تاريخ اسلام (1)پيغمبر اكرم (ص) كى زندگي

مؤلف: مركز تحقيقات علوم اسلامي
متن تاریخ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام كتاب: تاريخ اسلام (زندگى پيامبر)(ص) (۱)

مؤلف: مركز تحقيقات اسلامي

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: نور مطاف

جلد: اول

اشاعت: تیسری

تاريخ اشاعت: ۲۰ جمادی الثانی ۱۴۲۷ ھ_ق

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _


مقدمہ ناشر:

ادارہ معارف اسلام پبلشرز اپنى اصلى ذمہ دارى كو انجام ديتے ہوئے مختلف اسلامى علوم و معارف جيسے تفسير، فقہ، عقائد، اخلاق اور سيرت معصومين(عليہم السلام) كے بارے ميں جانے پہچانے محققين كى قيمتى اور اہم تاليفات كے ترجمے اور طباعت كے كام كو انجام دے رہاہے_

يہ كتاب(عہد رسالت ۱) جو قارئين كے سامنے ہے پيغمبر اكرم(صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم) اور آپ(ص) كے اہل بيت اطہار (عليہم السلام) كى سيرت اور تاريخ پر لكھى جانے والى كتابوں كے سلسلے كى ايك كڑى ہے جسے گذشتہ سالوں ميں ترجمہ كرواكر طبع كيا گيا تھا_ اس ترجمہ كے دستياب نہ ہونے اور معزز قارئين كے مسلسل اصرار كے باوجود اس پر نظر ثانى اور اسے دوبارہ چھپوانے كا موقع نہ مل سكا_

خداوند عالم كے لطف و كرم سے اس سال كہ جسے رہبر معظم (دام ظلہ) كى جانب سے رسول اعظم (صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم) كا سال قرار ديا گيا ہے، اس نفيس سلسلے كى پہلى جلد كو ، نظر ثانى اور تصحيح كے بعد دوبارہ زيور طبع سے آراستہ كيا جارہاہے_ ہم اميد كرتے ہيں كہ خداوند متعال كے فضل و كرم ، امام زمان (عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف) كى خاص عنايت اور ادارے كے ساتھ تعاون كرنے والے محترم فضلاء كے مزيد اہتمام و توجہ سے اس سلسلے كى بعد والى جلدوں كو بھى جلد از جلدچھپوا كر مطالعہ كے شائقين كى خدمت ميں پيش كرسكيں گے_

ان شاء اللہ تعالى

معارف اسلام پبلشرز


سبق ۱:

تاريخ كى اہميت

تاريخ اسلام كى دوسرى تواريخ پر فوقيت


تاريخ كى تعريف

لغت كى كتابوں ميں تاريخ كے معنى ''زمانے كى تعيين '' كے ہيں_'' اَرَخَ الْكتَابَ وَ اَرَّخَہُ'' اس نے كتاب يا خط پرتاريخ تحرير ثبت كى(۱) _

تاريخ كے اصطلاحى معانى بيان كرتے ہوئے لوگوں نے اس كى مختلف تعريفيں كى ہيں جن ميں سے چند ذيل ميںدرج ہيں :

۱_ايك قديم اور مشہور واقعہ كى ابتدا سے ليكر اس كے بعد رونما ہونے والے دوسرے واقعہ كے ظہور تك كى مدت كا تعين _

۲_سر گذشت يا ايسے قابل ذكر حوادث اورواقعات كہ جنہيں بلحاظ ترتيب زمان منظم و مرتب كيا گيا ہو(۲) _

اقسام تاريخ

علم تاريخ ،اس كى اقسام اور خصوصيات اسى طرح ان ميں سے ہر ايك كے فوائد كے بارے ميں بہت زيادہ بحث و گفتگو كى جا چكى ہے_

استاد شہيد مرتضى مطہرى نے علم تاريخ كى تين قسميں بيان كى ہیں :


۱:_ منقول تاريخ

موجودہ زمانہ كى كيفيت اور حالت كے برعكس ، گزشتہ زمانہ كے واقعات و حادثات اور انسانوں كى حالات اور كيفيات كا علم_

اس ميں سوانح عمرى ' فتح نامے اور سيرت كى وہ تمام كتابيں شامل ہیں جو اقوام عالم ميں لكھى گئي ہيں اور اب بھى لكھى جارہى ہيں _

منقول تاريخ كى خصوصيات

الف: يہ تاريخ جزئي ہوتى ہے مجموعى اور كلى نہيں_

ب: يہ محض منقول ہے اور اس ميں عقل و منطق كو دخل نہيں ہوتا_

ج:محض گذشتہ واقعات كا علم ہے تبديليوں اور تحولات كا نہيں_

(ماضى سے متعلق ہے، حال سے نہيں)

۲: علمى تاريخ

ان آداب و رسوم كا علم جن كا رواج عہد ماضى كے انسانوں ميں تھا اور يہ علم ، ماضى ميں رونما ہونے والے واقعات و حادثات كے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے _(۴)

۳:فلسفہ تاريخ

معاشروں كے ايك مرحلہ سے دوسرے مرحلہ ميں تغيراور تبديليوں نيز ان تبديليوں پر حاكم قوانين كا علم _(۵)


اس كتاب ميں ہمارا مطمح نظر

اس كتاب كے اسباق ميں اس بات كو مد نظر ركھا گيا ہے كہ سب سے پہلے ان واقعات كو تفصيل سے بيان كياجائے جو پيغمبر اكرم حضرت محمد صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى رسالت كے دوران رونما ہوئے اور اس كے ساتھ ہى ان كا تجزيہ اور تحليل بھى كياجائے اس كے بعد دوسرے مرحلہ ميں ان واقعات سے پندو نصيحت حاصل كى جائے ، ان سے كلى قواعد اور نتائج اخذ كركے پھر انفرادى اور اجتماعى زندگى ميں ان سے استفادہ كيا جائے_ بالخصوص اس بات كے پيش نظر كہ ايران كے اسلامى انقلاب كى تاريخ بھى درحقيقت دوران رسالت و امامت كے تاريخ اسلام كا منطقى تسلسل ہے _ چنانچہ اس عہد كے اكثر حالات و واقعات ہوبہو صدر اسلام كے حالات و اقعات كى طرح تھے_

منقول تاريخ كا درجہ اعتبار

علمى نيز منقول تاريخ كى تشكيل چونكہ ان واقعات كى بنياد پر ہوتى ہے جو عہد ماضى ميں گزر چكے ہيں اس لئے محققين نے اس بات پر بھى بحث كى ہے كہ يہ واقعات كس حد تك معتبر يا غير معتبر ہوسكتے ہيں_

بعض محققين كى رائے يہ ہے كہ متقدمين كى كتابوں ميں منقول تاريخ سے متعلق جو كچھ درج كيا گيا ہے اسے بيان اور قلمبند كرنے والے وہ لوگ ہيں جنہوں نے واقعات كو ذاتى اغراض ، شخصى محركات ، قومى تعصبات يا اجتماعى و فكرى وابستگى كى بنياد پر نقل كيا ہے اور اس ميں تصرف اور تحريف كركے واقعات كو ايسى شكل دى ہے جيسى وہ خود چاہتے تھے يا صرف ان واقعات كوقلمبند كيا ہے جس سے ان كے اغراض و مقاصد پورے ہوتے تھے اور ان


كے عقائد كے ساتھ ميل كھاتے تھے_

منقول تاريخ كے بارے ميں يہ بدگمانى اگر چہ بے سبب و بلاوجہ نہيں اور اس كا سرچشمہ تاريخ كى كتابوں اور مورخين كے ذاتى مزاج اور اسلوب كو قرارديا جاسكتا ہے ليكن اس كے باوجود تاريخ بھى ديگر علوم كى طرح سلسلہ وار مسلمہ حقائق و واقعات پر مبنى ايك علم ہے جن كا تجزيہ و تحليل كيا جاسكتا ہے_

اس كے علاوہ ايك محقق، شواہد و قرائن كى بنياد پر اسى طرح اپنى اجتہادى قوت كے ذريعے بعض حادثات و واقعات كى صحت و سقم معلوم كركے انہى معلومات كى بنياد پر بعض نتائج اخذ كرسكتا ہے _(۶)

تاريخ بالخصوص تاريخ اسلام كى اہميت اور قدر وقيمت

مسلم وغير مسلم محققين اور دانشوروں نے تاريخ بالخصوص تاريخ اسلام وسيرت النبى (ص) كے بارے ميں بہت زيادہ تحقيقات كى ہيں_ انہوں نے مختلف پہلوئوں كا جائزہ لے كر اس كى قدر وقيمت اور اہميت كو بيان كيا ہے_

الف: قرآن كى نظر ميں تاريخ كى اہميت

قرآن كى رو سے ' تاريخ بھى حصول علم و دانش اور انسانوں كے لئے غور وفكر كے ديگر ذرائع كى طرح ايك ذريعہ ہے قرآن نے جہاں انسانوں كو غور وفكر كرنے كى دعوت دى ہے وہاں اس نے غورو فكر كے منابع (يعنى ايسے موضوعات جن كے بارے ميں انسانوں كو غورو فكركركے ان سے ذريعہ شناخت و معرفت كے عنوان سے فائدہ اٹھائے) بھى ان كے


سامنے پيش كئے ہيں_

قرآن نے اكثر آيات ميں انسانوں كو يہ دعوت دى ہے كہ وہ گزشتہ اقوام كى زندگى كا مطالعہ كريں_ان كى زندگى كے سودمند نكات پيش كرنے كے بعد انہيں يہ دعوت دى ہے كہ وہ لائق اور باصلاحيت افراد كو اپنا ہادى و رہنما بنائيں اور ان كى زندگى كو اپنے لئے نمونہ سمجھيں _

حضرت ابراہيم عليہ السلام كے بارے ميں فرماتا ہے:

( قَد كَانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إبرَاهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ ) (۷)

''تم لوگوں كےلئے ابراہيم (ع) اور ان كے ساتھيوں ميں ايك اچھا نمونہ موجود ہے''_

اسى طرح رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے بارے ميں قرآن فرماتا ہے:

( لَقَد كَانَ لَكُم فى رَسُول الله أُسوَةٌ حَسَنَةٌ ) (۸)

''درحقيقت تم لوگوں كے لئے رسول اللہ (ص) كى ذات ايك بہترين نمونہ ہے''_

قرآن كى رو سے تاريخ بشر اور اس كا ارتقاء سلسلہ وار اصول وضوابط اور رسوم و رواج كى بنياد پر مبنى ہے _ عزت و ذلت فتح و شكست اور بدبختى و خوش بختى سب كے سب دقيق و منظم حساب و كتاب كے تحت حاصل ہوتى ہيں ان اصول و ضوابط اورروسوم و رواج كو سمجھنے كے بعد تاريخ پر تسلط حاصل كركے اس كے ذريعے اپنى ذات اور معاشرے كو فائدہ پہنچايا جاسكتا ہے_ مثال كے طور پر درج ذيل آيت ميں خداوند تعالى فرماتا ہے:

( قَد خَلَت من قَبلكُم سُنَنٌ فَسيرُوا فى الأَرض فَانظُروا كَيفَ كَانَ عَاقبَةُ المُكَذّبينَ ) (۱۰)


''تم سے پہلے بھى رسوم و رواج اورطور طريقے موجود تھے پس زمين ميں چلو پھرو اور ديكھو كہ (خدا اور انبياء (ع) كو) جھٹلانے والوں كا كيا انجام ہوا ؟''

ب: نہج البلاغہ كى روسے تاريخ كى اہميت

قرآن كے علاوہ آئمہ طاہرين عليہم السلام نے بھى اپنے اقوال ميں شناخت و معرفت كے اس عظيم اور وسيع سرچشمے كى قدر و قيمت كى جانب اشارہ فرمايا ہے چنانچہ اس بارے ميں حضرت على عليہ السلام نہج البلاغہ ميں ارشاد فرماتے ہيں :

(يَابُنَيَّ انّي وَان لَم اَكُن عَمَرتُ عُمرَ مَن كَانَ قَبلي فَقَد نَظَرتُ في اَعمَالهم وَ فَكَّرتُ فى اَخبَارهم وَ سرتُ في آثَارهم حَتّى عُدتُ كَاَحَدهم بَل كَاَنّي بمَا انتَهى الَيَّ مَن اُمُورهم قَد عَمَرتُ مَعَ اَوَّلهم الى آخَرهم فَعَرَفتُ صَفْوَ ذَالكَ من كَدره وَ نَفعَهُ من ضَرَره )_(۱)

''يعنى اے ميرے بيٹے ميرى عمر اگر چہ اتنى لمبى نہيں جتنى گزشتہ دور كے لوگوں كى رہى ہے (يعنى آپ(ع) يہ فرمانا چاہتے ہيں كہ گرچہ ميں نے گذشتہ لوگوں كے ساتھ زندگى نہيں گزاري)ليكن ميں نے ان كے كاموں كو ديكھا ،ان كے واقعات پر غور كيا اور ان كے آثار اور باقيات ميں سير و جستجو كى يہاں تك كہ ميں بھى ان ميں سے ايك ہوگيا بلكہ ان كے جو اعمال و افعال مجھ تك پہنچے ان سے مجھے يوں لگتا ہے كہ گويا ميں نے ان كے ساتھ اول تا آخر زندگى بسر كى ہے پس ان كے كردار كى پاكيزگى و خوبى كو برائي اور تيرگى سے اور نفع كو نقصان سے عليحدہ كر كے پہچانا ''_


اميرالمومنين حضرت على عليہ السلام كا يہ بيان اس امر كى وضاحت كرتا ہے كہ آئمہ عليہم السلام كس حد تك عہد گزشتہ كى تاريخ كو اہميت ديتے تھے _

ج: غير مسلم دانشوروں كى نظر ميں تاريخ اسلام كى اہميت

عيسائي دانشور اور اديب جرجى زيدان رقم طراز ہے كہ :

اس ميں شك نہيں كہ تاريخ اسلام كا شمار دنيا كى اہم ترين تاريخوںميں ہوتا ہے_كيونكہ مذكورہ تاريخ قرون وسطى(۲) ميںپورى دنيا كى تاريخ تمدن پر محيط ہے _(۱۲)

يايوں كہنا بہتر ہوگا كہ تاريخ اسلام زنجيركى وہ كڑى ہے جس نے دنيائے قديم كى تاريخ كو جديد تاريخ سے متصل كيا ہے يہ تاريخ اسلام ہى ہے جس سے جديد تمدن كا آغاز اور قديم تمدن كا اختتام ہوتا ہے_

ديگر تواريخ پر تاريخ اسلام كى برتري

تاريخ اسلام كو دوسرى تمام اقوام كى تاريخوں پر بہت زيادہ فوقيت اور برترى حاصل ہے _ ہم اس كے بعض پہلوئوں كى طرف يہاں اشارہ كرتے ہيں _

۱_ سيرت: پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم و ائمہ معصومين عليہم السلام كى سيرت ،كرداراور طرز زندگى سنت كى حيثيت ركھتى ہے اور ان كے اقوال كى طرح اسے بھى امت مسلمہ كے لئے حجت اور سند كا درجہ حاصل ہے_

سيرت نبوي(ص) ہميں يہ درس ديتى ہے كہ ہمارے اخلاق و كردار كونبى (ص) كى سيرت اور راہ وروش كے مطابق ہونا چاہئے جبكہ ديگر تاريخ ميں ايسا بالكل نہيں ہے_ مثال كے طور جرمنى


كے فرمانروا ہٹلر اور دوسرى عالمى جنگ كے دوران اس كا كردار ہمارے لئے حجت و سند نہيںبن سكتے ان كافائدہ صرف علمى سطح پر ہى ہوسكتا ہے يا زيادہ سے زيادہ يہ ہوسكتا ہے كہ ہم اس كى زندگى سے عبرت حاصل كریں_

۲_دقت: تاريخ كے جتنے بھى منابع وماخذ موجود ہيں ان ميں معلومات كے لحاظ سے تاريخ اسلام سب سے زيادہ مالامال ہے چنانچہ جب كوئي محقق تاريخ اسلام لكھنا چا ہے تو اسے دقيق تاريخى واقعات وافر مقدار ميں مل جائيں گے_ اس كے علاوہ تاريخ اسلام ميں جس قدر مستند ، باريك اور روشن نكات موجود ہيں وہ ديگرتاريخوںميں نظر نہيں آتے_

اسكى وجہ يہ ہے كہ مسلمان رسول خدا (ص) كى سنت اور سيرت كو حجت تسليم كرتے ہيں اور وہ اسے محفوظ كرنے كى كوشش ميں لگے رہتے تھے_

تاريخ اسلام كے بارے ميں استاد مطہرى رقم طراز ہيں:

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كو ديگر اديان و مذاہب پر جو دوسرى فضيلت و فوقيت حاصل ہے وہ يہ ہے كہ پيغمبر اسلام(ص) كى تاريخ بہت زيادہ واضح اور مستند ہے _ اس اعتبار سے دنيا كے ديگر راہنما ہمارى برابرى نہيں كرسكتے_ چنانچہ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى زندگى كى ايسى يقينى اور مسلم دقيق باتيں اور ان كى جزئيات ہمارے پاس آج بھى اسى طرح موجود و محفوظ ہيں جو كسى اور كے بارے ميں نہيں ملتيں _ آپ (ص) كا سال ولادت ، ماہ ولادت ، ہفتہ ولادت يہاں تك كہ روز ولادت تك تاريخ كے سينے ميں درج ہے دوران شير خوارگي، وہ زمانہ جو آپ (ص) نے صحراميں بسر كيا ' آپ (ص) كے بچپن اور نوجوانى كا زمانہ، ملك عرب سے


باہر آپ(ص) كے سفر، وہ مشاغل جو آپ (ص) نے نبوت سے پہلے انجام ديئے آپ (ص) نے كس سال شادى كى اور اس وقت آپ (ص) كا سن مبارك كيا تھا آپ (ص) كى ازواج كے بطن سے كتنے بچوں كى ولادت ہوئي اور جو بچے آپ (ص) كى رحلت سے قبل اس دنيا سے كوچ كرگئے تھے اور وفات كے وقت ان كى كيا عمريں تھى ،نيز عہد رسالت تك پہنچنے تك كے اكثر واقعات ہميں بخوبى معلوم ہيں اور كتب تاريخ ميںمحفوظ ہيں _اوراس كے بعد تويہى واقعات دقيق تر ہوجاتے ہيں كيونكہ اعلان رسالت جيسا عظيم واقعہ رونما ہوتا ہے _ يہاں وہ پہلا شخص كون تھا جو مسلمان ہوا اس كے بعد دوسرا كون مشرف بااسلام ہوا ، تيسرا شخص جو ايمان لايا كون تھا؟ فلاں شخص كس عمر ميں اور كب ايمان لايا_ دوسرے لوگوں سے آپ(ص) كى كيا گفتگو ہوئي ، كس نے كيا كارنامے انجام ديئےحالات كيا تھے اور كيا راہ و روش اختيار كى سب كے سب دقيق طور پر روشن و عياں ہيں(۹)

۳_ سب سے زيادہ اہم بات يہ ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كى تاريخ زمانہ ''وحي'' كے دوران متحقق ہوئي _ تيئيس سالہ عہد نبوت كا ہر واقعہ وحى الہى كے نور سے منور ہوا اور اسى كے ذريعہ اس كا تجزيہ اور تحليل كيا گيا_ قرآن مجيد ميں عہد نبوت كے دوران پيش آنے والے بہت سارے مسائل وواقعات كا تذكرہ ہوا ہے جس واقعہ كو قرآن نے بيان كيا ہے اور خداوند عالم الغيب والشہادة نے اسكا تجزيہ و تحليل كيا ہے ،وہ تجزيہ تاريخى واقعات كے بارے ميں بلا شبہ مستند ترين و دقيق ترين نظريہ اور تجزيہ ہے_ اگر ہم واقعات كے بارے ميں غورو فكر كريں تو اس نظريئے اور تجزيئے كى روشنى ميں ہم ديگر تمام واقعات كى حقيقت تك پہنچ سكتے ہيں اور ان سے نتائج اخذ كركے دوسرے واقعات كا بھى اسلامى و قرآنى طرز تحليل معلوم كرسكتے ہيں_


عہد رسالت كى تاريخ خود ذات گرامى پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى طرح انسانيت كےلئے بہترين مثال اور نمونہ عمل ہے _ چنانچہ تاريخ انسانيت كےلئے بھى يہى تاريخ بہترين نمونہ و مثال ثابت ہوسكتى ہے اور تاريخى رسوم و رواج كے لئے ہم اسے سودمندترين اور مالامامل ترين ماخذ كے طور پر بروئے كار لاسكتے ہيں_


سوالات

۱_ ''تاريخ'' كى لغوى اور اصطلاحى تعريف كيجئے؟

۲_تاريخ كى مختلف اقسام بيان كيجئے؟

۳_منقول تاريخ كى تعريف كيجئے اور خصوصيات بتائے؟

۴_بعض لوگ منقول تاريخ سے بد ظن ہيں اس كا كيا سبب ہے، بيان كيجئے؟

۵_قرآن مجيد كى رو سے تاريخ كى اہميت بيان كيجئے؟

۶_تاريخ اسلام كو ديگر تواريخ پر كيا فوقيت حاصل ہے؟ اس كى كوئي ايك مثال مختصر طور

پر بيان كيجئے؟


حوالہ جات

۱_ ملاحظہ ہو :القاموس المحيط لفط'' ارخ''_

۲_ تاريخ سياسى معاصر ايران ، ج ۱ ، ص ۷_

۴_علمى اورمنقول تاريخ ميں فرق يہ ہے كہ علمى تاريخ صرف كلى اور عقلى ہى نہيں ہوتى ہے بلكہ يہ تاريخ مرتب ہى منقول تاريخ كى بنياد پر ہوتى ہے (يعنى علمى تاريخ ميں منقول تاريخ بھى شامل ہوتى ہے _ مترجم) جب مورخ اس نوعيت كى تاريخ لكھتا ہے تو وہ يہ بھى دريافت كرنا چاہتا ہے كہ تاريخى واقعات كى ماہيت اور طبيعت نيز ايك دوسرے كے ساتھ ان كا ربط اور تاريخ سازى ميں ان كا كيا كردار رہا ہے تاكہ اصول علت و معلول كے تحت وہ ايسے عام قواعد و ضوابط مرتب كرسكے جن كا اطلاق عہد ماضى و حال دونوں پر ہوسكے اس بناپر اس علم كا موضوع ہر چند عہد گزشتہ كے واقعات ہيں مگر اس سے مورخ ايسے مسائل اور قواعد و ضوابط استخراج كرتا ہے جن كا تعلق فقط عہد ماضى سے نہيں ہوتابلكہ ان كا اطلاق زمانہ حال و مستقبل پر بھى ہوسكتا ہے جامعہ وتاريخ نامى كتاب كے صفحہ ۳۵۲ كا خلاصہ_

۵_ملاحظہ ہو جامعہ وتاريخ ص ۳۵۱_ ۳۵۲ مطبوعہ دفتر انتشارات اسلامى _ اس مفہوم ميں علم تاريخ درحقيقت كسى معاشرے كے ايك مرحلہ سے دوسرے مرحلہ ميں ارتقاء كا علم ہے كسى خاص مرحلے ميں ان كى بود و باش اور ان كے حالات كا علم نہيں_ دوسرے لفظوں ميں يہ صرف گذشتہ واقعات كا ہى نہيں بلكہ معاشروں ميں تبديليوں كا علم ہے_ اس بناپر فلسفہ تاريخ كے موضوعات كے '' تاريخي'' ہونے كا معيار صرف يہ نہيں كہ ان كا تعلق گذشتہ زمانے سے ہے بلكہ يہ ان سلسلہ وار واقعات كا علم ہے جن كا آغاز ماضى ميں ہوا اور ان كا سلسلہ ابھى تك بھى جارى و سارى ہے_

۶_شہيد مطہرى كى كتاب جامعہ و تاريخ سے اقتباس_

۷_سورہ ممتحنہ آيت ۴


۸_احزاب ۲۱

۹_سيرہ نبوى (ص) ص ۵ و ۶ طبع انتشارات اسلامى تہران (ايران)

۱۰_ آل عمران آيت ۱۳۷

۱۱_ نہج البلاغہ مكتوب نمبر۳۱ _ يہ خط حضرت على (ع) نے اپنے عزيزفرزند حضرت امام حسن عليہ السلام كےلئے مرقوم فرمايا تھا

۱۲_قرون وسطى كا آغاز سنہ ۴۷۶ ميں ہوااور اس كا اختتام ۱۴۵۳ (۸۳۳ ہجري) عيسوى ميں سلطان محمد فاتح كے قسطنطنيہ كو فتح كرنے كے سال ہوا(ملاحظہ ہو تاريخ سياسى معاصر ايران ج ۱/۸)


سبق ۲:

اسلام سے قبل جزيرہ نما ئے عرب كى حالت


حدود اربعہ اور محل وقوع

جزيرہ نما ئے عرب 'براعظم ايشيا كے جنوب مغرب ميں واقع ہے اس كے شمال ميں عراق اور اردن مشرق ميں خليج فارس جنوب ميں بحر عمان اور مغرب ميں بحر احمر اور خليج عقبہ واقع ہے_

اس جزيرہ نما كارقبہ تيس لاكھ مربع كلوميٹر سے زيادہ ہے_ اور جغرافيائي اعتبار سے تين حصوںميں تقسيم ہوتا ہے_

۱_ مركزى حصہ صحرائے عرب كے نام سے مشہور ہے اور يہ اس جزيرہ نماكا وسيع ترين علاقہ ہے_

۲_شمالى علاقہ كا نام حجاز ہے_ حجاز'' حَجَزَ''سے مشتق ہے جس كے معنى حائل اور مانع ہيں_ چونكہ يہ سرزمين نجد اور تہامہ كے درميان واقع اور دونوں علاقوں كے باہم ملاپ سے مانع ہے اسى لئے اس علاقے كو حجاز كہاجاتا ہے_(۱)

۳_ اس جزيرہ نما كا جنوبى حصہ بحر ہند او ربحر احمر كے ساحل پر واقع ہے جس ميں يمن اور حضر موت كے علاقے شامل ہيں_

جنوبى علاقے كے علاوہ جزيرہ نما كا پورا علاقہ مجموعى طور پر خشك اور بے آب و گياہ صحرا پر مشتمل ہے مگر بعض جگہوں پر اس ميں نخلستان بھى پائے جاتے ہيں _


سياست

زمانہ جاہليت كے عرب سياسى اعتبار سے كسى خاص طاقت كے مطيع اور فرمانبردار اور قانوں كے تابع نہ تھے_ وہ صرف اپنے ہى قبيلے كى طاقت كے بارے ميں سوچتے تھے دوسروں كے ساتھ ان كا وہى سلوك تھا جو افراطى قوم پرست ور نسل پرست روا ركھتے ہيں_

جغرافيائي اور سياسى اعتبار سے جزيرہ نمائے عرب ايسى جگہ واقع ہے كہ جنوبى علاقے كے علاوہ اس كا باقى حصہ اس قابل نہ تھا كہ ايران اور روم (موجودہ اٹلى) جيسے جنگجو اور كشور كشا ممالك اس كى جانب رخ كرتے _ چنانچہ اس زمانے ميں ان فاتحين نے اس كى طرف كم توجہ دى كيونكہ اس كے خشك بے آب و گياہ اور تپتے ہوئے ريگستان ان كے لئے قطعى بے مصرف تھے اس كے علاوہ عہد جاہليت كے عربوں كو قابو ميں لانا اور ان كے زندگى كو كسى نظام كے تحت منظم و مرتب كرنا انتہائي سخت اور دشوار كام تھا_


قبيلہ

عرب ، انفرادى زندگى كو اپنے استبدادى اور خود خواہ مزاج كے مطابق پاتے تھے چنانچہ انہوں نے جب بيابانوں ميں زندگى كى مشكلات كا مقابلہ كيا تو يہ اندازہ لگايا كہ وہ تنہا رہ كر زندگى بسر نہيں كرسكتے اس بنا پر انہوں نے فيصلہ كيا كہ جن افراد كے ساتھ ان كا خونى اورنسلى يا سسرالى رشتہ دارى تھي_ ان كے ساتھ مل كر اپنے گروہ كو تشكيل ديں جس كا نام انہوں نے ''قبيلہ'' ركھا _ قبيلہ ايسى مستقل اكائي تھى جس كے ذريعے عہد جاہليت ميں عرب قوميت كى اساس و بنياد شكل پذير ہوتى تھى اور وہ ہر اعتبار سے وہ خود كفيل ہوتى تھي_

دور جاہليت ميں عربوں كے اقدار كامعيار قبائلى اقدارميں منحصر تھا ہر فرد كى قدر ومنزلت كا اندازہ اس بات سے لگايا جاتا تھا كہ قبيلے ميں اس كا كيا مقام و مرتبہ اور اہل قبيلہ ميں اس كا كس حد تك اثر و رسوخ ہے يہى وجہ تھى كہ قدر و منزلت كے اعتبار سے سرداران قبائل كو بالاترين مقام و مرتبہ حاصل تھا جبكہ اس كے مقابلے ميں كنيزوں اور غلاموں كا شمار قبائل كے ادنى ترين و انتہائي پست ترين افراد ميں ہوتا تھا_

ديگر قبائل كے مقابلے ميں جس قبيلے كے افراد كى تعداد جتنى زيادہ ہوتى اس كى اتنى ہى زيادہ عزت اور احترام ہوتاتھا اور وہ قبيلہ اتنا ہى زيادہ فخر محسوس كرتا اس لئے ہر قبيلہ اپنى قدر و منزلت بڑھانے اور افراد كى تعداد كو زيادہ كھانے كى غرض سے اپنے قبيلے كے مردوں كى قبروں كو بھى شامل اور شمار كرنے سے بھى دريغ نہ كرتا چنانچہ اس امر كى جانب قرآن نے اشارہ كرتے ہوئے بيان كيا ہے:

( أَلهَاكُم التَّكَاثُرُ، حَتَّى زُرتُم المَقَابرَ ) (۲)

''ايك دوسرے پر (كثرت افراد كى بنياد پر )فخر جتانے كى فكر نے تمہيں قبروں (كے ديدار )تك پہنچاديا ''(۳) _

معاشرتى نظام

جزيزہ نما ئے عرب كے اكثر و بيشتر لوگ اپنے مشاغل كے تقاضوں كے باعث صحرانشينى كى زندگى اختيار كئے ہوئے تھے _ كل آبادى كاصرف چھٹا حصہ ايسا تھا جو شہروں ميں آباد تھا ، شہروں ميں ان كے جمع ہونے كى وجہ يا تو اُن شہروںكا تقدس تھا يا يہ كہ ان ميں تجارت ہوتى تھى چنانچہ مكہ كو دونوں ہى اعتبار سے اہميت حاصل تھى اس كے علاوہ شہروں


ميں آباد ہونے كى وجہ يہ بھى تھى كہ وہاں كى زمينين سرسبزو شاداب تھيں اور ان كى ضروريات پورى كرنے كيلئے ان ميں پانى كے علاوہ عمدہ چراگاہيں بھى موجود تھيں _ يثرب ' طائف' يمن ' حيرہ ' حضرموت اور غسان كا شمار ايسے ہى شہروں ميں ہوتا تھا_

عرب كے باديہ نشين (ديہاتى جنہيں بدو كہا جاتا ہے)اپنے خالص لب ولہجہ اور قومى عادت و خصلت كے اعتبار سے شہر نشين عربوں كے مقابل اچھے سمجھے جاتے تھے اسى لئے عرب كے شہرى اپنے بچوں كو چند سال كے لئے صحرائوں ميں بھيجتے تھے تاكہ وہاں ان كى پرورش اسى ماحول اور اسى تہذيب و تمدن كے گہوارے ميں ہوسكے_

ليكن اس كے مقابلے ميں شہروںميں آباد لوگوں كى سطح فكر زيادہ سيع اور بلند تھى اور ايسے مسائل كے بارے ميں ان كى واقفيت بھى زيادہ تھى جن كا تعلق قبيلے كے مسائل سے جدا اور ہٹ كر ہوتا تھا_

جبكہ صحرا نشين لوگوں كو شہرى لوگوں كے مقابل زيادہ آزادى حاصل تھي_ اپنے قبيلے كے مفادات كى خاطر ہر شخص كو يہ حق حاصل تھا كہ عملى طور پر وہ جو چاہے كرے اس معاملے ميں اہل قبيلہ بھى اس كى مدد كرتے تھے اسى لئے دوسروں سے جنگ و جدال اور ان كے مال ودولت كى لوٹ مار ان كے درميان ايك معمولى چيز بن گئي تھى _ چنانچہ عربوں ميں جنہوں نے شجاعت و بہادرى كے كارنامے سر انجام ديئے ہيں ان ميں سے اكثر وبيشتر صحرا نشين ہى تھے_

دين اور دينداري

زمانہ جاہليت ميںملك عرب ميں بت پرستى كا رواج عام تھا اور لوگ مختلف شكلوں ميں


اپنے بتوں كى پوجا كرتے تھے اس دور ميں كعبہ مكمل طور پر بت خانہ ميں بدل چكا تھا جس ميں انواع و اقسام اور مختلف شكل و صورت كے تين سو ساٹھ سے زيادہ بت ركھے ہوئے تھے اور كوئي قبيلہ ايسا نہ تھا جس كا بت وہاں موجود نہ ہو_ حج كے زمانے ميں ہر قبيلے كے لوگ اپنے بت كے سامنے كھڑے ہوتے اس كى پوجا كرتے اور اس كو اچھے ناموںسے پكارتے نيز تلبيہ بھى كہتے تھے_(۴)

ظہور اسلام سے قبل يہود ى اور عيسائي مذہب كے لوگ بھى جو اقليت ميں تھے جزيرہ نمائے عرب ميں آباد تھے_ يہودى اكثر وبيشتر خطہ عرب كے شمالى علاقوں مثلاً يثرب' وادى القري' تيمائ' خيبراور فدك جيسے مقامات پر رہا كرتے تھے جبكہ عيسائي جنوبى علاقوں يعنى يمن اور نجران جيسى جگہوں پر بسے ہوئے تھے_

انہى ميں گنتى كے چند لوگ ايسے بھى تھے جو وحدانيت كے قائل اور خدا پرست تھے اور وہ خود كو حضرت ابراہيم عليہ السلام كے دين كے پيروكار سمجھتے تھے_ مورخين نے ان لوگوں كو حُنَفاء كے عنوان سے ياد كيا ہے_(۵)

بعثت رسول (ص) كے وقت عربوںكى مذہبى كيفيت كو حضرت على عليہ السلام نے اس طرح بيان كيا ہے :

(... وَاَهلُ الاَرض يَومَئذ: ملَلٌ مُتَفَرّقَة ٌوَاَهوَائٌ مُنتَشرَة ٌوطَرَائقُ مُتَشَتّتَةٌ بَينَ مُشَبّه للّه بخَلقه اَو مُلَحد: في اسمه اَو مُشير: الى غَيره فَهَدَاهُم به منَ الضَّلَالَة وَاَنَقَذَهُم بمَكَانه منَ الجَهَالَة) (۶)

اس زمانے ميں لوگ مختلف مذاہب كے ماننے والے تھے ان كے افكارپريشان اور


ايك دوسرے كى ضد اور طريقے مختلف تھے بعض لوگ خدا كو مخلوق سے تشبيہ ديتے تھے (ان كا خيال تھاكہ خدا كے بھى ہاتھ پير ہيں اس كے رہنے كى بھى جگہ ہے اور اس كے بچے بھى ہيں) وہ خدا كے نام ميں تصرف بھى كرتے (اپنے بتوں كا نام خدا كے مختلف ناموں سے اخذ كركے ركھتے تھے مثلاً لات كو اللہ' عزّى كو عزيز اور منات كو منان كے ناموں سے اخذ كركے ركھا تھا)(۷) بعض ملحد لوگ خدا كے علاوہ دوسرى اشيا يعنى ماديات پر يقين ركھتے تھے (جس طرح دہريے تھے جو صرف طبيعت ، زمانہ ،حركات فلكيہ اورمرورمان ہى كو امور ہستى پر مؤثر سمجھتے تھے) _(۸) خداوند متعال نے پيغمبر (ص) كے ذريعے انہيں گمراہى سے نجات دلائي اور آپ (ص) كے وجود كى بركت سے انہيں جہالت كے اندھيرے سے باہر نكالا_

جب ہم بت پرستوں كے مختلف عقائد كا مطالعہ كرتے ہيں اور ان كا جائزہ ليتے ہيں تو اس نتيجے پر پہنچتے ہيں كہ انہيں اپنے بتوں سے ايسى زبردست عقيدت تھى كہ وہ ان كى ذراسى بھى توہين برداشت نہيں كرسكتے تھے اسى لئے وہ حضرت ابوطالب (ع) كے پاس جاتے اور پيغمبر (ص) كى شكايت كرتے ہوئے كہتے كہ وہ ہمارے خدائوں كو برا كہہ رہے ہيں اور ہمارے دين ومذہب كى عيب جوئي كر رہے ہيں(۹) _ وہ خدائے مطلق كے وجود كے معتقد اور قائل تو تھے اور اللہ كے نام سے اسے يادبھى كرتے تھے مگر اس كے ساتھ ہى وہ بتوں كو تقدس و پاكيزگى كا مظہر اور انہيں قابل پرستش سمجھتے تھے وہ يہ بات بھى اچھى طرح جانتے تھے كہ يہ بت ان كے معبود تو ہيں مگر ان كے خالق نہيں چنانچہ يہى وجہ تھى كہ جب رسول خدا (ص) ان سے گفتگو فرماتے تو يہ ثابت نہيں كرتے تھے كہ خداوند تعالى ان كا خالق ہے بلكہ ثبوت ودلائل كے ساتھ يہ فرماتے كہ خدائے مطلق ، واحد ہے اور ان لوگوںكے بنائے ہوئے معبودوں كى حيثيت و حقيقت كچھ بھى نہيں_


قرآن مجيد نے مختلف آيات ميں اس حقيقت كى جانب اشارہ كيا ہے _يہاں اس كے چند نمونے پيش كئے جاتے ہيں:

( وَلَئن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرضَ لَيَقُولُنَّ الله ُ ) (۱۰)

''ان لوگوں سے اگر تم پوچھو كہ زمين اور آسمان كو كس نے پيدا كيا ہے ؟ تو يہ خود ہى كہيں گے كہ اللہ نے''_

اس كے علاوہ وہ بت پرستى كى يہ بھى توجيہ پيش كرتے تھے كہ :

( مَا نَعبُدُهُم إلاَّ ليُقَرّبُونَا إلَى الله زُلفَي ) (۱۰)

''ہم تو ان كى عبادت صرف اس لئے كرتے ہيں كہ وہ اللہ تك ہمارى رسائي كراديںگے_

دوسرے لفظوں ميں وہ يہ كہا كرتے تھے كہ:

( هَؤُلَائ شُفَعَاؤُنَا عندَ الله ) (۱۲)

''يہ اللہ كے ہاں ہمارے سفارشى ہيں''

تہذيب و ثقافت

زمانہ جاہليت كے عرب ناخواندہ اور علم كى روشنى سے قطعى بے بہرہ تھے _ ان كے اس جہل و ناخواندگى كے باعث ان كے پورے معاشرے پرجہالت اور خرافات سے اٹى بے ثقافتى حاكم تھى (وہ بے تہذيب لوگ تھے)_ ان كى كثير آبادى ميں گنتى كے چندلوگ ہى ايسے تھے جو لكھنا اور پڑھنا جانتے تھے(۱۳)

دور جاہليت ميں عرب تہذيب و تمدن كے نماياں ترين مظہر حسب ونسب كى پہچان،


شعر گوئي اور تقارير ميں خوش بيانى جيسے اوصاف تھے_ چنانچہ عيش وعشرت كى محفل ہو ، ميدان كارزارہو يا قبائلى فخر فروشى كا ميدان غرض وہ ہرجگہ پرشعر گوئي يا جادو بيان تقارير كا سہارا ليتے تھے_

اس ميں شك نہيں كہ اسلام سے قبل عربوں ميں شجاعت، شيرين بياني، فصاحت و بلاغت مہمان نوازي، لوگوں كى مدد اور آزادى پسندى جيسى عمدہ خصوصيات و صفات بھى موجود تھيں مگر ان كے رگ و پے ميں سرايت كر جانے والى قابل مذمت عادات و اطوار كے مقابلے ميں ان كى يہ تمام خوبياں بے حقيقت بن كر رہ گئي تھيں_ اس كے علاوہ ان تمام خوبيوں اور ذاتى اوصاف كا اصل محرك، انسانى اقدار اور قابل تحسين باتيں نہ تھيں _

زمانہ جاہليت كے عرب طمع پرورى اور مادى چيزوں پر فريفتگى كا كامل نمونہ تھے_ وہ ہر چيز كو مادى مفاد كے زاويے سے ديكھتے تھے_ ان كى معاشرتى تہذيب بے راہروى ، بد كردارى اور قتل و غارتگرى جيسے برے افعال و اعمال پر مبنى تھى اور يہى پست حيوانى صفات ان كى سرشت اور عادت و جبلت كا جز بن گئي تھيں_

دور جاہليت ميں عربوں كى ثقافت ميں اخلاقيات كى توجيہ و تعبير دوسرے انداز ميں كى جاتى تھى _ مثال كے طور پر غيرت، مروت اور شجاعت كى تعريف تو كرتے تھے مگر شجاعت سے ان كى مراد سفاكى اور دوسروں كے قتل و خونريزى كى زيادہ سے زيادہ طاقت ہوتى تھي_ غيرت كا مفہوم ان كے تمدن ميں لڑكيوں كو زندہ دفن كردينا تھا_ اور اپنے اس طريقہ عمل سے اپنى غيرت كى نماياں ترين مثال پيش كرتے تھے _ ايفائے عہد كا مطلب وہ يہ سمجھتے تھے كہ حليف يا اپنے قبيلے كے افراد كى ہر صورت ميں حمايت كريں چاہے وہ حق پر ہويا باطل پر_


توہم پرستى اور خرافات كى پيروي

طلوع اسلام كے وقت دنيا كى تمام اقوام كے عقائد ميں كم وبيش خرافات ، توہمات اور افسانے و غيرہ شامل تھے _ اس زمانے ميں يونانى اور ساسانى اقوام كا شمار دنيا كى سب سے زيادہ ترقى يافتہ اقوام ميں ہوتا تھا _ چنانچہ ان لوگوں كے اذہان اور افكار پر انہى كے قصوں اور كہانيوں كا غلبہ تھا _يہ بھى ايك حقيقت ہے كہ تہذيب وتمدن اور علم كے اعتبار سے جو بھى معاشرہ جس قدر پسماندہ ہوگا اس ميں توہمات و خرافات كا اتنا ہى زيادہ رواج ہوگا _ جزيرہ نما ئے عرب ميں توہمات اور خرافات كا رواج عام تھا ان كے بہت سے واقعات تاريخ نے اپنے سينے ميں محفوظ كرركھے ہيں _ يہاں بطور مثال چند نمونے پيش كئے جاتے ہيں:

۱_ايسى آنتوں اور ڈوريوں و غيرہ كو جنہيں كمانوں كى تانت بنانے كے كام ميں لاياجاتا تھا لوگ اپنے اونٹوں اور گھوڑوں كى گردنوں نيز سروں پر لٹكادياكرتے تھے _ ان كا عقيدہ تھا كہ ايسے ٹوٹكوں سے ان كے جانور بھوت پريت كے آسيب سے بچے رہتے ہيں اور انہيں كسى كى برى نظر بھى نہيں لگتى _ نيز جنگ اور لوٹ ماركے موقع پر بلكہ ہر موقع پر انہيں دشمنوں كى گزند سے محفوظ ركھنے ميں بھى يہ ٹوٹكے مؤثر ہيں_(۱۴)

۲_خشك سالى كے زمانے ميں بارش لانے كى غرض سے جزيرہ نما ئے عرب كے بوڑھے اور كاہن لوگ ''سَلَع'' نامى درخت (جس كا پھل كڑوا ہوتا ہے) اور ''عُشَر'' نامى پيڑ(جس كى لكڑى جلدى جل جاتى ہے) كى لكڑيوں كوگائے كى دُموں اور پيروں ميں باندھ ديتے اور انہيں پہاڑوں كى چوٹيوں تك ہانك كر لے جاتے_ اس كے بعد وہ ان لكڑيوں كو آگ لگاديتے _ آگ كے شعلوں كى تاب نہ لاكر ان كى گائے


ادھر ادھر بھاگنے لگتى اور سرمار مار كر ڈكرانا شروع كرديتي_ ان كے خيال ميں ان گائيوں كے ڈكرانے اور بے قرارى كرسے پانى برسنے لگے گا _ شايد اس گمان سے كہ جب بارش بھيجنے والا مؤكل يا خدا (ورشا ديوى يا جل ديوتا) ان گائيوں كو تڑپتا ہوا ديكھيں گے تو ان كى پاكيزگى اورتقدس كى خاطر جلد ہى بادلوں كو برسنے كيلئے بھيج ديں گے_(۱۵)

۳_وہ مردوں كى قبروں كے پاس اونٹ نحر كركے اسے گڑھے ميں ڈال ديتے _ ان كا يہ عقيدہ تھا كہ ان كے اس كا م سے صاحب قبر عزت واحترام كے ساتھ اونٹ پر سوارمحشر ميں واردہوگا_(۱۶)

عہد جاہليت ميں عورتوں كا مقام

دورجاہليت كے عرب عورتوں كى قدر ومنزلت كے ذرہ برابر بھى قائل نہ تھے_ وہ ہر قسم كے انفرادى و اجتماعى حقوق سے محروم تھيں_ اس عہد جاہليت كے معاشرتى نظام ميں عورت صرف ورثے سے ہى محروم نہيں ركھى جاتى تھى بلكہ خود اس كا شمار بھى اپنے باپ' شوہر يا بيٹے كى جائداد ميں ہوتا تھا _ چنانچہ مال و جائداد كى طرح اسے بھى ورثے اور تركے ميں تقسيم كردياجاتا تھا _

عرب قحط سالى كے خوف يا اس خيال سے كہ لڑكيوں كا وجود ان كى ذات كےلئے باعث ننگ و عيب ہے انہيں پيدا ہوتے ہى زمين ميں زندہ گاڑديتے تھے_

اپنى معصوم لڑكيوں سے انہوں نے جو غير انسانى و ناروا سلوك اختيار كر ركھا تھا اس كى مذمت كرتے ہوئے قرآن مجيد فرماتا ہے:


( وَإذَا بُشّرَ أَحَدُهُم بالأُنثَى ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدًّا وَهُوَ كَظيمٌ _ يَتَوَارَى من القَوم من سُوئ مَا بُشّرَ به أَيُمسكُهُ عَلَى هُون: أَم يَدُسُّهُ فى التُّرَاب أَلاَسَائَ مَا يَحكُمُونَ ) (۱۷)

''جب ان ميں سے كسى كو بيٹى كے پيدا ہونے كى خبر دى جاتى ہے تويہ سنتے ہى اس كا چہرہ سياہ پڑ جاتا ہے اور وہ بس خون كا گھونٹ سا پى كر رہ جاتا ہے_ لوگوں سے منھ چھپاتا پھرتا ہے كہ برى خبر كے بعد كيا كسى كو منہ دكھائے _ سوچتا ہے كہ ذلت كے ساتھ بيٹى كو لئے رہے يا مٹى ميں دبا دے بے شك وہ لوگ بہت برا كرتے ہيں''_

دوسرى آيت ميں بھى قرآن مجيد انہيں اس برى اور انسانيت سوز حركت كے بد-لے خداوند تعالى كى بارگاہ ميں جوابدہ قرار ديتا ہے _ چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:

( وَإذَا المَوئُودَةُ سُئلَت بأَيّ ذَنب: قُتلَت ) _(۱۸)

''او رجب زندہ گاڑى ہوئي لڑكى سے پوچھا جائے گا كہ وہ كس قصور ميں مارى گئي''_

سب سے زيادہ افسوس ناك بات يہ تھى كہ ان كے درميان شادى بياہ كى ايسى رسومات رائج تھيں كہ ان كى كوئي خاص بنياد نہ تھى وہ اپنى شادى كے لئے كسى معين حد كے قائل نہ تھے(جتنى بھى دل كرتا بيوياں اپنے پاس ركھتے تھے)_ مہر كى رقم ادا كرنے كى ذمہ دارى سے سبكدوش ہونے كيلئے وہ انہيں تكليف اور اذيت ديتے تھے _ كبھى وہ اپنى زوجہ پر بے عصمت ہونے كا نارواالزام لگاتے تاكہ اس بہانے سے وہ مہر كى رقم ادا كرنے سے بچ جائيں _ ان كا باپ اگر كسى بيوى كو طلاق دے ديتا ' يا خود مرجاتا تو اس كى بيويوں سے شادى كرلينا ان كيلئے كوئي مشكل نہ تھانہ ہى قابل اعتراض تھا_


حرمت كے مہينے

دور جاہليت كے تہذيب و تمدن ميں ذى القعدہ ' ذى الحجة ' محرم اور رجب چار مہينے ايسے تھے جنہيں ماہ حرام سے تعبير كياجاتا تھا _ ان چار ماہ كے دوران ہر قسم كى جنگ و خونريزى ممنوع تھي_ البتہ اس كے بدلے تجارت ' ميل ملاقات' مقامات مقدسہ كى زيارت اوردينى رسومات كى ادائيگى اپنے عرو ج پر ہوتى تھيں_

اور چونكہ قمرى مہينے سال كے موسموں كے لحاظ سے آہستہ آہستہ بدلتے رہتے تھے اوربسا اوقات يہ موسم ان كى تجارت و غيرہ كےلئے سازگار اور مناسب نہ ہوتے اسى لئے وہ قابل احترام مہينوں ميں تبديلى كرليا كرتے تھے_ قرآن مجيد نے انہيں ''النسيئ'' كے عنوان سے ياد كيا ہے_(۱۹) چنانچہ فرماتاہے:

( إنَّمَا النَّسيئُ زيَادَةٌ فى الكُفر )

''حرام ہينوں ميں تبديلى اور تاخير تو ان كے كفر ميں ايك اضافہ ہے''_(۲۰)


سوالات

۱_ جزيرہ نمائے عرب كا محل وقوع بتايئے؟

۲_ فاتحين كس وجہ سے جزيرہ نمائے عرب كى طرف توجہ نہيں ديتے تھے؟

۳_ جزيرہ نمائے عرب كى اسلام سے قبل معاشرتى حالت كيا تھي؟ صراحت سے

بيان كيجئے؟

۴_ دور جاہليت كے عربوںميں كس قسم كا مسلك زيادہ رائج تھا؟

۵_ كيا عربوں كا خدا پراعتقاد تھا؟ قرآن مجيد سے كوئي ايك دليل پيش كيجئے؟

۶_ عربوں ميں كس قسم كے توہمات و خرافات كا رواج تھا اس كى ايك مثال پيش كيجئے؟

۷_ عہد جاہليت ميں عورت كا كيا مقام تھا؟


حوالہ جات

۱_ معجم البلدان ج ۲ ' ۶۳ و ۲۱۹

۲_ سورہ التكاثر آيت ۱و ۲

۳_ اصل كتاب ميں اسى طرح ترجمہ ہوا ہے _ مترجم

۴_تاريخ يعقوبى ، ج ۱، ص ۲۵۵ ، تلبيہ '' لَبَّيْكَ اللّہُمَ لَبَّيْكَ'' كہنے كا نام ہے _ مترجم _ہر قبيلے كا لبيك كہنے كا ايك مخصوص طريقہ تھا مزيد معلومات كے لئے مذكور ماخ كا مطالعہ فرمائيں_

۵_ تاريخ پيا مبر اسلام (ص) ، ص ۱۳ ، علامہ آيتى مرحوم نے اس عنوان كے تحت چودہ ايسے افراد كے نام بھى بيان كئے ہيں جن كا شمار حنفا ميں ہوتا تھا_

۶_نہج البلاغہ خطبہ ۱ ص ۴۴ ، مرتبہ صبحى صالح

۷_ملاحظہ ہو : تفسير مجمع البيان ج ۴، ص ۵۰۳ سورہ اعراف آيت ۱۸۰ كے ذيل ميں

۸_زمانہ جاہليت كے عربوں كے عقائد سے مزيد واقفيت كے لئے ملاحظہ ہو: شرح ابن ابى الحديد ج ۱ صفحہ ۱۱۷

۹_السيرہ النبويہ ، ج۱ ، ص ۲۸۳_ ۲۸۴

۱۰_سورہ زمر آيت ۳۸

۱۱_سورہ زمر آيت ۳

۱۲_ سورہ يونس آيت ۱۷

۱۲_بلاذرى لكھتا ہے كہ ظہور اسلام كے وقت قريش ميں سے صرف سترہ افراد ايسے تھے جو لكھنا پڑھنا جانتے تھے (ملاحظہ ہو فتوح البلدان صفحہ ۴۵۷)

۱۴_اسلام و عقائد وآراء بشرى ص ۴۹۱

۱۵_لسان العرب، ج ۹ ، ص ۱۶۱، ملاحظہ ہو : لفظ ''سَلَعَ'' نيز اسلام و عقائد و آراء بشرى ، صفحہ ۵۰۱


۱۶_اسلام و عقائد و آراء بشرى صفحہ ۵۰۹

۱۷_ سورہ نحل آيت ۵۸_ ۵۹

۱۸_سورہ تكوير آيت ۸، ۹

۱۹_''نسيء ''لفظ ''نساء '' سے مشتق ہے ' جس كے معنى ' تاخير ميں ڈالنا ہے_ عہد جاہليت كے عرب كبھى كبھى قابل احترام مہينوں ميں تاخير كرديا كرتے تھے _ مثال كے طور پر وہ ماہ محرم كى جگہ ماہ صفر كو قابل احترام مہينہ بناليتے تھے_

۲۰_سورہ توبہ آيت ۳۷_


سبق ۳:

پيغمبر اكرم (ص) كا نسب اور آپ(ص) كى ولادت با سعادت


رسول خدا (ص) كا تعلق خاندان بنى ہاشم اور قبيلہ قريش سے ہے _ جزيرہ نما ئے عرب ميں تين سو ساٹھ(۳۶۰) قبيلے آباد تھے ان ميں قريش شريف ترين اور معروف ترين قبيلہ تھا نسب شناس ماہرين كى اصطلاح ميں قريش انہيں كہا جاتا ہے جو آنحضرت (ص) كے بار ہويں جدا مجد حضرت نضر بن كنانہ كى نسل سے ہوں _(۱)

آپ كے چوتھے جد اعلى حضرت قصى بن كلاب كا شمار قبيلہ قريش كے معروف اور سركردہ افراد ميں ہوتا تھا _ انہوں نے ہى كعبہ كى توليت اور كنجى ، قبيلہ ''خزاعہ'' كے چنگل سے نكالى تھي_ اور حرم كے مختلف حصوں ميں اپنے قبيلے كے افراد كو آبادكركے كعبہ كى توليت سنبھالى تھى _(۲)

معروف مورخ يعقوبى لكھتا ہے كہ ''قصى بن كلاب'' وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قبيلہ قريش كو عزت و آبرو بخشى اور اس كى عظمت كو اجاگر كيا(۳)

قبيلہ قريش ميں بھى خاندان بنى ہاشم سب سے زيادہ نجيب و شريف شمار ہوتا تھا _

رسول خدا (ص) كے آباء و اجداد

مورخين نے آنحضرت (ص) كے آباء و اجداد ميں حضرت عدنان تك اكيس پشتوںكے نام بيان كئے ہيں درج ذيل ترتيب وار اسماء پر سب متفق الرائے ہيں:


حضرت عبداللہ (ع) ، حضرت عبدالمطلب(ع) ، حضرت ہاشم(ع) ، حضرت عبدمناف (ع) ، حضرت قصي(ع) ، حضرت كلاب(ع) ، حضرت مرہ(ع) ، حضرت كعب(ع) ، حضرت لوي(ع) ، حضرت غالب(ع) ، حضرت فہر(ع) ، حضرت مالك(ع) ، حضرت نضر(ع) ، حضرت كنانہ(ع) ، حضرت خزيمہ(ع) ، حضرت مدركہ(ع) ، حضرت الياس(ع) ، حضرت مضر (ع) ، حضرت نزار(ع) ، حضرت معد (ع) اور حضرت عدنان(ع) _(۴)

حضرت عدنان سے اوپر حضرت ابراہيم (ع) تك اور حضرت ابراہيم خليل (ع) سے حضرت آدم صفى اللہ (ع) تك كى ترتيب كے بارے ميں اختلاف ہے _ اس سلسلے ميں پيغمبر اكرم (ص) كى ايك روايت بھى بيان كى گئي ہے_

(اذَا بَلَغَ نَسَبَيُ الى عَدُنَانَ فَامسُكُوا) (۵)

''جب ميرے نسب كے بارے ميں حضرت عدنان تك پہنچو تو توقف كرو (اور آگے مت بڑھو) ''_

ہم يہاں مختصر طور پر آپ (ص) كے چند قريبى آباء و اجداد كا حال بيان كريں گے_

حضرت عبدمناف (ع)

حضرت قصى كے عبدالدار، عبدمناف ، عبدالعزى اور عبد قصى نامى چار فرزند تھے_ جن ميں حضرت عبدمناف سب سے زيادہ شريف، محترم اور بزرگ سمجھے جاتے تھے(۶) حضرت عبدمناف كا اصل نام ''مغيرہ'' تھا _ انہيں اپنے والد محترم كے ہاں نيز لوگوں كے درميان خاص مرتبہ ا ور مقام حاصل تھا_ وہ بہت زيادہ سخى اور وجيہہ انسان تھے اسى وجہ سے انہيں ''فياض(۷) '' اور'' قمرالبطحاء(۸) '' كے القاب سے نوازا گيا ہے پرہيزگارى ،خوش اخلاقي' نيك چلن اور صلہ رحمى جيسے اوصاف كى طرف دعوت ان كى زندگى كا شعار تھا_(۹)


ان كى نظر ميں دنيوى مقامات و مراتب ہيچ تھے_ وہ اہل منصب لوگوں سے حسد بھى نہيں كرتے تھے_ اگر چہ كعبہ كے تمام عہدے اور مناصب ان كے بڑے بھائي عبدالدار كے پاس تھے مگر ان كى اپنے بھائي سے كوئي شكر رنجى نہيں تھي_

حضرت ہاشم (ع)

حضرت قصى (ع) كے فرزند، مكہ سے متعلق معاملات اور كعبہ كى توليت اور انتظام جيسے امور كو كسى اختلاف و قضيے كے بغير انجام ديتے رہے_ مگر ان كى وفات كے بعد عبدالدار اور عبدمناف كى اولاد كے درميان كعبہ كے عہدوں كے بارے ميں اختلاف ہوگيا _ بالآخر اتفاق اس بات پر ہوا كہ كعبہ كى توليت اور دارالندوہ(۱۰) كى صدارت عبدالدار كے فرزندوں كے پاس ہى رہے اور حاجيوں كو پانى پلانے نيز ان كى پذيرائي كا معاملہ حضرت عبدالمناف كے لڑكوں كى تحويل ميں دے ديا جائے _(۱۱) حضرت عبدمناف كے فرزندوں ميں يہ عہدہ حضرت ہاشم كے سپرد كيا گيا _(۱۲)

حضرت ہاشم اور ان كے بھائي عبدالشمس جڑواں پيدا ہوئے تھے پيدائشے كے وقت دونوں كے بدن ايك دوسرے سے جڑے ہوئے تھے _ جس وقت انہيں ايك دوسرے سے جدا كيا گيا تو بہت سا خون زمين پر بہہ گيا اور عربوں نے اس واقعہ كو سخت بدشگونى سے تعبير كيا_

اتفاق سے يہ بدشگونى اپنا كام كر گئي اور حضرت ہاشم اور عبدالشمس كے لڑكوں ميں ہميشہ كشمكش اور لڑائي رہي_

عبدالشمس كا لڑكا اميہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت ہاشم كى مخالفت شروع كى _ اس نے جب فرزندان عبدمناف ميں سے حضرت ہاشم ميں عزت و شرف اور بزرگوارى جيسے


اوصاف پائے تو ان سے حسد كرنے لگا اور اپنے چچا كے ساتھ مخاصمت اور مخالفت پر اتر آيا چنانچہ يہيں سے بنى ہاشم اور بنى اميہ كے درميان اختلاف اوردشمنى شروع ہوئي جو ظہور اسلام كے بعد بھى جارى رہي_(۱۳)

حضرت ہاشم اپنى ذمہ دارى نبھانے ميں كوئي دقيقہ فرو گذاشت نہيں كرتے تھے چنانچہ جيسے ہى حج كا زمانہ شروع ہوتا تھا وہ قبيلہ قريش كى پورى طاقت و قوت اور تمام وسائل اور امكانات حجاج بيت اللہ كى خدمت كيلئے بروئے كار لاتے اور زمانہ حج كے دوران جس قدر پانى اور خوراك كى انہيں ضرورت ہوتى وہ اسے فراہم كرتے_

لوگوں كى خاطر دارى 'مہمان نوازى اور حاجتمندوں كى مدد كرنے ميں وہ بے مثال و يكتائے روزگار تھے_ اسى وجہ سے انہيں ''سيدالبطحائ(۱۴) '' كے لقب سے ياد كياجاتا تھا_

حضرت ہاشم (ع) كے پاس اونٹ كافى تعداد ميں تھے _ چنانچہ جس سال اہل مكہ قحط اورخشك سالى كا شكار ہوئے تو انہوں نے اپنے بہت سے اونٹ قربان كرديئے اور اس طرح لوگوں كےلئے كھانے كا سامان فراہم كيا _(۱۵)

حضرت ہاشم (ع) كے انحصارى اور نماياں كارناموں ميں سے ايك ان كايہ كارنامہ بھى تھا كہ انہوں نے قريش كى محدود كاروبارى منڈيوں كو جاڑوں اور گرميوں كے موسم ميں لمبے تجارتى سفروں كے ذريعے وسيع كيا (دوسرے لفظوں ميں لوكل بزنس كو امپورٹ ايكسپورٹ بزنس ميں ترقى دى _ مترجم)اور اس علاقے كى اقتصادى زندگى ميں حركت پيدا كى(۱۶)

حضرت ہاشم (ع) كا انتقام بيس يا پچيس سال كى عمر ميں ايك تجارتى سفر كے دوران ''غزہ''(۱۷) ميں ہوا_


حضرت عبدالمطلب(ع)

حضرت ہاشم (ع) كى وفات كے بعد ان كے بھائي ''مطلب'' كو قبيلہ قريش كا سردار مقرر كيا گيا اور جب ان كى وفات ہوگئي تو حضرت ہاشم (ع) كے فرزند حضرت ''شيبہ(ع) '' كو ، جنہيں لوگ عبدالمطلب(ع) كہتے تھے قريش كى سردارى سپرد كى گئي_

حضرت عبدالمطلب(ع) كو اپنى قوم ميں خاص مقام و مرتبہ حاصل تھا اور لوگوں ميں وہ بہت مقبول اور ہر د ل عزيز تھے جس كا سبب وہ مختلف اچھے اوصاف اور فضائل تھے جو ان كى ذات ميں جمع ہوگئے تھے _ وہ عاجز و مجبور لوگوں كے حامى اور ان كے پشت پناہ تھے ، ان كى جود وبخشش كا يہ عالم تھا كہ ان كے دسترخوان سے صرف انسان ہى نہيں بلكہ پرندے اور حيوانات تك بھى فيضياب ہوتے اسى وجہ سے انہيں''فياض'' كا لقب ديا گيا تھا_(۱۸)

رسول خدا (ص) كے دادا بہت ہى دانشمند و بردبار شخص تھے _ وہ اپنى قوم كو اخلاق حسنہ ، جورو ستم سے كنارہ كشى ' برائيوں سے بچنے اور پست باتوںسے دور رہنے كى تعليم ديتے _ ان كا موقف يہ تھا كہ ''ظالم آدمى اپنے كئے كى سزا اسى دنيا ميں ہى پاتا ہے او ر اگر اسے اپنے كئے كا بدلہ اس دنيا ميں نہيںملتاتو آخرت ميں يہ سزا اسے ضرور ملے گي''_(۱۹)

اپنے اس عقيدے كى بناپر انہوں نے اپنى زندگى ميں نہ توكبھى شراب كو ہاتھ لگايا' نہ كسى بے گناہ كو قتل كيا اور نہ ہى كسى برے كام كى طرف رغبت كى بلكہ اس كے برعكس انہوں نے بعض ايسے نيك كاموں كى بنياد ركھى جن كى دين اسلام نے بھى تائيد كى ، ان كى قائم كردہ بعض روايات درج ذيل ہيں :

۱_باپ كى كسى زوجہ كو بيٹے كيلئے حرام كرنا

۲_مال و دولت كا پانچواں حصہ (خمس) راہ خدا ميں خرچ كرنا_


۳_چاہ زمزم كا ''سقاية الحاج'' نام ركھنا_

۴_قتل كے بدلے سو اونٹ بطور خوں بہا ادا كرنا_

۵_كعبہ كے گرد سات مرتبہ طواف كرنا _(۲۰)

البتہ تاريخ كى ديگركتابوں ميں ان كى قائم كردہ ديگر روايات كا بھى ذكر ملتا ہے جن ميں سے چند يہ ہيں: منت مان لينے كے بعد اسے پورا كرنا' چور كا ہاتھ كاٹنا ' لڑكيوں كے قتل كى ممانعت اور مذمت' شراب و زنا كو حرام قرار دينے كا حكم جارى كرنا اور برہنہ ہو كر كعبہ كا طواف كرنے كى ممانعت وغيرہ_(۲۱)

واقعہ فيل

حضرت عبدالمطلب كى زندگى ميں جو اہم واقعات رونما ہوئے ان ميں سے ايك واقعہ ''عام الفيل'' تھا _ اس واقعہ كا خلاصہ يہ ہے كہ : يمن كے حكمران ابرہہ نے اس ملك پر اپنا تسلط برقرار كرنے كے بعد يہ محسوس كيا كہ اس كى حكومت كے گرد و نواح ميں آباد عربوں كى خاص توجہ كعبہ پر مركوز ہے اور ہر سال كثير تعداد ميں لوگ اس كى زيارت كے لئے جاتے ہيں _ اس نے سوچا كہ عربوں كا يہ عمل اس كے نيز ان حبشى لوگوں كےلئے جو يمن اور جزيرہ نمائے عرب كے ديگر مقامات پر آباد ہيں كوئي مصيبت پيدا نہ كردے چنانچہ اس نے يمن ميں''قليس'' نام كا بہت ہى بڑا گرجا تيار كيا اور تمام لوگوں كو وہاں آنے كى دعوت دى تاكہ كعبہ جانے كى بجائے لوگ اس كے بنائے ہوئے كليسا ميں زيارت كى غرض سے آئيں ليكن لوگوں نے نہ صرف اس كى دعوت كى طرف كوئي توجہ نہيں دى تھى بلكہ الٹا اس كے كليسا كى بھى توہين كى گئي تھي_


لوگوں كے اس رويہ سے ابرہہ كو سخت طيش آگيا اور اس نے فيصلہ كيا كہ لوگوں كے اس جرم كے پاداش ميں كعبہ كا وجود ہى ختم كردے گا، اس مقصد كے تحت اس نے عظيم لشكر تيار كيا جس ميں جنگجو ہاتھى پيش پيش تھے _ چنانچہ پورے جنگى ساز و سامان سے ليس ہوكر وہ مكہ كے جانب روانہ ہوا _ سردار قريش حضرت عبدالمطلب اور ديگر اہل مكہ كو جب ابرہہ كے ارادے كا علم ہوا تو انہوں نے شہر خالى كرديا اور نتيجے كا انتظار كرنے لگے_

جنگى ساز وسامان سے ليس اور طاقت كے نشے ميں چور ابرہہ كا لشكر جب كعبہ كى طرف بڑھا تو ابابيل جيسے پرندوں كے جھنڈاپنى چونچوں اور پنجوں ميں كنكرياں لے كر اس كے لشكر پر چھاگئے اور انہيں ان پر برسانا شروع كرديا جس كى وجہ سے ان كے جسم ايسے چر مراگئے جيسے چبائے ہوئے پتے_

يہ واقعہ بعثت سے چاليس سال قبل پيش آيا چنانچہ عربوں نے اس واقعے سے ہى اپنى تاريخ شروع كردى جو رسول خدا (ص) كے مكہ سے مدينہ كى جانب ہجرت تك جارى رہى اور واقعات اسى سے منسوب كئے جانے لگے_

چندقابل ذكر نكات

۱_ابرہہ كا حملہ اگر چہ مذہبى محرك كاہى نتيجہ تھا مگر اس كا سياسى پہلو يہ تھا كہ سرزمين عرب پر سلطنت روم كا غلبہ ہوجائے _ چنانچہ اس كى اہميت مذہبى پہلو سے كسى طرح بھى كم نہ تھى ابرہہ كا مكہ اور حجاز كے ديگر شہروں پر قابض ہوجانا سياسى اور اقتصادى اعتبار سے روم جيسى عظيم طاقت كى اہم فتح و كامرانى تھى _ كيونكہ يہى ايك ايسا واحد طريقہ تھا جسے بروئے كار لاكر شمالى عرب كو جنوبى عرب سے متصل كيا جاسكتا تھا _ اس طرح


پورے جزيرہ نما ئے عرب پر حكومت روم كا غلبہ و تسلط ہوسكتا تھا نيز اسے ايران پر حملہ كرنے كيلئے فوجى چھائونى كے طور پر استعمال كياجاسكتا تھا_

۲_خداوند تعالى كے حكم سے معجزہ كى شكل ميں ابرہہ كے لشكر كى جس طرح تباہى و بربادى ہوئي اس كى تائيد قرآن مجيد اور اہلبيت عليہم السلام كى ان روايات سے ہوتى ہے جو ہم تك پہنچى ہے چنانچہ قرآن مجيد كے سورہ فيل ميں ارشاد ہے كہ :

( بسم الله الرَّحمن الرَّحيْم أَلَم تَرَ كَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بأَصحَاب الفيل (۱) أَلَم يَجعَل كَيدَهُم فى تَضليل: (۲) وَأَرسَلَ عَلَيهم طَيرًا أَبَابيلَ (۳) تَرميهم بحجَارَة: من سجّيل: (۴) فَجَعَلَهُم كَعَصف: مَأكُول: ) (۵)

''تم نے ديكھا كہ تمہارے رب نے ہاتھى والوں كے ساتھ كيا سلوك كيا اس نے ان كى تدبيرا كارت نہيں كردى اور ان پر پرندوں كے جھنڈ كے جھنڈ بھيج ديئے جو ان پركنكر پتھر پھينك رہے تھے پھر ان كا يہ حال كرديا جيسے (جانوروں كا) كھايا ہوا بھوسا''_

جو لوگ اس واقعہ كى توجيہہ كرتے ہيں كہ اس سال مكہ ميں چيچك كى بيمارى ابرہہ كے سپاہيوں ميں مكھيوں اور مچھروں كى ذريعے پھيلى اور ان كى ہلاكت كا باعث ہوئي _ اس كا سبب يہ ہے كہ ان كا مافوق فطرت چيزوں اور معجزات پر اعتقاد اور ايمان نہيں چنانچہ بعض وہ مسلمان جو خود كو روشن فكر خيال كرتے ہيں وہ بھى مغرب كے مادہ پرستوں كے ہم خيال ہوگئے ہيں اور سب سے زيادہ قابل افسوس بات تو يہ ہے كہ بعض مسلم مؤرخين اور مفسرين بھى اس مغرب پرستى كا شكار ہوگئے ہيں _

۳_ابرہہ كے لشكر كى شكست اور خانہ كعبہ كو گزندنہ پہنچنے كے باعث قريش پہلے سے بھى


زيادہ مغرور و متكبر ہوگئے چنانچہ حرام كاموں كے ارتكاب ، اخلاقى پستيوں كى جانب جانے اور ان لوگوں پر ظلم وستم روا ركھنے ميں جو حرم كے باہر آباد تھے ان كى گستاخياں اور دست درازياںپہلے سے كہيں زيادہ ہوگئيں _ وہ برملا كہنے لگے كہ ہم ہى آل ابراہيم (ع) ہيں ، ہم ہى پاسبان حرم ہيں ، ہم ہى كعبہ كے اصل وارث ہيں ، ان كا يہ بھى دعوى تھا كہ جاہ و مرتبت ميں عربوں كے درميان كوئي ہمارا ہم پلہ نہيں_

ان نظريات كى بنا پر انہوں نے حج كے بعض احكام جو حرم كے باہر انجام ديئے جاتے ہيں جيسے عرفہ ميں قيام قطعى ترك كرديئے تھے_ ان كا حكم تھا كہ حج يا عمرہ كى غرض سے آنے والے زائرين بيت اللہ كو يہ حق نہيں كہ اس كھانے كو كھائيں جسے وہ اپنى ساتھ لاتے ہيں يا اپنے كپڑے پہن كر خانہ كعبہ كا طواف كريں _

حضرت عبداللہ (ع)

حضرت عبدالمطلب (ع) كے سب سے چھوٹے بيٹے حضرت عبداللہ تھے(۲۲) كہ جنہيں رسول خدا (ص) كے والد ہونے كا فخر حاصل ہوا وہ ،حضرت ابوطالب (ع) (اميرالمومنين على عليہ اسلام عليہ السلام كے والد) اور زبير ايك ہى ماں يعنى حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا كے بطن سے تھے(۲۳) _ حضرت عبداللہ (ع) اپنے والد كى نظروں ميں دوسرے بھائيوں سے زيادہ قدر ومنزلت كے حامل تھے _ جس كى وجہ ان كے ذاتى اوصاف اور معنوى كمالات تھے اس كے علاوہ دانشوروں اور كاہنوں نے بھى يہ پيشين گوئي كى تھى كہ انكى نسل سے ايسا فرزند پيدا ہوگا جسے پيغمبرى كے لئے منتخب كياجائے گا، اس خوشخبرى كى تائيد و تصديق اس خاص چمك دمك سے بھى ہوتى تھى جو حضرت عبداللہ (ع) كے چہرے سے عياں تھي(۲۴)


حضرت عبدالمطلب (ع) نے اپنے جواں سال فرزند حضرت عبداللہ (ع) كے لئے خاندان بنى زہرہ كے سردار حضرت وہب بن عبدمناف كى دختر نيك اختر حضرت آمنہ سلام اللہ عليہا كا رشتہ مانگا اور انہيں اپنے فرزند دلبند كے حبالہ نكاح ميں لے آئے اس شادى خانہ آبادى كا حاصل و ثمرہ حضرت محمد صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا وجود مسعود تھا اور يہى وہ ذات گرامى ہے جسے بعد ميں خاتم الانبياء (ص) كہاگيا_

حضرت آمنہ (ع) سے شادى كرنے كے بعد حضرت عبداللہ (ع) تجارتى قافلے كے ہمراہ سفر پر روانہ ہوئے_ سفر سے واپس آئے تو شہر يثرب ميں بيمار ہوگئے اور اس بيمارى كى وجہ سے وہيں ان كا انتقال ہوگيا اور اسى شہر ميں انہيں دفن كيا گيا _(۲۵)

رسول اللہ(ص) كى ولادت باسعادت

اكثر محدثين اور مورخين اس بات پر متفق ہيں كہ حضرت محمد (ص) كى ولادت باسعادت عام الفيل ميں يعنى نزول وحى سے چاليس سال قبل ماہ ربيع الاول ميں ہوئي ليكن يوم پيدائشے كے بارے ميں اختلاف ہے _ شيعہ محدثين و دانشوروں كى رائے ميں آپ (ص) كى ولاد ت ۱۷ ربيع الاول كو ہوئي اور اہل سنت كے مورخين نے آپ (ص) كا روز ولادت ۱۲ ربيع الاول قرار ديا ہے_

حضرت محمد (ص) كى ولادت كے وقت چند حادثات اور غير معمولى واقعات بھى رونما ہوئے جن ميں سے بعض يہ ہیں:

۱_ ايوان كسرى ميں شگاف پڑ گيا اور اس كے چودہ كنگرے زمين پر گرگئے _

۲_فارس كا وہ آتشكدہ جو گزشتہ ايك ہزار سال سے مسلسل روشن تھا يكايك خاموش


ہوگيا _

۳_ساوہ كى جھيل خشك ہو كر نيچے بيٹھ گئي _

۴_تمام بت منہ كے بل زمين پر گر پڑے _

۵_زرتشتى عالموں اورايران كے بادشاہ كسرى نے پريشان كن خواب ديكھے _

۶_دنيا كے بادشاہوں كے تخت سلطنت سرنگوں ہوگئے _

۷_پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا نورآسمان كى طرف بلند ہوا اور بہت وسيع حصے ميں پھيل گيا _(۲۶)

پيغمبر (ص) كى ولادت كے وقت ايسے حيرتناك واقعات كا رونما ہوناكہ جنہيں اصطلاح ميں ''ارہاصات''كہتے ہيں، درحقيقت لوگوں كو خطرے سے آگاہ اور خواب غفلت سے بيدار كرنے كےلئے تھا بالخصوص ہم عصرحكمرانوں كى تنبيہہ كرنا مقصود تھى تاكہ وہ اس بات پر غور كريں كہ ان حادثات كے رونما ہونے كا كيا سبب ہے _ نيز خود سے سوال كريں كہ بت اور بت پرستى كے مظاہر اورنشانات كيونكرمنہ كے بل زمين پر آرہے ہيں اور وہ لوگ جو خود كو خدا اور زمين كا آقا و مالك سمجھتے تھے كيوں مضطرب و پريشان ہوگئے ؟_ كيا اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ ان سے بھى برتر و بہتر طاقت كا ظہور ہوچكا ہے اور بت پرستى اور شيطانى طاقتوں كے عروج كا زمانہ ختم ہوچكا ہے؟_

پيغمبر اكرم (ص) كا بچپن

رسول خدا (ص) نے اس دنيا ميں اس وقت آنكھ كھولى جب ان كے والد كا سايہ سر سے اٹھ چكا تھا(۲۷) اسى لئے ايك قول كے مطابق رسول خدا (ص) كى تربيت بچپن سے ہى آپ (ص) كے دادا


حضرت عبدالمطلب (ع) كے زير سرپرستى ہوئي_

حضرت عبدالمطلب (ع) نے آپ(ص) كى ولادت كے ساتويں دن بھيڑ ذبح كركے اپنے پوتے كا عقيقہ كيا اور نام محمد(ص)(۲۸) ركھا_ اس نومولو بچے كےلئے دايہ كى تلاش شروع ہوئي اور چند روز كے لئے انہوں نے بچے كو ابولہب كى كنيز ثويبہ كے حوالہ كرديا(۲۹) اس كے بعد قبيلہ بنى سعد كے معز زفرد ابوذو يب كى مہربان و پاكدامن دختر حضرت حليمہ نے آنحضرت (ص) كو اپنى تحويل ميں لے ليا اور صحرا كى جانب لے گئيں تاكہ فطرت كى آغوش اور صحت افزا آزاد فضا ميں لے جاكر، ان وبائي بيماريوں سے دور جو كبھى كبھى شہر مكہ كے لئے خطرہ پيدا كرديتى تھيں ، ان كى پرورش كرسكيں _ قبيلہ بنى سعد كے درميان رسول خدا (ص) كى موجودگى حضرت حليمہ (ع) نيز بنى سعد كے ديگر تمام افراد كےلئے نعمت كى فراوانى اور بركت كا باعث ہوئي چنانچہ جب دودھ پلانے كى مدت ختم ہوگئي اور حضرت حليمہ (ع) اس نونہال كو ان كى والدہ كى خدمت ميں لے گئيں تو انہوں نے آنحضرت (ص) كو دوبارہ اپنے ساتھ لے جانے كى درخواست كى چنانچہ حضرت آمنہ (ع) نے بھى ان سے اتفاق كيا_(۳۰)

پيغمبر اكرم (ص) پانچ سال تك(۳۱) صحرا كے دامن ميں قبيلہ بنى سعد كے درميان زندگى بسر كرتے رہے_ اس كے بعد آپ(ص) كو واپس آپ (ص) كى والدہ اور دادا كے پاس بھيج ديا گيا _ جب آپ (ص) كى عمر مبارك چھ سال ہوئي تو آپ كى والدہ ماجدہ حضرت عبداللہ كے مزار كى زيارت سے مشرف ہونے اور ماموں سے ملاقات كرنے كى غرض سے يثرب گئيں ، جہاں ان كا ايك ماہ تك قيام رہا وہ جب واپس مكہ تشريف لا رہى تھيں تو راستہ ميں ''ابوا''(۳۲) كے مقام پر شديد بيمار ہوگئيں اور وہيں ان كا انتقال ہوا(۳۳) ، اس حادثے نے آنحضرت (ص) كو سخت پريشان اور رنجيدہ خاطركيا اور آپ (ص) كے مصائب ميں دوگنا اضافہ


ہوگيا ليكن اس واقعہ نے آپ (ص) كو دادا سے بہت نزديك كرديا_

قرآن مجيد نے ان مصائب و رنج و تكاليف كے زمانے كى ياد دلاتے ہوئے فرمايا ہے :

( أَلَم يَجدكَ يَتيمًا فَآوَى ) (۳۴)

''كيا اس نے تمہيں يتيم نہيں پايا اور پھر ٹھكانہ فراہم كيا''_

ابھى آپ (ص) نے زندگى كى آٹھ بہاريں بھى نہ ديكھى تھيں كہ دادا كا سايہ بھى سر سے اٹھ گيا اور آپ(ص) حضرت عبدالمطلب (ع) كى وصيت كے مطابق اپنے چچا ابوطالب كى سرپرستى ميں آگئے_

حضرت ابوطالب (ع) اور ان كى زوجہ محترمہ فاطمہ(ع) بنت اسد كو پيغمبر اكرم (ص) بہت زيادہ عزيز تھے وہ لوگ آپ (ص) كا اپنے بچوں سے زيادہ خيال ركھتے تھے چنانچہ جس وقت كھانے كا وقت ہوتا تو حضرت ابوطالب (ع) اپنے بچوں سے فرماتے كہ : ''ٹھہرو فرزند عزيز (حضرت محمد (ص)) كے آنے كا انتظار كرو ''_(۳۵)

چنانچہ رسول خدا (ص) حضرت فاطمہ (ع) بنت اسد كے بارے ميں فرماتے ہيں :''وہ بالكل ميرى ماں كى طرح تھيں كيونكہ وہ اكثر اپنے بچوں كو تو بھوكا ركھتيں مگر مجھے اتنا كھانا ديتيں كہ شكم سير ہو جاتا اور اپنے بچوں سے پہلے مجھے نہلاتى ، دھلاتى اور سنوارتى تھيں''_(۳۶)

خدائي تربيت

اميرالمومنين حضرت على عليہ السلام پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے بچپن كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ :

(لَقَد قرَنَ اللّهُ به من لَدُنْ اَن كَانَ فَطيماً


اَعظَمَ مَلَك: من مَلَائكَته يَسلُكُ به طَريقَ المَكَارم وَمَحَاسنَ اَخلَاق العَاَلَم لَيلَةُ وَنَهَارَةُ ) (۳۷)

''رسول خدا (ص) كى دودھ بڑھائي كے دن سے خداوند تعالى نے سب سے بڑے فرشتے كو آپ (ص) كے ہمراہ كرديا تاكہ دن رات عظمت و بزرگوار ى كى راہوں اور كائنات كے قابل قدر اوصاف كى جانب آپ(ص) كى راہنمائي كرتا رہے''_


سوالات

۱_ پيغمبر اكرم (ص) كے تيسرے جدامجد تك آپ(ص) كا شجرہ نسب بيان كيجئے_

۲_حضرت ہاشم (ع) پيغمبر اكرم (ص) كے اجداد ميں كون سى پشت تھے اور انہوں نے كيا خدمات

انجام ديں ؟

۳_ حضرت عبدالمطلب (ع) كى بنيادركھى ہوئي روايات بيان كيجئے_

۴_ عام الفيل ميں كونسا واقعہ رونما ہوا اور پيغمبر خدا (ص) كے اجداد ميں كون سے جد كى زندگي

كے د وران پيش آيا ؟

۵_ پيغمبر اكرم (ص) كے والد كون تھے؟ ان كا كہاں اور كب انتقال ہوا؟

۶_ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى ولادت كب ہوئي اور اس وقت كيا واقعات رونما

ہوئے؟

۷_ پيغمبر (ص) كا زمانہ شير خوارگى كيسے گزرا؟


حوالہ جات

۱_ السيرہ الحلبيہ ج ۱'ص ۱۶ اور لسان العرب ، لفظ ''قريش''_

۲_ السيرة النبويہ ' ابن ہشام ج ۱' ص ۱۳۰_

۳_تاريخ يعقوبى ' ج ۱ ' ص ۲۴۰_

۴_ السيرة النبويہ ج ۱ ص۱' ۲_

۵_ بحارالانوار ج ۱۵' ص ۱۰۵ ' ۲۸۰_

۶_ السيرة النبويہ ج۱ 'ص ۱۲۳ 'السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۳ و الكامل ج ۲ ص ۱۹_

۷_۸_۹ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۳' ۷_

۱۰_ دارالندوہ دراصل قريش كى مجلس مشاورت تھى جسے حضرت قصى بن كلاب نے قائم كيا تھا_

۱۱_ السيرة الحلبيہ ، ج ۱ ص ۱۳_

۱۲_ الكامل فى التاريخ ج ۲ ص ۱۶_

۱۳_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۴ البتہ مترجم كے نزديك يہ بات ناقابل قبول ہے اس كى علت ديگر كتب ميں ملاحظہ ہو_

۱۴_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۵_

۱۵_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۵_

۱۶_ ان كى خدمات كى طرف اشارہ كرتے ہوئے كسى شاعر نے كيا خوب كہا ہے :

ہُوَالَّذي سَنَّ الرَّحيلَ لقَومہرحلَ الشّتَائ وَرحلَةَ الاَصْيَاف

وہ ہاشم ہى تھے جنہوں نے اپنى قوم ميں جاڑے اور گرمى كے دنوں ميں تجارتى سفر كرنے كى روايت پيدا كى _ (م-لاحظہ ہو انساب الاشراف ج۱ ' ص ۵۹)_

۱۷_يہ فلسطين كا شہر ہے جو عسقلان كے مغرب ميں واقع ہے _اس كے اور عسقلان كے درميان تقريباً دو فرسخ كا فاصلہ ہے_ ملاحظہ ہو معجم البلدان ج ۴ ص ۲۰۲_


۱۸_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ' ص ۶ معجم البلدان ج ۴ ' ص ۲۰۲_

۱۹_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۴_

۲۰_ بحارالانوار ج ۱۵' ص ۱۲۷_۱۲۹_

۲۱_ السيرة الحلبيہ ج۱ ' ص ۴ و تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۱۰_

۲۲_ بعض مورخين نے لكھا ہے كہ حمزہ اور حضرت عباس حضرت عبداللہ (ع) سے چھوٹے تھے _ ملاحظہ ہو:السيرة النبويہ ج ۱ ص ۱۶۱ حاشيہ منقول از روض الانف_

۲۳_ السيرة النبويہ ج ۱ ص ۱۶۱_

۲۴_كمال الدين و تمام النعمة ج ۱ ص ۱۷۵_

۲۵_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ' ص ۴۹ '۵۰ _ حضرت عبداللہ (ع) كى قبر كچھ عرصہ قبل تك شہر مدينہ ميں مسجد النبى (ص) كے مغربى كنارے پر محفوظ تھى جسے آل سعود وہابى حكمرانوں نے شہيد كراديا اور اسے صحن مسجد ميں شامل كرليا_ اب يہ جگہ نمازيوں كى جائے نماز ہے_

۲۶_ بحارالانوار ج ۱۵' ص ۲۵۷_۲۵۸_

۲۷_ اس سلسلہ ميں اختلاف ہے _ اكثر مورخين نے لكھا ہے كہ آنحضرت (ص) كى ولادت حضرت عبداللہ كى رحلت كے دو ماہ بعد ہوئي ليكن بعض نے يہ بھى لكھا ہے كہ آنحضرت (ص) كى ولادت كے دو ماہ بعد حضرت عبداللہ نے وفات پائي اس كے علاوہ بھى مختلف اقوال ملتے ہيں _ملاحظہ ہو : السيرة حلبيہ ج ۱ ' ص ۴۹_ ۵۰ و كافى ج ۱ ص ۴۳۹_

۲۸_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۷۸_

۲۹_ پيغمبر اكرم (ص) كى ولادت سے پہ-لے ''ثويبہ'' آپ (ص) كے چچا حضرت حمزہ كو دودھ پلاچكى تھيں چنانچہ اس اعتبار سے حضرت حمزہ (ع) پيغمبر اكرم (ص) كے رضاعى بھائي بھى تھے_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۸۵ _ البتہ مترجم كے نزديك ثويبہ كے دودھ پلانے والى بات بھى ناقابل قبول ہے_

۳۰_ السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۷۳_

۳۱_ چار سال يا چھے سال بھى لكھى گئي ہے_ م-لاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۱ ص۹۳_


۳۲_ يہ مكہ اور مدينہ كے درميان ايك قصبہ ہے جس كا حجفہ سے فاصلہ تقريبا ً ۲۳ ميل (۴۶ كلوميٹر) ہے ملاحظہ ہو :معجم البلدان ج ۱ ص ۷۹_

۳۳_ سورہ ضحى آيت۶_

۳۴_ السيرة النبويہ ج ۱ ص ۱۷۷_

۳۵_ مناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۳۶_۳۷_

۳۶_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۱۴_

۳۷_ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۹۲ قاصعہ (صبحى صالح صفحہ ۳۰۰)_


سبق ۴ :

رسالت كى جانب پہلا قدم


شام۱ كى طرف پہلا سفر

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے حضرت ابوطالب عليہ السلام كے گھر ميں منتقل ہونے كے بعدآپ(ص) كى زندگى كے ايك نئے باب كا آغاز ہوا يہ باب لوگوں سے ميل ملاپ اور مختلف قسم كے سفر اختيار كرنے سے شروع ہوا چنانچہ ان سفروں اور لوگوں سے ملاقاتوں كے ذريعے ہى حضرت محمد(ص) كا ذاتى جوہر اس تاريك و سياہ ماحول ميں كھلا اور يہيں سے آپ(ص) كو معاشرے نے ''امين قريش'' كہنا شروع كيا _

رسول خدا(ص) كى عمر بارہ سال تھى(۱) كہ آپ(ص) اپنے چچا حضرت ابو طالب كے ہمراہ (اس كاروان قريش كے ساتھ جو تجارت كے لئے ملك شام كى جانب جا رہا تھا) سفر پر روانہ ہوئے جس وقت يہ كارواں '' بُصرى ''(۲) پہنچا اور '' بَحيرا'' نامى عيسائي راہب دانشور(۳) نے اس كارواں كے لوگوں سے ملاقات كى تو اس كى نظر رسول خدا(ص) پر پڑى اس نے انجيل مقدس ميں پيغمبر آخر الزماں (ص) سے متعلق جو علامات پڑھى تھيں وہ تمام علامات اور نشانياں اسے نبى اكرم(ص) ميں نظر آئيں تو وہ آپ(ص) كو فورا پہچان گيا چنانچہ اس نے حضرت ابوطالب (ع) كو مستقبل ميں اپ(ص) كے نبى ہونے كى خوشخبرى دى اور اس كے ساتھ ہى اس نے يہ درخواست بھى كى كہ اس بچے كا خاص خيال ركھيں اس ضمن ميں اس نے مزيد كہا :

''ان(ص) كے بارے ميں جو كچھ ميں جانتا ہوں اگر وہى باتيں يہودى بھى جان ليں تو وہ


گزند پہنچائے بغير نہ رہيں گے اس لئے بھلائي اسى ميں ہے كہ انھيں جتنى جلدى ہو سكے واپس مكہ لے جايئے ''_

حضرت ابوطالب(ع) نے اپنے كاروبار كے معاملات كو جلد از جلد نمٹايا اور مكہ واپس آگئے اور پورى طرح اپنے بھتيجے كى حفاظت و نگرانى كرنے لگے(۴) _

مستشرقين كى دروغ گوئي

راہب كى اس روايت كو اگر صحيح تسليم كربھى ليا جائے(۵) تو يہ تاريخ كا ايك معمولى ساواقعہ ہے _ ليكن بعض بدنيت مستشرقين نے اسے دستاويز بنا كر اس بات كو ثابت كرنے كى بھر پور كوشش كى ہے اور ان كا اس پر اصرار ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) نے اپنى اس غير معمولى ذہانت كى بنا پر اس سفر كے دوران بحيرا عيسائي سے بہت سى باتيں سيكھيں اور چونكہ حافظہ بہت ہى طاقتور تھا انہيں اپنے ذہن ميں محفوظ ركھا اور اٹھائيس سال گزرنے كے بعد انہى تعليمات كو اپنے دين و آئين كى بنياد قرار ديا اور يہ كہہ كر لوگوں كے سامنے پيش كيا كہ يہ باتيں وحى كے ذريعے آپ(ص) پر نازل ہوئي ہیں ليكن پيغمبر اكرم(ص) كى سوانح حيات آپ(ص) كے دين و آئين كى الہامى خصوصيات نيز علمى و عقلى دلائل و براہين سے اس گمان كى نفى اور ترديد ہوتى ہے ذيل ميں ہم اس موضوع سے متعلق چند نكات بيان كريں گے :

۱_ عقل كى رو سے يہ بات بعيد ہے كہ ايك بارہ سالہ نوجوان جس نے كبھى مكتب اور مدرسہ كى شكل تك نہ ديكھى ہو وہ چند گھنٹوں كى ملاقات میں تورات اور انجيل جيسى كتابوں كى تعليمات سيكھ لے اور اٹھائيں سال بعد انہيں شريعت آسمانى (اسلام) كے نام سے پيش كرے


۲_ اگر پيغمبر(ص) نے بحيرا سے كچھ باتيں سيكھ لى ہوتيں تو وہ يقينا قريش كے درميان پھيل گئي ہوتيں اور وہ لوگ جو كارواں كے ساتھ گئے تھے ضرور واپس آكر انہيں بيان كرتے اس كے علاوہ اس واقعے كے بعد رسول اكرم(ص) اپنى قوم كے افراد سے يہ نہيں فرماسكتے تھے كہ ميں امى ہوں _

۳_اگر تورات اور انجيل كا قرآن مجيدسے موازنہ كياجائے تو يہ بات واضح ہوجائے گى كہ قرآن كے مطالب اور مفاہيم ان دونوں كتابوں كے مطالب سے بہت مختلف ہيں_

۴_اگر عيسائي راہب كو اتنى زيادہ مذہبى و علمى معلومات حاصل تھيں تو وہ اپنے زمانے ميں مشہور كيوں نہ ہوا اور پيغمبر اكرم (ص) كے علاوہ كسى دوسرے كو اپنا علم كيوں نہ سكھايا ؟

شام كا دو سرا سفر

رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى صداقت، نجابت و شرافت ، امانت دارى اور اخلاق وكردار كى بلندى كا ہر شخص قائل تھا_

حضرت خويلد كى دختر حضرت خديجہ سلام اللہ عليہا بہت نيك سيرت اور شريف خاتون تھيں_ انہيں اپنے والد سے بہت سامال ورثے ميں ملا تھا وہ بھى مكہ كے بہت سے مردوں اور عورتوں كى طرح اپنے مال كے ذريعے تجارت كرتى تھيں جس وقت انہوں نے امين قريش كے اوصاف سنے تو انہوں نے رسول خدا (ص) كے سامنے يہ تجويز ركھى كہ اگر آپ ميرے سرمائے كے ذريعہ تجارت كرنے كيلئے ملك شام تشريف لے جائيں تو ميں جتنا حصہ دوسروں كو ديتى ہوں اس سے زيادہ حصہ آپ (ص) كو دونگي_


رسول خدا (ص) نے اپنے چچا حضرت ابوطالب عليہ السلام سے مشورہ كرنے كے بعد حضرت خديجہ (ع) كى تجويز كو قبول كرليا اور آپ(ص) ان كے ''ميسرہ'' نامى غلام كے ہمراہ پچيس سال كى عمر ميں مال تجارت لے كر ملك شام كى طرف روانہ ہوئے_(۶)

كاروان تجارت ميں رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا با بركت وجود قريش كے تاجروں كےلئے نہايت ہى سودمند اور نفع بخش ثابت ہوا اور انہيں اميد سے زيادہ منافع ملا نيز رسول خدا (ص) كو سب سے زيادہ نفع حاصل ہوا ، سفر كے خاتمے پر ''ميسرہ'' نے سفر كى پورى روداد حضرت خديجہ (ع) كو بتائي اور آپ (ص) كے فضائل اور اخلاقى اوصاف و مكارم نيز كرامات كو تفصيل سے بيان كيا _(۷)

حضرت خديجہ سلام اللہ عليہا كے ساتھ شادي

حضرت خديجہ (ع) رشتے ميں پيغمبر اكرم (ص) كى چچازاد بہن لگتى تھيں اور دونوں كا شجرہ نسب جناب قصى بن كلاب سے جاملتا تھا، حضرت خديجہ (ع) كى ولادت و پرورش اس خاندان ميں ہوئي تھى جو دانا نسب كے اعتبار سے اصيل، ايثار پسند اور خانہ كعبہ كا حامي(۸) وپاسدار تھا اور خود حضرت خديجہ (ع) اپنى عفت وپاكدامنى ميں ايسى مشہور تھيں كہ دور جاہليت ميں بھى انہيں ''طاہرہ'' اور''سيدہ قريش'' كے لقب سے ياد كياجاتا تھا ، ان كيلئے بہت سے رشتے آئے اگر چہ شادى كے خواہشمند مہر ادا كرنے كےلئے كثير رقم دينے كيلئے تيار تھے مگر وہ كسى سے بھى شادى كرنے كيلئے آمادہ نہ ہوئيں_

جب رسول خدا (ص) ملك شام كے تجارتى سفرسے واپس مكہ تشريف لائے تو حضرت خديجہ (ع) نے پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں قاصد بھيجا اور آپ (ص) سے شادى كى خواہش كا اظہار كيا _(۹)


رسول خدا (ص) نے اس مسئلے كو حضرت ابوطالب عليہ السلام اور ديگر چچائوں كے درميان ركھا اور جب سب نے اس رشتے سے اتفاق كيا تو آ پ (ص) نے حضرت خديجہ (ع) كے قاصد كو مثبت جواب ديا ، رشتے كى منظورى كے بعد حضرت ابوطالب عليہ السلام اور دوسرے چچا حضرت حمزہ نيز حصرت خديجہ (ع) كے قرابت داروں كى موجودگى ميں حضرت خديجہ (ع) كے گھر پر نكاح كى شايان شان تقريب منعقد ہوئي اور نكاح كا خطبہ دولہا اور دلہن كے چچائوں ''حضرت ابوطالب(ع) '' اور ''عمروابن اسد'' نے پڑھا_

جس وقت يہ شادى ہوئي اس وقت مشہور قول كى بنا پر رسول خدا (ص) كا سن مبارك پچيس سال اور حضرت خديجہ (ع) كى عمر چاليس سال تھي_(۱۰)

حضرت خديجہ (ع) سے شادى كے محركات

ہر چيز كو مادى نظر سے ديكھنے والے بعض لوگوں نے اس شادى كو بھى مادى پہلو سے ہى ديكھتے ہوئے يہ كہنا چاہا ہے :

''چونكہ حضرت خديجہ (ع) كو تجارتى امور كيلئے كسى مشہور و معروف اور معتبر شخص كى ضرورت تھى اسى لئے انہوں نے پيغمبر اكرم (ص) كو شادى كا پيغام بھيجا، دوسرى طرف پيغمبر اكرم (ص) يتيم ونادار تھے اور حضرت خديجہ (ع) كى شرافتمندانہ زندگى سے واقف تھے اسى لئے ان كى دولت حاصل كرنے كى غرض سے يہ رشتہ منظور كرليا گيا حالانكہ سن كے اعتبار سے دونوں كى عمروں ميں كافى فرق تھا''_

جبكہ اس كے برعكس اگر تاريخ كے اوراق كا مطالعہ كياجائے تو اس شادى كے محركات ميں بہت سے معنوى پہلو نظر آتے ہيںاس سلسلے ميں ہم يہاں پہلے پيغمبر خدا (ص) كى جانب


سے اور بعد ميں حضرت خديجہ (ع) كى جانب سے شادى كے اسباب اور محركات كے بيان ميں ذيل ميں چند نكات بيان كريں گے:

۱_ ہميں پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى سارى زندگى زہد وتقوى ومعنوى اقدار سے پر نظر آتى ہے جو اس بات كى دليل ہے كہ آنحضرت (ص) كى نظر ميں دنياوى مال و دولت اور جاہ و حشم كى كوئي قدر وقيمت نہ تھى ، آپ (ص) نے حضرت خديجہ (ع) كى دولت كو كبھى بھى اپنے ذاتى آرام و آسائشے كى خاطر استعمال نہيں كيا _

۲_ اس شادى كى پيشكش حضرت خديجہ (ع) كى جانب سے كى گئي تھى نہ كہ رسول خدا (ص) كى طرف سے_

اب ہم يہاں حضرت خديجہ (ع) كى جانب سے اس شادى كے محركات بيان كرتے ہيں :

۱_ چونكہ كہ وہ بذات خود عفيف و پاكدامن خاتون تھيں اس لئے انہيں ايسے شوہر كى تلاش تھى جو متقى اور پرہيزگار ہو_

۲_ ملك شام سے واپس آنے كے بعد جب ''ميسرہ'' غلام نے سفر كے واقعات حضرت خديجہ (ع) كو بتائے تو ان كے دل ميں ''امين قريش'' كيلئے جذبہ محبت والفت بڑھ گيا البتہ اس محبت كا سرچشمہ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے ذاتى كمالات اور اخلاقى فضائل تھے اور حضرت خديجہ (ع) كو ان ہى كمالات سے تعلق اور واسطہ تھا_

۳_ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سے شادى كرنے كے بعد حضرت خديجہ (ع) نے آپ (ص) كو كبھى سفر تجارت پر جانے كى ترغيب نہيں دلائي _ اگر انہوں نے يہ شادى اپنے مال و دولت ميں اضافہ كرنے كى غرض سے كى ہوتى تو وہ رسول اكرم (ص) كو ضرور كئي مرتبہ سفر پر روانہ كرتيں تاكہ بہت زيادہ مال و دولت جمع ہوسكے، بلكہ اس كے برعكس حضرت خديجہ (ع) نے اپنى دولت


آنحضرت (ص) كے حوالے كردى تھى تاكہ اسے آپ (ص) ضرورت مند لوگوں پر خرچ كريں_

حضرت خديجہ (ع) نے رسول خدا (ص) سے گفتگو كرتے ہوئے شادى كى درخواست كے اصل محرك كو اس طرح بيان كيا ہے:'' اے ميرے چچا زاد بھائي چونكہ ميں نے تمہيں ايك شريف ،ديانتدار ، خوش خلق اور راست گو انسان پايا اسى وجہ سے ميں تمہارى جانب مائل ہوئي (اور شادى كے لئے پيغام بھيجا)''(۱۱)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے منہ بولے بيٹے

حضرت خديجہ (ع) سے رسول اكرم (ص) كى شادى كے بعد يك مرتبہ حضرت خديجہ (ع) كے بھتيجے حكيم بن حزام ملك شام سے اپنے ساتھ كچھ غلام لے كر آئے جن ميں ايك آٹھ سالہ لڑكا زيد ابن حارثہ بھى تھا، جس وقت حضرت خديجہ (ع) اس سے ملنے كےلئے آئيں تو حكيم نے ان سے كہا كہ پھوپى جان آپ (ع) ان غلاموں ميں سے جسے بھى چن ليں وہ آپ ہى كا ہوگا(۱۲) حضرت خديجہ (ع) نے زيد كو چن ليا_

جب رسول خدا (ص) نے زيد كو حضرت خديجہ (ع) كے پاس ديكھا تو آپ (ص) نے يہ خواہش ظاہر كى كہ يہ غلام مجھے دے دياجائے، حضرت خديجہ (ع) نے اس غلام كو پيغمبر اكرم (ص) كے حوالے كر دياپيغمبر اكرم (ص) نے اسے آزاد كركے اپنا منہ بولا فرزند (متبني) بناليا ليكن جب پيغمبر خدا (ص) پر وحى نازل ہونا شروع ہوئي تو قرآن نے حكم ديا كہ انہيں لے پالك فرزند نہيں صرف فرزند كہاجائے_

جب زيد كے والد ''حارثہ'' كو يہ معلوم ہوا كہ ان كا بيٹا شہر مكہ ميں رسول خدا (ص) كے گھر ميں


ہے تو وہ آنحضرت (ص) كے پاس آيا اور كہا كہ ان كا بيٹا ان كو واپس دے ديا جائے اس پر آنحضرت (ص) نے زيد سے فرمايا:

''اگر چاہو تو ہمارے ساتھ رہو اور چاہو تو اپنے والد كے ساتھ واپس چلے جائو ''_

مگر حضرت زيد نے پيغمبر اكرم (ص) كے پاس ہى رہنا پسند كيا،بعثت كے موقع پر حضرت على عليہ السلام كے بعد وہ پہلے مرد تھے جو آنحضرت (ص) پر ايمان لائے_(۱۳)

رسول خدا (ص) نے پاك دامن اور ايثار پسند خاتون'' ام ايمن ''سے ان كا نكاح كرديا جن سے ''اسامہ'' كى ولادت ہوئي ، اس كے بعد آپ (ص) نے اپنے چچا كى لڑكى ''زينب بنت حجش'' سے ان كى شادى كردي_(۱۴)

حضرت على عليہ السلام كى ولادت

شہر مكہ كے اس تاريخ ساز عہد ميں جو اہم واقعات رونما ہوئے ان ميں سے ايك حضرت على (ع) كى كعبہ ميں ولادت باسعادت تھى ، مورخين نے لكھا ہے كہ حضرت على (ع) كى پيدائشے واقعہ عام الفيل كے تيس سال بعد ہوئي _(۱۵) خانہ كعبہ ميں اميرالمومنين حضرت على (ع) كى پيدائشے كا شمار آپ (ص) كے عظیم وممتاز فضائل ميں ہوتا ہے اس فضيلت كا نہ صرف شيعہ دانشوروں نے ذكر كيا ہے بلكہ اہل سنت كے محدثين و مورخين بھى اس كے معترف ہيں(۱۶) _

پيغمبر اكرم (ص) كے دامن ميں تربيت

حضرت على (ع) نے بچپن اور شير خوارگى كا زمانہ اپنے مہربان اور پاكدامن والدين حضرت


ابوطالب عليہ السلام اور حضرت فاطمہ (ع) كى آغوش اور گھر ميں بسر كيا جہاں نور رسالت اور آفتاب نبوت تاباں تھا _ حضرت ابوطالب (ع) كے اس نونہال پر حضرت محمد صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى شروع سے ہى خاص توجہ وعنايت رہى ، رسول اكرم (ص) چونكہ اكثر و بيشتر اپنے چچا كے گھر تشريف لے جايا كرتے تھے اسى لئے آپ (ص) نے حضرت على (ع) كے ساتھ محبت ومہربانى كے سلوك اور تربيت ميں كوئي دقيقہ فروگذاشت نہ كيا_

رسول خدا (ص) نے اسى پر ہى اكتفا نہ كى بلكہ حضرت على (ع) نے اپنى عمر كى جب چھ بہاريں ديكھ ليں(۱۷) تو آپ (ص) انہيں ان كے والدكے گھر سے اپنے گھر لے آئے اور بذات خود ان (ع) كى تربيت وسرپرستى فرمانے لگے_(۱۸)

پيغمبر اكرم (ص) كو حضرت على (ع) سے وہ شغف تھا كہ آپ (ص) انہيں اپنے سے ہر گز جدا نہيں كرتے تھے چنانچہ جب كبھى آپ (ص) عبادت كےلئے مكہ سے باہر غار حرا ميں تشريف لے جاتے حضرت على (ع) آپ (ص) كے ساتھ ہوتے_(۱۹)

رسول اكرم (ص) كے زير سايہ حضرت على (ع) كى جو تربيت ہوئي اس كى اہميت و قدر وقيمت كے بارے ميں خود حضرت على (ع) فرماتے ہيں :

(وَلَقَد عَلمتُم مَوضعي من رَسُوْل اللّه بالقَرَابَة القَريبَة وَاَلمَنزلَة الخَصيصَة وَضَعَني في حجره وَاَنَا وَلَدٌ يَضُمُّنيْ الى صَدره وَيَكنُفُني في فرَاشه وَيَمُسُّنيْ جَسَدَهْ وَيَشُمُّنيْ عَرفَهْ وَ كَانَ يَمضُغُ النَّبيُّ ثُمَّ يُلَقّينيْ وَلَقَد كُنْتُ اَتَّبعََهُ اتّبَاعَ الفَصيل اَثَرَاُمّه يَرفَعُ لي كُلَّ يَوم: منْ اَخلَاقَهُ عَلَماً وَيَامُرُنيَ بالاقتدَائ به )(۲۰)


''يہ تو تم سب جانتے ہى ہو كہ رسول خدا (ص) كى مجھ سے كيسى قربت تھى اور آپ (ص) كى نظروں ميں ميرى كيا قدر ومنزلت تھى ، اس وقت جب ميں بچہ تھا آپ (ص) مجھے اپنى گود ميں جگہ ديتے اور سينے سے لگاتے ، مجھے اپنے بستر پر جگہ ديتے ، ميں آپ سے بغلگير ہوتا اور آپ(ص) كے جسم مبارك كى عطر آگيں بو ميرے مشام كو معطر كرديتى ، آپ (ص) نوالے چبا كر ميرے منہ ميں ركھتے ميں پيغمبر اكرم (ص) كے نقش قدم پر اس طرح چلتا جيسے شير خوار بچہ اپنى ماں كى پيروى كرتاہے، آپ (ص) ہر روز اپنے اخلاق كا نياپرچم ميرے سامنے لہراتے اور حكم فرماتے كہ ميں بھى آپ (ص) كى پيروى كروں''_

معبود حقيقى سے انس ومحبت

امين قريش نے اپنى زندگى كے تقريبا چاليس سال ان سختيوں اور محروميوں كے باوجود جو ہميشہ ان كے دامن گير رہيں نہايت صداقت ، شرافت، نجابت ، كردار كى درستى اور پاكدامنى كے ساتھ گزارے آپ (ص) نے اس عرصے ميں خدائے واحد كے علاوہ كسى كى پرستش نہيں كى اور انس عبادت اور معرفت خداوندى كو ہر چيز پر ترجيح دى چنانچہ يہى وجہ تھى كہ آپ (ص) ہر سال كچھ عرصہ جبل نور كے ''غارحرا'' ميں تنہا رہ كر عبادت خدا وند ى ميں گزارتے_

جناب اميرالمومنين حضرت على (ع) اس بارے ميں فرماتے ہيں :

(وَلَقَد كَانَ يُجَاورُ فيَ كُلّ سَنَة: بحرَائَ فَاَرَاهُ وَلَا يَرَاهُ غَيري )(۲۱)

''رسول خدا (ص) ہر سال كچھ عرصے كيلئے حرا ميں قيام فرماتے اس وقت ميں ہى انہيں ديكھتا ميرے علاوہ انہيں كوئي نہيں ديكھتا تھا''_

پيغمبر اكرم (ص) كے آباء و اجداد بھى سب ہى توحید پرست تھے اور سب ان آلودگيوں سے


دور تھے جن ميں لوگوں كى اكثريت ڈوبى ہوئي تھي_

اس بارے ميں حضرت علامہ مجلسى فرماتے ہيں:

شيعہ اماميہ كا اس بات پر اتفاق ہے كہ رسول خدا (ص) كے والدين اور آباء و اجداد مسلمان ہى نہيں بلكہ سب صديقين ميں سے تھے وہ يا تو نبى مرسل تھے يا معصوم اوصيا، ان ميں سے بعض تقيہ كى وجہ سے يا مذہبى مصلحتوں كى بنا پر دين اسلام كو ظاہر نہيں كرتے تھے_(۲۲)

رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشادہے:

(لَم اَزَل اُنقَلُ من اَصلَاب الطَّاهرينَ الى اَرحَام المُطَهَّرَات )(۲۳)

''ميں مسلسل پاك شخصيات كے صلب سے پاكيزہ خواتين كے رحم ميں منتقل ہوتا رہا ''_


سوالات

۱_رسول خدا (ص) نے ملك شام كا پہلا سفر كب كيا اور وہاں كيا واقعہ پيش آيا ؟

۲_بحيرا نے حضرت ابوطالب (ع) كو رسول خد ا(ص) كے بارے ميں كيا ہدايت كى تھيں؟

۳_ مستشرقين نے رسول خدا (ص) كى بحيرا سے ملاقات كو كس پيرائے ميں پيش كيا ان

كى بے دليل تاويلات كے بارے ميں مختصر طور پر اظہار خيال كيجئے؟

۴_ رسول خدا (ص) نے ملك شام كا دوسرا سفر كس وجہ سے كيا اور اس سفر سے آپ (ص) كو كيا

نتيجہ حاصل ہوا؟

۵_حضر ت خديجہ (ع) كى رسول خدا (ص) سے شادى كس سال ہوئي، حضرت خديجہ (ع) نے

اس شادى كى پيشكش كس وجہ سے كى خود ان كے اقوال كى روشنى ميں سوال كا

جواب ديجئے؟

۶_ حضرت زيد اپنے والد كے ہمراہ كيوں نہ گئے اور رسول خدا (ص) كے ساتھ كس وجہ

سے رہنا پسند كيا ؟

۷_ پيغمبر خدا (ص) نے كس طرح حضرت على (ع) كى تربيت فرمائي' حضرت على (ع) كے اقوال كي

روشنى ميں جواب ديجئے؟

۸_ نزول وحى سے قبل پيغمبر اكرم (ص) كا كيا دين ومسلك تھا؟


حوالہ جات

۱_پيغمبرا كرم(ص) كس سن ميں سفر پر روانہ ہوئے اس كے بارے ميں اختلاف ہے بعض نے سفر كے وقت آپ (ص) كى عمر نو سال كچھ مورخين نے بارہ اور تيرہ سال بھى لكھى ہے ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۱۷ و مروج الذہب ج ۲ ص ۲۷۵_

۲_يہ شہر دمشق كى سمت واقع ہے اور ''حوران ''كا مركز شمار كياجاتا ہے_ (معجم البلدان ج ۱ ص ۴۴۱ و ج ۲ ص ۳۱۷)_

۳_بعض مورخين نے اسے''تَيمائ'' كا يہودى عالم لكھا ہے ، ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۱۸_

۴_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۱۹ والسيرة النبويہ ج ۱ ص ۱۹۳ و ۱۹۴_

۵_بعض مورخين اور صاحب نظر محققين نے ان شواہد و قرائن كى بنياد پر جو اس روايت ميں موجود ہيں اس كى صحت پر شك وترديد كا اظہار كيا ہے ان كى رائے ميں يہ دشمنان اسلام كے ذہن كى اختراع ہے ، ان نظريات كے بارے ميں مزيد اطلاع حاصل كرنے كيلئے ملاحظہ ہو الصحيح من السيرة النبي(ص) ' ج ۱ 'ص ۹۱ و ۹۴ و تاريخ تحليلى اسلام تاليف رسول محلاتى ج ۱ ص ۲۷۲_

۶_يعقوبى نے اپنى تاريخ (ج ۲ ص ۲۱) ميں لكھا ہے كہ : ''رسول خدا (ص) نے اپنى زندگى ميں كبھى اجرت پر كام نہيں كيا''، اس كے قول كو مد نظر ركھتے ہوئے يہاں يہ كہنا پڑے گا كہ پيغمبر اكرم (ص) كى حضرت خديجہ (ع) كے ساتھ تجارت ، شراكت كى بنياد پر تھى اور انہوں نے اپنا مال بطور شريك تجارت آنحضرت (ص) كى تحويل ميں ديا تھا_

۷_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص۱۳۲ _ ۱۳۵_

۸_مثال كے طور پر جب يمن كے بادشاہ تبع نے حجر اسود كو مكہ سے يمن لے جانے كا عزم كيا تو حضرت خديجہ (ع) كے والد خويلد نے اپنى سعى و كوشش سے تبع كو اس ارادے سے باز ركھا ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۱ ص۱۳۸_

۹_ تاريخ كى بعض كتابوں ميں آيا ہے كہ حضرت خديجہ (ع) نے براہ راست پيغمبر اكرم (ص) كو شادى كا پيغام بھيجا ملاحظہ ہو سيرہ ابن اسحاق ص ۶۰_


۱۰_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۳۷ _ ۱۳۹_

۱۱_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۷۱_

۱۲_حلبى نے لكھا ہے كہ حضرت خديجہ(ع) نے اپنے بھتيجے سے كہہ ركھا تھا كہ ايك اچھا سا عرب غلام خريد كر ان كےلئے ليتے آئيں (السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۷۱)_

۱۳_السيرة النبويہ ج ۱ ص ۲۶۴_۲۶۵_

۱۴_يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ حضرت زينب نے كچھ عرصہ بعد زيد سے طلاق لے لى تو پيغمبر اكرم (ص) نے خدا كے حكم سے ان كے ساتھ نكاح كرليا_ چنانچہ سورہ احزاب كى آيات ۳۶_۳۷ _۳۸ ميں اس امر كى جانب اشارہ كيا گيا ہے_

۱۵_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۱۳۹ _

۱۶_علمائے اہل سنت كے نظريات اور اقوال جاننے كيلئے ملاحظہ ہو: كتاب (الغدير) ج ۲ ص ۲۱ _۲۳_

۱۷_مناقب ابن شہر آشوب ج ۲ ص ۱۸۰ نيز بعض كتب ميں ايك ضعيف قول لكھا ہے كہ اس وقت حضرت على (ع) كى عمر آٹھ سال تھى _ ملاحظہ ہو سير ةالائمہ اثنا عشر ج ۱ ص ۱۵۵_

۱۸_مورخين نے نقل مكانى كى يہ وجہ بتائي ہے كہ : ايك مرتبہ قريش سخت قحط سالى كا شكار ہوگئے ، حضرت ابوطالب (ع) چونكہ كثير العيال تھے اس لئے پيغمبر اكرم (ص) كى تجويز پر يہ طے ہوا كہ ان كے برادر ى كے لوگوں ميں سے ہر ايك كسى ايك بچے كى پرورش و نگہداشت كى ذمہ دارى قبول كرے اسى وجہ سے پيغمبرا كرم (ص) نے حضرت على (ع) كى پرورش اپنے ذمہ لى ملاحظہ ہو السيرة النبويہ ج ۱ ص ۲۶۲ و كامل ابن اثير ج ۲ ص ۵۸ _ ليكن نقل مكانى كى يہ وجہ معقول نظر نہيں آتى بالخصوص اس حالت ميں جب حضرت على (ع) كے سن مبارك كو نظر ميں ركھاجائے_شايد اس قدر بڑھا كر بيان كرنے كا سبب يہ تھا كہ رسول خدا (ص) كے اس عظيم كارنامے كو كم كر كے پيش كياجائے البتہ يہ كہا جاسكتاہے كہ آپ (ص) نے قحط سالى كو بہانہ بنايا اور چونكہ اس بچے كے تابناك مستقبل سے آپ (ص) واقف تھے اسى لئے طے شدہ دستورالعمل كے تحت آپ (ص) حضرت على (ع) كو اپنے گھر لے آئے ، اس ميں شك نہيں كہ حضرت على (ع) اپنى والد كے سب سے چھوٹے فرزند تھے اور اس وقت آپ (ص) كى عمر چھ سال سے زيادہ نہ تھى ، چھ سال كے بچے كا خرچ اتنا نہيں ہوتا كہ باپ اسے برداشت نہ كرسكے اور


باپ بھى كيسا جس كى اپنى برادرى ميں اعلى مرتبہ كى وجہ سے عزت تھى اور انہيں (شيخ الابطح) كہاجاتا تھا_

۱۹_تاريخ طبرى ج ۲ ص ۲۱۳ و شرح ابن حديد ج ۳ ص ۱۱۹_

۲۰_نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ (۱۹۲ )_اس خطبے ميں امام كے الفاظ اس بات كو بيان كررہے ہيں كہ آپ (ع) پر شير خوارگى كے زمانہ سے ہى پيغمبراكرم (ص) كى توجہ مركوز تھى اور ان كى زير تربيت تھے كيونكہ لقمہ چبانا اور منہ ميں ركھنا بچے ہى سے متعلق ہے_

۲۱_نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ (۱۹۲)_

۲۲_بحارالانوار ج ۱۵ ص ۱۱۷_

۲۳_ايضا ص ۱۱۸_


سبق ۵:

مكہ ميں اسلام كى تبليغ اورقريش كا رد عمل


بعثت (نزول وحي)

خداوند تعالى كى عبادت و پرستش ميںرسول اكرم (ص) كو چاليس سال گزرچكے تھے _ايك مرتبہ جب آپ (ص) غار حرا ميں اپنے معبود حقيقى سے راز و نياز اور عبادت ميں مصروف تھے اس وقت آپ (ص) رسالت پر مبعوث ہوئے ، حضرت جبرئيل امين (ع) آپ (ص) كے پاس آئے اوراولين آيات الہى كى تلاوت كى :

بسم اللّه الرَّحمن الرَّحيم

( اقرَائ باسم رَبّكَ الَّذي خَلَقَ خَلَقَ الانسَانَ من عَلَق: اقرَائ وَ رَبُّكَ الَاكرَمُ الَّذى عَلَّمَ بالَقَلَم عَلَّمَ الانسَانَ مَالَم يَعلَم ) _(۱)

''اپنے پروردگار كا نام لے كر پڑھو كہ جس نے انسان كو جمے ہوئے خون سے پيدا كيا _ پڑھو كہ تمہارا پروردگار بڑا كريم ہے ، جس نے قلم كے ذريعہ تعليم دى ہے اور انسان كو وہ سب كچھ سكھاديا جو وہ نہيں جانتا تھا''_

رسول اعظم(ص) نے جب يہ آيت مباركہ سنى اور خداوند تعالى كى جانب سے پيغمبرى كى خوشخبرى ملى نيز آپ (ص) نے مقام كبريائي كى عظمت و شان كا مشاہدہ كيا تو اس نعمت عظمى كو حاصل كرنے كے بعد آپ (ص) نے اپنے وجود مبارك ميں مسرت و شادمانى محسوس كى چنانچہ


آپ (ص) غار سے باہر تشريف لائے اور حضرت خديجہ(ع) كے گھر كى جانب روانہ ہوگئے_(۲)

راستے ميں جتنى پہاڑياں اور چٹانيں تھيں وہ سب كى سب قدرت حق سے گويا ہوگئي تھيں اور پيغمبر خدا (ص) كا ادب و احترام بجالاتے ہوئے''اَلسَلَامُ عَلَيكَ يَا نَبيَّ اللّه'' كہہ كر آپ (ص) سے مخاطب ہوہى تھيں_(۳)

شيعہ محدثين اور مورخين كے مشہور نظريے كى رو سے واقعہ ''عام الفيل'' كے چاليس سال گزر جانے كے بعد ۲۷ رجب پير كے دن رسول (ص) خدا مبعوث بہ رسالت ہوئے(۴) _

سب سے پہلے اسلام لانے والے

رسو ل خدا (ص) غار حرا سے گھر تشريف لے گئے اور آپ (ص) نے نبوت كا اعلان كرديا، سب سے پہلے آپ (ص) كے چچازاد بھائي حضرت على عليہ السلام نے آپ (ص) كى تصديق كى اور عورتوں ميں سب سے پہلے آپ (ص) كى زوجہ مطہرہ حضرت خديجہ(ع) تھيں جنہوں نے آپ (ص) كے پيغمبر (ص) ہونے كى تصديق كى ، اہل سنت كے اكثر و بيشتر مورخين بھى اس بات سے متفق ہيں_(۵)

اس سلسلے ميں چند روايات ملاحظہ ہوں:

۱_ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم

(هذَا اَوَّلُ مَن آمَنَ بي وَصَدَّقَّني وَصَلَّى مَعي )(۶)

يہ (على (ع)) وہ پہلا شخص تھا جو مجھ پر ايمان لايا ، ميرى تصديق كى اور ميرے ساتھ نماز ادا كي_


۲_ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم

اَوَّلُكُم وَارداً عَلَيَّ الحَوضَ و اَوَّلُكُم اسلَاماً ، عَليُّ ابنُ اَبى طَالب :(۷)

تم ميں سب سے پہلے حوض كوثر كے كنارے مجھ سے ملاقات كرنے والا تم ميں سابق الاسلام على ابن ابى طالب عليہ السلام ہے_

۳_ حضرت على عليہ السلام

اَللّهُمَّ انّي اَوَّلُ مَن اَنَابَ وَ سَمعَ وَاَجَابَ ، لَم يَسبَقني الّا رَسُوْلُ اللّه صَلَّى اللّهُ عَلَيْه و آله (۸)

بارالہا ميں وہ پہلا شخص ہوں جو دين كى طرف آيا ، اسے سنا اور قبول كيا ، پيغمبر اكرم (ص) كے علاوہ كسى شخص نے نماز ميں مجھ سے سبقت حاصل نہيں كي_

دعوت كا آغاز

رسول اكرم (ص) غار حرا سے نكل كر جب گھر ميں داخل ہوئے تو آپ (ص) نے بستر پر آرام فرمايا، ابھى آپ (ص) اسلام كے مستقبل اورتبليغ دين كى كيفيت كے بارے ميں سوچ ہى رہے تھے كہ سورہ مدثر نازل ہوا(۹) اور اللہ نے اپنے رسول (ص) كو اٹھ كھڑے ہونے اور ڈرانے (تبليغ دين كرنے) پر مامور كيا چنانچہ اس طرح پيغمبر اكرم (ص) نے دعوت حق كا آغاز كيا، اس دعوت كے تين مرحلے تھے ، خفيہ دعوت' رشتہ داروں كو دعوت اور عام لوگوں كو دعوت_


الف _ خفيہ دعوت

دعوت حق كے اس مرحلے كى مدت مورخين نے تين سے پانچ سال لكھى ہے _(۱۰) مشركين كى سازش سے محفوظ رہنے كيلئے رسول اكرم (ص) كو حكم ملا كہ عوام پر توجہ دينے كى بجائے لوگوں كو فرداً فرداً دعوت حق كيلئے تيار كريں اور پوشيدہ طور پر باصلاحيت لوگوں سے ملاقات كركے ان كے سامنے اللہ كا دين پيش كريں چنانچہ آپ (ص) كى جدو جہد سے چند لوگ اسلام لے آئے مگر ان كى ہميشہ يہى كوشش رہى كہ اپنے دين كو مشركين سے پوشيدہ ركھيں اور فرائض عبادت لوگوں كى نظروں سے دور رہ كر انجام ديں_

جب مسلمانوں كى تعداد ميں اضافہ ہوا اور تعداد تيس تك پہنچ گئي تو رسول خدا (ص) نے''ارقم'' نامى مسلمان صحابى كے گھر كو ، جو صفا كے دامن ميں واقع تھا ، تبليغ اسلام اور عبادت خداوند تعالى كا مركز قرار ديا ، آپ (ص) اس گھر ميں ايك ماہ تك تشريف فرما رہے يہاں تك كہ مسلمانوں كى تعداد چاليس افراد تك پہنچ گئي(۱۱) _

قريش كا رد عمل

اگر چہ قريش كو كم وبيش علم تھا كہ رسول خدا (ص) كى پوشيدہ طور پر دعوت دين حق جارى ہے ليكن انہيں اس تحريك كى گہرائي سے واقفيت نہ تھى اور اس طرف سے كوئي خطرہ محسوس نہيں كرتے تھے اس لئے انہوں نے اس جانب كوئي توجہ نہ كى اور اس پر كسى بھى رد عمل كا اظہار نہيں كرتے تھیمگر اس كے ساتھ ہى وہ اپنے گردو پيش كے ماحول سے بھى بے خبر نہ تھے چنانچہ وہ ان واقعات كى كيفيت ايك دوسرے سے بيان كرتے رہتے تھے ، رسول خدا (ص) نے اس سنہرى موقعہ سے نہايت فائدہ اٹھايا اور اس عرصے ميں آپ (ص) نے جماعت حق ''حزب اللہ'' كى داغ بيل ڈال دى _


ب_ اعزاء و اقرباء كو دعوت

دعوت كا يہ مرح-لہ اس آيت مباركہ كے نزول كے ساتھ شروع ہوا :

( وَاَنذر عَشيرَتَكَ الاَقرَبينَ ) (۱۲)

اپنے رشتہ داروں كو عذاب الہى سے ڈرائو_

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے حضرت على عليہ السلام كو كھانے كا انتظام كرنے پر مامور كيا اور آنحضرت(ص) نے اپنے عزيز و اقارب كو كھانے پر بلايا تاكہ خداوند تعالى كا پيغام ان تك پہنچاديں_

تقريباً چاليس يا پينتاليس آدمى آپ (ص) كے دسترخوان پر جمع ہوئے_(۱۳) رسول (ص) خدا ابھى لوگوں سے گفتگو كرنا ہى چاہتے تھے كہ ابولہب نے غير متعلقہ باتيں شروع كرديں اور آپ (ص) پر سحر و جادو گرى كا الزام لگا كر محفل كو ايسا درہم برہم كيا كہ اس ميں اصل مسئلے كو پيش نہ كياجاسكا_

اگلے روز آپ (ص) نے دوبارہ لوگوں كو كھانے پر مدعو كيا جب لوگ كھانے سے فارغ ہوگئے تو رسول خدا (ص) اپنى جگہ سے اٹھے اور تقرير كے دوران فرمايا كہ :

''اے عبدالمطلب كے بيٹو خدا كى قسم مجھے قوم عرب ميں ايك بھى ايسا جوان نظر نہيں آتا جو اپنى قوم كے لئے اس سے بہتر چيز لے كر آيا ہو جسے ميں اپنى قوم كےلئے لے كر آيا ہوں، ميں تمہارے لئے دنيااور آخرت كى خير (بھلائي) لے كر آيا ہوں ، خداوند تعالى نے مجھے اس كام پر مامور كيا ہے كہ ميں تمہيں اس كى طرف دعوت دوں ، تم ميں سے كون ايسا


شخص ہے جو ميرى اس كام ميں مدد كرے تاكہ وہ تمہارے درميان ميرا بھائي ، وصى اور جانشين بن سكے؟آخرى الفاظ كچھ اس طرح ہيں:

(فَاَيُّكُم يُوَازرُني عَلى هذَا الَامر عَلى اَن يَكُوُنَ اَخي وَوَصيّي وَ خَليفَتي؟)

رسول خدا (ص) نے تين مرتبہ اپنى بات دہرائي اور ہر مرتبہ حضرت على عليہ السلام ہى اپنى جگہ سے اٹھ كر كھڑے ہوئے اور اعلان كيا كہ ميں آپ (ص) كى مدد اور حمايت كروں گا، اس پر رسول خدا (ص) نے فرمايا :

(انَّ هذ َا اَخي وَ َوصيّي وَ خَليفَتي فيكُمَ فَاسمَعُوا لَهُ وَاَطيَعُوه ) (۱۴)

يہ على (ع) تمہارے درميان ميرے بھائي، وصى اور خليفہ ہيں ان كى بات سنو اور اطاعت كرو_

اس نشست ميں رسول خدا (ص) نے جو تقرير كى اس سے مسئلہ ''امامت '' كى اہميت واضح ہوجاتى ہے اور يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ اصل ''نبوت'' كو ''امامت'' سے جدا نہيں كيا جاسكتا _

پہلے عزيز و اقارب ہى كيوں ؟

مندرجہ بالا سوال كے جواب ميں يہ كہاجاسكتا ہے كہ عمومى دعوت سے قبل عقل و دانش كى رو سے عزيز و اقارب كو ہى دعوت دى جانى چاہئے كيونكہ حقيقت يہ ہے كہ رسول خدا (ص) كا يہ اقدام انتہائي حساس مرحلے اور خطرناك حالات ميں، دعوت حق كى بنيادوں كو استوار كرنے كا بہترين ذريعہ تھا كيونكہ :


۱_عزيز و اقارب كو اپنى جانب مائل كركے ہى پيغمبر اكرم (ص) دشمنان اسلام كے خلاف طاقتور دفاعى محاذ قائم كرسكتے تھے ، اس كے علاوہ كچھ اور نہيں تو كم از كم اتنا فائدہ تو تھا ہى كہ اگر ان كے دل آپ (ص) كے دين كى طرف مائل نہ بھى تو بھى رشتہ دارى اور قرابت كے تقاضوں كے مطابق وہ لوگ آنحضرت (ص) كے تحفظ و دفاع كيلئے اٹھ كھڑے ہوں_

۲_اس كا م سے رسول اللہ (ص) نے اپنى داخلى تشكيلات ميں موجود خوبيوں ، خاميوں اور كمزوريوںكا خوب اندازہ لگاليا ، آپ (ص) مخالف اور ہٹ دھرم قوتوں سے خوب واقف ہوگئے_

ج_عام دعوت حق

رسول خدا (ص) نے دعوت كے تيسرے مرحلے ميں اپنى تبليغ كو وسعت دى اور پہلى محدوديت كو ختم كردياارشاد خداوندى ہوا:

( فَاصدَع بمَا تُؤمَرُ وَأَعرض عَن المُشركينَ_ إنَّا كَفَينَاكَ المُستَهزئينَ ) (۱۵)

''پس اے پيغمبر (ص) جس چيز كا حكم دياجارہا ہے اسے آشكارا بيان كرو اور شرك كرنے والوں كى ذرا برابر پروا نہ كرو ،(تمہارى طرف سے) ہم ان مذاق اڑانے والوں كى خبر لينے كيلئے كافى ہيں_''

ان آيات كے نزول كے بعد آپ (ص) سب لوگوں كو دين اسلام قبول كرنے كى دعوت دينے پر ما مور ہوئے، چنانچہ اس مقصد كى خاطر آپ(ص) كوہ صفا پر تشريف لے گئے اور اس جم غفير كے سامنے جو اس وقت وہاں موجود تھا آپ (ص) نے اس تمہيد كے ساتھ تقرير شروع كى :


''اگر ميں يہ كہوں كہ اس پہاڑ كے پيچھے تمہارى گھات ميں دشمن بيٹھا ہوا ہے اور تمہارے لئے اس كا وجود سخت خطرے كا باعث ہے تو كيا تم ميرى بات كا يقين كرو گے؟'' سب نے يك زبان ہو كر كہا كہ ہاں ہم آپ (ص) كى بات كا يقين كريں گے كيونكہ ہم نے آپ (ص) كى زبان سے اب تك كوئي جھوٹى بات نہيں سنى ہے ، يہ سننے كے بعد آپ (ص) نے فرمايا :

( فَانّى نَذيرٌ لَكُم بَينَ يَدَي عَذَاب: شَديد: ) _

اب(جب كہ تم نے ميرى راست گوئي كى تصديق كردى ہے تو) ميں تمہيں بہت ہى سخت عذاب سے آگاہ و خبردار كر رہا ہوں_

رسول خدا(ص) كى يہ بات سن كر ابولہب بول اٹھا اور كہنے لگا:

'' تمہارا براہو كيا تم نے يہى بات كہنے كيلئے ہميں يہاں جمع كيا تھا ''_

خداوند تعالى نے اس گستاخ كى تنبيہہ كرنے اور اس كا معاندانہ چہرہ برملا كرنے كى خاطر يہ سورت(۱۶) نازل فرمائي(۱۷)

بسم الله الرَّحمن الرَّحيْم

( تَبَّت يَدَا أَبى لَهَب: وَتَبَّ (۱) مَا أَغنَى عَنهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (۲) سَيَصلى نَارًا ذَاتَ لَهَب: (۳) وَامرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الحَطَب (۴) فى جيدهَا حَبلٌ من مَسَد: ) (۵)

''ابولہب كے ہاتھ ٹوٹ جائيں نہ اس كا مال اس كے كام آيا اور نہ كمايا ہوا ، عنقريب اُسے آگ ميں ڈالاجائے گا اور اس كى بيوى لكڑى ڈھونے والى كو ، جس كے گلے ميں بٹى ہوئي رسى ہے''


قريش كا رد عمل

پيغمبر اكرم (ص) كى نبوت كى خبر جيسے ہى مكہ ميں پھيلى اُسى وقت سے ہى قريش كے اعتراضات شروع ہوگئے، جب انہوں نے محسوس كيا كہ يہ مسئلہ سنگين صورت اختيار كر گيا ہے اور حضور(ص) كى تحريك ان كے خس وخاشاك جيسے دينى عقائد اور مادى مفادات كيلئے خطرہ ہے تو انہوں نے آپ (ص) كے آسمانى دين (اسلام) كے خلاف محاذ بناليااور آپ(ص) كى مخالفت پر كمربستہ ہوگئے يہاں ہم ان كى بعض ناكام كوششوں كا ذكر كرتے ہيں:

الف _مذاكرہ

مشركين قريش كى شروع ميں تو يہى كوشش رہى كہ وہ حضرت ابوطالب (ع) اور بنى ہاشم كے مقابلے پر نہ آئيں بلكہ انہيں مجبور كريں كہ وہ پيغمبر اكرم (ص) كى حمايت وپشت پناہى كے اپنے موقف سے دست بردار ہوجائيں تاكہ وہ آسانى سے رسول اكرم (ص) كى سركوبى كرسكيں_

اس مقصد كے حصول كيلئے انہوں نے پہلے تو يہ كوشش كى كہ حضرت ابوطالب (ع) كو يہ كہنے پر مجبور كرديں كہ ان كے بھتيجے كى تحريك نہ صرف ان (مشركين قريش) كيلئے مضر ہے بلكہ قوم و برادرى ميںحضرت ابوطالب (ع) كوجو عزت وحيثيت حاصل ہے اس كيلئے بھى خطرہ پيدا ہوگيا_

مشركين قريش نے خوبرو ، تنو مند اور وجيہہ جوان شاعر عمارة بن وليد بن مغيرہ كو حضرت ابوطالب (ع) كى فرزندى ميں دينے كى كوشش كى تاوہ كہ پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى حمايت سے دست بردار ہوجائيں اور آپ (ص) كو ان كے حوالے كرديں _(۱۸)

حضرت ابوطالب عليہ السلام نے ان كى ہر بات كامنفى جواب ديا اور رسول خدا (ص) كى حمايت سے دست بردار ہونے سے كسى بھى قيمت پر آمادہ نہ ہوئے_


ب_ لالچ

سرداران قريش جب پہلے مرحلے ميں شكست و ناكامى سے دوچار ہوئے تو انہوں نے فيصلہ كيا كہ چراغ نبوت كو خاموش كرنے كيلئے رسول(ص) خدا كو مال ودولت كا لالچ ديا جائے چنانچہ اس مقصد كے تحت پہلے وہ حضرت ابوطالب (ع) كے پاس پہنچے اور يہ شكوہ و شكايت كرتے ہوئے كہ ان كے بھتيجے (حضرت محمد (ص)) نے ان كے بتوں كے خلاف جو رويہ اختيار كيا ہے وہ سخت نازيبا ہے،يہ پيشكش كى كہ اگر حضرت محمد (ص) ہمارے بتوں كى مخالفت سے دستبردار ہوجائيں تو ہم انہيں دولت سے مالا مال كرديں گے ،ان كى اس پيشكش كے بارے ميں رسول خدا (ص) نے جواب ديا :

خداوند تعالى نے مجھے دنيا پرستى اور زراندوزى كيلئے انتخاب نہيں كيا ہے بلكہ مجھے منتخب كياگيا ہے كہ لوگوں كو اللہ كى جانب آنے كى دعوت دوں اور اس مقصد كيلئے ان كى رہنمائي كروں_(۱۹)

يہ بات آپ (ص) نے دوسرى جگہ ان الفاظ ميں بيان فرمائي:

''چچا جان خدا كى قسم اگر سورج كو ميرے دائيں ہاتھ ميں اور چاند كو بائيں ہاتھ ميں ركھ ديں تو بھى ميں رسالت الہى سے دست بردار ہونے والا نہيں ، اس تحريك خداوندى كو فروغ دينے كيلئے ميں جان كى بازى تو لگا سكتا ہوں مگر اس سے دستبردار ہونے كيلئے تيار نہيں ''_(۲۰)

سرداران قريش نے اگلے مرحلے پر يہ فيصلہ كيا كہ وہ براہ راست پيغمبر اكرم (ص) سے گفتگو كريں چنانچہ اس مقصد كے تحت انہوں نے اپنا نمائندہ آپ (ص) كى خدمت ميں روانہ كيا اور آپ (ص) كواپنى محفل ميں آنے كى دعوت دى جب رسول خدا (ص) ان لوگوں ميں پہنچ گئے تو كفار


قريش نے آپ (ص) كے رويے كے خلاف شكايت كرتے ہوئے كہا كہ اگر آپ (ص) كو مال و دولت كى تمنا ہے تو ہم اتنا وافر مال و متاع دينے كےلئے تيار ہيں كہ آپ (ص) سب سے زيادہ مالدار ہوجائيںگے، اگر آپ (ص) كوسردارى كى خواہش ہے تو ہم آپ (ص) كو اپنا امير و سردار بنانے كيلئے تيار ہيں اور ايسے مطيع فرمانبردار بن كر رہے ہيں كہ آپ (ص) كى اجازت كے بغير كوئي كام بھى نہ كريں گے اور اگر آپ (ص) كے دل ميں حكومت اور سلطنت كى آرزو ہے تو ہم آپ (ص) اپنا حكمران و فرمانروا تسليم كرنے كيلئے آمادہ ہيں _

يہ سن كر رسول خدا (ص) نے فرمايا:

ميں مال و دولت جمع كرنے ، تمہارا سردار بننے اور تخت سلطنت پر پہنچنے كيلئے مبعوث نہيںہوا ہوں ، خداوند تعالى نے مجھے تمہارى جانب ايك پيغمبر كى حيثيت سے بھيجا ہے اور مجھ پر اپنى كتاب نازل فرمائي ہے مجھے تمہارے پاس جنت كى خوشخبرى دينے اور عذاب دوزخ سے ڈرانے كيلئے بھيجا گيا ہے جس پيغام كو پہنچانے كى ذمہ دارى مجھے سونپى گئي ہے اسے ميں نے تم تك پہنچاديا ہے ، اگر تم ميرى بات مانو گے تو تمہيں دنيا و آخرت كى خوشياں نصيب ہوں گى اور اگر تم ميرى بات قبول كرنے سے انكار كرو گے تو ميں اس راہ ميں اس وقت تك استقامت و پائيدارى سے كام لوں گا كہ خداوند تعالى ميرے اور تمہارے درميان فيصلہ كردے_(۲۱)

ج _ تہمت و افترا پردازي

پيغمبر اكرم (ص) كى عالى شان شخصيت كو داغدار كرنے كيلئے قريش نے جو پست طريقے اختيار كئے ان ميں سے ايك احمقانہ حربہ يہ بھى تھا كہ انہوں نے آپ (ص) پر تہمتيں لگائيں اور آپ(ص)


كے خلاف غلط پروپيگنڈا كيا _چنانچہ آپ (ص) كو(نعوذ باللہ) جھوٹا ، كاہن، اور ساحر و جادوگر قرار ديا گيا _ وہ لوگوں ميں كہتے پھرتے تھے كہ اس شخص كے پاس كوئي ايسا جادو ہے كہ جس كے ذريعے يہ شخص باپ ،بيٹے ، مياں بيوي، دوستوں اور رشتہ داروں كے درميان جدائي ڈال ديتا ہے_(۲۲)

قرآن مجيد نے ان تہمتوں كے بارے ميں كئي جگہ پر اشارہ كيا ہے او رپيغمبر اكرم (ص) كى بابركت و مقدس ذات گرامى كو اس قسم كے الزامات سے منزہ و مبرہ قرار ديا ہے _(۲۳) چنانچہ ايك آيت ميں پيغمبراكرم (ص) كى يہ كہہ كر دلجوئي كى ہے كہ يہ پست شيوہ صر ف ان كفار كى خصوصيت نہيں بلكہ ان سے پہلے بھى دشمنان انبياء اسى قسم كے حربے استعمال كرچكے ہيں_

( كَذَلكَ مَا أَتَى الَّذينَ من قَبلهم من رَسُول: إلاَّ قاَلُوْا سَاحرٌ أَو مَجنُونٌ_ أَتَوَاصَوا به بَل هُم قَومٌ طَاغُونَ ) _(۲۴)

''اے رسول ((ص) جس طرح انہوں نے تجھے اذيت دى اسى طرح )ان سے پہلے كى قوموں كے پاس بھى كوئي رسول ايسا نہيں آيا جسے انہوں نے ساحر يا مجنون، نہ كہا ہو كيا ان سب نے آپس ميں اس پر كوئي سمجھوتہ كرليا ہے؟ نہيں بلكہ يہ سركش لوگ ہيں''_

د_ شكنجہ وايذار ساني

آپ پر الزامات كى بوچھاڑكے ساتھ ساتھ، انہوں نے آپ (ص) كو اذيت و آزار دينا بھى شروع كرديا اور جس حد تك ممكن تھا انہوں نے اذيت دينے ميں كوئي كسر نہ چھوڑي، قريش نے يہ غير انسانى طرز عمل نہ صرف پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ روا ركھا ہوا تھا بلكہ وہ مسلمانوں كے


ساتھ بھى اسى طرح كا سلوك كرتے تھے_

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كو ابولہب' اس كى بيوى ام جميل' حكم ابن ابى العاص' عقبہ ابن ابى معيط اور ان كے ساتھيوں نے دوسروں كے مقابلے ميں بہت زيادہ ايذا و تكليف پہنچائي _(۲۵)

رسول خدا (ص) تبليغ اسلام كےلئے بازار ''عكاظ'' كى جانب تشريف لے جاتے تھے كہ ابولہب بھى آپ (ص) كے پيچھے پيچھے ہوليتا اور چلا چلا كر كہنے لگتا : لوگو ميرا يہ بھتيجا جھوٹا ہے اس سے بچ كر رہنا _(۲۶)

قريش آوارہ لڑكوں اور اپنے اوباش اور بے ادب غلاموں كو پيغمبر اكرم (ص) كے راستے پر بٹھاديتے چنانچہ جب آنحضرت (ص) اس راستے سے گزرتے تو سب آپ (ص) كے پيچھے لگ جاتے اور آپ (ص) كا مذاق اڑاتے_ جس وقت آپ(ص) نماز كيلئے كھڑے ہوتے تو آپ (ص) پر اونٹ كى اوجھڑى اور فضلہ انڈيل ديتے_(۲۷)

رسول اكرم (ص) نے دشمن كے ہاتھوں ايسى سختياں برداشت كيں كہ آپ(ص) كو يہ فرمانا پڑا:

(مَا اُوذيَ اَحَدٌ مثلُ مَا اُوذيتُ فى اللّه ) (۲۸)

''راہ خدا ميں كسى بھى پيغمبر پر اتنى سختياں نہيں ہوئيں جتنى مجھ پر ''_

اصحاب رسول (ص) كے بارے ميں بھى انہوں نے يہ فيصلہ كيا كہ ہرقبيلہ كو چاہئے كہ اپنے تازہ مسلمان ہونے والے افراد كو ہر طرح كى ايذا وتكليف پہنچائيں تاكہ وہ مجبور ہو كر اپنے نئے دين سے دستبردار ہوجائيں_

''حضرت ياسر' ' اور ان كى اہليہ ''سميہ'' اور فرزند ''عمار'' ،''خباب ابن ارت ''،''عامر بن فہيرہ ''اور ''بلال حبشي'' نے دوسرے مسلمانوں كے مقابلے ميں زيادہ مصائب و تكاليف


برداشت كيں_(۲۹)

حضرت''سميہ'' وہ پہلى مسلم خاتون تھيں جو فرعون قريش ابوجہل كى طاقت فرسا ايذارسانى و شكنجہ كے باعث اس كے نيزے كے وار سے زخمى ہوكر شہيد ہوگئيں، ان كے شوہر ياسر دوسرے شخص تھے جو راہ اسلام ميں شہيد ہوئے عمار نے بھى اگر تقيہ نہ كيا ہوتا تو وہ بھى قتل كرديئے جاتے_(۳۰)

اميہ بن خلف اپنے غلام حضرت بلال كو بھوكا پياسا مكہ كى تپتى دوپہر ميں جلتى ريت پر لٹاديتا اور سينے پر بھارى پتھر ركھ كر كہتا كہ لات و عزى كى پوجا كرو ورنہ اسى حالت ميں مرجاؤگے، مگر بلال سخت تكاليف ميں بھى يہى جواب ديتے :'' اَحَد اَحَد''_(۳۱)

اس كے علاوہ ديگر مسلمانوں كو بھى ہر قسم كى ايذا و تكليف پہنچاتے ، انہيں قيد و بند ميں ركھتے ، سخت زدو كوب كرتے ، بھوكا پياسا ركھتے اور گلے ميں رسى باندھ كر گليوں ميں گھسيٹتے تھے(۳۲) _


سوالات

۱_ رسول خدا (ص) كس سال مبعوث بہ رسالت ہوئے اور پہلے پہل كون سى آيات آپ (ص) پر نازل ہوئيں؟

۲_ سب سے پہلے كون اسلام لايا ؟ اوراس كى دليل كيا ہے؟

۳_پيغمبر اكرم (ص) كے مراحل دعوت كا حال آيات كى روشنى ميں بيان كريں؟

۴_رسول خدا (ص) نے جب تبليغ دين اسلام شروع كى تو پہلے مرحلے پر قريش كا كيا رد عمل رہا؟

۵_ قريش كے سرداروں اور حضرت ابوطالب (ع) كے درميان پيغمبر اكرم (ص) كے بارے ميں جو گفتگو ہوئي تھى اس ميں كياباتيں ہوئيں؟

۶_ قريش كى تجاويزاور ان كے وعدوں كا آنحضرت (ص) نے كيا جواب ديا؟

۷_ رسول خدا (ص) اور اصحاب رسول (ص) كو مشركين قريش نے كيا تكاليف پہنچائيں بيان كيجئے؟

۸_ دين اسلام قبول كرنے كے بعد كس كو سب سے پہلے شہادت نصيب ہوئي اور كس شخص نے شہيد كيا ؟


حوالہ جات

۱_سورہ علق آيت ۱ سے ۵ تك _

۲_ الصحےح من السيرة النبى (ص) ج ۱ ص ۲۳۳_اس كتاب كا اردو ترجمہ بھى مترجم كے قلم سے منظر عام پر آرہا ہے_

۳_مناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۴۶ ، بحار الانوار ج ۱۸ صفحہ ۱۹۶ وتفسير برہان ج ۴ صفحہ ۴۷۹_

۴_ملاحظہ ہو: بحارالانوار ۱۸،ص ۱۸۹، ص ۱۹۰، ص ۲۴۰_

۵_اہلسنت كے مورخین كى مزيد رائے جاننے كيلئے ملاحظہ ہو الغدير ج ۳ ص ۲۲۴_۲۳۶بعض مورخين نے لكھا ہے كہ حضرت خديجہ (ع) وہ پہلى خاتون تھيں جو دين اسلام سے مشرف ہوئيں (ملاحظہ ہو السيرة النبويہ وسيرہ ابن ہشام ج ۱ ص ۲۵۷ والسيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۶۷) البتہ دونوں نظريات كو اكٹھا كرتے ہوئے يہ كہا جاسكتا ہے كہ حضرت خديجہ(ع) اسلام قبول كرنے والى پہلى خاتون ہيں نہ يہ كہ وہ سب افراد سے پيشقدم ہوں_

۶_شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱۳ ص ۲۲۰_

۷_المستدرك حاكم نيشاپورى ' ج ۳' ص ۱۳۶_

۸_ نہج البلاغہ، فيض الاسلام خطبہ ۱۳۱_

۹_اس سورہ كے شروع ميں آيا ہے '' يَا اَيُّہاَ اَلمُدَّثّرُ _ قُم فَاَنذر (اے اوڑھ لپيٹنے والے اٹھو اور لوگوں كو ڈرائو)_

۱۰_ملاحظہ ہو الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۱ ص ۲۵۹ والسيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۸۳_

۱۱_ ملاحظہ ہو: سيرہ حلبيہ ج ۱ ص ۲۸۳ و الاصابہ ج ۱ ص ۲۸_

۱۲_ سورہ شعرا آيت ۲۱۴_

۱۳_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۸۵_

۱۴_ملاحظہ ہو تاريخ طبرى ج ۲ ص ۳۲۰ _۳۲۱ مجمع البيان ج ۲ ' ص ۱۸۷ والغدير ج ۲ ص ۲۷۹_

۱۵_سورہ حجر آيہ ۹۴_ ۹۵_

۱۶_اللہب جسے سورہ تبت كے نام سے بھى ياد كيا جاتا ہے_


۱۷_ملاحظہ ہو تاريخ طبرى ج ۲ ' ص ۳۱۹_

۱۸_السيرة النبويہ ج ۱ ص ۲۸۵_

۱۹_تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۲۴_

۲۰_السيرة النبويہ ' ابن ہشام ج ۱ ص ۲۸۵ و تاريخ طبرى ج ۲ ' ص ۳۲۶_

۲۱_تاريخ طبرى ج ۲ ص ۳۱۵_ ۳۱۶_

۲۲_السيرة النبويہ ج ۱ ص ۲۸۹_

۲۳_بطور مثال ملاحظہ ہو سورہ ص آيت۴ و سورہ شعرا آيت ۱۵۳ و سورہ قلم آيت ۲ _۵۱ وسورہ تكوير آيت ۲۲_

۲۴_سورہ الذاريات آيت ۵۲_ ۵۳_

۲۵_۲۶_۲۷_ايضاء ص ۲۴_

۲۸_كنزالعمال ج ۳ 'ص ۱۳۰ حديث ۵۸۱۸_

۲۹_ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۹۷ _ ۳۰۱ و تاريخ يعقوبى ج ۲ ' ص ۲۸_

۳۰_الصحيح من سيرة النبي(ص) ج ۲ ' ص ۳۸ _۳۹_

۳۱ _السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۹_

۳۲_ السيرة النبويہ ج ۱ ص ۳۳۹و السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۲۹۷


سبق ۶:

قريش كى سازشيں اورہجرت حبشہ


ھ : پيغمبر اكرم (ص) كے پاس پہنچنے سے لوگوں كو روكنا

گرد ونواح سے وہ لوگ جن كے دلوں ميں دين اسلام كى محبت پيدا ہوگئي تھى وہ پيغمبر اكرم (ص) سے ملاقات كرنے كى خاطر مكہ آتے مگر مشركين انہيں پيغمبر اكرم (ص) تك پہنچنے سے منع كرتے تاكہ دين اسلام كے اثر و نفوذ كو روك سكيں وہ ہر حيلے اور بہانے سے انہيں اسلام لانے اور رسول(ص) خدا سے ملاقات كرنے سے روكتے ، يہاں بطور مثال ايك واقعہ پيش كياجاتا ہے_

اعشى زمانہ جاہليت كا مشہور شاعرتھا اسے رسول خدا (ص) پر نزول وحى اور آپ (ص) كى اسلامى تعليمات كا كچھ نہ كچھ علم ہوگيا تھا ، چنانچہ اس نے آنحضرت (ص) كى شان ميں قصيدہ كہا اور اسے لے كر مكہ كى جانب روانہ ہوا تاكہ دين اسلام قبول كرنے كا شرف حاصل كرسكے ، جس وقت وہ مكے ميں داخل ہوا مشركين اس سے ملنے آئے اور اس سے شہر ميں آنے كا سبب دريافت كيا جب انہيں اعشى كے قصد و ارادے كا علم ہو اتو انہوں نے اپنى فطرى شيطنت اور حيلہ گرى كے ذريعے اسے پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ ملاقات كرنے سے روكا چنانچہ اس نے فيصلہ كيا كہ اس وقت وہ واپس اپنے شہر چلا جائے اور آئندہ سال پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں حاضر ہو كرد ين اسلام قبول كرنے كا شرف حاصل كرے مگر موت نے اسے اس سعادت كى مہلت نہ دى اور سال ختم ہونے سے پہلے وہ انتقال كرگيا_(۱)


و: قرآن سے مقابلہ

دشمنان اسلام كو جب يہ علم ہوا كہ آسمانى دين و آئين كى تبليغ ميں پيغمبر اكرم (ص) كى كاميابى كا اہم ترين عامل آيات الہى كى وہ معنوى كشش ہے جو لوگوں كے دلوں پر اثر كرتى ہے اور انہيں اپنا گرويدہ بناليتى ہے ، تو انہيں يہ بچگانہ تدبير سوجھى كہ كوئي ايسى سازش كريں جس كے ذريعے لوگوں كو قرآن كى جانب متوجہ ہونے سے روك سكيں اور اس مقدس كتاب كى مقبوليت اور دلچسپى كو ختم كرسكيں_

نضر بن حارث كا شمار ان دشمنان اسلام ميں ہوتا ہے جو رسول خدا (ص) كو بہت زيادہ اذيت پہنچايا كرتے تھے _اس نے ''حيرہ'' كے سفر ميں رستم و اسفنديار كى داستانيں سن كر ياد كرلى تھيں چنانچہ اسے قريش كى طرف سے يہ كام سونپا گيا كہ جب مسجد الحرام ميں پيغمبر اكرم (ص) كا تبليغى دستورالعمل ختم ہوجايا كرے تو وہ آنحضرت (ص) كى جگہ پر جا كر بيٹھے اور لوگوں كو رستم اور اسفنديار كى داستانيں سنائے شايد اس طريقے سے پيغمبر اكرم (ص) كے مرتبے كو كم كياجاسكے اور آپ (ص) كى تبليغ نيز آيات الہى كو بے قدر وقيمت بناياجاسكے ، وہ بڑى ہى گستاخى اور ديدہ دليرى سے كہتا : لوگو تم ميرى طرف آئو ميں تمہيں محمد(ص) سے كہیں بہتر قصے اور كہانياں سنائوں گا_

اس نے اسى پرہى اكتفا نہيں كيا بلكہ گستاخى اور بے باكى ميں اس سے بھى كہيں آگے بڑھ گيا اور اپنے خدا ہونے كا دعوى كردياوہ لوگوں سے كہتا كہ ميں بھى جلد ہى وہ چيز اتاروں گا جو محمد (ص) كا خدا اس پر نازل كيا كرتا ہے_(۲)

اس سلسلے ميں قرآن مجيد ميں چند آيات نازل ہوئيں كہ البتہ بطور نمونہ ہم ايك كا ذكر كر رہے ہيں :


( وَقَالُوا أَسَاطيرُ الأَوَّلينَ اكتَتَبَهَا فَهيَ تُملَى عَلَيه بُكرَةً وَأَصيلًا _ قُل أَنزَلَهُ الَّذي يَعلَمُ السّرَّ فى السَّمَاوَات وَالأَرض إنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحيمًا ) (۳)

''كہتے ہيں يہ تو اگلے لوگوںكے افسانے ہيں جنہيں لكھواليا ہے اور صبح و شام ان كے سامنے پڑھے جاتے ہيں ، آپ (ص) كہہ ديجئے كہ اسے اس نے نازل كيا ہے جو زمين وآسمان كے راز جانتا ہے اور وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے''_

قرآن مجيد كے خلاف مشركين نے دوسرا محاذ يہ تيار كيا كہ انہوں نے اپنے پيروكاروں كو يہ حكم ديا كہ جس وقت رسول خدا (ص) قرآن مجيد كى تلاوت فرماتے ہيں تو اسے نہ صرف سنا ہى نہ جائے بلكہ ايسا شور و غل بپا كياجائے كہ دوسرے لوگ بھى اسے سننے سے باز رہیں چنانچہ اس سلسلہ ميں قرآن مجيد كا ارشا د ہے :

( وَقَالَ الَّذينَ كَفَرُوا لاَتَسمَعُوا لهذَا القُرآن وَالغَوا فيه لَعَلَّكُم تَغلبُونَ ) (۴)

''اوركافروں نے ايك دوسرے سے يہ كہا كہ : اس قرآن پر كان نہ دھرو اور جب پڑھاجائے تو شورو غل بپا كياكرو شايد تم كامياب ہوجائو''_

ہجرت حبشہ:

اگر چہ رسول خدا (ص) اور بنى ہاشم كے ديگر چند حضرات، حضرت ابوطالب (ع) كى زير حمايت كچھ حد تك دشمنوں كى گزند سے بالخصوص جسمانى آزار و ايذا سے محفوظ تھے مگر دوسرے بے پناہ اور بے يارو مددگار مسلمان ايذا اور اذيت كى انتہائي سخت تكاليف و مشكلات سے گزر


رہے تھے_

پيغمبر اكرم (ص) كےلئے يہ بات سخت شاق اور ناگوار تھى كہ آپ (ص) كے اصحاب وہمنوا ايسى سخت مشقت ميں مبتلا رہيں اور ہر طرح كے مصائب وآلام سے گزرتے ہيں _ دوسرى طرف اس بات كا بھى امكان تھا كہ اگر يہى كيفيت برقرار رہى تو ہوسكتا ہے كہ نو مسلم اپنے عقيدے ميں سست ہوجائيں_(۵)

اس كے علاوہ يہى حالت دوسرے لوگوں كو اسلام كى جانب عمل ہونے سے روك بھى سكتى تھي، چنانچہ ان حالات كے پيش نظر يہ لازم سمجھا گيا كہ اس ديوار كو بھى گرادياجائے تاكہ قريش يہ جان ليں كہ حقيقت اسلام ان كے حد تصور اور تسلط واقتدار سے كہيںزيادہ بالاو برتر ہے_

اس گھٹن اور دبائو كے ماحول سے نجات حاصل كرنے كيلئے مسلمانوں كواس بات كى اجازت دى گئي كہ وہ ترك وطن كركے حبشہ چلے جائيں ، اس ملك كے انتخاب كئے جانے كى چند وجوہات تھیں:

۱_يہ ملك شہنشاہ روم كے ساتھ اچھے تعلقات ركھنے كے باوجود، سياسى نقطہ نظر سے بہت حد تك مستقل اور اس زمانے كے دو بڑى طاقتوں (ايران اور روم) كے اثر و نفوذ سے دور تھا_

۲_ حبشہ اور حجاز كے درميان بحيرہ احمر كے واقع ہونے كى وجہ سے قريش كى مسلمان مہاجروں تك رسائي كا امكان كم تھا_

۳_عادل حكمران اور نسبتاً صحيح اور بہتر ثقافتى ماحول كى وجہ سے حبشہ كا ملك ديگر ممالك پر برترى ركھتا تھا_ مہاجروں كو الوادع كرتے وقت رسول اكرم (ص) كى يہ باتيں بھى اس


حقيقت كى تائيد كرتى ہيں كہ ''اس ملك كے حكمران كى وجہ سے كسى پر ستم نہيں كياجاتا اور وہ پاك اور سچائي كى سرزمين ہے''_(۶)

مہاجرين كا وہ پہلا گروہ جو پندرہ افراد پر مشتمل تھا عثمان ابن مظعون كى زير سر پرستى بعثت كے پانچويں سال رجب كے مہينے ميں اس عيسائي ملك حبشہ (ايتھوپيا)كى جانب روانہ ہوا اور دو ماہ بعد واپس مكہ آگيا_

دوسرے گروہ ميں تراسى مرد اور اٹھارہ عورتيں اور چند بچے شامل تھے يہ گروہ حضرت جعفر ابن ابى طالب (ع) كى زير سرپرستى ہجرت كركے حبشہ چلاگيا جس كا وہاں كے فرمان روا ''نجاشي'' نے بہت پرتپاك طريقے سے استقبال كيا_

قريش كو جب اس واقعے كا علم ہوا تو انہوں نے عمروبن عاص اور عبداللہ ابن ابى ربيعہ كو اپنا نمائندہ بنا كر حبشہ روانہ كيا ان كے ساتھ انہوں نے نجاشى اور اس كے درباريوں كے لئے بہت سے عمدہ تحفے تحائف بھى بھيجے اور اس سے يہ درخواست كى كہ پناہ گزيں مسلمانوں كو واپس كردياجائے_

قريش كے نمائندوں نے بادشاہ نجاشى اور اس كے درباريوں كو مسلمانوں سے بدظن كرانے كى ہر ممكن كوشش كى اور بہت اصرار كياكہ مہاجر مسلمانوں كو واپس كردياجائے مگر انہيں اپنے مقصد ميں كاميابى نہ ہوئي اور وہ نجاشى بادشاہ كو اپنا ہم خيال نہ بناسكے_

نجاشى نے جب مہاجرين كے نمائندے حضرت جعفر ابن ابى طالب (ع) كى دلچسپ اور منطقى باتيں سنيں اور حضرت جعفر (ع) نے جب اس كے سامنے قرآنى آيات كى قرا ت كى تو وہ انہيں سن كر مسلمانوں پر فريفتہ اور ان كے عقائد كا شيداہوگيا چنانچہ اس نے سركارى سطح پر مسلمانوں كى واضح اور قطعى حمايت كا اعلان كرديا اور قريش كے نمائندوں كو حكم ديا كہ اس


كے ملك سے نكل جائيں_

ملك حبشہ ميں مہاجرين انتہائي آرام اور سہولت كى زندگى بسر كرتے رہے اور جب رسول خدا (ص) ہجرت كركے مدينہ تشريف لے گئے تو ہ بھى آہستہ آہستہ وہاں سے واپس آكر آنحضرت (ص) سے مل گئے_(۷)

اس ہجرت كے فوائد

ترك وطن كركے حبشہ كى جانب روانہ ہونے اور اس ملك ميں كافى عرصہ تك قيام كرنے كے باعث مسلمانوں كو بہت سے فائدے ہوئے اور وہاں انہيں بہت سى بركات حاصل ہوئيں جن ميں سے چند كا ہم ذيل ميں ذكر كريں گے_

۱_جو مسلمان ترك وطن كركے حبشہ چلے گئے تھے انہيں قريش كے مظالم سے نجات مل گئي وہ مشركين مكہ كى شكنجہ وايذا رسانى سے محفوظ ہوگئے_

۲_اسلام كا پيغام اور اعلان رسالت اہل حبشہ بالخصوص حبشہ كے بادشاہ اور ا س كے درباريوں تك پہنچ گيا _

۳_قريش كى رسوائي ہوئي اور ان كے وہ نمائندے جو نجاشى بادشاہ كے پاس گئے تھے ذليل و خوار ہوكر وہاں سے نكلے_

۴_حبشہ كے لوگوں كے درميان دين اسلام كى تبليغ و توسيع كا راستہ ہموار ہوگيا_

عيسائيوں كے ساتھ مسلم مہاجرين كا اسلامى اور انسانى سلوك، شرافتمندانہ طر ز زندگى اور اسلامى احكام كى سخت پابندى اس امر كا باعث ہوئي كہ وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ حبشہ كے لوگ دين اسلام كے شيدائي ہونے لگے چنانچہ آج ايتھوپيا (حبشہ) اريٹيريا اور


صوماليہ ميں جو كڑوروں مسلمان آباد ہيں وہ مسلمانوں كى اسى ہجرت كاہى فيض ہے_

ز:اقتصادى ناكہ بندي(۸)

مختلفقبائل ميں اورحجاز كے اندر اور باہر اسلام كى مقبوليت نيز ملك حبشہ ميں مہاجرين كى كامياب پناہ گزينى نے قريش كے سرداروں كواس بات پر مجبوركرديا كہ وہ اسلامى تحريك كو روكنے كےلئے كوئي بنيادى اقدام كريں، چنانچہ انہوں نے فيصلہ كيا كہ ايسے معاہدے پر دستخط كرائے جائيں جس كى رو سے ''بنى ہاشم '' اور ''بنى مطلب'' كے ساتھ مكمل تعلقات قطع ہوجائيں ، كوئي رشتہ دارى نہ كى جائے، ان كے ساتھ كاروبار بند كردياجائے اور كوئي بھى شخص ان كے ساتھ كسى طرح كا سروكار نہ ركھے_(۹)

قريش كے اس تحريرى معاہدہ كا مقصد يہ تھا كہ يا تو حضرت ابوطالب (ع) مجبور ہو كر پيغمبر (ص) كى حمايت و سرپرستى سے دست بردار ہوجائيں اور آپ (ص) كو قريش كے حوالے كر ديں، يا رسول خدا (ص) لوگوں كو دعوت حق دينا ترك كرديں اور قريش كى تمام شرائط كو مان ليں ، يا پھر آپ(ص) اور آپ (ص) كے حامى گوشہ نشينى اور كسمپرسى كى حالت ميں رہ كر بھوك و پياس سے تڑپ تڑپ كر مرجائيں_

قريش نے اس معاہدے كا نام (صحيفہ) ركھا جس پر چاليس سر برآوردہ اشخاص نے دستخط كئے اور اسے كعبے كى ديوار پرآويزاں كرديا گيا(۱۰) _ اس معاہدے ميں شامل تمام افراد نے يہ عہد كيا كہ تمام لوگ اس كے مندرجات پر حرب بحرف عمل پيرا ہوںگے_

حضرت ابوطالب (ع) كو جب ''معاہدہ صحيفہ'' كا علم ہو ا تو انہوں نے رسول خدا(ص) كى شان رسالت كى تائيد ميں چند اشعار كہے ، جن ميں انہوں نے تاكيد كے ساتھ پيغمبر اكرم (ص) كى


حمايت كا از سر نو اعلان كيا ، اس كے ساتھ ہى انہوں نے ''بنى ہاشم'' اور ''بنى مطلب'' سے خواہش كى كہ مكہ كو خيرباد كہہ كر اس درے ميں جا بسيں جوشہر سے باہر واقع ہے اور يہى درہ بعد ميں ''شعب ابوطالب'' كے نام سے مشہور ہوا_(۱۱)

''ابولہب'' كے علاوہ ''بنى ہاشم'' اور ''بنى مطلب '' كے سبھى افراد بعثت كے ساتويں سال يكم محرم كو رات كے وقت ''شعب ابوطالب'' ميںداخل ہوئے(۱۲) جہاں انہوں نے چھوٹے چھوٹے گھر اور سائبان بنائے اور وہ حرمت كے مہينوں (رجب ، ذى القعدہ، ذى الحجہ اور محرم) كے علاوہ تمام سال اسى درے ميں محصور رہتے_

''شعب ابوطالب'' ميں مسلمانوں پر ايسا سخت دور بھى آيا كہ كبھى كبھى تو انہيں پيٹ كى آگ بجھانے كےلئے درخت كے پتوں پر گزارہ كرنا پڑتا_

حرمت كے مہينوں ميں اگر چہ قريش ا ن سے كوئي بازپرس نہ كرتے البتہ دوسرے طريقوں سے انہيں پريشان كياجاتا، انہوں نے مسلمانوں كى قوت خريد كوختم كرنے كيلئے چور بازارى (بليك ماركيٹنگ) كا دھندا شروع كرديا ، كبھى كبھى تو وہ دوكانداروں اور چيزيں بيچنے والوں كو سختى كے ساتھ يہ تنبيہہ كرتے كہ وہ مسلمانوں كے ہاتھ كوئي چيز فروخت نہ كريں_(۱۳)

اميرالمومنين حضرت على عليہ السلام حرمت كے چار مہينوں كے علاوہ بھى كبھى كبھى چھپ كر مكہ جاتے اور وہاں سے كھانے كا سامان جمع كركے شعب ابوطالب ميں لے كر آتے_(۱۴)

حضرت ابوطالب (ع) كو رسول خدا (ص) كى فكر ہروقت دامنگيررہتى كيونكہ انہيں اپنے بھتيجے كى جان كا خطرہ تھا، چنانچہ وہ شعب ابوطالب كے بلند مقامات پر پہرہ دار مقرر كرنے كے


علاوہ پيغمبر (ص) كو اپنے بستر پر سلاتے اور جب سب سوجاتے تو وہ اپنے فرزند على (ع) كو رسول خدا كے بستر پر سونے كےلئے كہتے اوررسول خدا (ص) سے كہتے كہ آپ (ص) دوسرے بستر پر سوجائيں_(۱۵)

محاصرے كا خاتمہ

تين سال تك سخت رنج و تكليف برداشت كرنے كے بعد بالآخر امداد غيبى مسلمانوں كے شامل حال ہوئي اور جبرئيل امين (ع) نے پيغمبر اكرم (ص) كو يہ خوشخبرى دى كہ خداوند متعال نے ديمك كو اس عہد نامے پر مسلط كرديا ہے جس نے پورى تحرير كو چاٹ ليا ہے اور صرف اس پر ''باسْمكَ اللّہُمَّ'' لكھا ہوا باقى ہے_

رسول خدا (ص) نے اس واقعے كى اطلاع اپنے چچا كو دى يہ سن كر حضرت ابوطالب (ع) قريش كے مجمع عام ميں تشريف لے گئے اور ان سے واقعہ كو بيان كر كے فرمايا كہ جو صحيفہ تم لوگوں نے لكھا تھا اسے پيش كياجائے ، اسى ضمن ميں مزيد فرمايا كہ:

''اگر بات وہى ہے جو ميرے بھتيجے نے مجھ سے كہى ہے تو تم اپنے جور و ستم سے بازآجائو اور اگر اس كا كہنا غلط اور بے بنياد ثابت ہوا تو ميں خود اسے تمہارے حوالے كردوں گا''_

قريش كو حضرت ابوطالب (ع) كى تجويز پسند آئي چنانچہ جب انہوں نے اس صحيفے كى مہر كو توڑا تو بات وہى صحيح ثابت ہوئي جو پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمائي تھي_

قريش ميں جب اُن لوگوں نے ، جو صاحب فہم و فراست اور عدل وانصاف تھے، يہ معجزہ ديكھا تو انہوں نے قريش كى اس پست وكمينہ حركت كى سخت مذمت كى جو انہوں نے پيغمبر اكرم (ص) اور آپ (ص) كے اصحاب كے ساتھ اختيار كر ركھى تھى اورانہوں نے يہ مطالبہ كيا كہ عہد


نامہ ''صحيفہ'' كو باطل قراردے كر محاصرہ ختم كياجائے_(۱۵)

چنانچہ اس طرح رسول خدا (ص) اور آپ (ص) كے اصحاب تين سال تك استقامت و پائيدارى كے ساتھ سخت مصائب برداشت كرنے كےبعثت كے دسويں سال(۱۷) ماہ رجب(۱۸) كے وسط ميں، سروخرو اوركامياب ہوكر واپس مكہ آگئے_

رسول اكرم (ص) كے پاس عيسائيوں كے ايك وفد كى آمد

مسلمانوں كى ہجرت ''حبشہ''كا ايك فائدہ يہ بھى ہواكہ جب ''حبشہ'' يا ''نجران'' كے عيسائيوں كو رسول اكرم (ص) كى بعثت كى اطلاع ملى تو انہوں نے يہ فيصلہ كيا كہ اپنا وفد مكہ روانہ كريں تاكہ وہ رسول خدا (ص) سے براہ راست گفتگو كرسكيں چنانچہ يہ پہلا وفد تھا جو مكہ كے باہر سے آيا اور رسول خد ا(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوا_

نصارى كا يہ نمائندہ وفد بيس افراد پر مشتمل تھاجو رسول خدا (ص) سے ''مسجد الحرام'' ميں ملاقات سے مشرف ہوااور اسى جگہ باہمى گفتگو كا آغاز ہوا جب مذاكرات كا سلسلہ ختم ہوا تو رسول خدا (ص) نے قرآن مجيد كى چند آيات تلاوت كركے انہيں سنائيں اور انہيں دين اسلام قبول كرنے كى دعوت دي_

عيسائيوں نے جب قرآنى آيات سنيں تو ان كى آنكھيں اشكوں سے لبريز ہوگئيں اور دين اسلام قبول كرنے كا انہوں نے شرف حاصل كرليا جس كى وجہ يہ تھى كہ رسول خدا حضرت محمد صلى اللہ على و آلہ و سلم كے جو اوصاف ان كى كتابوں ميں بيان كئے گئے تھے وہ آپ(ص) كى ذات مبارك ميں انہوں نے پائے_

يہ نمائندہ وفد جب رسول خدا (ص) كى ملاقات سے مشرف ہوكر واپس جانے لگا تو ابوجہل


اور قريش كے گروہ نے ان كا راستہ روك ليااور كہا كہ تم كيسے نادان ہو ، تمہارى قوم نے تمہيں اس مقصد كےلئے بھيجا تھا كہ وہاں جاكر اصل واقعے كى تحقيق كرو اور اس كاجائزہ لو ليكن تم فوراً نے بے خوف و خطر اپنے دين و آئين كو ترك كرديا اور محمد (ص) كى دعوت پر كاربند ہوگئے_

نصارى كے نمائندوں نے كہا : ''ہم تمہارے ساتھ بحث ومباحثہ كرنے كى غرض سے تو نہيں آئے _تم اپنا دين اپنے پاس ركھو اور ہميں ہمارے آئين و مسلك پر رہنے دو _(۱۹)

حضرت ابوطالب(ع) اور حضرت خديجہ (س) كى رحلت

جناب رسول خدا (ص) اور اصحاب رسول (ص) كو شعب ابوطالب سے نجات ملى تو اس بات كى اميد تھى كہ مصائب وآلام كے بعد ان كے حالات سازگار ہوجائيں گے اور خوشى كے دن آئيں گے مگر ابھى دو سال بھى نہ گزرے تھے كہ دو ايسے تلخ اور جانكاہ صدمات سے دوچار ہوئے جن كے باعث رسول خدا(ص) اور اصحاب رسول (ص) پر گويا غم واندوہ كا پہاڑ ٹوٹ پڑا، رنج واندوہ كا سبب حضرت ابوطالب (ع) كى رحلت اور اس كے تين دن يا ايك ماہ بعد آپ (ص) كى جان نثار شريكہ حيات (حضرت خديجہ (ع)) كى بھى اس جہان فانى سے رحلت تھى _(۲۰)

حضرت ابوطالب (ع) اور حضرت خديجہ (ع) كو ''حجون'' نامى قريش كے قبرستان ميں سپرد خاك كيا گيا_

حضرت ابوطالب اور حضرت خديجہ (ع) كى رحلت نے رسول خدا (ص) كو بہت مغموم و محزون كيا چنانچہ آپ (ص) نے اس غم والم كا اظہار ان الفاظ ميں فرمايا كہ ان چند دنوں ميں اس امت پر دو ايسى مصيبتيں نازل ہوئي ہيں كہ ميں نہيں جانتا كہ ان ميں سے كس نے مجھے زيادہ متاثر


كيا ہے_(۲۱)

رسول خد ا(ص) پر اپنے واجب الاحترام چچا اور وفا شعار شريكہ حيات كى رحلت كا اس قدر صدمہ ہوا كہ آپ (ص) بہت ہى كم ، گھر سے باہر تشريف لاتے چونكہ يہ دونوں عظيم حادثات بعثت كے دسويں سال ميں واقع ہوئے تھے اسى لئے ان كى اہميت كو مد نظر ركھتے ہوئے اس سال كو ''عام الحزن'' يعنى غم واندوہ كا سال كہاجانے لگا_(۲۲)

حضرت ابوطالب (ع) كى مظلوميت

حضرت ابوطالب (ع) كو چونكہ اپنے بھتيجے كے اوصاف حميدہ كا علم تھا اور اس امر سے بھى واقف تھے كہ آپ (ص) كو رسالت تفويض كى گئي ہے اسى لئے وہ آپ(ص) كى تنہائي كے وقت نہايت خاموشى سے آپ (ص) پر ايمان لے آئے تھے وہ رسول خدا (ص) كى بياليس سال سے زيادہ عرصہ تك حفاظت ونگرانى كرتے رہے (يعنى اس وقت سے جب كہ رسول خدا(ص) كاسن مبارك آٹھ سال تھا اس وقت تك جبكہ آپ(ص) كا سن شريف پچاس سال كو پہنچ گيا) وہ چونكہ حفاظت و حمايت كو اپنى ذمہ دارى سمجھتے تھے اسى لئے وہ آپ (ص) كے پروانہ وار شيدائي تھے ، يہى وجہ تھى كہ انہوں نے رسول خدا (ص) كے آسمانى دين كى ترويج كى خاطر كبھى بھى جان ومال قربان كرنے سے دريغ نہيں كيا ، يہاں تك كہ انہوں نے اسى(۸۰) سال سے زيادہ كى عمر ميں اس وقت انتقال كياجبكہ آپ (ع) كا دل خدا اور رسول (ص) پر ايمان سے منور تھا_

حضرت ابوطالب (ع) كى رحلت كے بعد دشمنوں كے آستينوں ميں پوشيدہ ہاتھ بھى باہر نكل آئے اور وہ اس بات كو ثابت كرنے كى كوشش كرنے لگے كہ صدر اسلام كے اس مرد مجاہد كى موت بحالت كفر واقع ہوئي ہے تاكہ لوگوں پر يہ ظاہر كرسكيں كہ يہ ان كا قومى جذبہ تھا جس


نے انہيں اس ايثار و قربانى پرمجبور كيا _

حضرت ابوطالب(ع) كے ايمان كے متعلق شك و شبہ پيدا كرنے ميںجو محرك كار فرماتھا اس كا مذہبى عقيدے سے زيادہ سياسى پہلو تھا، بنى اميہ كى سياسى حكمت عملى كى بنياد چونكہ خاندان رسالت(ص) كے ساتھ دشمنى اور كينہ توزى پر قائم تھى اسى لئے انہوںنے بعض جعلى روايات پيغمبر اكرم (ص) سے منسوب كركے حضرت ابوطالب (ع) كو كافر مشہور كرنے ميںكوئي دقيقہ فروگذاشت نہ كيا وہ اس بات كو كہ وہ ايمان نہيں لائے تھے، فروغ ديكر لوگوں كو يہ باور كرانا چاہتے تھے كہ ان كے فرزند عزيز حضرت على (ع) كو عظمت و فضيلت كے اعتبار سے دوسروں پر كوئي فوقيت و برترى حاصل نہيں ہے اور اس طرح آپ (ع) كى شخصيت داغدار ہوسكے اگر حضرت ابوطالب (ع) حضرت على (ع) كے والد بزرگوار نہ ہوتے تو وہ ہرگز اس بات كا اتنا زيادہ چرچا نہ كرتے اور نہ ہى اس قدر نماياں طور پر اتنا جو ش وخروش دكھاتے_

كوئي بھى ايسا انصاف پسند شخص جسے تاريخ اسلام سے معمولى واقفيت ہوگى اور پيغمبر اكرم (ص) كے اس عظيم حامى اور مددگاركى جدو جہد سے لبريز زندگى كے بارے ميں علم ركھتا ہوگا وہ اپنے دل ميں حضرت ابوطالب (ع) كے بارے ميں ذرا بھى شك وشبہ نہ لائے گا جس كى دو وجوہات ہيں:

اول:_ ممكن ہے كوئي شخص قومى تعصب كى بناپر، كسى دوسرى شخص يا قبيلے كى حمايت و حفاظت كى خاطركچھ عرصے تك مرنے مارنے پر آمادہ ہوجائے ليكن يہ اس امر كا باعث نہيں ہوسكتا كہ وہ شخص چاليس سال تك نہ صرف حمايت وپشت پناہى كرے بلكہ اس شخص كا پروانہ وار شيفتہ بھى ہونيز اپنے جان سے بھى پيارے بيٹے كو اس پر قربان كردے_

دوم:_ يہ كہ حضرت ابوطالب (ع) كے اقوال و اشعار ، پيغمبر (ص) اور آئمہ معصومين عليہم السلام كى


احاديث اور روايات اس وہم وگمان كى ترديد كرتے ہيں اور اس بات پر متفق ہيں كہ رسول خدا (ص) كى حمايت كا اصل محرك ان كا وہ راسخ عقيدہ اور محكم ايمان تھا جو انہيں رسول (ص) كى ذات بابركت پر تھا_

چنانچہ امام زين العابدين عليہ السلام كى محفل ميں حضرت ابوطالب (ع) كا ذكر آگيا تو آپ (ع) نے فرمايا :

''مجھے حیرت ہے كہ لوگوں كو حضرت ابوطالب (ع) كے ايمان پر كيوں شك و تردد ہے كيونكہ كوئي ايسى عورت جس نے دين اسلام قبول كرنے كا شرف حاصل كرليا وہ اپنے كافر شوہر كے عقد ميں كيسے رہ سكتى ہے ، حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليہا ان اولين خواتين ميں سے تھيں جودين اسلام كى سعادت سے مشرف ہوئيں چنانچہ جب تك حضرت ابوطالب (ع) زندہ رہے وہ ان سے جدا نہ ہوئے''_

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے حضرت ابوطالب (ع) كے ايمان سے متعلق سوال كيا گيا تو آپ (ع) نے فرمايا :

''اگر حضرت ابوطالب (ع) كے ايمان كو ترازو كے ايك پلڑے ميں ركھاجائے اور دوسرے پلڑے ميں ديگر لوگوں كے ايمان كو ركھ كر تولاجائے تو يقينا حضرت ابوطالب (ع) كے ايمان كا پلڑا بھارى رہے گا_ كيا آپ لوگوں كو اس بات كا علم نہيں كہ اميرالمومنين حضرت على (ع) نے بعض لوگوں كو يہ حكم ديا تھا كہ وہ حضرت ابوطالب (ع) كى جانب سے فريضہ حج ادا كريں''_(۲۳)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے رسول خدا (ص) كى حديث بيان كرتے ہوئے فرمايا :

''حضرت ابوطالب (ع) كا ايمان اصحاب كہف كے ايمان كى طرح تھا كہ وہ لوگ دل سے


توايمان لے آئے تھے مگر زبان سے اس كا اظہار نہيں كرتے تھے ان كے اس عمل كا خداوند تعالى انہيں دو گنا اجر دے گا''_

دين اسلام كى ترويج و تبليغ كےلئے حضرت ابوطالب (ع) كى خدمات كے بارے ميں ابن ابى الحديد لكھتا ہے كہ :

''كسى شخص نے حضرت ابوطالب (ع) كے ايمان سے متعلق كتاب لكھى اور مجھ سے كہا كہ اس كے بارے ميں اپنى رائے كا اظہار كروں اور اس پر اپنے ہاتھ سے كچھ لكھوں، ميں نے كچھ اشعار اس كتاب كى پشت پرلكھ ديئے جن كا مضمون يہ تھا:

وَ لَولَا اَبُوُطَالبٌ وَابنُهُ

لَمَا مُثّلَ الدّينُ شَخصَاً فَقَاما

فَذاك بمَكَّةَ آوَى وَحامى

وَهذَا بيَثرَبَ جَسَّ الحماما

اگر ابوطالب (ع) اور ان كے فرزند حضرت على (ع) نہ ہوتے تو دين اسلام ہرگزقائم نہيں ہوسكتا تھا باپ نے مكے ميں پيغمبر (ص) كى حمايت كى اور بيٹا يثرب ميں دين كى حمايت ميں موت كى سر حد تك آگے بڑھ گيا_


سوالات

۱_رسول خدا (ص) كى ملاقات سے مشرف ہونے كيلئے قريش لوگوں كوكس طرح منع كيا كرتے تھے اس كى كوئي مثال پيش كريں؟

۲_ مشركيں نہيں چاہتے تھے كہ لوگ تلاوت قرآن سنيں ، اس مقصد كے حصول كيلئے انہوں نے كيا طريقہ استعمال كيا؟

۳_رسول خدا (ص) نے اصحاب كو ترك وطن كركے حبشہ جانے كى اجازت كس وجہ سے دى ؟

۴_ كيا وجہ تھى كہ مسلمانوں نے اپنى پناہ كيلئے ملك حبشہ كا ہى انتخاب كيا؟

۵_وطن ترك كرنے والوں كا پہلا گروہ كس تاريخ كو حبشہ كى جانب روانہ ہوا اس گروہ ميں كتنے لوگ شامل تھے اور ان كى سرپرستى كون سے صحابى كررہے تھے؟

۶_ ہجرت حبشہ كے كيا فوائد اور بركات تھے؟

۷_قريش كى طرف سے مسلمانوں كے اقتصادى محاصرہ كے كيا محركات تھے؟ اوريہ محاصرہ كتنے عرصے تك جارى رہا؟

۸_ پيغمبر اكرم (ص) نے شعب ابوطالب سے كب اور كس طرح رہائي حاصل كى ، اس كى تاريخ بتايئے؟

۹_ مكہ كے باہر سے جو پہلا وفد رسول خدا (ص) كے پاس مذاكرہ كےلئے آيا تھا اس كا تعلق كس ملك سے تھا؟ اور اس مذاكرے كا كيا نتيجہ برآمد ہوا؟

۱۰_ بعثت كے دسويں سال كو كيوں (عام الحزن) كہاجاتا ہے؟

۱۱_حضرت ابوطالب(ع) كے ايمان سے متعلق دشمنوں نے جو شك وشبہات پيدا كئے اس كے كيا محركات تھے؟


حوالہ جات

۱_السيرة النبويہ ج ۲ 'ص ۲۵_۲۸_

۲_السيرة النبويہ ' ج ۱ ' ص۳۲۱_

۳_سورہ فرقان آيہ ۵ و ۶_

۴_سورہ فصلت آيہ ۲۶_

۵_آيتى مرحوم نے اپنى تاريخ ميں پانچ ايسے افراد كا نام ذكر كيا ہے جنہوں نے قريش كے كمر توڑ دبائو كى وجہ سے دين اسلام كو ترك كرديا اور دوبارہ بت پرستى شروع كردى _ ملاحظہ ہو تاريخ پيامبر (ص) ص ۱۲۸ _۱۲۹_

۶_ السيرة النبويہ ' ج۱ ' ص ۳۴۴_

۷_السيرة النبويہ ج' ص ۳۴۴_۳۶۲_

۸_ البتہ اس معاہدہے كے مندرجات كى روسے اسے اقتصادى نا كہ بندى كى بجائے صرف '' بائيكاٹ ''كہنا زيادہ مناسب رہے گا_ مترجم_

۹_السيرة النبويہ ابن ہشام ج ۱ ص ۳۷۵ ' والكامل فى التاريخ ج ۲ ' ص ۸۷_

۱۰_ملاحظہ ہو الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۲ ص ۱۰۷_

۱۱_السيرة النبويہ ج ۱ ص ۳۷۷ والسيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۳۳۷_

۱۲_الطبقات الكبرى ج ۱ ص ۲۰۹' والسيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۳۳۷_

۱۳_الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۲ ص ۱۰۸ والسيرة الحلبيہ ج ۱ ' ص ۳۳۷_

۱۴_شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱۳ ص ۲۵۴_

۱۵_الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۲ ص ۱۰۹_

۱۶_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۶ وتاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۳۱_۳۲_

۱۷_الطبقات الكبرى ج ۱ ص ۲۱۰_

۱۸_مصباح المتہجد اعمال نيمہ رجب ص ۷۴۱_

۱۹_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۳۲ والسيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۳۴۵_


۲۰_الصحيح من سيرة النبي(ص) ج ۲ ص ۱۲۸_

۲۱_تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۳۵_

۲۲_السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۳۴۷_

۲۳_شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱۴ ص ۶۸_۷۰ والغدير ج ۷ ص ۳۸۰_

۲۴_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۴ ص ۸۳_


سبق۷:

معراج اوريثرب كے لوگوں كى دين اسلام سے آشنائي


معراج

تاريخ اسلام كے بعثت سے عہد ہجرت تك كے دورميں جو اہم واقعات رونما ہوئے ان ميں سے ايك واقعہ معراج ہے ،يہ كب پيش آيا اس كى صحيح و دقيق تاريخ كے بارے ميں اختلاف ہے ، بعض نے لكھا ہے كہ يہ بعثت كے چھ ماہ بعد اور بعض كى رائے ميں بعثت كے دوسرے ' تيسرے ' پانچويں ' دسويں يا گيارہویں حتى كہ بارہويں سال ميں رونما ہوا _(۱)

جب ہم رسول اكرم (ص) كى معراج كے بارے ميں گفتگو كرتے ہيں تو ہمارے سامنے دو عنوان آتے ہيں ، ان ميں سے ايك اسراء ہے اور دوسرا معراج_

واقعہ اسراء يا رات كے وقت آنحضرت (ص) كے مسجد الحرام سے مسجد الاقصى تك كے سفر كے بارے ميں قرآن مجيد كا صريح ارشاد ہے :

( سُبحَانَ الَّذيْ أَسرَى بعَبده لَيلًا منَ المَسجد الحَرَام إلَى المَسجد الأَقصَى الَّذيْ بَارَكنَا حَولَهُ لنُريَهُ من آيَاتنَا ) _

''پاك ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے كو مسجد الحرام سے مسجد اقصى تك لے گئي جس كے ماحول كو اس نے بركت دى تاكہ اسے اپنى كچھ نشانيوں كا مشاہدہ كرائے''_

جملہ ''سُبْحنَ الَّذيْ'' اس حقيقت كو بيان كر رہا ہے كہ يہ سفر خداوند تعالى كى قدرت كے سائے ميں انجام پذير ہوا_


جملہ''ا َسْرى بعَبْده لَيْلاً'' سے يہ مطلب واضح ہے كہ:

۱_ سير كرانے والى ذات خداوندكى تھى _

۲_ يہ سفر رات كے وقت ہوا ،يہ مفہوم لفظ ''لَيْلاً'' كے علاوہ لفظ ''اَسْرَى '' سے بھى سمجھ ميں آتا ہے كيونكہ عربى زبان ميں يہ لفظ رات كے وقت كے حركت (سفر) كے مفہوم ميں استعمال ہوتا ہے _

۳_ يہ ''سفر'' جسمانى تھا اور اگر فقط روحانى ہوتا تو اس كے لئے لفظ ''بعَبْدہ'' كے ذكر كى ضرورت پيش نہ آتي_

مذكورہ آيت كى رو سے اس ''سفر '' كا آغاز ''مسجد الحرام'' سے ہوتا ہے اور اختتام ''مسجد الاقصى '' پر اور آخر ميں اس ''سفر'' كا مقصديہ بتايا گيا ہے كہ اس سے خداوند تعالى كى نشانياں دكھانا مقصود تھا_

''معراج'' اور ملكوت اعلى كى سيربہت سے كا واقعہ بھى محدثين اور مؤرخين كى نظر ميں اسى رات ميں ہى وقوع پذيرا ہو(۳)

ہر چند مذكورہ بالا آيات سے مكمل طور پر يہ مفہوم واضح نہيں ہوتا ليكن سورہ ''النجم'' كى چند آيات اور اس واقعہ سے متعلق بہت سى روايات كى مدد سے يہ بات پايہ ثبوت كو پہنچ چكى ہے_

چنانچہ علامہ مجلسى متعلقہ آيات بيان كرنے كے بعد معراج كے بارے ميں لكھتے ہيں:

''رسول خدا (ص) كا بيت المقدس كى جانب عروج كرنا اور وہاں سے ايك ہى رات ميں آسمانوں پر پہنچنا اور وہ بھى اپنے بدن مبارك كے ساتھ ايك ايسا موضوع ہے جس كے وقوع پر آيات اور متواتر شيعہ سنى روايات دلالت كرتى ہيں ، اس حقيقت سے انكار كرنا يا


اس حقيقت كى روحانى معراج كى تاويل پيش كرنا يا اس واقعے كا خواب ميں رونما ہونے كا عقيدہ ركھنا اس بات كى غمازى كرتا ہے كہ كہنے والے نے پيشوايان دين (ع) كى كتابوں كا دقيق مطالعہ نہيں كيا ہے يا يہ بات اس كے ايمان كى سستى اور اعتقاد ى كمزورى پر مبنى ہے''_(۴)

حضرت ابوطالب(ع) كى وفات كے بعد قريش كا رد عمل

حضرت ابوطالب (ع) كى رحلت كے بعد قريش اورزيادہ بے باك اورگستاخ ہوگئے اور وہ رسول خدا (ص) كوپہلے سے كہيں زيادہ آزار و تكليف پہنچانے لگے دين اسلام كى تبليغ كے حوالے سے انہوں نے آپ (ص) پر سخت پابندياں لگاديں اور اس كا دائرہ بہت ہى محدود كرديا چنانچہ نوبت يہاں تك آپہنچى كہ آپ (ص) حج كے زمانے كے علاوہ اپنے دين كى تبليغ نہيں كرسكتے تھے_

رسول خدا(ص) كا يہ فرمان كہ :جب تك ابوطالب(ع) زندہ رہے قريش مجھے ايسى گزند نہيں پہنچا سكے جو ميرے لئے سخت ناگوار ہوتي_(۵) اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ حضرت ابوطالب (ع) كى وفات كے بعد قريش كى جانب سے ايذا رسانى كى وارداتوں ميں اضافہ ہوگيا تھا مگر ان سختيوں اور پابنديوں كے باوجود رسول خدا(ص) حرام مہينوں ميں ، فرصت كو غنيمت سمجھتے اور اس فرصت سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھاتے چنانچہ حج كے تين ماہ كے دوران ''عكاظ '' ''مجنّہ'' اور ''ذوالمجاز'' كے بازاروں كے علاوہ ديگر جن مقامات پر بھى لوگ جمع ہوتے رسول خدا (ص) ان كے پاس تشريف لے جاتے وہاں سرداران قبائل نيز سربرآوردہ اشخاص سے ملاقات كرتے اور ہر ايك كو آسمانى دين كى دعوت ديتے_


ان ملاقاتوں ميں ہر چند رسول خدا (ص) كى مخالفت كى جاتى اور ان كے بعد سرداران قبائل كا رد عمل ظاہر ہوتا ليكن مخالفت اور رد عمل كے باوجود يہ ملاقاتيں نہايت ہى مفيد اور ثمر بخش ثابت ہوئيں كيونكہ مكہ ميں داخل ہونے والے ہر قبيلے كے ہر فرد تك كسى نہ كسى طرح رسول خدا (ص) كى دعوت دين كا پيغام پہنچ جاتا چنانچہ فريضہ حج كى ادائيگى كے بعد جب وہ لوگ واپس اپنے اپنے گھروں كو جاتے تو وہ اس دعوت و ملاقات كو دوران حج كے تازہ ترين اہم واقعے يا خبر كى صورت ميں دوسروںكو بيان كرتے_

قبيلہ بنى عامر بن صعصعہ ان مشہور قبائل ميں سے تھا جس كے افراد كو رسول خدا (ص) نے اسلام كى دعوت دي_

''بيحرة ابن فراس'' كا شمار اس كے قبيلے كے سركردہ اشخاص ميں ہوتا تھا اسے رسول اكرم (ص) كى شہرت اورحالات كے بارے ميں كم وبيش علم تھا اس نے جب يہ بات سنى تو كہنے لگا : ''خدا كى قسم اگر قريش كے اس نوجوان كو ميںحاصل كرلوں تو اس كے ذريعہ سے ميں پورے عرب كو نگل جائوں گا''_(۶)

چنانچہ يہ سوچ كر وہ رسول خدا (ص) كے پاس آيا اور كہنے لگا كہ اگر ہم تمہارے ہاتھ پر بيعت كرليں اور تمہارا خدا ہميں تمہارے مخالفين پر كامياب بھى كردے تو كيا تمہارے انتقال كے بعد تمہارى قوم كى رہبرى و سردارى ہميں حاصل ہوجائے گي؟ اس پر رسول خدا (ص) نے فرمايا : ''يہ خدا كا كام ہے وہ جسے اہل سمجھے گا اسے جانشين مقرر كرے گا''_(۷)

بحيرہ نے جب رسول اللہ(ص) سے يہ جواب سنا تو كہنے لگا كہ ہم تمہارى خاطر عربوں سے جنگ كريں اور جب كامياب ہوجائيں تو قوم كى رہبرى دوسروں كے ہاتھوں ميں چلى جائے ايسى جنگ اورحمايت سے ہم بازآئے_(۸)


رسول اكرم (ص) كى اس گفتگو كے اہم نكات

۱_عام مشاہدہ ہے كہ سياست دان حصول اقتدار سے قبل عوام كے ساتھ بڑے بڑے وعدے كرتے ہيں ، جنہيں بعد ميں وہ كبھى پورا نہيں كرتے ليكن پيغمبر اكرم (ص) نے سياست دانوںكى روش كے برعكس قبيلہ ''بنى عامر'' كى اس شرط پر كسى قسم كا وعدہ نہيں كيا_

۲_قول پيغمبر (ص) اس حقيقت كا آئينہ دار ہے كہ مسئلہ امامت امر الہى پر منحصر ہے اور خداوند تعالى جسے اس كا اہل سمجھے گا اسے پيغمبر (ص) كا جانشين مقرر كرے گا_

يثرب كے لوگوں كى دين اسلام سے آشنائي

جس وقت بنى ہاشم اور بنى مطلب شعب ابوطالب ميں محصور تھے اس وقت يثرب سے اسعد ابن زرارہ اور ذكوان ابن عبدالقيس قبيلہ خرزج كے نمائندے كى حيثيت سے مكہ ميں اپنے حليف عتبة بن ربيعہ كے پاس آئے اور قبيلہ اوس سے جنگ كے سلسلے ميں اس سے مدد چاہي_

''عتبہ '' نے مدد كرنے سے معذرت كرتے ہوئے كہا كہ مكہ اور مدينہ كے درميان فاصلہ كے طويل ہونے كے علاوہ ہم يہاں ايسى ايك مصيبت ميں گرفتار ہيں كہ جس كى وجہ سے ہم كسى اور كام ميں ہاتھ ڈال ہى نہيں سكتے اس نے ''نبى اكرم (ص) '' اور آپ(ص) كى تبليغى سرگرميوں كے واقعات قبيلہ ''خزرج'' كے نمائندوں كو بتائے اور تاكيد سے كہا كہ وہ آنحضرت (ص) سے ہرگزملاقات نہ كريں كيونكہ وہ ايساجادوگر ہے جو اپنى باتوں سے لوگوں كو مسحور كرليتا ہے اس كے ساتھ ہى اس نے ''اسعد'' كو حكم ديا كہ كعبہ كا طواف كرتے وقت وہ اپنے كانوں ميں


روئي ٹھونس لے تاكہ پيغمبر (ص) كى آواز اس كے كانوں تك پہنچے_

''اسعد'' طواف كعبہ كے ارادے سے ''مسجد الحرام'' ميں داخل ہوا وہاں اس نے ديكھا كہ پيغمبر اكرم (ص) ''حجر اسماعيل'' ميں تشريف فرماہيں ، اس نے خود سے كہا كہ ميں بھى كيسا نادان ہوں بھلا ايسى خبر مكہ ميں گرم ہو اور ميں اس سے بے خبر رہوں ميں بھى تو سنوں كہ يہ شخص كيا كہتا ہے تاكہ واپس اپنے وطن جاكر لوگوں كو اس كے بارے ميں بتائوں ، رسول خدا(ص) كى باتيں سننے كى خاطر اس نے روئي اپنے كانوں سے نكال دى اور حضور(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوا آنحضرت نے اسے دين اسلام قبول كرنے كے دعوت دى جسے اس نے قبول كيا اور ايمان لے آيا اس كے بعد ''ذكوان'' نے بھى دين اسلام قبول كرنے كا شرف حاصل كرليا_(۹)

اہل يثرب ميں يہ پہلے دو افراد تھے جو ايمان لائے اور دين اسلام سے مشرف ہو كر واپس اپنى قوم ميں پہنچے_

دوسرے مرحلے ميں يثرب والوں سے قبيلہ '' خرزج'' سے تعلق ركھنے والے چھ افراد بعثت كے گيارہویں سال ميں دوران حج پيغمبر اكرم (ص) كى ملاقات سے مشرف ہوئے(۱۰)

رسول خدا(ص) نے انہيں دين اسلام كى دعوت دى اور قرآن مجيد كى چند آيتوں كى تلاوت فرمائي، وہ رسول خدا(ص) كى ملاقات كا شرف حاصل كركے اور آپ (ص) كى زبان مبارك سے بيان حق سن كر ايك دوسرے سے كہنے لگے :'' خدا كى قسم يہ وہى پيغمبر (ص) ہے جس كے ظہوركى خبر دے كر يہودى ہميں ڈرايا كرتے تھے آؤ پہلے ہم ہى دين اسلام قبول كر ليں تاكہ ايسا نہ ہو كہ اس كار خير ميں وہ ہم پر سبقت لے جائيں ''يہ كہہ كر ان سب نے دين اسلام اختيار كرليا جب وہ واپس يثرب گئے تو انہوں نے اپنے عزيز واقارب كو بتايا كہ انہوں نے كيسے رسول


خدا (ص) سے ملاقات كا شرف حاصل كيا اور انہيں بھى دين اسلام قبول كرنے كى دعوت دي_

انكى سرگرميوں كى وجہ سے رسول خدا (ص) اور اسلام كا چرچا اہل يثرب ميں ہونے لگا اور كوئي گھر ايسا نہ تھا جہاں رسول خدا (ص) اور دين اسلام كا تذكرہ نہ ہو_

پہلى بيعت عقبہ

تيسرے مرحلے ميں اہل يثرب كے بارہ اشخاص جن ميں سے دس كا تعلق قبيلہ ''خزرج'' سے تھا اور دو كا قبيلہ ''اوس'' سے تھا، بعثت كے بارھويں سال ميں ''عقبہ منا(۱۱) '' ميں رسول خدا (ص) كى ملاقات سے شرف ياب ہوئے ان بارہ اشخاص ميں سے جابر ابن عبداللہ كے علاوہ پانچ افراد وہى تھے جو ايك سال قبل بھى رسول اكرم (ص) كى خدمت ميں حاضر ہونے كا شرف حاصل كرچكے تھے_

ان اشخاص نے دين اسلام قبول كرنے كے بعد پيغمبر اكرم (ص) كے دست مبارك پر ''بيعت نسائ''(۱۲) كے طريقے پر بيعت كى اور عہد كيا كہ خدا كے ساتھ كسى كو شريك نہ ٹھہرائيں گے ، چورى سے باز رہيں گے، زنا كے مرتكب نہ ہوں گے، اپنى اولاد كو قتل نہيں كريں گے، ايك دوسرے پرجھوٹے الزام اوربہتان نہ لگائيں گے نيز كار خير ميں رسول اللہ (ص) كا ہر حكم بجالائيں گے_

رسول خدا (ص) نے معصب ابن عمير كو ان كے ہمراہ يثرب كے طرف روانہ كيا تاكہ وہاں پہنچ كر وہ دين اسلام كى تبليغ كريں اور لوگوں كو قرآن مجيد كى تعليم ديں اس كے ساتھ ہى وہ آنحضرت (ص) كو شہر كى حالت كے بارے ميں اطلاع ديں نيز يہ بتائيں كہ وہاں كے لوگ دين اسلام كا كس طرح استقبال كر رہے ہيں _''مصعب '' وہ پہلے مسلمان مہاجر تھے جو


يثرب پہنچے اور روزانہ با جماعت نماز كا انہوں نے وہاں انتظام كيا _(۱۳)

دوسرى بيعت عقبہ

يثرب ميں رسول خدا (ص) كے نمائندے كى موجودگى نيزخزرجى اور اوسى قبائل كے افراد كى بے دريغ حمايت اس امر كا باعث ہوئي كہ ان قبائل كے بہت سے لوگ دين اسلام كے شيدائي اور مجذوب ہوگئے_

چنانچہ اسى وجہ سے چوتھے مرحلے اور بعثت كے بارہويں سال ميں تقريباً پانچ سو عورتوں اور مردوں نے خود كو حج كے لئے آمادہ كيا ان ميں تہتر افراد مسلمان اور دو مسلم خواتين شامل تھيں_

قبل اس كے كہ اہل يثرب سفر پر روانہ ہوں ''معصب'' مكہ كى جانب روانہ ہوئے اور اپنے سفر كى پورى كيفيت پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں پيش كي_

يثرب كے مسلمانوں نے مناسك حج (حج كے مخصوص اعمال) انجام دينے كے بعد بارہ ذى الحجہ بوقت نصف شب عقبہ منا ميں رسول خدا(ص) كى خدمت ميں حاضر ہونیکا شرف حاصل كيا _

رسول خدا (ص) نے اس مرتبہ ملاقات كے دوران قرآن مجيد كى چند آيات حاضرين كے سامنے تلاوت فرمائيں اور انہيں دين اسلام قبول كرنے كى دعوت دى اس ضمن ميں آنحضرت (ص) نے حاضرين سے فرمايا: '' ميں تم سے اس بات پر بيعت كرتا ہوں كہ جس طرح تم اپنے بيوى بچوں كى حفاظت كرتے ہو ميرى بھى حمايت كروگے ''_ انہوںنے آنحضرت (ص) كى بات سے اتفاق كيا اور يہ عہد كيا كہ وہ آپ (ص) كى حمايت كريں گے آخر ميں رسول خدا (ص) كے


حكم سے ان ميں سے بارہ افراد''نقيب''(۱۴) مقرر كئے گئے تاكہ وہ لوگ اپنى قوم كے حالات كى نگرانى كرسكيں_

''خزرج'' اور ''اوس'' جيسے طاقتور قبائل كے ساتھ عہدو پيمان استوار كرنے نيز دين اسلام كے لئے جديد مركز قائم ہوجانے كے باعث اب رسول اكرم (ص) اور مسلمانوں كيلئے نئي سازگار صورت حال پيدا ہوگئي تھي_

اس عہد وپيمان كے بعد پيغمبر اكرم (ص) كى جانب سے مسلمانوں كو اجازت دے دى گئي كہ وہ چاہيں تو يثرب كو ہجرت كرسكتے ہيں ، اس ضمن ميں آپ (ص) نے فرمايا :'' خداوند تعالى نے تمہارے لئے ايسے بھائي اور گھر پيدا كرديئےيں جن كى مدد سے تم وہاں امن وامان سے رہوگے_

رسول خدا (ص) كى اجازت ملنے كے بعد مسلمان گروہ در گروہ يثرب كا سفر اختيار كرنے لگے اور اب پيغمبر اكرم (ص) خود بھى حكم خداوندى كے منتظر تھے_(۱۵)

اہل يثرب كے اسلام لانے كے اسباب

يثرب كے لوگ دين اسلام قبول كرنے ميں كيوں پيش پيش رہے اس كى كچھ وجوہات تھيں جو ذيل ميں درج كى جاتى ہيں_

۱_وہ لوگ چونكہ يہوديوں كے نزديك زندگى بسر كر رہے تھے اس لئے پيغمبر اكرم (ص) كے ظہور پذير ہونے كى خبريں اور آنحضرت (ص) كى خصوصيات ان كى زبان سے اكثر سنتے رہتے تھے_ حتى كہ جب كبھى ان كے اور يہوديوں كے درميان كوئي تصادم ہوجاتا تو يہودى ان سے كہا كرتے تھے كہ :


جلد ہى اس علاقے ميں پيغمبر (ص) كا ظہور ہوگاہم اس كى پيروى كريں گے اور تمہيںقوم ''عاد'' اور ''ارم'' كى طرح تباہ و برباد كر كے ركھ ديں گے_(۱۶)

۲_قبيلہ ''اوس'' اور ''خزرج'' كے درميان سالہا سال سے خانہ جنگى اور قتل و غارت كا سلسلہ چلا آرہا تھا ، اہل يثرب اس داخلى جنگ سے تنگ آچكے تھے دونوں قبائل كے بزرگ اس فكر ميں تھے كہ كوئي ايسى راہ نكل آئے جس كے ذريعے اس مصيبت بھرى صورتحال سے نجات ملے ، رسول خد ا(ص) كى بعثت ان كيلئے درحقيقت اميد بخش خوشخبرى تھى چنانچہ يہى وجہ تھى كہ انہوں نے رسول خدا (ص) سے پہلى ملاقات ميں عرض كيا :

''ہم اپنے قبائل كے افراد كو جنگ ونزاع ميں چھوڑ كر آپ (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے ہيں اميد ہے كہ خداوند تعالى آپ (ص) كے ذريعے ان ميں صلح كرادے اور وہ ايك دوسرے كے ساتھ مل كر زندگى گزاريں_اگر ايسا ہوجائے تو ہمارے نزديك آپ (ص) سے بڑھ كر كوئي شخص عزيز تر نہ ہوگا _(۱۷)

۳_ حقيقت كى جستجو كرنے والوں كى رسول خدا (ص) كى خدمت ميں بار بار حاضري:

اہل يثرب كى زمانہ حج ميں آنحضرت (ص) سے بار بار اور مسلسل ملاقاتيں ' كلام اللہ كى تاثير' پيغمبر (ص) كى معنوى كشش اور ان ملاقاتوں كے دوران آسمانى دين كے بارے ميں آپ (ص) كى سودمند و پر مغز گفتگو اس امر كا باعث ہوئي كہ قبائل ''اوس'' اور ''خزرج'' كے افراد جانب حق كشاں كشاں چلے آئے اور دين اسلام كو انہوں نے خوشى خوشى قبول كرليا_

پيغمبر اكرم (ص) كو قتل كرنے كى سازش

جب مسلمانوں كى غالب اكثريت ''يثرب'' منتقل ہوگئي اور وہ شہر دين اسلام كا جديد


مركزبن گيا تو قريش كے سردار جو اس وقت تك اس گمان ميں مبتلا تھے كہ رسول خدا (ص) اور اصحاب رسول (ص) ہميشہ ان كى مٹھى ميں رہيں گے اور ايذا وآزار پہنچا كر انہيں كسى بھى وقت فنا كياجاسكتا ہے يہ كيفيت ديكھ كر سخت مضطرب اور پريشان ہوئے، رسول خدا (ص) كے ساتھ اہل يثرب كے دفاعى عہد وپيمان نے بھى ان كے لئے خطرہ كى اہميت اور شدت كو واضح كرديا تھا چنانچہ اب وہ اس كى سنگينى كے بارے ميں سوچنے لگے كيونكہ اب انہيں يہ خوف لاحق تھا كہ كہيں رسول خدا (ص) ان لوگوں كى مدد سے جو آپ (ص) كے ساتھ عہد وپيمان ميں شريك ہيں ان سے انتقام لينے پر كمر بستہ نہ ہوجائيں يا كم از كم''يثرب'' كے علاقے پر غالب آنے كے بعد مسلمان ان كى تجارتى اور معاشى زندگى كو تو تباہ كرہى سكتے ہيں_

ان حالات كے پيش نظر قريش كے سردار ''دارالندوہ ''(۱۸) ميں جمع ہوئے_ طويل بحث وگفتگو اور تبادلہ خيال كے بعد انہوں نے اس رائے سے اتفاق كيا كہ ہر قبيلے سے ايك دلير جوان منتخب كياجائے اور وہ سب مل كر راتوں رات رسول اكرم (ص) كے گھر كا محاصرہ كرليں اور آنحضرت (ص) پر حملہ آور ہوكر آپ (ص) كو قتل كرڈاليں ايسى صورت ميں آپ (ص) كا خون تمام قبائل ميں تقسيم ہوجائے گا اور حضرت عبدمناف كا خاندان قريش كى پورى طاقت كا مقابلہ نہيں كرسكے گا اور اگر انہوں نے خون بہا كا مطالبہ كيا تو سب مل كر اسے ادا كرديںگے_

رسول اكرم (ص) كو وحى كے ذريعے ان كى سازش كے بارے ميں علم ہوگيا تھا چنانچہ آنحضرت (ص) كو حكم ديا گيا كہ ہجرت كر كے يثرب تشريف لے جائيں _قريش نے اپنى پورى طاقت كے ساتھ يكم ربيع الاول كى شب بعثت كے چودھويں سال آپ (ص) كے گھر كا محاصرہ


كرليا، رسول اكرم (ص) نے حضرت على (ع) سے فرمايا كہ تم ميرے بستر پر آرام كرو اور چادر اپنے سر مبارك پر ڈال لو تاكہ دشمن كو يہ علم نہ ہوسكے كہ آپ (ص) گھر سے تشريف لے جارہے ہيں اس كے بعد آپ (ص) نے مٹھى بھر خاك دست مبارك ميں اٹھائي اور محاصرہ كرنے والوں كے سروں پر پھينك دى اور سورہ يسين كى پہلى نوآيتوںكى تلاوت فرمائي اور گھر سے باہر اس طرح تشريف لے آئے كہ كسى كو آپ(ص) كے وہاں سے جانے كاعلم نہ ہوسكا _

رسول خدا(ص) نے گھر سے باہر تشريف لانے كے بعد شمال كى جانب رخ نہيں فرمايا كيونكہ اس طرف سے ''يثرب '' كا راستہ گزرتا تھا بلكہ اس كے برعكس آپ(ص) نے جنوب مكہ كى راہ اختيار فرمائي اور ابوبكركو لے كر '' غارثور '' ميں تشريف لے گئے_

جب قريش كو يہ علم ہوا كہ رسول خدا(ص) گھر سے باہر تشريف لے گئے ہيں تو وہ شہر مكہ اور'' يثرب'' كى طرف جانے والے تمام راستوں كى نگرانى كرنے لگے _يہى نہيں بلكہ انہوں نے ماہر كھوجيوں كى خدمات بھى حاصل كيں اور يہ اعلان كيا كہ جو شخص بھى آپ(ص) كو گرفتار كر كے لائے گا اسے سو اونٹ بطور انعام ديئے جائيں گے ليكن انہوں نے جس قدر جستجو كى اپنے مقصد ميں كامياب نہ ہوئے چنانچہ تين دن كے بعد تھك ہار كر بيٹھے رہے

رسول اكرم(ص) جتنے عرصے غار '' ثور '' ميں تشريف فرما رہے حضرت على (ع) پيغمبرخدا(ص) اور حضرت ابوبكر كے لئے كھانا پہنچاتے رہے اس كے ساتھ ہى آپ(ع) مكہ كے حالات و واقعات سے بھى آنحضرت(ص) كو مطلع فرماتے رہے(۱۹)

چوتھى رات ميں رسول خدا(ص) حضرت على عليہ السلام كو كچھ خاص ہدايات دے كر انجان راستہ سے يثرب كى طرف روانہ ہوئے _( ۲۰ )


ہجرت ، انقلاب كى ضرورت

ايمان و جہاد كے ساتھ ساتھ قرآن مجيد ميں جن اہم اور تعميرى اصول و قواعد كا ذكر كيا گيا ہے ان ميں سے ايك ''ہجرت ''بھى ہے(۲۱) _

ہجرت كے معنى ان قيود و بندشوں سے نجات اور رہائي حاصل كر لينا ہے جو انسان كے وجود يا اس كى زندگى كے اطراف ميں موجود ہوتے ہيں ہوا و ہوس اورباطنى آلودگيوں سے دل و دماغ كو پاك كر لينا اور ان سے فراغت پالينا ہى انسان كى ہجرت كا عالى ترين مرحلہ ہے :چنانچہ اس بارے میں رسول خدا(ص) نے فرمايا :

(اَشرَفُ الهجرَة اَن تُهجُرَ السَّيئَات )( ۲۲)

چنانچہ يہى وجہ ہے كہ خداوند تعالى كى جانب سے مقرر كر دہ انبياء ، اولياء اور مصلحين انسانيت نے درجہ كمال پر پہنچنے اور اپنى مقدس آرزؤں كو عملى شكل میں ديكھنے كے لئے '' ہجرت'' كى تحريك كا آغاز ہر گناہ و آلائشے سے اجتناب كے ساتھ كيا _ بعثت كے ابتدائي دنوں ميں نازل نے والى آيتوں میں قرآن مجيد كا ارشاد ہے( ۲۳) كہ :

( يَاأَيُّهَا المُدَّثّرُ (۱) قُم فَأَنذر (۲) وَرَبَّكَ فَكَبّر (۳) وَثيَابَكَ فَطَهّر (۴) وَالرُّجزَ فَاهجُر ) _(۲۴)

''اے اوڑھ لپيٹ كر ليٹنے والے ، اٹھواور ڈرائو اور اپنے كپڑے پاك ركھو اور گندگى سے دور رہو''_

اگلے مرحلے ميں ''آفاقى ہجرت'' كى ہدايت دى گئي ہے يعنى اس مردہ معاشرے سے ہجرت جس ميں كفر كے باعث جمود طارى ہوگيا ہے يہ ہجرت اس ماحول كى جانب ہے جو زندہ وآزاد ہے اور اس كا مقصد عقائد كا تحفظ نيز انقلاب كے اغراض و مقاصد كو حقيقت كى شكل ميں پيش كرنا ہے_


اس مرحلے پر ہجرت كا مفہوم دشمن يا ميدان جنگ سے فرار نہيں بلكہ يہ وہ مقام ہے جہاں سے انقلاب كے نئے مرحلے كا آغاز ہوتاہے اگر حضرت ابراہيم (ع) ، حضرت موسى (ع) اور حضرت عيسى (ع) نے معاشرے كے اس ماحول سے ہجرت كى جہاں كفر و شرك كادور دورہ تھا تو اس كا مطلب ہرگز يہ نہيں تھا كہ يہ انبياء عليہم السلام اپنى جدو جہد سے دست بردار ہو گئے تھے اور انہيں اپنى جان ومال كى فكر لاحق ہوگئي تھى بلكہ اس كا مطلب يہ ہے كہ جب انہيں اپنے وطن ميں تبليغ اور سرگرمى كے مواقع نظر نہ آئے تو انہوں نے فيصلہ كيا كہ يہاں سے ہجرت كركے مناسب اور آزاد ماحول ميں پہنچيں اورمزيد طاقت و توانائي اوروسائل كے ساتھ اپنى جدو جہد كو جارى ركھيں_

رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے جب يہ ديكھا كہ آپ (ص) كى ہر اصلاح پسندانہ سعى و كوشش مكہ كے مايوس كن اور گھٹے ہوئے ماحول ميں لاحاصل اور بے نتيجہ ہے نيز دوسرى طرف سے ان حالات كامقابلہ كرنے كى تاب اور طاقت بھى نہيں تو آپ (ص) نے مجبورى كى حالت ميں اپنے انقلاب كے تحفظ اور اسے جارى ركھنے كى خاطر ہجرت كو ترجيح دى تاكہ اپنى تحريك كى كتاب كا نيا باب شروع كرسكيں اور دين مبين اسلام كو محدود علاقائي ماحول سے نكال كراس كى دعوت آزاد اور عالمى فضاء كے ماحول ميں پيش كريں_

عالمى اسلامى تحريك كا يہ نيا عظيم باب اس قدر اہم اورتاريخ ساز تھا كہ اسے تاريخ اسلام كا مبداء و آغاز قرار ديا گيا چنانچہ پيغمبر اكرم (ص) كے دين كو جو اس وقت تك واقعہ ''عام الفيل'' سے وابستہ تھا اور اب اس سے رہائي اور نجات مل گئي تھى اور وہ تاريخ كے لحاظ سے بھى مستقل ہوگيا تھا_


سوالات

۱_ آيت مباركہ( سُبحَانَ الَّذى أَسرَى بعَبده لَيلًا من المَسجد الحَرَام إلَى المَسجد الأَقصَى الَّذى بَارَكنَا حَولَهُ لنُريَهُ من آيَاتنَا ) _كس حد تك مسئلہ معراج پر دلالت كرتى ہے اور اس سے كون كون سے نكات اخذ كئے گئے ہيں ؟

۲_حضرت ابوطالب (ع) كى وفات كے بعد قريش نے رسول خدا (ص) كے ساتھ كيا رويہ اختيا ر كيا؟

۳_ قبيلہ بنى عامر كو رسول(ص) خدا كے واقعہ دعوت اسلام كا مختصر حال بيان كيجئے؟

۴_وہ پہلے دو شخص كون تھے جو يثرب كے رہنے والے تھے اور ان كى رسول خدا (ص) سے پہلى ملاقات كس طرح ہوئي ؟ بيان كيجئے_

۵_ بعثت كے بارھويں سال اہل يثرب كے كتنے افراد رسول خدا (ص) كى ملاقات سے شرفياب ہوئے نيز ان كے اور رسول خدا (ص) كے درميان كيا معاہدہ ہوا؟

۶_ دوسرے تمام علاقوں سے قبل يثرب كے لوگوں نے كس وجہ سے دين اسلام قبول كيا؟

۷_مشركين قريش نے رسول خدا (ص) كو قتل كرنے كيلئے كيا سازش تيار كى تھى اور وہ كس طرح اپنے مقصد ميںناكام ہوئے؟ وضاحت كيجئے_


حوالہ جات

۱_مزيد معلومات كيلئے ملاحظہ ہو الصحيح من سيرة النبي(ص) ج ۱ ص ۲۶۹ _۲۷۰_

۲_بنى اسرائيل آيت ۱_

۳_تاريخ پيغمبر (ص) تاليف آيتى مرحوم ص ۱۵۹_

۴_بحارالانوار ج ۱۸ ص ۲۸۹_

۵_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۵۸_

۶_لَواَنّيْ اَخَذتُ هذَا الفَتى من قُرَيش: لَاَ كَلْتُ به العَرَبَ يہ اس بات سے كنايہ ہے كہ ميں اس وسيلے سے دنيوى مال ومتاع حاصل كرلوں گا_

۷_اَلاَمْرُ الَى اللّه يَضَعُهُ حَيثُ يَشَائُ _

۸_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۶۶_

۹_الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۲ ص ۱۹۰_۱۹۱_

۱۰_ان چھ افراد كے نام يہ ہيں : اسعدبن زرارہ_ جابر بن عبداللہ_ عوف بن حارث_ رافع بن مالك _ قطبہ بن عامر اور عقبہ بن عامر_

۱۱_عقبہ كے لفظى معنى تنگ درہ كے ہيں يہ مكہ اور منى كے درميان واقع ہے_

۱۲_اس بيعت كو اس وجہ سے ''بيعت النسائ'' كہاجاتا ہے كہ اس ميںجنگ و جدال كو دخل نہ تھا اور كوئي عسكرى معاہدہ بھى نہيں كيا گيا تھا_ قرآن نے سورہ ''ممتحنہ'' كى آيت ۱۲ ميں پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ عورتوں كى بيعت كو بھى انہى شرائط كے ساتھ بيان كياہے _

۱۳_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۷۳_۷۷_

۱۴_نقيب كے معنى سردار و سرپرست قوم يا قبيلہ ہيں_

۱۵_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۱۱_

۱۶_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۷۰_

۱۷_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۷۱_


۱۸_دارالندوة در حقيقت قريش كى مشاورتى كو نسل تھى يہ جگہ رسول اكرم (ص) كے چوتھے جد حضرت قصى ابن كلاب نے قائم كى تھي_ اسلامى دور ميں معاويہ نے اسے حكيم ابن حزام سے خريد ليا اور اسے ''دارالامارة'' (ايوان صدرات )قرار ديا اس كے بعد اسے مسجد الحرام ميں شامل كرليا گيا (معجم البلدان ج ۲ ص ۴۲۳)_

۱۹_الاحتجاج تاليف مرحوم طبرسى ج ۱ ص ۱۴۱_

۲۰_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۲۴_۱۳۶_

۲۱_مثال كے طور پر سورہ توبہ كى آيت ۲۰ ميں اللہ نے فرمايا ہے كہ( الَّذينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فى سَبيل الله بأَموَالهم وَأَنفُسهم أَعظَمُ دَرَجَةً عندَ الله ) _ اللہ كے يہاں تو انہى لوگوں كا درجہ بڑا ہے جو ايمان لائے اور جنہوں نے اس كى راہ ميں گھر بار چھوڑ ديا اور جان و مال سے جہاد كيا _

۲۲_كنزالعمال ج ۱ ص ۳۷ حديث ۶۵_

۲۳_بعض محققين كى يہ رائے ہے كہ سورہ مدثر وہ سورہ ہے جو سب سے پہلے رسول اكرم (ص) پر نازل ہواليكن دوسرے لوگوں كا يہ نظريہ ہے كہ جب عام دعوت اسلام كے لئے خداوند تعالى كى جانب سے حكم ہوا تو اس كے بعد يہ پہلى سورت تھى جو نازل ہوئي (الميزان) ج ۲۰ ، ص ۷۹ _

۲۴_سورہ مدثر آيات ۱_ ۵_


سبق ۸:

مدينہ ہجرت كرنے كے بعدرسول خدا(ص) كے اقدام


قبا ميں رسول خدا (ص) كى تشريف آوري

رسول خدا (ص) نو دن تك سفر كرنے كے بعد بتاريخ ۱۲ ربيع الاول بروز پير ''قبا''(۱) ميں تشريف فرما ہوئے، جہاں لوگوں نے آپ (ص) كا نہايت ہى گرم جوشى سے استقبال كيا كيونكہ انہوںنے كافى عرصے قبل يہ خبر سنى تھى كہ آنحضرت(ص) مكہ سے يثرب تشريف لانے والے ہيں اسى لئے وہ لوگ بے صبرى سے آپ (ص) كى تشريف آورى كا انتظار كر رہے تھے_

پيغمبر اكرم (ص) ''كلثوم بن ہدم'' كے گھر پر قيام فرما ہوئے اور ''سعد ابن خثيمہ'' كى قيام گاہ كو اس بنا پر كہ وہ مجرد آدمى تھے عام لوگوں سے ملاقات كےلئے پسند كيا _(۲)

رسول خدا (ص) مكہ سے ہجرت فرما كر يثرب تشريف لے گئے تو حضرت على (ع) تين روز تك مكہ ميں قيام پذير رہے اور پيغمبر (ص) نے جو ہدايت فرمائي تھى انہيںانجام ديتے رہے اس كے بعد اپنى والدہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت اسد عليہا السلام ،فاطمہ بنت زبير ،حضرت فاطمہ زہرا عليہا السلام اور ديگر اصحاب كے ہمراہ مكہ سے مدينے كى جانب روانہ ہوئے اور آج كے حساب سے گويا تقريبا چار سو كيلوميٹر طويل راستہ پيدل طے كيا چنانچہ بروز جمعرات ربيع الاول كے نصف ميں، قبا ميں پيغمبر (ص) كى ملاقات سے مشرف ہوئے(۳) ، رسول خدا (ص) نے قبا ميں قيام كے دوران بنى عمر ابن عوف قبيلے كى عبادت كيلئے ايك مسجد كى بنياد ركھى(۴) ، يہ مسجد آج بھى مسجد قبا كے نام سے مشہور ہے اور يہى وہ پہلى مسجد ہے جسے مسلمانوں نے تعمير كى _


مدينے ميں تشريف آوري

رسول اكرم صلى اللہ وآلہ و سلم، حضرت على عليہ السلام اپنى دختر عزيز حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا اورديگر اصحاب كے ہمراہ بروز جمعہ قبا سے مدينہ كےلئے روانہ ہوئے ، آنحضرت (ص) نے پہلى بار نماز جمعہ راستے ميں قبيلہ ''بنى سالم بن عوف'' كے درميان ادا كى آپ (ص) نے خطبات ميں مسئلہ توحيد، لوگوں كى ہدايت كےلئے پيغمبروں كى آمد ، قرآن مجيد كى اہميت نيز افراد كى تعمير ميں اس كتاب مقدس كے كردار اور مسئلہ موت اور معاد كو بيان فرمايا آپ (ص) نے لوگوں كو يہ ہدايت فرمائي كہ تقوى اور پاكيزگى پر كاربند رہيں ، جو زبان سے كہيں اس پر عمل كريں اور راہ حق كے اپنے ساتھيوں كے ساتھ محبت اور خندہ روئي كے ساتھ پيش آئيں _(۵)

نماز ادا كرنے كے بعد آنحضرت (ص) ناقے پر سوار ہوئے اگرچہ راستے ميں كتنے ہى قبيلے ايسے آئے جنہوں نے بہت اصرار كيا كہ آپ (ص) ان كے درميان قيام فرما ہوں مگر آنحضرت (ص) نے مدينے كى جانب اپنا سفر جارى ركھا_

اس روز يثرب كى رونق ہى كچھ اور تھى انصار نوجوانوں نے فضا كو بتوں كى كثافت آلود ماحول سے پاك و صاف كرنے كيلئے جان ودل كى بازى لگادى راہ ميں ہر طرف نعرہ تكبر كى گونج تھى مرد عورتيں اور بچے آپ (ص) كا ديدار كرنے كيلئے مشتاق و بے قرار تھے ہر شخص كى كوشش تھى كہ آنحضرت (ص) كا ديدار كرنے ميں دوسروں پر سبقت لے جائے ، خوشيوں كے ترانے ان كى زبان پر جارى تھے اور سب مل كر پڑھ رہے تھے:

طَلَعَ البَدْرُ عَلَينَا

من ثَنيَّات الودَاع

وَجَبَ الشُّكرُ عَلَينَا

مَادَعَاللّه دَاع:

ايُّهَا المَبعُوثُ فينَا

جئتَ بالاَمر المُطَاع(۶)


(ماہ كامل ثنيات، الوداع(۷) سے ہم پر طلوع ہوا ہے ، ہم پر شكر خدا اس وقت تك واجب ہے جب تك خدا كو پكارنے والا پكارتا رہے گا آپ (ص) وہ شخص ہيں جو ہمارے لئے ايسا فرمان لے كے آئے ہيں جس كى اطاعت كرنا ہمارے اوپر واجب ہے)_

بالآخر ناقہ رسول (ص) اس زمين پرركى جو دو يتيموں كى ملكيت تھي، رسول خدا (ص) نے اس سے اتر كر زمين پر قدم رنجہ فرمايا اس كے بعد آپ (ص) ''ابوايوب انصاري'' كے گھر تشريف لے گئے اور وہيںقيام فرمايا _(۸)

جب رسول خدا (ص) ہجرت فرما كر يثرب تشريف لے آئے تو اس شہر كا نام بدل كر مدينة الرسول(ص) ركھ ديا گيا _

الف: _مسجد كى تعمير

مورخين نے لكھا ہے كہ آنحضرت (ص) جب ہجرت كركے مدينہ تشريف لے گئے تو آپ (ص) نے سب سے پہلے جو اقدام يہاں فرمايا وہ مسجد كى تعمير تھى اسى ضمن ميں انہوں نے اس بات كا بھى ذكر كيا ہے :كہ يہ مسجد اس جگہ تعمير كى گئي جہاں آپ (ص) كى ناقہ زمين پر بيٹھى تھى اور اس كى زمين مبلغ دس دينا ر كے عوض دو يتيم بچوں سے خريدى گئي(۹) _

تمام مسلمانوں نے پورے ذوق و شوق اور خاص اہتمام سے اس مسجد كے بنانے كى كوشش كى ، اس كے ساتھ ہى پيغمبر اكرم (ص) كى جدو جہد نے اس جوش و خروش ميں كئي گنا اضافہ كرديا يہ ذوق وشوق حضرت عمار جيسے بعض لوگوں ميں زيادہ نماياں اور جلوہ گر تھا(۱۰) _


مسلمانوں كى انتھك كوشش اور لگن سے يہ مسجد بن كر تيار ہوگئي ، اس كى ديواريں مٹى اور پتھروں سے بنائي گئي تھيں ستونوں كےلئے كھجور كے تنے استعمال كئے گئے تھے چھت بھى كھجو ر كے تختوں اوراس كى شاخوںسے پاٹى گئي تھى(۱۱) ، مسجد كے ايك كونے ميں كمرہ نما ايك جگہ مخصوص كى گئي تھى تاكہ وہ نادار اصحاب رسول (ص) جن كے پاس سر چھپانے كيلئے كوئي جگہ نہ تھى يہاں قيام پذير ہوں(۱۲) يہى وہ لوگ تھے جنہيںبعد ميں ''اصحاب صُفّہ'' كہا گيا _(۱۳)

اس مسجد كے بن جانے كے بعد مسلمانوں كو مركزيت حاصل ہوگئي چنانچہ عام مسلمان جن ميں صاحب خانہ اور بے گھر سب ہى شامل تھے بلا روك ٹوك يہاں جمع ہوتے اور عبادت ونماز باجماعت ادا كرنے كے علاوہ مسلمانوں كے اہم مسائل سے متعلق تبادلہ خےالات ميں حصہ ليتے اس كے ساتھ ہى رسول خدا (ص) سے يا ان اصحاب ميں سے جنہيں آنحضرت (ص) مقرر فرماتے احكام دين اور ديگر مسائل كى تعليم حاصل كرتے_

جب مسجد كى تعمير مكمل ہوگئي تو اس كے اطراف ميں رسول خد ا(ص) اور اصحاب كيلئے اس طرح مكانات بنائے گئے كہ ہر گھر كا ايك دروازہ مسجد كى جانب كھلتا تھا_

كچھ عرصے كے بعد خداوند تعالى كى طرف سے حكم ہوا كہ رسول خدا (ص) اور حضرت على (ع) كے گھروں كے علاوہ جن لوگوں كے گھروں كے دروازے مسجد كى جانب كھلتے ہيں بند كرديئے جائيں ، رسول خدا (ص) نے جب يہ حكم خداوندى لوگوں تك پہنچايا تو بعض اصحاب كو يہ بات بہت گراں گزرى اور ا نہيں يہ گمان ہونے لگا كہ يہ فرق و امتياز خود رسول خدا (ص) كا اپنا پيدا كردہ ہے اوريہ كام جذباتى پہلو ركھتا ہے ليكن رسول خدا (ص) نے انہيںجواب ديتے ہوئے فرمايا : ''يہ فرمان ميں نے اپنى طرف سے نہيں ديا ہے بلكہ يہ حكم خداوندى ہے''_(۱۴)

رسول خدا (ص) نے يہ قطعى موقف اس وقت اختيار كيا جبكہ مسلمان بالخصوص مہاجرين خاص


حساسيت اور نازك صورت حال سے دوچار تھے اور انہيں پيغمبر (ص) سے يہ توقع تھى كہ ان كى دلجوئي كريں گے اور ان پر مزيد لطف وعنايت فرمائيں گے ان كيلئے يہ بھى بہت بڑى سعادت تھى كہ ان كے گھروں كے دروازے مسجد كى جانب كھلتے ہيں اس ميں شك نہيں كہ رسول خدا (ص) كو صحابہ كرام سے تعلق خاطر تھا مگر يہ واقعہ اس حقيقت كا آئينہ دار تھا كہ رسول خدا (ص) كا تعلق خاطر اور جذبہ لطف وعنايت، حكم الہى كو ان تك پہنچانے ميں مانع نہيں ہوا تھا اور كوئي چيز آنحضرت (ص) كو فرمان حق صادر كرنے سے نہيں روك سكتى تھى _

ب:_ رشتہ اخوت و برادري

اس ميں شك نہيں كہ پيغمبر خدا (ص) نے مكہ ميں مسلمانو ں كے درميان رشتہ اخوت و برادرى بر قرار فرماياتھا_(۱۵) ليكن ہجرت كركے ان مسلمانوں كا مكہ سے مدينہ چلے آنا اور نئے اقتصادى و اجتماعى مسائل وحالات كا پيدا ہونا يہ سب اس امر كا باعث ہوئے كہ مہاجر وانصار مسلمانوں كے درميان نئے سرے سے رشتہ اخوت و برادرى برقرار ہو چنانچہ يہى وجہ تھى كہ آپ (ص) نے مسلمانوں كو جمع كيا اور ان سے فرمايا :

(تَاَخَّوا فى اللّه اَخَوَين اَخَوَين)

''راہ خدا ميں تم دو دو مل كر بھائي بن جائو''_(۱۶)

رسول خد ا(ص) نے اپنے اس دانشمندانہ اقدام سے ان مہاجرين كے مسائل زندگى كو حل كرديا جو اپنے مقدس اہداف اور ايمان كى حفاظت كے لئے اپنى ہر چيز مكہ ميں چھوڑ كر مدينہ چلے آئے تھے اگرچہ مہاجرين اور انصار دو مختلف ماحول كے پروردہ تھے اور ان كے طرز فكر و معاشرت ميں بھى نماياں فرق تھا ليكن آپ (ص) نے انہيں اپنى دانشمندى سے نہ صرف يك جان و دو قالب كرديا بلكہ دونوں كے حقوق اور مراعات كو بھى مقرر اور مرتب فرمايا_


رسول خدا (ص) نے مہاجرين اور انصار كے درميان رشتہ اخوت اور برادرى برقرار كرنے كے بعد حضرت على (ع) كے دست مبارك كو اپنے دست مبارك ميں لے كر فرمايا :''هذَا اَخي'' _ ''يہ ميرا بھائي ہے ''_(۱۷)

ج :_ يہوديوں كے ساتھ عہدو پيمان

رسول اكرم (ص) كے ہجرت كرنے سے قبل مقامى مشركين كے علاوہ يہوديوں كے '' بنى قينقاع'' ، ''بنى نضير'' اور ''بنى قريظہ'' نامى تين قبيلے مدينے ميں آباد تھے اور انہى كے ہاتھوں ميں اس شہر كى صنعت و تجارت تھي_

اگر چہ رسول خدا (ص) نے مہاجرين اور انصار كے درميان رشتہ اخوت و برادرى برقرار كركے اپنى طاقت كو متحد كرنے كيلئے بہت ہى اہم اقدام كيا مگر آپ (ص) كے سامنے ايك اور دشوارداخلى مرحلہ تھا اور وہ تھا ان يہوديوں كا وجود جو اس سرزمين پر آباد تھے_

حالات كے پيش نظر آنحضرت (ص) نے يہوديوں كے ساتھ ايك معاہدے پر دستخط كئے جس كى بعض شقيں ذيل ميں درج ہيں :

۱_جن لوگوں نے اس معاہدے پر دستخط كئے ہيں وہ ايك قوم بن كر يہاں زندگى بسر كريںگے_

۲_اس معاہدے ميں جو فريقين شامل ہيں ان ميں سے ہر فريق كو اپنى دينى رسومات انجام دينے كى آزادى ہوگي_

۳_مدينے كى حدود ميں ہر قسم كى خونريزى حرام ہوگى اور اگر باہر سے كسى دشمن نے حملہ كيا تو سب مل كر شہر كا دفاع كريں گے ، معاہدے ميں جو فريقين شامل ہيں اگر ان ميں


سے كسى ايك فريق پركسى بيرونى طاقت نے حملہ كيا تو فريق ثانى اس كى مدد كرے گا بشرطيكہ وہ خود تجاوز كا ر نہ ہو_

۴_اختلافى مسائل ميں اختلاف كو دور كرنے كيلئے خدا اورحضرت محمد (ص) سے رجوع كيا جائےگا_(۱۸)

اس معاہدے كى برقرارى كے بعد پيغمبر اكرم (ص) كى حكومت معمولى حكومت نہيں رہ گئي بلكہ اس نے مستقل حيثيت اختيار كرلى اور رسول اكرم (ص) كو سركارى سطح پر حاكم مدينہ تسليم كر ليا گيا اور حلقہ اسلام كے اندر سياسى وحدت تشكيل پائي نيزبيرونى دشمنوں كے مقابل اسلام كى دفاعى بنياد كو تقويت حاصل ہوئي نيز رہبر اسلام كيلئے دين كى تبليغ كےلئے وسيع ترين ميدان ہموار ہوگيا اور بالآخر اس طرح معاشرتى حدود نيز انفرادى گروہى اور مذہبى اقليتوں كے حقوق اور ان كے باہمى روابط و تعلقات نيز دشمن كے ساتھ ان كے تعلقات كى كيفيت كى تعيين ہوئي_

عہد شكني

مسلمانوں اوريہوديوں كے درميان با ہمى مسالمت آميز عہد مدينے كے يہوديوں كيلئے بہت زيادہ سازگار ثابت ہوسكتا تھا وہ اس عہد و پيمان كى بدولت اسلامى حكومت كے زير سايہ آزادى كے ساتھ زندگى بسر كرسكتے تھے ليكن انہوں نے اس نعمت كى قدر نہ كى چنانچہ كچھ عرصہ گزرنے كے بعد جب انہوںنے جديد حكومت سے اپنى سياسى و اجتماعى زندگى اور برترى كو خطرہ ميں محسوس كيا تو انہوں نے اس عہد كو جو رسول خد ا(ص) كے ساتھ كيا تھا نظر انداز كرنا شروع كرديا اور آنحضرت (ص) كے خلاف سازشيں كرنے لگے وہ مسلمانوں كے


دينى عقائد(۱۹) ميں شكوك و شبہات پيد اكركے اور دور جاہليت كے كينہ و اختلاف كو ياد دلاكر(۲۰) ان كے عقائد ميں ضعف و سستى اوران كى صفوں ميں انتشار پيدا كرنے كى كوشش كرنے لگے_

منافقين (بالخصوص ان كا سرغنہ عبداللہ ابن ابي) جو خفيہ طور پر يہوديوں كے ساتھ مل گئے تھے اس سازش ميں ان كے ساتھ شريك ہوگئے چنانچہ وہ لوگ مسلمانوں كے عقائد كا مذاق اڑاتے اور نوبت يہاں تك پہنچى كہ ايك مرتبہ رسول خدا (ص) نے مجبور ہو كر حكم ديا كہ انہيں مسجد سے باہر نكال دياجائے_(۲۱)

جنگى اور جاسوسى اقدامات كا آغاز

رسول خدا (ص) نے مملكت اسلامى كى طاقت كو وسعت دينے اور اسلامى حكومت كے مقدس اغراض و مقاصد كے تحقق كيلئے جو اقدامات فرمائے ان ميں جنگى اور جاسوسى ٹيموں كى تشكيل بھى تھي_ دستوں كو مدينہ سے باہر روانہ كيااور يہيں سے يہوديوں سے رسول خدا (ص) كے سرايا اور غزوات شروع ہوئے اس كے علاوہ دشمن كے خلاف جنگ و دفاع كا جو فرسودہ نظام اب تك چلا آرہا تھا اس ميں آپ (ص) نے تبديلى پيدا كركے اس كيلئے جديد اصول وقواعد مرتب كئے_

مورخين نے جنگ بدر سے قبل كے سرايا اور غزوات كى تعداد آٹھ عدد لكھى ہے(۲۲) ان مہمات ميںشريك سپاہيوںكى تعداد محدودتھى اور وہ سب كے سب مہاجر ہى تھے(۲۳) ہم يہاں دو نكات كا بطور اختصار ذكر كريں گے:

۱_انصار كے ان مہموں میں شريك نہ ہونے كا سبب

۲_ ان مہمات اور غزوات كا مقصد


انصار كا ان مہمات ميں شريك نہ ہونے كا سبب

۱_عقبہ كے معاہدے كى رو سے انصار اس شرط كے پابند تھے كہ وہ رسول خدا (ص) كا دفاع شہر كى حدود كے اندر كريں گے اس كے باہر نہيں_

۲_انصار چونكہ كچھ عرصہ قبل ہى مشرف بااسلام ہوئے تھے اورآئندہ جو مشكلات نيز جو دوشوارياں در پيش تھيں ان كا مقابلہ كرنے كيلئے وہ خود كو تيار كر رہے تھے اسى لئے ان حقائق كو مد نظر ركھتے ہوئے پيغمبر اكرم (ص) نے مصلحت اس امر ميں ديكھى كہ ان كى طاقت كو اس موقع پر بروئے كار نہ لاياجائے_

۳_ مہاجرين كا انتخاب بھى شايد اس مقصد كے تحت كيا گيا تھا كہ ان ميں ايسى جنگى مہمات ميں شركت كا جذبہ انصار سے كہيں زيادہ تھا جس كى وجہ يہ تھى كہ انہوںنے قريش كے ہاتھوں جو تكاليف و سختياں برداشت كى تھيں ان كے باعث وہ ان سے سخت رنجيدہ خاطر تھا اس كے علاوہ ان كيلئے مدينہ ميں كوئي مادى وابستگى بھى نہ تھي_ دوسرى طرف وہ يہ بھى چاہتے تھے كہ مدينہ اور اطراف مدينہ كے جغرافيہ كے بارے ميں بيشتر اطلاعات كسب كريں_

۴_رسول اكرم (ص) اس تحريك كے ذريعے انصار پر يہ بات واضح كردينا چاہتے تھے كہ آپ اپنے مقاصد كو ہرحال حاصل كرنے كا قطعى فيصلہ اور مصمم ارادہ كرچكے ہيں وہ مہاجرين جنہوں نے راہ خدا ميں ہر چيز كو ترك كرديا تھا وہ مكہ كى طرح اس وقت بھى فرمان رسول (ص) كى خاطر شرك سے جنگ كرنے ميں اپنى جان قربان كرنے كيلئے تيار تھے يہ درحقيقت ان لوگوں كيلئے عملى درس تھا جو حال ہى ميں مشرف بااسلام ہوئے تھے_


ان جنگوں اور غزوات كا مقصد :

۱_ہادى و رہبر كى حيثيت كو مستحكم كرنا اور اسلام كى مركزى حكومت كو تقويت پہنچانا_

۲_مسلمانوں كى جنگى استعداد و طاقت كو بلند و مضبوط كرنا نيز لشكر اسلام كو آئندہ كى مشكلات كيلئے آمادہ كرنا_

۳_اطراف ومضافات ميں بسنے والے قبائل كے ساتھ دفاعى معاہدے خصوصاً ان لوگوں سے معاہدہ كرنا جو قريش كے تجارتى قافلوں كے راستے ميں آباد تھے_

۴_جغرافيائي ماحول اور شہروں كو متصل كرنے والے راستوں سے واقفيت اس كے ساتھ ہى اطراف مدينہ ميں آباد قبائل كے بارے ميں معلومات حاصل كرنا_

۵_قريش كو جنگ كى تنبيہہ كرنا اور ان كے رابطوں اور تجارتى راستوں كو غير محفوظ بنانا اور دشمن كو مسلمانوں كى طاقت اور مقام سے آگاہ كرنا _

قبلہ كى تبديلي

پيغمبر اكرم (ص) مكہ ميں اور ہجرت كے بعد مدينہ ميں سترہ ماہ تك بيت المقدس كى جانب رخ كركے نماز ادا كرتے رہے يہاں تك كہ پير كے دن پندرہ ماہ رجب سنہ ۲ ھ ميں يہ واقعہ پيش آيا كہ جب آپ (ص) مسجد بنى سالم بن عوف ميں(۲۴) جہاں سب سے پہلى نماز جمعہ ادا كى گئي تھي، نماز ظہر ادا فرمارہے تھے آپ (ص) كو يہ حكم ديا گيا كہ اپنا قبلہ تبديل كرديں_

قبلہ جن وجوہات كى بناپر تبديل كيا گيا ان ميں سے چند يہ تھيں:

۱_ايك طرف تو رسول خدا (ص) پر يہودى يہ اعتراض كرتے تھے كہ جب تم ہمارى مخالفت كرتے ہو تو ہمارے قبلہ كى جانب رخ كركے نماز كيوں پڑھتے ہو اس كے ساتھ ہى


وہ مسلمانوں سے يہ كہتے كہ :

اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو تم ہمارے قبلے كى جانب رخ كركے نماز كيوں پڑھتے ؟(۲۵)

دوسرى طرف مشركين يہ طعنہ ديتے كہ : تم جبكہ قبلہ ابراہيم (ع) كو ترك كركے قبلہ يہود كى طرف نماز پڑھتے ہو تو يہ كيسے دعوى كرتے ہو كہ ہم ملت ابراہيم (ع) پر قائم ہيں(۲۶) _

اس قسم كے اعتراضات اور طعنے رسول خد ا(ص) كو سخت رنجيدہ اور آزردہ خاطر كرتے تھے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ آپ (ص) راتوں كو بارگاہ خداوندى ميں دعا فرماتے اور مقام رب ذوالجلال كى جانب رخ كركے اپنى آنكھيں آسمان كى جانب لگاديتے تاكہ خداوندتعالى كى جانب سے اس بارے ميں كوئي حكم صادر ہو _(۲۷)

قرآن مجيد نے رسول خدا (ص) كى اس ذہنى كيفيت كو ان الفاظ ميں بيان كيا ہے:

( قَد نَرى تَقَلُّبَ وَجهكَ فى السَّمَائ فَلَنُوَلّيَنَّكَ قبلَةً ترضى هَا ) _

''اے رسول(ص) ہم آپ (ص) كى توجہ آسمان كى جانب ديكھ رہے ہيں لو ہم اس قبلے كى طرف تمہيں پھيرے دیتے ہيں جسے تم پسند كرتے ہو''_(۲۸)

۲_خداوند تعالى قبلہ كا رخ تبديل كركے مسلمانوں كو آزماناچاہتا تھا كہ يہ معلوم ہو جائے كہ كون لوگ حكم خدا كے مطيع اور رسول خدا (ص) كے فرمانبردار ہيں_

( وَمَا جَعَلنَا القبلَةَ الَّتى كُنتَ عَلَيهَا إلاَّ لنَعلَمَ مَن يَتَّبعُ الرَّسُولَ ممَّن يَنقَلبُ عَلَى عَقبَيه وَإن كَانَت لَكَبيرَةً إلاَّ عَلَى الَّذينَ هَدَى الله ُ ) (۲۹)

''پہلے جس طرف تم رخ كرتے تھے اس كو تو ہم نے صرف يہ ديكھنے كيلئے قبلہ مقرر كيا تھا كہ


كون رسول (ص) كى پيروى كرتا ہے اور كون الٹا پھر جاتا ہے يہ معاملہ تھا تو بڑا سخت مگر ان لوگوں كيلئے كچھ بھى سخت نہ تھا جو اللہ كى جانب سے ہدايت سے فيضياب تھے''_

۳_بعض روايات(۳۰) اور تاريخى كى كتابوں(۳۱) ميں اس كا ايك سبب يہ بھى بتايا گيا ہے كہ رسول خدا (ص) مكہ ميں اس وقت جبكہ آپ (ص) كا رخ مبارك بيت المقدس كى جانب ہوتا ہرگز كعبہ كى جانب پشت نہیں فرماتے تھے ليكن ہجرت كے بعد مدينے ميں جس وقت آپ (ص) نماز ادا كرتے تو اس وقت مجبوراً آپ(ص) كى پشت كعبہ كى جانب ہوتى ، رسول خدا (ص) كے قلب مبارك ميں بيت ابراہيمى كيلئے جو جو احترام تھا اور اس كى جانب پشت كرنے سے آپ (ص) كو تكليف ہوتى تھى اسے ملحوظ ركھتے ہوئے خداوند تعالى نے تحويل قبلہ كے ذريعے آپ (ص) كى رضامندى كا اہتمام كيا_

سمت قبلہ تبديل كئے جانے كے بعد يہوديوں نے دوبارہ اعتراضات كرنا شروع كرديئے كہ آخر وہ كيا عوامل تھے جن كے باعث مسلمان قبلہ اول سے روگرداں ہوگئے ؟ اس كے ساتھ ہى انہوں نے رسول خدا (ص) كے سامنے يہ شرط ركھى كہ اگر آپ (ص) قبلہ يہود كى طرف رخ فرماليں تو ہم آپ (ص) كى پيروى و اطاعت كرنے لگیں گے(۳۲) _

بعض سادہ لوح مسلمان يہوديوں كے پروپيگنڈے كا شكار ہوكر دريافت كرنے لگے كہ وہ نماز جو انہوں نے بيت المقدس كى جانب رخ كركے ادا كى ہيں ان كا كيا ہوگا_

قرآن مجيد نے ان كے اس سوال كا جواب ديتے ہوئے فرمايا :

( مَاكَانَ ليُضيعَ ايمَانَكُم ) _(۳۳)

''اللہ تعالى تمہارے ايمان (يعنى بيت المقدس كى جانب ادا كى جانے والى نماز)كو ہرگز ضائع نہ كرے گا''_(۳۴)


سوالات

۱_رسول خدا (ص) كس تاريخ كو قبا پہنچے؟ آپ (ص) نے كتنے عرصے اور كس مقصد كيلئے توقف فرمايا اور دوران قيام كيا اقدامات كئے؟_

۲_ جب رسول خدا (ص) مدينہ ميں تشريف لائے تو لوگوں نے آپ (ص) كا كس طرح استقبال كيا اور آپ (ص) نے كس صحابى كے گھر پر قيام فرمايا ؟

۳_ ہجرت كے بعد مدينے ميں رسول خدا (ص) نے كن لوگوںكے درميان رشتہ اخوت وبرادرى قائم كيا؟ اپ كے اس اقدام كے كيا نتائج برامد ہوئے؟

۴_ہجرت كے بعد مدينہ ميں رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے سب سے پہلے كيا اقدام كيا اور اس كا كيا فائدہ ہوا؟

۵_پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے داخلى امن و امان فراہم كرنے كے لئے كيا اقدامات كئے ؟ ان اقدامات ميں كيا خوبياں اور بركات تھيں ؟

۶_جنگ بدر سے قبل سرايا اور غزوات ميں صرف مہاجرين ہى كيوں شريك رہا كرتے تھے ؟

۷_ جنگ بدر سے قبل رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سرايا اور غزوات كے ذريعے كن مقاصدكى تكميل چاہتے تھے؟

۸_سمت قبلہ بيت المقدس سے كعبہ كى جانب كس تاريخ ميں تبديل ہوئي اور تبديلى كى كيا وجوہات تھيں ؟


حوالہ جات

۱_ قبا كسى زمانے ميں مدينہ سے دو فرسخ كے فاصلے پر ايك گائوں تھا اور اس كا شمار قبيلہ ''بنى عمر وابن عوف'' كے مركز ميں ہوتا تھا_ اب چونكہ مدينہ كافى وسيع ہوچكا ہے اسى لئے يہ اسى شہر ميں شمار ہوتا ہے_

۲_ السيرة النبويہ ج ۲ ص۱۳۷_۱۳۸_

۳_ ايضا صفحہ ۱۳۸_

۴_ ايضا صفحہ ۱۳۹_

۵_ اس خطبے كے متن كيلئے ''بحارالانوار'' كى جلد ۱۹ صفحہ ۱۲۶ اور تاريخ طبرى كى جلد ۲ صفحہ ۳۹۴ ملاحظہ فرمائيں_

۶_ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۵۴_۵۷ ، بعض محققين كى رائے ميں يہ اشعار اس وقت پڑھے گئے تھے جب آنحضرت (ص) غزوہ تبوك سے واپس تشريف لارہے تھے (ملاحظہ ہو الصحيح من سيرة النبي(ص) ج ۲ ص ۳۱۳)_

۷_ ''ثنيہ'' كے اصل معنى سنگلاخ كوہستانى راستے كے ہيں ثنية الوداع وہ جگہ تھى جہاں تك لوگ اپنے مسافروں كو وداع كرنے آتے تھے_ اور يہ رسم زمانہ جاہليت سے چلى آرہى تھى (ملاحظہ ہو معجم البلدان ج ۲ ص ۸۶)

۸_ السيرة النبويہ ج ۲ ص۱۳۹_ ۱۴۱ ، بحارالانوار ص ۱۰۴_ ۱۰۹_

۹_ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۶۶_۷۱_

۱۰_ السيرة الحلبيہ ج ۲ص ۶۶_۷۱_

۱۱_ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۶۶_۷۱_

۱۲_ بعض روايات ميں آيا ہے كہ ان كى تعداد چارسو افراد پر مشتمل تھى (ملاحظہ ہو بحارالانوار ج ۶۷ ، ص ۱۲۸)

۱۳_ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۸۱_

۱۴_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۱۱۲_

۱۵_ ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۹۰_

۱۶_ السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۵۰_

۱۷_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۹۰ السيرة النبويہ ج ۲ ص۱۵۰_

۱۸_ السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۴۷_ ۱۴۹_


۱۹_ ان كے اعتراضات اور شكوك وشبہات كے بارے ميں مزيد اطلاع حاصل كرنے كيلئے ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۱ ص ۳۳۸ كے حاشيے پر السيرة النبويہ دحلان_

۲۰_ مثال كے طور پر ايك مرتبہ ان ميں سے ايك شخص نے ''اوس'' اور ''خزرج'' قبائل كے اجتماع ميں اس جنگ كا ذكر چھڑ ديا جو مذكورہ بالا دونوں قبائل كے درميان لڑى گئي تھى اور جنگ ''بعاث'' كے نام سے مشہور تھي_ اور اس طرح ايك دوسرے كے خلاف ان كے جذبات مشتعل كرنے كى كوشش كى _ اگر اس وقت رسول خد ا(ص) درميان ميں نہ آگئے ہوتے تو عين ممكن تھا كہ يہ دونوں بھائي تلواروں سے ايك دوسرے پرٹوٹ پڑتے_ ملاحظہ ہو السيرة النبويہ ج ۲ ص ۲۰۴ _ ۲۰۵_

۲۱_ السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۷۵_

۲۲_ ان غزوات اورسرايا سے متعلق بيشتر اطلاع كيلئے ملاحظہ ہو السيرة النبويہ ج ۲ ص ۲۴۱_ ۲۵۶

۲۳_الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۳ ص ۱۴۵_

۲۴_ اعلام الورى ص ۸۲_

۲۵_۲۶ _ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۱۲۸_

۲۷_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۲۰۱_

۲۸_ سورہ بقرہ آيہ ۱۴۴_

۲۹_ سورہ بقرہ آيہ ۱۴۳_

۳۰_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۲۰۰_

۳۱_ملاحظہ ہو: السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۱۲۸_ ۱۳۰_

۳۲_ ملاحظہ ہو: السيرة النبويہ ج ۲ ص ۱۹۸،۱۹۹و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۱۹۵_

۳۳_بقرہ آيت ۱۴۳_

۳۴_بحارالانوار ج ۱۹ ص ۱۹۷_


سبق ۹:

جنگ بدر


۲ ہجرى ميں جو واقعات رونما ہوئے ان ميں سے ايك جنگ بدر كا تقدير ساز معركہ تھا اس جنگ كا تعلق ارادہ ايزدى سے تھا_

قرآن مجيد كى آيات سے جو بات سمجھ ميں آتى ہے وہ يہ ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كا مدينہ سے قريش كے تجارتى قافلہ كے تعاقب اور نتيجہ ميں جنگ كيلئے نكلنا وحى اور آسمانى حكم كے مطابق تھا جيسا كہ ارشاد ہے:

( كَمَا اَخرَجَكَ رَبُّكَ من بَيتكَ بالحَقّ ) (۱)

''جس طرح تمہارے رب نے تمہيں تمہارے گھر سے حق(۲) كے ساتھ برآمد كيا''_

ليكن بعض سست عقيدہ لوگ كہ جو اسلامى مسائل كو اچھى طرح نہيں سمجھتے تھے انہيں اس جنگ ميں رسول خدا (ص) كے ساتھ روانہ ہونا گوارہ نہ تھا_

( وَانَّ فَريقاً من المُومنينَ لَكَارهُونَ ) (۳)

اور مومنوں ميں ايك گروہ كو يہ گوارہ نہ تھا_

يہ ظاہر بين گروہ اس حقيقت كو جاننے كے باوجود كہ پيغمبر اكرم (ص) كا يہ ا قدام حكم خدا كے عين مطابق ہے آنحضرت (ص) كے ساتھ جنگ بدر پر جانے كيلئے جھگڑا كرنے پر لگا ہواتھا_

( يُجَادلُونَكَ فى الحَقّ بَعدَ مَا تَبَيَّنَ_ ) (۴)

يہ لوگ حق كے واضح ہوجانے كے بعد بھى آپ (ص) سے بحث كرتے ہيں

قرآن مجيد نے اس گروہ كى ذہنى كيفيت كو اس طرح بيان كيا ہے_


( كَا َنَّمَا يُسَاقُونَ الَى المَوت وَ هُم يَنظُرُونَ ) (۵)

جيسے يہ موت كى طرف ہنكائے جارہے ہيں اور حسرت سے اپنا انجام ديكھ رہے ہيں_

اگرچہ بعض مورخین نے لكھا ہے كہ جو لوگ بدر كى طرف جانے كے مخالف تھے ان كى مخالفت ميں بدنيتى اور ايمان كى كمزورى شامل نہ تھى بلكہ اس كى وجہ يہ تھى كہ انہيں چونكہ يہ يقين تھا نہ كہ يہ جنگ وقوع پذير ہوگى اسى لئے وہ ساتھ چلنے سے انكاركر رہے تھے(۶) مگر اس بارے ميں قرآن مجيد كا صريح ارشاد ہے كہ : اگر چہ حق ان پر واضح و روشن ہوچكا تھامگر اس كے باوجود انہيں اسے قبول كرنا گوارہ نہ تھا ان كى دليل يہ تھى كہ ہمارى تعداد بہت كم ہے اور دشمن بہت زيادہ ہيں ايسى صورت میں ہم اتنے بڑے دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے مدينہ سے باہر كيسے جاسكتے ہيں _(۷) يا ہم بلا سوچے سمجھے اندھا دھند يہ كام كر رہے ہيں، كيونكہ يہ بھى تو نہيں معلوم كہ ہدف كاروان جنگ ہے يا قافلہ تجارت(۸) ؟

دوسرى دليل جو اس حقيقت كو ثابت كرتى ہے كہ مسلمين وكفار كے درميان يہ جنگ حكم الہى كا قطعى و حتمى نتيجہ تھى اور انہيں ايك دوسرے كا مقابلہ كرنے كى ترغيب دلارہى تھى ' يہ تھى كہ جنگ سے پہلے ہى دونوں گروہوں ميں سے ہر ايك كو دوسرے كى تعداد كم نظر آرہى تھي_

( وَاذ يُريكُمُوهُم اذا لَتَقَيتُم في اَعيُنهم قَليلًا وَيُقَلّلكُم في اَعيُنهم ) _(۹)

''اس وقت كو ياد كرو جب تم ايك دوسرے كے مقابلے ميں آئے تو خدا نے انہيں تمہارى نگاہوں ميںكم دكھايا اور تمہيں اس كى نگاہوں ميںكم دكھايا ''_


دشمن كى تعداد كو قليل كركے دكھانے كى وجہ يہ تھى كہ اگر كچھ مسلمانوں كو دشمن كى تعداد ' طاقت اور جنگى تيارى كا اندازہ ہوجاتا تو اس بات كا امكان تھا كہ وہ جنگ ميں سستى سے كام ليتے اور ان كے درميان باہمى اختلاف پيدا ہوجاتا _

( وَلَواَرَاكَهُمْ كَثيرً الَفَشلتُم وَلَتَنَازَعتُم في الاَمر ) (۱۰) _

''اگر كہيں وہ تمہيں ان كى تعداد زيادہ دكھاديتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہارجاتے اور جنگ كے معاملے ميںجھگڑا شروع كرديتے''_

اس وقت سياسى اور فوجى صورت حال ايسى تھى كہ اگر وہ آپس ميں ايك دوسرے كى مدد كا وعدہ بھى كرتے تو وہ اس سے روگرداں ہوجاتے_

( وَلَو تَوَاَعَدتُم لَا ختَلَفتُم في الميعَاد ) _(۱۱)

''اگر كہيں تم ايك دوسرے كى مدد كا وعدہ بھى كرچكے ہوتے تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہى كرجاتے''_

دوسرى طرف اگر دشمن كو مسلمان طاقت و تعداد ميں زيادہ نظر آتے تو اس ميں كوئي تعجب كى بات نہ تھى كہ كفار مسلمانوں كا مقابلہ كرنے سے گريز كر جاتے اور اس تقدير ساز جنگ كےلئے آمادہ نہ ہوتے_

چنانچہ يہى وجہ تھى كہ خداوند تعالى نے حالات ايسے پيدا كرديئے كہ اب دونوں گروہوں كيلئے اس كے علاوہ چارہ نہ تھا كہ وہ ايك دوسرے كے مقابل آجائيں اور ايك دوسرے كے ساتھ جنگ كريں تاكہ ارادہ خداوندى حقيقت كى صورت اختيار كر جائے_

( ليَقضيَ اللّهُ اَمر اً كَانَ مَفعُولاً ) _(۱۲)

''تاكہ خد ا كى ہو كر رہنے والى بات ہو كر رہے''_


اس زمانے ميں اسلامى معاشرے كى جو سياسى واجتماعى حالت تھى اگر ہم اس كا مطالعہ كريں تو ہم اس نتيجے پر پہنچيں گے كہ اس وقت كى سياسى واجتماعى حالت كے پيش نظرايسى فاتحانہ جنگ كى اشد ضرورت تھى كيونكہ پيغمبر اكرم (ص) تيرہ(۱۳) سال تك على الاعلان امت كى اصلاح ونجات كے لئے دعوت اسلام ديتے رہے مگر ان (ص) كى اس صدائے حق وعدل كو معدودے چند كے علاوہ باقى لوگوں نے نہ صرف سننا گوارہ نہ كيا بلكہ ہر قسم كى ايذا و تكليف پہنچا كر آپ(ص) كو جلاوطنى پرمجبور كرديا اور جو لوگ وہاں رہ گئے تھے وہ بھى سخت اذيت و آزار ميں مبتلا تھے اور انہو ںنے ان پر ايسى سخت پابندياں لگاركھى تھيں كہ وہ ہجرت كركے مدينہ بھى نہيں جاسكتے تھے_(۱۳)

رسول خدا (ص) كو ہجرت كے بعد بھى دشمنوں نے چين كا سانس لينے نہ ديا ، ابوجہل نے خط لكھ كر آنحضرت (ص) كو يہ دھمكى دى كہ يہ مت سمجھ لينا كہ تم نے ہجرت كركے قريش كے چنگل سے نجات پالى ہے ، ديكھنا جلد ہى تم پر چاروں طرف سے قريش اور دوسرے دشمنوں كى طرف سے يلغار ہوگى اور يہ ايسا سخت حملہ ہوگا كہ تمہارا اور تمہارے دين اسلام كا نام صفحہ ہستى سے نيست ونابود ہوجائے گا_(۱۴)

رسول خدا (ص) كو يہ خط جنگ شروع ہونے سے ۲۹ دن پہلے ملا تھا_(۱۵)

دوسرى طرف انصار مسلمين كى تعداد ميں روز بروزاضافہ ہو رہا تھا اوروہ كئي مناسب مواقع پر رسول خدا (ص) كے تحفظ اور آپ (ص) كے دين كى پاسدارى كا اعلان كرچكے تھے_

مہاجرين نے بھى ان مہمات وغزوات ميں جو جنگ بدر سے پہلے وقوع پذير ہوچكے تھے شركت كر كے يہ ثابت كرديا تھا كہ وہ اب بھى حسب سابق اپنے ارادے پر قائم اور ہر قسم كى قربانى دينے كيلئے تيار ہيں_


دوسرى طرف منافقين اور يہوديوں كى تحريك اپنا كام كر رہى تھى ، ابتداء ميں جب آنحضرت (ص) مدينہ تشريف لائے تو انہوں نے پہلے پہل تو آپ(ص) كا خندہ پيشانى سے استقبال كيا ليكن جب وہ اپنے ناپاك ارادوں ميں كامياب نہ ہوسكے تو مخالفت و سركشى پر اتر آئے_

رسول خدا(ص) نے بھى اٹھارہ(۱۸) ماہ سے زيادہ قيام كے دوران جہاں تك ہوسكتا تھا دشمن سے مقابلہ كيلئے فوج تيار كى تھي_

ان تمام پہلوئوں كو مد نظر ركھتے ہوئے كہا جاسكتا ہے كہ اب وہ وقت آن پہنچا تھا كہ رسول خدا (ص) وسيع پيمانے پر فتح مندانہ عسكرى تحريك كے ساتھ دين اسلام كو گوشہ نشينى كى حالت سے نكال كر اسے طاقتور اجتماعى تحريك ميں بدل ديں تاكہ شرك كے دعويدار اچھى طرح سمجھ ليں كہ مكہ ميں جو مسلمانوں كى حالت تھى اب وہ بدل چكى ہے اور اگر اس كے بعد مخالفت و خلل اندازى كى گئي تو وہ ہوں گے اور اسلام كى ايسى كاٹ دار تلوار ہوگى جس سے ان كى جڑيں تك كٹ جائيں گى اور بنياد تباہ و برباد ہوكر رہ جائے گي،كيونكہ يہ حق كا ارادہ ہے اور اس ميںكوئي تبديلى واقع نہيں ہوسكتي_

( يُريدُ اللّهُ اَن يُحقَّ الحَقَّ بكَلَمَاته وَ يَقطَعَ دَابرَ الكَافرينَ ) _(۱۶)

''خدا اپنے كلمات كے ذريعے حق كو ثابت كردينا چاہتا ہے اور كافروں كے سلسلے كو قطع كردينا چاہتا ہے''_

جنگ بدر كى مختصر تاريخ

رسول خد ا(ص) اتوار كے روز ۱۲ رمضان سنہ ۲ہجرى كو ۳۱۳ مسلمان افراد كے ہمراہ (جن


ميں۸۲ مہاجرين اور ۲۳۱ انصار شامل تھے )مدينہ سے ''بدر'' كى جانب روانہ ہوئے اس وقت آپ (ص) كے پاس صرف دو گھوڑے اور سترہ اونٹ تھے اورابتدائي مقصد قريش كے اس تجارتى قافلے كا تعاقب كرنا تھا جو ابوسفيان كى سركردگى ميں چلا جارہا تھا_(۱۷)

''ذفران'' كے مقام پر آپ (ص) كو اطلاع ملى كہ ابوسفيان اپنے قافلے كى حفاظت كى خاطر راستہ بدل كر مكہ چلا گيا ہے ليكن مسلح سپاہى مكہ سے مسلمانوں كے ساتھ جنگ كرنے كيلئے ''بدر '' كى جانب روانہ ہوچكے ہيں_

رسول اكرم(ص) نے اصحاب كے درميان اس خبر كا اعلان كرنے كے بعد ان سے مشورہ كيا ، متفقہ طور پر يہ فيصلہ ہو اكہ اس مختصر لشكر كے ساتھ ہى دشمن كا مقابلہ كياجائے چنانچہ اب يہ قافلہ ''بدر'' كى جانب روانہ ہوا_

آخر ۱۷ رمضان كو دونوں لشكروں كے سپاہيوں ميں بدر كے كنويں كے پاس مقابلہ ہوا_

جنگ كاآغاز دشمن كى طرف سے ہوا پہلے مشركين كے تين شہسوار ''عتبہ'' ، ''شيبہ'' اور ''وليد'' نكلے تھے جو '' حضرت علي(ع) '' ، '' حضرت حمزہ (ع) '' او ر '' حضرت عبيدہ (ع) '' كے ہاتھوں جہنم رسيد ہوئے

عام جنگ ميں بھى سپاہ اسلام نے پروردگار كى غيبى امداد نيز پيغمبر اكرم(ص) كى دانشمندانہ قيادت كے تحت اور جہاد سے متعلق آيات سن كر پہلے تو دشمن كے ابتدائي حملوں كا دفاع كيا اس كے بعد اس كى صفوں ميں گھس كر ايسى سخت يلغار كى كہ اس كى تمام صفيں درہم برہم ہو كر رہ گئي اور بہت سى سپاہ بالخصوص فرعون قريش يعنى ابوجہل كو موت كے گھاٹ اتار ديا دشمن كا لشكر جو نو سو پچاس (۹۵۰) سپاہيوں پر مشتمل اور پورے سازو سامان جنگ سے مسلح و آراستہ تھا سپاہ اسلام كے مقابلے كى تاب نہ لا سكا چنانچہ كثير جانى و مالى (ستر( ۷۰)


متقول اور ستر(۷۰) قيدى) كا نقصان برداشت كرنے كے بعد اس نے فرار اختيار كرنے ميں ہى اپنى عافيت سمجھى اس جنگ ميں سپاہ اسلام ميں سے صرف ۱۴ صحابيوںنے جام شہادت نوش كيا(۱۸)

يہاں ہم مختصر طور پر چند مسائل كا ذكر و تجزيہ كريں گے

۱_ مال غنيمت اور قيديوں كا انجام

۲_ فتح وكاميابى كے عوامل

۳_ جنگ كے نتائج

الف _ مال غنيمت اور قيديوں كا انجام

جنگ بدر ميں ايك سو پچاس (۱۵۰) اونٹ ، دس(۱۰) او ربعض روايات كے مطابق تيس(۳۰) گھوڑے، بہت سے ہتھيار اور كھاليں مسلمانوں كے ہاتھ بطور مال غنيمت آئے(۱۹) مگر اس مال كى تقسيم پر ان كے درميان اختلاف ہوگيا جس كا سبب يہ تھا كہ انہيں معلوم نہيں تھا كہ مال غنيمت ميں ان مجاہدين كا بھى حصہ ہے جنہوں نے جنگ ميں ہر طرح سے شركت كى تھى يا يہ صرف ان سپاہيوں كا حصہ ہے جو دشمن سے نبرد آزما ہوئے تھے ، اس مال غنيمت ميں آيا سب كا حصہ برابر تھا يا پيدل اور سوار سپاہ كے درميان كوئي فرق و امتياز ركھاگيا تھا_

يہ معاملہ پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں پيش كيا گيا اور سورہ ''انفال'' كى پہلى آيت نازل ہوئي جس نے مسئلہ مال غنيمت كو روشن كرديا_

( يَسئَلُوَنَكَ عَن الاَنفَال _ قُل الَانفَالُ للّه وَالرَّسُول


فَاتَّقُواللّهَ وَاَصلحُو ذَاتَ بَينكُم وَاَطيعُوا اللّهَ وَرَسُوُلَهُ ان كُنتُم مُومنينَ ) _

''تم سے انفال (مال غنيمت) كے متعلق پوچھتے ہيں كہہ دو يہ انفال تو اللہ اور اس كے رسول (ص) كے ہيں پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس كے تعلقات ميں فرق نہ آنے دو اور اللہ اور اس كے رسول كى اطاعت كرو اگر تم مومن ہو ''_

اس آيہ شريفہ كى بنياد پر مال غنيمت خدا اور رسول (ص) كا حق ہے، پيغمبر اكرم (ص) نے اس كے تين سو تيرہ (۳۱۳) حصہ كركے اسے سب كے درميان تقسيم كرديا (تقسيم كے اعتبار سے دونوں سوار سپاہيوں كيلئے دو اضافى حصے مقرر كئے گئے تھے اور شہداء كا حصہ ان كے پس ماندگان كو دے ديا گيا _ايك روايت يہ بھى ملتى ہے كہ وہ لوگ جو رسول اكرم (ص) كے حكم سے مدينہ ميں اپنى خدمات انجام دينے كيلئے مقرر كئے گئے تھے اور وہ وہيں مقيم تھے ان كا بھى حصہ مقرر كيا گيا تھا)_(۲۰)

رسول خدا (ص) كے حكم كے مطابق قيديوں كو مدينہ لے جايا گيا ، راستے ميں ايك منزل پر دو آدميوں كو جن ميں سے ايك كا نام ''نصر بن حارث '' اور دوسرے كا نام ''عقبہ بن ابى معيط '' تھا رسول خدا (ص) كے حكم سے قتل كرديا گيا _(۲۱)

مذكورہ اشخاص كے قتل كئے جانے كى وجہ شايد يہ تھى كہ يہ دونوں ہى كفر كے سرغنہ تھے اور اسلام كے خلاف سازشيں تيار كرنے ميں پيش پيش رہا كرتے تھے انہوں نے رسول خدا (ص) اور مسلمانوں كو جس طرح تكاليف پہنچائي تھيں اس كى ايك طويل داستان ہے اگر يہ لوگ آزاد ہو كر واپس مكہ پہنچ جاتے تو يہ امكان تھا كہ وہ از سر نو اسلام كى بيخ كنى كيلئے سازشوں ميںملوث ہوجاتے چنانچہ ان كا قتل كياجانا اسلام كى مصلحت كے تحت تھا نہ كہ انتقام لينے كى


غرض سے_

ان تمام قيديوں كو فديہ وصول كركے (جوكہ فى كس ہزار سے چار ہزار درہم تك تھا) بتدريج آزاد كرديا گيا ، ان ميں جو لوگ نادار تھے مگر لكھنا اور پڑھنا جانتے تھے انہيں آزاد كرنے كى يہ شرط ركھى گئي كہ اگر وہ دس مسلمانوں كو لكھنا اور پڑھنا سكھاديں گے انہيں آزاد كردياجائے گا_

ان قيديوں ميں چند اشخاص رسول خدا (ص) اور حضرت على (ع) كے رشتہ دار بھى تھے چنانچہ رسول خد ا(ص) كے چچا عباس اپنا اور ''عقيل'' و ''نوفل ''نامى اپنے دو بھتيجوں كا فديہ ادا كركے آزاد ہوئے _(۲۲)

ب_ فتح وكاميابى كے اسباب

اس ميں شك نہيں كہ جنگ بدر ميں كفار كو طاقت اوراسلحہ كے اعتبار سے مسلمانوں پر فوقيت حاصل تھى مگر مسلمانوں كو مختلف عوامل كى بناپر فتح حاصل ہوئي تھى جن كى بنياد اسلام پر ايمان و اعتقاد جيسى نعمت اور مدد خداوندى تھي_ ہم دو اہم عنوانات كے تحت ان عوامل كى وضاحت كريں گے_

۱_ معنوى عوامل

۲_ مادى اور عسكرى عوامل

معنوى عوامل

۱_خداوند تعالى كے قريش كے ايك گروہ پر (تجارتى قافلے يا اس لشكر پر جو مكہ سے روانہ


ہوا تھا) فتح وكاميابى دينے كے وعدہ كو، پيغمبر اكرم (ص) نے ''ذفران'' ميں سپاہ اسلام تك پہنچاديا چنانچہ يہى وعدہ ان كيلئے جنگ ميں جرا ت و حوصلہ افزائي كا سبب ہوا _

( وَاذ يَعدُكُمُ اللّهُ احدَى الطَّائفَتَين اَنَّهَالَكُم ) _(۲۳)

'ياد كرو وہ موقع جب اللہ تم سے وعدہ كر رہا تھا كہ دونوں گروہوں ميں سے ايك تمہيں مل جائے گا''_

۲_جس روز جنگى كاروائي ہونے والى تھى اسى شب بارش ہوئي جس كے باعث :

الف: مسلمانوں نے جن كى بدر كے كنويں تك رسائي نہ تھى ، غسل كركے خود كو ہر طرح كى نجاست سے پاك كيا_

ب: چونكہ بارش كثرت سے ہوئي تھى اسى لئے دشمن كى سپاہ كيچڑ اور دلدل ميں پھنس گئي اور اسے جنگ كے لئے حركت كرنے كا موقع نہ مل سكا ليكن جس طرف مسلم سپاہ تھى وہاں كى زمين كنكريلى تھى جو بارش كے پانى سے مزيد پختہ ہوگئي_

( وَيُنَزّلُ عَلَيكُم من السَّمَائ مَائً ليُطَهّرَكُم به وَيُذهبَ عَنكُم رجزَ الشَّيطَان وَليَربطَ عَلى قُلُوبكُم وَيُثَبّتَ به الأَقدَامَ ) _(۲۴)

''اور آسمان سے تمہارے اوپر پانى برس رہا تھا كہ تمہيں پاك كرے اور تم سے شيطان كى ڈالى ہوئي نجاست دور كرے اور تمہارى ہمت بندھائے اور اس كے ذريعے تمہارے قدم جم جائيں''_

۳_جس روز جنگ ہوئي اس سے پہلى رات مسلمانوں كو عالم خواب ميں بشارت ملى تھى


اور ان كے دل مطمئن ہوگئے تھے_

۴_مسلمانوں كى مدد كےلئے تين ہزار فرشتوں كا زمين پر اترنا(۲۵) _

۵_دونوں لشكر ايك دوسرے كى تعداد كے بارے ميں غلط فہمى ميں مبتلا تھے ، اس سے قبل كہ مسلمانوں اور مشركين كے درميان جنگ شروع ہو وہ ايك دوسرے كى تعداد كو كم سمجھ رہے تھے ليكن جيسے ہى جنگ شروع ہوئي دشمن كو مسلمانوں كى تعداد دوگنا نظر آنے لگي_

( قَد كَانَ لَكُم آيَةٌ في فئَتَين التَقَتَافئَةٌ تُقَاتلُ في سَبيل اللّه وَاُخرى كَافرَةٌ يَرَونَهُم مثلَيهم رَاْيَ العَين ) _(۲۶)

''تمہارے لئے ان دو گروہوں ميں ايك نشان عبرت تھا جو (بدر) ميں ايك دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے ايك گروہ اللہ كى راہ ميں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ كافر تھا ديكھنے والے كافر لوگ بچشم خود مؤمنوں كو دوگنا ديكھ رہے تھے ''_

۶_كفار كے دلوں پر مسلمانوں كا وہ رعب چھاجانا جسے ''رعب نصريہ'' سے تعبير كياجاسكتا ہے_

( سَاُلقي في قُلُوب الّذينَ كَفَرُوا الرُّعبَ ) _(۲۷)

''ميں ابھى ان كافروںكے دلوں ميں رعب ڈالے ديتا ہوں''_

۷_سپاہ كى كثرت اور سامان جنگ كى فراوانى كے باعث لشكر كفار كا غرور وتكبر _

( وَاذ زَيَّنَ لَهُم الشَّيطَانُ اَعمَالَهُم وَقَالَ لاَ غَالب


لَكُم اليَومَ من النَّاس وَ انّي جَارٌ لَكُم ) _(۲۸)

''اور اس وقت كو ياد كرو جب شيطان نے ان لوگوں كے كرتوت ان كى نگاہوں ميں خوش نمابناكر دكھائے تھے اور ان سے كہا تھا كہ آج كوئي تم پر غالب نہيں آسكتا اور پھر ميں بھى تمہارے ساتھ ہوں''_

جب ہم اس كاميابى اور غيبى مدد كے بارے ميں غور كرتے ہيں تو اس نتيجے پر پہنچتے ہيں كہ يہ فتح و نصرت خداوند تعالى كى جانب سے تھي_

( فَلَم تَقتُلُوهُم وَلكنَّ اللّهُ قتَلَهُم وَمَارَمَيتَ اذ رَمَيتَ وَلكن اللّهَ رَمَى ) _(۲۹)

''پس حقيقت يہ ہے كہ تم نے انہيں قتل نہيں كيا بلكہ اللہ نے ان كو قتل كيا اور اے نبى تم نے ان پر ايك مٹھى خاك نہيں پھينكى بلكہ اللہ نے پھينكي''_

مادى اور عسكرى عوامل

۱_پيغمبر اكرم (ص) كى دانشمندانہ قيادت اور لشكر كى سپہ سالارى نيز آنحضرت (ص) كا بذات خود جنگ كى صف اول ميں دشمن كے روبرو موجود رہنا_

اميرالمومنين حضرت على (ع) فرماتے ہيں كہ جب جنگ و قتال كے شعلے پورى طرح مشتعل ہوجاتے تو ہم رسول خدا (ص) كى پناہ تلاش كرتے اور ہم ميں سے كوئي شخص دشمن كے اس قدر نزديك نہ ہوتا جتنے آنحضرت (ص) ہوتے_(۳۰)

۲_اميرالمومنين حضرت على (ع) كے شجاعتمندانہ اور دليرانہ كارناموں كا ذكر كرتے ہوئے مورخين نے لكھا ہے كہ : اس جنگ ميں بيشتر مشركين كا خون حضرت على (ع) كى تيغ سے


ہوا(۳۱) جناب شيخ مفيد مرحوم نے لكھا ہے كہ حضرت على (ع) كے ہاتھوں چھتيس(۳۶) مشرك تہ تيغ ہوئے اگر چہ باقى مقتولين كى تعداد كے بارے ميں اختلاف ہے كيونكہ ان كے متعلق كہاجاتا ہے كہ ان كے قتل ميں حضرت على (ع) شريك تھے_(۳۲)

چنانچہ حضرت على (ع) كے عظيم حوصلے اور تقدير ساز كردار كو مد نظر ركھتے ہوئے ہى كفار قريش نے آپ (ع) كو ''سرخ موت'' كا لقب ديا تھا_(۳۳)

۳_سپاہ اسلام كا جذبہ نظم وضبط ، اپنے فرماندار كے حكم كى اطاعت پذيرى اوررن ميں صبر وپائيدارى سے ڈٹے رہنا _

۴_دشمن كى صورتحال كے بارے ميں صحيح و دقيق معلومات اور اس كے ساتھ ہى رسول خدا (ص) كى جانب سے جن جنگى حربوں كو بروئے كار لانے كى ہدايت دى جاتى تھى اس كى مكمل اطاعت _

جنگ بدر كے نتائج

زمانہ كے اعتبار سے ''غزوہ بدر'' كى مدت اگر چہ ايك روز سے زيادہ نہ تھى ليكن سياسى و اجتماعى اعتبار سے جو نتائج برآمد ہوئے ان كى بنياد پر كہا جاسكتا ہے كہ يہ جنگ نہ صرف مسلمانوں كى تاريخى معركہ آرائي تھى بلكہ حيات اسلام كو ايك نئے رخ كى جانب لے جانے ميںممدو معاون ثابت ہوئي جس كى وجہ يہ تھى كہ يہ جنگ دونوں ہى گروہوں كے لئے تقدير ساز تھي، مسلمانوں كے واسطے يہ جنگ اس اعتبار سے اہميت كى حامل تھى كہ وہ جانتے تھے كہ اگر اس جنگ ميں وہ كامياب ہوجاتے ہيں (اور ہوئے بھى) تو عسكرى طاقت كا توازن تبديل ہو كر مسلمانوں كے حق ميں ہوجائے گا ، وہ اس علاقے كى قابل ذكر طاقت


بن جائيں گے اور رائے عامہ ان كى جانب متوجہ ہوگى اس كے علاوہ اور بھى مفيد نتائج برآمد ہوسكتے تھے جن ميں سے بعض كا ذكرہم ذيل ميں كريں گے ، اس كے برعكس اگر اس جنگ ميں مسلمانوں كو شكست ہوجاتى تو اس كے بعد اسلام كا نام ونشان باقى نہ رہتا چنانچہ رسول خدا (ص) كا جنگ سے پہلے كا وہ ارشاد جو بصورت دعا بيان فرمايا اس حقيقت كى تائيد كرتا ہے:

(اَللّهُمَّ ان تَهلكْ هذه العصَابَةُ اليَومَ لا تُعبَد )(۳۴)

''پروردگارا اگر آج يہ جماعت تباہ ہوگئي تو تيرى عبادت كرنے والا كوئي نہ رہے گا''_

ليكن جب اس مسئلے كو كفار كے اعتبار سے ديكھتے ہيں تو اگر وہ اس جنگ ميں كامياب ہوجاتے تو رسول اكرم (ص) اور مسلمانوں كا خاتمہ ہوجاتا جويہ سمجھ رہے تھے كہ وہ مدينہ كو ہجرت كركے قريش كے چنگل سے نكل گئے ہيں اس كے علاوہ اہل مدينہ كےلئے يہ درس عبرت ہو تاكہ وہ آيندہ دشمنان قريش كو اپنے گھروں ميں پناہ دينے اور اہل مكہ كا سامنا كرنے كى جرات نہ كرسكيں_

جنگ بدر ميں خداوند تعالى كى مرضى سے جو پيشرفت ہوئي اس كے باعث اسلامى نيز مشرك دونوں معاشرے سياسى ' اجتماعى ' عسكرى اور اقتصادى لحاظ سے بہت متاثر ہوئے بطور مثال:

۱_مسلمانوں بالخصوص انصار كے دلوں ميں نفسياتى طور پر مكتب اسلام كى حقانيت كے بارے ميں پہلے سے كہيں زيادہ اطمينان و اعتقاد پيدا ہوگيا اور اسلام كے درخشاں مستقبل كے متعلق اب وہ بہت زيادہ پر اميد ہوگئے تھے كيونكہ ميدان جنگ ميں طاقت ايمان كے مظاہرے كو انہوں نے اپنى آنكھوں سے ديكھ ليا تھا_

دوسرى طرف ''جزيرة العرب'' كے لوگوں ميں اسلام كو برتر طاقت كى حيثيت سے


ديكھاجانے لگا چنانچہ اب سب ہى لوگ رسول خدا (ص) اور آنحضرت (ص) كے دين اسلام كى جانب متوجہ ہونے لگے_

۲_جنگ بدر ايسى طوفانى جنگ ثابت ہوئي كہ اس نے مخالفين اسلام (مشركين ' يہود اور منافقين) كى بنيادوں كو لرزاكر ركھ ديا تھا_ چنانچہ ان كے دلوں ميں ايسا خوف و ہراس پيدا ہو اكہ اب وہ يہ سوچنے پر مجبور ہوگئے كہ اپنى حفظ وبقا كى خاطر اپنے تمام اختلافات كے باوجود يك جا جمع ہوں اور مسلمانوں كو تہ تيغ كرنے كيلئے كوئي راہ تلاش كريں(۳۵) _

جنگ بدر كے بعد پورے شہر مكہ ميں صف ماتم بچھ گئي ، قريش كا كوئي گھر ايسا نہ بچا جہاں كسى عزيز كے مرنے كى وجہ سے رسم سوگوارى نہ منائي جارہى ہو اور جو چند قريش باقى بچے رہے انہوں نے اضطرارى حالت كے تحت جلسہ طلب كيا اور وہ اس بات پر غور كرنے لگے كہ اس شرمناك شكست كے منفى اثرات كو كيسے دور كريں اور اس كى تلافى كس طرح كى جائے(۳۶) _

''ابولہب'' كو تو ايسا صدمہ ہوا كہ وہ جنگ بدر كے بعد دس دن كے اندر اندر ہى غم غصے سے گھل كر و اصل جہنم ہوا(۳۷) _

مدينہ ميں بھى جس منافق يہودى نے مسلمانوں كى فتح وكامرانى كے بارے ميں سنا اس كا شرم سے سر جھك گيا(۳۸) _

ان ميں سے بعض نے تو يہاں تك كہنا شروع كرديا كہ جنگ ''بدر'' ميں اتنے اشراف ' سرداران قوم ' حكمرانان عرب اور اہل حرم مارے گئے ہيں كہ اب اس كے بعد ہمارے لئے بہتر يہى ہے كہ زمين كے سينے پر رہنے كى بجائے اس كى كوكھ ميں چلے


جائيں(۳۹) _

اور بعض كى زبان پر يہ بات بار بار آرہى تھى كہ ''اب جہاں كہيں پرچم محمدى (ص) لہرائے گا فتح و نصرت اس كے دوش بدوش ہوگي_(۴۰) _

۳_جنگ بدر سے مسلمانوں كو جو مال غنيمت ملا اس كى وجہ سے مسلمانوں كى اقتصادى حالت بہتر ہوگئي اور اس كى وجہ سے ان كى ڈھير سارى ذاتى اور جنگى ضروريات بھى پورى ہو گئيں ان كے واسطے وسيع جنگ كے راستے زيادہ ہموارہوگئے اس كے مقابل قريش كى اقتصادى زندگى كو سخت نقصان پہنچا كيونكہ ايك طرف تو وہ تمام تجارتى راستے جو شمال كى طرف جاتے تھے ان كيلئے مخدوش ہوگئے دوسرى طرف جنگ ميں وہ تمام لوگ مارے گئے جو فن تجارت كے ماہر سمجھے جاتے تھے اور مكہ كى اقتصادى زندگى كا انحصار انہى كے ہاتھوں ميں تھا_


سوالات

۱_ جنگ بدر ميں مشيت الہى كيا تھي؟

۲_ كيا جنگ بدر ميں كسى شخص نے محاذ پر جانے سے روگردانى كى اوركيوں؟

۳_ رسول خدا (ص) نے كس تاريخ كو كتنے مسلمانوں كے ساتھ اور كيسے حالات كے تحت مدينہ سے بدر كى جانب روانگى كا ارادہ كيا ؟

۴_ جنگ بدر ميں دشمن كا كتنا جانى ومالى نقصان ہوا؟

۵_ آيہ شريفہ :( يَسْئَلُوْنَكَ عَن الاَنْفَال قُلْ الْاَنْفَالُ لله وَالرَّسُوْل ) كى شان نزول كے بارے ميں مختصر طور پر لكھيں_

۶_ جنگ بدر كے قيديوں كا كيا انجام ہوا؟

۷_ جنگ بدر ميں مسلمانوں كى كاميابى كے كيا اسباب تھے؟ ان ميں سے دو معنوى اور دو مادى عوامل كا ذكر كيجئے_

۸_ غزوہ بدر كے نتائج مختصر طور پر بيان كيجئے_


حوالہ جات

۱_سورہ انفال آيت ۵

۲_مجمع البيان ج ۴' ص ۵۲۱ميں ايك روايت كى بنا پر '' بالحَقّ'' سے مراد '' بالوَحي'' ہے_

۳_سورہ انفال آيت ۵

۴و ۵_ سورہ انفال /۶

۶_ ملاحظہ ہو المغازى ،واقدى ، ج ۱ ص ۲۱ و شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱۴ ص ۸۵

۷و۸_مجمع البيان ج ۳ _۴ ص ۵۲۰

۹_ سورہ انفال /۴۴

۱۰_ سورہ انفال /۴۳

۱۱_ سورہ انفال /۴۲

۱۲_ سورہ انفال /۴۴

۱۳_السيرة النبويہ ج ۲ ' ص۱۴۴

۱۴و۱۵_بحارالانوار ج ۱۹ ' ص ۲۶۵ _ ۲۶۷

۱۶_ سورہ انفال /۷

۱۷_ المغازى واقدى ج ۱ ص ۲۱_۲۷

۱۸_تاريخ پيامبر (ص) تاليف آيتى مرحوم ص ۲۵۳_ ۲۹۱

۱۹_المغازى واقدى ج ۱ ص ۱۰۲ _۱۰۳

۲۰_الميزان ج ۹ ص ۹

۲۱_المغازى ج ۱ ص ۱۰۰_ ۱۰۱

۲۲_المغازى ج ۱ ص ۱۰۰ _ ۱۱۴ ، السيرة النبويہ ج ۲ ص ۲۹۸

۲۳_ سورہ انفال /۷

۲۴_ سورہ انفال /۱۱


۲۵_ سورہ آل عمران كى آيت ۱۲۴ كى طرف اشارہ ہے_

۲۶_ سورہ انفال /۱۳

۲۷_ سورہ انفال /۱۱

۲۸_ سورہ انفال /۴۸

۲۹_ سورہ انفال /۱۷

۳۰_ كُنَّا اذَااحمَرَّ البا سُ اتَّقَينَا برَسُول اللہ فَلَم يَكُن اَحَدٌ منَّا اَقرَبُ اليَ العَدُوّمنہُ (نہج البلاغہ ، صبحى صالح كلمات قصار ح ۹ ص ۵۲۰)

۳۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۲۹۱

۳۲_ارشاد مفيد ص ۴۰

۳۳_مناقب ابن شہر آشوب ج ۲ ص ۶۸

۳۴_السيرة النبويہ ج ۲ ص ۲۷۹

۳۵_ان كى اس كوشش كے بارے ميں آئندہ ذكر كياجائے گا_

۳۶و ۳۷_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ج ۲ ص ۳۰۲

۳۸_۳۹_۴۰ _ المغازى و اقدى ج ۱ ص ۱۲۱


سبق ۱۰:

حضرت علي(ع) كى شادى خانہ آبادي'' جنگ اُحد''


غزوہ بنى قنيقاع

مدينہ ميں آباد يہوديوں كى خيانت و نيرنگى كم وبيش جنگ بدر سے قبل مسلمانوں پر عياں ہوچكى تھي_ جب مسلمانوں كو جنگ بدر ميں غير متوقع طور پر مشركين پر فتح وكامرانى نصيب ہوئي تو وہ سخت مضطرب و پريشان ہوئے اور ان كے خلاف ريشہ دوانيوں ميں لگ گئے ، قبيلہ بنى قنيقاع اندرون مدينہ آباد تھا اور اس شہر كى معيشت اسى كے ہاتھوں ميں تھى اور يہى وہ قبيلہ تھا جس كى سازش و شرارت مسلمانوں پر سب سے پہلے عياں ہوئي تھي_

پيغمبر اكرم (ص) نے ابتداء ميں انہيں نصيحت كى اور اس بات پر زور ديا كہ آنحضرت (ص) كے ساتھ انہوں نے جو عہد وپيما ن كياہے اس پر قائم رہيں اس كے ساتھ ہى مشركين قريش پر جو گزر گئي تھى اس سے بھى آپ (ص) نے انہيں آگاہ كيا ليكن جب آپ (ص) نے ديكھا كہ وہ لوگ خود سرى و بے حيائي پر اتر آئے ہيں اور قانون كى پاسدارى نيز مذہبى جذبات كى پاكيزگى كا احترام كرنے كى بجائے الٹا اس كا مذاق اڑا رہے ہيں اور مسلمانوں كى عزت وناموس پر مسلسل اہانت آميز وار كر رہے ہيں تو آپ (ص) نے نصف ماہ شوال سن ۲ ہجرى ميں ان كے قلعے كا محاصرہ كرليا تا كہ اس مسئلہ كا فيصلہ ہوجائے_

يہودى تعداد ميں تقريبا سات سو سپاہى تھے جن ميں سے تين سو زرہ پوش تھے پندرہ دن تك مقابلہ كرنے كے بعد انہوں نے اپنى شكست تسليم كرلى ، رسول خدا (ص) نے انہى كى تجويز پر


ان كا مال و اسلحہ ضبط كرليا اور انہيں مدينہ سے باہر نكال ديا_(۱)

''بنى قنيقاع'' كے شرپسندوں كو جب اسلحہ سے محروم اور شہر بدر كرديا گيا تو مدينہ ميں دوبارہ امن و اتحاد اور سياسى استحكام كا ماحول بحال ہوگيا_ اس كے ساتھ ہى اسلامى حكومت كے مركز يعنى مدينہ ميں رسول خد ا(ص) كى سياسى حيثيت و رہبرانہ طاقت پہلے سے كہيں زيادہ مستحكم ہوگئي اس كے علاوہ قريش كے ان حملوں كے مقابل جو وہ انتقام جوئي كى غرض سے كيا كرتے تھے مسلمانوں كا دفاعى ميدان كافى محكم و مضبوط ہوگيا اور يہى بات قريش كے اس خط سے جو انہوں نے جنگ بدر كے بعد مدينہ كے يہوديوں كو لكھا تھا عياں ہوتى ہے كہ جب مسلمانوں سے انتقام جوئي كى غرض سے آئندہ كبھى جنگ كى جائے تو ان اسلام دشمن عناصر سے جو خود مسلمانوں ميں موجود ہيں جاسوسى اور تباہ كارى كا كام لياجائے_

سازشوں كو ناكام كرنا

رسول خدا (ص) نے صرف مدينہ ميں موجود خيانت كار اور عہد شكن افراد كا قلع قمع نہيں كيا بلكہ آپ(ص) ان قبائل پر بھى كڑى نظر ركھے ہوئے تھے جو مدينے كے اطراف ميں آباد اور اسلام دشمن تحريكوں نيز سازشوں ميں شريك تھے چنانچہ جب بھى حملے كى ضرورت پيش آتى تو آپ (ص) كى تلوار بجلى كى مانند كوندتى ہوئي ان جتھوں پر گرتى اور ان كى سازشوں كو ناكام بناديتى ''بنى غطفان'' اور ''بنى سليم'' دو ايسے طاقتور قبيلے تھے جو قريش كے تجارتى راستے پر آباد تھے اور ان كا قريش كے ساتھ مصالحتى عہدو پيمان بھى تھا ان كے ساتھ جو جنگ ہوئي وہ ''غزوہ بنى سليم'' كے نام سے مشہور ہے ، قبائل ''ثعلبہ'' اور ''محارب'' كے ساتھ جو جنگ لڑى گئي وہ غزوہ ''ذى امر'' كہلائي ، قريش نے جنگ بدر كے بعد چونكہ اپنا تجارتى راستہ بدل ديا تھا اور


بحر احمر كے ساحل كى بجائے وہ عراق كے راستے سے تجارت كيلئے جانے لگے تھے ان پر جو لشكر كشى كى گئي وہ سريہ ''قروہ'' كے عنوان سے مشہور ہوئي _

لشكر اسلام كى ہوشمندى اور ہر وقت پيش قدمى كے باعث نو عمر اسلامى حكومت اپنى جاسوسي' ہوشيارى اور لشكر كشى كى استعداد و اہليت كى وجہ سے مدينہ كے گردو نواح ميں غالب آگئي اور اب وہ سياسى عسكرى طاقت كے عنوان سے منظر عام پر نمودار ہونے لگي_

تجارتى راستوں پر مسلمانوں كى مستقل موجودگى كے باعث قريش كى اقتصادى و سياسى طاقت سلب ہوگئي اور ان كے جتنے بھى تجارتى راستے تھے وہ مسلمانوں كے تحت تصرف آگئے_

اس عسكرى كيفيت كى حفاظت و توسيع، اس كے ساتھ ہى لشكر اسلام كا فطرى جذبہ شجاعت اور رسول خدا (ص) كا دانشورانہ دستور عمل ايسے عناصر تھے جن پر اس وقت بھى عمل كياجاتا تھا جبكہ دين اسلام طاقت كے اعتبار سے اپنے عروج كو پہنچ چكا تھا ، تحفظ و توسيع كا اس قدر پاس ركھا جاتا كہ ان مہينوں ميں بھى جنہيں ماہ حرام قرار ديا گيا تھا اس مقصد سے غفلت نہيں برتى جاتى تھي_

حضرت فاطمہ زہرا(س)كى شادى خانہ آبادي

جنگ بدر كے بعد جو اہم واقعات رونما ہوئے ان ميں دين مبين اسلام كى نامور خاتون حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا كا حضرت على عليہ السلام كے ساتھ رشتہ ازدواج قابل ذكر واقعہ ہے_(۲)

دور جاہليت كى ايك ناپسنديدہ رسم يہ بھى تھى كہ عرب بالخصوص اشراف اپنى بيٹيوں كے


رشتے صرف ايسے آدميوں سے كرتے تھے جنہيں دولتمندى ' اقتداراور جاہ و مرتبہ كے باعث شہرت و نام آورى حاصل ہو_

اس رسم كى بنياد پر بعض اشرافى اور مقتدر صحابہ رسول (ص) نے آنحضرت (ص) كى خدمت ميں حضرت فاطمہ (ع) كے ساتھ اپنى شادى كا پيغام بھيجا اس مقصد كيلئے انہوں نے بہت زيادہ حق مہر ادا كرنے كى بھى پيشكش كى(۳) ليكن وہ لوگ اس بات سے بے خبر تھے كہ اسلام كى نظر ميں ان كى دولت ، اشراف زادگى اور قبائلى نامورى كى كوئي قدر ومنزلت نہيں ہے _

اس كے علاوہ حضرت فاطمہ (ع) آپ (ص) كى وہ دختر نيك اختر ہیں جن كى عظمت و منزلت آيہ ''مباہلہ''(۴) كى رو سے بہت بلند ہے_

( فَمَن حَاجَّكَ فيه من بَعد مَا جَائَكَ من العلم فَقُل تَعَالَوا نَدعُ أَبنَائَنَا وَأَبنَائَكُم وَنسَائَنَا وَنسَائَكُم وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُم ثُمَّ نَبتَهل فَنَجعَل لَعنَةَ الله عَلَى الكَاذبينَ )

''علم آجانے كے بعد اب جو كوئي اس معاملے ميں تم سے حجت كرے تو اے نبى اس سے كہو كہ آو ہم اور تم خود بھى آجائيں اور اپنے اپنے بال بچوں كو بھى لے آئيں اور خدا سے دعا كريں كہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا كى لعنت ہو''_

آيہ ''تطہير''(۵) كے مطابق آپ (ع) كو معصوم اور گناہ سے مبرا قرار ديا گيا ہے_

( إنَّمَا يُريدُ الله ُ ليُذهبَ عَنكُم الرّجسَ أَهلَ البَيت وَيُطَهّرَكُم تَطهيرًا )

''اللہ تو يہ چاہتا ہے كہ تم اہل بيت نبى عليہم السلام سے رجس كو دور ركھے اور تمہيں پورى


طرح پاك ركھے''_

ايسى صورت ميں آپ(ص) كا شريك حيات ايسے شخص كو ہى بنايا جاسكتا ہے جو فضيلت' تقوا' ايمان ' اخلاص' زہد اور عبادت ميں آپ(ع) كا ہم پلہ ہو_

چنانچہ جب بھى آپ (ع) كا رشتہ آتا تو رسول اكرم (ص) فرماتے :

''انَّ اَمرَهَا الى رَبّهَا''

يعنى حضرت فاطمہ (ع) كى شادى كا مسئلہ خداوند تعالى سے متعلق ہے ''_(۶)

چنانچہ جب حضرت على (ع) آنحضرت (ص) كى خدمت ميں تشريف لائے اور حضرت زہرا (ع) كيلئے پيغام ديا تو آپ (ص) نے اپنى جانب سے اظہار رضامندى كردى مگر اس شرط كے ساتھ كہ حضرت فاطمہ (ع) بھى اس رشتے كو قبول فرماليں، جب آنحضرت (ص) نے اس بات كا ذكر اپنى دختر نيك اختر سے فرمايا تو آپ (ع) نے سكوت كيا ، اس بناپر رسول خدا (ص) نے اس سكوت كو رضامندى كى علامت سمجھا اور فرمايا:

''اَللّهُ اَكبَرُ سُكُوتُهَا اقرَارُهَا'' _(۷)

''اللہ سب سے بڑا ہے يہ سكوت ہى اس كا اقرار ہے''_

اس كے بعد آپ(ص) نے حضرت على (ع) كى جانب رخ كيا اور فرمايا كہ : تمہارے پاس كيا اثاثہ ہے جس كى بناپر ميں اپنى لڑكى كو تمہارى زوجيت ميں دے سكوں يہ سن كر حضرت على (ع) نے فرمايا :

يا رسول اللہ (ص) ميرے ماں ' باپ آپ (ص) پر قربان ميرے پاس ايسى كوئي چيز نہيں جو آپ (ص) سے پنہان اور پوشيدہ ہو، ميرا كل اثاثہ ايك تلوار ' ايك زرہ اور ايك اونٹ ہے_

حضرت على (ع) كو حكم ديا گيا كہ آپ (ع) اپنى زرہ بكتر فروخت كرديں اور ا س سے جو رقم حاصل


ہو اسے رسول خدا (ص) كے حوالے كرديں_

زرہ بكتر فروخت كرنے سے جو رقم حاصل ہوئي اس ميں سے كچھ رسول خدا (ص) نے بعض صحابہ كو دى اور كہا كہ اس سے وہ ضروريات زندگى كا سامان خريد لائيں باقى رقم كو آپ (ص) نے بطور امانت ''حضرت ام سلمہ'' كے پاس ركھ ديا _(۸)

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كا مہر

مورخین نے لكھا ہے كہ حضرت على (ع) نے شادى كيلئے جو رقم رسول خدا (ص) كو ادا كى وہ كسى طرح سے بھى پانچ سو درہم سے زيادہ نہ تھى اور يہى حضرت زہرا (ع) كا مہر بھى تھااور اسى ہى رقم سے جہيز، دلہن كا لباس اور سامان آرائشے بھى خريدا گيا نيز اسى رقم سے (بقولے)دعوت وليمہ كا اہتمام بھى كيا گيا _(۹)

رقم كى يہ مقدار درحقيقت ''مہر سنت'' ہے اور تمام مسلمانوں كيلئے عمدہ مثال بالخصوص ان والدين كيلئے جو مہر كى كثير رقم كا مطالبہ كركے نوجوانوں كى شادى ميں ركاوٹ پيدا كرتے ہيں ، اس كے ساتھ ہى يہ ان كيلئے اچھا سبق بھى ہے جو يہ سمجھتے ہيں كہ عورت كى حيثيت كا انحصار مہر كى كثير رقم اور بھارى جہيز سے وابستہ ہے _

رسول خدا (ص) نے اس اقدام كے ذريعے عام لوگوں كو انسانيت كى اعلى اقدار اور عورت كے معنوى وروحانى مرتبے كى جانب متوجہ كيا ہے چنانچہ جب قريش نے اعتراض كيا كہ فاطمہ (ع) كو بہت معمولى مہر كى رقم پر على (ع) كى زوجيت ميں دے ديا تو آپ(ص) نے فرمايا كہ : ''يہ اقدام حكم خداكى بناپر كيا گيا ہے يہ كام ميں نے انجام نہيں ديا بلكہ خداوند تعالى كے حكم سے انجام پايا ہے''_(۱۰)


احمد ابن يوسفى دمشقى نے لكھا ہے كہ جب حضرت زہرا (ع) كو معلوم ہوا كہ مہر كى رقم كتنى معين كى گئي ہے تو آپ (ع) نے اپنے والد محترم يعنى آنحضرت (ص) كى خدمت ميں عرض كيا '' عام لڑكيوں كى شادى اس وقت طے ہوتى ہے جب مہر كى رقم كے درہم مقرر كرلئے جاتے ہيں اگر ميں بھى ايسا كروں تو ميرے اور ان كے درميان كيا فرق باقى رہ جائے گا اسى لئے ميرى آپ (ص) سے يہ درخواست ہے كہ مہر كى رقم على (ع) كو ہى واپس كرديجئے اور اس كے عوض خداوند تعالى كى بارگاہ ميں يہ درخواست كيجئے كہ ميرے مہر كى رقم بروز قيامت آپ (ص) كى امت كے گناہگار بندوں كى شفاعت قرار دے(۱۱) _

شادى كى رسومات

جب ايك ماہ سے زيادہ عرصہ گزر گيا تو حضرت على (ع) نے فيصلہ كيا كہ اپنى زوجہ مطہرہ (ع) كو (رخصتى كے ساتھ) اپنے گھر لے آئيں اس مقصد كے تحت آپ (ع) نے دعوت وليمہ كا اہتمام كيا اور اس ميں شركت كى دعوت عام دى(۱۲) ، جب شادى كى رسومات ختم ہوگئيں تو آنحضر ت(ص) نے اپنى دختر نيك اختر كى سوارى كيلئے خچر كا بندوبست كى اور مسلمانوں سے كہا كہ وہ دلہن كے آگے آگے چليں اور خود (ص) سوارى كے پيچھے چلنے لگے اور اس طرح بنى ہاشم كے مردو زن اور ازواج مطہرات حضرت زہرا (ع) كى سوارى كى ہمراہى كر رہى تھيں_

حضرت على (ع) كے گھر پہنچ كر پيغمبر اكرم (ص) نے اپنى پيارى لڑكى كا ہاتھ پكڑ كر حضرت على (ع) كے ہاتھ ميں دے ديا اس كے ساتھ ہى آپ (ص) نے حضرت علي(ع) كے اوصاف حميدہ حضرت فاطمہ (ع) سے اور حضرت فاطمہ (ع) كى شخصيت نيز اوصاف حضرت على (ع) سے بيان فرمائے اور اس كے بعد آپ (ص) نے دونوں كيلئے دعائے خير فرمائي_(۱۳)


غزوہ احد

ہجرت كے تيسرے سال كے دوران جو واقعات رونما ہوئے _ ان ميں ''غزوہ احد(۱۴) '' قابل ذكر ہے يہ جنگ ماہ شوال ميں وقوع پذير ہوئي جو خاص اہميت و عظمت كى حامل ہے _

ہم يہاں اس جنگ كا اجمالى طور پر جائزہ ليں گے اور اس سے پيدا ہونے والے مسائل كا تجزيہ كريں گے_

غزوہ احد كى اجمالى تاريخ

جنگ بدر ميںشرمناك شكست كے بعد قريش نے اندازہ لگايا كہ رسول خد ا(ص) كے ساتھ ان كى جنگ نے نيا رخ اختيار كيا اور يہ ايك نئے مرحلے ميں داخل ہوگئي ہے چنانچہ دوسرے مرحلے پر جب انہوں نے نو عمر اسلامى حكومت كے خلاف جنگ كا ارادہ كيا تو اس كيلئے انہو ں نے وسيع پيمانے پر تيارى كى تاكہ اس طريقے سے ايك توان مقتولين كا مسلمانوں سے بدلہ لے سكيں جو جنگ بدر ميں مارے گئے تھے اور دوسرے يہ كہ مكہ اور شام كے درميان واقع جس تجارتى شاہراہ كى ناكہ بندى مسلمانوں نے كردى تھى اسے ان كے چنگل سے آزاد كراكے اپنى اقتصادى مشكلات كا حل نكاليں اور اس كے ساتھ ہى اپنى حاكميت و بالادستى كو بحال كرليں جو زمانے كے انقلاب كے تحت ان كے ہاتھوں سے نكل چكى تھى اوراپنى ساكھ كو اپنے لوگوں نيز اطراف و جوانب كے قبائل پر قائم كرسكيں_

جن محركات كا اوپر ذكر كيا گيا ہے ان كے علاوہ''ابو رافع'' اور ''كعب الاشراف'' جيسے يہوديوں كى ايماء بھى اس جنگ كے شعلوں كو ہوا دينے ميں مؤثر ثابت ہوئي _


سرداران مشركين ''دارالندوہ'' ميں جمع ہوئے جہاں انہوں نے لشكربھيجنے كى كيفيت اور جنگ كے اخراجات اور اسلحہ كى فراہمى كے بجٹ كے حصول كى كيفيت كے متعلق كئي فيصلے كئے ، بالآخر بہت زيادہ كوشش كے بعد تين ہزار سپاہيوں پر مشتمل ايسا لشكر تيار ہوگيا جس ميں (۷۰۰) زرہ پوش ،دو سو (۲۰۰) گھڑسواراو رباقى پيدل سپاہى شامل تھے اس مقصد كے لئے انہوں نے تين ہزار اونٹ بھى جمع كرلئے اور سپاہ ميں جوش وولولہ پيدا كرنے اور سپاہيوں كو جنگ پر اكسانے كيلئے ۱۵ عورتيں بھى ساتھ ہوگئيں چنانچہ اس ساز و سامان كے ساتھ يہ لشكر مدينے كى جانب روانہ ہوا _(۱۵)

رسول خدا (ص) كے چچا حضرت عباس نے جو مكہ ميں قيام پذير تھے آنحضرت (ص) كو قريش كى سازش سے مطلع كرديا، دشمن كى طاقت وحيثيت كا اندازہ لگانے اور اس سے متعلق مزيد اطلاعات حاصل كرنے كے بعد آنحضرت (ص) نے اہل نظر مہاجرين اور انصار كو جمع كيا اور انہيں پورى كيفيت سمجھا كر اس مسئلے پر غور كيا كہ دشمن كا مقابلہ كس طرح كياجائے اس سے متعلق دو نظريے زير بحث آئے:

الف :_شہر ميں محصور رہ كر عورتوں اور بچوں سے مدد حاصل كى جائے اور فصيل شہر كو دفاعى مقصد كيلئے استعمال كياجائے_

ب:_شہر سے باہر نكل كر كھلے ميدان ميں دشمن كا مقابلہ كياجائے_

معمر اور منافق لوگ پہلے نظريئےے متفق تھے ليكن جوانوں كى تعداد چونكہ بہت زيادہ تھى اسى لئے وہ دوسرے نظريئےے حامى تھے اور اس پر ان كاسخت اصرار تھا_

رسول خدا (ص) نے طرفين كے نظريات اوراستدلال سننے كے بعد دوسرے نظريئےو پسند فرمايا اور يہ فيصلہ كيا كہ دشمن كا مقابلہ شہر سے باہر نكل كر كياجائے ، ۶ شوال كو آپ (ص) نے نماز


جمعہ كى امامت فرمائي، فريضہ نماز ادا كرنے كے بعد آپ (ص) نے اصحاب كو صبر،حوصلے ،سنجيدگى اور عزم راسخ كے ساتھ جہاد كى تلقين فرمائي ، لشكر (۱۰۰۰) ہزار افراد پر مشتمل تھا جس ميں صرف (۱۰۰) سو سپاہى زرہ پوش تھے(۱۶) ، آپ (ص) نے فوج كا علم حضرت على (ع) كو ديا(۱۷) اور جہاد كى خاطر مدينے سے باہر تشريف لے گئے_

جب لشكر اسلام ''شوط''(۱۸) كى حدود ميں پہنچا تو منافقين كا سردار ''عبداللہ بن ابي'' اپنے (۳۰۰) تين سو ساتھيوں كے ساتھ يہ بہانہ بنا كرعليحدہ ہوگيا كہ رسول خدا (ص) نے جوانوں كے نظريئےو اس كے مشورے پر ترجيح دى ہے _او روہ اپنے ساتھيوں كے ہمراہ واپس مدينہ آگيا _(۱۹) در اصل اس منافق كى روگردانى كے پس پردہ يہ محرك كار فرما تھا كہ جنگ جيسے حساس ونازك موقعے پر پيغمبر خدا (ص) كى ہمراہى كو ترك كركے آپ (ص) كى قيادت كو كمزور كردے تاكہ سپاہ اسلام كى صفوں ميں تزلزل ، اضطراب اور اختلاف پيدا ہوجائے_

اسى تفرقہ انگيز حركت كے بعد قبيلہ ''خزرج'' كے گروہ''بنى سلمہ'' اور قبيلہ ''اوس'' كے گروہ ''بنى حارث ''كے لوگ بھى اپنى ثابت قدمى ميں متزلزل ہونے لگے اور واپس جانا ہى چاہتے تھے(۲۰) كہ خدا كى مدد اور دوسرے مسلمانوں كى ثابت قدمى نے ان كے ارادے كو مضبوط كيا ور اس طرح منافقين كى بزدلانہ سازش ناكام ہوگئي چنانچہ قرآن مجيد نے بھى سورہ آل عمران ميں اس مسئلے كى جانب اشارہ كيا ہے(۲۱) _

( إذ هَمَّت طَائفَتَان منكُم أَن تَفشَلاَوَالله ُ وَليُّهُمَا وَعَلَى الله فَليَتَوَكَّل المُؤمنُونَ )

''ياد كرو جب تمہارے دو گروہ بزدلى پر آمادہ ہوگئے تھے ، حالانكہ اللہ ان كى مدد پر موجود تھا اور مومنوں كو اللہ ہى پر بھروسہ كرناچاہئے''_


ہفتہ كے دن ۷ شوال كو احد كے دامن ميں دونوں لشكر ايك دوسرے كے مقابل آگئے _

اگر چہ لشكر اسلام كى پشت پر كوہ احد تھا مگر اس كے باوجود رسول خدا (ص) نے ''عبداللہ بن جبير'' كے زير فرمان پچاس كمانڈروں كو درہ ''عينين'' كے دہانے پر اس مقصد كے تحت مقرر كرديا تھا كہ دشمن كو درے كے راستے سے ميدان كارزار ميں نہ گھسنے ديں _

جنگ كا آغاز دشمن كے سپاہى ''ابوعامر'' كى تير اندازى سے ہوا اس كے بعد تن بہ تن جنگ كى نوبت آئي اس مرحلے ميں مشركين كے نوشہسوار چند ديگر افراد كے ساتھ ميدان كارزار ميں اترے اور سب كے سب حضرت على (ع) كے ہاتھوں ہلاك ہوئے_

دوسرے عمومى مرحلے ميں دشمن كا پورا ريلا سپاہ اسلام پر حملہ آور ہوا جس پر قريش نے اپنى پورى طاقت صرف كردى گلو كارائيں بھى اشعار نيز نغمہ و سرود كے ذريعے مردوں كو مسلمانوں سے بدلہ لينے كى ترغيب دلا رہى تھيں تاكہ اس گہرے سياہ داغ كو جو جنگ بدر ميں ان كے دامن پر لگا تھا مٹا سكيں ليكن مجاہدين اسلام كى بہادرانہ استقامت اور دشمنوں كى صفوں پر ہر جانب سے حملہ آورى بالخصوص اميرالمومنين حضرت على (ع) ، حضرت حمزہ (ع) اور حضرت ابودجانہ كى گردن توڑ پے درپے ضربوں كے باعث مشركين كى فوج ميں مقابلے كى تاب نہ رہى اور اس نے اپنى عافيت فرار ميں ہى سمجھي_

جب مشركين فرار ہونے لگے تو بہت سے مسلمانوں نے يہ سمجھا كہ جنگ ختم ہوگئي ہے چنانچہ وہ مال غنيمت جمع كرنے ميں مشغول ہوگئے اگر چہ رسول اكرم (ص) كى سخت تاكيد تھى كہ جن سپاہيوں كو درہ عينين كى پہرہ دارى پر مقرر كيا ہے وہ اپنى ذمہ دارى سے ہرگز غافل نہ ہوں مگر آنحضرت (ص) كى تاكيد اور جرنيلوں كى سخت كوشش كے باوجود(۱۰) دس افراد كے علاوہ باقى تمام سپاہى جو اس درہ كى نگرانى پر مامور تھے اپنى پہرہ دارى كو چھوڑ كر مال غنيمت جمع


كرنے ميںلگ گئے_

خالد بن وليد دشمن كى سوار فوج كا كمانڈر تھا ، درہ عينين كى عسكرى اہميت سے بھى وہ بخوبى واقف تھا اس نے كتنى ہى مرتبہ يہ كوشش كى تھى كہ سپاہ اسلام كے گرد چكر لگائے ليكن مسلمان تير اندازوں نے اسے ہر مرتبہ پسپا كرديا تھا اس نے جب مسلمانوں كو مال غنيمت جمع كرتے ديكھا تو جلدى سے كوہ احد كا چكر لگايا اور ان باقى سپاہيوں كو قتل كرديا جو وہاں موجود تھے جب درے كى پاسبانى كيلئے كوئي سپاہى نہ رہا تو وہ وہاں سے اتر كر نيچے آيا اور ان سپاہيوں پر جو مال غنيمت سميٹنے ميں لگے ہوئے تھے اچانك حملہ كرديا_

عورتوں نے جب خالد بن وليد كے سپاہيوں كو حملہ كرتے ديكھا تو انہوں نے بھى اپنے بال كھول كر بكھير ديئے اور گريبان چاك كر ڈالے وہ چيخ چيخ كر مشركين كو اشتعال دلا كر فرار كرنے والے لوگوں كو واپس پلٹانے كى كوشش كرنے لگيں_

دشمن كے ان دو اقدام كے باعث مشركين مكّہ كى طاقت دوبارہ منظم ہوگئي چنانچہ اس نے مسلمانوں پر سامنے اور پشت دونوں اطراف سے حملہ كرديا اگرچہ مسلمانوں نے اپنا دفاع كرنا بھى چاہا مگر چونكہ وہ بكھرے ہوئے تھے اسى لئے ان كى كوشش كارگر نہ ہوئي_

اسى اثنا ميں ميدان جنگ سے صدا بلند ہوئي كہ :''انَّ مُحَمَّداً قَد قُتلَ'' محمد قتل كرديئے گئے ہيں(۲۲) ، جب يہ افواہ ہر طرف پھيل گئي تو لشكر اسلام ان تين دستوں ميں تقسيم ہوگيا:

۱_ايك دستہ ميدان جنگ سے ايسا گيا كہ واپس نہ آيا اور جب تين دن بعد اس كے افراد رسول خدا (ص) كى خدمت ميں پہنچے تو آنحضرت (ص) نے ان كى سرزنش كرتے ہوئے فرمايا تم نے گويا تنگى سے نكل كر كشادہ راہ اختيار كى تھي(۲۳) _


۲_دوسرے دستے ميں وہ لو گ شامل تھے جو فرار كركے گردو نواح كے پہاڑوں ميں چھپ گئے اور يہ انتظار كر رہے تھے كہ ديكھئے كيا پيش آتا ہے ان ميں سے بعض حواس باختہ ہو كر يہ كہنے لگے كہ اے كاش ہم ميں سے كوئي عبداللہ ابن ابى كے پاس جاكر اس سے كہتا كہ وہ ابوسفيان سے ہمارى امان كيلئے سفارش كرتا _(۲۴)

''انس ابن نضر'' كو را ستے ميں كچھ ايسے لوگ مل گئے جو فرار كرچكے تھے اس نے پريشان ہو كر ان سے دريافت كيا كہ تم لوگ يہاں بيٹھے كيا كر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب ديا كہ : رسول خدا (ص) كو قتل كرديا گيا ہے ، اس پر انس نے جواب ديا كہ جب رسول خدا (ص) اس دنيا ميں نہيں رہے تو يہ زندگى كس كام كى ، اٹھو اور جہاں رسول خدا (ص) كاخون گرا ہے تم بھى اپنا لہو وہاں بہادو_(۲۵)

اس گروہ نے جو اكثريت پر مشتمل تھا نہ صرف انس كى بات كا مثبت جواب نہ ديا بلكہ انہوں نے رسول اكرم (ص) كى اس دعوت كو بھى نظر انداز كرديا كہ اے لوگو: فرار كركے كہاں جارہے ہو خدا كا وعدہ ہے كہ فتح و نصرت ہميں حاصل ہوگي_ ليكن انہوں نے رسول خدا (ص) كى ايك نہ سنى اور فرار كرتے ہى چلے گئے_(۲۶)

سورہ آل عمران كى آيت ۱۵۳ ميں بھى اس امر كى جانب اشارہ ہے :

( إذ تُصعدُونَ وَلاَتَلوُونَ عَلَى أَحَد: وَالرَّسُولُ يَدعُوكُم فى أُخرَاكُم )

''ياد كرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے كسى كى طرف پلٹ كر ديكھنے تك كاہوش تمہيں نہ تھا اور تمہارے پيچھے رسول (ص) تم كو پكار رہا تھا''_

۳_تيسرے گروہ ميں وہ لوگ شامل تھے جنہوں نے ايسے حساس و نازك موقع پر


بے نظير ايثار وقربانى كى مثال پيش كى ، اگر چہ دشمن نے رسول خدا (ص) كو ہر طرف سے نرغے ميں لے ركھا تھا مگر وہ رسول خدا(ص) كے گرد پروانہ وار چكر لگارہے تھے اور آپ (ص) كى ذات گرامى كا ہر طرح سے تحفظ اور دفاع كررہے تھے _

اميرالمومنين حضرت على (ع) نماياں طور پر آنحضرت (ص) كا دفاع كررہے تھے اور سب سے پيش پيش تھے بلكہ بعض قطعى دلائل ، شواہد اور قرائن كى روسے حضرت على (ع) كے سوا باقى سب اپنى جان بچانے كى فكر ميں لگے ہوئے تھے(۲۷) _ اميرالمومنين حضرت على (ع) بے حد زخمى ہوجانے كے باوجود رسول خدا (ص) كا تحفظ كررہے تھے ،انہوں نے اس راہ ميں ايسى استقامت و پائدارى دكھائي كہ ان كى تلوار تك ميدان جنگ ميں ٹوٹ گئي ، اس موقع پر رسول خدا (ص) نے اپنى وہ تلوار جس كا نام ''ذوالفقار'' تھا حضرت على (ع) كو عنايت فرمائي اور آپ (ع) نے اسى تلوار سے نبرد آزمائي جارى ركھي_(۲۸)

يہ جذبہ ايثار و قربانى اس قدر قابل قدر تھا كہ خداوند تعالى نے اس كى مبارك باد رسول خدا (ص) كو دى چنانچہ رسول خدا (ص) نے اس فرمان كے ذريعے كہ ''على (ع) مجھ سے ہے اور ميں على (ع) سے ہوں'' اس جذبہ ايثار وقربانى كو قدر كى نگاہ سے ديكھا اور اس كو سراہا_

چنانچہ جب ہاتف غيبى سے يہ صدا آئي كہ :''لَاسَيفَ الاَّذُوالفَقَار وَ لَا فَتى الَّا عَليٌّ '' تو سب لوگ بالخصوص فرار كرنے والے اور اپنى ہى فكر ميں غرق لوگ اس بے نظير جرا ت مندانہ اقدام كى جانب متوجہ ہوئے _(۲۹)

جان نثاران اسلام كے سردار حضرت ''حمزہ بن عبدالمطلب'' دوسرے شخص تھے جو رسول خدا (ص) كا تحفظ كررہے تھے اور اسى حالت ميں وہ ''جبير بن مطعم'' كے غلام ''وحشي''كے ہاتھوں شہيد ہوئے_(۳۰)

''ابودجانہ'' اور ''ام عمارہ'' عرف ''نُسَيبَہ'' بھى ان حساس اورنازك لمحات ميں رسول


خدا (ص) كے دوش بدوش رہے _(۳۱)

سپاہ كى دوبارہ جمع آوري

رسول خد ا(ص) كے بدن مبارك پر اگر چہ كارى زخم لگ چكے تھے اور آنحضرت (ص) دشمن كے نرغے ميں گھرے ہوئے تھے مگر اس كے باوجود آپ (ص) نے نہ صرف ميدان كار زار سے فرار نہيں كيا بلكہ مسلسل باآواز بلند ''الَيَّ عبَادَ اللّہ الَيَّ عبَادَ اللّہ''كہہ كر لوگوں كو ميدان جنگ ميں آنے كى دعوت ديتے رہے بالآخر آپ (ص) اپنے مقصد ميں كامياب ہوئے اور اپنى عسكرى طاقت كو دوبارہ منظم كركے مركز اور محاذ كى صف اول ميں لے آئے_(۳۲) ان سپاہيوں نے بھى تعداد كى كمى كے باوجود جنگ ميں ايسے نماياں كارنامے انجام ديئے كہ كفار كے دلوں ميں اس كارعب و دبدبہ پيدا ہوگيااور انہيں يہ خوف لاحق ہونے لگا كہ كہيں جنگ كا پانسہ نہ پلٹ جائے اور جو فتح انہيں حاصل ہوئي ہے وہ شكست ميں نہ بدل جائے چنانچہ اس خيال كے پيش نظر ابوسفيان نے اپنے لشكر كو پسپا ہونے كا حكم ديا اور جنگ بند كرنے كا اعلان كرديا_(۳۳)

اس طرح جنگ احد كا خاتمہ ہوا جس ميں لشكر اسلام كے(۷۰) ستر سپاہى شہيد ہوئے اور مشركين كے(۲۲) بائيس يا(۲۳) تئيس افراد(۳۴) مارے گئے _(۳۵)


سوالات

۱_ ''بنى قنيقاع'' والے كون لوگ تھے ، انہوں نے رسول خد ا(ص) سے كيوں عہد شكنى كى ؟ اور رسول خدا (ص) ان كے ساتھ كس طرح پيش آئے؟

۲_ حضرت على (ع) كى حضرت زہرا (ع) كے ساتھ شادى كب اور كس طرح ہوئي؟

۳_ حضرت على (ع) اور حضرت زہرا (ع) كى شادى سے ہميں كيا سبق ملتا ہے؟

۴_ جنگ احد كے موقع پر قريش نے مدينہ جوپر لشكر كشى كى اس كے كيا عوامل و محركات تھے؟

۵_ جنگ احد كے موقع پر دونوں لشكروں كى تياريوںكا جائزہ ليجئے؟

۶_جنگ احد ميں پہلى مرتبہ ميدان جنگ كس لشكر كے ہاتھ ميں رہا اس جنگ ميں بہترين كردار كس كا رہا ؟

۷_ جنگ احد ميں دشمن شكست كھا كر كس طرح بھاگااور واپس آكر اس نے سپاہ اسلام پر كس طرح حملہ كيا ؟

۸_ جب مسلمان شكست سے دوچار ہوئے تووہ منتشر ہونے كے بعد كتنے گروہوں ميں تقسيم ہوگئے تھے؟

۹_ جو لوگ جنگ احد ميں رسول خدا (ص) كے ساتھ رہ گئے تھے اور آنحضرت (ص) كا تحفظ كر رہے تھے ان كا نام بتايئے؟

۱۰_ جب مسلمان فوج شكست سے دوچار ہوئي اور فرار كركے پہاڑوں ميں چلى گئي تو وہ دوبارہ كس طرح منظم ہوئي؟


حوالہ جات

۱_ملاحظہ ہو :المغازى ج ۱ ص ۱۷۶ _ ۱۷۸_

۲_مرحوم شيخ طوسي نے بعض روايات كى بنا پر لكھا ہے كہ يہ شادى ماہ شوال ميں ہوئي_ ملاحظہ ہو بحار الانوار ج ۴۳ ص ۹۷_

۳_ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۴۳ ص ۱۰۸_

۴_سورہ آل عمران آية ۶۱ : رسول خدا (ص) احقاق حق كيلئے علمائے نجران سے مباہلہ كرنے كيلئے تيار ہوگئے تاكہ ايك دوسرے پر اللہ كى پھٹكار ڈاليں اس وقت حضرت على (ع) ،حضرت فاطمہ (ع) اور آپ (ص) كے دونوں فرزند حضرات حسن (ع) اور حسين (ع) آپ (ص) كے ہمراہ تھے _

۵_سورہ احزاب آيت ۳۳_

۶_بحارالانوار ج ۴۳ ص ۱۲۵_

۷_ بحارالانوار ج ۱۱ ۱_۱۱۲_

۸_ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۲۷ ص ۱۳۰_

۹_ايضاء ص ۱۳۲_

۱۰_ايضاً ۱۰۴_

۱۱_ اخبارالدُوَل و آثار الاُوَل، نقل از فاطمة(ع) الزہراء قزوينى ص ۱۸۴_

۱۲_بعض روايات ميں ہے كہ اس دعوت وليمہ میں سات سو عورتوں اور مردوں نے شركت كى اور بعض ميں ہے كہ چار ہزار سے زيادہ افراد حضرت على (ع) كے اس وليمہ ميں مدعو تھے ، ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۴۳ ص ۱۳۲ ، ۹۶ _

۱۳_ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۴۳ ص ۱۱۵ _ ۱۱۶_ و المغازى ج ۱ ص ۱۹۹_ ۲۰۳ _

۱۴_احد ايك پہاڑ ہے جومدينہ سے تقريباً ۶ كلوميٹر كے فاصلے پر واقع ہے _

۱۵_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۱۷ (معجم البلدان ج ۳ ص ۳۷۲)_

۱۶_المغازى ج ۱ ص ۱۹۹_ ۳_۲ المغازى ج ۱ ص ۲۰۳ _۲۱۴_

۱۷_ الصحيح من سيرة النبى ج ۴ ص ۱۹۳_


۱۸_مدينہ اور احد كے درميان باغ تھا جو ''شواط'' كے نام سے مشہور تھا _

۱۹، ۲۰_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۲۱_

۲۱_سورہ آل عمران آيت۱۲۴_

۲۲_يہ صدا كس شخص نے بلند كى تھى اس كے بارے ميں اختلاف ہے بعض نے لكھا ہے كہ وہ شيطان تھا جو جُعال بن سُراقہ كى شكل ميں ظاہر ہوا_ بعض كے بقول وہ عبداللہ بن قمئہ تھا اس نے جب حضرت ''مصعب بن عمير'' كو شہيد كرديا تو وہ يہ سمجھا كہ اس نے پيغمبر اكرم (ص) كو شہادت سے ہمكنار كيا ہے (ملاحظہ ہو السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۲۶ ، السيرة النبويہ ج ۳ ص ۷۷)_

۲۳_ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۲۷ و تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۲۰_

۲۴_تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۱۷ والسيرة النبويہ ج ۳ صفحہ ۸۸_

۲۵_بحارالانوار ج ۲۰ _ ۹۳_

۲۶_ان شواہد و قرائن سے مزيد واقفيت كيلئے ملاحظہ ہو كتاب الصحيح من سيرة النبى ، ج ۴ ص ۲۳۶ _ ۲۴۱ _

۲۷_بحارالانور ج ۲۰ ص ۵۴ _ ۷۱_

۲۸_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۱۴ و شرح ابن ابى الحديد ج ۱۴ ص ۲۵۰ _

۲۹_السيرة النبويہ ج ۳ ص ۱۲۹_

۳۰_ايضا صفحات ۸۶ _ ۸۷_

۳۱_ملاحظہ ہو تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۱۹ _ ۵۲۰_

۳۲_الصحيح من سيرة النبى (ص) ج ۴ ص ۲۷۶_

۳۳ _ابن ابى الحديد نے لكھا ہے كہ ان ميں سے بارہ افراد حضرت على (ع) كے ہاتھوں قتل ہوئے (شرح نہج البلاغہ ج ۱۵ ص ۵۴)_

۳۵_ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۵۵_


سبق ۱۱:

جنگ احد سے جنگ احزاب تك


جنگ احد ميں مسلمانوں كى شكست كے اسباب

پہلے مرحلے ميں مسلمانوں كى فتح اور دوسرے مرحلے ميں شكست كے بعض اسباب كے بارے ميں قرآن مجيد نے بھى اشارہ كيا ہے يہاں ہم مسلمانوں كى شكست كے اہم ترين عوامل كا ذكر كريں گے جس كے باعث ان عوامل كى بھى وضاحت ہوجائے گى جن كى وجہ سے مسلمانوں كو پہلے مرحلے ميں فتح نصيب ہوئي تھي_

۱_سپاہ كے ايك گروہ ميں عسكرى نظم وضبط كا فقدان اور رسول (ص) خدا كے اس سخت تاكيدى حكم سے روگردانى جو درہ عينين كے تحفظ كے بارے ميں تھا_

( وَلَقَد صَدَقَكُم الله ُ وَعدَهُ إذ تَحُسُّونَهُم بإذنه حَتَّى إذَا فَشلتُم وَتَنَازَعتُم فى الأَمر وَعَصَيتُم من بَعد مَا أَرَاكُم مَا تُحبُّونَ ) (۱)

''اللہ نے (تائيد نصرت كا) جو وعدہ تم سے كيا تھا وہ تو اس نے پورا كرديا ، ابتدا ميں اس كے حكم سے تم ہى ان كو قتل كررہے تھے مگر جب تم نے كمزورى دكھائي اور اپنے كام ميں باہم اختلاف كيا اور جونہى وہ چيز اللہ نے تمہيں دكھائي جس كى محبت ميں تم گرفتار تھے (يعنى مال غنيمت) تم اپنے سردار كے حكم كى خلاف ورزى كر بيٹھے''_

۲_ايمان كى كمزورى اور دنيا كى محبت: سپاہيوں كے دلوں ميں رسول خد ا(ص) كى طرف سے


بدگمانى(۲) پيدا ہوگئي اور انہوں نے يہ كہنا شروع كرديا تھا كہ ہميں انديشہ ہے كہ رسول خدا (ص) ہميں مال غنيمت ميں شريك نہ كريں اسى لئے وہ پناہ گاہوں كو خالى چھوڑ كر مال غنيمت سميٹنے ميں لگ گئے اور اسى بنا پر انہوں نے مال غنيمت كو حكم رسول خدا (ص) اور دشمن سے نبرد آزمائي پر فوقيت دي:

( منكُم مَن يُريدُ الدُّنيَا وَمنكُم مَن يُريدُ الآخرَةَ ) _(۳)

دوسرے مرحلے ميں بہت بڑى تعداد ميں سپاہ كا فرار كرجانا اور رسول خد ا(ص) كو تنہا چھوڑدينا اور اس قسم كى باتيں كرنا كہ اے كاش ہم عبداللہ ابن ابى كے پاس چلے گئے ہوتے تاكہ وہ ہمارے لئے ابوسفيان سے جان كى امان مانگتا ان كے يہ خيالات اس حقيقت كے آئينہ دار تھے كہ ان كے عقيدے كمزور اور وہ دنيا كى محبت ميں مبتلا تھے_

۳_غزوہ بدر ميں مسلمانوں كو جو فتح ونصرت حاصل ہوئي تھى اس سے انہوں نے جونتيجہ اخذ كيا وہ درست نہ تھا انہيں يہ گمان ہوگيا تھا كہ چونكہ ان كا دين حق پر مبنى ہے اس لئے انہيں كبھى دشمن كے ہاتھوں شكست نہ ہوگى اور وہ اسلحہ و جنگى وسائل سے خواہ كتنى ہى غفلت برتيں خداوند تعالى بہر صورت غيبى مدد كے ذريعے مشركين كے مقابلے ميں ان كا دفاع كرے گا_(۴)

دوسرى طرف وہ يہ سمجھتے تھے كہ ايمان كا اظہار ہى كاميابى و سعادت كے حصول كيلئے كافى ہے اور اس گمان ميں مبتلا ہوگئے تھے كہ جہاد اور راہ خدا ميں استقامت و پائيدارى كے بغير وہ جنت ميں داخل ہوجائيں گے(۵) درحاليكہ قرآن كا ان كے


اس غلط گمان كے بارے ميں صريح ارشاد ہے كہ :

( أَم حَسبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمَّا يَعلَم الله ُ الَّذينَ جَاهَدُوا منكُم وَيَعلَمَ الصَّابرينَ )

''كيا تم نے يہ سمجھ ركھا ہے كہ يونہى جنت میں چلے جائو گے حالانكہ ابھى اس نے يہ تو ديكھا ہى نہيں كہ تم ميں كون وہ لوگ ہيں جو اس كى راہ ميں جانيں لڑانے والے اور اس كى خاطر صبر كرنے والے ہيں''_

چنانچہ وہ اپنے اس گمان اور خيال خام كے باعث ہى دشمن كے معمولى دباو كى وجہ سے ميدان كارزار سے فرار ہوگئے اور اتنہائي مايوسى كى حالت ميں ايك دوسرے سے كہنے لگے :''هَل لَنَا منَ اَلاَمر'' _(۶)

كيا اس دل آزار حالت كے باوجود ہميں نصرت و فتح حاصل ہوگي؟

۴_جب قريش نے يہ افواہ پھيلائي كہ رسول خدا (ص) كو قتل كرديا گيا ہے(۷) تو اس كے باعث ايك طرف تو دشمن كى جرا ت و گستاخى بڑھ گئي اور دوسرى طرف مسلمانوں كے دلوں پر رعب طارى ہوگيا كيونكہ انہيں يہ گمان ہونے لگا كہ اسلام محض ذات رسول (ص) كى وجہ سے قائم ہے اور اس گمان نے ہى ان كے دلوں سے جنگ جارى ركھنے كى خواہش و ولولے اور اسلام پر قائم رہنے كے عزم وارادے كو سلب كرليا اور نوبت يہاں تك آن پہنچى تھى كہ انہوں نے ايك دوسرے سے يہ كہنا شروع كرديا تھا كہ : محمد (ص) كو قتل كرديا گيا ہے اس سے پہلے كہ قريش تم پريورش كريں تم خود ہى ان كے پاس جائو اور ان كے ساتھ تعاون كا اعلان كردو _(۸)


تعميرى شكست

اس ميں شك نہيں كہ مسلمانوں كو جنگ احد ميں وقتى شكست ہوئي اور اس كے باعث(۷۰) ستر افرادشہيد ہوئے ، مگر اس كے باوجود يہى جنگ بعض اعتبار سے سبق آموز اور تعميرى بھى ثابت ہوئي ، قرآن مجيد نے اس كا كلى طور پر جس طرح جائزہ لياہے اور اس شكست سے متعلق رسول خدا (ص) نے جو موقف اختيار كيا اسے مد نظر ركھتے ہوئے يہ كہا جاسكتا ہے كہ يہ جنگ در حقيقت تعميرى تھى كيونكہ اس كے ذريعے مسلمانوں كى توجہ ان غلطيوں كى جانب مبذول كرائي گئي جو ان سے سرزد ہوئي تھيں اور ان كى كمزوريوں كو ان پر عياں كيا گيا اس كے ساتھ ہى انہيں يہ درس بھى ديا گيا كہ وہ خود كو كس طرح منظم كريں اور جو تلخ تجربات انہيں حاصل ہوئے ہيں انہيں مدنظر ركھتے ہوئے وہ اپنے حوصلے بلند كريں اور اس شكست كى تلافى كيلئے خود ميں ضرورى طاقت و اعتماد پيدا كريں تاكہ آئندہ جب بھى دشمن سے مقابلہ ہو تو انہيں نصرت و كاميابى نصيب ہو_

يہاں ہم آيات قرآنى كى روشنى ميں ان بعض پہلوئوں كا جائزہ ليں گے جو تعميرى اور سبق آموز ثابت ہوئے_

الف_اس جنگ ميں مسلمانوں كو جو شكست ہوئي اگر قرآن مجيد كى روشنى ميں ديكھا جائے تو اس ميں خداوند تعالى كى مرضى شامل تھى :

( وَمَا أَصَابَكُم يَومَ التَقَى الجَمعَان فَبإذن الله ) _(۹)

''جونقصان لڑائي كے دن تمہيں پہنچا وہ اللہ كے اذن سے تھا''_

البتہ يہ وہى مرضى ومشيت الہى ہے جو نظام ہستى ميں ''قانون عليت'' كے نام سے


جارى و سارى ہے اور اس كى بنياد پر ہر وجود كى مخصوص علت ہے ليكن اس شكست كا ذمہ دار مسلمانوں كو قرار ديا ہے اور ان كى اس بات كے جواب ميں كہ : يہ بلا كہاں سے آكر ہمارى جان كو لگ گئي، صريحاً فرمايا كہ ہُوَ من عنداَنفُسكُم _(۱۰) (يہ مصيبت تمہارى اپنى لائي ہوئي ہے) يعنى اس شكست كا سرچشمہ تمہارى اپنى ہى ذات ہے اور اس شكست كے اسباب كى تلاش تم اپنے ہى اندر كرو_

پيغمبر خدا (ص) كے حكم كى خلاف ورزى ، اپنے فرائض سے غفلت ،جنگ ختم ہوجانے سے قبل مال غنيمت جمع كرنے ميں دلچسپى وسرگرمى ، ميدان كارزار سے گريز اور جہاد سے روگردانى ايسے افعال ہيں جو تم سے ہى سرزد ہوئے ہيں اور يہ قانون الہى ہے كہ جو بھى سپاہى ميدان جنگ ميں سستى دكھائے گا ، اپنے باخبر اورہمدردجرنيل كے حكم سے چشم پوشى كرے گا اور دشمن كے بارے ميں سوچنے كى بجائے اسكى نظر مال غنيمت پر رہے گى تو ناچار اس كى سزا شكست ہوگي_

ب_قرآن مجيد نے اس امر كى صراحت كرنے كے بعد كہ اس حادثے كے وقوع پذير ہونے كا اصل عامل مسلمانوں كى سستى تھى ، انہيں يہ بھى بتاديا ہے كہ يہ شكست وقتى ہے اس كے ساتھ ہى اس مقدس كتاب نے يہ بھى تنبيہہ كى ہے كہ وہ اس شكست كے باعث سست ورنجيدہ خاطر اور فتح و كامرانى سے مايوس نہ ہو ں :( وَ لَا تَهنُوا وَ لَا تَحزَنُوا ) _(۱۱) (دل شكستہ نہ ہو ' غم نہ كرو) اس كے بعد اس نے يہ ہدايت بھى كى كہ جب سستى اور پريشان دلى سے نكل آئو گے تو ''اَنْتُمُ الاَ علَونَ ان كُنتُم مُومنينَ''_ ''تم ہى غالب ہوگے اگر تم مومن ہو'' اس آيت نے اس بات كى وضاحت كرنے كے علاوہ كہ ايمان ہى وہ عامل ہے جسے ہر چيز پر برترى حاصل ہے


اس حقيقت كو بھى ان كے گوش گزار كرديا ہے كہ شكست كا اصل سبب ان ميں روح ايمانى كا ضعف تھا_

دوسرى جگہ ارشاد ہے كہ :

( إن يَمسَسكُم قَرحٌ فَقَد مَسَّ القَومَ قَرحٌ مثلُهُ وَتلكَ الأَيَّامُ نُدَاولُهَا بَينَ النَّاس ) _(۱۲)

''اس وقت اگر تمہيں چوٹ لگى ہے تو اس سے پہلے ايسى ہى چوٹ تمہارے مخالف فريق كو بھى لگ چكى ہے يہ تو زمانے كے نشيب وفراز ہيں جنہيں ہم لوگوں كے درميان گردش ديتے رہتے ہيں''_

دوسرى جگہ اسى بات كو اس پيرائے ميں بيان فرمايا ہے كہ :

( أَوَلَمَّا أَصَابَتكُم مُصيبَةٌ قَد أَصَبتُم مثلَيهَا قُلتُم أَنَّى هَذَا قُل هُوَ من عند أَنفُسكُم إنَّ الله َ عَلَى كُلّ شَيئ: قَديرٌ )

''جب تم پر مصيبت آپڑى تو تم كہنے لگے كہ يہ كہاں سے آئي ؟ حالانكہ (جنگ بدر ميں) اس سے دوگنى مصيبت تمہارے ہاتھوں (فريق مخالف پر) پڑچكى ہے اے نبي(ص) ان سے كہ ديجئے كہ يہ مصيبت تمہارے اپنى لائي ہوئي ہے ، اللہ ہر چيز پر قادر ہے''_

اس آيت ميں خداوند تعالى نے مسلمانوں كو دلا سہ ديتے ہوئے فرمايا ہے كہ تم نے جنگ بدر ميں دشمن كے(۷۰) ستر آدمى قتل كئے اور(۷۰) آدميوں كو قيدى بھى بنايا اور يہ تعداد ان سے دوگنا ہے جو جنگ احد ميں تمہارى طرف سے كام آئے اس آيت كے ضمن ميں خداوند تعالى نے اس امر كى جانب بھى توجہ دلائي كہ اس قادر


مطلق كو ہر چيز پر قدرت و توانائي حاصل ہے اور اگر تم اپنى كوتاہيوں كى تلافى اور كمزورياں دور كرلو تو جنگ بدر كى طرح عنايت الہى تمہارے شامل حال رہے گي_

ج_قرآن مجيد نے اس شكست كے جو مثبت پہلو بيان كئے ہيں انہيں ذيل ميں درج كياجاتا ہے:

۱_ جنگ بدر كے ختم ہونے اورلشكر اسلام كے چند لوگوں كى شہادت كے بعد بعض مسلمان يہ آرزو كرتے رہتے كہ وہ كاش بھى شہادت سے سرخروہوں اور باہمى گفتگو ميں ان كى زبان پر بھى ذكر آجاتا كہ كاش يہ فخر ہمیںبھى نصيب ہوتا مگر انہى ميں چند لوگ جھوٹے اور رياكار بھى تھے چنانچہ جب جنگ احد كاسانحہ پيش آيا تو وہ لوگ جو حقيقى معنوں ميں مومن اور شہادت كے عاشق و تمنائي تھے وہ تو جى جان سے دشمن كے ساتھ نبر دآ زما ہوئے مگرانہى ميں جولوگ جھوٹے اور رياكار تھے انہوں نے جيسے ہى اپنے لئے خطرہ محسوس كيا ميدان كارزار سے فرار ہوگئے اور ان كا اصلى چہرہ ہميشہ كيلئے بے نقاب ہوگيا جيسا كہ قرآن مجيد نے ارشاد فرمايا ہے كہ :

( وَلَقَد كُنتُم تَتَمَنَّون المَوتَ من قَبل أَن تَلقَوهُ فَقَد رَأَيتُمُوهُ وَأَنتُم تَنظُرُونَ ) _(۱۴)

''تم تو راہ خدا ميں شہادت كا سامنا كرنے سے قبل موت كى تمنائيں كر رہے تھے لو اب وہ تمہارے سامنے آگئي اور تم نے اسے آنكھ سے ديكھ ليا ''_

۲_ احد كا سانحہ حقيقت نما آئينہ تھا جس نے ہر مسلمان كے اصلى چہرے كو آشكار ، كے درجات ايمان كو واضح اور ان ان كا رسول خدا (ص) سے كس حد تك تعلق خاطر تھا اسے ظاہر و عياں كرديا ، اس موقع پر حقيقى مومنين و منافقين كى پورى شناخت ہوگئي اور


دونوں كى صفيں ايك دوسرے سے بالكل عليحدہ نظر آنے لگيں : (... ليَعلَمَ المُومنينَ وَليَعلَمَ الَّذينَ نَافَقُوا)_(۱۵) تاكہ مومنين كو بھى پہچان لياجائے اور منافقوں كو بھى پہچان لياجائے_

اس موقع پر مومنوں كو اپنى غلطيوں اور كوتاہيوں كا اندازہ ہوگيا اور وہ اپنى اصلاح كى كوشش كرنے لگے اور جنگ احد ايسى آتش ثابت ہوئي جس كى تپش نے كثافتيں اور آلودگياں دور كركے انہيں عيوب سے پاك و صاف كرديا _

''وَليُمَحّصَ الَّذينَ آمَنوُا ''(۱۶) اور وہ اس آزمائشے كے ذريعے مومنوں كو چھانٹ كر كافروں سے الگ كردينا چاہتا تھا_

اس كے ساتھ ہى حضرت على (ع) ، حضرت حمزہ (ع) ، حضرت ابودجانہ ، حضرت حنظلہ اور حضرت ام عمارہ وغيرہ جيسے صحابہ رسول (ص) كے چہرے نماياں ہوگئے ان حضرات نے اپنے كردار سے ثابت كرديا كہ ان كے دلوں ميں دين اسلام اور رسول خدا (ص) كے علاوہ كسى چيز كا خيال وانديشہ تك نہيں ، اس كے برعكس وہ چہرے بھى سامنے آگئے جن كو قرآن مجيد نے ان الفاظ ميں ياد كيا ہے :( اَهَمَّتهُم اَنفُسُهُم ) _(۱۷) ''انكى سارى اہميت اپنى ذات ہى كيلئے تھي'' انہيں بس اپنى ہى جان كى فكر تھى ا ور دين اسلام و پيغمبر خدا (ص) سے كوئي سروكار نہ تھا_

آخرى بات جس كا استفادہ قرآن مجيد سے ہوتا ہے يہ ہے كہ : اس قسم كے واقعات كا ہر قوم وملت كى زندگى ميں رونما ہونا لازمى امر ہے تاكہ ہر شخص كے دل ميں جو كچھ ہے وہ ظاہر و آشكار ہوجائے اور ان كى صفيں ايك دوسرے سے عليحدہ ہوجائيں اس كے علاوہ جب افراد اس طرح كے حادثات سے دوچار ہوں گے تو ان حوادث كے ذريعے ان كى تربيت ہوگى اس كے ساتھ ہى ان كے قلب پاك اورنيت خالص ہوجائیں گي_


( ... ليَبتَليَ اللّهُ مَا في صُدُوركُم وَليُمَحّصَ مَافي قُلُوبكُم ) _(۱۸)

''اور جو كھوٹ تمہارے دلوں ميں ہے اسے چھانٹ دے''_

طاقت كا اظہار

جنگ احد ميں مسلمانوں كى غير متوقع شكست نے مدينہ كے منافقوں اور يہوديوں كو بہت گستاخ و بے باك بناديا تھا چنانچہ مسلمانوں كى حقارت و سرزنش كے ساتھ ساتھ زبان درازى تك كرنے لگے تھے(۱۹) ، ان بيرونى سازشوں اورمنفى پروپيگنڈوں كو ناكام بنانے كيلئے جن كے رونما ہونے كا احتمال ہوسكتا تھا خداوند تعالى كى طرف سے رسول خدا (ص) كو حكم ديا گيا كہ وہ اتوار كے دن ۸ شوال كو دشمن كا تعاقب كريں اس مشق ميں وہ لوگ شريك ہوسكتے ہيں جو گزشتہ جنگ كے موقعے پر ميدان كارزار ميں موجود تھے_(۲۰)

اس شرط ميں ممكن ہے يہ راز پنہاں ہوكہ رسول خدا(ص) يہ چاہتے تھے كہ اس گروہ كو ، جو جہاد ميں شركت كرنے كيلئے ليت و لعل سے كام لے رہاتھا، نفسياتى و اجتماعى اعتبار سے تنبيہہ كرسكيں اور ان سپاہيوں كيلئے يہ بھى درس عبرت ثابت ہو، تا كہ گزشتہ جنگ ميں ان سے جو تقصير ہوئي تھى اس كى تلافى ہوسكے اور رسول اكرم (ص) پر يہ امر واضح ہوجائے كہ وہ اپنے ايمان اور خلوص كے كس درجے پر ہيں ، اس كے علاوہ رسول خد ا(ص) يہ بھى جانتے تھے كہ اس اقدام كے ذريعے كوئي جنگ واقع نہيں ہوگى اور دشمن مسلمانوں كے چنگل سے نكل كر فرار ہوجائيں گے ، رسول خدا (ص) نے زخميوں كو اس جنگى مشق ميں شركت كى دعوت اس لئے دى تھى كہ ان كے حوصلے بلند ہوں اور ان ميں خود اعتمادى پيدا ہوسكے_


فوج بالخصوص زخميوں نے اس كے باوجودكہ ان كو كارى زخم آئے تھے اور جس رنج وتكليف سے وہ دوچار ہوئے تھے اس كے كرب كو وہ ابھى تك محسوس كر رہے تھے، انہوں نے حكم خدا اور رسول (ص) كو لبيك كہا اور آنحضرت (ص) كے ہمراہ مدينے سے اپنى منزل ''حمراء الاسد''(۱۶) كى جانب روانہ ہوگئے ، قرآن مجيد ان كے اس مخلصانہ اور ايثار پسندانہ اقدام كى تعريف كرتے ہوئے فرماتا ہے كہ :

( الَّذينَ استَجَابُوا للّه وَالرَّسُوْل من بَعد مَا أَصَابَهُمُ القَرحُ للَّذينَ أَحسَنُوا منهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ ) _(۲۲)

'' جنہوں نے زخم كھانے كے بعد بھى اللہ اور رسول (ص) كى پكار پر لبيك كہا ان ميں جو اشخاص نيكوكار اور پرہيزگار ہيں ان كے لئے بہت بڑا اجر ہے''_

قريش كا وہ لشكر جو اس ارادے سے ''روحاء(۲۳) '' ميں اترا تھا كہ مدينہ جاكرمسلمانوں كو تہس نہس كرے گا، جب اسے لشكر اسلام كى روانگى كا علم ہوا اور بالخصوص ''معبد خزاعي'' نے اس كى كيفيت كو ابوسفيان سے بيان كيا تو اس نے اپنا فيصلہ بدل ديا اور فرار ہوكر مدينہ چلاگيا _

مسلمانوں نے تين روز تك ''حمراء الاسد'' ميں سپاہ قريش كا انتظار كيا اور دشمن كے دل ميں رعب و ہيبت پيدا كرنے كى غرض سے انہوں نے ہر رات مختلف جگہوں پر آگ روشن كى چنانچہ انہيں جب يہ اطمينان ہوگيا كہ دشمن مرعوب ہو كر فرار ہوگيا ہے تو وہ واپس مدينہ آگئے_(۲۴)

سپاہ اسلام كى اس دليرانہ جنگى مشق نے دشمنان دين ، منافقين اور يہود يوں كى نفسيات


پر بہت زيادہ اثر ڈالا اس كے جو منفى اور مثبت اثرات نماياں ہوئے ان كى كيفيت ذيل ميں درج كى جاتى ہے_

۱_رسول خد ا(ص) كى دور انديشى ، تدبر و انتظامى صلاحیت، كمانڈنگ كى سوج بوجھ ، قطعى فيصلے كى قوت اور ہرصورت ميں شرك والحاد كے خلاف قاطعانہ استقامت اور پائيدارى سب پرعياں ہوگئي اس كے ساتھ ہى قيادت كا مقام بھى پہلے سے زيادہ ثابت اور پختہ ہوگيا_

۲_جن سپاہيوں كے حوصلے پست ہوگئے تھے ان كے دلوں ميں دوبارہ حملے كى امنگ پيدا ہوگئي، چند روزقبل والى جنگ ميں شكست كے باعث جو اضطراب و پريشان حالى كى كيفيت پيدا ہوگئي تھى وہ اب سپاہيوں كے دلوں سے قطعى زائل ہوگئي اور وہ كاميابى كے احساس كے ساتھ واپس مدينہ آگئے_

۳_وہ دشمن جو اپنى طاقت كے نشے ميں چور اور اپنى عسكرى طاقت كى برترى كے خيال ميں مست مكہ كى جانب چلاجانا چاہتے تھے راستے ميں ان كے اسى باطل احساس نے انہيں اس بات پر مجبور كيا كہ دوبارہ مدينہ كى طرف رخ كريں اور وہاں پہنچ كر وہ اسلام نيز رسول خدا (ص) كا كام تمام كرديں مگر جب رسول خدا (ص) كى غير متوقع فوجى طاقت اور جنگى تيارى كو اپنى آنكھوں سے ديكھا تو ان پر دہشت و سراسيمگى طارى ہوگئي چنانچہ جس طرح جنگ احد سے قبل وہ مايوس وناكام مكہ واپس گيا تھا اس مرتبہ بھى اسى حالت ميں وہ فرار ہو كے مكہ پہنچے_

۴_مسلمانوں كو جو شكست ہوئي تھى اس كى خبر يہوديوں اور منافقين نے سارے شہر ميں پھيلادى تھى وہ اپنى جگہ يہ فرض كئے ہوئے تھے كہ مسلمانوں پر ايسى كارى ضرب لگ


چكى ہے كہ وہ اب رسول اكرم (ص) كى اطراف سے متفرق ہوجائيں گے اور ان ميں اتنا حوصلہ نہ رہے گا كہ اپنى عسكرى كاروائي كو جارى ركھ سكيں ليكن اپنى اس خام خيالى كے برعكس جب انہوں نے مسلمانوں كے جذبہ ايثار و قربانى اور دليرانہ اقدام كو اپنى آنكھوں سے ديكھا تو انہيں پہلے سے كہيں زيادہ مايوسى و نااميدى ہوئي اور وہ لوگ جو مسلمانوں كو حقيرنظروں سے ديكھا كرتے تھے اب خود ہى ايسے ذليل و خوار ہوئے كہ منہ چھپائے پھرتے تھے اور نوبت يہاں تك پہنچى كے جس وقت منافقين كے ليڈرنے دستور كے مطابق يہ چاہا كہ رسول خدا (ص) كے ارشاد سے قبل ، زبان كھولے اور كچھ كہے تو لوگوں نے اس كے قميص كا دامن پكڑ كر اسے نيچے كھينچ ليا اور دشمن خدا كہہ كر اس پر لعن طعن كى _(۲۵)

احد سے خندق تك

جنگ احد اور جنگ خندق كے درميان تقريبا دوسال كا فاصلہ تھا _ اس عرصے ميں مشركين ، بالخصوص مدينہ كے اطراف ميں آباد قبائل اور يہودى ، اسلام كے خلاف سازش كرنے ميں سرگرم عمل رہے اور رسول اكرم (ص) پورى ذہانت و ہوشمندى اور مكمل تيارى اور ہمت كے ساتھ ان كے ہر حربے كا مقابلہ كرتے رہے رسول خدا (ص) دين اسلام كى ترويج و اشاعت كى خاطر اطراف و جوانب ميں آباد قبائل كے درميان تبليغى جماعتيں بھى بھيجتے رہے ليكن افسوس كہ وہ قبائل مبلغين اسلام كے ارشادات عاليہ سے مستفيد ہونے كى بجائے ان كے ساتھ جنگ كرتے تھے چنانچہ ''رجيع'' ميں وہ چھ مبلغ جنہيں رسول(ص) خدا نے دين اسلام كى اشاعت كى خاطر روانہ كيا تھا قبائل ''عضل'' اور ''قارہ'' كے لوگوںكى وجہ


سے شہيد ہوئے اسى طرح ''بئرمعونہ'' كے جانكاہ حادثے ميں تقريباً چاليس معلمين قرآن اور مبلغين اسلام قبيلہ ''بنى لحيان'' اور ان ديگر قبائل كے ہاتھوں شہادت سے ہمكنار ہوئے دراصل يہ واقعات و حادثات اس حقيقت كے آئينہ دار ہيں كہ رسول خد ا(ص) كى كوشش يہى تھى كہ دين اسلام كى اشاعت وترويج ہو اگر چہ آنحضرت (ص) اس واقعيت سے بھى بے خبر نہ تھے كہ اس خطے ميں دشمن اس تحريك كو روكنے كيلئے اپنى عسكرى طاقت كو استعمال كر رہا ہے اور اس راہ ميں خطرات و دشوارياں بہت ہيں مگر اس كے باجوود آنحضرت (ص) كى يہ تمنا تھى كہ كسى تصادم كے بغير دين اسلام كى اشاعت و تبليغ كے ذريعے لوگ توحيد كى جانب كشاں كشاں چلے آئيں_

رسول خدا (ص) نے جن سريوں اور غزوات ميں دشمنوں كا مقابلہ كيا ان كى مختصر فہرست ذيل ميں درج ہے_

۱_سريہ ''ابوسلمہ'' ميں ايك سو پچاس مسلمانوں شركت فرمائي اور پہلى محرم سنہ ۴ ہجرى كو قبيلہ ''بنى اسد'' سے مقابلہ ہوا_

۲_سريہ ''عبداللہ بن انيس'' ميں ''سفيان ابن خالد'' كے ساتھ 'عرنہ'' نامى مقام پر ۵ محرم سنہ ۴ ہجرى كو مقابلہ ہوا_

۳_غزوہ ''بنى نضير'' ميں رسول خدا (ص) نے '' بنى نضير'' قبيلے كے يہوديوں كى شرپسنديوں اور خيانت كاريوں كو روكنے نيز انہيں مدينہ سے شہر بدر كرنے كيلئے ربيع الاول سنہ ۴ ہجرى ميں شركت فرمائي_

۴_غزوہ ''بدر موعد'' ميں ابوسفيان كى دريدہ دہنى كا دندان شكست جواب دينے كيلئے جنگ احد كے بعد بدر كے علاقہ ميں بتاريخ ۱۶ ذيقعدہ سنہ ۴ ہجرى ميں شركت فرمائي _


۵_غزوہ ''دومتہ الجندل'' ميں ان شرپسندوں كى سركوبى كيلئے رسول خدا (ص) نے شركت فرمائي جنہوں نے مسافروں پر راستے تنگ كرديئے تھے اور ان كے ساتھ ظلم وستم روا ركھا ہواتھااس كے علاوہ انہوں نے اسلامى مركزى حكومت پر بھى دست اندازى شروع كردى تھى ، يہ غزوہ ۲۵ ربيع الاول سنہ ہجرى ميں پيش آيا _

غزوہ احزاب

غزوہ ''احزاب '' يا ''خندق'' رسول خدا (ص) كے خلاف دشمنان اسلام كا عظيم ترين اور وسيع ترين معركہ تھا اس جنگ ميں قريش ' يہود اور جزيرة العرب كے بہت سے بت پرست قبائل نے متحد ہوكر عہد وپيمان كيا تھا كہ مسلمانوں پر ايسا سخت حملہ كياجائے كہ ان كا كام ہى تمام ہوجائے_

عملى طور پر يہ سازش اس وقت شروع ہوئي جب يہودى قبيلہ ''بنى نضير'' كے سرداروں كو دين اسلام كے ہاتھوں كارى ضرب لگى تھى اور انہيں مدينہ سے نكال باہر كر ديا گيا تھا يہاں سے انہوں نے مكہ كا رخ كيا تاكہ رسول خد ا(ص) سے انتقام لينے كيلئے وہ قريش سے گفتگو كركے ان سے مدد ليں _

ابوسفيان نے ان كا پورے جوش و خروش سے استقبال كيا اور كہا كہ ''ہمارے نزديك عزيزترين افراد وہ ہيں جو محمد (ص) كے ساتھ دشمنى ميں ہمارے معاون ومددگار ہوں '' اس كے بعد انہوں نے باہمى طور پر عہد وپيمان كيا اور يہ قسم كھائي كہ ايك دوسرے كا ساتھ ديں گے اور ان ميں سے جب تك ايك مرد بھى زندہ رہے گا وہ پيغمبر اكرم (ص) كے خلاف جنگ و جدال كرتا رہے گا _(۲۶)


قريش كو جنگ كيلئے آمادہ كرنے كے بعد يہى فتنہ انگيز يہودى نجد كى جانب روانہ ہوئے اور وہاں ''قبيلہ غطفان'' اور قبيلہ ''بنى سليما'' سے گفتگو كى اور ايك سال تك خيبر كا محصول ادا كرنے كا وعدہ كركے انہيں بھى رسول خدا(ص) كے خلاف جنگ كرنے كى ترغيب دلائي_

آخر كار اسلام كے خلاف متحدہ محاذ قائم ہوگيا اور تقريباً دس ہزار ايسے جنگ آزما بہادر جن كا شمار قوى ترين اسلام دشمن عناصر ميں ہوتا تھاابوسفيان كى قيادت ميں اسلام كو نيست و نابود كرنے كى خاطر مدينہ كى جانب روانہ ہوئے_

رسول خدا (ص) كو جب اس عظيم سازش كا علم ہوا تو آنحضر ت(ص) نے صحابہ سے مشورہ كيا ، حضرت ''سلمان فارسي'' نے يہ تجويز پيش كى كہ خندق كھودى جائے يہ تجويز پسند كى گئي اور فوراً ہى يہ كام شروع كرديا گيا _

اس زمانے ميں مدينہ كا بيشتر علاقہ پہاڑوں ' ايك دوسرے سے متصل مكانوں اور نخلستان سے گھرا ہوا تھا چنانچہ يہى سب چيزيں مل كر شہر كى فصيل كا كام كرتى تھيں صرف ''ابوعبيد'' اور ''راتج'' كے درميان كى جگہ سے حملہ ہوسكتا تھا ، رسول خد ا(ص) نے حكم ديا كہ دس دس آدمى مل كر چاليس چاليس ذراع خندق كھود ڈاليں _

مسلمان پورى لگن ، تعلق خاطر اور دلچسپى كے ساتھ اس كام ميں مشغول ہوگئے اگر كوئي بہت ہى ضرورى كام ہوتا تو وہ رسول خدا (ص) سے اجازت لے كر اپنے كام سے دست كش ہو كر اس جگہ سے جاتے جہاں انہيں متعين كيا گيا تھا چنانچہ ان كے بارے ميں قرآن كا ارشاد ہے _:

( إنَّمَا المُؤمنُوْنَ الَّذيْنَ آمَنُوْا بالله وَرَسُوله وَإذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمر: جَامع: لَم يَذهَبُوا حَتّى


يَستَأذنُوهُ إنَّ الَّذينَ يَستَأذنُونَكَ أُولَئكَ الَّذينَ يُؤمنُونَ بالله وَرَسُوله ) _(۲۷)

''مؤمن تودر اصل وہى ہيں جو اللہ اور اس كے رسول (ص) كو دل سے مانيں اور جب كسى اجتماعى كام كے موقع پر رسول (ص) كے ساتھ ہوں تو اس سے اجازت لئے بغير نہ جائيں ، اے نبى (ص) جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہيں وہى اللہ اور رسول (ص) كے ماننے والے ہيں''_

اس وقت حضرت سلمان فارسى سب سے زيادہ محنت و ہمت سے كام لے رہے تھے چنانچہ واقدى اور حلبى نے لكھا ہے كہ وہ دس آدميوں كے برابر كام كررہے تھے ان كى اس لگن و جانفشانى كو ديكھ كر مہاجر يں وانصار دونوں كو ہى حيرت ہوتى تھى اور ہر گروہ ان كے بارے ميں يہى كہتا تھا كہ ''سلمان ہمارے اپنے ہيں'' اور جب رسول خدا (ص) نے ان گروہوں كى يہ گفتگو سنى تو فرمايا كہ :''سَلمَانُ منَّا اَُهلَ البَيت ''(۲۸) سلمان تو ميرے اہل بيت ميں سے ہيں _

اگر چہ منافقين بھى بظاہر مومنين كے دوش بدوش خندق كھودنے كے كام ميں لگے ہوئے تھے ليكن انہيں جب بھى موقع ملتا كوئي نہ كوئي بہانہ بنا كر رسول خدا (ص) سے اجازت لئے بغير اپنے كام سے دستكش ہوجاتے اور مختلف بہانوں سے محاذ حق كو كمزور كرنے كى جستجو ميں لگے رہتے _(۲۹)

( قَد يَعلَمُ الله ُ الَّذينَ يَتَسَلَّلُوْنَ منكُم لوَاذًا فَليَحذر الَّذيْنَ يُخَالفُونَ عَن أَمره أَن تُصيْبَهُم فتنَةٌ أَو يُصيْبَهُم عَذَابٌ أَليمٌ )

''اللہ ان لوگوں كو خوب جانتا ہے جو تم ميں ايسے ہيں كہ ايك دوسرے كى آڑ ليتے ہوئے


چپكے سے چلے جاتے ہيں ، رسول (ص) كے حكم كى خلاف ورزى كرنے والوں كو كسى فتنے ميں گرفتار ہونے يا دردناك عذاب ميں مبتلا ہونے سے ڈرنا چاہئے ''_

خندق كى كھدائي كا كام چھ روز(۳۰) يعنى احزاب كى سپاہ كے مدينے پہنچنے سے تين روز قبل(۳۱) مكمل ہوگيا اور تين ہزار جنگجو مسلمان اس كى پشت پر اپنى اپنى جگہ متعين ہوگئے_(۳۲)

احزاب كى فوج كو جب يہ خندق نظر آئي تو وہ مجبوراً خندق كے اس پار ہى رك گئي اور وہيں انہوں نے اپنے خيمے لگائے_

اندرون مدينہ جنگى محاذ كا كھولنا

سپاہ احزاب كى كثرت' سامان خوراك كى كمي' مكہ و مدينہ كے درميان دورى اور اس قول نے جو قبيلہ ''بنى نضير'' كے سرداروں نے قريش كو ديا تھا ، لشكر احزاب كے سپہ سالاروں كو اس بات پر مجبور كيا كہ مسلمانوں كو جلد از جلد شكست دينے كيلئے اندرون شہر محاذ قائم كريں چنانچہ ''حُيَّى ابن اخطب'' بنى قريظہ كے قلعہ ميں داخل ہوا اور اس كے سردار سے گفتگو كى ، اسے شيطانى مكرو فريب سے مجبور كيا كہ رسول خدا (ص) سے اس نے جو معاہدہ كيا تھا اس كى خلاف ورزى كرے(۳۳) اور اس طرح ''بنى قريظہ'' كے نوسو جنگجو سپاہى مسلمانوں كے خلاف جنگ كيلئے آمادہ ہوگئے تاكہ خندق كے اس پار احزاب كے لشكر كى فتح ونصرت كے لئے پل كا كام دے_

اس خبر كے پھيلنے سے مسلمانوں ميں پريشانى و سراسيمگى كى لہر دوڑ گئي كيونكہ ايك طرف تو دشمن كے دس ہزار سپاہيوں نے ان كا محاصرہ كر ركھاتھا اور دوسرى طرف ''بنى قريظہ'' كے


يہودى عہد شكنى كركے دشمن كے ساتھ مل گئے تھے اس كے ساتھ ہى منافقين نے بھى رسول خدا (ص) كو طعنے دينے شروع كرديئے وہ آنحضرت (ص) كا مذاق اڑا كر كہتے تھے كہ : محمد (ص) تو ہميں ''قيصر'' اور ''كسري'' كے خزانوں كے سبز باغ ديكھا رہے ہيں اور ہمارى حالت يہ ہے كہ رفع حاجت تك كيلئے بھى اپنے گھروں سے باہر قدم نہيں نكال سكتے ، خدا وپيغمبر (ص) نے ہميں فريب كے علاوہ ديا ہى كيا ہے_(۳۴) قرآن مجيد نے اس بحرانى كيفيت كا ذكر ان الفاظ ميں كيا ہے:

( إذ جَائُوكُم من فَوقكُم وَمن أَسفَلَ منكُم وَإذ زَاغَت الأَبصَارُ وَبَلَغَت القُلُوبُ الحَنَاجرَ وَتَظُنُّونَ بالله الظُّنُونَ _ هُنَالكَ ابتُليَ المُؤمنُونَ وَزُلزلُوا زلزَالًا شَديدًا ) _(۳۵)

''جب دشمن اوپر نيچے سے تم پر چڑھ آئے او رخوف كے مارے تمہارى آنكھيں پتھرا گئيں، كليجے منہ كو آگئے اور تم لوگ اللہ كے بارے ميں طرح طرح كے گمان كرنے لگے ، اس وقت ايمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور وہ سخت تزلزل كا شكار ہوئے''_

مومن اس كے باوجود خدا پر توكل اور رسول اكرم (ص) كے وعدوں پر اعتماد كركے ايمان و استقامت پر قائم رہے _

( وَلَمَّا رَا َى المُؤمنُوْنَ الأَحزَابَ قالُوْا هذا مَا وَعَدَنَا الله ُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ الله ُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُم إلاَّ إيمَانًا وَتَسليمًا ) (۳۶)

''اور سچے مومنوں كا حال اس وقت يہ تھا كہ جب انہوں نے حملہ آور لشكروں كو ديكھا تو


پكاراٹھے كہ ''يہ وہى چيز ہے جس كا اللہ اور اس كے رسول (ص) نے ہم سے وعدہ كيا تھا اللہ اور اس كے رسول (ص) كى بات بالكل سچى تھي'' اور اس واقعہ نے ان كے ايمان اوراطاعت كو اور زيادہ بڑھا ديا''_

ليكن منافق اور ''ضعيف الايمان'' لوگ ايسے مرعوب و وحشت زدہ ہوئے كہ وہ مختلف بہانے بنا كر يہ كوشش كرنے لگے كہ محاذ جنگ سے فرار كركے كسى طرح مدينے چلے جائيں_

( وَإذ قَالَت طَائفَةٌ منهُم يَاأَهلَ يَثربَ لاَمُقَامَ لَكُم فَارجعُوا وَيَستَأذنُ فَريقٌ منهُم النَّبيَّ يَقُولُونَ إنَّ بُيُوتَنَا عَورَةٌ وَمَا هيَ بعَورَة: إن يُريدُونَ إلاَّ فرَارًا ) _(۳۷)

''جب ان ميں سے ايك گروہ نے كہا كہ ''اے يثرب كے لوگو تمہارے لئے اب ٹھہرنے كا كوئي موقع نہيں ہے پلٹ چلو جب ان كا ايك فريق يہ كہہ كر نبى سے رخصت طلب كر رہا تھا كہ '' ہمارے گھر خطرے ميں ہيں '' حالانكہ ان كے گھر خطرے ميں نہ تھے دراصل وہ محاذ سے بھاگنا چاہتے تھے''_

رسول خدا (ص) كى ذمہ دارى اس وقت بہت سخت اور دشوار تھى ايك طرف تو آنحضرت (ص) كو اس سپاہ كے مقابل جس كى تعداد سپاہ اسلام سے تين گنا سے بھى زيادہ تھي، اپنے كمزور محاذ كو مضبوط و آمادہ كرناتھا دوسرى طرف ان غداروں كى سركوبى تھى جو محاذ كے اندر ريشہ دوانى كر رہے تھے ، اس كے ساتھ ہى اس سپاہ كى آپ (ص) كو حوصلہ افزائي كرنى تھى جن كے دل مضطرب اور جانيں لبوں تك پہنچ گئيں تھى ،

ان تمام نامساعد حالات كے باوجود جو اس وقت رونما ہورہے تھے آپ (ص) اپنے اصحاب


كو فتح و كامرانى كى خوشخبرى بھى دے رہے تھے، جو ان ظاہرى نامساعد (نامناسب) حالت كے پس پشت پنہاں تھي_

رسول خد ا(ص) انتہائي سخت و دشوار حالات يہاں تك كہ بنى قريظہ كى عہد شكنى كے بعد بھى اپنى سپاہ كے حوصلے بلند كرنے كيلئے برابر فتح و كامرانى كا يقين دلا رہے تھے_(۳۸) اور عہد شكنوں كى سازشوں كا توڑ كرنے كے لئے پانچ سو(۵۰۰) سپاہيوں كو تكبير كہتے ہوئے مدينہ كى گليوں ميں گشت كرنے كا حكم ديا تھا_(۳۹)

ايمان و كفر كے نمائندوںكى جنگ

تقريباً ايك ماہ تك مدينہ كا محاصرہ رہا اور قريش كى كوشش لاحاصل رہى ، آخر كار سپاہ مكہ كے پانچ جنگنجو خندق كا وہ حصہ تلاش كرنے ميں كامياب ہوگئے جس كى چوڑائي نسبتاً كم تھا چنانچہ اسے انہوں نے عبور كيا اور سپاہ اسلام كو جنگ كيلئے للكارا_ ''عمروابن عبدود'' سب سے زيادہ رجز يہ اشعار پڑھ رہا تھا(۴۰) وہ لشكر اسلام كو مخاطب كركے كہہ رہا تھا ''تمہيں للكارتے ہوئے اور لڑنے كى دعوت ديتے ديتے ميرى آواز بيٹھ گئي ہے او رميں تھك گياہوں'' ليكن كسى نے اسكى للكار كا جواب نہ ديا_

سپاہ اسلام ميں حضرت على (ع) كے علاوہ كسى اور نے اس كى للكار كا جواب دينے كى جرا ت نہيں كي_ رسول اكرم (ص) نے اپنى شمشير حضرت على (ع) كو عنايت فرمائي او رآپ (ع) كے حق ميں دعا كى جس وقت حضرت على (ع) ''عمرو'' كے مقابل آئے تو رسول خد ا(ص) نے فرمايا :''بَرَزَالايمَانُُ كُلُّهُ الَى الشّرك كُلّه'' يعنى اب كل ايمان سراپا شرك كے مقابلے كيلئے ميدان ميں آگيا ہے_


دونوں جنگجوؤں نے رجزيہ اشعار پڑھتے ہوئے قبضہ شمشير كو ہاتھ ميں ليا اور ايك دوسرے پر وار كرنے لگے ديكھتے ہى ديكھتے اميرالمومنين حضرت على (ع) كا نعرہ تكبير ميدان كارزار ميں بلند ہوا اور رسول خد ا(ص) نے فرمايا كہ خدا كى قسم على (ع) نے اسے مار گرايا _

''عمرو'' كے ساتھيوں نے جب اسے خاك و خون ميں لوٹتے ديكھا تو وہ ميدان جنگ سے بے محابہ بھاگ نكلے_(۴۱)

''عمرو'' كے مارے جانے كے بعد قريش كے حوصلے پست پڑگئے ، احزاب كے سرداروں نے جب اپنى انتقام جويانہ كاروائي اور ديگران عوامل ميں جن كا آيندہ ذكر كيا جائے گا ، خود كو بے دست و پا پايا تو انہوں نے محاصرہ كو جارى ركھنے كا خيال ترك كرديا اور واپس مكہ چلے گئے_

غزوہ احزاب ميں جانبازان اسلام ميں سے چھ افراد نے جام شہادت نوش كيا اور مشركين كے آٹھ سپاہى مارے گئے(۴۲) اور اسطرح ۲۳ ذيقعدہ سنہ ۵ ہجرى كو يہ جنگ ختم ہوئي(۴۳) اور احزاب كا لشكر شرمناك شكست سے دوچار ہو كر اپنے گھروں كو سدھارا _


سوالات

۱_ جنگ احد ميں مسلمانوں كى شكست كے كيا اسباب تھے ؟ مختصر طور پر بيان كيجئے_

۲_ جنگ احد ميں مسلمان جس شكست سے دوچار ہوئے اس كے بارے ميں قرآن كا نظريہ مختصر طور پر بيان كيجئے؟

۳_جنگ احد كى شكست سے مسلمانوں كو كيا فائدہ پہنچا اور اس كے كيا مثبت نتائج برآمد ہوئے ؟

۴_غزوہ ''حمراء الاسد'' كا واقعہ كس طرح پيش آيا ، اس ميں كن لوگوں نے شركت كى اور اس كے كيا نتائج برآمد ہوئے؟

۵_جنگ''احد '' اور''احزاب'' كے درميان كون سے اہم واقعات رونما ہوئے مختصر طور پر ان كى كيفيت بيان كيجئے_

۶_جنگ احزاب كن لوگوں كى تحريك كى باعث وقوع پذير ہوئي؟

۷_ رسول خد ا(ص) كو جب لشكر احزاب كى سازش كا علم ہو اتوآپ (ص) نے كيا اقدام فرمايا ؟

۸_ جب مسلمانوں كو ''بنى قريظہ'' كى عہد شكنى كا علم ہوا تو ان كے دلوں پر كيا گزري؟

۹_ جنگ احزاب كس تاريخ كو اور كس طرح اختتام پذير ہوئي؟


حوالہ جات

۱_سورہ آل عمران ۱۵۲

۲_ان كى اس بدگمانى كے جواب ميں آل عمران كى آيت ۱۶۱ نازل ہوئي : وَمَاكَانَ لنَبّى اَن يَغُلّ (... ''كسى نبى كايہ كام نہيں ہوسكتا كہ وہ خيانت كرجائے)

۳_سورہ آل عمران آيہ ۱۵۲

۴_خداوند تعالى نے سورہ آل عمران كى آيت ۱۵۴ ميں ان كے اس گمان كے بارے ميں ذكر كيا ہے (ملاحظہ ہو : الميزان ج ۴ صفحات ۴۷_۴۸)

۵_آل عمران /۴۲

۶_آل عمران / ۱۵۴

۷_يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ اس افواہ كا بڑا فائدہ يہ ہوا كہ اس كى وجہ سے رسول خدا (ص) كو دشمن كى چنگل سے نجات مل گئي كيونكہ جب رسول خدا (ص) كے قتل كئے جانے كى افواہ گشت كرگئي تو دشمن نے لاشوں كى درميان آنحضرت (ص) كو تلاش كرنا شروع كرديا اور اسے آپ(ص) كا تعاقب كرنے كا خيال ہى نہ آيا_

۸_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۲۷ ، قرآن مجيد نے سورہ آل عمران كى آيت ۱۴۴ ميں اس طرز فكر كو بيان كيا ہے :

(وَمَا مُحَمَّدٌ إلاَّ رَسُولٌ قَد خَلَت من قَبلہ الرُّسُلُ أَفَإين مَاتَ أَو قُتلَ انقَلَبتُم عَلَى أَعقَابكُم وَمَن يَنقَلب عَلَى عَقبَيہ فَلَن يَضُرَّ الله َ شَيئًا)_''محمد (ص) بس ايك رسول ہيں ، ان سے پہلے اور رسول بھى گزرچكے ہيں پھر كيا اگر وہ مرجائيں يا قتل كرديئے جائيں تو تم لوگ الٹے پائوں پھر جائو گے؟ ياد ركھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ كا كچھ نقصان نہ كرے گا''_

۹_سورہ آل عمران/ ۱۶۶

۱۰_سورہ آل عمران / ۱۶۵

۱۱_سورہ آل عمران / ۱۳۹


۱۲_سورہ آل عمران / ۱۴۰

۱۳_سورہ آل عمران / ۱۶۵

۱۴_سورہ آل عمران / ۱۴۳

۱۵_سورہ آل عمران / ۱۴۶_۱۴۷

۱۶_سورہ آل عمران / ۱۴۱

۱۷_سورہ آل عمران / ۱۵۴

۱۸_سورہ آل عمران / ۷۲

۱۹_ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۵۶

۲۰_قمى مرحوم نے ايك روايت كى بناپر يہ بھى بيان كيا ہے كہ : اس مشق ميں صرف زخميوں كو شركت كرنے كى دعوت دى گئي تھى _ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۲۰ ص ۶۴

۲۱_يہ جگہ مدينہ سے تقريباً ۸ ميل (۱۶ كلوميٹر) كے فاصلے پر واقع ہے ملاحظہ ہو : معجم البلدان ج ۲ ص ۳۰۱

۲۲_سورہ آل عمران / ۱۷۲

۲۳_مدينہ سے ۳۵ يا ۴۲ يا ۴۳ ميل كے فاصلے پر يہ جگہ تھى (ملاحظہ ہو : الصحيح من السيرة النبى (ص) ج ۴ ص ۳۳۵_ ۳۳۶)

۲۴_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۵۷_۲۵۹

۲۵_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۲۵۶

۲۶_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۰۹

۲۷_سورہ نور آيت ۶۲

۲۸_المغازى ج ۲ ص ۴۴۶ _ ۴۴۷ والسيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۱۳

۲۹_السيرة النبويہ ج ۳ ص ۲۲۶ ' ابن ہشام نے لكھا ہے كہ سورہ نور كى آيت ۶۳ ايسے ہى لوگوں كيلئے نازل ہوئي ہے _

۳۰_المغازى ج ۲ ص ۴۵۴


۳۱_بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲۲۱

۳۲_تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۷۰

۳۳_السيرة النبويہ ج ۳ ص ۲۳۱

۳۴_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۱۸

۳۵_سورہ احزاب آيت ۱۰ _ ۱۱

۳۶_سورہ احزاب آيت ۲۲

۳۷_سورہ احزاب آيت ۱۳

۳۸_السيرة النوبيہ ج ۳ ص ۲۳۳

۳۹_ المغازى ج ۲ ص ۴۶۰_

۴۰_وہ جنگ بدر ميں ايسا سخت زخمى ہوا تھا كہ جنگ احد ميں شريك ہونے كے قابل نہ رہا تھا_ اس كے بارے ميں مشہور تھا كہ بہادرى ميں وہ اكيلا ايك ہزار پر بھارى ہے _ بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲۰۲

۴۱_بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲۰۳_۲۱۵

۴۲_تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۵۱

۴۳_ المغازى ج ۲ ص ۴۴۰


سبق ۱۲:

غزوات بنى قريظہ ، بنى مصطلق اور صلح حديبيہ


لشكر احزاب كى شكست كے اسباب

جنگ احزاب ميں اسلام كے خلاف شرك كى سب سے بڑى طاقت كے شكست پذير ہونے كے مختلف اسباب و عوامل تھے جن ميں سے چند ذيل ميں درج ہيں:

۱_خداوند تعالى كى مخفى اور علانيہ مدد:

( يَاأَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اذكُرُوا نعمَةَ الله عَلَيكُم إذ جَائَتكُم جُنُودٌ فَأَرسَلنَا عَلَيهم ريحًا وَجُنُودًا لَم تَرَوهَا وَكَانَ الله ُ بمَا تَعمَلُونَ بَصيرًا ) _(۱)

''اے ايمان والو ياد كرو اللہ كے احسان كو جو (ابھى ابھي) اس نے تم پر پر كيا ہے ، جب تم پر (احزاب كے)لشكر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر شديد آندھى بھيجى اور ايسى فوجيں روانہ كيں جو تم كو نظر نہ آتى تھى اللہ وہ سب كچھ ديكھ رہا تھا جو تم اس وقت كر رہے ''_

۲_لشكر احزاب كے پہنچنے سے قبل خندق كا تيار ہوجانا جس كى وجہ سے نہ صرف دشمن شہر ميں داخل نہ ہوسكا بلكہ اس كے حوصلے بھى پست ہوگئے اور نفسياتى لحاظ سے اس پر كارى ضرب تھي_

۳_اميرالمومنين حضرت على عليہ السلام كى دليرى اور شجاعت كے باعث مشركين كا سب سے بڑا بہادر ''عمرو بن عبدود'' ہلاك ہوا ، حضرت على (ع) كى (تقدير ساز كارى )ضرب


مسلمانوں كے حوصلے بلند كرنے ميں نہايت مفيد اور كفار كے حوصلے پست كرنے ميں انتہائي كارآمد ثابت ہوئي _(۲)

۴_''نعيم بن مسعود'' كى وجہ سے دشمن كى صفوں ميں اختلاف و خليج كا پيدا ہونا _ وہ قريش ويہود كے درميان ممتاز اور قابل اعتماد شخص تھے ، جنگ سے كچھ عرصہ قبل تك وہ محاذ كفر ميں شامل رہے مگر ايك دن خفيہ طور پر رسول خدا (ص) كى خدمت ميںحاضر ہوئے اور دين اسلام سے مشرف ہونے كے بعد رسول خدا(ص) كى اجازت سے انہوں نے جنگى چال كا حربہ استعمال كيا اور لشكر كفار كے ذہنوں ميں شك و وسواس پيدا كركے احزاب كى فوج اور ان كى يكسوئي كو درہم برہم كرديا_

انہوں نے سب سے پہلے ''بنى قريظہ'' كے يہوديوں سے ملاقات كى اور گفتگو كے درميان ان كے دلوں ميں قريش كى طرف سے بدگمانى پيدا كردى اس كے ساتھ باتوں ہى باتوں ميں انہوں نے اُن كو اس بات كيلئے آمادہ كرليا كہ وہ سپاہ احزاب كے سامنے يہ شرط ركھيں كہ ہم اس صورت ميں تمہارے ساتھ تعاون كرسكتے ہيں كہ اپنے سرداروں ميں سے چند افراد كو ہمارے پاس بطور يرغمال بھيجو_

اس كے بعد وہ ''ابوسفيان '' كے پاس گئے اور كہنے لگے كہ ''بنى قريظہ'' نے محمد (ص) كے ساتھ جو عہد شكنى كى ہے اس پر وہ پشيمان ہيں اپنے اس اقدام كى تلافى كيلئے انہوں نے فيصلہ كيا ہے كہ تم ميں سے چند لوگوں كو بطور يرغمال پكڑليں اور انہيں محمد(ص) كے حوالے كرديں_''نعيم'' كى كوشش كا ہى يہ نتيجہ تھا كہ وہ دو گروہ جو باہمى طور پر متحد ہوگئے تھے اب ايسے بدظن ہوگئے كہ ايك نے دوسرے سے جو بھى پيشكش كى اسے رد كرديا گيا(۳) _


۵ _ دشمن كے مقابل رسول خدا (ص) كى استقامت و پائدارى اگر چہ اس وقت مسلمان دشوار ترين مراحل سے گزر رہے تھے اور پورى فضا ان كے خلاف ہوچكى تھى مگر ان صبر آزما حالات كے باوجود لشكر اسلام اس بات كيلئے تيار نہ تھا كہ دشمن كو ذرہ برابر بھى رعايت دى جائے _

۶_رسول خد ا(ص) كى دانشمندانہ قيادت ، ميدان كارزار ميں مسلسل موجودگى ، عين وقت پر صحيح تدبير' سياسى اور جنگى چالوں كے باعث بيرونى اوراندرونى دشمن كے دلوں پر مايوسى كا چھاجانا_

۷_فوجى نظم و ضبط' خندق كے نگہبانوں نيز گشتى پہرہ داروں كى زود فہمى اور محاذ جنگ كے متعلق تمام قواعد و آداب جنگ سے مكمل واقفيت _

۸_سردى ' دشمن كے جانوروں كيلئے چارے كى كمى ، ميدان كارزار كى مكہ سے دوري' حملہ آور سپاہ كى جسمانى كوفت بالخصوص اس وقت جبكہ وہ بار بار سعى و كوشش كے بعد بھى خندق كو عبور كرنے ميں ناكام رہے_

جنگ ''احزاب'' كا خاتمہ اور مسلمانوں كى يورش كا آغاز

جنگ احزاب، دشمن كى قوت نمائي كا آخرى مظہر تھى ، ايسى عظیم طاقت كا اسلام كے ہاتھوں شكست سے دوچار ہونا فطرى طور پر اس حقيقت كا آئينہ وار ہے كہ اب دشمن كے حوصلے قطعى پست پڑگئے اور اس كى ہر اميد ياس ميں بدل گئي اور يہ بات جنگ احزاب كے بہترين نتائج ميں سے تھي_

چنانچہ اسى وجہ سے رسول خدا (ص) نے مسلمانوں كو خوشخبرى دى تھى كہ اس مرحلے پر پہنچ كر


اسلامى تحريك كے نئے دور كا آغاز ہوگا اور اس ضمن ميں فرمايا تھا كہ :''اَليَومَ نَغزُوہُم وَلَا يَغْزُونَا''_(۴) يعنى اس كے بعد ہم ان سے جنگ كريں گے وہ ہم سے آكر جنگ نہيں كرسكيں گے_

اور اس كے بعد كے واقعات بھى اسى طرح رونما ہوئے جس طرح رسول اكرم (ص) نے پيشين گوئي كى تھى _ مسلمانوں كى فتح ونصرت نے سياسى ، عسكرى اور اقتصادى اعتبار سے مشركين پر ايسى كارى ضرب لگائي كہ رسول خد ا(ص) كى حيات ميں تو ان ميں اتنى بھى سكت باقى نہ رہى كہ اپنى كمر سيدھى كرسكيں اور اپنى اس شكست كى تلافى كرسكيں_

اس كے برعكس مسلمانوں نے ان مختلف پہلوئوں سے جن كا اوپر ذكر نے ميں كامياب ہو كيا جا چكا ہے وہ مقام ومرتبہ حاصل كرليا كہ اپنى توانائي اور برترى كے بل پر ہر سازش كو اس سے پہلے كہ وہ وجود ميں آئے نسيت ونابود كرديں_

عہد شكن لوگوں كى سزا

لشكر احزاب اگر چہ وقتى طور پر مسلمانوں كے چنگل سے نكل كر فرار كرنے ميں كامياب ہو گيا ليكن وہ داخلى خيانت كار (يہود بنى قريظہ) جو دشمن كے سپاہ كى تعداد ، اور سامان جنگ كى كثرت نيز اس كے پر فريب وعدوں كا شكار ہوگئے تھے اور اس كى فتح ونصرت كا انہيں پورا يقين تھا وہ اب بھى مسلمانوں كے ساتھ زندگى بسر كر رہے تھے ، اس خيال كے پيش نظر كہ وہ عدل وانصاف كے چنگل سے بچ كر نہ نكل جائيں انہيں ان كى خيانت كاريوں كى سزا دينى ضرورى تھي_

چنانچہ رسول خدا (ص) جيسے ہى غزوہ خندق سے واپس تشريف لائے فوراً ہى فرشتہ وحى نازل


ہوااور پيغمبر اكرم (ص) كو ہدايت دى كہ آنحضرت(ص) ''بنى قريظہ'' كے قلعہ كى جانب تشريف لے جائيں_

رسول خد ا(ص) ۲۳ ذى القعدہ(۵) كو تين ہزار جنگجو افراد كو ساتھ لے كر دشمن كے قلعہ كى جانب روانہ ہوئے اس لشكر كے علم بردار حضرت على (ع) تھے اوروہ لشكر كے ہر اول دستے كے ساتھ ان كى طرف بڑھ رہے تھے_(۶)

نماز عصر ادا كرنے كے بعد دشمن كے قلعے كا محاصرہ ہواجو پندرہ(۷) يا پچيس روز(۸) تك جارى رہا اس عرصے ميں دونوں طرف سے صرف تيراندازى ہوتى رہى اور اس كے علاوہ كوئي واقعہ رونما نہيں ہوا_

يہوديوں نے جب ديكھا كہ مقابلے كا كوئي فائدہ نہيں تو وہ كچھ غور وفكر كرنے لگے چنانچہ انہوں نے اس طرح كى تجاوز پيش كيں كہ انہيں مدينہ سے چلے جانے كى اجازت دے دى جائے پہلے تو وہ اپنا مال واسباب بھى ساتھ لے جانا چاہتے تھے مگر بعد ميں اس بات پربھى راضى ہوگئے كہ وہ اپنے سارے ساز وسامان كو يہيں چھوڑ كر كوچ كرجائيں ليكن رسول خدا (ص) كو ابھى تك يہ ياد تھا كہ ''بنى قينقاع'' اور ''بنى نضير'' نے مدينہ سے باہر نكل جانے كے بعد كيا كيا خيانت كارياں كى تھيں اور آنحضرت (ص) يہ بات اچھى طرح جانتے تھے كہ اگر يہ لوگ بھى عدل وانصاف كے چنگل سے نكل گئے تو ممكن ہے كہ اسلام كے خلاف نئي سازشیں تيار كرنے ميں لگ جائيں اسى لئے آپ (ص) نے ان كى تجاويز كو رد كرديا اور يہ مطالبہ كيا كہ وہ بلا قيد و شرط ہتھيار ڈال ديں _

محاصرہ كو جارى ديكھ كر بنى قريظہ كے لئے خود كو تسليم كرنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہ رہا چنانچہ انہوں نے قلعے كے دروازے كھول ديئے اور رسول خد ا(ص) كے حكم سے اسلحہ ان سے


ضبط كركے انہيں ايك گوشہ ميں حراست ميں لے ليا گيارسول خدا(ص) كى تجويز اور مقيد يہوديوں كے مشورے سے قبيلہ اوس كے سردار حضرت ''سعد بن معاذ '' اور جنگ احزاب كے ايك زخمى كو ان كے بارے ميں قائم كى گئي عدالت كا حاكم مقرر كياگيا _(۹)

سعد نے مردوں كے قتل ، عورتوں اور بچوں كى اسيرى اور ان كے تمام مال و اسباب پر بطور مال غنيمت قابض ہوجانے كا حكم صادر كيا ، جب سعد نے اپنا حكم صادر كر ديا تو رسول خدا (ص) نے ان سے فرمايا كہ :''سچ تو يہ ہے كہ ان كے بارے ميں تم نے وہى حكم صادر كيا ہے جو خداوند تعالى نے سات آسمانوں پر سے جارى كيا تھا''_

حضرت سعد ايك مومن ' متقى 'دانشمند اور سياسى شخض تھے اسى لئے انہوں نے جو فيصلہ صادر كيا وہ اس دور كے اسلامى معاشرے سے واقفيت پر مبنى تھا اور چونكہ وہ خيانت كار و سازشى عناصر كى كيفيت سے بخوبى واقف تھے اسى لئے انہوں نے اس پہلو كو بھى مدنظر ركھا نيز ديگر مسلمانوں پر بھى بارہا ثابت ہوچكا تھا كہ يہودى شرپسند اور ضدى ہونے كے باعث ہميشہ اسلام اور مسلمانوں كے خلاف سازشيں كرنے ميں منہمك رہتے ہيں اگر چہ رسول خدا (ص) نے ہميشہ نرمى اور در گزرسے كام ليا ليكن اس كے باوجود انہى لوگوں نے جنگ احد اور جنگ احزاب كے فتنے كو ہوا دى اور قتل و غارت گرى نيز تمام نقصانات كا سبب بنے_

كيا يہ تجربات اس مقصد كيلئے كافى نہ تھے كہ سعد ان خيانت كاروں كے بارے ميں وہى اقدام كريں جو رسول خد ا(ص) ''ابو عزہ'' خيانت كار كے بارے ميں فرماچكے تھے_(۱۰) اور وہى بات نہ دہراتے جو رسول خدا (ص) كى مبارك زبان سے نكل چكى تھى يعنى مومن ايك سوراخ سے دوبار نہيں ڈساجاتا اور وہ بھى '' حُيّى ابن اخطب'' جيسے خيانت كار كے بارے ميں جس نے تختہ دار پر بھى نہايت گستاخى كے ساتھ رسول خدا (ص) سے كہا تھا كہ ''اس دشمنى كے


باعث جو ميرے اور تيرے درميان ہے ميں خود كو قابل ملامت نہيں سمجھتا''_(۱۱)

اس كے علاوہ ''بنى قريظہ'' نے رسول خد ا(ص) سے جو عہد وپيمان كيا تھا اس ميں وہ اس شرط كے پابند تھے كہ وہ ہرگز رسول (ص) اور صحابہ رسول (ص) كے خلاف كوئي اقدام نہ كريں گے نيز ہاتھ اور زبان سے آنحضرت (ص) كو كوئي اےذا و تكليف نہيں پہنچائيں گے اور اگر وہ ان شرائط كى خلاف ورزى كريں گے تو رسول خدا (ص) كيلئے ان كا خون بہانا ' ان كے مال كو ضبط كرنااور ان كى عورتوں نيز بچوں كو اسير كرنا مباح ہوگا(۱۲) اس بنا پر سعد نے جو حكم جارى كيا وہ اس عہد و پيمان كى بنياد پر تھا جو بنى قريظہ كرچكے تھے_

''بنى قريظہ'' كى خيانت كاريوں پر اگر غور كياجائے تو ہم پر يہ حقيقت عياں ہو جائے گى كہ رسول خد ا(ص) نے ان كے ساتھ جو سلوك كيا وہ اسلام ويہوديت كا مسئلہ نہ تھا بلكہ اس كا سبب وہ عہد شكنى تھى جو اسلام كے ساتھ وہ ہميشہ سے كرتے آئے تھے ،قبيلہ ''بنى قنيقاع '' و''بنى نضير'' كے علاوہ ''خيبر'' اور ''وادى القري'' كے يہوديوں كے ساتھ رسول خدا (ص) كا جو بزرگوارانہ رويہ رہا اور جس تحمل و بردبارى كا آنحضرت (ص) سلوك فرماتے رہے نيز ''بنى قريظہ'' كے ساتھ جو مسالمت آميز معاہدہ آپ (ص) نے كيا وہ ان حقائق كو سمجھنے ميں ہميں مدد ديتے ہيں_

اس بناپر كہاجاسكتا ہے كہ دشمنان اسلام جب اسلام و يہوديت كى دشمنى كا ذكر كرتے ہوئے ان واقعات كو بطور سند بيان كرتے ہيں تو وہ يا تو اسلام اور سيرت رسول خد ا(ص) سے واقف نہيں ہوتے اور يا اس ميں ان كى كوئي خاص غرض شامل ہوتى ہے_

اس كے باوجود بعض مسلم مورخین(۱۳) نے اس واقعہ قتل كى صحت كے بارے ميں شك وترديد كا اظہار كركے مسلمانوں كى اس تقدير ساز جنگ ميں ان كى عظیم خيانت كارى كو


نہايت ہى معمولى واقعہ سمجھا ہے بقول رسول خدا (ص) كل ايمان كا سراپا كفر كے ساتھ مقابلہ تھا اور يہودى كفر كے ساتھ تھے(۱۴) _اس كے ساتھ ہى اس ترديد كا مطلب'' غزوہ احد'' اور '' غزوہ احزاب '' ميں ان كے مجرمانہ افعال سے بھى چشم پوشى اور حق كے سامنے ان كے غير لچك دار اور ہٹ دھرم رو يہ پر عدم توجہ ہے_ چنانچہ يہى كينہ توزى اور اسلام دشمنى ہم يہودى ''بنى قريظہ'' كى موجودہ نسل 'اسرائيل اور صہيونيت كے ان تمام پيروكاروں ميں ديكھتے ہيں جو سارى دنيا ميں پھيلے ہوئے ہيں_

''بنى قريظہ'' كى خيانت كارى اور انہيں اس كى سزا ديئے جانے كے واقعے كو تمام مورخين كے علاوہ شيخ مفيد مرحوم'(۱۵) ابن شہرآشوب '(۱۶ ) قمى(۱۷) طبرسى(۱۸) علامہ مجلسى(۱۹) اورمعاصرين ميں علامہ طباطبائي(۲۰) جيسے محدثين اور مفسرين نے اپنى تصانيف ميں بيان كيا ہے اس بناپر خيانت كاروں كو ان كے كئے كى سزاديئے جانے كے اصل واقعہ كے بارے ميں كسى توجيہ يا خدشے كى گنجائشے باقى نہيں_

غزوہ بنى قريظہ كا سودمند پہلو

''بنى قريظہ'' كے يہود يوں كا قلع قمع كئے جانے كے بعد مسلمانوں كو يہ اطمينان حاصل ہو گيا كہ ان جاسوسوں كا خاتمہ ہوگيا ہے جو اندرون محاذ ميں سرگرم عمل تھے اور اس كى وجہ سے اسلامى حكومت كے مركز ميں قائم مشركين كى فوجى اور انٹيلى جنس ايجنسى كى سرگرميوں كا خطرہ بھى باقى نہ رہااور چونكہ مال غنيمت ميں مسلمانوں كے ہاتھ اسلحہ بھى لگا تھا اس لئے مسلمانوں كى اقتصادى اور عسكرى طاقت كو ايسى تقويت پہنچى كہ اس كى وجہ سے آئندہ فتوحات بالخصوص يہوديوں پر غلبہ پانے كى راہيں ہموار ہوگئيں اس كے ساتھ ہى رسول خدا (ص)


كا مقام ومرتبہ بحيثيت قائد اور اسلامى طاقت كا رعب و دبدبہ ہر دوست و دشمن كے دل ميںجم گيا_

صلح ومحبت كا سال

سنہ ۶ ہجرى كو ''سنة الاستئناس''(۲۱) يعنى انس ومحبت كا سال كہاجاتا ہے(۲۲) چنانچہ يہ سال مسلمانوں كيلئے نہايت ہى پر خیرو بركت اور سازگا رہا_

اس سال مسلمانوں نے تقريباً تيس جنگى معركے كئے اور بيشتر مواقع پر وہ فتح و كاميابى سے ہمكنار ہوئے اور دشمن كا بہت سا مال غنيمت ہاتھ لگا(۲۳) ذيل ميں ہم مختصر طور پر دو غزوات كا جائزہ ليں گے_

۱_غزوہ ''بنى مصطلق''

قبيلہ ''بنى مصطلق'' كى چونكہ جنگ احد ميں قريش كے ساتھ ساز باز تھى اسى لئے انہوں نے مسلمانوں كے ساتھ نبرد آزما ہونے كےلئے جنگى سامان كى فراہمى شروع كردى _

رسول خدا(ص) كو جب ان كى سازش كا علم ہو اتو آنحضرت (ص) نے اپنے لشكر كو آمادہ جنگ ہونے كا حكم ديا چنانچہ ماہ شعبا ن ۶ ہجرى ميں مسلمانوں كو ايك گروہ كو ساتھ لے كر آپ (ص) دشمن كى جانب روانہ ہوئے '' مريسيع ''(۲۵) نامى مقام پر غنيم سے مقابلہ ہوا اس معركہ ميں سازشى گروہ كے دس(۱۰) افراد مارے گئے او رباقى چونكہ مقابلے كى تاب نہ لاسكے اس لئے انہوں نے راہ فرار اختيار كرنے ميں ہى عافيت سمجھى اور چونكہ وہ عورتوں اور بچوں كے ساتھ گرفتار ہوكر آئے تھے نيز ان كا مال جو تقريباً دو ہزار اونٹوں اور پانچ ہزار بھيڑوں پر


مشتمل تھا، بطور غنيمت مسلمانوں كے ہاتھ لگا_

قيديوں كو مدينہ منتقل كرنے كے بعد رسول خدا (ص) نے قبيلہ ''بنى مصطلق'' كے سردار ''حارث ابن ابى ضرار'' كى لڑكى ''جويريہ'' سے فديہ ادا كرنے كے بعد نكاح كرليا _

مسلمانوں نے جب يہ ديكھا كہ اس شادى كے ذريعہ قبيلہ بنى مصطلق اور رسول خدا (ص) كے درميان قرابت دارى ہوگئي ہے تو انہوں نے فديہ لئے بغير ہى تمام قيديوں كو يہ كہہ كر آزاد كرديا كہ يہ بھى رسول خدا (ص) كے رشتہ دار ہيں_

اس پر بركت رشتہ ازدواج اور رسول خدا (ص) نيز مسلمانوں كے حسن سلوك كے باعث قيديوں كے دل دين اسلام كى جانب مائل ہوگئے چنانچہ ان سب نے دين اسلام قبول كرنے كا شرف حاصل كيا اور ہنسى خوشى اپنے اپنے وطن واپس چلے گئے _(۲۶)

۲_ صلح حديبيہ

سنہ ۵' ۶ ہجرى كے دوران محاذ حق پر مسلمانوں كو جو پے در پے فتوحات نصيب ہوئيں ان كے باعث سياسي' اقتصادى نيز عسكرى اعتبار سے اسلام كى حيثيت ''جزيرہ نمائے عرب'' ميں پہلے سے كہيں زيادہ مستحكم و پائدار ہوگئي اس كے ساتھ ہى رسول خد ا(ص) كے لئے يہ امكان پيدا ہوگيا كہ قريش كى سازشوں سے بلاخوف و خطر اور اسلحہ و ساز وسامان جنگ كے بغير مكہ كا سفر اختيار كركے زيارت كعبہ سے مشرف ہو سكيں چنانچہ آپ (ص) نے اندرون وبيرون مدينہ اعلان كرايا كہ لوگ اپنے اس عبادى ، سياسى سفر كى تيارى كريں_

تقريباً چودہ (۱۴۰۰) پندرہ (۱۵۰۰ )يا سولہ (۱۶۰۰) سو سے زيادہ افراد نے اس سفر پر روانہ ہونے كےلئے آمادگى ظاہر كردى ، رسول خدا(ص) نے ان سے فرمايا كہ :


اس سفر پر جانے كا ہمارا مقصد جنگ نہيں بلكہ عمرہ كرنا ہے چنانچہ ہر شخص اپنے ساتھ ايك تلوار اس وجہ سے لے سكتا ہے كہ يہ مسافروں كےلئے ضرورى ہے _

اس كے بعد رسول خد ا(ص) نے قربانى كيلئے ستر(۷۰) اونٹ اپنے ساتھ لئے_آنحضرت (ص) كے علاوہ اصحاب نے بھى قربانى كے مقصد كيلئے اونٹ اپنے ساتھ لئے _ رسول خدا (ص) نے ''ذوالحليفہ'' نامى مقام پر احرام باندھا اور پہلى ذى القعدہ سنہ ۶ ہجرى كو خانہ خدا كى زيارت كى خاطر مدينہ سے مكہ كى جانب روانہ ہوئے_(۲۷)

مسلمانوں كى اس مختصر تعداد كے ساتھ رسول خد ا(ص) كا سفر مكہ اختيار كرنا اور وہ بھى عسكرى ساز وسامان كے بغير خطرات سے خالى نہ تھا كيونكہ يہ واضح تھا كہ قريش اسلام پر كارى ضرب لگانے نيز رسول خدا(ص) كو اپنے راستے سے ہٹانے كے علاوہ كچھ سوچتے ہى نہيں تھے اور گزشتہ چند سال كے دوران ان كا سابقہ رسول خدا (ص) كے ساتھ ميدان جنگ ميں اس طرح پڑا تھا كہ ہر بار منہ كى كھائي تھى تو جب رسول خدا (ص) كو صحابہ كى اس مختصر جماعت كے ساتھ ديكھيں گے اور انہيں معلوم ہوگا كہ آنحضرت (ص) بغير اسلحہ كے تشريف لا رہے ہيں تو وہ لامحالہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے كى كوشش گے اور اسلام و پيغمبر اكرم (ص) كا كام ہى تمام كر ديںگے_

چنانچہ اسى وجہ سے منافقين اور صحرا نشين عربوں نے رسول خدا (ص) كے ساتھ مكہ جانے سے اجتناب كيا اور يہ نتيجہ اخذ كيا كہ اگر وہ مسلمانوں كى اس مختصر جماعت كے ساتھ بغير اسلحہ كے جائيں گے تو ہرگز مدينہ واپس نہ آسكيں گے اور جب قريش اس جماعت كو معمولى ساز وسامان كے ساتھ ديكھيں گے تو انہيں نيست ونابود كرديں گے_(۲۸)

چنانچہ قرآن مجيد نے ان كے گمان كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا ہے كہ :


( بَل ظَنَنتُم أَن لَن يَنقَلبَ الرَّسُولُ وَالمُؤمنُونَ إلَى أَهليهم أَبَدًا ) _(۲۹)

''بلكہ تم لوگوں نے تو يہ سمجھا كہ رسول (ص) اور مومنين اپنے گھروں كو ہرگز پلٹ كر نہ آسكيںگے''_

قريش كى مخالفت

مشركين مكہ كو معلوم ہوگيا كہ رسول خدا (ص) ان كے شہر كى طرف تشريف لارہے ہيں چنانچہ انہوں نے سپاہ اسلام كو مكہ ميں داخل ہونے سے روكنے كيلئے ''خالد بن وليد'' كو دوسو(۲۰۰) سواروں كے ہمراہ رسول خد ا(ص) كى جانب روانہ كيا_

رسول خدا (ص) نے اس خيال كے پيش نظر كہ دشمن سے مقابلہ نہ ہو راستہ كو بدل كر اپنا سفر جارى ركھا اور ''حديبيہ ''(۳۰) نامى جگہ پر قيام فرمايا _(۳۰) لشكر''خالد بن وليد'' بھى رسول خد ا(ص) كا تعاقب كرتا ہواسپاہ اسلام كے نزديك پہنچ گيا اور وہيں اس نے پڑائو ڈالا_

رسول خدا (ص) حرمت كے مہينے كے احترام اور اپنے پيش نظر اہداف و مقاصد كے تحت ہرقسم كے تصادم سے بچنے كے لئے كوشاں تھے_

مذاكرات كا آغاز

پہلے قريش نے اپنے نمائندے رسول خدا(ص) كى خدمت ميں بھيجے تا كہ يہ جاننے كے ساتھ كہ آنحضرت (ص) نے يہ سفر كس مقصد سے اختيا ركيا ہے ضرورى اطلاعات بھى حاصل كرليں، رسول خدا (ص) نے نمائندگان قريش كو جواب ديتے ہوئے تاكيد سے فرمايا كہ ہم جنگ


كرنے كيلئے نہيں آئے ہيں بلكہ ہمارا مقصد تو عمرہ اور زيارت كعبہ سے مشرف ہونا ہے ليكن ہٹ دھرم قريش نے ايسى سختى پاليسى اختيار كى كہ وہ كسى طرح بھى پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ مسالمت آميز برتاؤ نہيں كرنا چاہتے تھے بلكہ انہوںنے رسول خدا(ص) كے اس نرم رويے كا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لشكر كے پچاس(۵۰) سپاہيوں كو اس كام كےلئے مقرر كرديا كہ وہ سپاہ اسلام كے نزديك جاكر چند لوگوں كو گرفتار كر كے لے آئيں _ ليكن سپاہ اسلام كے مستعد پاسبانوں نے ان سب كو گرفتار كرليا اور رسول خدا (ص) كى خدمت ميں پيش كرديا ، رسول خدا (ص) نے انہيں يہ بتانے كيلئے كہ آپ (ص) كا رويہ صلح آميز ہے ان سب كو آزاد كرديا_

جب قريش كے نمائندوں كى آمد و رفت كا كوئي فائدہ نہ ہوا تو رسول خدا(ص) نے اپنے نمائندے قريش كى جانب روانہ كئے ، ليكن انہوںنے نمائندوں كے ساتھ بدسلوكى كى بلكہ ان ميں سے ايك كے پيچھے اونٹ دوڑا كر ان كى جان لينے كا قصد كيا اور دوسرے كو اپنے پاس روك ليا _(۳۱)

بيعت رضوان

جب رسول خدا (ص) كے آخرى نمائندے (عثمان )صحيح وقت پر واپس نہ آئے تو اس افواہ كو تقويت ملى كہ انہيں قتل كرديا گيا ہے اور يہ بات رسول خدا (ص) اور مسلمانوں پر بہت شاق گزري_

اس پر رسول خدا (ص) نے فرمايا كہ جب تك قريش كا خاتمہ نہيں كرليتے ہم يہاں سے نہيں جائيں گے اور آنحضرت (ص) نے مسلمانوں سے كہا كہ وہ اس مسئلے كے بارے ميں آپ(ص) كے دست مبارك پر بيعت كرليں ، مسلمين نے اس درخت كے نيچے جس كانام ''سمرہ'' تھا يہ


بيعت كى كہ مرتے دم تك ہم آپ (ص) كے ساتھ ہيں چنانچہ يہى وہ بيعت ہے جسے ''بيعت رضوان'' سے تعبير كيا گيا ہے اور قرآن مجيد ميں بھى اس كى طرف اشارہ كيا گيا ہے_

( لَقَد رَضيَ الله ُ عَن المُؤمنينَ إذ يُبَايعُونَكَ تَحتَ الشَّجَرَة فَعَلمَ مَا فى قُلُوبهم فَأَنزَلَ السَّكينَةَ عَلَيهم وَأَثَابَهُم فَتحًا قَريبًا ) (۳۲)

''اللہ مومنين سے اس وقت خوش ہوگيا جب وہ درخت كے نيچے تم سے بيعت كر رہے تھے ان كے دلوں كا حال اس كو معلوم تھا اسى لئے اس نے ان اطمينان و پر سكون نازل فرمايا اور ان كو انعام ميںعنقريب ہونے والى فتح بخشي''_

جب لوگ رسول خدا (ص) كے دست مبارك پر بيعت كرچكے تو معلوم ہوا كہ آپ (ص) كا نمائندہ قتل نہيں ہوا ہے_ اس واقعہ كے بعد قريش نے ''سہيل بن عمرو'' كو مصالحت كى غرض سے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں روانہ كيا طويل بحث وگفتگو كے بعد صلح كا معاہدہ كيا گيا جس كى بنياد پر طرفين ميں يہ طے ہوا كہ دس سال تك ايك دوسرے سے جنگ نہ كريں گے ، اس سال تو مسلمان يہيں سے واپس مدينہ چلے جائيں ليكن آئندہ سال بيت اللہ كى زيارت كو آسكتے ہيں ، مسلمين ومشركين كو اپنى دينى رسومات ادا كرنے كى اجازت ہوگي، طرفين كو اس بات كى بھى اجازت ہوگى كہ وہ جس قبيلے كو بھى چاہيں اپناحليف بناليں اگر قريش كے كسى فرد نے مسلمانوں كى پناہ لى تو ان كيلئے يہ لازم ہوگا كہ وہ اسے واپس كريں ليكن قريش كے لئے يہ ضرورى نہيں ہوگا كہ وہ بھى كسى مسلمان پناہ گزين كو واپس كريں_

جب صلح كا عہد وپيمان ہوگيا تو رسول خدا (ص) اور مسلمانوں نے اپنى قربانى كے اونٹوں كونحركيا ، سروںكے بال ترشوا كر احرام سے باہر نكلے اورمدينہ واپس آگئے _(۳۳)


صلح حديبيہ كے سياسي، مذہبى اور معاشرتى نتائج

بعض مسلمانوں كى رائے كے برعكس(۳۴) صلح حديبيہ اسلام كى عظيم الشان فتح وكامرانى تھى چنانچہ قرآن نے اسے ''فتح مبين'' كے عنوان(۳۵) سے ياد كرتے ہوئے فرمايا ہے :

( إنَّا فَتَحنَا لَكَ فَتحًا مُبينًا )

''اے نبى (ص) ہم نے تم كو كھلى فتح عطا كردي''_

اور رسول خدا (ص) نے اسے ''اعظم الفتوح'' يعنى عظیم ترين فتح سے تعبير فرمايا ہے(۳۶)

اس دوركے اسلامى معاشرے كيلئے اس فتح ونصرت كے بہت سے عمدہ اورسود مند نتائج برآمد ہوئے جن ميں سے ہم بعض كا ذكر ذيل ميں كريں گے_

۱_رسول خد ا(ص) كى پيش قدمى كے باعث ايك طرف تو صلح وامن كے امكانات روشن ہوگئے اور دوسرى طرف مكہ كے فريب خوردہ لوگوں پر يہ حقيقت عياں ہوگئي كہ رسول خدا (ص) كے دل ميں حرمت كے مہينوں ' شہر مكہ اور خانہ خدا كے لئے بہت زيادہ عقيدت و احترام پايا جاتا ہے_

۲_ صلح حديبيہ كى وجہ سے اسلام كوباقاعدہ طور پر تسليم كرليا گيا اور قريش كے دلوں پر اس كى طاقت و عظمت بيٹھ گئي، اس صلح كے باعث ہى جزيرہ نما ئے عرب ميں اسلام كے وقار كو بلندى حاصل ہوئي اور مسلمانوں كے اثر و رسوخ كے امكانات وسيع ہوگئے _

۳_مسلمانوں پر اس وقت تك جو پابندياں عائد تھيں وہ ختم ہوگئيں اور وہ ہر جگہ رفت و آمد كرسكتے تھے چنانچہ اس باہمى ربط و ضبط كا ہى نتيجہ تھا كہ لوگوں نے اسلام كے بارے ميں پہلے سے كہيں زيادہ واقفيت حاصل كى _


۴_جزيرہ نمائے عرب ميں دين اسلام كى اشاعت كيلئے مناسب ميدان فراہم ہوگيا اب تك مختلف قبائل كے دلوں ميں اسلام كے بارے ميں غلط فہمى اور بدگمانى تھى ان افراد كو جب رسول خدا (ص) نے صلح پسندى كى دعوت عام دى تو وہ لوگ اسلام كے بارے ميں از سر نو غور وفكر كرنے مجبور ہوگئے اور اس كى وجہ سے وہ رسول خدا (ص) نيز مسلمانوں كے زيادہ نزديك آگئے_ صلح حديبيہ اور فتح مكہ كے درميان تقريباً دو سال كا ہى فاصلہ ہے اور يہ فتح اس حقيقت پردلالت كرتى ہے كہ اس كے باعث مسلمانوں كے اثر و رسوخ ميں روز بروز اضافہ ہوا_

۵_ اس فتح كے باعث ہى مسلمانوں پر ''فتح خيبر'' كى راہيں كھليں''خيبر'' درحقيقت يہود يوں كى وہ سرطانى غدود تھى جو اسلامى حكومت كيلئے بہت بڑا خطرہ بنى ہوئي تھى اسى طرح مركز شرك ، مكہ كى فتح كا باعث بنى اور سب سے اہم بات يہ تھى كہ عرب معاشرے ميں جو انقلاب رونما ہوا تھا اب وہ حجاز كى باہر پہنچنے لگا چنانچہ يہ صلح حديبيہ كا ہى فيض تھا كہ رسول خدا (ص) كو يہ موقع مل گيا كہ آنحضرت (ص) ايران ، روم اور حبشہ جيسے ممالك كے حكمرانوں كو متعدد خط روانہ كريں اور انہيں دعوت اسلام ديں_


سوالات

۱_ سپاہ احزاب كى شكست كے كيا اسباب تھے ؟ مختصر طور پر بيان كيجئے_

۲_ رسول خدا (ص) نے كونسى جنگ كے بعد :''اَلْيَوْمَ نَغْزُوْهُمْ وَ لَا يَغْزُونَا'' كا جملہ ارشاد فرمايا؟_ مختصر الفاظ ميں اس كا جواب ديجئے_

۳_ رسول خدا (ص) نے ''بنى قريظہ'' كے عہد شكن لوگوں كے ساتھ كيا سلوك كيا ؟

۴_ '' بنى قريظہ'' پر جو مسلمانوں كو فتح ونصرت حاصل ہوئي اس كے كيا نتائج برآمد ہوئے؟

۵_ غزوہ ''بنى مصطلق'' كا واقعہ كب اور كس وجہ سے پيش آيا اور اس كے كيا نتائج برآمد ہوئے؟

۶_ قبيلہ ''بنى مصطلق'' كے لوگ كس وجہ سے دين اسلام كى جانب مائل ہوئے ؟

۷_ رسول خدا (ص) كب اور كتنے مسلمانوں كے ہمراہ عمرہ كرنے كى خاطر مكہ كى جانب روانہ ہوئے ؟

۸_ وہ كون لوگ تھے جنہوں نے غزوہ حديبيہ ميں رسول خدا (ص) كے ساتھ شركت كرنے سے روگردانى كى ؟ اس سفر كے بارے ميں ان كى كيا رائے تھي؟

۹_ ''بيعت رضوان'' كس طرح اور كس مقصد كے تحت كى گئي تھى ؟

۱۰_ صلح حديبيہ كے كيا سودمند اور مفيد نتائج برآمد ہوئے؟


حوالہ جات

۱_سورہ احزاب آيت ۹_

۲_اس كے سلسلے ميں رسول خدا (ص) نے فرمايا تھا :لَمْ يَبْقَ بَيْتٌ منْ بُيُوْت الْمُشْركيْنَ الَّا وَقَدْ دَخَلَهُ وَهْنٌ بقَتْل عَمْرو: _ وَ لَمْ يَبْقَ بَيْتٌ منَ الْمُسْلميْنَ الَّا وَقَدْ دَخَلَهُ عزُّ بقَتْل عَمْرو :_بحارالانوار ج ۲۰ _ ص ۲۰۵(مشركين كے گھروں ميں كوئي گھرايسا نہ بچا جس نے عمرو ابن عبدود كے قتل پر سوگ اور ذلت محسوس نہ كى ہو اور مسلمانوں كے گھروں ميں كوئي گھر ايسا نہ تھا جس نے عمركے قتل پر اظہار خوشى اور اس ميں اپنى عزت محسوس نہ كى ہو''_

۳_اس واقعہ كى تفصيل كيلئے ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۲۴_ ۳۲۶_

۴_الارشاد ص ۵۶ و بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲۰۹_

۵_المغازى ج ۲ ص ۴۹۶_

۶_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۳۳_

۷_المغازى ج ۲ ص ۴۹۶_

۸_السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۳۳_

۹_''سعد '' كے حاكم مقرر كئے جانے كى ممكن ہے يہ وجہ ہو كہ چونكہ قبيلہ اوس اور يہود بنى قريظہ ايك دوسرے كے حليف تھے اور جب مسلمانوں كے ہاتھوں يہودى گرفتار ہو كر آرہے تھے تو اوس قبيلہ كى ايك جماعت رسول خدا (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئي تھى اور آنحضرت (ص) سے اصرار كے ساتھ درخواست كى تھى كہ ان كى خاطر ''بنى قريظہ'' كو بالكل اسى طرح آزاد كرديا جائے جيسے كہ ''بنى قينقاع'' كو عبداللہ ابن ابى خزرجى كى درخواست پر رہا كيا گيا تھا _ رسول خدا (ص) نے اس خےال كے پيش نظر كہ وہ يہ محسوس نہ كريں كہ ان كے ساتھ امتيازى سلوك روا ركھاجارہا ہے ان كے سردار كو حاكم مقرر فرمايا _

۱۰_''ابوعزہ'' وہ مشرك تھا جو اشعار ميں رسول خدا (ص) اور دين اسلام كى ہجو كيا كرتا تھا جنگ بدر ميں وہ اسير ہوا _ اور اس قدر گريہ وزارى كى كہ رسول خدا (ص) نے اسے فديہ لئے بغير ہى اس شرط پر آزاد كرديا كہ وہ اسلام كے خلاف آئندہ كوئي اقدام نہ كرے گا ليكن اس نے اپنے عہد كا پاس نہ كيا اور جنگ احد ميں بھى شريك ہوا


اور اشعار ميں رسول خدا(ص) (ص) كى ہجو بھى كى چنانچہ غزوہ ''حمراء الاسد '' ميں جب دوبارہ گرفتار ہو كر آيا اور رسول خدا (ص) سے معافى كى درخواست كى تو آنحضرت (ص) نے فرمايا كہ : ''لَايُلْدَغُ الْمُوْمنُ منْ حُجْر: وَاحد: مَرَّتَيْن '' (مومن ايك سوراخ سے دوبار نہيں ڈساجاتا) اور اس كے قتل كئے جانے كا حكم صادر فرمايا_

۱۱_السيرة النبويہ ج ۳ ص ۲۵۲ السيرة الحلبيہ ج ۲ ص ۳۴۰_

۱۲_اعلام الورى ص ۷۹_

۱۳_تاريخ اسلام تاليف ڈاكٹر سيد جعفر شہيدى ص ۷۳ _ ۷۵_

۱۴_قرآن مجيد نے جنگ احزاب ميں ''بنى قريظہ '' كے كردار كو اس طرح بيان فرمايا ہے :( وَأَنزَلَ الَّذينَ ظَاهَرُوهُم من أَهل الكتَاب من صَيَاصيهم وَقَذَفَ فى قُلُوبهم الرُّعبَ فَريقًا تَقتُلُونَ وَتَأسرُونَ فَريقًا _وَأَورَثَكُم أَرضَهُم وَديَارَهُم وَأَموَالَهُم وَأَرضًا لَم تَطَئُوهَا وَكَانَ الله ُ عَلى كُلّ شَيئ: قَديرًا ) _ ''(احزاب ۲۶_ ۲۷) _''پھر اہل كتاب ميں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں كا ساتھ ديا تھا اللہ ان كے قلعوں سے انہيں اتار لايا اور ان كے دلوں ميں ايسارعب ڈال ديا كہ آج ان ميں سے ايك گروہ كو تم قتل كر رہے ہو اور دوسرے گروہ كو قيد كررہے ہو اور ان كے اموال كا وارث بنا ديا اور وہ علاقہ تمہيں ديا جس پر تم نے كبھى قدم بھى نہيں ركھا تھا اوراللہ ہر چيز پر قادر ہے''_

۱۵_الارشاد ص ۵۸_

۱۶_مناقب آل ابى طالب ج ۱ ص ۱۹ _۲۰_

۱۷_تفسير القمى ج ۲ ص ۱۸۹_ ۱۹۲_

۱۸_اعلام الورى ص ۱۰۲ ومجمع البيان ج ۷ ص ۳۵۲ _ ۳۵۳_

۱۹_بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲۱۰_ ۲۱۲_

۲۰_الميزان ج ۱۶ ص ۳۰۲_

۲۱_التنبيہ و الاشراف مسعودى ص ۲۱۸_

۲۲_اس كى وجہ تسميہ شايد يہ تھى كہ اس سال صلح حديبيہ كے فيض سے مسلمين اور غير مسلمين كے درميان ديگر برسوں كى نسبت تعلقات زيادہ خوشگوار رہے اور مختلف افراد ايك دوسرے كے ساتھ بالخصوص اسلام اور رسول


خدا (ص) سے زيادہ مانوس ہوئے_مترجم_

۲۳_ان غزوات اور سرايا سے متعلق مزيد اطلاع كيلئے ملاحظہ ہو : تاريخ پيامبر(ص) تاليف آيتى مرحوم ص ۳۹۰ _۴۲۵_

۲۴_واقدى اور ابن سعد نے لكھا ہے كہ يہ غزوہ ماہ شعبان سنہ ۵ ہجرى ميں پيش آيا ملاحظہ ہو المغازى ج ۱ ص ۴۰۴ واطبقات الكبرى ج ۲ ص ۶۳_

۲۵_فريد'' نامى مقام كے نواح ميں ساحل كى جانب ايك علاقہ ہے معجم البلدان ج ۵ ص ۱۱۸_

۲۶_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ج ۳ ص ۳۰۷_ ۳۰۸_

۲۷_المغازى ج ۲ ص ۵۷۲ _ ۵۷۴ ، الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۹۵_

۲۸_المغازى ج ۲ ص ۵۷۴_ ۵۷۵_

۲۹_سورہ فتح آيت ۱۲_

۳۰_يہ جگہ مكہ سے تقريباً ۲۰ كيلومٹر دور واقع ہے اور چونكہ يہاں اس نام كا پانى كا كنواں تھايا اس نام كے درخت كثرت سے تھے اس لئے يہ جگہ اس نام سے مشہور ہوئي (ملاحظہ ہو : معجم البلدان ج ۲ ص ۲۲۹) آج يہ مقام مكہ كے بالكل كنارے پر واقع ہے_

۳۱_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ج ۳ ص ۳۲۵ _۳۲۹_

۳۲_ سورہ فتح آيت ۱۸_

۳۳_السيرة النبويہ ج ۳ ص ۳۳۰ _ ۳۳۴_

۳۴_ان لوگوں كا كہنا تھا كہ يہ كيسى فتح ہے ہميں نہ تو زيارت خانہ كعبہ ميسر آئي اور نہ ہى ہم منا ميں قربانى كرسكے : نور الثقلين ج ۵ ص ۴۸ بلكہ بعض تو آپ(ص) كى نبوت كے متعلق بھى شكوك و شبہات كا شكار ہوگئے_

۳۵_سورہ فتح آيت ۱_

۳۶_تفسير نور الثقلين ج ۵ ص ۴۸_


سبق ۱۳:

جنگ موتہ


دنيا كے بڑے بڑے حكمرانوں كو دعوت اسلام

صلح ''حديبيہ '' كے بعد رسول خد ا(ص) كو قريش كى جانب سے اطمينان خاطر ہوگيا _ اب وقت آگيا تھا كہ آنحضرت (ص) تبليغ دينكے محدودے كو سرزمين حجاز سے باہر تك پھيلائيں چنانچہ آپ (ص) نے دنيا كے ارباب اقتدار كو دين اسلام كى دعوت دينے كا عزم كرليا اور ماہ محرم سنہ ۷ ہجرى ميں چھ سفير رسول خدا (ص) كے چھ خط لے كر ايران، روم ، حبشہ ، مصر ، اسكندريہ اوريمامہ كى جانب روانہ ہوئے_(۱)

رسول خد ا(ص) كے خطوط جب مذكورہ بالا ممالك كے بادشاہوں تك پہنچے تو ہر ايك سے مختلف رد عمل ظاہر ہوا ، حبشہ كے بادشاہ نجاشى اور روم كے فرمانروا ''ہرقل'' نے آنحضرت (ص) كے رسول خدا (ص) ہونے كى گواہى دى اور كہا كہ انجيل ميں ہميں آپ (ص) كى آمد كے بارے ميں خوشخبرى دى جا چكى ہے اوريہ آرزو كى كہ آپ (ص) كى ركاب ميں رہنے كا شرف حاصل كريں_(۲)

مصر اور اسكندريہ كا فرمانروا ''مقوقس''اگرچہ دين اسلام سے تو مشرف نہ ہوسكا ليكن رسول خد ا(ص) كے خط كا جواب اس نے بہت نرم لہجے ميں ديا اور ساتھ ہى چند تحائف بھى روانہ كئے انہى ميں حضرت ''ماريہ قبطيہ'' بھى شامل تھيں جن كے بطن سے رسول خدا (ص) كے فرزند حضرت ابراہيم (ع) كى ولادت ہوئي_(۳)

''تخوم شام'' كے حاكم ''حارث بن ابى شَمر'' ،يمامہ كے فرمانروا ''سليط بن عمرو'' اور


بادشاہ ايران ''خسرو پرويز'' نے اس بنا پر كہ ان كے دلوں ميں حكومت كى چاہ تھى رسول خدا (ص) كے خط كا جواب نفى ميں ديا_

بادشاہ ايران نے رسول خد ا(ص) كے نامہ مبارك كو چاك كرنے كے علاوہ يمن كے فرمانروا كو جو اس كے تابع تھا ،اس كام پرمامور كيا كہ وہ افراد كو حجاز بھيجے تاكہ رسول خدا (ص) كے بارے ميں تحقيقات كريں _(۴)

حجاز سے يہوديوں كے نفوذ كا خاتمہ

رسول خد ا(ص) جب صلح ''حديبيہ'' كے فيض و بركت سے جنوبى علاقے (مكہ) كى طرف سے مطمئن ہوگئے تو آپ (ص) نے فيصلہ كيا كہ وہ يہودى جو مدينہ كے شمال ميں آباد ہيں ان كا معاملہ بھى بنٹا ديں كيونكہ ان كا وجود اسلامى حكومت كيلئے خطرہ ہونے كے علاوہ شمالى حدود ميں اسلام كى توسيع و تبليغ ميں بھى مانع تھا اس لئے كہ جب رسول خدا (ص) كے قطعى لہجے اور عزم راسخ كى بنياد پر بڑى طاقتوں نے يا تو دين اسلام قبول كيا تھا ياپھر انہيں حكومت كى چاہ نے شديد رد عمل كيلئے مجبوركيا تھا صورت ضرورى تھا كہ اسلامى حكومت كا اندرونى حلقہ ان خيانت كار عوامل اور ان غدار اقليتوں سے پاك و صاف رہے جو دشمن كے ساتھ سازباز كرنے والى تھيںاور ان كے لئے پانچويں ستوں كا كام دے رہى تھيں تاكہ جنگ ''احد'' اور ''احزاب'' جيسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور ايسا ميدان ہموار ہوجائے كہ بالفرض باہر سے كسى عسكرى و اقتصادى خطرے كا احتمال ہو تو اس كا اطمينان سے سد باب كياجاسكے_


غزوہ خيبر

خيبر(۵) يہوديوں كا مضبوط ترين عسكرى مركز تھا كہ جس ميں دس ہزار سے زيادہ جنگجو(۶) سپاہى مقيم تھے ، رسول خد ا(ص) نے فيصلہ كيا كہ سب سے پہلے اس جگہ كو ان كے وجود سے پاك كياجائے(۷) چنانچہ ماہ محرم سنہ ۷ ہجرى ميں سولہ سو (۱۶۰۰)جنگ آزما سپاہيوں كو ساتھ لے كر آپ (ص) مدينہ سے خيبر كى جانب روانہ ہوئے اور راتوں رات ان كے قلعوں كا محاصرہ كرليا ، اس لشكر كے علمدار حضرت على (ع) تھے_

قلعہ والوں نے يہ فيصلہ كيا كہ عورتوں اور بچوں كو ايك اور ساز وسامان و خوراك كو دوسرے مطمئن قلعے ميں محفوظ كرديں ،اس اقدام كے بعد انہوں نے ہر قلعے كے تير اندازوں كو حكم ديا كہ مسلم سپاہ كو اندر داخل ہونے سے روكيں اور ضرورت پڑنے پر قلعے كے باہر موجود دشمن سے بھى جنگ كريں _

سپاہ اسلام نے دشمن كے سات ميں سے پانچ قلعے فتح كرلئے اس جنگ ميں تقريباً پچاس(۵۰) مجاہدين اسلام زخمى ہوئے اور ايك كو شہادت نصيب ہوئي_

باقى دو قلعوں كو فتح كرنے كيلئے رسول خدا (ص) نے پہلے پرچم جناب ابوبكر كو ديا مگر انہيں اس مقصد ميں كاميابى نصيب نہ ہوئي اگلے دن حضرت عمر كو سپاہ كى قيادت دى گئي ليكن وہ بھى كامياب نہ ہوسكے_

تيسرے روز حضرت على (ع) كو يہ قلعہ فتح كرنے پر ماموركيا گيا، آپ (ع) نے پرچم سنبھالا اور دشمن پر حملہ كرنے كيلئے روانہ ہوئے _

ادھر سے يہوديوں كے معروف دلير شہ زور '' مرحب '' بھى زرہ و فولاد ميں غرق قلعے سے نكل كر باہر آيا اور پھردونوں شہ زوروں كے درميان نبرد آزمائي شروع ہوئي دونوں ايك دوسرے پر وار كرتے رہے كہاچانك حضرت (ع) كى شمشير براں مرحب كے فرق پر پڑى جس


كے باعث اس كے خود اور سر كى ہڈى كے دو ٹكڑے ہوگئے ، مرحب كے ساتھيوں نے جب يہ منظر ديكھا تو ان كے حوصلے پست ہو گئے اور وہ فرار كركے قلعوں ميں پناہ گزيں ہوئے جہاں انہوں نے اپنے اوپر اس كا دروازہ بھى بند كرليا ليكن حضرت على (ع) نے اپنى روحانى طاقت اور قدرت خدا كى مدد سے قلعے كے اس دروازے كو جسے كھولنے اور بند كرنے پر بيس(۸) آدمى مقرر تھے اكھاڑليا اور قلعہ كے باہر بنى ہوئي خندق پر ركھ ديا تاكہ سپاہى اس پر سے گزر كر قلعے ميںداخل ہوسكيں _(۹)

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے دشمن كے سب سے زيادہ محكم ومضبوط قلعہ كو فتح كركے فتنہ خيبر كا خاتمہ كرديا اور يہوديوں نے اپنى شكست تسليم كرلي، اس جنگ ميں پندرہ مسلمان شہيد اور ترانوے(۹۳) يہودى تہ تيغ ہوئے _(۱۰)

يہوديوں پر فتح پانے كے بعد اگر رسول خد ا(ص) چاہتے تو تمام خيانت كاروں كو سزائے موت دے سكتے تھے ، انہيں شہر بدر اور ان كے تمام مال كو ضبط كيا جاسكتا تھا مگر آنحضرت (ص) نے ان كے حق ميں نہايت درگذراور فراخ دلى سے كام ليا چنانچہ انہى كى تجويز پر انہيں يہ اجازت دے دى گئي كہ اگر چاہيں تو اپنے ہى وطن ميں رہيں اور اپنے دينى احكام كو پورى آزادى كے ساتھ انجام ديں بشرطيكہ ہر سال اپنى آمدنى كا نصف حصہ بطور جزيہ اسلامى حكومت كو ادا كريں اور رسول خدا(ص) جب بھى مصلحت سمجھيں گے انہيں خيبر سے نكال ديں گے_(۱۱)

غزوہ خيبر ميں ''حُيَّى بن اخطب'' كى بيٹى ''صفيہ'' دوران جنگ مسلمانوں كى قيد ميں آئي تھيں رسول خدا(ص) نے''غزوہ خيبر'' سے فراغت پانے كے بعد پہلے تو انہيں آزاد كيا اورپھر اس سے نكاح كرليا _(۱۲) اسى عرصے ميں يہ اطلاع بھى ملى كہ حضرت''جعفر بن ابى


طالب'' حبشہ سے واپس آگئے ہيں جسے سن كر آنحضرت (ص) نے فرمايا كہ :''ان دو خبروں ميں سے كس پر اپنى مسرت كا اظہار كروں ، جعفر كى آمد پر يا خيبر كے فتح ہونے پر _(۱۳)

فدك

خيبر كے يہوديوں پر فتح پانے كے بعد مسلمانوں كا سياسى ، اقتصادى اور عسكرى مقام ومرتبہ بہت بلند ہوگيا اس علاقے ميں آباد يہوديوں پر كارى ضرب لگى اور ان پر مسلمانوں كا رعب بيٹھ گيا _

رسول خد ا(ص) كو جب خيبر كے يہوديوں كى طرف سے يكسوئي ہوئي تو آنحضرت (ص) نے حضرت على (ع) كو وفد كے ہمراہ ''فَدَك''(۱۴) كے يہوديوں كے پاس روانہ كيا اور فرمايا كہ يا تو وہ دين اسلام قبول كريں يا جزيہ ديں يا پھر جنگ كےلئے تيار ہوجائيں_

فدك كے يہودى اپنى آنكھوں سے خيبر كے يہوديوں كى شكست ديكھ چكے تھے اور انہيں يہ بھى معلوم تھا كہ انہوں نے رسول خد ا(ص) كے ساتھ مصالحت كرلى ہے اسى لئے انہوں نے صلح كو قتل اور قيد و بند پر ترجيح دى اور اس بات كيلئے آمادہ ہوگئے كہ ان كے ساتھ بھى وہى سلوك كيا جائے جو خيبر كے يہوديوں كے ساتھ روا ركھا گيا ہے ، رسول خدا (ص) نے ان كى درخواست كو قبول كرليا(۱۵) چونكہ فدك كسى جنگ و خون ريزى كے بغير فتح ہوگيا تھا اسى لئے اسے خالص رسول خدا(ص) كى ذاتى ملكيت ميںشامل كرليا گيا اس جگہ كے متعلق ايسى بہت سى روايات موجود ہيں جن سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ خداوند تعالى كے حكم سے رسول خدا(ص) نے فدك اپنى دختر نيك اختر حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا كو عطا كرديا_(۱۶)


غزوہ وادى القري

رسول خدا (ص) نے يہود كى ''خيبر'' اور ''فدك'' جيسى پناہ گاہوں كو نيست ونابود كرنے كے بعد ''وادى القري'' كى تسخير كا ارادہ كيا اور يہوديوں كے قلعے كا محاصرہ كرليا ، انہوںنے جب يہ ديكھا كہ قلعہ بند رہنے سے كوئي فائدہ نہيں تو انہوں نے بھى اپنى شكست تسليم كرلى ، رسول خدا (ص) نے ان كے ساتھ بھى وہى معاہدہ كيا جو اس سے قبل خيبر كے يہوديوں كے ساتھ كيا جاچكاتھا(۱۷) _

''تيماء يہود'' كے نام سے مشہور(۱۸) علاقہ '' تيمائ''(۱۹) كے يہودى باشندوں نے جو رسول خدا (ص) كے سخت دشمن تھے ، جب دوسرے بھائيوں كى يہ حالت ديكھى تو ان سے درس عبرت حاصل كيا اور اس سے قبل كہ رسول خدا(ص) انكى گوشمالى كے لئے ان كى جانب رخ كريں وہ خود ہى آنحضرت (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور يہ وعدہ كركے كہ ''جزيہ'' ادا كريںگے رسول خدا (ص) سے معاہدہ صلح كرليا(۲۰) اور اس طرح حجاز ميں جتنے بھى يہودى آباد تھے انہوں نے اپنى شكست قبول كرلى اور يہ تسليم كرليا كہ اس علاقے كى اصل طاقت اسلام ہى ہے_

مكہ كى جانب روانگي

جب حجاز ميں اندرونى طور پر امن بحال ہوگيا اور دشمنوں كو غير مسلح كركے شورشوں اور سازشوں كا قلع قمع كرديا گيا نيز صلح ''حديبيہ'' كو ايك سال گزر گياتو رسول خد ا(ص) نے فيصلہ كيا كہ اصحاب كے ہمراہ مكہ تشريف لے جائيں اور زيارت كعبہ سے مشرف ہوں چنانچہ يكم ذى القعدہ سنہ ۷ ہجرى كو آنحضرت (ص) دو ہزار (۲۰۰۰) مسلم افراد كے ہمراہ عمرہ كرنے كى نيت


سے مكہ كى جانب روانہ ہوئے_

وہ قافلہ جو عمرہ كرنے كى نيت سے روانہ ہوا تھا اس كے آگے آگے (۱۰۰) مسلح گھڑ سوار چل رہے تھے تاكہ دشمن كى طرف سے كوئي خطرہ ہو تو وہ ان مسافرين كا دفاع كرسكيں جن كے پاس اتنا ہى اسلحہ تھا جسے عام مسافر وقت سفر ان دنوں ركھا كرتے تھے _

جس وقت سپاہ اسلام كا مسلح ہر اول دستہ ''مرالظہران''(۲۱) نامى مقام پر پہنچا تو قريش كے سرداروں كو مسافرين كى آمد كا علم ہو اچنانچہ انہوں نے يہ اعتراض كيا كہ اسلحہ كے ساتھ مكہ ميں داخل ہونا ''صلح حديبيہ'' كے معاہدے كى خلاف ورزى ہے_

اس پر رسول خدا (ص) نے فرمايا كہ ہم اسلحہ ساتھ لے كر حرم ميں نہيںجائيں گے، مشركين نے مكہ خالى كرديا اور اطراف كے پہاڑوں پر چڑھ گئے تاكہ رسول خدا(ص) اور اصحاب رسول(ص) كى تبليغ سے محفوظ رہتے ہوئے اوران كى حركات نيز افعال كا مشاہدہ كرسكيں_

رسول اكرم (ص) اپنے دو ہزار صحابيوں سميت خاص جاہ وجلال كے ساتھ مكہ ميں تشريف فرماہوئے ، جس وقت آپ (ص) خانہ كعبہ كى جانب تشريف لے جارہے تھے تو فضا''لبَبَّيكَ اللَّهُمَّ لَبَّيكَ'' كے نعروں سے ايسى گونج رہى تھى كہ مشركين كے دلوں پرغير معمولى رعب وخوف طارى تھا _

ناقہ رسول اكرم(ص) كى مہار حضرت'' عبداللہ ابن رواحہ'' پكڑكرچل رہے تھے وہ نہايت ہى فخريہ انداز ميں رجزيہ بيت پڑھ رہے تھے_

خَلُّوا بَني الكُفَّارَ عَن سَبيله

خَلُّوا فَكُلُّ الخَير في رَسُوله(۲۲)

''اے كفار كى اولاد رسول خد ا(ص) كےلئے راستہ صاف كردو انہيں آگے آنے كيلئے راستہ دو كيونكہ آنحضرت (ص) ہر خير كا منبع اور ہر نيكى كا سرچشمہ ہيں ''_


رسول خدا (ص) پر اصحاب رسول (ص) پروانہ وار نثار تھے چنانچہ آپ(ص) ان كے حلقے ميں خاص رعب ودبدبے كے ساتھ داخل مكہ ہوئے اور طواف كرنے كيلئے ''مسجدالحرام'' ميں تشريف لے گئے_

اس سياسى عبادى سفر سے ممكن فائدہ اٹھانے كى خاطر رسول خدا (ص) نے فرمايا كہ زائرين زيادہ سے زيادہ اپنى دينى قوت كا مظاہرہ كريں(۲۳) نيز جس وقت طواف كريں تو حركت تيزى كے ساتھ كى جائے ، احرام كے كپڑے كو اپنے جسم كے ساتھ اس طرح لپيٹيں كہ قوى و تند مند بازو لوگوں كو نظر آئيں تاكہ ديكھنے والوں پر ان كى ہيبت طارى ہو _(۲۴)

ظہر كے وقت حضرت ''بلال'' كو حكم ديا گيا كہ وہ خانہ كعبہ كى چھت پر جائيں اور وہاں سے اذان ديں تاكہ خداوند تعالى كى وحدانيت اور رسول خد ا(ص) كى عظمت مجسم كا اہل مكہ عينى مشاہدہ كرسكيں اور جو لوگ فرار كركے پہاڑوں پر چلے گئے ہيں وہ يہ بات اچھى طرح جان ليں كہ اب وقت فرار گزر چكا ہے واپس آجائو ، نماز اور فلاح كى جانب آنے ميں جلدى كرو_

''حَيَّ عَلَى الصَّلوة ، حَيَّ عَلَى الفَلَاَح''

حضرت بلال كى آواز نے قريش كے سرداروں پر ہر كچل دينے والى ضرب اور ہر شمشير براں سے زيادہ اثر كيا اور انتہائي طيش وغضب ميں آكر ايك دوسرے سے كہنے لگے كہ ''خدا كا شكر ہے كہ ہمارے باپ دادا اس غلام كى آواز سننے سے پہلے ہى اس دنيا سے كو چ كرگئے اور انہيں يہ دن ديكھنا نصيب نہ ہوا''_

اس طرح ''عمرہ القضا'' كاميابى اور كامرانى كے ساتھ ادا ہوا ، جس كے ذريعے خانہ كعبہ كى زيارت بھى ہوگئي اور عبادت بھى اس كے ساتھ ہى كفر كو اسلام كى طاقت كا اندازہ


ہوا اور آئندہ سال فتح مكہ كا ميدان بھى ہموار ہوگيا چنانچہ اس كے بہت سے سياسى ، عسكرى اورثقافتى اثرات نہ صرف اہل مكہ و قبائل اطراف بلكہ خود مسلمانوں كے قلوب پر نقش ہوئے_

يہ سياسى عبادى تحريك قريش كے سرداروں كے دلوں پر ايسى شقاق و گراں گزرى كہ انہوں نے تين دن بعد ہى رسول خد ا(ص) كى خدمت ميں اپنا نمائندہ روانہ كيا اور كہا كہ جس قدر جلد ممكن ہوسكے مكہ سے چلے جائيں_

اس سفر ميں رسول خدا (ص) نے مكہ كى ''ميمونہ'' نامى خاتون سے رشتہ ازدواج قائم كيا تاكہ قرش كا تعلق آپ (ص) كے ساتھ مستحكم اور دشمنى وعداوت كا جذبہ كم ہوجائے كيونكہ اس كى قريش كے سرداروں سے قرابت دارى تھى(۲۵) يہى نہيں بلكہ رسول خدا (ص) نے يہ بھى چاہاكہ شادى كى رسومات مكہ ميں ادا كردى جائيں اور آپ (ص) قريش كو دعوت وليمہ ميں مدعو فرمائيں اگريہ كام انجام پذير ہوجاتا تو اہل مكہ كو اپنى طرف مائل كرنے ميںمؤثر ہوتا مگر افسوس اہل مكہ نے اس تجويز كوقبول نہ كيا چنانچہ رسول خدا (ص) نے يہ رسم مكہ سے واپس آتے وقت ''سرف''(۲۶) نامى مقام پر پورى كي_(۲۷)

جنگ ''موتہ''

مدينہ كے شمال ميں اور مدينہ سے شام كى طرف پرنے والے تجارتى رستے ميں آبادخيبر' فدك ' وادى القرى اور تيماء جيسے يہود يوں كے مراكز اور اہم مقامات كا قلع قمع ہونے كے ساتھ ہى اسلام كے سياسى اورمعنوى نفوذكا ميدان شمالى سرحدوں كى جانب مزيد ہموار ہوگيا_


اس علاقے كى اولاً اہميت اس وجہ سے تھى كہ وہ عظیم ترين تمدن جو اس زمانے ميں سياسى 'عسكرى ' اجتماعى اور ثقافتى اعتبار سے انسانى معاشرے كا اعلى و نماياں ترين تمدن شمار كيا جاتا تھا يہيں پرورش پارہا تھا دوسرى وجہ اس كا سرچشمہ آسمانى آئين و قانون تھا يعنى وہ آئين و قانون جس كى دين اسلام سے بيشتر واقفيت و ہم آہنگى ہونے كے علاوہ اس كے اور اسلام كے درميان بہت سى مشترك اقدار تھيں او ريہ مقام ديگر مقامات كى نسبت بہتر طور پر اور زيادہ جلدى حالات كو درك كرسكتا تھا اس كے علاوہ جغرافيائي اعتبار سے بھى يہ جگہ مدينہ سے نزديك تر تھى اور شايد يہى وجہ تھى كہ رسول خدا (ص) نے فتح مكہ سے قبل روم كى جانب توجہ فرمائي_

رسول خدا (ص) نے حضرت ''حارث بن عمير'' كے ہاتھ اپنا خط ''بصرہ'' كے بادشاہ كے نام جو ''قيصر'' كا دست پروردہ تھا روانہ كيا جس وقت رسول خدا (ص) كا يہ ايلچى ''موتہ''(۲۸) نامى گائوں پہنچا تو شرحبيل غسانى نے اسے قتل كرديا يہ واقعہ رسول خدا (ص) پر انتہائي شاق گزرا اور آنحضرت (ص) نے فوراً يہ فيصلہ كرليا كہ اس كا سد باب كياجائے چنانچہ آپ (ص) نے ماہ جمادى الاول سنہ ۸ ہجرى ميں تين ہزار سپاہيوں پر مشتمل لشكر ''موتہ'' كى جانب روانہ كرديا_

اس وقت تك مدينہ سے باہر جتنے بھى لشكر روانہ كئے گئے ان ميں سے سب سے بڑا لشكر تھا ،رسول خدا (ص) اسے رخصت كرنے كيلئے مسلمانوں اور سپاہيوں كے قرابت داروں كے ہمراہ مدينہ كے باہر تك تشريف لائے حضرت'' زيد بن حارثہ'' كوسپہ سالار نيز حضرت ''جعفر ابن ابى طالب '' و حضرت ''عبداللہ بن رواحہ'' كو حضرت زيد كا پہلا اور دوسرا نائب مقرر كرنے(۲۹) كے بعد آپ (ص) نے اس كى وضاحت فرمائي كہ جس معركہ كو سر كرنے كيلئے جارہے ہيں اس كى كيا اہميت ہے اس كے ساتھ ہى آنحضرت (ص) نے ان كے حق ميں دعائے


خير فرمائي_

لشكر اسلام شام كى جانب روانہ ہوا ،''معان''(۳۰) نامى جگہ پر اطلاع ملى كہ قيصر كے دو لاكھ عرب اور رومى سپاہى ''مآب'' نامى مقام پر جمع ہوگئے ہيں_

يہ خبر سننے كے بعد مسلمانوں ميں تردد پيدا ہوگيا اور يہ فيصلہ نہ كرسكے كہ واپس چلے جائيں يا وہيں مقيم رہيں اور پورے واقعے كى اطلاع رسول خدا (ص) كو پہنچائيں يا پھر اسى مختصر سپاہ كے ساتھ اس فرض كو انجام ديں جس پر انہيں مامور كيا گيا ہے اور سپاہ روم كے ساتھ جنگ كريں_

اس اثناء ميں حضرت ''عبداللہ بن رواحہ'' اپنى جگہ سے اٹھے اور لشكر كے سامنے تقرير كرتے ہوئے انہيں يہ ترغيب دلائي كہ اپنے فرض كو ادا كريں اور سپاہ روم كے ساتھ نبردآزماہوں ان كى تقرير نے سپاہ كے اندر ايسا جوش و ولولہ پيدا كيا كہ سب نے متفقہ طور پر فيصلہ كيا كہ سپاہ روم كے ساتھ جنگ كى جائے چنانچہ اس كے بعد وہ لشكر موتہ ميں ايك دوسرے كے مقابل تھے_

حضرت زيد نے پرچم سنبھالا اور جان پر كھيل كر وہ دوسرے مجاہدين كے ساتھ شہادت كے شوق ميں بجلى كى طرح كوندتے ہوئے سپاہ دشمن پر ٹوٹ پڑے دشمن تجربہ كا راور جنگ آموزدہ تھا اس كا لشكر نيزوں 'تلواروں اور تيز دھار تيروں سے آراستہ تھا اور اس طرف كلمہ توحيد ' جسے بلند وبالا كرنے كيلئے سپاہ اسلام نے ہر خطرہ اپنى جان پر مول ليا تھا اورسپاہ روم پر يہ ثابت كرديا كہ وہ اپنے دين و آئين اور مقدس مقصد كو فروغ دينے كى خاطر جان تك دينے كيلئے دريغ نہيں كرتے_

دشمن كى توجہ سپاہ اسلام كے عملدار كى جانب مبذول ہوئي اس نے اسے اپنے نيزوں


كے حلقے ميں لے كر اسے زمين پر گراديا، حضرت ''جعفر(ع) ابن ابى طالب(ع) '' نے فوراً ہى پرچم كو اپنے ہاتھ ميں لے كرلہر ايا اور دشمن پر حملہ كرديا ، جس وقت انہوں نے خود كو دشمن كے نرغے ميں پايا اور يہ يقين ہوگيا كہ شہادت قطعى ہے تو اس خيال سے كہ ان كا گھوڑا دشمن كے ہاتھ نہ لگے اس سے اتر گئے اور پيدل جنگ كرنے لگے يہاں تك كہ ان كے دونوں ہاتھ قطع ہوگئے آخر كار تقريباً اسى(۸۰) كارى زخم كھا كر شہادت سے سرفراز ہوئے_

حضرت جعفر (ع) كى شہادت كے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ نے پرچم اسلام سنبھالا اور سپاہ روم كے قلب پر حملہ كرديا وہ بھى دليرانہ جنگ كرتے كرتے شہادت سے ہمكنار ہوئے_

''خالد بن وليد حال ہى میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے وہ بڑے ہى چالاك اور جنگجو انسان تھے ، مجاہدوں كى تجويز اور رائے پر اسے سپہ سالار مقرر كرديا گيا جب انہيں جنگ كرنے ميں كوئي فائدہ نظر نہ آيا تو انہوں نے اب جنگى حربہ تبديل كيا(۳۱) جس كى وجہ سے روميوں ميں تردد پيدا ہوگيا اور اس نے اپنى فوج كو يہ سوچ كر پيچھے ہٹا ديا كہ آيا جنگ كى جائے يا نہيں ؟ _ اپنى اس حكمت عملى سے انہوں نے دشمن كے دولاكھ سپاہيوں سے سپاہ اسلام كو نجات دلائي اور واپس مدينہ آگئے_(۳۲)

ابن ہشام نے جنگ ميں شہداء كى تعدادبارہ(۳۳) اور واقدى نے آٹھ آدمى بيان كى ہے(۳۴) _

جنگ موتہ كے نتائج

جنگ موتہ گرچہ بظاہر مسلمانوں كى شكست اور سپہ سالاروں كى شہادت پر تمام ہوئي اور


قريش نے اسے اپنى دانست ميں مسلمانوں كى ناتوانى سے تعبير كى _اس لئے اس جنگ كے بعد وہ ايسے دلير ہوگئے كہ انہوں نے قبيلہ ''بنى بكر'' كو اس وجہ سے مدد دينى شروع كردى كہ اس كى ان لوگوں كے ساتھ سازو باز ہوچكى تھى جس كے پس پردہ يہ سازش تھيكہ وہ ان كے اور قبيلہ ''خزاعہ'' كے درميان اس بناپر كشت وكشتار كا بازار گرم كردايں كہ اس قبيلے كا رسول خد ا(ص) كے ساتھ دوستى كا عہد وپيمان ہے چنانچہ انہوں نے قبيلہ ''خزاعہ'' كے چند افراد كو قتل كرديا اور صلحنامہ حديبيہ سے بھى روگردان ہوگئے نيز رسول خدا(ص) كے خلاف اعلان جنگ كرديا(۳۵) ليكن جب ہم اس جنگ كى اہميت كے بارے ميں غورو فكر كريں گے تو اس نتيجے پر پہنچيں گے يہ جنگ سياسى طور پر اور دين اسلام كى اشاعت كيلئے نہايت سودمند ثابت ہوئي كيونكہ اس وقت ايران وروم جيسى دو بڑى طاقتوں كا اس عہد كى دنيا پر غلبہ تھا ان كے علاوہ جو بھى دوسرى حكومتيں تھيں وہ سب كسى نہ كسى طرح سے انہى كى دست پروردہ تھيں اور ان ميں اتنى تاب ومجال تك نہ تھى كہ يہ سوچ سكيں كہ ايسا دن بھى آسكتا ہے كہ وہ ان كے مقابلے پرآ سكيں گے ان دونوں حكومتوں ميں بھى روميوں كو ايرانيوں پر اس وجہ سے برترى حاصل تھى كہ انہوں نے ايران سے جنگ ميں مسلسل كئي فتوحات حاصل كى تھيں_

جزيرہ نمائے عرب كو ايران نے مشرقى جانب سے اورروم نے مغربى طرف سے اس طرح اپنے حلقے اور نرغے ميں لے ركھا تھا جيسے انگوٹھى كے درميان نگينہ اور ان دونوں ہى بڑى طاقتوں كے اس خطہ ارض سے مفادات وابستہ تھے اورانہوںنے يہاں اپنى نو آباديات بھى قائم كر ركھى تھيں(۳۶) _

جنگ موتہ نے ان دونوں بڑى طاقتوں بالخصوص روم كو يہ بات سمجھادى كہ اس كے اقتدار كا زمانہ اب ختم ہوا چاہتاہے اور دنيا ميں تيسرى طاقت ''اسلام'' كے نام سے پورے


كروفر كے ساتھ منظر عام پر آچكى ہے اور اس كے پيروكار ايمان كے زير سايہ اور خلوص وعقيدت كى بناپر جو انہيں اس دين اور اس كے قائد سے ملا ہے اپنے ، اعلى مقاصد كو حاصل كرليتے ہيں اور اس كے حصول كى خاطر وہ دشمن كى كثير تعداد اور سامان جنگ كى فراوانى سے ذرا بھى خوف زدہ نہيں ہوتے چنانچہ يہى وہ كيفيت تھى جس نے ان بڑى طاقتوں كے دلوںميں اسلام كا رعب و دبدبہ قائم كرديا_

دوسرى طرف جزيرہ نما ئے عرب ميں ان طاقتوں كے دست پروردہ افراد كو عملى طور پر يہ معلوم ہوگيا كہ وہ قليل افرادجو اپنے مقصد و ارادے ميں مضبوط و محكم ہيں روم جيسى بڑى طاقت سے جس كى سپاہ كى تعداد كل مسلمانوں كى تعداد سے ساٹھ گنا زيادہ ہے ٹكر لے سكتے ہيں اور ان كے گھروں ميں گھس كر انہيں ذليل و خوار تك كرسكتے ہيں چنانچہ يہى وجہ تھى كہ اب دشمنان، اسلام كى عسكرى طاقت كا اعتراف كرنے لگے اور اس كى عظمت كارعب ان كے دلوں ميں بيٹھ گيا اور اب انہيں يہ بخوبى اندازہ ہوگيا كہ آئندہ مسلمان ان كے سامنے زيادہ قوت اور حوصلہ مندى كے ساتھ اب سے زيادہ وسيع ميدانوں ميں نبرد آزما ہونے كيلئے ظاہر ہوں گے_


سوالات

۱_رسول خدا(ص) نے كب اور دنيا كے كن ممالك كو دين اسلام كى دعوت كا پيغام بھيجا ؟

۲_ اس دعوت كا مختلف ممالك كے سربراہوں پر كيا رد عمل ہوا ؟ مختصر طور پر بيان كيجئے_

۳_ غزوہ خيبر كب پيش آيا اور اس ميں كيا محركات كار فرما تھے؟

۴_ غزوہ خيبر كس طرح اختتام پذير ہوا ؟ اس جنگ ميں حضرت على (ع) نے كيا كردار ادا كيا؟

۵_ كيا رسول خدا (ص) كا خيبر كے يہوديوں كے علاوہ ان ديگر يہود كے ساتھ بھى جو مدينہ كے شمال ميں تھے كوئي مقابلہ ہوا؟ وہ مقابلہ كس طرح اور كہاں ہوا؟

۶_ ''عمرة القضائ'' كا واقعہ كب پيش آيا ؟ اس كى ادائيگى ميں كتنے لوگوں نے شركت كى اور اس كے كيا نتائج برآمد ہوئے؟

۷_ سريہ ''موتہ'' كا واقعہ كب ہوا؟ اس ميں كتنے مسلمانوں نے شركت كى ؟ ان كے فرمانروا كے نام كيا تھے اس سريہ كى سياسى و ثقافتى اہميت كے بارے ميں بتايئے_

۸_ سريہ موتہ كا كيسے خاتمہ ہوا؟ اور اس كے كيا نتائج برآمد ہوئے؟


حوالہ جات

۱_الطبقات الكبرى ج ۱ ص ۲۵۸_۲۶۲_

۲_ايضا ص ۲۵۹_

۳_ايضا ص ۲۶۰_

۴_اےضا ص ۲۵۹_ ۲۶۲_

۵_يہ جگہ مدينہ سے ۸ بريد يعنى تقريباً۹۶ كيلومٹر كے فاصلے پر واقع ہے (ہر بريد دو فرسخ كا ہوتا ہے اور ہر فرسخ تين ميل كا ہوتا ہے _ بنابرايںلفظ بريد كيلئے ملاحظہ ہو : لسان العرب ج ۳ ص ۸۶)خيبر ميں بہت سے قلعے ، كشت زار اور نخلستان واقع تھے (ملاحظہ ہو : معجم البلدان ج ۲ ص ۴۰۹ وفاء الوفا ج ۳_۴ ص ۱۲۰۹)_

۶_المغازى ج ۲ ص ۶۳۴ _ ۶۳۷ _۶۴۲ ، ليكن يعقوبى نے جنگجو سپاہ كى تعداد بيس ہزار لكھى ہے تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۵۶_

۷_منقول ہے كہ : خيبر ميں ايسے مضبوط قلعے تھے اور ان ميں اسلحہ سے ليس سپاہ اس كثرت سے موجود تھى كہ يہودى يہ تصور بھى نہيں كرسكتے تھے كہ رسول خد ا(ص) ان كے ساتھ جنگ كا ارادہ كريں گے_ ہر روز دس ہزار نبرد آزما سپاہى صف آرائي كرتے اور كہتے كہ كيا محمد (ص) كو اتنى جرات ہوسكتى ہے كہ وہ ہم سے جنگ كريں ايسا ہرگز نہيں ہوسكتا (المغازى ج ۲ ص ۶۳۷)_

۸_دروازہ قلعہ خيبر كے بڑے اور وزنى ہونے كے بارے ميں ديگر روايات بھى ملتى ہيں جن كى رو سے اس قلعے كے كھولنے اور بند كرنے پر چاليس افراد اور بقولیستر افراد مقرر تھے_(ملاحظہ ہو بحارالانوار ج ۲۱ ص۴)_

۹_ملاحظہ ہو : الارشاد ص ۶۵_ ۶۷ بعض ماخذ ميں يہ بھى درج ہے كہ جب حضرت على (ع) كى سپر اس يہودى كے حملہ كرنے كى وجہ سے گر گئي تو آپ (ع) نے اس قلعے كے دروازے كو اكھاڑليا اور اسے بطور ڈھال استعمال كيا ملاحظہ ہو السيرة النبويہ ج ۳ ص ۳۴۹_ ۳۵۰_

۱۰_المغازى ج ۲ ص ۷۰۰_

۱۱_السيرة النبويہ ، ابن كثير ج ۳ ص ۳۷۵_

۱۲_بحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۲_

۱۳_بحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۵_


۱۴_يہ جگہ حجاز ميں خيبر كے نزديك واقع ہے اور مدينہ سے يہاں تك دو يا تين دن كا راستہ ہے _ معجم البلدان ج ۲ ص ۲۳۸_

۱۵_ بحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۲_ ۲۳_

۱۶_تفسير برہان ج ۲ ص ۴۱۴ _۴۱۶ ذيل آيہ شريفہ ''وَآت ذَالقُربى حَقَّہ'' _

۱۷_الكامل فى تاريخ ج ۲ ص ۲۲۲_

۱۸_معجم البلدان ج ۲ ص ۶۷_

۱۹_يہ جگہ شام اور وادى القرى كے درميان اورعہد نبوى ميں مدينہ سے آٹھ منزل تك فاصلے پر واقع تھى ملاحظہ ہو معجم البلدان ج ۲ ص ۶۷ و وفاء الوفاء ج ۳ _۴ ص ۱۱۶۴_

۲۰_التنبيہ والاشراف ص ۲۲۴_

۲۱_يہ جگہ حرم كے نزديك مكہ سے پانچ ميل(تقريباً دس كلوميٹر) كے فاصلے پر واقع تھى _ معجم البلدان ج ۵ ص ۱۰۴_

۲۲_السيرة النبويہ ج۴ ص ۱۳_

۲۳_ملاحظہ ہو : تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۴_

۲۴_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ، ابن كثير ج ۳ ص ۴۳۲_

۲۵_پروفيسر گيورگيوجن كى كتاب كا فارسى ترجمہ ''محمد (ص) پيغمبرى كہ از نو بايد شناخت'' كے زير عنوان طبع ہوچكا ہے ، اس شادى كے بارے ميں لكھتے ہيں كہ : يہ ازدواجى رشتہ پيغمبر خدا (ص) كى طرف سے نماياں سياسى اقدام تھا اس ضمن ميں موصوف نے مزيد لكھا ہے كہ حضرت ميمونہ (ع) كى چونكہ آٹھ بہنيں اور تھيں اور ان ميں سے ہر ايك كى شادى مكہ كے كسى سربرآوردہ شخص سے ہوچكى تھى اسى لئے اس كے ذريعے پيغمبر خدا (ص) كاتعلق مكہ كے آٹھ برجستہ افراد سے قائم ہوگيا اس كے علاوہ حضرت ميمونہ (ع) كى والدہ اپنى شان و شوكت كے اعتبار سے عرب خواتين ميں بے مثال سمجھى جاتى تھيں ،اس كے بعد پروفيسر مذكور نے ابن ہشام اور ديگر سيرت نگاروں كے قول كو نقل كرتے ہوئے لكھا ہے كہ حضرت ميمونہ (ع) كى شادى كے ذريعے درحقيقت تمام اہل مكہ كے ساتھ رشتہ و قرابت قائم كرنا مقصود تھا اس شادى كا قابل ذكر پہلو يہ تھا كہ حضرت ميمونہ كے بھتيجے خالد


بن وليد مشرف بہ اسلام ہوئے _ ملاحظہ ہو مذكورہ كتاب ص ۳۴۷_

۲۶_يہ جكہ ''تنعيم' ' كے نزديك واقع ہے_ السيرة النبويہ ج ۴ ص ۱۴_

۲۷_المغازى ج ۲ ص ۷۳۱ و ۷۴۱ والطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۲۰_ ۱۲۳_

۲۸_ اس كا شمار حدود شام ميں بلقاء كے ديہات ميں ہوتا تھا _ معجم البلدان ج ۵ ص ۲۲۰_

۲۹_اوپر متن ميں جو كچھ تحرير كيا گيا ہے وہ مورخين كى تحريروں پر مبنى ہے ليكن حضرت امام صادق (ع) سے حضرت ابان بن عثمان نے جو روايت نقل كى ہے (بحارالانوار ج ۱۲ _ ص ۵۵) اور جو اشعار حضرت كعب بن مالك نے موتہ كے شہداء كے مرثيے ميں كہے ہيں : اذ يَہدُونَ بجَعفَر: وَلوَائہ قُدَّامَ اَوَّلہم فَنعمَ الاوَّل'' (سيرہ ابن ہشام ج ۴ ص ۲۸) وہ اس امر پر دلالت كرتے ہيں كہ سپہ سالار حضرت ''جعفر ابن ابى طالب '' تھے نہ كہ ''زيد بن حارثہ'' چنانچہ علامہ مجلسى نے بھى بحارالانوار كى ج ۲۱ ص ۵۶ پر يہ عبادت درج كى ہے كہ شيعوں كا عقيدہ ہے كہ جعفر اميرا ول مقرر كئے گئے تھے_

۳۰_ملك شام ميں بلقاء كے ساتھحجاز كے راستے پر واقع ہے معجم البلدان ج ۵ ص ۱۵۳_

۳۱_جنگى حربہ يہ تھا كہ رات ہوگئي تو خالد نے سپاہ كے دائيں بائيں آگے اور پيچھے كے حصے بدل ديئے اورمجاہدوںكو ايك جگہ سے دوسرى جگہ منتقل كرديا اور ساتھ ہى نئے پرچم لہراديئے چنانچہ جب رومى سپاہيوں كى نظر سپاہ و پرچم اسلام پر گئي تو انہوں نے سمجھا كہ مسلمانوں كى مدد كے لئے تازہ دم لشكر آن پہنچا ہے چنانچہ اسى وجہ سے ان كے دلوں پر خوف طارى ہوگيا_ اور وہ يہ فيصلہ نہ كرسكے كہ آيا جنگ جارى ركھى جائے يا نہيں _ المغازى ج ۲ ص ۷۶۴_

۳۲_ملاحظہ ہو المغازى ج ۲ ص ۷۵۵ ۷۶۴ السيرة النبويہ ج ۴ ص ۱۵_ ۲۱_

۳۳_السيرة النبويہ ج ۴ ص ۳۰_

۳۴_المغازى ج ۲ ص ۷۶۹_

۳۵_ السيرة النبويہ ج ۴ ص ۳۱ _ ۳۳_

۳۶_ البتہ مؤلف كى يہ بات پہلے سبق ميں ان كى اس بات سے بالكل متضاد ہے كہ ايران اور روم جيسے كشور كشا ممالك يہاں كا رخ ہى نہيں كرتے تھے_ اس پر مزيد توجہ كى ضرورت ہے _ مترجم


سبق ۱۴:

فتح مكہ اور غزوات حونين اور طائف


فتح مكّہ

رسول اكرم (ص) كيلئے صلح ''حديبيہ'' كے بعد يہوديوں كے خطرات دور كرنے اورعراق اور شام كى حدود تك مدينہ كے شمال ميں آباد عرب قبائل كے درميان اشاعت اسلام كے امكانات زيادہ ہوگئے، قلمرو اسلام ميں اب تنہا جو طاقت باقى رہ گئي تھى اور جس كا وجود جزيرة العرب كے باہر ترويج اسلام كيلئے خطرہ بنا ہوا تھا وہ قريش مكہ تھے، دشمن كے اس مركز كى دو اہم ترين خصوصيات يہ تھيں پہلى تو يہ كہ يہ شہر بہت سے مسلمانوں بلكہ خود رسول خدا(ص) كا وطن تھا اوردوسرى وجہ يہ تھى كہ كعبہ ابراہيم (ع) يعنى مركز توحيد اور مسلمانوںكا قبلہ اسى شہر ميں واقع تھا ان دو وجوہات كے علاوہ مسلمانوں نے اپنى اسلامى ز ندگى كے دوران جو صدمات برداشت كئے ان ميں سے اكثر وبيشتر اسى شہر كے لوگوں نے انہيں پہنچائے تھے مذكورہ بالا وجوہات كى بناپر مكہ كا شمار ان اہم ترين مراكز ميں ہوتا تھا جنہيں رسول خدا (ص) جزيرہ نما ئے عرب ميں دشمن كے وجود سے پاك و صاف كردينا چاہتے تھے اور يہى منصوبہ عرصے سے آنحضرت (ص) كے پيش نظر تھا_

غزوہ ''حديبيہ'' اور ''عمرة القضائ'' دو ايسے بڑے كامياب معركے تھے كہ جن كے باعث قريش كى عسكرى بالادستى اور مكہ پر اجارہ دارى ختم ہوگئي اور مسلمانوں كيلئے مكہ واپس آنے 'مناسك حج ادا كرنے اور اشاعت دين كى راہيں ہموار ہوگئيں مگر اس كے باوجود


قريش كى سياسى و ثقافتى برترى اور لعنت شرك و بت پرستى اب بھى مثل سابق وہاں موجود تھي_

قريش كے خلاف تيسرا اور آخرى قدم اٹھانے كيلئے اب مسلمانوں كے سياسى حالات و عسكرى انتظامات قطعى طور پر موافق و سازگار تھے اور جو چيز اس راہ ميں مانع بنى ہوئي تھى وہ يہ تھى كہ رسول(ص) خدا صلح حديبيہ كى كسى قسم كى عہد شكنى نہيں كرنا چاہتے تھے مگر قريش نے اپنى طرف سے اس معاہدے كى خلاف ورزى ميں پہل كرتے ہوئے قبيلہ ''بنى بكر'' كى حمايت ميں قبيلہ ''بنى خزاعہ'' كے بيس افراد كو محض اس بناپر بے دردى سے قتل كرڈالا كہ ان كا رسول خدا(ص) كے ساتھ باہمى معاہدہ تھا اسى لئے يہ دشوارى بھى دور ہوگئي چنانچہ اب وہ وقت آن پہنچا تھاكہ رسول خدا (ص) اس موقع كا فائدہ اٹھاتے ہوئے مكہ پر تسلط حاصل كر يں اور كعبہ كو بتوں سے نجات دلا كر اپنى ديرينہ آرزو كو عملى جامہ پہنائيں تاكہ شرك كے سب سے بڑے مركز كے وجود كونيست و نابود كرديں بالخصوص ان حالات ميں جبكہ قبيلہ خزاعہ كا سردار اپنے ہم قبيلہ افراد كو ساتھ لے كر رسول خدا (ص) كى خدمت میں حاضر ہوچكا تھا اور اس نے ان رقت انگيز واقعات كو بيان كركے ، جو اس كے قبيلے كے لوگوں پر گذرے تھے ، قريش كى عہد شكنى كا ذكر كيا اور ان كے خلاف اس نے آنحضرت (ص) سے مدد كى درخواست كى _

رسول خد ا(ص) نے عام تيارى كا حكم ديا اس كے ساتھ ہى آنحضرت (ص) نے مدينہ كى جانب اپنے ايلچى رانہ كئے تاكہ انہيں بھى اس ميں شريك ہونے كى دعوت دى جائے ، تيارى كا حكم ملتے ہى دس ہزار سپا ہى جمع ہوگئے اور يہ ايسى كثير تعداد تھى جو اہل مدينہ نے كبھى اپنى آنكھوں سے نہيں ديكھى تھي_

رسول خدا (ص) نے قريش كو غفلت ميں ڈالنے كيلئے تمام ممكنہ حفاظتى اقدامات كئے ابتداء ميں


آپ (ص) نے اپنے قصد و ارادے كو كسى پر ظاہر نہيں كيا وہ تمام راستے جو مكہ كى طرف جاتے تھے ان كى سخت ناكہ بندى كردى گئي لوگوں كو دوسرى جانب متوجہ كرنے كيلئے رسول خدا (ص) نے سپاہ كا ايك دستہ '' ابوقتادہ'' كى قيادت ميں ''اضم'' نامى مقام كى جانب روانہ كيا تاكہ لوگ يہ سمجھيں كہ آنحضرت (ص) كا رخ اسى جانب ہے اس كے بعد آپ (ص) نے بارگاہ ايزدى ميں التجا كى كہ قريش كى آنكھوں اور كانوں پر غفلت كا پردہ پڑجائے اور ہوش انہيں اس وقت آئے جب وہ اچانك سپاہ اسلام كو اپنے سروں پر مسلط پائيں_(۱)

یہ اقدام اس وجہ سے كیا گیا كہ دشمن اس سے قبل كہ اپنے دفاع كى خا طر اپنى عسكرى طاقت كا استعمال كرے خود ہى بغیر كسى تصادم كے حق كے سا منے سر تسلیم خم كر دے اور حرم مكہ 'یعنى مقدس و معنوى پناہ گاہ ایزدى حتى الامكان خونریزى كے بغیر فتح ہو جائے_

ليكن تمام ممكنہ حفا ظتى اقدامات كے باوجود ''حاطب بن ابى بلتعہ''نامى شخص نے قریش كوخط لكھ ہى دیا اور ''سارہ''نامى عورت كو قریش مكہ تك پہنچانے كے لئے روانہ كر دیا تا كہ انہیں معلوم ہو جائے كہ رسول خدا(ص) كا ممكنہ اقدام كیا ہو سكتا ہے_

رسول خدا(ص) كو وحى كے ذریعے اس شخص كى خیا نت كا علم ہو گیا چنا نچہ اپ(ص) نے فوراً ہى حضرت على (ع) اور زبیر كو اس كام پر مامور فر ما یا كہ اس عورت سے خط حا صل كریں اور اسے واپس مدینہ لے ائیں(۲) _

رسول خدا(ص) دس ماہ رمضان سنہ ۸ہجرى كودس ہزارمسلما نوں كے ساتھ مدینہ سے مكہ كى جا نب روانہ ہو ئے چنانچہ جب اپ (ص) ''مرالظہران''نامى مقام پر تشریف فرما ہو ئے تو دشمن كو اپ(ص) كے انے كا ذرا بھى علم نہ ہو سكا_

یہاں رسول خدا(ص) نے حكم دیا كہ سپا ہى و سیع میدان میں منتشر و پراكندہ ہوجائیں اور ان


میں سے ہر شخص اگ روشن كرے_رسول خدا(ص) كے اس حر بے نے اہل مكہ كو سخت وحشت میں مبتلا كر دیا(۳) _

ابو سفیان كے ہمراہ كچھ قریش سردارحالات كا جائزہ لینے كے لئے مكّہ سے باہر نكل آئے،راستے میں ان كى ملا قات سب سے پہلے رسو ل خد ا(ص) كے چچا حضرت عباس سے ہو ئي جو سپاہ اسلام كے پہنچنے سے قبل ہى وہاں پہنچ گئے تھے_اور ان سے حالات كے بارے میں پوچھا_حضرت عباسنے كہا كہ رسول خدا(ص) نے تم پر دس ہزار سپاہ كے ساتھ شب خون مارا ہے _اب تمہارے لئے راہ نجات یہى ہے كہ دین اسلام قبول كرلو _ابو سفیان كے ساتھ''حكیم بن حزام''اور''بُدَيُل بن وقار''بھى تھے یہى بات انہوں نے ان لو گوں سے بھى كہي_

یہ بات سن كر قریش كے سر داروں كے ا وسان خطا ہو گئے اور حضرت عباس سے اتنا ہى كہا كہ اب ہم اپ كے رحم وكرم پر ہیں _حضرت عباس انہیں رسول خدا(ص) كى خدمت میں لے گئے(۴) _رسول خدا(ص) نے ان سے قریش كى حالت اور كیفیت كے بارے میں كچھ سوالات كئے اور ضرورى معلومات حا صل كرنے بعدانہیں دین اسلام قبول كر نے كى دعوت دى _ انہیں رسول خدا(ص) كى با ت تسلیم كر نے كے علاوہ كو ئي چا رہ نظر نہ ایا _اور اس رات وہ حضرت عباس كے ساتھ ہى رہے_صبح كے وقت تمام سپاہ نے با واز بلند اذان دى جسے سن كر ابو سفیان پر خوف طارى ہو گیا(۵) اس كے بعد رسول خدا(ص) كے حكم سے اسے ایك ٹیلے پر لے جا یا گیا اورسپاہيوںنے منظم دستوں كى شكل میں اس كے سامنے مسلح پريڈ كى اور اس نے اسلام كى شان و عظمت اور عسكرى و معنوى طا قت اپنى انكھوں سے دیکھ لي(۶) _

رسول خدا(ص) نے اسلام كى طاقت كے جاہ و جلال كا مظاہرہ كر كے شرك كى استقامت و


پائدارى كے ہر ارادے كو پاش پاش كر دیا _اور اب اپ(ص) نے یہ سعى و كوشش كى كہ ابو سفیان كے ذریعے قریش كى استقامت و پائدارى كو بھى چكنا چور كر دیں لہذا اپ(ص) نے ابو سفیان سے كہا كہ وہ قریش كے درمیان جاكر ان سے كہے كہ جو كوئي اسلحہ زمین پر ركھ كر اپنے گھر میں بیٹھا رہے گا یا مسجد الحرام میں پناہ لے گا یا ابو سفیان كے گھر میں پناہ گزیں ہو گا اسے كوئي نقصان نہيں ہوگا اور وہ امان ميں ہوگا(۷) _

رسول خدا (ص) كا یہ اقدام اس امر كا با عث ہوا كہ قریش كے ان سرداروں نے جوڈٹ كر سپاہ اسلام كا مقا بلہ كر نا چاہتے تھے ابو سفیان كى یہ كيفیت ديكھ كر اپنا ارادہ بدل دیا(۸) _

قریش كو زیر كر نے كے جتنے بھى مرا حل ہو سكتے تھے وہ اب طے ہو چكے تھے _اور وہ وقت آن پہنچا تھا كہ رسول خدا (ص) مكہ میں تشریف فر ما ہو ں _رسول خدا (ص) كى یہ سعى و كو شش تھى كہ سپاہ اسلام شہر میں اس طرح دا خل ہو كہ جس حد تك ممكن ہو سكے كو ئي تصادم نہ ہو چنا نچہ اس مقصد كے تحت آنحضرت (ص) نے كل سپاہ كو چا ر دستوں میں تقسیم كر كے ہر ایك كا ایك جرنيل مقرر فر میا ،اور ہر دستے كو یہ حكم دیا كہ اندرون شہر اس را ستے سے جا ئیں جو ان كے داخل ہو نے كےلئے مقرر كردیا گیا ہے تا كہ فوج چاروں طرف سے شہر يكبارگى داخل ہو اور لڑائي كا كوئي امكان نہ رہے_اور سب كو یہ ہدا یت دى كہ صرف اسى سے جنگ كر نا جو تمہارے مقابلے پر اتر آئے مگر ا س كے ساتھ ہى دس ایسے افراد كے نام بھى اپ(ص) نے دئے جن كا خون بہا نا جا ئز و مبا ح قرار دیا گیا تھا(۹) _

اہل لشكر مقررہ را ستوں سے مكہ میں دا خل ہو ئے _اندروں شہر دشمن كى ایك مختصر سى جماعت نے ہى استقا مت و پائدارى كى كو شش كى مگر جب اس كے چند افراد قتل ہو گئے تو ان كى استقامت كا بھى خاتمہ ہو گيا اور پھر سپاہ اسلام نے كسى خونرےزى كے بغیر مكہ كو فتح


كرلیا(۱۰) _

حضرت خدےجہ(ع) اور حضرت ابو طا لب(ع) كى قبر كى زیا رت اور طواف كعبہ كے بعد رسول خدا (ص) ، حضرت على (ع) كے ہمراہ خا نہ خدا كو تصویروں اور بتوں سے پاك كر نے میں مشغول ہوگئے(۱۱) _

اہل مكہ خاص كر مشركين كے سردار نہا یت ہى اضطراب و بے چینى سے اپنا انجام ديكھنے كا انتظار كررہے تھے _مسلما نوں پروہ اب تك جو مظالم كر چكے تھے انہیں ديكھ كے انہیں اپنى مو ت سا منے نظر آرہى تھى _

رسول خدا (ص) نے پہلے تو بتوں كو سر نگوں كیا اور اس كام سے فارغ ہو نے كے بعد وہاں موجود لو گوں كے سا منے تقریر فر ما ئي _اس فتح و كا میا بى پرخدا وند تعا لى كى حمد كرنے كے بعد آپ (ص) نے قریش سے خطا ب كر تے ہو ئے فر ما یا ''اب بتاؤ كیا كہتے ہواور تمہا رے دلو ں میں كیا وسو سے ہیں؟''_سب نے بلند آواز سے انحضرت (ص) كى خدمت میں عر ض كیا :''ہمیں اپ(ص) سے یہى تو قع ہے كہ اپ(ص) ہما رے سا تھ خیر و نیکى كا سلوك فر ما ئیں گے _ہمیں یہى عرض كر نا ہے اور اس كے علا وہ ہما رے دلوں میں كو ئي خیا ل و فكر نہیں _آپ(ص) ہما رے قابل احترام بھائي ہیں اور ہم آپ(ص) كو اپنے بھائي كا فر زند ہى سمجھتے ہیں_با قى آپ(ص) كو اختیا ر ہے اور طاقت بھى اب آپ(ص) كے پاس ہے_(۲) ''

رسول خدا (ص) نے انہیں جواب دیتے ہو ئے فر ما یا :''میں تم سے اپنے بھا ئي حضرت ےو سف (ع) كى طرح چشم پو شى كر تے ہوئے كہتا ہوں:

( لَا تَثريبَ عَلَيكُم اليَومَ يَغفرُاللّهُ لَكُم وَ هُوَ اَرحَمُ الرّاحمينَ ) (۱۳)


''اج تم پر كو ئي گر فت نہیں _اللہ تمہیں معاف كرے وہ سب سے بڑھ كر رحم كر نے وا لا ہے''(۱۴) _

چنا نچہ جب انہوں نے معا فى كى درخواست كى تو رسولخدا(ص) نے فر ما یا :

''اذهَبُو فَاَ نتُمُ الطُّلَقَائُ'' (۱۵)

جا ئو تم سب ازاد ہو_

جب رسول خدا (ص) نے عام معا فى كا اعلان كر دیا اورمشركين كے سرداروں كے اعمال سے چشم پوشى كى تو مكہ كے لوگ جو ق در جوق اپ(ص) كى خدمت میں حا ضر ہو كر دین اسلام قبول كرنے كا شرف حا صل كر نے لگے یہى نہیں بلكہ عرب خواتین نے بھى ان خا ص آداب كے مطا بق جو مقرر كئے گئے تھے رسول خدا (ص) سے بےعت كى(۱۶) قران مجید نے اس بے نظیر تبدےلى اور رجحان كى جا نب اشا رہ كر تے ہو ئے فر ما یاہے_

( وَرَاَ يتَ النّا سَ يَد خُلُونَ في دين اللّهَ اَفوَاجَاً ) (۱۷) _

اے نبي(ص) تم نے ديكھا كہ لوگ فوج در فوج اللہ كے دین میںداخل ہو رہے ہیں(۱۸)

رسول خدا (ص) نے بت بر ستى كوہر جگہ سے كلى طور پر نیست و نا بود كرنے كے لئے لو گو ں كو ہدایت كى كہ جس كسى كے پا س كو ئي بت ہو وہ اسے پا ش پا ش كر دے_اس كے علا وہ آپ(ص) نے مكہ كے با ہر بھى چند افراد كو بھےجا تا كہ جہا ں كہیں بھى كو ئي بت خا نہ ہو اسے ویران كر دیں ،اور لو گو ں كو دین اسلام كى دعوت دیں(۱۹)


پیغمبر ہدایت و اصلاح

مسلما نوں كے ہا تھوں شہر مكہ كى تسخیر'مشركین كے سرداروں كى شكست اور تسليم اور ان لوگوں كے سا تھ جو بیس سال سے زيادہ عرصہ تك اسلام دشمنى میں رسولخدا (ص) سے بر سر پیکار رہے رسولخدا (ص) كے غیر متوقع و بے مثال در گزر و چشم پو شى نے ثابت كر دیا كہ انحضرت(ص) كا مقصد گمراہ و نا دان لو گو ں كى ہدا یت و اصلا ح كے علاوہ اوركچھ نہیں ہے_اور جنگ و تصادم كے جو واقعات پیش ائے ان میں اپ (ص) كا مقصدانكى ہدا یت واصلاح ہى تھا ناكہ انتقام جوئي اور جاہ و فضےلت طلبى چنانچہ ايسى عظیم الشان فتح كے با و جود صرف وہ دس افراد (چھ مر د اور چا ر عورتیں)جو سخت و سنگین جرائم كے مر تكب ہو ئے تھے قا بل سزا قرار ديئے گئے اور ''مَہدُورُالدَّم''كے عنوان سے انہیں یا د كیا گیا(۲۰) _

ان میں بھى چار افراد كو قتل كر دیا گیا اور با قى كسى نہ كسى بہانے سے امان پا نے میں كامیاب ہو گئے(۲۱) اگر چہ ایسے موقعوں پر دنیا وى انقلابى ليڈر سینكڑوں نہیں بلكہ ہزاروں افراد كوبا لخصوص انہیں جو دشمن كے محاذ پر پیش پیش ہو تے ہیں،تہ تےغ كر دیتے ہیں_لیکن جب سا رى دنیا كے پیغمبر(ص) رحمت ےعني''رحمةاللعالمین''سے بعض مسلمان سپاہیوں نے یہ كہا كہ''اَليَومَ يَومُ المَلحَمَة '' اج كا دن انتقام لینے اورجنگ كرنے كا دن ہے تو انحضرت (ص) نے یہ موقف اپنا ياكہ''اَليَومَ يَومُ المَرحَمَة' 'آج كا دن رحمت كا دن ہے(۲۲) چنا نچہ اس كےفیت كو پروفیسر حمید اللہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان كیا ہے_

جب رسول خدا (ص) كسى شہر كا فاتح ہو تو اُن سے اس عظمت و بزرگوارى كے علاوہ اور كو ئي توقع ركھنى ہى نہيں چاہئے(۲۳)


غزوہ حنین وطائف:

جب شرك كاسب سے عظیم مر كزتسخير ہو گیا اور ''سواع''''منا ة ''اور ''عزي''جیسے بت كدے مسلمانوں كے ہاتھوں ویراں ہو گئے(۲۴) تواسلام كا عسكرى و سیاسى اثر و نفوذ تمام'' جزیرہ نمائے عرب '' پر چھا گیا _چنا نچہ یہى وجہ تھى كہ مشركین كے اكثر و بیشترقبا ئل نے اسلام كى اطا عت قبول كر لى اور اس كے سا منے سر تسليم خم كر ليا لكين''ہو ازن'' اور ''ثقےف'' ایسے دو قبیلہ تھے جو اسلام سے نفرت میں پیش پیش اور جنگجوئي میں سب پر فو قیت ركھتے تھے_اس كے علاوہ ان كے پاس اسلحہ بھى سب سے زیا دہ رہا كرتا تھا انہیں یہ علم ہو اكہ مسلما نوں كو مشركین پر فتح و نصرت حا صل ہے ہوئے تو وہ سخت سرا سیمہ اور پریشان خاطر ہو ئے اور اب انہیں یہ خو ف لا حق رہنے لگا كہ قریش كومغلوب كر نے كے بعد لشكر اسلام انہیں اپنے حملے كا نشا نہ بنا ئے گا چنانچہ انہوں نے خود ہى پيش قدمى كرتے ہوئے مسلمانوں كے ساتھ بر سر پیکا ر ہو نے كا ارادہ كر لیااور انہوںنے چند دےگر قبائل سے بھى عہد و پیمان كر لیا تھا_

چنانچہ سب نے مجمو عى طور پر طا قتور سپاہ كى شكل اختيار كر كے'' مالك بن عوف''كى سپہ سالارى ميںرسول خدا(ص) كے سا تھ جنگ ونبرد كرنے كےلئے خود كو آما دہ كر لیا_

دشمن نے اس خیال كے پیش نظر كہ محاذ جنگ كى پشت سے اس كا كو ئي تعلق نہ رہے اور مسلما نوں كے سا تھ جان توڑكرجنگ كر ے اس نے اپنى عورتوں 'بچوں ، مويشيوں اور مال غنیمت كو اپنے ساتھ لے ليا_

رسول خدا(ص) كو جب دشمن كے ارادے كى اطلاع ملى تو اپ(ص) بتا رےخ۶شوال سنہ۸ہجرى كو بارہ(۱۲۰۰۰)ہزار سپاہیوں كا لشكر(جس میں دس ہزار افراد مدینہ كے اور دو ہزار نو مسلم شا مل تھے) لے كر دشمن كى جا نب روانہ ہو ئے_


دو نو ں لشكروں كا مقابلہ ''حُنَين(۲۵) نا مى جگہ پر ہوامشركین كا لشكر پہلے ہى وادى حنین میں اتر چكا تھا اور اس نے سارے نا كو ں پر قبضہ كر لیا تھا وہ سپاہ اسلام كے اس ہر اول دستے پر جس كا سپہ سالار''خالد بن ولید ''تھا اچانك حملہ اور ہوا اور اس دستے كو منتشر و پراكندہ كر ديا ، يہ صورتحال ديكھ كر باقى سپاہيوں نے بھى فرار كو قرار پر ترجيح دى اور سرپاؤں ركھ كر بھاگے_صرف دس افراد ہى ایسے تھے جو رسول خدا (ص) كے دوش بدوش رہے(۲۶)

ابو سفیان اور وہ قریش جو چند روز قبل ہى مسلمان ہو ئے تھے مسلمانوں كى اس شكست پر بہت مسرور ہوئے اور اس پر تمسخر كر نے لے(۲۷) _

اگرچہ پےغبر اكرم(ص) اس وقت تنہا رہ گئے تھے لیکن ان چند اصحاب كے ساتھ جو اس وقت اپ(ص) كے ساتھ تھے میدان جنگ میں پورى استقامت اور پائدارى كے ساتھ اپنى جگہ پر رہے اور جو لوگ فرار كر نے لگے تھے انہیں واپس انے كى دعوت دي_ اس مو قع پر اپ (ص) نے فر میا كہ:''اے لو گوكہاں بھاگے چلے جا رہے ہو؟واپس اجا ئومیں محمد (ص) بن عبد اللہ رسول خدا (ص) تمہیں بلارہا ہوں''_(۲۸)

رسول خدا(ص) كے ایماء پر حضرت ''عباس بن عب المطلب''نے انحضرت (ص) كا پےغام با واز بلند لو گوں تك پہنچیا جسے سن كر مسلمان ایك ایك كر كے واپس انے لگے_رسول خدا(ص) نے انہیں از سر نو مر تب كیا اور جنگ كى آگ دو بارہ شعلہ ور ہو گئي_

امیر المومنین حضرت علي(ع) سب سے زیا دہ جو ش و خروش میں تھے اور دشمنوں كو خاك و خون میں ملا رہے تھے يہاں تك كہ قبيلہ ہوا زن كے چاليس افراد آپ (ع) كى شمشير سے ہلاك ہوئے(۲۹) دوسرے مسلمانوں نے بھى شكست كى تلافياں كيں اور چند لمحہ فرار رہنے كى وجہ سے جو خفت ہوئي تھى اسے دور كرنے كيلئے جان كى بازى لگا دى بالخوص اس


وقت جب كہ انہوں نے يہ ديكھا كہ '' ام عمارہ ، ''ام سليم ، '' ام سليط ،، اور '' ام حارث '' جيسى دلير خواتين بھى ميدان كار رزار ميں اترآئيں ہيں اور رسول خدا(ص) كا مردانہ وار دفاع و كر رہى ہيں( ۳۰ ) _

رسول خدا(ص) نے سپاہ میں مزيد جوش و خروش پيدا كرنے كى خاطر اعلان فرمايا كہ' ' جو كوئي كسى كافر كو قتل كرے گا وہ مقتول كے لباس اوراسلحہ كا مالك ہو گا ''( ۳۱)

اس وقت ہوازن كا پر چمدار ''ابو جرول '' سرخ اونٹ كے اوپر سوار بلند نيزہ ہاتھ ميں لئے اس پر سياہ جھنڈا لہرا رہا تھا وہ اپنے لشكر كے آگے آگے چل رہا تھا حضرت على (ع) كے ہاتھوں اس كے قتل(۳۲) كى وجہ سے دشمن كيلئے فرار كے علاوہ كوئي چارہ نہ رہا چنانچہ فتح اسلام كے حصے ميں آئي

اس جنگ ميں چھ ہزار سپاہى قيد ہوئے ان كے علاوہ چوبيس ہزار (۲۴۰۰۰) اونٹ، چاليس ہزار بھيٹريں اور وزن میں چار ہزار اوقيہ (تقريبا ۸۵۰ كلو گرام) چاندى بطور مال غنيمت مسلمانوں كے ہاتھ آئي (۳۳ )_ باقى جو سپاہ بچى تھى وہ بھاگ كر '' طائف ، '' نخلہ ،، اور '' اوطاس ،، كى طرف نكل گئي( ۳۴ ) _ رسول خدا(ص) نے '' بُدَيل بن ورقائ'' كو اس كام پر مامور فرمايا كہ وہ مال غنيمت كو''جعرانہ''(۳۵ ) نامى مقام پر لے جائيں اور وہيں اس كى حفاظت كريں تاكہ جنگ ختم ہونے كے بعد اسے تقسيم كيا جا سكے اور آپ(ص) بذات خود سپاہ اسلام كو ساتھ لے كر ''طائف ''كى جانب روانہ ہوئے كيونكہ '' مالك بن عوف '' ثقيف كے ديگر لشكرں كے ہمراہ بھاگ كر اس طرف نكل گيا تھا وہاں پہنچ كر آپ(ص) نے قلعے كا محاصرہ كر ليا _قلعہ طائف كا محاصرہ تقريبا بيس روز تك جارى رہا (۳۶ )_ دشمن كى استقامت و پايدارى كو ختم كرنے كيلئے مسلمانوں نے منجنيقيں اور جنگى گاڑياں بھى استعمال كيں ليكن اس


كا كوئي نتيجہ بر آمد نہ ہوا _ قلعے كے استحكام ، اسلحہ جنگ اور سامان خوراك كے ذخيرے كى وجہ سے دشمن كى استقامت و پائدارى پہلے سے كہيں زيادہ بڑھ گئي_

رسول خدا(ص) نے صحابہ كے مشورے سے محاصرہ جارى ركھنے كا خيال ملتوى كرديا اور جعرانہ كى طرف روانہ ہو گئے( ۳۷) _

اس فيصلے كى شايد يہ وجہ يہ تھى كہ رسول خدا(ص) نے دشمن كے وسائل و اسلحہ كا جائزہ لينے كے بعديہى نتيجہ اخذ كيا كہ طائف كو فتح كرنے كيلئے زيادہ وقت دركار ہے اور مدينہ سے آنحضرت(ص) كوسوں دور تھے _ اس كے علاوہ مختلف افكار و خيالات كے حامل بارہ ہزار سپاہيوں كو كافى عرصے تك قلعہ طائف كے محاصرہ كے لئے يكجا ركھا بھى نہيں جا سكتا تھا _ كيونكہ ايك طرف تو لشكر كيلئے سامان خوراك كم ہوتا چلا جارہا تھا _ اور دوسرى طرف ماہ حرام اور حج كا زمانہ قريب چلا آ رہا تھا _( ۳۸ ) اس كے علاوہ چھ ہزار جنگى قيديوں كے مسئلے كے بارے میں بھى غور كرنا تھا تاكہ جس قدرجلد ہو سكے يہ مسئلہ حل ہو جائے _

مال غنيمت كى تقسيم

رسول خدا(ص) جب '' جعرانہ '' واپس تشريف لائے تو ہوازن كا وفد آنحضرت(ص) كى خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دين اسلام قبول كرنے كے بعد رسول خدا(ص) سے درخواست كى كہ قيديوں كو آزاد كر ديا جائے رسول اكرم(ص) نے مسلمانوں كے ساتھ گفتگو كرنے كے بعد اور ان كا دل جيتنے كى خاطر ہوازن كے چھ ہزار قيديوں كو فديہ لئے بغير آزاد كر ديا( ۳۹ ) _ اور باقى مال غنيمت كو آپ(ص) نے قريش كے درميان تقسيم كر ديا اور وہ لوگ جو حال ہى ميں مشرف بااسلام ہوئے تھے ان كے سرداروں كو آپ(ص) نے بيشتر حصہ( ۴۰ ) عطا كيا تاكہ اس طريقے


سے ان كے دل اسلام كى جانب بيشتر مائل ہو سكيں

جو لوگ چند روز قبل ہى مسلمان ہوئے تھے ان كے سرداروں كو آنحضرت(ص) كى زيادہ عطا بعض افراد بالخصوص انصار كو ناگوار گزرى حالانكہ يہ بخشش رسول(ص) خدا كے اپنے حصے ''خمس'' سے ہى تھي(۴۱) جس كى وجہ يہ تھى كہ مال غنيمت سے ان كا حصہ نظر انداز كر ديا گيا تھا ليكن جب انہوں نے رسول خدا(ص) كى نصيحتيںسنيں اور اس كى حكمت كے بارے ميں انہيں علم ہوا تو وہ آنحضرت(ص) كے اس اقدام سے مطمئن ہو گئے( ۴۲) _

رسول خدا(ص) نے عمرہ كرنے كے ارادے سے '' جعرانہ '' میں احرام باندھا عمرہ كرنے كے بعد آپ(ص) نے '' عتاب بن اسيد'' كو مكہ كا گورنر مقرر فرمايا اور حضرت '' معاذ بن جبل '' كو احكام دين كى تعليم دينے كيلئے متعين فرمايا اور خود آنحضرت(ص) واپس مدينہ تشريف لے آئے(۴۳) _

غزوہ حنين كى ابتدا میں مسلمانوں كى شكست اور آخر میں كاميابى كے اسباب

الف _ ابتدائي مرحلے میں شكست

۱_ كثرت سپاہ كى وجہ سے احساس تكبر اور غيبى مدد كى جانب سے غفلت و چشم پوشي_ جس وقت بارہ ہزار افراد پر مشتمل سپاہ اسلام كى شان و شوكت اور طاقت ،جناب ابوبكر نے ديكھى تو اسكى كى زبان پر يہ جملہ آہى گيا كہ اب طاقت كى كمى كے باعث اب ہم مغلوب نہ ہوں گے( ۴۴ ) _


اور اس كے بارے میں قرآن مجيد كا ارشاد ہے كہ

( لَقَد نَصَرَكُم الله ُ فى مَوَاطنَ كَثيرَة: وَيَومَ حُنَين: إذ أَعجَبَتكُم كَثرَتُكُم فَلَم تُغن عَنكُم شَيئًا وَضَاقَت عَلَيكُم الأَرضُ بمَا رَحُبَت ثُمَّ وَلَّيتُم مُدبرينَ )

''اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہارى مدد كر چكا ہے ابھى غزوہ حنين كے روز بھى اس نے تمہارى دستگيرى كى جس كى شان تم ديكھ چكے ہو اس روز تمہيں اپنى كثرت تعداد كا غرور تھا مگر وہ تمہارے كچھ كام نہ آئي اور زمين اپنى وسعت كے باوجود تم پر تنگ ہو گئي اور تم پيٹھ دكھا كر بھاگ نكلے''_( ۴۵ )

۲_ سپاہ اسلام ميں اہل مكہ كے دو ہزار ايسے افراد كى موجودگى جو حال ہى میں مسلمان ہوئے تھے ان میں سے بعض منافق تھے اور بعض محض مال غنيمت جمع كرنے كى خاطر سپاہ اسلام كے ساتھ ہو گئے تھے نيز كچھ لوگ بغير مقصدو ارادہ ہى مكہ سے باہر نكل آئے تھے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ ابتدائي مرحلے پر جب دشمن كا اچانك حملہ ہوا تو سب سے پہلے جو سر پر پير ركھ كر بھاگے وہ يہى لوگ تھے(۴۶) _ اور يہى وہ لوگ تھے جنہوں نے سپاہ اسلام پر لعن و طعن شروع كر دى تھى حتى كہ بعض نے تو رسول خدا(ص) كو قتل كرنے كا ارادہ تك كرليا تھا(۴۷) _ چنانچہ ايسے عناصر كى ان حركات كا باقى سپاہ پر اثر انداز ہونا اور ان كى قوت ارادى و حوصلہ مندى میں ضعف آنا طبيعى اور و قدرتى امر تھا _

۳_ دشمن كے سپاہى جس جگہ جمع تھے نيز جہاں دونوں لشكروں كے درميان معركہ ہوا اس جگہ كا محل وقوع ،دشمن كا كمين گاہوں ،دروں اور پہاڑى شگافوں پر قبضہ اور اذان فجر


كے وقت جبكہ مطلع صاف و روشن نہيں تھا دشمن كا اچانك حملہ وغيرہ ايسے عوامل تھے جن كے باعث مسلمانوں میں يہ قوت فيصلہ سلب ہو گئي كہ وہ كيا اقدام كريں_

ب:آخرى فتح

۱_ غيبى مدد اور خداوند تعالى كى طرف سے نصرت و كاميابى _اس كے بارے میں قرآن مجيد كا ارشاد ہے

( ثُمَّ أَنزَلَ الله ُ سَكينَتَهُ عَلى رَسُوله وَعَلَى المُؤمنينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَم تَرَوهَا وَعَذَّبَ الَّذينَ كَفَرُوا وَذَلكَ جَزَائُ الكَافرينَ ) (۴۸)

'' پھر اللہ نے اپنا سكون اپنے رسول(ص) پر اور مومنين پر نازل فرمايا اور وہ لشكر اتارے جو تم كو نظر نہ آتے تھے اور منكرين حق كو سزا دى كہ يہى بدلہ ہے ان لوگوں كے لئے جو حق كا انكار كرتے ہيں '' _

۲_ رسول خدا(ص) ،حضرت على (ع) اور ديگر ايثار پسند اور جان نثار مردوں نيز عورتوں كى ميدان كا رزار ميں پائدارى ، اس كے ساتھ ہى ميدان جنگ ميں رسول خدا(ص) كا سپاہ كو واپسبلانا اور انھيں از سر نو منظم كرنا _

۳_ حضرت على (ع) كے ہاتھوں دشمن كے پر چمدار اور ديگر مسلمانوں كے ہاتھوں دشمن كے سردار '' دُرَيدبن صَمَّہ،، كا قتل كيا جانا _


سوالات

۱_'' صلحنامہ حديبيہ ،، كى شرائط كے مطابق رسول خدا(ص) كو قريش كے ساتھ دس سال تك جنگ نہيں كرنى چاہئے تھى _ آنحضرت(ص) نے كس وجہ سے دو سال بعد ہى مكہ پر لشكر كشى كر دى ؟

۲_ رسول خدا(ص) نے جب مكہ پر لشكر كشى كى تو اس مہم كو قريش سے پوشيدہ ركھنے كيلئے آنحضرت(ص) نے كيا اقدامات كئے ؟

۳_ رسول خدا(ص) نے مكہ كے نزديك پہنچنے كے بعد خونريزى اور قريش كے ساتھ تصادم كو روكنے كيلئے كيا اقدامات كئے ؟

۴_ رسول خدا(ص) نے مكہ كو فتح كرنے كے بعد جب مشركين كو قيد كر ليا تو آنحضرت(ص) نے ان كے ساتھ كيا سلوك كيا ؟ اور آپ(ص) كے روےے كا ان پر كيا اثر ہوا ؟

۵_ غزوہ حنين كا كب اور كس طرح آغاز ہوا ؟

۶_ غزوہ حنين كى ابتدا میں مسلمانوں كے شكست كا كيا سبب تھا ؟

۷_ فتح حاصل كرنے كيلئے رسول خدا(ص) اور حضرت على (ع) كا كيا كردار رہا ؟ اس كى وضاحت كيجئے_

۸_ غزوہ حنين میں مسلمانوں كو ابتدا ء میں شكست ہوئي اور بعد میں فتح و نصرت سے ہمكنار ہوئے قرآن مجيد نے ان واقعات كا كس طرح تجزيہ كيا ہے ؟_


حوالہ جات

۱_ المغازى ج۲صفحہ۷۹۶ _

۲_ السيرة النبويہ ج ۴ صفحات ۴۰_۴۱ _

۳_ المغازى ج۲ صفحات ۸۰۱ _۸۱۴_

۴_ بعض كتب تاريخ میں يہ آيا ہے كہ ابو سفيان كے ساتھى اسى جگہ سے واپس چلے گئے اور صرف ابوسفيان كو رسول خدا(ص) كى خدمت میںحاضر كيا گيا (السيرة النبويہ ابن ہشام ج۴ صفحہ ۴۵) _

۵_ المغازى ج۲ صفحات ۸۱۴ _۸۱۵ _

۶_ايضا صفحات ۸۱۸_۸۲۱ _

۷_ ۸_السيرة النبويہ ابن ہشام ج۴ صفحات ۴۶_۴۷ _

۹و ۱۰_ المغازى ج۲ صفحہ ۸۲۵ _

۱۱_ ملاحظہ ہو : اعيان الشيعہ ج۱صفحہ ۴۰۹ _

۱۲_ المغازى ج۲ صفحہ ۸۳۵ _

۱۳_ سورہ يوسف آيت۹۲ _

۱۴_ المغازى ج۲ صفحہ ۸۳۵_

۱۵و ۱۶_تاريخ طبرى ج۳ صفحہ ۶۱ _

۱۷_سورہ نصر آيت۲ _

۱۸_ ملاحظہ ہو : تفسير الميزان ج۲۰ صفحہ ۳۷۶ _

۱۹_ ملاحظہ ہو :المغازى ج۳ صفحہ ۸۷۳ والسيرة النبويہ ج۴ صفحہ ۷۰ _

۲۰_ ملاحظہ ہو : المغازى ج۲ صفحہ ۸۲۵_

۲۱_ ملاحظہ ہو : تاريخ طبرى ج۳ صفحہ ۶۰ _

۲۲_ المغازى ج۲ صفحات ۸۲۱' ۸۲۲ _

۲۳_ ملاحظہ ہو '' كتاب رسول اكرم(ص) ميدان جنگ میں،، ترجمہ سيد غلام رضا سعيدى ص ۱۴۸


۲۴_ ملاحظہ ہو : بحار الانوار ج۲۱صفحہ ۱۴۵ _

۲۵ _ دور جاہليت ميں '' ذوالمجاز'' عربوں كا مشہور بازار تھا يہ جگہ اس بازار كے قريب مكہ و طائف كے درميان واقع تھى البتہ يہ جگہ مكے كى نسبت طائف سے نزديك تر ہے اور يہاں سے مكے كا فاصلہ تين راتوں میں طے ہوتا تھا ملاحظہ ہو : التنبيہ و الاشراف ص۲۳۴ و معجم البدان ج۲صفحہ ۳۱۳ _

۲۶_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۶۲ والارشاد مفيد ص ۷۴_

۲۷_تاريخ طبرى ج ۳ ص ۷۴_

۲۸_السيرة النبويہ، ابن ہشام ج ۴ ص ۸۵_

۲۹_الارشاد مفيد ۷۶_

۳۰_المغازى ج ۳ ص ۹۰۲_

۳۱_السيرة النبويہ' ابن كثير ج ۳ ص ۶۲۰_

۳۲_ملاحظہ ہو : الارشاد ص ۷۵ و تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۶۳_

۳۳_ملاحظہ ہو : الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۵۲ و تفسير المنارج ۱۰ ص ۲۵۸_

۳۴_الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۵۱_

۳۵_يہ كنويں كا نام تھا جو مكہ اور طائف كے درميان واقعہ تھا البتہ مكے سے زيادہ نزديك تھا معجم البلدان ج ۲ ص ۱۴۲ ' اس كنويں كا نام جعرَّانہ بھى لكھا گيا ہے_

۳۶_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۹۲۷ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۸۳_

۳۷_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۹۳۶_ ۹۳۷و تاريخ طبرى ج ۳ ص ۸۴_

۳۸_بعض كتب تاريخ ميں درج ہے كہ رسول خدا(ص) نے يہ محاصرہ اول ماہ ذى القعدہ تك جارى ركھا ملاحظہ ہو بحارالانوار ج ۲۱ ص ۱۸۱ ، اور يہ قول اس بنا پركہ جنگ حنين بتاريخ دہم شوال واقعہ ہوئي (المغازى ج ۳ ص ۸۹۲)حقيقت كے زيادہ نزديك ہے_

۳۹_بحارالانوار ج ۲۱ ص ۱۸۲_ يہاں يہ بات بھى قابل ذكر ہے كہ چند قيديوں نے فديہ ادا كركے بھى آزادى حاصل كى تھي_


۴۰_ملاحظہ ہو: الارشاد ص ۷۶_

۴۱_الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۵۳_

۴۲_ملاحظہ ہو : الارشاد ص ۷۶_ ۷۷ رسول خدا(ص) كے اس اقدام ميں شايد يہ نقطہ پنہاں تھا كہ مكہ كے تازہ مسلمان بالخصوص ان كے سرداروں ميں عقل وبصيرت نہ تھى بلكہ وہ خوف و مجبورى كى وجہ سے مسلمان ہوئے تھے اسى لئے پيغمبر اكرم (ص) پر ان كى دلجوئي كرنا ضرورى تھى تاكہ ان كے دل اسلام كى جانب زيادہ مائل ہو جائيں فقہ اسلامى ميں اس عمل كو'' تاليف قلوب ''كہا جاتا ہے اور اس كا شمار مصارف زكات ميں ہوتا ہے_

۴۳_المختصر فى اخبار البشر تاريخ ابوالفداء ج ۱ ص ۱۴۸_

۴۴_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۸۹۰ والطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۵۰_

۴۵_سورہ توبہ آيت ۲۵_

۴۶_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۸۹۷_

۴۷_ملاحظہ ہو : تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۶۲_

۴۸_سورہ توبہ آيت ۲۶_


سبق ۱۵:

غزوہ تبوك


غزوہ تبوك(۱)

جزيرہ نما ئے عرب ميں مشرك كے عظيم ترين مركز كى شكست اور تسخير كے ساتھ ہى حجاز كے سرداروں نے بھى رسول خد ا(ص) كے سامنے سر تسليم خم كرديا اور اس طرح جب ملك كى شمالى حدود ميں دين اسلام كى اشاعت كے امكانات زيادہ ہوگئے تو رومى حكومت كے ايوانوں ميں وحشت و اضطراب كے باعث لرزہ پيدا ہونے لگا اس كى عظیم ترين عسكرى طاقت چونكہ انتہائي مرتب ومنظم تھى اور جنگوں ميں اپنے طاقتور حريف يعنى ملك ايران پر وہ پے در پے فتوحات حاصل كرچكا تھا اسى لئے اسے اپنى طاقت پر ناز و غرور تھا چنانچہ اس طاقت كے زعم ميں اس نے فيصلہ كرليا كہ اپنے اس مسلح و منظم لشكر كے ساتھ مسلمانوں پر حملہ كردے_

رسول خدا (ص) كو علم ہوگيا كہ شہنشاہ روم ''ہرقل'' نے عظیم لشكر جمع كرليا ہے اور فوجيوں كو انكى ايك سال كى تنخواہ پيشگى ادا كردى ہے ، اس كے ساتھ ہى اس نے سرحدوں پر واقع ''لخم'' ، ''جذام''، ''غسان'' اور ''عاملہ'' نامى علاقے كے لوگوں كو بھى اپنے ساتھ ملا ليا ہے نيز اس كا ہر اول دستہ ''بلقائ(۲) '' تك آن پہنچا ہے(۳) _

رسول خد ا(ص) كو جب يہ اطلاع ملى تو اس وقت موسم انتہائي گرم تھا اور كھجور پك كر اتارنے كے قابل ہوچكى تھى ايك طرف راستے كى دورى اور دوسرى طرف سپاہ روم كى كثرت ايسے عوامل تھے جن كے باعث سپاہ كو روانہ كرنا سخت دشوار كام تھا بالخصوص ان واقعات كو مد نظر ركھتے ہوئے جو معركہ موتہ كے موقع پر پيش آچكے تھے ليكن ان لوگوں كيلئے جو واقعى مسلمان


تھے اسلام كى قدر وقيمت ذاتى آسائشے و آرام اور مادى منفعت سے كہيں زيادہ تھى ا ور وہ اسلام كى فلاح كى خاطر ان كو نظر انداز كرسكتے تھے چنانچہ اس خےال كے پيش نظر رسول خدا (ص) نے صحابہ كو جمع كيا اور مختصر طور پر دشمن كے استعداد اور اس كى عسكرى بالادستى كے بارے ميں مطلع كيا اس كے ساتھ ہى آنحضرت (ص) نے لشكر كى تيارى اورر وانگى كے لئے سعى وكوشش شروع كردى(۴) چنانچہ قبائل كے درميان اور مكہ كى جانب رسول خدا (ص) كے نمائندے روانہ كئے گئے تاكہ وہ لوگوں كو مقدس جہاد ميں شركت كى دعوت ديں_(۵)

ناسازگار حالات كے باوجود تيس ہزار جنگجو سپاہيوں نے جن ميں دس ہزار سوار بھى تھے رسول خدا (ص) كى پكار پر لبيك كہا_(۶)

رسول خدا (ص) نے جنگ كے اخراجات كيلئے مالدار لوگوں سے كہا كہ سپاہ كى مال و اسلحہ كے ذريعے مدد كريں(۷) اس كے علاوہ جب پيغمبر خدا (ص) كى طرف سے يہ اعلان كرديا گيا كہ اس سفر كا مقصد كيا ہے تو مسلمان اس اسلحہ اور ساز و سامان كے ساتھ جو ان كے پاس تھا اسے لے كر بير كوںميں جمع ہوگئے _

رسول خد ا(ص) كے فرمان پر لوگوں كے مختلف موقف

جب ہم تاريخ كى كتابوں كے صفحات اور ان آيات پر نظر ڈالتے ہيں جو اس سلسلے ميں نازل(۸) ہوئي ہيں تو ہم ديكھتے ہيں كہ اس غزوہ كے بارے ميں مسلمانوں كے افكار و نظريات مختلف و گوناگوں تھے جس كى كيفيت ذيل ميں درج ہے_

۱_خاص مو من افرادكو (اور اكثريت ان ہى پر مشتمل تھى) جيسے ہى رسول خدا (ص) كى دعوت كا علم ہوا تو اس ساز وسامان كے ساتھ جوان كے پاس موجود تھا رسول خدا (ص) كى سپاہ ميں


شامل ہوگئے_

۲_ايك گروہ ايسا بھى تھا جو رسول خد ا(ص) كے ساتھ جانا تو چاہتا تھا مگر اس كے پاس سوارى كے جانور نہ تھے چنانچہ انہوں نے رسول خدا (ص) سے كہا كہ اگر سوارى كا بندوبست ہو جائے تو وہ چلنے كو تيار ہيں ليكن جب رسول خد ا(ص) نے كہا كہ سوارى كے جانور كا فراہم كرنا تو ممكن نہيں تو ان كى آنكھوںميں آنسو آگئے اور وہ اشك بار اپنے اپنے گھروں كى طرف واپس چلے گئے _(۹)

۳_كچھ لوگ ايسے بھى تھے جنہوں نے نہ فقط يہ كہ فرمان رسول (ص) كے سامنے سر نہيں جھكايا بلكہ سپاہ كى روانگى ميں جس حد تك ممكن ہوسكتا تھا خلل اندازى سے بھى باز نہ آئے چنانچہ وہ مجاہدين جو جنگ ميں شركت كرنا چاہتے تھے ان سے يہ لوگ كہتے تھے كہ : اس سخت گرمى ميں جنگ پر مت جائو(۱۰) اس كے علاوہ جو لوگ ان مجاہدين كو مالى مدد دينا چاہتے تھے تو ان كا بھى يہ لوگ مذق اڑاتے(۱۱) كسى پر ريا كا رہونے كا الزام لگا تے اور كسى كى يہ كہہ كر حوصلہ شكنى كرتے كہ تمہارے پاس سامان سفر بہت كم ہے جنگ پر جاكر كيا كرو گے(۱۲)

۴_ كچھ لوگ ايسے بھى آرام طلب تھے جو جنگ سے فرار كرنے كى غرض سے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوتے اور كوئي بے بنياد بہانہ تراش كر آنحضرت (ص) سے يہ درخواست كرتے كہ انہيں مدينہ ميں ہى رہنے ديا جائے(۱۳) _

۵_ بعض نے سپاہ اسلام كے ساتھ جنگ ميں شريك ہونے سے ہچكچا ہٹ كامظاہرہ كيا ليكن تردّدميں ان كى بدنيتى شامل نہيں تھى بلكہ اس كا سرچشمہ جنگ كے معاملے ميں ان كى سستى اورغفلت تھى دشمن كے ساتھ جنگ كرنے سے زيادہ انہيںاپنے درختوں اور


محصولات كے ساتھ دلچسپى تھى اور يہ كہتے تھے كہ ہم كھجوريں جمع كرنے كے بعد ہى جنگ ميں شركت كريں گے _(۱۴)

تبوك كى جانب روانگي

منافقين كى ہر قسم كى رخنہ اندازى ،افترا پردازى اور منفى پروپيگنڈے كے باوجود رسول خد ا(ص) نے حضرت على (ع) كو مدينہ ميں اپنا جانشين مقرر كرديا اورماہ رجب سنہ ۹ ہجرى قمرى كو اس عظيم لشكر كے ہمراہ جسے اس دن تك مدينہ ميں كسى كى آنكھ نے نہ ديكھا تھا شمال كا طويل اور پر مشقت راستہ اختيار كيا _

تاريخ كى بعض كتابوں ميں درج ہے(۱۵) كہ رسول خدا(ص) نے حضرت على (ع) كو مدينہ ميں اپنا جانشين اسى وجہ سے مقرر كيا كہ آنحضرت (ص) كو عربوں كى بدنيتى كے بارے ميں بخوبى علم تھا جن كے ساتھ آپ (ص) نے جنگ كى تھى اور ان كے بہت سے رشتہ داروں كو تہ تيغ كيا تھا اس كے علاوہ آپ(ص) مدينہ كے ان منافقين كى كارستانيوں سے بھى بے خبر نہ تھے جنہوں نے كوئي نہ كوئي بہانہ بناكر اس جنگ ميں شركت كرنے سے اجتناب كيا تھا اور يہ احتمال تھا كہ جب رسول خد ا(ص) كافى عرصے تك مدينہ سے باہر تشريف فرمارہيں گے تو آپ (ص) كى غير موجودگى نيز مسلمانوں كى تنہائي كا وہ غلط فائدہ اٹھانا چاہيں گے اور مدينہ پر حملہ كرديں گے ، حضرت على (ع) كى مدينہ ميں موجودگى رسول (ص) خدا كى موجود گى كى طرح دشمنوں كو خوف زدہ ركھنے ، ان كى سازشوں كو نام كام بنانے اور مركزى حكومت كى حفاظت و پاسدارى كيلئے اشد ضرورى تھي_

چنانچہ يہى وجہ تھى جب رسول خدا(ص) نے حضرت على (ع) كو اپنا جانشين مقرر كيا تو اس سلسلے ميں آپ (ع) نے فرمايا كہ :


''انَّ الْمَديْنَةَ لَا تَصْلَحُ اَلَّا بيْ اَوْبكَ'' _

''مدينہ ميرے يا تمہارے بغير اصلاح پذير نہ ہوگا''_(۱۶)

سپاہ اسلام كے سامنے چونكہ اقتصادى مشكلات، راستے كى دورى ، سوارى كے جانوروں كى كافى كمي، سخت گرمي، جھلسادنے والى ہوا كى تپش جيسى مشكلات تھيں اسى لئے اس لشكر كو ''جَيشُ العُسرَة'' كے عنوان سے ياد كيا گيا ہے(۱۷) چنانچہ يہ سپاہ ان تمام سختيوں كو برداشت كرتى ہوئي ''تبوك'' نامى مقام پر پہنچ گئي مگر يہاں پہنچ كر معلوم ہوا كہ دشمن كا دور دور تك اتا پتہ نہيں گويا ہر قل كو جب اسلام كى عظیم سپاہ كى روانگى كا علم ہوا تو اس نے عافيت اسى ميں سمجھى كہ وہ پسپا ہو كر اپنے ملك كى حدود ميں چلاجائے(۱۸) ليكن سپاہ اسلام نے وسيع پيمانے پر انتہائي تيزى كے ساتھ شمالى حدود كے كنارے پہنچ كر اور بيس روز تك وہاں قيام پذير رہ كر دشمنان اسلام كو بہت سے پند آموز سبق سكھاديئے جن ميں سے چند كا ہم يہاں ذكر كريں گے_

۱_روم كى شہنشاہيت اور اسكے دست پروردہ سرحدى نگہبانوں پر اسلام كى طاقت و عظمت قطعى طور آشكار و عياں ہوگئي اور يہ حقيقت پايہ ثبوت كو پہنچ گئي كہ مسلمانوں كى عظيم عسكرى طاقت اس حد تك ہے كہ اگر دنيا كے طاقتور ترين لشكر سے بھى ٹكرلينے كى نوبت آجائے تو اس كا مقابلہ كرنے ميں انہيں ذرا بھى باك نہيں چنانچہ يہى وجہ تھى كہ لشكر اسلام كے سرزمين تبوك تك پہنچنے كى اطلاع ملتے ہى بعض سرحدى صوبوں كے فرمانروا رسول خدا (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور اس معاہدے كے ساتھ كہ وہ كسى طرح كا تعرض نہ كريں گے يہ بھى وعدہ كيا كہ ہر سال معقول رقم اسلامى حكومت كو بطور خراج بھى ادا كريں گے _(۱۹)


۲_مدينہ و تبوك كے راستے پر ''دَوْمُة الجندلَ'' نامى محكم قلعہ(۲۰) بنا ہوا تھا جس پر ''اُكَيدَر'' نامى عيسائي بادشاہ كى حكمرانى تھى چونكہ اس كے تعلقات ہر قل كے ساتھ خوشگوار تھے اسى لئے اس كا شمار ان مراكز ميں ہوتا تھا جو مسلمانوں كيلئے خطرات پيدا كرسكتے تھے چنانچہ رسول خدا(ص) نے خالد بن وليد كو تبوك سے چار سو بيس سواروں كے ہمراہ دومة الجندل كى جانب روانہ تا كہ وہاں پہنچ كر انہيں غير مسلح كردے ، خالد نے دشمن كونہتا كرنے كے بعد اس علاقے كے فرمانروا كو گرفتار كرليا اور اسے مال غنيمت كے ساتھ لے كر رسول خدا (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوا رسول خدا (ص) نے اسے اس شرط پر آزاد كرديا كہ وہ ''جزيہ'' ادا كرے گا_(۲۱)

۳_اس غزوہ كے باعث دين اسلام اور رسول خد ا(ص) كا نام نامى روم كے عيسائيوں كى زبان پر جارى رہنے لگا اور اس كا چرچا تازہ ترين خبر كى طرح ہر جگہ رہتا چنانچہ ميدان ايساہموار ہوگيا كہ رومى دين اسلام كو عالمى طاقت كى نظر سے ديكھنے لگے_

۴_جزيرہ نمائے عرب ميں وہ عرب و مشركين جو دين اسلام قبول كرنے كى سعادت سے محروم رہ گئے تھے اب انہيںبھى دين اسلام كى قوت كا پورى طرح اندازہ ہونے لگا تھا اور يہ بات اچھى طرح ان كى سمجھ ميں آگئي كہ جب روميوں كا طاقت ور لشكر اپنے پورے جنگى ساز وسامان كے باوجودلشكر اسلام كا مقابلہ نہ كرسكا تو ايسى زبردست طاقت كے سامنے ان كا سينہ سپر رہنا لا حاصل ہے ، ان خيالات كے پيش نظر ان قبائل نے يہ فيصلہ كرليا كہ اس سے قبل كہ رسول خدا (ص) ان كى خبر لينے كيلئے آئيں وہ خود ہى اپنے نمائندے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں روانہ كرديں اور يا تو دين اسلام قبول كرليں اور يا پھر ايسا معاہدہ كريں جس كى رو سے وہ اسلامى حكومت كے معاملات


ميں متعرض نہ ہوں گے او راسلامى حكومت كے سائے ميں ہى رہيں گے(۲۲) چونكہ بيشتر وفد غزوہ تبوك كے بعد سنہ ۹ ہجرى ميں رسول خدا (ص) كى ملاقات سے مشرف ہوئے(۲۳) اسى وجہ سے سنہ ۹ ہجرى كو ''سَنَةُ الُوفُود'' كہاجانے لگا _(۲۴)

اس كے علاوہ رومى لشكر مسلمانوں كا مقابلہ كرنے سے پہلے ہى چونكہ فرار كر گيا تھا اس لئے سپاہ كے حوصلے اس واقعے سے بہت زيادہ بلند ہوگئے چنانچہ مسلمانوں كے روم پر بعد والے حملوں پر اس كے بہت عمدہ اثرات رونما ہوئے_

پہلا تو يہى كہ : ان كے حوصلے اتنے قوى ہوگئے كہ وہ كسى بھى طاقت كو خاطر ميں نہيں لاتے تھے اور شايد اسى حوصلہ كى وجہ سے انہوں نے اپنا اسلحہ فروخت كردينا چاہا تھا كيونكہ وہ اكثر كہا كرتے تھے كہ ''اب جہاد كى ضرورت ہى باقى نہيں رہى ہے '' مگر رسول خدا (ص) نے انہيں اس اقدام سے منع فرمايا _(۲۵)

مدينہ كے رہنے والوں كو جب يہ اطلاع ملى كہ روميوں پر فتح حاصل ہوئي ہے تو وہ ايسے مسرور ہوئے كہ بقول ''بيہقي'' عورتوں ' بچوں اور نوجوانوں نے يہ ترانے گا كر لشكر اسلام كا استقبال كيا _

طَلَعَ البَدرُ عَلَينَا

من ثََنيَّات الوَدَاع

وَجَبَ الشُّكرُ عَلَينَا

مَا دَعَا للّه دَاع

اَيُّهَا المَبعُوثُ فينَا

جئتَ بالَامَر المُطَاع

''ہم پر ثنيات الوداع سے چودھويں كے چاندنے طلوع كيا جب تك كوئي دعا كرنے والا ہے' ہم پر شكر واجب ہے ، اے ہم ميں مبعوث ہونے والے نبى (ص) آپ(ص) ايسا حكم لے كر آئے ہيں جس كى اطاعت ضرورى ہے''_(۲۶)


دوسرا يہ كہ : مسلمان اتنا طويل پر مشقت سفر كرنے كے باعث چونكہ اس كى مشكلات و خصوصيات سے واقف ہوگئے تھے اسى لئے مستقبل ميں شام كو فتح كرنے كا راستہ ان كے لئے ہموار ہوگيا اور شايد يہى وجہ تھى كہ رسول اكرم (ص) كى رحلت كے بعد ديگر ممالك كو فتح كرنے سے قبل مسلمان شام كو فتح كرنے كى جانب متوجہ ہوئے_

منافقوں كى رسوائي

'غزوہ تبوك '' صدر اسلام كى ديگر سب جنگوں سے زيادہ منافقين كى جولان گاہ اور ان كے خيانت كارانہ ومجرمانہ افعال كى آماجگاہ رہا چنانچہ انہوں نے جتنى بھى بداعمالياں اور بدعنوانياں كيں خداوند تعالى نے دوسرى جنگوں كے مقابل ان كے اتنے ہى برے ارادوں اور ان كے منافقانہ چہروں كو بے نقاب كيا اور شايد اسى وجہ سے اس غزوہ كو ''فَاضحَہ '' (رسوا كن )كہا گيا ہے _(۲۷)

اس سے قبل كہ سپاہ اسلام ''تبوك'' كى جانب روانہ ہو منافقين نے جو بھى خيانت كارياں كيں ان كے بعض نمونے اوپر پيش كئے جاچكے ہيں انہوں نے انہى خيانت كاريوں اور اپنى بداعماليوں پر اكتفانہ كى بلكہ جتنے عرصے تك لشكر اسلام غزوہ تبوك پر رہا ان كے سازشيں بھى جارى رہيں چنانچہ ذيل ميں ہم اس كے چند نمونے پيش كريں گے_

۱_منافقين كے ايك گروہ نے ''سُويلم'' نامى يہودى كے گھر پر ميٹنگ كى جس ميں انہوں نے اس مسئلے پر غور وفكر كيا كہ جنگى امور اور لشكر كى روانگى ميں كس طرح خلل اندازى كى جائے چنانچہ جب رسول خدا (ص) كو ان كے ارادے كا علم ہوا تو آنحضرت (ص) نے چند لوگوں كو اس كے گھر كى طرف روانہ كيا جنہوں نے اسے نذر آتش كرديا(۲۸) _


۲_جس وقت سپاہ اسلام نے ''ثينة الوداع'' نامى جگہ پر پڑاؤ كيا تو منافقين كے سردار عبداللہ ابن ابى نے اپنے ساتھيوں اور يہودى حليفوں كے ہمراہ كوہ ''ذباب'' كے كنارے اپنا خيمہ لگايا اور رسول خد ا(ص) كے خلاف اس طرح زہر اگلنا شروع كيا_

''محمد(ص) كو روميوں كے ساتھ جنگ كرنے كى سوجھى ہے اور وہ بھى اس جھلس دينے والى گرمى ميں اور اتنى دور جاكر_ ادھر سپاہ اسلام كا يہ حال ہے كہ اس ميں جنگ كرنے كى ذرا بھى تاب نہيں ، روميوں كے ساتھ جنگ كرنے كواس نے كھيل تماشا سمجھ ركھا ہے مجھے تو ابھى يہ نظر آرہا ہے كہ محمد (ص) كے جتنے بھى ساتھى ہيں سب ہى كل قيدى ہوں گے اور سب كى مشكيں كسى ہوئي نظر آئيں گي''_

وہ اپنى اس خيانت كارانہ گفتار اور بدكردارى سے چاہتا تھا كہ مسلمانوں كے حوصلے پست كردے اور انہيں اس جہاد مقدس پر جانے سے باز ركھے ، مگر اس كہ يہ نيرنگى وحيلہ گرى كارگر ثابت نہ ہوئي اور بہت ہى ياس و نااميدى كى حالت ميں مدينہ پہنچا_(۲۹)

۳_سپاہ اسلام كى تبوك كى جانب روانگى اور حضرت على (ع) كے مدينہ ميں قيام سے منافقوں كو اپنى تمام كوششيں ناكام ہوتى نظر آئيں چنانچہ اب وہ اس فكر ميں رہنے لگے كہ كس طرح ايسا ماحول پيدا كريں اور اس قسم كى افواہيں پھيلاديں كہ حضرت على (ع) مركزى حكومت سے دور چلے جائيں تاكہ رسول خدا(ص) اور حضرت على (ع) كى غير موجودگى ميں پورے اطمينان كے ساتھ اپنى سازشوں كو عملى جامہ پہناسكيں_

حضرت على (ع) نے جب يہ افواہيں سنيں كہ رسول خدا (ص) آپ(ع) كو اپنى سرد مہرى اور بے توجہى كى وجہ سے محاذ جنگ پر لے كر نہيں جارہے ہيں تو آپ (ع) نے رسول خدا(ص) كى خدمت ميں


حاضر ہوكر تمام واقعات آنحضرت (ص) كے سامنے بيان كئے جنہيں سن كر رسول خدا(ص) نے فرمايا كہ :

''يہ لوگ جھوٹ بول رہے ہيں ميں تو تمہيں اس وجہ سے چھوڑ كر آيا ہو كہ وہاں جو كچھ ہے تم اس كى حفاظت و نگہبانى كرو كيا تمہيں يہ بات پسند نہيں ہے كہ تم ميرے لئے ايسے ہى ہو جيسے موسى (ع) كے لئے ہارون (ع) تھے ، فرق صرف يہ ہے كہ ميرے بعد نبوت كا سلسلہ ختم ہو جائے گا''_

اس كے بعد رسول خدا (ص) نے حضرت على (ع) سے ارشاد فرمايا كہ : ''آپ (ع) واپس مدينہ چلے جائيں اوراپنے خاندان اور '' دار الہجرة '' ميں آنحضرت (ص) كے جانشين كى حيثيت سے ساتھ مقيم رہيں _(۳۰)

۴_سپاہ اسلام كے خوف سے لشكر روم كے فرار نيز ان فتوحات كے باعث جو آنحضرت (ص) كو ''تبوك'' ميں مقيم رہنے كى دوران حاصل ہوئيں ، منافقين كا حسد و كينہ پہلے سے كہيں زيادہ بڑھ گيا اسى لئے جس وقت سپاہ اسلام تبوك سے واپس آرہى تھى تو ان منافقين نے نہايت ہى خطرناك چال چلنے كا فيصلہ كيا ، ان كى سازش يہ تھى كہ جب رسول خدا(ص) رات كى تاريكى ميں بلند درے سے گذريں گے تو منافقين ميں سے دس بارہ آدمى(۳۰) آنحضرت (ص) كى گھات ميں بيٹھ رہیں تاكہ جيسے ہى آپ (ص) كى سوارى كا اونٹ اس راستے سے گذرے تواسے بھڑكاديں اور آنحضرت (ص) اس گہرے درے ميں گر كر مارے جائيں_

ليكن خداوندتعالى نے آنحضرت (ص) كو ان كى سازش سے آگاہ كرديا چنانچہ جب منافقين نے يہ ديكھا كہ رسول خدا(ص) كو ان كى سازش كا علم ہوگيا ہے تو وہ وہاں سے فرار ہوگئے


اور اپنے ساتھيوں سے جاملے اگر چہ رسول خدا(ص) نے ان سب كو پہچان ليا تھا اور صحابہ نے بھى انہيں قتل كر نے پر اصرار كيا تھامگر رسول خدا(ص) نے انہيں معاف كرديا _(۳۲)

۵_منافقين اپنے جرائم كى پردہ پوشى كرنے كيلئے ہميشہ اس بات كى كوشش كرتے كہ انہيں دين كا لبادہ پہنائے رہيں ، مذہب كے پردے ميں اپنے ان مجرمانہ افعال كو جارى ركھنے كيلئے انہوں نے محلہ''قبا'' ميں مسجد كے نام سے ايك سازشى مركز قائم كيا تاكہ وہاں سے اپنى سياسى سرگرميوں كو جارى ركھ سكيں ، رسول خدا (ص) كى تبوك كى طرف روانگى سے پہلے انہوں نے مسجد كى تعمير شروع كى اور رسول خد ا(ص) اس كے بارے ميں مطلع بھى ہوئے اور جس وقت آنحضرت (ص) واپس تشريف لارہے تھے تو مدينہ كے نزديك قاصد غيب وحى لے كر نازل ہوا اور آيات قرآنى كے ذريعہ مسجد بنانے والوں كے گمراہ كن ارادوں سے مطلع كرديا(۳۲) رسول خد ا(ص) نے حكم صادر فرمايا كہ اس مسجد كو آگ لگا كر خاكستر كرديں اور جو كچھ وہاں ہے اسے تباہ و برباد كرديں اور اس جگہ كو گندگى كے ڈھير كے طور پر استعمال كريں_(۳۴)

غزوہ تبوك ميں مسلمانوں كى فتح اس جنگ كے بارے ميں منافقين كے تمام تجزيوں اور اندازوں كا بطلان، جنگ كے دوران ان كى سازشوں كى ناكامى ، مسجد ضرار كى ويرانى ، اسلام دشمن عناصر كے چہروں پر سے ريا او رنفاق كى نقاب كشائي اور آيات قرآنى(۳۵) ميں ان كى خصوصيات كى نشاندہى كے باعث كفر كے پيكر پر پے در پے ايسى سخت ضربات لگيں كہ اس كا سر كچل كر رہ گيا اور وہ خيانت كار خطرناك گروہ جو اسلامى معاشرے ميں پل رہا تھا منہ كے بل گرا اور وہ لوگ جو محاذ نفاق كى جانب رسول خدا (ص) كے خلاف نبرد آزمائي كر رہے تھے سخت مايوسى و نا اميدى كے شكار ہوئے


چنانچہ مسلسل ناكاميوں اور نامراديوں كا ہى نتيجہ تھا كہ منافقين كا سرغنہ ''عبداللہ بن ابى '' غزوہ تبوك كے ايك ماہ بعد ہى بيمار پڑگيا اور غموں ميں گھل گھل كر مرگيا_(۳۶)

مشركين سے بيزاري

سنہ ۹ ہجرى كے اواخر ميں زمانہ حج كے شروع ہونے سے قبل قاصد پيغام وحى نے سورہ توبہ كى چند ابتدائي آيات رسول خد ا(ص) كو پڑھ كر سنائيں ان آيات ميں خدا اور رسول خدا (ص) كى مشركين سے بيزارى ، مسلمانوں كے ساتھ ان سے قطع تعلق اور ان معاہدوں كو منسوخ كرنے كى ہدايت كى گئي جو مسلمانوں نے ان كے ساتھ كئے تھے _

حضرت رسول خدا (ص) نے پہلے تو حضرت ابوبكر كو امير حج مقرر كركے انہيں يہ ہدايت فرمائي كہ مشركين تك سورہ توبہ كى آيات پہنچاديں ليكن جب وہ روانہ ہوگئے تو دوبارہ فرشتہ وحى نازل ہوا اور يہ پيغام سنايا كہ اس كام كو پيغمبر خدا (ص) يا خاندان رسالت كے كسى فرد كے علاوہ كوئي دوسرا فردانجام نہيں دے سكتا(۳۷) چنانچہ رسول خدا (ص) نے حضرت على (ع) كو بلايا اورانہيں مشركين تك ان آيات كو پہنچانے كى ذمہ دارى سونپي_

حضرت على (ع) راستے ميں ہى حضرت ابوبكر سے جاملے اور ان سے فرمايا كہ يہ آيات مجھے ديں ، حضرت على (ع) مذكورہ آيات كو لے كر خود مكہ كى جانب روانہ ہوئے جب مناسك حج كا زمانہ آگيا تو آپ (ع) نے مسلمانوں اور كفار كے مجمع كثير ميں آيات تلاوت فرمائيں اور اس كے ساتھ ہى رسول خد ا(ص) كا پيغام بھى پہنچاديااس پيغام ميں جو باتيں كہى گئي تھيں وہ يہ ہيں كہ :

۱_كافر جنت ميں داخل نہ ہوں گے_


۲_آئندہ مشركين كو مكہ ميں داخل ہونے اور مناسك حج ادا كرنے كى اجازت نہيں دى جائے گي_

۳_آئندہ كسى شخص كو يہ اجازت نہيں ہوگى كہ وہ برہنہ خانہ كعبہ كا طواف كرے_

۴_جن لوگوں نے رسول خد ا(ص) سے كوئي معاہدہ كيا ہوا ہے وہ تو مدت معينہ تك معتبر و قابل عمل ہے ليكن جن كے ساتھ كوئي معاہدہ نہيں كيا گيا ہے انہيں چار ماہ كى مہلت دى جاتى ہے كہ وہ اس عرصے ميں اپنے معاہدے كے بارے ميں غور كريں اور جب يہ عرصہ گزر جائے تو كسى بھى مشرك كے ساتھ عہدو پيمان نہ كياجائے گا_(۳۸)

رسول (ص) خدا نے جو يہ صريح و قطعى اقدام كيا اس كى شايد وجہ يہ تھى كہ اس وقت سے جب كہ يہ پيغام مشركين كو پہنچايا گيا نزول رسالت تك تقريباً بائيس(۲۲) سال كا عرصہ گزر چكا تھا اور اس طوي-ل عرصے ميں رسول خد ا(ص) كى تمام تر سعى و كوشش يہ رہى كہ مشركين راہ راست پر آجائيں چنانچہ اس كے بعد كسى شك كى گنجائشے نہيں رہتى كہ بت پرستوں كے شرك اور پيغمبر اكرم (ص) كے ساتھ جنگ و جدال كى اصل وجہ ان كى ضد اور ذاتى دشمنى تھى اور اب اس چيز كى سخت ضرورت تھى كہ اسلامى معاشرہ جس قدر جلد ہوسكے ايسے عناصر سے پاك ہوجائے اگر كسى زمانے ميں پيغمبر اكرم (ص) نے سياسى حالات كے تحت مجبور ہوكر مشركين كے ساتھ معاہدہ صلح كياتھا تو اب جبكہ تمام علاقہ دين اسلام كے تحت اثر آچكا تھا اور اس نے صرف اندرونى ہى نہيں بلكہ بيرونى محاذوں پر بھى عظيم ترين فتح حاصل كرلى تھى آنحضرت(ص) كے لئے ايسے عناصر كو اسلامى معاشرے كے اندر برداشت كرنا ضرورى نہيں تھا جو توہمات و خرافات اور خلل اندازى كے پردے ميں زمين پر فساد بپا كئے رہيں ، انہيں چار ماہ كى مہلت اس لئے دى گئي تھى كہ انہيں اپنے بارے ميں سوچنے كيلئے كافى وقت مل سكے اور اپنے توہمات


وخرافات سے دست بردار ہونے كے بارے ميں غور وفكر كرسكيں_

رسول خد ا(ص) كا قطعى فيصلہ' سورہ توبہ كى آيات كا نزول اور مشركين كے مقابل رسول خد ا(ص) كے جرا تمندانہ مگر انسان دوستى پر مبنى اقدام بالخصوص چار ماہ كى مہلت، اس امر كے باعث ہوئے كہ وہ اپنے بارے ميں سوچيں اور موقع سے فائدہ اٹھائيں ، اس كے ساتھ ہى دين اسلام كى آسمانى تعليمات اور اپنے خرافات مبنى طور پر طريقے كے بارے ميں غورو فكر كرنے كے بعد دين اسلام كى آغوش ميں چلے جائيں _


سوالات

۱_ جس وقت رسول خد ا(ص) نے روميوں سے جنگ كيلئے سپاہ روانہ كرنے كا اقدام كيا تو آنحضرت (ص) كوكيا مشكلات اور دشوارياں پيش آئيں؟

۲_ جب رسول خد ا(ص) نے مسلمانوں كو روميوں كے ساتھ جنگ كرنے كى دعوت دى تو ان كى طرف سے كيا رد عمل ظاہر ہوا؟

۳_ رسول خد ا(ص) جب غزوہ تبوك پر تشريف لے جارہے تھے تو آنحضرت (ص) نے مدينہ ميں كسے اپنا جانشين مقرر رفرمايا اور اس شخص كے انتخاب كئے جانے كا كيا سبب تھا؟

۴_ اگر چہ غزوہ تبوك كے موقع پر جنگ تو نہيں ہوئي مگراسلام دشمنوں نے اس سے كچھ سبق ضرور حاصل كئے ان كے بارے ميں لكھئے وہ كيا تھے؟

۵_ غزوہ تبوك كا مسلمانوں كے دل ودماغ پر كيا اثر ہوا ؟

۶_ عزوہ تبوك كے موقع پر منافقين نے جو ريشہ دوانياں كيں اس كے دو نمونے پيش كيجئے_

۷_ غزوہ تبوك كو ''فاضحہ'' كس وجہ سے كہا گيا ؟ وضاحت كيجئے_

۸_ سورہ توبہ كى ابتدائي آيات ہجرت كے كس سال رسول خدا (ص) پر نازل ہوئيں اور آنحضرت (ص) نے كس شخص كے ذريعے انہيں مشركين تك پہنچايا ؟

۹_ سورہ توبہ كے علاوہ بھى كيا رسول خد ا(ص) كى طرف سے كوئي پيغام مشركين كو بھيجا گيا تھا ؟ وہ كيا پيغام تھا اس كے بارے ميں لكھئے_

۱۰_ كيا سورہ توبہ كى ابتدائي آيات اور اس كا مفہوم جو حضرت على (ع) كى جانب سے مشركين كو بھيجا گيا تھا ، ان پر كسى عقيدے كو مسلط كرنے اور ان كى آزادى سلب كرنے كے مترادف ہے يا نہيں ؟، اس كى وضاحب كيجئے_


حوالہ جات

۱_يہ جگہ ''وادى القري'' اور شام كے درميان واقع ہے مدينہ سے اس جگہ تك بارہ منزل كا فاصلہ ہے ، معجم البلدان ج ۲ ص ۱۴_ ۱۵ ، مسعودى نے اپنى كتاب التنبيہ والاشراف ميں ص ۲۳۵ پر لكھا ہے كہ مذكورہ بارہ منزلوں كا فاصلہ نوے فرسخ ہے (تقريباً ۵۴۰ كلوميٹر)_

۲_يہ جگہ شام اور وادى القرى كے درميان دمشق كے علاقے ميں واقع ہے ، معجم البلدان ج ۱ ص ۴۸۹_

۳_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۹۹۰_

۴_علامہ ''مفيد'' مرحوم نے اپنى كتاب ''الارشاد'' ميں ص ۸۲ پر لكھتے ہيں كہ ''رسول خدا (ص) '' كو وحى كے ذريعے علم ہوگيا تھا كہ اس سفر ميں جنگ نہيں ہوگى ''اورتلوار چلائے بغير ہى كام آنحضرت (ص) كى مرضى كے مطابق انجام پذير ہوں گے ، سپاہ كو تبوك كى جانب روانہ كئے جانے كا حكم محض مسلمانو ں كى آزمائشے كى خاطر ديا گيا تھا تاكہ مومن ومنافق كى تشخيص ہوسكے، موصوف اپنى كتاب ميں دو صفحات كے بعد لكھتے ہيں كہ اگر اس سفر ميں جنگ واقع ہوتى او ر رسول خد ا(ص) كو مدد كى ضرورت پيش آتى تو خداوند تعالى كى طرف سے يہ حكم نازل نہ ہوتا كہ آپ (ص) حضرت على (ع) كو مدينہ ميں اپنا جانشين مقرر فرمائيںبلكہ انہيں مدينہ ٹھہرانے كى آپ(ص) كو اجازت ہى نہيں ملتي_

۵_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۹۹۰_

۶_ايضا ص ۱۰۰۲_

۷_بحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۱۰_

۸_سورہ توبہ كى ۴۲ سے ۱۱۰ تك كى آيات اسى سلسلے ميں نازل ہوئي ہيں_

۹_ملاحظہ ہو : سورہ توبہ كى آيت ۹۲_

۱۰_ ملاحظہ ہو : سورہ توبہ آيت ۸۱_

۱۱_ملاحظہ ہو : سورہ توبہ آيت ۷۹_

۱۲_ملاحظہ ہو : تفسير برہان ج ۲ ص ۱۴۸_

۱۳_سورہ توبہ آيت ۴۹و ۹۰_


۱۴_ايضا آيت ۱۱۸_

۱۵_الارشاد ، مفيد ص ۸۲_

۱۶_ايضا ص ۸۳_

۱۷_التنبيہ والاشراف ص ۲۳۵_

۱۸_المغازى ج ۳ ص ۱۰۱۵_

۱۹_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۱۰۳۱ وسيرة النبويہ ج ۴ ص ۱۶۹_

۲۰_يہ قلعہ شام كے نواح ميں تھا جس كا فاصلہ دمشق سے پانچ رات (تقريبا ۱۹۰ كلوميٹر) اور مدينہ تك اس كا سفر تقريباً پندرہ يا سولہ رات (تقريباً ۵۷۰ كلوميٹر) كا تھا_ الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۶۲ و وفاء الوفاء ج ۲ ص ۱۲۱۳_

۲۱_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۱۰۲۵ والسيرة النبويہ ج ۴ ص ۱۶۹

۲۲_محمد بن سعد نے''الطبقات الكبري''كى جلد اول كے صفحات ۳۵ _۲۹۱ميں لكھا ہے كہ تہتر(۷۳) وفد رسول خدا(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے چنانچہ ہر وفد كى اس نے عليحدہ خصوصيات بھى بيان كى ہيں_

۲۳_ملاحظہ ہو: الكامل فى التاريخ ج ۳ ص ۲۸۶_

۲۴_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ج ۴ ص ۲۰۵_

۲۵_ملاحظ ہو : الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۶۷ والمغازى ج ۳ ص ۱۰۵۷_

۲۶_ السيرة النبويہ ابن كثير ج ۴ ص ۴۱_۴۲_

۲۷_ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۱۲۹_

۲۸_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ج ۴ ص ۱۶۰_

۲۹_ملاحظہ ہو :المغازى ج ۳ ص ۹۹۵_

۳۰_ ملاحظہ ہو: تاريخ طبرى ج ۳ ص ۱۰۳_ ۱۰۴ و السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۱۳۲_

۲۱_بعض كتب ميں ان كى تعداد چودہ اور پندرہ بھى بتائي گئي ہے (السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۱۴۲_

۳۲_ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۱۴۲ والمغازى ج ۳ ص ۱۰۴۲_ ۱۰۴۵_


۳۳_ملاحظہ ہو : سورہ توبہ كى آيات ۱۰۷ سے ۱۱۰ تك ، خداوند تعالى نے اس مسجد كو مسجد ضرار كے عنوان سے ياد كيا ہے اور اس مركز كے قائم كئے جانے كا سبب مسلمانوں كو زك پہنچانا ' كفر كى بنيادوں كو محكم كرنا اور ' مسلمانوں كى صفوں ميں تفرقہ ڈالنا بيان كيا ہے اور اسے دشمنان رسول خد ا(ص) كے مركز سے تعبير كياہے_

۳۴_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ج ۴ ص ۱۷۳ وبحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۵۲ _ ۲۵۵_

۳۵_سورہ توبہ كى آيات ۴۲ سے ۱۱۰ تك ان منافقين كى خيانت كاريوں اور سازشوں كے بارے ميں نازل ہوئي ہے جو جنگ تبوك كے دوران اپنى سازشوں ميں سرگرم عمل تھے ، مذكورہ آيات ميں خداوند تعالى كى طرف سے ان كى ذہنى كيفيات و خصوصيات بيان كى گئي ہيں_

۳۶_رسول خد ا(ص) ماہ رمضان ميں مدينہ واپس تشريف لائے ، عبداللہ بن ابى ماہ شوال ميں بيمار ہوا اور ماہ ذى القعدہ ميں مرگيا ، ملاحظہ ہو: المغازى ج ۳ ص ۱۰۵۶_ ۱۰۵۷_

۳۷_لَايُؤَديّ عَنكَ الَّا اَنتَ اَو رَجُلٌ منكَ _

۳۸_ملاحظہ ہو : السيرة النبويہ ' ابن ہشام ج ۴ ص ۱۹۰ _ ۹۱ ۱' بحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۶۵ _۲۷۵_


سبق ۱۶:

حجة الوداع ، جانشين كا تعين اور رحلت پيغمبر(ص) اكرم


حجة الوداع

اسلام كے ہاتھوں تبوك ميں سلطنت روم كى سياسى شكست، جزيرہ نمائے عرب ميں شرك و بت پرستى كى بيخ كنى(۱) اورمشركين كے نہ صرف مناسك حج ميں شركت كرنے بلكہ مكہ ميں داخل ہونے پر مكمل پابندى كے بعد جب زمانہ حج نزديك آيا تو رسول خد ا(ص) كو مامور كيا گيا كہ آنحضرت (ص) بذات خود ہجرت كے دسويں سال ميں مناسك حج ادا كريں تاكہ اسلام كى طاقت كو اور زيادہ نماياں كرنے كے ساتھ عہد جاہليت كے آداب و رسوم كو ترك كرنے اورسنت ابراہيمى كے اصول كے تحت حج كى بجا آورى بالخصوص مستقبل ميں مسئلہ قيادت اسلام كے بارے ميں براہ راست مسلمانوں كو ہدايت فرمائيں تاكہ سب پر حجت تمام ہوجائے_(۲)

رسول خد ا(ص) كو وحى كے ذريعے اس كام پر مامور كيا گيا كہ آنحضرت(ص) تمام مسلمانوں كو حج بيت اللہ پر چلنے كےلئے آمادہ كريں اور انہيں اس عظیم اسلامى اجتماع ميں شركت كرنے كى دعوت ديں چنانچہ اس بارے ميں خداوند تعالى اپنے نبى (ص) سے خطاب كرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے كہ :

( وَأَذّن فى النَّاس بالحَجّ يَأتُوكَ رجَالًا وَعَلَى كُلّ ضَامر: يَأتينَ من كُلّ فَجّ: عَميق )

''اور لوگوں كو حج كيلئے دعوت عام دو كہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پيدل اور


سوار ى پر آئيں تاكہ وہ فائدے ديكھيں جو يہاں ان كيلئے ركھے گئے ہيں''(۳) _

جس وقت يہ اعلان كياگيا اگر چہ اس وقت مدينہ اور اس كے اطراف ميں چيچك كى وبا پھيلى ہوئي تھى اور بہت سے مسلمان اس مرض كى وجہ سے اركان حج ادا كرنے كيلئے شركت نہيں كرسكتے تھے(۴) مگر جيسے ہى انہوں نے رسول خد ا(ص) كا يہ پيغام سنا مسلمان دور و نزديك سے كثير تعداد ميں مدينہ كى جانب روانہ ہوگئے تاكہ رسول خدا (ص) كے ساتھ مناسك حج ادا كرنے كا فخر حاصل كرسكيں ، مورخین نے ان كى تعداد چاليس ہزار سے ايك لاكھ چوبيس ہزار تك اور بعض نے اس سے بھى زيادہ لكھى ہے_(۵)

رسول خدا (ص) نے حضرت ابودجانہ كو مدينہ ميں اپنا جانشين مقرر فرمايا اور ہفتہ كے دن بتاريخ پچيس ذى القعدہ(۶) مكہ كى جانب روانہ ہوئے اس سفر ميں مسلمانون كا ذوق وشوق اس قدر زيادہ تھا كہ ان ميں سے كثير تعداد نے مدينہ و مكہ كے درميان كا فاصلہ پيدل چل كر طے كيا _(۷)

يہ قافلہ دس روز بعد منگل كے دن(۸) بتاريخ چہارم ذى الحجہ(۹) مكہ ميں داخل ہوا_(۹) جہاں اس نے عمرہ كے اركان ادا كئے _

آٹھ ذى الحجہ تك مسلمانوں كى دوسرى جماعت بھى مكہ پہنچ گئي جس ميں حضرت على (ع) اور آپ (ع) كے وہ ساتھى بھى شامل تھے جو اس وقت آپ (ع) يمن كے دورے پر تشريف لے گئے تھے_(۱۰)

رسول خدا (ص) نے اس عظیم اسلامى اجتماع ميں سنت ابراہيمى كے مطابق مناسك حج ادا كرنے كى تعليم دينے كے ساتھ يہ بھى ہدايت فرمائي كہ كس طرح صحيح طور پر اركان حج پر عمل پيرا ہوں ، آنحضرت (ص) نے ''مكہ''، ''منى '' اور ميدان ''عرفات '' ميں مختلف مواقع پر خطاب


فرما كر آخرى مرتبہ مسلمانوں كو پند ونصائح اور ارشادات عاليہ سے نوازا(۱۱) ان تقارير ميں آپ(ص) نے انہيں يہ نصيحت فرمائي كہ لوگوں كے جان ومال كى حفاظت كريں ، قتل نفس كى حرمت كا خيال ركھيں ، سود كى رقم كھانے ، دوسروں كا مال غصب كرنے سے بچیں ، دورجاہليت ميں جو خون بہايا گيا تھا اس سے چشم پوشى كو ہى بہتر سمجھيں ، كتاب اللہ پر سختى سے عمل پيرا ہوں ، ايك دوسرے كے ساتھ برادرانہ سلوك كريں، نيز استقامت و پائيدارى كے ساتھ احكام الہى و قوانين دين مقدس اسلام پر كاربند رہيں ، اس ضمن ميں آنحضرت(ص) نے مزيد ارشاد فرمايا كہ : حاضرين ان لوگوں كو جو يہاں موجود نہيں ہيں يہ پيغام ديں كہ ميرے بعد كوئي نبى و پيغمبر نہيں ہوگا اور تمہارے بعد كوئي امت نہ ہوگي(۱۲) آنحضرت(ص) نے يہ بات تاكيدسے كہى كہ : اے لوگو ميرى بات كو اچھى طرح سے سنو اور اس پر خوب غورو فكر كرو كيونكہ يہ ممكن ہے كہ اس كے بعد يہ موقع نہ ملے كہ ميرى تم سے ملاقات ہوسكے(۱۳) چنانچہ ان الفاظ كے ذريعے آنحضرت (ص) لوگوں كو مطلع كر رہے تھے كہ وقت رحلت نزديك آگيا ہے اور شايد اسى وجہ سے اس حج كو ''حجة الوداع'' كے عنوان سے ياد كيا جاتاہے_

جانشين كا تعين

مناسك حج مكمل ہوگئے اور رسول خدا(ص) واپس مدينہ تشريف لے آرہے تھے ليكن جو فرض آنحضرت (ص) پر واجب تھا وہ ابھى پورا نہيں ہوا تھا، مسلمانوں نے يہ سمجھ كر كہ كام انجام پذير ہوچكا ہے اورہر شخص نے اس سفر سے معنوى فيض كسب كرليا ہے اب ان كے دلوں ميں يہى تمنا تھى كہ جس قدر جلد ہوسكے تپتے ہوئے بے آب وگيا صحرا اورويراں ريگزاروں كو پار كركے واپس اپنے وطن پہنچ جائيں ليكن رسول خد ا(ص) نے چونكہ اپنى عمر عزيز كے تئيس سال ،


اول سے آخر تك رنج وتكاليف ميں گزار كر آسمانى دين يعنى دين اسلام كى اشاعت و ترويج كے ذريعے انسانوں كو پستى و گمراہى اور جہالت و نادانى كى دلدل سے نكالنے ميں صرف كئے تھے اور آپ (ص) اپنے اس مقصد ميں كامياب بھى ہوئے كہ پراكندہ انسانوں كو ايك پرچم كے نيچے جمع كرليں اورانہيں امت واحد كى شكل ميں لے آئيں انہيںاب دوسرا خيال درپيش تھا ،اب آنحضرت (ص) كے سامنے اسلام كے مستقبل اور قيادت كا مسئلہ تھا بالخصوص اس صورت ميں جبكہ آپ (ص) كے روبرو يہ حقيقت بھى تھى كہ اس پر افتخار زندگى كے صرف چند روز ہى باقى رہ گئے ہيں_

رسول خدا (ص) ہر شخص سے زيادہ اپنے معاشرے كى سياسى ، معاشرتي، اجتماعى اور ثقافتى وضع و كيفيت سے واقف تھے ، آنحضرت(ص) كو اس بات كا بخوبى علم تھا كہ آسمانى تعليمات ، آپ (ص) كى دانشورانہ قيادت و رہبرى اور حضرت على (ع) جيسے اصحاب كى قربانى كے باعث قبائل كے سردار و اشراف قريش اسلام كے زير پرچم جمع ہوگئے ہيں ليكن ابھى تك بعض كے دل و دماغ مكمل طور پر تسليم حق نہیں ہوئے اور وہ ہر وقت اس فكر ميں رہتے ہيں كہ كوئي موقع ملے اور وہ اندر سے اس دين پر ايسى كارى ضرب لگائيں كہ بيروى طاقتوں كيلئے اس پر حملہ كرنے كيلئے ميدان ہموار ہوجائے _

( اَلْيَومُ اَكْمَلْتُ لَكُمْ ديْنَكُمْ ) (۱۴) كے مصداق كوئي ايسا ہى لائق اور باصلاحيت شخص جو آنحضرت (ص) كى مقرر كردہ شرائط كو پورا كرسكے ،دين اسلام كو حد كمال تك پہنچا سكتا ہے نيز امت مسلمہ كى كشتى كو اختلافات كى تلاطم خيز لہروں سے نكال كر نجات كے ساحل كى طرف لے جاسكتاہے_

رسول اكرم (ص) اگر چہ جانتے تھے كہ امت مسلمہ ميں وہ كون شخص ہے جو آپ(ص) كى جانشينى اور


مستقبل ميں اس امت كى رہبرى كيلئے مناسب وموزوں ہے اور خود آنحضرت (ص) نے كتنى ہى مرتبہ مختلف پيرائے ميں يہ بات لوگوں كے گوش گذار بھى كردى تھى ليكن ان حقائق كے باوجود اس وقت كے مختلف حالات اس امر كے متقاضى تھے كہ جانشينى كيلئے خداوند تعالى كى طرف سے واضح وصريح الفاظ ميں جديد حكم نازل ہو، آنحضرت (ص) يہ بات بھى خوب جانتے تھے كہ اس معاملے ميں اللہ تعالى آنحضرت (ص) كى مدد بھى فرمائے گا_كيونكہ رسالت كى طرح مقام خلافت و امامت بھى ايك الہى منصب ہے اور حكمت الہى اس امر كى متقاضى ہے كہ اس منصب كيلئے كسى لائق شخص كوہى منتخب كياجائے ليكن اس كے ساتھ ہى رسول خدا (ص) كو خدشہ بھى لاحق تھا كہ اگر يہ عظيم اجتماع پراكندہ ہوگيا اور ہر مسلمان اپنے اپنے وطن چلاگيا تو پھر كبھى ايسا موقع نہ مل سكے گا كہ كسى جانشين كے مقرر كئے جانے كا اعلان ہوسكے اور آپ (ص) كا پيغام لوگوں تك پہنچ سكے_

قافلہ اپنى منزل كى جانب رواں دواںتھا كہ بتاريخ ۱۸ ذى الحجہ ''جحفہ '' كے نزديك ''غدير خم'' پر پہنچا اور يہ وہ جگہ ہے جہاں سے مدينہ ،مصر اور عراق كى جانب جانے والى راہيں ايك دوسرے سے جدا ہوتى ہيں ، اس وقت فرشتہ وحى نازل ہو ااوررسول خدا (ص) كو جس پيغام كى توقع تھى اسے اس نے ان الفاظ ميں پہنچاديا :

( يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلّغ مَا أُنزلَ إلَيكَ من رَبّكَ وَإن لَم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رسَالَتَهُ وَالله ُ يَعصمُكَ من النَّاس إنَّ الله َ لاَيَهدى القَومَ الكَافرينَ ) (۱۵) _

''اے پيغمبر (ص) جو كچھ تمہارے رب كى طرف سے تم پر نازل كيا گيا ہے اسے لوگوں تك پہنچا


دو ، اگر تم نے ايسا نہ كيا تو تم نے اس كى پيغمبرى كا حق ادا نہيں كيا اللہ تم كو لوگوں كے شر سے بچائے گااور خدا كافروں كو ہدايت نہيں كرتا'' _

گرمى سخت تھى اور كافى طويل قافلہ زنجير كے حلقوں كى مانند پيوستہ اپنى منزل كى جانب گامزن تھا ، رسول خد ا(ص) كے حكم سے يہ قافلہ رك گيا اور سب لوگ ايك جگہ جمع ہوگئے اور يہ جاننے كے متمنى تھے كہ كون سا اہم واقعہ رونما ہونے والا ہے_

رسو-ل خد ا(ص) نے پہلے تو نماز ظہر كى امامت فرمائي اور اس كے بعد ايك (منبر نما) اونچى جگہ پر جو اونٹ كے كجاوئوں سے بنائي گئي تھى تشريف فرما ہوئے اس موقع پر آپ (ص) نے مختلف مسائل كے بارے ميں تفصيلى خطبہ ديا اور ايك بار پھر لوگوں كو يہ نصيحت فرمائي كہ كتاب اللہ اور اہلبيت رسول (ص) كى پورى ديانتدارى كے ساتھ پيروى كريں كيونكہ يہى دونوں ''متاع گرانمايہ'' يعنى بيش قيمت اثاثے ہيں ، اس كے بعد آنحضرت(ص) نے اصل مقصد كى جانب توجہ فرمائي_

آنحضرت (ص) نے حضرت على (ع) كا دست مبارك اپنے دست مبارك ميں لے كر اس طرح بلند كيا كہ سب لوگوں نے رسول خد ا(ص) نيز حضرت على (ع) كو ايك دوسرے كے دوش بدوش ديكھا چنانچہ انہوں نے سمجھ ليا كہ اس اجتماع ميں كسى ايسى بات كا اعلان كياجائے گا جو حضرت على (ع) كے متعلق ہے_

رسول خد ا(ص) نے مجمع سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا :

''اے مومنو تم لوگوں ميں سے كونسا شخص خود ان سے زيادہ اَولى اور ان كى جانوں كا زيادہ حق دار ہے ؟'' مجمع نے جواب ديا كہ خدا ا ور رسول خدا(ص) ہى بہتر جانتے ہيں _

اس پر رسول خدا (ص) نے فرمايا :'' ميرا مولا خدا ہے اور ميں مومنين كا مولا ہوں ميں خود ان


سے زيادہ اَولى اور ان كى جانوں پر تصرف كا زيادہ حق ركھتا ہوں اور سب پر مجھے فضےلت حاصل ہے اور جس كا مولا ميں ہوںيہ على (ع) بھى اس كے سردار اورمولا ہيں ، اے خدا وندا جو على (ع) كے دوست ہوں انہيں تو عزيز ركھ اور جو على (ع) كے دشمن ہوں تو ان كے ساتھ دشمنى كر ، على (ع) كے دوستوں كو فتح ونصرت عطا فرما اور دشمنان على (ع) كو ذليل وخوار كر''_(۱۶)

رسول خدا (ص) كا خطبہ ختم ہوجانے كے بعد مسلمان حضرت على (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور رسول خدا (ص) كى طرف سے مقام خلافت و قيادت تفويض كئے جانے پر انہوں نے آپ(ع) كو مبارك باد پيش كى اور آپ (ع) سے امير المؤمنين اور مولائے مسلمين كہہ كر ہمكلام ہوئے ، خداوند تعالى نے بھى حضرت جبرئيل (ع) كو بھيج كر اور مندرجہ ذيل آيت نازل فرما كر لوگوں كو اس نعمت عظمى كى بشارت اور مبارك باد دي_

( اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نعمَتى وَرَضيتُ لَكُم الإسلاَمَ دينًا ) _(۱۷)

''آج ميں نے تمہارے دين كو تمہارے لئے مكمل كرديا ہے اور اپنى نعمت تم پر تمام كردى ہے اور تمہارے لئے اسلام كو دين كى حيثيت سے پسند فرمايا ہے''(۱۸) _

اس روز (۱۸ ذى الحجہ )سے مسلمان اور حضرت على (ع) كے پيروكار ''عيد غدير'' كے نام سے ہر سال جشن مناتے ہيں اور اس عيد كا شمار اسلام كى عظیم عيدوں ميں ہوتا ہے_

رسول خدا(ص) كى آخرى عسكرى كوشش

رسول اكرم (ص) ''حجة الوداع'' سے واپس آنے كے بعد خداوند تعالى كى طرف سے عائد كردہ دو اہم فرائض (فريضہ حج اور حضرت على (ع) كى جانشينى كے اعلان) كو انجام دينے كے


بعد اگر چہ بہت زيادہ اطمينان محسوس كر رہے تھے ليكن اس كے باوجود آپ (ص) كى دور رس نگاہيں ديكھ رہى تھيں كہ ابھى امت مسلمہ كے سامنے ايسے مسائل ہيں جن كى وجہ سے وہ فتنہ وفساد سے دوچار رہے گى چنانچہ يہى فكر آنحضرت (ص) كيلئے تشويش خاطر كا باعث تھي_

سنہ ۱۱ ہجرى كے اوائل ميں جب كچھ لوگوں نے يہ خبر سنى كہ سفر كى وجہ سے رسول خد ا(ص) كى طبيعت ناساز ہے تو انہوں نے نبوت كا دعوى كركے فتنہ و غوغا برپا كرديا ، چنانچہ ''مُسيلمہ'' نے ''يمامہ'' ميں ''اسود عنسي'' نے ''يمن ''ميں اور ''طليحہ'' نے ''بنى اسد '' كے علاقوںميں لوگوں كو فريب دے كر گمراہ كرنا شروع كرديا _(۱۹)

مسيلمہ نے تو رسول خد ا(ص) كو خط بھى لكھا اور آنحضرت (ص) سے كہا كہ اسے بھى امر نبوت ميں شريك كرلياجائے_(۲۰)

دوسرى طرف ان لوگوں كو ، جو كل تك كافر اور آج منافق تھے اور جن كے دلوں ميں پہلے سے ہى اسلام كے خلاف بغض و كينہ بھرا ہوا تھا ، جب يہ معلوم ہوا كہ رسول خد ا(ص) نے حضرت على (ع) كے پيشوائے اسلام اور جانشين پيغمبر (ص) ہونے كا اعلان كرديا ہے تو ان كا غصہ پہلے سے كہيں زيادہ ہوگا چنانچہ جب انہيں يہ علم ہوا كہ رسول خدا(ص) كى طبيعت ناساز ہے اور آنحضرت (ص) كى رحلت عنقريب ہى واقع ہونے والى ہے تو ان كا جوش و خروش كئي گنا زيادہ ہوگيا_

ان واقعات كے علاوہ مشرقى روم كى مغرور و خود سر حكومت اور اس كى نو آباديات كو مسلمانوں كے ساتھ چند مرتبہ نبرد آزمائي كرنے كے بعد ان كى طاقت كا اندازہ ہوگيا تھا اور ان سے كارى ضربيں كھاچكے تھے اسى لئے ان كا وجود مدينہ كى حكومت كے لئے خطرہ بنا ہوا تھا كيونكہ سياسى عوامل سے قطع نظر اس خاص مذہبى حساسيت كے باعث بھى جو عيسائي


سربراہوں كے دلوں ميں اسلام كے خلاف تھى شمالى سرحدوں پر ہميشہ ناامنى سايہ فگن تھي_

ان حالات ميں بقول پيغمبر اكرم (ص) ''فتنے وفسادات سياہ رات كى طرح يكے بعد ديگرے اسلامى معاشرے پر چھانے شروع ہوگئے ہيں''_(۲۱)

چنانچہ آنحضرت (ص) نے ان كے خاتمہ كيلئے بعض آخرى اور انتہائي اقداما ت بھى كئے _

رسول خدا (ص) نے ''يمن''اور'' يمامہ'' ميں اپنے گورنروں اور قبيلہ بنى اسد كے درميان موجود اپنے نمائندے كو حكم ديا كہ نبوت كے دعويداروں كى شورش كو دبا دیں، اس كے علاوہ يہ حكم بھى صادر فرمايا كہ''اسامہ بن زيد'' نامى اٹھارہ يا انيس(۲۲) سالہ سپہ سالار كى زير قيادت طاقتور سپاہ تيار كى جائے چنانچہ آنحضرت (ص) نے حضرت اسامہ كى تحويل ميں پرچم دينے كے بعد فرمايا كہ پورى امت مسلمہ كے ساتھ جس ميں مہاجر و انصار شامل ہوں بلاد روم ميں اپنے والد ''زيد بن حارثہ'' كى شہادت گاہ كى جانب روانہ ہوں(۲۳) _

حصرت اسامہ كے سپہ سالار مقرر كرنے كى وجہ ان كى مہارت ولياقت كے علاوہ يہ بھى ہوسكتى تھى كہ :

۱_يہ عمل آنحضرت (ص) كى جانب سے ان خرافات كے خلاف عملى جدو جہد تھى جو دور جاہليت سے بعض صحابہ كے ذہنوں ميں سمائي ہوئي تھيں كيونكہ ان كى نظر ميں كسى مقام ومرتبہ كے حصول كا معيار يہى تھا كہ صاحب جاہ ومرتبہ معمر شخص ہو اور كسى قبيلے كے سردار سے وابستہ شخص ہى اس كا حقدار ہوسكتا ہے_

۲_حضرت زيد ابن حارثہ كى شہادت چونكہ روميوں كے ہاتھوں ہوئي تھى اسى لئے ان كے دل ميں روميوں كے ساتھ جنگ كرنے كا جوش وولولہ بہت زيادہ تھا، رسول خدا (ص) كى يہ كوشش تھى كہ ان كے اس جوش وولولے ميں مزيد شدت اورحدت پيدا ہو چنانچہ


اسى وجہ سے جب آنحضرت (ص) نے سپہ سالار ى كى ذمہ دارى ان كو دى تو اس كے ساتھ يہ بھى ارشاد فرمايا كہ ''اپنے باپ كى شہادت گاہ كى جانب روانہ ہو ''_(۲۴)

۳_اگر اس وقت كے حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے سپاہ كى قيادت مہاجر و انصار ميں سے كسى معمر شخص كى تحويل ميں دے دى جاتى تو اس بات كا امكان تھا كہ وہ شخص اس عہدے سے سوء استفادہ كرتا اوراسى وجہ سے خود كو پيغمبر اكرم (ص) كا خليفہ و جانشين سمجھنے لگتا ليكن حضرت اسامہ كى يہ حيثيت نہيں تھى اور ان كے خليفہ بننے كا كوئي امكان بھى نہيں تھا_

حضرت اسامہ نے رسول خد ا(ص) كے حكم كے مطابق ''جُرْف''(۲۴) نامى مقام پر خيمے نصب كئے اور ديگر مسلمانوں كى آمد كا انتظار كرنے لگے_

رسول خد ا(ص) نے مسلمانوں بالخصوص مہاجر و انصار كے سرداروں كو حضرت اسامہ كے لشكر ميں شامل كرنے كيلئے بہت زيادہ تاكيد اور اہتمام سے كام ليا اور جو لوگ اس اقدام كے مخالف تھے ان پر آنحضرت (ص) نے لعنت بھى بھيجي_(۲۶)

حضرت اسامہ كى عسكرى طاقت كو تقويت دينے كے علاوہ اس اہتمام كى ايك وجہ يہ بھى تھى كہ آنحضرت(ص) چاہتے تھے كہ وقت رحلت وہ لوگ مدينہ ميں موجود نہ رہيں جو امت ميں اختلاف پيدا كرنے اور منصب خلافت كے حصول كى فكر ميں ہيں تاكہ حضرت على (ع) كى قيادت و پيشوائي كے بارے ميں فرمان خدا و رسول (ص) جارى كئے جانے كيلئے راستہ ہموار رہے_(۲۷)

ليكن افسوس بعض مسلمانوں نے جنہيں رسول خدا(ص) مدينہ سے باہر بھيجنے كيلئے كوشاں تھے يہ بہانہ بناكر كہ حضرت اسامہ بہت كم عمر ہيں مخالفت شروع كردى اور ان كى خميہ گاہ كى


جانب جانے سے انكار كرديا _(۲۸) نيز يہ ديكھ كر كہ رسول خدا (ص) كى طبيعت ناساز ہے تو انہوں نے حضرت اسامہ كے لشكر كو روم كى طرف جانے سے يہ كہہ كر روكنا چاہا(۲۹) كہ چونكہ اس وقت رسول خدا (ص) بہت عليل ہيں اسى لئے ان حالات كے تحت ہمارے دلوں ميں آپ (ص) سے جدائي كى تاب و طاقت نہيں_(۳۰)

رسول خدا (ص) كو منافقين كے اس رويے سے سخت تكليف پہنچى آپ (ص) طبيعت كى ناسازى كے باوجود مسجد ميں تشريف لے گئے اور مخالفت كرنے والوں سے فرمايا كہ : ''اسامہ كو سپہ سالار مقرر كئے جانے كے بارے ميں ميں يہ كيا سن رہاہوں ، اس سے پہلے جب ان كے باپ كو سپہ سالار مقرر كيا تھا تو اس وقت بھى تم طعن و تشنيع كر رہے تھے خدا گواہ ہے كہ وہ بھى لشكر كى سپہ سالارى كے لئے مناسب تھے اور اسامہ بھى اس قيادت كے اہل اور لائق ہيں''_(۳۱)

رسول خدا(ص) اس وقت بھى جب كہ صاحب فراش تھے تو ان لوگوں سے جو عيادت كيلئے آئے تھے مسلسل يہى فرماتے كہ ''انْفُذوْابَعْثَ اُسَامَةَ ''(۳۲) اسامہ كے لشكر كو تو روانہ كروليكن آنحضرت(ص) كى يہ سعى وكوشش بھى بے سود ثابت ہوئي كيونكہ صحابہ ميں جو سردار تھے انہوں نے اس قدر سستى اورسہل انگارى سے كام ليا كہ آنحضرت(ص) كى رحلت واقع ہوگئي اور سپاہ واپس مدينہ آگئي _

رسول خدا(ص) كى رحلت

رسول خدا(ص) كے مزاج كى ناسازى ميں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا علالت كے دوران آنحضرت (ص) بقيع كى جانب تشريف لے گئے اور جو لوگ وہاں ابدى نيند سو رہے تھے


ان كى طلب مغفرت كے بعد حضرت على (ع) كى جانب رخ كيا اور فرمايا كہ جبرئيل سال ميں ايك مرتبہ مجھے قرآن پيش كرتے تھے ليكن اس مرتبہ انہوںنے دو مرتبہ پيش كيا اس كى وجہ اس كے علاوہ كچھ اور نہيں ہوسكتى كہ ميرى رحلت قريب ہے ، اس كے بعد آپ (ص) نے فرمايا كہ :

''اے على (ع) مجھے يہ اختيار ديا گيا ہے كہ دنيا كے خزانوں، اس كى جاويدانى زندگى اور بہشت كے درميان ميں سے كسى كا انتخاب كرلوں ميں نے ان ميں سے بہشت اور ديدار پروردگار كو چن لياہے''_(۳۳)

رسول خدا (ص) بسترعلالت پر فروكش اورانتہائي اشتياق كے ساتھ فرمان حق كا انتظار فرما رہے تھے ليكن يہ اشتياق آنحضرت (ص) كو امت كى ہدايت كے خيال اور اس كے درميان اختلاف كى وجہ سے فتنہ پيدا ہونیکے انديشے سے نہ روك سكا، صحابہ ميں سے بعض برگزيدہ حضرت آپ(ص) كى عيادت كيلئے حاضر ہوئے ان سے رسول خد ا(ص) نے يہى ارشاد فرمايا كہ : ''قلم ودوات لے آو تاكہ ميں تمہارے لئے ايسى چيز لكھ دوں جس سے تم كبھى گمراہ نہ ہو گے''_(۳۴) اس پر عمر نے كہا : رسول خدا (ص) پر مرض كا غلبہ ہے قرآن تو ہمارے پاس ہے ہى ہمارے لئے يہى كتاب اللہ كافى ہے ، حاضرين ميں سے بعض نے عمر كے نظريے سے اختلاف كيا اور بعض ان كى جانب دار ہوگئے ، رسول خدا(ص) كيلئے ان كى يہ جسارت و بے باكى سخت پريشانى خاطر كا باعث ہوئي جس پر آپ(ص) نے فرمايا كہ :'' ميرى نظروں سے دور ہوجائو''_(۳۵)

بعض صحابہ كى اعلانيہ مخالفت نے اگر چہ رسول خدا (ص) كو وصيت لكھنے سے باز ركھا ليكن آنحضرت (ص) نے اپنا مدعا دوسرے طريقے سے بيان كرديا اگر چہ مرض كاغلبہ تھا مگر دردو تكليف كے باوجود آنحضرت (ص) مسجد كى جانب روانہ ہوئے اور وہاں منبر پر تشريف فرما ہوكر


آخرى مرتبہ لوگوں سے خطاب فرمايا جو آنحضرت (ص) كا آخرى خطبہ تھا آپ (ص) نے فرمايا كہ :

''اے لوگو ميں تمہارے درميان دو گرانبہا چيزيں چھوڑے جارہاہوں ، ان ميں سے ايك كلام اللہ ہے اور دوسرے ميرے اہل بيت ''_(۳۶)

بالآخر جد و جہد سے بھر پور تريسٹھ سالہ حيات طيّبہ كے بعد ۲۸ صفر بروز ہفتہ ۱۱ ہجرى كو اس سفير حق كى مقدس روح اس وقت جب كہ آنحضرت (ص) كا سر مبارك حضرت على (ع) كے گود ميں تھا عالم ملكوت كى جانب پرواز كرگئي _(۳۷)

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے آپ (ص) كے جسد پاك كو غسل ديا اور كفن پہنايا _(۳۸)

اس كے بعد آپ (ص) كے چہرے مبارك سے كفن مبارك كى گرہوں كو كھول ديا اگر چہ آنكھوں سے آنسو جارى تھے مگر اسى حالت ميں آپ (ع) نے فرمايا كہ :

''يا رسول اللہ (ص) ميرے ماں باپ آپ (ص) پر فدا ہوں ، آپ (ص) كى رحلت كے باعث نبوت ' وحى الہى اور آسمانى پيغامات كى آمد كا سلسلہ منقطع ہوا اگر چہ آپ(ص) نے ہميشہ ہميں صبر كى تلقين اور عجلت و بے تابى سے منع فرمايا مگر آج صبر وتحمل كا يارا نہيں اگر آپ(ص) نے ہميں صبر و تحمل كا حكم نہ ديا ہوتا تو ہم اتنا گريہ و زارى كرتے كہ آنكھوں كے آنسو ہى خشك ہوجاتے(۳۹)

اس كے بعد آپ (ع) نے نماز جنازہ پڑھائي ، حضرت على (ع) كے بعد صحابہ نے يكے بعد ديگرے كئي ٹولياںبنا كر جماعتوں كى صورت ميں نماز ادا كى اس كے بعد اسى حجرے ميں جہاں آنحضرت (ص) كى رحلت ہوئي اس جسد پاك كو سپرد خاك كرديا گيا_(۴۰)

خداوند ، ملائكہ اور كل مومنين كى طرف سے آپ (ص) پر اور خاندان رسالت(ص) پر لاكھوں درودسلام_


سوالات

۱_حجة الوداع كس سال منعقد ہوا اس ميں كتنے لوگوں نے شركت كى اس كى كيا خصوصيات تھيں؟

۲_ رسول خدا(ص) نے حجة الوداع كے خطبات ميں كن باتوں كو تاكيد سے بيان كيا ؟

۳_سنہ ۱۰ ہجرى كے سياسى ' اجتماعى حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے واضح كيجئے كہ رسول خدا(ص) نے جانشين مقرر كرنے كى ضرورت كيوں محسوس كى ؟

۴_''غدير خم'' كے مقام پر كيا اہم واقعہ رونما ہوا ، اس واقعے كى قرآن كى روسے كيا اہميت تھى ؟

۵_ وہ كون سے عوامل تھے جن كے باعث رسول خدا (ص) نے اپنى زندگى كے آخرى دنوں ميں حضرت اسامہ كے لشكر كو عسكرى اعتبار سے تقويت پہنچانے كى كوشش كى ؟

۶_ رسول خدا (ص) كو كس وجہ سے يہ اصرار تھا كہ حضرت اسامہ كا لشكر روم كى جانب روانہ ہوجائے؟

۷_بعض صحابہ نے كس وجہ سے رسول خدا (ص) كے فرمان كى اطاعت نہيں كى اور حضرت اسامہ كے لشكر ميں شريك ہونے سے انكار كرديا؟_

۸_ رسول خدا (ص) كى رحلت كس روز ہوئي؟ آپ (ص) كو كہاں دفن كيا گيا اور تجہيز و تكفين كے فرائض كس نے انجام ديئے؟


حوالہ جات

۱_بعض مورخین نے لكھا ہے كہ جزيرہ نما ئے عرب ميں بت پرستى كا قلع قمع ہجرت كے دسويں سال كے وسط ميں ہوگيا تھا ، ملاحظہ ہو : فروغ ابديت ج ۲ ص ۸۰۹_

۲_شايد اسى وجہ سے اسے''حَجَّةُ البُلاَغ'' كہا گيا ہے_

۳_سورہ حج آيت ۲۷ اس بناپر كہ اس آيت كے مخاطب رسول (ص) خدا ہوںملاحظہ ہو مجمع البيان ج ۷_۸ ص ۸۰_

۴_ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۲۵۷_

۵_ يہ تعداد چاليس ہزار ، ستر ہزار نوے ہزار ' ايك لاكھ بيس ہزار اور ايك لاكھ چوبيس ہزار تك درج ہے اور يہ تعداد ان لوگوں كے علاوہ ہے جو رسول خدا (ص) كے ساتھ سفر ميں شامل ہوئے تھے اور ان ميں اہل مكہ بھى شامل نہيں ملاحظہ ہو: السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۲۵۷ و الغدير ج ۱ ص ۹_

۶_بحارالانوار ج ۲۱ ص ۳۸۴ ، المغازى ج ۳ ص ۱۰۸۹ والارشاد ص ۹۱_

۷_ملاحظہ ہو : الارشاد ص ۹۱_

۸_بحارالانوار ج ۲۱ ص ۳۸۹_ ۳۹۰_

۹_الغدير ج ۱ ص ۱۰_

۱۰_بحار الانوار ج ۱۲، ص ۳۹۱_ الارشاد ص ۹۲_

۱۱_ملاحظہ ہو : السيرة المصطفي(ص) ص ۶۸۸_ ۶۸۹_

۱۲_رسول خدا (ص) كے اس خطبے كے متعلق مزيد معلومات كےلئے ملاحظہ ہوں : بحارالانوار ج ۲۱ ص ۳۸۰ و تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۱۰۹_ ۱۱۲_

۱۳_السيرة النبويہ ج ۴ ص ۲۵۰_ ۲۵۱_

۱۴_آج ميں نے تمہارے لئے تمہارے دين كو مكمل كرديا ہے سورہ مائدہ آيت ۳_

۱۵_سورہ مائدہ آيت ۶۷_

۱۶_مَنْ كُنْتُ مُوْلَاهُ فَهذَا عَليٌ مَوْلاهُ اَللّهُمَّ وَآل مَنْ وَالَاهُ وَعَاد مَنْ عَادَاهُ وَاَنْصُرُ مَنْ نَصَرُه وَاَخْذُلْ مَنْ خَذَلَه _


۱۷_سورہ مائدہ آيت ۳_

۱۸_ ملاحظہ ہو: الغدير ج۱ ص ۹_۱۱_

۱۹_ملاحظہ ہو : تاريخ طبرى ج ۳ ص ۱۸۴_ ۱۸۵_

۲۰_ايضا ص ۱۴۶_

۲۱_اَقْبَلَت الْفتَنُ كَقطَع اللَّيْل المُظْلم يَتْبَعُ اَوَّلَهَا آخرُهَا _ الارشاد ص ۹۷ _

۲۲_حلبى نے اپنى سيرت كى كتاب ميں حضرت اسامہ كى عمر(۱۸) سال لكھى ہے ، احتمال ہے كہ اس وقت ان كى عمر(۱۷) ،(۱۹) يا بيس سال ہوگى كيونكہ لفظ ''قيْلَ'' سے يہى مطلب اخذ ہوتا ہے ملاحظہ ہو : السيرة الحلبيہ ج ۳ ص ۲۰۷_

۲۳_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۱۱۷_

۲۳_سرْ الى مَقْتَل اَبيْكَ _ ملاحظہ ہو : شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱ ص ۱۵۹_

۲۵_يہ جگہ شام كے راستے پر مدينہ سے تين ميل (۶ كلوميٹر) كے فاصلے پر واقع ہے_ معجم البلدان ج ۲ ص ۱۲۸

۲۶_ملاحظہ ہو : الملل والنحل شہرستانى ج ۱ ص ۲۳(مقدمہ چہارم كے ذيل ميں) يہاں يہ بات بھى قابل ذكر ہے كہ امير المؤمنين حضرت على (ع) ابن عباس، سلمان ، ابوذر اور مقدادجيسى بعض شخصيات اپنى ذاتى فضيلت اور خاندان رسالت سے متعلق ہونے كے باعث حضرت اسامہ كى سپاہ ميں شريك ہونے سے مستثنى تھے_

۲۷_ملاحظہ ہو : الارشاد ص ۹۶_

۲۸_ملاحظہ ہو : المغازى ج ۳ ص ۱۱۱۸_

۲۹_ملاحظہ ہو : الارشاد ص ۹۷_

۳۰_ملاحظہ ہو: الملل والنحل ج ۱ ص ۲۳_

۳۱_الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۹۰ والمغازى ج۳ ص ۱۱۱۹_

۳۲_الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۱۹۰_

۳۳_الارشاد ص ۹۷_


۳۴_اُئْتوُنيْ بدَوَاةَ: وَصَحيْفَةَ اَكْتُبْ لَكُمْ كتاباً لَنْ تَضلُّوْا بَعْدَه اَبَداً _البتہ ديگر احاديث ميں ''اُئتُؤنى بقَلَم: وَ قرْطَاس : ...'' كے الفاظ آئے ہيں جن كا معنى ايك ہى ہے_

۳۵_الطبقات الكبرى ج ۲ ص ۲۴۴_

۳۶_ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۲۲ ص ۴۷۵_ ۴۷۶_

۳۷_ارشاد ص ۱۰۰_ ۱۰۱_

۳۸_ايضا ص ۱۰۰_ ۱۰۱_

۳۹_۰نہج البلاغہ مرتبہ صبحى صالح خطبہ ۲۳۵ ص ۳۵۵ _ البتہ ياد رہے كہ ترجمہ نسبتاً آزاد كيا گيا ہے _

۴۰_الارشاد ص ۱۰۱_


فہرست

مقدمہ ناشر: ۴

سبق ۱: ۵

تاريخ كى اہميت ۵

تاريخ اسلام كى دوسرى تواريخ پر فوقيت ۵

تاريخ كى تعريف ۶

اقسام تاريخ ۶

۱:_ منقول تاريخ ۷

منقول تاريخ كى خصوصيات ۷

۲: علمى تاريخ ۷

۳:فلسفہ تاريخ ۷

اس كتاب ميں ہمارا مطمح نظر ۸

منقول تاريخ كا درجہ اعتبار ۸

تاريخ بالخصوص تاريخ اسلام كى اہميت اور قدر وقيمت ۹

الف: قرآن كى نظر ميں تاريخ كى اہميت ۹

ب: نہج البلاغہ كى روسے تاريخ كى اہميت ۱۱

ج: غير مسلم دانشوروں كى نظر ميں تاريخ اسلام كى اہميت ۱۲

ديگر تواريخ پر تاريخ اسلام كى برتري ۱۲

تاريخ اسلام كے بارے ميں استاد مطہرى رقم طراز ہيں: ۱۳

سوالات ۱۶


حوالہ جات ۱۷

سبق ۲: ۱۹

اسلام سے قبل جزيرہ نما ئے عرب كى حالت ۱۹

حدود اربعہ اور محل وقوع ۲۰

سياست ۲۱

قبيلہ ۲۲

معاشرتى نظام ۲۲

دين اور دينداري ۲۳

تہذيب و ثقافت ۲۶

توہم پرستى اور خرافات كى پيروي ۲۸

عہد جاہليت ميں عورتوں كا مقام ۲۹

حرمت كے مہينے ۳۱

سوالات ۳۲

حوالہ جات ۳۳

سبق ۳: ۳۵

پيغمبر اكرم (ص) كا نسب اور آپ(ص) كى ولادت با سعادت ۳۵

رسول خدا (ص) كے آباء و اجداد ۳۶

حضرت عبدمناف (ع) ۳۷

حضرت ہاشم (ع) ۳۸

حضرت عبدالمطلب(ع) ۴۰


واقعہ فيل ۴۱

چندقابل ذكر نكات ۴۲

حضرت عبداللہ (ع) ۴۴

رسول اللہ(ص) كى ولادت باسعادت ۴۵

پيغمبر اكرم (ص) كا بچپن ۴۶

خدائي تربيت ۴۸

سوالات ۵۰

حوالہ جات ۵۱

سبق ۴ : ۵۴

رسالت كى جانب پہلا قدم ۵۴

شام۱ كى طرف پہلا سفر ۵۵

مستشرقين كى دروغ گوئي ۵۶

شام كا دو سرا سفر ۵۷

حضرت خديجہ سلام اللہ عليہا كے ساتھ شادي ۵۸

حضرت خديجہ (ع) سے شادى كے محركات ۵۹

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے منہ بولے بيٹے ۶۱

حضرت على عليہ السلام كى ولادت ۶۲

پيغمبر اكرم (ص) كے دامن ميں تربيت ۶۲

معبود حقيقى سے انس ومحبت ۶۴

سوالات ۶۶


حوالہ جات ۶۷

سبق ۵: ۷۰

مكہ ميں اسلام كى تبليغ اورقريش كا رد عمل ۷۰

بعثت (نزول وحي) ۷۱

سب سے پہلے اسلام لانے والے ۷۲

دعوت كا آغاز ۷۳

الف _ خفيہ دعوت ۷۴

قريش كا رد عمل ۷۴

ب_ اعزاء و اقرباء كو دعوت ۷۵

پہلے عزيز و اقارب ہى كيوں ؟ ۷۶

ج_عام دعوت حق ۷۷

قريش كا رد عمل ۷۹

الف _مذاكرہ ۷۹

ب_ لالچ ۸۰

ج _ تہمت و افترا پردازي ۸۱

د_ شكنجہ وايذار ساني ۸۲

سوالات ۸۵

حوالہ جات ۸۶

سبق ۶: ۸۸

قريش كى سازشيں اورہجرت حبشہ ۸۸


ھ : پيغمبر اكرم (ص) كے پاس پہنچنے سے لوگوں كو روكنا ۸۹

و: قرآن سے مقابلہ ۹۰

ہجرت حبشہ: ۹۱

اس ہجرت كے فوائد ۹۴

ز:اقتصادى ناكہ بندي(۸) ۹۵

محاصرے كا خاتمہ ۹۷

رسول اكرم (ص) كے پاس عيسائيوں كے ايك وفد كى آمد ۹۸

حضرت ابوطالب(ع) اور حضرت خديجہ (س) كى رحلت ۹۹

حضرت ابوطالب (ع) كى مظلوميت ۱۰۰

سوالات ۱۰۴

حوالہ جات ۱۰۵

سبق۷: ۱۰۷

معراج اوريثرب كے لوگوں كى دين اسلام سے آشنائي ۱۰۷

معراج ۱۰۸

حضرت ابوطالب(ع) كى وفات كے بعد قريش كا رد عمل ۱۱۰

رسول اكرم (ص) كى اس گفتگو كے اہم نكات ۱۱۲

يثرب كے لوگوں كى دين اسلام سے آشنائي ۱۱۲

پہلى بيعت عقبہ ۱۱۴

دوسرى بيعت عقبہ ۱۱۵

اہل يثرب كے اسلام لانے كے اسباب ۱۱۶


پيغمبر اكرم (ص) كو قتل كرنے كى سازش ۱۱۷

ہجرت ، انقلاب كى ضرورت ۱۲۰

سوالات ۱۲۲

حوالہ جات ۱۲۳

سبق ۸: ۱۲۵

مدينہ ہجرت كرنے كے بعدرسول خدا(ص) كے اقدام ۱۲۵

قبا ميں رسول خدا (ص) كى تشريف آوري ۱۲۶

مدينے ميں تشريف آوري ۱۲۷

الف: _مسجد كى تعمير ۱۲۸

ب:_ رشتہ اخوت و برادري ۱۳۰

ج :_ يہوديوں كے ساتھ عہدو پيمان ۱۳۱

عہد شكني ۱۳۲

جنگى اور جاسوسى اقدامات كا آغاز ۱۳۳

انصار كا ان مہمات ميں شريك نہ ہونے كا سبب ۱۳۴

ان جنگوں اور غزوات كا مقصد : ۱۳۵

قبلہ كى تبديلي ۱۳۵

سوالات ۱۳۸

حوالہ جات ۱۳۹

سبق ۹: ۱۴۱

جنگ بدر ۱۴۱


جنگ بدر كى مختصر تاريخ ۱۴۶

الف _ مال غنيمت اور قيديوں كا انجام ۱۴۸

ب_ فتح وكاميابى كے اسباب ۱۵۰

معنوى عوامل ۱۵۰

مادى اور عسكرى عوامل ۱۵۳

جنگ بدر كے نتائج ۱۵۴

سوالات ۱۵۸

حوالہ جات ۱۵۹

سبق ۱۰: ۱۶۱

حضرت علي(ع) كى شادى خانہ آبادي'' جنگ اُحد'' ۱۶۱

غزوہ بنى قنيقاع ۱۶۲

سازشوں كو ناكام كرنا ۱۶۳

حضرت فاطمہ زہرا(س)كى شادى خانہ آبادي ۱۶۴

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كا مہر ۱۶۷

شادى كى رسومات ۱۶۸

غزوہ احد ۱۶۹

غزوہ احد كى اجمالى تاريخ ۱۶۹

سپاہ كى دوبارہ جمع آوري ۱۷۶

سوالات ۱۷۷

حوالہ جات ۱۷۸


سبق ۱۱: ۱۸۰

جنگ احد سے جنگ احزاب تك ۱۸۰

جنگ احد ميں مسلمانوں كى شكست كے اسباب ۱۸۱

تعميرى شكست ۱۸۴

طاقت كا اظہار ۱۸۹

احد سے خندق تك ۱۹۲

غزوہ احزاب ۱۹۴

اندرون مدينہ جنگى محاذ كا كھولنا ۱۹۷

ايمان و كفر كے نمائندوںكى جنگ ۲۰۰

سوالات ۲۰۲

حوالہ جات ۲۰۳

سبق ۱۲: ۲۰۶

غزوات بنى قريظہ ، بنى مصطلق اور صلح حديبيہ ۲۰۶

لشكر احزاب كى شكست كے اسباب ۲۰۷

جنگ ''احزاب'' كا خاتمہ اور مسلمانوں كى يورش كا آغاز ۲۰۹

عہد شكن لوگوں كى سزا ۲۱۰

غزوہ بنى قريظہ كا سودمند پہلو ۲۱۴

صلح ومحبت كا سال ۲۱۵

۱_غزوہ ''بنى مصطلق'' ۲۱۵

مشتمل تھا، بطور غنيمت مسلمانوں كے ہاتھ لگا_ ۲۱۶


۲_ صلح حديبيہ ۲۱۶

قريش كى مخالفت ۲۱۸

مذاكرات كا آغاز ۲۱۸

بيعت رضوان ۲۱۹

صلح حديبيہ كے سياسي، مذہبى اور معاشرتى نتائج ۲۲۱

سوالات ۲۲۳

حوالہ جات ۲۲۴

سبق ۱۳: ۲۲۷

جنگ موتہ ۲۲۷

دنيا كے بڑے بڑے حكمرانوں كو دعوت اسلام ۲۲۸

حجاز سے يہوديوں كے نفوذ كا خاتمہ ۲۲۹

غزوہ خيبر ۲۳۰

فدك ۲۳۲

غزوہ وادى القري ۲۳۳

مكہ كى جانب روانگي ۲۳۳

جنگ ''موتہ'' ۲۳۶

جنگ موتہ كے نتائج ۲۳۹

سوالات ۲۴۲

حوالہ جات ۲۴۳

سبق ۱۴: ۲۴۶


فتح مكہ اور غزوات حونين اور طائف ۲۴۶

فتح مكّہ ۲۴۷

پیغمبر ہدایت و اصلاح ۲۵۴

غزوہ حنین وطائف: ۲۵۵

مال غنيمت كى تقسيم ۲۵۸

غزوہ حنين كى ابتدا میں مسلمانوں كى شكست اور آخر میں كاميابى كے اسباب ۲۵۹

الف _ ابتدائي مرحلے میں شكست ۲۵۹

ب:آخرى فتح ۲۶۱

سوالات ۲۶۲

حوالہ جات ۲۶۳

سبق ۱۵: ۲۶۶

غزوہ تبوك ۲۶۶

غزوہ تبوك(۱) ۲۶۷

رسول خد ا(ص) كے فرمان پر لوگوں كے مختلف موقف ۲۶۸

تبوك كى جانب روانگي ۲۷۰

منافقوں كى رسوائي ۲۷۴

مشركين سے بيزاري ۲۷۸

سوالات ۲۸۱

حوالہ جات ۲۸۲

سبق ۱۶: ۲۸۵


حجة الوداع ، جانشين كا تعين اور رحلت پيغمبر(ص) اكرم ۲۸۵

حجة الوداع ۲۸۶

جانشين كا تعين ۲۸۸

رسول خدا(ص) كى آخرى عسكرى كوشش ۲۹۲

رسول خدا(ص) كى رحلت ۲۹۶

سوالات ۲۹۹

حوالہ جات ۳۰۰


تاريخ اسلام (1)پيغمبر اكرم (ص) كى زندگي

تاريخ اسلام (1)پيغمبر اكرم (ص) كى زندگي

مؤلف: مركز تحقيقات علوم اسلامي
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 313