یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
كتاب:بازار اسلامی حکومت کے سایہ میں
مصنف :سید جعفر مرتضی عاملی
مقدمہ
موضوع بحث سے متعلق تحقیق شروع کرنے سے پہلے چند نقاط کی طرف توجہ ضروری نظر آتی ہے:۔
(الف) یہ بحث کثرت مشاغل اور رکاوٹوں کی بناپر صرف چند دنوں کے اندر تحریر کی گئی ہے لہذا اس میں تمام اسلامی نصوص ودلائل کا احاطہ ممکن نہ ہو سکا کہ یہ بحث مختلف جہات سے ایک کامل بحث کی شکل میں ڈھل کرسامنے آتی۔
(ب) دوسری طرف اس بحث میں جو نصوص واسناد درج کی گئی ہیں ان کے فنی اور خصوصی معیاروں پر توجہ دئیے بغیر جن کی فقہی مسائل میں رعایت کی جائی ہے خاص طور سے نصوص کی سندوں کی تحقیق اور فقہی بحثوں میں ان کے دوسرے مرسوم ورائج معیاروں کا جائزہ لئے بغیر انھیں فقط پیش کردیا گیا ہے اور شرح کردی گئی ہے۔
اسی بناپر اس بحث کو قابل نفاذ فقہی احکام صادر کرنے کے لئے کافی نہیں سمجھا جاسکتا مگر یہ فقہی مسائل کی تحقیق کے سلسلہ میں معلول اور رائج روش کی بنیاد پر اس پر نظر ثانی کی جائے اس کے بعد مراجع تقلید اور صاحبان فتویٰ سے ان سے متعلق فتویٰ حاصل کیا جائے تاکہ ان کے اجرا وعمل کے لئے ایک بنیاد اور شرعی دلیل ہاتھ آسکے۔
(ج)تیسرے یہ کہ اس بحث میں صرف ان ہی نصوص پر اکتفا نہیں کی گئی ہے جنھیں امامیہ نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے بلکہ ان سے آگے بڑھ کر غیر امامیہ کی روایات اس یقین کے ساتھ اس میں شامل کی گئی ہیں کہ ان روایات میں لائے جانے والے بیشتر موضوعات میں اگر تمام موارد میں نہ سہی تو اکثر موارد میں جعل یا دروغ کا کوئی محرک موجود نہیں ہے۔
اس وجہ سے ان موارد میں امامیہ کے طریقوں سے اگر کوئی روایت نہ مل پائی تو غیر امامیہ کی روایت پر خاص کر اس روایت پر جسے انھوں نے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے،انحصار و اعتماد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ امام صادق علیہ السلام کی اس حدیث پر عمل کے مترادف ہے جس میں حضرت فرماتے ہیں:
”اذا نزلت بکم حادثة لا تجدون حکمها فیها روی عنا فنظروا الیٰ ما رووه عن علی علیه السلام فاعملوبه “(۱)
”جب بھی کوئی ایسا اتفاق تمھیں پیش آئے جس کا حکم تمھیں ہم سے نقل شدہ روایات میں نہ ملتا ہوتو جو کچھ انھوں نے (عامہ) نے علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو “
شیخ طوسی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے اسی لئے ”حفص بن غیاث“ ”غیاث بن کلوب“”نوح بن دراج “”سکونی“نیز عامہ کے دوسرے راویوں نے ہمارے ائمہ علیہم السلام سے جو حدیثیں نقل کی ہیں،امامیہ فرقہ نے ان پر عمل کیا ہے۔نہ ان سے انکار کیاہے اور نہ (اپنی روایتوں میں)ان کے مفہوم کے خلاف کچھ پایا ہے ۔(۲)
(د)زیر بحث موضوع جو اسلامی بازار کے نظم اور کنٹرول ،تجارت اور تاجروں کے تجارتی افعال پر حکومت کے تسلط سے متعلق ہے۔یہ بحث بڑی وسیع ہے اور بہت سے شعبوںمیں پھیلی ہوئی ہے ہم اس کے صرف چند پہلووں کی طرف ہی اشارہ کررہے ہیں اور موضوع کے تمام پہلووں کا دقت نظر اور گہرائی سے جائزہ لینے اور اس سے متعلق جامع ووسیع بحث کو صاحبان تفحص وتحقیق کے لئے چھوڑتے ہیں اور خداوند عالم سے دست بہ دعا ہیں کہ ہمیں اپنی گفتار وکردار میں صداقت واستقامت سے ہمکنار کرے۔
تجارت کی اہمیت
یہ بات واضحات میں سے ہے کہ اسلام نے تجارت کاحکم اور اس کی طرف تشویق دلائی ہے ۔(۳)
نیز اسے عقل خرد میں اضافہ کا سبب اور اسے ترک کرنے کو عقل کی کمی(۴) اور اس میں روزی کا ۹/۱۰ یعنی دس میں سے ۹ حصہ معین کیا ہے(۵) اور اسے انسان کی عزت و سر بلندی قرار دیا ہے ،یہاں تک کہ امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں ”اغد الیٰ عزک“(۶) یعنی اپنی عزت و بزرگی (یعنی کار و بار و تجارت ) کی طرف قدم بڑھاؤ۔
وہ روایات جو تجارت کی اہمیت پر زور دیتی ہیں اور اس کی طرف تشویق و ترغیب دلاتی ہیں ،بہت ہیں یہاں ہم ان سب کی تحقیق کے در پے نہیں ہیں انشاء اللہ آگے تجارت اور تاجر کی اہمیت کے سلسلہ میں مالک اشتر کے عہد نامہ کے تحت حضرت امیر المو٘منین علیہ السلام کا کلام نقل کیا جائے گا۔
احکام اور قواعد و ضوابط
اب جب کہ اسلام تجارت کو اتنی قدروا ہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دوسری طرف تجارت کی بہت سی شاخیں ہیں نیز اس کی راہ میں بڑی مشکلیں در پیش ہیںاور اسے در پیش آنے والا کسی بھی طرح کا خلل معاشرہ میں سیع پیمانہ پر تیزی کے ساتھ اپنے مثبت یا منفی اثرات مرتب کرتا ہے لہٰذا فطری بات ہے کہ اسلام نے اس کے لئے دقیق قواعد و ضوابط اور احکام و قوانین بیان کئے ہوں گے جو اس کے مختلف شعبوں کو نزدیک کریں اس کے متفرقات کو باہم یکجا کریں اور اسے ہر خطا وخلل نیز تجارت میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے امکانی طور پر پیدا ہونے والے نا پسندیدہ اثرات کی روک تھام کریں ،تاکہ یہ قوانین و ضوابط واحکام ،تجارت کو انسانی خدمت کی راہ میں نیز انسانیت کے تحفظ اور اس کی عزت و عظمت فراہم کرنے کا ذریعہ بنائیں ،جیسا کہ خدا وند عالم چاہتا ہے ۔
بہت سی قرانی آیات اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں روایات ان احکام کو بیان اور ان کی تفصیل پیش کرتی ہیں اور چوں کہ وہ ان سے مربوط احادیث کی کتابوں میں درج اور لوگوں کی دست رس میں ہیں لہٰذا یہاں انھیں نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔
نفاذ اور اجراء
لیکن ظاہر ہے کہ صرف قانون کا بنانا اور حکم وضع کرنا کہ اس پر عمل کیا جائے کافی نہیں ہے بلکہ اسے عملی شکل دینے کے لئے حالات و شرائط کا وجود میں لانا بھی ضروری ہے ایسے اقدامات کئے جائیں جو عملی طور پر قانون اور حکم کے نفاذ میں مدد گار ہو سکیں اب ہم دیکھیں کہ اسلام نے اس سلسلہ میں کیا قدم اٹھائے ہیں ؟یہ جائزہ خود اس سوال کا جواب ہوگا اس سلسلہ میں ضمانتوں اور اسلام کے اجرائی قوانین کو دو قسموں میں باٹا جا سکتا ہے ایک:ذاتی (باطنی)ضمانتیں اور دوسرے حکومتی ضمانتیں۔
ذاتی و باطنی ضمانت اور اس کی بنیادیں
اسلام نے ذاتی و باطنی طور پر عملی ضمانت کے سلسلہ میں بہت اہتمام کیا ہے اور اسے تشریع و قانون سازی کی بنیاد واساس مانا ہے صرف ضرورت کے وقت اور ان حالات و شرئط میں جب کہ باطنی ضمانت کوئی قابل توجہ اثر نہیں رکھتی ان کے علاوہ وہ کبھی حکومتی (ظاہر و جبری)ضمانتوں کو بروئے کار نہیں لاتا ۔
ذاتی (باطنی)ضمانت سے ہماری مراد کیا ہے اسے واضح کرنے کے لئے ہم ایک مختصر سے اشارہ میں یہ کہیں گے کہ :باطنی ضمانت کا مطلب ”ایسی روکنے والی یا دفاعی قوت جو انسان کی ذات اور اس کے وجدان سے سر چشمہ حاصل کرتی ہے “اس قسم کی ضمانت دو بنیادوں پر استوار ہوتی ہے جن میں سے ہر ایک دوسری کی طرف پلٹتی ہے ۔
اول :اس بات پر ایمان و اعتقاد کہ جو کچھ کائنات میں موجود ہے نہ صرف خدا وند عالم کے ارادہ و قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ سب اسی کی ملک ہے اور انسان کی اس کے سوا خود اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ وہ خد کی ملک میں اس کا جانشین ہے پس ضروری ہے کہ پوری امانتداری اور ہوشیاری ہی سے اپنے ذمہ داری پر عمل کرے ،اسے اپنے خالق اور اس حقیقی مالک کے بنائے ہوئے قوانین و حدود سے آگے بڑھنے کا حق حاصل نہیں ہے ،جیسا کہ جب خدا وند عالم رازق قادر ہے (اس مقدار سے زیادہ جتنا خدا نے اس کے لئے مقرر کیا ہے )مال کے حصول کے سلسلہ میں انسان کی سعی و کوشش اس مقصد تک پہنچنے کے لئے اس کی حیثیت کو کم یا زیادہ نہیں کرتی آخری نتیجہ یہ ہے کہ جو کچھ اسے صحیح طریقہ سے اور اجر و ثواب کے ساتھ حاصل کرنا چاہئے تھا ،اس نے غلط راہ سے عذاب و گناہ کے ساتھ حاصل کیا حسب ذیل آیتیں ہمارے مدعا کی بہترین شاہد ہیں:
”وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیه “ (حدید/ ۷)
”خدا وند عالم نے جس میں تمھیں اپنا جانشین بنایا ہے اس میں سے انفاق کرو“
”وآتوا هم من مال الله الذی آتاکم “(نور/ ۳۳)
”انھیں مال خدا میں سے دو جو اس نے تمھیں بخشا ہے“
”فامشوا فی مناکبها و کلوا من رزقه “(ملک / ۱۵)
”زمین کے سینے پر چلو پھرو اور خدا کے روزی میں سے کھاؤ پیئو“
”و اذا قضیت الصلوٰة فانتشروا فی الارض وبتغوا من فضل الله “(جمعہ/ ۱۰)
”پس جب نماز تمام ہو تو خدا کی زمین پر منتشر ہو جاؤ اور خدا کے فضل سے فائدہ اٹھاؤ“
”قل من یرزقکم من السموٰت والارض قل الله “(سبا/ ۲۴)
”کہو !کون تمھیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے ؟کہو اللہ“
”ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم وایاهم “(انعام / ۱۵۱)
”اپنی اولادوں کو بھوک سے قتل نہ کرو ہم تمھیں اور انھیں روزی دیتے ہیں“
”ان الله هو الرزاق ذو القوة “(ذاریات/ ۵۸)
”فقط خدا روزی دینے والا صاحب قدرت ہے“
ان کے علاوہ اس سلسلہ میں دوسری آیتیں اور بہت سی حدیثیں پیغمبر اسلام (ص) اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں ۔
دوم:باطنی ضمانت سے مراد محاسبہ نفس اور اپنی جانچ پرکھ ہے اس بنیاد پر قانون کی حد سے آگے بڑھنے کا مطلب خدا کے خلاف بغاوت اور اس کے روبرو جسارت و گستاخی ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ :
اسلام ایسا دین ہے جو انسان کے تمام اقوال و افعال کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے آدم کے ذہن میں اٹھنے والے افکار و خیالات کو بھی پیش نظر رکھا ہے اور ان کے لئے قوانین و ضوابط مقرر کئے ہیں اس نے اعتقادی امور میں انسان پر قطعی اور واضح عقلی دلیلوں کے ذریعہ قطع و یقین حاصل کرنا لازمی قرار دیا ہے اس نے خدا وند عالم کی معرفت اس کی قدرت ،عدل و حکمت اور دوسرے صفات کی معرفت نیز اس کے انبیاء کی نبوت ،اس کے اولیا کی امامت ،حشر و نشر دین اور قرآن کی معرفت سے مربوط مسائل میں گمان و تقلید کو کافی نہیں جانا ہے اسی طرح اس نے انسان کو سمجھایا ہے کہ وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اپنے تمام گناہان صغیرہ و کبیرہ کے سلسلے میں سب سے زیادہ صاحب علم اور تیز حساب کرنے والے کی طرف سے اس کا محاسبہ کیا جائے گا اور اگروہ دنیوی سزا سے چھٹکارا پا بھی جائے تو آخرت کی سزا سے نجات نہیں پا سکتا ۔
اس بنیاد پر انسان کی عقل اسے اپنے نفس کے محاسبہ اور اپنے اعمال کی نگرانی اورکنٹرول پر مائل کر تی ہے ۔نتیجہ میںانسان اپنے نفس کانگہبان اور محاسب ہوتاہے اور یہ فطری سی بات ہے باطنی نگراں و نگہبان ہر طرح کے ظاہری و بیرونی نگہبان سے زیادہ دقیق اور کارآمد ہوتا ہے کیوں کہ انسان زیادہ تر اپنے آپ پر نگراں ہے وہ خود کو دوست رکھتا ہے اور رنج و زیاں ،مشکلات وبدبختی کے اسباب سے خود کو دور رکھنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے بالکل یوں ہی جیسے وہ اپنے منافع کے حصول اور اپنی آرزوؤں تک پہنچنے کے سلسلہ میں سب سے زیادہ حریص ہے ۔
ہماری موجودہ بحث میں اسلام نے ایک مسلمان کے مالی افعال کو بھی شرعی احکام کے تابع یعنی ثواب و عقاب کے تحت قرار دیا ہے اس نے تجارت میں غش یعنی ملاوٹ یا دھوکے دہی کو حرام اور ایسے شخص کو مسلمانوں کی جماعت سے خارج قرار دیا ہے :”من غشنا فلیس منا“‘ تول اور مقدار میں کمی کرنے نیز دوسروں کے مال میں خیانت کرنے وغیرہ سے منع کیا ہے اور اسے خدا ترسی ، سچائی اور مد مقابل کے تجارت سے منصرف ہونے کی صورت میں معاملہ منسوخ کرنے ،دوسروں کا حق دینے اور اپنا حق لینے وغیرہ کا حکم دیا ہے نافرمان کو سزا اور فرمانبردار کو جزا اور ثواب دینے کا وعدہ کیا ہے ۔
یہ اور اس طرح کے امور انسانی ارادوں اور اس کے باطنی دباؤ کے تحت اس کے اعمال کو خدا سے مربوط کرنے میں موثر مددگار ثابت ہوتے ہیں ان موارد میں جہاں بیرونی ضمانت و تسلط کے ذریعہ بہت تھوڑے سے مواقع کے علاوہ الٰہی احکام کا اجرااور اپنے مقاصد کا حصول عملی نہیں ہےیعنی بڑے وسیع پیمانے پر خارجی و بیرونی ضمانتیں بے اثر نظر آتی ہیں اور غرض پر ست افراد بیرونی ضمانتوں کی دسترس سے دور معاشرہ اور انسانیت کے خلاف اپنی خطر ناک قانون شکنیوں کو جاری رکھ سکتے ہیں لیکن خدا پر ایمان ایک مسلمان کو قوانین و احکام کی مخالفت سے روکے رکھتا ہے ۔
اس مذکورہ وسیع سطح پر کوئی ایسی بیرونی و خارجی طاقت نہیں ہے جو انسانی اعمال و کردار پر تسلط اور کنٹرول رکھ سکے یہ طاقت صرف ایک ذاتی عملی ضمانت اور ذاتی وجدان سے سرچشمہ حاصل کرنے والے باطن کے دباؤ میں ہے جو مبداء و معاو اور جزا و سزا پر ایمان و یقین کی بنا پر استوار ہے ایسی طاقت کے ہوتے ہوئے مبدا و معاد پر ایمان رکھنے والا انسان اس کے علاوہ کوئی اور راہ نہیں پاتا کہ خود کو اپنے اعتقادات نیز اپنے مستقبل کے تحفظ وسلامتی کا پابند قرار دے ۔
بیرونی۔جبری ضمانتیں
بیرونی ،جبری یا تسلطی ضمانتوں سے مراد حکومت و سلطنت یا ہر اس شخص کی طرف سے جو تسلط کا حق رکھتا ہے مثلا ًخاندان میں باپ یا اپنے اختیارات کے دائرہ میں کسی کارخانہ کے مالک کی طرف سے قانون پر صحیح عمل کی راہ میں کیا جانے والا اقدام و کوشش ہےوہ اقدام و کوشش جو کاموں کو صحیح راہ پر آگے بڑھانے میں مدد دے۔
یہاں جو چیز ہمارے پیش نظر ہے اس سے مراد حکومت شرع کا جسے ”اسلامی حکومت “سے تعبیر کیا جاتا ہے ،معاشرہ میں بازار اور تجارتی نقل و حرکت پر کنٹرول ہے جب ہم بیرونی اور حکومتی ضمانت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ فرموش نہ کرنا چاہئے کہ اس ضمانت کی طاقت و توانائی کا ایک بڑا حصہ باطنی ضمانت اور اس کی بنیادوں سے سرچشمہ حاصل کرتا ہے کیوں کہ لا محالہ مسلمان حاکم اور ولی فقیہ کا تسلط بھی اعتقادی پہلوؤں کی طرف پلٹتا ہے اور الٰہی و شرعی فریضہ سے جا کر جڑ جاتا ہے ۔
اگر چہ ابتداء میں اس خیال کے تحت کہ حکومت و سلطنت کی اجرائی و عملی ضمانت اور بازار کا اس کی نگرانی کے سلسلہ میں کافی نصوص موجود نہیں لہٰذا ایسا نظر آتا ہے کہ اس بارے میں بحث و اسلامی حکومت کے بازار پر تسلط پیدا کرنے سے متعلق ایک جامع تصور پیش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے لیکن موضوع پر ہلکی سی تحقیق اور چھان بین نے ہی یہ بات پوری طرح واضح کر دی کہ اس سلسلہ میں روایت کے ایک بڑے حصہ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ہم آئندہ ان روایات و نصوص کا ایک حصہ پیش کریں گے تاکہ وہ ہمارے مدعا پر زندہ شاہد گواہ رہیں اور فقط مورد نظر نصوص نقل کرتے ہوئے سیاق بحث کے ساتھ ان کے مطالب کو سرسری طور پر اشارةہی ذکر کریں گے۔
ایک ضروری یاد دہانی
اصل بحث میں وارد ہونے سے پہلے ہم قارئین کرام کویہ یاد دہانی کرنا چاہتے ہیںکہ اس بحث میں نقل ہونے والی روایات و نصوص دو قسم کی ہیں:
اول۔وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ پیغمبر اسلام (ص) یاا مام الہٰی احکام کو جو اپنے موضوعات کے لئے اوّلی یا ثانوی اعتبار سے وضع ہوئے ہیںکسی قسم کے دخل یا تصرف کے بغیر نافذ کریں یعنی وہ روایتیں صرف اتنا بتاتیں ہیں کہ یہ حضرات احکام الہٰی کے نفاذ کی صلاحیت اور اس کا اختیاررکھتے ہیں ۔
دوم :۔وہ نصوص جو ان کے اوامر تدبیری اقدامات کی اس اعتبار سے حکایت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام (ص) یا امام ولی امر اور حاکم مسلمین ہونے کی حیثیت سے انھیں صادر کرتے یا انجام دیتے رہے ہیں ، پیغمبر (ص) و امام ہونے کی حیثیت سے نہیں کہ وہ ثابت و معین احکام کو جو اپنے موضوعات کے لئے مرتب اور لوگوں کے لئے ڈھالے گئے ہیں(۷) ، لوگوں تک پہنچائیں یا ان کی تعلیم دیں اگر چہ انشاء اللہ بعد میں ہم اس طرح کے اوامر پر بھی روشنی ڈالیں گے ۔
____________________
۱)۔عدة الاصول،شیخ طوسی ۔ج/۱ص/۳۷۹،الفوئد الرجالیہ کجوری ص/۷۲
۲)۔عدة الاصول،شیخ طوسی ۔ج/۱ص/۳۸۰
۳)۔ملاحظہ ہو:تہذیب شیخ طوسی ،ج ۷،ص ۳،۲۔وسائل الشیعہ ،ج۱۲،ابواب التجارة ،اور حاشیہ میں اس کے منابع ۔
۴)۔ کافی ،ج/۵،ص/۱۴۸،تہذیب ،ج/۷ ،ص/۲اورص/۴،من لا یحضر الفقیہ،ج/۳ص/۱۹۱اورص/۱۹۲،وسائل الشیعہ ج/۱۲ و ۶و۱۰ص۴و۵
۵)۔خصائل: ج۲ ،ص۴۴۵؛کافی : ج۵،ص۱۴۸؛ من لا یحضر الفقیہ:ج۳ ،ص۱۹۲و ص۲۳۳؛ تہذیب :ج۷، ص۳؛ وسائل اشیعہ :ج۱۲،ص۳و۴؛بحار الانوار: ج۱۰۰ ،ص۵ و ۱۲
۶)۔کافی ،ج/۵ ص/۱۲۹،من لا یحضر الفقیہ،ج/۳ ص/۱۹۲،تہذیب ج/۷ ص/۳و۴وسائل اشیعہ ج/۱۲ ص/۳،۴،۵
۷)۔ واضح ہے کہ احکام دو طرح کے ہیں:
(الف )وہ احکام جن کا موضوع کسی خاص مخاطب کی طرف سے ایک خاص عمل ہے مثلا نماز، جھوٹ ،شراب خوری یا اسی طرح کے امور جن کا مخاطب ایک معین فرد ہے
(ب) وہ احکام جن کا موضوع مطلق عمل ہے اس میں کوئی خاص و معین مخاطب نہیں ہے مثلا واجب کفائی اور اجتماعی احکام جن پر معاشرہ کی فلاح ،استحکام اور پائداری منحصر ہے حاکم اور مسلط ہونے کی حیثیت سے ولی امر کا فریضہ ایسے احکام جاری کرانا ہے جن کا کوئی مخصوص مخاطب نہ ہو مثلا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہ یہ خدا وند کا منشاء ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت ،”ایک امت “ معاشرہ کا ایک طبقہ اس کا ذمہ دار ہو ”ولتکن منکم امة یدعون الیٰ الخیر یامرون بالمعروف و ینہون عن المنکر“ (آل عمران /۱۰۴) اسی طرح معاشرے کی امور کی تدبیر ،اس کی اصلاح اور عمومی نظم و ضبط قائم کرنا وغیرہ اس کے فرائض میں سے ہے بالکل یوں ہی جیسے ہر شخص اپنے گھر کی دیکھ بھال اس کی نگرانی ،اہل خانہ کے افعال پر نگاہ رکھنے اور اسے منظم رکھنے کا ذمہ دار ہے
اسلامی بازار کی ابتدا اور اس کا ارتقاء
حکومت کا بازار سے ربط
اگر کوئی اسلامی نصوص کا جائزہ لے تو اسے ایسی بہت سی روایتیں نظر آئیں گی جو بازار تاجروں اور مجموعی طور پر خود تجارت کے حکومت کے ساتھ مضبوط اور گہرے ربط کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
ایک آگاہ شخص کو ان روایات میں اسلامی حکومت کے تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ مخصوص رابطہ کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی،خاص طور سے ان موارد میں جہاں حکومت نے ولایت امرہونے کی حیثیت سے مختلف میدانوں میں بعض امور سے منع کرنے یاکسی معین کام کو لازمی وضروری قرار دینے میں دخل دیا ہو ہم یہاں حسب ذیل عنوانات کے تحت بعض مثالوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
بازار کے لئے جگہ کاانتخاب
ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا (صص) جو اسلامی حکومت کے سب سے بلند منصب پر فائض تھے ،جس طرح بذات خود مدینہ میں گھروں کے نقشے بناتے ہیں(۱) مسجدوں ،قبیلوں اور شہری علاقوں کی جگہیں معین فرماتے ہیں اور قبلہ مشخص فرماتے ہیں(۲) یوں ہی خود مدینہ میں بازار کے لئے بھی جگہ منتخب فرماتے ہیں ۔
روایت ہے کہ :ذهب رسول الله (صص) الی سوق النبیط فنظر الیه فقال لیس هذا لکم بسوق ،ثم ذهب الی سوق فنظر الیه فقال لیس هذا لکم بسوق، ثم رجع الیٰ هذا السوق فطاف به ،ثم قال:هذا سوقکم فلا ینتقص ولا یضرب علیکم خراج (۳) ۔
رسول خدا (صص) بازار ”نبیط “ تشریف لے گئے اور اس کا جائزہ لینے کے بعد فرمایا: یہ تمہارے لئے بازار نہیں ہے ؛(۴) ” یہ تمھارا بازار نہیں ہے“ ۔
اس کے بعد اس بازار (راوی کے منظور نظر بازار) کی طرف واپس ہونے اور اسے گھوم پھر کر دیکھا پھر فرمایا:”یہ تمھارا بازار ہے،اس سے کم نہیں ہوگا(یعنی اس کا رقبہ کم نہ ہوگا) اور نہ تم پر خراج (ٹیکس )لگے گا“۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے:جاء رجل الی النبی (صص) فقال : انی رایت موضعا للسوق افلا تنظر الیہ ؟ قال بلی ، فقام معہ ، حتی جاء موضع السوق ، فلما رآہ اعجبہ ، و رکض برجلہ و قال: نعم سوقکم ھذا ، فلا ینتقض، و لا یضرب علیکم خراج(۵) ۔
ایک شخص پیغمبر اکرم (صص) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا ،میں نے بازار کے لائق ایک جگہ دیکھی ہے کیا آپ اسے ملاحظہ نہ فرمائیں گے ؟فرمایا :کیوں نہیں، پھر آپ اس کے ہمراہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جگہ تشریف لے گئے ۔جب آپ نے اس جگہ کو دیکھا تو اسے پسند کیا اور پاوں سے اس پر ضرب لگا کر فرمایا :یہ تم لوگوں کے لئے کیا اچھا بازار ہے ۔اس کا رقبہ کم نہیں کیا جائے گا اور تم پر خراج نہیں لگے گا۔
عمر بن شبہ نے عطاء بن یسار سے روایت کی ہے کہ :لما اراد رسول الله (صص) ان یجعل للمسلمین سوقا اتیٰ سوق بنی قینقاع،ثم جاء سوق المدینة، فضربه برجله، وقال، هذا سوقکم فلا یضیق ولایوخد فیه خراج
اور ابن زبالہ نے یزید بن عبید اللہ بن قیط سے روایت کی ہے کہ:ان السوق کانت فی بنی قینقاع، حتی حول السوق بعد ذالک (۶)
پیغمبراسلام (ص)نے جب مسلمانوں کے لئے ایک بازار معین فرمانے کا ارادہ کیا تو بازار ”قینقاع “تشریف لے گئے اس کے بعد بازار مدینہ کی طرف تشریف لائے اور اسے پاوں سے تھپتھپا کر فرمایایہ تمھارا بازار ہے،چھوٹا نہیں ہوگا اور نہ اس سے کوئی خراج لیا جائے گا نیز ابن زبالہ نے یزید بن عبیداللہ بن قسیط سے روایت ہے کہ بازار پہلے محلہ بنی قینقاع میں تھیہاں تک کے اس واقعہ کے بعد اس جگہ منتقل کردیاگیا۔
ابن زبالہ نے عباس بن سہل اور اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے:ان النبی (صص)،اتی بنی ساعدة فقال: انی قد جئتکم فی حاجة، تعطونی مکان مقابرکم فاجعلها سوقا،وکانت مقابرهم ما حازت دارُابن ابی ذئب الی دار زید بن ثابت، فاعطاه بعض القوم ،ومنعه بعضهم،وقالوا : مقابرنا، و مخرج نسائنا، ثم تلاموافلحقوه ،و اعطوه ایاه ،فجعله سوقاً (۷) ۔
پیغمبر اکرم (ص) بنی ساعدہ کے پاس گئے اور فرمایا میں تم لوگوں کے پاس ایک ضرورت سے آیا ہوں ، تمھارے پاس جو قبرستان کی زمین ہے مجھے دے دو تاکہ میں اسے بازار بنا دوں ،(ان کا قبر ستان ابن ابی ذئب کے گھر سے لے کر زید بن ثابت کے گھر تک کی زمین میں پھیلا ہوا تھا ، ان میں سے بعض لوگوں نے وہ زمین دے دی اور بعض نے پہلے نہیں دی اور کہا کہ وہ ہمارا قبرستان اور ہماری عورتوں کی آمد و رفت کی جگہ ہے لیکن بعد مین اپنی قوم کے افراد کی مذمت کا نشانہ بنے اور خود پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں پہنچ کر اپنی رضامندی کا اعلان کیا اور زمین پیغمبر (ص) کے حوالہ کر دی آنحضرت (ص) نے اس جگہ کو بازار قرار دے دیا ۔
ابن شبہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے کہ:ضرب رسول الله (ص) قبة فی موضع بقیع الزبیر ،فقال ‘ هٰذا سوقکم ،فاقبل کعب بن الاشرف،فدخلها،و قطع اطنابها ،فقال رسول الله (ص) لا جرم لا نفلنها الیٰ موضع هو اغیظ له من هٰذا ،فنقلها الیٰ موضع سوق المدینة ثم قال ، هٰذا سوقکم لا تنحجروا ،ولا یضرب علیکم خراج (۸)
رسول خدا (ص) نے بقیع ربیر کی جگہ پر ایک قبہ (بڑا خیمہ ) نصب کرکے فرمایا : ”یہ تمھارا بازار ہے “ کعب بن اشرف نے اس میں داخل ہو کر اس کی طنابیں کاٹ دیں رسول اللہ (ص) نے فرمایا :مجبورا اسے ایسی جگہ منتقل کرتا ہوں اسے اس سے بھی زیادہ غضب ناک کرے گا پھر اسے بازار مدینہ کی جگہ پر منتقل کر دیا اور فرمایا یہ تمھارا بازار ہے تنگ نہیں ہوگا اور تم پر ٹیکس بھی نہی لگے گ ۔
شہری امور
مجموعی طور سے شہری منصوبوں پر اسلامی حاکم کی نگرانی اور شہروں میں عمومی اداروں کے قیام کی تاریخ و حدیث میں بہت سی مثالیں مل جائیں گی ۔
فقد کان امیر المومنین علی علیه السلام یامر بسدالمثاعب والکنف عن طریق المسلمین (۹)
امیر المو منین علیہ السلام مسلمانوں کی راہ میں پڑنے والی گندی نالیوں اور بیت الخلاء کے کنوؤںکو بند کرنے کا حکم دیتے تھے۔
کما انّ مهدی (علیه السلام )اذا خرج ، یبطل الکنف والمیازیب و یوسّع الطریق الاعظم (۱۰)
اور روایت ہے کہ جب امام زمانہ علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو ان گندی نالیوں اور نابدانوں کو جو سڑکوں اور گزر گاہوں میں بنائے گئے ہیں ختم کر دیں گے اور وسیع و عریض راہوں کو اور وسعت بخشیں گے ۔
و سال ابو العباس البقباق الاسلام الصادق (علیه السلام) الطریق الواسع هل یوخذ منه شیٴ اذا لم یضر بالطریق ؟،قال لا (۱۱)
ابو العباس بقباق نے امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ وسیع و عریض راہ کے کچھ حصہ پر تصرف کیا جا سکتا ہے جب کہ اس سے راہ کو کوئی ضرر بھی نہ ہو-؟فرمایا:نہیں :
و روی : انه وجدت صحیفة فی قراب سیف رسول الله (صص) مکتوب فیها : ملعون من اقتطع شئی من تخوم الارض (۱۲) یعنی بذالک طریق المسلمین (۱۳)
”روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا (صص) کی تلوار کے غلاف میں سے ایک نوشتہ پایا گیا جس میں لکھا تھا : ملعون ہے وہ شخص جو زمین کے کچھ حصہ پر قبضہ کر لے زمین کی حدود (تخوم الارض )سے مراد مسلمانوں کا راستہ ہے “
جلد ہی ہم اس حکم کی طرف اشارہ کریں گے کہ راستہ کم از کم سات ہاتھ(۱۴) چوڑا ہونا چاہئے(۱۵) ۔
فقد ورد انه اذا اخرج امام المهدی عجل الله تعالی فرجه وسع الطریق الاعظم (۱۶)
” روایت ہے کہ جب امام زمانہ تشریف لائیں گے تع سڑکوں کو مزید وسعت دیں گے “
یوں ہی ہمسایہ اور پڑوسی کے حقوق بھی ذکر ہوئے ہیں ، منجملہ اپنے گھروں کو پڑوسی کے مکان کے اوپر نہ بناو کی اس تک ہوا پہنچنے کا راستہ بند ہوجائے ایک دوسری روایت میں ہے کہ: اپنے مکان کو اس کے گھر سے بلند نہ بناو کے اس کی طرف ہوا کا بھاو بند ہوجائے ہاں یہ کام اس کی اجازت سے کرسکتے ہو ۔(۱۷)
امیر المومنین علیہ السلام وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے قید خانہ بنایا(۱۸) اور وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے قید یوں کے رفاہ کے اسباب ووسائل فراہم وتقرر کئے۔(۱۹)
وفی بناء الموسسات، فقد بنی امیر المومنین (علیه السلام )مربدا للضّوال ، فکان یعلفها علفا لایسمنها، ولا یهزلها من بیت المال (۲۰) حتی یجد صاحبھ
”اور عمومی ادارے بنانے کے سلسلہ میں :امیر المومنین علیہ السلام نے گم شدہ جانوروں کے لئے ایک اصطبل بنایا تھا اور ان جانوروں کا آذوقہ اتنی مقدار میں کہ وہ موٹے ہوں نہ دبلے،بیت المال سے دیتے تھے یہاں تک کہ جانوروں کا مالک آجاتا تھا“ ۔
کما ان النبی (ص) قد امر ببناء سد لاجل جمع الماء وکان ثمة قناة منه تصل الی قباء (۲۱)
جیسا کہ پیغمبر اسلام (صص) نے پانی کی جمع آوری کے لئے ایک بند بنانے کا حکم دیا جس کا پانی ایک نہر کے ذریعہ قبا کے علاقہ میں جاتا تھا۔
نیز حضرت علی علیہ السلام وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے ایک ایسی جگہ معین کی جہاں اطلاعات وگزارشات ڈالی جائیں(۲۲) ۔
اب رہی دوسری جگہوں سے آنے والے وفود کے ٹھہرنے کے لئے اقامت گاہ بنانے ،غریبوں اور بے گھر بار فقیروں مثلا اہل صفہ کے مکانوں اور جگہوں کی تعیین بیماروں کے علاج کی خاطر جگہ کی تعیین لوگوں کے مطالبات قلم بند کرنے کھجور کے درختوں کے محصول کا تخمینہ لگانے قرارداد وغیرہ لکھنے کے لئے منشیوں اور لکھنے والوں کو معین کرنے نیز امیر المومنین علیہ السلام کے ذریعہ اجتماعی رفاہ و تعاون کی بنیاد رکھنے کی بات جیسا کہ مالک اشتر کے عہد نامہ اور دوسرے منابع و مآخذ میں مذکورہے ،ان تمام امور اور عمومی اداروںکی تعیین و تعمیر سے متعلق امور کے سلسلہ میں مولفین اور صاحبان قلم نے خوب لکھا ہے(۲۳) ۔
مزید یہ کہ امیر المومنین علیہ السلام نے اس مکان کو منہدم کرا دیا جہاں اہل فسق و فجور جمع ہوا کرتے تھے(۲۴) جس طرح ان سے پہلے حضرت رسول خدا(صص) نے مسجد ضرار کو ویران کر دیا تھا ۔
ہم یہاں ان تمام باتوں کا جائزہ لینے کے درپے نہیں ہیں ،جو چیز ہماری بحث سے مربوط تھی وہ رواتیں تھیں جن میں پیغمبر اسلام (ص)کے ذریعہ بازار کی جائے وقوع کے انتخاب کی بات کہی گئی تھی۔
بازار بنانا اور اسے کرایہ پر دینا
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ بازار کے کمروں سے استفادہ کے عوض کرایہ نہیں لیتے تھے(۲۵)
و فی نص آخر :انه (علیه السلام ) کره ان یاخذ من سوق المسلمین اجراً “(۲۶)
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت علیہ السلام مسلمانوں کے بازار سے کرایہ لینے میں کراہت محسوس کرتے تھے :
و روی ابن شبه و ابن زیالة :عن محمد بن عبدالله ابن حسن :انّ رسول الله (ص )تصدق علی المسلمین باسواقهم (۲۷)
”ابن شبہ اور ابن زبالہ نے محمّد بن عبداللہ بن حسن سے روایت کی ہے کہ :رسول خدا(ص)نے مسلمانوں پر ان کے بازارتصدق فرمادیئے“(یعنی مسلمانوںکے بازار سے استفادہ کے عوض ان سے کچھ لیا نہیں )
یہ روایتیں حسب ذیل تین مطالب کی طرف اشارہ کرتی ہیں :۔
۱) ۔ کم ازکم بازار کی ایک نوعیت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس سے مراد وہ حجرے اور کمرے ہیں جو تجارت کے لئے بنائے جاتے رہے ہیں یہ بات پہلی روایت سے معلوم ہوتی ہے جس میں آیاہے کہ” امیر المو٘منین علیہ السلام بازار کے حجروں کاکرایہ نہیں لیتے تھے۔“
بعد کی گفتگو میں ہم یہ بات بھی لائیں گے کہ جب بعض لوگوں نے بازار میں دکانیں بنا ڈالیں تو امیر المومنین علیہ السلام نے انھیں ویران کر دی
بازار کی ایک دوسری شکل بلا کسی تعمیر کے کھلی ہوئی فضا اور میدان کی تھی کہ لوگ اپنا مال وہاں رکھ کر فروخت کرتے تھے ،جب دن تمام ہوجاتا تو اپنی جگہ ترک کر دیتے تھے اور دوسرے روز جو شخص بھی دوسروں سے پہلے آکر کسی جگہ بیٹھ جا تا تھا تو اس کا حق مقدم ہو جاتا تھا اور رات ہونے تک کسی کے لئے جائز نہیں تھا کہ اس پر اعتراض کرے
۲) ۔ جب کہ مذکورہ روایت کی نص سے یہ بات معلوم ہو ئی کہ بازار کی ایک نوعیت حجروں اور کمروں کی تھی اور امیر المومنین علیہ السلام ان کا کرایہ نہیں لیتے تھے تو اس سے یہ نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ بازار کی عمارت کسی کی شخصی ملکیت نہیں رہی ہے بلکہ حکومت خود اس کی مالک تھیاور انھیں تاجروں کے اختیار میں دیتی تھی یا انھیں بلا عوض مالک بنا دیتی یا وا واگزارکر دیتی تھی جیسا کہ محمد بن عبد اللہ بن حسن سے منقول پیغمبر اسلام (ص)کی روایت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت (ص)نے مسلمانوں کا بازار ان ہی کو تصدق فرما دیا یا پھر بازار حکومت کی ملکیت رہتا تھا اور لوگوں کو اس سے استفادہ کا حق دیا جاتاتھااس حدیث سے ظاہر ہے جس میں امیر المومنین علیہ السلام کے بازار کے حجروں او کمروں سے استفادہ کے عوض کرایہ لینے میں کراہت کا ذکر ہے ، حتیٰ یہ احتمال بھی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص )کی طرف سے بازار مسلمانوں پر تصدق کرنے والی پچھلی روایت کا یہ ہو کہ مسلمانوں کا بازار سے استفادہ کرنا مباح ہے اور وہ اس کے استعمال میں آزادہیں بطور مطلق ان کی ملکیت نہیں ہے
مختصر یہ کہ گزشتہ باتوں میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) اور امیر المومنین علیہ السلام کے زمانہ میں حکومت ہی بازار بنانے کا اقدام کرتی تھی اور انھیں تاجروں کے اختیار میں دیتی تھی
یوں ہی آگے ذکر ہونے والی باتوں سے بھی معلوم ہوگاکہ بعض افراد خود اپنی ملکیت اور زمین میں تجارت خانہ بناتے تھے لیکن کبھی وہ مسلمانوں کے بازار یا دوسری جگہوں پر بھی جہاں وہ تعمیر کا حق نہیں رکھتے تھے اپنے تجارت خانہ بناتے تھے اور حاکم انھیں اس سے روکتا نیز ان کی تعمیر کو منہدم کرا دیتا تھا
۳) ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام بازار کے حجروںسے استفادہ کے عوض کرایہ لینے میں کراہت محسوس کرتے تھے بلکہ تجارت کے معاملہ میں ان کے بے انتہا اہتمام اور اور تشویق دلانے کے لئے آپ ان جگہوں کو مفت اور بلا عوض تاجروں کے وحوالے کر دیتے تھے اگر وہ اس بابت کرایہ لینا چاہتے تو ان کے لئے جائز تھا لیکن حضرت کے نزدیک امت کی مصلحت اور معاشرہ کا رفاہ زیادہ اہمیت رکھتا تھا
”کما انهم یقولون : ان اول من اخذ علیٰ السوق اجرا زیاد لعنه الله “(۲۸)
جیسا کہ لوگ کہتے ہیں:وہ پہلا شخص جس نے بازار کا کرایہ وصول کیا زیاد لعنت اللہ علیہ تھااور یہ اس کی دنیا طلبی دولت پرستی اور اجارہ داری کا نتیجہ ہے
ایک شبہ کا جواب
یہ بات فطری ہے کہ وہ پہلا بازار جس کا ذکر حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول روایت کے ضمن میں آیا ،اور جس میں یہ بات بیان ہوئی تھی کہ حضرت اس کے حجروں اور کمروں سے استفادہ کی بابت کرایہ لینے میں کراہت محسوس کرتے تھے حضرت کے دارالحکومت کوفہ کا بازار ہی ہوگ
اسی طرح بعد کے عنوان کے ذیل میں ذکر ہونے والی بات طبری کے قول کے غلط ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ اس کے بقول کوفہ کے بازاروں کی نہ کوئی عمارت یا مکان اور نہ کوئی علامت و نشان تھا ۱# کیوں کہ امیر المومنین کی کراہت بازار کے ”حجروں کمروں “کا کرایہ لینے سے متعلق تھی نیز بعد میں بیان ہونے والی باتیں یہ ثابت کریں گی کہ بازار کوفہ میں حجر ے اور کمرے موجود تھے جیسا کہ ”یعقوبی“نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ابتدا سے ”خالد القسریٰ“کے زمانہ تک ان کمروں یا حجروں پر ٹاٹ یا چٹائی کی چھت تھی(۲۹)
مگر یہ کہ اس سے یعقوبی کی مراد یہ ہو کہ دھوپ یا بارش سے بچنے کے لئے بازار کی کھلی ہوئی اور بغیر مکان والی میدانی فضا کے اوپر حصیر لگا دیا گیا ہو ،یا جیسا کہ بعض محققین نے احتمال دیا ہے اس کا مقصد یہ ہو کہ بازار حصیروں سے گھرا ہوا تھا تا کہ جو لوگ بازار کے اندر ہیں اس کی معین شدہ حدود سے باہر نہ جائیں۔
اور شاید طبری کے قول کی توجیہ یوں کی جاسکتی ہو کہ اس کی مراد یہ ہو کہ ابتدا میں کوفہ کا بازار بغیر کسی عمارت ومکان اور علامت ونشان کے تھا اگر چہ اس کے بعد حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے زمانہ میں یا اس سے کچھ قبل اس میں کمرے اور حجرے بھی بنے تھے اور ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ بعض بازار کمروں اور حجروں کی شکل کے تھے اور کچھ دوسرے کھلے ہوئے اور وسیع میدان کی شکل کے کہ تاجر شب ہونے تک اس جگہ بیٹھے رہتے تھے
اسلامی بازار کے دوسرے قوانین
حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں کا بازار ان کی مسجدوں کی مانند ہے پس جو شخص جس جگہ پہلے قابض ہو جائے شب تک اس جگہ کا حقدار ہے(۳۰) اور ”اصبغ ابن نباتہ “ سے روایت ہے کہ :میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ہمراہ بازار گیا ،لوگوں نے کہا یہ اہل بازار ہیں اور اپنی جگہوں سے آگے بڑھ گئے ہیں
فقال : لیس ذالک الیهم ، سوق المسلمین کمضلیٰ المسلمین ، من سبق الیٰ شیٴ فهو له یومه حتیٰ یدعه ۔(۳۱)
” فرمایا :انھیں یہ حق حاصل نہیں ہے مسلمانوں کا بازار ان کی مسجدوں کے مانند ہے جو شخص جس جگہ پہلے پہنچ جائے وہ جگہ اس دن اس کی ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے ترک کردے
اصبغ ابن نباتہ سے ایک اور روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بازار تشریف لے گئے انھوں نے وہاں دکانیں دیکھیں جو بازار میں بنا لی گئی تھیں آپ نے حکم دیا کہ انھیں منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیا جائے اصبغ نے مزید کہا کہ حضرت ”بنی البکاء“ کے گھروں کی طرف سے گزرے اور فرمایا : یہ جگہ مسلمانوں کے بازار کا حصہ ہے پھر آپ نے ان کو دوسری جگہ جانے کاحکم دیا اور ان گھروں کو منہدم کر دی
نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :جو شخص بازار میں جس جگہ کو پہلے اختیار کرلے وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے اور اصبغ کہتے ہیں :صورت حال یہ تھی کہ آج ایک شخص ایک جگہ اپنا مال فروخت کرتا تھااور دوسرے دن دوسری جگہ(۳۲)
و عن ابن ابی ذئب : انّ رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم مرعلیٰ خیمة عند موضع دار المنبعث فقال : ما هٰذه الخیمة؟ فقالوا : خیمة لرجل من بنی حارثة ، کان یبیع فیها التمر ، فقال :حرقوها فحرقت قال ابن ابی ذئب: و بلغنی ان الرجل محمد بن مسلمه (۳۳)
”ابن ابی ضعف سے روایت ہے کہ :رسول خدا (ص) ایک خیمہ کی طرف سے گزرے جو ”ار المنبعث “کی جگہ پر تھا آپ نے پوچھا یہ کیسا خمیہ ہے؟لوگوں نے کہا کے بنی حارثہ کے ایک شخص کا خمیہ ہے جس میں وہ خرمہ فروخت کرتاتھا حضرت نے فرمایا”اسے جلا ڈالو“ پس اسے جلاڈالا گیاابن ابی ذئب نے کہا مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اس خیمہ کا مالک ”محمد بن مسلمہ“تھا “
مذکورہ روایات سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:۔
۱ ۔جب تک کسی نے جگہ لینے میں پہل نہ کی ہو ہر شخص اپنا مال فروخت کرنے کے لئے جہاں چاہے جگہ کا انتخاب کرسکتا ہے
۲ ۔انتخاب شدہ جگہ سے استفادہ کرنا وہ حق ہے جو انتخاب کے ذریعہ حاصل ہوا ہے اور یہ حق ایک معین مدت یعنی رات ہونے تک باقی ہے
۳ ۔معین شدہ جگہوں سے زیادہ بڑھنے اور پھیلنے کی ممانعت :بازار کے لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ جو جگہیں ان کے لئے معین کردی گئی ہےں ان سے آگے قدم بھڑائےں کیوں کہ مسلمانوں کا بازار ان کی مسجدوں کی مانند ہے اور معین شدہ جگہوں سے تجاوز کرنا ان لوگوں کو نقصان پہچانے کے مترادف ہے جو اپنا مال فروخت کرنے آئے ہیں اور شب ہوتے ہی اپنی جگہ چھوڑدیتے ہیں اب وہ تاجر جو بازار میں کمرا یا حجرہ کے مالک ہیں اگر اپنی جگہوں سے تجاوز کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس کھلی ہوئی جگہ کا کچھ حصہ گھرلیا ہے جس سے وہ تاجر استفادہ کرتے ہیں جن کے یا حجرہ یا کمرے نہیں ہے
۴ ۔ناجائز تعمیرکا انہدام :گزشتہ روایات سے یہ بھی واضح ہوا کہ حاکم عمومی جگہوں پر بنی ہوئی دکانوں اس جہت سے کہ وہ لوگوں کے حقوق پر تجاوز و قبضہ کے مترادف ہے منہدم کراسکتا ہے جیسا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے کیا کہ عوام کے حق پر تجاوز کرکے بنائی گئی دکانوں کو خراب کردینے کا حکم دیا اور رسول خدا (صص) نے اس خیمہ کو جلا ڈالنے کا حکم دیا جو خرما فروخت کرنے کے لئے اسی جگہ پر نصب تھا جہاں کسی کو خیمہ لگانے کا حق نہیں تھا
۵ ۔ حاکم کو حق کہ ہے بازار کی حدود میں بنائے جانے والے مکانوں کو چاہے وہ رہایشی ہی کیو ںنہ ہوں منہدم کردے جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے ”بنی البکاء“ کے گھروںکو منہدم کردیا
۶ ۔حق اولیت فروخت کرنا:
”وعن محمد بن مسلم، قال: سالت ابا عبد الله (علیه السلام) عن الرجل یرشو الرجل الرّشوة علی ان یتحول من منزله فیسکنه؟ قال: لا باس به “
محمد ابن مسلم سے روایت ہے کہ: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا ”اگر ایک شخص دوسرے کو اس بات پر رشوت دیتاہے کہ وہ اپنی جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور اس کی جگہ پر وہ ساکن ہوجائے ؟فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے“
صاحب وسائل نے یہ فرمایاہے کہ اس جگہ سے مراد مسلمانوں کے درمیان مشترک زمین ہے جیسے وہ زمین جو قہر وغلبہ کے ذریعہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوئی ہو(۳۴) اور ہم اس روایت کی روشنی میں بازار کو اماکن مشترکہ میں شمار کرسکتے ہیں کہ اس میں روایت کی بنیاد پر اگر کوئی شخص بازار میں کسی جگہ پر پہلے قابض ہوجائے تو دوسرا شخص پہلے، شخص کو اس جگہ سے جانے پر راضی کرنے اور خود وہ جگہ حاصل کرنے کے لئے اسے کچھ مال یا پیسہ دے سکتاہے تا کہ رات تک کے لئے اس جگہ ساکن ہوسکے دوسرے روز صبح پھر وہ جگہ تمام مسلمانوں سے متعلق ہے اور جو شخص بھی دوسروں سے پہلے اس پر قابض ہوجائے اس کا حقدار ہو گا کیونکہ ہر حال میں طرفین کی صلح ومصالحت جگہ کی عمومیت کو ختم نہیں کرتی اور صرف شب ہونے تک حق تقدم کا سبب بنتی ہےبازار میں حکومت کے بنائے ہوئے حجروں میں اور کمروں کی بھی یہی کیفیت ہے۔
بعض علماء کے نزدیک یہ حدیث حسب ذیل امور پر بھی دلالت کرتی ہے:۔
۱ ۔خراج والی اراضی(۳۵) میں حق اولیت یا حق تقدم فروخت کرنے کا جواز ۔
۲ ۔یہ روایت مسجد میں پہلے سے لی گئی جگہ کاحق اولیت فروخت کرنے کے فتویٰ و قول کی تائید کرتی ہے
۳ ۔یوں ہی یہ روایت اس گھر کے حق سکونت کو فروخت کرنے کے جواز پر وہی دلالت کرتی ہے جو کسی کی ملکیت تو نہیں ہے لیکن بیچنے والا اس میں سکونت کا حق رکھتا ہے
اس وضاحت کے ساتھ کہ ممکن ہے یہ کہا جائے یہ جواز عقل اجارہ کے تابع ہے ۔اگر اجارہ اس طور پر مطلق ہوگا کہ اس سے مستاجر (کرایہ دار)کے ذریعہ منفعت کی و اگزاری کا جواز سمجھ میں آئے یا یہ کہ کرایہ دار نے منفعت واگزار کرنے کی شرط کر لی ہو ،اس طرح کی واگزاری جائز ہے ورنہ ظاہر ہے کہ کرایہ پر دی جانے والی چیز کا نفع کرایہ دار سے مخصوص ہے اور وہ اسے دوسرے کو واگزار نہیں کر سکتا اور نہ بیچ سکتا ہے ۔ہم یہاں اس موضوع کی تحقیق کے در پے نہیں ہیں
بازار کے لئے قسام ( سپلائی آفیسر ) معین کرنا
”روی:انه کان لعلی علیه السلام قسام یقال له عبد الله ابن یحیٰ و کان یرزقه من بیت المال (۳۶) وقال ابن مرتضیٰ ”لم یکن لعلی علیه السلام الا قسام واحد “(۳۷)
روایت ہے کہ علی علیہ السلام کے پاس ایک قسام (تقسیم و سپلائی کاآفیسر) تھا جس کا نام عبد اللہ ابن یحیٰ تھا اور جسے حضرت بیت المال سے تنخواہ دیتے تھے اور ابن مرتضیٰ کے بقول :علی علیہ ا لسلام کے پاس ایک سے زیادہ قسام نہیں تھا ۔
____________________
۱۔کافی ج/۵، ص/۹۲،من لایحضرہ الفقیہ ج/۳،ص /۱۷۰،وسائل ج/۱۲،ص/۴۵ بعض محققین نے بعض مورخین سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کایہ عمل انصار کے گھروں میں مہاجرین کے مسکن کی تعیین کے لئے تھا لیکن ظاہر نص کے خلاف ہے بلکہ جیساکہ واضح ہے ،صریحاً خلاف ہے
۲۔الاصابة ،ج/۱ ص/۳۲،وص۲۱۱ از تاریخ البخاری وابن ابی عاصم وطبری وغیرہ اور ”البادردی“ سے ”الصاحبہ “ میں نیز التراتیب الاداریہ ج/۲،ص/۷۶
۳۔سنن ابن ماجہ ،ج/۲،ص/۷۵۱
۴۔ یعنی یہ جگہ بازار کے لئے مناسب نہیں ہے
۵۔مجمع الزوائد ج/۴،ص/۷۶۔الترتیب الادواریةج/۲،ص۱۶۳۔وفاء الوفاء ج/۲، ص/۸۴
۶۔وفاء الوفاء،ج/۲،ص،۷۴۷
۷۔ کتاب وفاء الوفا ء ،ج/۲ص/۷۴۸
۸۔کتاب وفاء الوفا ء ،ج/۲ص/۷۴۸
۹۔ معالم القربہ،ص/۱۵،المصنف عبد الرزاق ، ج/۱۰ ص/۷۲،کنزل العمال ،ج/۵ ص/۴۸۸،مجلہ نور العلم سال دوم ، شمارہ ۳ ص/۴۵، آخری دو کتابوں سے نقل ،مصنف ابن ابی شیبہ، ج/۷ ص/۳۵۴
۱۰۔ اعلام الوریٰ با اعلام الھدیٰ ص/۴۶۲،تفسیر نور الثقلین ج/۲ ص۲۱۳
۱۱۔ تہذیب ، ج/۷ ص/۱۲۹،وسائل ج/۱۲ص/۲۸۱
۱۲۔تخوم الارض : یعنی راہ کی نشانیاں اور حدود
۱۳۔ کشف المسطار عن مسند البزار، ج/۱ ص/۱۷۳ و مجمع الزوائد ج/ ۱ ص/۲۹۴
۱۴۔ایک زراع یعنی پچاس سے ستر سینٹی میٹر کے درمیان ۔المنجد
۱۵۔ازالمنصف ابن ابی شیبہ ، ج/۷ ص/۲۵۵
۱۶۔الارشاد شیخ مفید ص/۴۱۲،الغیبة شیخ طوسی ، ص/۲۸۳ ، بحار الانوار ج/۵۲ ص/۳۳۳و ص/۳۳۹،وسائل ج/۱۷ ص/۳۴۷ ،اولین دانشگاہ و آخرین پیمبر ج/۲ ص/ ۱۹۳
۱۷۔الترتیب الاداریہ،ج/۶،ص/۸۰۔بیہقی سے ”شعب الایمان“میں اور ابن عدی سے ”الکامل “میں
۱۸۔محاضرة الادائل،ص/۱۰۸۔الترتیب الاداریة،ج/۱،ص/۲۹۸و۲۹۹،از ”التحاف الرواة“واز ”شفاء الغلیل“ اور از ”العینی“ج/۱،ص/۵۲۵،نیز ملاحظہ ہو:الفائق،ج/۱،ص۴۰۵
۱۹۔الترتیب الاداریة،ج/۱،ص۳۰۰
۲۰۔المناقب ابن شہر آشوب ،ج/۲،ص/۱۱۱۔بحار الانوار،ج/۴۱،ص/۱۱۷و۱۱۸
۲۱۔ملاحظہ ہو :معجم البلدان ،ج/۳،ص/۱۹۷
۲۲۔ماثرالانافہ،ج/۳،ص/۳۴۱۔الاوائل عسکری،ج/۱،ص/۲۹۸۔الترتیب الاداریة،ج/۱،ص/۲۶۸،نقل ازالخلط مقریزی
۲۳۔ملاحظہ ہو نہج البلاغہ عہد نامہ مالک اشتر وغیرہ الترتیب الاداریہ ج/۱،ٓ/۴۴۶ وص/۴۴۸
۲۴۔مجلہ نور العلم ،سال دوم شمارہ ۳ ص/۴۵،نشر االدرر ،ج/۲ ص/۱۵۲ملاحظہ ہو
۲۵۔فروع کافی طبع آخوندی ،ج/۵،ص/۱۵۵، اصول کافی طبع اسلامیہ ،ج/۲ ،ص/۴۸۵،التھذیب ج/۷ص/۹، وسائل ج/۱۲،ص/۳۰۰،ج/۳،ص/۵۴۲
۲۶۔ التھذیب ج/۶ ،ص/۲۸۳،وسائل ج/۱۲ ،ص/۲۰۰
۲۷۔وفاء الوفاء ،سمھودی ،ج/۲،ص/۷۴۸
۲۸۔المصنف ابن ابی شیبہ ،ج/۱۴،ص/۷۱
۲۸۔ تاریخ طبری ،ج/۴،ص/۴۵،الاصناف فی العصر العباس ،ص/۷۹،نقل از تاریخ طبری
۲۹۔البلدان ،یعقوبی ،ص/۲۱۱،الاصناف ص/۷۹نقل از البدان
۳۰۔یہی مطلب امام صادق سے بھی روایت ہو املاحظہ ہو فروع کافی، طبع اخوندی، ج/۵ص/۱۵۵؛ اصول کافی، طبع اسلامیہ ج/۲ص/۴۸۵؛ من لایحضرہ الفقیہ، ج/۴ص/۱۹۹؛ التہذیب ج/۷ص/۹ ؛ وسائل ج/۱۲ص/۲۰۰ج/۲ص/۵۲۲
۳۱۔کنزل العمال ج/۵ ص/۴۸۸،الاموال ابی عبید ص/۱۲۲و۱۲۳،الاصناف فی العصر العباسی ص/۷۸گزشتہ کتاب فتوح البلدان ص/۳۶۶اور تاریخ طبری ج/۴ ص/۴۶ سے نقل ،حیات الصحابہ ج/۲ ص/۱۳نقل از کنزل العمال
۳۲۔سنن بیہقی ،ج/۶،ص/۱۵۱،باب الاحیاء الموات
۳۳۔ وفاء الوفاء السمہودی ،ج/۲،ص/۲۴۹
۳۴۔وسائل الشیعہ،ج/۲،ص/۲۰۷۔التہذیب،ج/۶،ص/۳۷۵
۳۵۔ اس سلسلہ میں کئی روایتیں وارد ہوئی ہیں ملاحظہ ہو:وسائل ،ج/۱۲،ص/۲۷۴و۲۷۵ اور دوسرے ماخذ جو وسائل کے حاشیہ میں ذکر ہیں
۳۶۔ جواہر الاخبار والآثار ،البحر الزخار کے حاشیہ پر طبع شدہ ،ج/۵،ص/۱۰۵نیز یہ بات کتاب شفاء میں دو بار نقل ہوئی ہیں
۳۷۔ البحر الزخار ، ج/۵ ْص/۱۰۸
تجارت کے اصول و ضوابط
ایسی روایتیں موجود ہیں جن سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ تجارتی کاموں کا انتخاب اور ان پر عمل درآمد حاکم کے ارادہ و اختیار اور اس کی مصلحت اندیشی کے تابع ہے ۔حاکم اس شخص کو جو مقررہ ضوابط کے تحت نا اہل یا تجارتی کا موں کے لئے مطلوبہ اور صاف و خصوصیات سے محروم ہو تجارت سے روک سکتا ہے۔
”فقد روی :ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لم یاذن لحکیم بن حزام فی تجارته حتی ضمن له اقالة النادم و انظار المعسرواخذ الحق وافیا، غیر وافٍ “(۱)
”روایت ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکیم بن حزام کو اس وقت تک تجارت کی اجازت نہیں دی جب تک اس سے نادم کے اقالہ (یعنی جب بھی ایک شخص کوئی مال خریدے اور بعد میں پشیمان ہو تو وہ مال اس سے واپس لے لے) تنگ دست کو مہلت دینے اور اپنے حق سے زیادہ نہ لینے کا عہد نہ لے لیا“
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم سے روایت کہ فرمایا :
”من باع واشتریٰ:فلیحفظ خمس خصال ،والا ، فلا یشترین ولا یبیعن الربا والحلف ، وکتمان العیب ،والحمد اذا باع والذم اذا اشتریٰ“ (۲)
جو شخص خرید تا اور بیچتا ہے اسے پانچ خصلتوں سے دور ی اختیار کرنا چاہئے ورنہ نہ وہ ہر گز خریدے اور نہ بیچے:
”سود،اورقسم کھانا، مال کاعیب چھپانا، بیچتے وقت تعریف کرنااورخریدتے وقت عیب نکالنا “
حضرت امیر المو٘نین علیہ السلام فرماتے ہیں :
”لایقعدن فی السوق الا من یقعل الشراء والبیع “(۳)
”عقل سے خریدوفروخت کرنے والے کے علاوہ کوئی اور ہرگزبازار میں نہ بیٹھے“
اورہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علیہ السلام فقہ وتفقہ کی اہمیت پر تا٘کید کرتے ہوئے فراز منبر پرارشاد فرماتے ہیں :
”یامعشرالتجار الفقه ثم المتجر ،الفقه ثم المتجر الفقه ثم المتجر ،والله للربا فی هذه الامةاخفیٰ من دبیب النمل “(۴)
اے تجارت کرنے والو !پہلے فقہ اس کے بعد تجارت پہلے فقہ اس کے بعد تجارت پہلے فقہ اس کے بعد تجارت خدا کی قسم اس امت میں ربا و سود چیونٹی کی رفتار سے بھی زیادہ مخفی انداز میں رینگ رہا ہے
شرطیں ،ضابطے ، اور صلاحیتیں
مذکورہ بالا چند روایات سے کام کے شرائط سے متعلق امور پر روشنی پڑتی ہے جو حسب ذیل ہیں:
۱ ۔ اجازت ، گزشتہ روایت جس میں ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکیم بن حزام کو تجارت کی اجازت نہ دی جب تک ،اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کو حق حاصل ہے کہ ان لوگوں کو تجارت سے روک دے جو شارع کے مقرر کردہ شرائط و قوانین پر عمل نہیں کر سکتے
بعض بزرگوں نے اس روایت کے مذکورہ مفہوم کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کو تجارت کی اجازت نہیں دی جب تک اس نے یہ عہد نہ کر لےا کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ اس پر پابندی عائد کرنا چاہتے تھے بلکہ اس سے صرف حکم الٰہی بیان فرما رہے تھے کیوں کہ جب تک کوئی شخص کسی امر میں خدا کا حکم نہیں جانتا اس کا بجا لانا جائز نہیں ہےجیسے نماز کے متعلق معلومات حاصل کرنے سے پہلے اس کا پڑھنا جائز نہیں ہے ،یا مراد یہ ہے کہ حکیم بن حزام نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تجارت میں مشغول ہونے کے سلسلہ میں مشورہ کیا اور آنحضرت نے اس سے وہ بات ارشاد فرمائی جو شارع کے نظر میں بہتر تھی اور اس کی تجارت پر چند امور کی شرط لگا دی منجملہ (اقالہ بیچا ہوا مال واپس لینا )کہ یہ ایک مستحب امر ہے ورنہ اگر اقالہ تجارت کے لئے جواز کی شرط تھا تو اسے موجبات خیار میں شمار ہونا چاہئے تھا جب کہ ایسا نہیں ہے
لیکن ہم کہتے ہیں کہ روایت صراحت کے ساتھ یہ کہتی ہے کہ آنحضرت نے اسے اجازت نہیں دی اور اسے تجارت سے روک دیا جب تک کہ اس کا عہد نہ کر لےا کہ لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اجازت نہ دیتے تو اسے تجارت کرنے کا حق نہ تھا اور شاید اسے تجارت سے روکے جانے کا سبب یہ رہا ہو کہ وہ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرتا تھا جو شرعی طور پر ممنوع اور عمل بد ہے
اسی طرح اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ حکیم نے آنحضرت سے مشورہ کیا اور حضرت نے اس سے خدا کا حکم بیان کیا اسے نصیحت فرمائی ہے تو یہاں تک کہ حکیم نے عہد کی)کی تعبیر کے معنیٰ نہیں مانتے کیوں کہ ظاہر سی بات ہے کہ ارشاد و نصیحت اور حکم خدا بیان کرنے کے سلسلہ میں عہد اور ضمانت نہیں لی جاتی اور جو کہا گیا ہے کہ ”اگر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اجازت نہ دینے کا مطلب حکیم کو تجارت سے روکنا ہو تو اس کا لازمہ یہ کہ ایک ایسے امر کی مخالفت کے باعث جو بذات خود مستحب ہے حق خیار ثابت ہو جائے“اس کے جواب میں ہم یہ کہےں گے کہ حاکم ۔مبلغ و پیغمبرہونے کے عنوان سے نہیں بلکہ ۔ حاکم و ولی ہونے کے عنوان سے کسی مستحب یا مباح امر کو شرط قرار دے سکتا ہے اور یہی شرط لازم و ضروری ہو جاتی ہے اور حاکم اپنے اس حکومتی دستور کی مخالفت پر سرتابی کرنے والے کو سزا دے سکتا ہے چاہے وہ حکومتی دستور ( مخالفت کی صورت میں ) حق خیار ثابت ہونے کا موجب نہ ہو ان سب کے علاوہ جس چیز کو حکم الٰہی کا بیان و ارشاد ونصیحت کہا گیا ہے وہ بذات خود اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن پیغمبر نے جو چیز حکیم بن حزام پر شرط فرمائی ہے وہ کوئی انجانی یا نئی چیز نہیں تھی بلکہ ایک دم واضح اور بدیہی چیز تھی یہی واضح و بدیہی ہونا شرط اورضمانت سے میل کھاتا ہے نصیحت یا بیان سے ہم آہنگ نہیں ہے
۲ ۔یوں ہی گزشتہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم تجارت کی اجازت دینے کے لئے بعض غیر واجب امور انجام دینے کی شرط بھی لگا سکتا ہے اور حاکم کے شرط قرار دینے ہی سے ان امور کی انجام دہی ضروری ہو جاتی ہے جیسے ”اقالہ “ کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکیم بن حزام پر اس کی شرط لگائی اور یہ خود واجبات میں سے نہیںہے لیکن چوں کہ آنحضرت نے اس کی پابندی کو شرط قرار دے دیا اسی شرط کے ذریعہ حکیم بن حزام کے لئے اس پر عمل کرنا ضروری ہو گیا
۳ ۔ جو شخص مسلمانوں کے بازار میں تجارتی کارو بار کرتا ہے اس میں کچھ مشخص صفات و خصوصیات کا ہونا ضروری ہے مثلا اس میں ادراک تمیز اور ہوشیاری ہونی چاہئے یعنی اس میں خرید و فروخت کی عقل موجود ہو اور شاید خرید اور فروخت کی عقل سے مراد تفقہ ہو یعنی وہ خرید و فروخت کے احکام کا علم رکھتا ہو ہر چند کہ یہ معنیٰ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے اس جملہ ”لا یقعد ن فی السوق الا من یقعل الشراء والبیع “ کی تعبیر سے الگ ہے جو اس خصوصیت سے محروم افراد کو بازار میں بیٹھنے سے روکتا ہے
۴ ۔ان شرائط پرعمل کے سلسلہ میں مزید اطمینان حاصل کرنے کی غرض سے تجارت کی طرف رجحان رکھنے والوں پر یہ بات لازم قرار دی جا سکتی ہے کہ وہ تجارتی کاروبار شروع کرنے سے پہلے تو خود کو تجارت کے لئے ضروری صلاحیتوں اور خصوصیتوں سے آراستہ کریں
۵ ۔ جس طرح ”اقالہ “ کی شرط تجارت کی اجازت کے لئے صحیح ہے یوں ہی خرید و فروخت کے احکام کا علم حاصل کرنے کی شرط یا دوسری شرطیں مثلا سود نہ کھانا ،قسم نہ کھانا مال کا عیب نہ چھپانا ،بیچتے وقت تعریف نہ کرنا اور خرید تے وقت عیب نہ نکالنا جیسے شرائط بھی صحیح ہیں کہ اگر مورد نظر شخص ان شرطوں پر عمل نہیںکرتا ہے تو ہرگز خرید و فروخت نہ کرے یعنی وہ خرید و فروخت کرنے کا حق نہ رکھتا ہو
یہ چند نکات و مطالب تھے جو مذکورہ بالا روایات سے سمجھے جا سکتے ہیں اور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حاکم ، مذکورہ بالا یا ان سے بیشتر امور میں مداخلت کا حق رکھتا ہے بعض محققین کہتے ہیں کہ مذکورہ باتوں کے علاوہ ان روایات سے جو مزید باتوں کا بھی استفادہ ہوتا ہے :
ایک یہ کہ ولی امر بازار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا ہے
اور دوسرے یہ کہ ولی امر وحاکم جس جگہ کو بازار قرار دے دے اس جگہ پر بازار سے متعلق احکام لاگو ہوں گے
کافر ذمی کو صرافہ کے کار و بار سے روکنا
ایک اور امر جو گزشتہ امور یعنی حاکم کا ان شرائط کی تعیین کرنا جو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ہو ۔کے علاوہ یہ ہے کہ اکثر ولی حاکم اس میں مصلحت دیکھتا ہے کہ بعض افراد کو بعض تجارتی اعمال و امور سے روک دے یہ وہ موقع ہے جب حاکم یہ جان لے کہ یہ افراد یا گروہ اگر زیادہ تر بد اندیش ،خود غرض اور امت کے لئے بلا و مصیبت نہ ہوں تو کم از کم امت کی مصلحتوں کے امانتدار نہیں ہیں اور صرف اسی فکر میں ہیں کہ اسلامی امت کے اقتصاد کی شہ رگ کو اپنے قبضہ میں رکھیں اور دولتوں کو چوس کر نیز اقتصادی منابع پر تسلط رکھتے ہوئے امت کی نبض حیات کو اپنے ہاتھ میں رکھیں اور اس پر حکومت کریں
اور شاید اسلامی امت کے ان ہی مصالح کے پیش نظر حضرت امیر المومنین - نے اہواز میں اپنے قاضی کو خط لکھا جس میں تھا کہ :
”یا مره بطرد اهل الذمة من الصرف “(۵)
”آپ اسے حکم دیتے ہیں کہ اہل ذمہ (کفار ذمی ) کو صرفہ کے کار بار سے دور رکھے“
مسجد سے قصہ گویوں اور تصوف کے مبلغوں کو نکالنا
شاید ان ہی اقدامات میں سے یہ بھی ہو جس کے بارے میں حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
”وانّ امیر المومنین علیه السلام رای قاصا فی المسجد فضربه و طرده “(۶)
امیر المومنین علیہ السلام ایک قصہ گو شخص کو مسجد میں (داستان بیان کرتے ہوئے )دیکھا تو اسے مار کر مسجد سے باہر نکال دیا“
پس امیر المومنین علیہ السلام کا ایک قصہ گو سے متعلق یہ اقدام اس بات کی تاکید تھی کہ آپ اس قسم کے افراد کو جو لوگوں کو اوہام ،افسانوں اور خرافات کی دنیا میں لے جاتے ہیں اور قصہ گوئی کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں ،اپنا کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے
لہٰذا اول یہ کہ حضرت اپنے اس عمل سے ایسے افراد کے جھوٹ اور دغا بازی کو کچلتے ہیں جو اسرائیلیات (یہودیوں کی ساختہ و پرداختہ جھوٹی داستانوں ) کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں
دوسرے: اس بات کو غلط قرار دیتے ہیں کہ ایسے کام مسجد میں انجام پائیں اور تیسرے : اس ذریعہ سے روزی کمانے کو غلط قرار دیتے ہیں اس راہ سے روزی حاصل کرنا صدر اسلام میں عام اور رائج تھا ”عمران ابن حصین “ نے ایسے ہی قصہ گو کو دیکھا کہ اس نے قران پڑھا ، اس کے بعد لوگوں سے (اس کے عوض پیسہ کا) سوال کیا عمران نے کلمہ استرجاع ( انا للہ و انا لیہ راجعون) زبان پر جاری کیا اور کہا : میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے ،آپ نے فرمایا : (جو قرآن پڑھتا ہے اسے اس کا عوض خدا سے حاصل کرنا چاہئے آگاہ رہو کہ جلد ہی ایسے لوگ بھی آیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ لوگوں سے پیسہ حاصل کریں گے )(۷) ” ابن مبارک “سے پوچھا گیا کہ ”غوغاء“(۸) کا کیا مطلب ہے ؟ تو اس نے کہا اس سے مراد وہ قصہ گو افراد ہیں جو اپنی زبان کے ذریعہ لوگوں کا مال کھاتے ہیں(۹)
ظاہر ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا یہ عمل ولایتی یاحکومتی اقدام تھ آپ چوں کہ حاکم و ولی امر تھے لہٰذا آپ کو یہ حق تھا کہ ہر اس بات پر روک لگائیں جو نظام حکومت کے لئے نقصان دہ ہو اور لوگوں کے امور میں خلل و فساد پیدا کرے
مخفی نہ رہے کہ سچی اور حق داستانیں بیان کرنے میں کوئی نقصان یا عیب نہیں ہے کیوں کہ یہ قرآن کی روش ہے ارشاد ہوتا ہے (نحن نقص علیک احسن القصص ہم تمھارے لئے بہترین داستان بیان کرتے ہیں )(۱۰)
سعد اسکاف نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا : کیا میں بیٹھ کر قصہ بیان کروں اور اس میں حق اور آپ کے فضائل کا ذکر کروں ؟ امام نے فرمایا: ” مجھے یہ بات پسند ہے کہ روے زمین پر ہر تیس ہاتھ کے اوپر تمھارے جیسا ایک قصہ گو ہوتا “(۱۱)
اور ہم دیکھتے ہیں کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے جس طرح قصہ و افسانہ گوئی کی مضر اور نقصان دہ راہ سے روزی حاصل کرنے کے خلاف سخت قدم اٹھایا ہے یوں ہی زہد و تقویٰ اور دنیا سے دوری کی نمائش کے ذریعہ روزی کمانے کی بھی سخت مخالفت کی ہے ، جیسا کہ روایت میں ہے حضرت علیہ السلام نے حسن بصری کو مسجد سے باہر نکال دیا اور انھیں تصوف کی باتیں بیان کرنے سے منع کر دیا(۱۲)
پہلے امتحان
”ابن اخو“ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے شخص سے امتحان لئے جانے کاذکر کرتے ہوئے کہا ہے : ” اس سے ان فنوں سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے اور اس کا امتحان لیا جائے گا اگر اس نے جواب دیا (تو اسے اجازت دے دی جائے گی ) ورنہ روک دیا جائے گا ، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے حسن بصری کا امتحان لیا جو لوگوں کے درمیان وعظ و نصیحت کرتے تھے حضرت نے ان سے دریافت کیا : ” دین کا ستون کیا ہے ؟ جواب دیا تقویٰ و پرہیز گاری“ پوچھا آفت دین کیا ہے ؟ ” جواب دیا طمع و لالچ “ تو آپ نے ان سے فرمایا : اب تم لوگوں کو وعظ و نصیحت کر سکتے ہو “(۱۳)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کا اختبار و امتحان جو لوگوں کے اجتماعی امور کا ذمہ دار اور ان پر اثر انداز ہوتا ہے قانونی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا ایسے امتحان میں کامیاب ہوئے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کام انجام دے یا اس کے ذریعہ روزی حاصل کرے
علی علیہ السلام اور منجمین
” بلاذری “نے حضرت علی علیہ السلام اور ” مسافر بن عفیف ازدی“ کے درمیان گفتگو کو نقل کیا ہے اس روایت میں ہے کہ جب اس نجومی نے امیرالمومنین علیہ السلام کو ایک خاص ساعت میں اہل نہر وان کی طرف جانے سے منع کیا تو حضرت نے فرمایا : ” اگر مجھے یہ معلوم ہو ا کہ تم ستاروں کا معائنہ کرتے ہو تو جب تک میں بر سر حکومت ہوں تمھیںہمیشہ کے لئے قید میں ڈال دوں گخدا کی قسم نہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نجومی تھے اور نہ کاہن ۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضر ت نے فرمایا: جب تک تم ہو اور میں بھی زندہ ہوں تمھیں ہمیشہ کے لئے قید کر دوں گا اور جب تک بر سر حکومت ہوں تمھیں بیت المال سے محروم کر دوں گا(۱۴)
جب کہ منجمین حکام کے ندیم اور مقرب افراد میں شمار ہوتے رہے ہیں اور ان حکام کے لئے جو خدمتیںانجام دیتے تھے ان کے عوض ہدیئے اور انعامات بھی پاتے تھے فقہ الرضا میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ منجمین اس راہ سے مال و دولت حاصل کرتے تھے وہاں علم نجوم کو علوم فنون کے صنف میں شمار کیا گیا ہے اور اسے حاصل کرنے اس پر عمل کرنے اور اگر شرعی امور میں اس سے استفادہ کیا جائے تو اس کے عوض حق المحنت طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے(۱۵)
ظاہر ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس نجومی کے ساتھ جو سلوک فرمایا اس حیثیت سے تھا کہ آپ ولی و حاکم تھے اور چاہتے تھے کہ اسے ایک پیشہ اور روزی کمانے کا ذریعہ بنائے جانے سے روکیں اور نجومیوں کی تصدیق نیز ان کی گرم بازاری کے مقابلہ میں خدا وند عالم کے علم اور اس کی قددرت سے متعلق لوگوں کے عقائد مخدوش ہونے سے بچائیں
تعیین شدہ مقامات کے علاوہ دوسری جگہ خرید و فروخت پر پابندی
اس کا شمار بھی لین دین اور تجارت کے قواعد و ضوابط میں ہوتا ہے جیسا کہ نقل ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں بعض مسلمان تجارتی قافلوں والوں سے (منزل پر پہنچنے سے پہلے ) طعام(۱۶) کھانا خرید لیتے تھے ، آنحضرت نے ایک شخص کو ان لوگوں کی طرف بھیجا کہ اپنی خریدی ہوئی چیزوں کو اسی جگہ فروخت نہ کریں بلکہ اسے اس جگہ لے جائیں جہاں کھانا فروخت کیا جاتا ہے(۱۷)
ابن عمر سے نقل ہے کہ ”ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں کھانے کی چیزیں خرید تے تھے آنحضرت کسی کو ہمارے پاس بھیج کر حکم دیتے تھے کہ اپنی خریدی ہوئی #چیز کو بیچنے سے پہلے خرید کی جگہ سے منتقل کر دیں(۱۸)
شہر کے باہر ہی مال لانے والوں سے چیزیں خرید لینے والوں کے پاس مامور بھیجنے کا مقصد انھیں اس بات پر مجبور کرنا تھا کہ اپنا خریدا ہوا مال شہر کے بازار میں لائیں یہ اقدام ان افراد سے مقابلہ کے لئے تھا جو تلقی رکبان ( یعنی تجارتی قافلوں سے شہر کے باہر ہی مال خرید نے جانا )نیز شہر میں مال لانے والوں سے شہر کے باہر لین دین کرنے اور دیہاتیوں کا مال ایک شہر کو فروخت کرنے کے سلسلہ میں دلالی کرنے سے متعلق رسول خدا کہ امتنائی حکم کی خلاف ورزی پر اصرار کرتے تھے(۱۹)
”ابن اخوہ “ کا کہنا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تلقی رکبان اور بازار میںبیچنے سے پہلے ہی مال کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے(۲۰)
تلقی رکبان کی حد بند ی کی گئی ہے کہ چار فرسخ کے فاصلے تک تجارتی قافلوں کی پیش قدمی کے لئے جایا جائے چار فرسخ سے زیادہ جانے کو ”تلقی “ نہیں کہا گیا ہے بلکہ اسے مال در آمد کرنا شمار کیا گیا ہے(۲۱)
”تلقی رکبان“سے روکنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے :کہ مال بیچنے والے جو شہر کی طرف آتے ہیں اس روز کی قیمت سے واقف نہیں ہوتے(۲۲) پس بہتر ہے کہ جو لوگ اطراف سے شہر میں مال لاتے ہیں وہی اسے بازار میں فروخت کریں یہ حکم فقط دیہاتیوں اور بادیا نشینوں سے مربوط رہا ہے ایک شہر سے دوسرے شہر مال لے جانے کی صورت میں منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے اسے خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جیسا کہ ذکر ہوا ہے(۲۳) اسے تجارت کہا جاتا ہے
بہر حال بازار تک پہنچنے سے پہلے مال خرید نے کے لئے پیش قدمی کرنے کی ممانعت ثابت اور مسلم(۲۴) ہے اور جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں اس سلسلہ میں پیغمبر اسلام سے بہت سی روایتیں نقل ہوئی ہیں حتیٰ امام صادق علیہ السلام سے بھی تجارتی قافلوں کی مال سے پرہیز کرنے کا حکم نقل ہو ا ہے منجملہ یہ ہے کہ :
”لا تلقٰ ولا تشترما تلقیٰ ، ولا تاکل منه و معنیٰ غیره “(۲۵)
”مال کی طرف پیش قدمی نہ کرو اور جو کچھ (بازار میں پہنچنے سے پہلے)خریدا گیا ہے اسے نہ کھاؤاور اسی سے ملتی جلتی دوسری روایتیں بھی--“
”ابن قیم الجوزیہ “ نے اگرچہ یہ دعویٰ کی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں کوئی شخص غلہ درآمد کرنے والوں سے متلقی نہیں کرتا تھا بلکہ لوگ غلہ آنے کے بعد ان ہی وارد کرنے والوں سے خرید تے تھے(۲۶) لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے متلقی کے سلسلہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی اور غلہ لانے والوں سے شہر کے باہر خرید اری کی جاتی تھی اور جب وہ اس کے بعد بازار آتے تھے تو انھیں اس روز کی موجودہ قیمت معلوم ہوتی تھی جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے:
”فمن تلقاه فاشتری منه فاذا اتیٰ سیده السوق فهو بالخیار “(۲۷)
جس شخص سے شہر کے باہرمال خریدا جائے جب وہ بازار آئے تو اسے حق خیار حاصل ہوگا ۔یہ عمل بھی ان کے لئے مو٘ثر ثابت نہ ہوا کیوں کہ بہت سے مال لانے والے دیہاتی اپنے اس حق سے باخبر نہیں تھے کہ اپنا مال محفوظ کرنے کے لئے اس کا استعمال کرتے
اس حق خیار کی قانونی حیثیت اس قسم کے معاملات میں بھاری نقصان اور دھوکے کے سبب وجود میں آئی ہے اور علامہ حلی کے بقول حق خیار مطلق طور سے ثابت ہے حتیٰ چاہے بیچنے والے کے ساتھ دھوکا نہ بھی ہواہو اور شاید اس قول کی سند مذکورہ بالا حدیث کا مطلق ہونا ہے(۲۸)
لیکن ”ابن الاخو“ نے یہ نکتہ ذکر کرنے کے بعد کہ” تلقیٰ رکبان “ یا مال بازار میں آنے سے پہلے خرید کئے جانے کی صورت میں بیچنے والے کے لئے خیار کاحق ثابت ہے یہ کہا ہے یہ اس صورت میں ہے جب تاجروں سے ملنے کے لئے پہلے ہی شہر سے باہر جایا جائے اور شہر کے بازار کی قیمت کے سلسلہ میں ان سے جھوٹ بول کر مال خرید لیا جائے ایسی صورت میں مذہب شافعی کی رو سے خود معاملہ صحیح ہے ہاں حدیث کی نقل کے مطابق تلقی کرنے والا گنہگار اور بیچنے والے کا خیار ثابت ہے(۲۹)
بہر حال خیار کا یہ قانون مو ثر ثابت نہ ہوا ، لہٰذا ضروری تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو اس کام سے روکنے کے لئے کوئی اور قدم اٹھایا جاتا تاکہ ایک طرف بادیہ نشینوں اور دیہاتیوں کے منافع محفوظ ہوتے اور دوسری طرف غلہ بازار میں لاکر رائج اور معقول قیمت پر بیچا جاتا ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی روز کی قیمت سے لاعلمی اور موجودہ قیمت سے بے خبر افراد کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سوال پیدا نہ ہوت
اس کے علاوہ مال بازار میں لایا جائے گا تو اہل شہر کے لئے اس کی خرید اری ممکن ہوگی کیوں کہ اگر تلقی کی اجازت دے دی جائے تو چیزیں بازار میں پہنچنے سے پہلے خریدی یا احتکار کر لی جائیں گی جس سے اہل شہر کے لئے ان کی خریداری ممکن نہ ہو سکے گی(۳۰)
ان سب سے بڑھ کر بازار میں چیزوں کی فراوانی عام طور سے لوگوں میں اور خصوصا فقراء میں گرانی کے زمانہ میں بھی سر چشمی کا نمایاں اثر رکھتی ہے(۳۱)
اور شاید ”ابن قیم جوزیہ “کا مذکورہ قول اسی صورت حال کے پیش نظر رہا ہو کہ ۔ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں۔حکومت نے لوگوں کو تلقی سے توکنے کے لئے خود اقدام کیا ہے
یہ باتیں تو تلقی رکبان کے سلسلہ میں تھیں اب رہی یہ بات شہری افراد دیہاتیوں کامال ان کی طرف سے فروخت نہ کریں تو اس ممانعت کاسبب یہ ہے کہ لوگوں کو بیچنے اور خرید نے والے کے در میان دلّالی کرنے اور کوئی قابل ذکر عمل یا خدمت انجام دیئے بغیر پیسہ حاصل کرنے سے روکا جائے اس کے علاوہ شہری دلال غیر شہری صاحب مال کی لاعلمی ونادانی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مال کے تبادلے میں اپنی دخل اندازی کے ذریعہ پیسہ کماتے ہیں
مزید یہ کہ شہری دلال مال لانے والے دیہاتیوں پر اپنا نظریہ تھوپ کر اسے اپنا مال ایسی قیمتوں پر فروخت کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں، جو ان پر ظلم وزیادتی شمار ہوتی ہے اور یہی حرکت احتکار یا یکے بعد دیگرے کئی دلالوں کے ذریعہ قیمتوں کی زیادتی کاسبب ہوتی ہے
”طاووس“نے ابن عباس سے روایت کی ہے:
”قال رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم) لا یبیع حاضرلباد ، قلت: لم لا یبیع حاضر لباد ؟ قال لانه ُکون له سمساراً “
” رسول خدا نے فرمایا :کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے (اس کی نیابت میں)اس کا مال نہ بیچے، میں نے دریافت کیاکیوں؟ تو فرمایا: کیوں کہ شہری اس دیہاتی کے لئے دلال ہوجاتا ہے“(۳۲)
اور شاید بعض اسباب اس بات کی علت ہوں جس کی طرف یہ روایت اشارہ کررہی ہے:
”مر النبی (صلی الله علیه وآله وسلم) برجل معه سلعة یرید بیعها فقال: علیک باول السوق “(۳۳)
”پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس کچھ مال تھا اور وہ اسے بیچنا چاہتا تھا آپ نے اس فرمایا : تم پر لازم ہے کہ ”اول بازار“ کی طرف جاو“
احتمال یہ ہے کہ ”اول بازار“ سے مراد شاید وہ جگہ ہو جو اس قسم کا مال بیچنے کے لئے بنائی گئی تھییا شاید آنحضرت اس شخص کو ایسا مال بیچنے کے لئے مناسب جگہ کی رہنمائی فرما کر اس کی مدد اور اس پر احسان کرنا چاہتے ہوں
زیر سایہ فروخت
جیسا کہ ہم آئندہ دیکھیں گے،امام موسی کاظم علیہ السلام (جو یہ جانتے ہیں کہ وہ ہشام بن حکم جیسے افراد کو جو کچھ بھی حکم دیں گے تعمیل کیا جائے گا کیونکہ وہ امام ہونے کی حیثیت سے انھیں حکم دے رہے ہیں اور ان کے پاس فرمانبرداری و تعمیل کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے) جب آپ ہشام بن حکم کے پاس سے اس حال میں گزرتے ہیں کہ ہشام سایہ میں ”سابری“ایک قسم کا لباس بیچ رہے ہوتے ہیں تو آپ ہشام سے فرماتے ہیں:
”یا هشام ان بیع فی الظلال غش و الغش لایحل “(۳۴)
”اے ہشام سایہ میں فروخت کرنا دھوکہ دہی ہے اور تجارت میں دھو کہ دھڑی حلال نہیں ہے“
امام علیہ السلام کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام حالات وشرائط جو صحیح تجارتی معاملات میں خلل پیدا کرتے ہیں اور چاہے براہ راست نہ سہی دوسروں کے حق میں دھو کہ دہی کا سبب بنتے ہیں ان پر بھر پور توجہ رکھنا چاہئے
نیز صحیح تجارتی معاملہ اور امانتداری کے اصول کی رعایت کے سلسلہ میں اسلام نے جو قوانین بنائے ہیں اور اس کے باریک باریک پہلووں پر زور دیا ہے ان کی طرف بھی اشارہ کرناچاہئے حتی ان قوانین میں اس کی طرف بھی توجہ کی گئی ہے کہ سایہ میں یا سایہ کہ باہر ہونے کی صورت میں تجارتی مال پر کیا اثر مرتب ہوتاہے،میں نہیں سمجھتا کہ اسلامی قانون جو حکیم ودانا اور رووف ومہربان خدا کی جانب سے آیاہے،کے علاوہ دنیا کے کسی بھی قانون میں حتی اتنی معمول سطح پر غش اور دھوکہ دہی سے پر ہیز کا اہتمام برتاگیا ہو
شبہ سے بھی پرہیز
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
”مر النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی رجل و معہ ثو یبیعہ و کان الرجل طویلا و الثوب قصیرا فقال لہ اجلس فانہ انفق لسلعتک “(۳۵)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک لباس بیچنے والے لمبے شخص کے پاس سے گزرے اور وہ لباس اسکے قد کی مناسبت سے ناٹا تھا حضرت نے اس سے فرمایا :بیٹھ جاو اس طرح سے تمھارا جامہ بہتر طور سے بکے گ
لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام جس طرح یہ نہیں چاہتا کہ خریدار کے ساتھ دھوکہ دھڑی ہو ۔کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہشام بن حکم کو ”سابری“ سایہ میں فروخت کرنے سے منع کرتے ہیںیوں ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ بیچنے والا بھی نقصان کا شکار ہوحتیٰ شبہ کے ذریعہ بھی جو ایک طویل القامت شخص کے کوتاہ اور چھوٹے لباس بیچنے سے پیدا ہوتا ہے ، لہٰذااسے بیچنے کا حکم دیتا ہے تاکہ خریدار لباس کی ناپ کے بارے میں اور اپنی مطلوبہ چیز کے بارے میں وہم اور شبہ کا شکار نہ ہو جائے اور لباس کو اس کے اصل اندازے سے چھوٹا تصور نہ کرے
____________________
۱)۔کافی،ج/۵،ص/۱۵۱۔التہذیب،ج/۷،ص/۵۔وسائل،ج/۱۲،ص/۲۸۶
۲)۔کافی /ج۵،ص/۵۰و۱۵۰ من لایحضرہ الفقیہ ،ج/۳ ص/۱۳خصائل ج/۱ص/۲۸۲فقہ الرضا ص/۲۵۰، وسائل ج/۱۲ ص/۲۸۴،بحارالانوار ج/۱۰۰ص/۹۶و۱۰۰،مستدرک الوسائل ج/۲ص /۴۶۳
۳)۔کافی ج/۵ ص/۱۵۴،من لایحضرہ الفقیہ ج/۳ص/۱۹۳،التہذیب ج/۷ص/۵وسائل ج/۳ص/۲۸۳
۴)۔ آگے اس مطلب پر دلالت کرنے والی روایت نقل کی جائے گی۔
۵)۔ دعائم الاسلام ،ج/۲ص/۳۸،مستدرک الوسائل،ج/۲،ص/۴۸۲،نہج السعادہ ،ج/۵نص/۶۳۱آخر کے ماخذ وں کے پہلے ماخذ سے نقل کیا ہے
۶)۔ کافی ،ج/۷،ص/۲۶۳،التہذیب ،ج/۱۰ ص/۱۴۹،وسائل ،ج/۱۲ ص/۱۱۱ ،اور ج/۸ ص/۵۷۵ اور ج/۳ص/۵۱۵
۷)۔ الجامع الصحیح ترمزی ،ج/۵ ص/۱۷۹ ، مسند احمد ،ج/۴ ص/۴۳۹ و ص/۴۴۵ ، الحضارة الاسلامیہ فی القران الرابع الہجری ج/۲ ص/۱۵۵
۸)۔بے لگام افراد جو کسی چیز کے پابند نہیں ہوتے
۹)۔ ربیع الابرار ، ج/۳ ص/۵۸۹، قصہ گوئی کے ذریعہ روزی کمانے سے متعلق اور یہ کہ قصہ گوئی ایک حکومتی منصب بن گیا تھا ملاحظہ فرمائیں !الحضارة الاسلامیہ فی القرآن الرابع الہجری ، ص/۱۱۰، ص/۱۱۱و ص/۱۱۵نیز اس سے قبل اور بعد الخطط المقریزی ج/۲ ص/۲۵۴ ،اورالمعجم المفہر س لا لفاط السنہ انبیویہ کے مادہ ” قصّ“ میں نیز آن ماخذ میں جن کی طرف اشارہ کیا گیا
۱۰)۔ سورہ یوسف /۳
۱۱)۔اختیار المعرفة الرجال ص/۲۱۴ ،ص/۲۱۵،جامع الرواة ، ج/۱ ص/۳۵۳، تنقیح المقال ،ج/۲ص/۱۲،منتہیٰ المقال ص/۱۴۴، نقد الرجال ص/۱۴۸ ، قاموس الرجال ج/۴ ص/۳۲۴ ، معجم الرجال الحدیث ج/۸ص/۶۸۔۶۹
۱۲)۔ التراتب الاداریہ ج/۲ ص/۲۷۲
۱۳)۔ معالم القریہ ص/۲۷۱
۱۴)۔ انساب الاشراف بلاذری ،ج/۲ ص/۳۶۸و ۳۶۹بہ تحقیق محمودی حیاة الصحابة ج/۳ ص/۷۵۳،از کنزل العمال ج/۵ص/۲۳۵ ،تذکرة الخواص ص/۱۵۹،نیز ملاحظہ فرمائیں شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی حنفی ج/۲ص/۲۷۰
۱۵)۔ فقہ الرضا ص/۳۰۱، بحار الانوار ج/۱۰۰ ص/۵۲
۱۶)۔طعام کے مطلق معنی قوت اور غذا کے ہیں لیکن جیسا کہ” لسان العرب “ میں ہے اس لفظ سے اہل حجاج گیہوں مراد لیتے ہیں
۱۷)۔ ملاحظہ فرمائیں : صحیح بخار ی ج/۲ ص/۱۰، التراتیب الاداریة ج/۱ ص/۲۸۵، صحیح مسلم ج/۵ ص/۸ ، نظام الحکم فی الشریعة و التاریخ الاسلامی (السطة القضائیہ ) ص/۲۹۰و ۲۹۱،معالم الحکومت الاسلامیہ ص/۲۴۴نقل از: النظم الاسلامیہ نشاتھا و نظورھا ،و سنن نسائی ، ج/۷ ص/۲۸۷ ۔ آخری ماخذ میں آیا ہے یہاں تک کہ اسے بازار طعام لے جائیں
۱۸)۔ سنن نسائی ج/۷ ص/۲۸۷ ، اور کنز العمال ج/۴ ص/۸۰
۱۹)۔ رک :کافی ج/۵ص/۱۶۹،التھذیب ،ج/۷ص/۱۵۷، من لایحضرہ الفقیہ ج/۳ ص/۲۷۳، وسائل ج/۱۲ ص/۳۲۶و۳۲۸، امالی شیخ طوسی ج/۲ص/۱۱،سنن ابی داؤد ج/۲ص/۲۶۹ ۲۷۰،صحیح بخاری ج/۲ ص/۱۱، سنن نسائی ج/ ۷ ص/۲۵۵ تا ۲۵۹ ، سنن داری ج/۲ ص۲۵۵، مسند احمد ج/۵ ص/۲۲ و ۹۱و۶۳، المسند حمیدی ج/۲ص/۴۴۶، مصابیح السنة ج/۲ ص/۶، نصب الرایہ ج/۴ص/۲۱و۲۲و۲۶۱، نیز اس کے حاشیہ میں ملاحظہ ہو :الجامع الصحیح ترمذی ج/۳ ص/۵۵۴ تا ۵۵۶ ، سنن ابن ماجہ ج/۲ ص/۷۳۴و ۷۲۵، صحیح مسلم ج/۵ ص/۴تا۶، مجمع الزوائد ج/۴ ص/۸۱تا ۸۳، بحار لانوار ج/۱۰۰ ص۸۸،عوالی اللئالی ج/۳ ص/۲۰۶و۲۱۰، تذکرة الفقہا ج/۱ ص/۵۸۵، ۵۸۶، التراتیب الاداریہ ج/۲ص/۵۷و۵۸، کنز العمال ج/۴ص۳۶تا۳۹و۵۴تا۵۵و۹۲تا ۹۳، بعض مذکورہ ماخذ نیز : طحاوی ، مالک ، سعید ابن منصور ، طیالسی ، شافعی ، بیہقی ،طہرانی ،ابن ابی شبیہ اور ابن عسکری سے نقل شدہ اور ملاحظہ ہو : معالم القریہ ص/۲۱۲و۲۱۳، کشف الاستار ج/۲ص/۸۸و۸۹، نظام الحکم فی الشریعہ والتاریخ (السلطة القضائیہ )ص/۶۰۳
۲۰)۔معالم القریہ ص/۱۲۳
۲۱) ۔ کافی ج/۵ ص/۱۶۹ و ۱۶۸، التہذیب ج/۷ ص/۱۵۸ ،من لایحضرہ الفقیہ ج/۳ ص/۲۷۴ وسائل ج/۱۲ص/۳۲۶و۳۲۷
۲۲) ۔نظام الحکم فی الشریعہ والتاریخ لاسلامی (السلطة القضائیہ) ص/۶۰۳ نقل از ابن تیمیہ
۲۳) ۔ کافی ج/۵ ص/ ۱۷۷ ۔وسائل ج/۱۲ ص/۳۲۷
۲۴) ۔ کنز العمال ج/۴ ص۳۷و۳۸ ، از طحاوی اور از ابی سعید ، مصابیح السنہ ج/۲ ص/۶
۲۵) ۔وسائل ج/۱۲ص/۳۲۶،من لا یحضرہ الفقیہ ج/۳ص/۲۷۳،کافی ج/۵ص/۱۶۸ التہذیب ج/۷ص/۱۹۸،عوالی اللئایی ج/۲ص/۲۱۰۔مستدرک الوسائل،ج/۲،ص/۴۶۹
۲۶) ۔ التراتیب الاداریہ ج/۲ ص/۹۱نقل از الطرق الحکمیہ ابن قیم
۲۷) ۔رک :عوالی اللئالی،ج/۴ص/۲۱۱ تذکرة الفقھا ،ج/۱ص/۵۸۵،مستدرک الوسائل ج/۲ص/۴۶۹، صحیح مسلم ج/۵ص/۵، سنن ابی داؤد ج/۳ص/۳۶۹،سنن داری ج/۲ص/۲۵۵، سنن نسائی ج/۷ص/۲۵۷، الجامع صحیح ترمذی ج/۳ ص/۵۲۴، سنن ابن ماجہ ج/۲ ص/۷۳۵، مسند احمد ج/۲ص/۲۸۴،۴۰۳،۴۸۸،نصب الرایہ ج/ ۴ص/۳۶۱، المکاسب ص/۳۱۱، کنز العمال ج/۴ص/۳۷،۹۳( بعض مذکورہ بالا مآخذ سے نقل ) نیز از عبد الرزاق و معالم القربہ ص/۱۲۳
۲۸) ۔ مکاسب شیخ انصاری ،ص/۲۴
۲۹) ۔معالم القریة فی احکام الحسبة ،ص/۱۴۳
۳۰)۔دعائم الاسلام ،ج/۲ ص/۳۰ مستدرک الوسائل ،ج/۲ ص/ ۴۶۹
۳۱)۔المکاسب ،ص/۲۱۱
۳۲)۔معالم القریہ،ص/۲۱۲
۳۳)۔وسائل،ج/۱۲،ص/۲۹۶۔من لا یحضرہ الفقیہ،ج/۳،ص/۱۹۶۔کنز العمال،ج/۴،ص/۸۷۔نقل از ابن شیبہ آخری ماخذ میں ”اول السوق “ کے بجائے ”اول السوم “آیا ہے جو شاید چاپ کی غلطی ہے۔
۳۴)۔وسائل ،ج/۱۲،ص/۲۰۸۔من لایحضرہ الفقیہ،ج/۲،ص/۲۷۱۔فروع کافی،ج/۵،ص/۱۶۱۔ التہذیب، ج/۷، ص/۱۳
۳۵)۔کافی،ج/۵،ص/۳۱۲۔التہذیب شیخ طوسی ،ج/۷،ص۲۲۷۔وسائل ،ج/۱۲،ص۳۴۰
حکومت کی جانب سے ضروری اقدامات
یہاں ہم حکومت کی طرف سے عمومی فوائد اور صحیح تجارتی پیشرفت کے لئے اختیارات اور صلا حیتوں کا بروئے کار لاکر کی جانے والی ضروری تدبیروں اور مناسب اقدامات کے کچھ نمونے ذکر کرتے ہیں ۔
لہٰذا گذشتہ اور آئندہ فصلوں میں ذکر ہونے والی باتوں کو حسب ذیل مثالوں کے تحت اشارتاً بیان کریں گے ۔
تخمینی فروخت کی ممانعت
تخمینی فروخت سے مراد بغیر کسی وزن وشمار کے مال فروخت کرناہے ۔اسلام میں اس طرح کی فروخت سے روکاگیاہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ فروخت کایہ طریقہ خریدار کے حق میں دہوکہ اور ”غبن “کاباعث ہوتاہے اور پیچنے والے کو دغل بازی اور خیانت کاموقع فراہم کرتاہے اور خریدار بیچنے والے سے اپنے حق کامطالبہ بھی نہیں کرسکتا ۔
لیکن اس ممانعت کے باوجود چونکہ تاجروں کواس طرح مال فروخت کرنے میں نفع نظر آتاہے،اگر چہ یہ نوعیت سب کے لئے نقصاندہ تھی ،اس لئے وہ اس سے دستبردار نہیں ۔تھے لہٰذا اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ تاجروں کو اس طرح کے تجارتی معاملات سے روکنے اور ان پر پابندی لگانے کے لئے کافی اور قابل اطمینان وسائل کے ساتھ مداخلت کی جائے یہ مداخلت بازار کی پیشرفت وسا لمیت اور اسے غلط کاروبار سے پاک رکھنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں شمار ہوتی ہے۔
اس قسم کے تاجروں کے خلاف جو پنداور نصیحتوں کے بعد بھی اپناعمل جاری رکھتے اور اس پر سختی کے ساتھ جمے رہتے ہیں یہی ایک راہ تھی کہ ایسے وسائل سے استفادہ کیاجائے جو انھیں ان حرکتوں سے باز رکھ سکیں چاہے ا ن کے لئے ضرب وشتم اور اہانت کی حد تک ہی کیوں نہ بڑھنا پڑے ”سالم“ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے :۔
”ہم نے حضرت رسول خدا (ص) کے زمانے میں دیکھا کہ جو لوگ ”مجازفة“یعنی اندازہ وتخمینہ سے گیہوں یاغلہ بیچتے تھے ،ان کی پٹائی ہوتی تھی کہ وہ اس طرح غلہ نہ بیچیں اور اپنامال واپس لے لیں ۔
ٍ اور بعض روایات میں آیاہے کہ وہ لوگ گیہوں بازار کے آخری حصہ پراندازہ سے فروخت کرتے تھے ۔“(۱)
ناپ تول پر کنڑول
جب انسان اپنا مال دوسرے کو بیچنا چاہتا ہے تو مستحب ہے کہ تولتے وقت خریدار کے حق میں زیادہ تولے اور جب کسی دوسرے کا مال تول کر خرید نا چاہے تو مستحب ہے اپنے حق سے کم رکھے
لیکن جب کوئی تیسرا شخص وزن کرنے والا ہو کہ ایک شخص کا مال تولے اور دوسرا اسے لے لے یا جب کوئی لوگوں کے درمیان تقسیم ہونے والی چیز کو لوگوں میں بانٹنا چاہتا ہے تو اسے بہر حال وزن میںمساوات کا اطمینان حاصل کرنا چاہئے کسی کو کسی پر ترجیح نہ دینا چاہئے خاص طور سے جب کہ تقسیم شدہ مال عمومی اموال میں سے ہو لہٰذا اگر وزّان (تولنے والا) اس روش سے خطا کرے تو ظالم اور مجرم شمار ہوگا اور حاکم اسے روک سکتا ہے یہ وہ چیز ہے جس کی حضرت علی علیہ السلام نے تاکید فرمائی ہے
” عنبئہ وزّان “نے اپنے والد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے ایک شخص کو بلایا کہ کچھ زعفران لوگوں کے درمیان تقسیم کر دے اس شخص نے معین مقدار سے زیادہ تولنا چاہا تو حضرت نے اپنے ہاتھ کی چھڑی سے اسے مار کر فرمایا ”بلا شبہ وزن یکساں ہے “(۲)
جیسا کہ ہم روایات میںدیکھتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو زعفران تول رہا تھا اور کچھ زیادہ تول رہا تھا تو آپ نے اس سے فرمایا : وزّان قط و عدل کے ساتھ انجام دو ،اس کے بعد جو کچھ چاہو اضافہ کرو(۳)
اس جملہ سے حضرت فروخت میں ازادی کی طرف اشارہ کرنا چاہتے تھے ،پھر جو چاہو ،کی تعبیر اسی بات پر دلالت کرتی ہے
لیکن وہ روایت جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اہل بازار کے پاس ایک وزّان (تولنے والا ) جو مزدوری لے کر تولتا تھا ۔آنحضر ت نے اس سے فرمایا:کانٹا جھکا کر تولا کرو (یعنی زیادہ تولو)(۴) اور انس کی روایت کہ میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بازار میں داخل ہوا ایک اعرابی کے پاس ایک زیر جامہ تھا جس کی قیمت وہ پانچ درہم اعلان کر رہا تھا اسی وقت حضرت تولنے والے کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : مقدار سے کچھ زیادہ تولو(۵) اور حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:وزن میں اس وقت تک وفا نہیں ہو سکتی جب تک ترازو نیچے کی طرف نہ چھک جائے یاجھکاؤ نہ پیدا کر لے
یہ تمام روایتیں وزن پورا ہونے میںاطمینان حاصل کرنے کے لئے ہیںکیونکہ مال کا کچھ وزنی ہونا وزن کی صحت کے مکمل طور پر یقینی ہونے کی نشانی ہے اس لئے کے برابر تول کی صورت میں ہو سکتاہے صاحب حق کاتمام حق ادا نہ ہوپاتا۔وزن میں عدالت برقرار رکھنے کے لئے کچھ زیادہ ہی تولنے کی ضرورت ہے ،جس کی روایت میں ہدایت کی گئی ہے ۔تول کے بعد بیچنے والاجوکچھ چاہے اپنے لطف وکرم سے مزید دے سکتاہے۔
لیکن یہ لطف و کرم ان اموال میں جو بعض لوگوں کے خصوصی حق نہیں بلکہ ان میں عام طور سے سب برابر کے شریک ہیں،کوئی معنی ٰ نہیں رکھتا اور جیسا کہ اشارہ کیا جاتا ہے ان کو حتیٰ الامکان یکساں اور برابر سے تقسیم ہونا چاہئے
بہر حال یہ روایتیں بلا شبہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت پیغمبر اکرم اور آئمہ علیہم السلام مذکورہ سبب یا اور دوسرے اسباب کے تحت ” وزن “ اور طول پر نظر رکھتے تھے
ممنوعہ چیزوں کی تجارت روکنے کے اقدامات
اس کے دو نمونے یہاں ذکر کئے جاتے ہیں :
۱ ۔ شراب کی تجارت : عبد اللہ بن عمر نے کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک چاقو لانے کا حکم دیا ، میں ان کی خدمت میں لے گیا حضرت نے اسے تیز کرنے کے لئے بھیجا اس کے بعد مجھے دیا اور فرمایا کل صبح یہ چاقو لے کر میرے پاس آؤ میں نے ایسا ہی کیا پس آن حضرت اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ کے ان بازاروں کی طرف تشریف لے گئے جہاں شام سے شراب کی مشکیں لائی گئی تھیں مجھ سے چاقولے کر اپ نے شراب کی جتنی مشکیں دیکھیں سب کو پھاڑڈالا،اس کے بعد چاقو مجھے دے کر اپنے ساتھ آنے والے اصحاب کو حکم دیا کہ میرے ساتھ آئیں اور میری مدد کریں تاکہ میں تمام بازاروں میں جاؤں اور شراب کی ساری مشکیں پھاڑ ڈالوں ۔میں نے بھی ایسا ہی کیا اور مدینہ کے بازاروں میں شراب کی کوئی مشک نہ چھوڑی جسے میں نے چاک نہ کیا ہو(۶)
اگر چہ ہمارے پاس کوئی ایسی اہم چیز نہیں ہے جس پر اس روایت کی صحت کے سلسلہ میں بھروسہ کر سکیں لیکن اسی نوعیت کے دوسرے موارد کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ نہ فقط یہ عمل ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے اعمال و افعال سے کوئی ٹکراؤ نہیں رکھتا بلکہ واضح طور سے قابل قبول اور ان سے ہم آہنگ و سازگار بھی ہے خاص طور سے یہ کہ جب شراب حرام ہوئی تو اس سے نزدیک یا دور کا تعلق رکھنے والی تمام چیزیں بھی حرام ہو گئیں
روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر میں کھانے کے دیگ الٹوا دیئے ، حضرت علی علیہ السلام نے ذخیرہ اندوزی سے جمع شدہ محصولات کو جلوا دیا اور رسول خدا(ص)نے حکم دیا کہ ” سمرة بن جندب “ کا خرمہ کا درخت کاٹ کر اس کے سامنے ڈال دیاجائے نیز روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام کے پاس شراب لایا ،حضرت نے اس سے پوچھا ” یہ کہاں سے لائے ؟“ کہا : گھڑے سے ،فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ “ اس کے بعد حضرت باہر تشریف لائے گھڑے کو اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا اور توڑ ڈالا پھر فرمایا :کیا میںنے اس (شراب )سے ایک سے زیادہ مرتبہ منع نہیں کیا ہے یا اسی طرح کی دوسری روایتیں جو کتابوں میں اسی موضوع کے تحت بیان ہوئی ہے
ظاہر ہے کہ شراب مسلمانوں کی ملکیت نہیں ہوتی اس سے حاصل شدہ پیسہ حرام ہے اور اس کی تجارت بھی صحیح نہیں ہے اسی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حاکم کی حیثیت سے اقدام فرمایا تاکہ اس کی تجارت نیز اس سے روزی حاصل کرنے کی راہوں پر پابندی لگائیں
۲ ۔ پانی میں مری ہوئی مچھلی کی فروخت جیسا کہ ہم کتابوں میں دیکھتے ہیں حضرت علی علیہ السلام بازاروں میں جاکر تاجروںکو وعظ ونصیحت کرتے ہیں لیکن جب مچھلی فروشوں کے بازار میں پہنچتے ہیں تو حاکم کے عنوان سے پانی میں مری ہوئی مچھلیوں کی فروخت پر ممانعت کا قانونی حکم صادر فرماتے ہیں حضرت علی علیہ السلام کے بازاروں سے گزرنے اور تاجروں کو نصیحت کرنے کے سلسلہ میں تاریخی روایت یوں بیان کرتی ہے:
”اس کے بعد آپ خرمہ بیچنے والوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا“
”اے خرما فروشو!نادار و ںکو کھانا کھلاؤ تاکہ تمھارے باغوں میں رونق آئے (یعنی درختوں میں زیادہ پھل لگےں )اسی طرح آپ مسلمانوں کے ہمراہ راستہ طے کرتے ہوئے مچھلی فروشوںکے پاس پہنچے اور فرمایا : ” ہمارے بازار میں پانی میں مری ہوئی مچھلی نہیں بیچی جائے گی “(۷)
ہم دیکھتے ہیںکہ یہاں حضرت علیہ السلام کا لہجہ تبدیل ہو گیا ہے اور پانی میں مری ہوئی مچھلی کی فروخت سے روکنا ایک حکومتی دستورالعمل کی شکل اختیار کر گیا ہے خاص طور سے اگر ہم ”ہمارے بازار میں “ کے جملہ پر غور کریں تو حضرت علیہ السلام کا یہ کلام صرف پند و نصیحت شمار نہیں ہوگا بلکہ حاکمیت کی بنیاد پر ایک حکومتی قانون ہے اور شرعی حکم کے پیش نظر براہ راست عملی اقدام ہے
آپ دیکھتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام جو بات خرما فروشوں کے بازار میں فرماتے ہیں وہ اس اجرائی سطح کی نہیں تھی مثلا خراب خرما بیچنے سے روکنے کے لئے کوئی حکم و قانون صادر نہیں فرمایا وہاں فقط ایک اخلاقی بات کہی اور تشویق فرمائی تھی جب کہ مچھلی فروشوں کے بازار میں اس سے الگ بات فرمائی تھی ۔جیسا کہ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت نے عمار کو بازار بھیجا اور فرمایا:انکلیس(مارماہی) نہ کھاؤ(۸)
پھلوں کی فروخت
حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو
پھلوں کے پکنے سے پہلے باغ کے تمام پھل خرید لیتا ہے لیکن اس کے بعد تمام پھل برباد ہو جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا:
”اس سلسلہ میں لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھی یہی سوال کیا تھا جب آنحضرت نے دیکھا کہ لوگ اختلاف سے ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بغیر اس کے کہ اس قسم کی خرید و فروخت کوحرام قرار دے دیں ،آپ نے اس اختلاف کو ختم کرنے کے لئے لوگوں کو اس کام سے منع کر دیا تاکہ جب پھل پک جائےں تو خریدیں“(۹)
اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے دو سالہ کھجور کے درخت کے پھل فروخت کرنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ”کوئی حرج نہیں ہے “راوی نے عرض کیا آپ پر قربان جاؤں یہ کام یہاں ”بڑا“ (حرام و منع ) ہے ؟ فرمایا تم ایسا کہتے ہو لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حلال کیا ہے جب آنحضرت کے پاس اختلاف لے کر گئے تو فرمایا : پھل اس وقت تک بیچا نہ جائے جب تک اس کے غنچہ ظاہر نہ ہو جائیں(۱۰)
اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حلال اور جائز تجارت میں مداخلت کرکے اسے روکا کیوں کہ آپ نے دیکھا کہ لوگ ایسی تجارت میں اختلاف و دشمنی کا شکار ہوتے ہیں بعض لوگ دوسروں پر زیادتی کرتے ہیں اور یہ منع کرنا اس حیثیت سے تھا کہ آنحضرت مسلمانوں کے حاکم اور ولی امر ہیں اور ان کی مصلحتوں کی رعایت کرتے ہیں اس جہت سے نہیں کہ آپ صرف احکام کے پہنچانے والے اور ان کے ناقل ہیں اور فقط احکام ثانوی پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں
حیوانوں کی حفاظت کے لئے اقدامات
جانوروں کے شکار سے استفادہ کبھی خود ان کا گوشت استعمال کرکے اور کبھی انہیں فروخت کرکے ہوتا ہے جیساکہ بعض پالتو جانوروں کوذبح کرکے ان کا گوشت مصرف میں لایا جاتا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ بعض علاقوں میںجانوروںکا شکار یاان کا ذبح کیاجانابعض ان جانوروں کی نسلوں کی تباہی کا باعث ہو تا ہے جو غذائی یا اور دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے زیادہ نشانہ بنتے اور استعمال ہوتے ہیں اسی طرح ممکن ہے کہ بعض جانور دوسروں کی ملکیت ہوں اور ان کا شکار ان کے مالکوں سے لڑائی جھگڑے کا باعث بنے ایسے حالات میں حاکم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے بعض جانوروں کے شکار یا انھیں ذبح کرنے سے لوگوں کو روک سکتا ہے اس سلسلہ میں دو مثال ذیل میں پیش کی جاتی ہیں
۱ ۔ بعض جگہوں پر شکار سے ممانعت:۔”ضرار بن ازور “ کے حالات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبیلہ بنی اسد کی طرف بھیجا کہ انھیں جانوروں کے شکار سے روک دے(۱۱)
حضرت علی علیہ السلام نے شہروں میں کبوتر کے شکار سے منع فرمایا اور دیہاتوں میں اس کی اجازت دی(۱۲)
بعض جانوروں کے ذبح کرنے پر روک :۔شیخ کلینی نے ایک حسن اور (اعتبار کے لحاظ سے ) صحیح کے مانند روایت میں محمد بن مسلم اور انھوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے جب حضرت سے پالتو گدھے کا گوشت کھانے کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو فرمایا:رسول خدا (ص) نے جنگ خیبر کے دن اس پر پابندی لگا ئی تھی اور اس سے روکنے کا سبب یہ تھا کہ اس وقت لوگوں کے سامان ڈھونے کا وسیلہ تھا اوربلا شبہ حرام تو وہ چیز ہے جسے خدا وند عالم نے قرآن مجید میں حرام کیا ہے(۱۳)
اس سلسلہ میں کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں یہ عبارت ہے :
” اور بلا شبہ رسول خدا (ص) نے خیبر میں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے پر اس لئے پابندی لگائی کہ ان کی پشتیں (بار ڈھونے کی صلاحیت )ختم نہ ہو جائیں“(۱۴)
اورشاید پیغمبر اکرم (ص) نے جس عمل سے روکا تھا اسے انجام دینے کے سلسلہ میں بعض لوگ اصرار کرتے تھے اسی وجہ سے یہ تاکید ی حکم صادر ہوا کہ دیگیں الٹ دی جائیں اور اس میں پکنے والے کھانے خلاف ورزی کرنے والوں کی سزا کے طور پر ضائع کر دی جائیں
ایک دوسری روایت میں ہے کہ :
مسلمان خیبر میں غذائی مشکل سے دو چار ہوئے تو اس مشکل کے حل کے لئے انھوں نے چوپایوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا پیغمبر اسلام (ص) نے انھیں حکم دیا کہ دیگیں الٹ دو ۔ یہ نہیں فرمایا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے بلکہ یہ اقدام اس لئے تھا کہ یہ چوپائے باقی رہیں(۱۵) لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ایک حاکم کی حثییت سے پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے روکنے کے لئے طاقت کااستعمال کرتے ہیں ۔
خیبر کے اس واقعہ سے ملتا جلتاایک اور واقعہ احمد کی روایت میں ابن ابی اوفی سے نقل ہواہے جس میں حکم کااختلاف پایاجاتاہے ۔اس روایت میں ہے کہ :ہم نے قریہ کے باہر کے گدھوں کو پکڑ کر (انہیں ذبح کیااور دیگ میں ڈال دیا )توحضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا :دیگوں کو جوکچھ اس میں ہے اس کے ساتھ زمین پر پلٹ دو ”یہ واقعہ سعید بن جبیر سے بھی نقل کیا گیا ہے تو انھوں نے کہا : اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گدھے نجاست خوار تھے(۱۶)
ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ دوسرا ہے اور اس میں پیغمبر اکرم (ص) کا حکم یہ تھا کہ نجاست خوار جانور کا گوشت حرام ہے لہٰذا آنحضرت (ص) کا یہ حکم حکومتی دستور نہیں تھا
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ : لوگوں نے خیبر میں ایک بھیڑ چوری کرکے پکائی تو حضرت رسول خدا (ص) نے ان دیگوں کو الٹ دینے کا حکم دیا ، کیوں کہ چرایا ہوا جانور حلال نہیں ہے(۱۷)
جانوروں کو ذبح کرنے کے سلسلہ میں چند دستور
ابن الاخوة نے کہا ہے کہ ” امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ فالج زدہ ، کانی ، اندھی ، جس کے دانت گر گئے ہوں، جس کی گردن پر بال ہوں، پاگل ، جس کے کھر پھٹے ہوں ،عیبی اور بیمار گائیں ذبح نہ کی جائیں(۱۸)
یہ حکم فقط معاشرہ کے افراد کی صحت و سلامتی اور ان بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے تھا جو اس طرح کی گائے کا گوشت کھانے سے ہوتی ہیں کیوں کہ یہ حکم حضرت کی خلافت کے زمانہ میں صادر ہوا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ شرع میں مذکورہ تمام جانوروں کا ذبح کرنا جائز اور حلال ہے
حکومتی وولایتی تدابیر و احکام
گزشتہ یا دوسرے موارد میں جو پہلے ذکر ہو چکے ہیںیاپھرآئندہ ذکرہوں گے، مسلمانوںکے مسائل اس حدکونہیں پہنچے ہیںکہ یہ موارد ثانوی عنوان کی حیثیت حاصل کر لیں اور قاعدہ استثنا ء ”الا ما اضطر ر تما الیه “ یا قاعدہ حرج (یعنی جس تکلیف کو حدیث کے تقاضے کے تحت ) امت کے دوش سے اٹھا لیا گیا ہے ، یا اور دوسرے ثانوی قواعد و احکام میں شامل ہو ئے ہوں بلکہ ایسے موارد میں پیغمبر اکرم (ص) حاکم اور مسلمانوں کے امور کے ولی و مدیر کی حیثیت رکھتے ہیں اور انھوں نے مسلمانوں کی مصلحتوں کا اہتمام کرنے ان کی بھلائی اور رفاہ و آسائش فراہم کرنے یا ان افراد کی مشکلیں دور کرنے کے لئے جو اپنی بھلائی اور مصلحت کے سلسلہ میںنا سمجھی یا بے توجہی کی بنا پر بعض نقصانات اور دشواریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ، کچھ دستور فرماتے ہیں ان دستورات کے اوامرپر عمل اور نواہی سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی مخالفت کرنے والا ملامت اور سزا کا مستحق ہے
اس قسم کے تدبیری یا دستوراتی اوامر و نواہی حضرت رسول خدا (ص) یا ان کے جانشینوں یعنی آئمہ معصومین علیہم السلام کی طرف سے ولی و حاکم ہونے کی حیثیت سے صادر ہوئے ہیں (اس جہت سے نہیں کہ وہ پیغمبر اور امام ہیں ، اور مقرر و ثابت احکام کے مبلغ اور ان کی تعلیم و ہدایت دینے والے ہیں)اور اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں منجملہ حسب ذیل مثالیں :
۱ ۔گزشتہ روایات جن میںپیغمبر اسلام (ص) کا پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے روکنا ،اس گوشت کی دیگوں کا الٹوا دینا لوگوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لئے پکنے سے پہلے پھلوں کی فروخت سے منع کرنا ”تلقی رکبان“روکنا ،شہری دلالوں کودیہاتیوں کا مال فروخت کرنے سے روکنا ،غلوں کے لئے معین بازار کے علاوہ دوسری جگہوں پر غلوں کی فروخت سے روک،نیز حضرت علی علیہ السلام کا بازار کے اندر بنائی گئی دکانوں اور دوسری تعمیروں کا ڈھا دینا اور پیغمبر اکرم (ص) کا بازار کے اندر لگائے گئے خیمہ کا جلوا دینا اور اس کا حکم کے راستہ سات ہاتھ چوڑا ہونا چاہئے یا ایسے ہی دوسرے دستورات ذکر ہوئے ہیں اور ہوں گے مثلا احتکار اور ذخیر ہ اندوزی وغیرہ جو رعایا کے لئے نقصان دہ اور حکام کے لئے ننگ و عار ہے ،سے روکنے کا حکم اس بحث کے واضح نمونہ ہیں
۲ ۔روایت میں کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ،رنگریزوں ،سناروں کو لوگوںکے مال میں احتیاط پرتنے (اور ان کی حفاظت کرنے) کی غرض سے ان کے مال کا ضامن سمجھتے لیکن جلنے ،غرق ہونے ،نقصان ہونے یاکسی ناگہانی حادثہ کے تحت تلف ہوجانے کی صورت میں انھیں مال کا ضامن نہیں سمجھتے تھے(۱۹)
۳ ۔جب پیغمبر اسلام مکہ میں وارد ہوئے تواپنے اصحاب وانصار کو حکم دیا --”رمل“کی حالت (یعنی چلنے اور دوڑنے کی حالت )میںکعبہ کا طواف کریں اور حکم دیا کہ اپنے بازوجامہ احرام سے باہر نکالیں تاکہ مشرکین دیکھ لیں کہ مسلمان کمزور نہیں ہوئے ہیں لیکن بعد کے حج میں پیغمبر اکرم نے خود ایسا نہیں کیا اور اس کا حکم نہیں دی(۲۰)
۴: ۔پیغمبر اسلام (ص) نے اپنے اصحاب کوبالو ںمیں خضاب کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی خضاب نہیں کرتے تھے آپ نے پیغمبر (ص) کے اس حکم کی وجہ یہ بتائی کہ خضاب لگانا جنگ میں دشمن کے مقابل ہیبت اور بیویوں کی محبت وغیرہ کا باعث ہوتا ہے(۲۱)
حضرت علی سے پیغمبر اکرم (ص) کے اس قول (بڑھاپے کو تبدیل کرو اور یہودیوں جیسے نہ بنو) کے سلسہ میں سوال کیا گیا تو آپ(ص) نے فرمایا ”آنحضرت(ص) نے یہ بات اس وقت فرمائی جب دین کی سر حد یں محدود تھیں لیکن اب جبکہ دائرہ پھیل گیا گیا ہے اور مسلمان مستقل و مضبوط ہوگئے ہیں اب مرد کو اختیار ہے جو چاہے کرے(۲۲)
۵:- ۔”عن عبدالله بن خالد الکنانی قال:استقبلنی ابوالحسن موسیٰ بن جعفر علیه اسلام وقد علقت سمکةبیدی قال : اقذفها ؛انّی لا کره للرّجل اسرّی :ان یحمل الشیٴ الذی بنفسه، ثم قال انکم قوم اعداء وکم کثیر عداکم الخلق یا معشر الشیعة فتزیّنوا لهم ما قدرتم علیه “(۲۳)
”عبد اللہ بن خالد کنانی سے روایت ہے کہ میں اپنے ہاتھ میں ایک مچھلی لئے ہوئے تھا کہ امام موسی کاظم علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے پھینک دو، مجھے یہ پسند نہیں کہ ایک شریف شخص کوئی پست و نامرغوب چیز اٹھائے اس کے بعد فرمایا؛ تم لوگ ایسی قوم ہو کہ تمہارے دشمن بہت ہیں،لوگ تم سے اپنے دل میں کینہ رکھتے ہیں اے گروہ شیعہ جہاںتک ہوسکے ان کے مقابل خود کو آراستہ کرو“
ورای الامام الصادق علیه السلام معاویة بن وهب وهو یحمل بقلا فقال له: انه یکره للرّجل السری ان یحمل الشیٴ الدنی فیجترا علیه
امام صادق عیہ السلام نے معاویہ بن وہب کو دیکھا کہ کچھ سبزی اپنے ہمراہ لے جارہے ہیں آپ نے ان سے فرمایا:مجھے پسند نہیں کہ ایک شریف انسان کوئی پست اور ناپسند چیز اٹھائے تا کہ دوسروں کو اس کے مقابلہ میں جرات پیدا ہو(۲۴)
۶: ۔حضرت رسول خدا (ص) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں اس پر آمادہ ہوا کہ نماز جماعت کا اعلان کروں اور اسے قائم کرنے کاحکم دوں،اس کے بعد ہر اس شخص کے گھر کو آگ لگادوں جو مسجد میں نہ آئے(۲۵)
۷ ۔ ”عمار “سے روایت ہے کہ انھوںنے کہا :امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھ سے اور سلیمان بن خالد سے فرمایا : جب تک مدینہ میں ہو میری طرف سے ”متعہ“ازدواج موقت تم پر حرام ہے کیونکہ تم لوگ میرے پاس بہت زیادہ آتے جاتے ہو؛مجھے خدشہ ہے کہ گرفتار ہوجاؤ اور لوگ یہ کہیں کہ یہ لوگ جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھیوںمیں سے ہیں(۲۶)
نیز امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب و انصار سے فرمایا : ”مکہ اور مدینہ میں متعہ میری وجہ سے چھوڑدواس لئے کہ تم لوگ میرے پاس بہت آیا جایا کرتے ہو اور مجھے اس بات سے اطمینان نہیں ہے کہ اگر گرفتار ہوجاؤ گے تو یہ کہا جائے کہ یہ لوگ جعفر صادق علیہ السلام کے دوستوں میں سے ہیں“۔
روایا ت میںکہ حضرت کے اس دستورکا سبب ایک واقعہ تھاجو”ابان بن تغلب “اور ایک عورت کے در میان پیش آیا کہ اس عورت نے انھیںفریب و نیرنگ سے ایک صندو ق میں بند کردیا اور چند حمالوں کو بلایا وہ یہ صندوق ”باب الصفا “لے گئے اور وہاں انھیںڈرایا کہ ہم تم پر زنا کا الزام لگائیں گے چنانچہ ابان بن تغلب نے اپنی نجات کے لئے دس ہزار درہم دئیےیہ خبر امام علیہ السلام تک پہنچی اور امام نے ان لو گو ں کو حکم دیا متعہ ترک کردیں(۲۷) ۔اس بارے میں دوسری روایات بھی ہیں جو اپنی جگہ ذکر ہوئی ہیں۔
۸: ۔روایت ہے :
”و کان علی رضی الله عنه باالکوفه؛قد منع الناس من القعودعلیٰ ظهر الطریق ،فکلّموه فی ذلک فقال ادعکم علیٰ شریطه ،قالوا وماهی یاامیرالمومنین؟فقال :غضّ الابصار و ردّالسّلاموارشاد الضّلال قالو قد قبلنا فترکهم “(۲۸)
حضرت علی علیہ السلام نے لو گو ں کو سر راہ بیٹھنے سے منع کردیا تھا لو گوں نے حضرت علیہ السلام سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ نے فرمایا :ایک شرط پر مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا لوگوں نے پوچھا یا امیرالمومنین وہ شرط کیا ہے ؟ فرمایا(نا محرم کی طرف سے)آنکھیں بند کرنا ، گزرنے والوں کے سلام کا جواب دینا اور بھٹک جانے والے کی راہ نمائی کرنا لوگو ں نے کہا ہمیں قبول ہے تو حضرت علیہ السلام نے لوگوں کو اجا زت دے دی ۔
۹ ۔یوںہی وہ روایت ہے جس میں عورتوں اور مردوں کی راہیں جدا کرنے کا ذکر ہے(۲۹)
۱۰ ۔حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو سزادی جو کوفہ سے کئی فرسخ کے فاصلہ پر ایک دیہات سے میّت ڈھوکر کوفہ میں دفن کرنے لائے تھے(۳۰)
۱۱ ۔طاؤوس سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے عبد اللہ بن عمرو کے جسم پر دو معصفر(زرد رنگ کے) لباس دیکھےاس سے فرمایا: کیا تیری ماں نے یہ لباس پہننے کو کہا ہے؟ عبد اللہ نے کہا :یا رسول اللہ (ص) ! انھیںدھوڈالوںگا رسول خدا (ص) نے فرمایا: انھیں جلاڈالو(۳۱)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت (ص) نے فرمایا:”یہ لباس کفار کے لباس ہیں انھیں مت پہنو“۔
۱۲ ۔ایک شخص نے حضرت پیغمبر اکرم (ص) سے عرض کیا :مجھے فلاںکام پر معین کردیجئے فرمایا: ہم اپنے کام پر کسی ایسے شخص کو جو اس کا مطالبہ کرتا ہے نہیں رکھتے“(۳۲)
۱۳ ۔نجاری نے آنحضرت (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:میرے لے ہر اس شخص کا نام لکھو جو اسلام کے لئے زبان کھولتا ہے پس کلیفہ بن یمانی نے ایک ہزار پانچ سو مردوں کے نا م لکھے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ : اور ہمارے نام چھ سو سے سات سو افراد کے درمیان تھے یہ دمامینی کے بقول یہ واقعہ حدیبیہ کے سال پیش آی(۳۳)
آنحضرت (ص) کے زمانہ میں خود حضور (ص) کی عادت تھی کہ لشکر کا ایک دفتر ہوتا تھا اور اس میں جنگ میں جانے والوں کے نام لکھے جاتے تھے(۳۴)
۱۴ ۔حضرت علی علیہ السلام کے مدبرانہ اقدامات میں سے ایک اقدام یہ بھی تھا کہ بیت المال سے جس کے دودروازہ تھے آپ لوگوں کانام لکھے بغیر چیزیں دیاکرتے تھے یہاں تک کہ ”مسور بن مخرمہ “نے آپ کوخبر دی کہ بعض افراددوبارہ بھی چیزیں لینے آتے ہیںتوآپنے حکم دیاکہ چیزیں لے لینے والوں کے نام لکھے جائیں۔اس کے بعد سے نام لکھے جانے لگے۔(۳۵)
۱۵ ۔حضرت علی علیہ السلام نے حبیب بن مرہ کو”سواد“(دجلہ وفرات کے اطراف میں کھجور کے درختوں سے ڈھکاہواعلاقہ )پرمامورکیااورحکم دیا کہ سواد میں رہنے والے مسلمانوںکوکوفہ لے آو۔(۳۶)
۱۶ ۔اورپیش بندی کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں ہم دیکھتے ہیں کہ خیبر میں آنحضرت (ص) کومسموم بھیڑہدیہ کئے جانے کے بعد پیغمبراسلام (ص) کی خدمت میں جوبھی تحفہ یاہدیہ آتاتھا پہلے خود اس کے مالک کو کھانے کاحکم دیتے تھے پھرنوش فرماتے تھے۔(۳۷)
۱۷ ۔”حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پرپیغمبر اسلام (ص) کی روایت ،جس میں آپ نے زنا کارکی تکفیر کی ہے نقل کرتے ہوئے فرمایا:آنحضرت (ص) ہمیں حکم دیتے تھے کہ رخصت دینے والی حدیثوں (بعض امور کی چھوٹ دینے والی حدیثوں) کومبہم ہی رہنے دو۔زانی کی تکفیر کامطلب یہ ہے کہ اگر زانی اس حیث سے زنا کا اودام کرے کہ اسے جائز اور حلال جانتا ہو تو کافر ہے“(۳۸)
۱۸ ۔جن امور کا رسول خدا (ص) نے خود کو پابند بنالیا تھا ان میں سے ایک یہ عمل بھی تھا کہ حضر ت (ص) نے ”ابن ابی“ کو اس قاعدہ پر عمل کرتے ہوئے قتل نہیں کیا کہ ”لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (ص) اپنے ساتھیوں اور اصحاب کو قتل کر رہے ہیں“(۳۹) کیونکہ صحابی کا قتل الہیٰ دعوت قبول کرنے والوں پر منفی اثرات ڈال سکتا تھ
۱۹ ۔روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے مسجد میں کمزور و ناتواں افراد کے لئے ایک الگ امام معین کیا یوں ہی مردوں کے لئے الگ اور عورتوں کے لئے الگ پیشنماز مقرر فرمایا۔(۴۰)
۲۰ ۔اور ایک دوسرے سلسلہ میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:تکبیر ة الاحرام کہنے کے علاوہ نماز میں دوسری تکبیروں کے موقع پر ہا تھ بلند کرنا چھوڑدو کیوںکہ لوگوں نے اس عمل کے ذریعہ تمھیں پہچان لیا ہے ۔”والله المستعان ولا حول ولا قوة الّا بالله “(۴۱)
۲۱ ۔ابو مطر”کہتا ہے کہ میں مسجد سے باہر آیا ناگاہ ایک شخص نے مجھے پس پشت سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: اپنی ازار (لنگی کی طرح ایک جامہ جو کمر پہ باندھا جاتا ہے پائجامہ) اوپر رکھو تا کہ تمھار ا لباس زیادہ دنوںتک چلے اور خود پاکیزہ رہو اور اگر مسلمان ہوتو اپنے بال چھو ٹے کرو ،مجھے خطاب کرنے والے حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام تھے یہ واقعہ اس حدیث کے ضمن میں نقل ہوا ہے جس میں حضرت علیہ السلام کے بازار میں گشت کرنے اور اسی دوران لوگوں کے لئے مختلف احکام صادر فرمانے کا ذکر ہے ۔(۴۲)
۲۲ ۔روایات میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) لسن کھانے والوں کو کو حکم دیتے ہیں ”جس نے یہ خبیث گیاہ کھائی ہے وہ مسجد میںمجھ سے قریب نہ ہو یا اس سے ملتی جلتی تعبیر ۔ اور بعض روایات میں ہے کہ پہلے آنحضرت (ص) نے لوگوں کو مسجد میں داخل ہونے سے قبل لسن کھانے سے منع فرمایا لیکن جب لوگ اس سے نہیں مانے تو آپ نے مذکورہ بالا کلام ارشاد فرمایا ۔ اورصادق آل محمد(ص) امام صادق علیہ السلام سے منقول روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ”یہ نہیں فرمایا کہ لسن حرام ہے “(۴۳)
۲۳ ۔یوں ہی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اس شخص کا گھر منہدم کرادیتے ہیں جو معاویہ کے جرگہ سے ملحق ہوجاتا ہے(۴۴) ۔جب کہ وہ بیت المال میں شامل کرسکتے تھے لیکن آپنے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ ایک تویہ اس عمل کی غلط توجیہ و تفسیر کی جائے گی دوسرے طاغوتوں اور ظالم حکام کو لوگوں کے اموال میں تصرف کا ایک ثبوت ہاتھ آجائے گا
۲۴ ۔حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک شخص جس کے عادات واطوار زنانہ تھے آپ نے اسے مسجد رسول اکرم (ص) سے باہر کر دی(۴۵)
اور ایک دوسری روایت کے مطابق آپ علیہ السلام نے فرمایا:”ان لوگوں کو اپنے گھر وںسے باہر کرو کیوں کہ یہ کثیف ترین چیز ہیں “(۴۶)
۲۵ ۔ ”سوادہ بن ربیع“ سے روایت ہے کہ میں حضرت پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں آیا آپ کے حکم سے لوگ میرے لئے ایک اونٹ لائے پھر حضرت (ص) نے فرمایا: جب تم اپنے خاندان میں واپس پہنچو تو انھیں ناخن کاٹنے کا حکم دو اور ان سے کہو کہ دودھ دوہتے وقت جانوروں کے تھن کو انگلیوں سے دبا کر خون نہ نکالیں(۴۷)
۲۶ ۔ یہ اشارہ بھی کرتے چلیں کہ رسول خدا (ص) بنی ہاشم کو زکوٰةکی وصولیابی کے عہدہ پر کام کرنے سے منع فرماتے تھے اور اپنے خاندان میں کسی ایک سے آپ (ص) نے یہ کام نہیں لیا ۔
۲۷ ۔ان ہی میں وہ اداری دستورات اور تدبیری اقدامات بھی شامل ہیں جو مسلمانوں کے امور منظم کرنے اور ان کی خیر ومصلحت کے تحت عمل میں آئے مثلا مسلمانوں میں ہر دس افراد پر ایک عریف (سرپرست یا مکھیا کی تعیین(۴۸) فرمائی تاکہ اچھے برے کی تشخیص ہو سکے(۴۹) اور اسی طرح کے دیگر مقاصد(۵۰) آنحضرت (ص) نے ہجرت کے بعد مسلمانوں کو دس دس افراد کے گروہوں میں تقسیم فرمای اور مقداد ان دس افراد کے انچارج تھے جس میں خود پیغمبر (ص) بھی شامل تھے(۵۱)
ان تدبیری اقدامات میں شہر کے محافظ و نگہبان کا تقرر بھی ہے(۵۲) ( اور روایات میں وارد ہوا ہے کہ ”پولیس “ اور ”عریف “ (نگراں) ”نقیب “ (مکھیا) اور ”جابی“ (ٹیکس وصول کرنے والے) کا نام رسول خدا (ص) کی زبانی نقل ہوا ہے(۵۳) نیز دفتر اور منشی کا تعین تاکہ درختوں کے محصول کا تخمینہ لکھا جا سکے مطالبات ،قراردادیں اور وہ تمام چیزیں جو لشکروں کے نظم و نسق سے متعلق ہوتی ہیں اور دیگر بہت سے اقدامات جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے(۵۴) حکومت کی ذمہ داریوں سے ہے
____________________
۱)۔ ملاحظہ فرمائیں :سنن نسائی، ج/۷ ص/۲۸۷۔ مسند احمد ج/۲ ص/۱۵،۲۱،۷۔ سنن ابی داود، ج/۳ ص/۲۸۱،اورص/۲۸۲۔ صحیح مسلم، ج/۵ ص/۸۔ صحیح بخاری، ج/۲ ص/۱۱۔ کنز العمال، ج/۴، ص/۱۰۲،از عبد الرزاق۔ الترتیب الاداریہ، ج/۱ ص/۲۸۵ و ج/۲،ص/۳۸۔ نظام الحکم فی الشریعہ والتاریخ: السلطة القضائیة، ص/۵۹۱
۲)۔ تاریخ واسط ،ص/۱۰۱، مصنفہ اسلم بن سہل رزاز معروف بہ واسطی ۔طبع بیروت ۱۴۰۶ئھ
۲)۔ التراتیب الاداریہ ج/۲ ص/۱۳۴ ، از کتاب تحفة الناظر و غنیة الذاکر فی حفظ الشعائرتفسیر المناکر ،مصنفہ ابو عبد اللہ عقبانی تلمسانی ، الراعی و الراعیہ ،ص/۲۴۱
۳)۔ملاحظہ ہو سنن نسائی ج/۷ص/۲۸۴ ،سنن ابی داؤد ،ج/۳ ص/۲۴۵۔کنز العمال ،ج/۴ ص/۱۸۸ ، از احمد عبد الرزاق طیالسی ، دارمی ، نسائی ،ابن ماجہ ، ابن حیان ، مستدرک حاکم ، طبرانی ، سعید بن منصور نیز التراتب الاداریہ ، ج/۱ ص/۴۱۱و ۴۱۲، سنن ابن ماجہ ج/۲ ص/۷۴۸۔ التراتب الاداریہ ،ج/۲ ص/۳۲تا ۳۵
۴)۔ الجروحون ،ج/۱ص/۱۴۸
۵)۔من لا یحضرہ الفقیہ ج/۳ص۱۹۸،کافی ج/۵ص/۱۵۹و ۱۶۰
۶)۔ مسند احمد ابن حنبل ،ج/۲ ص/۱۳۳
۷)۔تاریخ دمشق ، تحقیق محمودی حصہ شرح حال امام علی علیہ السلام ، ج/۳ ص/۱۹۴و۱۹۵،البدایة والنہایہ ج/۸ص/۴، مناقب خوارزمی ص/۷۰، ملحقات احقاق الحق ،ج/۸ص/۶۶۳، کنزلالعمال ،ج/۱۵ص/۱۶۳، حیات الصحابہ ج/۲ ص/۶۲۵، منتخب کنزالعمال (مطبوعہ در حاشیہ مسند احمد )،ج/۵ ص/۵۷
۸)۔ الفائق ،ج/۲ص/۶۲
۹)۔ وسائل ،ج/۱۳ص/۳، اور اسی موضوع کا حاشیہ فروع کافی ج/۱ص/۳۷۸،من لایحضرہ الفقیہ ج/۲ص/۷۰، علل الشرائع ص/۱۹۶،تہذیب ج/۲ص/۱۴۱، استبصار ج/۳ص/۸۷،نیز ملاحظہ فرمائیں :مستدرک الوسائل ج/۲ص/۴۸۲، دعائم السلام ج/۲ص/۲۵، بحار الانوار ج/۱۰۰ص/۱۲۶، بحار میں نقل ہے کہ :”جب آنحضرت نے دیکھا کہ یہ لوگ اختلاف سے ہاتھ نہیں اٹھاتے تو آپ نے (پھل پکنے سے ) پہلے ان کی فروخت سے منع کر دیا
۱۰)۔وسائل ج/۱۳ص/۲،۳،۴۔فروع کافی ج/۱،ص/۳۷۸ تہذیب ج/۲ص/۱۴۱،استبصار ج/۳ص/۸۷و۸۸
۱۱)۔ الاصابة ج/۲ ص/۲۰۸و ۲۰۹ التراتیب الاداریہ ج/۲ص/۹۵
۱۲)۔من لایحضرہ الفقیہ ج/۳ص/۳۲۱ ،دعائم الاسلام ج/۲ص/۱۶۸
۱۳)۔کافی ج/۶ ص/۲۴۶ علل الشرائع ص/۵۶۳
۱۴)۔من لا یحضرہ الفقیہ ج/۳ص/۳۳۵و ص/۵۶۳
۱۵)۔کافی ج/ ۶ ص۲۴۶
۱۶)۔مسند احمد بن حنبل ج/۴ص/۳۸۱
۱۷)۔ المصنف سید الرزاق ،ج/۱۰ ص/۲۰۵
۱۸)۔ معالم القربة ص/۱۶۳
۱۹)۔استبصار ،ج/۳ص/۱۳۱تھذیب ج/۷ص/۱۲۹و۲۲۰کافی ج/۵ ص۲۴۲و۲۴۳من لا یحضرہ الفقیہ ج/۳ ص/۲۵۶ بحارالانوارج/۱۰۰ص/۱۶۸وسائل الشیعہ ج/۱۳ ص/۲۷۲ تا۲۷۴
۲۰)۔علل الشرائع ،ص/۴۱۲۔وسائل ج/۹،ص/۴۲۸و۴۲۹۔اور اس کا حاشیہ نقل از علل الشرائع و فقہ الرضا،ص/۷۵۔الترتیب الاداریة،ج/۱،ص/۳۷۷
۲۱)۔ربیع الابرار،ج/۱،ص/۷۳۶۔بحار الانوار،ج/۷۳،ص/۱۰۲و۱۰۳
۲۲)۔بحار الانوار،ج/۷۳،ص/۱۰۴۔نہج البلاغہ شرح عبدہ،ج/۲،ص/۱۵۴و۱۵۵
۲۳)۔صفات الشیعہ،ص/۱۶۔بحار الانوار،ج/۷۳۔ص/۳۲۴ ،اور جلد/۷۱،ص/۱۴۸
۲۴)۔بحار الانوار،ج/۷۱،ص/۱۴۷۔خصال،ج/۱،ص/۱۰
۲۵)۔صحیح بخاری،ج/۱،ص/۷۸صحیح مسلم ج/۲ص/۱۲۳،التراتیب الاداریہ ج/۱ص/۸۹۔ص/۸۹کزشتہ دو ماخذوں سے نقل ،المصنف عبد الرزاق ج/۱ص/۵۱۸و۵۲۲،المعجم الصغیر ج/۱ص/۱۷۲ و ج/۲ص/۵۷ مجلہ نور علم ،سال دوم شمارہ ۹ص/۳۱نقل از اخبارالقضاة وکیع ج/۳ص/۱۲ و از ترتیب المسند شافعی ،ج/۱ص/۱۰، مسند زید ص/۲۹۹،المصنف ابن ابی شیبہ ج/۲ص/۱۵۵ و ص/۱۹۱ ،وسائل الشیعہ ج/۵ ص/۳۷۶ وص/۳۷۷، من لا یحضرہ الفقیہ ج/۱ص/۳۷۶ ، فتح الباری ج/۲ ص/۱۰۵ وص/۱۰۸
۲۶)۔ کافی ج/۵ص/۴۱۷،وسائل ج/۱۴ص/۴۵۰،مستدرک الوسائل ج/۲ص/۵۸۸و۵۸۹
۲۷)۔مستدرک الوسائل ج/۲ص/۵۸۸ملاحظہ فرمائیں
۲۸)۔البیان والتبیین ج/۲ص/۲۱و۱۰۶
۲۹)۔المعرفة والتاریخ،ج/۱،ص/۳۴۴
۳۰)۔دعائم الاسلام ،ج/۱،ص/۲۳۸۔بحار الانوار،ج/۷۹،ص/۶۷نقل ا ز دعائم الاسلام
۳۱)۔طبقات بن سعد،طبع صاد،ج/۴،ص۲۶۵
۳۲)۔معالم القربة،ص/۳۰۱۔اور اس کے حاشیہ نیز تفسیر الاصول،ج/۲،ص/۳۶سے نقل اور اضافہ شدہ ہے کہ: اصحاب صحاح میں سے پانچ افراد نے اسے نقل کیا ہے
۳۳)۔ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری ج/۲ ص/۱۱۶صحیح مسلم ج/۱ ص/۹۱، مسند احمد ج/۵ص/۳۸۴، سنن ابن ماجہ ج/۲ ص/۱۳۳۷ الترتیب الاداریہ ج/۲ ص/۲۵۱ و۲۵۲، ج/۱ ص/۲۲۰و۲۲۳، المصنف ابن ابی شیبہ ج۱۵ص/۶۹
۳۴)۔ صحیح بخاری ج/۲ص/۱۱۷، الترتیب الاداریہ،ج/۱ص/۲۲۰و۲۲۱،فتح الباری
۳۵)۔شرح حال امام علی علیہ السلام از کتاب”تاریخ دمشق“تحقیق محمودی ،ج/۳،ص/۱۸۳
۳۶)۔”تاریخ دمشق“ تحقیق محمودی ج/۳،ص/۱۸۳
۳۷)۔کشف الاستار عن مسند البزار ج/۳،ص/۱۴۱۔مجمع الزوائد،ج/۸،ص/۲۹۶
۳۸)۔المعجم الصغیر،ج/۲،ص/۵۰
۳۹)۔الجامع الصحیح ترمذی،ج/۵،ص/۴۱۸،مسند احمدج/۳،ص۳۵۵و۳۹۳۔حیاة الصحابة،ج/۱،ص/۴۸۴ و۴۸۶ فتح الباری،ج/۸،ص/۴۹۸۔تفسیر القرآن العظیم، ج/۴،ص/۳۷۰و۳۷۲ نقل از صحیحین ،صحیح بخاری، ج/۲، ص/۱۳۱،۱۳۲ ۔صحیح مسلم،ج/۸، ص/۱۹۔المصنف عبد الزارقی،ج/۹،ص/۴۶۹۔السیرة الحلبیة،ج/۲، ص/۲۵۶ کنز العمال ج/۱۱ ،ص/۲۹۵ البدایہ والنھایة،ج/۷،ص/۲۹۷و۲۹۸
۴۰)۔المصنف ج/۴،ص/۲۵۸۔
۴۱)۔کافی ج/۸ص/۷۔بحارالانوارج/۷۵ ص/۲۱۵
۴۲)۔مناقب خوارزمی،ص/۷۰۔شرح حال امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ازتاریخ دمشق تحقیق محنودی ج/۳ص/۱۹۴
۴۳)۔المعجم الصغیر ج/۲ص/۲۲و۵۶و۱۵۰۔کشف الاستار عن مسند البزارج ج/۱ص/۲۰۷۔مجمع الزوئد ج/۲ص/۱۷و۱۸نقل از احمد’طبرانی “در”کبیر‘و”الصغیر “و’الاوسط “نیز ازابی یعلی اورالبزار ۔علل الشرایع ص/۵۱۹۔
۴۴)۔ اس روایت کے ماخذ بہت ہیں نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو : انساب الا شراف ،تحقیق محمودی ،ج/۲ ص/۴۱۷ وص/۴۲۰وص/۴۶۵
۴۵۔۴۶)۔ وسائل الشیعہ ،ج/۱۲ ص/۲۱۱
۴۷)۔ کشف الاستار عن مند البزار ج/۲،ص/۲۷۳ ۔ مجمع الزوائد ،ج/۵ ،ص/۲۵۹
۴۸)۔تذکرة الفقہا ج/۱ص/۴۳۷ النظم السلامیةنشاتہا وتطوردما ص/ ۴۹۲نقل از طبری ج/ ۴ص/۸۷و۸۸المبسوط ج/۲ص/۷۵ منتہی المطلب ج/۲ص/۹۵۸۔
۴۹)۔بصائر الدرجات ص/۴۹۶
۵۰)۔التراتیب الاداریہ ج/۱ص/۲۳۵
۵۱)۔المعجم الصغیر ج/ص/۱۶۴
۵۲)۔التراتیب الاداریہ ،ج/۱ ص۲۹۲و۲۹۴
۵۳)۔ المعجم الصغیر ،ج/۱ص/۲۰۴
۵۴)۔التراتیب الاداریہ،ج/۱ ص۲۲۸و۲۷۵
ذخیرہ اندوزی اور حکومت کی ذمہ داریاں
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو لکھے ہوئے اپنے عہد نامہ میں ملک کے اندر تاجروں اور صنعت گروں کے ہم کردار پر تاکید کی ہے اور ان کے لئے کچھ ایسے حقوق ذکر کئے ہیں جن کی رعایت ضروری ہے اسی طرح جیسے جملہ امور کی نگرانی اور فساد و نقض امن نیز حکومتی دستورات کی بجا آوری میں سستی سے روکنے کے لئے حکومت کی ذمہ داریوں کا ذکر فرماتے ہیں :
”ثم استوص بالتجار وذوی الصانعات ،واوص بهم خیرا،المقیم منهم،والمضطرب بماله، والمترفّق ببدنه،فانهم مواد المنافع،واسبا ب المرافق ،وجلابها منالماعد والمطارح ،فی برّک،وبحرک ،وسهلک ،وجبلک،وحیث لا یلتئم الناس لمواضعها،ولا یجترؤن علیها(من بلاد ئاعدائک)((فاحفظ حرمتهم ،وآمن سبلهم،وخذلهم بحقوقهم،فانهم سلم لا تخاف بائقته،وصلح لا تحشیٰ غائلته))((وتفقد امورهم بحضرتک ،وفی حواشی بلادک ))واعلم مع ذلک:ئان فی کثیر منهم ضیقا فاحشا ،وشحا قبیحا،واحتکارا للمنافع ،وتحکما فی البیاعات،وذلک باب مضرّةعلی العامة،وعیب علی الولاة،فامنع (من)الاحتکار،فان رسول الله(صلّی الله علیه وآله (وسلم )منع منهولیکن البیع (والشرّاء)بیعا سمحا ،بموازین عدل،وئاسعارلاتجحف ،بالفریقین ،من البائع والمبتاع،فمن قارف حکرة بعد نهیک ایاه،فنکل بهوعاقبه من غیر اسراف (فان رسول الله فعل ذلک) “(۱)
تاجروں اور صنعت کاروں سے ان کے نیک مشورے قبول کرو اور انھیں نیکی کی دعوت دو،چاہے وہ جوایک مستقل جگہ رہ تجارت اور کام کرتے ہیں یا وہ جو اپنا سرمایا و مال یہاں سے وہاں لے جاتے اور اپنے بدن سے بھی کام لیتے ہیں ،یہ لوگ منفعت کے سرچشمے ،آرام کے وسائل اور دور دراز کے علاقوں بیابانوں ،سمندروں ،جنگلوں سنگلاخ وادیوں اور ایسی جگہوں سے منافع وارد کرنےوالے ہیں جہاں ہر ایک جانے کی جرات بھی نہیں کر سکتپش ان کی عزت و حرمت محفوظ رکھوان کی راہوں کو پر امن بناؤ اور ان کے حقوق حاصل کرو کہ یہ لوگ صلح وامن والے ہیں ان کی طرف سے کوئی خوف و خطر نہیں ہے یہ حضر میں ہوں یا سفر میں ان کے معاملات حل کرو ساتھ ہی یہ بھی جان لو کہ ان میں سے بہت سے لوگ بہت زیادہ تنگ نظر بڑے لالچی اور بخیل ہیں وہ اموال کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں یعنی دین میں زور و زبردستی اور مکر وفریب سے کام لیتے ہیں یہ سب کے لئے ضرر نقصان کا دروازہ اور حکام کے لئے ننگ وعار کا سبب ہیں لہٰذا لوگوں کو ذخیرہ اندوزی سے رو کو کہ رسول خدا (ص) نے اس عمل سے منع فرمای
ذخیرہ اندوزی پر پابندی لگاؤ کہ رسول اللہ (ص)نے اس سے منع فریایاہے خریدو فروخت سہل و آسان طریقہ سے عدل کی ترازوؤں اور ایسی قیمتوں سے جو دونوں طرف (یعنی تاجر و خریدار ) کے لئے ظلم و زیادتی نہ ہو انجام پانا چاہئے پس اگر تمھارے منع کرنے کے بعد کسی نے ذخیرہ اندوزی کی تو اس سے سختی کے ساتھ نپٹو اور بغیر کسی غصہ یا تیزی کے اسے سزا دو (کہ بلا شبہ حضرت رسول خدا (ص)نے ایسا ہی کیا ہے)
اس حدیث سے یہ مطلب نکلتاہے کہ حکومت تاجروں اور صنعت کاروں کے سلسلہ میں کچھ فرائض رکھتی ہے مثلاً:
۱ ۔ ان کی عزت واحترام کا تحفظ
۲ ۔ سفر کرنے اور مال لانے لے جانے کے لئے راہوں میں امن و امان قائم کرنا
۳ ۔ان کے حقوق حاصل کرنا
۴ ۔ان کی امور کی یکساں طور پر دیکھ بھال کرنا چاہئے وہ وہ دور ہوں یا نزدیک اور اس کے مقابل خود والی و حاکم پر لازم ہے کہ:
۱ ۔انھیں ذخیرہ اندوزی سے روکے اور اگر کوئی منع کرنے کے بعد بھی ذخیرہ اندوزی کرے تو اس پر سختی کی جائے اسے قرار واقعی سزا دی جائے کہ حضرت رسول خدا بھی یہی اقدام فرمایا تھ
۲ ۔ خرید فروخت میں آسانی پیدا کی جائے
۳ ۔ لین دین عادلانہ ناپ تول سے انجام پائے
۴ ۔قیمتیں ایسی نہ ہو ں کہ بیچنے والے اور خریدار پر زیادتی یا ظلم ہو
جب حاکم لے لئے ان امور کی انجام دہی ضروری ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ اس مین اتنی صلاحیت موجود ہو جو اسے ان کا موں کے انجام دینے پر قادر بنائے تاکہ وہ ان فرائض کو صحیح اور فیصلہ کن طور پر انجام دے سکے
مذکورہ چار بنیادی باتوں کی وضاحت کے لئے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ان چاروں باتوں کا اس زاویہ سے جائزہ لیں کہ حکومت عوام کو براہ راست کسی چیز کے بجا لانے کا حکم یا کسی چیز سے روک سکتی ہے
ناپ تول پر نگرانی اور اس سلسلہ میں وقت نظر سے کام لینے وزن اور تول کی رعایت کرنے اور مال کو وزن ،ہیمانہ یا شمار کے بغیر بیچنے سے روکنے کے سلسلہ میں گزشتہ گفتگو ہو چکی ہے آسان انداز میں خرید و فروخت کے سلسلہ میں بھی یہ عرض کر چکے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص)نے حکیم بن حزام پر یہ شرط لاگو کر دی تھی کہ اگر خرید ار مال خرید نے کے بعد منصرف ہو جائے اور مال واپس کرے تو اس سے مال لے لے اور معاملہ ختم کر دے تنگدست کو مہلت دے اور اپنا حق مکمل یا کمتر لے اور دوسرے امور بھی بیان کئے جاچکے ہیں منجملہ وہ فرامین جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے بازاروں میں گشت زنی کے دوران خرید و فروخت آسان بنانے کے لئے صادر فرمائے تھے بیان کئے جا چکے ہیں ہم یہاں اس سے متعلق تفصیل میں نہیں جانا چاہتے
اب رہ جاتی ہے ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدام اور قیمتوں میں زور و زبردستی کو روکنے کی بات ،یہاں ہم اس بارے میں بحث و تحقیق کرتے ہیں:
ذخیرہ اندوزی اور اس کی سزا
مالک اشتر کے نام امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے عہد نامہ میں آیا ہے:
” اس کے باوجود یہ جان لو کہ ان میں سے بہت سے لوگ بڑے تنگ نظر اور ذلیل و بخل و طمع رکھتے ہیں منافع میں ذخیرہ اندوزی اور لین دین میں زور و زبردستی سے کام لیتے ہیں یہ کام عوام کے حق میں نقصان دہ اور حکام کے لئے ننگ و عار کا سبب ہے لہٰذا لوگوں کو ذخیرہ اندوزی سے روکو کیوں کہ رسول خدا (ص) نے اس سے منع فرمایا ہے“
یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: پس جو شخص بھی تمھارے منع کرنے کے بعد ذخیرہ اندوزی کرے اس سے سختی کے ساتھ نپٹو اور اسے مناسب سزا دو کہ حضرت رسول خدا نے ایسا ہی اقدام فرمایا ہے(۲)
نیز حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے ایک خط میں جو آپ نے رفاء بن شداد کو تحریر مرمایا تھا ،آیا ہے :
”انه عن الحکر ة ،فمن رکب النهی فاوجعه ،ثم عاقبه باظهار ما احتکر “(۳)
”ذخیرہ اندوزی سے منع کرو پس جو شخص منع کرنے کے بعد اس کا مرتکب ہو اس کی کندی کرو (اسے جسمانی سزا دو) اس کے جس چیز کا اس نے ذخیرہ کیا ہے اسے ظاہر کرکے اس کو سزا دو“
حضرت جعفر بن محمد علیہ السلام انھوں نے اپنے پدر بزرگوار اور انھوں نے اپنے جد سے روایت کی ہے کہ:رسول خدا (ص)ذخیرہ اندوزںکی طرف سے گزرے اور انھیں حکم دیا کہ جو کچھ ذخیرہ کیا ہے اسے بیچ بازار میں جہاںسب کوگ دیکھیں لے آئیں
آنحضرت (ص) کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیا ہوتا اگر آپ (ص) ان چیزوں پر قیمت لگادیتے ؟حضرت (ص) یہ سن کر اس طرح غضب ناک ہوئے کہ غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر نمایاں ہوگئے،فرمایا: میں ان پر قیمت معین کروں؟قیمت خدا کے ہاتھ میں ہے جب وہ چاہے زیادہ کردیتاہے اور جب چاہتا ہے کم کردیتا ہے۔(۴)
یوں ہی روایت ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ایک لاکھ درہم کا ذخیرہ اندوزی کیا ہوا غلّہ جلواڈالا۔(۵)
ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ساحل فرات کی طرف سے گزرے وہاں ایک تاجر کا غلّہ کا انبار دیکھا جوا س لئے رکھا ہوا تھا کہ غلہ گراں ہوتو بیچا جائے، آپ نے اسے جلادینے کا حکم دیا۔(۶)
تیسری روایت میں ”عبد الرحمن بن قیس“سے نقل ہے کہ جیش نے کہا :میں نے اطراف کوفہ میں جو پیدا وار اور غلے ذخیرہ کرکے چھپا رکھے تھے علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے انھیں جلوا دیا اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو اس سے میں کوفہ کی پیدا وار کے برابر فائدہ اٹھاتا۔(۷)
اس سے ظاہر ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام احتکار (ذخیرہ) شدہ چیزوں کو جلوا دیا کرتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ لوگو ۳ ں کو ذخیرہ اندوزی سے روکا جائے احتکار کرنے والے کو سزا دی جائے،اس لئے کہ ذخیرہ اندوزی عوام کو نقصان پہچاتی ہے اورحکام کے لئے ننگ و عارشمار ہوتی ہے جیسا کہ مالک اشتر کے عہد نامہ میں ذکر آچکا ہے۔
”و فی روایة عن الامام الصادق علیه السلام و کل حکرة تضر بالناس و تغلی السعر علیهما فلا خیر فیها “(۸)
”اور ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ :چھپا کر ذخیرہ کیا ہوا ہرمال جس سے لوگوں کو نقصان پہنچے اور قیمت بڑھنے کا باعث ہو اس میں خیر و بھلائی نہیں ہے“
ان ہی حلات کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا (ص)جس طرح ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے سختی کے ساتھ نپٹتے تھے یوں ہی اس شخص کے ساتھ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے سختی کے ساتھ نپٹتے تھے یوں ہی اس شخص کے ساتھ بھی طاقت کا استعمال کرنے تھے جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا تھا جیساکہ آپ (ص) نے ”سمرةبن جندب“ کے ساتھ اقدام فرمایجب ”سمرة “ نے اپنے خرمے کے درخت کے بارے میں جو دوسرے کے گھر میں تھا سختی کا اثہار کیا ار یہ بات نہ مانی کہ جب وہ درخت کو دیکھنے آئے گا توصاحب خانہ سے اجازت بھی طلب کرے گا جب اس کی یہ سختی صاحب خانہ کے لئے مضر ثابت ہوئی تو رسول خدا (ص)نے حکم دیا کہ اس کا درخت اکھاڑ کر اس کے سامنے ڈال دیا جائے(۹)
مذکورہ روایات میں نظر آتا ہے کہ احتکار و ذخیرہ اندوزی کرنے کے لئے ۔من قسم کی سزا معیّن کی گئی ہے:
۱ ۔اسے درد پہنچانے واالی مارمارنا۔
۲ ۔جو کچھ اس نے احتکار کیا ہے اسے آشکار کرنا اور پیچ بازار میں منظرعام پر لان
۳ ۔احتکار شدہ مال جلا دینا۔
تیسری قسم کی سزا کے سلسلہ میں ممکن ہے ایک سوال پیش آئے ا ور وہ یہ کہ احتکار شدہ ؛مال تلف اور برباد کیوں ہو۔مناسب قیمت پر خریدار کے ہاتھ فروخت کیوں نہ کیا جائے اور اس کا پیسہ مالک کے حوالہ کردیاجائے؟یا کم از کم ضبط کرکے بیت المال میں شامل کیوں نہ کرلیا جائے تا کہ اس کانفع عوام تک پہنچے؟
جواب میں ہم کہیں گے:
ممکن ہے کہ جس شخص کا احتکار کیا غلہ جلوا دیا گیا ہو وہ غباد سے کام لیتے ہوئے ذخیرہ سے منع کئے جانے والے حاکم کی مخالفت پر اڑارہتا ہو یہاں تک کہ وہ احتکار شدہ مال جلوا دیئے جانے کی تنبیہ و سزا کا مستحق قرار پائے تا کہ دوسرے بھی اس عمل سے عبرت حاصل کریں جس طرح حضرت رسول خدا (ص) نے سمرة بن جندب کے خرمے کے درخت کے سلسلہ میںخود واسطہ بننے ،دخل دینے مختلف پیشکش کرنے ۔جو سب کی سب اس کے لئے مفید تھیں ۔کے با وجود جب اسے اپنی بات پر اڑا ہوا اور ہٹ دہرمی اور عناد پر جما ہوا پایا توحکم دیا اس کا درخت اکھاڑ کر اس کی طرف پھینک دیا جائے ۔
اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسجد ضرار کو ڈھادینے کا حکم دیا نیز جس طرح حضرت علی علیہ السلا م نے ایک مکان جس میں فاسقین اکٹھا ہوا کرتے تھے اور جس طرح ”مصقلةبن ہبیرہ “و ”عروة بن عشیہ “اور”جریر بن عبداللہ بجلی “ کے گھروں میں ان کی عظیم خیانتوں اور نافرمانیوں کی بنا پر سزا و تعزیر کے عنوان سے ویران کردیا۔(۱۰)
نیز احتکار شدہ مال اور دوسرے اموال ،جن کا ذکر گزرچکاہے ،کے بیت المال میںشامل نہ کئے جانے کا سبب یہ تھا کہ طاغوت اور ظالم حکام کے ہاتھوں میں ایک بہانہ یا سند نہ آجائے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے اموال پر ناحق قابض ہوجائیں۔
جائز نفع
یہ بیاںکرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام نفع کمانے اور مال و دولت حاصل کرنے سے نہیں روکتا ہے لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ مال حاصل کرنا ،نفع کمانا جائز اور شرعی راہوں سے انجام پائے جن کی پابندی معاشرہ کی اقتصادی بنیاد میں خلل پیدا نہیں کرتی نہ خود اور دوسروں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ساتھ ہی (وہ یہ چاہتاہے کہ )اسلامی بازار میں نئی چیزوں اور نئے مال کی فروانی کرکے یا پھر خصوصی یا عمومی خدمت و محنت کے ذریعہ جو معاشرہ کا معیار زندگی بلند کرنے میں موثر اور عام طور سے لوگوں کی رفاہ و آسائش اور ان کی بھلائی نیز کم یا طویل مدت میں معاشرہ کی مشکلات حل کرنے میں مفید ثابت ہوا اور مال و منفعت کا ذریعہ بھی ”رفاہ و کمال اور زیادہ سے ترقی حاصل کرنے کے لئے “ان باتوں کا لحا ظ رکھا جائے۔
لہٰذا یہ بات طبیعی وفطری تھی کہ اسلام ،جوا،سود یا دھوکہ اور جعل سازی و غیرہ کے ذریعہ پیسہ کمانے کے طریقوں سے مقابلہ کرے ۔یہ طریقہ جو نہ صرف معاشرہ کی خدمت نہیں کرتے اس کی سطح زندگی کو بلند نہیں کرتے ، اقتصادی مشکلیں حل نہیں کرتے اور اسلامی امت کی دوسری دشواریوں کے حل میں کوئی کردار نہیںادا کرتے بلکہ حقیقت میں یہ دوسروں کی پو نجی نگل جانے اور انھیں تباہ و برباد کرنے کے وحشیانہ طریقے شمار ہوتے ہیں اوراسلامی امت اور معاشرہ کو فکری ،اخلاقی ،اجتماعی اور دوسرے بہت سے نقصانات پہنچاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ اسلام جائز طور پر مال و دولت اور نفع کمانے سے ۔جب تک یہ مال معاشرہ کو آگے بڑھانے اور اس کی ترقی کی راہ میںحصہ دار معاشرہ کی اقتصادی سطح بلند کرنے میں مددگار ،اور اس کی مشکلات حل کرنے میں دخیل ہو ۔منع نہیں کرتا۔
اسی لئے جیسا کہ مالک اشتر کے عہد نامہ میں ہے حضرت علی علیہ السلام تاجروں اور صنعت گروں کو منفعت کے سر، چشمے رفاہ وترقی کے اسباب ،دورودراز کے علاقوں ، جنگلوں،پہاڑوں اور صحراؤں کی پر خطر راہوں سے ملک میں منافع اور آسائش لانے والے کہا ہے یہ بات بھی ذکر ہو چکی ہے کہ تجارت انسان کی عزت و سر بلندی ہے اور ۱۰/۹ روزی اس میں موجود ہے تجارت سے حاصل شدہ نفع سے لوگوں کا ایک گروہ دوسرے گروہ کو روزی پہنچاتا ہے حتٰی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) جب شہری دلالوں کے ذریعہ بغیر شہری افراد کا مال بیچنے کو منع کرتے ہیں فرماتے ہیں:
”دعوا الناس یرزق الله بعضهم من بعض “(۱۱)
”چھوڑ دو خدا وند عالم بعض لوگوں کے ذریعے بعض کو روزی دیتا ہے“
قیمتوں پر کنڑول
واضح رہے کہ مال و دولت سے لگاؤ اور اکثر اوقات انسان کی فکری تربیتی یا عقیدتی بنیاد میں نقص و خلل کی وجہ سے پیدا ہونے والی ضمانتوں کی کمزوری بجائے اس کے کے صحیح جہت میں جدھر خدا چاہتا ہے انسان کی نقل و حرکت کو کنٹرول یا توجیہ کرنے میں مو٘ثر ثابت ہو انسان کے افکار و اعمال پر اس کی عقل و وجدان کے تسلط اور اس کے ارادوں کو کمزور کرکے اسے عملی طور پر شرعی حکم کی رعایت و پابندی سے دور لے گئی ہے
یہی چیز بعض اوقات اس کا سبب ہوئی ہے کہ انسان میں یہ جرات پیدا ہو کہ وہ کبھی ذخیرہ اندوزی کرے کبھی قیمتوں سے کھیلے اور کبھی دھوکہ اور جعل سازی سے کام لے یا سود خوری کرے یا پھر اسلام کی نگاہ میں ناپسند دوسرے طریقہ اختیار کرے اور امت اسلام یا مجموعی طور پر پورے انسانی معاشرہ کو سخت نقصانات سے دو چار کرے یہیں سے حکومت پر اسلامی بازار کی دیکھ بھال ،نگرانی تجارتی نقل و حرکت پر کنٹرول اور قیمتوں پر نگرانی کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے تاکہ مالک اشتر کے عہد نامہ میں حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی تعبیر کے مطابق کہ قیمت خرید ار یا بیچنے والے کے لئے زیادتی کی حد تک نہ پہنچے(۱۲) ( کہ اگر اس حد کو پہنج جائے تو اسے کنٹرول میں لایا جائے اور اس پر پابندی لگانی چاہئے )بلکہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے عہد نامہ کی عبارت ایسی قیمت تعین کرنے کی طرف دلالت کرتی ہے جس میں خرید ار یا تاجر کسی پر زیادتی نہ ہو کیوں کہ یہ کہنا کہ ”بیچنے والے “یا خریدار کے ساتھ زیادتی نہ ہو اس بات کی دلیل ہے کہ قیمت اس پر تھوپی جاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام یہ کام خود انجام دیتے تھے چنانچہ ”ابو الصہباء “ناقل ہیں کہ میں حضرت علی علیہ السلام کو شط ”کلا“ میں دیکھا کہ وہ قیمت کی میزان و مقدار کے بارے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے۔(۱۳)
ظاہر ہے کہ اگر خود حاکم کے لئے قیمتوں کی نگرانی اور ان پر کنٹرول ممکن نہ ہو تو مجبورا وہ اس کام کے لئے ایک ادارہ تشکیل دے گا تاکہ شارع مقدس کے مقاصد پورے ہوں
قیمتوںکا تعین یا بے جا زیادتی پر پابندی
ہم جو کچھ اوپر عرض کر چکے ہیں کہ :
اول :یہ کہ اسلام نے مال اور نفع کمانے سے نہیں روکا ہے
دوسرے :آدمی کی طمع و لالچ اسے قیمتوں سے کھیلنے ،احتکار کرنے نیز دوسرے نقصان دہ اور نا پسند یدہ امور کی طرف کھینچ لے جاتی ہے
تیسرے : لوگوں کو ان قیمتوں پر مال بیچنے کے لئے آمادہ کرنا جو کسی بھی خریدنے یا بیچنے والے کے لئے نقصان دہ نہ ہو حکومت کے فرائض میں سے ہے
چوتھے: قیمتیں بہر حال کنٹرول کی جائیں اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام بذات خود یہ کام دیتے تھے
ان سب کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احتکار شدہ جنسوں کی قیمت معین کرنے کو رد فرمایا ہے اسی طرح حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے بھی یہ اقدام نہیں کیا
چنانچہ بعض نقل شدہ روایات میں ہم نے دیکھا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”قیمت خدا کے ہاتھ میں ہے جب وہ چاہے زیادہ کر دیتا ہے اور جب چاہے کم کر دیتےا ہے “(۱۴)
اب کیا ہماری پچھلی بات اور مودہ بات میں کوئی تناقص ہے ؟ اس کا جواب منفی ہے کیوں کہ ان حضرات کے اقدامات میں مکمل طور پر یکجہتی پائی جاتی ہے ،اور ان میں کوئی تناقص و اختلاف نہیں ملتا ان حضرات کے مختلف اقدامات میں مکمل انسجام و یکجہتی کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس طرف اشارہ کریں کہ اس جملہ ”قیمت خدا ک ہاتھ میں ہے جب وہ چاہے زیادہ کر دے اور جب چاہے کم کردے “سے کیا مراد ہے؟
شیخ صدوق نے اس کی وضاحت کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : اگر سستائی اور مہنگائی مال کی زیادتی یا کمی سے مربوط ہو تو خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کے مقابل تسلیم و رضا واجب ہے ،لیکن اگر سستائی یا مہنگائی خود انسانوں کے عمل کا نتیجہ ہو مثلا ایک شخص شہر کا تمام غلہ خرید لے اور اس کام کے ذریعہ قیمت زیادہ ہو جائے ،جیسے پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں حکیم بن حزام کرتا تھا اور وہ تمام غلہ جو مدینہ میں وارد ہو تا تھا خود خرید لیتا تھیہ گرانی اس شخص کے عمل کا نتیجہ ہے خدا وند عالم کی ذات سے اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر اس مورد میں بھی گرانی کو خداکی ذات سے متعلق کیا جائے تو جو شخص شہر کا تمام غلّہ خرید لیتا ہے اسے مذمت و ملامت کا مستحق نہیں ہونا چاہئے۔(۱۵)
یہ تو تھی مسلمانوں کے بازار میں ”گرانی“سے متعلق بات لیکن اگر کوئی دوسرے تاجروں کو نقصان پہچانے کی غرض سے قیمت کو نیچے لائے تا کہ ان تاجروں کا سرمایہ ختم ہوجائے اور بازار پر صرف اس کا تسلّط ہو جائے ۔یہ بھی وہی صورت ہے یعنی ایسے شخص کا عمل جائز نہیں ہے ۔ہاں اگر اس کام سے اس کا مقصد دوسروں کو نقصان پہنچانا نہ ہو بلکہ وہ اس کام سے فقراء کی مدد اور خدا کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اس صورت میں اس کا عمل پسندیدہ اور مقبول ہے ۔
حاکم نے روایت کی ہے کہ حضرت رسول خدا (ص)بازار میں ایک ایسے شخص کے پاس گزرے جو بازار کی قیمت سے سستا کھانا فروخت کررہا تھا آپ نے اس سے فرمایا:
”تییع سوقنا بسعر هو ارخص من سعر ؟قال:نعم قال:صبرا و احتسابا؟قال:نعم قال:ابشر فان الحجاب الیٰ سوقنا کا لمجاهد فی سبیل الله والمحتکر فی سوقنا کا لملحد فی کتاب الله “(۱۶)
”یعنی ہمارے بازار میں ہماری (معین کردہ ) قیمت سے سستی قیمت پر فروخت کر رہے ہو ؟ عرض کی ہاں مرمایا: ایثار اور خدا کے حساب میں؟ عرض کیا ہاں ، فرمایا: بشارت ہو تجھے کہ ہمارے بازار میں مال لانے والا خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند اور ہمارے بازار میں احتکار اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا کتاب خدا میں ملحد کے مانند ہے“
پہلے پیغمبر اسلام (ص)نے اس شخص کے عمل پر ایسے تعجب کا اظہار کیا جیسے اس کے اقدام سے راضی نہ ہوں لیکن جب یہ جان لیا کہ وہ شخص اپنے اس عمل سے خدا کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی تشویق فرمائی ساتھ ہی بد نیت تاجر یعنی احتکارکرنے والے کی حقیقت سے بھی اسے آگاہ فرمای
دوسری دلیل جو طے شدہ قیمت کو نیچے لانے کی بدی و نا خوشگواری پر دلالت کرتی ہے حضرت علی علیہ السلام نے کسی کے مال پر قیمت معین نہیں کی ،لیکن جو شخص اس روز کی قیمت سے بڑھ کر مال بیچے اس کے لئے کہا جائے گا ،جس طرح تمام تاجر بیچ رہے ہیں تم بھی فروخت کروورنہ بازار سے اٹھ جاؤ مگر یہ کہ غلہ یا کھانا دوسروں تاجروں کے غلوں سے زیادہ مرغوب اور بہتر ہو(۱۷)
یوں ہی جو شخص موجودہ قیمت سے کم پر مال فروخت کرتا ہے اسے حکم دیا جاتا ہے کہ تمام لوگوں کی قیمت پر مال فروخت کرے ورنہ اس کی سزا یہ ہوگی کہ اس کے کام کا اجازت نامہ منسوخ ہو جائے گا اسے بازار میں مال فروخت کرنے سے منع کر دیا جائے گ اور اس کاسبب ۔جیسا کہ اشارہ کیا جا چکا ہے۔ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے اسی طرح غلہ احتکار کرنے والے کی سزابھی، تجارت کے اجازت نامہ منسوخی اور اس کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی ہے جیسے پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں حکیم بن حزام احتکارکیا کرتا تھا اور فقط معین و مخصوص حالات میں ضمانتیں لینے بعد اسے تجارت کی اجازت دی گئی
مذکور بالا باتوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ جو حضرت رسول خدا (ص) نے احتکار شدہ مال پر قیمت نہیں لگائی اور حضرت علی علیہ السلام نے بھی ایسا کوئی اقدام نہیں کیا اس کا سبب یہ تھا کہ قیمت خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے ،جس کا تعلق موجودہ مال کی مقدار لوگوں کی ضرورت اور توجہ کا تناسب اور طبیعی اسباب و حالات سے ہے ایسی صورت میں بلا کسی ضرورت کے قیمت کا تعین صاحب مال پر ظلم شمار ہوتاہے
اسی طرح طبیعی و فطری اسباب و علل کے تحت پیدا ہونے والی گرانی کے نتیجہ میں پیدا وار میں زیادتی یا بازار میں مال کی فراوانی وجود میں آسکتی ہے چاہے مال کسی دوسری جگہ سے لایا جائے اس بنا پر قیمت کا تعین جو اس مطلوب و مفید صورت حال کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے مناسب نہ ہوگا
احتکار شدہ مال کو باہر لاکر اسے بازار میں ایسی جگہ رکھنا کہ سب اسے دیکھ سکیں بازار میں مال کی فراوانی اور لوگوں کی ضرورت و احتیاج نیز دوسرے امور پر بھی فطری طور سے اپنا اثر ڈالے گا اس طرح مال کی قیمت فطری طور پر خود بخود معین ہو جائے گی اور قیمت تعیین کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ ائے گی
لیکن ظاہر ہے کہ۔ جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت میں نقل ہوا اور مالک اشتر کے عہد نامہ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ جس طرح عام قیمت سے کم پر مال بیچنے والے کو بازار سے اٹھ جانے کا حکم دے دیا جاتا ہے تاکہ وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے اور دوسرے تاجروں کو ضرر نہ پہنچے ۔یوں ہی ۔ اگر صاحب مال اپنے احتکار شدہ مال کو اونچی قیمت پر جو لوگوں کے نقصان کا باعث ہو بیچے تو اسے بہر حال خریدار کو نقصان پہنچانے سے روکنا چاہئے جیسا کہ مالک اشتر کے عہد نامہ میں قیمت اونچی کرکے لوگوں کو نقصان پہنچانے سے روکا گیا ہے
اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر احتکار شدہ مال جو لوگوں کو نقصان پہنچائے اور قیمت کو اوپر لے جائے اس میں کوئی خیر نہیں ہے “(۱۸) مالک اشتر کے عہد نامہ میں بھی احتکار کے سلسلہ میں آیا ہے : ” احتکار لوگوں کو نقصان پہنچانے کادروازہ اور حکام کے لئے ننگ و رسوائی کا سبب ہے “
بنابر این امام علیہ السلام نے احتکار قاعدہ ”لاضرر“ کے مصداقات میں سے جانا ہے جوحاکم کو ی اختیار دیتا ہے کہ عوام کو نقصان پہنچے سے بچا نے کے لئے اقدام کرے، یعنی وہی اختیار جو حاکم کو خرمے کا درخت اکھاڑ کر اس کے مالک (سمرة بن جندب) کے سامنے ڈال دینے کے سلسلہ میں حاصل تھا۔کیونکہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے مال ذخیرہ کرنے اور چھپا دینے میں ۔کہ اس پر پابندی لگنی چاہئے اور مال باہر نکال کر اسے منظر عام پر رکھنے کا حکم دینا چاہئے ۔اور لوگوں کو ضرر نقصان پہچانے کے لئے اونچی قیمت پر مال بیچنے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اس صورت حال پر بھی پابندی لگنی چاہئے کیوں کہ دونوں مورد میں بنیاد ایک ہی ہے ۔ یا یہ کہ احتکار اور قیمت کے ذریعہ لوگوں کو ضرر و نقصان پہنچانا دونوں جائز ہوں یا پھر دونوں پر پابندی لگائی جائے ۔ اسلام نے دوسری راہ (یعنی دونوں پر پابندی ) کو اختیار کیا ہے اس لئے کہ جس بنیاد ی چیز سے روکا جارہا ہے یعنی عوام کو نقصان پہنچنا وہ دونوں صورتوں میں موجود ہے
مختصر یہ کہ مالک آزاد ہے کہ اس بات کی رعایت کرتے ہوئے کہ فروخت میں ظلم وتعدی نہ کرے اور دوسروںکو نقصان نہ پہنچائے بقیہ وہ جس قیمت پر چاہے اپنا مال فروخت کر سکتا ہے اب وہ تھوڑے نفع پر راضی ہو جاتا ہے یا زیادہ فائدہ چاہتا ہے یا ایک شخص کو بہت ہی کم نفع میں یا سر سے نفع لئے بغیر مال بیچتا ہے اور دوسرے کو اونچی قیمت پر مال فروخت کرتا ہے اور حکومت نگراں و محاسب ہے جو مناسب و ضروری وقت پر امور کو اپنی حدود میں لانے کے لئے دارو عمل ہوتی ہے اور ۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ۔ نقصان دہ زیادتی پر پابندی لگاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مجرموں کا اجازت نامہ منسوخ کردیتی ہے یا اسے بازار سے نکل جانے کا حکم دیتی ہے بلکہ ممکن ہے اس سے بھی آگے بڑھ کر اقدام کرے جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے سمرہ کا درخت اکھاڑ پھکوا دیا خیبر میں دیگیں الٹوا دیں اور امیر المومنین علیہ السلام نے احتکا ر شدہ غلوں کا انبار جلوا ڈالا
ممکن ہے یہ کہا جائے کہ مالک اشتر کو لکھے ہوئے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے عہد نامہ جہاں بیچنے والے پر زبر دستی اور زیادتی کی بات بیان کی گئی تھی ،یہ سمجھا جائے کہ اگر ولی وحاکم کسی مصلحت کے تحت مال پر ایک قیمت معین کرے تو اسے اس کا حق اسی طرح سے حاصل ہے جسے عرض کیا جا چکا ہے کہ حضرت رسول اکرم (ص)نے پکنے سے پہلے بھل فروخت کرنے سے منع اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے روکنے کے لئے خیبر میں دیگیں الٹ دیں اور طواف میں حکم دیا کہ مسلمان ”ہرولہ “(چلنے اور دوڑنے کے بیچ کا انداز)کریں یا خضاب لگانے کا حکم دیا یا شہر میں کبوتر کا شکار کرنے سے منع فرمایااور
البتہ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ولی و حاکم ایسے اقدام کا حق رکھتا ہے ،یہ اس مورد میں ہے کہ ابھی لوگوں کی ضرورت و احتیاج شدید نہ ہوئی ہو اور حرج مرج کی نوبت نہ آگئی ہو ، ایسی صورت میں ولی و حاکم ولایت و حاکمیت کے اعتبار سے دخل دینے کا حق رکھتا ہے چاہے ثانوی اعتبار سے سہی لیکن ضرورت و حرج کی صورت میں حاکم پر یہ بات لازم و فرض ہوتی ہے
ایک ضروری یاد دہانی
ظاہر ہے کہ اوپر جو باتیں کہی گئی ہیں ان کا تعلق ایسے احتکار و ذخیرہ اندوزی سے ہے جو عمومی سطح پر خلل اور لوگوں کے لئے ضرر و نقصان کا باعث ہو جیسے کوئی پورے شہر کا غلہ خرید لے اور لوگ اس سے محروم ہوں ورنہ مال کا مناسب و قت تک رکھنا یعنی جب تک لوگوں کی مانگ اور ان کی توجہ میں اضافہ ہو۔ جب مہ بازار میں وہ مال موجود بھی ہو۔ منع نہیں ہے اور معصومین علیہم السلام سے نقل شدہ روایات(۱۹) کے منطوق کے مطابق اس راہ سے زیادہ نفع کمانا جائز ہے
____________________
۱۔۲)۔نہج السعادہ ،ج/۵ص/۹۹و۱۶،تحف العقول ص/۱۴۰،نہج البلاغہ شرح عہد ج/۳ص/۱۱۰و۱۱۱،بحار الانوار طبع قدیم ج/۱۰ ص/۶۱۰و۶۱۱ و طبع جدید ،ج/۱۰۰ ص/۸۸و۸۹،مستدرک الواسائل ج/۲ ص/۴۴۵۔دعائم الاسلام ج/۱،ص/۳۳۷۱و۳۷۲آخری ماخذ میں اس خط کو حضرت علی کے بجائے حضرت رسول خدا سے منسوب کیا گیا ہے
۳)۔دعائم السلام ج/۲ ص/۳۶۔ مستدرک الواسائل ،ج/۲ص/۴۶۹۔نہج السعادہ ج/۵ص/۳۱
۴)۔توحید صدوق، ص۳۸۸۔استبصار،ج۳،ص۱۱۴و۱۱۵۔من لایحضرہ الفقیہ ج/۳،ص/۲۶۵۔عوالی اللئالی، ص۲۰۸،التہذیب ج۷،ص۱۶۱و۱۶۲۔تذکرة الفقہاء، ج۱، ص۵۸۵۔ وسائل ج۱۲،ص۳۱۷
۵)۔المحلی ج۹،ص۶۵
۶)۔کنزل العمال ج/۴،ص/۱۰۳ از عقیلی۔نیز رجوع فرماء معالم القریہ ص۱۲۱و۱۲۲و۲۸۸
۷)۔المحلی ج۹ص۶۵
۸)۔دعائم اسلام ج۲،ص۳۵ المصنف ابن ابی شیبہ،ج۶،ص۱۰۳
۹)۔کافی ج/۵،ص/۲۹۲ و۲۹۴۔من لا یحضرہ الفقیہ ج/۳ص/۱۰۳و۲۳۳ ۔التہذیب ج/۷ ص/۱۴۷ ۔وسائل ج/۱۷ص/۳۴۰و۳۴۱۔بحارالانوار ج/۱۰۰ ص/۱۲۷ ۔الفائق ج/۲ص/۴۴۲۔مصابیح السنة بغوی ج/۲ص/۱۴۔ التنظیم الاسلامیہ ص/۳۲۱۔ از ابو داؤد واز عون المعبود ج/۲ ص/۳۵۲
۱۰)۔نمونہ کے طور پر ملاحظہ فرمائیں:انساب الاشراف ج/۲ ص/۴۱۷و۴۶۵و۲۷۷۔
۱۱)۔ امالی شیخ طوسی ج/۱ص/۱۱ ، وسائل ،ج/۱۲ص/۳۲۷و۳۲۸ ۔کافی ،ج/۵ص/۱۲۸۔التہذیب ج/۷ص/۵۸۔من لایحضرہ الفقیہ ،ج/۳ص/۲۶۸و۲۷۳۔استبصار ،ج/۳ص/۱۱۵،صحیح مسلم ج/۵ص/۶۔سنن ابی داؤد ،ج/۳ص/۲۷۰۔سنن نسائی، ج/۷ص/۲۵۶۔الجامع الصحیح ترمذی ج/۳ ص/۵۲۶۔سنن ابن ماجہ ،ج/۲ص۷۳۴۔کنزالعمال ج/۴ص/۳۶و۳۷از طہرانی ،مسلم و احمد ۔مصابیح السنة ج/۲ص/۸۔ نصب البرایة ج/۴ص/۲۶۔ مجمع الزوائد ج/۴ص/۸۳۔عوالی النسائی ج/۳ص/۲۰۶و۲۱۰۔تذکرة الفقہا ج/۱ص/۵۸۵۔معالم القربة ص/۲۱۳۔نیز اس کے حاشیہ میں ہے کہ بخاری کے علاوہ دوسرے اصحاب صحاح نے یہ روایت نقل کی ہے تتیسیر الوسول ج/۲ص/۴۶و۴۷
۱۲)۔بعض صحابہ کہہ رہے تھے کہ شاید مالک اشتر کے عہد میں امام علی علیہ السلام کا یہ فقرہ کہ اور قیمتیں جو کسی بھی بیچنے والوں یا خردید ار پر زیادتی کا سبب نہ ہو ں احتکار اور احتکار کرنے والے کی طرف سے ذخیرہ شدہ مال فروخت کرنے کے اقدام سے مخصوص ہے اور وہ بھی اس لئے کہ ذخیرہ اندوزوں سے انتقام لینے کی غرض سے ان کا ذخیرہ شدہ مال ضبط کر لیا جائے یا معمولی قیمتوں پر بیچ دیا جائے لہٰذا حضرت کا یہ کلام قیمت تعین کرنے کی شرعی حیثیت کو ثابت کرتا ہے
ہم یہ کہتے ہیں کہ بظاہر یہ کلام احتکار کے مسئلہ سے مخصوص نہیں ہے کیوں کہ اگر یہ احتکار سے روکنے کا حکم اس سے پہلے کی گفتگو میں بیان ہو چکا ہے لیکن صرف احتکار سے منع کردینے کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ احتکار کرنے والوں کے اموال کی قیمت معین کرنے بیچنے یا انھیں ضبط کرنے کا جواز حاصل ہو جائے جس طرح کہ فروخت میں آسانی پیدا کرنے اور عادلانہ ناپ تول کے ساتھ سے بیچنے کا حکم احتکار سے مخصوص نہیں ہے جس پر پابندی لگانے کا حکم اس پہلے آچکا ہے احتکار کرنے والے کو سزا دینے کا حکم بھی ان تمام جملوں کے بعد آیا ہے (اور مذکورہ زیر بحث جملہ کو احتکار کی مورد سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا )اس بنا پر مالک اشتر کے عہد نامہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اوامرخود مستقل اور عام ہیں جن عمل مطلق طور سے ۔احتکار کے علاوہ دوسرے مورد میں بھی۔ واجب ہے
۱۳)۔ محقات احقاق الحق ،ج/۸ص/۵۶۳،نقل از کتاب ارجح المطالب ،ص/۱۵۴مطبوعہ لاہور اور نقل از” الریاض النضرة“
۱۴)۔ توحید صدوق ،ص/۳۸۸۔کافی ج/۵ص/۱۶۲و۱۶۳۔من لا یحضرہ الفقیہ ،ج/ ص/۲۶۵و۲۶۸۔استبصار ، ج/۳ص/۱۱۴و۱۱۵۔التہذیب ،ج/۷ ص/۱۶۱و۱۶۲۔وسائل ،ج/۱۲ ص/۳۱۷۔ سنن ابی داؤد، ج/۳ص/۲۷۲۔ سنن دارمی ،ج/۲ص/۲۴۹ ۔سنن ابن ماجہ ،ج/۲ص/۷۴۱و۷۴۲۔النز العمال ج/۴ص/۵۴تا۵۷و۱۰۴و۱۰۵، بعض گزشتہ ماخذ سے نقل نیز ہزار ، عبد الرزاق ،بیہقی ، احمد ،ترمْْْزی ، ابن حیان طبرانی ، دیلمی، عقیلی ،ابن النجار خطیب ، رافعی اور نصب الرایہ ج/۴ ص/۲۶۲و۲۶۳، اور اس حاشیہ میں مجمع الزوائد ج/۴ص/۹۹و۱۰۰۔ تذکرة الفقہا ج/۱ ص/۵۸۵۔المعجم الصغیر ج/۲ ص۷ کشف الاستار ج/۲ص/۸۵ ۔ معالم القریہ، ص/۱۲۰
۱۵)۔ توحید صدوق ،ص/۳۸۹و۳۹۰
۱۶)۔مستدرک حاکم ج/۲ص/۱۲تلخیص مستدرک ذہبی (چاپ شدہ در حاشیہ مستدرک) کنزالعمال ج/۴ص/۵۳و۵۵نقل از مستدرک و از زبیر بن بکار ،در اخبار المدیریت ۔وفاء والوفا ،ج/۲ص/۷۵۶ اس آخری ماخذ میں سمھودی نے روایت کو ایک لفظ کے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ قیمت کی زیادتی سے مراد مال میں زیادتی ہے
۱۷)۔ دعائم الاسلام ج/۲،ص/۳۶۔مستدرک الوسائل ج/۲ص/۴۶۹
۱۸)۔ دعائم الاسلام ،ج/۲ص/۳۵ مستدرک الوسائل ج/۲ص/۴۶۸
۱۹)۔کافی ،ج/۵ص/۱۶۵۔من لا یحضرہ الفقیہ ،ج/۳ص/۳۶۶۔التوحید ،ص/۳۸۸و ۳۸۹ و۳۹۰۔ التہذیب ج/۷ص/۱۶۰۔استبصار ،ج/۳ص/۱۱۵و۱۱۶۔نیز ملاحظہ فرمائیں مستدرک الواسائل ج/۲ص/۴۶۸و۴۶۹ ۔ تذکرة الفقہا ء ج/۱ص/۵۸۵
غیر ملکی تجارت اور ٹیکس
فقہائے اسلام نے کفار حربی و خیر حربی اور باغی مسلمانوں سے اسلحہ خرید نے اور ان کے ہاتھ بیچنے کے موضوع پر بحث و گفتگو کی ہے لہٰذا اس موضوع کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے ہم یہاں کفار سے عام مال خریدنے اور ان کے ہوتھوں بیچنے کے سلسلہ میں حاکم کے دخل اور اس کے ذریعہ ملک میں مال وارد کرنے پر تشوق کے سلسلہ میں اشارہ کریں گے اسی طرح اس بارے میں بھی گفتگو کریں گے کہ کیا تاجر وں سے ٹیکس لیا جاتا تھا یا اسلام میں ٹیکس لینا جائز نہیں تھ
غیر مسلمان سے تجارت
سب سے پہلے ہم اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام کسی کے لئے حتٰی غیر مسلمان کے لئے فقرو غربت ،سختی اور تنگدستی نہیں چاہتا ہے
”ان علیا علیه السلام قد کتب الی قرظة بن کتب الانصاری :امابعدفان رجالا من اهل الذمة من عملک ذکروا نهرا فی ارضهم ،قد عفا و اذقن ،و فیه لهم عمارة علی المسلمین ،فانظر انت و هم ، ثم اعمر واصلح انهر،فلعمری ،لان یعمر وا احب الینا من ان یخر جوا ،وان یعجزوا او یقصروا فی واجب من صلاح البلاد و السلام “(۱)
”حضرت علی علیہ السلام نے ”قرضة بن کعب انصاری “کو لکھا ہے:تمھارے تحت فرمان علاقہ کے کچھ اہل ذمّہ افراد نے کہا ہے کہ ان کی زمینوں میں ایک نہر تھی جو پٹ گئی اور خشک ہوگئی ہے اور وہاں ان کی آبادی ہے پس تم اور وہ لو گ اس کام کا جائزہ لو اس نہر کی صفائی و ااصلاح کرو اور انھیں آباد کرو میری جان کی قسم اگر وہ آباد ہوں تو یہ ہمارے نزدیک ان کے کوچ کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔(کیونکہ آوارہ وطن ہونے کی صورت میں )وہ مجبور و ناتوان ہوں گے یا ان کاموں کے کرنے سے معذور ہوں گے جن میں حکومت کی خیر وصلاح ہے والسلام“
یہ سیاست ذمی کافروں سے مخصوص نہیں رہی ہے بلکہ دوسروں کے شامل حال بھی رہی ہے :
”فان رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم قد ارسل بخمس ماة دینار الیٰ اهل مکة معونة لهم حینما تبلوا بالقحط (۲)کما انّه قد ارسل الیهم بعد الفتح بمزید من الاموال ایضا “(۳)
”حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اہل مکہ کو جب قحط میں مبتلا ہوگئے تھے ،پانچ سو دینار ان کی مدد کے لئے بھیجے جس طرح آپ نے فتح مکہ کے بعد بھی ان کے پاس مزید اموال بھیجے “
اور یہ صرف اس لئے تھا کہ اسلام لوگوں کی فلاح و خوشبختی چاہتا ہے ، کہ لوگ جائز طریقوں سے ہاتھ آنے والی خیر برکت سے فائدہ اٹھائیں بشرطیکہ وہ ان فوائد کو اسلام اور انسانوں کے خلاف جنگ کے لئے بروئے کار نہ لائیں اور انھیں مخالفت و مخاصمت کی بنیاد نہ بنائیں
”سیماالبلقاوی “ جو ایک عیسائی شخص تھا اور ایک تجارت کے سلسلہ میں مدینہ آیا اور دولت اسلام سے مشرف ہوا تھا ، بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے کہا :ہم ”بلقاء“ سے مدینہ گیہوں لے کر آئے اور وہاں فروخت کیا اور جب وہاں سے خرمے خریدنا چاہے تو لوگوں نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ،ہم نے حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آکر انھیں اس قضیہ کی اطلاع دی جو لوگ ہماری راہ میں رکاوٹ تھے آنحضرت (ص) نے ان سے فرمایا:
”اما یکفیکم رخص هٰذاالطعام بغلاء هٰذا التمر الذی یحملونه ؟ذرو هم یحملوه “(۴)
کیا تمھارے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ تم نے سستا گیہوں حاصل کیا اور خرما جو یہ لے جا رہے ہیں انھیں مہنگا فروخت کیا ہے ؟ چھوڑ دو لے جائیں“
اس روایت سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں :
ایک یہ کہ غیر مسلم تاجر اپنا مال لے کر مسلمان علاقوں میں آتے رہے ہیں ۔ حتٰی روایت ہے کہ غیر مسلمان تاجروں کو جنگ کے زمانہ میں بھی خصوصی تحفظ حاصل تھا۔چنانچہ جابر سے نقل ہے کہ ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں مشرک تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے(۵)
دوسری یہ کہ یہ روایت اگر چہ صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اہل مدینہ کا مال نہ فروخت کرنا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کے تحت تھا جو آنحضرت (ص) نے پہلے صادر فرمایا ہو ،لیکن اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ اہل مدینہ غیر مسلمانوں کے ہاتھ بنیادی و اساسی جنس فروخت نہیں کرتے تھے بلکہ ثمامہ کے قول ۔ جسے ہم آئندہ نقل کریں گے ۔ کے علاوہ اس روایت سے یہ استفادہ بھی ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کو ضروری سمجھتے تھے کہکم ازکم غذائی اشیاء کو دوسرے ملکوں منجملہ مشرکین کے ملکوں میں صادر کرنے کے سلسلہ میں حضرت رسول خدا (ص)سے اجازت حاصل کریں ،کم از کم ثمامہ اسی کے معتقد تھے
بخاری اور مسلم نے روایت کی ہے کہ جب ثمامہ اسلام لائے اور اہل مکہ نے (شماتت آمیز لہجہ میں ) ان سے کہا : کیا تم اسلام کی طرف مائل ہو گئے ؟ تو انھوں نے مشرکین مکہ کو جواب دیتے ہوئے کہا اس خد ا کی قسم جس کے قبضہ میں ثمامہ کی جان ہے ،مکہ کے اطراف سے ایک دانہ بھی تم تک نہیں پہنچتا جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اجازت نہ دیں یہ کہہ کر وہ اپنے مسکن کی طرف چلے گئے اور مکہ میں مال و غلہ لے جانے سے گریز کیا یہاں تک کہ قریش سختی اور مشقت میں مبتلا ہو گئے اور حضرت رسول خدا کی خدمت میں ایک خط لکھا اور ان سے اپنی قربت کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی کہ ثمامہ کو لکھیں کہ وہ ہمارے لئے غلہ لے آئے چنانچہ رسول خدا نے ایسا ہی کیا(۶)
اس روایت سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں ؛
ایک یہ کہ مسلمانوں نے مشرکوں کا اقتصاد ی محاصرہ کر رکھا تھ
دوسرے یہ کہ مسلمان ،اہل مکہ کو غلہ فروخت کرنے کے لئے حضرت رسول اکرم کی اجازت ضروری سمجھتے تھے
اور تیسری بات یہ کہ جنگی دشمنوں کو غلہ فروخت کرنا اور ان سے تجارتی رد وبدل کرنا جائز قرار دیا گیا ہے
مال وارد کرنے کی تشویق
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم جو اسلامی حکومت کے ولی و حاکم ہیں ایک دستور العمل صادر فرماتے ہیں جس کے مطابق ضروری اور بنیادی مال و اشیاء وارد کرنے والوں کو اہم امتیازات بخشتے ہیں اور ان کے حق میں حکومت کے اوپر بڑی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں
۱ ۔حکومت تاجروں کے نقصانات کا جبران کرے اس میں ان تمام چیزوں کی ضمانت کو شامل سمجھنا چاہئے جو ان کے اختیارات سے باہر تلف ہو اور تباہ ہو جائے
۲ ۔جب تک وہ محل فروش سے باہر نہ جائیں حکومت ان کے تمام مخارج پرداشت کرے
البتہ ان امتیازات کے مقرر کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تاجر اس سے غلط فائدہ اٹھائیں اور احتکار کریں ،کہ روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:
”من حمل الیناطعا ما فهو فی ضیافتنا حتٰی یخرج و من ضاء له شئی فانا له ضامن ولا ینبغی فی سوقنا محتکر “(۷)
”جو شخص ہماری طرف غلہ لے کر آئے جب تک وہ (علاقہ سے) خارج نہ ہو ہمارا مہمان ہے اور اگر کسی کی کوئی چیز ضائع ہو جائے تو میں اس کی ضمانت لیتا ہوں اور سزا وار نہیں ہے کہ ہمارے بازار میں کوئی محتکر و ذخیرہ اندوز ہو“
مذکورہ بالاامتیازات کے علاوہ مالک اشتر کے عہد نامہ جسے ہم پہلے مقالہ میں ذکر کر آئے ہیں ،تاجروں اور صنعت کاروں سے متعلق چار دوسرے فریضے بھی حکومت پر عائد ہوتے ہیں
۱ ۔ان کی راہوں اور گزرگاہوں کو پر امن بنان
۲ ۔ان کے حقوق ادا کرن
۳ ۔ان کے امور کی دیکھ ریکھ چاہے وہ دور ہوں یا نزدیک
۴ ۔نیز حضرت امیر المومنین علیہ لسلام نے مالک اشتر کو حکم دیا کہ ایک جگہ پر رہنے والے اور مستقل سفر کرنے والے تاجروں اور صنعت کار سے ان کی نصیحتیں اور نیک مشورے سنو اور انھیں نیکی اور بھلائی کی ہدایت کرو اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ:
الف) وہ منافع کے سرچشمہ ہیں
ب) معاشرہ کے رفاہ و آسائش کا ذریعہ ہیں
ج)یہ لوگ منافع اور اسباب رفاہ ،دور درازکے علاقوں خطرناک جگہوں خشکی ، دریا ،جنگلوں اور پیاڑی علاقوں سے شہروں میں وارد کرتے ہیں
درحقیقت یہوہ اہم امتیازات ہیں جو اسلام تاجروں اور صنعت گروں کو دیتا ہے ان کے علاوہ اسلام نے انھیں زمانہ جاہلیت کے رواج یعنی ٹیکس(۸) جو اہل کتاب سے اپنائے گئے تھے اورانھیں تاجروں سے وصولا جاتا تھا ،معاف کر دیا ٹیکس کا وصولنا حرام اور وصولنے والوں کی سخت مذمت کی جیسا کہ ان روایات کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے جن کے بعض منابع کی طرف ہم آیندہ اشارہ کریں گے
تجارت پر ٹیکس
حدیث اور تاریخ کے جاننے والوں نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ وہ پہلا شخص جس نے تاجروں پر ٹیکس (مکس و عشر)مقرر کیا خلیفہ٘ دوم عمر بن خطاب تھے جھنوں نے مسلمانوں سے ایک چوتھائی عشر ،کفار ذمی سے آدھا عشر اور ان مشرکوں سے جوذمی نہیں تھے کامل عشر لیا۔(۹) اس قسم کا ٹیکس شہر میں مقیم تاجروں اور باہر سے مال لانے والوں سے لیا جاتا تھ
ابن السائب ابن یزید نے کہا :”میں خلیفہ عمر کے زمانہ میں مدینہ کے بازار پرمنصوب کیا گیا تھا اور ہم ”نمط“سے ۱۰/۱ ، وصول کرتے تھے(۱۰) اس بناپر ”زیاد بن جدیر “ سے نقل شدہ روایت جس میں وہ کہتے ہیں کہ ”ہم کسی مسلمان اور کسی معاہد کافر (ذمی )سے عشر نہیں لیتے تھے ،اور جب ان سے سوال کیا گیا :پس کن لوگوں سے عشر لیتے تھے ؟توکہا :
”کافر حربی تاجروں سے ،اسی طرح وصول کرتے تھے جیسے وہ ہم سے وصولاکرتے تھے جب ہم ان کے پاس جایاکرتے تھے “(۱۱) ا س روایت کو خلیفہ عمرکے حکم ۔جس میں مسلمانوں ، کفارذمی اور کفار حربی سے عشر لینے کا دستور موجود ہے۔کے پہلے کی روایت پر محمول کرنا چاہئے
البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ ہم یہ نہ کہیں کہ یہ روایت جعل شدہ ہے تاکہ پیغمبر کے حکم سے خلیفہ کی مخالفت کی توجیہ کریں کیوں کہ حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پوری صراحت اور سختی کے ساتھ مسلمان اور کافر ذمی سے عشر لینے سے منع فرمایاہے(۱۲)
جیسا کہ عشار (عشر اصول کرنے والے )اور ٹیکس لینے والے کے سلسلہ میں بھی بہت زیادہ مذمت نقل ہوئی ہے(۱۳) اور حضرت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل سے روکنے اور اسے باطل قرار دینے کا سبب یہ تھا کہ ”لا نہ کان من عمل الجاھلیة“(۱۴) وہ زمانہ جاہلیت کے اعمال میں سے تھا بلکہ جس طرح تحریف شدہ توریت اور انجیل جو اس وقت موجود ہیں بہت سے موارد میں اس کی صراحت کرتی ہیں اور مقریزی نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے(۱۵) کہ یہ عمل اہل کتاب سے اخذ کیا گیا ہے
محمد بن مسلم نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ حضرت نے اس سوال کے جواب میں کہ :کیا جزیہ کے علاوہ کوئی اور چیز بھی کافر ذمی کے اموال یا جانوروں میں سے لی جائے گی؟فرمایا: نہیں(۱۶) ،یوں ہی عشر لینے کی ممانعت کے سلسلہ میں بہت سے دلائل و شواہد پیش کئے جا سکتے ہیں جن کی یہاں گنجائش نہیں ہے
اب جب کہ ہم نے جان لیا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عشری ،ٹیکس وصول کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے تو ہمارے لئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ابن قدامہ سے نقل شدہ روایت صحیح نہیں ہے اس روایت میں آیا ہے کہ :
خلیفہ عمر نے ”انس ابن ملک “ کو کسی جگہ عشور کی وصولیابی کی نگرانی اور تصدیق کے لئے بھیجنا چاہا ،انس نے کہا :یا امیر !کیا مجھے ٹیکس و غیرہ کے سلسلہ میں منصوب فرما رہے ہیں ؟ عمر نے کہا :میں نے تمھارے ذمہ وہ کام کیا ہے جسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے میرے ذمہ کیا تھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عشور کے معاملات میرے ذمہ کئے اور مجھ حکم دیا کہ مسلمانوں سے ایک چوتھائی عشر ، کافر ذمی سے ادھا عشر او ر حربی سے پورے عشر وصول کروں(۱۷)
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روایت اس بات کی توجیہ کی نیت سے جعل کی گئی ہے کہ اگر چہ حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عشری ٹیکس (عشر اور مکس ) وصول کرنے سے تاکید کے ساتھ مکرر طور پر منع کیا تھا اور اس ٹیکس کا وجودآنحضرت(ص) کے زمانہ میں اور خلافت ابوبکر کے عہد میں نیز ایک زمانہ تک عمر کی خلافت کے عہد میں بھی نہ تھا اس کے باوجود عمر نے ہی اسے وضع کیا اور اور مقرر کیا ہے
کیا حضرت علی نے اپنی خلافت کے زمانہ میں عشر ی ٹیکس وصول کیا؟
منقول ہے کہ :خلافت عثمان کے زمانہ میں فاحشہ اور بدکار عورتوں سے عشر وصول کیا جاتا تھوہ ٹیکس حضرت علی علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے پاس لایا گیا اور آپ نے اسے واپس کر دیا(۱۸)
یہ بات اس سے زیادہ دلالت نہیں کرتی کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اس خاص مورد میں عشر واپس کیا ہے اور ایسی کسی نص یا روایت کا وارد نہ ہونا جو اس پر دلالت کرے کہ حضرت علی علیہ السلام نے عشور کو رد کیا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت اسے قبول کرنے پر مجبور تھے کیوں کہ اس کا رد کرنا ان کے ممکن نہ تھا اور آپ اسے منسوخ نہیں کر سکتے تھے جس طرح سے خمس(۱۹) ( پر پابندی ) اور نماز تراویح(۲۰) کی ایجاد جس کی داغ بیل عمر نے ڈالی(۲۱) اور دوسرے مورد میں بھی حضرت علی علیہ السلام مخالفت نہیں کر سکتے تھے
اگر حضرت علی علیہ السلام نے عشر لینا لغو و منسوخ کر دیا ہوتا تو یہ حکم ہم تک نقل ہوا ہوتا کیوں کہ یہ ایک اہم بات تھی جسے نقل کرنے کی بہت سی وجہیں ہو سکتی تھیں لیکن واضح ہے کہ حتٰی اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے مجبورا اس سلسلہ میں سکوت اختیار کیا ہے جبکہ مذکورہ روایت اس سکوت پر بھی دلالت نہیں کرتی ۔اس کے باوجود اس عدم منسوخی سے یہ استفادہ نہیں کیا جاسکتا کہ عام حالات میں ٹیکس (عشرو مکس) جائز ہے۔(۲۲)
ٹیکس، ضرورت کے تحت
ظاہر ہے کہ اگر ایسی ضرورت پیش آئے جس میں عشر یا اس سے کم یا زیادہ وصولنا لازم ہو جائے مثلا جب کوئی دشمن حرث و نسل کو تباہ و برباد کرنے لئے حملہ آور ہو ۔ جیسی کہ علامہ طباطبائی نے مثال دے ہے۔زبر دست اور تباہ کن قحط پڑجائے تو اسے فرض و مقرر کیا جاسکتا ہے البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ ضروری قوانین و مقررات زمان و مقدار کے اعتبار سے ضرورت کے زمانہ میں اس کی مقدار کے بقدر معین ہوتے ہیں اور ضرورت رفع ہوتے ہی انھیںاٹھالیا جانا چاہئے۔
یہ مطلب حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے اس کلام سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جس میں حضرت علیہ السلام نے مالک اشتر کے عہد نامہ میں انھیں خراج دینے والوں کے خراج میں تخفیف کرنے اور ان سے خوش اسلوبی سے پیش آنے کی تاکید فرمائی ہے:
”معتمد فضل قوبهم، بما ذخرت عندهم، من اجمامک لهم، والثقة منهم بنا عودتهم من عدلک علیهم، فی رفقک بهم، فربما حدث من الامور ما اذا عولت فیه علیهم من بعد، احتملوه، طیبة انفسهم به، فان العمران محتمل ما حمّلته “(۲۳)
تمھارے حسن سلوک اور ہمیشہ کے عادلانہ طرز عمل سے ان کو تم پر جو اعتماد و اطمینان پیدا ہوگا اور جسے ان (رعایا) کے پاس تم نے ذخیرہ کررکھا ہے اس پر تکیہ کرو۔چہ بسا ایسے حادثات پیش آئیں جن کے مشکلات کو حل کرنے کے لئے اگر تم ان پر اعتماد کرو اور ان سے مدد طلب کور تو وہ خوشی خوشی اسے برداشت کرلے جائیں گے کیونکہ جس قدر تم ملک کو آباد کرو گے اسی قدر عوام پر بوجھ ڈال سکتے ہو ۔ ۔ ۔
اورجو کچھ کتاب ”دعائم الاسلام“ میں آیا ہے اس عہد نامہ میں ارشاد ہوتا ہے:” ۔ ۔ ۔ رعایا کی زمینوں کو آباد کرنا،ان سے سہولت و نرمی کے ساتھ ٹیکس وصول کرنا، ان سے دوستی و محبت کا اظہاران کی تعریف اور ان کے در میان خیر و برکت کوفراوان کرنا ،آنکھوں کے نور میں اضافہ کا پسندیدہ اور سزاوار تر اور یہ روش ان سے زور و زبر دستی اور دباو٘کے ساتھ خراج و ٹیکس وصول کرنے سے زیادہ تمھارے لئے ممد و معاون ثابت ہوگی ۔کیو نکہ تمھارا کام ایسا ہے جس میں تمھیں عوام کے اعتماد کی ضرورت ہے اس روش کے ذریعہ ۔اپنے طرز عمل سے جو ان کا اعتماد تم نے حاصل کیا وہ تمھارے کام آئے گا “۔
تم سے رعایا کی محبت و دوستی اور ان کی خوش بینی اور تمھارے عادلانہ و نرم بر تاؤکی وجہ سے ان کا تم پر اعتماد نیز ان کا تمھارے عذر اور تمھاری مشکلات سے باخبر ہونا ،پیش آنے والے حوادث میں انھیں اتنی طاقت و توان بخشتا ہے کہ جو بوجھ ان پر ڈالتے ہو وہ اسے جی جان سے برداشت کر لیتے ہیں کہ جس قدر تم ان کے ساتھ عدالت کا برتاؤ کروگے اسی قدر ان میں تحمل پیدا ہوگا ۔
اس کے علاوہ بعض اہل تحقیق مندرجہ ذیل روایت کو ضرورت کے وقت ٹیکس (عشر کے بقدر یا اس سے کم یا زیادہ ) وصول کرنے کے جواز پر دلیل جانتے ہیں :
”عن معاذ بن کثیر ،قال :سمعت ابا عبدالله علیه السلام یقول:موسع علیٰ شیعتنا :ان ینفقوا مما فی ایدیهم بالمعروف ،فاذا قام قائمنا حرم علیٰ کلّ ذی کنز کنزه ، حتیٰ یاتیه به ، فیستعین به علیٰ عدوّه، و هو قول الله عزوجل فی کتابه :(و الذین یکنزون الذهب و الفضة ولا ینفقو نها فی سبیل الله ،فبشرهم بعذاب الیم “(۲۴)
”معاذ بن کثیر سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا ”ہمارے شیعوں کے لئے آسان ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے جائز راہ میں انفاق کریں جب ہمارا قائم ظہور کرے گا تو ہر صاحب دولت و خزانہ پر اس کی دولت اور خزانہ حرام کردے گا یہاں تک کہ وہ دولت اس کے پاس لے جائیں ۔پس وہ اس دولت کو اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کرے گا اور یہی خداوند عزوجل اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے :جو لوگ سونا چاندی اکٹھا کرتے ہیں اور اسے خدا کی راہ میں انفاق نہیں کرتے ہیں انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو “
یہاں ہم ایک اشارہ یہ کرتے ہیں کہ اس روایت میں یہ نکتہ بھی موجود ہے کہ حضرت امام زمانہ معجزاتی ،غیر معمولی یا محیّر العقول طور سے دنیا پر غلبہ حاصل نہیں کریں گے بلکہ عام طریقہ اور معمولی طور پر دنیا کو زیر اقتدار لائیں گے ۔اس روایت سے یہ استفادہ ہوتا ہے ۔حضرت حجت وسیع پیمانہ پر جہاد و مبارزہ کا آغاز کریں گے اور وہ بھی اس حد تک کہ اس جہاد میں عام انسانوں کے جمع کئے ہوئے مال و دولت کی بھی ضرورت ہوگی ۔
یوں ہی خراج و ٹیکس کے جواز کے لئے اس روایت کو بھی دلیل قرار دیا جا سکتا ہے کہ چوپایوں اور غلاموں کے مالکوں نے عمر سے درخواست کی کہ ہم اپنے مال کا کچھ حصہ ادا کرنا چاہتے ہیں عمر نے حضرت علی علیہ السلام سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا حضرت نے فرمایا :
”اما طابت انفسهم فحسن،ان لم یکن جزیة یوخذبها من بعدک ،اوما بمعنیٰ ذالک “(۲۵)
”خود ان کی مرضی سے ہو تو بہتر ہے اگر جزیہ شمار نہ ہو اور تمھارے بعد وصولانہ جائے یا اسی مضمون سے ملتا جلتا ارشاد“
یہ سب مسلمان اور کافر ذمی سے ٹیکس و خراج وصول کرنے سے متعلق ہے اب رہا کافر حربی اور معاہدہ شدہ کافروں کا مسئلہ تو ان کے ساتھ بالمثل برتاؤ اور کافر حربی کے خون و مال کی حرمت کا قائل نہ ہونا ہی ان سے ٹیکس و خراج وصول کرنے کے جواز کی دلیل بن سکتا ہے کہ یہاں اس سلسلہ میں بحث کی گنجائش نہیں ہے ۔
____________________
۱)۔تاریخ یعقوبی ج/۲ ص/ ۲۰۳
۲)۔المبسوط سرخسی ج/۱۰ص/ ۹۲ ۔آثار الحرب فی التشریع الاسلامی ، ص ۵۲۲ واز شرح السیر الکبیر ج/۱ص/۷۰
۳)۔ طبقات ابن سعد ج/ ۴ ص/ ۲۹۶
۴)۔اسد الغابہ ج/۲ص/۲۸۳،مجمع الزواید ج/۴ص/۹۹۔الاصابة،ج/۲ص/۱۰۴۔التراتیب الاداریة ج/۲ ص/۵۲و ۵۳
۵)۔مجمع الزواید ج/۴ص/۷۴۔سنن بیہقی ج/۹ص/۹۱۔المجروحون ج/۱ص/۲۲۸نیز ملاحظہ ہو المحلی بن حزیم، ج/۷ ص/۲۹۰
۶)۔ سنن بیہقی ،ج/۶ ص/۳۱۹وج/۹ص/۶۵و۶۶نقل از حفاری ومسلم ،صحیح مسلم ج/۵ ص/۱۵۸۔آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی ،زحیلی ،ص/۵۲۱۔ صحیح بخاری ج/۳ص/۵۱و۵۲۔ اسد الغابہ ج/۱ص/۲۴۷۔الاستیعاب (مطبوعہ در حاشیہ الاصابہ ج/۱ص/۳۴۷)علام السائلین ص/۴۷۔ الرسالات النبویة ص/۳۲۴۔نصب الرایة ج/۳ص/۳۹۱
۷)۔ کنز العمال ج/۴ص/۵۵،حاکم کی تاریخ میان ابن عمرو سے نقل ۔
۸)۔ زمانہ جاہلیت میں دو طرف کے ٹیکس رائج تھے ایک عشور (۱/۱۰) اور دوسرا مکس جس کی تعریف وسائل ج/۱۱ ص/۱۱۵ اور اس کے حاشیہ میں از فروع کافی ج/۱ص/ ۱۶۱ التہذیب ج/۱ص/ ۳۸۲ من لایحضر ہ الفقیہ ج/۱ ص/۱۶ میں بھی نقل ہے
۹)۔ملاحظہ ہو الخراج ابو یوسف ص/۱۴۵و۱۴۶و۱۴۷۔الخراج قرشی ،ص/۱۲۸و۱۲۹۔واسط فی العصر الاموی ص/۲۳۳ بہت سے منابع سے جو اس کے حاشیہ میں ذکر ہیں النظم الما لیة فی الاسلام ص/۱۰۹ النظم المال فی الاسلام ص/۱۱۵۔الاموال ص/۷۰۷و۷۰۹و۷۱۱و۱۱۲و۱۱۳و۱۱۵تا آخری فصل ۔کنزالعمال ج/۴ص/۳۲۷و۵۱۳و۵۱۵۔ الخطط مقریزی ج/۲ص/۱۲۲و۱۲۳۔المصنف عبد الرزاق ج/۱۰ص/۳۳۵۔نصب الرایة ج/۲ص/۳۶۹۔ گزشتہ ماخذ اور اس کے حاشیہ میں شرح آثار طحاوی ص/۳۱۳،اور الاثار شبیانی ص/۴۸سے
۱۰)۔الاموال ص/۱۱۷۔الخطط مقریزی ج/۲ص/۱۲۱۔کنزالعمال ج/۴ص/۳۲۸نقل از شافعی و ابی عبید در الاموال
۱۱)۔ الخراج قرشی ص/۱۶۹،الاموال ،ص/۷۰۶و۷۰۸و۷۱۲و۷۱۳۔الخطط مقریزی ج/۲ص/۱۲۱،کنزالعمال ج/۴ص/۳۲۷
۱۲)۔مسند احمد ج/۴ص/۲۱۸و۳۲۲نیز ج/۳ص/۴۷۴۔التراتیب الاداریہ ج/۱ص/۳۹۲۔سنن ابی داؤد ج/۳ص/۱۲۹و۱۷۰،الجامع الصحیح ترمذی ج/۳ص/۲۸۔نہایة ابن اثیر ج/۱ص/۱۰۲۔الاموال ص/۷۰۳و۷۰۷، کنزالعمال ج/۴ص/۲۲۶و۲۲۷، از احمد ابو داؤد ،ابن قانع ،بغوی ، بیہقی ،ابن سعد ، مکاتیب الرسول ج/۱ص/۳۱۰وج/۲ص/۳۴۳و۳۴۸و۳۵۵و۳۵۶و۳۹۲،اور محقق توانا احمد ی نے اپنی ایک تصنیف میں اسے المصنف بن ابی ثیبة ج/۱۰ص/۸۷سے نقل کیا ہے
۱۳)۔کنز العمال ج/۳ص/۲۵۰،سنن دارمی ج/۱ص/۳۹۳وج/۲ص/۱۸۰سنن ابی داؤد ج/۳ص/۱۳۳وج/۴ ص/۱۵۲،سنن ابن ماجہ ج/۲ص/۱۲۲۵،صحیح مسلم ج/۵،ص/۱۲۰،مسند احمد ج/۴ ،ص/۲۲ و۳۴۱ و۱۵۰ و۱۰۹ وج/۵، ص/۳۴۸،بحار الانوار ج/۸۲ص/۳۴۲و۳۴۸،از الخصال و امالی صدوق ،وسائل ج/۱۲ص/۲۳۵
۱۴) ۔الاموال ،ص/۷۰۷و۷۱۳،نیز الخطط مقریزی ج/۲ص/۱۲۱
۱۵) ۔الخطط ج/۲ص/۱۲۳نیز ملاحظہ ہو انجیل ،سفر غیر انیسین ، اصحاح ، توریت آخری سفر لاوتیین و قاموس الکتاب المقدس مادہ ”عشر“اور اس کے مشتقات
۱۶) ۔وسائل ج/۱۱ص/۱۱۵ ،اور اس کے حاشیہ میں از فروع کافی ج/۱ص/۱۶۱،التہذیب ج/۱ص/۳۸۲ ،من لایحضر الفقیہ ج/۱ص/۱۶ میں بھی نقل ہے
۱۷)۔آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی ص/۵۲۴و۵۲۵اور اس کے حاشیہ میں مفتی بن قدامہ ج/۸ص/۵۱۸ سے ،مجمع الزوائد ج/۳ص/۷۰ ،نصب الرایہ ج/۲ص/۳۷۹
۱۸)۔اس روایت کو محقق عالی قدر شیخ علی احمدی نے مصنف ابن ابی شیبہ ج/۱۱ص/۱۱۴سے نقل کیا ہے
۱۹)۔الاموال،ابی عبیدص/۴۶۳
۲۰)۔تردیحتہ کی جمع بمعنی ”نشست“جلسہ ،ماہ رمضان کی راتوں میں چار رکعت نماز پڑھنے نیز چار رکعت نماز شب پڑھتے یا دورکعتی مستحبی نماز وں کے بعد جو رمضان المبارک کی راتوں میں نماز عشاء کے بعد پڑھتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے بیٹھنا اور چونکہ ہر چند رکعت کے بعد تھوڑی دیر کے لئے استراحت کرتے ہیں لہذا اسے اس نام سے یاد کیا گیا ہے۔
۲۱)۔ملاحظہ فرمائیں:کافی ج/۸،ص/۵۹و۶۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج/۱، ص/۲۶۹و ج/۲،ص/۲۸۳۔ الصراط المستقیم، ج/۳،ص/۲۶۔ تخلیص الشافعی،ج/۴، ص/۵۸۔ بحار الانوار طبع قدیم،ص/۲۸۴۔
۲۲) ۔المیزان ،ج/۹،ص/۴۰۸۔
۲۳) ۔نہج البلاغہ ،شرح عبدہ،ص/۱۰۷و۱۰۸،السعادة،ج/۹،ص/۹۴۔تحف العقول ص/۱۳۸،بحار الانوار طبع قدیم ج/۸،ص/۶۱۰۔
۲۴) ۔سورہ توبہ ،آیت ۳۴ ۔تفسیر نور الثقلین ،ج/۲ ص/۲۱۳ ۔کافی ،طبع ،آخوندی ،ج/۴ ص/۶۱ ۔بحارالانوار ،ج/۷۰ ص/ ۱۴۳
۲۵)۔سنن دار قطنی ج/۲ص/۱۲۶و۱۳۷،الاموال ص/۶۳۰،مستدرک حاکم ،ج/۱ص/۴۰۰و۴۰۱،تلخیص مستدرک ذہبی سنن بیہقی ج/۴ص/۱۱۸و۱۱۹،مجمع الزوائد ج/۳ص/۶۹،از احمد و طبرانی در الکبیر ،مسند احمد ج/۱ص/۱۴،المصنف عبد الرزاق ج/۴ ص/۳۵ نصب الرایة ج/۲ص/۳۵۸،اور کے حاشیہ بعض گزشتہ ماخذ اور طہاوی ص/۳۱۰سے نقل کنزالعمال ج/۶ ص/۳۰۰و ۳۰۱بعض مذکورہ بالا ماخذ سے اور ابن خزیمہ سعید بن منصور ابی یعلی (بظاہر )ابن جریروابن جوزی سے جامع المسانید میں
نگرانی اور جانچ پڑتال
نگرانی
وہ چیزیں جن کی اسلام ،بازار اور تاجروں سے توقع رکھتا ہے نیز اسلامی احکام کی یہ خصوصیت کہ وہ مختلف حالات و شرائط پر محیط اور مال لین دین کے جزوی امور کو بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہےںاور ان امور کے اجرا کے سلسلہ میں حکومت کے ذمہ داریوں کے پیش نظر (حکومت کی طرف سے)ہوشیاری کے ساتھ وسیع پیمانے پر نگرانی اور دقیق کنٹرول کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے جو مسلمان حاکم کو قوانین کے اجرا ء اور مقاصد و توقعات تک پہنچنے پر قادر بنائے اور وہ پوری سرگرمی سے اپنے تعمیری اور نتیجہ بخش فرائض انجام دے
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ اس نگرانی اور دیکھ بھال کے چند پیلو ہیں ،ان میں سب سے پہلی جہت ۔ جیسا کہ ہم ابتدا میں بحث کر آئے ہیں ۔ دینے درونی اور ذاتی کنٹرول اور ذمہ داری سے فائدہ اٹھانا تھا اور یہ جو تاریخ میں آیا ہے کہ مسلمانوں کے حاکم حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ہمیشہ بازار میں حاضر ہوتے اور بازار ،بازارگھوم کر تاجروں کو پند و نصیحت فرماتے اور انھیں ان کے فرائض یاد دلاتے تھے اسے ہم باطنی نگرانی اور دیکھ بھال سے فائدہ اٹھانے کی راہ میں کئے جانے والے اقدامات کہہ سکتے ہیں
زمخشری کہتا ہے کہ : ایک روز حضرت علی علیہ السلام قصابوں کے مجمع میں کھڑے ان سے فرما رہے تھے : اے قصابو !جو شخص گوسفند کی کھال میں ہوا بھرے ہم میں سے نہیں ہے(۱)
امیر المومنین علی علیہ السلام ہر روز بڑے سوارے ہی جب کہ آپ کا تازیانہ آپ کے دوش پر ہوتا کوفہ کے ایک ایک بازار میں گھومتے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور انھیں ان کے فرائض سے آگاہ کرتے تھے اس کے بعد واپس آتے تھے اور لوگوں کے دوسرے مسائل سلجھانے میں مشغول ہو جاتے تھےبعض مآخذ میں اس روایت میں اتنااضافہ ملتا ہے کہ جب اہل بازار ان کو دیکھتے تھے تو کاموں سے اپنے ہاتھ کھینچ لیتے تھے کان ان کی طرف متوجہ کئے رہتے تھے اور نگاہیں،ان پر جمائے رہتے تھے تاکہ ان کی بات پوری ہو جائے جب ان کا کلام تمام ہو جاتا تو کہتے تھے اے امیر المومنین ہم نے سن لیا اور اطاعت کرتے ہیں۔(۲)
حضرت مختلف بازاروں مثلا خرمہ کے بازار ،اونٹوں کے بازار ،کپڑا فروشوں کے بازار ،مچھلی بازار اور دوسرے بازاروں میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو خدا سے ڈرنے صبر و تحمل سے کام لینے جھوٹ اور قسم کھانے اور لین دین میں اسے آسانسمجھنے سے پرہیز کرنے اپنا حق لینے اور دوسروں کو ان کا حق دینے ناپ تول کامل کرنے لین دین میں نیکی برتنے اور یہ کہ لوگوں کے مال کو اس کی قیمت سے گرانہ دینے اور گوسفند کی کھال میں ہوا نہ بھرنے کا حکم دیتے تھے(۳)
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کام سے صرف نظر کر لیتے اور چند روزلوگوںآزاد چھوڑ دیتے تھے اور اس کے بعد دوبارہ پلٹتے اور اپنے اقدام کی تکرار کرتے تھے(۴)
بازار پر نگرانی کا دوسرا پہلو بازاروں میں گشت لگانے اور (احکام و قوانین کی)ہر طرح کی خلاف ورزی یا ہر طرح کی ظلم و زیادتی کو دیکھتے ہی اس کے خلاف اقدام اور دخل اندازی سے متعلق تھاس قسم کی نگرانی اورکنٹرول کی بہت سی مثالیں ہیں کہ ہم نے اس بحث میں اس کا ایک بڑا حصہ نقل کیا ہے مثلا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ہشام کو سایہ میں اپنا مال فروخت کرتے ہوئے دیکھا تو انھیں اندھیرے میں مال فروخت کرنے سے منع کر دییا مثلا حضرت رسول خدا (ص)نے ایک تاجر کو حکم دیا کہ اپنا مال بازار کی ابتدائی جگہ پر فروخت کرے یا جیسے حضرت علی علیہ السلام نے قصہ بیان کرنے والے کو مسجد سے باہر نکال دیا ،یا جب رسول خدا (ص) نے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے پاس سے گزرے تو حکم دیا کہ ان کا احتکار شدہ مال بازار میں لے جائیں (اور فروخت کے لئے لگائیں)یا مثلا حضرت علی علیہ السلام نے ان تمام گھروں اور دکانوں کو ویران کر دیا جو بازار کی جگہ بنائی کئی تھی اور احتکار شدہ انبار کو آگ لگا دی نیز وہ روایت جو آگے نقل ہوگی کہ حضرت پیغمبر اکرم (ص)نے اناج کے ایک تھیلے میں اپنا ہاتھ داخل کردیا تاکہ اس میں ملاوٹ کی ہوئی چیز باہر نکال لیں یا اسی جیسی دوسری مثالیں جن کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ہے اس کے باوجود ہم یہاں چند واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں
مظلوم و کمزور کا حق حاصل کرنا
جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیںحضرت علی علیہ السلام ہر روز ایک ایک بازار کا معائنہ کیا کرتے تھے اور ایک بار آپ نے ایک کنیز کو دیکھا کہ اس نے جو خرما خریدا تھا اس کے مالک نے نا پسند کیا اور بیچنے والا بھی اسے واپس نہیں لے رہا تھا لہٰذا وہ رو رہی تھی حضرت نے خرما فروش سے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ منیز کسی دوسرے کی خادمہ ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتی ،اسے خرما واپس لے لینے کا حکم دیا لیکن خرما فروش نہ مانا اور اس نے حضرت کو پیچھے ڈھکیل دیا لیکن جب اسے یہ معلوم ہوا کہ جسے دھکا دیا وہ حضرت امیر المومنین ہیں تو خرما واپس لے لیا اور کنیز کا درہم اسے پلٹا دی
ایک دوسری روایت کے مطابق :
”انه لما سال (علیه السلام) المراة لیس تخاضم ذالک التما رعن شانها ،قالت: یا امیر المومنین ، اشتریت من هٰذا تمرا بدرهم ،و خرج اشغله ردیا ،و لیس مثل الذی رایت قال :فقال : رد علیهافابی ، حتیٰ قالها ثلاثا ،فعلاه با لدرة حتیٰ رد علیها ، و کان یکره ان یجلل التمر “(۵)
یعنی:۔”جب حضرت علی علیہ السلام نے اس عورت سے جو خرما فروش سے جھگڑ رہی تھی نغیہ دریافت کیا تو اس نے کہا: اے امیر المومنین میں نے اس شخص سے ایک درہم میں خرما خریدا نیچے کے خرمے خراب تھے اور ان خرموں کے مانند نہیں تھے جنھیں میں نے دیکھا تھا“امام نے خرما فروش کو حکم دیا کہ ”واپس لے لو“ وہ نہیں مانا ۔امام نے تین مرتبہ حکم دیا اور اس نے لے لیا۔حضرت کو یہ برا لگتا تھا کہ اچھے خرمے اوپر اور خراب خرمے بیچے رکھے جائیں۔
۲ ۔نگرانی اور دیکھ بھال کے ضمن میں تعلیم بھی
امیر المومنین علیہ السلام بازار میں داخل ہوئے اور فرمایا: اے قصابو! تم میں سے جو بھی گوسفند کے اندر ہوا بھرے ہم میں سے نہیںہے“ ایک شخص جس کی پیٹھ حضرت کی طرف تھی بولا ”اس کی قسم جو سات پردوں میں پوشیدہ ہے،ہرگز ”نہیں“امام نے اس کی پیٹھ پر مارتے ہوئے فرمایا: ”اے قصاب کون سات پردوں میں چھپا ہوا ہے؟!“ اس نے کہا”اے امیر المومنین ،پروردگار عالم “فرمایا: تیری ماں سوگ میں بیٹھے،تجھ سے بھول ہوئی ہے خدا اور اس کی خلقت کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔۔۔“یہاں تک کہ روایت میں آیا ہے: اس شخص نے اپنی اس قَسَم کے کفارے کے بارے میں امام سے دریافت کیا تو امام نے فرمایا: اس نے اپنے پروردگار کی قَسَم نہیں کھائی ہے۔(۶)
۳ ۔کاموں کی دیکھ بھال کے ضمن میں فرامین بھی
فرمایا: اے درزی !پسر مردہ مائیں تیرے سوگ میں بیٹھیں،مضبوط سلو، ٹانکے اچھے لو اور گھنی سلائی کرو کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے ”خداوند عالم قیامت کے دن خیانت کرنے والے درزی کو اس عالم میں اٹھائے گا کہ وہ لباس جو اس نے دنیا میں سلاہے اور اس میں خیانت کی ہے اس کے تن پر ہوگا“باقی بچے ہوئے کپڑے کے ٹکڑوں سے پرہیز کرو کہ لباس کا مالک اس کا زیادہ حق دار ہے۔انھیں اپنے لئے محفوظ نہ رکھو تا کہ بعد میں انھیں با رسوخ افراد کو (جو کپڑا کم لائے ہیں) دے دو اور اس کے عوض ان سے بہترین اجرت و انعام حاصل کرو۔(۷)
۴ ۔بازار میں حضرت علی علیہ السلام کے کام
روایت میں ہے کہ حضرت تنہابازاروں میں تشریف لے جاتے
۔اور گم شدہ افراد کی رہنمائی کرتے تھے
۔کھوئے ہوئے افراد کو تلاش کرتے تھے
۔کمزوروں کی مدد کرتے تھے۔اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ: بار اٹھانے میں سامان ڈھونے والوں کی مدد کرتے تھے مال بیچنے والوں کی طرف سے گزرتے اور ان کے سامنے قرآن کھول کر اس آیت کی تلاوت فرماتے تھے:
”تلک الدار الآخرة نجعلها للذین لا یریدون علوّاً فی الارض و لا فساداً “(۸)
”ہم آخرت کا گھر ان لوگھوں کے لئے قرار دیں گے جو زمین میں بُرے نبنے اور فساد پھیلانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں“
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت فرماتے تھے:
یہ آیت حکام اور اہل اقتدا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(۹)
نیز حضرت نے ایک شخص سے جو اپنا سال لئے ہوئے اسے فروخت کرنا چاہتا تھا فرمایا:
”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السماحة من الرّباح و حسب نص آخر : السماحة وجہ من الرباح“(۱۰)
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاملہ (مول بھاو) کرنے میں نرمی سے کام لینا منافع میں سے ہے (نفع بخش ہے) اور ایک دوسری روایت کے مطابق : تجارت و معاملہ کرنے میں سہولت و نرمی نفع بخش چیزوں میں سے ایک ہے۔
ملاوٹ اور دھوکہ دھڑی کی جانچ
”وقد روی : ان الرسول الاکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) مر بصرّة طعام، فادخل یده فیها، فنال---ت بللاً، فقال: ما هذا یا صاحب الطعام ؟ فقال: اصابته السماء (۱۱) یا رسول اللّٰه فقال: افلا جعلته فوق الطعام کی یراه الناس؟ من غش، فلیس منا “(۱۲)
”روایت ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) ایک جگہ سے گزر رہے تھے وہاں گیہوں کے کچھ تھیلے پڑے ہوئے تھے حضرت نے ان میں ایک میں ہاتھ ڈالا تو کچھ گیہوں نم تھے آپ نے گیہوں کے مالک سے پوچھا یہ نمی کیسی ہے ؟اس نے کہا: یا رسول اللہ اس پر پانی برس گیا ہے فرمایا: تم نے اسے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھیں ؟ جو تجارت میں دھوکہ سے کام لیتا ہے ہم سے نہیں ہے“
ایک دوسری روایت میں آیا ہے :
”انه (ص) مدیده الی سیرة طعام فاخرج طعاما ردیا فقال لصاحب الطعام ،ما اراک الا وقد جمعت خیانة و منشاء للمسلمین “(۱۳)
” آنحضرت (ص) نے گیہوں کے ایک تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کچھ گیہوں باہر نکالے اور اس کے مالک سے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مسلمانوں کے ساتھ خیانت اور تجارت میں ملاوٹ اور دھوکہ کے مرتکب ہوئے ہو“
ان دو روایتوں سے یہ استفادہ ہوتاہے کہ مسلمانوں کا حاکم مال کے مالک کی مرضی کی رعایت کے بغیر اچانک جانچ پڑتال کر سکتا ہے یوں ہی اس روایت میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ آنحضرت مال میں ملاوٹ اور جعل سازی سے کام لینے والے کو مسلمانوں سے خیانت کرنے والا جانتے ہیں اور یہ ملاوٹ و جعل سازی سے الگ ایک جرم ہے جسے ممنوع و مردود قرار دیاگیا ہے۔چاہے یہ جرم صرف اسی حد تک کیوں نہ ہوکہ بارش میں بھیگا ہوا مال خشک مال کے نیچے رکھ کر بیچا جائے۔
اچھے مال میں خراب مال ملانا
ایک دوسری روایت خراب اور ناپسند چیز کو اچھی اور مرغوب چیز میں ملانے سے منع کرتی ہے اور اس سے روکتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمدہ و مرغوب جنس الگ ہواور گھٹیا و ناپسند جنس الگ اور دونوں الگ الگ بیچی جائیں۔
حضرت رسول اکرم ایک شخص کے پاس سے گزرے جس نے اچھے اور خراب گیہوں ملاکر بیچنے کے لئے لگار کھے تھے۔ آپ نے اس سے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا ہے اس نے عرض کی میں چاہتا تھا بک جائے پیغمبر اکرم (ص) نے اس سے فرمایا: ان دونوں کو جدا کرو ہمارے دین میں دھوکہ و ملاوٹ نہیں ہے ۔”ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا اسے الگ اور اسے الگ بیچو“(۱۴)
”و سال (صلی الله علیه وآله وسلم ) رجلا یبیع طعاما ،فقال : یا صاحب الطعام، اسفل هذا مثلاعلاه؟ قال نعم یا رسول الله فقال (صلی الله علیه وآله وسلم) : من غش المسلمین ، فلیس منهم “(۱۵)
نیزحضرت نے ایک گیہوں فروش سے دریافت کیا ، اے گیہوں والے !کیا اس کے نیچے کا حصّہ بھی اوپر والے حصّہ کے مانند ہے؟
اس نے عرض کی:ہاں یا رسول اللہ ”تو آپ نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کرے وہ ان میںسے نہیں ہے“
مذکورہ باتوں سے تین مطلب واضح ہوتے ہیں۔
۱ ۔جانچ پڑتال جائز ہے چاہے بیچنے والا اجازت نہ دے
۲ ۔ضروری ہے کہ گھٹیا اور غیر مرغوب مال خریدار کی نگاہوں کے سامنے رہے ،اچھے مال کے نیچے چھپا یا نہ جائے۔
۳ ۔مرغوب اور عمدہ جنس غیر مرغوب جنس سے الگ کی جائے باہم ملائی نہ جائے کیونکہ اچھی اور گھٹیا جنس کا مخلوط کردینا بھی ایک طرح کا دھوکا اور خیانت ہے۔
بنابر این آجکل یہ تاجر جو حرکتیں انجام دے رہے ہیں اور اچھا مال الگ کرکے لوگوں کی نگاہوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کھٹیا مال اس کے نیچے رکھتے ہیں یہ اسلامی قوانین کے سراسر خلاف ہے
جانوروں کے ذبح پر نگرانی اور خلاف ورزی پرسزا
بازار پر نگرانی کے ذیل میں ہم پہلے عرض کرآئے ہیں کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام بازاروں میں گشت کرتے ہوئے قصابوں کو گوسفند میں ہوا بھرنے سے منع فرماتے تھے اور اس سے اہم یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ، اہواز میں اپنی طرف سے منصوب قاضی ”رفاعہ بن شداد کو لکھتے ہیں
”اور قصابوں کو حکم دو کہ اچھے طریقہ سے (یعنی ذبح کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے ) جانور ذبح کریں۔پس اگر ذبح کے وقت کوئی ضروری مقدار سے زیادہ کاٹ دے تو اسے سزا دو اور ذبیحہ کو کتوں کے آگے ڈال دو“۔(۱۶)
چنانچہ ابو سعید سے بھی ایک روایت ہے کہ پیغمبر اکرم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو کھال اتار رہاتھا اور اس میں ہوا بھر رہا تھا آنحضرت نے فرمایا: جو ہمارے ساتھ دھوکہ کرے اور (جانور کے بدن سے کھال جدا کرنے کے لئے) بغیر ہاتھ دھلے ہوئے اس کی کھال میں ہاتھ ڈال دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(۱۷)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال میں ہوا بھر نے سے روکنے کے لئے باقاعدہ اس کی نگرانی ہوتی تھی اور پیغمبر اکرم جن لوگوں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتے تھے انھیں منع کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت کے فرامین و دستورات کی اطاعت کی جاتی تھی کیونکہ یہ حکم اس پیغمبر کی جانب سے ہوتے تھے جسے لوگ پیغمبر مانتے تھے اور ہرہو حاکم سے زیادہ اس کے احکام پر عمل ضروری سمجھتے تھے ،جیسا کہ پہلی حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ذبح کے وقت حیوان کے جو اعضاء نہ کٹنے چاہئیں ان سے روکنے کے لئے نگرانی کی جائے۔ یہ نگرانی اور دیکھ بھال ضروری ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والے کو سزا ملے اور جو جانور غلط ذبح ہوا ہے کتوں کے سامنے ڈال دیا جائے۔
نیکی کا نمونہ
چونکہ بازار ایسی جگہ ہے جہاں انسان مال و دولت اور اسے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے دنیا اس کے ہوش وحواس پر مسلط رہتی ہے اور وہ تجارت کے منافع کے نام سے دوسروں کے اموال پر قبضہ کرنے کے امکانات پر غور کرتارہتا ہےیہ ساری چیزیں انسان کی قدر وقیمت کو گھٹادیتی ہیں اور انسانی شعور و عطوفت کو کم کردیتی ہیں۔۔۔
اسی لئے ایسی جگہ پر خدا سے ارتباط اور اس کا ذکر ایک ایسی ضرورت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ اس بناپر ہے کہ انسان اس گندی فضا سے متاثر نہ ہو، ایسی فضا جو انسان کو تاجر سے فاجر (غلط کار) بناسکتی ہے اور فاجر کی جگہ جہنم ہے۔
بازا کی مذمت میں دوسری روایتیں بھی وارد ہوئی ہیں:(۱۸)
ان ہی میں پیغمبر اکرم سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: زمین کی بدترین جگہیں اس کے بازار ہیں۔بازار ابلیس کی جولان گاہ ہے کہ صبح وہ وہاں اپنے پرچم کے ساتھ آتا ہے، اپنا نخت لگاتا ہے اور اپنے فرزندوں کو (چاروں طرف) روانہ کرتا ہے (جن کے ذمہ یہ کام ہوتے ہیں) کم فروشی،ناپ توں میں چوری یا اپنے مال کے بارہ میں جھوٹ بولنا وغیرہ(۱۹)
اس لئے خدا سے ارتباط کو باقی رکھنے کا مختلف طریقہ سے اہتمام کیا گیا ہے مثلا بازاروں میں خدا کے ذکر اور اس کی تسبیح کا استحباب کے ذریعہ حکم، اور اجر و ثواب کا وعدہ جو خداوند عالم نے بازاروں میں زیادہ سے زیادہ ذکر خدا کے عوض کیا ہے ۔(۲۰) اور تین بار تکبیر کہنے اور خرید کے موقع(۲۱) پر منقول دعائیں پڑھنے کا استحباب اور بازار(۲۲) و دوکان(۲۳) میں داخل ہوتے وقت منقول دعائیں پڑھنے کا استحباب ہے۔ان مواقع پر نقل شدہ دعاوں اور بازاروں میں گشت کے وقت حضرت امیر المومنین کے وعظ و نصیحت نیز دستورات کو اگر دیکھئے تو ان میں گہرا ربط نظر آتا ہے۔
لہذا ہم یہ تجویز پیش کرتے کہ حکومت کے ذمہ دار افراد ایسے اقدامات کریں کہ یہ دعائیںتاجروں اور سوداگروں کے درمیان شائع ہوں اور ان لوگوں میں انھیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔اس کے علاوہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی تاسی کرتے ہوئے بازاروں میں ایسے افراد روانہ کریں جو اہل بازار کو پند و نصیحت کریں اور ان کے سامنے وہ مطالب و امور و دستور بیان کریں جنھیں حضرت امیر المومنین بازاروں میں بیان کیا کرتے تھے ۔یہ اقدام لوگوں پر مثبت اثر مرتب کر سکتا ہے اور اہل بازار پر مرتب ہونے والے بازار کے منفی اثرات کو کم کرسکتا ہے۔
____________________
۱)۔ ربیع الابرار ج/۲ص/۵۴۹
۲۔۳)۔امالی مفید ص/۱۹۷و۱۹۸،تحف العقول ص/۲۱۶،کافی ج/۵ص/۱۵۱،بحار الانوار ج/۴۱ص/۱۰۴و۱۰۵و۱۶۱ ج/۷۵ص/۵۴ج/۱۰۰ص/۹۳و۹۴و۱۰۲،مستدرک الواسائل ج/۲ص/۱۲۷و۴۶۳،امالی صدوق، ص/۴۴۷، انساب اشراف تحقیق محمودی ج/۲ص/۱۳۹و۱۴۰، الفارات ج/۱ص/۱۰۵و۱۰۶و۱۱۰و۱۱۲و۱۱۴۔طبقات ابن سعد ج/۳ص/۲۸و۲۹،زندگانی امام علی ابن ابی طالب از کتاب تاریخ دمشق ،تحقیق محمودی ،ج/۳ ص/۵۰ و۱۹۲ و ۱۹۴ و ۱۹۵، اور اسی کے حاشیہ پر ازقوت القلوت ج/۱ص/۵۵۵،اور تاریخ کبیر بخاری ج/۴حصہ /۱ص/۱۳۲سے نقل ہے ،ملحقات احقاق الحق ،ج/۸ص/۷۵۲و۶۶۳(الریاض النضرة اور دوسرے ماخذ سے)وسائل ج/۲ص/۲۸۲، من لایحضرہ الفقیہ ج/۳ص/۱۹۳،و۱۹۴،المحاسن ص/۴۷۷،کنزل العمال ج/۱۵ص/۱۶۳و۱۶۴ نقل از ابن راہویہ احمد (الزھدیہ)عبد بن حمید بن عساکر و از بخاری ومسلم سفینة البحار ج/۱ص/۱۲۰و۱۲۱،الترتیب الاداریة ج/۱ص/۲۹۰،از عبد بن حمید الاصناف فی العصر العیاسی ص/۱۴۰و۱۴۱،البدایة ونھایة ج/۸ص/۳و۴،المناقب خوارزمی ص/۷۰،التھذیب طوسی ج/۷ص/۶،الاستیعاب مطبوعہ بر حاشیہ الاصابہ ج/۳ص/۴۹،اخبار القضاةوکیع ج/۲ص/۱۹۲،تذکرة الخواص ،ص/۱۱۶،حیاة الصحابہ ج/۲ص/۶۲۴و۶۲۵،منتخب کنز العمال مطبوعہ بر حاشیہ مسند احمد ج/۵ص۵۷
۴)۔بحار الانوار ج/۱۰۰ص/۱۰۲،الغارات ج/۱ص/۱۱۰ زندگانی امام علی علیہ السلام از تاریخ دمشق تحقیق محمودی ج/۳ ص/۵۰،ملحقات احقاق الحقج/۸ص/۴۶۳و۶۶۳،ارجح المطالب مطبوعہ لاہور ص/۱۵۱ سے نقل نیز گزشتہ صفحہ کے حاشیہ پر مندرج ماخذ کی طرف بھی رجوع کریں البدیة النھایة ،ج/۸ص/۴؛مناقب خوارزمی ص/۷۰ ،کنزالعمال ج/۱۵،ص/۱۶۳۔الترتیب الاداریہ ج/۱ص/۲۹۰میں عبد بن حمید سے زندگانی امام علی علیہ السلام از کتاب تاریخ دمشق تحقیق محمودی ج/۳ص/۱۹۴و۱۹۵،حیاة الصحابہ ج/۲ص/۲۲۵ منتخب کنز العمال مطبوعہ پر حاشیہ مسند احمد ج/۵ ص/۵۷
۵)۔ کافی ،ج/۵،ص/۲۳۰۔من لایحضرہ الفقیہ،ج/۲۷۱۔وسائل ،ج/۱۲،ص/۴۱۹
۶)۔الغارات ،ج/۱،ص/۱۱۲۔اور گوسفند میں ہوا بھر نے کی ممانعت کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو: بحار الانوار ج/۸۰، ص/۱۰۲ کنز العمال ،ج/۴،ص/۸۹۔نقل از عبد الرزاق، اور بعض ماخذوں نے اس مطلب کو وہاں نقل کیا ہے جہاں امام سے تعلق بازاروں میں نگرانی کے لئے گھومنے کی بات بیان ہوتی ہے۔
۷)۔المستطرف ،ج/۲،ص/۵۵و۵۶۔ربیع الابرار،ج/۲،ص/۵۳۶و۵۳۷۔تنبیہ الخواطر ،ص/۴۲۔مستدرک الوسائل، ج/۲،ص/۴۷۲۔الاصناف فی العصر العباسی،ص/۱۰۳از المستطرف۔تذکرة الخواص، ص/۱۱۶و۱۱۷
۸)۔سورہ قصص/۸۳
۹)۔ کنزالعمال ج/۱۵ص/۱۷۰،از ابن عساکر اور ملاحظہ ہو البدایہ والنھایہ ج/۸ص/۵،الاصناف ص/۱۴۰تذکرة الخواص ص/۱۱۶،الحیاة الصحابہ ج/۲ص/۶۲۴،منتخب کنزالعمال (طبع برحاشیہ مسند احمد ج/۵ص/۵۶)
۱۰)۔ من لا یحضر ہ الفقیہ ج/۳ص/۱۹۲،وسائل الشیعہ ج/۱۲ص/۲۸۸
۱۱)۔بارش
۱۲)۔الاصناف ص/۱۳۹، از آداب الحسیةص/۴،التراتیب الاداریہ ج/۱ص/۲۸۴و۲۸۵،از صحیح ترمذی ،نظام الحکم فی الشریعة ولتاریخ(السلطنة القضائیہ)ص/۵۹۰،سنن ابن ماجہ، ج/۲ ص/۷۴۰، سنن ابی داؤد ج/۳ص/۲۷۲،مصابیح السنة ج/۲ص/۷، مجمع الزوائد ج/۴ص/۷۹ ،وفاء الوفا ج/۲ص/۷۵۶،از ابن زبالہ و ابی داؤد
۱۳)۔ وسائل ج/۱۲ ص/۲۰۹و۲۱۰،کافی ج/۵ص/۱۶۱،سنن دارمی ج/۲ص/۲۴۸مجمع الزوائد ج/۴ص/۷۸و۷۹، ربیع الابرار
۱۴)۔کنز العمال ،ج/۴،ص/۹۰ از عبد الرزاق ۔مجمع الزوائد ،ج/۴،ص/۷۸
۱۵)۔مجمع الزوائد ،ج/۴،ص/۷۹۔”من غشنا فلیس منا“ کی عبارت واقعہ کے ذکر کے بغیر بھی دوسرے ماخذ میں آئی ہے نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو کشف الاستار عن مسند البزار ج/۱،ص/۲۸۔مجمع الزوائد، ج/۲، ص/۲۸۔
۱۶)۔دعائم الاسلام ،ج/۲،ص/۱۷۶۔نہج السعادة،ج/۵،ص/۳۱
۱۷)۔کنز العمال ،ج/۱۵،ص/۱۶۰۔نقل از ابن عساکر
۱۸)۔وسائل ج/۱۲،ص/۲۸۵۔من لایحضرہ الفقیہ،ج/۳،ص/۱۹۴۔ مجمع الزوائد ،ج/۴،ص/۷۶و ۷۷،چند مآخذ سے نقل۔ بحار الانوار ،ج/۱۰۰،ص/۹۷و ۹۸،۱۰۳۔عوال اللئالی،ج/۳،ص/۲۰۳۔کشف الاستار عن مسند البزار،ج/۱، ص/۲۰۶
۱۹)۔من لا یحضرہ الفقیہ ،ج/۳،ص/۱۹۹۔وسائل ج/۱۲،ص/۳۴۴و ج/۳،ص/۵۵۳،۵۵۴
۲۰)۔وسائل ،ج/۱۲،ص/۳۰۳۔من لایحضرہ الفقیہ ،ج/۳،ص/۱۹۹و ۴۰۔محاسن ص/۲۰۰ومجالس ص/۳۶۱۔بحار الانوار ج/۹۰،ص/۱۵۴و ج/۱۰، ص/۹۲ وج/۱۰۰، ص/۹۶ و۹۷و۱۰۲۔ مستدرک الوسائل ج/۲،ص/۴۶۷
۲۱)۔من لایحضرہ الفقیہ ،ج/۳،ص/۲۰۰و ۲۰۱۔وسائل ج/۱۲،ص/۳۰۴و ۳۰۵نیز اس کے حاشیہ پر کئی مآخذ نقل ہیں
۲۲)۔وسائل ج/۱۲،ص/۳۰۱و۳۰۲نیز اس کے حاشیہ کے مآخذ۔مجمع الزوائد ج/۴،ص/۷۷و۷۸عوالی اللئالی ج/۳ ص/۲۰۴،بحار ج/۱۰۰ص/۹۱و۹۶تا ۹۸مسدرک الوسائل ج/۲ص/۴۶۶و۴۶۷
۲۳)۔بحار الانوار ،ج/۱۰۰ ،ص/۹۳۔
بازار اسلامی میں نگراں کا وجود
نگرانی اور نگراں
گزشتہ باتوں سے یہ معلوم ہوا کہ بازار کی نقل حرکت پر تسلط اور کنٹروں کے سلسلہ میں، خاص طور سے اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ تاجروں کا طبقہ حکومت اور اسلامی معاشرہ کے ثبات اور اس کی ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کرتاہے، حکومت اور مسلمان حاکم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ ذمہ داریاں مختلف جہتوں میں اور متعدد موارد میں ہوتی ہیں اور ان کی بھی بہت سی شاخیں ہیں۔ان ذمہ داریوں اور فرائض کا وجود فطری طور پر دقیق اور ہوشیار نگرانی کا تقاضا کرتا ہے جو تمام تجارتی نقل و حرکت پر کنٹرول حاصل کرے اور ہر سطح اور ہر میدان میں ہر طرح کی قانون شکنی و غلط کاری کو روکنے کے لئے حکومت کی دخل اندازی کو ممکن بنائے ۔
چنانچہ ان فرائض کی ادائیگی کے لئے ایسے ذمہ دار افراد کی ضرورت ہے جو بازار کی نگرانی اور اس پر کنٹرول کی سر پر ستی کرسکیں اور انھیں عملی اقدام کا اختیار بھی حاصل ہو اسلام میں اس بارہ میں خاموشی سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے۔اس سلسلہ میں بڑا اہتمام کیا ہے ،بازار پر ایک مامور رکھا گیاہے جو بازار کے امور ذمہ دار اور سرپرست ہوتا تھا اسے اختیارات بھی حاصل تھے اور وہ عملی طور پر اقدام و نفاذ کی طاقت بھی رکھتا تھا۔
بازار کا سرپرست
جب بھی کوئی ہمارے زمانہ تک پہنچنے والی روایات و احادیث کا جائزہ لے تو اسے نظر آئے گا کہ پیغمبر اکرم اور حضرت امیر المومنین نے اپنے بعض اصحاب کو بازار پر نگراں و سرپرست معین فرمایا تھا اسی طرح ان روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سعید بن سعید العاص کو بازار مکہ کا نگراں معین کیا تھ(۱) یہ روایت بھی ہے کہ آنحضرت نے عمر بن الخطاب کو مدینہ کے بازار کا نگراں بنایا تھا(۲) حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ حضرت نے ابن عباس کو قاضی و ناظر کی حیثیت سے بصرہ روانہ کیا(۳) اور علی ابن اصمع کو بارجاہ(۴) پر نگراں معین فرمایا(۵) اور اپنی جانب سے اہواز پر منصوب قاضی رفاعہ ابن شداد کو ایک خط لکھا اور اس میں حکم دیا کہ ”ابن ہرمہ“ کو بازار سے ہٹا کر کسی دوسرے شخص کو بزار کا سر پرست بنائے(۶)
بدعت پھیلانے والا بازار کا سرپرست نہ ہو
حضرت امیر المونین علیہ السلام نے اہواز میں اپنی طرف سے منصوب قاضی ”رفاعہ بن شداد “کو لکھا:
”لو تول امر السوق ذا بدعة، و الا فانت اعلم “(۷)
اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ بدعت پھیلانے والے کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ لوگوں کو بدعت کی طرف دعوت دینے اور اسے پھیلانے کی غرض سے بازار پر اپنے تسلط کے ذریعہ لوگوں پر اقتصادی دباو سے کام لیتا ہے ،نیز ایسا شخص اپنے تسلط و رسوخ کے ذریعہ لوگوں پر دباو ڈال کر انھیں اپنی بدعتوں کے خلاف آواز اٹھانے سے روک دیتا ہے یا انھیں اس پر مجبور کرتا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لئے اس کی مالی مدد کریں یا اسے ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائیں۔
بازار کے سرپرست کے اختیارات
بازار کے متولی و سرپرست کے اختیارات کیا ہیں اس پر واضح طور سے دلالت کرنے والی کوئی چیز دسترس میںنہیں ہے چہ جائےکہ کہ اس کے حدود و موارد کے بارہ میں کوئی دلیل یا سند بیان کی جائے سوائے اس کے کہ وہ باتیں جو ہم نے اس سلسلہ بحث میں پہلے نقل کی ہیں اور ان امور و اقدامات کو دیکھتے ہوئے جو حضرت پیغمبر اکرم اور حضرت امیر المومنین نے بازار میں انجام دیئے تھے،ہم یہ گمان کرسکتے ہیں کہ بازار کے متولی و سرپرست کے اختیارات اور اس کی ذمہ داریاں حسب ذیل رہی ہیں۔
الف: احتکار و ذخیرہ اندوزی سے روکنا جیسا کہ حضرت پیغمبر اکرم نے یہ اقدام فرمایا اور
حضرت امیر المومنین نے مالک اشتر کے عہد نامہ میں اس کی صراحت کی ہے۔
ب: قیمتوں پر نگرانی اور ان کی حد سے زیادہ پڑھنے پر روک۔
ج: وزن اور ناپ تول کی چیزوں پر نگرانی اور ان کی جانچ پڑتال۔
د: بازار کی حدود سے آگے بڑھ جانے اور ان کے غیر قانونی قبضہ و تصرف پر روک۔
ھ: ملاوٹ اور دھوکہ دھڑی کی جانچ پڑتال ،چاہے مال سایہ میں بیچنے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو ،ان پر روک اور اچھی جنس کو خراب جنس میں ملا کر فروخت کرنے پر پابندی اور انھیں الگ الگ بیچنے پر مجبور کرنا۔
و: ان تاجروں کو تجارت کی اجازت دینا جن میں مطلوبہ اوصاف و شرائط پائے جاتے ہوں ۔
ز: ان مشکلوں اور دشواریوں کوحل کرنا جو معمولاً بازاروں میں وجود میں آتی ہیں لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرنا اور صاحب حق کو اس کا حق دلانا ۔جیسا کہ حضرت امیر المومنین نے اس کنیز کے سلسلہ میں عمل کیا جس نے خرمے خرید ے تھے اور وہ خرمے اس کے مالک کو پسند نہیں آئے تھے۔
ح: گمشدہ افراد کی رہنمائی کرنا۔
ط: کھوئے ہوئے افراد کو تلاش کرنا۔
ی: کمزوروں کی مدد کرنا۔
ک: جانوروں کے ذبح کے طریقہ پر نگرانی رکھنا اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دینا۔
ل: تاجروں اور سودا گروں کے امور کی دیکھ بھال ۔
م: ان کی عزت و احترام کی حفاظت ۔
ن: دوسروں سے ان کا حق حاصل کرنا۔
س: ان کے راستوں کو پُرامن بنانا۔
ع: کھانے پینے کا سامان بازار میں لانے والوں کو خاطر مدارات اور جب تک وہ بازار سے باہر نہ ہوں ان کی میزبانی کرنا۔
ف: راستہ میں ان کا جو مال برباد ہوگیا ہے اس کی بھر پائی کرنا۔
ص: ذمی کفار کو صرافہ کے کارو بار سے روکنا،اور ہر اس شخص کو اس قسم کی تجارت سے روکنا جس کا وہ حق نہ رکھتا ہو۔
ق: ان جگہوں پر خرید و فروخت سے روکنا جو مال بیچنے کی جگہیں نہ ہوں۔
ر: ممنوعہ چیزوں مثلا ًشراب و غیرہ یا پانی میں مری ہوئی مچھلی کی تجارت سے روکنا اور
غیر شرعی پیشے مثلا ًقصہ گوئی و غیرہ پر پابندی لگانا۔
ش: ان روایات سے،جن سے ”ابن ہرمۃ“کی خیانت پر اس کی سزا اور ”علی بن اصمع“ کی انگلیاں کاٹے جانے کا ذکر ہے، معلوم ہوتا ہے کہ بازار کا متولی و سرپرست بازار کے مالی امور کا بھی سرپرست ہوتا تھا کہ احتمال کے طور پر یہ امور ذمی کا فروں سے ٹیکس لینے یا بازار میں موجود اموال کی نگہبانی و غیرہ سے متعلق رہے ہیں۔
ان کے علاوہ بازار کے سرپرست کے اور دوسرے اختیارات بھی سلسلہ بحث میں مذکور روایات اور ان روایات سے جنھیں نقل کرنا مقصود نہیں تھا، معلوم کئے جاسکتے ہیں۔
خیانت کی صورت میں بازار کے سرپرست کو سزا
معلوم ہوتا ہے کہ بازار کے سرپرست کی ذمہ داریاں فقط حالات پر کنٹرول اور نگرانی نہیں تھی بلکہ ان کے علاوہ اس کے کاندھوں پر بازار میں موجود اموال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی رہی ہے،یہی وجہ تھی کہ بعض متولی و سرپرست بازار کی حدود اور ان کے اختیارات کے دائرے میں موجود اموال کی خیانت کے مرتکب ہوتے تھے اور کبھی بعض خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرنے یا بعض افراد کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے رشوت لیا کرتے تھے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین اس طرح کی خیانتیں کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دیا کرتے تھے”علی بن اصمع “کو آپ نے ”بارجاہ “کے علاقہ میں بازار کا متولی مقرر فرمایا تھا اور جب اس نے خیانت کی تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا ۔یہ شخص حجاج بن یوسف کے زمانہ تک زندہ رہا۔ ایک روز اس نے حجاج سے کہا : میرے خاندان والوں نے میرے ساتھ بدی کی
حجاج نے پوچھا :کیسے ؟
جواب دیامیرا نام علی رکھا ہے
حجاج نے کہا کیا اچھی بات کہی ہے اس کے بعد اسے ایک علاقہ کی ولایت و حاکمیت بخش دی ،ساتھ میں یہ بھی کہا : اگر مجھے خبر ملی کہ تو نے خیانت کی ہے تو تیرا جتنا ہاتھ علی علیہ السلام نے باقی رکھ چھوڑا ہے اسے میں کاٹ ڈالوں گ(۸)
یوں ہی حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اہواز میں اپنی جانب سے منصوب قاضی رفاعہ بن شداد کو بازار اہواز کا متولی ابن ہرمہ ۔جس نے خیانت کی تھی ۔کے بارے میں لکھا کہ -:
”اذا قرات کتابی هٰذا فنح ابن هرمه عن السوق و اوفقه للناس ،و اسجنه،وناد علیه ،واکتب الیٰ اهل عملک ، تعلمهم رایی فیه، ولا تاخذک فیه غفلة،و لا تفریط ، فتهلک عندالله ،و اعز لک عزلة و اعیذ ک با لله منه
فاذا کان یوم الجمعة، فاخرجه من السجن ، وا ضربه خمسة و ثلاثین سوطا وطف به الیٰ الاسواق ؛فمن اتیٰ علیه بشاهد ؛فحلفه مع شاهده ؛وادفع الیه من مکسبه ما شهد به علیه
و مر به الی السجن مهانا منبوحا ؟واحزم رجلیه بحزام ،واخرجه ولا تحل بینه و بین من یاتیه بمطعم او مشرب ،او ملبس ،او مفرش
ولا تدع احدا یدخل الیه ممن یلقنه اللدد و یرجیه الخلاص (الخلوص خ ل ) فان صح عندک ؛ان احدا لقنه ما یضر به مسلما فاضربه با لدره ،واحبسه حتیٰ یتوب
و مربا ء خراج اهل السجن فی الیل الیٰ صحن السجن لیتفرجوا (لیفرجوا خ ل ) ،غیر ابن هرمة ،الا ان تخاف موته؛فتخرجه مع اهل السجن الی الصحن
فان روایت به طاقة ،او استطاعة ؛ فاضربهبعد ثلاثین یوما خمسة و ثلاثین سوطا ،بعد الخمسة و الثلاثین الاولیٰ
واکتب الی بما فعلت (صنعت خ ل ) فی السوق ،و من اخترت الخاین واقطع عن الخا ئن رزقه )) ( ۹)
”میرا یہ خط پڑھتے ہی ”ابن ہرمہ “ کو بازار سے نکال دو اسے لوگو ں کے سامنے لا کھڑا کرو،قیدی بناؤاور لوگوں کو ( اس کی خیا نت ظاہر کرنے اور پہچنوانے کے لئے ) آواز دو اور اکٹھا کرو ،اپنے کار گزاروں کو خط لکھ کر انھیں اس کے بارے میں میرے نظرئیے سے اگاہ کرو،اس کے بارے میں غفلت و سہل انگاری نہ کرو کہ خدا کے نزدیک ہلاک ہو اور میں تمھیں تمھارے عہدہ سے بری طرح سے علیٰحدہ کردوں میں اس سلسلہ میں تیرے لئے خدا کی پناہ مانگتا ہوں
پس جب جمعہ کا دن آئے تو قید سے باہر لا کر اسے پینتیس(۳۵) کوڑے لگاؤ اور بازار میں پھراؤ ،جو بھی اس کے خلاف (اپنے خسارہ کا ) دعویٰ کرے اور گواہ لائے تو خود اور اس کے گواہ کو قسم دلاوا س کے بعداس (ابن ہرمہ )کے مال میںسے اتنی مقدار مدعی کو ادا کر وپھر اسے ذلت وخواری کے ساتھ قید خانہ میں واپس لے جاکر اس کے پیروں میں بیڑی ڈال دو ۔ اور نماز کے اوقات میں انھیں کھولو۔اس کے اوراس شخص کے درمیان ہائل مت ہو جو اس (خائن ) کے لئے کھانے پینے کی چیزیں ،لباس اور بستر لائے ،اور کسی ایسے شخص کو اس کے پاس نہ جانے دو اسے کینہ ودشمنی سکھاتاہے اور آزاد ہونے کی امید دلاتاہے
اگر تم پر یہ بات ثابت ہوجائے کہ کسی نے اسے کوئی ایسی بات سکھائی ہے جو مسلمانوں کے لئے مضرہے تواسے تازیانے لگاواور اس وقت تک قید رکھو کہ وہ توبہ کرلے ۔قیدیوں کو حکم دو کہ شب میں قیدخانہ کی صحن میں نکل کر ٹہلیںاور آرام کریں لیکن ابن ہرمہ کو اس کی اجازت مگر یہ کہ تمھیں اس کے مرجانے کا خوف ہو کہ ایسی صورت میں اسے بھی قیدیوں کے ساتھ صحن میں لے آو۔
اور جب اس طاقت وتوانائی دیکھو تو تیس روز کے بعد دوبارہ پینتیس کوڑے لگاو ۔نیز تم نے بازار میں کیا اقدام کیا ہے اور کس شخص کو اس خیانت کار کی جگہ پر معین کیا ہے ، مجھے لکھو اور خائن کی روزی بند کر دو“
____________________
۱)۔الاصابہ ج/۲ص/۴۷،ازابن شاہین ،السیرۃ الحلبیۃ ج/۳ص/۳۲۷،اسد الغابۃ ج/۲ص/۳۰۹،از ابی عمرہ ابن مندہ الاستیعاب (طبع بر حاشیہ ،ج/۲ص/۸) الاصناف فی العصر العباسی ص/۱۳۹،معالم الحکومہ النبویۃ ص/۲۴۴،نظام الحکم فی الشریعہ و التاریخ الاسلامی (السلطۃ القضائیۃ ص/۵۹۱و۶۱۵،اور یہی کتاب کی فصل الحیاۃ الدستوریۃ ص/۴۹) الترتیب الاداریہ ج/۱ص/۲۸۵تا۲۸۸
۲)۔ السیرۃ الحلبیہ ج/۳ ص/۳۲۷،الاصناف ص/۱۳۹ ،التراتیب الاداریۃ ج/۱ص/۲۸۶و۲۸۷
”یعنی کسی بدعتی کو بازار کے امور کا سرپرست نہ بناو،ورنہپس تم بہتر جانتے ہو“
۳)۔ نظام الحکم فی الشریعہ و التاریخ اسلامی (السلطۃ القضائیہ )ص/۷۰،از ادب القاضی مادردی ج/۱ص/۱۳۵
۴)۔ بصرہ کے علاقہ کا نام یہ فارسی کا لفظ بارگاہ ہے عربی میں بارجاہ ہو گیا ہے
۵)۔ الاشتقاق ص/۲۷۲نیز کتاب و فیات الاعیان ج/۳ص/۱۷۵ میں آیا ہے کہ حجاج نے اسے بصرہ کے علاقہ بارجاہ میں مچھلی کے بازار پر نگراں بنایا تھ
۶)۔ دعائم الاسلام ج/۲ص/۵۳۲،نہج السعادۃ ج/۵ص/۳۵و۳۸ ،مجلہ نور علم چوتھی جلد شمارہ /۴ ص/۴۴ از دعائم الاسلام و معاون الحکمۃ ص/۳۸۲
۷)۔دعائم الاسلام ،ج/۲،ص/۵۳۰۔نہج السعادۃ،ج/۵،ص/۳۳
۸)۔ الاشتقاق ج/۱ص/۲۷۲، وفیات الاعیان ج/۳ص/۱۷۵
۹)۔ دعائم الاسلام ج/۲ ص/۵۳۲ وص/۵۳۳ نہج السعادہ ج/۵ ص/ ۳۵ وص/۳۸ ”مجلہ نور علم “سال دوم شمارہ ۳ ص/۴۴ نقل از حاشیہ معاون الحکمۃ ص/۳۸۲
فہرست
مقدمہ ۴
تجارت کی اہمیت ۵
احکام اور قواعد و ضوابط ۵
نفاذ اور اجراء ۶
ذاتی و باطنی ضمانت اور اس کی بنیادیں ۶
بیرونی۔جبری ضمانتیں ۸
ایک ضروری یاد دہانی ۹
اسلامی بازار کی ابتدا اور اس کا ارتقاء ۱۱
حکومت کا بازار سے ربط ۱۱
بازار کے لئے جگہ کاانتخاب ۱۱
شہری امور ۱۳
بازار بنانا اور اسے کرایہ پر دینا ۱۴
ایک شبہ کا جواب ۱۶
اسلامی بازار کے دوسرے قوانین ۱۷
۶ ۔حق اولیت فروخت کرنا: ۱۸
بازار کے لئے قسام ( سپلائی آفیسر ) معین کرنا ۱۹
تجارت کے اصول و ضوابط ۲۳
شرطیں ،ضابطے ، اور صلاحیتیں ۲۳
کافر ذمی کو صرافہ کے کار و بار سے روکنا ۲۵
مسجد سے قصہ گویوں اور تصوف کے مبلغوں کو نکالنا ۲۶
پہلے امتحان ۲۷
علی علیہ السلام اور منجمین ۲۷
تعیین شدہ مقامات کے علاوہ دوسری جگہ خرید و فروخت پر پابندی ۲۸
زیر سایہ فروخت ۳۱
شبہ سے بھی پرہیز ۳۲
حکومت کی جانب سے ضروری اقدامات ۳۵
تخمینی فروخت کی ممانعت ۳۵
ناپ تول پر کنڑول ۳۵
ممنوعہ چیزوں کی تجارت روکنے کے اقدامات ۳۷
پھلوں کی فروخت ۳۸
حیوانوں کی حفاظت کے لئے اقدامات ۳۹
جانوروں کو ذبح کرنے کے سلسلہ میں چند دستور ۴۰
حکومتی وولایتی تدابیر و احکام ۴۱
ذخیرہ اندوزی اور حکومت کی ذمہ داریاں ۵۰
ذخیرہ اندوزی اور اس کی سزا ۵۲
جائز نفع ۵۴
قیمتوں پر کنڑول ۵۵
قیمتوںکا تعین یا بے جا زیادتی پر پابندی ۵۶
ایک ضروری یاد دہانی ۵۹
غیر ملکی تجارت اور ٹیکس ۶۲
غیر مسلمان سے تجارت ۶۲
مال وارد کرنے کی تشویق ۶۴
تجارت پر ٹیکس ۶۵
ٹیکس، ضرورت کے تحت ۶۷
نگرانی اور جانچ پڑتال ۷۱
نگرانی ۷۱
مظلوم و کمزور کا حق حاصل کرنا ۷۲
ایک دوسری روایت کے مطابق : ۷۲
۲ ۔نگرانی اور دیکھ بھال کے ضمن میں تعلیم بھی ۷۳
۳ ۔کاموں کی دیکھ بھال کے ضمن میں فرامین بھی ۷۳
۴ ۔بازار میں حضرت علی علیہ السلام کے کام ۷۳
ملاوٹ اور دھوکہ دھڑی کی جانچ ۷۴
اچھے مال میں خراب مال ملانا ۷۵
جانوروں کے ذبح پر نگرانی اور خلاف ورزی پرسزا ۷۵
نیکی کا نمونہ ۷۶
بازار اسلامی میں نگراں کا وجود ۷۹
نگرانی اور نگراں ۷۹
بازار کا سرپرست ۷۹
بدعت پھیلانے والا بازار کا سرپرست نہ ہو ۷۹
بازار کے سرپرست کے اختیارات ۸۰
خیانت کی صورت میں بازار کے سرپرست کو سزا ۸۱