تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-عهد امير المومنين (ع) (دوم) جلد 2

مؤلف: سيد مرتضى عسكرى
متن تاریخ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار عهد امير المومنينعليه‌السلام

مو لف : سيد مرتضى عسكرى

مترجم : سيد على اختر رضوى گوپالپوري طاب ثراہ


مقدمہ مترجم

محترم قارئين كے پيش نظر موجودہ كتاب ''احاديث ام المومنين عائشه '' كا ترجمہ ہے ، كتاب كا متن مشہور محدث علامہ مرتضى عسكرى نے لكھا ہے_

مو لف كتاب كے مذہبى ، معاشرتى و علمى خدمات اس قدر ہيں كہ دوست اور دشمن سبھى تحسين و ستائشے كرتے ہيں ، جنكى تفصيل كيلئے مستقل كتاب كى ضرورت ہے _

انہيں جناب كى علمى و ثقافتى خدمات كا ايك نمونہ ، احاديث ام المومنين عائشه ہے ، دانشور مو لف نے اس كتاب ميں عائشه كے انكار و عقايد اور اوصاف و اخلاق كو بھر پور طريقے سے واضح كر كے ان كى نفسيات قارئين كے سامنے مجسم كردى ہيں عائشه كے واقعى چہرے سے انھيں واقفيت ہو جاتى ہے _

عائشه كى حيات و زندگى پر مشتمل يہ كتاب ان كے زمانے ميں پيش انے والے اہم واقعات و حوادث كا تجزيہ پيش كرتى ہے _

ليكن محترم مو لف كا اس كتاب لكھنے سے اصل مقصد يہ نہيں كہ عائشه كے حالات زندگى لكھے جائيں ، بلكہ بلند تر اور وسيع تر مقصد پيش نظر ہے ، وہ چاہتے كہ وہ احاديث جو عائشه سے مروى ہيں انكا تحليل و تجزيہ كيا جائے ، انكا صحت و سقم اور وقعت و اعتبار كى حديں واضح كى جائيں _

اس عميق اور وسيع الذيل بحث سے قبل اس كتاب ميں مقدمہ كے عنوان سے بعض ان تاريخى حوادث كا تذكرہ كيا گيا ہے جن ميں عائشه نے مداخلت كى ، مو لف نے ان كا تحليل و تجزيہ كر كے اخلاقى حالت شخصيت اور جس راوى نے اسے بيان كيا ہے اسكا واقعى قيافہ پيش كيا ہے جس سے روايات كى قدر و قيمت اور عيار و ميزان واضح ہوتا ہے _

مولف محترم نے انھيں وقائع سے بھر پور حيات عائشه كے تجزيے كو مقصد قرار ديتے ہوئے يہ كتاب لكھى ہے ، اور انھيں متعدد فصلوں پر تقسيم كيا ، ان ميں حساس ترين مندرجہ ذيل تين قسميں ہيں _

۱_ عائشه ، عثمان كے زمانے ميں

۲_ عائشه، حكومت على كے زمانے ميں

۳_ عائشه ، حكومت معاويہ كے زمانے ميں


حصّہ اوّل كا ترجمہ ، فاضل ارجمند جناب اقاى سردار نيا كے قلم سے ہوا ہے ، اور نقش عائشه در تاريخ اسلام كے نام سے شائع ہوا ، حصّہ دوم بھى مولف محترم كے حكم سے ترجمہ كيا گيا ہے ، جو موجود ہ كتاب كى شكل ميں ، قارئين كے پيش نظر ہے ، اسكا تيسرا حصّہ بھى خدا كى مددسے جلد ہى شائع كيا جائے گا _

اخر ميں چند باتوں كى ياد دہانى ضرورى معلوم ہوتى ہے _

۱_ چونكہ اصل كتاب عربى ميں ہے ، فارسى داں حضرات ميں چند ہى اس سے استفادہ كر سكتے تھے ، فارسى زبان ميں ترجمہ ہونے سے اسكى افاديت عام ہوگئي ، اسكا مقصد ہى يہى ہے كہ تمام لوگ اس سے بہرہ مند ہوسكيں ، اس لئے جہاں اصل مطلب ميں ضرورت سمجھى گئي ، توضيحى حواشى كا اضافہ كيا گيا ، تاكہ وہ تمام لوگ بھى استفادہ كر سكيں جنھيں تاريخى اصطلاحات سے پورى اشنائي نہيں ركھتے _

۲_ مندرجہ بالا مقصد كے پيش نظر ترجمہ ء كتاب كے سلسلے ميں ازاد اسلوب اختيار كيا گيا ہے _

۳_ ممكن حد تك مو لف كے مقصد كا تحفظ كرتے ہوئے مطالب كو ايك دوسرے سے علحدہ كر ديا گيا ہے ، كہيں كہيں اصل كتاب كے مطالب ميں اضافہ بھى كيا گيا ہے تاكہ قارئين كو تھكن كا احساس نہ ہو

۴_ اگر قارئين كرام درميان مطالب تاريخى فقروں ميں تكرار كا مشاہدہ كريں تو اسے عيب اور نقص نہ سمجھيں ، كيونكہ اس كتاب كے محترم مو لف نے محض ايك تاريخى تسلسل كے بيان پر اكتفا نہيں كيا ہے ، بلكہ وہ چاہتے ہيں كہ حوادث تاريخى كو واضح انداز ميںبيان كر كے حقائق كو روشن اور نماياں كريں، اس بلند مقصد كيلئے نا گريز تھا كہ حادثات و واقعات كے تسلسل كو تھوڑے فرق كے ساتھ مختلف اسناد كے پيش نظر متعدد كتابوں كے حوالے سے درج كئے جائيں ، تاكہ تمام جزئيات سامنے اجائيں _

اسى وجہ سے اس كتاب ميں بعض واقعات تاريخى كے مدارك و ما خذ كے اختلاف كى وجہ سے تكرار پيدا ہو گئي ہے ، ظاہر ہے كہ يہ تكرار نقص يا عيب نہيں سمجھى جا سكتى بلكہ اس قسم كے اسلوب تحرير كوخوبى واعتبار كے حساب ميں ركھا جاتا ہے تاكہ جن حقائق كو پيش كيا جارہاہے وہ زيادہ سے زيادہ واضح ہو سكيں _

''واللہ ولى التوفيق و ھو يھدى السبيل ''

محمد صادق نجمى _ ھاشم ہريسي

قم المقدسہ ۱۳۹۳ھ


مقدمہ مولف

ہمارے پيش نظر جو تحقيق و تجزيہ ہے اسكا مقصد نہ تو علم كلام كے درپئے ہونا ہے نہ فقہى يا تاريخى اور دوسرا كوئي مقصد واضح لفظوں ميں كہا جائے كہ ہم نہيںچاہتے كہ كسى گروہ كے عقائد وافكار كى تنقيد كريں ، يا كسى دوسرے گروہ كے عقائد كے بارے ميں صفائي ديں يا اسكى طرفدارى كريں ، ہم يہ بھى نہيں چاہتے كہ كسى كى ستائشے و تعريف اور دوسرے كى مذمت و بد گوئي كريں _

پھر ہم يہ بھى نہيں چاہتے كہ كوئي فقہى بحث چھيڑ كے حكم قتل اسلامي اسلامى فقہ كے اعتبار سے تحليل و تجزيہ كريں ، يہاں تك كہ ہمارا مقصد تاريخ نويسى بھى نہيں ہے كہ ہميں اس بات كى ضرورت ہو كہ تمام تاريخى حوادث كو تفصيل سے نقل كريں _

بلكہ ہمارا مقصد يہ ہے كہ بعض تاريخى حوادث كو مدارك اصلى و اولين كو معتبر كتب تاريخ سے نقل كر كے قارئين كرام كے حوالے كرديں تاكہ ان كا مطالعہ كركے عائشه كى شخصيت اور واقعى قيافہ پہچان سكيں ، ان كے افكار و عقائد اور روحانى علامتوں كو سمجھ سكيں ،نتيجے ميں ائندہ زير بحث انے والى انكى روايات و احاديث كى قدر و قيمت اور اعتبار واضح ہو سكے گا ، اس طرح انكى احاديث كے تحقيق و تجزيے كى راہ ہموار ہوگى _

يہى وجہ ہے كہ ہم نے اس كتاب ميں ان حوادث كو نظر انداز كيا ہے جو ہمارى بحث و تحقيق سے ربط نہيںركھتے تھے ، صرف انھيں وقائع و حوادث تاريخى كو نقل كيا ہے جو ميرے مقصد سے مربوط ہيں ، كيونكہ اس قسم كى واقعات نقل كرنے سے عائشه كى عجيب اور پيچدار شخصيت اور انكا سياسى و فكرى تدبر نماياں ہوتا ہے ، كہ وہ لوگوں كے افكار اپنى طرف مائل كرنے كى كسقدر مہارت ركھتى تھيں ، كسطرح دو خلفاء كے پائے حكومت كو متزلزل كر ڈالا ، ان ميں سے ايك (عثمان )كو قتل كرنے كا فتوى صادر كيا اور اپنا فتوى موثر بنانے كى راہ ہموار كى ، كيونكہ اگر انھوں نے فتوى نہيںديا ہوتا تو عثمان قتل نہ ہوتے ، خليفہ كا خون بہانے اور مرتبہء خلافت كى ھتك و حرمت برباد كرنے كى جرائت نہ ہوتى _

پھر يہ كہ انہوں نے كس طرح اپنى سياسى سوجھ بوجھ سے عثمان كے قتل ہونے كے بعد تيزى كے ساتھ ، بڑى اسانى سے ، ان سے اپنى سابقہ دشمنى و عداوت كے لباس كو بدل كر ، ان كے خون كا بدلہ لينے اور طرفدارى كرنے كا مظاہرہ كيا _ جى ہاں _ عائشه ايسى ہى زيرك اور ماہر تھيں كہ انہوں نے واقعى قاتل سے اپنى بيزارى ظاہر كى اور اپنے كو


ان كا طرفدار، اور قصاص لينے والا ، متعارف كرايا انتہائي تعجب كى بات تو يہ ہے كہ انہوں نے عثمان كے قاتلوں اور دشمنوں كو ان كے دوستو ں اور فرزندوں كے ساتھ ايك ہى لشكر مين ايك ہى صف ميں كھڑا كر ديا ، اسطرح عثمان كى خونخواہى كا لشكر ترتيب ديديا _

واقعى وہ بڑى مہارت ركھتى تھيں ، كہ حضرت علىعليه‌السلام قتل عثمان ميں ذرہ برابر بھى شريك نہيں تھے ، انھيں پر قتل كا الزام تھوپ ديا اور انھيں كو قاتل كى حيثيت سے متعارف كرايا ، انكى وہ سابقہ عظمت و بزرگى جو انھيں اسلامى معاشرے ميں حاصل تھى ، انھيں يكسر حرف غلط بنا كر عوام كو ان كے خلاف بغاوت پر امادہ كر ديا _

جى ہاں ، يہ بے نظير سياسى صلاحيت اور عجيب و غريب توانائي عائشه ہى سے مخصوص ہے ، جنكا نام تاريخ ميں مشھور ہ ہوگيا ، اور بر جستہ شخصيت تاريخى حيثيت سے پيش كيا جاتا ہے _

افسوس كى بات يہ ہے كہ آج تك عائشه كے بارے ميں ان كے كردار كا صحيح طريقے سے تحليل و تجزيہ نہيں كيا گيا ہے ، نہ انكا واقعى قيافہ نماياں كياگيا ہے ، اس بارے ميں بہت سے حقائق سے پردہ نہيں اٹھا يا جا سكا _

اب ميں خدا ئے تعالى سے دعا كرتا ہوں كہ ہمارى اس راہ ميں مدد فرمائے ، كہ ميں اس تاريك گوشے كو واضح كر سكوں ، ان حقائق سے پردہ اٹھا سكوں ، عائشه كى شخصيت جيسى كہ ہے ، اسكى نشاندہى كرسكوں ،تاكہ اس طرح انكى احاديث كى قدر و قيمت اور حدود و اعتبار معلوم ہوسكے_

سيد مرتضى عسكري


بيعت كے بعد

حساس ترين فراز

جس وقت عثمان قتل كر دئے گئے ، اورمسلمانوں كے تمام معاشرتى و سياسى امور ان كے ہاتھوں ميں وآپس اگئے ، خليفہ كى بيعت ہونے كى وجہ سے انكى گردنيں محدود اور دوسرا منتخب كرنے كى راہ مسدود تھى ، جب وہ اس سے رہائي پاگئے تو سب نے باہم حضرت علىعليه‌السلام كى طرف رخ كيا آپ كے گرد ہجوم كرليا كہ آپ كى بيعت كر كے آپكو خليفہ منتخب كر ليں _

طبرى نے اس واقعے كو يوں لكھا ہے كہ :

رسول خدا (ص) كے اصحاب حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے اكر عرض كرنے لگے كہ يا علي مسلمانوں كے خليفہ عثمان قتل كر دئے گئے ، اور آج بھى تمام مسلمان ايك امام اور سر پرست كيلئے مجبور و ناچار ہيں ، اور انكى سرپرستى كے لئے آپ سے زيادہ موزوں اور لائق تر ہم كسى كو نہيں جانتے ، كيونكہ اسلام ميں آپ كى سابقہ زندگى سب سے زيادہ مفيد اور رسول خدا (ص) سے قرابت بھى سب سے زيادہ ہے _

اميرالمومنين نے انھيں جواب ديا :

نہيں ، تم لوگ ہميں يہ پيشكش ہر گز نہ كرو ، خلافت مير ے گلے مت منڈھو ، كيونكہ ميرے لئے خليفہ كا مشير اور وزير ، ہونا اس سے كہيں بہتر ہے كہ ميں كرسى خلافت پر ٹيك لگائوں _

اصحاب نے كہا : نہيں ، خدا كى قسم ، ہم آپ سے دستبردار نہيں ہونگے جب تك آپ ہمارى قبول نہ كرليں _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا: اب جبكہ ميرے لئے تمھارى بيعت قبول كر لينے كے سوا چارہ نہيں ، تو ہونا يہ چاہيئے كہ مراسم بيعت مسجد ميں تمام مسلمانوں كى رضا و رغبت سے ظاہر بظاہر ہو _

اس كے بعد طبرى نقل كرتا ہے :

تمام مسلمانوں نے ، جن ميں طلحہ و زبير بھى تھے ، حضرت على كے اس ہجوم كى شكل ميں ائے اور يوں كہا :

يا على ہم آپ كے پاس اسلئے ائے ہيں كہ آپ كى بيعت كريں ، اور آپ كو خلافت و امامت كے لئے چن ليں _


امير المومنين نے ان لوگوں كے جواب ميں فرمايا :

مجھ سے باز ائو ، مجھے ميرے حال پر چھوڑ دو ، كيونكہ مجھے خلافت و حكومت كى ضرورت نہيں ہے ، ميں بھى تمھارى ہى طرح ايك مسلمان ہوں ، جسے بھى اس عہدے كيلئے مناسب ديكھو اسكے ہاتھ پر بيعت كر لو ، خدا كى قسم ميں بھى اس پر راضى ہو جائوں گا ، اور تمھارے اس اقدام پر كسى قسم كا اعتراض نہيں كروں گا _

ليكن وہ حضرت علىعليه‌السلام كے ارشاد پر راضى نہ ہوئے ، انھوں نے بڑى سختى كے ساتھ زور ديتے ہوئے كہا :

يا على ، خداكى قسم ، ہم آپ كے سوا كسى كو بھى مسلمانوں كى رہبرى و پيشوائي كے لئے منتخب نہ كريں گے _

اس كے بعد طبرى لكھتا ہے :

عثمان كے قتل ہونے كے بعد عوام جتھ بنا كر اجتماعى شكل ميں كئي مرتبہ حضرت على كے پاس ائے ، اور ان سے تقاضہ كيا كہ مرتبہ خلافت كو قبول كر كے مسلمانوں كى حكومت اپنے ہاتھ ميں لے ليں ، ليكن امير المومنين نے ا ن لوگوں كے تقاضوں كا اثبات ميں جواب نہيں ديا ، انكى خواہش پورى نہيں كى ، مسلمانوں نے اخرى بار ان كے پاس اكر كہا كہ ، ياعلى ، اگر خليفہ كے انتخاب و تعين كا معاملہ اس سے زيادہ طول پكڑے گا تو مسلمانوں كے انتظامى معاملات چوپٹ ہو جائيں گے ، اس صورتحال ميں آپ جيسے لائق سر پرست كيلئے لازم ہو جا تا ہے كہ مسلمانوں كے امور كى اصلاح فرمائيں ، انكى اجتماعيت كى طوفان زدہ كشتى كو نجات و رہبرى كے ساحل پر لگائيں ، اب يہاں پر حضرت على نے لوگوں كو مثبت اور كار گر جواب ديا آپ نے فرمايا :

تم لوگوں نے حد سے زيادہ ميرے اوپر دبائو ڈالا ، حد سے زيادہ اصرار كيا ، ميرے سوا كسى كو قبول كرنے پر امادہ نہيں ہو ، تو اب ميرى بھى ايك پيشكش ہے ، اگر تم لوگوں نے اسے قبول كيا تو ميں بھى تم لوگوں كى بيعت قبول كرنے پر امادہ ہوں ، ورنہ كبھى تم لوگوں كى بيعت قبول نہ كروں گا ، نہ خلافت كا سنگين بوجھ كاندھے پر لونگا _

انہوں نے كہا: يا على ، آپ جو فرمائيں ہميں جان و دل سے قبول ہے ، پھر سارے عوام مسجد كى طرف چلے ، وہاں مجمع ہوا ، حضرت على بھى مسجد ميں تشريف لائے ، منبر پر جاكر اسطرح گفتگو شروع كى _

اے لوگو ميں نہيں چاہتا كہ كرسى خلافت پر بيٹھوں اور تم پر حكومت كروں ، ليكن اخر كيا كروں ؟ تم لوگ مجھے


نہيں چھوڑ تے ميرے كاندھے پر يہ سنگين بوجھ ڈالنا ہى چاہتے ہو _

ميںپہلے سے تم لوگوں كے سامنے يہ خاص بات ركھ دينا چاہتا ہوں اور تم سے اس پر عہد لينا چاہتا ہوں كہ ميرى خلافت كے دوران يہ دو باتيں سختى سے عملى جامہ پہن لينگى كہ :

۱_ طبقاتى امتياز ات ختم ہو جائيں گے _

۲_ تمام مسلمانوں كے درميان مساوات كا سختى سے نفاذ ہو گا ، ہاں ، ميرى خلافت كے زمانے ميں اس قانون كو عام ہونا چاہيے ، يہاں تك كہ ميں بھى ، جو تمھارا حاكم ہوں ، تمھارا بيت المال اور دولت كے تمام اختيارات ميرے قبضے ميں ہيں ، ميں بھى حق نہيں ركھتا كہ دوسرے لوگوں كے حقوق سے ايك درہم زيادہ لے لوں ، پھر امام نے مزيد فرمايا ، اپنى حرص وطمع كے دانت كند كرلو ، كسى قسم كے معاشرتى امتياز كى توقع نہ ركھو ، مجھ سے اضافى حقوق نہيں لے سكو گے ، كيا تم لوگ ان متذكرہ شرائط پر ميرى خلافت سے راضى ہو ؟ سب نے ايك زبان ہو كر كہا ، ہاں ، ياعلي

اس وقت امير المومنين نے دعا كى ، خدايا تو اس عہد پر گواہ رہنا ، اسكے بعد مسلمانوں كے ہاتھ بيعت كيلئے بڑھنے لگے اور مراسم بيعت شروع ہوئے(۱)

بلاذرى كہتا ہے: گروہ در گروہ مسلمان تيزى اور كامل اشتياق كے ساتھ حضرت علىعليه‌السلام كى طرف بڑھنے لگے ، وہ يہ بھى نعرے لگا رہے تھے ، ہمارے على امير المومنين ہيں ہمارے على امير المومنين ہيں ، ہمارے على امير المومنين ہيں _

يہ نعرے لگاتے ہوئے علىعليه‌السلام كے گھر ميں داخل ہوئے اور كہا :

يا على ، آپ خود بہتر جانتے ہيں كہ مسلمانوں كے لئے حاكم ہونا ضرورى ہے ، ہم نے بھى آپ كو اپنا پيشوا ، امام بناياہے اب ہم ائے ہيں تاكہ آپ كى بيعت كريں اور اسلامى خلافت كے معاملات و حالات آپ كے حوالے كريں _

حضرت علىعليه‌السلام نے ان كے جواب ميں فرمايا :

خليفہ اور امام كا انتخاب صرف تمھارے اجتماع سے انجام پذير نہيں ہو سكتا ، بلكہ ان لوگوں كو بھى شريك ہونا چاہيئے

____________________

۱_ طبرى ج۵ ص ۱۵۲ ، كنز ل العمال ج۳ ص ۱۶۱ ، ترجمہ فتوح ابن اعثم ج۲ ص ۲۴۳


جو جنگ بدر ميں شامل تھے ، يا جنھيں سبقت اسلامى كا شرف حاصل ہے ، انھيں كى رائے اور مشورے سے خليفہ متعين ہو تا ہے _

جس وقت حضرت علىعليه‌السلام كى بات بدرى صحا بہ كے كانوں ميں پڑى وہ تمام لوگ بھى آپ كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور كہنے لگے _

يا على ہم نے آپ كو منتخب كيا ، ہاں ، آپ ہى كو _

كيونكہ آپ كے ہوتے كسى كے لئے خلافت سزا وار نہيں ، اور اس جگہ كے لئے آپ سے زيادہ بہتر اور موزوں دوسرا كوئي شخص نہيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے جب انكى بات سنى اور انكى رائے حاصل كر لى تو منبر پر تشريف لے گئے ، اور لوگوں كو خبر دار كيا كہ ميں نے خلافت قبول كر لى ہے ، مسلمانوں كے ہاتھ حضرت علىعليه‌السلام كى طرف بڑھنے لگے اور مراسم بيعت كا اغاز ہو گيا ، طلحہ پہلے شخص تھے جنھوں نے حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت كى ، اتفاق سے ان كا ہاتھ شل تھا ، كہتے ہيں كہ اس عيب پر حضرت علىعليه‌السلام نے بدشگونى سمجھى اور فرمايا ، دير نہيں گذرے گى كہ يہ اپنا عہد توڑ ڈالے گا(۲)

ليكن طبرى نقل كرتا ہے كہ ،جس وقت طلحہ نے حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت كى حبيب بن ذ ويب نے ديكھ كر كہا ،يہ بيعت پورى نہ ہو گى كيونكہ پہلا ہاتھ جو بيعت كيلئے بڑھا ہے ناقص اور معيوب ہے(۳) ليكن جو بھى صورت ہو ، مدينے والے اس بيعت كو طلحہ كے مشلول ہاتھ كى وجہ سے بدشگونى سجھ رہے ہوں ليكن عائشه نے اس كو نيك شگونى خيال كيا ، اور خوشحال ہو كر كہا كہ اب مدينے والے طلحہ كے اس ناقص ہاتھ پر بيعت كر كے انھيں كو خليفہ منتخب كريں _

____________________

۲_ انساب الاشراف ج۱ ص ۷۰ ، حاكم ج۳ ص ۱۱۴

۳_ طبرى ج۱ ص ۱۵۳


جب فرمان قتل ، انتقام ميں بدل گيا

خلافت عثمان كے اخرى ايام ميں عائشه حالات خلافت سے سخت كبيدہ خاطر ہو گئي تھيں ، كيونكہ دو خلافتوں كے زمانے ميں وہ جن حالات سے بہرہ مند تھيں ، ان سے قطعى محروم ہو چكى تھيں ، يہى وجہ تھى كہ عائشه نے مخالفت عثمان كا پرچم بلند كيا تھا ، اس مہم ميں جٹ گئيں ، شہروں شہروں خطوط لكھے تاكہ عثمان كے روش سے مسلمانوں ميں جو برہمى

ہے وہ شورش اور انقلاب كا روپ دھار لے جب اتش فتنہ مشتعل اور اپنے كو كامياب ديكھا تو مكّہ كى راہ لى وہيں سكونت پذير ہو گئيں اور ہر لمحہ قتل عثمان اور بيعت طلحہ كا انتظار كرنے لگيں _

اس سلسلے ميں طبرى لكھتا ہے :

ايك دن اخضر نام كا شخص مدينے سے مكّہ گيا ، عائشه نے اسے ديكھ كر پوچھا مدينے كا كيا حال ہے ؟

اخضر نے جواب ديا ، عثمان نے مصر والوں كو قتل كر ڈالا

عائشه چلّائيں ،انالله وانا اليه راجعون ، واقعى اب عثمان نے اپنى سركشى اس حد كو پہونچا دى ہے كہ جو لوگ ، اپنے حق كے لئے ظلم كے خلاف كھڑے ہوئے ہيں انھيں قتل كر ڈالتا ہے ؟ خدا كى قسم ميں اس ظلم و زيادتى پر كبھى راضى نہيں ہو ں گى ؟

اس كے بعد ايك دوسرا شخص ايا ، عائشه نے اس سے بھى پوچھا تم نے مدينے كے كيا حالات ديكھے ؟

اس نے جواب ديا ، مصر والوں نے عثمان كو قتل كر ڈالا ، عائشه نے كہا ، كتنى حيرت كى بات ہے كہ اخضر نے قاتل كو مقتول سمجھ ليا تھا ، اسى تاريخ سے عربى زبان ميں يہ كہا وت بنگئي كہ فلاں شخص تو اخضر سے بھى زيادہ جھوٹا ہے _

بلا ذرى لكھتا ہے :

جس وقت قتل عثمان كى خبر مكے ميں عائشه كو ملى تو حكم ديا كہ مسجدالحرام ميں ضميہ لگا يا جائے ، انھوں نے خيمے ميں جا كر يہ خطبہ ديا _

اے لوگو ، سمجھ لو كہ ميں عثمان كى روش كى وجہ سے پيش گوئي كرتى ہوں كہ وہ ايك دن اپنى قوم اور مسلمانوں كے ہاتھوں بد بختى كا شكار ہو گا ، جسطرح ابو سفيان جنگ بدر ميں اپنى قوم كے ہاتھوں بد بختى كا شكار ہو ا _(۴)

____________________

۴_ انساب ج۵ ص ۹۱ ، كنز العمال ج۳ ص ۱۶۱


اكثر مورخين نے لكھا ہے كہ جس وقت عثمان كى خبر مكے ميں عائشه كو ملى تو كہا ، عثمان رجعت خدا سے دور ہو ، وہ اپنے كالے كرتوتوں كى وجہ سے تباہى گھاٹ لگا ، كيونكہ خدا تو كسى پر بھى ظلم نہيں كرتا _

كبھى كہتيں ، خدايا اسے اپنى رحمت سے دور كر دے اسكے گناہوں كى وجہ سے ورطئہ ہلاكت ميں جھونك

دے ، اسطرح وہ اپنے كيفر كردار كو پہونچ گيا، اے لوگو ، قتل عثمان كى وجہ سے تم ہرگز غمگين نہ ہو ، قوم ثمود كا احمر جس نے ناقہء صالح پئے كيا تھا اور قوم ثمود كو ہلاكت ميں ڈالا تھا ، عثمان بھى اسى طرح تمھارے درميان باعث فساد و اختلاف نہ بن جائے

اگر عثمان قتل ہو گيا تو يہ لو ،يہ طلحہ موجود ہے ، يہ تمام لوگوں ميں سب سے لائق اور بہتر شخص ہے ، اسى كى بيعت كرلو اور اختلاف و تفرقہ سے بچو _

عائشه ان باتوں كے بعد جس قدر جلد ممكن ہوا تيزى سے مدينے كى طرف چليں ، راستے بھر مدينے كے اوضاع و حالات كا پتہ لگاتى رہيں ، ليكن طلحہ كے خليفہ ہونے ميں ان كو ذرا بھى شك وشبہ نہ تھا(۵)

عائشه نے مدينے كى راہ تيزى سے طئے كى وہ اس فكر ميں غلطاں تھيں ، وہ بدبداتى رہيں_

(عثمان وہى يہودى شخص ، عثمان ا پنى عياريوں اور حماقتوں كا مجموعہ ، رحمت خدا سے دور ہو عثامن كو الگ كرو_ مجھ سے طلحہ كى بات كرو ، وہى جو ميدان جنگ كا شير ہے ، ميرے چچيرے بھائي طلحہ كى بات مجھ سے كرو ، اے طلحہ كيا كہنا تمھارے بآپ كا جس نے تمھارے جيسا فرزند پيدا كيا لوگوں نے بڑا اچھا انتخاب كيا ہے ، انھوں نے صرف طلحہ كو خلافت كيلئے مناسب سمجھا ، اسى كو خلافت كے لئے منتخب كيا ، ہاں صرف وہى اسكے لائق بھى ہے ، گو يا دور سے ميرى انكھيں ديكھ رہى ہيں كہ لوگ بڑھكر اسكى بيعت كررہے ہيں ، ميرى سوارى تيز ھنكائو ، تيز ھانكو تاكہ ميں اسكے پاس پہونچ جائوں )

عائشه اسى غوطے ميں تھيں ، مدينے كى راہ طئے كر رہى تھيں كہ اثنائے راہ عبيد بن ام كلاب(۶) كا سامنا ہوا ، وہ مدينے سے ارہا تھا ، اس سے پوچھا ، اے عبيد مدينے كى كيا خبر ہے ؟

____________________

۵_ كيونكہ طلحہ خليفہ اول كے چچيرے بھائي تھے ، اس خاندان كے ہونے كى وجہ سے خلافت سے قربت حاصل تھى ، ليكن عا ئشہ نے رسول (ص) كے چچيرے بھائي كے بارے ميں يہ رائے ظاہر نہيں كى

۶_ عبيد قبيلہ ليث كى فرد تھا، اسكا عا ئشہ سے مكالمہ اكثر مورخوں نے لكھا ہے ، جيسے طبرى ج۵ ص۱۷۲ ، ابن اثير ج۳ ص۸۰ ، طبقات بن سعد ج۴ ص۸۸ ، كنز العمال ج۳ ص۱۶


عبيد نے جواب ديا ،لوگوں نے عثمان كو قتل كر ڈالا ، اور اٹھ دن بغير سر پرست رہے _

عائشه نے جھٹ سے پوچھا ، اسكے بعد كيا ہوا ؟

x عبيد نے كہا خدا كا شكر كہ بخير و خوبى كام انجام پا گيا ، مسلمانوں نے پورى د ل جمعى اور ايك دل و زبان ہو كر على بن ابى طالب كى بيعت كرلى ، انھيں كو امام منتخب كر ليا _

عائشه نے كہا ، خدا كى قسم ، اگر خلافت كا معاملہ على كے حق ميں تمام ہوا ہے تو اسمان پھٹ پڑے ، اے عبيد تجھ پر افسوس ہے ، ذرا غور تو كر، تو كيا كہہ رہا ہے ؟

عبيد نے كہا : اے عائشه ، اطمينان ركھيئے ، واقعہ ايسا ہى ہے ، جيسا ميں نے بيان كيا _

عبيد كى بات سنتے ہى عائشه نے صدائے فرياد بلند كى ، وہ زور زور سے چلانے لگيں ، ہائے واويلا كرنے لگيں عبيد نے كہا ، اے عائشه تم على كى بيعت سے نالاں اور خفا كيوں ہو ،خلافت على سے خوش كيوں نہيں ہو ، على تو خلافت كيلئے سب سے زيادہ سزاوار اور لائق ہيں ، على ہى ميں جن كے فضائل و مناقب كا كوئي پا سنگ نہيں

ابھى عبيد كى بات يہيں تك تھى كہ عائشه نے چلاكر كہا ، مجھے وآپس لے چلو ، جتنى جلدى ہو سكے مجھے وآپس لے چلو ، اسطرح وہ مكہ وآپس چلى گئيں ، ليكن اپنا پہلا نعرہ جن ميں قتل عثمان كا فرمان صادر كيا تھا ، اب بدل ديا تھا ، اب وہ كہہ رہى تھيں ، خدا كى قسم عثمان بے گناہ اور مظلوم قتل كئے گئے ہيں ، مجھے ان كے انتقام كيلئے اٹھنا چاہيئے ، قيام كرنا چاہيئے_

عبيد نے كہا: اے عائشه ، مجھے سخت حيرت ہے كہ آپ كل تك عثمان كے كفر كا فتوى صادر كرتى تھيں ، قتل كا حكم ديتى تھيں ، اسكا نام بڈھا يہودى ركھ چھوڑا تھا ، كتنى جلدى آپ اپنى بات سے پلٹ گئيں كہ آج عثمان كو مظلوم اور بے گناہ كى حيثيت سے متعارف كرارہى ہيں ؟

عائشه نے كہا ، ہاں عثمان ايسے ہى تھے ، ليكن انھوں نے خود توبہ كر لى تھى ، يہ عوام تھے جنھوںنے ان كى توبہ پر توجہ نہ كى انھيں بے گناہ قتل كر ديا ، جانے دو ابھى بھى ان باتوں كو ، تمھيں ميرى گذشتہ باتوں سے كيا سروكار ؟جو كچھ ميں آج كہہ رہى ہوں اسے مانو ، آج كى ميرى بات كل سے بہتر ہے _


عبيد نے عائشه كى بات پر يہ چند اشعار كہے :

فمنك البداء و منك الغير

ومنك الرياح و منك المطر

وانت امرت بقتل الامام

و قلت لنا انه قد كفر

فهبنا اطعناك فى قتله

و قاتله عند نامن امر

ولم يقسط السقف من فوقنا

ولم تنكسف شمسناوالقمر

وقد بايع الناس تد راء

بذ يل الشباو يقيم الصعر

ويلبس للحرب اثوابها

ومامن وفى مثل من قدغد ر


اے عائشه ، ان تمام اختلافات و انقلابات كا سرچشمہ تمہيں ہو ، تمام لرزہ خيز طوفانوں اور فتنوں كو تمہيں نے پيدا كيا _ تمہيں نے قتل عثمان كا فرمان صادر كيا ، تمھيں نے كہا كہ وہ كافر ہو گياہے ، اگرچہ ہم نے تمھارے حكم سے عثمان كو قتل كيا ليكن در اصل عثمان كى قاتل تم ہو ،كہ تم نے قتل كا حكم ديا _

اے عائشه ،نہ تو اسمان پھٹ پڑا نہ چاند سورج گہنائے بلكہ لوگوں نے ايك عظيم انسان كى بيعت كر لى ، وہ بہادر مرد جو جنگى لباس زيب تن كرتا ہے ، اور سركش اور خود پسند لوگوں كى گردن اينٹھتا ہے ، كيا وہ شخص كہ جو وفادار ہو ، وہ اس كے مانند ہو سكتا ہے جو غدار ہو ؟

اسكے بعد عائشه مكہ وآپس چلى گئيں اور مسجدالحرام ميں اپنا اونٹ بيٹھايا اور اپنے كو چھپا كر حجرالاسود كى طرف بڑھيں ، اسى ھنگام لوگوں نے چاروں طرف سے ان كو گھير ے ميں لے ليا _ جب عائشه نے اپنے گرد بڑا مجمع ديكھا تو انھيں مخاطب كر كے كہا :

اے لوگو مظلوم عثمان كو قتل كر ديا گيا ، مجھے بھى انكى مظلوميت پر رونا چاہيئے ، خدا كى قسم ،ان كے خون كا انتقام ضرور لوں گى _

كبھى كہتى تھيں :

اے قبيلئہ قريش على نے عثمان كو قتل كراديا ، عثمان وہ تھے جنكى ايك رات على كى تمام زندگى سے بہتر تھى ابو مخنف نے بھى اس روآیت كو نقل كر كے كہا ہے :

جب عائشه كو معلوم ہوا كہ لوگوں نے على كى بيعت كرلى تو صدائے فرياد بلند كى ، ناس جائے ان لوگوں كا خلافت كو قبيلئہ تيم(۷) ميں وآپس نہيں كررہے ہيں ؟(۸) _

____________________

۷_ تيم عا ئشہ اور ان كے خاندانى ادمى طلحہ كا قبيلہ

۸_ شرح نہج البلاغہ


بيعت توڑ نے والے

عام طور سے تمام مسلمانوں نے جان و دل سے حضرت علىعليه‌السلام كو خلافت كے لئے چن ليا ، ان كى بيعت بھى كر لى ، سوائے چند نفر كے ، جو انگليوں پر گنے جاسكتے ہيں ، جيسے عبداللہ بن عمر ، محمدبن مسلم ، اسامہ بن زيد ، حسان بن ثابت اور سعدبن ابى وقاص _

حضرت علىعليه‌السلام كے دوستوں ميں سے دو افراد عمار ياسر اور مالك اشتر نے ان سے اس بارے ميں گفتگو كى _

عمار نے كہا : اے اميرالمومنين ،عام مسلمانوں نے تو آپكى بيعت كرلى سوائے ان لوگوں كے جو انگليوں پر گنے جاسكتے ہيں ، آپ خود انھيں بيعت كرنے كيلئے بلايئے شايد آپ كى بات مان ليں ،اور صحابہ كى روش اور مہاجر و انصار كے رويّے سے روگردانى نہ كريں ، مسلمانوں كے اجتماع سے الگ نہ ہوں _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : اے عمار جو شخص ميرى پھيلى ہوئي اغوش ميں نہ اے اور دل و جان سے ميرى بيعت نہ كرے مجھے اسكى ضرورت بھى نہيں _

مالك اشتر نے عرض كى ، يا امير المومنين ،ان ميں سے بعض سر پھرے اگر چہ سبقت اسلامى بھى ركھتے ہيں ، ليكن صرف سابق الاسلام ہونا بيعت سے روگردانى كو جائز نہيں بنا سكتا ، خليفہ معين كرنا تو انتہائي حسّاس موضوع ہے ، بڑا اہم ہے ، اسكى مخالفت اجتماعيت سے انحراف ہے ، انھيں بھى دوسروں كى طرح بيعت كرنى چاہيئے اور مسلمانوں ميں تفرقہ و اختلاف نہيں پيدا كرنا چاہيئے _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : اے اشتر ، ميں ان لوگوں كے خيالات كے بارے ميں تم سے زيادہ جانتاہوں ، اگر انھيں كے حال پر چھوڑ دوں تو يہ اس سے كہيں بہتر ہے كہ بيعت كے لئے مجبور كروں ، انھيں منحرفين ميں سعد بن ابى وقاص بھى تھا ، اس نے حضرت على كى خدمت ميں اكر كہا :

يا على ، خدا كى قسم مجھے اس بارے ميں ذرا بھى شك و شبہ نہيں كہ آپ مرتبہ خلافت كے سب سے زيادہ لائق اور موزوں ہيں ، ليكن كيا كروں ، مجھے بھر پور يقين ہے كہ دير نہيں گذرے گى كہ كچھ لوگ اسى خلافت كے لئے جسے آپ كے حوالے كيا ہے آپ سے شديد نزاع واختلاف كريں گے ، بات خونريزى تك پہونچے گى _

ميں آپ كى اس شرط پر بيعت كر سكتا ہوں كہ زبان كى تلوار آپ ميرے اختيار ميں ديديں تاكہ جو بھى قتل كا


سزاوار ہو مجھے متعارف كرادے _

اميرالمومنينعليه‌السلام نے اسكے جواب ميں فرمايا: اے سعد

مسلمانوں نے ميرے باتوں پر اس شرط سے بيعت كى ہے كہ ميں كتاب خدا اور سنت رسول كے مطابق عمل كروں ، كيا ميں نے ان دونوں كى مخالفت كى ہے كہ تم ميرى مخالفت كررہے ہو ؟

تم بھى ازاد و مختار ہو كہ اسى شرط كے مطابق ميرى بيعت نہ كرو اور اجتماعيت سے الگ رہو(۹) ان متذكرہ افراد كے علاوہ كچھ بنى اميہ كے لوگوں نے بھى على كى بيعت نہيں كى _

مشہور مورخ يعقوبى لكھتا ہے كہ ان چند منحرفين ميں سے كچھ كے نام يہ ہيں _

مروان بن حكم ، سعيد بن عاص ، وليد بن عقبہ يہ لوگ بھى حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں ائے ،ان ميں تيز طرار وليد تھا اس نے حضرت على سے عرض كيا _

يا على ، آپ نے ہم سب كو اچھى طرح كوٹ ڈالا ، ہمارى كمريں توڑ ڈاليں ، ميں ہى ہوں كہ بڑے افسوس كے ساتھ كہتا ہوں كہ آپ نے ميرے بآپ كو جنگ بدر ميں قتل كيا _

سعيد كے بآپ كو بھى آپ نے قتل كيا جو قريش كا با اثر تھا ، اسكے قتل سے آپ نے قبيلہء قريش كى كمر توڑى _ اور يہ جو مروان ہے ، اسكے بآپ كى بھى مذمت كى ، ہميں اور اسكے بآپ كى برائي بيان كر كے ہمارے كليجے چھلنى كئے ، جس دن عثمان نے اس پر احسان اور صلئہ رحمى كا برتائو كيا ، اسكے حقوق ميں اضافہ كيا تو آپ نے اس پر عثمان كى لے دے مچائي ، ان پر سخت نكتہ چينى كى ، ان تمام گر ہوں اور خفگيوں كے باوجود ہم آپ كى بيعت كرنے كو تيار ہيں ، ليكن شرط يہ ہے كہ جو كچھ ہم لوگوں سے خلافت عثمان كے زمانے ميں غلطياں ہوئي ہيں ، ان كو نظر انداز فرمايئے ، ہم نے مسلمانوں پر جو ظلم و ستم كئے ہيں انھيں بھول جايئے ،ہم نے مسلمانوںكے مال و دولت كو لوٹا ہے انھيں وآپس نہ ليجئے _ دوسرے يہ كہ قاتلان عثمان كو سزا كے طو رپر قتل كيجئے _

يہ تھا خلاصہ بنى اميہ كے تيز طرار شخص كى بات كا _

____________________

۹_ ترجمہ فتوح اعثم ص ۱۶۳


حضرت علىعليه‌السلام ان كى باتيں سنكر غضبناك ہوئے ، آپ كے چہرے پر اثار غضب صاف ديكھے جاسكتے تھے ، آپ نے فرمايا ، تم نے يہ جو كہا كہ ميں نے تمھارے بآپ اور بزرگوں كو قتل كيا ہے تو انھيں ميں نے نہيں قتل كيا ہے ، بلكہ انكى حق سے مخالفت اور دشمنى نے قتل كيا ہے ، شرك و بت پرستى كى طرفدارى نے قتل كيا ہے _

تم نے جو مجھے پيشكش كى ہے كہ ہم نے بيت المال سے بہت بڑى دولت لے لى ہے ، بے حساب مال لوٹا ہے ، تم سے نہيں لوں تو سن لو كہ اس بارے ميں بھى ہمارا عدالت و انصاف ہى كا ر فرما ہوگا ، عدالت كا جو بھى تقاضہ ہو گا ميں اسى كے مطابق برتائو كروں گا ، تم نے دوسرى پيشكش كى ہے كہ عثمان كے قاتلوں كو قتل كروں اگر ميں آج انھيں قتل كردوں تو ايك بہت بڑى داخلى جنگ مسلمانوں كے درميان چھڑ جائے گى _

امير المومنين نے مزيد فرمايا: يہ بہانہ ختم كرو ، جو كہتا ہوں اس پر كان دھر و ، يہى تمھارے حق ميں مفيد ہے ، ميں تمھيں كتاب خدا اور سنت رسول كى طرف بلا رہا ہوں ، حق كو قبول كرو اور باطل سے دور ہوجائو ، كيونكہ اگر كسى كى زندگى سايہ حق و عدالت ميں اسكے لئے تلخ ہو اور باطل كے سائے ميں تو اور بھى تلخ ہوگى ، يہى ہے ميرى اخرى بات ، دل چاہے مانو ، اور دل چاہے تو اپنے خيالات كى پيروى كرو ، جہاں جى چاہے چلے جائو _

مروان نے كہا :

ہم آپ كى بيعت كرتے ہيں ، آپ كے ساتھ ہيں تاكہ اسكے بعد كيا گذرتى ہے(۱۰)

طلحہ و زبير نے بيعت توڑي

طلحہ اور زبير كافى عرصے تك ايك افت اور دنيائے اسلام پر حكومت كرنے كى ارزو دل ميں ركھتے تھے ليكن سب كا خيال على كى طرف تھا اورلوگ صرف انھيں كو اس مرتبے كے لا ئق سمجھتے تھے انھيں كو خليفہ بنانا چاہتے تھے يہى وجہ تھى كہ يہ دونوں خلافت كى ارزو سے منھ موڑ كر حضرت على كى بيعت كرنے پر امادہ ہوئے ، آپ كى بيعت كرنے ميں بظاہر سب پر سبقت كى كيونكہ وہ چاہتے تھے كہ بيعت كر كے خليفہ كى توجہ اپنى طرف مائل كر ليں

____________________

۱۰_ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۲۵ ، مسعودى فصل بيعت على ترجمہ فتوح بن اعثم ص ۱۹۳ _ ۱۹۴


تاكہ اسى راستے حساس عہدے ان كے ہاتھ اسكيں اور حكومت ميں زيادہ سے زيادہ حصہ بٹور سكيں ليكن جب خلاف توقع حضرت على نے ان لوگوں كو بھى سارے مسلمان افراد كيطرح يكساں اور برابر قرار ديا ، ان كے لئے ذرہ برابر بھى امتياز نہيں برتا تو ان كى سارى اميد وں پر پانى پھر گيا اور ان كا تير نشانہ پر نہيں لگ سكا _

طلحہ اور زبير كى بے جا توقع كو يعقوبى نے اس طرح لكھا ہے :

طلحہ و زبير حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں اكر بولے ، يا على ہم لوگ رسول (ص) خدا كے بعد ہر عہد ے اور مرتبے سے محروم ركھے گئے ، ہميں كوئي حصہ نہيں ديا گيا ، اب جبكہ خلافت آپ كے اختيار ميں ائي ہے تو ہميں اميد ہے كہ ہم دونوں كو بھى خلافت كے معاملات ميں شريك و سہيم قرار دينگے اور كوئي حكومت كا حساس عہدہ ہمارے اختيار ميں ديدينگے _

حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں جواب ديا كہ تم اس پيش كش سے باز ائو ، كيونكہ اس سے بالاتر مرتبہ كيا چاہتے ہو كہ ميرى حكومت و توانائي كو سختيوں اور مصائب ميں ميرا سہارا ہو اس حكومت كے استحكام تمھارے رويّے ميں منحصر ہے كيا اس سے بھى بالا تر اور بہتر مرتبہ كسى اور مسلمان كيلئے ممكن ہے ؟(۱۱)

مورخين نے نقل كيا ہے كہ حضرت على نے يمن كى حكومت طلحہ كو دى اور يمامہ اور بحرين كى حكومت پر زبير كو مامور كيا ، جس وقت آپ نے حكومت كا منشور اور عہد نامہ انھيں دينا چاہا تو ان دونوں نے كہا :

اے امير المومنين آپ نے ہمارے ساتھ صلہ رحم فرمايا اور رشتہ دارى كا حق ادا كرديا _ حضرت علىعليه‌السلام نے فوراََ وہ عہد نامہ ان سے لے ليااور فرمايا كہ ميں ہرگز صلہ رحم كے طور پر يا رشتہ دارى كا حق ادا كرنے كيلئے مسلمانوں كے اختيار ات كسى كو نہيں ديتا ہو ں _

طلحہ و زبير حضرت علىعليه‌السلام كے اس سلوك سے غصّہ ہو گئے ، انھوں نے كہا يا على دوسروں كو ہم پر ترجيح ديتے ہيں اور ان كے مقابلہ ميں ہميں ذليل كرتے ہيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :كہ تم لوگ رياست و حكومت كيلئے حد سے زيادہ والہانہ پن كا مظاہر ہ كر رہے ہو ، ميرے خيال ميں حريص اور رياست طلب افراد اس كام كيلئے ہرگز موزوں نہيں ہيں كہ مسلمانوں پر حكومت كريں اور

____________________

۱۱_ يعقوبى فصل بيعت على ص ۱۲۶


ان كے اختيارات حوالے كيلئے جائيں(۱۲)

طبرى اس سلسلے ميں يوں لكھتا ہے :

طلحہ و زبير نے حضرت علىعليه‌السلام سے مطالبہ كيا كہ كوفہ اور بصرہ كى حكومت انھيں ديديں ، حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں جواب ديا كہ اگر تم دونوں ميرے پاس رہو اور خلافت و حكومت كو رونق بخشو تو اس سے كہيں زيادہ بہتر ہے كہ دور دراز علاقوں ميں جائو اور مجھ سے جدار ہو ، كيونكہ ميں تم لوگوں كے فراق سے احساس تنہائي اور دكھ محسوس كرونگا(۱۳)

جيسا كہ كہا گيا حضرت على نے طلحہ و زبير كى خواہش كے مطابق عہدہ و منصب ان كے حوالہ نہيں كيا اور معاملہ خلافت ميں اپنے ساتھ حصّہ دار اور شريك بھى قرارنہيں ديا ، يہ پہلى وجہ تھى كہ طلحہ و زبير خلافت سے ناراض ہو گئے اور اسى بات نے انھيں حكومت سے رنجيدہ بنايا كہ نتيجہ ميں انھوں نے بيعت توڑ دى اور اخرى جنگ جمل واقع ہوتى _

دوسرى وجہ جو طلحہ و زبير كے بيعت توڑنے كى باعث ہوئي اور انھيں ميدان جنگ ميں كھينچ لائي ، يہ تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام بيت المال كو تمام مسلمانوں كے درميان مساويانہ تقسيم كرتے تھے ، اور كسى شخص كے بھى خصوصى امتياز كے قائل نہيں تھے يہاں تك كہ طلحہ و زبير بھى اس قانون سے مستثنى نہيں تھے ، ليكن يہ مساوات كى روح اور عادلانہ رويّہ ان دونوں كو ہضم نہ ہوسكا اور يہ لوگ بات كو برداشت نہ كرسكے ، يہاں تك كہ ان لوگوں نے حضرت علىعليه‌السلام پر شدّت كے ساتھ اعتراضات كئے اور مساوات كے خلاف ريشہ دوانيوں پر امادہ كيا _

_ابن الحديد كہتا ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے بيت المال كو مسلمانوں كے درميان تقسيم كيا اور ہر شخص كو تين دينار عطا كيا ، زمانہ خلافت عمر اور عثمان كے بر خلاف حضرت علىعليه‌السلام نے تمام عرب و عجم كے مسلمانوں كو برابر و يكساں قرار ديا _

_طلحہ و زبير نے حضرت علىعليه‌السلام كى اس مساوات پر اعتراض كرتے ہوئے اس عادلانہ بٹوارے كى مخالفت كى ، اور اپنا حصہ نہيں ليا _

_حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں اپنے پاس بلايا بلاكر پوچھا اللہ كو حاضر و ناظر جان كر بتائو كہ تم ہى لوگ ميرے پاس

____________________

۱۲_ رسول اللہ نے بھى حريص اور رياست طلب افراد كو كوئي منصب اور عہدہ حوالہ نہيں كيا ، صحيح بخارى ج۴ ص ۱۵۶ ، صحيح مسلم ج۵ ص ۶

۱۳_ طبرى ج۵ ص ۱۵۳ ، تاريخ ابن كثير ج۷ ص ۱۲۷ _ ۱۲۸


نہيں ائے تھے اور مجھ سے مطالبہ نہيں كيا تھا كہ خلافت كى باگ دوڑ اپنے ہاتھ ميں لے ليجئے حالانكہ ميں اسے قبول كرنے سے انكار كر رہا تھا اور ميں نے سخت نا پسند يدگى كا مظاہرہ كيا _

_جى ہاں

_كيا تم لوگوں نے بغير زور زبر دستى كے خود اپنے ہى اختيار سے ميرى بيعت نہيں كى تھى اور خلافت و حكومت كے معاملات ميرے حوالے نہيں كئے تھے

_جى ہاں

_پھر اخر كون سى ميرے اندر نا پسنديدہ بات تم نے ديكھى كہ ميرے اوپر اعتراض كر رہے ہو اور ميرى مخالفت كررہے ہو

_يا على آپ خود بہتر جانتے ہيں كہ ميں تمام مسلمانوں كے مقابلے ميں سابق الاسلام ہوں اور صاحب فضيلت ہوں ، ہم نے اس اميد پر آپ كى بيعت كى تھى كہ ميرے مشورہ كے بغير معاملات حكومت كے اہم كام نہيں كيجئے گا ليكن اب ہم يہ ديكھ رہے ہيں كہ ہمارے مشورہ كے بغير اہم كام كررہے ہيں اور بغير ہمارى اطلاع كے بيت المال مساويانہ تقسيم كر رہے ہيں

_اے طلحہ و زبير ؟ تم چھوٹى چھوٹى باتوں پر اعتراض كررہے ہو اور اہم امور و مصالح سے چشم پوشى كررہے ہو ، اللہ كى بارگاہ ميں توبہ كرو شايد اللہ تمھارى توبہ قبول كر لے _

_اے طلحہ و زبير مجھے بتائو تو كہ كيا ميں نے جو تمھارا واجبى حق ہے ، اس سے محروم ركھا ہے ، تم پر ظلم و ستم روا ركھا ہے _

_معاذاللہ آپ سے كوئي ظلم نہيں ہوا ہے _

_ كيا بيت المال كى يہ دولت ميں نے اپنے لئے مخصوص كر لى ہے _

_كيا دوسروں سے زيادہ حق لے ليا ہے _

_نہيں ، خدا كى قسم ايسا كام آپ سے نہيں ہوا ہے _

_كيا كسى مسلمان كے بارے ميں تمھيں ايسى بات معلوم ہوئي ہے كہ جو ميں نہيں چاہتا ہوں يا اسے نافذ


كرنے ميں سستى اور كمزورى دكھائي ہے _

_نہيں خدا كى قسم

_پھر تم نے ميرى حكومت ميں كيا بات ديكھى كہ مخالفت كررہے ہو اور اپنے كو مسلمانوں كے معاشرے سے الگ تھلگ كررہے ہو _

_ايك ہى چيز نے ہميں آپ سے رنجيدہ خاطر كيا ، اور حكومت سے بد ظن بنايا ہے كہ آپ نے خليفہ ء دوم عمر بن خطاب كى روش كى مخالفت كى ہے ، وہ بيت المال كى تقسيم كے وقت سابق الاسلام افراد اور صاحبان فضيلت لوگوں كا خيال ركھتے تھے ، اور ہر شخص كو اس كے مرتبہ و مقام كے لحاظ سے حصہ ديتے تھے _

ليكن آپ ہيں كہ تمام مسلمانوں كو مساوى قرار ديديا ہے اور ہمارے امتياز كو نظر انداز كيا ہے ، حالانكہ يہ مال و دولت ہمارى ہى تلواروں سے اور ہمارى ہى كوششوں اور جانبازيوں سے حاصل ہوا ہے ، كيسے جائز ہو گا كہ جن لوگوں نے ہمارى تلواروں كے خوف سے اسلام قبول كيا وہ ہمارے برابر ہو جائيں ؟

_تم نے معاملات خلافت ميں مشورے كى بات كہى توسن لو كہ مجھے خلافت سے ذرا بھى رغبت نہيں تمہيں نے مجھے اس كى طرف بلايا اور مجھے زبردستى مسند خلافت پر بيٹھا يا ميں نے بھى مسلمانوں كے اختلاف اور بكھرائو كے ڈر سے اس ذمہ دارى كو قبول كيا ، جس وقت ہم يہ ذمہ دارى قبول كررہے تھے تو عہد كيا تھا كہ كتاب خدا (قران ) اور سنت رسول ہى پر عمل كرونگا ہر مسئلہ كا حكم انھيں دونوں سے حاصل كرونگا مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت نہيں ہے تاكہ تمھارے خيالات سے امور خلافت ميںمدد حاصل كروں اسى قران و سنت نے مجھے دوسرے لوگوں كے استنداد سے بے نياز بنا ديا ہے ، ہاں ، اگر كسى دن كوئي اہم معاملہ پيش ائيگا كہ جس كے بارے ميں كوئي حكم قران و سنت ميں نہ ہو ، اور اپنے مشورے كا محتاج سمجھوں گا، تو تم سے مشورہ كرونگا ، اب رہى بيت المال كے مساويانہ تقسيم كى بات ، تو يہ بھى ميرى خاص روش نہيں ہے ميں پہلا شخص نہيں ہو ں كہ يہ رويّہ اپنايا ہو ، ميں اور تم رسول خدا كے زمانے ميں تھے ہم نے ان كا رويّہ ديكھا كہ ہميشہ بيت المال كو مساويانہ تقسيم كرتے تھے اور كسى شخص كے لئے ذرہ برابر امتياز كے قائل نہيں تھے _


اس كے علاوہ اس مسئلہ كا حكم قران ميں بھى ايا ہے كہ ہم مساوات اور برابر كا برتائو كريں اور مہمل امتيازات كوٹھكرا ديں ، يہ قران تمھارے درميان ہے ، اس كے احكام ابدى ہيں اس ميں ذرہ برابر بھى باطل اور نا روابات شامل نہيں ہوئي ہے _

تم جو يہ كہہ رہے ہو كہ يہ بيت المال تمھارى تلواروں سے حاصل ہوا اس طرح تمھارے امتياز كا لحاظ كيا جائے ، پچھلے زمانہ ميں ايسے لوگ تھے كہ جنھوں نے اپنے جان و مال سے اسلام كى مدد كى انھوں نے مال غنيمت حاصل كيا ، اس كے باوجود رسول خدا(ص) نے بيت المال كى تقسيم ميں ان كے لئے كوئي امتياز نہيں برتا ، ان كى سبقت اسلامى اور سخت جدوجہد اس كا باعث نہيں ہوتى كہ انھيں زيادہ حصہ ديديا جائے ، ہاں ، يہ جانبازى حتمى طور سے ان لوگوں كو اللہ كى بارگاہ ميں لائق توجہ قرار ديتى ہے وہ قيامت كے دن اپنے اس عمل كى جزا پائيں گے ، خدا جانتا ہے كہ ميں اس بارے ميں تمھارے اور تمام مسلمانوں كيلئے اتنا ہى جانتا ہوں ، خدا وند عالم ہم سب كو راہ راست كى ھدآیت كرے ، ہميں صبر عطا كرے ہمارى مددو نصرت كرے ، خدا وند عالم ان لوگوں پر رحمت نازل كرے جو حق كى حمآیت كرتے ہيں ظلم و ستم سے پر ہيز كرتے ہيں اور اس كيلئے برابر كو شاں ہيں _(۱)

طبرى نے بھى اس سلسلہ ميں لكھا ہے :

جب طلحہ تمام قسم كے امتياز سے مايوس ہو گئے تو يہ مشہور كہاوت زبان پر جارى كى _

مالنا من هذا الامر الا كلحسة الكلب انفه (ہميں تو اس كام ميں بس اتنا ہى فائدہ حاصل ہوا جتنا كتّا اپنى زبان سے چاٹنے ميں فائدہ محسوس كرتا ہے )(۲) ہاں ، ہم على كى خلافت سے نہ تو پيٹ بھر سكے اور نہ كوئي منصب پا سكے _

طلحہ و زبير حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت كرنے كے بعد كسى منصب اور عہدہ كے منتظر تھے انھوں نے چار مہينے تك اس كا انتظار كيا وہ اس عرصے ميں حضرت على كى روش ديكھتے رہے كہ شايد وہ اپنا رويّہ بدل ديں ليكن انھوں نے كسى قسم كى نرمى يا اس رويّہ سے انحراف محسوس نہيں كيا كوئي تبديلى نہيں پائي اس طرح وہ عہدے اور منصب كے حصول سے قطعى مايوس ہوگئے ، ادھر انھيں اطلاع ملى كہ عائشه نے حضرت علىعليه‌السلام كى مخالفت كا پرچم مكّہ ميں لہرا ديا ہے تو انھوں نے پكا ارادہ كر ليا كہ عائشه كى مدد كرنے كيلئے مكہ جائيں ، وہ دل ميں يہى خيال لئے ہوئے حضرت امير المومنين كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور زيارت خانہء كعبہ كيلئے سفر كى اجازت چاہى حضرت علىعليه‌السلام نے بھى بظاہر ان سے اتفاق كيا اور سفر كى اجازت تو ديدى ليكن اپنے دوستوں سے فرمايا ، خدا كى قسم ان لوگوں كے

____________________

۱_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۷ ص ۳۹

۲_ طبرى ج۵ ص ۵۳


سفر كا مقصد خانہ كعبہ كى زيارت نہيں ہے بلكہ انھوں نے زيارت كو بہانہ بنايا ہے بلكہ ان كا مقصد صرف بيعت توڑنا (غدارى اور بے وفائي كرنا ہے )

بہر صورت جب حضرت علىعليه‌السلام نے ان لوگوں كو سفر كى اجازت ديدى تو انھوں نے دوبارہ بيعت كى ، اور مكہ كى طرف جانے لگے وہاں مكہ ميں پہونچ كر حضرت كے مخالف گروہ عائشه كے لشكر ميں مل گئے(۳) _

لشكر كى تيّاري

جب مدينہ كے راستے ميں عائشه كو معلوم ہوا كہ لوگوں نے حضرت على كى بيعت كر لى ہے تو وہ مخالفت كا پكا ارادہ كر كے مكہ وآپس چلى گئيں اور وہاں مخالفت على كا پرچم لہرايا ، كھلم كھلا لوگوں كو آپ كى مخالفت پر ابھارا جب حضرت علىعليه‌السلام كى مخا لف پارٹيوں كو اس كى اطلاع ملى تو چاروں طرف سے عائشه كى طرف پہچنے لگے اور ان كے گرد جمع ہوگئے _

طلحہ و زبير جو حضرت علىعليه‌السلام كى مساوات كے سخت مخالف تھے ، جيسا كہ گذشتہ فصل ميں بيان كيا گيا ، حضرت علىعليه‌السلام سے بيعت توڑ كر اور ان كى صحبت چھوڑ كر مكہ چل پڑے پھر وہ عائشه كے لشكر ميں شامل ہوگئے(۴)

ادھر بنى اميہ كو حضرت علىعليه‌السلام سے پرانى دشمنى تھى وہ اس موقعے كے انتظار ميں تھے كہ حضرت علىعليه‌السلام كى بغاوت كريں جب انھيں مخالفت عائشه كى خبر ملى تو وہ بھى مدينے سے مكہ گئے اور اس پرچم كے سايہ ميں پہنچ گئے جسے عائشه نے حضرت علىعليه‌السلام كى مخالفت كيلئے لہرايا تھا _

ادھر ان گورنروں اور عاملوں كى ٹولى تھى جو عثمان كے زمانہ ميں عہدہ پائے ہوئے تھے ، ان سب كو حضرت علىعليه‌السلام نے ايك كے بعد ايك معزول كيا اور معزول كر كے عہدوں سے ہٹا ديا يہ بھى مختلف شہروں سے بڑى بڑى دولت ليكر جو مسلمانوں كے بيت المال سے حاصل كى گئي تھى ، عائشه كے لشكر ميں جمع ہونے لگے ، اخر كا ر يہ تمام مختلف الخيال گروہ جن كے دماغ ميں حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف ايك مخصوص مقصد تھا چاروں طرف سے عائشه كے لشكر ميں شامل ہونے لگے _

____________________

۳_ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۲۷ ، تاريخ ابن اعثم ص ۱۶۶ _ ۱۶۷

۴_ يہ دونوں عا ئشہ كے رشتہ دار تھے كيونكہ طلحہ ان كے خاندانى تھے اور زبير ان كى بہن كے شوہر تھے


طبرى نے زہرى كا بيان نقل كيا ہے كہ :

طلحہ و زبير عثمان كے قتل ہونے كے چار مہينہ كے بعد مكہ ائے اور عبداللہ ابن عامر(۱) بھى ايا جو عثمان كى طرف سے بصرہ كا گورنر تھا اورحضرت علىعليه‌السلام نے اس كو معزول كر ديا تھا وہ ايك بہت بڑى دولت ليكر مكہ ايا ، ادھريعلى بن اميہ(۲) وہ بے حساب دولت ليكر چار سو اونٹوں كے ساتھ مكہ ميں وارد ہوا عبداللہ بن عامر نے بھى لشكر كى تيارى ميں چار لاكھ دينار زبير كو ديئے سپاہيوں كے ہتھيار كا انتظام كيا اور وہ مشہور اونٹ جس كو عسكر كہا جاتا ہے ، اور جسے اسّى دينار يا بقول مسعودى دو سو دينار ميں خريدا تھا ، عائشه كو ديا تاكہ جنگ ميں وہ اس پر سوار ہوں_

عائشه كا ھودج اسى اونٹ پر باندھا گيا ، عائشه كو اس پر بٹھايا گيا اس طرح على كى مخالفوں كى ٹولى مكہ ميں جمع ہوئي اور ايك زبر دست لشكر تيار ہوگيا اور لڑنے كيلئے چلا _

عراق كى طرف

طبرى كا بيان ہے كہ: عائشه نے حضرت علىعليه‌السلام كے مخالف گروہ كو مكہ ميں اپنے گرد جمع كر ليا اور اس طرح ايك بہت بڑا اور وسائل سے اراستہ لشكر بنا ليا اس كے بعد سرداران لشكر بھى جمع ہو كر گہار مچانے لگے _

ان ميں سے كچھ لوگوں نے كہا كہ ہميں سيدھے مدينے كيطرف چلنا چاہيئے اور اپنى اس طاقت اور لشكر سے على كے

____________________

۱_ عثمان كا خالہ زاد بھائي

۲_يعلى بن اميہ كى كنيت ابو صفوان اور ابو خالد تھى ، فتح مكہ ميں اسلام لايا جنگ حنين طائف اور تبوك ميں شركت كى عمر نے اس كو يمن كے ايك شہر كا حاكم بنا ديا تھا يعلى نے ايك چراگاہ وہا ں اپنے لئے مخصوص كر لى تھى عمر نے اس جرم كى باز پرس كيلئے مدينہ طلب كيا ليكن مدينہ پہونچنے سے پہلے ہى عمر قتل ہو گئے ، پھر عثمان نے اس كو صنعاء كا حكمراں بنايا اور حساس عہدہ حوالہ كيا اس طرح اس نے اس سے شديدوابستگى ظاہر كى جب مسلمانوں نے عثمان سے بغاوت كى تو وہ يہ مدد كرنے كيلئے صنعاء سے چلا راستہ ميں اپنى سوارى سے گرا اور اس كا گھٹنا ٹوٹ گيا ، عثمان كے قتل كے بعد وہ مكہ پہونچا اور اعلان كيا كہ جو بھى عثمان كے انتقام ميں اٹھے گا ميں اس كے ہتھيار اور اخراجات كا ذمہ دار بنوں گا اسى عہد كے مطابق اس نے چار ہزار درہم زبير كو ديئے اور قريش كے ستر سپاہيوں كو مسلح كيا مسلح كركے گھوڑے اور اونٹ ديئے اسى نے عا ئشہ كو وہ اونٹ حوالہ كيا تھا كہ جس پر وہ جنگ جمل ميں سوار ہوئي تھيں ، يعلى نے جنگ جمل سے ان اخراجات كے علاوہ خود بھى شركت كى ليكن جنگ كے بعد توبہ كر كے حضرت على كے صف ميں شامل ہو گيا وہ جنگ صفين ميں حضرت على كے لشكر ميں تھا ، يہ مطلب ہے اسكے ابن الوقت ہونے كا


خلاف جنگ كرنا چاہيئے _

كچھ دوسروں نے رائے دى كہ ہم اس كمزور طاقت اور كم افراد كے ساتھ حضرت على كے لشكر كا مقابلہ نہيں كر سكتے اور نہ مركز اور اسلامى راجدھانى پر حملہ كر كے حكومت وقت سے جنگ كر سكتے ہيں (ہميں چاہيئے كہ پہلے شام كى طرف چليں اور معاويہ سے مدد طلب كريں ان سے فوجى كمك اور جنگى سازوسامان حاصل كريں اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كريں )

كچھ دوسروں نے يہ پيش كش كى كہ ہميں پہلے عراق كى طرف كوچ كرنا چاہيئے اور دو عراق كے بڑے شہروں كوفہ اور بصرہ كى طاقت جمع كرنى چاہيئے ، جہاں طلحہ اور زبير كے حمآیتى ہيں اس طرح ہم وسائل جنگى سے زيادہ تيار ہو جائينگے اس كے بعد ہم لوگوں كو مدينہ چل كر على سے جنگ كرنى چاہيئے _

سبھى اركان شورى نے اس رائے كو پسند كر كے تائيد كى ، اسى پر عائشه نے امادگى ظاہر كر كے اپنے فوجيوں كو تيار ہونے كا حكم ديا اور وہ سات سو جنگى سپاہيوں كے ساتھ مكہ سے عراق كيطرف چليں ، ليكن اثنائے راہ ميں چاروں طرف سے لوگ ان كے گرد جمع ہو كر ان كے لشكر ميں شامل ہونے لگے اخر كار اس فوج كى تعداد تين ھزار تك پہونچ گئي(۵)

ام سلمہ نے عائشه كو سمجھايا

ابن طيفوركا بيان ہے :

جس دن عائشه نے اپنے لشكر كے ساتھ بصرہ كى طرف حركت كى ام سلمى نے ان سے ملاقات كر كے كہا :

اے عائشه اللہ نے تمھيں پابند بنايا ہے اس كے حكم سے سرتابى نہ كرو اللہ نے اپنے پيغمبر(ص) اور تمھارے درميان اور لوگوں كے درميان حجاب كا احترام قرار ديا ہے ، وہ پردہ پھاڑ كر رسول(ص) كا احترام مت برباد كرو ، اللہ نے تمھيں گھر ميں بيٹھنے كا حكم ديا ہے اسے صحرا نوردى ميں مت بدل دو _

اے عائشه رسول(ص) خدا تمھيں بہت اچھى طرح پہچانتے تھے _

____________________

۵_طبرى ج۵ ص ۱۶۷


تمھارى حيثيت سے بھر پور واقفيت ركھتے تھے اگر ايسے معاملات ميں تمہارى مداخلت بہتر ہوتى تو لازمى طور سے تمھيں كوئي حكم ديتے اور تم سے كوئي معاھدہ كرتے ،ليكن صورت حال يہ ہے كہ صرف يہى نہيں كہ انھوں نے اس بارے ميں تم كو كوئي حكم نہيں ديا ہے بلكہ ايسے اقدامات سے تمھيں منع كيا ہے _

اے عائشه اگر رسول خدا (ص) تمھيں اس طرح سفر كى حالت ميں ديكھيں تو انھيں تم كيا جواب دوگى ؟ خدا سے ڈرو ، اور خدا كے رسول سے حيا كرو كيونكہ خداوند عالم تمھارى اس روش كو ديكھ رہا ہے وہ تمھارے سارے اعمال كا نگراں ہے اور تمھارا چھوٹا سا عمل بھى رسول خدا(ص) سے پوشيدہ نہيں ہے _

اے عائشه تم نے جو راستہ اپنايا ہے يہ انسانيت سے گرا ہوا راستہ ہے كہ اگر ميں تمھارى جگہ پر ہوتى اور مجھے حكم ديا گيا ہوتا كہ جنت ميں جائوں تو مجھے شرم اتى كہ وہاں ميں رسول خدا(ص) سے ملاقات كروں گى ، تم بھى اپنى شرم و حيا ختم نہ كرو اور مرتے دم تك ايك گھر كے كونے ميں بيٹھى رہو تاكہ رسول اللہ تم سے راضى رہيں _

بعض مورخين كے بيان كے مطابق ام سلمى نے اخرميں يہ فرمايا كہ:

اے عائشه تمہارے بارے ميں جو كچھ ميں نے رسول اللہ سے سنا ہے ، اگر انھيں دہرائوں تو تم اس طرح تڑپنے لگوگى جيسے سانپ كا كاٹا تڑپتا ہے ، اور تم صدائے فرياد بلند كرنے لگوگى _

عائشه نے ام سلمى كا جواب ديا اے ام سلمى اگر چہ ميں نے ہميشہ تمھارى نصيحت مانى ہے ليكن ميں اس معاملہ ميں تمھارى بات نہيں مان سكتى ، كيونكہ يہ بہت مبارك سفر ہے جس كا ميں نے ارادہ كيا ہے ، ديكھو مسلمانوں كى دو پارٹيوں ميں اختلاف ہے اب ان ميں صلح و صفائي ہو جايئگى ، ميں ان اختلافات كو ختم كركے دم لونگى ،

نعم المطلع مطلعاًاصلحت فيه بين فئتين متناجزتين (۶) _

راستے كى باتيں

عائشه نے اپنے اس لشكر كو كوچ كا حكم ديا كہ جو حضرت علىعليه‌السلام كے مخالف گروہوں او ر پارٹيوں سے تشكيل پايا تھا اور عراق كى طرف چليں اس طويل راستے ميں بصرہ پہچنے تك ايسے واقعات و حوادث پيش ائے جنھيں يہاں پيش كيا جاتا ہے _

____________________

۶_ فائق زمخشرى ج۱ ص ۲۹۰ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۲ ص ۷۹ ، عقد الفريد ج۳ ص ۶۹ ، تاريخ يعقوبي


پيش نمازى پر اختلاف

طبرى لكھتاہے :

جس وقت عائشه كا لشكر مكہ سے چلا شھركے باہر مروان نے نماز كيلئے اذان دى ، اس كے بعد طلحہ و زبير كے سامنے اكر بولا _

ميں تم دونوں ميں سے كس كو امير سمجھوں كہ جسے لوگوں كے سامنے پيش نمازى كيلئے متعارف كرائوں چونكہ طلحہ و زبير اپنے نظريہ كو ايك دوسرے كے سامنے واضح طور سے بيان نہيں كر سكتے تھے كہ اپنے كو اس مقام كيلئے پيش كريں ، ان دونوں كے بيٹوں نے اپنى رائے ظاہر كى ہر ايك اپنے بآپ كو پيش كرنے لگا عبداللہ نے اپنے بآپ زبير كو اور محمد نے بھى اپنے بآپ طلحہ كو پيش كيا ، اس طرح دونوں كے درميان اختلاف پيدا ہوگيا جب عائشه كو اس واقعہ كى اطلاع ملى تو وہ سمجھ گئيں كہ پيش نمازى كے بہانے سے نفاق اور اختلاف كا بيج لشكر كے درميان بويا جارہا ہے انھوں نے مروان كو اپنے پاس بلاكر كہا اے مروان تو كيا چاہتا ہے ؟اپنى اس حركت سے لشكر ميں اختلاف كيوں پيدا كررہا ہے نماز ميرے بھائي كا بيٹا عبداللہ ابن زبير پڑھائيگا عائشه كے فرمان كے مطابق جب تك لشكر بصرہ پہنچے عبداللہ نماز پڑھاتے رہے اور تمام لوگ انھيں كے پيچھے نماز پڑھتے رہے _

معاذ ابن عبداللہ نے جب پيش نمازى كے مسئلے ميں طلحہ و زبير كے درميان اختلاف ديكھا تو كہا :

خدا كى قسم ، اگر فتح اور كاميابى ہمارے حصہ ميں ائي تو مسئلہ خلافت ميں ہم لوگ سخت اختلاف كا شكار ہو جائيں گے

كيونكہ نہ تو زبير اس منصب سے دستبردار ہونگے كہ وہ طلحہ كو ديديں اور نہ طلحہ يہ منصب زبير كو دينگے(۷) _

انتظامى معاملات كا اختلاف

طبرى كا بيان ہے كہ جب عائشه كا لشكر ذات عرق پر پہنچا تو سعيدابن عاص(۸) جو بنى اميہ كے اشراف قريش ميں تھا اور عائشه كے لشكر كا فوجى تھا اس نے مروان اور اس كے ساتھيوں سے كہا كہ اگر واقعى تم خون عثمان كا انتقام لينا چاہتے ہو تو كہاں جارہے ہو ؟چونكہ عثمان كے قاتل تو اسى لشكر ميں موجود ہيں(۹)

____________________

۷_طبرى ص۱۶۸

۸_ سعيد ابن عاص يہ شخص بنى اميہ كا تيز طرار ادمى سمجھا جاتا تھا اميرالمومنينعليه‌السلام نے اس كے بآپ كو جنگ بدر ميں قتل كيا تھا ، يہ عثمان كا منشى تھا اور عثمان كى طرف سے كوفے كا حكمراں تھا علىعليه‌السلام نے اس كو معزول كر ديا تھا

۹_ اس كا مطلب طلحہ زبير اور عا ئشہ سے تھا


انھيں كو قتل كردو اور اپنے گھروں كو وآپس چلو ، حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كر كے اپنے كو موت كے منھ ميں كيوں جھونكا جائے ؟

مروان اور اسكے ساتھيوں نے جواب ديا ، ہم اس لئے جا رہے ہيں كہ طاقت حاصل كر سكيں اس طرح ہم عثمان كے تمام قاتلوں كو قتل كر سكيں گے _

اس كے بعد سعيد نے طلحہ و زبير سے ملاقات كى اور كہا ميرے ساتھ سچائي كے ساتھ ائو صحيح صحيح بات كہو كہ اگر اس جنگ ميں تمھيں فتح ملى تو حكومت و خلافت كو كس شخص كے حوالے كرو گے ؟

انھوں نے كہا ہم دونوں ميں سے جس كو بھى عوام چن ليں _

سعيد نے كہا :سچ ، اگر تم خون عثمان كے انتقام ميں اٹھے ہو تو كيا اچھا ہوتا كہ اس خلافت كو بھى انھيں كے بيٹوں كے حوالے كردو _

ان لوگوں نے جواب ديا ہم مہاجر ين كے بوڑھوں اور بزرگوں كو الگ كر ديں اور نا تجربہ كار جوانوں كو اس كام ميں لگا ديں ؟

سعيد نے كہا : ہم بھى نہيں چاہتے كہ خلافت خاندان عبد مناف سے ليكر دوسروں كے اختيار ميں ديديں(۱۰) يہ كہكر

وہاں سے چلا ايا _

عبداللہ ابن خالد اسيد بھى بنى اميہ سے تھا وہ لشكر سے الگ ہوگيا ، مغيرہ ابن شعبہ جو قبيلہ سقيف سے تھا ، جب اس نے اس حادثہ كا مشاہدہ كيا تو اپنے قبيلہ كے افراد سے پكار كر كہا جو بھى قبيلہ ثقيف كا ہے وہ وآپس ہو جائے ، وہ لوگ بھى جو راستے ميں ائے تھے وآپس ہوگئے(۱۱) اور بقيہ لشكر اگے بڑھتا رہا _

تيسرا اختلاف

طبرى اپنى بات اگے بڑھاتے ہوئے لكھتا ہے كہ امارت كے اس اختلاف كے بعد اور چند افرادكى وآپسى كے بعد عثمان كے دونوں فرزند وليد اور ابان بھى عائشه كے لشكر ميں تھے منزل ذات سے اگے بڑھے _

____________________

۱۰_ خاندان عبد مناف كى فرد ميں بنى ہاشم اور بنى اميہ شامل ہيں اس وقت علىعليه‌السلام خليفہ تھے اس لئے بنى اميہ كى فرد سعيد اس بات پر راضى نہيں تھا كہ خلافت بنى ہاشم سے نكل كر خاندان تيم ميں پہنچے اور طلحہ كو حاصل ہو يا زبير كو ملے كہ جو بنى اسد كے خاندان سے تھا

۱۱_ طبرى ج۵ ص۱۶۸ _ طبقات ج۵ ص۲۳


ليكن لشكر ميں تيسرى بار بھى اختلاف پيدا ہو گيا كہ كچھ لوگ كہنے لگے كہ ہميں شام كيطرف چلنا چاہيئے اور كچھ لوگ عراق كى رائے دے رہے تھے اس بارے ميں زبير نے اپنے بيٹے عبداللہ اور طلحہ نے اپنے بيٹے علقمہ كو مجلس شورى ميں نامزد كيا ان دونوں نے اس بات پر اتفاق رائے كيا كہ ہم لوگوں كو عراق كى جانب چلنا چاہيئے ، اس طرح نظر ياتى اختلاف اور فوجى كشا كش ختم ہوئي(۱۲)

حوا ب كا واقعہ

چوتھا بھى پيش ايا ، جب عراق كے راستے ميں عائشه كا لشكر تھا اسى وقت اثنائے رائے ميں طلحہ و زبير كو معلوم ہوا كہ حضرت علىعليه‌السلام مدينہ سے چل چكيں ہيں اور وہ منزل ذيقار ميں پہنچ گئے ہيں ، اور كوفے كا راستہ ان پر بند ہو چكا ہے ،طلحہ و زبير نے كوفہ جانے كا خيال بدل ديا اور بے راہہ سے استفادہ كرتے ہوئے بصرے كى طرف چلنے لگے يہاں تك كہ وہ اس جگہ پہچے جس كا نام حوا ب تھا ، وہاں عائشه كے كانوںميں كتّوں كے بھونكنے كى اواز پہنچى _ انھوں نے پوچھا اس جگہ كا كيا نام ہے _

____________________

۱۲_ طبرى ج۵ ص ۱۶۸ ، طبقات ج۵ ص ۲۳


لوگوں نے جواب ديا ، حوا ب

فوراً عائشه كو حضرت رسول (ص) اللہ كى حديث ياد اگئي كہ آپ نے اپنى ازواج سے كہا تھا كہ تم ميںسے ايك كو حوا ب كے كتّے بھونكيں گے اور ان ازواج كو منع كيا تھا _

عائشه كو اس حادثہ نے بے چين كر ديا كيونكہ انھيں حديث رسول ياد تھى وہ گھبراہٹ ميں كہنے لگيں انا للہ و انااليہ راجعون ، ہائے ميں وہى عورت ہوں كہ جس كى رسول خدا(ص) نے خبر دى تھى _

عائشه اس خيال كے اتے ہى اس سفر سے پلٹنے لگيں انھوں نے پكّا ارادہ كر ليا كہ ميں وآپس جائوں گى _

جب عبداللہ ابن زبير كو عائشه كے وآپسى كى اطلاع ہوئي تو ان كے پاس اكر حوا ب كے بارے ميں گفتگو كى اور يہ ظاہر كيا كہ جن لوگوں نے آپ كو بتايا ہے انھيں دھوكا ہوا ہے ، اس جگہ كا نام حوا ب نہيں ہے _

عبداللہ ابن زبير اس واقعے كے بعد ہميشہ عائشه كى نگرانى كرتے رہے كہ مبادا دوبارہ بھى كوئي شخص ان سے ملكر اس سفر سے موڑدے _

جى ہاں ، فرزند زبير نے حوا ب كے بعد سے عائشه كے ھودج كے پاس سائے كيطرح چلتے رہے يہاں تك كہ بصرہ وارد ہو گئے(۱۳) _

سرداران لشكر كى وضاحت

طبرى كا بيان ہے كہ :

عائشه كا لشكر مكے سے چل كر بصرہ كے نزديك پہنچا اور وہاں ايك مقام جس كا نام حفر ابو موسى تھا اتر پڑا عثمان ابن حنيف انصارى حضرت علىعليه‌السلام كى طرف سے بصرہ كے گورنر تھے جب انھيں واقعہ كى اطلاع ملى تو ابوالاسود دئيلى كو مامور كيا كہ لشكر عائشه ميں جاكر ان كے سرداروں سے ملاقات كريں اور ان كى خواہش و مقصد كى تحقيق كريں _

ابو الاسود نے اپنے كو عائشه كے لشكر ميں پہونچايا ، پہلے انھوں نے خود عائشه سے ملاقات كى اور پوچھا _

اے عائشه بصرہ انے كا مقصد كيا ہے _

عائشه نے جواب ديا عثمان كے خون كا ان كے قاتلوں سے انتقام لينے يہاں ائي ہوں

____________________

۱۳_ طبرى ج۵ ص۱۷۸ ، عبد اللہ بن سبا ج۱ ص ۱۰۰


ابوالاسود نے كہا اے عائشه بصرہ ميں كوئي بھى عثمان كا قاتل نہيں ہے كہ آپ ان سے انتقام ليں _

عائشه نے كہا: اے ابوالاسود تم ٹھيك كہتے ہو ، عثمان كے قاتل بصرے ميں نہيں ہيں اور ہم بھى يہاں اس لئے نہيں ا ئے ہيں كہ قاتلوں كو بصرہ ميں تلاش كريں بلكہ اس لئے ائے ہيں كہ اس شہر كے لوگوں سے مدد طلب كريں اور ان لوگوں كى مدد و حمآیت سے مدينہ كے قاتلان عثمان سے انتقام ليں جوحضرت علىعليه‌السلام كے ارد گرد ہيں _

اے ابو الاسود جس دن عثمان نے تمہيں تازيانے سے اذيت دى تھى تو مجھے دكھ ہوا تھا اور ميں نے صاف طور سے ان كے اوپر سخت اعتراض كيا ليكن تم لوگوں نے تو انھيں تلواروں سے قتل كيا يہ كيسے مناسب ہے كہ ميں خاموش رہ جائوں اور ان كى مظلوميت پر فرياد نہ كروں ، ان كا انتقام نہ لوں ؟

اے ابوالاسود نہيں ، ميں ہرگز خاموش نہيں رہونگى _

_ ابوالاسود نے كہا :اے عائشه آپ كو تلوار اور تازيانے سے كيا سروكار آپ تو رسول(ص) خدا كے حكم كے مطابق پردہ نشين ہيں آپ كى صرف يہى تكليف ہے كہ اپنے گھر ميں بيٹھى رہيں قران كى تلاوت كريں ، اور پروردگار كى عبادت بجالائيں ، اے عائشه اسلام ميں عورتوں پر جھاد نہيں ہے ، اس كے علاوہ خون عثمان كا انتقام تو تمھارا حق بھى نہيں ، حضرت على خون عثمان كے انتقام كا زيادہ حق ركھتے ہيں كيونكہ وہ رشتہ كے لحاظ سے تم سے زيادہ عثمان كے قريب ہيں كيونكہ دونوں ہى خاندان عبد مناف سے ہيں ، ليكن تم قبيلہ تيم سے ہو _

عائشه نے كہا: اے ابوالاسود ميں اپنا ارادہ بدلوں گى نہيں ، اب اس راہ سے وآپس نہيں جائوں گى جب تك اپنا مقصد نہ حاصل كر لوں اور اپنے قيام كے نتيجہ تك نہ پہونچ جائوں _

اے ابوالاسود تم نے كہا عوتوں پر جنگ و جھاد نہيں ، كون سى جنگ ؟ اور كيسا جھاد ؟ كيا اس معاملے ميں جنگ و جھاد كى بھى بات ہے ، ميرى جو حيثيت ہے (كيا كسى كو جرائت ہو سكتى ہے كہ مجھ سے جنگ كرے )

ابوالاسود نے كہا: اے عائشه آپ كو دھوكا تو يہيں ہوا ہے كيونكہ آپ سے ايسى جنگ ہوگى كہ اس كا اسان ترين ميدان شعلوں سے بھرا ہوا اور كمر شكن ہوگا _

ابوالاسود نے يہيں بات ختم كردى ، پھر انھوں نے زبير سے ملاقات كى اور كہا:


اے زبير وہ دن بھولا نہيں ہے جب لوگوں نے ابوبكر كى بيعت كر لى تھى ، اور آپ قبضہ شمشير پر ہاتھ ركھ كر نعرہ لگا رہے تھے _

( كوئي شخص خلافت كيلئے على سے بہتر اور لائق نہيں ہے ، خلافت كا لباس صرف على كيلئے موزوں ہے ان كے علاوہ كسى كو زيب نہيں ديتا ، ليكن آج وہى شمشير آپ نے ہاتھ ميں ليكر انھيں على كے خلاف قيام كيا ہے _

اے زبير كہاں وہ دلسوزى اور طرفدارى ، اور كہاں يہ عداوت و مخالفت ؟

زبير نے ابوالاسود كے جواب ميں قتل عثمان كا مسئلہ پيش كيا _

_ابو الاسود نے كہا :ہم نے تو جيسا كہ سنا ہے قتل عثمان ميں آپ ہى لوگ شريك ہيں ، حضرت علىعليه‌السلام كو ذرہ برابر بھى اس كے قتل ميں دخل نہيں زبير نے كہا اے ابوالاسود ذرا طلحہ كے پاس جائو ، ديكھو وہ كيا كہتے ہيں _

ابوالاسود كا بيان ہے: كہ ميں طلحہ كے پاس گيا ليكن وہ بہت تند مزاج اور فتنہ انگيز تھے ، وہ بہت زيادہ جنگ كى باتيں كرتے رہے ميرى تمام نصيحتيں اور باتيں بے اثر رہيں(۱۴)

دوسرى روآیت كے مطابق ابوالاسود كا بيان ہے كہ ميں اور عمران ابن حصين بصرہ كے گورنر عثمان ابن حنيف كى طرف سے عائشه كے پاس گئے اور ان سے يہ وضاحت چاہى كہ _

اے عائشه كيا وجہ ہوئي كہ آپ يہاں تك پہنچ گئيں ، كيا آپ كے اس قيام اور سفر كے بارے ميں رسول(ص) خدا كا فرمان ہے يا آپ نے اپنى ذاتى رائے سے يہ اقدام كيا ہے _

عائشه نے كہا: اس بارے ميں ميرے پاس رسول(ص) خدا كا كوئي فرمان يا حكم نہيں ہے بلكہ جس دن سے عثمان قتل كئے گئے ميں نے ذاتى طور سے ان كے خون كا انتقام لينے كى ٹھان لى ، كيونكہ ہم عثمان كے زمانے ميں واضح طور سے ان پر اعتراض كيا كرتے تھے كہ مسلمانوں پر كيوں ظلم ڈھا رہے ہو ، انھيں تازيانے كيوں لگا رہے ہو ، عام زمينوں اور چرا گاہوں كو اپنے اور خاندان والوں كے مويشيوں كيلئے كيوں مخصوص كر لى ہے ، اس سفّاك اور ظالم وليد كو

____________________

۱۴_ الامامة و السياسة ج۱ ص ۵۷ ، شرح نہج البلاغہ ابى الحديد ج۲ ص ۸۱ ، طبرى ج۵ ص ۱۷۸


جسے رسول(ص) خدا نے جلا وطن كيا تھا اور قران نے فاسق كا نام ديا(۱۵) ايسے شخص كو مسلمانوں كا حكمراں بنا ديا ، ہاں ، ہم نے يہ تمام باتيں اس كے كان ميں ڈاليں اس نے ميرى تمام باتيں مان ليں اپنے كارندوں كى حركات پر شر مندہ بھى ہوا ، اور اپنے توبہ سے اپنے كو پاك كر كے غلطيوں كى تلافى كى _

ليكن تم لوگوں نے اس كے توبہ كو ذرہ برابربھى اہميت نہيں دى ، تلواريں كھينچے ہوئے اس پر ٹوٹ پڑے اور اس كے گھر ميںاسے مظلوم اور بے گناہ قتل كرديا ، تم لوگ اسلامى سر زمين مدينہ كى عظمت اور خلافت كى شان و شوكت ، ماہ ذى الحجہ كى حرمت ان تمام چيزوں كو اسلام نے محترم قرار ديا ہے تم نے ان سبكو روند ڈالا ، كيسے اور كيوں ميں اس ظلم و ستم كے مقابلہ ميں خاموش رہوںاور اس سركشى اور زيادتى كے مقابلے ميںچپ بيٹھ جائوں_

ابو الاسود نے كہا: اے عائشه آپ كو تلوار اور تازيانے سے كيا سروكار ؟ كيا رسو ل (ص) خدا نے آپ كو ايسے معاملات ميں مداخلت سے منع نہيں كيا تھا ؟

انھوں نے آپ كے لئے گھر كى كوٹھى پسند نہيں كى تھى آپ اپنے شوہر كے حكم كے خلاف اپنے گھر سے باہر كيوں نكل ائيں اور مسلمانوں كے درميان فتنہ و ہنگامہ كھڑا كيا ؟

عائشه نے كہا: اے ابوالاسود ، كون سا فتنہ و فساد ؟كيا كوئي ايسا بھى ہے جو مجھ سے جنگ كرے ؟ يا ميرے خلاف زبان كھولے كہ فتنہ و فساد پيدا ہو ؟ ہرگز ايسا واقعہ پيش نہيں ائيگا ميرے مقابلہ ميں ايسى حركت كى كسى كو جرائت نہيں ہو گى _

ابوالاسود نے كہا: اے عائشه اگر يہ مخالفت اور ہنگامہ ارائي اگے بڑھتى رہى تو لوگ آپ سے جنگ كرينگے اور ايك عظيم فتنہ برپا ہو جائيگا _

عائشه نے كہا: اے ابو الاسود ، اے قبيلہ عامر كے پست فطرت ، اے بنى عامر كے چھو كر ے بات كم كر ، كون شخص ہے جو زوجہ رسول سے جنگ كر سكے(۱۶)

____________________

۱۵_ سورہ حجرات آیت ۶

۱۶_ بلاغات النساء ص ۹ ، عقد الفريد ج۳ ص ۹۸ ، البيان والتبيين جاحظ ج۲ ص ۲۰۹


ابو الاسود اور عائشه سے يہيں پر بات ختم ہو گئي ، ليكن عائشه نے ابو الاسود كى بات كا ذرا بھى اثر نہيں ليا ، اپنا ارادہ نہيں بدلا ، انھوں نے اپنے لشكر والوں كے ساتھ حفر ابو موسى سے اگے بڑھكر بصرہ كے نزديك ايك جگہ پڑا ئو ڈال ديا _

سردار ان لشكر نے تقريريں كيں

لشكر عائشه بصرہ پہنچ گيا اور شہر كے وسيع ميدان --''مربد''كو اپنى چھائونى بنايا _

عثمان ابن حنيف انصارى جوحضرت علىعليه‌السلام كى جانب سے بصرہ كے حكمراں تھے ، دوبارہ كچھ لوگوں كو مربدبھيجا ، تاكہ لشكر عائشه كا انتہائي مقصد دريافت كريں _

عائشه نے جب اپنى فوج ميں ايك بڑا اجتماع ديكھا اور بصرے والوں كو بھى ايك جگہ ديكھا تو موقعہ غينمت خيال كركے ان كے سامنے اس طرح تقرير كى _

اے لوگو امير المومنين عثمان اگر چہ حق و عدالت كے راستے سے منحرف ہوگئے تھے ، انھوں نے رسو ل خد(ص) ا كے اصحاب كو اذيت دى ، ناتجربہ كار اور فاسد جوانوں كو حكومت ديدى ، ايسے لوگوں كى حمآیت كى جن پر رسول خدا (ص) غضبناك تھے اور انھوں نے مسلمانوں كى ابادى سے جلا وطن كيا تھا ، عمومى چراگاہوں كو اپنے لئے اور بنى اميہ كيلئے خاص كر ليا تھا ليكن ان تمام باتوں كے با وجود جب لوگوں نے ان پر اعتراض كيا اور اس كے انجام گوش زد كئے تو انھوں نے لوگوں كى نصيحتوں سے سبق ليا اپنے خراب كرتوتوں سے پشيمانى كا اظہار كيا اور اپنے دامن الودہ كو اب توبہ سے دھو ڈالا ، اپنے كو گناہوں سے پاك كر ليا _

ليكن كچھ لوگوں نے ان كے توبہ كو وقعت نہيں دى ان كى پشيمانى پر اعتنا نہيں كيا اور انھيں قتل كر ڈالااور اس پاكيزہ شخص اور بے گناہ شخص كا خون بہا ڈالا اسے قتل كر كے بہت سے بڑے گناہوں سے اپنے كو الودہ كيا كيونكہ وہ خلافت كا مقدس لباس پہنے ہوئے تھے ، جس مہينے ميں جنگ اور خونريزى حرام ہے اسى ماہ ذى الحجہ ميں ، اور اس شہر ميں كہ جس كا احترام اسلام نے لازم قرار ديا ہے ، اسى شہر ميں قربانى كے اونٹ كى طرح انھيں قتل كر ڈالا ان كا خون زمين پر بہا ديا _

اے لوگو جان لو كہ قريش قتل عثمان كے اصل مجرم ہيں انھيں قتل كر كے خود اپنے تيروں كا نشانہ بنا ليا ہے اور اپنے مكّے خود اپنے منھ پر مارے ہيں قتل عثمان سے وہ اپنا مقصد نہ پائيں ان كى حالت كو كوئي فائدہ نہ ہو ، خدا كى قسم ان


لوگوں كو افت گھير لے گى جو انھيں نيست و نابود كر ديگى انگاروں سے بھر پور افت ، انھيں جڑ سے اكھاڑنے والى ، ايسى افت كہ سوئے لوگوں كو جگا ديگى اور بيٹھے لوگوں كو اٹھا ديگى _

ہاں ، خدا ئے عادل اس بے حد ظلم كے مقابلے ميں ايسے لوگوں كو ان پر مسلط كر ديگا كہ ان پر ذرا بھى رحم نہ كرينگے اور انھيں بد ترين اور سخت عذابوں سے انھيں اذيت ديگا _

اے لوگو عثمان كا گناہ ايسا نہيں تھا جو ان كے قتل كو جائز بنادے پھر يہ كہ تم لوگوں نے ان سے توبہ كرنے كو كہا اس كے بعد ان كى توبہ كو وقعت ديئے بغير (ٹوٹ پڑے اور بے گناہ ان كا خون بہا ڈالا اس كے بعدتم نے لوگوں كے مشورہ كئے بغير على كى بيعت كر لى اور غاصبانہ طريقے سے انھيں كر سى خلافت پربٹھاديا ) تم لوگ سونچو كہ ميں تمھيں لوگوں كے فائدہ كيلئے عثمان كے حق ميں تمہارى ان شمشيروں سے جوان پر برسائي گئيں غضبناك نہيں ہو جائوں اور خاموش رہوں ؟

اے لوگو ہوش ميں ائو كيونكہ عثمان كو مظلوم اور بے گناہ قتل كيا گيا اب تم لوگ ان كے قاتلوں كو تلاش كرو ،جہاں بھى ان پر قابو پائو انھيں قتل كر ڈالو ، اس كے بعد ان لوگوں ميں سے جنھيںعمر نے خلافت كيلئے نامزد كيا تھا شورى كے ذريعے سے خليفہ منتخب كر لو ، ليكن ايسا نہيں ہونا چاہيئے كہ جس شخص نے عثمان كو قتل كيا(۱۷) وہ خلافت كے بارے ميں يا شورى ميں خليفہ معين كرنے كيلئے شامل ہو اور ذرا بھى مداخلت كرے(۱۸) زھرى كا بيان ہے كہ عائشه كى تقرير ختم ہوتے ہى طلحہ و زبيرنے بھى اٹھ كر لوگوں كے سامنے يہ تقرير كى _

اے لوگوں ، ہر گناہ كى توبہ ہے اور ہر گنہگار پشيمان ہونے كے بعد وہ پلٹتا ہے جس كے اثر سے وہ پاك اور مغفور ہو جاتا ہے ، عثمان بھى اگر چہ گنہگار تھے ليكن انكا گناہ توبہ اور امرزش كے قابل تھا ہم بھى كسى حيثيت سے ان كے قتل كا ارادہ نہيں ركھتے تھے ہم صرف يہ چاہتے تھے كہ ان كى سرزنش كريں اور اس طرح انھيں توبہ پر مجبور كريں ، ليكن كچھ نادان اور ھنگامہ پسند ادميوں نے انھيں قتل كرنے كا ارادہ كرليا اور ہمارے جيسے صلح و پسند (ملائم اور حليم لوگوں پر حاوى ہو گئے اور نتيجہ ميں انھيں قتل كر ڈالا )ابھى طلحہ و زبير كى بات يہيں تك پہونچى تھى كہ بصرہ والے چاروں طرف

____________________

۱۷_قاتل عثمان سے ان كى مراد حضرت على ہيں

۱۸_ الامامة و السياسة ج۱ ص ۵۱ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۲ ص ۴۹۹


سے اعتراض كرنے لگے اور چلانے لگے _ اے طلحہ تمھارا خط ہمارے پاس پہنچا تھا ، اس كا لہجہ بہت سخت تھا ، آج كى تمھارى بات سے اور اس خط كے مضمون سے كوئي مناسبت اور ميل نہيں ہے ،اس موقعہ پر زبير نے لوگوں كو مطمئن اور خاموش كرنے كيلئے كھڑے ہو كر تقرير شروع كر دى ، اور كہا اے لوگو :

ميں نے عثمان كے بارے ميں تمھيں كوئي خط نہيں لكھا اگر تمھارے پاس اس بارے ميں كوئي خط پہنچا ہے تو وہ دوسروں نے لكھا ہو گا _

اپنى پہلى بات كو زيادہ اب و تاب سے بيان كرنے لگے اور عثمان كى مظلوميت لوگوں كے سامنے زيادہ وضاحت سے بيان كى اس ضمن ميں حضرت على اور ان كے ماننے والوں كى شدت كے ساتھ تنقيد اور مذمت كى _(۱۹) _

__________________

۱۹_ طبرى ج۲ ص ۱۷۸


مقرروں پر اعتراض

عائشه اور ان كے سرداران لشكر كى اتشيں تقريروں كے بعد جو مربد ميں ہوئي تھيں كچھ سامعين كھڑے ہو گئے اور انھوں نے واضح لفظوں ميں اعتراضات كئے _

طبرى نے ان تقريروں كو نقل كرنے كے بعد لكھا ہے كہ اسى موقعہ پر خاندان عبدالقيس كا ايك شخص كھڑا ہو كر بولا ، اے زبير خاموش ہو جا ، ميں بھى كچھ كہنا چاہتا ہوں اور جو كچھ لازم ہے وہ لوگوں تك پہونچانا چاہتا ہوں _

عبداللہ ابن زبير اس پر بپھر كر بولے ، اے مرد عبدى تيرى كيا حيثيت كہ بات كرے ليكن اس شخص نے ابن زبير كى سرزنش پر كوئي توجہ نہيں كى اور عائشه كے لشكر والوں سے كہنے لگا تم مہاجر ين كے گروہ ميںہو تم نے زندگى ميں عظيم فضيلت و افتخار حاصل كيا كيونكہ تم ہى تھے جنھوں نے رسول اكرم (ص) كى پہلى اواز پر لبيك كہى ، اور تمام لوگ تمھارے بعد تمھارى پيروى ميں اسلام سے وابستہ ہوئے ، اسے جان و دل سے قبول كيا اور جس وقت رسول(ص) خدا لقائے الہى سے جا ملے تمھيں لوگ تھے جنھوں نے آپنوں ميں سے ايك كا انتخاب كيا اور اسكى بيعت كى ، باوجود اس كے كہ تم نے اس انتخاب ميںہم سے مشورہ نہيں كيا اور ہمارى اطلاع كے بغيريہ اقدام كر ڈالا ، پھر بھى ہم نے تمھارى


مخالفت نہيں كى ، تم جس بات كو پسند كرتے تھے ہم اس پر راضى رہے ان كى زندگى ختم ہوئي اور كسى شخص كو تمھارے درميان سے خلافت كيلئے چن ليا گيا تم لوگوں نے ہميں اطلاع ديئے بغير اس كى بيعت كرلى ہم نے بھى اسے مان ليا ، اور تمھارى خوشنودى خاطر كيلئے ہم نے اسكى بيعت كرلى ، اس نے بھى جب دنيا سے رخت سفر باندھا تو امارت و خلافت كو چھہ ادميوں كے درميان ڈال كر معاملہ شورى كے حولے كر ديا ، ان چھہ افراد ميں سے عثمان كو منتخب كر كے تم نے بيعت كر لى ليكن دير نہيں گذرى كہ تم نے اسكى روش كو نآپسند كيا ، اس كے كرتوتوں پر اعتراض كيا ، يہاں تك كہ تم نے اس كے خون سے اپنا ہاتھ رنگين كيا حالانكہ تم نے نہ اسكى خلافت ميں ہم سے مشورہ كيا تھا اور نہ قتل ميں ، وہيں تم لوگ على كے گھر پر چڑھ دوڑے ان سے حد سے زيادہ اصرار كيا يہاں تك كہ انكو زبردستى اس كام پر امادہ كيا اور انكى بيعت كرلى ، پيمان خلافت باندھ ليا ، يہ تمام باتيں تو ا ن لوگوں نے ہمارى اطلاع كے بغير اور ہمارے مشورے كے بغير انجام ديا ليكن اب ہم نہيں جانتے كہ كس دليل سے اسكے خلاف تم نے فتنہ ابھارا ہے اور ان سے امادہء جنگ ہو گئے ہو ؟

كيا حضرت علىعليه‌السلام نے مسلمانوں كے مال و دولت ميں خيانت اور زيادتى كى ہے يا خلاف حق كوئي كام كيا ہے يا تم لوگوں كى پسند كے خلاف كسى عمل كے مرتكب ہوئے ہيں _

نہيں ، ہر گز نہيں ، حضرت علىعليه‌السلام كا دامن ان تمام باتوں سے پاك ہے _

پھر ہم لوگ ان پر كيا اعتراض كريں ؟ اور كيوں ان سے جنگ كريں ؟

ابھى اس شخص كى بات يہيں تك پہونچى تھى كہ لشكر عائشه سے كچھ لوگ اسكى حق گوئي پر بھڑك اٹھے اور اسكے قتل كا ارادہ كيا اس شخص كے خاندان كے لوگ اور رشتہ دار اسكى مدد ميں كھڑے ہو گئے ، اسكى طرف سے دفاع كرنے لگے ، يہاں تك كہ وہ اپنى جان بچا كر لشكر كے درميان سے بھاگ گيا _

ليكن حادثہ يہيں پر ختم نہيں ہو گيا ، اور دوسرے دن عائشه كے لشكر اور اس شخص كے قبيلہ كے درميان جنگ ہوگئي اس شخص كے قبيلے كے ستر ادميوں كو ان لوگوں نے بزدلانہ طريقے سے قتل كر ديا(۲۰)

جس وقت يہ واقعہ امام نے سنا توبہت زيادہ غمگين ہوئے آپ نے ان لوگوں كى تعزيت ميں شعر اس مضمون

____________________

۲۰_ طبرى ج۵ ص ۱۷۸


كے پڑھے :

بہت افسوس اور دكھ ہوا اس ظلم پر جو قبيلہ ربيعہ پر ڈھايا گيا ، ربيعہ كے لوگ اپنے امام كى بات ہميشہ سنتے اور اطاعت كرتے ہيں _

ہاں ، وہ ہميشہ طرفدار حق رہے

اور حق كى راہ ميں انھوں نے اپنا خون نثار كيا

يا لهف قلبى على ربيعه

ربيعه السامعة المطيعه

سنتها كانت بها الوقيعه(۲۱)

اس كے بعد طبرى نے نصر ابن مزاحم سے نقل كيا ہے كہ جاريہ ابن قدامہ لشكر عائشه كے مقابل كھڑے ہو كر بولے اے عائشه خدا كى قسم خون عثمان كا بہانا بہانے كا گناہ اس سے كمتر ہے كہ تو اس ملعون اونٹ پر سوار ہے اور اپنے گھر سے باہر نكل كر مردوں كى طرح ميدان جنگ ميں چلى ائي ہے

اے عائشه تيرا اسلامى معاشرے ميں احترام كيا جاتا ہے ، ليكن اس عمل سے تو نے اپنى وقعت برباد كر دى اپنى عظمت و احترام كا ناس مارديا اور اپنے كو قتل اورہلاكت ميں جھونك ديا كيو نكہ جو بھى تجھ سے جنگ كرے گا وہ تيرا خون بہانے سے باز نہيں ائے گا _

اے عائشه اگر تو اپنے جى سے اور اپنے اختيار سے ادھر ائي ہے اور يہ راہ اپنائي ہے تو يہيں سے اپنے گھر وآپس جا اور اگر تو زبردستى يہاں تك لائي گئي ہے تو مسلمانوں سے مدد طلب كر تاكہ تجھ كو ان لوگوں كے چنگل سے چھڑا ئيں جنھوں نے تجھ كو مجبور كر ركھا ہے اور تجھ كو تيرے گھر پہنچا ديں(۲۲)

طبرى اگے لكھتا ہے :

جيسے ہى جاريہ كى بات ختم ہوئي فوراً بنى سعد كا ايك جوان كھڑا ہو كر طلحہ و زبير سے بولا _

اے زبير كيا تو رسول خدا (ص) كا صحابى اور حمآیتى نہيں تھا ، اے طلحہ كيا تو وہى نہيں ہے جس نے اپنى تلوار سے اور

____________________

۲۱_ طبرى ج۵ ص ۲۰۴

۲۲_ طبرى ج۵ ص ۱۷۶


جان و دل سے رسول(ص) خدا كے دشمنوں كے مقابل حمآیت كى تھى _ ليكن آج كيا ہوا كہ وہ تمام يارى اور وفادارى ظلم اور خيانت سے بدل گئي ؟

ميں ہرگز تم لوگوں كا ساتھ نہيں دوں گا كيونكہ تم نے اپنى عورتوں كو تو گھروں ميں بيٹھا ركھا ہے اور زوجہء رسول كو اپنے ساتھ يہاں تك كھينچ لائے ہو تمھارے اس اقدام سے ہم راضى نہيں ہونگے _

اس جوان نے يہ كہا اور لشكر سے اپنے كو علحدہ كر ليا پھر اس نے چند اشعار بھى پڑھے :

صنتم حلائلكم و قد تم امكم --هذالعمر ك قلة الانصاف

امرت بجر ذيولها فى بيتها --فهوت تشق البيد بالايجاف

غرضاً يقاتل دونها ابنائها ---بالنبل و الخطى والاسياف

هتكت بطلحة و الزبير ستورها --هذا المخبر عنهم والكافى(۲۳)

ترجمہ:خدا كى قسم يہ بڑى نا انصافى ہے كہ اپنى عورتوں كو تم نے گھروں ميں بيٹھا ركھا ہے اور زوجہ رسول كو ميدان ميں كھينچ لائے ہو عائشه كو يہ حكم ديا گيا تھا كہ اپنے گھر ميں بيٹھيں اور اپنے ابرو كى حفاظت كريں ، ليكن انھيں صحرا نوردى اور گھوڑوں كو اسے روند نے كى ھوس نے انھيں برباد كر ڈالا ہے ان كا مقصد صرف يہ ہے كہ مسلمانوں كو جو ان كے بيٹوں كيطرح ہيں اپنے سامنے شمشير و نيزہ سے لڑا ديں اور وہ اس كا تماشہ ديكھيں _

طلحہ و زبير نے بھى اپنى حيثيت اور احترام كا ناس مار ديا يہ ان لوگوں كا بہت پست مقصد اور منحوس ارمان ہے_

اس كے بعد طبرى نے مزيد لكھا ہے كہ: اسى موقعہ پر قبيلہ جہينہ كا ايك جوان محمد ابن طلحہ كے سامنے پہنچا جو بہت عابد و زاھد سمجھے جاتے تھے اور ان سے قاتلان عثمان كے بارے ميں پوچھا محمد نے جواب ديا خون عثمان تين لوگوں پر ہے _

ايك تہائي اس خاتون كى گردن پر ہے جو ھودج ميں سوار ہے ، دوتہائي اس شخص كى گردن پر ہے جو سرخ اونٹ والا ہے (جو سرخ اونٹ پر سوار ہے ، طلحہ ) اور تيسرا حصہ خون عثمان كا على كے گردن پر ہے ،

____________________

۲۳_ طبرى ج۵ ص ۱۷۶


وہ جوان محمد كى بات پر ہنسا اور يہ اشعار پڑھنے لگا _

سالت ابن طلحة عن هالك --بجوف المدينه لم يقبر

فقال ثلاثة رهط هم --اما توا ابن عفان واستعبر

فثلث على تلك فى خدرها --و ثلث على راكب الاحمر

وثلث على بن ابيطالب --و نحن بدوية قر قر

فقلت صدقت على الاولين --واخطا ت فى الثالث الازهر(۲۴)

ترجمہ :ميں نے فرزند طلحہ سے عثمان كے قتل كے بارے ميں وضاحت چاہى كہ مسلمانوں نے انھيں اپنے قبرستان ميں كيوں نہيں دفن ہو نے ديا ، اس نے مجھے جواب ديا كہ عثمان كا خون ان تين افراد كى گردن پر ہے _

ايك تو وہ عورت جو ھودج ميں سوار ہے دوسرا وہ كہ جو سرخ اونٹ پر سوار ہے اور تيسرے على بن ابيطالب ہيں ، اور ہم لوگ تو صحرا نشين عوام تھے ہميں ان باتوں ميں دخل نہيں دينا چاہئے ،

ميں نے اس كا جواب ديا كہ تم نے سچ كہا كہ ھودج سوار ، اور اونٹ سوار ہى عثمان كو قتل كرنے والے ہيں _

____________________

۲۴_ طبرى ج۵ ص ۱۷۶


ليكن حضرت علىعليه‌السلام كے بارے ميں تم نے غلطى كى اور دھوكے كا شكار ہوئے _

جنگ جمل

پہلى جنگ شروع ہوئي

طبرى كا بيان ہے كہ :جب عائشه كا لشكر بصرہ پہونچا تو حضرت على كى طرف سے وہاں كے گورنر عثمان ابن حنيف لشكر كے سامنے ائے اور ان سے پوچھا كہ تم لوگوں كو حضرت على كے بارے،ميں كيا اعتراض ہے كہ تم نے ان سے بغاوت كى ہے ؟

ان لوگوں نے كہا :كہ ہمارا پہلا اعتراض يہ ہے كہ انھيں ہمارے اوپر كوئي برترى اور تفوق نہيں ہے ليكن وہ ہم لوگوں پر حكومت كرنا چاہتے ہيں اور يہ رويہ ہمارے لئے قابل قبول نہيں_

دوسرا اعتراض يہ ہے كہ انھوں نے ايسے كام كئے ہيں كہ جو ہر طرح سے اعتراض و تنقيد كے قابل ہيں _

عثمان ابن حنيف نے كہا كہ ميں حضرت علىعليه‌السلام كى طرف سے اس شہر كا حكمراں ہوں مجھے كوئي اختيار نہيں ہے تھوڑى مہلت دو كہ ميں اميرالمومنين كو ايك خط لكھ كر تمھارے مطالبات كى اطلاع دے دوں تاكہ وہ جيسا كہيں اور جو حكم ديں اس پر عمل كيا جائے _

عثمان ابن حنيف كى منصفانہ پيش كش قبول كر لى گئي اور اسى پيش كش كے مطابق ان لوگوں نے باہم عہد كيا اور خدا كو بھى اس پر گواہ قرار ديا ، عثمان ابن حنيف نے يہ سارا واقعہ امام كو لكھ ديا ليكن دوروز سے زيادہ نہ ہوا كہ عائشه كے لشكر نے بصرہ كا امن و سكون درہم بر ہم كر ڈالا اور عثمان پر ہلّا بول ديا ، انھيں قيد كر ليا انھيں تازيانوں سے اذيت دى اور بہت قابل رحم حالت ميں ان كے سر اور ڈارھى كو تراش ڈالا(۱)

كچھ دوسرے مورخوں يعقوبى ، مسعودى اور صاحب استيعاب نے يوں بيان كيا ہے :

عائشه او ر عثمان ابن حنيف كى فوجوں كے درميان اس مضمون كا عہد نامہ ہوا تھا كہ طرفين جنگ كى اگ بھڑ كانے سے پرہيز كرينگے اور شہر بصرہ كے انتظامى امور پہلے كى طرح عثمان ابن حنيف كے اختيار ميں رہيں گے يہاں تك كہ خود حضرت علىعليه‌السلام بصرہ ميں تشريف لائيں اور اپنے مخالفين سے گفتگو كر كے اپنے نقطہ نظر كى تحريرى وضاحت كريں _

____________________

۱_ طبرى ج۵ ص ۱۷۸


صلحنامہ كا يہى مضمون دونوں لشكر كے درميان لكھا گيا پھر حضر ت علىعليه‌السلام كے حكمراں نے اس صلحنامہ كے مطابق اپنے ساتھيوں اور فوجيوں كو حكم جارى كيا كہ جنگى ہتھيار اتار ديں تاكہ صلح و صفائي كى راہ ہموار ہو سكے ليكن تھوڑے دن نہ ہو ئے تھے كہ ايك انتہائي ٹھنڈى اور بارش كى راہ ميں كچھ عائشه كے لشكر والے عبداللہ ابن زبير كى سركردگى ميں بصرہ كے گورنر پر حملہ كر بيٹھے، حضرت علىعليه‌السلام كے گورنر عثمان كو قيد كر ليا پھر بيت المال لوٹنے كيلئے بڑھے اور پاسبانوں كو منتشر كر ديا ان كے چاليس ادميوں كو بھى قتل كر ديا(۲)

مسعودى كا بيان ہے كہ: اس حملہ ميں مقتولوں اور زخميوں كى تعداد ستر تك پہونچ گئي ان ميں سے پچاس كو قيد كر كے عوام كو مرعوب كرنے كيلئے ان كى انكھوں كے سامنے گردن مار دى گئي _

طبرى اور صاحب استيعاب كہتے ہيں _ عثمان ابن حنيف كو قيد كرنے كے بعد ابان ابن عثمان كو عائشه كے پاس بھيجا گيا تاكہ ان كے بارے ميں حكم حاصل كيا جائے ، عائشه نے بھى انكے قتل كا حكم ديا اور كہا :

اے ابان ، عثمان ابن حنيف كو اپنے بآپ كے انتقام ميں قتل كر ڈالو اور اپنے بآپ كا انتقام اس سے لے لو _ جس وقت عثمان ابن حنيف كے فرمان قتل كى اطلاع لوگوں كو ہوئي تو ايك عورت عائشه كے پاس اكر بولى _

اے ام المومنين تمھيں خدا كى قسم ہے عثمان ابن حنيف كا احترام كرو كيو نكہ وہ رسول خدا(ص) كے صحابى اور ساتھى ہيں اس بات كو نظر انداز نہ كرو اور ان كے قتل سے باز ائو _

عائشه پر اس عورت كى بات كا اثر ہوا اور حكم ديا كہ ابان كو وآپس لايا جائے ابان دوبارہ عائشه كے پاس ائے تو عائشه نے اس سے كہا :كہ ابان قتل عثمان سے باز ائو اور انھيں قيد خانے ميں ڈال دو _

ابان نے كہا: اے عائشه ، اگر ميں جانتا كہ تم عثمان كے معاملہ ميں تخفيف كا حكم دو گى اور ان كے قتل كو قيد سے بدل دوگى تو ميں وآپس نہيں اتا ، كيا ميں تمھارے پہلے حكم كو نافذ كر دوں اور اپنے بآپ كے انتقام ، ميں اسكى گردن مار دوں _

اس موقع كے مطابق نظريہ و صلاح مجاشع ابن مسعود چاليس تازيانہ عثمان ابن حنيف كے بدن پر لگايا گيا ، ان كے سر اور ڈاڑھى كو چھيل ڈالا گيا ان كى حالت قابل رحم ہو گئي اور اس كے بعد انھيں قيد خانے ميں ڈال ديا گيا(۳)

____________________

۲_ ا استيعاب حالات حكيم ابن جبلہ

۳_ طبرى ج۵ ص ۱۸۲


مشھور مورخ يعقوبى كا بيان ہے كہ :

گورنر كے قصر پر حملہ كر كے عثمان كو گرفتار كيا گيا پھر عائشه كا لشكر بيت المال كيطرف حملہ اور ہوا اور جو كچھ اس ميں تھا مال غنيمت كى طرح لوٹ ليا ، اس طرح عائشه كے لشكر نے پہلى جنگ جيت لى ، اور شہر بصرہ كى حكمرانى (بيت المال اور شہر كے تمام اختيارات ان لوگوں كے زير نگيں اگئے )_

دوسرى جنگ شروع ہوئي

طبرى كا بيان ہے: عثمان بن حنيف كى گرفتارى كا واقعہ جب حكيم بن جبلہ كو معلوم ہوا ، جو بصرے كے معزز اور مشھور بزرگ تھے(۴) بصرے كے بكر بن وائل اور عبد قيس قبيلے كے افراد كو ليكر عبد اللہ بن زبير كے پاس گئے ، اور ان سے درخواست كى كہ جس صلحنامہ كے مضمون كى مخالفت كر كے توڑا گيا ہے اسے نافذ كيا جائے اس كے مطابق عثمان بن حنيف كو قيد خانے سے نكال كر گورنر ہائوس ميں پہونچايا جائے ، تاكہ جب تك حضرت علىعليه‌السلام ائيں حكومت بصرہ انھيں كے اختيار ميں رہے _

حكيم بن جبلہ نے اخر ميں كہا ، اے عبداللہ ، خدا كى قسم اگر ميں كچھ مدد گار فراہم كر سكتا تو تو تمھارى اس عہد شكنى اور بے گناہ مسلمانوں كے قتل پر تم سے سخت جنگ كر كے مقتولوں كا انتقام لے ليتا ، اے عبداللہ ، اب تمھارا خون بہانا ہمارے اوپر حلال اور مباح ہو گيا ، كيو نكہ تم نے ہمارے بے گناہ مسلمان بھائيوں كو قتل كر كے انكا خون زمين پر بہايا ہے ، اے عبداللہ ،تم خدا كے غضب سے نہيں ڈرتے كہ اتنے مسلمانوں كو تلواروں كى باڑھ پر ركھ ليا ، ان كا خون زمين پر بہا ديا ؟

عبداللہ بن زبير نے كہا : اے حكيم ہم نے انھيں قتل عثمان كے بدلے ميں قتل كيا ہے ، ان كا خون عثمان كے خون كے بدلے بہايا ہے _

حكيم نے كہا ، اے عبداللہ ، خدا سے ڈرو ، اسكے غضب كا خوف كرو ، كيونكہ ان ميں سے ايك بھى قتل عثمان ميں شريك نہيں تھا نہ ان كا قاتل تھا _

____________________

۴_ حكيم بن جبلہ مرد صالح اور متدين تھے عبد قيس گروہ كے رئيس و سردار بھى تھے بعض مورخوں كے مطابق وہ صحابى رسول بھى تھے ، اسد الغابہ ج۲ ص ۳۹


عبداللہ بن زبير نے كہا : اے حكيم ، ہمارى اخرى بات يہى ہے كہ عثمان بن حنيف جب تك خلافت على كى بيعت گردن سے نہ اتار ے ان سے بيزارى كا اظہار نہ كرے ، اسے قيد خانے سے ازاد نہيں كيا جائے گا _

اس وقت حكيم نے ، اسمان كى طرف رخ كر كے كہا: اے دادگر خدا ، تو گواہ رہنا كہ جو كچھ لازمى اور ضرورى موعظہ تھا ميں نے ان لوگوں كے گوش گذار كر ديا ليكن ميرى نصيحت نہيں سنى (اللهم انك حكم عدل فاشهد )

اسكے بعد حكيم نے اپنے ساتھيوں كى طرف رخ كر كے كہا ، اب ميں اپنى تكليف يہى سمجھ رہا ہوں كہ ان لوگوں سے جنگ كروں اب جو بھى تم ميں سے تكليف جنگ كا قائل نہ ہو وہ مجھ سے علحدہ ہو جائے ، يہ كہكر اپنے ساتھيوں كے ساتھ لشكر عائشه پر حملہ كر ديا ، اسطرح لشكر عائشه اور حكيم كے ساتھيوں كے درميان خونريز جنگ ہوئي ، حكيم جنگ كر ہى رہے تھے كہ عائشه كے ايك فوجى نے موقع پاكر آپ كى پنڈلى پر تلوار مارى ، حكيم كا پير پنڈلى سے كٹ گيا ، اور زمين پر گر پڑے ، حكيم نے اپنى وہى پنڈلى اپنے ہاتھ ميں ليكر تيزى سے اس پر پڑے ، اپنے كٹے پير كو اسكى گدّى پر اسقدر زور سے مارا كہ وہ زمين پر ڈھير ہو گيا ، حكيم نے خود كو كشاں كشاں ، اپنے كٹے پائوں كے ساتھ جاكر اپنے كو اس پر ڈال ديا ، پھر اسے قتل كر كے لاش پر ٹيك لگا كر بيٹھ گئے ، اسى وقت ايك راہگير نے پوچھا ، اے حكيم ، كس نے تمھيں يہ برے دن دكھائے ؟

فرمايا: يہى شخص جو ميرے نيچے ہے_

ليكن يہ زخم اتنا كارى اور موثر تھا كہ تھوڑى دير بعد آپكى روح قفس عنصرى سے پرواز كر گئي(۵) طبرى كا بيان ہے ، لشكر عائشه نے حكيم كے قتل كے بعد دوبارہ عثمان بن حنيف كو قتل كرنے كا ارادہ كيا _

عثمان نے كہا كہ تم جانتے ہو ميرے بھائي سھل بن حنيف مدينے كے حاكم اور گورنر ہيں ، اگر تم نے مجھے قتل كيا تو وہ بھى تمہارے رشتہ داروں كو مدينے ميں قتل كر ديں گے ، يہى وجہ ہوئي كہ وہ لوگ قتل سے باز ائے اور انھيں ازاد كر ديا(۶) _

____________________

۵_ طبرى ج۵ ص ۱۸۲ ، استيعاب شرح حال حكيم بن جبلہ

۶_ طبرى ج۵ ص ۱۸۱


داخلى جنگ شروع ہوگئي

لشكر عائشه پہلى اور دوسرى جنگ ميں فتح مند رہا ، شہر بصرہ كو ہر لحاظ سے اپنے قبضے ميں كر ليا ، ليكن اسى كے بعد شديد اختلاف اور داخلى جنگ شروع ہو گئي ، كيو نكہ

طلحہ كى كوشش تھى كہ اس فتح كے بعد پہلى نماز كى امامت اور پيشنمازى ان كے حوالے ہو ، كيونكہ يہ پيشنمازى خلافت كى نشانى بھى سمجھى جاتى تھى ، زبير بھى اسى كوشش ميں تھے كہ يہ مرتبہ و مقام وہ خودجھپٹ ليں ، اسطرح ان دونوں ميں سخت اختلاف اور كشا كش پيدا ہو گئي كہ محراب اور پيشنمازى كيسے حاصل كى جاسكے ، يہ معاملہ اتنا كھنچا كہ قريب تھا وقت نماز بھى نكل جائے ، چنانچہ مسلمانوں كى اواز يں ہر طرف سے بلند ہونے لگيں ، الصلاة الصلاة ، اے اصحاب رسول نماز پڑھو ، كہيں نماز كا وقت نہ نكل جائے _

ليكن ان دونوں ميں اختلاف بڑھتا ہى چلا گيا ، يہاں تك كہ خود عائشه نے مداخلت كى اور حكم ديا كہ طلحہ و زبير محراب پيشنمازى سے الگ رہيں ، ايك دن طلحہ كے فرزند محمد نماز پڑھائيں اور دوسرے دن زبير كے فرزند عبداللہ نماز پڑھائيں _

صاحب طبقات كا بيان ہے :

اس طرح عائشه كى پيشكش كے باوجود اختلاف ختم نہيں ہوا كيونكہ اب يہ جھگڑا شروع ہوا كہ ان دونوں ميں پہلے كون پيشنماز بنے دوبارہ ايسا شديد اختلاف ہوا كہ ہر ايك اپنے كو محراب تك لے جانا چاہتا تھا ، اور دوسرا اپنى كوشش كرتا تھا اس مشكل كو قرعہ اندازى كے ذريعے حل كيا گيا _

اسى نماز ميں محمد بن طلحہ نے سورہ سال سائل بعذاب واقع كى تلاوت كى اس تلاوت كا مقصد يہ تھا كہ وہ عبداللہ پر طعن كر رہے كہ ان كا غرور ٹوٹ گيا ، كاميابى ان كے نصيب ميں رہى(۷)

____________________

۷_ طبقات ج۵ ص ۳۹


صاحب اغانى كہتا ہے طلحہ و زبير اور ان كے بيٹوں كى پيشنمازى كے واقع كو ايك شاعر نے يوں نظم كيا ہے _

تبارى الغلاما اذ صليا

و شح على الملك شيخاهما

و مالى و طلحه و ابن الزبير

و هذالذى الجذع مولاهما

فامهما اليوم غيرتهما

ويعلى بن اميه دلاهما

ترجمہ:يہ دونوں پيشنمازى كے لئے محراب ميں جھگڑا كر رہے ہيں ،اور يہ اس بات كا ثبوت ہے كہ يہ دونوں حكومت كے حريص ہيں _

ان دونوں كے بآپ طلحہ و زبير بھى حد سے زيادہ حكومت كے حريص ہيں مجھے طلحہ و زبير سے كيا سروكار ؟

كيونكہ ان دونوں كے امام حضرت علىعليه‌السلام تو ہمارے دسترس ميں ہيں ،طلحہ و زبير كو ان كى ماں نے دھوكہ ديا ، اور يعلى بن اميہ نے ان دونوں كو ورطہء ہلاكت اور بد بختى كا راستہ دكھا يا(۸) _

جب حقيقت روشن ہوئي

طبرى نے جون بن قتادہ سے نقل كيا ہے كہ :

ميں زبير كے پاس تھا اتنے ميں ايك سوار نے اكر كہا:

اے امير آپ پر سلام

زبير و عليك السلام

گھوڑے سوار نے كہا ، اے امير ، حضرت على كا لشكر فلاں جگہ پہونچ چكا ہے ، ليكن وسائل جنگى كے اعتبار سے بہت مفلس ہے ، تعداد بھى بہت كم ہے ، ان سب كے دل ميں خوف بھرا ہوا ہے ، سبھى مرعوب ہيں _

____________________

۸_ اغانى نے ابو مخنف سے نقل كيا ہے ، مسعودى نے بھى اختلاف پيش نمازى كو لكھا ہے


وہ جيسے ہى گيا ايك دوسرے سوار نے اكر كہا :

اے امير ، آپ پر سلام

زبير ، و عليك السلام

سوار نے كہا: اے امير حضرت علىعليه‌السلام كا لشكر فلاں جگہ ٹھرا ہوا ہے ،ليكن انھوں نے آپ كے لشكر اور وسائل جنگى كا حال سنا تو انكے دل خوف سے دھڑكنے لگے ، وہ اسى راستے سے وآپس چلے گئے جس سے ائے تھے _

زبير نے كہا : خاموش ہو جا ، تو كيا كہہ رہا ہے؟تيرى باتوں سے چآپلوسى اور جھوٹ ظاہر ہو رہا ہے ، كيونكہ اگر على ايك ڈنڈے كے سوا بھى كوئي اسلحہ فراہم نہ كر سكيں تو اسى ڈنڈے سے جنگ كرنے چلے ائيں گے ، اپنے راستے سے پلٹيں گے نہيں _

جون بن قتادہ كا اگے بيان ہے كہ: حضرت علىعليه‌السلام كا لشكر بصرہ كے نزديك پہونچ چكا تھا ، ايك اور سوار زبير كے پاس اكر بولا :

اے امير آپ پر سلام :

زبير وعليك السلام :

سوار ، اے امير ، حضرت علىعليه‌السلام كا لشكر تيزى سے آپكى طرف بڑھتا ارہا ہے ، ان كے ساتھ عمار بھى ہيں ، ميں نے انھيں اپنى انكھوں سے ديكھا ہے اور ان سے بات كى ہے

زبير ، تمھيں دھوكہ تو نہيں ہوا ؟ عمار كو على كے لشكر ميں نہيں ہونا چاہيئے _

سوار ،اے امير ، خدا كى قسم ، مجھے كوئي دھوكہ نہيں ہوا _

واقعى عمار ياسر حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں ہيں _

زبير ، خدا كى قسم ، خدا عمار كو على كے لشكر ميں نہ قرار دے _

سوار ، اے امير ، خدا گواہ ہے كہ وہ انكے لشكر ميں موجود ہيں _

اخر كار زبير جتنا انكار كرتے رہے وہ سوار اتنا ہى زيادہ اصرار كے ساتھ كہتا رہا كہ عمار ياسر حضرت على كے لشكر ميں ہيں _

زبير نے جب سوار كا اصرار ديكھا تو قريب كے ايك شخص كو حكم ديا كہ حضرت على كے لشكر ميں جاكر واقعہ كى نزديك سے تحقيق كرے _


جون بن قتادہ كا بيان ہے ، وہ شخص گيا اور دير نہيں گذرى كہ وآپس اكر بولا :

اے زبير ، خدا كى قسم ، اس نے جو كہا تھا صحيح تھا ، ميں نے بھى عمار كو حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں ديكھا ہے _

بس يہيں پر زبير كے سامنے حقيقت روشن ہو گئي ، وہ بے اختيار چيخ پڑے ، ہائے ميرى كمر ٹوٹ گئي ، ميں

نے دھول چاٹ لى _

(يا جدع انقاہ يا قطع ظھراہ )ان كے جسم ميں ايسى تھرتھرى پڑ گئي كہ جسم كا اسلحہ حركت كر رہا تھا _

جون كہتا ہے: ميں نے يہ منظر خود اپنى انكھوں سے ديكھا ، اور ميں خواب غفلت سے بيدار ہو گيا ، ميں نے دل ميں كہا :

مجھ پر افسوس ہے ، ميں چاہتا تھا كہ اس شخص كى ركاب ميں جنگ كروں ، اسكے لئے جان ديدوں ، حالانكہ وہ خود اپنے كو باطل كے راستے پر سمجھ رہا ہے ، لازمى طور سے اس نے رسول خدا سے اس بارے ميں كوئي بات سنى ہوگى ، تبھى اسكے جسم ميں لرزہ ہے(۹)

(جى ہاں ، رسول (ص) خدا نے عمار كو حق كے ميزان و معيار كى حيثيت سے متعارف كرايا تھا كہ جدھر عمار ہوں گے ادھر ہى حق بھى ہوگا ، يہى وجہ تھى كہ حضرت على كے لشكر ميں عمار ياسر كى موجودگى سے تشويش ميں مبتلا ہو گئے تھے )

طلحہ و زبير اپنے مقصد ميں مشكوك تھے

طبرى نے عوف اعرابى كا بيان نقل كيا ہے :

طلحہ و زبير مسجد بصرہ ميں تھے ، اتنے ميں ايك شخص اكر ان دونوں سے بولا

تمھيں خدا كا واسطہ ، كيا تم دونوں كو اس جنگ كے بارے ميں رسول (ص) خدا نے كوئي حكم ديا تھا؟

چونكہ طلحہ كے پاس كوئي جواب نہيں تھا ، اسلئے تجاہل برتنے لگے ، وہ مسجد ميں چلے گئے _

پھر اس شخص نے زبير كى طرف رخ كر كے يہى سوال كيا اے زبيركيا اس جنگ كے بارے ميں رسول خدا (ص) نے تمھيں كوئي حكم ديا تھا ، يا تم نے اپنى خواہش سے يہ اقدام كيا ہے ؟

____________________

۹_ طبرى ج۵ ص ۲۵۰


زبير نے كہا ، نہيں ، اس بارے ميں ہميں رسول(ص) خدا نے كوئي حكم نہيں ديا تھا ، ميں بصرہ ميں اس لئے ايا ہوں كہ تمہارے بصرہ كے بيت المال ميں بے حساب دولت اور پيسہ جمع ہو گيا ہے ، اسميں ہم بھى حصہ دار بن سكيں _ طبرى نے اس قصے كو نقل كرنے كے بعد زبير كے خاص غلام اور پيشكار ابو عمرہ كا بيان بھى اسى مفہوم كا نقل كيا ہے ، پھر طبرى لكھتا ہے كہ :جب بصرہ والوں نے طلحہ و زبير كى بيعت كر لى تو زبير نے بصرہ والوں كے سامنے تقرير كى _ اگر اسلحوں سے

اراستہ ايك ہزار افراد ميرا ساتھ ديں تو ميںہرگز على كو موقع نہ دوں كہ بصرہ ميں داخل ہو سكيں ، ايك ہى شب خون ميں ان كى فوج كو ختم كردوں ، ليكن بصرے كے كسى شخص نے بھى جواب نہيں ديا ، نہ انكى تائيد كى ، زبير نے جب يہ حالت ديكھى تو كہا :

اے لوگو يہ وہى فتنہ و فساد ہے جسكے بارے ميں رسول خدا(ص) برابر ہمارے گوش گذار كرتے تھے ، ہميں اس سے روكتے رہتے تھے _

ابو عمرہ كا بيان ہے : ميں نے زبير پر اعتراض كرتے ہوئے كہا اے زبير ، جب تم اپنے اس عمل كو تباہى و فساد سمجھ رہے ہو ، اسے فتنہ كہہ رہے ہو توادھر دوڑ كر كيوں اگئے ہو ؟

زبير نے كہا : چپ ہو جا ، ہم اگر چہ دوسروں كو راستہ بتا رہے ہيں ليكن خود اپنے راستے كے بارے ميں حيران و سرگرداں ہيں ، اس اقدام كے بارے ميں مشكوك ہيں (اناينصر ولاينصر )

ہاں ، ميں نے اپنى زندگى ميں جب بھى كوئي اقدام كيا اسكے انجام كے بارے ميں خوب سونچ سمجھ ليا تبھى اقدام كيا ليكن اس كام كے بارے ميں ہميں انجام كى كوئي خبر نہيں(۱۰)

اسكے بعد طبرى نے علقمہ بن وقاص كا بيان نقل كيا ہے(۱۱) جس زمانے ميں طلحہ ، زبير اور عائشه حضرت على سے جنگ كرنے كيلئے بصرہ كى طرف بڑھ رہے تھے ، ميں طلحہ كى روش و رفتار كا گہرى نظر سے مطالعہ كررہاتھا ميں نے ہميشہ پريشان اور متفكر ہى ديكھا ، اكثر وہ تنہائي ميں بيٹھے رہتے ، گريبان ميں منھ ڈالے سوچتے رہتے ، ايك دن ميں نے ان سے پوچھا _

____________________

۱۰_ طبرى ج۵ ص ۱۸۴

۱۱_ علقمہ بن وقاص ليثى زمانہ رسول ميں پيدا ہوا ، جنگ خندق ميں شريك تھا عبد الملك بن مروان كے زمانہ ميں اس كا انتقال ہوا _ اسد الغابہ ج۴ ص ۵۱


اے طلحہ ، آپ اتنے فكر مند كيوں ہيں ؟كيا وجہ ہے كہ آپ اسقدر پريشان نظر ارہے ہيں ؟اگر على سے جنگ پسند نہيں تو لشكر سے علحدہ ہو جايئے ، اپنے گھر وآپس جايئے _

طلحہ نے جواب ديا ، اے علقمہ ، ايك دن تھا كہ ہم تمام مسلمان دشمن كے مقابلے ميں ايك دل اور ايك زبان تھے ، ليكن بڑے افسوس كى بات ہے كہ آج ہم مسلمان ہى دو مخالف گروہ كى شكل ميں امنے سامنے ہو رہے ہيں ،

ايك دوسرے كو جنگ كى دعوت دے رہے ہيں_

اخر ميں كہا :اے علقمہ ،قتل عثمان كے سلسلے ميں مجھ سے بڑى غلطى ہوئي ہے ، جسكى تلافى سوائے اسكے ممكن نہيں كہ ميرا بھى خون ان كے انتقام ميں بہہ جائے(۱۲)

يہ دونوں واقعہ جنھيں ميں نے معتبر مدارك سے نقل كيا ہے اچھى طرح واضح كرتے ہيں كہ طلحہ وزبير اپنے اقدام ميں مشكوك تھے ، اپنے مقصد و ہدف پر ان كا ايمان و عقيدہ نہيں تھا ، اپنے اقدام كو شك و ترديد كى نگاہ سے ديكھتے تھے ، اسكے خطر ناك انجام سے ہر اساں تھے ، كبھى كبھى وہ اپنے شك و ترديد كا بے اختيار انہ اظہاربھى كر ديتے تھے _

ليكن اسكے بر خلاف امير المومنين اپنے مقصد و ہدف پر كامل ايمان ركھتے تھے ، اپنے خطبوں ميں فرماتے تھے ، بھر پور يقين ہے كہ اس جنگ ميں خدا وند عالم ميرا مددگار ہوگا ، وہ مجھے اسميں كامياب قرار ديگا ، كيونكہ مجھے يقين ہے كہ اس جنگ ميں بے گناہ اور حق پر ہوں ، اپنے اقدام پر ذرا بھى شك نہيں (و انى لعلى يقين من امرى و فى غير شبهة من دينى )

آپ فرماتے تھے ( وان معى بصيرة)مجھے اپنے اقدام كى پورى بصيرت ہے _

عائشه كے پاس دو خط

۱_زيد ابن صوحان كو خط

طبرى نے مجاہد ابن سعيد سے نقل كيا ہے كہ عائشه نے زيد ابن صوحان كو خط لكھا جو عالم اور پر ہيز گار اور صحابى رسول تھے ، خط كا مضمون يہ تھا _

يہ خط ہے زوجہ رسول عائشه بنت ابوبكر كا اپنے نيك فرزند زيد ابن صوحان كو پيارے فرزند ميں تم سے ہر قسم

____________________

۱۲_ طبرى ج۵ ص ۱۸۳ ، مستدرك ج۳ ص ۳۷۲ ، يہاں طلحہ نے قتل عثمان ميں شركت كا خود ہى اعتراف كيا ، پھر وہ حضرت على سے خون عثمان كا مطالبہ كيوں كر رہے ہيں


كے مدد كى اميد ركھتى ہوں ، جيسے ہى يہ خط پہنچے تو ميرے پيارے نصرت و مدد كيلئے ميرى طرف تيزى سے ائو ، اور اگر ميرا يہ مطالبہ قبول نہ كرو تو كم سے كم على سے علحدہ رہو اور انكى مدد سے پرہيز كرو _

زيد نے عائشه كو يوں جواب ديا :

يہ خط ہے زيد ابن صوحان(۱۳) كى طرف سے زوجہ ء رسول عائشه بنت ابوبكر كو

اے عائشه ہاں ميں تمھارا وفادار اور فرمانبردار فرزند ہوں بشرطيكہ اس خطرناك اقدام سے باز اجائو اور جس راستے سے تم ا رہى ہوا پنے گھر وآپس چلى جائو اور اگر ميرى پيكش قبول نہ كرو اور ميرى نصيحت نہ مانو تو صرف يہ نہيں كہ ميں تمھارا فرزند نہيں ہوں گا ، بلكہ وہ پہلا شخص ہو ں گا كہ تم سے دشمنى كروں اور سخت جنگ كروں(۱۴)

اس خط كا اثر تھا كہ زيد ابن صوحان نے عائشه كے بارے ميں شيريں اور تاريخى جملہ كہا تھا _

خدا رحمت كرے عائشه پر ، ميرے ساتھ انھوں نے عجيب معاملہ كيا ان كى ذمہ دارى تھى گھر ميں بيٹھنا اسے ہمارے حوالہ كيا اور ہمارى ذمہ دارى ہے جنگ و جھاد اسے اپنے ذمہ لے ليا ہے _

۲_ حفصہ كو خط

ابو مخنف كا بيان ہے كہ جب عائشه كو معلوم ہوا امير المومنين كا لشكر ذيقار ميں پہنچ گيا ہے تو ايك خط حفصہ

____________________

۱۳_ زيد ابن صوحان كى كنيت ابو سلمان يا ابو سليمان تھى انھيں صحابى رسول ہونے كا شرف حاصل تھا مرد فاضل و تقوى شعار تھے اپنى قوم كے رئيس تھے ، صعصعہ اور سيحان بھى دونوں صوحان كے فرزند تھے اور زيد كے بھائي تھے منقول ہے كہ رسول خدا نے زيد كے بارے ميں فرمايا تھا ، زيد كيا اچھا زيدہے ؟

جندب كيا اچھا جندب ہے ؟ جب رسول اللہ سے اس كى وجہ پوچھى گئي تو فرمايا كہ ميرى امت ميں دو شخص خصوصى امتياز سے سر فراز ہيں ، ايك زيد جس كا ہاتھ اس كے دوسرے اعضاء سے پہلے جنت ميں پہنچ جا ئيگا اور دوسرے جندب جو شمشير (تلوار ) كھينچے گا ، تو حق كو باطل سے الگ كر ديگا رسول خدا كى پيش گوئي كے مطابق زيد ابن صوحان كا ہاتھ جنگ جلولہ ميں كٹ گيا ، اور جندب نے بھى ايك جادو گر كو تلوار كى وار سے قتل كيا تھا

۱۴_اما بعد فانا ابنك الخالص ان اعتزلت هذا الامر و رجعت الى بيتك و الا فانا اول من نا بذك ، طبرى ، شرح نہج البلاغہ ج۲ ص۸۱ عقد الفريد ، جمھرة رسائل العرب ج۱ ص۳۷۹


بنت عمر كو جو رسول اللہ كى دوسرى زوجہ تھيں لكھا

اے حفصہ ايك اچھى خبر اور بہت حيرت انگيز اطلاع تمھيں پہچاتى ہوں ، على اپنے لشكر كے ساتھ مدينہ سے چلكر منزل ذيقار ميں پہنچ گئے ہيں وہاں وہ ميرے لشكر كى طاقت اور جنگى سازو سامان كے بارے ميں سنكر بہت مرعوب اور خوفزدہ ہيں ، رعب كے مارے ان كا سر جھك گيا ہے اور ان كے پائوں نہيں اٹھ رہے ہيں_

اج على تھكے گھوڑے كيطرح اور خود باختہ ہيں كہ نہ وہ پيچھے ہٹ سكتے ہيں كيونكہ ان كو پير كٹنے كاڈر ہے اور نہ اگے بڑ سكتے ہيں كہ وہ قتل ہونے سے ڈر رہے ہيں _

جب يہ خط حفصہ كے پاس پہونچا تو انھوں نے اپنى كنيز وں ( نوكروں اور خاندان كى لڑكيوں )كو جمع كيا جمع كر كے حكم ديا كہ عائشه كے خط كو گيت كے انداز مين پڑہيں اور ڈھول بجا كر اس طرح كہيں _

مالخير ؟مالخير ؟على فى الكفر كا لخرس الاشقر ان تقدم عقر و ان تاخر نحر

طلقاء كى عورتيں اور لڑكياں اور على كے مخالفين (جب ان سب نے يہ واقعہ سنا تو حفصہ كے گھر ميں ائے اور ان لوگوں نے اس جشن ميں شركت كى )

حضرت امير المومنين كى بيٹى ام كلثوم كو جب يہ واقعہ معلوم ہوا تو اپنے سر پر اس طرح سے چادر ڈالى كہ پہچان ميں نہ ائيں ،اور كچھ عورتوں كے ساتھ حفصہ كے گھر ميں پہنچيں اور ايك گوشے ميں بيٹھ گئيں ، تھوڑى دير كے بعد اپنے چہرے سے چادر ہٹائي ، جب حفصہ كى نظر ام كلثوم پر پڑى تو بہت شرمندہ ہوئيں اور اپنى اس نا زيبا حركت پر اظہار ندامت كيا _

ام كلثوم نے كہا :اے حفصہ تم سے اور عائشه سے يہ كيا بعيد ہے ، آج تم ميرے بآپ على كى دشمنى اور عداوت ميں ايك دوسرے كى مدد كررہى ہو ، اسى طرح تم نے رسول اللہ كو تكليف پہچانے ميں ايك دوسرے كى مدد كى تھى ، يہاں تك كہ تمھارى مذمت اور ملامت ميں قران كا ايك پورا سورہ نازل ہو گيا(۱۵) حفصہ نے كہا: اے ام كلثوم خدا تم پر رحم كرے مجھے معاف كرو ، اس سے زيادہ ميرى ملامت نہ كرو ، اس كے بعد حكم ديا كہ ام كلثوم كے سامنے عائشه كا يہ خط پھاڑ ڈالو(۱۶) _

____________________

۱۵_ ان كى مراد سورہ تحريم سے ہے ، يہ سورہ عا ئشہ اور حفصہ كے بارے ميں نازل ہوا تھا ''ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما و ان تظاهرا عليه' اس آیت سے ان كيا مذمت كى گئي'

۱۶_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۲ ص۱۵۷


على كا لشكر مدينے سے چلا

يہاں تك حضرت على امير المومنين كے مخالفوں كے حالات كو بيان كيا گيا تھا اور يہ بتايا گيا تھا كہ يہ تمام گروہ آپس ميں كس طرح مل كر ايك فوج كى شكل ميں انحضرت كے خلاف محاذ ارائي كيلئے امادہ ہوئے اور اسى طرح اس كا نام لشكر عائشه ركھا گيا ، اور وہ مكہ سے شھر بصرہ كو قبضے ميں كرنے تك كے حالات بيان كئے گئے _

اب موقعہ ہے كہ يہاں سے مدينہ چل كر على كا پتہ لگائيں اور وہاں سے بصرہ تك پہنچنے كے حالات بيان كريں كہ كيا حالات پيش ائے _

جس وقت حضرت امير المومنين كے كان ميں يہ بات پہونچى كہ عائشه نے بغاوت كى ہے اور طلحہ و زبير نے مخالفت پر كمر بستہ ہو كر عائشه كى فوج كے ساتھ عراق كا رخ كيا ہے تو آپ نے تمام مہاجرين و انصار اور مسلمانوں كو حكم ديا كہ مسجد مدينہ ميں جمع ہوں _

آپ نے يہ تقرير فرمائي

اے لوگوعائشه نے ميرى مخالفت كا پرچم لہرايا ہے اور ميرے خلاف لشكر ترتيب ديا ہے اب وہ اپنے لشكر كے ساتھ عراق كى طرف جا رہى ہيں ، طلحہ وزبير نے بھى ميرى بيعت توڑ كر عائشه كى مدد كرنے كا بيڑا اٹھا يا ہے ، كيونكہ طلحہ ان كے چچيرے بھائي ہيں اور زبير بھى ان كى بہن كے شوھر ہيں ، طلحہ و زبير اس بيعت شكنى اور مخالفت سے حكومت كى ارزو ركھتے ہيں ، اور انھوں نے خلافت و حكومت پر قبضہ كرنے كى لالچ كى ہے ، اگر وہ كامياب ہو جائيں تو خلافت پر قبضہ كرليں ، ان دونوں كے درميان لازمى طور سے شديد اختلاف پيدا ہو گا ، كيونكہ ہر ايك اس خلافت كا خواستگار ہے ، اور اس مرتبہ تك پہچنے كيلئے ايك دوسرے كى گردن مار ديگا (خون بہا ديگا )ليكن ميں بھر پور يقين ركھتا ہو ں كہ يہ دونوں اس مرتبہ تك نہيں پہنچيں گے اور نہ كامياب ہونگے اور نہ خليفہ ہو سكيں گے _

اور يہ جو عائشه ہے يہ شتر سوار عورت ، خدا كى قسم وہ اس سفر ميں جو بھى پہاڑ يا صحرا كى طرح چل رہى ہے يا بيابا ن كا چكر لگا رہى ہے وہ صرف مخالفت حكم الھى اور معصيت كى راہ چل رہى ہے ، اپنے كو جرم اور گناہ سے الودہ كر رہى ہے ، وہ اس راہ ميں اپنے كو اپنے ساتھيوں كو ہلاكت و بد بختى كے بھنور ميں كھينچ رہى ہے ، ہاں ، خدا كى قسم ، اس جنگ ميں


لشكر عائشه كا ايك تہائي حصہ قتل ہو جائے گا اور ايك تہائي فرار اختيار كريگا اور ايك تہائي بھى نادم و پشيمان ہو گا _

اے لوگو يہ عائشه وہى عورت ہے كہ جس پر حوا ب كے كتے بھونكيں گے (كہ يہ واقعہ رسول خدا (ص) كى پيشگوئي كے مطابق عائشه كے باطل ہونے پر اور گنہگار ہونے پر مضبوط دليل ہے )

اب رہے طلحہ و زبير ، خدا كى قسم وہ دونوں خود اچھى طرح جانتے ہيں كہ باطل كيطرف جارہے ہيں اور معصيت و گناہ كا راستہ اپنا رہے ہيں ، انھيں يقين ہے كہ ميرى بيعت توڑنے اور مخالفت كرنے كيوجہ سے وہ گنہگار اور خطا كار ہيں ، واہ، وہ بھى كيسا عالم ہے جو اپنے ہاتھ ميں علم و دانش كى مشعل ليكر بھى جھالت و نادانى كے بھنور ميں ہلاك ہو جائے اور بد بختى اس كا مقدر بن جائيگا ، اس كا علم و دانش اسے كوئي فائدہ نہ پہونچا سكے ،و ربّ عالم قتله جهله و معه علمه لا ينفعه ،خدا وند عالم ميرے ساتھ ہے اور ميرا مدد گار ہے وہ مجھے كبھى نہ چھوڑے گاحسبنا الله و نعم الوكيل _

اسكے بعد امير المومنين كے اگے ارشاد فرمايا :

اے لوگو اگاہ ہو جائو كہ آج بہت بڑا فتنہ و فساد برپا ہوگياہے اس فتنہ كى سلسلہ جنبانى بھى وہى سر كش گروہ (فئہ باغيہ )كر رہا ہے ، جسكى رسول خدا نے بار بار خبر دى تھى ، اور ہميں اس سے اگاہ كيا تھا ، آپ نے اس فتنے كى پيشگوئي مجھ سے فرما دى تھى _

اے لوگو يہ ہمارے اوپر اور تمھارے اوپر لازم ہے كہ ان فتنہ پر دازوں اور باغيوں كو خاك چٹا ديں ان سب كو پچھاڑ دين اور مسلمانوں كے درميان سے ہٹا كر فتنہ و فساد كو خاموش كر ديں ، كہاں ہيں حق اور حقيقت كے محافظ ، كہاں ہيں وہ غيرت مند اور با ايمان مرد _

كہاں ہيں وہ لوگ كہ جو حق و باطل سے ظالم اور مفسد كو عادل اور صالح كے درميان امتياز پيدا كرديں _

اے لوگو ميں نے قريش كے ساتھ كيا برائي كى ہے ؟ ہم سے مخالفت كا كيا حساب كتاب ہے كہ انھوں نے ميرے خلاف يہ سب ہنگامہ كھڑا كر ديا ہے ، خدا كى قسم ميں بھى باطل كو پھاڑ كر اس كے پہلو سے حق كو ظاہركر دوں گا باطل كے ضخيم پردوں كو پارہ پارہ كر دونگا اور اس سے حق كا خوب صورت چہرہ نماياں كر دوں گا ، اور قريش كو نالہ و زارى


ميں مبتلا كر كے چھوڑوں گا ان سے كہہ دو جہاں تك وہ چاہتے ہيں بد بختى اور جھالت ميں سر دھنتے رہيں اور اپنى ذلت و بے چارى پر روتے رہيں حضرت اميرالمومنين كى يہ پہلى تقرير اس طرح ختم ہوئي دوسرے اور تيسرے دن بھى لوگوں كو امادہ كرنے كيلئے آپ نے اتشيں تقرير مسجد مدينہ ميں فرمائي يہاںتك كہ اخرى دن آپ نے اعلان جنگ كر كے لشكرتيار كيا پھر آپ نے حكم ديا كہ تيار ہو كر مدينہ سے كوچ كرو(۱۷)

مسعودى كا بيان ہے كہ: حضرت علىعليه‌السلام نے سہل ابن حنيف انصارى كو مدينہ ميں اپنا جانشين بنايا اور مدينہ كے معاملات ان كے حوالے كئے ، پھر سات سو افراد كے ساتھ عراق كى طرف چل پڑے ان ميں چار سو افرادايسے تھے جنھيں مہاجر و انصار ہونے كا شرف حاصل تھا ستّر وہ تھے جنھوں نے جنگ بدر ميں رسول اللہ كے ساتھ شركت كى تھى ، انھيں بدرى كہا جاتا ہے ، ان كے علاوہ بھى جو لوگ تھے ، صحابى تھے اور مسلمانوں ميں احترام كى نظر سے ديكھے جاتے تھے ، اس طرح على ابن ابيطالب نے اپنے لشكر كو امادہ كر كے پہلے مكہ كى راہ لى پھر عراق كى طرف چل پڑے يہاں تك كہ اس مقام پر پہنچے جس كو ربذہ كہا جاتا ہے(۱۸)

لشكر علىعليه‌السلام ربذہ ميں

امير المومنين(ع) اپنے فوجيوں كے ساتھ پہلى منزل پر اترے جسے ربذہ كہا جاتا ہے وہاں آپ نے چند دن قيام فرمايا

عثمان ابن حينف جو امام كى طرف سے بصرہ كے گورنر تھے (انھيں عائشه كے لشكر نے اسير كر كے ضرب و شتم كے ساتھ وہاں سے نكال ديا تھا ) انھوں نے اپنے كو حضرت علىعليه‌السلام تك پہنچايا اور ملاقات كى _

____________________

۱۷_ ارشاد شيخ مفيد ص۱۱۸ ، خبطہ ۱۰۲ ، ۱۰۳ ، ۱۰۷ _ نہج البلاغہ ايها الناس ان عا ئشه سارت الى البصرة و معها طلحة والزبير وكل منهما يرى الامر له دون صاحبه ا ما طلحه فا بن عمها و اما الزبير فخنتنها ، والله لو ظفر وا بما ارا د وا ، و لن ينالوا ذالك ابداً،ليضربن احدهما عنق صاحبه ، بعد تنازع منهما شد يد ، والله ان راكبة الجمل الاحمر ، ما تقطع عقبة ولا تحل عقدة الا فى معصية الله و سخطه ، حتى تورد نفسها و من معها موارد الهلكة اى والله ليقتلن ثلثهم ، و ليهربن ثلثهم و ليتوبن ثلثلهم و انها الّتى تنبحها كلاب الحوائب و انهما ليعلمان انهما مخطئان و رب عالم قتله جهله و معه علمه ولا ينفعه حسبنا الله و نعم الوكيل _ و قد قامت الفتنة فيها الفئة الباغية اين المحتسبوں ؟اين المومنون؟ مالى و القريش ؟اما والله لا بقرن الباطل حتى يظهر الحق من خاصرته ، فقل لقريش فلتضج ضجيجها

۱۸_ مروج الذھب ج۲ ص۳۶۷


طبرى نے عثمان ابن حنيف اور امير المومنين كى ملاقات كا واقعہ محمد بن حنفيہ كے بيان كے مطابق نقل كيا ہے :

عثمان ابن حنيف جب بصرہ سے حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں ائے اور ربذہ پہنچے تو ان كے سر اور چہرے كے بال اڑے ہوئے تھے جنھيں عائشه كى فوج نے اكھاڑ ديا تھا ، عثمان اسى ہيئت كے ساتھ حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور غم و اندوہ كے ساتھ كہا ، اے امير المومنين جس دن آپ نے مجھے بصرہ كى گورنرى عطا كى تھى اس دن ميں بوڑھا اور ميرى داڑھى بھرى ، اور سفيد تھى ،ليكن آج ميں ايك نوجوان اور نابالغ كى صورت ميں آپ كے پاس وآپس ايا ہوں _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : اے عثمان صبر كرو كيونكہ خداوند عالم اس اذيت كے بدلے تم كو اچھى خبرعطا كريگا ، اس كے بعد امام نے اپنے لشكر كى طرف رخ كر كے فرمايا :

اے لوگو طلحہ و زبير نے اپنى بيعت توڑ دى اور لوگوں كو ميرے خلاف بغاو ت پر ابھارا ، مجھے اس بات پر تعجب ہے كہ انھوں نے ابوبكر و عمر كے ساتھ كيسے موافقت كى تھى اور ان دونوں خليفہ كے فرمان پر گردن جھكا دى تھى ، ليكن آج وہ ميرى مخالفت پر امادہ ہيں خدا كى قسم يہ دونوں اچھى طرح جانتے ہيں كہ ميں ان دونوں خليفہ سے كمتر نہيں ہوں ، اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے طلحہ و زبير پر اس طرح بددعا كي


خدايا ان كا منصوبہ مليا ميٹ كر دے ان كے عمل كى بنياد درہم برھم كر دے ، خدايا ان كے كرتوتوں كى سزا جلد ديدے _

ا لّهم فاحلل ما عقد اًولا تبرم ما احكما فى انفسهما (۱۹)

امير المومنين نے وہيں سے كوفہ كے گورنر عبداللہ ابن قيس كو خط لكھا جو ابو موسى اشعرى كے نام سے مشھور تھے _

اے ابو موسى كچھ لوگوں نے ميرى بيعت توڑ دى ہے _

ميرے دوستوں اور ماننے والوں كو تلوار كى باڑھ پر ركھ ليا ہے ، انھيں قتل كر ڈالا ہے ،اور اس طرح مسلمانوں كے درميان عظيم فتنہ و فساد برپا كيا ہے ، انتظامى حالت اور امن و چين كو درہم برہم كر ديا ہے_

اے ابو موسى تم ميرى جانب سے حكمراں ہو ، تمھيں چاہيئے كہ حق كى راہ ميں ميرے مدد گاربنو ، جيسے ہى ميرا يہ خط پہونچے تم كوفہ كے كچھ لوگوں كو تيار كر كے ہتھيار كے ساتھ ميرى طرف روانہ كرو ، تاكہ وہ لوگ اس حساس موقعہ پر ميرى مدد كريں ، اور ان ظالم اور بيعت شكن (اور فتنہ پرور لوگوں سے جنگ كر كے ان كى اوقات بتا ديں _ والسلام

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے اس گورنر كے خط كے علاوہ بھى ايك خط كوفے والوں كو لكھ كر اپنى نصرت كى دعوت دى ليكن ابو موسى نے امام كے خط پر كوئي توجہ نہيں دى ، اس نے صرف يہى نہيں كہ امام كے خط كا اثبات ميں جواب نہيں ديا بلكہ كوفے والوں كو بھى امام كى مدد سے روكا ، حضرت علىعليه‌السلام كا خط جو لوگ ليكر گئے تھے وہ مايوس وآپس ائے ، امير المومنين نے ايك دوسرا خط ابو موسى كو لكھا جس ميں ابو موسى كى سخت سر زنش كى اور ان كے نا شائستہ عمل كى مذمت كى _

اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام ربذہ سے جو مكہ كے راستے ميں تھا ، اپنے لشكر كے ساتھ عراق كى جانب متوجہ ہوئے اور اگے بڑھتے رہے _(۲۰)

لشكر علىعليه‌السلام ذى قار ميں

حضرت علىعليه‌السلام اپنے لشكر كے ساتھ ربذہ سے چل كر دوسرى منزل پر پہنچے جس كا نام ذيقار تھا ، وہيں آپ نے كوفے والوں كو دوسرا خط لكھا اور اپنے فرزند امام حسن كو مامور فرمايا كہ اہل كوفہ تك يہ خط پہنچا كر اس كے مضمون سے لوگوں كو مطلع كريں اور انھيں حضرت علىعليه‌السلام كى مدد پر امادہ كريں _

حضرت حسن مجتبىعليه‌السلام كوفہ تشريف ليگئے اور اپنے والد ماجد كا خط كوفہ والوں كو سنا كر والد كى مدد كيلئے ابھارا _ حضرت

____________________

۱۹_ طبرى ج۵ ص ۱۸۶

۲۰_طبرى ج۵ ص ۱۸۴


حسن مجتبىعليه‌السلام نے اپنا كا م بخوبى انجام ديا اور بہت اچھا نتيجہ نكلا كيونكہ كوفے كے بہت زيادہ لوگوں پر امام كى تقرير كا اثر ہوا اور وہ لشكر حضرت علىعليه‌السلام كى طرف چل كر آپ كے لشكر سے مل گئے طبرى نے اس واقعہ كو يوں لكھا ہے كہ ابو ليلى كا بيان ہے حضرت علىعليه‌السلام نے ايك خط كوفے والوں كو لكھا كہ :

بسم الله الرحمن الرحيم

كوفے والو ميں چونكہ خدا و رسول كے بارے ميں تمھارے عقيدے سے واقف ہوں اس لئے تمھيں دوسروں پر ترجيح ديتا ہوں اور ميں نے تمھارى طرف رخ كيا ہے تمھارے شھر كے قريب اچكا ہوں جو بھى ميرى نصرت كريگا ، وہ اپنى دينى ذمہ دارى كو پورا كرے گا ، حق و عدالت كى نصرت كرے گا ''فمن جاء نى و نصرنى فقد اجاب الحق و قضى الدين عليه'' (۲۱)

ابو طفيل كا بيان ہے كہ: حضرت علىعليه‌السلام نے كوفے والوں كو خط لكھنے كے بعد مجھ سے پيش گوئي فرمائي كہ باشندگان كوفہ ميں سے بارہ ھزار اور ايك شخص نے ميرے خط كا مثبت جواب ديا ہے ، وہ ميرى نصرت كيلئے ارہے ہيں _

اسكے بعد ابو طفيل كہتا ہے :

جو لشكر كوفے سے ايا تھا اس كا اچھى طرح شمار كيا گيا ، ان كى تعداد بغير كمى و زيادتى كے وہى تھى كہ جس كى امام نے پيشگوئي فرمائي تھى(۲۲)

ابن عبد ربہ كہتا ہے كہ كوفے كے لوگوں نے حضرت علىعليه‌السلام كى طرف بڑ ھتے ہوئے منزل ذيقار كى فوجى چھائونى ميں اپنے كو پہچا ديا ، امير المومنين نے ان كے سامنے يہ تقرير كي

بسم الله الرحمن الرحيم

بعد حمد و صلاة

اے لوگو جان لو كہ جن دنوں سارے جھان ميں فتنہ و فساد پھيلا ہوا تھا اور خاص طور سے عرب پر فتنہ كى حكمرانى تھى جبكہ انسان جنگ و خونريزى اور اختلاف كے پائوں تلے روندا جارہاتھا ، جبكہ خوف اور اذيت كا چاروں طرف ڈيراتھا، خدائے مہربان نے اپنے پيغمبر محمد مصطفى (ص) كو سارے عالم كى ہدآیت كيلئے مبعوث فرمايا اور ان كے وسيلے

____________________

۲۱_طبرى ج۵ ص ۱۸۴

۲۲_طبرى ج۵ ص ۱۹۹


سے فساد و خونريزى كو ختم كيا ، نفاق كو مہربانى سے بدل ديا ، معاشرتى رخنوں اور طبقاتى اختلافات كا ان كے درميان سے خاتمہ كيا ، خوف و خطر سے بھرے راستوں كو امن و امان بخشا ، پرانے كينہ و عناد كو جڑ سے اكھاڑ ديا ، پھر انھيں اس حال ميں اپنى طرف وآپس بلايا كہ اللہ ان كى كوششوں سے راضى تھا اور ان كے كارناموں سے خوشنود تھا ، اپنى بارگاہ ميں وہاں بھى وہ محترم ہيں ، انھيں بہشت ميں بہترين منزلت و مقام عطا كيا _

ليكن افتاب نبوت كے غروب ہوتے ہى تمام مسلمانوں پر حوصلہ شكن مصيبت نازل ہو گئي جو اس قوم ميں اس سے پہلے نازل نہيں ہوئي تھى _

رسو ل خدا (ص) كے بعد ابو بكر نے لوگوں كے اختيارات كى زمام اپنے ہاتھ ميں لى ، انھوں نے اپنى حكومت كے زمانے ميں اپنى حد بھر مسلمانوں كے ساتھ اچھا سلوك برتا اور مسلمان بھى نسبتاً ان سے راضى تھے _

ابو بكر كے بعد عمر كرسى حكومت پر بيٹھے اور انھوں نے ابو بكر كى روش اپنائي ، ان دونوں كے بعد عثمان حكومت و خلافت پر بيٹھے انھوں نے مسلمانوں كے اختيارات پر قبضہ كيا ليكن ايسى راہ و روش اپنائي كہ تمام مسلمان غم و غصہ ميں بھر گئے ، يہاں تك كہ ان كے قتل كا ارادہ كيا اور اخر كا ر انھيں قتل كر ڈالا ، اس وقت تم لوگ ميرى طرف بڑھے اور مجھے بہت زيادہ اصرار كے ساتھ اس خلافت كو قبول كرنے پر امادہ كيا ، ميں نے جتنا بھى اپنے كو بچانا چاہا تم نے ہاتھ پھيلايا ميں نے جتنا ہاتھ كھينچا تم نے اتنا ہى مجھے اپنى طرف كھينچا ،ميں نے بہت كہا كہ مجھے اس عہدے سے معذور ركھو تم نے اتنا ہى زيادہ سختى سے اصرار كيا تمھارا اصرار بڑھتا رہا ، تم نے كہا ہم آپ كے سوا اس عہدے كيلئے كسى كو بھى قبول نہ كريں گے ، ہم كسى دوسرے كے پاس نہيں جائيں گے _

اے لوگو تم ميرى طرف يوں ٹوٹ پڑے جيسے پياسہ اونٹ كسى چشمے كيطرف جاتا ہے اور شوق كے ساتھ والہانہ پن كے انداز ميں اپنا منھ ڈال ديتا ہے تم اسى طرح ميرے گھر پر ہجوم كر كے ائے ايسا معلوم ہوتا تھا كہ جيسے كسى كو قتل كرنا چاہتے ہو ، اخر كار تم نے ہميں اتنا مجبور كيا كہ ميں نے تمھارى پيشكش قبول كر لى اور تم نے ہمارى بيعت كر لى _


طلحہ و زبير نے ميرے ہاتھ پر بيعت كا ہاتھ ركھا ليكن دير نہيں گذرى كہ خانہ كعبہ كى زيارت كے بہانے مدينے سے نكل گئے ،ليكن وہ خانہ ء كعبہ كے بجائے بصرہ كى طرف چل پڑے ، وہاں انھوں نے فتنہ پھيلايا اور وہاں كے مسلمانوں كو اذيت ديكر بہت سے لوگوں كو قتل كر ڈالا ، خدا كى قسم وہ لوگ بہتر جانتے ہيں كہ ميں گذشتہ خلفاء سے كمتر نہيں ہوں _

پھر امام نے فرمايا :اگر ميں حقيقت كے چہرے سے پردہ اٹھانا چاہوں تو اس سے بھى زيادہ كہہ سكتا ہوں ، حقائق كو روشن كر سكتا ہوں _

اس كے بعد آپ نے اسمان كى طرف رخ كيا اور فرمايا : خدا يا گواہ رہنا ، انھوں نے ميرے احترام اور رشتہ دارى كى رعآیت نہيں كى ميرى بيعت كا عہد توڑ ديا ، لوگوں كو ميرى عداوت و دشمنى پر ابھارا _

خدايا تو ہى ان كے منصوبوں كو مليا ميٹ كر اور جس قدر جلد ہو انكے برے كرتوتوں كى سزا دے(۲۳)

ذيقار ميں حضرت علىعليه‌السلام كى دوسرى تقرير

منزل ذيقار ميں حضرت علىعليه‌السلام كے قيام كى مدت ختم ہوئي اور آپ نے اپنے لشكر كو وہاں سے اگے بڑھانا چاہا ليكن آپ نے مناسب سمجھا كہ چلنے سے پہلے ايك شعلہ بار تقرير كى جائے _

ابن عبدالبر نے اس تقرير كو اس طرح نقل كيا :

اے لوگو اللہ نے ہر انسان پر جھاد واجب قرار ديا ہے كيونكہ جھاد كے ذريعہ سے دين خدا كى مدد ہوتى ہے ، اس كے بغير دنيا و اخرت كے امور اصلاح پزير نہيں ہوتے ، اے لوگو ، ميں آج چار شخصيتوں كے مقابل كھڑا ہوں جو ايك دوسرے كے معاون بن گئے ہيں _

طلحہ_ بہت پست اور لوگوں ميں سب سے سخى انسان

زبير_ اپنے وقت كا بہادر ترين انسان

عائشه_ مسلمانوں ميں جن كى بات سب سے زيادہ مانى جاتى ہے

يعلى بن اميہ_ يہ بھى بہت بڑا فتنہ پرداز شخص ہے

خدا كى قسم ، ميرے بارے ميں ان لوگوں كا اعتراض صحيح نہيں ہے ، كيونكہ ميں نے كوئي بھى نآپسنديد ہ كام

____________________

۲۳_ عقد الفريد ج۴ ص ۳۱۸


انجام نہيں ديا ہے ، نہ مسلمانوں كے مال كيطرف ہاتھ بڑ ھايا ہے ، نہ اپنے خواہش نفس كى پيروى كى ہے اے لوگو ان لوگوں نے مجھ سے اس حق كا مطالبہ كيا ہے جسے انھوں نے خود كھوديا ہے ، جس خون كو انھوں نے بہايا ہے اس كا انتقام مجھ سے لينا چاہتے ہيں ، ہاں خدا كى قسم ، انھيں كے ہاتھ خون عثمان سے رنگين ہيں ، ان كے قتل ميں ميں ذرہ برابر بھى شريك نہيں ہوں ، وہى لوگ ہيں جنھيں رسول (ص) خدا نے باغى گروہ (فئہ باغيہ ) قرار ديا ہے ، انھيں ظالم قرار ديا ہے اور انھيں سر كش قوم ميں شامل كيا ہے _

ہاں ، كون سا ظلم اس سے بڑھ كر ہوگا كہ عثمان كو خود انھوں نے قتل كيا ليكن ان كے خون كا بدلہ بے گناہوں سے لے رہے ہيں اور ان سے كہ جو قتل ميں شريك نہيں تھے

كون سى سر كشى اس سے بڑھ كر ہوگى كہ انھيں ميرى عدالت و لياقت كا اعتراف بھى ہے ، انھوں نے ميرى بيعت كى اور بار بار مجھ سے عہد كيا ليكن اپنا عہد توڑ ديا اور بيعت ختم كر دي

صرف ميرے دل كو يہ سونچكرسكون ملتا ہے كہ ان پر خدا كى حجت تمام ہوگئي اور خدائے دانا ان كى خائن نيتوں سے اگاہ ہے _

خدا كى قسم طلحہ زبير عائشه يہ خود اچھى طرح جانتے ہيں كہ حق ميرے ساتھ ہے اور وہ باطل كى راہ پر ہيں ليكن اس كے باوجود ميں ان لوگوں كو حق و عدالت كى پيروى اور صلح و صفائي كى دعوت دوں گا ، اگر انھوں نے ميرى دعوت قبول كى تو ميں بھى انھيں معاف كر دوں گا ، ان كى لغزش و جرم سے چشم پوشى برتوں گا ، اور اگرپھر بھى وہ سر كشى و تمرد پر امادہ رہے تو ان كا جواب تيز تلوار سے دونگا ، كيو نكہ تلوار ہى حق كى سب سے بڑى مددگار اور باطل كو مليا ميٹ كرنے والى ہے(۲۴)

____________________

۲۴_ استيعاب حالات طلحہ ، عقد الفريد ، تاريخ جنگ جمل اغانى ج ۱۱ ص ۱۱۹


لشكر علىعليه‌السلام زاويہ ميں

حضرت علىعليه‌السلام ذيقار سے چل كر بصرہ كے نزديك اس مقام پر پہنچے جسے زاويہ كہا جاتا تھا وہاں آپ نے كچھ دن قيام فرمايا ، اس تيسرى منزل پر بھى حضرت علىعليه‌السلام كى چھائونى ميں كچھ واقعات پيش ائے _

منجملہ يہ كہ حضرت علىعليه‌السلام نے يہاں سے ايك خط اپنے مخالف سرداروں كو لكھا :

سبط ابن جوزى نے اس خط كا مضمون نقل كيا ہے :

بسم الله الرحمن الرحيم

يہ خط ہے امير المومنين كى طرف سے طلحہ ، زبير اور عائشه كى طرف ، تم لوگوں پر سلام

اے طلحہ اے زبير تم خود جانتے ہو كہ مجھے خلافت كى خواہش نہيں تھى ليكن لوگوں نے حد سے زيادہ اصرار كيا اور مجھے اس عظيم ذمہ دارى كو قبول كرنے پر امادہ كيا اور ميں نے يہ سنگين ذمہ دارى يعنى خلافت كو قبول كر ليا ، اور تم دونوں نے بھى اپنى باہيں پھيلائے خوش و خاطر كے ساتھ ميرى بيعت كى ، آج ميں تم پر واضح كر دينا چاہتا ہوں اور اس سلسلہ ميں وضاحت چاہتا ہوں كہ اگر تمھارى بيعت اس دن خوشى كى خاطر سے نہيں تھى تو كيوں آج پيمان شكنى كر رہے ہو ، اپنى بيعت توڑ رہے ہو _


اللہ سے ڈرو ، اور بيعت شكنى كے گناہ سے توبہ كرو اگر تم نے خوشى سے ميرى بيعت كى تھى تو اس صورت ميں مجھے تم پر اعتراض كا حق ہے كيونكہ معلوم ہونا چاہيئے كہ تم لوگ منافق ہو اور جس عمل پر تمھارا خود ايمان نہيں تھا اسے انجام ديا ، بظاہر مجھ سے موافقت كى اور باطن ميں ميرى مخالفت كى اے طلحہ اے مہاجرين كى بزرگ فرد اے زبير اے قريش كے بہادر اگر تم نے بيعت سے پہلے ميرى مخالفت كى ہوتى تو يہ تمھارے لئے زيادہ بہتر اور ابرو مندانہ بات ہوتى جو آج ميرى بيعت كر كے پيمان شكنى كے مرتكب ہو رہے ہو _

اے عائشه تو نے بھى حكم خدا كو پائوں سے روند ڈالا اپنے شوہر رسول خدا كے ارشاد اور حكم كو نظر انداز كيا كہ حكم خدا و رسول كے خلاف اپنے گھر سے باہر نكلى _

تو ايسا كام كرنا چاہتى ہے جس كا تجھ سے كوئي تعلق نہيں اس كے باوجود تو سمجھتى ہے كہ اس طرح مسلمانوں ميں صلح و صفائي پيدا ہوگى ، واہ ، تو بھى كسقدر دھوكے ميں ہے اور حقيقت سے بہت دور نكل گئي ہے _

اے عائشه مجھے بتا ، عورتوں كو فوجى كاروائي سے كيا سرو كار ؟ كہاں عورت اور كہاں مردوں كے ساتھ جنگ كيلئے نكلنا ؟ اے عائشه حقيقت يہ ہے كہ تو مسلمانوں كے درميان فتنہ و فساد برپا كر نا چاہتى ہے اور بے گناہ مسلمانوں كا خون بہانا چاہتى ہے _

اے عائشه تو اپنے خيال ميں عثمان كا انتقام لينے كيلئے ائي ہے ، تجھے خون عثمان سے كيا سروكار تيرے لئے انتقام عثمان كا نعرہ زيبا نہيں كيونكہ وہ بنى اميہ كى فرد تھے اور تو خاندان تيم كى ہے ، كيا تو ہى نہيں تھى كہ كل ان كے قتل كا حكم ديا تھا ؟اور تو نے كہا تھا كہ اس احمق اور يہودى صفت شخص كو قتل كر ڈالو ، اسے قتل كردو يہ اسلام سے پھر گيا ہے ، آج تو كس منھ سے اس كے انتقام اور طرفدارى كيلئے كھڑى ہو گئي ہو_


اے عائشه ، خدا كا خوف كر اور اپنے گھر وآپس جا ،اپنى غفلت كا پردہ چاك مت كر ، فاتقى اللہ و ارجعى الى بيتك و اسبلى عليك والسلام

يہ تھا اس مضمون خط كا خلاصہ جسے امير المومنين نے بصرہ كے نزديك منزل زاويہ سے عائشه كے سرداران لشكر طلحہ و زبير اور عائشه كو لكھا يہ ،معقول اور جھنجھوڑ دينے والا خط ان لوگوں نے پڑھا ليكن ان لوگوں پر اس كا كوئي اثر نہيں ہوا اور نہ ان لوگوں نے جواب ديا _

بعض مورخوں نے لكھا ہے كہ عائشه نے اس خط كا يہ جواب ديا _

اے ابو طالب كے فرزند ہمارا اقدام عتاب و ملامت سے گذر چكا ہے اور اب ہم ہرگز تمھارا حكم نہيں مان سكتے تم سے جو بن پڑے كر ڈالو اور جو كچھ تمھارے قبضے ميں ہو ہمارے لئے اٹھا نہ ركھو(۱)

تاريخ اعثم كوفى ميں ہے كہ طلحہ و زبير نے حضرت على كا تحريرى جواب نہيں ديا ليكن زبانى پيغام بھيجا كہ

اے على تم نے بہت سخت و سنگين راہ اختيار كى ہے اس راستے پر چلنا اپنے لئے لازمى سمجھ رہے ہو ، اب ہمارے لئے بھى سوائے اس كے كوئي راستہ نہيں كہ تمھارا حكم مانيں اور تم اس كے سوا كسى بات پر راضى نہيں ہو گے ہم بھى تمھارا حكم نہيں مان سكتے _

اے على تم اپنے راستے پر چلو اور ہمارے بارے ميں جو كچھ تم سے بن پڑے كر ڈالو

بہر صورت امير المومنين نے پند و نصيحت پر مشتمل يہ خط صلح و صفائي كيلئے عائشه كے سرداران لشكر كو لكھا تھا ، جو بے نتيجہ رہا ان لوگوں نے صلح و صفائي كى بات نہ سنى ، يہى وجہ تھى كہ آپ نے وہاں سے اپنے لشكر كے ساتھ بصرہ كيطرف كوچ كيا اور شھر بصرہ ميں داخل ہوگئے _

____________________

۱_ الامامة والسياسة ج۱ ص۵۵ _ ۶۲ ، جمھرة رسائل العرب ج۱ ص ۳۷۹ ، ترجمہ تعليق اعثمى ص ۱۷۴


قارئين كرام !

يہاں تك جو كچھ پيش كيا گيا اس سے دونوں مخالف فوجوں كى تيارى اور بصرہ ميں پہنچنے تك كے حالات كو كتب تاريخ اور معتبر ماخذ سے نقل كيا گيا ، اب بات كو يہيں پر ختم كرتے ہيں اور حادثہ جنگ جمل كو شروع سے بيان كرتے ہيں ،اس سلسلہ ميں مشھور تاريخ نگار ابو مخنف كا بيان نقل كرتے ہيں جس كو عراق كے حالات و اخبار كى بہت اچھى اطلاع تھى اور اسے ماہر عراقيات كہنا زيادہ بہتر ہو گا _

گورنر بصرہ كو طلحہ و زبير كا خط

مشہور مورخ ابو مخنف(۲) اپنى مشہور كتاب تاريخ جنگ جمل ميں لكھتا ہے :

طلحہ زبير اور عائشه بہت تيزى كے ساتھ بصرہ ميں پہونچ گئے اور مقام حفر ابو موسى پر وارد ہوئے جو بصرہ سے قريب تھا ، وہاں سے انھوں نے گورنر بصرہ عثمان ابن حنيف كو اس موضوع كا خط لكھا :

اے عثمان ہمارا ارادہ ہے كہ بصرہ ميں داخل ہو ن ميرے انے سے بيشتر تم دارالامارہ كو خالى كر دو اور ہمارے لئے تيارى كرو ، اور تمھيں شہر كے اختيار ات بھى ہمارے حوالے كر دينا چاہيئے اور اپنے كو گورنرى كے عہدے سے علحدہ كر لو (ان داخل لنا دار الاماره )

عثمان نے خط كے مضمون سے اخنف ابن قيس كو باخبر كيا جو شيوخ بصرہ ميں شمار كئے جاتے تھے اور عقل و دانائي ميں مشھور ،تيز طرار تھے ، يہ خط ديكر ان سے كہا اے اخنف طلحہ و زبير كا لشكر بصرہ كے قريب پہنچ چكا ہے انھيں لوگوں ميں زوجہ رسول بھى ہيں لوگ ان كيلئے چاروں طرف سے سيلاب كى طرح ٹوٹے پڑ رہے ہيں ، اس سلسلے ميں تمھارى كيا رائے ہے ؟

____________________

۲_ابو مخنف لوط كا بيٹا اور خاندان مخنف سے تھا جو ازدى گروہ سے تعلق ركھتا تھا خاندان مخنف حضرت على كے دوستوں ميں شمار كيا جاتا ہے ابو مخنف مرد فاضل محدث اور مورخ تھا اور اس سلسلے ميں اس نے بہت زيادہ كتابيں لكھى ہيں اسكى ايك كتاب كا نام الجمل ہے ابن ابى الحديد نے شرح نہج البلاغہ ميں جنگ جمل كى سارى داستانيں اسى كتاب سے نقل كيا ہے ابن نديم كا بيان ہے كہ علماء كو اس بات كا اعتراف ہے كہ ابو مخنف كو عراق كے حالات تمام مورخين سے زيادہ معلوم تھے جس طرح مدائنى كو خراسان و ہند و فارس كے حالات كى خصوصى مہارت تھى واقدى كو بھى حجاز كے حالا ت سے واقفيت تھى ، ابو مخنف نے ۱۵۷ھ ميں وفات پائي


اخنف نے كہا: اے عثمان يہ وہى لوگ ہيں جنھوں نے مسلمانوں كو قتل عثمان پہ ابھارا تھا اور ان كا خون بہايا اور آج بھى شرم و حيا سے بالائے طاق ركھ كر ہمارى طرف ارہے ہيں تاكہ خون عثمان كا ہم سے انتقام ليں ، اگر يہ مقصد ليكر ہمارے شھر ميں اگئے تو اس شھر كے لوگوں ميں اختلاف اور دشمنى پيدا ہوگى اور ہميں تلوار كى باڑھ پر ركھ ليں گے ، ہمارا خون بہا دينگے _

اے عثمان تم اس شہر كے گورنر ہو لوگ تمھارے مطيع و فرمانبردار ہيں تمھيں اس حساس موقعہ پر اپنى حيثيت سے فائدہ اٹھانا چاہيئے ، اعلان جنگ كردو ، اور كچھ بصرے كے فوجيوں كو ليكر تيزى سے ان كى طرف جائو ، كيونكہ اگر تم نے انھيں موقعہ ديديا اور وہ بصرہ ميں ائے تو لوگ تمھارى اطاعت سے منحرف ہو جائيں گے اور ان لوگوں كى اطاعت كرنے لگيں گے _

عثمان نے كہا اے اخنف ميں بھى اس بات كو سمجھ رہا ہوں كہ ہمارى بہترى جنگ كرنے ميں ہے ، ليكن ميں كيا كروں ؟ ميں فتنہ و فساد سے ڈر رہا ہوں ، اور يہ كہ يہ فتنہ مجھ ہى سے شروع ہوگا يہ سونچ كر سخت خوفزدہ ہوں ، ميں چاہتا ہوں كہ صلح و صفائي ہوجائے ، اور جب تك حضرت علىعليه‌السلام كا حكم نہ ائے ميں كوئي اقدام نہ كر سكوں _

اخنفكے بعد حكيم ابن جبلہ عثمان كے پاس ائے ، عثمان نے لشكر عائشه كے سرداروں كا خط ان كے سامنے ركھديا ، حكيم نے بھى اخنف كى رائے كى تائيد كى اور عثمان كو عائشه كے لشكر سے جنگ پر ابھارا ،حكيم نے بھى عثمان كا وہى جواب سنا جو اخنف سن چكے تھے ، حكيم نے جب اپنى پيشكش كا كوئي اثر نہيں ديكھا تو كہا :

اے عثمان اگر تم جنگ پر امادہ نہيں ہو تو مجھے اجازت دو كہ ميں اپنے قبيلہ والوں كے ساتھ ان كے خلاف قيام كروں ، اگر ان لوگوں كو امير المومنين كا حكم منوا سكوں اور ان كى بيعت كے تابع لاسكوں تو كيا اچھا ہے ، اور ديگر وہ نہ مانيں تو ہم تم سے مدد لئے بغير ان لوگوں كے ساتھ جنگ كريں _

عثمان نے كہا: اے حكيم ميں جنگ اور قتل سے ڈرتا نہيں كہ اپنے كو الگ كر كے تم كو تمھارے حال پر چھوڑ دوں ، بلكہ ميں بنيادى طور سے مسلمانوں كے ساتھ جنگ اور فتنہ و فساد كو اچھا نہيں سمجھتا اور اس سے بھاگتا ہوں ، ورنہ ميں خود اپنے دل و جان كے ساتھ جنگ پر اقدام كرتا اور اس راہ ميں پيش قدمى دكھاتا _

حكيم نے كہا ، ہاں ، صلح و صفائي تو اچھى ہے ليكن خدا كى قسم تم بھى جانتے ہو كہ اگر وہ لوگ بصرہ ميں داخل


ہوگئے تو لوگوں كا دل اپنى طرف موڑ ليں گے اور تم كو عہدے سے معزول كر دينگے _

ليكن حكيم نے جنگ كيلئے جس قدر اصرار كيا عثمان نے ان كى پيشكش نہيں مانى _

امير المومنين كا خط اپنے گورنر بصرہ كے نام

امير المومنين ربذہ ميں تھے كہ آپ كو خبر ملى كہ عائشه كا لشكر بصرہ كے قريب پہنچ گيا ہے آپ نے اپنے گورنر كو اس مضمون كا خط لكھا :

يہ خط بندئہ خدا امير المومنين على كى طرف سے اپنے گورنر عثمان ابن حنيف كے نام

اے عثمان باغى اور ظالم نے اللہ سے عہد كيا پھر اپنا عہد توڑ ديا ،اور اب ان كا رخ تمھارى طرف ہے ،شيطان نے ان لوگوں كو اتنا مغرور بنا ديا ہے كہ مرضيء خدا كے خلاف اقدام كر رہے ہيں ، ليكن خدا كا عذاب اس سے زيادہ درد ناك اور انتقام كا تازيانہ اس سے بہت سخت ہو گا _

اے عثمان وہ لوگ بصرہ ميں داخل ہوں تو انھيں حكومت وقت كى اطاعت اور ميرى بيعت كى دعوت دو اگر وہ اثبات و تائيد ميں جواب ديں تو ان كا احترام واجب ہے اور اگر تمھارى دعوت قبول نہ كريں ( اپنى مخالفت ميں مصر ہوں تو ان سے جنگ كرو تاكہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں كے درميان حاكم ہو خدائے دادگر كا فيصلہ عادلانہ ہو گا ) ميں اس خط كو تمہارے پاس ربذہ سے لكھ رہاہوں اور ميں خود بھى تمہارے پاس بہت جلد پہنچوں گا _ كاتب خط عبيد اللہ ابن ابى رافع بتاريخ ۳۶ھ _(۳)

____________________

۳_ عبيد اللہ ابن ابى رافع مدينہ كے باشندے تھے ازاد كردہ رسول اللہ اور ان كے بآپ كو بھى رسول نے ازاد كيا تھا حضرت على نے انھيں اپنے خزانے كا انچارج اور منشى مقرر كيا تھا ، تہذيب التہذيب ج۶ ص۱۵


ابو مخنف كا بيان ہے كہ :جب على كا خط عثمان كے پاس پہنچا تو مشہور افراد ابوالاسود دئيلي(۴) اور عمران ابن حصين كو بلايا اور انھيں مامور كيا كہ جاكر لشكر عائشه كے سرداروں سے ملاقات كريں اور ان كے بغاوت كى وجہ اور مقصد كو پوچھيں _

ابو الاسود اور عمران حفر ابو موسى ميں واقع لشكر عائشه كى چھائونى ميں پہنچے پہلے انھوں نے عائشه سے ملاقات كر كے گفتگو كى اور موعظہ و نصيحت كى _

عائشه نے كہا اچھا ہوتا تم لوگ طلحہ و زبير سے ملاقات كرتے اور ان سے بھى گفتگو كرتے ، ابو الاسود اور عمران زبير كے پاس گئے ان سے بھى گفتگو كى _

زبير نے كہا ہمارے اس قيام كا دو بنيادى مقصد ہے _

۱_ انتقام خون عثمان ، ہم ان لوگوں كو قتل كرنا چاہتے ہيں جنھوں نے عثمان كو قتل كيا ہے_

۲_ على كو چاہيئے كہ خلافت سے معزول ہو جائيں اور مسلمانون كى جماعت ،كسى دوسرے كو شورى كے ذريعہ سے منتخب كر لے _

ان لوگوں نے زبير كا جواب ديا :

جہاں تك انتقام خون عثمان كى بات ہے تو عثمان كو بصرہ والوں نے قتل نہيں كيا ہے كہ تم ان لوگوں سے انتقام لو _

اے زبير تم خود اچھى طرح جانتے ہو كہ قاتلان عثمان كون لوگ ہيں ؟ اور كہاں ہيں ؟

تم اور تمھارے ساتھى طلحہ نے اور عائشه نے جو آج انتقام خون عثمان كا پرچم لہرا رہے ہو كل تم عثمان كے سخت ترين دشمن تھے اور تمہيں تھے كہ لوگوں كو ان كے قتل پر ابھاررہے تھے_

____________________

۴_ ابو الاسود كا نام ظالم تھا وہ عمر و ابن سفيان ابن جندل كے فرزند تھے دئيلى قبيلہ دئل كى طرف منسوب ہے اور دئل قبيلہ كنانہ كى شاخ تھا وہ بزرگ تابعى تھے اور حضرت على كے دوستوں ميں شمار كئے جاتے تھے ، جنگ صفين ميں على كے ساتھ تھے امير المومنين نے علم نحو اور قواعد زبان عربى پورے طور سے انھيں تعليم كئے تھے ، انھوں نے اس كى شرح كر كے اسے ايك علمى بنياد ديدى ، ابو الاسود نے ۸۵ سال كى عمر ميں عمر ابن عبدالعزيز كے زمانے ميں بصرہ ميں وفات پائي فہرست ابن نديم ص ۶۰ ، ۶۲ ،وفيات الاعيان ج۲ ص۲۱۶_ ۲۱۹


اب رہ گئي حضرت على كے معزول ہونے كى بات تو تم عہدہء خلافت سے كيسے معزول كر سكتے ہو ؟ اور ان كا مسلّم حق كيسے چھين سكتے ہو ؟ جبكہ تمھيں نے باہيں پھيلا كر خوشى خاطر كے ساتھ ان كى بيعت كى تھى تمھارى بيعت ميں ذرا بھى زور زبردستى نہيں تھى _

اے زبير واقعى بہت تعجب كى بات ہے جس دن رسول (ص) خدارحمت حق سے ملحق ہوئے اور لوگوں نے ابوبكر كى بيعت كى تونے ان كى بيعت كرنے سے انكار كيا تھا ، ہاتھ ميں تلوارليكر بھانج رہے تھے كہ خلافت كيلئے على سے بہتر كوئي نہيں ، ليكن آج انھيں سے ايسى سخت مخالفت پر امادہ ہو ، كہاں وہ طرفدارى ؟ اور كہاں يہ دشمنى و مخالفت ؟

زبير نے جب اپنے كو عثمان ابن حنيف كے نمائندوں كے سامنے زچ ہوتے ديكھا اور اپنے كو لاجواب پايا تو كہا :

تم لوگ طلحہ كے پاس جائو انھيں سے بات كرو ديكھو وہ كيا كہتے ہيں _

ابو الاسود اور عمران طلحہ كے پاس گئے ليكن انھيں سخت مزاج اور فتنہ انگيز پايا انھوں نے سمجھ ليا كہ ان كا مقصد صرف جنگ كى اگ بھڑ كاناہے اس كے سوا اور كوئي مقصد نہيں وہ لوگ وہاں سے مايوس ہو كر عثمان ابن حنيف كے پاس وآپس اگئے اور سارا واقعہ انھيں سناديا _

ابوالاسود نے اس سلسلے ميں كچھ اشعار كہے ہيں :

يابن حنيف قد اتيت فانفر

و طاعن القوم و جالد و اصبر

و ابرز لها مستلثما و شمر

اتينا الزبير فدانى الكلام

و طلحه كا لنجم او ابعد

و احسن قوليهما فادح

يضيق به الخطب مستنكد(۵)

'' اے پسر حنيف اگاہ ہو جائو كہ دشمن كا لشكر جنگ كے سوا كوئي مقصد نہيں ركھتا تم بھى اٹھ كھڑے ہو اور ان كے مقابلہ ميں جنگ كرنے كيلئے اپنے كو امادہ كرو ، ان لوگوںكى سرزنش كيلئے كوشش كرو اور اس راہ ميں استقامت دكھائو ہم نے زبير سے

____________________

۵_ الامامة والسياسة ج۱ ص ۶۱ ، ابن اعثم ص ۱۸۰ ، عقد الفريد ج۴ ص ۳۱۳ ، مروج الذھب و كامل ابن اثير ج۵ ص ۱۸۴ ، تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۵۷ ، ابو مخنف در كتاب جمل


بات كى تو اس كى باتوں ميں نرمى ديكھى ليكن طلحہ بہت تند تھا ، وہ بے راہ روى كا شكار تھا ، اسكا فاصلہ صلح سے اتنا ہى ہے جتنا زمين كا اسمان سے ، ان كى سب سے اچھى بات بہت برى تھى بہت سخت تھى اور فتنہ انگيز تھى _

انھوں نے ہميں بہت ڈرايا دھمكايا ليكن ان كى سارى باتيں ہمارى نگاہ ميں بے وقعت تھيں _

ابو الاسود نے جيسے ہى اپنے اشعار ختم كئے ، عثمان ابن حنيف جوش مين بھر گئے اور كہا ، ہاں ، دونوں مقدس شھروں مكہ و مدينہ كى قسم تم نے جيسا كہ بيان كيا ميں ان لوگوں سے ايسى ہى جنگ كروں گا _

پھر حكم دياكہ فوجى تيارى كا عام اعلان كيا جائے اور سب لوگ جنگ كيلئے امادہ ہو جائيں ، بصرے ميں نعرے گونجنے لگے بصرے والے اسلحوں سے اراستہ ہو كر عثمان ابن حنيف كے پاس اگئے_

لشكر بصرہ وہاں كے ايك وسيع ميدان كى سمت جس كا نما مر بد تھا بڑھنے لگا ، جہاں لشكر عائشه كى چھائونى تھى اور دونوں لشكر اسى ميدان ميں امنے سامنے ہوگئے _

شعلہ بار تقريريں

مرد جشمى نے تقرير كي

لشكر بصرہ اور لشكر عائشه ميدان مربد ميں امنے سامنے تھے اتنے ميں لشكر بصرہ سے قبيلہ جشم كا ايك شخص كھڑا ہوا اور اپنے كو پہنچوانے كے بعد بصرے والوں سے اس طرح مخاطب ہوا _

اے لوگو يہ جمعيت جسے تم ديكھ رہے ہو شھر مكہ سے ايا ہے اور اس نے تمھارى طرف رخ كيا ہے ، ليكن نہ انھيں بد امنى كا ڈر ہے نہ فرار اور ہرج مرج كا كيونكہ يہ لوگ اس شھر ميں تھے كہ جو سب كے لئے امن و پناہ كى جگہ ہے اور تمام موجودات وہاں امن ميں رہتے ہيں يہاںتك كہ پرندے حيوانات اور درندے بھى اس شہر ميںلوگوں كے گزند سے اسودہ خاطر ہوتے ہيں ، اس بناء پر يہ لوگ خوف كى وجہ سے يہاں نہيں ائے ہيں بلكہ خون عثمان كا انتقام لينے كيلئے سيلاب كى طرح ہمارے شہر ميں ٹوٹ پڑے ہيں حالانكہ ہم بصرے والوں نے نہ قتل عثمان ميں شركت كى نہ ہم ميں كا كوئي شخص ان كے قتل ميں شامل تھا _


اے لوگو ميرى بات پر توجہ دو اور اس لشكر كو جہاں سے ايا ہے وہيں وآپس كردو اور اگر تم نے غيرت و صلاح كو راہ نہيں دى تو تمھارے درميان جنگ كى ايسى اگ بھڑكے گى جو كبھى خاموش نہ ہوگى اور اس كے شعلے تمہارى زندگى كو اپنا لقمہ بنا ليں گے _

اس شخص كى بات ابھى يہيں تك پہنچى تھى كہ بصرے كہ كچھ لوگوں نے اس پر سنگ بارى كر دى اور وہ خاموش ہو كر بيٹھ گيا _

طلحہ كى تقرير

ابو مخنف كا بيان ہے كہ اس جشمى شخص كى تقرير كے بعد طلحہ كھڑے ہوئے اور بہت كوشش كے بعد چيختے چلاتے لوگوں كو خاموش كيا اور كہا :

اے بصرے والو تم سبھى جانتے ہو كہ عثمان ابن عفان ايك شريف شخص اور با فضيلت ادمى تھے ، بہت اچھے سابق الاسلام تھے ، وہ انھيں مہاجرين ميں تھے كہ جن كے بارے ميں اللہ نے اپنى رضا كا اعلان كيا اور قران نے ان لوگوں كے فضائل بيان كئے _

ہاں ، عثمان گروہ مہاجرين كى فرد تھے اور صحابى رسول تھے ، مسلمانوں كے امام تھے ليكن اپنى خلافت كے اخرى زمانے ميں روش بدل دى تھى اوركبھى كبھى وہ عدالت كى راہ سے منحرف ہو جاتے تھے ، ہم نے اس معاملے ميں ان كو چونكايا ، (ان پر اعتراض كيا ) تو انھوں نے ہمارى باتوں كو قبول كيا اور اپنے كرتوتوں سے توبہ كى ، پھر وہ عدالت كى راہ پر چل پڑے ، ليكن كيا فائدہ ؟

وہ شخص كہ جس نے آج مسلمانوں كے معاملات كى لگام بغير مسلمانوں كى رضا اور اطلاع كے غاصبانہ طريقے سے اپنے ہاتھ ميں تھام لى ہے ، وہ ان پر ٹوٹ پڑا اور انھيں بے گناہ قتل كر ڈالا ، كچھ فسادى اور لآپرواہ لوگوں نے بھى اس ظالمانہ عمل ميں اس كى مدد كي_

ہاں ، عثمان تمام مسلمانوں كے نزديك قابل احترام تھے وہ بے گناہ اور مظلوم قتل كئے گئے _

اے بصرہ والو ہم اس پاك اور بے گناہ شخص كا انتقام لينے كيلئے يہاں ائے ہيں تاكہ ان كے قاتلوں كو قابو ميں كر كے قتل كريں اور مسلمانوں ميں استقلال پيدا كريں ، اور وہ اختيارات جوا ن كے ہاتھ سے نكل گئے ہيں وآپس


لائيں ، شورى كے ذريعہ كسى شخص كو خلافت و حكمرانى كيلئے انتخاب كر ليں ، كيونكہ خلافت و حكمرانى صرف عوام كا حق ہے ، اور جو شخص استبدادى طريقے سے اور لوگوں كو دھوكا ديكر اس عہدے پر قبضہ جما لے اس كى استبدادى حكومت كا پايہ ہلا دينا چاہيئے اور ختم كر دينا چاہيئے _

زبير كى تقرير

طلحہ كى تقرير كے بعد زبير كھڑے ہو كر تقرير كرنے لگے وہ بھى طلحہ كيطرح عثمان كى بے گناہى اور يہ كہ على ان كے قاتل ہيں بيان كرنے لگے ، پھر انھوں نے طلحہ كے بيان كى تائيد كى _

يہيں پر كچھ بصرہ والے كھڑے ہو گئے اور طلحہ اور زبير پر اعتراض كرنے لگے ، انھوں نے واضح طريقے سے كہا :

اے طلحہ اے زبير كيا تم لوگوں نے حضرت على كى بيعت نہيں كى تھى اور ان كى اطاعت كا عہد و پيمان نہيں كيا تھا ، اخر كيا بات ہوئي كہ كل تم نے بيعت كى اور آج تم نے بيعت توڑ دى ؟

ان لوگوں نے جواب ديا ، ہم نے اپنے اختيار اور رضا و رغبت سے على كى بيعت نہيں كى ، اور ہمارى گردن پر كسى كى بيعت و اطاعت كا حق نہيں ہے جو ميرے اوپر اعتراض كرے اور ہميں بيعت شكنى كا الزام دے _

بات يہاں تك پہنچى تھى كہ اہل بصرہ كے درميان شديد اختلاف پيدا ہو گيا ، ہلّڑ ہنگامہ ہو نے لگا كيونكہ كچھ تو طلحہ و زبير كى طرفدارى كرنے لگے ، ان كى باتوں كى تائيد و تصديق كرنے لگے اور صحيح ہے صحيح ہے كے نعرے لگانے لگے اور كچھ دوسرے لوگ ان كو جھٹلانے لگے ، كہنے لگے كہ طلحہ و زبيرجھوٹ بول رہے ہيں ، ان كى باتوں ميں مكارى پائي جاتى ہے _

عائشه كى تقرير

ابو مخنف كا بيان ہے كہ: لوگوں كا اختلاف اور ہنگامہ كا فى طول پكڑ گيا ، يہاں تك كہ خود عائشه نے انھيں خاموش


كرنے كيلئے مداخلت كى ، اپنے اونٹ پر سوار ہوئيں لوگوں كے سامنے اكر بہت بلند اواز ميں كہا :

اے لوگو بس كرو ، اپنى بات كم كرو ، خاموش ہو جائو ، خاموش ، خاموش ، جب لوگوں نے عائشه كى اواز سنى تو خاموش ہوگئے ، ہلّڑ ہنگامہ خاموشى ميں بدل گيا ، جب مربد كے تمام گوشہ و كنار ميں خاموشى پھيل گئي تو عائشه نے بصرہ والوں سے اس طرح خطاب فرمايا :

اے لوگو امير المومنين عثمان راہ حق و عدالت سے منحرف ہوئے اور اصحاب رسول كو تكليف پہنچائي، فسادى اور ناتجربہ كار چھوكروں كو حكومت ميں لگا ديا ، ايسے منحرف اور فاسد لوگوں كى حمآیت كى جنھيں رسول اللہ نے جلا وطن كيا تھا ، اور ان پر غضبناك ہوئے تھے _

مسلمانوں نے ان پر اعتراض كيا ان كے كر توتوں كے نتائج سے باخبر كيا انھوں نے بھى لوگوں كى نصيحتوں سے سبق حاصل كيا اور اپنے برے اعمال پر شرمندہ ہوئے ، اپنے دامن الودہ كو اب توبہ سے دھو ڈالا ، اپنے كو گناہوں اور لغزشوں سے پاك كر ليا _

ليكن كچھ لوگوں نے ان كى توبہ كو اہميت ديئے بغير انھيں قتل كر ڈالا اس پاك اور بے گناہ شخص كا خون بہا ديا ، ان كے قتل سے ڈھير سارے گناہوں كے مرتكب ہوئے ، ان كى خلافت كا مقدس لباس اس مقدس ماہ ذى الجحہ (جس ميں جنگ حرام ہے ، اور اس شھر مدينہ ميں جس كا احترام اسلام نے لازم قرار ديا ہے )ہاں ان حالات و شرائط كے باوجود انھيں يوں قتل كر ڈالا جيسے قربانى كا اونٹ پئے كيا جاتا ہے _

اے لوگو جان لو كہ قريش عثمان كو قتل كر كے خود اپنے تيروں كا نشانہ بن گئے ہيں اور اپنے ہاتھ اور منھ كو خون سے الودہ كر ليا ہے ، قتل عثمان ان لوگوں كو مقصد تك نہ پہنچائے انھيں كوئي فائدہ نہ بخشے ، خدا كى قسم ، انھيں كوئي بلا گھير لے گى ، جو انھيں مليا ميٹ كر دے گي، ہاں ، انگاروں سے بھرى افت ، ان كو جڑ سے اكھاڑ پھينكنے والى ، ايسى افت كہ ان كے سوتوں كو جگا دے اور بيٹھے ہوئے لوگوں كو اٹھا دے _

اے لوگو _اول تو يہ كہ عثمان كا گناہ ايسا نہيں تھا كہ ان كا قتل جائز ہو جائے دوسرے يہ كہ تم نے انھيں توبہ كى دعوت دى پھر ان كى توبہ پر اعتنا كئے بغير چڑھ دوڑے اور بے گناہ خون بہاديا ، پھر تم نے على كى بيعت كر لى ،اور ان كو غاصبانہ طريقے سے خلافت كى كرسى پر بيٹھا ديا _


ذرا سوچو _ميں نے تمھارے فائدے كيلئے عثمان كى فحاشيوں پر غم وغصہ كا مظاہرہ كيا تھا ، ليكن آج عثمان كے فائدے كيلئے جو تم نے ان پر تلوار كھينچى غم و غصہ كا مظاہرہ نہ كروں ؟ اور خاموش ہو جائوں ؟

اے لوگو ہوش ميں ائو ، كيونكہ عثمان كو مظلوم اور بے گناہ قتل كيا گيا اور اب تم لوگوں پر لازم ہے كہ ان كے قاتلوں كو تلاش كرو اور جہاں بھى ان پر قابو پائو انھيں قتل كر ڈالو _

اس كے بعد ان چھ افراد ميں سے كہ جن كو عمر نے معين كيا تھا شورى كے ذريعے سے خليفہ مقرر كر لو ، ليكن ايسا ہر گز نہيں ہونا چاہيئے كہ جس نے قتل عثمان ميںشركت كى ہے وہ شورى ميں يا خليفہ معين كرنے ميں كسى قسم كى مداخلت كرے _

ابو مخنف كا بيان ہے كہ :عائشه كى بات ابھى يہيں تك پہنچى تھى كہ لوگ موج دريا كيطرح جوش ميں بھر گئے اور پيچ و تاب كھانے لگے _

ايك نے كہا كہ حقيقت وہى ہے جو عائشه نے كہا :

دوسرے نے كہا كہ :عائشه نے غلط بات كہى ہے كيونكہ انھيں حق نہيں ہے كہ گھر سے باہر نكليں _

ايك بولا ، انھيں كيا حق پہنچتا ہے كہ معاشرتى معاملات ميں دخل ديں

اخركار ، ہر شخص اپنى اپنى ہانكنے لگا ، اوازيں بلند ہونے لگيں

لوگوں كى چيخ پكا ر بڑھنے لگى اوراختلاف پيدا ہونے لگا يہاں تك كہ جوتے لوگوں كے سروں پر چلنے لگے ، گھوسے اور مكّے ايك دوسرے كى ضيافت كرنے لگے _

بس يہيں سے بصرہ كے باشندے دوحصوں ميں بٹ گئے اور ايك دوسرے كے امنے سامنے محاذ ارائي اور صف بندى كرنے لگے _

ايك پارٹى گورنر بصرہ عثمان كى طرفدارى ہو گئي اور دوسرى پارٹى عائشه كى طرفدار ہوگئي اسطرح عائشه نے اپنى تھوڑى دير كى تقرير ميں كچھ لوگوں كو اپنا ہم خيال بنا ليا اور اپنے لشكر كى تعداد ميں اضافہ كر ليا _

پہلى جنگ

ابو مخنف كا بيان ہے كہ :ميدان مربد ميں جو تقريريں اور باتيں ہوئيں اس كے بعد لوگ متفرق ہو گئے


ليكن طلحہ و زبير نے عثمان ابن حنيف كو اسير كرنے كيلئے كچھ لوگوں كے ساتھ دارالامارہ پر قبضہ جمانے شہر كے مركزى حصے كى طرف چلے ، ليكن انھيں لشكر عثمان كى شديد مقاومت كرنى پڑى كيونكہ بصرے والے شہر كے تمام حصوں سے واقف تھے اور لشكر عائشه كے حملے سے قبل ہى تمام گلى كوچوں تك كو اپنے قبضے ميں كر ليا تھا اور گھات لگائے بيٹھے تھے _

جب عائشه كا لشكر شہر كے مركزى حصے كيطرف نہيں بڑھ سكا تو اپنا راستہ ميدان اور باغوں كى طرف بدل ديا ، لشكر بصرہ نے وہاں بھى روكا اور دونوں ميں گھمسان كى جنگ ہونے لگى اس مقاومت ميں حكيم ابن جبلہ نے اپنے قبيلے والوں كے ساتھ دوسروں سے كہيں زيادہ جد وجہد كى اور لشكر عائشه پر حملہ كيا ، بصرہ كى عورتوں نے بھى كوٹھوں سے سنگبارى كى اور اسطرح بصرے والوں نے لشكر عائشه كو پسپا كر كے قبرستان بنى مازن تك ڈھكيل ديا _

عائشه كے فوجى وہاں دفاعى حالت ميں ٹھر گئے تاكہ چھائونى سے ان كى مدد اسكے اور شكست خوردہ لشكر اس كمك كے ذريعے بصرہ كے باہر زابوقہ كى طرف جاسكے ، وہاں بھى ايك وسيع اور بنجر ميدان دار الرزق كے نام سے تھا ، وہيں چلے گئے اور اسى كو اپنى چھائونى بنا ليا ،اسطرح پہلى جنگ ميں گورنر بصرہ كو فتح حاصل ہوئي اور عائشه كا لشكر پيچھے ہٹ گيا _

اس كے بعد ابو مخنف كہتا ہے كہ: قبيلہ تيم كے ايك سردار عبداللہ ابن حكيم جن كو طلحہ و زبير نے قتل عثمان كے بارے ميں خط لكھ كر مدد طلب كى تھى ، وہ طلحہ كے پاس ائے اور اس خط كو دكھا كر رائے طلب كرتے ہوئے پوچھا _

اے طلحہ كيا تم ہى نہيں ہو كہ جس نے ہميں خط لكھا تھا اور ہميں قتل عثمان پر ابھارا تھا _

طلحہ نے كہا ہاں ، يہ خط ہمارى ہى طرف سے ہے عبداللہ نے كہا اے طلحہ ، تم پر حيرت ہے كہ اس خط كے مطابق تم كل ہميں عثمان كو معزول كرنے اور انھيں قتل كرنے پر ابھار رہے تھے اخر كا ر تم نے انھيں قتل كر ڈالا اور آج انھيں كى طرفدارى اور ان كا انتقام لينے كيلئے ہمارے پاس ائے ہو _

اے طلحہ خدا كى قسم ، تمھارا مقصد صرف يہ ہے كہ دنيا حاصل كر لو اور حكومت پر قبضہ جمالو ،اور ايك غلط اور نامناسب محرك تمھيں اس جنگ پر ابھار رہا ہے ورنہ تم نے كل على كى بيعت كيوں كى تھى اور راضى خوشى ان كے ہاتھ پر اپنا ہاتھ كيو ں ركھا تھا ، اور آج تم نے اپنى بيعت توڑ دى ہے ، اور ان كى مخالفت ميں كھڑے ہو گئے ہو ؟ ان تمام باتوں سے بد تر يہ كہ يہاں تم شھر كو فتنہ و فساد ميں الجھا نے ائے ہو اور ہميں اس فتنہ ميں شريك كر رہے ہو _


طلحہ نے كہا كہ: اے عبداللہ ميں نے على كى بيعت اپنى مرضى اور خوشى سے نہيں كى تھى ، حضرت علىعليه‌السلام نے لوگوں كى بيعت قبول كرنے كے بعد مجھ كو بھى بيعت كى دعوت كى تو ميں نے بھى مجبور ہو كر ان كى دعوت قبول كر لى اور اپنى بيعت كا ہاتھ بڑھا ديا ، اگر ميں نے ان كى بات نہ مانى ہوتى تو جس طرح ميں خلافت سے محروم كر ديا گيا ( اپنى جان سے بھى ہاتھ دھو بيٹھتا كيونكہ لوگ ميرے اوپر ٹوٹ پڑتے اور ميرا كام تمام كر ديتے )_

ابو مخنف كا بيان ہے كہ: اس طرح پہلا دن بيت گيا ، اس كے دوسرے دن دونوں لشكر دوبارہ امنے سامنے ہوئے اور انھوں نے صف ارائي كى _

اس موقع پر عثمان ابن حنيف اپنے كچھ ساتھيوں كے ساتھ طلحہ وزبير كے پاس گئے اور انھيں نرم و ملائم انداز ميں نصيحت كى ، انھيں اختلاف و بيعت شكنى كے انجام سے ڈرايا _

ليكن طلحہ و زبير نے بجائے اس كے كہ ان كى نصيحت كو مانيں صاف صاف كہنے لگے كہ اے فرزند حنيف ہم يہاں خون عثمان كا انتقام لينے كيلئے ائے ہيں ہم اس سے كبھى دستبردار نہيں ہو نگے _

عثمان ابن حنيف نے كہا ، تمھيں خون عثمان سے كيا سروكار ؟ ان كے بيٹے اور چچيرے بھائي انتقام كيلئے تم پر مقدم اور قريب تر ہيں ، وہ لوگ كہا ں ہيں ؟ خدا كى قسم خون عثمان كا انتقام ايك بہانا ہے اور بس ، حقيقت يہ ہے كہ تم لوگ خلافت ہتھيانا چاہتے ہو اور اس سلسلے ميں تم نے حد سے زيادہ كو شش كى ليكن مسلمانوں نے تمھارى طرف كوئي توجہ نہيں كى ، وہ حضرت على كى جانب مائل ہوگئے ، يہى وجہ تھى كہ حضرت على كى عداوت تمھارے دل ميں پيدا ہوگئي اور حسد كى اگ بھڑكنے لگى ، اسى گرہاں اور انگاروں نے تمھيں بيعت توڑنے اور مخالفت كرنے پر امادہ كيا ، ان گرہاں اور انگاروں كو ڈھاكنے كيلئے تم نے خون عثمان كا بہانا بنايا ہے ورنہ تم وہى ہو كہ عثمان كے خلاف ہنگامہ برپا كرنے ميں سب سے اگے تھے ، تمھيں سب سے زيادہ ان پر تنقيد كرتے تھے _

ابن حنيف كى بات يہيں تك پہنچى تھى كہ طلحہ و زبير نے دشنام درازى شروع كر دى اور بہت گندى باتيں زبان سے نكالنے لگے يہاں تك كہ بہت شرمناك طريقے سے ان كى ماں كا نام بھى لے ليا _

عثمان نے ايك نگاہ زبير پر ڈالى اور كہا :

اے زبير ميں كيا كروں ؟ تمھارى ماں صفيہ رسول خدا كى رشتہ دار ہيں ، اسى وجہ سے رسول خدا كے احترام


ميں تمھارى ماں كا نام لينے سے معذور ہوں _

اس كے بعد ايك نظر طلحہ پر ڈالى اور كہا :

اے طلحہ اے صعبہ كے فرزند ميرا اور تمھارا حساب كتاب اس سے بالا تر ہے جو باتوں سے ختم ہواس كا جواب صرف تلوار ہے ہمارے اور تمھارے درميان اسى كو فيصلہ كرنا ہے ، ميں واقعى ان گاليوں كا جواب تمھيں دوں گا _

عثمان نے ايك نظر اسمان پر ڈالى اور دعا كي خدايا تو گواہ رہنا كہ ميں نے ان لوگوں پر حجت تمام كر دى اور ان كيلئے عذر كى كوئي گنجائشے نہيں چھوڑى _

يہ كہناا اور عائشه كے لشكر پر ٹوٹ پڑے ، اور عملى طور سے اعلان جنگ كر ديا ، پھر دونوں لشكر كے درميان گھمسان كى لڑائي شروع ہو گئي ، جب جنگ نے بہت شدت اختيار كر لى تو يہ بات طئے پائي كہ دونوں كے درميان عہد نامہ صلح لكھا جائے تاكہ جنگ ختم ہو سكے _

صلح اور صلحنامہ

جيسا كہ گذشتہ فصل ميں بيان كيا گيا كہ لشكر عائشه اور لشكر بصرہ كے درميان گھمسان كى جنگ ہوئي اور بہت سے لوگ لقمہء اجل بن گئے اس طرح يہ لڑائي گورنر بصرہ اور ان كے سپاہيوں كى كاميابى پر ختم ہوئي _

ابو مخنف كا بيان ہے كہ جنگ و خونريزى كے بعد (جس كا نام ہم نے پہلى جنگ ركھا ہے )دونوں لشكر كے سردار اس بات پر متفق ہوئے كہ چند شرائط كے مطابق باہم صلح كر لى جائے اور عہد نامہ لكھ ليا جائے ، تاكہ جب تك حضرت على بصرے ميں تشريف نہيں لائيں جنگ ركى رہے ، يہى بات دونوں لشكر كے درميان صلحنامہ كى شكل ميں لكھى گئي اور اس پر سرداران لشكر كے دستخط ہوئے _


صلحنامہ كا متن ان پانچ دفعات پر مشتمل تھا

يہ وہ عہد و پيمان ہے كہ جو عثمان ابن حنيف اور ان كے ساتھيوں نے طلحہ و زبير اور ان كے حمآیتيوں كے ساتھ طئے پايا ہے ہر دو طرف كے لوگ اپنے كو اس عہد نامہ كا پابند سمجھتے ہيں كہ اس صلحنامہ كے مطابق عمل كرينگے اور ان كے دفعات كا احترام كر كے اسے نافذ كرينگے _

۱_ طرفين كے كسى شخص كو بھى دوسرے سے چھيڑ چھاڑ كا حق نہ ہوگا اور اسائشے كے وسيلے سلب نہ كريگا نہ ايك دوسرے كو تكليف ديگا _

۲_ طرفين حق ركھتے ہيں كہ ازادانہ طريقے سے فطرى اور معاشرتى خصوصيات سے بہر ہ مند ہوں اور سبھى يكساں طريقے سے بغير دو سرے كى مزاحمت كے نہروں و چراگاہوں اور شاہراوں اور بازاروں سے استفادہ كر سكيں گے اور ايك دوسرے كى ضرورت كو پورا كريں گے _

۳_ شہرى انتظامات اور حكومت اور قصر كى حكمرانى ( مسجد اور پيشنمازى كے حالات ) اور بيت المال كے اختيارات سابق كيطرح عثمان ابن حنيف كے قبضے ميں رہيں گے _

۴_ طلحہ و زبير اور ان كے ساتھ بصرہ ميں ازادى سے رہيں گے وہ بغير ركاوٹ كے تمام جگہوں پر اپنى چھائونى بنا سكتے ہيں اور شھر كے تمام حصوں پر ازادانہ رہ سكتے ہيں _

۵_ يہ عہد نامہ آج كى تاريخ سے اس وقت تك نافذ رہے گا جبتك حضرت على بصرہ ميں اجائيں ، اور حضرت على كے تشريف لانے كے بعد طلحہ و زبير ازاد ہيں كہ وہ سابق كى اپنى بيعت على كے وفادار رہيں يا ہر ايك صلح و جنگ كا انتخاب كرے _

صلحنامہ كے اخر ميں اس جملے كا بھى اضافہ كيا گيا كہ طرفين اس صلحنامہ كے دفعات پر اسى طرح عمل كرينگے جيسے خدا اور انبياء كے عہد و ميثاق ميں برتا جاتا ہے ، اور اس وسيلے سے ان لوگوں نے مضبوط پيمان باندھا (على الفريقين بما كتبو ا عهد الله و ميثاقه )

صلح نامہ پر طرفين كے دستخط ہو گئے اور صلح و صفائي ہوگئي ، عثمان ابن حنيف اپنے لشكر كے ساتھ دار الرزق سے دار الامارہ كيطرف وآپس چلے گئے اور اپنے ساتھيوں كو حكم ديا كہ جنگى ہتھيار اتار ڈالو اور اپنے گھروں كو وآپس جائو ارام كے ساتھ زخميوں كا اعلاج و معالجہ كرو _


دوسرى جنگ

طلحہ و زبير نے دوسرى بار پيمان شكنى كي

لشكر بصرہ نے صلحنامہ كے دفعات پر بھر پور عمل كيا اور اس كے مفاد كے مطابق صلح كيا ، شھر بصرہ ميں جنگ سے پہلے كا امن وآپس اگيا ،تمام حالات معمول پر اگئے ، ليكن طلحہ و زبير نے جس طرح علىعليه‌السلام كى بيعت توڑى تھى دير نہيں گذرى كہ اس صلح اور عہد كو توڑ نے كى فكر ميں لگ گئے ، وہ سوچ رہے تھے كہ اگر كچھ دن بعد حضرت علىعليه‌السلام بصرہ ميں اجائينگے تو ہم يہ تھوڑے سے فوجى اور معمولى سامان جنگ سے كس طرح مقابلہ كر سكيں گے ، وہ بہترين فوجى ساز وسامان سے اراستہ ہونگے(۶)

يہى بات تھى كہ طلحہ اور زبير كى بے چينى بڑھ گئي اور ان كى انكھوں سے نيند اڑ گئي تھى ، وہ اس سلسلے ميں رات دن تبادلہء خيال كرتے رہتے تھے _

اخر كا رانہوں نے يہ ارادہ كر ليا كہ اس عہد كو بھى بيعت علىعليه‌السلام كى طرح توڑ ديں اور مخفى طور سے قبائل عرب كے رئيسوں اور بصرہ كے بزرگوں سے مدد طلب كريں اور انھيں اپنى حمآیت كى دعوت ديں _

طلحہ و زبير نے اس منصوبے كے ماتحت قبيلوں كے بزرگوں كو خط لكھے اور انھيں انتقام خون عثمان كى دعوت دى اور على كى بيعت توڑنے اور بصرہ كے گورنر كى اطاعت سے باہر ہونے پر امادہ كيا _

قبيلہ اذد ، ضبہ ، اور قيس عيلان ان تين قبائل نے ان كى دعوت كا مثبت جواب ديكر ان لوگوں كى بيعت كر لى ، انھون نے وعدہ كيا كہ ہر طرح كى كمك اور حمآیت كيلئے وہ تيار ہيں ، صرف يہى انگليوں پر گنے جانے والے تين قبيلے تھے جنھوں نے چھپے چورى ان كى موافقت كا عہد كيا _

____________________

۶_ ايسا معلوم ہوتا ہے كہ وہ پہلے صلح كا ارادہ نہيں ركھتے تھے ليكن جب انھوں نے ديكھا كہ گورنر بصرہ سے مقابلہ كرنے كى طاقت نہيں ہے تو ظاہرى طور سے صلح كا ہاتھ بڑھا ديا تاكہ ان لوگوں كى غفلت سے فائدہ اٹھا كر اپنے بد ترين مقاصد حاصل كر ليں


طلحہ و زبير نے ايك دوسرا خط ہلال ابن و كيع كو لكھا جو قبيلہ بنى تيم كا سردار تھا ، ان لوگوں نے خط ميں اپنى حمآیت كى دعوت دى ليكن ہلال نے ان كا كوئي جواب نہيں ديا نہ توجہ كى ، اور ان سے ملاقات بھى نہيں كى _

طلحہ و زبير مجبور ہو كر خود ہى ہلال سے ملاقات كيلئے ان كے گھر گئے انھوں نے اپنے گھر ميں بھى ان سے ملاقات نہيں كى اور اپنے كو چھپاليا ، ليكن انكى ماں نے سرزنش كرتے ہوئے كہا :

اے ہلال ، تمھارى جيسى شخصيت كيلئے شرم كى بات ہے كہ اپنے كو مہمانوں سے چھپائو اور قريش كے دو بزرگوں كى ملاقات سے انكار كر دو _

ہلال كى ماں نے اپنى بات اتنى بار كہى كہ فرزند كے دل پر اثر ہوا اور ہلال نے طلحہ و زبير كيلئے اپنا دروازہ كھولا ، ان سے ملاقات اور گفتگو كا نتيجہ يہ نكلا كہ وہ بھى طلحہ و زبير سے متاثر ہو گئے اور ان دونوں كى بيعت كرلى ، حمآیت اور نصرت كا وعدہ بھى كيا _

قبيلہ تميم كے دو بڑے خاندان ، عمرو اور ہنزلہ كا خا ندان بھى ہلال كى پيروى كرتے ہوئے طلحہ و زبير كى بيعت پر امادہ ہو گيا _

قبيلہ تميم ميں صرف ايك خاندان ير بوع تھا جو حضرت علىعليه‌السلام سے وابستہ تھا آپ كا خالص شيعہ اور وفادار تھا اسى نے ان دونوں كى بيعت سے انحراف كيا اسى طرح خاندان دارم بھى جو بنى تميم ہى كى شاخ تھا ، اسنے بھى ان دونوں كى بيعت سے انكار كيا _

اس طرح طلحہ اور زبير نے بصرہ كے اكثر قبيلوں كو اپنى طرف مائل كر كے انھيں اپنى حمآیت و نصرت پر امادہ كر ليا _

دوسرى جنگ شروع ہوئي

جب لشكر عائشه كے سرداروں نے اپنے كو ہر طرح سے طاقتور ديكھ ليا تو ايك اندھيرى رات ميں ، جب سخت سردى تھى اور باد و باراں كا زور تھا ، اپنے كپڑوں ميں اسلحے چھپا كر جامع مسجد كى طرف چلے ،اور ٹھيك نماز صبح كے وقت مسجد ميں پہنچ گئے _

يہ وقت تھا كہ عثمان ابن حنيف محراب ميں تھے اور وہ لوگوں كو نماز پڑھانے كيلئے كھڑے ہو گئے تھے ، طلحہ و زبير كے ساتھيوں نے سامنے اكر انھيں محراب سے كھينچ ليا اور زبير كو ان كى جگہ پر كھڑا كر ديا ، اس موقع پر بيت المال كے محافظوں نے مسجد كے حالات كى خبر پاكر عثمان ابن حنيف كى نصرت ميں دوڑے اور زبير كو محراب سے كھيچ كر عثمان


ابن حينف كو پھر وہيں كھڑا كيا ، زبير كے ساتھيوں نے بھى دوسرى بار عثمان كو علحدہ كيا اور زبير كو ان كى جگہ پر بيٹھا يا ليكن پھر محافظوں نے سخت جد وجہد كى اور زبير كو پيچھے ہٹا كر عثمان كو محراب ميں پہنچا ديا _

يہ نزاع و كشمكش اور امام جماعت كى تبديلى اتنى دير تك جارى رہى كہ قريب تھا كہ سورج نكل ائے اور نماز صبح كا وقت ختم ہو جائے_

جو لوگ مسجد ميں تھے وہ چلانے لگے كہ اے مسلمانوں خدا سے ڈرو كہ نماز كا وقت جارہا ہے _

اخر كار اس اختلاف اور كشمكش كا نتيجہ يہ نكلا كہ زبير نے اخرى مر حلے ميں عثمان ابن حنيف پر كاميابى حاصل كر لى اور محراب پر قبضہ كر كے لوگوں كو نماز صبح پڑھائي كيونكہ ان كے ساتھى زيادہ تيار اور منصوبہ ميں پختہ تھے ، نماز پڑھانے كے بعد فوراً زبير نے حكم ديا كہ عثمان كو پكڑو اور گرفتار كر لو _

جيسے ہى يہ فرمان صادر ہوا زبير كے ساتھيوں نے اپنے كپڑوں سے تلواريں نكال ليں اورعثمان كے ساتھيوں پر حملہ كر ديا ، تھوڑى سى ردو كد مروان اور عثمان كے درميان واقع ہوئي ، عثمان ابن حنيف اور بيت المال كے محافظوں كى تعداد ستر تھى انھيں زبير كے ساتھيوں نے گرفتار كر ليا اور عثمان كو سخت اذيتيں دى ، اس قدر مار پيٹ كى كہ قريب تھا كہ وہيںان كى موت ہو جائے _

انہوں نے اسى پر بس نہيں كيا ان كى بھئوں اور سر اور چہرے كے بال كو قابل رحم حالت پر چھيل ڈالا _

اس طرح عائشه كا لشكر صلح كے باوجود اس جنگ ميں فتحمند ہوا اور شھر بصرہ پر قبضہ كر ليا _

جنگى قيديوں كى سر گذشت

ابو مخنف كا بيان ہے كہ :عائشه كے فوجيوں نے معاہدہ صلح كے بر خلاف گورنر ہائوس اور مسلمانوں كے بيت المال پر حملہ كر كے گورنر اور بيت المال كے محافظوں كو قيدى بنا ليا _

پھر انھيں عائشه كے سامنے پيش كيا گيا تاكہ ان لوگوں كے بارے ميں كوئي فيصلہ كريں وہ جيسا بھى حكم چاہيں ان لوگوں كے بارے مين حكم صادر كر ديں _

عائشه نے بھى ہر ايك كے بارے ميں الگ الگ فيصلہ سنايا _


محافظوں كى سر گذشت

عائشه نے بيت المال كے محافظوں كے بارے ميں اسطرح فيصلہ سنايا كہ زبير كو اپنے سامنے بلا كر كہا :

اے زبير انھيں لوگوں نے تم پر شمشير كھينچى تھى اور عثمان ابن حنيف اور بيت المال كا دفاع كيا تھا ، ان لوگوں كا قتل ،ميں تمھارے ذمہ قرار ديتى ہوں كہ ان كا سر تن سے جدا كر كے تلوار كا پانى پلائو _

ابو مخنف كا بيان ہے كہ يہ حكم پاتے ہى زبير نے اپنے فرزند عبداللہ كى مدد سے ان سب كے سر بھيڑ بكريوں كى طرح تن سے جدا كر ديا _

اس كا بيان ہے كہ :بيت المال كے محافظوں ميں ان ستر افراد كے علاوہ بھى كچھ ايسے تھے جو بيت المال كى حفاظت كيلئے بيت المال ميں موجود تھے اور طلحہ و زبير كو قبضہ نہيں كر نے دے رہے تھے ، زبير نے راتوں رات ان پر چڑھائي كر كے پراكندہ كر ديا اور بيت المال پر اپنا قبضہ جما ليا ، ان ميں پچاس ادميوں كو قيد كر كے تمام لوگوں كے سامنے بے رحمى سے گردن مار دى اور سب كى لاشيں ان ستر كے پہلو ميں ڈال ديں _

ابو مخنف لكھتا ہے كہ سقعب ابن زبير كے بيان كے مطابق اس دن قتل ہونے والے محافظوں كى تعداد چار سو تھى _

وہ مزيد كہتا ہے كہ :سب سے پہلا غدر اور حيلہ اسلام ميں يہى تھا جو طلحہ و زبير كے ذريعہ عثمان ابن حنيف كى بابت انجام پايا اور اسلام ميں مسلمانوں كا يہ پہلا گروہ تھا جو نہتّامظلومى كے عالم ميں تمام لوگوں كے سامنے انتہائي دردناك حالت ميں قتل كيا گيا ، يہ وہى بيت المال كے محافظوں كا گروہ تھا _

يہ تھى بيت المال كے محافظوں كى سر گذشت

پھر ابو مخنف لكھتا ہے كہ: طلحہ و زبير كا لشكر بيت المال كے محافظوں كو پراكند ہ كر نے اور قيد كرنے كے بعد بيت المال ميں داخل ہوئے ، جس وقت انكى نظر سونے چاندى اور بے شمار دولت پر پڑى تو مارے خوشى كے زبير نے يہ آیت پڑھى جو كفار سے جنگ كے بعد مال غنيمت حاصل ہونے سے متعلق ہے _

''وعدكم الله مغانم كثير ة تاخذو نها '' ( سورہ فتح آیت ۲۰)

اللہ نے تم سے وعدہ كيا ہے كہ بے شمار مال غنيمت اور بہت بڑى دولت تمھارے حصہ ميں قرار ديگا ، خدا نے بہت جلد اپنا وعدہ پورا كيا اور يہ بے شمار دولت تمھارے قبضے ميں ديدى اب ان سے فائدہ اٹھائو _


يہ آیت پڑھنے كے بعد زبير نے كہا :

ميں اس دولت و ثروت كا بصرے والوں سے زيادہ حقدار ہوں _

اس كے بعد ان كے سپاہيوں نے لوٹ مار شروع كر دى جو كچھ بيت المال ميں تھا سب كو ہڑپ ليا ، ليكن جس دن امير المومنين نے ان لوگوں پر كاميابى حاصل كى تو اس تمام دولت كو وآپس ليكر مسلمانوں كے درميان تقسيم كر ديا_

گورنر بصرہ كى سر گذشت

ابو مخنف نے عثمان ابن حنيف كا حال اسطرح لكھا ہے كہ :

انھيں عائشه كے سامنے پيش كيا گيا ، عائشه نے عثمان ابن عفان كے بيٹے ابان كو اپنے سامنے بلايا اور حكم ديا كہ اپنے بآپ كے انتقام مين عثمان كو قتل كر دو _

اور اپنے اس فرمان كى يہ توجيہ بيان كى كہ عثمان ابن حنيف اگر چہ قاتل عثمان نہيں ہيں ليكن قاتلوں كے مددگار ہيں ،اور مدد گار بھى قتل عثمان ميں شريك ہيں اس وجہ سے ہر اس شخص كا قتل جائز ہے جو مددگار ہو اور اس سے عثمان ابن عفان كا قصاص ليا جاسكتا ہے _

عثمان ابن حنيف نے جب اپنے كو خطرے ميں ديكھا تو عائشه اور ان كے ساتھيوں سے خطاب فرمايا :

سمجھ لو كہ ميرے بھائي سہل ابن حنيف مدينے كے گورنر ہيں ، اگر تم نے مجھے قتل كيا تو خدا كى قسم وہ چين سے نہيں بيٹھيں گے ،ا ور تمھارے خاندان كے تمام افراد كو ميرے انتقام ميں قتل كر ڈاليں گے ، كسى كو زندہ نہيں چھوڑيں گے ، خدا سے ڈرو اور اپنے خاندان كى ذلت اور بد بختى كے بارے ميں سوچو ، ميرے قتل كے خطرناك نتائج سے ڈرو _

عثمان ابن حنيف كى بات كا ان لوگوں پر برا اثر ہوا اور اس ڈر سے كہ كہيں مدينے ميں سھل اپنے بھائي كے انتقام ميں ہمارے رشتہ داروں كو نہ پكڑ ليں ، ان كے قتل سے باز ائے

ابو مخنف كا بيان ہے كہ: جب لشكر عائشه كے سرداروں نے عثمان ابن حنيف كے قتل كا ارادہ بدل ديا تو انھيں قيد خانے سے بھى ازاد كر ديا اور انھيںپيشكش كى كہ تمھيں اختيار ہے كہ بصرہ ميں رہو يا حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں اپنے كو پہنچا دو ، عثمان دوسرى بات اختيار كر كے بصرہ سے نكل گئے اور راستے ميں امام كے لشكر سے مل گئے ، جيسے ہى عثمان نے


امام كو ديكھا ان كى انكھوں سے انسو ئوں كى جھڑى لگ گئي اور كہا :

اے امير المومنين ميں جس دن آپ كے پاس سے چلا تھا ايك بوڑھا اور صاحب ريش تھا ، سفيد چہرہ تھا ، اور آج ميرى ہيئت ايسے جوان كى ہے كہ جس كے چہرے پر كوئي بال نہ ہو ميں اسى حالت ميں وآپس ہوا ہوں _

امير المومنين اس حادثہ و جرم سے جو عثمان كے ساتھ پيش ايا تھا اتنے غمگين اور متاثر ہوئے كہ بے اختيار فرمايا ، انا للہ وانا اليہ راجعون ، آپ نے مصيبت كے موقعہ پر دہرايا جانے والا يہ فقرہ تين بار دہرايا _

تيسرى جنگ

پہلے دن جب عائشه كا لشكربصرہ ميں داخل ہوا تھا عثمان ابن حنيف سے گھمسان كى جنگ ہوئي تھى اور بہت سے مسلمان لقمہ اجل ہوئے تھے اور اس جنگ كے بعد ايك صلحنامہ پر معاملہ ختم ہوا تھا _

ليكن طلحہ و زبير نے معاہدہ توڑ ديا اور مسجد و بيت المال پر حملہ كر كے دوسرى جنگ چھيڑ دى تھى ، يہ جنگ اس بات پر ختم ہوئي تھى كہ حضرت على كے گورنر كو نكال ديا گيا اور نگہبانوں كو قتل كيا گيا ، ليكن اسى كے بعد تيسرى جنگ بھى شروع ہو گئي جس كى تفصيل يہ ہے _

عثما ن ابن حنيف كے قيد اور جلا وطنى اور نگہبانوں كے قتل ہونے كى خبر حكيم ابن جبلہ كو ہوئي تو اپنے قبيلے كے تين سو افراد كے ساتھ جنگ كيلئے تيار ہو كر عائشه كے لشكر كى طرف بڑھے ، ان لوگوں نے بھى عائشه كو اونٹ پر سوار كيا اور حكيم كے لشكر كا مقابلہ كرنے پر تيار كر ديا دونوں لشكر كے درميان ايسى گھمسان كى جنگ ہوئي كہ مورخين نے اس كو چھوٹى جنگ جمل كا نام ديا اور امير المومنين كى جنگ كو بڑى جنگ جمل كہا ہے _

اخر كا ر اثنائے جنگ ميں قبيلہ ازد كا ايك شخص حكيم ابن جبلہ پر حملہ اور ہوا اس نے پائوں پر تلوار چلا كر بدن سے جدا كر ديا _

حكيم ابن جبلہ نے اپنے كٹے پائوں كو اٹھا كر بڑى شدت سے اس شخص پر كھينچ كر مارا كہ وہ زمين پر ڈھير ہوگيا پھر اپنے كو كشاں كشاںجاكر اس پر ڈال ديا ، وہ مرد ازدى حكيم ابن جبلہ كے بھارى بوجھ سے ايسا بے بس ہوا كہ ٹھنڈا ہو گيا ، حكيم ابن جبلہ بھى اس كے بے جان بدن پر اخر تك بيٹھے رہے ، ايك راھگير نے يہ منظر ديكھ كر ان سے پوچھا_


اے حكيم كس نے آپ كو يہ برا دن دكھايا _

حكيم نے كہا ، يہى شخص جو ميرے نيچے ہے _

اس راہ گير نے غور سے ديكھا تو ايك ازدى شخص ان كے بدن كے نيچے تھا _

حكيم ابن جبلہ اپنى بہادرى ميں مشھور تھے وہ اس طرح حق اور حقيقت كى طرفدارى ميں قتل كئے گئے اور شھادت سے سرفراز ہوگئے _

ابو مخنف كا بيان ہے كہ اس جنگ ميںوہ تمام تين سو افراد اور حكيم ابن جبلہ كے تين بھائي بھى قتل كر دئے گئے _

اس طرح تيسرى جنگ بھى لشكر عائشه كے حق ميں گئي اور پورا بصرہ شھر ان كے قبضے ميں اگيا ، اس تاريخ سے بصرہ كے تمام افراد يہاں تك كہ عائشه كے مخالف فوجيوں نے بھى لشكر عائشه كے سامنے ہتھيار ڈال ديئے اور ان سے مل گئے _

داخلى اختلافات

جب عثمان ابن حنيف بصرہ سے نكال ديئے گئے اور حكيم ابن جبلہ اپنے ساتھيوں كے ساتھ قتل كر ديئے گئے اور پورا بصرہ شھر بغير كسى ركاوٹ اور مزاحمت كے طلحہ اور زبير كے قبضے ميں اگيا تو اب كوئي اختلاف اور تصادم كى گنجائشے نہيں تھى ليكن اس بار داخلى كشمكش اور اختلاف شروع ہوگيا _

كيو نكہ طلحہ اور زبير دونوں ہى اس كوشش ميں تھے كہ پيش نماز ى انھيں حاصل ہو اور دونوں ايك دوسرے كے پيچھے نماز پڑھنے سے انكار كررہے تھے كيو نكہ ان كے خيال ميں يہ اقتداء ان كى اولويت كو ماننے كے مترادف تھى _

ان دونوں كا اختلاف بڑھتا گيا اور خطر ناك صورت اختيار كر گيا يہاں تك كہ خود عائشه نے اس معاملے ميں مداخلت كى انھوں نے اختلاف اس طرح ختم كيا كہ طلحہ وزبير عارضى طور سے پيش نمازى كے اپنے دعوے سے دستبردار ہو جائيں اور ان دونوں كے بجائے ان كے بيٹے بارى بارى لوگوں كو نماز پڑھائيں ، ايك دن محمد ابن طلحہ لوگوں كو نماز پرھائيں اور دوسرے دن عبداللہ ابن زبير _

ليكن ابن ابى الحديد كہتا ہے كہ عائشه نے طلحہ و زبير كا اختلاف ختم كرنے كيلئے حكم ديا كہ عبداللہ ابن زبير


عارضى طور سے نماز پڑھائے جبتك كہ عائشه كو اخرى فتح حاصل نہ ہوجائے ، اس كے بعد وہ اپنا فيصلہ سنائيں گى كہ ان دونوں ميں سے كون مستقل خليفہ بنايا جائے _

ايك دوسرا اختلاف

پھر ايك دوسرا اختلاف بھى طلحہ و زبير كے درميان پيدا ہو گيا وہ يہ كہ ان دونوں ميں سے كس كو امير كہہ كے خطاب كيا جائے اور امير كہہ كے سلام كيا جائے _

اس بارے ميں ابو مخنف كہتا ہے كہ طلحہ اور زبير كو سلام كرنے كى نوعيت كے بارے ميں مورخين كے درميان اختلاف ہے ، بعض تاريخوں ميں ہے كہ جب عائشه نے زبير كو سردار لشكر معين كيا تھا تو صرف انھيں كو خطاب كرتے ہوئے السلام عليك ايھا الامير كہا جاتا تھا _

ليكن دوسرے مورخين لكھتے ہيں كہ طلحہ اور زبير دونوں ہى كو امير كہہ كے خطاب كيا جاتا تھا ، اور سلام كے موقعہ پر دونوں ہى كو اس لقب سے سرفراز كيا جاتا تھا(۱) _

خطوط و پيغامات

طبرى كا بيان ہے كہ :حضرت علىعليه‌السلام ابن ابى طالب نے جب لشكر عائشه كے حالات سنے تو اپنے لشكر كے ساتھ مدينے سے زاويہ اور وہاں سے بصرہ كى طرف نكل پڑے _

لشكر عائشه كو بھى حضرت علىعليه‌السلام كے امد كى اطلاع ہوگئي اور بصرہ سے ان كے لشكر كى طرف بڑھا ، يہ دونوں لشكر اس جگہ ايك دوسرے كے امنے سامنے ہوئے جسے بعد ميں قصر عبيداللہ بن زياد كے نام سے پكارا جانے لگا _

ليكن تين روز تك دونوں لشكر كى طرف سے كسى قسم كى جنگ يا جھڑپ نہيں ہوئي ، ان تين دنوں ميں اكيلے

____________________

۱_ ان تمام مطالب ابن ابى الحديد نے ابو مخنف كے حوالے سے نقل كيا ہے


حضرت علىعليه‌السلام بطور اتمام حجت لشكر عائشه كے سرداروں كو بار بار خطوط لكھتے رہے يا كچھ لوگوں كو سفير بنا كر انكى جانب بھيجتے رہے ، كبھى كبھى خود بھى ان لوگوں سے براہ راست ملاقات فرماتے _ آپ كى كوشش تھى كہ كسى طرح بھى ہو يہ جنگ اور خونريزى نہ ہو ، اور آپ ان لوگوں كو فتنہ و فساد سے باز ركھ سكيں _

طلحہ و زبير كو خط

طبرى نے اس موقع پر اتنے ہى پر اكتفا كى ہے ، اور گفتگو يا اتمام حجت اور خطوط كا متن نہيں لكھا ہے ، ليكن كچھ گفتگو اور خطوط كو ابن قتيبہ ، ابن اعثم اور سيد رضى نے نقل كيا ہے انھيں ميں ايك خط حضرت على نے طلحہ و زبير كو لكھا تھا اسے آپ عمران بن حصين كے ذريعے انھيں بھيجا ، خط كا متن يہ ہے _

بعد حمد خدا اور صلواة بر رسول (ص) اے طلحہ اور اے زبير تم لوگ اچھى طرح جانتے ہو حالانكہ چھپا رہے ہو ، كہ ميں نے لوگوں كو نہيں بلايا تھا اور نہ اپنى بيعت كى خواہش كى تھى ، بلكہ لوگ خود ہى ميرى طرف بڑھے تھے اور ميرى بيعت كى خواہش كى تھى ، ميں نے بيعت كا ہاتھ انكى طرف نہيں بڑھايا تھا ، يہاں تك كہ ان لوگوں نے خود اپنى بيعت كا ہاتھ ميرى طرف بڑھايا ، اور تم دونوں نے بھى بغير اسكے كہ ميں تمھيں دعوت دوں ميرى طرف ائے تھے ، اور تم نے خود ہى ميرى بيعت كى تھى اور عہد و پيمان باندھا تھا _

ميرے پاس قدرت و توانائي نہيں تھى كہ لوگ ميرى بيعت كرتے ، ميرے پاس مال و دولت بھى نہيں تھا كہ اسكى لالچ ميں ميرى طرف اتے بلكہ انھوں نے اپنى خواہش اور اختيار سے ميرى بيعت كے لئے بڑھے اور مجھے اس عہدے كے لئے منتخب كيا _

تم نے بھى اگر اپنے اختيار سے ميرى بيعت كى اور عہد كيا ، تو اب جتنى جلدى ہو سكے وآپس ائو اور بيعت شكنى سے ، جو بد ترين عمل ہے ، نادم و پشيمان ہو كر اپنے جرم سے توبہ كرو _

اور اگر تم نے بغير ميلان اور رغبت كے بيعت كى تھى اور دل ميں نا فرمانى اور گناہ كى نيت ركھتے تھے تو اپنے عمل سے خود ہى تم نے اعتراض كے دروازے كھولے ، كيونكہ بغير كسى زور زبردستى كے جس پر ايمان نہيں ركھتے تھے اسكا مظاہرہ كر كے نفاق كى ڈگر اپنائي ، اور اب جو تقيہ كى بات كر رہے ہو تو خداكى قسم يہ لچر بہانے كے سوا كچھ بھى نہيں ، كيونكہ


جو لوگ تم سے كمزور اور طاقت و حيثيت كے اعتبار سے كمتر تھے ، وہ خوف و تقيہ كے زيادہ سزاوار تھے ، انھوں نے نہ تقيہ كى بات كى اور نہ اپنى بيعت كو خوف و تقيہ پر بنا ء كيا _

اگر تم دونوں نے پہلے دن ميرى بيعت نہ كى ہوتى ، عہد و پيمان نہ باندھا ہوتا تو تمھارے لئے اس سے بہتر تھا كہ آج بيعت توڑدى تمھارى اس بيعت شكنى اور جنگ و خونريزى كا بہانہ يہ ہے كہ تم نے قتل عثمان كا الزام ميرے اوپر تھوپا ہے اور اپنے كو اس جرم سے برى قرار دے رہے ہو _

اس حقيقت كو واضح كرنے كيلئے كيا ہى بہتر ہوتا كہ ميرے اور تمھارے بارے ميں سوال كيا جائے كہ كون اس سے علحدہ تھا اور ايك تيسرا شخص بغير جانبدارى كے اس بات كى تحقيق كرے اور جسے بھى قتل عثمان ميں شريك پائے ، يا جتنى مقدار ميں خون عثمان اسكى گردن پر ہو وہ اپنے مقدار جرم كے مطابق سزا پائے _

پس اے طلحہ اور اے زبير اے بوڑھو اس فاسد خيال اور خطرناك ارادے سے باز ائو ، بات بنانے اور بہانے كرنے كا سلسلہ ختم كرو ، جنگ و خونريزى سے پر ہيز كرو _

اے طلحہ و زبير ، آج تم صرف عار و ننگ سے ڈر رہے ہو ليكن اگر تم نے ميرى نصيحت پر عمل نہ كيا تو كل قيامت كے دن اتش جہنم ميں جھونك ديئے جائو گے(۲)

زبير كو پيغام

امير المومنين نے طلحہ و زبير كو يہ خط لكھا ، اس خط كے علاوہ بھى خاص طور سے اپنے چچيرے بھائي ابن عباس كو زبير كے پاس بھيجا اور انھيں يہ حكم ديا _

اے ابن عباس جس وقت تم ميرا يہ پيغام زبير كو پہونچائو تو وہاں پر طلحہ موجود نہ ہو ، كيونكہ وہ شخص نہآیت متكبر اور خود پسند ہے ، اسكے اندر ذرا بھى لوچ نہيں ، وہ انتہائي فتنہ انگيز اور ہنگامہ پر ور ہے ، وہ اپنا مطلب بر لانے كيلئے ہر ذليل حركت پر امادہ ہو سكتا ہے ، اپنى جہالت ونادانى سے سخت اور خطر ناك كاموں كو اسان و ہموار بتاتا ہے _

اے عبداللہ ، تم اكيلے زبير ہى سے ملاقات كرنا كيونكہ وہ بڑى حد تك نرم اور ملائم مزاج كا ادمى ہے _

____________________

۲- ( شرح نہج البلاغہ ، الامامة و السياسة ، ابن اعثم )


اے عبداللہ ، زبير سے ملاقات كر كے كہنا كہ تمھارى خالہ كا بيٹا على كہتا ہے كہ اخر كيا بات ہوئي كہ تم نے حجاز ميں مجھے پہچان ليا ، ميرى بيعت كر لى ليكن اب عراق ميں مجھے فراموش كر ديا ہے اور غيريت برت رہے ہو ؟

اے زبير تم نے كيسے اپنا مزاج بدل ديا ، مجھ سے جو مہر و محبت كا برتائو عہد شكنى اور نفرت وعناد ميں بدل ديا (فما عدا مما بدا )(۳)

اس موقع پر ابن عساكر نے كچھ اضافہ كيا ہے ، وہ لكھتے ہيں كہ حضرت علىعليه‌السلام نے زبير كو پيغام بھيجا كہ اے زبير كيا تم نے اس دن اپنى خوشى خاطر سے ميرى بيعت نہيں كى تھى ؟اج كيا ہوا كہ ميرا خون بہانے پر امادہ ہو ، مجھ سے جنگ كرنے كو اپنى لازمى ذمہ دارى سمجھ رہے ہو ؟

ابن عباس كا بيان ہے كہ مجھے جو ذمہ دارى سونپى گئي تھى اسے بجالايا ، حضرت على كى بات زبير تك پہونچا دى ليكن زبير نے اس ايك بے سر وپير كے جملے كے سوا كچھ نہ كہا كہ ہم خوف و ہراس كى حالت ميں ہيں ليكن اسى حالت ميں دل كے اندر خلافت كى ارزو بھى ركھتے ہيں_(۴)

ابن عباس مزيد كہتے ہيں كہ ہمارى گفتگو ميں عبداللہ بن زبير بھى شريك تھا ، اس سے پہلے كہ زبير كچھ كہيں اس نے جھٹ مجھ سے كہا :

اے ابن عباس على سے كہہ دو كہ ہمارے تمھارے درميان كچھ اختلافات ہيں _

ہم خون عثمان كا مطالبہ كر رہے ہيں ، ہم چاہتے ہيں كہ تم بھى خليفہ دوم كى طرح خلافت كو شورى كے حوالے كر دو اور خود كنارہ كش ہو جائو

ہمارا نظريہ ہے كہ خليفہ دوم نے شورى كے جن دو اركان طلحہ و زبير كو معين كيا تھا وہ متفق الرائے ہيں _ ليكن تم اكيلے ہو اور اقليت ميں ہو مسلمانوں كى رائے كے علاوہ ام المومنين عائشه كى رائے بھى ان دونوں كے

____________________

۳_ يہ مثل عرب ميںاس وقت بولى جاتى ہے كہ اخر كيا بات ہوئي كہ ايسا ہو گيا ؟ شرح نہج البلاغہ ج۱ ص۷۲ ، عقد الفريد ج۲ ص۳۱۴ ، اغانى ج ۱۶ ص ۱۲۷ ، تاريخ دمشق ج۵ ص۳۶۳ _۳۶۵

۴_شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۲ ص ۱۶۵ ، اغانى ج ۱۶ ص ۱۲۶


موافق ہے ، ان دليلوں كى بنياد پر خلافت ميں تمھارا ذرہ برابر بھى حصہ نہيں ہے(۵)

ابن عباس جيسے نكتہ سنج اور دانشمند كى رائے اس بارے ميں يہ ہے كہ ميں نے عبداللہ بن زبير كے اس جواب سے سمجھ ليا كہ يہ لوگ مصالحت كى رائے نہيں ركھتے ، ان كا مقصد سوائے جنگ و خونريزى كے كچھ نہيں ، وہاں سے ميں نے حضرت على كى خدمت ميں اكر تمام باتيں بيان كر ديں

عائشه كو پيغام

حضرت علىعليه‌السلام نے دوبارہ ابن عباس كو بلايا اور انھيں حكم ديا كہ زيد بن صوحان كے ساتھ عائشه كے پاس جا كر كہو كہ اے عائشه تمہارے لئے پروردگار كا حكم يہ ہے كہ مرتے دم تك اپنے گھر ميں رہو ، اپنے گھر سے باہر نہ نكلو ليكن ميں كيا كروں ؟ كچھ لوگوں نے تمھيں فريب ديكر خانہ بدر كر ديا ہے ، اور اپنا الّو سيدھا كر نے اور مقصد حاصل كرنے كيلئے تمھيں اپنا ہم خيال بنا ليا ہے اور كچھ مسلمانوں نے تمہارى ہم اہنگى سے ان لوگوں كے بارے ميں دھوكہ كھايا ہے ، اور اپنے كو موت و ہلاكت ميں جھونك ديا ہے ، ا س طرح بد بختى كو اپنا مقدر بنا ليا ہے _

اے عائشه تمھيں اپنے گھر وآپس چلا جانا چاہيئے ، اور مسلمانوں ميںجنگ و خونريزى برپا كرنے سے پرہيز كرنا چاہيئے _

اے عائشه ، ہوش ميں اجا ، اگر تو اپنے گھر ميں وآپس نہ ہو گى تو جس اختلاف كى اگ بھڑكا ئي ہے وہ واقع ہو كر رہے گى اور بہت سے لوگوں كو اپنا لقمہ بنا ليگى _

اے عائشه تيرى ذمہ دارى سنگين ہے خدا كے غضب سے ڈر ، اس عظيم گناہ سے توبہ كر خدا تيرى توبہ قبول كرنے والا ،اور گناہوں سے صرف نظر كرنے والا ہے _

اے عائشه تجھے طلحہ كى رشتہ دارى اور عبداللہ بن زبير كى محبت اتش جہنم كى طرف نہ كھينچ لے جائے اور

____________________

۵_ اس جواب كو ابن عبد ربہ نے عقد الفريد ج۴ ص ۳۱۴ ميں خود زبير سے منسوب كيا ہے ،ليكن ابن ابى الحديد اور ابن عسا كر نے ابن زبير سے منسوب كيا ہے ، جواب كا لہجہ بھى بتا رہا ہے كہ يہ زبير كے بجائے ابن زبير ہى كا جواب ہو سكتا ہے _


عذاب جہنم ميں نہ گرفتار كر دے(۶)

يہ حضرت علىعليه‌السلام كے خطوط اور پيغامات كے نمونے تھے جنھيں آپ نے جنگ روكنے كے سلسلہ ميں اتمام حجت اورہر قسم كے بہانوں كى راہ بند كرنے كيلئے لشكر عائشه كے سرداروں كے پاس بھيجے

طلحہ و عائشه كا جواب

حضرت على نے جن لوگوں كو مامور فرمايا تھا انھوں نے عائشه كے پاس آپ كا پيغام پہونچا ديا

عائشه نے جواب ميں كہا كہ ميں على سے بات نہيں كرونگى نہ انكى بات كا جواب دونگى ، كيو نكہ مجھے على كى طاقت لسانى اور حسن بيان كا مقابلہ كرنے كى تاب نہيں ، حضرت على كے پيغام بروں نے عائشه كے پاس سے وآپس جاكر انكى بات حضرت علىعليه‌السلام سے بيان كر دى(۷)

بعض تاريخ نگاروں نے لكھا ہے كہ طلحہ نے اپنے ساتھيوں سے كہا :

اے لوگو على كے لشكر پر چڑھ دوڑو اور ان كے ايلچيوں كى بات پر كان نہ دھرو ، كيونكہ على كى طاقت لسانى اور حسن بيان كے مقابلے ميں اپنے نظر يئے كى حفاظت نہ كر سكو گے انكى باتوں كى وجہ سے متاثر ہو جائو گے اور اپنے عقيدے سے ہاتھ دھو بيٹھو گے(۸)

اس طرح طلحہ نے آپ كى منطقى باتوں كا جواب مغالطہ بازى سے ديا _

____________________

۶_ ترجمہ تاريخ ابن اعثم ص ۱۷۵

۷_ تاريخ ابن اعثم ص ۱۷۵

۸_ تاريخ ابن اعثم ص ۱۷۵


ہيجان انگيز تقريريں

عبداللہ بن زبير كى تقرير

جيسا كہ پہلے اشارہ كيا گيا ان تين دنوں ميں جبكہ حضرت علىعليه‌السلام اور عائشه كا لشكر امنے سامنے تھا اور بالكل تيار كھڑا تھا حضرت علىعليه‌السلام نے وہ تمام ممكنہ وسيلہ اختيار كيا جس سے جنگ كى اگ ٹھنڈى ہو جائے اور فتنہ ختم ہو جائے _

ليكن لشكر عائشه حضرت امير المومنين كے بر خلاف جنگ كى اگ بھڑ كانے كيلئے برابر گرم اور ہيجان انگيزتقريريں كرتا رہا اور اپنى اتشيں باتوں سے لوگوں كو ابھارتارہا انہى ہيجان تقريروں ميں ايك عبداللہ ابن زبير كى اتشيں تقرير ہے جو فوجيوں كو ابھارنے كيلئے كى گئي ، وہ يہ تھى _

اے لوگو ہوش ميں اجائو ، على ابن ابى طالب نے خليفہ بر حق عثمان كو قتل كيا ، آج وہ ايك لشكر جرار ليكر تمھارے محاذ پر كھڑے ہيں وہ چاہتے ہيں كہ تم لوگوں پر مسلط ہو جائيں اور تمام اختيارات اور معاملات اپنے ہاتھ ميں لے ليں ، تمہارے شہر پر قبضہ كر ليں ، تمھيں چاہيئے كہ اپنى تمام قوتوں اور توانائيوں كو اكٹھا كر كے مردانہ وار اٹھ كھڑے ہو ، اپنى بود و باش اور اب و ہوا كو على كے ظالمانہ ہاتھوں سے محفوظ كرو ، اپنے استقلال و شرافت اور اپنى عورتوں اور بچوں كا دفاع كرو_

اے بصرہ والو تم كيسے اس ذلت و خوارى پر راضى ہو جائو گے كہ كوفے والے تمھارى سر زمين پر چڑھ دوڑيں اور تمھيں اپنے شہر و ديار سے نكال باہر كرديں _

اے لوگو اٹھ كھڑے ہو ، تم ان پر غضبناك ہو جائو ،كيونكہ وہ تم سے غضبناك ہيں ، تم ان سے جنگ كرو كيو نكہ وہ تم سے جنگ پر امادہ ہيں _

اے لوگو على اپنے سوا كسى كو اس خلافت كا لائق و سزوار نہيں سمجھتے ،خدا كى قسم اگر وہ تم پر كامياب ہوگئے تو تمھارى دين و دنيا كو تباہ كر دينگے _

عبداللہ ابن زبير نے لوگوں كو ابھارنے كيلئے ايسے ہى لچر داراور لوچ مطالب پر مشتمل بہت زيادہ باتيں كہہ ڈاليں_

امام حسنعليه‌السلام نے جواب ديا

عبداللہ بن زبير كى باتيں جب امام كے كانوں ميں پڑيں تو آپ نے بھى اپنے فرزند امام حسن سے فرمايا :

بيٹے تم بھى اٹھ كر عبداللہ ابن زبير كا جواب دو ، امام حسن كھڑے ہوئے اور حمد و ثنا ئے الہى كے بعد لوگوں سے كہا ، اے لوگو جو باتيں عبداللہ بن زبيرنے ميرے بابا حضرت على كے بارے ميں كہيں ، ہم نے اسے سنا ، اس نے ميرے بابا پر


قتل عثمان كا الزام لگايا ہے ، اس كے علاوہ بھى مہمل اور بيكار باتيں زبان پر جارى كى ہيں ، حالانكہ تمھارا ہر شخص جانتا ہے كہ اس كا بآپ زبير عثمان كے بارے ميں كيا كيا بد گوئياں كرتا ہے ؟ اور كيسے كيسے برے القاب سے نوازتا رہا كيا كيا تہمتيں اور جھوٹى باتيںعثمان كے خلاف گڑھتا رہا ؟ سب كو ياد ہے كہ عثمان كى حيات و خلافت كے زمانے ميں طلحہ نے اتنى جرائت پيدا كر لى تھى كہ بيت المال كے كوٹھے پر ايك دن پرچم لہرا كر عملاً اپنى مخالفت كا اعلان كر ديا تھا ، ايسے بد ترين ماضى كے ساتھ جو انھوں نے عثمان سے برتا آج وہ ميرے بابا پر قتل كا الزام كيسے لگا رہے ہيں ، اور كس منھ سے برائي كر رہے ہيں ؟ اگر ميں بھى چاہوں تو ان دونوں كے بارے ميں اس سے زيادہ باتيں كہہ سكتا ہوں اور اس سے بہت زيادہ حقائق روشن كر سكتا ہوں _

ليكن اس نے جو يہ بات كہى ہے كہ حضرت على لوگوں كى مرضى كے خلاف غاصبانہ طريقے سے ان پر حكومت كر رہے ہيں ، اس نا مناسب اور جھوٹے اعتراض كے مقابل ،ميں بھى اس كے بآپ پر اعتراض كرتا ہوں كہ زبير نے بغير كسى جواز كے ميرے بآپ كى بيعت توڑ دى اور اس نامناسب عمل كى ، يہ توجيہ كررہے ہيں كہ ان كى بيعت مرضى اور رغبت سے نہيں تھى _

يہ بات نہ تنہا ان كے عمل كو جائز نہيں ٹھہراتى بلكہ ان كے عصيان اور مخالفت كو بھى اشكار كرتى ہے كيونكہ وہ اپنى اس بات سے اپنى بيعت كا اعتراف تو كر رہے ہيں اور اپنے عہد كا برملا اظہار بھى كر رہے ہيں اس طرح وہ اپنى شخصيت كو بيعت شكن كى حيثيت سے متعارف كرا رہے ہيں _

يہ جو عبداللہ نے بات كہى ہے كہ كوفيوں كا لشكر بصرہ والوں پر مسلط ہو جائيگا يہ انتہائي مضحكہ خيز ہے كيو نكہ باطل پر حق كا تسلط اور باطل كو خاك چٹانا تعجب خيز بات نہيں ، يہ فطرى بات ہے كہ جب حق ميدان ميں اترتا ہے تو باطل اپنا بوريہ بستر باندھ كر جگہ خالى كر ديتا ہے_

اس نے عثمان كے مددگاروں كے بارے ميں بھى بات كہى ہے كہ جو واقعى مغالطہ سے بھر پور ہے كيو نكہ ہم عثمان كے ساتھيوں سے كوئي اختلاف نہيں ركھتے نہ ان سے جنگ كر رہے ہيں ، ہمارا مقصد صرف يہ ہے كہ يہ شتر سوارعورت اور اس كے ساتھيوں سے جنگ كى جائے ، يہ لوگ بھى واقعے ميں عثمان اور اس كے ساتھيوں سے كوئي ارتباط نہيں ركھتے(۹)

____________________

۹_ ترجمہ تاريخ ابن اعثم ص ۱۷۴ ، تاريخ جمل تاليف شيخ مفيد ص ۱۵۹ _ ۱۵۸


حضرت علىعليه‌السلام كى اخرى تقرير

امير المومنين نے ان تين دنوں ميں صلح و صفائي كى بہت كوشش كى اور اس راہ ميں اپنى تمام توانائياں صرف كر ڈاليں ليكن افسوس كى بات يہ ہے كہ كوئي نتيجہ بر امد نہ ہوا اور آپ كے ايلچى لشكر عائشه سے نا اميد وآپس ائے اور امير المومنين كو بتا ديا كہ طلحہ و زبير جنگ كا مصمم ارادہ كئے ہوئے ہيں _

اس وقت حضرت علىعليه‌السلام اپنے لشكر كے درميان كھڑے ہوئے اور اخرى بار آپ نے يہ تقرير فرمائي :

حمد و ثنائے الہى اور پيغمبر پر صلوات كے بعد ارشاد فرمايا :

ميرے ساتھيو ميں نے ان لوگوں كو تين دن مہلت دى اور اس مدت ميں انھيں بيعت شكنى سے باز ركھنے كى كوشش كى ان كے طغيان و سر كشى كو ثابت كيا تاكہ شايد اپنے جاہلانہ ارادے سے باز اجائيں ، ليكن انھيں شرم نہيں ائي اور اپنے ارادے سے باز نہيں ائے اور اب انھوں نے ميرے پاس پيغام بھيجا ہے كہ امادئہ جنگ ہو جائوں اور ان كے نيزہ و شمشير كو اپنے اوپر قبول كروں _

وہ لوگ كہتے ہيں كہ على كو باطل ارزوئوں نے مغرور بنا ديا ہے خواہشات نفسانى نے فريب ديا ہے ، ان كى باتوں پر افسوس ہے ، ان كى مائيں ان كے سوگ ميں بيٹھيں ، كيونكہ وہ باطل كى راہ پر چل پڑے ہيں ، مجھے جنگ كى پرواہ نہيں كہ مجھے جنگ (تلوار اور نيزے ) سے ڈرا يا جائے ، ہاں ، جو مجھے نيزہ و تلوار كى دعوت ديتا ہے وہ انصاف سے دور نہيں جارہا ہے ، كيونكہ ميں اول روز سے نيزہ و تلوار سے اشنائي ركھتا ہوں ''و لقد انصف القاره من راماها ''(۱۰) ان لوگوں نے ميرے جنگ اور عملوں كو ديكھا ہے اور ميرى ضرب كو اپنى انكھوں سے مشاہدہ كيا ہے ، انھيں ميرى تلوار كا سامنا كرنے كيلئے تيار ہو جانا چاہيئے نہ كہ مجھے جس كو امادہ ہونے كى كوئي ضرورت نہيں ہے ، كيو نكہ ميں وہى فرزند ابو طالب ہوں جس نے مشركوں كى مضبوط صفيں توڑيں ہيں اور ان كى جميعت كو پراكندہ

____________________

۱۰_ قارہ قريش كے قبيلے تھے جو تير اندازى ميں مشہور تھے اسى وجہ سے ان لوگوں كو بطور ضرب المثل كہا جاتا تھا كہ جو شخص قبيلہ قارہ كو تير اندازى كى دعوت دے اس نے انصاف كيا _


كيا ہے ، آج بھى ميں وہى مضبوط بازو اور دل كے ساتھ ان پر حملہ كروں گا اور ان كى صفيں درہم برہم كروں گا _

اے لوگو ميں اپنے مقصد پر ايمان ركھتا ہوں اور حق و عدالت پر گامزن ہوں اسى وجہ سے يقين ركھتا ہوں كہ اللہ ميرى نصرت و مدد فرمائيگا اور مجھے كاميابى عطا كريگا _

اے لوگو سمجھ لو كہ موت انسان كى اخرى سر نوشت ہے وہ سب كو اپنے گھيرے ميں لے لے گى اور كسى كو اس كے چنگل سے نجات نہيں اگر كوئي شخص ميدان جنگ ميں بھى قتل نہ ہو تو انپى طبعى موت سے مرے گا ،پس كيا اچھا ہے كہ يہ انسان خدا كى راہ ميں اور اس كى رضا و خوشنودى كيلئے جان دے اور اللہ كى راہ ميں اپنا خون قربان كر دے _

على كے خداكى قسم اگر ہزار مرتبہ بھى ميدان جنگ ميں قتل كيا جائوں تو يہ ميرے لئے اس سے كہيں زيادہ پسند يدہ ہے كہ ميں نرم بستر پر اپنى موت مروں _

اس تقرير كے بعد امير المومنين نے اپنا رخ اسمان كى طرف كر كے كہا خدايا طلحہ نے ميرى بيعت توڑى اور مجھ سے جو عہد كيا تھا روند ڈالا ، اس نے لوگوں كو عثمان كے خلاف بھڑكايايہاں تك كہ وہ قتل كئے گئے پھر ميرے اوپر اس قتل كا الزام لگا ديا _

پرور دگارا تو اس بات پہ اسے مہلت نہ دے _

اے مہر بان خدا زبير نے ميرے ساتھ قطع رحم كيا ، ميرى بيعت توڑى ، ميرے دشمنوں كى مدد كى ، خدايا ، اپنى ہر راہ سے مجھے اس كے شر سے محفوظ ركھ

حضرت على نے يہى پر اپنى تقرير ختم كى اس كے بعد ابن اعثم كے بيان كے مطابق دونوں لشكر ايك دوسرے كى طرف بڑھنے لگے اور ايك دوسرے سے نزديك ہو گئے

اس موقعہ پر حضرت على كے لشكر كى تعداد بيس ہزار تك پہنچ گئي تھى ، طلحہ و زبير كے لشكر كى تعداد تيس ہزار تھى(۱۱) _

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے جنگى پروگرام كا اعلان فرمايا

طبرى كا بيان ہے كہ حضرت على اور عائشه كے لشكر نے بروز پنجشنبہ ۱۵ جمادى الثانيہ ۳۶ھ امنے سامنے

____________________

۱۱_ ترجمہ تاريخ ابن اعثم ص ۱۷۵ ، ابن ابى الحديد ج۱ ص ۱۰۱


صف ارائي كى(۱۲) تين دن تك تيار حالات ميں كھڑے رہے ، حملہ يا كوئي جنگ ان كے درميان واقع نہيں ہوئي ، ان تين دنوں ميں حضرت علىعليه‌السلام كى كوشش رہى كہ معاملہ صلح و صفائي پر انجام پا جائے ، ليكن اپنى كو شش كا كوئي نتيجہ نہ ديكھا ، آپ صلح سے قطعى مايوس ہو گئے ، آپ نے جب ملاحظہ فرمايا كہ جنگ بہر حال ہو كر رہے گى تو اپنے لشكر كى تنظيم كيلئے عمومى پروگرام كا اعلان فرمايا ، مورخين نے حضرت علىعليه‌السلام كے جنگى پروگرام كو تفصيل سے بيان كيا ہے _

حاكم نے مستدرك ميں اور ملا على متقى نے كنزالعمال ميں يحيى بن سعيد كے چچا كا بيان نقل كيا ہے _

جنگ جمل كے دن حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے لشكر والوں كے سامنے بلند اواز سے اعلان فرمايا :

اے لوگو تم دشمن كى طرف تير اندازى نہ كرو ، كسى پر تلوار يا نيزے سے حملہ نہ كرو ، جنگ و خونريزى ميں سبقت نہ كرو ، ان سے نرمى اور ملائمت سے بات كرو_

اے لوگو اگر كوئي شخص اس خطرناك موقعہ پر ہدآیت كى راہ پالے تو قيامت كے دن بھى ہدآیت يافتہ رہيگا _

اس پروگرام كو نقل كرنے والے ايك شخص كا بيان ہے كہ ہم ظہر تك اسى حالت انتظار ميں رہے اور حضرت على كے فرمان كے مطابق جنگ ميں پہل نہيں كى ليكن عائشه كے لشكر سے اوازيں اور فرياديں بلند ہوتى رہيں ، يا لثارات عثمان ، اے عثمان كا انتقام لينے والو اٹھو يہ اواز پورے صحرا ميں گونجتى رہى _

محمدبن حنفيہ ہاتھ ميں علم ليكر اپنے والد كے اگے ايك ٹيلے پر كھڑے تھے وہ دشمن كے لشكر كو اچھى طرح ديكھ سكتے تھے اور ان كى اوازيں پورے طور پر سن سكتے تھے امام نے انھيں پاس بلا كر پوچھا ، اے محمد يہ لوگ كيا كہہ رہے ہيں ؟ اور ان كى اوازيں كيو ں بلند ہے ؟

محمد نے كہا بابا جان ، يہ جنگى شعار بلند كر رہے ہيں ، يالثارات عثمان ، اس طرح وہ اپنے ساتھيوں كو انتقام خون عثمان پر ابھار كر جنگ كيلئے امادہ كر رہے ہيں _

اس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے ہاتھ بلند كر كے دعا كي اے خدا آج تو قاتلان عثمان كو ذلت كى خاك چٹا دے اور انھيں نا كام كر دے ،(۱۳) دوسرے مورخين نے لكھا ہے كہ اس دن دونوں لشكر امنے سامنے ہوئے تو حضرت على نے اپنے ساتھيوں سے فرمايا :

____________________

۱۲_ طبرى ج۵ ص ۱۹۹ ، اغانى ج ۱۶ ص ۱۲۶

۱۳_ مستدرك ج۳ ص ۳۷۱، كنز ل العمال ج ۶ ص ۸۵ حديث ۱۳۱۱


جب تك دشمن جنگ شروع نہ كرے تم جنگ ميں پہل نہ كرنااور ان پر سبقت نہ كرنا ، پھر فرمايا : خدا كا شكر ہے كہ حق ہمارے ساتھ ہے اور جنگ ميں پہل نہ كرنا بھى ہمارى حقانيت كى دليل ہو گى اس كے بعد فرمايا :

جنگ شروع ہونے كے بعدجو نيزے سے زخمى ہو جائے اسے قتل نہ كرنا ، كاميابى كے بعد بھاگنے والوں كآپيچھا نہ كرنا ، مقتولوں كو عرياں نہ كرنا ، اور ان كے جسم كا مثلہ نہ كرنا ، اگر دشمن كے گھروں پر پہنچنا تو بے پردگى نہ كرنا ، ان كى عورتوں پر زيادتى نہ كرنا ، گھر كے اندرونى حصے ميں داخل نہ ہونا اور نہ ان كا مال و دولت لوٹنا _(۱۴)

اس موقعہ پر مسعودى نے اضافہ كيا ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے ساتھيوں سے كہا كہ دشمن كى جو دولت ميدان جنگ ميں مل جائے اسے مال غنيمت كى طرح مت لوٹنا ،ان كى عورتوں كو تكليف نہ پہچانا چاہے وہ تمھيں گالياں بھى ديں اور تمھارے بزرگوں كو برا بھلا بھى كہيں كيونكہ ان كى عقل ناقص ہے ، رسول خدا (ص) نے ان كى اذيت سے منع كيا ہے چاہے وہ كافر ہى ہوں ، بالاخر معمولى زيادتى بھى يہاں تك كہ عورتوں كو سرزنش بھى ممنوع ہے _

حضرت علىعليه‌السلام نے قرآن كے ذريعہ اتمام حجت فرمايا

حضرت على نے صلح و صفائي كى اپنى كو شش كا كوئي نتيجہ نہ ديكھا تو قران سے تمسك اختيار كيا كہ دشمن پر اس سے اتمام حجت كيا جائے _

آپ نے قران ہاتھ ميں ليكر بلند اواز سے فرمايا :

تم ميں كون ہے ، كہ اس قران كو ہاتھ ميں ليكر دشمن كو اس كى طرف دعوت دے يہاں تك كہ وہ اس راہ ميں جان سے ہاتھ دھو بيٹھے گا اور شھادت سے سرفراز ہو گا _

اس وقت ايك جوان سفيد لباس ميں ملبوس پڑا ہوا ، اس نے كہا اے علي ميں اس موت كى راہ كو عاشقانہ طريقے پر اپنے لئے خريدتا ہوں _

حضرت علىعليه‌السلام نے دوسرى بار لوگوں سے فرمايا :

كون ہے جو اكيلے اس لشكر كے سامنے كھڑا ہو اور انھيں قران كى دعوت دے ، اس راہ ميں حتمى موت سے نہ ڈرے _

وہ جوان دوسرى بار بھى كہنے لگا يا امير المومنين ميرى جان آپ پر فدا ، ميں اس ذمہ دارى كيلئے نيزہ و شمشير سے ہراساں نہيں ہوں اور نہ مجھے موت كى پرواہ ہے _

____________________

۱۴_ يعقوبى ج ۲ ص ۱۵۷ _ ۱۶۰ ، مروج الذھب ج۵ ص ۱۸۸ ، ترجمہ تاريخ ابن اعثم ، اغانى ج ۶ ۱ ص ۱۲۷ ، شرح نہج البلاغہ


امير المومنين نے قران اس جوان كے حوالے كيا ، اور و ہ دشمن كى طرف روانہ ہو گيا ، اس نے عائشه كے فوجيوں كو قران ہاتھ ميں ليكر دعوت دى اس حال ميں لوگ اس پر ٹوٹ پڑے اور اس كا ہاتھ جسم سے جدا كر كے زمين پر ڈال ديا _

اس جوان نے بھر پور حوصلے كے ساتھ قران بائيں ہاتھ ميں لے ليا اور انھيں تبليغ كرتا رہا ، لوگوں نے پھر اس پر حملہ كر كے بائياں ہاتھ كاٹ ڈالا ، وہ اس حالت ميں كہ قران اس كے سينے پر تھا اور خون اس كے دونوں ہاتھوں سے جارى تھا اپنى جان جاں افريں كے سپرد كر دى(۱۵)

طبرى نے يہ داستان اس طرح لكھى :

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے ساتھيوں سے فرمايا: كہ كون ہے جو اس قران كو ہاتھ ميں ليكر دشمن كے سامنے جائے اور انھيں اطاعت فرمان كى دعوت دے اور ايسى استقامت و فدا كارى كا مظاہرہ كرے كہ اگر ہاتھ بھى كٹ جائے تو قران دوسرے ہاتھ ميں ليلے ، اور اگر دوسرا ہاتھ بھى كٹ جائے تو قران دانتوں سے دبا لے اور لوگوں كو اس كے حقائق كى تبليغ كرے _

اس موقعہ پر ايك نو جوان كھڑا ہوكر بولا يا على ، ميں

_ ہاں ، اے امير المومنين يہ ذمہ دارى مجھے ديجئے

على نے اپنى پيشكش دوبارہ سب كے سامنے ركھى ليكن اس غيرتمند جوان كے سوا كوئي بھى اس ذمہ دارى كيلئے امادہ نہيں ہوا كہ جس ميں لازمى طور سے موت تھى _

حضرت علىعليه‌السلام نے اس وارفتہ جوان سے فرمايا كہ: دشمن كى طرف جائو اور ان كے سامنے يہ قران پيش كرو ، ان سے كہو كہ يہ قران ہمارے اور تمھارے درميان فيصلہ كرنے والا اور حاكم ہے ، اسميں جو بھى حكم ہو ہميں اسى كے مطابق عمل كرتے ہوئے خونريزى اور برادر كشى سے پرہيز كرنا چاہيئے _

وہ جوان گيا اور اپنى ذمہ دارى اچھى طرح نبھائي يہاںتك كہ دعوت قران كى راہ ميں اس كے ہاتھ كٹ گئے اس نے قران كو دانتوں سے دبا ليا اور تبليغ كرتا رہا يہاں تك كہ اپنى جان ديدى _

اس واقعہ كے بعد امير المومنين نے فرمايا ، اب ان لوگوں پر ہر حيثيت سے حجت تمام ہو گئي اور ہمارے لئے ان سے جنگ واجب ہوگئي(۱۶)

____________________

۱۵_ كنز العمال ج۶ ص ۸۵ ، طبرى ج۵ ص ۲۰۵ ، ابن اثير

۱۶_ طبرى ج۵ ص ۲۴ ، كامل ابن اثير ج۲ ص ۱۰۴ ، شرح نہج البلاغہ ج ۲ ص ۴۳۱ ، بحوالہ ابن اعثم و ابو مخنف


غمزدہ مادر نے اس پيارے جوان فرزند كے سوگ ميں كچھ اشعار كہے جس كا مضمون يہ ہے _

لاهم ان مسلماً دعاهم

يتلو كتا ب الله لا يخشاهم

وامهم قائمة تراهم

يا تمرون الغى لا تنهاهم

قد خضبت من علق لحاهم

ترجمہ -:اے خدا تو گواہ رہنا كہ اس مسلمان جوان نے انھيں تيرى طرف دعوت دى اور ان كى تلواروں كا خيال كئے بغير قران پڑھتا رہا ، اور انكى ماں (عائشه ) بھى ان كے درميان موجود تھى ، ان كے برے كرتوت ديكھ رہى تھى ، ظلم و تعدى پر انكھيں پھر ا رہى تھى ، اس ماں نے اپنے بيٹوں كو اس راستے سے روكا نہيں جو بد بختى و ہلاكت كيطرف جارہا تھا بلكہ وہ انھيں اس ظلم و ستم پر ابھار رہى تھى ، انھيں مہندى كے بجائے خون سے خضاب كر رہى تھى _

ابو مخنف كا بيان ہے كہ: ان اشعار كو ام ذريح نے اس جوان كے سوگ ميں كہے تھے _

ابن اعثم بھى كہتا ہے كہ: وہ جوان كوفے كا باشندہ خاندان مجاشع سے تھا _

جس شخص نے اس كے ہاتھ قطع كئے وہ عائشه كا قريبى خدمتكار تھا اسى نے اسے قتل كيا _

عمار ياسر نے عائشه اور سرداران لشكر سے بات كي

ايك دن رسو ل خدا (ص) نے عمار ياسر سے فرمايا :

اے عمار تمھيں ظالم اور باغى گروہ قتل كرے گايا عمار تقتلك الباغية


جس دن سے رسول خدا (ص) نے يہ مختصر اور تاريخى جملہ عمار كے بارے ميں فرمايا تھا وہ مسلمانوں كے درميان معيار حق بن گئے تھے ، عمار جس لشكر ميں بھى ہوتے اس لشكر كى حقانيت كا ثبوت بن جاتے ، اور انھيں كے ذريعہ سے مخالف لشكر كا باطل پر ہونا ظاہر ہو جاتا تھا _

يہى وجہ تھى كہ امير المومنينعليه‌السلام نے عمار ياسر كو عائشه اور سرداران لشكر كے پاس ملاقات كيلئے بھيجا تاكہ انھيں موعظہ و نصيحت فرمائيں شايد يہ لوگ ان كى باتيں سنكر اثر قبول كريں ، ورنہ كم از كم ان پر حجت تو تمام ہى ہو جائے گى _

مسعودى نے يہ واقعہ يوں لكھا ہے :

جنگ جمل ميں عائشه كيلئے لكڑى كا ھودج بنايا گيا ، اور مضبوط اور موٹا تختہ ديا گيا ، اس كے اوپر گائے كى كھال اور كمبل بچھايا گيا اس كے بعد ہر قسم كے خطروں سے محفوظ رہنے كيلئے بہت سى زرہوں سے ڈھانپ كر ايك اھنى ديوار كھينچ دى گئي تھى ، يہ ھودج ايسا مضبوط قلعہ بن گيا تھا ، اسے مشہور اونٹ عسكر پر ركھا گيا جسے يعلى ابن اميہ نے خريد ا تھا عائشه كا يہ اونٹ فوج كے ا گے اگے چل رہا تھا ،جب عمار ياسر نے يہ حالت ديكھى تو دونوں لشكر كے سامنے كھڑے ہو كر عائشه كے فوجيوں سے فرمايا :

اے لوگو تم نے اپنے پيغمبر(ص) كے ساتھ انصاف نہيں كيا كہ اپنى عورتوں كو تو پردے ميں بيٹھا ركھا ہے اور ان كى زوجہ كو ميدان جنگ ميں شمشيروں كے سامنے كھينچ لائے ہو _

پھر عائشه كے ھودج كے پاس پہنچ كر كہا :

اے عائشه تو ہم سے كيا چاہتى ہے

عائشه نے جواب ديا ، عثمان كا انتقام

عمار نے كہا ، اللہ ان ظالم اور باغيوں كو قتل كرے جو بغير معمولى سا حق ركھتے ہوئے انتقام كا نعرہ لگائے اس كے بعد عمار نے لوگوں سے خطاب فرمايا ، كہ تم لوگ انھيں خوب پہچان رہے ہو جو خون عثمان ميں شريك رہے ہيں ،


اچھى طرح جانتے ہو كہ ان دونوں لشكر ميں وہ كون لوگ ہيں جنھوں نے عثمان كو قتل كيا ، ہاں تم پورى طرح جانتے ہو كہ عثمان كے قاتل وہى لوگ ہيں جو آج انتقام كے بہانے سے يہ جنگ اور اختلاف پيدا كر رہے ہيں _

اتنے ميں بارش كے قطروں كى طرح دشمن كى طرف سے عمار پر تير برسنے لگے اس وقت آپ نے يہ اشعار پڑھے

ومنك البداء و منك الغير

ومنك الرياح ومنك المطر

و انت امرت بقتل الامام

و قلت لنا انه قد كفر

اے عائشه تم ہى نے جنگ شروع كى اور تم ہى سے خونريزى ہوئي

يہ تمام ہنگامہ اور حادثے تيرى وجہ سے پيدا ہوئے

تونے ہى خليفہ كے قتل كا فرمان صادر كيا

اور تونے ہى اس كے كافر ہونے كا فتوى ديا

عمار كيطرف مسلسل تير اتے رہے ، انھوں نے بھى اپنے گھوڑے كو تازيانہ لگا كر اپنے كو لشكر سے علحدہ كر ليا ، حضرت على كے پاس اكر آپ نے عرض كيا ، اے امير المومنين _

كب تك صبر كيا جائے اور كہاں تك انتظار كيا جائے ؟

ميں نے تو يہى ديكھا كہ يہ گروہ آپ سے بالكل جنگ پر امادہ ہے _

حضرت علىعليه‌السلام نے ا خرى بار اتمام حجت فرمايا

حضرت علىعليه‌السلام نے جہاں تك ممكن ہوا صلح و صفائي كى كوشش كى اور دشمنوں پر مختلف طريقوں سے اتمام حجت فرماكر كوئي عذر اور بہانا نہيں چھوڑا _


۱_ حضرت علىعليه‌السلام نے دشمن كے سرداران لشكر كو خط لكھا اور انھيں بيعت شكنى اور جنگ و خونريزى سے ڈرايا _

۲_ حضرت علىعليه‌السلام نے عائشه اور ان كے سرداران لشكر كو پيغام بھيجوا يا اور صلح و صفائي كى دعوت دى _

۳_ حضرت علىعليه‌السلام بذات خود لشكر مخالف كے بزرگوں سے ملاقات كر كے انھيں موعظہ و نصيحت فرمائي_

۴_ حضرت علىعليه‌السلام نے دشمنوں كے سامنے قران پيش كر كے دعوت دى اور اس كے ذريعہ اتمام حجت فرمايا _

۵_ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے ساتھيوں كو ايك جنگى پروگرام مرتب كر كے انھيں سمجھايا جس كے دفعات ميں محبت ، مہربانى ، اور صلح و صفائي تھى ، اس پروگرام ميں جن باتوں كو پيش كيا گيا تھا ان ميں انسانى ہمدردى كا عنصر زيادہ تھا اور اپنے بد ترين دشمنوں سے بھى نرمى كا برتائو كرنے كا حكم تھا _

۶_ اخر كار عمار ياسر كو جو حديث رسول(ص) كے مطابق ميزان حق و عدالت تھے حضرت علي(ع) نے انھيں لشكر عائشه كى طرف بھيجا كہ وہ انھيں حق كى دعوت ديں اس طرح دوبارہ آپ نے ان پر حجت تمام كى _

ان تمام مطالب كو گذشتہ فصلوں ميں معتبر تاريخى مدارك سے ثابت كيا گيا ہے _

حضرت علىعليه‌السلام نے اخرى بار اس طرح اتمام حجت فرمايا كہ جب لشكر عائشه نے حضرت على كے ساتھيوں پر تير بارانى كى تو آپ نے اپنى فوج كو صبر كى وصيت فرمائي اورا نھيں جنگ سے روكتے ہوئے فرمايا :

اللھم اشھد اعذروا الى القوم اے اللہ ، اے انصاف كرنے والے خدا تو گواہ رہنا _

اے ميرے ساتھيو صبر اور بردبارى كا مظاہرہ كرو اور چھوڑ دو كہ دشمن پر اس سے زيادہ حجت تمام ہو جائے اور ان كيلئے كوئي عذر اور بہانے كى گنجائشے نہ رہ جائے _

ہاں ، حضرت علىعليه‌السلام نے اس حد تك صلح و صفائي كى كوشش كى اور دشمن پر حجت تمام كى ليكن جتنى آپ كى صلح و صفائي كى كوشش بڑھتى گئي آپ كے دشمن جنگ و خونريزى پر اتنا ہى اصرار كرتے رہے ، اب حضرت على كا اخرى اتمام حجت بھى ملاحظہ فرمايئے ، اسے معتبر مورخين نے لكھا ہے _

حاكم نے اپنى كتاب مستدرك ميں بيان كيا كہ:

زبير نے عائشه كے لشكر والوں سے جو تير اندازى پر مامور تھے حكم ديا (ارموهم برشق ) تم سب ايك ساتھ ان لوگوں پر تير بارانى كرو حاكم اگے لكھتے ہيں كہ يہ جملہ در اصل اعلان جنگ تھا جو لشكر عائشه كے سردا ر كى طرف سے صادر ہوا تھا _


ابن اعثم اور زيادہ تر مورخين نے لكھا ہے كہ :

جس طرح رسول خدا (ص) نے جنگ حنين ميں ايك مٹھى خاك ليكر دشمنوں كى جانب پھينكتے ہوئے فرمايا تھا شاھت الوجوہ ، ان كے چہرے سياہ ہو جائيں _

عائشه نے بھى اس عمل رسول (ص) سے سوء استفادہ كيا اور اسے مسلمانوں كے خلاف جنگ جمل ميں برتا ، ايك مٹھى خاك اٹھائي اور چلا كر كہا شاھت الوجوہ ، اور وہ خاك حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كى طرف پھينك دى _

اس موقعہ پر حضرت على كے ايك فوجى نے عائشه كى سرزنش كرتے ہوئے كہا ،'' و ما رميت اذ رميت و لكن ا لشيطان رمى ''

اے عائشه تم نے يہ مٹى حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كى جانب نہيں پھينكى بلكہ يہ شيطان كا ہاتھ تھا ،جس سے يہ نا پسند يدہ حركت ہوئي(۱۷)

يہ تمام اقدامات اصل ميں جنگ شروع كرنے كا فرمان تھا اس كے فوراً بعد عائشه كے فوجيوں كيطرف سے باقاعدہ جنگ شروع ہوگئي _

ابو مخنف اور دوسرے مورخين لكھتے ہيں كہ:

لشكر عائشه كى طرف سے تير اندازى شروع ہو گئي اور اتنى شدت سے على كى طرف پے در پے تير ارہے تھے كہ حضرت علىعليه‌السلام كے فوجى صدائے فرياد بلند كرنے لگے _

اے امير المومنين ، دشمن نے ہمارے امان كو پارہ پارہ كر ديا ہمارے صبر كا دامن چاك كر ديا _

آپ بھى فرمان دفاع صادر فرمايئے

اس وقت ايك شخص كا جنازہ جو تيروں سے چھلنى تھا حضرت علىعليه‌السلام كے خيمے كے پاس لايا گيا ، اور كہا گيا كہ اے امير المومنين يہ فلاں شخص كا جنازہ ہے آپ كا وفادار ساتھى تھا ، اسے دشمن نے قتل كيا ہے ، امام نے اسمان كى طرف رخ كر كے دعا كى ، اے انصاف ور خدا تو گواہ رہنا اس كے بعد اپنے ساتھيوں سے فرمايا ، صبر كرو ، تاكہ دشمن پر كچھ اور حجت تمام كى جائے _

ايك دوسرا جنازہ بھى لاكر كہا :

اے امير المومنين ، يہ بھى فلاں شخص ہے جو دشمن كى تيروں سے اپنے خون ميں نہا گيا ہے _

____________________

۱۷_ ترجمہ تاريخ ابن اعثم ص ۱۷۱ ، شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۸۵


حضرت علىعليه‌السلام نے پھر اسمان كى طرف رخ كيا كہا اے خدا وند قہار تو ناظر اور ميرے حق كا گواہ ہے ، اور اس بار بھى جنگ كى اجازت نہيں دى ، اپنے ساتھيوں سے فرمايا :

تمھيں دشمن كى زيادتيوں كے مقابلے ميں اور بھى زيادہ صبر كا مظاہرہ كرنا چاہيئے ، جانے بھى دو تمھارى حقانيت اور حسن نيت جتنى زيادہ ثابت ہو گى ان لوگوں پر اتنى ہى حجت تمام ہو گى _

اسى درميان رسول (ص) كے صحابى عبداللہ ابن بديل خزاعى اپنے بھائي عبدالرحمن كى خون الودہ لاش لائے اور حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے زمين پر ركھ كر كہا :

يا على يہ ميرا بھائي ہے جسے دشمنوں نے بزدلانہ طريقے سے قتل كيا _

حضرت علىعليه‌السلام نے مختلف طريقوں سے دشمن پر اتمام حجت فرمايا تھا، اب يہاں اپنے كو مجبور پا رہے تھے آپ كيلئے جنگ كے سوا كوئي چارہ نہيں رہ گيا تھا ، آپ نے كلمہ ،''انا للہ و انا اليہ راجعون '' زبان پر جارى فرمايا اوررسول خد(ص) ا كى زرہ پہنى جس كا نام ذات الفضول تھا ، سر پر عمامہ ركھا اور رسو ل خدا (ص) كے خچر پر سوار ہوئے جس كا نام دلدل تھا ، پھر اپنى مشہور تلوار جس كا نام ذوالفقار تھا كمر ميں حمائل كى اور عقاب نام كے پرچم كو اپنے فرزند محمد حنفيہ كے حوالے كيا ، امام حسن و حسين سے فرمايا :

ميرے بيٹو چونكہ تم لوگوں سے رسو ل خدا (ص) بہت زيادہ محبت فرماتے تھے اور تم انھيں سے منسوب ہو يہى وجہ ہے كہ ميں نے علم تمہارے حوالے نہيں كيا ، اور يہ علم تمہارے بھائي محمد كے حوالے كيا _

امام اس صورت سے امادہ جنگ ہوئے اور پھر آپ نے اپنے سپاہيوں كى سمت رخ كر كے يہ آیت تلاوت فرمائي

كيا تم لوگوں نے يہ سمجھ ركھا ہے كہ يوںہى جنت كا داخلہ تمہيں مل جائيگا (حالانكہ ابھى تم پر وہ سب كچھ نہيں گذرا ہے جو تم سے پہلے ايمان لانے والوں پر گذر چكا ہے )ان پر سختياں گذريں ، مصيبتيں ائيں ، ہلا مارے گئے ، يہاں تك كہ اس وقت كا رسول اوراسكے ساتھى اہل ايمان چيخ اٹھے كہ اللہ كى مدد كب ائيگى ، اس وقت انھيں تسلى دى گئي كہ ہاں اللہ كى مدد اور كاميابى بہت جلد واقع ہو گى سورہ بقر آیت ۲۱۴

امير المومنين نے يہ آیت تلاوت فرماكر جنگ كا عزم كر ليا آپ جنگ كيلئے بڑھتے ہوئے يہ دعا كر رہے تھے

اے خدا ہم سب كو صبر و تحمل اور استقامت عطا كر ، اپنى تائيد اور كامرانى سے سرفراز فرما ، اور اگر حساس موقعہ پيش ائيں يا خطرناك حالات سامنے ائيں تو ہمارى مدد و نصرت فرما _


حضرت علىعليه‌السلام كى زبير سے ملاقات

دونوں طرف كى فوجيں امنے سامنے امادہ جنگ تھيں اسى وقت حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے لشكر سے عائشه كے لشكر كى طرف حركت كى اور زبير كو اپنے پاس بلا كر كہا :

_ اے زبير تم نے كس مقصد سے اور كيا سونچكر اتنے بڑے لشكر كو اس سرزمين پر كھينچ بلايا ہے ؟

_چونكہ ميں نے تمھيں خلافت كے لائق نہيں سمجھا اس لئے اس فوج كے ساتھ ايا ہوں كہ تمھيں خلافت سے علحدہ كردو _

_اے زبير جو كچھ تم كہہ رہے ہو يہ صرف بہانہ ہے كيونكہ ميں عثمان سے كمتر نہيں ہوں ، كہ خلافت كے لائق نہ رہو ں_

اے زبير تم تو خاندان عبد المطلب كے اچھے لوگوں ميں سے اور ہمارے خاندان كى فرد سمجھے جاتے تھے ، ليكن جب سے تمھارا بيٹا عبداللہ بر سر كا ر ہوا تو ہمارے اور تمہارے درميان جدائي ڈال دى _

اے زبير مجھے تعجب ہے كہ تم خود قاتل عثمان ہو ليكن اس كا بدلہ مجھ سے چاہتے ہو _

خداوند عالم ہم دونوں ميں سے جس نے بھى عثمان سے زيادہ عداوت كا مظاہرہ كيا اسے دردناك عذاب ميں ڈالے ، اور سخت افت سے دو چار كرے _

يہاں تك كہاكہ اے زبير تمھيں ياد ہوگا كہ ايك دن ميں اور تم ايك ساتھ تھے رسو ل خدا(ص) بھى ہمارے ساتھ چل رہے تھے انھوں نے مجھ سے فرمايا ، اے على ، ايك دن ايسا ہوگا كہ يہ تمھارى پھوپھى كا بيٹا نا حق تم سے جنگ كريگا _

زبير كو فوراً حديث رسول ياد اگئي اور انھوںنے كہا :

اے على ، خدا كى قسم ميں آج كے بعد تم سے ہرگز جنگ نہ كروں گا ، يہ كہا اور اپنے بيٹے عبداللہ كى طرف


وآپس جا كر كہا :

اے عبداللہ ميں جس راہ جارہا ہوں اس سے بہت زيادہ فكر مند ہوں ، نتيجہ محل سے خوفزدہ ہوں ، ميں صاف صاف كہتا ہوں كہ حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كرنا ميرے نظريہ كے موافق نہيں ہے _

عبداللہ نے كہا : اے بابا ،آپ نے پہلے دن اس راہ ميںمضبوط ايمان اور عقيدے كے ساتھ قدم بڑھايا تھا ، آپ كے چہرے پر كسى قسم كا اضطراب نہيں محسوس كيا گيا ، ليكن آج آپ نے اپنا ارادہ بدل ديا ، آپ كو آپ كے دل ميں تشويش بھر گئي ،لازمى طور سے يہ كھلے ہوئے پرچم اور اٹھى ہوئي حضرت علىعليه‌السلام كى تلواروں نے رعب و وحشت ميں مبتلا كر ديا ہے اور دل ميں اضطراب بھر ديا ہے _

ہاں اے بابا ، حقيقت يہ ہے كہ آپ موت كو اپنى انكھوں سے ديكھ كر علحدہ ہو رہے ہيں ، ورنہ ہمارے مقصد كى تقديس ميں كوئي شك نہيں _

عبداللہ نے اسى طرح كى مہمل باتيں بآپ سے كہيں يہاں تك كہ بآپ نے غصہ ميں چلا كر كہا: تيرا جيسا بيٹا ہونا ميرے لئے افسو س ناك ہے جو بآپ كو ہلاكت اور بد بختى ميں جھونك رہا ہے ، اے بيٹا ، تم مجھے حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ پر ابھار رہے ہو ،حالانكہ ميں نے قسم كھائي ہے كہ ميں ان سے ہرگز جنگ نہ كروں گا ميں اس قسم كا كيا كروں ؟

عبداللہ نے كہا: بابا يہ بہت اسان ہے ، آپ اپنى قسم توڑ ديجئے اور قسم توڑنے كے كفارے ميں اپنے غلام سرجس كو خدا كى راہ ميں ازاد كر ديجئے _

زبير نے اپنے فرزند كى ہدآیت كے مطابق غلام كو اپنا كفارہ قسم ميں ازاد كر كے دوبارہ صف لشكر ميں اكر امادہ جنگ ہو گئے _

ابن اعثم كوفى نے بھى حضرت علىعليه‌السلام اور زبير كى ملاقات كا واقعہ اس طرح لكھا ہے كہ :

حضرت علىعليه‌السلام نے ان سے كہا :

زبير ، تم نے ميرى مخالفت كا علم كس لئے بلند كيا ہے ؟ خون عثمان كا انتقام لينے كيلئے


تم اور تمھارے دوست طلحہ نے عثمان كو قتل كيا ، ان كا خون تم دونوں كى گردن پر ہے اگر واقعى سچ كہہ رہے ہو تو اپنے كو عثمان كے بيٹوں كے حوالے كر دو تاكہ وہ بآپ كے انتقام ميں تم لوگوں كو قتل كرے يا ان سے بآپ كا خون بہا لے لے _

واقعہ كى تفصيل

طبرى نے اس واقع كو دوسرى جگہ زيادہ تفصيل سے لكھا ہے ، وہاں اضافہ كيا ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام دونوں لشكر كے درميان اس طرح قريب ہوئے كہ گھوڑوں كى گردنيں ايك دوسرے كے امنے سامنے تھيں ، اس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے ان دونوں سے كہا :

اے طلحہ و زبير تم لوگوں نے ايك بڑا لشكر جمع كر كے زبر دست طاقت فراہم كر لى ہے ، ہر طرح كى جنگى تيارى اور اسلحہ فراہم كر ليا ہے ، حالانكہ خدائے عادل كے سامنے تم لوگوں كے پاس كو ئي عذر اور حجت نہيں ہے ، لازمى طور سے اسى كى بارگاہ ميں لا جواب ہو خدا سے ڈرو ،اس كے غضب كا خوف كرو ، تم نے خدا كى راہ ميں اسلام اور كلمہ توحيد كى بلندى كيلئے مقدس جھاد كئے ہيں ان تمام بہترين خدمات كے مقابلے ميں يہ فتنہ و فساد اور داخلى اختلاف تم لوگوں نے پيدا كر ديا ہے ، اب مسلمانوں كو موت كے منھ ميں مت جھونكو ،ان تمام اجر اور ثواب كو اس گناہ كے بدلے ميں عذاب جہنم سے مت بدلو ، اس بوڑھيا كے مانند نہ ہو جائو كہ جس نے بڑى محنت سے مضبوط رسى بٹى پھر انھيں اتنى ہى كوشش سے دوبارہ پارہ پارہ كر ديا (ولا تكونا كا لتى نقضت غزلھا من بعد قوة انكاثا )_

اس كے بعد فرمايا: اے طلحہ و زبير كيا ہم تم بھائي بھائي نہيں تھے كہ ايك دوسرے پر ذرا بھى زيادتى كو جائز نہيں سمجھتے تھے ، آج كيا ہوا ہے كہ مجھ پر ايسى شورش پيدا كى ہے اور ميرا خون مباح ہونے كا اعلان كر ديا ہے _

طلحہ نے حضرت علىعليه‌السلام كى ان نصيحتوں كو سن كر كہا : اے على ، تمھارا جرم و گناہ يہ ہے كہ تم لوگوں كو عثمان كے خلاف بھڑكايا اور ان كا نا حق خون بہايا _

حضرت علىعليه‌السلام نے ان كے جواب ميں يہ آیت تلاوت فرمائي ،يومئذ يوفيهم الله دينهم الحق ، قيامت كے دن ہر شخص كو حق كے خلاف اقدامات كى سزا دى جائيگى _

حضرت علىعليه‌السلام كامقصد يہ تھا كہ جس شخص نے بھى عثمان كا خون بھايا ہے اسے سزادى جائيگى وہ اپنے كئے كا بدلہ پائيگا، اسے نہيں جس پر نا حق الزام لگايا جا رہا ہے _

اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے مزيد فرمايا :

اے طلحہ ميں بنيادى طور سے خون عثمان ميں شريك نہيں تھا تم مجھ سے اس خون كا مطالبہ كيسے كر رہے ہو


خدا لعنت كرے اس شخص پر كہ جس كى گردن پر خون عثمان ہے _

اس كے بعد زبير سے فرمايا :

اے زبير تمھيں يا د ہے كہ ايك دن رسول (ص) خداميرے پاس سے گذرے انھوں نے جب ديكھا كہ تم مجھ سے انتہائي محبت كا برتائو كر رہے ہو اور ميں مسكرا رہا ہوں تو تم نے كہا كہ يا رسول(ص) اللہ فرزند ابو طالب اپنى خود نمائي سے باز نہيں ائے _

رسول خدا تمھارى بات سے غضبناك ہوئے اور سر زنش كرتے ہوئے فرمايا :

اے زبير ، جس طرح آج تم حضرت علىعليه‌السلام پر ناحق اعتراض كر رہے ہو ، خدا كى قسم وہ دن بھى ائيگا كہ نا حق ان سے جنگ كروگے _

اس موقعہ پر حديث رسول (ص) ياد ائي اور ندامت سے سر جھكا كر كہا كہ اگر يہ حديث مجھے ياد ہوتى تو ہرگز تم سے جنگ كا اقدام نہ كرتا ، اب جبكہ ميں جنگ كے ارادے سے گھر سے باہر نكل چكا ہوں ، ميں اپنے اس ارادے سے باز اتا ہوں ، خدا كى قسم اب ميں تم سے جنگ نہيں كرونگا _

طبرى كا بيان ہے كہ:

اس گفتگو كے بعد حضرت علىعليه‌السلام اپنے لشكر ميں وآپس اگئے ، آپ نے اپنے سپاہيوں سے فرمايا ، زبير نے مصمم ارادہ كر ليا ہے كہ ہم سے جنگ نہ كريں گے _

زبير بھى عائشه كے پاس گئے اور كہا ، اے عائشه ، ميں نے جس دن سے ہوش سنبھالا ہے كبھى ايسا اقدام نہيں كيا كہ جس كے نتيجے كے بارے ميں ميں نے غور نہ كر ليا ہو ، سوائے اس جنگ كے جس كا نتيجہ ميرے اوپر مبہم تھا ، ميں اس كے انجام سے بہت خوفزدہ ہوں _

عائشه نے كہا : اے زبير اپنى پورى بات كہو اور جو كچھ ارادہ كيا ہے صاف صاف بيان كرو

_ميں چاہتا ہوں كہ اس لشكر سے علحدہ ہو جائوں اور اپنے گھر وآپس جائوں

زبير كا بيٹا وہاں موجود تھا ، اس نے اپنے بآپ كى سخت ملامت كرتے ہوئے كہا :

بابا اب جبكہ دونوں لشكر كو ايك دوسرے كے امنے سامنے كھڑا كر ديا ہے ، اور كسى وقت بھى جنگ شروع ہونے كا


احتمال ہے ايسے حساس اور خطرناك موقعہ پر انہيں اپنے حال پر چھوڑ رہے ہو فرار كو ثبات پر ترجيح دے رہے ہو ؟

اے بابا حتمى طور سے على كى تلوار اور فوج دشمن كے بہادر شہسواروں كے ہاتھ ميں پرچم ديكھ كر ايسا خوف و ہراس تمھارے دل ميں پيدا ہو گيا ہے اور اب تم نے لشكر سے كنارہ كشى كا ارادہ كر ليا ہے _

زبير نے جواب ديا ، اے عبد اللہ ، خدا كى قسم ، كہ خوف اور وحشت كى بات نہيں ہے ليكن ميں نے قسم كھا لى ہے كہ على سے جنگ نہيں كروں گا _

عبد اللہ نے جواب ميں پيشكش كي

اے بابا ، اس كى تدبير اسان ہے كہ آپ قسم توڑ ديجئے اور اس كا كفارہ ادا كر كے جنگ شروع كر ديجئے

زبير نے بيٹے كى بات مان لى اور قسم توڑ كر كفار ے ميں اپنے غلام مكحول كو ازاد كر ديا اور دوبارہ صف لشكر ميں شامل ہوگئے

عبدالرحمن ابن سليمان تميمى نے اس واقعے كو نظم كيا ہے

لم اركا ليوم اخا الا خوان

اعجب من مكفر الايمان

بالعتق فى معصية الرحمن

يعتق مكحولا يصون دينه

كفارة للّه عن يمينه

والنكث قد لا ح على جبينه

ميں نے سارى عمر ميں ايسا دن كبھى نہيں ديكھا اس شخص نے مجھے حيرت ميں ڈالا ہے ، اس شخص نے اپنى قسم توڑى اور اپنا غلام كفارے كے طور پر ازاد كيا ، تاكہ قسم توڑنے كا گناہ اس كے دامن سے پاك ہو جائے ، ليكن اپنے اس عمل سے كہيں زيادہ بد تر گناہ كا مرتكب ہوا _

ايك دوسرے شاعر نے جو زبير كا فوجى تھا اس سلسلے ميں كچھ اشعار كہے ہيں

زبير نے اپنے غلام مكحول كو كفارئہ قسم كے طور پر ازاد كيا تاكہ وہ دينى لحاظ سے عہد شكن نہ كہا جائے ليكن اس كا كيا فائدہ ؟ كيونكہ اس كفارے كو ادا كرنے كے بعد اس پر عہد شكن كا داغ اور بھى زيادہ نماياں ہو گيا _


زبير كى سر گذشت

مسعودى كا بيان ہے:

جس وقت دونوں لشكر امنے سامنے ہوئے ،حضرت علىعليه‌السلام نے جنگى ہتھيار زمين پر ركھے ، پھر رسول خدا (ص) كے مخصوص خچر استر پر سوار ہو كر عائشه كے لشكر كى طرف چلے ، وہاں آپ نے زبير كو بلايا زبير جنگى ہتھيار بدن پر سجائے حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے ائے جب يہ خبر عائشه كے كان ميں پڑى تو اپنى بہن كے شوہر اور سپہ سالار لشكر زبير كے بارے ميں خوفزدہ ہو كر بے اختيار صدائے فرياد بلند كى (واحر باه باسماء )ہائے ميرى بہن اسماء بيوہ ہوگئي _

لوگوں نے كہا : اے عائشه غم نہ كرو ، كيونكہ على كے بدن پر ہتھيار نہيں ، وہ زبير سے جنگ كرنے يہاں نہيں ائے ہيں ، عائشه نے سنكر ذرا سكون كى سانس لى _

جس وقت زبير حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے پہونچے تو باہم بغلگير ہوگئے ، دونوں نے ايك دوسرے كے اغوش ميںبھينچ ليا اور والہانہ بوسے لينے لگے _

پھر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا: اے زبير تم پر افسوس ہے ، اخر كس غرض سے اس خطرناك لشكر كے ساتھ اس سر زمين پر ائے ہو ؟ اور اخر كيا وجہ ہوئي كہ ميرے خلاف علم بغاوت بلند كر ديا ہے ؟

زبير نے كہا: خون عثمان كا بدلہ لينے كيلئے ميں نے اس جنگ اور لشكر كشى كى تيارى كى ہے

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا: خدا اسكو قتل كرے جس كا حصہ قتل عثمان ميں زيادہ ہے ، اے زبير كيا تمھيں ياد ہے ايك دن رسول خد(ص) ا نے تم سے كہا تھا اے زبير ايك دن تم نا حق على سے جنگ كروگے _

زبير نے كہا: استغفراللہ اے خدا ميں اپنے اس عمل پر شرمندہ ہوں ، اب اپنے كئے پر توبہ كرتا ہوں ، خدايا ميرى تقصير معاف فرما ، پھر حضرت على كى طرف رخ كر كے كہا :

خدا وند عالم ميرے دلى راز سے اگاہ ہے ، اور ميرى صداقت بيانى پر گواہ ، كہ اگر يہ حديث رسول(ص) ياد ہوتى تو كبھى اس منحوس بغاوت پر امادہ نہ ہوتا ، نہ اپنے گھر سے جنگ كے لئے نكلتا _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : اے زبير دير نہيں ہوئي ہے ، اب بھى تم جنگ سے دستبردار ہوسكتے ہو اور ابھى سے اپنے گھر وآپس جا سكتے ہو _

زبير نے كہا: ليكن اب ميںيہ كيسے كر سكتا ہوں كيسے اس بڑے ننگ و عار پر امادہ ہو جائوں ، اب تو دونوں لشكر امنے سامنے جنگ پر تيار ہيں ، اب تو فرار كا راستہ بھى بند ديكھ رہا ہوں _


حضرت علىعليه‌السلام فرمايا: اے زبير اگر آج تم نے ننگ وعار كو قبول كر ليا تو اس سے كہيں بہتر ہے كہ كل بھى تمھيں ننگ وعار كا سامنا كرنا پڑے گا ، كل قيامت ميں عار بھى ہے اور اتش جہنم بھى _

اس موقع پر حضرت علىعليه‌السلام كى باتوں سے زبير بہت زيادہ متاثر ہوئے ، حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ پر سخت نادم و پشيمان ہو كر ارادہ جنگ سے باز ائے ، انھوں نے اس سلسلے ميں كچھ اشعار بھى كہے

_ميں اپنے لئے عار و ننگ كو قبول كر رہا ہو ں تاكہ ذليل كرنے والى اتش جہنم سے نجات پا سكوں

_ميرا كمزور جسم اتش جہنم كى تاب كيسے لاسكے گا ؟ على نے ايسى بات ياد دلا دى جسے ميں خود جانتا تھا ليكن بھول گيا تھا

_ہاں على سے جنگ دين و دنيا دونوں كو تباہ كر نے والى ہے ، اور ننگ و عار سمجھے جانے والى اسى وجہ سے ميں نے على سے كہا :

اے ابو الحسن اب اس سے زيادہ ملامت نہ كرو

آپ نے اتنا ہى جو كچھ بيان كيا ہے يہى ميرى اگاہى كيلئے كافى ہے _

اخترت عاراً على نار مو ججة

ما ان يقوم لها خلق من الطين

نادى على بامر لست اجهله

عار لعمرك فى الدنيا و فى الدين

فقلت حسبك من عذل ابا حسن

بعض الذى قلت منذ اليوم يكفيني

ترجمه: _ ميں اپنے لئے عاروننگ کوقبول کرر باہوں تا که ذليل کرنے والى آتش جہنم سے نجات پاسکوں

ميرا گزورجسم آتش جہنم کى تاب کيسے لا سکے گا ؟ علي نے ايسى بات ياد دلادى جسے ميں خود جا نتاتها ليکن بهول گياتها.

بال على سے جنگ دين و دنيا دونون کوتباه کرنے والى ہے ، اورنگ و عارسمجهے جانے والى اسى وجه سے ميں نے على سے کہا :

اے ابوالحسن ! اب اس سے زياده ملامت نه کرو.

آپ نے اتناهى جوکچھ بيان کيا هے يہى ميرى آگاہى کيلئے کافى ہے -

مسعودى نے اگے لكھا ہے :

جب عبد اللہ بن زبير كو بآپ كے ارادے كى اطلاع ہوئي تو اس نے كہا :

اے بابا اس حساس موقع پر مجھے كيسے چھوڑ رہے ہيں ، اور خود فرار كر رہے ہيں


زبير نے كہا : اے بيٹا على نے ايسى بات ياد دلادى جسے ميں بھول چكا تھا ، اس وجہ سے اب ميں جنگ اگے نہيں بڑھا سكوں گا _

عبد اللہ نے كہا : اے بابا ،نہيں ، جو كچھ آپ كہہ رہے ہيں يہ صرف بہانہ ہے ، بلكہ آپ تيز تلواروں سے ڈر گئے ہيں _

فوج دشمن كے بلند نيزے ، ان كے بہادر اور جنگجو جوان ان سب كو ديكھ كر آپ خوف اور وحشت ميں مبتلا ہو گئے ہيں ، اسى وجہ سے آپ جنگ سے منھ پھرا رہے ہيں

زبير نے كہا ، خدا تيرے جيسے بيٹے كو ذليل و خوار كرے تو بآپ كى بد بختى و ہلاكت كا باعث بن رہا ہے ، بآپ كى ذلت كيلئے كو شاں ہے(۱)

اس جواب كو ابن اعثم نے نقل كيا ہے ، ليكن مسعودى كے بيان كے مطابق زبير نے عبداللہ كو جواب ديا _ عبداللہ نہيں ، ايسا نہيں جيسا تو سمجھ رہا ہے ، ہرگز ايسا نہيں كہ جنگ كا خوف مجھے باز ركھے ، بلكہ آج مجھے وہ بات ياد اگئي جسے عرصے سے بھولا ہوا تھا ، اس واقعے نے مجھے حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ نہ كرنے كى ياد دہانى كرا دى ، اسى لئے ميں نے جنگ نہ كرنے كا عار جہنم كى اگ كے مقابلے ميں قبول كيا ، اور اپنے كو جنگ سے علحدہ كر ليا _

ليكن ميرے بيٹے اب جبكہ تم مجھے بزدل اور ڈر پوك كہہ رہے ہو تو اس دھبے كو بھى دامن سے دھو ڈالو ں گا ، يہ كہہ كر نيزہ ہاتھ ميں سنبھالا اور حضرت علىعليه‌السلام كے ميمنہ لشكر پر شديد حملہ كيا ، جس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے زبير كو غضبناك حالت ميں چوكڑى بھرتے ديكھا تو اپنے لشكر كو حكم ديا ، انھيں مہلت دو ، كوئي تكليف نہ پہو نچائو كيونكہ انھيں بھڑكايا گيا ہے ، وہ اپنا فطرى توازن كھو چكے ہيں _ زبير نے دوسرى بار لشكر على كے ميسرہ پر حملہ كيا ، اسكے بعد قلب لشكر پر سخت حملہ كرنے كيلئے بڑھے _ اسكے بعد زور سے چلّائے كيا جو ڈر پوك ہو گا وہ ايسى شجاعت كا مظاہرہ كر سكتا ہے اور اس طرح بے باكانہ طريقے سے سپاہ دشمن پر حملہ كر سكتا ہے ؟ پھر وہ لشكر سے علحدہ ہو كر صحرا كى طرف چلے گئے جس صحرا كا نام وادى السباع تھا _ احنف بن قيس تميمي،اس جنگ جمل سے جانبدارى كا اعلان كر كے بصرہ كو چھوڑ كر اسى وادى ميں اقامت گزيں رہا ، ايك شخص نے اس سے كہا ، اے احنف يہى زبير ہے ، احنف نے كہا ، مجھے زبير سے كيا

____________________

۱_ تاريخ اعثم ، مسعودى ، شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد ج۲ ص ۱۷۰


سروكار ؟اس نے مسلمانوں كے دو گروہ ميںجنگ و خونريزى كى حالت پيدا كر دى ہے ، اور اب اپنے كو سلامتى كى غرض سے وہاں سے علحدہ كر كے گھر جارہا ہے ، اسے چھوڑ بھى دو كہ چلا جائے _

زبير وہيں گھوڑے سے اترے اور نماز پڑھنے لگے ، اسى وقت ايك شخص جس كا نام عمر و بن جرموز تھا(۲) ،

اس نے پيچھے سے تلوار چلائي اور انھيں قتل كركے لشكر عائشه كے سپہ سالار كى زندگى كا خاتمہ كر ديا ، زبير كے بعد لشكر عائشه كى حكمرانى طلحہ كے ہاتھ ميں اگئي(۳) _

طلحہ كى سر گذشت

ابن عساكر كا بيان ہے :

جنگ شروع ہونے سے قبل حضرت علىعليه‌السلام نے طلحہ كو اپنے پاس بلا كر پوچھا اے طلحہ تجھے خدا كى قسم ہے كيا تو نے رسول خدا (ص) كا يہ ارشاد نہيں سنا كہ من كنت مولاہ فھذا على مولاہ، جس كا ميں مولا ہوں اسكے يہ على مولا ہيں ، خدا يا جو اسے دوست ركھے تو بھى اسے دوست ركھ اور جو اسے دشمن ركھے تو بھى دشمن ركھ

____________________

۲_ مسعودى اور ابو مخنف لكھتے ہيں كہ جب عمر و بن جرموز نے زبير كو قتل كيا تو انعام كى لالچ ميں تلوار لئے حضرت على كے پاس ايا ، امام نے واقعہ سے مطلع ہو كر فرمايا ، بخدا صفيہ كا بيٹا ڈر پوك نہيں تھا ، ليكن آج اسكى ايك غفلت و لغزش نے اسے ہلاك كر ديا ، پھر زبير كى تلوار ہاتھ ميں ليكر حركت دى اور فرمايا ، ہائے اس تلوار نے رسول كے دل سے كيسے كيسے غم دور كئے حريم رسالت كا كيا كيا دفاع كيا ابن جرموز نے كہا ، ميں نے آپ كے سخت دشمن كو قتل كيا ہے انعام ديجئے ، آپ نے فرمايا ، اے ابن جرموز ميں نے رسول خدا سے سنا ہے كہ قاتل زبير جہنمى ہے ، مايوس ہو كر ابن جرموز يہ اشعار پڑھتا چلا گيا ميں زبير كا سر تن سے جدا كر كے على كى خدمت ميں ايا تاكہ انكى خوشنودى حاصل كروں ليكن توقع كے خلاف على نے مجھے جہنمى بنا ديا ، ہائے ، كسقدر خطرناك انعام مجھے ديا ، حالانكہ قتل زبير ميرے نزديك بكرى كے رياح كى طرح تھا ،

۳_ زبير كے حالات كيلئے طبرى ، اغانى ، ابو مخنف بحوالہ شرح نہج البلاغہ ، تاريخ اعثم ، اصابہ ، مروج الذھب ، تاريخ بن كثير ، عقد الفريد ، مستدرك ، كنزل العمال ، النبلاء ذھبى اور يعقوبى سے استفادہ كيا گيا ہے


طلحہ نے كہا : ہاں ميں نے بھى سنا ہے اور مجھے اچھى طرح ياد ہے _

حضرت على نے فرمايا: تعجب ہے ، اسكے باوجود تو مجھ سے جنگ كر رہا ہے ؟

اس بارے ميں طبرى يوں لكھتا ہے :

جنگ شروع ہونے سے قبل حضرت علىعليه‌السلام نے طلحہ سے ملاقات كى اور اس سے كہا :

تو وہ شخص ہے جس نے اپنى زوجہ كو گھر ميں بيٹھا ركھا ہے اور زوجہ رسول (ص) كو ميدان جنگ ميں گھسيٹ لايا ہے ، ميرى بيعت بھى توڑ دى ہے _

طلحہ نے حضرت علىعليه‌السلام كے ان تمام اعتراضات كے جواب ميں صرف ايك بات پر اكتفا كى _

يا على ميں نے آپ كى بيعت اپنے اختيار سے نہيں كى تھى بلكہ طاقت اور تلوار نے مجھے بيعت پر مجبور كيا تھا _

ابن عساكر اور ذہبى لكھتے ہيں كہ :

ابو رجا كا بيان ہے : ميں نے طلحہ كو ديكھا كہ گھوڑے پر سوار ہو كر سپاہيوں كے درميان چلّا رہا تھا _

اے لوگو خاموش رہو اے لوگو ميرى بات سنو ، طلحہ جتنا بھى چلّا رہا تھا ، اتنا ہى ہائو ہو اور ھنگامہ بڑھتا جا رہا تھا ، كوئي اسكى بات سننے پر امادہ نہ تھا ، طلحہ نے لوگوں كى بے اعتنائي پر غصے ميں كہا ، تف ہے ان بھيڑيا صفت لوگوں پر جو اتش جہنم كے پروانے ہيں _

تاريخ بن اعثم ميں ہے كہ :

طلحہ نے اپنے لشكر والوں سے چلا كر كہا ، يا عباد اللہ اصبرو، اے بند گان خدا صبر كرو، صبر و استقامت كا مظاہرہ كرو كيو نكہ صبر و ظفر دونوں قديم زمانے سے ايك دوسرے كے دوست ہيں ، استقامت اور كامرانى ہميشہ ايك دوسرے كے ساتھى رہى ، فتح اسى كو حاصل ہوتى ہے جس كے پاس صبر و استقامت ہو ، جو لوگ سختيوں اور مصيبتوں ميں صبر كرتے ہيں وہى بہترين اجر سے سرفراز ہوتے ہيں _

ابو مخنف لكھتا ہے كہ: جندب بن عبداللہ كا بيان ہے كہ ميں نے جنگ جمل ميں طلحہ اور اسكے ساتھيوں كو حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كرتے ہوئے ديكھا ، ان كے جسم پر بہت زيادہ زخم تھے ، وہ لوگ بھاگنے پر امادہ تھے ايك ايك كر كے طلحہ كے سپاہى فرار كرنے لگے ، پيچھے ہٹنے لگے ، طلحہ كو سب سے زيادہ زخم ائے تھے ، تلوار ہاتھ ميں لئے چلّا رہا تھا _

اے بند گان خدا ، استقامت دكھائو ، صبر و شكيب كا مظاہرہ كرو كاميابى صبر سے وابستہ ہے ، اجر و ثواب استقامت ميں ہے _


طلحہ كيسے قتل ہوئے ؟

يعقوبى ، ابن عساكر، ابن عبد ربہ ، ابن عبد اللہ استيعاب ميں اور ابن اثير كامل ميں اور ابن حجر عسقلانى اس طرح لكھتے ہيں كہ ، جب حضرت على اور طلحہ كا لشكر مشغول كار زار تھے لشكر عائشه كا ايك سردار مروان بولا _

ميں اگر آج موقع سے فائدہ اٹھا كر ، قاتل عثمان سے انتقام نہ لوں تو كب يہ موقع حاصل كر سكوں گا ؟

يہ كہہ كر اس نے ايك تير اپنے سپہ سالار طلحہ كى طرف چلايا جو ٹھيك طلحہ كے زانو پر لگا اور پير كى رگ ميں پيوست ہو گيا ، اور فوارے كى طرح خون بہنے لگا ، اور اسطرح مروان كے ہاتھوں طلحہ كى ہنگاموں سے بھر پور زندگى كا خاتمہ ہو گيا _

طبقات بن سعد ميں ہے :

طلحہ خود بھى يہ خاص بات (نكتہ)سمجھ گئے تھے كہ وہ كارى اور قاتل زخم خود انھيں كے ساتھيوں كى طرف سے ايا تھا ، زندگى كے اخرى لمحوں ميں كہنے لگے

خدا كى قسم جو تير ميرے پائوں ميں پيوست ہوا وہ لشكر على كى طرف سے نہيں ايا تھا _

مسعودى قتل طلحہ كے سلسلے ميں لكھتا ہے :

مروان نے اثنائے جنگ ميں طلحہ كو اپنے سے غافل ديكھا تو اسے انتقام عثمان كا خيال ايا ، وہ بولا كہ خدا كى قسم ميرے لئے كوئي فرق نہيں كہ ميں لشكر على كى طرف تير اندازى كروں يا طلحہ كے سپاہيوں كى طرف _

يہ كہہ كر اس نے اپنے ساتھى طلحہ كى طرف تير چلايا جس سے طلحہ كے بازو كى رگ كٹ گئي ، اس سے خون كا فوارہ بہنے لگا ، اسى زخم كى وجہ سے طلحہ كى جان گئي _

ابن سعد نے بھى اس واقعہ كى يوں تشريح كى ہے _

مروان كى انكھ نے جنگجو سواروں كے درميان ديكھا كہ طلحہ كى زرہ ميں شگاف ہے ، اس سے اسى كو نشانہ بنا كر تير چلاديا ، اس تيرنے اپنا كام كيا اور وہ قتل ہو گئے _

بعض مورخين نے لكھا ہے :

مروان نے طلحہ كو درميان لشكر انتہائي حساس حالت ميں ديكھ كر كہا خدا كى قسم ، يہ شخص عثمان كا بد ترين دشمن اور قاتل تھا ، ميں تو عثمان كے خون كا بدلہ لے رہا ہوں ، كيا اچھا ہو كہ اصلى قاتل كو قتل كر دوں اور جن لوگوں


پر نا حق الزام لگايا جا رہا ہے انھيں نظر انداز كر دوں ، يہ كہكر تير كمان ميں جوڑكر طلحہ كى طرف چلايا اور اسے قتل كرديا _

مستدرك حاكم ، تاريخ بن عساكر اور اسد الغابہ ميں ہے

جس وقت مروان نے طلحہ كو قتل كيا ، اس نے عثمان كے فرزند ابان كى طرف رخ كر كے كہا :

اے ابان تمہارے بآپ كے ايك قاتل كو كيفر دار تك پہونچا كر تمھارا دل ٹھنڈا كر ديا _

ابن اعثم نے قتل طلحہ كى داستان ذرا تفصيل سے بيان كى ہے ، جنگ كے درميان مروان نے اپنے غلام سے كہا ، مجھے بڑى حيرت ہے كہ يہ طلحہ ايك دن بد ترين دشمن عثمان تھا ، لوگوں كو ان كے قتل پر ابھارتا تھا ، ان كا خون بہانے ميں كوشاں تھا ، يہاں تك كہ انھيں قتل كر ڈالا اور آج انكى طرفدارى اور انتقام كيلئے كھڑا ہے ، ان كے دوستوں اور فرزندوں كے ساتھ ہے _

پھر كہا : ميں اس متلون اور منافق كو قتل كرنا چاہتا ہوں تاكہ مسلمان اس كى شرارت سے نجات پائيں ، ان بيچارے لوگوں كے سر سے اس كا منحوس سايہ كم ہو _

اے غلام ، تو ميرے سامنے اكر مجھے اپنى اڑ ميں لے لے اگر تو نے اچھى طرح يہ كام نبھايا تو تيرا بہت شكر گذار ہوں گا ، اور اس كے بدلے تجھے ازاد كر دوں گا _

مروان كے غلام كو اپنى ازادى سب سے زيادہ پيارى تھى ، اس نے اپنے كو مروان اور طلحہ كى اوٹ ميں كر ليا ، اسى وقت مروان نے ايك زہر ميں بجھائے ہوئے تير كو كمان ميں جوڑ كر طلحہ كا نشانہ بنايا اور انكى ران زخمى كر دى _

مورخين كا بيان ہے كہ: جب طلحہ نے اس زخم سے اپنى كمزورى بڑھتى ديكھى تو اپنے غلام سے كہا ، كم سے كم مجھے ايك درخت كے سائے ميں ليكر چل تاكہ سورج كى تيز گرمى سے نجات ملے ، غلام نے كہا ، اے امير ، اس بيا بان ميں دور دور تك كہيں سايہ نہيں ، ميں آپ كو كہاں اٹھا كر ليجائوں ، اس وقت طلحہ نے بجھى بجھى حالت ميں حسرت سے كہا ، سبحان اللہ ، قبيلہ قريش ميں مجھ سے زيادہ بيچارہ كوئي نہ ہو گا ، ہائے ميرا خون رائگاں گيا ، اور ميرا قاتل لا معلوم ہے ، اے خدا ،يہ منحوس اور سوزش سے بھر پورتير كدھر سے ايا تھا ؟اس نے تو ميرى دنيا اندھير اور زندگى تباہ كر دى ، يہ تير دشمن كى طرف سے نہيں ايا تھا ، كيا كروں كہ ميرى تقدير ميں يہى لكھا تھا


مدائنى كا بيان ہے :جب مروان كا تيرطلحہ كے پير ميں لگا تو اس نے اپنے كو ميدان سے علحدہ كر ليا ، اور ايك مناسب اور محفوظ جگہ پر اپنے كو ڈال ديا كہ وہاں ارام كر سكے ، وہاں وہ كسى على كے سپاہى كو ديكھتا تو اس سے امان طلب كرتا ، بڑى عاجزى سے كہتا ، ميں طلحہ ہوں ، ميں تمہارى امان ميں ہوں ، كيا تم ميں كوئي جو اں مرد ہے جو مجھے امان دے ، مجھے قتل سے نجات بخشے _

حسن بصرى كو جب طلحہ كے امان طلب كرنے كى بات ياد اتى تو كہتے انھيں امان كى ضرورت نہيں تھى كيونكہ وہ پہلے ہى دن سے ايك عمومى امان ميں تھے حضرت على نے اپنے سپاہيوں سے قبل جنگ ہى عام اعلان كر ديا تھا كہ زخميوں كو قتل نہ كيا جائے _

مورخين كا بيان ہے:

كہ طلحہ اپنے ساتھى مروان كے ہاتھوں قتل ہوئے اور ان كا جسد ميدان بصرہ كے مقام سبخہ ميں دفن ہوا _

ابن عبدربہ ، ابن عبدالبر اور ذھبى كا بيان ہے ، لشكر عائشه ميں سب سے پہلے طلحہ قتل ہوئے ، طلحہ ہى زبير كى كنارہ گيرى كے بعد لشكر كے سپہ سالار تھے _

جى ہاں ، لشكر عائشه كے دوسرے سپہ سالار اسطرح قتل ہوئے ، ليكن اس سپہ سالار كے قتل كے بعد بھى فوج عائشه ميں ذرا ہراس نہ تھا كيونكہ اس فوج كا پرچم وہ اونٹ تھا جس پر عائشه كا ہودج ركھا ہوا تھا ، لشكر كے اگے اگے چل رہا تھا ، قتل طلحہ كے بعد لشكر كى توجہ زيادہ مركوز ہو گئي ، اور جنگ ميں شدت بھى اگئي(۴) _

اخرى جنگ شروع ہوئي

جنگ جمل چند چھوٹى بڑى جھڑپوں سے تشكيل پائي ہے

۱_ لشكر عائشه بصرہ ميں وارد ہوا تو اس كے اور گورنربصرہ كے درميان جنگ ہوئي ، اس جنگ ميں گورنر

____________________

۴_ طبرى ج۵ ص۲۰۴ ، يعقوبى ج۲ ص ۱۵۸ ، تاريخ بن اعثم ، تھذيب ، تاريخ بن عساكر ، استيعاب ، اصابہ ج۲ ص۲۲۲ ، عقد الفريد ج۴ ص۳۲۱، مدائنى بحوالہ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص۴۲۱


بصرہ كو فتح نصيب ہوئي اخر كا ر صلح كے بعد ختم ہوئي _

۲_ لشكر عائشه نے معاہدہ صلح روند ڈالا ، ايك انتہائي تاريك رات ميں مسجد ، بيت المال اور دار الامارہ پر حملہ كر كے ايك دوسرى جنگ شروع كى اس موقع پر لشكر عائشه كو فتح ملى ، اس طرح حضرت علىعليه‌السلام كے گورنر كو بصرہ سے نكال بصرہ پر قبضہ كر ليا گيا _

۳_ حكيم بن جبلہ نے جو بصرہ كے مشہور بزرگ تھے ،جب لشكر عائشه كى زيادتى اور معاہدہ شكنى سنى تو اپنے قبيلے والوں كے ساتھ ان سے جنگ پر تيار ہو گئے ، اس طرح تيسرى جنگ شروع ہوئي ، اس ميں بھى بظاہر لشكر عائشه كو فتح ملى ، حكيم بن جبلہ كے قتل ہونے پر اس جنگ كا خاتمہ ہوا _

۴_ ايك دوسرى جنگ اور ہوئي جسے اخرى اور سب سے بڑى جنگ جمل كہنا چاہيئے ، يہ جنگ اس وقت شروع ہوئي جب حضرت علىعليه‌السلام بصرہ ميں وارد ہوئے ، اس جنگ ميں لشكر عائشه كو بد ترين شكست كا سامنا كرنا پڑا _

اس جنگ ميں عام دستور كے مطابق پر چم نہيں تھا ، ان كا پرچم وہى عائشه كا اونٹ تھا(۵) جو لشكر كے اگے اگے چل رہا تھا ، اسكى حركت سے عائشه كى فوج ميں روح اور توانائي دوڑ جاتى تھى ، جب تك وہ اونٹ كھڑا رہا ، فوج عائشه ميں ذرا بھى كمزور ى اورضعف نہيں ديكھا گيا ، بغير كسى خوف و ہراس يااضطراب كے لشكر على سے جنگ كرتا رہا ، عائشه اس اونٹ پر سوار تھيں اور فوج كو احكامات صادر كر رہى تھيں ، حملہ كرنے كا حكم دے رہى تھيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے جب يہ صورتحال ديكھى تو آپ نے بھى عمامہ مشكى(۶) كو سر پر ركھا اور اپنے لشكر كو تيار ہونے كا حكم ديا ، پرچم كو اپنے فرزند محمد حنفيہ كے حوالے كيا _

محمد حنفيہ كا بيان ہے كہ :ميرے بابا على نے جنگ جمل ميں علم ميرے حوالے كيا ، آپ نے مجھے حملہ كرنے كا حكم ديا ، ميں نے قدم اگے بڑھايا ليكن اپنے سامنے لوہے ، نيزوں اور تلواروں كى ديوار ديكھى تو قدم رك گئے ، ميرے بابا نے دوبارہ مجھ سے فرمايا ، تيرى ماں تجھ پر روئے ، اگے بڑھ ، ميں نے پلٹ كر خدمت ميں

____________________

۵_ تاريخ بن اعثم ص۱۷۶ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ، ج۲ ص۸۱ ، اس فرق كے ساتھ كہ ابن ابى الحديد عا ئشہ كے اونٹ كو پرچم بتاتے ہيں ليكن ابن اعثم خود عاشئہ كو پرچم اور ان كے اونٹ كو علمدار لشكر قرار ديتے ہيں

۶_ يہ وہى عمامہ ہے جسے رسول خدا نے حضرت على كو عطا فرماياتھا ، اسكا نام سحاب تھا ، اس كے بارے ميں زيادہ توضيح مولف كى كتاب عبد اللہ بن سبا ميں ديكھى جا سكتى ہے


عرض كى ، كيسے اگے بڑھوں ، كيونكہ لوگوں نے ميرے سامنے نيزوں اور تلواروں كى ديوار كھڑى كر ركھى ہے _

محمد حنفيہ كا بيان ہے كہ: ابھى بات يہيں تك پہونچى تھى كہ كسى نے اس تيزى سے جھپٹ كر ميرے ہاتھ سے پرچم لے ليا كہ اسے پہچان بھى نہ سكا ادھر ادھر ديكھا تو يكبارگى متوجہ ہوا كہ پرچم ميرے بابا على كے ہاتھ ميں ہے ، فوج كے اگے اگے سپاہ دشمن پر حملہ كر رہے ہيں اور يہ رجز پڑھ رہے ہيں _

اے عائشه ميرى نيكياں اور پچھلے سلوك نے تجھے مغرور بنا ديا ہے ، يہاں تك كہ تو مجھ سے بغاوت پر امادہ ہو گئي _

عائشه مغرور مت ہو ، يہ لوگ جو تيرے اردگرد ہيں يہ تيرے دشمن ہيں جو دوستى كے لباس ميں ہيں _

عائشه تيرے لئے موت اور سر افگندگى اس سے بہتر ہے كہ تو مسلمانوں اور اپنے بيٹوں كے درميان جنگ اور خونريزى بھڑكا رہى ہے(۷)

كہانى كعب بن سور كى عائشه كے اولين لجام بردار

(اونٹ كى لجام كعب كے ہاتھ ميں )

جيسا كہ ميں نے بيان كيا ، عائشه كى فوج كا پرچم ا ن كا اونٹ تھا جو بھى ا س كى لجام تھام ليتا وہ لشكر كا علمدار سمجھا جاتا ، وہ اپنے اس عہدے پر فخر و ناز كرتا ، اسے عظيم مرتبہ سمجھتا _

يہ منصب سب سے پہلے قاضى بصرہ كعب بن سور كو ملا(۱) ،جنگ شروع ہوئي اور بتدريج گرم تر ہوتى گئي ، اس موقع پر كعب بن سور نے قران گردن ميں حمائل كئے ، ہاتھ ميں عصا اور دوسرے ہاتھ ميں اونٹ كى لجام تھامے ايك عجيب اور مضحكہ خيز حالت ميں لشكر كے اگے اگے چلنے لگے ، اتفاقا كسى نامعلوم شخص كا تير انھيں لگا اسى تير سے وہ لڑہك گئے ، اسطرح عائشه كے پہلے لجام بردار يا يوں كہا جائے كہ اولين علم بردار اپنے خون ميں نہا كر جان جان افريں كے سپردكر بيٹھے _

____________________

۷_ انت الذى قد غرك منى الحسنا

يا عيش ان القوم قوم اعدا

والخفض خير من قتال الابنا


كعب بن سور كون ہے ؟

كعب بن سور(۸) خليفہ دوم عمر كے زمانے ميں قاضى بصرہ ہوئے ، وہ اس منصب پر جنگ جمل كے دن تك باقى رہے ، يہ ان لوگوں ميں تھے جنھيں جنگ جمل سے كوئي دلچسپى نہيں تھى ، نہ اسے صحيح سمجھتے تھے

جيسا كہ طبرى كا بيان ہے كہ: خود كعب كہتے تھے ، خدا كى قسم ، ميرا عقيدہ اس جنگ كے بارے ميں وہى ہے جو اس بڑھيا كا تھا جو اپنے بيٹے سے نصيحت كر رہى تھى ، بيٹے نہ لوگوں سے علحدہ رہو نہ اختلافات اور جنگوں ميں ان كا ساتھ دو _ ابن سعد يوں نقل كرتے ہيں كہ جب طلحہ و زبير و عائشه بصرہ ميں داخل ہوئے تو كعب بن سور نے جنگ اور فتنہ سے علحدگى اختيار كرنے كيلئے اپنے كو گھر كے اندر محصور كر ليا ، يہاں تك كہ كھانا پانى بھى روشندان سے پہونچايا جاتا تھا ، ا س طرح كعب بن سور نے عام لوگوں سے ملنا جلنا قطعى ختم كر ديا ، يہاں تك كہ لوگوں نے عائشه سے كہا كہ كعب بن سور كو حيرتناك معاشرتى اہميت حاصل ہے ،اگر وہ آپ كے ہم ركاب ہو كر جنگ ميں شركت كريں تو كئي ہزار افراد پر مشتمل قبيلہ ازد كى مدد بھى حاصل ہو جائے گى ، عائشه انكى حمآیت حاصل كرنے كيلئے ان كے گھر گئيں تاكہ اس بارے ،ميں بات كريں ، ليكن كعب نے خاطر خواہ جواب نہيں ديا ، عائشه نے اصرار كيا اور حد سے زيادہ منت سماجت كى ، يہاں تك كہ كہہ ديا كہ اے كعب كيا ميں تمھارى ماں نہيں ہوں ؟كيا تمھارى گردن پر ميرا حق مادرى نہيں ہے ؟الست امك ولى عليك حق عائشه كى جھنجھوڑنے والى باتوں سے كعب بہت زيادہ متاثر ہوئے اور عائشه كى موافقت و حمآیت پر امادہ ہو گئے_

____________________

۸_ كعب بن سور قبيلہ ازد كى فرد تھے زمانہ رسول ميں اسلام قبول كيا ليكن انحضرت كى صحبت نہيں پائي ، استيعاب ميں ہے ، ايك دن كعب عمر كے پاس بيٹھے تھے كہ ايك عورت نے ا كر كہا ، اے عمر ميرا شوھر دنيا كا سب سے بڑاعابد و زاہد ہے وہ رات بھر عبادت كرتا ہے ، اور دن بھر روزے ركھتا ہے ، عمر نے يہ سنكر اسكے شوھر كى تعريف كى اور اسكے لئے مغفرت طلب كى ، عورت كو شرم ائي كہ اس سے واضح اپنى بات كہے اور اندرونى بات بيان كرے ،كعب نے عمر سے كہا ، اے خليفہ وہ عورت آپ كے پاس اسلئے نہيں ائي تھى كہ آپ كى خوشنودى حاصل كرے اسكا مقصد تھا كہ وہ نماز روزے كرتا ہے ، اور حق زوجيت ادا نہيں كرتا ، عمر نے كعب كى بات سنى تو چونك پڑے حكم ديا عورت كو حاضر كيا جائے ، تحقيق سے معلوم ہوا كہ اس عورت كا مقصد يہى تھا ، انھوں نے كعب كى معاملہ فہمى ديكھ كر اس عورت كا فيصلہ انھيں كے حوالے كر ديا ، كعب نے كہايہ مرد اپنے اوقات چار حصوں ميں بانٹ دے ، ايك حصہ اپنے بيوى بچوں سے مخصوص كر ے ، بقيہ اوقات عبادت اور دوسرے كاموں ميں صرف كرے ، اس فيصلے سے عمر كو بڑى حيرت ہوئي اسى لئے شھر بصرہ كا انھيں جج بنا ديا ، يہاں تك كہ وہ جنگ جمل كے دن قتل ہوئے


ابن سعد نے اس شخص كا نام نہيں بتايا ہے جس نے عائشه كو كعب سے ملاقات پر ابھارا ، ليكن عظيم شيعہ عالم شيخ مفيد نے اس پيشكش كى نسبت طلحہ و زبير كى طرف دى ہے _

ان كا بيان ہے كہ: منجملہ ان قبائل كے جنھوںنے طلحہ وزبير كى بيعت نہيں كى ، ايك قبيلہ ازد بھى تھا ، كيونكہ كعب بن سور جو قاضى بصرہ اور قبيلہ ازد كا رئيس بھى تھا ، اس نے طلحہ و زبير كى بيعت نہيں كى قبيلہ ازد والوں نے كعب كى پيروى كرتے ہوئے انكى بيعت نہيں كى طلحہ و زبير نے كسى كو كعب كے پاس بھيجكر حمآیت كرنے كى درخواست كى ليكن كعب نے انكار كرتے ہوئے كہا :

اج ہمارا برتائو يہ ہو گا كہ دونوں لشكر سے علحدہ رہونگا ، نہ تمھارى حمآیت ميں اقدام كروں گا نہ مخالفت ميں اقدام كرونگا ، طلحہ و زبير نے كعب كى بات نہيں مانى _ انہوں نے باہم رائے قائم كى كہ ہميں كعب كو كو غير جانبدار نہيں رہنے دينا چاہئے ، انھيں اپنى حمآیت پر امادہ كرنا چاہئے ، تاكہ اسكى طاقت سے استفادہ كيا جاسكے ، اگر وہ علحدہ رہا تو قبيلہ از د كے تمام افراد علحدہ رہيں گے ، اسى وجہ سے طلحہ و زبير كعب كے گھر گئے اور ملاقات كى اجازت مانگى كعب نے انھيں اجازت نہيں دى ، طلحہ و زبير وآپس ہو كر عائشه كے پاس گئے اور ان سے اس خطرناك مسئلے كے بارے ميں سمجھا كر رائے دى كہ خود وہى جاكر اسكى حمآیت طلب كريں عائشه نے پہلے كعب كے يہاں جانا مناسب نہيں سمجھا اور ايك شخص كو بھيج كر ملاقات كے لئے بلايا ، كعب نے عائشه كى دعوت ٹھكرا دى اور ملاقات سے انكار كيا ، جب طلحہ و زبير نے يہ صورتحال ديكھى تو عائشه كو اس بات پر امادہ كيا كہ وہ خود ہى كعب كے گھر پر چليں _

انھوں نے كہا كہ: اے عائشه اگر كعب نے ہمارى حمآیت نہيں كى تو يہ بات طئے ہے كہ بصرہ كا سب سے بڑا قبيلہ ازد ہمارى حمآیت نہيں كر يگا ، اسكے سوا كوئي چارہ نہيں كہ آپ خود مركب پر سوار ہو كر ان كے گھر چليں ، شايد آپ كى حيثيت كے احترام سے متاثر ہو كر آپ كى پيشكش كو نہ ٹھكرائے _

طلحہ و زبير نے باتيں اتنى زيادہ كر ڈاليں اتنا اصرار كيا كہ عائشه مجبور ہو كر خچر پر سوار ہوئيں اور بہت سے معززين بصرہ گردا گرد كعب كے گھر كى طرف چليں ، عائشه نے وہاں پر كعب سے بہت زيادہ اصرار كے ساتھ ا س طرح بات كى كہ گوشہ خانہ كا شخص ميدان جنگ ميں كھنچ كر اگيا ، بلكہ اپنے لشكركا پرچم بردار بنا ليا _

مبرد نے كامل ميں لكھا ہے كہ: جنگ جمل كے دن كعب نے قران گردن ميں حمائل كر كے اپنے تين يا چار


بھائيوں كے ساتھ لشكر عائشه ميں شموليت اختيار كى ، دل و جان سے جنگ كرتے كرتے قتل ہوئے انكى ماں لاش پر اكر يہ اشعار پڑھنے لگيں

يا عين جودى بدمع سرب

على فتية من خيار العرب

و مالهم غير حين النفو

س اى امير قريش غلب(۹)

اے انكھ ، بہت زيادہ انسو ئوں كى بارش كر ان جوانوں پر جو عرب كے بہت اچھے شہسوار تھے

ايسے جوان جنھيں يہ تميز نہيں تھى كہ اس جنگ ميں قريش كے دواميروں ميں سے كو ن فتحياب ہو گا _

على كامياب ہوں گے ، يا طلحہ اور اسكے ساتھى ؟

ان جوانوں كى ماں نے اپنے اشعار ميں يہ سمجھا نا چاہا ہے كہ كعب اور اسكے بھائي دل سے تو غير جانبدارتھے ليكن عائشه كے اصرار نے انھيں ميدان جنگ ميں گھسيٹا اور موت كے منھ ميں ڈھكيل ديا

اونٹ كى لجام قريش كے ہاتھ ميں

جب كعب بن سور قتل ہوئے تو سب سے پہلے قريش نے بڑھكر لجام تھامى اور وہ اونٹ كے لجام بردار بن گئے ، انھيں ميں ابو جھل كا (نواسہ )عبدالرحمن بن عتاب بھى تھا ، اس نے لجام تھام لى اور اونٹ كو كھينچتا پھر رہا تھا ، اور جنگ كرتے ہوئے يہ رجز پڑھ رہا تھا _

ميں ہوں عتاب كا فرزند ، ميرى تلوار كا نام ولول ہے _

اس اونٹ كى راہ ميں قتل ہونا ميرے لئے باعث فخر اور مائيہ شرافت ہے

انا بن عتاب و سيفى ولول

والموت عند الجمل المجلل

____________________

۹_اس بات كى تمام باتوں كے حوالے ، طبرى ج۵ ص۲۱۹ ، استيعاب ص۲۲۱ ، اسد الغابہ ج۳ ص۲۴۲ _ اصابہ ج۳ ص۲۹۷ ، نہج البلاغہ ج۲ ص۸۱ ، طبقات بن سعد ج۷ ص۹۴ ، تاريخ جمل شيخ مفيد ص۱۵۶ ، كامل بن اثير ج۳ ص۲۴۲


عائشه كے دوسرے لجام بردار عبد الرحمن نے اسطرح اپنے رجز سے لشكر والوں كو جانبازى پر ابھارا ، خود بھى شديد جنگ كى ، اس اونٹ اور اسكے سوار كى جان و دل سے مدافعت كى ، اسى درميان حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر نے اس پر حملہ كر كے ہاتھ بدن سے جدا كر ديا ، اور اس طرح وہ قتل ہو گيا _

عبد الرحمن كے بعد قريش كے ستّر ادميوں نے اونٹ كى لجام ہاتھ ميں تھامى اور سب نے جان دى ، جو بھى لجام تھامتا فوراًہى تير و تلوار سے موت كے گھاٹ اتر جاتا يا اسكے ہاتھ كٹ جاتے

اونٹ كى لجام بنى ناجيہ كے ہاتھ ميں

قريش كے بعد خاندان ناجيہ اگے بڑھا اور سبقت كر كے لجام تھام لى ، عائشه كا طريقہ يہ تھا كہ جو بھى لجام تھا متا اسے پہچاننے كے لئے سوالات كرتيں ، يہ كون ہے ؟كہاں كا رہنے والا ہے ، كس قبيلے سے ہے_

جب خاندان ناجيہ نے لجام تھامى تو عائشه نے پوچھا ، يہ كون لوگ ہيں كس قبيلے سے ہيں جنھوں نے لجام تھام لى ہے ،كہا گيا بنى ناجيہ ہيں عائشه نے انھيں تشويق دلاتے ہوئے كہا : صبر و استقامت دكھائو جم كر لڑو كيونكہ ميں تمہارے قبيلے ميں غيرت و شجاعت ديكھ رہى ہوں ،تم تو قريش سے ہو عائشه نے يہ جملہ اس حساس موقع پر اسلئے كہا كہ بنى ناجيہ كا قريش كے قبيلے سے ہونے كے بارے ميں اختلاف ہے ، بعض ماہرين انساب انھيں قبيلہ ء قريش سے نہيں مانتے(۱۰) دوسرے يہ كہ بنى ناجيہ كى قبيلہ قريش سے بيگانگى اس قبيلے كے لئے باعث ننگ تھى جس كى وجہ سے معاشرے ميں وہ بد نام تھے ، يہى وجہ تھى كہ

____________________

۱۰_ بنى ناجيہ كے قرشى ہونے پر علماء انساب ميں اختلاف ہے ، كچھ لوگ كہتے ہيں كہ بنى ناجيہ كى ماں كا نام ناجيہ تھا ، ماں كے نام سے يہ خاندان مشھور ہوا ، ناجيہ بھى لوى بن غالب كے بھائي سامہ كى بيوى تھى ، اخر كا ر ناجيہ كا بآپ سامہ اختلاف كى وجہ سے مكہ سے چلا گيا ، بحرين ميں رہتا تھا وہيں سانپ نے كاٹ ليا اور وہ مر گيا ، كچھ دوسرے ماھرين كہتے ہيں كہ بنى ناجيہ قريش سے نہيں ہيں كيونكہ ناجيہ اگر چہ سامہ بن لوى قرشى كى بيوى تھى ليكن سامہ اسكا لڑكا نہيں تھا ، اس نے دوسرے مرد بحرينى سے شادى كى تھى جسكا نام حارث تھا ، وہ بچپن ميں يتيم ہو گيا ، ناجيہ اسے ليكر مكہ اگئي اور كعب سے كہا يہ آپ كے بھائي كا بيٹا ہے ، كعب نے قبول كر ليا اتفاقا ايك بحرينى نے اكر سارا واقعہ بيان كيا تو حارث نے چچا كى مخالفت كى وجہ سے بحرين وآپس گيا ، اسى لئے وہ قريشى نہيں ہے اغاني--:۱۰/۲۰۳_۲۰۵، شرح نہج البلاغہ :۳/۱۲۰_ ۱۲۱


موقع شناس عائشه نے اس حساس موقع پر انھيں قبيلہ قريش سے ہونے كا اقرار كر كے تشويق دلائي ، اور جانبدارى و فدا كارى كيلئے ابھارا ، اس قبيلے كے معززين نے لجام تھام كر اپنى جان دى _

لجام قبيلہ ازد كے ہاتھوں

خاندان ضبہ كے افرادنے ايك ايك كر كے لجام تھا مى اور قتل ہو تے گئے ان كے بعد قبيلہ ازد والے اگے بڑھے اور لجام شتر ہاتھ ميں لى ، عائشه نے معمول كے مطابق پوچھا ، تم لوگ كس قبيلے سے ہو ، انھوں نے كہا ہم ازد سے ہيں ، عائشه نے كہا :

عائشه نے کہان : _ ہاں ازدى ازاد مرد ہيںجو شدائد ميں صبر كرتے ہيں ، اس جملے كا بھى اضافہ كيا كہ جب تك بنى ضبہ تھے ميں اپنے لشكر ميں فتحمندى كے اثار محسوس كر رہى تھى ليكن اب ان كے بعد ميں فتح سے نا اميد ہو چكى ہو ں _

عائشه نے ان جملوں سے قبيلہ ازد كو بھڑكا يا تاكہ وہ دل و جان سے جنگ كريں _

قبيلہ ازد ميں سب سے پہلے لجام عمر و بن اشرف ازدى نے تھامى ، وہ ايسا بہادر تھا كہ جو بھى اسكے قريب اتا ايك ہى ضرب ميں قتل ہو جاتا ، وہ لوگوں كو ہيجان ميں لانے كيلئے رجز پڑھ رہا تھا _

اے اماں جان ، اے بہترين مادر كيا آپ نہيں ديكھ رہى ہيں كہ آپ كے سامنے كيسے كيسے بہادر اپنى شجاعت كا مظاہرہ كر رہے ہيں كيسے كيسے مردان عظيم آپ كے احترام ميں نيزہ و تلوار چلا رہے ہيں ، آپ كى راہ جسموں كى تلاش ہو رہى ہے ، ہاتھ جدا ہو رہے ہيں ، مغز اور كھوپڑياں اڑرہى ہيں

(يا امنا يا خير ام نعلم اما ترين كم شجاعاً يكلم و تختلى ها مته و المعصم )

اتفاقاً اسى درميان جبكہ ابن اشرف رجز خوانى ميں مصروف تھا اسكے چچيرے بھائي حارث بن زھرہ ازدى نے حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر سے نكل كر اس پر حملہ كيا ، يہ دونوں بھائي آپس ميں گتھ گئے دونوں ميں اتنى تلواريں چليں كہ زمين پر گر گئے ، ان دونوں كى طاقت ازمائي كى اتنى گرد اڑى كہ مطلع غبار الودہ ہو گيا ، يہاں تك كہ دونوں ہى مر گئے ،

اسطرح عائشه كى لجام پكڑے ہوئے_ عمرو بن اشرف كے ساتھ قبيلہ ازد كے تيرہ افراد نے ايك كے بعد ايك اپنى جان ديدى(۱۱)

____________________

۱۱_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۸۱ ، طبرى ج۵ ص ۲۱۱ ، كامل ابن اثير ج۳ ص ۹۸


ايك عجيب داستان

مشہور مورخ مدائنى ا س طرح لكھتا ہے :

راوى كا بيان ہے كہ: ميں نے بصرہ ميں ايسے شخص كو ديكھا جس كے كان كٹے ہو ئے تھے ، ميں نے اس سے كان ضائع ہو نے كى وجہ پوچھى ، اس نے جواب ميں كہا كہ ميں جنگ جمل ختم ہونے كے بعد مقتولوں كے درميان قريب سے تماشہ ديكھ رہا تھا _

اس ہنگام ميرى نظر ايك ايسے شخص پر پڑى جسكى سانس چل رہى تھى ، وہ اپنے بدن كو حركت ديتے ہوئے يہ اشعار پڑھ رہا تھا _

ہمارى ماں عائشه نے ہميں موت كے منھ ميں ڈھكيل ديا ،جبكہ ہم انكے فرمان سے منھ نہيں پھرا رہے تھے ، اور جاں بازى كے ساتھ ان كے سامنے بڑھ بڑھ كے جنگ كر رہے تھے يہاں تك كہ ہم موت سے سيراب ہوئے _

ہم قبيلہ ضبہ والوں نے اپنى ماں كے سامنے ا س طرح رزم ارائي كى كہ ان كے ساتھيوں كو اور ان كو دوسروں كے حمآیت كى ضرورت نہيں رہى _

ہم پر افسوس ہے كہ بنى تيم كے مٹھى بھر افراد جو غلاموں اور كنيزوں كى طرح تھے ہم نے ايسے ذليلوں كى اطاعت كى _

لقد ر او دتنا حومة الموت امنا

فلم ننصرف الاونحن رواء

لقد كان عن نصر ابن ضبة امه

و شيعتها مندوحة و غناء

اطعنا بنى تيم ابن مرة شقو _ة

و هل تيم الا اعبد و اماء

وہ شخص نزع كے عالم ميں اسى طرح اشعار پڑھتا رہا ، ميں نے حيرت سے پوچھا، اے شخص كيا يہ وقت شعر گنگنانے كا ہے ؟زبان پر كلمہ توحيد اور شھادتين جارى كرو لاالہ الااللہ كہو _


اس نے مجھے جواب ديا ، اے فاحشہ كے جنے تو كيا بك رہا ہے ، تو چاہتا ہے كہ موت كے وقت ميں اظہار بيچارگى كروں ؟

ميں اس سے علحدہ ہونا چاہتا تھا كہ اس نے كہا :

مجھے كلمہ شھادتين پڑھائو ، ميں اسے شھادتين پڑھانے كيلئے قريب ہوا تو جھپٹ كر اس نے ميرا كان دانتوں سے دبا ليا ، اور جڑ سے اكھاڑ ڈالا _

ميں درد سے چلانے لگا ، برا بھلا كہنے لگا لعن طعن كرنے لگا تو بولا ، اس لعن طعن سے فائدہ كيا ہے ؟

اگر تم اپنى ماں كے پاس جانا اور وہ پوچھے كہ كس نے تمھارى يہ گت بنائي ہے تو جواب دينا كہ عمير بن اہلب ضبى نے ، اسى عمير نے جو عائشه جيسى عورت كے فريب كا شكار ہوا جو حكومت پر قبضہ كر كے امير المومنين بننا چاہتى تھى(۱۲)

طبرى نے يہ داستان ا س طرح لكھى ہے كہ: ايك دوستدار على كا بيان ہے كہ ميں نے ميدان جنگ ميں ايك زخمى شخص كو ديكھا جو اپنے خون ميںنہايا ہوا تڑپ رہا تھا ،وہ اپنى اخرى سانسيں گن رہا تھا ليكن اسى حال ميں اشعار بھى گنگنا رہا تھا ، ميرے اوپر اسكى نظر پڑى تو بولا ، ائو ذرا مجھے كلمہ شھادتين پڑھا دو ميں اسكے پاس پہونچا ، پوچھا كس شھر اور قوم سے تمھارا تعلق ہے ؟ميں نے كہا ، كوفے كا باشندہ ہوں _

بولا ذرا اپنا سر ميرے قريب لائو تاكہ تمھارى بات اچھى طرح سنوں ، ميں نے قريب كيا تو جھپٹ كر دانت سے ميرے كان پكڑ لئے اور اسے جڑ سے اكھاڑ ڈالا(۱۳)

رجز خوانياں

ابن ابى الحديد معتزلى نے مدائنى اور واقدى كے حوالے سے لكھا ہے كہ: معركہ ارائيوں كى تاريخ ميں جنگ جمل سے زيادہ كوئي ايسى جنگ نہيں ہے جسميں اس سے زيادہ رجز خوانياں ہوئي ہوں ، زيادہ تر رجز بنى ضبہ اور بنى ازد نے پڑھے ، يہ دونوں قبيلے مہار شتر تھامے ہوئے حمآیت ميں رجز پڑ ھكر دوسروں كو جنگ پر ابھاررہے تھے ،ا س كے چند

____________________

۱۲_ مروج الذھب در حاشيہ كامل ج۵ ص ۱۹۹ ، كامل بن اثير ج۳ ص ۱۰۰

۱۳_ طبرى ج۵ ص ۲۱۳


نمونے ملاحظہ ہوں _ ابن ابى الحديد بحوالہ واقدى و مدائنى نقل كرتا ہے كہ لشكر بصرہ عائشه كے اونٹ كے گرد حلقہ كئے ہوا تھا سبھى باہم ايك اواز اور ايك اھنگ كے ساتھ نعرے لگا رہے تھے _

اے عائشه اے مادر مہربان اپنے دل ميں ذرا بھى خوف و ہراس پيدا نہ كيجئے ، كيونكہ ہم اپنى تمام توانائيوں اور فدا كاريوں كے ساتھ آپ كے اونٹ كا حلقہ كئے ہوئے ہيں ، ہم اسے ہر قسم كے خطرے سے بچائيں گے _

اماں جان جب تك دنيا قائم ہے كوئي بھى ہميں اس اونٹ كے اطراف سے نہيں ہٹا سكتا ، نہ ہميں منتشر كر كے آپ كو اكيلا كر سكتا ہے _

اماں جان كون سى طاقت تمہيں نقصان پہونچا سكتى ہے حالانكہ جنگجو اور بہادر آپ كا حلقہ كئے ہوئے ہيں_

قبيلہ ہمدان كے شجاع مردبہترين تلوار چلانے والے آپ كى حمآیت كر رہے ہيں اورقبيلہ ازد كے بہترين تلوار چلانے والے آپ كى حمآیت كر رہے ہيں ، جنھيں زمانے كى سختيوں اورمصائب نے كبھى ہراساں نہيں كيا ابن ابى الحديد نے اس رجز كو نقل كرنے كے بعد كہا ہے كہ لشكر بصرہ سے ايك بوڑھا ، خوش وضع اور خوبصورت نكلا جسكے بدن پر جبہ بھى تھا اس نے بڑے جو شيلے انداز ميں قبيلہ ازد سے خطاب كيا _

اے قبيلہ ازد كے لوگواپنى مادر مہربان عائشه كى مدد كرو كيونكہ يہى حمآیت تمھارى نماز روزہ ہے ، ان كى تمام حيثيت كا احترام تمھارے اوپر واجب ہے ، ان كے حريم كا دفاع كرنے ميں اپنى تمام توانائياں صرف كر دينا چاہئے ايسا نہ ہو كہ دشمنوں كى ٹولى تمھارے اوپر فتح پاليں كيونكہ اگر دشمن نے تم پر فتح پا لى تو تمھيں قيدى بنا لے گا اور تمھارے اوپر ہر طرح كا ظلم و ستم ڈھائے گا ، اسوقت تمھارے بوڑھے مرد و عورت پر بھى رحم نہ كرے گا ،اے جواں مردو اے شہ سوارو ، اے قبيلہ ازد والو ، چوكنّا رہو كہيں اس جنگ ميں تم لوگوں كو شكست و


ہزيمت كا منھ نہ ديكھنا پڑے(۱۴)

يا امنا يكفيك منا دنوه ---لن يوخذ الدهر الخطام عنوه

و حولك اليوم رجال شنوه ---وحى همدان رجال الهبوه

والما لكيون القليلوا الكبوة ---والازد حى ليس فيهم نبوه

يا معشر الازد عليكم امكم ---فانها صلاتكم و صومكم

والحرمة العظمى التى تعمكم ---فاحضروها جدكم و حزمكم

لا يغلبن سم العدو سمكم ---ان العدو ان علا كم زمكم(۱۴)

مدائنى اور واقدى نے اس رجز كے ذيل ميں اس نكتے كى بھى نشاندہى كى ہے كہ اس رجز كا مضمون طلحہ و زبير كے اس تاريخى تقرير كى تائيد كرتا ہے جسميں انھوں نے كہا تھا _

اے بصرہ والو _ چوكنا رہو كہ اگر علىعليه‌السلام تمھارے اوپر فتحمند ہوئے تو تمہيں مليا ميٹ اور پامال كر ڈاليں گے ، تم ميں سے كسى كو بھى زندہ نہيں چھوڑيں گے ، اپنا تحفظ كرو ، اگر علىعليه‌السلام تم پر كامياب ہو گئے تو تمہارے مردوں كا احترام ختم كر ديں گے اور تمہارى عورتوں كو اسير كر ليں گے ، تمھارے بچوں كو تلوار كى باڑھ پر ركھ ليں گے ، تم پر لازم ہے كہ مردانہ وار قيام كرو ، تاكہ اپنے ناموس كا تحفظ كر سكو ، موت كو رسوائي پر ترجيح دو اور علىعليه‌السلام سے اسطرح جنگ كرو كہ انھيں اپنے وطن سے نكال باہر كر سكو ، ابو مخنف كا بيان ہے كہ جتنے بھى رجز خوان يا شاعر اس بارے ميں نغمہ سرا ہوئے ہيں ، ان ميں كوئي بھى اس بوڑھے سے بازى نہيں لے جا سكا ، جس كى بہترين شاعرى نے لوگوں كو جھنجوڑ كر ركھ ديا ، جس وقت بصرہ والوں نے اسكا رجز سنا تو تڑپ كر اپنى صفوں سے شديد تر حملہ كيا اور دوسروں سے زيادہ عائشه كے اونٹ كے گرد اكر صبر و استقامت دكھايا _

طبرى كا بيان:

جنگ جمل ميں عمر و بن يثربى نے اپنے قبيلہ ازد والوں كو اسطرح ابھاراو كہ ان ميں سے ايك كے بعد ايك لجام شتر تھامتے اور شديد تر جنگ كر كے اپنى مادر گرامى عائشه كا جان و دل سے دفاع كرتے رہے ، وہ اس

____________________

۱۴_ ان دونوں رجز كا متن شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۲۵۲_۲۵۶


اس وقت يہ اشعار پڑھ رہے تھے _

ہم قبيلہ ضبہ والے ہيں ، تلوار اور موت سے نہيں ڈرتے _

دشمنوں كے سروں كو درخت كى طرح كاٹ ڈاليں گے ان كا خون سيلاب كى طرح بہا ديں گے ، اے مادر گرامى عائشه آپ ذرا بھى خوف نہ كيجئے كيونكہ آپ كے توانا اور شجاع بيٹے آپ كے گرد تلوار لئے كھڑے ہيں ، اے ہمارى ماں _ اے زوجہ رسول آپ ہى سر چشمہ رحمت و بركت ہيں ، آپ ہى عالمين كے پاك رہبر كى زوجہ ہيں(۱۵)

۴_ بنى ضبہ كا ايك جيالا عوف بن قطن لشكر عائشه سے نكلا اور چلانے لگا _

اے لوگو عثمان كا خون على اور ان كے فرزندوں كى گردن پر ہے _

يہ كہہ كر اس نے اونٹ كى لجام تھام لى اور جنگ كرنے لگا جنگ كرتے ہوئے وہ يہ رجز پڑھ رہا تھا اے ماں َ اے ہمارى ماں _ ميں وطن سے دور ہوں نہ تو قبر كا طلبگار ہوں نہ كفن كا يہيں سے عوف بن قطن حشر كے ميدان ميں اٹھے گا ہمارى زندگى يہيں ختم ہونا چاہيئے اور اسى بيابان سے صحرائے محشر ميں اٹھوں گا _

اگر آج علىعليه‌السلام ہمارے خونين پنجے سے چھٹكارا پا جائيں تو ہم بڑے ہى گھاٹے ميں رہيں گے اور اگر ان كے جگر گوشوںحسن و حسين كو زندگى كا خاتمہ نہ كر سكيں تو ہمارے لئے مناسب ہے كہ ہم مارے غم و اندوہ كے جان ديديں(۲) عوف بن قطن نے يہ رجز پڑھتے ہوئے حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر پر حملہ كيا ، سخت جنگ كرتے ہوئے قتل ہو گيا _

____________________

۱_ نحن بنو ضنبة لا نفر ---حتى نرى جما جما تخر

يخرمنا العلق المحمر ---كل بنيك بطل شجاع

يا امنا يا عيش لن تراعى ---يا امنا يا زوجة النبى

يا زوجة المبارك المهدى

۲_ يا ام يا ام خلاعنى الوطن ---لاابتغى القبرولا ابغى الكفن

من ها هنا محشر عوف ابن قطن ---ان فاتنا اليوم على فالغبن

او فاتنا ابناه حسين و حسن ---اذا ام بطول هم و حزن

۱۵_ شرح نهج البلاغه ج۱, ص, ۲۶۱,۲۶۲ تاريخ ابن اعشم


۵_ ابو مخنف كا بيان ہے : بصرہ كا مشہور و رئيس اور دولتمند شخص عبد اللہ بن خلف خزاعى حكومت عمر و عثمان كے ايام ميں بيت المال كا محاسب تھا ، جنگ جمل كے موقع پر عائشه كے لشكر والوں كا ميز بان تھا وہ صف سے نكلا اور حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں كے سامنے اكر رسم كے مطابق اپنا مبارز طلب كيا ، اس نے ہانك لگائي كہ سوائے على كے كوئي دوسرا ميرے مقابلے ميں نہ ائے ، ہاں ، على ہى مجھ سے جنگ كيلئے ائيں تاكہ جنگ تمام كى جائے اور خونريزى ختم ہو پھر وہ حضرت علىعليه‌السلام كو للكارتے ہوئے بولا _

اے ابو تراب ميں ايك بالشت بڑھكرتمہارے سامنے ايا ہوں تم بھى جرائت پيدا كرو اور ميرا مقابلہ كرنے كيلئے ايك انگل اگے بڑھو ، اے على ، تمہارى عداوت ميرے سينے ميں بوجھ بنى ہوئي ہے ، تمھارى دشمنى سے ميرا سينہ دہك رہا ہے ، قدم اگے بڑھائو ، ذرا سامنے ائو كہ تمھارا خون بہا كر اپنے دل كى اگ ٹھنڈى كروں(۱) عبد اللہ يہ رجز پڑھ كر حضرت علىعليه‌السلام كو مقابلے كيلئے پكارنے لگا امير المومنين حضرت علي(ع) نے لشكر سے نكل كر ميدان ميں قدم ركھا اور ايك ہى تلوار كى ضرب سے اسكا بھيجہ نكال كر زمين پر بہا ديا اور قتل كر ڈالا(۱۶)

عبداللہ اور مالك اشتر كى جنگ

طبرى نے خود عبداللہ بن زبير كا بيان نقل كيا ہے كہ:

جنگ جمل ميں مجھے تلوار اور نيزے كے سيتنيس زخم لگے تھے _ اگر چہ اس دن ميرے لشكر كى كثرت تعداد كے اعتبار سے يہ حالت تھى سياہ پہاڑ نظر اتاتھا جو كسى بھى طاقت سے شكست كھانے والانہيںتھا اس حالت ميں ہميں ايسى شكست ہوئي جسكى مثال نظر نہيں اتى ابن زبير مزيدكہتے ہيں كہ اس جنگ ميںجو بھى اونٹ كى لجا م ہاتھ ميں ليتا تھاوہيں ڈھير ہو جاتا تھا _حالانكہ سينتيس زخم مير ے بدن پر تھے ميں نے اسى حالت ميں اونٹ كى مہار تھام لى _ عائشه نے پوچھا اونٹ كى مہار كس نے تھام لى ہے؟

ميں نے كہا _ميں عبداللہ بن زبير ہوں _

چونكہ عائشه ديكھ رہى تھيں كہ جس نے بھى مہار شتر ہاتھ ميں لى جان سے ہاتھ دھويا _بے اختيار صدائے فرياد بلند كى _ واثكل اسماء ہائے ميرى بہن اسماء اپنے فرزند كے سوگ ميں بيٹھ گئي_

____________________

۱_ ابا تراب ادن منى فترا ---و ان صدرى عليك غمرا

فاننى اليك شبرا

۱۶_شرح نهج البلغه ج۱, ۲۶۱,و فتوح ابن اعشم


عبداللہ كہتے ہيںكہ اسى درميان ميرى نظر مالك اشتر پر پڑى ميں اسے پہچان كر اس سے گتھ گيا_ يہاں تك كہ دو نوں ہى زمين پر گر گئے_ميں چلّانے لگا _ لوگو _مالك كو قتل كردواسے قتل كر دو چاہے مجھے بھى قتل ہونا پڑے دونوں طرف كے لشكرسے ڈھير سارے افرادجمع ہو گئے_ہر ايك اپنے اپنے سپاہى كى دفاع ميںكوشش كر رہا تھا_ہم دو نوں ايك دوسرے كى دھينگا مشتى ميں ا س قدر تھك گئے تھے كہ ايك دوسرے سے علحدہ ہونے كے بعدميرى اتنى طاقت نہيںرہ گئي كہ اونٹ كى مہار تھام سكوںواقدى نے بھى مالك اشتر اورابن زبير كى جنگ كاحال يوں نقل كيا ہے عبداللہ جنگ كى غرض سے ميدان ميں ئے _حضرت علي(ع) كے لشكر كے مقابل كھڑے ہو كر اپنا مقابل طلب كيا_ان سے مقابلہ كے ليے مالك اشتر كھڑے ہوے_جب يہ دونوں جيالے ايك دوسرے كے امنے سامنے ہوئے تو عائشه نے پوچھا_ عبداللہ سے مقابلہ كے لئے كون اياہے ؟ لوگوں نے كہا _ اشتر

عائشه نے اشتركانام سنكر بے اختيار نعرہ لگاياواثكل اسماء بالاخردونوں بہادروں ميں جنگ ہونے لگي_تلواريں ايك دوسرے سے ٹكرانے لگي_ايك دوسرے كے بدن زخموںسے چور ہونے لگے يہاں تك كہ تلواريں بيكار ہو گئيں_ مالك اشتر بوڑھے تھے اسى كے ساتھ بھوكے بھى تھے _ كيو نكہ وہ جنگ كے موقع پر تين دن برابر كھانا نہيں كھائے تھے _ اس حالت ميں بھى عبداللہ كو زمين پر گرا ديا_اور اس كے سينہ پر چڑھ بيٹھےاسى ھنگام دونوں طرف كے لشكرسے لوگ وہاں جمع ہو گئے _ عبداللہ كے ساتھى اسكى نجات كے لئے كوشاں تھے_

مالك اشتر كے ساتھى بھى انكے چھٹكارے كى كوشش كر رہے تھے_

داللہ بن زبير زور سے چلاّئے _ لوگوں _مالك اشتر كو قتل كر دوچاہے اسميںمجھے بھى قتل ہونا پڑے _

ليكن اس وقت دونوںطرف كے لشكر سے اتنے لوگ جمع ہو گئے تھے كہ ميدان كى حالت اشفتہ تھي_لوگ ان دونوں كى تشخيص كرنے سے قاصر تھے_اس وجہ سے ان دونوں كى جنگ طول پكڑتى گئي_

اخر كسى نہ كسى طرح عبداللہ بن زبيرنے اپنے كو مالك اشتر كے چنگل سے نكالا اور ميدان سے فرار كر گئے _

صاحب عقد الفريدنے اس واقعہ كے بعد عبداللہ بن زبير كا بيان نقل كيا ہے كہ مالك اشتر نے مجھے دبوچكرگڑھے ميں ڈال ديااور كہا اے عبداللہ اگر تيرى رشتہ دارى رسول خدا(ص) سے نہ ہوتى تو تيرے بدن كے جوڑ جوڑ علحدہ كرديتا(۱۷)

____________________

۱۷_ عبد الله كے بآپ زبير كى ماں صفيه جناب رسول خدا(ص) كى پھو پھى تھى اسى رشته دارى كى وجه سے مالك اشتر نے ابن زبير كو قتل نہيں كيا


طبرى نے علقمہ كا بيان نقل كيا ہے كہ ميں نے ايك دن مالك اشتر سے پوچھا_تم قتل عثمان كے مخالف تھے تم نے كيسے جنگ جمل ميں شركت كى جس مين ہزاروں افراد قتل كيے گئے مالك نے ميرا جواب ديا _ جب لشكرعائشه نے على كى بيعت كى اور پھر اپنى ہى بيعت توڑ دى تو ايسى بيعت شكنى اور على كى مخالفت نے مجھے اس جنگ ميں شريك ہونے پر امادہ كيا _ليكن ان ميں سب سے زيادہ گنہگار اور خطا كار عبداللہ بن زبير تھا _كيونكہ اسنے عائشه كو على سے جنگ پر ابھارا وہى تھا جس نے اپنے بآپ كو على سے جنگ كرنے كيلئے بھڑكايا عائشه اور زبير دونوں ہى جنگ سے دست بر دار ہو گئے تھے ان دونوں كو اسى ابن زبير نے دو بارہ ميدان جنگ ميں گھسيٹا _ ميں خدا سے دعا كر تا تھا كہ اسے قيدى بنالوںاور اسكے كرتوتوں كى سزا د وں_ خدا نے بھى ميرى دعا سن لى اور مو قع غنيمت ديكھ كر گھوڑے پر سوار ہوا_اور بھر پور قوّت كے ساتھ اس پر تلوار كى ضرب لگا كراسے گرا ديا اور ذلّت كى خا ك چٹائي_

ايك دن علقمہ نے مالك سے پوچھا_ كيا عبداللہ بن زبير نے كہا تھا كہ اقتلونى و مالكا_ ما لك كو قتل كر دو چاہے مجھے بھى قتل ہونا پڑے_ مالك نے جواب ديا _ نہيں _ يہ جملہ اسنے نہيںكہا تھا _كيونكہ ميں عبداللہ كو قتل نہ كرتا _ صرف ايك تلوار چلا كے ہاتھ روك ليا تھا _ ميرے دل ميں خيال ايااور ميرے جذبات ا س كے بارے ميں بھڑك اٹھے _ ا س كے بعد ميں نے ا س كے قتل كاارادہ بدل ديا _

ا س كے بعد مالك نے كہا:اصل ميںيہ جملہ مذكورہ عبدالرّحمان بن عتاب نے كہاتھا _اس دن وہ چلاّكر بولا _مجھے اور مالك دونوں كو قتل كر دوا س كا مقصد يہ تھا كہ مالك كو قتل كر دوچاہے ا س كے ساتھ مجھے بھى قتل ہونآپڑے _ليكن ميدان جنگ كى حالت ا س قدر درہم برہم تھى كہ عبداللہ كے ساتھيوں كو ميرى پہچان نہ ہوسكى _ورنہ مجھے تو قتل ہى كر ديتے _


طبرى كا بيان ہے كہ: جنگ جمل ميں عبداللہ بن زبير كوبہت زيادہ زخم لگے تھے _اسنے اپنے كو مقتولوں كے درميان ڈا ل ديا تھا جنگ ختم ہونے كے بعد اسكا علاج معالجہ كيا گيا اور زخم ٹھيك ہو گئے _

جنگ جمل ميں عبداللہ اگر چہ قتل تو نہيں ہواليكن بے شمار زخموں كى وجہ سے دشمن سے مقابلہ اورجنگى طاقت ختم ہوگئي تھى اسطرح طلحہ وزبيركے بعد لشكر عائشه كاتيسرا سپہ سالار بھى بيكار ہو گيا _

ليكن كسى كے بھى بيكار ہو جانے سے لشكرعائشه ميںكسى قسم كى افرا تفرى نہيںپھيلى اور جنگ ختم نہيں ہوئي _كيونكہ اس جنگ ميں تمام لوگوں كى نظريں عائشه كے اونٹ پر تھيں _اسكے ارد گرد خون بہتے رہے_ اسكے قريب شہ سواروں كے سر گرتے رہے_اسى اونٹ كے اگے اگے بصرہ كے جيالے اور سر فروش خزاں رسيدہ پتّوں كى طرح گرتے رہے جب تك اونٹ كھڑا تھا _ چل پھر رہاتھا_جنگ و خونريزى جارى تھى ليكن اكيلے اونٹ كے گرتے ہى ' جى ہاں صرف اسى كے گرنے سے جنگ و خونريزى ختم ہو گئي _(۱۸)

جنگ اپنے شباب پر پہنچ گئي

طبرى كا بيان ہے : حضرت علىعليه‌السلام كے ميمنہ لشكر نے عائشه كے ميسرئہ لشكر پر حملہ كيااور گھمسان كى جنگ ہو نے لگى عائشه كى فوج كے زيادہ قبيلہ ازد اور ضبّہ كے افراد تھے وہ پيچھے ہٹكر عائشه كى پناہ پكڑنے لگے ا س طرح وہ ہودج كے ارد گرد جمع ہو گئے(۱۹)

ابو مخنف كابيان ہے :

حضرت على نے مالك اشتر كو حكم ديا كہ فوج دشمن كے ميسرئہ پر حملہ كريں _مالك نے ميسرئہ پر حملہ كيا توصفيں درہم برہم ہو گئيں اور فوجوں نے بھاگ كر عائشه كے پاس دم ليا ميسرئہ كى شكست سے قبيلہ ضبّہ، ازد ، عدى ، ناجيہ ، باہلہ وغيرہ كے تمام افرادنے ايك بار اونٹ كى طرف اپنى توجہ مبذول كى اب وہ اونٹ كى حفاظت كى طرف اپنى

____________________

۱۸_ طبرى ۵ _ ۲۱۰ _ ۲۱۱ _ ;۴ ;۲ شرح نہج البلا غہ ۸۷۱ شرح خطبہ كنتم حيندالمراتہ كے ذيل ميںكامل بن اثير ۳_۹۹ عقدالفريد ۴_ ۳۲۶ لجنتہ التاليف _ تاريخ بن اعثم _ مروج الذھب _

۱۹_ طبرى ج۵ ص ۲۰۷


سارى توجّہ مركوز كرنے لگے فطرى طور سے لشكر على كے حملہ بھى اسى طرف مر كوز ہو گئے _ اور يہاں جنگ كا دائرہ تنگ ہو گيااور گھمسان كى جنگ اور خونريزى ہونے لگى _ ا س كا نتيجہ اخر يہ ہوا كہ عائشه كے لشكر كو شكست ہو گئي(۲۰)

مدائنى اور واقدى جيسے مشہور مورخوںنے بتاياہے كہ

لشكر عائشه كى صفيں لشكر على كے پے در پے حملوںسے درہم برہم ہو گئيں بہادروں نے ہر طرف سے لشكر عائشه كى طرف اپنى توجہ مركوز كى اونٹ اور ہو دج كو اپنے گھيرے ميں لے ليا_ اونٹ كے گرد زيادہ تربنى ضبّہ اور بنى ازدكے لوگ تھے _وہى سب سے زيادہ جانفشانى كر رہے تھے حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوںنے بھى اپنے حملہ اسى طرف موڑ دئے_

ايك چھوٹے سے دائرہ ميں جس كا محور عائشه كا اونٹ تھا اسى كا محاصرہ كر لياگيا _ حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں نے اپنے حملوں كا نشانہ عائشه ہى كے اونٹ كو بنا ليا _ عائشه كے ساتھى بھى شدّ ت كے ساتھ ا س كا دفاع كرنے لگے حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كے حملے اور لشكر عائشه كے دفاع كى وجہ سے اگ اور خون سے بھر پور جنگ شروع ہو گئي _سر گرنے لگے _بدن سروں سے جدا ہونے لگے ہاتھ كٹ كٹ كرہوا ميں لہرانے لگے _پيٹ پھٹنے لگے _ ليكن اس بھيانك صورتحال كے باوجوديہ دونوں قبيلہ چونٹيوں كى طرح اونٹ كے گرد پروانہ وار پھر رہے تھے _ ا س قدر استقامت كا مظاہرہ كر رہے تھے كہ گھمسان كى جنگ ان ميںذرا بھى خوف وہراس پيدا نہيںكر سكى _ استقامت ميں ذرہ برابر بھى تزلزل پيدا نہ كر سكى _وہ ا ہنى ديوار كى طرح اپنى تمام قوتوں اور توانائيون كے ساتھ اونٹ كا دفاع كر رہے تھے كہ اچانك حضرت علىعليه‌السلام كى اواز بلند ہوئي _ آپ نے اپنے لشكر سے خطاب فرماياويلكم اعقرواالجمل فانه شيطان _

تم پر افسوس ہے_ اونٹ كو پئے كردو كيو نكہ يہ شيطان ہے _

تم پر افسوس ہے _ ان كآپر چم گرا دو اونٹ كو پئے كر دو كيونكہ يہ شيطان كى طرح بدبخت لوگوں كو اپنے گرد جمع كئے ہوا ہے _جب تك يہ كھڑا ہوا ہے فتنہ وخونريزى جارى رہے گى _ ان ميں كا ايك بھى شخص زندہ نہيں رہے گا_ اے لوگو اونٹ كو پئے كر دو اور اس تمام خونريزى كا خاتمہ كردو _

حضرت علىعليه‌السلام كے اس فرمان كے ساتھ ہى تلواريں بلند ہوئي اور مركزى نقطہ پرشديد حملے شروع ہوگئے _ يہاںتك كہ وہ [

____________________

۲۰_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۲ ص ۸۸


منحوس اونٹ ڈھير ہو گيا _

تاريخ نگاروں كابيان ہے كہ :جنگ كا دائرہ تنگ تر ہو گيا تھا _جنگ اكيلے شتر عايشہ كے اطراف ميں سمٹ كر رہ گئي تھى _لوگ ا س طرح اسكے گرد پروانہ وار پھر رہے تھے جيسے چكى كہ پائے گھومتے ہيںاونٹ كے اطراف عجيب ادھام كامنظر تھا _ جنگ پورے شباب پر ہونے لگى تھى لوگوں كا شور غوغا اور چيخ پكاراسكے ساتھ اونٹ كى بلبلاہٹ زيادہ ھنگامہ پيدا كر رہى تھى اسى ميںحتات مجاشعى نعرہ لگا رہا تھا _ اے لوگو اپنى ماں كى حمآیت كرو _ اے لوگوعائشه كادفاع كرو اپنى مادر كى نگہبانى كر تے رہو _ يہ ديكھو تمہارى ماں اب ہودج سے گرنے ہى والى ہيں _ اونٹ كے گرد ا س قدر وحشت برس رہى تھى كہ لوگ آپس ميںگتھ گئے تھے _ ايك دوسرے كو بغير پہچانے قتل كر رہے تھے حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھى دشمن كے لشكر پر حملہ كر رہے تھے جدھر حملہ كرتے دشمن كو پراكندہ كر ديتے ليكن پھر بھاگنے والے اونٹ كے گردجمع ہوجاتے يہاں تك كہ حضرت على نے نعرہ لگايا _ اے لوگو اونٹ پر تير برسائو _ اس ملعون اونٹ كومار كر گرا دو _حكم ملتے ہى تير اندازوں نے اونٹ پر تير بارانى شروع كر دى ليكن اونٹ كو ا س قدر ا ہنى ز رہوںاور مضبوط تختوں سے چھپايا گيا تھاكہ تيراونٹ كے بدن تك نہيں پہنچ رہا تھا اسكى سجاوٹ جيسے محكم قلعہ كى طرح تھى ذرہ برابر بھى اسے گزند نہيں پہنچ رہى تھى _ تيروں كى بارش تختوں پر جاكرجم جاتى تھى _ اونٹ پر اتنے تير لگے تھے كہ ساہى كى طرح نظر ارہا تھا _

دو لشكر كا شعار

جب عائشه كے ساتھيوں نے خطرہ كا احساس كيااور شكست نظر انے لگى اور لشكر على كى فتح حتمى طريقہ سے نظر انے لگى تو شعر اور رجزكے بجائے شعار لشكر كانعرہ لگانے لگے يالثارات عثمان (خون عثمان كا انتقام لينے والواٹھ كھڑے ہو ) سارے لشكر عائشه كا علامتى نعر ہ يہى تھا _ ان كے حلق سے يہى اوازنكل رہى تھى _ سبھى مل كر چلاّ رہے تھے _ يا لثا رات عثمان _ ان لوگوںكے مقابلہ ميں حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھيوںنے بھى يامحمد (ص) كانعرہ لگانا شروع كيا _ ان كا شعار يہى تھا _

ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے حكم دياكہ تم لوگ حضرت رسول خدا(ص) كے شعارسے استفادہ كرنے كے بجائے يامنصور امت(۲۱) كو اپنا جنگى نعرہ قراردو(۲۲)

____________________

۲۱_يہ شعار وہ ہے جب مسلمانوں نے حكم رسول كے مطابق بعض جنگوں ميں استفادہ كياتھا يہ دونوں فقرے دو لفظوں سے تشكيل پاتے ہيں ايك ہے يا منصور ( يعنى اے لوگو جو خدا كى مدد ونصرت تلے ہو )جملہ دوم ہے اصمت يعنى قتل كرو ا ن دونوں فقروں كا مجموعہ يہ معنى ديتا ہے كہ اے لوگوں جو خدا كى مدد ونصرت سے سرفراز ہو _ا ے لوگو ںجو حق پر ہو ان لوگو كو قتل كر دو جوظالم ہيں اور حق سے دور ہيں

۲۲_ شرح نھج البلاغہ ابى الحديد ۱ _ ۸۷


جنگ كا خاتمہ

لشكر عائشه كے ايك سپاہى كا بيان ہے :

جنگ جمل ميں ہمارى پارٹى كو ايسى سخت شكست كا منھ ديكھنآپڑا جو اس سے پہلے ديكھى نہ گئي ،اس موقع پر عائشه ہود ج ميں سوار تھيں اور ا ن كا اونٹ متواترتيروں كى بارش سے خار پشت (ساہي) كى طرح ہو گيا تھا(۲۳)

اس بارے ميں ابو مخنف كا بيان ہے :

صرف اونٹ پر ہى تيروں كى بارش نہيں كى گئي _ بلكہ عائشه كا ہودج بھى تيروں كا نشانہ بنايا گيا _ تيروں كى بارش سے كجاوہ بھى كسى خارپشت(ساہي)كى طرح نظر ا رہا تھا _

ابو مخنف كہتا ہے : جب حضرت علىعليه‌السلام نے ديكھاكى عائشه كا اونٹ ہى جنگ كا محور بناہوا ہے اور اسى كے ارد گردخون اچھل رہے ہيںاور ہاتھ كٹ رہے ہيںتو آپ نے عمّا ر ياسر اور مالك اشر كو حكم ديا كہ جاكر اس منحوس اونٹ كوپئے كردو كيونكہ ان لوگوں نے اسى كواپنے لئے قبلہ قرار دے لياہے _اور خانہ كعبہ كى طرح اسكا طواف كر رہے ہيں _ جب تك يہ اونٹ كھڑا ہے جنگ ختم نہيں ہوگى _ جب تك يہ اونٹ زندہ ہے لوگ ا س پروارى فدا ہوكر اپنا خون نثار كرتے رہيں گے(۲۴)

طبرى كا بيان ہے : حضرت علىعليه‌السلام نے درميان لشكر بلند اواز سے فرمايا:

ا ے لوگو اپنا حملہ اونٹ پر مركوز كردواسے پئے كر دو حضرت كے فرمان كے مطابق آپ كے ايك جرى سپاہى نے صفوں كو توڑ كر اپنے كو عائشه كے اونٹ كے پاس پہنچا ديا _ اور اس پر تابڑ توڑ تلواريں مارنے لگا_ اونٹ نے ا س طرح سے نعرہ لگايا كہ ايسى چيخ كبھى نہ سنى گئي تھى _ اس موقع كو ابو مخنف نے بھى بيان كياہے كہ: جب حضرت علىعليه‌السلام نے ديكھاكہ تمام قتل اور خونريزى اونٹ كے ہى ارد گردہو رہى ہے _ اور جب تك اونٹ زندہ ہے جنگ جارى رہے گى _ تو آپ نے اپنى فوج كوحكم ديا كہ اونٹ پر حملہ كردو _ خود آپ نے بھى تلوار ہاتھ ميں ليكراس اونٹ پر زبر دست حملہ كيا _ اس وقت اونٹ كى مہار قبيلہ ضبّہ كے ہاتھ ميں تھى _ ان كے اور لشكر على كے درميان گھمسان كى جنگ ہونے لگى _ جنگ كا بنى ضبّہ كى ہى طرف تھا _ اسى كے زيادہ تر لوگ مارے جانے لگے حضرت علىعليه‌السلام نے قبيلہ ہمدان اورقبيلہ نخع كے ساتھ سخت حملہ كيا _ دشمن كے افراد كو پراكندہ اور منتشر كرديا _ اسى موقع پر حضرت علىعليه‌السلام نے قبيلہ نخع كے ايك شخص جس كا نام بجير تھا فرمايا _ اے بجير

____________________

۲۳_طبرى ج۵ ص ۲۱۸

۲۴_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۸۱


يہ اونٹ تمہارى زد پر ہے ا س كا كام تمام كردو _ بجير نے تيزى سے اس اونٹ كى ران پر تلوار چلا دى _اونٹ نے زبر دست نعرہ مارا _ اور زمين پر ڈھير ہوگيا _ جب اونٹ زمين پر گرا تو عائشه كے تمام فوجى جوچونٹيوں كى طرح ا س كا حصار كئے ہوئے تھے' تتر بتر ہوگئے _ سب نے فرار كاراستہ اختيار كيا _ حضرت علىعليه‌السلام نے بھى نعرہ لگايا _

اے لوگو ہودج كى طنابيں اور رسياں كاٹ دواور ہودج كو اونٹ سے الگ كر دو _ آپ كے سپاھيوں نے ہودج ہٹا ديا ،لوگو ںنے عائشه كے ہودج كو اغوش ميں ليكر حضرت كے حكم كے مطابق اونٹ كو قتل كيا اور پھر اسے ا گ ميں جلاديا اور خاك ہوا ميںاڑادى _ چونكہ امام كا يہ حكم تعجب انگيز تھا _ ا س لئے ا پ نے ا س كا حوالہ آیت قرانى سے ديتے ہوے فرمايا :

اے لوگو يہ اونٹ منحوس حيوان اور اگ برسانے والا تھا يہ بنى اسرائيل كے گوسالہ شباہت ركھتا تھا وہ بنى اسرائيل ميں اور يہ مسلمانوں كے درميان تھا _ جس نے دونوں كو بدبختى ميں پھنسايا _ حضرت موسى نے حكم ديا كہ اس گوسالہ كو اگ ميں جلا دواور اسكى خاك دريا ميں ڈال دو _پھر آپ نے اس آیت كى تلاوت كى جو موسى كى زبانى تھى _

ونظر الى الهك (۲۵)

ذرا ديكھو اپنے اس معبود كو جس پر تم وارى فدا كرتے تھے ميں كيسے اگ ميں جلارہا ہوں اور خاكستر كو سمندر ميں ڈال رہاہوں _

جى ہاں _ فساد كے مواد كو جڑ سے اكھاڑ پھينكنا چاہيے _اور فتنہ واشوب كو اگ ميں جلا دينا چاہيے(۲۶)

عائشه سے كچھ باتيں

عائشه كى فوج كوشكست ہوئي اور پورے طور سے شكست كے بعد يہ خونريز جنگ جمل اختتام كوپہنچى اور اتش جنگ خاموش ہوگئي (ٹھنڈى پڑ گئي) اس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے محمد بن ابى بكركومامورفرمايا كہ اپنى بہن عائشه كے لئے جاكر ايك خيمہ نصب كرواور ان كى دلجوئي كرواور ان سے پوچھوكہ جنگ ميں كوئي تير يا زخم لگا ہے كہ نہيں ؟

____________________

۲۵_ سورئہ طہ آیت ۹۰

۲۶_ شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۸۹


محمد ابن ابى بكرحكم پاتے ہى اپنى بہن كے پاس ائے اور سر كو ہودج ميں ڈالا

عائشه نے پوچھا تم كون ہو _ ؟

ميں ہوں محمد _ تمہارا قريبى رشتہ دارليكن تمھاراخاندانى سخت ترين دشمن

عائشه نے كہا _ تم خثعميہ عورت كے فرزند ہو ؟

محمد نے كہاہاں

عائشه نے كہا _ ميرے ماں بآپ تم پر قربان ہوجائيں _ خدا كاشكر ہے كہ اس جنگ ميں تمہارى جان سلامت رہى _

مسعودى كہتا ہے :

عائشه نے پوچھا كہ تم كون ہو ؟تو محمد نے جواب دياكہ ميں محمد ہوں _و ہ محمد جو تمھارا قريب ترين رشتہ دار ہے ليكن تمھارا بد ترين دشمن اس كے بعد كہا اے عائشه اميرالمومنين حضرت على تمہارا حال پوچھ رہے ہيںاور دلجوئي كے طور پر پوچھا ہے كہ اس جنگ ميں تمھيں كوئي زخم تو نہيں لگا ہے ؟

عائشه نے كہا كہ اس جنگ ميں صرف ايك تير مجھے لگا اور وہ بھى كارى اور موثر نہيں _

حضرت على نے عائشه سے گفتگو كى

محمد ابن ابى بكر كے بعد حضرت على عائشه كے خيمہ كى طرف چلے اور ھودج كے سامنے پہنچ كر اس عصا سے جو آپ كے ہاتھ ميں تھا ھودج كى طرف اشارہ كر كے فرمايا

اے حميرا كيا رسول خدا (ص) نے اس فتنہ انگيزى اور مسلمانوں كا خون بہانے كاحكم ديا تھا ؟

كيا ايسا نہيں ہے كہ تمہارے شوہر رسول خدا (ص) نے حكم نہيں ديا تھاكہ اپنے گھر سے باہر نہ نكلنا ؟


اے عائشه جو لوگ تمہيں يہاں تك لائے ہيں انھو ں نے رسول خدا(ص) كے ساتھ بڑى ناانصافى كى ہے كہ اپنى عورتوں كو تو گھر ميں بٹھا ركھاہے ليكن تيرے جيسى زوجہ رسول كو جو اسلام كى خاتون اول ہے ميدان جنگ ميں گھسيٹ لائے ہيں _

اس موقع پر طبرى كا بيان ہے :

محمد ابن ابى بكر نے اپنى بہن عائشه كولشكر سے علحدہ ايك خيمہ لگايا _ حضرت علىعليه‌السلام اس خيمہ كى پشت پر ائے اور عائشه سے كچھ باتيں كى _ منجملہ ان كے _يہ بھى فرمايا اے عائشه تم نے لوگوں كو ميرے خلاف بھڑكايا كہ مجھ سے جنگ پر امادہ ہوگئے _ اور انھيں ہيجان ميں لاكر ميرى دشمنى ان كے دلوں ميں ڈال دى كہ وہ خونريزى اور ھنگامہ پر امادہ ہوگئے _

حضرت علىعليه‌السلام كى باتوں پر عائشه با لكل خاموش رہيں اور كوئي جواب نہيںديا صرف اتنا كہاكہ ياعلى اب جبكہ تم نے ميرے اوپر قابو پالياہے _ اب تو تم صاحب اختيار ہو معاف كر دينابہتر ہے _

عمار نے عائشه سے بات كي

طبرى اور ابن اثير كہتے ہيںكہ جنگ ختم ہونے كے بعد عمار نے عائشه سے ملاقات كى _

عمار نے كہااے عائشه تم حكم خدا سے كتنى دور ہو گئي ہو رسول خدا (ص) سے تم نے عہد كياتھاكہ گھر ميں بيٹھو گى اور تم نے مخالفت ميں ميدان جنگ كاراستہ اختيار كياكہاں گوشہء خانہ اور كہاں ميدان جنگ ؟ ؟

عائشه نے كہا _ كيا تم ابو يقظان ہو ،تم تو مجھ سے بہت سختى اور صفائي سے باتيں كر رہے ہو

عمار نے كہا ہاں

عائشه نے كہا _ خداكى قسم جب سے تم پہچانے گئے ہو تم نے كبھى حق كے سوا كوئي بات نہيں كى عمار نے كہا _ اس خدا كاشكر ہے كہ جس نے تمھارى ز بان پرميرے بارے ميں كلمہ حق جارى كيا_


فتح كے بعد معافي

عام معافي

حضرت علىعليه‌السلام كى فوج كامياب ہو گئي اور دشمن كى فوج پر پورا قابو حاصل كرليا _ دشمن كى فوج كى ہريمت وفرار كا راستہ اختيار كيا _ ا س مو قع پر حضرت علىعليه‌السلام نے وہى حكم ديا جو جنگ سے پہلے اپنے سپاہيوں كو پہنچايا تھا _ دوسرى بار بھى وہى متن پڑھ كر سناياآپ كے نمائندہ نے ميدان جنگ ميں بلند اواز سے لوگوں كو اس اعلانيہ كا متن پڑھ كر سنايا _

اے لوگو دشمن كے كسى زخمى كو قتل نہ كرو بھاگنے والوں كا پيچھانہ كرو ، شرمندہ لوگوں كى سرزنش نہ كرو _ دشمن كا كوئي فرد اگر جنگى ہتھيار پھينك دے تو وہ امان ميں ہے اسے ہرگزتكليف نہ پہنچاو جو شخص اپنے گھر ميں داخل ہوكر دروازہ بند كر لے اس كا خون اور جان محفوظ ہے اسے اذيت مت دو _

اس موقع پر حضرت علىعليه‌السلام نے حكم دياجو اگر چہ جملہ بہت مختصرہے ليكن بہت جامع اور جذباتى ہے ، اپنے سب كو سناتے ہوئے اعلان فرماياكہ تمام دشمن كے سپاہى چاہے وہ سياہ ہوںياسفيدچھوٹے ہوں يابڑے عورت ہوں يا مرد سبھى كو امان دى جاتى ہے _كسى كو ان سے تعرض كاحق نہيں (ثم امن الاحمر ولاسود )

حضرت علىعليه‌السلام نے اس مختصر جملہ ميں سب كو ازاد فرمايا اور تمام دشمن كے افرادكو عام معافى ديدى اور آپ كى كرامت كاتقاضا بھى يہى تھا صاحب كنزالعمال كہتے ہيں كہ جنگ ختم ہو نے كے بعد بھى وہى جنگ سے پہلے والا فرمان دوبارہ پڑ ھ كر سنايا گياليكن اس بار چند جملہ كا اضافہ كيا گيا _

اے لوگو دشمن كے ناموس واموال تم پر حلال نہيں ہيں تمہيں چايئےہ صرف جنگى ہتھيار ہى لواور ميدان جنگ ميں جو مال لے ائے ہيں انھيں كو حاصل كروبقيہ سارا مال مقتولوں كے پسماندگان كے لئے چھوڑ دو جو شخص ميدان جنگ سے بھاگ گيا ہے اسكو قيدى نہ بنائو انكى دولت كو مال غنيمت سمجھ كر مت لوٹو _ ان كے مال كو حكم قرانى كے مطابق وارثوں ميں تقسيم ہوناچاہيے _ اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے سپاہيوں كے سامنے اعلان فرمايا كہااس جنگ


ميں جو عورتيں اپنے شوہر سے محروم ہوئي ہيں تم ان سے شادى نہ كرو جب تك وہ دوسرے مسلمانوں كى طرح چار ماہ دس دن كا عدہ وفات پورا نہ كر ليں اس كے بعد تم انھيں عقد ميں لے سكتے ہو _

حضرت علىعليه‌السلام كا منشاء اس ارشاد سے يہ تھااس جنگ كے بعد دشمنوں كے ساتھ دوسرے مسلمانوں كاسابرتاو كرناچاہيے _ ہاں _ يہ لوگ حضر ت علىعليه‌السلام كى نظر ميں كافروں اور مشركوں سے الگ تھے ا ن پر كفار كا حكم لاگو نہيں ہوا تھا _

اعتراض اور علىعليه‌السلام كا جواب

حضرت علىعليه‌السلام نے دشمن كى فوج كے بارے ميں جو روش اپنائي تھى ا س پر خود آپ ہى كے لشكر ميں اعتراض ہونے لگا _ وہ لوگ حضرت علىعليه‌السلام كى بارگاہ ميں ا كر اس طرح اعتراض كرنے لگے _

ياعلى ا پ نے كل ا ن لوگوںكا خون ہمارے لئے حلال قرار ديا تھا _ اور آپ ہى آج ا ن لوگو ں كامال ہمارے لئے حرام قراردے رہے ہيں ؟

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا :

اہل قبلہ اور جولوگ زبان سے اسلام كاكلمہ پڑھتے ہيںاپنے اسلام كااظہار كرتے ہيں ا ن كے بارے ميں اسلام كا حكم وہى ہے جسے ميں نے نافذ كياہے _

ليكن اكثر معترضين اما م كے اس جواب سے مطمئن نہيں ہوئے انھوں نے اپنى مخالفت جارى ركھى ، حضر ت علىعليه‌السلام نے انھيں مطمئن كرنے كے لئے فرمايا _

اے لوگو اب جب كہ تم لوگ اصرار كے ساتھ كہہ رہے ہو كہ ان لوگو ںكے ساتھ بھى كفار و مشركين كاسابرتاو كرناچاہيئے_ تواب او سب سے پہلے ام المومنين عائشه كے بارے ميں قرعہ ڈالا جائے كيونكہ وہى اس لشكر كى قيادت كر رہى تھيں _ جس كے نام بھى قرعہ پڑ جائے وہ انہيں كفار كى عور توں كى طرح اپنى كنيز بنالے _


يہ سن كر تمام معترضين كوحضرت علىعليه‌السلام كے اس برتاو كارازسمجھ ميں ايا اور وہ اپنے اعتراض پر نادم وشرمندہ ہوئے _ اس طرح حضرت علىعليه‌السلام نے ا ن لوگوں كو ايك و جدانى دليل سے خاموش كيا ليكن اس مطلب كو پورى طرح واضح كرنے كے لئے آپ نے ايك دوسرى دليل بھى پيش كى اورفرمايا :

چونكہ عائشه كے فوجى بظاہر خدا پرست ہيں _وحدانيت خداكى گواہى ديتے ہيں _ ان كے اسى عقيدہ كے مطابق كہ وہ زبان سے كلمہ پڑھتے ہيں ميں ان پراحسان كر رہاہوں اور ايك توحيد پرست مسلمان كى طرح برتاو كركے ان كے فر زندوں كو ا ن كے مقتول بآپ كاوارث بنا رہاہوں _

صاحب كنزالعمال نے يہ داستان ا س طرح لكھى ہے كہ :

جنگ ختم ہونے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے لشكر ميں خطبہ ديا اسى درميان عمار ياسر نے كھڑے ہو كر كہا :

اے امير المومنين لوگ دشمن كے مال و دولت كے بارے ميں آپ پر اعتراض كر رہے ہيں وہ كہہ رہے ہيں كہ ہم نے جس سے بھى جنگ كى جس قوم و ملت پر فتحمند ہوئے توہم نے ا ن كا مال غنيمت كى طرح حاصل كيااور ان كے بيوى بچوں كوقيدى بنايا(۲۷)

اس سے پہلے كہ حضرت علىعليه‌السلام عمار ياسر كاجواب ديں آپ كے لشكر سے ايك شخص عباد ابن قيس نام كاجو بكر ابن وائل كے خاندان سے تھااور بہت تيز طراراور خوش بيان تھا _ اپنى جگہ سے كھڑا ہو كرحضرت علىعليه‌السلام سے بولا _

اے اميرالمومنين خدا كى قسم آپ نے بصرہ والوں كے مال غنيمت كى تقسيم ميں آپ نے ہم لوگو ں كے ساتھ انصاف و مساوات كى رعآیت نہيں كي

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا _تجھ پر افسوس ہے _ميں نے تمہارے بارے ميں مساوات و عدالت كى كيسے رعآیت نہيں كى ؟

اس شخص نے كہا : جب آپ نے بصرہ والوں كے كسى مال و دولت كو جسے وہ ميدان جنگ ميں لائے تھے اس كے علاوہ سارے مال كو ہم لوگو ں پر حرام قرار دياان كى عورتوں كى اسيرى كو بھى حرام كر ديااور ان كے بيٹوں كو غلام بنانے سے بھى

____________________

۲۷_ جاہلى عہد كاطريقہ يہى تھا _ ابو بكر نے بھى يہى روش اپنائي تھى جن لوگوں نے انكى بيعت سے سرتابى كى تھى انكے ساتھ بھى جاہلى عہد كا سا سلوك كيا تھا _ ملاحظہ ہو كتاب عبداللہ بن سبا _ اس طرح جن لوگوں نے ابو بكر كو زكوة دينے سے انكار كيا تھا ان سے جنگ كى اور ان سے كفار مشركين كاسا برتاو كيا _ ان كا مال لشكر والوں ميں تقسيم كيا _ اسى وجہ سے جنگ جمل ميں لشكر والوں كو اشتباہ ہواجس كى وجہ سے انھوں نے حضرت على كے اسلامى وانسانى برتاو پر اعتراض كيا _


ہميں منع كرديا _

حضرت علىعليه‌السلام نے ان تمام اعتراض كرنے والوں كو مطمئن كر نے كے لئے اس مرد بكرى سے خطاب فرماتے ہوئے كہا :

اے بنى بكر كے بھائي كيا تم اسلامى قانون نہيں جانتے ہو _ كيا يہ نہيں جانتے كہ بآپ كے جرم كى وجہ سے ان كے بے گناہ چھوٹے بچوں سے مواخذہ كرنااسلامى نقطہ نگاہ سے جائزنہيں ہے ،صرف اس بہانے سے كہ ان كے بآپ نے ہم سے جنگ كى ہے ہميں ان كے بچوں كو قيدى بنانا اور عورتون كو كنيز بنانا جائز نہيں ہے ليكن يہ جو دشمن كى عور توں اور مال كا معاملہ ہے ،يہ لوگ صرف وہى دولت جو جنگ كے موقع اپنے پاس ركھے ہوئے تھے _ اور مسلمان بھى ہيں ہم سے بر سر جنگ ہيں _

ان كى عورتوں كا نكاح اسلامى حكم كے لحاظ سے ہوا تھاان كے بيٹے فطرت اسلام پر پيدا ہوئے تھے ان خصوصيات كے پيش نظر جن كى ميں نے وضاحت كى ہے ان كى عورتوں بچوں اور دولت كے بارے ميں اسلام كا حكم وہى ہے جسے ميں نے بيان كياہے _

تمہيں صرف اتنى اجازت ہے كہ يہ لوگ جتنا مال ميدان جنگ ميں لائے تھے اور تم نے اپنى چھاونى سے انھيں لوٹاہے انھيں كو غنيمت كے طور پر لے لواور اسى پر اكتفاء كرو ، اس مال كے علاوہ بقيہ جتنى دولت ہے وہ ان كے بيٹوں كى وراثت ہے اگر كوئي شخص ہم سے جنگ اور مخالفت كے لئے نكلے تو اكيلے اسى كو ہم سزا دينگے اور ا س كا گناہ دوسرے كے ذمہ ہرگز نہيں لاديں گے ، يہاں تك كہ ان كے بچوں كو بھى بآپ كے كر توت كى سزانہيں دى جائے گى _

اے بنى بكر كے بھائي ميں رسول خدا(ص) كى جگہ پر ہوںيہ بصرہ والے ميرے خلاف بغاوت پرامادہ ہيں انہوں نے اپنے بھائيوں كا خون بہايا ميں نے ان كے ساتھ وہى سلوك كيا ہے جو رسول خدا (ص) نے فتح مكہ كے موقع پر لوگو ں كے ساتھ سلوك كيا تھاآپ نے مكہ والوں كاصرف وہى مال لياجو ساتھ ليكر ائے تھے بقيہ انھيں كے حوالہ كر ديا _

حضرت علىعليه‌السلام نے مزيدفرمايا : اے بكرى بھائي كيا تو نہيں جانتا كہ دارالحرب يعنى كافروںكا شہر اور دارالہجرت يعنى مسلمانوں كا شہر ان دونوں كے درميان اسلامى قانون ميں فرق ہے كيونكہ دارالحرب كاہرمال جو كفار سے حاصل ہوپورے طور سے مسلمانوں كاہے ليكن جنگ كے موقع پر دارالہجرت كامال صرف وہى مسلمانوں كاہوگاكہ جو جنگ


كے موقع پر ساتھ لائے ہيں كيونكہ زبان سے وہ كلمہ توحيد پڑھتے ہيں _

اللہ تم لوگوں پر رحم كرے _ خاموش رہو اور عائشه كے لشكر والوں كى اسيرى پر اصرار نہ كرو ورنہ پھر ميرے ايك سوال كاجواب ديدوكہ تم ميں كون ايسا ہے كہ جنگى اسيروں كى تقسيم كے وقت عائشه كو كنيزى كے طور پراپنے حصہ ميں لے كيا تم ميں كوئي ايسا ہے جو عائشه كو كنيزبنا كر اپنے گھر لے جائے _

حضرت علىعليه‌السلام كى بات ابھى يہيں تك پہنچى تھى كہ آپ كے لشكر ميں شور مچ گيا چاروں طرف سے اوازيں انے لگيں يا على ہم ميں سے كوئي بھى ايسى حركت نہيں كر سكتارسول خدا(ص) كى نسبت ايسى گستاخى ہم سے نہيں ہو سكتى كہ ان كى زوجہ كو اپنى كنيز بنائيں اس كے بعد انھوں نے كہا _ يا على آپ اپنے عمل ميں حق كے راستہ پر ہيں _ ہم نے اعتراض كركے سخت غلطى كى ہم نے دھوكا كھايا _ يا على آپ كا عمل علم و دانش كى روش ميں تھاہمارا اعتراض جہالت ونادانى تھى _ا ب ہم اپنے گناہ سے توبہ كرتے ہيں اور اپنے اعتراض پرنادم وپشيمان ہيں _ خداوندے عالم آپ كے وسيلہ سے ہميں ہدآیت و رہبرى عطا كرے _

عمار ياسر دوسرى بار كھڑے ہوئے اور لشكر سے خطاب فرمايا :

اے لوگو على كى پيروى كرو _ان كے احكام بجالائوخداكى قسم وہ سيرت رسول(ص) پر عمل كرتے ہيںاور انكى سنت سے ہر گز انحراف نہيں كرتے على وہى راہ اپناتے ہيں جس راہ پر رسول خدا (ص) نے مسلمانوں كو چلايا تھاانكى مثال ويسى ہى ہے جيسى موسى كے سامنے ہارون كى تھى _ ہارون حضرت موسى كے جانشين تھے ، بس فرق يہ ہے كہ رسول (ص) كے بعد كوئي پيغمبر نہيں ہوگااور يہ فضيلت وبزرگى حضرت علىعليه‌السلام سے مخصوص ہے _

عمار ياسركى بات ابھى يہيں تك پہنچى تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام نے دوبارہ لوگوں سے خطاب فرمايا :

جو كچھ ميں تم سے كہتا ہوں اسے مانو اورميرے حكم كو نافذ كرو كيونكہ اگر تم ميرے كہنے پر عمل كرو گے تو انشا اراہ مستقيم اور سعادت ابدى پا جائو گے ،اگر چہ اس راستہ ميں سختياں ہيں اور ناكامياں و تلخياں ہيں _

اب رہ گئيں عائشه تو انكاعقيدہ اور باطنى نظريہ ميرے بارے ميں دشمنى سے بھرپور ہے اسلئے وہ مجھے تكليف پہنچا رہى ہيں ايسى اذيت وہ كسى كے لئے بھى جائز نہيں سمجھيں گى ليكن اسكے باوجودوہ ميرى نظر ميں سابق كى طرح محترم ہيں _ ان كے كرتوتوں كو ميں اللہ كے حوالے كرتا ہوں _خدا ہى ہر شخص كو اس كے گناہوں كى سزا د ے گا


يا اسے معاف كرديگا _

ابھى امام كى بات يہيں تك پہنچى تھى كہ لوگو ں كى اوازيں انے لگيں ہاں صحيح ہے جو لوگ اعتراض كر رہے تھے وہ اب نادم و پشيمان ہيں _ان لوگوں نے ايك سخت كشمكش كے بعدامام كے ارشادات كى تصديق و تائيدكى اور ان كے حكم پر سر جھكا ديا _ واضح طور پر اعلان كيا كہ ہم غلطى پر تھے يا واضح طور سے اپنى غلطى كا اعتراف كيا _ انھوں نے معذرت كرتے ہوئے حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں عرض كيا _

اے اميرالمومنين خدا كى قسم آپ نے فوج دشمن كا مال تقسيم كرنے كے سلسلے ميں حكم خدا كے مطابق عمل كياليكن ہم نے جہالت ونادانى كى روش اپنائي اور آپ كى عدالت پر اعتراض كيا،ابن لساف حضرت علىعليه‌السلام كے فوج كاايك بہت تيز طراراور جيالا شخص تھا _ ا س نے اس سارے واقعے كو نو شعروں ميں نظم كيا ہے _

ان رايا را يتموه سفاها ----لحظاالايرادوالاصدار

ليس زوج النبى تقسيم فيئا ---ذاكزيغ القلوب والابصار

فاقبلوا اليوم مايقول على ---لاتناجوابالاثم فى الاسرار

ليس ماضمت البيوت بفي ---انما الفي ماتضم الاوار

من كراع فى عسكروسلاح ---ومتاع يبيع ايدى التجار

ليس فى الحق قسم ذات نطاق ---لاولااخذكم ذات خمار

ذاك فيئكم خذوه وقولوا ---قد رضينالاخيرفى ا لاكثار

انها امكم وان عظم الخط ---ب وجائت بزلة وعثار

فلهاحرمته النبى وحقا ---علينامن سترها و وقار

اے لوگو تم نے جو بصرہ والوں كے بارے ميںرائے ظاہر كى ہے وہ جہالت و نادانى كى بات تھى ، وہ غلط نظريہ تھا ، كيونكہ رسو ل كى زوجہ مال غنيمت كے طور پر حاصل نہيں كى جاسكتى نہ وہ كنيزى ميں لى جاسكتى ہيں ، كيونكہ يہ عمل وجدان كے اعتبار سے كوتاہ نظرى اور فكرى انحراف ہے اس لئے آج جو كچھ حضرت علىعليه‌السلام ارشاد فرمارہے ہيں اس كومان لواور اپنى بيجا باتيںاور لچر اعتراضات اور سر گوشياں ختم كر دو حضرت على كے فرمان كے مطابق عمل كرو جو مال و دولت


مقتولوں كے گھر ميں ہے اسے مت لوٹو اور اسپرتصرف مت كروبس وہ جنگى ہتھيار، كپڑے ، اور گھوڑ ے جو ميدان جنگ ميں لائے تھے انھيں كومال غنيمت كے طور پر لے لواور وہ تمھارے اوپر حلال ہے مختصر يہ كہ جو كچھ دشمنوں كى دولت تمھارے لئے حضرت على جائز سمجھيں وہ تمھارا حق ہے تمھيں اس پر مطمئن ہو جانا چاہئے _

اے لوگو عائشه تمھارى ماں ہيں اگر چہ ان كاجرم بہت بڑا اور لغزش زبر دست ہے وہ رسول خدا(ص) كى خاطر سے محترم ہيںہم پر ان كا احترام لازم ہے ہميں ان كى ابرو اور حيثيت كو محفوظ ركھنا چاہئے(۲۸) _

حضرت علىعليه‌السلام نے طلحہ وزبير سے كيوں جنگ كى ؟

جيسے ہى ابن يساف نے اشعار پڑھے حضرت على كے لشكر سے ايك دوسراشخص بولا اے اميرالمومنين ، آپ نے طلحہ وزبير سے كيوں جنگ كى ؟ اس كى وجہ كيا تھى ؟

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب دياكہ ميں نے طلحہ و زبير سے اس لئے جنگ كى كہ انھوں نے ميرى بيعت توڑ دى تھى اور انھوں نے بے گناہ اور پاك نفس لوگوں كو قتل كيا ، انھوں نے حكيم بن جبلہ كا ناحق خون بہايا ،بيت المال كو لوٹا ،يہ كيسے ہو سكتا ہے كہ بے گناہ لوگوںكاظلم وتعدى سے خون بہايا جائے اور امام و پيشوا ان كا دفاع نہ كرے ؟

جو سلوك ميں نے طلحہ و زبير كے ساتھ كيا ہے يہ مجھ ہى سے مخصوص نہيںہے كيونكہ اگر انھوں نے ابو بكر و عمركى بھى بيعت شكنى كى ہوتى اور لوگوں كا ناحق خون بہايا ہوتاتو وہ بھى دفاع كرتے اور ان سے جنگ كرتے _

اے لوگو يہ تمہارے درميان اصحاب رسول خدا ہيں جو ميرى باتوںكى گواہى ديں گے كہ جو شخص بھى ابوبكر و عمر كى بيعت سے سرتابى كرتاوہ لوگ انھيں تلوار سے سرزنش كرتے اور اپنى بيعت ميںوآپس لاتے اور دوبارہ حكومت كى پيروى پر مجبور كرتے ،جيسا كہ خليفہ او ل كى بيعت كے وقت انصار نے ان كى بيعت سے انكار كياتوانھوں نے سختى كى اورانصاركو مجبوركيا كہ وہ ان كى بيعت كريں _ حالانكہ انصار كى بيعت راضى خوشى سے نہيں تھى ليكن اس كے باوجود بيعت كا احترام كيا گيا اور اس پر اخر تك باقى رہاگيا ليكن ميں كيا كرو ں؟ كہ طلحہ و زبير نے رضا مندى اور پورى ازادى كے

____________________

۲۸_ تاريخ يعقوبى ، كنز العمال ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ، ميں ان تفصيلات كو ديكھا جا سكتا ہے _


ساتھ ميرى بيعت كى ليكن دير نہيں گزرى كہ انھوں نے اپناعہد وپيمان توڑ ديا ان

كے دل ميں بصرہ و يمن كى گور نرى كى لالچ بھرى ارزو تھى ليكن چونكہ ميں نے ان كے اندر حرص ولالچ ديكھى اس لئے حكومت بصرہ و يمن نہيں دى _دوسرے يہ كہ انھيں مال و دولت حاصل كرنے كى ہوس تھى _ انھوں نے مسلمانوں كے مال ودولت پر اپنى انكھيں جمادى تھيں وہ مسلمانوں كو اپنا غلام عور توں كو كنيزبناناچاہتے تھے ان كى دولت كومال غنيمت سمجھ كے لوٹناچاہتے تھے يہ تمام باتيں ميرے مشاہدہ ميں ائيں توميں اس پر مجبورہوگياكہ ان سے جنگ كركے ان كے ہاتھوںمسلمانوں كے جان ومال كى طرف بڑھنے نہ دوں ،مسلمانوںكو ان كے شر و فسادسے مطمئن كروں _

اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے بصرہ والوںكى طرف رخ كيااور ان كى كرتوتوں پر سر زنش فرماتے ہوئے كہا :

بصرہ والوں تم ايك بے منھ كے جانور كے سپاہى ہو _ اس نے شور مچاياتو سخت طريقہ سے حملہ اور ہوگئے ،جس و قت وہ جانور قتل ہو گيا زمين پر لوٹنے لگاتو اسے چھوڑ كر فرارہو گئے بصرہ والو تم بڑے بد اخلاق اور عہد شكن ہو _ تمہارابرتاو نفاق سے بھرپور ہے يہ تمہارى سيرت ميں داخل ہے اور اس پر ہميشہ باقى ر ہوگے _ تم ايسے لوگ ہو كہ جوشخص بھى تمہارے درميان زندگى بسر كرے وہ گناہوں اور غلطيوںميںمبتلاہو جائے _جو تمہاراماحول چھوڑ كر الگ ہو جائے اس پر رحمت خداكى بارش ہو _

عائشه ، مدينہ وآپس ہوئيں

جنگ ختم ہو گئي عام معافى كا اعلان كر ديا گيا _ اور جنگ كے درميان جو دشمن كامال غنيمت ہاتھ ايا تھا حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں تقسيم كر ديا گيا _ گو مگو كى كيفيت ختم ہو گئي _ پانى كا سيلان بھر گيا ،بھانت بھانت كى اوازيں خاموش ہو گئيں _ حالات معمول پر اگئے ،اس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے چچيرے بھائي عبداللہ بن عباس كو اپنے پاس بلوا كر فرمايا _ اے عبداللہ _ تم عائشه كے پاس جاكر انھيں اپنے شہر وآپس جانے كے لئے راضى كرو _


ابن عباس كابيان ہے كہ: ميں عائشه كے پاس گيا اور ملاقات كى اجازت طلب كى تاكہ حضرت علىعليه‌السلام كآپيغام پہنچاو ں _

انھوں نے مجھے اجازت نہيں دى ،ميں بغير اجازت ہى خيمہ كے اندر داخل ہو گيا پاس ميں ركھے گاو تكيہ كو اٹھا كر دبايا اور انھيں كے سامنے بيٹھ گيا عائشه نے كہا اے ابن عباس خدا كى قسم ميں نے تم سے زيادہ حكم رسول كو نظر انداز كرنے والا نہيں ديكھا _ تم ميرى اجازت كے بغير ميرے گھر ميں چلے ائے اور ميرى اجازت كے بغير ميرے فرش پر بيٹھ گئے ؟

ايك دوسرى روآیت ہے كہ عائشه نے ابن عباس سے كہا _ تم نے دو غلطياں كركے حكم رسول كى مخالفت كى _ كيو نكہ سب سے پہلے تم ميرى اجازت كے بغير ميرے گھر ميں داخل ہوئے دوسرے ميرى اجازت كے بغير ميرے فرش پر بيٹھے _

ابن عباس نے كہا:تم نے احكام ہم ہى سے سيكھے اور اب ہم ہى كو ياد دلارہى ہو ،يہ ديكھوحضرت علىعليه‌السلام تمھيں حكم دے رہے ہيں كہ اپنے شھر وآپس جاو _

عائشه نے كہا _ خداعمر پر رحمت نازل كرے كہ وہ اميرالمومنين تھے

ابن عباس نے كہا: ہاں _ اب حضرت على اميرالمومنين ہيں

عائشه نے كہا : نہيں، نہيں ، ميں انھيں ہرگز اميرالمومنين نہيں جان سكتى ان كے حكم سے وآپس جانے پر تيار نہيں ہوں _

ابن عباس نے كہا _ اے عائشه وہ زمانہ بيت گيا _ تمھارى تقررى اور برخاستگى كاتيا پانچہ ہو گيا _ آج تمھارى رائے اور بات كاكوئي اثر نہيں ہے _ تمھارى موافقت و مخالفت برابر ہے _

ابن عباس كابيان ہے كہ: ميرى بات يہيں تك پہنچى تھى كہ عائشه پر گريہ طارى ہو گيا، اس قدرشديد گريہ كہ دہاڑ مار كررونے لگيں ،ان كى ہچكياں سن رہا تھا(۲۹)

____________________

۲۹_ عقد الفريد ج۴ ص ۳۲۸ ، شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۸۲ ، تاريخ اعثم كوفى ص ۱۸۱ ، تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۲۱۲ ، مروج الذھب ج۵ ص ۱۹۷


پھر انھوں نے كہا : اے عبداللہ ٹھيك ہے ،ميں اپنے شہر وآپس جاو نگى ،ميں نہيں چاہتى كہ اس شہر ميں رہوں جہاں تم دونوں ہو _ (ان ابغض البلدان الى بلد انتم فيه )

ابن عباس نے كہا: اے عائشه خداكى قسم ہم بنى ہاشم كى نيكى كابدلہ يہ نہيں تھا كہ ہمارے خلاف بغاوت كرو _ ہمارى مخالفت كاراستہ اپناو _ ہم ہى تھے كہ تمہيں ام المومنين بنايا ،ہم نے تمھارے بآپ كو صديق امت بنايا_

عائشه نے كہا : عبداللہ تم رسول خد(ص) اكو ہم سے اپنى طرف گھسيٹ رہے ہو ان كے نام سے ميرے اوپرفخرجتا رہے ہو _

ابن عباس نے كہا: ہاں ہم ايسے خاندان كى فرد ہيں كہ اگر تم بھى اس خاندان سے ہوتى تو ميرى طرح فخر ومباھات كرتي_

ابن عباس كابيان ہے كہ: عائشه سے گفتگو كے بعدوآپس حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوا ، سارى باتيں دہرائيں _آپ نے ميرى پيشانى پر بوسہ ديكر فرمايا :

ان خانوادے پر صلوات جو گويائي اور حاضرجوابى ميں ہمارى طرح ہيں (بابى ذرية بعضها من بعض )

اعثم كوفى نے فتوح البلدان ميں نقل كيا ہے كہ:

جنگ ختم ہونے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام رسول خدا(ص) كے مخصوص خچر دلدل پرسوار ہوكربصرہ ميں اس گھر كى طرف چلے جہاں عائشه عارضى طور سے ٹھہرى ہوئي تھيں ،اجازت لينے كے بعدگھر ميں داخل ہوئے اميرالمومنين نے ديكھاكہ عائشه كچھ بصرہ كى عورتوں كے ساتھ گريہ وزارى كر رہى ہيں ،اس وقت حارث ثقفى كى بيٹى صفيہ اوردوسرى عورتوں نے حضرت علىعليه‌السلام كو ديكھ كر كہا :

يا على آپ نے ہمارے رشتہ داروںاور دوستوں كو قتل كيا ہمارى جميعت كو درہم برہم كيا ، خدا تمہارے بھى بچوں كو يتيم كرے جيسے تم نے عبداللہ خلف كو يتيم كر كے بآپ كى موت پر اس كى انكھيں اشكبار كى ہيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے صفيہ كو پہچان كر فرمايا :

اے صفيہ ميں تمہيں اس دشمنى اورعنا دپر تجھے ملامت نہيں كرونگاكيونكہ ميں نے ہى جنگ بدر ميں تيرے داداكو اور جنگ احد ميں تيرے چچاكو قتل كيا ہے _ اور اب تيرے شوہر كو موت كے گھاٹ اتاراہے اور اگر ميں رشتہ داروں اور عزيزوںكا قاتل ہوتاتو اس وقت اس گھر جو لوگ چھپے ہوئے ہيں انھيں بھى قتل كر ڈالتا


اسكے بعد اميرالمومنين نے عائشه سے فرمايا :

اے عائشه اپنى كتيوں كو يہاں سے بھگاتى كيوںنہيں ہو ؟

عائشه سن لو كہ اگر ميں لوگوں كى سلامتى نہيں چاہتاتو ابھى اس گھر ميں چھپے ہوئے لوگو ں كوگھر سے نكالتا اور ايك ايك كى گردن مارديتا _

اعثم كوفى كابيان ہے كہ :

يہ سنتے ہى عائشه اور تمام عورتوں نے چپ سادھ لى ان سب كى بولتى بند ہو گئي _

اس كے بعد امير امومنين نے عائشه كو مخاطب كر كے سر زنش كى _

اے عائشه _ خدا نے تمہيں حكم ديا تھاكہ اپنے گھر ميں نچلى بيٹھى رہو غيرو ں سے پر دہ كرو ، ليكن تم نے حكم خدا كى مخالفت كي_ اپنا ہاتھ مسلمانوں كے خون سے رنگ ليا ،لوگوںكو ميرے خلاف بھڑكايا اور ظالمانہ طريقہ سے عظيم جنگ كھڑى كردى _ حا لانكہ تم اور تمھارے خاندان نے ہمارے ذريعہ سے عزت و شرف حاصل كياہمارے ہى خاندان كے وسيلہ سے تم ام المومنين بن گئي ہو _

عائشه اب تمہيں چلنے كے لئے تيار ہو جانا چاہئے _ تم اسى گھر ميں جاكر رہو جہاں تمہيں رسول خدا(ص) نے بٹھاياتھا _ وہاںتم زندگى كى اخرى سانسوں تك رہو _

حضرت علىعليه‌السلام اتنا فرماكر وہاں سے چلے ائے _

اعثم كوفى كابيان ہے كہ: اسى كے دوسرے دن حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے فرزندحسن مجتبى كوعائشه كے پاس بھيجا ،امام حسن نے عائشه سے كہا ميرے بابااميرالمومنين فرماتے ہيں كہ :

اس خداكى قسم جس نے دانے كو شگافتہ كيا ، اس خداكى قسم جس نے انسانوں كو پيداكياكہ اگر تم نے اسى وقت مدينہ كے لئے كوچ نہيں كياتواس بارے ميں جسے تم خود جانتى ہو انجام دے دوںگا جيسے ہى يہ پيغام عائشه نے سنا فوراً اٹھ كھڑى ہوئيں اور كوچ كى تيارى كرنے لگيں _

ايك عو رت نے جب اس عجلت كو ديكھا تو سوال كيا كہ اے ام المومنين عبداللہ ابن عباس آپ كے پاس ائے اور آپ سے مدينہ جانے كو كہا ليكن آپ نے انكى بات نہ ماني، بلكہ تم نے تو ان كا كلّہ بہ كلّہ جواب ديا _

ابن عباس تمہارے پاس سے خفا ہو كر چلے گئے ان كے بعد حضرت علىعليه‌السلام ائے اور تمہارے اندر ذرابھى بے چينى نہيں


ديكھى گئي ليكن جيسے ہى يہ جوان تمھارے سامنے ايا اور بآپ كا پيغام پہنچايا تمہارے انداز ميں عجيب اضطراب اور بے چينى پيداہو گئي اور اسكى بات كو تم نے فوراً قبول كر ليا ؟

عائشه نے جواب ديا _ ہاں _ميرا اضطراب اسلئے تھا كہ يہ جوان رسول خدا (ص) كى يادگار اور ان كا فرزند ہے رسول كے اوصاف كانمونہ ہے ،اسے ديكھتے ہى مجھے رسول خدا (ص) كا سرآپا ياد اگيا ،جسے بھى رسول خدا كاسرآپاديكھنا ہو وہ اس جوان كو ديكھ لے _ دوسرى طرف يہ بھى كہ يہ جوان اپنے بآپ كاوہ پيغام لاياتھا جسے سن كر ميں خوف زدہ ہو گئي اور كوچ كرنے پر مجبور ہو گئي _

اس عورت نے اخرى بات سنكر كر يدنے كے لئے پوچھا

اے عائشه _ ميں آپ كو قسم ديتى ہوں خدائے تعالى كى كہ بتايئے وہ حضرت علىعليه‌السلام كا پيغام كيا تھا جو آپ ميں اتنااثر ديكھا گيااور آپ اتنا بے چين ہو گئيں ؟

عائشه نے جواب ديا _ تيرا ناس ہو جائے _ ارے ايك جنگ ميں رسول خدا(ص) كو بہت زيادہ مال غنيمت حاصل ہوا تھا _ آپ نے سب كو اپنے اصحاب ميں تقسيم كر ديا _ ہم ازواج نے چاہا كہ ہم لوگوں كو بھى اسميں سے حصہ دياجائے _ ہم نے اپنے مطالبہ ميں بہت اصراركيا اور بڑى اودھم مچائي ،حضرت علىعليه‌السلام ہمارى حركتوں كو ديكھ كر غصہ ميں بھر گئے _ ہميں سر زنش كرنے لگے ،انھوں نے كہاكہ اب بس بھى كرو _ تم نے رسول خدا (ص) كو بہت زيادہ رنجيدہ خاطر كيايہ سن كر ہم لوگ على سے بھى لڑائي بھڑائي پر تن گئے ،انھيں بھى سخت جواب ديا ،حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ميں يہ آیت پڑھي'' عسى ان طلقكن(۳۰) ''

اگر تمھيں طلاق دياجائے تو خدا وند عا لم تمھارى جگہ تم سے بہتر اور نيك كردار عورتيں انھيں عطا كرے گا ہم نے يہ آیت سن كر سخت غضبناك انداز ميں اور بھى سخت جواب ديئے _ اس وقت رسول خداكے چہرے پر اثار غضب ظاہر ہوئے ا پ نے حضرت علىعليه‌السلام كى طرف رخ كر كے فرمايا :

____________________

۳۰- سوره تحريم آيه ۶۶


اے على ميں اپنى تمام ازواج كے طلاق كا اختيارتمھيں ديتا ہوں _

جسے بھى تم طلاق دے دو گے اس سے ميرى زوجيت كارشتہ ختم ہو جائے گا _

رسول خدا(ص) نے اس وكالت كو كسى خاص وقت ميں معين نہيں كيا تھا ،يہ اختيار ہميشہ كے لئے على كے پاس محفوظ ہے جب بھى وہ چاہيں رسول(ص) كى طرف سے ان كے ازواج كو طلاق ديديںاور انكى رسول سے جدائي كرديں ،حضرت علىعليه‌السلام نے جو پيغام بھجوايا تھا ا س كامطلب يہى تھا ، كيو نكہ اگر ميں جلدى سے كوچ پر امادہ نہ ہو جاتى تو وہ مجھے طلاق دے ديتے _ ميرى ام المومنين كى حيثيت ختم ہو جاتى(۳۱)

كتاب عقدالفريد كے مولف نے لكھاہے كہ :

اس گفتگو كے بعد جب عائشه نے مدينہ جانے كااعلان كرديا _ حضرت علىعليه‌السلام نے تمام وسائل سفر عائشه كے اختيار ميں ديديئے _ اور انھيں چاليس يا ستّر عورتوں كے ساتھ مدينہ روانہ كرديا_

طبرى كابيان ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے عائشه كے لئے بہترين وسائل سفر مھيا كئے ،اور انھيں بارہ ہزار درہم بھى عطا كئے اور انھيں بہت سے عورتوں مردوں كے ہمراہ مدينہ روانہ كيا جب يہ بارہ ہزاركى رقم عبداللہ بن جعفر(۳۲) كو كم معلوم ہوئي تو دوبارہ ايك معتديہ رقم عائشه كو عطا فرمائي _

انھوں نے فرمايا كہ اگر اميرالمومنين نے اجازت نہيں دى تويہ تمام رقم ميں اپنے ذمہ لے لوںگا _

مسعودى نے بھى عائشه كى وآپسى كے بارے ميں لكھا ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے عبد الرحمن بن ابى بكر كو مامو ر فرمايا كہ اپنى بہن عائشه كو بنى عبدقيس اور ہمدان كى شريف عورتوں كے ہمراہ مدينہ پہنچا ديں _

اس واقعہ كو يعقوبى اور ابن اعثم نے بھى اپنى تاريخوں ميں لكھاہے فرق صرف يہ ہے كہ انھوں نے عبدالرحمن كانام نہيں لكھاہے(۳۳)

ان كى ماں اسماء بنت عميس خثعمى تھيں ، ان كے ماں بآپ دونوںہى اوائل ميں حبشہ ہجرت كى تھى ، وہيں حبشہ ميں عبداللہ پيدا ہوئے ،وہ پہلے مسلمان مولودہيں جو حبشہ ميں پيدا ہوئے اور اپنے بآپ جعفر كے ساتھ مدينہ وآپس ہوئے

____________________

۳۱_ ترجمہ فتوح بن اعثم ج۲ ص ۳۳۹_ ۳۴۰

۳۲_ عبداللہ بن جعفر حضرت علىعليه‌السلام كے بھائي جعفر كے صاحبزادے تھے _ قرشى وہاشمى تھے

۳۳_ عقد الفريد ج۴ ص ۳۲۸ ، شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۸۲ ، تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۲۱۳ ، مروج الذھب ج۵ ص ۱۹۷


جب ان كے والد كاانتقال ہواتو انكى ماں اسماء نے ابو بكر سے عقد كر ليا _ ا س طرح عبداللہ اور محمد بن ابى بكر مادرى بھائي ہيں _جس طرح محمد اور عائشه پدرى بھائي نہيں تھے عبداللہ دس سال كے تھے كہ رسول خدا (ص) نے انتقال فرمايا_ عبداللہ بڑے كريم حليم اور عرب كے سخى ترين لوگوںميں تھے مشہور ہے كہ ۸۰ ھ يا ۸۴ھ يا ۸۵ھ ميں نوے سال كى عمر ميں انتقال كيا ،ابان بن عثمان جو مدينہ ميں گورنر تھے ، انھوں نے آپكى نماز جنازہ پڑھائي_(۳۴)

جنگ جمل كے بدترين نتائج

جنگ جمل كے بدترين اثار ونتائج جو كچھ مترتب ہوئے اور بتدريج اس كے عواقب سامنے ائے وہ واقعى حيرت ناك ہيں_

مورخين نے اس بارے ميں لكھاہے كہ :

جنگ جمل ميں دونوں طرف سے ا س قدر تير اندازى ہوئي كہ دونوں كے تركش خالى ہو گئے ، دونوںفريق ميں ا س قدر نيزوںكى ردوبدل ہوئي كہ سپاہيوںكے سينے چھلنى ہوگئے _ دونوںلشكر سے ا س قدر افرادزمين پر ڈھير ہوئے كہ اگر سب لاشوںكو ميدان ميں جمع كر كے گھوڑے دوڑائے جاتے تو كسى گھوڑے كآپاو ں زمين پر نہ پڑتا خود ايك شخص جو اس جنگ ميں شريك تھابيان كرتا ہے كہ جنگ جمل كے بعد ميں جب بھى بصرہ دارالوليد دھوبيوں كے گھاٹ سے گزرتا تھا اوردھوبيوں كے كپڑا پيٹنے كى اوازسنائي ديتى تھى تو مجھے جنگ جمل ياد اجاتى تھى ،جس جنگ ميں نيزوںكى باڑھ يوں گونجتى تھى جيسے دھوبى كپڑآپيٹ رہا ہو(۳۵)

ہم نے گزشتہ صفحات ميں اس جنگ كے متعلق مورخين كے بيا نات نقل كئے ہيں كہ اس دن كس طرح بدنوں سے سر جدا ہو رہے تھے ، ہاتھ كٹ رہے تھے ،پيٹ پھٹ رہے تھے _

مصيبت كے ماروں كى تعداداور اس جنگ ميں كٹے ہاتھوں اور پھوٹى انكھوں كى تعدادتصور سے بھى كہيں زيادہ ہے _ مقتولوں كى تعداد طبرى نے چھ ہزار لكھى ہے ، ليكن ابن اعثم نے اپنى تاريخ ميں عائشه كے لشكر كے مقتولوں

____________________

۳۴_اسد الغابة ج ۳۰ ص ۱۳۳ ، استيعاب ص ۴۲۲

۳۵_ طبرى ج۵ ص ۲۱۸ ، عقد الفريد ج۴ ص ۳۲


كى تعداد نو ہزار لكھى ہے ، اور حضرت علي(ع) كے لشكر سے سات ہزار قتل ہوئے _

ابن عبدربہ عقدالفريدميں لكھتے ہيں كہ جنگ جمل ميں لشكر عائشه كے بيس ہزار افراد قتل ہوئے اور حضرت على كے لشكر كے پانچسوافراد قتل ہوئے _

تاريخ يعقوبى ميں ہے كہ دونوں طرف كے مقتولوں كى تعدادتيس ہزار سے زيادہ ہے(۱)

جى ہاں_ جنگ جمل ميں حد سے زيادہ اقتصادى نقصان پہنچا _جانى اور جسمانى نقصان بھى بہت زيادہ ہوا _ كتنى ہى مائوں نے اپنے جوانوں كے داغ جھيلے _ كتنى ہى عورتيں بيوہ ہو گئيںاور ڈھير سارے بچّے يتيم ہوئے _

يہ تمام طمانچے ،نقصانات اور خرابياں صرف ايك دن ميں وارد ہوئيں،ہاں اسى دن جب شورش اور جنگ اسلامى معاشرے پر تھوپا گيا _ايك محدود اور معين نقطے پر ،ليكن ان نقصانات اور بدترين نتائج كے علاوہ بعد كے ايام ميں سالوں بعد اسلامى معاشرے پر اس جنگ كى وجہ سے وارد ہونے والے نقصانات اس سے كہيں زيادہ ہيں جو اسلامى ممالك نے جھيلے، ان كا تو اندازہ ہى نہيں كيا جاسكتا _ ہم يہاں كچھ تاريخوں كے تجزيے قارئين كرام كے سامنے پيش كر رہے ہيں_

بعد كے نتائج

ايك جنگ جمل كا تلخ ثمرہ يہ ہوا كہ جنگ صفين كى اگ بھڑك اٹھى _ كيونكہ واقعى بات يہ ہے كہ جنگ صفين اصل ميں جنگ جمل كااختتاميہ اور اسى كا بدترين اثر ہے _ يہ دونوں جنگوں كا باہم مضبوط رشتہ ہے _ جسكى ابتدا ميدان بصرہ ميں اور انتہاميدان صفين ميں ہوئي، اس رشتہ كاسراعائشه كے ہاتھ ميں نظر اتا ہے ، انھوں نے اپنے مضبوط ہاتھوں ميں تھام كر اخر اخر تك اسے حركت ديتى رہيں _

كيونكہ عائشه قبيلہ تيم سے تھيں ان كا عثمان كے خاندان سے كوئي رشتہ نہ تھا _ ان كى بغاوت نے معاويہ كى بغاوت كاراستہ ہموار اور اسان كيا ،انھيں كى وجہ سے معاويہ كو بہانہ ہاتھ ايا،كيونكہ جب عثمان كے غير خاندان كى عورت

____________________

۱_ طبرى ج۵ ص ۲۵ ، عقد الفريد ج۴ ص ۲۲۴ ، تاريخ اعثم كوفى جمل


خون عثمان كا مطالبہ كر سكتى ہے تو معاويہ بدرجہ اولى اس انتقام كا حق ركھتے ہيں ، چنانچہ انھوں نے خون عثمان كو بہانہ بنا كر جنگ صفين كھڑى كر دى _

۲_ انتقام عثمان كا مطالبہ عائشه اس بات كا سبب بنا كہ معاويہ خلافت كواپنے خاندان بنى اميہ ميں موروثى حيثيت سے قرار ديں كيونكہ خليفہ مقتول انھيں كے خاندان سے تھے _انھوں نے خلافت كو اس طرح موروثى قرار دياكہ كسى دوسرے خاندان ميں منتقل ہونا ممكن نہ ہو _

۳_ جنگ جمل برپاہونے اور ختم ہونے كاسلسلہ جارى رہابلكہ يہ دونوں جنگيں جمل وصفين ايك دوسرے سے ا س قدر پيوست تھيں كہ ايك تيسرى جنگ پيدا ہوئي جسے جنگ نہروان كہا جاتا ہے ، اس جنگ نے بھى بہت سے مسلمانوںكو خون ميں نہلايا _

كيونكہ ان دونوںجنگوںنے بدباطن لوگوںميں تنگ نظرى اور برے نظريات پيداكر ديئےور ايسى كوتاہ فكرى پيدا كردى كہ لوگ تشويش و اضطراب كى زد ميں اگئے _ الزام وجو ا بى الزام كى فضا بن گئي _ عناد كى نظريں ايك دوسرے كو ديكھنے لگيں اكثر مسلمانوں نے تكفير كے فتوے ايك دوسرے كو دئے اور ايك دوسرے كا خون مباح سمجھ ليامسلمانوںميں امن و اسائشے نام كو نہيں رہ گئي ، جنگ و خونريزى كے دروازے كھل گئے جس كا سلسلہ بنى عباس كے عہد تك جارى رہا اس درميان بے شمار مسلمانوںنے اپنى جان سے ہاتھ دھويا اس تجزئے سے معلوم ہوتاہے كہ جنگ جمل صرف بصرہ تك ہى محدود نہيں رہى _ جو ميدان بصرہ ميںمحدود وقت تك برپا رہى بلكہ اس جنگ نے كشش پيداكى اور اسلامى سر زمين كے زيادہ حصہ ميں پھيلتى چلى گئي ، بہت سے مسلمانوں كو متاثر كيا اور ايك طويل مدت تك مسلمانوں ميں اپنى گونج پيداكرتى رہى جنگ جمل كے نام سے تو نہيں بلكہ اسكے نام مختلف تھے اور اسكے عنوان الگ تھے _

نظرياتى اختلافات كى پيدائشے

كسى بھى قوم اور معاشرے ميں جنگ و خونريزى ہونے سے ہر طرح كے اختلافات اور نظرياتى ٹكرائوكے راستے رد عمل كے طور پر كھل جاتے ہيں نظرياتى تضادرہن سہن ميں اختلافات اور عقيدے ميں ٹكرائو كى فضا بن جاتى ہے ،فكرى اختلاف عملى اختلاف كا باعث بنتاہے اسكے برعكس عملى اختلاف نظرياتى اختلاف كو جنم ديتا ہے _

جنگ جمل وصفين ونہروان بھى اس قانون طبيعى سے مستثنى نہيں رہے ہر ايك جنگ نے اپنے مخصوص دائرے ميں مسلمانوںكے افكار ميں اور روح ميں بھى اپنے اثرات چھوڑے _ اس جنگ كے بعدلوگ كئي گروہ وعقيدہ اور طرز تفكر ميں بٹ گئے _


كچھ تو طر ف دار حضرت علىعليه‌السلام ہوئے انھيں علوى گروہ كہا جانے لگا(۲) كچھ لوگ عثمان كے طرفدارہوگئے انھيں عثمانى پارٹى كہا جانے لگاكچھ ايسے تھے جنھوں نے ان دونوں كو كافر كہہ ديا ، كچھ نے بنيادى طور پر ان دونوں سے ا پنے كوالگ ركھا _ وہ لوگ اخر تك غير جانبدار رہے ، اسى طرح ہر گروہ نے ايك نئي پارٹى بنا لى اور اپنى پارٹى كانيا نام ركھ ليااور اسى نام سے مشہور ہو گيا _

يہى وجہ تھى كہ داخلى جنگوں كے بعد مسلمانوں كے درميان نئے نئے مذاھب،فرقے اور عقيدے پيداہوتے گئے _اس فكرى اختلاف نے جو جنگ كے نتيجے ميں پيدا ہوئے تھے بعد ميں بھى نئي جنگوں كے راستے ہموار كئے جو بڑى شديد اور خونريز ہوئيں اور اگر خونريز جنگ نہيں ہوتى تو سرد جنگ اور گومگو كى كيفيت كى وجہ سے كلامى بحثيںپيدا ہو گئيں ، يہ تمام خرابياں اسى جنگ جمل كے نتيجے ميں پيدا ہوئيں(۳)

جى ہاں_ جنگ جمل سے ان نقصان دہ نتائج كے علاوہ جن كا گزشتہ صفحات ميں تذكرہ كيا گيا بہت بڑے بڑے اختلافات اور شديدكشمكشوں نے بھى مسلمانوں كے گروہ ميں جنم ليا _

خوارج كا عقيدہ تھا كہ طلحہ ،زبير اور عائشه نے حضرت على سے جنگ كى ،انھوں نے اپنے امام كى مخالفت كي، اس وجہ سے يہ سب كے سب مخالفت على كى وجہ سے كافر ہو گئے ان كا اسلام سے كوئي تعلق نہ رہاكيونكہ اس دن حق على كى طرف تھا _ ليكن انھوں نے بھى جنگ صفين ميں تحكيم كو منظور كر ليا ابو موسى اشعرى اور عمروعاص كو كا حاكم مان ليا اس لئے وہ بھى اسلام سے خارج ہو گئے _

خوارج كے كچھ فرقہ جنگ جمل ميں على كو حق پر سمجھتے ہيں،ليكن چونكہ انھوں نے تمام بصرہ كى دولت مال

____________________

۲_ يہ علوى كہے جانے والے لوگ شيعوں كے علاوہ ہيں ، كيونكہ شيعت كى ابتداء زمانہ رسالت ميں ہوئي ہے جن كا نمونہ عمار ياسر ، مالك اشتر جيسے لوگ ہوئے _

۳_ كتاب عثمانيہ جاحظ ج۵۵ ص ۲۵۰ ، ابن ابى الحديد ج۲ ص ۱۵۹


غنيمت كے طور پر لوٹنے كى اجازت نہيں دى ، ان كے بچوں اور عورتوں كو اسير نہيں كيا اس لئے انھوں نے غلطى كى _ اس غلطى كى وجہ سے وہ حضرت علىعليه‌السلام كو گالى ديتے ہيں اور لعنت كرتے ہيں(۴)

معتزلہ كے بعض فرقے ان دونوں گروہوں كو كافر كہتے ہيں عائشه اور حضرت علىعليه‌السلام ہر دو لشكر كے افراد كو دائرئہ اسلام سے خارج قرار ديتے ہيں ان كاخيال ہے كہ يہ دونوں ہميشہ ہميشہ جہنم ميں رہيں گے(۵)

معتزلہ كے كچھ دوسرے گرو ہ ان دونوںمخالف دھڑوںكو بغير معين كئے فاسق اور جہنمى كہتے ہيں كيونكہ يہ دونوں گروہ فاسق اور گنہگار تھے ليكن ان ميں سے ايك فاسق اور جہنمى ہوگاجسكا فيصلہ خدا كرے گا،اس گروہ كے عقيدہ كے مطابق ان دونوں ميں سے كسى كى بھى شہادت قابل قبول نہيں _ وہ يہ كہتے ہيں كہ على و عائشه كے تمام لشكر والے اگر ايك ہرے پتے كى گواہى ديں تو قبول نہيں كى جا ئے گى نہ اس گواہى پر اعتباركياجائے _(۶)

معتزلہ كے تيسرے گروہ كا عقيدہ لشكر عائشه كے بارے ميں يہ ہے كہ ان ميں سبھى يہا ں تك كہ طلحہ و زبير بھى گنہگار اور جہنمى ہيں ليكن ان ميں وہ لوگ جہنمى نہيں رہيں گے جنھيں اپنے كئے پر احساس پشيمانى ہو ااور انھوں نے توبہ كر لى _ اس گروہ كا خيال يہ ہے كہ عائشه ان لوگوں ميں تھيں جنھوں نے پشيمانى ظا ہر كر كے توبہ كى كيونكہ عائشه جنگ كے بعد امير المومنين كے پاس ائيں اور اپنے گناہ كا اعتراف كيا ان سے معافى مانگى حضرت علىعليه‌السلام نے بھى انہيں بخش ديا _اور انكى لغز ش ا ور گناہوں سے صرف نظر فرمايا(۷)

جاحظ كہتے ہيں كہ عائشه اور حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كے بارے ميں بعض لوگوں كا عقيدہ يہ ہے كہ دونوں لشكر كے فوجى افسران تو نجات پا جائيں گے ليكن ان كے فوجى جہنم ميں داخل كئے جائيں گے(۸)

زيادہ تر اشاعرہ كے لوگوں كا لشكر عائشه كے بارے ميں يہ عقيدہ تھا كہ انھوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف خروج كر كے غلطى كى ،مرتكب گناہ ہوئے ليكن ان كا يہ گناہ ايسا نہيں كہ انھيں كافر كہا جا سكے نہ ا ن كا گناہ فسق كا باعث ہے ، ان كى اس غلطى كى وجہ سے عداوت يا دشمنى ركھنا منا سب نہيں ،بلكہ يہ غلطى اشتباہ كى وجہ سے ہوئي اور يہ معمولى غلطى ہے جو

____________________

۴_ الملل ج۱ ص ۱۷۶ ، التبصير ص ۲۷ ، الفرق بين الفرق ص ۵۸

۵_ التبصير ص ۴۲

۶_ التبصير ص ۴۱

۷_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۳ ص ۲۹۶_ ج۲ ص ۴۴۸

۸_ كتاب عثمانيہ جاحظ ص ۲۴۶ ، طبع مصر سال ۱۳۷۴


قابل معافى ہے ،كيونكہ يہ لوگ مجتہد تھے اور مجتہد اپنے اجتہاد ميں غلطى سے دوچار ہو ہى جاتا ہے _(۹)

اس طرح حضرت على اور عائشه كے لشكر والوں كے بارے بھانت بھانت كے عقائد و نظريات پيدا ہو گئے جو ايك دوسرے سے قطعى مختلف ہيں_

ان نظريات ميں بعض تو سرحد كفر تك پہنچا ديتے ہيں اور بعض انھيں نجات يا فتہ قرار ديتے ہيں بہشتى كہتے ہيں اور بعض اس غلطى كو ايسا گناہ قرار ديتے ہيں جو ہر گز بخشے جانے كے قابل نہيں ليكن اس بارے ميں ہمارا عقيدہ بہت موزوں اور متوازن ہے اور يہ حضرت على كے اس ارشاد سے ماخوذ ہے _

آپ نے فرمايا :

عائشه نے اگر چہ ہر طرح اختلاف و خونريزى پيدا كى ليكن پھر بھى وہ ہمارى ماں ہيں اور تمام مسلمانوں كى ماں ہيں اور ان كے اعمال كا حساب خدا كے ذمے ہے(۱۰)

(ولما بعد حرمتها الاولى و الحساب على الله)

عائشه كى واقعى شخصيت كا تعارف

ہم نے جنگ جمل كى تاريخ بيان كرنے ميں قارئين كرام كے سامنے صرف وہى باتيں بيان كى ہيں جو براہ راست يا بالواسطہ طور سے احاديث عائشه كى حيثيت سمجھنے ميں معاون ہوں _ اور يہى ہمارا مقصد بھى ہے _ مطلب يہ ہے كہ ہم نے ايسے حوادث بيان كئے ہيں جن سے عائشه كے روحانى و اخلاقى امتيازات اور ان كے عقائد و افكار كا پتہ لگايا جاسكے _ ہم نے تاريخى كتابوں كے معتبر ماخذ سے شواہد تلاش كر كے قارئين كے سامنے پيش كئے ہيں تاكہ اس كے ذريعے عائشه كى واقعى شخصيت اور سياسى و معاشرتى رسوخ كا پتہ چل سكے _ اسى كے ساتھ يہ كہ ان كى روحانى و نظرياتى و اخلاقى خصوصيات معلوم ہو سكيں كيونكہ يہى باتيں عائشه كى احاديث و روايات سمجھنے ميں معاون ہو سكتى ہيں اور يقين حقيقت كو اسان و ہموار بنا سكتى ہيں

اور اب عائشه كے بارے ميں جو تاريخى مدارك حاصل ہوئے ہيں انھيں چند فصلوں ميں بطور خلاصہ پيش

____________________

۹_الملل و النحل ج۱ ص ۴۴ ، المفصل ج۴ ص ۱۵۳

۱۰_ شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۶۳ ، كنز العمال ج۸ ص ۲۱۵ ، منتخب كنز ج۵ ص ۳۱۵ _ ۳۳۱


كئے جا رہے ہيں ، ليكن ہم اس فصل ميں صرف عائشه كى دلى قوت ہى كو بيان كريں گے جس كى وجہ سے وہ اپنى ہم جنسوں ميں ممتاز ہوئيں _

عائشه كى دلى قوت

عائشه اپنى جگر دارى اور قوت كے اعتبار سے تمام دنيا كى عورتيں ميں بے نظير تھيں ، يہاں تك كہ تاريخ ميں آج تك ان سے زيادہ جگر دار عورت كى نشاندہى نہيں ہو گى ،ہر وہ كاميابى كے ساتھ اپنے نسوانى جذبات و احسات پر اسقدر مسلط تھيں كہ كسى عورت كے لئے ايسے تسلط كا مظاہرہ بہت بعيد ہے _

انہوں نے پہلے ہلّے ميں بصرہ پر قبضہ كر كے وہاں كے بيت المال كے محافظوں كو اسير كر كے نہآیت بے رحمى كے ساتھ حكم ديا كہ ان سب كو قتل كر ديا جائے _ اور اس عورت كے حكم سے دسيوں مسلمانوں كو ان كى انكھ كے سامنے بھيڑ بكريوں كى طرح قتل كر ڈالا گيا _

پھر اس كے بعد جنگ شروع ہوئي تو اس اتشيں اور وحشت انگيز ميں خود شريك رہيں _ اور ذرا بھى خوف و ہراس كو راہ دئے پورے دلى اطمينان كے ساتھ ايك سپہ سالار كى طرح حكم چلا رہى تھيں _ حالانكہ خزاں كے پتوں كى طرح سر اڑ رہے تھے ، يہ سارا تماشہ وہ اپنى انكھوں ديكھ رہى تھيں _ ذرا ماتھے پر شكن نہ تھى ، پہاڑ كى طرح جمى تھيں ہودج ميں بيٹھ كر لگاتار فوجى احكامات صادر كر رہى تھيں _ ان كے دل ميں ذرا بھى گھبراہٹ ، كمزورى اور پريشانى كا اثر نہ تھا _ جى ہاں _ يہ امتياز و خصوصيت عائشه كے علاوہ دنيا كى كسى عورت ميں نظر نہيں اسكتى ، نہ تاريخ كسى ايسى عورت كى نشاندہى كر سكتى ہے ہم نے اسے ام المومنين كى قوت قلب كيا ہے _ قارئين اسے قساوت و بے رحمى كا نام دے سكتے ہيں يا جگر دارى كہہ سكتے ہيں _

ہم نے قارئين كے سامنے تاريك بيان كى ہے فيصلہ انھيں كو كرنا ہے _


عائشه ، دنيا كى عظيم ترين سياست داں

گذشتہ فصلوں ميں جو باتيں پيش كى گئيں ان سے استفادہ ہوتا ہے كہ عائشه ايك مجير العقول شخصيت كى حامل تھيں ، وہ ذاتى حيثيت سے سحر انگيز اور چمتكارى توانائي ركھتى تھيں ، اس عظيم توانائي كى وجہ سے ان كے لئے يہ بات بہت سہل و اسان تھى كہ حق كو باطل كى صورت ميں اور باطل كو حق كى صورت ميں پيش كرديں _ يا جن باتوں كى واقعى كوئي اصليت نہيں ہے اسے اپنى لچھے دار باتوں سے زنگ ھستى عطا كر ديں_

انہوں نے ميدان تيار كرنے اور سياسى مہارت كى بحر العقول صلاحيت پيدا كى تھى _ اور انہيں اس كا خاص شوق بھى تھا اپنى اسى توانائي كى وجہ سے انہوں نے بيعت على كے بعد پيمان شكنى كے لئے ايك بڑى جمعيت كو تيار كر ليا _ پھر انہيں اس طرح بھڑكايا كہ وہ انتقام خون عثمان پر امادہ ہو گئے جبكہ عثمان كو انھيں كے حكم سے قتل كيا گيا تھا _ حضرت على سے جنگ كے لئے بہت بڑى فوج محاذ پر كھڑى كر دى _

حيرتناك بات تو يہ ہے كہ عائشه نے اپنى اسى تحير خيز سياست و صلاحيت كو بروئے كا ر لاتے ہوئے متضاد و نظريات كو ياك جگہ جمع كر ديا _ اور ايك دوسرے سے قطعى جدا گانہ ہدف ركھنے والے گروہوں كو ايك نقطے پر سميٹ ليا _ پھر سب كو ايك ہى صف ميں كھڑا بھى كر ديا _ اس طرح اختلافات سے بھر پور لشكر تيار كر ليا _

اس سے بھى زيادہ حيرتناك بات يہ ہے كہ طلحہ و زبير كو جو عثمان كے سخت ترين مخالف تھے ، اور وہى واقعى عثمان كے قاتل بھى تھے ، اپنى لچھے دار اور كشادہ بيانى سے عثمان كا طرفدار اور خون كا بدلہ لينے والا بنا ديا _ انہيں على سے بيعت كے با وجود بيعت شكنى پر امادہ كيا اور انہيں ايسے لشكر كا امير بنا ديا جو حضرت على كے خلاف بغاوت پر كمر بستہ تھا _

عائشه نے صرف اتنا ہى نہيں كہ قاتلان عثمان سے اظہار بيزارى كيا بلكہ حضرت على پر قتل عثمان كا الزام تھوپ ديا انہيں قاتل عثمان كى حيثيت سے مشہور كيا ، حالانكہ واضح اور زندہ گواہى تاريخ كى ہے كہ حضرت على نے قتل عثمان ميں ذرا بھى شريك نہيں ہوئے ، يہاں چند تاريخى شواہد نقل كئے جاتے ہيں _

۱_ طلحہ و زبير كى بيعت ، بيعت شكنى اور يہ كہ حضرت على نے قتل عثمان ميں شركت نہيں كى ، بلكہ خود طلحہ و زبير كے ہاتھ خون عثمان ميں رنگين ہيں ، ان حقائق كو حضرت على نے بار با ر بيان كيا _ اپنى واضح بيانى اور زندہ شواہد كے ذريعے


اس راز سے پردہ اٹھايا _

كبھى آپ فرماتے َ طلحہ و زبير نے ميرى بيعت كى پھر ذرا ہى دير بعد مجھ سے زيارت خانہ كعبہ كى اجازت طلب كى ليكن وہاں سے بصرہ اكر بغاوت كى اگ بھڑكانے لگے ، مسلمانوں كو قتل كيا ، ميرى بيعت توڑ دى ، ميرے دشمنوں كو ميرے خلاف ابھارا اور جو كچھ كرنا تھا كيا _

اور كبھى خود طلحہ و زبير سے خطاب كر كے فرماتے :

تم نے مجھ سے بيعت كى _ پھر ميرى بيعت توڑ دى ہم سے جو عہد و پيمان كيا تھا اسے پس پشت ڈالكر ميرے اوپر قتل عثمان كا الزام تھوپ ديا ، تم كہہ رہے ہو كہ قاتل عثمان ولى ہے اور ميں كہتا ہوں كہ اس كا فيصلہ غير جانبدار صحابہ كے حوالے كر ديا جائے ايسے لوگوں كے حوالے كيا جائے كہ وہ نہ ميرے ہو نہ تمہارے _

ہاں _ وہى ہمارے تمہارے درميان فيصلہ كر ديں ، ہم ہى سے جو بھى قاتل عثمان ہے اسے وہى بتا ديں _ جرم كے مطابق سزا ديں _

حضرت على مسلمانوں كے اجتماع ميں ايسى باتيں بہت زيادہ كہتے اور اس طرح قتل عثمان سے اظہار بيزارى فرماتے _

ان سب كو جانے ديجئے ، جس دن لوگوں نے حضرت على كى بيعت كى اسى دن قتل عثمان ميں حضرت على كا شريك نہ ہونا اور طلحہ و زبير كا شريك ہونا ثابت ہو گيا _

ليكن ان تمام پچھلے واضح شواہد كے ساتھ كہ حضرت علىعليه‌السلام خون عثمان سے پاك تھے اورانہوں نے اس سے اظہار بيزارى بھى كيا پھر بھى لوگوں نے آپ كى باتوں پر توجہ نہيں دى اور ان كى اظہار بيزارى كو نہ مانا _ ليكن عائشه نے جو آپ پر الزام لگايا تھا اپنے تما جھوٹ كے با وجود ان كى لوگوں نے تائيد كى يہ صرف اس وجہ سے ہوا كہ عائہش كو سياست ميں حيرتناك اور خاص مہارت حاصل تھى كہ وہ حقائق كو بالكل الٹ ديں اور چونكہ معاشرے ميں ان كى حيثيت پسنديدہ تھى اور شيخين كے زمانے ہى سے انہيں خاص مقام حاصل تھا اس لئے وہ اپنى اس مہارت كا مظاہرہ كر سكيں _

۲_ ابن سيرين نے حضرت امير المومنين نے خون عثمان سے اظہار بيزارى كے سلسلے ميں كہنا ہے كہ جب


تك لوگوں نے على كى بيعت نہيں كى تھى ان پر قتل عثمان كا الزام نہيں لگايا تھا ليكن جس دن ان كى بيعت كى گئي ان پر الزام لگايا جانے لگا اور انہيں قاتلان عثمان كى فہرست ميں شامل كر ليا گيا_

۳_ ابو الاسود دئيلى نے جنگ جمل ميں طلحہ و زبير سے كہا تھا -:

تم دونوں اور عائشه عثمان كے سخت ترين دشمن تھے لوگوں كو سب سے زيادہ قتل عثمان پر ابھارتے تھے تم لوگوں نے انہيں موت كے گھاٹ تك پہچايا اور اب ان كے انتقام قتل پر اس لئے امادہ ہو كہ تمہيں واقعى قاتل عثمان ہو_

اور تم جو كہتے ہو كہ خلافت شورى كے ذريعہ متعين ہونى چاہيئے تو يہ گستاخى تم كيسے اپنى زبان پر لا تے ہو ؟ كيا تمہيں نے راضى خوشى اور بغير كوئي دبائو كے حضرت على كى بيعت نہيں كى تھى _

۴_ عمار ياسر نے بھى جنگ جمل شروع ہونے سے پہلے عائشه سے ملاقات كى اور ان سے كہا ( فمنك الرياح و منك المطر ) يعنى اے عائشه يہ تمام فتنے تمہيں نے شروع كئے اور ہر حادثہ اور ہر واقعے ميں تمہارى انگليوں كے نشانات نماياں ہيں _ يہانتك كہ قتل عثمان بھى تمہارے اشارے سے اور تمہارے حكم سے انجام پايا _

۵_ جنگ جمل كى ابتداء ميں صحابى رسول عبد اللہ ابن حكيم نے طلحہ كو ايك خط لكھ كر كہا :

اے طلحہ_ كيا يہ خط تم نے نہيں لكھا تھا ؟

طلحہ نے پوچھا _ كيوں _ يہ خط ہم نے ہى لكھا تھا :

عبد اللہ نے پوچھا _ ہم كو سخت تعجب ہے كہ كل اپنى خطوط كے مطابق ہميں تم نے دعوت دى تھى كہ ہم عثمان كے خلاف بغاوت كريں اور انہيں ختم كر ديں _ يا خلافت سے علحدہ كر ديں ليكن ہم نے تمہارى يہ دعوت قبول نہيں كى _ تمہارے موافق جواب نہيں ديا _ يہاں تك كہ اس ميں تم نے خود ہاتھ ڈالا انہيں قتل كر ڈالا اور آج پھر تم ان كے خون كا انتقام لينے كے لئے ہمارے پاس ائے ہو اور ہم بت خبر اور بے گناہ لوگوں سے ان كے خون كا انتقام لے رہے ہو _

۶_ جب مكہ ميں عائشه كے لشكر نے خروج كيا اور سعيد ابن عاص اموى نے مروان سے كہا :

اے مروان _ كہاں جا رہے ہو ؟ اور خون عثمان كا كس سے مطالبہ كر رہے ہو خون عثمان تو يہ تمہارى فوج ميں اونٹ كى پشت پر ہے اگر واقعى تمہارا مقصد خون خواہى ہے تو اپنے اس ساتھى كو قتل كر كے اپنے گھر وآپس جائو _

سعيد كا مطلب يہ تھا كہ طلحہ زبير اور عائشه عثمان كے قاتل ہيں جو لشكر كے دونوں طرف اونٹ پر بيٹھ كر بصرہ كى


طرف جا رہے ہيں اور طلحہ و زبير ہى كى وجہ سے جنگ جمل ہوئي جب دونوں طرف كے لشكر امنے سامنے ہوائے اور مروان كو موقع ہاتھ ايا تو اس نے تير چلا كر طلحہ كو قتل كر ڈالا _

يہ مستحكم اور واضح دلائل و شواہد ہيں كہ حضرت علىعليه‌السلام با لكل سے خون عثمان سے اور عائشه ، طلحہ و زبير اس خون ميں شامل تھے ، يہ بات جب ظاہر تھى _ ليكن ان كے با وجود عائشه نے اپنى خاص مہارت كا مظاہرہ كرتے ہوئے اپنے ان ساتھيوں كو خون عثمان سے برى كر ديا اور حضرت علىعليه‌السلام كے بے گناہ ساتھيوں پر ان كے قتل كا الزام تھوپ ديا جبكہ ان كا اس سے كوئي تعلق نہيں تھا پھر خون عثمان كا انتقام لينے كے لئے ان لوگوں كے خلاف لشكر تيار كيا اور ايك زبر دست تاريخى جنگ پيدا كر دى _

يہ انتہائي حيرت انگيز حركت تھى جو كسى دوسرے شخص سے نہيں ہو سكتى تھى ، اسى وجہ سے كہا جا سكتا ہے كہ :

عائشه دنيا كى ايك بہترين سياست داں خاتون تھيں _

عائشه كى تقريرى صلاحيت

عائشه كو تقرير ميں بھى حيرتناك مہارت تھى وہ خطابت كے امور سے پورى طرح اشنا تھيں اس حيثيت سے انہيں دنيا كى نامہ ور خطيب بھى كہا جا سكتا ہے _ كتب تاريخ ميں جو ان كى اتشيں تقرير منقول ہيں _ واقعى حيرتناك ہيں يہاں اس كے چند نمونے ثبوت كے طور پر پيش كئے جاتے ہيں _

۱_ عائشه كى خطابت كا ايك نمونہ حضرت ام سلمى كے جواب دينے ميں بھى پيش كيا جا سكتا ہے جس وقت وہ حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كا ارادہ كر چكيں تھيں ام سلمى نے ان كى سرزنش اور ملامت كرتے ہوئے فرمايا :

اے عائشه تم نے جو راستہ اختيار كيا ہے وہ انحراف اور گناہ كا راستہ ہے ،خدا سے ڈرو جو تمہارے تمام اعمال كا نگراں ہے _

عائشه نے ام سلمى كا جواب ديا _

اے ام سلمى مجھے بہت مبارك سفر در پيش ہے اس لئے كہ ميں مسلمانوں كے دو گروہوں كے اندر شديداختلافات كى حكمرانى ہے ميں اس كى اصلاح كروں گى _ ان كى دشمنى اور نفاق كو خلوص و برادرى سے بدل دوں گى


اور اس طرح مجھے خداوند عالم كى خوشنودى حاصل ہو گى _ (نفصم المطلع اصلحت بين الفئيتين متاخرتين )

يہاں عائشه نے اپنى پناہ خطيبانہ صلاحيت سے جنگ كى بات كو مغالطے ميں ڈال كر اپنے گناہ اور فساد كو اصلاح اور خوشنودي خدا كا رنگ ديديا دشمنى اور اختلاف كو اختلاف ختم كرنے اور اتحاد دو برادرى پيدا كرنے كا رنگ ديديا _

ليكن يہاں ايك سوال باقى رہ جاتا ہے كہ اگر عائشه اپنے گھر ميں بيٹھى رہتى اور حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كے لئے مكہ سے نہ نكلتيں تو مسلمانوں كے دو گرہوں ميں نفاق اور دشمنى كہاں سے پيدا ہوتى _

دو مخالف گروہ جو ايك دوسرے سے لڑ رہے تھے اور جس كا اظہار خود عائشه نے كيا تھا كہ ان دونوں ميں صلح كراو ں گى وہ كہاں تھا ، عائشه كى بغاوت اور ان كے بصرہ انے سے پہلے اختلاف كا كہيں پتہ اور نشان نہيں تھا _ كاش انہوں نے مسلمانوں كے درميان اصلاح كے خيال سے مكہ سے بصرہ نہ گئيں ہوتيں اور يہ تمام جنگ و خونريزى و برادركشى مسلمانوں ميں پيدا نہ ہوتى _

۲_ ايك دوسرى عائشه كى تقرير ان كى مشہور خطابت ہے جو مربد ميں ہوئي تھى _

جس وقت طلحہ و زبير نے بصرہ والوں كے سامنے تقرير يں كيں اور لوگوں نے ان كى باتوں پر توجہ نہيں دى بلكہ ان دونوں پر اعتراض كرنے لگے لوگوں ميں ايسا شور اور ہنگامہ پيدا ہوا كہ طلحہ وزبير اس كو خاموش كرنے سے عاجز رہ گئے اس موقع پر عائشه نے اپنى تند اور اتشيں تقرير شروع كى _ كہ لوگ خاموش ہو گئے اور سارى چيخ پكار ختم ہو گئي _

عائشه نے اپنى تقرير ميں كہا :

بصرہ والو _ يہ صحيح ہے كہ عثمان گناہگار تھے _ ان سے غلطياں بھى ہوئيں _ ليكن جب ہم نے انہيں ٹوكا تو انہوں نے ہمارى بات مان لى اور اپنے گناہوں سے توبہ كى _ اپنى غلط حركتوں سے بعض ائے ليكن تم لوگوں نے ان كى توبہ كو نظر انداز كيا اور ان پر چڑھائي كر كے بے گناہ اور مظلومى كے ساتھ قتل كر ديا _ بے رحمى سے ان كا خون زمين پر بہا ديا اس كے بعد على كو مسلمانوں كى رضا و صلاح كے بغير خلافت پر بيٹھا ديا اسى لئے ميں مظلوم و بے گناہ عثمان كى طرفدارى اور خونخواہى كے لئے كھڑى ہو گئي ہوں _ ميں نے اس لئے قيام كيا ہے كہ على كو خلافت سے معزول كر دوں گا


كہ وہ مسلمانوں پر حكومت نہ كريں _

يہ عائشه كى خطابت كا ايك چھوٹا سا ٹكڑا تھا جو ميدان مربد ميں پيش كيا گيا اسے سنتے ہيں شور مچانے والے لوگ خاموش ہو گئے اور اس كا لوگوں كے دل پر مخصوص اثر ہوا حالانكہ وہ لوگ جاتنے تھے كہ عائشه اپنى باتوں سے لوگوں كو مغالطے ميں ڈال رہى ہيں_ليكن سبھى پورى توجہ سے سنا رہے تھے اور دل وجان سے ان كى باتوں كو مان رہے تھے اور يہ ان كى قوت و خطابت ہى كا اثر تھا كيونكہ وہ بہت موقعہ شناس تھيں اور تقرير كے رموز سے پورى طرح اشنائي ركھتى تھيں _ ليكن نہيں _ ان كى باتوں ميں جھوٹ اور مغالطے كے اثار نماياں تھے كيونكہ اگر انہوں نے قتل عثمان كا فتوى نہيں ديا ہوتا تو كسى كو قتل كرنے كى جرا ت نہ ہوتى _ انہوں نے اور ان كے خاندان نے عثمان كو قتل كيا پھر ان كى مظلوميت پر گھڑيال كے انسو بہانے لگيں _

عائشه نے اس تقرير كے بعد _ تقرير كا دوسرا حصہ شروع كيا اس ميں سبھى حضرت علىعليه‌السلام كے بارے ميں باتيں تھيں _ اور آپ سے اپنے پچھلے عناد كو اشكار كيا اور اپنے دلى راز سے پردہ اٹھا تے ہوئے يہ كہا كہ :

اے لوگو_ تم نے ابو طالب كے بيٹے كى بيعت مسلمانوں كو خبرديئےغير كر ڈالى اور لوگوں كى خوشنودى كے بغير غاصبانہ طريقے سے انہيں كرسي خلافت پر بيٹھاديا _(۱۱) عائشه نے اپنى تقرير جارى ركھى _ اگے كہا كہ :

اے لوگو_ سمجھ لو عثمان مظلوم اور بے گناہ قتل كئے گئے تم لوگوں پر واجب ہے كہ ان كے قاتلوں كو تلاش كرو اور جہاں بھى پاو انہيں قتل كر ڈالو _ اس كے بعد معاملہ خلافت كو اسى طرح شورى كے حوالہ كر دوجيسے عمر نے كيا تھا وہى اركان شورى خلافت كے لئے كسى كو منتخب كر ليں ليكن يہ خيال رہے كہ جو لوگ قتل عثمان ميں شريك ہوئے ہيں انہيں مجلس شورى ميں شامل نہيں كيا جائے اور خليفہ معين كرنے ميں ان كى رائے نہ مانى جائے چاہے وہ عمر كے اركان شورى ہى ميں موجود ہوں _(۱۲)

عائشه نے اپنى تقرير كے پہلے حصہ ميں بيعت و خلافت على كو فسخ كيا پھر خلافت كو اركان شورى كے حوالے كيا اور اس ميں بھى على كى شركت كو روكتے ہوئے كہا كہ جو لوگ خون عثمان ميں شريك ہوئے ہيں انہيں مسئلہ خلافت ميں دخل نہيں دينا چاہئے چاہے وہ عمر كے چھہ اركان شورى ہى كى فرد ہو ں _

____________________

۱۱_ يہاں بھى عا ئشہ نے مغالطہ سے كام ليا ہے كيونكہ طلحہ و زبير نے بصرہ والوں سے پہلے حضرت علىعليه‌السلام سے بيعت كى تھي

۱۲_ اس سے عا ئشہ كى مراد صرف حضرت علىعليه‌السلام ہيں ، كيونكہ ان كے خيال ميں قتل عثمان ميں حضرت علىعليه‌السلام كے سوا اركان شورى كى كوئي فرد شريك نہيں تھى _


اگر ہم عائشه كى تقرير كا تحليل و تجزيہ كريں تو پہلى ہى نظر ميں يہ بات ہميں سمجھ ميں اجاتى ہے كہ طلحہ و زبير كے علاوہ دوسرا كوئي شخص بھى خلافت كا حق نہيں ركھتا اور صرف انہيں دونوں ميں سے كسى ايك وك خليفہ منتخب ہونا چاہئے _ كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ عمر كے اركان شورى ميں سے عثمان اور عبد الرحمن زندہ نہيں ہيں ، حضرت علىعليه‌السلام بھى عائشه كى نظر ميں قتل عثمان سے متہم ہيں اس لے معاملہ شورى ميں انہيں كسى قسم كى مداخلت كا حق نہيں ہے نہ رائے دينے كا حق ہے _ چوتھى فرد سعد كى ہے عائشه كے لئے بہت اسان تھا كہ ان پر بھى قتل عثمان كا الزام لگا كر حريم شورى سے نكال باہر كرديتيں _ اب صرف دو ہى شخص طلحہ و زبير رہ جاتے ہيں جو عائشه كى نظر ميں قتل عثمان سے برى تھے اور ان كے قتل ميں ان دونوں نے كسى قسم كى شركت نہيں كى تھى اس لئے وہ ہر طرح خلافت اور شورى كے شرائط ركھتے تھے _

اس تحليل و تجزيہ سے يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ عائشه بہت چالاكى اور لچھہ دار گفتگو سے يہ بات ثابت كرنا چاہتى ہيں كہ مسئلہ خلافت كے لئے طلحہ و زبير ميں سے كسى ايك كو منتخب كر ليا جائے اصل ميں قتل عثمان اور بغاوت على كا پرچم بلند كرنے سے ان كا مقصد يہى تھا _

۳_ لوگوں كے دل ميں عائشه كے بھر پور اثر ہونے كا ايك ثبوت اور لوگوں كے جذبات سے بخوبى اگاہ ہونے كا ايك ثبوت ان كى وہ تقرير بھى ہے جسے انہوں نے قبيلہ بنى ناجيہ والوں كے سامنے ظاہر كيا _ وہ لوگ اونٹ كى مار اپنے ہاتھ ميں تھامے ہوئے تھے _ انہوں نے انتہائي ہيجان انگيز انداز ميں كہا كہ :

اے ناجيہ كے شريف خاندان والو استقامت دكھاو اور صبر كا مظاہرہ كرو كيونكہ ميں تم لوگوں كے چہرے پر قريش كى غيرت و استقامت كا مشاہدہ كر رہى ہوں _

صبر ا ً يا بنى ناجيه فانى اعرف فيكم شمائل قريش

عائشه نے اپنى اس تقرير ميں قبيلہ ناجيہ كو قريش كے با وقار خاندان سے جو ڑ ديا جو شجاعت و شہامت سے مشہور تھا اس طرح ناجيہ والوں ميں فدا كارى كا جذبہ بڑھ گيا كہ وہ اپنى اخرى سانسوں تك حضرت علىعليه‌السلام كى فوج كے


سامنے ڈٹے رہے اور ايك كے بعد ايك قتل ہوتے رہے _

اپنے اس مو ثر فقرے سے عائشه نے اپنا مطلب حاصل كيا كيونكہ قبيلہ ناجيہ كے قبيلہ قريش كى شاخ ہونے ميں متہم تھا لوگ اسے قريش كى شاخ نہيں سمجھتے تھے _ رسول خدا (ص) نے سامہ كے بارے ميں جو اپنے كو قريش كى فرد سمجھتا فرمايا تھا كہ : ميرے چچا سامہ سے كوئي فرزند پيدا نہيں ہوا تھا يعنى بنى ناجيہ سامہ سے نہيں تھے اور ان كا قريش سے انتصاب صحيح نہيں ہے _ ابو بكر و عمر بھى بنى ناجيہ كوقبيلہ قريش كى فرد نہيں سمجھتے تھے _(۱۳)

عائشه كى موقعہ شناسى كا ايك نمونہ وہ جملے ہيں جو قبيلہ ازد والوں سے كہے جس وقت ازديوں نے اونٹ كى مہار تھامى اور پورى طاقت سے جنگ كرنے لگے تو ان كى طرف رخ كر كے كہا :

اے قبيلہ ازد والو _ صبر و استقامت كا مظاہرہ كرو كيونكہ صبر و استقامت ازاد مردوں كى پہچان ہے _ جب تك بنى ضبہ ميرے لشكر كے درميان رہے ميں اپنے لشكر ميں اثار كامرانى كا مشاھدہ كرتى رہى اور اپنى فتح كى اميد وار رہى _صبراً فنما يصبر الاحرار

عائشه كے اس فقرے سے قبيلہ ازد ميں ايسا جوش پيدا ہوا كہ انہوں نے پورى طاقت سے جنگ كى اور ايك كے بعد ايك اونٹ كے سامنے خاك و خون ميں لوٹنے لگے تاكہ خاندان ضبہ كى جو تعريف عائشه نے كى ہے اسے يہ بھى حاصل كر سكيں _

۵_عائشه كى موقعہ شناسى كا نمونہ وہ بھى ہے جسے انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے كہا تھا_ جنگ جمل كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے جب عائشه پر قابو پا كر ان كى ملامت كرتے ہوئے فرمايا :

اے عائشه _ تم نے لوگوں كو ميرے خلاف جنگ پر ابھارا _ بغاوت كى تحريك چلائي يہاں تك كہ خون سے زمين لالہ زار ہو گئي بھائي نے بھائي كو قتل كيا رسول خدا (ص) نے يہى حكم ديا تھا كيا انحضرت (ص) نے تمہيں يہ حكم نہيں ديا تھا كہ اپنے گھر سے باھر نہ نكلنا اور اپنے حجرے ميں بيٹھى رہنا _

____________________

۱۳_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج۳ ص ۱۲۶


عائشه جو موقعہ شناسى اور نقطہ سنجى ميں ماہر تھيں طويل اور حساس خطابت كا تجربہ تھا _ ايسے موقعہ پر علىعليه‌السلام سے صرف ايك _ جى ہاں _ صرف چھوٹے سے ايك جملے پر قناعت كى ليكن وہ جملہ بہت حساس تھا جس نے حضرت علىعليه‌السلام جيسے مہربان اور جذباتى شخص كو رام كر ديا اور علىعليه‌السلام كو اپنى تمام كينہ و عناد كے باوجود عفو و بخشش پر مجبور كر ديا اس حساس موقع پر كہا :

اے علىعليه‌السلام اب جب كہ تم نے ہمارے اوپر قابو پا ليا ہے تو عفو و بخشش سے كام لو ملكت فا سجح _ تم نے قابو پا ليا ہے اب عفو كو راہ دو _ يہ چھوٹا سا فقرہ كتنا بليغ ہے اس ميں ايك طرح كا فرمان بھى ہے ليكن باطن ميں انسانى جذبات كو اپنى طرف محبت كے لئے كھينچتا ہے _ يہ ايسا فقرہ تھا كہ كوئي بھى كريم شخص عفو و بخشش سے كام ليتا _

اپنى حيثيت سے استفادہ

تمام مسلمان _ رسول اكرم (ص) كى ازواج كوام المومنين يعنى مومنو كى ماں كہتے ہيں _ مسلمانوں ميں يہ لقب مشہور تھا _ ليكن عائشه نے اس عنوان كا تمام ازواج رسول سے زيادہ استفادہ كيا اس كے ذريعہ انہوں نے لوگوں كى توجہ اپنى سمت كھينچى اور اس سے استفادہ كرنے لے لئے ناقابل فراموش اور حيرتناك موقعہ استعمال كئے _ وہ اپنے اس عنوان سے لوگوں ميں كپكپى پيدا كر ديتى تھيں لوگ ان كے سامنے جھك جاتے تھے اور انتہائي احترام كے ساتھ ان كى پيروى كرنے لگتے تھے _

يہ بات واضح ہے كہ يہ اختيار اور مسلمانوں كے معاشرے ميں ان كا يہ اثر شيخين ( عمر و ابو بكر ) كے زمانہ ہى ميں حاصل ہو چكا تھا حضرت علىعليه‌السلام كے زمانہ ميں يہ اثر باقى تھا اس لئے انہوں نے تما م مرحلوں ميں ام المومنين كے عنوان سے بھر پور استفادہ كيا اور اس طرح لوگوں كو اپنى طرف متوجہ كيا _ چنانچہ انہوں نے جنگ جمل سے پہلے زيد ابن صوحان كو خط لكھتے ہوئے سر نامہ ميں اسى لقب كو استعمال كيا پھر انہيں اپنى مدد و نصرت كى دعوت دى _

خط كا متن يہ ہے _

يہ خط ام المومنين عائشه بنت ابو بكر زوجہ رسول (ص) كا اپنے نيك فرزند زيد ابن صوحان كو _ خدا كى حمد و ثنا كے بعد

اے زيد يہ خط پاتے ہى ميرے پاس اجاو اور اس جنگ ميں ميرى مدد كرو اگر ہمارا حكم نہيں مانتے اور ميرى مدد نہيں كرتے تو كم


سے كم علىعليه‌السلام سے الگ رہو اور ان كى كسى طرح بھى مدد و نصرت نہ كرو _(۱۴)

پھر عائشه نے اپنے اسى عنوان كو كعب ابن سور كى طرف كھينچا اور اس كے خيالات كو با لكل پلٹ ديا _ جس وقت كعب نے اپنى غير جانبدارى كا اعلان كيا اور لوگوں سے علحدگى اختيار كر كے خانہ نشين ہو كر گھر كا دروازہ بند كر ليا عائشه اپنے خچر پر سوار ہو كر سور كے پاس ائيں اور بات كرنے لگيں _ كعب كسى طرح بھى مثبت جواب نہيں دے رہے تھے اخر عائشه نے مايوس ہو كر كعب سے كہا :

اے كعب كيا ميں تمہارى ماں نہيں ہوں _ كيا تمہارى گردن پر ميرى ممتا كا حق نہيں ہے _ يا كعب الست امك ولى عليك حق _

اس فقرے نے كعب ميں طوفاں كا جوش كر ديا وہ بہت زيادہ متاثر ہوئے اور ان كى سارى صلابت ہوا ہو گئي پھر وہ عائشه سے مثبت گفتگو كرنے لگے اور ميدان جنگ ميں پہنچ گئے _ اگر يہ ہيجان انگيز بات نہ ہوتى اور كعب كو حضرت علىعليه‌السلام سے بغاوت پر نہ ابھارتى تو بصرہ كے سب سے اہم قبائل ازد كى حمآیت سے محروم ہو جاتيں _

جى ہاں _ خانہ نشينى سے ميدان جنگ كا بہت فاصلہ ہے عائشه كى موقعہ شناسى اور ان كے ام المومنين كے عنوان نے اس فاصلہ كو ختم كر ديا اور خانہ نشينى كو جنگ و جدل سے بدل ديا _ ام المومنين كے عنوان سے استفادہ كا تيسرا ثبوت وہ موقعہ ہے كہ جب جنگ جمل ميں لوگ عاشئہ كے اونٹ كے گرد پروانہ وار پھر رہے تھے اور اپنى جان نچھاور كر رہے تھے اور اپنے جعلى اشعار اور رجز ميں ان كے ام المومنين ہونے كا اعلان كرتے ہئے دفاع حريم ام المومنين پر لوگوں كو ابھارتے ہوئے كہہ رہے تھے _

اے قبيلہ ازد والو _ اپنى ماں كا دفاع كرو كيونكہ ان كا دفاع نماز روزے كى طرح واجب ہے ، اور ان بزرگ ماں كے احترام كا تحفظ تم ميں سے ہر ايك پر واجب ہے _

ايك دوسرا چلّا رہا تھا _ اے لوگو _ يہ ہيں تمہارى ماں ان كى حمآیت كرو ان كا دفاع تمہارى دينى ذمہ دارى ہے ان كى نصرت و حمآیت كو پامال كرنا مادرى حق كو ضايع كرنے كے مترادف ہے اور عاق ہو جانا اور حق مادرى كو پامال

____________________

۱۴_ طبرى ج۵ ص ۱۸۴_ ۱۸۳


كرنا بہت بڑا گناہ ہے _

قبيلہ ازد عائشه كے اونٹ كا دفاع كر رہا تھا اور اس كى مينگنى كو اٹھا كر سونگتا تھا اور كہتا تھا _

يہ اماں جان كى اونٹ كى مينگنى عطر سے زيادہ خوشگوار ہے كيا شاندار ہے يہ مينگني_

يہ اقدامات حضرت عائشه كے مخصوص امتيازات ميں شامل ہيں يہاں تك كہ رسول اللہ كے بارے ميں تھى اسى شخص نے ان احساسات كو رقم نہيں كيا ہے _

عائشه دنيا كى عظيم ترين سياست داں

عائشه صرف فصيح و بليغ خطابت ہى كے اعتبار سے سب سے بڑى اور مشہور ترين عالمى خاتون قرار نہيں پاتى ہيں بلكہ اقتدار اور سياسى و فكرى اعتبار س بھى تحير خيز صلاحيتوں كى مالك بھى تھيں _ اپنى اسى سياسى و فكرى توانائي كى وجہ سے انہوں نے اپنے لشكر ميں پيدا اختلاف و تضاد كو برطرف كيا اور اسى صلاحيت كے بل بوتے پر آپ كا اختلاف و عناد جو قتل و غارت گرى پر ختم ہونے والا تھا سے دوستى اور باہمى تعاون ميں بدل ديا _

جى ہاں جس دن لشكر عائشه نے مكے سے كوچ كيا سى دن سے لشكر كے درميان اختلاف نماياں ہو گيا _ مروان كى حيثيت لشكر ميں اہم تھى اور وہ لشكر عائشه كى مشہور شخصيت تھا _ اس نے پھوٹ ڈالنے كى ہم ممكن كو شش كى _ كيونكہ جس طرح وہ حضرت علىعليه‌السلام سے دشمنى ركھتا تھا اسى طرح قتل عثمان ميں شريك ہونے كى وجہ سے طلحہ و زبير سے شديد عداوت ركھتا تھا _

لشكر عائشه مكہ سے عراق كى طرف جا رہا تھا كہ نماز كا وقت اگيا مروان نے موقع غنيمت ديكھ كر ايسى حركتيں شروع كر ديں كہ لشكر والوں كے درميان پھوٹ پڑ جائے _ اسى مقصد سے اس نے طلحہ و زبير سے كہا _ يہ ديكھو نماز كا وقت اگيا _ صف قائم ہو گئي ہے لوگ اقامت كا انتظار كر رہے ہيں _ تم دونوں ميں كون امامت كرے گا تم دونوں ميں اس كى صلاحيت ہے ميں كس كى امامت كا اعلان كروں ؟

خود طلحہ و زبير اس اچانك سوال كا جواب نہيں دے پا رہے تھے ، نہ وہ اپنے دل كا راز ظاہر كرنا چاہتے تھے كہ علانيہ اہنے كو اس عہدے كے لئے پيش كريں _ دونوں نے سكوت اختيار كيا اور مروان كا كوائي جواب نہيں ديا _

ليكن عبد اللہ بن زبير نے كہا :

ميرے والد زبير موجود ہيں _ وہ اس عہدے كى صلاحيت ركھتے ہيں كيونكہ سپہ سالار لشكر ہيں


طلحہ كے فرزند محمد نے بھى كہا نہيں _ يہ عہدہ ميرے والد سے مخصوص ہے _ يہ ان سے زيادہ صلاحيت ركھتے ہيں _

اس طرح مروان نے لشكر ميں اختلاف كا بيج بو ديا _ ان لوگوں ميں اتش اختلاف اتنى بھڑكى ، اس قدر پھيل گئي كہ قريب تھا اس كے اثرات سارے لشكر ميں پھيل جائيں _ اور سارا نقشہ نقش بر اب ہو جائے _

واقعہ كى خبر عائشه كو ہوئي تو انہوں نے مضبوط ارادے كے ساتھ اپنى مخصوص زير كى و مہارے كو بروئے كار لاتے ہوئے اس ہنگامے كو يكسر ختم كرنے كا ارادہ كر ليا _

انہوں نے اس مضمون كا پيغام مروان كو بھيجا

اے مروان يہ كيا كر رہے ہو ؟ كيا ہمارے ھدف سے روكنا چاہتے ہو ؟ ہمارے لشكر ميں اختلاف كيوں پيدا كر رہے ہو _

اگر واقعى تمہارا مقصد نماز پڑھنا ہے تو لو يہ ميرا بھانجہ عبد اللہ موجود ہے اس كى اقتدا كر كے نماز پڑھو اور نفاق سے ڈرو _

عائشه نے اس فقرے سے ايك طرف تو اختلاف ختم كر كے سارے لشكر كو اپنے بھانجے كى اقتدا ميں نماز پڑھوا دى _ خود طلحہ و زبير كو صف اول ميں ركھا اور دوسرى طرف مروان كو انتباہ ديا كہ ميں تمہارى سازشوں سے بے خبر نہيں ہوں _ تمہارى ايك ايك حركت پر نظر ركھ رہى ہوں _ مروان بھى ہر قسم كے اختلاف سے بچنے پر مجبور ہو گيا _ اور ايك فدا كار سپاہى كى طرح سپہ سالار كے سامنے سر تعظيم جھكا ديا _

عائشه نے يہ طريقہ بصرہ ميں اپنا يا _ جس وقت طلحہ و زبير بصرہ پر كاميابى سے قابض ہو گئے _ تو كاميابى كے بعد كے جتن ميں جٹ گئے _ وہاں بھى مسئلہ امامت نماز ميں باہم اختلاف پيدا ہو گيا _ يہ كشمكش طول پكڑتى گئي _ يہاں تك خود عائشه نے مداخلت كى اور اسانى كے ساتھ فوراً رفع دفع كيا _ ان خطر ناك نتائج كا قلع قمع كرنے كے لئے دوسرى بار بھى اپنے بھانجے عبد اللہ بن زبير ہى كو پيشنمازى كے لئے معين كيا _ اور ايك سياسى نكتے كا بھى اضافى كيا كہ


مكمل كاميابى حاصل كرنے كے بعد تمام امو ر انہيں كے اختيار ميںہيں مسلمانوں كى سر پرستى اور خلافت وہى معين كرينگى _

اس نكتے سے يہ بات معلوم ہوتى ہے كہ عائشه صرف يہى نہيں كہ خود كو تنہا امير لشكر سمجھتى تھيں بلكہ تمام مملكت اسلاميہ كى حكومت بھى اپنى ذات سے مخصوص قرار ديتى تھيں _ جسے چاہيں حكومت سے سرفراز كر ديں اور جسے چاہيں معزول كر ديں _

عائشه كے معاشرتى اثرات

عائشه كى ايك امتيازى خصوصيت يہ بھى تھى كہ انہيں معاشرے ميں بے پناہ رسوخ و اختيارحاصل تھا _ اجتماع كے دل ميں ان كا نفوذ تھا اور مسلمانوں كے قلب پر ان كى حكومت تھى لوگ ان كے فرمان پر پورى توجہ ديتے تھے _ دوسروں سے كہيں زيادہ ان كى پيروى كى جاتى تھى _

معاشرے ميں ان كے بھر پور رسوخ كى حالت يہ تھى كہ حكومت وقت بھى ڈرتى تھيں _ اس كے خلاف فتنہ و ھنگامہ كھڑا كر سكتى تھيں _

ان كى اسى بے پناہ صلاحيت نے انہيں ہر بغاوت اور ہر جنگ ميں مدد كى بغاوت و جنگ كو اگے بڑھانے اور كاميابى سے جو كفار كرنے ميں گہرے اثرات ڈالے _ تاريخ ميں اس كے واضح شواہد موجود ہيں _

۱_ امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام اپنے كو خون عثمان سے برى قرار ديتے تھے واضح دلائل كے ساتھ قتل عثمان ميں اپنے كو غير جانبدار ثابت فرماتے تھے _ آپ كے اس سلسلے ميں دقيع بيانات ہيں _

لوگ بھى اس كى پورى اطلاع ركھتے تھے ،ليكن اس كے باوجود آپ كى باتوں كو نہيں مانتے تھے _ ليكن عائشه اپنى باتوں سے حضرت علىعليه‌السلام كو قتل عثمان ميں شريك ہونے كا اعلان كرتى تھيں _ ان كى اس بات كو لوگ جان و دل سے مانتے تھے _ كہتے تھے جى ہاں _ صحيح ہے _ حالانكہ عائشه لوگوں كو مغالطہ ديتى تھيں _ يہ بہت بڑا ثبوت ہے اس بات كا كہ وہ حقائق كو بالكل پلٹ دينے كى صلاحيت ركھتى تھيں _

۲_ عائشه كے فوجى جنگ جمل ميں ان كے اونٹ كے گرد پروانہ وار گھيرا ڈالے ہوئے تھے _ اسى اونٹ كو اپنا


محور جنگ اور اپنى فتح كا قطب قرار دے رہے تھے _ پروانہ وار اس كے گرد چكر لگا كر گہار مچا رہے تھے _

اے مسلمانو اپنى ماں عائشه كى جان و دل سے مدد و نصرت كرو ان كى حفاظت كرو _ يہ اقدام روزہ نماز كى طرح تم پر فرض ہے _ يہ تمہارى دينى و جذباتى ذمہ دارى ہے _ اس معاملے ميں سستى اور ٹال مٹول جرم و گناہ ہے _

عائشه كے لئے يہ جذبات انگيز ماحول اور لوگوں كا جوش احساس اس كا ثبوت ہے كہ وہ اپنے بے پناہ معاشرتى اثرات كو كام ميں لاتى تھيں ورنہ ہر شخص كے لئے ايسى مقبوليت ممكن نہيں ہے _

۳_ معاشرہ اور قومى محاذ پر عائشه كا يہى رسوخ تھا كہ وہ كعب بن سور جيسے اہم قاض كو جس كا بصرہ پر بڑا اثر تھا گھر سے ميدان جنگ ميں كھنچ لائيں _ اس كے ہاتھ ميں اونٹ كى لجام تھما دى اسے اپنى جنگ كا پہلا تبرك بنا ديا _

۴_ جنگ جمل ميں قبيلہ ازد كے لوگ اونٹ كى مينگنى كو عطر كى طرح سونگھتے تھے _ اس كى بد بو كو تمام قسم كى خوشبوو ں سے بہتر سمجھتے تھے _ وہ چلّا رہے تھے _

ہمارى اماں عائشه كے اونٹ كى مينگنى سے كتنى اچھى عطر كى خوشبو پھبك رہى ہے ( بو جمل امنا ريحہ ريح مسك ) حالانكہ اس قسم كا والہانہ پن رسول خدا (ص) كے مركب كے ساتھ بھى نہيں ديكھا گيا _

۵_ تمام جنگوں ميں ايك پرچم ہوتا ہے _ ليكن معمول كے خلاف جنگ جمل ميں كوئي پرچم نہيں تھا _ اس جنگ ميں پرچم وہى اونٹ تھا جس پر عائشه بيٹھى ہوئي تھيں _ وہ لشكر كے اگے اگے چل رہا تھا _ جب تك يہ جاندار پرچم حركت ميں تھا يعنى اپنے اعتدال كا تحفظ كرتے ہوئے كھڑا تھا _ عائشه كے تمام فوجى اپنى شكستوں كو خاطر ميں نہيں لا رہے تھے پہاڑ كى طرح حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كے سامنے كھڑے تھے _ زبير نے جنگ سے كنارہ كشى اختيار كى اس كا بھى فوج عائشه پر كوئي اثر نہيں ہوا _ طلحہ قتل ہوئے عبد اللہ بن زبير زخمى ہو كر گر پڑے ان باتوں كا لشكر عائشه پر كوئي اثر نہيں ہوا _ليكن جيسے ہى عائشه كا اونٹ پئے كيا گيا اور وہ زمين پر گرا لشكر پر زبردست شكست كے اثار مرتب ہو گئے _ تمام لشكر والے ادھر ادھر بھاگ نكلے _

محترم قارئين _

يہ تھى عائشه كى سياسى و معاشرتى حيثيت ، نبوغ فكرى اور حيرتناك استعداد _ ميدان مارنے اور لوگوں كو مغالطہ دينے كى صلاحيت يہ تھى كہ عائشه كى واقعى شخصيت اور روحانى شخصيت كا رخ_ ان كا اخلاق جسے گذشتہ صفحات


ميں پيش كيا گيا _ ليكن واضح رہے كہ عائشه اپنى اس محبر العقول اور عجيب شخصيت كے باوجود جس نے كبھى ہار نہيں مانى ليكن بڑى اسانى سے عبد اللہ بن زبير كے جھانسے ميں اگئيں _ ابن زبير سے انہوں نے كيا دھوكہ كھايا اسے ائندہ صفحات ميں ملاحظہ فرمايئے

قصہ عبد اللہ بن زبير كا

عائشه كى نظر ميں سب سے پيارا

عائشه جس طرح اپنے روحانى اوصاف و خصوصيات ميں اپنے زمانے كى مشھور ترين تھيں ;اپنے گھرانے اور قوام قبيلے سے جس قدر شديد وابستگى ركھتى تھيں وہ بھى تاريخ ميں لا جواب ہے _ اپنے قوم قبيلے اور گھرانے ميں سب سے زيادہ عبد اللہ بن زبير سے اظہار محبت كرتى تھيں جو ان كى بہن اسماء كے بيٹے تھے _ ايك خالہ كے بجائے ايك مہربان ماں كى طرح جو اپنے فرزند سے بہت زيادہ جذباتى لگاو ركھتى ہو _ وہ عبد اللہ كو ٹوٹ كے پيار كرتى تھيں _ اسى حد سے زيادہ محبت كى وجہ سے اپنى كنيت ام عبد اللہ ركھ لى تھى _ لوگوں ميں اسى كنيت سے مشہور بھى تھيں _(۱۵)

ہشام بن عروہ كا بيان ہے كہ : ميں نے نہيں ديكھا كہ جنگ كے موقع پر عبد اللہ سے زيادہ كسى كى سلامتى اور كاميابى كے لئے خدا سے دعا كرتى ہوں _ جنگ ختم ہونے كے بعد جب عبد اللہ كے زندہ بچے جانے كى خبر سنائي گئي تو حد سے زيادہ خوش ہوئي اور سجدئہ شكر بجا لائيں _ جس شخص نے سلامتى كى خوشخبرى دى تھى اسے دس ہزار درھم انعام ديئے

عائشه بيمار ہوئيں _ سبھى بھانجے ان كے ارد گرد عيادت كے لئے موجود تھے _ انہيں ميں عبد اللہ بھى تھے _ عبد اللہ نے خالہ كو بستر بيمارى پر نقاہت كى حالت ميں ديكھا تو بے اختيار ان كے رخسار پر انسو بہانے لگے _ عائشه نے سر اٹھا يا كہ بھانجہ رو رہا ہے تو وہ بھى پھوٹ پھوٹ كر رونے لگيں _ روتے ہوئے كہا كہ :

اے عبد اللہ ميرے لئے يہ بڑا سخت و سنگين مرحلہ ہے كہ ميں تم كو دكھى اور روتا ہوا ديكھ رہى ہوں _ ميرے

__________________

۱۵_ اغانى ج ۹ ص ۱۴۲


لعل_ تم ميرے پيارے اور خاندان ميں سب سے پيارے ہو _ ميرے پيارے _ ميں واضح طور سے كہہ رہى ہوں كہ رسول خدا (ص) ، ماں اور بآپ كے بعد ميں كسى ايسے كو نہيں جانتى جو مجھے تم سے زيادہ محبوب ہو _ تم سے زيادہ ميرے دل ميں كسى نے محبت كى گنجا ئشے پيدا نہيں كى ہے _

اس كے بعد عائشه نے وصيت كى كہ ميرى موت كے بعد مخصوص گھر اور حجرہ عبد اللہ كو ديا جائے گا _(۱۶)

عبد اللہ بن زبير كى بنى ہاشم سے دشمني

عبد اللہ بن زبير پر عائشه كى اتنى شديد مہر و محبت كى بارش تھى جب كہ وہ خاندان رسول كا انتہائي بد ترين دشمن سمجھا جاتا تھا _ وہ اہلبيتعليه‌السلام سے كينہ و عداوت كے ماحول ميں پلا بڑھا اس طرح اس كى رگ رگ ميں اہلبيت سے عناد بھر گيا تھا _

عبد اللہ جوان ہوا اور اس نے ہاتھ پاو ں پھيلائے تو حضرت علىعليه‌السلام سے جو كچھ اسے شديد دشمنى تھى ، اپنے بآپ زبير كو على دشمنى سے بھر ديا _ زبير اپنے فرزند ہى كى وجہ سے اپنے بھائي على كے دشمن ہو گئے جب كہ وہ ان كے خالہ زاد بھائي تھے _ دشمنى اس قدر بڑھ گئي كہ وہ على كے دشمنوں كى صف ميں ہو گئے اور جنگ و جدال پر امادہ ہو گئے _

خود حضرت على نے بھى اس واقعيت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمايا ہے :

زبير ہمارے دوست اور طرفدار تھے يہاں تك كہ وہ ہمارے خاندان كى فرد سمجھے جاتے تھے يہاں تك كہ ان كا منحوس اور نا لائق بيٹا عبد اللہ جوان ہوا پھر تو زبير ہمارے سخت ترين دشمنوں اور مخالفوں ميں سمجھے جانے لگے _(۱۷)

عبد اللہ كى اہلبيت سے دشمنى اتنى تھى كہ چاليس ہفتہ تك متواتر نماز جمعہ كے خطبے ميں رسول خدا (ص) كا تذكرہ اور صلوات سے باز رہے _ جب ان سے صلوات روكنے پر اعتراض كيا گيا تو جواب ديا كہ :

مجھے رسول خدا (ص) كے ذكر اور صلوات سے انكار نہيں ہے ليكن چونكہ وہ لوگ جو اپنے كو خاندان رسول سے سمجھتے ہيں

___________________

۱۶_ تہذيب بن عساكر ج۷ ص ۴۰۰ ، شرح نہج البلاغہ ج۴ ص ۴۸۲

۱۷_ شرح نہج البلاغہ ج۴۴ ص ۳۶۰ ،تہذيب ج۷ ص ۳۶۳ ، استيعاب ، نہج البلاغہ


وہ ذكر رسول سے فخر و مباحات كرتے ہيں _ ان كى ناك رگڑ نا چاہتا ہوں اور ان كا فخر و مباحات كرتے ہيں _ ان كى ناك رگڑ نا چاہتا ہوں اور ان كا فخر و مباحات ختم كرنا چاہتا ہوں _ ميں مسلسل صلوات سے پرہيز كروں گا اور خطبے ميں رسول خدا (ص) كا نام نہيں لوں گا _ اس واقعے كو عمر بن شبہ ، ابن كلبى ، اوقدى اور دوسرے تمام مورخوں نے لكھا ہے _

محمد بن حبيب ، ابو عبيدہ اور معمر بن مثنى عبد اللہ كا جواب يوں نقل كرتے ہيں كہ انہوں نے لوگوں كے اعتراض پر كہا تم لوگوں كے درميان رسول خدا (ص) كے كچھ خاندان والے ہيں _ جو نا اہل ہيں ميں ذكر رسول سے اس لئے پرہيز كر رہا ہوں كہ وہ فخر و مباحات كرتے ہيں ميں ان كى ناك رگڑ نے كے لئے صلوات نہيں پڑھتا خود ابن زبير نے عبد اللہ بن عباس سے كہا كہ :

چاليس سال سے تمہارے خاندان كى عداوت ميرے دل ميں جاگزيں ہے ميں اس دشمنى كو اپنے سينے ميں چھپائے رہا _(۱۸)

يوں تو ابن زبير كے دل ميں عام طور سے بنى ہاشم كى عداوت موجزن تھى ليكن حضرت على سے عداوت سب سے زيادہ تھى _ كبھى كبھى اپنى عداوت كو شنام و حشى گوئي كے ذريعے ظاہر كرتا رہا _(۱۹)

بنى ہاشم اور اہلبيت سے اس كى دشمنى كا نمونہ يہ واقعہ بھى ہے كہ محمد بن حنفيہ عبد اللہ بن عباس _ حسن مثنى بن امام حسن كے علاوہ سترہ افراد بنى ہاشم كو مكہ سے ايك تنگ و تاريك درّے ميں جسے درّہ بنى ہاشم كہا جاتا تھا _ اس ميں قيد كر ديا _ پھر حكم ديا كہ ڈھير سارى لكڑياں درّے كے دہانے پر جمع كرو _ جس دن تك ان لوگوں كو مہلت دى گئي تھى اسى سب كو جلا ديا جاتا _ مختار كو اس واقع كى اطلاع ہوئي تو انہوں نے چار ہزار جنگجوو ں كو تيار كر كے حكم ديا جس قدر سرعت ممكن ہو پہونچكر بنى ہاشم كو ابن زبير كے الاو سے نجات ديں _

اس واقعے كو تمام مورخين نے اسى طرح نقل كيا ہے ليكن ابو الفرج نے ابن زبير كى بنى ہاشم كے افراد سے شديد عداوت كى اس طرح تشريح كى ہے _

عبد اللہ زبير كو بنى ہاشم سے شديد اور گہرائي دشمنى لمبے زمانے سے تھى ان كسى قسم كى تہمت اور برائي سے باز

____________________

۱۸_ مروج الذھب ج۱ ص ۶۳ ، شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۳۵۴

۱۹_ مروج الذھب ، شرح نہج البلاغہ


نہيں اتا تھا _ لوگوں كو ان سے عداوت پر ابھارتا رہتا تھا _ وہ ہميشہ ان لوگوں كے درميان فتنہ و فساد برپا كرنے پر امادہ رہتا تھا _ بر سر منبر كبھى اشارے ميں اور كبھى صاف لفظوں ميں ان كى مذمت كرتا تھا _ بعض موقعوں پر ابن عباس اور دوسرے معززين بنى ہاشم نے اس كا جواب ديكر اس كى ناك بھى رگڑ ى _

ابو الفرج اگے لكھتا ہے كہ :

ابن زبير نے ايك مرتبہ موقعہ پا كر محمد حنفيہ اور ديگر سر كردہ بنى ہاشم كو اسير كر كے زندان عازم ميں قيد كر ديا _ اسى درميان اسے بتايا گيا كہ ابو عبد اللہ جدلى اور دوسرے عقيدتمندوں نے محمد حنفيہ كى گلو خلاصى و مدد كے لئے مكہ كى طرف چل پڑے ہيں _ ابن زبير نے يہ خبر سنتے ہى حكم ديا كہ قيد خانے كے پھاٹك پر لكڑياں جمع كى جائيں اور اگ لگا دى جائے ، اس كا ارادہ تھا كہ كہ محمد حنفيہ كے ساتھ سب كو اگ سے جلا ديا جائے _

ابو عبد اللہ كو بھى اس واقعے كى خبر ہو گئي _ وہ بہت زيادہ تيزى سے چلتے ہوئے ٹھيك اسى وقت پہونچے جب دروازے پر اگ كے شعلے بھڑك رہے تھے ،انہوں نے اپنے ساتھيوں كى مدد سے اگ بجھائي اور محمد حنفيہ كو ازاد كرايا _(۲۰)

جنگ جمل ميں ابن زبير كى شعلہ افروزي

يہ ابن زبير جو دشمنى ميں بنى ہاشم كو اگ سے جلا كر مارنا چاہتا تھا يہى عبد اللہ جس نے اپنے بآپ كو ان كے ماموں بھائي على سے بد ظن كر كے ان كا نظريہ بد لوايا _ خلوص و محبت كو عداوت و دشمنى ميں بدل ديا اسى ابن زبير عائشه كو اپنے قبضے ميں كر ليا تھا _ انہيں پہلے ہى سے حضرت على سے كينہ و عناد تھا _ بھڑكا كر جنگ و خونريزى ہر امادہ كر ديا _ اس طرح مسلمانوں ميں جنگ جمل ہو گئي _ يہ دعوى بلا دليل نہيں ہے _ بلكہ بے شمار تاريخى شواہد موجود ہيں _

ابن عبد البر نقل كرتا ہے كہ : ايك دن عائشه نے كہا : جب بھى عبد اللہ بن عمر كو ديكھنا مجھے خبر كرنا اور اسے ميرے پاس بلانا _ ميں اس سے ايك بات كہنا چاہتى ہوں _

ايك دن انہيں عائشه كے پاس لايا گيا _ عائشه نے كہا :

اے ابو عبد الرحمن _ جس نے ميں نے بصرہ كا ارادہ كيا تھا _ تم نے مجھے اس سفر سے منع كيوں نہيں كيا _

____________________

۲۰_ اغانى ج ۹ ص ۶


انہوں نے عائشه كا جواب ديا _ اے عائشه _ اس دن آپ عبد اللہ بن زبير جيسے لوگوں كے قبضے ميں تھيں _ آپ كے خيال پر ان كا خيال اس طرح مسلط تھا كہ آپ كو ان كے خلاف سوچنے كى اور مخالفت كرنے كى طاقت نہيں تھى _ ان كے مقابلے ميں ميرى بات كا آپ پر كوئي اثر نہ ہو گا آپ ميرے منع كرنے سے ہرگز نہ مانتى _

عائشه نے كہا : جو ہونا تھا ہو گيا _ ليكن سمجھ لو كہ اگر تم منع كرتے تو ميں ہرگز اقدام نہ كرتى _ اپنے گھر اور اپنے شہر سے باہر نہ نكلتى _(۲۱)

امير المومنين نے بھى شروع جنگ جمل ميں عائشه كو يہ خط لكھا تھا اے عائشه كہيں تمہيں بن زبير اور خاندان كى فرد طلحہ سے شديد محبت ايسى راہ پر نہ ڈال دے جس كا نتيجہ عذاب جہنم ہو _

مورخين كا بيان ہے كہ : عائشه جب مقام حوا ب پر پہونچيں اور كتوں كے بھونكنے كى اواز انے لگى تو انہيں رسول خدا (ص) كى بات ياد ائي كہ ايك دن آپ نے اس واقع كو بيان كيا تھا اور ابيان ميں تعريض عائشه كى طرف تھى _ جس پر انہوں نے پكا ارادہ كر ليا كہ لشكر كو نہيں چھوڑ كر اپنے گھر وآپس چلى جائيں _

جب ابن زبير كو اس كى اطلاع ہوئي تو فورا خود كو عائشه كے پاس پہونچكر ان سے كہا اے عائشه جن لوگوں نے اس كو حوا ب كا مقام بتايا ہے انہوں نے غلطى كى ہے كيونكہ ہم حوا ب كو تو پيچھے چھوڑ ائے ہيں _ عائشه كو چونكہ ان سے والہانہ لگاو تھا اس لئے اس سے متاثر ہو كر ابن زبير كى بات مان لى _

جى ہاں _ عائشه اپنى تمام سياست ، فكرى قدرت اور معاملہ فہمى كے اس جگہ كمزورى دكھائي ، عبد اللہ كے سامنے بالكل بے بس ہو گئيں _

ليكن ابن زبير نے اسى پر قناعت نہيں كى _ بلكہ اس ڈر سے كہ كہيں كوئي عائشه پر حقيقت حال منكشف كر كے وآپس نہ كر دے ان سے علحدہ نہيں ہوئے سائے كى طرح ساتھ چلتے رہے يہاں تك كہ بصرہ پہونچكر جنگ برپا كرا دى _

ليكن اگر بن زبير نے عائشه كو دھوكہ نہ ديا ہوتا اور اپنى ديرينہ عداوت ظاہر نہ كى ہوتى تو ہرگز جنگ جمل نہ ہوتى _ اور نہ مسلمانوں كا اس طرح خون بہتا اسى لئے كہا گيا كہ جنگ جمل كى سلسلہ جنبياتى ابن زبير نے كى _

___________________

۲۱_ استيعاب شرح حال ابن زبير ، شرح نہج البلاغہ ج۴ ص ۲۸۱


جى ہاں قارئين كرام پر واضح ہو گيا كہ تاريخى واقعات سے معولم ہوتا ہے كہ جنگ جمل كے اصلى محرك بن زبير ہى تھے _ نہ كہ عبد اللہ بن سبا جس كا ہزار سال سے مورخين نام لے رہے ہيں اور اس افسانہ ابن سبا كو واقعى تاريخى شخصيت سے سمجھے بيٹھے ہيں _ ہم بن سبا كا افسا اگے بيان كرتے ہيں _

افسانہ عبد اللہ بن سبا

يہاں ہم نے جو جنگ جمل كے حالات لكھے ہيں ان كا مدرك اور اعتماد وہ احاديث و روايات تھيں جن پر تمام مورخوں كو اعتماد سے ہم نے اس تجزيہ و تحليل ميں جن كتابوں سے مطالب لئے ہيں ان كے تمام راويوں كو ، علماء رجال نے توثيق كى ہے اور ان كى باتوں كى تائيد و تصديق كى ہے _

ليكن ان معتبر تاريخى روايات اور اصيل سر چشموں كے مقابل ايسى روايات بھى پائي جاتى ہيں جن كا تمام سرا ايك جھوٹے اور جعلى شخص كے ہاتھ ميں ہے _ جى ہاں _ ان جھوٹى روآیتوں كے لئے حديث سازى كے كارخانے سے ايك شخص باہر نكلتا ہے جسے تمام علماء رجال اور تذكرہ نگاروں نے جھوٹا _ زنديق اور بے دين كہا ہے _ ليكن اس كے باوجود قلم كاروں اور مورخوں نے ان جھوٹى روايات كو بعد ميں انے والوں كے لئے اپنى كتابوں ميں درج كيا ہے _

واضح لفظوں ميں كہا جائے كہ ان تمام جعلى روايات كا سلسلہ اور ان جعلى روآیتوں كو گڑھنے والے كا نام سيف بن عمر تميمى كوفى ہے جسے بيان كيا جاتا ہے كہ اس نے لگ بھگ ايك سو ستّر ۱۷۰ھ ميں وفات پائي _

اس نے اپنے دوران زندگى ميں جھوتى روآیتيں اور اپنى طرف سے گرھى ہوئي ڈھير سارى داستانيں كتب تاريخ كے حوالے كر دى ہيں _ انہيں ميں ايك يہ كہ سيف بن عمر نام كا جھوٹا اور حديث ساز راوى اپنے خيالى كا رخانے سے پيدا كيا پھر اسے لباس ھستى پنھا كر واقعيت كا جامہ چڑھا ديا_ اس كا نام اس نے عبد اللہ بن سبا ركھا ہے _

جى ہاں _ عبد اللہ بن سبا كى حيثيت ايك خيالى شخص سے زيادہ نہيں ہے _ خدا وند عالم نے ايسے شخص كو ابھى تك پيدا ہى نہيں كيا _

ان خصوصيات و صفات كا مرد ابھى دنيا ميں ايا ہى نہيں _


اس كى تخليق سيف بن عمر نے كى ہے جس كى فكر بناوٹ اور خيال سازى ميں بڑى مہارت ركھتى تھى _ اس نے يہ حركت اس لئے كى تاكہ ہر قسم كا جھوٹ اور افسانہ اس كے نام سے شائع كر ديا جائے كہ جھوٹ اپنے ہاتھ پاو ں پھيلاتا رہے _ دروغ سازى كا دروازہ كھلا رہے _

سيف بن عمر نے اپنى جعل ساز فكر كے سہارے عبد اللہ بن سبا كو پيدا كيا _ پھر جہاں گنجائشے ديكھى اپنى طرف سے داستان عجيب گڑھ كے اس كے سر تھوپ ديا _ سارى باتيں خيالى عبدا للہ بن سبا كے نام سے مسلمانوں كے درميان مشہور كر ديں _

ايسا ہى اس كا ايك افسانہ بطور خلاصہ يہ ہے كہ سيف بن عمر كا بيان ہے كہ : يمن كے صنعاء سے عبد اللہ بمن سبا نام كا ايك شخص عثمان كے زمانے ميں نمودار ہوا جسے ابن سودا بھى كہا جاتا تھا اس نے اپنے اسلام كا اظہار كيا ليكن حقيقت ميں وہ يہودى تھا يعنى دو اتشہ تھا _ خود وہ شخص انتہائي مكار و حيلہ گر تھا _ اس نے اسلامى معاشرے ميں فتنہ و فساد بر پا كرنے كا ارادہ كيا تاكہ دو پارٹى بنا كر اسلامى طاقت كو توڑ ا جائے _ اتحاد پارہ پارہ كيا جائے اسى مقصد سے اس نے اسلام قبول كيا _ اور مسلمانوں كو دھوكہ ديا _ اس كے بعد اس نے اپنے اس خطر ناك منصوبے پر كام كرنا شروع كيا _

اس نے اہم اسلامى شہروں كا سفر كيا _ مدينہ ، مصر ، شام ، كوفہ ، بصرہ دندناتا پھرا _وہ ان شہروں ميں ايك بشارت دہندہ كى حيثيت سے لوگوں كے سامنے اپنے كو نماياں كرتا رہا _ اس نے مسلمانوں كو خوشخبرى سنائي كہ رسول خدا (ص) رجعت فرمائيں گے _ وہ بہت جلد زندہ ہو كر لوگوں كے درميان تشريف لائيں گے _ اسى ضمن ميں اس نے لوگوں كو يہ بھى تلقين و تبليغ كى كہ رسول كے بلا فصل جانشين اور وصى حضرت علىعليه‌السلام ہيں ، عثمان نے ان كا حق غصب كر ليا ہے _ مكارى كر كے ان كا حق خلافت ہڑپ ليا ہے _ عبد اللہ بن سبا نے بظاہر اپنا ميلان حضرت على كى طرف دكھا كر ان كى طرفدارى كى _ اكثر اصحاب رسول اور مسلمان اس كے فريد ميں اگئے _ اور اس كى باتيں مان ليں _ عمار ياسر ، ابو ذر ، ابو حذيفہ ، محمد بن ابى بكر ، مالك اشتر اور حجر بن عدى جيسے بزرگ ترين اور مشہور اصحاب و تابعين ان دھوكہ كھانے والوں ميں سر فہرست ہيں _ يہ لوگ اس كى پيروى كرنے كے لئے اس كے گرد جمع ہو گئے _ وہ گمنام يہودى اپنى ان باتوں سے بہت


سے اصحاب اور مسلمانوں كو اپنى طرف متوجہ كرنے ميں كامياب ہو گيا _ اور اسلام ميں ايك مضبوط پارٹى حزب سبائي كے نام سے قائم كر لى _ اسى پارٹى كے لوگوں نے مسلمانوں كے خليفہ عثمان كے گھر كا محاصرہ كر كے انہيں قتل كر ديا _

جى ہاں _ سيف بن عمر كے خيال كے مطابق عبد اللہ بن سبا يہودى نے مكارى دكھا كر مسلمانوں كى صيف ميں شامل ہو گيا اور بظاہر اپنے كو حضرت على كا طرفدار مشہور كر كے مشہور اصحاب رسول پر مشتمل ايك سبائي پارٹى بنا كر مسلمانوں كے خليفہ كو قتل كر ديا _

سيف بن عمر نے اپنے اس تخليفى افسانے ميں تاريخى حوادث كو اگے بڑھاتے ہوئے جنگ جمل كى بات چھيڑى _ وہاں اس نے اپنے خلّاق دماغ سے ايك دوسرے عبد اللہ بن سبا كو پيدا كيا جس كا نام قعقاع بن عمر و ركھا ہے _ اور اسے صحابى رسول بھى بتايا ہے _ اس شخص كے ذمے اس نے سفارتى كام لگاتے ہوئے اس كا نام كبوتر صلح ركھا ہے _ يہاں سے پھر اپنا شروع كرتے ہوئے بات اگے بڑھاتا ہے _

جنگ جمل ميں قعقاع بن عمر و صلح و صفائي كى بہت كوشش كى كبھى حضرت على سے ملا اور كبھى عائشه سے ملاقات كى اور كبھى طلحہ و زبير سے ملاقات كر كے انہيں صلح كى دعوت دى _ انہيں جنگ و خونريزى نے ڈرايا _ اخر كار وہ كبوتر صلح قعقاع اپنے مقصد ميں كامياب ہو گيا _ اس كى كوشش نے دونوں لشكر كو صلح پر امادہ كر ليا _ اور دونوں طرف كى چھاو نى ميں سكون پيد ا ہو گيا _ عبد اللہ ابن سبا اور اس كے ماننے والے سبائي اس صلح كے نتيجے سے سخت تشويش ميں مبتلا ہو گئے انہيں اپنے مجوزہ تخريب كارى كا نقشہ خراب ہوتے ديكھ كر بڑى تكليف ہوئي _ انہوں نے رات كى تاريكى ميں ايك جگہ جمع ہو كر مشورہ كيا اور اس صلح كو پارہ پارہ كرنے كے لئے ايك منصوبہ تيار كيا _ خود عبد اللہ ابن سبا جو اس داستان كا ہيرو ہے اس نے نقشہ يوں مرتب كيا كہ اس كى پيروى كرنے والے دو حصوں ميں تقسيم ہو جائيں _ ايك گروہ حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں چلا جائے اور اپنے كو اس كا سپاہى بتائے اور دوسرا گروہ عائشه كے لشكر سے چپك جائے اور عائشه كا طرفدار بتائے اور ايك معين وقت ميں اندھيرى رات كو ايك دوسرے پر حملہ اور ہو جائيں _ يہ شور مچاتے ہوئے كہ ادھر سے حملہ ہو گيا اس طرح ناگہانى طور سے جنگ كى اگ بھڑك اٹھے گى اور جو صلح قعقاع كے ذريعہ سے طے پا گئي ہے جنگ ميں بدل جائيگى _

اس تخريب كا ر گروہ نے عبد اللہ بن سبا كى تجويز كو پسند كيا اور خوشى خوشى اسے مان ليا اور اندھيرى رات ميں


اس كو بڑے اچھے ڈھنگ سے نافذ كر ديا اس طرح دونوں لشكر كے افسران كے ميلان كے خلاف بغير اطلاع كے مسلمان ايك دوسرے كے خلاف بھڑك اٹھے اور اتش جنگ خاموش ہونے كے بعد دوبارہ شعلہ ور ہو گئي اس طرح تخريب كار عبد اللہ بن سبا كى پارٹى نے مسلمانوں كے درميان جنگ جمل كرا دى _

يہ تھى جنگ جمل واقع ہو نے كى داستان جسے سيف ابن عمر نے گڑھى ہے اور جس كى صحت اور واقعيت كى كوئي بنياد نہيں ہے _ كيونكہ اس داستان كے دونوں ہيرو يعنى عبد اللہ بن سبا اور قعقاع ابن عمرو كا اصلاً آج تك كوئي وجود ہى نہيں ہے _ آج نا كل _ يہ كبھى پيدا ہى نہيں ہوئے _ اس صورت حال ميں اس داستان كو افسانہ سے زيادہ كچھ نہيں كہا جا سكتا _ سن ۱۷۰ھ سے پہلے سيف ابن عمر و نے يہ افسانہ گڑھا اور تاريخ لكھنے والوں نے بھى اس افسانہ كو اسى سے حاصل كر كے اپنى كتابوں ميں لكھ مارا اس طرح بتدريج جيسے جيسے زمانہ گذرتا گيا اس كو واقعى تاريخ كى حيثيت سے شہرت حاصل ہو گئي _ بعد ميں اسے معتبر كتابوں ميں بھى جگہ ملتى گئي _ اس طرح قارئين نے اس حادثہ كے مقابل گڑھے ہوئے واقعے كو يہ سوچ كر مان ليا كہ مشہور كتابوں ميں لكھا ہوا ہے اور اب تو انہيں ذرا سا بھى شك نہيں ہوتا اور اس كى واقعيت ميں وہ شك بھى نہيں كرتے چنانچہ زيادہ تر اسلامى مورخين اور مستشرقين نے بھى اس حقيقت سے واقف نہيں ہيں كہ يہ داستان افسانہ سے زيادہ نہيں اور اس افسانے كا تخليق كار جھوٹے سيف ابن عمر كے علاوہ كوئي نہيں _

''واقعہ كا سرا اكيلے سيف كے ہاتھ ميں ہے ''

مذكورہ داستان كا ناقل اور راوى سيف كے علاوہ كوئي نہيں جس شخص نے بھى اپنى كتاب ميں يہ واقعہ لكھا ہے اسى سيف سے روآیت كى ہے _ اخرى سرا سيف ہى تك پہنچتا ہے اس كے علاوہ دوسرے كسى كا نام درميان ميں نہيں ہے كيونكہ طبرى ( م ۳۱۰ھ) اس داستان كو اسى ايك راوى سے حاصل كر كے اپنى كتاب ميں لكھا ہے اور ابن عساكر نے ( م ۵۷۱ھ ) اپنى تاريخ مدينہ و دمشق اور ابن ابى بكر (۷۴۱ھ ) نے بھى اپنى كتاب التمھيد والبيان ميں اور ذہبي( م ۷۴۷ھ) اپنى تاريخ كى كتاب ميں اس افسانہ كو اسى سيف ابن عمر سے حاصل كر كے اپنى كتاب ميں لكھا ہے _

بعد كے تمام تاريخ نگاروں ميں آج تك جس نے بھى يہ داستان لكھى ہے وہ طبرى كے حوالے سے لكھى ہے


اور طبرى نے بھى اسى ايك جھوٹے اور افسانہ ساز راوى سے نقل كيا ہے

اور ہم نے اپنى كتاب عبد اللہ ابن سبا ميں اس حقيقت سے پردہ اٹھايا ہے اور سارى باتوں كو بيان كر كے يہ نشاندہى كى ہے كہ كس طرح بعد كے تاريخ نويسوں نے يہ افسانہ نقل كرنے ميں اكيلے طبرى سے سندنى ہے اور اپنى تحقيق ميں صرف اسى پر بھروسہ كيا ہے يہاں نمونے كے طور پر ماضى كے دو مورخوں كى طرف اشارہ كيا جا رہا ہے _

۱_ گذشتہ تاريخ نگاروں ميں ابن خلدون كا يا يہ بہت بلند ہے وہ اپنى كتاب المبتداء و الخبر ميں قتل عثمان كے بعد جنگ جمل كا واقعہ لكھتے ہوئے اس كى چند باتوں كو نقل كرتا ہے اور دوسرى جلد ميں صفحہ ۴۲۵ ميں وہ كہتا ہے كہ يہ تھى جنگ جمل كى داستان جسے ہم نے تاريخ طبرى سے نقل كيا ہے اور چونكہ ہميں اس كتاب پر وثوق و اطمينان ہے اس لئے جنگ جمل كى تاريخ لكھنے ميں ہم نے اسى ايك كتاب پر اكتفا كى _ وہ اسى كتاب كے صفحہ ۲۴۷ پر كہتا ہے كہ ميں نے ان تمام تاريخى حوادث كو محمد ابن جرير طبرى كى تاريخ كبير سے لكھا ہے اور بطور خلاصہ اپنى كتاب ميں صرف اسى سے نقل كيا ہے كيونكہ كتب تاريخ كے درميان ہم نے اسے دوسرى كتابوں كے مقابل محكم تر پايا ہے اس لئے صرف اسى پر اعتماد و اطمينان كيا ہے ،كيونكہ اس كتاب ميں بزرگ اصحاب رسول پر تنقيد و طعن كم پايا جاتا ہے _

۲_ اور ابن ہم مورخوں ميں آج سعيد افغانى كا نام لے رہے ہيں انہوں نے اپنى كتاب عائشه و سياست كى مختلف مصلوں ميں

اجتماع عثمان و تتابع الحوادث ص ۳۲_ ۳۵

ابن سبا البطل الحنفى المخيف ص ۴۸_ ۵۲

الاشراف على الصلح ص ۱۴۵_ ۱۴۷

المو امرة و الدسيسہ ص ۱۵۵_ ۱۵۸ميں اس جھوٹى داستان عبد اللہ ابن سبا اور اس كے پيرو كاروں كى لكھ مارى ہے پھر اپنى اس كتاب كے مدرك كو صفحہ ۵ پر اس طرح واضح كيا ہے _

ان تاريخى حوادث كے نقل ميں ميں نے تاريخ طبرى پر اعتماد كيا ہے اور تاريخى مطالب كو صرف اسى سے حاصل كيا ہے كيونكہ تاريخ طبرى دوسرى تمام كتابوں كے مقابل حوادث تاريخى كے عہد سے نزديك ہے اور تاريخى تاليف كى حيثيت سے بھى تمام كتب تاريخ پر مقدم ہے ان باتوں كے علاوہ اس كتاب كے مو لف نے دوسرے


مورخين سے زيادہ حفظ و امانت تاريخى ميں عرق ريزى كى ہے بعد كے مو رخين نے بھى نقل تاريخ ميں اسى پر زيادہ اعتماد كيا ہے _ مجھے بھى اس كتاب سے بہت عقيدت ہے اسى لئے ميں نے اس كى عبارتوں كے عين الفاظ بھى نقل كئے ہيں _

پھر سعيد افغانى اپنے صفحہ ۴۷ پر لكھتے ہيں كہ ہم نے زيادہ تر واقعات تاريخ طبرى پر اعتماد كرتے ہوئے نقل كئے ہيں _

قرئين كرام جيسا كہ آپ ملاحظہ كر رہے ہيں كہ طبرى نے اس افسانہ كو اكيلے سيف ابن عمر سے اپنى كتاب پر نقل كيا بعد كے تمام مورخين نے طبرى كى عظمت و جلالت پر بھروسہ كرتے ہوئے اس افسانہ كو بغير غور و فكر كئے اسى سے نقل كر ڈالا اور اپنى كتابوں ميں جگہ ديدى اس طرح ايك جعلى اور جھوٹى داستان ايك واقعى تاريخى حيثيت سے لوگوں كے درميان شائع ہو گئي اور ايك جھوٹا افسانہ ايك نا قابل انكار حقيقت كا روپ ليكر ظاہر ہو گيا _

اب ميں قارئين كى توجہ اس جدول كى طرف موڑنا چاہتا ہوں يہ جدول عبد اللہ ابن سبا كے افسانہ كو نقل كرنے كا سلسلہ اول سے اخر تك كل سے آج تك پورے طور سے واضح كر ديتا ہے _ يہ جدول واضح كرتا ہے كہ اس افسانہ كا ناقل صرف جھوٹے سيف ابن عمر كے علاوہ كوئي نہيں ہے آج اور كل كے تمام مورخين كى طعن صرف اسى پر ٹوٹتى ہے اور سيف ابن عمر كى دروغ بيانى حديث سازى تمام علم رجال كے علماء كے درميان روشن اور مسلم ہے_

پردہ اٹھتا ہے

جنگ جمل كے بعد جو حضرت علىعليه‌السلام كى فتح كى صورت ميں ختم ہوئي تھى عائشه شكستہ بال و پر اور سخت غم وغصہ كے ساتھ اپنے گھر وآپس اگئيں وہ اس صورت ميں گھر وآپس ارہى تھيں كہ شكست بھى كھائي تھى اور اپنے چيچيرے بھائي طلحہ سے ہاتھ دھو بيٹھى تھيں يہ وہى طلحہ تھے جن كے لئے عائشه نے بہت زيادہ اميديں باندھ ركھى تھيں كہ انہيں كرسي خلافت پر بيٹھا ديں اور مسلمانوں كى حكومت ان كے حوالے كر ديں اسى جنگ ميں نہ صرف يہ كہ ان كے چچيرے بھائي طلحہ قتل ہوئے بلكہ ان كے بيٹے محمد ابن طلحہ بھى قتل كئے گئے جو خاندان ميں سب سے قريب تھے اس جنگ ميں اپنى بہن اسماء(۲۲) كے شوہر كو بھى ہاتھ سے ديديا تھا جو جنگ كے سپہ سالار تھے _

____________________

۲۲_ اسماء بنت ابى بكر عا ئشہ كى بڑى بہن تھيں ان كى ماں كا نام قيلہ يا قتيلہ تھا اسماء كو ذات نظاقين بھى كہتے ہيں يعنى دازار بند والى كيونكہ انہوں نے رسول اللہ (ص) كى ہجرت كے دن اپنى كمر كا پٹكہ ادھا پھاڑ كر رسول اللہ (ص) كے سفر كا كھانا باندھا تھا وہ زبير كى زوجہ تھيں جن سے تين بيٹے ہوئے _ عبد اللہ _ عروہ _ منذر _ اس كے بعد زبير نے انہيں طلاق دے دى _ ان كے فرزند عبد اللہ ۷۳ ہجرى ميں قتل كئے گئے حالانكہ اسماء زندہ تھيں _ اسى كے چند روز بعد ۱۰۰ سال كى عمر ميں اسماء وفات پا گئيں _ اسد الغابہ ج۵ ص ۲۶۸


يہ وجہ تھى كہ جنگ ختم ہونے كے بعد ڈھير سارا دكھ درد لئے حيرت و ندامت كے ساتھ كہ ہم نے نصيحتوں پر توجہ كيوں نہ كى خير خواہوں كى باتيں كيون نہ مانيں وہ اپنى گھر وآپس اگئيں _ وہ اس حالت ميں مدينہ وآپس ہوئيں كہ ان كا سينہ حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف كينہ و عناد سے بھرا ہوا تھا _ جيسے ديگچى ميں پانى جوش مارتا ہے _ ليكن اس كے سوا كوئي چارہ نہيں تھا كہ جب تك حضرت علىعليه‌السلام زندہ ہيں اور مسلمانوں كى قيادت كر رہے ہيں اتنى تمام دشمنى كو اپنے سينے ميں چھپائے رہيں اور ايك وقت كت كے لئے اپنے سينے كو خاكستر بنائے رہيں _

اسى وجہ سے جس وقت حضرت علىعليه‌السلام كے موت كى خبر ان كے كان ميں پڑى تو سجدہ شكر بجالائيں اور بہت زيادہ خوش اور مسرت كا مظاہرہ كرتے ہوئے يہ دو شعر پڑھے

فالقت عصا ها و استقر بها النوى

كما قر عيناً بالاياب المسافر

فان يك نائياً فلقد نعاه

غلام ليس فى فيه التراب

على گزرگئے اور ابن ان كى وآپس نہيں ہو گى مجھے ان كى موت سے اپنے دل كو اتنى خوشى ہو رہى ہے جيسے خاندان كا كوئي مسافر اپنا عزيز تر رشتہ دار گھر وآپس انے سے خوشى ہوتى ہے _ ہاں _ على كى موت سے ميرى انكھيں ٹھنڈى ہو گئيں _

عا ئشہ نے يہ اشعار پڑھے اور پوچھا كہ علىعليه‌السلام كا قاتل كون ہے _ ان سے كہا گيا كہ قبيلہ مراد كا ايك شخص _


يہ سن كر عائشه نے يہ اشعار پڑھے _ وہ ( على ) اگر چہ موت كے وقت ہم سے دور تھے ليكن اس جوان كو زندہ باد جس نے ہميں موت كى خوشخبرى سنا كر ہميں خوش كر ديا جس ان شعروں كى خبر ام سلمى كى بيٹى زينب(۲۳) كو ہوئي تو انہوں نے عائشه پر اعتراض كيا اور كہا كہ اے عائشه كيا تم حضرت علىعليه‌السلام جيسے عظيم انسان كے لئے يہ بے ہودہ باتيں بك رہى ہو كيا تم ان كے قتل كى خبر كو مسرت كى خبر سمجھتى ہو _ عائشه نے معذرت كرتے ہوئے كہا ميں ذرا سٹھيا گئي تھى جب بھى ايسى حالت ہو تو ہميں چونكا ديا كرو _(۲۴)

ابو الفرج اصفہانى كے مطابق عائشه نے زينب كا يہ جواب ديكر يہ شعر پڑھے

مازال اهداء القائد بيننا

باسم الصديق و كثرة الالقاب

حتى تركت و كان قولك فيهم

فى كل مجتمع طنين ذباب

ہمارے درميان يہ رسم تھى كہ ہم دوستوں كو القاب اور بہت تعريف كے ساتھ ياد كرتے تھے ان كى مدح ميں قصيدے اور اشعار پڑھتے تھے ليكن وہ زمانہ بيت گيا _ وہ وقت گذر گيا _ اب تو تعريف و توصيف ان لوگوں كى مگس كى اوازيں كر رہ گئي ہے _ جن كا تھوڑا سا بھى اثر باقى نہيں ہے _

عائشه كا مطلب يہ تھا كہ يہ دشمنى عداوت اور كينے جو عائشه سے مختلف اوقات ميں على كے بارے ميں ظاہر

____________________

۲۳_ زينب زوجہ رسول حضرت ام سلمى كى بيٹى تھيں ان كے بآپ كا نام عبد الاسد قريشى تھا چونكہ وہ قبيلہ مخزوم سے تھيں اس لئے مخزومى كہى جاتى ہيں _

۲۴_ طبرى ج۷ ص ۸۸ ، طبقات ج۳ ص ۴۰ ، مقاتل الطالبين ص ۴۲ ، كامل ابن اثير ج۳ ص ۱۵۷


ہوئے ان سے بہت سے راز نہانى ظاہر ہوتے ہيں _

فرزندان علىعليه‌السلام سے عائشه كى عداوت

عائشه كى عداوت صرف حضرت علىعليه‌السلام سے ہى مخصوص نہيں تھى بلكہ اس كى جڑيں بہت عميق اور بہت وسيع تر تھى اس كا دائرہ حضرت علىعليه‌السلام كے پورے خاندان ميں پھيلا ہوا تھا _

مورخين لكھتے ہيں كہ عائشه حضرت علىعليه‌السلام كے فرزند حسنعليه‌السلام و حسينعليه‌السلام سے پردہ كرتى تھيں اور ان سے نامحرموں كا سا برتاو كرتى تھيں حالانكہ ابن عباس ان پر اعتراض كرتے ہوئے كہتے تھے كہ حسنعليه‌السلام و حسينعليه‌السلام كو عائشه سے محرم ہونے كى حيثيت حاصل ہے ابن سعد نے عائشه كے اس سلوك كو نقل كرنے كے بعد كہا ہے كہ ابو حنيفہ اور مالك سے نقل كيا گيا ہے كہ ہر شخص كى زوجہ اپنے فرزندوں كى نسبت سے خاندان كے دوسرے افراد كے مقابل اور اسى طرح اس كى بيٹى كے بيٹوں كى بن بست محرم رہيں گے اور ان ميں سے كسى كو اس عورت سے شادى كى اجازت نہيں اب يہ مسئلہ تمام مسلمانوں كا متفقہ مسئلہ ہے _

اور ہم يہ كہتے ہيں كہ يہ مسئلہ جو تمام مسلمانوں ميں متفقہ ہے _

اور ابن عباس ابو حنفيہ اور مالك بھى اسى كے قابل ہيں يہ ايسى بات نہيں تھى كہ عائشه سے چھپى ہوئي ہو اور اس حكم كو نہ جانتى ہوں _ عائشه كا مقصد تو اس برتاو سے دوسرا ہى تھا وہ چاہتى تھيں كہ اپنے اس سلوك سے حسنينعليه‌السلام كے فرزند رسول ہونے كا انكار كريں اور انہيں فرزند رسول (ص) نہ سمجھا جائے _

عائشه دوسرى جنگ كى تيارى كرتى ہيں

جس دن سے عائشه نے لوگوں كو بھڑ كا كر ايك عظيم انقلاب بر پا كيا اسى دن سے بنى اميہ ميں اور ان ميں سخت نفرت اختلاف تھا كيونكہ بنى اميہ عثمان كا خاندان اور ان كا طرفدار تھا _

ليكن جس دن سے يہ دونوں حضرت علىعليه‌السلام خليفہ ہوئے اور عائشه نے ان كے خلاف قيام كيا اسى دن سے يہ


دونوں قطب مخالف يعنى عائشه اور بنى اميہ تين باہم صلح و صفائي ہو گئي اور دونوں ايك دوسرے كے قريب ہو گئے _

حالانكہ عائشه اور بنى اميہ ايك دوسرے كى ضد تھے اور دشمن بھى تھے ليكن اس معاملے ميں _ جى ہاں _ صرف اسى معاملے ميں دونوں كا مقصد ايك تھا كيونكہ دونوں ہى حضرت علىعليه‌السلام كے سخت مخالف تھے يہ مشترك ھدف اس بات كا سبب بنا كر يہ دونوں مخالف قطب ايك دوسرے كے ساتھ اتحاد كا ہاتھ بڑھا كر ايك ہو جائيں _

بنى اميہ عائشه كے پرچم كے نيچے اگئے اور انہوں نے عداوت كو دوستى اور اتحاد ميں بدل ديا اپنى توانائياں ايك جگہ مركوز كر ديں تاكہ علىعليه‌السلام كو خلافت سے معذول كيا جا سكے _اسى وجہ سے جنگ جمل واقع ہوئي ليكن اس كے اس اميد كے برخلاف علىعليه‌السلام نے اس جنگ ميں فتح پائي اور عائہش كو ان كے گھر وآپس كر ديا _

عائشه نے اگر چہ جنگ ميں اپنى طاقت و توانائي ختم كردى تھى ليكن وہ اپنى فعاليت كو ختم كر كے چين سے نہيں بيٹھ سكتى تھيں وہ اپنى پوشيدہ دشمنى كو اور دكھ رنج كو برداشت كر كے ارام سے خاموش نہيں بيٹھ سكتى تھيں يہى وجہ تھى كہ اس وقت كے سردار معاويہ سے اور تمام بنى اميہ سے ارتباط و تحاد زيادہ سے زيادہ محكم تر كرنے لگيں اور ايك ہماھنگى كا معاہدہ سا ہو گيا كہ دونوں ہى حضرت علىعليه‌السلام كى مخالفت ميں كمر بستہ تھے _

وہ ايك دوسرى جنگ كے كا ماحول تيار كرنے ميں جٹ گئيں _اور نتيجہ ميں حضرت علىعليه‌السلام كے ايك دوسرى جنگ واقع ہوئي جو جنگ جمل سے سخت تر تھى اور اس كے نتائج و اثار اس سے بھى زيادہ خطرناك اور نقصان دہ تھے _

جى ہاں عائشه مخالفت علىعليه‌السلام ختم كرنے پر امادہ نہيں تھيں انہوں نے جنگ جمل كے بعد ايك سرد جنگ چھيڑ دى يہ زبان كى جنگ تھى _ جو جنگ حضرت علىعليه‌السلام كے قتل ہونے كے بعد بھى ختم نہيں ہوئي اور اس كا دائرہ عائشه كى اخرى سانسوں تك پھيلتا رہا _

ہاں _ جب تك عائشه زندہ تھيں حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف حديث سازى كى جنگ تھى اور بڑے افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ اس جنگ كے نقصانات آج تك تاريخ اسلام ميں جارى ہيں اور صديوں بعد بھى اس جنگ كے اثار دامن اسلام سے ختم نہيں ہوئے ہيں _

معاويہ جو ہميشہ حضرت علىعليه‌السلام سے بر سر پيكار رہے اور انہوں نے اس راہ ميں اپنى تمام طاقت و قوت كو رف كر


ڈالا حيلہ و فريب كے تمام راستے اختيار كئے اخر كار جو كچھ ان كے اختيار ميں دولت و توا نائي تھى مخالفت علىعليه‌السلام ميں صرف كر ڈالى _ عائشه اس راہ ميں آپ سے اور بلا معاوجہ معاويہ كى طاقتور معاون بن گئيں جسے آپ اسى كتاب كى تيسرى جلد ميں ملاحظہ فرمائيں گے _

خدا يا _ اس كتاب كو مسلمانوں كے لئے فائدہ بخش قرار دے اور ہمارے لئے ذخيرہ اخرت _

و الحمد للّه رب العالمين و صلى الله على سيد نا محمد و اله الطيبين الطاهرين_


فہرست

مقدمہ مترجم ۴

مقدمہ مولف ۶

بيعت كے بعد ۸

حساس ترين فراز ۸

جب فرمان قتل ، انتقام ميں بدل گيا ۱۲

بيعت توڑ نے والے ۱۷

طلحہ و زبير نے بيعت توڑي ۱۹

لشكر كى تيّاري ۲۵

عراق كى طرف ۲۶

ام سلمہ نے عائشه كو سمجھايا ۲۷

راستے كى باتيں ۲۸

پيش نمازى پر اختلاف ۲۹

انتظامى معاملات كا اختلاف ۲۹

تيسرا اختلاف ۳۰

حوا ب كا واقعہ ۳۱

سرداران لشكر كى وضاحت ۳۲

سردار ان لشكر نے تقريريں كيں ۳۶

مقرروں پر اعتراض ۳۹

جنگ جمل ۴۴


پہلى جنگ شروع ہوئي ۴۴

دوسرى جنگ شروع ہوئي ۴۶

داخلى جنگ شروع ہوگئي ۴۸

جب حقيقت روشن ہوئي ۴۹

طلحہ و زبير اپنے مقصد ميں مشكوك تھے ۵۱

عائشه كے پاس دو خط ۵۳

۱_زيد ابن صوحان كو خط ۵۳

۲_ حفصہ كو خط ۵۴

على كا لشكر مدينے سے چلا ۵۶

لشكر على عليه‌السلام ربذہ ميں ۵۸

لشكر على عليه‌السلام ذى قار ميں ۶۰

ذيقار ميں حضرت على عليه‌السلام كى دوسرى تقرير ۶۳

لشكر على عليه‌السلام زاويہ ميں ۶۵

گورنر بصرہ كو طلحہ و زبير كا خط ۶۸

امير المومنين كا خط اپنے گورنر بصرہ كے نام ۷۰

شعلہ بار تقريريں ۷۳

مرد جشمى نے تقرير كي ۷۳

طلحہ كى تقرير ۷۴

زبير كى تقرير ۷۵

عائشه كى تقرير ۷۵


پہلى جنگ ۷۷

صلح اور صلحنامہ ۸۰

صلحنامہ كا متن ان پانچ دفعات پر مشتمل تھا ۸۱

دوسرى جنگ ۸۲

طلحہ و زبير نے دوسرى بار پيمان شكنى كي ۸۲

دوسرى جنگ شروع ہوئي ۸۳

جنگى قيديوں كى سر گذشت ۸۴

محافظوں كى سر گذشت ۸۵

گورنر بصرہ كى سر گذشت ۸۶

تيسرى جنگ ۸۷

داخلى اختلافات ۸۸

ايك دوسرا اختلاف ۸۹

خطوط و پيغامات ۸۹

طلحہ و زبير كو خط ۹۰

زبير كو پيغام ۹۱

عائشه كو پيغام ۹۳

طلحہ و عائشه كا جواب ۹۴

ہيجان انگيز تقريريں ۹۵

عبداللہ بن زبير كى تقرير ۹۵

امام حسن عليه‌السلام نے جواب ديا ۹۵


حضرت على عليه‌السلام كى اخرى تقرير ۹۷

حضرت على عليه‌السلام نے اپنے جنگى پروگرام كا اعلان فرمايا ۹۸

حضرت على عليه‌السلام نے قرآن كے ذريعہ اتمام حجت فرمايا ۱۰۰

عمار ياسر نے عائشه اور سرداران لشكر سے بات كي ۱۰۲

حضرت على عليه‌السلام نے ا خرى بار اتمام حجت فرمايا ۱۰۴

حضرت على عليه‌السلام كى زبير سے ملاقات ۱۰۸

واقعہ كى تفصيل ۱۱۰

زبير كى سر گذشت ۱۱۳

طلحہ كى سر گذشت ۱۱۶

طلحہ كيسے قتل ہوئے ؟ ۱۱۸

اخرى جنگ شروع ہوئي ۱۲۰

كعب بن سور كون ہے ؟ ۱۲۳

اونٹ كى لجام قريش كے ہاتھ ميں ۱۲۵

اونٹ كى لجام بنى ناجيہ كے ہاتھ ميں ۱۲۶

لجام قبيلہ ازد كے ہاتھوں ۱۲۷

ايك عجيب داستان ۱۲۸

رجز خوانياں ۱۲۹

عبداللہ اور مالك اشتر كى جنگ ۱۳۳

جنگ اپنے شباب پر پہنچ گئي ۱۳۶

دو لشكر كا شعار ۱۳۸


جنگ كا خاتمہ ۱۳۹

عائشه سے كچھ باتيں ۱۴۰

حضرت على نے عائشه سے گفتگو كى ۱۴۱

عمار نے عائشه سے بات كي ۱۴۲

فتح كے بعد معافي ۱۴۳

عام معافي ۱۴۳

اعتراض اور على عليه‌السلام كا جواب ۱۴۴

حضرت على عليه‌السلام نے طلحہ وزبير سے كيوں جنگ كى ؟ ۱۴۹

عائشه ، مدينہ وآپس ہوئيں ۱۵۰

جنگ جمل كے بدترين نتائج ۱۵۶

بعد كے نتائج ۱۵۷

نظرياتى اختلافات كى پيدائشے ۱۵۸

عائشه كى واقعى شخصيت كا تعارف ۱۶۱

عائشه كى دلى قوت ۱۶۲

عائشه ، دنيا كى عظيم ترين سياست داں ۱۶۳

عائشه كى تقريرى صلاحيت ۱۶۶

اپنى حيثيت سے استفادہ ۱۷۱

عائشه دنيا كى عظيم ترين سياست داں ۱۷۳

عائشه كے معاشرتى اثرات ۱۷۵

قصہ عبد اللہ بن زبير كا ۱۷۷


عائشه كى نظر ميں سب سے پيارا ۱۷۷

عبد اللہ بن زبير كى بنى ہاشم سے دشمني ۱۷۸

جنگ جمل ميں ابن زبير كى شعلہ افروزي ۱۸۰

افسانہ عبد اللہ بن سبا ۱۸۲

''واقعہ كا سرا اكيلے سيف كے ہاتھ ميں ہے '' ۱۸۵

پردہ اٹھتا ہے ۱۸۷

فرزندان على عليه‌السلام سے عائشه كى عداوت ۱۹۰

عائشه دوسرى جنگ كى تيارى كرتى ہيں ۱۹۰


تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-عهد امير المومنين (ع) (دوم) جلد ٢

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-عهد امير المومنين (ع)  (دوم)

مؤلف: سيد مرتضى عسكرى
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 198