عورت ،گوہر ہستی

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
گوشہ خواتین


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : عورت ، گوہر ہستي

صاحب اثر : حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ

ترجمہ واضافات : سيد صادق رضا تقوي

کمپوزنگ : مبارک زيدي

طابع : الباسط پرنٹرز ۰۲۱-۶۶۰۶۲۱۱

اشاعت اول : محرم ١٤٢٨ہجري / فروري ٢٠٠٧ئ

تعداد : ٢٠٠٠

قيمت : ۸۰ روپے

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہيں


شہيد آيت اللہ بہشتي نے فرمايا: ’’عورت ، اسلام ميں ايک زندہ حقيقت ، موثر ترين وجود ، مجاہد اور انقلابي کردار کا نام ہے ‘‘

انتساب!

عالم ہستي کي سب سے افضل ترين،کامل ترين،بہترين اور اور عالم اسلام کي نوجوان روحاني وسياسي خاتون شخصيت حضرت فاطمہ زہرا h کے نام!جو تمام انسانوں بالخصوص خواتين کے ليے تا قيامت اسوہ عمل ہیں


سخن ناشر

’’عورت گوہر ہستي‘‘،در اصل ايک زندہ حقيقت و سچائي اور اسلام کي حقانيت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

’’عورت گوہر ہستي‘‘ميں سماجي اور گھريلو مسائل سميت عورت کے اجتماعي ،سياسي اور معنوي کردار، مغرب ميں خواتين کي حالت زار ،خواتين پر مغرب کے ظلم اور اسلام کي خدمات ،آزادي نسواں کے حقيقي مفہوم ، خواتين کي فعاليت کیلئے جامع راہنمائي ،حجاب کي حقيقت و فوائد ،عورت کے بارے ميں اسلام کي حقيقي نگاہ اور اسلامي آئیڈيل کو قرآن و روايات کي روشني ميں بہت سادہ انداز سے بيان کيا گيا ہے۔

’’عورت گوہر ہستي‘‘رہبر عالي قدر کي تقارير ہيں کہ جنہيں قرآن و عترت فاونڈيشن ،سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي نے اپريل ٢٠٠٦ ميں تہران سے شايع کيا،درحقيقت وہ عميق تجزيہ و تحليل ہيں جو ايک اسلامي عورت کي راہنمائي کیلئے بھر پور کردار ادا کرسکتي ہيں ۔

نشر ولايت پاکستان کا قيام ٢٠٠٢ ئ ميں عمل ميں لايا گيا۔ اس ادارے کا مقصد رہبرِ معظم ولي امر مسلمين جہان حضرت آيت اللہ العظميٰ امام سيد علي خامنہ اي حفظہ اللّہ کے تمام مطبوع اور غير مطبوع آثار کي حفاظت اور اُنہيں اُردو زبان ميں منتقل کرنا ہے۔

نشر ولايت پاکستان ، دشمن کي ثقافتي يلغار کو روکنے کے ليے کوشاں ہے۔ يہ کتاب بھي اسي سلسلے کي ايک کڑي ہے۔ اُميد ہے کہ يہ کتاب آپ کے علمي ذوق ميں اضافے اور حقيقي اور مذہبي زندگي کي راہنمائي ميں آپ کي مددگار ثابت ہوگي۔

نشر ولايت پاکستان

(مرکز حفظ و نشر آثار ولايت)


مُقدَّمہ

اِس دنياکا ہرذي حيات موجود، خُداوند عالم کي حکمت وعدالت کي بنياد پر عالم خلقت ميں نہ صرف يہ کہ اپنے ہدف وغايت اوراپني زندگي سے متعلق خاص سوالات کے جوابات کامتلاشي ہے بلکہ اپنے خاص اورمناسب مقام ميں ديگر مخلوقات سے باہمي رابطے و معاملے کے بندھن ميں بھي جڑا ہوا ہے۔ اَحسَنُ الخَالِقين کي تمام مخلوقات کے درميان، سب سے اَحسَن ترين تخليق (انسان)، ديگر موجودات کے مقابلے ميں بہت زيادہ حکمت و عدالت سے مالا مال ہے اور خداوند عالم کے پنہاں اسرار و رموز نے اُس کا احاطہ کيا ہواہے۔ مرد وعورت ، دو متقابل نقاط ميں نہيں بلکہ معاملے،رابطے اور تعامل کے ايک نقطے پر تکميلِ خلقت ، دوامِ نسل اور محبت و سکون ميں توازن کيلئے خلق ہوئے ہيں اور خدائے رحمان و رحيم نے دونوں ميں سے ہر ايک کو اُس کي خلقت کے بُنيادي مقصد کي جوابدہي اور اُس کے مناسب ترين مقام تک رسائي کيلئے اپنے لطف و رحمت ميں ڈھانپا ہوا ہے۔ اُس نے ايک وجود کو لطافت ، نرمي، نفاست ، ظرافت اور محبت بخشي ہے تو دوسرے کو قوت و طاقت ، مضبوط و بلند حوصلے اور تکيہ و اعتماد کا مرکز بنايا ہے۔ نہ پہلے کو دوسرے پر برتري دي ہے اورنہ دوسرے کو پہلے پر سبقت کاموقع فراہم کيا ہے بلکہ اُس نے ہر ايک کو خانداني مدار اورعالمِ ہستي کے نظام ميں اپني اپني مخصوص ذمے داريوں اورشرعي واجبات کي ادائيگي کيلئے مقرر کيا ہے۔ عالمِ خلقت ميں دونوں کي جداگانہ ذمے داريوں کے تعين کي وجہ سے مرد و عورت دونوں کے حقوق واضح ہوجاتے ہيں اور اسي نگاہ سے دونوں کي حدود اوردائرہ فعاليت بھي مشخص ہوجاتے ہيں۔

بشر نے اپني جاہلانہ و شيطاني روش کي وجہ سے کہ جب اس نے حدودِ الٰہي سے تجاوز کيا ، نہ صرف يہ کہ اپني مخصوص ذمے داريوں اورفرائض کو نہيں پہچانا بلکہ دائرہ فعاليت اور حد بندي کو بھي يکسر فراموش کرديا اور يوں عورتوں پر بھي ستم کيا،پورے معاشرتي نظام کو تہہ وبالا کيا اور ساتھ ہي مردوں پر بھي ظلم کيا۔انساني معاشرے ميں موجود انحطاط ، برائياں اور عرياني وفحاشي سب حقوق و حدود الٰہي سے تجاوز کرنے اور ظالمانہ رفتار و کردار پر دلالت کرتے ہيں۔ در حالانکہ تمام جگہ خداوند عالم کے احکام جاري و ساري ہيںاور روحانيت و رحمت ِ الٰہي ، حيات بخش بارش کي مانند ہر آن و ہر لمحہ نشاط و سلامتي ليکر آتي ہے۔

اسلامي انقلاب ، اس طراوت و نشاط کي پہلي کرن ہے اور مرد و عورت سب پر خداوند عالم کي رحمت و معنويت کي زندہ نشاني ہے ۔ اسلامي انقلاب نے سيرت حضرت ختمي مرتبت ۰ اور امير المومنين کي تعليمات کي روشني و پيروي ميں تمام خواتين کو اُن کے عظيم و بلند مقام پر فداکار اور محبت نچاور کرنے والي ماوں، صابر، مونس و غمخوار بيويوں، استقامت اور قدم جماکر (ميدان جنگ سميت تمام محاذوں پر لڑنے والي) مجاہدہ خواتين کي صورت ميں پرورش دي ہے۔

ميک اَپ شدہ جاہليت اور ٹيکنالوجي کے غرور ميں ڈوبے ہوئے مغربي معاشرے نے ’’اسلامي ثقافت اور اسلامي نکتہ نظر سے عورت کے مقام‘‘کے مقابلے ميں خود کو ايک بڑي مصيبت ميں گرفتار کرکے اپني فعاليت اور جدوجہد کو اور تيز کرديا ہے تاکہ شخصيت زن اورحقوق ِنسواں کي تازہ نسيم کا راستہ روک سکے اور مظلوم خواتين کو اُس تازہ فضا ميں سانس نہيں لينے دے ۔ سيمينار منعقد کيے گئے ، کانفرنسوں کا آغاز کيا گيا، قرارداديں پاس ہوئيں اور مغرب کي پسند کي بنياد پر خواتين کي آزادي کي سخن سامنے آئي۔ ليکن مسلمان خواتين کو حقوقِ نسواں کے ان مدافعوں کي نہ کوئي حاجت تھي اور نہ ہي انہوں نے اہلِ مغرب کي کوششوں کو سچا اورحق کے مطابق پايا۔ ’’آبِ حيات ‘‘اُن کے کوزے ميں تھا اور وہ تشنہ لب نہيں تھیں، عشق الٰہي کے جام کي شيريني اُن کے دلوں ميں رچي بسي تھي اور وہ بيگانوں کے سامنے دست بہ سوال نہيں تھيں۔ اگر وہ اپنے حق ميں کسي ظلم و ستم يا حقوق کے ملنے ميں کسي خلل کا مشاہدہ کرتيں تو انہيں حدود الٰہي اور احکام خدا کي عدم پابندي کا نتيجہ قرار ديتيں نہ کہ احکام و حدود الٰہي کو توڑنے کا۔ يہي وجہ ہے کہ اگر وہ اپنے حقوق تک رساني کيلئے کوششيں کرتيں تو مغرب کي تقليد اور اُن کي تاريک ثقافت سے کوئي بھي اثر لئے بغير اسلام کے محور اور اُس کے نوراني احکامات کے مطابق انجام ديتيں۔

خطبات وتقارير کا يہ منتخب مجموعہ دراصل رہبر معظم حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي دامت برکاتہ کے وہ راہنما اصول ہيں کہ جن ميں انہوں نے خالص اسلام کي نگاہ کو اس خاص زاويے سے بيان فرمايا ہے اور اُن پر تاکيد فرمائي ہے۔ يہ بيانات دراصل خواتين کے بارے ميں مغرب کے انحطاط اور مشکلات پر ايک عميق اور صادقانہ تجزيہ بھي ہيں اور اسلام کي نگاہ ميں شخصيت اور حقوقِ نسواں پر صحيح نظر بھي، ساتھ ہي حقوقِ نسواں کا پاس رکھنے اور گھرانے کي بنيادوں کو مستحکم بنانے کيلئے مشفقانہ اور پدارنہ نصيحتيں بھي۔ البتہ اِس مختصر سي کتاب ميں موجود بيانات خواتين کے بارے ميں رہبر معظم کے تمام بيانات نہيں ہيں بلکہ اُن کا خلاصہ ہيں۔

ہميں اُميد ہے کہ ان بيانات کا مطالعہ نہ صرف يہ کہ قارئين کے علم ميں اضافے کا باعث ہوگا بلکہ وہ انہيں اپنا سرمشق قرار ديتے ہوئے اپني گمشدہ حقيقت کو پانے کيلئے اسلامي احکامات کي روشني ميں جدوجہد کريں گے، ان شائ اللہ۔


پہلا باب :

مغرب اورخواتين

دريچہ

مغرب اپني تاريخ کے مختلف ادوار ميں خواتين کے بارے ميں شديد قسم کے افراط کا شکار رہا ہے اور اب اِس مسئلے ميں تفريط کي سياہ گھٹاوں نے اُسے آگھيرا ہے ۔ ہم بہت دورکي بات نہيں کررہے ہيں ۔ اقتصادي ، اجتماعي اور تحصيل علم کے مسائل ميں حقوقِ نسواں کو کبھي رسمي نگاہ سے نہيں ديکھا گيا اور وہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے اورآج جبکہ مغربي تمدن کي اوج کا زمانہ ہے تو خواتين اورنوجوان لڑکيوں پر جنسي تشدد کے نتيجے ميں پيدا ہونے والي مشکلات، گھرانے ( ميں عدم تربيت و عدم محبت) کے بُحران اور فيمين ازم (حقوق نسواں) کے کھوکھلے نعروں نے مغربي معاشرے کا جنازہ نکال ديا ہے۔

مرد و خواتين کے باہمي تعلقات ميں آزادانہ ميل ملاپ اور لا اُبالي پن ، مردوں کي لذت و شہوت کي تکميل کيلئے خواتين کا وسيلہ بننا، خواتين کا فضول خرچي، عيش پرستي اور زينت پرستي کي دوڑ ميں شريک ہونا، عرياني، بے پردگي اور برائيوں کا عام ہونا، مردوں کي جنسي آزادي اور حقوقِ نسواں کے بارے ميں مرد اورخواتين کے درميان اختلافات اُن جملہ اجتماعي اور ثقافتي اختلافات ميں سے ہيں کہ جس نے مغرب کو تباہي کے دہانے پر لاکھڑا کيا ہے۔ دنيا کے انسان اور مسلمان ، اِن ظلم وستم کي وجہ سے مغربي ثقافت کو عدالت کے کٹہرے ميں لے آئے ہيں اور مغرب کو اب ملامت و سرزنش کا نشانہ بننا چاہيے۔


پہلي فصل

خواتين اور گھرانے کے بارے ميں مغرب کا افراط و تفريط

مغربي ادب ميں عورت کي مظلوميت

سب سے پہلے مغربي معاشرے کي مشکلات اورمغربي ثقافت کے بارے ميں گفتگو کرنا چاہتا ہوں، اُس کے بعد اسلام کي نظر بيان کروں گا۔ اہل مغرب ، عورت کے مزاج کي شناخت اور صنفِ نازک سے برتاو ميں افراط و تفريط کا شکار رہے ہيں ۔ بنيادي طور پر عورت کے بارے ميں مغرب کي نگاہ دراصل غير متوازن اورعدم برابري کي نگاہ ہے۔ آپ مغرب ميں لگائے جانے والے نعروں کو ملاحظہ کيجئے، يہ کھوکھلے نعرے ہيں اور حقيقت سے کوسوں دور ہيں۔ ان نعروں سے مغربي ثقافت کي شناخت ممکن نہيں بلکہ مغربي ثقافت کو اُن کے ادب ميں تلاش کرنا چاہيے۔ جو لوگ مغربي ادب ، يورپي معاشرے کے اشعار، ادبيات،ناول، کہانيوں اور اسکرپٹ سے واقف ہيں ، وہ جانتے ہيں کہ مغربي ثقافت ميں قبل از قرون وسطيٰ کے زمانے سے لے کر اس صدي کے آخر تک عورت کو دوسرا درجہ ديا گيا ہے۔ جو فرد بھي اس حقيقت کے خلاف دعويٰ کرتا ہے وہ حقيقت کے خلاف بولتا ہے۔ آپ شيکسپيئر کے ناول کو ديکھئے،آپ ملاحظہ کريں گے کہ اس ناول ميں اور بقيہ مغربي ادب ميں صنف نازک کو کن خيالات ، کس زبان اور کس نگاہ سے ديکھا جاتا ہے۔ مغربي ادب ميں مرد،عورت کا سرادر،مالک اورصاحب اختيار ہے اور اس ثقافت کي بعض مثاليں اور آثار آج بھي باقي ہيں۔

آج بھي جب ايک عورت ، مرد سے شادي کرتي ہے اور اپنے شوہر کے گھر ميں قدم رکھتي ہے تو حتي اُس کا خانداني نام (يا اُس کے اصلي نام کے ساتھ اُس کا دوسرا نام )تبديل ہوجاتا ہے اور اب اُس کے نام کے ساتھ شوہر کا نام ليا جاتا ہے ۔ عورت جب تک شادي نہيں کرتي وہ اپنے خانداني نام کو اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتي ہے ليکن جب وہ شوہر دار ہوجاتي ہے تو عورت کا خانداني نام، مرد کے خانداني نام ميں تبديل ہوجاتا ہے، يہ ہے اہل مغرب کي رسم! ليکن ہمارے ملک ميں نہ تو يہ رسم کبھي تھي اور نہ آج ہے۔ (ہمارے معاشرے ميں ) عورت اپنے خاندان (ميکے) کے تشخص کو اپنے ساتھ شادي کے بعد بھي محفوظ رکھتي ہے۔ يہ مغرب کي قديم ثقافت کي نشاني ہے کہ مرد، عورت کا آقا اور مالک ہے۔

يورپي ثقافت ميں جب ايک عورت اپنے تمام مال و منال کے ساتھ شادي کرتي تھي اور شوہر کے گھر ميں قدم رکھتي تھي تو نہ صرف يہ کہ اُس کا جسم ، مرد کے اختيار ميں ہوتا تھا بلکہ اُس کي تمام ثروت و دولت جو اُس کے باپ اور خاندان (ميکے) کي طرف سے اُسے ملتي تھي، شوہر کے اختيار ميں چلي جاتي تھي۔ يہ وہ چيز ہے کہ جس کا انکار خود اہلِ مغرب بھي نہيں کرسکتے کيونکہ يہ مغربي ثقافت کا حصہ ہے۔ مغربي ثقافت ميں جب عورت اپنے خاوند کے گھر ميں قدم رکھتي تھي تو در حقيقت اُس کے شوہر کو اُس کي جان کا بھي اختيار ہوتا تھا! چنانچہ آپ مغربي کہانيوں ، ناولوں اور يورپي معاشرے کے اشعار ميں ملاحظہ کريں گے کہ شوہر ايک اخلاقي مسئلے ميں اختلاف کي وجہ سے اپني بيوي کو قتل کرديتا ہے اورکوئي بھي اُسے سرزنش نہيں کرتا! اسي طرح ايک بيٹي کو بھي اپنے باپ کے گھر ميں کسي قسم کے انتخاب کا کوئي حق حاصل نہيں تھا۔

البتہ يہ بات ضرور ہے کہ اُسي زمانے ميں مغربي معاشرے ميں مرد و خواتين کاطرززندگي ايک حد تک آزادتھا ليکن اِس کے باوجود شادي کااختيار اورشوہر کا انتخاب صرف باپ کے ہاتھ ميں تھا۔ شيکسپيئر کے اِسي ناول ميں جو کچھ آپ ديکھيںگے وہ يہي کچھ ہے کہ ايک لڑکي کو شادي پر مجبور کيا جاتا ہے، ايک عورت اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوتي ہے اور آپ کو ايک ايسا گھر نظر آئے گا کہ جس ميں عورت سخت دباو ميں گھري ہوئي ہے، غرض جو کچھ بھي ہے وہ اِسي قسم کا ہے۔ يہ ہے مغربي ادب وثقافت !موجودہ نصف صدي تک مغرب کي يہي ثقافت رہي ہے۔ البتہ انيسويں صدي کے اواخر ميں وہاں آزادي نسواں کي تحريکيں چلني شروع ہوئي ہيں۔

يورپي عورت کي آزادي کے مغرضانہ مادّي عوامل

محترم خواتين اور خصوصاً جوان لڑکياں کہ جو اِس مسئلے ميں فکر کرنا چاہتي ہيں ، انہيں چاہيے کہ وہ بھرپور توجہ کريں۔ سب سے اہم نکتہ يہ ہے کہ جب يورپ ميں خواتين کا ’’حق ِ مالکيت‘‘ معين کيا گيا جيسا کہ يورپي معاشرتي ماہرين کي تحقيقاتي سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے ، اس ليے تھا کہ مغرب ميں صنعت و جديد ٹيکنالوجي کي آمد کے زمانے ميں کارخانوں اور ملوں نے رونق حاصل کي تھي اور انہيں مزدوروں کي سخت ضرورت تھي مگر مزدور کم تھے اور کارخانوں کو مزدوروں کي ايک بڑي تعدار درکار تھي۔ اِسي ليے انہوں نے خواتين کو کارخانوں کي طرف کھينچا اور اُن کي طاقت و توانائي سے استفادہ کيا۔ البتہ خواتين مزدوروں کو دوسروں کي بہ نسبت کم تنخواہ دي جاتي تھي ، اُس وقت اعلان کيا گيا کہ عورت کو مالکيت کا حق حاصل ہے ! بيسويں صدي کے اوائل ميں يورپ نے خواتين کو ’’حق مالکيت‘‘ ديا۔ يہ ہے خواتين کے بارے ميں مغرب کا افراطي، غلط اور ظالمانہ رويہ۔

جلتا ہوا مغربي معاشرہ!

اس قسم کے افراط کے مقابلے ميں تفريط بھي موجود ہے ۔ جب اُس گھٹن کے ماحول ميں خواتين کے حق ميں اس قسم کي (ظاہراً )پُرسود تحريک شروع ہوتي ہے تو ظاہري سي بات ہے کہ دوسري طرف سے خواتين تفريط کا شکار ہوتي ہیں ۔ لہٰذا آپ ملاحظہ کريں گے کہ ان چند دہائيوں ميں خود آزادي نسواں کے نام پر مغرب ميں کئي قسم کي برائيوں ، فحاشي و عرياني اور بے حيائي نے جنم ليا اور يہ سب برائياں بتدريج رواج پيدا کرتي گئيں کہ جن سے خود مغربي مفکرين بھي حيران و پريشان ہيں۔ آج مغربي ممالک کے سنجيدہ ، مصلح،خردمند اور سينے ميں دل و تڑپ رکھنے والے افراد اِس جنم لينے والي موجودہ صورتحال سے حيران و پريشان اور ناراض ہيں ليکن وہ اِس سيلاب کا راستہ روکنے سے قاصر ہيں ۔ انہوں نے خواتين کي خدمت کرنے کے نام پر اُن کي زندگي پر ايک بہت کاري ضرب لگائي ہے ، آخر کيوں؟ صرف اِس لئے کہ مرد و عورت کے درميان تعلقات ميں اس لا اُبالي پن، برائيوں اور فحاشي و عرياني کو فروغ دينے اور ہر قسم کي قيد وشرط سے دور مرد وخواتين کي آزادي اور طرز معاشرت نے گھرانے کي بنيادوں کو تباہ و برباد کرديا ہے۔ وہ مرد جو معاشرے ميں آزادانہ طور پر اپني شہوت کي تشنگي کو بجھا سکے اور وہ عورت جو سماج ميں بغير کسي مشکل اور اعتراض کے مردوں سے مختلف قسم کے روابط برقرار کرسکے، گھر کي چارديواري ميں يہ مرد نہ ايک اچھا شوہر ثابت ہوگا اور نہ ہي يہ عورت ايک اچھي اور بہترين و وفادار بيوي بن سکے گي۔ يہي وجہ ہے کہ وہاںگھرانے کي بنياديں مکمل طور پر تباہ ہوگئيں ہيں۔

موجودہ زمانے کي سب سے بڑي بلاوں ميں سے ايک بلا وآفت ’’ گھرانے کے مسائل‘‘ ہيں کہ جس نے مغربي ممالک کو اپنے پنجوں ميں جکڑا ہوا ہے اور انہيں ايک بدترين قسم کي نامطلوب حالت سے دُچار کرديا ہے۔ لہٰذا ايسے ماحول و معاشرے ميں اگر کوئي خاندان اور گھرانے کے بارے ميں نعرہ لگائے (اور اپني منصوبہ بندي کا اعلان کرے) تو وہ اہل مغرب خصوصاً مغربي خواتين کي نگاہوں ميں وہ ايک مطلوب ومحبوب شخص ہے ، ليکن کيوں؟ اس لئے کہ يہ لوگ مغربي معاشرے ميں خاندان اور گھرانے کي بنيادوں کے تزلزل سے سخت نالاں اور پريشان ہيں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں کے عائلي نظام نے وہ چيز جو مرد و خواتين بالخصوص خواتين کيلئے امن و سکون کاماحول فراہم کرتي ہے ، اپنے ہاتھوں سے کھودي ہے ۔ بہت سے گھرانے اور خاندان تباہ و برباد ہوگئے ہيں ، بہت سي ايسي خواتين ہيں جو زندگي کے آخري لمحات تک تنہا زندگي بسر کرتي ہيں، بہت سے مرد ايسے ہيں جو اپني پسند کے مطابق خواتين حاصل نہيں کر پاتے اور بہت سي ايسي شادياں ہيں کہ جو اپنے نئے سفر کے ابتدائي چند سالوں ميں ہي جدائيوں اور طلاق کا شکار ہوجاتي ہيں۔

ہمارے ملک ميں موجود خاندان اور گھرانے کي جڑيں اور محکم بنياديں ، آج مغرب ميں بہت کم مشاہدہ کي جاتي ہيں۔ مغربي معاشرے ميں ايسے خاندان بہت کم ہيں کہ جہاں دادا، دادي ، نانا ، ناني ،نواسے ، نواسياں ، پوتے، پوتياں،چچا زاد بہن بھائي اور خاندان کے ديگر افراد ايک دوسرے سے واقف ہوں ، ايک دوسرے کو پہچانتے ہوں اور آپس ميں تعلقات رکھتے ہوں۔ وہاں ايسے خاندان بہت کمياب ہيں اور وہ ايسا معاشرہ ہے کہ جہاں مياں بيوي بھي ايک گھر کيلئے لازمي و ضروري پيار ومحبت سے عاري ہيں۔ يہ وہ بلا ہے جو غلط کاموں کو انجام دينے اور ايک طرف سے افراط اور دوسري طرف سے اُس کے مقابل سراٹھانے والي تفريط کے نتيجے ميں اُس معاشرے پر مسلط ہوئي ہے اور اِس کا سب سے زيادہ نقصان مغربي خواتين کو ہوا ہے۔(۱)

____________________

١ تہران کے آزادي جيم خانہ ميں خواتين کي ايک بڑي کانفرنس سے خطاب


دوسري فصل

جاہلانہ تمدن و ثقافت کے خطرات و نتائج

حقو ق نسواں، موجودہ دنيا کا ايک گھمبير اور حل نشدہ مسئلہ

حقوق نسواں کے بارے ميں جو دنيا کا ابھي تک ايک حل نشدہ مسئلہ ہے، بہت زيادہ گفتگو کي گئي ہے اور کي جاري ہے۔ جب ہم اس دنيا کے انساني نقشے اور مختلف انساني معاشروں پر نظر ڈالتے ہيں ، خواہ وہ ہمارے اپنے ملک کا اسلامي معاشرہ ہو يا ديگر اسلامي ممالک کا يا حتي غير اسلامي معاشرے بھي کہ جن ميں پيشرفتہ اور متمدن معاشرے بھي شامل ہيں، تو ہم ديکھتے ہيں کہ ان تمام معاشروں ميں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقوق نسواں کا مسئلہ ابھي تک حل نہيں ہوا ہے۔ يہ سب انساني مسائل کے بارے ميں ہماري کج فکري اور غلط سوچ کي نشاني ہے اور اس با ت کي عکاسي کرتے ہيں کہ ہم ان تمام مسائل ميں تنگ نظري کا شکار ہيں۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام بلندو بانگ دعووں،مخلص اور ہمدرد افراد کي تمام تر جدوجہد اور حقوق نسواں اور خواتين کے مسائل کے بارے ميں وسيع پيمانے پر ہونے والي ثقافتي سرگرميوں اور فعاليت کے باوجود اِن دو جنس (مرد و عورت) اور مسئلہ خواتين کہ اِسي کے ذيل ميں مردوں کے مسائل کو ايک اور طرح سے بيان کيا جاتا ہے، کے بارے ميں ايک سيدھے راستے اور صحيح روش کو ابھي تک ڈھونڈھنے سے قاصر ہے۔

شايد آپ خواتين کے درميان بہت سے ايسي خواتين ہوں کہ جنہوں نے دنيا کي ہنرمند خواتين کے ہنري اور ادبي آثار کو ديکھا يا پڑھا ہو کہ اُن ميں بعض آثار فارسي زبان ميں ترجمہ ہوچکے ہيں اور بعض اپني اصلي زبان ميں موجود ہيں۔ يہ سب اِسي مذکورہ بالا مسئلے کي عکاسي کرتے ہيں کہ خواتين کے مسائل اور اِسي کے ذيل ميں ان دوجنس ، مرد وعورت کے مسئلے اور بالخصوص انسانيت سے متعلق مسائل کو حل کرنے ميں بشر ابھي تک عاجز و ناتوان ہے۔ بہ عبارت ديگر؛ زيادتي ، کج فکري اور فکري بدہضمي اور اِن کے نتيجے ميں ظلم و تعدّي، تجاوز، روحي ناپختگي، خاندان اور گھرانوں سے متعلق مشکلات ؛ ان دو جنس۔ مردو زن۔ کے باہمي تعلقات ميں اختلاط و زيادتي سے مربوط مسائل ابھي تک عالم بشريت کے حل نشدہ مسائل کا حصہ ہيں۔ يعني مادي ميدانوں ميں ترقي، آسماني واديوں اور کہکشاوں ميں پيشقدمي اور سمندروں کي گہرائيوں ميں اتني کشفيات کرنے، نفسياتي پيچيدگيوں اور الجھنوں کي گھتيّوں کو سُلجھانے اور اجتماعي و اقتصادي مسائل ميں اپني تمام تر حيران کن پيشرفت کے باوجود يہ انسان ابھي تک اس ايک مسئلے ميں زمين گير و ناتواں ہے۔ اگر ميں ان تمام ناکاميوں اور انجام نشدہ امور کو فہرست وار بيان کروں تو اِس کيلئے ايک بڑا وقت درکار ہے کہ جس سے آپ بخوبي واقف ہيں۔

دنيا ميں ’’خانداني‘‘ بحران کي اصل وجہ!

خانداني مسائل کہ جو آج دنيا کے بنيادي ترين مسائل ميں شمار کيے جاتے ہيں ، کہاں سے جنم ليتے ہيں ؟ کيا يہ خواتين کے مسائل کا نتيجہ ہيں يا پھر مردو عورت کے باہمي رابطے کے نتيجے ميں پيدا ہوتے ہيں؟ ايک خاندان اور گھرانہ جو دنيا ئے بشريت کا اساسي ترين رکن ہے، آج دنيا ميں اتنے بحران کا شکار کيوں ہے؟ يعني اگر کوئي بقول معروف آج کي متمدّن مغربي دنيا ميں خاندان کي بنيادوں کو مستحکم بنانے کا خواہ ايک مختصر سا ہي منصوبہ کيوں نہ پيش کرے تو اُس کا شاندار استقبال کيا جائے گا، مرد ، خواتين اور بچے سب ہي اُس کا پُرتپاک استقبال کريں گے۔

اگر آپ دنيا ميں ’’خاندان‘‘ کے مسئلے پر تحقيق کريں اور خاندان کے بارے ميں موجود اس بحران کو اپني توجہ اور کاوش کا مرکز قرار ديں تو آپ ملاحظہ کريں گے کہ ِاس بُحران نے اِن دو جنس يعني مرد وعورت کے درميان باہمي رابطے، تعلّقات اور معاشرے سے مربوط حل نشدہ مسائل سے جنم ليا ہے يا بہ تعبير ديگر يہ نگاہ و زاويہ، غلط ہے۔ اب ہم لوگ ہيں اور مقابل ميں مرد حضرات کے خود ساختہ افکار و نظريات ہيں، تو جواب ميں ہم يہي کہيں گے کہ خواتين کے مسئلے کو جس نگاہ و زاويے سے ديکھا جارہا ہے وہ صحيح نہيں ہے اور يہ بھي کہا جاسکتا ہے کہ مردوں کے مسئلے کو اس زاويے سے ديکھنا بھي غير معقول ہے يا مجموعاً ان دونوں کي کيفيت و حالت کا اِس نگاہ سے جائزہ لينا سراسر غلطي ہے۔

مرد و عورت کي کثير المقدار مشکلات کا علاج

اس مسئلے کي مشکلات ، زيادہ اور مسائل فراوان ہيں ليکن سوال يہ ہے کہ ان سب کا علاج کيسے ممکن ہے؟ اِن سب کا راہ حل يہ ہے کہ ہم خداوند عالم کے بنائے ہوئے راستے پر چليں۔ دراصل مرد وعوت کے مسائل کے حل کيلئے پيغام الٰہي ميں بہت ہي اہم مطالب بيان کئے گئے ہيں لہٰذا ہميں ديکھنا چاہيے کہ پيغام الٰہي اِس بارے ميں کيا کہتا ہے۔ خداوند عالم کے ’’پيغام وحي‘‘ نے اِس مسئلے ميں صرف وعظ و نصيحت کرنے پر ہي اکتفا نہيں کيا ہے بلکہ اس نے راہ حل کيلئے زندہ مثاليں اور عملي نمونے بھي پيش کيے ہيں۔

آپ ملاحظہ کيجئے کہ خداوند عالم جب تاريخ نبوّت سے مومن انسانوں کيلئے مثال بيان کرنا چاہتا ہے تو قرآن ميں يہ مثال بيان کرتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ’’وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا امرَآَتَ فِرعَونَ ‘‘(۱) ۔ (اللہ نے اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال بيان فرمائي ہے)۔ حضرت موسي کے زمانے ميں اہل ِ ايمان کي کثير تعداد موجود تھي کہ جنہوں نے ايمان کے حصول کيلئے بہت جدوجہد اور فداکاري کي ليکن خداوند عالم نے ان سب کے بجائے زن فرعون کي مثال پيش کي ہے۔ آخر اِس کي کيا وجہ ہے؟ کيا خداوند عالم خواتين کي طرفداري کرنا چاہتا ہے يا در پردہ حقيقت کچھ اور ہے؟ حقيقتاً مسئلہ يہ ہے کہ يہ عورت (زن فرعون) خدا کے پسنديدہ اعمال کي بجا آوري کے ذريعے ايسے مقام تک جاپہنچي تھي کہ فقط اُسي کي مثال ہي پيش کي جاسکتي تھي۔ يہ حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام اور حضرت مريم علیھا السلام سے قبل کي بات ہے۔ فرعون کي بيوي ، نہ پيغمبر ہے اور نہ پيغمبر کي اولاد ، نہ کسي نبي کي بيوي ہے اور نا ہي کسي رسول کے خاندان سے اُس کا تعلق ہے۔ ايک عورت کي روحاني و معنوي تربيت اور رُشد اُسے اس مقام تک پہنچاتي ہے !

البتہ اس کے مقابلے ميں يعني برائي ميں بھي اتفاقاً يہي چيز ہے۔ يعني خداوند متعال جب بُرے انسانوں کيلئے مثال بيان کرتاہے تو فرماتا ہے۔ ’’ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ کَفَرُوا امرَآَتَ نُوحٍ وَّ امرَآَتَ لُوطٍ ‘‘(۲) (اللہ نے اہل کفر کيلئے نوح اور لوط کي بيويوں کي مثال پيش کي ہے)۔ يہاں بھي خدا نے دو عورتوں کي مثال پيش کي ہے کہ جو برے انسانوں سے تعلق رکھتي تھيں۔ حضرت نوح اور حضرت لوط کے زمانے ميں کافروں کي ايک بہت بڑي تعداد موجود تھي اور ان کا معاشرہ برے افراد سے پُر تھا ليکن قرآن اُن لوگوں کو بطور ِ مثال پيش کرنے کے بجائے حضرت نوح و حضرت لوط کي زوجات کي مثال بيان کرتا ہے۔

اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال کے پيش کيے جانے کے ذريعے صِنفِ نازک پر يہ خاص عنايت اورايک عورت کے مختلف عظيم پہلووں اور اُس کے مختلف ابعاد پر توجہ کي اصل وجہ کيا ہے؟ شايد يہ سب اِس جہت سے ہو کہ قرآن يہ چاہتا ہے کہ اُس زمانے کے لوگوں کے باطل اور غلط افکار و نظريات کي جانب اشارہ کرے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُس زمانہ جاہليت کے باطل افکار و عقائد آج بھي ہنوز باقي ہيں ، خواہ وہ جزيرۃ العرب کے لوگ ہوں جو اپني بيٹيوں کو زندہ درگور کرديتے تھے يا دنيا کي بڑي شہنشاہت کے زمانے کے لوگ ہوں مثل روم و ايران۔

يورپ کي موجودہ تمدن کي بنياد

يورپ کے موجودہ تمدن کي بنياد، روم کي قديمي تہذيب و ثقافت پر قائم ہے۔ يعني يورپ و مغرب اور اُس کے ذيل ميں امريکي تہذيب و ثقافت پر سرسے پير تک جو چيز مسلط و حاکم ہے،وہ وہي اصول و نکات ہيں کہ جو رومي شہنشاہيت کے زمانے ميں موجود تھے اور وہي اصول و قوانين آج ان ممالک کي ثقافت اور تہذيب و تمدن کا معيار بنے ہوئے ہيں۔ اُس زمانے ميں بھي خواتين کا بہت زيادہ احترام کيا جاتا تھا ، انہيں بہت بلند مقام و مرتبہ دياجاتا تھا اور مختلف قسم کے زيوراور آرائش وزينت سے انہيں مزين کيا جاتا تھا مگر کس ليے؟ صرف اس ليے کہ مرد کي ايک خاکي و پست اور سب سے زيادہ مادي (اور حيواني وشہوتي) خصلت کي سيرابي کا وسيلہ بن سکے! يہ ايک انسان اور صنف نازک کي کتني بڑي تحقير اور توہين ہے !

ايراني شہنشاہيت کے زمانے ميں ايران بھي بالکل ايسا ہي تھا۔ ساساني سلسلہ بادشاہت کے حرم سراوں کے قصے تو آپ نے سنے ہوں گے۔ حرم سرا کا مطلب آپ کو پتہ ہے؟! حرم سرا يعني عورت کي اہانت وتذليل کي جگہ۔ايک مرد چونکہ قدرت کا حامل ہے لہٰذا وہ خود کو يہ حق ديتا ہے کہ وہ ايک ہزار عورتوں کو اپنے حرم سرا ميں رکھے۔ اُس زمانے کے بادشاہ کي رعايا کا ہر فرد بھي اگر قدرت و توانائي رکھتا تو وہ بھي اپني حيثيت و طاقت کے مطابق ايک ہزار، پانچ سو، چارسو يا دو سو عورتوں کو اپنے پاس رکھتا۔ يہ واقعات و حقائق عورت سے متعلق کون سے افکار و نظريات کي عکاسي کرتے ہيں؟!

مغربي عورت کي حالت زار

ہميں مغرب سے ابھي بہت کچھ طلب کرنا ہے کہ جس نے تاريخ کے مختلف ادوار سے ليکر آج تک اِس صنفِ نازک کي اتني تحقير و تذليل کي ہے۔ آپ توجہ کيجئے کہ ابھي ماضي قريب تک يورپ اور مغربي ممالک ميں خواتين کو اپنے مستقل اور جداگانہ مالي حقوق حاصل نہيں تھے۔ ميں نے ايک دفعہ کافي تحقيق کے بعد اس بارے ميں اعداد و شمار آج سے تقريباً چار ، پانچ سال(۳) قبل نماز جمعہ کے کسي خطبے ميں ذکر کيے تھے۔ مثلاً بيسويں صدي کے اوائل تک اُن تمام بلند و بانگ دعووں ، مغرب ميں روز بروز پھيلنے والي بے حيائي اور حد سے گزر جانے والے اور بے مہار جنسي اختلاط و بے راہ روي کے بعد بھي کہ جس کے بعد يہ لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ عورت کو اس طرح زيادہ احترام و بلند مقام ديا جاتا ہے، مغربي عورت کو يہ حق حاصل نہيں تھا کہ وہ اپنے ذاتي مال و ثروت سے آزادانہ استفادہ کرے! وہ شوہر کے مقابلے ميں اپنے ذاتي مال و دولت کي بھي مالک نہيں تھي! يعني جو عورت بھي شادي کرتي تھي اُس کي تمام جمع پونجي اور مال ودولت سب اُس کے شوہر کي ملکيت ميں چلا جاتا تھا اور عورت کو اپنا ہي مال خرچ کرنے کا کوئي اختيار حاصل نہيں تھا، يہاں تک کہ بيسويں صدي کے اوائل ميں خواتين کو نوکري و ملازمت اور ملکيت کا حق ديا گيا۔ اہل مغرب نے اس مسئلے کو بھي جو انساني حقوق کے بنيادي اور ابتدائي ترين مسائل سے تعلق رکھتا ہے ، عورت کي پہنچ سے دور رکھا۔ جبکہ اپني تمام تر توجہ اُن مسائل کي جانب رکھي کہ جو خواتين کے اُن قيمتي اور حقيقتاً قابل قدر مسائل کے مد مقابل ہيں کہ جن کي اسلام ميں بہت تاکيد کي گئي ہے۔ يہ جو حجاب اور پردے کے بارے ميں ہمارے يہاں اتني تاکيد کي گئي ہے، اس کي وجہ بھي يہي ہے(۴) ۔

حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي غلطي

جاہليت سے مالا مال عالمي استکبار بہت بڑي غلطي ميں ہے کہ جو يہ خيال کرتا ہے کہ ايک عورت کي قدرو قيمت اور بلند مقام اِس ميں ہے کہ وہ خود کو مردوں کيلئے زينت و آرائش کرے تاکہ آوارہ لوگ اسے ديکھيں، اُس سے ہر قسم کي لذت حاصل کريں اور اُس کي تعريف کريں۔ مغرب کي انحطاط شدہ اورمنحرف ثقافت کي جانب سے ’’آزادي نِسواں‘‘ کے عنوان سے جو چيز سامنے آئي ہے اُس کي بنياد اِس چيز پر قائم ہے کہ عورت کو مردوں کي (حيواني اور شہوتي) نگاہوں کا مرکز بنائيں تاکہ وہ اُس سے جنسي لذت حاصل کرسکيں اور عورت ، مردوں کي جنسي خواہشات کي تکميل کيلئے ايک آلہ و و سيلہ بن جائے، کيا اِسي کو ’’آزادي نسواں‘‘ کہا جاتاہے؟

جو لوگ حقيقت سے جاہل اورغافل مغربي معاشرے اور گمراہ تہذيب و تمدن ميں اِ س بات کا دعويٰ کرتے ہيں کہ وہ انساني حقوق کے طرفدار ہيں تو درحقيقت يہ لوگ عورت پر ظلم کرنے والوں کے زمرے ميں شمار ہوتے ہيں ۔ آپ عورت کو ايک بلند مرتبہ و مقام کے حامل انسان کي حيثيت سے ديکھئے تاکہ معلوم ہو کہ اُس کا کمال ، حق اور اس کي آزادي کيا ہے؟آپ عورت کوعظيم انسانوں کے سائے ميں پرورش پانے والے اور اصلاح معاشرہ کيلئے ايک مفيد عنصر کي حيثيت سے ديکھے تاکہ يہ معلوم ہو کہ اُس کا حق کيا ہے اور وہ کس قسم کي آزادي کي خواہاں ہے ( اور کون سي آزادي اُس کے انساني مقام ومنصب سے ميل کھاتي ہے)۔ آپ عورت کو ايک گھرانے اور خاندان کي تشکيل دينے والے بنيادي عنصر کي حيثيت سے اپني توجہ کا مرکز قرار ديں۔درست ہے کہ ايک مکمل گھرانہ مرد اور عورت دونوں سے تشکيل پاتا ہے اور يہ دونوں موجود خاندان کي بنياديں رکھنے اور اُ س کي بقا ميں موثر ہيں، ليکن ايک گھرانے کي آسائش اور آرام و سکون عورت کي برکت اور صنفِ نازک کے نرم و لطيف مزاج کي وجہ ہي سے قائم رہتا ہے۔اس زاويے سے عورت کو ديکھئے تاکہ يہ مشخص ہو کہ وہ کس طرح کمال حاصل کرسکتي ہے اور اُس کے حقوق کن امور سے وابستہ ہيں۔

جس دن سے اہل يورپ نے جديد ٹيکنالوجي کو حاصل کرنا شروع کيا اور انيسويں صدي کے اوائل ميں مغربي سرمايہ داروں نے جب بڑے بڑے کارخانے لگائے اور جب اُنہيں کم تنخواہ والے سستے مزدوروں کي ضرورت ہوئي تو انہوں نے ’’آزادي نسواں‘‘ کا راگ الاپنا شروع کرديا تاکہ اِس طرح خواتين کو گھروں سے نکال کر کارخانوں کي طرف کھينچ کر لے جائيں، ايک سستے مزدور کي حيثيت سے اُس کي طاقت سے فائدہ اٹھائيں، اپني جيبوں کو پُرکريں اور عورت کو اُس کے بلند مقام و مرتبے سے تنزُّل ديں۔ مغرب ميں آج جو کچھ ’’آزادي نسواں‘‘ کے نام پر بيان کيا جارہا ہے ، اُس کے پيچھے يہي داستان کار فرماہے ،يہي وجہ ہے کہ مغربي ثقافت ميں عورت پر جو ظلم و ستم ہوا ہے اور مغربي تمدن و ادب ميں عورت کے متعلق جو غلط افکار و نظريات رائج ہيں اُن کي تاريخ ميں مثال نہيں ملتي۔

مغربي عورت، مرد کي نفساني خواہشات کي تسکين کا وسيلہ

تاريخ ميں سب جگہ عورت پر ظلم ہوا ہے ليکن بڑے پيمانے پر ہونے والا يہ ظلم مثلاً ماضي قريب ميں ہونے والا ظلم دراصل مغربي تمدن کا نتيجہ ہے۔ اُنہوں نے عورت کو مرد کي شہوت کي تکميل کے ليے ايک وسيلے کي حيثيت سے متعارف کرايا ہے اور اسے آزادي نسواں کا نام ديا ہے! حالانکہ يہ عورت سے جنسي لذت حاصل کرنے والے آوارہ اور ہر قيد و شرط سے آزاد مردوں کي آزادي ہے نہ کہ عورتوں کي۔

مغرب نے نہ صرف اقتصادو صنعت اور اس جيسے ديگر شعبوں ميں بلکہ ہنر وادب ميں بھي عورت کو اپني ہوس اور ظلم وستم کا نشانہ بنايا ہے۔ آپ آج مغرب کي کہانيوں ، ناولوں ، مصوّري و نقاشي اور مختلف قسم کے ہنري کاموںکو ملاحظہ کيجيے تو آپ مشاہدہ کريں کہ يہ لوگ عورت ذات کو کس نگاہ و زاويے سے ديکھتے ہيں؟ کيا اِس نظر و زاويے ميں عورت ميں موجود قيمتي اقدار و صفات (اور استعداد ولياقت) پر توجہ دي جاتي ہے؟ کيا عورت سے متعلق يورپي و مغربي طرز فکر ميں عورت ميں خداوند عالم کي طرف سے وديعت کيے گئے نرم و لطيف جذبات، احساسات اور مہرباني و محبت پر کہ جس ميں ماں کي ممتا و پيار اور بچوں کي حفاظت و تربيت شامل ہے، توجہ دي جاتي ہے يا اُس کے شہوتي اور جنسي پہلو اور خود اُن کي تعبير اور اصطلاح کے مطابق عورت کے عشقي پہلو پر ؟ (اُن کي يہ تعبير سراسر غلط ہے اس ليے کہ يہ شہوت پرستي ہے نہ کہ عشق )۔ انہوں نے عورت کي اس طرح پرورش کي، يعني جب بھي اورکوئي بھي چاہے اُسے استعمال کرے اور اسے ايک ايسا مزدور بنادے جو کم طلب اور ارزاں قيمت ہو۔

اسلام ميں خواتين کي فعاليت و ملازمت

اسلام ان تمام چيزوں کو اہميت نہيں ديتا ہے۔ اسلام خواتين کے کام اور ملازمت کرنے کا موافق ہے بلکہ اُن کي فعاليت و ملازمت کو اُن حد تک کہ اُن کي بنيادي اور سب سے اہم ترين ذمے داري يعني تربيت اولاد اور خاندان کي حفاظت سے متصادم نہ ہو شايد لازم و ضروري بھي جانتا ہے۔ ايک ملک اپني تعمير و ترقي کيلئے مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں خواتين کي قدرت و توانائي سے بے نياز نہيں ہوسکتا! ليکن شرط يہ ہے کہ يہ کام اور فعاليت ، عورت کي معنوي اورانساني کرامت و بزرگي اور قدر و قيمت سے منافات نہيں رکھتے ہوں، مرد اُس کي تذليل و تحقير نہ کرے اور اُسے اپنے سامنے تواضع اور جھکنے پر مجبور نہ کرے۔ تکبر تمام انسانوں کيلئے مذموم اور بدترين صفت ہے سوائے خواتين کے اور وہ بھي نامحرم مردوں کے مقابل ! عورت کو نامحرم مرد کے سامنے متکبر ہونا چاہيے۔ ’’فلا يَخضَعنَ فِي القَولِ ‘‘(۵) ، عورت کو نامحرم مرد کے سامنے نرم و ملائم لہجے ميں بات نہيں کرني چاہيے،اس ليے کہ يہ عورت کي کرامت وبزرگي کي حفاظت کيلئے لازمي ہے۔ اسلام نے عورت کيلئے اِسي کو پسند کيا ہے اور يہ ايک مسلمان عورت کيلئے مثالي نمونہ ہے۔

خواتين کو ہماري دعوت!

يہي وہ جگہ ہے کہ جہاں ہم بالکل درست دنيائے استکبار کے مد مقابل مدّعي ہيں۔ ميں نے مختلف مبلغين اور مقررين کے سامنے بارہا مسئلہ خواتين کو ذکر کيا ہے کہ يہ ہم نہيں ہيں کہ جو (خواتين اور ديگر مسائل کے بارے ميں ) اپنے موقف کا دفاع کريں بلکہ يہ مغرب کي منحرف ثقافت ہے کہ جو اپنا دفاع کرے۔ہم خواتين کے بارے ميں جو کچھ بھي بيان کرتے ہيں در حقيقت وہ چيز ہے کہ جس کا کوئي بھي با انصاف اور عقل مند انسان منکر نہيں ہوسکتا ہے کہ ’’يہ عورت کيلئے بہترين ہے‘‘۔ ہم خواتين کو عفت ، عصمت ، حجاب ، مرد و عورت کے درميان ہر قسم کي قيد و شرط سے آزاد باہمي اختلاط و روابط سے دوري، اپني انساني کرامت و بزرگي کي حفاظت اور نامحرم مرد کے سامنے زينت و آرائش نہ کرنے کي تاکہ وہ عورت سے لذت حاصل نہ کرے، دعوت ديتے ہيں ۔ کيا يہ باتيں بري ہيں؟! يہ ايک مسلمان عورت سميت تمام عورتوں کيلئے کرامت وبزرگي ہے۔

وہ افراد جو خواتين کو اس بات کي ترغيب ديتے اور اُن کي ہمتيں بندھاتے ہيں کہ وہ اپني اِس طرح زينت و آرائش کريں کہ کوچہ و بازار کے مرد اُن پر نگاہ ڈاليں اور اپني جنسي خواہشات کي سيرابي کيلئے (حرام راستے سے) اقدامات کريں ،تو ہم يہ کہتے ہيں کہ ان خواتين کو چاہيے کہ اپنا دفاع کريں کہ مرد، عورت کو اس حد تک پست کيوں کرے اور اُس کي اتني تحقير وتذليل کرے؟ ايسے لوگوں کو جواب دينا چاہيے۔ ہماري اسلامي ثقافت ، ايسي ثقافت ہے کہ جسے مغرب کے عقل مند افراد اور مفکرين پسند کرتے ہيں اور اُن کا کردار ايسا ہي ہے۔ اُس مغربي ثقافت ميں صاحب عفت، متين اور سنجيدہ خواتين بھي ہيں کہ جو اپنے ليے قدر وقيمت کي قائل ہيں اور اِس بات کيلئے قطعاً حاضر نہيں ہيں کہ خود کو اجنبي، آوارہ اور ہر قيد و شرط سے آزاد مردوں کي جنسي خواہشات کي تسکين کا وسيلہ قرار ديں۔ مغرب کي منحرف شدہ ثقافت ميں اس جيسي مثاليں فراوان ہيں۔(۶)

____________________

١ سورئہ تحريم / ١١

٢سورئہ تحريم / ١٠

۳اگست ، اکتوبر اور نومبر ١٩٨٦ئ ميں نماز جمعہ کے خطبات

۴ خواتين کي ثقافتي کميٹي کے اراکين، مختلف ليڈي ڈاکٹروں اور پہلي اسلامي حجاب کانفرنس کے عہديداروں سے ١٩٩١ئ ميں خطاب

۵ سورئہ احزاب / ٣٣

۶ ١٩٩٢ئ ميں خواتين کے ايک گروہ سے ملاقات


دوسرا باب:

خواتين کے مسائل اور حقوق کے بارے ميں اسلام کي عادلانہ نظر

دريچہ

اسلام،خواتين کيلئے ايک عظيم و بلند مقام و مرتبے کا قائل ہے اور انہيں مشخص شدہ حقوق اور عملي زندگي خصوصاً خاندان کے قيام ودوام ميں بنيادي کردار عطا کرتا ہے اور اِسي طرح اُن کے اور مردوں کے درميان فطري اورمنطقي حدود کو معين کرتاہے۔

خواتين کيلئے اسلام کي سب سے بڑي خدمت، معاشرے کے اِس اہم طبقے اور اُن کے حقوق کي نسبت عمومي نظر وزاويے کي اصلاح اور خواتين کو ايک جامع خانداني نظام اورمعاشرتي زندگي ميں ايک اہم کردار دلانا ہے۔ اس سلسلے ميں خانداني نظام زندگي ميں اُن کے حقوق اور مقام و مرتبے کو استحکام بخشنا،فضول خرچي، شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، تجمّل پرستي، زينت و آرائش کو ظاہر نہ کرنا اور جنسي و مادي امور ميں سرگرمي کو ممنوع قرار دينا اور خواتين کے رُشد و معنوي ترقي اوربلند وبالا انساني مقامات تک رسائي کے امکانات فراہم کرنا، اسلام کي ہدايت اور منصوبہ بندي ميں شامل ہيں۔


پہلي فصل

عورت، عالم ہستي کا اہم ترين عنصر

عورت ، عالمِ خلقت کے اہم ترين امور کي ذمہ دار

ميري بہنو! خواتين کا موضوع اورمعاشرے کا اُس سے برتاو اور رويہ ايسا مسئلہ ہے جو ہميشہ سے مختلف معاشروں اورمختلف تہذيب وتمدن ميں زير گفتگو رہا ہے۔ اس دنيا کي نصف آبادي ہميشہ خواتين پر مشتمل رہي ہے۔ دنيا ميں زندگي کا قيام جس تناسب سے مردوں سے وابستہ ہے،اُسي طرح خواتين سے بھي مربوط ہے۔خواتين نے عالم خلقت کے بڑے بڑے کاموں کو فطري طور پر اپنے ذمے ليا ہوا ہے اور تخليق کے بنيادي کام مثلاًبچے کي پيدائش اورتربيت اولاد ، خواتين کے ہاتھوں ميں ہيں۔ پس خواتين کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے اور مختلف معاشروں ميں مختلف مفکرين اورمختلف اقوام وملل کے اخلاق وعادات ميں ہميشہ سے موضوع بحث رہا ہے۔ اسلام نے اِن اہم موضوعات ميں سے ايک اہم موضوع کو منتخب کرکے اُسے افراط و تفريط سے بچاتے ہوئے دنيا کے تمام لوگوں کو خبردارکيا ہے۔

خواتين مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اُن سے بھي آگے?!

اسلام نے اُن مردوں کو جو اپنے قدرت مند جسم يا مالي توانائي کي وجہ سے مردوں اور خواتين کو اپنا نوکر بناتے ، اُن سے خدمت ليتے اور خواتين کو اذيت وآزار اور کبھي کبھي تحقير کا نشانہ بناتے تھے، مکمل طور پر خاموش کرديا ہے اور خواتين کو اُن کے حقيقي اور مناسب مقام تک پہنچايا ہے بلکہ خواتين کو بعض جہات سے مردوں کے شانہ بشانہ لاکھڑا کيا ہے۔ ’’اِنَّ المُومِنِينَ وَالمُومِنَاتِ وَالمُسلِمِينَ والمُسلِماتِ?‘‘ (قرآن بيان کررہا ہے کہ ) مسلمان مرد اورمسلمان عورت، عابد مرد اور عابدعورت اور نماز شب پڑنے والا مرد اور نماز شب ادا کرنے والي عورت ۔

پس اسلام نے انساني درجات اور روحاني مقامات کو مرد وعورت کے دميان برابر برابر تقسيم کيا ہے۔ (يعني ان مقامات تک رسائي ان دونوں ميں سے کسي ايک سے مخصوص نہيں ہے بلکہ دونوں ميں سے کوئي بھي يہ مقام حاصل کرسکتا ہے)۔ اس زاويے سے مرد وعورت ايک دوسرے کے مساوي اور برابر ہيں۔ جو بھي خدا کيلئے نيک عمل انجام دے گا ’’مِن ذَکَرٍ اَو اُنثيٰ‘‘، خواہ مرد ہو يا عورت، ’’فَلَنُحيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ‘‘(۱) ، ہم اُسے حيات طيبہ عطا کريں گے۔

اسلام نے کچھ مقامات پر عورت کو مرد پر ترجيح دي ہے۔ مثلاً جہاں مرد و عورت ،ماں وباپ کي صورت ميں صاحب اولاد ہيں۔ اُن کي يہ اولاد اگرچہ کہ دونوں کي مشترکہ اولاد ہے ليکن اولاد کي اپني ماں کيلئے خدمت و ذمے داري باپ کي بہ نسبت زيادہ اور لازمي ہے۔ اولاد پر ماں کا حق باپ کي بہ نسبت زيادہ ہے اورماں کي نسبت اولاد کا وظيفہ بھي سنگين ہے۔

خاندان ميں عورت کا حق!

اس سلسلے ميں بہت زيادہ روايات نقل کي گئي ہيں۔پيغمبر اکرم ۰ سے کسي نے سوال کيا: ’’من عبر؟‘‘ (ميں کس سے نيکي کروں)۔ آپ ۰ نے جواب ميں فرمايا ’’اُمَّکَ‘‘۔ يعني اپني ماں سے۔ آپ ۰ نے اس کے دوسرے سوال کے جواب ميں بھي يہ فرمايا اوراس کے تيسرے سوال کا يہي جواب ديا ليکن چوتھي مرتبہ جواب ميں فرمايا ’’اَبَاکَ‘‘ (اپنے باپ سے نيکي کرو)۔ پس خاندان کي چار ديواري ميں عورت کا اولاد پر حق بہت سنگين ہے۔ البتہ اِس وجہ سے نہيں ہے کہ خداوند عالم يہ چاہتا ہے کہ ايک طبقے کو اکثريت پر ترجيح دے بلکہ يہ اِس جہت سے ہے کہ خواتين زيادہ زحمتيں برداشت کرتي ہيں۔

يہ بھي عدل الٰہي ہے کہ خواتين کي زحمتيں زيادہ ہيں تو اُن کا حق بھي زيادہ ہے اور خواتين زيادہ مشکلات کا سامنا کرتي ہيں لہٰذا اُن کي قدر و قيمت بھي زيادہ ہے۔ يہ سب عدالتِ الٰہي کي وجہ سے ہے۔ مالي مسائل ميں مثلاً خاندان اور اُس کي سرپرستي کا حق اوراُس کے مقابل خاندان کو چلانے کي ذمہ داري ميں اسلامي روش ايک متوازن متعادل روش ہے۔ اسلامي قانون نے اِس بارے ميں اتني سي بھي اجازت نہيں دي ہے کہ مرد يا عورت پر ذرہ برابر ظلم ہو۔ اسلام نے مرد وعورت دونوں کا حق الگ الگ بيان کياہے اور اُس نے مرد کے پلڑے ميں ايک وزن اور عورت کے پلڑے ميں دوسرا وزن رکھا ہے۔ اگر اِن موارد ميں اہل فکر توجہ کريں تو وہ ان چيزوں کو ملاحظہ کريں گے۔ يہ وہ چيزيں ہيں کہ جنہيں کتابوں ميں بھي لکھا گيا ہے۔ آج ہماري فاضل اور مفکر خواتين الحمدللہ ان تمام مسائل کو دوسروں اور مردوں سے بہتر طور پر جانتي ہيں اوران کي تبليغ بھي کرتي ہيں۔يہ تھا مرد و عورت کے حقوق کا بيان۔

____________________

١ سورئہ نحل / ٩٧


دوسري فصل

اسلام اورحجاب

مرد اور عورت کي درمياني ’’حد‘‘ پر اسلام کي تاکيد

يہاں ايک بنيادي نکتہ ہے کہ جس پر اسلام نے بہت زيادہ تاکيد کي ہے اور وہ يہ ہے کہ تاريخ ميں مردوں کے مزاج ،عورتوں کي بہ نسبت سخت اور اِن کے ارادے مشکلات کا مقابلہ کرنے کي وجہ سے قوي اور جسم مضبوط رہے ہيں۔ اِسي وجہ سے انہوں نے اہم ترين کاموں اور مختلف قسم کي ذمہ داريوں کو اپنے عہدے ليے ہوا تھا اور يہي وہ چيز ہے کہ جس نے مردوں کيلئے اپني جنس مخالف سے اپنے فائدے کيلئے سوئ استفادہ کرنے کے امکانات فراہم کيے ہيں۔ آپ ديکھئے کہ بادشاہوں، ثروت مند، صاحب مقام و صاحب قدرت افراد ميں سے کون نہيں ہے کہ جس نے اپنے اپنے درباروں اور اپنے اپنے دارئرہ کار ميں اپنے مال و دولت اور مقام قدرت وغيرہ کے بل بوتے صنف نازک سے سوئ استفادہ ،دست درازي اور بے آبروئي کيلئے اقدامات نہ کيے ہوں؟!

يہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام اپني پوري قوت و قدرت کے ساتھ احکامات جاري کرتا ہے اور معاشرے ميں مرد وعورت کے درميان حد اور فاصلے کو قرار ديتا ہے اور ان کے درميان تعلقات ميں سختي و پابندي کرتا ہے۔ اسلام کي رو سے کسي کو بھي يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ اِس حد کو پائمال کرے اور اس قانون کي بے احترامي کر ے ، کيونکہ اسلام نے خاندان اور گھرانے کو بہت زيادہ اہميت دي ہے۔ گھر کے گلشن ميں مرد و عورت کا باہمي رابطہ کسي اور قسم کا ہے اور معاشرے ميں کسي اور قانون کے تابع۔ اگر معاشرے ميں مردو عورت کے درميان حائل فاصلوں کے قانون کا خيال نہ رکھا جائے تو نتيجے ميں خاندان اور گھرانہ خراب ہوجائے گا۔ گھرانے ميں عورت پر اکثر اوقات اورمرد پر کبھي کبھار ممکن ہے ظلم ہو۔ اسلامي ثقافت ، مرد وعورت کے درميان عدم اختلاط کي ثقافت ہے۔ ايسي زندگي، خوشبختي سے آگے بڑھ سکتي ہے اورعقلي معيار وميزان کي رعايت کرتے ہوئے صحيح طريقے سے حرکت کرسکتي ہے۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام نے سختي کي ہے۔

اسلام کي رو سے اگر معاشرے ميں (نامحرم) مرد اور عورت کے درميان فاصلے اور حد کو عبور کيا جائے،خواہ يہ خلاف ورزي مرد کي طرف سے ہو يا عورت کي طرف سے تو اسلام نے اِس معاملے ميں سخت گيري سے کام ليا ہے۔ اسي نکتے کے بالکل مقابل وہ چيز ہے کہ جسے ہميشہ دنيا کے شہوت پرستوں نے چاہا اور اس پر عمل کرتے رہے ہيں۔ صاحبان زر وزمين اور قدرت وطاقت رکھنے والے مرد،خواتين ، اُن کے ماتحت افراد اور اُن افراد نے کہ جنہوں نے اِن افراد کے ساتھ اور اِن کيلئے زندگي بسر کي، يہي چاہا ہے کہ مردو عورت کادرمياني فاصلہ اور حجاب ختم ہوجائے۔ البتہ خود يہ امر معاشرتي زندگي اورمعاشرتي اخلاق کيلئے بہت برا اور مُضّر ہے۔ يہ فکر و خيال اورعمل معاشرتي حيا و عفت کيلئے باعث زياں اور گھر و گھرانے کيلئے بہت نقصان دہ اور برا ہے اور يہ وہ چيز ہے کہ جو خاندان اورگھرانے کي بنيادوں کو متزلزل کرتي ہے۔

حجاب و پردے ميں اسلام کي سنجيدگي

اسلام، خاندان اورگھرانے کيلئے بہت زيادہ اہميت کا قائل ہے۔ مسلمانوں سے مغرب کي تمام پروپيگنڈا مشينريوں کا اختلاف اورجرح و بحث اِسي مسئلے پر ہے۔ آپ ديکھئے کہ اہل مغرب حجاب و پردے کے مسئلے پرکتني حسّاسيت ظاہر کرتے ہيں! اگر يہ حجاب ، اسلامي جمہوريہ ميں ہو اُسے برا شمار کرتے ہيں، اگرعرب ممالک کي يونيورسٹيز و جامعات ميں ہو کہ جہاں جوان لڑکياں اپني معرفت، آگاہي اور اپنے تمام ميل و اختيار سے حجاب کا انتخاب کرتي ہيں ،تو اپني حساسيت ظاہر کرتے ہيں اور اگر سياسي پارٹيوں اور جماعتوں ميں حجاب ہو تو بھي ان کي بھنويں چڑھ جاتي ہيں۔حتي اگرخود اُن کے اسکولوں ميں لڑکياں باحجاب ہوں تو باوجود يہ کہ يہ لڑکياں اُن کے ملک کي باشندہ ہيں ليکن پھر بھي يہ لوگ حجاب کي نسبت حسا س ہوجاتے ہيں۔ پس اختلاف کي جڑ يہيں ہے۔ البتہ خود يہ لوگ اپني پروپيگنڈا مشينري کے ذريعے ہر وقت فرياد بلند کرتے رہتے ہيں کہ اسلام ميں يا اسلامي جمہوريہ ميں خواتين کے حقوق کو پائمال کيا جارہا ہے ۔ حقيقت تو يہ ہے کہ خود اُن کو اس مسئلے کا يقين نہيں ہے اور وہ جانتے ہيں کہ اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کے حقوق کمزور اور پائمال ہونے کے بجائے اُن کا بہت زيادہ خيال رکھا جاتا ہے۔

اسلامي انقلاب اورحقوق نسواں!

آپ توجہ کيجئے کہ آج ايران کے اعليٰ تعليمي اداروں اور جامعات ميں خواتين طالب علموں اور تحصيل علم ميں مصروف لڑکيوں کي تعداد زيادہ ہے يا زمانہ طاغوت ميں ؟ توآپ ديکھيں گے کہ تعداد آج زيادہ ہے ۔ حصول تعليم کے ميدان ميں اچھي پوزيشن اور اچھے نمبر (درجات) لانے والي لڑکيوں کي تعداد آج زيادہ ہے يا شاہي حکومت کے زمانے ميں تھي۔ وہ خواتين جو ہسپتالوں ، صحت کے مراکز اورمختلف علمي اداروں ميں کام اور تحقيق ميں مصروف عمل ہيں آج اُن کي تعداد زيادہ ہے يا گزشتہ زمانے ميں زيادہ تھي؟ وہ خواتين جو ملکي سياست اور بين الاقوامي اداروں ميں اپني شجاعت و دليري کے ذريعے اپنے ملک و قوم کے حقوق اور موقف کا دفاع کرتي ہيں، اُن کي تعداد آج زيادہ ہے يا انقلاب سے قبل اُن کي تعداد زيادہ تھي؟ آپ ديکھيں گے کہ ان کي تعداد آج پہلے کي نسبت زيادہ ہے۔شاہي حکومت کے زمانے ميں خواتين مختلف گروپوں کي شکل ميں سياحت اور سفر کيلئے جاتي تھيں اور يہ سفر بہت اعليٰ پيمانے پر ہوتے تھے ليکن ہوس راني، شہوت پرستي اور اپني وضع قطع اورزينت و آرائش کو دوسروں کو دکھانے کيلئے۔ ليکن آج کي مسلمان عورت بين الاقوامي اداروں ، بين الاقوامي کانفرنسوں، علمي مراکز اور جامعات ميں علمي ،سياسي اور ديگر قسم کي فعاليت انجام دے رہي ہے اور انہي چيزوں کي قدرو قيمت ہے۔

مغربي اور مغرب زدہ معاشرے ميں خواتين کي صورتحال

طاغوتي ايام ميں ہماري لڑکيوں کو ’’آئيڈيل لڑکي‘‘اور ’’بہترين مثال‘‘ کے نام سے خاندان اور گھرانوں کے پاکيزہ اور پيار ومحبت سے لبريز ماحول سے باہر کھينچ کر برائيوں کي کيچڑ ميں ڈال ديتے تھے ليکن آج ايسي کوئي بات نہيں۔ حقوق نسواں کہاں ضايع ہوتے ہيں؟ جہاں خواتين سے تحصيل علم، مناسب ملازمت ، اُن کي فعاليت اور خواتين کي خدمت کرنے جيسے اہم امور کے دروازے خواتين پر بند کرديے جاتے ہيں اور جہاں اُنہيں تحقير و تذليل کا نشانہ بنايا جاتا ہے۔ جائيے اور امريکي معاشرے کو ديکھئے! آپ مشاہدہ کريں گے کہ اُس معاشرے ميں عورت کي کتني تحقير کي جاتي ہے! گھر کي عورت ، شوہر کي طرف سے اہانت کا نشانہ بنتي ہے اورماں اپنے بچوں کي طرف سے تحقير کا۔ ماں کے حقوق کہ جس طرح اسلامي مراکز اور معاشروں ميں موجود ہيں، اُس معاشرے ميں اُن کا تصور بھي ممکن نہيں۔

خواتين، معاشرہ اور حجاب!

ميں نے ايک بين الاقوامي فورم ميں بہت ہي اہم اور معروف تقرير ميں خاندان اور گھرانے سے متعلق گفتگوکي۔ بعد ميں جو رپورٹ ہميں ملي وہ اِس بات کي عکاسي کررہي تھي کہ اُس ملک کے باشندوں نے ميري تقرير کے اُسي حصے کو بہت توجہ سے سنا اور بہت زيادہ پسنديدگي کا اظہار کيا ۔ وجہ يہ ہے کہ اُن ممالک ميں خاندان اور گھرانوں کي صورتحال بہت خراب ہوچکي ہے اور وہاں کے معاشرتي نظام ميں خواتين مختلف قسم کي ظلم کي چکي ميں پِس رہي ہے ۔ ليکن ہمارے يہاں مرد و عورت کے درميان ايک حد اورفاصلہ موجود ہے۔ اِس حد اورفاصلے کا مطلب يہ نہيں ہے کہ مرد وعورت ايک جگہ علم حاصل نہيں کريں،ايک جگہ عبادت انجام نہ ديں اور ايک جگہ کاروبار اورتجارت نہ کريں، اس کي مثاليں ہمارے يہاں زيادہ موجود ہيں ، بلکہ اس کا معني يہ ہے کہ وہ اپني معاشرتي زندگي ميں اپنے اخلاق و کردار کيلئے اپنے درميان حد اور فاصلے کو قرار ديں اوريہ بہت اچھي چيز ہے۔ ہمارے معاشرے ميں خواتين (مردوں کے ساتھ معاشرتي تعلقات کے باوجود) اپنے حجاب کي حفاظت کرتي ہيں۔ ہماري عوام نے حجاب کيلئے چادر کو منتخب کيا ہے۔ البتہ ہم نے کبھي يہ نہيں کہا کہ ’’حجاب و پردے کيلئے صرف چادرکو ہي ہونا چاہيے اورچادر کے علاوہ کوئي اور چيز قابل قبول نہيں ہے‘‘، ہاں ہم نے يہ کہا ہے کہ ’’چادر دوسري چيزوں سے زيادہ حجاب کيلئے موزوں اور بہترين ہے‘‘۔ ہماري خواتين اِس بات کي خواہاں ہيں کہ وہ اپنے پردے کي حفاظت کريں لہٰذا وہ چادر کو پسند کرتي ہيں۔ چادر ہماري خواتين کا قومي لبا س ہے۔ چادر قبل اس کے کہ اسلامي حجاب ہو، ايک ايراني حجاب ہے۔ چادر ہماري عوام کا منتخب کيا ہوا حجاب اور خواتين کا قومي لباس ہے۔

اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي ترقي

ہمارے معاشرے ميں تعليم يافتہ،مسلمان اورباايمان خواتين کي تعدادبہت زيادہ ہے جو يا تحصيل علم ميں مصروف ہيں يا ملکي جامعات ميں اعليٰ درجے کے علوم و فنون کو بڑے پيمانے پر تدريس کررہي ہيں اوريہ بات ہمارے اسلامي نظام کيلئے باعث افتخار ہے ۔الحمد للہ ہمارے يہاں ايسي خواتين کي تعدادبہت زيادہ ہے کہ جو طب اور ديگر علوم ميں ماہرانہ اورپيشہ وارانہ صلاحيتوں کي مالک ہيں بلکہ ايسي بھي خواتين ہيں کہ جنہوں نے ديني علوم ميں بہت ترقي کي ہے اور بہت بلند مراتب ودرجات عاليہ تک پہنچي ہيں۔ اصفہان ميں ايک بہت ہي عظيم القدرخاتون گزري ہيں ’’اصفہاني بانو‘‘ کے نام کي کہ جو مجتہدہ ، عارف و فقيہ تھيں۔ اُس زمانے ميں صرف وہ تنِ تنہا تھيں ليکن آج بہت سي ايسي جوان لڑکياں ہيں جو مستقبل قريب ميں علمي، فلسفي اور فقہي اعليٰ مقامات تک رسائي حاصل کرنے والي ہيں اور ايسي خواتين کي تعداد بہت زيادہ ہے۔ يہ خواتين ہمارے اسلامي نظام کيلئے باعث افتخار ہيں۔ اِسے کہتے ہيں پيشرفت زن اور خواتين کي ترقي۔(۱)

____________________

١ اکتوبر ١٩٩٤ ميں نرسوں کے ايک وفد سے خطاب


تيسري فصل

خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر

خواتين کے بارے ميں تين قسم کي گفتگو اوراُن کے اثرات

الف: خواتين کي تعريف و ستائش کي گفتگو

پہلي قسم کي گفتگو انقلاب ميں خواتين کے فعال کردار کي تمجيد و ستائش کے بارے ميں ہے۔ اسي طرح انقلاب کے بعد اور اسلامي تحريک کوپروان چڑھانے ميں خواتين کے موثر کردار کے بارے ميں بھي ہے کہ اگر انقلاب سے قبل اور انقلاب کے زمانے ميں خواتين اِس مبارزے اور تحريک ميں شرکت نہيں کرتيں تو يہ تحريک کبھي کامياب نہيں ہوتي۔ يا موجودہ زمانے ميں خواتين کے کردار کو بيان کرنا ہو تو ہم ديکھتے ہيں جيسا کہ ذمے دار افراد ہميں رپورٹ ديتے ہيںکہ جامعات ميں خواتين کي تعداد زيادہ ہوگئي ہے ،خواتين بڑي بڑي ذمے داريوں کوقبول کررہي ہيں يا وہ عوامي ااجتماعات ميں اس طرح شرکت کرتي ہيں۔ يہ گفتگو کا ايک ايسا سلسلہ ہے کہ جس پر بحث ہوني چاہيے اورہو بھي رہي ہے اور يہ بہتر بھي ہے ۔ يہ بحث و گفتگو نہ صرف يہ کہ ترغيب دينے والي بھي ہے بلکہ حقائق کو روشن بھي کرتي ہے۔اس کے ساتھ ساتھ يہ گفتگو اِس ميدان ميں اسلامي جمہوريہ کے موقف کو سامنے لاتي ہے ليکن خواتين کے مسائل کے مستقبل کيلئے بہت سودمند اور تاثير گزار نہيں ہے۔


ب: خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر کي وضاحت دوسري قسم کي بحث و گفتگو ، خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر کو بيان کرنے کے بارے ميں ہے۔ ايک جگہ ميں نے خواتين سے متعلق گفتگو کي، ميري بحث کا خلاصہ يہ تھا کہ اسلام بنيادي طور پر خواتين کوکس نگاہ و زاويے سے ديکھتا ہے۔ ميں نے کہا تھا کہ عورت تين مقامات پراپنے وجود کو ثابت کرسکتي ہے ۔ اُن ميں سے ايک انساني کمال کا ميدان ہے۔ اس بارے ميں اسلام کي نظر يہ ہے کہ ’’اِنّ المُسلمِينَ والمُسلماتِ والمومِنينَ و المُومنِاتِ والقَانِتِينَ وَالقاَنِتاتِ والصَّادِقِينَ والصَّادِقاتِ وَ الصَّابِرينَ والصَّابِراتِ والخَاشِعِينَ والخَاشَعَاتِ وَالمتَصَدِّقِينَ و المُتصَدِّقاتِ والصَّآئِمِينَ والصَّآئِمَاتِ وَالحَافِظِينَ فُرُوجَهُم وَالحَافِظَاتِ وَالذَّاکرِينَ اللّٰهَ کَثِيراً والذَّاکِراتِ ‘‘ (مسلمان، مومن، صادق ، صابر ، خاشع، صدقہ دينے والے ، روزہ دار، شرمگاہوں کي حفاظت کرنے والے اور خدا کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اورعورتيں)۔يہاں خداوند عالم نے مرد اورعورت کي دس بنيادي صفات کو کسي فرق و تميز کے بغير دونوں کيلئے بيان کيا ہے۔ اس کے بعد خداوند عالم ارشادفرماتا ہے کہ ’’اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُم مَغفِرَةً وَّ اَجراً عَظِيماً ‘‘(۱) (اللہ نے ايسے مردوں اورخواتين کيلئے مغفرت اور اجر عظيم مہيا کيا ہے)۔ لہٰذا اِس ميدان ميں اسلام کينظر کو معلوم کرنا اور اُسے بيان کرنا چاہيے۔

دوسرا ميدان کہ جس ميں عورت اپنے وجود کو ثابت کرسکتي ہے، وہ اجتماعي فعاليت کا ميدان ہے، خواہ وہ سياسي فعاليت ہو، اقتصادي ہو يا اجتماعي يا کوئي اور غرضيکہ عورت، معاشرے ميں وجود رکھتي ہو۔ لہٰذا اِس ميدان ميں بھي اسلام کي نظر کي وضاحت کرني چاہيے۔ خواتين کي فعاليت کاتيسرا ميدان؛ عائلي اور خانداني نظام زندگي ميں عورت کے ميدان سے عبارت ہے لہٰذا اس ميں بھي اسلام کي نظر کو واضح کرنے ضرورت ہے۔

ہمارے محققين و مقريرين ان تمام جہات ميں اسلام کي نظر بيان کررہے ہيں۔ ہم نے بھي کچھ مطالب کو ذکر کيا ہے اور دوسرے افراد بھي گفتگو کررہے ہيں اور يہ بہت اچھي بات ہے۔ ہماري نظرميں يہ بحث وگفتگو ، بہت مفيد اور اچھي ہے۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلامي نظريات اورمغربي دعووں کے درميان موازنہ ہونا چاہيے کہ يہ ديکھيں کہ اسلام اِن تين ميدانوں ميں خواتين کے کردار وفعاليت کو کس طرح بيان کرتا ہے اور اہل مغرب اِس بارے ميں کيا کہتے ہيں؟اور حق بھي يہي ہے اور عدل و انصاف بھي اِسي بات کي تائيد کرتا ہے کہ ان تينوں ميدانوں ميں عورت اورمعاشرے کيلئے اسلام کي نظر، دنيا ميں رائج تمام نظريات وگفتگو سے کئي مراتب بہتر، مفيد اور مضبوط ومستحکم ہے۔

پس آپ توجہ کيجئے کہ دوسري قسم کي گفتگو اُن مطالب سے عبارت ہے کہ جہاں مختلف شعبوں ميں اسلام کي نظر بيان کي جاتي ہے اور يہ اچھي بات ہے۔ اِن تمام کاموں کو بھي انجام پانا چاہيے اور يہ بالکل بجا ہيں۔ ممکن ہے اس جگہ مختلف ابہامات اورغير واضح امور موجودہوں۔چنانچہ ضروري ہے کہ افراد بيٹھيں، بحث کريں اور اپنے نظريے کو بيان کريں تو اُس وقت اُس گفتگو کو باآساني اور بہترين طريقے سے زير بحث لايا جاسکتا ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے فقہي حوالے سے ہمارے کانوں ميں پہنچ رہي ہے اور وہ يہ ہے کہ کيا خواتين قاضي بن سکتي ہيں اور کيا خواتين اجتماعي ، معاشرتي اور سياسي منصب کي حامل ہوسکتي ہيں؟

ج: معاشرتي اورگھريلو زندگي ميں خواتين کي مشکلات

تيسري قسم کي بحث وگفتگو ’’خواتين کي مشکلات‘‘ کے بارے ميں ہے کہ اِس بندئہ حقير کي نظر ميں اس مسئلے پر ہميں اپني فکر کو متمرکز کرنا چاہيے۔ چنانچہ اگر ہم نے اس مسئلے کا صحيح حل نہيں نکالا توگزشتہ دوونوں قسم کي گفتگو اوربحث ، خواتين کے مسائل کے حل کے سلسلے ميں کسي کام نہيں آسکيں گي۔ ديکھنا چاہيے کہ عورت کو معاشرے ميں کن مشکلات کا سامنا ہے؟اور اس سے بھي اہم بات يہ کہ عورت اپني عائلي اورگھريلو زندگي ميں کن مشکلوں سے دوچار ہے؟

کون سي گفتگو اہم ہے؟

آپ خواتين کو جو ’’حقوق نسواں اور اُن کے مسائل‘‘ کے ميدان ميں سرگرم عمل ہيں، اِس بات پر ہرگز قانع نہيں ہونا چاہيے کہ کوئي اِس سلسلے ميں يا ايک عورت کے فلاں عہدے کو لینے يا نہ لينے يا ديگر مسائل ميں اسلام کي نظر کو بيان کرنے کيلئے کتاب لکھے۔ لہٰذا اِن چيزوں پر قانع ہوکر اپني فعاليت کو متوقف نہيں کرنا چاہيے بلکہ براہ راست خواتين کي مشکلات کے حل کيلئے اقدامات کرنے چاہئيں۔

____________________

١ سورئہ احزاب / ٣٥


چوتھي فصل

خواتين سے متعلق صحيح اورغلط نظريات

جہالت ، خواتين پر ظلم کا اصل سبب

اس بندئہ حقير کا بيان ہے کہ پوري تاريخ ميں اور مختلف معاشروں ميں عورت ظلم وستم کانشانہ بني ہے۔ ايک جگہ ميں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اِس ظلم و ستم کي وجہ کيا ہے۔يہ تمام ظلم و ستم ، انسان کي جہالت کي وجہ سے سامنے آتے ہیں۔ اِس جاہل انسان کي طبيعت و مزاج يہ ہے کہ جہاں بھي اُس کے سر پرکوئي زورزبردستي کرنے والا نہ ہو، يا خود اُس کے اندر سے يعني واضح اور مضبوط ايمان (کہ اِس کي مثال بہت کم ہے) يا اُس کے باہر سے کسي قانون کا دباو نہ ہو يا اس کے سر پر کوئي تلوار يا قانون کا ڈنڈا نہ ہو تو معمولاً ايسا ہوتا ہے کہ طاقت ور موجود، کمزور پر ظلم کرتا ہے۔

گھر کي حقيقي سربراہ، عورت ہے اور مرد ظاہري حاکم

البتہ عورت عقلي اعتبار سے مرد سے ضعيف وکمزور نہيں ہے بلکہ بعض اوقات اُس سے زيادہ قوي ہے۔ اگرچہ کہ عورت کا انداز فکر، مرد کے اندازفکر سے مختلف ہے اور دونوں کے احساسات وجذبات ميں فرق ہے کيونکہ دونوں کے احساسات وجذبات ايک خاص کام کيلئے خلق کيے گئے ہيں اور انساني وجود ميں اُنہيں وديعت کيا گيا ہے۔ بعض مقامات پر مثلاً ايک علمي مسئلے کے بارے ميں زنانہ اور مردانہ انداز فکر ميں کسي قسم کا فرق نہيں ہوتاہے ليکن زندگي کو چلانے ميں دونوں کے انداز فکر مختلف ہوتے ہيں۔ عاقل اورپختہ عمر کي خواتين ميں يہ بات رائج ہے ، ميں نے بارہا اپني بزرگ اور بڑي خواتين سے سنا ہے اور صحيح سنا ہے کہ وہ کہتي ہے کہ ’’مرد ايک بچے کي مانند ہے‘‘ ، اور بالکل ٹھيک کہتي ہيں اورحقيقت بھي يہي ہے۔ ايک عالم ،فاضل اور باشعور مرد بغير کسي ذہني بيماري و خلل کے اپنے گھر ميں اپني بيوي کے مد مقابل اور اُس کے ساتھ زندگي گزارنے ميں ايک بچے کي مانند ہے اور بيوي اُس بچے کي ماں کي طرح! جس طرح اگر ايک بچے کي غذا ميں تھوڑي تاخير ہوجائے تو وہ رونے چلانے لگتا ہے ۔ لہٰذا اُسے کسي بھي صورت ميں قانع کرنا اور چپ کرانا چاہيے ورنہ وہ ضد کرنے لگتا ہے۔چنانچہ اگرايک عورت اپني مہارت سے ان کاموں کو انجام دے سکے تو ايک مرد اُس کے ہاتھوں رام ہوجاتا ہے۔

آپ توجہ فرمائيے کہ ميں ان باتوں کو کيوں نقل کررہا ہوں ؟ميں نہيں چاہتا کہ مرد کے ايک بچہ ہونے پر دستخط کروں، البتہ يہ اور بات ہے کہ يہ ايک حقيقت ہے، ليکن اس بات کو بيان کرنے ميں ميري مراد يہ نہيں ہے بلکہ ميرے پيش نظر يہ نکتہ ہے کہ مرد اور عورت کي ذہنيت ايک دوسرے سے مختلف ہے۔ عورت کي پختگي و مہارت اُس کے اپنے دائرہ فعاليت ميں اُس کے کام آتي ہے۔ يعني ايک عورت گھر کي چار ديواري ميں يہ سمجھتي ہے کہ مرد ايک بچے کي مانند ہے، لہٰذا اُس کا کھانا وقت پر تيار کرنا چاہيے تاکہ وہ بھوکا نہ رہے ورنہ وہ بداخلاق ہوجائے گا۔ لہٰذا بہانے کا کوئي بھي موقع ہاتھ سے دنيا نہيں چاہيے۔ يافرض کيجئے کہ مرد اعتراض کرتا ہے تو اُسے کسي بھي طريقے سے قانع کرنا چاہيے۔اِس نکتے کي طرف بھرپور توجہ کيجئے! عاقل اور پختہ خواتين پوري مہارت سے يہ کام انجام ديتي ہيں اور مرد کي حرکات وسکنات ،رفتار وعمل اور ذہنيت کو پوري طرح کنٹرول ميں رکھتي ہيں۔ بنابرايں، گھر ميں حقيقي سربراہ عورت ہے جبکہ علي الظاہر ،مرد ظاہري سربراہ ہے، اس ليے کہ وہ بھاري آواز ، مضبوط جسامت اور لمبے قد کاٹھ کا مالک ہوتاہے۔

پس مطلب کو اس طرح بيان کرتے ہيں کہ بعض خواتين کي ذہنيت و عقل مردوں سے زيادہ مستحکم ہے يا وہ تفکر، علم اور احساسات وغيرہ ميں مرد جيسي ہيں ليکن عورت کاجسم بطور متوسط مرد سے کمزور ہوتا ہے ۔ توجہ کيجئے! بنيادي نکتہ يہي ہے۔ ايک مثال فرض کيجئے کہ جہاں ايک عقل مند انسان ايک جاہل اور بدمعاش انسان کے ساتھ ہو اور ان ميں سے کسي ايک کو پاني پينا ہو (اور پاني کا ايک ہي گلاس موجود ہو)۔ قاعدۃً جس کي طاقت زيادہ ہوگي وہ پاني پي جائے گا مگر يہ کہ کسي طرح اُسے دھوکہ ديا جائے اورپاني کا گلاس اُس سے چھين ليا جائے۔ تاريخ ميں ہميشہ سے يہي ہوتا رہا ہے۔ مرد حضرات اپنے لمبي قدوقامت ،بھاري آواز اورمضبوط جسامت اور پٹھووں کي وجہ سے خواتين پر ان کے نازک اندام ہونے، نرم لب ولہجے، نسبتاً چھوٹے قد اور کمزور جسموں کي بنائ پر اُن پر ظلم کرتے رہے ہيں! يہ ايک حقيقت ہے، ميري اپني نظر ميں اگر آپ اِس ماجرا کي تہہ تک پہنچيں اور تحقيق کريں تو آپ اِس مقام پر پہنچيں گي کہ تمام ظلم و ستم کي وجہ يہي ہے۔

خواتين سے متعلق روايات ميں ظالمانہ فکرو عمل سے مقابلہ

ہاں البتہ اگر کوئي قانون يا بہت شديد قسم کي محبت يا مستحکم ايمان جيسا معنوي عامل موجود ہو تو وہ ان تمام ظلم و ستم کا سدّباب کرسکتا ہے۔البتہ ايمان کو مضبوط و مستحکم ہونا چاہيے ورنہ بہت سے علمائ ہيں کہ جن کا ايمان تو بہت اچھاہے ليکن اُسي کے ساتھ ساتھ اُن کا اپني زوجات سے برتاو اور سلوک اچھا نہيں ہے لہٰذا ايسے لوگ ہماري مجموعي بحث کے زمرے ميں آتے ہيں۔ ہميں صرف اِس بات کي وجہ معلوم کرني چاہيے کہ تاريخ ميں خواتين ہميشہ ظلم و ستم کا نشانہ کيوں بني ہيں؟ پيغمبر اکرم ۰ کے زمانے ميں بھي يہ ظلم وستم ہوا ہے اور آنحضرت ۰ نے اِس ظلم سے مقابلہ کيا ہے۔ يہ جو پيغمبر اکرم ۰ نے خواتين کے بارے ميں اتني باتيں ارشاد فرمائي ہيں، صرف اِسي ظلم وستم سے مقابلے کيلئے ہيں۔ اگر وہ صرف مقامِ زن کو بيان کرنا چاہتے تو اِس قسم کے پُرجوش و پُراحساس بيانات کي ضرورت نہيں تھي۔ خواتين کے بارے ميں حضرت ختمي مرتبت ۰ کے احساسات واظہارات اِس چيز کي عکاسي کرتے ہيں کہ آپ ايک چيز سے مقابلہ کرنا چاہتے ہيں اور وہ خواتين پر ہونے والا ظلم ہے اورپيغمبر اکرم ۰ اِس ظلم کے مقابل کھڑے ہيں۔

معاشرتي اورگھريلو زندگي ميں خواتين کے ساتھ زندگي گزارنے کے بارے ميں حضرت ختمي مرتبت ۰ اور آئمہ اہل بيت عليہم السلام سے جو روايات(۱) نقل کي گئي ہيں وہ اِسي ظالمانہ فکر اورستمگرانہ رويے اور عمل سے مقابلے کي خاطرہے۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ يہ ظلم و ستم ہمارے زمانے ميں بھي جاري ہے البتہ صرف ہمارے معاشرے سے مخصوص نہيں ہے۔ليکن اس بات کي طرف ہم سب کي توجہ ہوني چاہيے کہ پوري دنيا ميں يہ ظلم موجود ہے اور مغرب ميں بہت ہي بدترين شکل ميں موجود ہے۔

اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت?؟!

اہل مغرب صرف ايک خصوصيت کے حامل ہيں کہ اگر خود اُس کے مقام پر اُس کے بارے ميں قدرے تآمل اورغوروفکر کيا جائے تومعلوم ہوگا کہ اُن کي يہ خصوصيت مثبت نہيں ہے ۔ ليکن مغربي معاشرے ميں کئي مقامات پر اس خصوصيت وعادت کو بہت زوروشور سے بيان کيا جاتا ہے کہ گويا وہاں ظلم کا سرے سے وجود ہي نہيں ہے۔ وہ عادت و خصوصيت يہ ہے کہ اہل مغرب مرد و عورت کے آپس ميں رويے ، سلوک اوربرتاو کو عورت سے عورت يا مرد سے مرد کے برتاو کے مثل قرار ديتے ہيں يعني وہ ان دو جنس (مرد وعورت) ميں کسي بھي فرق کے قائل نہيں ہيں۔ کوچہ و بازار ہو يا گھر کي چار ديواري ،وہ دوستي ورفاقت اور معاشرت ميں اسي رفتار کے حامل ہيں۔ ظاہر ميں يہ عادت وسلوک بہت دلچسپ اورجالب نظرآتا ہے ليکن جب آپ اس کي حقيقت تک پہنچتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ يہ امر غلط اور منفي ہے اوراسلام اس کي ہرگز تاکيد نہيں کرتا ہے۔ اسلام نے مرد وعورت کے درميان ايک حجاب اور فاصلہ رکھا ہے کہ يہ دونوں اپني معاشرتي زندگي ميں اس حجاب اور حدود کي رعايت کريں۔

بنابرايں ہم جس ظلم وستم کي بات کررہے ہيں وہ صرف ايراني معاشرے يا گزشتہ دور سے ہي مخصوص نہيں ہے بلکہ تاريخ کے مختلف زمانوں سے ليکر آج تک ايران سميت دنيا کے مختلف ممالک ميں اس کا وجود رہا ہے ۔ آج بھي يہ ظلم پوري دنيا ميں موجود ہے، اسي طرح مغربي ممالک خصوصاً امريکہ اور بعض يورپي ممالک ميں خواتين کو اذيت و آزارپہنچانے کے واقعات، اُن سے ظالمانہ سلوک و طرز عمل ، شکنجے اورمصيبتيں دوسري ممالک کي نسبت بہت زيادہ ہيں۔ اس کے اعداد وشمار بہت زيادہ ہيں، البتہ ميں نے خود ان اعداد وشمار کو مغربي اور امريکي مطبوعات ميں ديکھا ہے نہ يہ کہ ہم اِس کو کسي کي زباني نقل کررہے ہيں۔ يہ تو وہ چيز ہے کہ جسے انہوں نے خوداپني زبان سے بيان کيا ہے۔ لہٰذا اس ظلم و ظالمانہ رويے اور عمل سے مقابلے کي ضرورت ہے۔(۲)

____________________

١ وسائل الشيعہ، جلد ٢٠، صفحہ ٣٢٤۔ ٣٥٤

۲نومبر ١٩٩٦ئ ميں ثقافتي کميٹي کے اراکين سے خطاب


تيسرا باب

خواتين کےمعنوي کمال، اجتماعي فعاليت اورگھريلو زندگي سے متعلق اسلام کي نظر

دريچہ

اسلام نے تين مختلف ميدانوں ميں حقوقِ نسواں کو مشخص کرکے انہيں جاري کيا ہے۔ انفرادي دائرہ زندگي (معنوي کمال) ،اجتماعي زندگي (اجتماعي فعاليت) اور گھريلو زندگي، زندگي کے وہ ميدان ہيں کہ جہاں خواتين اپني طاقت کالوہا منواسکتي ہيں اور اس کيلئے لازمي ہے کہ ان تينوں ميدانوں ميں حدود اورحقوق کو کامل طور پر بيان کيا جائے ۔ اسلام نے خواتين کيلئے اس ذو اہميت امر کو خداوند عالم کي نگاہ سے بيان کيا ہے جو ہر قسم کي خطا و لغزش سے دور ہے۔


پہلي فصل

خواتين کے بارے ميں اسلام کي واضح ، جامع اور کامل نظر

اسلام کي نظر کي کامل شناخت اور مکمل وضاحت کي ضرورت

اگر معاشرے ميں عورت کے بارے ميں غلط فکر و نظر موجود ہو تو صحيح معني ميں اوروسيع پيمانے پر اُسے ازسر نو صحيح کرنا مشکل ہوگا۔ خود خواتين کو بھي چاہيے کہ اسلام ميں خواتين کے موضوع پر کافي مقدار ميں لازمي حد تک اطلاعات رکھتي ہوں تاکہ دين مبين اسلام کے کامل نظريے کي روشني ميں اپنا حقوق کا بھرپور دفاع کر سکيں۔ اسي طرح اسلامي ملک ميں معاشرے کے تمام افراد کو يہ جاننا چاہيے کہ خواتين، مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں اُن کي موجودگي، فعاليت،تحصيل علم،اجتماعي ،سياسي ، اقتصادي اورعلمي ميدانوں ميں اُن کي شرکت اورگھر اور گھر سے باہر اُن کے کردار کے بارے ميں اسلام کيا بيان کرتا ہے۔

اِن سب موضوعات کے بارے ميں اسلام کي ايک بہت واضح اورروشن نظر ہے ۔ اگرہم اسلام کي نظر کادنيا کي مختلف ثقافتوں خصوصاً مغربي ثقافت سے موازنہ کريں تو ہم ديکھيں گے کہ اسلام کي نظر بہت ترقي يافتہ ہے ۔ اسي طرح آج کے مرد کے ذہن پر چھائے ہوئے افکار و نظريات کے مقابلے ميں اسلامي فکر و نظر بے مثل ونظير ہے اور يہ اسلام ہي کي واضح اور روشن نظر ہے جو ملکي بہبود و ترقي اور ملک ميں خواتين کي زيادہ سے زيادہ ترقي اور اُن کے مقام و منصب ميں اضافے کا باعث ہے۔

ميري بہنو! توجہ فرمايئے،ميں خاص طور پر اِس امر کيلئے تاکيد کررہا ہوں کہ نوجوان خواتين، بلند آرزووں اورآ ہني حوصلوں اورقلبي شوق و تڑپ کي مالک ہيں، وہ بھرپور توجہ ديں تاکہ اِس جلسے کي مناسبت سے مختصر مطالب آپ کي خدمت ميں عرض کروں۔

انساني زندگي اور خواتين کي شان ومنزلت اور اُن کي معاشرتي حيثيت کے بارے ميں اسلام کي نظر تين حصوں ميں قابل تقسيم ہے۔ ميں نے بارہا ان مطالب کو بيان کيا ہے ليکن ميرا اصرار ہے کہ ان مطالب کو معاشرے کي خواتين کے ليے جتنا زيادہ ہوسکے بيان کيا جائے۔ جن افراد کو اِس سلسلے ميں سب سے زيادہ فعال ہونا چاہيے وہ خود ہمارے معاشرے کي خواتين ہيں۔

ظالم اور مقصّر کون، مرد يا عورت يا دونوں؟

ميري بہنو اور بيٹيو! ميرا يقين ہے اور يہ ميري نظر ہے کہ اسلامي معاشرے کے کسي حصے ميں بھي خواہ خود ايران کے اندر ہو يا مختلف ممالک ميں ، اگر مسلمان خواتين کے بارے ميں کوتاہي نظر آتي ہے تو اس ميں تھوڑے مقصّر خود مرد بھي ہيں اور تھوڑي مقدار ميں خود خواتين بھي اِس تقصير ميں شامل ہيں۔ کيونکہ جس کسي کو سب سے پہلے خواتين کي اسلامي حيثيت اور مقام و منزلت کو پہنچانا اور اُس کا دفاع کرنا چاہيے، وہ خواتين ہيں۔ اُنہيں جاننا چاہيے کہ خدا، قرآن اور اسلام نے اُن کيلئے کيا احکامات صادر کيے ہيں، اِن کے ذريعے خواتين سے کيسا امر مطلوب ہے اور اُن کي ذمہ داريوں اور فرائض کو کون معين کرے گا؟ ضروري ہے کہ خواتين اپنے بارے ميں اسلامي احکامات اور اسلام کي اُن سے توقع کو جانيں ، اُن کا دفاع کريں اور اُن کے حصول کي کريں۔ اگر وہ يہ سب امور انجام نہ ديں تو وہ افراد جو کسي بھي ’’قدر‘‘ کے شناسا اور پابند نہيں ہيں وہ خواتين پر ظلم و ستم کريں گے۔جيسا کہ آج مغربي دنيا اور اُس ديار غربت(۱) ميں رائج مادي نظاموں (سوشلزم، کميونزم، کيپٹلزم، فمينزم?) کے زير سايہ ، خواتين کيلئے لگائے جانے والے ظاہري خوبصورت نعروں کے باوجود ، سب سے زيادہ ظلم مغربي مرد اپني عورتوں پر کررہے ہيں۔ باپ اپني بيٹي پر ،بھائي اپني بہن پر اور شوہر اپني بيوي پر۔ دنيا ميں ديے گئے اعداد و شمار کے مطابق، خواتين، بيويوں، بہنوں يا حتي بيٹيوں پر سب سے زيادہ ظلم و ستم و آبرو ريزي اور اُن کے حقوق کي پائمالي اُن افراد کي طرف سے ہوتي ہے جو مغربي نظاموں ميں زندگي بسر کررہے ہيں۔ يعني اگر کسي معاشرتي نظام ميں معنوي اقدار حاکم نہ ہوں اور خدا کا وجود دلوں ميں نہ ہو تومرد اپني جسماني طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے خواتين پر ظلم وستم کي راہ کو اپنے ليے کھلا پائے گا۔

خواتين پر ظلم کي راہ ميں مانع دو چيزيں

دو چيزيں خواتين پر ظلم و ستم کي راہ ميں مانع بن سکتي ہيں۔ايک خدا، قانون اور ايمان وغيرہ کا خيال رکھنا اوردوسري خود خواتين ہيں جو اپنے انساني اور خدائي حقوق کو اچھي طرح پہچانيں اور اُن کا دفاع کريں اورحقيقي طور پر اُنہيں چاہيں اورحاصل کريں۔ اِس سلسلے ميں اسلام افراط وتفريط سے دورايک درمياني راستے کو متعارف کراتاہے۔ نہ خود عورت کوظلم کرنے اجازت ديتا ہے اور نہ ہي مرد وعورت کي طبيعت ومزاج کو نظر انداز کرتا ہے۔صحيح اور سيدھا راستہ وہي اسلام کا متعارف کردہ راستہ ہے کہ جس کي مختصر طور پر وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔

____________________

١ جو معاشرہ اپني خواتين کي حيثيت و آبرو کو پائمال کرے اور جہاں عورت جيسي عظيم ہستي ايک کھلونے سے زيادہ کي حيثيت نہ رکھتي ہو تو وہ معاشرا حقيقت ميں غريب ہے اور اُسے ديار غربت کہنا شائستہ ہے۔ (مترجم)


دوسري فصل

اسلام خواتين کے کمال ، راہ ِ حصول اور طريقہ کار کو معين کرتا ہے

الف: معنوي کمال اورروحاني رُشد کا ميدان

اسلام نے خواتين کي فعاليت کيلئے تين ميدانوں کو معين کيا ہے۔ پہلا ميدان خود خواتين کے معنوي کمال اورروحاني رُشد کاميدان ہے۔ اس ميدان ميں (فعاليت، ترقي اور عروج کے لحاظ سے) مرد و عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے۔يعني مرد معنوي وروحاني لحاظ سے بلند ترين مقامات تک رسائي حاصل کرسکتا ہے اور ايک عورت بھي اعليٰ ترين درجات پر کمند ڈال سکتي ہے۔ ايک مرد حضرت علي ابن ابي طالب کي پيروي کرتے ہوئے اونچے مقام کو پاسکتا ہے تو ايک عورت بھي حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کي تآسّي و تقليد ميں اعليٰ درجات کو حاصل کرسکتي ہے۔

اہل ايمان کيلئے دو مثالي خواتين کا تذکرہ ، زن فرعون اور حضرت مريم

قرآن مجيد جب باايمان انسانوں کيلئے کوئي مثالي نمونہ پيش کرنا چاہتا ہے تو مردو ں سے مثال نہيں لاتا بلکہ خواتين ميں سے ايک خاتون کو بطورمثالي نمونہ پيش کرتا ہے۔ ’’مَثَلاً لِلَّذِينَ آمَنُوا امرَآَتَ فِرعَونَ ‘‘(۱) ۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں خداوند متعال مومن اور نيک انسانوں ميں سے دو خواتين کوبطورمثال اور آئيڈيل کي حيثيت سے پيش کرتا ہے۔ يعني جب خداوند عالم انسانيت اورمعنوي کمال کيلئے مثالي نمونہ پيش کرنا چاہتا ہے تو پيغمبروں، عظيم مردوں اورعلمي وديني شخصيات کا ذکر کرنے کے بجائے دو خواتين کو نمونے کے طور پر پيش کرتا ہے۔اُن ميں سے ايک ،زن فرعون ہے۔ ’’اِذ قَالَتْ رَبِّ ابنِ لِي عِندَکَ بَيتاًفِي الْجَنَّةِ ‘‘(۲) ، يعني وہ عورت جو اپنے شوہر کي طاغوتي اور سرکش قدرت سے لڑنے کيلئے ڈٹي رہي اور وہ عورت جو اپنے پورے استقلال کے ساتھ اپنے متجاوز، قدرت مند، فرعون نامي اور فرعون صفت شوہر کے سامنے ثابت قدمي سے رہي۔ عورت کي عظمت يہاں ہے کہ اس کا شوہر ضلالت وگمراہي کے راستے کواُس پرمسلط نہ کرسکے،خواہ وہ شوہر ، فرعون جيسا يا اس جيسي طاقت وقدرت کامالک ہي کيوں نہ ہو! لاکھوں مرد، فرعون کي قدرت وطاقت کے سامنے تسليم اور اس کے ارادے کے اسير وغلام ہيں ليکن خوداِس مرد کي بيوي ، خود اِس کے گھر ميں اِس کے ارادوں اورقدرت کي اسير نہيں ہے بلکہ آزاد ہے اوروہ خدا پر ايمان لاتي ہے ، فرعون (کے جاہ وحشم، مال و ثروت اور تخت و تاج اوراُس ) کے راستے کو خير آباد کہتي ہے اور اِس کے مقابلے ميں راہ خدا اورراہ حق کا انتخاب کرتي ہے۔ يہي وجہ ہے کے اُسے عظيم و شائستہ اورقابل ِ مثال انسان کي حيثيت سے ،نہ صرف خواتين سے بلکہ تمام بني نوع انسان سے منتخب کيا جاتا ہے۔

دوسري مثالي عورت، دختر حضرت عمران،مادر حضرت عيسي ، حضرت مريم ہيں۔ ’’مَريَمَ ابنَةَ عِمرَانَ ‘‘(۲) ۔مريم وہ جوان لڑکي ہے کہ جو اپنے شہر کے تمام مردوں کي تمہت اوربدترين اورکثيف ترين سوئ ظن کے مقابلے ميں مضبوط کوہ کي مانند جمي رہي اور خدا نے اپني قدرت کاملہ کے ذريعے کلمۃُ اللہ اورروح کو اُس کے پاکيزہ دامن ميں قرار ديا۔ وہ خدا کے نبي کي تربيت اپنے ذمہ ليتي ہے اور اپنے فرزند کو اُس زمانے کي تاريک دنيا کي نورانيت کا باعث بناتي ہے۔ يہ دو خواتين ہيں کہ جنہوں نے دنيا ميں نور افشاني کي ہے۔ يہ سب اس بات کي عکاسي کرتے ہيں کہ کہ اس امر ميں اسرار و رموز پوشيدہ ہيں کہ ان تمام انسانوں کي کثير تعداد ميں سے کہ جہاں اولين وآخرين کي خلائق جمع ہيں، جب خداوند عالم ، عالم بشريت سے دو انسانوں کو مثال اورنمونے کے طور پر انتخاب کرتااوراُنہيں متعارف کرانا چاہتا ہے تو صرف دو خواتين کو منتخب کرتا ہے، نہ کہ دو مردوں ياايک مردايک عورت کو بلکہ صرف اورصرف دو خواتين کو۔

پس اس پہلے ميدان يعني انسان روحاني ترقي اور معنوي کمال کے ميدان ميں ، مردو عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے۔ عورت ،مرد کے مثل اورمرد، عورت کي مانند، دونوں قرب خدا اور روحانيت کے اعليٰ مدارج ومراتب تک رسائي حاصل کرسکتے ہيں۔ لہٰذا خداوند عالم قرآن ميں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’اِنّ المُسلمِينَ والمُسلماتِ والمومِنينَ و المُومنِاتِ والقَانِتِينَ وَالقاَنِتاتِ والصّادِقِينَ والصَّادِقاتِ وَ الصَّابِرينَ والصَّابِراتِ والخَاشِعِينَ والخَاشَعَاتِ وَالمتَصَدِّقِينَ و المُتصَدِّقاتِ والصَّآئِمِينَ والصَّآئِمَاتِ وَالحَافِظِينَ فُرُوجَهُم وَالحَافِظَاتِ وَالذَّاکرِينَ اللّٰهَ کَثِيراً والذَّاکِراتِ ‘‘(۴) ۔ خداوند عالم نے (اسلام، ايمان، اطاعت ، صداقت،صبر، خشوع و فروتني،صدقہ دينے ، روزے داري، شرمگاہ کي حفاظت اور ذکر الٰہي جيسے اہم ترين معنوي امور ميں ) مرد وعورت کوايک دوسرے کے شانہ بشانہ لاکھڑا کيا ہے ۔ ’’اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُم مَغفِرَةً وَّ اَجراً عَظِيماً ‘‘(۵) (خدا نے ان مردو خواتين کيلئے مغفرت اور اجر عظيم مہيا کر رکھا ہے)۔ يہ وہ پہلا ميدان ہے کہ جہاں مرد وعورت ميں کوئي تفاوت نہيں ہے۔

ب: اجتماعي فعاليت کا ميدان

دوسرا ميدان کہ جہاں خواتين اپنے وجود کو ثابت کرسکتي ہيں وہ اجتماعي فعاليت کاميدان ہے۔ خواہ وہ فعاليت اقتصادي ہو يا سياسي،يا خاص معنوں ميں اجتماعي فعاليت ہو يا تحصيل علم اور تحقيق وريسرچ ،تعليم و تدريس اورراہ خدا سميت زندگي کے تمام شعبوں ميں جدوجہد اورمحنت کرناہو ، ان تمام شعبہ ہائے زندگي ميں مختلف قسم کي فعاليت اورمحنت و جدوجہد کرنے ميں مر دو عورت ميں اسلام کي نگاہ ميں کوئي فرق نہيں ہے۔

اگر کوئي يہ کہے کہ مرد کو تحصيل علم کا حق ہے ، عورت کو نہيں، مرد تدريس کرسکتاہے، عورت نہيں؛ مرد اقتصادي و معاشي ميدان ميں آگے بڑھ سکتا ہے ، عورت کو اقتصاد ومعيشت سے کيا سروکار اور مرد سياسي فعاليت انجام دے سکتا ہے ، عورت کا سياست سے کيا کام؟تو نہ صرف يہ کہ اِس کہنے والے نے اسلام کي منطق کو بيان نہيں کيا بلکہ برخلاف اسلام، سخن اُس کے لبوںپر آئي ہے۔ اسلام کي نگاہ ميں انساني معاشرے اور زندگي کے تمام شعبوں سے مربوط فعاليت ميں مرد وعورت دونوںکو شرکت کي اجازت ہے اور دونوں اس امر ميں مشترک ہيں۔ہاں البتہ بعض ايسے کام ہيں جو خواتين کے کرنے کے نہيں ہيں چونکہ اُس کي جسماني ساخت اور اُس کي طبيعت و مزاج اورفطرت سے مطابقت نہيں رکھتے۔ بعض کام ايسے ہيں جنہيں انجام دينا مرد کے بس کي بات نہيں ہے چونکہ اُس کي جسماني، اخلاقي اور روحي صفات و عادات سے ميل نہيں کھاتے۔ اس موضوع کا اِس سے کوئي تعلق نہيں ہے کہ عورت اجتماعي فعاليت کے ميدان ميں سرگرم عمل ہوسکتي ہے يانہيں۔ کاموں کي تقسيم در حقيقت امکانات ،شوق اور اُس کام کے تقاضوں اور اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کي گئي ہے۔ اگر عورت شوق رکھتي ہو تو وہ معاشرتي زندگي سے مربوط مختلف قسم کي اجتماعي فعاليت کو انجام دے سکتي ہے۔

اجتماعي فعاليت اورحجاب و حدود کي رعايت

البتہ ان فعاليت کي انجام دہي کيلئے کچھ اصول و قوانين کو معين کيا گياہے کہ يہ اصول و قوانين عورت اور اُسے فعاليت کي اجازت دينے سے مربوط نہيں ہيں بلکہ مرد وعورت کے باہمي اختلاط اور بے مہار ميل و جول اور رابطے سے مربوط ہے کہ جن کو اسلام بہت زيادہ خاص مسائل کي حيثيت سے ديکھتا ہے۔ اسلام يہ کہتا ہے کہ مرد و عورت کو چاہيے کہ وہ معاشرتي زندگي کے تمام پہلووں اورتمام مقامات ، شاہراہوں، اداروں ، کارخانوں وغيرہ ميں اپنے درميان ايک حد وفاصلے کے قائل ہوں اور اِسي ليے مرد و عورت کے درميان حجاب اور اسي سے مربوط حدود و قوانين کو وضع کيا گيا ہے۔ مرد و عورت کا باہمي اختلاط اورميل جول،مردوں کے آپس ميں يا خواتين کے آپس ميں ميل جو ل اوررابطے جيسا نہيں ہے لہٰذا ان تمام امور کا خيال رکھنا چاہيے، يعني مرد حضرات بھي ان قوانين اورحدود کا خيال رکھين اور خواتين بھي حجاب و حدود کي پابندي کريں۔ اگر مرد و عورت کے باہمي رابطے اور ميل جول کي روش ميں اسلامي احکامات و حساسيت کو مدنظر رکھا جائے تو اجتماعي فعاليت کے ميدان کے وہ تمام کام جو مرد انجام دے سکتے ہيں خواتين بھي اگر جسماني قدرت اور شوق کي مالک ہوں اورفرصت ووقت رکھتي ہوں ، وہ کام انجام دے سکتي ہيں۔

خواتين کو اعليٰ تعليم حاصل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ بعض لوگ اس فکر کے حامل ہيں کہ لڑکيوں کو تعليم حاصل نہيں کرني چاہيے، يہ بہت بڑي غلطي ہے۔ لڑکياں اُن تمام مضامين ميں تعليم حاصل کرسکتي ہيں جو اُن کيلئے سودمند اورمفيد ہيں اوراُنہيں شوق بھي ہے۔ انساني معاشرے کو تعليم يافتہ لڑکيوں اورخواتين کي ضرورت ہے جيسا کہ وہ تعليم يافتہ لڑکوں اور مرد حضرات کا نيا زمند ہے۔ البتہ تحصيل علم کے ماحول کو لڑکے اور لڑکي دونوں کيلئے صحيح و سالم اور پاکيزہ ہونا چاہيے۔ ملکي جامعات کو چاہيے کہ وہ قوم کے بچوں بچيوں کو حصول تعليم کيلئے امن و سکون کا ماحول فراہم کريں۔ کوچہ و بازار عزت و آبرو اور اخلاق کي حفاظت کے لحاظ سے قابل اطمئنان ہوں اور اس سلسلے ميں لڑکے اور لڑکي ميں کوئي فرق نہيں ہے۔ اگر يہ امن وسکون حاصل ہوجائے تو کوچہ و بازار، جامعات اوراسکول و کالج ميں بھي امن ہوگا اورافراد کو اخلاقي اورفکري سا لميت بھي حاصل ہوجائے گي۔ يہ اعلي عہديداروں اوروالدين کا کام ہے، تو ايسے ماحول ميں مسلمان لڑکے ، لڑکياں اور مرد وخواتين سب اپني فعاليت کو بطريق احسن انجام دے سکيں گے۔

معاشرتي زندگي ميں حجاب کے فوائد

اس قسم کے بے مہار ميل جول اور روابط و تعلقات کا سدباب کرنے اور اخلاقي حدود کي حفاظت کيلئے اسلام نے خواتين کيلئے حجاب کو معين کياہے۔ خود يہ حجاب خواتين کو ايک قسم کي حفاظت اور امن و سکون عطا کرتا ہے۔ ايک باحجاب مسلمان عورت نہ صرف يہ کہ امن و سکون کا احساس کرتي ہے بلکہ مسلمان مرد بھي (آنکھوں اور شہوت کے گناہوں وغيرہ کي دوري کي وجہ سے ) راحت و آرام پاتے ہيں۔جہاں بھي حجاب کو خواتين سے لے کر انہيں عرياني و فحاشي (اور بے پردگي) سے نزديک کيا جائے تو سب سے پہلے خود خواتين اور اِس کے بعد مردوں اور نوجوانوں سے (روحاني اور جسماني) آرام و سکون چھين ليا جائے گا۔ اسلام نے معاشرے کے ماحول کو پاکيزہ رکھنے اور (روحاني و جسماني) آرام وسکون کي حفاظت کيلئے حجاب کو واجب کيا ہے تاکہ خواتين معاشرے ميں باآساني اپنے امور کو انجام دے سکيں اور مرد اپني ذمہ داريوں اور فرائض سے عہدہ برآں ہوسکيں۔ يہ حجاب ، اسلام کے شاندار احکامات ميں سے ايک حکم ہے اور اس کا ايک فائدہ يہي ہے کہ جسے آپ کي خدمت ميں عرض کيا۔ اس کے دوسرے بہت سے فوائد بھي ہيں کہ جن کي جانب بعد ميں اشارہ کريں گے۔

معاشرتي زندگي ميں خواتين کي فعاليت کي اساسي شرط؛

عفت وپاکدامني کي حفاظت اورمردوں سے غير شرعي تعلقات سے دوري

پس اس دوسرے ميدان ميں کہ جو اجتماعي ،سياسي، علمي اور دوسري قسم کي فعاليت کا ميدان ہے،ايک مسلمان عورت کوايک مسلمان مرد کي طرح (آزادانہ فضا ميں )فعاليت کا حق حاصل ہے مگر زمانے کے تقاضوں کے ساتھ، يعني وہ معاشرتي زندگي ميں جس خلا اور جس ذمے داري کا اپنے دوش پر احساس کريں، اُنہيں انجام ديں۔ مثلاً ايک لڑکي چاہتي ہے کہ طب کے شعبے ميں قدم رکھے اور ڈاکٹر بنے ، يا اقتصاد کے ميدان ميں اپني ماہرانہ اورپيشہ وارانہ صلاحيتوں کو بروئے کار لائے يا ديگر علمي مضامين ميں فعاليت انجام دے ،يا جامعہ ميں تدريس کرے، يا سياسي ميدان ميں مردوں کا بوجھ ہلکا کرے ياصاحب قلم يا ايڈيٹر بن کر ادب و معاشرے کي خدمت کرے تو اُس کيلئے تمام راستے کھلے ہيں۔ مگر ايک شرط کے ساتھ! اور وہ يہ کہ وہ اپني عفت و پاکدامني کي حفاظت کرے اور مردو عورت کے درميان بے مہار ميل جول اور غير شرعي تعلقات سے کنارہ کشي اختيار کرے تو ايسے اسلامي معاشرے ميں مرد وعورت دونوں کيلئے راہ کھلي ہے۔ ہمارے اس مطلب پر گواہ،وہ تمام اسلامي آثار ہيں کہ جو اس سلسلے ميں ہمارے پاس موجود ہيں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اسلامي احکام و فرائض ہيں کہ جو مرد وعورت کو يکساں طور پر اجتماعي ذمے دارياں عطاکرتے ہيں۔ يہ جو حديث ميں فرمايا گيا ہے کہ’’مَن اَصبَحَ لاَ يَهتَمُّ بِاُمُورِ المُسلِمِينَ فَلَيسَ بِمُسلِمٍ‘‘ (۶) (جو اس حالت ميں صبح کرے کہ اُسے مسلمانوں کے حالات سے کوئي دلچسپي نہ ہوتو وہ مسلمان نہيں ہے) يہ حکم صرف مردوں کيلئے نہيں ہے بلکہ خواتين کو بھي چاہيے کہ مسلمانوں کے حالات ، دنيائے اسلام سميت پوري دنيا کے مسائل کي نسبت احساس ذمے داري کريں اور اُن پر توجہ ديں، چونکہ يہ ايک اسلامي وظيفہ ہے۔

سورئہ احزاب کي آيت نمبر ٣٥ کے مطابق خواہ اسلام ہو ياايمان کي مضبوطي ، خداوند متعال کي اطاعت گزاري ہو يا خشوع اورفروتني ، راہ خدا ميں صدقہ دينا ہو يا روزے داري، صبر و استقامت ہو يا عزت و ناموس کي حفاظت يا پھر ذکر الٰہي ، ان تمام فضيلتوں ميں مرد و عورت سب برابر ہيں (يعني ہر کوئي اپني سعي اور کوشش کے نتيجے ميں بلند سے بلند مقام حاصل کرسکتا ہے)۔ اگر خواتين اسلامي حدود و قوانين کا احترام کريں تو معاشرتي اور اجتماعي فعاليت اُن کيلئے مکمل طور پر مباح، جائز اور مطلوب ہے۔ خواتين اس شرط کے ساتھ معاشرے ميں اپنا بھرپور فعال کردار ادا کريں اور معاشرے ميں موجود اپني نصف طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کو خوشبخت بنائيں۔ جس وقت خواتين بھي معاشرے ميں مردوں کے شانہ بشانہ تحصيل علم ميں مشغول ہوں تو اس کے اجتماعي و انفرادي فوائد اس زمانے کي نسبت دُگنے ہوں گے کہ جب معاشرے ميں صرف مردوں کو تحصيل علم کا حق حاصل ہو۔ خواتين کي شعبہ تدريس سے وابستگي کے وقت معاشرے ميں معلمين کي تعداد اُس تعداد سے دو برابر ہوگي کہ جب صرف مرد تدريس کريں۔ ملکي تعمير و ترقي ، تعمير نو،اقتصادي ميدان ميں آگے قدم بڑھانے، منصوبہ بندي کرنے، ايک ملک، شہر، گاوں اور گھريلو اورشخصي امور ميں مطالعہ کرنے جيسے اہم امور ميں مرد و عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے ، سب ذمے دار ہيں اور سب کو يہ کام انجام دينے چاہئيں۔

مسلمان بيٹيو! اور مومنہ خواتين ! يہ بھي آپ کي خدمت ميں عرض کروں کہ اہل يورپ جو اِس بات کا دعويٰ کرتے ہيں کہ يورپي معاشرے ميں عورت آزاد ہے تو اس کا کيا مطلب ہے؟يہي يورپي ہي تھے کہ جو نصف صدي قبل عورت کو اِس بات کي اجازت نہيں ديتے تھے کہ وہ اپنے ذاتي مال و ثروت ميں اپني مرضي کے مطابق تصرّف کرے! يعني ايک يورپي يا امريکي عورت ، پچاس ساٹھ سال قبل اگر لاکھوںروپے کي مالک بھي ہوتي تو اُسے يہ حق نہيں تھا کہ وہ اپني خوشي اور ارادے سے اُسے خرچ کرسکے۔وہ ہر صورت ميں اپنے مال و دولت کو اپنے شوہر ،باپ يا بھائي کے اختيار ميں دے ديتي اور وہ لوگ اپنے ميل اور ارادے سے اِس عورت کي دولت کو خود اُس کيلئے يا اپنے ليے خرچ کرتے تھے! ليکن اسلام ميں ايسا ہرگز نہيں ہے۔ اسلام ميں عورت اپني ثروت و دولت کي خود مالک ہے ، خواہ اُس کا شوہر راضي ہو يا نہ ہو، اِس ميں اس کے با پ کي مرضي شامل ہو يا نہ ہو، کوئي فرق نہيں ہے۔ اسلامي قوانين کي رُو سے عورت اپنے مال و دولت اور جمع پونچي کو استعمال ميں لائے اور اِس ميں وہ کسي کے اذن و ارادے کي محتاج نہيں ہے۔ خواتين کے اقتصادي استقلال و آزادي کي حمايت کرنے ميں دنيا، اسلام سے تيرہ صدياں عقب ہے۔ اسلام نے اس امر کو تيرہ صدي قبل بيان کيا ہے ليکن يورپ ميں ابھي چاليس پچاس سال اور بعض ديگر ممالک ميں اس مدت سے بھي کم عرصہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے معاشرے کي عورت کو اِس بات کي اجازت دي ہے کہ وہ اپنے ذاتي مال و ثروت ميں تصرف کرے! اسلام اس جہت سے بھي بہت آگے ہے۔

ج: گھريلو زندگي کا ميدان

خواتين کي فعاليت کا تيسرا اہم ترين ميدان ، اُن کي گھريلو اور خانداني زندگي ہے ۔ ہم نے معنوي کمال ميں عورت کے کردار پر روشني ڈالي ہے اور ہر قسم کي اجتماعي فعاليت کيلئے اسلامي احکامات کو بھي بيان کيا ہے ۔ ليکن اس تيسرے حصے ميں ہم گھريلو اور خانداني زندگي ميں عورت کے اہم کردار کو بيان کريں گے يعني ايک عورت، ايک بيوي اور ماں کے روپ ميں کيا کردار ادا کرسکتي ہے۔ يہاں اسلام کے احکامات اتنے زيادہ نوراني اور باعث فخر ہيں کہ انسان جب ان احکامات کا مشاہدہ کرتا ہے تو خوشي سے جھوم اٹھتا ہے۔

١۔ شوہر کا انتخاب

عورت ايک بيوي اورہمسر کي حيثيت سے مختلف مراحل زندگي ميں اسلام کي خاص لطف و عنايت کا مرکز ہے۔ سب سے پہلے مرحلے ميں انتخاب شوہر کا مسئلہ ہے۔ اسلام کي نظر ميں عورت، انتخاب شوہر کے مسئلے ميں بالکل آزاد ہے اور کسي کو بھي يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ شوہر اور اس کے جيون ساتھي کے انتخاب ميں اُس پر کوئي چيز تھونپے يا اپني رائے مسلّط کرے۔ يہاں تک کہ اُس کے بھائيوں ،باپ يا اُس کے عزيز و اقارب اگر يہ چاہيں کہ اپني رائے يا مرضي و پسند کو اُس پر تھونپيں کہ تم صرف فلاں شخص سے ہي شادي کرو تو انہيں ہرگز يہ حق حاصل نہيں ہے۔يہ اسلام کي نظر ہے۔

لوگوں کے جاہلانہ آداب و رسوم اور ہيں اور اسلامي احکامات اور !

البتہ اسلامي معاشرے ميں تاريخي پيچ وخم کے نتيجے ميں جاہلانہ عادات ورسوم کاوجود رہا ہے۔ يہ جاہلانہ عادات ورسوم آج بھي بعض ممالک ميں موجود ہيں ،خود ہمارے ملک کے بعض شہروں ميں بھي موجود ہيں۔ فرض کيجئے ، جيسا کہ مجھے علم ہے کہ بعض قبائل ميں ہر لڑکي کے چچا زادبھائي کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ اِس لڑکي کي شادي کے بارے ميں اظہار رائے کرے! يہ کام غلط ہے، اسلام نے کسي کو ايسا کام کرنے کي ہرگز اجازت نہيں دي ہے۔ حقيقت سے بے خبر اور جاہل مسلمان جو بھي کام کريں اُسے اسلام کے کھاتے ميں نہيں ڈالنا چاہيے۔ يہ جاہلانہ عادات و رسوم ہيں۔ جاہل اور حقيقت سے بے خبر مسلمان، جاہلانہ آداب و رسوم کے مطابق بہت سے ايسے کام انجام ديتے ہيں کہ جن کا اسلام اور اُس کے نوراني احکامات سے دور دور تک کوئي تعلق نہيں ہے۔ اگر کوئي کسي لڑکي کو مجبورکرے کہ تم اپنے چچا زاد بھائي سے ہي شادي کرو تو اُس نے خلاف شريعت کام انجام ديا ہے ۔ اگر کوئي اِس لحاظ سے کہ وہ ايک لڑکي کا چچا زاد بھائي ہے اور (جاہلانہ عادات و رسوم کي بنا پر) اُس نے خود کو يہ حق ديا ہے کہ اُسے شادي کرنے سے منع کرے اور اُس سے کہے کہ چونکہ تم نے مجھ سے شادي نہيں کي پس ميں تم کو کسي اور سے شادي کرنے کي اجازت نہيں دوں گا۔لڑکي کا چچا زاد بھائي اور جو بھي اُس کي اس فعل ميں مدد کرے گا ، وہ خلاف شريعت اور حرام فعل کے مرتکب ہوئے ہيں۔ اس فعل کا حرام اور خلاف شريعت ہونا بہت ہي واضح ہے اورفقہائے اسلام اس بارے ميں متفق القول ہيں۔

اگرفرض کريں کہ ايک قبيلہ دوسرے قبيلہ سے اپنے اختلافات مثلاً خون ريزي کے مسئلے کو حل کرنے کيلئے اس طرح اقدامات کريں کہ يہ قبيلہ ايک لڑکي کو اس کي اجازت کے بغير اورمرضي کے خلاف دوسرے قبيلے کے حوالے کردے، يہ کام خلافِ شريعت ہے۔ البتہ ايک وقت خود لڑکي سے اجازت ليتے ہيں تو اس ميں کوئي قباحت نہيںہے۔وہ لڑکي ہے، لڑکے کو چاہتي ہے تو اس ميں کوئي عيب نہيں ہے کہ وہ دوسرے قبيلے کے ايک نوجوان سے شادي کرے کہ اس طرح دونوں قبيلوں کا اختلاف ختم ہوسکتا ہے،يہ بہت اچھي بات ہے ليکن اگر لڑکي کو اس کام کيلئے مجبور کيا جائے تو يہ کام شريعت کے سراسر خلاف ہے۔

بيوي پر شوہر کي اطاعت?!

آپ توجہ فرمايئے کہ اسلامي احکام نے شوہر کے انتخاب اور گھرانے کي تشکيل کي ابتدا ہي سے خواتين کي مدد کرنے کو مدنظر رکھا ہے۔ چونکہ بہت سے مرد، خواتين پر ظلم و ستم کرتے تھے تو اسي ليے اسلام اُن کے ظلم کے سامنے ڈٹ گيا ہے۔جب ايک گھرانہ تشکيل پاتا ہے تو اسلام کي نظر ميں گھر کے اندر مرد اور عورت دونوں زندگي ميں شريک ہيں اور دونوں کو چاہيے کہ آپس ميں محبت کا سلوک کريں۔ مرد کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ بيوي پر ظلم کرے اور بيوي کو بھي يہ حق حاصل نہيں وہ شوہر سے ناحق بات کہے۔ گھرانے اور خاندان ميں مرد وعورت کے رابطے اور تعلقات بہت ظريف ہيں۔ خداوند عالم نے مرد و عورت کي طبيعت ومزاج اور اسلامي معاشرے اور مرد وعورت کي مصلحت کومدنظر رکھتے ہوئے ان احکامات کو معين کيا ہے۔ شوہر ، صرف چند جگہ کہ ميں صرف ايک مقام کو صراحت سے بيان کرنے پر ہي اکتفائ کروں گا اور ديگر مقام کو يہاں بيان نہيں کروں گا، اپني بيوي کو حکم دينے کا حق رکھتا ہے اور بيوي پر لازم ہے کہ اُسے بجالائے ۔ وہ مقام کہ جسے ميں صراحت کے ساتھ بيان کروں گا يہ ہے کہ شوہر اپني بيوي کو اپني اجازت کے بغير گھر سے باہر جانے پر روک سکتا ہے۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ نکاح ميں اس بارے ميں کوئي شرط نہ رکھي گئي ہو۔ اگر نکاح ميں شرط نہيں لگائي گئي ہوتو مرد بيوي کو روک سکتا ہے۔ يہ احکام الٰہي کے پيچيدہ اسرار ورموزميں سے ايک راز ہے اور يہ حق صرف شوہر کو ديا گيا ہے۔ حتي باپ کو بھي يہ حق حاصل نہيں ہے۔ ايک باپ بھي اپني بيٹي کو اس بات کا پابند نہيں کرسکتا کہ اگر تم باہر جانا چاہو تو مجھ سے اجازت لو ۔ نہ باپ کو يہ حق حاصل ہے(۷) اور نہ بھائي کو اپني بہن کيلئے يہ حق ديا گيا ہے ليکن شوہر اپني بيوي کيلئے اس حق کا مالک ہے۔ البتہ خواتين نکاح کے وقت کچھ شرائط کو نکاح ميں درج کرواسکتي ہيں اور ان شرائط پر مياں بيوي دونوںکو سختي سے عمل در آمد کرنا ہوگا۔بنابرايں، اگر کسي شرط کو نکاح کے ذيل ميں لکھيں تو يہ دوسري بحث ہے ليکن پہلے مرحلے ميں خداوند عالم نے شوہر کو اپني بيوي کي نسبت يہ حق عطا کيا ہے ۔ ايک دو اور ايسے مقامات ہيں کہ جہاں بيوي پر واجب ہے کہ وہ اِن ميں اپنے شوہر کي اطاعت کرے ( کہ في الحال اُن سے صرف نظر کرتا ہوں)۔

مستحکم گھرانے کيلئے مياں بيوي کي صفات و عادات سے استفادہ

يہ سب احکامات، مرد وعورت کي طبيعت و مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے صادر کيے گئے ہيں۔ مرد و عورت دونوں کے مزاج و فطرت کي اپني اپني خصوصيات ہيں۔ گھرانے کے اندر مردوں کے فرائض ،کاموں اور مردانہ حوصلے اور جذبے کي عورت سے ہرگز توقع نہيں کرني چاہيے اور اِسي طرح گھر کے ماحول ميں بيوي کي نسوانہ خصوصيات کي مرد سے اميد نہيں رکھني چاہيے۔ دونوں کي اپني اپني فطري اور روحي صفات و خصوصيات ہيںکہ عالم بشريت ، معاشرے اورمرد وعورت کے اجتماعي نظام کي مصلحت يہي ہے کہ گھرانے ميں دونوں کي خصوصيات وعادات کا اپنے اپنے مقام پر خاص خيال رکھا جائے۔ اگر ان کا خيال رکھا جائے تو شوہر بھي خوشبخت ہوگا اور بيوي بھي خوشحال رہے گي۔ ايسے ماحول ميں کسي کو کسي پر ظلم کرنے،زبردستي اپني بات منوانے اور دوسرے سے اپني خدمت کرانے کاکائي حق نہيں ہوگا۔ بعض مرد حضرات يہ خيال کرتے ہيں کہ يہ عورت کي ذمہ داري ہے کہ وہ اپنے سے مربوط تمام کاموں کو انجام دے۔ البتہ گھر کے ماحول ميں شوہر اور بيوي ايک دوسرے سے محبت کرتے ہيں اور وہ اپنے ذاتي شوق اورميل سے ايک دوسرے کے کاموں اور امور کو انجام ديتے ہيں ۔اپنے ميل و رغبت سے کسي کام کو انجام دينے کا اِس بات سے کوئي تعلق نہيں ہے کوئي (شوہر) يہ خيال کرے يا اِس طرح کا رويہ اختيار کرے کہ اُس کي بيوي کي يہ ذمہ داري ہے کہ وہ اپنے شوہر کي ايک نوکراني کي مانند خدمت کرے۔ اسلام ميں ايسي چيز کا کوئي وجود نہيں ہے!

٢۔ تربيت اولاد

گھر اورگھرانے ميں خواتين کے من جملہ فرائض ميں سے ايک فريضہ ،تربيت اولاد ہے۔ وہ خواتين جو گھر سے باہر اپني مصروفيات کي وجہ سے صاحب اولاد ہونے ميں پس و پيش سے کام ليتي ہيں تو وہ درحقيقت اپني زنانہ اور بشري طبيعت و مزاج کے خلاف اقدام کرتي ہيں۔ خداوند عالم اُن کے اس کام سے راضي نہيں ہے۔ وہ خواتين جو اپنے بچوں ،تربيت اولاد ،بچے کو دودھ پلانے اور اُسے اپني محبت بھري آغوش ميں پرورش کرنے کو اُن کاموں کيلئے کہ جن کا وجود اِن خواتين پر موقوف نہيں ہے،ترک کرديتي ہيں تو وہ غلطي کا شکار ہيں۔تربيت اولاد کي بہترين روش يہ ہے کہ وہ اپني ماں کي محبت و چاہت کے سائے ميں اپني ممتا کي آغوش ميں پرورش پائے۔ جو خواتين اپني اولاد کو خداکے عطا کيے ہوئے اس عطيّے سے محروم کرتي ہيں، وہ غلطي کا ارتکاب کررہي ہيں اور اس طرح انہوں نے نہ صرف يہ کہ اپني اولاد کے نقصان کيلئے اقدام کيا ہے بلکہ وہ اپنے اور اپنے معاشرے کيلئے بھي ضرر و زياں کا باعث بني ہيں۔ اسلام اس چيز کي ہرگز اجازت نہيں ديتا ہے۔ خواتين کے اہم ترين وظائف ميں ايک وظيفہ يہ بھي ہے کہ وہ اپني اولاد کو محبت و چاہت ،صحيح تربيت، اپنے دل کي پوري توجہ اور تربيت کے اصولوں پر توجہ ديتے ہوئے اِس طرح پرورش ديں کہ يہ انساني موجود خواہ بيٹا ہو يا بيٹي، جب بڑا ہو تو روحي لحاظ سے ايک سالم انسان اور نفسياتي الجھنوں سے دورہو اور ذلت وبدبختي اور ہلاکت ومصيبت کہ جس ميں آج مغرب ويورپ اور امريکي نوجوان نسل گرفتار ہے، کے بغير پرورش پائے۔

خانداني نظام زندگي کي اہميت سے رُوگرداني۔۔۔!

ميري عزيز بہنو! آپ مشاہدہ کيجئے کہ مغربي خواتين کے اپنے گھرانوں ، خاندانوں اور اولاد کو اہميت نہ دينے کي وجہ سے مغربي معاشرے کي نوبت يہاںتک آپہنچي ہے کہ امريکا اور يورپي ممالک ميں آج لاکھوں تباہ حال اوربُرے نوجوان ،دس بارہ سال کي عمر ميں اپني تباہي اوربربادي کا سامان کررہے ہيں۔حالانکہ يہ وہي ممالک ہيں کہ جہاں مادي تہذيب وتمدن اپنے عروج پر ہے،جن کے بڑے بڑے محل و قصر، بڑے اورترقي يافتہ ايٹمي پلانٹ، سو منزلہ سے زيادہ سر بفلک عمارتيں اور علمي اور ٹيکنالوجي ترقي اور پيش رفت ، زبان زدِخاص وعام ہے۔ ايسے ماحول ميں يہ نوجوان تباہ و برباد ہورہے ہيں، قاتل ہيں،اسمگلنگ ،منشيات، سگريٹ اور ديگر قسم کے نشوں ميں گرفتار ہيں۔ ان سب کي کيا وجہ ہے؟ وجہ يہ ہے کہ مغربي عورت گھر ،گھرانے اور خانداني نظام زندگي کي قدر وقيمت سے غافل ہے۔

گزشتہ زمانے ميں مغربي خواتين کي يہ حالت نہيں تھي۔ چاليس پچاس سال سے مغربي خواتين کي حالت خصوصاً امريکا اور بعض يورپي ممالک ميں روز بروز بدتر ہوتي چلي گئي ہے ۔ جس دن سے مغربي خواتين نے اِس غلط راہ پر قدم اٹھايا ہے وہ سوچ بھي نہيں سکتي تھيں کہ تيس، چاليس يا پچاس سال ميں اُن کا ملک ومعاشرہ اِس حالت سے دوچار ہوجائے گا کہ بارہ سالہ لڑکا ريوالور سے گولي چلائے، يا تيز خنجر اپني جيب ميں رکھ کر پھرے يا رات يا دن کے کسي حصے ميں نيويارک، لندن يا دوسرے مغربي شہروں کي سڑکوں کے گوشہ وکنار پر کسي کو قتل کرے اور بغير کسي چيز کاملاحظہ کيے ہوئے کسي کو موت کے گھاٹ اتار دے! يہ ہے اُن کي حالت زار! جب کسي معاشرے ميں خاندان اورگھرانے کا شيرازہ بکھر جائے تو اس کي يہي حالت ہوتي ہے۔

عورت ، گھرانے کي باني اور محافظ

حقيقت تو يہ ہے کہ يہ عورت ہي ہے جو ايک گھرانے اور خاندان کو وجود ميں لاتي ہے اور اُس کا دوام بھي اُسي کے وجود پربرکت سے وابستہ ہے۔ اِس بات کواچھي طرح ذہن نشين کرليجئے۔ ايک گھرانے کو تشکيل دينے والا بنيادي اوراساسي عنصر ، عورت ہے نہ کہ مرد۔ مرد کے بغير ممکن ہے کہ کوئي گھرانہ وجود رکھتا ہو۔ يعني فرض کيجئے کہ کوئي ايسا گھرانہ ہو کہ جہاں مرد موجود نہ ہو يا وہ انتقال کر گيا ہو اور گھر کي عورت اگر عاقل ،مدبر اورگھريلو ہو تو وہ اپنے گھرانے کو محفوظ رکھ سکتي ہے، بنابرايں ،يہ عورت ہي ہے جو نہ صرف يہ کہ گھرانے کو وجود ميں لانے کا باعث بنتي ہے بلکہ اس کي حفاظت بھي کرتي ہے۔

گھرانے اور خاندان ميں عورت کے کردار پر اسلام کي اتني اہميت دينے اور تاکيد کرنے کي وجہ يہي ہے کہ اگر عورت اپنے گھرانے اور خاندان سے مخلص ہو، اُس سے عشق و محبت کرے ، اپني اولاد کي تربيت پر اہميت دے،بچوں کي ديکھ بھال کرے، اُنہيں اپنا دودھ پلائے، اپني آغوش ميں پرورش دے، قرآني قصوں، اسلامي احکامات، سبق آموز کہانيوں اوراسلامي آداب وغيرہ کے ذريعے اُن کي ثقافتي ضرورتوں کو پورا کرے اورہر لمحے سے استفادہ کرتے ہوئے مادي غذاوں کي مانند انہيں اپنے بچوں کي روح کے ذائقے ميں ڈالے تو اُس معاشرے کي نسليں پختہ ، رشيد اور کامياب نسليں ہوں گي۔ يہ ہے عورت کا ہنر اور فن اور يہ امور اُس کے تحصيل علم ، تدريس ، ملازمت ،فعاليت اور سياست وغيرہ جيسے اہم ميدان ميں قدم رکھنے سے کوئي منافات نہيں رکھتا ہے۔

گھريلو اوراجتماعي فعاليت ميں توازن ضروري ہے

اسلام کے ابتدائي زمانے ميں خواتين ميدان جنگ ميں زخميوں کي مرہم پٹي کرنے کے علاوہ کہ يہ کام سب سے زيادہ خواتين کے ذمے تھا ،حتي نقاب کے ساتھ بھي اُس زمانے کي سخت اوردوبدو جنگ کے باوجود ، شمشير بھي چلاتي تھيں! اِسي کے ساتھ ساتھ گھر ميں اپنے بچوں کو اپني آغوش ميں ليتيں ،اُن کي اسلامي تربيت کرتيں اور ساتھ ہي اپنے حجاب کي پوري طرح حفاظت بھي کرتيں تھيں کيونکہ ان تمام امور ميں کوئي تصادم نہيں ہے۔

بعض لوگ افراط کا شکارہيں اور بعض لوگ تفريط کا! کچھ کہتے ہيں کہ چونکہ اجتماعي فعاليت ہميں اجازت نہيں ديتي ہے کہ ہم گھر، شوہر اور بچے داري کريں پس ہميں اجتماعي فعاليت سے دستبردار ہوجانا چاہيے۔ اِس کے برخلاف کچھ لوگ يہ کہتے ہيں کہ چونکہ گھر، شوہر اور بچے داري کے مسائل اور جھميلے ہمارا پيچھا نہيں چھوڑتے کہ ہم اجتماعي اورمعاشرتي امور ميں قدم رکھيں پس ہميں گھر بار کو خير آباد کہہ دينا چاہيے۔ يہ دونوں فکر غلط ہيں۔ نہ اِسے اُس کي خاطر اور نہ اُسے اِس کي وجہ سے چھوڑنا چاہيے۔

اسلامي انقلاب کي کاميابي ميں خواتين کا کردار

عائلي اور خانداني نظام زندگي ميں ايک مسلمان عورت اپنے گھرانے ميں بہت سے وظائف کي حامل ہے کہ جو گھرانے ميں اُس کے بنيادي رکن ہونے ، تربيت اولاد، ہدايت اور شوہر کي روحي تقويت کرنے عبارت ہیں۔ ايران ميں شاہي طاغوتي حکومت سے مقابلوں ميں بہت سے مرد ميدان ِ مبارزہ ميں نبرد ميں مصروف تھے ليکن اُن کي خواتين نے انہيں اجازت نہيں دي کہ وہ شاہي حکومت سے مقابلے کو جاري رکھيں ، کيونکہ ان ميں اِس بات کي قوت نہيں تھي کہ وہ مقابلے کي سختيوں کو تحمل کريں۔ اِس کے برخلاف بہت سي خواتين اس مبارزے کي راہ ميں استقامت اور ڈٹے رہنے پر نہ صرف يہ کہ اپنے شوہروں کي حوصلہ افزائي کرتيں تھيں بلکہ اُن کي مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کي ہمتوں کو بلند رکھنے کيلئے روحي طور پر اُن کي پشت پناہي بھي کرتيں تھيں۔سن ١٩٧٧ اور ١٩٧٨کے عوامي مظاہروں ميں جب ملک کے کوچہ و بازار سب عوام سے بھرے پڑے تھے تو خواتين اپنے شوہروں اور بچوں کو مظاہروں ،شاہي حکومت سے مبارزے و مقابلے کرنے اور عوامي رضا کار فوجي (بسيج) کو فعال بنانے ميں اہم اور کليدي کردار کي حامل تھيں۔

انقلاب اور آٹھ سالہ تھونپي گئي جنگ کے دوران ہماري ماوں نے اپنے بيٹوں کو راہ اسلام ميں سر بہ کف مجاہدوں اور دليروں ميں جبکہ بيويوں نے اپنے شوہروں کو صاحب ِ استقامت اور مضبوط انسان ميں تبديل کرديا تھا۔ يہ ہے اولاد اور شوہر کيلئے بيوي کا کردار اور اس کے عمل کي تاثير۔ يہ وہ کردار ہے کہ جسے ايک عورت اپنے گھر ميں ادا کرسکتي ہے اوريہ اُس کے بنيادي کاموں ميں سے ايک کام ہے اور ميري نظر ميں عورت کا يہ کام اُس کے سب سے زيادہ اہم ترين کاموں ميں شامل ہے۔ اولاد کي صحيح تربيت اور زندگي کے بڑے بڑے ميدانوں اورامتحانوں ميں قدم رکھنے کيلئے شوہر کي روحي طور پر مدد کرنا ايک عورت کے اہم ترين کاموں ميں شامل ہے ۔ ہم خدا کے شکر گزار ہيں کہ ہماري مسلمان ايراني خواتين نے اس ميدان ميں بھي سب سے زيادہ خدمات انجام ديں ہيں۔

البتہ ايران کي شجاع، ہوشيار، استقامت اور صبر کرنے والي خواتين نے انقلاب اور جنگ کے زمانے ميں ، خواہ محاذ جنگ پر ہوں يا محاذ جنگ کے پيچھے يا پھر گھر کي چار ديواري کے اندر بالعموم تمام ميدانوں ميں بہت فعال کردار ادا کيا ہے اور آج بھي سياست ، ثقافت اورانقلاب کے ميدانوں ميں بھي عالمي دشمنوں کے مقابلے ميں اپنا بھرپور کردار ادا کررہي ہيں۔

وہ افراد جوہمارے وطن اور اسلامي جمہوريہ کے نظام کا تجزيہ و تحليل کرنا چاہتے ہيں جب اِن مصمّم ارادوں، اس آگاہي اورشعوروشوق کا مشاہدہ کريں گے تو ايراني قوم اور اسلامي جمہوريہ کے نظام کے مقابلے ميں ستائش و تعظيم کا احساس کريں گے۔(۸)

____________________

١ سورئہ تحريم / ١١

۲ سورئہ تحريم / ١١’’جب زن فرعون نے کہا کہ اے ميرے رب ميرے ليے اپنے پاس جنت ميں ايک گھر بنادے‘‘

۳ سورہ تحريم / ١٢

۴ و ۵سورہ احزاب/ ٣٥

۶کافي، جلد ٢، صفحہ ١٦٣

۷يکن والدين اپني اولاد کي بہترين تربيت کيلئے اس کے غير مناسب دوستوں اورسہيليوں سے ملنے، آواري گردي کرنے،گناہ کي محفلوں ميں شرکت کرنے اور برائيوں کي طرف قدم بڑھانے اور گناہ کي دلدل ميں اسے پھنسنے سے نجات دينے کيلئے اُسے تحت نظر رکھ سکتے ہيں يا غير ضروري طور پر اُسے باہر جانے سے روک سکتے ہیں۔ (مترجم)

۸مارچ ١٩٩٧ ميں صوبہ خوزستان ميں خواتين کے ايک عظيم الشان جلسے سے خطاب


تيسري فصل

خواتين پرمغرب کا ظلم و ستم اور اسلام کي خدمات

الف: پہلي خدمت،انساني اقدار کے سودا گروں کا ظلم اور اسلام کي پہلي خدمت

حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کي ولادت باسعادت اور اُن کا تذکرہ مسلمان خواتين کيلئے بہترين فرصت ہے تاکہ اسلامي افکار وتعليمات کي روشني ميں ايک مسلمان عورت اورخواتين کي قدر وقيمت اور اہميت پر بھرپور توجہ دي جاسکے۔ ديگر امور کي طرح ،خواتين بھي انساني اقدار کے سوداگروں کے ہاتھوں ايک جنس بے متاع بن گئي ہے۔

وہ افراد جو صنفِ نازک، خود انسان ، انساني اقدار اورکرامت و بزرگي کيلئے مال و دولت کے علاوہ کسي اور چيز کے قائل نہيں ہيںکہ افسوس ناک بات يہي ہے کہ يہ افراد مغرب کے موجودہ تمدن ميں بہت اہم کليدي کردار ادا کررہے ہيں، انہوں نے خواتين کے مسئلے کو زندگي کے مختلف شعبوں ميں اپنے ليے ايک سرمائے اور تجارت وسوداگري کے وسيلے ميں تبديل کرديا ہے۔ يہ افراد آئے دن اس پر بحث کرتے ہيں ، اپني رائج ثقافت اورتہذيب و تمدن ميں اسے ايک جائز مقام دينے کي کوششوں ميں مصروف ہيں ، اس کے لئے پروپيگنڈا کرتے ہيں اور يوں دنيا کے تمام مردوں اور عورتوں کے اذہان کو ايک بڑي گمراہي اوروسوسے سے دوچار کررہے ہيں۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں ايک مسلمان عورت کو چاہيے کہ اسلامي تعليمات اور عورت سے متعلق اسلامي اقدار و احکامات ميں غور و فکر اورمردو خواتين کي پيشرفت کيلئے اسلامي نظام ميں وضع کيے گئے قوانين اور راہنما اصولوں ميں سنجيدگي سے تآمل کے ذريعے اپنے تشخص کا ازسر نو جائزہ ليتے ہوئے اپنے وجود کو دوبارہ حاصل کرے۔اُسے چاہيے کہ بے بنياد مفروضوں و سفسطوں اورصيہونزم، سرمايہ داروں اورثروت اندوز افراد کے وسوسوں ميں دبے ہوئے اپنے حقيقي اور اصلي وجود کو نکالے۔

ب: دوسري خدمت،عورت کے معنوي کمال، اجتماعي فعاليت اور خانداني کردار پر بھرپور توجہ

اسلام نے زمانہ جاہليت ميں خواتين پر ہونے والے ظلم و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے، خواہ يہ ظلم عورت کي روحانيت ومعنويت ، فکر اور اسلامي اقدار پر ہو يا سياسي ميدان ميں اُس کي فعاليت پر يا اُس سے بھي بڑھ کر گھر اور خانداني نظام زندگي ميں اُس کے موثر ترين کردار پر ۔ مرد و عورت دونوں مل کر معاشرے ميں ايک چھوٹے سے اجتماع کو تشکيل ديتے ہيں جسے ’’خاندان‘‘ يا ’’گھرانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر اس مختصر سے اجتماع کيلئے معاشرے ميں اقدار ، احکام اور راہنما اصولوں کو صحيح انداز سے بيان نہ کيا جائے تو عورت پر سب سے پہلا ظلم خود اُس کے اپنے گھر ميں ہوگا۔ يہي وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کے معنوي کمال، اجتماعي فعاليت اور گھرانے ميں اُس کے بنيادي کردار پر بہت زيادہ توجہ دي ہے۔

معنوي مسائل ميں بھي خواتين ،انسان کي معنوي حرکت ميں وہ دستہ ہيں جو پيشرفت اور ترقي کے لحاظ سے آگے آگے ہے۔ قرآن جب مومن انسانوں کيلئے مثال بيان کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ’’وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا امرَآَتَ فِرعَونَ ‘‘(۱) اورجہاں اسلام، ايمان، صبر صداقت، اور اسلامي ، معنوي اور انساني اقدار کے حصول کيلئے جدوجہد کي بات کرتا ہے تو فرماتا ہے ’’اِنَّ المُسلِمِينَ وَالمُسلِمَاتِ وَالمُومِنِينَ وَ المُومِنِاتِ وَالقَانِتِينَ وَالقاَنِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَ الصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ ‘‘(۲) ۔ اس آيت اسلام، ايمان، اطاعت سچائي ، صبر ،فروتني ، صدقہ دينا ، روزہ گزاري ، عزت وناموس کي حفاظت اورذکر الٰہي جيسي دس معنوي اقدار کو بيان کيا گيا ہے۔ مرد وعورت دونوں ان معنوي اقدار کے حصول کيلئے شانہ بشانہ حرکت کررہے ہيں اور يہي وجہ ہے کہ خداوند متعال دونوں کو ساتھ ذکر کرتا ہے۔ زمانہ جاہليت ميں مردوں حتي عورتوں کے ذريعے بھي مرد کے ليے جس بت کي ہميشہ پرستش کي جاتي رہي ہے اسلام نے اِن آيات ميں اُسے پاش پاش کرديا ہے اور وہ سياسي اوراجتماعي ميدان ميں عورت کے بيعت کرنے کي اہميت اوراُس پر توجہ دينے کو لازمي امر اورايک زندہ اورحقيقي مسئلے کي حيثيت سے متعارف کراتا ہے۔

ج:تيسري خدمت،اسلامي نظام ميں خواتين کي جداگانہ بيعت کي اہميت

آپ ملاحظہ کيجئے کہ مغربي دنيا اوريورپي ممالک ميں حقوق نسواں کے دفاغ ميں ان بلند و بانگ نعروں اور اتنے مدعيوں کے باوجود جو تقريباًسب کے سب ہي جھوٹے ہيں، گزشتہ صدي کي ابتدائي دہائيوں تک خواتين کوووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہيں تھا ، و ہ نہ صرف يہ کہ اپني بات آزادانہ طورپر کہنے اورانتخاب کے حق سے محروم تھيں بلکہ انہيں مالکيت کے بھي حق سے محروم رکھا گيا تھا۔ يعني عورت اپني ميراث ميں ملنے والے مال و ثروت کي بھي مالک نہيں تھي، اُس کا تمام مال و دولت اُس کے شوہر کے اختيار ميں ہوتا تھا۔جبکہ اسلام ميں خواتين کے بيعت کرنے ، اُس کے حق مالکيت اورسياسي اوراجتماعي ميدانوں ميں اُس کے فعال اورموثر ترين کردار کو ثابت کيا گيا ہے۔ ’’اِذَا جَائَکَ المُوْمِنَاتُ يُبَايِعنَکَ عَليٰ اَن لَا يُشرِکنَ بِاللّٰهِ ‘‘(۳) ۔خواتين پيغمبر اکرم ۰ کي خدمت ميں آتي تھيں اوربيعت کرتي تھيں۔ پيغمبر اکرم ۰ نے يہ نہيں فرمايا تھا کہ صرف مرد آکر بيعت کريں اور اِس بيعت کے نتيجے ميں وہ جس چيز کے بارے ميں اپنا حق رائے دہي استعمال کريں ، اظہار نظر کريں اورجس چيز کو بھي قبول کريں تو خواتين بھي مجبورہيں کہ اُن کي بات کومن وعن قبول کريں، نہيں ! انہوں نے کہا کہ خواتين بھي آکر بيعت کريں اور اس حکومت اور اِس اجتماعي اورسياسي نظام کوقبول کرنے ميں شرکت کريں۔ اہل مغرب اس معاملے ميں اسلام سے تيرہ صدياں پيچھے ہيں اورآج بڑھ چڑھ کر يہ دعوے کررہے ہيں (کہ گويا يہ سب انہي کا ديا ہوا نظام ہے)۔ مالکيت کے مسئلے ميں بھي ايسا ہي ہے اور سياسي اوراجتماعي مسائل سے مربوط ديگر شعبوں ميں بھي يہي صورتحال ہے۔

د: چوتھي خدمت،حضرت زہرا کي سيرت، اسلام ميں خواتين کي سياسي اوراجتماعي کردار پر واضح ثبوت

حضرت زہرا علیھا السلام کي سيرت اورآپ کا اسوہ ہونا خواہ آپ کے بچپنے کا زمانہ ہو يا ہجرت پيغمبر ۰ کے بعد مدينے ميں آپ کي اجتماعي مصروفيات کا زمانہ ہو،آپ اُن تمام حالات و واقعات ميں کہ جب آپ کے والد گرامي تمام سياسي اوراجتماعي واقعات و حوادث کا مرکز تھے،بہ نفس نفيس موجود تھيں۔ يہ سب اسلامي نظام ميں ايک عورت کے فعال اورموثر اجتماعي کردار کي عکاسي کرتے ہيں۔ البتہ حضرت زہرا علیھا السلام ان سب فضائل ميں سب سے بلند ترين مرتبے پر فائز ہيں۔ صدراسلام ميں اور بھي بہت سي نامور خواتين تھيں جو اپني معرفت اور عقل وعلم کے لحاظ سے ايک خاص مقام کي حامل تھيں اور زندگي کے مختلف شعبوں سميت حتيٰ ميدان جنگ ميں شرکت کرتي تھيں۔ کچھ خواتين تو اپني شجاعت وشہامت کے ساتھ ميدان جنگ ميں جاکر تلوار بھي چلاتي تھيں۔ البتہ اسلام نے خواتين پر ان سب امور کوواجب نہيں کيا ہے اوراُن کے دوش سے يہ بار اٹھاليا ہے چونکہ يہ سب امور خواتين کي طبعيت ومزاج، جسماني ترکيب و ساخت اوراُن کے احساسات سے ميل نہيں کھاتے۔

ھ: پانچويں خدمت،عورت، گھر ميں ايک پھول ہے!

اسلامي تعليمات کي روشني ميں مرد اِس بات کا پابند ہے کہ وہ عورت سے ايک پھول کي مانند سلوک کرے۔ حديث بنوي ۰ ميں ہے کہ ’’اَلمَرآَۃُ رَيحَانَۃ?‘‘ عو رت ايک پھول ہے، يہ حقيقت سياسي ،اجتماعي اورتحصيل علم کے شعبے سے مربوط نہيں ہے بلکہ يہ گھر ميں ايک عورت کے حقيقي کردار کي عکاسي کرتي ہے۔ ’’اَلمَرآَة ُ رَ يحَا نَة? وَ لَيسَت بِقَهرِمَانَة ‘ ‘(۴) (عورت ايک پھول ہے کوئي طاقتور انسان يا پہلوان نہيں ہے)۔يہ خطا بين نگاہيں جو يہ گمان کرتي ہيں کہ عورت،گھريلو کام کاج کرنے کي پابند ہے، پيغمبر اکرم ۰ نے اپنے اس بيان کے ذريعے ان تمام غلط اور باطل فکر و خيال کو يکسر نظرانداز کرديا ہے۔

عورت ،ايک پھول کي مانند ہے کہ جس کي ہر طرح سے حفاظت کرني چاہيے۔ اس جسمي و روحي لطافت و نرمي والے موجود کو اِن نگاہوں سے ديکھنا چاہيے ، يہ ہے اسلام کي نظر ۔ بالخصوص اِس حديث اور بالعموم تمام اسلامي تعليمات کي روشني ميں خواتين کي تمام زنانہ صفات و خصوصيات ،احساسات اوراميد و آرزووں کي حفاظت کي گئي ہے۔ اس پر کوئي ايسي چيز تھونپي نہيں گئي ہے جو اُس کي زنانہ فطرت، نسوانہ عادات وصفات اورايک پھول کي مانند اُس کے نرم و لطيف احساسات اور مزاج سے ميل نہيں رکھتي ہو اور اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے ايک عورت اورانسان ہونے کے باوجود اُس سے يہ مطلوب نہيں ہے کہ وہ مرد کي طرح سوچے،اس کي طرح کام اورجدوجہد کرے۔ ليکن اِس کے ساتھ ساتھ علم، معرفت ، تقويٰ اور سياست کے ميدان کي راہ اس پر کھلي ہے، کسب ِعلم سميت سياسي اوراجتماعي ميدانوں ميں ترقي کرنے کيلئے اُسے شوق بھي دلايا گيا ہے۔ اب مرد سے يہ کہا گيا ہے کہ اُسے عورت سے گھر ميں زبردستي کام کاج کرانے، اپني بات تھونپنے، زيادہ روي کرنے،جاہلانہ عادات واطوار کے ذريعے اپنے مرد (اور گھر کے سرپرست) ہونے کا لوہا منوانے اورغير قانوني (غير اسلامي) ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے کا کوئي حق نہيں ہے۔ يہ ہے اسلام کي نگاہ۔

اسلامي انقلاب ميں خواتين کا صبر واستقامت اورمعرفت

يہي وجہ ہے کہ جب ايران کي اسلامي تحريک، اسلامي انقلاب کي دہليز تک پہنچي تو ہماري خواتين نے اسلام کي خواتين کے بارے ميں اِسي نظريے اور تعليمات کي روشني ميں قدم اٹھائے اور سامنے آئيں۔ اسي وجہ سے امام خميني ۲ نے فرمايا تھا اور صحيح فرمايا تھا کہ ’’اگر خواتين اس تحريک ميں مدد نہ کرتيں تو انقلاب کبھي کامياب نہيں ہوتا‘‘۔ يقينا اگر خواتين انقلاب کے زمانے ميں ہونے والے بڑے بڑے عظيم الشان مظاہروںميں شرکت نہيں کرتيں تو انقلاب کاميابي سے ہمکنار نہيں ہوتا۔ آٹھ سالہ تھونپي گئي جنگ کي تمام مدت ميں بھي انہي خواتين کي مانند تين تين شہيدوں اور ديگر شہدا کي مائيں اور بيوياں کہ مجھے ان جيسے ہزاروں افراد سے گفتگو کرنے اور نزديک سے اُن کے احساسات کا مشاہدہ کرنے کا فخر حاصل ہے، اگر اپنے جوان بيٹوں اورمردوں کي فداکاري کے نتيجے ميں اُن کے زخمي جسموں اورکٹے ہوئے اعضائ و جوارح اور تمام مشکلات کا اپنے ايمان ، صبر ، استقامت ، معرفت اورشعور اور آگاہي سے جواب نہيں ديتيں تو جنگ کبھي کامياب نہ ہوتي۔ اگر ان شہدا کي مائيں اور بيوياں بے صبري کا مظاہرہ کرتيں تو مردوں کے دلوں ميں جہاد في سبيل اللہ اورشوق شہادت کے جذبات ٹھنڈے پڑجاتے،يہ جو ش وخروش سامنے نہيں آتا اورہمارے معاشرے کو اِس طرح جوش و ولولہ اور حوصلہ نہيں ملتا ۔ميدان جنگ ميں بھي خواتين نے بہت کليدي کردار ادا کيا ہے۔ اگرانقلاب کے مختلف مراحل ، مظاہروں اور انتخابات سميت ديگر ميدانوں ميں خواتين اگر ايثار و فداکاري سے کام نہيں ليتيں اوراپنے فعال کردار کو ادا نہيں کرتيں تو يہ عظيم عوامي تحريک يقينا آج اس صورت ميں موجود نہيں ہوتي۔ يہ ہے اسلام کي نظر اوراسلامي نظام ميں خواتين کا کردار۔

خواتين پر مغرب کا ظلم اور خيانت

اہل مغرب کو خواتين کے بارے ميں اپني خيانت کا ہر صورت ميں جوابدہ ہونا چاہيے کيونکہ مغربي تہذيب و تمدن نے عورت کو کچھ نہيں ديا ہے۔جہاں کہيں بھي علمي ، سياسي اورفکري پيشرفت اورترقي کا مشاہدہ کيا جارہا ہے يہ خواتين کي اپني کوششوں کا نتيجہ ہے۔ دنيا ميں جہاں بھي يہ صورتحال سامنے آئے ہے،ايران ہوياديگر ممالک، سب جگہ خود خواتين نے جدوجہد کي ہے۔

وہ چيز جس کو مغرب نے خود پروان چڑھايا اورمغربي تمدن نے جس عمارت کي ٹيڑھي بنياد رکھي وہ ہر قسم کي قيد و شرط سے آزاد ، مرد و عورت کے آزادانہ تعلقات اور عرياني و فحاشي ہے۔انہوں نے عورت کي نہ صرف يہ کہ گھر ميں اصلاح نہيں کي بلکہ عورت کو (گھر سے باہر نکال کر )بے حيائي اور عرياني و فحاشي کي طرف کھينچ کر لے گئے ۔ امريکي اوريورپي اخبارات ومطبوعات ميں بارہا خواتين کو دي جانے والي اذيت و آزار، مشکلات، بے توجہي اورسنگ دلي کے واقعات اورخبريں چھپتي رہتي ہيں۔ خواتين کو بے بند وباري، آزادانہ (جنسي و غير جنسي) تعلقات اورعرياني وفحاشي کي طرف کھينچنے کے نتيجے ميں مغرب کے خانداني اور عائلي نظام کي بنياديں کمزور ہوگئي ہيں،وہاں گھرانے اور خاندان کا شيرازہ روز بروز بکھرتا جارہا ہے اور اس بات کا سبب بنا ہے کہ وہ اورگھرانے اور خاندان ميں مرد وعورت کي ايک دوسرے سے خيانت کو سہل انگاري سے ديکھيں، کيا يہ گناہ نہيں ہے؟ کيا يہ صنفِ نازک سے خيانت نہيں ہے؟ اس کثيف ترين ثقافت اور تمدن کے باوجود بھي يہ لوگ دنيا پر اپني برتري کے خواہاں ہيں جبکہ انہيں جوابدہ ہونا چاہيے!

مغربي ثقافت کو خواتين کے بارے ميں اپنے ظلم و خيانت کي وجہ سے دفاعي حالت ميں ہونا چاہيے کہ وہ اپنے امور اور اقدامات کا دفاع کريں اور ان کي وضاحت کريں۔ليکن سرمايہ دارانہ نظام اور مستکبرانہ ذرائع ابلاغ کا مغربي معاشرے پر تسلط اورغلبہ اِس حقيقت کو الٹا ہي پيش کررہا ہے۔ جس کے نتيجے ميں وہ حقوق نسواں کے چيمپئن بنے بيٹھے ہيں اور خود اُن کي اپني اصلاح کے مطابق حقوق نسواں کے علمبردار وطرفدار ہيں! حالانکہ ايسي کوئي چيز وجود نہيں رکھتي۔ البتہ مغرب ميں کچھ مفکرين ،فلسفي حضرات اور سچے اور نيک انسانوں کا جود بھي ہے جو پاک نيتوں کے حامل ہيں اور(حق کي) بات کرتے ہيں۔ جو کچھ ميں بيان کررہا ہوں وہ خواتين پر مغربي ثقافت اور تمدن کے ظلم و خيانت کي عمومي شکل ہے۔

خواتين کا اسلامي تشخص اور اُس کے تقاضے

ايران (سميت ديگر اسلامي ممالک) کي خواتين کي کوشش يہ ہوني چاہيے کہ وہ ايک مسلمان عورت کي حقيقي تشخص کو اس طرح زندہ کريں کہ وہ پوري دنيا کو اپني طرف متوجہ کراسکے۔ يہ ہے آج کي مسلمان عورت کا وظيفہ خصوصاً جوان خواتين اور اسکول ، کالج اور يونيورسٹي کي طالبات کا۔

اسلامي تشخص يہ ہے کہ عورت جب اپني خاص زنانہ خصوصيات اور نسوانہ مزاج و تشخص کي حفاظت کرے کہ جو اس کي طبيعت و فطرت سے عبارت ہے اور ہر جنس (موجود) کي خصوصيات ہي اُس کي قدر و قيمت و اہميت کا باعث ہوتي ہيں، يعني جب ايک عورت اپنے نرم و نازک اور لطيف احساسات، پيار ومحبت ،عشق و چاہت اور خاص نسوانہ صفات کي حفاظت کرے تو اُسي کے ساتھ ساتھ معنوي اقدار کے ميدان ميں علم ، تقويٰ، تقرب خدا، معرفت الٰہي اور وادي عرفان ميں پيشرفت کرے اور ساتھ ہي سياسي اور اجتماعي مسائل، صبر،استقامت، سياسي فعاليت، سياسي شعور، اپنے مستقبل، اپنے ملک سميت ديگر اسلامي ممالک اور مسلمان اقوام کے بڑے اہداف، دشمن اور اس کي سازشوں اور چالوں کي شناخت ميں روزبروز ترقي کرے اور اپني اطلاعات اور آگہي کو زيادہ کرے۔ اسي طرح ايک عورت پر ضروري ہے کہ اپنے گھرانے اورخاندان ميں عدل و انصاف اور پرسکون ماحول کے ايجاد اور اُن کي بقائ کيلئے بھي سرگرم رہے۔ ان تمام مسائل سے مربوط قوانين کا وجود اور اُن کي تصحيح اگر لازمي وضروري ہے تو خواتين کو تعليم ، آگاہي ،شعور اور معرفت کے ساتھ ان تمام ميدانوں ميں حرکت کرني چاہيے اور وہ ايک مثالي عورت کا نمونہ پيش کريں۔ انہيں چاہيے کہ وہ يہ کہيں کہ مسلمان عورت ايسي عورت ہے جو اپنے دين، حجاب ،نسوانيت اور اپنے مزاج کي نرمي و لطافت کي حفاظت کرتي ہے، اپنے حق کا نہ صرف يہ کہ دفاع بھي کرتي ہے بلکہ معنويت ،علم و تحقيق اور تقرب الٰہي کے ميدان ميں پيش رفت کرتے ہوئے مثالي خواتين کا نمونہ بھي پيش کرتي ہے اور ساتھ ہي وہ سياسي ميدان ميں بھي اپنا فعال کردار ادا کرتي ہے۔ ايسي عورت، مسلمان خواتين کيلئے اسوہ اور آئيڈيل بن سکتي ہے۔(۵)

____________________

١ ’’اللہ نے اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال پيش کي ہے‘‘۔سورئہ تحريم / ١١

۲مسلمان مرد ومسلمان عورتيں ، مومن مرد ، مومنہ عورتيں ، اطاعت گزارمرد اور اطاعت گزار عورتيں، سچے مرد اور سچي عورتيں ، صابر مرد اور صابر عورتيں۔‘‘ سورئہ احزاب / ٣٥

۳ سورئہ ممتحنہ / ١٢۔ ’’اسے رسول ۰ جب آپ کے پاس مومنات بيعت کيلئے آئيں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسي کواُس کاشريک قرار نہيں ديں گي‘‘۔

۴ بحار الانوار، جلد ١٠٠، صفہ٢٥٣

۵ ٢١ ستمبر ٢٠٠٠ ميں خواتين کے ايک بڑے جلسے سے خطاب


چوتھا باب

حقوق نسواں کے دفاع کيلئے لازمي اصول

دريچہ

ايران سميت ديگر اسلامي ممالک ميں اسلام کي طرف سے خواتين کيلئے تعين شدہ حقوق ،حدود اور تعليمات و احکام کي رعايت نہيں کي جاتي ہے۔ خواتين کے حقوق کے اثبات و نفاذ کيلئے جو کوشش کي جائيں اُنہيں مغرب سميت تمام ممالک ميں خواتين کي فعاليت پر توجہ ديتے ہوئے اُن کے پروپيگنڈے سے متاثر نہيں ہونا چاہيے۔

مغرب ہميشہ اِس بات کي کوشش کرتا رہتا ہے کہ کسي بھي طرح خواتين کي تحريکوں اورفعاليت کے پرچم کو اپنے ہاتھ ميں لے تاکہ اس طرح خواتين کے بارے ميں ہونے والي واقعي اور فطري اصلاحات کا راستہ روک سکے۔

اسلامي نظام ميں حقوق نسواں پر تحقيق کرنے والے افراد کو جن اصولوں کو ہر صورت ميں مدنظر رکھنا چاہيے اُن ميں اسلامي احکام کي پابندي ، اسلامي آئيڈيل کي طرف توجہ،دوسروں کي تقليد اور ان کے عمل کو ديکھ کر حواس باختہ ہونے سے پرہيز کرنا، اخلاقي اور معنوي رشد کي طرف توجہ ، عفت و حيا کے تقاضوں کو پورا کرنا،گھرانے اورخاندان کي بنيادوں کو مستحکم بنانا،خواتين کي خاص زنانہ فطرت اور طبيعت و مزاج پر بھرپور توجہ دينا اور خواتين پر ہونے والے ظلم و ستم کو بالخصوص گھر ميں روکنا شامل ہيں۔

اِن اصولوں کي رعايت اورپابندي ، خواتين کے دفاع کي تمام تحريکوں کو کامياب اورنتيجہ مطلوب تک پہنچائے گي۔ اس ليے کہ اسلام ، بشري زندگي کے مختلف ميدانوں ميں مردو عورت کي حقيقي اور فطري ضرورتوں کا جواب دينے کي پوري پوري صلاحيت رکھتا ہے۔


پہلي فصل

خواتين سے متعلق فعاليت و جدوجہد کے اغراض و مقاصد

اسلامي انقلاب کي کاميابي ميں خواتين کا کردار

اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد خواتين کے حقوق کے دفاع ميں بہت زيادہ تيزي آئي ہے۔ حقيقت تو يہ ہے کہ انقلاب کے بعد ہي ايراني عورت کي تکريم و تجليل کي گئي ہے اور اِس تجليل اورعظمت کي بيان کرنے والي سب سے پہلي ہستي حضرت امام خميني ۲ کي تھي کہ جو اپنے پورے وجود کے ساتھ مسلمان اور ايراني خواتين کي اہميت و احترام کے قائل تھے۔ اُن کے اِس تفکر اور اورنگاہ کي وجہ سے ملک کي خواتين کو اسلامي انقلاب ميں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ درحقيقت اگر خواتين ايراني قوم کي اس انقلابي تحريک ميں شامل نہيں ہوتيں تو اِس بات کا زيادہ احتمال تھا کہ يہ انقلاب اِس شکل ميں کاميابي سے ہمکنار نہيں ہوتا يا سرے سے ہي کامياب نہيں ہوتا، يا پھر اُسے بڑي بڑي مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اِس بنائ پر خواتين نے انقلاب کيلئے مشکل کشائي کا کام انجام ديا ہے۔ جنگ ميں بھي خواتين نے يہي کردار ادا کيا اورانقلاب کے ديگر مسائل ميں بھي ابھي تک اِسي طرح ہوتا رہا ہے۔ بنابرايں،حقوق نسواں کيلئے بہت زيادہ کوششيں کي گئي ہيں ليکن اس کے باوجود خواتين کے مسائل کے حل ، حقوق کے اثبات، اُن پر ہونے والے ظلم کے خاتمے اور اُن کي فعاليت کي زمين ہموار کرنے کيلئے لازمي ہے کہ وسيع پيمانے پر ثقافتي کام انجام پانے چاہئيں۔ ميں آج اس نيت سے يہ گفتگو کررہا ہوں تاکہ اس ثقافتي ماحول اور فضا کو وجود ميں لانے ميں مدد ہوسکے۔ اگر معاشرے کي ثقافتي فضا خواتين کے مسائل کے بارے ميں شفاف ہوجائے اور اسلامي احکام اورقرآني تعليمات اِس بارے ميں واضح ہوجائيں تو يہ راستہ ہموار ہوجائے گا اوريوں ہماري خواتين ايک عورت کے شايستہ مقام اور اپني غايت تک پہنچ سکيں گي۔ اگرچہ کہ يہ بحث و گفتگو ہے، سخن ہے، ايک بات اپنے کہے جانے کے مراحل سے گزر رہي ہے ليکن در حقيقت اپنے اِسي مرحلے ميں عمل بھي ہے۔ اس ليے کہ يہ بحث و گفتگو معاشرے کي ثقافتي فضا کو شفاف اوراذہان کو روشن کردے گي۔

حقوقِ نسواں سے متعلق چند اہم ترين سوالات

ہم ان گزشتہ چند سالوں ميں خواتين کے مسائل کے بارے ميں ملک کي فکري اورثقافتي فضا ميں قابل ستائش کاموں اور جدوجہد کا مشاہدہ کررہے ہيں۔ ليکن يہاں ايک بنيادي نکتے کي طرف اشارہ ضروري ہے اور وہ يہ ہے کہ جب ہم خواتين کے حقوق يا اُن کے کمال و ترقي، اُن سے ظلم کے خاتمے اور خود خواتين کے بارے ميں بحث کرتے ہيں تو ان تمام گفتگو سے ہمارا کيا ہدف ومقصد ہوتا ہے؟ يہ ايک ايسا سوال ہے کہ جس کا جواب ہر صورت ميں ديا جانا چاہيے۔

دوسرا سوال يہ ہے کہ معاشرے ميں خواتين کو اُن کے حقيقي مقام و منزلت دلانے کيلئے ہميں کون سے شعار اور نعروں سے استفادہ کرنا چاہيے اوراس ہدف تک رسائي کيلئے ہم کون سے وسائل کو بروئے کار لائيں؟ چونکہ آج مغربي ممالک اور اسي طرح اُن ممالک ميں جو مغربي ثقافت زدہ ہيں يا اُنہي کي بتائي ہوئي ثقافتي راہ پر گامزن اور اُس کے زير سايہ زندگي بسر کررہے ہيں، حقوق نسواںنامي تحريک وجود رکھتي ہے اور وہاں بھي خواتين کي باتيں، فيمين ازم ( Feminism ) اور حقوق زن کے دفاع کي نيت سے ايک بحث وگفتگو کا سلسلہ جاري ہے۔ کيا آج جو ہم ايران ميں بيان کررہے ہيں يہ سب وہي ہے ؟ کيا اُس جيسا ہے يا اُس سے بالکل مختلف ہے؟چنانچہ اس مسئلے کيلئے اس سنجيدہ سوال کو بيان کيا جانا چاہيے نيز لازمي ہے کہ اُس کا جواب بھي اُسي طرح سنجيدگي سے ديا جائے۔ ميں آج اِس سلسلے ميں تھوڑي بہت گفتگو کروں گا اوراس بارے ميں اسلام کي نظر کو بطور خلاصہ آپ کي خدمت ميں عرض کروں گا۔

خواتين کے اپنے نقطہ مطلوب تک پہنچنے کيلئے ثقافتي اورخواتين کے حقوق کي جدوجہد کيلئے اجتماعي اورانفرادي لحاظ سے دو ہدف تصور کيے جاسکتے ہيں۔

١۔ ہدف، انساني اوراسلامي کمال تک عورت کي رسائي ہو

الف: پہلا ہدف

ايک ہدف يہ ہے کہ ہم عورت کے اُس کے کمال تک پہنچنے کيلئے خود اپنے وجود کو بروئے کار لائيں، جدوجہد کريں، موانع سے مقابلہ کريں، قلم اٹھائيں اور گفتگو کريں۔ يعني عورت معاشرے ميں اولاً اپنے انساني اور حقيقي حق کو پائے، ثانياً اُس کي استعداد و صلاحيتيں پروان چڑھيں، وہ اپنے حقيقي اور انساني رشدکو حاصل کرے، نتيجے ميں اپنے انساني کمال تک پہنچے اور معاشرے ميں ايک انسان کامل کي صورت ميں ظاہر ہو۔ايک ايسا انسان جو اپنے معاشرے اور عالم بشريت کي ترقي و بہبود کيلئے قدم اٹھائے اوراپني محدود توانائي کو بروئے کار لاتے ہوئے اپني اس دنيا کو خوبصورت جنت اور بہشت بريں ميں تبديل کردے۔

ب: دوسرا ہدف

دوسرا ہدف يہ ہے کہ ہم اپني اس گفتگو ، جدوجہد اور اس مقابلہ کرنے کي وجہ سے چاہيں کہ ان دوجنس ، مرد و عورت کے درميان جدائي ، رقابت اورنزاع کي حالت ميں پيدا کريں اور رقابت و دشمني کي بنا پر ايک نئي دنيا کي بنياد رکھيں۔ گويا اس انساني معاشرے ميں مرد ايک طرف ہيں اور خواتين ان کے مد مقابل اور يہ دونوں کسي نہ کسي مقام تک پہنچنے کيلئے آپس ميں لڑرہے ہيں اورخواتين يہ چاہتي ہيں کہ وہ يہاں مردوں پر غالب آجائيں ۔ کيا ہمارا ہدف يہ ہے؟

پس اس جدوجہد ، حرکت يا پھر اس تحريک کے ہدف کے بارے ميں دو قسم کے نظريات تصور کئے جاسکتے ہيں۔ ايک ہدف کا نظريہ اسلامي ہے جبکہ دوسرا ہدف ، ناقص نظر سے متعلق ہے۔ مغربي ممالک ميں ہونے والي اکثر کوششيں سب سے زيادہ اِسي دوسرے ہدف کا نتيجہ ہوتي ہيں۔ اپني گفتگو کے دوران ہم اِس بارے ميں مزيد وضاحت کريں گے۔ ليکن ايک سوال کاجواب ضرور واضح ہونا چاہيے کہ خواتين کے حقوق يا اُن کے مسائل کيلئے کي جانے والي کوششوں کا ہدف کيا ہے؟

٢۔ روش اور شعار کو اسلامي ہونا چاہيے

دوسرا سوال کہ جس کي اہميت بھي پہلے سوال کي مانند بہت زيادہ ہے، يہ ہے کہ جب ہم عورت کے نام سے سخن کا آغاز اور اُس کا دفاع کرتے ہيں تو کون سے نعرے اور شعار لگاتے ہيں، کس چيز کا مطالبہ کرتے ہيں اور کس ہدف تک رسائي کيلئے کوشش کرتے ہيں؟ يہ بہت اہم بات ہے يہاں پر بھي اسلامي روش يعني وہ چيز جو عورت کے بارے ميں اسلامي تعريف، احکامات اور تعليمات سے سمجھي جاسکتي ہے، اُس چيز سے بہت تفاوت رکھتي ہے کہ جوآج مغرب ميں موجود ہے۔

مغرب ميں آزادي کا غلط مفہوم

آج جو چيز مغرب ميں ايک شعارو نعرے کي حيثيت سے موجود ہے اُس ميں خواتين کي آزادي سرفہرست ہے۔ آزادي کا لفظ بہت وسيع مفہوم رکھتا ہے اور مختلف معاني کو اپنے دامن ميں سميٹے ہوئے ہے، قيد سے آزادي ، اخلاق سے آزادي کيونکہ اخلاق بھي ايک قسم کي قيد وبندہے، مرد کے سوئ استفادہ سے آزادي کہ جہاں مرد ايک عورت کو کم تنخواہ کيلئے کارخانے ميں کام کرنے پر مجبور کرتا ہے، اِ س آزادي ميں ان قوانين سے آزادي بھي شامل ہے کہ جو ايک بيوي کو شوہر کے مقابلے ميں پابند بناتے ہيں غرضيکہ آزادي ميں يہ تمام معاني شامل ہيں۔ خواتين سے متعلق اِن شعار ميں بہت سے ايسے مطالب اور مطالبات بھي شامل ہيں جو مکمل طور پر ايک دوسرے سے تضاد رکھتي ہيں۔ بالآخر آزادي کا معني کيا ہے؟

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغرب ميں اس آزادي سے جومعني سمجھا گيا ہے وہ غلط اور نقصان دہ ہے يعني يہي خاندان ( کي ظاہري) قيد وبند(۱) سے آزادي ، مرد کے مطلق نفوذ سے آزادي حتيٰ شادي ، خاندان کي تشکيل اور اوراولاد کي تربيت کي قيد سے آزادي۔ جہاں بھي يہ امور شہوت راني و جنسي خواہشات کي آزادنہ تکميل کے مقابلے ميں سامنے آتے ہيں تو اپني شہوت پرستي کو آزادي کا نام دے ديا جاتا ہے نہ کہ آزادي کا صحيح معني ان کے پيش نظر ہو۔ لہٰذا آپ ملاحظہ کيجئے کہ مغرب ميں کي جانے والي آزادي کي گفتگو ميں اسقاط حمل کي آزادي بھي شامل ہے۔ يہ بہت ہي اہم نکتہ ہے جو ظاہر ميں بہت ہي سادہ ليکن در حقيقت بہت ہي خطرناک اور بہت زيادہ قابل ِ اہميت ہے۔ اسقاط حمل کي آزادي کا نعرہ و مطالبہ آج مغرب ميں بہت عام ہے لہٰذا اس مسئلے کو آزادي نسواں کي تحريک کے زمرے ميں بيان کيا جاتا ہے۔

ايک صحيح نظام، ايک (غلط چيزسے) صحيح مقابلے اور ايک صحيح مطالبے ميں يہ غير ممکن ہے کہ اُس کا ہدف اتنا وسيع ہو اور اُس کا ايک حصہ قطعي طور پر اتنا مضر ہو اگرچہ ممکن ہے کہ کچھ اور حصے مفيد ہوں لہٰذا اس سے بہتر مناسب ، تر اورصحيح شعار کي تلاش ميں نکلنا چاہيے۔

ميري گفتگو کا اصلي محور آپ محترم خواتين مخصوصاً جوان لڑکياں ہيں کہ آپ اس دنيا ميں لمبي زندگي گزاريں گي لہٰذا آپ کو چاہيے کہ اس دنيا ميں خداوند عالم نے انساني کمال کيلئے جو امکانات رکھے ہيں اُن سے صحيح استفادہ کريں، اُن کي صحيح شناخت حاصل کريں اور ان کے صحيح راستے سے آشنا ہوں۔ اِس کيلئے آپ کو فکر کرنے کي ضرورت ہے۔ اگر آپ کيلئے خواتين سے ظلم کے خاتمے کا مسئلہ بيان کيا جائے گا تو آپ کو جاننا چاہيے کہ جو کچھ بيان کيا جارہا ہے وہ کيا ہے اور جو چيز آپ کيلئے لازمي ہے وہ کيا ہے؟اور جو آپ کيلئے نقصان دہ ہے وہ کيا امور ہيں؟ لہٰذايہ نکتہ آپ کيلئے بہت اہميت کا حامل ہے۔

٣۔ جدوجہد ، تقليدي اور کسي سے متاثر نہ ہو

ہر اجتماعي تحريک اُس وقت صحيح کہلائے جانے کي مستحق ہے اور اُس وقت صحيح نتائج کو حاصل کرے گي کہ جب وہ عقل وخرد، غوروفکر، تشخص کي قوت،مصلحت شناسي اور عقل و منطقي اصولوں پر قائم ہو۔

حقوق زن کے اثبات ونفاذ کيلئے چلائي جانے والي ہر تحريک ميں انہي مطالب کو مدنظر رکھنا چاہيے، يعني ہر قسم کي تحريک کو عاقلانہ بنيادوں اور عالم ہستي کے حقائق کے مطابق يعني مرد و عورت کي جداگانہ طبيعت و مزاج اور فطرت سے آشنائي،مرد اورخواتين کي اپني اپني خاص ذمہ داريوں اور مشاغل کي پہچان اور ہر اُس چيز کي شناخت کے ہمراہ ہو جو اُن کے درميان مشترک ہوسکتي ہے، انجام پانا چاہيے اور يہ کوشش اور جدوجہد کسي سے متاثر ا ورتقليدي نہ ہو۔ اگرکوئي تحريک کسي دوسري تحريک سے متاثر ہو اوراندھي تقليد پر اُس کي بنياد رکھي جائے تو وہ نقصان دہ ثابت ہوگي۔

اگر کچھ لوگ ہمارے ملک و معاشرے ميں خواتين اور ان کے حقوق کي اس لئے بات کريں کہ مغربي مجلات يا مغرب کے سياسي افراد کي رپورٹ ميں ايران پر اِس بات کا الزام لگايا جاتا ہے کہ ايران حقوق نسواں کا خيال نہيں رکھتا ہے ، تو اس مقصد کے ساتھ کام کرنا سراسر غلطي ہے۔ اس ہدف کے ساتھ اس ميدان ميں قدم نہيں رکھنا چاہيے کيونکہ يہ راستہ انحراف وغلطي پر ہي ختم ہوگا۔ اگرہم اس ہدف کے ساتھ خواتين کے دفاع کے ميدان ميں قدم رکھيں کہ ہم کہيں مغرب سے پيچھے نہ رہ جائيں تو يہ غلطي ہے يا اگر اس قصد سے وارد ميدان ہوں کہ وہ ہم پر بري اور منفي نظر نہ ڈاليں يا اس تصور وخيال سے حقو ق نسواں کيلئے اقدامات کريں کہ مغرب و يورپ نے اس سلسلے ميں بالکل صحيح راستے کا انتخاب کيا ہے تو يہ بھي ہماري بہت بڑي غلطي ہے۔ ان تمام اہداف اور نيت کے ساتھ ميدان عمل ميں قدم رکھنا سراسر غلطي ہے۔

افسوسناک بات يہ ہے کہ آج ہم کچھ ايسے مقالات کا مشاہدہ کررہے ہيں جو خواتين کے دفاع ميں تحرير کيے جاتے ہيں اور خواتين کے حقوق کے اثبات کيلئے مختلف قسم کي سخن و گفتگو زبا ن پر جاري ہوتي ہيں ليکن يہ سب (مغربي ثقافت ومعاشرے ميں خواتين کيلئے کي جانے والي فعاليت کا) ردّ عمل ہے اور اُن سے مرعوب و متاثر بھي ہے۔ ان سب کي وجہ يہ ہے کہ چونکہ اہل مغرب فلاں بات کہتے ہيں، اہل يورپ نے اس طرح لکھا ہے اور ہماري طرف فلاں بات کي اس طرح نسبت دي ہے (تو ہم ان کي بات کے مقابلے ميں اس طرح لکھيں گے يا تحرير کريں گے)۔ اگر ہم حقوق نسواں کے بارے ميں اپنے دفاع کيلئے ايسي کوئي بات کريں يا کوئي قدم اٹھائيں تو يہ ہمارا اقدام مکمل طور پر ہميں ہمارے صحيح ہدف سے منحرف کردے گا۔ ہميں تو يہ ديکھنا چاہيے کہ عالم ہستي ميں جو حقائق ہيں وہ کيا ہيں؟ کيونکہ يہ حقائق سب سے زيادہ اسلامي تعليمات ميں موجود ہيں۔

٤۔ جدوجہد کو اسلامي آئيڈيل کے مطابق ہونا چاہيے

اسلام، انساني کمال اورارتقا کا طرفدار ہے اور اس بارے ميں اسلام مرد وعورت کے درميان کسي قسم کے فرق کا قائل نہيں ہے۔ اسلام کي نظر ميں مرد يا عورت ہو نا اہم نہيں بلکہ ان کا روحاني ارتقا اورکمال اُس کے پيش نظر ہے۔ ايک جگہ مرد کے متعلق بات کي جاتي ہے تو دوسري جگہ خواتين کے بارے ميں ، ايک جگہ خواتين کي عظمت و بزرگي کو بيان کيا جاتا ہے تو دوسرے مقام پر مرد کوسراہا جاتا ہے چونکہ دونوں پيکر بشريت کے حصے ہيں اور وجود بشري کي تکميل دونوں کے وجود سے ہے۔ يہ دونوں موجود اپنے بشري اور خدائي جہت کے لحاظ سے آپس ميں کوئي فرق نہيں رکھتے۔ يہي وجہ ہے کہ جب خداوند عالم اچھے يا برے انسانوں کيلئے مثال بيان کرنا چاہتا ہے تو عورت کي مثال پيش کرتاہے۔ ’’ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ کَفَرُوا امرَآَتَ نُوحٍ وَّ امرَآَتَ لُوطٍ ‘‘ اور جب اہل ايمان کيلئے مثال بيان کرتا ہے تو ’’امرَآَتَ فِرعَونَ ‘‘ کو پيش کرتا ہے ۔ دونوں جگہ خداوند عالم نے ا چھي اور بري راہوں کي مثال ميں عورت کو ذکر کيا ہے۔

مرد وعورت ہونا اہم نہيں بلکہ وظيفے کي ادائيگي اہم ہے

اسلام کيلئے مرد يا عورت ہونا اہم نہيں ہے (بلکہ اصل چيز ذمے داري اور وظيفے کي ادائيگي ہے)۔ اسلام کے نزديک اہم چيز بشري ارتقا ، اخلاق اوراستعداد وصلاحيت کا پروان چڑھنا ہے او وہ وظائف اور ذمے دارياں ہيں جو ان دونوں جنس سے مربوط ہيں، اسلام کے نزديک يہ امور اہميت رکھتے ہيں اور اِس کيلئے دونوں کي طبيعت و مزاج اورفطرت کے تقاضوں کو سمجھنے کي اشدضرورت ہے۔ يہ اسلام ہي ہے جو مرد و عورت کي طبيعت ومزاج سے اچھي طرح واقف ہے۔ جو چيز اسلام کے پيش نظر ہے وہ توازن اورعدالت ہے يعني تمام انسانوں سميت مرد وعورت کے درميان عدالت کي رعايت کرنا۔ اسلام مردو عورت کے درميان حقوق کي برابري کو بيان کرتا ہے ليکن بعض مقامات پر ممکن ہے کہ مردوں کے احکامات ، خواتين سے فرق رکھتے ہوں جيسا کہ مرد وعورت کي طبيعت ومزاج، بعض عادات وخصوصيات ميں ايک دوسرے سے مختلف ہيں۔ بنابرايں ، مرد و عورت کے مابين سب سے زيادہ حقائق اور فطري مسلمات اورخاص بشري عادات و خصوصيات سے متعلق احکامات صرف اسلامي تعليمات ميں ہي موجود ہيں۔

حقوق نسواں کے دفاع کي لازمي شرائط

اگر ہم آج ملک کي خواتين کے بارے ميں ايک حقيقي تحريک شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں تاکہ خواتين اپنے مطلوب مقام تک پہنچ سکيں تو ہميں چاہيے کہ اسلامي احکامات کو ہرصورت ميں مدنظر رکھيں اور انہي کو اپنا مرکز و محور قرار ديں۔ ہماري روش اورطريقہ عمل کو اسلامي احکامات ہي معين کرتے ہيں۔ اسلام ہر اُس روش اور طريقہ کار کو پسنديدگي کي نگاہ سے ديکھتا اور قبول کرتا ہے جو عقل و خرد کے اصولوں کے عين مطابق ہو۔ اگر کسي جگہ سے کوئي تجربہ ملے تو وہ اسلام کو قبول ہے ليکن اندھي تقليد کسي بھي صورت ميں اسلام کو قبول نہيں ہے، يعني دوسروں کے تجربات اور عاقلانہ اور خردمندانہ اطوار و روش درست ہے ليکن اندھي تقليد منع ہے۔ لہٰذا آج جو افراد ہمارے ملک ميں حقوق نسواں اور خواتين کے رشد اور اُن کي استعداد و صلاحيتوں کو پروان چڑھانے کي جدوجہد ميں مصروف ہيں انہيں چاہيے کہ وہ يہ ديکھيں کہ وہ کس ہدف کے حصول کيلئے سر گرم عمل ہيں اور انہيں اس ہدف تک رسائي کيلئے کن شعاروں ،نعروں اورمنصوبوں کو بيان کرنا چاہيے۔

ہدف و مقصد صرف اسلامي ہو

جي ہاں! اسلامي معاشرے اور ہمارے سماج ميں خواتين کے حقوق کے اثبات ونفاذ کيلئے حتماً کوششيں کي جاني چاہئيں ليکن اسلامي افکار وتعليمات کے ساتھ اور اسلامي ہدف کے حصول کي خاطر۔ کچھ افراد يہ نہ کہيں کہ يہ کون سي (اسلامي) تحريک اور جدوجہد ہے،کيا ہمارے سماج ميں عورت کو کسي چيز کي کوئي کمي ہے؟ اگر بعض افراد ايسي فکر کے حامل ہوں تو يہ قابل افسوس بات ہے اور يہ صرف ظاہري صورت حال کو مدنظر رکھنے کے مترادف ہے۔ عورت ہمارے معاشرے سميت دنيا کے تمام معاشروں ميں ظلم و ستم کا نشانہ بني ہے اور وہ ہميشہ اپنے حقوق کے لحاظ سے کمي کا شکار رہي ہے اور يہ سب اُس پر تھونپي جانے والي چيزوں کا نتيجہ ہے۔ ليکن اُس کے حقوق کي ادائيگي ميں يہ کمي و کوتاہي بے بند وباري اورہر قسم کي قيد وشرط سے آزادي کي طرف سے ہونے والي کمي و کوتاہي نہيں ہے بلکہ يہ مختلف شعبہ ہائے زندگي اور علم و معرفت ، تربيت و اخلاق اور صلاحيتوں کو پروان چڑھانے کيلئے وقت و لمحات سے صحيح استفادہ نہ کرنے کي کمي اور کوتاہي ہے ۔ لہٰذا اِس کمي اور کوتاہي کو برطرف کرنے اور اس کا ازالہ کرنے کيلئے کوشش کرني چاہيے اور يہ وہي چيز ہے کہ جس پر اسلام بہت زيادہ تاکيد کرتا ہے۔

اگر اسلامي معاشرہ، خواتين کي اسلامي آئيڈيل شخصيات يعني حضرت زہر علیھا السلام ، حضرت زينب علیھا السلام اور باعظمت خواتين جو دنيا اور تاريخ کو متاثر کرسکيں ،کے زير سايہ تربيت کرسکے تو اس وقت عورت اپنے حقيقي بلند مقام کو حاصل کرلے گي۔ اگر عورت معاشرے ميں علم و معرفت ،معنوي کمالات اور اخلاق کے عالي ترين درجات کو حاصل کرے جو خداوند عالم نے تمام انسانوں کيلئے خواہ وہ مرد ہوں يا عورت، ايک آئين کي صورت ميں مدنظر رکھا ہے تو نتيجے ميں اولاد کي بہترين تربيت ہوگي، گھر کا ماحول پہلے کي نسبت زيادہ محبّت و چاہت والا ہوگا، انساني معاشرے کيلئے پہلے کي نسبت ترقي کي راہيں زيادہ کھليں گي اور زندگي کي مشکلات زيادہ آساني سے حل ہوجائيں گي يعني مرد و عورت دونوں خوشبختي سے ہمکنار ہوں گے۔ ان اہداف کے حصول کيلئے کوشش کرني چاہيے کيونکہ ہدف يہي ہے۔ اس تمام تحريک و فعاليت کا مقصد صنف نازک کے مقابلے ميں صف آرائي اور مرد و عورت کے درميان عداوت و رقابت ايجاد کرنا نہيں ہے بلکہ ہدف يہ ہے کہ خواتين و لڑکياں وہي کام انجام ديںسکيں کہ جس کے مطابق مردوں نے جب بھي قدم اٹھايا وہ عظيم انسان بنے تو خواتين بھي اسي راہ کے ذريعے عظيم انسان بن سکيں۔ يہ عين ممکن ہے اور اسلام ميں يہ بات تجربہ شدہ ہے۔

آمنہ بنت الہديٰ ، ايک جليل القدرخاتون!

ميري بہنو!ميري بيٹيو اور اسلامي ملک کي خواتين ! آپ جان ليجئے کہ ہر زمانے ، ہر ماحول اور ہر گھرانے ميں عورت نے اس طرح کي تربيت کے ساتھ رشد کيا ہے اور اپني عظمت کو پايا ہے ۔ يہ بات صدراسلام کي خواتين ہي سے مخصوص نہيں تھي بلکہ کفر اور ظلم و تشدد کے سياہ ترين دور ميں بھي يہ سب ممکن ہے ۔ اگر ايک گھرانے نے اپني بيٹي کي اچھي طرح تربيت کي ہے تو يہ بيٹي ايک عظيم انسان بني ہے۔ اس کي زندہ مثاليں ايران، ايران سے باہر اور خود ہمارے زمانے ميں موجود تھيں۔ ہمارے اسي زمانے ميں (اسلامي انقلاب کي کاميابي سے قبل) ايک جوان، شجاع ،عالمہ ، مفکر اور ہنرمند خاتون ’’بنت الہديٰ‘‘ (آيت اللہ سيد محمد باقر شہيد کي خواہر) نے پوري تاريخ کو ہلا کر رکھ ديا، وہ مظلوم عراق ميں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے ميں کامياب ہوئيں اور درجہ شہادت کو حاصل کيا۔ بنت الہديٰ جيسي خاتون کي عظمت و شجاعت ، عظيم مردوں ميں سے کسي ايک سے بھي کم نہيں ہے۔ اُن کي فعاليت ايک زنانہ فعاليت تھي اور ان کے برادر کي جدوجہد و فعاليت ايک مردانہ کوشش تھي ليکن دونوں کي جدوجہد و فعاليت دراصل کمال کے حصول اوران دونوں انسانوں کي ذات اور شخصيت کے جوہر و عظمت کي عکاسي کرتي تھي۔ اس قسم کي خواتين کي تربيت و پرورش کرني چاہيے۔

خود ہمارے معاشرے ميں بھي ان جيسي خواتين کي تعداد بہت زيادہ ہے۔ شاہي ظلم کے زمانے ميں کم و بيش ايسي مثا ليں ہمارے پاس موجود ہيں۔ شاہي حکومت سے مقابلے اور اسلامي نظام کے قيام کے زمانے ميں بہت سي عظيم خواتين تھيں۔ ان عظيم القدر خواتين نے اپنے دامن ميں شہدا کي پرورش کي ، انہوں نے اپنے شوہروں يا فرزندوں کو فداکار انسانوں کي صورت ميں معاشرے کو تحويل ديا تاکہ وہ اپنے وطن و انقلاب اور اپني قوم اور اُس کي عزت وآبرو کا دفاع کرسکيں۔ يہ سب ان عظيم خواتين کا صلہ ہے اور يہ خواتين بڑے اور عظيم کاموں کو انجام دينے ميں کامياب ہوئي ہيں کہ جن کي ايک کثير تعداد سے ميں خود آشنا ہوں۔

حقوق نسواں کي طرف مغرب کے مجددانہ رجوع کي وجہ

آج ان لوگوں کي کثير تعداد جو سينے پر حقوق نسواں کا تمغہ لگائے پھرتے ہيں دراصل وہ مغرب کي دي ہوئي آزادي اورہر قسم کي قيد و شرط سے آزاد زندگي کا تمغہ لگائے ہوئے ہيںوہ درحقيقت اہل مغرب کي تقليد کررہے ہيں۔ يہي افراد ہيں جو کبھي قلم اٹھا کر کچھ لکھ ديتے ہيں۔ انقلاب کي کاميابي کے اٹھارہ سال(۲) بعدخواتين کي ظاہر ہونے والي عظمت و بزرگي ميں ان افراد کا کوئي کردار اور حصہ نہيں ہے۔ ان افر اد کي کثير تعداد صرف اپني جيب کي فکر، درآمد کے حصول،اپنے راحت و آسائش اوراپني زينت و آرائش کے وسائل کي جمع آوري ميں مصروف تھي۔ ان افراد کو کوئي فضيلت وبزرگي حاصل نہيں ہے اور ان کا استعمال شدہ (مغربي) نسخہ غلط تھا۔ اگر خواتين کے بارے ميں مغربي نسخہ صحيح ہوتا تو مغرب مجبور نہ ہوتا کہ ستر، اسي ، سو سال بعد ايک دفعہ پھر حقوق زن کي تحريک کو از سر نو شروع کرے کہ ابھي کچھ سالوں اورکچھ دہائيوں قبل انہوں نے يہ تحريک شروع کي ہے۔

ابھي دس ،بيس سال ہي ہوئے ہيں کہ انہوں نے خواتين کے حقوق اور اُن کي آزادي کے عنوان سے کچھ اور تحريکيں دوبارہ شروع کي ہيں۔سوال يہ ہے کہ آخر کيوں؟ اگر مغرب کي دي ہوئي آزادي،کامياب اور مکمل آزادي ہوتي اوراگرخواتين کے حقوق کا دفاع، ايک سچا اور حقيقي دفاع ہوتا تو پھر اس کي کيا ضرورت تھي کہ سو سال بعدکچھ افراد آئيں اورتحريک دوبارہ شروع کريں اور شور وغوغا برپا کريں۔ پس معلوم ہوا کہ اُن کا وہ نسخہ بھي غلط تھا اور يہ نسخہ بھي غلط ہے اور اس کا نتيجہ سوائے مرد و عورت بالخصوص عورت کيلئے بدبختي اور مشکلات کھڑي کرنے کے علاوہ کسي اور صورت ميں سامنے نہيں آئے گا۔

____________________

١ مغربي خانداني نظام زندگي ميں جہاں مياں بيوي اپني جنسي اور ديگر خواہشات کي تکميل کيلئے ايک دوسرے پر اکتفا نہيں کرتے تو ايک مياں يا بيوي پر اکتفا کرنا يا ديگر خانداني قوانين کي پابندي کرنا خود اہل مغرب کيلئے ايک قسم کي قيدوبند ہے کہ جس سے چھٹکارے کانام وہاں آزادي رکھا گيا ہے۔ (مترجم)

۲ يہ خطاب ١٩٩٧ کا ہے۔


دوسري فصل

اسلامي روش اور احکامات

خواتين کے حقوق کے بارے ميں اسلامي روش

مذکورہ بالا روش اسلامي روش نہيں ہے۔ خواتين کے حقوق کے دفاع کيلئے اسلام کا ہدف يہ ہے کہ عورت ، ظلم و ستم کا شکار نہ ہو اور مرد خود کو عورت کا حاکم نہ سمجھے کيونکہ گھر و گھرانے ميں اسلام نے مرد وعورت دونوں کيلئے حدود وحقوق کو معين و مشخص کيا ہے۔ مرد کے اپنے حقوق ہيں اور عورت کے اپنے حقوق، اور ان تمام حقوق و حدود کو ايک سخت عادلانہ مگر متوازن نظام کے زير نظر ترتيب ديا گيا ہے۔ وہ چيزيں جو اسلام کے نام سے مشہور ہوگئي ہيں اور غلط ہيں ہم نہ اُ ن کو بيان کرتے ہيں اور نا ہي اُن کا دفاع کرتے ہيں۔ ليکن جو چيز اسلام سے تعلق رکھتي ہے وہ اسلام کے بيّن ، واضح اور مسلّم اصول ہيں اوريہ وہ امور ہيں جو گھر کے ماحول ميں مرد و عورت دونوں کيلئے حقوق ميں توازن کے قائل ہيں۔

شوہر اور بيوي کا آرام و سکون بخش وجود

آپ اس آيہ مبارکہ کي طرف توجہ فرمائيے کہ جو مرد و عورت خصوصاً گھر کے ماحول ميں ايک اہم امر کي طرف اشارہ کررہي ہے۔ ’’ومِن آيَاتِهِ اَن خَلَقَ لَکُم مِن اَنفُسِکُم اَزوَاجاً ‘‘(۱) ۔خداوند عالم کي نشانيوں ميں سے ايک نشاني يہ ہے کہ اُس نے تم انسانوں کيلئے خود تم ميں اور تمہاري جنس (انسان) سے ہي تمہارے جوڑے (ہمسر) بنائے ہيں۔ آپ مردوں کيلئے خواتين اور آپ خواتين کيلئے مردوں کو خلق کيا ہے۔ يہ آپ ہي سے ہيں، ’’مِن اَنفُسِکُم‘‘ کسي اور جنس سے نہيں ہیں،کوئي الگ انساني وجود نہيں ہے بلک ايک ہي حقيقت اور ايک ہي جوہر اور ايک ہي ذات ہے(جو انسان ہونے سے عبارت ہے)۔ البتہ يہ بات مشخص ہے کہ يہ دونوں اپني بعض صفات و خصوصيات ميں ايک دوسرے سے مختلف ہيںچونکہ ان کے وظائف اور ذمے دارياں مختلف ہيں۔ اِس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’’لِتَسکُنُوا اِلَيهَا ‘‘(۲) ( تاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرو) ۔ طبيعت بشري ميں زوجيت (جوڑے کا بننا) اور دو جنس (مرد وعورت) ہونا ايک بہت بڑا ہدف ہے اور وہ ہدف، آرام وسکون سے عبارت ہے تاکہ آپ انسان اپني جنس مخالف سے اپنے گھر ميں ، شوہر ، بيوي سے اور بيوي، شوہر کے ساتھ زندگي بسر کرنے ميں آرام و سکون پائے۔ مرد کيلئے گھر ميں آنا ، گھر کے پرسکون ماحول ميں سانس لينا، مہربان،دوست اورامين بيوي کے ساتھ زندگي بسر کرنا آرام و سکون کا وسيلہ ہے۔ اِسي طرح بيوي کيلئے بھي شوہر کا وجود ايک ايسي مضبوط پناہ گاہ ہے کہ جس سے وہ محبت کرتي ہے اور اس کا شوہر اس کي خوشبختي اور سعادت کا باعث بنتا ہے۔ يہ تمام چيزيں گھر ہي دونوں کيلئے فراہم کرتا ہے۔ مرد کو آرام و سکون حاصل کرنے کيلئے گھر کے پر فضا ماحول ميں بيوي جيسے ايک انيس و محبوب کي ضرورت ہوتي ہے اور عورت بھي اپنے راحت و آرام کيلئے گھر کي چار ديواري ميں ايک مضبوط و مستحکم شوہر کي محتاج ہے۔ ’’لِتَسکُنُوا اِلَيهَا ‘‘ ۔ دونوں کو سکون و آرام کيلئے ايک دوسرے کے ضرورت مند اور محتاج ہيں۔

سب سے اہم ترين چيز کہ بشر جس کامحتاج ہے، وہ آرام و سکون ہے۔ ايک انسان کي (دنياوي) سعادت يہ ہے کہ وہ روحي طور پر تلاطم و اضطراب سے امان ميں ہو اور اس کي روح مکمل سکون ميں ہو اور يہ روحاني آرام وسکون ايک گھرانہ ہي انسان کو خواہ مرد ہو يا عورت ہو، عطا کرتاہے۔ اس آيت کا اگلا جملہ بہت دلچسپ اورخوبصورت ہے کہ جہاں ارشاد رب العزت ہوتا ہے کہ ’’وَجَعَلَ بَينَکُم مَوَدَّةً وَّرَحمَةً ‘‘۔ ( اس نے تمہارے درميان مودت و رحمت کو قرار ديا ہے)۔ مياں بيوي کے درميان صحيح رابطہ، مودت و رحمت اور دوستي و مہرباني کا رابطہ ہے ،تاکہ وہ ايک دوسرے کے قريبي اور سچے دوست بنيں، ايک دوسرے پر مہربان ہوں اور ايک دوسرے سے عشق کرنے والے ہوں ۔ عشق کرنا،غصے، برہمي اور تند و تيز لب و لہجے کے ساتھ قابل قبول نہيں ہے اِسي طرح محبت کے بغير مہرباني بھي قبول نہيں ۔

عورت پر ہونے والے ظلم کي مختلف شکليں

ايک گھرانے کي فضا ميں شوہر اوربيوي کو عطا کي گئي خدائي فطرت اورطبيعت ومزاج يہ ہے کہ وہ دو جيون ساتھيوں کے درميان عشق محبت اورمہرباني کا رابطہ برقرارکرے۔ يہ ہے ’’موَدَّةً رَحمَةً ‘‘ کا معني۔ اگر پيار و محبت اور تعاون کا يہ رابطہ بدل جائے اور مرد گھر ميں صرف اپني مالکيت کا حق جتانے لگے اور بيوي کو ايک کام کرنے والے موجود اوربيوي اور اُس کي استعدادوتوانائي کو اپنے ليے قابل استفاہ بنانے کي حيثيت سے ديکھنے لگے تو يہ ظلم ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت زيادلوگ يہ ظلم کرتے ہيں۔ گھرسے باہر کي فضا و ماحول ميں بھي ايسا ہي ہے۔ اگر عورت تحصيل علم يا کام اورکسبِ معاش اوراپنے استراحت وآرام کيلئے امن وآمان کا ماحول نہ پائے تو يہ بھي اُس پر ظلم وستم ہے۔ جو بھي اس ظلم کو انجام دے تواُسے اسلامي قانون اوراسلامي تعليمات کے مقابلہ اورمواخذہ کا سامنا کرناہوگا۔

اگر عورت کوتحصيل علم اورمعرفت حاصل کرنے کا موقع نہ ديا جائے تو اُس پر ظلم ہے يا اگر زندگي ميں خواہ ميکا ہو يا سسرال ، حالات اس طرح کے ہوں کہ وہ زيادہ کام کاج اور مختلف گھريلو ذمے داريوں کي وجہ سے اپنے اخلاق ، دين اور معرفت کي صحيح اصلاح نہ کرسکے تو يہ اموربھي ظلم ميں شامل ہيں۔ اسي طرح عورت کااپنے ہي مال و دولت کو(خواہ اُسے کہيں سے بطور تحفہ ملے يا ميراث وتنخواہ سے اُس کے پاس آئے) اپنے ارادے اوراختيار سے استعمال نہ کرنابھي ظلم ہي کے زمرے ميں آتا ہے۔ شادي اورجيون ساتھي کے انتخاب کے موقع پر اگرکوئي مرد شوہر کے عنوان سے اُس کے سر پرتھونپ دياجائے يعني وہ اپنے شوپر کے انتخاب ميں شامل نہ ہو اور اس کا رشتہ اُس کے اپنے ارادے، ميل اور پسند کے مطابق نہ ہو تويہ بھي عورت پر ظلم ہي تصور کيا جائے گا۔ اگر اپني اولاد کي تربيت کيلئے خواہ وہ اپنے شوہر کے گھر ميں سکونت پذير يا ہو اپنے شوہر سے جدائي ( اور طلاق) کے بعد الگ رہ رہي ہو،اپنے فرزند کواپني ممتا کي ٹھنڈي چھاوں فراہم نہ کرسکے اور نہ ہي اپنے جگر گوشے کے معصوم وجود سے استفادہ کرسکے تو يہ بھي ظلم ہي کي ايک شکل ہے ۔ اگر عورت علمي ميدان ميں پيشرفت،اختراع اورتحقيق وريسرچ اورسياسي و اجتماعي فعاليت کي استعدادوصلاحيت کي مالک ہے ليکن اسے ان صلاحيتوں سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم نہ کياجائے اوراُس کي يہ صلاحيتيں پروان نہ چڑھيں تو يہ بھي ظلم ميں شامل ہے۔

ممکن ہے ايک معاشرے ميں انواع واقسام کے ظلم موجود ہوں چنانچہ ان سب ظلم و ستم کو عورت سے ختم کرنا چاہيے۔ ليکن اس کے ساتھ ساتھ مرد و عورت دونوں کي ذمے داريوں اوروظائف کو کہ يہ دونوں خاندان کي تشکيل ميں ايک دوسرے کي نسبت وظائف رکھتے ہيں ، اہميت کي نگاہ سے ديکھنا چاہيے کيونکہ مرد و عورت دونوں کي سعادت اسي ميں ہي ہے۔ بعض افراد يہ خيال کرتے ہيں کہ مردوں کي بہ نسبت عورتوں کي مجموعي فعاليت ميں کمي کامطلب يہ ہے کہ وہ بڑے اور پرجنجال قسم کے مشاغل اورکام نہيں رکھتي ہیں۔ نہيں جناب ! عورت کي مشکل يہ نہيں ہے ۔ حتيٰ وہ عورت کہ جو بڑے مشاغل اورکام وغيرہ ميں مصروف ہے وہي عورت، گھر کے پرسکون ماحول،ايک مہربان، محبت کرنے والے ، ايک مطمئن اورہمدردتکيے گاہ کي شکل ميں اپنے شوہر کي محتاج ہے ۔ خواتين کي روحي اور احساساتي ضرورت اور اُن کي طبيعت و مزاج يہ ہے اور اُن کي اِس ضرورت کو پوراکرنا چاہيے۔

مشاغل اورملازمت کامسئلہ بالکل جدا ہے ليکن يہ عورت کا پہلے درجے کا مسئلہ نہيں ہے۔ اگرچہ کہ اسلام خواتين کے مشاغل اورديگر وظائف اورفعاليت کي راہ ميں مانع نہيں ہے مگر چند استثنائي مقامات پر کہ جن ميں سے بعض پر فقہا متفق القول ہيں اور بعض کے بارے ميں اُن کے درميان علمي اختلاف موجود ہے کہ ان تمام مسائل کے بارے ميں تحقيق کي اشدضرورت ہے۔ ليکن عورت کااصلي مسئلہ يہ نہيں ہے کہ وہ کوئي ملازمت ياکام کرتي ہے يا نہيں بلکہ اُس کے اصلي اوربنيادي مسائل يہ ہيں جنہيں آج مغرب ميں يکسر فراموش کرديا گيا ہے، جو مغرب ميں دم توڑ گئے ہيں اوروہ اُس کے آرام وسکون ،امن و امان کے احساس ، اُس کي صلاحيتوں کے پروان چڑھنے کے امکانات کي فراہمي ، اپنے باپ او رشوہر کے گھر سميت معاشرے ميں اس پر ظلم نہ ہونے وغيرہ جيسے اہم ترين مسائل ہيں لہٰذا جو افراد خواتين کے سلسلے ميں کام کررہے ہيں انہيںچاہيے کہ ان تمام مسائل کے حل کيلئے بھي اقدامات کريں۔

____________________

١ سورئہ روم/٢١

۲ حوالہ سابق


تيسري فصل

حقوق نسواں کے دفاع کيلئے بنيادي نکات

چند اساسي نکات کو اپني توجہ کا مرکز بنايئے کہ جنہيں ميں آپ کي خدمت ميں عرض کر رہا ہوں۔

١۔معنوي اوراخلاقي امور کي طرف توجہ

پہلا نکتہ:

سب سے پہلي بات تو يہ کہ معنوي اوراخلاقي لحاظ سے خواتين کے فکري ارتقا اوررشد کا نکتہ خود خواتين کے درميان توجہ کا مرکز قرارپائے اور خود خواتين سب سے زيادہ اس مسئلے کے بارے ميں غوروفکر کريں۔ انہيں چاہيے کہ اسلامي معارف، تعليمات ، مطالعہ اورزندگي کے بنيادي مسائل کي طرف توجہ ديں۔ مغرب کي غلط تربيت اس بات کا باعث بني ہے کہ اس ملک ميں طاغوتي حکومت کے زمانے ميں خواتين کو بيہودہ قسم کي عياشي، عيش پرستي، خودنمائي اور ہر قسم کي قيد و شرط سے آزاد زينت و آرائش اوراپنے وجود اورجسم کو ہر ذريعے سے نامحرم مردوں کيلئے قابل توجہ بنانے کا موقع ملا کہ يہ سب معاشر ے پر مردانہ حاکميت کي نشانياں ہيں۔ مغرب ميں مردانہ حاکميت کي ايک نشاني يہ بھي ہے کہ عورت کو صرف مرد کيلئے استعمال کيا جاتاہے، اسي ليے کہتے ہيں کہ عورت زينت و آرائش کرے تاکہ مرد اُس کے وجود ميں لذت حاصل کرے ! يہ مردانہ حاکميت کي واضح دليل ہے۔ يہ عورت کي آزادي نہيں درحقيقت مرد کي آزادي ہے ۔ يہ لوگ چاہتے ہيں کہ مرد آزاد رہے خواہ وہ آنکھوں کے ذريعے سے ہي لذت حاصل کيوں نہ کرے۔يہي وجہ ہے کہ عورت کو مرد کے سامنے بے پردگي ، بے حجابي، زينت و آرائش اورہر و سيلے کے ذريعے اپنے وجود و بدن کو نماياں اورقابل توجہ بنانے کيلئے شوق ورغبت دلاتے ہيں ۔ البتہ مرد کي يہ خود خواہي صرف مذہبي معاشروں ہي سے مخصوص نہيں ہے بلکہ قديم ايام ميں بہت سے مرد اس خود خواہي ميں مبتلا تھے اور آج بھي ہيں جبکہ مغربي افراد اس (غير انساني اور) جاہلانہ فکر کا اعلي ترين مظہر ہيں۔ لہٰذا عورت کے علم ومعرفت و آگاہي وشعور، کسب معلومات واسلامي تعليمات کے حصول کيلئے اقدام کرنے کا مسئلہ خود خواتين کے درميان نہايت سنجيدگي کے ساتھ زير غور آنا چاہيے اورلازمي ہے کہ اُسے اہميت دي جائے۔

دوسرا نکتہ:

دوسري بات يہ کہ کچھ قوانين کي اصلاح کي ضرورت ہے ۔ مرد يا عورت سے سلوک و برتاو اورمعاملے کے بعض قوا نين کي اصلاح کي جاني چاہيے ۔ لہٰذا اس شعبے کے ماہرين کو چاہيے کہ مطالعہ کريں، تحقيق کريں اور قوانين کي اصلاح کريں۔

٢۔ حقوق نسواں کے بارے ميں اسلام کي نظر پر توجہ

ايک اور مسئلہ جو اہم ترين امورسے تعلق رکھتا ہے ،يہ ہے کہ مرد وخواتين کے حقوق کے بارے ميں اسلام کي نظر کي مکمل وضاحت ہوني چاہيے۔خودخواتين اس ميدان ميں کام کريںليکن سب سے زيادہ وہ افراد اقدامات کريں جو اسلامي تعليمات کے ماہرين ہيں تاکہ يہ لوگ ان مقامات کي کہ جہاں مرد و عورت کے حقوق ايک دوسرے سے مختلف ہيں، صحيح طورپر نشاندہي اوراُن کي وضاحت کرسکيںتاکہ نتيجے ميں ہر کوئي اِس بات کي تصديق کرے کہ يہ سب احکامات مرد وعورت کي اپني اپني خاص بشري طبيعت وفطرت کي بنياد اور معاشرے کي مصلحت کے عين مطابق ہیں۔ البتہ اس ميدان ميں بہت اچھے اقدامات بھي کيے گئے ہيں ليکن موجودہ زمانے کے تقاضوں اورفہم و ادراک کے مطابق بھي کام ہونا چاہيے ۔حالانکہ ماضي ميں بھي اچھے اقدامات کيے گئے تھے لہٰذا اگر کوئي اُن کا مطالعہ کرے اوران پر توجہ دے تو اِسي حقيقت اورتصديق تک پہنچے گا۔

٣۔انحرافي بحث وگفتگو سے اجتناب

تيسرا نکتہ يہ ہے کہ اس سلسلے ميں انحرافي بحث ومباحثے اورگفتگو سے اجتناب کرناچاہے۔ بعض افراداس فکروخيال سے کہ وہ خواتين کے دفاع کيلئے گفتگو کررہے ہيں،انحرافي بحثوں کي طرف کھنچتے چلے جاتے ہيں اور ديت (وميراث) وغيرہ کے مسائل کوبيان کرنا شروع کر ديتے ہيں حالانکہ يہ سب حقوقِ نسواں کے دفاع کے سلسلے ميں انحرافي بحثيں ہيں (اوران کا حقوق نسواں کے دفاع سے کوئي خاطرخواہ تعلق نہيں ہے اور يہ بحثيں مقصد سے قريب کرنے کے بجائے دوراورذہن کو الجھا ديتي ہيں)۔ مرد اورعورت کے بارے ميں اسلام کي نظر بہت واضح اورروشن ہے جيسا کہ بيان کيا گيا ہے کہ گھرانے اور خاندان کے بارے ميں بھي اسلام کي نظر بہت واضح ہے۔ اگر کوئي اس طرح (ديت،ميراث وغيرہ کے)ان مسائل کو (حقوق نسواں کے دفاع کے ذيل ميں ) بيان کرے تو وہ اذہان کو مقصد سے دور کرنے اور انہيں حقيقت سے منحرف کرنے کے سوا کوئي اور کام انجام نہيں دے گا اورنہ ہي يہ کام صحيح اور منطقي ہے۔ انحرافي بحث و گفتگو کو کسي بھي صورت ميں ذکر نہيں کرنا چاہيے کيونکہ ايسي بحث وگفتگو حقوق زن کے دفاع کے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کيلئے صحيح طريقہ کار کے منافي ہے۔

٤۔ قانوني دفاع

ايک اور نکتے کي طرف توجہ دينے کي اشد ضرورت ہے اور وہ تمام شعبہ ہائے حيات خصوصاً خاندان و گھرانے ميں عورت کا اخلاقي اور قانوني دفاع ہے۔ قانوني دفاع کو موجودہ رائج قوانين کي اصلاح اور اُنہيں مزيد لازمي وضروري قوانين کو وضع کرنے کے ذريعے پايہ تکميل تک پہنچايا جاسکتا ہے۔ اسي طرح عورت کے اخلاقي دفاع کے اس مسئلے کو اچھي طرح بيان کرنے کے ذريعے سے انجام ديا جائے۔ ساتھ ہي عورت کے اخلاقي دفاع کے سلسلے ميں ان افراد کي فکر سے سنجيدگي اورقدرت کے ساتھ مقابلہ کيا جائے جو ان تمام امور کو اچھي طرح سمجھنے سے قاصر ہيںاور عورت کو گھر کي ملازمہ سمجھتے ہيں، اسے مرد کے ظلم وستم کا نشانہ بناتے ہيں اورعورت کے وجود کو خودسازي اور معنوي امور سے بے بہرہ خيال کرتے ہيں اوراسي طرح عمل بھي کرتے ہيں۔ ليکن ان افراد کے افکار سے مقابلہ مکمل طور پرعقلي ومنطقي ہونا چاہيے۔

٥۔خواتين کي عفت کي رعايت

اس کے بعد کا مسئلہ ،خواتين کي عفت وحيا کو اہميت دينے کا مسئلہ ہے۔ خواتين کے دفاع ميں انجام ديے جانے والے ہر اقدام اورتحريک ميں خواتين کي عفت و حيا کو اصلي رکن کي حيثيت دي جائے۔ جيسا کہ ميں نے آپ کي خدمت ميں عرض کيا کہ صرف اس نکتے کو اہميت نہ دينے اور خواتين کي عفت و حيا سے بے اعتنائي برتنے کي وجہ سے مغرب ميں بے حيائي اور ہر قيد و شرط سے آزاد زندگي گزارنے اور عزت و ناموس کو پارہ کرنے کا بازار گرم ہوگيا ہے۔ آپ اس بات کي ہرگزاجازت نہيں ديں کہ معاشرے ميں صنف نازک کي شخصيت کا اہم ترين عنصر ’’عفت وحيا‘‘ بے اعتنائي کا نشانہ بنے۔ عورت کي عفت دراصل اُس کي شخصيت کے ارتقا اور دوسروں حتي شہوت پرست اورآوارہ مردوں کي نگاہوں ميں اُس کي عزت و تکريم کاوسيلہ ہے ۔ ايک عورت کي شخصيت، عظمت اور اُس کا احترام اس کي عفت وپاکدامني سے وابستہ ہے۔ حجاب ،محرم ونامحرم ،نگاہ ڈالنے اور نہ ڈالنے کہ يہ تمام مسائل (مباح،حرام اورمکروہ کے قالب ميں ) اسي ليے بيان کيے گئے ہيں کہ انساني معاشرے ميں عفت وپاکدامني کا اہم ترين انساني عنصر سالم ومحفوظ رہے۔اسلام نے خواتين کي عفت کو بہت زيادہ اہميت دي ہے البتہ مردوںکي پاکيزگي اورعفت بھي اہم اور بنيادي امور سے تعلق رکھتي ہے۔ عفت اورپاکدامني صرف صنف ِنازک سے ہي مخصوص نہيں ہے،مردوں کوبھي عفيف وپاکدامن ہونا چاہيے۔ ليکن چونکہ مردمعاشرے ميں اپنے مضبوط جسم اورجسماني طاقت کي وجہ سے عورت کو اپنے ظلم کو نشانہ بناتا ہے اورعورت کے ميل و رغبت کے برخلاف عمل کرتا ہے اسي ليے عورت کي عفت و پاکدامني کي حفاظت کيلئے زيادہ تاکيد اوراحتياط برتي گئي ہے۔

امريکي اعدادوشمار

آج آپ دنيا پر ايک نگاہ ڈاليئے تو آپ ملاحظہ کريں گے کہ مغربي دنيا خصوصاً امريکا ميں خواتين کي مشکلات ميں سے ايک مشکل يہ ہے کہ مرد حضرات اپني طاقت وزورکے بل بوتے عورت کي عفت کي دھجياں اڑاتے ہيں ، اُن کي آبروريزي کرتے ہيں اوراُن کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہيں۔ خود امريکي حکومت کي طرف سے ديئے گئے اعداد و شمار ميں ،ميں نے خود يکھا ہے کہ جن ميں سے ايک امريکي عدالت اوردوسرا کسي اورمحکمے سے شائع ہوئے تھے۔اُن کے اعداد و شمار واقعاً بہت وحشت ناک ہيں،امريکہ ميں ہر چھٹے سيکنڈ ايک عزت و ناموس پر حملہ کيا جاتا ہے ! توجہ کيجئے کہ عفت کا مسئلہ کتنا سنگين اور اہم مسئلہ ہے کہ ہر چھٹے لمحے ايک ظلم و ستم کي نئي داستان رقم ہوتي ہے! عورت کي طبيعت ومزاج کے برخلاف، ظالم ،آوارہ، ہر قيد و شرط سے آزاد زندگي گزارنے کا خواہاں بے عفت مرد، عورت کي شخصيت و عفت کو تارتار کرتا ہے اور اُسے اپنے ظلم وتعدّي کانشانہ بناتا ہے۔ اسلام ان تمام مسائل و مشکلات کو مدنظر رکھتا ہے۔اس حجاب کے مسئلے کو ہي ليے کہ جس پر اسلام نے اتني توجہ اورتاکيد کي ہے،اسي وجہ سے ہے ۔ پس عفت و پاکدامني کي حفاظت اور حجاب وعفت کو اہميت دينا بہت اہم ترين مسائل ہيں۔

٦۔ خواتين کي تعليم وتربيت کو اہميت دينا

ايک اورمسئلہ خواتين کي تعليم و تربيت کو اہميت دينا ہے ۔ميں نے بارہا اس مسئلے پر بہت تاکيد کي ہے ۔ خوشي کي بات يہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے ميں خواتين کي تعليم وتربيت ايک بہت عام اور رائج مسئلہ ہے۔ ليکن ان سب کے باوجود آج بھي بہت سے گھرانے ايسے ہيں جو تعليم نسواں کے خلاف ہيں اور اپني لڑکيوں کو تحصيل علم سے منع کرتے ہيں۔ ايک زمانہ وہ تھا کہ جب تعليمي ماحول وفضا غير محفوظ اور خراب تھي ليکن آج الحمد للہ اسلامي حکومت کا دور دورہ ہے ،آج کا معاشرہ ويسا نہيںہے۔لہٰذا ان گھرانوں کو چاہيے کہ وہ اپني لڑکيوں کوتحصيل علم کي اجازت ديں تاکہ وہ درس حاصل کريں، مطالعہ کريں،کتاب پڑھيں، ديني اور انساني معارف اورلازمي تعليمات سے آشنا ہوں ، ان کي فکري صلاحيتيں پروان چڑھيں اور اُن کے ذہن قدرت حاصل کریں۔ يہ کام بہت لازمي ہے اور اسے ہر صورت ميں انجام پاناچاہيے۔

٧۔ حقوقِ نسواں سے تجاوز کرنے والوں سے قانوني کاروائي

حقوق ِ نسواں کے دفاع کا آخري نکتہ يہ ہے کہ معاشرہ قانوني اوراخلاقي دونوں لحاظ سے خواتين پر تجاوز اور ظلم کرنے کو اپنا حق سمجھنے والے (مردوںاور عورتوں ) کي سخت گرفت کرے، اُن کے خلاف قانوني کاروائي کرے اور قانون بھي اس سلسلے ميں سخت قسم کي سزاوں کو معين کرے۔

ايک بار پھر آپ کي خدمت ميں عرض کروں کہ مغربي ممالک اپنے ان تمام بلند وبانگ نعروں کے باوجود اپنے معاشرے کي عورت کو ابھي تک محفوظ نہيں بناسکے ہيں۔يعني ابھي تک بہت سي ايسي خواتين ہيں جو اپنے گھروں ميں اپنے شوہروں سے زدوکوب کا نشانہ بنتي ہيں اور بہت سي لڑکياں اپنے باپ کے ہاتھوں زخمي ہوتي ہيں۔ اس بارے ميں اعدادو شمارکمرشکن اور وحشت ناک ہيں۔ اس کے علاوہ وہاں ايک اورچيز موجود ہے اور وہ ہے ’’قتل نفس‘‘ وہ لوگ بہت آساني سے قتل کرتے اور خون بہاتے ہيں ۔ قتل کرنے کي وہ قباحت وبرائي جو اسلامي ماحول ومعاشرے ميں موجود ہے، اُن کے ماحول و معاشروں ميں کہ جہاں انہيں معرفت الٰہي کي خوشبو بھي نصيب نہيں ہوئي ہے، موجود نہيں ہے۔ خواتين کا قتل و غارت اُن بہت ہي قبيح اور نفرت انگيز برائيوں سے تعلق رکھتا ہے کہ جو آج مغربي ممالک بالخصوص بعض ممالک مثلاً امريکا ميں رائج ہے۔ خوشبختي سے يہ تمام چيزيں ہمارے ملک ميں اُس شدت اور آب وتاب سے موجود نہيں ہيں اور استثنائي مواقع کے سوا يہ کہيں اور نظر نہيں آتي ہيں۔ بہرحال خواتين کي نسبت ہر ظلم و ستم اور جسماني تعرض وتجاوز کے خلاف سخت قانوني کاروائي کي جاني چاہیے تاکہ اسلامي معاشرہ اُس مطلوبہ درجے تک پہنچ سکے کہ جسے اسلام چاہتا ہے۔

اگر کوئي ملک اپنے معاشرے کي خواتين کو اسلامي تعليمات کے سائے ميں اسلامي معارف سے آشنا کرے تو مجھے اس ميں کوئي شک و ترديد نہيں ہے کہ ملکي ترقي و پيشرفت ، دُگني اورچند برابرہوجائے گي۔ اگر خواتين اپنے وظائف و ذمے داريوں کي سنگيني کا احساس کرتے ہوئے زندگي کے کسي شعبے اور ميدان ميں قدم رکھيں تو خود اُس شعبے کي ترقي چند برابر ہوجائے گي۔ مختلف شعبہ ہائے حيات ميں خواتين کي موجودگي اور اُن کے حاضر ہونے کي خصوصيت يہ ہے کہ جب بھي ايک عورت ميدان ميں قدم رکھتي ہے تو اس کا شوہر اوراسکے بچے بھي اس کے ساتھ اسي ميدان ميں قدم رکھتے ہيں ۔ليکن مرد کا کسي ميدان عمل ميں حاضر ہونا يہ معني نہيں رکھتا بخلاف عورت کے۔ عورت جو گھر کي جان اورگھر کي روح رواں ہے، جب بھي ايک ميدان ميں قدم رکھتي ہے تو درحقيقت اپنے پورے گھر کو اُس ميدان ميں لے آتي ہے ۔اسي ليے مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں خواتين کا فعال وجود بہت اہميت کا حامل ہے۔(۱)

ايک اہم نکتہ!

وہ اہم نکتہ کہ جسے ميں آپ کي خدمت ميں عرض کرنا چاہتا ہوں يہ ہے کہ خواتين کي مشکلات نے دراصل تاريخي اور قديمي ظلم وستم سے جنم لياہے۔اگر آج ايک مرد اپني بيوي سے بہت نزاکت،اخلاق اورتوجہ سے پيش آئے توممکن ہے کہ وہ اپني زندگي اور گھر کي فضا ميں اپني بيوي کے ساتھ معاشرت ميں اُس پر ظلم نہ کرے ليکن اگر مرد اس سلسلے ميں اخلاق، توجہ ، سنجيدگي اورتقويٰ کي رعايت نہ کرے تو اِس کا لازمي نتيجہ بيوي پر ظلم کي صورت ميں نکلے گا۔ مثلاًايک عالم وفاضل اورتعليم يافتہ عورت کا شوہر اَن پڑھ ہو تو يہ اَن پڑھ شوہر اپني عالمہ و فاضلہ بيوي پر ظلم کرے گا۔ بہت سي ايسي مثاليں ہيں کہ جہاں بيوي نے ڈاکٹريٹ کيا ہوا ہے اور ايک پڑھي لکھي خاتون ہے اور اُس کاشوہر اَن پڑھ ہے(يا کم تعليم يافتہ ہے) اور وہ گھر ميں اپني بيوي پرظلم کرتا ہے۔ ميري نظر ميں اس مسئلے کي طرف بہت زيادہ توجہ دينے کي ضرورت ہے واِلّا بہت سے اجتماعي مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہيں۔ ليکن ميں يہ بھي نہيں کہتا ہوں کہ ان مسائل کے حل کيلئے اقدامات نہيں کرنے چاہئيں اور انہيں اُن کے حال پر چھوڑ ديا جائے کہ يہ خود بخود حل ہوجائيں، ہرگز نہيں۔ ميري مراد يہ ہے کہ مسائل پر توجہ دينے اور انہيں حل کرنے کي رفتار اورطريقہ کار کو روزبروز بہتري کي طرف گامزن ہوناچاہيے۔ جيسا کہ آپ ديکھ رہے ہيں کہ آج کل قضاوت اورقاضي بننے کے سلسلے ميں حوزہ ہائے علميہ ميں سنجيدہ بحث جاري ہے اور مختلف حضرات اس ميں شريک ہيں۔

آپ کي رپورٹ ميں ميں نے ديکھا ہے کہ آپ نے ملکي قانون ميں بہت سے مقامات کي نشاندہي کي ہے، ميں ان مقامات کو ذکر کرنا نہيں چاہتا ہوں کہ کون سا درست ہے اور کون سا غلط؟آپ نے رپورٹ ميں بہت سے اعتراضات ، عيوب اور نقائص کو بيان کياہے کہ جن ميں سے بعض بجا اور درست ہيں۔ ليکن ميں نے ديکھا کہ آپ کي طرف سے پيش کيے گئے يہ اعتراضات اس طرح نہيں ہيں کہ جو ہر صورت ميں ہماري موجودہ اور رائج فقہ سے تعارض رکھتے ہوں، ايسي کوئي بات نہيں۔ ليکن ميں نے جن اعتراضات و نکات کا مطالعہ کيا ہے اور اگر انہيں حقوقي نظر سے اچھي طرح منظم کيا جائے تو ہماري ملکي قانون ميں بغير اس کے کہ وہ ہماري رائج فقہ سے ٹکرائے،تبديلي کي جاسکتي ہے۔ ميري نظر ميں يہ کام بہت مثبت اورمفيد ہے اور اس سلسلے ميں آپ خواتين کو کام کرنے کي ضرورت ہے اور يہ دوسرے بقيہ امور سے زيادہ اہميت کا حامل ہے۔

خواتين کي نسبت مغربي نگاہ کے جال ميں پھنسنے سے پرہيز

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ميں کبھي کبھي يہ ديکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپني زبان سے خواتين کے حقوق کي دفاع کي بات توکرتے ہيں ليکن عملاً ايسي فاش غلطيوں کا ارتکاب کرتے ہيں کہ جو کسي بھي صورت ميں خواتين کے حق ميں نہيں ہيں! يعني يہ افراد(مسلمان عورت کيلئے آئيڈيل تراشنے کيلئے) مغربي عورت کو ديکھنے لگ جاتے ہيں کہ وہ کيسي ہے اور کيا کرتي ہے تاکہ اُسے آئيڈيل کے طور پر پيش کرسکيں۔ جبکہ حقيقت يہ ہے کہ اُن کا يہ طرزفکر، اسلامي انداز فکر سے بہت مختلف ہے جبکہ اسلامي فکر و نگاہ ان کي فکر ونگاہ سے بہت زيادہ عميق ، ترقي يافتہ، ناقابل مقايسہ اور خواتين کيلئے ہر حال ميں سودمند ہے۔ ہميں مغربي عورت سے کچھ حاصل کرنے کي ضرورت نہيں ہے۔

بعض افراد ہيں جو حقوق نسواں کے دفاع کے بارے ميں دفاعي حالت اختيار کرتے ہيں۔ جب اہل مغرب ويورپ يہ کہتے ہيں کہ (يہاںمسلمان معاشروں ميں ) عورت پر ظلم ہوتا ہے تو يہ لوگ يہ ثابت کرنے کيلئے کہ يہاں ہمارے ملک ميں عورت پر ظلم نہيں ہوتا، اپنے دفاع ميں بہت سے باتيں بيان کرنا اورمختلف قسم کے کام کرنا شروع کرديتے ہيں اوربہت سے ايسے امور کا تظاہر کرتے ہيں کہ جن کا خواتين پر ظلم ہونے سے کوئي تعلق نہيں ہوتا ہے۔ فرض کيجئے کہ خواتين کي روزش سے متعلق بعض خلاف ورزياں کہ جنہيں ميں نے خودسنا ہے، بعض مقامات پر ظاہر ہوتي ہيں۔ صحيح ہے کہ يہ خلاف ورزياں اور غلطياں ہيں ليکن اِس کا اس بات سے کوئي تعلق نہيں ہے کہ ہم يہ کہيں کہ اس کے ذريعے خواتين پر ظلم کيا جارہا ہے۔

وہ لوگ يہ نہيں کہتے ہيں کہ اجتماعي ميدان ميں عورت ظلم کا شکار ہے ۔خواتين پر سب سے زيادہ ظلم اُس کے اپنے گھر ميں خود اُس کے شوہر کے ہاتھوں انجا م پاتا ہے اورشايد نوے فيصد سے زيادہ يہ ظلم اُس کے شوہر کي طرف سے ہوتا ہے لہٰذا اس اجتماعي مسئلے پر توجہ ديني اوراس کي اصلاح کرني چاہيے۔بھائي ،بہن اور باپ وغيرہ کي طرف سے ہونے والا ظلم اتنا نہيں ہے اور يہ صورتحال بہت نادر ہے۔ ہاں کچھ واقعات ہيں کہ ممکن ہے کہ بھائي،بھائي پر ظلم کرے يا اُسي طرح بھائي بہن آپ ميں اختلاف کے نتيجے ميں ايک دوسرے پر ظلم کريں اور مناسب و غير مناسب اورظالمانہ يا عادلانہ رويہ اختيار کريں۔ليکن جو چيز سب سے زيادہ اہم ہے کہ جس کي اچھي صورت بھي کبھي کبھي خراب ہوجاتي ہے ، وہ گھر کے اندر آپس کے تعلقات اوررويہ ہے۔ حتي کبھي کبھار يہ ديکھنے ميں بھي آتا ہے کہ ان تعلقات اوررويے کي قابل ملاحظہ صورتحال اوراچھي حالت بھي بري ،نامناسب اورظالمانہ ہوتي ہے۔

تھوڑا سا انصاف کيجئے!

آپ پيار و محبت سے اپني نورچشم بيٹي کوپروان چڑھاتے ہيں اور پندرہ يا سولہ سال بعد اُسے اس کے شوہر کے گھر بھيج ديتے ہيں۔ شوہر کے گھر ميں آپ کي بيٹي سے اُن کي بيٹي جيسا برتاو نہيں کيا جاتا ہے۔ آپ جانتي ہيں کہ (ساس، بہو اورنندو بھابھي کا مسئلہ) ہمارے معاشرے کا ايک عام سا مسئلہ ہے(۲) ۔ يعني آپ دوسرے کي بيٹي کو اپنے بيٹے کيلئے بيوي (اوراپني بہو بناکر لاتي ہيں توکيا آپ اپني بہوسے اپني بيٹي جيسا برتاو کرتي ہيں؟)اوروہ گھرانہ جو اپنے بيٹے کيلئے آپ کي بيٹي کو دلہن بناکر بہو کے عنوان سے اپنے گھر لے جاتا ہے ،کيا وہ بھي آپ کي بيٹي سے يہي برتاو کرتا ہے جو آپ اپني بہو سے کرتي ہيں؟ (ذرا انصاف کيجئے!) ان تمام معاشرتي مسائل کا علاج کرنا چاہيے اور يہ مرد وعورت کے آپس ميں تعلقات سے مربوط ہے۔ اگر مياں بيوي کے تعلقات و روابط مکمل طور پر عادلانہ ،اسلامي، صحيح اورمحبت آميز ہوں تو ظلم و ناانصافي کرنے والے ايسے گھرانوں کے عمل اور برتاو کي کوئي تاثير باقي نہيں رہے گي يعني لڑکي کيلئے سسرال والوں کي طرف سے سختي اورمختلف باتوں کے تھونپے جانے کي جرآت اورموقع باقي نہيں رہے گا۔ ان سب کي بازگشت مياں بيوي کے درمياني تعلقات کي طرف ہوتي ہے جو عورت پر ظلم کي راہيں کھولتے ہيں۔ يہ وہ نکتہ ہے کہ جسے ميں آپ خواتين کي خدمت ميں عرض کرنا چاہتا تھا۔(۳)

١ ساس بہو اوربھابھي نند کے درميان گھريلو اختلافات ہمارے يہاں ايک عام مسئلہ ہے ۔ يہ فطري سي بات ہے کہ والدين اپني اولاد اوربيٹيوں کو بہت چاہتے ہيں اور بڑے پيار و محبت سے ان کي تربيت کرکے رشتہ ازدواج ميں انہيں منسلک کرتے ہيں۔ اُن کي خواہش ہوتي ہے کہ اُن کي نورچشمي اپنے سسرال ميں بھي ويسا ہي سکھ پائے جيسا اپنے ميکے ميں پاتي تھي ۔ ليکن بہت سے گھرانے ايسے ہيں کہ جب وہ دوسرے کي بيٹي اپنے گھر ميں بہوبناکر لاتے ہيں تو وہ يہ بھول جاتے ہيں کہ يہ بہوبھي کسي گھر کا نور اورکسي ماں کے دل کا چين ہے اورخود اُن کي اپني بيٹي کسي کے گھر ميں بياہي گئي ہے۔ چنانچہ يہ افراداس بہو سے بعض غيروں والا سلوک کرتے ہيں حتي يہ بھي بھول جاتے ہيں کہ يہ بھي ايک انسان ہے اور دھڑکتے دل اوراحساسات کي مالک ہے۔

طعنے ،جھڑکياں او ر چبھنے والي باتيں روزانہ بہو کي خدمت ميں پيش کي جاتي ہيں اوربالفرض اگر بہو سيدھي سادي اور شريف ہو تو پلٹ کر ساس اور نندوں کو کچھ نہيں کہے گي، ساس کا پھولا منہ، بگڑاچہرہ، نندوں کي باتيں،طعنے اور گھور گھور کر ديکھنے والي آنکھيں سب نشتر کے تيروں کي طرح بہو کے دل کو زخمي کرديتے ہيں۔ليکن يہ لوگ بھول جاتے ہيں کہ ان کي اپني بيٹي بھي کسي کي بہو ہے!

حديث ميں ہے کہ ’’اپنے اور لوگوں کے درميان انسان خود انصاف کرے،جو اپنے ليے پسند کرے وہي دوسروں کيلئے، جسے اپنے ليے ناپسند قرار دے اُسے دوسروںکيلئے بھي ناپسنديدہ قرار دے۔‘‘

نہ جانے بہو پر ظلم کرنے والے يہ حديث کيوں فراموش کرديتے ہيں؟ کيا ان کي خواہش نہيں ہے کہ ان کي اپني بيٹي دوسرے کے گھر ميں بہو کے عنوان سے سدا سکھي رہے؟ تو يہ اپنے گھر کي بہو کو بھي سکھي رکھيں!جب يہ لوگ چاہتے ہيں کہ ان کي اپني بيٹي سے اُس کے سسرال ميں پيار ومحبت کا سلوک کيا جائے توانہيں چاہيے کہ پرائے کي بيٹي سے بھي پيار و محبت کا سلوک کريں۔

____________________

١ اکتوبر ١٩٩٧ ميں تہران کے آزادي جيم خانے ميں خواتين کي ايک بڑي کانفرنس سے خطاب

۲لہٰذا ہم سب کو ذرا سے انصاف کے ذريعے اپنے ماحول اورگھر کي فضا کو بہتر بنانے کي کوشش کرني چاہيے۔ اس ساس بہو اوربھابھي نند کے جھگڑے ميں سب سے اہم کردار شوہر کا ہے۔ دن بھر کي جنگ کي رپورٹ بيوي اپنے شوہر کو دن کے اختتام پر پيش کرتي ہے۔شوہر کي ذمہ داري ہے کہ وہ اپني بيوي کي صحيح حمايت کرے اور اُس کي ڈھارس باندھے کيونکہ يہ اُس کي بيوي ہے جو اپنا سب کچھ ، گھربار، ماں باپ ، ماضي اور خواب و خيالات سب کچھ چھوڑ کر شوہر کے پاس آئي ہے اور اس کي محبت و چاہت کي طلبگار ہے۔ اب يہاں اگرشوہر بيوي کي جائز حمايت نہ کرے تو بيوي کا دل ٹوٹ جائے گا۔ لہٰذا شوہر اپنے صحيح طريقے اور اسلامي روش واحکامات کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملات کو سلجھائے۔ والدين اوربہن بھائيوں کا احترام بھي محفوظ رہے اور بيوي بھي خوش رہے۔ لہٰذا اس ضمن ميں شوہر کي ذمہ داري بہت سنگين ہے۔اب جہاں تک بہو کے کردار کي بات ہے تو ان شائ اللہ ان تمام مسائل کے بارے ميں ميں ايک الگ کتاب آپ کي خدمت ميں پيش کي جائے گي۔(مترجم)

۳نومبر ١٩٩٦ ميں خواتين کي ثقافتي کميٹي کے اراکين سے ملاقات


چوتھي فصل

حقوق نسواں کے دفاع کيلئے تين بنيادي نکات

اس مسئلے ميں ميري نظر ميں جو چيز اہميت کے قابل ہے وہ دو تين نکات ہيں اور ميري آپ سے توقع اور خواہش يہ ہے کہ ان نکات پر پوري توجہ ديں۔

١۔عورت کوعورت اور مرد کو مرد رہنے ديے

پہلي بات

اولاً حقوق نسواں کا مسئلہ کوئي ايسامسئلہ نہيں ہے جو صرف اسلامي جمہوريہ ايران سے ہي مخصوص ہويا ہم يہ خيال کريں کہ اس مسئلے ميں صرف ہم ہي ہيں جو اپنے معاشرے سے لڑرہے ہيں،نہيں! يہ ايک تاريخي جنگ ہے يعني پوري تاريخ ميں واضح دلائل کي روشني ميں عورت ہميشہ مرد کے ظلم و ستم کا نشانہ بني ہے۔ اس کا ٹھوس ثبوت يہ ہے کہ عورت جسماني لحاظ سے مرد سے کمزور ہے اور يہ بہت واضح و روشن امر ہے۔

مرد کي آواز عورت سے زيادہ بھاري، قدوقامت کے لحاظ سے وہ بلند و بڑا اورجسماني ساخت کے لحاظ سے بڑے جثے و ہيکل کا مالک ہے۔ مردانہ تخليق کي خصوصايت ميں تسلط، برتري اور فعال ہونا شامل ہے جبکہ عورت کي تخليقي خصوصيات ميں اس کي نرمي، لطافت،ملائم ہونا اورجذب کرنا شامل ہے۔

دوسري بات

اگر آپ عورت کے بارے يں اسلامي تعبيرات کوملاحظہ کريں تو آپ ديکھيں گے کہ عورت کے بارے ميں حقيقي اور واقعي تعبيرات موجود ہيں ۔ ’’اَلمَرآَةُ رَيحَانَه ولَيسَت بِقَهرَمَانَةٍ ‘‘(۱) عورت پھول ہے ،ريحانہ يعني پھول، انسان پھول کے ساتھ کيساسلوک کرتا ہے؟ پھول کے نرم وجود کے مقابلے ميں انسان کيا طرز عمل اپناتا ہے؟ اگر پھول سے کُشتي لڑي جائے تو پھول کي پتياں الگ الگ ہوکر بکھر جائيں گے اور پھول کا پورا وجود ہي ختم اور نابود ہوجائے گا۔ اگر پھول کو پھول سمجھيں اور اُس سے پھول جيسا برتاو کريں تو يہ زينت کا باعث بنے گا اور خود پھول کا وجود ايک اہميت وخاصيت کو پائے گا۔

’’ولَيسَت بِقهرمَانَةٍ ‘‘ وہ قہرمان نہيں ہے، قہرمان کا مطلب پہلوان نہيں ، يہ ايک عربي تعبير ہے جو فارسي زبان سے لي گئي ہے ،قہرمان يعني خود کسي کام کو مستقيماً انجام دينے والا، انچارج يا ٹھيکے دار جو اپني نگراني ميں مختلف کام انجام ديتا ہے،يعني عورت کو اپنے گھر ميں کاموں کو انجام دينے والا انچارج نہ سمجھيں۔يہ خيال نہ کريں کہ آپ گھر کے مالک اور مطلق العنان سربراہ ہيں اورگھر کے کام کاج اور بچوں کي تربيت وغيرہ جيسے اہم بڑے چھوٹے کام ايک انچارج کے پاس ہيں اور گھر کي انچارج آپ کي بيوي ہے لہٰذا اس سے ايسا سلوک روا رکھا جائے جو ايک سربراہ اپنے ماتحت افراد سے رکھتا ہے !يہ مسئلہ ايسا نہيں ہے۔

تيسري بات

آپ ملاحظہ کيجئے کہ مرد کا يہ برتاو اور سلوک، ايک حقيقي برتاو ہے اور براہ راست عورت کي طبيعت ومزاج سے مخاطب ہے۔ عورت تو اپني طبيعت ومزاج کو فراموش نہيں کرسکتي اورمصلحت بھي نہيں ہے کہ وہ اسے فراموش کرے۔ وجہ يہ ہے کہ ايک کامل خانداني نظام زندگي ميں عورت کي يہ طبيعت ومزاج بہت موثر ہے اور يہ لازمي بھي ہے۔ وگرنہ اگر اِس جنس (عورت) کو خواہ حقيقي و واقعي طور پريا خصوصيات و عادات کے لحاظ سے ايک دوسري جنس ميں تبديل کرديں(۲) تو گويا ہم نے اُس کے کمال کو کم کرديا ہے، کيا حقيقت اس کے علاوہ کچھ اور ہے؟

ہميں چاہيے کہ عورت کوعورت اور مرد کو مرد ہي رہنے ديں تاکہ نظام ہستي کا کاروبار اپني خوبصورتي کے ساتھ اپنے کمال کو پہنچے ۔ اگر ہم نے مرد کو اس کي تمام خصوصيات ، عادات و صفات ،مردانہ مزاج اور اُس کے تمام وظائف کے ساتھ عورت ميں تبديل کيا يا عورت کو مرد ميں تبديل کيا تو يہ بہت بڑي غلطي ہوگي۔

’’فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلقَ اللّٰهِ ‘‘(۳) قرآن ميں ذکر کي گئي تخليق خدا کي تبديلي يہي ہے۔ اگر ايسا کيا توہم نے عالم ہستي کے کامل ترين نظام کو تباہ و برباد کرديا کہ جس ميں ايک جنس اِن خصوصيات اورعادات وصفات کے ساتھ اور دوسري جنس اِن خُلقيات اور خاص طبيعت ومزاج کے ساتھ ہے تاکہ دونوں ايک دوسرے کو مکمل وجود بناسکيں۔

چوتھي بات

اس تمام گفتگو سے ميري غرض يہ تھي کہ تاريخ ميں جہالت کي وجہ سے عالم خلقت کے ان دونوں وجود، مرد وعورت کي اپني اپني خاص صفات ، عادات اورطبيعت کو خوداُس کے خاص تناظر ميں ديکھا نہيں گيا ہے لہٰذا مرد نے اپنے طاقت وقدرت کے بل بوتے ہميشہ ظلم و ستم کيا ہے اور عور ت اُن کے تاريخي ظلم کي ايک منہ بولتي تصوير ہے۔ کيا آپ نے توجہ اور غور کيا؟! يہ مسئلہ دراصل ايک تاريخي ظلم وستم سے مقابلہ ہے لہٰذا اگر ہم نے اس مقابلے ميں عجلت ، سطحي نگاہ ، تدبُّر وتعمق کے بغير اور اس چيز کو مدنظر رکھے بغير کہ ہميں کيا کرنا چاہيے ،کام کيا تو ہمارا يہ اقدام کاميابي کو کئي سالوں عقب دھکيل دے گا، بنابرايں،بہت پختگي اور سنجيدگي کے ساتھ مگر مسلسل کام کرنے کي ضرورت ہے۔

٢۔ اسلامي ثقافت، شرعي احکامات اوررضائے الٰہي پر توجہ

مغربي ثقافت کا ظاہري مثبت نکتہ

دوسرا نکتہ يہ ہے کہ اگر آج ہم دنيا کو دو حصوں ميں تقسيم کريں ،ايک حصہ مغربي ثقافت سے متلعق ہے جبکہ دوسراحصّہ ديگر مختلف ثقافتوں سے،توہم يہ کہہ سکتے ہيں مغربي ثقافت والي نصف دنيا ميں عورت پر نسبتاً زيادہ ظلم ہوا ہے۔ مختلف حوالوں، ذرائع ابلاغ اورموثق ذرائع سے ملنے والي خبروں، حادثات وواقعات،اعدادوشمار، رپورٹوں اورتجزيہ وتحليل کے ذريعے ميں يہ دعويٰ کرسکتا ہوں۔

توجہ فرمائيے کہ مغرب ميں ايک ايسا مسئلہ ہے کہ جو آنکھوں کو خيرہ کرتا ہے اور وہ يہ ہے کہ اس معاشرے ميں مرد و عورت کے درميان اُن کے اجتماعي معاملات، کردار اوربرتاو ميں کوئي فرق نہيں رکھا گيا ہے۔ يعني جس طرح ايک جلسے يا محفل ميں ايک مرد داخل ہوتا ہے ، سلام عليک اوراحوال پرسي کرتے ہوئے اس محفل کا يک جز بن جاتا ہے، اسي طرح ايک عورت بھي آتي ہے اور اس محفل کا حصہ بن جاتي ہے۔ چنانچہ اُ س معاشرے ميں اِس جہت سے مرد وعورت کے کردار وعمل ميں کسي قسم کا کوئي فرق اور طبقاتي يا انساني جنس کے لحاظ سے کوئي فاصلہ موجود نہيں ہے۔ آپ نے توجہ فرمائي ! مغربي معاشرے کے اس اجتماعي سلوک اور عمل نے دنيا والوں کي آنکھوں کو خيرہ کرديا ہے۔

انسان جب اس ظاہري حالت کو ديکھتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ يہ تو ايک وضعِ مطلوب ہے اور سب اس وضع وحالت سے خوش ہيں ۔ حتي وہ افراد جو اپنے منطقي دلائل کي وجہ سے اس اجتماعي رفتار وسلوک کے مخالف ہيں جب اسے ديکھتے ہيں تو يہ کہتے ہيں کہ يہ کوئي اتني بري چيز نہيں ہے ! وہ ايک معاشرتي نظام ميں مرد و عورت کو دواجنبيوں کي طرح نہيں ديکھتے ہيں بلکہ ان پر بہن بھائي کي حيثيت سے نگاہ ڈالتے ہيں کہ دونوں جب ايک گھر ميں داخل ہوتے ہيں تو ايک دوسرے کو سلام کرتے ہيں،ايک دوسرے کي مزاج پرسي کرتے ہيں اور ساتھ زندگي گزارتے ہيں! مغرب ميں مردو عورت اس طرح آپس ميں زندگي بسر کرتے ہيں۔

اس ظاہري مثبت نکتے کے پس پردہ منفي نکات

يہ ايک مثبت نکتہ ہے ليکن بہت سطحي اورظاہري، ليکن اسي ظاہري نکتے کے پس پردہ بہت سے منفي نکات پوشيدہ ہيں ۔ سب سے پہلي بات يہ کہ گھر کي چار ديواري ميں بالکل ايسا نہيں ہے ۔ يہ کوئي منبري گفتگونہيں ہے جو چند سامعين کوخوش کرنے يا کوئي نعرہ نہيں ہے جو چند افرا دکو جمع کرنے کيلئے لگايا جائے بلکہ يہ سب حقيقت اور سچي خبريں ہيں اور ان کے ديئے ہوئے اعداد وشمار سے اخذ شدہ ہيں۔ گھروں ميں خواتين پر ظلم و ستم ہوتا ہے حتي اس خاتون پر بھي جو اپنے ملازم شوہر کي مانند ملازمت کرتي ہے اور دن ميں دو گھنٹے کي چھٹي ميں جب گھر آتي ہے تو اس پر ظلم(۴) ہوتا ہے !

کيسے ظلم ہوتا ہے ؟ اس ليے کہ يہ دو انسان ہيں،ايک مردہے اور ايک عورت۔ اگر يہ صورتحال ايک تصوراتي اور آئيڈيل صورتحال ہوتي يعني يہ دو انسان ہيں،دونوںملازمت کرتے ہيں، رات کو تھکے ہارے آتے ہيں اور سو جاتے ہيں ، صبح اٹھتے ہيں اوردوبارہ اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے ہيں ۔حالانکہ يہ دونوں مرد نہيں ہيں، ان ميں سے ايک مرد ہے اور ايک عورت۔مرد وعورت ميں سے ہر ايک کو الگ الگ چيز کي ضرورت ہوتي ہے۔ايسے ماحول ميں مرد پربھي ظلم و ستم ہوتا ہے۔ ليکن چونکہ مرد، عورت کي بہ نسبت مضبوط و قوي ہوتا ہے لہٰذا ہم اُس کے ظلم کو يہاں بيان نہيں کرنا چاہتے ہيں۔ جس پر يقيني صورت ميں ظلم ہوتا ہے وہ عورت ہے ،اس ليے کہ وہ مرد جو اس عورت کو شوہر ہے ،اور بہت خواتين سے جنسي اور عاشقانہ تعلقات رکھتا ہے۔ اس کے يہ ناجائز تعلقات اورروابط مکمل طورپر سچے اور وفادار مياں بيوں کي مانند محبت سے لبريز ہوتے ہيں حالانکہ وہ اپنے اہل وعيال سے بھي ايسے تعلقات نہيں رکھتا ہے!

يہ ايک عورت پر بہت کاري ضرب اور بہت بڑ احملہ ہے ۔ايک بيوي کي خواہش ہوتي ہے کہ وہ اپنے جيون ساتھي سے محبت آميز، صاف شفاف اور نزديکي ترين تعلقات رکھتي ہو اوريہ دونوں پوري دنيا سے زيادہ ايک دوسرے کے قريب ہوں۔ لہٰذا ايسے گھرانے ميں سب سے پہلي چيز جو عورت سے چھيني جاتي ہے ، يہي ہے! اب آپ فرض کيجئے کہ کوئي ايسا شوہر ہو کہ جو کبھي اپني بيوي سے رحم کا سلوک بھي کرے اور کبھي ظلم بھي کرے ليکن پھر بھي اُس کے ساتھ گہرا دوستانہ و عاشقانہ اوربقول معروف ’’جانم، سوئٹي يا ہني‘‘ کا رابطہ رکھتا ہو۔ توکيا يہ رابطہ اورتعلقات بہترہيں يا نہيں ؟ يعني دو دوستوں کي مانند يہ دونوں گھر ميں داخل ہوں ، ايک دوسرے کو سلام کريں، احوال پرسري کريں،ميز پر بيٹھ کر ايک ساتھ چائے پئيں اوراسکے بعد يہ اپني راہ لے اور وہ اپني راہ! مسلّم ہے کہ يہ بھي پہلي صورتحال سے بہتر نہيں ہے۔

آپ ايک عورت کي حيثيت سے اس فيصلے کيلئے اپنے وجدان کي طرف رجوع کيجئے کہ کياآپ اس دوسري صورت حال کو پہلي کي بہ نسبت زيادہ پسند کرتي ہيں؟ يہ شوہر قابل تحسين ہے يا پہلا شوہر ؟ميں گمان بھي نہيں کرسکتا کہ کوئي ايسي عورت موجود ہو کہ جو اس دوسرے شوہر کو پہلے والے شوہر پر ترجيح دے۔يعني وہ بيوي (پہلے والے سخت گير) شوہر کي سخت مزاجي کے نتيجے ميں پيدا ہونے والي تلخي کو اس (دوسرے شوہر) سے اس کي حقيقي محبت و چاہت اور اس بات کے مقابلے ميں کہ اُس کا شوہر اس کے سوائے کسي اور عورت کا عاشق ودلداہ اور کسي اور سے جنسي تعلقات رکھنے والا نہيں ہے، قبول کرليتي ہے۔ آپ نے توجہ فرمائي ! يہ ہے وہ پہلا ستم جو مغربي عورت پر ہوتا ہے۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ وہاں تمام گھرانے ايسے ہيں ليکن معمولاً صورتحال يہي ہے اور دوسري جانب عورت پرہونے والا جسماني ظلم اور اذيت وآزار دوسري طرف!

ميں نے دو سال قبل (١٩٩٥) ايک امريکي جريدے ميں گھروں ميں ہونے والے مردوں کے ظلم و ستم کے اعداد وشمار کا مطالعہ کيا تھا،وہ اعداد و شمار واقعاً بہت وحشتناک تھے۔ البتہ آپ کو معلوم ہے کہ امريکي بعض جہات سے مثلاً کُھلے ٹُلے ہونے ميں قديم يورپي ممالک سے بہتر ہيں اور انگلستان، فرانس اورديگر يورپي ممالک کے مقابلے ميں زيادہ کھلے ہيں۔

يہي کھلي حالت جو مغربي ثقافت ميں مشاہدہ کي جاتي ہے، امريکا ميں يورپي ممالک سے زيادہ ہے، ليکن اس کے ساتھ ساتھ امريکا ميں ايک گھريلو عورت پرظلم و ستم ،زدوکوب اوراہانت تحقير دوسرے مغربي ممالک سے بھي زيادہ ہے۔ ان اعداد و شمار ميں ميں نے خود ديکھا ہے ، وہ لکھتے ہيں کہ يہ اُن لوگوں کے اعداد وشمار ہيں جنہوں نے جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آکر شکايت درج کرائي ہے جبکہ شکايت درج نہ کرانے والوں کي ايک کثير تعداد موجود ہے۔

ہم کيا کريں؟

پس آپ ديکھئے کہ يہ وہ پہلا ظلم ہے جو وہاں کي خواتين پر ہوتا ہے اور کوئي اُس کي طرف متوجہ نہيں ہے۔ اب ايسي حالت ميں ہم آئيں اوراپنے شعاروں اورنعروں ميں ايسي چيزوں کو بيان کريں کہ جو مغربي ثقافت خواتين کے حقوق کے دفاع يا خود خواتين سے برتاو کے عنوان سے بيان کرتي ہے اور انہيں شعار اور نعروںکي حيثيت سے متعارف کراتي ہے! کيا يہ مصلحت ہے؟ ان تمام چيزوں کو آئيڈيل بناکر انہيں مسلمان معاشرے کے سامنے پيش کرنا اور اُن پر عمل کرنا ہمارے ليے کہيں سے بھي سودمند نہيں ہے۔

اگر آپ اسلام کي نظر کو حقيقي اور گہري صورت ميں سمجھيں نہ کہ سطحي نظر کہ جو اکثراوقات غير حقيقي مطالب اور خيالات کامجموعہ ہوتي ہے، اور عورت کے بارے ميں اسلامي نظر کا لبّ لباب سمجھا اورنکالا جائے تو يہ امر سزوار ہے کہ جس کيلئے حقيقتاً جدوجہد کي جائے اور شعاربلند کيے جائيں۔ميري خواہش ہے کہ آپ جو شعاراور نعرے لگاتے ہيں ان ميں ان چيزوں کے نہ لے کر آئيں (جو مغربي ثقافت کا حصہ ہيں)اور مغربي ثقافت کي طرف جھکاو کو حقوق نسواں کيلئے اپنے مقابلے کا ہدف قرارنہ ديں۔اس ليے کہ اولاً مغربي ثقافت ايک ناکام ثقافت ہے اور لوگ بھي يہ باتيں سننے کيلئے تيار نہيں ہيں اور بہت سے افراد ان باتوں کو قبول بھي نہيں کرتے ہيں۔ معاشرے ميں بہت سے صاحب نظر اور ديگر افراد ہيں کہ جو ممکن ہے کہ ان باتوں کو قبول نہ کرتے ہوں تو يہ افراد مقابل ميں آکھڑے ہوں گے کيونکہ يہ لوگ بھي حقوق نسواں کا دفاع کرنے کے خواہش مند ہيں۔

ثانياً بجائے اس کے کہ سب ہاتھوں ميں ہاتھ ديں اورماضي ميں ضائع شدہ ايک حق کے اثبات کيلئے جدوجہدکريں، آپس ميں مقابلہ آرائي شروع کرديں گے! يوں يہ غلط سلسلہ چل نکلے گا اور يہ اونٹ کسي کروٹ نہيں بيٹھے گا۔ ثالثاً اس طرزعمل کو اپنانے ميں مصلحت نہيں ہے اور نہ ہي خداوند عالم اس سے راضي ہے ۔ انسان کو ايسا کام انجام دينا چاہے کہ اُس کا خدا اُس سے راضي ہو۔

رضائے الٰہي کيلئے کام کيجئے

حقوق نسواں کے اس دفاع، اس حکومت اور اس فعاليت سے ہمارا ہدف رضائے الٰہي کا حصول ہے۔ اگر ہمارا خدا ہم سے راضي نہ ہو توہميں اُن تمام چيزوں اوردنياوي طور پر اپنے کامياب ترين نتائج ميں سے کوئي ايک بھي نہيں چاہيے! انسان صرف اپنے خدا کو راضي وخوشنود کرے۔ ہم يہاں صرف چار دن کي زندگي بسر کررہے ہيں اور صرف کچھ دنوں کيلئے ہمارے بدن اور سانس کے درميان رشتہ قائم ہے ،اس کے بعد ہم ايسي جگہ پہنچيں گے کہ جہاں ازاول تاآخر صرف اور صرف رضائے الٰہي ہي انسان کے کام آتي ہے ۔ لہٰذا انسان کو اپنے رب کي خوشنودي کے حصول کيلئے اقدام کرنا چاہيے۔

آپ اسے اپنا ہدف ومقصد بنائيے، اپنے کاموں اورجدوجہد ميں قصد قربت کيجئے اورخدا کيلئے کام کيجئے تو خدا بھي آپ کي مدد کرے گا۔

بيماري کي تشخيص کيلئے حقيقت کو مدنظر رکھنا ضروري ہے!

مجھے ايک خط ملا جو خاص طور پر ميرے نام تھا۔ميں نے اُسے ملک کي خواتين کي ايک فعال اوراچھي انجمن کو بھيجا تاکہ وہ اس خط ميں موجود مسائل کے بارے ميں تحقيق کريں۔ وہ خط بہت طولاني مگر شيريں اور خوبصورت تھا ليکن ميري نگاہوں ميں اس خط ميں موجود معلومات صحيح نہيں تھيں۔ اس ميں بہت زيادہ شکوہ و شکايات کي گئي تھيں اور جو کچھ ہمارے معاشرے ميں نہيں ہے، اُسے خواتين سے نسبت ديا گيا تھا۔ صرف اس خيال سے کہ يہ سب باتيں اسلام سے مربوط ہيں ليکن درحقيقت ايسا نہيں تھا ميري نظر ميں بيماري کي تشخيص کيلئے انسان کو حقيقت بين ہونا چاہيے۔

اسلامي احکامات کي حکمت

توجہ فرمائيے کہ اسلام نے مرد و عورت کے درميان حجاب کو قرار ديا ہے اور اس حقيقت کا انکار نہيں کيا جاسکتا ہے کہ يہ حجاب بھي کسي مصلحت وحکمت کے مطابق ہے کہ حجاب کي صحيح ترين شکل يہي ہے۔ يہ جو کہتے ہيں کہ جب مرد وعورت تنہا ايک کمرے ميں ہوں کہ جہاں دروازہ بند ہو اور پردہ پڑا ہو تو وہاں ان دونوں کا ايک ساتھ موجود ہونا حرام ہے۔ اس حکم کے پيچھے ايک حکيمانہ اور عميق نظر ہے اور وہ صحيح بھي ہے ۔ معاشرے کے افراد، مرد يا عورت ہونے کي بنا پر جب اپنے باطن کي طرف رجوع کريں گے تو اس بات کي تصديق کريں گے کہ يہ حکم صحيح ہے، کوئي اس کا انکار نہيں کرسکتا کہ يہ کہے کہ يہ حکم غلط ہے ۔

اسي طرح يہ جو کہا گيا ہے کہ عورت زينت و آرائش کرکے مردوں کے سامنے نہ آئے، يہ حکم بھي بالکل صحيح ہے ۔ مغربي ثقافت بالکل اس کے برعکس ہے۔ مغربي ثقافت اپنے معاشرے کي عورت سے يہ کہتي ہے تم اچھي طرح ميک اپ کرو، زينت و آرائش کرو! يہ ہے مغربي ثقافت، ميک اپ کي انواع و اقسام کي چيزيں ايک خوبصورتي نہ رکھنے والي عورت کو بھي مختلف قسم کے ميک اپ کيلئے اس لئے دي جاتي ہيں کہ وہ جب مرد کے سامنے جائے تو مرد اسے خوبصورتي و زيبائي ميں ديکھے اور اس کي طرف مائل ہو! جبکہ حقيقت يہ ہے کہ ايسے ميک اپ کي مصنوعي خوبصورتي کے نتيجے ميں پيدا ہونے والا ميل و رغبت چند لمحوں سے زيادہ قائم نہيں رہتاہے۔ يعني جب يہ مرد اس عورت کے پاس آئے گا تو وہ خود ديکھے گا کہ يہ خوبصورتي حقيقي نہيں ہے ليکن مقصد يہ ہے کہ جيسے ہي اس پر نگاہ ڈالے تو اس کي تعريف کرے ! يہ چيز مغربي ثقافت ميں ايک امر مطلوب کي حيثيت رکھتي ہے۔

حکمت اوردوسرے کلام ميں فرق

ليکن اسلامي ثقافت ميں شوہر کے علاوہ زينت وآرائش ايک امر مذموم ہے ۔لہٰذا اس کو اچھي طرح سمجھنا چاہيے اور اس ميں حکمت پوشيدہ ہے ۔ ’’ذَا لِکَ مِمَّا اَوحَيٰ اِلَيکَ رَبُّکَ مِنَ الحِکمَةِ ‘‘(۵) ( يہ وہ چيز ہے کہ جسے تمہارے رب نے تمہاري طرف حکمت کے ساتھ وحي کيا ہے)۔ آپ قرآن ميں ملاحظہ کريں کہ خداوند عالم نے پيغمبر وں سے خطاب ميں بہت جگہ حکمت کو مکرر بيان کيا ہے۔ مثلاً حضرت لقمان کے بارے ميں چند مطلب کو ذکر کرتا ہے۔ ’’وَلَا تَمشِ فِي الاَرضِ مَرَحًا ‘‘(۶) ( زمين پر اکڑکر مت چلو)۔ يہ وہ بيانات ہيں کہ جو حضرت لقمان اپنے بيٹے کوبطور نصيحت فرماتے ہيں۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ’’ذالِک مِمَّا اَوحيٰ اِلَيکَ ربُّک مِنَ الحِکمَةِ ‘‘(۷) ۔ حکمت کي خصوصيت يہ ہے کہ جب آپ اسکے لب و لہجے پر نگاہ ڈاليں گے تو آپ کو يہ بہت سادي اورمعمولي بات نظر آئے گي ليکن جب آپ اس ميں غوروخوص کريں گے تو اس کي گہرائي کو نہيں پاسکيںگے کہ وہ کتني عميق ہے؟ يہ ہے حکمت کي خاصيت ! توجہ فرمائيے۔

حکمت اورہمارے اپنے بنائے ہوئے فلسفوں ، اہل عقل و منطق اوراُن کے استدلال کے درميان بنيادي فرق يہ ہے کہ ہم کلمات کے ظاہر کو خوبصورت بناتے ہيں کہ جب انسان اس پر نگاہ ڈالتا ہے تو اسے ايک اوقيانوس کي مانند پاتا ہے ليکن جب اُس کي گہرائي کو ديکھتا ہے تو گہرائي کو دو ملي ميٹر پاتا ہے ! ظاہر ميں ايک اوقيانوس ہے ليکن باطن ميں کچھ نہيں ۔ ليکن قرآني کلمات اور حکمتيں ايسي نہيں ہے ۔ ميرا حضرت امام خميني کے بارے ميں بھي يہي تجربہ ہے ۔ لہٰذا ميں نے سب سے پہلے لفظ ’’حکيم‘‘ کو اُن کيلئے استعمال کيا ہے ۔ ميں نے ديکھا کہ حکيم جسے کہا جاتا ہے وہ ايسا ہي ہوتا ہے ۔ امام خميني جب باتيں کرتے تھے تو ايسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بہت ہي سطحي اورمعمولي باتيں کررہے ہيں اوراُن کي باتيں انسان کي نظر ميں کوئي جلوہ نہيں کرتي تھيں ليکن جب انسان اس ميں غوروفکر کرتا تھا تو ديکھتا تھا کہ کتني گہري وعميق ہيں!

عورت کا اجتماعي کردار

جو کچھ قرآن و احاديث پيغمبر ۰ و اہلبيت ميں عورت کے بارے ميں بيان کيا گيا ہے وہ حکمت ہے کہ جس پر واقعاً توجہ کرني چاہيے۔ ان تمام بيانات ميں سے ايک مسئلہ يہي حجاب اور مرد و عورت کے درميان حفاظتي وجود کا مسئلہ ہے ۔ حجاب کے ذريعے سے ہونے والي يہ حفاظت سب جگہ کے ليے نہيں ہے بلکہ خاص جگہ پر ہے ۔ فرض کيجئے کہ ايک خاتون حکومت کے اعليٰ عہدے پر فائز ہوتي ہے۔ البتہ ميں يہ نہيں کہوں گا کہ کون سا مقام؟ کيونکہ ميں نے بطور مثال ايک مقام کو مجمل انداز سے بيان کيا ہے جو واضح نہيں ہے اور ايسي حالت ميں يہ بھي صحيح نہيں ہے کہ انسان بغير کسي وجہ سے کسي بھي حکومتي عہدے کو تنقيد کا نشانہ بنائے ۔ بہرحال اگر وہ ايک ايسے عہدے کو حاصل کرلے کہ جہاں رجوع کرنے والوں کي تعداد بہت زيادہ ہے تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اور نہ ہي يہ امر عورت کي فعاليت ميں مانع بنے گا۔ اس مقام پر عورت ہزاروں مرد اور ديگر رجوع کنندگان کي حکيمانہ انداز سے پذيرائي کرے ، اُن کے مسائل کوسنے، جواب دے اور ان کے جائز حقوق کيلئے احکامات صاد رکرے ۔ اس ميں نہ کوئي محدوديت ہے اور نہ کوئي چيزمانع ہے۔

اسلامي خواتين کا اجتماعي کردار

مختلف مسائل سے مقابلے اورميدان جنگ ميں بھي ايسا ہي ہے۔ حضرت زينب علیھا السلام کے سامنے ايک ميدان تھا جہاں آپ نے کام کيا، حضرت زہر علیھا السلام نے بھي ايک ميدان ميں قدم رکھا ،جناب حکيمہ خاتون يا حضرت امام صادق کي خواہر نے ميدان عمل ميں قدم رکھا ۔ حضرت امام صادق نے کسي سے فرماياکہ جاو اور يہ مسئلہ ان (ميري بہن) سے پوچھو۔ کچھ آئمہ عليہم السلام کي خواہر اورزوجات يا بعض پيغمبروں کي بيويوں نے علمي و ثقافتي ، سياسي، انقلابي،اور فوجي ميدانوں ميں قدم رکھا ہے۔ توجہ فرمائيے ۔عورت کاعورت ہونا ان تمام ميدانوں ميں اس کي فعاليت کي راہ ميں ہرگز مانع نہيں ہوتا ليکن ان سب جگہ حجاب کاحکم ضرور موجود ہے ۔ آپ اس کي پابندي کيجئے اور مقابلے کيلئے ميدان عمل ميں قدم رکھيے۔

٣۔گھرانے ميں شوہر و بيوي کے کردار پر زيادہ توجہ کي ضرورت

خواتين کے حقوق کے دفاع کيلئے تيسرا بنيادي اور لازمي نکتہ جو آپ کي خدمت ميں عرض کرنا چاہتا ہوں يہ ہے کہ ميري نظرميں خواتين پر ظلم ستم کے جتنے مقامات بيان کيے گئے ہيں ان ميں سب سے زيادہ ظلم گھرانے ميں ہوا ہے۔ اس مسئلے کو آپ جتنا بيان کرسکتے ہيں،بيان کيجئے۔ يہ جو ميں نے بيان کيا ہے کہ خواتين فلاں مقام و منصب کو حاصل کريں، يہ بعدکا مرحلہ ہے اور اتنا قابل اہميت نہيں ہے ۔ سب سے اہم مرحلہ شوہر اوربيوي کا آپس ميں ايک دوسرے سے برتاو اور کردارکا مرحلہ ہے۔ اگر آپ ايسے قوانين وضع کرسکيں کہ جب ايک عورت اپنے شوہر کے گھر ميں ہو تو امن و سکون کا احساس کرے تو يہ ايک قابل تحسين امر ہے۔

بيوي کيلئے امن و سکون کا ماحول فراہم کيجئے

انسان اپني بيٹي کو بہت محنت، محبت، نرمي اور والدين سے عشق کے ساتھ پروان چڑھاتا ہے اور اس کے بعد وہ لڑکي جواني کے مرحلے ميں قدم رکھتي ہے۔ اس مرحلے ميں بھي لڑکي اپنے والدين کے گھر ميں ان کي بچي ہي شمار کي جاتي ہے، اس کے بعد اُس کے ہاتھ پيلے کرکے اُسے شوہر کے گھر بھيج ديا جاتا ہے اور اُس کے بعد وہ ايک ايسي عورت کي شکل ميں ظاہر ہوتي ہے کہ جس سے (خانداني مسائل ،تربيت اولاد اور خانہ داري جيسے مسائل سے متعلق) ہر چيز کو سمجھنے، ہر چيز کو جاننے اور ہر کام کو انجام دينے کي توقع کي جاسکتي ہے! پس اگر عورت يہاں چھوٹي سي بھي غلطي کرے تو وہ تنقيد کا نشانہ بنتي ہے! ليکن يہ نہيں ہونا چاہيے۔ آپ ايسا کام کيجئے کہ جب ايک لڑکي شوہر کے گھر جائے تو وہ جس سن وسال ميں بھي ہو امن و سکون کا احساس کرے اور اسے يہ اطمئنان حاصل ہو کہ وہ (شوہر يا شوہر کے گھر والوں کي طرف سے) کسي بھي قسم کے ظلم وستم کا نشانہ نہيں بنے گي۔ اس نکتے کي طرف توجہ فرمائيے! اگر آپ يہ ماحول فراہم کرسکيں تو ضرور اقدام کيجئے تو ميري نظر ميں آپ نے ايک بہت بڑا قدم اٹھايا ہے۔ يعني و ہ اپنے شوہر کے گھر ميں ناحق بات نہيں سنے يا اگر وہ کسي ظلم کا نشانہ بنے يااُس سے ناحق بات کي جائے تو اپنے حق کا دفاع کرسکے اور وہ قانوني امکانات کے ذريعے اپنے حق کو محفوظ رکھ سکے(۸) اور يہ کام اتنا اہم ہے کہ ميري نظر، توجہ اورفکر کا زيادہ حصہ (ايک مسلمان عورت کيلئے) اسي ماحول کي فراہمي ميں مشغول ہے۔ ميں يہ ديکھ رہا ہوں کہ (ہمارے معاشرے سميت ديگر اسلامي ممالک ميں ) عورت کو يہ ماحول فراہم نہيں ہوسکا ہے حتيکہ مومن و متقي افراد کے گھروں ميں بھي ايسا ماحول نہيں ہے اورموجودہ زمانے کے گھرانے بھي اس آئيڈيل ماحول سے محروم ہيں۔

چند سال قبل ايک پي ايچ ڈي خاتون نے ہم سے شکايت کي کہ اُس کا شوہر جو زيادہ تعليم يافتہ نہيں ہے ، مجھ پر (مختلف مسائل زندگي ميں ) زور و زبردستي کرتا ہے اور يہ خاتون اپنے حق کا دفاع نہيں کرسکتي ہے۔ يہ ايک نمونہ ہے اور ايسي بہت سے مثاليں ہيں اور افسوس يہ ہے کہ ہمارے معاشرے ميں يہ چيزيں موجود ہيں۔ اگر آپ کچھ کرسکيں تو ان تمام چيزوں کو قوانين کے ذريعے ختم کرديجئے (تاکہ خواتين کے حقوق شوہروں کے ظلم اور زبردستي کي وجہ سے ضايع نہ ہوں) ۔وہ نکتہ کے جسے ميں نے قبلاً آپ کي خدمت ميں عرض کيا کہ مرد کي بہ نسبت عورت کا جسماني لحاظ سے کمزور ہونا اس پر ظلم ہونے کا باعث بنا ہے تو اُسے معرفت اور تعليم کے ذريعے سے ايک جہت سے اور قانون کي مدد سے دوسري جہت سے مضبوط بنانا چاہيے يعني خواتين کے ہاتھ ميں اُن کے حقوق کے دفاع کے اقتدار کے وسائل دينے چاہئيں۔

يہ وسائل ، معرفت اورتعليم کي طرف سے خواتين پر ظلم و ستم کي راہ ميں ايک طرف سے مانع بن جاتے ہيں جبکہ دوسري طرف قانون ہے جو خواتين کے حقوق اور ظلم سے اُن کي حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا اگر يہ’’ دونوں طرف‘‘ خواتين کيلئے فراہم ہوجائيں تو يہ ايک قابل تحسين امر ہے۔ آپ اپني خواتين کو تحصيل علم اور بيٹيوں کو اعليٰ تعليم کے حصول کي ترغيب دلايئے اور اعليٰ تعليمي مراکز ميں اپني بيٹيوں کے داخلے کو قانوني لحاظ سے سہل و آسان بنائيے۔ اگر يہ چيز حاصل ہوگئي تو ميري نظر ميں تمام چيزيں حاصل ہوجائيں گي۔ مثلاً فرض کيجئے کہ موجودہ زمانے ميں ممکن ہے کہ خواتين کو اس بارے ميں فکر لاحق ہو کہ وہ ڈرائيونگ کيوں نہيں کرتيں يا ٹرک ڈرائيور کيوں نہيں بنيں؟ فلاں کام انجام کيوں نہيں ديتيں؟ ان چيزوں کي اہميت نہيں ہے اور نا ہي ان چيزوں کي قدر وقيمت ہے کہ انسان ان کيلئے جدوجہد کرے۔

ہندوستاني عورت اور روزانہ پانچ روپے اجرت!

ميں کبھي فراموش نہيں کرسکتا کہ ميں ہندوستان ميں ايک يونيورسٹي کے طالب علم کے گھر مہمان تھا۔ ہم دوپہر کے کھانے کے بعد استراحت کرنا چاہتے تھے تو اچانک باہر سے کسي چيز کو توڑنے کي آواز آنے لگي۔ ميں نے کھڑکي سے ديکھا کہ ايک بڑا سا صحن نما ميدان ہے کہ جس ميں مختلف پتھر پڑے تھے اور ايک چاليس پچاس سالہ مزدور عورت ہتھوڑي ہاتھ ميں ليے بڑے پتھروں کو توڑ رہي تھي ۔ وہ عورت فربہ بدن کي مالک اور کالي تھي اور اُس نے خاص قسم کا لباس پہنا ہوا تھا کہ جب خواتين يہ لباس (جمپر) پہنتي ہيں تو اپنے بدن کا ايک حصہ _ سينہ کا اوپري حصہ_ کھلا رہنے ديتي ہيں۔ يہ وہاں کے لباس کا انداز ہے کہ لباس ميں سينے کا اوپري حصہ کھلا رہتا ہے اور يہ فيشن سے تعلق رکھتا ہے۔ يہ مزدور عورت بھي اسي حليے ميں تھي اور محنت مزدوري کے دوران اُس نے اپنے فيشن کو فراموش نہيں کيا تھا ! وہ سخت محنت کرتے ہوئے مسلسل پتھروں کو توڑ رہي تھي۔ ميں نے پوچھا کہ يہ عورت يہ کام کيوں کررہي ہے؟اُس نے جواب ديا کہ ’’يہ مزدور ہے‘‘ ۔ميں نے دوبارہ سوال کيا کہ ’’يہ روزانہ کتني اجرت ليتي ہے؟‘‘ اُس نے کہا کہ ’’روزانہ کے چار يا پانچ روپے‘‘۔ اس وقت ہندوستاني ايک روپيہ شايد ہمارے پندرہ ريال کے برابر تھا۔ يعني سالانہ تقريباً انسٹھ يا ساٹھ روپے! يعني وہ تقريباً دس تومان روزانہ کي اجرت ليتي تھي اور اس کيلئے روزانہ چودہ يا بارہ گھنٹے محنت و مشقت کرتي اور پتھروں کو توڑتي تھي!

ايسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلامي ماحول ميں ايک عورت کو اس طرح کا کام نہيں ديا جاتا ہے(۹) اور يہ بات خود باعث افتخار ہے ۔ البتہ عورت اپنے کھيتوں ميں اپنے ليے کام کرتي ہے ليکن وہ دوسروں کي مزدور نہيں بنتي ہے۔ ايسے وقت ايک انسان آئے اور بڑي جدوجہد کے بعد فرض کيجئے کہ عورت کے ٹرک ڈرائيور ہونے کے امکانات فراہم کرے! ان باتون کي قطعاً کوئي قدرو قيمت نہيں ہے۔(۱۰)

____________________

١ نہج البلاغہ نامہ ٣١

۲ عورت، عورت ہي رہ کر اپني نرم و لطيف طبيعت و مزاج کے ساتھ ہي خانداني نظام زندگي ميں موثر کردار ادا کرسکتي ہے ۔ عورت کا کمال اُس کي نسوانہ فطرت، زنانہ طبيعت ومزاج اورخصوصيات سے ہي وابستہ ہے۔ چنانچہ اگر عورت کو جنس کے لحاظ سے يا عادات وصفات ،طبيعت ومزاج اور وظائف کے لحاظ سے تبديل کيا جائے تو يہ سراسر غلطي ہے ۔ يہ نظام ہستي ميں عورت کے کمال کو کم کرنے کے مترادف اور اُسے اُس کے حقيقي مقام سے ہٹانے کے برابر ہے۔(مترجم)

۳ سورئہ نسائ / ١١٩

۴ يہاں لفظ ظلم سے کوئي مشتبہ امر پيدا نہ ہو کيونکہ ظلم صرف کسي کو زدو کوب يا لگدمالي کا نشانہ بنانا نہيں ہے۔ ظلم کي وضاحت صفحہ ۸۴پر ہوچکي ہے ، ظلم ايک وسيع مفہوم ہے اور اسکے کئي مصداق ہيں۔ لہٰذا ظلم کا وہي معني مراد ليا جائے جو متن ميں موجود سياق و سباق اورقرينے سے سمجھا جائے۔ (مترجم)

۵ سورہ اسرائ/ ٣٩

۶ سورہ اسرائ/ ٣٧

۷ سورہ اسرائ/ ٣٩

۸ يہاں بہت سے لوگ ان توہمات کا شکار ہيں کہ يہ کيا حق و حقوق کي رٹ لگا رکھي ہے؟! حق و حقوق تو اس وقت بات ہے جب وہ اپنے باپ کے گھر ميں ہو۔ جب وہ شوہر کے گھر آگئي تو کون سا حق اور کيسے حقوق؟! سب کچھ ختم ہوجاتا ہے، اب اس کاجنازہ ہي اس کے شوہر کے گھر سے نکلے گا ! وغيرہ وغيرہ ۔۔۔ يہ افراد احمقوں کي جنت ميں رہتے ہيں۔ اگر لڑکي شوہر کے گھر آجائے تو صحيح ہے کہ اس کے اپنے گھر سے متعلق کچھ حقوق ختم ہوجاتے ہيں ليکن شوہر کے گھر اس کے حقوق ميں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس ميں سب سے پہلے امن و سکون کا ماحول اور ناحق بات اور ظلم و ستم سے دوري وغيرہ شامل ہيں۔ شادي کرنے سے عورت کي ذات ختم نہيں ہوجاتي بلکہ شوہر کے گھر آنے سے اُس کي شخصيت مزيد نکھر جاتي ہے اور اس کا اجتماعي روپ سامنے آتا ہے، اب وہ ايک بيوي کے روپ ميں پہلے سے زيادہ حساس وجود رکھتي ہے۔ اپنے ميکے ، والدين اوربہن بھائيوںکو چھوڑ کر آنے والي ايک لڑکي جو اب شوہر کے ساتھ اس کے نئے گھر، نئے افراد اورنئے ماحول ميں زندگي بسر کرنا چاہتي ہے۔ اس کے بعد وہ مزيد حساس ہوجاتي ہے کيونکہ وہ اب تربيت اولاد کے مرحلے ميں قدم رکھتي ہے۔ غرضيکہ شادي سے عورت کا وجود ختم ہونے کے بجائے مزيد وسعت ، نکھار اور خوبصورتي اور زيبائي حاصل کرتا ہے۔ (مترجم)

۹يہ تقرير اسلامي انقلاب کے تقريباً اٹھارہ سال بعد کي ہے ۔ ايراني معاشرے ميں يقينا يہ حالات نہيں رہے ہيں اور نہ ہي انقلاب کي کاميابي کے بعد تھے۔ مگر ہندوستان و پاکستان جيسے ترقي پذير اور تيسري دنيا کے ممالک ميں عورت بھي مرد مزدوروں کے ساتھ مکانات کي تعمير، روڈوں کي تعمير، سڑکوں کي صفائي اورديگر کاموں کو انجام ديتي ہے ۔ يہاں ہمارا معاشرہ عورت کي نسوانيت ، اس کے صنف نازک ہونے اور اس کي عزت و آبرو کو يکسر فراموش کرديتا ہے ۔ (مترجم)

۱۰ ١٩٩٧ ميں پارليمنٹ کي خواتين اراکين سے خطاب


پانچواں باب

اسلامي خواتين کا آئيڈيل

دريچہ

اسلام نے نہ صرف يہ کہ خواتين کيلئے حقوق، حدود اورآئيڈيل کو مشخص اور واضح کيا ہے بلکہ اپني تعليمات کے مطابق ان آئيڈيل اورمثالي نمونوں کو پرورش ديتے ہوئے انہيں عوام کے سامنے ان کي قدر و قيمت کا اندازہ لگانے اور پيروي کرنے کيلئے قرار ديا ہے۔ اسلام ميں آئيڈيل شخصيات کي کوئي کمي نہيں ہے ليکن ان ميں سب سے زيادہ معروف اورکامل شخصيت حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کي ہے۔ اگر چہ کہ ان کي زندگي بہت مختصر تھي ليکن زندگي کے مختلف شعبوں ، جہاد، سياست، گھر اور معاشرے واجتماعيت ميں ان کي زندگي کي برکت، نورانيت،درخشندگي اور جامعيت نے انہيں ممتاز اور بے مثل و نظير بناديا ہے۔

خواتين اپنے حقوق اور اسلام کي نظر ميں عورت کے کردار ميں معيار و ميزان کے فہم اوران معياروں کي اساس پر اپني تربيت و خود سازي کي روش و طريقہ کار کي دستيابي کيلئے حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام جيسي عظيم المرتبت شخصيت کو اپنے سامنے موجود پاتي ہيں اور اس بنا پر وہ ديگر آئيڈيل شخصيات سے بے نياز ہيں۔ حضرت زہر علیھا السلام اور ان کي سراپا درس و سبق آموز زندگي کي طرف توجہ کرنا خواتين کو معنويت ، اخلاق ،اجتماعي فعاليت و جدوجہد اورگھرانے کے ماحول ميں اُن کي انساني شان کے مطابق ايک مطلوبہ منزل تک پہنچانے کا باعث ہوگا۔

مردوں کے جہاد، فعاليت و جدوجہد اورخود سازي اور اجتماعي ومعاشرتي وظائف ميں اُن کي پيشرفت ميں خواتين بہت اہم کردار کي مالک ہيں اورحضرت زہرا علیھا السلام کي زندگي ميں يہ کردار بہت نماياں نظر آتا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ اسلامي انقلاب ميں يہ کردار بہت واضح صورت ميں ظہور پذير ہوا اور تاريخ نے اس کردار کو سنہري حروف سے اپنے دامن ميں محفوظ کرليا ہے۔


پہلي فصل

حضرت زہرا علیھا السلام کي جامع و کامل شخصيت

حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام ، عظيم نعمت الٰہي

حضرت زہر علیھا السلام کي شخصيت کي نسبت محبت و مجذوبيت کے مراحل کے بعد ہم جس نکتے کي طرف متوجہ ہوتے ہيں وہ يہ ہے کہ ہم معدن ِ نور اورفضيلت کے اس منبع سے جتني محبت کريں گے وہ کم ہي ہوگي اور اس ميں ہميشہ تشنگي باقي رہے گي۔ہميں يہ ديکھنا چاہيے کہ اس قلبي اور روحاني رابطے و رشتے کے ضمن ميں ہمارا کيا وظيفہ ہے۔ چنانچہ اگر ہم نے اپني اس ذمے داري پر توجہ نہيں دي اور اس کے تقاضے پورے نہيں کيے تو ممکن ہے خدانخواستہ يہ محبت ہميں وہ نتيجہ نہ دے کہ جس کا ہم انتظار کر رہے ہيں کيونکہ حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام کوئي معمولي شخصيت نہيں ہيں۔ وہ تاريخ بشريت کي برترين شخصيات ميں سے ايک ہيں۔

امام جعفر صادق نے فرمايا کہ ’’يَاسيدِّةَ نِسَائِ العَالَمِينَ ‘‘ ۔ ر اوي نے سوال کيا کہ’’هَِ سَيِّدَةُ نِسَآئِ عَالَمِهَا؟ ‘‘، کيا آپ کي جدہ امجد اپنے زمانے کي خواتين کي سردار تھيں ؟ امام نے جواب ديا کہ ’’ذَاکَ مَريَم‘‘، وہ جناب مريم تھيں جو اپنے زمانے کي خواتين کي سردار تھيں، ’’هِيَ سَيِّدَةُ نِسَآئِ الاَوّلِينَ وَالاٰخِرِينَ فِي الدُّنيَا و الآخِرَة ‘‘(۱) ، ’’وہ دنيا و آخرت ميں اولين و آخرين کي سرورزنان ہيں‘‘ اور ان کي يہ عظمت ان کے زمانے تک محدود نہيں ہے۔ اگر آپ تمام مخلوقات عالم ميں پوري تاريخ ميں خلق کيے گئے ان کھربوں انسانوں کے درميان اگر انگليوں پر شمار کي جانے والي بہترين شخصيات کو ڈھونڈھنا چاہيں تو ان ميں سے ايک يہي مطہرہ ومنورہ شخصيت ہے کہ جس کا نام اور ياد و ذکر ہميں عطا کيا گيا ہے۔ خداوند عالم نے اپنے فضل و احسان کے ذريعے ہميں يہ موقع ديا ہے کہ اپني زندگي کے کچھ حصوں کو اُن کي ياد ميں بسر کريں ، اُن کے بارے ميں باتيں کريں اور اُس عظيم ہستي سے متعلق باتوں کو سنيں۔ لوگوں کي اکثريت اُن سے غافل ہے جبکہ يہ ہم پر خداوند متعال کا بہت بڑا لطف و کرم ہے کہ ہم اُن سے متمسک ہيں۔ يعني وہ اتني عظيم المرتبت شخصيت کي مالک ہيں کہ بڑے بڑے مسلمان علما اور مفکرين يہ بحث کرتے تھے کہ کيا حضرت زہرا علیھا السلام کي شخصيت بلند ہے يا امير المومنين علي ابن ابي طالب کا مقام زيادہ ہے؟ کيا يہ کوئي کم مقام و حيثيت ہے کہ مسلمان علما بيٹھيں اور ايک کہے کہ علي کا مرتبہ زيادہ بلند ہے اور ايک کہے زہرا علیھا السلام کي عظمت زيادہ ہے! يہ بہت بلند مقام ہے۔ لہٰذا اُس عظيم المرتبت ذات سے ہمارے تعلق اورمحبت نے ہمارے دوش پر ايک بہت سنگين ذمے داري عائد کي ہے۔ وہ ذمہ داري يہ ہے کہ ہم اُس عظيم ذات کي سيرت اورنقش قدم پر چليں،خواہ ان کا ذاتي و انفرادي کردار ہو يا اُن کي اجتماعي و سياسي زندگي۔ راستہ يہي ہے کہ جس نے آج خداوند عالم کے فضل وکرم سے لوگوں کيلئے انقلاب کي راہ ہموارکي ہے۔

يہ وہي حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کي راہ ہے يعني خودسازي (تعمير ذات) اورجہان سازي (تعمير دنيا) کي راہ۔ خود سازي يعني اس جان و روح کي آبادي و تعمير کہ جس کيلئے جسم کا پيکر خاکي ديا گيا ہے۔فاطمہ زہر علیھا السلام ’’کَانَت تَقُومُ فِي مِحرَابِ عِبَادَتِهَا حَتٰي تَوَرَّمَت قَدَمَاهَا ‘‘(۲) ۔ اس عظيم اور جوان دختر نے کہ جو اپني شہادت کے وقت صرف اٹھارہ سال کي تھي، اتني عبادت کي آپ کے پاوں ورم کرجاتے تھے! يہ عظيم المرتبت خاتون اتنے عظيم مقام و منزلت کے باوجود گھر کے کام بھي خود انجام ديتي تھيںاور شوہر کي خدمت بچوں کي ديکھ بھال اورتربيت بھي انہي کے ذمے تھي۔

حضرت فاطمہ علیھا السلام کے بچپن کا سخت ترين زمانہ

يہ عظيم خاتون ايک گھريلو عورت تھي، اس کا اپنا گھر تھا، شوہر، بچے سب کچھ اور يہ اپنے بچوں کي بہترين تربيت کرنے والي ماں بھي تھي۔ يہ بانوئے عصمت و طہارت ، زندگي کے سخت سے سخت مراحل ميں اپنے شوہر اور والد کيلئے دلجوئي اوردلگرمي کا سبب تھي۔ حضرت زہر علیھا السلام نے بعثت کے پانچويں سال دنيا ميں قدم رکھا کہ جب پيغمبر اکرم ۰ کي دعوت حق اپنے عروج پر تھي۔يہ وہ زمانہ تھا کہ تمام سختيوں، مشکلات اور مصائب نے پيغمبر اکرم ۰ اور ان کے گھرانے کو اپنے نشانے پر ليا ہوا تھا۔

يہ واقعہ تو آپ نے سنا ہي ہے کہ حضرت فاطمہ علیھا السلام کي ولادت کے وقت شہر کي خواتين حضرت خديجہ علیھا السلام کي مدد کيلئے نہيں آئي تھيں۔ يہ بہت بڑي بات ہے کہ جب پيغمبر اکرم ۰ کفار سے مقابلہ کررہے تھے تو اس وقت کفار مکہ نے آپ کا ہر طرح سے بائيکاٹ کيا ہوا تھا اور ہر قسم کے رابطے اور تعلقات کو بالکل قطع کرديا تھا تاکہ اس کے ذريعے رسول خدا ۰ پر دباو ڈالا جاسکے۔ يہ وہ مقام تھا کہ جہاں حضرت خديجہ علیھا السلام جيسي فداکاراور ايثار کرنے والي عورت نے استقامت دکھائي۔ آپ اپنے شوہر حضرت ختمي مرتبت ۰ کي دلجوئي فرماتيں اوراس کے بعد گھر ميں اپنے بيٹي کي ديکھ بھال اور تربيت کرتيں۔ جب يہ دختر نيک اختر بڑي ہوئي اور پانچ چھ سال کي عمر کو پہنچي تو شعب ابي طالب کا واقعہ پيش آيا۔ آپ نے اس کوہستاني وادي کي گرمي، بھوک، سختي، دباو اور غريب الوطني کي مشکلات کو اس وقت تحمل کيا کہ جب سب نے ساتھ چھوڑ ديا تھا۔ شعب ابي طالب ميں آفتاب کي تمازت سے دھکنے والے دن، سرد راتيں اور اس علاقے کي شب و روز ميں ناقابل تحمل آب وہوا، ان دشوار حالات ميں بچے بھوکے پيٹوں اور تشنہ لبوں کے ساتھ ان افراد کے سامنے تڑپتے رہتے تھے۔ سختي اور مشکلات کے يہ تين سال کہ رسول اکرم ۰ نے مکے سے باہر بيابان ميں اِسي طرح گزارے۔

فاطمہ زہر علیھا السلام اپنے والد کي مونس و غمخوار

يہ بيٹي، ان سخت ترين حالات ميں اپنے والد کيلئے فرشتہ نجات تھي اور يہ زمانہ تھا کہ جب حضرت خديجہ علیھا السلام نے داعي اجل کو لبيک کہا اور يہي وقت تھا کہ جب آپ کے محسن اور چچا، حضرت ابو طالب نے دنيا سے رخت سفر باندھا اور پيغمبر اکرم ۰ کو يکتا و تنہا چھوڑديا۔ يہ وہ وقت تھا کہ جب يہ بيٹي اپنے باپ کي دلجوئي کرتي تھي، ان کي خدمت کرتي اورغم و مشکلات کي گرد وغبار کواُ ن کو چہرے سے صاف کرتي۔ اس بچي نے اپنے باپ کي اتني خدمت کي کہ پيغمبر ۰ نے اس سات ، آٹھ سالہ دختر کو کہا ’’اُمُّ اَبِيھَا‘‘ ،يعني ’’ماں‘‘ يعني يہ بچي اپنے والد کي ماں کي طرح ديکھ بھال کرتي تھي۔

ايسا باپ کہ عالم کي تمام مشکلات نے جسے اپنے نشانے پر ليا ہوا تھا ليکن اس کے باوجود تمام بشريت کي ہدايت کي ذمہ داري اُس کے دوش پر تھي۔وہ ايسا پيغمبر تھا کہ اُس کا رب اُسے سختيوں،مشکلات ، غموں کے برداشت کرنے اور حق ميں مسلسل اور اَن تھک محنت و مشقت کي وجہ سے اس کي دلجوئي کرتا ہے۔ ’’طٰهٰ مَآ اَنزَلنَا عَلَيکَ القُراَنَ لِتَشقيٰ ‘‘(۳) اے رسول تم خود کو اتني سختي ميں کيوں ڈالتے ہو؟ اتنا رنج کيوں اٹھاتے ہو اور اپني پاک و پاکيزہ روح پر اتنا دباو کيوں ڈالتے ہو؟ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں خدا اپنے حبيب ۰ کو تسلي ديتا ہے۔ ان سخت ترين حالات ميں حضرت ختمي مرتبت ۰ کي روح پر دباو بہت زيادہ تھا اور دشوار ترين حالات ميں يہ چھوٹا فرشتہ ،معنوي وملکوتي روح کي حامل بيٹي اوردختر پيغمبر اکرم ۰ اس نور کي مانند ہے جو پيغمبر اکرم ۰ اور نئے مسلمان ہونے والے افراد کي تاريک شبوں ميں اپني پوري آب و تاب اور نورانيت کے ساتھ چمک رہا ہے۔ امير المومنين کا وجود بھي بالکل ايسا ہي نوراني تھا ۔ روايت ميں ہے کہ ’’سُمِّيَت فَاطِمَةُ زَهرَائ? ‘‘(۴) ۔حضرت فاطمہ کو ’’زہرا‘‘ اس ليے کہا جاتا ہے آپ دن ميں تين بار حضرت علي کي نگاہوں کے سامنے جلوہ فرماتيں۔

حضرت فاطمہ علیھا السلام کي علمي فضيلت اور راہ خدا ميں آپ کا جہاد

اگر عورت مرد کي پشت پناہ ہو اورزندگي کے مختلف ميدان ہائے عمل ميں اُس کے شانہ بشانہ ،قدم بقدم اوراس کي ہمت و حوصلے کو بڑھانے والي ہو تو مرد کي قوت وطاقت کئي برابر ہوجاتي ہے۔ يہ حکيمہ، عالمہ اور محدثہ خاتون، يہ خاتون کہ جو عالم ہائے غيب سے متصل تھي، يہ خاتون کہ فرشتے جس سے ہمکلامي کا شرف حاصل کرتے تھے(۵) اور يہ عظيم المرتبت ہستي کہ جس کا قلب ،علي و پيغمبر ۰ کے قلوب کي مانند ملک وملکوت کے عالموں کي نورانيت سے منور تھا،اپني تمام تر استعداد وصلاحيت کو بروئے کار لاتے ہوئے اور اپنے تمام تر اعليٰ درجات کے ساتھ تمام مراحل زندگي ميں جب تک زندہ رہي (اپنے شوہر، صحابي رسول ۰ ، اپنے امام وقت اور) امير المومنين کے پيچھے ايک بلند و بالا اور مضبوط پہاڑ کي مانند کھڑي رہي۔

آپ نے اپنے امام وقت اور اس کي ولايت کے دفاع کيلئے کسي بھي قسم کي قرباني سے دريغ نہيں کيا اور حضرت علي کي حمايت ميں ايک بہت ہي فصيح و بليغ خطبہ ديا۔ علامہ مجلسي رضوان اللہ عليہ فرماتے ہيں کہ فصاحت و بلاغت کے علما اور دانشوروں نے اس خطبے کي فصاحت و بلاغت ،اعلي اوربے مثال کلمات،جملوں کي ترتيب،

معاني اور اُس کے ظاہر و باطن کي خوبصورتي سے اپنے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا ہے! يہ نکتہ بہت ہي عجيب ہے۔علامہ مجلسي نے آئمہ عليہم السلام سے اتني کثير تعداد ميں روايات کو نقل کيا اور ہمارے ليے گرانبہا ذخيرہ چھوڑا ہے ليکن جب اس خطبے کے مقابل اپنے آپ کو پاتے ہيں تو اُن کا وجود فرط جذبات و احساسات اورخطبے کي عظمت سے لرز اٹھتا ہے! يہ بہت ہي عجيب خطبہ ہے اور اسے نہج البلاغہ کے خوبصورت اور فصيح وبليغ ترين خطبوں کا ہم وزن شمار کيا جاتا ہے۔

ايسا خطبہ جو شديد ترين غم و اندوہ کے عالم ميں ، مسجد النبي ۰ ميں سينکڑوں مردوں اور مسلمانوں کے سامنے ديا جاتا ہے۔ يہ خطبہ بغير کسي تياري اورتفکر کے في البديع اس عظيم خاتون کي زبان پر جاري ہوتا ہے۔ اس کا وہ بيانِ رسا،اس کي حکمتيں، عالم غيب سے اُس کا رابطہ ،وہ عظيم ترين مطالب، وہ معرفت الٰہي و شريعت کے گوہر ہائے بے مثل و نظير ، و ہ عمق و گہرائي ، وہ عظمت الٰہي کو بيان کرنے والے کلام کي رفعت وبلندي اور سب سے بڑھ کر وہ نوراني قلب کہ جس سے حکمت و معرفت کہ يہ چشمے جاري ہوئے ،وہ نوراني بيان کہ جس نے سب کو مبہوت کرديا اور وہ نوراني اور مبارک زبان کہ جس کے ذريعے اُس خاتون نے اپنے کلمات کو خدا کي راہ ميں بيان کيا ۔ اس تمام عظمت و فضيلت کے بارے ميں ہمارے سرمائے کي کيا حيثيت ہے کہ اگر ہم اُسے مکمل طور پر خدا کي راہ ميں خرچ کرديں! ہمارے سرمائے کيا حيثيت رکھتے ہيں؟ کيا ہمارا سرمايہ اُس عظيم سرمائے کہ جسے حضرت زہر علیھا السلام ، اُن کے شوہر ، اُن کے والد ماجد اور ان کي اولاد نے خد اکي راہ ميں خرچ کيا، قابل مقايسہ ہے؟!

ہمارا يہ مختصر علم، ہماري يہ ناقابل قوت بيان و زبان ،قليل سرمايہ ، مختصر پيمانے پر ہمارا اثر ونفوذ ، ہماري محدود صلاحيتيں اور نچلي سطح کي مختصر سي معرفت اُس عظيم اور بے مثل و نظير ذخيرے کے مقابلے ميں کہ جسے خداوند عالم نے حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کے ملکوتي و نوراني وجود ميں قرار ديا تھا، کس اہميت کا حامل ہے؟! ہمارے پاس ہے ہي کيا جو راہ خدا ميں بخل سے کام ليں؟ آج علي ، فاطمہ عليہما السلام اور آئمہ کي راہ وہي امام خميني ۲ کي راہ ہے۔ اگر کسي نے اس (راہ اور اس راہ دکھانے والي شخصيت) کونہ جانا اور نہ سمجھا ہو تو اسے اپني بصيرت کے حصول کيلئے از سر نو جدوجہد کي ضرورت ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھي ہے، اسي راہ ميں خرچ کرنا چاہيے اور يہي وہ چيز ہے کہ جو اہل بيت سے ہمارے تعلق اور لگاو کو حقيقت کا رنگ بخشتي ہے(۶) ۔

فاطمہ علیھا السلام ،عالم ہستي کا درخشاں ستارہ

ہم نے حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کے بارے ميں حقيقتاً بہت کم گفتگو کي ہے اور حقيقت تو يہ ہے کہ ہميں نہيں علم کہ ہم کيا کہيں اور کيا سوچيں؟ اس انسيّہ حورائ، روح مجرد اورخلاصہ نبوت ولايت کے بابرکت وجود کے ابعاد اور جہات ہمارے سامنے اتنے زيادہ وسيع، لامتناہي اور ناقابل درک ہيں کہ ہم جب اس شخصيت پر نگاہ ڈالتے ہيں تو وادي حيرت ميں ڈوب جاتے ہيں۔ آپ اس امر سے بخوبي واقف ہيں کہ زمانہ اُ ن من جملہ سے تعلق رکھتا ہے کہ جو انسان کو شخصيت کہ صحيح طور پر پہنچانے اور درک کرنے کي راہ ميں مانع ہوتے ہيں۔

عالم بشريت کے اکثر و بيشتر ستارے اپني حيات ميں اپنے ہم عصر افراد کے ذريعے ناقابل شناخت رہے اور انہيں پہنچانا نہيں گيا۔ انبيا واوليا ميں سے بہت کم افراد ايسے تھے جو اپنے قريبي ترين مخصوص و مختصر افرادکے ذريعے پہچانے گئے۔ ليکن حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام کي شخصيت ايسي ہے کہ جس کي نہ صرف اپنے زمانے ميں اپنے والد ،شوہر ، اولاد اور خاص شيعوں کے ذريعے سے بلکہ اُن افراد کے ذريعے سے بھي کہ جو حضرات زہرا علیھا السلام سے شايد اتنے قريب بھي نہيں تھے، مدح و ثنا کي گئي ہے۔

اہل سنت کي کتابوں ميں حضرت زہر علیھا السلام کي شخصيت

اگر آپ اہل سنت محدثين کي حضرت زہر علیھا السلام کے بارے ميں لکھي ہوئي کتابوں کا مطالعہ کريں تو آپ ديکھيں کہ پيغمبر اسلام ۰ کي زبان حضرت صديقہ طاہرہ علیھا السلام کي مدح و ستائش ميں بہت سي روايات نقل کي گئي ہيں يا حضرت زہرا علیھا السلام سے آنحضرت ۰ کے کردار و سلوک کو بيان کيا گيا ہے يا ازواج نبي يا ديگر شخصيات کي زباني تعريف کي گئي ہے۔

حضرت عائشہ سے يہ معروف حديث نقل کي گئي ہے ’’واللّٰهِ مارَاَيتُ فِي سمته و هدية اَشبَهُ بِرَسُولِ اللّٰهِ مِن فَاطِمَةَ ‘‘ ۔ميں نے پيغمبر اکرم کي شکل و شمائل ،ظاہري قيافے،درخشندگي اور حرکات و رفتار کے لحاظ سے کسي ايک کو بھي فاطمہ سے زيادہ شباہت رکھنے والا نہيں پايا‘‘ ۔وَکَانَ اِذَا دَخَلَت عَلٰي رَسُولِ اللّٰهِ قَامَ اِلَيهَا ‘‘۔ جب فاطمہ زہرا علیھا السلام رسول اللہ ۰ کے پاس تشريف لائيں تو آپ ۰ اُن کے احترام ميں کھڑے ہوجاتے اور مشتاقانہ انداز ميں ان کي طرف بڑھ کر اُن کااستقبال کرتے۔ يہ ہے ’’قَامَ اِلَيهَا ‘‘ کي تعبير کا معني۔ ايسا نہيں تھا کہ جب حضرت زہرا علیھا السلام تشريف لاتيں تو آپ ۰ صرف کھڑے ہوکر اُن کا استقبال کرتے، نہيں ! ’’قَامَ اِلَيهَا ‘‘ يعني کھڑے ہوکر اُن کي طرف قدم بڑھاتے۔بعض مقامات پر اسي راوي نے اس روايت کو اس طرح نقل کيا ہے کہ ’’وَ کَانَ يُقَبِّلُهَا ويُجلِسُهَا مَجلِسَهُ ‘‘۔’’وہ حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کو پيار کرتے، چومتے اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر اپني جگہ پر بٹھاتے‘‘۔ يہ ہے حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کا مقام ومنزلت ۔ اس باعظمت شخصيت کے بارے ميں ايک عام انسان کي کيا مجال کہ وہ لب گشائي کرے!

سيرت حضرت زہرا علیھا السلام کي کما حقہ معرفت

ميرے محترم دوستو! حضرت فاطمہ علیھا السلام کي عظمت و فضيلت اُن کي سيرت ميں واضح و آشکار ہے ۔ايک اہم مسئلہ يہ ہے کہ ہم حضرت زہرا علیھا السلام کے بارے ميں کيا شناخت و آشنائي رکھتے ہيں۔ اہل بيت کے محبوں نے پوري تاريخ ميں حتي الامکان يہي کوشش کي ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کي کما حقہ معرفت حاصل کريں۔ ايسا نہيں ہے کہ کوئي يہ خيال کرے کہ يہ عظيم شخصيت صرف ہمارے زمانے ميں ہي ہر دلعزيز ہے ۔ آج الحمدللہ اسلامي حکومت کا زمانہ ہے اور حکومت قرآن ، حکومت علوي اور حکومت اہل بيت کا دوردورہ ہے ۔جو کچھ دل ميں موجزن ہے وہ زبانوں پر بھي جاري ہوتا ہے اور ہميشہ سے ايسا ہي ہوتا رہا ہے۔

دنيائے اسلام کي قديمي ترين جامعہ (يونيورسٹي) جس کا تعلق تيسري اور چوتھي صدي ہجري سے ہے، حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کے نام پر ہے۔ اسي معروف جامعۃ الازھر کا نام حضرت زہر علیھا السلام کے نام سے اخذ کيا گيا ہے۔ اُن ايام ميں حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کے نام پر يونيورسٹي بناتے تھے۔ مصر ميں حکومت کرنے والے فاطمي خلفائ سب شيعہ تھے ۔ بنا برايں ، صديوں سے شيعوں کي يہي کوشش رہي ہے کہ اس عظيم ہستي کي کماحقہ معرفت حاصل کريں۔

عظمت خدا کا ايک نمونہ!

ايک اور مسئلہ يہ ہے کہ ہم تمام ستاروں سے اپني راہ تلاش کريں۔ ’’وَبِالنِّجمِ هُم يَهتَدُونَ ‘‘(۷) ۔عاقل انسان کا يہي عمل ہوتا ہے۔ستارہ جو آسمان پر چمک رہا ہے اُس سے استفادہ کرنا چاہيے۔ ستاروں کي بھي اپني ايک عجيب اورعظيم دنيا ہے۔ کيا يہ ستارے يہي ہيں کہ جو ہم اور آپ ديکھ رہے ہيں؟ کہتے ہيں کہ آسمان پر چمکنے والے ان چھوٹے سے ستاروں ميں سے بعض ستارے کہکشاں کہ جس ميں خود اربوں ستارے موجود ہيں، سے بڑے ہيں! قدرت الٰہي کي نہ کوئي حد ہے اور نہ کوئي اندازہ۔ عاقل انسان کہ جسے خداوند عالم نے قوتِ بصارت دي ہے، کو چاہيے کہ اپني زندگي کيلئے ان تمام ستاروں کے وجود سے فائدہ حاصل کرے۔ قر آن کہتا ہے کہ ’’وَبِالنِّجمِ هُم يَهتَدُونَ ‘‘ ۔ يہ ستاروں کے ذريعے سے راستہ کو پاتے ہيں۔

حضرت فاطمہ علیھا السلام سے درس خدا ليجئے!

ميرے عزيز دوستو! عالم خلقت کا يہ درخشاں ستارہ ايسا نہيں ہے جو ہميں نظر آرہا ہے، اس کي حقيقت اور مقام و منزلت اس ظاہري اور نظر آنے والے وجود سے بہت بلند و برتر ہے۔ ہم حضرت زہر علیھا السلام سے صرف ايک نور و روشني ديکھ رہے ہيں ليکن حقيقت اس سے بہت آگے اور بلند ہے۔ ميں اور آپ ان بزرگوار ہستي سے کيا استفادہ کرسکتے ہيں؟ روايت ميں ہے کہ’’تُظهِرُ الآَهلَ السَّمآئِ ‘‘ عالم ملکوت کے رہنے والوں کي آنکھيں حضرت زہرا علیھا السلام کے نور سے خيرہ ہوجاتي ہيں،تو ميں اور آپ کيا حقيقت رکھتے ہيں!يہاں ايک بنيادي سوال يہ ہے کہ ہم اس عظيم ہستي کے وجود سے کيا فائدہ اٹھا سکتے ہيں؟ چاہيے کہ اس روشن و درخشاں ستارے سے خدا اوراس کي بندگي کي راہ کو ڈھونڈيں کيونکہ يہي سيدھا راستہ ہے اور فاطمہ زہرا علیھا السلام نے اس راہ کو پايا اور فاطمۃ الزہرائ بن گئيں۔ خداوند عالم نے اُن کے وجود کو اعلي و ارفع قرار ديا ،اس ليے کہ وہ جانتا تھا کہ وہ عالم مادہ اور عالم ناسوت کے امتحان ميں اچھي طرح کامياب ہوں گي۔

حضرت زہر علیھا السلام کے صبر اور غوروفکر کي عظمت!اِمتَحَنَکِ اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَکِ قَبلَ اَن يَخلُقَکِ فَوَجَدَکِ لِمَا امتَحَنَکِ صَابِرَةً ‘‘(۸) ۔خدا نے آپ کي تخليق سے قبل امتحان ليا اور ان تمام حالات ميں آپ کو صابر پايا)۔ اگر خداوند عالم نے (خلقت سے قبل) اُن کے (نوراني) وجود پر اپنا خاص لطف کيا ہے تواُس کي ايک وجہ يہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام (دنيوي) امتحانات ميں کس طرح کامياب ہوںگي۔ ورنہ بہت سے افراد کي شروعات تو بہت اچھي تھيں

ليکن کيا وہ سب امتحانات ميں کامياب ہوگئے؟ ہميں اپني نجات کيلئے حضرت زہرا علیھا السلام کي زندگي کے اس حصے کي اشد ضرورت ہے۔ يہ حديث شيعہ راويوں سے نقل کي ہے کہ پيغمبر اکرم نے حضرت فاطمہ عليہا السلام سے فرمايا ’’يا فاطِمَةُ بِنتَ محمّدٍ اِنّي لَا اَغنيٰ عَنکِ مِنَ اللّٰهِ شَيئًا ‘‘۔اے ميري پياري لخت جگر، اے ميري فاطمہ ميں خدا کيلئے تم کو کسي چيز سے بے نياز نہيں کرسکتا ہوں ۔ يعني تم اپنے غوروفکر کے ذريعے سے بارگاہ الٰہي ميں آگے بڑھو اور ايسا ہي تھا۔ وہ اپني فکر و معرفت کے ذريعے اِس مقام تک پہنچيں۔

____________________

١ بحار الانوار جلد ٤٣ صفحہ ٢٦

۲ بحارالانوار ۔ جلد ٤٣ صفحہ ٧٦

۳سورہ طہ/ ١۔٢ ---۴ بحار الانوار جلد ٤٣ صفحہ ١٦

۵ حضرت استاد مولاناسيد آغا جعفر نقوي مرحوم اپنے استاد آيت اللہ شيخ محمد شريعت اصفہاني (آقائے شريعت) سے نقل فرماتے تھے کہ حديث کسا کي راوي حضرت زہرا ہيں اور يہ آپ کي عظمت وفضيلت ہے کہ آپ حضرت جبرئيل اور خدا کے درميان ہونے والي گفتگو کو خود سن کر نقل فرما رہي ہيں! (مترجم)

۶ ١٥ دسمبر ١٩٩٢ ميں نوحہ خوان حضرات سے خطاب

۷ سورہ نحل / ١٦

۸ مناقب، جلد ٣، صفحہ ٣٤١


دوسري فصل

عملي سيرت

فاطمہ ، ماں کي خالي جگہ

آپ توجہ کيجئے کہ حضرت فاطمہ علیھا السلام نے اپنے بچپن سے ليکر شہادت تک کي مختصر زندگي کس طرح بسر کي ہے؟ اپني شادي سے قبل کہ جب وہ ايک چھوٹي سے لڑکي تھيں تو انہوں نے نور و رحمت کے پيغمبر، دنيائے نور کو متعارف کرانے والي عظيم شخصيت اور عظيم عالمي انقلاب کے رہبر و مدير کے ساتھ کہ جن کا انقلاب تاقيامت باقي رہے گا کہ جس دن سے اُنہوں نے اس پرچم توحيد کو بلند کيا، حضرت زہرا علیھا السلام نے ايسا برتاو کيا کہ اُن کي کنيت ’’اُمّ اَبِيھَا‘‘ ، ’’اپنے والد کي ماں ‘‘رکھي گئي۔يہ تھي اُن کي خدمت ،کام، محنت و مشقت اور جدوجہد۔ بغير کسي وجہ کے تو اُن کو ’’اُمّ اَبِيھَا‘‘ نہيں کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ مکے کے شب و روز ہوں يا شعب ابي طالب کے اقتصادي و معاشي محاصر ے کے سخت ترين دن و رات يا وہ وقت کہ جب آپ کي والدہ حضرت خديجہ، رسول اکرم ۰ کو تنہا چھوڑ گئيں اور پيغمبر ۰ کے قلب مبارک کو مختصر عرصے ميں دو صدمے اٹھانے پڑے ، يعني حضرت خديجہ اور حضرت ابوطالب کي پے در پے وفات۔ ايسے کڑے و مشکل وقت ميں حضرت زہرا علیھا السلام آگے بڑھيںاور اپنے ننھے ہاتھوں سے رسول اکرم ۰ کے چہرہ مبارک پر پڑئے ہوئے غم و اندوہ کے گرد وغبار کو صاف کيا اور اپنے والد کي تسلي کا سبب بنيں۔ حضرت زہرا علیھا السلام کي جدوجہد يہاں سے شروع ہوئي۔ آپ ديکھئے کہ حضرت زہرا علیھا السلام کي شخصيت اور جدوجہد کا يہ بحر بيکراں کتنا عظيم ہے!

طلوع اسلام کے بعد علي و فاطمہ علیھا السلام کي خدمات

اس کے بعد اسلام کا آفتاب طلوع ہوتا ہے اور اس کے بعد آپ حضرت علي مرتضي سے رشتہ ازدواج ميں منسلک ہوجاتي ہيں۔ حضرت علي ابن ابي طالب ايک فداکار اورانقلابي رضاکار کا مصداق کامل ہيں۔يعني اُن کا پور ا وجود اسلام کي تبليغ اور اُسے مضبوط بنانے اور خدا اور رسول ۰ کي خوشنودي و رضا کے حصول کيلئے وقف تھا۔حضرت امير المومنين نے اپني ذات کيلئے کوئي سرمايہ نہيں چھوڑا۔ حضرت ختمي مرتبت کي حيات مبارکہ کے آخري دس سالوںميں امير المومنين نے جو کام بھي انجام ديا وہ صرف اسلام کي پيشرفت کيلئے تھا۔

يہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا علیھا السلام ، اميرالمومنين اور اُن کے بچے کئي کئي دن بھوکے رہتے تھے تو اس کي وجہ يہي ہے کہ ان کے پاس جو کچھ تھا وہ سب راہ خدا ميں نئے مسلمان ہونے والوں کيلئے وقف کرديا تھا ۔ ورنہ تو اگر يہ جوان تجارت اور کمانے کي فکر کرتا تو سب لوگوں سے زيادہ کماسکتا تھا۔ يہ وہي علي ہيں کہ جو آنے والے زمانے ميں کنويں کھودتے تھے اور جب پاني تيزي سے ابلنے لگتا تو باہر تشريف لاتے اور مٹيالے پاني ميں آلودہ اپنے ہاتھ و پير کو دھوئے بغير بيٹھ کر کنويں کو وقف کرنے کا حکم تحرير فرماتے۔ امير المومنين نے اس قسم کے کام بہت زيادہ انجام ديئے ہيں، کتنے ہي نخلستانوں کو آپ نے خود آباد و سرسبز و شاداب بنا ياہے، يہ وہي مدينہ ہے تو امير المومنين اس مدينے ميں بھوکے کيوں رہيں؟ حديث ميں ہے کہ ايک مرتبہ حضرت فاطمہ علیھا السلام خدمت رسول اکرم ۰ ميں تشريف لے گئيں تو فاقوں کي وجہ سے آپ کا رنگ زرد ہوگيا تھا۔ جب حضرت ختمي مرتبت ۰ نے حضرت فاطمہ علیھا السلام کي اس حالت کا مشاہدہ کيا تو اُن کا دل بہت بيقرار ہوا اور انہوں نے حضرت زہرا علیھا السلام کيلئے دعا کي۔

حضرت اميرالمومنين کي تمام جدوجہد کا ہدف، خوشنودي خدا کا حصول اور اسلام کي پيشرفت تھي، انہوں نے اپنے ليے کوئي ايک کام بھي انجام نہيں ديا۔ يہي وجہ ہے کہ وہ ايک رضاکار کا مصداق کامل ہيں۔ميں علي و فاطمہ علیھا السلام کے نام نامي سے منسوب اس ملک کے تمام رضاکاروں (بسيجيوں) کي خدمت ميں عرض کرتا ہوں کہ حضرت امير المومنين کو اپنے ليے اسوئہ عمل قرارديں۔ اس ليے کہ پوري دنيا ميں مسلمان رضاکاروں کيلئے سب سے بہترين اور بزرگترين اسوہ، حضرت علي ابن ابي طالب ہيں۔

علي سے شادي کيلئے خدا کاانتخاب

حضرت زہرا علیھا السلام سے شادي کے بہت سے طلبگار تھے ۔ يہ کوئي معمولي بات نہيں ہے اس لئے کہ آپ عالم اسلام کے عظيم رہبر اور حاکم ِوقت کي صاحبزادي تھيں۔ رشتے کے طلبگاروں ميں بڑے بڑے افراد، صاحب مقام و حيثيت اور ثروت مند افراد شامل تھے۔ ليکن حضرت زہرا علیھا السلام نے راہِ الٰہي ميں اپني پوري دنيا کو وقف کردينے والے پاکيزہ نوجوان ، جو ہميشہ ميدان جنگ کا شہسوار تھا، کا انتخاب کيا۔ يعني يہ انتخاب خدا نے کيا تھا اور وہ بھي خدا کے انتخاب سے راضي اور خوشحال تھيں۔

رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے کے بعد حضرت زہرا علیھا السلام نے حضرت علي کے ساتھ اس طرح زندگي بسر کي کہ امير المومنين اُن سے پوري طرح سے راضي تھے۔ اپني عمر کے آخري ايام ميں حضرت زہرا علیھا السلام نے حضرت علي سے جو الفاظ اد اکيے وہ اسي چيز کي عکاسي کرتے ہيں کہ ميں آج عيد کے دن اُن (مصائب کے) جملوں کو دہرانا نہيں چاہتا۔ انہوں نے صبر سے کام ليا، بچوں کي صحيح تربيت کي اور ولايت کے دفاع کيلئے تن من دھن ،سب کچھ قربان کرديا۔ اس راہ ميں تما صعوبتوں کو برداشت کيا اور اُس کے بعد خندہ پيشاني سے شہادت کااستقبال کيا او ر اُسے خوشي خوشي گلے لگايا(۱) ۔

____________________

١ نومبر ١٩٩٤ ميں نوحہ خواں حضرات سے خطاب


تيسري فصل

شوہروں کي جدوجہد وفعاليت ميں خواتين کا بنيادي کردار

عورت کا جہاد؟!

مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں ايک مرد مختلف قسم کي جدوجہد اور فعاليت انجام دينے ميں اپني بيوي کےساتھ دينے ، ہمراہي ، صبر اور موافقت کا مرہون منت ہے اور ہميشہ يہي ہوتا رہتاہے۔ يہ جو کہا گيا کہ ’’جِهَادُ المَرآَةِ حُسنُ التَّبَعُّلِ ‘‘،عورت کا جہاد بہترين شوہر داري ہے۔ ’’حُسنُ التَّبَعُّلِ ‘‘ کا کيا مطلب ہے؟کچھ لوگ خيال کرتے ہيں کہ عورت کا جہاد يہ ہے کہ وہ صرف شوہر کے آرام و سکون کے وسائل فراہم کرے، حُسنُ التَّبَعُّلِ صرف يہ نہيں ہے اور نہ ہي يہ جہاد ہے۔ عورت کا جہاد يہ ہے کہ جب ايک مومن وفداکار عورت کا شوہر مختلف قسم کي سنگين ذمے داريوں کا حامل ہے تو اُس سنگين ذمے داري کا بارگراں آپ کے کندھوں پر بھي آئے گا اور آپ خواتين بھي ان کي ماموريت اور وظائف ميں شريک ہوں گي۔ آپ خواتين کي خدمات اسي طرح کي ہيں۔

جب مرد دن بھر کے کام، کاج، تجارت اور ديگر وظائف کي بجا آوري سے تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے تو اُس کي تھکاوٹ کے اثرات گھر ميں بھي ظاہر ہوتے ہيں۔ جب وہ گھر ميں قدم رکھتا ہے تو تھکا ہوا ،خستہ تن اورر کبھي بد اخلاق بھي ہوتا ہے۔ اُس کے کام ،آفس يا تجارت و بازار سے آنے والي يہ خستگي ، بداخلاقي اور درد سر گھر کي اندورني فضا ميں بھي منعکس ہوتي ہے۔ اب اگر يہ عورت جہاد کرنا چاہتي ہے تو اس کا جہاد يہ ہے کہ وہ شوہر کي بداخلاقي اورکم ہمتي کا خوش اخلاقي سے جواب دے، اُن سختيوں اور زحمتوں کے ساتھ اپني شيريں زندگي کي تعمير کرے اور خدا کي خوشنودي کيلئے اُنہيں تحمل کرے۔ اِسے کہا جاتا ہےحُسنُ التَّبَعُّلِ يا بہترين شوہر داري۔

حضرت فاطمہ علیھا السلام کا عظيم ترين جہاد!

جب رسول اکرم ۰ نے مدينے ہجرت کي تو امير المومنين کي عمر مبارک تقريباً تئيس يا چوبيس سال تھي۔ ہجرت کے فوراً بعد مختلف قسم کے غزوات اورجنگيں شروع ہوگئيں۔ ان تما م جنگوں يا غزوات ميں يہ نوجوان يا علمدار سپاہ اسلام تھا ياسب سے آگے آگے رہتا تھا يا جنگ کا شجاع ترين مجاہد تھا۔ غرضيکہ سب سے زيادہ ذمے داري اسي نوجوان کے پاس تھيں۔

جنگ تو موسم کے مطابق نہيں ہوتي ہے، کبھي موسم گرم ہے اور کبھي ٹھنڈا، کبھي صبح اورگھر ميں بچہ بيمار ہے (اُسے دوا کي ضرورت ہے ليکن حکم جنگ آگيا تو اب جنگ کيلئے فوراً جانا ہے ، سب کچھ چھوڑ کر)۔ رسول اکرم ۰ کي دس سالہ حکومت ميں تقريباً ستر چھوٹي بڑي جنگيں ہوئيں، کچھ جنگيں چند روز پر مشتمل تھيں اور کچھ جنگيں ايک ماہ کے طويل عرصے تک لڑي گئيں۔ صرف ايک جنگ کے علاوہ امير المومنين نے تمام جنگوں اور غزوات ميں شرکت کي۔ ان جنگوں ميں شرکت کے علاوہ انہيں مختلف قسم کي ماموريت کيلئے بھيجا جاتا تھا، مثلاً رسول اکرم ۰ نے امير المومنين کو کچھ مدت کيلئے قضاوت کي غرض سے يمن بھيجا۔ بنابرايں، يہ حضرت فاطمہ علیھا السلام تھيں جو ہميشہ ان تمام حالات کا سامنا کرتي رہيں۔ يا اُن کے شوہر جنگ ميں ہوتے يا زخمي و خون آلودہ بدن کے ساتھ گھر لوٹتے يااگر يہ دونوں حالتيں نہيں بھي ہوتيں تو بھي پيغمبر اکرم ۰ کي خدمت ميں مختلف اہم امور کي انجام دہي کيلئے مدينے ميں سرگرم عمل ہيں يا پھر سفر وماموريت پر گئے ہيں۔ حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام نے ان تمام سخت و دشوار حالات کا جبکہ اُن کے فعال ترين شوہر ہميشہ کاموں ميں مشغول تھے،مہرباني ، ايثار اور فداکاري سے مقابلہ کيا اور چار بچوں کو اپني تعليم و تربيت کے زير سايہ پروان چڑھايا۔ ان ميں سے ايک حضرت امام حسين ہيں کہ پوري تاريخ بشريت ميں پرچم آزادي کو بلند کرنے والي اُن سے بڑي شخصيت کوئي اور نہيں ہے۔ پس’’حُسنُ التَّبَعُّلِ ‘‘ کا معني يہ ہے۔

يہ وجہ ہے کہ ميرا يقين ہے اور اسي بنا پر تاکيداً آپ مرد حضرات کي خدمت ميں عرض کررہا ہوں کہ آپ کي مائيں خصوصاً آپ کي زوجات آپ کے اجر وثوات ميں شريک ہيں اور يہ درحقيقت اُن کا آپ کي فعاليت ،کام اور جدوجہد ميں اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے ساتھ دينا ہے کہ جو انہوں نے انجام ديا ۔ کبھي پچا س فيصد،کبھي ساٹھ فيصد اور کبھي ستر فيصد وہ آپ کے کاموں اور اجر و ثواب ميں شريک ہيں۔

مرد،خواتين کي اکثر زحمتوں سے بے خبر ہيں!

اگر آپ خواتين اپنے شوہروں کي طرف سے زحمت و مشقت کو برداشت کرتي ہيں اور آپ کا شوہر کام ، ملازمت، اجتماعي فعاليت و جدوجہد کي وجہ سے (نہ چاہتے ہوئے بھي) يہ زحمت و مشقت آپ کے کندھوں پر ڈالتا ہے تو جان ليجئے کہ آپ کي اس زحمت و مشقت کا خدا کي بارگاہ ميں اجر محفوظ ہے۔ خواہ وہ ايک لمحے وايک گھنٹے ہي کا کيوں نہ ہو اور خواہ کوئي اُس کي طرف متوجہ نہيں بھي ہو۔

بہت سے افراد، خواتين (خصوصاً بيويوں) کي زحمت و مشقت سے بے خبر ہيں ۔ اکثر لوگ يہ سمجھتے ہيں کہ زحمت و مشقت وہ چيز ہے کہ جسے انسان اپنے زور بازو اوربدني طاقت سے برداشت کرے يا انجام دے ليکن وہ لاعلم ہيں کہ کبھي کبھي روحي اور قلبي احساسات کے ذريعے برداشت کي جانے والي زحمت کا بار بہت سنگين ہوتا ہے اور لوگوں نے اسي مطلب کو اپنے ذہنوں ميں بٹھاليا ہے ۔ مرد حضرات بھي آپ خواتين کي زحمتوں سے اچھي طرح مطلع نہيں ہيں ليکن خداوند متعال’’لَا يَخفيٰ عَلَيه خَافِيَة ‘‘ ہے اور کوئي چيز اس سے پوشيدہ نہيں رہتي، وہ آپ کے کاموں پر حاضر و ناظر ہے اور آپ اُس کي بارگاہ ميں مآجور ہيں۔

پس آپ مرد حضرات کي خدمت ميں عرض کروں کہ ان خواتين کي قدر کيجئے کہ جو زندگي کے مسائل ميں اپنے اپنے محاذ جنگ پر رہتے ہوئے آپ کے ساتھ آپ کي فعاليت و جدّوجہد شريک ہيں۔ آپ خواتين کي خدمت ميں بھي عرض کروں يہ مرد حضرات جو کام انجام دے رہے ہيں اگر اچھي طرح انجام ديں تو ان کے يہ کام بہترين کاموں سے تعلق رکھتے ہيں۔ راہ انقلاب ميں پاسداري و حفاظت ،بہترين کاموں سے تعلق رکھتي ہے اور اس کا اجر وثواب بھي بہت زيادہ ہے۔ اگر آپ اپنے جوان شوہر جو اس ذمے داري کاحامل ہے،کي کاميابي ميں اُس کي مدد کريں تو اُسي نسبت سے خدا کي بارگاہ ميں آپ کي قدر و اہميت اور اجر وثواب زيادہ ہوگا۔ ہمت و حوصلے سے ان وظائف کو انجام دينا ہي ہر ملک ميں بڑے بڑے کاموں کي انجام دہي کا سبب بنتا ہے۔ جب ايک ملک کے مردوں ،خواتين اور پيرو جوان اورمختلف افراد کي ہمت و حوصلے اور ارداے و طاقت ايک ساتھ جمع ہوجائے تو اُس قوم سے عظمت و قدرت کا ايک سيلاب امڈتا ہے کہ جو قوموں کي بے مثل ونظير طاقت و قدرت کا باعث بنتا ہے(۱) ۔

____________________

١ ٢٠٠٢ ميں ولي امر مسلمين کي حفاظت پر مامور سپاہ سے خطاب


چھٹا باب

اسلامي گھرانہ اور خانداني نظام زندگي

دريچہ

اسلام ميں ايک معاشرے کي اصل اکائي گھرانہ ہے ۔يہي وجہ ہے کہ اسلام گھرانے اور خاندان کے استحکام کو بہت زيادہ اہميت ديتا ہے۔ اس ليے کہ گھرانہ، آرام و سکون و آسائش ، امن ،تربيت و ايمان اور معنويت کي پرورش کا اور روحي اور نفسياتي مشکلات کے حل کي جگہ ہے۔ يہ خاندان ہي ہے جہاں ثقافت ، اعتقادات، خانداني روايتيں اور آداب و روسوم اگلي نسلوں تک منتقل ہوتے ہيں ۔ يہي وہ مقام ہے کہ جہاں کھوئي ہوئي طاقت کو بحال کيا جاتا ہے، ارادوں کو مضبوط بنايا جاتا ہے اور خوشبختي اور بہشت بريں کا راستہ اسي گھرانے سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسلام نے گھر کے ماحول ميں شادابي و نشاط اورمعنويت و محبت پر بہت زيادہ تاکيد کي ہے۔


پہلي فصل

اسلام ميں گھرانے اور خاندان کي اہميت

گھرانہ ، کلمہ طيبہ يا پاکيزہ بنياد

گھرانہ، کلمہ طيبہ(۱) کي مانند ہے اور کلمہ طيبہ کي خاصيت يہ ہے کہ جب يہ وجود ميں آتا ہے تو مسلسل اس کے وجود سے خير وبرکت اورنيکي ملتي رہتي ہے اوروہ اپنے اطراف کي چيزوں ميں نفوذ کرتا رہتا ہے ۔ کلمہ طيبہ وہي چيزيں ہيں کہ جنہيں خداوند متعال نے انسان کي فطري ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کي صحيح بنيادوں کے ساتھ اُسے تحفہ ديا ہے۔ يہ سب کلمہ طيبہ ہيں خواہ وہ معنويات ہوں يا ماديات(۲) ۔

گھرانہ ، انساني معاشرے کي اکائي

جس طرح ايک انساني بدن ايک اکائي ’’سيل ‘‘ يا ’’خليے‘‘ سے تشکيل پاتا ہے اور ان خليوں کي نابودي ،خرابي اور بيماري خودبخود اور فطري طور پر بدن کي بيماري پر اختتام پذير ہوتي ہے۔ اگر ان اکائيوں ’’خليوں‘‘ ميں پلنے والي بيماري بڑھ جائے تو خطرناک شکل ميں بڑھ کر پورے انساني بدن کيلئے خطرے کا باعث بن سکتي ہے۔ اسي طرح انساني معاشرہ بھي اکائيوں سے مل کر بنا ہے جنہيں ہم ’’گھرانہ ‘‘ کہتے ہيں اور گھرانہ انسان کے معاشرتي بدن کي اکائي ہے۔ جب يہ صحيح و سالم ہوں گے اور صحيح اور اچھا عمل انجام ديں گے تو معاشرے کا بدن بھي يقينا صحيح و سالم ہوگا۔(۳)

اچھا گھرانہ اور اچھا معاشرہ

اگر کسي معاشرے ميں ايک گھرانے کي بنياديں مستحکم ہوجائيں،مياں بيوي ايک دوسرے کے حقوق کا خيال رکھيں ،آپس ميں خوش رفتاري،اچھے اخلاق اور باہمي تعاون سے پيش آئيں، مل کر مشکلات کو حل کريں اوراپنے بچوں کي اچھي تربيت کريں تو وہ معاشرہ بہتر صورتحال اور نجات سے ہمکنار ہوگا اور اگر معاشرے ميں کوئي مصلح موجود ہوتو وہ معاشروں کي اصلاح کرسکتا ہے۔ ليکن اگر صحيح و سالم اور اچھے گھرانے ہي معاشرے ميں موجود نہ ہوں تو کتنے ہي بڑے مصلح کيوں نہ آجائيں وہ معاشرے کي اصلاح نہيں کرسکتے۔(۴)

ہر وہ ملک جس ميں گھرانے کي بنياديں مستحکم ہوں تو اُس ملک کي بہت سے مشکلات خصوصاً اور اخلاقي مشکلات اُس مستحکم اورصحيح و سالم گھرانے کي برکت سے دور ہوجائيں گے يا سرے ہي سے وجود ميں نہيں آئيں گي۔(۵)

گھر کو بسانا دراصل انسان کي ايک اجتماعي ضرورت ہے ۔ چنانچہ اگر کسي معاشرے ميں ’’گھرانے‘‘ صحيح و سالم اور مستحکم ہوں ، حالات زمانہ اُن کے پائے ثبات ميں لغزش پيدا نہ کريں اور وہ مختلف قسم کي اجتماعي آفات سے محفوظ ہوں تو ايسا معاشرا اچھي طرح اصلاح پاسکتا ہے، اس کے باشندے فکري رشد حاصل کرسکتے ہيں، وہ روحاني لحاظ سے مکمل طور پر صحيح و سالم ہوں گے اور وہ ممکن ہے کہ نفسياتي بيماريوں سے بھي دور ہوں۔(۶)

گھرانہ، روح و ايمان اور پاکيزہ فکر وخيال کي بہترين پرورش گاہ

اچھے گھرانوں سے محروم معاشرہ ايک پريشان، غير مطمئن اور زبوں حالي کا شکار معاشرہ ہے اور ايک ايسا معاشرہ ہے کہ جس ميں ثقافتي ، فکري اور عقائدي ورثہ آنے والي نسلوں تک با آساني منتقل نہيں ہوسکتا ۔ ايسے معاشرے ميں انساني تربيت کے بلند مقاصد حاصل نہيں ہوپاتے يا اُس ميں صحيح و سالم گھرانوں کا فقدان ہوتا ہے يا پھر اُن کي بنياديں متزلزل ہوتي ہيں۔ ايسے معاشروں ميں انسان اچھے تربيتي مراکز اور پرورش گاہوں ميں بھي اچھي پرورش نہيں پاسکتے۔(۷)

صحيح وسالم گھرانے کا فقدان اس بات کا سبب بنتا ہے کہ نہ اُس ميں بچے صحيح پرورش پاتے ہيں اور نہ ہي نوجوان اپني صحيح شخصيت تک پہنچ سکتے ہيں اور انسان بھي ايسے گھرانوں ميں کامل نہيں بنتے۔ اس گھر سے تعلق رکھنے والے مياں بيوں بھي صالح اور نيک نہيں ہوں گے، اس گھر ميں اخلاقيات کابھي فقدان ہوگا اور گزشتہ نسل کے اچھے اورقيمتي تجربات اگلي نسلوں تک منتقل نہيں ہوسکتے۔(۸) جب ايسے معاشرے ميں اچھے گھرانے موجود نہ ہوں تو جان ليجئے کہ اس معاشرے ميں ايمان اور دينداري کو وجود ميں لانے کا کوئي مرکز موجود نہيں ہے۔(۹)

ايسے معاشرے کہ جن ميں گھرانوں کي بنياديں کمزور ہيں يا جن ميں اچھے گھرانے سرے ہي سے وجود نہيں رکھتے يا اگر ہيں تو ان کي بنياديں متزلزل ہيںتو وہ معاشرے نابوي کے دھانے پر کھڑے ہيں۔ ايسے معاشروں ميں نفسياتي الجھنوں اور بيماريوں کے اعداد و شمار اُن معاشروں کي بہ نسبت زيادہ ہيں جن ميں اچھے اور مستحکم گھرانے موجود ہيں اور مرد و عورت ’’ گھرانے‘‘ جيسے ايک مضبوط مرکز سے متصل ہيں۔(۱۰)

گھرانہ ، سکون اور اصلاح کا مرکز

انساني معاشرے ميں گھرانہ بہت اہميت اور قدر وقيمت کا حامل ہے۔ آنے والي نسلوں کي تربيت اور معنوي،فکري اور نفسياتي لحاظ سے صحيح و سالم انسانوں کي پرورش کيلئے گھرانے کے فوائد تک نہ کوئي پہنچ سکتا ہے اور نہ ہي کوئي چيز تعليم و تربيت کے ميدان ميں گھر و گھرانے کي جگہ لے سکتي ہے ۔ جب خانداني نظام زندگي بہتر انداز ميں موجود ہو تو ان کروڑوں انسانوں ميں سے ہر ايک کيلئے ديکھ بھال کرنے والے (والدين جيسے دو شفيق موجود) ہميشہ ان کے ہمراہ ہوں گے کہ جن کا کوئي نعم البدل نہيں ہوسکتا۔(۱۱)

’’گھرانہ‘‘ايک امن و امان کي وادي محبت اور پُر فضا ماحول کا نام ہے کہ جس ميں بچے اوروالدين اس پُر امن ماحول اور قابل اعتماد فضا ميں اپني روحي و فکري اور ذہني صلاحيتوں کو بہتر انداز ميں محفوظ رکھتے ہوئے اُن کي پرورش اور رُشد کا انتظام کرسکتے ہيں۔ ليکن جب خانداني نظام کي بنياديں ہي کمزور پڑجائيں تو آنے والي نسليں غير محفوظ ہوجاتي ہيں۔(۱۲)

انسان تربيت، ہدايت اور کمال وترقي کيلئے خلق کيا گيا ہے اور يہ سب اہداف صرف ايک پر امن ماحول ميں ہي حاصل ہوسکتے ہيں۔ايسا ماحول کہ جس کي فضا کو کوئي نفسياتي الجھن آلودہ نہ کرے اور ايسا ماحول کہ جس ميں انساني صلاحيتيں اپنے کمال تک پہنچ سکيں۔ ان مقاصد کے حصول کيلئے ايسے ماحول کاوجود لازمي ہے جس ميں تعليمات ايک نسل کے بعد دوسري نسل ميں منعکس ہوں اور انسان بچپن ہي سے صحيح تعليم ، مددگار نفسياتي ماحول اور فطري معلموں يعني والدين کے زير سايہ تربيت پائے جو عالم دنيا کے تمام انسانوں سے زيادہ اس پر مہربان ہيں۔(۱۳)

اگرمعاشرے ميں صحيح خانداني نظام رائج نہ ہوتو انساني تربيت کے تمام اقدامات ناکام ہوجائيں گے اور اُس کي تمام روحاني ضرورتوں کو مثبت جواب نہيں ملے گا۔ يہ وجہ ہے کہ انساني تخليق اور فطرت ايسي ہے کہ جو اچھے گھرانے، صحيح و کامل خانداني نظام کے پر فضا اور محبت آميز ماحول اور والدين کي شفقت و محبت کے بغير صحيح و کامل تربيت ، بے عيب پرورش اورنفسياتي الجھنوں سے دور اپني لازمي روحاني نشوونما تک نہيں پہنچ سکتي ہے۔ انسان اپني باطني صلاحيتوں اور اپنے احساسات و جذبات کے لحاظ سے اُسي وقت مکمل ہو سکتا ہے کہ جب وہ ايک مکمل اور اچھے گھرانے ميں تربيت پائے۔ ايک مناسب اور اچھے خانداني نظام کے تحت چلنے والے گھر ميں پرورش پانے والے بچوں کيلئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ نفسياتي لحاظ سے صحيح و سالم اور ہمدردي اور مہرباني کے جذبات سے سرشار ہوں گے۔(۱۴)

ايک گھرانے ميں تين قسم کے انسانوں کي اصلاح ہوسکتي ہے۔ ايک مرد ہيں جو اس گھر کے سرپرست يا والدين ہيں، دوسرے درجے پر خواتين جو ماوں کا کردار ادا کرتي ہيں اور تيسرے مرحلے پر اولاد جو اس معاشرے کي آنے والے نسل ہے۔(۱۵)

اچھے گھرانے کي خوبياں

ايک اچھا گھرانہ يعني ايک دوسرے کي نسبت اچھے، مہربان، پرخلوص جذبات اور احساسات کے مالک اور ايک دوسرے سے عشق و محبت کرنے والے مياں بيوي جو ايک دوسرے کي جسماني اور روحاني حالت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق ايک دوسرے کي مدد کريں،ايک دوسرے کي فعاليت،کام کاج اور ضرورتوں کو اہميت ديں اور ايک دوسرے کو آرام و سکون اور بہتري اوربھلائي کو مدنظر رکھيں۔

دوسرے درجے پر اس گھر ميں پرورش پانے والي اولاد ہے کہ جس کي تربيت کيلئے وہ احساس ذمے داري کريں اور مادي اور معنوي لحاظ سے اسے صحيح و سالم پرورش کا ماحول فراہم کريں۔ اُن کي خواہش يہ ہوني چاہيے کہ اُن کے بچے مادي اور معنوي لحاظ سے بہتري اور سلامتي تک پہنچيں،وہ اپني اولاد کو بہترين تعليم و تربيت ديں، انہيں مودب بنائيں، اچھے طريقوں سے اپني اولاد کو بُرے کاموں کي انجام دہي سے روکيں اور بہترين صفات سے اُن کي روح کو مزين کريں۔ ايک ايسا گھرانہ دراصل ايک ملک ميں ہونے والي تمام حقيقي اصلاحات کي بنياد فراہم کرسکتا ہے۔ چونکہ ايسے گھرانوں ميں اچھے انسان ہي تربيت پاتے ہيں اور وہ بہترين صفات کے مالک ہوتے ہيں۔ جب کوئي معاشرہ شجاعت، عقلي استدلال ، فکري آزادي، احساس ذمے داري، پيارو محبت، جرآت و بہادري، وقت پر صحيح فيصلہ کرنے کي صلاحيت، دوسروں کي خير خواہي اور اپني خانداني پاکيزگي اور نجابت کے ساتھ پرورش پانے والے لوگوں کا حامل ہو تو وہ کبھي بدبختي اورروسياہي کي شکل نہيں ديکھے گا۔(۱۶)

اچھے خانداني نظام ميں ثقافت کي منتقلي کي آساني

ايک معاشرے ميں اُس کي تہذيب وتمدن اور ثقافت کے اصولوں کي حفاظت اور آئندہ نسلوں تک اُن کي منتقلي اچھے گھرانے يا بہترين خانداني نظام کي برکت ہي سے انجام پاتي ہے۔(۱۷)

رشتہ ازدواج ميں نوجوان لڑکے اور لڑکي کے منسلک ہونے کا سب سے بہترين فائدہ ’’گھر بسانا‘‘ ہے ۔ اس کا سبب بھي يہي ہے کہ ايک معاشرہ اچھے گھرانوں، خانداني افراد اور بہترين نظام تربيت پر مشتمل ہو تو وہ بہترين معاشرہ کہلائے جانے کا مستحق ہے اور وہ اپنے تاريخي اور ثقافتي خزانوں اور ورثے کو بخوبي احسن اگلي نسلوں تک منتقل کرے گا اور ايسے معاشرے ميں بچے بھي صحيح تربيت پائيں گے۔ چنانچہ وہ ممالک اور معاشرے کہ جہاں خانداني نظام مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو وہاں ثقافتي اور اخلاقي مسائل جنم ليتے ہيں۔(۱۸)

اگر موجودہ نسل اس بات کي خواہشمند ہو کہ وہ اپني ذہني اورفکري ارتقا ، تجربات اور نتائج کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرے اور ايک معاشرہ اپنے ماضي اور تاريخ سے صحيح معني ميں فائدہ حاصل کرے تو يہ صرف اچھے گھرانوں يا اچھے خانداني نظام کے ذريعے ہي ممکن ہے ۔ گھر کي اچھي فضا ميں اس معاشرے کي ثقافتي اورتاريخي بنيادوں پر ايک انسان اپنے تشخص کو پاتا ہے اور اپني شخصيت کي تعمير کرتا ہے ۔ يہ والدين ہي ہيں جو غير مستقيم طور پر بغير کسي جبر اور تصنع (بناوٹ) کے فطري اور طبيعي طور پر اپنے فکري مطالب، عمل، معلومات اور تمام مقدس امور کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرتے ہيں۔(۱۹)

خوشحال گھرانہ اور مطمئن افراد

اسلام ’’گھرانے‘‘ پر مکمل توجہ ديتا ہے اور گھرانے پر اس کي خاص الخاص نظر اپنے پورے اہتمام کے ساتھ جمي ہوئي ہے کہ جس کي وجہ سے خانداني نظام يا گھرانے کو انساني حيات ميں مرکزيت حاصل ہے۔اسي ليے اس کي بنيادوں کو کمزور يا کھوکھلا کرنے کو بدترين فعل قرار دياگيا ہے۔(۲۰)

اسلام ميں گھرانے کا مفہوم يعني ايک چھت کے نيچے دو انسانوں کي سکونت ،دو مختلف مزاجوں کا بہترين اور تصوراتي روحاني ماحول ميں ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا، دو انسانوں کے اُنس و اُلفت کي قرار گاہ اور ايک انسان کے ذريعے دوسرے انسان کے کمال اور معنوي ترقي کا مرکز ، يعني وہ جگہ کہ جہاں انسان پاکيزگي حاصل کرے اور اُسے روحاني سکون نصيب ہو۔ يہ ہے اسلام کي نظر اور اسي ليے اس مرکز ’’گھرانے‘‘ کو اتني اہميت دي ہے۔(۱۲)

قرآن کے بيان کے مطابق اسلام نے مرد وعورت کي تخليق ،ان کے ايک ساتھ زندگي گزارنے اور ايک دوسرے کا شريک حيات بننے کو مياں بيوي کيلئے آرام و سکون کا باعث قرار ديا ہے۔(۲۲)

قرآن ميں ارشاد خداوندي ہے کہ ’’وَجَعَلَ مِنهَا زَوجَهَا لِيَسکُنَ اِلَيهَا ‘‘۔(۲۳) جہاں تک مجھے ياد ہے کہ قرآن ميں دو مرتبہ ’’سکون‘‘ کي تعبير آئي ہے۔ ’’وَمِن آيَاتِهِ خَلَقَ لَکُم مِن آَنفُسَکُم آَزوَاجًا لِتَسکُنُوا اِلَيهَا ‘‘(۲۴) خداوند عالم نے انساني جوڑے کو اس کي جنس (انسانيت) سے ہي قرار ديا ہے ۔يعني عورت کا جوڑا مرد اور مرد کا جوڑا عورت تاکہ ’’لِيَسکُنَ اِلَيهَا ‘‘ يعني يہ انسان خواہ مرد ہو يا عورت ،اپنے مياں يا بيوي سے آرام وسکون حاصل کرے۔(۲۵)

يہ آرام و سکون دراصل باطني اضطراب کي زندگي کے پر تلاطم دريا سے نجات و سکون پانے سے عبارت ہے۔ زندگي ايک قسم کا ميدان جنگ ہے اور انسان اس ميں ہميشہ ايک قسم اضطراب و پريشاني ميں مبتلا رہتا ہے لہٰذا يہ سکون بہت اہميت کا حامل ہے۔ اگر يہ آرام و سکون انسان کو صحيح طور پر حاصل ہوجائے تو اُس کي زندگي سعادت و خوش بختي کو پالے گي، مياں بيوي دونوں خوش بخت ہوجائيں گے اور اس گھر ميں پيدا ہونے والے بچے بھي بغير کسي نفسياتي دباو اور الجھن کے پرورش پائيں گے اور خوش بختي اُن کے قدم چومے گي۔ صرف مياں بيوي کے باہمي تعاون، اچھے اخلاق و کردار اور پرسکون ماحول سے اس گھرانے کے ہر فرد کيلئے سعادت و خوش بختي کي زمين ہموار ہوجائے گي۔(۲۶)

گھرانہ ، زندگي کي کڑي دھوپ ميں ايک ٹھنڈي چھاوں

جب مياں بيوں دن کے اختتام پر يا درميان ميں ايک دوسرے سے ملاقات کرتے ہيں تو دونوں ايک دوسرے سے يہي اميد رکھتے ہيں کہ اُنہوں نے گھر کے ماحول کو خوش رکھنے، اُسے زندہ رکھنے اور تھکاوٹ اورذہني الجھنوں سے دور کرکے اُسے زندگي گزارنے کے قابل بنانے ميں اپنا اپنا کردار موثر طريقے سے ادا کيا ہوگا تو ان کي ايک دوسرے سے توقع بالکل بجا اور درست ہے۔ اگر آپ بھي يہ کام کرسکيں تو حتماً انجام ديں کيونکہ اس سے زندگي شيريں اور ميٹھي ہوتي ہے ۔(۲۷)

انساني زندگي ميں مختلف ناگزير حالات و واقعات کي وجہ سے طوفان اٹھتے رہتے ہيں کہ جس ميں وہ ايک مضبوط پناہ گاہ کا متلاشي ہوتا ہے۔ مياں بيوں کا جوڑا اس طوفان ميں ايک دوسرے کي پناہ ليتا ہے۔ عورت اپنے شوہر کے مضبوط بازووں کا سہارا لے کر اپنے محفوظ ہونے کا احساس کرتي ہے اور مرد اپني بيوي کي چاہت و فداکاري کي ٹھنڈي چھاوں ميں سکھ کا سانس ليتا ہے۔ مرد اپني مردانہ کشمکش والي زندگي ميں ايک ٹھنڈي چھاوں کا ضرورت مند ہے تاکہ وہاں کي گھني چھاوں ميں تازہ دم ہوکر دوبارہ اپنا سفر شروع کرے۔ يہ ٹھنڈي چھاوں اُسے کب اور کہاں نصيب ہوگي؟ اس وقت کہ جب وہ اپنے گھر کي عشق و اُلفت اور مہرباني و محبت سے سرشار فضا ميں قدم رکھے گا ، جب وہ اپني شريک حيات کے تبسم کو ديکھے گا کہ جو ہميشہ اس سے عشق و محبت کرتي ہے، زندگي کے ہر اچھے برے وقت ميں اُس کے ساتھ ساتھ ہے، زندگي کے ہر مشکل لمحے ميں اس کے حوصلوں ميں پختگي عطا کرتي ہے اور اُسے ايک جان دو قالب ہونے کا احساس دلاتي ہے۔ يہ ہے زندگي کي ٹھنڈي چھاوں۔(۲۸)

بيوي بھي اپني روزمرہ کي ہزاروں جھميلوں والي زنانہ زندگي ميں (صبح ناشتے کي تياري، بچوں کو اسکول کيلئے تيار کرنے، گھر کو سميٹنے اور صفائي ستھرائي ،دوپہر کے کھانے کي تياري، بچوں کي اسکول سے آمد اور انہيں دوپہر کا کھانا کھلانے ، سلانے ، نماز ظہر وعصر، شام کي چائے، شوہر کي آمد اور رات کے کھانے کي فکر جيسي ديگر) دسيوں مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتي ہے ۔ خواہ وہ گھر سے باہر کام ميں مصروف ہو اور مختلف قسم کي سياسي اور اجتماعي فعاليت انجام دے رہي ہو يا گھر کي چار ديواري ميں گھريلو کام کاج ميں عرق جبيں بہار ہي ہو کہ اس کے اندرون خانہ کام کي زحمت و سختي اور اہميت گھر سے باہر اُس کي فعاليت سے کسي بھي طرح کم نہيں ہے !

ايک صنف نازک اپني لطيف و ظريف روح کے ساتھ جب ان مشکلات کا سامنا کرتي ہے یہ تو اُسے پہلے سے زيادہ آرام و سکون اور ايک مطمئن شخص پر اعتماد کرنے کي ضرورت ہوتي ہے، ايسا شخص کون ہوسکتا ہے؟ يہ اُس کے وفادار شوہر کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے!(۲۹)

انسان کوئي گاڑي يا مشين تو نہيں ہے ، انسان روح اور جسم کا مرکب ہے ، وہ معنويت کا طالب ہے، وہ ہمدردي، مہرباني و فداکاري کے جذبات و احساسات کا نام ہے اور وہ زندگي کي کڑي دھوپ ميں آرام و سکون کا متلاشي ہے اور اُسے آرام و سکون صرف گھر کي ہي فضا ميں ميسر آسکتا ہے ۔(۳۰)

گھر کے ماحول کو آرام دہ ہونا چاہيے۔ مياں بيوي ميں ايک دوسرے کيلئے موجود ہمدردي اور ايثار ومحبت کے يہ احساسات اُن کے اندروني سکون ميں اُن کے مددگار ثابت ہوتے ہيں۔ اس آرام و سکون کا ہرگز يہ مطلب نہيں ہے کہ انسان اپنے کام کاج کو متوقف اور فعاليت کو ترک کردے! نہيں، کام کاج اور فعاليت ضروري اور بہت اچھي چيز ہے۔ آرام وسکون کا تعلق دراصل انساني زندگي کي مشکلات اور مسائل سے ہے۔

انسان کبھي کبھي اپني زندگي ميں پريشان ہوجاتا ہے تو اُس کي بيوي يا شوہر اُسے سکون ديتا ہے ۔ يہ سب اُسي صورت ميں ممکن ہے کہ جب گھر کي فضا اور ماحول آپس کي چپقلش، لڑائي، جھگڑوں ،باہمي نااتفاقي اور مشکلات کا شکار نہ ہو۔(۳۱)

اچھے گھرکا پرسکون ماحول

ہر انسان کو خواہ مرد ہو يا عورت، اپني پوري زندگي ميں شب وروز مختلف پريشانيوں اور مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور غير متوقع حالات وواقعات سے اس کي زندگي اضطراب کا شکار رہتي ہے ۔ يہ حادثات و واقعات انسان کو اعصابي طور پر کمزور،خستہ تن اور اس کي روح کو بوجھل اور طبيعت و مزاج کو چڑچڑا بناديتے ہيں۔ ايسي حالت ميں جب انسان گھر کي خوشگوار فضا ميں قدم رکھتا ہے تو اُس گھر کا روح افزا ماحول اور سکون بخش نسيم اُسے توانائي بخشتي ہے اور اُسے ايک نئے دن و رات اور نئے عزم و حوصلے کے ساتھ خدمت و فعاليت انجام دينے کيلئے آمادہ و تيار کرتي ہے ۔ اسي لئے خانداني نظام زندگي يا گھرانے، انساني حيات کي تنظيم ميں بہت کليدي کردار ادا کرتے ہیں۔ البتہ يہ بات پيش نظر رہے کہ گھر کو صحيح روش اور اچھے طريقے سے چلانا چاہيے۔(۳۲)

رشتہ ازدواج کے بندھن ميں ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا اور گھر بسانا، مياں بيوي کيلئے زندگي کا سب سے بہترين ہديہ اور سب سے اہم ترين زمانہ ہے۔ يہ روحاني آرام و سکون ، زندگي کي مشترکہ جدوجہد کيلئے ايک دوسرے کو دلگرمي دينے، اپنے ليے نزديک ترين غمخوار ڈھونڈھنے اور ايک دوسرے کي ڈھارس باندھنے کا ايک وسيلہ ہے کہ جو انسان کي پوري زندگي کيلئے اشد ضروري ہے۔(۳۳)

گھريلو فضا ميں خود کو تازہ دم کرنے کي فرصت

ايک گھر ميں رہنے والے مياں بيوي جو ايک دوسرے کي زندگي ميں شريک اور معاون ہيں، گھر کے پرفضا ماحول ميں ايک دوسرے کي خستگي ، تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا شکار کرنے والي يکسانيت کودور کرکے کھوئي ہوئي جسماني اور ذہني قوتوں کو بحال اور اپني ہمت کو تازہ دم کرکے خود کو زندگي کي بقيہ راہ طے کرنے کيلئے آمادہ کرسکتے ہيں۔

آپ جانتے ہيں ہيں کہ زندگي ايک ميدان جنگ ہے۔ پوري زندگي عبادت ہے ايک بڑي مدت والي جنگ سے، فطري و طبيعي عوامل سے جنگ، اجتماعي موانع سے جنگ اور انسان کي اپني اندروني دنيا سے جنگ کہ جسے جہاد نفس کہا گيا ہے۔ لہٰذا انسان ہر وقت اس حالت جنگ ميں ہے۔ انسان کا بدن بھي ہر وقت جنگ ميں مصروف عمل ہے اور وہ ہميشہ مضر عوامل سے جنگ ميں برسرپيکار ہے ۔ جب تک بدن ميں اس لڑائي کي قدرت اور قوت مدافعت موجود ہے آپ کا جسم صحيح و سالم ہے ۔ ضروري بات يہ ہے کہ انسان ميں يہ مبارزہ اورجنگ ، درست سمت ميں اپني صحيح اور اچھي روش و طريقے اور صحيح عوامل کے ساتھ انجام پاني چاہيے۔

زندگي کي اس جنگ ميں کبھي استراحت و آرام لازمي ہوتا ہے۔ زندگي ايک سفر اور مسلسل حرکت کا نام ہے اور اس طولاني سفر ميں انسان کي استراحت گاہ اس کا گھر ہے(۳۴) ۔

دينداري ، خاندان کي بقا کا راز

اپنے گھر کو آباد کرنے اور اس کي حفاظت کيلئے اسلامي احکام کا خيال رکھنا ضروري ہے تاکہ يہ گھر ہميشہ آباد اور خوشحال رہے۔ لہٰذا آپ ، ديندار گھرانوں ميں کہ جہاں مياں بيوي اسلامي احکامات کا خيال رکھتے ہيں، ديکھيں گے کہ وہ سالہا سال مل جل کر زندگي بسر کرتے ہيں اور مياں بيوي کي محبت ايک دوسرے کيلئے ہميشہ باقي رہتي ہے، ہرگزرنے والا دن اُن کي چاہت ميں اضافہ کرتا ہے، ايک دوسرے سے جدائي اور فراق کا تصور بھي دونوں کيلئے مشکل ہوجاتا ہے اور اُن دونوں کے دل ايک دوسرے کي محبت سے سرشار ہوتے ہيں۔ يہ ہے وہ محبت و چاہت جو کسي گھرانے يا خاندان کو دوام بخشتي ہے اور يہي وجہ ہے کہ اسلام نے ان چيزوں کو اہميت دي ہے(۳۵) ۔

اگر اسلام کے بتائے ہوئے طريقے اور روش پر عمل درآمد کيا جائے تو ہمارا خانداني نظام پہلے سے زيادہ مستحکم ہوجائے گا کہ جس طرح گزشتہ زمانے ميں _ طاغوتي دور حکومت ميں _ جب لوگوں کا ايمان ، سالم اور محفوظ تھا اور ہمارے گھرانے اور خانداني نظام مضبوط اور مستحکم تھے تو اس ماحول ميں مياں بيوي ايک دوسرے سے پيار کرنے والے تھے اور گھر کے پرسکون ماحول ميں اپني اولاد کي تربيت کرتے تھے اور آج بھي يہي صورتحال ہے ۔ وہ گھرانے اور خاندان جو اسلامي احکامات اور آداب کا خيال رکھتے ہيں وہ غالباً دوسروں کي بہ نسبت زيادہ مضبوط ومستحکم اور بہتر ہوتے ہيں اور وہ اپنے بچوں کو پرسکون ماحول فراہم کرتے ہيں(۳۶) ۔

دينداري ، خاندان کي حقيقي صورت

اسلامي معاشرے ميں مياں بيوي، زندگي کے سفر ميں ايک ساتھ، ايک دوسرے سے متعلق ، ايک دوسرے کي نسبت ذمہ دار، اپني اولاد کي تربيت اور اپنے گھرانے کي حفاظت کے مسؤل اور جوابدہ تصور کيے جاتے ہيں۔ آپ ملاحظہ کيجئے کہ اسلام ميں گھرانے اور خاندان کي اہميت کتني ہے!(۳۷)

اسلامي ماحول ميں خاندان کي بنياديں اتني مضبوط اور مستحکم ہيں کہ کبھي آپ ديکھتے ہيں دو نسليں ايک ہي گھر ميں زندگي گزار ديتي ہيں اور دادا، باپ اور بيٹا (پوتا) باہم مل کر ايک جگہ زندگي گزارتے ہيں، يہ کتني قيمتي بات ہے! نہ اُن کے دل ايک دوسرے سے بھرتے ہيں اور نہ ايک دوسرے کي نسبت بدبين و بدگمان ہوتے ہيں بلکہ ايک دوسرے کي مدد کرتے ہيں۔(۳۸)

اسلامي معاشرے ميں يعني ديني اور مذہبي فضا ميں ہم مشاہدہ کرتے ہيں کہ دو آدمي ايک طويل عرصے تک باہم زندگي بسر کرتے ہيں اور ايک دوسرے سے بالکل نہيں اُکتاتے بلکہ ايک دوسرے کيلئے اُن کي محبت و خلوص زيادہ ہوجاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ايک دوسرے کيلئے اُن کي اُلفت، اُنس اور چاہت ميں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور يہ سب آثار ، دينداري ،مذہبي ہونے اور خداوند عالم کے بتائے ہوئے احکامات اور آداب اسلامي کي رعايت کرنے کا ہي نتيجہ ہيں۔(۳۹)

اسلام اور اسلامي ثقافت و تمدن ميں خاندان کو دوام حاصل ہے۔ گھر ميں دادا، دادي اور ماں باپ سبھي تو موجود ہيں جو اپنے پوتے پوتيوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلا کر جوان کرتے ہيں ۔ يہي لوگ ہيں جو آداب و رسوم کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرتے ہيں اور پچھلي نسل اپنے تاريخي اورثقافتي ورثے کو آنے والي نسلوں کے ہاتھوں ميں باحفاظت تھماتي ہے۔ ايسے ماحول ميں ايک دوسرے کٹ کر رہنے، تنہائي اور عزت نشيني اختيار کرنے اور مہرباني ومحبت سے عاري سلوک روا رکھنے کے تمام دروازے اس گھر کے تمام افراد کيلئے بند ہيں(۴۰)

____________________

١ سورہ ابراہيم کي آيت ٢٤ کي طرف اشارہ ہے کہ ’’اللہ تعاليٰ نے کلمہ طيبہ کي مثال پيش کہ ہے کہ جيسے ايک شجر طيبہ کہ جس کي جڑيں زمين ميں مستحکم ہوں اور شاخيں آسمان پر پھيلي ہوئي ہوں۔۔۔۔‘‘ ٢ خطبہ نکاح ۶/۳/۲۰۰۰

٣ خطبہ نکاح ۲۹/۵/۲۰۰۲

۴ خطبہ نکاح ۵/۹/۱۹۹۳

۵ خطبہ نکاح ۲۳/۱۱/۱۹۹۷

۶ خطبہ نکاح ۲۳/۸/۱۹۹۵

۷ خطبہ نکاح ۱/۱/۱۹۹۶

۸ خطبہ نکاح ۲۰/۵/۲۰۰۰

۹ خطبہ نکاح ۱/۲/۱۹۹۳

۱۰ خطبہ نکاح ۱۲/۳/۲۰۰۰

۱۱ خطبہ نکاح ۲۵/۵/۲۰۰۰

۱۲خطبہ نکاح ۹/۳/۱۹۹۷

۱۳ خطبہ نکاح ۱۱/۸/۱۹۹۷

۱۴خطبہ نکاح ۲۵/۱۱/۱۹۹۵

۱۵ خطبہ نکاح ۹/۵/۱۹۹۵

۱۶ خطبہ نکاح۳/۳/۱۹۹۸

۱۷خطبہ نکاح۱۵/۴/۱۹۹۸

۱۸خطبہ نکاح ۱۵/۴/۱۹۹۸

۱۹ خطبہ نکاح ۵/۱/۲۰۰۱

۲۰ خطبہ نکاح ۵/۱/۲۰۰۱

۲۱ خطبہ نکاح ۲۵/۱۲/۲۰۰۵

۲۲ خطبہ نکاح ۲۷/۱۱/۱۹۹۷

۲۳ سورہ اعراف/ ١٨٩

۲۴ سورہ روم / ٢١

۲۵خطبہ نکاح ۲۵/۱۲/۱۹۹۶

۲۶خطبہ نکاح ۲۲/۷/۱۹۹۷

۲۷خطبہ نکاح ۱۳/۴/۱۹۹۸

۲۸خطبہ نکاح ۲۸/۸/۲۰۰۲

۲۹حوالہ سابق

۳۰خطبہ نکاح ۸/۲/۱۹۸۹

۳۱ خطبہ نکاح ۲۹/۵/۲۰۰۲

۳۲ خطبہ نکاح ۱۹/۱/۱۹۹۸

۳۳خطبہ نکاح۲۹/۲/۲۰۰۱

۳۴ خطبہ نکاح ۲۹/۵/۲۰۰۲

۳۵خطبہ نکاح ۱۳/۳/۲۰۰۲

۳۶ خطبہ نکاح ۴/۴/۱۹۹۸

۳۷ خطبہ نکاح ۹/۹/۱۹۹۲

۳۸ خطبہ نکاح ۱۰/۱/۱۹۹۳

۳۹ خطبہ نکاح۲۳/۳/۲۰۰۱

۴۰ خطبہ نکاح ۱۵/۸/۱۹۹۵


دوسري فصل

اسلامي تعليمات ميں مذہبي گھرانے کے خدوخال

مذہبي گھرانہ، دنيا کيلئے ايک آئيڈيل

الحمد للہ ہمارے ملک اور مشرق کے مختلف معاشروں ميں خصوصا ً اسلامي معاشروں ميں گھرانے اور خاندان کي بنياديں ابھي تک محفوظ ہيں اور خانداني روابط تعلقات ابھي تک برقرار ہيں۔ آپس ميں محبت، خلوص، دلوں کا کينہ و حسد سے خالي ہونا ابھي تک معاشرے ميں موجود ہے۔ بيوي کا دل اپنے شوہر کيلئے دھڑکتا ہے جبکہ مرد کا دل اپني بيوي کيلئے بے قرار رہتا ہے، يہ دونوں دل کي گہرائيوں سے ايک دوسرے کو چاہنے والے اور عاشق ہيں اور دونوں کي زندگي ميں پاکيزگي و نورانيت نے سايہ کيا ہوا ہے۔ اسلامي ممالک خصوصاً ہمارے ملک ميں يہ تمام چيزيں زيادہ ہيں لہٰذا ان کي حفاظت کيجئے۔(۱)

دومختلف نگاہيں مگر دونوں خوبصورت

فطري طور پر مرد کے بارے ميں عورت کي سوچ ، مرد کي عورت کے بارے ميں فکر وخيال سے مختلف ہوتي ہے اور اُسے ايک دوسرے سے مختلف بھي ہونا چاہيے اور اس ميں کوئي عيب اور مضائقہ نہيں ہے۔ مرد، عورت کو ايک خوبصورت، ظريف و لطيف اور نازک و حساس وجود اور ايک آئيڈيل کي حيثيت سے ديکھتا ہے اور اسلام بھي اسي بات کي تائيد کرتا ہے ۔ ’’اَلمَرآَۃُ رَيحَانَۃ?‘‘ ،يعني عورت ايک نرم ونازک اور حسين پھول ہے ، يہ ہے اسلام کي نظر۔ عورت، نرم و لطيف اورملائم طبيعت و مزاج سے عبارت ہے جو زيبائي اور لطافت کا مظہر ہے ۔ مرد، عورت کو انہي نگاہوں سے ديکھتا ہے اور اپني محبت کو اسي قالب ميں مجسم کرتا ہے۔ اسي طرح مرد بھي عورت کي نگاہوں ميں اُس کے اعتماد اور بھروسے کا مظہر اور مضبوط تکيہ گاہ ہے اور بيوي اپني محبت اور دلي جذبات و احساسات کو ايسے مردانہ قالب ميں سموتي اور ڈھالتي ہے۔

زندگي کي اس مشترکہ دوڑدھوپ ميں مرد و عورت کے يہ ايک دوسرے سے مختلف دو کردار ہيں اور دونوں اپني اپني جگہ صحيح اور لازمي ہيں۔ عورت جب اپنے شوہر کو ديکھتي ہے تو اپني چشم محبت و عشق سے اس کے وجود کو ايک مستحکم تکيہ گاہ کي حيثيت سے ديکھتي ہے کہ جو اپني جسماني اور فکري صلاحيتوں اور قوت کو زندگي کي گاڑي کو آگے بڑھانے اور اُس کي ترقي کيلئے بروئے کار لاتا ہے۔ مر د بھي اپني شريکہ حيات کو اُنس و اُلفت کے مظہر، ايثار و فداکاري کي جيتي جاگتي اور زندہ مثال اور آرام و سکون کے مخزن کي حيثيت سے ديکھتا ہے کہ جو شوہر کو آرام وسکون دے سکتي ہے ۔ اگر مرد زندگي کے ظاہري مسائل ميں عورت کا تکيہ گاہ اور اُس کے اعتماد و بھروسے کا مرکز ہے تو بيوي بھي اپني جگہ روحاني سکون اور معنوي امور کي وادي کي وہ باد نسيم ہے کہ جس کا لطيف احساس انسان کي تھکاوٹ و خستگي کو دور کرديتا ہے ۔ گويا وہ انس و محبت، چاہت و رغبت ، پيار و الفت اور ايثار و فداکاري کا موجيں مارتا ہوا بحر بيکراں ہے۔ يقينا شوہر بھي محبت، سچے عشق اور پيار سے سرشار ايسي فضا ميں اپنے تمام غم و اندوہ ، ذہني پريشانيوں اور نفسياتي الجھنوں کے بار سنگين کو اتار کر اپني روح کو لطيف وسبک بناسکتا ہے۔ يہ ہيں مياں بيوي کي روحي اور باطني قدرت و توانائي۔(۲)

حقيقي اور خيالي حق

کسي بھي قسم کے ’’حق‘‘ کا ايک فطري اور طبيعي منشا سبب ہوتا ہے ، حقيقي اور واقعي حق وہ ہے کہ جو کسي فطري سبب سے جنم لے ۔ يہ حقوق جو بعض محفلوں(۳) ميں ذکر کيے جاتے ہيں، صرف توہمات اور باطل خيالات کا پلندا ہيں۔

مرد وعورت کيلئے بيان کيے جانے والے حقوق کو اُن کي فطري تخليق ، طبيعت و مزاج اور ان کي بدني طبيعي ساخت کے بالکل عين مطابق ہونا چاہيے۔(۴)

آج دنيا کے فيمنسٹ ( Femuinism ) يا حقوق نسواں کے ادارے کہ جو ہر قسم کے مرد و عورتوں سے بھرے پڑے ہيں، حقوق نسواں کے دفاع کے نعرے سے سامنے آتے ہيں۔ ميري نظر ميں يہ لوگ حقوق نسواں کي الف ب سے بھي واقف نہيں ہيں کيونکہ حق و حقوق کوئي ايسي چيز نہيں ہے کہ جنہيں گڑھا يا اختراح کيا جاسکے اور ان کا حقيقت سے کوئي رابطہ نہ ہو بلکہ ان سب حقوق کا ايک فطري منشا و سبب ہے۔(۵)

خوش بختي کا مفہوم

خوش بختي عبارت ہے روحي آرام و سکون ، سعادت اور امن کے احساس سے(۶) ۔ بڑے بڑے فنکشن اور اسراف وفضول خرچي کسي کو خوش بخت نہيں بناتے۔ اس طرح مہر کي بڑي بڑي رقميں اورجہيز کي بھر مار بھي انساني سعادت و خوش بختي ميں کسي بھي قسم کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ يہ صرف شريعت ہي کي پابندي ہے کہ جو انسان کو خوش بخت بناتي اور سعادت سے ہمکنار کرتي ہے۔(۷)

ايک دوسرے کو جنتي بنائيے

شادي اور شريکہ حيات کا انتخاب انساني قسمت ميں کبھي موثر کردار ادا کرتاہے۔ بہت سي ايسي بيوياں ہيں جو اپنے شوہروں کو اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو جنتي بناتے ہيں اور صورتحال اس کے برعکس بھي پيش آتي ہے۔ اگر مياں بيوي اس اہم مرکز ’’گھر‘‘ کي قدر کريں اور اس کي اہميت کے قائل ہوں تو ان کي زندگي امن و سکون کوگہواہ بن جائے گي اور اچھي شادي کي برکت سے انساني کمال کا حصول مياں بيوي کيلئے آسان ہوجائے گا۔(۸)

کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ مرد زندگي ميں ايسے دوراہے پر جاپہنچتا ہے کہ جس ميں ايک راہ کا انتخاب اُس کيلئے ضروري ہوتا ہے کہ وہ دنيا يا صحيح راہ اور امانت داري و صداقت ميں سے کسي ايک کو منتخب کرے۔ يہاں اس کي بيوي اہم کردار ادا کرتي ہے کہ اُسے پہلے يا دوسرے راستے کي طرف کھينچ کر لے جائے۔ صورتحال اس کے برعکس بھي ہوتي ہے کہ شوہر حضرات بھي اپني شريکہ حيات کيلئے موثر ثابت ہوسکتے ہيں۔ آپ سعي کيجئے کہ آپ دونوں اچھي راہ کے انتخاب ميں ايک دوسرے کي مدد کريں۔

آپ کوشش کريں کہ دينداري ،خدا اوراسلام کي راہ ميں قدم اٹھانے ، حقيقت ، امانت اور صداقت کي راہ ميں اپنا سفرجاري رکھنے کيلئے ايک دوسرے کي مدد کريں اور انحراف اورلغزش سے ايک دوسرے کي حفاظت کريں(۹) ۔

اسلامي انقلاب کي کاميابي سے قبل اور ا س کے بعد ابتدائي سخت سالوں اورجنگ کے مشکل زمانے ميں بہت سي خواتين نے اپنے صبر و تعاون سے اپنے شوہروں کو جنتي بناليا۔ مرد مختلف قسم کے محاذوں پرگئے اور انہوں نے گونا گوں قسم کي مشکلات اورخطرت کو مول ليا، يہ خواتين گھروں ميں تنہا رہ گئيں اور انہوں نے تن تنہا مشکلات کا مقابلہ کيا ليکن زبان پر کسي قسم کا شکوہ نہيں لائيں اور يوں انہوں نے شوہروں کوبہشت بريں کا مسافر بنايا۔ جبکہ وہ ايسا بھي کرسکتي تھيں کہ ان کے شوہر ميدان جنگ جانے اور جنگ کرنے سے پشيمان ہوجائيں مگر انہوں نے ايسا نہيں کيا اور صبر کادامن ہاتھ سے نہيں چھوڑا۔ بہت سے ايسے شوہر تھے کہ جنہوں نے اپني بيويوں کو جنت کا راہي بنايا۔ ان کي ہدايت ، تعاون، دستگيري اورمدد سے يہ خواتين اس قابل ہوئيں کہ خدا کي راہ ميں حرکت کرسکيں۔

صورتحال اس کے برعکس بھي ہے ۔ بہت سي خواتين اور مرد ايسے تھے کہ جنہوں نے ايک دوسرے کو جہنمي بنايا۔ آپ کو چاہيے کہ ايک دوسرے کي مدد کريں اور ايک دوسرے کو جنتي اور سعادت مند بنائيں۔ آپ کي کوشش ہوني چاہييے کہ تحصيل علم، کمال کے حصول ، پرہيز گاري ، تقويٰ کے ساتھ سادہ زندگي گزارنے کيلئے ايک دوسرے کي مدد کريں۔(۱۰)

ايک دوسرے کو خوش بخت کيجئے

بہت سي بيوياں اپنے شوہروں کو جنتي اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو حقيقتاً سعادت مند بناتے ہيں جبکہ اس کے برخلاف بھي صورتحال تصور کي جاسکتي ہے ۔ ممکن ہے کہ مرد اچھے ہوں ليکن اُن کي بيوياں انہيں اہل جہنم بناديں يا بيوياں اچھي اور نيک ہوں مگر اُن کے شوہر انہيں راہ راست سے ہٹاديں۔ اگرمياں بيوي ان مسائل کي طرف توجہ رکھيں تو اچھي باتوں کي تاکيد ، بہترين انداز ميں ايک دوسرے کي اعانت و مدد اور گھر کي فضا ميں ديني اوراخلاقي احکامات کو زباني بيان کرنے سے زيادہ اگر عملي طور پر ايک دوسرے کے سامنے پيش کريں اور ہاتھ ميں ہاتھ ديں تو اس وقت ان کي زندگي کامل اورحقيقتاً خوش بخت ہوگي ۔(۱۱)

ايک مرد اپني ہمدردانہ نصيحتوں ، راہنمائي ،وقت پر تذکر دينے اوراپني بيوي کي زيادہ روي ،زيادتي اور اس کے بعض انحرافات کا راستہ روک کر اُسے اہل جنت بناسکتا ہے۔ البتہ اُس کے برعکس بھي اس کي زيادتي، ہوس، بے جا توقعات اور غلط روش کي اصلاح نہ کرتے ہوئے اُسے جہنمي بھي بناسکتا ہے۔(۱۲)

حق بات نصيحت اورصبر کي تلقين

مياں بيوي کے دلوں کے ايک ہونے اورايک دوسرے کي مدد کرنے کا معني يہ ہے کہ آپ راہ خدا ميں ايک دوسرے کي مدد کريں۔ ’’تَوَاصَوا بِالحَقِّ وَتَوَاصَوا بِالصَبرِِ‘‘ ،يعني حق بات کي نصيحت اور صبر کي تلقين کريں۔

اگر بيوي ديکھے کہ اُس کا شوہر انحراف کا شکار ہورہا ہے ، ايک غير شرعي کام انجام دے رہا ہے يا رزق حرام کي طرف قدم بڑھارہا ہے اور غير مناسب دوستوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے لگا ہے تو سب سے پہلے جو اُسے تمام خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے ، وہ اس کي بيوي ہے ۔ يا اگر مرد اپني بيوي ميں اس قسم کي دوسري برائيوں کامشاہدہ کرے تو اُسے بچانے والوں ميں سب سے پہلے اس کا شوہر ہوگا۔ البتہ ايک دوسرے کو برائيوں سے بچانا اور خطرات سے محفوظ رکھنا محبت ، ميٹھي زبان ، عقل و منطق کے اصولوں کے مطابق ،حکيمانہ اورمدبرانہ رويے کے ذريعے سے ہو نہ کہ بداخلاقي اور غصے وغيرہ کے ذريعے۔ يعني دونوں کي ذمے داري ہے کہ وہ ايک دوسرے کي حفاظت کريں تاکہ وہ راہ خدا ميں ثابت قدم رہيں۔(۱۳)

ايک دوسرے کا ساتھ ديں اور مدد کريں خصوصاًديني امور ميں ۔ اگرآپ يہ ديکھيں کہ آپ کا شوہر يا بيوي نماز کي چور ہے، دونوں ميں کوئي ايک نماز کو کم اہميت ديتا ہے، سچ بولنے يا نہ بولنے ميں اُسے کوئي فرق نہيں پڑتا، شوہر لوگوں کے مال ميں بے توجہي سے کام ليتا ہے اوراپنے کام سے غير سنجيدہ ہے تو يہ آپ کا کام ہے کہ اُسے خواب غفلت سے بيدار کريں، اُسے بتائيے، سمجھائيے اور اس کي مدد کيجئے تاکہ وہ اپني اصلاح کرے۔

اگر آپ ديکھيں کہ وہ محرم ونامحرم ، پاک و نجس اورحلال و حرام کي پرواہ نہيں کرتا اور اُن سے بے اعتنائي برتتا ہے تو آپ اُسے متوجہ کريں، اُسے تذکر ديں اور اُس کي مددکريں تاکہ وہ بہتر اور اچھا ہوجائے۔ يا وہ جھوٹ بولنے يا غيبت کرنے والا ہو تو آپ کي ذمہ داري ہے کہ اُسے سمجھائيے نہ کہ اُس سے لڑيں جھگڑيں،نہ کہ اپنے گھر کي فضا خراب کريں اور نہ اس شخص کي مانند اسے زباني نصيحت کريں جو الگ بيٹھ کر صرف زباني تنقيد کے نشتر چلاتا ہے۔(۱۴)

____________________

١ خطبہ نکاح ۲۲/۷/۱۹۹۷

۲ خطبہ نکاح ۲۸/۹/۲۰۰۲

۳ اشارہ ہے حقوق نسواں، انساني حقوق کے کميشن اورمختلف ممالک ميں ان کے ذيلي اداروں اور NGO کے بے بنياد فرضيوں اور ايجنڈوں کي جانب جو از خود مرد و عورت کيلئے حقوق اختراح کرتے پھرتے ہيں۔ (مترجم)

۴ خطبہ نکاح ۱۲/۳/۱۹۹۹

۵حوالہ سابق

۶ خطبہ نکاح۰ ۲۰/۶/۲۰۰

۷خطبہ نکاح ۳۰/۵/۱۹۹۶

۸خطبہ نکاح ۳۰/۵/۱۹۹۶

۹ خطبہ نکاح ۱۲/۳/۲۰۰۱

۱۰خطبہ نکاح ۱۳/۳/۲۰۰۰

۱۱خطبہ نکاح ۲/۳/۱۹۹۸

۱۲خطبہ نکاح ۲۰/۹/۱۹۹۹

۱۳ خطبہ نکاح ۱۲/۱۱/۲۰۰۰

۱۴خطبہ نکاح ۴/۹/۱۹۹۵


فہرست

انتساب! ۴

سخن ناشر ۵

مُقدَّمہ ۶

پہلا باب : ۸

مغرب اورخواتين ۸

دريچہ ۸

پہلي فصل ۹

خواتين اور گھرانے کے بارے ميں مغرب کا افراط و تفريط ۹

مغربي ادب ميں عورت کي مظلوميت ۹

يورپي عورت کي آزادي کے مغرضانہ مادّي عوامل ۱۰

جلتا ہوا مغربي معاشرہ! ۱۰

دوسري فصل ۱۲

جاہلانہ تمدن و ثقافت کے خطرات و نتائج ۱۲

حقو ق نسواں، موجودہ دنيا کا ايک گھمبير اور حل نشدہ مسئلہ ۱۲

دنيا ميں ’’خانداني‘‘ بحران کي اصل وجہ! ۱۳

مرد و عورت کي کثير المقدار مشکلات کا علاج ۱۳

يورپ کي موجودہ تمدن کي بنياد ۱۴

مغربي عورت کي حالت زار ۱۵

حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي غلطي ۱۵


مغربي عورت، مرد کي نفساني خواہشات کي تسکين کا وسيلہ ۱۶

اسلام ميں خواتين کي فعاليت و ملازمت ۱۷

خواتين کو ہماري دعوت! ۱۷

دوسرا باب: ۱۹

خواتين کے مسائل اور حقوق کے بارے ميں اسلام کي عادلانہ نظر ۱۹

دريچہ ۱۹

پہلي فصل ۲۰

عورت، عالم ہستي کا اہم ترين عنصر ۲۰

عورت ، عالمِ خلقت کے اہم ترين امور کي ذمہ دار ۲۰

خواتين مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اُن سے بھي آگے?! ۲۰

خاندان ميں عورت کا حق! ۲۱

دوسري فصل ۲۲

اسلام اورحجاب ۲۲

مرد اور عورت کي درمياني ’’حد‘‘ پر اسلام کي تاکيد ۲۲

حجاب و پردے ميں اسلام کي سنجيدگي ۲۳

اسلامي انقلاب اورحقوق نسواں! ۲۳

مغربي اور مغرب زدہ معاشرے ميں خواتين کي صورتحال ۲۴

خواتين، معاشرہ اور حجاب! ۲۴

اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي ترقي ۲۴

تيسري فصل ۲۶


خواتين کے بارے ميں اسلام کي نظر ۲۶

خواتين کے بارے ميں تين قسم کي گفتگو اوراُن کے اثرات ۲۶

الف: خواتين کي تعريف و ستائش کي گفتگو ۲۶

ج: معاشرتي اورگھريلو زندگي ميں خواتين کي مشکلات ۲۸

کون سي گفتگو اہم ہے؟ ۲۸

چوتھي فصل ۲۹

خواتين سے متعلق صحيح اورغلط نظريات ۲۹

جہالت ، خواتين پر ظلم کا اصل سبب ۲۹

گھر کي حقيقي سربراہ، عورت ہے اور مرد ظاہري حاکم ۲۹

خواتين سے متعلق روايات ميں ظالمانہ فکرو عمل سے مقابلہ ۳۰

اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت?؟! ۳۱

تيسرا باب ۳۲

خواتين کےمعنوي کمال، اجتماعي فعاليت اورگھريلو زندگي سے متعلق اسلام کي نظر ۳۲

دريچہ ۳۲

پہلي فصل ۳۳

خواتين کے بارے ميں اسلام کي واضح ، جامع اور کامل نظر ۳۳

اسلام کي نظر کي کامل شناخت اور مکمل وضاحت کي ضرورت ۳۳

ظالم اور مقصّر کون، مرد يا عورت يا دونوں؟ ۳۳

خواتين پر ظلم کي راہ ميں مانع دو چيزيں ۳۴

دوسري فصل ۳۵


اسلام خواتين کے کمال ، راہ ِ حصول اور طريقہ کار کو معين کرتا ہے ۳۵

الف: معنوي کمال اورروحاني رُشد کا ميدان ۳۵

اہل ايمان کيلئے دو مثالي خواتين کا تذکرہ ، زن فرعون اور حضرت مريم ۳۵

ب: اجتماعي فعاليت کا ميدان ۳۶

اجتماعي فعاليت اورحجاب و حدود کي رعايت ۳۷

معاشرتي زندگي ميں حجاب کے فوائد ۳۸

معاشرتي زندگي ميں خواتين کي فعاليت کي اساسي شرط؛ ۳۸

عفت وپاکدامني کي حفاظت اورمردوں سے غير شرعي تعلقات سے دوري ۳۸

ج: گھريلو زندگي کا ميدان ۴۰

١۔ شوہر کا انتخاب ۴۰

لوگوں کے جاہلانہ آداب و رسوم اور ہيں اور اسلامي احکامات اور ! ۴۰

بيوي پر شوہر کي اطاعت?! ۴۱

مستحکم گھرانے کيلئے مياں بيوي کي صفات و عادات سے استفادہ ۴۲

٢۔ تربيت اولاد ۴۲

خانداني نظام زندگي کي اہميت سے رُوگرداني۔۔۔! ۴۳

عورت ، گھرانے کي باني اور محافظ ۴۳

گھريلو اوراجتماعي فعاليت ميں توازن ضروري ہے ۴۴

اسلامي انقلاب کي کاميابي ميں خواتين کا کردار ۴۴

تيسري فصل ۴۶

خواتين پرمغرب کا ظلم و ستم اور اسلام کي خدمات ۴۶


الف: پہلي خدمت،انساني اقدار کے سودا گروں کا ظلم اور اسلام کي پہلي خدمت ۴۶

ب: دوسري خدمت،عورت کے معنوي کمال، اجتماعي فعاليت اور خانداني کردار پر بھرپور توجہ ۴۶

ج:تيسري خدمت،اسلامي نظام ميں خواتين کي جداگانہ بيعت کي اہميت ۴۷

د: چوتھي خدمت،حضرت زہرا کي سيرت، اسلام ميں خواتين کي سياسي اوراجتماعي کردار پر واضح ثبوت ۴۸

ھ: پانچويں خدمت،عورت، گھر ميں ايک پھول ہے! ۴۸

اسلامي انقلاب ميں خواتين کا صبر واستقامت اورمعرفت ۴۹

خواتين پر مغرب کا ظلم اور خيانت ۴۹

خواتين کا اسلامي تشخص اور اُس کے تقاضے ۵۰

چوتھا باب ۵۲

حقوق نسواں کے دفاع کيلئے لازمي اصول ۵۲

دريچہ ۵۲

پہلي فصل ۵۳

خواتين سے متعلق فعاليت و جدوجہد کے اغراض و مقاصد ۵۳

اسلامي انقلاب کي کاميابي ميں خواتين کا کردار ۵۳

حقوقِ نسواں سے متعلق چند اہم ترين سوالات ۵۳

١۔ ہدف، انساني اوراسلامي کمال تک عورت کي رسائي ہو ۵۴

الف: پہلا ہدف ۵۴

ب: دوسرا ہدف ۵۴

٢۔ روش اور شعار کو اسلامي ہونا چاہيے ۵۵

مغرب ميں آزادي کا غلط مفہوم ۵۵


٣۔ جدوجہد ، تقليدي اور کسي سے متاثر نہ ہو ۵۶

٤۔ جدوجہد کو اسلامي آئيڈيل کے مطابق ہونا چاہيے ۵۷

مرد وعورت ہونا اہم نہيں بلکہ وظيفے کي ادائيگي اہم ہے ۵۷

حقوق نسواں کے دفاع کي لازمي شرائط ۵۷

ہدف و مقصد صرف اسلامي ہو ۵۸

آمنہ بنت الہديٰ ، ايک جليل القدرخاتون! ۵۹

حقوق نسواں کي طرف مغرب کے مجددانہ رجوع کي وجہ ۵۹

دوسري فصل ۶۱

اسلامي روش اور احکامات ۶۱

خواتين کے حقوق کے بارے ميں اسلامي روش ۶۱

شوہر اور بيوي کا آرام و سکون بخش وجود ۶۱

عورت پر ہونے والے ظلم کي مختلف شکليں ۶۲

تيسري فصل ۶۴

حقوق نسواں کے دفاع کيلئے بنيادي نکات ۶۴

١۔معنوي اوراخلاقي امور کي طرف توجہ ۶۴

پہلا نکتہ: ۶۴

دوسرا نکتہ: ۶۴

٢۔ حقوق نسواں کے بارے ميں اسلام کي نظر پر توجہ ۶۵

٣۔انحرافي بحث وگفتگو سے اجتناب ۶۵

٤۔ قانوني دفاع ۶۵


٥۔خواتين کي عفت کي رعايت ۶۶

امريکي اعدادوشمار ۶۶

٦۔ خواتين کي تعليم وتربيت کو اہميت دينا ۶۷

٧۔ حقوقِ نسواں سے تجاوز کرنے والوں سے قانوني کاروائي ۶۷

ايک اہم نکتہ! ۶۸

خواتين کي نسبت مغربي نگاہ کے جال ميں پھنسنے سے پرہيز ۶۹

تھوڑا سا انصاف کيجئے! ۷۰

چوتھي فصل ۷۲

حقوق نسواں کے دفاع کيلئے تين بنيادي نکات ۷۲

١۔عورت کوعورت اور مرد کو مرد رہنے ديے ۷۲

پہلي بات ۷۲

دوسري بات ۷۲

تيسري بات ۷۳

چوتھي بات ۷۳

٢۔ اسلامي ثقافت، شرعي احکامات اوررضائے الٰہي پر توجہ ۷۴

مغربي ثقافت کا ظاہري مثبت نکتہ ۷۴

اس ظاہري مثبت نکتے کے پس پردہ منفي نکات ۷۴

ہم کيا کريں؟ ۷۶

رضائے الٰہي کيلئے کام کيجئے ۷۷

بيماري کي تشخيص کيلئے حقيقت کو مدنظر رکھنا ضروري ہے! ۷۷


اسلامي احکامات کي حکمت ۷۷

حکمت اوردوسرے کلام ميں فرق ۷۸

عورت کا اجتماعي کردار ۷۹

اسلامي خواتين کا اجتماعي کردار ۷۹

٣۔گھرانے ميں شوہر و بيوي کے کردار پر زيادہ توجہ کي ضرورت ۷۹

بيوي کيلئے امن و سکون کا ماحول فراہم کيجئے ۸۰

ہندوستاني عورت اور روزانہ پانچ روپے اجرت! ۸۱

پانچواں باب ۸۳

اسلامي خواتين کا آئيڈيل ۸۳

دريچہ ۸۳

پہلي فصل ۸۴

حضرت زہرا علیھا السلام کي جامع و کامل شخصيت ۸۴

حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام ، عظيم نعمت الٰہي ۸۴

حضرت فاطمہ علیھا السلام کے بچپن کا سخت ترين زمانہ ۸۵

فاطمہ زہر علیھا السلام اپنے والد کي مونس و غمخوار ۸۵

حضرت فاطمہ علیھا السلام کي علمي فضيلت اور راہ خدا ميں آپ کا جہاد ۸۶

فاطمہ علیھا السلام ،عالم ہستي کا درخشاں ستارہ ۸۷

اہل سنت کي کتابوں ميں حضرت زہر علیھا السلام کي شخصيت ۸۸

سيرت حضرت زہرا علیھا السلام کي کما حقہ معرفت ۸۸

عظمت خدا کا ايک نمونہ! ۸۹


حضرت فاطمہ علیھا السلام سے درس خدا ليجئے! ۸۹

دوسري فصل ۹۱

عملي سيرت ۹۱

فاطمہ ، ماں کي خالي جگہ ۹۱

طلوع اسلام کے بعد علي و فاطمہ علیھا السلام کي خدمات ۹۱

علي سے شادي کيلئے خدا کاانتخاب ۹۲

تيسري فصل ۹۳

شوہروں کي جدوجہد وفعاليت ميں خواتين کا بنيادي کردار ۹۳

عورت کا جہاد؟! ۹۳

حضرت فاطمہ علیھا السلام کا عظيم ترين جہاد! ۹۳

مرد،خواتين کي اکثر زحمتوں سے بے خبر ہيں! ۹۴

چھٹا باب ۹۶

اسلامي گھرانہ اور خانداني نظام زندگي ۹۶

دريچہ ۹۶

پہلي فصل ۹۷

اسلام ميں گھرانے اور خاندان کي اہميت ۹۷

گھرانہ ، کلمہ طيبہ يا پاکيزہ بنياد ۹۷

گھرانہ ، انساني معاشرے کي اکائي ۹۷

اچھا گھرانہ اور اچھا معاشرہ ۹۷

گھرانہ، روح و ايمان اور پاکيزہ فکر وخيال کي بہترين پرورش گاہ ۹۸


گھرانہ ، سکون اور اصلاح کا مرکز ۹۸

اچھے گھرانے کي خوبياں ۹۹

اچھے خانداني نظام ميں ثقافت کي منتقلي کي آساني ۱۰۰

خوشحال گھرانہ اور مطمئن افراد ۱۰۰

گھرانہ ، زندگي کي کڑي دھوپ ميں ايک ٹھنڈي چھاوں ۱۰۱

اچھے گھرکا پرسکون ماحول ۱۰۳

گھريلو فضا ميں خود کو تازہ دم کرنے کي فرصت ۱۰۳

دينداري ، خاندان کي بقا کا راز ۱۰۴

دينداري ، خاندان کي حقيقي صورت ۱۰۴

دوسري فصل ۱۰۸

اسلامي تعليمات ميں مذہبي گھرانے کے خدوخال ۱۰۸

مذہبي گھرانہ، دنيا کيلئے ايک آئيڈيل ۱۰۸

دومختلف نگاہيں مگر دونوں خوبصورت ۱۰۸

حقيقي اور خيالي حق ۱۰۹

خوش بختي کا مفہوم ۱۰۹

ايک دوسرے کو جنتي بنائيے ۱۰۹

ايک دوسرے کو خوش بخت کيجئے ۱۱۰

حق بات نصيحت اورصبر کي تلقين ۱۱۱

عورت ،گوہر ہستی

عورت ،گوہر ہستی

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
زمرہ جات: گوشہ خواتین
صفحے: 41