ائمہ علیھم السلام اور سیاست

مؤلف: سید افتخار عابد نقوی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


ائمہ (علیہم السلام) اور سیاست

مصنف: سید افتخار عابد نقوی


ائمہ (علیہم السلام) اور سیاست

ائمہ (علیہم السلام) کی روشن زندگی میں ایک قطعی اور مشترک اصول جو کہ تمام زاویوں سے نظر آتاہے وہ سیاست میں شرکت کرنا ہے اور ائمہ (علیہم السلام)کا سیاست میں شامل ہونا اس طرح ہے کہ اس کو ان کی زندگی سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اس رکن کی طرف زیادہ اہمیت دیں ، کیونکہ دنیادار لوگوں نے مسلمانوں کی دنیا اور دین کو ختم کرنے کیلئے ہمیشہ یہ نعرہ لگایاہے کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اس صدی میں اسلام کو زندہ کرنے والی شخصیت حضرت امام خمینی (رحمۃاللہ) فرماتے ہیں:

"خدا کی قسم اسلام پورے کا پورا سیاست ہے، اسلام کو غلط طریقے سے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے"۔

حضرت امام خمینی اپنی کتاب تحریر الوسیلہ میں فرماتے ہیں کہ:

اسلام کے فلسفے سے بے خبر کچھ لوگ ائمہ (علیہم السلام) کے کچھ اقوال کو نہ سمجھتے ہوئے اس نظرئیے کی تائید کرتے ہیں کہ اسلام اور سیاست الگ الگ ہیں اور دلیل کے طور پر ائمہ (علیہم السلام) کے اقوال کو پیش کرتے ہیں جیسے کہ امام علیعليه‌السلام نے فرمایا :

تمہاری دنیا میرے نزدیک بکری کے بلغم سے زیادہ بے وقعت ہے۔

یا ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

اے دنیا! تو میرے علاوہ کسی اور کو جاکر دھوکہ دے ۔ میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکاہوں جن کے بعد پلٹنے کی گنجائش نہیں ہے۔

مندرجہ بالا جملات میں حضرت امیر المومنینعليه‌السلام نے دنیا سے دوری کا اظہار کیا ہے اور یہ دوری اس بات پر دلیل ہے کہ ائمہ (علیہم السلام) دنیا کو پسند نہیں کرتے تھے اور اس بنا ء پر ائمہ (علیہم السلام)کس طرح سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں جب کہ سیاست کا دوسرا نام دنیا ہے۔

فلسفہ دنیاداری

دنیا کی دو قسمیں ہیں: ۱ ۔مذموم ۲ ۔مدوح

جب بھی دنیا حلال طریقے سے حاصل کی جائے اور معنوی اہداف کو پورا کرنے کا ذریعہ بنے تو یہ خدا کی نظر میں پسندیدہ ہے۔

اور جب بھی دنیا غلط راستے سے حاصل کی جائے اور خود دنیا ہدف ہو تو وہ خداکی نظر میں ناپسند ہے۔

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی سرزنش یا دوری اس دنیا سے مربوط ہے جو کہ خدا کی نظر میں ناپسند ہے جوکہ دین بیچنے کیلئے استعمال کی جائے۔

پہلا قول: ان منافقین سے تعلق رکھتا ہے کہ جنہوں نے اس دنیا کی خاطر یا یوں کہہ لیجئے کہ اس دنیا نے ان کو رسول اکرم کی وفات کے بعد رہبری اور قیادت کے مقام کو غصب کرنے پر اکسایا۔ مولا نے یہ جملہ "خطبہ شقشقیہ "میں فرمایا جو کہ اسی سلسلہ میں ہے۔

دوسرا قول :اس دنیاسے متعلق ہے کہ جس میں دنیا کیلئے بیت المال سے غلط فائدہ اٹھایا جائے یہ قول مولا نے بیت المال کی تقسیم کے دوران فرمایا۔

خود قرآن کے اندر ہمیں سرمایہ دار افراد کی دونوں قسمیں نظر آتی ہیں۔

سرمایہ دار قرآن میں

۱ ۔ قارون ۔گناہ کا سبب اور برایہ کا نمونہ

ہم نے قارون اور اس کے گھر بار کو زمین میں دھنسادیا۔

(سورئہ قصص :آیت ۸۱)

۲ ۔سلیمانعليه‌السلام ۔انسان کی نجات کا سبب اور سعادت کا نمونہ

یہ محض میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے تاکہ وہ میرا امتحان لے کہ میں اس کا شکر کرتاہوں یا ناشکری کرتاہوں۔

(سورئہ نمل:آیت ۴۰)

نتیجہ :

اگر دنیا کے امکانات اور دولت سلیمانعليه‌السلام جیسے افراد کے ہاتھوں میں آجائے تو نعمت ہے اور اگر قارون جیسے افراد کے ہاتھوں میں چلی جائے تو عذاب ہے۔ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی دنیا سے مراد قارون والی دنیا ہے نہ کہ حضرت سلیمانعليه‌السلام کی دنیا۔

ائمہ اطہار(علیہم السلام) اور سیاسی حکمت عملی

سیاست ایک بہت ہی وسیع موضوع ہے یو ں کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاست کا لفظ قابل بحث ہے ہر کوئی اپنی نظر کے مطابق اسکی تعریف کرنے کی کوشش کرتاہے لیکن یہاں پر ہم سیاست کے لفظ یا موضوع کو ائمہ (علیہم السلام) ک نظر سے دیکھیں گے(کیونکہ ہر امام سیاست دان تھے )اور پھر ان کی زندگی میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات کو بیان کریں گے۔

حضرت امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام نے اپنے اقوال زریں میں سیاست کی تعریف کچھ یوں کی ہے۔

"سِیَاسَةُ الْعَدْلِ ثَلاَثٌ لِیْنٌ فِیْ حَزْمٍ وَ اِسْتِقْصَاءٌ فِیْ عَدْلٍ وَ اِفْضَالٌ فِیْ قَصْدٍ "(غرر الحکم جلد ۱ ، صفحہ ۴۳۴)

عادلانہ سیاست تین چیزوں میں ہے

۱ ۔ اپنے کاموں میں میانہ روی اختیا ر کرنا ۔

۲ ۔عدالت کے اجراء میں تحقیق کرنا۔

۳ ۔مدد کے وقت میانہ روی اختیار کرنا۔

سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبیٰعليه‌السلام سے کسی نے پوچھا کہ سیاست کیا ہے امام نے جواب میں فرمایا:

سیاست خدا کے حقوق ،زندہ لوگوں کے حقوق اور مردہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔ خدا کے حقوق یہ ہیں کہ جس بات کا حکم دے اس کو انجام دیا جائے اور جس سے منع کرے اس سے پرہیز کیا جائے، زند ہ لوگوں کے حقوق یہ ہیں کہ لوگوں سے متعلق جو فرائض ہیں ان کو انجام دیا جائے ان کی خدمات کی جائے قائد اسلامی سے مخلص رہا جائے جب تک کہ وہ خدا سے مخلص ہے اور جب وہ منحرف ہوجائے تو اسکے خلاف آواز بلند کرنا اور مردہ لوگوں کے حقوق یہ ہیں کہ ان کی خوبیوں کا ذکر کرنا اور ان کی برائیوں کو یاد نہ کرنا کیونکہ خدا انکے اعمال کی باز پرس کیلئے موجود ہے۔(حیاة الحسن باقر شریف قرشی جلد ۱ صفحہ ۴۲)

مولائے کائنات ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

"بِئْسَ السِّیَاسَةِ الْجَوْرِ "

ظلم کرنا بری سیاست ہے۔(غرر الحکم جلد ۱ صفحہ ۴۳۴)

اگر ہم مندرجہ بالا ارشادات سے نتیجہ نکالنا چاہیں تو یہ چند باتیں ہمارے سامنے آئیں گی کہ:

سیاست دو طرح کی ہے۔

۱ ۔مثبت سیاست ۲ ۔منفی سیاست

۱ ۔مثبت سیاست وہی ہے جو کہ احادیث میں بیان ہوئی اور اگرہم لغت کی طرف رجوع کریں تو بھی سیاست کے معنی یہی نظر آتے ہیں:

"سیاست یعنی کسی چیز کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا"۔

۲ ۔منفی سیاست یعنی ظلم کرنا ،ہرکام کو اسکے صحیح طریقے سے انجام نہ دینا یا آج کل کی دنیا میں سیاست کے رائج الوقت معنی دھوکہ بازی کے ہیں جسے "میکیاولی" کی سیاست کہا جاتاہے۔

گذشتہ باتوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ائمہ (علیہم السلام)سیاست دان تھے کیونکہ انہوں نے ہمارے سامنے سیاست کے معنی بیان کئے۔

ایک اور دلیل کے ذریعے بھی ہم اس بات کو ثابت کرسکتے ہیں کہ ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی میں سیاست کا عمل دخل تھا اور تمام ائمہ (علیہم السلام) سیاست دان تھے اور وہ یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ائمہ (علیہم السلام) انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کا مشن اور مقصد فقط معاشرے کی اصلاح اور لوگوں کو کمال کی منزل تک پہنچانا تھا اور یہی سیاست کے معنی بھی ہیں۔

قرآن انبیاء کے اس مقصد کی کچھ اس طرح نشاندہی کرتاہے۔

۱ ۔"( لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَ الْمِیزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) "

ہم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا اوران کے ساتھ کتاب اور ترازو نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔(سورئہ حدید :آیت ۲۵)

۲ ۔"( الٓراٰوقف کِتٰبٌ اَنْزَلْنهُاٰا اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ) "(سورئہ ابراھیم : آیت ۱)

(اے رسول یہ قرآن وہ)کتاب ہے جس کو ہم نے تمہارے پاس اس لئے نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو انکے پروردگار کے حکم سے کفر کی تاریکی سے (ایمان کی) روشنی میں نکال لاؤ غرض اس کی راہ پر لاؤ جو سب پر غالب اور سز ا وار حمد ہے۔

۳ ۔ "( اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَه مَکْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰةِ وَ الْاِنجِیْلِز یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثاَا وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْهِمْ ) "(سورئہ اعراف :آیت ۱۵۷)

یعنی :"جو لوگ ہمارے نبی امی پیغمبر کے قدم بقدم چلتے ہیں جس (کی بشارت) کو اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھاہواپا تے

ہیں ( وہ نبی )جو اچھے کام کا حکم دیتاہے اور برے کام سے روکتا ہے اور جو پاک و پاکیزہ چیزیں تو ان پر حلال اور ناپاک گندی چیزیں ان پر حرام کردیتاہے اور وہ (سخت احکام کا )بوجھ جو ان کی گردن پر تھا اور وہ پھندے جو ان پر ( پڑے ہوئے) تھے ان سے ہٹادیتاہے۔"

ان آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انبیاء کی نبوت کا مقصد عدالت کا اجراء لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف ہدایت کرنا ، ظالم حکمرانو ں سے نجات دلانا اور ان کو ایمان کے پرچم تلے جمع کرنا تھا ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان مقاصد کو حکومت (اقتدار) کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہ تھا ۔

نتیجہ کے طورپر ہمارے سامنے تین چیزیں آتی ہیں:

۱ ۔ اسلام ایک کامل نظام حیات ہے اورسیاست اس کا ایک اہم حصہ ہے۔

۲ ۔ انبیاء اور ائمہ (علیہم السلام) اس سیاست کو (جو کہ ایک کامل نظام حیات کا اہم حصہ ہے)رائج کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔

۳ ۔ اسلام نے غیبت کے زمانے میں ہم پر بھی اس سلسلے میں ذمہ داری ڈالی ہے


حضرت امیر المومنین اور سیاست

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی زندگی میں سیاسی روش کی بے شمار مثالیں ہیں۔مندرجہ ذیل سطروں میں ہم تین نکات پر روشنی ڈالیں گے ۔

الف۔حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی سیاست یہ تھی کہ معاشرے کو اسلامی عدالت کے ساتھ چلایا جائے۔

امام کی سیاست یہ تھی کہ حاکمیت اور حکومت ہدف اور مقصد نہیں ہے بلکہ وسیلہ ہے اسلام کو بچانے کا اور اس کی سیاسی حکمت عملی کو انجام دینے کا ۔ اس سلسلے میں خود حضرت امیر امومنینعليه‌السلام فرماتے ہیں کہ:

یہاں تک کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کچھ لوگ اسلام سے پلٹ گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دین محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو نابود کردیں(یہاں پر ) میں ڈرگیا کہ اگر اسلا م اور اہل اسلام کی مدد نہ کروں توشاید ان کی نابودی اور اسلا م میں شگاف کا منظر دیکھوں اور یہ مصیبت میرے لئے حکومت اور خلافت چھوڑنے سے زیادہ سخت ہے۔ (خطبہ ۲۶ نہج البلاغہ)

یہاں سے ہم امامعليه‌السلام اور معاویہ کی سیاست میں فرق کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔معاویہ اصلاح امور کے نام پر ہر چیز کرنے کو تیار تھا چاہے وہ اسلا م کے خلاف ہی کیوں نہ ہو جبکہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام ہر کام کو انجام دیتے تھے مگر اسلام کے دائرے میں رہ کر۔

جب حضرت امیر المومنینعليه‌السلام نے زمام حکومت کو ہاتھ میں لیا تو فرمایا کہ:

اگر خداکا عہد و پیمان نہ ہوتا علماء اور دانشوروں سے کہ وہ ظالموں کے بھرے پیٹ اور مظلوموں کی بھوک کے سامنے خاموش نہ رہیں ، میں خلافت کی رسی کو چھوڑدیتا اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا۔(خطبہ ۳ نہج البلاغہ )

معاویہ اپنی سیاست میں اگر مکرو فریب سے کام نہ لیتا تو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا ۔حضرت امیر المومنینعليه‌السلام مشروع اور جائز سیاست میں کامیاب رہے لیکن نامشروع اور ناجائز سیاست میں کبھی آگے نہ بڑھے ۔ خود حضرت امیر المومنینعليه‌السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ :

خدا کی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ سیاست دان نہیں ہے لیکن دھوکہ بازی اور گناہ کرتاہے اگر دھوکہ بازی ایک بری صفت نہ ہوتی تومیں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سیاست دان شخص ہوتا۔(خطبہ ۲۰۰ ،نہج البلاغہ)

یا ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ :

اگر دھوکہ دہی آتش جہنم کا سبب نہ ہوتی تومیں سب سے زیادہ فریب دینے والا انسان ہوتا۔(منھاج البراعة جلد ۱۲ صفحہ ۳۶۶)

کچھ لوگوں نے معاویہ کی حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا کہ معاویہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام سے زیادہ عقلمند ہے البتہ ایسے لوگ عقل کی صحیح تعریف نہیں جانتے تھے۔

کسی نے حضرت امام صادقعليه‌السلام سے پوچھا کہ عقل کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا:

عقل و ہ ہے جس کے ذریعے سے خدا کی عبادت کی جائے اور بہشت کو خریدا جائے۔

پوچھنے والے نے پوچھا ، تو پھر معاویہ کی عقل کیا تھی ۔حضرت نے فرمایا:

"تلک النکراء تلک الشیطنة ، وهی شبیهة بالعقل ولیست بالعقل "

وہ دھوکہ بازی تھی و ہ شیطنت تھی وہ ظاہری شباہت عقل سے رکھتی تھی لیکن عقل نہیں تھی ۔

(اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۱۱ باب العقل والجہل جلد ۳)

ب۔ امام کی سیاست گمراہ افراد سے دوری

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی سیاست لوگوں کے ساتھ دو طرح کی تھی وہ افراد جو لائق اور قابل تھے ان کو اپنی طرف جذب کرلیتے تھے جیسے مالک اشتر، عمار(رحمۃاللہ)‘ یاسر(رحمۃاللہ)،کمیل بن زیاد وغیرہ اور جو افراد اس قابل نہیں تھے ان کو اپنے سے دور کردیتے تھے کیونکہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی تربیت ایسے ماحو ل میں ہوئی جیسا کہ خداوند ارشاد فرماتاہے کہ :

" میں کبھی بھی گمراہوں کو اپنا بازو قرارنہیں دیتا "(کہف ۵۱)

سقیفہ کے برقرار ہونے کے بعد ابوسفیا ن جو کہ مختلف وجوہ کی بناء پر ابوبکر کی حکومت سے خوش نہیں تھا کچھ افراد کے ساتھ امام کے حضور آیا تاکہ حضرتعليه‌السلام کی بیعت کرے اسی ضمن میں اس نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تومیں عظیم لشکر کے ساتھ آپ کی حمایت کروں۔

امامعليه‌السلام جو ابو سفیان کو اچھی طرح سے جانتے تھے اسکی ان باتوں میں نہیں آئے اور اسکے جواب میں فرمایا:

اے لوگو! فتنہ کی پہاڑ جیسی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے توڑدو۔ اختلافات اور بکھرنے سے باز آؤ بلند پروازی اور برتری کے تاج کو اپنے سر سے اتار پھینکو۔(خطبہ ۵ نہج البلاغہ)

امامعليه‌السلام اپنی سیاسی بالا نظری کی وجہ سے جانتے تھے کہ یہ وقت حکومت ہاتھ میں لینے کا وقت نہیں اسی لئے جملہ کے بعد حضرت نے فرمایا:

کچے پھل کو توڑنا ایسا ہے جیسے نمکین زمین میں بیج بونا۔

ج۔ امامعليه‌السلام کی سیاست ،آزاد منش افراد کی حمایت

امام نے ہمیشہ آزاد منش افراد کی حمایت کی اس سلسلے میں جو اہم واقعہ ہم کو امامعليه‌السلام کی زندگی میں نظر آتا ہے وہ ابو ذر غفاری کی جلا وطنی کاہے ویسے تو کئی واقعات ہیں لیکن کیونکہ یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے کہ جب امامعليه‌السلام کے ہاتھ میں زمام حکومت نہیں اور حکومت وقت صحابی رسول کو جلاوطن کررہی ہے۔ مدینہ کے اندر کرفیو نافذ ہے خلیفہ وقت کی طرف سے حکم تھا کہ کوئی بھی ابوذر سے خدا حافظی نہ کرے اور اس نے مروان کو حکم دیاکہ جو کوئی بھی خداحافظی کے لئے آئے اسکو پکڑلو۔

لیکن اما معليه‌السلام نے حکومت کے ان احکامات کی پرواہ نہ کی اور اپنے فرزندان گرامی حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام ، اپنے بھائی عقیل اور عمار یاسر کے ساتھ ابوذر کو رخصت کرنے کیلئے گئے ۔اسی اثناء میں کہ جب امام حسنعليه‌السلام ابوذر سے باتیں کررہے تھے مروان نے پکارا کہ اے حسنعليه‌السلام خاموش ہوجاؤ کیا خلیفہ کا حکم نہیں سنا کہ ابوذر سے باتیں کرنا منع ہے۔امام علیعليه‌السلام نے آگے بڑھ کے مروان کے سامنے آئے اور فرمایا دور ہوجاؤ خدا تمہیں آتش جہنم میں ڈالے۔

امامعليه‌السلام اور ان کے چاہنے والوں کا یہ کام صد در صد سیاسی تھا اور حکومت وقت کے خلاف تھا کیونکہ ابو ذر کا عمل حکومت کے خلاف صحیح ہے اور حکومت کا رویہ غلط ہے


حضرت امام حسن و امام حسین اور سیاست

حضرت امام حسنعليه‌السلام اور سیاست:

حضرت امام حسنعليه‌السلام کی سیاسی زندگی کا سب سے اہم واقعہ جو کہ ہر تاریخ نگار کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتاہے وہ صلح امام حسنعليه‌السلام ہے۔

جب دشمن ایک دوسرے کے روبرو قرا ر پاتے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہو تاہے کہ اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے کو باطل ثابت کرنے کی کوشش کریں اور اصل ہدف بھی یہی ہوتاہے لیکن جب تک انسان کاباطن لوگوں کے سامنے نہ آجائے یا یوں کہہ لیجئے کہ جب تک لوگ ہارنے والے یا جیتنے والے کے باطن سے آگاہ نہ ہوجائیں اس وقت تک اسکے بار ے میں صحیح رائے قائم نہیں کرپاتے اگر امام حسنعليه‌السلام معاویہ سے جنگ کرکے جیت بھی جاتے تب بھی لوگ یہی خیال کرتے کہ شاید معاویہ حق پر تھا یا یہ کہ یہ جنگ ناحق لڑی گئی ۔لیکن امام حسنعليه‌السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کرکے لوگوں کے سامنے اس کے باطن کی پہچان کروا دی۔

جب امام حسنعليه‌السلام نے معاویہ کے بھیجے ہوئے سادے کاغذپر اپنی شرائط لکھ کردے دیں تو معاویہ کوفہ میں داخل ہوا اور اس نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یوں کہا:

"میں نے اس لئے تم سے جنگ نہیں لڑی کہ تم نماز اور حج بجالاؤ اور زکوٰة دو کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ یہ کام انجام دیتے ہو۔ میں نے اس لئے تمہارے ساتھ جنگ کی تاکہ تم کو اپنا مطیع اور فرمانبردار بناؤں اور تم لوگوں پرحکومت کروں"۔

اور اسکے بعد کہا:

یاد رکھو !اللہ نے ہمارے لئے ہماری بات کو درست کردیا ۔ہماری دعوت کو عزت دی ، تو اب جن شرطوں کو میں نے ماناتھا ان سب سے میں انکار کرتاہوں ،اور ہر وہ وعدہ جومیں نے تم میں سے کسی ایک سے بھی کیاتھا وہ میرے پیروں تلے روندا جاچکاہے۔

یہاں سے لوگ سمجھ گئے کہ کون اسلام کی خاطر جنگ کررہا تھا اور کس کو صرف حکومت چاہئے تھی۔

حضرت امام حسینعليه‌السلام اور سیاست

حضرت امام حسینعليه‌السلام نے صرف یزیدہی کے خلاف آواز بلند نہیں کی بلکہ معاویہ کے زمانے میں بھی آپ نے لوگوں کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروائی کے معاویہ خلافت اور حکومت کے لائق نہیں ہے۔

۵۸ ئھ میں حج کے موقع پر آپ نے سر زمین منٰی میں بنی ہاشم اور انصار کے برجستہ افراد کی ایک کانفرنس بلائی جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی اس کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے حضرت نے فرمایا:

اس طاغوت (معاویہ)نے جو کچھ ہمارے اور ہمارے شیعوں کے ساتھ کیا ہے وہ سب آپ لوگ جانتے ہیں۔میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اگر سچ کہوں تو میری تصدیق کیجئے گا۔ اور اسکے بعد اپنے ملک یا شہر واپس جانے کے بعدمیری باتوں کولوگوں تک پہنچائے اور ان کو معاویہ کی بد اعمالیوں سے آگاہ کیجئے اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیجئے مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس حالت کے باقی رہنے کی وجہ سے حق نابود نہ

ہوجائے لیکن خدا اپنے نور کی تکمیل کرے گا چاہے کا فر یا فاسق اس کو پسند نہ کریں۔(احتجاج طبرسی جلد ۲ صفحہ ۱۸،۱۹)

کربلا کے واقعہ سے ۳ سال پہلے معاویہ کی زندگی میں امام حسینعليه‌السلام نے حج کے موقع پر حکومت کے خلاف لوگوں کو قیام کی دعوت دی۔

کربلا:

امام حسینعليه‌السلام کی کر بلا کی تحریک ایک مکمل سیاسی تحریک تھی اگر دین سیاست سے جدا ہو تا تو پھر امام حسینعليه‌السلام کے لئے ضروری تھا کہ وہ مدینہ میں کونے میں بیٹھ جاتے اور عراق کی طرف حرکت نہ کر تے اس صورت میں کوئی بھی آپ سے کچھ نہ کہتا۔

اگر ہم کر بلا کے واقعے کی تحلیل کریں اور اس واقعے کا مطالعہ کر یں تو ہم کو مندرجہ ذل نکات کی صورت میں نتیجہ ملے گا۔

۱ ۔یزید نے امام حسینعليه‌السلام سے بیعت لینا چاہی امامعليه‌السلام نے انکار کر دیا۔

۲ ۔امام حسینعليه‌السلام نے فوج جمع کر نے اور یزید کی حکومت کو ختم کر نے کے لئے عراق کی طرف کوچ کیا۔

۳ ۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نے امام حسینعليه‌السلام کو اس بات کی طرف مائل کیا کہ وہ ظلم و ستم کو جڑ سے اکھاڑنے اور عدل کو بر قرار کر نے لئے شہادت کی سرحد تک جہاد کریں۔

مندر جہ بالا تینوں چیزیں سیاسی حیثیت رکھتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عین دین بھی ہیں۔

امام حسینعليه‌السلام ہر چند کہ ظاہری طور شکست سے دوچار ہوئے لیکن تا قیقام قیامت آگاہی اور روشنی کا ایک ایسا راستہ چھوڑ گئے۔ حق کے متلاشی انسان کے لئے صراط مستقیم کا سامان فراہم کرے۔

کیا خوب تجزیہ کیا ہے عربی زبان کے ادیب نے

"کربلا میں روز عاشور کامیابی ، ناکام ہونے والوں کے نقصان سے کہیں زیادہ ہے"

(کتاب ابو الشہدا عباس عقاد صفحہ ۱۸۱)


حضرت امام زین العابدین عليه‌السلام اور سیاست

جب بھی ہم امام زین العابدینعليه‌السلام کا ذکر کر تے ہیں تو ان کو بیمار امامعليه‌السلام کی حیثیت سے پہچانتے ہیں ، اور اگر اس کے ساتھ سیاست کا ذکر بھی ہو جائے تو شاید ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوں کے حضرت سجادعليه‌السلام نے کر بلا کے اس عظیم سانحہ کے بعد بھی سیاست میں حصہ لیا ہو گا۔

بنیادی طور پر ذلت اور غلامی سے آزادی ، عزت اور آزادی واپس لانے اور ایک بڑے انقلاب کے لئے زمین ہموار کر نے کے لئے لوگوں کو صحیح حقائق سے روشناس کر انے اور ان کے ضمیروں کو جگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو آگاہ کیاجائے اور پہچان کرائی جائے تاکہ وہ ذمہ داری کا احساس کریں اس طرح انقلاب خود بخود وجود میں آنے لگیں گے۔

اس کے پہلے قدم کو خود امام حسینعليه‌السلام اور ان کے اصحاب نے کر بلا میں انجام دیا اور دوسرے مرحلہ کی ذمہ داری حضرت زینب(علیہا السلام) اور حضرت سجادعليه‌السلام کے کندھوں پر پڑی۔ اور فقط یہی ایک راستہ تھا کہ جس کے ذریعے سے نبی امیہ کی حکومت کی جڑوں کو کاٹا جا سکے۔ اس کی بہترین مثال امام سجادعليه‌السلام کا شام کے دربار میں وہ خطبہ تھا کہ جس سے پریشان ہو کر یزید نے موذن کو اذان دینے کا حکم دیا یہی خطبہ تھا جس کے سبب اس کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ بغاوت نہ کر دیں آخر وہ کیا سبب تھا جس کی وجہ سے یہ تمام لوگ اس خدشہ کا اظہار کر رہے تھے یہ وہی آگاہی اور شناخت تھی اور احساس تھا کہ جس کی ذمہ داری امام سجادعليه‌السلام نے قبول کی تھا آپعليه‌السلام فرماتے ہیں :

جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا میں اس کو خود اپنی شناخت کروا دوں میں مکہ اور منیٰ کا بیٹا ہوں میں زمزم اور صفا کا بیٹا ہوں میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے حجراسود کو عبا کے چار گوشوں سے اٹھایا میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے احرام باندھنے کے بعد بہترین طواف اور سعی کی میں اس کا بیٹا ہوں جو انسانوں میں سب سے بہترین ہے میں اس کا بیٹا ہوں جو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے جایا گیا، میں اس کا بیٹا ہوں جو سدرة المنتہیٰ تک پہنچا، میں اس کا بیٹا ہوں جو آسمانوں کی سیر کے وقت حق سے اس قدر نزدیک ہوا کہ آواز آئی "قاب قوسین اوادنی" میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس پر خدائے بزرگ نے وحی نازل کی میں محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا بیٹا ہوں علی مرتضیٰعليه‌السلام کا بیٹا ہوں میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے مشرکوں سے اس قدر جنگ کی کہ زبان سے "لاالہ الا اللّٰہ"کہنے لگے میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے رکاب پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں دو تلواروں اور دو نیزوں کے ساتھ لڑائی کی اور ایک لمحہ کے لئے بھی خدا کی طرف کفر نہیں کیا میں اس کا بیٹا ہوں کہ جو مومنین میں صالح ترین، وارث پیغمبران ، کافروں کو نابود کر نے والا، مسلمانوں کا پیشوا اور رہبر، مجاہدوں کا نور ، عابدوں کا زیور و زینت ، گریہ کر نے والوں کا فخر ، صابروں میں صابر، بہترین جہاد کرنے ولاہے۔

میرے جد وہ ہیں کہ جن کے ساتھ جبرئیل ہے جن کا مددگار میکائیل ہے اور جو خود مسلمانوں کی ناموس کا حامی اور نگہبان تھا ، جس نے مارقین، ناکثین اور قاسطین کے ساتھ جنگ کی اور دشمنان خدا کے ساتھ جنگ کی۔ میں قریش کے بر ترین فرد کا بیتا ہوں کہ جس نے سب سے پہلے پیغمبر کی حمایت کی جو مسلمانوں میں سب سے آگے تھا، مشرکوں کو نابود کر نے والا، ولی امر خدا، حکمت الہیٰ کا باغ اور علم کا مرکز وہ تھا۔

میں فاطمہ الزہراء(علیہ السلام)کا بیٹا ہوں خواتین کی سردار کا بیٹا۔

یہاں پر امامعليه‌السلام نے اس قدر گفتگو کی کہ لوگ رونے لگے وہ شام کے لوگ جو علیعليه‌السلام کے دشمن تھے۔

ان تمام مراحل کو طے کرنے کے بعد امام کا دوسرا ہدف کر بلا کی تحریک کو زندہ رکھنا تھا لوگوں کو مظلومیت حسینعليه‌السلام کا احساس دلانا تھا اس کام کو آپعليه‌السلام نے ایسے انجام دیا کہ ہر جگہ کر بلا کا ذکر کرتے ۔ آپعليه‌السلام نے اپنی انگوٹھی پر بھی اس ہدف کے تحت عبارت کندہ کروائی جو یہ تھی کہ

"خَزِیَ وَ شَقِیَ قَاتِلُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِی "

رسوا اور بد بخت ہو جائے قاتل حسین بن علیعليه‌السلام ۔

حضرت امام صادقعليه‌السلام سے نقل کر تے ہیں کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا کہ امام سجادعليه‌السلام نے ۳۵ سال تک اپنے والد کے مصائب پر گریہ کیا اس مدت میں دن کو روزے رکھتے تھے اور جب افطار کے وقت کھانا لایا جاتا تو آپعليه‌السلام گریہ فرماتے اور کہتے:

" فرزند رسول اللہ کو بھوکا قتل کیا گیا! فرزند رسول اللہ کو پیاسا قتل کیا گیا

ایک دفعہ حضرت امام سجادعليه‌السلام بازار سے گزررہے تھے کہ ایک شخص کی آواز سنائی دی"انار جل غریب فارحمونی"میں غریب مرد ہوں مجھ پر رحم کیجئے۔ حضرت کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوئی آپعليه‌السلام اس کے قریب گئے اور پوچھا کہ اگر تقدیر میں یہ لکھا ہو کہ تم یہاں پر مر جاؤ تو کیا تمہارا جنازہ زمین ہی پر پڑا رہے گا اس نے جواب دیا اللہ اکبر کس طرح ممکن ہے کہ میرے جنازہ کو دفن نہ کریں جبکہ میں مسلمان ہوں ۔ امامعليه‌السلام منقلب ہو گئے اور فرمایا:

کس قدر افسوس کی بات ہے اے پدر بزر گوار حسینعليه‌السلام کہ آپ کا جنازہ تین دن تک بغیر دفن کے خاک پر پڑا رہا جب کہ آپ نواسہ رسول تھے۔ (مأساة الحسین تالیف شیخ عبدالوھاب ۱۵۲)


حضرت امام محمد باقر عليه‌السلام اور سیاست

امامعليه‌السلام کے زمانہ امامت میں بنی امیہ کے دو ایسے خلیفہ گزرے کہ جنہوں نے حکومت اسلامی میں علم کی ترویج کی۔ ولید بن عبدالملک اور عمر بن عبدالعزیز ۔ولید بن عبدالملک چونکہ خود زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اس لئے شاید اپنی کمزوریوں پر پر دہ ڈالنے کے لئے علوم و فنون کی ترویج کی۔ لیکن عمر بن عبدالعزیز نے دانستہ طور پر حکومت اسلامی میں علمی شخصیات کو رائج کیا۔

ان خلفاء کی وجہ سے امام محمد باقرعليه‌السلام نے حالات کو بہتر جانا کہ ایسے ماحول میں تعلیمات اسلام کو جو کہ ۱۰۰ سالہ دور میں مسخ ہو کر رہ گئی تھیں دوبارہ زندہ کیا جائے۔

ٍ اس تھوڑے سے عرصے میں ان خدمات کا ذکر نہیں کر سکتا کہ جو حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام نے انجام دیں لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم اسلامی مدرسہ جس میں شاگردوں کی تعدادچار ہزار تک پہنچی اور امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اپنے زمانہ میں چلا یا وہ حضرت امام باقرعليه‌السلام کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

اس زمانہ کے خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے حضرت سے واپسی پر مدینہ کے گورنر کو حکم دیا کہ امام باقرعليه‌السلام اور ان کے فرزند جعفر بن محمدعليه‌السلام کو شام کی طرف روانہ کر دو۔

حضرت مجبوراً اپنے فرزند ارجمند کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے اور دمشق پہنچے ہشام نے اپنا جاہ و جلال دکھانے کے لئے تین دن تک امامعليه‌السلام کو ملاقات کی اجازت نہ دی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تین دن تک امام کی عظمت کو کم کر نے کے حربے سوچتا رہا اور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ جب امامعليه‌السلام دربار میں داخل ہوں تو ان کے سامنے تیز اندازی کا ایک مقابلہ کرایا جائے اور امامعليه‌السلام کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی جائے اور اس طرح جب امامعليه‌السلام شکست کھا جائیں گے تو اہل دربار اس بات کا چرچا پورے شام میں کر دینگے ۔ جب امامعليه‌السلام دربار میں داخل ہوئے تو خلیفہ کے کچھ افراد تیر اندازی میں مشغول ہو گئے امامعليه‌السلام دربار میں تشریف فرما ہوئے کچھ دیر بعد خلیفہ نے امامعليه‌السلام کی طرف رخ کر کے کہا کہ کیا تیر اندزی کے مقابلے میں شرکت کر نا پسند کریں گے۔

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میرا تیر اندازی کا وقت گذر چکا ہے امام کا جواب سن کر تو خلیفہ کا اصرار اور بڑھ گیا اور خلیفہ نے امامعليه‌السلام کی طرف تیر کمان بڑھانے کا اشارہ کیا امام نے بھی بلاجھجھک تیر کمان لے لیا، پہلا تیر چلایا جو سیدھا نشانہ پر لگا دوسرا چلایا جو پہلے تیر کو چیرتا ہوا ہدف پر لگا تیسرا تیر چوتھا تیر یہاں تک کہ امامعليه‌السلام نے یکے بعد دیگرے نو تیر چلائے جو سب کے سب ہدف پر لگے یہ منظر دیکھنے کے بعد تمام درباری اور خلیفہ انگشت بدندان رہ گئے تھوڑی دیر کے بعد جب ہوش و ہواس بر قرار ہوئے تو خلیفہ نے امامعليه‌السلام کو مخصوص جگہ پر بیٹھنے کی دعوت دی اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد پوچھا کہ جعفر (حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام ) بھی آپ کی طرح تیر اندازی جانتے ہیں؟

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا:

"ہمارا خاندان اکمال دین اور اتمام نعمت کو جو الیوم اکملت کی آیت میں آیا ہے ایک دوسرے سے ارث میں لیتے ہیں اور زمین ہر گز ایسے افراد سے خالی نہیں رہے گی"۔(حمد بن جدید بن رستم الطبری۔ دلائل امامہ نجف منشورات المطبوعة الحیدریہ ۱۳۸۳ ھ (منشورات الرضی قم) صفحہ ۱۰۵)

دوسرا واقعہ عیسائیوں کے پادری کے ساتھ مناظرہ ہے کہ جب آپعليه‌السلام دربار سے نکل کر واپس جانے لگے تو دیکھا بہت سے افراد مجمع لگائے کسی کا انتظار کر رہے ہیں پوچھا تو معلوم ہوا کہ عیسائی ہیں جو کہ مختلف مقامات سے آئے ہیں اور اپنے مسائل کا حل لینے کے لئے پادری کے انتظار میں ہیں حضرت بھی ان افراد کے مجمع میں بیٹھ گئے جب پادری آیا تو اس کی توجہ حضرت کے نورانی چہرہ کی طرف مبذول ہوئی پوچھا مسلمانوں ہو یا عیسائی جواب ملا کہ مسلمان نادانوں میں سے نہیں ہوں پادری نے پوچھا پہلے میں سوال کروں یا تم امامعليه‌السلام نے فرمایا اگر چاہتے ہو تو سوال کرو پادری نے پوچھا کس وجہ سے مسلمان کہتے ہیں کہ اہل بہشت کھانا کھائیں گے لیکن ان سے کوئی اضافی چیز جسم سے خارج نہیں ہو گی کیا دنیا میں اس کی کوئی مثال ہے۔

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا: اس کی روشن مثال ماں کے رحم میں بچہ کی ہے جو غذا کھاتا ہے لیکن کوئی اضافی چیز جسم سے خارج نہیں ہوتی ۔

پادری نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا تم نے کہا تھا کہ دانشمندوں میں نہیں ہوں۔

امامعليه‌السلام نے فرمایا: کہ میں نے یہ نہیں کہا بلکہ کہا تھا کہ نادانوں میں سے نہیں ہوں۔

پادری نے کہا ایک اور سوال ہے امامعليه‌السلام نے فرمایاپوچھو اس نے کہا کس دلیل کی بنا پر کہتے ہو کی جنت کی نعمتوں میں جتنا خرچ کیا جائے کم نہیں ہو گا دنیا میں اس کی کوئی مثل ہے امامعليه‌السلام نے فر مایا ہاں ہے اس زمانہ میں اس کی روشن مثال آگ کی ہے اگر ایک چراغ کی لو سے ایک ہزار چراغ بھی جلا لو تو اس کی روشنی کم نہیں ہو گی۔

پادری نے جتنے سوال تھے کر ڈالے اور سب کے جواب حاصل کر لئے اور جب اپنے آپ کو عاجز دیکھا تو غصہ کر کے چلا گیا۔

اس واقعہ کے بعد اہل شام میں خوشی کا احساس پھیل گیا اور امام کا معنوی اثر بڑھ گیا ہشام نے امامعليه‌السلام کو تحفے تحائف بھیجے اور چونکہ امامعليه‌السلام کے معنوی اثر سے پریشان تھا اس لئے خط لکھا کہ آپ آج ہی مدینہ کے لئے روانہ ہو جائیں۔


امام جعفر صادق عليه‌السلام اور سیاست

امام جعفر صادقعليه‌السلام کے زمانے میں بنی امیہ اور بنی عباس اقتدار کی جنگ میں مصروف تھے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام کے والد بزرگوار حضرت امام باقرعليه‌السلام نے اسلام کی تعلیمات کو پھیلانا شروع کیا اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ دونوں نے اس زمانے میں پہلی اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ، تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

اس یونیورسٹی کا مقصد خالص اسلام کی ترویج تھا اس کے ساتھ ساتھ امام صادقعليه‌السلام نے اپنے زمانے کے خلیفہ کو یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ حکومت اور معاشرے کی رہبری ہمارا حق ہے۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے منصور دوانیقی کے زمانے میں جب کہ بنی عباس اپنی حکومت قائم کر چکے تھے لیکن حکومت کو مضبوط کر نے کے لئے ہر مخالف کو تہہ تیغ کر رہے تھے۔ حضرتعليه‌السلام نے اس وقت بھی اپنے اقوال کے ذریعے سے خلیفہ تک یہ بات پہنچائی کہ حکومت اور معاشرے کی قیادت ہمارا حق ہے اس کے ساتھ ساتھ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ان شیعان حید ر کرار کو جو ظلم و ستم کی وجہ سے یا پھر نادانی کی وجہ سے یہ سمجھنے لگے تھے کہ حکومت کوئی الگ چیز ہے اور دین ایک دوسری چیز، ان کے لئے بھی یہ بات واضح کر دی کہ حکومت حق ولایت ہے اور ولایت فقط ہمارے لئے ہے مثال کے طور پر امامعليه‌السلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ:

اسلام پانچ چیزوں پر قائم ہے نماز، زکوة ، حج، روزہ، اور ولایت۔

زرارہ نے امامعليه‌السلام سے سوال کیا ان میں سے بر تر کون سی چیز ہے؟

امامعليه‌السلام نے بلا جھجھک فرمایا:

"ولایت بر تر ہے کیونکہ ولایت تمام چیزوں کی چابی ہے اور حاکم، لوگوں کو ان کی طرف راہنمائی کر تا ہے"

(وسائل الشیعہ جلد ۱ صفحہ ۸۰۷)

کس وضاحت کے ساتھ امامعليه‌السلام نے ان افراد کو جو کہ یہ سوچتے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں یہ ثابت کر دیا کہ دین کا اجراء اور اس کا کمال حکومت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، حکومت ہی ہے جو کہ حاکم اسلامی کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ دین کا اجراء کماحقہ کر ے حکومت ہے جو کہ حاکم اسلامی کو یہ قدرت عطا کرتی ہے کہ وہ دین کے خلاف ہو نے والی ہر سازش کو ختم کر دے اس لئے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہر ظالم و فاسق شخص خلافت کے عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا متقی اور پر ہیز گار ہو نا ضروری ہے۔

اسی زمانے میں جب کچھ علماء نے بنی عباس کی حکومت کو اپنے فائدے حاصل کر نے کے لئے صحیح ثابت کر نے کی کوشش کی اور لوگوں کو سمجھانا چاہا کہ یہ حکومت صحیح ہے تو امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اس کے خلاف بھی اپنا جہاد شروع کیا اور اپنے اقوال کے ذریعے سے ایسے علماء کی مذمت کی جو ظالم اور جابر حکمرانوں کے دربار میں زندہ لاشوں کے عنوان سے جاتے تھے امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

فقہاء انبیاء کے نمائندہ ہیں اور جب بھی یہ فقہاء سلاطین کے دربار کے چکر لگا نا شروع کر دیں تو ان کو متہم کر و (یعنی اس کے صحیح عالم ہونے کے بارے میں شک کرو۔)(کشف الغمہ جلد ۲ صفحہ ۱۸۲)

کبھی امامعليه‌السلام نے اپنے درسوں میں یا اپنی تقریروں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ حدیث نقل کر نی شروع کر دی کہ:

"فقہاء اس وقت تک انبیاء کے نمائندہ ہیں جب تک دنیا ان پر حاوی نہ ہو جائے۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دنیا کب حاوی ہو گی تو فرمایا ظالم سلطان کی اطاعت کے وقت اور جب بھی تم ایسا دیکھو تو اپنے دین کو ان سے جداکر لو" (اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۴۲)

ایک دفعہ امام صادقعليه‌السلام بازار سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ عذافر دوکان پر کھڑے کچھ خرید رہے ہیں امامعليه‌السلام نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پوچھا عذافر سنا ہے کہ ابو ایوب اور ربیع (خلیفہ کے دو وزیر) کے لئے کام کر رہے ہو یاد رکھو قیامت کے دن تمہارا حال ان دو جیسا ہو گا سوچو اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم کو ظالم کی مدد کر نے والے کے نام سے آواز دے کر بلایا جائے گا یہ سنتے ہی عذافر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

امامعليه‌السلام نے پھر فرمایا کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا فقط اسی چیز سے ڈرا رہا ہوں جس سے خدا وند نے مجھ کو ڈرایا ہے۔

یہ کہنے کے بعد امامعليه‌السلام آگے چل دئیے عذا فراس قدر متاثر ہوئے کہ کہتے ہیں کہ آخر عمر تک غمگین و افسردہ رہے۔ (وسائل الشعیہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۸)

امام نے سربازار اپنے ماننے والے کی مذمت کر نے کے لئے اور ان کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے یہ بات کہی یقینا امامعليه‌السلام یہ بھی چاہتے ہوں گے کہ جو افراد اطراف میں کھڑے ہوئے ہیں وہ بھی یہ بات سن لیں کہ ظالم کی مدد کر نا ایسا ہی ہے جیسا کہ خود ظلم کر نا۔

ایک اور موقعہ پر امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

"جو کوئی یہ چاہے کہ ظالمین باقی رہیں وہ ایسے ہے کہ جیسے وہ چاہتا ہو کہ خدا کی معصیت اور نافرمانی ہو تی رہے۔

(وسائل شعیہ جلد ۲ صفحہ ۱۳۰)

ان اقوال کے ذریعے سے امامعليه‌السلام لوگوں کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے شیعہ یا ہمارے ماننے والے ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے کہ ہم ان ظالموں کو اقتدار سے ہٹا دیں تو ایسا نہیں ہے کہ ہم خاموش بیٹھ جائیں نہیں بلکہ ہمارا جہاد ظالموں سے جاری ہے اور وہ زبان کے ذریعے سے ہے جس کو ختم کر نے کا فقط ایک ہی طریقہ ہے کہ ہماری زبانوں کو کاٹ دیا جائے۔

امام صادقعليه‌السلام ہی کے زمانے میں بنی عباس کی حکومت کے قیام کے بعد لوگوں میں یہ باتیں کی گئیں کہ اگر یہ حکومتیں صحیح نہیں ہیں تو کم از کم ان کے ساتھ مل کر لوگوں کی فلاح و بہبود کا کام تو کیا جا سکتا ہے ۔ بہت سے سادہ لوح افراد اس دھوکہ میں آگئے اور حکومت کا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔ امامعليه‌السلام نے حکومت کی اس حکمت عملی کو بھی فقط اپنے اقوال کے ذریعے سے شکست دی امامعليه‌السلام نے ایک موقعہ پر ایک چھوٹا سا جملہ ارشاد فرمایا کہ

"حتیٰ مسجد کی تعمیر میں بھی ظالموں کی مدد نہ کرو"۔

(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۴)

حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام نے معاشرے میں پھیلے ہوئے ان افراد کی بھی مذمت کی جو دولت کے لالچ میں جانتے ہوئے بھی کہ یہ حکمران غاصب اور ظالم ہیں ان کی مدح و سرا میں مشغول تھے۔

امام گرامی قدر فرماتے ہیں کہ:

"اگر کوئی ظالم حکمرانوں کی مدح کر ے اور اس کی دولت کے لالچ میں عزت کر ے تو وہ شخص اسی ظالم کا پڑوسی ہوگا آخرت میں"۔

(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۳)

لمحہ فکر یہ ہے ہم لوگوں کے لئے کہ آج ہم اگر کسی ایسے شخص کی مدح کریں کہ جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ ظالم ہے لیکن کیونکہ وہ ہمارے ذاتی حقوق ہم کو دلادے گا یا پھر ہم کو کسی اچھی جگہ نوکری دلوا سکتا ہے اور ہم اس ظالم شخص کی مدح شروع کر دیں تو یاد رکھئے کہ ہماری جگہ بھی دوزخ میں ہو گی۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ائمہ (علیہم السلام) بار بار لوگوں تک یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ حکومت اور ولایت ہمارا حق ہے اور ہم ہی اس منصب کے اہل ہیں۔ اسی ضمن میں امامعليه‌السلام کی بھی سیاسی حکمت عملی کا تقاضہ یہی تھا کہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ اول اسلام سے لے کر انتہا تک جتنے بھی خلیفہ آئیں گے اگر وہ ہمارے علاوہ کوئی ہو تو غاصب ہے۔ ان نظریات کا اظہار ایسا تھا جیسے شیر کے منہ سے شکار چھین لینا امامعليه‌السلام نے حالات پر نظر رکھتے ہوئے اپنے بیانات اس طرح سے دیئے کہ افراد تک یہ بات پہنچ گئی اور وہ اس طرح سے ہوا کہ اس زمانے میں لوگ بنی امیہ یا بنی عباس کے خلفاء کو امیرا لمومنین کہہ کر پکارتے تھے ایک شیعہ نے آپ سے سوال کیا کہ کیا امام قائم (عج) کے ظہور کے بعد ان کو امیر المومنین کہہ کر سلام کر سکیں گے؟

امامعليه‌السلام نے اس سوال کے جواب میں ایک پورا نظریہ دیااور فرمایا:

"یہ نام مخصوص ہے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام سے ان سے پہلے نہ کسی کو اس نام سے پکارا گیا اور نہ ان کے بعد کسی کو اس نام سے پکارا جائے گا مگر کافر"۔

(اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۴۱۳)

امامعليه‌السلام نے کمال صراحت سے یہ بات لوگوں تک پہنچاد ی کہ جو بھی اپنے آپ کو امیرالمومنین کہلوائے وہ کافر ہے۔

اپنے آخر ی دور میں بھی امامعليه‌السلام نے سیاسی نزاکتوں کو سمجھااور اس کے توڑکے مطابق عمل کیا۔ منصور دوانیقی نے آپعليه‌السلام کو بے انتہا پریشانیوں میں مبتلا کیا اور کئی مرتبہ آپعليه‌السلام کو قتل کر نے کی دھمکی دی آپعليه‌السلام نے منصور دواینقی کی ان ہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وصی کی جان بچانے کے لئے ایک اور سیاسی حربہ استعمال کیا ۔

امام صادقعليه‌السلام نے اپنی وصیت میں اپنے پانچ وصی مقرر کئے۔

۱ ۔ ابو جعفر منصور دوانیقی خلیفہ وقت

۲ ۔ محمد بن سلیمان (مدینہ کا گورنر )

۳ ۔ عبداللہ افطح (آپعليه‌السلام کے فرزند)

۴ ۔ موسیٰ بن جعفر(آپعليه‌السلام کے فرزند)

۵ ۔ حمیدہ (آپعليه‌السلام کی زوجہ محترمہ)

البتہ یہ وصیت جیسا کہ پہلے عرض کیا سیاسی تھی کیونکہ امام صادقعليه‌السلام کے وصی اور جانشین امام موسیٰ کا ظمعليه‌السلام تھے۔

جب امامعليه‌السلام کے انتقال کی خبر منصور کو ملی تو اس نے اپنے ایک وزیر کو بلایا اور کہا کہ والی مدینہ کے نام خط لکھو۔

"یہ خط والی مدینہ محمد بن سلیمان کے لئے خلیفہ وقت منصور کی طرف سے ہے اگر جعفر بن محمد نے کسی خاص شخص کو اپنا وصی بنایا ہو تو اس کو اپنے پاس بلاؤ اور اس کا سر تن سے جدوا کر دو"۔

یہ خط والی مدینہ کے پاس پہنچا تو اس کا جواب کچھ یوں آیا کہ جعفر بن محمد نے پانچ افراد کو اپنا وصی بنایا ہے۔

۔ منصور دوانیقی۱

۲ ۔ محمد بن سلیمان

۳ ۔ عبداللہ افطح

۴ ۔ موسیٰ بن جعفر

۵ ۔ حمیدہ۔ (اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۳۱۰)

جب منصور کو یہ خط ملا تو اس نے کہا کہ

"میرے پاس ان افراد کو قتل کر نے کا کوئی راستہ نہیں "۔

(اعلام الوری صفحہ ۱۹۰)

ٍ اس کے علاوہ امامعليه‌السلام نے ایک اور وصیت بھی کی کہ میری وفات کے سات سال بعد تک حج کے ایام میں عزاداری امام حسینعليه‌السلام کی جائے اور اس عزاداری کے لئے آپعليه‌السلام نے اپنے مال کا کچھ حصہ مقرر فرمایا۔

یہ وصیت بھی سیاسی تھی کیونکہ ان مجالس کے ذریعے سے دوسرے افراد امامعليه‌السلام کی مظلومیت سے با خبر ہوتے اور ان کو پتہ چلتا کہ کس طرح امامعليه‌السلام پر ظلم ہوئے ہیں اور جب اس کے ذریعے ان کے دل اماموں کی طرف مائل ہوتے اور وہ ائمہعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں جستجو کر تے جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ لوگ باطل حکومت سے دوری اختیار کرتے اور صالح افراد لوگوں کے امور کو سنبھالتے۔


امام موسیٰ کاظم عليه‌السلام اور سیاست

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کا زمانہ امامت ۳۵ سال پر محیط تھا اور اس دوران چار عباسی خلیفہ گزرے جن میں سے ہارون رشید نے سب سے زیادہ خلافت کی اور اسی خلیفہ نے امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی اور سب سے زیادہ پریشان کیا لیکن اسکے باوجود امامعليه‌السلام کو جب بھی فرصت ملتی آپ حکومت کے خلاف سر گرم عمل ہوجاتے۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آگ کی توجہ اس نکتہ کی طرف مبذول کراوں کہ ائمہ اطہار(علیہم السلام)کی زندگی میں آپ کو اکثر واقعات بار بار پڑھنے کو ملتے ہیں اسکی وجہ یہ کہ ائمہ (علیہم السلام)کی سیاسی زندگی تقریباً ایک جیسی تھی کیونکہ ہر خلیفہ وقت کا ہدف ایک تھا اور وہ یہ کہ ان شخصیات کو کسی نہ کسی طرح لوگوں سے جدا کردیا جائے۔یہ شخصیات عوام سے اپنا رابطہ مضبوط نہ کرسکیں کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر ان کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

اس کے مقابلے میں ائمہ (علیہم السلام)کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو صحیح راستے کی نشاندہی کردی جائے ان کو کمال کا راستہ بتادیا جائے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ائمہ (علیہم السلام)نے کبھی بھی حکومت کو اپنے اور عوام کے درمیان روکاوٹ نہ بننے دیا ائمہ (علیہم السلام)نے چھوٹی ملاقاتوں میں جزئی مسائل کے جواب میں بھی لوگوں کی ہدایت فرمائی جیسا کہ پہلے امام صادق کا امیرالمومنین کے نام والا قصہ بیان کیا گیا کہ جس میں امام صادق نے ایک جزئی مسئلہ پر ایک کلی موضوع کوبیان کیا۔ان تمام اہداف اور مقاصد میں ائمہ (علیہم السلام)کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عوام کو بتایا جائے کہ یہ حکومت غیر قانونی ہے۔یہ خلیفہ غاصب ہیں اور اس منصب کے حق دار نہیں ہیں۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کی زندگی میں بھی ہمیں ایسے واقعات کثرت سے ملتے ہیں جو کہ اسی مقصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں تھے۔مثال کے طور پر امام موسیٰ کاظم کا ایک ماننے والا جن کا نام صفوان تھا ان کے پاس اس زمانے میں اونٹ ہوا کرتے تھے جس کو وہ قافلے والوں کو کرائے پر دیتے تھے ایک دفعہ حج کے زمانے میں ہارون رشید نے ان اونٹوں کوکرائے پر لیا امام کوجب اسکی خبرملی تو امام نے صفوان کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نے اپنے اونٹ ہارون رشید کو کرائے پر دئیے ہیں صفوان نے کہا جی مولا۔

امام نے فرمایا کہ پھر تو ضرور تمہاری یہ دعا ہوگی کہ جب تک اونٹوں کا کرایہ نہ مل جائے ہارون رشید اور اس کے دربار والے زندہ رہیں؟ صفوان نے جواب دیا جی مولا۔

امامعليه‌السلام نے فرمایا:

"جو بھی ان کی بقاء کی دعا کرے گا وہ ان میں سے ہے اور جو ان میں سے ہے اسکا ٹھکانہ جہنم ہے"

صفوان نے جب یہ سنا تو چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا توبہ کی اور اپنے اونٹ کسی کو بیچ دئیے

ہارون رشید کوجب اس کی خبرملی تو ہارون نے کہا کہ اگر صفوان سے پرانی دوستی نہ ہوتی تو اس کو پھانسی پر لٹکا دیتا۔(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۱ ۔ ۱۳۲)

اسی کے ذیل میں امام صادق اور امام کاظمعليه‌السلام کا ایک واقعہ ذکر کروں گا اور پھر جو چیز مقدمہ کے طور پر عرض کی گئی اس سے متعلق کچھ نتیجہ اخذ کریں گے۔

ایران کے شہر کا گورنر نجاشی تھا جو کہ شیعان اہل بیت میں سے تھا ایک دفعہ خلیفہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر اور پریشان ہوکر امام صادقعليه‌السلام کو خط لکھا اور اس میں حکومت کے ظلم وستم اورخلیفہ کی زیادتیوں کے بارے میں لکھا اور آخر میں امام سے درخواست کی کہ:

"میں یہ گورنری چھوڑنا چاہتا ہو ں کیونکہ ڈرتاہوں کہ میری آخرت کا کیا ہوگا آپ مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس مقام کو چھوڑدوں"

امامعليه‌السلام نے جواب میں تحریر فرمایا کہ:

تمہارا خط ملنے سے مجھے خوشی بھی ہوئی اور میں پریشان بھی ہوا خوشی اس وجہ سے ہوئی کہ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ:

"خدا سے امیدوار ہوں کہ خدا تمہارے ذریعے سے آل محمدکے بے آسرالوگوں کوپناہ دے آل محمد کے بے بس لوگوں کو تمہارے ذریعے سے عزت دے آل محمد کے غریب لوگوں کو تمہارے ذریعے سے غنی کرے، ضعیف لوگوں کو قوی کرے اور دشمن کی آگ کو ان کی نسبت تمہارے ذریعے سے کم کرے"

میری پریشانی کا سبب یہ کہ:

"سب سے چھوٹی چیز جس کی وجہ سے میں پریشان ہو ں وہ یہ ہے کہ خدا نہ کرے کہ تم ہمارے دوستوں میں سے کسی سے بھی برا سلوک کرو اور اسکے نتیجہ میں خطیرہ القدس کی خوشبو سے بھی محروم ہوجاو"(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۵۲)

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کے ماننے والوں میں علی بن یقطین نامی ایک شخص تھا جو کہ خلیفہ کے دربار میں وزیرتھا ایک دفعہ خلیفہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کو ایک خط لکھا کہ:

"خلیفہ کے ظلم وستم کی انتہا ہوچکی ہے میری برداشت سے باہرہے یہاں پر مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے میں روز قیامت کے حساب وکتاب کے بارے میں سوچ کر اور پریشان ہوجاتا ہوں اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہاں سے فرار ہوجاوں اور کہیں چھپ جاوں۔"

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام نے اسکے جواب میں تحریر فرمایا کہ:

"تم کو اجازت نہیں دوں گا کہ تم اس کام کو چھوڑدو جوکہ تم انکے دربار میں انجام دے رہے ہو بس خدا کو مت بھولنا"

(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۴۳)

اگر ہم پچھلے صفحوں پر ایک نظر ڈالیں تو ہم کو ایسے واقعات نظر آئیں گے کہ جس میں ائمہ (علیہم السلام)نے اپنے ماننے والوں کو خلفاء سے رابطہ برقرار کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن ان دو واقعات کی طرف نگاہ ڈالیں تو امام صادقعليه‌السلام اور امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام گورنر اور وزیر کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ حکومت چھوڑدیں وہ شخص جس نے اپنے اونٹ فقط کرائے پردے رکھے ہیں اس کواتنی مہلت بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنے اونٹوں کا کرایہ لینے تک انتظار کرلے یا اگر کوئی کسی ذریعے سے وزیروں کے لئے کام کررہا ہے تو فرماتے ہیں کہ اسکی جگہ دوذج میں ہے آخر اسکا کیا سبب ہے؟آیا یہ دومخالف سوچیں ہیں؟ آیا یہ ایک دوسرے کے مخالف عمل ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اسکا جواب کیا ہے؟

ان سوالوں کے جواب میں چند نکات بیان کروں گا جس کی بناء پر ائمہ اطہار(علیہم السلام) کے عمل میں یہ اختلافی چیزیں نظرآتی ہیں ان کی وجہ سے ائمہ (علیہم السلام)کے عمل میں کسی قسم کا کوئی تضادنہیں۔

وہ شخص جو کہ دربار میں یا حکومت کے ساتھ کام کررہاہے اسمیں مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہئیں۔

۱ ۔ متقی اور پرہیز گارہونا۔

۲ ۔ ولایت ائمہ (علیہم السلام)پر ایمان ہونا۔

۳ ۔ غریب اور نادار لوگوں کی مدد کرنا۔

ٍ ۴ ۔ صاحبان ایمان کادفاع اور ان کی حفاظت کرنا۔

ٍ ۵ ۔ راز دار رہنا۔

اسی ضمن میں ایک اوراہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتا چلوں اور ایک اورواقعہ حضرت امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں بیان کروں ۔

خلفاء بنی عباس کی تاریخ کے اندر ہمیں کچھ ایسے خلفاء بھی ملتے ہیں جو بڑے نرم دل تھے، اور انہوں نے جو مال ان سے پہلے والے خلفاء نے غصب کیا تھا وہ واپس کردیا تھا، من جملہ ان میں فدک بھی تھا جو کہ انہوں نے واپس کرنے کی حامی بھری اس سلسلے میں واقعہ بعد میں بیان کروں گا۔ جس نکتہ کی طرف آپکی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ نہیں ہے بلکہ وہ یہ کہ ان خلفاء کی نرمی اس وجہ سے نہیں تھی کہ وہ ائمہ اطہار(علیہم السلام) سے محبت کرتے تھے بلکہ پے درپے ظالم حکمرانوں کی وجہ سے عوام کے اندر غصہ بھرچکا تھا اور مختلف جگہوں سے حکومت کے خلاف تحریکیں شروع ہوگئی تھیں ان تحریکوں اور ان مخالفتوں کود بانے کے لئے خود حکومت کے مشیر ایسے خلیفہ کو چنتے تھے جو کہ کم ظلم کرے اور لوگوں کے غصب شدہ حقوق ان کو واپس دے دے،’اور یہی افراد جب دیکھتے تھے کہ عوام کا غصہ کم ہوگیا تو خود ہی اس خلیفہ کو زہر دے کرماردیتے تھے۔

مہدی عباسی(بنی عباس کا تیسرا خلیفہ)نے اپنے آباء واجداد کے گناہ پرپردہ ڈالنے کیلئے اور آزادی کی تحریکوں کو ختم کرنے کے لئے تخت پر بیٹھنے کے بعدعام اعلان کیا کہ اگر کسی کا حق میری گردن پر ہے وہ آکر اسکا مطالبہ کرے تو اسکا حق اس کو واپس لوٹادیا جائیگا۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام نے جب یہ اعلان سنا تو مہدی عباسی کے پاس گئے اس وقت مہدی عباسی لوگوں کے حقوق ان کو واپس کرنے میں مشغول تھا۔

امامعليه‌السلام نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:

"کیا ہمارے چھنے ہوئے حقوق ہم کو واپس نہیں دیئے جائیں گے؟

مہدی عباسی نے کہا: آپ کے حقوق کون سے ہیں ۔

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا کہ "فدک"

مہدی نے کہا کہ فدک کی حدود معین کر دیں تو میں فدک آپ کو واپس پلٹا دوں گا۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا :

" فدک کی پہلی حدا حد کا پہاڑ ہے اس کی دوسری حد عریش مصر ہے اس کی تیسری حد خزر کے ساحل تک ہے اور اس کی چوتھی حد عراق اور شام ہے۔ (یعنی تمام حکومت اسلامی) "

مہدی عباسی نے تعجب سے پوچھا کہ یہ فدک کی حدود ہیں!

امام کاظمعليه‌السلام نے فرمایا :ہاں

یہ سن کر مہدی عباسی اس قدر غصہ میں آیا کہ غصہ کے آثار اس کے چہرے سے عیاں تھے کیونکہ امام موسیٰ کا ظمعليه‌السلام اس جواب کے ذریعے سے اس کو سمجھانا چاہتے تھے کہ حکومت اسلامی کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہو نی چاہیے مہدی عباسی وہاں سے اٹھ کر جانے لگا اور زیر لب کہہ رہا تھا کہ یہ حدیں بہت زیادہ ہیں اس کے بارے میں کچھ سوچنا پڑے گا۔ (بحار الانوار جلد ۴۸ صفحہ ۱۵۶)


امام رضا عليه‌السلام اور سیاست

حضرت امام رضاعليه‌السلام کا طرز زندگی بھی اپنے اجداد کی طرح تھا۔ آپعليه‌السلام نے بھی اپنی تمام زندگی ظالموں کے خلاف جہاد میں گزاری ، اور ان میں بنی عباس کے خلفاء سرفہرست تھے کہ جن کی خلافت کو آپعليه‌السلام نے کبھی بھی قانونی حیثیت نہیں دی۔

آپعليه‌السلام کے ایک صحابی سلیمان جعفری نے کہا کہ میں امامعليه‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ مامون کی حکومت سے تعلقات کے بارے میں آپعليه‌السلام کا نظریہ کیا ہے؟

حضرت امام رضاعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا:

"ان کی طرف عمداً اور جان بوجھ کر توجہ دینا گناہ کبیرہ میں سے ہے اور اس کی سزا آتش دوزخ ہی"

وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۸ بحار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۳۷۴

کیونکہ امام رضاعليه‌السلام نے ولی عہدی کو قبول کر لیا تھا اس لئے بعض افراد کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو تاتھا لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت امام رضاعليه‌السلام نے کیوں ولی عہدی کو قبول کیا؟

اسلامی سلطنت میں بڑھتی ہوئی اسلامی تحریکوں کو دیکھ کر مامون کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اب حکومت کو خطرہ لاحق ہے ، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ حضرت امام رضاعليه‌السلام مدینہ میں تھے اور آپعليه‌السلام کا رابطہ عام لوگوں سے مضبوط تھا مامون نے اس رابطے کو توڑنے کے لئے اور آپعليه‌السلام کو زیر نگرانی رکھنے کے لئے ایک چال چلی ۔

خراسان سے مدینہ خط بھیجا کہ میں حکومت کے تمام امور آپعليه‌السلام کو سونپنا چاہتا ہوں اس لئے آپعليه‌السلام خراسان تشریف لے آئیے ۔

مدینہ کے گورنر نے حالات کو کچھ اس طرح سے بنایا کہ امامعليه‌السلام کو اپنی مرضی کے بغیر مدینہ چھوڑنا پڑا(البتہ تمام ائمہ اطہارعليه‌السلام کے لئے مدینہ چھوڑنا بہت مشکل ہو تا تھا کیونکہ وہاں پر رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور حضرت زہرا(علیہ السلام) کی مطہر اور منور قبریں ہیں )۔

جب حضرت امام رضاعليه‌السلام مامون کے پاس پہنچے تو مامون نے آپعليه‌السلام کو خلافت کی پیشکش کی۔ آپعليه‌السلام نے بڑی سختی سے اس کو رد کر دیا تقریباًدو ہفتہ تک اس گفتگو کا سلسلہ جاری رہا ایک دن مامون نے کہا کہ میں خلافت سے استعفاء دینا چاہتا ہوں اور خلافت کے امور آپعليه‌السلام کے ہاتھ میں سونپنا چاہتا ہوں ۔

امامعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

"اگر یہ خلافت تمہاری ہے اور خدا نے اس کو تمہارے لئے قرار دیا ہے تو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو لباس خدا نے تمہارے لئے سیا ہے تم اسے دوسرے کو پہنا دو اور اگر خلافت تمہاری چیز نہیں ہے توجائز نہیں ہے کہ جو چیز تمہاری نہیں ہے اس کو مجھے دے دو۔عیون اخبار الرضا جلد ۲ صفحہ ۱۳۹ ، ۱۴۰

مامون کا زور بڑھتا گیا اور آپعليه‌السلام کا انکار اپنی جگہ پر رہا مامون آپ کا انکار دیکھ کر کچھ نرم ہوا اور آپعليه‌السلام کو جانشینی کی پیشکش کی۔ آپعليه‌السلام نے اس کو بھی قبول کر نے سے انکار کر دیا مامون نے بہت زور دیا آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس گستاخ نے کہا کہ اگر آپعليه‌السلام نے جانشینی قبول نہیں کی تو میں آپعليه‌السلام کو قتل کر دوں گا۔

امامعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ:

خدا نے مجھ کو منع کیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالوں اور اب جب کہ تم زبردستی کر رہے ہو تو میں اپنی شرائط کے ساتھ جانشینی کو قبول کروں گا:

۱ ۔ کسی کو کسی کے مقام سے ہٹاؤں گا نہیں اور کسی کو کسی کے مقام پر فائز نہیں کروں گا۔

۲ ۔ فتویٰ نہیں دوں گا۔

۳ ۔ قضاوت نہیں کروں گا۔

۴ ۔ وہ چیز جو کہ قائم ہے اس کو تبدیل نہیں کروں گا۔

(مناقب آل ابیطالبعليه‌السلام جلد ۴ صفحہ ۳۶۳)

یہ شرائط اس بات کی مکمل نشاندہی کر رہی ہیں کہ امامعليه‌السلام نے مامون کی سیاست کو سمجھتے ہوئے اس کا جواب دیا مامون یہ چاہتا تھا کہ حضرت امام رضاعليه‌السلام کو حکومت میں لاکر یہ ثابت کر دے عام مسلمان کے لئے کہ میری حکومت قانونی ہے اور شرعی ہے لیکن امامعليه‌السلام نے اس کے مقابلے میں اپنی خاص روش اختیار کی اور یہ بات سمجھا دی کہ میرا مامون کی ظالم حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور جانشینی فقط ایک عنوان کی حیثیت رکھتی ہے۔

امامعليه‌السلام نے اپنی روش کے ذریعے سے دو چیزوں کی وضاحت کی۔

ٍ ۱ ۔ امامعليه‌السلام مامون کی حکومت سے راضی نہیں تھے۔

۲ ۔ جانشینی کو قبول کر نا ظاہری تھا کیونکہ امامعليه‌السلام کی نظر میں آپ کا زندہ رہنا معاشرے کے لئے ضروری تھا اور اس زمانے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں امامعليه‌السلام نے یہ بات صریحاً بیان کر دی تھی کہ میں تم سے پہلے دنیا سے چلا جاؤں گا (یعنی مجھے جانشین بنا نا بے معنی ہی)امامعليه‌السلام نے جانشینی کو قبول کر نے کے بعد محروم اور نادار فقراء اور مساکین کی تاحد امکان مدد کی اور ان کے حقوق ان کو دلوائے۔

اپنی مفصل نشستوں میں شیعہ مذہب کی حقانیت کو ثابت کیا اور تشیع کے اصولوں کو جو کہ دراصل خالص اسلام کے اصول ہیں روشن اور واضح کیا اور ان کو پھیلایا جس کی وجہ سے شیعت کو عروج ملا اور بہت سے علاقوں میں شیعت پھیل گئی یہی مسائل تھے کہ جو آگے چل کر اس بات کا سبب بنے کے آپعليه‌السلام کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

ان تمام شرائط کے با وجود امامعليه‌السلام نے مامون کی سیاست کو سمجھا اور اس کو موقعہ پر ختم کر دیا اور اس کے مقابل اپنے آپعليه‌السلام کوجھکا یا نہیں ، لیکن اگر امامعليه‌السلام ان تمام چالاکیوں کے سامنے سادگی سے بیٹھے رہتے اور سیاسی مسائل کو سمجھتے تو شاید وہ واقعات پیش نہ آتے جو کہ تاریخ میں ثبت ہوئے۔

ان تفصیلات کے ذیل میں ایک واقعہ بیان کر تا چلوں کہ کس طرح سے امام رضاعليه‌السلام نے مامون کی مخالفت کی ہے امامعليه‌السلام کو مدینہ اور حجاز سے یہ خبر دی گئی کہ وہاں پر مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے اور وہاں کے حکمرانوں نے بھی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔

ایک دن مامون ہاتھ میں لمبا چوڑا سا خط لئے امامعليه‌السلام کے پاس آیا اور اس خط کو پڑھا اس میں کابل کے اطراف کے کچھ علاقوں کی فتح کی خبر دی گئی تھی جب خط ختم ہو گیا تو امامعليه‌السلام نے مامون سے پوچھا کہ:

"کیا تم مشرک اور کافر قوموں کی کچھ زمین کو فتح کرنے کی وجہ سے خوش ہو؟"

مامون نے تعجب سے پوچھا آیا ان شہروں کی فتح خوشی کی بات نہیں ہے؟

امامعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

"امت محمد کے سلسلے میں خدا کے فرمان کی مخالفت سے پرہیز کرواور اسی طرح سے قیادت کے سلسلے میں بھی جو کہ تمہارے ہاتھ میں ہے کیونکہ تم نے مسلمانوں کے امور کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور عوام پر ایسے حکمرانوں کو مسلط کر دیا ہے جو کہ خدا کے فرمان کے خلاف کام کر تے ہیں اور تم یہاں پر بیٹھے ہوئے ہو اور مرکز وحی کو چھوڑ دیا ہے اور وہاں کے مظلوم عوام کی فکر میں نہیں ہو"

(عیون اخبار الرضا ج ۲ صفحہ ۱۵۹،۱۶۰)

یہاں پر امامعليه‌السلام نے مامون کو مبارک باد دینے کے بجائے اس کے نمائندوں کی بے عدالتی پر اس کو ڈانٹا اور مصلح کہنے کی بجائے ا س کوفاسد کہا۔

ائمہ اطہار (علیہم السلام) نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا کسی بھی زمانہ میں کسی بھی صورت حال میں ۔ ائمہ (علیہم السلام) کے ان ہی اصولوں میں مظلوم عوام کی حمایت تھی اور ان کی مدد کر نا تھی کبھی راتوں کو روٹیوں کی بوری کمر پر رکھ کر کبھی اندھے اور بوڑھے شخص کو کھانا کھلا کر ، کبھی جنگ کر کے اور کبھی درس و بحث کی محفلوں میں بیٹھ کر ، اس اصول کی حفاظت تمام ائمہ اطہار (علیہم السلام) نے اپنے حالات کے مطابق کی ۔ امام رضاعليه‌السلام نے بھی گو کہ سیاسی صورتحال سے اس قدر مضبوط نہ تھے مگر اس کے با وجود بھی کس قاطعیت اور یقین کے ساتھ آپعليه‌السلام نے ظالم حکمرانوں کے سامنے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی۔

ایک دفعہ ایک زاہد اور متقی شخص نے چوری کی اور وہ پکڑا گیا جب اس کو مامون کے دربار میں لایا گیا تو اس نے مامون سے بحث مباحثہ شروع کر دیا بحث نے طول پکڑایہاں تک کہ آخر میں مامون نے امامعليه‌السلام سے رائے معلوم کی امامعليه‌السلام نے کمال صراحت کے ساتھ مامون کے جواب میں فرمایا کہ:

"خدا نے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے کہا کہ "فللّٰہ الحجة البالغہ" "خدا کے لئے دلیل قاطع ہے(سورہء انعام : ۱۴۹) اور یہ حجت وہی ہے کہ جاہل اپنے جہل کے باوجود اس کو سمجھ لیتا ہے اور عالم اپنے علم کے ذریعے سے اس تک پہنچتا ہے اور دنیا اور آخرت حجت اور دلیل کی بناء پر ہے اور یہ مرد اس کے پاس بھی دلیل ہے"

یہ سننا تھا کہ مامون غصہ میں آگیا لیکن کیونکہ دربار میں تھا اس لئے اس زاہد کو رہا کر دیا اور لوگوں سے کنارہ گیری اختیار کر لی اور امام رضاعليه‌السلام سے بھی ملاقاتیں بند کر دیں یہی سبب تھا کہ اس نے امام رضاعليه‌السلام کو شہید کر وا دیا اس کے علاوہ امامعليه‌السلام کے بہت سے اصحاب کو بھی شہید کر دیا۔ (عیون اخبار الرضا جلد ۲ صفحہ ۲۳۷ ، ۲۳۸)

ائمہ اطہار (علیہم السلام)کی عملی زندگی کو اگر ہم دقت کی نظر سے دیکھیں یا کم از کم دیکھ ہی لیں تو پھر ہمارے لئے یہ سوال باقی نہ رہے کہ ہم کس شخصیت کو اپنے لئے معیار بنائیں کس روش کو اپنائیں کس تنظیم کو اختیار کریں ہمارے لئے راستہ روشن ہے صرف اس بات کی دیر ہے کہ ہم اس پر اپنی عملی زندگی میں عمل کریں ۔ اور سیرت ائمہ (علیہم السلام) کو یہ کہہ کر نہ چھوڑ دیں کہ ہم تو اس قابل نہیں اور یہ عمل تو فقط ائمہ (علیہم السلام)ہی انجام دے سکتے تھے اگر ہم یہ سوچ کر ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی کو چھوڑ دیں تو میرے خیال میں یہ سب سے بڑا ظلم ہو گا جو کہ ہم ان کے حق میں کریں گے۔


امام محمد تقی عليه‌السلام اور سیاست

امام محمد تقیعليه‌السلام ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۰۳ ئھ میں امام رضاعليه‌السلام کے بعد ۸ سال کی عمر میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ ائمہ اہل بیت (علیہم السلام)کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی امام کی امامت ۸ سال کی عمر میں شروع ہوئی ہو یا یوں کہہ لیجئے کہ بلوغ کی حدود تک پہنچنے سے پہلے امامت کے منصب پر فائز ہوئے ہوں (البتہ یہ آغاز تھا اس بات کا کہ باقی ائمہ (علیہم السلام) کوبھی کم سنی میں امامت ملے جسیے امام علی نقیعليه‌السلام اور خود امام زمانہ(عج)کہ ان حضرات(علیہم السلام) کو بالترتیب ۸ اور ۵ سال کی عمر میں امامت ملی )یہی وجہ تھی کہ امام رضاعليه‌السلام کی تاکید کے با وجود شیعوں میں بھی امام محمد تقیعليه‌السلام کی کم سنی اختلاف کا باعث بنی تو چہ جائے کہ شیعوں کے مخالف افراد، اسی وجہ سے حکومت کے کارندوں نے لوگوں میں یہ بات پھیلانا شروع کر دی محمد بن علی رضاعليه‌السلام میں امام بننے کی صلاحیت نہیں ہے اس طرح کی افواہوں سے حکومت کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو امام سے دور کر دیا جائے، لیکن امام محمد تقیعليه‌السلام نے اپنی کم سنی کے با وجود کیونکہ علم لدنی کے حامل تھے، خلیفہ کے اس جال کو بھی توڑنا شروع کر دیا آپعليه‌السلام نے اپنی علمی سر گرمیوں کو تیز کر دیا اور علمی محفلوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ۔

جب امامعليه‌السلام خلیفہ کے اصرار پر مدینہ سے بغداد تشریف لائے تو خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی کی شادی آپعليه‌السلام سے کر دی جائے تاکہ امامعليه‌السلام کی سر گرمیاں بھی زیر نظر رہیں اور شیعوں کے آنے جانے پر بھی نظر رکھی جا سکے لیکن خلیفہ نے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے دربار والے اس سے شکایت کر نے لگے کہ یہ تو ابھی کم سن ہیں اور اس کی معلومات دین کے متعلق کم ہیں خلیفہ نے کہا کہ اگر چاہتے ہو تو محمد بن علیعليه‌السلام کا امتحان لے لو (کیونکہ خود خلیفہ کی بھی یہی خواہش تھی کہ اگر ہو سکے تو کسی طرح سے امام کو شکست دے کر عوام کے سامنے رسواء کر دیا جائے)دربار کے علماء نے یحییٰ بن اکثم جو کہ مشہور اور نامی گرامی فقیہ اور قاضی تھا کو آمادہ کر لیا کہ وہ امامعليه‌السلام سے بھرے دربار میں ایسا سوال کر ے کہ امامعليه‌السلام اس کا جواب نہ دے سکیں ۔ جب امامعليه‌السلام دربار میں تشریف لائے تو یحییٰ بن اکثم نے خلیفہ سے اجاز ت لے کر امامعليه‌السلام سے سوال پوچھا کہ اگر محرم (جس نے احرام حج باندھا ہوا ہے) حرم خدا کی حدود میں کسی جانور کو قتل کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

امامعليه‌السلام نے ا سکے جواب میں اکثم سے سوال کیا کہ:

"محرم نے اس کو حرم میں شکار کیا ہے یا کسی اور جگہ؟ مارنے والا حکم کو جانتا تھا یا نہیں ؟ عمداً مارا ہے یا سہواً؟ آیا ابتداء اس کو مارا ہے یا دفاع کر تے ہوئے آیا شکار پرندوں میں سے تھا یا اس کے

علاوہ؟شکار چھوٹا تھا یا بڑا؟ شکاری اپنے عمل پر قائم ہے یا شرمندہ ہے؟ آیا شکار رات میں ہوا ہے یا دن میں ؟ آیا محرم حج عمرہ میں تھا یا حج واجب میں ؟"

یہ سوالات سن کر یحییٰ بن اکثم کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور تاریخ لکھنے والوں کے بقول گھبراہٹ کے آثار یحییٰ کے چہرے پر اس قدر واضح تھے کہ دربار میں موجود ہر شخص نے اس کو محسوس کیا جب یحییٰ امامعليه‌السلام کے سوال کا جواب نہ دے سکا تو خلیفہ نے امامعليه‌السلام سے درخواست کی کہ آپعليه‌السلام ہی اس کا جواب دے دیجئے تو امام نے اپنے سوال کا تفصیل سے جواب دیا ۔

معتصم عباسی خلیفہ کے زمانے میں کسی چور نے اپنی چوری کا خود سے اقرار کیا اور خلیفہ سے کہا کہ مجھ پر حد جاری کی جائے۔

خلیفہ نے علماء سے پوچھا کہ حد کا اجراء کہاں تک ہے قاضی احمد ابن داؤد نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ کلائی تک حد کا اجراء ہو۔

خلیفہ نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے اس نے کہا کہ تیمم کے بارے میں خدا وندکا ارشاد ہے کہ "وامسحوا بوجوھکم وایدیکم" اوربہت سے علماء اس سے متفق ہیں اسی دوران میں خلیفہ نے محمد تقیعليه‌السلام کو بلا بھیجا۔ کچھ دوسرے علماء نے اپنی رائے کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا کہنی تک کاٹنا ضروری ہے کیونکہ خدا کا ارشاد ہے کہ "ایدیکم الی المرافق" ان اختلاف آراء کے بعد معتصم نے امامعليه‌السلام سے دریافت کیا کہ اے ابو جعفرعليه‌السلام اس سلسلے میں آپعليه‌السلام کی کیا رائے ہے امام نے فرمایا کہ جو جماعت کہتی ہے معتصم نے کہا کہ آپعليه‌السلام اس کو چھوڑئیے میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اپنی رائے بتائیے امامعليه‌السلام نے فرمایا اب جب کہ تم نے مجھ کو خدا کی قسم دی ہے اس لئے یہ کہہ رہا ہوں کہ علماء نے جو رائے دی ہے اس سلسلے میں انہوں نے غلطی کی ہے ہاتھ کاٹنے میں واجب یہ ہے کہ ہتھیلی کو چھوڑ کر انگلیوں کو جڑ سے کاٹ دیا جائے معتصم نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ رسول خدا کا ارشاد ہے کہ سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے پیشانی ، دونوں ، ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں ،دونوں انگو ٹھے اگر چور کا ہاتھ کلائی یا کہنی سے کاٹ دیا جائے تو سجدہ کر نے کے لئے اس کا ہاتھ باقی نہیں رہے گا اور خدا کا ارشاد ہے کہ "ان المساجد للّٰہ۔۔۔"کہ جس سے مراد یہی سات اعضاء ہیں اور جو چیز خدا کے لئے ہوا س کو کاٹا نہیں جا سکتا معتصم امامعليه‌السلام کا جواب سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے یہی حکم جاری کیا ۔

اس طرح سے اس دور میں کہ جب منصب امامت کو کم سنی کا الزام لگا کر لوگوں سے دور کیا جارہا تھا امام محمد تقیعليه‌السلام نے عام درباروں اور محفلوں میں ان مسائل کا حل پیش کرکے لوگوں کے منہ بند کردیئے۔


امام علی نقی عليه‌السلام اور سیاست

اسلام کے ابتدائی دور میں اسلامی معاشرہ محدود تھا اسلامی تعلیمات عام تھیں اور لوگ اسلام کے گرد جمع تھے یہ اسلامی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے وہ عظیم ایثار اور فدا کاری انجام دی ۔ لیکن جیسے جیسے خود خواہ افراد حکومت کے منصب کو سنبھالنے لگے اور اسلامی تعلیمات سے دور ہونے لگے تو لوگوں کا اعتماد بھی حکومت پر سے اٹھ گیا بلکہ آہستہ آہستہ لوگوں نے حکومت کے خلاف اپنی تحریکیں شروع کر دیں ۔

حکومت کو ہر دور میں سب سے زیادہ خطرہ ائمہ (علیہم السلام)سے تھا یہی وجہ ہے کہ ہر خلیفہ نے ائمہ (علیہم السلام) کواپنے زیر نظر رکھا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات و سکنات کی تحقیقات کیں۔ امام علی نقیعليه‌السلام کے زمانے میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی امامعليه‌السلام کو زبردستی مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اس زمانہ کے دارالحکومت یعنی سامرہ میں بلالیا گیا تاکہ حکومت مکمل طور سے امامعليه‌السلام کی سر گرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ اسی انثاء میں حکومت اور خلفاء کی یہ بھی کوشش رہی کہ امامعليه‌السلام کی حیثیت کو لوگوں کے سامنے کم کریں اور اس ہدف کو حاصل کر نے کے لئے انہوں نے مختلف طریقے اپنائے لیکن امامعليه‌السلام نے کبھی اپنے علم سے کبھی زور امامت سے اور کبھی علم غیب کی مدد سے ان کے ان مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔

متوکل نے ایک دن ہندی جادوگر سے کہا کہ اگر وہ امامعليه‌السلام کو کھلے دربار میں بے عزت کر دے تو وہ اس کو منہ مانگا انعام دے گا۔ جادو گر نے کہا کہ امامعليه‌السلام کو کھانے پر بلاؤ اور ہلکی روٹیاں پکا کر امامعليه‌السلام کے سامنے رکھ دو اور مجھ کو امامعليه‌السلام کے برابر میں بٹھا دو باقی کام میرا ہے۔ متوکل نے تمام علماء اور دانشوروں کو کھانے پر مدعو کیا من جملہ امامعليه‌السلام کو بھی بلایا امامعليه‌السلام آنے سے منع کیا لیکن پھر مجبوراً آنا پڑا جب دسترخوان بچھایا گیا تو جادو گر کو امامعليه‌السلام کے برابر میں بٹھا دیا گیا امامعليه‌السلام نے جیسے ہی روٹی اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو روٹی پھدک کر آگے چلی گئی امامعليه‌السلام نے دوسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر ویسے ہی ہوا امامعليه‌السلام نے تیسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر روٹی پھدک کر آگے چلی گئی اس عرصہ میں تمام دربار یوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔

امامعليه‌السلام نے جب یہ منظر دیکھا تو دربار میں موجود ایک شیر کی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس جادو گر کو کھا جاؤ ۔ شیر تصویر سے باہر آیا اور جادو گر کو کھا کر واپس تصویر بن گیا یہ ماجرا دیکھ کر متوکل تو بیہوش ہو گیا اور باقی تمام افراد حواس باختہ ادھر ادھر فرار کر گئے جب خلیفہ کو ہوش آیا تو اس نے امامعليه‌السلام سے درخواست کی کہ اس جادو گر کو واپس کر دیجئے امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ کہنے کے بعد امامعليه‌السلام واپس تشریف لے گئے۔

معتصم عباسی نے اپنے زمانے میں اسلامی فوج میں عرب اور فارس کی تعداد کم کر کے ترکوں کو بھرتی کر نا شروع کیا اور کچھ عرصہ میں ترک افراد فوج میں اکثریت میں ہو گئے۔ اور ان کا اثرو رسوخ حکومت پر زیادہ ہو گیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ حکومت اپنی بقا کے لئے ان کی محتاج ہے تو انہوں نے حکومت پر اپنی خواہشات کو مسلط کر نا شروع کر دیا اپنے ارادہ اور خواہشات کی بناء پر ایک خلیفہ کو ہٹا کر دوسرے کو اس کا جانشین کر دیتے تھے صرف امام ہادیعليه‌السلام کے ۳۳ سالہ دور امامت میں ان ترکوں نے چھ عباسی خلفاء کو حکومت سے بر کنار کیا اور دوسرے کو اس کا جانشین مقرر کیا جب معتز خلیفہ خلافت کے منصب پر فائز ہوا تو اس نے دربار کے نجومیوں سے کہا کہ حساب کر کے بتائیں کہ حکومت کتنے عرصہ بر قرار رہے گی۔ دربار کے مسخرہ نے کہا کہ یہ تو میں بھی بتا سکتا ہوں تو دربار والوں نے اس سے پوچھا کہ کب تک خلیفہ کی حکومت قائم رہے گی تو اس نے جواب دیا کہ جب تک ترک چاہیں گے۔(الفحزی صفحہ ۲۲۰ تاریخ تمدن اسلامی جلد ۴ صفحہ ۱۸۰)

ترک اس قدر حکومت پر مسلط تھے اور امام محمد تقی ہادیعليه‌السلام بھی اس چیز کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ واثق کی حکومت کے دور میں عرب مخالفین کی سرکوبی کے لئے ترک کمانڈر کی زیر نگرانی فوج مدینہ بھیجی گئی ایک دن امامعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ چلو ذرا چل کر نزدیک سے اس ترک کمانڈر کے لشکر کو تو دیکھیں آپعليه‌السلام اپنے اصحاب کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوگئے اور لشکر کے گزرنے کا انتظار کر نے لگے فوج کا کمانڈر جو کہ ترک تھا جب وہاں سے گزرنے لگا تو امام نے اس سے ترکی زبان میں کچھ کہا وہ کمانڈر اپنے گھوڑے سے اتر اور امامعليه‌السلام کے پاؤں چومنے لگا جب وہ واپس جانے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا کہ اے شخص علی بن محمدعليه‌السلام نے تم سے ایسی کون سی بات کہہ دی کہ جو تم اس قدر شدت سے ان کے فریفتہ ہو گئے اس کمانڈر نے کہا کہ یہ آقا کون ہیں ؟

انھوں نے پو چھا کیوں۔

کمانڈر نے کہا کہ اس شخص نے مجھ کو اس نام سے پکارا ہے جس سے میرے گاؤں کے لوگ مجھ کو بچپن میں پکارا کر تے تھے اور کوئی بھی شخص اس نام سے آگاہ نہیں ہے۔ (انور البھیہ صفحہ ۳۰۰)


حضرت امام حسن عسکری عليه‌السلام اور سیاست

حضرت امام علی نقیعليه‌السلام اور امام حسن عسکریعليه‌السلام کو حکومت نے سامرہ بلوایا اس کی وہی سیاست تھی جو مامون نے امام رضاعليه‌السلام کے ساتھ چلی تھی وہ یہ کہ امام کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ اس مضبوط زنجیر کو توڑ دیں جو کہ امام اور ان کے حامیوں کے درمیان بن چکی تھی حکومت نے امام سے کہا تھا کہ آپ حکومت سے اپنارابطہ برقرار رکھیں گے جس کے لئے امام کو ہر پیر اور جمعرات کو دربار میں جانا ضروری تھا۔ حکومت نے بظاہر کچھ عرصہ کی قید کے علاوہ امامعليه‌السلام کو کوئی اذیت نہیں پہنچائی لیکن زمانے کی حالت کا اندازہ ہم مندرجہ ذیل واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔

علی بن جعفر حلبی کہتے ہیں کہ ہم چھاؤنی میں جمع تھے اور منتظر تھے امام کے، کیوں کہ ان کو دربار میں جانا تھا کہ اتنے میں مجھے ایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھا کہ:

"کوئی مجھ کو سلام نہ کرے کوئی تم میں سے مجھ کو اشارہ نہ کرے تم خطرے میں ہو"

یہ واقعہ بخوبی ہم کو حکومت کی سختی کے بارے میں بتاتا ہے کہ حکومت نے امامعليه‌السلام اور شیعوں کے روابط کو کس قدر کنٹرول میں رکھا تھا۔

امامعليه‌السلام نے حکومت کے ان ہی حربوں کو دیکھتے ہوئے اپنے بعد آنے والے امام کے لئے میدان فراہم کیا اور اصحاب کا ایک ایسا گروہ تیار کرلیا جو فقط خط و کتابت کے ذریعے سے آپعليه‌السلام سے رابطہ برقرار رکھتا تھا۔

آپعليه‌السلام نے تمام علاقوں میں اپنے وکیل مقرر کئے تھے جو علاقہ کے مسائل اور وہاں جمع ہونے والی رقم آپعليه‌السلام کے ان نمائندوں تک پہنچاتے تھے جن کا آپ سے رابطہ تھا اس سلسلے کی سب سے اہم شخصیت عثمان بن سعید عمری کی ہے جو امام زمانہ عج کے پہلے نائب خاص بھی تھے۔

خط بھیجنے کے لئے بھی امامعليه‌السلام کے مخصوص افراد تھے جن میں ایک ابو الدیان تھے وہ کہتے ہیں کہ:

میں امام حسن عسکریعليه‌السلام کا خدمت گزار تھا اور حضرت کے خطوط کو مختلف شہروں میں لے کر جاتا تھا آخری خط دیتے ہوئے امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ یہ خط مدائن لے کر جاؤ اور تم پندرہ دن میں واپس آؤگے جب پلٹو گے تو مجھ کو غسل دینے کی حالت میں پاؤگے ابو الدیان کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی پایا۔

امامعليه‌السلام نے اپنی وکالت کے جال کو منظم کیا اور اس کے دو مقاصد تھے۔

۱ ۔ شیعوں کی ہدایت راہنمائی کرنا، ان کی واجب رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں تاکہ دین کی حفاظت ہوسکے۔

۲ ۔ ایسے افراد کی پہچان کروانا جن پر آپعليه‌السلام مکمل اعتماد کرتے تھے تاکہ معاشرے میں ان کی شخصیت بنے۔

بہرحال یہ افراد آگے چل کر امام زمانہ (عج) کی غیبت صغری اور پھر غیبت کبریٰ میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔

اس طرح امامعليه‌السلام نے ایک ایسے زمانے میں کہ جب آپعليه‌السلام پر حکومت کی کڑی نظر تھی ایک ایسا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے جو امامت کی درپردہ شخصیت کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاسکے۔

نتیجہ

ائمہ اطہار(علیہم السلام)کی زندگی کو اگر ہم دقت کی نظر سے دیکھیں یا اس کا مطالعہ کریں تو پھر ہمارے لئے یہ سوال باقی نہیں رہے گا کہ ہم کس شخصیت کو اپنے لئے مثال (آئیڈیل) بنائیں کس روش کو اپنائیں کس تنظیم میں شمولیت اختیار کریں ہمارے لئے راستہ روشن ہے صرف اس بات کی دیر ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔ ائمہ (علیہم السلام)کی زندگی کے ان پہلوں کو نظر میں رکھ کر ہم کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری شخصیت بحثیت شیعہ کے کیا ہے؟

کہیں ایسا تونہیں کہ ائمہ (علیہم السلام)کی محبت ہماری زبانوں تک ہی محدود ہو یایو ں کہہ لیجئے کہ ہم سال کے کچھ ہی دنوں میں ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سال کے باقی حصہ میں ہماری زبان ان کے ساتھ مگر ہماری تلواریں (اعمال) یزید اور معاویہ کے ساتھ۔ سال کے باقی دنوں میں ائمہ (علیہم السلام)کی تعلیمات کا ہمارے آس پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اعمال بھی ائمہ (علیہم السلام)کے ساتھ ہوں تواس کا فقط اور فقط ایک ہی پیمانہ ہے اور ایک ہی میزان ہے اور وہ ہے عمل۔ہر شخص اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ کس کا ماننے والا ہے۔

ہم سیرت ائمہ اطہار(علیہم السلام)کویہ کہہ کر نہ چھوڑدیں کہ ہم تو اس قابل نہیں اور یہ عمل تو فقط ائمہ (علیہم السلام)ہی انجام دے سکتے تھے۔اگر ہم یہ سوچ کر ائمہ اطہار(علیہم السلام)کی عملی زندگی کو چھوڑدیں گے یہ سب سے بڑاظلم ہوگا جو کہ ہم خود ان کے چاہنے والے ائمہ اطہار(علیہم السلام)پر کریں گے

والسلام علینا وعلی عباداللّٰه الصالحین

( ۱۲ صفر المظفر ۱۴۱۵ ھ)


امر بالمعروف ونہی عن المنکر۱

ہجرت کا نواں سال تھاحضرت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اطلاع ملی کہ روم کے لشکر نے جس کی تعداد ۴۰ ہزار تھی مدینہ سے ۶۱۰ کلومیٹر دور تبوک کے مقام پر پڑاو ڈالا ہوا ہے اور مسلمانوں پر حملہ کی تیاری میں مصروف ہے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے جنگ کی تیاری کیلئے فوجی بھرتی کا اعلان کردیا مدینہ میں رہنے والے مسلمانوں نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ جنگ کی تیاری شروع کر دی لیکن ان افراد میں سے تین ایسے بھی افراد تھے جنہوں نے ان تمام تیاریوں سے اپنے آپ کو الگ رکھا اور پھر بعد میں جنگ کے لئے بھی نہیں گئے۔ یہ تین افراد کعب ابن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے البتہ یہ لوگ منافق یا مخالف اسلام نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس معاملے میں سستی سے کام لیا بے توجہی دکھائی۔

لشکراسلام نے جنگ کے لئے تبوک کی طرف کوچ کیا دشمن کو جب اسکی اطلاع ملی تو دشمن نے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا اس طرح سے اسلامی فوج پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قیادت میں جنگ کئے بغیر واپس آگئی۔

وہ تین افراد مدینہ میں پیغمبر کی خدمت میں حاضرہوئے اور ان سے جنگ میں شرکت نہ کرنے پر معذر ت چاہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا حتیٰ کہ ایک جملہ تک نہیں کہا اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا کہ کوئی بھی ان سے بات نہ کرے ان تین افراد کا سوشل بائیکاٹ شروع ہوگیا یہاں تک کہ ان کے گھرو الوں نے بھی ان سے بات کرنا چھوڑدی اس سوشل بائیکاٹ کا اس قدر دباو تھا کہ قرآن اس سلسلے میں فرماتا ہے۔

( حَتّٰی اِذَا اَضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضَ بِمَا رَحُبَتْ )

زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی۔

(سورةتوبہ آیت ۱۱۸)

جب انہوں نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی توسمجھ گئے کہ اب خدا کے علاوہ کوئی ہمارا حامی نہیں اور کوئی ہماری سننے والا نہیں ہے یہ سمجھ کر انہوں نے ایک دوسرے سے بھی رابطہ منقطع کرلیا اور بیابانوں کی طرف نکل گئے اور راز ونیاز اور استغفار میں مشغول ہوگئے۔ ۵۰ دن تک توبہ میں مشغول رہنے کے بعد خدا نے ان کی توبہ قبول کی اور سورہ توبہ کی ۱۱۸ نمبر آیت پیغمبر پرنازل ہوئی

( وَّ عَلَی الثَّلااَاثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاط حَتّٰیآا اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوْآ اَنْ لَّامَلْجَاَ مِنَ اللهِ اِلَّاآ اِلَیْهِط ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاط اِنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ )

"اور ان تینوں پربھی فضل کیا جو (جہاد) میں پیچھے رہ گئے تھے (اور ان پر سحتی کی گئی) یہاں تک کے زمین باجود اس وسعت کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں (تک) ان پر تنگ ہوگئیں اور ان لوگوں نے سمجھ لیا کہ خدا کے سوا اورکہیں پناہ کی جگہ نہیں۔ پھرخدا نے ان کو توفیق دی تاکہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں بے شک خدا بڑاتوبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔"

یہ سزا ہے ایسے افراد کی جوکہ مسلمانوں کے امور میں بے توجہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

اس واقعہ کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم ائمہ کی زندگی میں موجود ایک اورمشترک اصول کی طرف اشارہ کریں گے اور وہ ہے "امر با المعروف و نهی عن المنکر "

ائمہ اطہار(علیہم السلام)زندگی کے مختلف شعبوں میں لوگوں کو برائیوں سے روکتے تھے اور ان کے پھیلاؤ کے مقابلے میں رکاوٹ بنتے تھے۔ ائمہ (علیہم السلام) کی عملی زندگی میں بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ مقدمہ کے طورپر ایک بحث کو بیان کیا جائے۔

جنگ،جنگ کا لفظ سنتے ہی آپ کا ذہن سرحدوں پر ہو نے والی جنگ کی طرف جائے گا جس میں ٹینک اور توپوں کا آزادانہ استعمال ہوتاہے لیکن جب دشمن اپنے حریف کو پوری طرح زیر کرنا چاہتا ہو اور اس کو اپنا غلام بناناچاہتاہو تو پھر وہ تین طرح کی جنگیں تین مختلف محاذوں پر پے در پے شروع کرتاہے ۔

۱ ۔سیاسی جنگ ۲ ۔فوجی جنگ

۳ ۔ثقافتی جنگ۔

۱ ۔سیاسی جنگ

اس کے اندر دشمن کچھ پست فطرت یا نادان افراد کو مختلف چیزوں کا لالچ دے کر اپنا آلہ کار بنالیتاہے یہ افراد ظاہراً تو وطن پرست ہوتے ہیں لیکن باطن میں دشمن کے ساتھ ملے ہوتے ہیں یا پھر ایسے کام کرتے ہیں جو کہ دشمن کے فائدہ کے ہوتے ہیں ۔ان کا سب سے بڑا مقصد سیاسی بد امنی پھیلانا ہوتاہے یہ افرادمختلف عناوین سے معصوم لوگوں کو اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں اور ان کو اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں البتہ ان کی پہچان بڑ ی مشکل ہوتی ہے۔

۲ ۔فوجی جنگ

اس جنگ میں دشمن اپنی تمام قوت کے ساتھ اپنے حریف کے مد مقابل ہوتا ہے اور کسی بھی چالاکی سے گریز نہیں کرتا۔ اس کی کوشش فقط یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح بھی مد مقابل کو زیر کرلیا جائے ۔اس جنگ میں کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مورد حملہ قرار پانے والی قوم سختیوں کو برداشت کرے اور اتحاد اور ایمان کے ساتھ مد مقابل دشمن کا سامنا کرے۔

۳ ۔ثقافتی جنگ

یہ سب سے خطرناک جنگ ہے ۔فوجی جنگ کے مقابلے میں اس میں کسی قسم کا کوئی شور اور ولولہ دشمن کی طرف سے نہیں پایا جاتا اور دشمن نہایت اطمینان اور خاموشی کے ساتھ یہ کوشش کرتاہے کہ مد مقابل کے عوام کی فکر و سوچ کو ثقافتی حربوں سے مورد حملہ قرار دے اور اس کی سوچوں کو منحرف اور بے اساس بنادے۔

دشمن کی ثقافتی یلغار ایک شب خون کی طرح ہے اور ثقافتی قتل و غارتگری ہے جوکہ انسان کو اندر سے خالی کردیتی ہے وہ شخص جوکہ ثقافتی جنگ میں مغلوب ہوجائے وہ جسمانی طورپر زخمی نہیں ہے لیکن اس کی فکر اور سوچ مجروح و آلودہ ہے ۔ظاہری طور پر وہ دشمن کا اسیر نہیں ہے لیکن اندر سے جھوٹی اقدار وغیرہ کا اسیر ہے ۔ جنگ قیدی اپنی دلیری اور شجاعت کی وجہ سے قوم کیلئے مایہ افتخار ہیں جبکہ ثقافتی قیدی قوم کی شرمندگی کا سبب ہیں۔

جس طرح سے فوجی جنگ میں دشمن کے خلاف ہر ایک فرد کا حرکت میں آنا ضروری ہے اسی طرح سے ثقافتی جنگ میں بھی قوم کے ہر فرد کا حرکت میں آنا ضروری ہے اور اس موقعہ پر بے توجہی کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے۔البتہ بعض افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ فقط امام جماعت ، امام کعبہ یا علماء کا فریضہ ہے کہ وہ اس کے خلاف جہاد کریں یہ اسلام کے نقطہ نظر کے بالکل الٹ سوچ ہے اور تمام لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ زبانی ،عملی اور قلبی طور پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو انجام دیں ۔مختلف مناسب اور معقول طریقوں سے اس تباہی اور بربادی کے خلاف اٹھیں اوراس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک دشمن کی نابودی کا یقین حاصل نہ ہوجائے۔

قرآن اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر

قرآن میں امر بالمعروف و نہی ازمنکر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ۱۰ سے زائد مقامات پر اس کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خداوند کریم کی ذات سے لے کر ایک ایک فرد کوذمہ دار بنایاگیا ہے۔

"( وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُوٴْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍلازموقف یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللهَ وَ رَسُوْلَهط اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُهُمُ اللهُ اِنَّ اللهَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ) "

(سورئہ توبہ : آیت ۷۱)

مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے ولی (دوست)ہیں ایک دوسرے کو امربالمعروف ونہی ازمنکر کرتے ہیں اور نماز پڑھا کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں ،خدا اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں خدا بہت جلد اپنی رحمت ان پر نازل فرمائے گا خداوند عزیز و حکیم ہے۔

قرآن میں سب سے پہلے خود ذات خداوند کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

( اِنَّ اللّٰهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ) "

خدا عدل اور احسان کا حکم دیتاہے اور فحش اور ظلم و ستم سے منع کرتاہے۔

(سورئہ نحل :آیت ۹۰)

انبیاء(علیہم السلام) کے فریضہ کے بارے میں انکے اوصاف گنواتے ہوئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو ان کی صفات میں شمارکیاہے۔ارشاد ہوا:

"( یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ ) "

(سورئہ اعراف:آیت ۱۵۷)

صالح حکمران یعنی ائمہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کیلئے قرآن کا بیان کچھ یوں ہے:

"( اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ ) "سورئہ حج :آیت ۴۱

"خدا کے دوست وہ لوگ ہیں کہ جب بھی زمین پر ان کو قدرت دی جائے تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰة ادا کریں گے امربالمعروف ونہی عن المنکر کریں گے اور تمام کاموں کا اختتام خدا کے ہاتھ میں ہے"۔

مومنین کے وہ گروہ جو کہ اس امر کو انجام دیں قرآن میں اس کا بیان یہ ہے:

"( وَ لااَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَهُمُ الْبَیِّنٰتُط وَ اُولٰٓئِکَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ) "

(سورہ آل عمران : آیت ۱۰۴)

"تمہارے درمیان ایک گروہ ہوناچاہئے جوکہ نیک کاموں کی دعوت دے اور امر بالمعروف ونہی ازمنکر کرے اور یہی فلاح پائے ہوئے ہیں"۔

تمام کی تمام امت پر اس کام کو انجام دینا ضروری ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

"( کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ ) "

(سورہ آل عمران : آیت ۱۱۰)

"تم سب سے بہتر قوم کی حیثیت رکھتے ہو جو کہ لوگوں کے لئے آئی ہے کیوں کہ تم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کر تے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو"

ہر صالح فرد ہر مومن شخص ہر نیک آدمی کے لئے امر بالمعروف نہی عن المنکر کرنا ضروری ہے۔

قرآن میں دوجگہ پر ایسے مومن افراد کا ذکر ہوا ہے ایک مومن آل فرعون اور ایک مومن آل یٰسین جس کا تذکرہ قرآن یوں کر تا ہے:

"( وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌصلیقا مِّنْ ٰالِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَهٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلااًا اَنْ یَّّقُوْلَ رَبِّیَ اللهُ وَ قَدْ جَآئَکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ ) " (سورہ مومن : آیت ۲۸)

"وہ خاندان آل فرعون کا مومن مر د جس نے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا اور اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اس کو قتل کر و جس نے یہ کہا کہ میرا رب اللہ ہے جب کہ اس کے لئے وہ اپنے ساتھ محکم اور واضح دلیلیں تمہارے پر ور دگار کی طرف سے لایا ہے۔ "

"( وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ ٰیقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ ) " ( سورة یٰسین آیت ۲۰)

"مومن شخص دور سے آیا اور کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں خدا کے بھیجے ہوئے افراد کی پیروی کرو"۔

ان تمام آیات سے جو کہ اوپر بیان کی گئیں یہ بات واضح طور سے سامنے آجاتی ہے کہ اسلام کی نظر میں یہ دو فریضے اہمیت کے حامل ہیں اور تمام افراد، چاہے وہ انبیاء ہوں، چاہے صالح حکمران ہو ں ، چاہے مومنین کے گروہ اور چاہے تنہا ایک شخص ہی کیوں نہ ہو سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس فریضہ کو ترک نہ کریں اور کسی بھی لمحہ بے تو جہی کا اظہار نہ کریں ۔

آخر میں رسول گرامی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ایک حدیث نقل کر تا چلوں آپ فرماتے ہیں:

"خدا کسی امت کے تمام افراد کو ایک خاص گروہ کے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہیں کر تا مگر اس وقت جب تک لوگ اپنے درمیان منکرات کو دیکھیں اور نہی عن المنکر پر قدرت رکھتے ہوں مگر نہی عن المنکر نہ کریں تو خدا وند عام و خاص تمام لوگوں پر عذاب نازل کر تا ہے"۔ (تفسیر المنار ، جلد ۹ ، صفحہ ۶۳۸)

یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ عذاب سے مراد فقط دنیا کا عذاب یا آخرت کا عذاب نہیں ہے بلکہ اجتماعی، سیاسی ، اخلاقی اور اقتصادی عذاب بھی اس میں شامل ہیں


امربالمعروف ونہی ازمنکر ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی میں

ائمہ اطہار(علیہم السلام)نے جب کوئی تحریک شروع کی تو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے تھی ۔ اگر حکومت وقت سے جنگ کر نے کی قدرت تھی یا منکرات اس قدر بڑھ گئے تھے کہ قیام ضروری ہو گیا تھا تو ہمیں کر بلا کی وہ نہ بھولنے والی تحریک یاد آتی ہے جس کا مقصد خود امام حسینعليه‌السلام کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:

"میں نے ہوس اور جاہ طلبی کے لئے قیام نہیں کیا ہے میرا خروج اور قیام اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے ہے میں چاہتا کے نیکی کی دعوت دوں اور برائیوں سے روکوں"۔

(نفس المہوم۔ صفحہ ۴۵)

اور اگر قیام نہ کر سکے تو قول اور عمل سے یہ جہاد انجام دیا اور جابر سے جابر حکمرانوں کے سامنے حق گوئی کو ترک نہ کیا۔

شقرانی رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے آزادکر دہ غلام کا بیٹا تھا اسی وجہ سے خاندان نبوت سے آشنائی بھی تھی لیکن اس کے با وجود شراب پیتا تھا وہ خود نقل کر تا ہے کہ: ایک دفعہ منصور دوانیقی لوگوں میں تحفے تقسیم کر رہا تھا لوگوں کا ہجوم لگ گیامیں کسی کو نہیں پہچانتا تھا جس کے ذریعے سے یہ تحفہ حاصل کر تا ۔ دیکھا کہ امام صادقعليه‌السلام وہاں سے گزر رہے ہیں میں نے اپنی حاجت ان سے بیان کی امامعليه‌السلام نے اس کو قبول کر لیا اور آگے جا کر میرے لئے تحفہ لے لیا اور مجھ کو تحفہ دیتے ہوئے فرمایا:

"اے شقرانی نیکی ہر شخص سے ہو اچھی ہے مگر تم سے بہت اچھی کیونکہ تم سے ہماری نسبت ہے اور برائی ہر شخص سے ہو بری ہے لیکن تم سے ہماری نسبت ہے اس لئے بہت بری ہے"۔

انوار البھیہ صفحہ ۲۴۵

ایک دفعہ امام جعفر صادقعليه‌السلام حیرہ کے سفر پر گئے ہوئے تھے (حیرہ کو فہ اور بصرہ کے درمیان ایک شہر ہے )وہاں پر منصور دوانیقی بھی موجود تھا اور اس نے اپنے بیٹے کی ولادت کی خوشی میں جشن کا اہتمام کیا تھا امام صادقعليه‌السلام کو بھی نا گزیر وہاں پر جانا پڑا دسترخوان بچھا یا گیا اور مہمان کھانے میں مشغول ہو گئے اسی دوران کسی نے پانی مانگا تو پانی کے بجائے اس کو شراب پیش کی گئی جیسے ہی شراب کا جام اس کے ہاتھ میں دیا گیا ویسے ہی امام صادقعليه‌السلام اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے اور یہ فرماتے ہوئے جشن کی محفل کو ترک کر دیا کہ رسول خدا کا ارشاد ہے۔

ملعون ہے وہ شخص جو ایسے دسترخوان پر بیٹھے کہ جہاں شراب ہو۔

(فروع کافی جلد ۶ صفحہ ۲۶۸)

لمحہ فکر یہ ہے ہمارے لئے کہ کیا ہم کسی ایسی محفل میں ہوتے جس میں سر عام گناہ انجام پا رہے ہوں تو کیا ہم اس کو ترک کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم واقعاً امامعليه‌السلام کے پیرو کار ہیں تو ہمیں یہ کر نا پڑے گا۔

یعقوب سراج کہتے ہیں کہ ایک دفعہ امام صادقعليه‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ گہوارے کے نزدیک اپنے فرزند (موسیٰ کاظمعليه‌السلام ) سے باتیں کر رہے ہیں جب فارغ ہوئے تو میں ان کے نزدیک گیا۔ مجھ سے فرمانے لگے کہ اپنے مولا کے نزدیک جاؤ اور سلام کرو میں گہوار ے کے نزدیک گیا اور سلام کیا موسی بن جعفرعليه‌السلام جو کہ بچے تھے اور گہوارے میں تھے متانت کے ساتھ میرے سلا م کا جواب دیا اور مجھ سے فرمانے لگے کہ جاؤ جو نام کل تم نے اپنی بیٹی کے لئے چنا ہے اس کو تبدیل کردو اور پھر میرے پاس آؤ کیونکہ خدا اس قسم کے ناموں کو پسند نہیں کر تا ۔ امام صادقعليه‌السلام نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور اس کے حکم کے مطابق عمل کرو تا کہ ہدایت پاؤ یعقوب سراج کہتے ہیں کہ میں نے بھی فوراً اپنی بیٹی کا نام تبدیل کر دیا۔ (اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۳۱۰)

عام طور پر لوگ اس طرف توجہ نہیں کر تے اور بچوں کے نام رکھتے ہوئے بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں جب کہ بچوں کے ناموں کا ان کی شخصیت پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ نام کے چناؤ کے وقت اس بات کو ضرور مد نظر رکھیں کہ وہ خدا کو پسند ہو۔

موسی بن بکیر کہتے ہیں کہ حضرت امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کے حضور میں تھا اور کچھ دینار حضرت کے آگے رکھے ہوئے تھے آپعليه‌السلام نے ان میں سے ایک سکہ کو اٹھایا اور دو ٹکڑے کر کے مجھے دیتے ہوئے فرمایا:

"اس جعلی دینار کو کنوئیں میں پھینک دو تاکہ اس سے کوئی معاملہ نہ ہو سکے" (اصول کافی جلد ۵ ، صفحہ ۱۶۰)

امامعليه‌السلام کے پاس حکومت نہیں تھی لیکن پھر بھی امامعليه‌السلام کے لئے یہ بات قابل بر داشت نہ تھی کہ معاشرے میں لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی خیانت ہو ۔

حضرت امام رضاعليه‌السلام جب خراسان میں تشریف فرما تھے تو مامون کے حکم سے مختلف فرقوں کے علماء و اکابر مناظرہ کے لئے آتے تھے اور امامعليه‌السلام ان سے بحث و مناظرہ فر ماتے تھے۔ اسی طرح کی ایک نشت میں عمران صابی جو کہ نامور دانشمندوں میں سے تھا امامعليه‌السلام سے توحید کے سلسلے میں سوال و جواب کر رہا تھا ۔ اما معليه‌السلام محکم دلیلوں کے ذریعے سے اس کے نظریات کو رد کر رہے تھے بحث اور مناظرہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا نماز کا وقت ہو گیا۔ امامعليه‌السلام نے مامون کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا " اَلصَّلٰوةُ قَدْ حَضَرَتْ "نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ عمران صابی نے کہا:

"اے میرے مولا میرے سوالوں کے جوابات کو منقطع نہ کیجئے ورنہ میرا دل ٹو ٹ جائے گا"

امامعليه‌السلام نے عمران صابی کے اس جملہ کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور فر مایا: نصلی و نعود "نماز پڑھ کر واپس آجاؤں گا۔ "

امامعليه‌السلام اپنے اصحاب کے ساتھ اٹھے اور نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ سے بحث کا آغاز کیا۔

جب امام رضاعليه‌السلام کا قیام خراسان میں تھا ، تو کسی دور دراز علاقہ سے شیعوں کا ایک گروہ امامعليه‌السلام کی زیارت کے لئے آیا یہ لوگ کہنے کو تو شیعہ تھے مگر گناہوں میں آلودہ تھے تقریباً ایک مہینہ تک ان لوگوں کا خراسان میں قیام رہا اور ہر روز دو مر تبہ اما م کے گھر زیارت کے لئے جاتے تھے لیکن گھر کا دربان ان کو گھر میں داخل ہو نے کی اجازت نہیں دیتا تھا آخرتھک ہار کر ایک دن انہوں نے دربان کے ذریعے سے امام کے حضور پیغام بھجوایا کہ ہم بہت دور سے آپ کی زیارت کے لئے آئے ہیں اگر آپ سے ملاقات نہ ہوئی تو روسیاہ ہو جائیں گے اور جب وطن واپس پہنچیں گے تو لوگوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ہمیں ملاقات کی اجازت دے دیجئے ۔ دربان نے ان لوگوں کا پیغام امامعليه‌السلام کی خدمت میں پہنچادیا۔ امامعليه‌السلام نے ان کو اجازت دی جب انہوں نے امامعليه‌السلام کو دیکھا تو شکایت کی ۔ امامعليه‌السلام نے ان لوگوں کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا کہ یہ جو میں تم لوگوں کو اجازت نہیں دے رہا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ تم لوگ یہ دعوی کرتے ہو کہ تم شیعان علیعليه‌السلام میں سے ہو لیکن تم لوگوں کا کہنا غلط ہے۔ علیعليه‌السلام کے شیعہ تو حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام سلمان و ابوزر و مقداد و عمار جیسے لوگ تھے تم لوگ یہ دعوی ٰکر تے ہو کہ تم علیعليه‌السلام کے شیعہ ہو لیکن اپنے اکثر کاموں میں تم ان کی مخالفت کر تے ہو۔

یہ سنتے ہی ان افراد کے سر شرم کے مارے جھک گئے اسی وقت امامعليه‌السلام کے سامنے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور امامعليه‌السلام نے بھی ان کو بغل گیر کر لیا۔ (بحار الانوار جلد ۶۸ ، صفحہ ۱۵۸ ، ۱۵۹ سے اقتباس )

امام محمد تقیعليه‌السلام کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جو بہت خوش نظر آرہا تھا ۔ امامعليه‌السلام نے خوشی کا سبب دریافت کیا اس نے کہا کہ یا بن رسول اللہ میں نے آپ کے والد بزر گوار سے سنا ہے کہ "بہترین دن وہ ہے کہ جب انسان خدا کی طرف سے یہ توفیق حاصل کرے کہ اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ نیکی کر ے اور ان کی مدد کرے اور اس دن ضرور خوش ہو"میں نے آج دس نادار اور بے سہارا افراد جو کہ بال بچوں والے تھے ان کی مالی مدد کی ہے اور آج میں بہت خوش ہوں۔ حضرت نے فرمایا کہ ہاں ضرور خوش ہو لیکن اس شرط کے ساتھ کے اس نیکی کو تباہ و بر باد نہ کرو اس شخص نے کہا کہ کس طرح سے میں اس نیکی کو تباہ کر سکتا ہوں جب کہ میں آپ کے خالص شیعوں میں سے ہوں امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ اس آیت کی وجہ سے کہ جس میں ارشاد ہوتا ہے:

"( وَلااَا تَبْطُلُوا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی ) "

"اپنے صدقات کو جتانے اور تکلیف پہنچانے کی وجہ سے بر باد نہ کرو"

اس نے کہا کہ جن افراد پر میں نے احسان کیا نہ ان پر جتایا نہ ان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچائی ۔ امامعليه‌السلام نے فرمایا: یہاں پر مراد ہر قسم کی تکلیف ہے نہ فقط ان لوگوں کی جن کی تم نے مدد کی ہے تمہاری نظر میں ان کو تکلیف دینا عذاب کا سبب ہے یا فرشتوں کو جو کہ تمہارے اوپر مامور کئے گئے ہیں؟ یا ہم اھل بیت کو تکلیف پہنچانا؟ اس نے کہا کہ آپعليه‌السلام اہل بیت کو اور ملائکہ کو تکلیف پہنچنا حضرت نے فرمایا کہ تم نے مجھ کو تکلیف پہنچائی ہے اور تمہارا احسان اور نیکی سب بر باد ہو گئی۔ اس نے کہا کہ کیوں اور کس طرح؟

امامعليه‌السلام نے فرمایا: کہ یہی بات جو تم نے کہی کہ میں کس طرح اپنی نیکی کو بر باد کر سکتا ہوں جب کہ آپ کا مخلص شیعہ ہوں۔ امامعليه‌السلام نے پوچھا تم کو پتا ہے کہ ہمارا خالص اور مخلص شیعہ کون ہے؟ اس نے تعجب سے جواب دیا نہیں!

امامعليه‌السلام نے فرمایا:مومن آل فرعون، سلمان، ابوذر، مقداد اور عمار تم نے اپنے آپ کو ان افراد کے برابر سمجھا ہے کیا تم نے اپنی اس بات سے مجھ کو اور فرشتوں کو تکلیف نہیں پہنچائی اس نے کہا کہ: استغفراللّٰہ واتوب الیہ یا بن رسول اللّٰہ " تو پھر میں کیا کہوں؟ امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ:

تم کہو کہ "میں آپ کے چاہنے والوں میں سے ہوں آپ کے دوستوں کو دوست اور دشمنوں کو دشمن رکھتا ہوں۔ " اس نے کہا کہ میں یہی کہوں گا اور جو کچھ پہلے کہا اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کو یا فرشتوں کو تکلیف دوں اور میں نے توبہ کی ۔ حضرت نے فرمایا کہ ہاں اب تمہاری وہ نیکیاں جو بر باد ہو گئیں تھیں تم کو واپس مل گئیں ۔

متوکل خلیفہ عباسی کو جاسوسوں نے اطلاع دی کہ امام ہادیعليه‌السلام اسلحہ جمع کر رہے ہیں اور خلیفہ کے خلاف قیام کا ارادہ رکھتے ہیں متوکل نے حکم دیا کہ امامعليه‌السلام کے گھر پر رات میں چھاپہ مارا جائے اور وہ جس حال میں بھی ہوں ان کو میرے پاس لے آؤ۔ جب امامعليه‌السلام کو متوکل کے پاس لائے تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شراب پینے میں مشغول تھا اس نے کھڑے ہو کر اما معليه‌السلام کا ستقبال کیا اور اپنے برابر میں ان کو بیٹھنے کی جگہ دی اور امامعليه‌السلام کو شراب کا جام پیش کیا۔

اما معليه‌السلام نے فرمایا: ہر گز میرا گوشت و خون شراب سے آلودہ نہیں ہوا ہے تو متوکل نے کہا پھر کوئی شعر سنائیے۔ امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ مجھے زیادہ شعر حفظ نہیں ہیں متوکل نے زیادہ اصرار کیا تو امام نے چند شعر سنائے۔

باتواعلی قلل لجبال تحر سهم

غلب الرجال فما اغنتهم القلل

والستنزد بعد عز عن معاقلهم

فادوعا حفرا بئس مانزلوا

ناداهم صارخ من بعد ماقبروا

ابن الاسرته و الیبجاغن الحلل

ابن الوجوه التی کانت منعمة

من عونها تضرب الاستار الکلل

فافصح القبر عنهم حین ساء لهم

تلک الوجوه علیها الدور یقتل

قد طالما اکلوا دهرا وما شربوا

فاصحبوا بعد طول الدهر قد اکلوا

ترجمہ اشعار:

۱ ۔ظالم افراد پہاڑوں کی چوٹیوں پر سوتے ہیں اور اپنے لئے قوی ہیکل دربان اور نگہبان کا انتخاب کر تے ہیں تا کہ وہ ان کے لئے پہرہ دے سکیں لیکن جب موت ان کے پاس آتی ہے تو وہ دربان کچھ نہیں کر سکتے۔

۲ ۔ان کو ان کی پناہ گاہوں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے اور تاریک گڑھوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے ہاں یہ کیسی خراب جگہ ہے۔

۳ ۔اور جب دفن کر دیئے جاتے ہیں تو منادی ندا دیتا ہے کہ ہاں کہاں گئے وہ تخت و تاج اور شاہانہ لباس۔

۴ ۔کہاں گئے وہ چہرے جو ہمیشہ نازو نعمت میں رہتے تھے اور ہمیشہ تاج پہنتے تھے۔

۵ ۔قبر ان کی طرف سے جواب دے گی یہاں ہیں وہ چہرے کہ جن کو کھانے کے لئے کیڑے ایک دوسرے پر دوڑ پڑے ہیں، اور جو کیڑوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ۔

۶ ۔ایک زمانے تک کھانے پینے میں مشغول رہنے کے بعد اب یہ کیڑے مکوڑوں کی غذا بنے ہوئے ہیں۔

یہ شعر سننے کے بعد تمام افراد رونے لگے اور متوکل نے حکم دیا کہ اس شراب کی بساط کو اٹھا دیں۔ اور امام ہادیعليه‌السلام کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔


امر بالمعروف اور نہی ازمنکر کا طریقہ

ہر کام کو صحیح انجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بارے میں پوری طرح سے آگاہی حاصل ہو تاکہ صحیح نتیجہ تک پہنچا جا سکے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس کے صحیح راستہ سے اس کو انجام دیں ۔

امر بالمعروف کو نتیجہ تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ دو چیزوں کی پابندی کی جائے۔

۱ ۔ظاہری طریقہ ۲ ۔بنیادی طریقہ

۱ ۔ظاہری طریقہ

یعنی معاشرے کے ظاہری ڈھانچے کو محفوظ رکھا جائے مثلا اگر معاشرے میں لڑکیاں اور خواتین حجاب کی پابندی نہ کریں یا بے حجاب مجمع عام میں آنے لگیں تو نہی عن المنکر کے طور پر ان کو روکا جائے تا کہ معاشرے کی عفت محفوظ رہے ۔ ظاہری طریقے میں ضروری ہے۔

گناہ گار کو سمجھایاجائے اگر اہل منطق ہے تو دلائل کے ساتھ اگر نہیں ہے تو پھر آرام اور پیار سے اس سے یہ بات کی جائے۔

جیسا کہ سورہء نحل کی آیت ۱۲۵ میں لفظ "ھی احسن" استعمال ہوا ہے ۔ ارشاد ہے:

"حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ پرور دگا ر کی طرف دعوت دو اور ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے مناظرہ کرو"

حکمت: اشارہ ہے منطق ، دلائل اور عقلی راستوں کی طرف۔

موعظہ:اشارہ ہے محبت کے راستوں کی طرف۔

مجادلہ: اشارہ ہے مناظرہ اور دوستانہ گفتگو کے مختلف طریقوں کی طرف ۔

۲ ۔بنیادی طریقہ

یہ ایک گہرا اور بنیادی راستہ ہے جو کہ انسان کے اندر درست راستہ کی ضمانت فراہم کر تا ہے اس طرح ہے کہ گناہ اور انحراف اس کی زندگی میں اجنبی ہو جاتے ہیں ۔ جیسے صفائی کے مسئلہ میں جو کہ علاج سے پہلے ہے اگر انسان صفائی کا خیال رکھے تو بیمار نہیں ہو گا اور اگر ہو بھی گیا تو صفائی کے دوسرے طریقوں سے جیسے واکسینشن کے ذریعہ سے اس کو دور کر دیا جائے گا۔

اسلام میں صفائی وہ بنیادی راستہ ہے جو کہ انسان کو گناہ اور انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس راستہ میں چند امور کی پابندی ضروری ہے۔

۱ ۔خاندان کی تربیت

بچوں کی صحیح پر ورش والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گناہ کے نقصانات جسمانی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں اور اس کے مضر اثرات بھی بہت زیادہ ہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ڈاکٹر کی طرح ہر کسی کو اس کی بیماری کے مطابق نسخہ لکھ کر دیا جائے:

اگر بچپن ہی میں بچے کو واکسی نیٹ کر دیا جائے جیسے جسمی طور پر کیا جاتا ہے تو وہ پھر بڑے ہو کر گناہ نہیں کر ے گا۔

حدیث میں آیا ہے:

"ہر بچہ فطرت (اسلامی) پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں خدا رحمت کرے ان والدین پر جو اپنے بچوں کو صحیح راستے تک مدد کرتے ہیں"

(فرع کافی جلد ۶ صفحہ ۴۸)

حضرت امیرا لمومنینعليه‌السلام ارشاد فر ماتے ہیں:

"فرزند کا حق والدین پر یہ ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھیں ، ادب سکھائیں اورقرآن کی تعلیم دیں۔

(نہج البلاغہ حکمت ۳۹۹)

۲ ۔اچھی اور بری چیزوں کی پہچان

یعنی انسان پاک اور ناپاک آدمیوں کی شناخت رکھتا ہو اور اپنی روح کی سلامتی کے لئے ناپاک انسانوں سے رابط منقطع کر دے۔

رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں:

"انسان اپنے دوست اور ہم نشین کے دین پر ہوتا ہے"

(اصول کانی جلد ۲ صفحہ ۳۷۵)

حضرت امام محمد تقی جو ادعليه‌السلام کا فرمان ہے:

"بدکار شخص سے دوستی مت کرو کیونکہ وہ اس تلوار کی مانند ہے جس کا ظاہر خوبصورت ہے اور باطن برا ہوتا ہے "

(بحار جلد ۷۳ صفحہ ۱۹۵ )

اقسام امر بالمعروف و نہی عن المنکر

اور انہیں سے وہ لوگ کہ جو نہ زبان سے ، نہ دل سے اور نہ ہاتھ سے (نہی عن المنکر نہیں کر تے ہیں) وہ حقیقت میں مردہ ہیں اور زندوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں !"

(نہج البلاغہ حکمت ۲۷۴ )

کمترین مرحلہ قلبی یہ ہے کہ دل میں نیک آدمی سے محبت کر ے اور برے آدمی سے نفرت۔ جب اچھے آدمی سے ملے تو خوشی کے ساتھ اور برے آدمی ملے تو غصہ اور ناراضگی کی حالت میں ۔

اگر قلبی طور پر ظاہر نہ ہو تو پھر زبان کی باری ہے ۔ اور زبان کے تین مر حلے ہیں۔

۱ ۔حکمت دلائل ۲ ۔ نصیحت ۳ ۔مجادلہ

اگر زبانی طور پر اثر نہ ہو تو پھر عمل کی باری ہے جس کے مختلف مراتب ہیں کتاب چھپوانا، مقالہ نویسی، مدارس کا قیام، مراکز تربیتی ، دینی محافل دینی اور تبلیغ کے مراکز قائم کر نا اور برائی وگناہ کے ٹھکانوں کو ختم کر نا۔

اس امید کے ساتھ کہ ان واقعات کو پڑھ کر عام نوجوان یہ سوچ پیدا کریں کہ یہ تمام سیرت کے لائق تقلید ہیں یہ درست ہے کہ ہم رسول گرامی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح صادق وامین کی صفات پیدا نہیں کر سکتے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کہ ہم خیانت اور جھوٹ کو عام کرنا شروع کر دیں۔

ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی قابل تقلید ہے اگر ایسا نہ ہو تو فلسفہ امامت بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت ائمہ (علیہم السلام) پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرمائے


فہرست

ائمہ (علیہم السلام) اور سیاست ۴

فلسفہ دنیاداری ۴

سرمایہ دار قرآن میں ۵

۱ ۔ قارون ۔گناہ کا سبب اور برایہ کا نمونہ ۵

۲ ۔سلیمان عليه‌السلام ۔انسان کی نجات کا سبب اور سعادت کا نمونہ ۵

نتیجہ : ۵

ائمہ اطہار(علیہم السلام) اور سیاسی حکمت عملی ۶

حضرت امیر المومنین اور سیاست ۹

الف۔حضرت امیر المومنین عليه‌السلام کی سیاست یہ تھی کہ معاشرے کو اسلامی عدالت کے ساتھ چلایا جائے۔ ۹

ب۔ امام کی سیاست گمراہ افراد سے دوری ۱۰

ج۔ امام عليه‌السلام کی سیاست ،آزاد منش افراد کی حمایت ۱۱

حضرت امام حسن و امام حسین اور سیاست ۱۲

حضرت امام حسن عليه‌السلام اور سیاست: ۱۲

حضرت امام حسین عليه‌السلام اور سیاست ۱۲

کربلا: ۱۳

حضرت امام زین العابدین عليه‌السلام اور سیاست ۱۴

حضرت امام محمد باقر عليه‌السلام اور سیاست ۱۶

امام جعفر صادق عليه‌السلام اور سیاست ۱۸

امام موسیٰ کاظم عليه‌السلام اور سیاست ۲۳


امام رضا عليه‌السلام اور سیاست ۲۷

امام محمد تقی عليه‌السلام اور سیاست ۳۱

امام علی نقی عليه‌السلام اور سیاست ۳۳

حضرت امام حسن عسکری عليه‌السلام اور سیاست ۳۵

نتیجہ ۳۶

امر بالمعروف ونہی عن المنکر۱ ۳۷

۱ ۔سیاسی جنگ ۳۸

۲ ۔فوجی جنگ ۳۸

۳ ۔ثقافتی جنگ ۳۹

قرآن اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ۳۹

امربالمعروف ونہی ازمنکر ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی میں ۴۲

امر بالمعروف اور نہی ازمنکر کا طریقہ ۴۷

۱ ۔ظاہری طریقہ ۴۷

۲ ۔بنیادی طریقہ ۴۷

۱ ۔خاندان کی تربیت ۴۸

۲ ۔اچھی اور بری چیزوں کی پہچان ۴۸

اقسام امر بالمعروف و نہی عن المنکر ۴۹

ائمہ علیھم السلام اور سیاست

ائمہ علیھم السلام اور سیاست

مؤلف: سید افتخار عابد نقوی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 19