے لئے غمخواري کے جذبات کے لحاظ سے ايک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہيں۔ اگرچہ کہ ظاہري طور پر ان ميں کسي قسم کي جدائي نہيں ہوتي ليکن حقيقتاً ان ميں پيار و محبت کے تمام رشتے ختم ہو جاتے ہيں۔

اگر انسان آزاد ہوتے کہ جس طرح چاہيں اپني جنسي خواہش کو پورا کريں تو گويا گھرانہ ہي تشکيل نہيں پاتا يا وہ کوئي ايک بيکار، پوچ و تُہي، حملوں کي آماجگاہ اور جلد ويران ہونے والي کوئي چيز ہوتي کہ جسے ہر ہوا کا جھونکا لرزا ديتا۔ لہٰذا آپ دنيا ميں جہاں بھي جنسي آزادي کے نمونے ديکھيں گے تو وہاں کے خانداني نظام اور گھرانوں کو اسي نسبت سے ضعيف و کمزور پائيں گے۔ کيونکہ اس کي وجہ يہ ہے کہ اس ماحول ميں مرد و عورت کو اپني جنسي خواہش کي سيرابي کے لئے کسي ايسے ’’مرکز‘‘ کي ضرورت نہيں ہے۔ ليکن جہاں ديني حکومت ہے اور جنسي آزادي اور بے راہ روي نہيں ہے وہاں تمام چيزيں مرد و عورت کے لئے ہيں اور اس ديني ماحول ميں خانداني نظام زندگي کي حفاظت کي جاتي ہے۔

مصنوعي عشق

علم و تمدن کے لحاظ سے زيادہ ترقي يافتہ بعض ممالک ميں رہنے والے لوگوں پر زندگي اس طرح مسلط ہے کہ ايک ہي گھر ميں رہنے والے افراد آپس ميں بہت کم ميل ملاپ رکھتے ہيں۔ باپ ايک جگہ ملازم، ماں دوسري جگہ کام ميں مشغول، نہ ايک دوسرے سے ملاقات کر پاتے ہيں اور نہ ايک دوسرے کے لئے غذا تيار کرتے ہيں۔ ايک چھت کے نيچے رہنے والے مياں بيوي نہ آپس ميں محبت و چاہت سے پيش آتے ہيں اور نہ ايک دوسرے کي غمخواري کرتے ہيں، نہ ايک دوسرے کي دل جوئي کرتے اور ڈھارس با ند ھتے ہيں اور نہ ہي آپس ميں ان کو واقعي کوئي کام ہوتا ہے۔ ايسے ماحول ميں يہ اپنے بچوں کے ماہرين نفسيات کي تجويز پر عمل کرنے کے لئے آپس ميں طے کرتے ہيں کہ فلاں معين وقت پر گھر آئيں اور آپس ميں مل بيٹھيں۔ صرف اور صرف اس لئے کہ ايک چھوٹي سي محفل سجائيں کہ جو صحيح و سالم گھرانوں ميں خود بخود اپنے وجود سے زندگي کو شيريں بناتي ہے۔ ليکن يہ لوگ بناوٹي اور مصنوعي طور پر ايسي محفل سجاتے ہيں۔ اس وقت مرد يا عورت مسلسل اپني گھڑي کي طرف ديکھتي رہتي ہے کہ يہ گھنٹہ کب ختم ہو گا؟ کيونکہ مثلاً اسے دو بجے کہيں اور پہنچنا ہے۔ نہ اس طرح کوئي گھريلو محفل سجائي جا سکتي ہے اور نہ ہي ايسي محفل و گھر ميں بچے انس و محبت کا احساس کر پاتے ہيں۔

ايسے خاندان، پيار و محبت کي گرمي سے محروم ہيں يا يوں کہا جائے تو زيادہ بہتر ہو گا کہ (وہ مادي آسائش کے لحاظ سے تو ايک بہترين گھر ہے ليکن اس گھر ميں) خانداني نظام يا گھرانہ وہاں موجود ہي نہيں ہے۔ صحيح ہے کہ يہ مياں بيوي ايک ہي چھت کے نيچے زندگي بسر کرتے ہيں ليکن در حقيقت ان کے دل ايک دوسرے سے جدا ہيں۔ نہ گھر کے افراد کا ساتھ اٹھنا بيٹھنا، نہ گھر کي فضا ميں وہ محبت کي ٹھنڈک اور نہ ايک دوسرے کي نسبت انس و الفت، کچھ بھي تو نہيں ہے اور جہاں مياں خود کو بيوي کي ضرورتوں کو پورا کرنے والا اور بيوي خود کو شوہر کي شريکہ حيات اور ہمدرد و مونس سمجھے، ان چيزوں کا تو سرے سے ہي وجود نہيں ہے۔ ان کي زندگي گويا ايسي ہے کہ جيسے دو اجنبي شخص ايک قرارداد کے مطابق صرف ايک چھت کے نيچے زندگي گزارتے ہوں اور تو اور اس کا نام بھي عشق رکھ ديا جاتا ہے !

مغربي تمدن کے مطابق شادي کے برے نتائج

مغربي معاشروں ميں نوجوان اپني نوجواني کے پر نشاط زمانے کو بغير کسي قيد و شرط کے گزارتے ہيں، اپنے جلد بھڑکنے والے احساسات کے پيچھے دوڑتے اور اپني فطري و جبلّي خواہشات کو آزادانہ طور پر پورا کرتے ہيں ليکن جب وہ گھر تشکيل دينے اور رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے کے سن و سال کو پہنچتے ہيں تو ان کي ان فطري و جبلّي خواہشات اور طبيعي ميل کا بہت زيادہ حصہ (جو جواني کي آزاد فضا ميں خواہشات کي تکميل کے ذريعے اپنے حصے کا کام کر کے) ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ شوق، محبت اور عشق و الفت جو مياں بيوي کي روح ميں ايک دوسرے کے لئے موجود ہونا چاہيے، ان ميں نہيں ہوتا يا کم ہوتا ہے۔

بہت سے افراد اپني شادي کے زمانے کو اپني درمياني عمر ميں گزارتے ہيں کہ جو مغرب اور ان کي تہذيب و تمدن ميں ايک معمول ہے۔ ان کا يہ اقدام بھي ان کے اکثر فرضيوں اور فيصلوں کي مانند غلط، انساني مصلحت و فطرت کے خلاف ہے اور اس چيز سے جنم ليتا ہے کہ يہ لوگ شہوت پرستي، خواہشات نفس کي پيروي اور بے بند و باري کي طرف مائل ہيں۔ يہ لوگ چاہتے ہيں کہ اپني جواني کو خود ان کي اپني اصطلاح کے مطابق ہنسي خوشي گزاريں، اپني خواہشات کو جس طرح چاہيں سيراب کريں، خوب رنگ رنگيلياں اور مزے کريں اور جب ٹھنڈے اور تھک کر چور ہو جائيں اور (خدا کي طرف سے دي گئي) ان کي خواہشات کي (قدرتي) آتش خاموش ہو جائے تو اس وقت گھر بسانے کي فکر کريں۔ ملاحظہ کيجئے کہ يہ ہے مغرب ميں خانداني نظام زندگي۔ بہت زيادہ طلاقيں، ناکام شادياں، بے وفا مرد و عورت، جنسي آزادي کے نتيجے ميں ہونے والي بے شمار خامياں، برے نتائج اور غيرت و مروّت کي کمي يہ سب مظاہر مغربي معاشرے ميں زندگي کي عکاسي کرتے ہيں۔

مغرب، سقوط کے دھانے پر !

اگر آپ آج مغرب کے بعض معاشروں پر نگاہ ڈاليں خصوصاً وہ معاشرے جو ٹيکنالوجي ميں پيشرفت اور صنعتي ترقي کے پھيلے ہوئے رابطوں کے جال ميں پھنسے ہوئے ہيں تو آپ ديکھيں گے کہ وہاں کي آلودگي ميں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بد اخلاقي اور گناہ و جرائم کي آلودگي اگر کسي معاشرے کے صاف آسمان کو مکدّر اور دھندلا بنا دے تو وہ ان کي صاف و شفاف فضا کو آلودہ بنا کر تازہ ہوا ميں سانس لينے اور صحت مند زندگي گزارنے کا حق ان سے چھين کر اور انہيں ہلاک و نابود کر دے گي۔ يہ بد اخلاقي اور گناہ و جرائم کي آلودگي زلزلے يا سيلاب کي مانند ايک دم آنے والي بلائيں نہيں ہيں بلکہ يہ تدريجي آفات ہيں اور يہ سب نا قابل علاج ہيں۔ يہ وہ بلائيں ہيں کہ جب کسي معاشرے پر نازل ہوتي ہيں تو لوگ انہيں ايک دم سمجھنے سے قاصر ہوتے ہيں، يہ آفات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ ميں آتي ہيں۔ جب بيماري پوري طرح روح کي گہرائيوں ميں اپنا وار کر چکي ہوتي ہے اور اس کا زہر پوري روح کو زہريلا بنا چکا ہوتا ہے تو يہ اس وقت سمجھ آتي ہے۔ ليکن اس وقت سمجھنے سے کيا فائدہ کہ جب چڑياں کھيت چگ جائيں۔ ايسے وقت ميں نہ کوئي تدبير کام آتي ہے اور نہ کوئي علاج موثر ہوتا ہے ! آج مغربي معاشرے اسي سمت بہت تيزي سے حرکت کر رہے ہيں يعني وہ سقوط اور نابودي کے دھانے پر کھڑے ہيں۔ ان سب کي وجہ يہ ہے کہ اس معاشرے کے لڑکے لڑکياں مناسب سن و سال ميں کامياب اور مستحکم و پائيدار شاديوں کے لئے اقدامات نہيں کرتے ۔ اس کے علاوہ وہاں کے خاندانوں اور گھرانوں کي فضا محبت سے سرشار نہيں ہے۔

آج مغرب ميں ’’گھرانے‘‘ کي بنياديں کمزور ہو چکي ہيں، گھروں کو دير سے بسايا جاتا ہے اور وہ جلد ٹوٹ جاتے ہيں۔ برائياں، گناہ اور جرائم ميں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر يہ آفات پورے معاشرے کو اپني لپيٹ ميں لے ليں تو وہ معاشرہ بڑي بڑي بلاوں کا شکار ہو جائے گا۔ البتہ اس بات کي طرف بھي توجہ ضروري ہے کہ يہ بيمارياں اور آفتيں ايسي نہيں ہيں کہ پانچ يا دس سال ميں ظاہر ہو جائيں ليکن کئي سالوں کے گزرنے کے بعد جب ان کے اثرات ظاہر ہوں گے تو اس معاشرے کو مکمل طور پر ہلاک اور اس کي تمام علمي، فکري اور مادي دولت و ثروت کو نابود کر د يں گے۔ يہ ہے بہت سے مغربي ممالک کا مستقبل !

در بہ در، کوچہ بہ کوچہ، سکون کي تلاش

آج آپ امريکہ اور يورپي دنيا کو ديکھئے کہ يہ لوگ کتنے اضطراب اور پريشاني ميں ہيں، کتني نا آرام زندگي گزار رہے ہيں، سکون و آرام کے لئے کتنے سرگرداں اور حيران ہيں اور ان کے معاشرے ميں مصنوعي سکون دينے والي گوليوں اور خواب آور دواوں کا استعمال کتنا زيادہ ہے ! نوجوانوں کو ديکھئے کہ وہ کتنے غير معقول کام انجام ديتے ہيں، بڑے بڑے بے ترتيب بال، تنگ اور بدن سے چپکے ہوئے لباس، يہ سب اس لئے ہے کہ وہ اپنے معاشرے کي موجودہ حالت سے ناراض ہيں اور اپنے غصے کا اظہار کرتے ہيں۔ ان کي خواہش ہے کہ وہ آرام و سکون کو حاصل کريں، ليکن اسي حسرت ميں ناکام مر جاتے ہيں(۱) ۔ بوڑھے مرد اور بزرگ خواتين اپنے لئے بنے ہوئے خاص مراکز ميں دم توڑ ديتے ہيں، نہ ان کے بچے ان کے پاس ہيں اور نہ ان کي بيويوں کو ان کي کوئي خبر ہوتي ہے۔ مياں بيوي ايک دوسرے سے دور ہيں۔

مغرب ميں ايسے بچوں کي تعداد بہت زيادہ ہے کہ جو يہ نہيں جانتے کہ ان کے والدين کون ہيں؟ وہاں ايسے مرد و خواتين کي تعداد بھي بہت زيادہ ہے کہ جو اسماً اور ظاہراً مياں بيوي تو ہيں ليکن کئي سالوں سے ايک دوسرے سے بے خبر ہيں۔ بہت کم خواتين مليں گي جو آسودہ خيال ہوں کہ زندگي کے آخري لمحات يا بڑھاپے تک وہ اپنے شوہر کے ساتھ باہم زندگي گزاريں گي يا ان کے مرد کا سايہ ان کے سروں پر موجود رہے گا۔ اسي طرح ايسے مردوں کي تعداد بھي بہت کم ہے کہ جو آسودہ خاطر ہوں کہ ان کي بيوياں کہ جن سے وہ محبت کرتے ہيں، کل ان کو چھوڑ کر کسي اور کي تلاش ميں نہيں جائيں گي !

کانوں پر جُوں تک نہيں رينگتي !

خود امريکہ کے اندر لوگوں حتيٰ بچوں ميں بھي مختلف قسم کي اخلاقي اور جنسي برائيوں اور جرائم وغيرہ کے بڑھنے کي شرح بہت زيادہ ہے۔ مغرب کے مطبوعات اور دانشمند حضرات فرياد بلند کر رہے ہيں، مقالے تحرير کر رہے ہيں، گفتگو کا سلسلہ جاري ہے اور (لوگوں اور حکومت کو) خبردار کيا جارہا ہے۔ ليکن کسي کے کان پر جوں تک نہيں رينگتي، گويا ان تمام مسائل کا کوئي علاج نہيں ہے ! جب صورتحال يہ ہو کہ بنياد ہي خراب کر دي جائے اور اسي حالت ميں تيس، چاليس يا پچاس سال گزر جائيں تو لوگوں کو خبردار کرنے،ايسي صورتحال کے خلاف فرياد بلند کرنے اور کسي سياسي تدبير سے يہ مشکلات حل نہيں ہوں گي۔

مغربي معاشرے ميں خوش بختي رختِ سفر باندھ چکي ہے۔ يہ کوئي (بے وزن) بات نہيں ہے کہ جو ميں بيان کر رہا ہوں بلکہ يہ وہ حقائق ہيں کہ جو آج خود ان کے مفکرين، دانشمند، سينے ميں دل رکھنے والے، صاحبان فہم و فراست نہ کہ (اقتدار کے طالب) سياستدان، اور معاشرے کے اندر زندگي بسر کرنے والے (اور ان حقائق کا بغور مشاہدہ کرنے والے) افراد بيان کر رہے ہيں اور آج ان کي فرياد بلند ہو رہي ہے۔ آخر کيوں؟ اس لئے کہ اس معاشرے ميں سعادت مند زندگي گزارنے کے کوئي وسائل موجود نہيں ہے۔ خوش بختي اور سعادت عبارت ہے آرام و سکون، سعادت اور امن و امان کے احساس سے (جو دور دور تک وہاں نہيں پائي جاتي)۔

____________________

١ ان ميں سے اکثر نوجوانوں کو يہ خود نہيں معلوم کہ وہ ايسے بہت سے کام کيوں اور کس لئے انجام ديتے ہيں؟ ان کي زندگي کا مقصد انہيں يہي بتايا جاتاہے کہ اچھا کھانا، پہننا، سونا اور عيش، سارے ہفتے کام اور ويک اينڈ پر عياشي اور ذہني تفريح۔ يہ ہيں ان کے بے مقصد دن اور بے ہدف اور سکون سے خالي راتيں ! (مترجم)


جو افراد بھي بين الاقوامي صورتحال اور افکارِ عالم سے واقف ہيں وہ جانتے ہيں کہ تمام ممالک خصوصاً امريکہ سے البتہ يورپي ممالک بھي اس ميں شامل ہيں، خير خواہ مصلح اور فہم و ادراک رکھنے والے افراد کي فرياد بلند ہو گئي ہے کہ آو مل کر کوئي چارہ جوئي کرتے ہيں۔ البتہ اتني آساني سے وہ کوئي فکر و تدبير اور چارہ جوئي نہيں کر سکتے اور اگر فکر کرنے ميں انہيں کاميابي حاصل ہو بھي جائے تو بھي وہ اتني آساني سے علاج ميں کامياب نہيں ہو سکتے ہيں۔

غلط اہداف اور شيطاني راہ

وہ لوگ جو کسي ملک يا معاشرے ميں نفوذ کرنا چاہتے ہيں تو وہ افراد اس معاشرے کي ثقافت اور تمدن کو اپنے قبضے ميں لے کر اپني تہذيب و تمدن اور ثقافت کو اس معاشرے پر تھونپ ديتے ہيں ۔ ان کے من جملہ کاموں ميں سے ايک کام گھرانے کي بنيادوں کو متزلزل کرنا ہے جيسا کہ بہت سے ممالک ميں انہوں نے يہ کام انجام ديا ہے۔ انہوں نے معاشرے ميں اس طرح نفوذ کيا ہے کہ مرد اپني ذمہ داريوں کي نسبت غير ذمہ دار اور خواتين بد اخلاق ہو گئي ہيں۔

کسي بھي معاشرے ميں تہذيب و تمدن کي اساس اور بنيادي عناصر کي حفاظت اور آنے والي نسلوں تک ان کي منتقلي بہترين اور اچھے گھرانوں يا خاندانوں کے وجود سے انجام پاتي ہيں۔ اگر ايسے گھر يا خاندان کا وجود نہ ہو تو تمام چيزيں تباہ ہو جائیں گي۔ يہ جو آپ مشاہدہ کر رہے ہيں کہ اہل مغرب کي پوري کوشش ہے کہ مشرق وسطيٰ اور ايشيائي اسلامي اور ديگر ممالک ميں شہوت پرستي اور برائيوں کو رواج ديں تو اس کي کيا وجہ ہے ؟ اس کے جملہ اسباب ميں سے ايک سبب يہ ہے کہ ان کي خواہش ہے کہ اپنے اس کام سے وہاں کے خانداني نظام زندگي کو تباہ و برباد کر ديں تا کہ ان معاشروں کي تہذيب و تمدن اور کلچر کي بنياديں کمزور ہو جائيں اور انہيں ان اقوام پر سوار ہونے کا پورا پورا موقع مل جائے۔ کيونکہ جب تک کسي قوم کي تہذيب و تمدن اور ثقافت کي بنياديں کمزور نہ ہوںتو کوئي بھي اس پر قبضہ نہيں کر سکتا اور نہ ہي اس کے منہ ميں لگام دے کر اسے اپني مرضي کے مطابق چلا سکتا ہے۔ وہ چيز جو اقوام ِ عالم کو لاحق خطرات کے مقابل ميں بے دفاع اور اغيار کے ہاتھوں ميں انہيں اسير بناتي ہے وہ اُن کا اپنے قومي تشخص، تاريخي اور ثقافتي ورثے سے بے خبر ہونا ہے۔ اس کام کے ذريعے سے کسي بھي معاشرے ميں خانداني نظام زندگي کي بنيادوں کو با آساني کمزرو بنايا جا سکتا ہے۔ اسلام، خاندان اور ان کي بنيادوں کي حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ اسي لئے اسلام ميں ان بلند ترين اہداف تک پہنچنے کے لئے اہم ترين کاموں ميں سے ايک کام خاندان و گھرانے کي تشکيل اور اس کي حفاظت کرنا ہے۔

خاندان کے بارے ميں صرف ايک جملہ !

ميں نے اقوام متحدہ کے (جنرل اسمبلي کے) اجلاس ميں تقريباً ايک گھنٹے سے زيادہ گفتگو کي اور ساتھ ہي خاندان اور خانداني نظام زندگي کے بارے ميں بھي روشني ڈالي۔ بعد ميں مجھے اطلاع دي گئي کہ امريکي ٹي وي چينلوں نے ہماري (يعني مسلمانوں خصوصاً ايرانيوں کي) گفتگو کو سنسر اور انہيں مسخ کرنے ميں اپني تمام تر سنجيدگي کے باوجود ميري گفتگو کو معتبر اور مستند قرار ديتے ہوئے کئي بار اسے نشر کيا اور ساتھ تجزيہ اور تحليل بھي پيش کيا اور وہ بھي خانداني نظام زندگي کے بارے ميں صرف ايک جملے کي وجہ سے۔ کيونکہ خانداني مسائل اور گھر و گھرانے سے متعلق گفتگو اہل مغرب کے لئے آج ايک پيغام ہے بالکل ايک ٹھنڈے اور گوارا پاني کي مانند کہ جس کي کمي کا وہ خود بھي احساس کر رہے ہيں۔

مغرب ميں کتني ہي ايسي خواتين ہيں کہ جو آخر عمر تک تنہا زندگي گزارتي ہيں اور کتنے ہي ايسے مرد ہيں کہ جو زندگي کي آخري سانسوں تک گھرانے کي چھاوں سے محروم رہتے ہيں اور اپني شريکہ حيات کے عدم وجود کي تاريکي ميں ہي زندگي کو خدا حافظ کہہ ديتے ہيں۔ ان کي زندگي غريب، اجنبي اور انس و الفت کي ٹھنڈي چھاوں سے محروم ہے۔ کتنے ہي ايسے نوجوان ہيں کہ جو ’’گھرانے‘‘ کي پُر محبت فضا سے محروم ہونے کي وجہ سے آوارہ ہيں يا ان کے معاشرے ميں خانداني نظام زندگي کا کوئي وجود نہيں ہے يا اگر ہے تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔


چوتھي بات

ايک دوسرے کي نسبت مياں بيوي کے حقوق

دريچہ

نکاح کے بول پڑھنے اور رشتہ ازدواج کے عہد و پيمان کو قبول کرنے سے کل کے لڑکے لڑکي آج کے مياں بيوي اور ايک دوسرے کے شريک حيات بن جاتے ہيں۔

يوں گھروں ميں ايک گھر اور معاشرے ميں ايک نئي ’’اکائي‘‘ کا اضافہ ہوتا ہے۔

اگرچہ کہ حکيم و دانا خالق کي نگاہ ميں مرد و عورت، دو انساني گوہر، دو ايک جيسي آسماني روح اور ايک دوسرے کے مثل و نظير ہيں۔

جب کہ انساني حقيقت کے لحاظ سے ايک دوسرے کي نسبت ہر ايک کي ذمے داري برابر ہے۔

ليکن حکمت ِ خدا نے ان آسماني گوہروں کو ايک دوسرے سے مختلف اور ممتاز پيکروں، البتہ ايک دوسرے کے ضرورت مند

ہونے کے احساس کے ساتھ دو زميني گوہروں ميں سمايا ہے۔

يہ ’’رشتہ ازدواج‘‘ وہي عظيم قانون، ہر لحاظ سے مکمل اور جامع سنت، بہترين رسم زندگي اور وہ خوبصورتي و زيبائي ہے کہ جو اس جہان پر حاکم ہے۔

اِسي طرح ’’زوجيت‘‘ کا يہ مقدس رشتہ اِس عالم ہستي کے معمار کے جمال کي پُر عظمت نشانيوں ميں سے ايک نشاني ہے۔

’’شادي‘‘ يعني ’’گھرانے يا خاندان‘‘ کي ذمہ داري لينے کے لئے زندگي کے دو ستونوں کا ملاپ اور زندگي کے ترازو کے توازن کے لئے زندگي کے ان دو پلڑوں کي نزديکي۔

اس نئي اکائي --گھرانے-- کي تشکيل کے لئے مياں بيوي ميں سے ہر ايک کے مکمل کردار کي شناخت ميں

ان کے جسم و جان اور روح کي صفات و تخليق، حکمت ِ الٰہي اور اس جہان مادّي کے طبيعي و فطري فرق بنيادي کردار ادا کرتے ہيں۔

سچ سچ بتائيے کہ گھر بسانے ميں مياں بيوي کا کيا کردار ہے ؟

کس کي ذمے داري دوسرے سے زيادہ اہم ہے؟ کيا ان دونوں ميں سے کسي ايک کي جگہ کو دوسرے سے تبديل کيا جا سکتا ہے؟

ايک دوسرے کي نسبت ان کے آپس ميں کيا حقوق ہيں ؟

زندگي کي نعمتوں اور اس کے مقابل ان کے حقوق ميں ہر ايک کا حصہ کس نسبت سے ہے؟ اور بالآخر گھر ميں بيوي کي حکومت يا جورو کے غلام کي فضا بہتر ہے يا گھر پر شوہر کے تسلط و برتري اور نوکر بيوي کا ماحول، يا دونوں ميں سے کوئي بھي نہيں ؟

يہ وہ سوالات ہيں کہ جن کے ماہرانہ اور استادانہ جواب کے علاوہ کوئي اور چيز نوجوان دولہا دو لہن کے پريشان ذہنوں کو مطمئن نہيں کر سکتي۔

زندگي کے اس نئے راستے پر قدم رکھنے پر ان دو ہمسفروں کي چشم اميد ’’استاد‘‘ کے راہ گُشا کلمات سے کھلنے والے نئے افق

اور دريچوں پر لگي ہوئي ہے کہ جو راستے سے بھي واقف و آگاہ اور محرمِ دل بھي !

ايک دوسرے کے مددگار اور دوستوں کي مانند

ہم نے مشاہدہ کيا ہے کہ کبھي کبھي مرد، بيوي کو دوسرے نمبر کا درجہ ديتا ہے! ليکن در حقيقت دوسرے درجے کے انسان کا کوئي تصور موجود نہيں ہے۔ دونوں ايک دوسرے کے مثل و نظير اور امور زندگي ميں برابر حقوق کے مالک ہيں۔ مگر وہ مقامات کہ جہاں خداوند متعال نے انساني مصلحت کي بنا پر مرد و عورت ميں فرق رکھا ہے اور يہ فرق مرد کا نفع يا عورت کا نقصان نہيں ہے۔ لہٰذا مياں بيوي کو چاہيے کہ گھر ميں دو شريک اور ايک دوسرے کے مدد گار اور دوستوں کي مانند زندگي گزاريں۔

مرد گھر کا نگران و کفيل ہے اور عورت پھول

اسلام نے مرد کو ’’قَوَّام‘‘(۱) (گھر کا نگران اور کفيل) اور عورت کو ’’ريحان‘‘(۲) (پھول) قرار ديا ہے۔ نہ يہ مرد کي شان ميں گستاخي ہے اور نہ عورت سے بے ادبي، نہ يہ مرد کے حقوق کو کم کرنا ہے اور نہ عورت کے حقوق کي پائمالي ہے بلکہ يہ ان کي فطرت و طبيعت کو صحيح زاويے سے ديکھنا ہے۔ امور زندگي کے ترازو ميں يہ دونوں پلڑے برابر ہيں۔ يعني جب ايک پلڑے ميں (عورت کي شکل ميں) صنف نازک، لطيف و زيبا احساس اور زندگي کے ماحول ميں آرام و سکون اور معنوي زينت و آرائش کے عامل کو رکھتے ہيں اور دوسرے پلڑے ميں گھر کے مدير، محنت و مشقت کرنے والے بازوں اور بيوي کي تکيہ گاہ اور قابل اعتماد ہستي کو (شوہر کي شکل ميں) رکھتے ہيں تو يہ دونوں پلڑے برابر ہو جاتے ہيں۔ نہ يہ اُس سے اونچا ہوتا ہے اور نہ وہ اس سے نيچے۔

مشترکہ زندگي ميں مرد و عورت کے کردار کي تبديلي خطرناک ہے !

بہت سے غلط طور طريقے اور رسوم و آداب کو جو خواتين سے مخصوص نہيں ہيں بلکہ مرد بھي کبھي کبھي انہي کو اپناتے ہيں، ہم سے يہ کہتے ہيں کہ جناب آئيے اور زندگي کے اس ترازو کي چيزوں (مياں اور بيوي کے کردار) کو ايک دوسرے سے تبديل کر ديتے ہيں۔ اگر ہم يہ کام انجام ديں تو کيا ہو گا؟ آپ کا يہ عمل خطائے محض اور گلستان حيات کي زيبائي اور خوبصورتي کو خراب کرنے کے علاوہ کچھ اور نہيں ہو گا۔ آپ، مياں بيوي کے اپنے اپنے مقام پر رہنے سے حاصل ہونے والے فوائد کا راستہ روک کر گھر کے تصوراتي ماحول سے بے اعتنائي برت رہے ہيں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ، مياں بيوي کو ايک دوسرے کي نسبت شک و ترديد اور دو دلي ميں مبتلا کر رہے ہيں اور يوں آپ اس محبت اور عشق کو جو اس مشترکہ زندگي کا اصل سرمايہ ہے، کھو بيٹھيں گے۔

____________________

١ سورہ نسا آيت ٣٤ ۔الرَّجَالُ قَوَّ امُوْنَ عَلَي النِّسَآئِ ۔ ’’مرد عورتوں کے حاکم و نگراں ہيں‘‘۔ ترجمہ : علامہ ذيشان حيدر جوادي۲

٢ امير المومنين کي مشہور حديث کي طرف اشارہ ہے۔اَلْمَرْآةُ رَيْحَانَة وَلَيْسَتْ بِقَهْرِ مَانَة ۔ ’’عورت پھول ہے نہ کہ کوئي پہلوان‘‘ ۔ (بحار الانوار، جلد ١٠٠، صفحہ ٢٥٣)


کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ مرد گھر ميں عورت کي مانند کام کرتا ہے۔ يہاں عورت حاکم ِمطلق ہوتي ہے اور مرد کو دستور ديتي ہے کہ فلا ں کام انجام دو اور فلاں کام کرو۔ مرد بھي دست بستہ جورو کا غلام بن جاتا ہے۔ لہٰذا ايسا مرد ہرگز اپني بيوي کي تکيہ گاہ نہيں بن سکتا درحالانکہ بيوي ايک مضبوط پناہ گاہ کو پسند کرتي ہے۔

کبھي يہ بھي ہوتا ہے کہ مرد کي طرف سے کچھ چيزيں عورت پر زبردستي تھونپي جاتي ہيں۔ فرض کريں کہ گھر کي تمام خريداري، کام کاج، ديگر تمام مسائل کو نمٹانا اور تمام تقاضہ مند افراد کو جواب دينا عورت کي ذمہ داري ہے، آخر کيوں؟ کيونکہ شوہر يہ کہتا ہے کہ ميں نوکري کرتا ہوں، تھک جاتا ہوں اور ميرے پاس وقت نہيں ہے۔ گويا وہ وقت نہ ہونے کے ڈنڈے سے گھر کو چلاتا ہے اور کہتا ہے کہ ميں باہر کام کے لئے جاوں گا اور گھر کے سارے کام بيوي انجام دے گي۔ يعني تمام خشک، غير دلچسپ اور بھاري بھرکم کام عورت کے لئے ! البتہ ممکن ہے کہ مرد اس طرح چند روز کے لئے عورت کو سر گرم رکھے ليکن حقيقت ميں يہ کام اس کي طبيعت و مزاج سے ميل نہيں کھاتے۔

بيوي پھول ہے نہ کہ آپ کي نوکراني اور ملازمہ

روايت ميں آيا ہے کہ ’’المرآة ريحانة ‘‘ (عورت پھول ہے)۔ اب آپ خود ملاحظہ کيجئے کہ اگر کوئي مرد کسي نرم و نا زک پھول سے غير انساني سلوک روا رکھے، اس سے بے اعتنائي برتے اور بيوي کے پھول ہونے کي قدر نہ کرے تو يہ مرد کتنا ظالم اور بُرا ہے؟ ! مردوں کي اپني بيويوں سے ان کي طاقت و توانائي سے زيادہ بڑھي ہوئي بے جا توقعات، اپني مرضي اور باتوں کو ان پر ٹھونسنا اور ان پر اپنا تسلط اور برتري جتانا يہ سب کتنا بُرا ہے؟ !

حديث ميں وارد ہوا ہے کہاَلْمَرْاةُرَيْحَانَة وَلَيْسَتْ بِقَهْرِ مَانَةٍ ۔(عورت پھول ہے، پہلوان نہیں ہے)۔ قہرمان يعني زندگي کے کام کاج کرنے والي لونڈي اور نوکراني۔ يہ عورت آپ کي ملازمہ نہيں ہے کہ (جسے آپ چند ہزار روپے کے مہر دے کر اپني ملازمہ بنا ليں ! اور) اپني زندگي کے کام اور ذمہ داريوں کو اس کے نرم و نازک دوش پر رکھ ديں اور بعد ميں اس سے باز پرس بھي کريں، نہيں ! عورت آپ کے ہاتھ ميں ايک پھول ہے حتيٰ اگر يہ کوئي مفکر اور سياستدان ہي کيوں نہ ہو ليکن خانداني زندگي ميں وہ ايک پھول ہي تصور کي جائے گي۔

مرد کو ملازمت کرني چاہيے

سورہ نسا کي آيت ٣٤ ميں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ ’’الرَّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَي النِّسَائِ ‘‘مرد ،خواتين کے نگراں اور گھر کے سرپرست ہيں اور تمام خانداني امور ان کے ہاتھ ميں ہيں۔ لہٰذا مرد کو چاہيے کہ وہ ملازمت کرے اور گھر کي معيشت اسي کے ذمے ہے۔ بيوي کتني ہي ثروت و دولت کي مالک کيوں نہ ہو ليکن گھر کي کفالت اس کي ذمے داري نہيں ہے۔

نہ مرد کي مطلق العنان حکومت، نہ جورو کي غلامي

يہ کہنا بھي درست نہيں ہے کہ بيوي ہر جگہ شوہر کي تابع ہو اور اس کے فرمان کي تعميل کرے، ہرگز نہيں! نہ اسلام ميں ايسي کوئي چيز ہے اور نہ ہي شريعت نے اسے بيان کيا ہے۔ ’’الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَي النِّسَائِ ‘‘کا معنيٰ يہ نہيں ہے کہ بيوي تمام امور ميں اپنے شوہر کي تابع ہو، نہيں ! يا بعض يورپ نہ ديکھنے والے افراد کي مانند کہ جو يورپ کي اندھي تقليد بھي کرتے ہيں اور خود ان سے بدتر بھي ہيں، ہم يہ کہيں کہ عورت کو ہي تمام کاموں کا حاکم اور مسؤل (جوابدہ) ہونا چاہيے اور مرد اس کا تابع اور خدمت گزار ہو، نہيں، يہ روش بھي غلط ہے، نہ مرد کي مطلق العنان حکومت نہ جورو کي غلامي ! آپ دو دوست اور زندگي کے کاموں ميں شريک اور ايک دوسرے کي مدد و اعانت کرنے والے ہيں۔ ايک جگہ مرد اپني انا کے پہاڑ کو توڑے تو ايک جگہ بيوي ہمہ تن گوش ہو۔ ايک جگہ مرد کي خواہش اور اس کے طريقے کے مطابق کام انجام ديا جائے تو دوسري جانب بيوي کے مشورے سے کسي مشکل کا حل ڈھونڈا جائے تا کہ آپ دونوں مل کر زندگي گزار سکيں۔

مرد و عورت کا فطري تفاوت

خداوند عالم نے عورت کو صنف نازک اور لطيف و ظريف خلق کيا ہے۔ بعض انگلياں دوسري انگليوں سے بڑي اور موٹي ہوتي ہيں اور زمين سے ايک پتھر کو نکالنے ميں بخوبي ان سے مدد لي جا سکتي ہے۔ ليکن اگر ان سے ہيرے کے ايک چھوٹے سے ذرّے کو اٹھايا جائے تو معلوم نہيں کہ وہ اُسے اٹھاپائيں گي يا نہيں؟ ليکن بعض انگلياں نازک اورظريف ہوتي ہيں وہ نسبتاً بڑے پتھر کو نہيں اٹھا سکتيں ليکن سونے يا جواہرات کے چھوٹے ذرّوں کو زمين سے اٹھا کر جمع کر سکتي ہيں۔ مرد اور عورت بھي بالکل ايسے ہي ہيں، ہر ايک کي اپني اپني ذمہ داري ہے۔ يہ نہيں کہا جا سکتا ہے کہ کسي ايک کي ذمہ داري دوسرے سے زيادہ سنگين ہے بلکہ دونوں کي ذمہ داري سنگين، ذي قيمت اور اپنے اپنے مقام پر لازمي ہے۔

عورت کي روح چونکہ لطيف اور نرم و نازک احساسات کي حامل ہے اس لئے اسے زيادہ آرام و سکون کي ضرورت ہوتي ہے۔ وہ راحت و آسائش اور ايک مطمئن تکيہ گاہ اور مضبوط جائے پناہ کي طالب ہے۔ يہ تکيہ گاہ کون ہے؟ وہ اس کا شوہر ہے۔ خداوند عالم نے ان لوگوں کو ايک دوسرے کے لئے خلق کيا ہے۔

دو مختلف نگاہيں مگر دونوں خوبصورت

فطري طور پر مرد کے بارے ميں عورت کي سوچ، مرد کي عورت کے بارے ميں فکر و خيال سے مختلف ہوتي ہے اور اسے ايک دوسرے سے مختلف بھي ہونا چاہيے اور اس ميں کوئي عيب و مضائقہ نہيں ہے۔ مرد، عورت کو ايک خوبصورت، ظريف و لطيف اور نازک و حساس وجود اور ايک آئيڈيل کي حيثيت سے ديکھتا ہے اور اسلام بھي اسي بات کي تائيد کرتا ہے : ’’الْمَرْآَۃُ رَيْحَانَۃ ‘‘۔ يعني عورت ايک نرم و نازک اور حسين پھول ہے، يہ ہے اسلام کي نظر۔ عورت ايک نرم و لطيف اور ملائم طبيعت کي مالک موجود کا نام ہے جو زيبائي اور لطافت کا مظہر ہے۔ مرد، عورت کو ايسي نگاہوں سے ديکھتا ہے اور اپني محبت کو اس قالب ميں مجسم کرتا ہے۔ اِسي طرح مرد بھي عورت کي نگاہوں ميں اس کے اعتماد اور بھروسے کا مظہر اور اس کي مضبوط تکيہ گاہ ہے اور وہ اپني محبت اور دلي جذبات و احساسات کو ايسے مردانہ قالب ميں سموتي اور ڈھالتي ہے۔

زندگي کي اس مشترکہ دوڑ دھوپ ميں مرد و عورت کے يہ ايک دوسرے سے مختلف دو کردار ہيں اور دونوں اپني اپني جگہ صحيح اور لازمي ہيں۔ عورت جب اپنے شوہر کو ديکھتي ہے تو اپني چشمِ محبت و عشق سے اس کے وجود کو ايک مستحکم تکيہ گاہ کي حيثيت سے ديکھتي ہے کہ جو اپني جسماني اور فکري صلاحيتوں اور قوت کو زندگي کي گاڑي کو آگے بڑھانے اور اس کي ترقي ميں استعمال کرتا ہے۔ مرد بھي اپني بيوي کو انس و الفت کے مظہر، ايثار و فدا کاري کي جيتي جاگتي اور زندہ مثال اور آرام و سکون کے مخزن کي حيثيت سے ديکھتا ہے کہ جو شوہر کو آرام و سکون دے سکتي ہے۔ اگر مرد زندگي کے ظاہري مسائل ميں عورت کي تکيہ گاہ اور اس کے اعتماد و بھروسے کا مرکز ہے تو بيوي بھي اپني جگہ روحاني سکون اور معنوي امور کي وادي کي وہ باد نسيم ہے کہ جس کا احساس انسان کي تمام تھکاوٹ و خستگي کو دور کر ديتا ہے۔ گويا وہ انس و محبت، چاہت و رغبت، پيار و الفت اور ايثار و فداکاري کا موجيں مارتا ہوا بحر بيکراں ہے۔ يقينا شوہر، محبت، سچے عشق اور پيار سے سرشار ايسي فضا ميں اپنے تمام غم و اندوہ، ذہني پريشانيوں اور نفسياتي الجھنوں کے بار سنگين کو اتار کر اپني روح کو لطيف و سُبک بنا سکتا ہے۔ يہ ہيں مياں بيوي کي روحي اور باطني قدرت و توانائي۔

حقيقي اور خيالي حق

کسي بھي قسم کے ’’حق‘‘ کا ايک فطري اور طبيعي منشا و سبب ہوتا ہے۔ حقيقي اور واقعي حق وہ ہے جو فطري سبب سے جنم لے۔ يہ حقوق جو بعض محفلوں(۱) ميں ذکر کئے جاتے ہيں، صرف توہمات اور خيالات کا پلندا ہيں۔

مرد و عورت کے لئے بيان کئے جانے والے حقوق کو ان کي فطري تخليق، طبيعت و مزاج اور ان کي طبيعي ساخت کے بالکل عين مطابق ہونا چاہيے۔

آج کي دنيا کے فيمنسٹ يا حقوق نسواں کے ادارے کہ جو ہر قسم کے اہلِ مغرب، حقوقِ نسواں کے نام پر کتنا شور و غوغا اور جنجال برپا کرتے ہيں اور ان کي پريشاني کا سبب بھي يہي چيز ہے۔ کہتے ہيں کہ صرف ہم ہيں جو مقام زن کا پاس رکھتے ہيں۔ بہت خوب جناب ! يہ لوگ مقامِ زن کا اپني رسمي محافل، ميٹنگوں، خريد و فروخت کے مراکز اور سڑکوں پر خيال رکھتے ہيں اور وہ بھي اس سے صرف لذّت حاصل کرنے کے لئے ! ليکن کيا گھر ميں شوہر اپني بيوي کے ساتھ ايسا ہي ہے کہ جيسا باہر ہے؟ وہاں خواتين کو دي جانے والي اذيت و آزار، مردوں کے ہاتھوں خواتين کي مار پيٹ، گھر کي چار ديواري ميں اُس کا بُرا حال اور زُور و زبردستي کي حکمراني وغيرہ کتني زيادہ ہے؟ !

____________________

١ اشارہ ہے حقوق نسواں، انساني حقوق کے کميشن اور ان کے ذيلي اداروں کے بے بنياد فرضيوں اور ايجنڈوں کي جانب جو از خود مرد و عورت کے حقوق اختراع کرتے پھرتے ہيں۔ (مترجم)


شوہر، بيوي کي ضرورتوں کو درک کرے

شوہر کي ذمے داري يہ ہے کہ وہ بيوي کي ضرورتوں اور حاجتوں کو درک کرے، اس کے احساسات اور جذبات کو سمجھے، اس کے حال سے ايک لمحے کے لئے بھي غافل نہ ہو اور گھر ميں خود کو تمام اختيارات کا مالک اور مطلق العنان حاکم تصور نہ کرے۔ مياں بيوي زندگي کي گاڑي کے دو پہيے،ايک دوسرے کے معاون و مدد گار اور دو دوست ہيں اور (زندگي کے ميدان ميں اپنا کردار بھرپور انداز سے ادا کرنے کے لئے) ان ميں سے ہر ايک کي اپني خاص فکري اور باطني وسعت اور دائرہ کار ہے۔

شوہر کي ذمے داري ہے کہ وہ اپني بيوي کي زندگي کے تمام امور ميں اس کي مدد کرے تا کہ وہ اپنے متعلق معاشرے ميں موجود تمام پسماندگي، دقيانوسي خيالات اور خاص طرز فکر کا ازالہ کر سکے۔ البتہ اس پسماندگي سے مراد وہ چيزيں نہيں ہيں کہ جو آج مغرب اور بيگانوں کي تقليد کي وجہ سے ہمارے معاشرے ميں آ دھري ہيں۔ بلکہ ان دقيانوسي خيالات سے مراد خواتين کے مفيد وجود کے فوائد کي معرفت، ان کے تعليم حاصل کرنے جيسے اہم امر اور خواتين ميں نئے افکار، ترقي اور غور و فکر جيسي صفات کي پرورش سے متعلق معاشرے کي چھوٹي ذہنيت اور کم ظرفي ہے۔ لہٰذا مرد ان تمام شعبوں ميں اپني شريک حيات کي جتني بھي مدد کرے کم ہے۔ اگر عورت چاہتي ہے کہ کوئي کام انجام دے اور وہ اپني خانداني زندگي کے دائرہ کار اور اس کي حالت کو پيش نظر رکھتے ہوئے اجتماعي کاموں ميں حصہ لینے کي خواہشمند ہے تو مرد کو چاہيے کہ اس کي راہ ميں مانع نہ ہو۔

مرد کي خام خيالي اور غلط رويّہ

مرد ہر گز يہ خيال نہ کرے کہ چونکہ وہ صبح سے شام تک نوکري کے لئے باہر رہتاہے، اپنا مغز کھپاتا اور تھوڑي بہت جو رقم گھر لاتا ہے تو وہ بيوي سميت اس کي تمام چيزوں حتيٰ اس کے جذبات، احساسات اور خيالات کا بھي مالک بن گيا ہے، نہيں ! وہ جو کچھ گھر لے کر آتا ہے وہ گھر کے اجتماعي حصے اور ذمے داريوں کي نسبت آدھا ہوتا ہے۔ جب کہ دوسرا آدھا حصہ اور ذمہ داري بيوي سے متعلق ہے۔ بيوي کے اختيارات، اس کي سليقہ شعاري اور گھريلو انتظام سنبھالنا، اس کي رائے، نظر، مشورہ اور اس کي باطني ضرورتوں کا خيال رکھنا شوہر ہي کے ذمے ہے۔ ايسا نہ ہو کہ مرد چونکہ اپني غير ازدواجي زندگي ميں رات کو دير سے گھر آتا تھا لہٰذا اب شادي کرنے کے بعد بھي ايسا ہي کرے، نہيں ! اسے چاہيے کہ وہ اپني زوجہ کے روحي، جسمي اور نفسياتي پہلووں کا خيال رکھے۔

قديم زمانے ميں بہت سے مرد خود کو اپني بيويوں کا مالک سمجھتے تھے، نہيں جناب يہ بات ہرگز درست نہيں ہے ! گھر ميں جس طرح آپ صاحبِ حق و اختيار ہيں اسي طرح آپ کي شريکہ حيات بھي اپنے حق اور اختيار کو لينے اور اسے اپني مرضي کے مطابق استعمال کرنے کي مجاز ہے۔ ايسا نہ ہو کہ آپ اپني زوجہ پر اپني بات ٹھونسيں اور زور زبردستي اس سے اپني بات منوا ليں۔ چونکہ عورت، مرد کي بہ نسبت جسماني لحاظ سے کمزور ہے لہٰذا کچھ لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ عورت کو دبانا چاہيے، اُس سے چيخ کر اور بھاري بھرکم لہجے ميں بات کريں، ان سے لڑيں اور ان کي مرضي اور اختيار کا گلا گھونٹتے ہوئے اپني بات کو ان پر مسلط کر ديں۔

عقلمند بيوي اپنے شوہر کي معاون و مدد گار ہے

بيوي کو بھي چاہيے کہ وہ اپنے شوہر کي ضرورتوں، اندرون اور بيرون خانہ اس کي فعاليت اور اس کي جسماني اور فکري حالت کو درک کرے۔ ايسا نہ ہو کہ بيوي کے کسي فعل سے مرد اپنے اوپر روحي اور اخلاقي دباو محسوس کرے۔ شريکہ حيات کو چاہيے کہ وہ کوئي ايسا کام انجام نہ دے کہ جس سے اس کا شوہر امور زندگي سے مکمل طور پر نا اميد اور مايوس ہو جائے اور خدا نخواستہ غلط راستوں اور ناموس کو زک پہنچانے والي راہوں پر قدم اٹھا لے۔ زندگي کے ہر کام اور ہر موڑ پر ساتھ دينے والي شريکہ حيات کو چاہيے کہ وہ اپنے شوہر کو زندگي کے مختلف شعبوں ميں استقامت اور ثابت قدمي کے لئے شوق و رغبت دلائے اور اگر اس کي نوکري اس طرح کي ہے کہ وہ اپنے گھر کو چلانے ميں اپنا صحيح اور مناسب کردار ادا نہيں کر پا رہا ہے تو اس پر احسان نہ جتائے اور اسے طعنے نہ دے۔ گھر کا مرد اگر علمي، جہادي (سيکورٹي اور حفاظت وغيرہ) اور معاشرے کے تعميري کاموں ميں مصروف ہے خواہ وہ نوکري کے لئے ہو يا عمومي کام کے لئے، تو بيوي کو چاہيے کہ وہ گھر کے ماحول کو اس کے لئے مساعد اور ہموار بنائے تا کہ وہ شوق و رغبت سے کام پر جائے اور خوش خوش گھر لوٹے۔ تمام مرد حضرات اس بات کو پسند کرتے ہيں کہ جب وہ گھر ميں قدم رکھيں تو گھر کا آرام دہ، پر سکون اور پر امن ماحول انہيں خوش آمديد کہے اور وہ اپنے گھر ميں اطمينان اور سکھ کا سانس ليں۔ يہ ہيں زوجہ کے فرائض۔

بيوي کے فرائض

بيوي کي خاص يہ ذمہ دارياں ہيں کہ اسے چاہيے کہ وہ اپنے وظائف اور ذمہ داريوں کي تشخيص کے لئے عقلمندي سے کام لے۔ عورتيں يہ بات اچھي طرح سے ذہن نشين کر ليں کہ اگر ايک عورت عقل اور ہوش سے کام لے تو گھر کو چلانے ميں وہ مرد کي بھي بہترين مدد گار ثابت ہو گي اور مرد کي بہتر طور پر راہنمائي بھي کر سکے گي۔ صحيح ہے کہ مرد، عورت کي بہ نسبت بڑي جسامت اور قوي ہيکل کا مالک ہوتا ہے ليکن خداوند عالم نے عورت کے مزاج اور طبيعت کو اس طرح خلق کيا ہے کہ اگر مرد و عورت فطري طور پر صحيح و سالم ہوں اور بيوي عاقل ہو تو يہ بيوي ہي ہے کہ جو شوہر کے دل ميں گھر کر لے گي۔ ليکن يہ بات بھي قابلِ توجہ ہے کہ چالاکي، شاطرانہ چالوں، اپنا حکم چلانے اور زبردستي اپني بات منوانے سے يہ مقام حاصل نہيں کيا جا سکتا ہے! بيوي اپنے نرم و ملائم لہجے اور خندہ پيشاني سے شوہر کا استقبال کرنے، مسکراتے ہونٹوں، خوشحال چہرے اور شوہر کے مزاج کو تھوڑا بہت تحمل و برداشت کرنے سے اپنے شوہر کا دل جيت لے گي۔ البتہ لازمي نہيں کہ وہ اپنے شوہر کو بہت زيادہ تحمل کرے (کيونکہ مرد کو بھي يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ ہر بات ميں زور و زبردستي کرے) کيونکہ خداوند عالم نے يہ تھوڑا بہت تحمل و برداشت اور لچک عورت کي طبيعت ميں رکھي ہے۔ بيوي کو چاہيے کہ وہ اپنے شوہر سے اس طرح کا سلوک رکھے۔

بعض خواتين اپنے شوہروں سے سخت لہجے اور گرم مزاجي سے پيش آتي ہيں۔ مثلاً، ’’آپ کو يہ چيز ميرے لئے ہر صورت ميں خريدني ہے!‘‘، ’’ميرے لئے سونے کي اتني چوڑياں بنوائيں کيونکہ ميري دوست کے شوہر نے اسے اتنے ہزار کي چوڑياں بنوا کر دي ہيں‘‘، ’’اگر آپ مجھے سونے کي چوڑياں نہيں بنوائيں گے تو ميرا سر اُس کے سامنے نيچے ہو جائے گا‘‘۔ بعض خواتين اس قسم کي باتوں سے اپنے شوہروں کو ذہني اذيت ديتي اور اُنہيں پريشاني ميں مبتلا کرتي ہيں۔ يہ سب طور طريقے صحيح نہيں ہيں۔


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

پہلا مرحلہ

بہشت بريں تک ہمسفر

دريچہ

عليو فاطمہکي مشترکہ ازدواجي زندگي کے ابھي چند ہي روز گزرے تھے۔

پيغمبر اکرم ۰ نے حضرت عليسے ان کي ہمسفر و زوجہ کے بارے ميں ان کي نظر معلوم کي :اے عليتم نے فاطمہکو کيسا شريکہ حيات پايا ؟حضرت علينے ايک جملے سےجو اپني شريکہ حيات کي بھرپور قدر داني اور شکريے کي عکاسي کر رہا تھا، اپني زوجہ کے عشقِ جاويد کے بارے ميں اپني نظر کا اظہار فرمايا :

’’نِعْمَ الْعَوْنُ علي طَاعَةِ اللّٰهِ ‘‘(۱)

’’يا رسول اللہ ۰ وہ اطاعتِ خدا کي انجام دہي ميں بہترين مدد گار اور معاون ہيں‘‘۔

اس طرح عالم ہستي کا بہترين داماد اپنے عشق خدا کے اسرار سے يوں پردہ ہٹاتا ہے اور اپني مشترکہ ازدواجي زندگي کي راہ ِسعادت کو تمام دولہا دلہنوں کو دکھاتا ہے۔

يعني اے علوي دولہا اور فاطمي دلہنوں !صرف خدا اور اس کي اطاعت کي انجام دہي کے لئے ايک دوسرے کے ہاتھوں کو تھام لو اور خدائے مہربان کي بہشت بريں تک ايک دوسرے کے ہمسفر بنو۔

وقت کي گھڑي کي سوئياں بہت تيزي سے گزر رہي ہيں اور دنيا سب کے لئے يکساں طور پر سرعت سے اپنے انجام کي جانب قدم بڑھا رہي ہے۔

شادي کي اس تقريب کو غور سے ديکھيں۔ آپ کے والدين گزشتہ کل کے دولہا دلہن ہيں

____________________

١ بحار الانوار، جلد ٤٣، صفحہ ١١٧


کہ جس کو بہت زيادہ عرصہ نہيں گزرا ہے۔ اس طرح آپ بھي آنے والے کل کے والدين ہيں کہ جو اپنے بچوں کي شادي کي تقريب ميں شرکت کريں گے۔

يہ ہے زندگي کے آسمان سے فرصت کے بادلوں کا تيزي سے گزرنا۔

وہ چيز جو آپ کي زندگي اور آپ کي ازدواجي دنيا کومحبت ِ الٰہي کے خورشيد کے پَرتَو ميں زندگي جاويد سے متصل کر ديتي ہے وہ صرف ’’تقويٰ‘‘اور ’’اطاعت ِ خدا‘‘ ہے۔

ايک دوسرے کے ايمان کي تکميل و تقويت ميں ايک دوسرے کي مدد کيجئے اور ايک دوسرے کے ہاتھ سے ’’ذکر‘‘ کے جام کو نوش کريں۔

آپ کي کوشش ہوني چاہيے کہ شيطاني حملوں کے مقابلے ميں ايک دوسرے کي مضبوط سپر بنيں اور ديني احکام و فرائض کي بجا آوري ميں ايک دوسرے کي اعانت کريں اور رغبت دلائيں۔

آپ ضرور دريافت کريں گے کہ کيسے؟

تو ہم يہي کہيں گے کہ اُس سے سوال کريں کہ جو راستے کے نشيب و فراز سے واقف بھي ہو اور اسرارِ عشق کي باريکيوں سے بھي۔

’’اُس‘‘ سے پوچھيں کہ جس کا پُرنور چہرہ ياد خدا کو ہمارے قلوب ميں مجسم بنا ديتا ہے !

خوش بختي کا مفہوم

خوش بختي عبارت ہے آرام و سکون، سعادت اور امن کے احساس سے۔ بڑے بڑے فنکشن اور اسراف و فضول خرچي کسي کو خوش بخت نہيں بناتي۔ اسي طرح مہر کي بڑي بڑي رقميں اور جہيز کي بھرماربھي انساني سعادت و خوش بختي ميں کسي بھي قسم کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ يہ صرف شريعت کي ہي پابندي ہے کہ جو انسان کو خوش بختي اور سعادت سے ہمکنار کرتي ہے ۔

ايک دوسرے کو جنتي بنائيے

شادي اور شريکہ حيات کا انتخاب کبھي انساني قسمت ميں بہت موثر ہوتا ہے۔ بہت سي ايسي بيوياں ہيں جو اپنے شوہروں کو اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو جنتي بناتے ہيں۔ اس کے برعکس بھي ہوتا ہے۔ اگر مياں بيوي گھر کے اس مرکز کي قدر کريں اور اس کي اہميت کے قائل ہوں تو ان کي زندگي پر امن اور پر سکون زندگي ہو جائے گي اور اچھي شادي کے سائے ميں انساني کمال کا حصول مياں بيوي کے لئے ممکن ہو جائے گا۔

کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ مرد زندگي ميں ايسے دوراہے پر پہنچتا ہے کہ جس ميں ايک راہ کا انتخاب اس کے لئے ضروري ہوتا ہے۔ يا دنيا يا صحيح راہ اور امانت داري و صداقت ميں سے کسي ايک کو منتخب کرے۔ يہاں اس کي بيوي اہم کردار ادا کرتي ہے کہ اسے پہلے يا دوسرے راستے کي طرف کھينچ کر لے جائے۔ صورتحال اس کے برعکس بھي ہوتي ہے کہ شوہر حضرات بھي اپني شريکہ حيات کے لئے موثر ثابت ہو سکتے ہيں۔ آپ سعي کيجئے کہ آپ دونوں اچھي راہ کے انتخاب ميں ايک دوسري کي مدد کريں۔

آپ کوشش کريں کہ دين داري، خدا اور اسلام کي راہ ميں قدم اٹھانے ، راہِ حقيقت، امانت اور صداقت ميں اپنا سفر جاري رکھنے کے لئے ايک دوسرے کي مدد کريں اور انحراف اور لغزش سے ايک دوسرے کي حفاظت کريں۔

اسلامي انقلاب کي کاميابي سے قبل اور اس کے بعد ابتدائي سخت سالوں اور جنگ کے مشکل زمانے ميں بہت سي خواتين نے اپنے صبر اور تعاون سے اپنے شوہروں کو جنتي بنايا۔ مرد مختلف قسم کے محاذوں پر گئے اور انہوں نے گونا گوں قسم کي مشکلات اور خطرات کو مول ليا، يہ خواتين گھروں ميں تنہا رہ گئيں اور انہوں نے تن تنہا مشکلات کا مقابلہ کيا ليکن زبان پر کسي بھي قسم کا شکوہ نہيں لائيں اور يوں انہوں نے اپنے شوہروں کو بہشت بريں کا مسافر بنايا۔ جب کہ وہ ايسا بھي کر سکتي تھيں کہ ان کے شوہر ميدان جنگ جانے اور جنگ کرنے سے پشيمان ہو جاتے مگر انہوں نے ايسا نہيں کيا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہيں چھوڑا۔ بہت سے ايسے شوہر تھے کہ جنہوں نے اپني بيويوں کو جنت کا راہي بنايا۔ ان کي ہدايت، تعاون، دستگيري اور مدد سے يہ خواتين اس قابل ہوئيں کہ خدا کي راہ ميں حرکت کر سکيں۔

صورتحال اس کے برعکس بھي ہے۔ بہت سي خواتين اور مرد ايسے تھے کہ جنہوں نے ايک دوسرے کو جہنمي بنايا۔ آپ کو چاہيے کہ ايک دوسرے کي مدد کريں اور ايک دوسرے کو جنتي اور سعادت مند بنائيں۔ آپ کو کوشش ہوني چاہيے کہ تحصيل ِعلم، کمال کے حصول، پرہيز گاري، تقويٰ اور سادہ زندگي گذارنے ميں ايک دوسرے کي مدد کريں۔

ايک دوسرے کو خوش بخت کيجئے

بہت سي بيوياں اپنے شوہروں کو جنتي اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو حقيقتاً سعادت مند بناتے ہيں، جبکہ اس کے بر خلاف بھي صورت حال تصور کي جا سکتي ہے۔ ممکن ہے کہ مرد اچھے ہوں ليکن ان کي بيوياں انہيں اہل جہنم بنا ديں يا بيوياں اچھي اور نيک ہوں مگر ان کے شوہر انہيں راہ راست سے ہٹا ديں۔ اگر مياں بيوي دونوں ان مسائل کي طرف توجہ رکھيں تو اچھي باتوں کي تاکيد، بہترين انداز ميں ايک دوسرے کي اعانت و مدد سے اور گھر کي فضا ميں ديني اور اخلاقي احکامات و تعليمات کو زباني بيان کرنے سے زيادہ اگر عملي طور پر ايک دوسرے کے سامنے پيش کريں اور ہاتھ ميں ہاتھ ديں تو اس وقت ان کي زندگي کامل اور حقيقتاً خوش بخت ہو گي۔

ايک مرد اپني ہمدردانہ نصيحتوں، رہنمائي، وقت پر تذکر دينے اور اپني بيوي کي زيادہ روي، زيادتي اور اس کے بعض انحرافات کا راستہ روک کر اسے اہل جنت بنا سکتا ہے۔ البتہ اس کے بر عکس بھي اس کي زيادتي، ہوس، بے جا توقعات اور غلط روشوں کي اصلاح نہ کرتے ہوئے اسے جہنمي بھي بنا سکتا ہے۔

حق بات اور صبر کي تلقين

مياں بيوي کے دلوں کے ايک ہونے اور ايک دوسرے کي مدد کرنے کا معنيٰ يہ ہے کہ آپ راہ خدا ميں ايک دوسرے کي مدد کريں۔ ’’تَواصَوْا بِالحَقِّ وَتَوَاصَوْ بِالصَّبْرِ‘‘ (حق بات اور صبر) کي تلقين کريں۔

اگر بيوي ديکھے کہ اس کا شوہر انحراف کا شکار ہو رہا ہے، ايک غير شرعي کام انجام دے رہا ہے يا رزق حرام کي طرف قدم بڑھا رہا ہے اور غير مناسب دوستوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے لگا ہے تو سب سے پہلے جو اُسے ان تمام خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے وہ اس کي بيوي ہے۔ يا اگر مرداپني بيوي ميں اسي قسم کي دوسري برائيوں کا مشاہدہ کرے تو اسے بچانے والوں ميں سب سے پہلے اس کا شوہر ہو گا۔ البتہ ايک دوسرے کو برائيوں سے بچانا اور خطرات سے محفوظ رکھنا محبت، ميٹھي زبان، عقل و منطق کے اصولوں کے مطابق حکيمانہ اور مدبّرانہ رويے کے ذريعے سے ہو نہ کہ بد اخلاقي اور غصے وغيرہ کے ذريعے سے۔ يعني دونوں کي ذمے داري ہے کہ وہ ايک دوسرے کي حفاظت کريں تا کہ وہ راہ خدا ميں ثابت قدم رہيں۔

ايک دوسرے کا ساتھ ديں اور مدد کريں خصوصاً ديني امور ميں۔ اگر آپ يہ ديکھيں کہ آپ کا شوہر يا بيوي نماز کي چور ہے ، نماز کو کم اہميت ديتي ہے، سچ بولنے يا نہ بولنے ميں اسے کوئي فرق نہيں پڑتا، شوہر لوگوں کے مال ميں بے توجہي سے کام ليتا ہے اور اپنے کام سے غير سنجيدہ ہے تو يہ آپ کا کام ہے کہ اسے خواب غفلت سے بيدار کريں، اسے بتائيے، سمجھائيے اور اس کي مدد کريں تا کہ وہ اپني اصلاح کرے۔

اگر آپ يہ ديکھيں کہ وہ محرم و نا محرم، پاک و نجس اور حلال و حرام کي پرواہ نہيں کرتا اور ان سے بے اعتنائي برتتا ہے تو آپ اسے متوجہ کريں، اسے آگاہي ديں اور اس کي مدد کريں تا کہ وہ بہتر اور اچھا ہو جائے۔ يا وہ جھوٹ بولنے اور غيبت کرنے والا ہو تو آپ کي ذمہ داري ہے کہ اسے سمجھائيے نہ کہ اس سے لڑيں جھگڑيں، نہ کہ اپنے گھر کي فضا خراب کريں اور نہ اس شخص کي مانند جو الگ بيٹھ کر صرف زباني تنقيد کے نشتر چلاتا ہے۔

ايک تيماردار کي مانند، نہ کہ ايک چوکيدار کي طرح

مياں بيوي کو چاہيے کہ ايک دوسرے کي صحيح راستے اور صراط مستقيم پر چلنے کے لئے مدد کريں۔ اگر وہ يہ ديکھيں کہ اس کا شوہر يا بيوي کوئي نيک عمل اور کار خير انجام دينا چاہتا ہے تو اسے چاہيے کہ اس کي ہمت بندھائے، اسے شوق اور رغبت دلائے اور اس کے بر عکس اگر وہ يہ ديکھيں کہ سامنے والا خدا نخواستہ کسي خطا کا ارتکاب کر رہا ہے تو اس کي پوري کوشش ہوني چاہيے کہ وہ اس کي اصلاح کرے۔ آپ دونوں راہ خدا ميں ايک دوسرے کي مدد کريں۔

دونوں کے کاموں کي بنياد ايک دوسرے کي اصلاح ہوني چاہيے، ايک چوکيدار کي مانند نہيں کہ جو ہميشہ سر پر ڈنڈا لئے کھڑا رہے، نہيں ! بلکہ ايک وظيفہ شناس تيمار دار اور شفيق والدين کي مانند۔

مياں بيوي کي زندگي ميں خدا کي طرف توجہ اور احکام خدا کي اطاعت کو نقطہ مشترک ہونا چاہيے اور دونوں اس مشترک نقطے کي حفاظت کريں۔ اگر بيوي يہ ديکھے کہ اس کا خاوند ديني مسائل کے بارے ميں لا ابالي ہے تو اپني خاص زنانہ حکمت عملي، عقل مندي، خوش اخلاقي اور نرم و ملائم مزاج کے ذريعے اسے راہ خدا پر لانے کے لئے اپني کوشش کرني چاہيے۔ يا اگر شوہر يہ ديکھے کہ بيوي ديني احکامات سے بے توجہ ہے تو اس کي بھي يہي ذمہ داري ہے کہ وہ بيوي کي مدد کرے اور يہ کام زندگي کے بنيادي کاموں ميں سے ايک ہے۔

اخلاقي حفاظت

اپنے شريک حيات يا زوجہ کي سب سے بڑي خدمت يہ ہے کہ آپ کوشش کريں کہ آپ دونوں ديندار رہيں۔ آپ اپنے شوہر يا بيوي کي حفاظت کيجئے کہ وہ کوئي غير شرعي کام انجام نہ دے۔ اس حفاظت کا مطلب يہ نہيں کہ آپ کھڑے ہو کر چوکيداري کريں اور اسے اپنے تحت نظر رکھيں يا نظر بند کر ديں بلکہ يہ حفاظت، اخلاقي حفاظت ہے، مہرباني والي حفاظت، رحمدلانہ اور تيماردارانہ حفاظت ہے۔

اگر آپ نے سامنے والے ميں کسي غلطي کا مشاہدہ کيا تو آپ اسے نہايت ہوشياري اور ميٹھے و ملائم لہجے ميں دور کرديں۔ آپ دونوں تذکر دينے اور بعض امور کي رعايت کرنے کي وجہ سے ايک دوسرے کي نسبت ذمے دار ہيں۔

اگر بيوي ديکھے کہ اس کا شوہر غلط قسم کے لين دين اور برے دوستوں کے ساتھ معاشرت کرنے لگا ہے يا شوہر ديکھے کہ اس کي بيوي فيشن پرستي اور عيش پرستي ميں گرفتاراور ديني مسائل سے بے توجہي ميں پڑ گئي ہے تو يہ نہ کہے کہ ’’وہ جانے اور اس کا کام‘‘ يا ’’بھاڑ ميں جائے ميري بلا سے‘‘ ، نہيں ! آپ دونوں کي ايک دوسرے کي نسبت ذمہ دارياں ہيں لہٰذا آپ اپني توانائي اور ہمت کو متمرکز کريں کيونکہ مياں بيوي دونوں ايک دوسرے پر اثرات مرتب کر سکتے ہيں۔


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

دوسرا مرحلہ

زندگي کے ظاہري روپ سے مافوق حقيقتيں

دريچہ

خدا وند عالم کي نگاہ ميں گھر کو بسانا در حقيقت ’’مودت ‘‘ کے چشمے کے کنارے پيارو محبت اور اطاعت خدا کي بنيادوں پر گھر کي تعمير کرنا ہے ۔

مودت يعني عميق اور گہرا عشق ،نشاط و طراوت ،زندگي کے خوبصورت ہنگامے(۱) اور يا دگار لمحات۔

وَجَعَلَ بَيْنَکُمْ مَوَدَّةً ورحْمَةً (۲)

’’اور اس نے تم ميں مودت اور رحمت کو قرار ديا ۔‘‘

يہ مودت در اصل محبت خدا کا بحر بيکراں ہے ۔ خدائے رحمان و رحيم اور روف و لطيف نے اپنے حکيمانہ ارادے سے

’’آسماني عشق ‘‘ کي آتش کي ’’چنگاري‘‘ کو اس نئے شادي شدہ نوجوان جوڑے ميں رکھا ہے تاکہ دونوں ايک دوسرے کے وجود

اور ’’دل کے آئينے ‘‘ ميں خدائے جميل و لطيف کي ’’آيات ِلطف و جمال ‘‘ ميں سے ايک آيت و نشاني کا مشاہدہ کريں

____________________

١ زندگي کے خوبصورت ہنگاموں سے مراد زندگي کے پيار بھرے لمحات ہيں کہ جہاں عشق بھي موجزن ہے۔ چھوٹي چھوٹي باتوں پر ايک دوسرے سے نٹ کھٹ، ناراضگي، پيار و محبت کي سرحدوں پر ہلکي پھلکي سرحدي جھڑپيں اور اس کے بعد ايک دوسرے کو منانا۔ جہاں انس و الفت سايہ فگن ہے۔ جہاں ملے جلے جذبات، احساسات، پيار بھرے چھوٹے چھوٹے جھگڑے زندگي کے خوبصورت ہنگاموں کي عکاسي کرتے ہيں۔ جہاں چھوٹے موٹے جھگڑوں کے بعد رضايت و خوشي کي شيريني مياں بيوي کے ايک دوسرے کيلئے پيار و محبت کے احساس کو چند برابر کرديتي ہے۔ (مترجم)

٢ سورہ روم/ ٢١


اور اپنے ’’محرم و يار ‘‘ کے ہاتھوں محبت الٰہي کا جام پئيں اور کامياب ہو جائيں ۔

اِنَّ فِيْ ذٰلِکَ لَاٰيَةًلِقَوْمٍ يَتَفَکَّرُوْن (۱)

’’بے شک اس ميں صاحبان تفکر کے لئے نشاني ہے‘‘۔

يہ محبت در اصل وہ گرہ ہے جسے خدا وند عالم اپنے دست ِ لطف سے ان دو نوجوان دلوں ميں لگاتا ہے اور يہ وہ بندھن اور رشتہ ہے جو نام خدا سے اور حکم خدا سے ان دونوں کے درميان قائم ہوتا ہے۔

يہ محبت وہ عظيم سرمايہ ہے کہ اگر اس کي حفاظت کي جائے تو يہ زندگي کي حفاظت کرتا ہے ، اُسے رونق بخشتا،زندگي کي تلخيوں کو شيريں اور سختيوں کو آسان بناتا ہے۔

اگر خدا کي عطا کردہ اس نعمت عظميٰ کي قدرداني اور اس کا شکريہ ادا کيا جائے تو محبت الٰہي کے’’ کيميا ‘‘ کا حصول آسان ہو جاتا ہے ۔

مياں بيوي اپني کُل مگر ذي قيمت جمع پونجي کے ذريعے اپني تمام آرزووں تک پہنچ سکتے ہيں اور بہشت بريں کا زمين پر تجربہ کر سکتے ہيں۔

مگر ايک شرط ہے ۔۔۔۔۔۔؟!

وہ يہ کہ اپنے اس رشتے اور بندھن کي قدر کريں اور اپني پوري ہنر مندي کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے تمام خطرات سے محفوظ رکھيں ۔

مگر کس طرح؟

اس مقام پر’’راہ محبت ‘‘کے اس جہاں ديدہ شخص کي راہنما باتيں نوجوان عاشقوں کے لئے بہترين راہنما ہيں ۔

____________________

١ سورہ روم/ ٢١


زندگي کے ظاہري روپ سے مافوق حقيقتيں

زندگي کے ظاہري روپ سے بڑھ کر انسان کي اُميديں و آرزوئيں، عشق اور اُس کے محبت اور جذبات و احساسات انساني حيات ميں کليدي کردار کے حامل ہيں اور ان کاکردار کوئي معمولي نوعيت کا نہيں ہے بلکہ يہ بنيادي کردار ادا کرتے ہيں اور ساتھ ہي زندگي کي مستحکم اور بلند عمارت کو مضبوط بنياد فراہم کرتے ہيں ۔ان سب کو کيسے منظم کيا جاسکتا ہے ؟ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں مياں بيوي کو چاہیے کہ اپني مشترکہ زندگي ميں اپنے کردار کو پہچانيں ۔۔۔مرد اپني زوجہ کو اور زوجہ اپنے مياں کے لئے محبت آميز نگاہيں اور پاک و پاکيزہ عشق رکھتي ہو اور انہيں چاہیے کہ اپنے اس عشق کي حفاظت کريں ۔اس لئے کہ يہ عشق ختم ہونے والا ہے ديگر دوسري چيزوں کي مانند ۔بس انہيں چاہیے کہ اس کي حفاظت کريں تاکہ يہ ختم نہ ہو۔

اصل ماجرا، عشق ہي تو ہے

اگر مياں بيوي کي مشترکہ ازدواجي زندگي ميں محبت سايہ فگن ہو تو گھر سے باہر اور گھر کے اندر کي تمام سختياں اور مشکلات بيوي کے لئے آسان ہو جائيں گي۔

شادي ميں اصل ماجرا اور لُبِّ لباب عشق و محبت ہي تو ہے اور رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے لڑکے اور لڑکياں يہ بات اچھي طرح جان ليں۔ چنانچہ يہ محبت جو ايک دوسرے کي نسبت خدا نے آپ کو دي ہے آپ کو چاہیے کہ اس کي حفاظت کريں ۔

يہ انساني رابطہ، باہمي محبت اور ہمدردي پر قائم ہے يعني مياں بيوي کو چاہیے کہ آپس ميں محبت کا برتاو کريں تاکہ يہ محبت ان کي مشترکہ ازدواجي زندگي کو آسان بنا دے۔ليکن اس بات کي طرف بھي توجہ رہے کہ محبت کے عنصر کا مال دولت ،ماڈرن زندگي اور اس قسم کي دوسري چيزوں سے کوئي تعلق نہيں ہے۔

يہ محبت ہي ہے جو گھرانے کو پائيدار بناتي ہے ، محبت درحقيقت خوشحال اور آباد زندگي کا سرمايہ ہے اور سخت سے سخت مراحل بھي محبت کے ذريعے آسان ہو جاتے ہيں ۔اگر انسان محبت و عشق کے ساتھ راہِ خدا ميں قدم رکھے تو زندگي کي تمام مشکلات اور سختياں آسان اور تمام کام سہل ہوجائيں گے۔

دولہا دلہن کو چاہیے کہ آپس ميں محبت سے پيش آئيں کيونکہ محبت وہ چيز ہے جو ايک دوسرے کے لئے ان دونوں کي حفاظت کرتي ہے۔ انہيں ايک دوسرے کے پاس محفوظ رکھتي ہے اور انہيں اس بات کي اجاز ت نہيں ديتي کہ وہ ايک دوسرے سے جدا ہوں ۔محبت بہترين ’اکسير‘ ہے اور جہاں محبت ہوگي وہاں وفاداري بھي موجود ہو گي اور وہاں بے وفائي، خيانت اور تاريکي کا کوئي وجود نہيں ہوگا ۔جب محبت گھر ميں آتي ہے تو وہاں کي فضا انس و الفت سے لبريز ،قابل تحمل اور شيريں و ميٹھي ہو جاتي ہے۔

جتنا زيادہ اتنا ہي بہتر

مياں بيوي آپس ميں جتني محبت کريں وہ کم ہے ۔وہ مقام کہ جہاں محبت جتني بھي زيادہ ہو اس ميں کوئي عيب نہيں ،وہ مياں بيوي کي باہمي محبت ہے ۔يہ جتني بھي زيادہ محبت کريں، اچھا ہے اور خود يہ محبت ايک دوسرے پر اعتماد کي فضا کو قائم کرتي ہے ۔مياں بيوي کي باہمي محبت بھي خدا سے کي جانے والي محبت کا ہي ايک حصہ ہے۔ يہ ان بہترين محبتوں ميں سے ايک ہے کہ جو جتني زيادہ ہو اتني ہي بہتر ہے۔

محبت سے خار بھي پھول بن جاتے ہيں

مياں بيوي کو ايک دوسرے کے ساتھ محبت کا برتاو کرنا چاہیے ۔۔يہ محبت سعادت و خوش بختي کي بنياد بنتي ہے ۔خوش بختي اس ميں ہے کہ مياں بيوي ايک دوسرے کو پسند کرتے ہوں۔

جب محبت زندگي پر حاکم ہو تو اس محبت کے ذريعے خار بھي پھول بن جاتے ہيں ۔ اگر مياں يا بيوي ميں کوئي بري عادت موجود ہو ليکن دونوں کے درميان محبت کا رشتہ قائم ہو تو وہ بري عادت بالکل ختم ہو جائے گي اور وہ محبت ، بري عادت کي تمام تاريکي و ظلمت کو ختم کر دے گي۔

محبت کسي کے حکم يا فرمان سے ہونے والي کوئي چيز نہيں ہے !

محبت کوئي ايسي چيز نہيں ہے کہ جو کسي کے دستور يا فرمان سے ہو جائے ۔محبت خود آپ کے اختيار ميں ہے ۔آپ اپني محبت اپنے شوہر يا بيوي کے دل ميں روز بروز زيادہ کر سکتے ہيں ۔مگر کس طرح؟اچھے اخلاق ، بہتر کردار ، وفاداري اور محبت کے ذريعے۔

اگر بيوي يہ چاہتي ہے کہ اس کا شوہر اس سے محبت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے لئے کوشش کرے ۔اس طرح اگر مرد کي خواہش ہو کہ اس کي بيوي اسے پسند کرے تو اسے بھي اس کام کے لئے محنت کرنا ہوگي کيونکہ محبت ہميشہ محنت اور کوشش کي محتاج ہوتي ہے۔

محبت اسي صورت ميں باقي رہے گي کہ جب مياں بيوي دونوں ايک دوسرے کے حقوق اور اپني حدود کا خيال رکھيں اور اس سے تجاوز نہ کريں ۔يعني حقيقت ميں يہ دونوں کہ جو زندگي ميں ايک دوسرے کے شريک ہيں اور ايک ساتھ زندگي گزارتے ہيں، اس بات کي کوشش کريں کہ ايک دوسرے کے ذہن و قلب ميں اپنا ايک مقام بنائيں اور ايک دوسرے کے دل ميں نفوذ کريں ۔يہ وہي معنوي نفوذ اور مياں بيوي کے درميان قلبي رابطہ ہے جسے اسلامي حقوق بيان کرتے ہيں۔

اگر آپ کي خواہش ہے کہ يہ محبت امر ہوجائے تو بجائے يہ کہ آپ سامنے والے سے يہ توقع رکھيں کہ وہ آپ سے محبت کرے ،آپ اپنے دل سے چا ہيں کہ آپ اس پر اپني محبت زيادہ نچھاور کريں تو خود بخود اس کي آپ سے محبت زيادہ ہو جائے گي (کيونکہ محبت فطري طور پر محبت کي پيدائش کا سبب بنتي ہے) ۔

حقيقي عشق اور ہے اور شہوت پرستي کچھ اور !

آج کي دنيا ميں محبت کي بري تعريف پيش کي جاتي ہے ۔يہ عشق جسے بيان کيا جاتا ہے، يہ سچي محبت و عشق نہيں ہے ۔يہ وہ جنسي خواہشات اور شہوت پرستي ہے کہ جسے يہ لوگ ايک خاص شکل ميں ظاہر کرتے ہيں ۔ممکن ہے کہ يہ غير واقعي عشق و محبت ،حقيقي عشق و محبت کي جگہ نظر آئے مگر اس کي کوئي قدر و قيمت نہيں ہے ۔وہ عشق و محبت جو قابل قدر اور ذي قيمت ہے وہ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے لڑکے اور لڑکي کے درميان خدا کي پسنديدہ، سچي اور گہري محبت ہے جو ايک دوسرے کي نسبت احساس ذمے داري کے ہمراہ ہوتي ہے۔ وہ يہ بات اچھي طرح جان ليں کہ اب اس نکاح اور ازدواجي زندگي کے بعد ايک جان دو قالب اور ايک ہي منزل کے راہي ہيں اور يہي وہ محبت ہے کہ جس کي بنياد پر ايک گھرانہ تعمير کيا جاتا ہے۔

وہ عشق و محبت جو انسانيت سے ميل نہيں کھاتي اور ظاہري چيزوں اور جلد ختم ہونے والي شہوت سے مربوط ہے، اس کي کوئي مظبوط اور مستحکم بنيادنہيں ہوتي ہے۔ليکن وہ محبت کہ جو انساني و بشري اساس پر قائم ہے اور جسے خداوند متعال نے انساني قلب کو وديعت کيا ہے اگر اپني خاص شرائط کے ساتھ کہ جس کي اس اسلامي رشتے ’شادي ‘ ميں بہت زيادہ تاکيد کي گئي ہے ، انساني حيات ميں قدم رکھے تو يہ محبت روز بروز زيادہ ہوتي جائے گي۔

پہلا قدم: ايک دوسرے کا احترام

مياں بيوي کو چاہیے کہ اپني بہترين مشترکہ ازدواجي زندگي کے لئے ايک دوسرے کا احترام کريں۔ يہ احترام، ظاہري اور خانہ پوري کي حد تک نہ ہو بلکہ ايک واقعي اور حقيقي احترام ہو۔(کہ جس ميں ايک شريک حيات اور ايک صاحب دل انسان کي عقلي اور فطري توقعات ،اميدوں ،آرزووں ، احساسات اور جذبات کو مدنظر رکھا جاتا ہو ۔)احترام کا مطلب يہ نہيں ہے کہ مياں بيوي ايک دوسرے کو القاب و آداب سے بلائيں بلکہ شوہر اپني شريکہ حيات کي نسبت اور بيوي اپنے سرتاج کے لئے قلبي طور پر احترام کا احساس کرے اور اس کے احترام کو اپنے دل ميں زندہ رکھے۔

آپ کو چاہیے کہ اس احترام کو اپنے دل ميں محفوظ رکھيں اور ايک دوسرے کي حرمت کا خيال رکھيں ۔ يہ زندگي کو چلانے کے لئے بہت اہم چيز ہے۔اسي طرح مياں بيوي کے درميان ايک دوسرے کي اہانت و تحقير کا کوئي بھي عنصر موجود نہيں ہونا چاہیے۔ (نہ زباني ، نہ قلبي اور نہ اشارے سے )۔

دوسرا قدم :اعتماد کي بحالي

ايک دوسرے کے دل ميں محبت کو اس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے کہ مياں بيوي ايک دوسرے پر اعتماد کريں اور گھر ميں اعتماد کي فضا بحال کريں۔ جب گھر ميں اطمئنان کي فضا قائم ہو گي تو نہ صرف يہ کہ محبت بھي مستحکم ہو گي بلکہ انس والفت بھي اس پيار بھرے ماحول ميں جنم لے کر گھر کي فضا ميں چار چاند لگا ديں گے۔

اطمئنان وہ مضبوط بنياد ہے کہ جو محبت کو قائم رکھتي ہے ۔اگر مياں بيوي کے درميان اعتماد کي فضا ختم ہو جائے تو محبت بھي آہستہ آہستہ زندگي سے اپنا رختِ سفر باندھ ليتي ہے۔لہٰذا آپ کو چاہیے کہ ايک دوسرے پر اعتماد کريں ۔

اگر آپ چاہتے ہيں کہ آپ کي شريکہ حيات يا آپ کا سر تاج آپ سے زيادہ محبت کرے تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس سے وفادار رہيں اور اس کے اعتماد کو بحال کريں ۔وہ چيز جو محبت کو ايک گھرانے ميں مکمل طور پر نابود کرديتي ہے وہ مياں بيوي کے درميان بے اعتمادي ہے۔

محبت وہ قيمتي گوہر ہے کہ جس کے وجود کا انتظام اور اس کي حفاظت کا اہتمام انساني حيات ميں اشد ضروري ہے اور اس کا راستہ يہ ہے کہ بيوي ،شوہراور شوہر، بيوي پر اعتماد کرے ۔جب دونوں ميں اعتماد کي فضا قائم ہوگي تو وفاداري اور اطمئنان کے پروں کے ذريعے يہ گھرانہ سعادت کي طرف پرواز کرے گا اور اس گھر پر محبت بھي اپني برکتيں زيادہ نچھاور کرے گي۔

زندگي ميں (ايک دوسرے کے جسم و جاں سے) وفاداري ايک بہت اہم عنصر ہے ۔اگر ايک بيوي يہ احساس کرے کہ اس کا شوہر اس سے وفادار ہے يا شوہر يہ احساس کرے کہ اس کي بيوي وفاداري کي ايک زندہ مثال ہے تو خود يہ احساس مزيد محبت کي پيدائش کا باعث بنتا ہے۔جب محبت وجود ميں آتي ہے تو گھر کي بنياديں بھي مضبوط ہو جاتي ہيں، ايسي مضبوط بنياد کہ جو سالہا سال قائم رہتي ہے۔

ليکن اگر مياں بيوي يہ احساس کريں کہ اس کي بيوي يا مياں کا دل کسي اور سے لگا ہوا ہے يا وہ يہ احساس کرے کہ وہ سچ نہيں بولتا يا منافقت سے کام ليتا يا ليتي ہے يا وہ احساس کریں کہ ان کے درميان اعتماد نہيں ہے تو دونوں کے درميان کتني ہي محبت کيوں نہ ہو وہ محبت کمزور ہو جائے گي۔

وفاداري کرو تاکہ قابل اعتماد بنو !

محبت کرنا وہ امر ہے کہ اس (مشترکہ زندگي کي) راہ کي ابتدا ميں خداوندِ عالم نے آپ کو جس کا حکم ديا ہے اور يہ وہ سرمايہ ہے کہ جسے خداند مہربان ،مشترکہ ازدواجي زندگي کي ابتدا ميں لڑکے لڑکي کو ہديہ کرتا ہے اور يوں ازدوجي سفر کے راہي آپس ميں محبت کرتے ہيں۔ لہٰذا اِس کي حفاظت کرني چاہیے۔ آپ کي زوجہ يا شوہر کي آپ سے محبت ،آپ کے عمل سے وابستہ ہے۔

اگر آپ کي خواہش ہے کہ آپ کے شريک حيات کي محبت آپ کے لئے باقي رہے تو آپ اس سے محبت آميز برتاو کريں۔يہاں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کيا کام انجام دے تاکہ اس کي محبت رنگ لائے؟ پس آپ کو چاہیے کہ زندگي کے ہر لمحے ميں وفاداري کا ثبوت ديں۔ سامنے والے کو اپني امانت داري کا يقين دلائيں، اپني سچائي اور خلوصِ نيت کو اس پر واضح کريں، سامنے والے سے بے جا توقعات نہ رکھيں، اس سے تعاون اور اظہارِ محبت کريں۔ يہي وہ چيزيں ہيں کہ جو محبت کي ايجاد کا باعث بنتي ہيں اور يہ دونوں کي ذمہ داري ہے۔ محبت اور تعاون کو زندگي ميں ہر حال ميں موجود ہونا چاہیے۔ ايسا نہ ہو کہ بے جا قسم کي اُميديں وابستہ رکھنے اور بات بات پر کيڑے نکالنے سے آپ کي زندگي اجيرن ہو جائے۔

اعتماد کسي کے کہنے سے نہيں ہوتا!

اعتماد وہ چيز نہيں ہے جو کسي کے کہنے سے ہو جائے کہ آو تم مجھ پر اعتماد کرو اور ميں تم پر اعتماد کرتا ہوں ،ايسا ہر گز نہيں ہے!

اعتماد وہ چيز ہے جو ايک دوسرے کو دينا اور اس کا يقين کرنا چاہیے يعني اچھے عمل، اخلاق و آداب کي رعايت کرنے اور شرعي حدود اور اسلامي اقدار کا خيال رکھنے سے۔

اگر گھر کي فضا ميں بے اعتمادي کے سياہ بادل چھا جائيں تو گھر، محبت کے اجالے سے محروم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا يہ آپ کا وظيفہ ہے کہ آپ بے اعتمادي کو گھر ميں اپنے منحوس قدم نہ رکھنے ديں۔ بے وفائي بدن ميں پوشيدہ سرطان کي مانند محبت کو کھا کر ختم کر يتي ہے۔

اگر مياں يا بيوي يہ احساس کرے کہ اس کي بيوي يا شوہر اس سے جھو ٹ بول رہا ہے تو زندگي ميں اس احساس کے آتے ہي سچي محبت رخصت ہو جائے گي ۔يہي وہ چيز ہے کہ جو محبت کي بنيادوں کو کمزور بنا تي ہے۔اگر آپ چاہتے ہيں کہ محبت کي فضا قائم رہے تو اپنے درميان اعتماد کي حفاظت کريں اور اگر آپ کي خواہش ہے کہ آپ کي پيار بھري زندگي پائيدار ہو تو محبت کو کسي بھي صورت ميں اپنے درميان سے جانے نہ ديں۔

محبت کے دريا ميں کدورتوں کو غرق کر ديں

مياں بيوي کو آپس ميں محبت آميز سلوک اختيار کرنا چاہیے، بس يہي مطلوب ہے! وہ کام جو محبت ميں کمي کا باعث بنتے ہيں انہيں ہر گز انجام نہ ديں ۔ايسا کوئي کام نہ کريں کہ جو آپ کو ايک دوسرے سے گلا مند اور بيزار کرتے ہيں ۔يہ آپ کي ذمہ داري ہے کہ يہ ديکھيں کہ آپ کي بيوي يا شوہر کن چيزوں پر بہت حساس ہے اور کن کاموں پر اس کامزاج جلدي بگڑ جاتا ہے تو ان چيزوں سے آپ پر اجتناب ضروري ہوگا۔ بہت سے ايسے لوگ ہيںجو ان مسائل سے بہت لا پرواہي برتتے ہيں مثلاً بيوي کو اپنے شوہر کي ايک عادت بري لگتي ہے اور اس کے شوہر کو اس بات کي کوئي پرواہ نہيں ہے کہ اس کي فلاں عادت اس کي شريکہ حيات کو بري لگتي ہے اور وہ اسے بار بار انجام ديتا ہے ، يہ بہت بري بات ہے۔

اسي طرح بہت سي خواتين بھي ہيں کہ جو مثلا ً اپني اس بات کہ ’’ميرے لئے فلاں چيز خريدو يا مجھے فلاں جگہ لے چلو‘‘ جيسي خواہشات کي چھري کے ذريعے شوہر کے راحت و آرام کو ذبح کر ديتي ہيں۔ آخر ان کاموں کي کيا ضرورت ہے ؟ آپ دونوں ہي اصل ہيں اور بقيہ پوري دنيا کا درجہ آپ کے بعد ہے۔ آپ ايک دوسرے کے وجود کو اپنے لئے ضروري سمجھيں اور ايک دوسرے سے مہرباني کا سلوک کريں۔

اگر ايک وقت خدا نخواستہ آپ کے مياں يا بيوي کے کسي عمل سے آپ کے دل ميں کدورت کا ميل آجائے تو اسے فوراً اپني محبت کے بحر بيکراں ميں غرق کر ديں ۔ايسا نہ ہو کہ آپ ايک چھوٹي سي بات کا بتنگڑ بنا کر اسے خوب اچھاليں۔ايسا ہر گز نہ کريں۔ اگر مياں بيوي ايک دوسرے کے احساسات و جذبات کي نسبت لاپرواہ اور بے توجہ ہوں اور کسي ايک کي چاہت و محبت ميں کمي آجائے تو يہ کمي دوسرے ميں بھي سرائيت کر جائے گي کيونکہ ايک دوسرے سے بے رغبتي ايک وبائي مرض ہے جو دوسروں ميں بھي سرائيت کرتا ہے ۔آپ کي ذمہ داري ہے کہ آپ ايسا کوئي موقع نہ آنے ديں اور اس کے لئے دونوں کو مل جل کر باہمي افہام و تفہيم اور محنت سے کوشش کرني چاہیے اور يہي زندگي کي اصل بنياد ہے۔

گھر کے بڑے بھي مدد کريں

اچھي زندگي گزارنے کے لئے گھر کے بڑوں کو نوجوان شادي شادہ جوڑوں اور زندگي کے نئے ہمسفر وں کي ہدايت کرني چاہیے۔ ليکن اس بات کي طرف بھي ان کي توجہ رہے کہ وہ ان کي زندگي کے چھوٹے چھوٹے امور اور جزئيات ميں بہت زيادہ مداخلت نہ کريں کہ زندگي ان کے لئے مشکل ہو جائے۔

ايسا نہ ہو کہ بعض افراد اپني بے جا مداخلت ، کم توجہي اور اپنے چھوٹي ذہنيت کي وجہ سے ايک زندگي کي مستحکم بنيادوں کو متزلزل کر ديں(۱) ۔ اگر وہ يہ ديکھيں کہ ان کي مداخلت سے مياں بيوي کے دل ايک دوسرے سے متنفر ہو رہے ہيں تو انہيں چاہیے کہ اپني دخل اندازي بند کر ديں۔

گھر اور خاندان کے بڑے اور بزرگ اگر يہ چاہتے ہيں کہ ازدوجي سفر کے يہ دو راہي آرام و چين کي زندگي بسر کريں تو وہ انہيں نصيحت اور ہدايت کريںليکن مداخلت نہ کريں اور انہيں خود ان کي منصوبہ بندي کے مطابق زندگي گزارنے ديں۔

مبادا گھر کے بزرگ افراد مياں يا بيوي کے پاس آئيں اور اس کي بيوي يا مياں کي برائي کريں اور کوئي ايسي بات کہيں کہ جس سے ان کے دل ميں نفرت جنم لے،نہيں! بلکہ انہيں چاہیے کہ دونوں کو ايک دوسرے سے نزديک اور ان کے دلوں کو پہلے سے زيادہ ايک دوسرے سے متصل و مربوط کريں۔

دلوں ميں محبت پيدا کرنے ميں والدين بہت کليدي کردار ادا کرتے ہيں ۔مياں بيوي کے والدين کا تمام ہم و غم اور فکر يہ ہوني چاہیے کہ مياں بيوي کو ايک دوسرے کي نسبت محبت کرنے والا بنائيں۔ اگر وہ اپني اولاد کي ازدواجي زندگي ميں اس کے شوہر يا بيوي کي طرف سے کسي ايسي چيز کا مشاہدہ کريں کہ جو ان کے لئے اچھي نہ ہو تو اسے اپني اولاد سے بيان نہ کريں۔بلکہ انہيں اس بات کا موقع ديں يہ دونوں روز بروز ايک دوسرے کے عاشق اور ايک دوسرے سے مانوس ہو جائيں۔

والدين اس بات کي سعي کريں کہ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے اور ايک دوسرے کے مياں بيوي بننے والے اپنے بچوں کو محبت کے لئے آزاد فضا فراہم کريں۔ممکن ہے کہ مياں بيوي کسي بات پر آپس ميں ناراض ہو جائيں تو والدين چونکہ گھر کے بڑے اور تجربہ کار ہيں، اس بات کا موقع نہ آنے ديں کہ مياں بيوي کي آپس ميں ناراضگي ان کي ايک دوسرے سے بے حسي اور بے توجہي ميں تبديل ہو جائے۔

____________________

١ بعض والدين يا گھر کے بزرگ حضرات ہمدردي يا ناداني کي وجہ سے مياں بيوي کو ہر وقت بے جا نصيحتيں کرتے رہتے ہيں۔ اُن کي خواہش ہوتي ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خوش بخت بنائيں۔ ليکن اگر يہي نصيحت و راہنمائي عقلمندي کے ساتھ نہ ہو تو يہي نصيحت و ہدايت مياں بيوي کے ليے وبال جان بن جاتي ہے۔ والدين کو چاہیے کہ وہ عقلمندي کے ساتھ مياں بيوي کي زندگي کي شراکت اور حساسيت کو درک کرتے ہوئے اور انہيں نصيحت و راہنمائي کريں تاکہ يہ سب ان کي زندگي ميں دخل اندازي نہ ہو بلکہ ان کي زندگي کے ليے مشعلِ راہ ثابت ہو۔ (مترجم )


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

تيسرا مرحلہ

کاموں کي تقسيم کا فن

دريچہ

دو نو جوان لڑکے اور لڑکي اپني مادي اور معنوي زندگي کے کمال کے مشترک ہدف اور خدا کے عطا کردہ سرمايہ عشق کے ساتھ

اپني نئي زندگي کے آغاز کے لئے تيار ہوتے ہيں۔

خدا وند حکيم نے مياں بيوي کو ايک دوسرے کے وجود کي تکميل کا ذريعہ قرار ديا ہے اور انہيں زندگي کے ميدانِ نبرد کي مختلف

اور گوں نا گوں ضرورتوں کے تناسب کے ساتھ ايک دوسرے سے متفاوت تخليق کيا ہے۔

ايک خوشحال و آباد اور کامياب گھرانے کي تشکيل اور ايک ميٹھي زندگي ميں کاموں کي تقسيم کا فن بہت زيادہ اہميت کا حامل ہے ۔

ان دونوں ميں ہر ايک کو چاہیے کہ اپني طاقت و قدرت کے مطابق ايک ’’بارِ حيات ‘‘کو اُٹھالےاور ساتھ ہي وہ زندگي ميں اپنے شريک حيات کے اہم اور حساس نوعيت کے کردار کي مدد کے لیے اپنے کردار کي اہميت پر بھي ايمان رکھتا ہو۔

وہ جو بھي کام اپنے ذمے لے اُسے اپني پوري سنجيدگي اور سليقہ مندي سے انجام دے۔

اِس کے ساتھ ساتھ اپنے ’’ہمراہ و ہمسفر‘‘ کے کردار کو حقيقي رنگ دينے کے لئے اس کي مدد کرے۔

کاموں کي تقسيم ،گھر ميں خاتون کے خاص کردار ،گھريلو امور کو چلانے ، ان کي اہميت اور گھر سے باہر ان کي فعاليت اور کام سے متعلق مختلف نظريات اور بے شمار سوالات ذہن ميں ابھرتے ہيں۔

اس نئي راہ فعاليت کے ابہامات کو دور کرنے کے لیے اِس ’’مرشد ‘‘ کي پرمغز باتيں اور نکات بہت موثر ہيں۔

کاموں کي تقسيم

جب دو انسان کسي ايک کام ميں شريک ہوتے ہيں اور رشتہ ازدواج ميں منسلک ہوکراپني مشترکہ زندگي کا آغاز کرتے ہيں تو بہت سي ايسي ذمے دارياں ہيں جو ان کے درميان مشترک ہوتي ہيں جو گھر کي گاڑي چلانے اور مختلف قسم کي مدد و اعانت سے عبارت ہيں اور جو گھر کو خوشحال آباد بنانے ميں بہت موثر کردار ادا کرتي ہيں لہٰذا دونوں کو چاہیے کہ اِس سلسلے ميں ايک دوسرے کي مدد کريں۔

يہ کام دونوں کے درميان مشترک ہيں ليکن ان کاموں کوتقسيم ہونا چاہیے۔ کبھي کبھي يہ ديکھنے ميں آتا ہے کہ مياں بيوي اپنے کاموں کو تقسيم نہيں کرتے ہيں ليکن بہتر يہ ہے کہ کاموں کو اس طرح تقسيم کيا جائے کہ بعض کاموں کو مرد اور بعض کاموں کو بيوي انجام دے بالکل دوسرے کاموں ميں مدد و تعاون کي طرح۔

ايک اچھا گھر وہي ہے جہاں مياں بيوي ايک دوسرے کي مدد کريں اور ايک دوسرے کا ہاتھ بٹائيں ۔اگر شوہر کسي مشکل يابُرے حالات کا شکار ہو تو بيوي کو چاہیے کہ وہ اس کي پريشاني کا بوجھ ہلکا کرے ۔يا اگر گھر کے کاموں ميں يا اپنے ديگر امور ميں بيوي کو دشواري کا سامنا ہو تو شوہر کو اس کي دشواري کو دور کرنے ميں پوري کوشش کرني چاہیے۔ دونوں کو چاہیے کہ ايک دوسرے کے مستقبل کي مثبت تعمير کے لئے خود کو شريک قرار ديں اور ان تمام کاموں کو خدا کے لئے انجام ديں۔

ايک دوسرے کو روحي طور پر مضبوط بنايئے

ايک دوسرے کي مدد کے معني يہ نہيںہيں کہ مياں بيوي ايک دوسرے کے کام انجام دينے لگيں، نہيں! بلکہ انہيں چاہیے کہ ايک دوسرے کي ہمت بندھائيں اور روحي و باطني طور پر ايک دوسرے کو مضبوط کريں۔ چونکہ مرد حضرات معاشرے ميں معمولاً مشکل اور سخت کاموں کو انجام ديتے ہيں لہٰذا خواتين کو چاہیے کہ وہ ان کے حوصلوں کو بلند کريں ،ان کے جسم و جان سے خستگي اور تھکاوٹ کو دور کريں، تبسم سے ان کا استقبال کريں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ ان کي خوشي کا انتظام کريں ۔اگر خواتين گھر سے باہر کسي کام کو انجام ديتي ہيں تو مردوں کو چاہیے کہ ان کي مدد کريں اور ان کي مضبوط پناہ گاہ بنيں ۔

مدد اور تعاون سے مراد روحي مدد اور ايک دوسرے کے حوصلوں اور ہمتوں کو بلند کرنا ہے ۔بيوي کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کي ضرورتوں، اندرون اور بيرونِ خانہ اس کي فعاليت اور اس کي جسماني اور فکري حالت کو درک کرے ۔ ايسا نہ ہو کہ بيوي کے کسي فعل سے مرد اپنے اوپر نفسياتي دباو اور شرما شرمي محسوس کرے ۔شريکہ حيات کو چاہیے کہ وہ کوئي ايسا کام انجام نہ دے کہ جس سے اس کا شوہر زندگي سے مکمل طور پر نااميد اور مايوس ہو جائے اور خدا نخواستہ غلط راستوں اور عزت و ناموس کو زک پہنچانے والي راہوں پر قدم اُٹھالے۔

زندگي کے ہر گام اور ہر موڑ پر ساتھ دينے والي شريکہ حيات کا فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کو زندگي کے مختلف شعبوں ميں استقامت اور ثابت قدمي کے لئے شو ق و رغبت دلائے۔ اگر اس کي نوکري اس طرح کي ہے کہ وہ اپنے گھر کو چلانے ميں اپنا مناسب و صحيح کردار ادا نہيں کر پا رہا ہے تو اس پر احسان نہ جتائے اور اسے طعنے نہ دے۔ يہ بہت اہم باتيں ہيں۔ يہ ہيں خواتين کے وظائف۔ اسي طرح شوہر کي بھي ذمے دارياں ہيں کہ وہ بيوي کي ضرورتوں کا خيال رکھے، اس کے احساسات کو سمجھے اور کسي بھي حال ميںاس کے حال سے غافل نہ ہو۔

کاميابي کے لئے راہ ہموار کريں

اگر شوہر يہ ديکھے کہ اس کي بيوي اپنے اسلامي فرائض کي انجام دہي کے لئے ايک نيک قدم اٹھانا چاہتي ہے تو اسے چاہیے کہ اس کام کے وسائل اسے فراہم کرے اور اس کي راہ ميں مانع نہ بنے۔ بعض لڑکياں ہيں کہ جو شادي کے بعد بھي تحصيلِ علم اور درسِ دين کو حاصل کرنا چاہتي ہيں۔ ان کي خواہش ہوتي ہے کہ قرآني تعليمات سے آشنا ہوں، کارِ خير انجام ديں اور بعض خير و بھلائي کے کاموں ميں شرکت کريں ليکن ان کے شوہر کبھي کبھي ان کي خواہشات کے جواب ميں بد اخلاقي کا مظاہرہ کرتے ہيں کہ ’’ہم ميں ان کاموں کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہيں ہے !‘‘ ، ’’ہم نے شادي اس لئے کي ہے کہ زندگي گزاريں نہ کہ يہ جھميلے پاليں‘‘ اور يوں اپني بيويوں کو کار ہائے خير انجام دينے سے روکتے ہيں۔ اس طرح بہت سے مرد ہيں کہ جو صدقات و خيرات دينا چاتے ہيں تاکہ مختلف اجتماعي کاموں ميں شريک ہوں ليکن ان کي بيوياں ان کي راہ ميں رکاوٹ بن جاتي ہيں۔

خواتين کي اجتماعي فعاليت اور نوکري کے لئے اہم ترين شرط

بہت سے افراد ہم سے سوال کرتے ہيں کہ کيا آپ اس بات کے موافق ہيں کہ خواتين گھر سے باہر کام يا نوکري کريں ؟ہم يہي کہتے ہيںکہ يقينا ہم خواتين کے بيکار بيٹھے رہنے کے مخالف ہيں ۔عورت کو ہر حال ميں کام کرنا چاہیے، البتہ کام دو قسم کے ہيں ايک گھر کے اندر کا کام اور دوسرا گھر کے باہر کا ليکن دونوں کام ہيں ۔اگر کسي ميں اس چيز کي صلاحيت ہے کہ وہ گھر سے باہر کے کاموں کو انجام دے تو اسے يہ قدم ضرور اٹھانا چاہیے اور يہ بہت اچھا ہے ۔ليکن اس کي شرط ہے کہ جو بھي ملازمت اور کام اختيار کيا جائے وہ خواہ گھر کے اندر ہي کيوں نہ ہو مياں بيوي کے آپس کے تعلقات اور رشتے کو کوئي نقصان نہيں پہنچائے۔

بہت سي خواتين ہيں کہ جو صبح سے شام تک کاموں ميں جُتي رہتي ہيں اور جب شام کو تھکا ہارا اور شريکہ حيات کي محبت کا پياسہ شوہر گھر لوٹتا ہے تو ان خواتين ميں ايک مسکراہٹ سے بھي اپنے شوہروں کے استقبال کرنے کا حوصلہ نہيں رہتا ۔يہ بہت بري بات ہے ۔گھر کے کام کاج کو انجام ديناچاہیے مگر اتنا نہيں کہ يہ کام گھر کي بنياد ہي کو خراب کر دے اور ايسا نہ ہو کہ بقول معروف ’’گھر کو آگ لگ گئي گھر کے چراغ سے ۔‘‘

بيوي اگر چاہتي ہے کہ وہ باہر جا کر کام اور ملازمت کرے تو اس ميں کوئي عيب نہيں ہے اور اسلام بھي اس کي راہ ميںرُکاوٹ نہيں بنتاليکن يہ نہ اس کي ذمہ داري ہے اور نہ اس کا وظيفہ ! جو چيز اس پر واجب ہے وہ گھر کے تمام افراد کے لئے اس کي حيات بخش فضا کي حفاظت کرنا ہے۔

کارہائے خير کي انجام دہي کے لئے ايک دوسرے کو ترغيب دلانا

يہ آپ مياں بيوي کي ذمہ داري ہے کہ ايک دوسرے کے تمام جزوي اور کلي حالات اور اوضاع کا خيال رکھيں ،ايک دوسرے کي مدد کريں اور ايک دوسرے کے يارو مددگار بنيں خصوصاً راہِ خدا اور فرائض و واجبات کي انجام دہي ميں ۔

اگر شوہر راہِ خدا ميں قدم اٹھانا چاہتا ہے تو بيوي مدد کرے اور اگر بيوي کسي وظيفے اور واجب کام کو انجام دينا چاہتي ہے تو شوہر اس کا مددگار بنے ۔يہ دونوں کي ذمہ داري ہے کہ راہِ خدا ميں جدوجہد کريں اور ايک دوسرے سے مکمل تعاون کريں ۔

اگر گھر کا مرد علمي ميدان يا قومي مسائل اور ملي و اجتماعي تنظيموںميںسرگرم عمل ہے تو بيوي کو چاہیے کہ اس کي مدد کرے تاکہ وہ اپنے کاموں کو با آساني انجام دے سکے ۔اسطرح مرد حضرات کي بھي يہ ذمے داري ہے کہ وہ گھر کي خواتين کو يہ موقع ديں کہ وہ بھي روحانيت و معنويت کي راہ ميں قدم اٹھائيں۔ اگر وہ تحصيل علم کي خواہش مند ہيں تو اپني اس خواہش کو بآساني عملي جامہ پہنا سکيں اور اگر وہ اجتماعي کاموں ميں حصہ لينا چاہتي ہيں تو وہ بغير کسي مشکل کے اس ميدان ميں وارد ہو سکيں۔

زندگي کے ان ہمراہيوں کي کوشش ہوني چاہيے کہ وہ ايک دوسرے کي راہ خدا کي طرف راہنمائي وہدايت کريں ،صراط مستقيم پر قدم اٹھانے اور اس پر ثابت قدم رہنے کي تاکيد اور کوشش کريں۔ تَوَاصَوْابِالحَقِّ َوَ تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ(حق بات کي نصيحت اور صبر کي تلقين) کو ہميشہ مد نظر رکھيں کہ جو مسلمان ہونے کا خاصہ اور ايمان کي علامت ہے۔

اپنے خدائي ہدف کے حصول کي خواہشمند مياں بيوي کو چاہيے کہ ايک دوسرے کے ديندار ہونے اور تقويٰ کا خيال رکھنے کيلئے ايک دوسرے کے ہاتھوں کو تھاميں۔ شوہر کي کوشش يہ ہو کہ اس کي بيوي ديندار ہو اور زندگي کے ہر لمحے ميں تقويٰ کا خيال رکھے۔ اسي طرح عورت بھي اپنے شوہر کي مدد گار بنے تاکہ وہ اپنے دين کي بنيادوں کو مستحکم بنائے، پاکدامن رہے اور تقويٰ کے سائے ميں اپني زندگي گزارے۔

يہاں بيوي کي مدد سے مراد صرف گھر کے کاموں ميں ہاتھ بٹانا، برتن دھونا اور گھر کي صفائي وغيرہ ميں اس کي مدد کرنا نہيں ہے۔ صحيح ہے کہ يہ بھي بيوي کي مدد ہے ليکن بيوي کي مدد سے مرادزيادہ تر روحي طور پر اسے مضبوط بنانا اور اُس کي اِس طرح فکري اور معنوي مدد کرنا ہے کہ دونوں راہِ اسلام پر کار بند اور ثابت قدم رہيں۔ايک دوسرے کو تقويٰ، صبر، دينداري، حيا، عفت، قناعت اور سادي زندگي جيسے ديگر اہم امورِ زندگي کي تلقين ونصيحت کريں اور اس راہ ميں ايک دوسرے کي دستگيري کريں تاکہ زندگي کو بہترين طريقے سے گزارسکيں، انشائ اللہ۔

غمخواري ہي حقيقي مدد ہے!

دوسرے کي واقعي مدد يہ ہے کہ دوانسان ايک دوسرے کے دل سے غموں کے بوجھ کو ہلکا کريں ۔اگر دونوں ميں سے کوئي بھي زندگي ميں کسي مشکل ميں گرفتار ہو اور مصيبتيں اس کے دل پر حملہ آور ہوں يا وہ کسي مسلئے ميں ابہام و ترديد کا شکارہوں ہو تو يہاں مياں بيوي ميں سے دونوں کو چاہيے کہ اس حساس موقع پر اپني شريکہ حيات يا شوہر کي مدد کيلئے جلدي کرے ، اس کے دل سے غم کا بوجھ ہٹادے اور اس کي غلطي اور ا شتباہ کو دور کرکے اس کي رہنمائي کرے۔ اگر وہ اس بات کا مشاہدہ کرے کہ اس کا ساتھي کسي خطا کا مرتکب ہورہا ہے تو اسے متنبہ کرے اور اسے روکے۔

سليقہ مند بيوي کي مديريت کي اہميت

خواتين کي گھريلوذمہ داريوں کي اہميت، بيروني وظائف اور ذمے داريوں سے نہ تو کسي بھي صورت ميں کم ہيں اور نہ ہي ان کي زحمت و سختي کا موازنہ کيا جا سکتا ہے۔ شايد ان کي گھريلو ذمے داريوں کي زحمت و سختي زيادہ ہي ہو اور وہ بھي اس ليے کہ وہ ايک گھريلو ماحول کي نگہبان ہيں جس کيلئے بہت محنت اور جدوجہد کي ضرورت ہوتي ہے چونکہ خواتين گھر کے اندروني معاملات کي مدير (منيجر) اور وزير داخلہ کا درجہ رکھتي ہیں۔ سليقہ مند خاتون ہي ہے جو گھر کے ايک اہم اور حساس نوعيت کے ادارے کوچلاسکتي ہے۔ يعني وہ جو خاندان اور گھر کے ماحول پر کڑي نگاہ رکھتي ہو اور گھر کا نظم و نسق دراصل اس کي نظارت، تدبير اور مديريت و مينجمنٹ سے وابستہ ہو اور يہ بہت دِقّت طلب، سخت اور زحمت والاکام ہے کہ جو بہت ظرافت کا محتاج ہوتا ہے۔ يہ کام صرف اورصرف خواتين کے نرم و نازک احساسات، لطيف مزاج اور ان کي محبت سے لبريز نسواني صفات ہي کے ذريعے سے انجام پاسکتا ہے۔ کسي مرد کيلئے اس بات کا کوئي امکان نہيں ہے کہ نرم و نازک اور ظريف احساسات کا خيال رکھتے ہوئے گھر کو چلائے۔

کچھ لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ بيوي تو گھر ميں بيکار بيٹھي رہتي ہے، ہر گز نہيں !ايک خاتون گھر کي چارديواري ميں بہت زيادہ، سخت ترين اور ظريف ترين کاموں کو انجام ديتي ہے۔ کچھ لوگ اس طرح سوچتے ہيں کہ اگر ايک خاتون کا کام صرف انہي گھريلو کاموں کو انجام دينا ہے تو يہ ايک عورت کي اہانت ہے ،نہيں !اس ميں خاتون کي ہر گز کوئي تحقير نہيں ہے۔ ايک خاتون کا سب سے اہم کام يہ ہے وہ ايک زندگي کو ہنستا مسکرا تا، شاد آباد اور خوش وخرم رکھے۔

بچوں کي پرورش، بہت بڑا ہنر ہے

بہت سے گھريلو کام بہت سخت ہوتے ہيں کہ جن ميں سے ايک بچوں کي پرورش اور تربيت ہے۔ آپ جس کام کو بھي مدِّنظر رکھيں کہ جو بہت دشوار ہو ليکن وہ بچوں کي پرورش کے مقابلے ميں آسان ہوگا۔ بچوں کي پرورش دراصل ايک بہت بڑا ہنر ہے۔ مرد حضرات ايک دن بھي يہ کام انجام نہيں دے سکتے ليکن خواتين بہت توجہ، سنجيدگي، ہمت و حوصلے اور ظرافت سے يہ بڑا کام انجام ديتي ہيں اور خدا وند عالم نے اُن کي طبيعت و مزاج ميں اس بات کي صلاحيت رکھي ہے۔ ليکن حقيقت تو يہ ہے کہ بچوں کي پرورش وہ سخت کام ہے جو انسان کو تھکا ديتا اور اسے خستہ حال کرديتاہے۔

نوکري اور گھريلو زندگي کو خوشحال بنانا

وہ نوجوان جو راہِ خدا ميں کاموں ميں مشغول ہيں وہ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے کي وجہ سے اپنے کاموں اور فعاليت کو متوقف نہ کريں۔ ہم مرد حضرات کو ہميشہ اس بات کي تاکيد کرتے ہيں کہ وہ اپنے کام کاج، تجارت (بزنس)اور نوکري ميں وقت دينے اور سر کھپانے کي وجہ سے اپني گھريلو زندگي اور خانداني نظام کوخراب نہ کريں۔ کيونکہ بعض مرد ايسے ہيں جو علي الصبح گھر سے نکلتے ہيں اور رات گئے گھر لوٹتے ہيں، يہ روش درست نہيں ہے۔ جن لوگوں کے ليے اس بات کا امکان ہے ہم انہيں تاکيد کرتے ہيں کہ وہ دوپہر کے وقت گھر جائيں اور اپنے بيوي بچوں کے درميان رہ کر اپني کھوئي ہوئي توانائي بحال کريں، گھر کي گرم اور پُر محبت فضا ميں اُن کے ساتھ کھانا کھائيں، کم و بيش ايک گھنٹہ اُن کے ساتھ رہيں اور اُس کے بعد اپنے کام کي طرف لوٹ آئيں۔ اس کے بعد ايک مناسب وقت يعني اوّل شب ميں گھر جائيں اور بچوں کے سونے سے قبل اُن سے ملاقات کريں اور گھر کے تمام افراد مل کر ايک اجتماعي ملاقات تشکيل ديں۔

عورت، مرد سے زيادہ مضبوط اور قوي ہے!

وہ مرد حضرات جو تنومند، صحت مند جسم، کندھوں اور بازوؤں کے اُبھرے ہوئے عضلات کے مالک ہيں وہ جسم کي اِس ظاہري خوبصورتي کے مالک ہيں اور اُن کا جسم مضبوط بھي ہے۔ ليکن گھريلو زندگي کي پيچيدگيوں ميں ذہني کاکردگي، احساسات، ہمدردي اور مہرباني کے لحاظ سے عورت، مرد سے زيادہ قوي اور مضبوط ہے۔ اُس کي قوت برداشت اور تحمل کي قدرت بھي زيادہ ہوتي ہے اور وہ زندگي کے راستوں سے بھي اچھي طرح واقف ہے۔ عورت کا مزاج اسي طرح کا ہے اور خواتين کي اکثريت بھي اسي طرح کي ہے۔ البتہ ممکن ہے کہ بعض خواتين ايسي نہ ہوں۔ غرضيکہ خواتين اُس ميدان ميں کامياب ہوسکتي ہيں کہ جہاں بڑے بڑے سورما اور دلير مرد ہار جاتے ہيں۔ صرف تھوڑے سے تحمل و برداشت، تھوڑي سي خوش اخلاقي اور مختلف طريقہ کار کے ذريعے وہ مرد حضرات کو اس جگہ لاسکتي ہيں کہ جو مقام اُن کے لائق و شائستہ ہے تاکہ اُن کي زندگي پہلے سے زيادہ ميٹھي اور شيريں ہوجائے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي پيروي کيجئے

آپ حضرت فاطمہکي شادي کے مراسم اور اُس کے بعد کي اُن کي ازدواجي زندگي اور اُن کي سادہ، فقيرانہ اور زاہدانہ زندگي کے لحاظ سے حضرت فاطمہ کو ديکھئے۔ آپ کا وہ سادہ سا کمرہ اور اس کي وہ سادہ سي چٹائي کہ جسے آپ سب نے بارہا سنا ہے۔ گھر کے اندر آپ کي محنت و مشقت، حضرت اميرالمومنين جيسے عظيم، فعّال محنت طلب اور مجاہد شوہر کي زندگي اور اُن کے چھوٹے سے گھر ميں تمام سختيوں پر آپ کا صبر و شکر اور محنت واقعاً قابلِ ديد ہے۔ حضرت زہرا سلام اللہ عليہا تمام زندگي کام اور فعاليت ميں مشغول رہيں۔ يعني جہاں بھي جنگ ہوتي علي ابن ابي طالب سب سے آگے آگے ہوتے اور جہاں بھي کوئي اہم کام ہوتا سب سے پہلے علي ابن ابي طالب ہي قدم اٹھاتے۔ (يہ ہے اميرالمومنين کي مصروف زندگي)۔ تقريباً نو دس سال حضرت زہرا نے اميرالمومنين کے ساتھ باہم زندگي گزاري ہے۔ آپ توجہ فرمائیے کہ ان نو دس سالوں ميں يہ نوجوان شوہر اپنے بيوي بچوں کي ايک عام انسان کي مانند کتني خدمت کرسکا ہے؟ ايک ايسي مصروف زندگي ميں تمام مشکلات، سختيوں اور فقرو فاقے پر صبر کرنا، بڑے جہاد کو انجام دينا، بچوں کي بہترين تربيت اور وہ تمام ايثار و فداکاري جو حضرت زہرا نے انجام ديں اور جن ميں سے آپ نے کچھ واقعات کو سُنا ہے، يہ سب ہمارے ليے مشعلِ راہ ہيں۔ ہماري دُلہنوں کو چاہیے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ عليہا کو اپنے ليے مثالي نمونہ اور زندگي کا اُسوہ قرار ديں۔ اسي طرح دولہا حضرات کو بھي چاہیے کہ وہ حضرت فاطمہ اور اميرالمومنينکي سيرت کو اپنے ليے مشعلِ راہ بنائيں۔


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

چوتھا مرحلہ

اتفاق، ہمراہي اور موافقت

دريچہ

ابتدائے عشق ميں جب دل، عشق ميں مجذوب اور فريفۃ ہوتے ہيں تو ايک دوسرے کي خامياں اور غلطياں اچھي نظر آتي ہيں اور سوچ اور فکر کا فرق نظر نہيں آتا۔

اپنا ازدواجي سفر شروع کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکي ايک دوسرے ميں مجذوب، ايک دوسرے کے عاشق و دوست اور خوبصورت سپنوں کے دريا ميں غرق ہوتے ہيں۔

اِس طرح کہ ان ميں سے ہر ايک اپنے شريکِ حيات کے آئينہ وجود ميں اپني ديرينہ اُميدوں اور آرزوؤں کو مجسم پاتا ہے اور اپنے محبوب کے چہرے ميں گويا اپنا ہي عکس ديکھتا ہے۔

مگر کچھ ديرنہيں گزرتي کہ يہ سہانے سپنے اور عاشقانہ ہم نفسي، ہم چشمي،زندگي کي حقيقت اور اپنے شريکِ حيات کي متفادت شخصيت سے مڈبھيڑ کي وجہ سے اپنا رنگ کھوبيٹھتي ہے۔

زندگي کے مسائل ميں سوچ کا فرق، اندازِ بياں اور روش و طريقہ کار مختلف ہونا ہر دن پہلے سے زيادہ نظر آنے لگتا ہے۔

اِ س مشترکہ زندگي کي ابتدا ميں زندگي کي حقيقت و واقعيت سے صحيح طور پر نمٹنے اور درست راہ حل سےاِن نا تجربہ کار اور راستے کے نشيب و فراز سے غافل نوجوان جوڑے کي بے توجہي اور لاعلمي انہيں بہت سي مشکلات سے دوچار کرسکتي ہے۔

کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ لمحوں کي ناراضگي اور رنجش کے اثرات سالہا سال زندگي کو تلخ بناديتے ہيں۔

يہ بہترين نوجوان شادي شدہ جوڑے تھوڑے سے تحمل و برداشت، اپني خيالي سوچ اور آئيڈيل زندگي سے دستبردار ہونے،

اپنے شريکِ حيات کي حقيقي شخصيت کو من و عن قبول کرنے،اُس کي برائيوں اور خاميوں کو اس کي اچھائيوں کے ساتھ قبول کرنے،اپنے تمام وجودي اختلاف کے باوجود ايک دوسرے کو درک کرنے اور خدا کے دست غيبي کے مدد سے

اپني مشترکہ زندگي کي بنياد کو پہلے سے زيادہ مضبوط مستحکم بناسکتے ہيں۔

تجربات کي دھوپ ميں اِس کُہن سال سالک کي رہنما باتيں، زندگي کے نشيب و فراز والے سفر پر جانے والوں کے ليے تو شہ راہ ہيں۔

جائیے مل کر زندگي کي تعمير کيجئے!

امام خميني نے کہا : ’’جاؤ مل کے زندگي کو تعمير کرو ‘‘

ميں ايک دفعہ حضرت امام خميني ۲ کي خدمت ميں شرفياب ہوا تو وہ گھر پر ايک نکاح پڑھانے کا قصد رکھتے تھے۔ انہوں نے جيسے ہي مجھے ديکھا تو کہا کہ آپ آئیے دوسري طرف سے ’’نکاح‘‘ پڑھائیے۔ وہ ہماري عادت کے برخلاف کہ ہم اپني باتوں کو کافي طول ديتے ہيں ليکن وہ پہلے نکاح پڑھاتے تھے اس کے بعد دو تين نصيحت آموز جملے ارشاد فرماتے تھے۔ ميں نے ديکھا کہ نکاح پڑھانے کے بعد انہوں نے دولہا دلہن کي طرف اپنا رخ کيا اور فرمايا:

’’جاؤ اور مل کر زندگي کي تعمير کرو‘‘۔

ميں نے سوچا کہ ہم اتني تقريريں کرتے ہيں ليکن امام خميني کا کلام ايک جملے ميں خلاصہ ہوتا ہے!۔

موافقت کيا ہے؟

آپ کي کوشش يہ ہوني چاہیے کہ اپني پوري زندگي اور ازدواجي زندگي خصوصاً شادي کے ابتدائي چار پانچ سال آپس ميں کامل موافقت رکھتے ہوں۔ ايسا نہ ہو کہ کوئي ايک تھوڑي سے غير موافق اور مزاج کے خلاف بات کرے يا غير ذمے داري کا ثبوت دے تو دوسرا بھي اس کے جواب ميں غير ذمے داري کا مظاہرہ کرے اور غير معقول بات کرے۔ ہر گز نہيں! دونوں کو چاہیے کہ صحيح معنوں ميں ايک دوسرے کے موافق اور ہمراہ بنيں۔ اگر آپ نے ديکھا کہ آپ کي زوجہ آپ سے تعاون نہيں کررہي ہے تو آپ کو اپنا دست تعاون بڑھانا اور اس سے سازگار حالات پيدا کرنے چاہييں يہ وہ جگہ ہے کہ جہاں مل جل کر کام کرنا، دوسرے سے موافقت کرنا اور سامنے والے کي کمي و کوتاہي کو تحمل کرنا اچھي بات ہے۔

سازگاري اور موافقت کا کيا مطلب ہے؟ کيا اس سے مراد يہ ہے کہ بيوي يہ ديکھے کہ اس کا شوہر اس کا پسنديدہ اور آئيڈيل ہے لہٰذا اس کي طرف اپنا دستِ تعاون بڑھائے؟ يا شوہر يہ ديکھے کہ اس کي بيوي کامل طور پر ايک مطلوب اور آئيڈيل بيوي ہے تو اُس سے بنائے رکھے اور ہر حال ميں اس کا موافق و ہمراہ ہو؟! اگر اس کي ذرّہ برابر کوئي ايک عادت بري ہو يا وہ کوئي ايک غلط حرکت انجام دے تو وہ اُس کو ہر گز قبول نہ کرے۔ کيا يہي ہے موافقت و سازگار حالت پيدا کرنے اور تعاون کا معنيٰ؟ ہر گز نہيں! اگر اسے موافقت کہا جائے تو يہ کام تو خود بخود انجام پاتا ہے اور اس ميں آپ کے ارادے کي کوئي ضرورت نہيں ہے ۔يہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ کو موافق و ہمراہ اور سازگار حالات پيدا کرنے والا ہونا چاہیے تو اس کا مطلب يہ ہے کہ حالات جيسے بھي ہوں آپ زندگي کو بنائيں اور اس کي تعميرکريں۔ يہ ہے موافقت کا مطلب۔ يعني زندگي ميں پيش آنے والے ہر مسئلے ميں زندگي کو بگڑنے سے بچا ئيں۔

جب ايسے دو انسان باہم زندگي گزاریں کہ جو ايک دوسرے سے آشنائي نہيں رکھتے ہوں اور نہ ہي انہوں نے کبھي مل کر زندگي گزاري ہو، اور تو اور اُن کي صفات و عادات، ثقافت اور آداب و رسوم بھي ايک دوسرے سے مختلف ہوں تو ممکن ہے کہ پہلے ہي قدم پر اُن کے درميان بہت سي جگہ نا اتفاقي پيش آئے۔

جب ايسے دو انسان ہميشہ کيلئے ايک دوسرے کے ہونے کا عہد کرکے اپني مشترکہ زندگي شروع کريں توايسي صورتحال ميں پہلے پہل آدمي کو کچھ سجھائي نہيں ديتا۔ تھوڑي مدّت کے بعد ممکن ہے وہ زندگي ميں نا اتفاقي اور اختلافِ نظر کو محسوس کريں تو آيا ان دونوں کو ايک دوسرے سے دل کھٹے کر کے منہ موڑ لينا چاہیے اور وہ يہ کہيں کہ’’يہ مرد يا عورت ميرے کسي کام کي نہيں ہے اور ميري اس سے نہيں بن سکتي؟!‘‘، نہيں! آپ کو چاہیے کہ خود کو اِس مسئلے سے مطابقت ديں اور اگر يہ قابلِ اصلاح ہے تو اُس کي اصلاح کريں اور اگر يہ ديکھيں کہ يہ قابلِ اصلاح نہيں ہے اور اس کے ليے کوئي کام نہيں کيا جاسکتا تو اسي کے ساتھ جس طرح بھي بن سکے، زندگي گزاريئے۔(۱)

گھر کے ماحول ميں اتفاق، تعاون اور موافقت، واجبات سے تعلق رکھتا ہے۔ مياں بيوي ہر گز يہ ارادہ نہ کريں کہ انہوں نے ’’الف سے ليکر ے تک‘‘ جو کچھ کہا کہ اُسي پر عمل کيا جائے ۔ جو چيز بھي اپنے ليے پسند کرتے ہيں اور جو چيز بھي اُن کے سکون و آرام کا باعث بنتي ہے، بعينہ وہي ہو، نہيں! ايسا ہر گز نہيں ہونا چاہیے۔ آپ زندگي کي بنياد آپس ميں اتفاق، موافقت اور ہمراہي پر رکھيں اور يہ چيز بہت ضروري ہے۔ جب بھي آپ يہ ديکھيں کہ آپ کو آپ کا مقصد حاصل نہيں ہورہا ہے سوائے اس کے کہ آپ صورتحال کو برداشت کريں۔ تو آپ کو صبر و تحمل سے کام لينا چاہیے۔

____________________

١ انسان کي دسيوں اچھي صفات و عادات کے مقابلے ميں اس کي ايک بري عادت کي وجہ سے اسے چھوڑا نہيں جاسکتا۔ لہٰذا کوشش يہ ہوني چاہیے کہ اُس کي اُ س ايک بري عادت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے زندگي کي مثبت تعمير کريں۔ کيونکہ ايک بري عادت کي وجہ سے اسے چھوڑدينا اور طلاق دے دينا کہيں کي عقلمندي نہيں ہے۔ (مترجم)


زندگي ميں موافقت اور اتفاق و ہمراہي دراصل بقائے زندگي کي اساس ہے۔ يہي چيز ہے جو محبت کي پيدائش کا سبب، برکاتِ الٰہي کے نزول کا باعث بنتي ہے اور دلوں کو نزديک اور رشتوں کو مستحکم بناتي ہے۔

يورپ کي ايک خوبصورت تعبير

شادي عبارت ہے دو زندہ اور دھڑکتے دل کے مالک انسانوں کاباہمي تفاہم، اُنس اور اتحاد سے زندگي بسر کرنا۔ البتہ يہ ايک فطري اور طبيعي امر ہے ليکن اسلام نے شادي کے ليے قوانين، زينت اور عظمت و شوکت رکھ کر ہميشہ کيلئے اُسے برکت عطا کي ہے۔

’’مياں بيوي کو چاہیے کہ ايک دوسرے کو سمجھيں اور درک کريں‘‘، يہ ايک يورپي تعبير ہے ليکن بہت خوبصورت ہے۔ يعني جو بھي سامنے والے کے درد و غم، خواہش اور ضرورت کو درک کرے اور اُس سے بنا کر رکھے تو اسے کہتے ہيں درک کرنا۔ يعني بقولِ معروف، زندگي ميں ايک دوسرے کي ضرورت و خواہش کو سمجھنا اور درک کرنا چاہیے اور يہي وہ چيز ہے کہ جو محبت کو زيادہ کرتي ہے۔

کوئي انسان بھي بے عيب نہيں ہے!

اگر آپ نے ديکھا کہ آپ کي شريکہ حيات ميں ذرّہ برابر عيب موجود ہے تو سب سے پہلے تو يہ جان ليئے کہ دنياميں کوئي بھي انسان بے عيب نہيں ہے۔ لہٰذا اگر آپ کے (زندگي کے ساتھي کا وہ عيب اپنے معالجے کي مدّت گزاررہا ہے تو اُس مدّت ميں اور اگر وہ ناقابلِ اصلاح ہے تو آپ کو چاہیے کہ ہميشہ کيلئے) اُسے تحمل کريں۔ کيونکہ اُسي وقت آپ کي بيوي بھي آپ کے وجود کو آپ کے عيب کے ساتھ برداشت کررہي ہے۔ انسان کو اپنا عيب نظر نہيں آتا (خواہ کتنا ہي بڑا کيوں نہ ہو) ليکن اُسے دوسرے کا (چھوٹا سا)عيب بھي نظر آجاتا ہے۔ بس آپ کو چاہیے کہ اُسے برداشت کريں۔ اگر آپ نے ديکھا کہ وہ قابل اصلاح ہے تو اُسکي اصلاح کيجئے اور اگر وہ قابلِ علاج و اصلاح نہيں تو اُسي کے ساتھ اپني زندگي کي تعمير کيجئے۔

خاندان کي نابودي کا سبب

اسلام نے گھر کے اندروني ماحول کيلئے ايک اصلاحي اور تربيتي نظام مقرر کيا ہے تاکہ گھر کا اندروني اختلاف خود بخود حل ہوجائے۔ مردکو حکم ديا گيا ہے کہ وہ تھوڑے تحمل، رعايت اور توجہ سے کام لے جبکہ بيوي کے ليے حکم يہ ہے کہ وہ بھي تھوڑي برداشت، تآمُّل اور غور و فکر کو اپني زندگي ميں جگہ

دے۔ اگر يہ تمام چيزيں عملي صورت اختيار کرليں تو علي القاعدہ کوئي ايک گھر بھي برباد نہيں ہوگا۔

اکثرخاندانوں اور گھرانوں کي بربادي کي وجہ ان تمام دستوار و احکام کو بے اہميت شمار کرنا اوراُن پر عمل نہ کرنا ہے۔ مرد ہے کہ تحمل اور رعايت کرنے کو اپني ناک کا مسئلہ بناتا ہے اور بيوي ہے کہ عقل و ہوش سے کام لينے کے بجائے ميري بات، ميرا کام، ميري مرضي کي رٹ لگائے رہتي ہے۔ گھر کا مرد بے انتہاغصے اور گرماگرمي سے گھر کے گلستان کو آگ لگاتا ہے تو خاتونِ خانہ بے صبري سے گھر کي بساط الٹتي ہے۔

يہ تمام کام غلط ہيں۔ مرد کا غصہ بھي غلط ہے اور عورت کي سرکشي بھي بے بنياد اور غير منطقي۔ اگر مرد غصہ نہ کرے يا اس سے کوئي غلطي اور اشتباہ سر زد نہ ہوتو بيوي بھي سرکشي اور بے صبري نہيں کرے گي۔ انہيں چاہیے کہ ٹھنڈے دماغ، باہمي رضامندي اور تعاون سے زندگي کي تعمير کريں۔ اگر ايسا ہو تو کوئي بھي خاندان يا گھرانہ نابود ہونے کے بجائے باقي رہے گا۔

دو طرفہ موافقت و ہمراہي

قديم زمانے ميں ہمارے بزرگ بيٹي کي رخصتي کے وقت يہي کہتے تھے کہ ’’بيٹي تم جس گھر ميں جارہي ہو اب وہاں سے تمہارا جنازہ ہي نکلے‘‘۔ يعني وہ ہر حالت ميں شوہر کي موافق و ہمراہ ہو (خواہ حالات اُس کے موافق ہوں يا مخالف )۔ گويا وہ مرد حضرات کيلئے اِس موافقت، ہمراہي اور اتفاق کے قائل نہيں تھے، جناب يہ درست بات نہيں ہے! اسلام اس کي تائيد نہيں کرتا (کہ ساري قيد و شروط بيوي کيلئے ہوں اور شوہر اُن سب سے آزاد ہو!) بلکہ وہ يہ دستور ديتا ہے کہ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے لڑکے اور لڑکي دونوں مل کر باہمي رضامندي، اتفاق اور تعاون و ہمراہي سے کام کريں اورمل کر زندگي کي تعمير کريں۔ اُن کي مشترکہ زندگي کي بنياد ايسي بات پر قائم ہوني چاہیے کہ وہ اپني گھريلو زندگي اور خانداني نظام کو سالم، کامل، آرام اور ايک دوسرے کے عشق و محبت کو درک کرنے کے ساتھ چلائيں، اس راہ پر قدم اٹھائيں اور اس کي حفاظت کريں۔ اگر وہ يہ کرنے ميں کامياب ہوگئے تو چونکہ اسلام کے بتائے ہوئے تربيتي نظام کے مطابق اس کام کو انجام دينا کوئي مشکل کام نہيں ہے تو اس صورت ميں يہ صحيح و سالم گھرانہ ہوگا کہ جسے اسلام پسند کرتا ہے۔


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

پانچواں مرحلہ

ہنستي مسکراتي اور خوشحال زندگي

دريچہ

زندگي کي مٹھاس اور شيريني دراصل مياں بيوي کي عقلمندي مہارت اور ايک دوسرے کے حقوق و آداب کي رعايت کرنے سے حاصل ہوتي ہے۔

ہمارے پيارے نوجوان لڑکے لڑکيوں کو اپنے نئے سفر کے آغاز ميں اپني مشترکہ زندگي کي لازمي ضروريات اور ذہني اور فکري توانائي کے حصول کے ليے خود کو بہت زيادہ مشقت کا محتاج سمجھنا چاہیے۔

اس طرح اُن کي زندگي روز بروز شيريں اور جاذب ہوتي جائے گي۔

کامياب ازدواجي زندگي کے اس مرحلے پر ہمارا مہربان رہبر اپني قوم کے نوجوانوں کو ايک خوشحال اور ہنستي مسکراتي زندگي تک جانے والي راہوں کي نشاندہي کررہا ہے۔

عملي شکر سب سے زيادہ اہم ہے

شکر کا مقصد صرف زبان سے’’خدايا تيرا شکر‘‘ کہنا اور سجدہ شکر بجا لانانہيں ہے۔ نعمت کا شکرانہ ہے کہ انسان نعمت کو پہچانے۔ اُسے چاہیے کہ وہ يہ جانے کہ يہ نعمت خداوندِ عالم نے اسے عطا کي ہے، لہٰذا اس نعمت سے ايسا استفادہ اور سلوک اختيار کرے جو خدا کي مرضي و پسند کے عين مطابق ہو۔ يہ ہے نعمت کے شکرانے کا مفہوم۔

اگر زبان سے تو ’’شُکْراً لِلّٰہ‘‘ کہيں ليکن آپ کا دل ميرے ان بيان کردہ مفاہيم سے نا آشنا ہو تو يہ شکر نہيں ہے۔ شادي بھي خداوند عالم کي نعمتوں ميں سے ايک نعمت اور ہديہ ہے۔ خداوند متعال نے بہترين شريکِ حيات يا شريکہ حيات آپ کو دي ہے۔ پس آپ کو چاہیے کہ اس نعمت کا کماحقہ شکر بجالائيں۔

زندگي کے رازوں کي حفاظت کيجئے

شوہر اور بيوي دونوں کو چاہیے کہ اپني زندگي کے اسرار کي حفاظت کريں۔ نہ بيوي اپنے شوہر کے رازوں کو کسي کے سامنے اِفشا کرے، اسي طرح مرد بھي مثلاً اپنے دوستوں ميں، کسي کلب يا دعوت ميں اپني بيوي سے متعلق باتوں کو بيان نہ کرے۔ آپ ان باتوں کا مکمل خيال رکھيے اور راز اور ذاتي باتوں کي حفاظت کيجئے تاکہ ان شائ اللہ آپ کي زندگي مستحکم اور شيريں ہوسکے۔

ايک دوسرے کے غمخوار بنیے

ايک دوسرے کي حقيقي مدد يہ ہے کہ دو انسان ايک دوسرے کے دلوں سے غموں کے بھاري بوجھ کو دور کريں۔ ہر ايک اپني زندگي ميں ايک خاص قسم کے مسائل ميں گرفتار اور مشکل ميں پھنسا رہتا ہے اور ممکن ہے کہ کسي قسم کے شک و ترديد کا شکار ہوجائے۔ يہ اُس کے جيون ساتھي کا فرض ہے کہ ايسے نازک موقع پر اپنے ساتھي کي مدد کے ليے جلدي کرے اور اُس کا ہاتھ تھامے، غم و اندوہ کو اس کے دل سے دور کرکے اس کي راہنمائي کرے اور اس کے شک و شبہہ کو دور اور غلطي کي اصلاح کرے۔

سادہ زندگي اور ميانہ روي

آپ سادہ زندگي گزاریے۔ البتہ يہ بات ضروري ہے کہ ہم بہت زيادہ زہد و تقويٰ کے مالک نہيں ہيں لہٰذا اُس ميں آخري درجے کے زہد و تقويٰ کا تصور نہ کيجئے۔ وہ سادہ زندگي جس کي ہم بات کررہے ہيں وہ زاہد و عابد افراد کے زہد و تقويٰ کے تصور سے بہت مختلف ہے۔ يہ سادگي، لوگوں کي عام روز مرّہ زندگي کے امور سے متعلق ہے۔ وہ سادگي جو ہم نے اختيارکي ہے اگر خدا کے مقرب بندے اسے ديکھيں تو شايد ہماري سادگي کے مفہوم پر ہزاروں اعتراضات کريں۔

کوشش کیجئے کہ آپ کي زندگي اسراف و فضول خرچي کي بنيادوں پر قائم نہ ہو اور آپ اپني زندگي کو سادہ بنائيں۔ اپني زندگي کو خداوند متعال کي پسند کے مطابق گزاریے اور طيّباتِ الٰہي (خدا کي پسنديدہ اور پاک و پاکيزہ چيزوں) سے بہرہ مند ہوں ليکن اعتدال اور ميانہ روي کے ساتھ۔ اعتدال بھي ضروري ہے، ميانہ روي بھي اور عدالت بھي۔ اپني زندگي ميں انصاف کو حاکم بنائیے اور ديکھئے کہ دوسرے کيسي زندگي گزاررہے ہيں۔ اپنے اور دوسروں کے درميان زيادہ فاصلہ ايجاد نہ کيجئے۔

مختلف افراد اور خاندانوں کي سعادت کے اسباب ميں سے ايک سبب يہ ہے کہ بے جا اور فضول قسم کے قوانين، خيالي شان و شوکت اور اسٹيٹس والي زندگي سے دوري اختيار کي جائے اور مادي امور کو حدّ لازم سے زيادہ اہميت نہ دي جائے اور نہ ہي انہيں اپنے سر پر سوار کيا جائے۔ يا کم سے کم يہ کوشش ہوني چاہیے کہ يہ اوپر کے خرچے اور غير اضافي خريداري اور غير ضروري لوازمِ زندگي آپ کي اصلي (اور روز مرّہ) زندگي کا حصّہ شمار نہ ہوں بلکہ وہ ايک ’’طرف‘‘ (جانبي) اور سائيڈ کي چيز ہوں۔ زندگي کي بنياد کو ابتداہي سے سادگي کے ساتھ اٹھانا چاہیے اور زندگي کي فضا ايسي فضا ہو جو (افرادِ خانہ کے لئے) قابلِ تحمل ہو۔ سادہ زندگي گزارنا رفاہ اور آسائش سے منافات نہيں رکھتا ہے۔ آسائش بھي درحقيقت سادہ زندگي گزارنے کے سائے ميں ہي حاصل ہوتي ہے۔

ہار جيت کے بغير مقابلہ

خود کو ہوس و رقيب بازي، فضول خرچي اور مادي زرق و برق کا اسير نہيں بنائیے اور کوشش کيجئے کہ زندگي ميں مادّيت کي دوڑ ميں شريک نہ ہوں۔ کوئي بھي اِس دوڑ ميں خوش بخت اور کامياب نہيں ہوسکتا۔ زندگي کي يہ ظاہري زرق و برق اور چمک دمک کسي بھي انسان کو نہ تو خوش بخت کرتي ہے اور نہ ہي اُسے خوشحال اور مطمئن بناتي ہے۔ حقيقت تو يہ ہے کہ انسان کے ہاتھ جو کچھ آتا ہے اُس کے نتيجے ميں اُس کي ہوس کم ہونے کے بجائے بڑھتي ہي رہتي ہے اور يوں وہ ايک بہتر سے بہتر چيز کي تلاش اور خوب سے خوب تر کي جستجو ميں ہي زندگي گزارديتا ہے۔ شريعت نے ہميں زندگي گزارنے کا ايک اصول ديا ہے کہ ’’اَلْعِفَافُ وَاَلْکِفَافُ‘‘يعني وہ زندگي جو آساني سے گزاري جا سکے کہ جس ميں تنگي نہ ہو اور انسان کسي کا محتاج نہ ہو۔ آپ بھي اس طرح آگے قدم بڑھائیے۔

کفايت والي زندگي!

عيش و آرام، ٹھاٹھ باٹھ، پيسے کي ريل پيل، زبردستي کے خرچے پاني، اضافي خريداري اور فضول خرچي والي زندگي انسانوں کو بد بخت بناديتي ہے۔ يہ اچھي بات نہيں ہے۔ زندگي آرام اور کفايت کے ساتھ گزارني چاہیے يعني اعتدال اور ميانہ روي کے ساتھ نہ کہ پُر خرچي اور اسراف کے ساتھ۔ ان چند چيزوں کو بعض افراد باہم ملا کر کيوں غلطي کرتے ہيں۔

کفايت والي زندگي اور کافي زندگي کا مقصد روپے پيسے، غذا اور وسائلِ زندگي کي بہتات اور فراواني نہيں ہے بلکہ مراد يہ ہے کہ انسان کسي کا محتاج نہ ہو اور وہ کسي کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے تاکہ وہ ضرورياتِ زندگي کے ليے اپنے پاس موجود کافي مقدار ميں وسائل زندگي سے اپني زندگي چلا سکے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہنسي خوشي اور قناعت کا مالک .بھي ہو و اِلَّا زيادہ درآمد و تنخواہ، اوپر کے اخراجات اور ٹھاٹھ باٹھ سے زندگي اچھي اور خوشحال نہيں ہوسکتي۔ يہ چيزيں کسي بھي صورت ميں انسان کو حقيقي آرام اور خوشحالي نہيں دے سکتيں ہيں۔

زندگي کو سادہ انداز سے گزارئیے اور جتني بھي اس راہ ميں کوشش کرسکتے ہيں، کيجئے۔ البتہ ہماري مراد ہر گزيہ نہيں ہے کہ گھر کے مرد حضرات اور سر پرست خشک اور زور زبردستي کے زہد و تقويٰ کے ذريعے اپنے اہل و عيال اور نزديکي افراد پر سخت گيري کريں اور وہ تنگي ميں زندگي گزاريں۔ ہماري ہر گز يہ مراد نہيں ہے بلکہ ہماري خواہش يہ ہے کہ معاشرے کے تمام افراد اپنے عقيدے، ايمان و عشق اور دل کي رضايت و خوشي سے ايک حدپر قانع رہيں۔

کتنا ہي بہتر ہو کہ آپ کي زندگي سادہ ہو اور آپ خود کو اسٹيٹس (نام نہاد حيثيت و آبرو )اور زندگي کي زرق و برق کا اسير نہ بنائيں۔ اگر آپ اس اسٹيٹس کي دوڑ ميں شريک ہوگئے تو اسے چھوڑنا سخت ہوگا۔ اگر کوئي يہ چاہتا ہے کہ اس زمانے ميں سادہ زندگي گزارے تو وہ يہ کام کرسکتا ہے۔ ايک زمانہ تھا کہ يہ کام سخت اور مشکل تھا۔ اگر چہ کہ بعض افراد اپنے ہي ہاتھوں اس کام کو مشکل بناتے ہيں۔ اپنے لباس، خوراک، مسکن، اسٹيٹس اور دنياوي زرق و برق کواپنے اوپر اس حد تک سوار کرليتے ہيں کہ اُسے آسان بنانا دشوار ہوجاتا ہے۔

قناعت سب کے ليے مفيدہے

ميں آپ کي خدمت ميں عرض کرتا ہوں کہ ہم، آپ کو حضرت سلمان فارسي ۲ اور حضرت ابوذر ۲ کے زہد کي طرف دعوت نہيں دے رہے ہيں۔ ہم، آپ اور سلمان ۲ و ابوذر ۲ ميں بہت زيادہ فاصلہ ہے۔ ہم ميں ہر گز اس بات کي طاقت نہيں ہے کہ ان درجات، بلنديوں اور اعليٰ مقامات تک پہنچيں يا فرض کريں اور آساني سے دل ميں ان مقامات کي آرزو کريں۔ ليکن آپ کي خدمت ميں يہ عرض کروں کہ اگر ہمارے اور اُن کي زندگي کے درميان ہزار درجات کا فاصلہ ہے تو اُس فاصلے کو ١٠ درجات، ٢٠درجات اور ١٠٠ درجات سے کم کيا جاسکتا ہے اور اس طرح ہم خود کو اُن کي زندگي کے نزديک کرسکتے ہيں۔ آپ کو چاہیے کہ قناعت کريں اور قناعت کرنے سے ہر گز شرم محسوس نہ کريں۔

بعض لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ قناعت کرنا صرف فقير، خالي ہاتھ اور بے چا رے افراد کا کام ہے اور اگر آدمي کے پاس مال و دولت ہے تو وہ دل کھول کر خرچ کرے اور اُسے قناعت کي کيا ضرورت ہے؟ يہ غلط خيال ہے! آپ کو زندگي اور اُس کے وسائل کي جتني ضرورت ہے فقط اُسے ہي استعمال ميں لائیے، صرف لازمي حدتک ، نہ فضول خرچي کي حد تک۔ کفايت کي حد تک وسائل زندگي استعمال کريں کہ جو انسان کي ضروريات اور اُس کي حاجات کا جواب دينے کے ليے کافي ہو، يعني انسان کسي کا محتاج نہ ہو۔ يہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو توقف کرنا چاہیے۔

زندگي سے بے جا اُميديں، غير ضروري اور زيادہ توقعات وابستہ کرنا در حقيقت انسان کي معاشي تنگي اور خود انسان کي اپني پريشاني کا سبب بنتا ہے۔ اگر انسان اپني زندگي سے توقع اور اميديں کم رکھے تو يہ اس کي سعادت کا باعث ہوگي۔ يہ صرف انسان کي آخرت کيلئے ہي اچھي اور سود مند نہيں بلکہ اُس کي دنيا کے ليے بھي فائدہ مند ہے۔

آپ کي پوري کوشش اس بات پر ہوني چاہیے کہ شان و شوکت ميں آگے بڑھنے اور اسٹيٹس کي دوڑ سے دور رہ کر سادہ زندگي گزاريں۔ اور وہ ايسي زندگي ہو کہ جو معاشرے کے متوسط طبقے کے ساتھ مطابقت رکھتي ہو۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ اس بارے ميں معاشرے کا نچلا طبقہ آپ کے مدِّنظر ہو، نہيں! بلکہ آپ متوسط طبقے کو ديکھئے ليکن آپ ماديت کي دوڑ کو اہميت و توجہ نہ ديں۔ ٹھيک ہے کہ ہر جگہ ايک مقابلہ اور دوڑ لگي ہوئي ہے۔ جس طرح خدا کي جنّت کي راہ ميں دوڑ لگي ہوئي ہے اسي طرح دنيا کي خيالي جنت کيلئے بھي مقابلہ جاري ہے، اس کي زرق و برق اور شان و شوکت، مقام و قدرت اور شہرت طلبي کيلئے بھي دوڑ لگي ہوئي ہے۔ سب اس مقابلے ميں شريک ہيں ليکن يہ مقابلہ صحيح نہيں ہے۔ آپ ميں سے جو بھي مادہ پرستي اور ماديّت کي دوڑ ميں شريک ہو تو اس کا جيون ساتھي اسے (پيار ومحبت سے)منع کرے اور ايک ناصح کي طرح اس سے برتاؤ کرے۔ بہرحال انسان کو چاہیے کہ زندگي کے تمام مراحل ميں ميانہ روي، قناعت متواضعانہ اور سادہ طريقہ زندگي کو فراموش نہ کرے اور يہي اسلام کي نظر ہے۔

شادي کي تقريب سے آغاز کريں

آپ کو چاہیے کہ زندگي کے تمام امور ميں سادگي کو اپنائيں اور اس کي ابتدا شادي کي تقريبات سے ہوني چاہیے کيونکہ ساري چيزيں يہيں سے شروع ہوتي ہيں۔ اگر شادي کي تقريبات، سادہ منعقد ہوں تو آنے والے دوسرے اقدامات بھي سادہ ہي ہوں گے۔ اگر ايسا نہ ہوا اور آپ نے عياش، فضول خرچ اور اسراف پسند متمول افراد کي طرح شادي کي تقريبات منعقد کيں تو آپ بعد ميں ايک چھوٹے سے گھر جاکر مختصر سے وسائلِ زندگي کے ساتھ زندگي گزارنے پر قادر نہيں ہوں گے۔ بعد ميں ايسا نہيں ہوسکے گا کيونکہ ازدواجي زندگي کي ابتدا اور بنياد ہي خراب ہوچکي ہے اور وہ وقت ہاتھ سے نکل گيا ہے۔

آپ کو چاہیے کہ زندگي کو سادہ زيستي اور سادگي پر کھڑا کريں تاکہ يہ زندگي خود آپ پر، آپ کے اہل و عيال، عزيز واقارب اور معاشرے کے افراد کے ليے آسان ہو، ان شائ اللہ۔

اپنے والدين کا بھي خيال رکھيے

بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ معاشرے ميں اسٹيٹس (نام نہاد حيثيت و عزت) کي اِ س دوڑ نے شادي کي پُرخرچ محفلوں(مہندي، مايوں اور چوتھي کي اسراف سے ) پُر اور غير ضروري تقريبات(۱) ، آسمان سے باتيں کرتي ہوئيں مہر کي رقموں، جہيز کي لمبي لمبي لسٹوں اور بڑے بڑے شاندار ہوٹلوں اور شادي ہالوں ميں شاديوں نے معاشرے کے اخلاق کو بہت بگاڑ ديا ہے!

آپ بيٹے اور بيٹياں جو داماد اور بہو بن رہے ہيں آپ کو چاہیے کہ اس بُت کو گرانے کيلئے پہلا قدم آپ اٹھائيں۔ آپ کہیے کہ ہميں ايسي شادي اور ايسي تقريبات نہيں چاہیے اور ہميں اس جہيز کي بہتات، اسراف والي تقريبات اور بڑے بڑے اور شاندار ہوٹلوں ميں شاديوں اور فنکشنوں کي کوئي ضرورت نہيں ہے۔ جب معاشرہ مشکل اور سختي ميں ہوا اور جب اُس پر فقر کي بدحالي سايہ فگن ہو تو انسان کودوسروںکي صورتحال پر توجہ کرني چاہیے۔

ہم شادي کرنے والے لڑکے اور لڑکيوںکو اس بات کي تاکيد کرتے ہيں کہ والدين سے اصرار اور ضد و بحث نہ کريں، اُن سے زيادہ نہ چاہيں اور ايسا نہ ہو کہ وہ آپ کي خواہشات کے دباؤ ميں آکر شرما حضوري سے کام ليں اور قرضوں تلے دب جائيں۔

ميں اور آپ، سب کو چاہئے ان چيز کو دور پھينکيں۔ شادي درحقيقت صرف ايک مقدس ترين انساني رشتے کا ملاپ ہے۔ يہ ملاپ کيوں اور کس ليے ہے؟ دونوجوانوں کا مل کر گھر بسانا اور نئي زندگي بسر کرنا۔ يہ دنياکا سب سے زيادہ انسانيت والا کام ہے لہٰذا اسے مادي اور پيسے والا نہ بنائیے۔ يہ آپ کي ذمہ داري ہے کہ اُسے ان خواہشات، رسومات اور روايات سے آلودہ نہ ہونے ديں۔ اگر شادي کرنے والے لڑکے اور لڑکياں اہلِ قناعت اور سادہ زندگي کے حامي ہوں تو گھر و خاندان کے بڑے بھي ان کي پيروي کرنے ميں مجبور ہوجاتے ہيں۔

____________________

١ مختلف خاندانوں کے مختلف آداب و رسومات نے بھي اجتماعي اخلاق کو بگاڑنے اور شادي جيسے مقدس امر کو مشکل بنانے ميں کوئي کسر نہيں اٹھارکھي ہے۔ کہيں بھات کي رسم ہے تو کہيں نيگ و سلامي کي اور اسي طرح کي مختلف رسميں کہ جن کي وجہ سے متوسط گھرانے کے والدين سالہا سال قرضوں ميں دبے رہتے ہيں۔ لڑکيوں کي عمريں نکلي جارہي ہيں اور والدين اس دن کي اُميد ميں آس لگائے بيٹھے ہيں کہ جب اُن کي لڑکي کے ہاتھ پيلے ہوں اور وہ اپني زندگي کا آغاز کریں۔ سادہ شادي ہي اس کا واحد علاج ہے۔ آئیے اپني خواہشات کو قربان کرکے معاشرے ميں سادي شاديوں کي بنياد رکھ کر اس ثوابِ جاريہ کا آغاز کريں۔(مترجم)


حجاب اور عفّت

اسلام، حجاب اور پردے کے بارے ميں دستور رکھتا ہے۔ قرآن نے حجاب کے بارے ميں حدود و قوانين کو بيان کرتے ہوئے اور مرد اور عورت دونوں کے ليے الگ الگ حکم صادر کيے ہيں۔ يہ سب احکامات خودلوگوں ہي کيلئے ہيں اور صرف اس ليے ہيں کہ گھر آباد، خوشحال اور گھروالے خوش بخت ہوں۔ يہ نوجوان دلہنيں جو کسي بھي صورت ميں اپنے شوہروں کا ہاتھ چھوڑنا نہيں چاہتي ہيں اور يہ نوجوان لڑکے جو اپني محبوب شريکہ حيات کي جدائي کا تصور بھي نہيں کرسکتے چنانچہ يہ کام حجاب کي حدود اور اس کے قوانين کا لحاظ کيے بغير نہيں ہوسکتا۔ قرآني آيات اس طرح کي حکمت و دانائي سے بھر پور اور گہري ہيں۔

يہ محرم و نامحرم کے مسائل، حجاب و پردے اور عورت کي حفاظت يہ سب کس کے ليے ہے؟ يہ قرآني حکم’’قُلْ لِلْمُوْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبصَارِهِم وَ يَحْفَظُوْا فُرُوجَهُمْ وَقُلْ لِلْمُوْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ‘(۱) ١ ۔(اے رسول ۰ آپ مومن مرد اور مومن عورتوں سے کہہ ديجئے اپني نگاہوں کو نيچي رکھيں اور اپني شرمگاہوںکي حفاظت کريں) ہر چيز کيلئے اپني آنکھيں نہ کھولو اور ہر چيز پر نگاہ نہ ڈالو۔ يہ اس ليے ہے کہ مياں بيوي آپس ميں مہربان اور وفادار رہيں۔

وہ مرد اور عورت جو دنيا کے بد ترين معاشروں ميں اپني خواہشاتِ نفس پر عمل کرتے ہوں، ہر بُرا راستہ انہوں نے طے کيا ہو، جس طرح اُن کے دل نے کہا بُرائي انجام دي ہو اور جس سے بھي چاہا اس سے تعلق قائم کرچکے ہوں تو اب اُن کيلئے گھرانے کي پُر محبت فضا کي کيا اہميت ہوگي؟ کچھ بھي نہيں! اور اُن لوگوں نے ان سب کانام رکھا ہے ’’آزادي‘‘۔ اگر يہ آزادي ہے تو يہ بشريت کے ليے سب سے بڑي بلا ہے۔

وہ مرد جو اپني خواہشات کے مطابق جس خاتون سے چاہے لذّت اٹھائے تو اُس کي نہ کوئي لگام ہے اور نہ وہ کسي حدود اور قانون کا پاس رکھتا ہے اور وہ عورت جو حيا، عفّت اور حجاب سے آراستہ نہ ہو تو اُس کي بھي حفاظت کا کوئي انتظام نہيں ہے۔ ايسے مرد و عورت اپني بيويوں اور شوہروں کيلئے کسي قسم کے بھي احترم و اہميت کے قائل نہيں ہيں۔ ليکن اسلام کے ازدواجي نظام ميں مياں بيوي ايک دوسرے کي نسبت ذمے دار، جوابدہ اور ايک دوسرے کو پسند کرنے والے ہيں۔ جہاں وہ ايک دوسرے کے ضرورت مند ہيں اور ان کا وجود ايک دوسرے سے وابستہ ہے۔ اسلام ميں ان قوانين کا عظيم اور طولاني سلسلہ کس ليے ہے؟ اس ليے کہ ايک خاندان کي بنياديں مستحکم ہوں، مياں بيوي ايک دوسرے سے خيانت نہ کريں اور ہميشہ ايک دوسرے کے ساتھ زندگي گزاريں۔

____________________

١ سورہ نور آيت ٣١ ۔٣٢، اس ميں ہميں يہ حکم ديا گيا ہے کہ اپني نگاہوں ميں سے کچھ نگاہوں کو (جو حرام و شبہات کي طرف اُٹھتي ہوں)نيچي رکھيں نہ کہ ہروقت آنکھوں کو بند رکھيں۔


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

چھٹا مرحلہ

تذکُّر اور يا د دہاني

دريچہ

زندگي کي خو شحا لي اور شیر یني، میا ں بیو ي کي با ہمي شر اکت و تعا و ن ، عقلمند ي اور ایک دوسر ے کے حقوق

کي ر عا یت کر نے کي مرہونِ منت ہے حضرت عليفر ما تے ہيں کہلِکُلِّ شَيْئٍ آفَة (۱) ’’اس عا لم میں ہر چیز کیلئے ایک آفت وبلا ہے‘‘ ۔

ہر ذي قیمت اور اہمیت و الي چیز کي بہتر ین حفا ظت اور بہتر اند از میں اس سے استفا د ہ کر نے کیلئے سب سے پہلے اس کي آفتو ں سے آگا ہي حا صل کر ني چاہیے۔

اس کے بعد عقلمندي اور ہوش و درايت سے اس کي پائيداري اور حفاظت کے ليے قدم اٹھايا جائے۔ یہ د نیا کي ز ند گي کا قا نو ن ہے۔

چیز جتني زیا دہ قيمتي ہو گي اس کي آفا ت بھي اُس قد ر زیا د ہ اور خطر نا ک ہو ں گي۔

مشتر ک از دواجي زند گي کہ جو ایک مقد س عہد و پیما ن سے شر و ع ہو تي ہے،

انسانوں کے ليے خد ا و ند عا لم کي عظیم الشان نعمتو ں میں سے ایک نعمت ہے لیکن سا تھ ہي بہت سي آفتوں ميں بھي گھري ہوئي ہے۔

چشم بينا، نوجو ان ہمسر کي سنجید گي و تو جہ اور ر استے کي آفا ت کي صحيح شنا خت ہي شيطاني آفتوں سے نجا ت کي ر ا ہ ہے۔

بید ار ر ہنما اور عقلمند و آگا ہ ہاد ي اس با ر ے میں آنے و الے خطر ا ت سے ہمیں آگا ہ کر ر ہا ہے۔

____________________

١ بحار الانوار، جلد ٧٠، صفحہ ٢٢٨


ایک دو سر ے کے حسد او ر غیر ت کو نہ جگا ئیے

میں ہمیشہ نوجوان شوہروں کو اس با ت کي تاکید کر تا ہوں کہ آپ نامحرم خو اتین کے ساتھ معاشرت اور نشت و برخاست بلکہ اپني محرم خواتین کے ساتھ ايسا کوئي کام اور بات نہ کریں کہ جس کي وجہ سے آپ کي بیویاں حسد کر نے لگیں۔ اس طر ح نوجوان بیویوں کي خدمت میں تاکید اًعر ض کرتا ہوں کہ وہ اجنبي اور نامعلوم افراد کے ساتھ کوئي کام انجام نہ دیں اور اُن سے گفتگو نہ کريں تاکہ آپ کے شوہروں کي غیرت و حسد نہ جاگے۔ یہ حسد انسان کو بدبین بناتا ہے اور محبت کي بنیادو ں کو کمزور کرکے اُسے جڑ سے ختم کردیتا ہے۔

میاں یا بیوي کي تحقیر، خاند ان کي نابودي کا آغاز

ظلم، اہانت اور بغیر کسي وجہ کے ترجيحي رویہ اختیار کرنا ہر حال میں غلط و ناپسندیدہ ہے۔ اگر آپ دنیا کے سب سے بہترین مرد ہوں اور آپ اپني تعلیم، معلومات اور دیگر جہات سے مکمل انسان ہوں تو آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ایک نچلے طبقے کي کم پڑھي لکھي خاتون کے ساتھ چھوٹا سا بھي ظلم کریں اور اس کي اہانت کریں۔ عورت، عورت ہي ہے تا قیامت۔ آپ کو اس کي چھوٹي سے چھوٹي اہانت کا بھي ہر گز حق حاصل نہیں ہے۔یہ صرف ہم ہي سے مخصوص نہیں، یہ پرفیوم میں نہائے ہوئے سوٹ بوٹ والے یو رپي کبھي دوسرے معاشروں کے باشندوں پر بدترين انداز میں ظلم کرتے ہیں۔ مرد، عورت سے کتنا ہي بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو، اُسے یہ حق نہیں کہ اپني بیو ي پر ظلم و جفا کرے۔

بیوي کیلئے بھي یہي حکم ہے۔ کبھي کبھار ایک پڑھي لکھي خاتون ایک عام سے نوکري والے یا مزدور سے شادي کرتي ہے چنانچہ اُسے بھي یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے شوہر کي تحقير کرے۔ اس کا شوہر کیسا بھي ہو بہرحال اپني بیوي کي تکیہ گاہ ہے اور بیوي کو اُسي پر تکیہ اور بھروسہ کرنا چاہیے۔

یہ بیوي کي ذمہ داري ہے کہ وہ روحي طور پر اپنے شوہر کي ایسي حفاظت کرے کہ اُس پر تکیہ کرسکے۔ اگر ایسا ہو تو یہ صحیح و سالم گھرانہ ہے۔ اگر آپ نے اس طرح اپنے گھر کو بسایا تو جان ليے کہ آپ نے اپني خوش بختي کے ایک اساسي رکن کي حفاظت کرلي ہے ۔

آئیڈیل کي تلاش میں افراط سے کام لینا

لڑکے اور لڑکیوں کو چا ہیے کہ زندگي کے آئیڈیل کے پیچھے نہ بھاگیں۔ شا دي میں کوئي بھي آئیڈیل نہیں ہوتا ہے اور نہ ہي انسا ن اپنے آئیڈیل کو ڈھونڈسکتا ہے۔ اُنہیں چا ہیے کہ مل جل کر زندگي کي تعمیر کریں۔خداوند عالم ان کي زندگي کو شیریں کرے گا، انہیں برکت عطا کرے گا اور اُنہیں رضا ئے الٰہي حاصل ہوگي، ان شائ اللہ۔

شادي کے ابتد امیں جب میاں بیوي ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو انہیں سامنے سب کچھ اچھا اور خوبصورت ہي نظر آتا ہے،کچھ مدت بعد وہ کہتے ہيں کہ ٹھيک ہے،مناسب ہے،اس کے بعد نقائص،کمي و کوتاہي اور کمزورياں آہستہ آہستہ دونوں ميں نظر آنے لگتي ہيں۔ليکن ان تمام باتوں کو مياں بيوي کے ليے سرد مہري اور دل کي تنگي کا باعث نہيں بننا چاہيے۔ بلکہ انہي کوتاہيوں اور کمزور يوں کے ساتھ ہي زندگي گزارني چاہیے کيونکہ آئيڈيل اور بے عيب مرد اور عورت اس عالم ہستي ميں کہيں بھي نہيں مل سکتے۔

غير شرعي معاشرت

وہ مرد جو غير نامحرم خواتين سے سروکار رکھتا ہے تو مختلف سطح پر دوجگہ اس کي جبلي خواہشات کي سيرابي کا امکان موجود ہے۔ ايسا آدمي جو کبھي بھي فطري خواہشات کي سيرابي کيلئے اپني بيوي پر اکتفا نہيں کرے گا۔يہ اس مرد کي مانند نہيں ہے کہ جو کسي بھي نامحرم عورت پر نظريں نہيں اٹھاتا ہے۔ يہ جو کہا جاتا ہے کہ عورت اجتماعات اور محفلوں ميں نامحرم مردوں سے مخلوط نہ ہو،اسي ليے ہے کہ يہ عورت صرف اپنے شوہر کو اپنا دل دے، اور اسي کي عاشق ہو۔

اگر اس عورت کي حالت يہ ہو کہ اس کا شوہر اس کيلئے عام سا انسان اور معمولي شوہر ہوجائے تو اس مرد کي عورت کي نگاہوں ميں کوئي وقعت وحيثيت نہيں ہوگي جيسا کہ آجکل ہميں مغربي معاشرے ميں نظر آرہا ہے۔ ايسي عورت کہتي ہے کہ ميرے اپنے شوہر سے بني بني اور نہيں بني تو نہيں بني، ميں طلاق لے لوں گي اور قصے کويہيں تمام کردوں گي۔ تم اپني راہ لو اور ميں اپني راہ! يہ بہت بري صورتحال ہے۔کچھ خواتين ايسي ہيں جو اس بات کي کوشش کررہي ہيں کہ خواتين کي حالت ايسي ہوجائے۔يقين رکھيے يہ بات خود خواتين کيلئے مضر ہے اور انہيں کبھي فائدہ نہيں پہنچاسکے گي کيونکہ يہ سوچ، خاندان کي بنيادوں کو متزلزل کر ديتي ہے۔

گھر کي چار ديواري اور عفت و نا موس ،گھر کے محافظ ہيں

محرم و نامحرم، حجاب، نگاہ کرنے اور نگاہ نہ کرنے کے مسائل اور غير صحيح اور نقصاندہ طريقہ زندگي يہ وہ چيز يں ہيں کہ جن کي اسلام ميں بہت زيادہ تاکيد کي گئي ہے۔بعض(اسلامي)ممالک ميں اور جہاں اسلام نہيں ہے وہاں ان چيزوں کا خيال نہيں رکھا جاتا ہے۔

صحيح ہے کہ يہ مسائل مرد و عورت کيلئے ايک خاص قسم کي محدوديت کا باعث بنتے ہيں ليکن شريعت نے ان قوانين کو خانداني نظام زندگي اور ايک گھرانے کي بنيادوں کے استحکام، پائيداري، اسکي حفاظت اور خوشحالي کيلئے وضع کيا ہے۔اگر ان مسائل و قوانين ميں ہر انسان تدبر و تآمل کرے تو وہ حکمت کے بيش بہا گوہروں کو موجود پائے گا۔

يہ جو آپ ديکھتے ہيں کہ اسلام ميں محرم و نامحرم کے مسائل اور مرد و عورت کے الگ الگ ہونے پر اتني زيادہ تاکيد کي گئي ہے يہ دقيانوسي اور فرسودہ باتيں نہيں ہيں کہ جو انسان کو پتھر کے زمانے کي طرف ماضي ميں لے جائيں۔ يہ باتيں دراصل انساني اور بشري مفاہيم کا اہم ترين حصہ ہيں۔ ان ميں سب سے اہم ترين عنصر يہ ہے کہ خاندان کي بنياديں مستحکم ہوں۔ مياں بيوي کا آپس ميں احساس وفاداري کرنا اور حسد سے پرہيز کرنا يہ بھي بہت اہم بات ہے۔

اسلام کا ديا ہو احجاب،اسلام ميں حرام کردہ نظريں اور اسلام کا ممنوع کيا ہوا ميل جول اور طرزِ معاشرت اسي ليے ہے کہ آپ کا دل اور محبت ايک نکتے پر متمرکز ہوجائے۔ اسلام کے بيان کردہ حجاب، چہرے کو چھپانے اور مرد و عورت کے باہمي مخلوط طرز معاشرت کي نفي جيسي باتوں کو ديکھ کر کوتاہ نظر افراد يہ خيال کرتے ہيں کہ يہ صرف ظاہري سي باتيں ہيں، نہيں! حقيقتاً يہ بہت گہري اور عميق باتيں ہيں۔ يہ باتيں اس ليے ہيں کہ خاندان اپني جگہ قائم رہيں اور مياںبيوي کے دل ايک دوسرے سے جڑے اور گھرانے خوشحال اور مستحکم رہيں۔ ان احکام کي وجہ يہي ہے۔ يہ محرم ہے، وہ نامحرم ہے، فلاںکو نہ ديکھو، فلاں کے ساتھ ميل جول اور نشست وبرخاست نہ رکھو، فلاں سے ہاتھ نہ ملاؤ، فلاں کے سامنے نہ ہنسو، نامحرم کے سامنے زينت و آرائش نہ کرو اور خود کو دوسروں کے سامنے جلوہ نہ دو، اگر آپ اسلام کي بيان کردہ ان تمام باتوں اور فقہ و شريعت کے بيان کردہ ان تمام پروگراموں پر عمل پيرا ہوں تو آپ کا يہ چھوٹا سا گلشن ہرا بھرا رہے گا اور بلائيں اور آفتيں اِسے کوئي نقصان نہيں پہنچا سکيں گي۔

مياں بيوي اس بات کا اچھي طرح احساس کر يں کہ وہ ايک دوسرے سے وابستہ ہيں ان کا وجود ايک دوسرے کے بغير نا مکمل ہے اور وہ ايک گھر ميں رہتے ہيں۔ بيوي ہر گز يہ محسوس نہيں کرتي کہ گھر اس کيلئے ايک جھنجھٹ اور اس کے ہاتھ کي زنجير ہے۔ اسي طرح شوہر بھي يہ احساس نہيں کرتا کہ اس کا گھر اور بيوي اس کيلئے باعث زحمت ہیں۔

اسلام نے اس قدر جو تا کيد کي ہے کہ نامحرم کيلئے اپني آنکھوں کو بند رکھو، تمہاري آنکھيں کوئي بھي حرام چيز نہ ديکھيں تو يہ صرف اس ليے ہے کہ جب آنکھ کسي کو ديکھے گي تو آپ کي بيوي يا مياں کے پيار کا کچھ حصہ بھي اس کي طرف چلا جائے گا۔ (ديکھنے والا) خوا ہ مرد ہو يا عورت اس ميں کوئي فرق نہيں ہے۔مرد کيلئے ايک اور طرح سے حکم ہے اور عورت کيلئے ايک اور طرح سے فرمان موجود ہے۔ جب پيار کم ہو گا تو محبت بھي کمزور ہو جائے گي اور جب محبت ضعيف ہو گي تو گھر کي بنياديں بھي متزلزل ہو جائيں گي۔ اس وقت جو چيز آپ کيلئے لازمي و ضروري ہو گي وہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گي اور جو آپ کيلئے ضرر و نقصان کا باعث ہوگي وہ آپ تک پہنچ جائے گي۔


کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول

ساتواں مرحلہ

آساني اور چھوٹ دينا

الف :شادي بياہ کي تقريبات ميں شاہا نہ تجمل اور اسراف

ب :مہر،خلوص و سچائي کي علامت يا لڑکي کي قيمت؟

ج :جہيز زندگي کي آساني يا فخر و مباہات کا ذريعہ؟

دريچہ

ہم انسانوں کي زندگي ميں سب سے بڑي جس آفت کا سب سے زيادہ مشاہدہ کيا جاسکتا ہے وہ ’’کسي کام کو سخت بناکر انجام‘‘ دينا ہے۔

جب ايک کام کو آساني سے انجام ديا جاسکتا ہے تو ہم اسے مشکل سے کيوں انجام ديتے ہيں؟ درحقيقت اس طرح خود کو اور دوسروں کو مشکل سے دوچار کرديتے ہيں ۔

خام خيالي ،بے جا قسم کي فکر ميں پڑنا اور کاموں کو بغير کسي سبب کے طول دينا دراصل خود سختي کے جال ميں پھنسانا ہے!

ہم اپني زندگي ميں طبيعي، فطري اور عام طور پر بہت سي مشکلات ميں گرفتار ہيں۔

يہ کس قدر احمقانہ بات ہوگي کہ عقل و منطق کے اصول و قوانين کي عدم پابندي کے ذريعے ہم اپنے کاموں کو پہلے سے زيادہ مشکل بناديں!

تمام افراد تھوڑے سے غورو فکر سے يہ بات اچھي طرح جان سکتے ہيں کہ کسي بھي کام کو سنجيدگي ،تو جہ، مستحکمي،منظم اور بہترين انداز سے انجام دينے اور اُسے پيچيدہ ،سخت اور مشکل بنانے ميں زمين آسمان کا فرق ہے۔

کاموں کو مشکل بنا کر انجام دينا فرصت کو ختم کردينا ہے،عمر کو برباد کرتا ہے اور

کاميابي کے امکان کو کم اور افسردگي و سرد مہري کو زيادہ کرتا ہے۔

اِس کے ساتھ سرمائے کو نابود کرکے زندگي کو تلخ بناتا ہے۔

يہي وجہ ہے کہ حضرت ختمي مرتبت ۰ ايسے افراد سے جو کاموں کو سخت بناتے اور سخت گيري سے پيش آتے ہيں، دوري اختيار کرتے ہوئے خود کو ان سے دور کرتے ہيں۔

’’وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِيْنَ ‘‘(۱) ۔

ہمارے معاشرے ميں موجود بہت سے گھرانے اور خاندان اِس خطرناک آفت و بيماري ميں مبتلا ہيں، جس کي وجہ سے بہت سے اہم مسائل روبہ زوال ہيں۔

اِن جملہ مسائل ميں سے ايک اہم اور تقدير ساز مسئلہ شادي ہے۔

آداب و رسومات کي بجا آوري اور آبرومندي، اسٹيٹس، معاشرتي حيثيت اور ناک کا مسئلہ بنانے اور دولہا دلہن کي شان و شوکت کو بڑھانے کے بہانے سے ہم نے زندگي کے ان يادگار اور شيريں لمحات کوايک وحشتناک خواب ميں تبديل کرديا ہے۔

اِس تلخ اور کڑوي بيماري نے بہت سے نوجوانوں کو اپني زندگي اور گھر بسانے سے نااُميد کرديا ہے،جبکہ بہت سے دوسروں کو ان کي مشترکہ زندگي کي ابتداميں ہي بہت سي مشکلات سے دوچار کرديا ہے۔

بہت سے گھرانے اپني اولاد کي شادي کي عمر نزديک آنے پرخوشي و سرور کے بجائے اضطراب و پريشاني کا اظہار کرتے ہيں۔

غير شادي شدہ رہنے کي طولاني مدت اور شادي ميں تا خير سے پيدا ہونے والي ثقافتي، تربيتي اور اخلاقي مشکلات ناقابلِ شمار ہيں۔

جہيز کي لعنت کے نتيجے ميں ايک مشقت اور درد سر والي زندگي نے

____________________

١ سورہ ص آيت ٨٦۔ ’’اور ميں نہ بناوٹ کرنے (اور نہ غلط بيان کرنے) والا ہوں‘‘۔


دو نوجوانوں کي زندگي کي شيريني کو تلخي ميں تبديل کر ديا ہے۔

اِس اجتماعي اور معاشرتي بيماري ميں ہم سب برابر شريک ہيں،ليکن ہم سب ميں سے اِن تمام مسائل کو مشکل بنانے والے خاندان،خدا کے سامنے سب سے زيادہ جوابدہ ہيں۔

لہٰذااس اجتماعي مشکل کو بر طرف کرنے کے ليے ہم سب کو ميدان عمل ميں آنا ہوگا تاکہ اس خدائي حکم اور آسماني رشتے اور جاہليت کو قيد و بند سے نجات ديں اور نوجوانوں کيلئے زندگي کے راستے کو ہموار کريں۔

ان جاہلانہ رسوم و آداب اور احمقانہ روش اور طرزِ فکر کے منحوس اثرات کو اِس فطري ناموس اور اسلامي سنت ميں جگہ جگہ ديکھا جاسکتا ہے۔

اپنے ہمسفر (مياں يا بيوي)کے انتخاب ميں ہم نے لڑکے لڑکي کے کفو اور ہم پلہ ہونے ميں دين، تقوي اور اخلاق کي جگہ بہت سي عجيب و غريب شرائط کو داخل کرديا ہے!

مہر، جو انسان کي سچائي و صداقت کيلئے ہديہ ہے اور سنت نبوي ۰ ميں جس کے مال و دولت ہونے کي فکر پر کوئي توجہ نہيں دي گئي ہے

بلکہ جس کے کم ہونے کو دلہن کے نيک قدم اور اچھے شگون کي علامت قرار ديا گيا ہے، کو لڑکيوں کي قيمت ميں تبديل کرديا ہے!

جہيز نے جو والدين کي اپني اولاد سے محبت و دوستي کي نشاني اور اِن کي مشترکہ ازدواجي زندگي کے آغاز کوسہل اور آسان بنانے کا وسيلہ ہے، ان کي زندگي کي راہ کي رکاوٹ اور خاندانوں کيلئے ايک بڑي مصيبت بنادي ہے!شادي، بارات اور وليمے کے جوڑوں اور ديگر چيزوں کي خريداري اور شاپنگ کے نام پر لمبے چوڑے خرچوں کو نوجوانوں اور ان کے گھروالوں پر تھونپ ديا ہے۔

شادي بياہ اور وليمے کي تقريبات جو دو خاندانوں کي خوشي اور سرور کا ذريعہ ہيں، کے ليے فضول خرچي، اسراف اور زبردستي کے خرچوں کي اسقدر کڑي شرئط لگا دي گئي ہيں کہ ان شاديانوں کے پيچھے اشکبار آنکھيں اور غم کے دريا ميں ڈوبے ہوئے دل نظر آرہے ہيں۔

توجہ فرمائيے کہ جس چيز ميں خدا اور اس کے رسول ۰ کي مرضي و خوشي ہے اور اُس چيز ميں جسے ہم انجام ديتے ہيں، کتنا زيادہ فاصلہ ہے؟

ہميں صدق دل سے اعتراف کرنا چاہيے کہ آسان اور سادي شادي کيلئے شريعت نےجتني تاکيد کي ہے ہم نے اس کے مقابلے ميں اسے مشکل بنانے ميں ہي قدم اٹھايا ہے۔

جھوٹي حيثيت آبرو اور اسٹيٹس کي يہ دوڑ نجانے کب ختم ہوگي؟ اس معاشرتي انحراف اور ناسور کي تدبير و دوا کے ليے ہم ’’اُس ‘‘کي محفل ميں آئے ہيں۔

وہ اپني حکيمانہ نظر وں سے درد کو بھي پہچانتا ہےاور شفا کيلئے اپنا طبيبانہ نسخہ بھي ديتا ہے،مصلحانہ انداز ميں نصيحت بھي کرتا ہے

اور ہم سب کو رسول ۰ اکرم اور عليو فاطمہ کي سيرت کي طرف دعوت بھي ديتا ہے۔


الف :شادي بياہ کي تقريبات ميں شاہانہ تجمل اور اسراف

اسلامي شادي کي سادہ مگر پر رونق محفل

اگر آپ مختلف اقوام عالم ميں شادي کي تقريبات کو ملاحظہ کريں تو آپ اسلام ميں شادي کي تقريب کو سادہ پائيں گے ۔البتہ جشن و سرو ر اورخوشي منانے اور اس کے اظہار کرنے ميں کوئي عيب نہيں ہے۔ ہر کوئي اپنے ذاتي ميل اور شوق کي بنا پر جتنا چاہے خوشي و مسرت کا اظہار کرے ليکن يہ سب شادي کي ديني تقريبات اور دين کا حصہ نہيں ہے۔جو بھي چاہے وہ يہ کام انجام دے سکتا ہے اور جو نہ چاہے وہ انجام نہ دے مثلاًو ہ حتماً ايک معبد و عبادت خانے (گرجا گھر)ميں جاکر کسي کے سامنے دو زانوہوکر فلاں فلاں کام انجام ديں۔وہ تمام مراسم اور رسومات جو دوسري قوموں ميں موجود ہيں اسلام ميں نہيں ہيں۔

اسلام ميں صرف ايک شرعي صيغہ (نکاح)ہے کہ جسے پڑھنا چاہيے۔ البتہ اسلام ميں مختلف معاملات اور لين دين کہ جن کي اہميت شادي سے کم ہے، ميں ہم گواہ بناتے ہيں۔ اب تو باقاعدہ نکاح رجسٹر ار نکاح نامے کو رجسٹر ڈ کرتا ہے، رجسٹرڈ کرانے کے اپنے دفاتر ہيں اور اس کام ميں کسي قسم کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، دکھاوے اور فضو ل خرچي کي ضرورت نہيں ہے۔ لوگ بہت آساني اور بغير اسراف و فضول خرچي کے شادي کا يہ مقدس کام انجام دے سکتے ہيں۔

اسلامي نکاح يا جاہلي نکاح

شريعت نے شادي سے زمانہ جاہليت کي قيدوشرط کو ہٹاکر اسے ايک نئي فکر، شرائط اور خاص طريقہ کار عطا کيا ہے۔ اگر ہم کوئي ايسا کام کريں کہ ہماري شادي کي تقريبات اسلام کي دور کردہ چيزوں سے پاک اور اسلام کے بتائے ہوئے طريقہ کار سے آراستہ ہوں تو ہماري يہ شادياں اسلامي کہلائيں گي اور نکاح بھي پيغمبر اسلام ۰ کي خوشنودي کے مطابق انجام پائے گا۔ليکن خدانخواستہ اگر ہم نے اسلام کي طرف سے ممنوع شدہ اور زمانہ جاہليت کي رسومات کو اپني شادي ميں جگہ دي تو اس وقت ہمارا نکاح اور تقريبات جاہلانہ کہلائيں گي۔

ہم مسلمان ہيں اور ہمارا نام بھي مسلمان ہے ليکن ہمارا کام غير اسلامي اور جاہلانہ ہوگا۔ يا اگر وہ چيزيں کہ اسلام نے شادي ميں جن کا خيال رکھنے کا حکم ديا ہے، خيال نہ رکھيں تو اس وقت بھي ہماري شادي کامل طور پر اسلامي نہيں ہوگي۔ اگر شادي اسلامي طريقے سے انجام پائے يعني قرآن اور اسلام کي بيان کردہ روش کے مطابق تو زندگي بھي شيريں ہوگي اور مياں بيوي اچھي زندگي گزاريں گے۔

شادي کو آسان بنائيں، خدا آپ کي مدد کرے گا

جب بھي شادي کي بات ہوتي ہے تو نوجوان يہ کہتے ہيں کہ اگر ہم ابھي شادي کريں تو گھر اور کام کيلئے کيا کريں گے؟ يہ وہي شرائط اور پابندياں ہيں کہ جو ہميشہ اصلي اور بنيادي کاموں کا راستہ روکتي ہيں۔ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ ’’اِنْ يَّکُوْنُوْا فُقَرَائَ يُغْنِيْهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ ‘‘(اگر وہ فقير و ضرور ت مندہوں گے تو خدا نہيں اپنے فضل سے غني کردے گا) يعني خداوندعالم ان کي مدد کرے گا۔آپ شادي کريں۔

جو لوگ (فقر کے خوف کو شادي کي راہ ميں رکاوٹ بننے سے روکتے ہوئے) شادي کرتے ہيں تو يہ شادي ان کي معيشت ميں کسي خاص مشکل کا سبب نہيں بنتي ہے بلکہ اس کے برعکس خدا انہيں اپنے فضل و کرم سے غني بھي کرتا ہے۔ جي ہاں يہ خدا وند عالم کا قول ہے! ليکن ہم اپنے ليے ايک کي جگہ دس غير ضروري خرچ کرتے ہيں ،زندگي کے غير ضروري اور اضافي خرچوں کو بڑھاتے ہيں اور جھوٹي ضرورتوں کو وجود ميں لاتے ہيں۔

جي ہاں جب يہ ہوگا تو مشکل تو پيش آئے گي۔ غلطي کس کي ہے؟ پہلے درجے پر غلطي اہل ثروت اور متمول افراد کي ہے، وہ افراد جو زندگي کي آسائشوں سے بہرہ مند ہوں، جو سطح زندگي کو اوپر لے جاتے ہيں ،خواہشات،توقع،اميدوں،جھوٹي آرزوؤں اور غير ضروري حاجتوں کي سطح کو بلند کرتے ہيں۔ اس کے بعد بعض اعليٰ حکام کي غلطي ہے کہ جن کو آکر عوام کے سامنے ان چيزوں کيلئے بولنا اور آسان شادي کے وسائل فراہم کرنا چاہيے ليکن وہ يہ کام انجام نہيں ديتے ہيں۔ ہم يہ نہيں کہنا چاہتے ہيں کہ نوجوانوں اور ان کي شادي کي نسبت حکومتوں کي کوئي ذمے داري نہيں ہے۔ ليکن ايک اسلامي معاشرے ميں اس چيز کو رواج پانا چاہيے کہ شادي ايک ضرورت ہے اور اسے صحيح وقت پر اپني سادگي کے ساتھ انجام پانا چاہيے۔

يہ جو لڑکياں کہتي ہيں کہ ہم ابھي شادي کيلئے تيار نہيں ہوئے ہيں يا لڑکے جو يہ کہتے ہوئے نظر آتے ہيں کہ شادي ابھي ہمارے بس کي بات نہيں، ان کي يہ باتيں کوئي معقول اور منطقي نہيں ہيں۔ زندگي کے بہت سے مسائل ميں ہم ديکھتے ہيں نوجوان آمادہ ہيں، ان کي وضع زندگي بھي اچھي ہے۔ وہ خود بھي اچھے ہيں اور مسائل کو اچھي طرح سمجھتے اور درک کرتے ہيں۔ ليکن سمجھنا چاہیے کہ رشتہ ازواج ميں منسلک ہونا دراصل ايک قسم کا عہد وپيمان اور ذمے داري ہے ١ ۔ انسان کي ذمے داري کو قبول نہ کرنے کي يہ عادت اس کام کي انجام دہي ميں تھوڑي بہت رکاوٹ بن جاتي ہے۔

اظہارِ خوشي اور مہمانوں کي دعوت، درست مگر اسراف نہ ہو!

عياشي ،شاہانہ خرچ، فضول خرچي اور اسراف ايک معاشرے کيلئے مضر اور نقصاندہ ہيں۔ وہ لوگ جوشاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور فضول خرچي کي مخالفت کرتے ہيں تو اس کا مطلب يہ نہيں ہے کہ وہ زندگي کي لذتوں اور خوشيوں سے بے خبر ہيں۔ نہيں! بلکہ وہ ان کاموں کو معاشرے کيلئے نقصاندہ جانتے ہيں بالکل ايک مضر دوا يا فاسد خوراک کي مانند۔ بيش از حد خرچے اور تصنع و تجملات معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہيں ليکن اگر يہ معقول و مناسب حد پر رہيں تو اس ميں کوئي عيب نہيں ہے۔ ليکن اگر انہي چيزوں ميں دوڑ شروع ہوجائے اور ايک دوسرے پر سبقت لينے کا خيال ذہن ميں آئے تو يہ اپني حد سے تجاوز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔

١ جب آپ کہيں نوکري کرتے ہيں خواہ وہ حکومتي محکمہ ہو يا پرائيوٹ ادارہ تو آپ کے اس ادارے ميں ايک مقام و پوسٹ کي مناسبت سے آپ کي تنخواہ مقرر کي جاتي ہے ليکن جب آپ کو اعليٰ درجے کيلئے ترقي دي جاتي ہے تو آپ کي تنخواہ بھي بڑھتي ہے، الاؤنس ميں بھي اضافہ ہوتا ہے، گاڑي بھي ملتي ہے اور پي آر بھي بڑھتي ہے ليکن ان سب کے ساتھ ساتھ آپ کي ذمے داري بھي بڑھتي ہے اور آپ کے ماتحت افراد ميں بھي اضافہ ہوتا ہے۔ ہر آدمي اپني ترقي سے خوش ہوتا ہے۔ ليکن کيا آپ اس ذمے داري سے پہلو تہي کرنے کي وجہ سے تنخواہ، تمام الاؤنس اور ديگر مراعات سے صرف نظر کریں گے؟ ہر گز نہيں آپ عہدے کي ترقي کے ساتھ ساتھ ذمے داري کو بھي قبول کرتے ہيں ۔اسي طرح شادي ميں بھي انسان کو بہت سي سہوليات ملتي ہيں ليکن ساتھ ہي ذمے داري بھي بڑھتي ہے۔ اب آپ کے ساتھ آپ کي بيوي اور آپ کا چھوٹا سا خاندان بھي ہوتا ہے۔ (مترجم)

کچھ لوگ ہيں کہ جو (غذا ميں) اسراف کرتے ہيں، اسے پھينکتے اور گراتے ہيں۔ آج کے موجودہ زمانے ميں جبکہ بہت سے فقير ہمارے معاشرے ميں ہيں اور بہت سے ايسے افراد بھي ہيں کہ جو زندگي کي بنياد ي سہوليات سے بھي محروم ہيں، يہ کام سراسر اسراف و فضول خرچي ہے، اپني حد سے بہت زيادہ ہے اور بے بنياد بھي۔ جو بھي يہ کام کرے گا برا کرے گا۔

کچھ لوگ ہيں کہ جو انہي کاموں سے ثواب حاصل کرنے کے بجائے گناہ و عذاب حاصل کرتے ہيں۔ حرام کا مطلب صرف يہ نہيں ہے کہ محرم و نا محرم اور ديگر مسائل کا خيال نہ رکھا جائے، صحيح ہے کہ يہ بھي حرام کام ہيں ليکن بيش از حد خرچ کرنا اور فضول خرچي کرنا بھي حرام ہے،زندگي کي سہوليات سے محروم اور تہي دست افراد کي دل آزاري بھي بہت سے موارد ميں حرام ہے۔ اسي طرح بيٹي کے جہيز کو بنانے ميں حلال و حرام کي پرواہ نہ کرنا اور ان وسائل ميں افراط سے کام لينا بھي حرام ہے۔

ميں ان لوگوں سے ہر گز راضي نہيں ہوں کہ جو شادي کي تقريبات اور اس سے مربوط مسائل ميں اسراف و فضول خرچي سے دوسروں کے ليے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کرتے ہيں۔ ہم خوشي کے اظہار، جشن منانے اور مہمانوں کي دعوت کرنے کي حمايت کرتے ہيں ليکن ان سب ميں اسراف و فضول خرچي کے مخالف ہيں۔

بہت سے ايسے لڑکے لڑکياں ہيں جو اہلِ ثروت کي عياشيوں اور فضول خرچيوں کي وجہ سے اپنے پاس زندگي کے وسائل ميں کمي، حزن و غم اور ايک قسم کي ملامت کا احساس کرتے ہيں اور اُن ميں احساسِ کمتري پيدا ہوتا ہے۔

يہ بڑے بڑے ہوٹل اور شادي ہال شادي کو شيريں نہيں بناتے

اِن بڑے بڑے اور پُر خرچ ہوٹلوں، شادي ہالوں اور فضول خرچي والي تقريبات کو چھوڑ ديجئے۔ ممکن ہے کہ کوئي کسي شادي ہال ميں سادہ سي شادي کي تقريب منعقد کرے تو اس ميں کوئي عيب نہيں ہے۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ شادي ہال ميں کسي بھي صورت ميں شادي نہ کي جائے۔ چونکہ بعض گھروں ميں اتني گنجائش نہيں ہوتي اور وہاں امکانات اور سہوليات بھي نہيں ہوتي ہيں (تو اس صورت ميں شادي ہال کو استعمال کرنے ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے) ليکن اسراف نہ کريں۔ شادي ميں خوشي کا اظہار کرنا، مہمانوں کو دعوت دينا، رشتہ داروں، نزديکي افراد اور دوستوں کو مدعو کرنا اچھي بات ہے ليکن اسراف کرنا برا ہے اور نہ ہي مسلمان قوم کے شان کے مطابق ہے۔

شادي، نکاح اور وليمے کي تقريبا ت اور جشن و مسرّت اچھي چيز ہے۔ حتيٰ کہ رسول ختمي مرتبت ۰ نے بھي اپني صاحبزادي کي شادي کے موقع پر ايک محفل منعقد کي، خوشي و مسرّت کا اظہار کيا، لوگوں نے اشعار پڑھے، خواتين نے تالياں بجا کر خوشي کا اظہار کيا۔ لہٰذا آپ کي کوشش يہ ہوني چاہیے کہ شادي کي تقريبات اور اس سے مربوط مسائل ميں اسراف نہ ہو۔

ہمارے يہاں کي شادي، وليمہ، مہندي اور چوتھي وغيرہ کي پُر خرچ محافل، اسراف و فضول خرچ کا منہ بولتا ثبوت ہيں۔ مہنگے ہوٹلوں اور گراں قيمت شادي ہالوں ميں تقريبات منعقد کي جاتي ہيں، انواع و اقسام کے کھانوں، پھلوں اور ميٹھے پر بہت زيادہ رقم صرف کي جاتي ہے، کھانے زمين پر گرتے ہيں، کوڑے ميں پھينکا جاتا ہے اور يوں غذا ضائع ہوتي ہے۔ کس ليے؟ صرف حيثيت ، آبرو اور اسٹيٹس دکھانے کے ليے؟ !صرف اس ليے کہ اسراف کي دوڑ ميں پيچھے نہ رہ جائيں؟!

فضول خرچي نہ کريں۔ اگر آپ نے فضول خرچي کي تو نہ صرف يہ کہ آپ نے خود کو نقصان پہنچايا بلکہ لوگوں کو بھي نقصان سے دوچار کيا۔ آپ نے اپنے نوجوانوں لڑکے لڑکيوں کي اُميدوں اور آرزوؤں کا بھي گلا گھونٹا اور رسولِ اکرم ۰ کي نگاہوں ميں خود کو بے آبرو کيا اور آپ نے اپنے اس کام سے خود کو امامِ زمانہ کي نظروں سے بھي گراديا ۔ آپ کي فضول خرچي اور اِسراف، خلافِ شريعت کام حساب کيا جائے گا۔

ايک اچھي شادي وہ نہيں ہے کہ جس ميں روپيہ پاني کي طرح بہايا جائے بلکہ ايک اچھي شادي وہ ہے جو بناوٹ، ريا اور تصنّع کے بغير انجام پائے۔ جب ايک شادي ميں ان تمام امور کا خيال رکھا جائے گا تو وہ شادي اچھي ہوگي خواہ وہ ايک مختصر سي محفل ہي کيوں نہ ہو۔ گھر کے ايک دو کمروں ميں عزيز واقارب، ملنے جلنے والے اور دوست جمع ہوں تو يہ شادي اچھي شادي ہے۔ مہنگے ہوٹلوں اور پُرخرچ شادي ہالوں ميں لمبي لمبي دعوتيں، لمبے لمبے دسترخوان پر چُنے ہوئے انواع واقسام کے کھانے، مہنگے ترين امکانات و وسائل اورلمبے خرچے پاني، ان ميں سے کوئي بھي چيز شادي سے مناسبت نہيں رکھتي ہے۔ ميں نہيں کہتا کہ يہ چيزيں شادي (نکاح)کو باطل کرديتي ہے۔ نہيں! شادي اپني جگہ صحيح کہلائے گي ليکن يہ تمام چيزيں زندگي اور معاشرے کے ماحول کو خراب اور کڑوا بناديتي ہيں۔

گزشتہ زمانے ميں يہ بڑے بڑے شادي ہال نہيں تھے اور نہ ہي ان چيزوں کا کوئي وجود تھا۔ ايک دو کمروں ميں محفل منعقد کرتے تھے، مہمان آتے تھے اور ان کي پذيرائي ہوتي تھي۔ کيا اس زمانے کي شادياں آج سے زيادہ بے برکت و بے رونق تھيں؟ کيا لڑکيوں کي عزّتيں آج کے زمانے سے کمتر تھيں کہ شاديوں کو رونق بخشنے اور لڑکيوں کي عزّت و آبرو بڑھانے کيلئے بڑے بڑے ہالوں ميں جائيں۔

ٹھيک ہے بذات خود بڑے شادي ہالوں ميں (مہمانوں کي تعداد کو مدِّنظر رکھتے ہوئے) شادي کرنے ميں کوئي عيب نہيں ہے، ميں ان شادي ہالوں کي مخالفت نہيں کرتا ہوں ليکن ان سب فضول خرچيوں، اسراف، شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، تجمل اور ريا کا مخالف ہوں۔ ليکن اب کچھ لوگ ہوٹل ميں جا کر شادي کريں تو يہ کام غلط ہے اور شادي ہالوں کي موجودگي ميں اس کو اس کي کوئي ضرورت نہيں ہے۔

آپ شادي کي تقريبات کو جتنا مختصر او ر سادہ منعقد کريں گے اتنا ہي بہتر ہے۔ آپ اپنے اس فعل سے غريب، تہي دست اور نادار افراد کي ہمّت افزائي کيجئے اور اُن کيلئے راہ ہموار کريں تاکہ وہ مايوس نہ ہوں۔

بعض حکام کي غلطي

يہ تو معلوم ہوگيا کہ بڑے ہوٹلوں اور فضول خرچي والي تقاريب، دعوتيں اور شادياں نہ تو اہلِ علم کي شان کے مناسب ہيں اور نہ ہي پر ہيز گار اور مومن افراد کي شان و مقام کے ۔يہ سب طاغوتي اور شاہي دور کي چيزيں ہيں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض افراد آج بھي غلطي کررہے ہيں۔ چونکہ شاہ کے دور ميں اعليٰ حکام اور بڑے بڑے افراد ايسا کرتے تھے اور آج يہ بھي بڑے بن گئے ہيں لہٰذا سوچتے ہيں کہ ہميں بھي يہ کام کرنے چاہييں۔ نہيں جناب، وہ لوگ طاغوتي تھے اور اہلِ دنيا تھے اور ہمارا تعلق علما سے ہے اور جو لوگ عالمِ دين نہيں ہيں وہ ديندار ہيں۔ ہماري زندگي بھي دوسري طرح کي ہے اور عمل بھي، ہماري منش و طبيعت بھي دوسري طرح کي ہے اور اخلاق بھي۔ ہمارا ہدف بھي اُن سے بالکل مختلف ہے اور نہ ہي ہميں اُن کي تقليد کرني چاہیے۔ ہميں ايسا کام کرنا چاہیے کہ لوگ ہماري پيروي کريں۔

يہ عزت و آبرو نہيں ہے!

کچھ لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ بڑے بڑے ہوٹلوں اور پُر خرچ شادي ہالوں ميں شادي کي تقريبات منعقد کرنا، شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور اسراف دولہا دلہن کي سر بلندي اور عزت و شرف کا باعث بنتا ہے! دولہا دلہن کي عزت و سر بلند ي ان کي انسانيت، تقويٰ، پاکدامني، اور ان کي نظروںکي بلندي ہے ناکہ يہ چيزيں۔

جان ليں کہ شادي کو سادہ بنانا خواہ مہر کي رقم ہو، جہيز ہويا بارات و وليمے کي تقريب، باعثِ ننگ و شرم نہيں ہے جيسا کہ کچھ لوگ خيال کرتے ہيں کہ اگر ہم اپني بچي کي شادي سادہ کریں گے تو ہماري بيٹي کا سر شرم سے جھک جائے گا، نہيں! يہ آپ کي غلطي ہے۔

ہم تہي دست اور نادار افراد کو نصيحت کرتے ہيں کہ قرض لينے کے ليے اِدھر اُدھر ہاتھ پير نہ ماريں، صرف اس ليے کہ اپني عزت و آبرو کو محفوظ رکھيں! عزت و آبرو کيا ہے؟ کيا يہي ہے عزت و آبرو!؟ اگر ہم آنکھيں کھول کر حقيقت کو ديکھيں تو يہ عزت نہيں ہے۔ کچھ لوگ ہيں کہ جو قرضدار بنتے ہيں تاکہ معاشرے ميں آبرو مند رہيں! يہ کام سراسر غلط اور بے بنياد ہے۔

فضول خرچي کرنے والوں کا حساب کتاب بہت سخت ہے

ميں ملک کے تمام لوگوں کو اس بات کي تاکيد کرتا ہوں کہ شادي کو آسان بنائيں۔ بعض لوگ ہيں کہ جو شادي کو مشکل بناتے ہيں۔ مہر کي بڑي بڑي رقميں اور جہيز کي لمبي لمبي لسٹيں ہي شادي کو مشکل بناتي ہيں۔لڑکے کے گھر والے ايک زبردست قسم کے جہيزکي توقع کيوں رکھيں؟ لڑکي کے گھر والے، رسم و رواج اور فضول خرچي کي دوڑ ميں آگے نکلنے کے ليے زيادہ جہيز کيوں ديں؟ اور شادي کي تقريب کو رنگين بنانے کے ليے فضول خرچي کيوں کريں؟ آخر ان سب کا کيا نتيجہ نکلے گا؟ اس کا نتيجہ يہ ہوگا کہ لڑکے بغير شادي کے زندگي گزاريں اور لڑکيا ں گھروں ميں ہي بيٹھي رہيں اور کسي ميں اس بات کي جرآت نہيں ہوگي کہ وہ شادي کا خيال بھي کرے۔

وہ لوگ جو فضول خرچي اور اسراف کے ذريعے شادي کرتے ہيں کيا ان لوگوں سے زيادہ خوش قسمت ہيں کہ جو سادہ طريقے سے شادي کرتے ہيں؟ کون ہے کہ جو ايسا دعويٰ کرسکتا ہے؟ يہ کام صرف کچھ نوجوان لڑکے لڑکيوں کي آرزوؤں کا گلا گھونٹنے، ان کي زندگي کو تلخ بنانے کے علاوہ کچھ اور نہيں کرسکتا۔ يعني يہ لوگ اگر اس طرح شادي نہيں کرسکے تو يہ حسرت ان کے دل ميں ہميشہ کے ليے دفن ہوجائے گي يا وہ شادي ہي نہيں کرسکیں گے۔ چاہیں گے کہ ہم لڑکي کو دلہن بنا کر گھر لائيں ليکن جب اس کے خالي ہاتھوں کو ديکھيں گے تو يہ ان کي حسرت بن جائے گي اور لڑکي گھر ميں ہي بيٹھي رہ جائے گي اور يوں يونيورسٹي کے طالب علم، مزدور يا معمولي تجارت اور دکان والے يونہي غير شادي شدہ رہيں گے۔

ميں يہ خيال کرتا ہوں کہ جولوگ اسراف والي تقريبات، مہر کي بڑي بڑي رقموں اور جہيزکي لمبي لمبي لسٹوں سے اس امرِ مقدس کو دوسروں کے ليے مشکل بناتے ہيں تو خداوند عالم ان کا بہت سخت حساب لے گا۔ يہ نہيں ہوسکتاکہ وہ يہ کہيں کہ جنابِ عالي ہمارے پاس دولت ہے اور ہم جو چاہیں کريں گے۔ يہ سب غلط باتيں ہيں۔ مال و دولت ہونا تو اس بات کي دليل نہيں بنتا کہ دوسروں کي دل آزاري کريں اور ان کي خواہشات کا گلا گھونٹيں!

کيا يہ بات درست ہے کہ جب انسان کے پاس مال و دولت ہو تو وہ ايسا قدم اٹھائے کہ دوسرے وہ کام انجام نہ دے سکيں؟ نوجوانوں ميںا س بات کي جرآت نہ ہو کہ وہ شادي کے ليے اقدامات کريں؟ ايسا کوئي کام نہيں ہونا چاہیے کہ جس کي وجہ سے نادار اور تہي دست افراد، وہ لوگ جن کا ان تمام باتوں کيلئے دل راضي نہيں ہوتا، جن کي فکريں اس فضول خرچي کے خلاف ہيں اور وہ يہ قصد نہيں رکھتے يہ تمام لوگ شادي نہ کرسکيں۔

بيکار زحمت و مشقت

اسراف، فضول خرچي اور ديگر کاموں کو انجام نہ ديجئے، اس فضول خرچي ميں آپ کي بھلائي نہيں ہے اور خدا بھي اس کام سے راضي نہيں ہے۔ آپ خود کو ايک بيکار قسم کي زحمت و مشقت ميں ڈال رہے ہيں۔ اس تمام فضول خرچي کے عوض اس کا دسواں حصہ اگر ايک فقير اور مستحق فرد کو ديں تو گويا آپ نے تمام عالم کے برابر ثواب حاصل کيا۔ کيا يہ لوگ ديوانے ہيں کہ جو بغير اجر و ثواب اور رضائے الٰہي کے اتني فضول خرچي کرتے ہيں؟ حتيٰ کہ لوگ بھي ان سے خوش نہيں ہيں۔ ايسے فضول خرچ افراد سے لوگ بھي راضي نہيں ہيں۔ آپ صرف خدا کو راضي کيجئے۔

اسرافِ بالغرض اگر گناہ نہيں تو ثواب بھي نہيں

اگر آپ فلاں ہوٹل ميں دعوت کريں اسراف کريں اور نئے نئے قسم کے پھل لے کر آئيں تو کيا آپ کي محفل ميں کوئي رونق اور برکت آجائے گي؟ البتہ ايسي مہماني اوردعوت کا خدا کے يہاں کوئي اجر نہيں ہے۔ جان ليجئے کہ اس کا رتي برابر ثواب نہيں ہے۔ اسراف کرنا اگر گناہ نہ ہو کہ البتہ گناہ ہے بالفرض کسي ايک صورت ميں اگر گناہ نہ ہو تو بھي ثواب نہيں ہے۔ آپ اپنے اس فعل سے سينکڑوں نوجوان لڑکے لڑکيوں کو شادي کي دعوت دينے سے محروم کررہے ہيں۔ کيونکہ وہ آپ کے فعل کو ديکھتے ہيں اور چاہتے ہيں کہ آپ کا مقابلہ کريں ليکن وہ اس بات پر قدرت نہيں رکھتے اور يوں شادي کا مقدس امر تاخير کا شکار ہوجاتا ہے۔

آلِ رسول ۰ کي تقليد کريں

عالم ہستي کي سب سے بہترين دختر اور دلہن حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ عليہا تھيں۔ اس طرح اس عالم کي سب سے بہترين شخصيت اور داماد حضرت امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السَّلام تھے۔ آپ يہ ديکھئے کہ انہوں نے کيسے شادي کي؟ہزاروں خوبصورت، اچھے حسب و نسب، صحت مند اور محبوب نوجوان اميرالمومنين حضرت علي ابن ابي طالب کے ايک بال کے برابر بھي نہيں ہیں۔ اسي طرح ہزاروں نوجوان خوبصورت و زيبا اور بہترين حسب و نسب والي لڑکياں بھي حضرت زہرا سلام اللہ عليہا کے ايک بال کي برابري بھي نہيں کرسکتيں۔ يہ افراد خدا وندِعالم کي بارگاہ ميں عرفان و قربِ الٰہي کے بلند و بالا مقامات کے حامل ہيں اور ان کا شمار اپنے زمانے کي بڑي عظيم شخصيات ميں ہوتا تھا۔

حضرت فاطمہ تو حضرت ختمي مرتبت ۰ کي صاحبزادي تھيں کہ جو پوري اسلامي دنيا کے سربراہ اور حاکم مطلق تھے جبکہ حضرت عليسپاہِ اسلام کے پہلے نمبر کے سردار تھے۔ آپ توجہ کيجئے کہ انہوں نے کيسے شادي کي؟ کتنا کم مہر اور کتنا کم جہيز اور خدا کے نام اور اس کي ياد و ذکر کے ساتھ ان کي زندگي کي ابتدا ہوئي۔ يہ ہمارے ليے بہترين مثال اور اسوہ ہيں۔ اسي زمانے ميں بہت سے ايسے جاہل افراد تھے کہ جن کي بيٹيوں کے مہر کي رقم بہت زيادہ تھي۔ مثلاً ايک ہزار اونٹ(۱) ۔کيا ان لڑکيوں کا مقام حضرت زہرا سلام اللہ عليہا سے زيادہ اونچا تھا؟ آپ ان کي تقليد کرنے کے بجائے دخترِپيغمبر ۰ کي تقليد و پيروي کريں اور اميرالمومنين کو اپنے ليے نمونہ عمل قرار ديں۔

دلہن کے ليے کرائے کا لباس!

بعض لوگ ہيں کہ جو دلہن کا بہت مہنگا لباس خريدتے ہيں آخر کيوں؟اس کي کيا ضرورت ہے؟ بہت سے لوگ جو دلہن کے ليے لباس بنوانا چاہتے ہیں وہ دلہن کے ليے کرائے پر لباس لے کر آتے ہيں۔ اس ميں کيا حرج ہے؟ کيا يہ شرم و عيب کي بات ہے؟ ہر گز نہيں! اس ميں ننگ و عيب کا سوال ہي پيدا نہيں ہوتا اور نہ ہي اس ميں کوئي چيز مانع ہے۔

بعض لوگ اس چيز کو اپنے ليے عيب تصور کرتے ہيں۔ انسان کے ليے ننگ و شرم تو يہ ہے کہ وہ ايک خطير رقم خرچ کرکے ايک چيز خريدے اور ايک بار استعمال کرنے کے بعد اِسے دور پھينک دے۔(۲) صرف ايک بار استعمال کرنے کيلئے اتني زيادہ رقم! اور وہ بھي اس معاشرے ميں جہاں بعض لوگوں کے پيٹ بھرے ہيں اور بعض حقيقتاً نياز مند اور مستحق بھي موجود ہيں۔


ب: مہر، خلوص و سچائي کي علامت ہے يا لڑکي کي قيمت؟

پيغمبر ۰ نے زمانہ جاہليت ميں مہر کي رسم کو توڑ ديا

وہ شخصيت جو خود مہر کو بتانے والي ہے، نبي اکرم ۰ کي شخصيت ہے کہ جو تمام کائنات ميں سب سے بلند مقام پر فائز ہيں اور اُن کي عزيز اور پاک و پاکيزہ بيٹي جو اولين و آخرين کي خواتين ميں سب سے زيادہ بلند مقام کي مالک ہے اور ان کے شوہر حضرت امير المومنين ہيں کہ حضرت ختمي مرتبت ۰ کے بعد از ازل تا ابد جميع خلائق سے بہتر و برتر ہيں۔ اِن دو نوجوانوں کيلئے جو خوبصورت و وجيہ بھي تھے، صاحب مقام، محترم اور شہرِ مدينہ کي سب سے بڑي اور عظيم شخصيت کے بھي مالک تھے، ديکھئے پيغمبر ۰ نے ان دونوں کے ليے کتنا مہر رکھا تھا؟

پيغمبرِ اسلام ۰ آئے اور اُنہوں نے ان تمام قيود و شرائط اور رسم و رواج کو پامال کرديا، اس ليے کہ يہ شادي کي راہ ميں مانع ہيں اور يہ چيزيں نوجوان لڑکے لڑکيوں کي شادي ميں رکاوٹ بنتي ہيں۔ آپ ۰ نے فرمايا کہ ان تمام چيزوں کو چھوڑ دو۔ شادي کي ابتدا آسان ہے اور شادي مادي لحاظ سے بہت سہل و آسان بنائي گئي ہے۔ جو چيز شادي ميں اہميت کے قابل ہے وہ بشري اور انساني احساسات اور پہلوؤں کا خيال رکھنا ہے۔

آپ يہ خيال نہ کريں کہ اُس زمانے ميں مہر کي بڑي بڑي رقموں يا بڑے جہيز کا کوئي تصور نہيں تھا، کيوں نہيں تھا؟ اُس زمانے ميں بھي بعض بے عقل افراد آج کے عقل سے پيدل افراد کي مانند تھے۔ مثلاً دس لاکھ مثقال سونے کو اپني بيٹيوں کا مہر قرار ديں بالکل آج کے بعض بے وقوف افراد کي مانند۔ يہ بڑے بڑے خرچے دراصل جاہلوں کے کام ہيں۔ اسلام نے آکر ان تمام چيزوں کو روند ڈالا۔ بيٹي کا مہر رکھنے کي وجہ يہ نہيں تھي کہ پيغمبر ۰ نہيں جانتے تھے کہ يہ کہيں کہ ميري بيٹي کا مہر سرخ رنگ کے بالوں والے ايک ہزار اونٹ اور وہ بھي فلاں شرائط کے ساتھ۔ وہ ايسا کرسکتے تھے ليکن انہوں نے ايسا نہيں کيا کيونکہ اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسم و رواج پر خطِ باطل کھينچ ديا ہے۔

مَھْرُ السُّنَّۃ يا شرعي مہر

مہر کي بڑي بڑي رقموں کا تعلق زمانہ جاہليت سے ہے اور پيغمبر اسلام ۰ نے آکر اُن سب کو منسوخ کرديا۔ پيغمبرِ اکرم ۰ نے ايک متمول گھرانے ميں آنکھيں کھوليں اور ان کے خاندان کا شمار قريش کے تقريباً سب سے زيادہ اہلِ ثروت اور متمول خاندانوں ميں ہوتا ہے۔ وہ خود بھي اسلامي معاشرے کے رہبر اور حاکم تھے۔ تو اس بات ميں کيا مضائقہ تھا کہ اُن کي بہترين بيٹي اس عالم کي تمام خواتين سے زيادہ بہتر ہے اور خداوند عالم نے اُنہيںمِنَ الْاَوَّلِيْن وَالْآخِرِيْن ميں سےسَيِّدَةُالنِّسَائِ الْعَالِمِيْن بنايا ہے۔ اس عالم ہستي کے سب سے بہترين نوجوان سے جو مولائے متقيان ہیں، شادي کرے اور اُن کا مہر زيادہ ہو؟! رسولِ اکرم ۰ کيوں آگے بڑھے اور مہر کي رقم کو کم قرار ديا کہ جسے مَھْرُالسُّنَّۃ ١ يا شرعي مہر کہا جاتا ہے۔

ميري فکر کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کے جہيز اور مہر ميں اس قدر سادگي کا خيال رکھا گيا تھا کہ تمام اہلِ بيت اس کم مہر يعني ’’ مَھْرُالسُّنَّۃ‘‘کے مقيد و پابند تھے۔ جبکہ وہ سب يہ بات اچھي طرح جانتے تھے کہ اس سنّتي مہر سے زيادہ مہر رکھنا جائز ہے ليکن انہوں نے اس مقدارکي پابندي کي۔ اس ميں علامتي پہلو تھا۔ اس ليے کہ لوگوں ميں ايک فکر رائج ہوسکے تا کہ اس پر عمل کرسکيں اور وہ مہر ميں اضافے سے جنم لينے والي مشکلات ميں گرفتار نہ ہوں۔

____________________

١ ايران ميں آجکل زيادہ تر مہر ميں سونے کا سکہ رکھا جاتا ہے۔ جسے سکہ بہار آزادي کہا جاتا ہے اور جس کي قيمت تقريباً ٧٣٠٠ روپے ہے۔ ايران کے ديندار گھرانے چہاردہ معصوم کے نام پر ١٤ سکے مہر رکھتے ہيں تاکہ ١٤ کا ہندسہ بابرکت ہو۔ رہبرِ عاليقدر نے يہ فرمايا تھا کہ جس کا مہر ١٤ سکوں سے زيادہ ہوگا اس کا نکاح نہيں پڑھائيں گے۔ دراصل يہ کم مہر کو رائج کرنے اور مہر کي بڑي بڑي رقموں کو توڑنے کا ايک نفسياتي حربہ ہے۔ ١٤چودہ سکوں کي رقم آجکل تقريباً ١٠٢٢٠٠ روپے بنتي ہے۔ جو ايراني معاشرے ميں مناسب رقم ہے۔ ہمارے معاشرے ميں چہاردہ معصوم کے نام پر چودہ ہزار روپے مہر کيلئے رکھے جاتے ہيں اور ہمارے يہاں اُسے چہاردہ معصوم کي برکت کي وجہ سے شرعي مہر کہا جاتا ہے جبکہ اس کا شريعت سے کوئي تعلق نہيں ہے۔ (مترجم)


١٤ کے ہندسے پر اصرار کيسا ؟

يہ جوآپ سنتے ہيں کہ ہم نے کہا ہے کہ ہم چودہ سکوں(۱) سے زيادہ مہر کا نکاح نہيں پڑھائيں گے۔ يہ اِس ليے نہيں ہے کہ چودہ سکوں سے زيادہ کے مہر سے شادي ميں کوئي عيب پيدا ہوجاتا ہے، نہيں۔ چودہ ہزار سکے بھي ہوں تب بھي شادي ميں کوئي عيب اور شرعي اشکال نہيں ہوگا۔ صرف اس ليے کہ ہماري شاديوں ميں مادي رنگ پر معنوي رنگ غلبہ حاصل کرے اور شادي ايک تجارت،

اقتصادي معاملے اور مادي اشيائ کي خريد و فروخت نہ بنے۔ اگر آپ نے شاديوں ميں سے يہ فضول خرچياں کم کرديں تو شادي کا معنوي پہلو خود بخود مضبوط ہوجائے گا۔

مہر کي رقم جتني کم ہو شادي اپني فطري صورت سے اتنا ہي نزديک ہوگي کيونکہ شادي تجارتي معاملہ نہيں ہے شادي کسي چيز کي خريد و فروخت اور کسي چيز کو کرائے پر دينے کا نام نہيں ہے بلکہ يہ دوا انسانوں کا باہم مل کر زندگي کي تعمير کرنا ہے اور اس کا مالي اور مادي مسائل سے بھي کوئي تعلق نہيں ہے۔ يہي وجہ ہے کہ حضرت ختمي مرتبت ۰ نے مہر کي ايک مقدار معين کردي ہے تاکہ سب کا مہر ايک جيسا ہو ليکن اُسے بہت زيادہ نہيں ہونا چاہیے مہر کي رقم ايسي ہو کہ معاشرے کے تمام طبقے اُسے اپنے ليے مقرر کرسکيں۔ شادي ميں جو چيز سب سے زيادہ قابلِ اہميت ہے وہ دو انسانوں اور دو روحوں کا ملاپ اور زندگي کا يادگار ترين واقعہ ہے نہ کہ ايک مالي اور اقتصادي معاملہ۔ اگرچہ کہ شادي ميں تھوڑي مقدار ميں مال ( يعني مہر، بيوي کے اخراجات وغيرہ کي صورت ميں) وجود رکھتا ہے اور شريعت ميں اُس مال کي اپني ايک جداگانہ حيثيت ہے۔ وہ انساني خلوص و صداقت کي علامت ہے کوئي خريد و فروخت کا سرمايہ اور لين دين نہيں ہے۔

زيادہ مہر لڑکي کي بے احترامي ہے

اگر کوئي اپني بيٹي کو اہميت ديتا ہے يا کوئي لڑکي خود کو صاحبِ حيثيت سمجھتي ہے تو اس کا مطلب يہ نہيں ہے کہ وہ يہ کہے کہ ميرے مہر کو بہت زيادہ ہونا چاہیے۔ مہر کي رقم جتني کم ہوگي اس مقدس رشتے ميں انساني پہلو کا احترام اتنا ہي زيادہ ہوگا۔

____________________

١ کافي جلد ٥، باب السُنۃ في المھور، صفحہ ٣٧٥، حديث ٧


کوئي بھي مال و دولت ايک انسان کے برابر نہيں ہوسکتا اور نہ ہي کوئي مہر ايک مسلمان عورت کے انگلي کے ايک پور کي قيمت بن سکتا ہے۔ اسي طرح کسي بھي قسم کي درآمد يا ثروت ايک مرد يا عورت کي شخصيت کي برابري کي صلاحيت نہيں رکھتي ہے۔

وہ لوگ جو اپني بيٹيوں کے مہر کي رقم کو اُن کي عزت و آبرو اور شان و شوکت ميں اضافے کي غرض سے زيادہ کرتے ہيں وہ احمقوں کي جنت ميں رہتے ہيں۔ يہ احترام نہيں بلکہ انکي بے احترامي ہے۔ اِس ليے کہ آپ مہر کي رقم کو زيادہ کرنے سے اس انساني ملاپ و انساني رشتے کے دونوں طرف کو کہ جس کے ايک طرف مرد اور دوسري طرف عورت ہے، ايک جنس اور قيمت کے مادي معاملے کي سطح پر تنزل دے دیتے ہيں اور يہ کہتے ہيں کہ ميري بيٹي تو اس قابل ہے کہ اس کا مہر اتنا زيادہ ہونا چاہیے۔ نہيں جناب! آپ کي بيٹي (اور اس کے احساسات، جذبات، خيالات، اُميدوں، آرزوؤں اوراس کي زندگي کي شيريني اور مٹھاس) کا مال و دولت سے ہر گز موازنہ نہيں کيا جاسکتا ہے۔

مہر در حقيقت ايک خدائي امر اور سنّتِ نبوي ۰ ہے۔ اِس ليے نہيں ہے کہ اس محترم اور شريف و عزيز موجود انسان عورت کے مقابلے ميں شوہر کوئي مادي چيز يا مال و دولت دے (اوريوں لڑکي کے جذبات و احساسات کو خريد لے!)۔

مہر بخشتي ہوں تم ميري جان چھوڑو!

بعض اوقات يہ ديکھنے ميں آتا ہے کہ شوہر برا ہے اور بيوي خواہ کتنے ہي زيادہ مہر کي مالک کيوں نہ ہو، اس سے کہتي ہے کہ ’’ميں اپنا مہر تم کو بخشتي ہوں تم ميري جان چھوڑدو‘‘ ۔ مہر تو کسي کو خوشبخت نہيں کرسکتا۔ جو چيز انسان کو سعادت اورخوش بختي سے ہمکنار کرسکتي ہے وہ شرعي اور ديني روش کو اپنانا ہے۔ محبت کا بھي مال و دولت سے کوئي تعلق نہيں ہے۔ ايسے انساني رشتوں ميں دولت و ثروت کي آميزش اور مادي عُنصر کي ملاوٹ جتني کم ہو اُن کا انساني پہلو اتنا ہي زيادہ مستحکم ہوتا ہے اور محبت ميں اتنا ہي اضافہ ہوتا ہے۔

بعض لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ مہر کي بڑي رقم مياں بيوي کے بندھن کو قائم رکھنے ميں مدد کرتي ہے۔ يہ بہت بڑي غلطي اور خطا ہے اگر خدانخواستہ مياں بيوي ايک دوسرے کے ليے نا اہل ہوں تو مہر کي بڑي سے بڑي رقم بھي کوئي معجزہ نہيں کرسکتي۔

کچھ گھرانے ايسے ہيں جو يہ کہتے ہيں کہ ہم اپني لڑکي کا مہر بہت زيادہ نہيں کہيں گے ليکن لڑکے کے گھروالے اتراتے ہوئے نخرے کريں گے اور کہيں گے کہ ايسا تو نہيں ہوسکتا ہے! آپ کي لڑکي کا مہر چند لاکھ روپے يا فلاں مقدار تک تو ہونا چاہیے۔ يہ تمام باتيں اسلام سے دوري کا نتيجہ ہیں۔ کوئي بھي زيادہ مہر سے خوش بخت نہيں ہوسکتا۔

يہ لوگ جو يہ خيال کرتے ہيں کہ اگر لڑکي کا مہر نہ ہو (يا کم ہو) تو ان کي لڑکي کي شادي خطرے ميںپڑجائے گي، يہ لوگ غلطي کررہے ہيں۔ اگر شادي کي بنياد محبت پر قائم ہو اورزندگي بھي اچھي ہو تو زندگي بغير مہر کے بھي قائم رہے گي۔ ليکن اگر شادي اور زندگي پر خباثت، چالاکي، دھوکہ اور فريب وغيرہ حاکم ہوں اور مہر کي رقم خواہ کتني ہي زيادہ کيوں نہ ہو تب بھي اپني بات کو تھوپنے اور مسلط کرنے والا مرد ايسا کام کرے گا کہ اتنا بڑا مہر بھي اس کے فرار کا راستہ نہيں روک سکے گا۔

بعض لوگ ہيں جو يہ کہتے ہيں کہ ہم مہر کو اس ليے بڑھاتے ہيں تاکہ شوہر، بيوي کو طلاق نہ دے سکے۔ يہ تو بہت بڑي خطا ہے۔ بڑے سے بڑا مہر بھي طلاق کا راستہ نہيں روک سکتا اور نہ ہي روک سکا ہے۔ جو چيز طلاق کا راستہ روک سکتي ہے وہ انسان کا اچھا اخلاق، عملِ صالح اور اسلامي اقدار و احکام کي رعايت کرنا ہے۔

بڑے بڑے مہر، نوجوانوں کي شادي کي راہ ميں رکاوٹ

جو لوگ اپني خواتين کيلئے بڑے بڑے مہر رکھتے ہيں وہ اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہيں۔ بہت سي لڑکياں گھر بيٹھي رہ جاتي ہيں اور بہت سے لڑکے رشتہ ازدواج ميں منسلک ہوئے بغير تنہا زندگي گزارتے ہيں۔ صرف اس ليے کہ جب معاشرے ميں بڑے بڑے مہر رکھنے کي عادت پختہ ہوکر رواج پاجائے اور ’’مَھْرُالسُنَّۃ‘‘(شرعي مہر) کے بجائے جاہلانہ رسم و رواج اور مہر معاشرے کو اپنے پنجوں ميں دبوچ ليں تو پورا معاشرہ ہي خراب ہوجائے گا۔

اگر شادي اور اس سے متعلق مسائل ميں ماديات کو مرکزي حيثيت حاصل ہو تو دو روحوں کا يہ ملاپ اور دو انسانوں کے دھڑکتے دلوں کے احساسات و جذبات کا يہ رشتہ مادي معاملے ميں تبديل ہوجائے گا۔ يہ بڑے بڑے جہيز، مادي رقابت و سبقت اور اپني دولت و ثروت کا فضول خرچي کے ذريعے اظہار کرنا کہ جس ميں بعض لوگ غير دانستہ اور غافلانہ طور پرگرفتار ہيں، دراصل شادي کے آسان و مقدس امر کو خراب کرتے ہيں۔ يہي وجہ ہے کہ شريعت ميں ہميں يہ حکم ديا گيا ہے کہ مہر کو کم رکھا جائے کہ اس سے مراد ’’مَھْرُالسُّنَّۃ‘‘(شرعي مہر) ہے۔ اگر مہر زيادہ رکھا جائے تو شادياں بھي مشکل ہوں گي اور لڑکے لڑکياں اپني ازدواجي زندگي سے محروم ہوجائيں گے۔

ميں ملک کے تمام باشندوں سے اپيل کرتا ہوں کہ مہر کو اتنا زيادہ نہ کريں، يہ جاہلانہ روش ہے۔ يہ وہ کام ہے کہ جس سے خدا اور اس کا رسول ۰ خاص طور پر اس زمانے ميں راضي نہيں ہيں۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ يہ کام حرام ہے اور شادي اس سے باطل ہوجاتي ہے۔ ليکن يہ کام سنّتِ نبوي ۰ ، اہلِ بيت کي سيرت اور علمائے اسلام کي روش کے سراسر خلاف ہے۔ خاص طور پر اس زمانے ميں کہ جب ہمارے ملک کو اس بات کي ضرورت ہے کہ تمام صحيح کام آسان طريقے سے انجام پائيں۔ اس ميں کوئي بھلائي يا بہتري نہيں ہے کہ بعض لوگ شادي کو اس طرح مشکل بنائيں۔


ج: جہيز، زندگي کي آساني يا فخرو مباہات کا ذريعہ؟

بيٹي کي عزت، اخلاق سے بنتي ہے نہ کہ جہيز سے

جہيز لڑکي کي عزت کا باعث نہيں بن سکتا بلکہ لڑکي کي عزت اس کے عمل اور اس کي شخصيت سے ہوتي ہے۔ لڑکي کے گھروالے خود کو بہت مشکل و مشقت ميں ڈالتے ہيں، زحمت برداشت کرتے ہيں، اگر اُن کے پاس رقم نہيں ہوتي تو ادھر اُدھر ہاتھ پير مار کر قرض ليتے ہيں اور اگر صاحب ثروت ہوتے ہيں تو فضول خرچي کرتے ہيں اور وہ بھي صرف اس ليے کہ ايک لمبا چوڑا جہيز کہ جس کي ہر ہر چيز سے زرق و برق جھلکتا ہو، اپنے بيٹي کو ديں۔

زيادہ مہر اورلمبا چوڑا جہيز کسي بھي لڑکي کو خوش بخت نہيں کرتا اور نہ ہي کوئي گھرانہ اس کے ذريعے آرام و سکون اور زندگي کے ليے لازمي اعتماد کو پاتا ہے۔ يہ تمام چيزيں زندگي کي ضروريات سے زيادہ ہيں اور دردسر، زحمت و مشقت اور مشکلات کے سوا ان کا کوئي فائدہ نہيں۔ مبادا آپ جاکر قرضدار بنيں، جہيز بنائيں اور خود کو بھي مشقت ميں ڈاليں اور اپنے گھروالوں کو بھي! مبادا آپ يہ خيال کريں کہ اگر آپ کي بيٹي کا جہيز آپ کے ہمسائے يا آپ کے عزيز و اقارب سے کم ہوا تو يہ اُس کي بے آبروئي کا باعث بنے گا، نہيں! يہ ہرگز اس کي بے آبروئي کا باعث نہيں بنے گا (يہ آپ کا خيال باطل ہے!)۔

مادي دوڑ اور جہيز کي لعنت

اکثر گھرانے اسٹيٹس، حيثيت و آبرو اور ماديت کي دوڑ ميں لگ کر جہيز کو اپنے ليے ايک وبال جان ميں تبديل کرديتے ہيں اور يوں جہيز معاشرے کے ليے ايک لعنت بن جاتا ہے۔ بعد ميں جب خود بھي اس لعنت کو اپنے اوپر سوار کرليتے ہيں تو اب دوسروں کي باري آتي ہے۔ کہ اس اجتماعي بلاوآفت کے برے اثرات کو برداشت کريں۔ آپ نے تو اپني نورِ چشمي کيلئے ( اگر مال و دولت ہے تو آساني اور فضول خرچي سے اور اگر مال و دولت نہيں ہے تو ادھر اُدھر ہاتھ پير مار کر کہيں نہ کہيں سے) لمبا چوڑا جہيز جمع کرليا تو آپ کے بعد آنے والوں اور اس فضول خرچي ديکھنے والوں کي کيا ذمے داري ہے اور وہ کيا کريں گے؟ ماديت، اسٹيٹس اور نام نہاد عزت و آبرو کي يہ دوڑ کہاں ختم ہوگي؟ يہ وہ مشکلات ہيں کہ جن کا حل نکلنا چاہیے اور اسلام يہ چاہتا ہے کہ معاشرے ميں ان چيزوں کا دور دور تک کوئي نام و نشان نہ ہو۔

کچھ لوگ ہيں کہ جو کوشش کرتے ہيں کہ جہيز کي جمع آوري کيلئے عزيز و اقارب، ہمسائے اور رفقا کا سہارا ليں، يہ بہت بڑي غلطي ہے۔ آپ کو يہ ديکھنا چاہیے کہ کيا چيز صحيح اور حق ہے لہٰذا اُسي کو انجام ديں۔ اپني ازدواجي زندگي شروع کرنے والوں کيلئے صحيح کيا ہے؟ دو انسانوں پر مشتمل ايک چھوٹے سے گھرانے کو مختصر سے وسائل زندگي کي ضرورت ہوتي ہے کہ وہ سادہ طور پر اپني زندگي شروع کريں۔

مختلف قسم کي فضول خرچياں، افراط،غير معقول کام اور لمبے چوڑے جہيز کيلئے (خلال سے ليکر گاڑي تک کي)تمام چيزيں حتماً خريدي جائيں، جو چيز بھي نظر آئے اُسے فوراً خريد ليں کہ ہماري لڑکي کے پاس اس کي اپني سگي يا خالہ زاد بہن يا ہمسائے کي لڑکي يا اس کي کلاس فيلو سے کم سے کم ايک چيز تو زيادہ ہو۔ يہ وہ تمام غلط باتيں ہيں جو خود انسان کيلئے بھي اذيت و آذار کا سبب ہيں اور لوگوں کيلئے بھي دردِسر ہيں۔ يہي وہ چيزيں اور مشکلات ہيں کہ جو لڑکيوں کے اُن کے شوہر کے گھر جانے اور لڑکوں کے اپنے گھر بسانے کي راہ ميں رکاوٹ ہيں۔

اگر شادي آسان ہوتي، اگر لوگ شادي ميں اتني شرائط نہ لگاتے، اگر بعض افراد کے مہر کي رقميں بڑي نہ ہوتيں، اگر جاہلانہ روش کے مطابق جہيز کي لمبي لمبي لسٹيں نہ ہوتيں اور ماں باپ صرف اس خيال سے کہ کہيں اُن کي لڑکي کا دل نہ ٹوٹ جائے اس کے جہيز کي جمع آوري ميں خون پسينہ ايک نہيں کرتے تو بہت سے گھرانوں کے ليے يہ مشکلات پيش ہي نہيں آتيں۔ بہت سے گھرانے پہلے ہي سے ہر چھوٹي بڑي اور ضروري اور غير ضروري چيزوں کو لڑکي کے جہيز ميں شامل کرديتے ہيں کہ مبادا ان کي بيٹي، اپني چچا ذاد بہن يا کسي رشتہ دار سے پيچھے نہ رہ جائے، يہ بات درست نہيں ہے۔ يہ کام غلط ہيں، آپ کي زحمت و مشقت کا سبب ہيں اور ايسي زحمت ہيں کہ جس کا خدا کے نزديک نہ تو کوئي اجر و ثواب ہے اور نہ يہ لائق تحسين و شکريہ ہيں۔

دوسروں کي بھي فکر کريں

جب بعض لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے ازدواجي زندگي کا آغاز کرنے والے دو ہمسفروں کيلئے جہيز کے نام پر اپني لڑکي کے ليے پورا بازار کيوں جمع کرليا ہے؟ تو وہ جواب ميں کہتے ہيں کہ ہمارے پاس مال و دولت ہے اور چونکہ ہے لہٰذا ہم اُسے خرچ کررہے ہيں! آيا يہ دليل کافي ہے کہ ہمارے پاس ہے؟ نہيں! نہ صرف يہ کہ يہ استدلال کسي بھي صورت ميں کافي نہيں ہے بلکہ غلط بھي ہے۔

ايک معاشرے ميں مختلف قسم کے انسان زندگي بسر کرتے ہيں۔ آپ ايسا جہيز ديں کہ جس کے پاس کافي مال و دولت نہيں ہے اگر وہ اپني بيٹي کي شادي کرنا چاہے تو وہ بھي يہ جہيز دے سکے۔ اگر ايسا نہ ہوا اور آپ جو اپني بيٹي کو مفصّل جہيز اور اپني نورِچشمي کو لمبا چوڑا مہر دے رہے ہيں تو آپ کا يہ فعل شادي کے دروازے کو دوسروں پر بند کردے گا۔ نہ يہ انساني روش اور نہ ہي اسلامي۔

کائنات کي سب سے بہترين دُلہن کا جہيز

آپ حضرت ختمي مرتبت ۰ کي صاحبزادي کو ديکھئے، اس عالم ميں ہستي کي تمام بيٹيوں اور اولين و آخرين کي خواتين ميں سب سے افضل و بہترين حضرت فاطمۃالزہرا سلام اللہ عليہا تھيں۔ اتني خوبيوں، شرافت اور عظمت والي نہ کوئي بيٹي پيدا ہوئي ہے اور اس جيسي نہ ہي کسي عورت نے اس عالم ميں جنم ليا ہے۔ اول سے آخر تک کي تمام خواتين ان کي کنيزوں اور سورج کے مقابلے ميں ذرات کي مانند ہيں۔ اُن کے شوہر اميرالمومنين بھي عالم ہستي کے بہترين مردوں ميں سے ايک ہيں۔ اگر ہم حضرت اميرالمومنين کے تمام کمالات و فضائل جمع کريں تو ہستي کے تمام مرد اُن کے ايک ناخن کے برابر بھي نہيں ہيں۔

عظمت و فضيلت و زيبائي کے يہ دونوں مظہر رشتہ ازدواج ميں منسلک ہوتے ہيں۔ ان دو ہمسفروں کا جہيز (مادي لحاظ سے ارزاں قيمت مگر معنويت و برکت کے لحاظ سے بہت قيمتي) چند چيزيں تھيں کہ جسے تاريخ و سيرت کي کتابوں ميں لکھا گيا ہے کہ ايک چٹائي، ليف خرما، ايک بستر، آٹا پيسنے کي ہاتھ کي چکي، ايک کوزہ اور ايک کاسہ(۱) (اور چند مختصر چيزيں اگر آج ان چيزوں کي قيمت لگائي جائے تو چند سو روپوں سے زيادہ نہيں ہوگي۔ اس مہر کو حضرت اميرالمومنين سے لے کر ادا کيا گيا اور ايک مختصر سے جہيز کو خريد کرکے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ عليہا کے گھر لے جايا گيا۔

____________________ ____

١ بحار الانوار، جلد ٤٣، باب ٥ صفحہ ٩٤


ہم يہ نہيں کہتے کہ ہماري بيٹياں حضرت فاطمۃالزہرا سلام اللہ عليہا جيسا جہيز ليں۔ نہ ہماري بيٹياں حضرت زہرا جيسي ہيں اور نہ ہم اُن کے والد بزرگوار جيسے اور نہ ہمارے بيٹے حضرت اميرالمومنين جيسے۔ ہم کہاں اور وہ کہاں؟ زمين و آسمان کا فرق ہے۔ ليکن ان باتوں سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ راستہ صرف انہي کا بتايا ہوا راستہ ہے اور سمت بھي انہي کي بتائي ہوئي سمت ہے۔

جہيز کو کم بنائیے، اِدھر اُدھر نگاہ نہ کريں اور فضول خرچ سے پرہيز کريں۔ زندگي کو ان لوگوں کے ليے مشکل نہ بنائیے کہ جو زندگي کے امکانات اور وسائل سے محروم ہيں۔

حضرت زہرا سلام اللہ عليہا کا جہيز اتنا تھا کہ شايد دو آدمي بھي اپنے ہاتھوں پر اُٹھا کر اُسے ايک گھر سے دوسرے گھر منتقل کرسکتے تھے۔ يہ کام ہے افتخار کے قابل اور اقدار يہاں ملتي ہیں۔ کيا پيغمبرِاکرم ۰ اس بات پر قادر نہيں تھے کہ اپني بيٹي کيلئے ايک لمبا چوڑا جہيز بنائيں؟ اگر وہ ايک اشارہ کرتے تو اُن کے اصحاب کے جن ميں بعض صاحبِ ثروت و دولت بھي تھے، وہ خدا سے چاہتے کہ يہ اصحاب آئيں اور ايک ايک تحفہ ديں اور مدد کريں ليکن انہوں نے يہ کام نہيں کيا۔ آخر کيوں؟ اس ليے کہ ميں اور آپ سيکھيں۔

اگر ہم صرف بيٹھيں اور اِن فضائل کو بيان کريں، خوش ہوں اور ان چيزوں اور اُن کي سيرت سے درس حاصل نہ کريں تو اُس کا کيا فائدہ ہوگا؟ ہم ان کي سيرت سے کوئي فائدہ حاصل نہيں کررہے ہيں۔ طبيب کے نسخے کوگھر لاکر طاقچے ميںنہيں رکھنا چاہیے کہ انسان روز اس کو ديکھے اور زيارت کرے۔ اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے تاکہ ہميں فائدہ ہو۔ اسي طرح پرہيزي غذا کے جدول کے مطابق عمل کريں تاکہ اس کا حقيقي فائدہ آپ کو حاصل ہو۔

اہلِ بيت کي سيرت پر عمل کرنا دراصل روح کي پرہيزي غذا ہے اور اسي سے ہمارے معاشرے اور گھرانوں کي روحاني صحت وابستہ ہے۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور شادي اور اس سے مربوط مسائل اور تقريبات کو سادگي کے ساتھ منعقد کرنا چاہیے۔

اے دلہنو! تم اس بات کي اجازت نہ دو!

اے بيٹيو! اپنے والدين کو اس بات کي اجازت نہ دو کہ وہ تمہارے جہيز کو بڑا بنائيں، اے دلہنوں! تم يہ کام نہ کرنے دو۔ اگر تمہارے والدين چاہيں تو تم ان کو منع کرو کہ آپ يہ اتني گراں قيمت چيزيں کس ليے خريد رہے ہيں؟ دلہنوں کي ماؤں کو بھي چاہیے کہ جہيز تيار کرنے ميں فضول خرچي سے اپنا ہاتھ روکيںاور افراطِ و اسراف سے کام نہ ليں۔ يہ نہ کہيں کہ ارے يہ تو ہماري چہيتي بيٹي ہے، اگر ايسا نہ ہوا تو اس کا دل ٹوٹ جائے گا، نہيں، ايسا نہيں ہے، يہ لڑکياں بہت اچھي ہيں اور يہ ايسا کام نہيں چاہتيں ہيں۔ ہم بغير کسي وجہ کے ان کا دل اس جانب نہ لے جائيں کہ ہر اچھي، قيمتي اور اعليٰ درجے کي چيز حتماً ان کے ليے خريدي جائے۔

يہ لڑکياں جو چاہتيں ہيں کہ ان کا جہيز بنے تو اپنے جہيز، برات و وليمے کے لباس کي خريداري کے ليے شہر کے بعض علاقوں کي سب سے مہنگي دکانوں پر کہ جو بہت مشہور و معروف ہيں اور ميں ان علاقوں سے بخوبي واقف ہوں ليکن ان کا نام لينا نہيں چاہتا، سب سے مہنگي چيزوں کے ليے ناجائيں۔ انہيں چاہیے کہ ان علاقوں کا رخ کريں جو مہنگے نہيں ہيں۔ ايسا نہ ہو کہ وہ بيچارے دولہا کو اپنے پيچھے ليے ليے پھريں تاکہ زيورات اور لباس خريد سکيں(اور لڑکوں کو بھي نہيں چاہیے کہ وہ بارات و وليمے کے لباس اور دوسري خريداري کے ليے دلہن کے گھروالوں پر غير اضافي خرچوں کا بوجھ ڈاليں) ليکن افسوس يہ ہے کہ لوگ يہ کام کرتے ہيں۔

دعائيہ کلمات!

يہ محفل ايک مقدس ملاپ کا نقطہ آغاز ہے، مبارک ہو۔ آنکھيں نظارہ کرکے ايک جگہ ٹہرگئي ہيں۔ رہبرِ عاليقدر کي دلنشين آواز گونجي ’’ان شائ اللہ، اللہ تعاليٰ مبارک کرے!‘‘ حاضرين کے سرودِ صلوات نے فرشيوں کو عرشيوں کے ہمنوا بناديا۔ يہ اُس ’’سيد‘‘ کے بابرکت ہاتھ ہيں جو خدائے مہربان کي بارگاہ ميں دعا کے ليے اٹھے ہيں اور زبان سے ادا ہونے والے جملے دراصل ايک پدر کي ديرينہ آرزو ہے جو صدقِ دل سے اپني زندگي کا نيا سفر شروع کرنے والوں کے ليے ’’اس‘‘ کے آسمان لطف و کرم سے مثلِ باراں برس رہے ہیں۔

پروردگارا ! ان کے دلوں کو آپس ميں ہميشہ ايک دوسرے کي نسبت مہربان اور محبت کرنے والا بنادے،

بارالٰہا! انہيں پاک و پاکيزہ اولاد عطا فرما،

خداوندا! انہيں توفيق دے کہ يہ تيري اور تيرے اوليائ کي رضا کے مطابق عمل کريں،

پالنے والے! وہ تمام افراد جو اس کارِ مقدس ميں سبب بنے ہيں، انہيں

اپني طرف بہترين اجر و ثواب عطا فرما۔

’’آغا‘‘ کھڑے ہوجاتے ہيں اور دولہاؤں کي ايک لمبي قطار اُن سے ملنے کے ليے بے چين ہے۔ يہ دلہنيں بڑي حسرت سے دُولہاؤں کو مہربان رہبر کے بغل گير ہوتے ہوئے مشاہدہ کرتي ہيں اور ’’آغا‘‘اپنے ان کلمات کے ساتھ انہيںبہشت تک چھوڑنے کے ليے دروازے تک تشريف لے جاتے ہيں:

’’خداوندعالم ان شائ اللہ يہ نيا سفر اور شادي مبارک قرار دے، خداوند مہربان آپ سب کو ايک دوسرے کے سائے ميں آخر عمر تک محفوظ رکھے اور آپ کو توفيق دے کہ آپ اپنے، اپنے گھر والوں، اپنے ملک اور دنيائے اسلام کيلئے عزت و افتخار کا باعث بنيں۔‘‘

ہم بھي کائنات کے عظيم ترين اور بابرکت علي و فاطمہ کے جوڑے سے دست بستہ يہي عرض کريں گے آپ اس نئے سفر ميں اس کے يار و مددگار بنيں۔

تمام شد


فہرست

انتساب ۵

سخن ناشر ۶

مقدمہ ۷

پہلي بات ۱۱

ازدواج يا شادي: ناموسِ فطرت اور قانونِ شريعت ۱۱

دريچہ ۱۱

زندگي کا ہدف ۱۱

شادي، اسلامي اقدار کا جلوہ ۱۲

خداوند عالم کا اصرار ۱۲

خداوند عالم مرد اور عورت کي تنہائي کو پسند نہيں کرتا ! ۱۲

وقت پر شادي = سنّت نبوي ۰ ۱۳

جواني کے عشق و شوق ميں شادي ۱۳

وقت ِ ضرورت، رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونا ۱۴

شادي کي برکتيں اور فوائد ۱۴

شادي کي شرائط کمال ۱۵

اسلام کي نظر ميں کفو اور ہم پلّہ ہونے کا تصور ۱۵

عاقل اور غافل انسان کا فرق ۱۷

شادي کي نعمت کا شکرانہ ۱۷

شادي کس لئے، مال و جمال کے لئے يا کمال کے لئے؟ ۱۸


اسلامي روش ہي بہتر ہے ۱۹

نکاح کے چند بول کے ذريعے ؟ ۱۹

سب سے اہم ترين فائدہ ۱۹

دوسري بات ۲۱

محبت و خلوص ميں تشکيل پانے والا گھرانہ اور خانداني نظام زندگي ۲۱

دريچہ ۲۱

کلمہ طيبہ يا پاک بنياد ۲۱

انساني معاشرے کي اکائي ۲۲

اچھا گھرانہ اور اچھا معاشرہ ۲۲

اچھے گھرانے سے محروم معاشرہ نفسياتي بيماريوں کا مرکز ہے ۲۳

غير محفوظ نسليں ۲۳

اچھے گھرانے کي خوبياں ۲۴

اچھے خانداني نظام ميں ثقافت کي منتقلي کي آساني ۲۶

خوشحال گھرانہ اور مطمئن افراد ۲۷

زندگي کي کڑي دھوپ ميں ايک ٹھنڈي چھاوں ۲۸

انسان مشين تو نہيں ہے ! ۳۰

اچھے گھر کا پر سکون ماحول ۳۰

گھريلو فضا ميں خود کو تازہ دم کرنے کي فرصت ۳۱

مشترکہ زندگي کي قرارداد کا احترام کرنا ۳۱

خانداني نظام زندگي ميں جنسي خواہش کي اہميت ۳۲


دينداري، خاندان کي حقيقي صورت ۳۲

گھر کي حفاظت ميں مياں بيوي کا کردار ۳۳

اسلامي معاشرے ميں اچھے خاندان کي صفات ۳۳

تيسري بات ۳۵

مغرب ميں عشق کا غروب اور ہمدردي و مہرباني کا فقدان ۳۵

دريچہ ۳۵

اپنے تشخص سے بے خبر نسل ۳۷

مغرب کا گناہ ِ کبيرہ ۳۷

نہ اُنس و محبت ، نہ شوہر اور نہ ۳۸

جنسي آزادي اور خانداني نظام کي تباہي ۳۸

مصنوعي عشق ۳۹

مغربي تمدن کے مطابق شادي کے برے نتائج ۴۰

مغرب، سقوط کے دھانے پر ! ۴۰

در بہ در، کوچہ بہ کوچہ، سکون کي تلاش ۴۱

کانوں پر جُوں تک نہيں رينگتي ! ۴۲

غلط اہداف اور شيطاني راہ ۴۳

خاندان کے بارے ميں صرف ايک جملہ ! ۴۳

چوتھي بات ۴۵

ايک دوسرے کي نسبت مياں بيوي کے حقوق ۴۵

دريچہ ۴۵


ايک دوسرے کے مددگار اور دوستوں کي مانند ۴۶

مرد گھر کا نگران و کفيل ہے اور عورت پھول ۴۶

مشترکہ زندگي ميں مرد و عورت کے کردار کي تبديلي خطرناک ہے ! ۴۶

بيوي پھول ہے نہ کہ آپ کي نوکراني اور ملازمہ ۴۸

مرد کو ملازمت کرني چاہيے ۴۸

نہ مرد کي مطلق العنان حکومت، نہ جورو کي غلامي ۴۹

مرد و عورت کا فطري تفاوت ۴۹

دو مختلف نگاہيں مگر دونوں خوبصورت ۵۰

حقيقي اور خيالي حق ۵۰

شوہر، بيوي کي ضرورتوں کو درک کرے ۵۲

مرد کي خام خيالي اور غلط رويّہ ۵۲

عقلمند بيوي اپنے شوہر کي معاون و مدد گار ہے ۵۳

بيوي کے فرائض ۵۳

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۵۵

پہلا مرحلہ ۵۵

بہشت بريں تک ہمسفر ۵۵

دريچہ ۵۵

خوش بختي کا مفہوم ۵۶

ايک دوسرے کو جنتي بنائيے ۵۶

ايک دوسرے کو خوش بخت کيجئے ۵۷


حق بات اور صبر کي تلقين ۵۸

ايک تيماردار کي مانند، نہ کہ ايک چوکيدار کي طرح ۵۹

اخلاقي حفاظت ۵۹

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۶۰

دوسرا مرحلہ ۶۰

زندگي کے ظاہري روپ سے مافوق حقيقتيں ۶۰

دريچہ ۶۰

زندگي کے ظاہري روپ سے مافوق حقيقتيں ۶۲

اصل ماجرا، عشق ہي تو ہے ۶۲

جتنا زيادہ اتنا ہي بہتر ۶۳

محبت سے خار بھي پھول بن جاتے ہيں ۶۳

محبت کسي کے حکم يا فرمان سے ہونے والي کوئي چيز نہيں ہے ! ۶۳

حقيقي عشق اور ہے اور شہوت پرستي کچھ اور ! ۶۴

پہلا قدم: ايک دوسرے کا احترام ۶۴

دوسرا قدم :اعتماد کي بحالي ۶۵

وفاداري کرو تاکہ قابل اعتماد بنو ! ۶۶

اعتماد کسي کے کہنے سے نہيں ہوتا! ۶۶

محبت کے دريا ميں کدورتوں کو غرق کر ديں ۶۶

گھر کے بڑے بھي مدد کريں ۶۷

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۶۹


تيسرا مرحلہ ۶۹

کاموں کي تقسيم کا فن ۶۹

دريچہ ۶۹

کاموں کي تقسيم ۶۹

ايک دوسرے کو روحي طور پر مضبوط بنايئے ۷۰

کاميابي کے لئے راہ ہموار کريں ۷۱

خواتين کي اجتماعي فعاليت اور نوکري کے لئے اہم ترين شرط ۷۱

کارہائے خير کي انجام دہي کے لئے ايک دوسرے کو ترغيب دلانا ۷۲

غمخواري ہي حقيقي مدد ہے! ۷۳

سليقہ مند بيوي کي مديريت کي اہميت ۷۳

بچوں کي پرورش، بہت بڑا ہنر ہے ۷۴

نوکري اور گھريلو زندگي کو خوشحال بنانا ۷۴

عورت، مرد سے زيادہ مضبوط اور قوي ہے! ۷۴

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي پيروي کيجئے ۷۵

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۷۶

چوتھا مرحلہ ۷۶

اتفاق، ہمراہي اور موافقت ۷۶

دريچہ ۷۶

موافقت کيا ہے؟ ۷۷

يورپ کي ايک خوبصورت تعبير ۷۹


کوئي انسان بھي بے عيب نہيں ہے! ۷۹

خاندان کي نابودي کا سبب ۷۹

دو طرفہ موافقت و ہمراہي ۸۰

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۸۱

پانچواں مرحلہ ۸۱

ہنستي مسکراتي اور خوشحال زندگي ۸۱

دريچہ ۸۱

عملي شکر سب سے زيادہ اہم ہے ۸۱

زندگي کے رازوں کي حفاظت کيجئے ۸۲

ايک دوسرے کے غمخوار بنیے ۸۲

سادہ زندگي اور ميانہ روي ۸۲

ہار جيت کے بغير مقابلہ ۸۳

کفايت والي زندگي! ۸۳

قناعت سب کے ليے مفيدہے ۸۴

شادي کي تقريب سے آغاز کريں ۸۵

اپنے والدين کا بھي خيال رکھيے ۸۵

حجاب اور عفّت ۸۷

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۸۸

چھٹا مرحلہ ۸۸

تذکُّر اور يا د دہاني ۸۸


دريچہ ۸۸

ایک دو سر ے کے حسد او ر غیر ت کو نہ جگا ئیے ۸۹

میاں یا بیوي کي تحقیر، خاند ان کي نابودي کا آغاز ۸۹

آئیڈیل کي تلاش میں افراط سے کام لینا ۸۹

غير شرعي معاشرت ۹۰

گھر کي چار ديواري اور عفت و نا موس ،گھر کے محافظ ہيں ۹۰

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ۹۲

ساتواں مرحلہ ۹۲

آساني اور چھوٹ دينا ۹۲

دريچہ ۹۲

الف :شادي بياہ کي تقريبات ميں شاہانہ تجمل اور اسراف ۹۶

اسلامي شادي کي سادہ مگر پر رونق محفل ۹۶

اسلامي نکاح يا جاہلي نکاح ۹۶

شادي کو آسان بنائيں، خدا آپ کي مدد کرے گا ۹۷

اظہارِ خوشي اور مہمانوں کي دعوت، درست مگر اسراف نہ ہو! ۹۷

يہ بڑے بڑے ہوٹل اور شادي ہال شادي کو شيريں نہيں بناتے ۹۸

بعض حکام کي غلطي ۱۰۰

يہ عزت و آبرو نہيں ہے! ۱۰۰

فضول خرچي کرنے والوں کا حساب کتاب بہت سخت ہے ۱۰۱

بيکار زحمت و مشقت ۱۰۲


اسرافِ بالغرض اگر گناہ نہيں تو ثواب بھي نہيں ۱۰۲

آلِ رسول ۰ کي تقليد کريں ۱۰۲

دلہن کے ليے کرائے کا لباس! ۱۰۳

ب: مہر، خلوص و سچائي کي علامت ہے يا لڑکي کي قيمت؟ ۱۰۴

پيغمبر ۰ نے زمانہ جاہليت ميں مہر کي رسم کو توڑ ديا ۱۰۴

مَھْرُ السُّنَّۃ يا شرعي مہر ۱۰۴

١٤ کے ہندسے پر اصرار کيسا ؟ ۱۰۶

زيادہ مہر لڑکي کي بے احترامي ہے ۱۰۶

مہر بخشتي ہوں تم ميري جان چھوڑو! ۱۰۷

بڑے بڑے مہر، نوجوانوں کي شادي کي راہ ميں رکاوٹ ۱۰۸

ج: جہيز، زندگي کي آساني يا فخرو مباہات کا ذريعہ؟ ۱۰۹

بيٹي کي عزت، اخلاق سے بنتي ہے نہ کہ جہيز سے ۱۰۹

مادي دوڑ اور جہيز کي لعنت ۱۰۹

دوسروں کي بھي فکر کريں ۱۱۰

کائنات کي سب سے بہترين دُلہن کا جہيز ۱۱۰

اے دلہنو! تم اس بات کي اجازت نہ دو! ۱۱۲

دعائيہ کلمات! ۱۱۳

طُلوعِ عشق

طُلوعِ عشق

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 52