اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

مؤلف: آیۃ اللہ سید كاظم حائری
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


كتاب:اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

مؤلف : آیۃ اللہ سید كاظم حائری

مترجم / مصحح : انيس الحسنين

ناشر : ام ۔ اے ۔ تھیسس آف فقہ ومعارف كالج

زبان : اردو


مقدمہ مؤلف

( وَنُرِيدُ انْ نَمُنَّ عَلَي الَّذِينَ استُضْعِفُوافِي الْارْضِ وَنَجْعَلَهُمْ ائِمَّةً وَنَجْعَلَهُمْ الْوَارِثِينَ ) ۔(۱)

ہميشہ سے يہ گفتگو رہي ہے كہ حكومت كي بہترين شكل كون سي شكل ہے، اور حكومت كے وہ بنيادي اصول كياہيں جو انسانيت كو سعادت و خوشبختي سے ہمكنار كر كے انسانيت كو تاريخي ظلم وستم سے نجات دلاسكتے ہيں؟ غيرمسلم محققين عام طور پر اس بحث كے دوران دواہم عناصر سے غافل رہے ہيں جو بہترين طريقہ حكومت كي تشخيص ميں كليدي حيثيت كے حامل ہيں، اور وہ اخروي سعادت اور خوشنودي پرودگار كا حصول ہے۔

طويل تجربات كي روشني ميں يہ ثابت ہو چكا ہے اور وقت گزرنے كے ساتھ اس كي حقانيت مزيد نكھر كر سامنےآئے گي كہ دنياوي سعادت فقط ايسي حكومت كے سايہ ميں ممكن ہے جو خداوند متعال كي وحي اور احكام كي روشني ميں قائم كي جائے، وہ خدا جو بشريت كي مشكلات اور ان كے راہ حل سے مكمل طور پرآگاہ ہے، اخروي سعادت يا پروردگار كي خوشنودي كا حصول بھي بہ درجہ اولي خداوند متعال كے احكام كي پيروي كئے بغير ممكن نہيں ہے۔

آج ہم ديكھ رہے ہيں كہ دنيا ظلم و استبداد كے سمندر ميں غرق ہے اور اسے ہران تباہي و بربادي كے خطرات لاحق ہيں، حالانكہ دنياكے دانشوروں نے تاريخ كے طويل دور ميں حاصل ہونے والے معاشرتي تجربات كي روشني ميں حكومت كرنے كے مختلف طريقے اور متعدد نظام اوراسلوب بيان كئے ہيں، علاوہ برايں انسانيت كے آرام و آسايش كے تمام ترمادي وسائل بھي فراہم ہيں، اورصنعت و ٹيكنالوجي حيران كن حد تك ترقي كر چكي ہے، پھر بھي سختياں روز بروز بڑھتي جارہي ہيں اور بشريت گرداب ہلاكت ميں مزيد اسير ہوتي جارہي ہے ۔

جي ہاں يہ تمام (مادي ترقياں) بشريت كو تباہي و بربادي سے نجات دلانے كي صلاحيت نہيں ركھتيں لہٰذا ان حالات ميں ضرورت اس امر كي ہے كہ بارگاہ خداوندي ميں دست نياز دراز كريں اور اس كي پر نور آسماني تعليمات سے راہنمائي حاصل كريں۔

”جمہوريت“بنيادي طور پر سرمايہ دارانہ نظام حكومت پر استوار ہے اور جيسا كہ خود”جمہوريت“ پر اعتقاد ركھنے والوں كا ادّعاہے ”جمہوريت” معاشري كے تمام افراد كومكمل جمہوري حقوق عطا كرتي ہے جب كہ ماركسسٹ اشتراكي نظام فقط مزدور طبقے يا خود حكمران اشتراكي پارٹي كي جمہوريت كا نعرہ لگاتا ہے اور معاشري كے تمام طبقوں كي كامل آزادي كا مخالف ہےان كي نظر ميں محنت كش طبقے كي ڈكٹيٹر شپ قائم كرنا ضروري ہے، ماركسيزم معتقد ہے كہ فقط محنت كش طبقہ ہي ايك آئيڈيل اشتراكي نظام كي برقراري كي ضمانت فراہم كرتاہے، اور قوموں كو تاريخ بشريت كي ترقي يا فتہ ترين مرحلہ يعني اشتراكي نظام تك پہنچنے كے لئے آمادہ و تيار كرتا ہے، جب كہ معاشري كے دوسري طبقے اس ہدف كے حصول كي راہ ميں ركاوٹيں ايجاد كرتے ہيں اسے اپنے حقيقي راستے سے منحرف كرتے ہيں اور اس كے فطري عمل كے خلاف آواز اٹھاتے اور تحريك چلاتے ہيں۔

بنابر اين محنت كش طبقے كے علاوہ دوسري طبقات كو حكومت كے جمہوري حقوق نہيں ملنے چاہئے اور نہ ہي انھيں معاشري كے امور چلانے ميں شريك كرنا چاہئے، دنيا ميں رائج انسانوں كے ناپختہ افكار كے ايجاد كردہ نظام حكومت كے مقابل اسلام كا عالمي نظام حكومت ہے، جس كا بنيادي نعرہ يہ ہے كہ ”حكمراني كاحق خداوند متعال كي جانب سے ہي تفويض ہوتا ہے كيونكہ خداوند متعال ہي دنيا كا حقيقي حاكم ومالك اور قانون ساز ہے اور خدا كے علاوہ كسي دوسري كو حق حكمراني اور حق قانون سازي حاصل نہيں ہے۔

اسلام كے مطابق نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پيغام الٰہي پہنچانے كے ساتھ ساتھ امت كے پيشوا اور ولي وسرپرست بھي ہيں اور مومنين كي جانوں پر خود ان سے زيادہ تصرف كا حق ركھتے ہيں، ليكن نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي رحلت كے بعد نظام حكومت كس طرح كاہوگا؟

اس سلسلے ميں بعض شيعہ و سني محققين نے تفصيلي بحثيں كي ہيں اور كتابيں تحرير كي ہيں، بعض اہل سنت علماء اور صاحبان قلم كا دعويٰ ہے كہ ”شوري”يا منتخب افراد پر مشتمل ايك كميٹي كي حكومت خدا كي طرف سے معين ہونے والا نظام حكومت ہے، اس نظريہ كي تائيد ميں انھوں نے قران مجيد، سنت نبوي اور سيرت صحابہ سے دلائل بھي پيش كئے ہيں البتہ شوريٰ كي بنياد پر قائم ہونے والا نظام حكومت مغربي جمہوريت سے مكمل طور پر مختلف ہے، كيونكہ اسلامي نظام حكومت ميں بنيادي قوانين واحكام انتخابات يا عوامي نمائندوں كے تعين سے وابستگي نہيں ركھتے جب كہ جمہوريت ميں بنيادي قوانين كي بنياد انتخابات اور عوامي نمائندگي پر استوار ہے، اسلام ميں حكومت كے لئے اسلام كے مقرر كردہ اصولوں كے دائري ميں چلنا ضروري ہے كيونكہ اسلام كي رسالت تمام زمانوں اور تمام نسلوں كے لئے ہے، جہاں تك عالم تشيع كا سوال ہے، ان كا ايمان و عقيدہ ہے كہ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپني رحلت كے بعد كے لئے امت كے درميان ايك مستقل نظام امامت كو معين كر ديا ہے اور يہ امامت كا سلسلہ منصوص من اللہ ہے ۔

اس الٰہي نظام كي پہلي شكل امام علي بن ابي طالب عليہ السلام كي صورت ميں سامنےآئي جن كے متعلق متعدد شرعي نصوص موجود ہيں كہ انھيں نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے خدا كے حكم مطابق امت كا ولي اور احكام بيان كرنے والا پيشوا قرار ديا ہے، يہ سلسلہ الٰہي نص كے تحت يكے بعد ديگري بارہويں امام حضرت مہدي عليہ السلام تك چلتا رہا ہے جو اس وقت بھي لوگوں كي نظروں سے پوشيدہ، اور زندہ ہيں اور خدا سے رزق پارہے ہيں، جب دنيا ظلم وجور سے بھر جائے گى، خداوند متعال امام مہدي عليہ السلام بقيہ اللہ الاعظم عليہ السلام كے توسط سے حق و انصاف كي حكومت قائم كرے گا جس كے نتيجے ميں دنيا عدل وانصاف كا گہوارہ بن جائے گي۔

اب جب كہ شيعوں كے نزديك حكومت كي بنياد معلوم ہوگئي تو ظاہر ہے اسلامي حكومت سے متعلق ہماري بحث وگفتگو امام مہدي عليہ السلام كے زمانہ غيبت سے تعلق ركھتي ہے۔

شيعي دنيا كے علمي منابع وماخذ اور مكتب اہل بيت عليہ السلام كے بعض فقہاء و مجتہدين كے فتوؤں كي روشني ميں جو چيز سامنے آتي ہے وہ زمانہ غيبت ميں اسلامي نظام حكومت كا نظريہ ”ولايت فقيہ، ، ہے، البتہ مخصوص حالات جب مہيا ہو جائيں تو اس كو عملي جامہ پہنانا ضروري ہے (جب فقيہ ميں لازم شرائط و خصوصيات موجود ہوں) ۔

محترم قارئين كے پيش نظر يہ مختصر تحرير جمہوريت، شوريٰ اور ولايت فقيہ كے تقابلي جائزے پر مشتمل ہے۔

اس كتاب كے تين باب ہيں۔

باب اول: اس ميں جمہوريت اور ضمني طور پر ڈكٹيٹر شپ كے متعلق مختصر گفتگو ہوگي ۔

باب دوم: اس ميں شوريٰ كے متعلق بحث ہوگي۔

باب سوم: ولايت فقيہ سے متعلق بحثوں پر مشتمل ہے۔

دعا ہے كہ خداوند متعال ميري اس حقير كوشش كو شرف قبوليت بخشے اور اسے اپني خوشنودي كے حصول كي مخلصانہ كوشش قرار دے۔

وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب

السيد كاظم حائرى

۶ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ

____________________

۱. سورہ قصص آيت: ۵۔


باب اوّل: جمہوريت

حكومت كي ضرورت

كسي بھي معاشري ميں نظم و ضبط كے لئے ايك (حكومتي) ڈھانچے كي شديد ضرورت ہے جو زندگي كے مختلف شعبوں ميں ہم آہنگي ايجاد كرے اور قومي امور كي باگ ڈور سنبھالے تاكہ طرح طرح معاشرتي مسائل، ضروريات كو پورا كرنے كے وسائل كے درميان ہماہنگي قائم رہے، اور مفيد و كار آمد قوتوں كو جمع كركے انھيں صحيح رخ پر لگائے تاكہ وہ اپني توانائياں معاشري كے مصالح و مفادات كے حصول كي راہ ميں استعمال كر سكيں اسي طرح عدل وانصاف كي بر قراري اور دوسروں كے حقوق پر ڈاكہ ڈالنے والے ظالم و جابر افراد سے مقابلہ اس كاايك اہم كام ہے اس كے ساتھ ہي ساتھ ايك معاشرہ كو اس لئے بھي كسي (حكومتي) ڈھانچے كي ضرورت ہے كہ جب ايك مضبوط، مؤثر اور قدرتمند اجتماعى موقف كي ضرورت پيش آئے وہاں يہ (حكومتي) ڈھانچہ مختلف آراء وافكار ميں ہماہنگي ايجاد كركے ايك مؤثر اور قوي و مفيد موقف اختيار كر سكے ايسا موقف جو فيصلہ كن حقائق پر مبني اور قابل اثر ہو، اس كے علاوہ اور بھي ديگر امور ہيں جو ايك معاشرہ ميں حكومت كي شديد ضرورت كو نماياں كرتے ہيں اور كسي كے لئے شك و شبہ كي گنجائش باقي نہيں رہتي۔

جب ايك مختصر سے خاندان كو (جو عظيم معاشري كي ہي ايك بنيادي اكائي ہے) ايك ايسے سر پرست كي ضرورت ہوتي ہے جو خاندان كے تمام امور كي نگراني كر ے، مختلف افراد كے فرائض اور ان كے امور ميں ہماہنگي ايجاد كر سكے تو اس عظيم معاشري كے لئے جو مختلف سماجي اكائيوں، اور مختلف احساسات و جذبات اور مختلف افكار وخواہشات كے حامل گروہوں اور سياسي جماعتوں سے تشكيل پاتا ہے بدرجہ اولي ايك (حكومتي) ڈھانچے كي ضرورتي آشكار ہوجاتي ہے۔

ولايت (سرپرستي و حكومت)

يہ ايك اہم حقيقت جو تمام اعلي مرتبہ حكومتي عناصر يا حكومت ميں نماياں نظر آتي ہے يہ ہے كہ تمام حكام اور ارباب اقتدار ميں كچھ خصوصيات كا ہونا ضروري ہے تاكہ ان كي بنياد پر ان كا حكم نافذ ہو سكے وہ اپنے اہداف كي تكميل كر سكيں اور اپنے طريقہ كار اور اقدامات كے لئے جواز اور قانوني حيثيت ثابت كر سكيں۔

ظاہر ہے حكومت كو اپنے مقاصد كي راہ ميں معاشري كے افراد يا گروہوں كو زندگي كے مختلف شعبوں ميں بعض ايسے امور سے بھي منع كرنا پڑتا ہے كہ اگر حكومت منع نہ كرتي تو وہ ضروريہ كام انجام ديتے، اسي طرح ان كو بعض ايسے كاموں كي انجام دہي پر مجبور كرنا پڑتا ہے كہ اگر حكومت نہ ہوتي تو وہ ہرگز ان كاموں كو انجام نہ ديتے، چنانچہ اسي طرح كے امور كے لئے حكومت كو بعض اختيارات كي ضرورت ہے ۔

ياد رہے اخلاقي طور پر انسان پوري طرح آزاد ہے كہ وہ اپنے لئے كسي بھي راستے كا انتخاب كرے اور جو كام چاہے انجام دے، كيونكہ تخليقي طور پر انسان آزاد پيدا ہوا ہے كسي چيز كا چاہنا اور كسي چيز كا نہ چاہنا اس كي طبيعت اور فطرت ميں شامل ہے، معلوم ہواانساني ضمير انسان كي كسي كام سے نہيں روكتا اور نہ ہي اس كي آزادي كو سلب كرتا ہے مگر يہ كہ مندرجہ ذيل دو حالتوں ميں سے كوئي ايك پيش آجائے گي۔

۱) خدا كي طرف سے امر و نہى

انسان مومن خدا كے حقيقي مالك اور ولي و حكمران ہونے پر ايمان و يقين ركھتا ہے اور جانتا ہے كہ انسان كو خدا كے اوامر و نواہي كي نافرماني كا حق حاصل نہيں ہے اس عقيدہ كے پر تو ميں آگاہ و بيدار انساني ضمير انسان كو فقط اس حد تك آزادي عطاكرتا ہے كہ جہاں تك خدا نے اجازت دي ہے، دوسري الفاظ ميں ايك انساني ضمير انسان كو دوسري انسانوں كے مقابلے ميں تو آزادي وخود مختاري عطا كرسكتا ہے، خدا مقابلے ميںنہيں۔

۲) دوسروں كي آزادي

انساني ضمير حكم كرتا ہے كہ انسان كو اسي حد تك آزادي حاصل ہے كہ وہ دوسروں كي آزادي ميں خلل ايجاد نہ كرے لہٰذا جب بھي انسان اس حد سے آگے بڑھتا ہے اسے اس كا اپنا ضمير خبردار كرتا ہے كہ تم خطا كر رہے ہو اور اپني حدوں سے آگے بڑھ رہے ہو، ان دونوں حالتوں كے علاوہ كوئي اور وجداني قوت، فطري آزادي ميں ركاوٹ نہيں ايجاد كر سكتي جب كہ ہم ديكھتے ہيں كہ فطري طورپر حكومت تقاضا كرتي ہے كہ بہت سي آزاديوں كو نظر انداز كردينا اور صرف وجدان كے تقاضوں تك محدود نہ ركھنا ضروري ہے پابنديوں كا دائرہ اس اسے وسيع تر ہونا چاہئے۔

مثلاًحكومت بعض كاموں كو عمومي سطح پر ممنو ع كر ديتي ہے اور بعض امور (دوسروں كے خاطر) انجام دينے كا حكم ديتي ہے جيسا كہ ٹريفك وغيرہ كے قوانين ميں نظرآتا ہے دوسري(۲) طرف حكمراں جماعت (ايك ايسے معاشري ميں جو شخصي ملكيت كا قائل ہو) بعض اوقات مجبور ہوتي ہے كہ وہ لوگوں كي ملكيت كے دائروں كو محدود كردے مثلاً چيزوں كي قيمت معين كردے كہ اس كے مطابق فلاں جنس كي خريدو فروخت ضروري ہے۔

اس قسم كے اور بہت سے كام جو بظاہر شخصي ملكيت كے ساتھ ميل نہيں كھاتے اور اپنےمال پر اختيار باقي نہيں رہنے ديتے اب ايك ايسے معاشري ميں جو اس بات كاقائل ہے كہ لوگ اپني اشياء كےمالك ہيں اور ان ميں ہر قسم كے تصرف كا حق ركھتے ہيں اگر ارباب حكومت اس اختيار كو سلب كرنا چاہتے ہيں اور شخصي ملكيت كے خلاف حكم نافذ كرنا چاہتے ہيں تو حكومت كے لئے اپنے اقدامات كے جواز ميں كوئي راہ نكالنا ضروري ہے جس پر عوام اور حكومت دونوں متفق ہوں ۔

يہاں پر ايك اور نكتہ بھي قابل ذكر ہے كہ متعدد امور ميں حكومت كے لئے اس كے علاوہ كوئي چارہ كار نہيں ہوتا كہ لوگوں پر سختي كرے اور انھيں بعض ايسي پابندياں قبول كرنے پر مجبوركرے جن ميں لوگ آزاد رہنا پسند كرتے ہيں، يا لوگ اپنا فريضہ سمجھتے ہيں كہ ايك كام نہ كريں، ليكن حكومت مجبور كرتي ہے كہ يہ كام قومي اتحاد ويكجہتي كي خاطر يا كسي دوسري ھدف كے حصول كي خاطر ضرور كيا جائے، مثال كے طورپر حكومت سمجھتي ہے كہ ملك كي فوجي قوت كو قوي كرے تاكہ بيروني حملے كي صورت ميں پوري قوت سے دشمن پر كاري ضرب لگائي جاسكے اس دوران ممكن ہے ايك گروہ كا خيال ہو كہ فوجي بجٹ ميں اضافہ صحيح نہيں ہے كيوں كہ يہ اقدام ملك كي اقتصادي ترقي كي راہ ميں ركاوٹ بنے گا۔

اس ميں كوئي شك نہيں كہ ان حالات ميں حكومت اس گروہ كو ان كے حال پر آزاد نہيں چھوڑ سكتي كہ وہ اپنے خيال كے مطابق جو چاہيں كريں ليكن سوال يہ ہے كہ حكومت كو وہ حق اور ختيار كيسے ملا كہ جس كي بنياد پر لوگوں كو ان كي خواہشات و ميلانات كے خلاف موقف اختيار كرنے پر مجبور كرے چنانچہ اگر حكومت كا معاملہ نہ ہوتا تو افراد پر اس طرح كا دباؤ ڈالنا ممنوع ہوتا ۔مختصر يہ كہ يہ ممكن ہي نہيں ہے ايك معاشري ميں اعليٰ اختيار كي حامل حكمراں كو نسل موجود ہو اور اس كے باوجود معاشري كے تمام افراد ذاتي ملكيت كي بنياد پر ہرقسم كے تصرفات ميں شخصي طورپر آزاد ہوں، اور اپني ذاتي آراء و خواہشات كے مطابق جو روش اپنانا چاہيں، انتخاب كريں۔

بنابرايں ايك ايسي حكومت كا وجود ضروري ہے جو حكم دے كہ فلاں كام انجام ديا جائے اور فلاں كام انجام نہ ديا جائے جو قوانين و ضوابط معين كرے اور جو معاشري كوايك معين رخ عطاكرے، جب يہ ايك ناقابل انكار حقيقت ہے تو سوال پيدا ہوتا ہے كہ حكومت كو يہ حق كيسے حاصل ہوا ور ارباب اقتدار كي حكمراني كا سر چشمہ كيا ہو؟ كہ جس كي بنياد پر حكومت كو جائز قرار ديا جا سكے؟

اب ہم اس سوال كا”حكومت كي بنياد “يا”سر چشمہ ولايت” كے عنوان سے جائزہ ليں گے تاكہ معلوم ہو جائے كہ ايك حكومت كو عوام اور معاشري پر حكمراني اور تسلط واقتدار كا حق كيسے حاصل ہوتا ہے اور وہ كس حق كي بنياد پر لوگوں كي بنيادي آزاديوں كو قانوني دائروں ميں محدود كرتي ہے، اس منزل ميں يہ بحث ناگريز ہے كہ حكومت كو وسيع بنيادوں پر حكمراني و تسلط كا حق كہاں سے حاصل ہوا اور حكمراني و اقتدار كا وہ كون سا جواز ہے؟ جس نے اسے ايك ظالمانہ واستبدادي نظام حكومت سے الگ كر ديا ہے؟ !

حكومت كي اساس

كسي بھي حكومت كي برقراري كاتصور اس وقت تك نہيں كيا جا سكتاجب تك اس كي بنياديں دو اہم ستونوں پر استوار نہ ہوں ان دونوں ستونوں كا استحكام كہ جن كي حقيقت كو غير محسوس طور پر خود انساني ضمير دل كي گہرائيوں سے قبول كرتا ہے اور عوام كے درميان حكومت كي برقرار ي كے لئے ضروري ہے ۔

۱) جس كي طرف گذشتہ بحثوں ميں اشارہ ہو چكا ہے يعني حكومت كا كوئي محكم و استوار سر چشمہ ہونا بے حدضروري ہے تاكہ حكومت اپني ولايت اور اقتدار كا جواز اس سے حاصل كرسكے ۔

۲) دوسرا يہ كہ حكومت كا نفاذ اور حكومت كي پاليسياں اور منصوبے سماجي مصلحتوں اور بھلائيوں كے ساتھ ميل كھاتي ہوں۔

ڈكٹيٹر شپ اور جبر استبداد

اس منطقي بحث ميں ”ڈكٹيٹر شپ” جو جبرو استبداد پر استوار ہوتي ہے كوئي مفہوم نہيں ركھتي كيونكہ اس ميں اپنا اقتدار وتسلط برقرار ركھنے اور معاشري كو اپنے احكام و فرامين ماننے پر مجبور كرنے كے لئے ظلم و استبداد اور قوت وغلبہ كا سہارا ليا جاتا ہے، طاقت كي زبان كے علاوہ استبدادي حكومتوں كے حق ميں كسي قسم كي منطقي دليل پيش كرنا ممكن نہيں ہے كيونكہ ذكر شدہ دونوں ستونوں سے محروم ہوتي ہے نہ تو اس كو معاشري پر حكمراني كا كوئي قانوني و شرعي حق حاصل ہوتا ہے اور نہ ہي اس كے منصوبے اور پاليسياں سماجي اور معاشرتي بھلائيوں كے ساتھ ميل كھاتي ہيں ۔

يقينا بعض اوقات استبدادي حكومت بھي دعويٰ كرتي ہے كہ اس كے پاس انساني بنيادوں پر عقل و وجدان كو مطمئن كرنے والا حكمراني كاجواز اور دليل موجود ہے اور وہ يہ كہ ہم ظلم و ستم كے شكار لوگوں كو ظالم كے ظلم سے نجات دينا اور ظلم وستم كے ہاتھوں كو عدل و انصاف كي تلوار سے كاٹ دينا چاہتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم نے معاشري ميں بعض لوگوں پر بعض دوسري افراد كے ناروا سلوك كو ختم كردينے كے لئے حكومت سنبھالي ہے، يا اس قسم كي دوسري باتيں، اسي طرح يہ بھي ممكن ہے كہ اہل استبداد دعويٰ كريں كہ وہ عقلي اصولوں كي بنياد پر شخصي ملكيتوں كو ايك ايسے دائري ميں محدود كرنا چاہتے ہيں جو عملي طور پر قابل اجراء ہوں، ظاہر ہے اس طرح كے نظريات ميں اگر واقعي طورپر قومي مفادات پيش نظر ركھے جائيں تو ملكيتوں ميں انساني تصرفات و اختيارات كو محدود كيا جا سكتا ہے اور حكومت كو دوام واستحكام بھي مل سكتا ہے، جيسا كہ ہماري گذشتہ بحثوں سے واضح ہو چكا ہے كہ حكومت كے احكام اور تسلط كا دائرہ ان حدود سے آگے بڑھ جاتا ہے كہ جس كا وہ دعويٰ كرتے ہيں اور انساني عقل و وجدان كي نظر ميں جو پابندياں جائز كہي جاتي ہيں معلوم ہوا عام طورپر رائج استبدادي حكومت ضرورت سے زيادہ اپنا پاؤں پھيلاليتي ہے خاص طورپر بڑے اور پيچيدہ معاشروں ميں يہ بات بخوبي قابل مشاہدہ ہے۔

پس استبدادي حكومت لوگوں پر تسلط واقتدار كے قانوني جواز سے پوري طرح محروم ہے اور طاقت و قدرت كے استعمال كے علاوہ حكمراني كا كوئي اور چارہ اس كے پاس نہيں ہے، (طاقت و قدرت ہي سے استفادہ كرتي ہے)

بنابرايں استبدادي نظام حكومت كے پہلے ستون (عوام الناس پر حق حكومت كي) قانوني بنياد سے عاري ہے اور صرف اس بات كا دعويٰ كر سكتي ہے كہ وہ دوسري ستون يعني عوام الناس كي بھلائي كو پيش نظر ركھتي ہے (اور اس بنياد پر استوار ہے) ان كاتمام ہم وغم معاشري كي ترقي اور فلاح و بہبود ہے ليكن كيا كيجئے گا ان كے پاس اس دعوے كي بھي كوئي دليل نہيں ہے ڈكٹيٹر حكمران طاقت واقتدار كے ذريعے تخت حكومت پر براجمان ہو كر اپنے تمام تر اعليٰ مقاصد بھول جاتے ہيں، انساني وجدان و ضميربھي اس طرز فكر كي مخالفت كرتا ہے، انساني وجدان كا تقاضا كرتا ہے كہ حكومت اور عدل وانصاف كي برقراري كے لئے صحيح راہ سے قانوني جواز حاصل ہو نا چاہئے، صرف معاشري كي فلاح و بہبودكے بہانے قہر وغلبہ سے حكومت كرنا صحيح نہيں ہے۔

انسانوں ميں حب ذات كا مرض بھي بہت شديد ہے اور اس مادي دنياميں ايك دوسري كے شخصي مفادات اور مصالح بھي آپس ميں متصادم ہيں، ان تمام امور كو پيش نظر ركھتے ہوئے يہ تصور كرلينا معقول نہيں ہے كہ ايك ڈكٹيٹر پوري معاشري كے مفادات كو شخصي مفادات پر مقدم ركھنے كا پابند رہےگا، بلكہ عام طور پر سبھي انسان اپنے مفادات كو دوسروں كے تمام امور (قومي مفادات) پر ترجيح ديتے ہيں۔

اور بعيد نہيں كہ ضمير ووجدان كي نگاہ ميں بھي اس كا يہ كام غلط اور ناروا محسوس نہ ہوكيونكہ قہر وغلبہ اور طاقت كے بل بوتے پر قائم ہونے والي حكومت خود كو كسي بھي قانو ن اور جواز كا پابند نہيں سمجھتي لہٰذا جو كسي بھي قسم كے جواز كے بغير خلاف وجدان لوگوں كا حكمران بن بيٹھا ہے اگر اپنے ذاتي مفادات كو عوام الناس كي فلاح و ترقي پر ترجيح دے تو كوئي بعيد بات نہ ہوگي۔

ولايت واقتدار كا سر چشمہ

كسي بھي معاشري پر حكمراني كے لئے ولايت واقتدار كے استحكام كي اساس و بنياد صرف دو چيزوں پر قائم ہوتي ہے۔

۱) عوام كي راى

۲) خداوند متعال كا انتخاب

كہا جاتا ہے كہ جب عوام كسي فرد خاص يا جماعت كو معاشري كا نظم ونسق اور معاشري كي حكمراني اپنے اختيار وانتخاب سے سونپ ديں تو اس فرد يا جماعت كي حكومت ذكر شدہ قانوني جواز اور مصلحتوں كے تحفظ دونوں ستونوں پراستوار ہوگى، حكمراني كي اس قسم كو ”جمہوريت”كہا جاتا ہے، البتہ لفظ جمہوريت كي متعدد تعريفيں كي گئي ہيں اور اس منزل ميں جمہوريت سے ہمارا مقصود يہ ہے كہ راہ و روش كے تعين كا حق عوام كے ہاتھ ميں ہو اور خود عوام ارادہ و اختيار سے نظم و نسق قائم كريں، قانون سازي كريں اور قانون پر عمل درآمد كے لئے افراد كاانتخاب كريں خواہ يہ كام عوام بلا واسطہ خود انجام ديں يا بالواسطہ منتخب نمايندوں كے ذريعہ انجام پائے، يا دونوں طريقوں سے يہ كام انجام ديا جائے۔

جمہوريت كي اصطلاح ”جان جاك روسو”نے ايك خاص معني ميں استعمال كي ہے، ان كي نظر ميں جب حكمران كونسل كے اركان كي تعداد پوري عوام پر يا عوام كي اكثريت پر يا عوام كي نصف تعداد پر مشتمل ہو (تو وہ جمہوري حكومت كہي جائے گي) ”جان جاك روسو” كے الفاظ ميں”حكمران كونسل حكومت كے امور كو پوري ملت كو يا عوام كي واضح اكثريت كواس طرح سونپ سكتي ہے كہ حكمراني ميں شريك شہريوں كي تعداد غير متعلقہ شہريوں (حكمراني ميں شريك نہ ہونے والوں) كي تعداد سے زيادہ ہو تو حكومت كے اس طرز كو (جمہوريت) كانام دياجاتا ہے ۔

اسي طرح ارباب حكومت كويہ بھي حق حاصل ہے كہ زمام حكومت ايك اقليت كے حوالے اس طورپر كرديں كہ غير متعلقہ شہريوں كي تعداد حكومت كے امورميں شريك شہريوں كي تعداد سے زيادہ ہو تو اس طرز حكومت كو ارسٹوكريسي(۳) كہا جاتا ہے اسي طرح يہ بھي ممكن ہے كہ زمام اقتدار كسي شخصي واحد كے حوالے كر ديا جائے اور باقي تمام لوگ حكومت كے امور ميں اپنے قانوني عہدے (قانوني جواز) اسي فرد واحد سے حاصل كريں اور حكومت كي يہ قسم جو باقي تمام كي نسبت زيادہ رائج ہے ”بادشاہت” يا ”شاہي حكومت” كے نام سے معروف ہے۔

يہاں پر اس امر كو مدنظر ركھنا ضروري ہے كہ مذكورہ تمام اقسام حكومت ”يا كم از كم پہلي دو قسموں ميں حكومت كے دائروں ميں بڑے پيمانے پر كمي و زيادتي ممكن ہے اور اہل اقتدار ان دونوں قسموں ميں عملي طور پر وسيع حد تك تصرف ميں آزاد ہيں كيونكہ جمہوريت كے دائري ميں يہ صلاحيت اور گنجائش موجود ہے كہ قوم كے تمام لوگوں كو (امر حكومت ميں) ساتھ ركھيں ان كي تعداد گھٹا كر عوام كي صرف نصف تعداد كو ساتھ ملائيں اسي طرح” يعني امراء كي حكومت ميں بھي يہ صلاحيت اور گنجائش موجود ہے كہ حكومت كے امور ميں دخيل لوگوں كي تعداد ايك بڑے دائري يعني آدھے لوگوں سے گھٹا كر چند افراد كي قليل تعداد تك محدود كر دي جائے (كسي بھي طرح كي كوئي پابندي نہيں ہے)

حتي حكومت كي تيسري قسم يعني ”بادشاہت”ميں بھي تقسيم بندي ممكن ہے مثال كے طورپر ”اسپارٹيوں” كے اپنے ملكي آئين كے مطابق ہميشہ بيك وقت دو بادشاہ ہوا كرتے تھے، ياسلطنت روم كے فرمانرواؤں كي تعداد كبھي كبھي ايك ہي وقت آٹھ افراد تك پہنچ گئي ہے بغير اس كے كہ خود سلطنت مستقل خود مختار آٹھ حصو ں ميں تقسيم ہوئي ہو۔

اس ذيل ميں ايك قابل غوربات كہ حكومت كي مذكورہ تينوں اقسام ممكن ہے كہيں ايك دوسري سے مخلوط اور ملي جلي نظرآئى، كيونكہ ہم ديكھتے ہيں كہ عوام كي مشاركت كے لحاظ سے حكومت كي مذكورہ بالا تينوں قسميں جمہوريت، ارسٹوكيسي اور بادشاہت مختلف شكلوں ميں قابل مشاہدہ ہيں بلكہ اس سے بھي بڑھ كر حكومت كے يہ سبھي طريقے اپني جگہ كئي پہلوؤں سے وسيع ہونے اور اجزاء ميں تقسيم كئے جانے كي صلاحيت ركھتے ہيں چنانچہ اس كے مختلف اجزاء ميں شيوہ٘ حكمراني بھي مختلف و متفاوت ہو سكتا ہے اس طرح مذكورہ تينوں طر زحكومت كي آميزش سے كچھ ايسے نئے طرز حكومت پيش كئے جا سكتے ہيں جو مختلف ہونے كے باوجود مذكورہ كسي نہ كسي قسم كے ساتھ منطبق كئے جا سكتے ہيں ۔

تاريخ كے تمام ادوار ميں ہميشہ حكومت كي بہترين قسم كے متعلق معركۃالآراء بحثيں ہوتي رہي ہيں ليكن كبھي اس نكتے كي طرح توجہ نہيں دي گئي ہے كہ مذكورہ بالا تمام اقسام كي حكومتيں بعض شرايط اور حالات ميں ممكن ہے بہترين اور مناسب ترين ہوں ليكن بعض شرائط و حالات ميں بدترين ثابت ہوں حكمران اور محكوم طبقے كے درميان نسبت كا معكوس ہونا ضروري ہے(۴)

تو اس قاعدے كے مطابق ”جمہوريت “چھوٹي مملكتوں كے لئے مناسب ہے ارسٹوكرےسي”مخصوص طبقے يعني امراء كي حكومت”متوسط ملكوں كے لئے ٹھيك ہے اور ”باد شاہت “بڑي بڑي حكومتوں كے لئے مناسب ہوگى، يہ قاعدہ كليہ ان ہي اصول و قواعد كي بنياد پر اخذ كيا گيا ہے (جو گذشتہ بحثوں ميں ثابت ہو چكے ہيں)

(ليكن سوال يہ ہے كہ) ان مخصوص حالات اور مخصوص زمان ومكان كے تقاضوں كا كسي طرح محاسبہ لگكيا جائے جو غيرمعمولي حالات اور مستثنيات كا سبب بنتے ہيں؟

يہ جو كچھ آپ نے پڑھا پوري تفصيل سے جان جاك روسو نے اپني كتاب پيمان معاشرت كے تيسري باب ميں ذكر كيا ہے۔(۵)

كيونكہ جان جاك روسونے جمہوريت كي جو تعريف كي ہے اس كے تحت اس كادعويٰ ہے كہ كسي بھي وقت حقيقي جمہوريت كا حصول ممكن نہيں ہے۔

جان جاك روسو كے الفاط ہيں”جب ہم جمہوريت كا اس كے كسي بھي معني ميں دقت نظر سے جائزہ ليتے ہيں تو پتہ چلتا ہے كہ حقيقي جمہوريت نہ تو كبھي وجود ميں آئي ہے اور نہ كبھي وجود ميں آئے گي كيونكہ يہ چيز نظام فطرت كے خلاف ہے كہ اكثريت حكمراني كرے اور اقليت محكوم ہو علاوہ ازايں يہ تصور كرنا بھي ممكن نہيں ہے كہ پوري قوم امور عامہ كے حل اور صلاح و مشورہ كے لئے ہر روز اكھٹاہوسكے اور اگر اس بات كي اساني كے لئے اپني طرف سے مختلف كميشن تشكيل ديں گے تو حكومت كے امور چلانے كے لئے نظام كي شكل تبديل كرنا پڑے گي (اور وہ شكل) ڈيموكرےسي كے علاوہ كوئي اور شكل ہوگي ۔(۶)

جب حكمراں كونسل سے مراد صرف وہ لوگ ہيں جو معاشري اور ملك كے نظام ميں براہ راست مشغول ہيں تو (ا س تعريف كے مطابق) اس گروہ ميں تمام لوگ شامل نہيں ہوسكتے جو صرف اظہار نظر كي حد تك مداخلت كا حق ركھتے ہوں لہٰذا يہ تصور كوئي معني نہيں ركھتا كہ معاشري كے تمام افراد يا ان كي اكثريت يا كم از كم ان كي نصف تعداد حكومت كے تمام امور ميں دخيل ہو سكتي ہے !!

مگريہ كہ يہ صورت ايك نہايت ہي مختصر معاشري كے باري ميں تصور كريں، جس معاشري كي كوئي اہميت نہ ہو ليكناس كے باوجوديہ دعويٰ كيا جا سكتا ہے كہ جمہوريت اس معني ميں جوہم نے آغاز ميں گفتگو پيش كيا ہے، چھوٹے بڑے تمام ممالك اور معاشروں ميں قابل عمل اور مناسب ہے بلكہ اس سے بڑھ كرےہ دعويٰ بھي كيا جا سكتا ہے كہ عصر حاضر ميں، تمام ممالك كے لئے جمہوريت ہي بہترين شيوہ حكومت ہے ۔

بہر حال جمہوريت ايك مغربي اصطلاح ہے جس ميں عوام ہي بيك وقت قانون ساز بھي ہيں اور قانون پر عمل درآمد كرانے والے بھي۔(۷)

بعيد نہيں ہے كہ جمہوريت كے طرفدار اپنے نظريہ كے دفاع ميں جمہوريت كو گذشتہ ستونوں (يعني سرچشمہ حكومت اور قومي مفادات كا تحفظ) كے ساتھ ہماہنگ بنانے كے لئے يہ كہيں كہ درحقيقت جمہوريت ايك شخص كي دوسري شخص پر حكمراني كے معني ميں نہيں ہے بلكہ جمہوريت سے مراد تمام لوگوں كو تمام لوگوں پر حكومت ہے يعني عوام خود عوام پر حكمران ہوں، لہٰذا كسي قسم كا تسلط، اقدار اور زور زبر دستي كا مسئلہ نہيں ہے تاكہ يہ سوال پيدا ہو كہ اس تسلط و حكمراني كا سر چشمہ اور اس حكمراني كا جواز كيا ہے؟ بہ الفاظ ديگر جمہوريت ميں حكمران ٹولہ نے حكمراني كا حق اور جواز خود عوام سے ہي اجتماعى معاہدے كي بنياد پر حاصل كيا ہے اور اس معاہدے كے مطابق خو د عوام نے يہ قوانين بنائے ہيں اور اس قانون پر عمل در آمد كے لئے نمايندے منتخب كئے ہيں۔

چنانچہ اس ميں بھي كوئي شك نہيں كہ خود انساني ضمير ووجدان مختلف افراد اور معاشري پر ضروري قرار ديتا ہے كہ وہ معاہدے كي پابندي كريں اور اس كو بروئے كار لانے كي پوري كوشش كريں ۔

اس دعوے كے جواب ميں مخالفين كا كہنا يہ ہے كہ جمہوريت ميں تمام عوام كو راضي ركھنے كي صلاحيت نہيں ہے اور نہ ہي تمام عوام كي راي اور افكار كے مطابق عمل كرسكتي ہے بہت كم ديكھنے ميں آتا ہے كہ تمام عوام كسي خاص مسئلے پر متفق اور ہم آوازہوں نتيجہ ميں اكثريت كي راي پر عمل كے سواكوئي چارہ نہيں ہے۔

اور اس صورت ميں اقليت كے حقوق پامال ہو جاتے ہيں اور نہ چاہتے ہوئے بھي اقليت كو اكثريت كي اطاعت كرنا پڑتي ہيں جسے انساني ضمير و وجدان قبول نہيں كرتا مگر يہ كہ جمہوريت كے طرفدار يہ دعويٰ كريں كہ ايك اساسي اور بنيادي مسئلے پر قومي اتفاق پايا جاتا ہے اور وہ يہ كہ فيصلوں ميں اكثريت كي راي كو معيار قرار ديا جائے گا اور پھر اس عوامي معيار كو قبول كر لينے كے بعد اتفاق راي كے فيصلوں پر عمل، ضمير و وجدان كے مطابق ہوگا (اقليت اپني مخالفت كے باوجود) اكثريت كي راي كا احترام كرے گي اور اكثريت كے فيصلے كو قبول كر لے گي ۔

بعض اوقات مخالفين كہتے ہيں كہ شايد كسي معاشري ميں ايك ايسي اقليت موجود ہو جو اس امر كو قبول نہ كرتي ہو كہ قومي فيصلوں ميں معياور وملاك اكثريت كي خواہش كوبنايا جائے يا فرض كريں وہ اقليت ايك ايسے دين ومكتب كي پيرو ہو جو اس معيار كو قبول نہ كرتي ہو يا وہ لوگ اس معيار كو اپنے مفادات كے منافي سمجھتے ہوں، يا كسي اور وجہ سے اس معيار كو قبول نہ كرتے ہوں، تو اب اس اقليت كے سلسلے ميں كيا موقف اختيار كيا جائے گا؟ كيا انہيں ان كے حال پرآزاد چھوڑ ديا جائے كہ جوچاہيں انجام ديں اور اس بات كو بہانہ بنا كر كہ انہوں نے اس قرارداد كو قبول نہيں كيا تھا انھيں حكومت كے فيصلوں كا پابند نہيں بناياجا سكتا چانچہ اگر ايساہوا تو معاشري ميں ہرج ومرج ايجاد ہوگا، يا انہيں مجبور كيا جائے كہ وہ اجتماعى معاشري كے نتيجے ميں وضع ہونے والے قوانين كي پابندي كريں، ليكن ايسا كرنا انساني ضمير و وجدان كے خلاف ہوگا جيسا كہ پہلے بيان ہو چكا ہے۔

جمہوريت كے طرفدار اس كے جواب ميں زور دے كر كہتے ہيں كہ اس طرح كے افراد جمہوريت كے راستے ميں ركاوٹ نہيں بن سكتے كيونكہ اجتماعى معاہدوں كي مخالفت خود اس اقليت كو معاشري ميں الگ تھلگ اور تنہا كردينے كا باعث بنے گي اور وہ معاشري ميں زندگي گذارنے والے ان بيگانوں كي مانند تصور كئے جائيں گے كہ جنھوں نے خود كو (اكثريت كي آراء) كو قبول كرنے والي اكثريت كے ساتھ كھڑا كر ليا ہوتو ان كا ان حالات كے باوجود معاشري ميں زندگي گذارنا اس بات كے مترادف ہوگا كہ وہ بھي اجتماعى معاہدے كے تحت بنائے جانے والے قوانين كو قبول كر رہے ہيں كيونكہ ان كا اس معاشري ميں مكمل آزادي وا ختيار كے ساتھ رہنا قوانين سے راضي ہونے كي علامت ہے ۔

جان جاك روسو نے اپني كتاب ”پيمان معاشرت “ميں لكھا ہے اگر كچھ لوگ اجتماعى معاہدہ كے وقت اس كے مخالف ہوں تو ان كي مخالفت اس معاہدے كو باطل نہيں كر سكتي۔بلكہ اس كا مطلب فقط يہ ہوگا كہ وہ لوگ معاشري كے ہم پيمانوں كي صف سے الگ ہيں اور اس صورت ميں مخالفين ان بيروني عناصر كےمانند ہوجائيں گے جو ايك خاص طرز كي حكومت كے پابند افراد كے درميان زندگي بسر كرنا قبول كرليں، پس ان كا اس معاشري ميں رہنا اس حكومت كے قوانين سے راضي ہونے كي دليل ہے كيونكہ كسي بھي مملكت ميں سكونت اختيار كرنا اس ملك كے قوانين كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے مترادف ہے۔(۸)

يہ بات ڈيموكرےسي كےماننے والے اس كے قانوني جواز كے دفاع ميں جو حكومت كا پہلا ستون ہے، كہتے ہيں۔

اب رہي حكومت كے دوسري ستون يعني معاشرہ كي مفادات كے تحفظ كي بات تو اس سلسلے ميں بنيادي مسئلہ يہ ہے كہ جب جمہوريت سے عوام پر خود عوام كي حكومت مراد ہے تو قدرتي طور پر جمہوري حكومت كو معاشري كے مفادات كے لئے تگ و دو كرني چاہئے۔

كيونكہ عوام اپني مفادات و مصالح كے سوا اور كچھ نہيں چاہتے ہم نے فرض يہ كيا ہے كہ حكمران طبقہ عوام سے جدا نہيں (بلكہ حاكم و محكوم دونوں عوام سے ہيں) لہٰذا يہ تصورنہيں كيا جا سكتا كہ حاكم اپنے ذاتي مفادات كو قومي مفادات پر ترجيح دے گا اور يہ چيز بتاتي ہے كہ قومي مفادات ومصالح كے تحفظ كي ضمانت فراہم كرنے كے لئے جمہوريت سے بہتر كوئي اور طريقہ حكومت نہيں پايا جاتا۔

اس طرح ہم ديكھتے ہيں كہ ”جمہوريت” كے طرفدار اپنے نظريہ كي تائيد اور اس كي منطقي بنيادوں كے دفاع ميں كہ يہ طرز حكومت دونوں ستون (حكومت كي قانوني حيثيت اور معاشري كے مفادات) كي حامل ہے اجتماعى معاہدوں كا سہارا ليتے ہيں۔

جمہوريت كے طرفدار دوسري لوگ تو ”قومي مفادات” كوہي جمہوري طريقہ حكومت كي قانوني حيثيت اور جواز كے لئے مستقل دليل قرار ديتے ہيں جيسا كہ ڈاكٹر عبد الحميد متولي نے پروفيسر آزمن كي عبارت سے مطلب نكالا ہے ڈاكٹر عبد الحميد متولي لكھتے ہيں“ چونكہ قيادت اور حكمراني كي فلسفي بنياد اس امر پر استوار ہے كہ حكومت ايك ايسا الٰہي حق ہے (يا خدا نے ارباب اقتدار كو تفويض كياہے) لہٰذا حكمراني كي بنياديں فلسفي اعتبار سے روسو كے”پيمان معاشرت” كے نظريہ كي طرف پلٹتي ہيں۔

ليكن پروفيسر آزمن كي مانند بعض فرانسوي مفكرےن نے اس سے مختلف نظريہ پيش كيا وہ كہتے ہيں: حكمراني كا ايك اور جواز ہے وہ يہ كہ عوامي حكومت كي ضرورت صرف ا س لئے ہے كہ قومي مفادات محفوط رہيں، اور اسي لئے ضروري ہے كہ قوم اپني حكومت پر نظر ركھے كہ وہ كيا كر رہي ہے۔(۹)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتاہے كہ يہ كہنے والا حكومت كي بر قرار ي كوايك مسلم امرمانتا ہے اور اس بات پر زور ديتاہے كہ حكومت كي تشكيل قومي مفادات اور ان كي ضروريات كي تكميل كے لئے وجود ميں آتي ہے لہٰذا ارباب حكومت پر نظر ركھنے كے لئے قومي كنٹرول ضروري ہے۔

ليكن ہمارا اصلي سوال حكومت كے اصل جواز سے متعلق ہے ورنہ ہم اس بات كو قبول كرتے ہيں كہ حكومت چونكہ قومي مفادات كي تكميل كے لئے وجود ميں آتي ہے لہٰذا اس كي كار كردگي پر قوم كا كنٹرول اور نگراني ضروري ہے ليكن يہ مسئلہ حكومت كي اصل بنياد اور تسلط كے جواز كي دليل نہيں بن سكتا ولو ہم حكومتي امور ميں قوم كي نگراني كے حق كو قبول بھي كرليں۔جي ہاں اگر ہم فرض بھي كر ليں كہ قوم كو حكومت كي نگراني كا حق حاصل ہے كيونكہ حكومت قومي مفادات كي تكميل كي غرض سے وجود ميں آئي ہے پھر بھي اصل سوال باقي رہتا ہے كہ حكمرانوں كو حكومت كرنے يا قانون جاري كرنے، اپنا اثرو رسوخ استعمال كرنے اور عقل و جدان كے فيصلوں كے خلاف ابتدائي ترين آزاديوں كو محدود كرنے اور معرض خطر ميں ڈالنے كا يہ حق كہاں سے حاصل ہوا؟ اور اس كا سر چشمہ كيا ہے؟ اجتماعى معاہدے كے علاوہ كيا كوئي اور چيز ہونا ممكن ہے؟ !

اس سے قبل ڈكٹيٹر شپ كے طرفداروں كے اس دعوے كے جواب ميں كہ ہم قومي مفادات كي تكميل كے لئے كام كرتے ہيں، ہم عرض كر چكے ہيں كہ فقط قومي مفادات كے لئے كام كرنا حكومت كي قانوني حيثيت اور جواز كي دليل قرار پائے اس كو انساني وجدان قبول نہيں كرتا ۔

جمہوريت كي مشكلات

ہم يہاں جمہوري نظام كي چند اہم مشكلات كا ذكر كرتے ہيں جن كے لئے مناسب راہ حل اور جواب تلاش كرنے كي ضرورت ہے۔

۱) اكثريت كي جہالت اور خواہشات كا غلبہ

اس ميں كوئي شك نہيں كہ عوام كي اكثريت معاشري كے لئے مفيد امور سے جاہل ہوا كرتي ہے عوام كي اكثريت جذباتي اور نفساني خواہشات سے مغلوب ہوتي ہے اگر ہم ملك و قوم كي باگ ڈور (جاہل) عوام كے سپرد كرديں تو اس كي كوئي ضمانت نہيں دي جا سكتي كہ عوام غلط راستوں پرگامزن نہيں ہوں گے اور خواہشات نفساني كي پيروي نہيں كريں گے، اسي وجہ سے كہا گيا ہے كہ”جب صدائيں زيادہ ہوں تو حق ضائع ہوجاتاہے” اس مشكل كو بر طرف كرنے كي بہترين راہ يہ ہے كہ تجربہ كار، اور پختہ آراء كے حامل ارباب حل و عقد پر مشتمل ايك مجلس قومي اور ملكي وغيرملكي امور اور تعلقات پر بحث و گفتگو اور تبادلہ خيال كے بعد ايك دوسري كي مدد سے ضروري قانون مرتب كريں، اس مشكل كے لئے نظام جمہوريت ميں كہا گيا ہے كہ قانون سازي كي ذمہ داري دو طريقوں سے عوام كے سپرد كي جا سكتي ہے۔

الف) بلاواسطہ شركت: (ريفرنڈم) يعني معاشري كے تمام افراد قانون سازي كےتمام مراحل ميں براہ راست شريك ہوں۔

ب) بالواسطہ شركت: عوام اپنے منتخب نمايندوں كے ذريعے بالواسطہ طورپر قانون سازي كے عمل ميں شريك ہوں يعني عوام اہل حل وعقد كي ايك جماعت كو منتخب كريں جو اشتراك عمل كے ذريعہ قانون بنانے كے مختلف طور طريقوں پر غورو فكر كر كے بہترين اور مفيد ترين روش كا انتخاب كريں۔اس طرح پہلي مشكل حل كي جاسكتي ہے اور كسي كا حق ضائع ہوئے بغير جمہوريت كي روح بھي باقي ركھي جا سكتي ہے۔كيونكہ عوام ہي در حقيقت حكمراني كے لئے اپنے نمايندے منتخب كريں گے اور ان سے كہيں گے كہ ان كے لئے مفيد قانون مرتب كريں، (البتہ اس صورت ميں عوام كي تمام امور ميں براہ راست مشاركت ممكن ہے قومي مفادات اور مصالح كے لئے نقصان دہ ثابت ہو) لہٰذا اس مشكل كو رفع كرنے كے لئے تمام قومي امور كو دو حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے جن امور ميں عوام كي براہ راست شركت قومي مفادات كے لئے نقصان دہ نہ ہو ان ميں تمام لوگوں كو براہ راست مداخلت كا حق ديديا جائے اور عوام قانون سازي كے عمل ميں شركت كريں ليكن وہ امور جن ميں ماہرين كي نظر ضروري ہے عوام بالواسطہ شريك ہوں يعني عوام كے قابل اعتماد منتخب نمايندوں كے ذريعے قانون سازي ہو۔

۲) ووٹوں كي خريد و فروخت

اس مشكل كا شكار تقريبا وہ تمام ممالك ہيں كہ جن ميں جمہوري طرز حكومت رائج ہے ہميشہ گنتي كے كچھ لوگ جن كے ہاتھ ميں اقتدار اور مادي وسائل ہوتے ہيں كہ اكثريت كے ووٹوں كو اپنے مفادات كي تكميل كے لئے خريد ليتے ہيں يہ كام پيسے تقسيم كر كے گمراہ كن پروپيگنڈے اور كبھي كبھي كھوكھلےمالي اور سياسي وعدوں، دھمكيوں اور اثر رسوخ كے ذريعے اساني سے ممكن ہوجاتا ہے ۔

ان حالات ميں ہم ديكھتے ہيں ايك اقليت اكثريت كے ووٹ اپنے حق ميں خريد ليتي ہے اور اس كو مخصوس مقاصد مفادات كي تكميل اور اپني نفساني خواہشات كے حصول كے لئے استعمال كرتي ہے اور عوام الناس كے قومي و معاشرتي مفادات كو مكمل طور پر نظرانداز كرديتي ہے۔

جمہوريت كے طرفدار اس مشكل كي بر طرف كرنے كے لئے آزادي كے ساتھ ساتھ مالي مساوات كي بات كرتے ہيں اور كہتے ہيں كہ اگر پورا معاشرہ مال و ثروت كے اعتبار سے يكساں ہو توان كے معيارات بھي يكساں ہو جائيں گے بنا بر ايں جس جگہ مالي وسائل يكساں نہ ہوں آزادي فقط نام كي حد تك ہي باقي رہے گي آزادي كي حقيقي روح ختم ہو جائے گي كيونكہ اقليت اساني سے اكثريت پر مسلط ہوكر اكثريت سے قوت و اختيار سلب كر لے گي اور وہ اپنے مفادات كے حصول ميں كمزرو پڑجائيں گے ليكن اگر معاشري ميں مالي مساوات قائم ہو جا ئے خواہ مساوات (كميونسٹوں كے اشتراكي نظام كے مطابق) مالي مشاركت كے معني ميں ہو يا مساوات سے مرادمال و ثروت كے اعتبار سے طبقاتي تفاوت اور اختلاف ختم ہوجانے كے معني ميں ہو يعني كوئي بھي شہري نہ اتنامالدار ہو كہ دوسري شہريوں كو خريد سكے اور نہ ہي كوئي شہري اتنا فقير و تنگدست ہو كہ ايك وقت كي روٹي كے بدلے اپنے آپ كو فروخت كردے۔

اگر ہم معاشري ميں اس طرح كا مساوات قائم كرنے ميں كامياب ہو جائيں تو كسي بھي قسم كے استحصال اور لوگوں كے ووٹوں كي خريد و فروخت كئے بغير حقيقي معني ميں آزادي بر قرار ہو سكتي ہے۔

جان جاك روسو اسي نكتہ كي تشريح كر تے ہوئے كہتے ہيں”ضروري نہيں كہ اس لفظ ”مساوات “سے يہ سمجھا جائے كہ تمام لوگ قدرت و توانائي اور مال و ثروت ميں پوري طور پر يكساں اور برابر ہوں بلكہ طاقت و قدرت ميں توازن سے ہمارا مقصود يہ ہے كہ كوئي بھي طاقت و قدرت اور قہر غلبہ كے بل بوتے پر قانون اپنے ہاتھ ميں نہ لے سكے بلكہ سب قانون كے دائري ميں حركت كريں اسي طرح مال و ثروت ميں مساوات سے ہماري مراد يہ ہے كہ كوئي بھي شہري اس حد تك ثروتمند نہ ہو كہ اس كے ذريعے دوسري شہري كو خريد سكے، اور نہ ہي دوسري طرف كوئي شہري تنگدستي كي اس حد كو پہنچ جائے كہ (اپني ضروريات زندگي كي تكميل كي خاطر) اپنے آپ كو خريد و فروخت كرنے پر مجبور ہو جائے دوسري الفاظ ميں اہل دولت و ثروت بھي قوت و رسوخ كے لحاظ سے اعتدال ميں رہيں اور كمزور و نادار افراد بھي بخل و طمع كے اعتبار سے حداعتدال ميں رہيں ۔(۱۰)

۳) نمائندوں كے ذاتي مفادات

وہ نمائندے جنہيں عوام منتخب كرتے ہيں اور قانون بنانے كا اختيار ديتے ہيں اكثر وبيشتر قومي مفادات كو نظر انداز كر كے اپنے اختيارات سے فائدہ اٹھا كر ذاتي وسائل پوري كرنے كي كوشش كرتے ہيں كيونكہ ايك طرف تو ان كو قانون بنانے اور نافذ كرنے كے وسيع اختيارات مل جاتے ہيں دوسري طرف ان كے اپنے ذاتي مفادات بھي انھيں گھيري ہو تے ہيں جو عوام كي جانب سے منتخب ہو جانے اور وسيع اختيارات ہاتھ ميں آجانے كے سبب ذاتي مفادات كي تكميل اور انحراف كے وسائل ميں اضافہ كر ديتے ہيں ايسي صورتحال ميں اطمينان نہيں كيا جا سكتا كہ يہ عوامي نمائندے جس وقت قومي مفادات اور ذاتي مفادات ميں تعارض پيش آئے گا ذاتي مفادات كو قومي مفادات پر ترجيح نہيں ديں گے ۔خاص طور پر جب كہ ہماري گفتگوماديات كے دائري ميں ہے جہاں انسان كو بد ہواسي پر كنٹرول كرنے والي كوئي قوت وجود نہيں ركھتى، انسان كے سامنے فقط يہي مادي دنيا ہوتي ہے جس پر حكومت كے تصورميں وہ كھويا ہوتا ہے اور اپنے ذاتي ميلانات تمناؤں اور آرزوؤں كو حاصل كر نے كے سوا كچھ اور نہيں سوچتا ۔

جب اتنے بڑے خطرے كا امكان موجود ہو تو ارباب حل وعقد كے انتخاب كا يہ طريقہ كار اور تمام امور چند افراد كے ہاتھوں ميں دے ديئے جانا ذاتي اغراض و مقاصد كي تكميل كا راستہ ہموار كرنے كا وسيلہ بن سكتا ہے دوسري طرف اس خطري سے بچنے كے لئے اگر معاشري پر عوامي حكومت كو ہمہ گير بنانے كے لئے بلا واسطہ انتخاب كا طريقہ اپنايا جائے تو وہ دشواري اور مشكل سامنے آكھڑي ہوگي كہ جس كا ہم آغاز بحث ميں ذكر كرچكے ہيں ۔

شايد (جمہوريت كي راہ ميں موجود) ان ہي مشكلات نے جمہوريت كے طرفداروں كوقوۂ مقننہ (قانون ساز اسمبلي) اور قوۂ مجريہ (حكومتي كابينہ كے اراكين) كو الگ الگ، مستقل عنوان دينے پر مجبور كيا ہے اور وہ اسے ايك امر ضروري قرار ديتے ہيں يعني قانون سازي كا اختيار عوام كے منتخب نمايندوں كو ديا جائے ليكن قانون پر عمل در آمد كے لئے كچھ اور نمايندے منتخب ہوں، اس طرح كا محتاط اقدام قانون ساز اسمبلي كا مقتدارنہ تسلط اور قدرت كا ذاتي مفادات اور ذاتي اغراض و مقاصد كے لئے غلط استعمال ممكن نہيں رہ جاتا اسي روشني ميں يہ لوگ عدليہ اور قوۂ مجريہ كے استقلال و خود مختاري كي بھي توجيہ وتاويل كرتے ہيں۔

بہر حال قوت واقتدار كي اس احتياط تقسيم كے بعد بھي تينوں قوتوں كے درميان گٹھ جوڑ كا امكان جوں كا توں باقي رہ جاتا ہے اور اسي طرح يہ امكان بھي موجود ہوتا ہے كہ قانون ساز اسمبلي يا ملك كي عدليہ اپنے ذاتي مفادات كي تكميل كے لئے اس اعتماد كے ساتھ اقدام كر سكتي ہے كہ حكومت كي كابينہ ”قوۂ مجريہ،، كو بہر حال ان كے فيصلوں پر عمل كرنا لازم وضروري ہے يعني اس كا احتمال يہ كہ قوۂ مجريہ پر قوۂ مقننہ يا قوۂ عدليہ كا تسلط قائم ہو جائے ۔علاوہ از ايں بعض اوقات حكومت كو تين مستقل قوتون ميں تقسيم كردينے كے طرفدار حضرات (جوايك جمہوري طريقہ كار كے حامي ہيں) كے مقابلے ميں جو حكومت واقتدار ايك ہي ذات ميں مركوز قرار دينے كے قائل ہيں، اپنے نظريہ كے حق ميں دوسري دليليں بھي بيان كرتے ہيں اگر چہ ان كي سب ہي دليلوں ميں اسي طرح كي مشكل موجود ہے مثلاً كہتے ہيں ”كہ قوت واقتدار قدرتي طور پر آدمي كے دل ميں سامراجيت اور طغيان و سركشي ايجاد كرتا ہے اور انسان كو اپني خواہشات كي پيروي پر اكساتا ہے اور ذاتي مفادات اور خواہشات كي تكميل كے لئے آمادہ كر ديتا ہے اور بالآخر جس حد تك بھي ممكن ہو آدمي كو ظلم و استبداد كي طرف كھينچ ليے جاتا ہے،، ليكن طاقت و اقتدار كي مختلف مراكز ميں تقسيم خود قوت و قدرت ميں كمي كا سبب بنتا ہے اور ذاتي مفادات (كي تكميل كا رجحان) بھي كم ہو جاتا ہے اور جبرو استبداد كي روش جس كے بُري نتائج بيان ہوئے ہيں ختم ہو جاتي ہے يہ بھي كہا جاتا ہے كہ ہم تين الگ الگ مستقل قوتوں ميں اقتدار كي تقسيم كے ذريعے تينوں قوتون ميں اندروني طور پر ايك دوسري پر كنٹرول اور نظر ركھنے كي روح ايجاد كرديتے ہيں جس كے نتيجے ميں ہر قوت دوسرروں كے كاموں كي نگراني كرتي ہے اور قوم كے سامنے اس كو جواب كے لئے كھڑا كر ديتي ہے اس طرح ظلم واستبداد اور ڈكٹيٹر شپ كا سد باب ہو جاتا ہے۔

ايك اور بات جو ذاتي مفادات پر توجہ اور طغيان و سركشي كي روح پيدا ہونے كے مواقع كم كردينے كے سلسلے ميں بيان كي جاتي ہے اقتدار كي مدت كم ہونے كي بات ہے البتہ مقصد كي تكميل كے لئے اختيارات كي حدود، اختيارا ت كے مؤثر استعمال كے لئے مقررہ مدت، اجتماعى مشكلات كے مقابلے كے لئے توانائى، جبرو استبداد اور انانيت كے خطرات كے درميان توازن پيش نظر ركھنا ضروري ہے۔

انتخابات كي ميعاد مختصر ہونے كا نظريہ ايك طرف ارباب حكومت كے قوت و اقتدار كے دائري كو كم كر ديتا ہے كہ جس كے ذريعے صاحب اقتدار نمائندے راي عامہ كے ساتھ كھيلتے اور خود كو دوسروں سے ممتاز اور بڑا سمجھ كر تكبر و غرور ميں متبلا ہوجاتے ہيں دوسري طرف عوامي نمائندوں كوذاتي مفادات پر قومي مفادات مقدم قرار دينے اور قومي مصلحتوں كو ترجيح دينے پر ابھارتا ہے ورنہ دوبارہ ووٹ حاصل كر كے اقتدار حاصل نہيں كر سكيں گے۔

دين كے ساتھ جمہوريت كا رشتہ

واضح سي بات ہے كہ ايك فعال و حيات آفرين دين ميں جو انساني زندگي كے دونوں پہلوؤں ميں قانون سازي اور قانون كا نفاذ خداوند متعال سے مخصوس جانتا ہے ايك ايسي جمہوريت كے لئے كوئي گنجائش نہيں ہے كہ جس كے مطابق قانون سازي اور قانون كے نفاذ كا حق پوري طرح انسان كو عطا كر ديا جاتا ہے اور كم از كم اجتماعى زندگي كے مسائل ميں خداوند متعال كا كوئي كردار اور عمل دخل قابل قبول نہيں سمجھاجاتا اس منزل ميں مناسب نہ ہوگااگر دين اور مدني معاشري ميں دين كے كردار كے متعلق جان جاك روسو كے نظريات بيان كر ديئے جائيں تاكہ دين سے متعلق مغربي طرف تفكر اور نظريات كا ايك گوشہ واضح و آشكار ہو جائے ۔

جان جاك روسو كا كہنا ہے(۱۱) دين اور معاشري كے درميان جو رشتہ ہے خواہ وہ عمومي سطح كا ہو يا خصوصي سطح كا دو قسموں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے۔

۱ (ايك مستقل) انسان كا دين

۲ (معاشرہ كے ايك) باشندے كا دين

۱ايك ايسے انسان كا دين جومعاشرہ سے بالكل آزاد ہو عبادت گاہوں اور مسجد ومحراب كے مذہبي اصول و قواعد سے بھي آزاد عبادت وبندگي ميں خداوند متعال سے رشتے اور اخلاقيات كے ناقابل تغيير مسلمہ اصولوں كي بجا اور ي پر اكتفاء كرتا ہو اسے ہم الٰہي دين فطرت كا نام دے سكتے ہيں۔

۲) كسي مخصوس قوم وملت كا معاشرتي دين: يہ كسي خاص قوم وملت ميں رائج اور مقبول دين ہے جس كا پيرو اپنے خداؤں اور معبودوں كو اپني قوم اور جماعت سے مخصوس سمجھتا ہے، يہ دين مخصوس عقائد، شعائر اور اصول وقوانين كي روشني ميں خاص طرز پر عبادت اور ديگر مذہبي فرائض انجا م ديتا ہے، اس دين ميں، اپنے ہم مذہبوں كے علاوہ باقي سب لوگ كافر، جنگلي اور غيرشمار ہوتے ہيں اور سماجي حقوق اور شہري ذمہ داريوں سے محروم ہوتے ہيں، اس دين كو ہم الٰہي دين معاشرت كا نام دے سكتے ہيں اس دين ميں انسان كے لئے واجبات اور حقوق كا دائرہ عباد ت گاہوں تك محدود ہوتا ہے۔

دين كي تيسري قسم بھي موجود ہے جو پہلي دو قسموں سے زيادہ عجيب و غريب ہے كيونكہ يہ دين لوگوں كے لئے دو طرح كے قانون، دو سر براہ اور دو وطنوں كا قائل ہے اور لوگوں كو دو متضاد فرائض كي ادائگي پر مجبور كرتا ہے اور اس بات كي اجازت نہيں ديتا كہ ايك انسان ايك ہي وقت ميں ديندار مومن بھي ہو اور وطن پرست شہري قوانين كا پابند دنيادار انسان بھي۔

اس طرح كا دين بودھ لاماؤں LAMA اور، جاپانيوں نيز رومي عيسائيوں كا ہے اس كو مذہبي قائدين كا دين كہا جاسكتا ہے، اس دين كي بنياد خلط ملط آپس ميں الجھے ہوئے ايسے قوانين پر قائم ہے كہ جس كو كوئي نام نہيں ديا جاسكتا، جب ہم سياسي نطقہ نظر سے ان تين قسموں كے اديان كا جائزہ ليتے ہيں تو پتہ چلتا ہے ان تينوں قسموں كے دين ميں كمياں اور نقائص موجود ہيں۔

تيسري قسم كے دين ميں موجود خرابياں اس قدر واضح اور نماياں ہيں كہ اس كي خرابيوں اور نقائص كے باري بحث كرنا وقت ضائع كرنے كے مترادف ہوگا۔

دين كي دوسري قسم اس پہلو سے كہ اس ميں خدا پرستي كا جذبہ قوانين كے احترام كے ساتھ جڑا ہوا ہے بڑي حد تك ٹھيك ہے، يہ دين لوگوں كو تعليم ديتا ہے كہ ملك و وطن كي حكومت كے ذريعے خدمت اس ملك كے خداؤں كي خدمت ہے اور وطن كي راہ ميں موت شہادت كا درجہ ركھتي ہے اور قوانين كي خلاف ورزي شرك و الحاد ہے، ليكن اس طرح كے دين كي خرابي ہے كہ ا س نے اپني بنياد جھوٹ اور بشريت كو فريب دينے پر ركھي ہے اہل مذہب كو وہم و خرافات پر جلدي سے يقين كر لينے كا عادي اور عبادت كو كھوكلي رسومات كي بھينٹ چڑھا ديتا ہے اس كي ايك اور خرابي يہ ہے كہ يہ آدمي كوتنگ نظر اور سركش بنا ديتا ہے اور يہ چيز لوگوں كو خونخوار اور متعصب بناديتي ہے اور وہ كشت و خونريزي كي فكر ميں رہتے ہيں اور دوسري مذاہب كے افراد كا قتل ايك مقدس عمل سمجھنے لگتے ہيں چنانچہ اگر كوئي شخص اس دين پر ايمان نہ لائے تو اس دين كے مطابق واجب القتل ہے۔ اس طرح كي قوميں دوسري اقوام كے ساتھ ہميشہ جنگ و دشمني كي حالت ميں رہتي ہيں اور خود ان كي سلامتي بھي ہميشہ خطري ميں رہتي ہے۔

باقي رہ گئي پہلي انفرادي يا دروني دين كي قسم جسے دين انسانيت يا دين مسيحيت كہا جا سكتا ہے، البتہ موجودہ عيسائي مذہب نہيں جو اصل انجيل كي تعليمات سے ميلوں دور ہو چكا ہے اس مقدس دين اور اس كے پاكيزہ آئين كے مطابق جو ايك اكيلا حقيقي دين سمجھا جاتا ہے تمام لوگ اپنے آپ كو خدا كا بيٹا تصور كرتے ہيں اور آپس ميں بھائي اور براردي كا رشتہ ركھتے ہيں جس معاشري كو مل كر تعمير كرتے ہيں موت كي منزلوں تك بكھرنے نہيں پاتا ليكن اس دين كا سياسي امور اور حكمرانوں سے كوئي تعلق و رابطہ نہيں ہوتا قوانين كو اپنے حال پر چھور ديتے ہيں۔

قانون كي مزيد تقويت كي كوئي فكر نہيں كرتا، اس طرح انسان جو ايك دوسري سے جڑے ہوئے ہيں اكٹھا ہوتے ہيں ليكن يہ رشتہ اور اجتماع ان كي زندگي ميں كوئي اثر مرتب نہيں كرتے بلكہ اس سے بڑھ كر دين مسيحيت (عيسائي مذہب) كي مشكل يہ ہے كہ اس ميں نہ صرف يہ كہ ہم وطنوں كا حكومت كے امور سے كوئي رابطہ ايجاد كرنانہيں چاہتا بلكہ ان كے درميان فاصلہ بڑھانے كي كوشش كرتا ہے بلكہ تمام دنياوي امور كي نسبت اپنے پيرؤں كے دل ميں يہي تصور پيدا كرتا ہے، كہا جاتا ہے كہ اصل عيسائي قوم قابل تصور حد تك كامل ترين معاشرہ ہے مگر ہماري خيال ميں اس تصور كے بر خلاف ”يہ كامل معاشرہ “ايك انساني معاشرہ كے خصوصيات سے محروم ہے بلكہ اس طرح كامعاشرہ ميري نظر ميں اس طرح كا معاشرہ نہ قوت ركھتا ہے نہ دوام اور نہ ہي اس كے عوام كے درميان كوئي مستحكم رشتہ پايا جاتا ہے اور يہي بے عيب ونقص ہونا اس كے زوال اور خاتمہ كا باعث بنے گا۔

يقينا اس طرح كے معاشري ميں ہر شخص اپنا فريضہ انجام دے گا قوم قانون كو مقدس سمجھے گي سر براہان مملكت انصاف پسند اور خوش اخلاق ہوں گے حكمران نيك نيت اور سچائي پر گامزن ہوں گے، فوجوں ميں موت سے خوف نہيں ہوگا عوام ميں تكبر اور غرور نہيں ہوگا، يہ سب وہ خوبياں ہيں جو معاشري ميں حسن پيدا كرتي ہيں ليكن ہم بحث كي گہرائي ميں جانے كي اجازت طلب كريں گے۔

عيسائيت مكمل طور پر ايك معنوي دين ہے جو فقط آخرت اور اسماني امور پر نگاہ ركھتا ہے جس كے مطابق يہ دنياانسان كا حقيقي وطن نہيں ہے اگر چہ عيسائي اپنے معاشرتي فرائض پر عمل كرتے ہيں ليكن اس كا كوئي مقصد نہيں ہوتا كيونكہ اس دين كے مطابق ان كے انجام دينے كا كوئي اچھا يا بُرا نتيجہ مرتب ہونے والا نہيں ہے بس شرط يہ ہے كہ خود انسان اپني جگہ مرتكب گناہ نہ ہو۔ايك عيسائي كے لئے يہ امر بالكل اہميت نہيں ركھتا كہ دنياوي امور حسن و خوبي كے ساتھ آگے بڑھيں گے يا خرابي كے ساتھ، كيونكہ مملكت خوشحال ہو اور اسائش وآرام كے تمام وسائل فراہم ہوں تو بھي ايك عيسائي اس اسائش سے بہرہ مند نہيں ہو سكتا ۔

كيونكہ اسے خوف لاحق ہتا ہے كہ اگر اپنے ملكي افتخارات پر فخر ومباہات كرے گا تو ايك ناقابل معافي گناہ اور تكبر كا مرتكب ہوجائے گا اگر مملكت ويران اور تباہ و برباد ہوجائے تو گناہگار بندوں كو ان كے اعمال كي سزا ملنے اور ہلاك ہوجانے پر خداكا شكر اداكرتا ہے ايك ايسے معاشري ميں فلاح و بہبود اور نظم ونسق كي بر قراري كے لئے ضروري ہے كہ مملكت كے تمام باشندے كسي بھي استثناء كے بغير پوري طورپر اچھے عيسائي بن جائيں ۔اگر خدانخواستہ ان ميں كوئي ايك شخص بھي خود غرضي جاہ ومقام كا حريص پيدا ہوجائے تو پاكيزہ نفس باشندوں كو دھوكاديكر اپنے مذموم مقاصد كے حصول كے لئے زمين ہموار كر لے گا كيونكہ نيك سادہ دل عيسائي اساني سے اپنے ايك ہم مذہب بھائي كے متعلق بد گماني كي اجازت نہيں دے سكتا، اور جب مكر وفريب كے ذريعے ايك ايسا شخص اپنا تسلط قائم كرے گا اور قوت و اقتدار اس كے ہاتھ ميں آجائے گا تو اپنے لئے بلند وبالا مقام كا قائل ہوگا اور لوگوں سے كہے گا كہ ميرا حترام كرو مجھے بڑا سمجھو اب اگر اس نے اپنے اقتدار سے غلط فائدہ اٹھكيا تو لوگ كہيں گے خدا كي يہي مصلحت ہے كہ اس كے ذريعے لوگوں كي تنبيہ كرے گويا يہ خدائي لاٹھي ہے جس كے ذريعے خدا پنے بندوں كو سزا دے رہا ہے۔

اس طرح ايك عيسائي كا ضميرو وجدان اجازت نہيں ديتا كہ اس غاصب انسان كو (اقتدارسے) بر طرف كر دے كيونكہ اگر ايسا كيا جائے تو لوگوں كے آرام و اسائش ميں خلل واقع ہو گا اسے اقتدار سے ہٹانے كے لئے طاقت كا استعمال كرنا پڑے گا جس سے خونريزي ہوگي عيسائيوں كي نرم دلي اور امن پسندي كے ساتھ يہ چيز ميل نہيں كھاتي۔

علاوہ از ايں ايك عيسائي كي نظر ميں اس چيز كي كوئي اہميت نہيں كہ انسان رنج و الم كي اس فاني دنيا ميں آزاد رہے يا غلام بن كر رہے؟ اصل ہدف و مقصد تومحبت ہے جس كے حصول كا راستہ تسليم ورضا ہے ۔اب اگر كسي دوسري قوم سے جنگ چھڑ گئي تو تمام عيسائي باشندے بڑي اساني سے ميدان جنگ ميں نكل آئيں گے كسي كے ذہن ميں فرار كي فكرپيدا نہيں ہوگي كيونكہ انھيں اپنا مذہبي فريضہ انجام دينا ہے ليكن اس كے ساتھ ہي ان كے دلوں ميں فتح و كاميابي كا نشہ بھي نہيں ہوتا وہ كاميابي سے زيادہ اس امر كي مہارت ركھتے ہيں كہ كيسے مراجائے؟

ان كي نظر ميں فتح و شكست كي كوئي اہميت نہيں!كيا خدا سے زيادہ كوئي ان كي مصلحت سےآگاہ ہے؟ اب يہ ديكھنا ہے كہ ايك معاشرتي دين كے عقائد كيا اور كيسے ہوں؟

جواب يہ ہے كہ معاشرتي دين كے عقائد اسان و مختصر اور دائري معين وو اضح ہوجانے چاہئے كسي تفسير و تشريح كي ضرورت نہ ہو ايك حكيم و فرزانہ قوي و قادر، محسن و كريم، بصير و دور انديش مدبر وآگاہ، خداپرايمان، اخروي زندگى، نيكو كاروں كي سعادت و خوشبختي اور بدكاروں پر عذاب كا يقين معاشرتي معاہدہ اور قوانين كے تقدس پر ايمان و اعتقاد يہ وہ امور ہيں جو معاشرتي دين كے بنيادي عقائد ہونے چاہئے۔اس كے ساتھ ہي ساتھ ديگر تمام اديان سے نرم روي وخوش رفتاري بھي ضروري ہے ليكن ان ہي كے ساتھ جو خود بھي اس اصول پر يقين ركھتے ہوں ليكن جو شخص معاشرتي امور ميں خوش رفتاري اور ديني امور ميں نرمي و سہل انگاري كے درميان فرق كا قائل ہے اور فقط معاشرتي ميدان ميں حسن خلق اور نرمي كا قائل ہے غلطي پر ہے دونوں كو جدا كرنا ممكن نہيں ہے سياسى، عقائد، مذہبي عقائد كے ساتھ وابستہ ہيں يا دونوں ميدانوں ميں سخت رويہ اپنايا جائے گا يا دونوں ميں سہل انگاري سے كام ليا جائے گا۔

ايسے لوگوں كے ساتھ امن و محبت كے ساتھ زندگي گذارنا محال ہے كہ جن كو يقين ہو آخرت كا عذاب اور سزا ان كو مقدر بن چكا ہے كيونكہ ايك ايسے شخص سے محبت كا مطلب يہ ہوگا كہ خدا سے جنگ و دشمني مول لي جائے كہ جس نے اسے عذاب ميں مبتلا كر نے كا فيصلہ كيا ہے، پس ضروري ہے كہ ايسے لوگوں كو ياتو راہ راست پر لكيا جائے اور وہ سچا دين قبول كر ليں يا انھيں سزا دي جائے۔

ليكن عصر حاضر ميں كوئي ايك خطۂ ارض ايسانہيں جہاں پر فقط ايك ہي قومي دين رائج ہو لہٰذا ضروري ہے كہ ان تمام اديان كے ساتھ جو دوسري اديان كے پيرؤں سے نرمي اور خوش رفتاري سے پيش آتے ہيں خوش رفتاري كا رويہ اختيار كيا جائے بشرطيكہ اپنے دين و عقائد اور قوم ووطن كے تئيں فرايض كو ضررو نقصان نہ پہنچے ۔(۱۲)

جان جاك روسو كي (دين سے متعلق) اس تحرير كو پڑھ كر يہ حقيقت آشكار ہوجاتي ہے كہ ”روسو”نے دين كو انسان كے خود ساختہ اصولوں اور تحريف شدہ آئين و دستور كي روشني ميں ديكھا ہے ايسے آئين جو دين كي حقيقي روح سے بے بہرہ ہيں اور انساني تمدن اور زندگي كے اصولوں سے دور كچھ خشك تعليمات كے سوا كچھ نہيں ہيں۔اسلام اس طرح كے كھوكھلے تصورات سے بيزار ہے اور اگر ہم دين اسلام كي حيات آفريں تعليمات كي روشني ميں ”روسو” كي اس گفتگو كا جائزہ ليں تو اس ميں متعدد كمياں اور كمزورياں موجود مليں گي ان ميں سے بعض كي طرف ہم يہاں اشارہ كرتے ہيں تاكہ حقيقت واضح ہو سكے۔

۱) روسو نے اديان كي تقسيم كرتے ہوئے دين كي تيسري قسم كے باري ميں لكھا ہے كہ”اس طرح كا دين حكومت كے نظام قوانين اور وطن سے مختلف نظام قوانين اور وطن كا تصور پيش كرتا ہے اور انسان دونظام دو وطن اور دو حكمران كے درميان سر گرداں اور تقسيم ہو جاتا ہے جس كا نتيجہ بدعنواني اور انحراف كے سوا كچھ نہيں ہو سكتا، يہ چيز معاشرہ كو صحيح سمت ميں حركت سے روك ديتي ہے۔

اسلام ميں ايسا غلط تصور نہيں پايا جاتا ہے اس طرح كي دوگانگي اسلام ميں كہيں نہيں ملے گي اسلام كے مطابق صرف خداوند متعال كو قانون ساز ي كا حق اور اختيار حاصل ہے اور صرف خدا ہي دنيا كا حقيقي حاكم ہے اور اسي نے امت واحدہ كے لئے صحيح سمت ميں حركت كي راہ معين كي ہے، جس طرح خدا كي ذات ميں كوئي اس كا شريك نہيں اسي طرح عبوديت و تشريع يعني بندگي اور قانون سازي كے حق ميں اس كا كوئي شريك نہيں ہے۔

بنا برايں دين اسلام نے ہرگز امت اسلاميہ كو دو نظاموں ميں سرگرداں نہيں چھوڑا ہے، اسلام ميں فقط ايك ہي نظام ہے جو ايك پوري معاشري كي اجتماعى سعادت اور فلاح و نجات كا ضامن ہے اور انسان كے لئے حقيقي كمال كے راستے كي نشان دہي كرتا ہے، انساني زندگي كے مختلف پہلوؤں اور شعبوں كو صحيح رخ ديتا ہے اور خداوند متعال كے لامحدود علم كي روشني ميں انسان كي تمام مشكلات كا حل پيش كرتا ہے اسلام صرف عالم تخليق اور انسان كے اندر محدود نہيں ہے، بنا برايں ايك حقيقي مسلم معاشرہ وہ معاشرہ ہے جس ميں اسلام كي حكمراني ہے اور كسي بھي قسم كے غير اسلامي تسلط و حكمراني كو قبول نہيں كرتا غيروں كي دست درازي سے ”اسلامي چہار ديواري” كي پوري طرح حفاظت ركھتا ہے۔

۲) روسوكي گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے كہ انھوں نے دين كي حقيقت كو ايك حكومت كے لئے اس كي افاديت كے پر تو ميں پركھا ہے كہ دين معاشر ے كے امور كو آگے بڑھنے كے لئے حكومت كو كس قدر وسائل فراہم كرتا ہے يعني ان كي نظر ميں دين كي پركھ كا اعليٰ ترين معيار يہ ہے كہ دين سياسي اور معاشرتي نظام كي گاڑي آگے بڑھانے ميں كس قدر كامياب ہے!!گويا انھوں نے معيارہي كو الٹ ديا ہے!! دين كي شناخت اور اس كي حقانيت پر ايمان كے لئے دين كے عقلي و فطري سرچشموں كو معيار قراردينا چاہئے اگر ايك دين كے معتقدات اور آئين و دستور قابل قبول منطقي ماخذ اور مسلم عقلي دلائل پر استوار و ثابت ہوں اور خداوند متعال كي طرف دين كا منسوب ہونا درست ہو اور دين كي حقانيت پوري طرح ثابت ہو جائے تو انسان اپنے امور كي باگ ڈور دين كے سپرد كر دے گا اور اس الٰہي دين سے زندگي گذارنے كے طريقے اور پروگرام طلب كر ے گا، نہ يہ كہ پہلے اسماني تعليمات سے بي نياز ہو كر نظام بنائيں اور پھر كسي دين كو اس وقت تك قبول نہ كريں جب تك وہ دين خود ہماري تيار كردہ نظام كے رائج كرنے ميں مدد گار نہ ہو اور ہماري طور طريقے كي تائيد نہ كرے۔

۳) روسونے اديان كي دوسري قسم بيان كرتے ہوئے كہا ہے كہ يہ دين لوگوں كو خرافات اور توہمات ميں مبتلا كر ديتا ہے اور پروردگار كي عبادت كو كھوكھلے طور طريقوں كا اسير بنا ديتا ہے، ليكن ہم ديكھتے ہيں كہ اسلام كے لئے ہرگز يہ بات صادق نہيں آتى، اسلام ميں عبادات كا نظام اور انساني كمال اور تہذيب و تمدن كي ترقي ميں اسلام كا تعميري كردار بت پرستي اور اسكيم انند ہر قسم كے توہمات و خرافات سے بالكل پاك ہے اور يہي بات كافي ہے كہ ہم اس طرح كے تصورات كي حقيقي الٰہي دين كے بھي گنجائش كي نفي كرديں كسي سلسلے ميں، يہ حقيقت اس وقت مزيد آشكار ہو جاتي ہے جب ہم اسلامي نظام كے حدود اربعہ كا جائزہ ليتے ہيں اور ديكھتے ہيں كہ اس پيكر الٰہي كے وجود اور حيات ميں عبادات كا كس قدر اہم كردار ہے پھر بھي شفاعت اور شفاعت كرنے والوں سے متعلق روسو نے جو اشارہ كيا ہے اسلام ميں اس كا ايك تعميري اور حيات آفريں پہلو ہے اور وسيع نتائج كا حامل ہے ۔اسلام نے بيہودہ قسم كي وہم و خرافات پر مبني (بتوں كي) شفاعت كو قبول نہيں كيا ہے بلكہ شفاعت كا وہ تصور ديا ہے جو مثبت اور تعميري ہے جو انسان كو اہم اھداف ومقاصد كے حصول كي طرف رغبت دلائے اور اسے اميد وار بنائے۔

۴) روسو نے اديان كي عالمي حيثيت كو بيان كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان اديان كے پيرو فتح و كامراني كي نسبت موت كي زيادہ مہارت ركھتے ہيں اور اس تصور كي تائيد ميں عيسائي دين اور آئين سے استفادہ كيا ہے كيونكہ عيسائيت اپنے پيرووں كو تعليم ديتي ہے كہ دنيا سے كنارہ كش رہيں اور اپني روح كو دنيا كي فاني لذتوں سے پاك ركھيں اور فتح و كاميابي كي اميدميں معاشرتي اہداف كي تكميل كے لئے شركت نہ كريں۔

يہ تصورات و نظريا ت جو روسو نے دنيائے عيسائيت كو سامنے ركھ كر بيان كئے ہيں اسلام سے ان كا دور كا بھي واسطہ نہيں ہے اسلام نے خدا كے دين كي حكمراني اسلامي مقاصد كي تكميل اور اسلام معاشري كي عزت و سر بلندي كے لئے جہاد كو بہترين عبادت قرار ديا ہے، بيشك اس راہ ميں حركت كے اسباب و عوامل فتح و كامراني كي لذتوں سے كہيں زيادہ بلند محركات كے حامل ہوتے ہيں اور وہ خاموش بيٹھے رہنے كي اجازت نہيں ديتے مسلمان كے نزديك فتح كا مطلب يہ ہے كہ انساني كمال و ارتقاء كي گاڑي تاريخ كے ہر دور ميں اپنے اعلي مقاصد اور عظيم اہداف كے حصول كے لئے ہميشہ آگے بڑھتي رہے، اس كا اصل مقصد ايك كامل توحيد پر ست معاشرہ تشكيل دينا ہے جو تمام پہلوؤں سے سعادت و كامراني كا حامل ہو اسي حقيقت كے تحت ہر مسلما ن پر فرض ہے كہ اس ہدف كے حصول كے لئے ہر ممكن كوشش كرے ايك لمحے كے لئے بھي غفلت سے كام نہ لے۔ چنانچہ اس ھدف كے حصول كے لئے ہروقت آمادہ و تيار رہنے پر جن كيات و روايات زور دياگيا ہے بہت فراوان ہيں، نمونے كے طور پر قران كہتا ہے:( وَاَعِدُّوا لَهُم ما استطعتم من قوه ورباط الخيل ) ۔(۱۳) ”اور تم سب ان كے مقابلہ كے لئے امكاني قوت اور گھوڑوں كي صف بندي كا انتظام كرو”

انسان مومن اجتماعى مفادات كے لئے كام كرنا ذاتي مفادات كي تكميل سے مقدم سمجھتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے كہ اسلام ميں زہد اور دنيا سے دوري كا مطلب اس كے سوا كچھ نہيں ہے كہ انسان خود كومادي دنيا كي حقير لذتون سے آزاد كر لے اور معنويت كي روحاني فضاؤں ميں پرواز كرے تاكہ اگر كوئي مادي چيز ہاتھ سے چلي جائے تو اس كے لئے افسوس نہ كرے اور اگر كوئي چيز حاصل ہو جائے تو اس پر فخر و مباحات نہ كرے، اسلامي نظام ميں انساني زندگي ميں نظم و ضبط ايجاد كرنے، زندگي كے كاروان كو رواں دوان ركھنے عدل و انصاف قائم كرنے اور معاشري كو بہترين انداز ميں سعادت اور كمال و ترقي سے ہمكنار كر نے كي تمام راہيں دكھائي گئي ہيں ۔اگر چہ يہ موضوع وسيع بحث كا طالب ہے اور اس كتاب ميں اس كي گنجائش نہيں ہے اس كتاب ميں صرف ”اسلام ميں حكومت كي بنياد” كے متعلق بحث كرنا مقصود ہے لہٰذا جس حد تك يہ موضوع حكومت كي بحث سے مربوط ہے اسي حد تك ہم بحث و گفتگو كريں گے۔

۵) روسو نے دين كي دوسري قسم بيان كرنے كے ضمن ميں كہا ہے كہ اس طرح كے دين آئين دوسري اديان سے دشمني و عداوت كو رواج ديتے ہيں اور انساني معاشري ميں بد گماني اور جنگ و نزاع كي ذہنيت ايجا د كرتے ہيں ۔

جب كہ حقيقت يہ ہے كہ يہ صورت حال اسي وقت ممكن ہے جب ايك معاشرتي نظام ميں توسيع پسندانہ مادي معيارات كارفرما ہوں، ليكن اگر ہم اسلام پر نظر ڈاليں اور خوشنودي پروردگار پر مركوز اس كے توحيدي نظام ميں انساني محركات كا جائزہ ليں تو دين سے دشمني و عداوت كے بجائے مفاہمت اور امن و آشتي كي توقع وابستہ نظراي گي۔

علاوہ ازايں اسلام قبول كرنے والوں كے متعلق اسلام كے موقف اس موقف سے مختلف ہے جو روسونے متمدن اديان كے متعلق تصور كيا ہے اسلام اگر چہ اپنے مخالفين كو دشمن تصور كرتا ہے ليكن اس كا مطلب يہ نہيں كہ اسلام اپنے دشمنوں كو قتل كر دينے كا خواہشمند ہے جب اسلام انسانيت كے دشمن مشركين سے در گذر كرتا ہے تو بدرجہ اوليٰ اسماني كتابوں پر ايمان ركھنے والے دين دار افراد كو عدالت پر مبني بعض معين شرائط كے تحت اپنے دين كے مطابق زندگي گذارنے كي اجازت ديتا ہے حتي بعض اوقات اسلام نے ان (كافر كتابي) كے ساتھ نيكي كرنے كو قابل ستائش اور پسنديدہ قرار ديا ہے جوا پنے مقام پر بيان ہوا ہے ۔

لہٰذا اس دشمني وعداوت كي منطقي دليل اور توجيہ و تاويل موجود ہے اس دليل كي طرف ہم نے اس وقت اشارہ كيا جب ہم نے بحث كي كہ دين كي قدرو قيمت درج ذيل دو امور كي روشني ميں معلوم كي جا سكتي ہے:

(۱) دين كس حد تك واقعيت پر مبني ہے

(۲) دين كس حد تك عدالت كي ضمانت فراہم كرتا ہے اور معاشري كو سعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرتا ہے۔

جب دين كي حقانيت ثابت ہوجائے اور يہ بھي ثابت ہو جائے كہ كي بنياديں عدالت، حقيقي مصلحتوں اور مفادات پر استوارہيں تو دين كي ہر قسم كي مخالفت حقيقي عدالت اور انسانيت كي حقيقي مصلحتوں اور مفادات كي مخالفت كے مترادف ہوگي۔

اس كے بعد ہم كہيں گے: اسلام نے اپنے دامن ميں موجود خصوصيات اور خوبيوں كي وجہ سے ديني اور دنياوي حكمراني ميں اتحاد و ہماہنگي ايجاد كرنے كے ميدان ميں عظيم كاميابي حاصل كي ہے ليكن مسيحيت اس ميدان ميں ناكام رہي ہے (جيسا كہ روسو نے اس كي تصديق كي ہے، روسو نے اس كاميابي پر نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مدح ستائش كي ہے كيونكہ روسو نے گمان كيا كہ يہ سب كاميابياں حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي ذاتي مہارت دور اندشي اور تدبير امور كا نتيجہ تھيں ليكن روسو اس امر سے غافل رہا ہے كہ يہ ميدان مہارت ذہانت، دور انديشي اور تدبير كا نہيں بلكہ اس كي بنياديں اسلام كي حقيقي روح اور اسلام كي فطري حقانيت پر استوار ہيں، وہ اسلام جو وحي كي صورت ميں نبي اكرم حضر ت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔

روسو كہتا ہے كيونكہ ہر دور ميں حكومت اور مدني قوانين موجود رہي ہيں لہٰذا مخلوط حكمراني اور تسلط كا نتيجہ يہ بر آمد ہوا كہ ہميشہ سے كشمكش اور نزاع بھي موجود رہي جو صحيح نظام اور بہترين پاليسياں مرتب كرنے كي راہ ميں ركاوٹ بني۔(۱۴)

لہٰذ لوگ نہ سمجھ سكے كہ كيا حاكم كي اطاعت ضروري ہے يا پاپ كي اطاعت؟

حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے نظريات اور ان كي پاليسياں بہترين تھيں اور انھوں نے بہترين سياسي نظام مرتب كيا جب تك ان كي حكومت خلفاء كے زير سايہ رہي ايك ايسي حكومت تھي جو مكمل طور پر ان امور سے نمٹنے كي صلاحيت ركھتي تھے ۔

جب عربوں نے ترقي كى، تہذيب و تمدن سے آشنائي كے نتيجہ ميں ثقافت يافتہ اور تہذيب و تمدن يافتہ ہوئے تو نازك مزاج اور سست وكاہل بن گئے لہٰذا بربري نژاد لوگ ا ن پر مسلط ہوگئے، يہي وقت تھا نئے سري سے دو حكمرانوں (حكمران اور پاپ كي حكمراني) كے درميان تقسيم اور جدائي شروع ہوئي ۔بہرحال يہ تقسيم بندي اور جدائي مسيحيت كي نسبت مسلمانوں ميں كم تھي جگہ جگہ مسلمانوں ميں يہ تقسيم قابل مشاہدہ ہے بالخصوص علي كے پيروكاروں ميں، فارس حكومتون ميں يہ تقسيم بندي اور جدائي قابل مشاہدہ ہے۔(۱۵)

روسو نے ان دو حكمرانوں كے درميان جدائي كے مسئلہ كے لئے راہ حل پيش كرتے ہوئے كہا ہے: ”دين حكمراني كو فقط شخصي مسائل تك محدود كر كے پس پشت ڈال ديا جائے،،

اگر روسو مسيحيت كو مد نظر ركھتے ہوئے يہ راہ حل پيش كرے تو يہ راہ حل درست اور قابل قبول ہے، ليكن مجموعي طور پر اس مشكل كا حقيقي علاج اور صحيح راہ حل ان دوحكمرانوں (حكمران اور پاپ كي حكمراني) كے درميان اتحاد وہماہنگي ايجاد كرنا ہے جسے اسلام نے حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي مہارت اور بالغ نظري كے نتيجہ ميں نہيں بلكہ تعليمات الٰہي كي روشني ميں پيش كيا ہے

وطن

وطن سے مراد كيا ہے؟ روسو كي مذكورہ بالا عبارت سے ظاہر ہوتا ہے كہ وطن سے مراد زمين كا ايسا حصہ ہے جس پر افراد زندگي بسر كرتے ہيں، اور پيمان معاشرت كي اكائيوں كو تشكيل ديتے ہيں اور حكومت كي اقسام ميں سے كسي ايك قسم كو نافذ كرتے ہيں، حكومت سے متعلق اسلامي تصور وطن كي اس تعريف كو قبول نہيں كرتا (چنانچہ عنقريب بحث آئے گي) اسلام ميں وطن سے مراد وہ تمام مسلم ممالك ہيں جن ميں ايك ايسي اسلامي حكومت حكم فرما ہو جو اسماني تعليمات ك بنياد پر بنائے ہوئے قوانين كے مطابق حكمراني كرے، يہ حكومت پيمان معاشرت كي بنياد پر استوار نہ ہو امام (معصوم عليہ السلام) كے دور ميں متعدد اسلامي حكومتوں كا تصور ممكن نہيں ہے ليكن امام عليہ السلام كي غيبت كے زمانے ميں متعدد علاقے (ممالك) قابل تصور ہيں جن ميں ايسے حكمرانوں كي حكومت ہو جو اسلامي نظام اور اسلامي قوانين كو نافذ كرنے والے ہوں، اور ان حكمرانوں كي حكومت كا جواز يہ ہو كہ يہ ساري حكمران، امام كي نيابت اور نمايندگي ميں حكمراني كرتے ہيں، اسي بنياد پر اسلام ميں متعدد وطن متصور نہيں ہيں۔

بلكہ فقط ايك اسلامي وطن قابل تصور ہے جسے اسلامي فقہ كي اصطلاح ميں ”دارالاسلام”كہا جاتا ہے۔

وطن كي اصطلاح كے متعلق ايك تجويز

ہمارا مشورہ ہے كہ اسلامي سر زمين كي بجائے ”دارالاسلام”كي اصطلاح استعمال كي جائے اور وطن كي تعبير فقط وہاں پر استعمال كي جائے جہاں پر مسافر اور غير مسافر كے فقہي احكام بيان كرنا مقصود ہوں كيونكہ اگر شخص وطن (وہ جگہ جہاں پر وہ رہائش پذير ہے) ميں ہو تو اس كے (نمازو روزے) كے احكام كچھ اور ہيں جب كہ سفر ميں ہو تو اس كے احكام كچھ اور ہيں۔

ہم نے يہ تجويز اس لئے پيش كي ہے كيونكہ وطن كي اصطلاح ميں بعض مغربي رنگ اور

ابہامات پائے جاتے ہيں جس كي بنياد پر دو ايسے علاقے (ممالك) كہ جن ميں لوگ زندگي گذاري رہے ہوں (دو عليحدہ عليحدہ) پيمان معاشرت كي بنياد پر دو وطن شمار ہوتے ہيں، يا قوميت كي بنياد پر، يا جغرافيائي حدود كي بنياد پر يا بعض دوسري عناصر كي بنياد پر دو وطن شما ر ہوتے ہيں۔

كيونكہ ان ميں درج ذيل امتيازات اور فرق پائے جاتے ہيں لہٰذا ان امتيازات كي بنياد پر ان كے لئے متعدد وطن قابل تصور ہيں:

۱) پيمان معاشرت

۲) قوميت ونژاد

۳) جغرافيائي حدود

۴) فوجي اثرو رسوخ

جب كہ اسلام ميں دو وطنوں كے درميان حقيقي فرق اور حد فاصل اسلام اور كفر ہے (كفر كي بنياد پر ايك وطن اور اسلام كي بنياد پر دوسرا وطن)

نظريہ جمہوريت پر اعتراضات

اب تك ہم جمہوري طرز تفكر، جمہوريت كے جواز كے دلائل، جمہوريت كي راہ ميں موجود ركاوٹوں اور مشكلات كے راہ حل اور جمہوريت سے متعلق دين كے موقف سےآشنا ہو چكے ہيں اب ايك اور زاويئے سے جمہوريت كي راہ ميں موجود ركاوٹوں اور جمہوريت پر كئے جانے والے اعتراضات كو بيان كررہے ہيں ۔ہم وضاحت كريں گے كہ جمہوريت كے پاس ان اعتراضات كا كوئي (قابل قبول) جواب موجود نہيں ہے۔وہ اشكالات اوراعتراضات در ج ذيل ہيں:

۱) اقليت كے حقوق كي پامالى

جمہوريت كے نتيجہ ميں اقليت كے حقوق پامال ہو جاتے ہيں كيونكہ كوئي ضمانت فراہم نہيں كي جا سكتي كہ كسي بھي مسئلے پر مكمل اتفاق راي ہو سكتا ہے، يہاں تك كہ اس بنيادي اور كلي اصول پر بھي اتفاق راي نہيں ہوتا كہ اكثريت آراء كو معيار قرار ديا جائے، اگر عوام كي كچھ تعداد اس بنيادي اصول (اكثريت آراء معيار ہو) كو قبول نہ كرے (اگر چہ ان كي تعداد كم ہو) تو ايسے لوگوں كے ساتھ (جمہوريت) كا رويہ كيا ہوگا؟

اس سلسلے ميں جان جان روسو كہتے ہيں: ”حكومت فقط ان لوگوں كے درميان قائم ہوتي ہے جو پيمان معاشرت ميں شريك ہوتے ہيں اور اس پيمان كے مخالفين كو ملك كے شہريوں كے درميان اجنبي اور بيگانے لوگوں كي حيثيت حاصل ہوتي ہے، اگر يہ اقليت مكمل اختيار كے ساتھ اس ملك ميں سكونت اختيار كرے تو اس كامطلب يہ ہے كہ وہ پيمان معاشرت ميں شريك ہے۔

يہ مخالفين اس پيمان معاشرت كے نتيجہ ميں قائم ہونے والي حكومت كے سامنے سر تسليم خم كرتے ہيں۔لہٰذا ہماري سامنے اقليت كے مسئلہ كے نام سے كوئي ركاوٹ اور مشكل موجود نہيں ہے (يعني در حقيقت ہماري پاس اس كاراہ حل موجود ہے) ليكن حيران كن (لاجواب) سوال يہ ہے كہ اس اقليت نے كس بنياد پر اس ملك ميں رہنے كا فيصلہ كيا ہے؟ آپ كس اختيار كي بنياد پر اس اقليت كو دو چيزوں ميں سے ايك كو اختيار كرنے پر مجبور كرتے ہوئے كہتے ہيں: ”اگر اس ملك ميں رہائش اختيار كروگے تو اس كا مطلب يہ ہوگا كہ تم لوگ حكومت كي اطاعت كرتے ہو ورنہ دوسري صورت يہ ہے كہ اس ملك كو چھوڑ كر چلے جاؤ “سوال يہ ہے كہ اس اقليت كو يہ اختيار كيوں حاصل نہيں ہوتا كہ تيسري صورت (اس ملك ميں رہتے ہوئے پيمان معاشرت ميں شامل نہ ہو اور اس پر حكومت كي اطاعت بھي ضروري نہ ہو) كو اختيار كر سكے؟

كيا يہ اقليت اس حكومت كو قبول كرتي ہے؟ كيا ان كي نظر ميں حكومت كو يہ حق حاصل ہے كہ انھيں دو صورتوں ميں سے كسي ايك صورت كو اختيار كرنے پر مجبور كرے؟ يہ ايك بے معني فرض ہے كہ پيمان معاشرت ميں شريك نہ ہونے والا فرد يا جماعت (جوايك ملك ميں رہائش پذير ہے) كے روابط پيمان معاشرت ميں شريك ہوكر حكومت تشكيل دينے والي جماعت سے مكمل طور پر كٹ جائيں، اب يہ كہنا كہ كيونكہ ايك دوسري سے ان دوجماعتوں كے روابط مكمل طور پر كٹ چكے ہيں لہٰذا اقليت نامي كوئي مسئلہ ہي موجود نہيں ہے (تاكہ اسے حل كرنے كي ضرورت محسوس ہو)

يہ نا معقول بات ہے كيونكہ ہر حكومت كي ذمہ داري ہے كہ اپنے باشندوں اور شہريوں پيمان (جومعاشرت ميں شامل ہوئے ہوں) كے دوسري لوگوں كے ساتھ روابط وتعلقات كي نوعيت كو مشخص كرے، يہ معين كرنا بھي حكومت كي ذمہ داري ہے كہ اگر كچھ اور لوگ (جو قرار داد ميں شامل نہيں ہوئے) اس ملك ميں سكونت اختيار كرنا چاہيں تو اس كاطريقہ كيا ہوگااور ان لوگوں پر كون سے قوانين لاگو ہوں گے؟

جب صورت حال يہ ہے تو دوبارہ يہ سوال اٹھ كر سامنے آتا ہے كہ حكومت اس شخص كي آزاديوں كو كس جواز كي بنياد پر محدود كرتي ہے جس نے پيمان معاشرت كو قبول نہيں كيا، اور اس حكومت كو اس شخص پر اپنے قوانين لاگو كرنے كا حق كہاں سے حاصل ہوا ہے يہ شخص نہ تو حكومت كو قبول كرتا اور نہ ہي اس پيمان ميں شريك ہواہے جس كي بنياد پر حكومت قائم ہوئي ہے۔

جمہوريت كے پاس اس سوال كا كوئي معقو ل جوا ب نہيں ہے۔

۲) اقليت كي حكومت

ہم نے پہلے اعتراض كے ضمن ميں ملاحظہ كيا كہ جمہوري نظام ميں كسي معقول دليل كے بغير اكثريت، اقليت پر حكمراني كرتي ہے ليكن يہاں پر صورت حال بر عكس ہے جس كي وجہ سے جمہوريت پر اعتراض ميں مزيد شدت آجاتي ہے كيونكہ آخركار اقليت اكثريت پر حكومت كرتي ہے آپ سوال كريں گے يہ كيسے ممكن ہے۔؟

ہم جانتے ہيں معاشري ميں مال و دولت، تعليم اور سياسى، اجتماعى، ديني اثرو رسوخ نيز مہارت و ذہانت كے اعتبار سے طبقاتي فاصلہ پاياجاتا ہے ممكن ہے مندرجہ بالا وسائل (طبقاتي فاصلوں كے اسباب) ايك خاص اقليت كے ہاتھ ميں ہوں۔ يہ بھي ممكن ہے كہ اقليتي گروہ مالي سياسي ديني وسائل اور پرپگنڈہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں كے ووٹ خريدلے يا يہ كہ ان وسائل كو بروئے كار لاتے ہوئے اپنے اغراض ومقاصد كے حصول كے لئے عوامي آراء كو استعمال كرے اور آخر كار يہ نتيجہ سامنے آئے كہ (يہ اقليت) اكثريت كے آراء (فيصلوں) پر اثر انداز ہو۔

جمہوريت كے پيروركار اس اعتراض كا جواب مال ودولت اور قدرت و طاقت كے اعتبار سے لوگوں ميں نسبي مساوات اور برابري كے ذريعے ديتے ہيں، (جب مال و دولت اور قدرت وطاقت كے اعتبار سے لوگ مساوي ہوں گے تو اقليت، اكثريت كي آراء پر تسلط حاصل نہيں كر سكے گي) ليكن يہ راہ حل ہماري اعتراض كا جواب فراہم نہيں كر سكتا كيونكہ مساوات كا قانون اس صورت ميں رائج اور نافذ ہو سكتا ہے جب حكومت وسيع سطح پر اقتصادي نظام وضع كرے اور متعدد طريقوں سے مختلف قوتوں ميں ہماہنگي ايجا د كرے ۔ليكن پھر وہي سوال سامنے آتا ہے كہ حكومت كو ان امور كي انجام دہي اور لوگوں پر حكمراني كا حق كہاں سے حاصل ہوا ہے؟

غير اشتراكي معاشري ميں معمولي فاصلے (ولو نسبي فاصلے) كا فرض كيا جائے تو يہ احتمال ديا جا سكتا ہے كہ لالچ دينے اور فريب و دھوكہ جيسے ہتھكنڈوں كے ذريعے لوگوں كے ووٹوں كو خريدا جا سكتا ہے۔

جمہوريت كے طرفداروں كادعويٰ ہے كہ حكومت اس مخصوص گروہ (ثر وتمند اقليتي گروہ) كوچھوٹ نہيں ديتي كہ يہ گروہ مختلف سياسي ومالي وسائل كے ذريعے عوام كے ووٹ خريد سكے، ليكن ہم پھر وہي سوال دہرائيں گے: حكومت كي حكمراني كا جواز كيا ہے؟ يہ دعويٰ كيونكر كيا جا سكتا ہے كہ حكومت اپنے اقتدار اور طاقت و قوت كے ذريعے صاف و شفاف انتخابات منعقد كرواسكتي ہے، جب كہ حكومت كواثر و رسوخ استعمال كرنے كا قانوني حق حاصل نہيں ہے ۔

فرض كريں ايك ايسي حكومت موجود ہے جو اقليت كو اكثريت كے خلاف مالي وسياسي وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھانے كي اجازت نہيں ديتي ليكن كيا ضمانت دي جاسكتي ہے كہ خود حكومتمالي وسائل، سياسي اثر روسوخ اور پروپگنڈہ جيسے وسائل كو اپنے حق ميں استعمال نہيں كرے گي۔!!

ليكن اشتراكي معاشرہ، جس ميں فرض يہ ہوتا ہے كہ حكومت كا وجود نہيں ہے (اگر چہ فقط يہ ايك فرضيہ ہے كيونكہ كوئي نہ كوئي حكومت موجود ہوتي ہے) ہماري بحث سے خارج ہے كيونكہ ہماري بحث كو موضوع حكومت كي شكل اور حكومت كي كيفيت ہے اور اس معاشري ميں فرض يہ ہے كہ كوئي حكومت ہي نہيں ہوتي تاكہ اس كي شكل و كيفيت كے باري ميں بحث كي جائے، ليكن اگر اس معاشرہ ميں حكومت كے معدوم ہونے سے پہلے والے مرحلہ كو مدنظر ركھا جائے تو كم از كم ايك حكمران قوت موجود ہوتي ہے اور وہ قوت اقليتي پارٹي كي صورت ميں موجود ہوتي ہے جو اكثريت كے ووٹوں كو اپني مرضي كے مطابق استعمال كرتي ہے البتہ اس امر سے چشم پوشي كرتے ہوئے كہ اشتراكيت كا رواج (جو حكومت كے معدوم ہونے كا مقدمہ ہے) بھي قدرتمند حكومت ہي كے ذريعے ممكن ہے ہم پھر وہي سوال دہرائيں گے كہ حكومت كے اقتدار اور امت پر حكومت كے احكام و قوانين كے واجب ہونے كا عقلي و قانوني جواز كياہے؟

ہم نے جو اعتراضات جمہوريت پر كئے ہيں در حقيقت محنت كش طبقے كي حكومت كہ اشتراكي نظام جس حكومت كا نعرہ لگاتا ہے اس پر بھي يہي اشكالات واعتراضات كئے جا سكتے ہيں كيونكہ اشتراكي نظام كا دعويٰ ہے: محنت كش طبقے كي حكومت در حقيقت محنت كش طبقے ميں جمہوري حكومت ہے اور محنت كش طبقے كادوسري طبقوں پر ايك قسم كا استبداد اور ڈكٹيٹر شپ ہے، اس لئے استبداد ي حكومت پر كئے جانے والے اعتراضاتِ اس حكومت پر بھي وارد ہوں گے۔

ليكن يہ حكومت ان اعتراضات سے بالاتر ہے كيونكہ اشتراكي نظام كے حامي جبر تاريخ كے قائل ہيں اور ان كي حكومت كي بنياد بھي جبر تاريخ پر استوار ہے جيسا كہ (مادّيت تاريخ) كا نظريہ ہے ۔لہٰذا جو چيز دائرہ اختيار سے خارج ہو اس سے متعلق يہ بحث ممكن نہيں كہ كيا يہ ظلم ہے يا عدل وانصاف؟ اس نظريے كے مطابق ہر زمانے ميں عدالت وہي ہے جس كا جبر تاريخ تقاضاكرے اور ظلم وہ ہے جسے جبر تاريخ ٹھكرادے، اپنے مقام پر جبر تاريخ كے نظريے كو اعتراض و تنقيد كا نشانہ بناياگيا ہے اور ثابت ہوچكا ہے كہ تاريخ سازي ميں انسانيت اور انساني ارادے كا نہايت اہم كردار ہے ايسا نہيں كہ اس كا واحدسبب ٹيكنالوجي اور مادي ترقي ہے۔

۱) اگر ہم حكومت كي اقسام كو مذكورہ اقسام ميں منحصر سمجھيں تو يہ اعتراض جمہوريت كي بعض اقسام كو شامل ہے جب كہ بعض اقسام كو شامل نہيں ہے۔

اعتراض و اشكال يہ ہے كہ عوام كي راي حاصل كرنا اور آراء كي جمع اور ي اگر چہ اپني جگہ پرمفيد ہے (دوسري اعتراضات سے قطع نظر) ليكن اس كا فائدہ صرف يہ ہے كہ قانون سازي كرتے وقت قانون سازي كرنے والے افراد قلبي طور پر مطمئن ہوں كہ انھيں عوامي تائيد حاصل ہے،

ووٹنگ اجتماعى مفادات و مصالح كي حفاظت كے لئے بہترين اور كامياب راہ حل كي تشخيص اور مفيد نظام كي حفاظت كا سبب نہيں بن سكتى، بلكہ اس سے بہتر طريقہ يہ ہے كہماہر، تجربہ كار صاحب نظر سلجھے اور ملجھے ہوئے افراد كا انتخاب كيا جائے اور انھيں يہ اختيار ديا جائے كہ تبادلہ خيال اور بحث و گفتگو كر كے اجتماعى مشكلات كا بہترين حل تلاش كريں ۔

ليكن تمام عوام كي طرف رجوع كرنا اور ان كي راي معلوم كرنے كا مطلب يہ ہے كہ اتني بڑي اكثريت كو اجتماعى مشكلات كا مناسب راہ حل تلاش كرنے كا ذمہ داري سونپي جائے كہ جس كے افكار و خيالات پر جہالت اور ذاتي اغراض و مقاصد كا غلبہ ہے، ايسي صورت حال ميں احتمال ديا جا سكتا ہے كہ كثرت آراء اور شور وغل كے نتيجے ميں حق ضائع ہو جائے گا، يہ صورت ميں ہے كہ جب قانون سازي كے لئے بلا واسطہ طور پر عوام سے رجوع كيا جائے ليكن اگر لوگوں كو ايسے نمايندے منتخب كرنے كا حق ديا جائے جو لائق، اپنے فن ميں ماہر، صاحب نظر اور اس امر كے لئے موزون و مناسب ہوں تو يہ مشكل بہت حد تك كم ہو جائے گى، ليكن پھر بھي ضمانت نہيں دي جا سكتي كہ منتخب افراد اس ذمہ داري كو نبھانے كے لئے موزوں ومناسب ہوں گے خواہ عوام انھيں قرعہ اندازي كے ذريعے معين كرے خواہ انتخابات كے ذريعے ۔يہ بات معقول نہيں كہ قرعہ اندازي كے ذريعے منتخب ہونے والا نمايندہ دوسروں سے بہتر ہوگا اور اسي طرح انتخابات كے نتيجے ميں منتخب ہونے والے نمايندگان بھي ضروري نہيں كہ دوسروں كي نسبت بہتر صفات و شرائط كے حامل ہوں گے كيونكہ انھيں ايك ايسي اكثريت ووٹ ديتي ہے جن پر جہالت اور ذاتي اغراض ومقاصد كا غلبہ ہوتا ہے۔

بہر حال خدائي راہ حل سے قطع نظر، اہل فن اور صاحب نظر نمايندگان كے انتخاب كا طريقہ باقي طريقوں سے بہتر ہے۔

ہم سوال كرتے ہيں كہ حكومت كے ساتھ قرار داد باندھنے والا كون ہے كيا موجودہ زندہ لوگ ہيں (تاكہ انھيں قوم و ملت كا نام ديا جائے) يا طرف قرار داد معنوي شخص ہے كہ جس كا دائرہ موجودہ زندہ افراد سے وسيع تر ہے اور كم از كم گذشتہ افراد كو شامل ہے (تاكہ اسے امت كا نام ديا جائے) پس حكمراني كا حق كس كوحاصل ہے؟ قوم وملت كو يا امت كو؟ جمہوريت ميں يہي دو مختلف مسلك و مكتب پائے جاتے ہيں۔

ڈاكٹر عبدالمجيد متولي نے اپني كتاب”اسلام اور نظام حكومت كي بنياديں" ميں ملت كي حاكميت اور امت كي حاكميت ميں موجودہ فرق كي اہميت كو بيان كرتے ہوئے كہا ہے(۱۶) ”يہ اہميت دو مسئلوں ميں ظاہر ہوتي ہے۔”

۲) قوم وملت كي حكمراني كے نظريہ كے مطابق انتخاب ايك حق شمار كيا جاتا ہے كيونكہ حكمراني موجودہ اہل وطن كي ملكيت شمار ہوتي ہے يعني ہر اہل وطن حكمراني و اقتدار كے ايك جزء كامالك ہوتا ہے لہٰذا اسے حكمراني كے امور ميں شركت كا حق حاصل ہوتا ہے ۔ليكن اگر امت كي حكمراني كے نظريے كو مد نظر ركھا جائے تو (قدري بہتر راي كے مطابق) انتخاب يا ايك فرض كي حيثيت ركھتا ہے يا بعض فرانسوي دانشوروں كي تعبير كے مطابق انتخاب قانوني حكمراني ہے ۔اس نظريہ كے مطابق ووٹرامت كے فرد كي حيثيت سے انتخاب كو انجام ديتا ہے اپنے مخصوص حق كے طور پر انتخاب ميں شركت نہيں كرتا گويا وہ اپنا عمومي فرض انجام ديتا ہے (انتخاب كے نتيجے ميں) قانون ساز كو حق حاصل ہوتا ہے كہ وہ اپنے فرائض كو كما حقہ انجام دينے كي خاطرفرد كے لئے (اسے ووٹر اور راي دہندہ فرض كرتے ہوئے) شرائط اور قيود وضع كرے۔

۳) نہايت اہم نتيجہ جواس اختلاف (حق حكمراني ملت كو حاصل ہے يا امت كو) پر مرتب ہوتا ہے يہ ہے كہ دونوں نظريوں كے مطابق جمہوريت كي ايك شكل سامنے نہيں آتي بلكہ ہر ايك نظريے كے نتيجے ميں جمہوريت كي مختلف شكليں سامنے آتي ہے، ملت كي حكمراني كا نظريہ ركاوٹيں ايجاد كرنے اور سياسي توازن بر قرار كر نے جيسي روشوں كي اجازت نہيں ديتا جب كہ امت كي حكمراني كا نظريہ يہ روشيں اختيار كرنے كي اجازت ديتا ہے۔

الف) مذكورہ بالا نكتہ كي وضاحت يہ ہے (امت كي حكمراني كے نظريہ كے مطابق) جائز ہے كہ پارلماني اكثريت كے فيصلوں اور تجاويز كے مقابلے ميں (ان كے فيصلوں كو روكنے كي خاطر) قوانين وضع كئے جائيں تاكہ پارليمنٹ عارضي اور وقتي عوامل كي بنياد پر قوانين پاس نہ كر سكے، اور اطمينان حاصل ہو سكے كہ پارليمنٹ كے فيصلے غور وخوض كرنے كے بعد حاصل ہونے والے مستحكم و پائيدار ارادہ سے وجود ميں آئے ہيں وقتي اور عارضي رجحانات كے نتيجے ميں وجود ميں نہيں آئے ہيں دوسري لفظوں ميں ان قوانين اور فيصلوں كے پس پردہ ايك ايسا ارادہ كار فرما تھا جس ميں قومي مفادات كو مدنظر ركھا گيا تھا اور يہ ارادہ (چنانچہ ہم پہلے ذكر كر چكے ہيں (كہ امت كا دائرہ آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہے) امت كا ارادہ تھا۔

بنابرايں امت كي حكمراني كے نظريہ كے حامي جائز سمجھتے ہيں كہ پاليمنٹ كے فيصلوں كے مقابلے ميں قوہ مجريہ (حكومت كي كابينہ كے اراكين) كو اعتراض كا حق”ويٹو"(۱۷) حاصل ہے ۔

اسي طرح امت كي حكمراني كے نظريہ كے مطابق يہ بھي جائز ہے كہ پارليمنٹ امت كي منتخب نمايندہ اسمبلي كے علاوہ ايك دوسري اسمبلي (ايوان بالا يا سينٹ) پر مشتمل ہو، تاكہ اطمينان حاصل ہو سكے كہ پارليمنٹ كے فيصلے قومي ارادے اور خواہشات كے مطابق ہيں چنانچہ ہم اس كي طرف اشارہ كر چكے ہيں (يا فرانسوي دانشوروں كے مطابق) اكثراوقات ايوان بالا (سينٹ) قومي اسمبلي كے ساتھ اختلاف راي ركھتي ہے اس صورت حال ميں كہا جا سكتا ہے كہ:

ب) ليكن ملت كي حكمراني كے نظريے (جس نظريے كا سر چشمہ روسو ہے چنانچہ اس كا تذكرہ ہو چكا ہے)(۱۸) كے مطابق صورت حال بر عكس ہے كيونكہ اس نظريہ كے مطابق اكثريت كے ارادہ كا احترام اور نفاذ ضروري ہے اور اس نظريہ كے مطابق يہ بحث كرنا ضروري نہيں كہ پارليماني قوانين كا سر چشمہ ہماگير اور مصمم ارادہ ہو جو امت سے جاري ہوتا ہے، بنابراين اس نظريہ كو قبول كرنے والوں كي نظر ميں جائزنہيں ہے كہ قوہ مجريہ كو (پارليمنٹ كے مقابلے ميں) ويٹو كا حق حاصل ہو اور يہ بھي جائز نہيں كہ پارليمنٹ دو اسمبليوں (قومي اسمبلي اور ايوان بالا يعني سينٹ) پر مشتمل ہو بلكہ پارليمنٹ كي تشكيل كے لئے ايك ہي اسمبلي پر اكتفاء كياجائے مگر فيڈرل اور متحدہ رياستي حكومتوں ميں متعدد اسمبليوں كي ضرورت ہو سكتي ہے۔(۱۹)

ج) روسو كا عقيدہ ہے كہ ملت كے (منتخب) نمايندوں كو قومي ارادے كے سامنے سر تسليم خم كرنا رہتا ہے اور راي دہندگان انھيں اپني خواہشات و تقاضوں سے آگاہ كرتے ہيں اور نمايندے ان ہي خواہشات و تقاضوں كو عملي جامہ پہناتے ہيں راي دہندگان كو حق حاصل ہوتا ہے كہ جب چاہيں نمايندوں كو بر طرف كر ديں اس سے معلوم ہوتا ہے كہ روسو حتمي وكالت كے نظريے كا قائل ہے جو نظريہ جمہوريت كے متعلق مغربي نظريہ سے منافي ہے جس ميں حكمران قوم كا نمايندہ ہوتا ہے۔(۲۰) ڈاكٹر عبد الحميد متولي كي عبارت كا يہي حصہ نقل كرنا مقصود تھا۔

بہر حال اگر جمہوريت كے طرفدار يہ كہيں كہ پيمان معاشرت كي طرف ملت (موجودہ لوگ) ہے تو آيندہ انے والے لوگوں كے حقوق سے متعلق سوال پيدا ہوتا ہے اور اسي طرح ان لوگوں كے حقوق سے متعلق سوال پيدا ہوتا ہے جن ميں (پيمان برقرار ہوتے وقت) راي (ووٹ) دينے كي شرائط موجود نہيں تھيں مثلاً ان كي عمر ووٹر كي قانوني عمر سے كم تھى، كس دليل كي بنياد پر حكمراني كا حق فقط موجودہ افراد سے مخصوص ہے جن ميں راي (ووٹ) دينے كي شرائط پائي جاتي ہيں؟ اگر يہ جواب ديا جائے كہ آيندہ انے والے اور مستقبل ميں راي دينے كي شرائط پر پورا اترنے والے لوگ اگر محسوس كريں كہ فلاں قانون ان كے مفادات كے خلاف ہے تو يہ لوگ موجودہ قانون كو تبديل كر سكتے ہيں شرط يہ ہے كہ انھيں اكثريت كي حمايت حاصل ہو ليكن اگراكثريت حاصل نہ كرسكيں تب بھي كوئي حرج نہيں (يعني اس سابقہ قانون كو تسليم كريں) يہاں پر ہم سابقہ بات (اشكال) كو دہرائيں گے كہ اكثريت، اقليت كے حقوق پامال كرتي ہے اور يہ كہاجائےگا كہ يہ اقليت (آيندہ انے والے لوگ) موجودہ قانون پر راضي نہيں ہے اور يہ بھي قبول نہيں كرتي كہ اكثريت آراء كو معيار قرار ديا جائےاور اس محور پر اكثريت سے ہم عقيدہ نہيں ہے۔

۴) فرض كيا جاسكتا ہے (اگر چہ عقلي احتمال كے طور پر) كہ تمام ملت مكمل طور پر اس عام قانون پر متفق ہو جائے كہ معيار اكثريت كي راي ہوگي ليكن يہ فرض ہماري مورد بحث اقليت كے باري ميں صحيح نہيں ہے كيونكہ ضمانت نہيں دي جاسكتي كہ آيندہ انے والے افراد اور مستقبل ميں بالغ ہونے والے افراد موجودہ افراد كے فيصلے سے اتفاق كريں گے اگر وہ اتفاق نہ كريں تو كس طرح پيمان معاشرت معقول مدت تك قائم رہ سكے گا؟

۵) كبھي كبھار قاصر(۲۱) كا قصور (نقص) واضح ہوتا ہے مثلاً اتنا كم سن بچہ جو اچھے كو بري سے تميز نہ دے سكے اور كبھي كبھار اس كا نقص اور قصور واضح نہيں ہوتا لہٰذا ہميں جامع قانون كي ضرورت ہے جو قاصر كو غير قاصر سے تميز دے سكے ۔جب تك يہ قانون پاس نہ ہوجائے ہميں معلوم نہيں ہوتا كہ راي (ووٹ) دينے كي اہليت ركھنے والے افراد كي تعداد كتني ہے؟ كيونكہ ہميں بالغ افراد (ووٹ كي اہليت ركھنے والے) كي تعداد معلوم نہيں ہو سكتي كيسے دعويٰ كيا جاسكتا كہ فلاں قانون پراتفاق راي پايا جاتا ہے۔حتي اس جامع اور بنيادي قانون پر بھي اتفاق راي كا دعويٰ نہيں كيا جاسكتا ہے جس كے مطابق اكثريت كي آراء معيار قرارپاتي ہيں؟ !

۶) آيندہ نسل ياآيندہ ووٹ كي اہليت حاصل كرنے والے افراد بتدريج اكثريت حاصل كرليں گے اور ممكن ہے وہ اپني خواہشات اور اپنے مفادات كے مطابق موجودہ قانون كو تبديل كرديں تاكہ (كم ازكم) مستقبل ميں اپنے حقوق كي پامالي كا سد باب كر سكيں اور اپنے مفادات كا تحفظ كر سكيں انہوں نے جو نقصان سابقہ قوانين كے نتيجے ميں اٹھكياہے اس كي تلافي كس طرح كريں گے واضح ہو كہ ماضي ميں ہونے والے نقصان اور ماضي ميں پامال ہونے والے حقوق كي تلافي اور ازالہ ممكن نہيں ہے۔

مثال كے طور پر ايك علاقے ميں تيل كے ذخائر موجود ہوں موجودہ اكثريت تمام ذخائر كو فروخت كردے يعني ذخائر سے اتنا استفادہ كيا جائے كہ ذخائر ختم ہو جائيں جب كہ آيندہ نسل كو تيل كي شديدضرورت ہو اور وہ عالمي منڈي سے مہنگے داموں تيل خريدنے پر مجبورہوں؟

اسي طرح اگر موجودہ نسل جنگلات كي كٹائي كر كے جنگلات كا صفكيا كردے جب كہ جنگلات ماحول كوآلودگي سے بچانے ميں اہم كردار ادا كرتے ہيں اور اسي طرح تجارت اور سياست كے ميدان ميں طويل الميعاد معاہدے وغيرہ (بھي آيندہ نسلوں كے حقوق كوپامال كرتے ہيں) يہ سب اعتراضات پہلے نظريہ كو قبول كرنے كے صورت ميں سامنے آتے ہيں جس نظريہ كے مطابق قوم و ملت پيمان معاشرت كا ايك فريق اور طرف ہوتي ہے، ليكن اگر دوسري نظريہ كو قبول كيا جائے (جس كے مطابق طرف پيمان امت ہے اور ملت آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہے) تو اس سوال كے كے لئے زمين ہموار ہوگي كہ آيندہ نسلوں اور مستقبل ميں ووٹ كي صلاحيت حاصل كرنے والے افراد كے حقوق كے تحفظ كي ضمانت كس طرح فراہم كي جاسكتي ہے؟ جمہوريت پر ضروري ہے كہ اس سوال كا جواب دينے كي غرض سے بعض ايسے قدم اٹھائے جن كے ذريعےآيندہ نسلوں كے حقوق كے تحفط كي ضمانت فراہم ہو سكے ۔

مثال كے طور پر درج ذيل اقدامات كرے جو ڈاكٹر عبد الحميد متولي كي اس عبارت سے سمجھے جاتے ہيں جسے ہم گذشتہ صفحات پر نقل كر چكے ہيں:

۷) راي دہندگان فقط اپنے مفادات و خواہشات كو مدنظر نہ ركھيں بلكہ پوري امت كے مشتركہ مفادات اور مصلحتون كو مد نظر ركھيں (امت موجودہ نسل كے علاوہ آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہے) ۔كيونكہ آيندہ نسليں بھي قدرتي وسائل اور معدني ذخائر ميں شريك ہيں اور آيندہ نسليں اجتماعى زندگي ميں شريك ہوں گي عوامي نمايندے بھي فقط ان افراد كے مفادات كے تحفظ پر اكتفاء نہ كريں جنھوں نے انھيں منتخب كيا ہے بلكہ ان كا زاويہ نگاہ وسيع ہوناچاہئے اور پوري امت كے مفادات اور مصلحتوں كو مد نظر ركھيں۔

۸) اركان پارليمنٹ كو راي دہندگان سے ہٹ كر بھي كچھ اور ختيارات حاصل ہونے چاہئيں تاكہ آيندہ نسلوں كے حقوق كو بھي مد نظر ركھ سكيں اور ان كا مطمع نظر فقط ان افراد كے حقوق كا تحفظ نہ ہو جنھوں نے انھيں منتخب كيا ہے۔

۹) قانون بنانے والا، راي دہندگان كے لئے بعض قيودو شرائط معين كرے تاكہ راي دہندگان اپنا فريضہ بخوبي انجام دے سكيں اور پوري امت كے مفادات كو مدنظر ركھتے ہوئے فيصلہ كريں ۔

۱۰) پارليمنٹ دواسمبليوں پر مشتمل ہو ۹۱منتخب قومي اسمبلي جو نمايندگان پر مشتمل ہو!! سينٹ ياايوان بالا، جس كے اركان مہارت طويل تجربات اور لياقت و اہليت كي بنياد پر منتخب ہوں تاكہ طويل الميعاد مصلحتوں اور مفادات كے باري ميں سوچ بچار كر سكيں۔

۱۱) آيندہ نسلوں كے حقوق كے تحفظ كي خاطر قوہ مجريہ (كابينہ كے اراكين) كو پارليمنٹ ميں پاس ہونے والے بلوں كو رد كرنے كے لئے ويٹو كا حق ديا جائے ۔

مندرجہ بالا امور مذكورہ مشكل كے لئے موثر اور كامياب راہ حل پيش نہيں كر سكتے حتي اگراس امر سے چشم پوشي بھي كرلي جائے كہ يہ فرضيہ معقول نہيں كہ ملت (موجودہ نسل) اور حكومت، آيندہ نسلوں سميت پوري امت كي مصلحتوں اور مفادات كو مدنظر ركھتے ہوئے حركت كرے گي يہ ضمانت فراہم كرنا بھي معقول نہيں كہ ملت اس راستے (پوري امت كے مفادات) سے منحرف نہيں ہوگي كيونكہ ملت كے فيصلوں اور اقدامات ميں دين كا ذرہ برابر بھي عمل دخل نہيں ہوتا بلكہ ان اقدامات كا سر چشمہ محدودمادي اور دنياوي مقاصد كا حصول ہوتا ہے اور صحيح معني ميں دين كاكوئي عمل دخل نہيں ہوتا۔

ہاں اگر ان امور كي طرف توجہ نہ كريں تو (پيمان معاشرت كے وجود ميں انے كي كيفيت سے متعلق سوال بدستو رباقي رہتا ہے) جب آيندہ نسل خود اس وقت موجود نہيں ہے كون اس كي نمايندگي كرتے ہوئے پيمان معاشرت ميں شريك ہو كر اسے قبول كرتا ہے۔؟!

يہ دعويٰ ممكن نہيں كہ موجودہ ملت يا اس كے بعض افرادآيندہ نسلوں كي نمانيدگي كرتے ہيں كيونكہ اس نمايندگي كے لئے بھي ايك پيمان اور معاہدے كي ضرورت ہے جو نمايندگي دينے والوں اور نمايندگي لينے والوں كے درميان بر قرار ہو اگر يہ كہاجائے كہ اس قسم كے پيمان، كفالت اور نمايندگي كي بالكل ضرورت ہي نہيں ہے تو جواب ميں كہا جا سكتا ہے كہ حكومت كي حكمراني كے لئے بھي اس پيمان كي كوئي ضرورت نہيں ہے جو ملت (موجودہ افراد) كي رضامندي سے وجود ميں آتا ہے، لہٰذا اس صورت ميں ہماري لئے استبداد ي حكومت كي طرف رجوع كرنا ممكن ہو گا۔ اب تك آپ كي كوششيں يہ ثابت كرنے پر مركوز تھيں كہ حكومت كي بنياد پيمان معاشرت پر استوار ہے لہٰذا ہر صورت ميں آپ كو مذكورہ بالا ركاوٹ اور مشكل كا سامنا كرنا پڑے گا اور آپ اس مشكل سے چھٹكارا حاصل نہيں كر سكتے اور اس ركاوٹ كو بر طرف نہيں كر سكتے كيونكہ ايسے پيمان معاشرت كا تحقق ممكن نہيں جس ميں وہ لوگ شامل ہوں جو في الحال موجود نہيں ہيں، اگر چہ يہ شموليت نمايندوں ہي كے ذريعے ہو۔پس ہم نے ملاحظہ كيا كہ ہم حكومت كي ايسي بہتر قسم يا شكل تك دسترسي حاصل نہيں كر سكے جو انساني عقل اور انساني وجدان وضمير كے لئے قابل قبول ہو۔خواہ يہ جمہوريت ہو ياڈكٹيٹر اور استبدادي حكومت۔حتي اگر ہم حكومت كو اسلامي نقطہ نگاہ سے نہ بھي ديكھيں تب بھي ہم عقل و وجدان كے لئے قابل قبول حكومت كي بہتر قسم تك دسترسي حاصل نہيں كر سكتے۔

اسلام اور جمہوريت

اگر ہم مسلمان ہونے كے ناطے جمہوريت كا مطالعہ كريں تو جمہوريت پرگذشتہ اعتراضات كے علاوہ درج ذيل اعتراضات اور اشكا لات بھي سامنے آتے ہيں ۔

۱) مكمل اور مطلق ولايت فقط خداوند وحدہ لاشريك كو حاصل ہے ۔خداوند متعال كي ولايت كے مقابلے ميں كسي كو بطور مستقل ولايت حاصل نہيں ہے اور اگر كسي كو ولايت حاصل ہے تو اس كا منبع اور سر چشمہ خداوند متعال كي ولايت ہے، يعني خداوند متعال ہي سے يہ ولايت حاصل ہوتي ہے اسلامي فقہ كے مطابق پيمان معاشرت گذشتہ مشكل كا حل پيش نہيں كر سكتا، حكومت كے امور چلانے كے لئے متعدد امور ضروري ہيں كہ جن كو انجام دينا حكمراں جماعت پر ضروري ہے جب كہ اسلامي نقطہ نگاہ سے يہ امور ابتدائي طور پر حرام ہيں يہاں تك كہ پيمان معاشرت منعقد ہونے كے بعد بھي حرام ہيں مگر يہ كہ ان امور كو انجام دينے كے لئے اسلام سے حكمراني كا حق حاصل كيا جائے، اسي طرح پيمان معاشرت كي بنياد پر اسلامي حدود كا نفاذ اور قاصر(۲۳) كي املاك ميں تصرف جائز نہيں ہے بلكہ فقط اسلام سے ولايت كا حق حاصل كرتے ہوئے ان امور كا انجام ديا جا سكتا ہے۔

ارشاد رب العزت ہے( إِنْ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلَّهِ امَرَ الاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِياهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيمُ وَلَكِنَّ اكْثَرَ النَّاس لاَيعْلَمُونَ ) ۔”حكم كرنے كا حق صرف خدا كو ہے اور اسي نے حكم ديا ہے كہ اس كے علاوہ كسي كي عبادت نہ كي جائے كہ يہي مستحكم اور سيدھا دين ہے ليكن اكثر لوگ اس بات كو نہيں جانتے ہيں-"(۲۳) يوں اسلامي تعليمات كے مطابق حاكميت كا حق فقط خدا كو حاصل ہے اور خدا كے علاوہ كسي دوسري كو ذاتي طور پر يہ حق حاصل نہيں ہے۔

۲) مسلمانوں كا عقيدہ ہے كہ فقط خداوند متعال حكيم وعليم ہي انسان كے مفادات اور مصلحتوں سے بخوبي آگاہ ہے لہٰذا وہي خداہي انساني ضروريات كو عادلانہ اور تخليفي قوانين سے ہماہنگ طريقوں سے پورا كرسكتا ہے كيونكہ خداہي كائنات، معاشري اور انسان كا خالق ہے لہٰذا نسان كي ضروريات اور انسان كو كمال تك پہنچانے والے راستوں اور طريقوں سے بخوبي آگاہ ہے بنابرايں جب خداوند عظيم وحكيم موجود ہے اور خدانے انسان كے لئے ايسا نظام اور ايسے احكام نازل فرمائے ہيں جو اسے سعادت وخوشبختي سے ہمكنار كرتے ہوئے سيدھے راستے كي طرف ہدايت كرنے كي صلاحيت ركھتے ہيں تو معقول نہيں كہ قانون سازي اور حكومت كي شكل جيسے امور لوگوں كے ہا تھ ميں دے ديئے جائيں جب لوگ خود اپني معرفت نہيں ركھتے اور اپنےآپ سے جاہل ہيں تو بہ درجہ اولي كائنات اور كائنات كے اسرار ورموز سے زيادہ جاہل ہوں گے۔

ان دو حاشيوں كا نتيجہ يہ ہے كہ مسلمان جمہوريت كے سامنے گردن نہيں جھكا سكتا اور اس پر عمل نہيں كرسكتا (يہاں تك كہ صرف قانون نافذ كرنے كے لئے بھي حكمراں جماعت كا انتخاب نہيں كر سكتا) مگر اس صورت ميں كہ جب اسلام اس كا حكم دے اور اس كي اجازت دے۔

ولايت وحاكميت كا دوسرا سرچشمہ

ولايت اور حكمراني حاصل كرنے كا دوسرا سر چشمہ خداوند متعال ہے جو خالق ہے، نعمتيں عطاكرنے والا ہے انسان اور كائنات كا حقيقي موليٰ ہے (گذشتہ ابحاث كے دوران) ہم جان چكے ہيں كہ يہي واحد سر چشمہ ہے جس سے حاكميت وولايت حاصل كرنا ضروري ہے انساني عقل اور ضمير نہ صرف اس كو قبول كرتا ہے بلكہ اسے مورد تاكيد بھي قرار ديتا ہے كيونكہ يہ وہ صورت ہے جس ميں ولايت اور حكمراني كے حقيقي مالك سے حكمراني اور ولايت كا حق حاصل كيا جا رہا ہے ۔

خداوند متعال سے ولايت اور حكمراني حاصل كرنے والے حكمران كي حكومت كي بنياد پر امت كے دنياوي مفادات اور مصلحتوں كے حصول كي ضمانت فراہم كي جا سكتي ہے۔اسي طرح يہي امر خداوند كائنات كي خوشنودي اور اخروي سعادت و خوشبختي كي ضمانت بھي فراہم كرتا ہے۔

اسي نظريہ اور سر چشمہ (ولايت و حكمراني كا سر چشمہ) كے مطابق يہ بحث بے فائدہ اور بے معني ہے كہ كيا حكمراني اور ولايت كا حق امت كو حاصل ہے يا ملت كو؟ كيونكہ اس نظريہ كے مطابق حكمراني اور ولايت كا حق فقط خداوند متعال كو حاصل ہے خدا كے علاوہ كسي اور كو حكمراني كا حق حاصل نہيں ہے وہي خدا صاحبان حاكميت اور صاحبان ولايت كو معين كرتا ہے يہاں پر يہ بحث ضروري ہے كہ خداكي طرف سے عطا كي جانے والي ولايت اور حكمراني كي نوعيت اور كيفيت كيا ہے اور خدا كي طرف سے كس كو يہ ولايت عطا ہوئي ہے؟

كيا اسلامي حكومت كا انجام ظلم واستبداد ہے؟

كبھي دعويٰ كيا جاتا ہے كہ الٰہي حكومت سے مراد يہ ہے كہ ہم ”تھيو كرسي (THEOCRACY)(۲۴) كو قبول كرليں جس ميں زور دے كر كہا جاتا ہے كہ حكومت حكمراني كا حق اور اپنے احكام واوامر كا تقدس خداوندمتعال سے كسب كرتي ہے۔

جس كے نتيجہ ميں يہ حكومت بے حساب كتاب اور لا محدود ہوتي ہے اور اسے وسيع اختيارات حاصل ہوتے ہيں اور اس ميں كسي قسم كا اختلاف و نزاع نہيں ہوتا كيونكہ اس حكومت كي مخالفت كرنے والا خدا كي مخالفت كرنے والا شمار كيا جاتا ہے اور خدا حقيقي موليٰ وسرپرست ہے وہ جسے چاہے حكومت عطا كرتا ہے اس حكومت ميں حكمرانوں كو يہ اختيار ہوتا ہے كہ جيسے چاہيں حكومت كريں، آخر كار يہ حكومت بد ترين ظالم واستبدادگر اور ڈكٹيٹر حكومت كي شكل اختيار كر ليتي ہے۔

حقيقت يہ ہے كہ يہ دعويٰ بلا دليل اور باطل ہے جب فرض يہ ہے كہ حكومت كا سر براہ خطا، لغزش اور انحراف سے معصوم ہے جيسے پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور شيعہ عقيدہ كے مطابق ائمہ معصومين عليہم السلام تو اس تصور كي كوئي گنجائش باقي نہيں رہتي جب ايسا ہو تو در حقيقت خداوند متعال اپني تمام تر ولايت، عطوفت اور علم و حكمت كے ذريعے حاكم ہوتا ہے(۲۵) اور اسي طرح (حقيقي حاكم خدا ہوتا ہے) جب امام معصوم عليہ السلام كا نائب خاص حكمران ہو جو امام عليہ السلام كي خدمت ميں شرفياب ہو كر راہنمائي حاصل كرے چنانچہ شيعہ عقيدے كے مطابق امام زمانہ عليہ السلام كے چار خاص نمايندے تھے،(۲۶) ليكن اگر حاكم معصوم نہ ہو (بلكہ نائب امام ہو جس سے متعلق بحث بعد ميں آئے گي) يا شوريٰ كے ذريعے منتخب ہوا ہو (جيسا كہ بعض علماء اہل سنت كا نظريہ ہے) توصرف اس صورت ميں مذكورہ بالا دعويٰ ممكن ہے ليكن اگر درج ذيل دو نكات كو مد نظر ركھا جائے تو اس صورت ميں بھي يہ دعويٰ درست نہيں ہوگا:

معاشرہ اور حكمرانوں كي اسلامي تربيت

اسلام بطور عام تمام مسلمانوں كي تہذيب نفس پر مكمل توجہ ديتا ہے اور مسلم قائدو حكمران كي تربيت پر خصوصي توجہ ديتا ہے اور مسلمانوں كے قائد و حكمران كي ايسي تربيت كرتا ہے جس كے نتيجے ميں حكمران كے دل كي گہرائيوں ميں ايسے حقيقي ديني اور اخلاقي عوامل ايجاد ہو سكيں جن كي وجہ سے وہ ہميشہ صحيح موقف اختيار كرے اور ہر حالت ميں حق كي پيروي كرے اور خدا كي راہ، شريعت كے نفاذ اور حقيقي عدالت كے رواج كے لئے اپني جان تك كي قرباني دينے سے دريغ نہ كرے۔

جمہوري نظام حكومت پر ہمارا اعتراض يہ تھا كہ اس نظام ميں اس امر كي ضمانت فراہم نہيں كي جا سكتي كہ حكمران اپنے ذاتي اغراض و مقاصد اور نفساني خواہشات كي پيروي نہيں كريں گے اور ذاتي اغراض ومقاصد اور ذاتي مفادات كو قومي مفادات پر ترجيح نہيں ديں گے (كيونكہ جمہوري نظام كا دائرہ مادي امور تك محدود ہے) ہم بخوبي درك كرتے ہيں كہ كيونكہ مسلمان اور مسلم حكمران خداوند عظيم، آخرت اور اعليٰ اسلامي قدروں پر ايمان ركھتے ہيں اور اسلامي تربيت كے سايے ميں زندگي گذارتے ہيں لہٰذا مستحكم ضمانت فراہم كي جا سكتي ہے كہ حكمران (راہ راست سے) منحرف نہيں ہوں گے۔

اس سلسلے ميں (اس عاليشان تربيت كے اصولوں اور طريقوں سےآشنائي كے لئے) ميري استاد معظم آيت اللہ العظميٰ سيد محمد باقر الصدر كي گراں قدر كتاب”فلسفتنا “اور ان كي دوسري كتب اور ہماري كتاب ”الاخلاق”كامطالعہ فرمائيں۔

دوسري نكتے سے متعلق بحث كاآغاز كرنے سے پہلے مناسب ہے كہ ”مونتسكيو”كي كلام كا خلاصہ بيان كردوں جس ميں انھوں نے بيان كيا ہے كہ حكومتوں كو كن بنيادي امور پر توجہ مركوز كرني چاہئے تاكہ حكومت كنٹرول ميں رہ سكے اور معقول حد تك (خرابيوں سے) پاك صاف رہ سكے۔

"مونتسكيو" نے حكومت كي اقسام كے مطابق تين امور بيان كئے ہيں كيونكہ ان كے نزديك حكومت كو تين قسموں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے ۔

(۱) جمہوري حكومت۔

(۲) بادشاہي حكومت۔

(۳) ظالم و استبدادگر حكومت۔

لہٰذا حكومتوں كو در ج ذيل تين بنيادي امور پر پوري توجہ ديني چاہئے:

تقويٰ يا فضيلت، شرافت، خوف و وحشت اور رعب و دبدبہ۔

جمہوري حكومت كو پہلي بنياد، شاہي حكومت كو دوسري بنياد جب كہ استبدادي حكومت كو تيسري بنياد پر استوار ہونا چاہئے تقويٰ يا فضيلت سے مونيسكيوكي مراد دين داري اور پسنديدہ صفات سے مزين ہونا نہيں چنانچہ علماء اخلاق بيان كرتے ہيں بلكہ اس كي مراد حب وطن مساوات اور ذات كي بجائے حكومت سے محبت كرنا ہے۔

مونتسكيو كے مطابق (جمہوريت) كي دو قسميں ہيں:

(۱) ڈيموكريسي(۲۷)

(۲) ارسٹو كريسى۔(۲۸)

جمہوريت

جمہوري حكومت ميں در اصل حكومت تمام لوگوں كے ہاتھ ميں ہوتي ہے لہٰذا اگر معاشرہ حب وطن اور مساوات ميں فنا ہو جائے تو حكومت فاسد اور تباہ و برباد ہو جائے گي كيونكہ كوئي مركزي طاقت موجود نہيں ہوتي تاكہ پوري طاقت سے امور پر كنٹرول كر سكے اور لوگوں كو ايك دوسري كے خلاف سر كشي سے روك سكے جس كے نتيجے ميں حكومت مستحكم و پائيدار رہ سكے۔

صرف ايك عامل جو حكومت كو فساد اور تباہي و بربادى سے محفوظ ركھ سكتا ہے وہ ہے تقويٰ اور فضيلت كا رواج۔

ارسٹو كريسى

(يعني اشراف كي حكومت) اس حكومت ميں زمام امور قوم كے مخصوص طبقے كے ہاتھ ميں ہوتي ہے اس حكومت كو بھي (گذشتہ حكومت كي طرح) تقويٰ و فضيلت كي ضرورت ہے كيونكہ قوم كے بعض افراد (اشرافي طبقے كے علاوہ باقي لوگ) بادشاہي نظام حكومت اور بادشاہت كے سامنے رعكيا كي حيثيت ركھتے ہيں۔

رعكيا، اشراف و اعيان يعني حكمران طبقہ كے ميلانات كے مطابق بنائے گئے قوانين كے سامنے بے بس ہوتے ہيں اور ان قوانين كے مطابق عمل كرنے پر مجبور ہوتے ہيں۔

اشرافي حكومت (ارسٹوكرےسي) ذاتي طورپر جمہوري حكومت سے زيادہ محكم اور مضبوط ہوتي ہے اور عوام كو كنٹرول كرنےاور صحيح رخ دينے ميں جمہوري حكومت كي نسبت زيادہ قدرت مند ہوتي ہے ليكن طبقہ اشراف قانون كے پابند نہيں ہوتے تقويٰ و فضيلت كے علاوہ كسي اور عامل كے ذريعے يہ ضمانت فراہم نہيں كي جا سكتي كہ طبقہ اشراف حقوق ميں مساوات كو مدنظر ركھے گا، اگر ان ميں تقويٰ كي صفت اس حدتك مستحكم ومضبوط ہو كہ انھيں اپنے اور رعايا كے درميان مساوات پر مجبور كرے تو جمہوريت كا دائرہ وسيع تر ہو تا جائے گا (ارسٹو كريسي وسيع جمہوريت ميں بدل جائے گي) ليكن اگر تقويٰ كي صفت مستحكم نہ ہو تو كم از كم طبقہ اشراف اپنے درميان مساوات كو مدنظر ركھے گا اور اس طرح اپنےآپكو تباہ و بربادي سے محفوظ ركھے گا۔

شرافت سے مراد قومي شرافت و بزرگى، قومي خوددارى، برتري طلبي كي روح اور بخل و پستي مزاج سے پر ہيز ہے۔

مونتسكيو كے نزديك تقويٰ وفضيلت كو بادشاہي حكومت كي بنياد و اساس ہونا چاہئے جب ايك اعتبار سے يہ امر مشكل ہے كہ بادشاہ كے اطرافيوں اور حلقہ بگوشوں سے توقع ركھي جائے كہ وہ ظلم، سركشي اور بدخلقي سے اجتناب كريں تو نتيجہ ً يہ فرض بھي مشكل ہے كہ ان كے زير سايہ زندگي گذارنے والے افراد صاحب تقويٰ، محب وطن اور محب حكومت بن جائيں كيونكہ اس كا

مطلب يہ ہے كہ حكمران عوام پر ظلم وستم كرتے ہيں، عوام كو غافل ركھتے ہيں عوام محكوم اور غافل رہتے ہيں اور ہميشہ كي طرح ظلم و ستم ميں حكمرانوں كي مدد كرتے ہيں۔

ايك اور اعتبار سے بادشاہي حكومت ميں تقويٰ كي كوئي خاص ضرورت نہيں ہوتي كيونكہ اس نظام حكومت ميں قوانين كے ساتھ شرافت كو ضميمہ كرنا تقويٰ كے مترادف ہے۔(۲۹)

قانون كي طاقت لوگوں كو پابند بناتي ہے اور انھيں كنٹرول كرتي ہے (ہرج ومرج سے محفوظ ركھتي ہے) اور انھيں صحيح سمت ميں حركت كرنے پر مجبور كرتي ہے جب كہ شرافت اور عزت كي طاقت بھي انھيں شہرت اور محبوبيت حاصل كرنے كي غرض سے نيكي كي طرف حركت كرنے پر مجبور كرتي ہے۔

اگر چہ يہ شرافت فلسفي اور حقيقي شرافت نہيں (بلكہ ظاہري و مصنوعي ہے) ليكن حكومت ميں شامل افراد كو كنٹرول ميں ركھتي ہے، اور حكومت كو صحيح و سالم ركھتي ہے۔

ليكن استبدادي حكومت معاشري ميں موجود شرافت كے ساتھ يكجانہيں ہو سكتي كيونكہ ملت كا ظالم اور استبداد گر حكمران سے وہي رابطہ ہے جو رابطہ غلام كاآقا سے ہے جب كہ عزت و شرافت اور خودداري نفس اس كي راہ ميں ركاوٹ ہے، ظالم اور استبداد گر حكمران ملت سے عزت و شرافت خودداري نفس اور موت سے نہ گھبرانے جيسي صفات كو كسب نہيں كر سكتا، پس شرافت جو بادشاہي نظام حكومت ميں پائي جاتي ہے اور قوانين و احكام كي تقويت كا سبب بنتي ہے بلكہ تقويٰ و فضيلت كي بھي تقويت كا سبب ہوتي ہے ان ممالك ميں نہيں پائي جاتي جن ممالك ميں ظالم اور استبدادگر حكومت حكم فرماہو، پس استبدادي حكومت كو كس بنياد پر استوار ہونا چاہئے؟ وہ بنياد تقويٰ نہيں اور نہ ہي (اس حكومت كے لئے) اس كي ضرورت ہے اور وہ بنياد شرافت بھي نہيں كيونكہ آپجان چكے ہيں كہ شرافت بعض مشكلات و خطرات كا سبب بنتي ہے، پس وہ بنياد خوف و رعب و دبدبہ ہے تاكہ ايك طرف سے (عوام ميں سے) كوئي شخص مقام ومنصب كي لالچ نہ كرے اور دوسري طرف سے حكمرانوں اور حكومت ميں شامل ذمہ دار عناصر كو قوم پر ظلم كرنے سے باز ركھا جائے، اگر قوم حكمران سے خوف نہ كھائے تو اسے كنٹرول نہيں كيا جا سكتا ہے كيونكہ شرافت و تقويٰ جيسي صفات موجود نہيں ہوتيں اور نہ ہي پائيدار اور تسلي بخش قوانين موجود ہوتے ہيں بلكہ (اس حكومت ميں) فقط اور فقط حكمران كا ارادہ اور اس كي ذاتي پسند حكم فرما ہوتي ہے۔

ليكن دين اور دينداروں كي قدر ومنزلت كے باري ميں مونتسكيو كہتے ہيں: ”ظالم و استبدادگر حكمران كي طاقت و قدرت اور ارادہ كے سامنے دين كے علاوہ كوئي اور طاقت نہيں ٹھہر سكتى، اگر حكمران كسي شخص كو حكم دے كہ اپنے والد كو قتل كردو تو وہ شخص يہ كام كر گذري گا اور اگر حاكم اس كام سے باز رہنے كا حكم دے تو وہ شخص اس كام سے باز رہے گا، ليكن اگر حاكم لوگوں كو شراب خواري كا حكم دے تو لوگ اس حكم كو تسليم نہيں كريں گے كيونكہ وہ دين اس كا م كي اجازت نہيں ديتا جو عوام اور خود حكومت پر حاكم ہے، آئيني اور معتدل حكومتوں ميں شرافت بادشاہ كي طاقت و قدرت كو كم كرتي ہے، كوئي شخص بادشاہ كے ساتھ دين سے

متعلق بات نہيں كرتا، اگر بادشاہ كے قريبي افراد ميں سے كوئي شخص بادشاہ كے ساتھ دين كے باري ميں بات كرے تو اس كا يہ عمل تمسخرآميز اور مذاح كے قابل ہے، بادشاہ كے ساتھ فقط اور فقط عظمت و شرافت اور بلندي نفس كي بات كي جاسكتي ہے، اگرآئيني سلطنت ميں بادشاہ اور عوام كے درميان رابطہ بر قرار ركھنے اور واسطہ بننے والے لوگ اور طاقتيں موجود نہ ہوں تو فطري طور پر يہ حكومت استبدادي حكومت ميں تبديل ہو جائے گى، ايك اعتبار سے قوانين كے نفاذ اور عوام ميں قوانين كے رواج كي غرض سے اشراف وبزرگان كي موجودگي ضروري ہے تاكہ بادشاہ ظالم و جابر حكمران كي شكل اختيار نہ كر ے جب كہ دوسري طرف حكومتي نفوذ اور اثرو رسوخ كے مقابلے ميں بزرگان (علماء) كو قدرت وطاقت اور عوام ميں اثر و رسوخ حاصل ہونا چاہئے خصوصاً (اس صورت ميں) جب حكومت ظلم و استبداد كي طرف ميلان ركھتي ہو ليكن جمہوري حكومت ميں ديني عناصر كے لئے قدرت اور اثر ورسوخ كا ہونا نہ فقط صحيح نہيں بلكہ ايك خطرہ بھي ہے،،

يہ اس بحث كا خلاصہ تھا جسے مونتسكيونے اپني كتاب ”روح القوانين “ميں متعدد مقامات پر پيش كيا ہے۔

ہم مونتسكيو كي عبارت كے متعلق فقط يہ كہيں گے كہ مونتسكيو اوراس كي مانند لوگ ايسي خيالي اور آئيڈيل حكومت كے باري ميں بحث و گفتگو كرتے ہيں جس كا خارج ميں نام و نشان نہيں پايا جاتا اور يہ لوگ فلسفي فرضيوں، تصورات اور خالص عقلي تصورات كےماحول ميں زندگي بسر كرتے ہيں۔

ورنہ ذاتي اغراض و مقاصد، ذاتي مفادات اورحب ذات كے نتيجے ميں پيدا ہونے والے ظلم و استبداد اور سركشي كے سامنے كوئي طاقت نہيں ٹھہر سكتي ولو خارج ميں موجود حقيقي حكومت كے متعلق بحث و گفتگو كرنا مقصود ہو، فقط ايك چيز ا س ظلم و سر كشي كے مقابلے ميں ٹھہرنے كي صلاحيت ركھتي ہے جو دين اوراخلاق سے عبارت ہے جس كے بيج خداوند متعال نے انبياء اور وحي كے ذريعے انسانوں كے دلوں ميں بوئے ہيں۔

دين سے ہماري مرادوہ دين نہيں جس كي طاقت و قدرت فقط اس حد تك محدود ہو كہ لوگوں كو شراب خواري سے تو روك سكے ليكن بيٹے كو باپ كے قتل سے باز نہ ركھ سكے (چنانچہ مونتسكيو كي كلام ميں يہ بات گذر چكي ہے) بلكہ دين سے مراد ايسا دين ہے جسے مونتسكيو جيسے قرار دادي قوانين كے امام سمجھنے كي صلاحيت و قدرت ہي نہيں ركھتے، وہ دين جو ہر نيكي كا حكم ديتا ہے اور ہر برائي سے روكتا ہے اور انسان كي اس طرح تربيت كرتا ہے كہ انسان عقيدہ كي راہ ميں مال و دولت، مقام و منصب اور خون تك قربان كر ديتا ہے اور اس كا واحد مقصد خداوند متعال كي خوشنودي كا حصول ہوتا ہے۔

ليكن اگر عقيدہ اور دين سے صرف نظر كريں توآئيني نظام اور جمہوري نظام ميں ايسي كوئي چيز نظر نہيں آتي جو ضمانت فراہم كر سكے (كہ حكومت) حق و حقيقت اور عدالت كا اتباع كرے گى، اس شخص ميں كون سي شرافت قابل تصور ہے جو زندگي كے كاروان كوآگے بڑھانے والے اس نظام پر ايمان نہيں ركھتا جو نظام قومي مفادات اورعقيدہ كي راہ ميں اپنے ذاتي مفادات كو قربان كرنے والے شخص كو ہميشہ رہنے والي كامياب اور با سعادت زندگي عطا كرتا ہے اور اسے ايسي جنت كي بشارت ديتاہے جس كي وسعتيں اسمانوں اور زمينوں كے برابر ہيں ۔

جو شخص اسماني تعليمات واوامر كے نتيجے ميں انساني دلوں ميں موجود اخلاقي كمالات اور انساني قدروں كي حقيقت پر ايمان و عقيدہ نہ ركھتا ہو اس كے لئے كون سي شرافت و بزرگي متصور ہے؟ !

جب تك انسان ميں ذاتي اغراض اور نفساني خواہشات موجود ہوں اور اسے دوسروں پر برتري حاصل كرنے اور دنيا كي مادي اور عارضي لذتوں كے حصول كي دوڑ ميں شامل ہونے پر مجبور كريں اور جب تك الٰہي تربيتي اصولوں كي روشني ميں ان لذتوں اور خواہشات و ميلانات كي حدود معين نہ كي جائيں اس وقت تك يہ ضمانت نہيں دي جا سكتي كہ مساوات كے رواج كے لئے كي جانے والي كوششيں مفيد اور كامياب ثابت ہوں گي۔

حبّ وطن

حب وطن كا (مغربي معني كے مطابق) نتيجہ يہ ہوگا كہ محب وطن افراد اپنے وطن كے مفادات اور مصلحتوں كے سامنے (اپنے ملك كے مفادات كے تحقق كي غر ض سے) دوسري ممالك كے وسائل كو طمع اور لالچ كي نگاہ سے ديكھيں گے دوسري ممالك ميں موجود (قدرتي و غير قدرت) وسائل اور اموال كو تاراج كريں گے، لوگوں كويعني دوسري ممالك كے باشندوں كواپنا غلام بنائيں گے اور ان ممالك پر قضبہ كريں گے، يہ سب كچھ وطن سے باہر كي نسبت تھا ليكن وطن كے اندر ذاتي اور قومي مفادات ميں تعارض كي صورت ميں اپنے ذاتي مفادات كو دوسروں كے مفادات پر ترجيح ديں گے يہ سب كچھ حب ذات كي خواہش كي پيروي كا نتيجہ ہے۔

جمہوري نظام ياآئيني سلطنتي نظام ميں نہ شرافت ہے نہ تقويٰ تا كہ اس كي بنياد پر قومي مفادات كے تحفظ كي ضمانت فراہم كي جاسكے۔

فقط دين (اپنے صحيح معني ميں) معاشري ميں حق و حقيقت اور عدل و انصاف كے رواج كا كفيل ہے اور ضمانت فراہم كرتا ہے كہ جب تك معاشرہ (لوگ) حقيقي طور پر دين دار باقي رہيں گے حكمران راہ راست سے منحرف ہو كر ظلم واستبداد كي راہ اختيار نہيں كر سكتا، جب ہم اسلامي حكومت كو ملاحظہ كرتے ہيں كہ جس كا سر براہ غير معصوم انسان ہے ليكن اس نے حكمراني كا حق اور جواز دين سے حاصل كيا ہے، جب حكومت اور معاشري كے لئے ديني اعبتار سے حديں معين كي جائيں تو پاك و پاكيزہ اچھے نتائج كي توقع كي جا سكتي ہے۔

بہر حال جو واحد عنصر اسلامي حكومت كو ظلم و استبداد كي حكومت ميں بدل جانے سے روكتا ہے، وہ عنصر خود اسلامي حكومت كي روح اور ذات ميں پنہاں ہے يعني دين اور دينداري۔

مناسب ہے كہ جس معاشري ميں دين كي حكمراني ہے اولياء خدا اس معاشري كي تربيت كريں جن زمانوں ميں اسلام كا صحيح نفاذ ہوا ان زمانوں ميں عملي طور پر معاشرہ كي تربيت كي گئى، مثال كے طور پر نبي كريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا زمانہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے يہ تجربہ ايسے خطہ ميں كيا جو انسانيت، شرافت، تقويٰ اور اخلاق سے كوسوں دور تھا ليكن اس كے باوجود آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تقويٰ و عدالت كي بنياد پراستوار معاشرہ وجود ميں لكيا۔

جب كہ (اسلام كے علاوہ) دوسري (حكومتي) نظاموں ميں وہ عنصر مفقود ہے جو نظام كو ظلم استبداد كي طرف جانے سے روك سكے جس طرح عام طور پر ان نظاموں ميں در اصل كوئي ايسا عامل نہيں پايا جاتا جو اس تلخ نتيجے اور بري انجام (نظام كا ستبدادي نظام ميں بدل جانا) كي راہ ميں ركاوٹ پيدا كر سكے ۔

ہم آج دنيا ميں رائج جمہوريتوں اور ان كےآثار و نتائج كا ملاحظہ كر رہے ہيں۔ ہم مشاہدہ كررہے ہيں كہ ان جمہوريتوں كےآثارو نتائج، تباہي و بربادى، ممالك پر قبضے، ضعيفوں اور مزوروں كا خون چوسنے كي صورت ميں سامنےآرہے ہيں، آج دنيا جمہوريتوں كے حرص و لالچ كےآتش فشاں كے دہانے پر كھڑي ہے اور اسے ہر لمحہ عالمي جنگوں كا تصور اور ان جنگوں كے نتيجے ميں ہونے والي تباہي و بربادى كے خطرات لاحق ہيں۔

ہم يہ بھي مشاہدہ كر رہے ہيں كہ مساوات (اگر بذات خود صحيح ہو) اس كاجمہوري معاشروں ميں بالكل نام و نشان نہيں پايا جاتا ليكن جن معاشروں ميں جبري مساوات مسلط ہے ان معاشروں ميں جمہوريت كےآثار بالكل نظر نہيں آتے، جس حكومت سے عدالت، حق و حقيقت كے رواج اور حكومت كے حقيقي وظائف كي رعايت كي توقع كي جا سكتي ہے، وہ ايسي حكومت ہے جس كا مطمع نظر عبوديت و بندگي كي ادائيگي اور خدا كي خوشنودي حاصل كرنا ہے، نہ وہ حكومت جس پر نفساني خواہشات اور ذاتي مفادات كا غلبہ ہوتا ہے اور يہ حكومت (اپنے اھداف حاصل نہ كرنے كي صورت ميں) عوام كا استحصال كرتے ہوئے اپني ذاتي اور محدود خواہشات اور تمناؤں كو پورا كرتي ہے، يہ پہلا عامل تھا جو اسلامي حكومت كو ظلم و استبداد كي حكومت ميں تبديل ہونے سے روكتا ہے۔

(۲) دوسرا نكتہ يہ ہے كہ اسلامي حكومت اور ظلم استبداد كاآپس ميں كوئي تعلق اور واسطہ نہيں ہے كيونكہ (حكومت كي) وہ شكل جسے حكومت اسلامي كے لئے ثابت كيا جا سكتا ہے اور جو حكمران جماعت كو ولايت (حق حكومت) عطا كرتي ہے (البتہ اگر يہ فرض كيا جائے كہ خدا كي طرف سے (حكومت كے لئے) كسي كو معين نہيں كيا گيا ہے جيسا كہ تمام مسلمانوں كے نزديك رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، منصوص من اللہ تھے، اور شيعوں كے نزديك (پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد) ائمہ معصومين عليہ السلام بھي منصوص من اللہ تھے۔

شورائي نظام يا ولايت فقيہ كا نظام

۱) شورائي نظام

بعض علماء اہل سنت كا دعويٰ ہے كہ رسول خدا كي وفات كے بعد سے حكومت كا قيام اس بنياد پر تھا جب كہ شيعہ معقتد ہيں كہ خدا كے حكم كے مطابق اور پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي نص كے مطابق رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد حكومت بارہ اماموں كو سوپني گئى، لہٰذا اگر (ان كے نزديك) شورائي نظام كا تصور ممكن ہو تو امام زمانہ عليہ السلام كي غيبت كبريٰ كے زمانے ميں قابل تصور ہے ۔

بہر حال شورائي نظام (اگر ہم اسے زمانہ غيبت ميں قبول كريں) جمہوريت سے اس لحاظ سے مختلف ہے كہ شوارئي نظام ميں اہم اور بنيادي قانون سازي كا اختيار، الٰہي احكام اور اسلامي شريعت كے مطابق لوگوں كے بجائے خداوند متعال كو حاصل ہے اسلام نے منطقۃ الفراغ چھوڑاہے جس كي حدود اور علامتيں معين ہيں اوراس منقطۃ الفراغ كو اسلامي حدود كي روشني ميں ولي امر پر كرتاہے، پس اگر شوريٰ كا تصور ممكن ہو تو فقط اور فقط اس منطقہ الفراغ كو اسلامي تعليمات وافكار كي روشني ميں پر كرنے كي حد تك محدود ہے، يا ايسے شخص كے انتخاب تك محدود ہے جو منطقۃ الفرا غ كو پر كر سكے اور اسلامي قوانين كو نافذ كر سكے

شورائي نظام استبدادي نظام سے اس اعتبار سے مختلف ہے كہ شورائي نظام ميں سر براہ حكومت كسي بھي ميدان ميں استبدادگر اور آزاد نہيں ہے نہ بنيادي اوركلان قانون سازي ميں، نہ قوہ مجريہ كے انتخاب ميں اور نہ ہي ہماري بقول منطقۃ الفراغ كوپر كرنے ميں كيونكہ بنيادي اور اہم نوعيت كے قوانين وضع كرنا خدا اور اسلام كے ہاتھ ميں ہے جب كہ باقي امور استبداد كے ذريعے نہيں بلكہ شوراي كے ذريعے انجام پاتے ہيں۔

ليكن ہم (شوريٰ كي بحث كے دوران) وضاحت كريں گے كہ اسلامي حكومت كے لئے يہ تصور (شورائي نظام) باطل ہے اور شورائي نظام كا كوئي شرعي جواز موجود نہيں ہے ۔

۲) امام معصوم عليہ السلام كي نيابت ميں ولايت فقيہ كا نظام۔

حقيقي ولي امام معصوم عليہ السلام ہيں اور انہوں نے فقيہ كو اپنے نائب كے طورپر معين فرمايا ہے حكومت كي يہ شكل شيعہ مسلك سے ہماہنگ وسازگار ہے۔

ولايت فقيہ اور استبدادي نظام حكومت ميں فرق

ولايت فقيہ كا نظام استبدادي نظام حكومت سے درج ذيل تين نكات كے اعتبار سے مختلف ہے:

۱) ولايت فقيہ كي بنياد پر قائم ہونے والي حكومت ميں بنيادي قوانين كو فقيہ نہيں بلكہ خداوند متعال ہي بناتا ہے ۔

۲) ولايت كسي ايك فقيہ ميں منحصر نہيں ہے بلكہ يہ ولايت ہر جامع الشرائط فقيہ كو حاصل ہے ساري جامع الشرائط فقہاء اس حكومت كے سر براہ فقيہ پر نظارت كرتے ہيں يا فقہاء كي اس كميٹي پر نظارت كرتے ہيں جو في الحال قيادت كے امور كو سر انجام دے رہي ہوتي ہے۔

نظارت كے ساتھ ساتھ حكمران جماعت كي لغزشوں اور خطاؤں كو كم كرتے ہيں اور ان موارد ميں (فقيہ يا فقہاء كي كميٹي كے) حكم كي مخالفت كرتے ہيں جن موارد ميں مخالفت كا نقصان خطاء كے نقصان سے كم ہو وہ خطا كہ جس كا سبب فقيہ كا حكم بناہو اور ان موارد ميں تمام جامع الشرائط فقہاء فقيہ يا فقہاء كي كميٹي كے حكم كي مخالفت كرتے ہيں كہ جہاں پر ان كي نظر ميں حاكم كي مخالفت ان نقصانات اور تفرقے سے بہتر ہو جو اس كے حكم كسي وجہ سےوجود ميں آئے گا۔

۳) اس نظام ميں ولايت كي بنياد قہر وغلبہ پراستوار نہيں ہوتي بلكہ ولايت اپني شرائط مكمل ہونے كي صورت ميں تحقق پيدا كرتي ہے، ان شرائط ميں سے اہم ترين شرائط، فقاہت، عدالت، لياقت اورصلاحيت ہيں، يہ شرائط ولي امر كے اقدامات كو صحيح سمت اورصحيح رخ، فراہم كرتي ہيں ۔اور امت ولي امر پر نظارت كرتي ہے اور امت اس امر پر بھي نظارت كرتي ہے كہ ولي امرميں مندرجہ بالا شرائط موجود ہوني چاہئيں كيونكہ امت كي تربيت ہي اس طرح ہوئي ہے كہ وہ ان شرائط كي طرف متوجہ رہتے ہيں (اور ان شرائط كو ضروري سمجھتے ہيں) جس طرح ولايت كا دائرہ كار امت كے مفادات اور بھلائيوں تك محدود ہے اور يہ امر بھي ولي كے تصرفات كو صحيح سمت اور صحيح رخ كي طرف راہنمايي كرتا ہے، اور ان اموركي طرف پوري طرح متوجہ امت ولي كا اعمال پر نظارت كرتي ہے اور جب كوئي قانون وضع كرتے وقت مصلحت كا تقاضايہ ہو كہ قوم سے راي ليجائے اور اكثريت آراء پر عمل كيا جائے تو قوم سے راي لينا اور اكثريت كےآراء عمل كرنا ولي امر كے لئے ضروري ہے۔

فقيہ كي نيابت اور ولايت كا نظام، جمہوري نظام سے اس اعتبار سے مختلف ہے كہ اسلام ميں ووٹنگ اور آراء كي جمع اور ي نہ تو اسلام كے بنيادي قوانين كي بنياد فراہم كرتي ہے اور نہ ہي منطقۃ الفراغ كے لئے بنياد قرار پاتي ہے اور نہ ہي حكومت يعني كا بينہ كي تشكيل كے لئے بنياد فراہم كرتي ہے، بلكہ بنيادي قوانين تو اسلام نے عطا كئے ہيں اور فقيہ يا تو خود منطقۃالفراغ كو پورا كرتا ہے يا كسي شخص كو منطقۃ الفراغ كو پر كرنے كے لئے منتخب كرتاہے۔

اوراسي طرح فقيہ قوہ مجريہ (كابينہ كے اراكين) كو معين كرتا ہے اور قوہ مجريہ كو معين كرنے والوں كو معين كرتا ہے ہاں اگر كبھي مصلحت كا تقاضا ہو (جيسا كہ اشارہ ہو چكا ہے) كہ فقيہ منطقۃ الفراغ يا قوہ مجريہ معين كرنے كے لئے ووٹنگ كروائے تواس پر ووٹنگ كروانا ضروري ہے اس كام كے لئے فقيہ جو شرائط اور طريقہ كار معين كرے اس كا اتباع اور پيروي ضروري ہے۔

____________________

۲. اس كا وجدانيات سے كوئي ربط نہيں بلكہ اس كي بنياد قاعدہ”الزام بما التزام بہ”پر ہے۔

۳. ايك مخصوص طبقے يعني امراء كي حكومت (مترجم) ۔

۴. يعني ايك حكومت ميں عوام طبقے كي تعداد جس تناسب سے بڑھتي جائے گي اسي تناسب سے حكام كي تعداد كم ہوتي چلي جائے گي تاكہ ملك كا اقتدار مركوز ہو كر پوري قدرت كے ساتھ احسن طريقے سے چلكيا جا سكے۔

۵. پيمان معاشرت، ص۱۱۶، ۱۱۷فصل، ۸، ص۱۳۳، پر بھي يہ بحث كي ہے كہ بعض عوامل وا سباب اس امر ميں دخيل ہيں كہ كون سے ملك ميں حكومت كا كون ساشيوہ اور حكومت كي كون سي قسم مناسب ہے كيونكہ يہ شيوہ حكومت تمام ممالك كے لئے سود مند اور مناسب نہيں ہوتا۔

۶. پيمان معاشرت، ص۱۱۸۔۱۱۹۔

۷. شايد نامناسب نہ ہو كہ يہيں بعض مسلمان مصنفين كي ايك غلط فہمي كي طرف اشارہ كرديا جائے كہ جس كے تحت انھوں نے ”جمہوري نظام حكومت،، كا دفاع كيا ہے۔اور اس كي نسبت اسلام كي طرف ہے وہ اس بات سے غافل ہيں كہ ”جمہوريت “ايك غير اسلامي اصطلاح ہے۔كيونكہ اس دور ميں رائج جمہوريت كا مطلب يہي نہيں ہے كہ قوم اركان حكومت اور قانون نافذ كرانے والوں كو منتخب كرتي ہے .جو ممكن ہے اسلام كي نظر ميں قابل قبول ہو. بلكہ مراد يہ ہے كہ خود عوام كا بنايا ہوا قانون عوام پر حكمران ہو۔ اور يہ ايك مسلمہ حقيقت ہے كہ اسلام ميں بنيادي طورپر قانون بنانے والا دنيا كا حاكم مطلق صرف اورصرف خداوند متعال ہے۔

۸. العقد الاجتماعى، ترجمہ ذوقان مرقوط، مطبوعہ بيروت، ص۱۷۳۔

۹. الاسلام ومبادي نظام الحكم، ڈاكٹر عبد الحميد متولي۔ص: ۱۰۹

۱۰. العقد الاجتماعى، ص۹۷۔

۱۱. مؤلف نے روسو كے نظريات كا خلاصہ بيان كيا ہے ليكن ہم روسو كي كتاب سے اس كي مكمل عبارت نقل كر رہے ہيں۔ (مترجم)

۱۲. العقد الاجتماعى، ص۲۰۶ تا۲۱۳ البتہ كچھ اختصار كے ساتھ۔

۱۳. سورۂ انفال آيت ۶۰۔

۱۴. روسو كي يہ گفتگو مسيحي حكومت كے متعلق ہے ۔ (مترجم)

۱۵. العقد الاجتماعى، ص۲۰۴۔

۱۶. ہم اجنبي .غير عربى. تعبيرات كو حذف كركے موصوف كي عبارت نقل كررہے ہيں۔ (مؤلف)

۱۷. ويٹو سے مراد .چنانچہ حاشيے ميں تصريح ہو چكي ہے. يہ ہے كہ پاليمنٹ كے بل كو اس غرض سے روك ديا جائے كہ اس پر نظر ثاني كي جا سكے اور ايسا قانون پاس كيا جائے جس پر مخصوص پارليماني اكثريت متفق ہو يعني ايسي اكثريت جو اس اكثريت سے .تعداد كے اعتبار سے. زيادہ ہو جس كي بنياد پر عام طور پر پارليمنٹ ميں بل اور قوانين پاس كئے جاتے ہيں

۱۸. اس كلام كي طرف اشارہ ہے جسے ہم نے نقل نہيں كيا (مؤلف)

۱۹. مختلف رياستوں پر مشتمل حكومت جو مركزي حكومت كے زير نظر ہوتي ہے جيسے امريكہ ۔ (مترجم)

۲۰. حاشيے ميں يہ كلام نقل ہوئي ہے ”اشارہ كرنا ضروري ہے كہ روايتي مغربي جمہوريت كے نيابتي نظام كو خصوصيات سے ايك خاصيت يہ ہے كہ پارليمنٹ كے اركان راي دہندگان سے قطع نظر اپني حكمراني اور اقتدار كے استعمال ميں كسي حدتك استقلال حاصل ہوتا ہے كيونكہ .اركان پارليمنٹ. امت كے نمايندے ہوتے ہيں .اور امت كا دائرہ موجود نسلوں سميت آيندہ نسلوں كو بھي شامل ہوتا ہے. اور امت كے اعلي وارفع اھداف و مقاصد اور مفادات كے محافظ ہوتے ہيں كيونكہ يہ نمايندے فقط موجود نسل كے نمايندے نہيں ہوتے لہٰذا راي دہندگان .موجود نسل. كو ان پر اپنا ارادہ مسلط كرنے كا حق حاصل نہيں ہوتا اور نہ ہي انھيں برطرف كا اختيار حاصل ہوتا ہے ۔

۲۱. وہ شخص جس ميں في الحال ووٹ كي اہليت اور صلاحيت نہيں پائي جاتي ۔ (مترجم)

۲۲. فقہ اہل بيت عليہ السلام كے مطابق قاصر وہ جو شرعي طور پر اپنے اموال ميں تصرف كا حق نہيں ركھتا مثلا ً شخص ابھي تك بلوغ كي حد تك نہيں پہونچا يا اموال ميں درست عاقلانہ تصرفات نہيں كر سكتا فقہ كي اصطلاح ميں اسے قاصر كہا جاتا ہے ۔ (مترجم)

۲۳. سورہ يوسف آيت ۴۰۔

۲۴. ديني حكومت .مترجم.

۲۵. جب كہ ظاہري حكمران خدا كا نمايندہ ہوتا ہے (مترجم)

۲۶. غيبت صغريٰ كے زمانے ميں امام زمانہ عليہ السلام كے چار خاص نمايندے۔ (مترجم)

۲۷. DAMOCRACY يعني جمہوريت (مترجم)

۲۸. ARITTOCRASY يعني اشراف و اعيان كي حكومت (مترجم)

۲۹. گويا دو طاقتيں اكٹھي ہوجاتي ہيں ايك قانون اور دوسري طاقت وہ جو قانون كے ساتھ شرافت كو ضميمہ كرنے سے وجود ميں آتي ہے ۔ (مترجم)


باب دوّم: شوريٰ

بعض علماء اھل سنت نے ”شوريٰ” كي بنياد پر حكومت اسلامي كے قيام كي تصوير پيش كرنے كي كوشش كي ہے يعني ايك ايسي حكومت كہ جس حكومت اسلامي كي روح روان اور بنياد ”شوريٰ” ہو

ايك حيران كن سوال

ابتدائے امر ميں نظريہ (شوريٰ) كو ايك اہم سوال كا سامنا كرنا پڑتا ہے وہ سوال يہ ہے كہ جب اسلام نے شوري كو خشت اول اور ولايت وحكمراني كا سرچشمہ قرار ديتے ہوئے نظام حكومت كے خطوط ترسيم كئے تو فطري طور پر لازم تھا كہ اسلام وسيع سطح پر امت كو اس ثقافت (شوريٰ) كي تعليم ديتا اور امت كو اس اہم اساس كي حدود وقيود سے مكمل طور پرآگاہ كرتا اوراس كي مكمل تفصيلات جزء جزء كركے بيان كرتا كيونكہ موضوع كي اہميت اور غير معمولي ضرورت كا تقاضا يہي تھا ليكن ہميں كتاب و سنت ميں اس امر كي تعليم اور اسے وسيع سطح پر ايك ثقافت ميں تبديل كرنے كے كوئي آثار نہيں ملتے بنابراين اس نومولود نظر كي تفسير كيسے كي جائے؟

بعض اہل قلم اور بعض اہل سنت علماء اس سوال كا جواب دينے كے لئےآگے بڑھے ہيں ا ن جوابوں ميں سے بہترين جواب يہ ہے كہ اس بات كو مورد تاكيد قرار ديا جائے كہ اسلام نے جان بوجھ كر شوري كو مطلق چھوڑا ہے يعني اس كے لئے كوئي خاص قالب اور شكل و صورت معين نہيں فرمائي بلكہ اس كي شكل و صورت كي تعيين كا كام امت كے سپرد كيا ہے كيونكہ اسلام ميں ايك ايسي حقيقي صفت پائي جاتي ہے جو اسلامي شريعت كو دوسري شريعتوں سے ممتاز بناتي ہے اور وہ نرمي(۳۰) كي صفت ہے جس كي وجہ سے اسلامي نظام ہميشہ باقي رہےگا اور تمام زمانى، مكاني اور معاشرتي شرائط كے اختلاف كے باوجود اسلامي نظام تمام زمانوں اور تمام مكانوں ميں قابل تطبيق اور قابل نفاذ ہے۔واضح رہے كہ شوري كا مسئلہ معاشرتي حالات كے اختلاف سے مختلف ہوگا اور شوري كي شكل و صورت اور قالب كي تعيين ميں درج ذيل مختلف عوامل دخيل ہيں:

ملك و سلطنت كي وسعت، ابادى، شوريٰ كے موضوع كي اہميت اوراس كے علاوہ زمان و مكان كے اختلاف سے وجود ميں انے والے عارضي عناصر جو زمان و مكان كے اختلاف كے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہيں۔

بنابراين ابتدائے رسالت (صدراسلام) كےمعاشري ميں اس معاشري كے سادہ فطرت كے ساتھ سازگار وہماہنگ شوريٰ كي نوعيت كا فرض ممكن نہيں۔اور شكل و صورت كا ايسا فرض ممكن نہ تھا جو اس وقت كے معاشري كي سادگي كے ساتھ ہماہنگ ہوتا يہ نوعيت اور شكل و صورت تمام حالات اور تمام اقوام كے لئے تمام زمانوں ميں ممكن نہيں۔كيونكہ نظاموں كي صلاحيت اضافي حيثيت ركھتي ہے نسبي ہے(۳۱)

كبھي ايك نظام ايك قوم كے لئے مفيد ہے جبكہ وہي نظام دوسري قوم كے لئے مفيد نہيں ہوتا۔قحطان عبدالرحمن دوري اپني كتاب (الشوريٰ بين النظريه والتطبيق ) ميں كہتےہيں حكومت كي شكل وصورت كے باري ميں (مرونۃيعني نرمي) ايك نماياں خوبي ہے جس كے ذريعے اسلام دوسري نظاموں سے ممتاز ہے (اور ان پر برتري ركھتا ہے) يہي نرمي ہے جو اسے ہر زمان و مكان كے لئے اسے باصلاحيت اور قابل نفاذ بناتي ہے۔(۳۲)

ليكن حقيقت يہ ہے كہ يہ نرمي كہ جس كا دعوي كيا گيا ہے اور كہا گيا ہے كہ اسلام نے امت كے لئے نظام شوري كے كلي خطوط ترسيم كرديے ہيں اور امت كو بنيادي قواعد اور اہم بنياديں عطا كردي ہيں جب كہ ان قواعد كي تطبيق شرائط كے اختلاف كے ساتھ ساتھ مختلف ہوگي اوراسلام نے اس امر كو مورد تاكيد قرار ديا ہے كہ ہرفضا كے لئے اس نظام (شوريٰ) كي مناسب شكل وصورت موجود ہے اگرچہ يہ شكل و صورت تطبيق كے اعتبار سے دوسري ظروف (زمانى، مكاني شرائط) ميں تطبيق ہونے والي شكل و صورت سے متفاوت ہے ۔

جب ہر ظرف خاص كے لئے خاص شكل و صورت موجود ہے اورلوگ بھي تائيد كرتے ہيں كہ بے شك يہي شكل و صورت مطلوب شكل و صورت ہے تو (كہا جاسكتا ہے كہ) ہاں اگر مرونۃ و نرمي سے مراد يہي ہوتو اسے اسلام كے لئے برجستہ خوبي قرار ديا جاسكتا ہے كہ جس كي وجہ سے اسلام (قحطان عبدالرحمن الدوري كي تعبير كے مطابق) دوسري نظاموں پر برتري ركھتا ہے كيونكہ اسلامي نظام ہر زمانے اور ہر جگہ نفاذكے لئے صلاحيت ركھتا ہے۔ليكن حقيقت مكمل طور پر اس كے برعكس ہے: شوري كے لئے مختلف صورتيں اور مصاديق ہيں حتي ايك ہي زمانے ميں اور ايك ہي شرائط و ظروف ميں شوري كي كئي صورتيں قابل تصور ہيں۔

لہذا درجہ ذيل سوالات لاجواب باقي رہ جاتے ہيں:

۱) بطور مثال اگر مشورہ كرنے والے افراد دوگروپوں ميں تقسيم ہوجائيں اور ان ميں اختلاف نظر پيدا ہوجائے ايك طرف اكثريت ہو جبكہ دوسري طرف ايسي اقليت ہوجو صاحبان نظر باصلاحيت اور معاشرتي اعتبار سے مشہور افراد پر مشتمل ہو تو كونسي طرف كو ترجيح دي جائے گى؟ كيا يہاں كميت معيار ہوگي يا كيفيت؟

۲) دوسرا سوال يہ ہے كہ اگر دو طرف مقدار اور كيفيت دونوں اعتبار سے مساوي ہوں تو كس طرف كو ترجيح دي جائے گى؟

۳) كيا ايك ووٹ(۳۳) كے ذريعے ترجيح دي جائے گي يا نہيں؟

۴) كن لوگوں كا شوريٰ ميں شريك ہونا ضروري ہے؟ كيا ہر وہ شخص جو مشورہ دينے كي صلاحيت ركھتا ہو اسے شوريٰ ميں شريك ہونے كا حق حاصل ہے يا بعض (خاص افراد) پر اكتفاء كيا جائے گا؟

۵) ان خاص افراد كي مقدار كيا ہے؟ كہ جنہيں مشورہ كي صلاحيت ركھنے والے افراد ميں سے شوريٰ ميں شركت كے لئے انتخاب كيا جائے گا؟

۶) ہم ان سب امور كا شوريٰ كي نصوص سے كيسے استفادہ كرسكتے ہيں؟

اس سلسلے ميں بعض لوگوں نے يہ جواب ديا ہے كہ وہ تمام افراد شوريٰ ميں شريك ہوں گے جن كے لئے شوريٰ كا موضوع قابل اہميت ہوگا(۳۴) كيونكہ خداوندمتعال نے ارشاد فرمايا ہے( وامرهم شوريٰ بينهم ) اور آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں(۳۵) كيونكہ”امرھم”ميں موجود ضمير”ھم” اور ”بينھم”ميں موجود ضمير ”ھم” كا مرجع ايك ہي ہے لھذا اس سے سمجھا جاتا ہے كہ شوريٰ (مشورت كے كام) ميں وہ تمام لوگ شريك ہوں گے كہ مورد مشورہ امران سے تعلق ركھتا ہے۔

ليكن (سوال يہ ہے كہ) جس صورت ميں ايك موضوع ايك حد تك تمام لوگوں يعني جماعت سے مربوط ہو جبكہ اس جماعت كے خاص گروہ سے اس كا گہرا ربط ہو تو ايك اعتبار سے اس موضوع كو ايك خاص گروہ جبكہ عرف ايك اعتبار سے اس موضوع كو وسيع تر دائري كي طرف نسبت ديتا ہے كہ جو دائرہ اس خاص گروہ كو بھي شامل ہے اور اس كے علاوہ باقي گروہوں كو بھي شامل ہے (تو يہاں پر يہ امر موضوع پوري جماعت كا امر شمار ہوگا يا ايك خاص گروہ كا امر كہ جس سے اس امر كا گہرا ربط ہے؟)

اور ان ميں سے كون لوگ شوريٰ ميں شركت كريں گے پوري جماعت يا وہ گروہ خاص؟

يہاں پر بہت سي عملي مثاليں ہيں كہ جن پر يہ صورت صدق كرسكتي ہے مثلا اگر امت (اجمالي طور پر) حكومت چلانے كے لئے ملك يا علاقے كے فقھاء كے انتخاب پر اتفاق كر لے اور پھر لوگوں كي ايسي اكثريت (جس ميں فقہاء بھي شامل ہوں) كے درميان اور خود اكثريت فقہاء كے درميان امور كي تقسيم (مثلا كس فقيہ كو كونسي ذمہ داري دي جائے اور كونسا كام اس كے سپرد كيا جائے) پر اختلاف پيدا ہوجائے تو يہاں پر كس طرف كو ترجيح ديں گے جبكہ ہم قبول كرچكے ہيں كہ ترجيح كا معيار اكثريت ہے؟ ہم ايك جہت سے ملاحظہ كرتے ہيں كہ لوگوں كي اكثريت معتقد ہے اور متفق القول ہے كہ تمام امور فقہاء كے سپرد كئے جائيں اور ہم دوسري جہت سے يہ بھي ملاحظہ كرتے ہيں كہ يہي اكثريت معتقد ہے كہ فلاں معين شخص كو حكومت كا سربراہ ہونا چاہيئے يا يہ كہ فرد كي قيادت كے بجائے فقہا پر مشتمل كميٹي كو قيادت كي ذمہ داري سونپي جائے۔

ہم تيسري جہت سے يہ بھي ملاحظہ كرتے ہيں كہ خود فقہاء كي اكثريت اس سلسلے ميں اكثريت امت كي راي كے مخالف ہے۔كيا يہاں پر لوگوں كي اكثريت كو معيار قرار ديا جائے گا كيونكہ امر لوگوں كا امر ہے يا اكثريت فقہاء كي راي كو معتبر جانا جائيگا كيونكہ امر ان كے دائر كار سے اور ان كے وظائف سے مربوط اور ان سے مخصوص ہے اور وظائف كي تقسيم كاركا طريقہ كار بھي خود فقہاء سے مخصوص ہے كيونكہ يہ بھي انہي امور ميں سے ہے كہ جن كي انجام دہي كي ذمہ داري لوگوں نے فقہاء كے سپرد كي ہے۔

يہ ايك مثال تھي يہاں ايك اور مثال بھي دي جاسكتي ہے: فرض كريں دو جماعتيں ہيں اور ہر ايك جماعت كي طرف سے ايك نمايندے كا انتخاب كرنا ہے جونمايندہ اپني جماعت كے مصالح و مفادات كي معرفت ميں مہارت ركھتا ہو تاكہ اس جماعت كي نمائندگي كرسكے اور يہ دونوں نمايندے مشتركہ كوشش كركے اجتماعي اور انفرادي مفادات ومصالح كے درميان ھماھنگي ايجاد كرسكيں جس كے نتيجے ميں تمام لوگوں كے مفادات و مصالح تحقق پذير ہوسكيں نہ يہ كہ ہر شخص فقط اس جماعت كے مفادات كا دفاع كرے كہ جس جماعت كا يہ نمائندہ ہے اس صورت ميں ان دو افراد كو منتخب كرنے كا حق كس نے ديا ہے؟ كيا دونوں جماعتوں كے مجموعے كو دو نمائندوں كے انتخاب كا حق ديا جائے؟ يا ہر نمائندے كے انتخاب كي ذمہ داري فقط اسي جماعت كو سونپي جائے كہ يہ نمائندہ جس جماعت كے مفادات و مصالح سےآگاہ ہو اور ان كے مفادات و مصالح كو اہميت ديتا ہے؟

جس طرح ممكن ہے كہ عرفي اعتبار سے موضوع كو خاص جماعت سے نسبت دي جائے اسي طرح يہ بھي ممكن ہے كہ دونوں جماعتوں كے مجموعے كي طرف اس موضوع كي نسبت دي جائے كيونكہ تمام لوگوں كامتعلقہ موضوع ہے ۔

تيسري مثال:

اگر ايسے قانون كے باري ميں مشورہ كرنا مقصود ہو جو قانون مردوں كي بہ نسبت خواتين سے زيادہ مربوط ہو توكيا فقط خواتين سے راي لي جائے گي كيونكہ امر خواتين كا امر ہے يا يہ كہ خواتين كے ساتھ ساتھ مردوں سے بھي راي لي جائے گي كيونكہ يہ امر تمام لوگوں كا امر ہے؟

اور اگر اختلاف پيداہوجائے تو كونسي اكثريت كو ترجيح دي جائے گي (مردوں كي اكثريت كو يا خواتين كي اكثريت كو؟) اس سب كچھ كے بعد اگر ان لوگوں ميں سے بعض لوگ شوريٰ ميں شركت نہ كريں كہ امر جن كا امر ہے توكيا شوريٰ باطل ہوجائے گي يا نہيں؟ كتنے لوگ كنارہ كشي كريں (شركت نہ كريں) تو شوريٰ باطل قرار دي جائے گي (اگر ہم بطلان كے قائل ہوجائيں)؟ كيا سابقہ حكمران جوماضي ميں حق حكمراني حاصل كرچكے ہيں ان افراد كو مشورہ (شوريٰ) ميں شركت كرنے پر مجبور كريں گے؟ منتخب كرنے والوں اور مشورى كي غرض سے شوريٰ ميں شريك ہونے والوں ميں بہت سے ايسے مستعضف اور پسماندہ لوگ موجود ہوتے ہيں كہ امت كے لئے بہترين اورحق سے زيادہ قريب تر راستے كے انتخاب ميں ان كي (شوريٰ) ميں شركت كا كوئي اثر اورعمل دخل نہيں ہوتا كيونكہ يہ لوگ (شوريٰ) كے موضوع كے متعلق صحيح و ھمہ گير اورجامع فكر كي صلاحيت نہيں ركھتے۔

جيسے عوامي اكثريت اور بعض معاشروں ميں جاہل و پسماندہ خواتين۔مستضعفين كي يہ جماعت (اكثر اوقات) امت كے بہت بڑے حصے كو تشكيل ديتي ہے ۔

كيا انہيں شوريٰ ميں شريك كيا جائے گا كيونكہ امر ان كا امر ہے اورفقط چھوٹے بچوں، ديوانوں اور كم خرد و نادان لوگوں كو استثناء كياجائےگا۔اور( امرهم شوريٰ بينهم ) كے اطلاق كے تقاضے كے مطابق باقي تمام لوگ شوريٰ ميں شريك ہوں گے اورانہيں مشورہ كے لئے دعوت دي جائے گي اگرچہ ان كي رضامندي اور ہمدردياں حاصل كرنے كي غرض سے ہي سہي۔يا يہ كہا جائے گا كہ كيونكہ شوريٰ كا ہدف و مقصد بہترين اور مفيد راستے كا انتخاب ہے لہذا اس ھدف كو مدنظر ركھتے ہوئے ”امرهم شوريٰ بينهم ”كي عبارت سے اطلاق نہيں سمجھا جاسكتا (يہ ہدف اس اطلاق سےمانع ہے) اور اگر اس فرض كو قبول كرلياجائے تو كيا معيار اور كيا قواعد و ضوابط ہيں كہ جن كي روشني ميں يہ معين كيا جائے كہ كس كو انتخاب (شوريٰ) ميں شركت كا حق حاصل ہے اور كس كو يہ حق حاصل نہيں ہے؟ يہ سوالات اور ان كے علاوہ اور دسيوں سوالات لاجواب باقي ہيں يہي وجہ ہے كہ معاشرہ حيران و سرگردان ہے كہ شوريٰ كي مختلف اقسام اور مختلف صورتوں ميں سے كون سي قسم اور كونسي صورت كا انتخاب كيا جائے جوان كے زمانے اور موجودہ شرائط ميں بہترين اور صحيح شكل و صورت ہو۔

يہيں سے يہ اشكال مزيد شديد ہوجاتا ہے كہ اسلامي مرونت و نرمي اس صورت ميں اسلام كے لئے ايك نماياں اور ممتاز صفت قرار پاسكتي ہے (البتہ اگر فرض كيا جائے كہ اسلام شوريٰ كا قائل ہے) كہ جب اسلام نے اس نظام كي حدود اوراس نظام كي بنيادوں كو اس طرح معين و مشخص طور پر بيان كيا ہو كہ جسكے ذريعے امت اس عجيب و غريب حيراني و سرگرداني سے نجات پاسكے ليكن ان امور كو ترك كرنے اورامت كو شوريٰ كے متعلق قواعد و ضوابط كي تعليم نہ دينے بلكہ ايك قراني آيہ مباركہ كے ذريعے (شوريٰ كي طرف) اشاري پر اكتفاء كرنے كو اور تو كوئي نام نہيں ديا جاسكتا بلكہ اسے فقط ايك واضح وآشكار خرابي كہا جاسكتا ہے جس كي نسبت اسلام، اسلام كے مبلغ اور اسلام كے موسس و جاعل كي طرف نہيں دي جاسكتي۔

يہ وہ حيران كن سوال ہے جونظام شوريٰ كے قائل اہل سنت كے نظريہ كے سامنے موجود ہے ہميں اس سوال كے ممكنہ جواب كي معرفت حاصل كرني چاہيے ۔

اور اس سلسلے ميں درج ذيل جوابات قابل تصور ہيں:

پہلاجواب:

يہ دعوي كيا جائے چونكہ قيادت و حكومت اور حكومت كي كيفيت دنياوي امر ہے لھذا اس ميں اسلامي شريعت كي دخالت متصور نہيں ہے بلكہ يہ بھي دوسري دنياوي امور ميں سے ايك ہے لھذا اگر اسلام اس موضوع كے باري اظہار نظر نہ كرے تو اسے نقص شمار نہيں كيا جاسكتا ليكن (باوجود اس كے كہ يہ ايك دنياوي امر ہے) اسلام نے پھر بھي اس موضوع كے باري اظہار نظر كيا ہے فطري طور پر اسلام نے شوريٰ كے كلي ڈھانچے كے بيان پر اكتفاء كيا ہے اور اس كي حدود و قيود كو بيان نہيں كيا تاكہ تمام زمانوں اور تمام مكانوں ميں اس كي تطبيق كي جاسكے لہذا شريعت نے ايك عام اور كلي مفہوم ديا ہے اور اس كي شكل و صورت اور مناسب خصوصيات كي تعين كا كام امت كے سپرد كيا ہے اسلام كو حق حاصل ہے كہ نظام شوريٰ كے انتخاب ميں بھي امت كو آزاد چھوڑے يا حتي نظام شوريٰ كو سري سے رد كردے اور اسے نقص بھي شمار نہ كيا جائے كيونكہ يہ امر دنياوي امور ميں سے ہے۔اس طرح يہ كہنا بھي ممكن ہے كہ شورائي نظام كي ايسي شكل و صورت تعين نہ كرنا جو مختلف شرائط كے ساتھ سازگار نہ ہو اسلام كي نماياں خوبي ہے۔

جواب:

يہ سوال درج ذيل امور كي وجہ سے بالكل باطل ہے:

۱) چونكہ مسئلہ حكومت و قيادت ان ضروريات ميں سے ہے كہ جن سے چشم پوشي ممكن نہيں خصوصا اس وجہ سے كہ اصل اسلام اور معاشري ميں اسلامي قوانين كا تحفظ اسي پر موقوف ہے جب اسلام اپني حفاظت اور اپني شريعت كي حفاظت كو بہت زيادہ اہميت ديتا ہے تو يہ قبول كرنا بھي ضروري ہے كہ مسئلہ حكومت كے باري ميں مثبت موقف اپنايا ہے (كيونكہ اس كے بغير اسلام اوراسلامي شريعت كي بقاء ممكن نہيں ہے) اگرچہ يہ موقف ايساقابل انعطاف نظام عطا كرنے كي صورت ميں ہو كہ جس كے قواعد و ضوابط انعطاف پذيرہوں اور مختلف شرائط زمان و مكان ميں منطبق ونافذ ہونے كي صلاحيت ركھتے ہوں اور اسلام نے اس مسئلہ كو ان انساني عقلوں كے سپرد نہيں كيا جوعقليں مختلف وجوہات سے ضعف و ناتواني كا شكار ہوتي ہيں جس كے نتيجے ميں آخر كار اصل شريعت كے پامال ہونے كا خدشہ ہوتا ہے۔

۲) اسلام ايك كامل اور زندگي كے مختلف پہلوؤں اور شعبوں پر محيط نظام ہے اور اسلام انسان كي دنياوي زندگي كے تمام شعبوں كو منظم كرنے سے غافل نہيں رہا البتہ اس مقدار ميں كہ جس كي توقع شريعت اورحقيقي دين سے كي جاسكتي ہے جائے تواور اس فردي و اجتماعي رفتار كے متعلق اسلام كي طرف سے معين ہونے والے مختلف اسلوبوں اور روشوں اور اسي طرح خانداني امور وغيرہ كو منظم كرنے كے متعلق اسلام كے قوانين و احكام كو ملاحظہ كيا جائے تو يہ امر مزيدآشكار ہوجاتا ہے۔

بلكہ دنياوي امور ميں اسلام كي دخالت ضروريات اسلام يا (كم از كم) ضروريات فقہ ميں سے ہے كہ جس كا انكار فقط ضدي شخص ہي كرسكتا ہے (ان سب امور كے باوجود) كيسے تصور كيا جاسكتا ہے كہ اسلام مسئلہ حكومت سے غافل رہا ہے جب كہ حالت يہ ہے كہ جس معاشري كي بنياد اسلام نے ركھي ہے مسئلہ حكومت اسي معاشري كے اہم ترين حياتي مسائل ميں سے ايك ہے ۔

۳) قيادت اور حكومت كي تشكيل ميں ضمني طور پر (چنانچہ ہم وضاحت كرچكے ہيں) يہ بات پائي جاتي ہے كہ فرد (حكمران) يا افراد مختلف ميدانوں ميں اپنا اثر رسوخ استعمال كريں گے اور يہ ايسي چيز ہے جو لوگوں كے ابتدائي حقوق سے سازگار و ھماھنگ نہيں ہے۔

بنابرايں اگر حكومت اسلامي ايسي ولايت كي بنياد قائم نہ ہو جو ولايت خاص نظام كے ضمن ميں ايسے شخص كو عطا كي جاتي ہے جس ميں مطلوبہ شرائط موجود ہوں تو يہ تصور ممكن ہے كہ حكومت متعدد محرمات ميں غوطہ زن ہوجائے يہ ايسا امر ہے جو كسي بھي صحيح اسلامي حكومت كي تشكيل سےمانع ہے اور نتيجۃً دين دار معاشري كو شديد حيراني و سرگرداني ميں مبتلا كرسكتا ہے۔

دوسرا جواب:

يہ كہا جائے كہ شورائي نظام كي شكل و صورت اور بنيادي قوانين معين نہ كرنے كي وجہ يہ ہے كہ مختلف زمانوں اور مختلف مكانوں ميں مشترك عناصر موجود نہيں ہوتے جب تمام زمانوں اور مكانوں ميں مشترك عناصر نہيں پائے جاتے تو مشترك اور كلي قواعد وضع كركے مختلف مشكلات كو حل نہيں كيا جاسكتا اگرچہ يہ مشترك اور كلي قواعد تطبيق ونفاذ كے اعتبار سے مختلف ہي كيوں نہ ہوں يہي وجہ ہے كہ اسلام نے (حقائق و واقعات كے تقاضے كے مطابق) اس نظام كو مطلق چھوڑ ديا ہے اور اس كے لئے كوئي خاص شكل و صورت (اور قواعد) معين نہيں فرمائے۔

اشكالات: ہم اس سلسلے ميں درج ذيل اشكالات كريں گے:

الف: مندرجہ بالا جواب كا مقصد يہ نہيں كہ اسلام كو اس نقص وعيب سے پاك و مبرا قرار ديا جائے اور كہا جائے كہ اسلام نے زندگي كو منظم كرنے كي غرض سے زندگي كے مختلف شعبوں كے لئے جامع قانون سازي نہيں كي (اور اس جواب كا مقصد يہ بھي نہيں كہ يہ اسلامي قوانين كامل ہيں اور سعادت و خوشبختي كي ضمانت فراہم كرتے ہيں ليكن چونكہ مسلمانوں نے ان قوانين كو صحيح طريقے سے نافذ نہيں كيا لہذا يہ نقائص سامنےآرہے ہيں ۔

اس جواب كا مطلب صرف يہ ہے كہ اسلام ناقص ہے ليكن يہ نقص قابل تاويل ہے كيونكہ مختلف زمانوں اورمكانوں ميں مشترك عناصر نہيں پائے جاتے تاكہ ان مشترك عناصر كو مدنظر ركھتے ہوئے كلي قواعد وضع كئے جائيں لہذا يہ نقص اجتناب ناپذير ہے

اگر اس احتمال كا راستہ كھل جائے (يہ احتمال ديا جائے كہ نظام حكومت كے سلسلے ميں اسلام ميں نقص پايا جاتا ہے ليكن يہ نقص اجتناب ناپذير ہے) تو يہي احتمال اسلام كے دوسري شعبوں ميں بھي ديا جاسكتا ہے جيسے اقتصادي شعبہ، اجتماعي شعبہ، كيونكہ ان شعبوں كے متعلق كہا جاسكتا ہے كہ شايد اسلام زندگي كے مختلف شعبوں كو بخوبي منظم كرنے سے عاجز و ناتوان ہے لھذا اسلام نے بعض اوقات نظاموں كي بنيادوں كو ناقص چھوڑ ديا ہے (جيسا كہ شورائي نظام ميں كيا ہے) يا بعض اوقات ان نقائص اور خلاؤں كو اس طرح پر كيا ہے كہ يہ نظام فقط بعض شرائط ميں مفيد واقع ہوسكتا ہے۔

اسلام نے اسي (خاص نظام كا) دائرہ وسيع كيا ہے حتي اسے ان شرائط ميں بھي قرار ديا ہے كہ جن شرائط كے ساتھ يہ خاص نظام سازگار و ھماھنگ نہيں ہے۔اوريہ امر ناگزير تھا۔ ايسي علامات اور نشانياں معين كرنا ناممكن تھا كہ جنہيں لوگ سمجھ سكتے اوران كے ذريعے يہ تشخيص دے سكتے كہ يہ شرائط اس نظام كي تطبيق اور نفاذ كے لئے مناسب و سازگار ہيں اور فلاں شرائط اس نظام كے لئے مناسب نہيں ہيں جب كوئي امر دو چيزوں كے درميان دائر تھا كہ يا تو لوگوں كو كوئي نظام نہ ديا جاتا كہ جس كا نتيجہ يہ ہوتا كہ تمام زمانوں اور مكانوں كے لوگ حيران و سرگردان رہتے ياايك مطلق اور كلي نظام ديا جاتا كہ جس كي وجہ سے (كم ازكم) بعض زمانوں اور مكانوں كے لوگ سعادتمند ہوسكتے۔اسلام نے لوگوں كي مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے دوسري صورت كو منتخب كيا بنابر اين اسے اسلام كے لئے عيب و نقص شمار نہيں كياجاسكتا اس نقص كا سرچشمہ يہ ہے كہ درحقيقت مناسب (اور قابل انعطاف اور مختلف زمانوں ميں قابل تطبيق ونفاذ) راہ حل موجود نہيں تھا۔ نہ يہ كہ راہ حل موجود تھا ليكن اسلام كي اس تك رسائي نہ ہوسكي كيا اس احتمال كو اس كے تمام تر خطرات و بري نتائج كے ساتھ اخذ كيا جاسكتا ہے؟ !

ہم نے اس احتمال كو وسعت دي ہے تاكہ نظام حكومت كے علاوہ باقي جوانب اور باقي شعبوں كو شامل ہوسكے ليكن ہمارا واحد ہدف و مقصد انساني ضمير و وجدان كو متوجہ و بيدار كرناتھا كہ يہ احتمال واضح طور پر ضروريات دين يا كم ازكم ضروريات فقہ كے خلاف ہے۔

ب: اس فرض شدہ نقص وعيب كے باري ميں تين احتمالات ممكن ہيں:

پہلا احتمال: ہم فرض كريں كہ شوريٰ كے لئے متعدد نظام اور مختلف صورتيں موجود ہيں اور يہ تمام نظام اور تمام صورتيں تمام ظروف اورتمام زمانوں ميں منطبق ونافذ ہونے كي صلاحيت ركھتے ہيں اسلام نے باقي صورتوں كو چھوڑ كرفقط كسي ايك صورت كو معين نہيں كيا كيونكہ يہ ترجيح بلا مرجح اور الزام بلاملزم(۳۶) ہے كيونكہ شورائي نظام اور دوسري نظاموں مثلا اجتماعي نظام اقتصادي نظام وغيرہ ميں (كہ جن ميں تخيير كا حكم كيا جاسكتا ہے) اہم فرق پايا جاتا ہے اور وہ بنيادي فرق يہ ہے كہ جب اسلام كو ايسي اجتماعي يا اقتصادي مشكل كا سامنا ہو كہ جس كے حل كے لئے دو مساوي اور كارآمد راہ حل اور اسلوب موجود ہوں اور ان دو راہ حل كے درميان تخير بھي ممكن ہو تو اسلام لوگوں كوآزاد چھوڑ ديتا ہے تا كہ ان دو ميں سے كسي ايك اسلوب اوركسي ايك راہ حل كو اختيار كريں اس طرح مذكورہ نقص برطرف ہوجاتا ہے ليكن حكومت، شوريٰ اور راي گيري كے شعبے ميں ممكن نہ تھا كہ مثلا دو معين نظاموں ميں سے كسي ايك كو اختيار كرنے كا حكم ديا جاتا كيونكہ فرض يہ ہے كہ دونوں نظام مشكل كو حل كرنے كي صلاحيت ركھتے تھے يہ اختيار نہ دينے كي وجہ يہ ہے كہ لوگ ان دو ميں سے كسي ايك كو اختيار كرنے ميں اختلاف كرسكتے ہيں جس كا نتيجہ يہ ہوگا كہ ہم ايسے بنيادي راہ حل تك نہيں پہنچ سكيں گے جسكے ذريعہ حكومت كے انحرافات كي اصلاح كي جاسكے يہي وجہ ہے كہ مثال كے طور پر اسلام نے (شورائي نظام كي) دوشكليں معين نہيں كيں تاكہ امت ان دوميں سے كسي ايك كو اختيار كرے بلكہ اسلام نے (شورائي نظام كو) شكل و صورت كے اعتبار سے مبہم ومجمل اور آزادچھوڑا ہے اوراس كي شكل و صورت اوراسكے قوانين كي تعين كا كام لوگوں كے سپرد كيا ہے ۔

ہم اس جواب كو رد كرنے كے لئے فقط اس وضاحت پر اكتفا كريں گے كہ اسلام كے لئے ممكن ہے كہ (مختلف نظاموں اور نظام كي مختلف شكلوں ميں سے) كسي ايك نظام كو معين كرے (اگرچہ ترجيح بلا مرجح كي بنياد پر ہي) اور يہ ايسا امر ہے جو افعال اختيار ي ميں جائز ہے پس خداوند متعال ان نظاموں (جو ساري نظام مشكلات كو حل كرنے كي صلاحيت ركھتے ہيں) ميں سے كسي ايك نظام كو بغير كسي ترجيح كے اختيار كرسكتا ہے تاكہ مندرجہ اشكال وارد نہ ہوسكے نہ يہ كہ اسلام ناقص ہے اور لوگوں كو واحد صحيح اسلوب كي طرف ہدايت نہيں كرسكتا جسكي وجہ سے امت مسلمہ بہتر اور باصلاحيت نظام كي تعيين كے سلسلے ميں اختلافات اور نزاع كا شكار ہوجاتي ہے(۳۷)

دوسرا احتمال: اگر اسلام كے لئے (امت كو) بعض ايسي علامتيں اور خصوصيات عطا كرنا ممكن ہوتاكہ جن خصوصيات اور علامتوں كے ذريعہ تشخيص دي جاسكتي كہ يہ ظرف خاص (شرائط زمان و مكان وغيرہ) فلان نظام كے لئے مناسب ہيں (اور امت ان علامتوں كے ذريعہ نظام كو معين كرتي) تو ايسا كرنا اسلام كے لئے ضروري تھا ورنہ فطري طور پر ہم يہ فرض كرسكتے ہيں كہ ہر ظرف كے لئے اور ہر زمانے (مختلف شرائط) كے لئے نئے رسول كاانا ضروري ہے تاكہ لوگوں كو ايسے دين كي طرف ہدايت كرسكے جو دين موجودہ ظرف (شرائط) كے مطابق ہو يا يہ فرض ممكن ہے كہ اسلام كے خاص وصي اور جانشين كا انتخاب كرے جو اس عظيم خلا پركرسكے ۔

تيسرا احتمال: يہ فرض كيا جائے كہ شوريٰ كے لئے قابل تصور تمام نظام اور تمام صورتيں انسان كو سعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرنے سے عاجز و ناتوان ہيں ليكن چونكہ شوريٰ كو (حكومت كي) بنياد اور اساس قرار دينا ہرج و مرج اور شور و غل سے افضل تھا لہذا اسلام نے لفظ ”شوريٰ” كو مطلق چھوڑ ديا اور اس كے لئے كوئي ضابطہ و قاعدہ معين نہيں كيا۔

يہاں پر ہم كہيں گے حقيقت يہ ہے كہ شوريٰ كے تمام نظام (اور تمام صورتيں) بشريت كو حقيقي سعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرنے سے عاجز ہيں ليكن اس كا مطلب يہ نہيں كہ اسلام كے پاس صورتحال ميں ايك مبھم اور غير منظم نظام عطا كرنے كے علاوہ كوئي اور راستہ نہيں تھا اسلام كے لئے ضروري تھا كہ نظام شوريٰ سے (اس نظام كي طرف عدول كرتا كہ جس ميں قائد و رہبر معين و منصوص)

خلاصہ كلام: اسلام ايسا نظام تشكيل دينے سے عاجز نہيں تھاكہ جس نظام كو صحيح نافذ كيا جائے تو انسانيت كي سعادت اور خوشبختي كا ضامن ہو اور نہ ہي اسلام نے اس كام ميں سستي و كاہلي كي ہے يقيني طور پر بشريت كي بدبختي و نامرادي كا واحد سبب اس نظام كي تطبيق ونفاذ ميں خود ان كي سستي اور ان كي كوتاہي ہے (اگر تطبيق ميں سستي نہ كرتے تو سعادت مند ہوتے) اور درج ذيل دوآيہ كريمہ اس مطلب كي طرف اشارہ كرتي ہيں: ارشاد رب العزت ہے:( ولو ان اهل القري آمنوا واتقوا لفتحنا علهيم بركات في السماء والارض ولكن كذبوا فاخذناهم بماكانوا يكسبون ) (۳۸)

ترجمہ آيت: اور اگر اہل قريہ ايمان لےآتے اور تقوي اختيار كرليتے تو ہم ان كے لئے زمين واسمان سے بركتوں كے دروازے كھول ديتے ليكن انہوں نے تكذيب كي تو ہم نے ان كو ان كے اعمال كي گرفت ميں لے ليا۔

ايك اور مقام پرخداوندمتعال ارشاد فرماتا ہے:

( وَلَوْ انَّهُمْ اقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَما انزِلَ إِلَيهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَاكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ ارْجُلِهِمْ مِنْهمْ امَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِنْهمْ سَاءَما يعْمَلُونَ ) ۔(۳۹)

ترجمہ آيت: اور اگر يہ لوگ توريت و انجيل اور جو كچھ ان كي طرف پروردگار كي جانب سے نازل كيا گيا ہے سب كو قائم كرتے تو اپنے اوپر اور قدموں كے نيچے سے رزق خدا حاصل كرتے ان ميں سے ايك قوم ميانہ رو ہے اور زيادہ حصہ لوگ بدترين اعمال انجام دے رہے ہيں۔

تيسرا جواب:

يہ كہا جائے كہ اگرچہ (ابتدائي نظر ميں) نظام شوريٰ مبھم اور غير مشخص معلوم ہوتا ہے ليكن اگر بيشتر غور و خوض كياجائے تو اس نظام ميں پايا جانے والا ابہام برطرف ہوجاتا ہے۔درج ذيل امور كے ذريعہ شورائي نظام ميں پائے جانے والے ابہام كو برطرف كيا جاسكتا ہے:

۴) يہ كہا جائے كہ شوريٰ كي اصل دليل ميں اطلاق(۴۰) پايا جاتا ہے اور دليل ميں پايا جانے والا اطلاق اور عدم تعيين امت كو مكمل اختيار عطا كرتا ہے كہ امت ايك زمانے اور متحد ظروف (شرائط) ميں شورائي نظام كے لئے قابل تصور نظاموں اور مختلف شكلوں ميں سے كسي ايك نظام اور كسي ايك شكل و صورت كا انتخاب كرسكتي ہے۔

اشكال: اس اطلاق كا جواب يعني اس پر (اشكال) واضح ہے كيونكہ اگر امت نظام كو اختيار كرنے ميں اختلاف كرے (كچھ لوگ ايك نظام كو جبكہ كچھ اورلوگ دوسري نظام كو اختيار كريں) تو ہم كيا كريں گے؟ يہي اشكال اور يہي سوال موجب بنتا ہے كہ عرف اس دليل سے وہ اطلاق نہ سمجھے جس كا دعويٰ كيا گيا ہے۔

۵) يہ دعوي كيا جائے كہ شوريٰ كے ذريعہ شورائي نظام كو معين كرنا ممكن ہے۔

اس جواب پر وہي اشكال كيا جائے گا جو گزشتہ جواب پر كرچكے ہيں كيونكہ اگر امت نظام كي اس شكل و صورت كے تعين ميں اختلاف كرے اور آخر كار اس مشكل كے حل كے لئے كوئي راہ حل پيدا نہ كرسكے تو ايسي صورتحال ميں ہمارا موقف كيا ہوگا؟ فرض كريں امت نے اتفاق كرليا كہ (حكومت كے) امور كي باگ ڈور فقہاء كے سپرد كي جائے اور امت نے اسے افضل و بہتر تشخيص دياپھر امت كي اكثريت اور فقہاء كي اكثريت كے درميان امور كي تقسيم كار (فقہاء كے درميان) ميں اختلاف نظر پيدا ہوگيا تو ہم مسلسل امت سے سوال كريں گے كہ اگر ايك ايسا امر (موضوع) ہو كہ جو ايك اعتبار سے (امت كي وسيع تعداد اور وسيع دائري سے منسوب ہو) (اور ايك اعتبار سے يہي موضوع امت كے خاص طبقے اور خاص دائري كي طرف منسوب ہو) تو ايسي حالت ميں آخري فيصلے كے لئے كس مرجع كي طرف رجوع كيا جائے گا اور كس سے راي گيري كي جائے گي (كيا اس وسيع دائري ميں شامل افراد سے يا خاص دائري ميں شامل افراد سے راي لي جائے گى؟)

امت اس سوال كا جواب يہ دے گي كہ ہماري پاس كوئي قاعدہ كليہ اور جامع معيار و ميزان موجود نہيں ہے كہ تمام حوادث و واقعات ميں جس كي طرف رجوع كيا جائے بلكہ ہر مسئلے ميں راي گيري ضروري ہے اور كبھي وسيع دائري كي طرف رجوع كرنے (ان سے راي لينے) ميں بہتري ہوتي ہے جبكہ كبھي كبھار محدود و خاص دائري كي طرف رجوع كرنا بہتر ہوتا ہے (لہذا مسئلہ كي نوعيت كے مطابق راي گيري كي جائے) ہم مسلسل اس مسئلے (فقہاء كے درميان امور كي تقسيم) كے باري (امت سے) راي طلب كريں گے (يعني امت سے سوال كريں گے) كہ كيا اس مسئلے ميں فقط فقہاء سے راي گيري كي جائے؟ يا عمومي راي گيري كي جائے كہ جس كے دائري ميں فقہاء بھي شامل ہوں۔اب اگر امت كي اكثريت اور فقہاء كي اكثريت كے درميان اس مسئلے پر اختلاف نظر ہوجائے تو اس عظيم ہرج ومرج اور شور وغل ميں ہمارا موقف كياہوگا؟

(كيا اكثريت امت كي راي پر عمل كيا جائے يا اكثريت فقہاء كي راي پر؟) اگر امت كے سامنے يہ مشكل (ايك طرف كميت و مقدار كے لحاظ سے رجحان پايا جائے جبكہ دوسري طرف كيفيت كے اعتبار سے) پيش كي جائے كہ (جن دو گروہوں كے درميان اختلاف نظر وجود ميں كيا ہے ان ميں سے) ايك گروہ كے پاس امت كي اكثريت ہے يعني ان كے پاس كميت كے اعتبار سے رجحان اور برتري پائي جاتي ہے جبكہ دوسرا گروہ كيفيت كے اعتبار سے برتري ركھتا ہے اس صورتحال ميں كس كو مقدم كيا جائے؟ (كيا اس گروہ كو مقدم كيا جائے جو كيفيت كے اعتبار سے برتري ركھتا ہے يا اس گروہ كو مقدم كيا جائے جو كميت و مقدار كے اعتبار سے برتري ركھتا ہے) اس مشكل سے نجات حاصل كرنے كے لئے كونسا راستہ اپناياجائے اور اس مسئلے كا راہ حل كيا ہے؟ اسي طرح جب امت كے سامنے ان لوگوں كا مسئلہ پيش كيا جائے جنہوں نے شوريٰ اور راي گيري ميں شركت نہيں كي اور اسي طرح جب يہ مسئلہ مورد بحث قرار ديا جائے كہ ان كا شوريٰ اور راي گيري ميں شركت نہ كرنا كس حد تك نقصان دہ ہے اور امت سے اس مسئلہ پر راي گيري كي جائے ليكن خود اس راي گيري ميں امت كے بعض افراد سستي كرتے ہوئے شريك نہ ہوں تو اس صورتحال ميں كيا موقف اپنايا جائے؟

جب ہم امت سے اس مسئلہ (كيامردوں اور عورتوں ميں سے مستضعف و پسماندہ افراد راي گيري ميں شركت كرسكتے ہيں؟ ان ميں سے كون لوگ مستثنيٰ ہيں يا ملاك و معيار كيا ہے كہ جس كي بنياد پر كسي كو راي گيري ميں شامل كيا جائے جبكہ كسي اور كو راي گيري ميں شامل نہ كيا جائے) كے باري ميں فتويٰ (راي) طلب كرتے ہيں اور پوچھتے ہيں كہ كس سے يعني راي لي جائے؟ كيا ساري امت سے راي لي جائے يا مستضعفين كے علاوہ باقي امت سے؟ اور كسي كو راي گيري سے مستثني كرنے كي حدود و قيود اور ضابطہ كياہے؟

البتہ يہ جانتے ہوئے كہ اگر بعض (مستضعف وغيرہ) افراد كو راي گيري ميں شامل كيا جائے تو نتيجہ كچھ اور ہوگا جبكہ اگر ان كو شامل نہ كيا جائے تو نتيجہ كچھ اور ہوگا؟ !

۶) يہ دعويٰ كيا جائے كہ اگرچہ شورائي نظام خداوندمتعال كے نزديك مبھم و ناقص ہے ليكن ہر زمانے اور ہر مكان ميں مجتہد كو حق حاصل ہے كہ (فقہ اہل سنت كے مشہور مباني)

استحسان، و مصالح مرسلہ(۴۱) كے مطابق اجتہاد كے اس نقصان اور خلا كو پر كرسكے ليكن اگر ايك ہي وقت اور ايك ہي ظرف (شرائط) ميں زندگي گزارنے والے فقہاء كے درميان اختلاف نظر پيدا ہوجائے تو اس صورت ميں ہمارا وظيفہ كيا ہوگا؟ اور اس نظام حكومت كے متعلق كيا موقف اپنائيں گے كہ جس نظام كے بانيوں كے درميان اختلاف پايا جاتا ہے؟ كبھي كبھار اس مشكل كے جواب ميں يہ كہا جاتا ہے كہ ان (اختلاف نظر كرنے والے) تمام فقہاء كي ايك كميٹي بنائي جائے گي اور انہيں كہا جائے گا كہ شورائي نظام (باہمي مشورى) كے ذريعے كسي ايك اجتہاد (نظرئے) پر اتفاق كرليں۔ ليكن مسئلہ يہ ہے كہ ہم دوبارہ اس شوريٰ كي طرف رجوع كررہے ہيں جو خود ابھي تك مبہم و غير معين ہے اور اس كے بنيادي قوانين اور حدود و قيود بھي مشخص نہيں ہيں!! پس اس طرح واضح ہوگيا كہ شوريٰ، راي گيري اور انتخاب كو حكومت كي بنياد و اساس كے طور پر قبول كرنے والوں كي تمام دليلوں پر اعتراض و اشكال وارد ہيں۔

كيونكہ اگر واقعا ًرسول خدا اپنے بعد امت كو اپنے امور چلانے كے لئے شوريٰ كے ذريعہ حكومت كے انتخاب كي طرف اشارہ و ہدايت كرنا چاہتے توانحضرت پر لازم تھا كہ (حكومت كي) اس بنياد و اساس كي مختلف شقوں اور اس كے مختلف نظاموں كي تفصيلات بيان فرماتے اگر واقعاًائمہ معصومين عليہ السلام كاہدف يہ تھا كہ زمانہ غيبت ميں شيعوں كو شوريٰ اور انتخاب كي طرف رہنمائي كريں تو ان پر ضروري تھا كہ شيعوں كے لئے شوريٰ كے مختلف نظاموں اور شوريٰ كے مختلف بندوں كي تشريح كرتے اور تفصيلات و جزئيات بيان كرتے۔

(ان سب اعتراضات كے باوجود) ہم شوريٰ كي اہم دليلوں كو ذكر كرتے ہيں تاكہ ديكھا جاسكے كہ كيا يہ دليليں اشكال و اعتراض سے سالم و محفوظ ہيں يا نہيں؟ اگر ہم گزشتہ عمومي اشكالات سے چشم پوشي كرليں؟

كتاب وسنّت سے شوريٰ كے دلائل

جب وادي تشيع ميں شوريٰ كے متعلق بحث كي جاتي ہے (تو چونكہ حكومت كي شكل و صورت كے بارے ميں بحث زمانہ غيبت ميں ہے) تو ہم ابتداء ہي سے روايات شوريٰ سے ان بعض روايات كو مستثنيٰ كرديتے ہيں جن سے ظاہر ہوتا ہے كہ حتي ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانہ حضور ميں بھي امامت يا قيادت و رہبري كي تعيين انتخاب اور شوري كي بنيادپر ہے گويا حضرت علي عليہ السلام كي امامت كي تكميل بھي شوريٰ اور انتخاب كے ذريعہ ہوئي بطور نمونہ حضر ت علي عليہ السلام كا وہ قول ہے جو نہج البلاغہ ميں حضرت كي طرف سے معاويہ كے نام خط ميں كيا ہے:

(جن لوگوں نے ابوبكر، عمر، اور عثمان كي بيعت كي تھي انہوں نے ميري ہاتھ پر اسي اصول كے مطابق بيعت كي جس اصو ل پر وہ ان كي بيعت كرچكے تھے اوراس كي بنا پر جو حاضر ہے اسے پھر نظر ثاني كا حق نہيں اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد كرنے كا اختيار نہيں اور شوريٰ كا حق صرف مہاجرين و انصار كو ہے وہ اگر كسي پر ايكا كريں اوراسے خليفہ سمجھ ليں تو اسي ميں اللہ كي رضا و خوشنودي سمجھي جائے گي)) ۔(۴۲)

نصربن مزاحم نےحضرت علي عليہ السلام كي يہي عبارت اپني كتاب (وقعۃ صفين)(۴۳) ميں ان الفاظ كے اضافے كے ساتھ نقل كي ہے (اما بعد فان بيعتي لزمتك و انت بالشام، لانه بايعني القوم الذين بايعو ابابكر و عمر و عثمان )

(امابعد (اے معاويہ) با وجوديہ كہ تم شام ميں ہو ميري بيعت تم پر بھي لازم ہے كيونكہ انہي لوگوں نے ميري بيعت كي جنہوں نے ابوبكر وعمر و وعثمان كي بيعت كي تھي)

نصر بن مزاحم كي كتاب ميں معاويہ كے نام حضرت علي عليہ السلام كے خط ميں كيا ہے۔

(اما قولك ان اهل الشام هم الحكام علي اهل الحجاز فهات رجلا من قريش الشام يقبل في الشوريٰ او تحل له الخلافة فان زعمت ذلك كدبك المهاجرون والانصار )(۴۴)

(تمہارا يہ كہنا كہ اہل شام حجاز پر حكمران ہيں تو (اس كا جواب يہ ہے كہ) قريش شام ميں سے كوئي ايسا فرد لاؤ جسے شوريٰ قبول كرلے يا اس كے لئے خلافت حلال ہو اگر تمہارا اپنا يہ گمان ہے تو تمہيں مہاجرين و انصار نے جھٹلاديا ہے۔۔۔)

نہج البلاغہ ميں امير المومنين كا ارشاد ہے: (ايها الناس ان احق الناس بهذا الامر اقواهم عليه و اعلمهم بامر الله فيه فان شغب شاغب استعتب فان ابي قوتل و لعمري لئن كانت الامامة لاتنعقد حتي يحضرها عامة الناس فما الي ذلك سبيل ولكن اهلها يحكمون علي من غاب عنها ثم ليس للشاهد ان يرجع ولاللغائب ان يختار )(۴۵)

اے لوگو! تمام لوگوں ميں اس خلافت كازيادہ اہل وہ ہےجواس (كے نظم و نسق كو برقرار ركھنے) كي سب سے زيادہ قوت ركھتا ہو اور اسكے باري ميں اللہ كے احكام كو سب سے زيادہ جانتا ہو اس صورت ميں اگر كوئي فتنہ پرداز فتنہ كھڑا كرے تو (پہلے) اسے توبہ و بازگشت كےلئے كہا جائے گا اگر وہ انكار كرے تو اس سے جنگ و جدال كيا جائےگا۔اپني جان كي قسم! اگر خلافت كا انعقاد تمام افراد امت كے ايك جگہ اكھٹا ہونے سے ہوتو اسكي كوئي سبيل ہي نہيں بلكہ اسكي صورت تو انہوں نے يہ ركھي تھي كہ اسكے كرتا دھرتا لوگ اپنے فيصلہ كا ان لوگوں كو بھي پابند بنائيں گے جو بيعت كے وقت موجود نہ ہوں گے پھر موجود كو يہ اختيار نہ ہوگا كہ وہ (بيعت سے) انحراف كرے اور نہ غير موجود كو يہ حق ہوگا كہ وہ كسي اور كو منتخب كرے۔

مولف:

اس قسم كي روايا(۴۶) (حتي اگر سند كے اعتبار سے ان كي حالت سے چشم پوشي كرلي جائے) اس بحث ميں شامل نہيں ہوں گي جو شيعہ زمانہ غيبت ميں نظام حكومت كے متعلق كرتے ہيں كيونكہ شيعہ پہلے ہي روايات اور قطعي دلائل كے ذريعہ ثابت كرچكے ہيں كہ امام معصوم كے حضور كے زمانے ميں امامت و حكومت كي سربراہي نص صريح كے ذريعہ معين انسان كے لئے ثابت ہوچكي ہے اور وہ معين انسان امام معصوم عليہ السلام ہے ۔

مكتب شيعہ ميں فقط حكومت كي شكل و صورت اور اس امر كے باري ميں بحث كي جاتي ہے كہ زمانہ غيبت ميں (حكومت كا سربراہ) كس كا نائب ہوتا ہےكيا وہ زمانہ غيبت ميں حكومت كے حقيقي سربراہ يعني امامعليہ السلام معصوم كا نمائندہ ہوتا ہے۔

البتہ ان روايات كو دو ميدانوں ميں بحث كرتے وقت پيش كيا جاسكتا ہے:

۱) نظام حكومت كے متعلق اہل سنت كي بحث كے ميدان ميں۔

۲) رسول خدا كي وفات كے بعد امامت كے سلسلے ميں شيعہ و سني بحث كے ميدان ميں كہ كيا (رسول خدا كے بعد) امامت نص كے ذريعہ سے ثابت يا انتخاب كے ذريعے؟ ہم نے يہ كتاب رسول خدا كے زمانے كے بعدكے لئے نہيں لكھي كہ بلافاصلہ رسول خدا كے زمانے كے بعد حكومت كي بنياد كيا ہے يہ ايك تفصيلي بحث ہے كہ جس كے متعلق كتابيں لكھي جاچكي ہيں اور بحث و گفتگو كي جاچكي ہے۔ليكن يہاں پر ہم يادآوري كرائيں گے كہ يہ روايات ان عمومي اشكالات سے محفوظ نہيں ہيں جن كے متعلق ہم تفصيلي وضاحت كرچكے ہيں۔اگر رسول خدا نے اپني وفات كے بعد امت كے مستقبل ميں مثبت دخالت كي ہوتي توفطري طور پر ہم ديكھتے كہ حضرت نے امت كے لئے اس نظام (شورائي نظام) كے قواعد و ضوابط اور راہنما اصول تفصيل كے ساتھ بيان كئے ہيں ليكن اس سلسلے ميں انحضرت كےسكوت اختيار كرنے كا مطلب يہ ہے كہ انحضرت امت كے مستقبل اوردين حنيف كے مستقبل كے لئے كسي قسم كي اہميت كےقائل نہيں تھےاور يہ ايسي چيز ہے كہ مسلمان انحضرت كے متعلق اس كا احتمال بھي نہيں دے سكتا۔

ساتھ امام صادق عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ آپنے فرمايا: جس نے مسلمانوں كي جماعت سے جدائي اختيار كي اور امام كي بيعت كو توڑ ڈالا قيامت كے دن خدا كي بارگاہ ميں جزام كي بيماري ميں مبتلا حاضر ہوگااصول كافي جلد۱ ص ۴ ۰ ۵بحارالانوار جلد ۲۷ص ۷۲ اس طرح كي روايات كو تقيہ پر حمل كيا جائے گكيا صدور كے اعتبار سے تقيہ يا بہ اين معني كہ جماعت كے ساتھ نبھا كرنے كا حكم تقيہً صادر ہواہے ۔

(اس چيز كا انحضرت كے حق ميں احتمال دينا كسي مسلمان كے لئے سزاوار و شايستہ نہيں ہے) اس بناپر مذكورہ روايات (اگر سند كے اعتبارسے بھي صحيح ہوں) توانھيں ہماري نزديك اس معني پر حمل كيا جائے گا كہ اميرالمومنين عليہ السلام اپنے مخالفين سے مخاطب تھے اور ان كے سامنے ان كے مورد قبول معياروں كے مطابق احتجاج كررہے تھے اور انہيں اس چيز كا م پابند بنا رہے تھے جس چيز كے وہ خود ملتزم اور پابند تھے۔

اور انہيں ان چيزوں كے ذريعے ملتزم بنا رہے تھے جنكے وہ خود ملتزم تھے اميرالمومنين عليہ السلام (امت كي مصلحت كي خاطر) نيچےآئے جب وہ لوگ نيچےآئے اور اوپر گئے جب وہ لوگ اوپر گئے جيسا كہ مشہور ومعروف خطبہ شقشقيہ ميں اميرالمومنين عليہ السلام كاقول ہے

فيالله وللشوريٰ حتي اعترض الريب في مع الاول منهم حتي صرت اقرن الي هذه النظائر لكني اسففت اذا اسفوا و طرت اذ طاروا ۔

(اے اللہ مجھے اس شوريٰ سے كيا لگاؤ؟ ان ميں سے سب سے پہلے كے مقابلے ہي ميں ميري استحقاق و فضيلت ميں كب شك تھا جواب ان لوگوں ميں ميں بھي شامل كرليا گيا ہوں مگر ميں نے يہ طريقہ اختيار كيا تھا كہ جب وہ لوگ زمين كے نزديك پرواز كرنے لگيں تو ميں بھي ايسا ہي كرنے لگوں اور جب وہ اوپر ہوكر اڑنے لگيں تو ميں بھي اسي طرح پرواز كروں يعني حتي الامكان كسي نہ كسي صورت سے نباہ كرتا رہوں)(۴۷)

شوريٰ كے لئے بہترين دليل دوآيات كريمہ ہيں:

پہلي آيت:

( فَبِما رَحْمَةٍ مِنْ اللهِ لِنْتَ لَهمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاستَغْفِرْلَهُمْ وَشَاورهُمْ فِي الْامْرِ فَاِذَاعَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللهِ ان اللهَ يحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ) ۔(۴۸)

پيغمبريہ اللہ كي مہرباني ہے كہ تم ان لوگوں كے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو يہ تمہاري پاس سے بھاگ كھڑے ہوتے لہذا اب انہيں معاف كردو ان كے لئے استغفار كرو اور ان سے امر ميں مشورہ كرو اورجب ارادہ كر لو تو اللہ پر بھروسہ كروكہ وہ بھروسہ كرنے والوں كو دوست ركھتا ہے۔

دوسري آيت:

( فَما اوتِيتُمْ مِنْ شَيءٍ فَمَتَاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا وَما عِنْدَ اللهِ خَيرٌ وَابْقَي لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَي رَبِّهِمْ يتَوَكَّلُونَ وَالَّذِينَ يجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَاِذَاما غَضِبُوا هُمْ يغْفِرُونَ وَالَّذِينَ استَجَابوا لِرَبِّهِمْ وَاقَامُواالصَّلاَةَوَامْرُهُمْ شُورَي بَينَهمْ وَمِمارَزَقْنَاهُمْ ينْفِقُونَ وَالَّذِينَ اِذَااصَابهُمْ الْبَغْي هُمْ ينْتَصِرُونَ ) (۴۹)

(پس تم كو جو كچھ بھي ديا گيا ہے وہ زندگاني دنيا كا چين ہے اور بس جو كچھ اللہ كي بارگاہ ميں ہے وہ خير اور باقي رہنے والا ہے ان لوگوں كے لئے جو ايمان ركھتے ہيں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ كرتے ہيں اور بڑے بڑے گناہوں اور فحش باتوں سے پرہيز كرتے ہيں اور جب غصہ آجاتا ہے تو معاف كرديتے ہيں اور جو اپنے رب كي بات كو قبول كرتے ہيں اور نماز قائم كرتے ہيں اور آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں اور ہماري رزق ميں سے ہماري راہ ميں خرچ كرتے ہيں اور جب ان پر كوئي ظلم ہوتاہے تو اس كا بدلہ لے ليتے ہيں)

متعدد روايات بھي موجود ہيں جو شوريٰ كي ترغيب دلاتي ہيں ان روايات كي غالب اكثريت يا تمام كي تمام روايات اگرچہ سند كے اعتبارسے ضعيف ہيں ليكن تواتراور استفاضہ(۵۰) كي حد تك پہنچي ہوئي ہيں ان روايات كي كثير تعداد كتاب (وسائل الشيعہ) كے (ابواب احكام العشرۃ)(۵۱) ميں موجود ہے ان ميں سے كچھ روايات درج ذيل ہيں:

۱)عن ابي هريره قال: سمعت ابا القاسم يقول: استرشد واالعاقل ولا تعصوه فتندموا ۔(۵۱) ابوھريرہ نقل كرتے ہيں كہ ميں نے اباالقاسم (رسول خدا) صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے سنا كہ آپ فرمارہے تھے”عاقل سے رہنمائي حاصل كرواوراسكي مخالفت نہ كرو ورنہ پشيماني كا سامنا كرنا پڑے گا”

۲)عن ابن القداح عن جعفر بن محمد عن ابيه عليه السلام قال قيل يا رسول الله ماالحزم؟ قال مشاورة ذوي الراي و اتباعهم (۵۳)

ابن قداح سے انہوں نے جعفر بن محمد سے انہوں نے اپنے والد گرامي (امام باقر عليہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: ”پوچھاگيا يا رسو ل اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پائيداري و استحكام (دورانديشي) كيا ہے؟ آپنے فرمايا: صاحبان نظر اورصاحبان راي سے مشورہ كرنا اور (ان كے مشورى كي) پيروي كرنا۔”

۳)عن السري بن خالد عن ابي عبدالله عليه السلام قال: فيما اوصي به رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم عليا عليه السلام قال: لامظاهره اوثق من المشاورة ولاعقل كالتدبير (۵۴)

سري ابن خالد سے اورانہوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: ”جن چيزوں كے باري ميں رسول خدا نے علي عليہ السلام كو نصيحت و سفارش فرمائي (ان ميں سے ايك يہ ہے كہ) آپنے فرمايا مشورى سے بڑھ كر كوئي چيز پشت كو مضبوط نہيں بناتي اور كوئي عقل و خرد تدبير كي مانند نہيں”

۴)عن ابي الجارود عن ابي جعفر عليه السلام قال: في التوراة اربعة اسطر من لا يستشريندم، والفقر الموت الاكبر، كما تدين تدان ومن ملك استاثر

ابي الجارود سے اورانہوں نے امام باقرعليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: (تورات ميں چار سطريں موجود ہيں۔۔جو مشورہ نہيں كرے گا وہ پشيمان ہوگا فقر و تنگدستي بڑي موت ہے جيسا كرو گے ويسا بھرو گے جومالك بنا اس نے اپنے لئے جمع كيا)(۵۵)

۵)عن سماعة بن مهران عن ابي عبدالله عليه السلام قال: قال لن يهلك امرء عن مشورة (۵۶)

سماعۃ بن مھران سے اور انہوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا ” مشورہ كي وجہ سے كوئي شخص ہلاك نہيں ہوگا”

۶)عن معمر بن خالد قال: هلك مولي لابي الحسن الرضا يقال له سعد فقال له: اشر علي برجل له فضل و امانة فقلت: انا اشير عليك! فقال شبه المغضب: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كان ليستشير اصحابه ثم يعزم علي مايريد (۵۷)

معمر بن خالد سے نقل ہوا ہے وہ كہتے ہيں امام رضا عليہ السلام كا غلام ہلاك ہوا جسے سعد كہا جاتا تھا حضرت نے اسے فرمايا: ”ايسے شخص كي نشاندہي كرو جو بافضيلت اورامانت دار ہو ميں نے كہا: ميں آپ عليہ السلام كے لئے نشاندہي كروں؟ ! آپنے غصے كي حالت ميں فرمايا: رسول خدا اپنے اصحاب سے مشورہ كيا كرتے تھے اور پھر جو چاہتے تھے اس كو انجام دينے كا فيصلہ كرتے تھے”

۷)عن نهج البلاغه عن اميرالمومنين انه قال لعبدالله بن عباس و قد اشار في شي لم يوافق رايه: عليك ان تشير علي فاذا خالفتك فاطعني (۵۸)

نہج البلاغہ ميں امير المومنين عليہ السلام سے نقل ہوا ہے جب ابن عباس نے كسي چيز كے متعلق آپكو مشورہ ديا ليكن آپ ابن عباس كي راي (مشورى) سے موافق نہ تھےآپنے عبداللہ ابن عباس كو فرمايا: تمہارا كام يہ ہے مجھے مشورہ دو اور اگر ميں تمہاري مخالفت كروں (اس مشورى ميں) تو تم ميري اطاعت كرو۔

۸)عن علي بن مهزيار قال: كتب الي ابوجعفر ان سل فلانا ان يشير علي و يتخير لنفسه فهو اعلم بما يجوز في بلده و كيف يعامل السلاطين فان المشورة مباركة قال الله لنبيه في محكم كتابه) و شاور هم في الامر فاذا عرفت فتوكل علي الله) فان كانمايقول مما يجوز كتبت اصوب رايه و ان كان غير ذلك رجوت ان اضعه علي الطريق الواضح انشاء الله وشاور هم في الامرقال يعني الاستخاره ۔(۵۹)

ابن مھزيار نقل كرتےہيں كہ مجھے امام باقر عليہ السلام نے خط لكھا اور فرمايا: فلاں شخص سے كہو مجھے مشورہ دے اور اپنے لئے اختيار كرے كيونكہ وہ اپنے ملك كے حالات سے (دوسروں كي نسبت) زيادہ آگاہ اور باخبر ہے اور وہ بہتر جانتا ہے كہ حكمرانوں كے ساتھ كيا رويہ اور كيا سلوك اپنانا چاہيئے مشورہ ايك بابركت چيز ہے خداوندمتعال نے اپني محكم كتاب قران مجيد ميں اپنے نبي سے فرمايا: ”اور ان سے امر ميں مشورہ كرو اور جب ارادہ كرلو تو پھر اللہ پربھروسہ كرو۔اور جو كچھ وہ كہے گا اگر جائز ہوا تو ميں خط لكھ كراسكي تائيد كروں گا اور اگر اس نے ناجائز امر كا مشورہ ديا تو مجھے اميد ہے كہ انشاء اللہ اسے واضح راستے پرگامزن كروں گا۔اور شاورھم في الامريعني ان سے امر ميں مشورہ كرو (كے باري) ميں فرمايااسكا مطلب ہے طلب خير۔

۹)عن سليمان بن خالدقال سمعت ابا عبدالله يقول: استشر العاقل من الرجال الورع فانه لكيامر الا بخير و كياك والخلاف فان مخالفة الورع العاقل مفسدة في الدين والدنيا ۔(۶۰)

سليمان بن خالد سے نقل ہوا ہے كہ ميں نےامام صادق عليہ السلام سے سنا: باتقوي لوگوں ميں سے عقلمند شخص سے مشورہ كرو وہ فقط نيكي اور خير ہي كا حكم ديتا ہے خبردار اس كي مخالفت نہ كرنا كيونكہ باتقوي اورعاقل كي مخالفت ميں دين و دنيا كي خرابي اور فساد ہے۔

۱۰)عن منصور بن حازم عن ابي عبدالله قال: قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم مشاورة العاقل الناصح رشدو يمن و توفيق من الله فاذا اشاره عليك الناصح والعاقل فكياك والخلاف فان في ذلك العلب ۔(۶۱)

منصور ابن حازم نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: رسول خدا نے فرمايا"عاقل و ناصح (خيرخواہ) سے مشورہ كرنے ميں رشد و ہدايت اور خير و بركت ہے اس سے توفيق خداوندي حاصل ہوتي ہے جب عاقل و خير خواہ كوئي مشورہ دے تو خبردار اس كي مخالفت نہ كرنا كيونكہ اس (مخالفت) ميں خرابي اور فساد ہے"

۱۱)عن الصدوق باسناده عن اميرالمومنين في وصية لمحمد بن حنفيه قال: اضمم آراء الرجال بعضها الي بعض ثم اختر اقربها من الصواب و ابعدها من الارتياب (الي ان قال) قد خاطر بنفسه من استغنيٰ برايه و من استقبل الاوجوه آراء عرف مواضع الخطاء (۶۲)

شيخ صدوق نے اپني سن كے ساتھ نقل كيا ہے كہ حضرت علي عليہ السلام نے محمد ابن حنفيہ كے نام اپني وصيت ميں فرمايا: مختلف آراء كوايك دوسري كےساتھ ضميمہ كروپھران ميں سےايسي راي كا انتخاب كروجو شك و ريب سے زيادہ دور اورحقيقت سے زيادہ قريب ہو جس نے اپني راي پہ اكتفاء كيا اس نے اپنےآپكو خطري ميں ڈالا اور جس نے مختلف آراء كي طرف رجوع كيا اس نے خطا و لغز ش كے موارد كو پہچان ليا"يہاں پراہل سنت كي نبوي روايات كے كچھ نمونے ذكر كرنا نامناسب نہيں ہيں۔اورميں اس سلسلے ميں انہي روايات پراكتفاء كروں گاجن كي جمع آوري قحطان عبدالرحمن الدوري نے اپني كتاب (الشوريٰ بين النظريہ والتطبيق) ميں كي ہے(۶۳)

روايات اہل سنت

۱)المستشار مؤتمن جس سے مشورہ طلب كيا جاتا ہےوہ قابل اعتماد اورقابل اطمينان ہے۔

۲)المستشار مؤتمن فاذا استشير فليشر بما هو صانع لنفسه جس سے مشورہ كيا جاتا ہے وہ قابل اطمينان ہے پس جب اس سے مشورہ كيا جائے تو اسے ايسا مشورہ دينا چاہيے جسے اپنے لئے مفيد اور سود بخش سمجھتا ہو۔

۳)اذا كان امراء كم خياركم و اغنيائكم سمحائكم و اموركم شوريٰ بينكم فظهر الارض خير لكم من بطنها، واذا كان امراء كم اشراركم و اغنيائكم بخلاء كم و اموركم الي نسائكم فبطن الارض خيرلكم من ظهرها ۔ جب تمہارے حكمران تمہارے نيك وصالح افراد ہوں تمہارے مالدار و ثروتمند افراد تمہارے سخاوت مند افراد ہوں اور تمہارے امور شورے (مشورہ) كے ذريعہ انجام پائيں تو تمہارے لئے زمين كي پشت زمين كے بطن سے بہتر ہے(۶۴) ليكن اگر تمہارے حكمران تمہارے برے افراد ہوں، مالدار بخيل لوگ ہوں، اور تمہارے امور عورتوں كے مشورہ سے انجام پائيں تو تمہارے لئے زمين كا بطن زمين كي پشت سے بہتر ہے۔

۴)اذا استشار احدكم اخاه فليشر عليه جب تم ميں سے كوئي شخص اپنے (مسلمان) بھائي سے مشورہ طلب كرے تو اسے مشورہ دينا چاہيئے۔

۵)قال الزهرى: قال ابوهريره: ما رايت احدا اكثر مشورة لاصحابه من رسول الله، و في المبسوط للسرخسى: حتي انه كان ليستشير هم في قوت اهله و ادامهم

زھري كہتا ہے ابوہريرہ نے كہا ميں نے كسي شخص كو رسول خدا سے زيادہ اپنے اصحاب كے ساتھ مشورہ كرنے والا نہيں پايا سرخسي كي كتاب المبسوط ميں ہے يہاں تك كہ رسول خدا اپنے اہل و عيال كے كھانے پينے كي اشياء كے باري ميں بھي اصحاب سے مشورہ كيا كرتے تھے۔

۶)ماخاب من استخار ولا ندم من استشار، ولاعال من اقتصد

جس نے استخارہ (طلب خير) كيا وہ پشيمان نہيں ہوگا جس نے مشورہ كيا وہ نادم و شرمندہ نہيں ہوگا اورجس نے ميانہ روي اپنائي وہ فقير و تنگدست نہيں ہوگا۔

۷)من استشاره اخوه فاشار عليه بغير رشده فقد خانه

اگر كسي سے اس كے بھائي نے مشورہ كيا اوراس نے درست مشورہ نہيں ديا تو اس نے اپنے بھائي سے خيانت كي۔

۸)مايستغنيٰ رجل عن مشوره ۔۔۔كوئي شخص بھي مشورى سے بے نياز نہيں ہے۔

۹)من اراد امرا فشاور فيه و قضيٰ هدي لارشد الامور

جس نے كسي كام كا ارادہ كيا (اور اسے انجام دينے سے پہلے) مشورہ كيا اور (مشورى كے بعداس كام كو) انجام دينے كا فيصلہ كيا تو اسے درست ترين امر كي طرف ہدايت ملي۔

۱۰)لمانزلت وشاورهم في الامر”قال رسول الله: اما ان الله و رسوله لغنيان عنها ولكن جعلها الله تعالي رحمة لامتى، فمن استشار منهم لم يعدم رشدا و من تركها لم يعدم غيا ۔

جب آيہ مباركہ ”وشاور هم في الامر " نازل ہوئي تو رسول خدا نے فرمايا: خدا و رسول مشورہ سے بے نياز ہيں ليكن خداوندمتعال نے امت پر لطف و كرم كرتے ہوئے مشورہ قرار ديا ہے (اسكا حكم ديا ہے) پس امت ميں سے جو لوگ مشورہ كريں گے وہ رشد و ہدايت پائيں گے اور امت ميں سے جو لوگ مشورہ كو ترك كريں گے وہ گمراہ ہوں گے ۔

درحقيقت حكومت اسلامي كا قيام ايك ناگزير حقيقت ہے اور (جيسا كہ ہم اشارہ كر چكے ہيں) حكومت اسلامي كا قيام ممكن نہيں مگر وسيع ولايت (حق حاكميت) كے ذريعہ جو خداوندمتعال حكمران كميٹي يا شخص حاكم كو عطا فرماتا ہے اور اس ولايت كا دائرہ ان تمام اقدامات اور تصرفات كو شامل ہے جن كے بغير حكومت كا قيام ممكن نہ ہو مثلا:

(۱) قاصر كي ملكيت ميں تصرف(۶۵)

(۲) گناہكاروں (نافرمانوں) كو تنبيہ كرنا ۔

(۳) مختلف پروگراموں اور منصوبوں كا نفاذ، شرعي قوانين كا نفاذ (اگرچہ يہ كام ان افراد كو مجبور كرنے كے ذريعہ انجام پائے جو اختياري صورت ميں ان قوانين كو قبول نہيں كرتے)

(۴) شككيات كا فيصلہ۔

(۵) جہاں پر متفقہ (قومي) موقف كي ضرورت ہووہاں پر متفقہ (قومي) موقف اپنانا جيسے جہاد وغيرہ (كہ جس كے لئے قومي اتفاق راي كي ضرورت ہوتي ہے)

(۶) بہت سے موارد ميں بعض ايسے امور كو لازمي قرار دياجاتا ہے جو ابتدائي طور پر يعني عنوان اولي(۶۶) كے تحت ضروري نہيں ہوتے يعني وہ امور ذاتا اور حكومتي احكام سے قطع نظر لازمي و ضروري نہيں تھے اور اسي طرح اس ولايت (حق حكمراني)(۶۷) كے نتيجے ميں بعض امور جائز قرار پاتے ہيں جبكہ عنوان تحت اولي كے تحت وہ امور ناجائز تھے۔(۶۸)

شوريٰ كوحكومت كي بنياد و اساس قرار دينے كے متعلق بحث كو اس نكتے پر مركوز ہونا چاہيے كہ كيا شوريٰ كے دلائل سے يہ بات ثابت كي جاسكتي ہے كہ شوريٰ اس وسيع و عريض (حق حكمراني) كا سرچشمہ اور بنياد بن سكتي ہے يا نہيں؟

ہم كہيں گے ابتدائي طور پر مسئلہ شوري كے متعلق تين احتمالات ديے جاسكتے ہيں:

پہلا احتمال

يہ دعوي كيا جائے كہ شوريٰ (حاكم كو) شرعي تسلط اور ولايت عطا كرتي ہے اگر شوريٰ كے ذريعہ كسي فرد واحد ياچند افراد پر مشتمل كميٹي كو ولي بنايا جائے تو اس فرد يا كميٹي كے لئے اس حد تك ولايت ثابت ہوجائے گي جس حد كو شوريٰ مقرركرے گي۔ اگر كسي حكم پر شوريٰ قائم ہوجائے ۔اور اكثريت اس كي تائيد كردے تو يہ حكم نافذ ہوجائے گا حتي ان موارد ميں بھي (يہ حكم نافذ ہوگا) جہاں پر شخص كے نزديك ثابت شدہ حكم، واجب لازمي ظاہري كے مفاد كے خلاف ہو (اس حكم سے قطع نظر فرد كے نزديك اس حكم كا واجب لازمي ظاہري ہونا ثابت ہو)(۶۹)

شوريٰ كے ذريعے تعيين شدہ ولي سزا و جزا سے متعلق قوانين اور ان كے علاوہ دوسري ايسے قوانين كے نفاذ پر قادر ہوتا ہے جن كا نفاذ فقط ولي پر واجب ہے دوسروں پر واجب نہيں جس طرح ولي كے لئے يہ بھي ممكن ہے كہ ان اجتماعي امور (زندگي كے مختلف شعبے) پر نظارت كرے كيونكہ ان امور كے نقائص كو فقط ولايت (ولي فقيہ) ہي كے ذريعے برطرف كيا جاسكتا ہے۔

المختصرشوريٰ كے لئے ممكن ہے كہ ولي كے لئے ولايت مطلقہ كے تمام شعبوں (تمام جہات) كو ثابت كرے۔

دوسرا احتمال

يہ دعوي كيا جائے كہ جب شوريٰ ايك خاص راستے پر حركت كرنے كو لازمي قرار دے تو يہ حكم سب كے لئے لازم الاجراء ہے (حتي اس شخص كے لئے بھي لازم ہے جس كي شخصي راي كے مخالف ہو اور اگر شوريٰ نہ ہوتي تو وہ شخص اس حكم كو اپنے لئے لازمي نہ سمجھتا) اس طرح شوريٰ كا نتيجہ يہ ہوگا كہ جواز، وجوب ميں بدل جائے گا جبكہ شوريٰ قادر نہيں كہ ولي كے لئے اتني وسيع حد تك ولايت مطلقہ كي تمام جہات كو ثابت كرے ۔ اس كي وضاحت يوں ممكن ہے: شوريٰ كي دليل سے يہ نہيں سمجھا جاتا كہ شوريٰ اتني وسيع حد تك (ولي كو) ولايت عطا كرنے كا حق ركھتي ہے بلكہ شوريٰ كي دليل كا لب و لہجہ وہي ہے جو نذر، عہد، يمين، شرط اورعقد كو لازم الوفاء قرار دينے والي دليل كا لب ولہجہ اور انداز ہے ۔ مندرجہ بالا امور (نذر، عہد) جواز كے دائري ميں واجب الوفاء ہيں(۷۰)

جب يہ امور جائز ہوں گے تو الزام متصور نہيں ہوگا (لہذا مندرجہ بالا امور (نذرو عہدو۔۔) كے ذريعہ ضروري قرار پائيں گے) جبكہ شورائي احكام اس قانون كے خلاف ہيں يعني شوريٰ كے احكام كا دائرہ جائز امور تك محدود نہيں بلكہ الزامي امور كو بھي شامل ہوتا ہے (اگرچہ حكم ظاہري كے طور پر) يہ دعويٰ (اگر صحيح ہو) تو ہميں اسلامي حكومت كي تاسيس كے ميدان ميں بے نياز نہيں كرتا ايسي اسلامي حكومت جو تمام اجتماعي خلاؤں كو پر كرتي ہے ۔ اسلامي حكومت (چنانچہ ہم كہہ چكے ہيں) كا قيام اس وسيع ولايت كے ثبوت پر موقوف ہے جس كي طرف ہم اشارہ كرچكے ہيں اور اتني محدود ولايت اسلامي حكومت كي تاسيس كے لئے بنياد و اساس قرار نہيں پاسكتي جس كے ذريعے فقط جواز كو وجوب ميں تبديل كيا جاسكے۔

تيسرا احتمال

شوريٰ فقط ايك روش ہے جس كے ذريعے دوسروں كي آراء وافكار، تجربات اور نظريات سے استفادہ كيا جاتا ہے، شوريٰ (كے فيصلوں) ميں ولايت، تسلط اور كسي كام پر التزام نہيں پايا جاتا (شوريٰ كسي امر كو لازم قرار نہيں ديتي) (يعني شوريٰ كے نتيجے ميں وسيع و عريض ولايت حاصل نہيں ہوتي)

چنانچہ پہلے احتمال كے مطابق شوريٰ كے احكام لازمي طور پر واجب ہوتے ہيں يہاں تك كہ شوريٰ كے ذريعے يہ ولايت بھي حاصل نہيں ہوتي كہ جس كے ذريعہ جواز كو وجوب تبديل كرديا جائے جب كہ دوسري احتمال ميں (شوريٰ كے ذريعہ) اس حد تك ولايت حاصل ہوتي ہے۔

اس طرح كي چيز (اس طرح كي شوريٰ) كے لئے كسي صورت ميں بھي حكومت اسلامي كي اساس و بنياد تشكيل نہيں دے سكتي خصوصا اس چيز كو مدنظر ركھتے ہوئے جس كي وضاحت گزر چكي ہے كہ سب سے پہلے حكومت ولايت كي محتاج ہے اور فرض يہ ہے كہ يہ شوريٰ (اس معني كے ساتھ) حكومت كو ولايت عطا نہيں كرسكتي پس اس طرح واضح ہوگيا كہ شوريٰ فقط اس صورت ميں حكومت اسلامي كي بنياد و اساس تشكيل دے سكتي ہے جب ہم سہ گانہ احتمالات ميں سے پہلے احتمال كو معين كرسكيں اور اس احتمال كو دلائل كے ذريعہ ثابت كرسكيں۔

(اگر) شوريٰ كے دلائل كامل ہوں تو ولايت فقيہ كے دلائل سے ان كا رابطہ اور ان كي نسبت ہميں معلوم ہے كيونكہ ايسے دلائل موجود ہيں جو تصريح كرتے ہيں كہ ولايت مطلقہ فقط خداوند متعال كے لئے خدا كے بعد رسول خدا كے لئے (اور شيعہ عقيدے كے مطابق) رسول كے بعد امام معصوم عليہ السلام كے لئے ہے اور امام كي غيبت كے زمانے ميں بعض شرائط كے حامل فقيہ كے لئے يہ ولايت ثابت ہے چنانچہ اس سلسلے ميں گفتگو كي جائے گي لہذا ہماري لئے سزاوار ہے كہ ولايت فقيہ اور شوريٰ كے دلائل كے درميان موجود رابطے و نسبت كا ملاحظہ كريں بشرطيكہ شوريٰ كے دلائل كي دلالت پہلے احتمال كے مطابق (جو گذر چكا ہے) كامل اور اشكال سے خالي ہو كيونكہ كبھي يہ كہا جاتا ہے كہ جب ولايت فقيہ كے دلائل موجود ہوں تو شوريٰ كے دلائل (حتي اگر وسيع و عريض ولايت عامہ پر دلالت كريں جو كہ پہلا احتمال ہے) تب بھي شوريٰ اور راي گيري كو تمام امت كے ہاتھ ميں دينے كے ميدان ميں نفع بخش اور مفيد نہيں ہيں اس كي وجہ يہ ہے كہ شوريٰ فقط اس دائري اور ان حدود ميں فرض كي جاتي ہے جنہيں شريعت نے ترك كرديا ہو(۷۱) اور وہاں پر خداو رسول نے كوئي حكم نہ ديا ہو۔

ارشاد رب العزت ہے: وَما كَان لِمُؤْمِنٍ وَلاَمُؤْمِنَة اِذَا قَضَي اللهُ وَرَسُولُهُ امْرًا انْ يكُونَ لَههمْ الْخِيرةُ مِنْ امْرِهِمْ وَمَنْ يعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا ۔(۷۲)

ترجمہ آيت: اوركسي مومن مرد يا عورت كو اختيار نہيں ہے كہ جب خدا و رسول كسي امر كے باري ميں فيصلہ كرديں تو وہ بھي اپنے امر كے باري ميں صاحب اختيار بن جائے اور جو بھي خدا اور رسول كي نافرماني كرے گا وہ بڑي كھلي ہوئي گمراہي ميں مبتلا ہوگا۔

جب قائد و رہبر خدا كي طرف سے معين ہوچكا ہو چنانچہ رسول خدا كے دور ميں تھا (رسول خدا خدا كي طرف سے معين ہوئے تھے) تو خدا كا فيصلہ ہے كہ وہي (معين رہبر) حكومت اسلامي كا سربراہ ہے لہذا يہ مورد شوريٰ كا مورد نہيں ہےاور ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانے ميں بھي صورتحال يہي ہے (شيعہ عقيدے كے مطابق) اورائمہ معصومين عليہ السلام كي امامت نصّ (دلائل مثلا روايات واضح) كے ذريعے ثابت ہے۔اوريہي صورتحال اس وقت بھي ہوگي جب ولايت فقيہ كے دلائل كامل ہوں اور يہ دلائل ثابت كريں كہ ولي فقيہ معاشري كا قائد و رہبر ہے، امام معصوم عليہ السلام كي غيبت كے زمانے ميں لہذا مسئلہ شوريٰ كو يہاں پيش كرنا بے معني ہے يعني شوريٰ كے مطابق امت كي قيادت اور تمام امت كے ذريعے اسكا انتخاب بے معني ہے۔

پس شوريٰ كي دليل (اگر احتمال اول كے مطابق كامل ہو) تو قائد و رہبر كي تعيين ميں اس كا كوئي عمل دخل نہيں ہوگا۔ہاں اگر دو دليلوں (ولايت فقيہ كے دلائل اور شوريٰ كے دلائل) كے درميان جمع كي جائے تو ہم جان ليں گے كہ واجب ہے شوريٰ اور راي گيري خود فقہاء كے درميان كامل ہوگي (انجام پائے گي)

اس طرح اس اعتراض كي كوشش ہے كہ شوريٰ كے ذريعے حكومت اسلامي كے نظام كے قيام ميں پوري امت سے بنيادي كردار كو سلب كر ليا جائے۔

حتي اگر اس فرض كو بھي قبول كرليا جائے كہ شوريٰ كے دلائل ولايت عامہ پر دلالت كرتے ہيں بعض اوقات يہ دعوي كيا جاتا ہے كہ دلائل ميں تعارض پايا جاتا ہے شوريٰ كے لئے پوري امت ميں ميدان كھلا ركھا جائے (يعني شوريٰ ميں پوري امت شركت كرے) ليكن اس كي تاثير قانون نافذ كرنے والے قائد و رہبر كي تعيين كے مورد كے علاوہ باقي موارد ميں ہو (رہبر كے تعيين ميں اسكا كوئي عمل دخل نہ ہو) اور ان موارد سے مراد وہ حدود ہيں جہاں شريعت نے كوئي حكم نہ ديا ہو۔ (يعني حكم شرعي سے خالي حدود) ۔ اس دعوي كي وضاحت يوں ممكن ہے كہ جب قانون نافذ كرنے والي بلند مرتبہ صاحب قدرت (حاكم و رہبر) خدا كي طرف سے تعيين شدہ ہو غيبت كے زمانے ميں فقيہ كي شكل ميں سامنےآتي ہے تو امامت كے ذريعہ قائم ہونے والي شوريٰ اور راي گيري كي كوئي گنجائش نہيں اور اس امر ميں اس كا كوئي كردار نہيں۔ (جب خدا كي طرف سے معين ہے تو) لوگوں كو اس ميں كوئي اختيار حاصل نہيں ہے۔ليكن وسيع منطقۃالفراغ ہے جسے اسلامي مرونت و نرمي نے خالي چھوڑا ہے كيونكہ يہ زندگي كے حدود سے مربوط ہے اور زندگي جو تغير و تبدل كا شكار ہے اور قواعد كلي (عناصر مشتركہ) كے ذريعے اس كے حدود مشخص نہيں ہيں لہذا شريعت نے اس مورد ميں بلاواسطہ حكم اور خاص قانون كے ذريعہ حكم نہيں كيا ليكن اس دائرہ (منطقۃالفراغ) كو شرائط زمان و مكان كے تقاضوں كے مطابق پر كرنے كے لئے جس كي طرف رجوع كرنا ضروري ہے اسے شريعت نے معين كيا ہے اس مرجع كي تعيين كے مورد ميں دلائل كے درميان تعارض و تنافي پائي جاتي ہے بعض دلائل تاكيد كرتے ہيں كہ يہ مرجع فقيہ ہے جبكہ دوسري دلائل كے مطابق يہ مرجع امت اور اكثريت امت ہے ۔

پس اس بيان كےمطابق دودليليں (ولايت كي دليل اورشوريٰ كي دليل) مساوي درجہ ركھتي ہيں اوراس مورد ميں (ان دودليلوں ميں سے) كوئي ايك دليل دوسري دليل پرمقدم نہيں ہے۔

جواب:

جيسا كہ گذر چكا حقيقت يہ ہے كہ يہ بيان كامل نہيں ہے اگرچہ ہم يہ كہ قول خداوندمتعال ”وامرهم شوريٰ بينهم ”قرار ديتا ہے كہ شوريٰ فقط ان لوگوں كے درميان ہوگي مورد بحث موضوع جن سے متعلق ہوگا اور وہ امر ان كا امر شمار ہوگا۔

پس اگر ايسا موضوع ہو جو ايك اعتبار سے امت كے وسيع دائري سے مربوط ہو اور ايك اعتبار سے امت كے محدود دائري مثلا ايك خاص جماعت سے مربوط ہوجوجماعت اس وسيع دائري كا حصہ ہو اور اس ميں شامل ہو تو امر (موضوع شوريٰ) كا اس جماعت سے رابطہ گہرا ہوگا ۔(۷۳)

يہ امر سبب بنے گا كہ سابقہ نص مجمل ہوجائے اور نص دو امروں ميں مردود ہوجائے كہ شوريٰ وسيع دائري ميں شامل افراد كے ذريعہ تشكيل پائے گي يا فقط خاص دائري ميں شامل افراد كے ذريعہ اس كي تشكيل ہوگي يعني راي گيري ميں كون لوگ شريك ہوں وسيع دائري والے لوگ يا محدود دائري والے لوگ ولايت فقيہ كي دليل دلالت كرتي ہے كہ منطقۃالفراغ كو پر كرنے كا موضوع بھي اسي قسم ميں سے ہے كيونكہ يہ موضوع ايك اعتبار سے پوري امت كے لئے اہميت كا حامل ہے اور امت كي زندگي كا نظم و ضبط اسي پر موقوف ہے لہذا اس اعتبار سے يہ امر (موضوع) پوري امت كي سے ومربوط ہے جبكہ ايك اور اعتبار سے (ولايت فقيہ كے دلائل كے مطابق) يہ موضوع فقط فقہاء كي طرف منسوب ہے اور فقہاء امت كے طبقوں ميں سے ايك خاص طبقہ ہيں ۔

بنابرايں ولايت فقيہ كي دليل كے مطابق دليل”وامرهم شوريٰ بينهم ”اس مورد ميں مجمل ہوجائے گي ليكن اس كے باوجود اس دليل ميں اتني گنجائش نہيں كہ اسے ولايت فقيہ كي دليل (جو مجمل نہيں ہے) سے معارض دليل كے طور پر پيش كيا جاسكے

پس نتيجۃً ثابت ہوا كہ ولايت (خواہ قانون نافذ كرنے والي قدرت كے مورد ميں ہو خواہ منطقۃالفراغ كو پر كرنے كے مورد ميں) فقط فقيہ كو حاصل ہے اس كے علاوہ كسي اور كو حاصل نہيں ہے اگرچہ آيہ شوريٰ كي رو سے فقہاء كے لئے ضروري ہے كہ احكام و قوانين كے نفاذ اور منطقۃالفراغ كو پر كرنے كي كيفيت كے متعلق آپس ميں مشورہ كريں۔

فقط فقہا كو حق انتخاب عطا كرنے كے ذريعہ دو دليلوں كے درميان جمع:

گزشتہ مطلب پر كبھي يہ اعتراض كيا جاتا ہے اگر ہم قبول كر ليں كہ ولايت فقيہ كے دلائل كي دلالت صحيح ہے اور ان دلائل كي بنياد پر فقيہ كو قوانين واحكام كے نفاذ كي طاقت و قوت اور منطقہ فراغ كو پر كرنے كا حق عطا كرديں تو شوريٰ كي دليل كے دامن ميں فقہاء كے باہمي مشورى كے علاوہ اور كيا رہ جاتا ہے جبكہ آيہ شوريٰ بطور عام تمام مومنين كي توصيف ميں وارد ہوئي ہے ۔(۷۴)

يہ تاويل كيسے ممكن ہے كہ ”ھم”سے مراد فقط فقہاء ہوں؟ فہم عرفي اس كو قبول نہيں كرتا(۷۵)

پس عرف يہاں پر دو دليلوں كے درميان تنافي اورتعارض ديكھتا ہے البتہ اگر سابقہ نتيجے كو قبول كرليں(۷۶) (اگر دونوں دليليں مندرجہ بالا امور سے قطع نظر اپنے مقام پر صحيح ہوں) تو دونوں دليلوں پر عمل كرنے كا تقاضا يہ ہے كہ امت كو فقط يہ حق ديا جائے كہ وہ اپنے نمائندوں كو انتخاب كرے ليكن امت كو يہ حق حاصل نہ ہو كہ فقہاء كے علاوہ دوسري لوگوں ميں سے اپنے نمائندوں كا انتخاب كرے۔ پس جب امت فقہاء ميں سے اپنے نمائندوں كا انتخاب كرے تو اب نمائندگان باہمي مشورى كے ساتھ امور (حكومت) كوآگے بڑھائيں ۔

لہذا جب ہم نے امت كو امر ميں سے اتنا حصہ عطا كرديا تو ہم نے اس فہم عرفي كے ساتھ ھماھنگي كرلي اور متفق ہوگئے جو فہم عرفي آيہ شوريٰ كو تخصيص لگانے اور اسے فقط فقہاء كے دائري ميں محدود كرنے كي اجازت نہيں ديتا تھا(۷۷)

يہ ساري بحث اس بات پر موقوف ہے كہ ہم شوريٰ كي دليل سے راي گيري اور اكثريت يا اكثريت كے منتخب نمائندگان كو ولايت عطا كرنا سمجھ سكيں۔

اب ہم شوريٰ كي دليل كو مورد بحث و تنقيد قرار ديتے ہيں اور بحث كرتے ہيں كہ اس دليل سے گزشتہ تين احتمالوں ميں سے پہلے احتمال كو سمجھنا كس حد تك ممكن ہے۔

شوريٰ كے دلائل پر ايك نظر

سب سے پہلے ہم ان دلائل (روايات) كو مستثني كرديں گے جواس بات پر دلالت كرتي ہيں كہ ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانے ميں بھي امامت كي تعيين شوريٰ اور انتخاب كے ذريعے ہوگي۔

ہم ملاحظہ كرتے ہيں كہ شوريٰ كے متعلق بعض روايات ميں شوريٰ كے متعلق حكم يا شوريٰ كي مخالفت سے نہي نہيں پائي جاتي اور ان سے فقط يہ سمجھا جاتا ہے كہ شوريٰ كي ترغيب دلائي جارہي ہے مثلا رسول اكرم سے يہ قول نقل ہوا ہے مظاھرہ اوثقا من المشاور ہ لامظاھرۃ اوثق من المشاورۃ (مشورى سے بڑھ كر كوئي چيز پشت كي مضبوطي كا سبب نہيں)

اس قسم كي روايات (مقصود پر دلالت نہيں كرتيں) چنانچہ واضح ہے ۔اسي طرح شوريٰ كي روايات كي ايك اور قسم وہ ہے جو مشورى كا حكم تو ديتي ہے ليكن مشورہ دينے والوں كي راي كي مخالفت سے منع نہيں كرتي چنانچہ محمد بن حنفيہ كے نام امير المومنين عليہ السلام كي وصيت ميں كيا ہے:

اضمم آراء الرجال بعضها الي بعض ثم اختر اقربها الي الصواب و ابعدها من الارتياب

(مردوں كي آراء كو ايك دوسري سے ضميمہ كرو اور پھر ان ميں سے ايسي راي كا انتخاب كرو جو حقيقت سے زيادہ قريب اور شك وشبہ سے زيادہ دور ہو)(۷۸) اگر فرض كرليا جائے كہ(۷۹)

روايات كي يہ قسم بہ طور مطلق اور كسي قسم كي قيد و شرط كے بغير مشورى كے وجوب پر دلالت كرتي ہے ليكن روايات كي يہ قسم اس امر پر دلالت نہيں كرتي كيونكہ شوريٰ ميں ولايت پائي جاتي ہے لہذا مشورہ واجب و لازم ہے كيونكہ (نہ لغت كے اعتبار سے اور نہ ہي عرف كے اعتبار سے) لفظ شوريٰ ميں ولايت كا معني نہيں پايا جاتا لہذا ہم كہہ سكتے ہيں اس قسم كي روايات كے مطابق گزشتہ تين احتمالوں ميں سے تيسري احتمال كے مطابق مشورہ واجب ہے يعني دوسروں كي آراء اور تجربات سے استفادہ كرنے كي خاطر مشورہ ضروري ہے چنانچہ گزشتہ وصيت (پھر ان ميں سے اس راي كو منتخب كرو جو حقيقت سے زيادہ قريب اور شك و شبہ سے زيادہ بعيد ہو)(۸۰)

حضرت علي عليہ السلام كا يہ قول مشورہ لينے والوں كو اختيار ديتا ہے اس شخص كواختيار نہيں ديتا جس سے مشورہ ليا جارہا ہے۔

شوريٰ كے متعلق موجود روايات كي تيسري قسم بھي پائي جاتي ہے جو شوريٰ كے نتيجے كي مخالفت سے منع كرتي ہے نبي كريم كا ارشاد ہے (عاقل سے رہنمائي حاصل كرو اور اس كي مخالفت نہ كروورنہ پشيمان ہونا پڑے گا) اس قسم كي روايات كو وجوب كے بجائے فقط تشويق و رغبت دلانے پر حمل كيا جاسكتا ہے كيونكہ اگر دقت كي جائے تو يہ روايت بہ طور خاص اجتماعي امور ميں وارد نہيں ہوئي بلكہ فقط انفرادي امور كو شامل ہے واضح ہے كہ انفردي امور ميں مشورى كا مطلب فقط يہي ہے كہ دوسروں كي آراء سے رہنمائي لي جائے ليكن كسي قسم كا جواب نہيں پايا جاتا كہ مشورى پر عمل بھي كيا جائے شايد مقصود (مورد نظر معني) پر دلالت كے اعتبار سے رسول خدا كي وہ روايت باقي تمام روايات سے قوي ہے (زيادہ دلالت كرتي ہے) جو گزر چكي ہے يعني جب تمہاري حكمران نيك افراد ميں سے ہوں، تمہاري غني ومالدار افراد سخي اوركھلے ہاتھ والے ہوں اور تمہاري امور شوريٰ يعني باہمي مشورى سے انجام پائيں تو تمہاري لئے زمين كي پشت زمين كے بطن سے بہتر ہے ليكن جب تمہاري حكمران تمہاري بري افراد ہوں تمہاري غني ومالدار بخيل و كنجوس افراد ہوں اورتمہاري امور خواتين سے مشورى كے ذريعے انجام پائيں تو تمہاري لئے زمين كا بطن زمين كي پشت سے بہتر ہے (يعني مرجانا بہتر ہے) يہاں كچھ نكتے پائے جاتے ہيں جو اس حديث سے استدلال كو قوت بخشتے ہيں:

پہلا نكتہ:

اس حديث كے متعلق يہ دعوي كيا جاسكتا ہے كہ يہ حديث انفرادي امور (موضوعات) كو بالكل شامل نہيں ہوتي كيونكہ رسول خدا كا يہ قول (اموركم شوريٰ بينكم جب تمہاري امور باہمي مشورى اور شوريٰ سے انجام پائيں) معاشرہ كو بہ عنوان معاشرہ مورد خطاب قرار دے رہا ہے لہذا انفرادي اور شخصي امورمدنظر نہيں ہيں يہي وجہ ہے كہ حديث ميں جداگانہ طور پر مشورہ كرنے والے اور مشورہ دينے والے كا كوئي فريضہ ذكر نہيں ہواجب(۸۱) ہم نے جان ليا كہ روايت انفرادي امور كو شامل نہيں ہے تويہ روايت اس اشكال ميں مبتلا نہيں ہوگي جو اشكال ہم باقي روايت پر كرچكے ہيں كيونكہ اگر روايت انفرادي امور كو شامل ہو تو معني يہ ہوگا كہ فقط دوسروں كي آراء سے استفادہ اور رہنمائي مقصود ہے اور مشورى كے نتيجے ميں كسي قسم كي ولايت وجود ميں نہيں آتي (تاكہ اس كي مخالفت ممكن نہ ہو) يہ وہي معني ہے جس پر گزشتہ تين احتمالوں ميں سے تيسرا احتمال دلالت كرتا ہے۔

اگر ہم يہ ثابت كرليں كہ روايت شوريٰ كے متعلق گزشتہ تين احتمالوں ميں سے پہلے احتمال (يعني اكثريت كو ولايت عطا كرنا يا اكثريت كے منتخب نمائندگان كو ولايت عطا كرنا) پر دلالت كرتي ہے تو اس جہت سے اس دلالت كے ساتھ كوئي چيز تعارض نہيں ركھتي

دوسرا نكتہ:

روايت ميں قرينہ پايا جاتا ہے جو روايت كو تيسري احتمال پر دلالت كرنے كے بجائے پہلے احتمال پر دلالت كرنے كي طرف پھير ديتا ہے وہي قرينہ جس كي طرف ہم اشارہ كرچكے ہيں يعني روايت ميں مشورہ كرنے والے اور مشورہ دينے والے كے درميان وحدت پائي جاتي ہے اور ان كو دو فرض نہيں كيا گيا۔

(قرينہ مقابلہ كي روسے) دوسرا جملہ بھي انفرادي و شخصي موضوعات كو شامل ہے كيونكہ ”اموركم الي نسائكم ” ميں موجود ضمير مردوں كي طرف پلٹي ہے كيونكہ عورتوں كو ذكر كرنا اس بات پرقرينہ ہے بنابرايں يہ روايت مردوں كے امور ميں عورتوں كي دخالت كو بيان كررہي ہے اور ترغيب دلا رہي ہے۔كہ بہتر يہ ہے كہ مرد مردوں ہي سے مشورہ كريں اور ان امور ميں عورتوں كو شامل نہ كريں ۔ ليكن اس دعوي پر يہ اشكال كيا جاسكتا ہے كہ رسول خدا كے قول ”اموركم الي نسائكم ” سے مراد اجتماعي امور ہوں يعني وہ امور جو تمام مسلمانوں كے امور ہيں اس حيثيت سے كہ مسلمانوں ميں مرد و عورتيں دونوں شامل ہيں ۔ اور دوسري جملے سے ان اجتماعي امور ميں عورتوں كي دخالت مراد ہے۔اس بحث ميں كبھي يہ كہاجاتا ہے جب ہم متردد ہيں كہ ”اموركم الي نسائكم ” سے مراد كيا ہے؟ كيا يہ انفرادي امور پرناظر ہے يا اجتماعي امور پر؟ تو ايسي صورت ميں ہم يہ احتمال دے سكتے ہيں كہ يہ جملہ ” اموركم الي نسائكم” قرينہ ہے كہ پہلا جملہ ”اموركم شوريٰ بينكم ” انفرادي امور كوشامل ہے كيونكہ اس كا قرينہ بننا پہلے فرض كے مطابق ثابت ہے پس جب يہ احتمال ممكن ہے تو پہلا جملہ ” اموركم شوريٰ بينكم” مجمل و مبہم ہوجائے گا جملہ اور اس سے مقصودہ معني كا استفادہ نہيں كيا جاسكتا (مقصود يہ ہے كہ يہ جملہ اجتماعي امور پر دلالت كرے) جس طرح جمع كے صيغے كے ذريعے تعبير لانا (اموركم) بھي مؤيد ہے كہ روايت انفرادي امور كو شامل ہے كيونكہ صيغہ جمع كے مقابلے ميں صيغہ جمع لانے سے مرادامور كو مختلف اقسام ميں تقسيم كرنا ہے۔

وضاحت

شوريٰ كي اكثر روايات ميں مشورہ كرنے والے اور مشورہ دينے والے كا تذكرہ ہوا ہے اور فرض كيا گيا ہے كہ مشورہ كرنے والا مشورہ دينے والے سے جدا ہے (انہيں دو فرض كيا گيا ہے) اور مورد مشورہ موضوع كو مشورہ دينے والے كے لئے نہيں بلكہ مشورہ لينے والے كے لئے رجحان ركھنے والاموضوع فرض كيا گيا ہے ان روايات ميں سے ايك اميرالمومنين عليہ السلام كي جانب سے محمدبن حنفيہ كے نام وصيت ہے جو گزر چكي ہے، مثلا مشورہ لينے والا محمد بن حنفيہ ہے اور مردوں سے مشورہ ليا جارہا ہے اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كايہ قول (مشورى سے بڑھ كر كوئي چيز پشت كي مضبوطي كا سبب نہيں) بھي اس احتمال پر دلالت كرتا ہے يعني ايك ايسا شخص ہے جسے اپني پشت مضبوط كرنے كي ضرورت ہے لہذا روايت كہہ رہي ہے دوسروں سے مشورى كے ذريعہ پشت مضبوط ہوگي اسي طرح نبي كريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كايہ قول جو گزر چكا ہے (عاقل سے رہنمائي (مشورہ) حاصل كرو اور اس كي مخالفت نہ كرو) دلالت كرتا ہے كہ ايك ايسا شخص ہے جو عاقل سے مشورہ كررہا ہے۔

قول نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہے (جس نے مشورہ كيا وہ پشيمان نہيں ہوگا) ظاہر ہے كہ انسان اپنےآپسے نہيں بلكہ كسي اور سے مشورہ كرتا ہے اس طرح انحضرت كا يہ قول (مشورہ كے سبب كوئي شخص ہلاك نہيں ہوگا) اسي طرح انحضرت كا يہ قول” جب تم ميں سے كوئي اپنے مسلمان بھائي سے مشورہ كرے تو اس پر ضروري ہے كہ مشورہ دے” اور اس كے علاوہ متعدد دوسري روايات بھي اس معني پر دلالت كرتي ہيں كيونكہ مندرجہ بالا تمام روايات ميں فرض كيا گيا ہے كہ ايك مشورہ لينے والا ہے جو كسي موضوع ميں مشورى كا محتاج ہے اور اس كے علاوہ ايك دوسرا شخص ہے جس سے مشورہ ليا جارہا ہے لہذا ممكن ہےان روايات كو تيسري احتمال پر حمل كيا جائے اور كہا جائے كہ آخر كار مشورہ لينے والا مشورہ دينے والے كي راي پر نہيں بلكہ اپني راي پر عمل كرتا ہے اور فقط علم و معرفت كسب كرنے كي غرض سے كسي سے مشورہ كرتا ہے اور اس لئے مشورہ كرتا ہے كہ شايد مشورہ دينے والے كا مشورہ اس كي راي پر اثر كرے اور اس مشورہ كي وجہ سے اس كي راي تبديل ہوجائے جبكہ دوسري روايات ميں مشورہ دينے والے كي مخالفت سے نہي كي گئي ہے اس سے مراد يہ ہے كہ جب تك اس مشورہ كي مخالف راي كي درستگي واضح طور پر ثابت نہ ہوجائے اس وقت تك اس كي راي پر عمل كرنے كي طرف ترغيب دلائي جارہي ہے۔كيونكہ روايت ميں قرينہ موجود ہے كہ مشورہ عمومي و اجتماعي امور سے مخصوص نہيں۔ (چنانچہ اس سے متعلق بحث گزر چكي ہے)

خداوند متعال كے فرمان ”اموركم شوريٰ بينكم اور جب تمہاري امور شوريٰ كے ذريعہ انجام پائيں،، ميں يہ فرض نہيں ہوا كہ مشورہ كرنے والا اور مشورہ دينے والا دو مختلف افراد ہيں بلكہ فقط يہ فرض ہوا كہ امر (موضوع) سب كا امر ہے ليكن يہ موضوع سب سے مربوط ہے اور سب كے سب اس مشترك امر ميں مشير بھي ہيں اور مشورہ لينے والے بھي ۔ بنابراين جب مفہوم عرفي كے مطابق يہ احتمال نہيں ديا جاسكتا كہ مشورہ لينے والا مشورہ دينے والوں كي راي پر عمل نہ كرے بلكہ اپني ہي راي پر عمل كرے تواسے تيسري احتمال پر حمل نہيں كيا جاسكتا كيونكہ مشورہ لينے والامشورہ دينے والوں سے جدا نہيں ہے جس طرح يہ احتمال نہيں ديا جاسكتا كہ مشورہ سے ہٹ كر كسي ولي (صاحب ولايت و سرپرستي) كي راي پر عمل كيا جائے البتہ اس نكتہ كي بنياد پر كہ جس كي وضاحت مشورہ كے متعلق دوسري جہت سے استدلال كرتے وقت كي جائے گي انشاء اللہ تعالي۔

بنابراين فہم عرفي كے مطابق كلام كا مفہوم يہ ہوگا كہ اجتماعي راي حتمي راي قرار پائے گي راي ہوگي مثلا اكثريت كي راي پر عمل كيا جائے گاوغيرہ مندرجہ بالا بحث كے نتيجہ ميں پہلا معني ثابت ہوجائے گااور يہ بھي ثابت ہوجائے گا كہ شوريٰ كے ذريعہ ولي امر كي تعيين ممكن ہے ۔

حاصل: بحث يہ ہے كہ مشورہ كي بحث كي ابتدا ميں وارد ہونے والے عمومي اعتراض و اشكال سے قطع نظر يہ كہا جاسكتا ہے كہ (شوريٰ پر) اس روايت كي دلالت كامل ہے ليكن سند كے لحاظ سے اس روايت كي كوئي قدر وقيمت نہيں ہے واضح ہے كہ بالفرض مان بھي ليا جائے كہ شوريٰ كے متعلق روايات مجموعي طور پر متواتر يا مستفيض ہيں) ليكن اس كے باوجود يہ كہا جائے گا كہ وہ حد تواتر تك بلكہ حد استفاضہ تك بھي نہيں پہنچيں لہذا ضعف سند كي وجہ سے ان كا كوئي اعتبار نہيں۔

شوريٰ كے متعلق آيات ميں مناقشہ

شوريٰ كے متعلق آيات دوآيتوں ميں منحصر ہيں:

پہلي آيت: ارشاد رب العزت ہے:وشاور هم في الامر اور ان سے امر ميں مشورہ كرو

اس آيہ مباركہ كے ذريعہ استدلال دو اعتبار سے قابل مناقشہ ہے۔

اس آيہ مباركہ كے ذريعہ استدلال يا اس دعوي پر مبني ہے كہ مشورہ دينے والوں كے علاوہ دوسروں كي آراء كو اخذ كرنا شوريٰ كے مفہوم ميں شامل ہے جب لفظ شوريٰ اور اس سے مشتق ہونے والے دوسري الفاظ مطلق يعني قيد كے بغير ہوں تو اس سے يہ سمجھا جاتا ہے كہ تمام لوگوں سے راي لي جائے اور مثلا اكثريت آراء پر عمل كيا جائے يا اس آيہ مباركہ سے استدلال اس دعوي پر مبني ہے كہ شوريٰ كا حكم فقط اس لئے ہوا ہے تاكہ حقيقت سے قريب تر راي تك پہنچا جاسكے اور يہ اس صورت ميں ممكن ہے جب مشورہ كرنے والا دوسروں كي آراء پر عمل كرے اگر وہ ان سے مشورہ تو كرے ليكن ان كي راي پرعمل كرے تو يہ شوريٰ اپنے مطلوبہ ہدف كو تحقق پذير نہيں كرسكتي بنا براين شوريٰ كي يہ صفت طريقيت(۸۲) عرفي اعتبار سے قرينہ قرار پاتي ہے كہ شوريٰ كے متعلق امر سے مراد يہ ہے كہ مثلا اكثريت كو ولايت عطا كي جائے ۔

پہلا فرض تو يقيني طور پر باطل ہے اور (لغوي طورپر) شوريٰ كے معني و مفہوم ميں يہ شامل نہيں كہ مشورہ دينے والوں كے علاوہ كسي اور كي راي پرعمل كيا جائے اور اس طريقہ سے ان كے لئے ولايت ثابت كي جائے۔ پس ہم نے جان ليا كہ شوريٰ كے مفہوم ميں كوئي ايسي دليل نہيں پائي جاتي جو ہميں مجبور كرے كہ ہم آيہ مباركہ ميں انے والے لفظ ”شوريٰ" كو پہلے يا دوسري احتمال پر حمل كريں۔

پہلے فرض كي طرح دوسرا فرض بھي صحيح نہيں ہے حتي اگر ہم قبول بھي كرليں كہ آيہ ميں فرض ہونے والا مشورہ (دوسري راستوں كي نسبت) بہتر اور زيادہ باصلاحيت راستے تك پہنچنے كے لئے ہے يا امت كو اس سرچشمہ و منبع كا عادي بنانے كے لئے ہے جو امت كو بہتر و باصلاحيت راستے تك پہنچا دے (اگرچہ نبي اكرم اس كے محتاج نہيں) حتي اگر ہم اسے قبول بھي كرليں تو يہ الزامآور نہيں ہے اور نہ ہي اس چيز كے متقاضي ہے كہ اكثريت كو ولايت عطا كي جائے كيونكہ احتمال ديا جاسكتا ہے كہ شوريٰ كا حكم دوسروں كي آراء و افكار سےآگاہى، انكے تجربات اور آراء افكار سے استفادہ كرنے اور انكے تجربات كو مشورہ لينے والے شخص كے تجربات و افكار سے ضميمہ كر كے بہتر و نفع بخش اور زيادہ باصلاحيت راي تك پہنچنے كے لئے ہے اگرچہ اكثريت آرا پر عمل نہ كيا جائے۔يہاں مشورہ كرنے والے شخص نے فقط مختلف آراء و مشورى جمع كئے اور ان ميں سے (اپنے فہم و تصور كے مطابق) بہتر راي كو منتخب كيااور ممكن ہے فقط يہ راي چند افراد كي راي سے تجاوز نہ كرے اور يہ بھي ممكن ہے كہ منتخب شدہ راي فقط اسكي اپني راي ہو دوسروں كي نہ ہو كيونكہ اسكي نظر ميں اسكي اپني راي كے علاوہ باقي تمام آراء باطل تھيں۔

دوسرا فرض: يہ ہے كہ آيہ مباركہ ميں شوريٰ كا حكم اس اعتبار سے نہيں كيونكہ شوريٰ بہتر راي تك پہنچنے كا وسيلہ ہے بلكہ يہ حكم فقط اس اعتبار سے ہے كہ اسكے ذريعہ لوگوں كو راضي ركھا جائے اور انكے احساسات و عواطف كا احترام كياجائے اور وہ شوريٰ كے موضوع كے سامنے اپنےآپكو زيادہ مسئول سمجھيں جب آيہ مباركہ كے سياق كا ملاحظہ كيا جائے تو يہي معني سياق سے زيادہ مناسب اور ہماہنگ معلوم ہوتا ہے كيونكہ خداوندمتعال نے فرماياہے:

( فبما رحمة من الله لنت لهم ولوكنت فظا غليظ القلب لانفضوا من حولك فاعف عنهم واستغفرلهم و شاور هم في الامر )

”پيغمبر! اللہ كي مہرباني ہے كہ تم ان لوگوں كےلئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو يہ تمہاري پاس سے بھاگ كھڑے ہوتے لہذا اب انہيں معاف كردو اور ان كےلئے استغفار كرو اور ا ن سے امر ميں مشورہ كرو”آيہ مباركہ كا يہ سياق دلوں كو خوش كرنے اور انہيں دعوت اسلامي كے بندھن ميں باندھنے كا سياق ہے لہذا اس آيہ مباركہ سے استدلال درست و كامل نہيں ہے۔

اگرچہ ہم فرض كرليں كہ درست ترراستے تك پہنچنے كا راستہ اكثريت كي آراء كو اخذ كرنے ميں منحصر ہے بعض اوقات علي بن مھزيار كي روايت (جن كا تذكرہ گزر چكا ہے) كو اس بات پر

شاہد كے طور پر لكيا جاتا ہے كہ آيہ مباركہ ميں حق اور درست تر راستے تك پہنچنے كا عنصر مد نظر ركھا گيا ہے فقط دلوں كو خوش كرنےاوراحساس مسئوليت كي تقويت مدنظر نہيں تھي۔

فقد روي العياشي عن احمد بن محمد عن علي بن مهزيار قال: كتب الي ابوجعفر ان سل فلانا ان اشير علي و يتخير لنفسه فهو اعلم بمايجوز في بلده و كيف يعامل السلاطين فان المشورة مباركة قال الله لنبيه في محكم كتابه و شاور هم في الامر فاذا عزمت فتوكل فان كان مما يجوز كتبت اصوب رايه و ان كان غير ذلك رجوت ان اضعه علي الطريق الواضح انشاء الله شاور هم في الامر قال: الاستخارة

عياشي نے احمد بن محمد سے اس نے علي بن مہزيار سے نقل كيا ہے علي بن مہزيار كہتےہيں”مجھے امام باقرعليہ السلام نے خط لكھ كر حكم ديا كہ فلاں شخص سے كہو مجھے مشورہ دے اور اپنے لئے اختيار كرے كيونكہ وہ اپنے شہر (ياملك) كے حالات كو بہتر سمجھتا ہے اور بخوبي آگاہ ہے كہ حكمرانوں كے ساتھ كيا سلوك كيا جائے مشورہ مبارك ہے خداوندمتعال نے اپني محكم كتاب ميں اپنے نبي كو حكم ديا ہے”ان سے امر ميں مشورہ كرو اور جب فيصلہ كرلو تو خدا پر بھروسہ كرو"

اگر اس نے جائز امر كا مشورہ ديا تو ميں خط لكھ كر اس كي تائيد كروں گااور اگر اس نے غير جائز امر كا مشورہ ديا تو انشاء اللہ ميں اسے واضح وآشكار راستے پر گامزن كروں گا ”شاور ھم في الامر ان سے امر ميں مشورہ كرو،، كے متعلق فرمايا يعني ”استخارہ، ، طلب خيركرنا ۔ بہ تحقيق يہ روايت دلالت نہيں كرتي كہ آيہ مباركہ ميں مشورى كا حقيقي ہدف ومقصد درست تر راستے (راي) كو كشف كرنا ہے لہذا ہماري لئےآيہ كريمہ سے ثابت كرنا ممكن نہيں كہ مشورہ ايك عمومي و كلي قاعدہ و اصول كے طور پر واجب ہے كہ جس كے ذريعہ اس چيز تك پہنچا جاسكتا ہے كہ جس كا انجام دينا شايستہ و سزا وار ہے۔

اس كے علاوہ بر اين يہ روايت سند كے اعتبار سے ضعيف ہے كيونكہ عياشي اور احمد بن محمد كے درميان سلسلہ سند ميں واقع ہونے والے راويوں كي حالت معلوم نہيں۔(۸۳)

جب ہم نے ثابت كردياآيہ مباركہ دلالت نہيں كرتي كہ شوريٰ (مشورہ) فقط اس لئے ہے تاكہ اكثريت آراء پر عمل كيا جائے اب يہ كہنا ممكن ہے كہ آيت اس كے برعكس معني پر دلالت كرتي ہے جس معني كوآيہ فاذا عزمت فتوكل كے ذيل سے استفادہ كيا جاسكتا ہے يہ جملہ واضح طور پر دلالت كرتا ہے كہ مشورہ دينے والوں كي راي پر عمل كرنا واجب نہيں آيہ مباركہ ميں مشورى كا مطلب يہ نہيں كہ ان كي راي جيسي بھي ہو اس كي پيروي كي جائے۔بلكہ آيہ مباركہ ميں نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے فقط يہ مطالبہ ہوا ہے كہ ان سے مشورہ كرو اور پھر حتمي فيصلہ خود كرو اور خدا پر توكل كرو(۸۴)

گزشتہ بيان كي روشني ميں يہ بھي ثابت ہوجاتا ہے كہ فاذا عزمت فتوكل علي اللہ، كي وہ تفسير درست نہيں جو تفسير المنار ميں ذكر ہوئي ہے صاحب تفسير المنار نے اس جملے كي تفسير يوں كي ہے: شوريٰ جسے ترجيح دے اس كي تائيد كا عزم و ارادہ كرو تو خدا پر بھروسہ كرو(۸۵)

اگر صدرآيہ مباركہ ميں اكثريت كي راي كي پيروي كو لازم قرار ديا جاتا تو اس صورت ميں يہ معني درست تھے لہذا اس صورت ميں” فاذا عزمت جب ارادہ كرو" كو شوريٰ كے مورد ترجيح فيصلے كي تائيد پر حمل كيا جاتا ليكن صدرآيہ اس معني (اكثريت آراء كي پيروي لازم ہے) پر دلالت نہيں كرتي اور فاذا عزمت كا متعلَّق بھي محذوف ہے يعني ذكر نہيں ہوا كہ كس چيز كا ارادہ كرو (بلكہ فقط كہا گيا ہے جب ارادہ كرو) چونكہ متعلَّق (مورد ارادہ) حذف ہے لہذا ظاہريہ ہے كہ عزم و ارادہ كا متعلَّق پيغمبراكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا اپناہي فيصلہ ہے(۸۶) پس آيہ كريمہ شوريٰ كے متعلق ذكر ہونے والے تين احتمالات ميں سے تيسري احتمال ميں ظہور(۸۷) ركھتي ہے اور وہ احتمال يہ ہے كہ دوسروں كي آراء و افكار سے فقط رہنمائي لي جائے جبكہ ان كے مشورىاور راي پر عمل كرنا ضروري نہيں ہے ۔

(۱) اس فرض كے ساتھ آيہ مباركہ كي تفسير ممكن نہيں كہ مشورہ دينے والوں يا اكثريت كو ايك قسم كي ولايت حاصل ہے كيونكہ واضح ہے كہ آيہ كے مصداق (نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) كے متعلق كسي بھي اعتبار سے كسي قسم كي حاكميت يا ولايت قابل تصور نہيں(۸۸)

كيونكہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مومنين كے نفوس پر خود ان سے بھي زيادہ حق تصرف ركھتے ہيں (يعني حق ولايت و حاكميت ركھتے ہيں) ۔

اگر كوئي كہے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا شوريٰ پر عمل كرنا فقط اس لئے تھا تاكہ لوگوں كو اس نظام كا عادي بناياجائے اگرچہ خود نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم شوريٰ كے محتاج نہيں تھے اور نہ ہي مشورہ دينے والوں كوآپ پر كسي قسم كي ولايت حاصل تھي اس كے جواب ميں ہم يہ كہيں گے جب ہم نے موردنزول آيت (جس كي آيہ ميں تصريح ہوئي ہے (يعني نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) كے لئے شوريٰ كے ذريعہ ولايت كو قبول نہيں كيا تو غير مورد پرآيت كي دلالت كو كيسے قبول كرسكتے ہيں!؟(۸۹)

دوسري آيت: ارشاد رب العزت ہے( وَامْرُهمْ شُورَي بَينَهُما ) آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں)(۹۰)

آيہ مباركہ سے استدلال

كوئي شك نہيں كہ عام طور پر مشورہ كے باب ميں مشورہ كرنے والاشخص مشورہ كرنے كے بعد كسي ايك راي كو منتخب كرتا ہے (ليكن سوال يہ ہے كہ) وہ راي كونسي راي ہے جس پر مشورہ كے باب ميں عمل كيا جاتا ہےكيا ضروري ہے كہ مشورہ دينے والے تمام افراد كي راي يا مثلا مشورہ دينے والوں كي اكثريت كي راي پر عمل كيا جائے ياضروري نہيں ہے؟ بلكہ كبھي مشورہ لينے والا مشورہ دينے والے تمام افراد كي راي كودرج ذيل دلائل كي بنياد پر ٹھكراتے ہوئے اپني ہي راي پر عمل كرتا ہے ۔

كيونكہ مشورہ دينے والے افراد ايك دوسري كي راي كے نقاط ضعف كي نشاندہي كرديتے ہيں ياكيونكہ معاشري ميں اكثريت كے علاوہ كوئي دوسرا ولي (صاحب ولايت) پايا جاتا ہے يا جسے اكثريت نے منتخب كيا ہو اس كي راي پر عمل كرنا ضروري ہے اور مشورى كامقصد فقط يہ ہے كہ لوگوں كے افكار و نظريات سے راہنمائي حاصل كي جاسكے كيونكہ بعض اوقات لوگوں كے افكار وآراء ولي پراثرانداز ہوتے ہيں اورولي كے سامنے راستہ روشن كرتے ہيں؟

پس اس طرح تين فرض سامنےآتے ہيں:

۱) مشورہ دينے والے كي راي پر عمل كيا جائے

۲) مشورہ كا واحد مقصد لوگوں كے افكار ونظريات سےآشنائي ہے اورآخركار مشورہ لينے والا (اپني ذاتي تشخيص) اور اپني راي پر عمل كرتا ہے۔

۳) مشورہ كا مقصد لوگوں كےآراء و افكار سےآشناہونا ہے اور معاشرہ كے ولي كوفيصلہ كرنا ہے كہ كس كي راي يا مشورہ پر عمل كياجائے اوراس كي پيروي دوسروں كےلئے ضروري ہے اكثريت كو يہ فيصلہ نہيں كرنا۔

پہلا فرض مطلوب و مقصود ہے (يعني اس فرض كے مطابق آيہ شوريٰ پر دلالت كرسكتي ہے) ليكن دوسرا فرض اس چيز پر متوقف ہے كہ مشورہ كرنے والے اور مشورہ دينے والے دو عليحدہ عليحدہ شخص ہوں جبكہ يہ آيہ مباركہ كے ظاہري معني كے خلاف ہے

كيونكہ آيہ مباركہ ميں (امر) كو اس ضمير كي طرف مضاف كيا گيا ہے جو خود مشورہ دينے والوں كي طرف لوٹتي ہے ۔(۹۱)

ليكن تيسري فرض ميں ايسے شخص (صاحب ولايت) كا فرض ہوا ہے جو تمام مشورہ دينے والوں يا ان كي اكثريت كے علاوہ ہے اور اس كي طرف رجوع كرنا واجب ہے اگرچہ ہماري بحث ميں يہ احتمال ديا جاسكتا ہے ليكن يہ احتمال بھي آيہ مباركہ كے ظہور كے خلاف ہے جس طرح روايت( وَامْورُكُمْ شُورَي بَينَكُم ) ، تمہاري امور باہمي مشورى سے سے انجام پائيں) ميں بھي يہ احتمال ممكن ہے ۔ تيسري احتمال كے خلاف ظاہر ہونے كي وجہ يہ ہے كہ كلام ميں اس ولي كے وجود كي طرف كسي قسم كا اشارہ (نہ قريب سے كوئي اشارہ نہ بعيد سے) نہيں ملتا كہ اس ولي كي راي پر عمل كيا جائے(۹۲)

پس (جب دو فرض ردّ ہوگئے) پہلا فرض متعين ہے اور پہلا فرض يہ ہے كہ مشورہ كرنے والا تمام مشورہ دينے والوں يا، ان كي اكثريت كي راي پر عمل كرے۔اوراس فرض كا مطلب امت يا اكثريت كو ولايت عطا كرنا ہے يا جزوي ولايت (جواز كو وجوب ميں تبديل كرنے كي حد تك چنانچہ شوريٰ كے دلائل كے متعلق پائے جانے والے تين احتمالات ميں سے دوسري احتمال كامطلب يہي ہے) يا كلي و عمومي ولايت كہ جس كي بنياد پر حكومت اسلامي كي تاسيس درست ہے چنانچہ پہلا احتمال اس معني پر دلالت كرتا تھا۔

اور يہي احتمال دليل كے اطلاق كي رو سے متعين ہے كيونكہ ولايت كو اس خاص دائري تك محدود و مقيد كرنے كے لئے قرينہ كي ضرورت ہے ۔ (جو مفقود ہے)(۹۳)

بعض اوقات كہا جاتا ہے كہ آيہ مباركہ سے يہ استفادہ ممكن نہيں كہ شوريٰ پر عمل كرنا واجب ہے كيونكہ آيہ مباركہ كا سياق وجوب پر دلالت كرنے سےمانع ہے خداوند متعال كا ارشاد ہے:

( فَما اوتِيتُمْ مِنْ شَيءٍ فَمَتَاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا وَما عِنْدَ اللهِ خَيرٌ وَابْقَي لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَي رَبِّهمْ يتَوَكَّلُونَ وَالَّذِينَ يجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَاما غَضِبُوا هُمْ يغْفِرُونَ وَالَّذِينَ استَجَابوا لِرَبِّهِمْ وَاقَامُوا الصَّلاَةَ وَامْرُهُمْ شُورَي بَينَهُمْ وَمِما رَزَقْنَاهُمْ ينْفِقُونَ وَالَّذِينَ إِذَا اصَابهُمْ الْبَغْي هُمْ ينْتَصِرُونَ ) (۹۴)

(پس تم كو جوكچھ بھي ديا گيا ہے وہ زندگاني كا چين ہے اور بس جو كچھ اللہ كي بارگاہ ميں ہے وہ خير اور باقي رہنے والا ہے ان لوگوں كے لئے جو ايمان ركھتے ہيں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ كرتے ہيں اور بڑے بڑے گناہوں اور فحش باتوں سے پرہيز كرتے ہيں اورجب غصہ آجاتا ہے تو معاف كرديتے ہيں اور جو اپنے رب كي بات كو قبول كرتے ہيں اور نماز قائم كرتے ہيں اور آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں اور ہماري رزق ميں سے ہماري راہ ميں خرچ كرتے ہيں اور جب ان پر كوئي ظلم ہوتا ہے تو اس كا بدلہ لے ليتے ہيں۔

كيونكہ ہم ملاحظہ كرتے ہيں كہ جملہ( وَامْرُهُمْ شُورَي بَينَهُم ) اورآپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں) ايسے متعدد جملوں كے سياق ميں واقع ہوا ہے جو شريعت كي اخلاقي تعليمات كو بيان كررہے ہيں جن ميں سے بعض امور واجب جبكہ بعض مستحب ہيں اور بعض ايسے امورہيں جو بعض حالات ميں واجب جبكہ بعض دوسري حالات ميں غير واجب ہيں بلكہ بعض اوقات غير صحيح ہيں (مثلا خدا كي طرف سے عطا ہونے والامال خرچ) يہ سياق ايسا سياق ہے جو وجوب پر دلالت كرنے سےمانع ہے ليكن يہ مناقشہ تب صحيح ہے جب آيہ مباركہ كو شوريٰ كے متعلق تين احتمالات ميں سے) تيسري احتمال پر تطبيق كيا جائے اور كہا جائے كہ آيت مباركہ وجوب پر دلالت كررہي ہے اس صورت ميں آيت مباركہ دوسروں كےآراء و افكار سے مستفيد ہونے كي غرض سے مشورى كا امر ديتي ہے اس طرح يہ امر، امر وجوبي اور امر استحبابي ميں متردد ہوجائے گا۔ (معلوم نہيں واجب ہے يا مستحب)

اب كہا جائے گا مذكورہ سياق اجازت نہيں ديتا كہ امر وجوب پر دلالت كرے ليكن جب ہم آيہ كريمہ كي يہ تفسير كريں كہ مسلمان اپنے امور ميں باہمي مشورہ كريں اور پھر اكثريت كي راي كي پيروي كريں اور يہ تفسير كريں كہ شوريٰ كا ہدف مختلف افكار و تجربات سے مطلع ہونا ہے اگر يہ تفسير كي جائے تو عرف احتمال نہيں ديتا كہ (آيہ شوريٰ ميں انے والا) امر، امر استحبابي ہو كيونكہ امر ايسے اہم منبع و سرچشمہ سے متعلق ہے كہ جس كي بنياد پر اسلامي معاشري كي مشكلات كو حل كيا جاسكتا ہے اور قومي امور كي باگ ڈور سنبھالي جاسكتي ہے اب كہا جائے گا كيا شوريٰ ايسي عمومي ولايت وجود ميں آتي ہے جو ولايت، اجتماعي مشكلات كے راہ حل كي بنياد فراہم كرسكے يا شوريٰ كے نتيجے ميں ايسي ولايت وجودميں نہيں آتى؟

اگر شوريٰ كے نتيجے ميں ايسي ولايت حاصل نہ ہو تو شوريٰ اجتماعي مشكلات كو حل نہيں كرسكتي لہذا شوريٰ كے متعلق امر كرنا بے معني ہوجائے گا خواہ يہ امر وجوبي ہو خواہ استحبابي۔ اور اگر شوريٰ اكثريت يا اكثريت كے نمائندگان كو شرعي ولايت عطاكرتي ہے تاكہ اس كے ذريعہ اجتماعي مشكل كو حل كيا جاسكے تو اس صورت ميں شوريٰ كے متعلق امر، امر وجوبي ہوگا اور ولي امر كي اتباع وپيروي واجب ہوگي اس صورت ميں امر كو امر مستحبي قرار دينا بے معني ہے كيونكہ استحبابي و غير حتمي (غير واجب) اتباع اجتماعي مشكلات كے راہ حل كي بنياد نہيں بن سكتي۔

اس آيہ مباركہ سے شوريٰ كو اسلامي حكومت كي بنياد قرار دينے كے لئے استدلال كرتے وقت جو كہنا ممكن ہے ہم نے اسے بيان كرديا ہے۔

حقيقت يہ ہے كہ اس استدلال كا كامل وصحيح ہونا ممكن نہيں حقيقت يہ ہے كہ آيہ كريمہ كے موردميں يہ فرض بہت بعيد ہے كہ مشورہ كرنے والا ايسا شخص ہو جس كي نظر ميں موضوع (امر) اہميت كا حامل ہوليكن وہ مشورہ كي غرض سے ايسے شخص كي طرف رجوع كرے جس كا مذكورہ موضوع سے كوئي رابطہ و تعلق نہ ہوآيہ كريمہ ميں امر خود مشورہ دينے والوں ہي كي طرف مضاف ہے (يہ امر مشورہ كرنے والوں ہي كا امر ہے)

ليكن يہاں پرآيہ كريمہ كے مورد ميں دواحتمال ممكن ہيں:

۱) مقصود يہ ہو كہ عمومي امور و واقعات ميں موقف معين كرنے كے لئے مشورہ دينے والوں كي راي يا ان كي اكثريت كي راي كي طرف رجوع كرنا چاہيئے۔

۲) شوريٰ اپنے تيسري احتمال كي صورت ميں مقصود ہو يعني لوگ آراء و افكار اور تجربات كے ذريعے ايك دوسري كي مدد و اعانت كريں جبكہ فرض يہ ہو كہ ولي امر موجود ہے جو ہر موضوع ميں اس موضوع كےماہر افراد كےآراء و افكار سے مطلع ہوكر اور صلاح و مشورہ كر كے حتمي فيصلہ دے گا اور مختلف امور كے متعلق موقف معين كرے گايہي دوسرا احتمال آيہ كريمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔

اور ہم نے استدلال كي تقويت كے لئے جو كچھ كہا تھا (كہ ولي امر كي راي اخذ كرنے كا فرض خلاف ظاہر ہے كيونكہ اس (فرض) كے لئے قرينہ اور مزيدبيان كي ضرورت ہے جبكہ قرينہ و بيان آيہ كريمہ ميں موجود نہيں ہے) وہ درجہ ذيل وجوہ كي بناپر صحيح نہيں ہے:

آيہ كريمہ كا ظاہري معني يہ ہے كہ آيہ كريمہ بعض پسنديدہ صفات كے ذريعے مومنين كي جماعت كي توصيف كررہي ہے جو و صفات (پسنديدہ امور كو انجام دينا اور ناپسنديدہ امور كو ترك كرنا) كم ازكم نزول آيہ كے وقت شرعي طور پر مطلوب ومرغوب تھيں ليكن يہ فرض كرنا كہ ان اوصاف ميں سے بعض ايسي صفات ہيں جن كي پابندي فقط مستقبل ميں مطلوب و مرغوب ہے كيونكہ ان كے متعلق امر فقط اس ظرف ميں پسنديدہ اور بہتر ہوگا جو ظرف نزول آيہ كے بعد متحقق ہوگا۔

يہ فرض آيہ كريمہ كے ظاہر (ظاہري معني) كے خلاف ہے واضح رہے كہ نبي اكرم كے زمانے ميں خدائي ولايت شوريٰ كو نہيں بلكہ آپكو حاصل تھي اور آپ مومنين كے نفوس پر خود ان سے (تصرف كا زيادہ حق ركھتے تھے اور (اس كے باوجود) آپكو مشورى كا حكم ديا گيا اور آپكو اختيار ديا گيا كہ فيصلہ كريں (كسي بھي راي كو منتخب كريں خواہ وہ مشورہ دينے والے كي راي ہو ياآپكي اپني راي) اور اپنے عزم وارادے كے نفاذ كے لئے خدا پر توكل كريں ليكن لوگوں كے ساتھ مشورہ كرنالوگوں كے دل خوش كرنے اور انہيں اسلام كي طرف مائل كرنے كي غرض سے تھا يا زيادہ سے زيادہ دوسروں كي آراء وافكا ر سے معرفت حاصل كرنامقصود تھا (يعني تيسرا احتمال مقصودہے) ۔

آيہ كريمہ كا ظہور يہ ہے كہ لوگوں ميں سے مومنين اور نمونہ عمل افراد كي توصيف كي جارہي ہے وہ افراد جن ميں آيہ كريمہ كے نازل ہوتے وقت يہ صفات پائي جاتي ہيں نہ يہ كہ فقط آيہ كريمہ كے نازل ہونے كے بعد ان ميں يہ صفات وجود ميں آئيں گي اور اسي طرح يہ بھي واضح ہے كہ (اس وقت) ولي امر موجود تھا يعني رسول خدا موجود تھے اور آپكو شوريٰ كے ذريعہ كوئي دوسري ولايت حاصل نہيں ہوئي تھي (يعني وہ تو پہلے ہي سے صاحب ولايت تھے) يہ سب امور مل كر دليل بنتے ہيں اور قرينہ تشكيل ديتے ہيں جسے قرينہ متصلہ كہا جاسكتا ہے گويا يہ دليل تصريح كررہي ہے كہ اس وقت مشورہ كرنے كے بعد ولي امر كي راي كو اخذ كرنا ضروري تھا۔

صحيح وہي ہے جو ہم پہلے كہہ چكے ہيں كہ اگر قرينہ نہ پايا جائے تو يہ فرض كہ مشورہ كرنے كے بعد مشورہ دينے والے كي راي كو نہيں بلكہ ولي امر كي راي كو اخذ كيا جائےآيہ كريمہ كے ظاہر كے خلاف ہے ليكن ہم جان چكے ہيں كہ وضاحت مانند قرينہ موجود تھا كيونكہ نزول آيہ كريمہ كے وقت لوگوں كے اذھان ميں مكمل طور پر واضح تھا ۔

پس اس طرح واضح ہوگيا ہے كہ اس آيہ مباركہ كے ذريعہ يہ استدلال كرنا كہ شوريٰ ولايت شرعي عطاكرتي ہے باطل ہے ۔

ہم اس بحث كے اختتام پر ايك اور آيہ كے ذريعہ شورائي نظام كے لئے استدلال كرنے والوں سے اپنے شديد تعجب كا اظہار كرنا چاہيں گے وہ آيہ مباركہ يہ ہے:

( وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ امَّةٌ يدْعُونَ اِلَي الْخَيرِ وَيامُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَينْهَوْنَ عَنْ الْمُنْكَرِ وَاوْلَئِكَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ ) (۹۵)

(اور تم ميں سے ايك گروہ كو ايسا ہونا چاہيے جو خير كي دعوت دے نيكيوں كا حكم دے برائي سے منع كرے اور يہي لوگ نجات يافتہ ہيں)

اس آيہ كريمہ سے شوري پر استدلال كرنے والوں ميں سے شيخ محمد عبدہ ہيں چنانچہ تفسير المنار(۹۶) ميں يہ استدلال موجود ہے اور قحطان الدوري بھي انہيں افراد ميں سے ہيں چنانچہ ان كي كتاب ”الشوريٰ بين النظريۃوالتطبيق،(۹۷) ميں يہ استدلال موجود ہے۔

ہميں معلوم نہيں امر بالمعروف اور نھي عن المنكر كے حكم سے كس طرح شورائي نظام كے اثبات كے لئے استدلال كيا جاسكتا ہے؟ كيا يہ (حكم) دلالت كرتا ہے كہ معروف كي تطبيق (ترويج) اور منكر كے خاتمے كي روش شوريٰ اور راي كي اتباع سے عبارت ہے(۹۸) ؟ آيہ مباركہ كس طرح دلالت كرتي ہے كہ شوريٰ اس ولايت عامہ كا سرچشمہ ہے جو ولايت، حكومت كي شرعي بنياد و اساس ہے اور اس ولايت كے علاوہ كوئي اور چيز تشكيل حكومت اور حكومت چلانے كي شرعي بنياد و اساس نہيں بن سكتى؟ !!

بہرحال شوريٰ كو ثابت كرنے كے لئے كسي آيت يا روايت سے استدلال (حتي اگرآيت و روايت پر كوئي خصوصي اشكال نہ بھي كيا جائے) اس عمومي اور ہماگير اشكال ميں مبتلا ہے جسے ہم شوريٰ كي بحث ميں تفصيلي طور پر بيان كرچكے ہيں۔ اور وہ عمومي اعتراض(۹۹) اشكال (خصوصي اشكالات كے يہ ہے كہ ہم نے واضح طور پر ملاحظہ كيا كہ قائد اعظم رسول خدا نے شوريٰ كے مختلف نظاموں (شوريٰ كي مختلف زمانوں كے اعتبار سے قابل نفاذ صورتيں) اور اس كے بنيادي اصول و ضوابط كے بيان كو اہميت نہيں دي اور اسي طرح اس سلسلے ميں (شيعوں ميں بھي) زمانہ غيبت سے پہلے ائمہ اھل بيت عليہ السلام كي طرف سے كوئي تفصيل بيان نہيں ہوئي ۔

اگرمان ليا جائے (فرض كرليا جائے) كہ رسول خدا يا ائمہ عليھم السلام ميں سے كسي ايك امام معصوم عليہ السلام نے اس مسئلہ كو (جو نہايت اہم اور زندگي ساز مسئلہ ہے كہ جسے مبہم و مجمل چھوڑنا ممكن نہيں) اہميت دي ہے تو (كم ازكم) ان حضرات كے بيانات اور شرعي نصوص كي كچھ مقدار ہم تك ضرور پہنچتي ليكن ہم ملاحظہ كرتے ہيں كہ ہم تك اس قسم كا كوئي بيان يا شرعي نص نہيں پہنچي۔

مگر ہم يہ احتمال ديں كہ قول خداوند متعال( وَامْرُهُمْ شُورَي بَينَهُم ) اور آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں)(۱۰۰) اس مستقبل كي طرف اشارہ ہے جو ابھي تك نہيں كيااور جب وہ مستقبل (مورد نظرزمانہ) آپہنچے گا تو شوريٰ كي مختلف اقسام، شوريٰ كي حدود وقيود اور شرائط بيان كي جائيں گي اور يہ كام امام مھدي عليہ السلام كے ذريعہ انجام پائے گا جب آپ ظہور فرمائيں گے۔يہ احتمال آيہ مباركہ كے ظہور كے خلاف ہے كيونكہ ہم نے بيان كيا ہے كہ آيہ مباركہ كا ظاہر يہ ہے كہ شوريٰ (مشورہ) آيہ كے نزول كے زمانے ميں ايك پسنديدہ صفت تھي اور اس وقت موجود تھي آيہ مباركہ ايسے نظام كو بيان نہيں كررہي جس كي تطبيق ونفاذمستقبل بعيد ميں واجب ہے ۔

بہرحال ہم كسي بھي آيت وروايت يا كسي بھي دوسري دليل سے يہ استفادہ نہيں كرسكے كہ رسول اعظم كے بعد يا زمانہ غيبت ميں شوريٰ، اسلامي نظام حكومت كي بنياد بن سكتي ہے۔ پس واضح ہوگيا كہ شورائي نظام بھي جمہوري نظام كي طرح حكومت كے لئے صحيح و منطقي بنياد و اساس فراہم نہيں كر سكتا۔

فقيہ كا شوريٰ سے رشتہ

ممكن ہے كہا جائے ہم آئندہ ذكر ہونے والے ولايت فقيہ كے دلائل (اگر مكمل ہوں)

اور آيہ مباركہ ,,وَامْرُھُمْ شُورَي بَينَھُم،، جوتيسري احتمال كے مطابق دوسروں كےآراء و افكار سے مطلع ہونے اور ان كے تجربات سے رہنمائي و ہدايت حاصل كرنے كي طرف ناظر ہے، كے درميان يوں جمع كرسكتے ہيں كہ فقيہ كے لئے مختلف امور ميں مشورہ كرنا اور دوسروں كے افكار سے مدد لينا واجب ہے البتہ اس كا مطلب يہ نہيں كہ مثلااكثريت كي راي پر عمل كيا جائے بلكہ فقط دوسروں كي آراء سے مطلع ہونے، حقيقت سے قريب ہونے اور ان كے تجربات كو اپنے تجربات سے ملانے كي خاطرمشورہ كرنا ضروري ہے۔

واضح ہے كہ شوريٰ كو اس معني پر حمل كرنا سزاوار و شائستہ نہيں كہ جتنے لوگوں كے لئے بھي شوريٰ كا موضوع قابل اہميت ہو اور وہ ان كا امر كہاجائے تو ان سب لوگوں كے آراء و افكار سے ضروري ہے بلكہ معنيٰ يہ ہوگا كہ شوريٰ ايك عقلائي منبع و سرچشمہ (قانون) كي طرف ناظر ہے جو عملي قدم اٹھانے سے پہلے مختلف تجربات كي جمعاوري اور دوسروں كي آراء كے ملاحظہ كي دعوت ديتا ہے ۔

واضح ہے كہ اس عقلائي منبع و سرچشمہ ميں اس امر كو مدنظر نہيں ركھا گياہے كہ جتنے لوگ بھي شوريٰ كے موضوع سے وابستہ ہوں ان سب كےآراء و افكار كوجمع كيا جائے۔ہاں جمہوريت كے طرفدار اس نظريہ كے قائل ہيں كہ جتنے لوگ بھي شوريٰ كے موضوع سے مربوط ہوں اور وہ امر ان كا امرشمار ہو، انہيں اظہار نظر اور اپني راہ معين كرنے كا حق حاصل ہے ليكن اس نظريہ كے مطابق ايسا ضروري نہيں جس نظريہ كے مطابق لوگوں كي آراء و افكار اور تجربات سے روشني ليتے ہوئے بہتر راستے كي معرفت اور حقيقت كا حصول مقصود ہے كيونكہ اكثر اوقات مشورہ ايك خاص گروہ كے درميان بحث و گفتگو اور تبادلہ خيال كے ذريعہ تحقق پذير ہوتا ہے اور بعض اوقات محدود افراد كے درميان انجام پانے والے مشورہ كے ذريعہ حقيقت تك پہنچنے كا زيادہ امكان ہوتا ہے جب كہ اس مشورہ ميں يہ امكان كم ہوتا ہے جس ميں تمام لوگوں كو مشورى ميں شامل كيا جاتا ہے اور تمام لوگوں كےآراء جمع كيئے جائيں ۔

البتہ كبھي كبھار مورد مشورہ ايسا موضوع ہوتا ہے جس ميں جتنے زيادہ لوگ شركت كريں اور شريك ہونے والے فيصدي كے اعتبار سے زيادہ ہوں، اتنے ہي بہتر اثرات مرتب ہوتے ہيں(۱۰۱) يہ ايك دوسرا موضوع ہے۔

خلاصہ بحث

جب ہم نےآيہ مباركہ كو شوريٰ كے تيسري معني پر حمل كيا توآيہ اس امر كي طرف ناظر نہيں ہے كہ تمام لوگ يا ان كي اكثريت سے مشورہ كيا جائے۔ليكن (سوال يہ ہے كہ) كيا يہ جمع اور اس كا نيتجہ صحيح ہے اور كيا ولي ّ فقيہ يا فقہا پر واجب ہے كہ اجتماعي امور ميں لوگوں سے مشورہ كريں؟

بعض لوگوں نے جواب ديا ہے كہ آيہ مباركہ سے يہ استفادہ كرنا اور يہ نتيجہ لينا درست نہيں ہے كيونكہ يہ نتيجہ اس بات پر موقوف ہے كہ آيہ مباركہ شوريٰ كے وجوب پر دلالت كرے ليكن اگرآيہ مباركہ كو شوريٰ كے متعلق تين احتمالات ميں سے تيسري احتمال پر حمل كيا جائے اور سياق آيہ كو مدنظر ركھا جائے توآيہ مباركہ شوريٰ كے وجوب پر دلالت نہيں كرتي (چنانچہ ہم تذكرہ كرچكے ہيں) ہاں اگر ہم شوريٰ كو اس معني پر حمل كريں كہ مشورہ دينے والے كي راي اپنائي جائے تو اس صورت ميں مشورہ كے متعلق امر كو استحباب پر حمل نہيں كيا جاسكتا بنابرايں آيہ مباركہ (اپنے سياق كے لحاظ سے) اس سے زيادہ معني پر دلالت نہيں كرتي كہ شوريٰ، اسلامي آداب ميں سے ايك ادب ہے جو كبھي واجب ہوتا ہے اور كبھي مستحب، اس كا وجوب و استحباب موارد و خصوصيات كے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا ہے بنابرايں اس آيہ مباركہ كے ذريعہ يہ ثابت كرنا ممكن نہيں كہ ولي ّ امر (ولي فقيہ) پر مشورہ كرنا واجب ہے۔

ہاں ہم عنقريب بحث كريں گے كہ ولي ّ امر كو اس لئے ولي قرار ديا گيا ہے تاكہ ان لوگوں كي ضروريات اور نقائص كو برطرف كرسكے جن لوگوں پر اسے ولايت حاصل ہے بنابراين فقيہ كو اس لئے معاشري كا ولي قرار نہيں ديا گيا كہ وہ اپني آراء ان لوگوں پر مسلط كرے بلكہ اسے ولي قرار دينے كا مقصد يہ ہے كہ عوام كي خدمت كرسكے اور ان كے مفاداتا اورمصلحتوں كا تحفظ كرسكے لہذا اگر ولي فقيہ تشخيص دے كہ شديد مصلحت اس چيز ميں پائي جاتي ہے كہ امور ميں لوگوں سے مشورہ كيا جائے تو فقيہ كے لئے ضروري ہے كہ لوگوں سے مشورہ كرے اور اگر بعض اوقات ولي فقيہ تشخيص دے كہ اس وقت مصلحت كا تقاضا يہ ہے كہ لوگوں سے فقط مشورہ ہي نہ كيا جائے بلكہ اكثريت آراء پر عمل بھي كيا جائے تو اكثريت كي آراء پرعمل كرنا فقيہ پر واجب ہوگا۔

بعض اوقات كچھ لوگ اعتراض كرتے ہيں كہ چونكہ آيہ مباركہ قابل نمونہ مومنين كي صفتيں بيان كررہي ہے اور ان صفتوں ميں سے ايك صفت مشورہ ہے لہذاآيہ مباركہ سے استفادہ ہوتا ہے كہ مشورہ ہميشہ امت كي مصلحت و نفع ميں ہوتا ہے اور جب فرض يہ ہے كہ ولي پر لازم ہے كہ اپنےماتحت لوگوں كے مفادات كي رعايت كرے تو ثابت ہوجائے گاكہ فقيہ پرمسلمانوں كے تمام امور ميں ہميشہ مشورہ كرنا ضروري ہے۔

ليكن حقيقت يہ ہے كہ جب ہم نے شوريٰ كو تيسري معني پر حمل كيا ہے تو اب آيہ سے يہ استفادہ نہيں ہوتا كہ بہ طور مطلق (بغير كسي قيد وشرط كے) فقيہ پر مشورہ كرنا واجب ہے (حتي اگر ہم گزشتہ كو بھي ضميمہ كريں) لہذا يہ كہنا بےجا ہے كہ كيونكہ مشورہ ہميشہ (بلااستثناء) امت كے لئے مفيد و نفع بخش ہے لہذا ہميشہ اور ہر امر ميں مشورہ واجب ہے۔

بلكہ يہ احتمال بھي ممكن ہے كہ شوريٰ كے متعلق حكم اس عقلائي اور قابل انعطاف مشورہ كي طرف ناظر ہو كہ جس كا حكم موارد كے اختلاف كے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اس احتمال كي دليل يہ ہے كہ آيہ شريفہ ميں مورد بحث جملہ، انفاق (راہ خدا ميں مال خرچ كرنا) و مغفرت كے سياق ميں واقع ہوا ہے اور واضح ہے كہ انفاق و مغفرت وہ امور ہيں جن كے احكام موارد كے اختلاف كے ساتھ ساتھ تبديل ہوتے ہيں پس يہ امور كبھي واجب ہوتے ہيں اور كبھي مستحب، جب كہ بعض اوقات پسنديدہ نہيں ہوتے يہ ايسے امور نہيں كہ جن ميں ہميشگي پائي جائے اور ان كا حكم (ہميشہ كے لئے) معين و مشخص ہو۔

پس ہم اس نتيجہ پر پہنچے كہ آيہ مباركہ سے اس مقدار سے زيادہ استفادہ ممكن نہيں ہے جو مقدار اس آيہ مباركہ سے قطع نظر پہلے سے ثابت شدہ ہے۔ اور وہ ثابت شدہ مقدار يہ ہے كہ عام طور پر اكثر امور ميں ولي امر (فقيہ جامع الشرائط) پر واجب ہے كہ شوريٰ پر اعتماد كرے تاكہ اس كے لئے بہتر راستہ كي نشان دہي ہوسكے اور اگرآيہ مباركہ كے سياق سے چشم پوشي بھي كرلي جائے تب بھي ہماري لئے ممكن نہيں كہ آيہ مباركہ سے بہ طور مطلق (تمام شرائط ميں) مشورہ كا وجوب ثابت كرسكيں كيونكہ ہم نےآيہ مباركہ ميں انے والے لفظ شوريٰ كو شوريٰ كے متعلق پائے جانے والے تين احتمالات ميں سے تيسري احتمال پر حمل كيا ہے (يعني لوگوں كےآراء و افكار سےآگاہي) اور يہ عقلائي (قانون) خود شوريٰ كي حدود كو سمجھنے ميں موثر ہے اور موجب بنتا ہے كہ ہم آيہ مباركہ سے يہ استفادہ كرسكيں كہ آيہ مباركہ مذكورہ قابل انعطاف اور غيرحتمي عقلائي قانون كي طرف اشارہ كررہي ہے اور اس قانون كا دائرہ اسي نرمي اور انعطاف پذيري سے تجاوز نہيں كرتا۔

____________________

۳۰. يہاں پر مؤلف نے لفظ ”مرونہ “ استعمال كيا ہے جس كا معني ہے نرمي اور لچك دار ہونا جس طرح نرم اور لچك دار جسم مختلف شكلوں ميں بدلنے كي صلاحيت ركھتا ہے اسي طرح اسلامي نظام كے لئے شوريٰ كو بنياد قرار ديا گيا ہے ليكن اس كي خاص شكل و صورت بيان نہيں كي گئي تاكہ تمام زمانوں اور تمام مكانوں ميں تمام تر معاشرتي شرائط كے اختلاف كے باوجود قابل تطبيق اور قابل نفاذہو ۔ .مترجم.

۳۱. يعني ممكن ہے ايك نظام ميں زيادہ صلاحيت پائي جائے اور وہ دوسري نظام كي نسبت زيادہ مناسب و موزوں ہو يا ايك ہي نظام بعض شرائط ميں زيادہ مناسب ہو جبكہ دوسري حالات و شرائط ميں كمتر مفيد و موزوں ہوں

۳۲. يعني خاص شكل و صورت معين نہ كرنا بلكہ مطلق چھوڑ دينا تاكہ ہر زمانے كے مطابق شكل و صورت اور نوعيت كا انتخاب كيا جائے .الشوريٰ بين النظريہ والتطبيقص ۶۷.

۳۳. مثلاايك طرف ايك ووٹ زيادہ ہوجائے جسے COSTING يعني فيصلہ كن ووٹ كہاجاتا ہے۔

۳۴. مثلااگرشوريٰ كا موضوع زراعت سے مربوط ہو تو يہ موضوع كاشتكاروں كے لئے زيادہ قابل اہميت ہے اگرچہ دوسري لوگوں سے بھي اس كا تعلق ہے ليكن كاشتكار كے لئے زيادہ اہميت كا حامل ہے اسي طرح اگر شوريٰ كا موضوع ميڈيكل سے مربوط ہو تو يہ موضوع باقي افراد كي نسبت ڈاكٹروں كے لئے زيادہ اہميت كا حامل ہے (مترجم)

۳۵. سورہ شوريٰ آيت ۳۸

۳۶. بعض اوقات دو افراد ميں سے كسي ايك كو دوسري پر مقدم كيا جاتا ہے اسكي دو صورتيں ہيں .الف. ايك دفعہ كسي خصوصيت كو مدنظر ركھے بغير اور كسي ضابطے اور معيار كو مدنظر ركھے بغير ايك كو دوسري پر ترجيح دي جاتي ہے يہ ترجيح بلامرجح ہے ۔

۳۷. بنابراين نظام كي مختلف اقسام اور مختلف شكلوں .جو سب كي سب مشكلات كو حل كرنے كي صلاحيت ركھتي ہيں. ميں سے كسي ايك كو اختيار كرنا اسے مھمل اور آزاد چھوڑنے سے افضل تھا۔علاوہ بران نظام كي مختلف اقسام ميں سے ايك شكل و قسم كو اختيار كرنے كا حق پوري امت كو ديا گيا ہے، افراد كو نہيں بنابرايں اگرلوگ اس امر ميں اختلاف كرتے تو سب كے سب مستحق سزا و عقاب ہوتے ہيں۔. قائد كے تعين كے نظام كي طرف عدول كرتا اور اسے ولايت مطلقہ عطا كرتا اور مخصوص صفات كے حامل افراد كو ولايت مطلقہ عطا كرتا اسي طرح اسلام كے لئے ممكن تھا كہ انسانيت كو ساحل سعادت سے ہمكنار كرنے كے لئے بلاواسطہ دخالت كرتا اور كسي قسم كا نقص بھي لازم نہ آتا اور يہ ايساامر ہے جسے اسلام نے پوري دقت كے ساتھ انجام ديا ہے .چنانچہ قابل مشاہدہ ہے.

۳۸. سورہ اعراف آيہ ۹۶

۳۹. سورہ مائدہ آيت: ۶۶

۴۰. اطلاق پايا جاتا ہے يعني اسے كسي خاص قيد كے ساتھ مقيد نہيں كيا گيااطلاق اصول كي اصطلاح ميں تقييد كے مقابلے ميں ہے (مترجم)

۴۱. استحسان اس كے لغوي معني ہيں طلب حسن ۔ اور اہل سنت كے نزديك اجتہاد كے منابع وماخذ ميں سے ايك ”استحسان” ہے يعني جس طرح قران و سنت سے حكم اخذ كيا جاسكتا ہے اسي طرح قياس و استحسان سے بھي كسي موضوع كا حكم دريافت كيا جاسكتا ہے اگر مجتہد كے پاس قران و سنت سے كوئي دليل موجود نہ ہو تو وہ اپني سوچ و فكر كے مطابق كسي چيز كو بہتر قرار ديتا ہے مثلا بہتر يہ معلوم ہوتا ہے كہ اس موضوع كا حكم يہ ہونا چاہيے۔ يہي استحسان ہے۔ .مترجم.

۴۲. نہج البلاغہ، مكتوب نمبر۶

۴۳. وقعۃ صفين، مطبوعہ قم ص ۲۹

۴۴. وقعہ صفين، ص ۵۸

۴۵. نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۱۷۱

۴۶. اوران روايات كے ساتھ ان روايات كا بھي اضافہ كيا جائے گا جو جماعت سے جدائي كي حرمت كے متعلق ائمہ معصومين سے نقل ہوئي ہيں اور ان روايات كا ظہور اس معني ميں ہے كہ مسلمانوں كي ايسي عظيم اكثريت جو خليفہ وقت كے تابع ہو اس سے مفارقت و جدائي حرام ہے اور وہ خليفہ وقت (ائمہ عليہ السلامكي نظر ميں) غاصب ہو جيسے كافي ميں اصحاب اماميہ كي جماعت سے اس جماعت نے احمد بن محمد سے اس نے ابن فضال سے اس نے ابي جميلہ سے اس نے محمد حلبي سے اور محمد حلبي نے امام جعفر صادق - سے نقل كيا ہے كہ حضرت نے فرمايا”جو شخص مسلمانوں كي جماعت سے ايك بالشت كے برابر جدا ہوا .دور ہوا. گويا اس نے اپني گردن سے اسلام كا قلادہ .ہار. اتار ديا اور اس” سند كے

۴۷. نہج البلاغہ خطبہ(۳)شقشقيہ

۴۸. آل عمران آيت۱۵۹

۴۹. سورہ شوريٰ آيت ۳۶تا ۳۹

۵۰. علم حديث كي رو سے تواتر يہ ہے كہ .راويوں كي اتني تعداد كسي روايت كو نقل كرے جس سے اس حديث كے صادر ہونے كا يقين حاصل ہوجائے. تواتر كے لئے كسي خاص عدد كو معين نہيں كيا گيا اور تواتر سے نچلے درجے كو استفاضہ كہا جاتا ہے يعني راويوں كي اتني تعداد كسي روايت كو نقل كرے جس سے انسان كو يقين حاصل نہ ہو تو اسے استفاضہ كہا جاتا ہے يا بہ الفاظ ديگر خبر واحد اور تواتر كے درمياني مرتبہ كو استفاضہ كہا جاتا ہے۔ (مترجم)

۵۱. وہ ابواب كہ جن ميں معاشرت كے احكام بيان ہوئے ہيں۔ (مترجم)

۵۲. وسائل الشيعة، جلد۸ ص ۴۰۹، باب: ۹، ابواب احكام عشرۃ، حديث:(۴)

۵۳. وسائل الشيعة، جلد۸ ص۴۲۴، باب: ۲۱، ابواب: احكام العشرۃ، حديث:(۱)

۵۴. وسائل الشيعة، ج۲ ص۴۲۴، باب: ۸، ابواب: احكام العشرۃ، حديث-(۲)

۵۵. وسائل الشيعة، جلد۲ ص۴۲۴، باب: ۸، ابواب: احكام العشرۃ، حديث:(۳)

۵۶. وسائل الشيعة، جلد۸ ص ۴۲۴، باب: ۲۱، ابواب: احكام العشرۃ، حديث:(۴)

۵۷. وسائل الشيعة، جلد۱ ص۴۲۸، باب: ۲۱، ابواب: احكام العشرۃ، حديث:(۱)

۵۸. وسائل الشيعة، جلد۴ ص۴۲۸، باب: ۲۱، ابواب: احكام العشرۃ، حديث:(۴)

۵۹. وسائل الشيعة، ج۴ص۴۲۸، باب: ۲۱، ابواب: احكام العشرۃ، حديث:(۵)

۶۰. وسائل الشيعة، ج۵ص۴۲۶، باب: ۲۲، ابواب: احكام العشرۃ، حديث: ۵،

۶۱. وسائل الشيعة، ج۶ ص ۴۲۶، باب: ۲۲، ابواب احكام العشرۃ، حديث:(۶)

۶۲. وسائل الشيعة، ج۲ ص ۴۲۹، باب: ۲۵، ابواب احكام العشرۃ، حديث:(۲)

۶۳. الشوريٰ بين النظريہ والتطبيق ص ۲۷تا۳۰

۶۴. زمين كي پشت كنايہ ہے زندگي سے جبكہ زمين كا بطن كنايہ ہے موت سے يعني اس صورت ميں تمہاري لئے زندگي موت سے بہتر ہے (مترجم)

۶۵. اپني ہي ملكيت ميں جسكے تصرفات كوشريعت نے ممنوع قرار ديا ہو كيونكہ وہ صحيح تصرفات كي اہليت نہيں ركھتا (مترجم)

۶۶. بہ طور مثال پاني پينا عنوان اولي كے تحت مباح .جائز. ہے ليكن اگر زندگي كا دارمدار پاني پر ہو مثلا ايك شخص شدت پياس سے جان بلب ہو اگرچہ پاني پينا عنوان اولي كے تحت جائز ہے ليكن اس صورت ميں واجب ہے كيونكہ اس وقت اس پر ايك اور عنوان صادق آرہا ہے جسے عنوان ثانوي كہا جاتا ہے اور وہ ہے موت سے نجات اور موت سے نجات واجب ہے پس عنوان ثانوي كے تحت پاني پينا واجب ہے (مترجم)

۶۷. جو كام عنوان اولي كے تحت لازم نہ ہو اسے لازمي قرار دينے كے لئے ولايت (حق حاكميت) كا دائرہ بہت وسيع ہے .چنانچہ ولايت فقيہ كي بحث ميں اس كي وضاحت كي جائے گي انشاء اللہ.

۶۸. ۱۔ اگر عدم جواز اصول عمليہ ميں سے كسي اصل كے ذريعہ ثابت ہوا ہو، وہ اصول عمليہ جن كے باري ميں بحث علم اصول فقہ ميں كي جاتي ہے يا عدم جواز ظن و گمان كے ذريعہ ثابت ہوا ہو مثلا ان مورد ميں كہ جہاں پر شرعي امارہ موجود نہيں ہوتا لھذا ہميں مجبورا ظن كي اتباع كرني پڑتي ہے يہاں پر ولي امر .ولي فقيہ. كا حكم مقدم ہے جب حكم كے ذريعے امارہ تشكيل پائے كيونكہ امارہ اصل اور ظن پر مقدم ہوتا ہے۔

۶۹. اگرچہ فقط اس موردميں كہ جہاں پر حكم كاشف ہو .اس اصطلاح كے مطابق كہ جسے ہم ولايت فقيہ كي بحث ميں ذكر كريں گے. ورنہ اس كے لئے .شوريٰ كے لئے. ممكن نہيں كہ الزام كو اٹھادے .جواز ميں بدل دے. مگر موضوع كو تبديل كرنے كے ذريعہ .موضوع لزوم كو اٹھانے كے ذريعے الزام كو اٹھكياجاسكتا ہے.

۷۰. نذر وعہد ۔۔۔۔۔۔۔اس صورت ميں واجب ہيں جب ان كا متعلق جائز امر ہوں ورنہ واجب نہيں مثلا اگر كوئي شخص كسي كو قتل كرنے كي نذر كرے .جو حرام ہے. يہ نذر واجب الوفاء نہيں ۔ (مترجم)

۷۱. جسے منطقہ الفراغ سے تعبير كيا جاتا ہے بعض وہ امور جن ميں شريعت نے حكم نہ كيا ہو۔ (مترجم)

۷۲. سورہ احزاب آيت ۳۶

۷۳. كيونكہ اگر وسيع دائري سے راي لي جائے تب بھي يہ جماعت اس ميں شامل ہےاوراگرصرف اس خاص جماعت سے راي لي جائے اور اسكے ذريعے شوريٰ تشكيل پائے تب بھي يہ جماعت شوريٰ اور راي گيري ميں شريك ہے (مترجم)

۷۴. كہ مومنين كي صفت يہ ہے كہ اپنے امور ميں باہمي مشورہ كرتے ہيں ”وامرھم شوريٰ بينھم"

۷۵. يعني اگر ايك عربي داں شخص كے سامنے يہ آيت ركھي جائے تو وہ يہ نہيں سمجھتا كہ فقط فقہاء مراد ہيں (مترجم)

۷۶. علماء اصول فقہ كي اصطلاح ميں يہ كہا جاتا ہے كہ بعض دلائل مثلاآيت و روايت قابل تخصيص .استثناء. نہيں ہے

۷۷. ہميں اس مشكل كا سامنا تھا كہ عرف اس تخصيص كي اجازت نہيں ديتا تھا جب ہم نے امت كو يہ اختيار دے ديا كہ فقہاء ميں سے اپنے نمائندگان كا انتخاب كرليں توامت كو عطا شدہ اختيار كہ يہي مقدار اس مشكل كو حل كرنے كے لئے كافي ہے اور يہي مقدار يقيني طور پر امت كے لئے ثابت ہے (مترجم)

۷۸. اوراسي طرح ان روايات كو استثناء كريں گے جنہيں ہم حاشيے ميں ذكر كرچكے ہيں ۔

۷۹. اشارہ ہے كہ اس دلالت كو يہ كہتے ہوئے رد كيا جاسكتا ہے كہ روايت اس عقلائي قاعدے كي طرف رہنمائي كررہي ہے جس كے مطابق دوسروں كے تجربات سے استفادہ كرنے كي غرض سے ان سے مشورہ كرنا پسنديدہ كام ہے اس قاعدے كا ملاك وجوب واستحباب كے لحاظ سے ہر مورد ميں دوسري موارد سے مختلف ہے بلكہ كبھي شخص كي نگاہ ميں امر .موضوع. مكمل طور پر اتنا واضح ہوتا ہے كہ وہ اسے مشورى كا موردہي نہيں سمجھتا۔

۸۰. ثم اختر اقربھا الي الصواب و ابعدھا من الارتياب

۸۱. يہاں پر كوئي كہہ سكتا ہے كہ اگر روايت ميں موجود جملوں ”اموركم شوريٰ بينكم”جب تمہاري امور شوريٰ سے انجام پائيں اور” اموركم الي نسائكم” جب تمہاري امور عورتوں كے مشورہ سے انجام پائيں، كو مدنظر ركھا جائے تو ان دوجملوں كے درميان ايك قرينہ مقابلہ يا قرينہ تقابل پايا جاتا ہے جو تقاضا كرتا ہے كہ جس تمہارا دوسرا جملہ انفرادي موضوعات و واقعات كوشامل ہے

۸۲. علم اصول ميں طريقيت كے مقابلے ميں موضوعيت كا لفظ استعمال ہوتا ہے مثلا كہا جاتا ہے كہ فلاں صفت موضوعيت ركھتي ہے يعني في نفسہ مطلوب نہيں جبكہ اس كے مقابلے ميں كہا جاتا ہے فلاں صفت طريقيت ركھتي ہے يعني في نفسہ مطلوب نہيں ہے بلكہ مطلوبہ ھدف تك پہنچنے كا وسيلہ اور طريق ہے (مترجم)

۸۳. اگرچہ عياشي اور احمد بن محمد ثقہ ہيں ليكن ان دو كے درميان سلسلہ سند ميں واقع ہونے والے راويوں كي حالت معلوم نہيں كہ كيا وہ ثقہ .قابل اعتماد. ہيں يا نہيں لہذا روايت ضعيف ہے (مترجم)

۸۴. يعني اگر تمہارا فيصلہ ان كے مشوروں اوران كي آراء كےمخالف ہوتوگھبرانے كي ضرورت نہيں بلكہ خدا پر توكل كرو (مترجم)

۸۵. تفسير المنار رشيد رضا جلد(۴)ص ۲۰۵يعني جب شوريٰ كے نتيجے ميں ترجيح پانے والے راستے .مشورى. كي تائيد كرنا چاہو تو .گھبراؤ نہيں. بلكہ خدا پر توكل كرو۔ (مترجم)

۸۶. يعني جب عزم و ارادہ كا متعلق حذف ہو اوراس كي تعيين پر كوئي قرينہ بھي موجود نہ ہو تو اس كا ظہوريہ ہے كہ عزم و ارادہ كا متعلق ارادہ كرنے والے كي اپني راي ہے

۸۷. علم اصول ميں ظہور سے مراد يہ ہے كہ اس لفظ يا جملے كا ظاہري معني يہ ہے يعني اس معني كا احتمال قوي ہے جبكہ دوسري معني كا احتمال بھي ممكن ہے اگرچہ وہ احتمال بہت ضعيف ہے جبكہ اس كے برعكس جب يہ كہا جاتا ہے كہ فلاں لفظ فلاں معني ميں نص ہے تو اس كا مطلب يہ ہے كہ اس كے علاوہ كسي اور معني كا احتمال نہيں ديا جاسكتا ہے يعني احتمال خلاف بالكل منتفي ہے .مترجم.

۸۸. فرض نہيں كيا جاسكتا كہ آيہ مباركہ شوريٰ كے ذريعہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو حاكميت و ولايت عطا كررہي ہے كيونكہ نبي اكرم تو پہلے ہي سے مومنين كے مولي و سرپرست اور ان كے نفوس پر خود ان سے بھي زيادہ حق تصرف ركھتے ہيں (مترجم)

۸۹. علماء اصول فقہ كہتے ہيں كہ عرفاً مورد كا عام سے خارج ہونا قبح و ناپسنديدہ ہے۔

۹۰. سورہ شوريٰ آيہ ۳۸

۹۱. .وَامْرُھُمْ شُورَي بَينَھم. امرھم ميں .ھم. كي ضمير كي بازگشت مشورہ كرنے والوں كي طرف ہے اور بينھم ميں .ھم. كي ضمير بھي انہي كي طرف لوٹتي ہے لہذاآيہ مباركہ ميں جداگانہ طور پر مشورہ كرنے والوں اور مشورہ دينے والوں كو فرض نہيں كيا گيا بلكہ مشورہ لينے والے اپنے ہي درميان مشورہ كرتے ہيں۔ (مترجم)

۹۲. ضميمہ نمبر۱

۹۳. ضميمہ نمبر۲

۹۴. سورہ شوريٰ آيہ ۳۶تا ۳۹

۹۵. سورہ آل عمران آيہ ۱۰۴

۹۶. تفسير المنار ج۴ ص۴۵صاحب تفسير محمد رشيد رضا نے اپنے استاد شيخ محمد عبدہ سے نقل كيا ہے۔

۹۷. الشوريٰ بين النظريۃ والتطبيق قحطان الدوري ص۲۶

۹۸. شوريٰ اورراي گيري كي پيروي كرتے ہوئے معاشري ميں معروف كي ترويج اورمنكركاخاتمہ ممكن ہے (مترجم)

۹۹. عمومي سے مراد يہ ہے كہ يہ اشكال شوريٰ كے تمام دلائل .كيات وروايات. پر وارد ہے اگرچہ ہرايك دليل پر خصوصي اعتراضات و اشكالات بھي وارد ہيں (مترجم)

۱۰۰. سورہ شوريٰ آيہ ۳۸

۱۰۱. فرض كريں اگرساٹھ فيصد لوگ شركت كريں تو تھوڑا اثر ہوگا اور اگرپنچانوے فيصدلوگ شركت كريں تو زيادہ اثر مرتب ہوگا مثلاً وہ مسائل جن كے باري ميں ريفرنڈم كروكيا جاتا ہے ان ميں شركت كرنے والوں كي تعداد جتني زيادہ ہوگي اتنے ہي بہتر اثرات مرتب ہوں گے ۔ (مترجم)


باب سوّم: ولايت فقيہ

ہم بيان كرچكے ہيں كہ كوئي بھي باصلاحيت حكومت وہ ہوتي ہے جس كي اساس درج ذيل دو چيزوں پر ہو:

۱) صحيح ماخذ سے شرعي طور پر ولايت حاصل كرے ۔

۲) معاشري كي سعادت و خوشبختي اور معاشرتي مفادات اور مصلحتوں كے تحقق كي كفيل و ضامن ہو اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ وہ ولايت فقيہ جو شيعہ مكتب فكر سے مطابقت ركھنے والي ايك الہي حكومت ہے اس كي اساس بھي ان دو چيزوں پر استوار ہے؟

ہماري موجودہ بحث كا ہدف و مقصد اس بات كو ثابت كرناہے كہ ولايت فقيہ نبي و امام عليہ السلام كي ولايت كے تسلسل كا نام ہے ۔ مسلمانوں كے نزديك ولايت كا سرچشمہ ذات كردگار ہے جو ہرچيز كي خالق و موجد ہے خدا ہي حقيقي مولا ہے اور تمام لوگ اسكے بندے ہيں اور ان پر اسكے احكام كا اتباع كرنا (يعني خدا نے جن كاموں سے منع كيا ہے انہيں ترك كرنا اور جنكا حكم ديا ہے انكو انجام دينا) واجب ہے۔

ان ہي احكام ميں سے ايك يہ ہے كہ خداوندحكيم نے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو ولايت عطا فرما كر لوگوں كوآپكي پيروي كا حكم ديا ہے ارشاد رب العزت ہے ”بے شك نبي تمام مومنين سے ان كے نفس كي نسبت زيادہ اولي ہے“(۱۰۲) شيعہ عقيدے كے مطابق (نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي رحلت كے بعد) يہ ولايت آپكے معصوم جانشينوں كي طرف منتقل ہوگئي جن كے (ناموں) كي تصريح (روايات) ميں كي گئي ہے۔(۱۰۳)

واضح ہے كہ ہماري بحث كا ہدف و مقصد اللہ تعالي اورنبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي ولايت كوثابت كرنا نہيں ہےكيونكہ تمام مسلمان اسےقبول كرتے ہيں اورنہ ہي ائمہ اطہار عليھم السلام كي ولايت كوثابت كرنا ہمارا مقصودہے كيونكہ عالم تشيع ائمہ اطہارعليھم السلام كي ولايت كا صدق دل سے اقرار كرتا ہے (اس كے باري ميں مفصل بحث مسلمانوں اور شيعوں كے عقائد سے متعلق كتابوں ميں كي گئي ہے)

ہماري يہاں پر بحث، اسلام اور تشيع كے مباني كے باري ميں ہے تاكہ معلوم ہوسكے كہ كيا مذہب شيعہ كے پاس موجود دلائل يہ ثابت كرنے كي صلاحيت ركھتے ہيں كہ ولايت فقيہ كا سرچشمہ اور ماخذ اسلام اور وحي پروردگار ہے؟ ہم يہاں پر اس بات كي طرف اشارہ كرنا ضروري سمجھتے ہيں كہ اگر شيعوں كا يہ دعوي صحيح نہ ہو كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے نص اور تصريح كے ذريعہ اپنے بعدانے والے خليفہ كو معين فرمايا ہے تو وہ اسلا مي نظام (جسے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بشريت كو دنيا وآخرت ميں سعادت مند و خوشبخت بنانے كے لئے لائے تھے) لامحالہ طور پر ناقص رہ جائے گا۔

پھر اس نقص كي دو ہي صورتيں ہوسكتي ہيں يا تو يہ نقص خدا كي طرف سے ہے يا پھر نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تبليغ ميں كوتاہي كي ہے اور يہ بات اسلام كے مسلمات ميں سے ہے كہ خدا اور رسول اس سے بہت بالاتر ہيں كہ ان كي طرف اس نقص كي نسبت دي جائے۔

اب جبكہ ہم تفصيل سے جان چكے ہيں كہ اسلام ميں رسول خدا كے بعد شوري كو اسلامي حكومت كي بنياد اور اساس قرار نہيں ديا گيا ہے اور يہ بھي واضح ہے كہ ايك طرف سے بشريت كي سعادت و خوشبختي اور دوسري طرف سے اسلامي احكام كا نفاذ اس وقت تك ممكن نہيں ہے جب تك كہ ايك اسلامي حكومت نہ قائم كي جائے ساتھ ہي ساتھ يہ بھي طے ہے كہ اسلام نے رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد اسلامي حكومت كے لئے شوري اور نص كے علاوہ كوئي اور بنياد اور اساس نہيں قرار دي ہے اور شوري كو قبول نہيں كيا جاسكتا لہذا اب نص كا انكار اسلام يا مبلغ اسلام (رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) پر كوتاہي كي تہمت لگانے كا باعث بنے گا۔(۱۰۴)

شيعہ معتقد ہيں كہ بارہويں امام حضرت مھدي عليہ السلام نے اپني غيبت صغري ميں چار افراد كو اپنا نائب قرار دياتھا اوران ميں سے ہر ايك كے نام كي تصريح خود حضرت نے فرمائي۔ وہ چار نائب يہ ہيں:

۱) عثمان بن سعيد العمري

۲) محمدبن عثمان العمرى

۳) حسين بن روح النوبختى

۴) علي بن محمد السمري۔

شيعہ روايات سے استفادہ ہوتا ہے كہ ان چار نائبوں كي مدت ختم ہوجانے كے بعد امام زمانہ عليہ السلام نے اپني نيابت و نمايندگي اور عمومي ولايت ان فقہا كو عطا فرمائي جن كے اندرآئندہ ذكر ہونے والي صفات پائي جاتي ہوں، فقہاء كے لئے عمومي ولايت كے ثبوت كا مطلب يہ نہيں ہے كہ فقہاء نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم و امام عليہ السلام كي طرح تمام مومنين سے ان كے نفس كي نسبت زيادہ اولي ہيں ۔ ولايت سے اگر مومنين كے نفسوں پر اولويت مراد لي جائے تو نص كے مطابق ايسي ولايت صرف نبي اور امام عليہ السلام كے پاس ہے ليكن عرفي(۱۰۵) طور پر ولايت كے دلائل (خواہ وہ والد كي اولاد پر ولايت سے متعلق ہوں خواہ فقيہ كي معاشري پر ولايت كے باري ميں ہوں) جو بات ذہن ميں آتي ہے وہ يہ ہے كہ اس سے مراد ايسي ولايت ہے جس كے ذريعہ مولي عليہ (جس پر ولايت حاصل ہے) كا نقص برطرف كيا جاسكے اور اس كے خاميوں كا علاج ہوسكے۔

ولايت فقيہ سے متعلق حضرت امام خمينى عليہ الرحمۃ كا بيان

متعدد شيعہ علماء نے فتوي ديا ہے كہ اس طرح كي عمومي ولايت اس فقيہ كو حاصل ہے جس كے

اندر روايات ميں ذكر شدہ صفات پائي جاتي ہوں ہم ان علماء ميں سے بہ طور خاص آيت اللہ العظميٰ امام الحاج سيد روح اللہ الموسوي الخميني عليہ الرحمۃ كا ذكر كريں گے جنہوں نے فقيہ كے لئے عمومي ولايت ثابت كي ہے اور ان كے نزديك اسلامي نظام حكومت اسي ولايت كي بنياد پر استوار ہے انہوں نے اپني كتاب ”البيع" ميں اس موضوع پر سير حاصل بحث كي ہے ہم ان كي بحث سے بعض اقتسابات نقل كررہے ہيں امام خمينى عليہ الرحمۃ نے فرمايا: اسلام نے حكومت كي بنياد نہ تو استبداد پر ركھي ہے كہ جس ميں فرد كي راي اور اس كے ذاتي رجحانات معاشري پر مسلط ہوتے ہيں اور نہ ہي آئيني بادشاہت پر يا ايسي جمہوريت پر جو ايسے بشري قوانين كي بنياد پر قائم ہو جو انسانوں كي ايك جماعت كے نظريات اور افكار كو پوري معاشري پر مسلط كرتے ہيں، بلكہ اسلامي حكومت كي بنياد و اساس يہ ہے كہ زندگي كے تمام شعبوں ميں خدائي قوانين سے الہام و امداد لي جائے، كسي بھي حكمران كو اپني ذاتي راي مسلط كرنے كا حق حاصل نہيں ہے بلكہ حكومت اوراس كے مختلف شعبوں اور اداروں ميں جاري ہونے والے تمام قوانين حتي صاحبان امر كي اطاعت بھى، لازمي ہے كہ خدائي قانون كے مطابق ہو ۔ مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے فيصلے كرنے البتہ يہ چيز اپني راي مسلط كرنا نہيں كہلاتي بلكہ انہيں مسلمانوں كي مصلحت كے پيش نظر كئے جانے والے فيصلے شمار كياجاتا ہے اس اعتبار سے حاكم كي راي اس كے عمل كي طرح عوام كي مصلحت كے تابع ہوتي ہے ۔۔

اب حكمران (صاحبان ولايت) سے متعلق بحث باقي رہ گئي ہے مذہب حق (شيعہ) كے مطابق اس ميں كوئي اختلاف نہيں كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد صاحبان امر و ولايت ائمہ اطہارعليھم السلام ہيں جو سيد الوصيين اميرالمومنين حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام اور آپكي معصوم اولاد ہيں، يہ ائمہ اطہار يكے بعد ديگري اس دنيا ميں آتے رہے اور يہ سلسلہ زمانہ غيبت تك جاري رہا ان ائمہ اطہارعليھم السلام كے لئے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي عمومي ولايت اور كلي خلافت ہي كي طرح خدا كي طرف سے ولايت و خلافت قرار دي گئي ہے زمانہ غيبت كبري ميں ولايت و حكومت كسي فرد خاص كے لئے قرار نہيں دي گئي ہے ليكن عقل و نقل كے اعتبار سے كسي نہ كسي شكل ميں باقي رہنا بہرحال واجب ہے۔

جب اسلامي حكومت ايك قانوني حكومت ہے بلكہ خدائي قانون كي حكومت فقط يہي ہے اور اس حكومت كا واحد ہدف يہ ہے كہ قانون كے نفاذ كے ساتھ ساتھ لوگوں كے درميان خداپسند عدالت كا رواج ہے تو والي (حكمران) ميں دو صفتوں كا پايا جانا ضروري ہے جو قانوني حكومت كي بنياد و اساس ہيں كيونكہ ان كے بغير كسي بھي (اسلامي) قانوني حكومت كا وجود ميں انا ممكن ہي نہيں ہے وہ صفات يہ ہيں ۔

۱) قانون كا علم۔

۲) عدالت۔

علم كے وسيع دائري ميں لياقت اور شايستگي بھي شامل ہے كيونكہ اس ميں شك نہيں كہ ان دونوں كا ہونا بھي حاكم كے لئے ضروري ہے اگرآپچاہيں تو يوں كہہ سكتے ہيں كہ يہ صفتيں حكومت كي تين بنيادي شرطوں ميں سے تيسري شرط ہيں، ولايت كي بازگشت اس فقيہ عادل كي طرف ہے جو مسلمانوں پر ولايت (سرپرستي) كي صلاحيت ركھتا ہو اب چونكہ يہ ضروري ہے كہ حاكم، فقہ و عدالت سے بہرہ مندہو لہذا حكومت اور اسلامي حكومت كو تشكيل دينا دنيا كے تمام عادل فقہاء پرواجب كفائي ہوجاتا ہے اس اعتبار سے ان ميں سے كوئي ايك حكومت تشكيل دينے ميں كامياب ہوجائے تو بقيہ پر اس كي اطاعت واجب ہوجاتي ہے ۔

اور اگر حكومت كا قيام اس وقت تك ممكن ہي نہ ہو جب تك ساري فقہاء اكھٹے ہوكر اسے انجام نہ ديں تويہ كام اجتماعي طور پر ان پر واجب ہوجاتا ہے ۔ يعني سب كے لئے ضروري ہوجاتا ہے كہ مل كر حكومت تشكيل ديں اور اگر كسي بھي صورت ميں حكومت كي تشكيل ممكن نہ ہو (نہ انفرادي طور پر اور نہ ہي اجتماعي طور پر) تو فقہاء كا منصب ساقط نہيں ہوتا ۔ اگرچہ تشكيل حكومت كے سلسلے ميں ان كا عذر قابل قبول ہوتا ہے اس كے باوجود ان سب فقہاء كو بيت المال ميں تصرف كا حق بھي حاصل ہوتا ہے اور ان كے لئے حدود كا جاري كرنا (اگر ممكن ہو تو) واجب ہوجاتا ہے، اسي طرح صدقات لينا ٹيكس اور خمس كا وصول كرنا اور اسے مسلمانوں اور تنگ دست سادات وغيرہ اور اسلام و مسلمين كي دوسري ضروريات پوري كرنے كے لئے خرچ كرنا بھي واجب ہوجاتا ہے كيونكہ فقہا ء كو حكومتي امور ميں وہي ولايت حاصل ہے جو ولايت پيغمبراكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور آپكے بعد ائمہ اطہارعليھم السلام كو حاصل تھى، اور حكومت و سياست جيسے امور ميں فقہ عادل كو وہ تمام حقوق حاصل ہيں

جو رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار كوحاصل تھے

يہ امام خمينى كي عبارت سے چند اقتباس تھے جنہيں ہم نے نقل كيا ۔(۱۰۶)

اس اعتبار سے اگر ولايت فقيہ كو اسلامي حكومت كي بنياد و اساس قرار دينے كے لئے (شيعوں كے پاس) تام و كامل دليل ہو تو يہ چيز اس مذہب كي حقانيت پر ايك اور شاہد قرار پائے گي كيونكہ مذہب تشيع كے علاوہ بقيہ ساري مذاہب كي شريعت ميں موجودہ زمانے ميں اسلامي حكومت كي تشكيل كے لئے اسي شورائي نظام كے علاوہ كوئي اور بنياد و اساس نظر نہيں آتي جس كابطلان واضح وآشكار ہوچكا ہے لہذا ان كے نظريہ كا لازمہ يہ ہے كہ اسلام ميں نقص ہے يا پھر العياذ باللہ مبلغ اسلام (رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے تبليغ ميں كوتاہي كي ہے ۔

اب ہم ولايت فقيہ كي عمومي دليلوں كو پيش كريں گے ۔

دو طريقوں سے ولايت فقيہ كا اثبات:

اس ولايت كو ثابت كرنے كے دو طريقے ہيں پہلا طريقہ، يقيني اور حتمي امور كو انجام دينا:

اس بات كي وضاحت كے لئے درج ذيل دو نكات پر توجہ ضروري ہے:

پہلا نكتہ

يہ بات واضح و روشن ہے كہ زمانہ غيبت ميں (امكاني صورت ميں) اسلامي حكومت كي تشكيل واجب ہے اگر اسلام كي فطرت (حقيقت) ميں معمولي غور فكر كيا جائے تو يہ امر واضح اور آشكار ہوجاتا ہے ۔اسماني اديان ميں سے سب سےآخري دين اسلام ہے جس كے ذريعے اللہ تعالي نےاسماني اديان پر خاتمے كي مہر لگائي ہے اسلام تمام اديان كے درميان بہترين اور كامل ترين دين ہے ۔

جسے رسول اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس زمانے ميں لے كراي جسے زمانہ فترت (يعني رسولوں سے خالي زمانہ) كہا جاتا ہے جب انسانيت ترقي كركے اس مرحلے تك پہنچ چكي تھي كہ اس عظيم اور كامل رسالت كي ہدايت سے استفادہ كرے گزشتہ زمانہ سے انسانيت (كسي حد تك) درك و فہم، علم و معرفت اور احساس ذمہ داري كے اعتبار سے كامل اور قدرتمند ہوچكي تھي اس كے پس پردہ بہت سے اسباب كارفرماتھے ان ميں سب سے اہم سبب يہ تھا كہ انسانيت ايسي متعدداسماني اور خدائي رسالتوں كا زمانہ ديكھ چكي تھي جو كہ انبياكرام كے ذريعہ آئي تھيں اور كامل ترين اور عظيم رسالت يعني اسلام كے لئے تمہيد اور مقدمہ قرار پائي تھيں اسلام نےآكر وہ تمام چيزيں مہيا كيں جن كا انسان اپني سعادت و خوشبختي اور اپني روحي و معنوي ضرورتوں نيز علمي اور عملي ترقي اور نشوونما كے سلسلے ميں محتاج ہے ساتھ ہي ساتھ اسلام نے وہ چيزيں بھي فراہم كيں جو بشري نظام زندگي عبد و معبود كے روابط انسانوں كے باہمي تعلقات اور فرد كے اپني ذات پر حقوق سے متعلق ہيں اگر اس دعوي كي حقانيت كي بہترين دليل حاصل كرنے كے لئے كتاب و سنت ميں موجود احكام كادقت كے ساتھ مطالعہ كيا جائے اور ان كے باري ميں غور و خوض سے كام ليا جائے تو معلوم ہوجائے گا كہ يہ احكام جامع، وسيع اور تمام ابواب پر محيط ہيں اس بات كي تصريح و وضاحت متعدد احاديث ميں ہوئي ہے ان احاديث ميں سے چند حديثيں درج ذيل ہيں:

۱)عن علي بن ابراهيم عن محمد بن عيسي عن يونس عن حماد عن ابي عبدالله عليه السلام قال سمعته يقول: مامن شي الا وفيه كتاب او سنة (۱۰۷) كافي ميں شيخ يعقوب كليني نے علي ابن ابراھيم سے انہوں نے محمد بن عيسي سے انہوں نے يونس سے انہوں نے حماد سے اور حماد نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا، حماد كہتے ہيں ميں نے سنا كہ آپنے فرمايا كوئي بھي چيز ايسي نہيں ہے كہ جس كے باري ميں كتاب و سنت ميں (ذكر) نہ كيا ہو

۲) كافي ميں يعقوب كليني نے اصحاب كي ايك جماعت سےانہوں نے احمد بن محمد سے

عن عدة من اصحابنا عن احمد ابن محمد عن ابن فضال عن عاصم عن حميد عن ابي حمزه ثمالي عن ابي جعفرعليه السلام قال: خطب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في حجة الوداع فقال: ياايهاالناس والله ما من شي يقربكم من الجنة و يباعدكم من النار الا وقد امرتكم به ومامن شي يقربكم من النار و يباعدكم من الجنة وقد نهيتكم عنه ۔۔۔)(۱۰۸)

ترجمہ: انہوں نے ابن فضال سے انہوں نے عاصم بن حميد سے انہوں نے ابوحمزہ ثمالي سے اور ابوحمزہ ثمالي نے امام محمدباقرعليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع كے موقع پر خطبہ ديتے ہوئے فرمايا: اے لوگو! خدا كي قسم جن چيزوں كا ميں نے حكم ديا ہے ان كے علاوہ كوئي بھي چيز ايسي نہيں رہ گئي ہے جو تمہيں جہنم سے قريب اور جنت سے دور كرسكے ۔

مندرجہ بالا دونوں حديثيں سند كے اعتبار سے كامل ہيں۔

واضح ہے كہ دين اسلام اپني جامعيت اور وسعت كے ساتھ انساني زندگي كے مختلف شعبوں كو منظم كرنے كے لئےكيا ہے لہذا يہ ممكن نہيں ہے كہ يہ دين حكومت سے بے نياز ہوجائے كيونكہ حكومت ہي كے ذريعہ اسلام مكمل نافذ ہوسكتا ہے خود رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اپنے زمانے ميں اسلامي حكومت كے سربراہ تھے امير المومنين علي عليہ السلام كو بھي جتني مہلت ملے اتنے دن آپ اسلامي حكومت كے سربراہ رہے امام حسن عليہ السلام صلح سے پہلے اسلامي حكومت كے سربراہ تھے امام حسين عليہ السلام نے بھي حكومت حق قائم كرنے كے لئے قيام كياتھا، البتہ يہ اس بات سے منافات نہيں ركھتي كہ آپكو اپني شہادت كا علم تھا اور يہ بھي علم تھا كہ آپكي شہادت سے دين حنيف كي نصرت ہوگى اسي طرح امام زمانہ (ارواحنا فداہ) بھي انشاء اللہ اسلام كي بنياد پرحكومت قائم كرنے كے لئے ظہورفرمائيں گے۔

فطرت (حقيقت) اسلام سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے كہ امكاني صورت ميں اسلامي حكومت كا قائم كرنا واجب ہے حضرت امام خمينى عليہ الرحمۃ اپني كتاب ”البيع" ميں ارشاد فرماتے ہيں: وہ دليل جو امامت ائمہ عليہم السلام كے سلسلے ميں ہے بعينہ وہي دليل امام زمانہ عليہ السلام كي غيبت كے زمانے ميں حكومت كي ضرورت كو ثابت كرتي ہے خصوصاايسے حالات ميں جب كہ امام زمانہ عليہ السلام كي غيبت كو شروع ہوئے كافي عرصہ گذرچكا ہے شايد اب بھي يہ غيبت كئي سال تك باقي رہے كيونكہ اس كا علم صرف خدا كے پاس ہے(۱۰۹)

دوسرا نكتہ

جيسا كہ جمہوريت كي بحث ميں بيان كيا گيا تھا كہ چونكہ حكومت كي اساس عمومي ولايت پر ہوئي ہے لہذا اسلام (جس كے لئے امت كي قيادت كرنا اور امت كو ساحل سعادت و خوشبختي اور خير و صلاح تك پہنچانا فقط حكومت كے ذريعے ہي ممكن ہے) كے ذريعے قائم ہونے والي حكومت ميں بھي يقينا عمومي ولايت پائي جاتي ہے اور اگر يہ شك ہوجائے كہ يہ ولايت كس كو حاصل ہے تو اس صورت ميں قدرمتيقن (يقيني مقدار) پر اكتفاكرنا واجب ہوجائےگا كيونكہ كسي بھي انسان كي كسي دوسري انسان پر ولايت، اسلامي اصولوں اورابتدائي قواعد (قواعد اوليہ) كےخلاف ہے(۱۱۰) واضح ہے كہ ايسي صورت ميں قدر متيقن يہ ہے كہ يہ ولايت اس شخص كے حصے ميں آئےگي جس ميں درج ذيل مخصوص صفات پائي جاتي ہوں:

۱) اسلام كےاحكام كي معرفت اس كامطلب يہ ہے كہ معاشرے كا ولي (سرپرست وحكمران) فقيہ ہو

۲) عدالت

۳) لياقت

امور حكومت كو چلانے كي اہليت و لياقت ركھتا ہو) لہذا معاشري كا ولي ايسا فقيہ ہوگا جو عادل اور باصلاحيت (لائق) ہو۔يہ تھا ولايت فقيہ كو ثابت كرنے كا پہلا طريقہ مگر يہ طريقہ صحيح نہيں ہے كيونكہ قدر متيقن كو اخذ كرنے كا تصور وہاں پر ہوتا ہے جہاں امر دو چيزوں كے درميان مشتبہ ہوجبكہ ان دو چيزوں ميں سے ايك كا دائرہ وسيع ہو اور دوسري كا دائرہ تنگ ہو كہ وہ وسيع دائري ميں شامل ہو(۱۱۱) ايسے موقع پر قدر متيقن كا يہ تقاضا ہوتا ہے كہ تنگ دائرہ كو لے ليا جاتا ہے يعني اس تنگ دائرہ ميں اس حكم كا ثبوت يقيني ہوتا ہے ليكن جب حالت يہ ہو كہ امر ايسي دو عدد چيزوں كے درميان مشتبہ ہو اور ان كے درميان تباين اور اختلاف پايا جاتا ہو تو اس صورت ميں قدر متقين كا فرضيہ بے معني ہوجاتا ہے ۔

ہماري بحث بھي اسي دوسري قسم ميں شامل ہے كيونكہ جس طرح ہم يہ احتمال ديتے ہيں كہ عمومي ولايت، فقيہ كے ہاتھ ميں ہوتي ہے اسي طرح يہ احتمال بھي پايا جاتاہے كہ مذكورہ ولايت، (بہت سے ميدانوں اور شعبوں ميں) اكثرت كے ہاتھ ميں ہوسكتي ہے البتہ اس شرط كے ساتھ كہ قوانين كے فقہي پہلوؤں پر فقيہ كي كڑي نظارت ہو، تاكہ يہ ضمانت فراہم كي جاسكے كہ قوانين، شريعت اسلامي سے مطابقت ركھتے ہوں اس قسم كي نظارت ايك دوسرا موضوع ہے جو فقيہ كي عمومي ولايت سے الگ ہے ۔

اسي طرح ہم يہ بھي ملاحظہ كرتے ہيں كہ انساني معاشرہ ميں بہت سے حياتي اور بے پناہ اہميت كے حامل شعبے پائے جاتے ہيں جن ميں سے ہر ايك كے لئےماہر افراد ہوتے ہيں اس سلسلے ميں فقيہ كي ولايت كے قائل افراد يہ احتمال ديتے ہيں كہ فقيہ كو (ان شعبوں ميں بھي) عمومي ولايت حاصل ہوتي ہے اور وہ ان شعبوں كے نقائص كو انہي شعبوں كےماہرين پر بھروسہ كرتے ہوئے دور كرتا ہے ۔ ليكن اس كے برعكس يہ احتمال بھي ديا جاسكتا ہے كہ خود ان شعبوں كےماہرين كو ولايت حاصل ہوتي ہے اور ان كے لئے ضروري ہوتا ہے كہ فقہ سے متعلق مسائل ميں فقيہ كي طرف رجوع كريں ۔ظاہر ہے كہ اس اعتبار سے يقيني اور حتمي امور كو انجام دينے كے نظرئيے ميں اختلاف نظر سے اس كے عملي نتائج ميں بھي اختلاف پيدا ہوجائے گا۔

دوسرا طريقہ:روايات سے تمسك

دوسرا طريقہ يہ ہے كہ اس سلسلے ميں موجود روايات سے تمسك كيا جائے اس موضوع سے متعلق سب سے عمدہ روايات يہ ہيں:

پہلي روايت

الروايات التي ذكرت قولہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم”اللھم ارحم خلفائى: قيل، يارسول اللہ ومن خلفاؤك، قال: الذين ياتون من بعدي يروون حديثي و سنتي وزاد بعضھا، ثم يعلمونھا في بعض، فيعلمونھا الناس من بعدي۔(۱۱۲)

يہ روايت متعدد طريقوں سے نقل ہوئي ہے جس ميں رسول خدا كا يہ قول ذكر ہوا ہے ”اے خدا ميري خلفاء پر رحم فرما كہا گيا ! اے رسول اللہ آپكے خلفاء كون ہيں؟ آپنے فرمايا جو ميري بعدآئيں گے اور ميري حديث اور ميري سنت كو نقل كريں گے بعض روايات ميں اس جملے كا اضافہ ہے ”پھر ميري سنت كي تعليم ديں گے “جبكہ بعض روايات ميں يوں نقل ہوا ہے پھر ميرے بعد لوگوں كو ميري سنت كي تعليم ديں گے ۔

اگر يہ مان لياجائے كہ يہ تمام روايات سند كے اعتبار سے كامل ہيں (چونكہ ان كے باري ميں دعوي ہے كہ اس قسم كي روايات استفاضہ(۱۱۳) كي حد تك پہنچي ہوئي ہيں) ليكن پھر بھي ان كي دلالت كامل نہيں ہے كيونكہ ان روايات سے استدلال كے لئے زيادہ سے زيادہ يہ كہا جاسكتا ہے كہ ان سے خلافت مطلق (قيد و شرط كے بغير خلافت) ثابت ہوتي ہے لہذا جن كے باري ميں يہ شبہ ہو كہ كيا ان كو رسول خدا نے خلافت عطا فرمائي تھي يا نہيں تو وہاں پر ان روايات كے اطلاق سے تمسك كر كے ان كے لئے ولايت مطلقہ كو ثابت كيا جاسكتا ہے۔

اس بات كي طرف توجہ كرني چاہيئے كہ اطلاق ہميشہ شمول اور سرايت كا موجب بنتا ہے ليكن محمول ميں اطلاق جاري نہيں ہوسكتا (يعني اطلاق كبھي بھي محمول ميں شمول اور سرايت كا موجب نہيں بنتا) مثلا اگر كہا جائے زيد عالم، زيد عالم ہے تو يہ قضيہ اپنے اطلاق كے ذريعہ اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ ہر وہ چيز جس كے متعلق عالم ہونے كا احتمال ديا جائے زيد اس كا عالم ہے اگر كہا جائے فلاں شخص كي غذا نفع بخش ہے(۱۱۴) تو يہ جملہ تمام احتمالي منفعتوں كے ثبوت پر دلالت نہيں كرتا كيونكہ محمول كي حالت اس كے موضوع كي حالت كي طرح نہيں ہے جس ميں اطلاق جاري ہوتا ہے اور سرايت كا سبب بنتا ہے جب كہا جائے ”النار حارہ" آگ گرم ہے تو اطلاق كا تقاضہ يہ ہے كہ آگ كي تمام قسميں گرم ہيں ۔

اس سلسلے ميں تفصيلي گفتگو علم اصول ميں كي جاتي ہے وہاں مراجعہ كيا جائے ہماري اس بيان سے يہ واضح ہوجاتا ہے كہ ان روايات سے خلافت ثابت نہيں ہوتي اور جو خلافت ثابت ہوتي ہے وہ اجمالي ہے جس كا قدر متيقن يہ ہے كہ يہ خلافت تعليم و ارشادا و رراہنمائي كے سلسلے ميں ہے گويا يہ روايات راويوں، روايت اور راہنمائي و ارشاد كي عظمت كو بيان كررہي ہے اور اس روايت ميں اس عمل كو رسول خدا كي خلافت قرار ديا گيا ہے ۔

جب يہ روشن ہوگىا كہ كس نكتے كي بنياد پر محمول ميں اس معني كے ساتھ اطلاق نہيں ہوسكتا، تو اب اس بات كي ضرورت نہيں رہ گئي كہ كس قسم كي روايات (جن كا ذكر ابھي انے والا ہے) كے متعلق دلالت، سنداور متن كے اعتبار سے بحث كر كے كلام كو طولاني كيا جائے(۱۱۵) وہ روايات درج ذيل ہيں:

۱) رسول خداكا ارشاد گرامي ہے: ان العلماء ورثۃ الانبياء(۱۱۶) علما انبياء كے وارث ہيں ۔

۲) آپ كا ارشاد ہے: الفقہاء امناالرسل مالم يدخلوافي الدنيا(۱۱۷) فقہاء رسولوں كے امين ہيں جب تك كہ دنيا ميں داخل نہ ہوجائيں۔

۳) امام موسيٰ كاظم عليہ السلام كاقول ہے: ان المومنين الفقھاء حصون الاسلام كحصن سورالمدينۃ لھا(۱۱۸)

وہ مومن جو فقيہ ہوں اسلام كے محكم قلعے ہيں جس طرح پتھر كي ديوار شہر كے لئے محكم قلعہ ہوتي ہے۔

دوسري روايت

كتاب تحف العقول ميں يہ روايت ہے كہ:

عن سيد الشهداء حسين ابن علي عن اميرالمومنين علي عليه السلام وقد جاء فيها مجاري الامور والاحكام علي ايد العلماء بالله الامناء علي حلاله و حرامه (۱۱۹)

سيدالشھداء امام حسين عليہ السلام نے اميرالمومنين علي عليہ السلام سے نقل كيا ہے”تمام امورواحكام كي باگ ڈورعلماء رباني كے ہاتھوں ميں ہے جو كہ خدا كے حلال وحرام كے امين ہيں"

يہ روايت دلالت كے اعتبار سے عبدالواحد احمدي كي اس روايت سے زيادہ قوي ہے جسے انہوں نے اپني كتاب غرر الحكم ميں اميرالمومنين علي سے نقل كيا ہےآپنے فرمايا:عن اميرالمومنين عليه السلام قال ”العلماء حكام علي الناس (علماء لوگوں پر حاكم ہيں)(۱۲۰) يہ دونوں روايتيں سند كے اعتبار سے ناقابل عمل ہيں۔

بعض اوقات دوسري روايت كي دلالت ميں اشكال كيا جاتا ہے كہ روايت ميں لفظ حكام موضوع نہيں ہے بلكہ محمول واقع ہوئي ہے لہذا محمول ميں اطلاق كے جاري و ساري ہونے كا موجب نہيں بنے گا۔

اس اشكال كا جواب يہ ديا گيا ہے كہ جب خطاب كے وقت قدرمتيقن نہ پايا جاتا ہو اور اطلاق بدلي بھي معقول ہو ساتھ ہي ساتھ امر ان دو چيزوں كے درميان منحصر ہو اطلاق شمولي روايت مہمل ہو اور قضيہ بھي ايسا ہو كہ جس ميں فقط خبر نہ دي جارہي ہو بلكہ اس قضيہ ميں حكم بيان ہورہا ہو تو ايسي صورت ميں عرف اس سے اطلاق سمجھتا ہے ۔

يہ جواب قابل قبول نہيں ہے كيونكہ جو مقدار يقيني ہے وہ يہ ہے كہ فقہاء كو تطبيق ميں ولايت حاصل ہے مثلا اگر دولوگ ايك دوسري كے خلاف مقدمہ دائر كريں تو فقيہ كو يہ حق حاصل ہے كہ جو شخص حق پر نہ ہو اس پر حدود اور احكام كا نفاذ كرے فقيہ كو اس سے زيادہ ولايت حاصل نہيں ہے تاكہ وہ غير ضروري كو ضروري كرسكے يعني جو چيزعنوان اولي كے اعتبار سے غير ضروري ہو اسے ضروري قرار دے سكے كبھي يہ بھي اشكال كيا جاسكتا ہے كہ اتني مقدار (حدود و احكام كي تطبيق و نفاذ) بھي مقام خطاب ميں يقيني نہيں ہے

تيسري روايت

”ما رواه الكليني عليه الرحمة عن محمد بن يحيٰ عن محمد بن الحسين عن محمد بن عيسيٰ عن صفوان بن يحيٰ عن داؤد بن الحصين عمر بن حنظله قال: سئلت اباعبدالله عليه السلام عن رجلين من اصحابنا بينهما منازعة في دين اوميراث فتحاكما الي السلطان والي القضاة ايحل ذالك؟ قال: من تحاكم اليهم في حق او باطل فانما تحاكم الي الطاغوت ومايحكم فانما ياخذ سحتاوان كان حقا ثابتاً له لانه اخذه بحكم الطاغوت وما امر الله ان يكفربه قلت: فكيف يضعان؟ قال:

ينظر ان من كان منكم ممن قد روي حديثنا و نظر في حلالنا وحرامنا و عرف احكامنا فليرضوابه حكما فاني قد جعلته عليكم حاكما فاذا حكم بحكمنا فلم يقبل منه فانما استحف بحكم الله علينا رد والراد علينا الراد علي الله وهو علي حد الشرك بالله

شيخ كليني عليہ الرحمۃ نے محمد بن يحي سے انھوں نے محمد بن الحسين سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے انھوں نے صفوان بن يحيٰسے انھوں نے داؤد بن حصين سے اور انھوں نے عمر بن حنظلہ سے نقل كيا ہے، عمر بن حنظلہ كا كہنا ہے: ميں نے امام صادق عليہ السلام سے ہماري مسلك كے اصحاب كے باري ميں سوال كيا جن كے درميان قرض يا وراثت كے سلسلے ميں اختلاف ہو گيا تھا اور وہ دونوں اپنے شكايت حاكم وقت اور اس كے قاضيوں كے پاس لے گئے تھے تو كيا يہ كام جائز ہے؟ حضرت نے فرمايا: جس نے حق يا باطل ميں سے كسي كے لئے ان كي طرف رجوع كيا تو بيشك اس نے طاغوت كي طرف رجوع كيااور وہ (قاضي يا حاكم) جو حكم كرے گا اس حكم كے نتيجہ ميں حاصل ہونے والا مال ناحق اور ناجائز ہوگا۔اگر چہ حقيقتاً يہ مال اس شخص كا حق ہي كيوں نہ ہو كيونكہ اس نے طاغوت كے حكم كے ذريعے يہ مال حاصل كيا ہے، ميں نے كہا: پھر وہ كياكريں؟ حضرت نے فرمايا: وہ دونوں ڈھونڈتے كہ تم ميں سے جو ہماري احاديث كو نقل كرنے والا ہو ہماري حلال و حرام سےآگاہ ہو اور ہماري احكام كو جانتا ہو، تو اسے حاكم تسليم كرتے ميں نے اس شخص (ان صفات كے حامل مجتہد) كو تم لوگوں پر حاكم قرار ديا ہے، اگر وہ ہماے احكام كے مطابق فيصلہ كرے اور اس كا فيصلہ قبول نہ كيا جائے تو يہ حكم خدا كي اہميت كو كم كرنے اور ہماري بات كو رد كرنے اور ٹھكرانے كے برابر ہوگا اور جو ہميں ٹھكراي گا اس نے خدا كو ٹھكركيا اور جس نے خدا كو ٹھكركيا اس نے شرك اختيار كيا۔

اس روايت كو شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سند كے ساتھ محمد بن يحيٰ سے نقل كيا ہے اور انھوں نے محمد بن الحسن بن شمون سے اور انھوں نے محمد بن عيسي سے نقل كيا ہے۔(۱۲۱)

شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سند كے ساتھ محمد بن علي بن محبوب سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے اسي طرح نقل كيا ہے۔(۱۲۲) اوران تين سندوں ميں سے پہلي اور تيسري سند كامل ہے۔(۱۲۳)

روايت عمربن حنظلہ كي دلالت

پہلا استدلال

دلالت كي بحث ميں بعض اوقات حضرت كے قول ”فاني جعلتہ حاكما"كے اطلاق سے استدلال كيا جاتا ہے ليكن اس استدلال ميں وہي اشكال پايا جاتا ہے جو گذشتہ روايت ميں تھا وہ يہ كہ محمول ميں اطلاق جاري نہيں ہو تا (كيونكہ اطلاق شمول و عموم نہيں ركھتا) اور اگر قدر متيقن كو اخذ كيا جائے تو حديث كے موقع ومحل كو مد نظر ركھتے ہوئے يہ كہا جائے گا كہ ولايت كي يقيني مقدار يہ ہے كہ فقہاء كو باب قضاوت ميں اور نزاع و اختلاف كو حل مرنے كے سلسلہ ميں ولايت حاصل ہے ۔(۱۲۴)

دوسرا استدلال

بعض اوقات مذكورہ روايت سے استدلال كرتے وقت حضرت كے اس قول مبارك”فاذاحكم بحكمنا فلم يقبل منه فانما استخف بحكم الله“ كے اطلاق(۱۲۵) سے استفا دہ كيا جاتا ہے ليكن اس استدلال ميں يہ اعتراض ہے كہ عرف ميں اس بات كا احتمال پايا جاتا ہے كہ حضرت كے اس قول ”اذاحكم “جب وہ حكم كرے “ميں موجد ضمير ”ھو” اس حاكم كي طرف پلٹ رہي ہے جس كے پاس وہ دونوں افراد اپني شكايت اور اپنا مقدمہ لے كے گئے تھے۔

اس احتمال كے مطابق عرفي طورپر حضرت كے اس قول سے يہ مفہوم ليا جائے گا كہ ”جب وہ ہماري حكم كے ذريعے نزاع و اختلا ف كو حل كرے اور فيصلہ كرے اور اس كے فيصلہ كو قبول نہ كيا جائے تو يہ خدا كے حكم كو كم اہميت اور سبك شمار كرنے كے برابر ہے، اس طرح مذكورہ روايت سے فقيہ كے لئے ولايت مطلقہ كو ثابت نہيں كيا جا سكتا ۔(۱۲۶)

چوتھي روايت: "ما جاء في كتاب "اكمال الدين واتمام النعمة " عن محمدبن محمد بن عصام عن محمد بن يعقوب عن اسحٰق بن يعقوب قال: سالت محمد بن عثمان العمري ام يوصل لي كتابا سئلت في عن مسائل اشكلت على، فوردالتوقيع بخط مولاناصاحب الزمان عليه السلام: اما ما سئلت عنه ارشدك الله وثبتك الي ان قال: واماالحوادث الواقعه فارجعوا فيها الي رواة احاديثنا فانهم حجتي عليكم وانا حجة الله “ ۔

”اكمال الدين واتمام النعمۃ" ميں صاحب كتاب نے محمد بن محمد بن عصام سے انھوں نے محمد بن يعقوب سے انھوں نے اسحٰق بن يعقو ب سے نقل كيا ہے كہ وہ كہتے ہين: ميں نے محمد بن عثمان سے كہا كہ وہ ميري خاطر (يہ زحمت كريں كہ ميري) ايك خط كو پہچاديں جس ميں، ميں نے ان مسائل كے باري ميں سوال كيا تھا جو ميري لئے واضح نہيں تھے پھر ہماري موليٰ صاحب الزمان عليہ السلام كے دست مبارك سے تحرير كي ہوئي توتوقيع(۱۲۷) مجھ تك پہنچي (جس ميں لكھاتھا): اورجس چيز كے متعلق تم نے سوال كيا ہے خداوند تمہاري ہدايت كرے اور تمہيں ثابت قدم ركھےيہاں تك كہ حضرت نے فرمايا: اور پيش انے والے حوادث و واقعات ميں ہماري احاديث نقل كرنے والوں كي طرف رجوع كرو وہ تم پر ميري حجت ہيں اور ميں حجت خدا ہوں۔

اس روايت كو شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے كتاب ”الغيبۃ"ميں ايك جماعت سے نقل كيا ہے اور اس جماعت نے جعفر بن محمد بن قولويہ اور ابو غالب رازي سے نقل كيا ہے ۔ساتھ ہي ساتھ يہ روايت ان دو كے علاوہ دوسرون سے بھي نقل ہوئي ہے اور ان سب نے محمد بن يعقوب سے نقل كيا ہے اس روايت كو طبرسي نے بھي اپني كتاب ”الاحتجاج"ميں اطر ح نقل كيا ہے۔(۱۲۸)

اس روايت كي دوسري سند نقل كے اعتبار سے اسحاق بن يعقوب تك تقريباً يقيني ہے كيونكہ روايت كو ايك جماعت(۱۲۹) نے ايك دوسري جماعت(۱۳۰) سے اوراس جماعت نے شيخ كليني عليہ الرحمۃ سے نقل كيا ہے اور پہلي سند بھي اس كو اور قوي كر رہي ہے پس اس روايت كا شيخ كليني عليہ الرحمۃ سے نقل كيا جانا شخصي اطمينان كا باعث ہے ۔پھر شيخ كليني نے يہ روايت ايك شخص يعني اسحاق بن يعقوب كے واسطہ سے امام زمانہ عليہ السلام سے نقل كي ہے، سند ميں نقص يہ ہے كہ اسحاق بن يعقوب كا نام علماء رجال نے اپني كتابوں ميں نقل نہيں كيا ہے لہٰذا كيا يہ شخص مجہول الحال شمار كيا جائے گاجب كہ يہ شخصيت اتني عظيم الشان ہے كہ ان كے باري ميں شيخ كليني نے نقل كيا ہے كہ ان كے پاس امام زمانہ عليہ السلام كي توقيع مبارك آئي تھي۔لہٰذا اس صورت ميں اس جھوٹ اور كوتاہي كے باري ميں يوں بحث كي جائے گي ۔پہلي دفعہ اس شخصيت كے سلسلے ميں جھوٹ يا كوتاہي كا احتمال خود تو قيع كے صادر ہونے باري ميں ہے اور دسري دفعہ اس توقيع كے جملوں اور خصوصيات كے سلسلے ميں ہے ۔

ليكن پہلا فرضيہ بہت بعيد ہے كيونكہ يہ احتمال قابل توجہ نہيں ہے كہ شيخ كليني سے يہ بات چھپي رہي ہو كہ ان كے زمانے ميں كوئي شخص توقيع كا جھوٹا دعويٰ كررہا ہے، يعني توقيع كے باري ميں جھوٹے دعويٰ كا احتمال شيخ كليني كے لئے اس حد تك قابل اعتناء نہيں تھاكہ انھيں اس كے نقل كرنے سے روك ديتا، خصوصاً جب اس باب كو بھي ملحوظ خاطر ركھا جائے كہ معمولاً امام زمانہ عليہ السلام كي توقيع مبارك فقط خاص افراد كے لئے صادر ہو ئي تھى، كيونكہ اس وقت تك امام عليہ السلام كي غيبت كے زمانہ شروع ہو چكا تھا اور آپ معاشري اور خليفہ سے مخفي تھے، اس زمانے ميں تقيہ كي شدت كا يہ حال تھا كہ امام عليہ السلام نے لوگوں كے لئےآپكا نام لينا تك حرام قرار ديديا تھا، اگر چہ يہ حكم اس لئے تھا تاكہ لوگوں كي جان ومال كي حفاظت ہو سكے۔كيونكہ اگرامام عليہ السلام كا نام ليا جاتا تو اس شخص كو حاكم وقت كے پاس طلب كيا جاتا۔ان حالات ميں يہ بات كيسے تصور كي جاسكتي ہے كہ خاص افراد كے علاوہ كسي اور كے لئےآپكي توقيع مبارك صادر ہو؟! اور يہ كيسے فرض كيا جاسكتا ہے كہ شيخ كليني اپنے زمانے كے خواص كو عوام سے تميز دينے پر قادر نہيں تھے؟ يا يہ تصور كيسے ممكن ہے كہ خواص ميں سے كسي ايك كي طرف سے ايك مكمل توقيع جعل كي گئي ہو؟

كتاب ”الغيبۃ"ہي ميں ايك اور جگہ ص۲۲ ۰ پر اس حديث كي سند ذكر ہوئي ہے ليكن متن حديث كا ذكر نہيں ہے ۔اس سند ميں لفظ ”وغيرھما" كے بجائے لفظ”وابي محمد التلعكبري“ ذكر ہوئي ہے ۔يہ تينوں (جعفر بن محمد بن قولويہ ابو غالب رازي اور ابو محمد التلعكبري) ثقہ اور جليل القدر ہيں۔ليكن دوسري فرضيہ ميں جب يہ ثابت ہے كہ اصل نص (توقيع) كي بنا پر جھوٹ و بہتان پر نہيں تھي اور توقيع فقط خاص افراد كے لئے صادر ہوتي تھي تو پھر كيفيت نقل ميں كوتاہي عام طور پر درج ذيل صورتوں ہي ميں ممكن ہے:

(۱) توقيع ميں تبديلي كسي اہم ذاتي مصحلت كي وجہ سے كي گئي ہو، ليكن ہماري محبت ميں ايسي كسي مصلحت كا كوئي تصورنہيں ہے۔

(۲) نسيان يا شك و ترديد وغيرہ كي وجہ سے نقل كرنے ميں كوتاہي ہوئي ہو اور دقت سے كام نہ ليا گيا ہو، عام طور پر يہ چيز زباني نقل ميں پائي جاتي ہے ليكن اگر كتبي شكل ميں

نقل كيا جا ئے تو يہ چيز قابل تصور نہيں ہے، لہٰذا اب بڑے ہي اطمينان سے يہ دعويٰ كيا جا سكتا ہے كہ يقيناً اسحاق بن يعقوب نے اس روايت كے سلسلے ميں جھوٹ سے كام نہيں ليا، اوراس بات كا بھي يقين ہے كہ نہ تو اصل توقيع كے صادر ہونے ميں اور نہ ہي توقيع كي بعض خصو صيات ميں ايسا ہو اہے۔(۱۳۱) يہاں تك تو حديث كي سند كي كيفيت كے باري ميں بحث تھي۔

روايت كي دلالت: يہ روايت دلالت كے اعتبار سے كامل ہے كيونكہ عرف كي نگاہ ميں امام عليہ السلام كے اس جملے فانھم حجتي عليكم" ميں مناسبات مقام كي وجہ سے اطلاق پاياجاتا ہے، يعني امام عليہ السلام تمام ميدانوں اور تمام صورتوں ميں اہل بيت عليھم السلام كي حديث نقل كرنے والوں كي طرف رجوع كرنے كاحكم دے رہے ہيں ۔كيونكہ ارشاد وہدايت اور موقف عملي كي تعيين و تشخيص كے لئے امام كي طرف رجوع كيا جاتا ہے، اور يہ (راويان احاديث=فقہاء) امام عليہ السلام كي طرف سے لوگوں پر حجت ہيں ۔كيا اس كا مطلب (فقيہ كي) ولايت عامہ كے علاوہ كچھ اور ہو سكتا ہے؟(۱۳۲)

پانچويں روايت: يہ روايت اصول كافى ميں محمد بن عبداللہ (حميري) ومحمد بن يحي (عطار) سے نقل ہوئي ہے كہ جسے ان دونوں نے عبد ابن جعفر حميري سے نقل كيا ہے ۔عبد اللہ بن جعفر حميري كہتے ہيں:

ميں اور شيخ ابو عمر و عثمان بن سعيد عمري رحمۃ اللہ عليہ احمدبن عبد اسحاق كے پاس آئے ہوئے تھے اس وقت احمد بن اسحاق نے اشارہ كيا كہ ميں عثمان بن سعيد عمري سے امام عسكرے كا نائب و جانشين كے متعلق سوال كروں، ميں نے ان سے كہا: اے ابو عمرو!آپ سے ايك چيز كے باري ميں پوچھنا چاہتا ہوں البتہ جس چيز كے متعلق سوال كر رہا ہوں مجھے اس ميں كوئي شك وشبہ نہيں ہے، ميرا عقيدہ اور دين يہ ہے كہ زمين حجت خدا سے خالي نہيں رہ سكتي سوائے ان چاليس دنوں كے جو قيامت سے پہلےآئيں گے جب حجت خدا كو زمين سے اٹھا ليا جائے گا اور توبہ كا دروازہ بند ہو جائے گا، جو لوگ اس وقت تك ايمان نہيں لائے ہوں گے اور جنھوں نے ايمان كے ساتھ نيك عمل نہيں گئے ہوں گے ا ب ان كا ايمان لانا انھيں كوئي فائدہ نہيں پہنچائے گا، يہ لوگ خدا كي بد ترين مخلوق ہوں گے اور ان پر ہي قيامت برپا ہوگى ۔ميں يہ سوال صرف اپنے يقين ميں اضافے كي خاطر كر رہاہوں، ابراہيم عليہ السلام نے خدا سے درخواست كي كہ اے خدا!مجھے يہ دكھلا دے كہ تو كيسے مردوں كو زندہ كرتا ہے؟ خدا نے فرمايا: كيا تم (اس پر) ايمان نہيں ركھتے ہو؟ ابراہيم عليہ السلام نے فرمايا: (ايمان تو ركھتا ہوں) ليكن اطميان قلب كي خاطر (سوال كررہا ہوں) ۔

ميري لئے ابو احمد بن اسحاق نے امام علي نقي عليہ السلام سے نقل كيا ہے ۔احمد بن اسحاق كہتے ہيں ميں نے امام علي نقي عليہ السلام سے پوچھا: ميں كس سے رابطہ ركھوں؟ كس سے احكام وغيرہ لوں؟ اور كس كا قول قبول كروں؟ امام عليہ السلام نے فرمايا: عمري ميرا قابل اعتماد شخص ہے وہ جو كچھ ہماري طرف نسبت ديتے ہوئے تم تك پہنچائے گا وہ درحقيقت ہماري ہي طرف سے ہوگا اور ہماري طرف سے جو كچھ تم سے كہے گا وہ حقيقۃً ہماري ہي طرف سے ہوگا۔اس كي باتوں كو سنواور اس كي اطاعت كرو (كيونكہ) وہ ہماري نگاہ ميں قابل اعتماد اورامين ہے ۔

مجھے ابو علي نے بتايا ہے كہ انھوں نے امام حسن عسكرے عليہ السلام سے مندرجہ بالا سوال كئے تو امام حسن عسكرے عليہ السلام نے ابو علي كے جواب ميں فرمايا: عمري اور اسكا بيٹا قابل اعتماد ہيں، يہ دونوں ہماري طرف سے جو كچھ تم تك پہنچائيں (نقل كريں) وہ ہماري طرف سے پہنچاتے ہيں جو كچھ ہماري طرف سے تم سے كہتے ہيں وہ واقعاً ہماري طرف سے كہتے ہيں، ان دونوں كي بات غور سے سنو اور ان دونوں كي اطاعت كرو كيونكہ يہ دونوں قابل اطمينان اور امين ہيں، يہ آپ (عمري) كے باري ميں ان دواماموں كا ارشاد تھا جو دنيا سے رحلت فرماچكے ہيں، عبد اللہ بن حميري كہتے ہيں (يہ سن كر) ابو عمر وعثمان بن سعيد عمري روتے ہوئے سجدے ميں گر گئے، پھر مجھ سے كہنے لگے اپنا سوال بيان كرو، ميں نے ان سے كہا

كياآپنے امام حسن عسكرے عليہ السلام كے جانشين كو ديكھا ہے؟ انھوں نے كہا خدا كي قسم ميں نے ديكھا ہے ان كي مبارك گردن اس طرح ہے (انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ كيا) پھر ميں نے

ان سے كہا: فقط ايك سوال اور رہ گيا ہے انھوں نے كہا: بيان كرو ميں نے كہا: ان (امام عسكرے عليہ السلام) كے جانشين كانام كيا ہے؟ انھوں نے جواب ديا: ان كے نام كے باري ميں سوال كرنا تم لوگوں پر حرام ہے يہ بات ميں اپنے طرف سے نہيں كہہ رہا ہوں كيونكہ مجھے كسي چيز كو حلال يا حرام كرنے كا حق حاصل نہيں ہے، ميں يہ (حكم) خود امام زمانہ عليہ السلام كي طرف نقل كر رہاہوں، حاكم وقت كو يہ اطلاع ملي ہے كہ امام حسن عسكرے عليہ السلام اس دنيا سے رحلت كر چكے ہيں اور ان كي كوئي اولاد نہيں ۔

لہٰذا اس نے امام حسن عسكرے عليہ السلام كي ميراث تقسيم كر دي ہے، اس طرح انحضرت كي ميراث اس نے حاصل كي ہے جو حقدار(۱۳۳) نہ تھا، اس وقت حضرت كا خاندان در بدر ہے اور كسي ميں يہ جرات نہيں كہ ان كے سامنے اپنا تعارف كروائے يا ان تك كوئي چيز پہنچائے، اگر حضرت كا نام ليا جائے تو حاكم وقت انھيں ڈھونڈ ھنے لگے گا لہٰذا خدا كا تقويٰ اختيار كرو اور آپكا نام پوچھنے سے گريز كرو۔

شيخ كليني عليہ الرحمۃ فرماتے ہيں: ہماري اصحاب ميں سے ايك شيخ(۱۳۴) (جن كا نام ميں بھو ل گيا ہوں) نے ميري لئے نقل كيا ہے كہ ابو عمرو نے احمد بن اسحاق سے اس طرح كے سوال كئے تھے اور انھوں نے اسي طرح كے جواب ديئے تھے ۔(۱۳۵)

اس حديث كي سند تو اعليٰ درجے تك معتبر ہے ۔ (ليكن دلالت كے باري ميں ابھي بحث كي جائے گي)

روايت كي دلالت: روايت كي دلالت اس بات پرموقوف ہے كہ كلمہ ”اطعہ “ اس كي اطاعت كرو”اور "اطعھما" ان دو كي اطاعت كرو “سے عمري اور ان كے بيٹے كي اطاعت كو ان تمام صورتوں ميں واجب سمجھا جائے جب وہ كسي بھي طرح كا حكم ديں۔

امام عليہ السلام نے عمري اور ان كے بيٹے كي اطاعت كا حكم فقط اس صورت ميں نہيں ديا ہے كہ جب وہ امام عليہ السلام سے روايات نقل كررہے ہوں يا فقيہ ہونے كے اعتبار سے فتويٰ دے رہے ہوں، بلكہ امام عليہ السلام كا حكم اس فرضيہ كو بھي شامل كئے ہے كہ وہ جب بھي كسي چيز كا حكم ديں ان كي اطاعت واجب ہے اب وہ چاہے ولي امر كے طور پر حكم ديں يا حد اقل امام عليہ السلام كے نمايندے كے عنوان سے امر كريں كيونكہ اطاعت كا حقيقي مصدق روايت و فتويٰ ميں نہيں بلكہ حكم ميں جلوہ گر ہوتا ہے، اور پھر راوي يا مفتي (بعنوان راوي يا بعنوان مفتي) حكم دينے والا شمار نہيں ہوتا تاكہ اس كي اطاعت كي جائے بلكہ ہميشہ حاكم كو (بعنوان حاكم) امر كرنے والا شمار كيا جاتاہے ۔

امام كے اس قول "اطعہ يا اطعھما" كو روايت يا فتويٰ سے مخصوس كرنا، اطاعت كو مجازي اور ناقابل اعتنا معني سے مخصوص كرنے كے برابر ہے اوراس قسم كي تخصيص غير عر في ہے۔(۱۳۶)

اگر چہ فطري طور پر حديث ”عمرى" اور ان كے فرزند كے سلسلے ميں گفتگو ہوئي ہے ليكن چوں كہ روايت ميں حكم اطاعت كي يہ علت بيان كي گئي ہے كہ وہ دونوں ہماري نگاہ ميں قابل اعتماد ہيں اس لئے (ان كي اطاعت تم پر واجب ہے) لہٰذا اس تعليل كے قرينے سے روايت ميں مذكورہ حكم كو ان تمام فقہاء پر نافذ كيا جائے گا جو فہم اور نقل احكام ميں قابل اعتماد اور مورد اطمينان ہوں۔

اس تفصيلي بحث كے بعد بھي اگر كوئي يہ فرض كرے كہ ان روايات كے ذريعے ولايت فقيہ كو ثابت نہيں كياجا سكتا اور يہ كہے كہ ياتو سند كے اعتبار سے يہ روايتيں ضعيف ہيں يا پھر دلالت ميں نقص ہے ليكن پھر بھي در ج ذيل دوروشوں ميں سے كسي ايك كے ذريعے تو يقيناً ولايت فقيہ كو ثابت كيا جا سكتا ہے:

ولايت فقيہ كے اثبات كے لئے پہلي روش

واضح ہے كہ ہميشہ سے شيعوں كو ايك ايسے ولي كي شديد ضرورت رہي ہے جو ان كے امور كوآگے بڑھا ئے حتيٰ يہ ضرورت اسلامي حكومت كے قائم نہ ہونے كي صورت ميں بھي رہي ہے ہماري زندگي ميں متعدد ايسي صورتيں آتي ہيں جہاں حاكم شرعي كے حكم كي ضرورت محسوس ہوتي ہے، (چنانچہ واضح ہے) اگر يہ كہا جائے كہ فقيہ كا حكم صرف باب قضاوت اور باب شككيات يعني نزاع وغيرہ كے فيصلے كے باب ميں ہي نافذ ہوتا ہے تب بھي يہ ضرورتيں حكومت كے بغيرپوري نہيں ہو پاتيں اوران خلاؤں كو پر نہيں كرپاتے، اوراگر يہ فرض كر ليا جائے كہ بعض صورتوں ميں مؤمنين ہي ميں سے كسي ايك عادل شخص كو شرعي ولايت حاصل ہے جو ان كاموں كو انجام دے تو اگر اس فرض كو قبول كر بھي ليا جائے تب بھي يہ ضروريات پوري نہيں ہوتيں۔

اب وہ واحد نظر يہ جو ان خلاؤں كو پر كرنے كي صلاحيت ركھتا ہے اور جو روايات سے ان خلاؤں كو پر كرنے كے سلسلے ميں راہ حل كے طور پر سامنےآتا ہے (اگر چہ روايات ميں سند و دلالت كے اعتبار سے شكوك و شبہات پائے جاتے ہيں) وہ ہے ولايت فقيہ يا راويان حديث كي ولايت كا نظريہ ۔ان روايات كي سند كے متعلق اس وقت جو شكوك و شبہات پائے جاتے ہيں شايد وہ شبہات نص كے (صادر ہونے كے) زمانے ميں نہيں پائے جاتے تھے، اور اسي طرح دلالت كے متعلق پائے جانے والے شبھات بھي نص كے صادر ہونے كے زمانے ميں موجود نہيں تھے، كيونكہ وہ لوگ جس ماحول اور جن افكار كے درميان زندگي گذار رہے تھے ان كے پاس ايسے اطمينان بخش قرائن موجود تھے جو ان كو روايت كے مقصود كوسمجھنے ميں مدد ديتے تھے (ليكن اب وہ قرائن مفقود ہيں لہٰذا ان روايات كے مقصود كو سمجھنے ميں شكوك و شبہات پيدا ہو گئے ہيں)

اس حقيقت كے مقابلے ميں ہماري سامنے دو فرضيےآتے ہيں:

پہلا فرضيہ

شيعوں كے نزديك غيبت كے كيام ميں يا اس سے كچھ پہلے (ائمہ كي تعليمات كي بنياد پر) يہ بات بالكل واضح ہو چكي تھي كہ ايسي صورت حال ميں ائمہ اطہارعليہ السلام كا پسنديدہ نظريہ، يہي ولايت فقيہ، يا راويان حديث كي ولايت كا نظريہ ہے۔اگر چہ ہميں اتفاقيہ طور پر روايات كي سند ميں شك ہو گيا ہے اور قواعد كي رو سے روايات كو قبول نہيں كيا ہے ساتھ ہي ساتھ ہم نے يہ احتمال بھي ديا ہے كہ مثلا ًاسحاق بن يعقوب شايد خدا كے نزديك نيك مؤمنين ميں سے تھے يا پھر ہماري نظر ميں حديث كي دلالت اس لئے كامل نہيں

تھي كہ جب راوي مذكورہ حديث كو نقل كررہا تھاتو مثلا! اس پر غفلت طاري ہوگئي تھي لہٰذانتيجے ميں ہميں حديث كے متعلق شك ہونے لگا جس كي وجہ سے روايت كي دلالت كامل نہ ہو سكي يا يہ كہ ہم نص كےماحول اور قرائن كو محسوس نہيں كر سكے ۔

دوسرا فرضيہ

شيعہ زمانہ غيبت اس سے كچھ پہلے تك ائمہ اطہارعليھم السلام كي تعليمات سے ولايت فقيہ كا نظريہ نہيں سمجھ پائے تھے اس ميں كوئي شك نہيں كہ دوسرا فرضيہ بالكل باطل ہے، اگر ايسا ہوتا كہ شيعہ ائمہ اطہار عليھم السلام كي تعليمات سے ولايت كو نہ سمجھ چكے ہوتے تو شيعوں كي طرف سے غيبت صغريٰ ميں يا اس سے پہلے سوالوں كي بوچھاڑ ہو جاتي كہ امور حسبيہ اور ان احكام ميں، جن ميں ولي امر كي ضروري ہوتي ہے شيعوں كا مرجع كون ہوگا اور كس طرف رجوع كيا جائے گا ۔

اس كامطلب يہ ہے كہ ائمہ اطہارعليھم السلام كي طرف سے متعدد جواب موجود تھے جو ولايت فقيہ كے نظريے كے علاوہ كسي اور نظريے كي وضاحت كرتے تھے (اگر يہ نظريہ (ولايت فقيہ) درست نہيں تھا) تو فطري طور پر اس دوسري نظريے كے متعلق كچھ جوابات اور كچھ روايات ہم تك پہنچتيں اگر ان كي سندوں ميں ضعف ہي ہوتا يا دلالت ميں شك وشبہ پايا جاتا يا كم از كم بعض قديم فقہاء كے فتاويٰ ميں يہ نظريہ ملتا، جب كہ ہم ديكھتے ہيں كہ ولايت فقيہ كے علاوہ كوئي اور نظريہ دكھائي نہيں ديتا، اس سے دوسري فرضيہ كا بطلان واضح ہوجاتا ہے، اور پہلو فرضيہ ثابت ہو جاتا ہے اور يہي ہمارا مطلوب ہے ۔

ولايت فقيہ كے اثبات كے لئے دوسري روش

يہ بات ثابت ہو چكي ہے كہ فقيہ اجمالي طور پر ولي ہوتا ہے جيسے باب قضاوت ميں، كيوں كہ اس پر مقبولہ عمر بن حنظلہ دلالت كرتي ہے اسي طرح فقيہ كو فتويٰ اور تقليد كے سلسلے ميں بھي ولايت حاصل ہوتي ہے چنانچہ تقليد كے دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں فقط ان ہي امور ميں فقيہ كے لئے ولايت كا ثابت ہو جانا فقيہ كو ولي امر قرار دينے كے لئے كافي ہے، كيونكہ امام زمانہ عليہ السلام پردہ غيبت ميں ہيں، اور انحضرت كي طرف سے معين كيا ہوا كوئي ايسا نائب و وكيل بھي موجود نہيں ہے (جس كي آپنے نام بنا م تصريح كي ہو) نيز ولايت فقيہ كے علاوہ كوئي دوسر نظريہ بھي نہيں پايا جاتا ہے۔

اب جب فقيہ پر ولي امر كو عنوان آگيا تو فقيہ بھي خداوند متعال كے اس قول كے اطلاق(۱۳۷) ميں شامل ہو جائے گا كہ”اطاعت كرو اللہ كي اوراطاعت كرو رسول كي اور اپنے درميان سے صاحبان امر كي)(۱۳۸) لہٰذا اس صورت ميں فقيہ كے لئے عام ولايت ثابت ہو جائے گي ۔(۱۳۹)

ان دو روشوں كو ملانے والي راہ

ہماري لئے يہ بات ممكن ہے كہ ان دوروشوں كو يكجا كركے ايك ايسي روش بناديں جس سے ان دونوں روشوں ميں پايا جانے والا نقص دور ہو سكے، دوسري روش ميں اس نقص كا دعويٰ كيا جا سكتا ہے، كہ فقيہ كے لئے فقط منصب فتويٰ اور منصب قضاوت ثابت ہو جانے سے اسے ولي امر كہنے ميں شك و شبہ پايا جاتا ہے، جب كہ پہلي روش (آيندہ ذكر ہو نے والے نقص كے باوجود كہ اس ميں اطلاق كامل نہيں ہے) بے شك فقيہ كي حاكميت كے دائري كو وسعت عطا كرتي ہے، جب اس وسيع حاكميت كے دائري كو منصب فتويٰ كے ساتھ ضميمہ كيا جائے اور اس بات كو مد نظر ركھا جائے كہ امام زمانہ عليہ السلام پردہ غيبت ميں ہيں اور آپكي جانب سے كوئي نائب خاص بھي معين نہيں ہوا ہے تو كسي قسم كے اشكال كے بغيركم از كم ان دونوں كے مجموعے پر ولي امر كا عنوان صدق كرے گا اورجب اس مجموعے پر ولي امر صدق كرنے لگے لگا تو اسے مذكورہ آيہ مباركہ كے اطلاق ميں شامل كيا جا سكے گا۔

ليكن پہلي روش ميں يہ نقص پايا جاتا ہے كہ چوں كہ اس روش ميں معين لفظي دليل كے اطلاق سے تمسك نہيں كيا گيا ہے لہٰذا بعض اوقات كچھ صورتوں ميں شك وترديد باقي رہ جاتي ہے جسے اطلاق كے ذريعے برطرف نہيں كيا جا سكتا ۔ليكن جب اس آيہ مباركہ:( اطيعوا الله واطعيوا الرسول واولي الامرمنكم ) اطاعت كروخدا كي اوراطاعت كرو رسول كي اور صاحبان امر كي جو تم ميں سے ہوں”كا ضميمہ كر ديا جائے تو اطلاق لفظي مكمل ہو جاتا ہے اور تمام شكوك وشبہات زائل ہو جاتے ہيں۔

شرائط ولايت

گذشتہ بحثوں ميں سے يہ واضح ہو گيا كہ ولايت فقيہ كے لئے تين اہم دليليں ہيں ۔

(۱) اسحاق بن يعقوب كو توقيع ”پيش آنےوالے حوادث وواقعات ميں ہماري احاديث كے راويوں (فقہاء) كي طرف رجوع كرو۔

(۲) احمد بن اسحاق كي روايت جس ميں عمري اور ان كے بيٹے كي شان و شوكت بيان كرتے ہوئے عمري يا عمري اور ان كے بيٹے كي اطاعت كاحكم ديا گيا ہے، اوراس حكم ميں يہ علت (فلسفہ) بيان كي ہے كہ يہ دونوں قابل اطمينان اور لائق اعتماد ہيں۔

(۳) اس آيہ مباركہ( اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم ) (۱۴۰) ميں يہ فرض كرتے ہوئے كہ جب دوسرا ولي موجود نہ ہو كہ جس كي ولايت مطلق ہے (جيسے امام عليہ السلام) چوں كہ فقيہ كے لئے منصب فتويٰ، منصب قضاوت اور وسيع دائري ميں ولايت ثابت ہے لہٰذا فقيہ پر ولي امر كا عنوان صاد ق آتا ہے اب ہم ان تين دليلوں كي روشني ميں ولايت كي شرطوں كے باري ميں بحث كريں گے ولايت كي چار اہم شرطيں ہيں:

پہلي شرط؛ فقاہت

مذكورہ دليلوں ميں فقيہ كا عنوان ذكر نہيں ہوا ہے ليكن اس كے باوجود اس شرط كے ضروري ہونے ميں كوئي شبہ نہيں ہے كيوں كہ تينوں ہي دلائل كے ذريعہ اس شرط كي ضروري كو ثابت كيا جا سكتا ہے ۔

پہلي دليل كے مطابق ولي امر ميں فقاہت كي ضرورت

اس بات كو سمجھنے كے لئے اس امر پر بنا ركھني ہوگى كہ قرائن ومناسبات كے ذريعے امام عليہ السلام كے قول ”فارجعوا فيها الي رواة احاديثنا “ اور پيشانے والے حوادث و واقعات ميں ہماري احاديث كو نقل كرنے والوں (فقہاء) كي طرف رجوع كرو"۔سے عرف يہ سمجھتا ہے كہ امام عليہ السلام كے اس جملے ميں روايات نقل كرنے والوں سے مراد يہ ہے كہ وہ سب احكام و روايات كو سمجھتے ہوں نہ يہ كہ وہ سب فقط روايات كو حفظ كرتے ہوں اور الفاظ روايات كو نقل كرتے ہوں، اور نہ ہي روايات كي كتابيں حمل كرنے والے مرادہيں۔

دوسري دليل كے مطابق فقاہت كي ضرورت

دوسري دليل (روايت احمد بن اسحاق) سے درحقيقت درج ذيل تين امور سمجھے جاتے ہيں (جس طرح توقيع سے بھي يہي تين امور سمجھے جاتے ہيں):

۱) نقل روايت اور روايت كي حجيت

۲) فتويٰ كي حجيت

۳) منصب ولايت وقضاوت

امام عليہ السلام نے اس روايت ميں اس حكم كي يہ علت بيان كي ہے كہ عمري اور ان كے فرزند قابل اطمينان اور لائق اعتماد ہيں، ہم جانتے ہيں كہ كسي بھي چيز ميں قابل اعتماد ہونا خود اس چيز كے مطابق ہوتا ہے، لہٰذا حجيت روايت ميں وثاقت يہ ہے كہ راوي روايت نقل كرنے ميں ثقہ اور قابل اعتماد ہو اگر چہ فقيہ نہ ہو اور روايات سے حكم كو نہ سمجھ سكتا ہو۔جب كہ فتويٰ ميں وثاقت (قابل اعتماد ہونا) يہ ہے كہ فتويٰ دينے والا فقيہ ہو اوردلائل سے حكم شرعي كا استنباط كر سكے، اور قضاوت وفيصلہ اور ولايت كے استعمال ميں وثاقت كا تقاضا يہ ہے كہ شخص ايك طر ف سے موضوعات اور مصالح و مفادات كي بصيرت ركھتا ہو اور دوسري طرف سے حكم شرعي ميں بھي صاحب نظر ہو تب يہ شخص حكم (قضاوت) ميں ثقہ اور قابل اعتماد ہوگا، كيونكہ اگر اس ميں مندرجہ بالا دو صفات و خصوصيات پائي جاتي ہوں تو اس كے لئے كسي ماخذ كے تحت فيصلہ اورقضاوت كرنا سزاوار ہوگا، اب يہ واضح ہے كہ احكام شرعي ميں بابصيرت (صاحب نظر) ہونے سے ہماري مراد يہ ہے كہ شخص فقيہ ہو ۔

تيسري دليل كے اعتبار سے فقاہت كي ضرورت

تيسري دليل سے بھي ولي امر ميں فقاہت كي شرط كو ثابت كيا جاسكتا ہے يہ ممكن ہے كہ اس آيہ مباركہ( اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم ) ميں پايا جانے والا اطلاق ولي امر كے لئے فقاہت كي شرط كي نفي كرے كيونكہ آيہ مباركہ ميں ولي امر كو موضوع قرار ديا گيا ہے۔

ليكن وہ ولي امر كون ہے؟ اس سلسلے ميں آيت نے كچھ بيان نہيں كيا۔(۱۴۱)

ہم نے فرض كيا ہے كہ منصب قضاوت وفتويٰ اور وسيع دائري ميں ولايت كا ثابت ہونا (جو كہ آيت كے علاوہ كسي دوسري طريقے سے ثابت ہيں) زمانہ غيبت ميں فقيہ پر ولي امر كا عنوان صاد ق آنے كے لئے كافي ہے ۔اور جب فقيہ پر ولي امر صدق كرے گا تو وہ آيہ مباركہ كے موضوع ميں داخل ہو جائے گا، جب كہ غيرفقيہ كے لئے يہ امور (منصب فتويٰ، قضاوت ولايت) ثابت نہيں ہيں۔(۱۴۲)

دوسري شرط؛ صلاحيت ولياقت

(ولايت كي تين شرائط ميں سے دوسري شرط صلاحيت ولياقت ہے) اس ميں شبہ نہيں كہ مناسبات و قرائن كے ذريعے ولايت كے دلائل (خواہ ولايت فقيہ يا اولاد (كم سن) پر والد كي ولايت يا ان دو كے علاوہ كوئي اورولايت) كے اطلاقات سے عرف ميں يہ سمجھا جاتا كہ چونكہ ولايت كا اصلي ھدف تحت ولايت افراد كے نقائص كي تلافي ہے اور ولايت كا دائرہ تحت ولايت افراد كے مفادات كے تحفظ تك محدود ہے۔لہٰذا اس ھدف كا حصول اس وقت تك ممكن ہي نہيں ہے جب تك ولي اپنے دائرہ ولايت ميں لياقت و صلاحيت نہ ركھتا ہو اگر كوئي باپ اپني كم سن اولادكے امور كوانجام دينے كي صلاحيت نہ ركھتا ہو تو اس كي ولايت ان امور كے سلسلے ميں عملي نہيں ہوگى، اور اگر ايسي صورت ميں بھي والد كي ولايت كو عملي سمجھا جائے تو اس كامطلب يہ ہوگا كہ والد بچے كے مفادات ومصالح كو مد نظر ركھے بغير اس كے امور ميں ايسے تصرفات واقدامات كر سكتا ہے جو اس كے لئے نقصان دہ ہوں، مكمل طورپريہي صورت حال مسلمانوں كے امور ميں ولايت كي بھي ہے كہ جو شخص كسي بھي وجہ سے اس عظيم ذمہ داري (ولايت) كو نبھانے كي صلاحيت نہ ركھتا ہو اسے يہ حق حاصل نہيں ہے كہ اس ذمہ داري كو سنبھالے، لہٰذا اس قسم كي ولايت ميں ان تمام امور ميں صلاحيت كا ہونا ضروري ہے

جو امور اس ولايت كے تحقق ميں بنيادي نقش ادا كرتے ہيں، مثلاً علم وآگہى، حالات سے مطلع ہونا، توجہ، ذہانت، فراست، اور قوت فيصلہ وغيرہ، ہم پہلے ہي جان چكے ہيں كہ احمدبن اسحاق كي روايت ميں وثاقت (اعتماد) كي شرط كا ذكرہوا ہے اور فطري طور پر كسي بھي حكم ميں وثاقت كا تقاضا يہ ہے كہ آگاہي اور صلاحيت بھي پائي جاتي ہو۔(۱۴۳)

يہ روايت بھي اس شرط (وثاقت) كے ضروري ہونے كي تائيد كرتي ہے۔سدير نے امام باقر عليہ السلام سے روايت كي ہے كہ آپنے فرمايا: رسول خداصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: عہدہ امامت سزاوار و شائستہ نہيں ہے مگر ايسے شخص كے لئے جس ميں تين صفات پائي جائيں: ورع (تقويٰ و پر ہيزگاري) جو اسے معصيت پروردگار سے روكے، حلم جس كے ذريعے اپنے غصے كو قابو ميں ركھ سكے، اپنے تحت ولايت افراد پر اچھي طرح ولايت كرے تاكہ (ان كے لئے) مہربان والد كي طرح ہو۔(۱۴۴)

تيسري شرط؛ عدالت

ولايت كي شرائط ميں سے تيسري شرط عدالت ہے

روايت سے استفادہ ہوتا ہے كہ امام جماعت كے لئے عدالت شرط ہے جب نماز كي امامت كے لئے عدالت شرط ہے تو امت كي امامت، امت كے مسائل حل كرنے، امت كي تقدير بدلنے اور امت كے مقدرات ميں تصرف كرنے كے لئے كيا عدالت كي شرط نہيں ہوگى؟ !اسي طرح سدير كي گذشتہ روايت بھي اس شرط كي تائيد كرتي ہے۔

چوتھي شرط؛ مردہونا

ولايت كي چوتھي شرط يہ ہے كہ ولي مرد ہو

عورتوں كے سلسلے ميں ارشاد رب العزت ہے ”( اومن ينشو في الحليه وهو في الخصام غير مبين ) (۱۴۵)

ترجمہ آيت: كيا جس كو زيورات ميں لكيا جاتا ہے اور وہ جھگڑے كے وقت صحيح بات بھي نہ كر سكے“جب عورت كے متعلق اسلام كا نظريہ ہے كہ كہ وہ جھگڑ ے ميں صحيح فيصلہ نہيں كر سكتي تو ہم يہ احتمال نہيں دے سكتے كہ اسلام اس بات كي اجازت دے گا كہ عورت كو مسلمانوں كے امور ميں ولايت عطا كي جائے۔ شيعہ فقہاء كے درميان يہ بات مشہور يا متسالم عليہ (تسليم شدہ) ہے كہ قاضي كے لئے مرد ہونا شرط ہے اور نماز جمعہ و نماز جماعت عورت سے ساقط ہے، يہ مطالب مذكورہ روايات ميں بھي موجود تھے (حتيٰ اگر ان روايت كي سند صحيح نہ ہو) اس كے علاوہ باب شہادت (گواہي) ميں مرد و عورت مساوي نہيں ہيں بلكہ بعض اوقات دو عورتيں ايك مرد كے برابر ہيں ۔

يہ تمام اموراوران كےمانند دوسري امور ہميں (كم ازكم) يہ احتمال دينےپر مجبوركرتےہيں كہ ولايت فقيہ سےمتعلق تمام روايتيں صادرہونےكےزمانےميں اس وقت موجود دنيداروں كي ذہنيت كےمطابق عورت پر دلالت سےمنصرف ہيں اورعورت كو اپنے اندر شامل نہيں كئے ہيں، لہٰذااس صورت ميں اطلاق كايقين حاصل نہيں ہوگااوراصل عدم ولايت كو اس قرار ديا جائے گا۔(۱۴۶)

اس كے علاوہ قضاوت كے متعلق ابي خديجہ كي روايت سند كے اعتبار سے كامل ہے روايت يہ ہے: ”انظروا الي رجل منكم ليعلم شيئاًمن قضكيانا فاجعلوه بينكم قد جعلته قاضياً فتحاكمو اليه " اپنے درميان سے ايسے شخص كو تلاش كرو جو ہماري احكام و معارف كي معرفت ركھتا ہو اسے اپنے درميان فيصلے كے لئے منتخب كرو ميں نے اسے قاضي قرار ديا ہے اپنے اختلافات وغيرہ كے فيصلے كے لئے اس كي طرف رجوع كرو۔"(۱۴۷)

يہ روايت دلالت كرتي ہے كہ قضاوت اور طرفين كے درميان اختلاف كي صورت ميں فيصلہ كرنے كے لئے قاضي كا مرد ہونا ضروري ہے، اگر چہ روايت باب قضاوت سے متعلق ہے ليكن اس شرط كو وسعت دي جائے گي اور ہر اس منصب كے لئے اس شرط كو ضروري قرار ديا جائے گا جس منصب ميں قضاوت وحكم (فيصلہ) يكيا جاتا ہو اس تجاوز (شرط كو وسعت دينے) كي بنياد يا تو فہم عرفي ہے ياپھر يہ كہ ہم ان صورتوں كے درميان فرق كا احتمال نہيں ديتے كہ بعض موارد قضاوت ميں شرط معتبر ہو ليكن وہ منصب جس ميں قضاوت و حكم پايا جاتا ہو اس كے لئے يہ شرط معتبر نہ ہو۔

ليكن ان مطالب سے يہ نتيجہ اخذ نہيں كرنا چاہئے كہ عورت كے متعلق اسلام كا زاويہ نظر تحقيرآميز ہے يا اسلام نے عورت كے بعض حقوق كو پائمال كيا ہے، بلكہ اس فرق كي باز گشت تقسيم كار كے سر چشمہ كي طرف ہے، اورجو كام جس كے شكيان شان تھا اسكي طرف اسكي نسبت دي گئي ہے يعني اس كے سپرد كيا گيا ہے۔

اعلميت كي شرط

(دوسروں كي نسبت زيادہ علم والا ہونا)

ولايت و حكومت ميں اعلم ہونا، باب فتويٰ و تقليد ميں اعلم ہونے سے مختلف ہے۔باب فتويٰ ميں اعلم ہونے سے مراد يہ ہے كہ فقيہ دوسروں كي نسبت زيادہ عمدہ طريقے سے احكام شرعي كو ان كے دلائل سے استنباط كر سكتا ہو، جب كہ ولايت و حكم ميں اعلم ہونے كا مطلب فقط يہ نہيں كہ وہ احكام شرعي استنباط كرنے كے لئے دوسروں كي نسبت بہتر ذہنيت كامالك ہو بلكہ حكم كے لئے يہ بھي مؤثر اورضروري ہے كہ وہ سماجي حالات سے با خبر ہو نيز سماجي وسياسي بصيرت ركھتا ہو۔

ولايت فقيہ كے دلائل كے اطلاقات اعلم ہونے كي قيدسے خالي ہيں ليكن حكم ميں اس شرط كا اثر دو حكموں ميں اختلاف كي صورت ميں ظاہر ہوگا جس طرح فتويٰ ميں اس شرط كا اثر دو فتوؤں ميں ٹكراؤ كي صورت ميں ظاہر ہوتا ہے، كيونكہ دو فتوؤں يا دو حكموں ميں ٹكراؤ كي صور ت ميں اصل يہ ہے كہ دونوں فتوے يا دونوں حكم ساقط ہو جائيں گے ان ميں سے كوئي ايك فتويٰ يا حكم قابل اعتبار نہيں ہوگا، ليكن جب دو (فتويٰ دينے والوں يا حكم كرنے والوں) ميں سے ايك اعلم ہو اوراس كا مرتبہ دوسري سے بلند ہو (اعلم كا مرتبہ اس قدر بلند ہو كہ اختلاف كي صورت ميں يہ اختلاف و ٹكراؤ اعلم كي راي كو بے اعتبار اور ناقابل اعتماد نہ بنادے) تو اس صورت ميں اعلم كے فتويٰ كي حجيت بر قرار رہے گي چنانچہ اجتہاد و تقليد كي بحث ميں اس كي وضاحت موجود ہے يہ تو تھا دو فتوؤں ميں ٹكراؤ كا حكم ليكن اگر دوحكموں ميں ٹكراؤ پيدا ہو جائے تو اس كي دوصورتيں ہيں۔كبھي يہ ٹكراؤ ايسے حكم ميں ہے كہ جس ميں حكم شرعي كو معلوم (كشف) كرنے كا پہلو پايا جاتا ہے جيسے چاند (نظرآنے) كا حكم۔اور كبھي يہ اختلاف ايسے حكم ميں پيش آتا ہے جو حكم ولايت كو بروئے كار لاتے ہوئے فقط منطقہ فراغ كوپر كرنے كي غرض سے ديا جاتا ہے جيسے اشياء كي قيمتيں معين كرنا۔پہلي صورت ميں اعلم كي راي مقدم ہوگى بشرطيكہ اعلم اورغيراعلم كے درميان فرق واضح ہو۔اس حيثيت سے كہ اس ٹكراؤ كے باوجود اعلم كي راي پر اعتماد و بھروسہ برقرار رہتا ہے (اوريہ اختلا ف سلب اعتماد كا سبب نہيں بنتا) كيونكہ عرفي اعتبار سے اس ميں كاشفيت كا پہلو پايا جاتا ہے، جب كہ ايسے موقع پر غير اعلم كي راي لازمي اعتماد كو كھوديتي ہے۔

دوسري قسم ميں حكم غالباً(۱۴۸) اس ملاك كو كشف كرتا ہے جسے حاكم مورد حكم ميں لحاظ كرتا ہے، يہاں پر بھي اعلم كي راي مقدم ہوگى۔جب اعلم وغير اعلم كے درميان فرق كي مقدار بہت زيادہ ہوگى، كيونكہ غير اعلم كي راي لازمي اعتماد ووثوق سےعاري ہوجائےگي۔جب كہ اعلم كي راي پراعتمادووثوق برقرار رہےگا۔اور ہم گذشتہ بحثوں ميں يہ جان چكےہيں كہ ولايت كي دليل وثوق كي قيدسے مقيد ہوئي ہے(۱۴۹) يہاں پر ٹكراؤ كے باوجود اعلم كي راي قابل اعتماد اور لائق بھروسہ ہے، پس حجيت كي دليل فقط اعلم كي راي كو اپنے اندرشامل كرے گى، اور دونوں دليلوں كو حجيت كي دليل شامل نہيں كرے گي جس كي وجہ سے دونوں كے درميان (عالم وغيراعلم كي راي آپس ميں ٹكراؤ پيدا ہو جائے گا اور دونوں ساقط ہو جائيں گي اور كسي بھي راي كي پرواہ نہيں كي جائے گي ۔

ہم يہاں پر يہ اشارہ كرنا ضروري سمجھتے ہيں (اگر چہ انشاء اللہ تفصيلي بحث آيندہ ہوگى)، كہ عام طور پر اسلامي حكومت ميں حكام كے درميان حكم كے اعتبار سے كبھي ٹكراؤ نہيں پيدا ہوتا بلكہ جن فقہاء كے ہاتھ ميں امور (حكومت) كي باگ ڈور ہو ان پر عام حالات ميں واجب ہے كہ باہمي مشورت سے حاصل ہونے والے اتفاق راي كے ذريعے اعلم كي راي كو غير اعلم كي راي پر ترجيح ديتے ہوئے يا باقي طريقوں پر عمل كرتے ہوئے امت كے لئے متفقہ راي كے طورپر ايك ہي حكم كو پيش كريں كيونكہ عام طور پر امت كي مصلحت اس ميں ہے كہ جس راي كا اظہار كيا جائے وہ ايك اور متفقہ راي ہو۔اور ولي امر پر واجب ہے كہ وہ اپنے تحت ولايت افراد كے مصالح كو مد نظر ركھے۔

بيعت

مسئلہ بيعت كو دوطريقوں سے مورد بحث قرار ديا جاسكتا ہے۔

پہلا طريقہ

يہ فرض كيا جائے كہ بيعت ايك عہدو پيمان ہے جس كے ذريعے بيعت كئے جانے والے شخص كو ولايت حاصل ہو جاتي ہے اور اگر اس شخص كي بيعت نہ كي جاتي تو اس كو ولايت امت حاصل نہيں ہو سكتي تھي كيونكہ اس كي ولايت كے لئے بيعت كے علاوہ كوئي دوسري دليل نہيں ہے ہم جان چكے ہيں كہ ولايت، حكومت كي اساس وبنياد ہے ۔اور بيعت كے نافذ و با اثر ہونے كي بہترين دليل يہ آيہ كريمہ:

( يا ايها الذين آمنوا اوفوا بالعقود ) (۱۵۰) اے ايمان والو! اپنے عہدو پيمان كي پابندي كرو،

اور دوسري دليل وہ روايات ہيں جو شرط كو قابل نفاذ قرار ديتي ہيں جيسے:

عبد اللہ بن سنان كي روايت (رويه عبد الله بن سنان عن ابي عبدالله عليه السلام قال: المسلمون عند شروطهم، الاكل شرط خالف كتاب الله عز وجل فلا يجوز )(۱۵۱) جسے انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: مسلمان كو اپني شرائط كي پابندي كرني چاہئےآگاہ رہو ہر وہ شرط ناجائز ہے جو كتاب خدا كي مخالف ہو۔

اگر بيعت كي يہي تعريف كي جائے تو اس كي بازگشت اس عمومي معاہدہ كي طرف ہے جس كي بحث ہم پہلي فصل (جمہوريت) ميں كر چكے ہيں ہم نے وہاں عمومي معاہدہ پر جو اشكالات كئے تھے ان كا خلاصہ يہ ہے:

۱) اسلام ميں عہد و پيمان، معاہدہ يا شرط كسي حرام چيز كو حلال نہيں بنا سكتے اوربہت ساري اختيارات عطا كرنے كا سبب بھي نہيں بن سكتے جيسے حدود نافذ كرنے كا اختيار اور اسي طرح كے كچھ دوسري اختيارات جو اس شخص كے پاس اس قرارداد سے پہلے موجود نہ تھے، جب كہ جو ولايت تشكيل حكومت كي بنياد بننے كے لئے كافي ہے وہ ايسي عمومي ولايت عامہ ہے اوراس كا دائرہ اتنا وسيع كہ بعض اوقات ابتدائي طور پر حرام كام كو حلال قرار دينے كا حق بھي ركھتي ہے(۱۵۲) اور اس كے علاوہ بھي اس ولايت ميں بہت سے اختيارات پائے جاتے ہيں ہم اسلام ميں غورو خوض سے يہ بات درك كرتے ہيں كہ عہد و پيمان اور شرط، اسلام كے ابتدائي احكام كي حدود ميں نافذ وقابل اجراء ہيں اور يہ ولايت كے علاوہ ايك اور موضوع ہے۔

۲) اس عہد وپيمان يا شرط كو اس اقليت پر كيسے نافذ كيا جائے جو اس عہد وپيمان يا شرط كي موافق نہيں ہے؟

۳) جو شخص اس عہد وپيمان كے وقت موجود نہيں تھا اس كے متعلق كيا موقف اپنايا جائے جو اس عہد و پيمان كے وقت موجود نہيں تھا تاكہ اس كي طرف سے بھي اس كے حق ميں يہ عہد وپيمان كامل ہو، يا اس كے ولي كي طرف سے؟ !

۴) كتاب و سنت ميں ايسے دسيوں سوالات كا جواب مذكورنہيں ہے جو سوالات بيعت كي حدود و شرائط كے سلسلے ميں اٹھائے جاتے ہيں لوگوں كي كتني مقدار (تعداد) بيعت كے لئے كافي ہے تاكہ بيعت كے ذريعے مسلمانوں پر حكمراني ثابت ہو سكے، اوراختلاف كي صورت ميں كميت (مقدار) كے ذريعے ترجيح دي جائے گي يا كيفيت كے ذريعے اور اس كے علاوہ دوسري متعدد سوالات (جو تشنہ جواب ہيں)

بعض اوقات يہ ثابت كرنے كے لئے كہ بيعت (شخص كومسلمانوں پر ولايت عطا كرتي ہے، اور بيعت كا وفادر رہنا واجب ہے اور بيعت توڑنا حرام ہے، متعدد روايات سے تمسك كيا جاتا ہے۔

اگر يہ روايات سند ودلالت كے اعتبار سے صحيح ہوں تب بھي چوتھے اشكال كي وجہ سے ان سے يہ استفادہ نہيں كيا جا سكتا كہ بيعت، حكومت اسلامي كي بنياد و اساس بن سكتي ہے۔

اب وہ روايات بھي ملاحظہ ہوں:

۵) (عن ماجيلويه عن عمه عن هارون ابن زياد عن جعفر بن محمد عن ابيه عليهماالسلام: ان النبي قال: ثلاث موبقات: نكث الصفقه و ترك السنة وفراق الجماعة، وثلاث منجيات: تكف لسانك تبكي علي خطيئتك و تلزم بيتك )(۱۵۳)

كتاب خصال ميں جيلويہ سے نقل ہوا ہے انھوں نے اپنے چچا سے، انھوں نے ہارون سے انھوں نے ابن زياد سے انھوں نے جعفر بن محمد سے اور انھوں نے اپنے والد بزرگوار (امام باقر عليہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ: نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: تين چيزيں باعث ہلاكت ہيں، بيعت كا توڑنا، سنت كا ترك كرنا اور جماعت سے جدائي اختيار كرنا اور تين چيزيں باعث نجات ہيں زبان پر كنٹرول ركھو، اپني خطاؤں اور لغزشوں پر گريہ كرو اور اپنے گھر سے چپكے رہو (گھر ميں رہو)

۶) (عن عبدالله بن علي العمري عن علي بن الحسن عن علي بن جعفر عن اخيه موسيٰ قال: ثلاث موبقات عليه الرحمة نكث الصفقة، وترك السنة و فراق الجماعة )(۱۵۴)

انھوں نے عبد اللہ بن علي العمري سے انھوں نے علي بن الحسن سے انھوں نے علي بن جعفر سے اورانھوں نے اپنے بھائي موسيٰ عليہ السلام (امام كاظم عليہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: تين چيزيں باعث ہلاكت ہيں، بيعت كا توڑنا، سنت كا ترك كرنا اورجماعت سے جدائي اختيار كرنا ۔يہ دونوں ہي روايتيں سند كے لحاظ سے ضعيف ہيں۔

۷) (عن عدة اصحابنا عن احمد بن محمد عن ابن فضال عن ابي جميله عن محمد الحلبي عن ابي عبدالله عليه السلام قال: من فارق جماعة المسلمين و نكث صفقة الامام جاء الي الله تعاليٰ اجذم وفي بعض النسخ" صفقه الابهام ) ۔(۱۵۵)

اصحاب اماميہ كي ايك جماعت سے نقل ہوا ہے اور ان سب نے احمد بن محمد سے انھوں نے ابن فضال سے انھوں نے ابي جميلہ سے انھوں نے محمد حلبي سے اور انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: جس نے مسلمانوں كي جماعت سے جدائي اختيار كي اورامام كي بيعت توڑى، (قيامت كے دن) اللہ تعاليٰ كي بارگاہ ميں جذام كي بيماري ميں گرفتار حاضر ہوگا۔بعض نسخوں ميں ”صفقۃ الامام" كي بجائے "صفقہ الابھام" كياہے۔

بحار الانوار ميں ايك جگہ پر يہي روايت كافي كے حوالے سے اسي طرح نقل ہوئي ہے جس طرح ہم نے نقل كي ہے ۔(۱۵۶)

۸) (عن المحاسن عن ابن فضال عن ابي جميله عن محمد بن علي الحلبي عن ابي عبدالله عليه السلام قال: من خلع جماعة المسلمين قدر شبر خلع ربق الاسلام من عنقه و من نكث صفقه الامام جاء الي الله اجذم )(۱۵۷)

اور محاسن كے حوالے سے ابن فضال سے اس نے ابي جميلہ سے اس نے محمد بن علي حلبي سے اورحلبي نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: جس نے جماعت مسلمين سے ايك بالشت كے برابر جدائي اختيار كي اس نے اپنے گردم سے اسلام كي پيروي كا طوق اتارديا اورجس نے امام عليہ السلام كي بيعت كو توڑا خدا كي بارگاہ ميں جذام كے مرض ميں گرفتار حاضر ہوگا۔

توجہ رہے كہ علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ كي سند محاسن تك معلوم نہيں ہے ۔ليكن چوں كہ روايت اصول كافى ميں اس طريقے سے نقل ہوئي ہے جسےآپ جان چكے ہيں، لہٰذا محاسن تك علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ كي سند معلوم نہ ہونا قابل اہميت نہيں ہے۔

ہاں روايت كے سلسلہ سند ميں ابو جميلہ ہے جس كے معلق ابن غضائري كا كہنا ہے ”ضعيف، بہت زيادہ جھوٹ بولنے والا اورحديث گڑھنے والا ہے ہماري لئے احمد بن عبدالواحد نے نقل كيا ہے، احمد بن عبد الواحد كا كہنا ہے ہماري لئے علي بن محمد بن زبير نے نقل كيا ہے علي بن محمد بن زبير كا كہنا ہے كہ ہماري لئے علي بن فضال نے نقل كياہے ابن فضال كہتے ہيں ميں نے سنا معاويہ بن حكم كہہ رہا تھا ميں نے ابو جميلہ سے سنا ہے كہ ابي جميلہ كہہ رہا تھا ”محمد بن ابي بكر كے نام معاويہ كا خط ميں نے جعل كيا (گڑھا) ہے “توجہ رہے كہ (ابن غضائري كے ابو جميلہ كي تضعيف كرنے كي كوئي اہميت نہيں، نجاشي نے جابر بن يزيد جعفي كے حالات زندگي ميں كہا ہے ”اس سے ايك ايسي جماعت نے نقل كيا ہے جن كي صوت حال واضح نہيں ہے ان ميں سے عمر بن شمر اور مفضل بن صالح كو ضعيف قرار ديا گيا ہے“ شايد يہ عبارت اس پر دلالت نہيں كرتي كہ نجاشي نے شہادت دي ہو كہ ابي جميلہ مفضل بن صالح كے متعلق صحيح تضعيف موجود ہے۔

ابو جميلہ سے ان تين بزرگوں نے روايت نقل كي ہے جن كے متعلق شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے شہادت دي ہے كہ يہ تين افراد غير ثقہ سے روايت نقل نہيں كرتے وہ تين افراد احمد بن محمد بن ابي نصر بزنطى، صفوان بن يحييٰ، اور محمد ابي عمير ہيں، بہر حال خلفاء كے زمانے ميں صادر ہونے والي ان روايات سے عرفي طور پر يہ سمجھا جاتا ہے كہ مسلمانوں كي جماعت (مسلمانوں كي اكثريت جو خليفہ وقت كي پيروتھے) سے جدائي اور خليفہ كے ہاتھ پر كي گئي بيعت كو توڑنا جائز نہيں ہے۔

ہم جانتے ہيں كہ امام صادق عليہ السلام و امام كاظم عليہ السلام كے ہم عصر خلفاء كے متعلق شيعوں كے ائمہ عليہم السلام كاعقيدہ يہ تھا كہ يہ خلفاء، ظالم وجابراور خلفاء ناحق (باطل) ہيں، اور يہ كہ ان خلفاء كي بيعت كو توڑنا مسلمانوں كي جماعت كي مخالفت كرنا اورامام معصوم عليہ السلام كي موجودگي ميں امكان كي صورت ميں امام معصوم عليہ السلام كي طرف رجوع كرنا حرام نہيں ہے۔

پس اگر يہ روايات ائمہ اطہارعليہم السلام سے صادر ہوئي ہوں تو حتما بعنوان تقيہ صادر ہوئي ہيں يا يہ كہ حالت تقيہ ميں صادر ہوئي ہيں يا يہ حكم بعنوان تقيہ ہے كہ ظاہري طور پر خليفہ كي بيعت پر باقي رہو اور جماعت مسلمين سے جدائي اختيا ر نہ كرو، عرفي طور پر ان روايات كو ايسے معني پر منطبق نہيں كيا جاسكتا ہے جو معنيٰ خليفہ كي بيعت كو توڑنے اور مسلمانوں كي جماعت (اكثريت) سے جدائي كو شامل نہ ہو، ہاں ان روايات كي حقيقي تاويل اور ان كا واقعي معني كچھ اور ہے، ليكن بنا بر فرض ظاہر احاديث سے استدلال كرنا حجيت سے ساقط ہے۔بعض سند كے اعتبار سے ضعيف روايات ميں جماعت كي يہ تاويل ذكر ہوئي ہے كہ جماعت سےمراداہل حق كي جماعت ہے، جيسےكتاب (بحارالانوار) ميں متعدد روايات موجود ہيں:

۹)مانقله عن امالي لصدوق عن الهمداني عن علي عن ابيه نصر بن علي الجهضمي عن علي بن جعفر عن اخيه موسيٰ عن ابائه قيل يا رسول الله وماجماعة المسلمين؟ قال: جماعة اهل الحق و ان قلوا ۔(۱۵۸)

علامہ مجلسي نے امالي شيخ صدوق عليہ الرحمۃ كے حوالے سے، ہمداني سے اس نے علي سے اس نے اپنے والد سے اس نے نصر ابن علي جہضمي سے اس نے علي ابن جعفر سے انھوں نے اپنے بھائي موسيٰ (امام كاظم عليہ السلام) سے اور آپنے اپنے اباء و اجداد سے نقل كيا ہے كہ رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: جس نے مسلمين كي جماعت سے جدائي اختيار كي اس نے اپنے گردن سے اسلام كاہار (پھندا) اتارديا پوچھا گيا يا رسول اللہ مسلمين كي جماعت سے مراد كيا ہے؟ آپ نے فرمايا: اہل حق كي جماعت اگر چہ كم ہي كيوں نہ ہو، ابن برقي نے محاسن ميں اپنے والد سے اسي طرح كي روايت نقل كي ہے ۔

۱۰)مانقله عن معاني الاخبار للشيخ الصدوق عليه الرحمة عن ابيه عن سعد عن البرقي هارو بن الجهم دن حفص بن عمر بن ابي عبدالله عليه السلام قال: سئل رسول الله ٴعن جماعة امته فقال: جماعة امتي اهل الحق وان قلوا جيسے علامہ مجلسي نے شيخ صدوق كي كتاب معاني الاخبار سے نقل كيا ہے شيخ صدوق نے اپنے والد سے انھوں نے سعد سے انھوں نے برقي سے انھوں نے ہارون ابن جہم سے انھوں نے حفص بن عمر سے اور انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سےآپكي امت كے باري ميں پوچھا گيا توآپنے فرمايا: ميري امت كے جماعت (سے مراد) اہل حق كي جماعت ہے اگر كم ہي كيوں نہ ہوں ۔يہي روايات ابن برقي نے اپني كتاب ”المحاسن" ميں اپنے والد سے اور انھوں نے ہارون سے نقل كي ہے۔(۱۵۹)

۱۱)ما نقله ايضاً عن معاني الاخبار للشيخ الصدوق عليه الرحمة عن ابي عن سعد عن البرقي ابي يحي الواسطي عن عبدالله ابن يحي بن عبدالله العلولي رفعه قال: قيل يا رسول الله ما جماعة امتك ؟ قال: من كان علي الحق و ان كانوا عشره ۔

يہ روايت بھي علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ نے شيخ صدوق كي كتاب معاني الاخبار سے نقل كي ہے شيخ صدوق نے اپنے والد سے انھوں نے سعد سے اس نے برقي سے اس نے ابي يحي واسطي سے اس نے عبد اللہ ابن يحي بن عبد اللہ علوي اور اس نے حديث مرفوع

كے طور پر نقل كيا ہے: كہا گيا يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم آپكي امت كي جماعت سے مرادكيا ہے؟ آپنے فرمايا: جو حق پر ہوں اگر چہ ان كي تعداد كم ہي كيوں نہ ہو۔(۱۶۰)

۱۲)مانقله ايضاْ عن معاني الاخبار للشيخ الصدوق عن ابيه عن سعد عن البرقي عن الحجال عن ابن ابي حميد رفعه قال: جاء رجل الي امير المؤمين عليه السلام فقال: اخبرني عن السنة والبدعه وعن الجماعه وعن الفرقةفقال امير المؤ منين عليه السلام: السنة ما سن رسول الله والبدعهما حدث من بعده والجماعه اهل الحق وان كانوا قليلاً و الفرقة اهل الباطل وان كانوا كثيراً ۔

يہ روايت بھي علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ نے شيخ صدوق كي كتاب معاني الاخبار سے نقل كي ہے، شيخ صدوق نے اپنے والد سے انھوں نے سعد سے انھوں نے برقي سے انھوں نے حجال سے انھوں نے ابن ابي حميد سے اور انھوں نے چندواسطہ حذف كرتے ہوئے نقل كيا ہے: امير المؤمنين كے پاس ايك شخص كيا اور كہا: مجھے سنت، بدعت، جماعت، اور فرقہ (گروہ) كے متعلق بتايئے اميرالمؤمنين نے فرمايا: سنت وہ ہےجس كي بنياد رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ركھى، بدعت وہ ہے جو رسول خدا كے بعد (دين كے طورپر) ايجاد كي جائے، جماعت سے مراد اہل حق ہيں خواہ كم ہي كيوں نہ ہوں اور فرقہ سے مراد اہل باطل ہيں اگرچہ زيادہ ہي كيوں نہ ہوں۔(۱۶۱)

دوسرا طريقہ

(بيعت سے متعلق بحث كا دوسرا طريقہ)

يہ دعويٰ كيا جائے كہ ہم يہ فرض نہيں كرتے ہيں كہ جس صورت ميں ولايت موجود نہ ہو وہاں پر بيعت ولايت كو ايجاد كرتي ہے بلكہ ہمارا عقيدہ ہے كہ ولايت (جس صورت ميں دليل كے ساتھ ولايت ثابت ہو) كو بروئے كار لانے كے لئے بيعت شرط ہے، مثلاً ہم ولايت فقيہ كو گذشتہ دلائل كي روشني ميں قبول كرتے ہيں ليكن ہم كہتے ہيں كہ جس فقيہ كے ہاتھ پر امت نے اس لئے بيعت كي ہو كہ وہ ان كے امور كي باگ ڈورسنبھالے اوريہ كہ اس كے احكام كي اطاعت كريں تو اس فقيہ كي ولايت عملي ہوگى اور جن امور ميں اس كي بيعت كي گئي ہے صرف انہي امور ميں اس كي ولايت عملي قرار پائے گي ۔

مثلاً بعض اوقات فقط جھگڑے ونزاع كے فيصلے كي حد تك فقيہ كي بيعت كي جاتي ہے تو ان ہي حدود ميں فقيہ كي ولايت عملي ہوگى جيسا كہ مقبولہ (عمر بن حنظلہ) ميں امام كا قول ہے: ”يہ دونوں ديكھيں گے كہ تم ميں سے جو شخص ہماري حديث نقل كرتا ہے اور ہماري حلال و حرام سےآگاہ ہے اور ہماري احكام كي معرفت ركھتا ہے اسے فيصلہ كرنے والاقرار دينے پر راضي ہو جاؤ"يعني وہ تب قاضي بنےگا جب يہ دونوں اسے اختيار اور رضامندي سے اپنے لئے قاضي منتخب كرليں حديث ميں دوسري لفظوں ميں اس مطلب كو بيان كيا گيا ہے كہ اس كا فيصلہ نافذ ہونے كے لئے اس كي بيعت كي جارہي ہے ۔

بعض اوقات فقيہ كے ہاتھ پر بيعت تمام امور اور ساري واقعات وحوادث كے لحاظ سے كي جاتي ہے اس صورت ميں اس كے لئے تمام امورميں ولايت ثابت ہوگى ۔اس سلسلے ميں امام زمانہ عليہ السلام نے تو قيع شريف ميں فرمايا ہے ” پيش آنے والے حوادث وواقعات ميں ہماري احاديث كے راويوں كي طر ف رجوع كرو"فقيہ كو اختيار كرنے اور اسكي بيعت كرنے كو رجوع كي تعبير كے ذريعے بيان كياگيا ہے۔

احمد بن اسحاق كي روايت ميں سائل كا سوال يہ تھا كہ كس كي طرف رجوع كيا جائے اور كس كي راي پر عمل كيا جائے، اس سوال كا مطلب يہ ہے كہ سوال كرنے والا تحقيق و جستجو كر رہا ہے كہ كس كي طرف رجوع كيا جائے اور اسے ولي كے طور پر اختيار كيا جائے تاكہ وہ اس كے وظائف معين كرے، امام نے يہ كہتے ہوئے عمري اوران كے بيٹے كي طرف سوال پوچھنے والے كي راہنمائي كى: ”ان دونوں كي بات غور سے سنو اور ان كي اطاعت كرو يہ دونوں قابل اطمينان اور لائق اعتماد و بھروسہ ہيں" البتہ يہ روايت اس بات پر دلالت نہيں كرتي كہ قابل اعتماد فقيہ كے اوامرو احكام ہر شخص پر نافذ ہوتے ہيں حتيٰ اگر كوئي شخص اسے اختيار نہ كرے اوراس پر اس كي بيعت نہ بھي كرے ۔

(ولايت كے لئے) بيعت كي شرط كو ثابت كرنے كے لئے يہ شاہد لكياجاتا ہے كہ رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے سے لے كر خلفاء راشدين كے زمانے تك بلكہ ان كے بعدآنے والے خلفاء كے زمانے ميں بھي مسلمانوں كي مسلسل سيرت رہي ہے كہ وہ سب رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي اور خلفاء كي بيعت كرتے تھے۔

البتہ وہ مصداق جسے وہ بيعت كے لئے اختيار كرتے تھے بعض اوقات صحيح تھا جيسے رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اميرالمؤمنين عليہ السلام، امام حسن عليہ السلام، امام حسين عليہ السلام، امام رضا عليہ السلام كي بيعت ميں نظرآتا ہے (يہ بيعت كے صحيح مصداق تھے) ۔جب كہ بعض اوقات وہ مصداق صحيح نہيں تھا جسے بيعت كے لئے اختيار كرتے تھے۔ليكن ہماري بحث مصاديق كے صحيح يا خطاء ہونے كے متعلق نہيں ہے۔

رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بيعت بعض اوقات محدود حد تك تھي جو جنگ كو اپنے اندر شامل نہيں كئے تھي اوربعض اوقات وسيع تھي جو جنگ كو بھي اپنے اندر شامل كر ليتي تھى، يہ بيعت اپني حدود ميں نافذ ہے ۔عورتوں كا رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ہاتھ پر بيعت كرنا پہلي قسم ميں سے تھا (يعني ان كي بيعت ميں جنگ شامل نہ تھي)

ارشاد رب العزت ہے:( ياايهَا النَّبِي إِذَا جَائَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يبَايعْنَكَ عَلَي انْ لاَيشْرِكْنَ بِاللهِ شَيئًا وَلاَيسْرِقْنَ وَلاَيزْنِينَ وَلاَيقْتُلْنَ اوْلاَدَهُنَّ وَلكياتِينَ بِبُهْتَان يفْتَرِينَهُ بَينَ ايدِيهِنَّ وَارْجُلِهِنَّ وَلاَيعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايعْهُنَّ وَاستَغْفِرْ لَهُنَّ اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) (۱۶۲)

اے پيغمبر!اگر ايمان لانے والي عورتيں آپكے پاس اس امر پر بيعت كرنے كے لئےآئيں نہ كسي كو خدا كا شريك نہيں بنائيں گي اور چوري نہيں كريں گى، زنا نہيں كريں گے، اولاد كو قتل نہيں كريں گي اور اپنے ہاتھ پاؤں كے سامنے سے كوئي بہتان (لڑكا) لے كر نہيں آئيں گي اور كسي نيكي ميں آپكي مخالفت نہيں كريں گي توآپ ان سے بيعت كا معاملہ كر ليں اوران كے حق ميں استغفار كريں كہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

بيعت شجرہ (يابيعت رضوان) دوسري قسم ميں سے تھي يعني اس كا دائرہ وسيع تھا لہٰذا اس بيعت ميں جو جنگ بھي شامل تھي۔

خداوندمتعال كا ارشاد گرامي( إِنَّ الَّذِينَ يبَايعُونَكَ إِنَّما يبَايعُونَ اللهَ يدُ الله فَوْقَ ايدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّما ينْكُثُ عَلَي نَفْسِهِ وَمَنْ اوْفَي بِما عَاهَدَ عَلَيهُ الله فَسَيؤْتِيهِ اجْرًا عَظِيما ( ۱۰ ) سَيقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنْ الْاعْرَاب شَغَلَتْنَا امْوَالُنَا وَاهْلُونَا فَاستَغْفِرْ لَنَا يقُولُونَ بِالْسِنَتِهِمْما لَيسَ فِي قُلُوبِهِمْ قُلْ فَمَنْ يمْلِكُ لَكُمْ مِنْ الله شَيئًا إِنْ ارَادَ بِكُمْ ضَرًّا اوْ ارَادَ بِكُمْ نَفْعًا بَلْ كَان اللهُ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ( ۱۱ ) بَلْ ظَنَنْتُمْ انْ لَنْ ينْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَي اهْلِيهِمْ ابَدًا وَزُينَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنْتُمْ قَوْما بُورًا ( ۱۲ ) وَمَنْ لَمْ يؤْمِنْ بِالله وَرَسُولِهِ فَإِنَّا اعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا ( ۱۳ ) وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماوَاتِ وَالْارْضِ يغْفِرُ لِمَنْ يشَاءُ وَيعَذِّبُ مَنْ يشَاءُ وَكَان اللهُ غَفُورًا رَحِيما ( ۱۴ ) سَيقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَي مَغَانمَ لِتَاخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ يرِيدُونَ انْ يبَدِّلُوا كَلَامَ الله قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ الله مِنْ قَبْلُ فَسَيقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا بَلْ كَانوا لاَيفْقَهونَ إِلاَّ قَلِيلًا ( ۱۵ ) قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنْ الْاعْرَاب سَتُدْعَوْنَ إِلَي قَوْمٍ اوْلِي بَاسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ اوْ يسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يؤْتِكُمْ الله اجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَما تَوَلَّيتُمْ مِنْ قَبْلُ يعَذِّبْكُمْ عَذَابا الِيما ( ۱۶ ) لَيسَ عَلَي الْاعْمَي حَرَجٌ وَلاَعَلَي الْاعْرَجِ حَرَجٌ وَلاَعَلَي الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَمَنْ يطِعْ الله وَرَسُولَهُ يدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْانْهَارُ وَمَنْ يتَوَلَّ يعَذِّبْهُ عَذَابا الِيما ( ۱۷ ) لَقَدْ رَضِي الله عَنْ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يبَايعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ ما فِي قُلُوبِهِمْ فَانْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيهِمْ وَاثَابهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ( ۱۸ ) وَمَغَانمَ كَثِيرةً ياخُذُونَهها وَكَان الله عَزِيزًا حَكِيما ) (۱۶۳)

بيشك جو لوگ آپكي بيعت كرتے ہيں وہ در حقيقت اللہ كي بيعت كرتے ہيں اور ان كے ہاتھوں كے اوپر اللہ ہي كا ہاتھ ہے اب اس كے بعد جو بيعت توڑ ديتا ہے وہ اپنے ہي خلاف اقدام كرتا ہے اور جو عہد الٰہي كو پورا كرتا ہے خدا عنقريب اس كو اجر عظيم عطا كرے گا عنقريب يہ پيچھے رہ جانے والے گنوارآپسے كہيں گے كہ ہماري اموال اور اولاد نے مصروف كر ليا تھا لہٰذاآپ ہماري حق ميں استغفار كرديں، يہ اپني زبان سے وہ كہہ رہے ہيں جو يقينا ان كے دل ميں نہيں ہے توآپ كہہ ديجئے كہ اگر خدا تمہيں نقصان پہنچانا چاہے يا فائدہ ہي پہنچانا چاہے تو كون ہے جو اس كے مقابلہ ميں تمہاري امور كا اختيار ركھتا ہے حقيقت يہ ہے كہ اللہ تمہاري اعمال سے خوب باخبر ہے اصل ميں تمہارا خيال يہ تھاكہ رسول اورصاحبان ايمان اب اپنے گھر والوں تك پلٹ كر نہيں اسكتے ہيں اوراس بات كو تمہاري دلوں ميں خوب سجاديا گيا تھا اورتم نے بدگماني سے كام ليا اور تم ہلاك ہو جانے والي قوم ہو اور جو بھي خدا اور رسول پر ايمان نہ لائے گا ہم نے ايسے كافرين كے لئے جہنم كا انتظام كر ركھا ہے اور ا للہ ہي كے لئے زمين واسمان كا ملك ہے وہ جس كو چاہتا ہے بخش ديتا ہے اور جس پر چاہتا ہے عذاب كرتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے عنقريب يہ پيچھے رہ جانے والے تم سے كہيں گے جب تممال غنيمت لينے كے لئے جانے لگو گے كہ اجازت دو ہم بھي تمہاري ساتھ چلے چليں يہ چاہتے ہيں كہ اللہ كي كلام كو تبديل كريں تو تم كہہ دوكہ تم لوگ ہماري ساتھ نہيں اسكتے ہو اللہ نے يہ بات پہلے سے طے كر دي ہے پھر يہ كہيں گے كہ تم لوگ ہم سے حسد ركھتے ہو حالانكہ حقيقت يہ ہے كہ يہ لوگ بات كو بہت كم سمجھ پاتے ہيںآپ ان پيچھے رہ جانے والوں سے كہہ ديں كہ عنقريب تمہيں ايك ايسي قوم كي طرف بلكيا جائے گا جو انتہائي سخت جنگجو قوم ہوگى كہ تم ان سے جنگ ہي كرتے رہو گے يا وہ مسلمان ہو جائيں گے تو اگر تم خدا كي اطاعت كرو گے تو وہ تمہيں بہترين اجر عنايت كرے گا اوراگر پھر منھ پھير لوگے جس طرح پہلے كيا تھا تو تمہيں دردناك عذاب كے ذريعے سزا دے گا اندھےآدمي كے لئے كوئي گناہ نہيں ہے، اور لنگڑےآدمي كے لئے بھي كوئي گناہ نہيں ہے۔اورمريض كي بھي كوئي ذمہ داري نہيں ہے اور جوا للہ اور اس كے رسول كي اطاعت كرے گا خدا اس كو ايسي جنتوں ميں داخل كرے گا جن كے نيچے نہريں جاري ہوں گى، اور جو روگرداني كرے گا وہ اسے دردناك عذاب كي سزاد ے گا

يقينا خدا صاحبان ايمان سے اس وقت راضي ہو گيا جب وہ درخت كے نيچےآپكي بيعت كر رہے تھے پھر اس نے وہ سب كچھ ديكھ ليا جو ان كے دلوں ميں تھا تو ان پر سكون نازل كرديا اور انہيں اس كے عوض قلبي فتح عنايت كر دي اور بہت سے منافع بھي دے ديئے جنھيں وہ حاصل كريں گے اوراللہ ہر ايك عذاب پر غالب آنے والا اور صاحب حكمت ہے ۔

ہاں معصوم كي بيعت (جيسے نبي كريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اورامام معصوم عليہ السلام) اس وقت واجب عيني ہوجاتي ہے جب وہ بيعت طلب كريں ليكن فقيہ كي بيعت واجب عيني نہيں ہے حتي اگر وہ مطالبہ بھي كرے، كيونكہ شريعت نے تمام فقہاء كے لئے ولايت قرار دي ہے اس كا مطلب يہ ہے كہ امت كو معين كرنے كا حق حاصل ہے وہ جسے بھي منتخب كرے ۔

لہٰذا ولايت فقيہ كي دليل اور ولايت كے عملي ہونے ميں بيعت كي دخالت كي دليل كو ملانے كي يہ صورت ہے كہ امت اپنے ولي امر كو بيعت كے ذريعے منتخب كرتي ہے ليكن امت پرواجب ہے كہ اپنے انتخاب ميں فقہاء كے دائرہ سے خارج نہ ہو۔

اشكال

ہماري اعتبار سے بيعت كو اس طرح پيش كرنا بھي صحيح نہيں ہے، احمد بن اسحاق كا يہ سوال كہ ”كس كے ساتھ معاملہ كيا جائے (كس كي طرف رجوع كيا جائے) اور كس كے امر كو بجالكيا جائے“ رغبت اور تمايل كے علاوہ كسي اور چيز پر دلالت نہيں كرتا تاكہ ان كے لئے واضح ہو سكے كہ كس كے ارشادات و اوامر كے سامنے خضوع كر كے سر تسليم خم كرے، ليكن اس كا مطلب يہ نہيں كہ ان كا اس شخص كو منتخب كرنا (اس كي ولايت) ميں شامل تھا يا اس كا ان كي بيعت كرنا محور سوال كو معين كرنے ميں دخل ركھتا تھا، تاكہ جواب ميں پائے جانے والے اطلاق كے لئے مضر و نقصان دہ ہو، امام عليہ السلام كا قول”اس (عمري) كي بات كو سنو اوراس كي اطاعت كرو”يا "ان دونوں (عمري اور ان كا بيٹا) كي بات سنو اور ان كي اطاعت كرو”اپنے اطلاق كے ذريعے ان كي بات سننے اور ان كي اطاعت كے وجوب پر دلالت كرتا ہے خواہ شخص نے اس پر ان كي بيعت كي ہو خواہ نہ كي ہو۔ (خواہ ان كي بات سننے پر اوران كي اطاعت كرنے پر بيعت كي ہو خواہ نہ كي ہو)

ليكن مقبولہ عمر بن حنظلہ ميں امام عليہ السلام كا يہ فرمان ”قاضي قرار دينے پر راضي ہو جاؤ" اور اسي طرح تو قيع شريف ميں امام زمانہ عليہ السلام كا يہ قول ”پيش آنے والے واقعات ميں ہماري احاديث كے راويوں كي طرف رجوع كرو”جس طرح ان دو قولوں ميں يہ احتما ل پايا جاتا ہے كہ رضامندي اور رجوع (يہ كہ بيعت كہا جائے) راوي حديث كي حاكميت اوراس كي راي كي حجيت ميں شامل ہے، اسي طرح يہ احتمال بھي پايا جاتا ہے كہ يہ ارادہ كيا گيا ہو كہ اس پر رضا مندي اور اس كي طرف رجوع كرنا واجب ہے كيونكہ پہلے ہي سے اس كي راي حجت تھي لہٰذا انسان پر واجب ہے كہ حجت پر رضامند ہو جائے اورواجب ہے كہ اس كي طرف رجوع كرے ۔

اگر فرض كر لياجائے كہ ان دو روايتوں ميں اجمال پايا جاتا ہے، تو احمد ابن اسحاق كي روايت كا اطلاق اپنے حال پر باقي رہے گا كيونكہ ان دو روايتوں كے اندر اس كے اطلاق كو مقيد كرنے (تقييد لگانے) كي صلاحيت نہيں ہے ۔

اوراگر ان دو روايتوں ميں اجمال فرض نہ كيا جائے تو دونوں روايتيں دوسري معني ميں ظہور ركھتي ہيں كيونكہ امام عليہ السلام نے اپنے قول ”فليرضوا بہ حكما”اسے قاضي قرار دينے پر رضا مند ہو جاؤ”كي علت اپنے اس قول”فاني قد جعلته عليكم حاكما ”ميں نے اسے تم پر حاكم قرار ديا ہے “كے ذريعے بيان فرمائي ہے اور امام عليہ السلام نے اپنے قول”فارجعوافيها الي رواة احاديثنا ”اور پيش آنے والے واقعات ميں ہماري احاديث كے رواويوں كي طرف رجوع كرو”كي علت اپنے اس قول ”فانھم حجتي عليكم “وہ تم پر ہماري طرف سے حجت ہيں”كے ساتھ بيان فرمائي ہے ا س كا مطلب يہ ہے كہ پہلے ہي سے اس كي حاكميت اور حجيت ثابت شدہ اور تسليم شدہ ہے۔

بيعت كے سلسلے ميں مسلمانوں كي دائمي سيرت

بيعت كے سلسلے ميں مسلمانوں كي سيرت كو دو قسموں ميں تقسيم كيا جاتا ہے۔

۱) مسلمانوں كا ايسے شخص كے ہا تھ پر بيعت كرنا كہ وہ پہلے سے جس كي ولايت كے معتقد نہيں تھے اور بيعت سے پہلے اس كي ولايت پر اعتقاد نہيں ركھتے تھے اس كي بيعت كريں كيونكہ اس كي شان ميں نص كا دعويٰ نہيں تھا، چنانچہ شيعوں كے ائمہ اطہارعليہ السلام كے علاوہ باقي تمام خلفاء كي حالت يہي ہے، در حقيقت يہ بيعت اس لئے تھي تاكہ جس شخص كي بيعت كي جارہي تھي اسے ولايت كي پوشاك پہنائي جائے اس تصور اوراس عقيدے كے ساتھ كہ بيعت اس طرح كي ولايت عطا كرتي ہے۔

خواہ ہم اس قسم كي بيعت كو صحيح فرض كريں خواہ اسے باطل فرض كريں يہ اس چيزسے غير مربوط ہے جس كے متعلق ہم بحث كر رہے ہيں فقط بيعت كو پہلے طريقے سے پيش كرنا ہماري بحث سے مناسب و ساز گار ہے ۔

۲) مسلمانوں كي سيرت اس پر تھي كہ ايسے شخص كي بيعت كرتے تھے جس كے باري ميں ان كا عقيدہ يہ تھا كہ يہ شخص پہلے ہي سے بيعت كے علاوہ كسي اور ماخذ سے ولايت حاصل كر چكا ہے، جيسے مسلمانوں كا رسول خدا كي بيعت كرنا، اورشيعوں كا اپنے معصوم ائمہ عليہم السلام كي بيعت كرنا (مسلمانوں كا پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے متعلق اور شيعوں كا ائمہ عليھم السلام كے متعلق عقيدہ ہے كہ بيعت سے پہلے ان كوولايت حاصل ہے) ۔

معلوم نہيں كہ مسلمانوں كے نزديك يہ بيعت ولي كے اوامر كي اطاعت كے وجوب كے لئے قيد (شرط) ہے ۔تاكہ اس كے ذريعے اطاعت كے دلائل كو مقيد كيا جائے (قيد لگائي جائے) جيسے (اطيعواالرسول)، رسول كي اطاعت كرو “شايد بيعت لينا اس طرح تھا جيسے كسي شخص سے ايسے عمل كو انجام دينے كا عہد وپيمان ليا جاتا ہے جوعمل اس پر پہلے سے واجب تھا، تاكہ يہ عہدوپيمان اس عمل كو انجام دينے كے لئے اس كے ضمير و وجدان كے لئے ايك جديد محرك ثابت ہو ۔

بلكہ يہ احتمال نہيں ديا جاسكتا كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بيعت آپكے اوامر كي اطاعت كے واجب ہونے كے لئے شرط تھي اوراسي طرح شيعوں كے سلسلے ميں يہ احتمال نہيں ديا جا سكتا كہ ان كا معصوم عليہ السلام كي بيعت كرنا ان كے اوامر كي اطاعت واجب ہونے كے لئے شرط ہے۔(۱۶۴) ولايت فقيہ كي حدود ضروري ہے كہ ہم تين پہلوؤں سے ولايت فقيہ كي حدود كے سلسلے ميں بحث قرار ديں۔

۳) ولايت فقيہ كے موارد

۴) (اگر ہميں اتفاقا علم ہوجائے) كہ ولي فقيہ كا حكم خطا پر مبني ہے تو يہ علم كس حد تك اس كي ولايت كے نفوذ كي راہ ميں ركاوٹ بنے گا؟

۵) ولايت كے اعتبار سے فقہاء كے درميان ايك دوسري سے نسب ۔

اب ہم ان تين پہلوؤں كي تفصيل بيان كر رہے ہيں:

ولايت فقيہ كے موارد

ولايتوں (جمع ولايت) كے دلائل (روايات) كا اطلاق (عرفي مناسبات كي مدد سے) عام طور پر اس چيز كي طرف منصرف ہے كہ ولايتوں كو تحت ولايت فرد كے نقص و خلاء كوپركرنے اوراس كي كميوں كا جبران كرنے كے لئے جعل كيا گيا ہے (بناياگيا ہے قرارد يا گياہے) اور ولايت فقيہ كے دلائل بھي اس قاعدے سے مستثنيٰ نہيں ہيں ولايت فقيہ كي دليل فقط ان ہي حدود ميں فقيہ كي ولايت پر دلالت كرتي ہے ۔(۱۶۵)

۱) قاصرين(۱۶۶) كے اموال ميں تصرف: كيونكہ خود قاصر كي اجازت بے اثر ہے لہٰذا اگر اس كا كوئي معين ولي (سرپرست) نہ ہوتو اسے ہر صورت ميں ولي امر كي طرف رجوع كرنا ہوگا۔

ولايت فقيہ كي دليل كا اطلاق بھي اسے شامل ہے(۱۶۷) اور فطري اعتبار س ولي پر واجب ہے كہ اپنے زيرسرپرستي افراد كے اموال ميں تصرف كرتے وقت ان كے مفادات اور بھلائيوں كو مدنظر ركھے۔(۱۶۸)

عرفي اعتبار سے ولايت كا مفہوم (چنانچہ ہم بيان كر چكے ہيں) يہ ہے كہ جو چيز زير سرپرستي شخص كو غير قاصر بناديتي ہے گويا ولايت كي وجہ سے اس كانقص اور كمي بر طرف ہوچكي ہے، اور غير قاصر انسان كے كام ميں مصلحت شرط نہيں اور نہ ہي يہ شرط ہے كہ غير قاصر ايسا كام انجام دے سكتا ہے جس كا انجام دينا اس كے ترك كرنے سے بہتر ہو بنا برايں اگر غير قاصر كوئي كام انجام دے (كسي بھي غرض سے) اوراس كام كو ترك كرنا بہتر نہ ہوتو اس كا يہ كام سفاہت (كم عقلي) پر مبني نہيں ہے اور مصلحت و مفسدہ كے معياروں كے خلاف نہيں ہے، جب كہ فرض يہي ہے كہ اس كام ميں عقلائي مصلحت بھي نہيں پائي جاتى، ليكن يتيم كے متعلق آيہ مباركہ( وَلاَتَقْرَبُوامالَ الْيتِيمِ اِلاَّ بِالَّتِي هي احْسَنُ ) سورہ انعام آيت ۱۵۲۔اور خبردار ! مال كے قريب بھي نہ جانا مگر اس طريقہ سے جو بہترين طريقہ ہو ۔

شايدمناسبات حكم وموضوع كي مدد سے ايسے معني پر دلالت كرے جو مذكورہ معني كے مخالف نہ ہو۔ كيونكہ يہ حكم جعل كرنے (قرار دينے) كے پس پردہ يہ حكمت كار فرما ہے كہ يتيم كي بھلائي اور اس كے حالات كو مدنظر ركھا جائے واضح ہے كہ جس كام كو انجام دينا، انجام نہ دينے كے مساوي ہو اگر اسے حرام قرار ديا جائے تو اس كامطلب يہ ہے كہ اس كام ميں يتيم كے لئے مصلحت نہيں پائي جاتي ۔

اگر ولايت كي دليل اس اعتبار سے مطلق ہو تو اس دليل كوآيہ كے ذريعے تخصيص نہيں لگائي جا سكتي۔

كيونكہ ہم كہہ چكے ہيں كہ ولايت كا حقيقي فلسفہ زير سرپرستي افراد كے نقائص كر بر طرف كرنا اور اس كي ضروريات كو پورا كرنا ہے، يہ ولايت، نبي اور امام معصوم عليہ السلام كي ولايت كي مانند نہيں كيونكہ نبي اور امام معصوم عليہ السلام كي ولايت نص كے ذريعے ثابت ہے بلكہ اس كامعني يہ ہے كہ ولي (نبي اور امام معصوم) مومنين كے نفوس پر خود ان كي نسبت زيادہ حق تصرف ركھتا ہے۔

زير سرپرستي شخص كے مصالح ومفاسد كي تشخيص كا معيار ولي كي راي ہے خواہ اس كي راي خطا پر مبني ہو، حقيقي مصالح و مفاسد معيار نہيں ہيں ولايت كا معني يہ ہے كہ ولي كي راي كي پيروي ضروري ہے اس سے مراد يہ ہے كہ اس كے ذريعے زير سرپرستي افراد كے نقائص بر طرف ہوجاتے ہيں۔

مثلاً يہ سفيہ (كم عقل) يا كم سن بچہ اس ولايت كے بعد اپني سفاہت اور كم سني كے (بُري) اثرات سے نجات پاليتا ہے (كيونكہ اب ولي اس كي مصلحت كے مطابق اس كے امور كو انجام ديتا ہے) يہ احتمال كہ ولي مصلحت ومفاسد كي تشخيص ميں اشتباہ كر سكتا ہے، زير سرپرستي افراد كے حق ميں اس كے تصرفات جاري اور مؤثر ہونے كي راہ ميں ركاوٹ نہيں بن سكتا۔افراد كے نقائص بر طرف كرنا اور ان كي ضروريات كو پورا كرنا۔

اس احتمال (غلطي كے امكان) سے منافي ہے۔غلطي اور خطاء ايسي چيز ہے كہ زير سرپرستي شخص خود بھي كبھي كبھار اس كا مرتكب ہو سكتا ہے اگر اس كانقص بر طرف ہوجائے مثلاً بالغ ہو جائے اور اس ميں پختگي آجائے، تب بھي بعض اوقات اپنے تصرفات ميں غلطي اورخطاء كر سكتاہے، ليكن اسے نقص ياعيب شمار نہيں كيا جاتا، تاكہ ولايت كے ذريعے اس نقص كو بر طرف كياجائے ۔نقص سے مراد فقط سفاہت (كم عقلى، درست تصرفات پر قادر نہ ہونا) اور كم سني ہے جس كي تلافي اس كے ولي كي ولايت كے ذريعے ہو جاتي ہے۔

۲) معاشرہ ميں ايسے گناہگار، نافرمان اورسركش افراد پائے جاتے ہيں جو احكام الٰہي اور حق كي بنياد پر قائم ہونے والي اسلامي حكومت كے قوانين پر عمل نہيں كرتے لہٰذا ولي امر كو قوہ مجريہ تشكيل دينے كا حق حاصل ہے تاكہ سركش اور نافرمان افراد پر پوري قوت كے ساتھ ضرب لگا سكے اورانھيں حرام كاموں سے روك سكے ۔اور حدود و تعزيرات(۱۶۹) جاري كرسكے۔ ولايت كي دليل ميں پايا جانے والا اطلاق اسي كا تقاضا كرتا ہے۔(۱۷۰)

۳) بعض اوقات معاشري ميں اختلافات، نزاع جھگڑے وغيرہ پيش آتے ہيں لہٰذا ايك ولي كا وجود ضروري ہے جو اپنے حكم كے ذريعے نزاع وغيرہ كو ختم كرے، ولايت فقيہ كے عمومي دلائل اپنے اطلاق كے ذريعے اس مورد كو بھي شامل ہيں، علاوہ براين يہ منصب (منصب قضاوت) ولي كے لئے نص خاص كے ذريعے بھي ثابت ہے مثلاً مقبولہ عمر بن حنظلہ (جس كے مطابق فقيہ كے لئے قضاوت كا منصب ثابت ہوتا ہے)

۴) معاشري كے افراد (كيونكہ معاشري كي اكثريت يا تو جاہل ہے يا مطلع اور آگاہ نہيں ہے) بعض اوقات سماجي مصالح مفاسد كو تشخيص دينے اورصحيح موقف معين كر نے كي توانائي نہيں ركھتے تاكہ مثال كے طور پر يہ جانا جائے كہ صحيح موقف جہاد ہے يا سكوت؟ اوراس كے علاوہ دوسري امور، پس ا نہيں ايك قائدورہبر كي ضرورت ہے جس كي قيادت كے ذريعے ممكن حد تك معاشرہ ميں بہتري اسكے اور معاشري كي اصلاح ہو سكے، اس مورد كو ولايت فقيہ كي دلائل كا اطلاق شامل ہے۔

ليكن اولي الامر كي اطاعت پر دلالت كرنے والي آيت اوراحمد بن اسحاق كي روايت (جو اطاعت كا حكم ديتي ہے) ميں وہ اشكال ممكن نہيں جو اشكال ولايت كے پہلے مورد ميں بيان ہو چكا ہے، پس كہا جائے گا: يہ دونوں دليليں (آيت اور روايت) فقط يہ دلالت كرتي ہيں كہ ان كے اوامر كي انجام دہي واجب ہے ليكن اس چيز پر دلالت نہيں كرتيں كہ ولي كو حق حاصل ہے كہ طاقت و قوت كے ذريعے لوگوں كو اطاعت پر مجبور كرے اورحدود و تعزيرات جاري كرے۔اس كاجواب وہي ہے جو ہم پہلے بيان كر چكے ہيں ۔پس جواب ميں كہا جائے گا: جب عرف، شخص كے لئے حق اطاعت كي دليل اوراسلام ميں اجبار اور حدود و تعزيرات كے قانون كي ضرورت پر دلالت كرنے والے دلائل كے درميان جمع كرتا ہے (ہماہنگي پيدا كرتا ہے) تو عرف حكم كرتا ہے كہ ولايت مطلق ہے۔پس اس اطلاق ميں تشكيك عرفي نہيں عقلي ہے۔

۵) بعض اوقات اجتماعي مفادات اور بھلائياں، شخصي مفادات، شخصي خواہشات اور شخصي ارادوں سے معارض ہوتے ہيں، عنوان اولي كے مطابق كسي شخص كو اپني ذاتي مصلحت، ذاتي ارادے اور ذاتي رغبت كے خلاف عمل كر نے پر مجبور نہيں كيا جا سكتا ۔كيونكہ يہ اپنے اس ارادے ميں ابتدائي عموعي قوانين كي حدود سے خارج نہيں ہوتا ۔پس اگر اسے ايسے كام پر مجبور كرنا مقصود ہو جو اجتماعي مفادات كے مطابق ہو تو ايسے ولي كي ضرورت محسوس ہوتي ہے جو اپني ولايت كا استعمال كرتے ہوئے يہ كام انجام دے، مثلاً اگراجتماعي مصلحت كا تقاضا قيمتيں معين كرنا ہو، جنس كامالك عنوان اولي كے مطابق مجبور نہيں كہ اپني جنس كومشخص قيمت پر فروخت كرے، اسے اس كام پر مجبور كرنے كے لئے حق ولايت استعمال كرنے كي ضرورت ہے اسے بھي ولايت فقيہ كي دليل كا اطلاق شامل ہے۔

۶) بعض اوقات خود متفقہ موقف ميں مصلحت پائي جاتي ہے مثلاًامت كي مصلحت كا تقاضا ہو كہ متفقہ طور پر ايك موقف اور ايك لائحہ عمل اپنا ياجائے مثلاًچاند كي پہلي تاريخ كا ثابت ہونا، حج كے اوقات روزہ ركھنے اور افطار كرنے كے اوقات مشخص كرنا، جب اجتماعي ضرورت كا تقاضا ہو كہ اس قسم كے اوقات معين كئے جائيں تو ظاہراً يہ مورد بھي ولايت فقيہ كے دلائل كے اطلاق ميں شامل ہوگا۔(۱۷۱)

حاكم كے حكم ميں خطاو لغزش

اگر علم ہو جائے كہ حاكم كا حكم خطاء پر مبني ہے تو اس علم كا حاكم كے حكم كے نافذ ہونے پر كيا اثر پڑے گا ۔

حاكم كا حكم دو طرح كاہے

۱) ايسا حكم جس ميں حاكم فقط يہ چاہتا ہے كہ حكم شرعي نافذ ہو، جب كہ حاكم اس كام كو ضروري قرارنہيں ديتا ہے، لہٰذااگر حكم سے پہلے وہ كام ضروري نہ ہو تو حاكم اسے ضروري قرار نہيں ديتا، مثلاً حاكم چاند نظرانے كا حكم كرتا ہے، در حقيقت حاكم خبر ديتا ہے كہ چاند نظرآچكا ہے اور چاند كا ثابت ہونا جن امور (احكام) كا تقاضا كرتا ہے حاكم ان امور كو انجام دينے كا مطالبہ كرتا ہے، دوسري مثال: شككيات كي صورت ميں حاكم نزاع وغيرہ كا فيصلہ اپني تشخيص كے مطابق كرتا ہے يعني خود تشخيص ديتاہے كہ طرفين ميں سے كون حق پر ہے، حاكم كے ايسے حكم كو فقہ كي اصطلاح ميں حكم كاشف كہا جاتا ہے ۔

۲) وہ حكم جس ميں حاكم كا كردار يہ ہوتا ہے كہ (اپنے منصب و لايت كو بروئے كار لاتے ہوئے) اگر چہ حاكم كے حكم سے پہلے وہ كام شرعي طور پر لازم و ضروري نہيں ليكن حاكم اپنے حكم كے ذريعے اس چيز كو لازم و ضروري قرار ديتا ہے، حكم كي اس دوسري قسم كو فقہ كي اصطلاح ميں ولايتي حكم كا نام ديا جاتا ہے(۱۷۲)

جب حاكم كسي شئ كو لازمي و ضروري قرار ديتاہے (حتيٰ اس صورت ميں بھي كہ جب حكم سے پہلے وہ چيز شرعاً لازمي نہيں ہوتي) تواس كاپردہ درج ذيل دوامور ميں سےكوئي ايك امرہوتا ہے:

۳) حاكم حكم كے متعلّق ميں ملاك ومصلحت ديكھتا ہے اوراس كے باوجود اس كے بعض اوقات حكم سے پہلے فرد كے لئے وہ چيز لازمي نہيں ہوتى، اس بنياد پر كہ خود حكم حاكم مصلحت كے وجود ميں آنے ميں مؤثر ہوتا ہے ۔جيسے حاكم بعض اجناس كي قيمتيں معين كرنے كاحكم ديتا ہے، كبھي معاشري كا فرد درك كرتا ہے كہ معاشري كو اجناس كي تعيين شدہ قيمتوں كا پابند بنانے ميں شديدمصلحت پائي جاتي ہے كيونكہ اگر انھيں پابند نہ بنايا جائے تو مسلم معاشري كے بعض افراد كي اقتصادي حالت اس حدتك خراب ہو جاتي ہے كہ ہميں يقين ہے كہ اسلام اسے پسند نہيں كرتا وہ اسلام جس كا نظر يہ ہے كہ اگر كسي شخص نے ايسي حالت ميں صبح كي كہ اس نے مسلمانوں كے امور كو اہميت نہ دي وہ مسلمان نہيں ہے۔

ليكن اس كے باوجود حاكم كے حكم سے پہلے اس شخص پر واجب نہيں كہ اپنےآپكو اس مقرر ہونے والي قيمت كا پابند بنائے كيونكہ وہ جانتا ہےاگر قائد و رہبر موجود نہ ہوجو اس طرح اشياء كي قيمتيں مقرر كرنے كے معاملہ ميں معاشري كي رہبري و قيادت كرے تواس حالت ميں، اگر چہ ميں مقرر قيمت كي پابندي كروں تب بھي اس پر كوئي خاطر خواہ فائدہ مرتب نہيں ہوگا كيونكہ دوسري لوگ جنھوں نے اس اقتصادي مصلحت كو درك نہيں كيا يا اسے اہميت نہيں ديتے وہ اس مقرر قيمت كي پابندي نہيں كريں گے، اگر ميں اكيلا مقرر قيمت كي پابندي كروں تو اس كا كوئي خاص اثر نہيں ہوگا، اس صورت حال ميں قائد ورہبر معاشري كي قيادت كي غرض سے اشياء كي قيمتيں مقرر كرنے كے ذريعے مداخلت كرتا ہے اور يہ چيز مصلحت كو وجود ميں لانے ميں مؤثر ہے، اسلام كے لئے ممكن نہ تھا كہ صالح قيادت كي نظارت كو فرض كئے بغير جو مخصوص حالات اور شرائط زمان و مكان كو مد نظر ركھتى، اپنے قوانين ميں اس قسم كي مصلحتوں كو معين كرتا ۔

گويا يہ منطقۃالفراغ ہے جس كوپر كرنے كي ذمہ داري ولي امر كو سونپي گئي ہے۔

۴) حاكم تشخيص ديتا ہے كہ ان حالات ميں متقفہ موقف اختيار كرنے ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے اوراس سے قوم ميں اتحاد و يكجہتي وجود ميں آئے گي اوران كي صفوں ميں نظم وضبط اوراستحكام پيدا ہوگا، لہٰذا حاكم ايك معين موقف اختيار كرتا ہے اوراسے معاشري كے لئے ضروري قرار ديتا ہے، حتي اگر فرض كر ليا جائے كہ يہ موقف اور لائحہ عمل قابل تصور دوسري لائحہ عمل سے اس حد تك بہتر نہيں ہے تا كہ اسے لازمي طورپر اپنايا جائے لہٰذا حاكم كے حكم سے پہلے معاشري اس موقف كو اپنانا واجب نہيں تھا)

ليكن دوسري قسم يعني حكم كاشف (جيسے رؤيت ہلال سے متعلق حكم) اس شخص كے لئے مؤثر اور نافذ نہيں ہے جسے علم ہو كہ اس حكم ميں حاكم نے خطا كي ہے، كيونكہ قرائن اور عرفي مناسبتوں(۱۷۳) كاتقاضاہےاورحكم كو حجت قرار دينےوالي دليل سےبھي ظاہرہوتا ہے كہ كيونكہ حكم، امارہ(۱۷۴) ہے اورواقع كو كشف كرتاہے اس لئے حكم كو حجت قرار ديا گيا ہے۔اور جب علم ہو جائے كہ حاكم كا حكم خطا پر مبني ہے تو اب يہ حكم اپني كاشفيت كھو ديتا ہے (واقع كو كشف نہيں كرتا) اور حجيت سے ساقط ہو جاتا، حكم كي اس قسم كي حالت وہي ہے جو روايت و فتويٰ كي ہے ان سب ميں اصل يہ ہے كہ جب خطا كا علم ہو جائے تو ان كي حجيت ختم ہو جاتي ہے۔ليكن قضاوت اور شككيات كے فيصلہ كے باب ميں حاكم كا حكم اس قانون سے مستثنيٰ ہے يعني اگر چہ اس كا خلاف واقع ہونا ثابت ہو جائے اس كے باوجود اس كي حجيت بر قرار رہتي ہے كيونكہ مقبولہ عمر بن حنظلہ دلالت كرتي ہے كہ اس باب ميں حاكم كا حكم نافذہے حتي اس شخص پر بھي نافذ ہے جو علم ركھتا ہو كہ حاكم كا حكم خلاف واقع ہے، يعني اس كے لئے ا ُس حكم كے خلاف عمل كرنا جائز نہيں ہے جسے حاكم نے لازمي وضروري كرديا ہے پس مثلاًمحكوم عليہ (جس كے خلاف فيصلہ ہو اہے) كو علم ہے كہ ميں حق پر ہوں ليكن اس كے باوجود اس پر واجب ہے كہ حاكم كے حكم كے سامنے سر تسليم خم كرے كيونكہ قرائن ومناسبات عرفي كي مدد سے ہم دليل سے يہ سمجھتے ہيں كہ فقط اس لئے قاضي كے لئے منصب قضاوت قرارديا گيا ہے تاكہ وہ نزاع و جھگڑوں ميں فيصلہ كر سكے، اب اگر يہ كہا جائے كہ جسے حكم كي خطا كا علم ہو جائے اس پر يہ حكم نافذ نہيں ہوگا، تو محكوم عليہ (جس كے خلاف فيصلہ ہوا ہے) اكثر و اوقات دعويٰ كر سكتا ہے كہ مجھے علم ہے يہ حكم خطاء پر مبني ہے، اور يہ نزاع، جھگڑے اور دشمني كو ختم كرنے سے منافي ہے (يعني اس صورت ميں نزاع وغيرہ ختم نہيں ہو سكے گي)

جب كہ حكم كي دوسري قسم يعني حكم ولايتي احكام ظاہري كي سنخ سے نہيں ہے، مذكورہ مطالب كا تقاضا يہ ہے كہ اگر چہ خود حكم كي خطا كا علم نہ ہو ليكن حاكم كے حكم كے منبع ومآخذ كي خطا كا علم ہو جائے تب بھي حكم كي حجيت ختم ہوجائے ۔

ہاں قاضي كا حكم اس شخص كے لئے كسي حرام كام كو جائزنہيں بناتا جسے اس كام كي حرمت كا علم ہو، پس جس كے حق ميں فيصلہ ہوا ہے اگر وہ جانتا ہوكہ ميرا مخالف حق پر ہے تو اس پر واجب ہے كہ اس كاحق اس كے حوالے كردے۔فقط حاكم كا اس كے حق ميں فيصلہ دينا اس كے لئے جائز قرار نہيں ديتا ہے كہ وہ باطل پرڈٹا رہے۔

ليكن ولايتي حكم ميں خطا كا معلوم ہونا درحقيقت بے معني ہے كيونكہ ولايتي حكم ميں حاكم حكم كو وجود ميں لانے والا ہے قطع نظر اس سے كہ حاكم كے حكم سے پہلے اس طرح كا حكم شريعت ميں موجود تھكيا نہيں تھا،(۱۷۵) ہاں بعض اوقات شخص دعويٰ كر سكتا ہے كہ مجھے علم ہے كہ اس حاكم نے فلاں موقف اختيار كرنے ميں خطا كي ہے اور بہتر تھا كہ حاكم يہ حكم نہ كرتا يا بہتر تھا كہ اس كے بر عكس حكم كرتا، ليكن يہ علم حكم كو نفوذ و حجيت سے نہيں گراتا كيونكہ حاكم كي ولايت كا معني يہ ہے كہ زير سرپرستي شخص نے نہيں بلكہ حاكم نے موقف معين كرنا ہےحاكم كي ولايت كي دليل كےاطلاق كا تقاضا يہ ہے كہ اس كاحكم اس صورت ميں بھي نافذ ہے جب شخص كو علم حاصل ہوجائے كہ حاكم نے موقف اپنانے ميں خطاكي ہے۔

ہاں اگر شخص معتقد ہو كہ جس كام كا حاكم نے حكم ديا ہے وہ حرام ہے تو اس شخص پر حاكم كا حكم نافذ نہيں ہوگا (اگر چہ حاكم كے لئے جائز ہے كہ اسے يہ حكم ماننے پر مجبور كرے بشرطيكہ اجتماعي مصلحت كا تقاضا يہي ہو) يہاں پر حاكم كے حكم كے نافذ نہ ہونے اور حجت نہ ہونے كا سبب واضح ہے كيونكہ حاكم كي ولايت فقط واجبات شرعي كے دائري تك محدود ہے اور فقيہ كو حق حاصل نہيں كہ حرام كو حلال قرا ردے ديا واجب كو ساقط كرے (جائز قرار دے) ۔يہ موارد عرفي مناستبوں اور عرفي ذہنيت كي روسے اطلاقات كے دائري سے خارج ہيں۔

صاحب شريعت كي طرف سے كسي شخص كوولي قرار دينے كا عرفي طور پر مطلب يہ ہے كہ صاحب شريعت نے اسے شريعت اور احكام شريعت كے دائري اور شريعت كي حدود ميں ولي بنايا ہے ۔(۱۷۶)

فقيہ حاكم كا حكم اور دوسري جامع الشرائط فقہاء

ہم يہاں پر اس كلام كي وضاحت درج ذيل امور كے ضمن ميں كرتے ہيں:

۱) حاكم كا قاصرين كے اموال ميں تصرف نافذ ہے يہاں تك كہ فقہاء كو اس حكم كي مخالفت نہيں كرني چاہئے اگر چہ بعض فقہاء معتقد ہوں كہ حاكم نے قاصر كي مصلحت كي تشخيص ميں خطا كي ہے كيونكہ ولي كا تصرف خودمالك كے تصرف كا حكم ركھتا ہے جس طرح ولي زير سرپرستي افراد كي مصلحت تشخيص ديتے وقت بعض اوقات اشتباہ كر سكتا ہے اسي طرح خودمالك بھي بعض اوقات اس اشتباہ كا مرتكب ہوسكتا ہے ۔

ولي كي اجازت سے انجام پانے والا معاملہ جس دليل كي بنياد پرصحيح ہے اسي دليل كي بنياد پر يہاں بھي معاملہ صحيح كےآثار مرتب ہوں گے (خواہ يہ معاملہ خود شخص انجام دے يا بعض مخصوص حالات ميں اس كا ولي و سرپرست انجام دے)

۲) اختلافات و شككيات كے فيصلہ كے باب ميں قاضي كا حكم سب كے لئے حتي فقيہ كے لئے بھي نافذ ہے ۔

مقبولہ عمر بن حنظلہ ميں حكم كے نفاذ كے لئے يہ شرط پائي جاتي ہے كہ طرفين نزاع ميں سے كوئي ايك طرف جامع الشرائط فقيہ نہ ہو، وہ قرائن اورعرفي مناسبتيں جو فہم الفاظ ميں مؤثر ہيں ان كا تقاضا بھي يہي ہے كہ حكم كا نفاذ اس شرط سے مشروط نہيں ہے اختلافات اور شككيات كا فيصلہ كرنا ضروري ہے اور ہميشہ ايسا نہيں ہوتا كہ طرفين جامع الشرائط فقہاء كے علاوہ دوسري لوگ ہوں اسي طرح دشمني و اختلافات كو ختم كرنے كے باب ميں بھي قرائن اورعرفي مناسبتوں كا تقاضا يہي ہے كہ قاضي كا حكم حتي طرفين نزاع كے علاوہ باقي تمام لوگوں كے لئے بھي نافذ و قابل اجراء ہے جن ميں فقہاء بھي شامل ہيں۔

۳) حاكم كا وہ حكم جو واقع كو كشف كرتا ہے (اگر چہ باب قضاء كے علاوہ كسي اور باب ميں ہو جيسے رؤيت ہلال كا حكم) اس فقيہ پر بھي نافذ ہے جو حاكم كے حكم كے منبع وماخذ سےآگاہ نہ ہو ۔معاشري پر حاكم كي ولايت ثابت كرنے والي دليل كے اطلاق كا تقاضا يہي ہے كہ ولايت كا فلسفہ معاشري كے نقائص كو بر طرف كرناہے ِوہي نقص جو باقي تمام افراد ميں موجود ہے (وہ حاكم كے حكم كے منبع وماخذ سےآگاہ نہيں ہيں) اس فقيہ ميں بھي (موجودہ فرض كے مطابق) پايا جاتا ہے -

احمد بن اسحاق كي روايت بھي دلالت كرتي ہے كہ امام عليہ السلام نے احمدبن اسحاق كو عمري سے رجوع كرنے كا حكم اس لئے ديا كہ عمري روايات نقل كرنے والا قابل اعتماد اورمورد اطمينان شخص ہے جب كہ خود احمد بن اسحاق بھي جليل القدر اور قابل اعتماد راويوں ميں سے تھے۔

۴) قاصرين كے اموال ميں تصرف كے علاوہ باقي موارد ميں حاكم كا ولايتي حكم (اگر ہم اس كا مقايسہ ايك اورجامع الشرائط فقيہ كے ساتھ كريں) درج صورتوں سے خارج نہيں ہے:

پہلي صورت: يہ فقيہ آگاہ نہ ہوكہ حاكم كي طرف سے اپنا يا جانے والا مؤقف كس حد تك صحيح ہے ۔دليل ميں پائے جانے والے اطلاق كي بنياد پر اس فقيہ پر حاكم كا حكم نافذ ہوگا خصوصاً جب اس چيز كو مدنظر ركھا جائے جسے ہم نقل كر چكے ہيں كہ احمد بن اسحاق كو امام عليہ السلام نے عمري سے رجوع كرنے كا حكم اس لئے ديا كيونكہ عمرى، راوي قابل اعتماد اورمورد اطمينان شخص تھے جب كہ خود احمد بن اسحاق بھي عظيم الشان قابل اعتماد راويوں ميں سے تھے ۔

دوسري صورت: يہ فقيہ جا نتا ہو كہ كيونكہ اس مؤقف ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي تھي لہٰذا حاكم نے يہ مؤقف اختيار كيا ہے لہٰذا يہ مؤقف صحيح ہے تو اس فقيہ كے لئے حاكم كے حكم پر عمل كرنا واجب ہے البتہ نہ اس بنياد پر كہ حاكم كا حكم نافذ ہے بلكہ اپني راي كي بنياد پر (كيونكہ اسے مؤقف كے صحيح ہونے كا علم ہے) اورولايت كي دليل بہ طور مساوي دونوں (حاكم فقيہ اورعام فقيہ) كو شامل ہے، اور يہ فقيہ اس نقص (مؤقف سے عدم آگاہي) ميں مبتلا نہيں ہے جس ميں دوسري لوگ مبتلا ہيں۔عرفي طور پر اس سے يہي سمجھا جاتا ہے كہ حاكم كي ولايت پر دلالت كرنے والي دليل كا اطلاق اس مورد سے منصرف ہے (اس مورد كو شامل نہيں ہے)

تيسري صورت: يہ فقيہ مطلع ہو كہ حاكم كي طرف سے اپنايا جانے والا مؤقف صحيح ہے ليكن يہ اعتقاد نہ ركھتا ہو كہ خوداس موقف ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے ۔

مثلا ديكھتا ہے كہ اس مؤقف كے علاوہ ايك اورموقف بھي پايا جاتا ہے جس كو اپنانا صحيح تھا اگر چہ فقيہ نے جو موقف اپنايا ہے وہ اپنے مقام پر صحيح ہے ليكن دوسري موقف سے وجوب كي حد تك بہتر و برتر نہيں ہے اس صورت ميں عام طور پر فقيہ پر واجب ہے كہ حاكم كے حكم كا اتباع كرے تاكہ متفقہ مؤقف وجود ميں آئےاورمسلمانوں كي صفوں ميں نظم و ضبط اوراستحكام پيدا ہو۔

چوتھي صورت: يہ فقيہ جانتا تو ہے كہ حاكم كا مؤقف خطا پر مبني ہے ليكن ساتھ ہي ساتھ معتقد ہے كہ حاكم كے اتباع ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے تاكہ متفقہ مؤقف اور لائحہ عمل اپنايا جائے اور مسلمانوں كي صفوں ميں نظم وضبط اور استحكام پيدا ہوسكے ۔پس اس فقيہ پر اس بنياد پر نہيں كہ حاكم كا حكم نافذ ہے بلكہ خود اپني راي كي بنياد پر حاكم كا اتباع واجب ہے، چنانچہ گذر چكا ہے كہ ولايت فقيہ كے دلائل كا اطلاق اس مورد كو شامل نہيں ہے۔

پانچويں صورت: فقيہ جانتا ہو كہ حاكم كا مؤقف خطا پر مبني ہے ليكن عقيدہ نہ ركھتا ہو كہ حاكم كي اطاعت ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے بلكہ اس كا عقيدہ يہ ہو كہ حاكم كے حكم ميں پائے جانے والے نقص و عيب كا اعلان نہ كرنے ميں وجوب كي حدتك مصلحت پائي جاتي ہے، تاكہ مسلمانوں كي صفوں ميں انتشار پيدا نہ ہو اس صورت ميں اس فقيہ پر حاكم كے حكم كا اتباع واجب نہيں ہے ليكن حاكم كے حكم كو نقض كرنا حرام ہے۔

چھٹي صورت: يہ فقيہ جانتا ہو كہ حاكم كا حكم خطا پر مبني ہے ليكن يہ عقيدہ نہ ركھتا ہوكہ حاكم كے حكم كے اتباع ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے اور نہ ہي يہ اعتقادركھتاہو كہ اس وقت سكوت اختيار كرنے ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے مثلاً اس فقيہ كا عقيدہ ہو كہ حاكم كي خطا پر خاموش رہنے كا نقص مسلمانوں كي صفوں كو مستحكم كرنے كي مصلحت سے زيادہ شديد ہے، يہاں پر بھي اس فقيہ كے لئے حاكم كے حاكم كو نقض كرنا جائز ہے۔

شوريٰ اور ولايت فقيہ كا تقابلي جائزہ

واضح ہوچكا ہے كہ حكومت اسلامي كا نظام عادل، باصلاحيت اور لائق فقيہ كي ولايت كي بنياد

پر استوار ہے اورشوريٰ (دوسروں كےآراء و افكار خصوصاً زندگي كے ہر شعبہ ميں اس شعبے كےماہر افراد كےآراء وافكار سے راہنمائي لينا) عام حالات ميں واجب ہے كيونكہ امت كي مصلحت اسي ميں ہے اورامت كي مصلحت كو مد نظر ركھنا ولي امر پر واجب ہے۔

ليكن زمانہ غيبت ميں حكومت كي شكل سے متعلق جزئيات و تفصيلات كتاب سنت ميں ذكر نہيں ہوئيں مثلاً يہ كہ كيا حكومت كا سربراہ ايك فقيہ ہوگا يا فقہاء كي كميٹى؟

كيا امت قانون سازي اور قانون نافذ كرنے كے لئے فقط ايك اسمبلي يا دو اسمبلياں يا دو سے زيادہ اسمبلياں منتخب كرے گى؟

اگر اتنخاب ميں فقہاء كے درميان يا امت كے درميان اختلاف پيدا ہو جائے توكيا كميت و كثرت كو معيار قرار ديا جائے گا يا كيفيت كو؟

فقيہ منطقۃالفراغ ميں احكام شرعي كي حدود ميں رہتے ہوئے جو قانون سازي كرتا ہےكيا اس قانون سازي ميں عام لوگوں كےآراء كو مدنظر ركھا جائے گا كيا عام لوگوں كےآراء كو شمار كيا جائے گا؟ كيا ان كےآراء و نظريات قانون سازي ميں مؤثر ہوں گے؟ اور اگر مؤثر ہوں گے تو كس حدتك مؤثر ہوں گےاوركن شرائط كي موجودگي ميں مؤثرہوں گےيا بالكل مؤثر نہيں ہوں گے؟

لوگوں كے مختلف طبقوں ميں سے كس طبقہ كے سامنے امور كو مشورہ كي غرض سے پيش كيا جائے گا؟ تمام لوگوں سے مشورہ ليا جائے گا يا فقط فقہاء سے يا فقط ان موضوع كےماہرين سے؟ اور كيا مشورہ كرنے كے بعد حكومت اپني مرضي پر عمل كرے گي يا ہر حالت ميں حكومت مشورہ دينے والوں كےآراء كا اتباع كرے گى؟ اور اس اتباع كي حد كيا اور كہاں تك ہوگى؟ اور ا ن كے علاوہ دوسري متعدد سوالات ۔

ان سب سوالات كا جواب يہ ہے: اسلام نے اس سلسلے ميں كوئي خاص شكل و صورت معين نہيں كي بلكہ زمان ومكان اور شرائط كے اختلاف سے يہ امر (حكومت كي شكل) بھي مختلف ہوگا يہ تشخيص دينا ولي فقيہ كي ذمہ داري ہے كہ كن شرائط ميں نظام كي كون سي شكل مناسب ہے۔اور اسي طرح ان مناسب بنيادي قوانين و ضوابط كا انتخاب بھي ولي فقيہ كي ذمہ داري ہے جن قوانين پر حكومت عمل پيرا ہو گي۔

اسلام كي طرف سے مختلف حالات و شرائط سے ہماہنگ مختلف نظام پيش نہ كرنا اسلام كے لئے

نقص كا سبب نہيں بلكہ اسلام كي نمكيا خوبي ہے گويا مختلف نظام پيش نہ كرنے كے ذريعے يہ بيان كيا گيا ہے كہ اسلام ميں لچك پائي جاتي ہے اور اسلام قابل انعطاف ہے يہي وجہ ہے كہ اسلام مختلف زماني ومكاني شرائط اور مختلف حالات ميں نافذ ہونے كي صلاحيت ركھتا ہے يہاں پر وہ اشكال نہيں كياجا سكےگا جو بعض اہل سنت اہل قلم كے قول پر كيا گيا تھا كہ حكومت كي تاسيس شوريٰ كي بنياد پر ہے، ان كا كہنا تھا كہ اسلام كا شوريٰ كي شكل اوراس كي حدود و شرائط كا معين نہ كرنا اسلام كے لئے ايك زبردست خوبي ہے جو اسلام كو دوسري اديان سے ممتاز بناديتي ہے اور يہي اسلامي نرمي اور اسلام كا قابل انعطاف ہونا اسلام كو ہر زمان و مكان ميں نفاذ كے قابل بنا ديتا ہے ۔

ہم نے اس كلام پر يہ اشكال كيا تھا كہ اگر اسلام نے لچك دار اور قابل انعطاف قاعدہ عطا كيا ہوتا جو ہر زمان و مكان ميں يكساں تھا ليكن مصاديق اور نفاذ ميں مختلف تھا اس كے باوجود كہ يہ قاعدہ مصاديق كے اعتبار سے مشخص تھا، ليكن پھر بھي عام طور پر مشخص تھااوراس كے عمومي پہلو ميں كوئي ابہام اور پيچيدگي موجود نہ تھي تو اسے اسلام كي نماياں خوبي كہا جاسكتا تھا ليكن شورائي نظام نے اس طرح عام اصول عطا نہيں كيا، اور يہ نظام عظيم پيچدگيوں اور ترديدوں ميں مبتلاہے اور اس سے متعلق متعدد سوالا ت كئے جاتے ہيں جن ميں سے بعض سوالات گذر چكے ہيں ليكن اسلام كي طرف سے ان سوالات كا كوئي جواب اور راہ حل سامنے نہيں كيا لہٰذا يہ اسلام كے لئے نماياں خوبي نہيں بلكہ واضح طور پر ايك نقص اور خامي ہے مثلاً ہم نہيں جانتےكياولايت كا حق ان كو حاصل ہے جو تعداد كے اعتبار سے اكثريت ميں ہوں يا ولايت ان كا حق ہے جو كيفيت كے اعتبار سے بہتر ہوں (مثلاً فقہاء)؟ اور اس كے علاوہ متعدد دسيوں سوالات۔

جب كہ ولايت فقيہ ميں ہم نے جس چيز كو بنياد قرار ديا ہے اس ميں اس طرح كي خوبياں نہيں پائي جاتيں ۔اور بطور كبريٰ (قاعدہ كلي) ولايت معين حدود و قيود كے ساتھ مشخص صفات كے حامل فقيہ كے لئے ثابت ہے اور ہر زمان ومكان ميں ولي اپني صلاحيتوں كو بروئے كار لاتا ہے اور اپني ولايت كے ذريعے نظام حكومت اور ان نظاموں كے بنيادي قوانين اور تفصيلات طے كرتا ہے جن نظاموں پر امور مرتب ہوتے ہيں، اور ولي معين كرتا ہے كہ كس طرح

اوركس حد تك شوريٰ، لوگوں كےآراء وافكار، انتخابات اور اسمبلي وغيرہ پر اعتماد كيا جائے البتہ فقيہ مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے ان امور كو خود تشخيص ديتا ہے اور يہ مصلحت زمان ومكان اورظروف وغيرہ كے بدلنے سے بدلتي رہتي ہے، ولو اسلام نے ان امور كو تشخيص نہيں كيا ليكن يہ بيان كيا ہے كہ ہر زمان ومكان ميں ان امور كي تشخيص كے لئے كس كي طرف رجوع كيا جائے، اور بيان كيا ہے كہ وہ مرجع فقيہ ہے جس ميں ولايت كي شرائط موجود ہوں بعض اوقات كہا جاتا ہے كہ اس اسلامي نرمي اور اس مسئلہ ميں تفصيلات طے كرنے كي ذمہ داري فقيہ كے سپرد كرنے كي كوئي ضرورت ہے نہيں تھي۔

بلكہ بہتر يہ تھا كہ تفصيلات بيان كي جاتيں كيونكہ انسان كا انسان سے رابطہ اورانسان كي بعض ضروريات دائمي اور ہميشگي ہيں اور ان ميں تبديلي نہيں آتي مورد نياز ثابت وغيرمتغير امور جب كہ انسان كا طبيعت سے رابطہ اس نوعيت كاہے جو وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ اور طبيعي قوتوں پر انساني تسلط كي مقدار كے مختلف ہونے، اور پيداوار كے وسائل كي ترقي كے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے لہٰذا فطري طور پر (اسلام نے) اقتصادي احكام ميں منطقۃالفراغ چھوڑا ہے تاكہ ولي اس خلاء كو پر كرنے كے لئے اقتصادي قوانين وضع كرے ليكن يہ فطرت سے ہماہنگ نہيں كہ اسلام نظام حكومت ميں خلاء (منطقہ الفراغ) باقي ركھے جسے ولي امر پر كرے كيونكہ انسانوں كے باہمي روابط جس چيز كے نياز مند ہيں اس ميں تبديلي واقع نہيں ہوتي لہٰذا وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ نظام حكومت كي تفصيلي شكل بھي تبديل نہيں ہوتي تاكہ منطقہ الفراغ فرض كرنے كي ضرورت پيش آئے جس كو ولي پر كرے۔

ليكن حقيقت يہ ہے كہ نظام حكومت ميں دوامر مؤثر ہيں:

۱) وہ دوسري ممالك جو اپنے لئے مخصوص قوانين بناتے ہيں ان ممالك كے مقابلے ميں اسلامي حكومت كے پاس اپني مخصوص پاليسياں اور منصوبے ہوتے ہيں اور ان ممالك سے روابط كي كيفيت بھي مشخص ہوتي ہے كيونكہ ان ممالك كے بنائے ہوئے قوانين فطري طورپر وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ تبديل ہوتے رہتے ہيں جس كے نتيجے ميں حكومت اسلامي كي بعض پاليسياں بھي تبديل ہو جاتي ہيں كہ اسلامي حكومت عالم نظاموں كے درميان اپني اہم اورحساس حيثيت كو برقرار ركھتے ہوئے اس حيثيت سے ہماہنگ قوانين كے ذريعے اسلامي نظام حكومت كو منظم كر سكے۔

۲) نظام حكومت كي سطح(۱۷۷) پر لوگوں كے باہمي روابط كے تقاضے درج ذيل امور كے مختلف ہونے سے تبديل ہوتے رہتے ہيں: زمانے كے اعتبار سے اختلاف، معاشرتي اختلاف وسائل كے لحاظ سے اختلاف، افراد كي قلت وكثرت، وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ اجتماعي مسائل و پيچيدگيوں ميں اضافہ، حكومت كي حدود ميں توسيع اورحكومت كا متعدد معاشروں پر مشتمل ہونا وغيرہ، بلكہ بعض اوقات ايك ہي زمانہ ميں ايك مسئلہ دو معاشروں ميں مختلف ہوتا ہے، مثلاً شوريٰ يا انتخاب (اگر ولي تشخيص دے كہ شوريٰ يا انتخاب ميں مصلحت پائي جاتي ہے) كي شكل معاشري كے افراد كي تعداد، معاشري كي پيچيدگي اور معاشري كے اندروني حالت اور دوسري شرائط كے اختلا ف اور معاشرتي تفاوت كي وجہ سے مختلف ہوتي ہے ۔

پس كيا نرمي اور اسلام كا انعطاف پذير ہونا ضروري تھا؟ كياايسے مرجع كو معين كرنا ضروري تھا جس كي طرف ہر زمان ومكان ميں اسلامي نرمي كے نتيجے ميں چھوڑے جانے والے خلاء كو پر كرنے كے لئے رجوع كيا جاتا، اس سلسلے ميں اسلام نے جامع الشرائط فقيہ كو معين كيا ہے۔

يہ بات مكمل طور پر اس نرمي سے مختلف ہے جو نرمي اور لچك شورائي نظام ميں فرض كي گئي تھي اور اس نرمي سے پيدا ہونے والے خلاء (منطقۃ الفراغ) كو پر كرنے كے لئے كسي مرجع كومعين نہيں كيا گيا جس كي طرف رجوع كيا جائے۔

ليكن اس كے باوجودممكن ہے ولايت فقيہ پر شورائي نظام پر كئے جانے والے اشكال سے مشابہ اشكال كيا جس كے يہ اشكال درج ذيل مختلف طريقوں سے بيان كيا جا سكتا ہے:

پہلا بيان

ولايت فقيہ كو ثابت كرنا اوراس كي حدود و شرائط معين كرنا (چنانچہ گذشتہ بحثوں كي طرف رجوع كرنے سے واضح ہوجاتا ہے) كوئي اسان كام نہيں بلكہ ان سب امور كو ثابت كرنے يا ان كي نفي كرنے كے لئے بحث وگفتگو كي ضرورت ہے اسلام نے شريعت كے اہم ترين امر كي وضاحت نہيں كي جس كے ذريعے اسلامي حكومت الٰہي حدود كي حفاظت كرتي ہے اوراحكام كا نفاذ كرتي ہے، اسلام ميں اس اہم امر كي وضاحت نہ كرنا اور اسلامي نظاموں اوراسلامي قوانين كي تفصيلات و جزئيات كے بيان پر مشتمل تفصيلي شرعي نصوص كا شارع كي طرف سے جاري نہ ہونا كيا معني ركھتا ہے؟ !

مگر يہ فرض كيا جائے كہ خداوند متعال كو معلوم تھا كہ غيبت كے زمانے ميں مومنين ہرگز صحيح اسلامي حكومت قائم كرنے ميں كامياب نہيں ہوسكيں گے ۔

جواب: زمانہ غيبت ميں اسلامي حكومت كي بنياد و اساس كچھ ابہاموں اور پيچدگيوں سے دو چار ہے جس كي وجہ سے ضروري ہے كہ علمي بحث كے ذريعے اس كے چہري سے گردو غبار كو صاف كيا جائے لہٰذا يہ نہيں كہا جا سكتا كہ اسلام ميں نقص ہے، اس دعويٰ پر بھي كوئي دليل نہيں ہے كہ اسلام نے حكومت كے لئے كوئي نظريہ اس لئے پيش نہيں كيا كيونكہ معلوم تھا كہ زمانہ غيبت ميں مسلمان اسلامي حكومت تشكيل دينے ميں كامياب نہيں ہوں گے نصوص كے زمانہ كو كئي سو سال گذرنے جانے بعد دليل ميں اس قسم كي پيچيدگيوں كا وجود ميں آنا ايك فطري امر ہے ۔خصوصاً يہ موضوع بھي ايسا ہے كہ نہ ہي نص كے زمانہ ميں اور نہ اس كے بعد جس كے نفاذ كي شرائط فراہم نہيں ہوسكيں تاكہ يہ موضوع لوگوں كے ذہنوں ميں راسخ ہوجاتا، ہم سب جانتے ہيں كہ زمانہ نص سے دوري نصوص كے ضائع ہونے اورسندوں كي پيچيدگي ميں كس قدر مؤثر ہے، بلكہ زمانہ نص سے دوري بعض اوقات دلالت ميں بھي پيچيدگيوں كا سبب بنتي ہے۔

دوسرا بيان

اسلامي شريعت ميں ولايت كو كسي خاص فقيہ كے لئے نہيں معين كيا گيا ہے بلكہ تمام جامع الشرائط فقہاء كے لئے قرار ديا گيا ہے اس حكم ميں ايك عظيم حكمت پوشيدہ ہے كيونكہ كوئي بھي جامع الشرائط فقيہ امام عليہ السلام كي طرح معصوم نہيں ہے تا كہ يہ عظيم منصب اس كو عطا كيا جائے ۔بلكہ ممكن ہے كہ كوئي فقيہ كسي موقع پر كسي بڑي خطا كا مرتكب ہوجائے اور اسلامي معاشري كو عظيم خطرات لاحق ہوجائيں، لہٰذا ضروري ہے كہ كسي خاص فقيہ كو اس منصب كے لئے معين نہ كيا جائے بلكہ تمام جامع الشرائط فقہاء كو ولايت حاصل ہو، تاكہ بعض

فقہاء ان امور ميں دخالت كريں جواموربعض دوسري فہقاء كے سپرد ہوں، اس طرح فقہاء ايك دوسري كو خطا سے محفوظ ركھ سكيں اورجہاں پر مصلحت كا تقاضا ہو وہاں پر حكمران فقيہ كے حكم كو نقض كريں (چنانچہ ہم بيان كرچكے ہيں كہ بعض صورتوں ميں حكمران فقيہ كے حكم كو دوسرافقيہ نقض كرسكتا ہے) تاكہ ايك ہي غير معصوم فقيہ، مسلمانوں كے امور پر مسلط نہ ہوجائے (اپني راي مسلط نہ كرسكے۔)

ليكن دوسري طرف يہ چيز اسلامي حكومت ميں واضح طور پر نقص كا موجب ہے، جس كي وجہ سے مسلمانوں كے امورميں مشكلات پيدا ہوجائيں گي اور ان كا نظام ناكارہ ہوجائے گا اور سب جہنم ميں جا گريں گے۔اس كي وجہ يہ ہے كہ جب سربراہ متعدد ہوں تو امت كي حالات خراب ہو جاتے ہيں، جب فقہاء متعدد ہوں اور ان ميں سے ہر ايك ولي امربن جائے اور مسؤليت كا بوجھ اٹھانے كے لئے قيام كرے، اور سب كےآراء و افكار اور تصورات بھي مختلف ہوں، تو ايسي صورت حال ميں اسلامي حكومت كي تشكيل ممكن نہيں جواپنے قدموں پر كھڑي ہو سكے!!ہر ج مرج سے كيسے بچا جائے اور كيسے اطمينان حاصل ہو كہ ان فقہاء ميں سے ہر فقيہ دوسري فقيہ كے حكم كو يہ كہتے ہوئے نقض نہيں كرے گا كہ ميں نے اسي مخالفت ميں مصلحت تشخيص دي ہے (كيونكہ ہر فقيہ كے پاس دوسري فقيہ كے حكم كو نقض كرنے كي يہ دليل ہوتي ہے كہ مصلحت كا تقاضا يہي ہے) اس كے علاوہ بہت سي دوسري خرابياں كہ جن كي وجہ سے حكومت كي قابل قبول شكل باقي نہيں رہتي۔

جواب:

۱) ايك دفعہ ہم اسلامي شريعت كو اس اعتبار سے ديكھتے ہيں كہ اس پر نقص وارد ہونے كا كتنا امكان ہے جو نقص نظام كو درہم برہم كردے اور امور ميں بد نظمي اورانتشار پيدا كردے ۔

۲) دوسري دفعہ اس اعتبار سے شريعت اسلامي كا ملاحظہ اس فرض كو مد نظر ركھتے ہوئے كرتے ہيں كہ (خدانخواستہ) فقہاء مخلص نہيں ہيں يا فقہاءآگاہ نہيں ہيں، ہم ديكھتے ہيں كہ اس كا نتيجہ تشويش اورامور ميں بد نظمي و انتشار ہے واضح رہے كہ دوسري صورت كواسلام كے منصوبوں اور پروگراموں ميں نقص شمار نہيں كرنا چاہے اور يہ نہيں كہنا چاہئے كہ اسلام كے پاس باصلاحيت اور امت كو حيراني و پريشاني سے نجات دلانے والا كوئي منصوبہ موجود نہيں تھا يہاں تك كہ فقہاء كے مخلص نہ ہونے اور آگاہ نہ ہونے كي صورت ميں بھي اسلام كے پاس كوئي قابل عمل پروگرام نہيں تھا۔

وضاحت: اگر فرض كر ليا جائے كہ زمام امور سنبھالنے والے تمام يا اكثر فقہاءآگا ہ اور مخلص ہيں تو عام طور پر امورمنظم ہوں گے اور ہر لحاظ سے مكمل حكومت قائم ہوگى ۔كيوں كہ وہ جانتے ہيں كہ ان كي ولايت اسلامي امت كے مفادات اور بھلائيوں كي حدود ميں ہے اور ان كي ولايت امت كي اصلاح كے لئے ہے امت كو تباہ وبرباد كرنے كے لئے نہيں ہے، اور يہ بھي جانتے ہيں كہ انتشار اور عدم وحدت كي وجہ سے كتني خرابياں اور كتنے عظيم خطرات لاحق ہو سكتے ہيں اور كس حد تك مسلمين زوال كا شكار ہو سكتے ہيں، لہٰذا وہ باہمي مشورہ كے ذريعے متفقہ راي اپناتے ہيں، مراد يہ نہيں كہ ہميشہ تمام امورميں ان كي راي ايك ہوتي ہے كيونكہ يہ فرض اكثر اوقات غير علمي ہے ۔بلكہ مراد يہ ہے كہ بعض اوقات ايك راي پر اتفاق كرليتے ہيں اور بعض فقہاء اپني راي سے دست بردار ہوجاتے ہيں (اگر چہ وہ اپني راي كو صحيح سمجھتے ہيں) اور بعض اوقات وحدت كلمہ كي مصلحت كو اپني راي كي مصلحت سے افضل سمجھتے ہوئے۔

اور ممكن ہے بعض اوقات خود كسي نظام كو معين كريں اور اس كي پيروي كريں تاكہ اختلافات ايجاد نہ ہوں مثال كے طور پر طے كيا جاتا ہے كہ اكثريت كي راي كو معيار قرار ديا جائےگا كيا طے پاتا ہے كہ اگر اختلاف پيش كيا تو فلاں شخص كي راي پر عمل كيا جائے گا جو شخص سب كي نظروں ميں افضل اور سب سے زيادہ ذہين ہوگا، ياہر ايك فقيہ كے لئے ايك شعبہ معين كر ديا جاتا ہے اور كہا جاتا ہے كہ اس شعبہ ميں مشوري كے بعد اس فقيہ كي راي قابل اطاعت ہوگى يا ايك فقيہ كو حكومت كا سربراہ بنا ديا جاتا ہے اور باقي فقہاء پر اس فقيہ كي راي كي پيروي اس وقت تك واجب قرار دي جاتي ہے جب تك اكثريت يا اجماع اس كي خطا كو ديكھ نہ لے، يا اس قسم كے دوسري معاہدے، اگر حكومت كے امور ميں شريك فقہاء كے دائري سے باہر ايك آگاہ اور مخلص فقيہ موجود ہو اور اس كا حكومت كے سر براہ يا نظارت كرنے والي كميٹي كے احكام ميں سے كسي حكم كو نقص كرنا حكومتي امور ميں مداخلت اور مسلمانوں كي صفوں ميں اختلاف كا سبب بنے اور اس كے نتيجہ ميں ايسي عظيم خرابياں پيدا ہوں جن كا نقصان، حكمران فقيہ يانظارت كرنے والي كميٹي كے حكم كي خلاف ورزي كرنے ميں پائي جانے والي مصلحت سے زيادہ ہو تو اس صورت ميں اس فقيہ كے لئے حكم كو نقس كرنا (خلاف ورزي كرنا) جائز نہيں ہوگا بلكہ اس پر واجب ہے كہ سكوت اختيار كرے اور ان احكام كے سامنے سر تسليم خم كر ے۔

تيسرا بيان

يہ كہا جائے كہ فقہاء كے فتوؤں ميں اختلاف مسلمانوں كے امور ميں تشويش كا سبب بنتا ہے جس كي وجہ سے ايك منظم نظام كي بنياد پر حكومت كا قيام ممكن نہيں ہوتا۔

بعض اوقات فقہاء كے فتوؤں ميں اختلاف شخصي احكام سے متعلق ہوتا ہے مثلاً نماز ميں تسبيحات اربعہ(۱۷۸) كا پڑھناكيا ايك مرتبہ واجب ہے يا تين مرتبہ؟ يہ اختلاف ہماري بحث ميں مشكل ايجاد كرنے كا سبب نہيں بنتا، كيونكہ ہر فقيہ اپني راي پر عمل كرتا ہے اور ہر فقيہ كامقلد اپنے مرجع تقليد كي راي پر عمل كرتا ہے لوگوں ميں تسبيحات اربعہ كي تعداد سے متعلق پائے جانے والے اختلاف پر كوئي خاص اجتماعي مشكل مرتب نہيں ہوتي ۔

جب كہ بعض اوقات فقہاء كے فتوؤں ميں اختلا ف ايسے احكام سے متعلق ہوتا ہے جو سماجي نظام سے مربوط ہوتے ہيں يہ فرض بعض اوقات مشكلات ايجاد كرتا ہے ۔مثلاً فرض كريں جامع الشرائط فقيہ كي قيادت ميں اسلامي حكومت نے اسلامي معاشري ميں ايك اقتصادي قانون واجب قرار ديا اورحكومت نے مصلحت تشخيص دي كہ اس قانون كو تمام لوگوں پر نافذ كيا جائے امت مختلف مراجع كي تقليد كرتي ہے امت كے بعض افراد ايسے فقيہ كي تقليدكرتے ہيں جو اس قانون كو صحيح سمجھتا ہے۔

جب كہ كچھ افراد ايسے فقيہ كي تقليد كرتے ہيں جس كے نزديك يہ قانون خطا پر مبني ہے مثال كے طور پر فرض كريں حكومت نے ان اموال ميں خمس ضروري قرار ديا جن اموال كے متعلق فقہاء ميں اختلاف پايا جاتا ہے كہ كيا ان اموال سے خمس تعلق پكڑتا ہے يا نہيں؟ ہم يہاں پر اس صورت حال ميں كيا كريں گے؟

توجہ رہے كہ يہ مشكلات عام طور پر حكمران كے حكم كے قابل نفاذ ہونے كے ذريعے حل ہو جاتي ہيں جب اسلامي حكومت كا سربراہ كوئي حكم كرتا ہے تو وہ ايسي چيز كا حكم نہيں كرتا جسے بعض لوگ حرام سمجھتے ہوں، تاكہ حكم نافذ نہ ہو، بنا براين حكمران كا حكم تمام امت پر نافذ ہوگا، حتي اس شخص پر بھي جو مثلاً فلاں مال ميں خمس كے وجوب كا قائل نہيں ہے، خمس نكالنا واجب ہوگا كيونكہ خمس نكالناحرام كام نہيں ہے، جس طرح دوسري لوگوں كے لئے جائز ہے كہ اس طريقے سے حاصل ہونے والےمال كے ذريعے انجام پانے والے معاملے كاايك فريق (بيچنے والا يا خريدنے والا) بن سكيں كيونكہ ولو فرض كيا جائے كہ يہ مال جبري طور پر حاصل كيا گيا ہے (يعني مال كامالك راضي نہيں تھا حتي كہ حاكم كے حكم كے بعد بھي راضي نہيں تھا) پس اس سے يہ مال زبردستي ليا گيا ہے۔

ليكن زبردستي حق پرمبني ہے كيونكہ اس كا حكم ايسے ولي نے ديا ہے جسے زبردستي كرنے كا حق حاصل ہے بلكہ ميں ايسے اسلامي نظام حكومت ميں جو تجويز دوں گا وہ يہ ہے: تمام مدني قوانين ( CIVEL.LAW ) اور شخصي قوانين ( PERSNAL.LAW )، عبادتوں كے نظام اور باقي احكام ايك متفقہ توضيح المسائل ميں منظم طور پر جمع كئے جائيں جو توضيح المسائل درج ذيل مراحل طے كرنے بعد مرتب كي جائے:

برجستہ فقہاء پر مشتمل كميٹي كے افراد باہمي مشورہ كريں، اور كسي بھي موضوع كے متعلق ديئے جانے والے فتويٰ كے باري ميں آپس ميں بحث گفتگو كريں، موضوعات كي تشخيص اورامت كے مفادات اور بھلائيوں (اسلامي شريعت ميں جن مفادات كو مد نظر ركھتے ہوئے منطقۃ الفراغ كو پر كيا جاتا ہے) كوتشخيص دينے كے لئے ہر شعبے كےماہرين اور اہل فن افراد سے مدد ليں اگر كسي مور دميں اختلاف فتويٰ پيش آجائے حتيٰ مشورہ اورباہمي افہام و تفہيم كے بعد بھي يہ اختلاف بر طرف نہ ہو سكے تو (عام طور پر يہ ممكن ہے كہ) احتياط پر عمل كيا جائے ۔يا اگر ان فقہاء كے درميان كوئي ايسا فقيہ موجود ہو جو تمام فقہاء كي نگاہ ميں اعلم (دوسروں كي نسبت زيادہ علم والا) ہواورتمام فقہاء اس كي اعلميت كا اس طرح اعتراف كريں كہ امت كے لئے دوسري فقہائ كا فتويٰ نہيں بلكہ اسي اعلم فقيہ كا فتويٰ حجت بن جائے تو اس صورت ميں اس اعلم كي راي كو اپنايا جائے، يا كسي ايك فقيہ كو ولايتي حكم جاري كرنے كے لئے مقدم كيا جائے (كيونكہ وہ ولي امر ہے لہٰذا ولايتي حكم جاري كر سكتا ہے) اور يہ ولايتي حكم اس كے اپنے فتويٰ كے مطابق ہو، تاكہ امت كے تمام گروہوں پر اس كاحكم نافذ ہو ۔

ان سب مراحل كو طے كرنے كے بعد ايك متفقہ توضيح المسائل مرتب كركے شايع كي جائے جس پر عمل كرنا امت كے تمام افراد پر واجب ہو۔

ولايت فقيہ اور معاشرہ كوسعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرتي ہے

قراردادي حكومتوں (حتي انتخاب كے نتيجے ميں قائم ہونے والي حكومت) ميں نفوذ كلام كي قوت ايك يا ايك سے زيادہ افراد (مثلاًدوياتين) كے ہاتھ ميں ہوتي ہے يا اس تعداد كے ہاتھ ميں ہوتي ہے جنھيں امت منتخب كرتي ہے تو حكم (حكومت كے احكام و قوانين) مركزيت طاقت وقدرت اورمكمل كنٹرول سے بہرہ مند ہوگا اور يہ چيز حكومت كے نظم و ضبط كے لئے مفيد ہے ليكن بعض اوقات اس كانتيجہ استبداد (منماني اور اپني راي مسلط كرنا) اورامت كو دھوكے ميں ركھنے كي صورت ميں برآمد ہوتا ہے، جس طرح صاحبا ن اختيار (حكمران) كا دائرہ وسيع ہوتا جائےگا اس حساب سے حكومت كے معرض استبداد ميں واقع ہونے كے امكانات كم ہوتے جائيں گے ۔اوراسي مقدارميں حكومت كي طاقت و قدرت، تسلط وكنٹرول اور نظم و نسق ميں كمي آجائے گي۔ليكن امام معصوم عليہ السلام كي غيبت كے زمانہ ميں اسلام نے (حكومت كي) جو شكل پيش كي ہے وہ تيسري شكل ہے جس كي وضاحت ہم ولايت فقيہ كي بحث ميں كر چكے ہيں كيونكہ اسلام نے (غيبت كبريٰ كے زمانے ميں) ولايت فرد واحد كے ہاتھ ميں نہيں دي تاكہ نظام حكومت استبداد كے قريب ہو، اورنہ ہي تمام فقہاء كو اس طرح ولايت عطا كي ہے كہ ہر فقيہ منصب ولايت كے ايك حصے كامالك ہو جس كے نتيجے ميں مركزيت كمزور پڑجائے۔

بلكہ اسلام نے ولايت تمام جامع الشرائط فقيہ كے ہاتھ ميں دي ہے اور ان ميں سے ہر فقيہ مستقل حاكم ہے ليكن جب ان ميں سے كوئي ايك فقيہ حكومت كي تشكيل اور امور كو منظم كرنے كي غرض سےآگے بڑھے تو باقي فقہاء كے لئے جائز نہيں كہ مسلمانوں كي صفوں ميں تفرقہ ايجاد كريں (اس كي مخالفت كريں) اور جب تك حكومت قائم كرنے والا فقيہ منحرف نہ ہو اورجب تك اتني بڑي خطا كا مرتكب نہ ہو جس كے مفاسد ونقصانات مسلمانوں كي صفوں ميں تفرقہ ايجاد كرنے كے نقصانات ومفاسد سے زياہ ہوں تو باقي سب فقہاء پر واجب ہے كہ حكومت كے قائم كرنے والے فقيہ كے سامنے سر تسليم خم كرليں۔

اس شكل ميں اسلام نے (حكومت كي) دونوں شكلوں كے امتيازات اورخوبيوں كو يكجا محفوظ

ركھا ہے ايك طرف سے طاقت و قدرت، مكمل كنٹرول اور تسلط باقي ركھا ہے كيونكہ دوسري فقہاء اس وقت تك مخالفت كا اظہار نہيں كرتے جب تك امور كي باگ ڈور سنبھالنے والے فقہاء منحرف نہ ہوں اور اتني بڑي خطا كے مرتكب نہ ہوں جس كے مفاسد و نقصانات مخالفت كے مفاسد و نقصانات سے زيادہ ہوں اور دوسري طرف سے (حكومت يا فقيہ حاكم كو) استبداد (منماني) سے دور ركھا ہے كيونكہ دوسري فقہاء بھي نفوذ كلام كي طاقت سے بہرہ مند ہيں (وہ بھي حاكم ہيں) اور وہ حاكم پر نظارت كرتے ہيں اور جہاں پر مصلحت كا تقاضاہو اپني نظر بيان كرتے ہيں ۔جب حكومت كا سربراہ غير معصوم ہو تو يہ روش اپنائے بغيراور كوئي چارہ كار نہيں ہوتا۔اور يہ اسلامي حكومت كي خوبيوں ميں سے ايك نماياں خوبي ہے۔

اور ان دلائل ميں سے ايك دليل ہے جو دلائل دلالت كرتے ہيں كہ اسلامي حكومت (كے قوانين) مرتب كرتے وقت دقت سے كام ليا گياہے جب ايك طرف سے يہ نظام زہد و تقويٰ كي روكاوٹوں سے ملا ہوا ہو اور دوسري طرف سے يہ نظام قرار دادي ہو اور امت فقہاء پر نظارت كرے وہ امت جو معرفت ركھتي ہے كہ فقہاء ميں عدالت اور لياقت وصلاحيت كي شرط ضروري ہے، وہ امت كہ جس كي تربيت الٰہي تعليمات كي روشني ميں ہوئي ہے اور جب تيسري طرف سے ہر فن كےماہرين اور صاحب راي لوگوں سے مشورہ كيا جائے تو امام معصوم عليہ السلام كي غيبت كے زمانہ ميں حكومت كے لئے قابل تصور نظاموں ميں سے سب سے بہترين نظام تشكيل پائےگا جو ہر قسمي ظلم و استبداد سے دور ہوگا، لوگوں كوخوشنودي پروردگار سے نزديك ہونے كي طرف رغبت دلائے گا اور يہي اسلام كا بلند ترين ھدف ہے جو انساني معاشري كو دنياوآخرت ميں سعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرتا ہے ۔

خلاصہ بحث

۱) غيبت كبريٰ كے زمانہ ميں اسلامي حكومت (مكتب اہل بيت عليھم السلام كے مطابق) ولايت فقيہ كي بنياد پر قائم ہے۔

۲) ولايت فقيہ كےلئےشرط ہے كہ فقيہ عالم اورلائق ہو (امور كو انجام دينےكي صلاحيت ركھتا ہو) ۔

۳) (عام حالات ميں) اسلامي حكومت پر واجب ہے كہ زندگي كے مختلف شعبوں ميں مہارت ركھنے والے افراد اور مضبوط راي كےمالك افراد سے مشورہ كرے۔

۴) اگرمعاشري كي مصلحت (مخصوص حالات و شرائط ميں يا جن عالمي حالات و واقعات ميں معاشرہ زندگي گذاررہا ہے) كا تقاضايہ ہو كہ قوہ تضننہ (قانون ساز اسمبلي يا قوہ مجريہ (كابينہ) كے اركان معين كرنے كے لئے يا كسي دوسري شعبے ميں يا قانون سازي كے بعض شعبوں ميں لوگوں كےآراء افكار كو مدنظر ركھنے كے لئے انتخاب كروائے جائيں تو فقيہ پر واجب ہے كہ اس پر دستخط كرے (اس كي تائيد كرے) ۔

۵) ہماري تجويز كے مطابق ايك قانوني منبع وماخذ (كتابي صورت ميں) ہونا چاہئے جس ميں زندگي كے مختلف شبعوں سے متعلق اسلام كے احكام اور قوانين موجود ہوں يا شيعوں كے بقول ”توضيح المسائل“ہوني چاہئے تاكہ امت اس كے مطابق عمل كر سكے۔توضيح المسائل ايسا رسالہ ہے جسے فقہاء كي كميٹي موضوعات اور مصالح ومفادات كي تشخيص كے لئے ہر شبعے كےماہرين اور پائيدا راي كے حامل افراد سے مشورہ كرنے كے بعد باہمي مشورہ كے بعد مرتب كرتي ہے، اگر باہمي مشورہ اور بحث وگفتگو كے ذريعے (فقہاء كے فتوؤں ميں موجود) اختلاف كو حل نہ كيا جا سكے تو فقہاء اپنے درميان سے كسي ايك فقيہ كي راي كو اعلميت كي بنياد پرمنتخب كرتے ہيں يا حكمران فقيہ كے حكم كي بنياد پر (كسي ايك راي كو منتخب كرتے ہيں) يا احتياط پر عمل كرتے ہيں ان سب مراحل كو طے كرنے كے بعد يہ ”توضيح المسائل “مرتب كي جاتي ہے تاكہ امت اس كے مطابق عمل كر سكے ۔

۶) ہماري تجويز ہے كہ ”وطن" كي اصطلاح جو مغربي مفاہيم پر مشتمل ہے، كو حذف كركے اس كي جگہ اسلامي فقہي اصطلاح ”دارالاسلام"(۱۷۹) كي اصطلاح استعمال كرني چاہئے۔اور لفظ وطن اس دوسري معني ميں استعمال ہوتا رہے جو معني نمازو روزہ كے متعلق مسافر كے احكام (پوري نماز يا قصر نماز يا روزہ ركھنا يا افطار كرنا وغيرہ) ميں مدنظر ہوتا ہے۔

۷) اسلامي حكومت كي نظرياتي حدود پوري كرہ ارض كو شامل ہيں جب كہ عملي اعتبار سے حكومت اسلامي كا دائرہ كار وہاں تك ہے جہاں تك اس كي قدرت واستطاعت ہو۔

۸) حكومت اسلامي كامالي نظام درجہ ذيل چار بنيادوں پر استوار ہے:

۹) وہ چيزيں جو حكومت اورامامت كي ملكيت ہيں جنھيں اسلامي فقہ كي اصطلاح ميں انفال كہاجاتا ہے، جيسے بنجر وغيرآباد زمينيں (بلكہ زمين كي اكثر انواع وا قسام) اور معدنيات جيسے تيل وغيرہ۔

۱۰) امت اسلامي كي ملكيت ميں داخل ہونے والي چيزيں مثلاً جزيہ كے طور پر حاصل ہونے والي زمينيں جنھيں امام كي اجازت سے جہاد كرتے ہوئے فتح كيا جائے ان اموال ميں اسلامي حكومت، معاشري كے ولي اور سر پرست كي حيثيت سے مسلمانوں كي ضروريات كو پورا كرنے كي غرض سے تصرف كرتي ہے۔

۱۱) كتاب و سنت ميں موجود اسلامي ٹيكس جيسے خمس وزكات ۔كيونكہ اسلامي حكومت كو معاشري پر ولايت كا حق حاصل ہے لہٰذا ان ٹيكسوں كے ذريعے حاصل ہونے والا سرمايہ ان ضروريات كو پورا كرنےكے لئے خرچ كرےگي جو ضروريات اسلامي فقہ ميں معين كي گئي ہيں۔

۱۲) وہ ٹيكس جنھيں اسلامي حكومت (اگر اسلامي حكومت مصلحت كي تشخيص دے) ولايت فقيہ كي بنياد پر ضروري قرار ديتي ہے۔

۱۳) حكومت كا ہدف ومقصد يہ ہے كہ خداوند متعال كي رضا كے مطابق عمل كرے، اور معاشري كو خداوند متعال كي خوشنودي حاصل كرنے كي ترغيب دلائے ہم جانتے ہيں كہ اللہ تعاليٰ كي خوشنودي كے لئے درج ذيل امور ضروري ہيں: لوگوں كے درميان عدل و انصاف كا قيام، ظلم واستبداد كا خاتمہ كرہ ارض پر الٰہي نظاموں اور كلمۃ اللہ (الٰہي قوانين) كا نفاذ ۔ ان شاء اللہ تعاليٰ

اللهم انا نرغب اليك في دولة كريمة تعزّ بها الاسلام واهله وتذل بها النفاق واهله وتجعلنا فيها من الدعاة الي طاعتك والقادة الي سبيلك ۔(۱۸۰)

____________________

۱۰۲. سورہ احزاب آيت۶

۱۰۳. فريقين كي كتب ميں ايسي روايات موجود ہيں جنكے مطابق نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد بارہ جانشينوں كا نام بيان فرمايا ہے (مترجم.

۱۰۴. اس سلسلے ميں ہماري استاد بزرگوار حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد باقر الصدر عليہ الرحمۃ كي گرانقدر اور جاذب (مگر مختصر. بحث كي طرف رجوع فرمائيں۔

۱۰۵. حكم و موضوع كي مناسبت سے حكم كي نوعيت كا ملاحظہ كرتے ہوئے اور عرفي طور پر اس حكم كے موضوع كے ساتھ تناسب كو ملاحظہ كرتے ہوئے۔

۱۰۶. كتاب البيع، امام خمينى، ج:(۲)ص: ۴۶۱۔۴۶۷

۱۰۷. اصول كافى، ج:(۱)ص: ۵۹، باب الرد الي الكتاب والسنۃ حديث:(۴)

۱۰۸. اصول كافى، جلد۲ ص۷۴، باب الطاعۃ والتقويٰ، حديث:(۲)

۱۰۹. كتاب البيع، امام خمينى، ج:(۲)ص: ۴۶۱

۱۱۰. اصل اولي (ابتدائي قاعدہ. يہ ہے كہ كسي بھي انسان كو كسي دوسري انسان پر ولايت كا حق حاصل نہيں ہے مگر يہ كہ كسي معتبر دليل كے ذريعہ كسي كے لئے ولايت ثابت ہوجائے۔ (مترجم.

۱۱۱. مثال كے طور پر امر ولايت مشتبہ ہے دو گروہوں كے درميان (۱. فقہاء (۲. تمام لوگ پہلے گروہ كا دائرہ تنگ ہے اور وہ دوسري گروہ ميں شامل ہے كيونكہ فقہاء بھي معاشري كا حصہ ہيں يہاں پر قدر متيقن يہ ہے كہ پہلے گروہ كو يقيني طور پر ولايت حاصل ہے كيونكہ اس طرح يہ ولايت دوسري گروہ كے بعض افراد كو بھي حاصل ہوجائے گي۔ (مترجم.

۱۱۲. وسائل الشيعة، ج ۱۸، ص: ۱۸ ص۵۳، باب ۸، ابواب صفات قاضي حديث:(۴)

۱۱۳. يعني تواتر كي حد تك نہيں پہنچيں ليكن خبر و احد بھي نہيں ہيں بلكہ ان كي تعداد زيادہ ہے (مترجم)

۱۱۴. زيد عالم، ميں زيد موضوع اور عالم محمول ہے اسي طرح النار حارۃ، النار موضوع اور حارہ محمول ہے ۔ جب موضوع ميں اطلاق پايا جائے تو يہ سبب بنتا ہے كہ متعدد صورتوں كو اپنے اندر شامل كئے ہو مثلا جب كہا گياآگ گرم ہے تو اس صورت ميں حرارت كاحكم آگ (موضوع. كي تمام اقسام كے لئے قرار پائے گاجبكہ (زيدعالم. كہا جائے تو اگر عالم (محمول. ميں اطلاق پايا جائے تو ا سكا مطلب يہ نہيں كہ جن چيزوں كے باري ميں علم كا احتمال ديا جائے زيد ان سب كا عالم ہے۔ (مترجم)

۱۱۵. كيونكہ حاشيے ميں بيان كرچكے ہيں كہ اگر محمول ميں اطلاق پايا جائے تو يہ سرايت كا باعث نہيں بنتافقط موضوع ميں پايا جانے والا اطلاق سرايت كا موجب بنتا ہے (مترجم.

۱۱۶. اصول كافى، ج ۱، ص: ۳۴ وسائل جلد۱۸ ص۵۳، باب ۸، ابواب صفات قاضي حديث: ۲

۱۱۷. اصول كافى، ج۱ص ۴۶

۱۱۸. اصول كافى، ج۱ ص۳۸

۱۱۹. مستدرك الوسائل، باب: ۱۱، از ابواب صفات قاضى

۱۲۰. مستدرك الوسائل، باب: ۱۱، از ابواب صفات قاضى۔

۱۲۱. يہ سند ضعيف ہے كيونكہ اس سلسلہ سند ميں محمد بن الحسن بن شمون موجود ہے۔

۱۲۲. وسائل الشيعة، ج۱۸، ص: ۹۹۔باب: ۱، ابواب صفات قاضي حديث: ۴

۱۲۳. علماء رجال نے عمربن حنظلہ كي توثيق نہيں كي ہے ليكن صحيح السند احاديث ميں صفوان نے عمر بن حنظلہ سے روايت نقل كي ہے اور صفوان ان تين افراد ميں سے ہيں جن كے باري ميں شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے گواہي دي ہے كہ يہ تين افراد ثقہ افراد كے علاوہ كسي اور سے روايت نقل نہيں كرتے يہ تين افراد: صفوان بن يحيٰ البجلى، محمد بن ابي عميرا زدي اور احمد بن محمد بن ابي نصر بزنطي ہيں اسي طرح ايك اور حديث ہے جس كي سند يزيد بن خليفہ تك صحيح (يزيد وہ ہيں جن سے صفوان نے روايت نقل كي ہے. راوي كہتا ہے كہ جب ميں نے امام صادق عليہ السلام سے كہا: ايك دفعہ عمر بن حنظلہ نے ايك حديث كو ہم سے بيان كيا ہے تو امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: وہ ہماري طرف جھوٹ كي نسبت نہيں ديتے، وسائل الشيعہ ج: ۳، ص: ۹۷وج: ۱۸ ص: ۵۹۔

۱۲۴. مزيد تحقيق يہ ہے كہ اگر جملہ ”جعلتہ حاكما “كے اطلاق سے يہ مراد ہو كہ كلمہ"حاكما" كے اطلاق سے تمسك كيا جائے تو اس ميں بھي سابقہ اشكال پيدا ہو جائے كہ محمول ميں اطلاق جاري نہيں ہوتا اور اطلاق كے ذريعہ شمول اور وسعت كا فائدہ حاصل نہيں ہو سكتا اور اگر اطلاق سے يہ مراد ہو كہ كلمہ ”حاكما”كے متعلق كے اطلا ق سے تمسك كياجائے جو كہ محذوف ہے (يعني در حقيقت عبارت يوں ہے "جعلتہ حاكما" (في كل شئى. تو اس صورت ميں يہ اشكال ہو گا كہ كسي كلمہ كا اطلاق اس كلمہ كو اس وقت تك شمول و وسعت عطا كرتا ہے جب خود كلمہ معين ہو نہ يہ كہ كسي كلمہ كے اطلاق كو ذريعہ بنا كر كسي اور محذوف كلمہ كو معين كيا جائے اور اگر مراد يہ ہو كہ چونكہ كلمہ ”حاكما" كا متعلق محذوف ہے لہٰذا اسے اطلا ق كا استفادہ ہو تا ہے تو اس ميں سے اعتراض پيدا ہو جائے گا (جسے ہم علم اصول فقہ ميں ثابت كر چكے ہيں. كہ ہماري نزديك كلمہ كے محذوف ہونے سے اس صورت ميں اطلاق كا فائدہ ہوتا ہے جب خطاب كے وقت قدر متيقن موجود نہ ہو، جب كہ ہماري اس بحث ميں مذكورہ حديث ميں قدرمتيقن موجود ہے جسے حديث مين موجود قرينہ سے سمجھا جاتا ہے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے كہ صرف باب قضاوت اور نزاع واختلاف كے حل كے سلسلہ ميں فقيہ كو ولايت حاصل ہے ۔

۱۲۵. حضرت نے فرمايا ہے: جب وہ ہماري احكام كے مطابق حكم كرے اور اس كا فيصلہ نہ مانا جائے تو يہ حكم خدا كو كم اہميت شمار كرنے كے برابر ہے، امام نے بطور مطلق فقيہ كے فيصلہ كو قبول كرنے كا حكم ديا ہے يعني تمام صورتوں ميں اس كے حكم كو ٹھكرانا خدا كے حكم كو كم اہميت شمار كر نے كے برابر ہے امام نے اس روايت ميں كسي قسم كي كوئي قيد نہيں لگائي كہ فلاں صورت كے لئے ميرا يہ حكم ہے جب كہ فلاں دوسري رويات كے لئے نہيں ہے لہٰذا اس استدلال سے فقيہ كي مطلق ولايت كو ثابت كرنا صحيح ہے۔ (مترجم)

۱۲۶. ضميمہ ۔۳ملاحظہ ہو۔

۱۲۷. غيبت صغريٰ كے زمانے ميں لو گ امام مہدي عليہ السلام كے چار خاص نائبوں كے ذريعے امام عليہ السلام سے مسائل كا جواب حاصل كرتے تھے امام عليہ السلام كي طرف سےانے والے (جوابى. نامہ مبارك كو توقيع كہا جاتا ہے۔ (مترجم)

۱۲۸. وسائل الشيعہ، ۱۸ص۱۰۱۔ اكمال الدين واتمام النعمۃ، ص۴۸۴۔ كتاب الغيبۃ شيخ طوسي ص۱۷۷مطبوعہ نجف۔

۱۲۹. بظاہر اس جماعت ميں سے ايك شيخ مفيد عليہ الرحمۃ ہيں كيونكہ شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے جعفر بن محمد بن قولويہ اور ابو غالب رازي كي جتني كتابوں اور روايتوں كو ايك جماعت سے نقل كيا ہے ان سب ميں اس جماعت ميں سے ايك فرد شيخ مفيدعليہ الرحمۃ ہيں۔

۱۳۰. گذشتہ حاشيہ سے يہ بات واضح ہو چكي ہے كہ يہ جماعت جعفر بن محمد بن قولويہ اور ابو غالب رازي وغيرہ ہيں ۔

۱۳۱. ضميمہ نمبر۴۔

۱۳۲. ضميمہ ۔۵۔

۱۳۳. غير حقدار سے مراد جعفر كذاب ہے ۔ (مترجم. مرآۃ العقول ج۴، ص۷۔

۱۳۴. علم حديث ميں شيخ سے مراد وہ شخص ہے جس سے روايت نقل كي جاتي ہے اور اس كي جمع مشائخ ہے ۔ جب كہ لغت ميں شيخ كا معني ہے بزرگ ۔ (مترجم)

۱۳۵. اصول كافى، ج۱، ص۳۲۰ روايت كامحل شاہد وسائل الشيعہ ج۱۸، ص۱۰۰ پر بھي نقل ہو اہے ۔

۱۳۶. ضميمہ نمبر۶۔

۱۳۷. آيہ مباركہ صاحبان امر كي اطاعت كا حكم دے رہي ہے اور يہ حكم بھي مطلق ہے يعني كسي قسم كي قيد نہيں لائي گئي اور ولي فقيہ پر بھي صاحب امر كا عنوان صادق ہےآيہ مباركہ كا اطلاق ولي فقيہ كو بھي شامل ہے اور اس كي اطاعت واجب ہے ۔ (مترجم)

۱۳۸. سورہ نساء آيت ۵۹۔

۱۳۹. ضميمہ نمبر۷۔

۱۴۰. سورہ نساء، آيت: ۵۹

۱۴۱. علماء اصول كا كہنا ہے: حكم كي دليل (جس دليل ميں حكم بيان ہواہو. اپنے موضوع كے صادقانے كي ضامن نہيں ہے۔ (مترجم)

۱۴۲. اگر ولايت عامہ كے لئے ہماري دليل مقبولہ عمر بن حنظلہ ہو تو فقاہت كي شرط كا ضروري ہونا بھي واضح ہے كيونكہ اس روايت كے لفظ ہيں ”يہ دونوں شخص ڈھونڈھيں گے كہ آپ ميں سے كون ہماري حديثيں نقل كرنے والا ہے اور ہماري حلال وحرام ميں نظر ركھتا ہے اور ہماري احكام كي معرفت ركھتا ہے، ، يہ عبارت واضح طور پر فقاہت كي شرط پر دلالت كرتي ہے ليكن كيا حكم كے نفاذ كے لئے حاكم كا مجتہد متجزي ہونا كافي ہے يا اجتہاد مطلق كے مرتبہ تك پہنچنا ضروري ہے اس سلسلے ميں ضميمہ نمبر ۸ ملاحظہ فرمائيں۔

۱۴۳. اگر اطلاق كو درست مان ليا جائے اور يہ بھي مان ليا جائے كہ اطلا ق شرط وثاقت كي نفي كرتا ہے تو يہ روايت اس اطلاق كو مقيد كر دے گي ۔اگر تعارض و تساقط فرض كيا جائے تو ہم قدر متيقن كے علاوہ باقي ميں اصل كي طرف رجوع كريں گے، اوراصل عدمِ ولايت كا تقاضا كرتي ہے مگر يہ كہ اس اصل سے دليل كے ذريعے (بعض افراد كو. خارج كيا جائے، اور يقيني مقدار (در متيقن. وثاقت اورصلاحيت ہے ۔

۱۴۴. اصول كافى، ج ۱، ص۴۰۷۔روايت كے سلسلہ سندميں ايك راوي صالح بن سندي ہے جس كي وثاقت ثابت نہيں ہے ليكن آيہ اللہ خوئي عليہ الرحمۃ كے معني كے مطابق اس كي وثاقت ثابت ہوتي ہے كيوں كہ ان كے نزديك كامل الزيارات كي سند ميں آنے والے تمام راوي ثقہ ہيں اور اس شخص (صالح بن سندى. سے كامل الزيارات ميں روايت نقل ہوئي ہے۔كامل الزيارات باب ۴۷حديث۲۔

۱۴۵. سورہ زخرف آيت ۱۸۔

۱۴۶. گذشتہ بيانات ايسے ہيں جو كم ازكم انصراف كا احتمال كا موجب ہيں، ولي كے لئے حلال زادہ ہونے كي شرط بھي قابل اثبات ہے۔ بعض گذشتہ بيانات يا ان كي مانند دوسري دلائل كے ذريعے بھي بلوغ كي شرط كو بھي ثابت كيا جاسكتا ہے۔

۱۴۷. وسائل الشيعہ، ج۱۱، س۴۔

۱۴۸. غالباً كي قيد اشارہ ہے اس چيز كي طرف كہ بعض اوقات حكم اپنے متعلق ميں پائے جانے والے ملاك كا انكشاف نہيں كرتا بلكہ باب ترجيح بلا مرجح كے طور پر ايك طرف كو دسري پر مقدم كيا جاتا ہے كيونكہ ضرورت تقاضا كرتي ہے كہ معين متحد موقف اپنايا جائے، اس فرض ميں وہ نكتہ نہيں پايا جاتا جس كي بنياد پر اعلم كي راي كو مقدم كيا جاتا ہے۔

۱۴۹. صحيح يہ ہے كہ احمد بن اسحاق كي روايت نے عمري اور اس كے بيٹے كي اطاعت كي تعليل (علت. يہ بيان كي ہے كہ كيونكہ يہ دونوں مورد وثوق (قابل اعتماد. ہيں نہ يہ كہ ان دونوں كا حكم مورد وثوق (قابل اعتماد. ہے، ليكن عرف قرائن و مناسبات كي مدد سے يہ درك كرتا ہے كہ حاكم كي وثاقت كو اس كے حكم پر اعتماد و بھروسہ كي غرض سے ضروري قرار ديا گيا ہے اوراس لئے اس كي وثاقت كو ضروري قرار ديا گيا ہے تاكہ ہميں اطمينان ہو اور ہم كشف كر سكيں كہ اس نے (اس حكم كے ذريعے. ايك ٹھوس اور مضبوط موقف اختيار كيا ہے، اس طرح وہ دلائل جن ميں وثاقت كي قيد ذكر نہيں ہوئي وہ بھي عرفاً انہي قرائن ومناسبات كي وجہ سے ان موارد سے منصرف ہيں (ان موارد كو شامل نہيں. جہاں پر معمولاً اس طرح كا وثوق نہ پايا جائے، غير اعلم كي راي جو اعلم كي راي سے معارض ہو عام طور پر اس ميں اس طرح كا وثوق و اعتماد نہيں پاياجاتا ہے۔

۱۵۰. سورہ مائدہ آيت ۱۔

۱۵۱. وسائل الشيعہ، ج۱۲، ص۳۵۳، باب ۶، از ابواب الخيار، حديث:(۲)

۱۵۲. گذر چكا ہے كہ يہاں حرمت سے مراد يہ حرمت ظاہري ہے يا يہ حرمت ايسے موضوع پر عارض ہوتي تھي جو موضوع حاكم كي دخالت سے اٹھ جاتا ہے (پس حكم يعني حرمت بھي اٹھ جاتي ہے.

۱۵۳. بحار الانوار، ج۲۷، ص۶۸ بحوالہ خصال۔باب: ۳، كتاب الامامۃ، حديث:(۴)

۱۵۴. بحار الانوار، ج: ۲، ص: ۲۶۶۔باب ۳۳، از كتاب العلم، حديث: ۲۵

۱۵۵. اصول كافى، ج: ۱، ص: ۴۰۵۔باب: ما امرالنبي بالنصيحہ، حديث:(۵)

۱۵۶. بحارالانوار، ج: ۲۷: ص۷۲باب:(۳)كتاب الامامہ حديث:(۵)

۱۵۷. بحار الانوار، ج۲۔ص۲۶۷۔باب: ۳۳ كتاب العلم حديث: ۲۸

۱۵۸. بحار الانوار، ج۲۷، ص۶۷، باب:(۳)كتاب العلم، حديث:(۱)

۱۵۹. بحار الانوار، ج۲۷، ص۶۷، باب:(۳)كتاب العلم، حديث:(۱)

۱۶۰. بحار الانوار، ج: ۲ص۲۶۶۔باب: ۳۳ كتاب العلم، حديث: ۲۲

۱۶۱. بحار الانوار، ج۲۔ص۲۶۶۔باب: ۳۳ كتاب العلم، حديث: ۲۳

۱۶۲. سورہ ممتحنہ۔آيہ۱۲ ۔

۱۶۳. سورہ فتح آيہ۱۰ تا۱۹۔

۱۶۴. ضميمہ نمبر ۹۔ملاحظہ ہو۔

۱۶۵. خصوصاً ۔ولايت فقيہ كے دلائل ميں اطلاق فقط مقدمات كے ذريعے نہيں آيہ مباركہ (اطيعوا اللہ واطيعوالرسول واولي الامر منكم. ميں اطاعت كا حكم احمد بن اسحاق كي روايت ”فاسمع لہ واطعہ۔اس كي بات كو سنو اوراس كي اطاعت كرو” ”فاسمع لھماو اطعھما۔ان دونوں كي بات سنو اور ان كي اطاعت كرو”دلالت كرتي ہے كہ (جس كي اطاعت كاحكم ديا جا رہا ہے. اس كي طرف سے جاري ہونے والے تمام احكام ميں اطاعت كا وجوب مطلق (غير مشروط. ہے۔اس كامعيار يہ ہے كہ جب مقام خطاب ميں قدرمتيقن (يقيني مقدار. پائي جائےتو متعلق كوحذف كردياجاتا ہے (جب اطاعت كا متعلق حذف ہوگا، اطاعت مطلق (غير مشروط. ہوگى. ہماري بحث ميں قدت متيقن زير ولايت (سرپرستى. افراد كے نقائص كو بر طرف كرنے اوران كي ضروريات اور ان كي كميوں كو پورا كرنے كي حدود ميں ہے اور توقيع ميں امام عليہ السلام كا فرمان ”فانھم حجتي عليكم”امام كے ظاہر حال اور امام كي غيبت كي مناسبت سے اطلاق پر دلالت كرتا ہے۔ (چنانچہ اس كا بيان گذر چكا ہے. اور وہ مناسبت اس سے زيادہ مقدار كا تقاضا نہيں كرتي۔

۱۶۶. فقہ كي روسے بعض افراد كو قاصر كہا جاتا ہے كيونكہ ان ميں اپنے اموال ميں مناسب تصرف كرنے كي صلاحيت نہيں پائي جاتي لہٰذا ان كے ولي (سرپرست. كو ان كے اموال ميں ان كي مصلحت اور بھلائي كو مدنظر ركھتے ہوئے تصرف كي اجازت دي جاتي ہے ۔مثلاً كم سن افراد، ديوانے اور سفيہ (كم عقل. جومالي تصرفات كي صلاحيت نہيں ركھتے. (مترجم)

۱۶۷. ايك شخص كو يہ حق حاصل ہے كہ اس كے احكام كي اطاعت كي جائے

۱۶۸. قاصر كے اموال كے لئے كسي ولي (سرپرست. كا ہونا ضروري ہے كے درميان جمع (ہماہنگي ايجاد كرنا. كرتا ہے تو عرف بخوبي درك كرتا ہے كہ اسے بطور ولي تصرف كا حق حاصل ہے، اطلاق ميں پائي جانے والي تشكيك و ترديدي عقلي ہے عرفي نہيں ہے۔

۱۶۹. اسلامي فقہ ميں دوقسم كي سزائيں پائي جاتي ہيں، پہلي وہ سزائيں ہيں جنھيں حدود كہا جاتا ہے كيونكہ ان ميں سزا كي مقدار معين ہوتي ہے مثلاً زنا كے بعض موارد ميں زاني كو سنگسار كيا جاتا ہے يا كچھ موارد ميں اسي (۸۰. كوڑے لگائے جاتے ہيں، دوسري قسم وہ سزائيں جن كي مقدار معين نہيں ہے بلكہ حاكم شرعي كو حق حاصل ہے كہ ہر مورد ميں جرم كے اعتبار سے سزامعين كرے، دوسري قسم كو تعزيرات كا نام ديا جاتا ہے ۔ (مترجم)

۱۷۰. توقيح ميں اطلاق كا پاياجانا واضح ہے كيونكہ ہم بيان كر چكے ہيں كہ ہر چيز ميں رجوع كرنے كا معني خود اس چيز كے مطابق ہے ۔

۱۷۱. ضميمہ نمر ۱۰ ملاحظہ ہو۔

۱۷۲. اس قسم ميں شرط نہيں كہ حاكم كے حكم سے پہلے اس چيز كا شرعي اعتبار سے لازمي ہونا ثابت نہ ہو۔بلكہ كبھي حكم سے پہلے اس چيز كا شرعي اعتبار سے لازمي ہونا ثابت ہوتا ہے ليكن حاكم كا ہدف ومقصد يہ ہوتا ہے كہ اسے لازمي قراردے حتي اس صورت ميں بھي كہ جب حكم حاكم سے پہلےاس كا لازمي ہونا ثابت نہ ہو (اگر چہ يہ تقدير (فرض. خلاف واقع ہے. اوركبھي حاكم كےحكم ميں دونوں صورتيں مفقود ہوتي ہيں يعني نہ حكم كاشف ہوتا ہےاورنہ ہي حكمِ ولايتي۔

۱۷۳. يہيں سے عرف كے لئے يہ حقيقت واضح ہوتي ہے كہ حكم كي يہ قسم احكام ظاہري كي سنخ سے ہے مثلاً ہميں علم ہو جائے كہ حاكم نے رؤيت ہلال كا حكم دينے كے لئے جس بينہ (دو گواہوں كي شہادت. پر اعتماد كيا وہ بينہ درست نہيں تھا ليكن اس كے باوجود ہم احتمال ديتے ہيں كہ ممكن ہے حاكم كا حكم اتفاقي طور پر واقع كے مطابق ہو، يہ حكم حجت سے گر جائے گا كيونكہ حكم اپني كاشفيت (واقع كو كشف كرنے. كي خصوصيت كھو چكا ہے ۔

۱۷۴. ايسي دليل جس ميں كاشفيت كا پہلوپايا جائے۔

۱۷۵. دوسري لفظو ں ميں اس حكم كي حجيت حكم واقعي ہے حكم ظاہري نہيں ہے تاكہ اس كا خلاف واقع ہونامعقول ہو۔

۱۷۶. ضميمہ نمبر ۱۱۔

۱۷۷. بلكہ حكومتي سطح سے نيچے بھى، باہمي روابط كے تقاضے مختلف ہوتے ہيں مثلاً متعدد بيويوں كا مسئلہ جنگ اور صلح كے زمانے ميں يكساں نہيں ہے۔

۱۷۸. سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اكبر۔ (مترجم)

۱۷۹. ضميمہ نمبر ۱۲۔ملاحظہ ہو۔

۱۸۰. دعائے افتتاح سے اقتباس


ضميمہ جات مؤلف

پہلاضميمہ

علم منطق ميں اسے قضيہ حمليہ كہا جاتااشكال: كلام ميں قرىب و بعيد سے اس قسم كے ولي (جس كي راي پر عمل كرناضرورى ہے) كي طرف كسي بھي طرىقہ سے اشارہ كا موجود نہ ہونا تيسرى احتمال كي نفي پر قرىنہ نہيں بن سكتا اگرچہ مشورہ كے باب ميں فرضيہ يہي ہوتا ہے كہ مشورہ كرنے كے بعد كسي ايك راي پرعمل كيا جائے ليكن كلام ميں يہ فرضيہ نہيں پايا جاتا، يعني كلام سے يہ نہيں سمجھا جاتا كہ حتي اس صورت ميں بھي كسي ايك راي پر عمل كرنا ضرورى ہے كہ جب كلام ميں كسي ولي كو فرض نہ كيا جائے اورمشورہ كرنے والے بھي مشورہ دينے والوں سے مختلف نہ ہوں۔

لہٰذا معني يہ ہوگا كہ جس راي پر عمل كرنا ضرورى ہے يا وہ راي مشورہ دينے والوں كي راي ہويا ان كي اكثرىت كي راي ہو يا ان افراد كي راي ہو جنھيں مشورہ دينے والے معين كرىں، ہمارى لئے پہلے سے يہ ثابت شدہ ہے كہ مشورہ كے باب ميں ضرورى ہے كہ كسي ايك راي پر عمل كيا جائے لہٰذاآيت اس معني ميں ظہور نہيں ركھتي كہ مشورہ دينے والوں يا ان كي طرف سے معين ہونے والے افراد كي راي پر عمل كرنا ضرورى ہے۔

جواب: اگر ”شاوروافي اموركم"اپنے امور ميں مشورہ كرو “جيسي تعبير لائي جاتي تو مندرجہ بالا اشكال صحيح تھا ليكن ”وامرھم شورىٰ بينھم “ كي تعبير پر يہ اشكال نہيں كيا جاسكتا، كيونكہ اس تعبير ميں مشورہ كا حكم نہيں ديا گيا بلكہ فقط لفظ ”شورىٰ" كو ”امرھم" كے لئے محمول(۱۸۱) قرار ديا گيا ہے۔

لہٰذاس كلام كامعني يہ ہے كہ ان كے امورمشورہ كے ذرىعے انجام پاتے ہيں بنا براين كلام ميں يہ فرضيہ موجود ہے كہ امور كےآگے بڑھانے كي غرض سے مخصوص آراء پر عمل كرنا ضرورى ہے، اب ہم سوال كرىں گے كہ كيا شورىٰ كے نتيجے ميں حاصل ہونے والي راي پر عمل كرنا ضرورى ہے يا شورىٰ سے ہٹ كر كسي ولي كي راي پر عمل كرنا مقصود ہے جب كہ شورىٰ كا فائدہ فقط يہ ہے كہ ولي كے سامنے (مشورہ كے نتيجہ ميں) راستہ واضح و روشن ہو جائے۔

فطرى طور پر ان دو احتمالوں ميں سے پہلا احتمال يقيني ہے، كيونكہ آيہ كرىمہ نے فقط شورىٰ كا تذكرہ كيا ہے ليكن ولي كا تذكرہ نہيں كيا، اب اگر كہا جائے ولي كي طرف رجوع كرناضرورى ہے تو يہ چيزآيہ كرىمہ سے نہيں سمجھي جاتي لہٰذا مزيد بيان كي ضرورت ہے تاكہ شورىٰ سے ولايت حاصل كرنے والے ولي كي راي پر عمل كيا جائے۔كلام ميں اس قسم كے ولي كا تذكرہ نہ كرنااس بات پر قرىنہ ہے كہ پہلا احتمال ہي مقصود ہے۔بعيد نہيں كہا جائے: اگر مشورى كاحكم ديتے وقت (شاوروا في الامر) اپنے امورميں باہمي مشورہ كرو “جيسي تعبير پر اكتفاء كيا جاتا تب بھي مذكورہ اشكال وارد نہ ہوتا كيونكہ عمومي ذہنيت يہ ہے كہ عام طور پر مشورہ كرناطرفِ مشورہ شخص كي راي پر عمل كرنے كا مقدمہ اور پيش خيمہ ہے، جب مشورہ كرنے والے شخص كے پاس مشورہ دينے والے شخص كي راي سے بہتر راي موجود نہ ہو يا اس كے پاس موجود راي مشورہ دينے والے شخص كي راي سے مساوي ہو، اس عمومي ذہنيت كے مطابق آيہ مباركہ (جواس فرض ميں وارد ہوئي ہے كہ جب مشورہ لينے والے مشورہ دينے والوں سے جدانہ ہوں) كا ظاہرى معني يہ ہے كہ مشورہ دينے والوں كي راي كي طرف رغبت دلائي جارہي ہے۔

ان مطالب اور متن كتاب ميں موجود مطالب كي روشني ميں يہ بات واضح ہو جاتي ہے كہ مورد بحث آيہ مباركہ ان دلائل ميں سے سب سے بہترىن دليل ہے جن دلائل كي بنياد پر شورىٰ كو مقصودہ معنيٰ كے مطابق حكومت وولايت كا سر چشمہ اور منبع وماخذ قرار ديا جاتا ہے، جس طرح روايت ”اموركم شورىٰ بينكم “دلالت كے اعتبار سے مستحكم ہے اسي طرح يہ آيہ مباركہ بھي دلالت كے اعتبار سے مستحكم ہے۔اورىہ آيہ مباركہ اس اشكال ميں مبتلا نہيں جس اشكال ميں روايت”اموركم شورىٰ بينكم “مبتلا تھي ”اشكال يہ تھا كہ روايت سند كےاعتبار سےضعيف ہے (ليكن آيہ پرسندي اشكال قابل تصور نہيں ہے۔(۱۸۲)

بلكہ يہ بھي كہا جاسكتا ہے كہ آيہ مباركہ كي دلالت بھي روايت كي دلالت سے زيادہ محكم و پائيدار ہے كيونكہ:

اولاً: بعض اوقات دعويٰ كيا جاتا ہے كيونكہ ”اموركم شورىٰ بينكم “كا ”اموركم الي نسائكم “كے مقابلے ميں ذكر ہونا اس بات پر قرىنہ ہے كہ لفظ ”الامور“انفرادي امور كو شامل ہے، جب كہ آيہ مباركہ ميں يہ خصوصيت نہيں پائي جاتي ۔

ثانياً: بعض اوقات كہاجاتا ہےآيہ مباركہ ميں لفظ ”الامر" كے ذرىعے تعبير لانا بہتر طورپر دلالت كرتا ہے كہ جس طرح روايت ميں اجتماعي امور مراد ہيں اسي طرح آيہ مباركہ ميں بھي اجتماعي امور مراد ہيں كيونكہ اگرآيہ مباركہ ميں انفرادي امور مراد ہوتے تو جمع كے مقابلے ميں جمع كا صيغہ لكھاجاتا جو تقسيم سے زيادہ مناسب و ہماہنگ ہے ۔مثلاً يوں كہاجاتا”امورھم شورىٰ بينھم “ليكن يہ تعبير نہيں لائي گئي بلكہ ”امرھم شورىٰ بينھم“ كي تعبير لائي گئي ہے۔ جب كہ آيہ مباركہ كے بر عكس روايت ميں جمع كے صيغہ كے ذرىعے تعبير لائي گئي ہے اور كہا گيا ہے ”اموركم شورىٰ بينهم “۔ليكن تمام تر بحث و گفتگو كے باوجود ہم متن كتاب ميں وضاحت كر چكے ہيں كہ اس آيہ مباركہ كے ذرىعے شورائي نظام پر استدلال كرنا صحيح نہيں ہے ۔

دوسرا ضميمہ

درجہ ذيل تفصيلي بيان ناگزير ہے تاكہ حقيقت كھل كر سامنے آسكے:

شورىٰ كي دوقسميں ہيں (چنانچہ ہم وضاحت كر چكے ہيں)

پہلي قسم

وہ شورىٰ جس ميں مشورہ لينے والا مشورہ دينے والے سے مختلف ہوتا ہے يعني شورىٰ انفرادي امور سے متعلق ہوتي ہے، مثلاً كسي شخص كے لئے ايك موضوع اہميت كا حامل ہے لہٰذااس موضوع سے متعلق دوسروں سے مشورہ كرتا ہے۔

دوسرى قسم

وہ شورىٰ جس ميں مشورہ لينےوالوں اورمشورہ دينےوالوں كودوفرض نہيں كيا جاتا (مختلف نہيں ہوتے) يعني جس جماعت وگروہ سےامورمتعلق ہوتے ہيں اسي جماعت كے درميان شورىٰ بر قرار ہوتي ہےمثلاً قانون سازي اورولي امر كي تعيين وغيرہ جيسے امور۔ اگر آيہ مباركہ ميں شورىٰ سےمتعلق حكم كو پہلي قسم پرمنطبق كيا جائے تو دو ہي صورتيں قابل تصور ہيں۔

۱) شورىٰ سے متعلق حكم كو فقط دوسروں كےآراء وافكار سےآگاہي اوران كے راء سے بہرہ مند ہونے پر حمل كيا جائے ۔اس معني پر حمل نہ كيا جائے كہ ہر صورت ميں مشورہ دينے والوں كي راي پر عمل كرنا ضرورى ہے يہ احتمال شورىٰ كے متعلق پائے جانے والے تين احتمالوں ميں سے تيسرا احتمال ہے ۔

۲) شورىٰ سے متعلق حكم كواس معني پر حمل كياجائے كہ مشورہ كرنے كاحكم اور مشورہ پر عمل كرنے كاحكم دونوں تعبدي ہيں۔شورىٰ كے متعلق حكم كو اس معني پر حمل كرنے كے لئے قرىنہ كي ضرورت ہے كيونكہ شورىٰ سے متعلق حكم اس معني پر دلالت نہيں كرتا۔مشورہ كرنا اور مشورہ پر عمل كرنا دو عليحدہ عليحدہ موضوع ہيں اور آيہ مباركہ فقط مشورہ كرنے كا حكم دے رہي ہے لہٰذا اگر يہ آيہ مباركہ كا معني يہ كيا جائے كہ مشورہ پر عمل كرنا بھي ضرورى ہے تو اس معني كے لے قرىنہ و دليل كي ضرورت ہے جوآيہ مباركہ ميں موجود نہيں ہے ۔بہر حال جب شورىٰ كے متعلق حكم اس معني پر عمل كيا جائے تو مناسبات حكم وموضوع كو مد نظر ركھتے ہوئے يہ كہنا ضرورى ہے كہ آيہ مباركہ فقط مباح (جائز) امور ميں دوسروں كي راي پر عمل كرنے كا حكم دے رہي ہے اور آيہ مباركہ ميں موجود حكم ضرورى ولازمي (واجب وحرام) امور ميں ترخيص كر شامل نہيں ہوتا اگر چہ يہ لازمي احكام، احكام ظاہرى ہوں اور ولايت كا دوسرى شعبوں كو شامل نہ ہوں مشورہ دينے والے كي راي پر عمل كرنے كا حكم بالكل اسي طرح ہے جس طرح والد كي راي يا قسم نذر وغيرہ پر عمل كرنے كاحكم ہے۔يہ سب احكام، ثانوي احكام ہيں جوشرىعت ميں احكام اولي (خواہ واقعي ہوں خواہ ظاہرى) كي تكميل كے بعدوارد ہوئےہيں، يعني ان احكام كےموضوع ميں متعلق كي مشروعيت كو اخذ كيا گيا ہے(۱۸۳)

يہ احتمال شورىٰ كے متعلق تين احتمالوں ميں سے دوسرا احتمال ہے۔

ہم ذكر كر چكے ہيں آيہ مباركہ ”امرھم شورىٰ بينھم“ميں مشورہ دينے والےمختلف نہيں بلكہ ايك ہي ہيں لہٰذا اس آيہ مباركہ ميں شورىٰ كے متعلق حكم كو پہلي قسم پر منطبق نہيں كيا جاسكتا يعني اس شورىٰ پر منطبق نہيں كياجاسكتا جو ايسے موضوعا ت سے متعلق ہو جن موضوعات ميں مشورہ كرنےوالےمشورہ دينےوالوں سے مختلف ہوں۔خواہ ہم اسے تيسرى احتمال كي طرح پلٹائيں خواہ دوسرى احتمال كي طرف۔ليكن اگر شورىٰ كے متعلق حكم كو دوسرى قسم پر منطبق كيا جائے (يعني ايسےامورجن ميں مشورہ كرنےوالےاورمشورہ دينےوالےمتحد ہوں) تو ہم پہلے ہي ثابت كر چكے ہيں كہ پہلا فرض قابل تصور نہيں ہے تاكہ شورىٰ كے متعلق حكم كوفقط دوسروں كےآراء وافكارسےآگاہي حاصل كرنےپرحمل كياجائے۔بلكہ اس صوت ميں ضرورى ہوگا كہ ہم شورىٰ كے متعلق حكم كو اس معني پر حمل كرىں كہ مشورہ كرنے اور مشورہ پر عمل بھي كرنے كاحكم ديا جارہا ہے۔اس كا مطلب يہ ہے كہ يہاں پر تيسرا احتمال ممكن نہيں ہے۔

اب صرف ايك بحث باقي ہے كہ شورىٰ كا دائرہ كار كيا ہے؟ آيا فقط مباح (جائز امور) ميں دوسروں كي آراء پرعمل كرنا ضرورى ہے (يہ دوسرا احتمال ہے) ياشورىٰ كا دائرہ كارمباح امورتك محدود نہيں بلكہ بہ طور مثال لازمي ظاہرى احكام كي مخالفت ميں رخصت دينا بھي شورىٰ كے دائرہ كار ميں شامل ہے۔يايہ كہ شورىٰ كا دائرہ كارمورد بحث ولايت كےتمام شعبوں كو شامل ہو يعني شورىٰ مباحات (جائزامور) ظاہرى لازمي احكام كي مخالفت ميں رخصت دينے (جہاں پرممكن ہو) اورواقعي لازمي احكام كي مخالفت ميں رخصت دينے (جن مواردميں ولايت كےذرىعےموضوع تبديل كرنا ممكن ہوياولي امركي تعيين يااسلامي حدود كانفاذ وغيرہ) كو بھي شامل ہوگي۔(۱۸۴) يہ شورىٰ سے متعلق تين احتمالوں ميں سے پہلا احتمال ہے۔

فطرى طورپر اطلاق اور مقدمات حكمت(۱۸۵) كي روسے پہلا احتمال متعين ہے، اور دوسرا احتمال (يعني ولايت كو مباح و جائزامورتك محدودكرنا) تقييد بلا مقيد ہے۔(۱۸۶)

يہاں پر اس كلام كي كوئي گنجائش نہيں جسے ہم پہلے احتمال كے ضمن ميں ذكر كر چكے ہيں كہ مناسبات حكم وموضوع، اس كا تقاضا كرتي ہيں۔

بلكہ يہاں پر مناسبات حكم و موضوع كا تقاضا بر عكس ہے ۔جب شورىٰ مسلمانوں كے اجتماعي امور سے متعلق ہے اور شورىٰ كاہدف و مقصد سماجي مسائل كو حل كرنا ہے (فقط ان امور كو حل كرنا مقصود نہيں جن ميں مشورہ كرنے والے مشورہ دينے والوں ميں مختلف ہوں اور شورىٰ كا ھدف و مقصد ايك دوسرى كےآراء وافكار سے مدد لينا ہے تو ان اہداف كا حصول عام ولايت كے بغير ممكن نہيں وہ عام ولايت جس كے متعلق ہم كہہ چكے ہيں كہ يہي عام ولايت كا نظام حكومت كي اساس و بنياد ہے۔

تيسرا ضميمہ

تائيد كے طور پر يہ كہا جاسكتاہے كيونكہ ”لم يقبل”اور ”استخف”اور ”رد" فعل معلوم كے صيغے ہيں لہٰذا ہم يہ احتمال دے سكتے ہيں كہ ان ميں موجود ضمير كي باز گشت اس طرف دعويٰ كي طرف ہو جس كے خلاف (اور اس كے طرف مقابل كے حق ميں) فيصلہ ديا گيا ہو ۔اگر اس روايت كے ذرىعے استدلال (خواہ پہلے جملے سے استدلال كيا جائے خواہ دوسرى جملے سے) كيا جائے تو اس پر دو اشكال وارد ہوتے ہيں:

پہلا اشكال

اگر يہ روايت دلالت كے اعتبار سے كامل ہو تو صرف امام صادق عليہ السلام كي طرف سے فقيہ كو نيابت عطا كرنے پر دلالت كرتي ہے لہٰذا يہ نيابت و نمايندگي امام صادق عليہ السلام كي وفات (شہادت) كے ساتھ ختم ہو جائے گي جب كہ ہميں ضرورت اس امر كي ہے كہ امام زمانہ عليہ السلام كي طرف سے فقيہ كے لئے نيابت و نمايندگي ثابت كرىں۔

جواب: درج ذيل دو طرىقوں ميں سے كسي ايك كے ذرىعے مندرجہ بالا اشكال كا جواب ديا جا سكتا ہے ۔

يا يہ دعويٰ كيا جائے كہ ہم روايت سے واضح طورپر سمجھتے ہيں كہ اس اعتبار سے كوئي فرق نہيں پايا جاتا كيونكہ اگر امام صادق عليہ السلام امام زمانہ عليہ السلام كے دور ميں موجود ہوتے تب بھي فقيہ كواپنانائب و نمايندہ قرار ديتے پس امام زمانہ عليہ السلام نے بہ طرىق اوليٰ زمانہ غيبت ميں فقيہ كو نائب قرار ديا ہے۔

يا يہ دعويٰ كيا جائے: ہم درك كرتے ہيں كہ فقيہ كواس طرىقہ سے بطور نمايندہ ونائب منتخب نہيں كيا گيا كہ امام عليہ السلام كي وفا ت (شہادت) كے ساتھ فقيہ كي نمايندگي و نيابت ختم ہو جائے بلكہ امام عليہ السلام نے اپنے حق ولايت كو بروئے كار لاتے ہوئے فقيہ كو ولايت عطافرمائي ہے پس فقيہ كي ولايت اس وقت تك بر قرار رہے گي جب تك دوبارہ حق ولايت استعمال كرتے ہوئے اس كي ولايت ختم نہ كر ديا جائے ۔مندرجہ بالا اشكال اور اس كا جواب ولايت كے متعلق امام زمانہ عليہ السلام كي روايت كے علاوہ باقي تمام روايات ميں ممكن ہے۔

دوسرا اشكال

يہ كہا جائے كہ لفظ ”الحكم”نص كے زمانے ميں اكثر وبيشتر قضاوت (فيصلہ) كے معني ميں استعمال ہوتا تھا اگر يہ دعويٰ (لفظ حكم كا فيصلہ كے معني ميں استعمال ہونا) ثابت ہو جائے تو اس ولايت كا اطلاق منعقد نہيں ہو سكے گا يعني يہ روايت باب قضاء كے علاوہ باقي ابواب كو شامل نہيں ہو سكے گي بلكہ باب قضاوت كے ساتھ مخصوص ہو جائے گى، جن روايات ميں ”جعلتہ قاضيا”ميں نے اسے قاضي ّفيصلہ كرنے والا قرار ديا ہے كي تعبير موجود ہے ان روايات كا مطلق نہ ہونا (قضاوت كے علاوہ باقي ابواب كو شامل نہ ہونا) اس روايت كي نسبت زيادہ واضح و روشن ہے، جيسے يہ روايت:

رواه الشيخ باسناده عن محمد بن علي بن محبوب عن احمد بن محمد عن الحسين بن سعيد عن ابي الجهم عن ابي خديجه قال: بعثني ابو عبد الله عليه السلام الي اصحابنا فقال: قل لهم: كيا كم اذا وقعت بنيكم خصومة او تدارى في شيء من الاخذ والعطاء ان تحاكموا الي احد من هولاء الفساق، اجعلوا بينكم رجلاً قد عرف حلالنا وحرامنا فاني قد جعلته عليكم قاضيا اياكم ان تخاصم بعضكم بعضا الي السلطان الجائر “۔(۱۸۷)

شيخ (طوسي عليہ الرحمۃ) نے اپني سند كے ذرىعے محمد بن علي محبوب سے انھوں نے احمد بن محمد سے انھوں نے حسين بن سعيد سے انھوں نے ابو الجہم سے انھوں نے ابو خديجہ

سے نقل كيا ہے ۔ابو خديجہ كہتے ہيں: مجھے امام صادق عليہ السلام نے ہمارى شيعہ اصحاب كي طرف بھيجا اور فرمايا: انھيں كہو: خبردار!اگر تمہارى درميان كوئي نزاع يا اختلاف وغيرہ پيدا ہو جائے يا لين دين كے حوالے سے كوئي مشكل پيش آجائے تو ان فاسق و فاجر (حكمرانوں) ميں سے كسي كے پاس اپني شكايت لے كر نہ جانا (تاكہ وہ تمہارا فيصلہ كرے) بلكہ اپنے درميان ميں سے كسي ايسے شخص كو منتخب كرو جو ہمارى حلال وحرام (احكام) كي معرفت ركھتا ہو۔ ميں نے ايسے شخص كو تمہارى لئے قاضي قرار ديا ہے ۔خبردار! ظالم وجابر حكمران كے پاس شكايت مت لے جانا ۔

سلسلہ سند ميں ابو الجہم ہے جو دو افراد ميں مشترك ہے يعني ابو الجہم دو افراد كي كنيت ہے، ممكن ہے اس سے مراد ثوير ابن ابي فاختہ ہو، اور يہ بھي معلوم نہيں كہ جس ابوالجہم سے ابن ابي عمير نے روايت نقل كي ہے وہ وہي ابو الجہم ہو جو اس روايت كا راوي ہے ۔لہٰذا يہ نہيں كہا جاسكتا كيونكہ ابن عمير(۱۸۸) نے ابوالجہم سے روايت نقل كي ہے پس ابوالجہم ثقہ اورقابل اعتمادہے (كيونكہ جس ابوالجہم سےابن ابي عمير نےروايت نقل كي ہےممكن ہےدوسرا ابو الجہم ہو) شايد اس روايت كا راوي وہ ابو الجہم ہو جس كا نام ثوير ابن ابي فاختہ ہے، اورجس ابوالجہم سے ابن ابي عمير نے روايت نقل كيا ہے وہ بكير ابن اعين ہے۔اور اس مطلب كے لئے اس روايت كو تائيد كے طور پر لايا جا سكتا ہےجسے ابن ابي عمير نے بكير ابن اعين سے نقل كيا ہے۔

"رواه الصدوق باسناده عن احمد بن عائذ عن ابي خديجه سالم بن مكرم الجمال قال: قال ابو عبدالله جعفر بن محمد الصادق عليه السلام: اياكم ان يحاكم بعضكم بعضا الي اهل الجور ولكن انظروا الي رجل منكم يعلم شيئا من قضايانا فاجعلوه بينكم فاني قد جعلته قاضيا فتحاكموا اليه

شيخ صدوق عليہ الرحمۃ نےاپنےسلسلہ سندكےذرىعےاحمد بن عائذسےانھوں نےابو خديجہ سالم بن مكرم جمال سے نقل كيا ہے ابو خديجہ كہتے ہيں امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا: خبردار!تم ميں سے كوئي شخص (اختلاف و نزاع كي صورت ميں) اپني شكايت (كسي) ظالم وجابر (حكمران) كے پاس (فيصلے كي غرض سے) نہ لے جاؤ، بلكہ غور غوض كرو اور تم ميں سے جو شخص ہمارى تعليمات (احكام ومعارف) كا علم ركھتا ہو اسے فيصلہ كرنے كے لئے منتخب كرو ميں نے اسے قاضي قرار ديا ہے پس اس كے پاس فيصلے كے لئے رجوع كرو ۔

شيخ كليني عليہ الرحمۃ نے حسين بن محمد سے انھوں نے معلي بن محمد سے انھوں نے حسن بن علي سے انھوں نے ابو خديجہ سے يہي روايت فقط اس فرق كے ساتھ نقل كي ہے كہ لفظ” قضايانا”كي بجائے لفظ ”قضائنا”نقل كي ہے ۔

شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سلسلہ سند كے ذرىعے حسين بن محمد سے اسي طرح كي روايت نقل كي ہے۔(۱۸۹)

اگرابو خديجہ كي وثاقت ثابت ہو جائے تو پہلي سند كامل و بے عيب ہے، جس طرح مذكورہ روايت ميں بھي لفظ "حكم" كو قضاوت و فيصلہ كے معنيٰ پر حمل كيا جا سكتا ہے اسي طرح درج ذيل روايت ميں بھي لفظ "حكومت" كا معني قضاوت ہے۔

رويٰ الكليني عليه الرحمة عن عدة من اصحابنا عن سهل بن زياد عن محمد بن عيسيٰ عن ابي عبدالله المؤمن عن ابن مسكان عن سليمان بن خالد عن ابي عبدالله عليه السلام قال: اتقوا الحكومة فان الحكومة انما هي للامام العالم بالقضاء العادل في المسلمين لنبي (كنبي خ ل) او وصي نبي ۔

شيخ كليني عليہ الرحمۃ نے اصحاب اماميہ كي ايك جماعت سے انھوں نے سہل بن زياد سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے انھوں نے ابو عبداللہ مومن سے انھوں نے مسكان سے انھوں نے سليمان بن خالد سے اور انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے

فرمايا: حكومت سے پر ہيز كرو كيونكہ يہ منصب، قضاوت كے امور كے عالم اور مسلمانوں ميں عدل وانصاف كرنے والے امام كے لئے مخصوص ہے (يہ منصب) نبي يا نبي كے وصي كے لئے ہے يا روايت كے دوسرى نسخہ كے مطابق جيسے نبي يا نبي كا جانشين “يہي روايت شيخ صدوق نے اپنے سلسلہ سندكے ذرىعے سليمان بن خالد سے نقل كي ہے۔

اور شيخ طوسى عليہ الرحمۃ نے اپني سند كے ذرىعے سہل بن زياد سے اسي روايت سے مشابہ روايت نقل كي ہے۔(۱۹۰) اور شيخ صدوق كي سند صحيح ہے۔

روايت ميں لفظ حكومت استعمال ہوئي ہے (اگر چہ ہم يہ نہ كہيں كہ روايت كے زمانے ميں لفظ حكومت عام ولايت كے معني ميں نہيں بلكہ قضاوت كے معني ميں استعمال ہوتا تھا) ليكن پھر بھي امام عليہ السلام كا قول”لاامام العالم بالقضاء ”قرىنہ ہے كہ لفظ حكومت سے امام عليہ السلام كي مرادقضاوت ہے، اس حديث ميں امامت كو حكومت كے استحقاق و شائستگي كا موضوع قرار ديا گيا ہے جب كہ معلوم نہيں كہ ہر فقيہ امامت كا مصداق ہو (تاكہ فقيہ كي نسبت حكومت كا موضوع متحقق ہو سكے) بلكہ اگر امامت سے مراد وہ اصطلاحي امامت ہو جس كے شيعہ معتقد ہيں (چنانچہ اس كي تائيد حديث كے دوسرى نسخہ سے ہوتي ہے جس ميں ”لنبي اووصي نبى" كي تعبير موجود ہے تو اس صورت ميں واضح ہے كہ فقيہ امامت كے اس معني كے مطابق امامت كا مصداق نہيں ہے ۔

اور اگر امامت سے مراد ولايت ہو تو يہ خود قرىنہ ہے كہ حديث ميں لفظ حكومت كا معني ولايت نہيں بلكہ قضاوت ہے، حديث ميں يہ بات ذكر نہيں كوئي كہ يہ ولايت كس كو حاصل ہے، يعني ولايت كا مصداق روايت ميں ذكر نہيں ہوا۔بعض اوقات كہا جاتا ہے: اگرمان ليا جائے كہ روايت ميں امامت سے مراد ولايت ہے تو يہ حديث دلالت كرتي ہے كہ منصب قضاوت فقط اس شخص كو حاصل ہے جسے منصب ولايت حاصل ہو، اور ہم روايات سے ثابت كر چكے ہيں كہ فقيہ كو منصب قضاوت حاصل ہے، پس فقيہ كو منصب ولايت حاصل ہے ۔(۱۹۱)

ليكن روايت سے يہ نتيجہ اخذكرنا بھي صحيح نہيں ہے كيونكہ فقيہ كو منصب قضاوت عطا كرنے والي دليليں (روايات) فقط اس معني پر دلالت كرتي ہيں كہ امام عليہ السلام نے اپناحق ولايت استعمال كرتے ہوئے فقيہ كو قاضي بناياہے يااپني نيابت ميں اسےقاضي بناياہے يعني فقيہ كو خود سے (امام عليہ السلام كےعطا كئے بغير) قضاوت كرنےكاحق حاصل نہيں ہے، يہ احتمال بھي ممكن ہے كہ روايت ميں امام عليہ السلام كاقول”فان الحكومة انما هي للاامام ”اسلام كے بنيادي قانون كو بيان كر رہا ہو يعني امام عليہ السلام بيان فرمارہے ہيں كہ اسلام ميں كس شخص كو قضاوت كا منصب حاصل ہے۔امام عليہ السلام يہ بيان نہيں فرمارہےكہ اسلام ميں جس شخص كوقضاوت كامنصب حاصل ہے (يعني امام عليہ السلام) اس كي طرف سےفقيہ كوقضاوت كامنصب عطاہوا ہے۔

چوتھا ضميمہ

يہ امر اسحاق بن يعقوب كے قابل اعتماد ہونے كي تائيد كا سبب ہے كہ صاحب كتاب ”قاموس الرجال “(۱۹۲) نے يہ دعويٰ كيا ہے كہ اسحاق بن يعقوب، محمد بن يعقوب كليني عليہ الرحمۃ كے بھائي اوردليل كے طور پر وہ كلام ذكر كي ہے جو كتاب ”اكمال الدين"ميں امام عليہ السلام كي توقيع كے ذيل ميں نقل ہوئي ہے يعني ”والسلا م عليك يا اسحاق بن يعقوب الكليني “۔

مؤلف: ليكن ميں نے”اكمال الدين"مطبوعہ تہران كے نسخہ ميں لفظ ”كليني “موجود نہيں پايا بلكہ اس كتاب ميں فقط يہ عبارت نقل ہوئي ہے ”والسلام عليك يا اسحاق بن يعقوب وعليٰ من اتبع الهديٰ(۱۹۳)

آقاي خوئي عليہ الرحمۃ نے بھي اپني كتاب ”معجم الرجال الحديث “(۱۹۴) ميں اسحاق بن يعقوب كے لئے كليني كي صفت نہيں لائي جب كہ كتاب ”اكمال الدين “ بھي ان كے مدنظرتھى، (يعني اگر ا كمال الدين ميں اسحاق بن يعقوب كے لئے كليني كي صفت موجود ہوتي توآقاي خوئي عليہ الرحمۃ بھي اپني كتاب ميں لاتے)

اسحاق بن يعقوب كي وثاقت پر يہ دليل لائي جاتي ہے كہ شيخ طوسى عليہ الرحمۃ نے كتاب ”الغيبۃ" ميں شہادت دي ہے كہ غيبت صغرىٰ كے زمانے ميں توقيعات فقط قابل اعتماد افراد كے لئے صادر ہوتي تھيں شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي شہادت كے سبب اصل توقيع ميں جھوٹ وجعل سازي كا احتمال نہيں ديا جا سكتا۔شيخ طوسي عليہ الرحمۃ كي اس شہادت كا مطلب يہ ہے كہ اس زمانے ميں توقيع كے لئے خاص تقدس و احترام تھا، اپني طرف توقيع كي جھوٹي نسبت دينے كو امام عليہ السلام كي طرف جھوٹي نسبت دينے سے بھي زيادہ قبيح و ناپسنديدہ سمجھا جاتا تھا، پس اسحاق بن يعقوب كا معاملہ دوحالتوں ميں دائر ہے۔

۱) يا خباثت كے بلند مرتبہ پر فائز ہے (اگر اس نے اپني طرف توقيع كي غلط نسبت دي ہو) ۔

۲) ثقہ اور قابل اعتماد ہے (كيونكہ توقيع فقط ثقہ اور قابل اعتماد افرادكے لئے صادر ہوئي تھي)

يہ احتمال نہيں ديا جا سكتا كہ اسحاق بن يعقوب ايك عام انسان تھايعني نہ ہي ثقہ تھا اور نہ ہي بہت زيادہ خبيث، بہت بعيد ہے كہ شيخ كليني اس كي حقيقت سے غافل رہے ہوں اور اس كي حالت و كيفيت كو صحيح طرىقہ سے نہ سمجھ سكے ہوں۔

بہت بعيد ہے كہ جس شخص كا حال دو متضاد صفتوں ميں دائر ہے (ياثقہ ہے ياخبيث) شيخ كليني اس كي حالت كوصحيح طرح سےنہ سمجھ سكے ہوں يعني غافل رہےہوں۔يہ بھي بعيدہے كہ اگر چہ يہ شخص بہت زيادہ خبيث تھاليكن اس كي باوجود شيخ كليني اس بات كيطرف متوجہ نہ تھے۔

اگر ثابت ہو جائے كہ اسحاق بن يعقوب كے نام امام عليہ السلام كي طرف سے توقيع صادرہوئي ہے تو اس كي وثاقت ثابت ہوجائے گي كيونكہ (شيخ طوسي عليہ الرحمۃ كي شہادت كے مطابق) توقيع فقط ثقہ اور قابل اعتماد افراد كے نام صادر ہوتي تھى، اور جب اسحاق بن يعقوب كي وثاقت ثابت ہو جائے گي تو توقيع كي جزئيات و خصوصيات ميں جھوٹ كے احتمال كي بھي نفي ہو جائے گي۔

مندرجہ بالا بيان درست نہيں ہے، لہٰذا اس بيان كي مدد سے اسحاق بن يعقوب كي وثاقت ثابت نہيں كي جا سكتي۔

وضاحت

ميں نے كتاب "الغيبۃ" ميں كوئي ايسي عبارت نہيں ديكھي جس سے يہ گمان كيا جا سكے كہ اس سے اسحاق بن يعقوب كي وثاقت ثابت ہو سكتي ہومگر شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي يہ عبارت "وقد كان في زمان السفراء المحمودين اقوام ثقات ترد عليهم التوقيعات من قبل المنصوبين للسفارة من الاصل"

تحقيق محترم سفيروں (امام زمانہ كے چار خاص نمايندوں) كے زمانے (غيبت صغرىٰ) ميں كچھ ثقہ و قابل اعتماد افراد موجود تھے جن كو امام زمانہ عليہ السلام كے نمايندوں كے ذرىعے امام زمانہ عليہ السلام كي طرف صادر ہونے والي توقيعات موصول ہوتي تھي“(۱۹۵)

اگرچہ ابتدائي طور پر اس كلام سے يہ معنيٰ ذہن ميں آتا ہے كہ ان افراد كو امام زمانہ عليہ السلام كي طرف سے توقيعات موصول ہوتي تھيں ليكن اگر شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي مكمل عبارت كا ملاحظہ كرىں تو يہ عبارت واضح طورپر اس معني پر دلالت نہيں كرتي يعني واضح طور پر يہ معني نہيں سمجھا جا سكتا كہ ان افراد كو توقيعات موصول ہوا كرتي تھيں بلكہ شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي عبارت سےيہ مفہوم سمجھا جاتا ہےكہ ان افراد كو (يا ان كے علاوہ دوسرى لوگوں كو) امام زمانہ عليہ السلام كي طرف سے ايسي توقيعات موصول ہوتي تھيں جن ميں ان افراد كي شان و شوكت اور وثاقت بيان كي جاتي تھي كيونكہ شيخ طوسى عليہ الرحمۃ نے مذكورہ بالا عبارت كے بعد مصاديق كو ذكر فرمايا ہے ”ان (قابل اعتماد) افراد ميں سے فلاں فلاں ہيں"۔پس شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي عبارت دوسرى معني پر دلالت كرتي ہے پہلے معني پر نہيں، يعني ان افراد كي شان ميں توقيعات خود ان افراد كو نہيں بلكہ دوسرى لوگوں كو موصول ہوئي ہيں۔

ہم شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي مكمل عبارت نقل كر رہے ہيں تاكہ آپ خود ملاحظہ فرما سكيں: ”قال عليه الرحمة: وقد كان في زمان السفراء المحمودين اقوام ثقات ترد عليهم التوقيعات من قبل المنصوبين للسفارة من الاصل، منهم ابوالحسين محمدبن جعفرالاسدي رحمة الله، اخبرناابو الحسين ابن ابي جنيد القمي عن محمد بن الوليد عن محمد بن يحي العطار عن محمد بن احمد بن يحي عن صالح بن ابي صالح قال: سالني بعض الناس في سنة تسعين ومائتين قبض شيء فامتنعت من ذلك وكتبت استطلع الراي فاتاني الجواب بالرى محمد بن جعفر الاسدي فليدفع اليه فانه من ثقاتنا ۔(۱۹۶)

تحقيق محترم سفيروں (امام زمانہ كے چار خاص نمايندوں) كے زمانے (غيبت صغرىٰ) ميں كچھ ثقہ و قابل اعتماد افراد موجود تھے جن كي شان ميں امام زمانہ عليہ السلام كے نمايندوں كے ذرىعے امام زمانہ عليہ السلام كي طرف سے توقيعات موصول ہوتي تھيں، ان افراد ميں سے ايك ابو حسين محمد بن جعفر اسدي ہيں ہمارى لئے ابو حسين ابن ابي جنيد قمي نے محمد بن وليد سے انھوں نے محمد بن يحي عطار سے انھوں نے محمد بن احمد بن يحي سے اور انھوں نے صالح بن ابي صالح سے نقل كيا ہے صالح كا كہنا ہے: كچھ لوگوں نے ۲۹ ۰ ئ ھ ميں مجھ سے تقاضا كيا كہ ميں مال (شرعي وجوہات، خمس زكوۃ وغيرہ) وصول كروں ليكن ميں نے اس كام سے انكار كر ديا اور ميں نے خط كے ذرىعے امام زمانہ عليہ السلام كي راي درىافت كي (كہ شرعي وجوہات كس كو دي جائيں) ۔

مجھے امام كي طرف سے جواب موصول ہوا: "رى"(۱۹۷) ميں محمدبن جعفراسدي رہتا ہے يہ مال اسے ديا جائے كيونكہ وہ ہمارى قابل اعتماد افراد ميں سے ہے۔

"وروي محمد بن يعقوب الكليني عليه الرحمة عن احمد بن يوسف الساسي قال: قال لي محمد بن حسن الكاتب المروزى: وجهت الي حاجز الوشاءمائتي دينا وكتبت الي الغرىم بذلك فخرج الوصول وذكرانه كان قبلي الف دينا واتي وجهت اليهماتي دينارو قال: ان اردت ان تعامل احداً فعليك بابي الحسين الاسدي بالرى فورد الخبر بوفاة حاجز رضي الله عنه بعد يومين او ثلاثة فاعلمته بموته فاغتم، فقلت: لا تغتم، فانك في التوقيع دلالتين احداهما، علامه كياك ان المال الف دينا والثانية امره كياك بمعاملة ابي الحسين الاسدي لعلمه بموت حاجز"

محمد بن يعقوب كليني نے احمد بن يوسف ساسي سے نقل كيا ہے ساسي كہتا ہے مجھے حسن بن كاتب مروزي(۱۹۸) نے كہا ميں نے حاجز وشاء كو دو سو دينار بھيجے اور امام زمانہ عليہ السلام كو خط لكھ كر اس كي اطلاع دي (كچھ دنوں بعد) ميرى پاس امام عليہ السلام كي طرف سے ان الفاظ پر مشتمل رسيد پہنچى، تمہارى ذمہ ايك ہزار دينار تھے ميں جن ميں سے تم نے دوسو دينار ادا كر ديئے ہيں اگر كسي كو وجوہات شرعي دينا چاہوتو ابو الحسين اسدي كو دياكرو جو شہر ”رى “ميں رہتا ہے ۔ (ساسي كہتا ہے) مجھے دو يا تين دن بعد حاجز كي وفات كي خبر موصول ہوئي ميں نے محمدبن حسن كاتب كو حاجز كي وفات كي خبر سنائي تو وہ غمگين ہوگئے، ميں نے كہا: مغموم و پرىشان ہونے كي ضرورت نہيں كيونكہ امام عليہ السلام كي طرف سے تمہارى لئے صادر ہونے والي توقيع تمہارى لئے دو باتوں پر دلالت كرتي ہے، ايك يہ كہ امام عليہ السلام نے تمہيں خبر دي ہے كہ مال كي مقدار ايك ہزار دينار ہے، دوسرا يہ كہ كيونكہ امام عليہ السلام كو معلوم تھا كہ حاجز فوت ہو جائے گا لہٰذا امام عليہ السلام نے تمہيں حكم ديا ہے كہ آئندہ ابو الحسين اسدي سے لين دين كرنا (شرعي وجوہات اس كے پاس جمع كرانا)

"وبهذا الاسناد عن ابي جعفر محمد بن علي بن نوبخت قال: عزمت علي الحج فتاهبت فورد على: نحن لذلك كارهونفضاق صدرى واغتمت وكتبت: انا مقيم بالسمع و الطاعة، غير اني مغتم بتخلفي عن الحج فوقع: لا يضيقن صدرك انك تحج من قابل فلما كان من قابل استاذنت، فورد الجواب فكتبت: اني عادلت محمد بن العباس وانا واثق بديانته و صيانته، فورد الجواب: الاسدي نعم العديل، فان قدم فلا تختر عليه قال: فقدم الاسدي فعادلته “ ۔

اسي سندكے ذرىعے ابو جعفر محمد بن علي بن نوبخت سے نقل ہوا ہے كہ انھوں نے كہا: ميں نے حج كاارادہ كيا اور سفر حج كے لئے تيار تھا كہ اسي اثناء ميں امام زمانہ عليہ السلام كا خط موصول ہوا جس ميں آپنے لكھا تھا: ہميں يہ ناپسند ہے ۰ يعني ہم (بعض وجوہات كي بنياد پر) اس سال تمہارا حج پر جانا پسند نہيں كرتے يہ خط پڑھ كر ميرا سينہ بوجھل ہو گيا ميں مغموم ہو گياميں نے امام عليہ السلام كي خدمت خط لكھا: ميں آپكے حكم كي مكمل اطاعت كرتا ہوں ليكن حج پر نہ جانے كي وجہ سے مغموم و پرىشان ہوں، امام عليہ السلام كي طرف سے توقيع ّخط) صادر ہوئى: پرىشان ہونے كي ضرورت نہيں تم آئندہ سال حج كروگے، اگلے سال ميں نے خط كے ذرىعہ امام سے حج پر جانے كي اجازت طلب كي امام عليہ السلام كي طرف سے (مثبت) جواب موصول ہوا۔ميں نے خط لكھ كر امام عليہ السلام كو اطلاع دي كہ ميں نے (اپنے امور ميں) محمد بن عباس كو اپنا جانشين بنايا ہے كيونكہ مجھے اعتماد ہے كہ محمد بن عباس ديندار اور باتقويٰ شخص ہے امام عليہ السلام كي طرف سے جواب موصول ہوا: اسدي اچھا جانشين ہے ۔اگر اسدي واپس آجائے تو (اس كي موجودگي ميں) كسي اور كو جانشين نہ بنانا۔ابو جعفر كہتا ہے: اسدي واپس آگيا اور ميں نے اسي كو اپنا جانشين بنايا۔"محمد بن يعقوب عن علي بن محمد عن محمد بن شاذان النيشاپورى قال: اجتمعت عندي خسماة درهم ينقص عشرون درهمافلم احب ان ينقص هذا المقدار، فوزنت من عندي عشرىن درهما و دفعتها الي الاسدي ولم اكتب بخبر نقصانها واني اتممتها من مالى، فورد الجواب: قد وصلت الخمساة التي لك فيها عشرون، ومات الاسدي علي ظاهر العدالة، لم يتغير ولم يطعن عليه في شهر ربيع الآخر سنة اثنتي عشرة وثلاثمائه"

محمد بن يعقوب نے علي بن محمد سے انھوں نے محمد بن شاذان نيشاپورى سے نقل كيا ہے كہ نيشابورى نے كہا: ميرى پاس چار سو اسي درہم ۴۸ ۰ جمع ہوگئے، مجھے پسند نہ تھا كہ پانچ سو سے بيس درہم كم ہوں لہٰذا ميں نے اپني طرف سے تيس درہم ملاكر (پانچ سو درہم مكمل كركے) اسدي كے حوالے كر ديئے ليكن يہ نہ بتايا كہ اصل رقم چار سو اسي ۴۸ ۰ دينار تھى، امام عليہ السلام سے خط موصول ہوا: ہم نے وہ پانچ سو درہم موصول كر لئے جن ميں سے بيس درہم آپكے ذاتي ہيں۔اسدي ۳۱۲ھء ميں ربيع الثاني ميں فوت ہوا اور مرتے دم تك عادل تھا ۔اس كي عدالت كي صفت برقرار رہي اور اس كي عدالت ميں كسي قسم كا خدشہ وارد نہ ہوا ۔

"ومنهم: احمد بن بن اسحاق و جماعة وخرج التوقيع في مدحهم

ان مورد اعتماد افراد ميں سے ايك احمد بن اسحاق ہے اور اس كے علاوہ كچھ اور لوگ ہيں جن كي مدح و ستائش ميں امام عليہ السلام كي طرف سے توقيع صادر ہوئي ہے۔

"ورويٰ احمد بن ادرىس عن احمد بن محمد بن عيسيٰ عن ابي محمد الرازي قال: كنت و احمد بن ابي عبد اللہ بالعسكر فورد علينا رسول من قبل الرجل فقال: احمد بن اسحاق الاشعرى وابراھيم بن محمد الھمداني واحمد بن حمزہ ابن اليسع ثقات"۔(۱۹۹)

احمد بن ادرىس نے احمد بن محمد بن عيسيٰ سے انھوں نے ابو محمد رازي سے نقل كيا ہے ابو محمد رازي كہتے ہيں: ميں اور احمد بن ابو عبداللہ عسكر (فوجي چھاؤني) ميں تھے كہ مرو(۲۰۰) كي طرف سے ہمارى پاس قاصدآيا اور كہا: احمد بن اسحاق اشعرى، ابراھيم بن محمد ھمداني اور احمد بن حمزہ بن يسع قابل اعتماد اور ثقہ افرادہيں۔

يہ تھي شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي مكمل عبارت آپنے ملاحظہ فرمايا كہ يہ عبارت اسي معني پر دلالت كرتي ہے جس كاہم نے دعويٰ كيا ہے يعني ان افراد كي شان ميں توقيعات صادر ہوئي ہيں نہ يہ كہ خود ان افراد كو توقيعات موصول ہوئي ہيں۔پس شيخ طوسى عليہ الرحمۃ كي عبارت اس معني پر دلالت نہيں كرتي كہ توقيع فقط ثقہ اور قابل اعتماد افراد ہي كے لئے صادر ہوتي تھيں يعني ان ہي كو موصول ہوتي تھيں۔

پانچواں ضميمہ

اس سلسلہ ميں تفصيلي تحقيق يہ ہے كہ روايت كے ذرىعہ فقيہ كے لئے ولايت مطلقہ ثابت كرنے كے لئے درج ذيل طرىقوں كے ذرىعے استدلال ممكن ہے۔

۱) امام عليہ السلام كے قول ”واماالحوادث الواقعه فارجعوا فيها الي راوة احاديثنا ، اور پيشانے والے حوادث وواقعات ميں ہمارى حديثوں كے راويوں سے رجوع كرو" كے اطلا ق سے تمسك كيا جائے، اور اس چيز كو مد نظر ركھا جائے كہ حوادث و واقعات كي در ج ذيل مختلف اقسام ہيں:

الف) ايسے واقعات جن ميں راويوں كي طرف رجوع كرنا در حقيقت روايات كي طرف رجوع كرنا ہے ۔بطور مثال فقيہ كر پيشانے والے نئے واقعات جن كا حكم درىافت كرنا فقيہ كے لئے ضرورى ہے، ان امور ميں فقيہ راويوں كي طرف رجوع كرتا ہے تاكہ ان كي روايت كے ذرىعے ان واقعات كا حكم معلوم كر سكے۔

ب) وہ واقعات جن ميں فتويٰ حاصل كرنے كي غرض سے راويوں كي طرف رجوع كيا جاتا ہے يہ اس صورت ميں ہے جب راوي فقيہ بھي ہواوراحكام كي معرفت ركھتا ہو ۔جيسے وہ واقعات جن ميں عام لوگ مبتلا ہو تے ہيں اوران كاحكم شرعي معلوم كرنا چاہتے ہيں اور خود روايات سے حكم شرعي استنباط كرنے كي قدرت و صلاحيت نہيں ركھتے۔

ج) وہ واقعات جن ميں راويوں كي طرف رجوع كيا جاتا ہے تاكہ اپنا و ہ وظيفہ معلوم كيا جاسكے جو ولايت كے ذرىعے معين ہوتا ہے ۔جيسے وہ افرادي و اجتماعي امور وواقعات جنھيں ولايت استعمال كئے بغير حل نہيں كيا جا سكتا۔

د) وہ واقعات جن ميں حكم شرعي كے نفاذ كي غرض سے راويوں كي طرف رجوع كيا جاتا ہے تاكہ وہ حكم شرعي نفاذ سے متعلق اپنا حق ولايت استعمال كر كے حكم شرعي كو نافذ كرىں۔

لفظ ”حوادث" كے اطلاق كا تقاضا يہ ہے كہ يہ لفظ ہر اس حادثہ (واقعہ) كو شامل ہے جس ميں دوسرى شخص كي طرف رجوع كرنا معقول ہو، خواہ يہ واقعہ ايسے حوادث و واقعات ميں سے ہو جن ميں راويوں كي طرف پہلے طرىقے كے مطابق رجوع كيا جاتا ہے يا يہ واقعہ ان واقعات ميں سے ہو جن ميں دوسرى طرىقے كے مطابق راويوں كي طرف رجوع كيا جاتا ہے۔يا يہ واقعہ ايسے واقعات ميں سے ہو جن ميں تيسرى طرىقے كے مطابق راويوں كي طرف رجوع كيا جاتا ہے پس موضوع ميں اطلاق جارى ہونے كا تقاضا ولايت مطلقہ ہے۔

اشكال: احتمال ديا جاسكتا ہے كہ ”الحوادث“ميں الف لام ”الف لام عہد ہو اور اس كے ذرىعے ان حوادث وواقعات كي طرف اشارہ كرنا مقصود ہو جنھيں سائل نے امام عليہ السلام كے نام لكھے گئے سوالات ميں ذكر كيا اور وہ سوالات ہم تك نہيں پہنچ پائے، پس اس اعتبار سے ہمارى لئے روايت مجمل ہو جائے گي۔

۲) امام عليہ السلام كے قول ”فانهم حجتي عليكم "وہ تم پر ميرى (طرف سے) حجت ميں “ميں موجود لفظ”حجت" كے اطلاق سے تمسك كرتے ہوئے كہا جائے: لفظ حجت كے اطلا ق كے تقاضا يہ ہے كہ ائمہ اطہارعليھم السلام كي حديثوں كا راوي ان سب امور ميں حجت ہے جن امور ميں خود امام عليہ السلام حجت ہيں۔ اور اس كا مطلب (فقيہ كے لئے) ولايت مطلقہ كا اثبات ہے۔

اگر مندرجہ بالا بيان كي اسي مقدار پر اكتفاء كيا جائے تو اس پر يہ اعتراض وارد ہوتا ہے كہ عموم وشمول كا فائدہ دينے والا اطلاق محمول ميں جارى نہيں ہوتا۔اور ہمارى مورد بحث روايت ميں بھي لفظ”حجت" محمول ہے، لہٰذا اطلاق عموم و شمول كا فائدہ نہيں دے گا۔

ہاں اگر ہميں يقين ہو كہ مقام خطاب ميں قدر متيقن (يقني مقدار) موجود نہيں ہے اور امردو چيزوں ميں دائر ہے يعني يا اطلاق كو قبول كيا جائے يا كلام كے مہمل ہونے كو قبول كيا جائے تو اس صورت ميں عرف اطلاق سمجھتا ہے ليكن يہاں پر ہميں قدر متيقن كا يقين نہيں ہے، كيونكہ يہ توقيع اسحاق بن يعقوب كے سوالوں كے جواب ميں صادر ہوئي ہے (اور ہم اس كے سوال سےآگاہ و باخبر نہيں ہيں) جس كا جواب امام عليہ السلام نے اپنے قول”واماالحوادث الواقعه فارجعوا فيها الي رواة احاديثنا فانهم حجتي عليكم" كے ذرىعے ديا ہے ۔ممكن ہے اس كا سوال اس نوعيت كا ہو جو مقام خطاب ميں جواب كے لئے قدر متيقن كو تشكيل ديتا ہے ۔مثلااس كا سوال مخصوص حوادث وواقعات سے متعلق تھا اورقدر متيقن يہ تھي كہ (فقہاء) انہي واقعات ميں حجت ہيں جن كے متعلق سوال ہوا ہے ۔اور ان واقعات ميں بھي فقہاء حجت ہيں جو واقعات مورد سوال واقعات سے مختلف نہ ہوں، اور ان ميں فرق كااحتمال نہ ديا جا سكے۔

۳) يہ كہاجائے كہ امام عليہ السلام كے قول ”فانھم حجتي عليكم“اور ”وانا حجۃ اللہ“ كے

درميان پائے جانے والے قرىنہ مقابلہ كي مدد سے”فانهم حجتي عليكم" ميں پايا جانے والا اطلاق صحيح و كامل ہوكيونكہ يہ دوجملے ايك دوسرى كے مقابلہ ميں صادر ہوئے ہيں لہٰذا عرف ان كے تقابل سے يہ سمجھتا ہے كہ فقيہ ان تمام اور ميں امام عليہ السلام كي طرف سے حجت ہے جن امور ميں امام عليہ السلام خدا كي طرف سے حجت ہيں اس بيان كي مدد سے فقيہ كي ولايت مطلقہ ثابت ہو جائے گي۔

ممكن ہے يہ كہاجائے كہ اگر مراد يہ ہے كہ كيونكہ امام عليہ السلام نے "فانھم حجتي عليكم" كے بعد "وانا حجۃ اللہ" كہا ہے لہٰذا عرف يہ سمجھتا ہے كہ ان دوجملوں ميں تقابل پايا جاتا ہے اور يہ بيان كرنا مقصود ہے كہ جس طرح امام عليہ السلام خدا كي طرف سے حجت ہيں اسي طرح فقيہ امام عليہ السلام كي طرف سے حجت ہے ۔

اورفقيہہ ان تمام امور ميں حجت ہے جن امور ميں امام عليہ السلام حجت ہيں اس بيان پر درج ذيل اشكال كيا جا سكتا ہے:

اشكال: فہم عرفي كے مطابق يہاں پر ايك اور ہدف ومقصد بھي سمجھتا جاتا ہے اور وہ ھدف يہ ہے كہ امام اپنے قول ”واناحجۃ اللہ" كے ذرىعے راوي كو عطا كي گئي حجيت كي علت و فلسفہ بيان فرمارہے ہيں يعني امام عليہ السلام كہنا چاہتے ہيں كيونكہ ميں حجت خدا ہوں لہٰذا (ميرى طرف سے) فقيہ بھي حجت ہے، كيونكہ اگر امام عليہ السلام خود حجت نہ ہوں تو راوي كو كيسے حجيت عطا كر سكتے ہيں؟ اس صورت ميں فقيہ كو عطا كي جانے والے حجيت كي كيا قدر و قيمت ہوگي۔؟(۲۰۱)

گويا امام عليہ السلام يہ فرمارہے ہيں: ميں حجت خدا ہوں اور ميں اپني حجيت (كاحق) استعمال كر كے تمہارى لئے كسي كو حجت قرار دے سكتا ہوں پس ميں نے تمہارى لئے حديثوں كے روايوں كو حجت قرار ديا ہے۔

اور اگر مراد يہ ہو كہ اگر چہ امام عليہ السلام كا قول ”انا حجة الله “يہي فائدہ بيان كرنے كے لئے ہے پھر بھي عرف اس مقدار سے تقابل سمجھتا ہے جسے ہم ذكركر چكے ہيں يعني فقيہ ان تمام امور ميں حجت ہے جن امور ميں امام حجت ہيں اس دعويٰ كو ثابت كرنے كي ذمہ دارى صاحب دعويٰ پر عائد ہو تي ہے، ميں نہيں سمجھتا كہ عرف يہاں سے يہ مفہوم سمجھتا ہو (جس كا دعويٰ كيا گيا ہے) اگر ايك شخص كسي سے سوال كرے كہ ميں كس سے زيد كا گھر خرىدوں؟ اور وہ اسے جواب ميں كہے: زيد كا گھر عمرو سے خرىدو كيونكہ ميں زيد كا وكيل ہوں اور عمروميرا وكيل ہے (پس عمرو زيد كا وكيل ہے) يہاں پر عرف يہ نہيں سمجھتا كہ عمرو ان تمام امور ميں اس شخص كا وكيل ہے جن امور ميں وہ شخص زيد كا وكيل ہے، بلكہ يہاں پر اس كلام كي قدر متقين (يعني مقدار) يہ ہے كہ عمرو فقط زيد كا گھر (جو كہ زيد كي ملكيت ہے) فروخت كرنے ميں اس شخص كا وكيل ہے ۔اس كي وكالت كا جوازيہ ہے كہ كيونكہ وہ شخص زيد كا وكيل ہے لہٰذا عمرو كو وكيل بنانے كا حق ركھتا ہے لہٰذا عمرو كي وكالت نافذ اور قابل عمل ہوگي عرفي طورپر اس كلام سے اطلاق نہيں سمجھا جاتا۔

۴) يہ كہاجائے: اگر چہ محمول ميں فقط مقدمات حكمت كے ذرىعے اس معني ميں اطلاق جارى نہيں ہوتا ليكن كيونكہ خود محمول اطلاق كي صلاحيت ركھتا ہے لہٰذا جہاں پر مناسبات و قرائن اطلاق كا تقاضا كرىں وہاں پر اطلاق صحيح ہوگا، اور جہاں پر اس قسم كي مناسبات موجود نہ ہوں وہاں پر اطلاق كامل نہيں ہوگا، مثلاًايك دفعہ عام حالات ميں زيد كہتا ہے عمرو سے ميرا گھر خرىدو كيونكہ وہ ميرا وكيل ہے اس كلام سے اطلاق نہيں سمجھاجاتايعني يہ نہيں سمجھا جاتا كہ عمرو تماممالي امور ميں زيد كاوكيل ہے، اس كلام سے جو مقدار يقيني طور پر سمجھي جاتي ہے وہ يہ ہے كہ گھر فروخت كرنے ميں عمرو، زيد كا وكيل ہے۔

ليكن اگر فرض كياجائے كہ زيد سفر پر جانا چاہتا ہے اور پچاس سال تك اپنے اموال سے غائب (دور) ہونا چاہتا ہے تو اس صورت ميں عام طو ر پرزيد كو ايسے وكيل كي ضرورت ہے جو تماممالي امور ميں اس كا وكيل ہو، اب فرض كرىں زيد سے كوئي سوال كرتا ہے: تمہارا گھر كس سے خرىدوں؟ زيد جواب ديتا ہے: عمرو سے ميرا گھر خرىدو كيونكہ وہ ميرا وكيل ہے يہاں پر عرف زيد كے كلام سے اطلاق سمجھتا ہے، اور ہمارا مورد بحث مسئلہ بھي اسي نوعيت كا ہے، كيونكہ امام عليہ السلام غائب ہيں اور ممكن ہے ان كي غيبت كي مدت بہت زيادہ طولاني ہو جس كا علم فقط اللہ تعاليٰ كے پاس ہے فطرى طور پر يہ فرض معقول ہے كہ امام عليہ السلام ايسي

حجت قرار دينے كي ضرورت ہے جو ان تمام امور ميں حجت ہو جن امور ميں خوادامام عليہ السلام حجت ہيں اور امت محتاج ہے كہ ان تمام امور ميں حجت (فقيہ) كي طرف رجوع كرے ۔جب اس فضاء اور ماحول ميں معين حوادث و واقعات كے بارى ميں سوال كيا جائے اور امام جواب ميں فرمائيں: ”ارجعوا فيها الي رواة احاديثنا " ان واقعات ميں ہمارى روايت نقل كرنے والوں كي طرف رجوع كرو كيونكہ ميں حجت خدا ہو ں اور وہ ميرى طرف سے تم لوگوں پر حجت ہيں” (يعني فقيہ كو مطلقاً حجت قرار ديا گيا ہے)

يہاں پر عرف بطور مطلق حجيت كو سمجھتا ہے، اور فقيہ كا امام عليہ السلام كي طرف سے حجت ہونے كا مطلب يہ ہے كہ فيقہ ان تمام امور ميں امام عليہ السلام كي طرف سے منصوب ہے جن امور ميں اس كي طرف رجوع كيا جائے گا۔

چھٹا ضميمہ

يہاں پر تين امور ہيں اور اس روايت كے ذرىعے ان ميں سے بعض امور كو يا تمام امور كو ثابت كيا جاسكتا ہے:

۱) ثقہ (قابل اعتماد) راوي كي روايت حجت ہے۔

۲) ثقہ (قابل اعتماد) فقيہ كا فتويٰ حجت ہے۔

۳) ثقہ (قابل اعتماد) فقيہ كو ولايت حاصل ہے اور اس كا حكم نافذ اور لازم الاجراء ہے۔

فقيہ كا حكم دو قسم كا ہوتاہے:

۱) حكم كاشف۔

۳) حكم ولايتي ۔

۱) وہ حكم جو حكم كےماوراء واقعيت كو كشف كرتا ہے ۔جيسے رؤيت ہلال كا حكم، يا طرفين نزاع ميں سے كسي ايك طرف كے حق ميں فيصلہ دينا يہاں پر جديد حكم ايجاد كرنا مقصود نہيں ہوتابلكہ ايك حقيقت كو كشف كرنا مقصود ہوتا ہے جو حقيقت اس حكم كے پس پردہ موجود ہوتي ہے۔

۲) وہ حكم جس ميں حق ولايت استعمال كرتے ہوئے ايك جديد حكم كي تاسيس كي جاتي ہے جيسے فقيہ ايك معين لائحہ عمل اپنانے كاحكم دے ليكن نہ اس بنياد پر كہ ان حالات ميں بہترىن لائحہ عمل يہي ہے بلكہ اس بنياد پر فقيہ ايك معين موقف اپنانے كا حكم ديتا ہے كيونكہ فقيہ معتقد ہے كہ قومي يكجہتى، وحدت كلمہ اور مسلمانوں كي صفوں ميں استحكام پيدا كرنے كي غرض سے معاشرى كے لئے ضرورى ہے كہ ايك مشخص ومعين سماجي لائحہ عمل اپنايا جائے ۔

ہم پہلي قسم كے حكم كے لئے حكم كاشف كي اصطلاح جب كہ دوسرى قسم كے حكم كے لئے ولايت حكم كي اصطلاح استعمال كرىں گے۔كوئي اشكال نہيں كہ يہ روايت قابل اعتماد راوي كي روايت كي حجيت پر دلالت كرتي ہے، بلكہ اس حديث سے يقيني طور پر جو مقدار سمجھي جاسكتي ہے وہ يہي ہے كہ قابل اعتماد راوي كي روايت حجت ہے۔

اور امام عليہ السلام كے درج ذيل اقوال سے واضح طورپر يہي مقدار سمجھي جاتي ہے امام عليہ السلام نے فرمايا:"العمرى ثقتى، فما اديٰ اليك عني فعني يؤدي وماقال لك عني فعني يقول" اسي طرح يه بهي فرمايا: "العمرى وابنه ثقتان فما اديا اليكم عني فعني يؤديان وما قالالك عني فعني يقولان"

"عمرى ہمارا قابل اعتماد ہے، وہ جو كچھ تمہارى لئے ہمارى حوالے سے نقل كرتا ہے درحقيقت ہمارى ہي طرف سے نقل كرتا ہے اور جو كچھ ہمارى طرف سے تمہيں كہتا ہے در حقيقت ہمارى ہي طرف سے كہتا ہے”حضرت نے يہ بھي فرمايا: ”عمرى اور اس كا بيٹا ہمارى قابل اعتماد افراد ہيں، وہ دونوں جو كچھ ہمارى طرف سےآپكے لئے نقل كرىں وہ درحقيقت ہمارى ہي طرف سے نقل كرتے ہيں اور وہ دونوں جو كچھ ہمارى طرف سےآپكو كہيں در حقيقت وہ ہمارى ہي طرف سے كہتے ہيں “)

ليكن كيا يہ روايت فقيہ كے فتويٰ اور فقيہ كے دونوں قسم كے حكموں كي حجيت پر بھي دلالت كرتي ہے يا نہيں؟

بعض اوقات يہ مفہوم باقي مفاہيم كي نسبت پہلے ذہن ميں آتا ہے كہ امام عليہ السلام كے مندرجہ بالا دونوں جملے فقيہ كے فتويٰ اور فقيہ كے (دونوں قسم كے) حكموں كي حجيت پر دلالت نہيں كرتے، فقيہ كے فتويٰ كي حجيت پر اس لئے دلالت نہيں كرتے كيونكہ فقيہ كے حكم پر يہ صدق نہيں كرتا كہ يہ حكم امام عليہ السلام سے نقل كر رہا ہے تاكہ فقيہ ”ما ادي فعني يؤدى "يا ”ما اديا اليك فعني يؤديان " كا مشمول قرار پائے۔

اور امام عليہ السلام كے مذكورہ بالا جملے فتويٰ كي حجيت پر بھي دلالت نہيں كرتے كيونكہ اگر چہ ايك اعتبار سے فتويٰ كا مطلب يہ ہے كہ فتويٰ كے ذرىعے امام عليہ السلام كي راي نقل كي جاتي ہے، ليكن فتويٰ كے ذرىعے امام عليہ السلام كي راي نقل كرنا نقل حدسي ۲۰۲ ہے، جب كہ روايت كے ذرىعے امام عليہ السلام كي راي نقل كرنا نقل حسي ہے، اگر ان دو جملوں كے ساتھ ايك اور نكتے كو ضميمہ نہ كيا جائے تو ذاتي طو رپر يہ دونوں جملے نقل حسّي كي طرف منصرف ہيں يعني ان سے نقل حسّي سمجھا جاتا ہے۔

ليكن اس كے باوجود درج ذيل تين بيانوں ميں سے كسي ايك بيان كي بنياد پر اس حديث سے يہ ثابت كيا جا سكتا ہے كہ حاكم كا حكم نافذ ہے اور مقلدين كے لئے فقيہ كا فتويٰ حجت ہے۔

پہلا بيان: امام عليہ السلام كے قول ”فاسمع له واطعه ”اس كي بات كو سنو اور اس كي اطاعت كرو”يا" فاسمع لهما واطعهما" عمرى اور اس كے بيٹے كي با سنو اور ان كي اطاعت كرو“ كے اطلاق سے تمسك كيا جائے كيونكہ امام عليہ السلام كے قول كے اطلاق كا تقاضا يہ ہے كہ تمام امور ميں ان دونوں كي بات سني جائے اور ان كي اطاعت كي جائے، يعني روايت كے مطابق، فتويٰ اور حكم دونوں ميں ان كي اطاعت ضرورى ہے۔

اشكال: اس بيان پر متعدد اشكال وارد ہوتے ہيں:

۱) كيونكہ ”فاسمع له واطعه " كو”فاء تفرىع" كے ذرىعے ”ما ادي اليك فعني يؤدى" پر تفرىع كيا گيا ہے لہٰذا (كم از كم) احتمال ديا جا سكتا ہے كہ يہ بات اس پر قرىنہ ہے كہ اس كي بات سننا اور اس كي اطاعت كرنا فقط اسي دائرى تك محدود ہے جہاں پر امام عليہ السلام كي طرف سے نقل كرنا اور امام كي طرف سے پہچانا صدق ہے ۔

۲) اور اگر مراد يہ ہو كہ صيغہ امر”اسمع" اور” اطع" كے متعلق كے اطلاق سے تمسك كيا جائے تو علم اصول ميں يہ ثابت ہو چكا ہے كہ متعلق امر ميں اطلاق شمولي جارى نہيں ہوتا، بلكہ فقط اور فقط متعلق امر كے متعلق ميں اطلاق شمولي جارى ہوتا ہے ۔بطور مثال اگر كہا جائے ”اكرم العالم “عالم كا احترام كرو" يہ جملہ دلالت كرتا ہے كہ ہر عالم كا احترام واجب ہے ليكن بطور شمول واستغراق دلات نہيں كرتا يعني اس پر دلالت نہيں كرتا كہ ہر قسم كا احترام واجب ہے، متعلق امر كا اطلاق فقط اطلاق بدلي ہوتا ہے اور اگر محذوف متعلق ميں جارى ہو نے والے اطلاق سے تمسك مقصود ہو يعني ”اسمع لہ واطعہ في كل شيء”تو يہ بات بھي اصول فقہ ميں ثابت كي جاچكي ہے كہ جب محذوف لفظ معين ہو تو اس صورت ميں اطلاق كے ذرىعے لفظ كو عموم و شمول عطا كيا جاتا ہے ليكن اطلاق كے ذرىعے محذوف لفظ كو معين نہيں كيا جاسكتا۔

اور اگر اس سے تمسك كرنا مقصود ہو كہ متعلق كا محذوف ہونا اطلاق و شمول كا فائدہ ديتا ہے تو اس سلسلہ ميں بھي ہم علم اصول فقہ ميں ثابت كر چكے ہيں كہ ہمارى نزديك يہ قاعدہ ثابت اور قابل قبول نہيں ہے مگر ايك صورت ميں كہ جب مقام خطاب ميں قدر متيقن كو اخذ كرنا واجب نہ ہو اور مورد بھي ان موارد ميں سے ہوجو اہمال سے مناسب و سازگار نہ ہو۔

فقط اسي ايك صورت ميں اطلاق متعين ہوگا، كيونكہ ”ماادي اليك فعني يؤدي “واضح طور پر روايت كو حجت قرار دتيا ہے لہٰذا ہمارى بحث ميں قدر متيقن روايت ہے يعني روايت كو حجت قرار ديا جانايقيني ہے لہٰذا يہاں پر قدر متيقن كو اخذ كرنا واجب ہے بنا براين متعلق كا محذوف ہونا اطلاق و شمول كا فائدہ نہيں ديتا ۔

دوسرابيان: سوال كو قرىنہ قرار ديتے ہوئے جواب ميں اطلاق ثابت كيا جا سكتا ہے، سوال يہ ہے: ”من اعامل؟ وعمن آخذ؟ وقول من اقبل؟ كس سے (شروعي وجوہات كا) لين دين كروں؟ كس كي راي اخذ كروں؟ كس كا قول قبول كروں؟ ”اور يہ سوال مطلق ہے يعني روايت، فتويٰ اور حكم تينوں كو شامل ہے، يا تو اس دليل كي بنياد پر اطلاق كا استفادہ كيا جا سكا ہے كہ متعلق محذوف ہے ۔يعني”من اعامل؟ عمن آخذكلا من الروايه والفتويٰ والحكم؟ ”كا متعلق محذوف ہے يعني كس سے روايت فتويٰ اور حكم حاصل كروں۔

يہاں پر وہ قدر متيقن بھي نہيں پائي جاتي جو متعلق كے محذوف ہونے سے اطلاق كا استفادہ كرنے كي راہ ميں ركاوٹ ہے۔

يا عرفي مناسبات و قرائن كے ذرىعے اطلاق كا استفادہ كيا جا سكتا ہے كيونكہ يہاں پر عرفي مناسبتوں كا تقاضا يہ ہے كہ محذوف مطلق ہے، جس كو مناسبات و قرائن كے ذرىعے معين كيا جائے گا، اور يہاں پر مناسبات و قرائن اطلاق كا تقاضاكرتے ہيں، كيونكہ مسائل امام عليہ السلام كے پيروكاروں ميں سے كوئي ايك شخص تھا كہ ان حالات ميں اس كي امام عليہ السلام ملاقات نہيں ہوتي تھي ۔لہٰذا ان حالات ميں مناسب معلوم ہوتا ہے كہ سائل نے يہ سوال كيا ہو كہ جن امور ميں امام عليہ السلام كي طرف رجوع كيا جاتا ہے امام عليہ السلام كي عدم موجودگي ميں كس كي طرف رجوع كيا جائے، خواہ ايسے امور ہوں جن ميں امام عليہ السلام كي طرف اس لئے رجوع كيا جاتا ہے كہ امام عليہ السلام ابتدائي طور پر خدا كا حكم بيان كرتے ہيں يا ايسے امور ہوں جن ميں ولي امر كے طور پر امام عليہ السلام كي طرف رجوع كيا جاتا ہے۔يا جملہ ”قول من اقبل؟ كس كا قول قبول كروں“ميں موجود لفظ "القول" كے اطلاق سے تمسك كياجائے، جب سوال كا مطلق ہو ناثابت ہو جائےگا تو جواب بھي مطلق ہوگا تاكہ سوال وجواب ميں مطابقت ہو۔

بلكہ بعض دوسرى سندوں كے مطابق اسي روايت ميں يہ جملہ نقل ہوا ہے ”امر من نمتثل؟ " ہم كس كے حكم كي تعميل كرىں؟ "

شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے كتاب ”الغيبۃ “ميں روايت نقل كي ہے"

عن جماعة عن ابي محمد هارون بن موسيٰ عن ابي علي محمد بن همام الاسكافي قال: حدثنا عبد الله بن احمد بن اسحاق بن سعد القمى، قال: دخلت علي ابي الحسن علي بن محمد صلوات الله عليه في يوم من الكيام فقلت: يا سيدي انا اغيب واشهد، ولايتهيا لي الوصول اليك اذا شهدت في كل وقت فقول من نقبل؟ وامر من نمتثل؟ فقال لي صلوات الله عليه: هذا ابو عمرو الثقة الا مينما قاله لكم فعني يقول واداه اليكم فعني يؤديه فلما مضيٰ ابو الحسن عليه السلام وصلت الي ابي محمد ابنه العسكرى عليه السلام ذات يوم فقلت له مثل قولي لابيه فقال لى: هذا ابو عمرو الثقة الامين الماضي ثقة و ثقتي في المحيا والممات فما قاله لكم فعني يقوله، وما ادي اليكم فعني يؤديه "(۲۰۳)

شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے كتاب الغيبۃ ميں ايك جماعت سے انھوں نے ابو محمد ہارون بن موسيٰ(۲۰۴) سے انھوں نے ابو علي محمد بن ھمام اسكافي ہے نقل كيا ہے كہ: ہمارى لئے عبد اللہ بن احمد بن اسحاق بن سعد قمي نے نقل كيا ہے: ميں ايك دن امام علي نقي عليہ السلام كي خدمت ميں شرفياب ہوا اور كہا: موليٰ ميں بعض اوقات آپكي خدمت ميں حاضرى كا شرف حاصل كرتا ہوں اور بعض اوقات اس سے محروم رہتا ہوں اور ميرى لئے ممكن نہيں كہ ہر وقت آپكي بارگاہ ميں حاضرى دوں پس (جب آپكي خدمت ميں حاضر ممكن نہ ہوتو) ہم كس كا قول قبول كرىں؟ اور كس كا فرمان بجالائيں؟ امام نے مجھے فرمايا: يہ ابو عمرو (موجود) ہے جو امين اور قابل اعتماد ہے، يہ تمہيں جو كچھ كہے گا ہمارى ہي طرف سے كہے گا، اور جو كچھ تمہارى لئے نقل كرےگا ہمارى ہي طرف سے نقل كرےگا، جب امام نقي عليہ السلام اس دنياسے كوچ كرگئے تو ميں ايك دن ان كے بيٹے امام حسن عسكرے عليہ السلام كي خدمت ميں شرفياب ہوا اور

وضاحت

وہ جماعت كہ جس نے شيخ كے لئے جعفر محمد بن ابن قولہ سے روايت نقل كي ہے وہ جماعت شيخ كي اپني وضاحت كے مطابق مفيد، حسين بن عبيد اللہ، احمد بن عبدون، وغيرہ پر مشتمل ہے شيخ طوسى عليہ الرحمۃ نے بالكل يہي تعبير اس جماعت كے لئے استعمال كي ہے جنھوں نے ابو غالب رازي سے شيخ كے لئے روايات نقل كي ہيں، اس روايت سے پہلے اسحاق بن يعقوب كي توقيع گذر چكي ہے، شيخ طوسى عليہ الرحمۃ نے يہ توقيع ابن قوليہ، ابو غالب رازي اور ہارون بن موسيٰ سے نقل كي ہے، اور ان سب سے (مساوي طور پر) ايك جماعت كے واسطہ سے نقل كيا ہے، پس ابن قوليہ اور رازي سے روايت نقل كرنے والي جماعت بعينہ وہي جماعت ہے جنھوں نے ہارون بن موسيٰ سے روايت نقل كي ہے اور آپجان چكے ہيں كہ ابن قولويہ اور رازي كي تمام روايات شيخ طوسى عليہ الرحمۃ تك ايك جماعت كے ذرىعے پہنچي ہيں جس جماعت ميں شيخ مفيدعليہ الرحمۃ شامل ہيں۔

جو كچھ ان كے والد سے پوچھا تھا ان سے بھي پوچھا امام نے فرمايا: يہ ابو عمرى (موجود) جو امين اور قابل اعتماد ہے چنانچہ ہمارى والد كے نزديك بھي قابل اعتماد تھا ۔

يہ زندگي وموت ميں ميرا قابل اعتماد شخص ہے، يہ آپ لوگوں سے جو كچھ كہتا ہے ميرى ہي طرف سے كہتاہے ۔اور آپ لوگوں كے لئے جو كچھ نقل كرتا ہے ميرى ہي طرف سے نقل كرتا ہے۔ كيونكہ”امر" كا حقيقي معني روايت وفتويٰ نہيں بلكہ حكم ہے لہٰذا لفظ ”امر" كا اس چيز پر دلالت كرنا كہ امام عليہ السلام كي مراد ”حكم “ہے اور ”امر" كا حكم پر دلالت كرنا اطلاق پر دلالت كرنے كي نسبت اس پر زيادہ قوي طور پر اور تاكيد كے ساتھ دلالت كرتا ہے كہ امام عليہ السلام كي مرا د حكم ہے كيونكہ حكم ميں امر كا حقيقي معني پايا جاتا ہے جب كہ روايت و فتويٰ ميں نہيں پايا جاتا۔

يہ بيان بھي قابل اعتراض ہے ۔فرض كرىں سوال فقط نقل روايت سے متعلق نہيں تھا بلكہ سوال كا دائرہ حكم كو بھي شامل تھا (يعني حكم كے متعلق بھي سوال كيا جا رہا تھا) ليكن كيا مشكل ہے كہ”ما ادي اليك عني فعني يؤدى " كو قرىنہ قرار ديتے ہوئے جواب يہ ہو: جو كچھ ہم سے نقل كرے اسے لے لو۔

اس سے يہ بھي لازم نہيں آتا كہ جواب سوال سے مختصر ہے كيونكہ ممكن ہے امام عليہ السلام يہ كہنا چاہتے ہوں: كيونكہ عمرى ہمارى خدمت ميں كثرت سے شرفياب ہو تا رہتا ہے لہٰذا اس كے لئے ممكن ہے كہ ہمارى طرف سےآپ تك كلام خداوندي كو پہنچا سكے (وہ احكام جنھيں وہ نقل كرتا ہے) اوراس كے لئےآپ تك (آپ كے مورد نياز مسائل ميں سے) وہ احكام پہنچانا بھي ممكن ہے؟ جو احكام ہم سے بعنوان ولي امر صادر ہوتے ہيں۔

تيسرا بيان: ممكن ہے ہم امام عليہ السلام كي طرف سےآنے والے جواب ميں موجود لفظ (اطع) سے استفادہ كرىں، البتہ لفظ (اطع) كے اطلاق سے استفادہ كرنا مقصود نہيں (چنانچہ پہلے بيان ميں اطلاق سے استفادہ كيا گيا) بلكہ لفظ (اطع) سے يوں استفادہ كيا جائے كہ عرف يہ نہيں سمجھتا كہ لفظ (اطع) فقط روايت يا روايت اور فتويٰ سے مخصوص ہے (يعني عرف يہ نہيں سمجھتا كہ امام عليہ السلام عمرى كي اطاعت كو فقط اس صورت ميں واجب قرار دے رہے ہيں جب وہ روايت نقل كر رہا ہو يا فتويٰ دے رہا ہو) كيونكہ اطاعت حقيقي معني ميں اطاعت فقط وہاں پر صدق كرتي ہے جہاں حكم كيا جاتا ہے، كيونكہ اطاعت حكم كي فرع (شاخ) ہے اور اطاعت حكم پر مرتب ہوتي ہے لہذا جہاں پر اصل (حكم) نہ ہو وہاں پر فرع (اطاعت) كوئي معني نہيں ركھتى، ليكن روايت اور فتويٰ، نقل حسّي(۲۰۵) عبارت ہيں در اصل راوي كي بعنوان راوي يا مفتي كي بعنوان مفتي اطاعت نہيں كي جاتى، ہاں يہ ضرور ہے كہ وہ كبھي كبھار اپني روايت يا اپنے فتويٰ كے مطابق حكم (ولايتي حكم يا كاشف حكم ) كرتا ہے لہذا اس صورت ميں وہ حاكم قرار پاتا ہے اور اس كي اطاعت كي جاتي ہے ۔

يا نقل حدسي سے لہذا لفظ (اطع) كو اپنے غير حقيقي مصداق سے مخصوص كرنا فہم عرفي كے خلاف ہے۔امام عليہ السلام نے ((فاء تفرىع))(۲۰۶) كے ذرىعے اپنے قول ,,فاسمع لہ واطعہ ِ،، كو اپنے قول ,,ما ادّا اليك عنّي فعنّي يؤدّى ، ، پر تفرىع (مرتب) كيا ہے، احتمال ديا جا سكتا ہے كہ,, فاء تفرىع، ، قرىنہ ہو كہ عمرى كي اطاعت اور اس كي بات غور سے سننا فقط اس مورد سے مخصوص ہے جہاں پر وہ امام عليہ السلام سے كوئي مطلب (حكم شرعي وغيرہ) نقل كر رہاہو يا امام عليہ السلام كي طرف سے كوئي چيز (حكم) پہنچا رہا ہو ۔

ليكن كيونكہ حكم كے علاوہ باقي موارد ميں حقيقي معنيٰ ميں اطاعت نہيں پائي جاتي لہذا ہم بخوبي درك كرتے ہيں كہ عمرى كي اطاعت فقط ان موارد سے مخصوص نہيں ہے جہاں وہ بہ طور حسّي نقل كر رہا ہو يا امام عليہ السلام كي طرف سے كسي چيز (حكم) كو پہنچا رہا ہو، بلكہ اطاعت كا حكم، نقل حسّي كے فرضيہ كو بھي شامل ہے اور اسي طرح اطاعت كا حكم وہاں پر بھي ہوگا جہاں پر حكم كرنے والا (ولي امر) نقل پر اعتماد كرتے ہوئے حكم كرے، كيونكہ حاكم شرعي اپنے حكم ميں (اس صورت ميں كہ جب حكم كاشف ہو) اپنے فہم پر اعتماد كرتا ہے يعني جو كچھ اس نے امام عليہ السلام كے كلام سے سمجھا ہے اسي كے مطابق حكم كرتا ہے، اگرچہ اس نےحدس اور اجتہاد ہي كي بنياد پر اسے امام عليہ السلام كے كلام سے سمجھا ہو۔

لہذا اگر وہ حكم كرے تو اس كا مطلب يہ نہيں كہ وہ بلا واسطہ اور حسّي طور پر امام عليہ السلام سے نقل كر رہا ہے، ہاں بعض اوقات كہا جاتا ہے كہ اس بيان كي مدد سے ولايتي حكم (حكم كي دوسرى قسم) كا نافذ اور رائج ہونا ثابت نہيں ہوتا كيونكہ ولايتي حكم كے موارد ميں امام معصوم عليہ السلام سےنقل كرنا اورامام عليہ السلام كي طرف سے (كوئي چيز يعني حكم) پہنچانا صدق نہيں كرتا، حتي يہ بھي نہيں كہا جا سكتا كہ ولايتي حكم كا منبع و سرچشمہ امام عليہ السلام كا قول تھا، بلكہ ولايتي حكم ميں تو منطقۃالفراغ كو پر كرنے كے لئے صرف اورصرف ولايت كو بروئے كار لايا جاتا ہے، ليكن اگر حكم كي پہلي قسم (كاشف حكم) كا نافذ ہونا ثابت ہو جائے تو درج ذيل دعويٰ كے ذرىعے دوسرى قسم كا نافذ ہونا بھي ثابت كيا جائے گا، عام طور پر اتني دقت نہيں كي جاتي اور اس دقيق عقلي فرق كي بنياد پر حكم كے مخلتف ہونے كا احتمال نہيں ديا جاتا (حكم كي ايك قسم نافذ ہو جب كہ دوسرى قسم نافذ نہ ہو كيونكہ ان دو قسموں ميں فرق پايا جاتا ہے) پس جب عرفي اعتبار سے دو حكموں ميں فرق كا احتمال نہيں ديا جاتا تو لفظي دليل كا اطلاق صحيح ہوگا (يعني دونوں صورتوں ميں حكم نافذ ہوگا كيونكہ امام عليہ السلام كے كلام ميں كوئي قيد و شرط نہيں ہے اور حكم دونوں صورتوں كو شامل ہے)

اس بحث ميں فقط ايك اشكال باقي رہ جاتا ہے كہ اگر يہ حديث ولايت فقيہ پر دلالت كرے تو عمرى عليہ الرحمۃ كے قول (محرم عليكم ان تسالوا عن ذلك ولا اقول هذا من عندي فليس لي ان احلل ولا احرم ولكن عنه عليه السلام ) آپ پرحرام ہے كہ اس سے متعلق سوال كرىں، ميں يہ اپني طرف سے نہيں كہہ رہا، كيونكہ مجھے تو كسي چيز كو حلال يا كسي چيز كو حرام كرنے كا حق نہيں پہنچتا بلكہ يہ امام عليہ السلام كي طرف سے ہے، كي كيا تفسير كي جائےگي جب كہ (ولايت فقيہ كي بنياد پر) يہ بات واضح ہے كہ جہاں پر ولّي امر مصلحت تشخيص دے وہاں پر اپني ولايت كو بروئے كار لاتے ہوئے كسي چيز كو حرام كر سكتا ہے، (جب كہ عمرى كي كلام سے يہ سمجھا جاتا ہے كہ امام عليہ السلام كے نائب كو يہ حق حاصل نہيں كہ وہ كسي چيز كو حرام قرار دے) ۔

جواب:

۱) شايد ,, محرم عليكم ، سے عمرى كي مراد فقط خدا اور شرىعت كي طرف سے كسي چيز كو حرام قرار دينا ہو، فقيہ كي طرف سے حكم كے ذرىعے كسي چيز كو حرام قرار دينا مراد نہ ہو اور اہل شرىعت كي اصطلاح ميں يہ استعمال رائج ہے۔

۲) فقيہ كا حكم، متعلق حكم (جس چيز كے متعلق حكم كيا جا رہا ہے) اور خود حكم ميں پائي جانے والي مصلحت پر موقوف ہے يعني اگر مورد حكم اور خود حكم ميں مصلحت پائي جائے تو فقيہ حكم كرتا ہے ورنہ حكم نہيں كرتا شايد عمرى عليہ الرحمۃ نے اس وقت كسي چيز كوحرام قرار دينے كاحكم دينے ميں مصلحت تشخيص نہ دي ہو كيونكہ اس وقت عمرى كے لئے امام عليہ السلام كي خدمت ميں شرفياب ہونا ممكن تھااور كيونكہ امام عليہ السلام مصلحتوں اورخرابيوں كو فطرى طور پر سب سے بہتر تشخيص ديتے ہيں لہذا عمرى خود امام عليہ السلام سےحكم ليتےتھے (ان كي نظر ميں خودحكم كرنےميں مصلحت نہيں پائي جاتي تھي)

۳) جب ہم نے امام عليہ السلام سے نقل ہونے والي اس حديث سے ولايت فقيہہ كو سمجھ ليا تو ہمارا فہم ہمارى لئے حجت ہے لہذا جب ہم نے فقيہ كے لئے ولايت ثابت كر دي اس كے بعد ہمارى لئے اس كي كوئي اہميت نہيں كہ عمرى نے اس كبرىٰ (قاعدہ اور عام قانون) كي اس مورد ميں تطبيق كيوں نہيں كي (عمرى نے اپنا حق ولايت استعمال كرتے ہوئے كسي چيز كي حرمت كا حكم كيوں نہيں ديا) ممكن ہے عمرى نے كبرىٰ يا صغرىٰ ميں غفلت كے نتيجہ ميں اس كبرىٰ كي تطبيق نہ كي ہو ۔

ساتواں ضميمہ

اگر كہا جائے يہاں پر اطلاق نہيں پايا جاتا كيونكہ اطاعت كا متعلق محذوف ہے اور مقدمات حكمت كے ذرىعے محذوف كو معين نہيں كيا جا سكتا كيونكہ مقدمات حكمت كے ذرىعے فقط معين چيز سے قيود و شرائط كي نفي كي جاسكتي ہے ۔

جواب:

۱) يہاں پر اطلاق ثابت ہے كيونكہ قدر متيقن پائي جاتي ہے كيونكہ اگر متعلق محذوف ہو ليكن قدر متيقن پائي جائے تو اطلاق صحيح ہوتا ہے اور اولي الامر كي اطاعت كو خدا و رسول كي اطاعت پر عطف كيا گيا ہے۔

اگر كوئي شخص ہم پر يہ اعتراض كرے كہ آيہ مباركہ ميں ولّي امر كي اطاعت كا حكم خود اس كي ولايت اور اس كي اطاعت كے دائرہ سے وسيع تر نہيں ہے، جب آيہ مباركہ سے چشم پوشي كي جائے تو اس كے لئے وہ وسيع ولايت ثابت نہيں ہے كيونكہ آيہ كا معني يہ ہے كہ جن حدود ميں وہ اولي الامر ہے ان ہي حدود ميں اس كي اطاعت واجب ہے ۔

جواب: اس تفسير كےمطابق آيہ مباركہ قضيہ بہ شرط محمول(۲۰۷) كي سنخ سےقرار پائے گي اور يہ خلاف ظاہر ہے ۔

علامہ طباطبائي عليہ الرحمۃ نے تفسير الميزان ميں آيہ مباركہ سے اطلاق كا استفاہ كيا ہے اور قيد نہيں لگائي كہ اطاعت فقط اس مورد ميں واجب ہے جہاں وہ معصيت كا حكم نہ ديں يا اس مورد ميں اطاعت واجب ہے جہاں ان كي خطا كا معلوم نہ ہو جائے، اور اولي الامر سے مراد معصومين عليھم السلام ہيں۔

تو ہم جواب ميں كہيں گے: آيہ مباركہ كي يہ تفسير قضيہ شرط محمول كي سنخ سے ہوگي اور يہ خلاف ظاہر ہے ۔

۲) معصيت كا حكم دينے كي صورت ميں اس كي اطاعت كا واجب نہ ہونا اور اسي طرح جب كم گناہ كا حكم دے يا علم ہو جائے كہ حاكم كا حكم خطا پر مبني ہے تو اس كي اطاعت واجب نہيں ہے، يہ شرط ايسي شرط ہے جس كے لئے جدا گانہ شرط لانے كي ضرورت نہيں ہے بلكہ يہ موارد اس كي اطاعت كے دائرى سے پہلے ہي خارج ہيں، كيونكہ كسي بھي شخص كے حكم كا اتباع يا نذر (منّت) قسم، شرط اور عقد وغيرہ جب امو صاحب شرىعت سے صادر ہوتے ہيں تو عرف سمجھتا ہے كہ يہ كلام اور ولايت كا طرىقي پہلو اس فرض كو شامل نہيں ہوا جہاں پر حكم كي خطا كا علم ہو چنانچہ ان تمام امور ميں بھي صورت حال يہي ہے جن ميں طرىقي پہلو

۳) اولي الامر كو فقط معصومين پر حمل كرنا (معصومين سے مخصوص كرنا) موجب بنتا ہے كہ اطيعوا مطلق ہے يعني اس ميں كوئي قيد و شرط نہيں لگائي گئي (يعني كيونكہ اولي الامر معصومين ہيں لہذا بلا قيد و شرط ان كي اطاعت واجب ہے) اولي الامر كو معصومين سے مخصوص كرنے كا مطلب يہ ہے كہ اولي الامر كے عنوان كو مقيد كيا جا رہا ہے جب كہ خارج ميں اولي الامر ائمہ معصومين عليھم السلام ميں منحصر نہيں ہيں كيونكہ اس ميں كوئي شك و شبہ نہيں كہ غيبت كے زمانہ ميں غير امام اولي الامر كي ضرورت ہے خواہ يہ ضرورت امور حسبيہ كي حد تك ہو كہ جنھيں حكومت و قدرت كے بغير بھي انجام ديا جا سكتا ہے ۔

ہم بحث كر رہے تھے كہ ہمارى دور ميں اولي الامر كون ہےكيا فقيہ اولي الامر ہے يا جسے شورىٰ وغيرہ كے ذرىعے منتخب كيا جائے؟ ليكن يہ نا قابل انكار حقيقت ہے كہ غيبت كے زمانہ ميں اسلام كي طرف سے اولي الامر موجود ہے كيونكہ اگر غيبت كے زمانہ ميں كوئي اولي الامر نہ پايا جائے تو اسے اسلام كا نقص اورعيب شمار كيا جائے گا، لہذاآيہ مباركہ ميں اولي الامر كو معصومين سے مخصوص كرناآيہ مباركہ كے اطلاق كے خلاف ہے۔

اگر اولي الامر كو معصومين عليہ السلام سے مخصوص كيا جائے تو يہ ايك قيد كے ذرىعے دوسرى قيد سے فرار كر نے كے مترادف ہے، ہاں اگر پہلا اور دوسرا اشكال نہ ہوتا تو يہ دعويٰ كيا جا سكتا تھا كہ تيسرے اشكال كا نتيجہ يہ ہوگا كہ دونوں اطلاق آپس ميں تعارض كرىں گے لہذاآيہ مباركہ مجمل ہو جائے گي ۔

اگر آپ كہيں بعض روايات ميں آيہ مباركہ ميں موجود لفظ ,,اولي الامر، كي تفسير معصومين عليہم السلام كےذرىعےكيگئي ہےشيخ كلينى: نےكافي ميں روايت نقل كي ہے:(عن عدّه من اصحابنا عن احمد بن محمد عن علي بن الحكم عن الحسين بن ابي العلاء قال: ذكرت لا بي عبد الله عليه السلام قولنا في الاوصياء ان طاعتهم مفترضه قال، فقال: نعم، هم الذين قال الله تعالى,, اطيعوا الله واطيعواالرسول واولي الامرمنكم،، وهم الذين قال الله عزّوجل,, انما وليكم الله و رسوله والذين)

شيخ كليني عليہ الرحمۃ نے اصحاب كي ايك جماعت سے انہوں نے احمد بن محمد سے انہوں

نےعلي بن حكم سےانہوں نےحسين بن ابو العلاء سےنقل كيا ہے سين بن ابي علاء كہتے ہيں: ميں

نے امام صادق عليہ السلام كي خدمت ميں عرض كيا (نبي اكرم) كے جانشينوں كے متعلق ہمارا عقيدہ يہ ہے كہ ان كي اطاعت واجب ہے، امام عليہ السلام نے جواب ديا: ہاں (ايسا ہي ہے) اور ان ہي كے متعلق ارشاد رب العزت ہے (ايمان والو بس تمہارا ولي اللہ ہے اور اس كا رسول اور وہ (صاحبان ايمان جو نماز قائم كرتے ہيں اور حالت ركوع ميں زكوۃ ديتے ہيں)(۲۰۸) حديث: ۷، حديث كي سند بھي درست ہے ۔

شيخ كليني نے كافي ميں نقل كيا ہے ((عن محمد بن يحييٰ عن احمد بن عيسيٰ عن محمد بن خالد البرقي عن القاسم بن محمد الجوهرى عن الحسين بن ابي العلاء قال: قلت لابي عبد الله عليه السلام: الاوصياء طاعتهم مفترضة؟ قال: نعم، هم الذين قال الله عزّو جل ,,انما وليكم الله ورسوله والذين آمنوا الذين يقيمون الصلاة و يو تون الزكوة و هم راكعون )) شيخ كليني نے محمد بن يحييٰ سے انہوں نے احمد بن محمد بن عيسيٰ سے انہوں نے محمد بن خالد برقي سے انہوں نے قاسم بن محمد جوہرى سے انہوں نے حسين بن ابو علاء سے نقل كيا ہے ابو علاء كہتے ہيں ميں نے امام صادق عليہ السلام سے پوچھا: كيا (پيغمبر اكرم كے) جانشينوں كي اطاعت فرض ہے؟ آپنے فرمايا: ہاں، ان ہي كے بارى ميں ارشاد رب العزت ہے ,,ايمان والو بس تمہارا ولي اللہ ہے اور اس كا رسول اور وہ صاحبان ايمان جو نماز قائم كرتے ہيں اورحالت ركوع ميں زكوۃ ديتے ہيں(۲۰۹)

دوسرى روايت كي سند ميں قاسم بن محمد جوہرى ہے اور معلوم نہيں كہ يہ وہي قسم بن محمد ہو جس سے ازدي اور بجلي نے روايت كي ہے ازدي اور بجلي وہ ہيں جو غير ثقہ (غير قابل اعتماد) شخص سے روايت نقل نہيں كرتے البتہ پہلي روايت كي سند درست ہے(۲۱۰)

ايك اور ضعيف السند روايت ميں نقل ہواہے:عن ابي بصيرعن ابي عبد الله الصادق عليه السلام، في آيه ,,اطيعوا الله واطيعواالرسول و اولي الامر منكم،، قال: نزلت في علي بن ابي طالب والحسن والحسين،، ابو بصير نےآيه مباركه,,اطيعوا الله واطيعوا الرسول و اولي الامر منكم ،، كي تفسير ميں امام صادق عليہ السلام سےنقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: يہ آيہ مباركہ علي بن ابي طالب عليہ السلام اورحسن عليہ السلام و حسين عليہ السلام كي شان ميں نازل ہوئي(۲۱۱) اس كا جواب يہ ہے كہ يہ روايت بھي ان روايات كي طرح ہے جن روايات ميں قران مجيد ميں آنے والے بعض عنوانوں كي تفسير ائمہ عليھم السلام كے حق ميں كي گئي ہے (كہا گيا ہے كہ اس عنوان سے مراد ائمہ عليھم السلام ہيں) مثلاً صادقين، الآيات، اہل ذكر، اورالذين يعلمون وغيرہ جيسےعنوان۔

ان روايات كا ظاہرى معني يہ ہے كہ آيات كو اپنے مصاديق ميں سے سب سے واضح اور روشن مصداق پر تطبيق كيا جا رہا ہے، فہم عرضي تسليم نہيں كرتا كہ ان روايات كو قرىنہ قرار ديتے ہوئے كہا جائے، آيات كا مقصود فقط يہي مصداق (يعني ائمہ عليھم السلام) ہيں، عرفي اعتبار سے روايات كو اس معني (كہ آيات كا مصداق فقط ائمہ عليھم السلام ہيں) پر حمل كرنے كے بجائے درج ذيل معنيٰ بہتر ہے: ان روايات ميں اولي الامر كے سب سے افضل و بہتر اور واضح مصداق بيان كئے جا رہے ہيں، دوسرى لفظوں ميں ان مصداقوں كو بيان كيا جا رہا ہے جو روايات كے زمانے (جس وقت يہ روايات ائمہ عليھم السلام كي زبان سے جارى ہو رہي تھيں) موجود تھے، اس قول كے مقابلہ ميں ان لوگوں كا قول ہے جنھوں نے انحراف كا شكار ہونے والے خلفاء كوكيات كا مصداق قرار ديا ہے ۔

جو روايات آيہ مباركہ ميں ذكر ہونے والے عنوان (اولي الامر) كا مصداق ائمہ عليھم السلام كو قرار ديتي ہيں (جب كہ ائمہ عليھم السلام كي حالت يہ تھي كہ ان كے پاس اقتدار اور قدرت موجود نہ تھى، اورامور كي باگ ڈور ان كے ہاتھ ميں نہيں تھي) ان روايات كا فائدہ يہ ہے كہ ہم اس شخص كے اعتراض كو بر طرف كر سكيں جس نے ہمارى بحث ميں يہ اشكال كيا ہے ((اولي الامر كا عنوان فقط ايسے ولي امر كو شامل ہے جس كے پاس اقتدار ہو لہذا اگر فقيہ كے پاس اقتدار اور وسائل نہ ہوں توآيہ مباركہ كے ذرىعے اس كے لئے ولايت مطلقہ ثابت كرنا ممكن نہيں ہے)) دوسرى لفظوں ميں يہ اعتراض كرنے والا شخص يوں كہتا ہے ((شايد اولي الامر سے مراد ہر حكمراں اور اقتدار پر قابض ہر طاقت ہو خواہ اس نے ظلم و ستم ہي كے ذرىعے اقتدار پر قبضہ كيا ہو اور اقتدار سنبھالاہو، لہذا معاشرى كا نظام محفوظ رہنے كي غرض سے اس كي اطاعت ہمارى اوپر واجب ہے)) پس اس قسم كے اعتراضات اور شبہات بر طرف ہو جاتے ہيں كيونكہ روايات نے ائمہ عليھم السلام كوآيات ميں آنے والے عنوان ,,اولي الامر،، كا مصداق قرار ديا ہے (ولو ظاہرى طور پر اقتدار ائمہ عليھم السلام كے ہاتھوں ميں نہ ہو)

آٹھواں ضميمہ

اگر ولّي امر مجتہد متجزى(۲۱۲) ہو توكيا مجتہد متجزى ہونا اس كے حكم كے نفاذ كے لئے كافي ہے يا ضرورى ہے كہ وہ مجتہد مطلق ہو (يعني فقہ كے تمام ابواب ميں مجتہد اور صاحب نظر ہو، احكام كو استنباط كرنے كي صلاحيت ركھتا ہو) دوسرى لفظوں ميں مجتہد متجزى ہونا كافي ہے تاكہ اس كا حكم نافذ ہو يا نہيں بلكہ تمام ابواب ميں مجتہد ہونا ضرورى ہے؟

جواب: اكثر اوقات ولّي امر كا تمام ابواب ميں صاحب نظر ہونے كا اثر يہ سامنےآتا ہے كہ ہميں اعتماد اور اطمينان حاصل ہو جاتا ہے كہ ولّي امر درست فقہي موقف اختيار كرنے كي صلاحيت ركھتا ہے، ليكن اگر وہ تمام ابواب ميں صاحب نظر نہ ہو اور كسي ايك باب (جس ميں وہ صاحب نظر نہيں ہے) ميں كوئي ايسا نكتہ يا كوئي ايسي علمي بحث موجود ہو جس كا اس باب سے گہرا ربط ہو جس ميں يہ شخص صاحب نظر اور مجتہد ہے، (كيونكہ يہ شخص اس باب ميں صاحب نظر نہيں ہے لہذا وہ بحث اس باب ميں بھي اثر انداز ہوگي جس ميں وہ اجتہاد كر رہا ہے لہذا اطمينان حاصل نہيں ہوگا كہ اس نے درست فقہي موقف اور نظرىہ اختيار كيا ہے) لہذا وہ اعتماد اٹھ جاتا ہے اور احتمال ديا جا سكتا ہے كہ ولي امر نے درست موقف اختيار نہ كيا ہو، جب كہ اس كا حكم اس صورت ميں نافذ ہے جب اس قسم كا اعتماد پايا جائے ۔

عام شخص (جو شخص فقہي پيچيدگيوں سےآگاہ نہ ہو) يہ تشخيص دينے كي صلاحيت نہيں ركھتا كہ فلاں نكتہ اور فلاں بحث كي وجہ سے اس باب ميں مجتہد كا حكم قابل اعتماد نہيں ہوگا، جب كہ فلاں باب ميں اس كا حكم قابل اعتماد ہوگا، جب ہر شخص ان موارد كو تشخيص نہيں دے سكتا تو اس كا نتيجہ يہ ہوگا كے اجتہاد كے تمام ابواب ميں ولي امر كا حكم قابل اعتماد نہيں رہے گا ۔

كوئي شك و شبہ نہيں (شايدآپكے لئےگذشتہ بحثوں سے يہ واضح ہوچكا ہو) كہ ولّي امر كا حكم اس صورت ميں نافذ ہوگا جب يہ شرط (اس كے حكم پر اعتماد) موجود ہو، يعني جب اعتماد اطمينان حاصل ہوگا كہ اس نے صحيح فقہي موقف اختيار كيا ہے، اس صورت ميں اس كا حكم نافذ ہوگا، درج ذيل بيانوں كے ذرىعے اس شرط كے ضرورى ہونے كو ثابت كيا جاسكتا ہے:

يا حكم كے نافذ قرار دينے والي كي دليل واضح طور پر اس شرط پر دلالت كرتي ہے جيسے احمد بن اسحق كي روايت كہ جس ميں اطاعت كے حكم كي علت اور فلسفہ يہ بيان كي ہے كہ اس كے حكم پر اعتماد ہوتا ہے ۔

يا كہا جائے حكم كے نافذ ہونے پر دلالت كرنے والي دليل ميں اطلاق نہيں پايا جاتا لہذا اس شرط كي ضرورت كو ثابت كرنے كے لئے كہا جائے گا كہ كسي بھي حكم كو دليل اپنے حكم كے موضوع كو وجود ميں لانے كي كفيل اور ذمہ دارنہيں ہے (بلكہ دليل ميں فقط حكم بيان ہوتاہے لہذا جب يہ موضوع ہوگا يہ حكم بھي ہوگا اب حكم بيان كرنے والي دليل كے ذمہ دارى نہيں كہ موضوع كو وجود ميں لائے ۔) اب صرف يہ بحث باقي ہے كہ اگر كسي مورد ميں معلوم ہوجائے كہ مجتہد متجزى نے اجتہاد كے نتيجے ميں جو حكم ديا ہے اس حكم كا ان بحثوں سے كوئي تعلق نہيں ہے جو ان ابواب سے مربوط ہيں جن ميں وہ درجہ اجتہاد پر فائز نہيں ہے تو كيا جن موارد ميں وہ اجتہاد كرےگا اس كا حكم نافذ ہوگا ۔؟

كيا اس صورت ميں اس كے اجتہاد كے دائرہ ميں اس كا حكم نافذ ہوگا يا نہيں؟(۲۱۳) ۔اور اگر اپنے اجتہاد كے دائرى سے مربوط شككيات كا فيصلہ دے تو اس كا فيصلہ اور حكم نافذ ہوگا يا نافذ نہيں ہوگا؟

ان سوالات كا جواب اس امر پر موقوف ہے كہ كيا توقيع ميں آنے والے جملہ” رواۃ احاديثنا،، كے عنوان سے يا مقبولہ عمر بن حنظلہ ميں موجود جملہ”و روي حديثنا و نظرفي حلالنا و حرامنا،، كے عنوان سے انحلال(۲۱۴) سمجھا جاتا ہے يا مجموعيت(۲۱۵)

بعيدنہيں كہا جائے كہ مختلف مناسبتوں سے يہ امر مختلف ہوتا ہے ۔روايت نقل كرنے كے مورد ميں مناسبتيں انحلال كا تقاضا كرتي ہيں لہذا روايت نقل كرنے ميں اس كا حجت ہونا اس پر موقوف نہيں كہ وہ تمام روايات كا راوي ہو ياكم از كم روايات كي اچھي خاصي مقدار كا راوي ہو، ليكن فتويٰ اور حكم (فيصلہ) ميں مناسبتيں انحلال كا نہيں بلكہ مجموعيت كا تقاضا كرتي ہيں كيونكہ ہم ذكر كر چكے ہيں كہ اكثر اوقات حكم اور فتويٰ پر اعتماد كي خاطر تمام ابواب ميں مجتہد ہونا دخيل ہے يعني اگر تمام ابواب ميں مجتہد نہ ہو تو اعتماد حاصل نہيں ہوتا كيونكہ حكم اور فيصلہ ميں ضرورى ہے كہ شخص تمام ابواب ميں درجہ اجتہاد پر فائز ہو لہذا عرف دليل سے انحلال نہيں بلكہ مجموعيت سمجھتا ہے، يا اس كي وجہ سے (كم از كم) دليل كا اطلاق منعقدنہيں ہو سكتا لہذا اس كا حكم اورفتويٰ اس مورد ميں حجّت نہيں ہو گا

جہاں ہميں اتفاقي طور پر معلوم ہو جائے كہ ولّي امر جس باب ميں حكم كر رہا ہے اس باب سے اس نكتہ اور اس علمي بحث كا كوئي تعلق نہيں جو اس باب سے مربوط ہے جس ميں يہ شخص درجہ اجتہاد پر فائز نہيں ہے ۔

احمد بن اسحق كي روايت عمرى اور ان كے بيٹے كي شان ميں صادر ہوئي ہے اور يہ دونوں افراد جليل القدر راويوں اورعظيم الشان فقہاء ميں سےتھے لہذا (فطرى طور پر) اس حكم (ان دونوں كي

اطاعت كےحكم) كومما ثلت پر حمل كياجائےگايعني كہاجائےگايہ حكم ان دوسےمخصوص نہيں

ہے بلكہ جو شخص بھي ان كے مثل ہوگا (روايت نقل كرنے اور فقاہت كے اعتبار سے) اس كا حكم اور فتويٰ بھي حجّت ہے، لہذا ان دو افراد سے تجاوز كيا جائے گا ليكن تجاوز فقط ان حدود ميں كيا جائے گا جہاں عرفي اعتبار سے موارد ميں فرق كا احتمال نہ ديا جائے (مثلاً عرف كہے ان كا حكم اورفتويٰ فلاں خصوصيات كي وجہ سے حجّت تھا ليكن آپ جن افراد كے حكم اور فتويٰ كو حجّت قرار دينا چاہتے ہيں ان ميں وہ خصوصيات نہيں پائي جاتيں) ليكن مجتہد متجزى كي نسبت فرق كا احتمال پايا جاتا ہے (لہذا اس كا حكم اور فتويٰ حجّت نہيں ہوگا)

پس واضح ہوگيا كہ حكم كے نافذ ہونے اور فتويٰ كے حجّت ہونے كے لئے شرط ہے كہ شخص تمام ابواب ميں درجہ اجتہاد پر فائز ہو ليكن جس باب ميں حكم كرنا چاہتا ہے اس كے علاوہ باقي ابواب ميں عملي طور پر اجتہاد اور استنباط حكم كرنا شرط نہيں ہے، كيونكہ تمام ابواب ميں اجتہاد كي صلاحيت كا پايا جانا كافي ہے و لو عملي طور پر باقي ابواب ميں اجتہاد و استنباط نہ كرے، تمام ابواب ميں درجہ اجتہاد پر فائز ہونا اس لئے شرط تھا تاكہ اعتماد حاصل ہو سكے كہ اس نے صحيح فقہي موقف اپنايا ہے، اور يہ اعتماد اس صورت ميں بھي حاصل ہوتا ہے جب شخص تمام ابواب ميں درجہ اجتہاد پر فائز ہو لہذا ضرورى نہيں كہ باقي ابواب ميں بھي عملي طورپر اجتہاد استنباط كرے ۔

نواں ضميمہ

مسلمانوں اور شيعوں كے نزديك نبي اورامام كي بے قيد و شرط اطاعت كا مطلب يہ نہيں كہ نبي اورامام عليہ السلام كي بيعت كي جائےتاكہ ان كي اطاعت واجب ہو، بلكہ اسلام اور مكتب شيعہ ايمان ركھتے ہيں كہ بيعت سے پہلے بھي نبي اورامام عليہ السلام كي اطاعت واجب ہے۔

جن امور ميں خواتين نے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بيعت كي (چنانچہ آيت مباركہ سے ظاہر ہوتاہے) وہ امور واجب احكام تھے جنہيں نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فقط ولّي امر كے عنوان سے نہيں بلكہ مبلغ دين كے عنوان سے بيان كيا وہ احكام اس قسم كے تھے، كسي كو خدا كا شرىك نہ ٹھہركيا جائے، قتل، چورى اور زنا سے اجتناب كي جائے ۔بے شك ان امور كا واجب ہونا بيعت كا پر موقوف نہيں ہے (بلكہ بيعت سے پہلے بھي ان كا وجوب ثابت ہے مثلاً بيعت سے پہلے شرك، زنا اور چورى سے بچنا واجب ہے) ليكن اگر فرض كيا جائے كہ معصوم كي بيعت واجب كي قيد ہے (واجب سے مراد معصوم سے بعنوان ولي جارى ہونے والے احكام كي اطاعت ہے) وجوب كي قيد نہيں ہے تو اسے دليل اور قرىنہ نہيں بنايا جا سكتا كہ ولايت فقيہ كے لئے بيعت شرط ہے تاكہ ثابت ہو سكے كہ فقہاء ميں سے ولّي امر كا انتخاب امت كے ہاتھ ميں ہے، امت جس كي بيعت كرے وہي ولّي امر قرار پائے گا ۔

بيعت كو شرط قرار دينے كے لئے سيرت(۲۱۶) سے استدلال بعض بيانوں اور بعض طرىقوں كے مطابق اس قول كے حق ميں جائے گا كہ”نصوص كے ذرىعہ ثابت شدہ ولايت فقيہ كے عملي ہونے كے لئے بيعت شرط ہے،، جب كہ بعض بيانوں كے مطابق سيرت سے استدال اس قول كے حق ميں جائے گا كہ”خود بيعت كے ذرىعہ ولايت عطا كي جاتي ہے اور ولايت سے مربوط كسي اور نص كي ضرورت نہيں ہے جس كے ذرىعہ سے ولايت ثابت كي جائے ۔

وضاحت

سيرت سےدرج ذيل تين بيانوں ميں سےكسي ايك بيان كےذرىعےاستدال كياجاسكتا ہے:

پہلا بيان

سيرت اس نكتہ پر قائم تھي كہ جن افراد كي ولايت نص كے ذرىعے ثابت ہو چكي تھى، ان ہي كي بيعت كي جاتي تھي جيسے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومين عليھم السلام، يہ بيان اس قول كے حق ميں ہے كہ” ولايت فقيہ كے لئے بيعت شرط ہے“يعني جب تك شخص كي بيعت نہ كي جائے اسے ولايت حاصل نہيں ہوگي كيونكہ شرط مفقود ہوگي۔

ليكن آپ جان چكے كہ نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اورامام معصوم عليہ السلام كي بيعت ان كي ولايت كے مكمل ہونے كے لئے شرط نہيں تھي بلكہ جو كچھ واجب تھا (يعني ان كي اطاعت) بيعت اس پر عمل كرنے كا عہدپيمان تھا (يعني اطاعت بيعت سے پہلے بھي واجب تھي بيعت كے ذرىعے فقط عہدو پيمان كي تجديد كي جارہي تھي) اس پيمان كے ذرىعے ضميروں كو جھنجھوڑا جاتا تھا اور تاكيد كي جاتي تھي كہ قائد كي اطاعت و پيروي كي جائے ۔

دوسرا بيان

مسلمانوں كي سيرت يہ تھي كہ ايسے شخص كي بيعت كرتے تھے جو خدا كي طرف سے معّين نہيں ہوا تھا در حقيقت اسي بيعت كے ذرىعے اس شخص كو ولايت عطا كي جاتي تھي جس كے ہاتھ پر بيعت كي جاتي تھي ۔

لہذايہ دليل ہے كہ اس شخص سے متعلق كسي قسم كي نص موجود نہيں تھي بلكہ بيعت ہي كے ذرىعے اسے ولايت عطا كي جاتي تھى، درست ہےكہ جن خلفاء كي بيعت كي گئي وہ شيعہ عقيدے كے مطابق بيعت كے اہل اور مستحق نہيں تھے، ان ميں علم، عدالت، لياقت و صلاحيت جيسي شرائط نہيں پائي جاتي تھيں ياكيونكہ امام معصوم عليہ السلام موجود تھےلہذا كسي اورشخص كي نہيں تھي مگر وہ شخص جسے معصوم نےمعين فرمايا ہواور وہ شخص عالم، عادل لائق اور با صلاحيت بھي ہو، (يعني اس كي بيعت كي جا سكتي تھي ۔)

اس بيعت كے بارے ميں تو يہ كہا جا سكتا ہے كہ مسلمانوں نے مصداق ميں خطاء كي ليكن سيرت كي دلالت اس قانون پر بدستور باقي ہے۔ كہ جس شخص ميں شرائط موجود تھيں اسے بيعت كے ذرىعے ولايت عطا كي جاتي تھي ۔

خواہ يہ سيرت متشرعہ (شرعيت كے پابند لوگوں كي سيرت) يا سيرت عقلاء (عقلاء كي سيرت) تھي اور شارع كي طرف سے اسے ٹھكرايا نہيں گيا بلكہ شارع نے اس كي تائيد بھي كي ہے ۔ چنانچہ بيعت توڑنے كو حرام قرار دينے والي روايات اسي چيزپر دلالت كرتي ہيں ۔

اس تائيد كو بھي تقيہ پر حمل كيا جائے گا يعني معين مصداق پر تطبيق كرنےميں تقيہ اختيار كيا گيا، ليكن پھربھي يہ سيرت اس قانون (كہ بيعت كے ذرىعے ولايت عطا ہوتي ہے) كے صحيح ہونے پر بدستور دلالت كرتي ہے ۔

ليكن ہم علم اصول فقہ ميں ثابت كر چكے ہيں مدلول مطابقي ساقط ہونے كے بعدسيرت كے تحليلي جزء اور مدلول التزامي سے تمسك نہيں كيا جا سكتا ۔

تيسرا بيان

يہ ثابت ہے كہ روايات كے زمانے ميں مسلمانوں كي عملي سيرت بيعت پر قائم تھي خواہ ايسے شخص كے ہاتھ پر بيعت كہ جس كي ولايت نص كے ذرىعے ثابت ہو چكي تھي خواہ اس كے علاوہ كسي اور شخص كے ہاتھ پر بيعت، لہذا يہ امر سبب بنتا ہے كہ جہاں پر بيعت نہ كي گئي ہو ولايت كي دليل كا اطلاق اس فرض كو شامل نہ ہو اور اسي طرح يہ امر موجب بنتا

ہے كہ عرفي طور پر ولايت كي دليل كا مفہوم يہ ہوكہ بيعت اس لئے واجب ہے تاكہ وہ شخص ولي بن سكے، يہ بيان ان لوگوں كے حق ميں ہے جو اعتقاد ركھتے ہيں كہ جب شخص كي ولايت نص كے ذرىعے ثابت ہو جائے اس كي ولايت كے لئے بيعت شرط ہے ۔ (يعني بيعت كے ذرىعے ولايت عطانہيں كي جاتي ليكن ولايت كے لئے بيعت شرط ہے)

جواب: جب فرض يہ ہے كہ يا بيعت كے ذرىعے اس شخص كو ولايت عطا كي جاتي ہے جس كي ولايت پر نص نہ ہو يا يہ بيعت اس شخص كي اطاعت كے واجب ہونے كي مزيد تاكيد كرتي ہے اور ضمير و وجدان كو اس كي اطاعت كرنے پر اكسانے كا سبب بنتي ہے، تو اس طرح كي سيرت اس انصراف اورعدم شمول كا سبب نہيں بن سكتى، اس امر سے غفلت نہ برتي جائے كہ اگر سيرت يا كسي اور دليل سے ثابت كر لے كہ بيعت ولايت فقيہہ كے لئے شرط ہے يا بيعت ہي كے ذرىعے ولايت عطا ہوتي ہے تو در اصل اس كي باز گشت ووٹنگ اور انتخاب كے مسئلہ كي طرف ہے لہذا وہي اشكال سامنےآئيگا جسے ہم شروع بحث ميں ذكر كر چكے ہيں كہ اسلامي شرىعت نے اس انتخاب كي تفصيلات اور شرائط بيان نہيں فرمائيں، مثلاً بيان نہيں كيا كہ كيا امت كي اكثرىت كا بيعت كرنا شرط ہے يا فقط ذمہ دار اور بر جستہ افراد كا بيعت كرنا كافي ہے؟ يہ بھي بيان نہيں كيا كہ وہ ذمہ دار اور بر جستہ افراد كون ہيں؟ يا يہ كہ كيا كچھ لوگوں كا بيعت كر لينا اہميت ركھتاہے جس كے ذرىعے معاشرہ كے امور سنبھالنے اور زمام امور سنبھالنے كي طاقت و قدرت حاصل ہو سكے، يا كوئي اور صورت؟

يہ بھي بيان نہيں ہوا كہ اختلاف كي صورت ميں كميت و كثرت كو معيار قرار ديا جائے گا يا كيفيت كو؟ اوراس طرح كے دوسرى سوالات كہ جن كا جواب قران و سنت ميں موجود نہيں ہے ۔

دسواں ضميمہ

ليكن جب ہم فرض كرىں كہ يہ اجتماعي ضرورت فقيہ كو معين كرنے كے ذرىعے پورى نہيں ہوتي كيونكہ مثلاً فقيہ كے پاس طاقت وقدرت (اقتدار) اورسائل نہيں ہيں يعني وہ اپنےاحكام كو معاشرہ ميں نافذ نہيں كر سكتا، اورامت بھي اس كي پيروي نہيں كرتي تو اس كام كے فوائد شخصي نوعيت كے ہوں گے مثلاً كوئي شخص اس سے راہنمائي ليتے ہوئے اپني ذمہ دارى سے سبكدوش ہو سكتا ہے ۔

اس قسم كي ولايت ثابت كرنے ميں اشكال ہے، اوراس اشكال كا منبع اور سر چشمہ يہ ہے كہ جب ولي امر كي اطاعت كا حكم كيا جاتا ہے تو عرفي طور پر (مناسبت حكم و موضوع كے ذرىعے) اس كا مفہوم يہ ہے كہ ان امور ميں ولي كي اطاعت ضرورى ہے جن امور ميں عام طور پر ولّي امر كي طرف رجوع كرنے كي ضروت ہوتي ہے تاكہ نزاع اور جھگڑوں كو ختم كيا جا سكے، يا اجتماعي مصلحت كا تقاضا يہي ہوتاہے، يا شخص ميں كوئي كمي اورنقص پايا جاتا ہے، يا عنوان ميں نقص پايا جاتا ہے جيسے سفيہ (كم عقل اور نا پختہ) كے ساتھ معاملہ كرنا، غرىب و نادار لوگوں كا عنوان، مسجد كا عنوان (وہ مسجد جو وقف شدہ اموال كيمالك ہو) وغيرہ ۔عرف يہ مفہوم نہيں سمجھتا كہ فقط شخصي مصلحتوں ميں ولي كي اطاعت ضرورى ہے مثلاً ولي تشخيص ديتا ہے كہ ميرى شخصي مصلحت يہ ہے كہ ميں فلاں دن سفر نہ كروں، ولايت كے دلائل كا اطلاق ولي كو اس قسم كي ولايت عطا نہيں كرتا تاكہ وہ مجھے اس دن سفر نہ كرنے كا حكم دے سكے، يہ نہيں كہا جا سكتا كہ كيونكہ اس قسم كي ولايت نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے ثابت ہے جو مومنين كي جانوں پر خود ان سے زيادہ تصرف كا حق ركھتے ہيں، يا كيونكہ يہ حق ائمہ معصومين عليھم السلام كے لئے ثابت ہے پس فقہاء كو بھي اس قسم كي ولايت حاصل ہے كيونكہ يہ امور اس نوعيت كے نہيں جن ميں عام طور پر ولّي امر كي طرف رجوع كيا جاتا ہے پس فقيہ كو ولايت عطا كرنے والے عام دلائل، حكم و موضوع كي مناسبت سے اس فرض اوراس صورت كو شامل نہيں ہوتے، خصوصاً اگر ہمارى دليل اس قسم كي دليل ہو جس ميں اطلاق اس طرىقہ سے ثابت كيا جائے”جب متعلق محذوف ہو اور قدر متيقن بھي نہ پائي جائے تو متعلق كا محذوف ہونا و شمول عموم كا فائدہ ديتا ہے” يا مناسبت حال كي وجہ سے عموم ثابت كيا جائے پس اس صورت ميں اطلاق كا نہ ہونا زيادہ واضح ہے ۔بنا بر اين ہم كہيں گے: وقت معين كرنے جيسا موضوع، شخصي مصلحتوں اور شخصي تصرفات ميں داخل ہوگا جن ميں فقيہ كو ولايت حاصل نہيں ہے، بشرط كہ اس موضوع پر اتحاد يكجہتي جيسي مصلحت مرتب نہ ہو اور فقيہ كے پاس سائل موجود ہونے كي صورت ميں اس پر دوسرى اجتماعي مصلحتيں مرتب نہ ہوں ۔

ليكن چاند كي پہلي تارىخ اور مہينوں كا وقت معين كرنے كے سلسلہ ميں يہ كہتے ہوئے اشكال كو بر طرف كيا جا سكتا ہے كہ مذكورہ حكم اس فرض (جس ميں اتحاد و يكجہتي جيسي اجتماعي مصلحتيں پائي جاتي ہيں) كے علاوہ باقي فرضوں ميں ولي كي اطاعت كا حكم دينے والي آيت مباركہ كے ذرىعے تو ثابت نہيں كيا جا سكتا ۔

ليكن احمد بن اسحق كي روايت كے اطلاق سے ثابت كيا جا سكتا ہے ۔ كيونكہ درج ذيل دو نكات كو مدنظر ركھتے ہوئے ثابت كيا جا سكتا ہے مجموعي طور پر درج ذيل دو نكات كافي ہيں تاكہ آيہ مباركہ كے اطلاق كے ذرىعے امور ميں سے كسي امر ميں ولايت ثابت كي جا سكے اور آيہ مباركہ كا اطلاق اس صورت سے منصرف نہ ہو يعني اس صورت كو شامل ہوس، اور اس صورت كے علاوہ كوئي اور صورت قدر متيقن نہ بن سكے اور متعلق كے حذف ہونے كي مدد سے اطلاق كي راہ ميں ركاوٹ ايجاد نہ كر سكے ۔

پہلا نكتہ

اس وقت ان امور ميں ولي كي طرف رجوع كرنا رائج تھا، وقت كي تعيين اور چاند كي پہلي تارىخ ثابت ہونے جيسے امور ميں يہ روشن يقيني طور پر پائي جاتي تھي ۔

دوسرا نكتہ

صاحبان ولايت اور لوگوں ميں اس روش كا رواج صغرىٰ ميں خطا كي بنياد پر تھا كيونكہ حكمران زبردستي امامت كي قميص پہن ليتا تھا (اپنےآپكو امام خيال كرتا تھا) اور يہ رواج كبرىٰ ميں خطا كي بنياد پر نہيں تھا، حكمران خيال كرتے تھے كہ ان كے لئے وہ حق حاصل ہے حتيٰ جو حق اس حكمران كے لئے بھي ثابت نہيں تھا جس كے پاس وسائل موجودتھے، يہ چيز بھي ثابت شدہ ہے، كيونكہ كوئي شك نہيں چاند كي پہلي تارىخ ثابت ہونے كا اعلان اس امام حق كا حق ہے جس كے پاس طاقت و قدرت ہو اور وسائل ہوں ۔

چنانچہ شيخ كليني نے صحيح سند كے ساتھعن محمد بن قيس (عليٰ اختلاف يسير جداً في العبارة) عن ابي جعفر عليه السلام قال: اذا شهد عند الامام شاهدان انهما رايا الهلال منذ ثلاثين يوما امر الامام بالافطار في ذلك اليوم اذا كانا شهدا قبل زوال الشمس، فان شهدا بعد زوال الشمس امر الامام بافطار ذلك اليوم و اخر الصلاة الي الغد فصلي لهم، (۲۱۷)

اگر دو افراد امام كے سامنے گواہي ديں كہ ہم نے تيس دن پہلے چاند ديكھا تھا (يعني تيس دن مكمل ہو چكے ہيں اور آج پہلي تارىخ ہے) اگر وہ زوالآفتاب سے پہلے گواہي ديں تو امام حكم كرىں گے كہ آج روزہ نہ ركھا جائے ليكن اگر ظہر كے بعد گواہي ديں تو امام حكم كرىں گے كہ آج روزہ نہ ركھا جائے ليكن نماز (عيد) كل تك موخر كرىں گے اور (كل) نماز پڑھائيں گے، يہ اس صورت ميں جب ولايت فقيہ كي دليل احمد بن اسحق كي روايت ہو، ليكن اگر ولايت فقيہ كي دليل اسحق بن يعقوب كي توقيع ہو (اگر اس توقيع كي سند صحيح ہو) اور ہم امام عليہ السلام كے قول ”فانهم حجّتي عليكم " كے اطلاق سے استفادہ كرتے ہوئے استدال كرىں جو اطلاق اس طرح ثابت ہو كہ امام عليہ السلام كا ظاہر حال دلالت كرتا ہے كہ فقيہ اور حديث كا راوي ان تمام زمانوں ميں امام كا نائب اور نمائندہ ہے جن زمانوں ميں امام عليہ السلام كے لئے يہ حق ثابت ہے ۔

يہ گذشتہ دو نكات كے علاوہ اس پر بھي موقوف ہے كہ ہم ثابت كر چكے ہوں كہ رويت ہلال كے بارى ميں حكم كرنا امام عليہ السلام كا حق ہے ۔ولو امام كے پاس اقتدار نہ ہو اور امام كے اس حكم پر مطلوبہ اجتماعي اثربھي مرتب نہ ہو ۔

اگر امام رويت ہلال كا حكم كرىں تو امام كا حكم استصحاب پر مقدم ہے اس سے قطع نظر كہ كيونكہ امام عليہ السلام معصوم ہيں لہذا امام كا حكم علم كا سبب بنتا ہے اوراس كے ذرىعے واقع امر كشف ہوتا ہے لہذا استصحاب يا بينہ كے ذرىعہ حاصل ہونے والے علم كا موضوع ختم ہو جائے گا اسے پہلے مرحلہ ميں ثابت كرنا ضرورى ہے تاكہ ثابت كيا جا سكے كہ يہ امام كا حق ہے ۔

لہذا امام عليہ السلام كے قول ((فانهم حجّتي عليكم )) كا اطلاق اس مورد كو بھي شامل ہوگا جو قول دلالت كرتا ہے كہ جہاں پرامام (كا قول) حجّت ہے وہاں پر فقيہ اور روايت نقل كرنےوالے راوي كا قول بھي حجت ہے، اوراسےمحمد بن قيس كي روايت كےاطلاق كے ذرىعے ثابت كيا جائے گا ۔

البتہ اگر ہم قائل نہ ہوں كہ يہ حكم اس امام سے مخصوص ہے جس امام كے پاس اپنا حكم نافذ كرنے كے لئے قدرت و طاقت موجود ہو اس پر قرىنہ يہ ہے كہ امام عليہ السلام نے روزہ نہ ركھنے اور عيد ادا كرنے كا حكم ديا ہے (اورىہ حكم اس وقت عملي طور پر نافذ ہو سكتا ہے جب امام كے پاس اپنا حكم نافذ كرنے كي طاقت و قدرت (اقتدارہو) كيونكہ آج كل تو رائج ہے كہ علماء نماز عيد پڑھا سكتے ہيں اور اگر ان كے پاس اقتدار نہ ہو اور اپنا حكم نافذ كرنے كي قدرت بھي نہ

ركھتے ہوں تب بھي اعلان كر سكتے ہيں كہ آج روزہ نہ ركھا جائے ليكن اس زمانے ميں ايسا نہيں تھا (بلكہ فقط وہ امام اس كا حكم ديتا تھا جس كے پاس اپنا حكم نافذ كرنے كے لئے طاقت و قدرت موجود ہوتي تھي ۔)

بعض اوقات كہا جاتا ہے: لفظ امام (عرف كے نزديك اس جملہ كو قرىنہ قرار ديتے ہوئے) اس امام كي طرف انصراف ركھتا ہے جس كے پاس طاقت و قدرت ہو، يا كم از كم يہ كہا جاتا ہے كہ لفظ امام اس اعتبار سے مجمل ہے (يعني يا ہر امام پر دلالت كرتا ہے يا فقط اس امام پر دلالت كرتا ہے جس كے پاس قدرت موجود ہو)

گيارہواں ضميمہ

علاوہ براين ہم جان چكے ہيں كہ ولايت كي دليل كے اطلاقات فقط مقدمات حكمت كے ذرىعے ثابت كئے جائيں تو نامكمل ہيں بلكہ مقام ميں پائي جانے والي مناسبتوں، متعلق كے محذوف ہونے اور قدر متيقن موجود نہ كے ذرىعے ہم نے ولايت كي دليل كے اطلاقات كو مكمل كيا تھا، واضح ہے كہ اس قسم كا اطلاق اس صورت ميں نامكمل ہوگا جب اس اطلاق سے كسي كام كي حرمت يا وجوب پر دلالت كرنے والي دليل تعارض كرے جب كہ يہ حرمت اور وجوب ولي فقيہ كے حكم كرنے سے پہلے ثابت ہو ۔

ہاں بعض اوقات حاكم (ولي فقيہ) كاالزامي حكم كے موضوع كو تبديل كر ديتا ہے۔

لہذا حاكم كا حكم نافذ ہوتا ہے، ہم اس كي وضاحت درج ذيل دو مثالوں كے ذرىعے كرتے ہيں:

۱) اگر حاكم كے حكم كے ذرىعے يتيم كامال مورد معاملہ (خرىد وفروخت) قرار پائے تو جس شخص كو حاكم كے حكم كا خطا پر مبني ہونا معلوم ہو جائے وہ اس مال كو خرىد سكتا ہے كيونكہ بيع كا موضوع درست ہونے اوراس مال كي خرىدارى جائز ہونے كے لئے صاحب مال كے ولي (سرپرست) كا راضي ہونا كافي ہے، يہاں پر بھي ولي (حاكم) اس مال كي خرىد و فروخت پر راضي ہے ولو اس نے يہ موقف اپنانے ميں خطا كي ہے ۔

۲) اگر حاكم جہاد كا حكم دے جب كہ شخص كا عقيدہ يہ ہو كہ جہاد حرام ہے كيونكہ وہ جانتا ہے كہ موجودہ شرائط ميں جہاد كي وجہ سے مسلمانوں كو پہنچنے والے نقصانات خود جہاد كے فوائد اور مصلحتوں سے زيادہ ہيں، ليكن وہ شخص ديكھتا ہے كہ كيونكہ حاكم نے جہاد كا حكم صادر كر ديا ہے لہذا يہ نقصانات بہر حال يقيني ہيں كيونكہ معاشرى كي اكثرىت ان نقصانات سے بے خبر ہے، لہذا وہ حاكم كے حكم كو عملي جامہ پہنائيں گے بنا بر اين اقليت كي مخالفت ان نقصانات ميں كمي كا سبب نہيں بن سكتي بلكہ ممكن ہے اقليت كي مخالفت مزيد نقصان كا سبب بنے كيونكہ اس كے نتيجہ ميں معاشرہ ميں تفرقہ اور اختلاف پيدا ہوگا ۔

جب صورتحال يہ ہو تو اس حرمت كا موضوع ختم ہو جائے گا جس كا يہ شخص عقيدہ ركھتا تھا لہذا اس شخص پر بھي حاكم كا حكم نافذ ہوگا، ليكن اگر حاكم كا حكم وجوب و حرمت كے لازمي حكم كے موضوع كو تبديل نہ كرے تو يہ حكم شخص كے وظيفہ و ذمہ دارى كو تبديل نہيں كر سكتا ہے (يعني وہ جس حكم كا معتقد تھا وہي حكم بر قرار رہے گا) فرق نہيں ہے كہ يہ حكم واقعي ہو يا ظاہرى جس كي فقيہ نے ولايتي حكم كے ذرىعے مخالفت كي ہے ۔

ہاں اگر حكم كاشف اس ظاہرى الزامي حكم كے ساتھ تعارض كرے جس كا شخص عقيدہ ركھتا ہے اور اس شخص كو علم بھي نہ ہو كہ حاكم كا حكم خطا پر مبني ہے يا اسے علم نہ ہو كہ جس دليل پر حاكم نے اعتماد كيا ہے وہ غلط ہے تو اس صورت ميں حاكم كا حكم اس پر بھي نافذ ہوگا اگر اس كا مورد عقيدہ ظاہرى حكم اصل كے ذرىعے ثابت ہوا ہو يا امارہ نہ ہونے كي صورت ميں ايسے ظن (دليل ظني) كے ذرىعے ثابت ہوا ہو كہ اس مورد ميں اس ظن كي پيروي واجب ہو، جيسے وہ موارد جن ميں ہميں سو فيصد يقين ہو كہ شارع حكم واقعي كے لئے اس حد تك اہميت كا قائل ہے كہ اگر حكم واقعي كو معين كرنے كے لئے امارہ نہ ہو تب بھي اس حكم واقعي كے مورد ميں ظن (ظني دليل) كا اتباع ضرورى ہے اس صورت ميں ولي امر كا حكم اصل يا اس ظّن پر مقدم ہوگا، كيونكہ ولي امر كا حكم واقع كو كشف كرنے كے لئے امارہ ہے اور شرعي امارات اصول اور اس قسم كے ظنّ پر مقدم ہيں، ليكن اگر حكم ظاہرى ايك اور شرعي امارہ كے ذرىعے ثابت ہوا ہو تو يہاں پر دو امارہ كے درميان تعارض پيش آجائے گا(۲۱۸)

الزامي (واجب يا حرام) حكم ظاہرى اور حاكم كے حكم ميں تعارض كي ايك اور مثال: حاكم حكم كرتا ہے كہ شوال كا چاند نظرآگيا ہے جب كہ شخص ماہ رمضان كي لقاء كا استصحاب جارى كرتا ہے، يہاں پر حكم ظاہرى (جو استصحاب كے نتيجہ ميں ہاتھ آيا ہے) يہ ہے كہ روزہ ركھنا واجب اور روزہ نہ ركھنا حرام ہے اور شخص يہ بھي نہيں جانتا كہ حاكم كا حكم يا حاكم كے حكم كا منبع و سرچشمہ خطا پر مبني ہے يہاں پر حاكم كا حكم ظاہرى وظيفہ پر مقدم ہے كيونكہ حاكم كا حكم امارہ ہے اور امارہ اصل پر مقدم ہے، البتہ اس مورد (چاند كي پہلي تارىخ) كے بارى ميں خاص روايت موجود ہے جو دلالت كرتي ہے كہ حاكم كا حكم نافذ ہے ۔جسے ہم ضميمہ نمبر۱ ۰ ميں ذكر كر چكے ہيں ۔

بارہواں ضميمہ

متعدد اصطلاحيں پائي جاتي ہيں جن ميں مغربي رنگ نظرآتا ہے، مناسب ہے كہ ان اصطلاحات كو تبديل كيا جائے يا جب مسلمان ان اصطلاحات كو استعمال كرىں توان كے مفاہيم كو تبديل كيا جائے (يعني مسلمان اس معني ميں يہ اصطلاحات استعمال نہ كرىں جس معني ميں مغربي مفكرىن استعمال كرتے ہيں بلكہ مسلمانوں كے ہاں ان اصطلاحات كے مفاہيم كو تبديل كيا جائے) ہم ان ميں سے بعض اصطلاحات كي طرف اشارہ كر رہے ہيں۔

۱) وطن: مغربي مفہوم كے مطابق درج ذيل بنيادوں پر وطن مختلف ہوتے ہيں: سر زمين، زبان، قوميت و نسل، پيمان معاشرت يا اس طرح كے اور امور اسلام ميں مندرجہ بالا امور كے اختلاف سے مختلف وطن وجود ميں نہيں آتے بلكہ پورا كرہ ارض (اپني تمام تر وسعتوں كے ساتھ) كسي قسم كي قيد و شرط اور حد بندي كے بغير اسلامي حكومت كي ملكيت ہے ۔

۲) استعمار: مغربيوں كے ہاں اس اصطلاح كا مغربي مفہوم بھي ان كي نظر ميں وطن كے مفہوم سے مربوط ہے، جب ان كے نزديك (سر زمين، زبان اور نسل كے اختلاف كي بنياد پر) مختلف وطن فرض كئے جاتے ہيں لہذا يہ كہا جاتا ہے فلاں اجنبي حكومت (ملك) نے اس دوسرى حكومت كو استعمار كيا ہے ليكن اسلامي عقيدہ يہ ہے كہ پورى كرہ ارض ميں زندگي گذارنے والے لوگ ايك ہي پرچم يعني توحيد كے پرچم كے سايہ ميں زندگي گذارتے ہيں اور كافر غاصب شمار ہوتا ہے خواہ وہ ظاہرى طور پر كسي ملك پر قبضہ ہي كيوں نہ كرلے، پس معركہ، كفر و اسلام كا معركہ ہے، بنا بر اين اگر ہم لفظ ,,استعمار،، استعمال كرىں تو ضرورى ہے كہ اس لفظ كے ساتھ لفظ ,,كافر،، كو ضميمہ كرىں يعني يوں كہيں ,,كافر استعمار،، تاكہ يہ اصطلاح مغربي مفہوم سے عارى اور پاك ہو جائے ۔

۳) استقلال: (خود مختارى) اس اصطلاح كا مغربي مفہوم بھي وطن كي اس اصطلاح سے مربوط ہے جس ميں مذكورہ بنيادوں پر مختلف وطن فرض كئے جاتے ہيں، ليكن اگر مسلمان اس اصطلاح كو استعمال كرنا چاہيں تو اس معني كا ارادہ كرنا ضرورى ہے كہ مسلمان كفر كے تسلط اور غلبہ كو قبول نہيں كرتے كيونكہ ,,اسلام كو سب پر برترى حاصل ہے، كسي كو اسلام پر برترى حاصل نہيں ہے ۔

۴) حرّيت (آزادي) يہ لفظ بھي اپنے مغربي مفہوم كے مطابق بہت سے انحرافات پر مشتمل ہے يعني صحيح اسلامي لائن سے انحراف ركھتا ہے

الف) اقتصادي آزادى: سرمايہ دارانہ اقتصادي نظام كي طرف اشارہ كرتي ہے جب كہ اسلام كے پاس اپنا مستقل اقتصادي نظام ہے جو سرمايہ دارانہ نظام اور اشتراكي نظام سے جدا اور مختلف ہے ۔

ب) شخصي آزادي كا مغربي مفہوم يہ ہے كہ شخص مكمل طور پرآزاد اور بے لگام ہے جو چاہے كرے بشرطيكہ اس كي آزادي دوسروں كي آزادي سے نہ ٹكراى، ليكن اسلام انسان كو ان حدود كے دائرى ميں آزادي عطا كرتا ہے جن حدود كو خدا وند متعال نے انساني اعمال و كردار ميں ضرورى قرار ديا ہے ۔

ج) فكرے آزادي سے متعلق اسلام كا نظرىہ يہ ہے كہ عقائد كے ميدان ميں فكرے آزادي كي كوئي گنجائش نہيں البتہ اسلام اس حد تك فكرے، آزادي كو قبول كرتا ہے جبرى طور پر كسي شخص كو كسي عقيدہ كا پابند نہيں بنايا جا سكتا ۔

ليكن انسان پر واجب ہے كہ صحيح اصول عقائد كے بارى ميں تحقيق و جستجو كرے، اس كام كو انجام دينے يا ترك كرنے ميں اسے يہ آزادي حاصل نہيں ہے كہ اگر چاہے تو صحيح اصول عقائد كے بارى ميں تحقيق كرے اور اگر چاہے تو يہ كام نہ كرے ۔

اگر وہ سوچ بچار كرے نتيجے ميں ايك ايسا عقيدہ اپنائے جو اسلام كے مخالف ہو تو وہ اپنے اس (غلط) عقيدہ كي ترويج ميں آزاد نہيں ہے اور اس عقيدہ كي وجہ سے ان حقوق سے بھي محروم ہو جائيگا جو مسلمانوں سے مخصوص ہيں ۔

د) سياسي آزادى: - اگر اس سے مراد دوسرى ممالك كے مقابلے ميں خود مختارى ہو تو اس كي بازگشت مذكورہ بالا عنوان,,استقلال،، كي طرف ہے ليكن سياسي آزادي كي وہ مقدار جو انتخاب اور راي گيرى ميں آزادي سے مربوط ہے اس كي بازگشت جمہورىت اور شورىٰ كے متعلق ہمارى بحثوں كي طرف ہوگي جس كے بارى ميں ہم نے تفصيلي طور پر بحث كي ہے ۔

۵) تقدير كا فيصلہ كرنے كا حق: اس عنوان كي بازگشت بھي آزادي كے عنوان كي طرف ہے، حقيقت يہ ہے كہ اسلام كا عقيدہ ہے فرد يا معاشرہ كي تقدير كا حق كائنات كے حقيقي مولي خالق كے ہاتھ ميں ہے وہي جاننے والا اور صاحب حكمت معبود ہے، فرد يا معاشرے كو تقدير كا حق حاصل نہيں ہے مگر ان حدود ميں جنھيں اسلامي تعليمات نے بشرىت كي تقدير كے لئے معين كيا ہے ۔

۶) جمہوريت: اس اصطلاح كا مغربي مفہوم سربراہ حكومت وغيرہ كا انتخاب، ووٹنگ اور اكثرىت كي راي پر عمل كرنا وغيرہ ہے، اس سلسلے ميں كوئي ايسي قيد و شرط نہيں ہے جس كا انسان اپنےآپكو پابند نہيں سمجھتا ۔

ليكن اسلام ميں امام معصوم عليہ السلام كي موجودگي ميں كسي قسم كے انتخابات اور ووٹنگ كے بغيرسربراہ حكومت خود معصوم عليہ السلام ہے جب كہ امام معصوم عليہ السلام كي غيبت كے زمانے ميں شورائي نظام يا ولايت فقيہ كي طرف رجوع كيا جائے گا، ان تفصيلات كے مطابق جن كے بارى ميں ہم تفصيلي بحث كر چكے ہيں ۔اور فقيہ كو يہ اختيار اور حق حاصل ہے كہ (اگر مصلحت كي تشخيص دے) تو اسلام احكام اور قران و سنت كي تعليمات كے دائرہ ميں انتخاب، ووٹنگ اور اكثرىت كي راي پر عمل كرنے كا حكم دے سكتا ہے ۔

وآخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين

____________________

۱۸۱. علم منطق ميں اسےقضيہ حمليہ كہاجاتاہےجس ميں ايك موضوع اورايك محمول ہوتا ہے۔مثلاً زيد قائم ميں زيد موضوع جب كہ قائم محمول ہےاسي طرح مندرجہ بالا تعبير ميں لفظ”امر”موضوع جب كہ لفظ”شورىٰ“محمول ہے ۔ (مترجم.

۱۸۲. كيونكہ قران كرىم قطعي الصدور ہے يعني يقينا خدا كي طرف سے ہے لہٰذا كوئي شبہ نہيں پاياجاتا كہ كيا يہ كلام واقعا خدا كا كلام ہے يا نہيں ہے، ہاں قران كرىم ظني الدلالہ ہے جب كہ روايات قطعي الصدور نہيں ہيں يعني يقيني طورپر روايت كے بارى ميں يہ نہيں كہا جا سكتا كہ يہ روايت معصوم سے صادر ہوئي ہے لہٰذا روايات ميں سند كے حوالے سے بحث كي جاسكتي ہے جب كہ قران كرىم كے متعلق سندي بحث غير معقول اور بے معنيٰ ہے ۔ (مترجم)

۱۸۳. ہميشہ احكام موضوعات پرآتے ہيں مثلا استطاعت، حج كے حكم كا موضوع ہے ۔اس كامطلب يہ ہے كہ اگر استطاعت ہوگي تو وجوب حج كاحكم لاگو ہوگا اور استطاعت نہيں ہوگي تو كيونكہ حج كا موضوع موجود نہيں ہے لہٰذا حج واجب نہيں ہوگا۔

۱۸۴. يعني وہ تمام امور كو جن كي انجام دہي كے لئے ولايت كي ضرورت ہو شورىٰ كے دائرہ كار ميں شامل ہيں ۔خواہ مباح امور ہوں خواہ ظاہرى احكام الزامي ہوں خواہ واقعي الزامي احكام ہوں ۔ (مترجم.

۱۸۶. يعني كوئي ايسي چيز موجود نہيں جو كلام كو قيد لگائے ليكن اس كے باوجودآپ كلام كو قيد لگا رہے ہيں ۔

۱۸۷. وسائل الشيعہ، ج۱۸، ص۱۰۰۔

۱۸۸. شيخ طوسى نے تين افراد كے بارى ميں يہ جملہ كہا ہے ”لايردون ولا يرسلون الاعن ثقہ" يعني يہ تين افراد فقط ثقہ اور قابل اعتماد شخص ہي سے روايت نقل كرتے ہيں۔ علماء رجال نے شيخ كے اس قول كو ان تين افراد جس سے روايت نقل كرىں گے وہ ثقہ ہوگا كيونكہ ان كي روش يہ ہے كہ غير ثقہ سے روايت نقل ہي نہيں كرتے، پس كسي سے انكار روايت نقل كرنا اس شخص كي وثاقت كي دليل ہے وہ تين افراد: ابن ابي عمير، احمد بن محمد بن ابي نصر يزنطي۔

۱۸۹. وسائل الشيعہ، ج۱۸۔ص۴۔باب: ۱ ابواب سفات قاضي حديث: ۵

۱۹۰. وسائل الشيعہ، ج۱۸، ص۷۔باب ۳، ابواب صفات قاضي حديث: ۳

۱۹۱. فرض يہ ہے كہ جس شخص كو منصب قضاوت حاصل ہوگا اسے منصب ولايت عطاكياجائے گا ۔يعني اگر ولايت ہوگي تو قضاوت كا حق بھي حاصل ہوگا اور دوسرى طرف سے ہم روايات سے ثابت كر چكے ہيں كہ فقيہ كو منصب قضاوت حاصل ہے اس كا لازمہ يہ ہے كہ فقيہ كے پاس منصب ولايت بھي موجود ہے كيونكہ اگر اس كے پاس منصب ولايت نہ ہوتا تو اسے منصب قضاوت عطا نہ كيا جاتا پس فقيہ كو منصب ولايت حاصل ہے۔ (مترجم)

۱۹۲. قاموس الرجال، شوشترى ج۱، ص۵۰۷۔

۱۹۳. معجمرجال الحديث، ج۳، ص۷۳۔

۱۹۴. توقيعات، توقيع كي جمع ہے يعني ايسا خط جس كے ذرىعے امام زمانہ كي طرف سے لوگوں كے سوالات كے جوابات ديئے جاتے تھے اور امام عليہ السلام كے دستخط مبارك بھي اس خط پر موجود ہوتے تھے ۔ (مترجم)

۱۹۵. الغيبۃ، شيخ طوسى، ص۲۵۷، مطبوعہ نجف۔

۱۹۶. الغيبۃ، شيخ طوسى، ص۲۵۷، مطبوعہ نجف۔

۱۹۷. "رى" ايران ميں واقع ايك شہر كا نام ہے جو تہران كے قرىب واقع ہے يہ وہي شہر ”رى"ہے جس كي حكومت كے لالچ ميں عمر بن سعد نے نواسہ رسول كو قتل كرنے كي ذمہ دارى قبول كي۔ (مترجم)

۱۹۸. مروزي سے مراد ”مرو" كا رہنے والا ہے، شہر ”مرو" دنيا كے موجودہ نقشہ كے مطابق تركمانستان ميں واقع ہے۔ليكن پہلے ايران كا حصہ تھا اور جب عباسي خليفہ مامون الرشيد نے امام رضا عليہ السلام كو مدينہ سے بلاياتھا اس وقت مامون كي حكومت كا دارالخلافہ يہي شہر ”مرو" تھا جہاں امام رضا عليہ السلام كو بلايا گيا تاكہ آپ مامون كي ولايت عہدي قبول كرىں، مروزي ميں ياء نسبتي پائي جاتي ہے يعني ”مرو" سے منسوب شخص، عرب جب كسي عجمي شہر كے ساتھ ”ياء نسبت“ لانا چاہتے ہيں تو كسي ايك حرف كا ضافہ كرديتے ہيں، اصل ميں”مرو"سے ”مروى" بنتا ہے ليكن ايك حرف ”زاء “ كا اضافہ ہوا ہے تاكہ معلوم ہو سكے يہ شہر عجمي ہے عربي نہيں، جس طرح شہر”رى"كے رہنے والوں كو ”رازى"كہا جاتا ہے جيسے فخر الدين رازي يہاں بھي ايك حرف ”زاء"كا اضافہ ہوا ہے ۔ (مترجم)

۱۹۹. الغيبۃ، شيخ طوسى، ص ۲۵۷۔۲۵۸۔

۲۰۰. مرد سے مراد امام زمانہ عليہ السلام ہيں تقيہ كرتے ہوئے نام كي بجائے مرد كي لفظ استعمال ہوئي ہے ۔ (مترجم)

۲۰۱. يعني اس صورت ميں فقيہ كو عطا كي جانے والے حجيت كي كوئي قدر و قيمت نہيں ہوگى، اگر چہ يہ جملہ سواليہ جملہ ہے ليكن انكار پر دلالت كرتا ہے اس جملہ كو استفہام انكارى كہا جاتا ہے۔ (مترجم)

۲۰۲. يعني حدس اور اندازہ لگكيا جاتا ہے كہ اس فتويٰ كے پيچھے امام كي راي ہے كيونكہ فقيہ امام عليہ السلام كي حديث كي بنيادپر فتويٰ ديتا ہے ۔پس جب فتويٰ موجود ہے تو معلوم ہوتا ہے كہ اس كے پس پردہ امام كي روايت موجود ہے، جب كہ روايت كے ذرىعے حسي طور پر امام كي راي نقل كي جاتي ہے ۔

۲۰۳. الغيبۃ، شيخ طوسى ص۲۱۵۔

۲۰۴. ابو محمد ہارون بن موسيٰ سےآخر تك تمام راوي قابل اعتبار ہيں: فقط ايك بات باقي رہ جاتي ہے كہ ہم اس جماعت كو نہيں جانتے جن كے ذرىعے شيخ نے ہارون بن موسيٰ سے روايت نقل كي ہے۔

۲۰۵. امام عليہ السلام كے كلام كو دو طرىقوں سے نقل كيا جاتا ہے، (۱. حسي طور پر (۲. حدسي (ظني طور پر. اگر راوي كئي واسطوں سے نقل كرتا ہے كہ فلاں نے فلاں سے فلاں نے فلاں سے اور ميں نے فلاں سے سنا ہے كہ امام عليہ السلام نے فرمايا، تو اسے نقل حسّي كہا جاتا ہے، ليكن دوسرى قسم يہ ہے كہ انسان ظن و گمان كے ذرىعہ كہتا ہے امام كا يہ حكم ہے مثلاً مجتہد نے فتويٰ ديا كہ فلاں كام حرام ہے اب شخص ايمان ركھتا ہے كہ مجتہد امام عليہ السلام كے حكم كے بغير فتويٰ نہيں ديتا، لہذا اب جو فقيہہ يا مجتہد نے فتويٰ ديا ہے كہ فلاں كام حرام ہے اس كے پس پردہ امام عليہ السلام كا قول موجود ہے، يہ بات ظنّي طور پر كہي جاتي ہے يعني شخص حسّي طور پر نقل نہيں كرتا ہے، لہذا اسے نقل حدسي كہا جاتا ہے

۲۰۶. فاء تفرىع: اسے فاء نتيجہ بھي كہا جاتا ہے، اردو ميں اس كا معنيٰ ہے ,, پس، ، مثلاً كہا جاتا ہے: حضرت علي عليہ السلام امام ہيں پس ان كي اطاعت واجب ہے، يعني كيونكہ امام ہيں لہذا نتيجہ يہ ہے كہ ان كي اطاعت واجب ہے، دوسرى لفظوں ميں اطاعت كا حكم، امامت پر مرتب اور تفرىع ہو رہا ہے، (مترجم)

۲۰۷. قضيہ بشرط محمول: قضيہ كو دو قسموں ميں تقسيم كيا جاتا ہے (۱. قضيہ بشرط موضوع (۲. قضيہ بشرط محمول، معمولا قضيہ بشرط محمول كي مثال يوں دي جاتي ہے، اگرآج جمعہ ہے توآج جمعہ ہے، پايا جائے، (يعني ولايت اور ولّي امر كا حكم واقع تك پہنچنے كي طرىق يعني راہ ہو. ۔

۲۰۸. اصول كافى، ج: ۱ ص: ۱۸۷،

۲۰۹. اصول كافى، ج: ۱ ص: ۱۸۹، حديث: ۱۶، باب فرض طاعتہ الائمہ، سورہ مائدہ، آيت: ۵۵،

۲۱۰. ظاہراً ايك ہي روايت ہے جسے شيخ كليني نے دو مختلف سندوں كے ذرىعے نقل كيا ہے اور اگر ثابت ہو جائے كہ يہ وہي قسم بن محمد ہے جس سے ازدي اور بجلي نے روايت نقل كي ہے تو اس شخص كا ثقہ اور قابل اعتماد ہونا ثابت كيا جا سكتا ہے، البتہ علم رجال ميں پائے جانے والے اس نظرىہ كے مطابق كہ ازدي اور بجلي جس سے روايت نقل كرىں وہ ثقہ (قابل اعتماد. ہے كيونكہ ان دونوں كي روش يہ ہے كہ غير ثقہ سے روايت نقل نہيں كرتے ہيں لہذا اگر كسي سے روايت نقل كرىں تو وہ ثقہ ہے، (مترجم)

۲۱۱. اصول كافى، ج: ۱ص: ۲۸۶، حديث: ۱

۲۱۲. مجتہد متجزى: يعني جزوي مجتہد، وہ مجتہد جو فقہ كے بعض ابواب ميں صاحب نظر ہو جب كہ مجتہد مطلق سے مراد وہ مجتہد ہے جو كسي قيد و شرط كے بغير مجتہد ہو يعني يہ قيد نہ لگائي جائے كہ وہ فلاں باب ميں مجتہد ہے بلكہ تمام ابواب ميں صاحب نظر ہو (مترجم)

۲۱۴. انحلال سے مراد يہ ہے كہ لازمي نہيں كہ وہ تمام روايات كا راوي ہو اور اگر مجموعيت مراد ہو تو يہ معنيٰ كيا جائے گا كہ اگر وہ تمام روايات كا راوي ہو تب اس كا حكم حجت ہوگا، اسي طرح فتويٰ كے بابميں انحلال سے مراد يہ ہوگي كہ خواہ وہ بعض ابواب فقہ ميں مجتہد ہو خواہ تمام ابواب فقہ ميں، يعني لازمي نہيں كہ تمام ابواب فقہ ميں مجتہد ہو تب اس كا فتويٰ حجّت ہے اور اگر مجوعيت سمجھي جائے تو معنيٰ يہ ہوگا كہ اس صورت ميں اس كا حكم حجّت ہے جب وہ تمام ابواب ميں مجتہد ہو ۔ (مترجم)

۲۱۵. انحلال سے مراد يہ ہے كہ لازمي نہين كہ وہ تمام روايات كا راوي ہو اور اگر مجموعيت مراد ہو تو يہ معنيٰ كيا جائے گا كہ اگر وہ تمام روايات كا راوي ہو تب اس كا حكم حجت ہوگا، اسي طرح فتويٰ كے باب ميں انحلال سے مراد يہ ہوگي كہ خواہ وہ بعض ابواب فقہ ميں مجتہد ہو خواہ تمام ابواب فقہ ميں، يعني لازمي نہيں كہ تمام ابواب فقہ ميں مجتہد ہو تب اس كا فتويٰ حجّت ہے اور اگر وہ مجوعيت سمجھي جائے تو معنيٰ يہ ہوگا كہ اس صورت ميں اس كا حكم حجّت ہے جب وہ تمام ابواب ميں مجتہد ہو ۔ (مترجم)

۲۱۶. سيرت سے مراد وہ روش اور وہ ذہنيت ہے جو عموميت ركھتي ہو يعني معاشرہ كے خاص گروہ تك محدود نہ ہو بلكہ تمام گروہوں كا طرىقہ كار اور روش يہي ہو، سيرت كي دو قسميں ہيں:

۲۱۷. وسائل الشيعه، ج: ۵ص: ۱۰۴و ج: ۷ص: ۱۹۹

۲۱۸. ممكن ہے كوئي كہے اس صورت ميں بھي حاكم كا حكم مقدم ہوگا كيونكہ ولي كي طرف رجوع كا حكم دينے والي دليل سے حكم و موضوع كي مناسبت سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ اسلامي شرعيت نے ان امور ميں ولي كے حكم كو فيصلہ كن قرار ديا ہے اور يہ كہ جب اس كے حكم سے كوئي دوسرا امارہ تعارض كرے تو ولي كا حكم مقدم ہوگا ۔ليكن ہم ولي كي طرف رجوع كرنے كا حكم دينے والي دليل سے يہ معني ٰ نہيں سمجھتے۔


بيان اصطلاحات از مترجم

منطقۃ الفراغ

ان امو رپر اطلاق ہوتا ہے جہاں حتمي مصلحت يا مفسدہ موجود نہ ہو (اباحہ لا اقتضائي) ليكن زمان و مكان كے تقاضوں كي وجہ سے مصلحت يا مفسدہ پيدا ہو (مسائل مستحدثہ) اور وہ موارد جہاں مصلحت اور مفسدہ ميں تعارض پيش آجائے، ان موارد ميں حاكم شرعي كو حق حاصل ہے كہ مصلحت يا مفسدہ كو مد نظر ركھتے ہوئے قانون سازي كرے ۔

جب كہ بعض لوگوں كي نظر ميں منطقۃالفراغ كي تعرىف يہ ہے: وہ موارد جن ميں شرعي دلائل سے وجوب يا حرمت يا استحباب يا كراہت نہ سمجھي جائے، يا وہ موارد جن ميں شارع نے انجام دينے يا ترك كرنے كا اختيار مكلف كو سونپا ہے ۔

مقدمات حكمت

وہ قرائن جن كو مدنظر ركھتے ہوئے عقل حكم كرتي ہے كہ متكلم كي مراد مطلق ہے يعني اس ميں كوئي قيد و شرط نہيں پائي جاتى، وہ قرائن درج ذيل ہيں:

(۱) متكلم مقام بيان ميں ہو ؛

(۲) كوئي اور كلام موجود نہ ہو جس كے ذرىعے متكلم كے كلام كو مقيد كيا جاسكے ۔

(۳) كلام ميں قيد وشرط كي صلاحيت بھي پائي جاتي ہو ۔

مناسبت حكم و موضوع

حكم اور موضوع كے درميان پائے جانے والے وہ ارتكازي قرائن جو سبب بنتے ہيں كہ كلام سے خصوصيت نہ سمجھي جائے مثلاً ”من كان مرىضاً فعدۃ من ايام اخر" ميں مرىض ميں يہ قيد لگائي جائے گي كہ جس كے لئے روزہ ركھنا نقصان دہ ہو۔

عموم و عام

اصطلاح اصول ميں عموم سے مراد يہ ہے كہ مفہوم ہر اس مورد كو شامل ہو جس پر منطبق ہونے كي صلاحيت ركھتا ہو ۔

جب كہ عام سے مراد وہ لفظ ہے جو ايك مفہوم اور اس مفہوم كے شمول پر دلالت كرے مثلاً ”اكرم كل عالم“ميں لفظ عالم عام ہے يعني احترام كا حكم علماء كے تمام افراد كو شامل ہے ۔

عموم كي مختلف اقسام ہيں:

۱) عام بدلي ۔

۲) عام استغراقي ۔

۳) عام ازماني ۔

تخصيص

عموم كے مقابلہ ميں تخصيص كي اصطلاح استعمال كي جاتي ہے اگر لفظ مختلف موارد كو شامل ہونے كي صلاحيت ركھتا ہو ليكن قيد كي وجہ سے اسے بعض موارد سے مخصوص كر ديا جائے تو اسے تخصيص كہا جاتا ہے مثلاً ” اكرم العالم “كے بعد متكلم كہے ” لا تكرم الفساق من العلماء “ تو احترام كا حكم علماء كے ان افراد كو شامل ہوگا جن ميں عدالت كي صفت پائي جائے، جب كہ غير عادل افراد كو احترام كا حكم شامل نہيں ہوگا ۔

علم اصول ميں كہا جاتاہے كہ دوسرى دليل نے پہلي دليل كو تخصيص لگا دي ہے يعني اس كے حكم سے بعض افراد كو خارج كر ديا ہے لفظ عالم كو خاص كہا جائے گا كيونكہ مورد تخصيص قرار پايا ہے يا كہا جائے گا كہ حكم خاص ہے ۔

مطلق

لغت ميں لفظ مطلق كا معني آزاد ہے جس كے لئے كوئي قيد نہ ہو، جب كہ اصطلاح اصول ميں مطلق اس لفظ كو كہا جاتا ہے جو ايسے معني پر دلالت كرے جس ميں شمول پايا جائے، مطلق كبھي لفظ كي صفت قرار پاتا ہے اوركبھي معني كي۔

اطلاق وہاں پر پايا جاتا ہے جہاں پر قيد لگانا ممكن ہو ليكن اس كے باوجود قيد نہ لا ئي جائے، يہي وجہ ہے كہ كہا جاتا ہے مطلق اور مقيد كے درميان تقابل ملكہ و عدم ملكہ پايا جاتا ہے ۔

مطلق كے متعدد مصاديق ہيں:

(۱) اسمائے اجناس: مثلاً مولي كہے: يجب عليك في اول الشہر اعطاء الحنطہ للفقير، تو لفظ اعطاء،

الحنطہ، اور الفقير سب مطلق ہيں كيونكہ ان كے معني ميں شمول پايا جاتا ہے۔

(۲) نكرہ: اس سے مراد وہ اسم جنس ہے جس پرايسي تنوين موجود ہو جو وحدت كا فائدہ دے فرق نہيں كہ شمول مخاطب كي نظر ميں ہو جيسے: وجاء رجلٌ يا متكلم اور مخاطب دونوں كي نظر ميں، جيسے: جئني برجلٍ ۔

مقيد

مطلق كے مقابلہ ميں مقيد كي اصطلاح استعمال ہوتي ہے، يعني جس ميں شمول كي صلاحيت پائي جائے ليكن عملي طور پر اس ميں شمول نہ پايا جائے مثلاً اكرم العالم العادل، لفظ عالم ميں شمول كي صلاحيت پائي جاتي ہے ليكن عملاً شمول پر دلالت نہيں كرتا كيونكہ اسے صفت عدالت كے ساتھ مقيد كر ديا گيا ہے ۔

حكم واقعي اور حكم ظاہرى

حكم ظاہرى كي تعرىف علماء اصول نے ان لفظوں كے ذرىعہ كي ہے: مااخذ في موضوعہ الشك في الحكم الواقعى، يعني ايساحكم جس كے موضوع ميں حكم واقعي سے متعلق شك اخذ نہ ہوا ہو، يہ حكم اس صورت ميں ہے جب مكلف حكم واقعي سے جاہل ہو يعني اس كے موضو ع ميں مكلف كا جاہل ہونا اخذ ہوا ہے ۔

حكم ظاہرى كي تعرىف سے حكم واقعي كي تعرىف بھي واضح ہو جاتي ہے يعني ايسا حكم جس كے موضوع ميں حكم واقعي سے متعلق شك اخذ نہ ہوا ہو، مثلاً ايك دفعہ شخص جانتا ہے كہ قالين نجس ہے يہاں پر شخص (مكلف) حكم واقعي سے جاہل نہيں ہے لہذا اس كے لئے حكم ظاہرى نہيں ہوگا ليكن اگر شخص كو علم نہ ہو كہ قالين نجس ہے يا نجس نہيں ہے تو يہاں پر مكلف حكم واقعي سے جاہل ہے اور نہيں جانتا كہ اس قالين كے سلسلہ ميں اس كي ذمہ دارى كيا ہے اسے حيراني اور سرگرادني سے نكالنے كے لئے جو حكم بيان كي جاتا ہے يا جس حكم كے ذرىعہ اس كا وظيفہ معين كي جاتاہے اسے حكم ظاہرى كہا جاتا ہے مثلاً كہا جاتا ہے: اگر كسي چيز كے نجس ہونے كا علم نہ ہو تو وہ پاك ہے يہ حكم، حكم ظاہرى كہلاتا ہے ۔

امارہ و اصل: وہ دلائل جن ميں كاشفيت كا پہلو پايا جائے يا دوسرى لفظوں ميں وہ دلائل جو

حكم واقعي كو كشف كرىں انھيں امارہ كہا جاتا ہے جب كہ حكم ظاہرى كو بيان كرنے والے دلائل يا مكلف كے لئے عارضي اور وقتي وظيفہ بيان كرنے والے دلائل كو اصول (اصل كي جمع) كہا جاتا ہے ۔

عنوان اولي اور عنوان ثانوى

ابتدائي طور پر نجس چيز كا كھانا حرام ہے دوسرى لفظوں ميں عنوان اولي كے تحت نجس چيز كھانے كا حكم حرمت ہے ليكن اگر انسان موت و حيات كي كشمكش ميں ہو تو نجس چيز كھانا جائز ہے جواز كاحكم عنوان ثانوي كے تحت ہے۔ يا يوں كہا جائےكہ پہلےحكم (حرمت) كے لئےكسي خاص حالت كومدنظر نہيں ركھاگياجب كہ دوسراحكم (جواز) مخصوص حالات ميں ہے ۔

قاصر

فقہ ميں قاصر اسے كہا جاتا ہے جس ميں نقص يا كمي پائي جائے مثلاً كم سن بچہ اپنےمال ميں صحيح تصرف كي صلاحيت نہيں ركھتا، گويا اس ميں ايك كمي پائي جاتي ہے جس كمي كو پورا كرنے كے لئے اس كے لئے ولي (سرپرست) قرار ديا جاتا ہے جو اس كي مصلحت اور بھلائي كو مدنظر ركھتے ہوئے اس كے امور انجام ديتا ہے ۔

اس طرح سفيہ يعني وہ شخص جو اپنےمال ميں عاقلانہ تصرفات كي صلاحيت نہ ركھتا ہو، شرىعت كي رو سے يہ شخص قاصر ہے يعني اپنے اموال ميں تصرفات كا حق نہيں ركھتا لہذا حاكم شرع اس كا ولي و سرپرست ہے جو اس كي مصلحتوں اور بھلائيوں كو مدنظر ركھتے ہوئے اس كے اموال ميں تصرف كرتا ہے۔

انصراف

اگر ايك دليل كے لئے متعدد مصاديق قابل تصور ہوں ليكن بعض وجوہات كي بنياد پر دليل تمام مصاديق كو شامل نہ ہو بلكہ فقط بعض مصاديق كو شامل ہو، يہاں پر كہا جاتا ہے كہ فلاں دليل اس معني يا اس مصداق كي طرف منصرف ہے يا انصراف ركھتي ہے، يعني دوسرى مصاديق كو شامل نہيں ہے ۔

بيان اصطلاحات ميں آيۃ اللہ مشكيني (دام ظلہ) كي كتاب اصطلاحات الاصول سے استفادہ كيا ہے ۔


فہرست مآخذ

البيع؛ حضرت امام خمينى، موسسہ تنظيم و نشرآثار امام خمينى، ۱۳۷۶

مصباح الفقاھہ؛ سيد ابوالقاسم خوئى، موسسہ انصارىان، قم، ۱۴۱۷ھ

ولايۃ الامر في عصر الغيبہ؛ سيد كاظم الحسيني الحائرى، مجمع الفكر الاسلامى، ۱۴۱۴ھ

ولايۃ الفقيہ؛ حسين علي منتظرى، المركز العالمي للدراسات الاسلاميہ، قم، ۱۴ ۰ ۷ھ

الحكم في الاسلام؛ سيد محمد حسيني شيرازى، مطبعہ خيام، قم

ولايت فقيہ؛ جوادي آملى، مركز نشر اسراء، قم، ۱۳۷۹

ثلاث رسائل؛ سيد مصطفي خمينى، موسسہ تنظيم و نشرآثار امام عليہ الرحمۃ ۱۳۷۶

ولايت فقيہ در اسلام؛ سيد محمد حسين حسيني تہرانى، انتشارات علامہ طباطبائى، تہران، ۱۴۱۴ھ

ولايت فقيہ از ديدگاہ فقہاء؛ احمدآذرى قمى، موسسہ مطبوعاتي دار العلم، قم، ۱۳۷۲

ولايت فقيہ حكومت صالحان؛ صالحي نجف آبادى، معراج، ۱۳۶۳

ولايت فقيہ از ديدگاہ فقہاء ومراجع؛ علي عطائى، نمونہ، قم، ۱۳۴۶

حكومت در اسلام

مقالات چہارمين كنفرانس انديشہ اسلامى؛ سازمان تبليغات اسلامى، ۱۳۶۶


فہرست

مقدمہ مؤلف ۴

باب اوّل: جمہوريت ۷

حكومت كي ضرورت ۷

ولايت (سرپرستي و حكومت) ۷

۱) خدا كي طرف سے امر و نہى ۸

۲) دوسروں كي آزادي ۸

حكومت كي اساس ۱۰

ڈكٹيٹر شپ اور جبر استبداد ۱۰

ولايت واقتدار كا سر چشمہ ۱۱

جمہوريت كي مشكلات ۱۶

۱) اكثريت كي جہالت اور خواہشات كا غلبہ ۱۷

۲) ووٹوں كي خريد و فروخت ۱۷

۳) نمائندوں كے ذاتي مفادات ۱۸

دين كے ساتھ جمہوريت كا رشتہ ۲۰

وطن ۲۸

وطن كي اصطلاح كے متعلق ايك تجويز ۲۹

نظريہ جمہوريت پر اعتراضات ۲۹

۱) اقليت كے حقوق كي پامالى ۲۹

۲) اقليت كي حكومت ۳۱


اسلام اور جمہوريت ۳۸

ولايت وحاكميت كا دوسرا سرچشمہ ۳۹

كيا اسلامي حكومت كا انجام ظلم واستبداد ہے؟ ۳۹

معاشرہ اور حكمرانوں كي اسلامي تربيت ۴۰

جمہوريت ۴۱

ارسٹو كريسى ۴۲

حبّ وطن ۴۵

شورائي نظام يا ولايت فقيہ كا نظام ۴۷

۱) شورائي نظام ۴۷

۲) امام معصوم عليہ السلام كي نيابت ميں ولايت فقيہ كا نظام۔ ۴۷

ولايت فقيہ اور استبدادي نظام حكومت ميں فرق ۴۷

باب دوّم: شوريٰ ۵۱

ايك حيران كن سوال ۵۱

تيسري مثال: ۵۴

پہلاجواب: ۵۵

جواب: ۵۵

دوسرا جواب: ۵۶

تيسرا جواب: ۶۰

كتاب وسنّت سے شوريٰ كے دلائل ۶۲

مولف: ۶۴


پہلي آيت: ۶۵

دوسري آيت: ۶۵

روايات اہل سنت ۶۸

پہلا احتمال ۷۰

دوسرا احتمال ۷۱

تيسرا احتمال ۷۱

جواب: ۷۳

شوريٰ كے دلائل پر ايك نظر ۷۵

پہلا نكتہ: ۷۶

دوسرا نكتہ: ۷۷

وضاحت ۷۷

شوريٰ كے متعلق آيات ميں مناقشہ ۷۹

آيہ مباركہ سے استدلال ۸۲

فقيہ كا شوريٰ سے رشتہ ۸۷

خلاصہ بحث ۸۸

باب سوّم: ولايت فقيہ ۹۵

پہلا نكتہ ۹۹

دوسرا نكتہ ۱۰۰

دوسرا طريقہ:روايات سے تمسك ۱۰۱

پہلي روايت ۱۰۲


دوسري روايت ۱۰۳

تيسري روايت ۱۰۴

روايت عمربن حنظلہ كي دلالت ۱۰۵

پہلا استدلال ۱۰۵

دوسرا استدلال ۱۰۵

ولايت فقيہ كے اثبات كے لئے پہلي روش ۱۱۰

پہلا فرضيہ ۱۱۰

دوسرا فرضيہ ۱۱۱

ولايت فقيہ كے اثبات كے لئے دوسري روش ۱۱۱

ان دو روشوں كو ملانے والي راہ ۱۱۱

شرائط ولايت ۱۱۲

پہلي شرط؛ فقاہت ۱۱۲

پہلي دليل كے مطابق ولي امر ميں فقاہت كي ضرورت ۱۱۳

دوسري دليل كے مطابق فقاہت كي ضرورت ۱۱۳

تيسري دليل كے اعتبار سے فقاہت كي ضرورت ۱۱۴

دوسري شرط؛ صلاحيت ولياقت ۱۱۴

تيسري شرط؛ عدالت ۱۱۵

ولايت كي شرائط ميں سے تيسري شرط عدالت ہے ۱۱۵

چوتھي شرط؛ مردہونا ۱۱۵

ولايت كي چوتھي شرط يہ ہے كہ ولي مرد ہو ۱۱۵


اعلميت كي شرط ۱۱۶

(دوسروں كي نسبت زيادہ علم والا ہونا) ۱۱۶

بيعت ۱۱۷

پہلا طريقہ ۱۱۸

دوسرا طريقہ ۱۲۲

(بيعت سے متعلق بحث كا دوسرا طريقہ) ۱۲۲

اشكال ۱۲۶

بيعت كے سلسلے ميں مسلمانوں كي دائمي سيرت ۱۲۷

ولايت فقيہ كے موارد ۱۲۸

حاكم كے حكم ميں خطاو لغزش ۱۳۰

فقيہ حاكم كا حكم اور دوسري جامع الشرائط فقہاء ۱۳۳

شوريٰ اور ولايت فقيہ كا تقابلي جائزہ ۱۳۵

پہلا بيان ۱۳۸

دوسرا بيان ۱۳۹

جواب: ۱۴۰

تيسرا بيان ۱۴۱

خلاصہ بحث ۱۴۴

ضميمہ جات مؤلف ۱۵۲

پہلاضميمہ ۱۵۲

دوسرا ضميمہ ۱۵۳


پہلي قسم ۱۵۳

دوسرى قسم ۱۵۴

تيسرا ضميمہ ۱۵۵

پہلا اشكال ۱۵۵

دوسرا اشكال ۱۵۶

چوتھا ضميمہ ۱۵۹

وضاحت ۱۶۰

پانچواں ضميمہ ۱۶۳

چھٹا ضميمہ ۱۶۶

وضاحت ۱۷۰

جواب: ۱۷۲

ساتواں ضميمہ ۱۷۳

جواب: ۱۷۳

آٹھواں ضميمہ ۱۷۶

نواں ضميمہ ۱۷۸

وضاحت ۱۷۹

پہلا بيان ۱۷۹

دوسرا بيان ۱۸۰

تيسرا بيان ۱۸۰

دسواں ضميمہ ۱۸۱


پہلا نكتہ ۱۸۲

دوسرا نكتہ ۱۸۲

گيارہواں ضميمہ ۱۸۴

بارہواں ضميمہ ۱۸۵

بيان اصطلاحات از مترجم ۱۹۱

منطقۃ الفراغ ۱۹۱

مقدمات حكمت ۱۹۱

مناسبت حكم و موضوع ۱۹۱

عموم و عام ۱۹۱

تخصيص ۱۹۲

مطلق ۱۹۲

مقيد ۱۹۲

حكم واقعي اور حكم ظاہرى ۱۹۳

عنوان اولي اور عنوان ثانوى ۱۹۳

قاصر ۱۹۳

انصراف ۱۹۴

فہرست مآخذ ۱۹۵

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

مؤلف: آیۃ اللہ سید كاظم حائری
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 17