تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران معاويہ جلد 3

مؤلف: سيد مرتضى عسكرى
متن تاریخ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار دوران معاويہ

مو لف : سيد مرتضى عسكرى

مترجم : سيد كرار حسين رضوى گوپالپوري


گفتار مترجم

اسلامى متن كو جا ننے كے لئے تاريخ اسلام كى شناخت اور مشہوروموثرشخصيتو ں كى شناخت بہت ضرورى ہے يہاں تك كہ جرا ت كے ساتھ يہ دعوى كيا جا سكتا ہے كہ تاريخ اسلام كى گہرائي اوردقّت سے واقفيت حاصل كئے بغيراس كے ائين،حقائق اور واقعات كوسمجھا نہيں جاسكتا ،كيوں كہ ايك طرف تو بزرگ شخصيتوں كى پہچان اور ان كے مثبت اسلامى افكارواعمال خود دينى متن كاايك حصّہ ہيں جسے سنّت كے نام سے جاناجاتا ہے، ظاہر ہے كہ يہ اس كے زبان و مكان ،اداب و رسوم اور اخلاق كو سمجھے بغير اس كى واقفيت ممكن نہيں ہے اور دوسرى طرف منفى شخصيتوں كو پہچاننا بھى صحيح اسلام كو سمجھنے كيلئے ضرورى ہے كيوں كہ اس طرح اسلامى جنگ وجہاد كى نوعيت اور انكے رہبروں كے اقدامات كوسياہ كار افرادہى كے اقدامات سمجھنے سے سمجھا جاسكتا ہے _

اس بنياد پر توجہ كرتے ہوئے ايك قيمتى تاريخ صحيح كى ہميں تلاش كرنى چاہيئے،تاكہ يہ واضح ہو سكے كہ حقائق تاريخى حاصل كرنے كے لئے اپنے دين كى واقفيت كے حصول ميں كس قدر مددگار ہے ،اور كس حد تك ہم طلوع اسلام كے بعدصدياں بيتنے كے باوجودہم صحيح اسلام كو حاصل كر سكتے ہيں اور اس چشمہ صافى سے نزديك ہو سكتے ہيں _

ہم ايندہ صفحات ميں ديكھيں گے كہ اسلام ميں تاريخ و حديث كو كس طرح خواہش پرستى كانشانہ بنايا گيااور جھوٹ و تحريف كس حد تك اسميں جگہ پاگئي ہے،احاديث و تواريخ كى كتابوں پران عياروں نے حكومت اموى كے اشاروں سے ،خاص طور سے معاويہ كے اشارے پر كس حد تك تقويت دى گئي اسلام كى زندگى پر ہر دن ايك تازہ جھوٹ اور بناوٹ كاپلندہ بڑھاديا جاتا تھا دين خدا كا درخشاں سورج اہستہ اہستہ ان تمام جھوٹ اور جعل كے دھند ميں دفن ہو گيا،يہيں ہميں ائمہ اہلبيت كى جانبازى وثبات كوافرين كہنا پڑتا ہے كہ ان بزرگواروں اور پاكباز شيعوں نے سچے اسلام كى حمايت كے لئے اقدام كيااور اپنے خون سے جھاد كى ايك ايسى فضا تيار كى كہ ان جھوٹے اور جعل سازوں كى ہمت پست ہو گئي_

دوسرى طرف جاہليت كے محافظوں ، اموى وعباسى خلفاء كى يہ كوشش جارى رہى ہے كہ معاويہ كے زمانے ميں جو جھوٹ گڑھ دئے گئے ہيں ان كى حفاظت كى جائے اور جہاں تك ہو وسيع بنيادوں پر انكى اشاعت كى جائے


كيونكہ انكے خلافت كى بنياد اسى جھوٹ پراستوار تھى ،حق باطل كى يہ محاذارائي گروہ خدا اور گروہ شياطين كے درميان ہميشہ جارى رہے گى اس سے كوئي زمانہ خالى نہيں رہا ہے_

ہمارے عہد ميں ايك دوررس محقق اپنى شاندار ذہانت سے اس سچ اور جھوٹ كو ايك دوسرے سے الگ كرنے كيلئے عظيم اقدام كيا ہے اور سيكڑوں جھوٹ اور تحريف كوميدان تاريخ اسلام سے الگ كيا ہے علامہ مرتضى عسكرى نے تاريخ وحديث كے متون كو چاليس سال تك اپنى سخت كاوش سے حقائق كى رونمائي كى ہے جو دراسات فى الحديث والتاريخ كے نام سے سلسلہ وار شايع ہو چكى ہے رات و دن كى محنتوں _ دقت نظر اور فكر صحيح كے ذريعہ تاريخ اسلام كے بے شمار مسائل اور واقعات كوجعليات كے اندھيروں سے نكال كر حقائق كے متلاشى حضرات كے حوالہ كيا_

سچى بات تو يہ ہے كہ صحيح تاريخ اسلام اور اسكى عظيم ركاو ٹوں كاسب سے پہلا متن مشہور تاريخ طبرى ہے يہ تاريخ نگاروں كاپيشوا ہے بغير ا س كا مطالعہ كئے اور اس پر تحقيقى نظر ڈالے اسے مستند نہيں قرار ديا جا سكتا اسى طرح صحيح بخارى صحيح مسلم اور ابن اثير وغيرہ پر بھى ہوش مندى كے ساتھ تحقيقى نگاہ ڈالنا ضرورى ہےچنانچہ ازاد اور مشہور مصرى دانشور،محمود ابو ريہ فرماتے ہيں كہ:

جس شخص كو بھى ارزوہے كہ تاريخ اسلام كے حقائق كو اوائل سے بيعت يزيد كے زمانہ تك اچھى طرح سمجھے اس پر لازم ہے كہ وہ دو قيمتى تحقيقى كتابوں كا مطالعہ كر ے ايك تو عبداللہ بن سبا اور دوسرے احاديث ام المومنين عائشه _

* * *

مو لف كتاب علامہ سيد مرتضى عسكرى ايرانى ناد دانشور ہيں انكے اباء و اجداد صديوں تك ساوہ اور سبزوارميں علمى اور تبليغى مرجعيت سے سرفرازتھے اپ كى ولادت سامرہ شہر ميں ہوئي اور علمى گھرانے ميں پرورش پائي ان كے بڑے ا بّاايةاللہ مرزا محمد سامرائي نے انكى تربيت ميں بہت ہاتھ بٹايااپ اس شھر كے بزرگ اور پرہيزگار عالم تھے علامہ عسكرى نے ابتدائي دينى تعليم( اور ثانوى حد تك) سامرہ ميں حاصل كى اس كے بعد اپ نے قم كا سفر كيااور يہاں پانچ سال تك حوزہ علميہ ميں تكميل علم كے مراحل طے كئے اس كے بعد اپ عراق اپنے بزرگ ومقدس اجداد كى پا بوسى كے لئے چلے آئے اپ كے تحصيلات علمى كااخرى دورہ عراق كے مذہبى شہروں ميں ہوااس كے بعد اپ تھوڑى دير بھى ارام و سكون سے نہ بيٹھے اور ان آيا م ميں بھى اپنى زندگى كو علمى تحقيقات اورتبليغى ومعاشرتى فعاليت


ميں صرف كياپندرہ شيعى ادارے قائم كئے ان ميں ثانوى مدارس كالج اسپتال اور امور خير كے صندوق شھر بغداد ميں قائم كئے_

علامہ عسكرى كے علمى كارناموں كى چندخصوصيتيں ہيں ان صفحات ميں ان كے علمى نگارش كاكچھ تذكرہ كيا جاتاہے تاكہ اس كتاب كے سمجھنے ميں معاون ہو _

اپ كى تمام كتابوں كى پہلى خصوصيت يہ ہے كہ تعصب اور جانبدارى سے قطعى پاك ہوتى ہے،چنانچہ ہم اسى كتاب ميں اس حقيقت كامشاہدہ كريں گے اپ نے صرف حق وحقائق كى پاسدارى كے لئے شخصيت كے كمزورپہلوو ں سے بحث كى ہے اور ام المومنين كے امتيازات كى تشريح كے لئے بے شمار صفحات لكھ ڈالے ہيں _

دوسرى خصوصيت و امتياز يہ ہے كہ اپ نے متقدمين كے مصادر و متون كى طرف رجوع كيا ہے ، يہاں تك كہ اپ نے اپنے ابتدائي مباحث ميں پانچويں صدى بعد كى كسى كتاب پر بھروسہ نہيں كيا ہے اور ضمنى حيثيت سے اپ نے كوشش كى ہے كہ انھيں متقدمين كے متون كى طرف متوجہ كيا جائے تاكہ تمام امت كے افراد پورى طرح مان ليں جيسا كہ عصر حاضر كے بعض دانشور حضرات نے كچھ تاريخى كتابوں ميں تشكيك پيدا كى ہے علامہ نے اپنى كتاب عبداللہ بن سبا ميں صرف انھيں كو اپنا ماخذ نہيں بنايا ہے ،ڈاكٹر حفنى داو داستاد دانشكدہ ادبيات مصر نے عراقى رسالہ ميں كتاب عبداللہ بن سبا كے بارے ميں اپنى رائے لكھى ہے كہ اس محقق اور ماہر تاريخ نے اپنے علمى تحقيقات و مباحث ميں بے شمار كتابوں كے حوالے دئے ہيں اور ہر ايك ميدان تاريخ ميں قدم ڈال كر فراموش شدہ حقيقت كو حاصل كيا ہے يہ استاد محقق ہميشہ اس كوشش ميں رہے كہ اپنى تمام كتابوں كے دلائل مخالفين شيعہ سے حاصل كئے جائيں اور انھيں سے اپنا مطلب ثابت كيا جائے اس طرح وہ قريب ترين راستہ اختيار كرتے ہيں تاكہ دشمنان شيعہ كو اپنے مدلل باتوں سے مغلوب كر سكيں _

تيسرى امتيازى صفت جو استاد عسكرى كى تمام كتابوں ميں پائي جاتى ہے كہ وہ حوالے بہت زيادہ ديتے ہيں چنانچہ اسى كتاب كے فصل اول ميں بہت زيادہ مصادر و ما خذموجود ہيں حالانكہ فارسى ميں چاليس صفحہ اور عربى متن ميں بيس صفحہ سے زيادہ نہيں ہيں ،يہ خصوصيت كتاب عبداللہ بن سباكے متن عربى ميں اور اس موجودہ كتاب ميں ہرجگہ ديكھى جاتى ہے يہاں تك كہ كبھى ادھے صفحہ ميں حواشى حوالہ جات بھرے ہوئے ہيں _اور كہيں تو ان سے بھى زيادہ


حوالوں كو لكھ ڈالا ہے _

اخرى اہم ترين خصوصيت ايسى ہے كہ جو مشرق و مغرب كے تمام دانشوروں ميں كم ہى ديكھى جاتى ہے وہ يہ كہ انھوں نے قديم ما خذ ومصادر پر پورے طور سے اعتماد نہيں كيا ہے چاہے وہ طبرى ہوں يا ابن ھشام يا ابن اثير انھوں نے كسى پر بھى پورا بھروسہ نہيں كيا ہے چاہے وہ كتنے ہى مشہور ہوں خواہ دوسروں نے اس پر اعماد بھى كيا ہو ليكن علامہ عسكرى كى تحقيق ميں لائق قبول نہيں ہيں وہ پہلے مرحلے ميں تاريخى روايات كے اسنادپر بحث كر كے اسكى قدر و قيمت تعين كرتے ہيں اس صورت حال ميں وہ راويوں كى حيثيت كا تحقيقى تجزيہ كرتے ہيں اسكے بعد وہ مورد بحث كے متن كا اسطرح تجزيہ كرتے ہيں كہ تمام روايات كى اس طرح تطبيق ہو جائے كہ صحيح و سقم جدا ہو سكيں ؟

اس بات كا تذكرہ ضرورى ہے كہ مغربى محققين عام طور سے يا زيادہ تر اپنى توجہ متن پر مركوز ركھتے ہيں اور انكى كوشش ہوتى ہے كہ حوادث كے متن كاصحت وسقم متعين كيا جائے وہ راويوں پر كم توجہ ديتے ہيں جديدمستشرقين جنھوں نے مغرب اور يورپ سے علم حاصل كيا ہے وہ زيادہ تر انھيں اساتذہ كى ہاں ميں ہاں ملاتے ہيں انكى زيادہ تر تحقيق يورپى انداز فكرسے الگ نہيں ہے اور وہ زيادہ مو لف كتاب پر بھروسہ كرتے ہيں اسلئے زيادہ تر خرافاتى مطلب كو مان ليتے ہيں كہ اسے مشہور دانشور نے نقل كيا ہے اور اسى كو لكھ مارتے ہيں _

ليكن اسلامى محدثين نے ان دونوں روش ميں دقيق ترين راہ كا انتخاب كيا ہے وہ پورے طور سے راويان اخبار كو ديكھتے ہيں اورانكى روايت كا تجزيہ كرتے ہيں اور اس حوالے سے وہ تمام ما خذ پر غور كرتے ہيں ان تمام تحقيقات كے اندازكى روشنى ميں وہ اپنا نقطہ نظر پيش كرتے ہيں علامہ عسكرى كى عمدہ ترين تحقيقات كاانداز يہى ہے ، وہ تاريخ اسلام كے حوادث ومسائل كے سلسلہ ميں جديد نظريات واراء كو اسى بنياد پر پيش كرتے ہيں جن لوگوں نے كتاب عبداللہ بن سبااور دوسرى كتاب( خمسون ومائة صحابى مختلق) (ڈيڑھ سومصنوعى صحابي)كوملاحظہ كيا ہے وہ ہمارے اس نقطہ نظر كى تصديق كرينگے_

كلاسگو يونيورسٹى كے پروفيسرجيمس ربسن نے علامہ كو خط لكھتے ہوئے اسى حقيقت كى طرف اشارہ كيا ہے كہ اپ نے (سيف) راوى كى روايتوں كا جوتجزيہ كيا ہے وہ بہت دلكش ہے وہ اس طرح ، پہلے كہ اپ نے سيف كى روايتوں كا تجزيہ كياپھر انكادوسرى روايتوں سے تقابل كيااور اس دقيق تقابل نے سيف كى روايت كا پول كھول ديا يہ بھى كہ ان روايتوں كى سند سے پتہ چلتا ہے كہ سيف نے غالباً مجہول راويوں سے روايت نقل كى ہيں پھر يہ بھى سوال


اٹھتا ہے كہ اخر دوسرے مو لفين نے ان روايتوں كو اپنى كتابوں ميں جگہ كيوں نہ دى لہذا قارى اس نتيجہ پر پہنچتا ہے كہ سيف نے خود ان راويوں كو گڑھ ليا ہے يہ الزام سيف پر ايك منطقى نتيجہ كے طور پر سيف اور دوسرے راويوں كے تقابل سے حاصل ہوتا ہے ، ميں بہت زيادہ متشكر اور خوش بھى ہوں كہ اس بحث كے مطالعے ميں اپنا وقت صرف كروں اور مطمئن ہوں كہ جو لوگ بھى اس كتاب كو سمجھكر پڑھيں گے وہ اس شاندار بحث كى ستائشے كرينگے_

اب يہ بھى ضرورى ہے كہ علامہ عسكرى كى علمى اور تحقيقاتى كتابوں كابھى تذكرہ كر ديا جائے_

۱_ '' عبداللہ بن سبا و اساطير اخرى ''يہ كتاب نجف، قاھرہ، بيروت، اورتھران، ميں طبع ہوئي اور فارسى ،تركي، اور انگريزى ميں ترجمہ كيا گيا_

۲_''خمسون وما تہ صحابى مختلق ''يہ كتاب بيروت،بغداد،اور پھر كئي باربيروت ميں طبع ہوئي اس ميں ايك سو پچاس اصحاب رسول كابيان ہے جو جھوٹے بھى ہيں اور خيالى ہيں جو اج تك پيدانہيں ہوئے _

۳_''احاديث ام المومنين عائشه ادوارمن حياتھا ''يہ كتاب فارسى ميں تھران ميں ۳جلدوں ميں چھپى اور پاكستان ميں اسكا اردوترجمہ شايع ہوا _

۴_''رواةمختلقون ''اسميں جھوٹے راويوں كا پول كھولاگيا ہے جنہوں نے روايتيں گڑھ كے تاريخ ميں بھردى ہيں يہ كتاب منطقى لحاظ سے خمسون وما ة صحابى مختلق كا نتيجہ ہے _

۵_''من تاريخ الحديث '' يہ بہت ہى اچھى تحقيقى كتاب ہے _

۶_'' ا لسقيفہ ''تاريخ اسلام كے اس عظيم حادثے كا ۳۰۰/صفحات ميں تجزيہ كياگياہے _

۷_''مصطحات اسلاميہ'' اسميں اسلامى اصطلاحات كى تعريف ہے _

۸_'' مع الدكتورالوردى فى كتابہ وعاظ السلاطين '' بادشاہوں كے واعظوں پرعلمى تنقيدڈاكٹرعلى الوردى نے كى ہے ا س پر علامہ نے علمى تنقيد لكھى ہے _

۹_''كيف تعلم الد ين '' دو جلدو ں ميں بچوں كو دينى مسائل سمجھائے گئے ہيں _


۱۰_'' مقدمہ اى بر مرا ةالعقول '' علامہ مجلسى نے اصول كافى كى شرح مرا ة العقول كے نام سے لكھى ہے ،علامہ نے اس پر ايك طولانى مقدمہ لكھا ہے _

۱۱_ ''مقدمہ بر كتاب على و السنة'' گيارہويں صدى كے عظيم دانشور سيد ہاشم بحرانى كى تاليف على و السنة پر مقدمہ لكھا ہے _

۱۲_ ''مقدمہ و تحقيق در كتاب طب الرضا ''

۱۳_ ''مقدمہ بر كتاب الاجازات العلميہ عندالمسلمين '' ڈاكٹرعبداللہ فياض كى كتاب پر مقدمہ ہے _

۱۴_ '' مقدمہ بر كتاب اصل الشيعہ و اصولھا ''علامہ كاشف الغطاء كى كتاب پر تبصرہ كيا ہے _

۱۵_ '' محمد صادق نجمى كى مطالعہ صحيحين پر مقدمہ لكھا ہے '' ان كے علاوہ بھى علامہ عسكرى نے عربى كے علمى رسالوں جيسے رسالة الاسلام المجتمع الاسلامى اورالاضواء اور الايمان اور العرفان ميں بہت سے مقالے لكھے ہيں _

* * *

موجودہ كتاب احاديث ام المومنين عائشه ادوار من حياتہا كى اخرى جلد ہے جو معاويہ كے زمانے سے متعلق ہے اس سے پہلے دو جلديں نقش عائشه در اسلام اور عائشه در دوران على شايع ہو چكى ہيں ،كيونكہ عربى متن عربى زبان كے محققين كے لئے لكھا گيا تھااس لئے مباحث ميں ايجاز وا ختصار تھافارسى ترجمہ كے وقت اس بحث كو پھيلانا ہمارے لئے ناگزير تھا ،ليكن چونكہ پورا ترجمہ علامہ كى نظر سے گزرا ہے اسلئے مترجم كى يہ كوشش موصوف كى نئي كتاب سمجھى جانى چاہيئے مزيد يہ كہ كچھ خاص جگہوں پر علامہ نے چند صفحات كا خود ہى اضافہ كيا ہے اس بنا پر يہ كتاب ترجمہ بھى ہے اور تاليف بھى ہے _

اخر ميں ہم يہ تذكرہ كرنا ضرورى سمجھتے ہيں كہ جن علماء نے اس كتاب كا مطالعہ كر كے اپنى مفيد رائے دى ہے يا اسكے شكوك بر طرف كئے ہيں ہم ان كا شكريہ ادا كر تے ہيں ، نيز اقائے نورالدين عسكرى كا بھى شكريہ ادا كرتے ہيں جنہوں نے ما خذ كى فہرست مرتب كى ان كے علاوہ بھى ان تمام دوستوں كا بھى شكريہ ادا كرتے ہيں جنھوں نے بڑ ى تو جہ سے اغلاط نامہ ميں ميرى مدد كى _

ميں قارئين كرام سے اميدوار ہوں كہ اگر وہ كوئي اشتباہ يالغزش ملاحظہ فرمائيں يا اصلاح كى نظر ڈاليں تو حقير كو اس سے مطلع فرما ديں ،ميں ان كا بہت ممنون ہوں گا _

م ۰ ع ۰ جاوداں


پيش گفتار

معاويہ كا زمانہ زمانہ، اسلام ميں خاص امتياز كا حامل كيونكہ اسميں ہر جانب سے اسلامى احكام واثاركى تحريف كى گئي ہے اموى دور خلافت ميں حديث سازى پرتمام توانائياں صرف كى گئيں اوراور حديث سازى كابہت زيادہ كارخانہ صحابہ وتابعين جيسے نمك خواروں كے سہارے قائم كيا _

اس دوران جتنى زيادہ حديثيں گڑھى گئيں كہ انھوں نے اسلامى اثار كو پورى طرح اپنى گرفت ميں لے ليااور تمام علوم كى كتابوں ميں انھيں بھر دياا س كا عميق اور ديرپا اثراسلام كے فكرى اعتقادى اور عملى مكتب پرہمہ جانبہ پڑا ،يہاں تك كہ جيسے جيسے زمانہ گزرتا گياان مكاتب كى بنياد اسى مصنوعى احاديث پر استوار ہوتى ہوگى _

اس سبب سے ہمارے لئے ناگزير ہے كہ اموى دور خلافت كے ارباب حكومت اور مشاہير كا تحليل وتجزيہ كريں تاكہ ان جعلى احاديث كے سلسلہ ميں ام المومنين عائشه نے جو تعاون كيا ہے انھيں ہم اچھى طرح سمجھ سكيں _

اغاز بحث ميں معاويہ كا حسب و نسب اور ان كے خاندان كے حالات بيان كرينگے ان كے بعد انكى حكومت وخلافت كے مسائل كاتذكرہ كرينگے جو ان سے متعلق ہيں پھر ہم عائشه كامعاويہ سے تعلق اور اس عہد كے تمام اركان حكومت كو متعارف كرائيں گے اخر ميں ہم ام المومنين عائشه كى زندگى كا تجزيہ پيش كرينگے جو اسى عہد معاويہ ميں اختتام كو پہنچى _

يہ تذكرہ ضرورى ہے كہ اس زمانہ كے شرمناك حالات كابيان بھى ناگزير ہے جو معاويہ كے خانوادہ سے وقوع پذير ہوااور جنھيں ماہرين انساب نے بيان كيا ہے ہم انھيں بھى بيان كرينگے كيونكہ معاويہ كى ان روحانى گرہوں كو پہچاننے ميں بہت معاون ہوں گى ،جو خاصان خدااور پاك نفس افراد كى دشمنى پر ابھارتى تھيں _

جى ہاں _معاويہ كى بد نفسى كو اس زمانہ كى حديث سازى ميں بڑادخل ہے ان پر سے پردہ اٹھاكر ہى اسلام كے درخشاں چہرے كو پہچاناجا سكتا ہے ،ا س وجہ سے ہم اس ضرورت كو كراہيت كے ساتھ اختيار كرنے پر مجبور ہوئے

ہيں كہ معاويہ كا خاندان جيسا كہ ہے ان كى نشاندہى كى جائے ،ہم اس علم و تحقيق كى اشاعت پر خاص اللہ كے لئے اور اسى كى توفيق سے اس بحث كو ختم كرينگے _

سيدمرتضى عسكرى


(فصل اول)

معاويہ كى زندگى پر ايك نظر

معاويہ ابوسفيان اور ھند كا بيٹا تھا _اسكى كنيت ابو عبد الرحمن تھي مشہور ترين تاريخى روايات كے مطابق وہ فتح مكہ كے بعد بظاہر اسلام لايا اور ۱۲ھميں جبكہ ابو بكر نے ابو سفيان كے دوسرے بيٹے يزيد كى سركردگى ميں روميوں سے جنگ كرنے كے لئے لشكر بھيجا تو يہ يزيد كا بھائي اورا س كا علمدار تھا _

ابو سفيان كا فرزند يزيد ۱۸ ہجرى ميں فلسطين كے ايك شہر عمواس ميں مرض طاعو ن ميں مر گيااور فوج كى قيادت اپنے بھائي معاويہ كو سونپ دى ،خليفہ عمر نے بھى اس كى تقررى كو منظور كر ليا خلافت عثمان كے زمانہ ميں جو خود بنى اميہ كى فرد اور معاويہ كے چچا زادبھائي تھے اپنى سلطنت كو كافى وسعت دى كيونكہ عثمان نے پورا شا م ان كے حوالے كر ديا تھاجس ميں لبنان،شام،فلسطين اور اردن كا علاقہ بھى اتا تھا _

ا س طرح معاويہ نے ۱۹سال تك اطمينان كے ساتھ شام پر حكومت كى ليكن جب حضرت على بن ابى طالب تخت خلافت پر بيٹھے تو معاويہ نے بغاوت كر دى اور انكا حكم ماننے سے انكار كر ديا ، معاويہ نے انتقام خون عثمان كے بہانے حضرت على (ع) سے ايك بڑى فوج كے ساتھ صفين ميں جنگ كى حضرت على (ع) اسكى سر كوبى كے لئے مہاجرين وانصار كے ساتھ سر زمين صفين پر پہنچ گئے _

دونو ں لشكروالے ذى الحجہ ۳۶ہجرى ميں امنے سامنے ہوئے ايك سو دس دن تك دونوں ميں جنگ ہوتى رہى ،اخر ميں جبكہ امام كو حتمى كاميابى ملنے والى تھى عمروعاص كى عيارى سے قران نيزوں پر بلند كئے گئے اور لشكر شام نے امام كے فوجيوں كو حكمت قران كى دعوت دى اس عيارى سے سادہ لوح مسلمان دھوكہ كھا گئے اور انھوں نے امام كو مجبور كيا كہ جنگ سے ہاتھ روك ليں _

ا س طرح جنگ ختم ہو گئي اسكے بعد امام كى رائے كے خلاف كوفيوں نے اپنى جانب سے ابو موسى كو حكم منتخب كيا معاويہ نے بھى اپنى جانب سے عمروعاص كو نامزد كيا ،يہ دونوں حكم ماہ رمضان ۳۸ہجرى ميں دومتہ الجندل كے مقام پر اپنا فيصلہ سنانے كے لئے جمع ہوئے ،عمر وعاص نے ابو موسى كو فريب ديتے ہوئے يہ پيش كش كى كہ ہم دونوں ادمى على اور معاويہ كو


خلافت سے معزول كر ديں تاكہ تمام مسلمان جسے بھى چاہيں شورى كے ذريعہ خليفہ منتخب كر ليں _

ابو موسى نے يہ بات مان لى ،عمر و عاص نے پہلے انھيں كو ممبر پر بھيجاانھوں نے ممبر پر جاكر اميرالمومنين حضرت على (ع) اور معاويہ كو خلافت سے معزول كر ديا ،ان كے بعد عمر و عاص ممبر پر پہنچااور معاہدے كے خلاف حضرت على (ع) كو خلافت سے معزول كر كے اس نے معاويہ كے خليفہ ہونے كا اعلان كر ديا ،ابو موسى كو عمر وعاص كے اس فعل پر بہت غصّہ آيا وہ وہيں عمر وعاص كو گالياں دينے لگاعيّار عمر وعاص نے تركى بہ تر كى ا س كو جواب ديا ا س طرح پہلى بار خليفہ كى حيثيت سے معاويہ كا نام ليا گيا _

۴۰ہجرى ماہ رمضان ميں عبدالرحمان ابن ملجم كى تلوار امام كے فرق مبارك پر پڑى ،امام تين روز كے بعد شہيد ہو گئے شاميوں كے علاوہ تمام مہاجرين و انصار اور مسلمانون نے امام حسن كى بيعت كر لى ،ليكن اخر كار معاويہ كے سامنے لوگوں نے امام حسن كاساتھ نہيں ديا ،ايسى سستى دكھائي كہ معاويہ كى تمام منحوس ارزوئيں پورى ہو گئيں _

معاو يہ نے اس سال كا نام عام الجماعت ركھااور وہ تخت خلافت پر براجمان ہو گيا اس طرح وہ انيس سال تين مہينے اور كچھ دن تمام مسلمانوں پر حكمرانى كرتا رہا وہ ماہ رجب ۶۰ ہجرى ميں مر گيا اور دمشق ميں دفن كيا گيا_

ابو سفيان اور ھند

معاويہ كا باپ ابو سفيان صخرابن حرب ابن اميہ ابن عبدشمس تھا ،اسكى ماں كا نام ھند تھاجوعتبہ ابن ربيعہ ابن عبد شمس كى بيٹى تھى ،معاويہ كى ماں ھند نے پہلے توفاكہ ابن مغيرہ سے شادى كى جو قبيلہ بنى مخزوم سے تھايہ شخص سر زمين غميصاء(۱) ميں مارا گيا _

فاكہ كے مرنے كے بعد ھند نے مغيرہ كے دوسرے فرزند حفص سے شادى كى كچھ دن كے بعد وہ بھى مر گيا ،ھند نے اخرى با ر ابو سفيان سے شادى كى(۲) ، بعض تاريخوں ميں اس شادى كو بہت تفصيل سے بيان كيا گيا ہے ،وہ يہ كہ

____________________

۱_ غميصامكہ كے پاس ايك جگہ ہے اس زمانے ميں بنى جذيمہ كا قبيلہ وہاں ساكن تھا يہ قبيلہ اور فاكہ كے علاوہ كچھ دوسرے قريش كے لوگ جاہليت كے زمانہ ميں قتل كئے گئے ، اسلام كے زمانے ميں خالد بن وليد كو وہاں فتح مكہ كے بعد بھيجا گياكہ وہاں قبائل عرب كو اسلام كى دعوت ديں اس قبيلے نے اپنے خون كا معاوضہ طلب كيا رسول اكرم (ص) نے ان كے اس مطالبے پر سخت برھمى كا مظاہرہ كيا اور مقتولوں كا خونبہا بيت المال سے ادا كر ديا

۲_ المحبر ص ۴۳۷ ،طبقات ابن سعد ج ۸ص۲۳۵


ھند كا پہلا شوہر فاكہ اپنى زوجہ پر زنا كا الزام لگاتا تھا اس لئے اسكو علاحدہ كر ديا كيونكہ وہ اس بدنامى كو اپنے سر نہيں ڈھونا چاہتاتھا(۳) _

دوسرے مورخين كا خيال ہے كہ بنيادى طور سے ھند زناكارى كے سلسلے ميں مكہ ميں ہر جگہ شہرت ركھتى تھى ،ھند كى ابو سفيان سے شادى كے واقعات ا س طرح بيان كئے گئے ہيں كہ مسافر بن عمر و،يہ ھند پر برى طرح فريفتہ تھا يہ شخص بنى اميہ كى فرد تھاا س كے ھند سے روابط عام طور سے لو گوں كے زباں زد تھے ،ھند اس سے حاملہ ہوئي جس وقت ا س كا حمل ظاہر ہونے كے قريب تھا ،مسافر بن عمر و مكہ سے بھا گ كر حيرہ كے بادشاہ نعمان ابن منذركے پاس چلا گيا تاكہ اس سے مدد مل سكے ا س كى غيبت ميں ابوسفيان سے ھند نے شادى كر لى(۴)

ہشام ابن محمد كلبى مشہور ماہر انساب اپنى كتاب مثالب ميں اور مشہور اديب اصمعى يہ دونوں كہتے ہيں كہ معاويہ جاہليت كے زمانہ ميں چارافراد كى طرف منسوب تھاجن كے نام اس طرح ہيں

۱_بنى مخزوم كا عمارہ ابن وليد

۲_ بنى اميہ كا مسافر ابن عمر و

۳_بنى اميہ كا ابو سفيان

۴_ بنى ہاشم كے عباس ابن عبد المطلب(۵)

ان چاروں ميں بہت دوستى تھى اور ان چاروں كا ھند سے ناجائز تعلق ہونا مشہور تھا _

۱_عمارہ بن وليد قريش كا بہت خوبصورت جوان تھا يہ وہى شخص ہے جو عمر و عاص كے ساتھ مسلمانوں كو حبشہ سے واپس لانے كےلئے نجاشى بادشاہ كے پاس گيا تھا اسنے عمر و عاص كى زوجہ سے تعلقات پيدا كر لئے تھے ا س لئے عمر و عاص كو انتقام لينے كى فكر ہوئي عمر و عاص نے كچھ ثبوت فراہم كر كے نجاشى بادشاہ سے اسكى چغلى كى بادشاہ حبشہ بہت برہم ہوااور ا س نے جادو گروں كو حكم ديا كہ اس كوپا گل بنا ديں اور يہ صحراميں مارا مارا پھرے اور ا س طرح وہ وہاں درندوں كا شكار ہو جائے(۶)

____________________

۳_ العقد الفريد ج۶ص۸۷ ،الاغانى ج ۹ص۵۳

۴_ الا غانى ج ۹ ص ۵۳_ ۵۰

۵_ تذكرة الخواص سبط ابن جوزى ص ۱۱۶

۶_ الاغانى ج ۹ ص ۵۸_ ۵۵


۲_ مسافر ابن عمر و مشہور ماہرا نساب كلبى ا س كے بارے ميں لكھتا ہے كہ جاہليت كے زمانے ميں سبھى كا يہ خيال تھا كہ معاويہ اسى كا فرزند ہے كيونكہ ان چاروں اشناو ں ميں سب سے زيادہ اسى كو تعلق تھا ،جب ھند حاملہ ہوئي تو مسافر بدنامى كے خوف سے حيرہ كے بادشاہ كے پاس بھاگ گيا اور وہيں رہنے لگا كچھ دن كے بعد ابو سفيان حيرہ گيا تو وہاں اسكے ديرينہ دوست مسافر سے ملاقات ہوئي اس زمانہ ميں مسافر اپنى معشوقہ كے ہجر ميں سخت بيمار تھاابو سفيان نے گفتگو كے درميان مكہ والوں كے حا لات بيان كئے اور اخر ميں كہا كہ ميں نے تمہارے وہاں سے فرار كرنے كے بعد ھند سے شادى كر لى ہے _ ابو سفيان كى اس گفتگو نے مسافر كے سينے پر ايك تير سا لگايا ا س كے بعد وہ بہت زيادہ بيمار ہو گيا ہر روز ضعف و نقاہت بڑھتا گيا يہاں تك كہ لاعلاج ہو گيا اور اسكى زندگى كا خاتمہ ہو گيا(۷) بعض مورخين كا خيا ل ہے كہ مسافر جاہليت كے زمانے ميں اسكا عاشق زار سمجھا جاتا تھا _(۸)

مشہور دانشور اور مفسّرزمخشرى اپنى كتاب ربيع الابرارميں ان چاروں افراد كے بارے ميں جن سے معاويہ منسوب تھا يوں لكھتے ہيں كہ مسافر ابن عمر وعمارہ ابن وليد عباس ابن عبدالمطلب اور اخر ميں عمارہ كا ازاد كردہ غلام صباح كى طرف منسوب ہے _(۹)

زمخشرى كا بيان ہے كہ: ابو سفيان پستہ قد اور بد شكل تھا صباح ابو سفيان كا ملازم تھاجو شاداب جوانى ركھتا تھا ،ھند نے ا س جوان كو خريدارى كى نيت سے ديكھا نتيجہ ميں وہ اپنے كو سنبھال نہ سكى اور اپنى طرف دعوت دى اس طرح دونو ں ميں پوشيدہ طريقہ سے تعلقات قائم ہوگئے ،اور يہ ناجائز تعلق اتنى شہرت پا گئے كہ بعض مورخين كا خيال ہے كہ معاويہ كے علاوہ ابو سفيان كا دوسرا بيٹا عتبہ بھى اسى صباح سے ہے ،بعض مورخين يہ بھى كہتے ہيں كہ ھند اپنے گھر ميں اس بچّے كى پيدائشے سے خوش نہيں تھى ، اسلئے صحرا ميں بھاگ گئي اور اسنے عتبہ كو وہيں اكيلے جنم ديا _ عظيم شاعر اسلام حسان ابن ثابت نے فتح مكہ سے پہلے مسلمانوں اور مشركوں كے درميان جب شعرى نوك جھوك ہو رہى تھى تو اس حادثہ كو اپنے دو شعروں ميں ھند كى اس فحش حركت كا ذكر كيا ہے _

اخر يہ بچہ كس كا ہے جو بطحا كے ريگزاروں ميں پھينك ديا ہے ،وہ بچہ جو خاك پر پڑ ا ہوا ہے جھولے سے بہت دور ہے اسكو ايك خوب صورت جوان عو رت نے جنم ديا ہے جو بنى اميہ كے خاندان سے ہے ،ھشام ابن محمد كلبى نے اپنى كتاب مثالب ميں يوں لكھا ہے _ ھندہ ان عورتوں ميں تھى جو سياہ فام مردوں پر بہت فريفتہ تھى جب بھى اسكى كو كھ سے كوئي سياہ فام بچہ پيدا ہوتاتھاوہ اسكو قتل كر ڈالتى تھى پھر وہ اگے كہتے ہيں _

____________________

۷_ تذكرة الخواص ص ۱۱۶

۸_ الاغانى ج۹ ص ۵۳

۹_ شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۳۳۶


ايك دن يزيد ابن معاويہ اور اسحاق ابن طابہ كے در ميان معاويہ كے سامنے نوك جھوك ہو گئي اس نے كنايةً كہا كہ يہ تمہارے حق ميں مفيد ہے كہ حرب كے تمام بيٹے بہشت ميں داخل ہو جائيں يعنى حقيقت ميں تم اس خاندان كے ناجائز فرزند ہو اور اپنے باپ سے نہيں ہو اسكا اشارہ تھاكہ اسحاق كى ماں بنى اميہ كے افراد سے ناجائز تعلقات ركھتى تھي_ اسحاق نے بھى كنايةً جواب ديا اے يزيد يہ تمھارے حق ميں مفيد ہوگا كہ بنى عباس كے تمام افراد بہشت ميں جائيں يزيد نے اسحاق كى طنزيہ گفتگو كو نہيں سمجھا ليكن اسكے باپ معاويہ نے مطلب سمجھ ليا اسلئے جب اسحاق مجلس سے اٹھكر چلا گياتو معاويہ نے يزيد سے كہا كيوں دوسروں پر دشنام كى زبان كھولتے ہوحالانكہ تم دوسروں كى باتوں كو سمجھتے نہيں ہو كہ وہ كيا كہہ رہے ہيں ،يزيد نے كہا ميرا مقصد تھا كہ اسحاق كے عيوب كو ظاہر كيا جا ئے ،معاويہ نے جوا ب ديا كہ اسنے بھى تم پر اسى لحاظ سے چوٹ كى تھى ،يزيد نے پوچھا وہ كيسے معاويہ نے جواب ديا ،كيا تم نہيں جانتے كہ قريش كے اكثر افراد جاہليت كے زمانہ ميں مجھے ابو سفيان كا نہيں عباس كا بيٹا جانتے تھے ،اس وقت يزيد كے سمجھ ميں آيا كہ مجھكو كتنا برا بھلا كہا گيا ہے _

جى ہاں _ھند كى اوارگى اتنى قطعى اور مسلّم تھى كہ پيغمبر اسلام (ص) نے فتح مكہ كے دن اس بات كى طرف اشارہ كيا تھا جس وقت ھند بيعت كے لئے انحضرت(ص) كے سامنے حاضر ہوئي پيغمبر اسلام(ص) نے ھند كے پچھلے خونخوار كرتوتوں كى وجہ سے اسكے قتل كا اعلان كر ديا تھا ليكن اسے بخش ديا اور اسكى بيعت قبول كر لى ،اپ نے اسكے تمام كالے كر توتوں كو نظر انداز فرمايا،(۱۰)

اسنے انحضرت (ص) كى خدمت ميں عرض كيا كہ ميں كس بات پر اپ كى بيعت كروں _

رسول (ص) نے فرمايا: تو زنا نہ كر

ھند نے كہا: كيا ازاد عورتيں بھى زنا كرتى ہيں ا س طرح اسنے اپنے كو پاك دامن ظاہر كيا _

پيغمبر اسلام (ص) ھند كو اچھى طرح پہچانتے تھے ليكن اپ نے كچھ نہ كہا صرف تبسم فرماتے ہوئے عمر كى طرف ديكھا(۱۱)

____________________

۱۰-ايك عرب شاعر نے كہا ہے ملكنافكان العفومنا سجيّةً ملكتم فسال منا بالدم ابطح ترجمہ : ہم فاتح ہوئے تو ہم نے عام معافى كا رويہ اپنا ياكيونكہ يہى ہمارى اخلاقى عادت ہے ليكن جب تم كامياب ہوئے تو تم نے ہمارے خون سے صحراو ں كو بھر ديا

۱۱-معاويہ كے نسب كے بارے ميں بيان كيا جاتا ہے كہ صرف يہ چيز اسى سے مخصوص نہيں ہے بلكہ عمرو عاص كى ماں نابغہ اور زياد كى ماں سميہ اور سعد ابن ابى وقاص اور مروان ابن حكم جيسے اكثر بزرگان جاہليت كے بارے ميں علماء انساب كى يہى رائے ہے اصل ميں اس وقت شھر مكہ جنسى راہ روى ميں ايسا نہيں تھا جيسا كہ اجكل فرانس كا پيرس شہر ہے _رسول اكرم (ص) ايسے فاسد معاشرے كى اصلاح كيلئے مبعوث كئے گئے تھے _ تذكرة الخواص ص ۲۰۳ چاپ نجف ۱۹۶۴


اموى خاندان جاہليت كے زمانے ميں

جيسا كہ بيان كياگيا معاويہ كى ماں ھند اموى خاندان ميں سمجھى جاتى ہے اسكے باپ كانام عتبہ اور چچا كانام شيبہ مشہور تھا يہ دونوں قريش كے بزرگ ،جاہلى زمانہ ميں معززسمجھے جاتے تھے عتبہ اور شيبہ نے ظہور اسلام كے بعد اسلام سے اعلانيہ اپنى دشمنى ظاہر كى اور يہ دونوں جنگ بدر ميں تمام قريش كے ساتھ موجود تھے يہى دونوں جنگ بدر ميں سب سے پہلے ميدان ميں اكر اپنا مقابل طلب كر رہے تھے ا س وقت مجاہدين اسلام كى طرف سے اميرالمومنين على (ع) اور حمزہ نكلے اور تھوڑى سى جھڑپ كے بعد يہ دونوں ڈھير ہو گئے ،(۱۲) معاويہ كا باپ ابو سفيان كوتاہ قد اور بہت عيار تھا چونكہ اسكے ايك بيٹے كا نام حنظلہ تھا اسلئے اسكى كنيّت ابو حنظلہ پڑ گئي يہ حنظلہ وہى ہے جو بدر كے دن حضرت اميرالمومنين(ع) كے ہاتھوں قتل ہوا تھا(۱۳)

ابو سفيان ،جاہلى زمانہ ميں بزرگ قريش سمجھاجا تاتھا وہ جنگ بدر كے بعد تمام مكہ اورقبيلہ قريش كاسردارمانا جانے لگاكيونكہ جنگ بدر ميں تمام سردا ر ان قريش قتل ہو گئے تھے اسكے بعد تو اس نے تمام جنگوں ميں قريش كى قيادت كى ،يہودى قبيلوں كو اسلام كے خلاف بھڑ كا كر محاذ پر كھڑا كيا جنگ احد اور جنگ خندق اسى كى سردارى ميں ہوئي _

عظيم مورخ محمد ابن حبيب ،ابو سفيان كو اٹھ ضنادقئہ قريش كى ايك فرد سمجھتے ہيں ،(۱۴) محمد ابن ھشام كا خيال ہے كہ ابو سفيان زمانہ پيغمبر(ص) اسلام ميں تما م دشمنان اسلام كاسردارتھااس نے اسلام كے خلاف محاذ ارائي ميں سخت كوشش كى يہ وہى شخص ہے كہ جو ابو طالب سے پيغمبر اسلام (ص) كى حمايت ختم كرنے ميں كوشاں تھا ،(۱۵) يہى وہ ہے كہ جو قبيلہ قريش كى شورى ميں جو دارالندوہ ميں منعقد ہوئي تھى بہت جوش كے ساتھ حاضر تھا كہ پيغمبر(ص) اسلام كو قتل كيا جاسكے اس نے مجلس برخاست ہونے كے بعد بہت جوشيلے انداز ميں رسول(ص) اسلام كے قتل پر لوگوں كو ابھارا _(۱۶)

____________________

۱۲_ انساب الاشراف ج۱ ص ۲۹۷

۱۳_ انساب الاشراف ج۱ ص ۲۹۷

۱۴_ المحبر ص ۱۶۱_ چاپ ھند

۱۵_ سيرہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۱۷

۱۶_سيرہ ابن ہشام ج۲ ص ۹۵ _ ۹۲ ، طبرى ج۲ ص ۳۷۰ چاپ دار المعارف مصر


رفتہ رفتہ قريش كے سرداروں ابوجہل، ابو سفيان، اور ابو لہب جيسوں نے مكہ كے مسلمانوں پرا س قدر سختياں كيں كہ ان پر زندگى وبال ہو گئي اور پيغمبر(ص) اسلام نے انھيں مدينہ ہجرت كرنے كا حكم دے ديا مسلمانوں نے اہستہ اہستہ اپنا گھر بار چھوڑ ديا اور اپنے مال ودولت عزيز واقارب كو چھوڑ كر حكم خدا كے مطابق ان ظالموں كے ہاتھ سے چھٹكارا حاصل كيا اور مدينہ پہنچ گئے حالت يہ ہو گئي كہ مكہ ميں چند مسلمانوں اور پيغمبر اسلام(ص) كے علاوہ كوئي نہ رہ گيا ان ا خرى سالوں ميں پيغمبر اسلام (ص) پر مكہ كى زمين اتنى تنگ ہو گئي تھى اور ايسى گھٹن تھى كہ پيغمبر(ص) اسلام نے مكہ ميں عمومى تبليغ چھوڑ دى تھى اور اپ صرف حج كے زمانے ہى ميں عرب قبيلوں كو توحيد كى دعوت ديتے تھے ليكن چونكہ ان آيا م ميں جنگ وخونريزى ممنوع تھى اس لئے سرداران قريش اپ كو اذيت نہيں پہنچا سكتے تھے ، اس وقت انكى يہى كوشش ہوتى تھى كہ اپ كى تبليغات كو ناكارہ كر ديں اسى وجہ سے ابو لہب اپ كے پيچھے پيچھے چلتا تھا اور لوگوں كو اپ سے گفتگو كرنے سے روكتا تھا اپ كو برابھلا كہتا تھا ، الزام لگاتا تھا تاكہ كسى طرح اپ كو تبليغ سے باز ركھ سكے اخر خدا نے اپ كو وحى كے ذريعہ حكم ديا كہ ہجرت فرمائيں اور اس طرح اپ كو قريش كے چنگل سے رہائي ملى ،اپ نے حضرت اميرالمومنين (ع) كو اپنے بستر پر سلا كر مكہ سے ہجرت فرمائي اس شہر ميں تھوڑے سے قيدى مسلمانوں كے سوا كوئي نہيں رہ گيا تھا اس زمانہ ميں ابو سفيان نے مسلمانوں كے خالى گھروں كو غصب كر كے بيچ ڈالا _

ابو سفيان جنگ بدر ميں

جس دن سے مسلمان مدينہ ميں آئے انھيں قريشى ياپيوں كے چنگل سے نجات ملى ليكن يہاں موت سے زيادہ خوفناك فقر كا سامنا كرنا پڑا ، كيونكہ مہاجرين اپنى تمام دولت ،گھر اور اپنے خاندان كو چھوڑ كر اس شہر اسلام ميں پناہ لينے آئے تھے حالانكہ مدينہ كے انصار نے اپنے امكان بھر ان پاك نفسوں كى ضيافت كى ليكن چونكہ اس زمانہ تك مسلمانوں كى مالى حالت اتنى اچھى نہيں تھى كہ اسائشے كے ساتھ زندگى بسر كر سكيں خاص طور سے كچھ لوگ تو ايسے تھے كہ ا ن كے پاس نہ تو جگہ تھى نہ مكان تھا نہ انكا كوئي سہارا تھا ليكن ان تمام ركاوٹوں كے باوجود اسلام قبو ل كرنے والوں كى تعدادبڑھتى ہى گئي وہ اتنے طاقت ور ہو گئے كہ انہوں نے جزيرة العرب ميں اپنى شناخت بنا لى اور اپنى طاقت كا مظاہرہ كرنے لگے_


ہجرت كے دوسرے سال ايسا حادثہ پيش آيا كہ اسلام كى سب سے بڑى پہلى جنگ پيش ائي قريش سالہاسال سے اپنے تجارتى مال كو دوسرے شھر ميں لے جاتے تھے وہ سال ميں ايك بار يمن اور ايك بار شام كى طرف جاتے تھے ہجرت كے دوسرے سال اپنى رسم كے مطابق ايك بڑا قافلہ معاويہ كے باپ ابو سفيان كى سر كر دگى ميں شام گيا ہوا تھا جب وہ تجارتى قافلہ واپس ہوا تو رسول اكرم (ص) نے مسلمانوں كے ضايع اموال كے بدلے تقريباتين سو افراد كے ساتھ اس تجارتى قافلے كے سر را ہ پہنچ گئے _

ابو سفيان كو جب يہ خبر معلوم ہوئي تو اس نے مكہ والوں سے مددطلب كى اس كے بعد اسنے كوشش كى كہ ايك دوسرے راستے سے بغير كوئي خطرہ مول لئے منزل پر پہنچ جائيں قريش نے ابو سفيان كى مدد ميں ايك ہزار كا لشكر تيار كر كے لشكر اسلام كے مقابلہ كے لئے بھيج ديا ،نتيجے ميں بدر كے مقام پر ايك بڑى جنگ بدر ہوئي غيبى امداد اور اسلامى مجاہدوں كى جانبازى سے مسلمانوں كو فتح حاصل ہوئي اور لشكر مخالف كے لگ بھگ ستّر مقتول ڈھير تھے اور ۷۰ ستّر افراد قيد كئے گئے _

عبد شمس اور اموى خاندان كے اس جنگ ميں اٹھ ادمى قتل ہوئے ان ميں ابو سفيان كا فرزند حنظلہ ،عتبہ وربيع ھند كے باپ اور چچااور وليد ابن عتبہ مقتول ہوئے خليفوں كے چھ ادمى بھى ان ميں قتل ہوئے اسير وں ميں بھى اموى كے سات ادمى تھے كہ ان ميں ابو سفيان كا دوسرا بيٹاعمرو تھاابو سفيان نے اپنے فرزند كے قيد ہونے كے بدلے

ميں ايك معزز انصارى كو ناحق قيد كر ليا جو حج عمرہ كے لئے مكہ گئے ہوئے تھے حالانكہ اس سے پہلے قريش نے كبھى اس واقعہ سے پيش تر كسى حاجى سے تعرض نہيں كياتھا ،اسى لئے تمام مسلمان مجبور ہو گئے كہ ان جنگى قيديوں كو ازاد كر ديں _

جنگ بدر كے بعد چونكہ تمام سرداران قريش قتل ہو چكے تھے اس لئے ابو سفيان قريش كا سب سے بڑا سردار بن گيااسے قريش مكہ كى جنگ وصلح كا بھى اختيار مل گيا اسى حال ميں اسنے منّت مانى تھى كہ اپنا سر نہيں دھوئے گا جب تك پيغمبر اسلام (ص) سے جنگ بدر كى ہار كا بدلہ نہ لے لے _


كچھ دن بعد ابو سفيان نے اپنى مكروہ منّت پورى كر نے كے لئے (۲۰۰)دوسو سواروں كے ساتھ مدينہ كى طرف آيا اور وہاں بنى نضير كے يہوديوں كے يہاں قيام پزير ہوا اسكے بعد وہ شہر مدينہ كے حالات كى جستجو ميں لگ ليا پھر اسنے اپنے كچھ ادميوں كو بھيجاتاكہ مدينہ والوں كے درخت خرما ميں اگ لگا ديں _ان لوگوں نے اپنا كا م كرنے كے بعدمدينہ كے دو باشندوں كو بھى بے گناہ قتل كر ديا ابو سفيان كے اس چھوٹے سے لشكر نے اپنا يہ كا م انجام ديكر مكہ واپسى اختيار كى _

معاويہ كى ماں ھندہ ،جنگ بدر كے بعد سخت غم و غصّہ ميں بھرى ہوئي تھى كيونكہ اسكے باپ چچااور دوسرے رشتہ دار قتل ہوئے تھے ا س كا زيادہ تر وقت ان لوگوں كى ماتم پرسى ميں صرف ہوتا تھا ، اس طرح وہ ہر لمحہ اس كوشش ميں رہتى تھى كہ قريش كو انتقام پر ابھا رے _

جنگ بدر اور ا سميں ستّر افراد كے قتل اور ستّر كى اسيرى كے بعد قريش اس جنگ سے سخت پريشان اور بد حال تھے شام سے جو تجارتى منافع ہوا تھا اس ميں سے ايك ہزار اونٹ اور لگ بھگ پچاس ہزار دينا ر اس غرض سے نكال ليا كہ مسلمانوں كے خلاف نئي جنگ لڑ سكيں انہيں كے بارے ميں سر زنش سے بھر پور يہ آيت نازل ہوتى ہے _

ان الذين كفروا ينفقون اموالهم _ _ _ _الخ_ _ (سورہ انفال ۳۶ )

تر جمہ : جن لوگوں نے حق كو ماننے سے انكار كيا ہے وہ اپنے مال خدا كے راستے سے روكنے كےلئے صرف كر رہے ہيں اور ابھى اس سے زيادہ خرچ كرتے رہيں گے مگر اخر كار يہى كوششيں ان كے پچھتاوے كا سبب بن جائيں گى پھر وہ مغلوب ہوں گے پھر يہ كافر جہنم كى طرف گھير كر لائے جائيں گے _


ابوسفيان جنگ احد ميں

ابو سفيان نے جو اقدامات كئے تھے اور قريش نے جو كچھ جنگ كے لئے دولت جمع كى تھى اس كے سہارے تمام قريش رسول اكرم(ص) سے جنگ پر امادہ ہو گئے ، ابو سفيان نے اس جنگ كى قيادت سنبھال لى ،ا س كى بيوى ھندہ اور دوسرى قريش كى عورتيں بھى ساتھ ساتھ تھيں مكہ اور مدينہ كے درميان جب بھى ھندہ كى ملاقات جبير ابن مطعم كے غلام وحشى سے ہوتى تھى تو وہ كہتى تھى ،كہ ہاں اے وحشى ميرے سينہ ميں جو پرانہ كينہ دفن ہے اس داغ سے مجھے شفاء دےدے ميں تجھے غلامى سے ازاد كرا دوں گى _

اس طرح معاويہ كے ماں اورباپ ابو سفيان اور ھندہ احد كى حسرتوں سے بھر پور جنگ احد كے لئے تيار ہو گئے اسميں اسلام كے بہت سے سچے مجاہد قتل كئے گئے جنگ كے دن علمدار فوج ابو سفيان نے بنى عبد الدار كے قبيلہ والوں كو مخاطب كر كے كہا :

اے فرزندان عبد الدار تم جنگ بدر ميں ہمارى فوج كے علمدار تھے ہم نے اس جنگ ميں بہت سے مصائب جھيلے يہ جنگى پرچم كا مسئلہ اتنا اہم ہے كہ ہر لشكر وہاں شكست يا فتح كا سامنا كرے گايا تو پرچم كى حفاظت كرو يا اس پرچم سے دستبر دار ہو جاو تاكہ ہم خود اس ذمہ دارى كو سنبھاليں _

ان لوگوں نے كہا كہ ہم اپنا علم تمہارے حوالے كر ديں ؟ ايسا ہر گز ممكن نہيں كل جب جنگ كے شعلے بھڑك جائيں گے تو تم ديكھ لو گے كہ ہم نے كيسى جانبازى دكھائي ہے يہ تھى ابو سفيان كى دلى ارزو كہ اسلام شكست كھا جائے اور رسول(ص) اكرم كى زندگى كا خاتمہ ہو جائے _

جب دوسرادن آيا اور افتاب بلند ہو ا تو دونوں لشكر امنے سامنے ہوئے اور جنگ شروع ہو گئي ھندہ اپنى تمام عورتوں كے ساتھ سپاہيوں كو جنگ پر ابھارنے كے لئے لشكر كے ہمراہ تھى وہ خيمہ سے باہر اكر دف بجاتى ہوئي يہ گيت گاكر قريش كو جنگ پر ابھا ر رہى تھى _

اے عبد الدار كے بيٹو اگے بڑھو اے محافظوں بھر پور كوشش كرو اپنى تيز تلواريں خوب چلاو ہم ستارہ صبح كى بيٹياں ہيں اگر تم فاتحانہ اگے بڑھو گے تو ہم اپنى اغوش پھيلا دينگے اور تمھارے لئے بستر بچھائيں گے اور اگر ميدان جنگ سے بھا گے اور تمہيں ہار ہو گئي تو ہم بھى تم سے اپنا منھ پھير لينگے اور تم سے علحدہ ہو جائيں گے


پھر تم ہم سے ہميشہ كے لئے علحدہ ہو جاو گے اور ہم سے وفادارى اور مہر بانى كا كوئي اثر نہيں ديكھو گے اثنائے جنگ ميں ايك انصارى سپاہى نے ھندہ كو ديكھا كہ مشركوں كو جنگ پربھا رہى ہے تو وہ تلوار كھينچ كر ا س كى طرف لپكاليكن جب اسنے ديكھا كہ وہ جنگى سپاہى مرد نہيں ہے عورت ہے تو اسكے قتل سے باز آيا اور مردانہ انداز ميں واپس لوٹ گيا _

يہ جنگ، جيسا كہ بيان كيا گيا اسلام كے لئے بہت سخت اور سنگين ثابت ہوئي اس جنگ ميں مسلمانوں كے ستّر پاك نفس سپاہى قتل ہوئے ان شہيدوں ميں سب سے زيادہ مشہور حضرت حمزہ تھے جو پيغمبر(ص) اسلام كے چچا تھے ،اپ كا قتل ابو سفيان اور ھند ہ كى كوششوں سے ہو ا اپ كا قاتل جبير ابن مطعم كا غلام وحشى تھا _

كسى نہ كسى طرح جنگ ختم ہوئي ميدان ميں شھداء خاك و خون ميں ا غشتہ پڑے تھے ليكن مكہ والوں كى روح درندگى كو چين نہيں تھا ،معاويہ كى ماں ھندہ كى سر كردگى ميں عورتيں شہداء احد كے درميان ائيں ہر ايك نے اپنے ہاتھ ميں ہتھيار لے ركھا تھا انھوں نے شھداء اسلام كے كان ناك اور انكھ كاٹ ڈالے ،يہ كاٹے ہوئے اعضاء اتنے زيادہ تھے كہ ھندہ نے مجاہدوں كے كان اور ناك كا گلو بند اور دست بند بُن كر بنا ليا ،اس عورت نے وحشى كى اس خدمت كے صلے ميں اپنا دست بند اور اپنے سينہ كا زيور اسے بخش ديا_

پھر وہ حضرت حمزہ كى لاش پر ائي پھر اس نے رسول (ص) كے چچا شير خداكا پہلوچيرا اور اپ كاجگر نكال كر انتہائي سنگ دلى كے ساتھ اسے منھ ميں ركھ كر دانت سے كاٹاتاكہ نگل جائے ليكن وہ نگل نہ سكى مجبوراً اسنے منھ سے باہر نكالا اسى شرمناك حادثہ كى وجہ سے اسكالقب جگر خوار ہو گيا وہ اپنے اس كرتوت كے بعد ايك اونچى پہاڑى پر چڑھ گئي اور يہ اشعار پڑھنے لگي

ہم نے تم سے جنگ بدر كابدلہ لے ليا

جنگ كے بعد جنگ كى اگ بھڑكتى ہے

مجھے عتبہ كى موت پر ہر گز چين نہيں نااپنے بھائي نہ اپنے چچاشيبہ اور نہ اپنے فرزند حنظلہ كى موت پر اب ميرے دل كو شفاء حاصل ہوئي ہے


ميں اپنى تمام عمر وحشى كى شكر گزارر ہونگي يہاں تك كہ ميرى ہڈياں قبر ميں گھل كر مٹى ہو جائيں

_اسكے جواب ميں بنى ہاشم كى ايك خاتون ھند بنت اثاثہ نے يہ اشعار كہے

تو جنگ بدر ميں بھي، اور اسكے بعد بھى ،ذلّت اور پستى ميں مبتلاہوئي

اے ذليل كفر كى بيٹي

اللہ تجھے روزى پہونچائے كہ تو بنى ہاشم كى اپى ہوئي تلواروں كا سامناكر سكے

حمزہ ہمارا بہادر شير تھا اور على بھى تيز چنگل والا

جس وقت تيرا باپ اور چچا،ہمارے قتل كى فكر ميں تھا تو ان لوگوں نے ان كے گلے كو خون ميں ا غشتہ كرديا

يہ تيرى منحوس نظر تھى _ ہائے كيسى منحوس نظر تھى

جنگ احدكے بعد ايك شخص حليس جو اپنے قبيلہ كا رئيس تھا يہ اپنے قبيلے كاسردار اور قريش كاحليف تھااس شخص نے ميدان جنگ ميں ابو سفيان كو ديكھا كہ حضرت حمزہ كى لاش پر كھڑا ہے اور اپنے نيزے سے انكى لاش كو جھجھوڑكر كہہ رہا ہے _

موت كى تلخى چكھ لو ،اے وہ كہ تم نے رشتہ دارى ختم كر دى تھى اسكا مطلب يہ تھاكہ تمھيں اس بات كى سزا ملى ہے كہ تم مسلمان ہو گئے ،قبيلہ قريش سے علحدہ ہو گئے اور تم نے قريش سے جنگ كى _

حليس(۱۷) نے يہ ذليل حركت ديكھى تو چلّانے لگا _ اے قبيلہ قريش كے لوگوں _ذرا ابو سفيان كى يہ كمينى حركت تو ديكھو يہ قريش كابزرگ كہاجاتا ہے ،ذراديكھو تو كہ اپنے چچاكے فرزند كى لاش كے ساتھ كيا برتاو كر رہا ہے ،جو خاك پر پڑى ہوئي ہے_(۱۸)

ابو سفيان نے اس سے كہا :

تجھ پر افسوس ہے _ اس وقت تونے جو ميرى حركت ديكھى اسے لوگوں سے بيان نہ كرنا ،يہ مجھ سے لغزش ہو گئي ،پھر ابو سفيان پہاڑ پر چڑھ كر چلّانے لگاھم نے كيا اچھا كام كيا ،ہميشہ جنگ كے دورخ ہوتے ہيں ،اج كا دن جنگ بدر كابدلہ ہے _

پھر اس نے آواز لگائي اعل ھبل يعنى ھبل كے جے ہو(۱۹)

____________________

۱۷_ حليس علقمہ ابن عمر و،ارقم كنانى كافرزند تھا انھوں نے قبيلہ ء بنى مصطلق اور بنى ہون سے معاھدہ كر ركھا تھااسى لئے اس پہاڑ كا نام كوہ احابيش مشہور ہو گيا

۱۸_ سيرت ابن ہشام ج ۳ص۶۰۹، طبرى ج۲ ص۵۲۷، ابن اثير ج۲ ص ۱۱۱

۱۹_ طبرى ج۳ ص ۵۲۶ ، انساب الاشراف ج۱ ص ۳۲۷


رسول خدا (ص) نے حكم ديا كہ اس كے جواب ميں كہا جائے اللہ اعلى واجل _اللہ برتروبلند ہے

ابو سفيان نے مسلمانوں كے توحيد پرستانہ آواز كا جواب ديا ''الا لنا العزى ولاعزّى لكم'' اگاہ ہو جاو كہ ہمارے پاس تو عزى جيساخدا ہے اور تمھارے پاس عزى نہيں _

رسول(ص) خدانے حكم ديا كہ جو اب ميں كہو ''اللہ مولانا ولا مولالكم ''اللہ ہمارا سرپرست ہے اور تمھاراكوئي سرپرست نہيں واپس جاتے ہوئے ابو سفيان نے آواز لگائي اگلے سال ہم بدر كے كنو وں پر انے كاوعدہ كرتے ہيں رسول اللہ (ص) نے اپنے ايك ساتھى كو حكم دياكہ تم آواز ديدو ہاں _ائندہ سال ہم بدر پر انے كاوعدہ كرتے ہيں ،ابو سفيان اپنے قريشى ساتھيوں كے ساتھ ميدان احد سے چلا گيا ليكن كچھ دن بعد ا س نے خيال كيا كہ مسلمان شكست اور كمزورى سے دچار ہيں ا س لئے دوبارہ مدينہ كى طرف پلٹا ،تاكہ مسلمانوں كاخاتمہ كر دے رسول(ص) اللہ كوجب يہ خبر ملى تو اپ نے جنگى مسلمانوں كے ساتھ، شہر سے باہر اكر جنگ كے لئے تيار ہو گئے ،يہ ديكھ كر ابو سفيان كے ساتھيوں پر خوف كابھوت سوار ہو گيا اور وہ مجبور ہو كر واپس چلے گئے_

ھندہ جنگ احد ميں

جنگ احد ميں ھندہ كاكردار شوہر سے زيادہ سنگين تھابنيادى طور سے ا س نے جنگ بھڑكانے اور تبليغ سے اس اگ كو پھيلانے ميں بہت زيادہ حصہ ليا تھا چنانچہ وہ اس جنگ ميں عورتوں كو بھى اپنے ساتھ لے ائي تھى تاكہ قريش كى حميت كو ابھارے ،جيسا كہ ہم نے ديكھا كہ جنگ كے بعد بھى ا س نے شير اسلام حضرت حمزہ كاجگر نكال كر چبانا چاہا ،اس نے اس جنگ ميں اشعار بھى گنگنائے جس سے اس كے شديد كينئہ ديرينہ كا پتہ چلتا ہے ،بعض اشعار كو ہم نے ابھى درج كيا ہے اب يہاں كچھ اور بھى اشعار نقل كئے جاتے ہيں _

جنگ احد ميں ميرے دل كو ٹھنڈك ملى اور حمزہ كے ساتھ جو كچھ كيا اس سے مجھے بڑى راحت ملى ،جب ہم


نے انكاپيٹ چيرااور جگر باہر نكالا اس برتاو سے ميرے احساس كو چين ملا جو كچھ ہمارے سينے ميں اندوہ پل رہا تھا جو خود ميرے وجود كو جلا رہاتھا جنگ بھڑكتى رہى اور اپنى اگ كے ساتھ تم پر ٹوٹ پڑى اور ہم شيرنى كى طرح تم پر حملہ اور ہوئے جنگ كے بعد ايك مسلمان نے انصار كے بزرگ شاعر حسّان ابن ثابت سے كہا:

اے كاش اپ نے ھندہ كے وہ اشعار سنے ہوتے جو اس نے ايك اونچے پتھر پر چڑھ كر پڑھے تھے اور شھيد راہ خدا حضرت حمزہ پر ڈھائے گئے مظالم كا فخر سے تذكرہ كيا تھا _

حسّان نے كہا كہ تم اسكى باتوں كو مجھ سے بيان كرو ميں ا س كا جواب دونگا وہ انصارى ھندہ كے اشعار پڑھنے لگا حسّان نے اپنے بہترين شعروں ميں ھندہ كى شرمناك حركتوں كا ان اشعار ميں جواب ديا _

اس پست فطرت عورت نے كيا كيا بدمعاشياں كيں اسكى تو عادت ہى يہى ہے وہ ہميشہ كى پست فطرت ہے اسكى اس پستى كے ساتھ كفر بھى ہے _

مشہور سيرت نگار ابن ھشام نے اس كاصرف ايك ہى شعر لكھ كر باقى اشعار چھوڑ دئے ہيں ، انھوں نے لكھا ہے كہ ميں نے حسان كے تمام اشعارا س لئے نہيں لكھے كہ انھوں نے اپنے شعروں ميں ھندہ كو بہت برا بھلا كہا ہے _

ليكن طبرى نے ان متذكرہ اشعار كے علاوہ قافيہ راء ميں گيارہ شعراوربھى لكھے ہيں

خدا وندعالم ھندہ پر لعنت كرے اور اسكے شوہر كو بھى لعنت ميں گرفتار كرے

اے ھندہ تو مردوں كے درميان ناچتى ہوئي ميدان احد ميں ائي حالانكہ تو اونٹ پر ہو دج ميں سوار تھى وہ ايسا سخت اونٹ تھا كہ تازيانہ اور شور فرياد سے بھى اپنى جگہ سے نہيں ہلتا تھا _

اپنے باپ اور بيٹے كے انتقام ميں ،جو جنگ بدر ميں قتل كئے گئے، تو ميدان جنگ ميں چلى ائي ،اور اپنے چچا كے انتقام ميں جو اسى جنگ ميں برہنہ خاك خون ميں اغشتہ پڑا ہو ا تھا


اور اسى طرح تو اپنے بھا ئي كے انتقام ميں ،جو ايك گڑھے ميں چند مقتولوں كے ساتھ پڑا ہوا تھا _

ہاں _اپنے ان كرتوتوں كو تونے فراموش كر ديا، جو تجھ سے سرزد ہوئے تجھ پر افسوس ہے يہ ايسى كمينى حركت تھى كہ زمانہ ہميشہ يا د ركھے گا _

اخر كار تو ذلّت كے ساتھ واپس ہوئي پھر تو اپنا انتقام بھى نہ لے سكى اور كاميابى بھى نہ پاسكي_

دائيوں نے كہا ہے كہ، ھند ہ نے زنا سے ايك معمولى بچہ پيدا كيا ہے حسّان كے دوسرے اشعار بھى قافيہ دال ميں ہيں ،جو ان كے ديوان ميں ديكھے جاسكتے ہيں _

يہ بچہ بطحا كى سر زمين كے ايك گوشے ميں پڑاہے

يہ كس كا بچہ ہے ؟

يہ بچہ جو زمين پر پڑا ہے جسے جھولا بھى ميسّر نہيں

اسكو ايك جوان اور خوبصور ت عورت نے جنم ديا ہے

وہ صبح سويرے روتى گاتى ہوئي اپنے عاشق صباح كے پا س گئي

ہاں _اے ھندہ تو كس قدر غصہ ميں بھر گئي ہے ،كو ئي محترم عورت جب بھى اپنے كو معطر كرنا چاہے تو ملك ھند كا بہترين عطر استعمال كرے _

يہ بچہ اپنى ماں ھندہ سے كتنى مشابہت ركھتا ہے

ليكن اپنے سياہ فام باپ صباح سے زيادہ مشابہ ہے

اس كمينى عورت كى ہميشہ سے سر كشى اور طغيان كى عادت تھي

وہ دانت سے ہڈّى چباتى رہتى تھى

اپنے ہجو اميز شعر ميں حسان نے اسطرح توصيف كى ہے ،

يہ بچہ جو صحرا ميں پڑا ہو ا ہے كس كا ہے ؟

يہ اجياد كے ريگزاروں ميں زمين پر ڈھير ہے

اسے درد زہ لاحق ہو ا پھر اس نے بچہ پيدا كر ديا

حالانكہ اسكى كو ئي قابلہ نہيں تھي


صرف صحرا كے درندے تھے اور جنات

وہ بن باپ كے بچوں كے درميان بيابان ميں پڑے ہيں

انہيں ميں ايك بچہ ہے جو اپنى ماں سے زيادہ مشابہ ہے

وہ عورت ولادت كى تكليف سے كمزور آواز ميں كہہ رہى تھى

اے كاش _ميں اونٹ چراتى رہتى اور اج اس حالت سے دوچار نہ ہوتى ،اس بچے كو زمين پر ڈال كر يوں ہى چھوڑ ديا، حالانكہ اسكى قابلہ اور باپ دونوں قبيلہ كے سردار تھے _

مشہور سيرت نگارابن ھشام نے تيس۳۰ سے زيادہ قصيدے جنگ بدر كے بارے ميں لكھے ہيں ، اور انہيں تاريخوں ميں نقل كيا گيا ہے ،ان قصيدوں ميں ھندہ اور ابو سفيان كى ہجو كى گئي ہے_(۲۰)

جنگ خندق ميں ابو سفيان كى قيادت

چوتھى صدى ہجرى كے ماہ شعبان ميں رسول خدا(ص) نے اپنے ساتھيوں كے ساتھ سر زمين بدر پر كوچ كيا كيونكہ اپ نے مشركين سے قبل ازيں ايساہى عہد كيا تھا ادہر ابوسفےان بھى مكہ والوں كے ساتھ اپنے شہرسے باہر نكلا لےكن تھوڑا راستہ طے كر كے شرمندہ ہو كر واپس گيا ابو سفيان نے واپس ہوتے ہوئے قريش سے كہا :

اے گروہ قريش _يہ جنگ اسى سال تمہيں راس ائيگى جبكہ صحرا ميں شادابى رہے ،ليكن كياكياجائے كہ ہم لوگ اس سال خشك سالى ميں گرفتار ہيں ،ہم تو واپس جاتے ہيں تم بھى واپس جاو _

سبھى ا س كى پيروى كرتے ہوئے واپس ہو گئےيہ سوچ كر كہ دوسرى جنگ كيسے برپاكى جائے، كچھ زمانہ بيت گيا اور پانچويں صدى ہجرى اگئي ،اس سال قبيلہ قريش نے ابو سفيان كى قيا دت ميں بہت زيادہ جوش وخروش كامظاہرہ كيا بہت سے گروہ اس كے گرد جمع ہوگئے جو قريش كے حليف تھے يہودى اور قريش ابو سفيان كى رہبرى ميں تھے ا س طرح ايك بہت بڑا لشكر تيار ہو گيا اور ان سب نے عہد كيا تھا كہ اسلام كو جڑ سے اكھاڑ پھيكاجائے ،مسلمانوں نے باہم مشورہ كيااور سلمان فارسى كى رائے كے مطابق جو ايران كے داناتھے رسول(ص) اسلام نے حكم ديا كہ مدينہ كے گرد ايك خندق كھودى جائے بہت سے لوگ مدينہ ميں پہنچ گئے ،اور اس طرح دفاعى خندق كھودى گئي ساراشہر، دشمن كا سامنا كرنے كے لئے تيار تھا

____________________

۲۰_ سيرہ ابن ھشام ج۳ ص ۶۶۷


ابوسفيان اور ا س كى فوج نے مدينہ كا ايك مہينہ تك محاصرہ كيا ليكن خندق كى وجہ سے ان كى عقل گنگ ہو گئيں اس درميان دو ايك جھڑ پيں ہوئي كبھى كبھى دشمنوں كا كوئي بہادر سپاہى خندق عبور كر جاتا تھا تاكہ مسلمانو ں كى صف كے قريب پہنچ جائے انھيں ميں سے ايك شخص عمرو ابن عبدود تھا جو عرب كامشہور جنگجو سمجھاجاتا تھااسنے خندق كے پاس اپنے گھوڑے كو ايڑ دى اور اسلامى فوج كے سامنے اكے جم گيا ، وہ رجز پڑھ كر مسلمانوں كو مقابلہ كى دعوت دے رہا تھا _

سبھى موت كے ڈرسے بولنے يااگے بڑھنے كى جرا ت نہيں كر رہے تھے اخر كار امير المومنين(ع) كے سواا س كاسامنا كرنے كى كسى كو جرا ت نہ ہوئي امام (ع) نے عمر و ابن عبدود كوايك ہى جھڑپ ميں اپنى خدائي طاقت سے اسے قتل كر ڈالا _

چونكہ عمر و قتل كر دياگيا تھا ،دوسرے يہ كہ محاصرہ كا كوئي نتيجہ نہيں نكل رہا تھاكيونكہ رسول(ص) اكرم نے اس سلسلے ميں خاص تدبير اپنائي تھى اس سبب سے يہوديوں نے جنگ سے علحدگى اختيار كرلى اس درميان بہت تيز ٹھنڈى ہو ا بھى چلنے لگى يہاں تك كہ قريش اور ان كے مددگار وں كے خيمے اكھڑ گئے اگ ٹھنڈى ہو گئي گھوڑے اور اونٹ صحراكى طرف بگٹٹ بھاگ گئے اب تو سارے لشكر كا تيا پانچہ ہو گيا _

ابوسفيان اس صور ت حال سے بہت زيادہ گھبرا گيا سرداران لشكر كو مشورے كے لئے بلا كر كہا كہ اے قريش تمہارے خدا كى قسم تم ايسى سر زمين پر ہو كہ زندگى محال ہے تمہارے گھوڑے اور اونٹ ختم ہو گئے بنى قريظہ كے حليف جو ہمارے حليف تھے انھوں نے بھى منھ موڑ ليااب تو ناگوارصورت حال پيش اگئي ہے ،تم بدلى ہوئي ٹھنڈى ہواديكھ ہى رہے ہو ہم سخت پريشانى ميں مبتلاہيں ہمارى اگ بھى ٹھنڈى ہو چكى ہے خيمے بھى اكھڑ چكے ہيں اس لئے ميں مصلحت اسى ميں ديكھ رہاہوں كہ ہم لوگ يہاں سے كوچ كر جائيں يہاں سے كوچ كرو ہم بھى چلنے پر امادہ ہيں اسى اندھيرى رات ميں قريش اور اس كے حليفوں كا لشكر مكہ كى راہ پر چل پڑا(۲۱) ،ابوسفيان گھبراہٹ ميں بھاگنے پر ا س قدر امادہ تھا كہ ا س نے اونٹ كے بند بھى نہيں كھولے وہ بھاگنے كى جلدى ميں تھا _

ا س طرح عظيم جنگ خندق ياجنگ احزاب ابو سفيان كى تمام كوششوں كے باوجود بے نتيجہ رہى اور مشركوں كا زبر دست لشكر اپنى عددى زيادتى كے باوجود دين خداكو كوئي نقصان نہ پہنچا سكا_

____________________

۲۱_ سيرہ ابن ھشام ج۳ ص ۷۱۵


كمزورى كااحساس اور صلح كى پيش كش

اسلام مخالف گروہوں كى كمزورى اورا ن كى جميعت كاتتر بتر ہونا اسلام كى عزت وشوكت كے بڑھانے ميں معاون ہوا اور اب مسلمان جزيرة العرب ميں ايك جانى پہچانى طاقت سمجھے جانے لگے مسلمانوں كى تعداد اور ا ن كى اقتصادى اور حكومتى طاقت روز بروز بڑھتى گئي _

ہجرت كے ساتويں سال رسول(ص) اكرم نے لگ بھگ ڈيڑھ ہزار اصحاب كے ساتھ زيارت خانہ كعبہ كے لئے مكہ كوچ فرمايا سر زمين مكہ پر مسلمانوں كاداخلہ قريش كے لئے سخت ناگوار تھا كيونكہ مسلمانوں كو مراسم حج ميں شامل كرنے كا مطلب يہ تھا كہ اسلام كى طاقت كو تسليم كر ليں ،ا س لئے انھوں نے مكہ ميں داخلے سے روكا ،رسول (ص) اكرم نے بھى بڑے ٹھنڈے دل كے ساتھ عدم تعرض كے ايك معاھدے پر امادگى ظاہر كى اور مسلمانوں كو واپس چلنے كا حكم ديا ،يہ معاھدہ اگر چہ بظاہر مكہ والوں كے حق ميں تھا اسى لئے بعض ظاہر پرستوں نے اعتراض بھى كيا ليكن ا س طرح مشركين نے نادانستہ طور پر يہ معاھدہ تسليم كركے اسلامى طاقت كو عربستان ميں قبول كر ليا اور يہ بات پورے طور سے اسلام كے حق ميں تھى ،اس معاھدے كى رو سے رسول(ص) اسلام اپنے دوسرے دشمنوں كا سر كچل سكتے تھے جيسا كہ جنگ خيبر اسى وجہ سے واقع ہوئي اور مسلمانوں كو يہ موقع مل سكاكہ وہ اپنے مخالفوں كو جڑ سے اكھاڑ پھيكيں اور يہوديوں كى ريشہ دوانيوں كا سدّ باب كر سكيں _

اس وقت صحرائے عرب ميں قريش كے علاوہ اسلام كا كوئي بڑادشمن نہيں تھا ،وہ بھى اس معاھدے كى وجہ سے اسلام كے خلاف كو ئي خطرناك اقدام نہيں كر سكتے تھے ا س طرح اسلام نے تيز رفتارى كے ساتھ سارے عرب كو اپنے قبضہ ميں كرليا _

صلح حديبيہ كے بعد ايك سال بھى نہ گزراتھاكہ صلح نامہ كى ايك شرط مشركين مكہ نے توڑ دى _

اب رسول(ص) اسلام نے مصمم ارادہ كر لياكہ اس جاہليت اور كفر كا اخرى قلعہ بھى ڈھا دياجائے فتح مكہ نزديك


تھا ،ابو سفيان نے روزافزون ناقابل شكست اسلامى طاقت كو سمجھ ليا تھا اس لئے وہ تجديد پيمان كے لئے مدينہ آيا ليكن رسول خدا(ص) نے اس ديرينہ دشمن اسلام كو جو انتہائي خوفزدہ ہو نے كى وجہ سے خوش اخلاقى كا مظاہرہ كررہا تھا قبول نہيں فرمايا:

دوسرے دن ابو سفيان اميرالمومنين (ع) كى خدمت ميں حاضر ہو كر عرض كرنے لگا ،اے ابو الحسن، ميں سخت ذہنى كشائشے كا شكار ہوں ميرى نجات كى راہ بتايئے

امام (ع) نے فرمايا خدا كى قسم ميں تيرى نجات كا كوئي راستہ نہيں جانتا ،ليكن تو قريش كاچودھرى اور ان كا ہم پيمان ہے خودہى اٹھكر جا اور لوگوں سے معاھدے كر اور پھر اپنى سر زمين پر واپس جا _

ابو سفيان نے پوچھا، كيااپ كے خيال ميں اس سے مجھے كوئي فائدہ پہنچے گا _

امام (ع) نے فرمايا _نہيں _ليكن اس كے سوا دوسراكوئي راستہ بھى نہيں ابو سفيان وہاں سے اٹھكر مسجد ميں آيا اور پھر وہاں مسلمانوں كے درميان چلّايا _

اے لوگو _ميں تم لوگوں سے عدم تعرض و مسالمت كا معاھدہ كرتا ہوں پھر وہ وہاں سے باہر نكلا اور اپنى سوارى پر بيٹھكر مكہ كى طرف چلا گيا _(۲۲)

مكہ فتح ہو گيا

ابوسفيان اس زمانے ميں _يعنى جب جاہليت اخرى سانس لے رہى تھى يہ شخص مشركين كا ايك زبر دست فوجى افسر سمجھا جاتا تھا وہ صرف يہى نہيں كہ قريش كى قيادت كر رہاتھا بلكہ يہ كہا جاسكتا ہے كہ تمام قبائل بنى كنانہ قريش اور اس كے حليفوں نے ا س كے رياست و بزرگى كو مان ليا تھا وہ انھيں مسلمانوں كے خلاف جنگ پر ابھارتا تھا اور جنگى كاروائي كے نقشے بھى مرتّب كرتا تھا ياپسپائي كى صورت ميں پيچھے ہٹنے ياصلح كرنے كا بھى مجاز تھا_جنگ بدر ميں سرداران قريش كے قتل ہو جانے كے بعد تمام رياست و قيادت اسى كے ہاتھ ميں تھى _

يہ بزرگى ايسى مستقل تھى كہ جس وقت مجاہدين اسلام نے مكہ ميں قدم ركھا اور اس شہر كو قريش كے چنگل سے

____________________

۲۲_ سيرہ ابن ھشام ج۴ ص ۷۵۴


ازاد كرايااسى دن سے ابو سفيان كى قيادت ہميشہ كے لئے ختم ہو گئي اور رسول(ص) اكرم كے اختيار ميں اگئي جس طرح كے عرب كے بے شمار بت رسو ل(ص) ا كرم كے حكم كے مطابق اميرالمومنين(ع) كے ہاتھ سے ٹوٹ پھوٹ كر ستياناس ہو گئے _

جس وقت پيغمبر(ص) اسلام دس ہزار مجاہدوں كے ساتھ پرچم توحيد كے سايہ ميں مكہ كے قريب پہنچے تو انحضرت(ص) كے چچا عباس اپنے مخصوص اونٹ پر سوار اگے تھے تاكہ كوئي مل جائے تو اسے پيغامبر كے عنوان سے مكہ والوں كے پاس بھيجا جائے انھيں خطرہ بھى تھا اس لئے وہ چاہ رہے تھے كہ كسى كو رسول(ص) اكرم كے پا س بھيج كر انحضرت(ص) سے امان كى درخواست كريں عباس نے راستہ ميں تين بزرگان قريش سے ملاقات كى ابو سفيان بھى انھيں ميں تھا يہ شہر سے نكل چكے تھے تا كہ حالات اور خطرات كو معلوم كركے ا س كا تدارك كر سكيں عباس نے ابو سفيان سے كہا خداكى قسم اگر مسلمان تجھے پا گئے تو يقينى طورپر قتل كر دينگے ،ا س كے بعد عباس نے اسے رسول(ص) اكرم كے اونٹ پر اپنے پيچھے بٹھا ليا اور سيدھے پيغمبر(ص) اسلام كى خدمت ميں آئے جيسے تيسے راستہ طے ہو گيا جس وقت ابو سفيان نے رسول(ص) اكرم كے خيمہ ميں پہونچ كرسلام كيا انحضرت(ص) نے فرمايا:

اے ابو سفيان تجھ پر افسوس ہے كيا ابھى وقت نہيں آيا ہے كہ تو سمجھ سكے اور مان لے كہ خدائے واحد كے سوا كوئي خدا نہيں _

ابو سفيان نے عرض كيا ،ميرے ماں باپ اپ پر قربان ،اپ كتنے حليم اور با عظمت ہيں ، كس قدر اپنے رشتہ داروں كے ساتھ صلہ ء رحمى كرنے والے ہيں ،خدا كى قسم ميں سوچتا ہوں كى اگر اللہ كے سواكوئي خدا ہوتا تو ضرور مجھے فائدہ پہنچاتا _

رسول(ص) خدا نے فرمايا:اے ابو سفيان تجھ پر افسوس ہے ،كيا وقت نہيں آيا ہے كہ سمجھ سكے ميں خدا كارسول ہوں _

اس نے عرض كى ،ميرے ماں باپ قربان ،ا پ كتنے عظيم و حليم ہيں ،اور رشتہ داروں كے ساتھ مہر بانى كر نے والے ہيں مجھے اس مسئلہ ميں كچھ شك اور تردد ہے _

عباس نے خطرے كا احساس كر ليا تھا ،وہ دھاڑے _اے ابو سفيان تجھ پر افسوس ہے اسلام قبول كرلے اپنے كوموت كے چنگل ميں مت ڈال _

ابو سفيان نے اسى لمحہ خوف اور مجبورى كے عالم ميں كلمہ شہادتين زبا ن پر جارى كيا اور بظا ہر اسلام لے آيا _(۲۳)

____________________

۲۳_ اگے كے صفحات ميں ہم بيان كرينگے كہ ابو سفيان نے ظاہرى طور پر اسلام قبول كيا تھا اور اس كے دل ميں كفر چھپا ہوا تھا


جيسے ہى ابو سفيان نے اسلام قبول كيا عباس نے انحضرت (ص) سے ابو سفيان كے بارے ميں امتيازى سلوك كى درخواست كى ،يعنى يہ اعلا ن كر ديا جائے كہ جو بھى ابو سفيان كے گھر ميں داخل ہو جائے اسكو امان ہے _

انھوں نے عرض كيا كہ اس كى وجہ يہ ہے كہ وہ افتخار و شہرت كو پسند كرتا ہے لہذا ا س كى دلجوئي كے لئے يہ اعلان ضرورى ہے ، پيغمبر(ص) اسلام نے اعلى ظرفى كا مظاہرہ فرماتے ہوئے اپنے سخت ترين دشمن ديرينہ كو جوبظا ہر اسلام لاچكا تھا امن كاگھر قرار ديتے ہوئے اعلان كيا ، ہاں _جو شخص بھى ابو سفيان كے گھر ميں پناہ لےلے وہ امن ميں ہے ،اور جوشخص اپنا گھر بند كر كے رہے وہ بھى امن ميں ہے ،جو شخص خانہ خدا ميں پہنچ جائے وہ امان ميں ہے ،اور جو شخص بھى ہتھيار ڈال دے وہ ہر قسم كے خطرہ سے محفوظ ہے_

اسلامى لشكر نے اپنے اطراف گاہ سے كوچ كيا تاكہ مكہ كااخرى فاصلہ طے كيا جاسكے ،اور شرك كے مركز كو توحيد پرستى ميں تبديل كيا جاسكے _

رسول(ص) اكرم كا حكم بجالايا گيا تمام مسلمانوں كے قبائل اور گروہ جنگى اسلحے سے اراستہ ہو كر عبو ر كر رہے تھے ،جب بھى كوئي قبيلہ گزرتا تھا ،تو ابو سفيان عباس سے پوچھتاتھا كہ يہ كون ساقبيلہ ہے _عباس نے مثلاً كہا كہ يہ قبيلہ بنى سليم ہے_

تو ابو سفيان انتہائي تھكے تھكے لہجے ميں كہتا تھا ،مجھے قبيلہ بنى سليم سے كيا سروكار ؟ يعنى بنى سليم كا قبيلہ مجھ سے جنگ كے لئے كيوں آيا ہے ،مجھے تو ان سے كوئي اختلاف نہيں تھا _

تمام قبائل اسى طرح گزرتے رہے يہاں تك كہ رسول خدا(ص) مہاجرين و انصار كے ساتھ يعنى اپنے خاص اصحاب كے ساتھ ا س كے سامنے سے گذرے ان مجاہدوں كے تمام بدن فولاد سے ڈھكے ہوئے تھے صرف انكھيں كھلى ہوئي تھيں _

ابوسفيان نے پوچھا _يہ كون لوگ ہيں ؟

عباس نے جواب ديا ،يہ خدا كے رسول(ص) ہيں مہاجرين و انصار كے درميان

ابو سفيان نے كہا _كہ كسى كو بھى اس لشكر سے جنگ كرنے كى طاقت نہيں ہے تمہارے بھتيجے نے تو بہت


عظيم بادشاہى قائم كر لى ہے _

عباس نے كہا :اے ابو سفيان يہ خداكى جانب سے نبوت و رسالت ہے يہ بادشاہى نہيں ہے _

ابو سفيان نے كہا _ ہاں ايسا ہى ہے

اس وقت عباس نے ابو سفيان كو اس كے حال پر چھوڑ ديا اور خود لشكر ميں شامل ہو گئے _

ابو سفيان نے بھى ،جس قدر جلد ہو سكا اپنے كو مكہ ميں پہنچايا اور تيزى سے مسجد الحرام ميں پہنچ كر آواز دى _

اے قريش _ يہ محمد (ص) ہيں كہ جن كے اصحاب بے شمار ہيں يہ تمہارى طرف ارہے ہيں اگاہ ہو جاو كے جوبھى ابو سفيان كے گھر ميں داخل ہو جائے گااسے امن مل جائے گا _

اس وقت ابو سفيان كى زوجہ ھندہ اپنى جگہ سے اٹھى _ ا س نے اپنا ہاتھ اور چہرہ چھپا ركھا تھا زور سے چلّائي ،اس گوشت كے لوتھڑے كو قتل كر ڈالو ،ناس جائے تيرے جيسے خاندان كا _

ابو سفيان نے اپنى زوجہ كى بات پر توجہ نہيں دى ،دوبارہ كہا _يہ عورت تمہيں فريب نہيں دے انحضرت (ص) ايك لاتعدادفوج كے ساتھ تمہارى طرف ارہے ہيں ،جوبھى ابوسفيان كے گھر ميں داخل ہو جائيگااسے امن مل جائيگا ،لوگ چلاّنے لگے خداتجھے قتل كرے تيرے گھر ميں ہم سب كے سب كيسے سماسكتے ہيں ؟ ابو سفيان نے كہا كہ ،جو شخص بھى اپنا گھر بند كر لے وہ امان ميں ہے ، جو شخص مسجدالحرام ميں داخل ہو جائے وہ بھى امن پائيگا ،لوگ مسجدالحرام كى طرف جانے لگے ،ذرادير گزرى تھى كہ رسول اكرم(ص) (ان پر اور ان كے خاندان پر صلوات) اسلحوں سے ليس فوج كے ساتھ مكہ ميں داخل ہوئے اور تيزى سے خانہ كعبہ كے پاس پہنچ گئے ،اپ خانہ كعبہ كے دروازہ كے پاس كھڑ ے ہوئے اور ايك طويل تقرير كى ،اخر ميں اپ نے قريش كو مخاطب كركے فرمايا: تمہيں سوچو كہ ميں تمہارے بارے ميں كيا كروں گا _

سب نے كہا كہ ہميں اپ سے بھلائي ہى كى اميد ہے ،اپ عظيم بھائي اور عظيم بھائي كے بيٹے ہيں _

اپ نے فرمايا_''اذهبو فانتم الطلقاء '' جاو كہ تم سب ازاد ہو(۲۴) _

____________________

۲۴_ سيرہ ابن ھشام ج۴ ص ۸۷۰ ، طبرى ج۳ ص ۶۱


وہ دن ايك روشن ودرخشاں اور عميق اعلى ظرفى كے دن كى طرح گذر گيا ،رسول اكرم (ص) نے اپنے اول درجہ كے دشمنوں كو جنھوں نے سالہاسال تك اپ اور اپ كے اصحاب كو برا بھلاكہا تھا شكنجہ وازار ديا تھا يہاں تك كہ انھيں قتل كيا تھا ،سالھاسال تك اپ سے ہر طرح جنگ كى تھى اپ نے ان سبكو بخش ديااور يہ بخشش بھر پور طاقت وقوت كے بعد تھى _

البتہ يہ اعلى ظرفى سے بھر پور بخشش چند سال كے بعد اپنى شكل وصورت بدل چكى تھى طلقاء كالفظ قريش اور ان كے بچوں كے لئے شرمناك دھبہ بن گيا تھا ،يعنى يہ لوگ ازاد كئے گئے ہيں ،يہ لوگ فتح مكہ كے دن ازاد كئے گئے تھے پھر تو بعد ميں انھيں اسى لفظ طلقاء سے مذمت كى جانے لگى _

ابو سفيان اسلامى معاشرے ميں

رسول اسلام(ص) نے تقرير كرنے كے بعد خانہء كعبہ كاطواف كيا ،ابو سفيان وہيں ايك گوشہ ميں كھڑا طواف كعبہ كے منظر كو بغور ديكھ رہا تھا ،جب ا س نے مشاہدہ كيا كہ مسلمان كس قدرجوش و خروش كے ساتھ رسول خدا(ص) كے پيچھے خانہ خداكے گرد طواف اور گردش كر رہے ہيں تو تيزى سے اسكے دل ميں يہ خيال گزراكہ كيا اچھا ہو كہ ميں دوبارہ لوگوں كو محمد (ص) كے خلاف بھڑكا دوں _

رسول اكرم (ص) نے ا س كى طرف رخ كركے اسكے سينہ پر ہاتھ مار كر فرمايا كہ اس دن اللہ تجھے ذليل وخوار كرے گا _

ابو سفيان نے كہا _ميں خدا سے رجوع كرتا ہوں اور اسكى مغفرت كاطلبگار ہوں ،اور ميں نے تو صرف سوچا ہى تھا ؟

دوبارہ ا س نے دل ميں كہا كہ ميں نہيں جانتا محمد (ص) كس وجہ سے مجھ پرفتح پا گئے _

رسول (ص) اسلام نے اسكى پيٹھ پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمايا: خدا كى طاقت سے ميں تجھ پر فتحمند وكامران ہوا اس وقت ابو سفيان نے مجبور ہو كر كہا كہ ميں گواہى ديتا ہوں كہ اپ خدا كے رسول ہيں(۲۵)

____________________

۲۵_ تہذيب ابن عساكر ج۶ ص ۴۰۴ ، اصابہ ج۲ ص ۱۷۲ ،مطبوعہ مصر ۱۳۵۸شمسى


فتح مكہ كے بعد رسول(ص) اكرم حنين كى طرف روانہ ہوگئے ،تاكہ ہوازن سے جنگ كر سكيں اپكے ہمراہ كچھ قريش كے افراد بھى تھے _

مشہور مورخ مقريزى لكھتا ہے :

مكہ كہ وہ لوگ جو ظاہرى طور پر مسلمان ہوئے تھے انحضرت(ص) كے ساتھ حنين گئے وہ اس انتطار ميں تھے كہ دونوں گروہوں ميں سے كون كامياب ہوتا ہے تاكہ اسكے ساتھ مخالف گروہ كامال غنيم لوٹ سكيں ان ميں ايك ابو سفيان بن حرب تھاجو اپنے فرزند معاويہ كو بھى ساتھ لے گيا تھا يہ دونوں اپنے ہمراہ اپنے تركش ميں ازلام بھى لائے تھے_

ابوسفيان لشكر اسلام كے پيچھے پيچھے چل رہا تھا ،جوكچھ بھى لشكر والوں كاسامان زمين پر گرتا تھا_

جيسے ڈھال يانيزہ ياكوئي دوسرى چيز اسے زمين سے اٹھا ليتاتھا ،يہاں تك كہ اسكا اونٹ ناقابل برداشت بوجھ سے بھر گيا(۲۶)

واقدى كہتا ہے كہ حنين وہ جگہ ہے جو مكہ سے تين شبانہ روز كے فاصلہ پر واقع ہے(۲۷)

اس سر زمين پر اعراب عدنانى سے ايك طاقتور قبيلہ زندگى گزار رہاتھا جوبنام (ہوازن) مشہور تھے(۲۸)

لشكر اسلام اپنى تمام طاقتوں كے باوجود اغاز جنگ ميں ہوازن كے مد مقابل زيادہ كامياب نظر نہيں آيا _كيونكہ مسلمان تنگ راستوں سے اگے بڑہے تو ناگہانى حملہ كاشكار ہو گئے اور لشكر ميں بھگدڑ مچ گئي ،پيغمبر(ص) اسلام كے پاس معدودے چند مسلمانوں كے كوئي باقى نہ رہا جن ميں ايك اميرالمومنين (ع) اور دوسرے عباس بن عبد المطلب ثابت قدم رہے(۲۹)

____________________

۲۶_ متاع الاسماع ص ۴۰۵ مطبوعہ مصر

۲۷_ معجم البلدان ج۲ ص ۳۱۳ مطبوعہ بيروت

۲۸_ جمھرة انساب العرب ص ۲۵۴_ ۲۵۲ مطبوعہ مصر

۲۹_ المغازى ج۳ ص ۳۰۰ ، يعقوبى ج۲ ص ۴۷ ، انساب الاشراف ج۱ ص ۳۶۵


اس ہنگامى حالات ميں چند بزرگان قريش جو تازہ مسلمان ہوئے تھے انھوں نے اپنى زبان پر ان كلمات كو جارى كيا كہ جسكو ابن ہشام نے اپنى تاريخ ميں يوں ذكر كياہے ،وہ لكھتا ہے جب مسلمانوں نے فرار اختيار كيا تو وہ لوگ جو مكہ سے انحضرت (ص) كے ساتھ ہوئے تھے جب انھوں نے اس منظر كو ديكھا تو اپنے كينہ ديرينہ كو اشكار كر ديا جيسے ابو سفيان نے كہاتھا''لاتنتهى هزيمتهم دون البحر'' ابھى كياہے يہ لوگ شكست كھاكر سمندر تك بھاگيں گے _

يہ اس وقت بھى جاہليت وكفر كى علامت ازلام كو ساتھ ميں ركھتا تھا ،ازلام لكڑى كاايك تير تھا جو كفار قريش خاص مو قعو ں پر فال نكالنے كے كام ميں لاتے تھے ،حالا نكہ يہ خود جاہليت عرب اور بت پرستى كى كھلى ہوئي نشانى ہے_

قران كريم نے اصنام جاہلى كے ساتھ ساتھ اسكى بھى بڑى مذمت كى ہے(۳۰)

ايك دوسرے سردار قريش نے كہا _ ہاں اب جادو اور سحر ٹوٹ گيا _

فرمان رسول (ص) اور فرياد عباس نے مسلمانوں كو جو دشمن كے ناگہانى حملہ سے بھاگ گئے تھے واپس بلا ليا ،اور دشمن پر حملہ اور ہوئے زيادہ دير نہ گزرى تھى كہ دشمن اسلام كو منھ كى كھانى پڑى اور اسلام كو شاندار فتح حاصل ہوئي _

اس جنگ ميں جو كچھ مال غنيمت حاصل ہو ا تھا ا س كا زيادہ تر حصہ ان تازہ مسلمانوں پر تقسيم كياگياكيونكہ قران كے مطابق يہ لوگ مولفتہ القلوبھم سمجھے جاتے تھے ،خداو رسول (ص) كانقطہ نظر يہ تھا كہ انھيں مادى فائدے

____________________

۳۰_ سورہ توبہ ، سورہ مائدہ آيت ۹۰


پہنچاكر دين خداكى طرف سے انكا دل نرم كيا جائے ،اسى غرض سے ان سبھى تازہ مسلمانوں كو سو اونٹ بخشے گئے ،ابو سفيان و معاويہ نے بھى ۱۰۰ _ ۱۰۰ _ اونٹ لئے اور كچھ زيادہ مقدار ميں چاندى بھى لى ،ابو سفيان نے رسول(ص) اكرم كايہ سلوك ديكھ كر كہا ،خداكى قسم ميرے ماں باپ اپ پر فدا ہو جائيں اپ ايك عالى ظرف انسان ہيں جسوقت ميں نے اپ سے جنگ كى اپ بہترين جنگ جو تھے اور جب اپ سے صلح كى ہے تو اپ بہترين صلح كرنے والے ہيں قبيلہ انصار جن كو مال غنيمت كم ديا گياتھاانھوں نے اپنے دل ميں خيال كياكہ انحضرت (ص) نے اپنے قوم وقبيلہ والوں سے ترجيحى سلوك كيا ہے _

پيامبر(ص) اكرم نے انصار كو طلب كيااور اپنى تقرير ميں ارشاد فرماياكہ ہر گز ايسا نہيں ہے جس طر ح سے تم لوگ اس مسئلہ كو سوچ رہے ہو ،ميں نے ان لوگوں سے يہ برتاو محض اس لئے كياہے تا كہ وہ ثابت قدم رہيں اور بدد ل ہو كر اسلام سے برگشتہ نہ ہوجائيں ،ليكن تمہارے لئے(انصار) اسلام وايمان كو ساتھ قرار ديا ہے(۳۱)

فتح مكہ كے بعد ابو سفيان نے ظاہرى طور سے اسلام قبول كر لياتھاوہ مسلمانوں كے گروہ ميں بھى شامل ہو گيا تھا ،ليكن مسلمانوں نے اسكى گزشتہ كى زيادتيوں اور اسلام دشمنى كو كسى بھى لمحہ فراموش نہيں كيايہى وجہ تھى جو معاشرہ اسلامى نے اس پر لطف و مہر بانى كى نگاہ نہيں ڈالى(۳۲)

اہلسنت كے عظيم محدث مسلم بن حجاج اپنى كتاب صحيح مسلم ميں مسلمانوں كے سلوك كو ان الفاظ ميں بيان كرتے ہيں _

ايك دن ابو سفيان كچھ پاكباز مسلمانوں كے درميا ن سے گزرا جيسے سلمان ، بلال ، صھيب يہ حضرات اپس ميں باتيں كر رہے تھے جب ان لوگوں كى نظر ابو سفيان پر پڑى تو كہا

اس دشمن خداكو اللہ كى تلواروں نے ابھى تك كيفركردار تك نہيں پہو نچايا ،يہ بات جب ابو بكر نے ان لوگوں سے سنى تو خفا ہو كر كہا ،كياتم لوگ ايك بزرگ قريش كے بارے ميں ايسى بات كر ررہے ہو ،يہ بات كہہ كہ وہ اسلامى معاشرے كے نامناسب رد عمل كے خوف سے گھبر اتے اور دوڑ تے ہوئے رسول اكرم (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے

____________________

۳۱_ سيرت ابن ہشام ج۴ ص ۹۳۵ ، طبرى ج۳ ص ۹۴ المغازلى ج۳ ص ۹۵۶

۳۲_ صحيح مسلم ج۷ ص ۱۷۱ مطبوعہ مصر


،اپ نے فرمايا :شايد تم نے ان لوگوں كو ناخوش كيا ہے اگر تم نے انہيں غضبناك كيا ہے تو ياد ركھو كہ تم نے اپنے پروردگار كو غضبناك كيا ہے ابو بكر نے جب رسول(ص) كى زبان سے ان كلمات كو سناتو تيزى سے مسلمان اور ان كے ساتھيوں كے پاس پلٹے اور معذرت كرتے ہوئے كہا :اے بھا ئيو_ميں نے تم لوگوں كو ناخوش اور غضبناك كياہے؟ سب نے كہا نہيں اللہ تمہيں بخشے اے بھائي(۳۳)

مسلمانوں كى يہ نفرت رسول (ص) اكرم ہى كے زمانہ ميں نہيں تھى بلكہ عام مسلمانوں كى ابو سفيان سے نفرت كايہى حال رہا قارئين ايندہ فصل ميں ملاحظہ فرمائيں گے _

ابوسفيان شيخين كے زمانے ميں

عظيم مورخ ابن عساكر دمشقى لكھتا ہے :

ايك دن ابو بكر نے اپنى حكومت كے زمانے ميں ابو سفيان كو بہت كچھ كہہ ڈالا، ان كے باپ ابو قحافہ نے كہا كہ اے ابو بكر ابو سفيان سے تم اسطرح باتيں كرتے ہو ؟

ابوبكر نے جواب ديا ،بابا ہاں ،خداوند عالم نے اسلام كى خاطر بلند خاندانوں كو پست كر دياہے اور ہمارے خاندان ان ميں ہيں جو پست تھے اب اسلام كى وجہ سے بلندہو گئے ہيں

جس زمانے ميں عمر بن خطاب حج كے لئے مكہ آئے تو انھيں بتايا گياكہ ابو سفيان نے ايك گھر بناياہے اور اپنے گھر كے لئے ٹھيك راستے ميں ايسى تعمير كى ہے كہ پانى كابہاو شہر كولپيٹ ميں لے سكے عمر نے ان شكو ہ كرنے والوں كے ساتھ ابو سفيان كے گھر كارخ كيا ،پھر حكم ديا كہ ابو سفيان ان پتھروں كو اپنى پشت پر لاد كر راستے سے ہٹائے _

اسكے بعد اپنے ہاتھ اسمان كى طرف بلند كر كے كہا :خداوندا سارى تعريف تيرے لئے مخصوص ہے كہ ميں نے شہر مكہ ميں بزرگ قريش ابو سفيان كوحكم ديا اور اس نے ميرى بات مان لى ہے _

____________________

۳۳_ صحيح مسلم ص ۱۷۳ ، سير اعلام انہلاء ج۲ ص ۱۵


دوسرے مورخين نے بھى لكھا ہے كہ ايك دن خليفہ دوم عمر مكہ كى گليوں سے گزر رہے تھے ، انھوں نے ديكھا كہ گليوں ميں گندگى ہے انھوں نے حكم ديا كہ جس شخص كے گھر كے سامنے گندگى ہے وہ خود صاف كرے ،كچھ دن بعد ديكھا كہ بعض جگہوں پر گندگى باقى ہے تو غصہ ميں ابو سفيان كے سر پر تازيانے لگانے لگے ،ابو سفيان كے تازيانہ كھانے كى خبر ھندہ كو ملى تو اپنے جاہلى وراثت كابھر پور مظاہرہ كرتے ہوئے بولى ،اوعمر خد اكى قسم اگر دور جا ہليت ميں تم نے انھيں تازيانہ مارا ہوتاتو مكہ كى زمين لرز جاتى تمھارے پيروں تلے زمين كھسك جاتى عمر نے جواب ديا تونے سچ كہا ليكن كياكيا جائے خداوندے عالم نے اسلام كى وجہ سے عزت دار گروہ كو ذليل كر دياہے اور ذليل گروہ كو باوقار بنا دياہے(۳۴)

جيساكہ اپ نے ملاحظہ فرمايا كہ اسلام نے ابو سفيان كو كسقدر ذليل ورسواكيا اور دوسروں كو نعمت و عزت بخشى اس وجہ سے وہ مجبوراً اپنے دل كى گہرائيوں ميں اسلام اور مسلمانوں كے خلاف كينہ وعناد بوتا رہا ،اسكايہ عناد مختلف اوقات ميں اسكى باتوں سے ظاہر ہوتا رہا _

عبداللہ بن زبيركابيان ہے كہ ميں اپنے باپ كے ہمراہ جنگ يرموك ميں شريك تھا ليكن اتناكمسن تھاكہ جنگ نہيں كر سكتا تھا ،اثناء جنگ ميں نے ديكھا كچھ لوگوں كو ايك پہاڑ كى چوٹى پر،جواس جنگ سے علحدہ تھے _

ميں ا ن كے پاس گياتو وہاں ابو سفيان تھا جو چند سرداران قريش كے ساتھ بيٹھاہو ا تھا ،يہ سب لوگ وہ تھے جو فتح مكہ كے بعد اسلام لائے تھے ،ميں انكے درميان بيٹھ گياانھوں نے مجھے بچہ خيال كيا اس لئے سمجھ رہے تھے كہ ميں انكى باتوں كو نہيں سمجھ سكوں گا ،وہ ازادانہ اپنى باتيں جارى ركھے ہوئے تھے ،كوئي بات چھپانہيں رہے تھے و ہ لو گ جب مسلمانوں كو پيچھے ہٹتا ہو ا ديكھتے تھے اور روميوں كو اگے بڑھتا ہو اتو چلّاتے تھے _ہاں _ زندہ باد روميوں

ليكن جب روميوں كو پيچھے ہٹتاہو ا ديكھتے تھے اور اسلام كاغلبہ ديكھتے تھے تو افسوس كے ساتھ آواز ديتے تھے ہائے روميوں تم پر افسوس ہے _

اخر خدا وند عالم نے روميوں كو شكست دى اور وہ بھاگ گئے تو ميں نے سارا واقعہ اپنے باپ زبيرسے

____________________

۳۴_ تہذيب ابن عساكر ج۶ ص ۴۰۷


بيان كيا ،انھوں نے ہنستے ہوئے كہا :خدا انھيں نيست نابود كرے يہ كبھى اپناكينہ وعناد ختم نہيں كريں گے كياہم روميوں سے بہتر نھيں ہيں ؟(۳۵)

ايك دوسرى روايت ميں يوں منقول ہے كہ جب رومى ،مسلمانوں كو پيچھے ہٹنے پر مجبور كرتے تھے تو ابو سفيان كہتا تھا شاباش روميوں ،ليكن جب مسلمان غالب اتے تھے توابوسفيان كہتا تھا ،ہائے بلند مرتبہ رومى ،اب بادشاہوں كاذكر بھى باقى نہيں رہے گا _

جس وقت اسلامى مجاہدوں كو مكمل فتح حاصل ہو گئي تو ميں نے اس داستان كو اپنے باپ سے بيان كيا ،انھوں نے ميرا ہاتھ پكڑ كر مسلمانوں كے مختلف گروہ كے درميان پھرايا _ہر گروہ كے سامنے پہنچ كر كہتے تھے كہ اے بيٹے _سارى بات ان لوگوں سے بيان كرو_ميں نے جو كچھ سناتھا ان سے بيان كر ديتا تھا _وہ سب لوگ ابوسفيان اور سرداران قريش كے نفاق اور دورنگى چال كو سنكر سخت تعجب كرتے تھے(۳۶)

ابوسفيان عثمان كے زمانے مي

ايك زمانہ گذر گيا _ عمر قتل كئے گئے اور عثمان خليفہ ہو گئے ،ابو سفيان كو خليفہ سے رشتہ دارى كى بنا پر تازہ احترام حاصل ہو گيا ،اب گزشتہ تحقير كى حالت بدل گئي تھى ،اسى زمانہ ميں ايك دن ابو سفيان عثمان كى مجلس ميں وارد ہوا اور كہنے لگا _

اے فرزندان اميہ اب خلافت قبيلہء بنى عدى و تيم سے نكل كر تمھارے چنگل ميں اگئي ہے جس طرح بچّے گيند سے كھيلتے ہيں اسى طرح ا س كو اپنے درميان گھماتے رہو، خداكى قسم نہ بہشت ہے نہ دوزخ(۳۷)

____________________

۳۵_ طبرى ج۴ ص ۱۳۷ ، ابن اثير ج۲ ص ۲۸۲ ، اصابہ ج۲ ص ۱۷۲ ، تہذيب ابن عساكر ج۵ ص ۳۵۶

۳۶_ اغانى ج ۶ ص ۳۵۶ ، استيعاب ص ۶۸۹ ، اسد الغابہ ج۵ ص ۲۱۶

۳۷_ اغانى ج ۶ ص ۳۵۶، استيعاب ص ۶۹۰


ايك دوسرى روايت ميں ہے كہ ابوسفيان نے كہا :اے بنى اميہ خلافت كو گيند كى طرح كھيلو اسكى قسم جسكى ابو سفيان كھاتا ہے ہميں عرصے سے يہ ارزو تھى كہ خلافت تمہارے قبضہ ميں اجائے اب اسے وراثت كے طور پر اپنے فرزندوں كو سونپے جانا، عثمان نے يہ بات سن كر ناپسنديدگى كا مظاہرہ كيا(۳۸)

ايك دوسرى روايت ميں ہے كہ جب ابو سفيان بوڑھاہو گيا اورانكھ بھى كھو بيٹھا تھا توايك دن عثمان كے پاس آيا اور بيٹھتے ہى كہنے لگا ،يہاں كوئي غير شخص تو نہيں ہے جو ميرى بات دوسروں تك پہنچا دے عثمان نے كہانہيں ،ابوسفيان نے كہا ،يہ خلافت كامعاملہ دنياوى معاملہ ہے اور يہ حكومت جاہلى عہدكى حكومت كى طرح ہے اس لئے تم ا س كے تمام عہدوں كو بنى اميہ كے حوالے كرو(۳۹)

انھيں آيا م ميں وہ ايك دن شہيداسلام حضرت حمزہ كى قبر پر پہنچااور اس عظيم شہيد كى قبر پر ٹھوكر مار كر بولا، اے ابو عمارہ جس معاملہ ميں كل ہم سے اور تم سے تلوار چلى تھى ، وہ اج ہمارے بچّوں كے ہاتھ ميں ہے وہ اسے گيند كى طرح كھيل رہے ہيں(۴۰)

ا س سے معلوم ہوتا ہے كہ عثمان كے خليفہ ہو جانے سے ابوسفيان كى ناپاك تمنّائيں پورى ہو گئيں جس ارزو كے لئے بڑے بڑے سرداران قريش قتل كئے گئے تھے ليكن مسلمانوں كى استقامت سے وہ ارزوپورى نہيں ہوئي تھى ا ب خلا فت عثمان ميں وہ تمام ارزوئيں پورى كر ديں ابو سفيان خلافت عثمان كے زمانہ ميں ۳۱ھ يا۳۲ھ يا۳۴ھ ميں مرگياليكن اسكى زوجہ (ھند) خلافت عمر ہى كے زمانہ ميں مر چكى تھى(۴۱)

____________________

۳۸_ مروج الذھب ج ۵ ص ۱۶۶

۳۹_ اغانى ج ۶ ص ۳۵۵ اگر خلافت عثمان كا گہرائي سے مطالعہ كيا جائے تو معلوم ہو سكتا ہے كہ ابو سفيان كا منحوس مشورہ سر بسر بنى اميہ كے ہاتھوں پورا ہوا معاويہ كے ہاتھ ميں يہ موروثى حكومت ائي اور عثمان كے دور ميں سارى سلطنت اسلامى پر امويوں كى حكمرانى تھي_

۴۰_شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۱۰۲

۴۱_ اسد الغابہ ص ۵۶۳


( فصل دوم)

معاويہ رسول اسلام(ص) كے زمانے ميں

معاويہ نے كفر واسلام كے درميان ٹكراو ميں كليدى كردار اداكيا اور ايك لمحے كے لئے بھى سرداران كفّار سے دورى اختيار نہيں كى ،يہاں تك كہ اس دن بھى جب اسكے باپ (ابوسفيان) نے ظاہرى اسلام قبول كيا تب ا س نے مذمت اميز اشعار ميں اسكو مخاطب كيا

اے صحر _اسلام قبول مت كرناكيونكہ ہم لوگ رسوائي اور ذلت سے دوچار ہو جائينگے _

حالانكہ ہمارے رشتہ دار جنگ بدر ميں ٹكڑے ٹكڑے ہو گئے _

ہمارے ماموں چچا اور بھائي تينوں مارے گئے ،اپنے بھائي حنظلہ كى موت پر تو ہمارى راتوں كى نينداچاٹ ہو گئي _

ايك لمحے كے لئے بھى اسلام كو قبول نہ كرناكيونكہ ہم ذليل ہو جائينگے

ا ن اونٹوں كى قسم جو راہ مكہ ميں رواں دواں ہے

موت اسان ہے دشمنوں كى ملامت سے

جويہ كہيں كہ حرب كے بيٹے ابوسفيان نے خوف ووحشت سے عزى بت سے منھ موڑ لياہے(۴۲)

معاويہ فتح مكہ كے بعد اپنے تمام لوگوں كے ساتھ جنھوں نے بظاہر اسلام قبول كيا تھا مولفة القلوب كے حصہ ميں جنگ حنين كے مال غنيمت سے _۱۰۰ _اونٹ اور كافى مقدار ميں چاندى حاصل كى تھى اسى سال كے اواخر ميں پيغمبر اسلام(ص) نے اپنى اعلى ظرفى كامظاہر ہ كركے اسے كاتبوں كى فہرست ميں شامل كر ديا(۴۳)

ايك دن اسى كتابت كى غرض سے عباس كو بلانے كے لئے بھيجا اور حكم دياكہ رسول(ص) اكرم تمھيں خط لكھنے كے لئے بلا رہے ہيں ،عباس نے د يكھا كہ كھاناكھا رہاہے تو واپس جاكر رسول(ص) خداكو اگاہ كر ديا دوسرى مرتبہ رسول (ص) خدانے

____________________

۴۲_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۱۰۲ ، تذكرة الخواص ص ۱۱۵ ، جميرة الخطب ج۲ ص ۱۲

۴۳_ تنبيہ الاشراف ص ۲۸۳


عباس كے فرزند كو بلانے كے لئے بھيجا ا س مرتبہ بھى وہ كھاناكھانے كى وجہ سے نہيں آيا ،اپ نے تيسرى مرتبہ بھيجاليكن معاويہ مسلسل كھاناكھاتے جارہاتھا تيسرى بار بھى ابن عباس نے جب كھانے كى وجہ سے حكم رسول(ص) كو نظر انداز كرتے ديكھا تو ابن عباس كابيان ہے كہ رسول(ص) اسلام نے ا س پر لعنت فرمائي _ اور فرمايا :ميں اميدوار ہوں كہ اللہ اسكا كبھى پيٹ نہ بھرے(۴۴)

ا س كے بعد تو معاويہ اكثر كہتا تھا كہ دعائے رسول (ص) نے مجھے اپنى گرفت ميں لے لياہے اور ميرے حق ميں لعنت قبول ہو گئي، ا س لئے وہ روزانہ متعدد بار كھاناكھاتا تھا اور بہت زيادہ مقدار ميں كھاناكھاتا تھا پھربھى وہ بھوكھاہى رہ جاتاتھا ،يہاں تك كہ معاويہ كى پر خورى ضرب المثل بن گئي تھى ،جوشخص بھى زيادہ كھاناكھاتاتھا تو لوگ اسے كہتے تھے كان فى احشائہ معاويہ ا س كاپيٹ تو معاويہ كاخندق ہو گيا ہے _

اس مسئلہ سے صرف نظر كرتے ہوئے كہ كاتب رسول (ص) ہونے كااكثر نے انكار كياہو، معاويہ سابق قريش مكہ كارئيس تھا ،ابوسفيان كى بيوى سے سيادت ختم ہو گئي تھى وہ اسلامى معاشرے ميں كوئي وقعت نہيں ركھتا تھا اور نہ كوئي اسكى طرف توجہ ديتاتھا،كيونكہ اولاً عوامل احترام جيسے علم وتقوى سے وہ خالى تھااور دوسرے مادى اور مالى لحاظ سے بھى وہ تہى دست تھاجولوگوں كى انكھيں خيرہ كرتى ہيں _

ايك دن كسى مہاجر عورت نے بارگاہ رسول خدا(ص) ميں معاويہ ياكسى دوسرے شخص سے شادى كى گزارش كي، رسول(ص) اكرم نے فرمايا :معاويہ مفلس ہے اسكے پاس دولت و ثروت نہيں(۴۵)

ائندہ جواس سے گناہ سر زد ہونے والے تھے وہ رسول(ص) اسلا م كى نگاہ سے كيسے پوشيدہ رہ سكتے تھے اس لئے اپ نے مختلف موقعوں پر مسلمانوں كو اسكى مدداور نصرت سے روكا _

مندرجہ ذيل تاريخى نمو نوں كو ديكھا جاسكتا ہے ،ايك دن رسول خدا (ص) مدينہ سے نكل كر كسى سفر پر جارہے تھے_

اپ نے سماعت فرماياكہ دو ادمى چلّارہے ہيں اور دونوں ايك دوسرے كے ساتھ يہ شعر پڑھ

____________________

۴۴_ انساب الاشراف ص ۵۳۲ ، صحيح مسلم ج۸ ص ۲۷ ، شرح نہج البلاغہ ، مسند طيالسى ، ابن كثير ج ۸ ص ۱۱۹

۴۵_صحيح مسلم ج۴ ص ۱۹۵ ، مسند طيالسى ، مسند ابن داو د، سنن ابن ماجہ


رہے ہيں كہ ہمارے ہمراہيوں اور دوستوں كى ہڈياں اتنى ظاہر ہو چكى ہيں جنگ انكے دفن ہونے اور چھپ جانے سے مانع ہے _

رسول(ص) نے فرماياكہ تلاش كرو اور ديكھوكہ يہ كون لوگ ہيں

لوگوں نے اكر بتاياكہ معاويہ اور عمر و عاص ہيں

رسول(ص) اكرم نے دونوں ہاتھ بلند كر كے فرمايا :خدايا،ان دونوں كو فتنہ ميں ڈال د ے اور اتش جہنم ميں جھونك دے(۴۶)

ايك دوسرى حديث ميں ہے كہ رسول اسلام (ص) نے ان دونوں كو جنگ تبوك سے علحدہ ديكھا كہ اپس ميں باتيں كرتے ہوئے جارہے ہيں ،اپ نے اپنے اصحاب سے مخاطب ہو كر فرماياكہ جب بھى ان دونوں كو ايك دوسرے كے ساتھ ديكھو تو انھيں علحدہ كر دو كيونكہ يہ دونوں (معاويہ وعمروعاص) كبھى خير وصلاح پر متّفق نہيں ہونگے(۴۷)

تيسرى حديث ميں ہے كہ انحضرت(ص) نے ا ن دونوں كو اكٹھا ديكھاتو بہت تيز و تند نگاہ ڈالي، دوسرے اور تيسرے روز بھى ايساہى اتفاق آيا روزانہ رسول(ص) اكرم كافى دير تك ان پر تيز و تند نگاہ ڈالتے رہے ،تيسرے د ن فر ماياكہ جب بھى د يكھو كہ معاويہ اور عمرو عاص ايك ساتھ ہيں تو انھيں علحدہ كر دو كيونكہ ان دونوں كى رفاقت كبھى خير وصلاح پر نہيں ہو سكتى ہے(۴۸)

ايك روز ابوسفيان سوارى سے جارہاتھااور اسكے دونوں فرزند يزيد و معاويہ ہمراہ چل رہے تھے ايك نے لجام تھام ركھى تھى اور دوسراپيچھے سے ہنكارہاتھا _

رسول اسلام(ص) نے جب اس حال ميں ديكھاتو فرمايا

خدايا _ اپنى لعنت اس سوار پرفرما ،اور اسكے ہانكنے والے پر بھى لعنت فرما اور اسكے كھيچنے والے پر بھى ان سبكو

____________________

۴۶_ مسند احمد ج۴ ص ۴۲۱ ، صفين ، نصر بن مزاحم ، النصائح الكافيہ

۴۷_ عقد الفريد

۴۸_ صفين _ نصر بن مزاحم


اپنى رحمت سے دور ركھ(۴۹) _

يہ حوادث اور ا س طرح كے ارشادات رسول(ص) اكرم كتابوں ميں موجود ہيں ،اگر چہ ہم نے ان سب كاتذكرہ نہيں كياہے ،ان تمام بے شمار نمونوں كو كتب تاريخ و حديث سے ملاحظہ كرنے كے بعد معاويہ اور اسكے خاندان كى صحيح تصوير سمجھى جاسكتى ہے _

معاويہ خلفاء كے زمانے ميں

وفات رسول (ص) كے بعد جب ابو بكر تخت خلافت پر آئے تو سب سے پہلے جس نے مخالفت كى وہ ذات ابوسفيان كى تھى ،وہ اس بات كو برداشت نہيں كر سكتا تھاكہ پست خاندان كے لوگ قريش كے سرداروں پر حكومت كريں ،قريش كے اہم قبيلہ بنى ہاشم اور بنى اميہ جودونوں ايك نسل اور عبد مناف كے فرزند تھے اور چچيرے بھائي تھے اس تخت خلافت سے كيوں دور رہيں ،يہى وجہ تھى كہ ابوسفيان پہلى فرصت ميں حضرت امير المومنين(ع) كى خدمت ميں اكر بولا _

اے ابولحسن _اپ اپناہاتھ بڑھايئےاكہ اپكى بيعت كروں _

حضرت اميرالمومنين(ع) _وہ اپنے ہر اقدام پر اپنے اسى قول كے سلسلے ميں تيار تھاكہ ميں اس فضا كو غبار الود ديكھ رہاہوں كہ سوائے خون كے كوئي چيز نہيں بٹھاسكتى ہے(۵۰)

ارباب سقيفہ، ابوسفيان اور اسكى قدرت سے بخوبى اشناتو تھے ہى لہذاانھوں نے اسے لالچ كے جال ميں جكڑ كر خاموش كر ديا _

عمر نے ابو بكر سے كہا :جوصدقات رسول(ص) كے زمانے ميں ا س كے قبضہ ميں ہيں اسى كے پاس رہنے دياجائے تاكہ ا س كے شر سے محفوظ رہيں(۵۱)

____________________

۴۹_ صفين _ طبرى _ شرح نہج البلاغہ _تذكرة الخواص

۵۰_ طبرى ج۲ ص ۴۴۹

۵۱_ عقد الفريد ج۳ ص ۶۳ ، طبرى ج۲ ص ۴۴۹


اس پر عمل ہو ا اور ابوسفيان نے بيعت كر كے انكى رياست و حكومت كو استحكام بخشا _

كيونكہ ايك طرف تو اسے حكومت و رياست كى اميد نہيں تھى اور دوسرى طرف اميرالمومنين(ع) نے اسكى ہونكارى بھى نہيں بھرى اور ايساكرتے بھى نہيں لہذاتيسرے راستہ كے علاوہ كوئي چارہ نہيں تھا كہ اپنے كو ارباب حكومت كے حوالے كر دے ،ا س طرح ابوسفيان بھى سقيفہ كے مددگاروں ميں شامل ہو گيا ،وہ اور ا س كا خاندان سقيفہ كاحمايتى بن گيا _

ابو بكر نے بھى ابوسفيان كو خاموش كرنے اور اسكاتعاون حاصل كرنے كے لئے ،اسكے بيٹے يزيد كو شام كے علاقے فتح كرنے كے لئے بھيجے جانے والى فوج كاسردار معين كر ديا ،يہ حادثہ ہجرت كے تيسرے سال پيش آيا ،معاويہ بھى بھائي كے ساتھ فوج ميں شامل تھا ،شام فتح ہونے كے بعد ابو بكر كے حكم سے يزيد ابن ابوسفيان حكومت دمشق پر فائز ہو گيا، وہاں وہ فوج كا سپہہ سالار بھى تھا اور دمشق كاحاكم بھى _

خلافت عمر كے زمانے ميں جس وقت يزيد ابن ابوسفيان طاعون كے مرض ميں گرفتار ہوا تو اسنے اپنے بھائي معاويہ كو اپنى جگہ معين كرنے كے لئے، خليفہ كو خط لكھا خليفہ دوم نے اسكى بات مان كر حكومت معاويہ كے حوالے كردى(۵۲)

شام پر معاويہ كى حكومت كے زمانے ميں عمر نے مصر كاسفر كيا ،جس دن وہ دمشق ميں پہنچے تو معاويہ نے ا ن كا شاندار استقبال كيا ،عمر نے جب معاويہ كاجاہ وجلال ديكھاتو كہا ،يہ شخص عرب كاكسرى ہے _

جب معاويہ اسكے قريب آيا تو اس سے كہا كہ ،تم اتنے جاہ وجلال كے مالك ہو گئے ؟

معاويہ نے جواب ديا _جى ہاں اميرالمومنين

عمر نے پوچھا ،ايسا كيوں كرتے ہو ؟

معاويہ نے كہا :اخر ہم ايك ايسى سر زمين پر رہتے ہيں جہاں دشمن (روميوں ) كے جاسوس زيادہ ہيں لہذا ضرورى ہے كہ ہم سطوت وشكوہ كامظاہرہ كركے ان پر اپنا رعب و دبدبہ قائم ركھيں تاكہ يہ لوگ ہم سے خوف كھائيں(۵۳)

عمر كازمانہ حكومت ختم ہو گيا ،اور تخت خلافت پر عثمان براجمان ہوئے تو انھوں نے دمشق كے ساتھ تمام

____________________

۵۲_ طبرى ج۴ ص ۲۰۲ سير اعلام النبلہ ج۱ ص ۲۳۸

۵۳_ استيعاب ج۱ ص ۲۵۲ ،اصابہ ج۳ ص ۴۱۳ ، ابن كثير ج۸ ص ۱۲۰


شامى علاقہ معاويہ كے حوالے كر ديا جو اج شام ،فلسطين ،اردن ،اور لبنان كاعلاقہ ہے _

معاويہ اپنے امور ميں پو رى طرح ازاد ہو گيا، معاويہ نے اپنى عادت كے مطابق جو انھيں جاہلى انداز كى تر بيت ہوئي تھى حكومت كو بھى جاہلى انداز پر ڈھالنا شروع كيا ،انھيں انكى منحوس خواہشوں پر بندش عائد كرنے والاكوئي نہيں تھا _

ان كى مطلق العنانى كے كچھ نمونے يہ ہيں جوبزر گ خزرجى صحابى رسول (ص) عبادہ ابن صامت كے ساتھ پيش آئے ،عبادہ ان بارہ افراد ميں تھے جنھوں نے بيعت عقبى ميں شركت كى تھى اور نفساء كے افتخار اميز لقب كى ايك فرد تھے ،يہ مدينہ كے اولين مسلمانوں ميں شامل تھے يہ ان لوگوں ميں ہيں جنھوں نے رسول اكرم (ص) كے زمانے ميں قران جمع كياتھا

عمر ابن خطاب نے اس عظيم صحابى كو يزيد ابن ابوسفيان كے زمانے ميں شام والوں كو قران كى تعليم دينے كے لئے بھيجا ،وہ يزيد كى موت تك شہر حمص ميں رہے ،يزيد كے مرنے كے بعد جب معاويہ ا ن كا جانشين ہو ا تو ان كى سر كردگى ميں رومى علاقوں سے جنگ كے لئے فوج بھيجى گئي ، اہلسنت كے مشہور اور عظيم محدث اپنى كتاب، صحيح مسلم ميں نقل كرتے ہيں كہ ،ايك اسلامى جنگ ميں معاويہ اور عبادہ دونوں شريك تھے ،جنگ فتح ہوئي اور ڈھير سارامال غنيمت ہاتھ آيا اس مال غنيمت ميں سونے اور چاندى كے بہت سے ظروف بھى تھے، معاويہ نے حكم دياكہ ان ظروف كو بيچ كر اسكى قيمت مسلمانوں ميں تقسيم كردى جائے ،لوگ برتنوں كوخريدنے كے لئے جمع ہوئے اورا نھيں ظروف كے مقدار ميں مساويانہ حيثيت سے قيمت معين ہوئي ،جب اس حادثہ كى خبر عبادہ كو پہنچى تو اپنى جگہ سے اٹھ كر اعلان كرنے لگے كہ ميں نے رسول خدا(ص) سے سناہے كہ سونے كے بدلے سونااور چاندى كے بدلے ميں چاندى مساويانہ حيثيت كے علاوہ كسى دوسرى طرح خريدنے پرمنع فرماياہے جوزيادہ قيمت دے گا وہ سود ميں گرفتار ہوگا _

اس حديث كو سننے كے بعد لوگوں نے اپنى اضافى قيمت واپس لے لى _

جب معاويہ كو معلوم ہو ا تو سخت غصہ كى حالت ميں تقرير كى _

لوگوں كو كيا ہو گيا ہے كہ حديث رسول بيان كرنے لگے ہيں ،ہم بھى انحضرت(ص) كے ساتھ رہے اور انھيں ديكھا ہم نے كبھى ايسى حديث نہيں سنى _

يہ سن كر عبادہ نے اپنى بات كو دوبارہ كہا پھر اضافہ كيا كہ ہم نے جو كچھ حديث رسول(ص) سنى تھى وہ تم لوگوں كو سنادى چاہے معاويہ اس سے ناخوش ہوں ياراضى نہ ہوں _


ايك دوسرى روايت كے مطابق انھوں نے كہا كہ چاہے معاويہ اس سے ناخوش ہى ہوں مجھے اسكى پرواہ نہيں ہے كہ ايك رات بھى معاويہ مجھے اپنے لشكر ميں قبول نہ كرے(۲)

احمدبن حنبل اور نسائي كى روايت كے مطابق عبادہ نے كہا كہ خداكى قسم ہم نہ كسى سے متاثر ہوئے ہيں اور نہ ہى ہونگے ،ہم اس سر زمين پر ايك شب بھى نہيں رہينگے جہاں معاويہ رہے گا(۳)

صاحب اسد الغابہ اور سير اعلام النبلاء نے عبادہ كے حالات لكھتے ہوئے اس مسئلے كو يوں بيان كيا ہے كہ عبادہ نے معاويہ كے كچھ امور سے سر پيچى كى اور ان امور كو قوانين اسلامى كى صريحى خلاف ورزى بتايا ، پھر كہا كہ ميں اورتم ايك سر زمين پر ہر گز نہ رہيں گے ، پھر وہ شام سے كوچ كر كے مدينہ اگئے عمر ا س وقت تك خليفہ تھے ،پوچھا كہ مدينہ كيوں واپس اگئے ؟عبادہ نے معاويہ كى نا شائستہ حركتوں كو بيان كيا گيا ، عمرنے كہا اپنى جگہ واپس جائو ، خدا و ند عالم اس زمين كو غارت كر ے جہاں تم اور تمھارے جيسے لوگ نہ رہيں ، اسكو ، تم پر حكمرانى كرنے كا حق نہيں ہے(۴)

ذہبى سير اعلام النبلاء ميں بيان كرتا ہے كہ ايك دن عبادہ بن صامت اور معاويہ مسجد ميں پہنچے ، اذان ہونے كے بعد خطيب منبر پر پہنچا ، اس نے خطبہ ميں معاويہ كى خوب تعريف كى عبادہ اپنى جگہ سے كھڑے ہوئے اور ايك مٹھى خاك خطيب كے منھ ميں ڈال دى ، معاويہ كو اس پر بہت غصہ آيا عبادہ نے معاويہ كى طرف رخ كر كے كہا ، كہ تو ا س وقت جبكہ ہم سر زمين عقبى پر رسول اكرم (ص) كے ہاتھوں پر اس بات كيلئے عہد و پيمان كر رہے تھے كہ جہاں بھى رہينگے حق قائم كر كے رہينگے ، تو ہمارے ساتھ نہيں تھا ہم نے يہ عہد كيا ہے كہ خدا كى راہ ميں كسى ملامت كى پرواہ نہ كرينگے ، رسول خدا (ص) نے فرمايا ہے كہ جب كسى كو ديكھو كہ رو در رو كسى كى مدح كر رہا ہے تو اسكے منھ ميں دھول جھونك دو(۵)

____________________

۲_ صحيح مسلم ج۵ ص ۴۶ ، تہذيب ابن عساكر ج۷ ص ۲۱۲

۳_ مسند احمد ج ۵ ص ۳۱۹ ، سنن نسائي ج۲ ص ۲۲۲

۴_ اسد الغابہ ج۳ ص ۱۰۶ ، اعلام النبلاء ج۲ ص ۲

۵_ سير اعلام ج۲ ص ۲ ، تہذيب ابن عساكر


ايك دوسرے دن معاويہ نے اپنى تقرير ميں مرض طاعون سے فرار كے سلسلے ميں كچھ باتيں كہيں ، عبادہ وہاں موجود تھے ، انھوں نے كہا كہ تيرى ماں ھندہ تجھ سے زيادہ دانا تر تھى ، معاويہ نے خطبہ تمام كيا پھر نماز پڑھى اور اپنے قصر ميں واپس جا كر عبادہ كو بلانے كے لئے ادمى بھيجا ، كچھ انصارى افراد شام ميں تھے جو عبادہ كے ساتھ ہو گئے ليكن حكومتى افراد نے ان لوگوں كو قصر ميں داخل ہونے سے روكا ، عبادہ اكيلے ہى معاويہ كے پاس پہونچے معاويہ نے ان سے كہا ، كيا تمھيں خوف خدا نہيں ہے اور اپنے امام سے شرم و حيا نہيں كرتے ، معاويہ نے امام سے خود، اپنے كو مراد ليا تھا _

عبادہ نے جواب ديا كيا تم نہيں جانتے كہ ميں نے شب عقبى رسول(ص) خدا سے عہد ليا تھا كہ اللہ كى راہ ميں ہم كسى سر زمين سے خوف نہ كھائينگے _

معاويہ اس دن نماز عصر كے لئے آيا نماز ختم كرنے كے بعد منبر تھام كر بولا ، اے لوگو ، ميں تم سے حديث بيان كرتا ہوں اور اپنے گھر واپس چلا جاتا ہوں ، پھر مجھے ايسى چيز ملتى ہے كہ عبادہ نے اسے دوسرى طرح سے بيان كيا ہے ان كى بات صحيح ہے تم لوگ انھيں كى پيروى كرو كيونكہ وہ مجھ سے زيادہ جانتے ہيں _

ان سارے حوادث ميں جن سے معاويہ كى نرمى كا اندازہ ہوتا ہے خلافت عمر كے زمانہ تك رہى كيونكہ وہ عمر كى سختى اور طاقت سے بہت ڈرتے تھے ، انكى تند مزاجى حد سے اگے بڑھنے كى اجازت نہيں ديتى تھى _

معاويہ و عثمان

معاويہ كى حالت عثمان كے زمانے ميں وہ نہيں تھى جو قبل كے دونوں خليفہ كے زمانے ميں تھى _

معاويہ، عثمان كے زمانے ميں پورى طرح مطلق العنان ہو كر تمام قانون و اخلاق كو بالائے طاق ركھ چكا تھا _

ثروت و اقتدار نے انھيں تما م اسلامى مسائل اور انسانى تقاضوں كو فراموش كر ديا تھا _

ابن عساكر اور ذہبى نقل كرتے ہيں كہ ، ايك دن عبادہ بن صامت دمشق كى سڑكوں سے گذر رہے تھے ، انھوں نے اونٹوں كى قطار يں ديكھيں جن پر شراب تھى ، پوچھا ، يہ كيا ہے؟ كيا روغن زيتون ہے ؟


لوگوں نے كہا _ نہيں _ يہ شراب ہے _ معاويہ نے اسے خريدا ہے ، انہيں كے لئے لے جائي جارہى ہے ، عبادہ بے دھڑك بازار سے ايك تلوار لائے اور شراب كى تمام مشكوں كو پھاڑ ڈالا _

ابو ھريرہ اس زمانے ميں شام ميں ہى تھے ، وہ رسول خدا (ص) كے زمانے ميں تو كسى گنتى ميں نہيں تھے ليكن بعد رسول (ص) خلافتوں كى پشت پناہى كيوجہ سے لائق صد احترام ہو گئے تھے ، معاويہ نے ايك شخص كو ابو ھريرہ كے پاس بلانے كے لئے بھيجا ،اور كہا كہ اپنے بھائي عبادہ كو كيوں نہيں روكتے ، وہ صبح صبح بازار ميں پہونچكر ذميوں كى اجيرن كر رہے ہيں ، راتوں كو مسجد ميں بيٹھ كر سوائے اسكے اور كوئي كام نہيں كہ ميرى چھتاڑ مچائيں _

ابو ھريرہ معاويہ كے كہنے سے عبادہ كے پاس جانے كے لئے گھر سے نكلے ، جس وقت ان سے ملاقات ہوئي تو بولے اے عبادہ ، تمھيں معاويہ سے كيا مطلب ، انھيں ان كے حال پر چھوڑ دو ان كے كاموں ميں مداخلت كيوں كر رہے ہو ، عبادہ نے كہا اے ابوہريرہ جس وقت ہم نے رسول(ص) خدا سے عہد و پيمان كيا تھا كہ اپكى باتوں پر توجہ ديں گے _

اور اپنى طاقت بھر امر بالمعروف اور نہى از منكر كرينگے ، تم تو اسوقت ہمارے ساتھ نہيں تھے ، ابو ھريرہ كو خاموشى كے سوا كچھ بس نہ چلا ، مجبور ہو كر معاويہ نے عثمان كو خط لكھا كہ عبادہ اہل شام كو خراب اور فاسد كر رہے ہيں يا تو اپ انھيں اپنے پاس بلايئےور انھيں انكے اقدامات سے روكئے يا پھر ميں ہى شام كو انكے اختيار ميں ديدوں عثمان نے انھيں لكھا كہ عبادہ كو شہر سے نكال دوتا كہ اپنے وطن مدينہ واپس اجائيں _

مورخين كا بيان ہے كہ جس وقت عبادہ مدينہ آئے اور عثمان كے پاس گئے تو عثمان اپنے گھر پر بيٹھے تھے ، اچانك انھوں نے سراٹھايا تو عبادہ كو اپنے سامنے كھڑا پايا ان سے بولے ، تمھيں ہم لوگوں سے كيا مطلب ، تم ہمارے امور ميں كيوں ٹانگ لڑا رہے ہو ؟

عبادہ وہيں لوگوں كے سامنے كھڑے ہو كر كہنے لگے ، ميں نے رسول اسلام كو يہ فرماتے ہوئے سنا ہے كہ ميرے بعد ايسے لوگ حكومت كرينگے جو اپنے عمل سے تمھيں منكرات اور نا شائستہ حركتوں كا رسيا بنا دينگے ، اور اچھائيوں كى تمہارى عادت ہو گى ، اسكو چھين لينگے ، ايسى صورت ميں ايسے پاپيوں كى اطاعت تمھارے لئے مناسب نہيں ، ديكھو ہو شيار خدا كى راہ و روش سے اپنے كو گمراہ نہ كرنا _

ابن عساكر كى روايت كے مطابق ، ا س كے بعد مزيد كہا كہ اس خدا كى قسم جس كے قبضہ قدرت ميں عبادہ


كى جان ہے ، معاويہ اس گروہ كا ايك فرد ہے _

عبادہ كى باتيں سنكر عثمان نے پھر كچھ نہ كہا ، اورنہ كوئي اعتراض كيا(۶)

معاويہ كى شراب خوارى اور اصحاب رسول (ص) سے نوك جھونك يا لڑائي جھگڑے كى داستان صرف عبادہ ہى تك منحصر نہيں ہے ، مورخين كا بيان ہے كہ :

عبد الرحمن بن سھل بن زيد انصارى جہاد ميں شريك ہونے كى غرض سے شام و دمشق گئے ہوئے تھے ، اس زمانے ميں جيسا ہم جانتے ہيں كہ معاويہ كى حكومت شام پر تھى ايك دن وہ راستے سے گذر رہے تھے كہ كچھ شراب كى مشكوں كو لے جاتے ديكھا _

اپنے نيزے سے تمام مشكيزوں كو پھاڑ ڈالا ، مشك كے ہمراہ جو غلام تھے ان سے ہاتھا پائي كرنے لگے ، يہاں تك كہ معاويہ كے پاس خبر پہونچى ، معاويہ نے اپنے كارندوں سے كہا ، انھيں چھوڑ دو ا ن كى عقل زائل ہو گئي ہے _

معاويہ كى بات عبد الرحمن سے بيان كى گئي تو بولے خدا كى قسم ميرى عقل نہيں مارى گئي ہے _ليكن رسول خدا (ص) نے ہميں حكم فرمايا ہے كہ شراب اپنے گھروں ميں ہرگز نہ لے جائيں ،ميں قسم كھاتا ہوں كہ اگر ميں اس سر زمين پر رہونگا اور معاويہ كو وہ باتيں كرتا ہوا ديكھوں گا جن سے رسول خدا نے منع فرمايا ہے تو اسكا پيٹ پھاڑ دونگا، يا پھر اس راہ ميں جان ديدونگا(۷)

مسند احمد بن حنبل ميں عبد اللہ بن بريدہ سے منقول ہے كہ :

ميں اپنے والد كے ہمراہ معاويہ كے يہاں گيا ، ہميں فرش پر بيٹھا يا گيا اور كھانے كے بعد شراب پيش كى گئي ، معاويہ نے اسكو نوش كيا ، پھر ايك شراب كا جام ميرے والد كو ديا ليكن ميرے والد نے انكار كرتے ہوئے كہا ، جب سے رسول اكرم (ص) نے شراب كو حرام كيا ہے اس دن سے ميں نے منھ كو نہيں لگايا ہے ()

معاويہ كى شراب نوشى كى اسكے علاوہ بھى ڈھير سارى داستانيں ہيں جنھيں ابن عساكر نے نقل كيا ہے(۸) ، جنھيں اس سے زيادہ كى طلب ہو تو اسكى معتبر كتابوں كى طرف رجوع كريں _

____________________

۶_ تہذيب ابن عساكر ج۸ ص ۲۱۲ ، اعلام النبلاء ج۲ ص ۴ ، مسند احمد ج ۵ص ۳۲۵

۷_ اصابہ ج۲ ص ۳۹۴ ، استيعاب ص ۴۰۰ ، اسد الغابہ ج۳ ص ۲۹۹ ۳_مسند احمد بن حنبل ج۵ ص ۳۴۷

۸_ ابن عساكر ج ۷ ص ۲۱۳ _ ۳۴۸ ، اصابہ ج۲ ص ۲۸۲


ابوذر معاويہ كے مقابل

انہيں عثمان كے زمانے ميں معاويہ سے مشہور اور بزرگ جرى صحابى رسول حضرت ابوذر كى سخت محاذ ارائي ہوئي ، اسكى تفصيل تو طوالت چاہتى ہے ليكن ہم نا گزير طور سے ا س كا مختصر تذكرہ كر رہے ہيں ، مورخين كا بيان ہے كہ ابوذر ان پاكباز مسلمانوں ميں ہيں جو زمانہ جاہليت ميں بھى توحيد پرست تھے وہ خدا كو يكتا مانتے تھے جاہلى عہد ميں وہ بت پرستى سے متنفر رہے(۹)

جب انھيں خبر ملى كہ مكے ميں پيغمبر اخر كا ظہور ہوا ہے تو لپك كر مكہ پہونچے وہ پانچويں يا چوتھے شخص تھے جنھوں نے اسلام قبول كيا _

انہوں نے مسلمان ہونے كے دوسرے دن مسجد الحرام ميں جاكر مشرك قريش كے سامنے بلند آواز سے اپنے اسلام كا اظہار فرمايا ، ان پر قريش نے چاروں طرف سے حملہ كيا اور ا س قدر زد و كوب كيا كہ لہو لہان ہو كر بيہوش ہو گئے ، اگر رسول اكرم (ص) كے چچا عباس مدد كو نہ پہونچتے تو ممكن تھا كہ لوگوں كى اذيت سے مر جاتے ، كچھ دير بعد زخمى حالت ميں تھكے تھكے اپنى جگہ سے اٹھے ايك كونے ميں گئے تاكہ زخموں كو دھوئيں اور اذيت و تكليف كم كر سكيں _

دوسرے دن بھى ابوذر مسجد الحرام ميں آئے اور بلند آواز سے خدا كى يكتائي اور محمد (ص) كى رسالت كا اعلان كيا ، انھيں حق كى راہ ميں كسى قسم كا خوف و ہراس نہيں تھا ، دوسرى بار بھى لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور پہلے دن كى طرح زد و كوب كر كے لہو لہان كر ديا _

ا س كے دوسرے دن بعد اپ حكم رسول (ص) سے اپنے وطن واپس چلے گئے تاكہ وطن والوں پر اپنے اسلام كا اظہار كر كے

____________________

۹_ طبقات كبرى ج۴ ص ۲۲۳، سير اعلام ج۲ ص ۳۸ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۳۰۱


تبليغ كر سكيں ، ابوذر اپنے قبيلہ غفار ميں پلٹ گئے اور انھيں قبول اسلام پر امادہ كرنے كى بہت كوشش كى اسى طرح كئي سال گذر گئے يہاں تك كہ انھوں نے خبر سنى كہ رسول(ص) اسلام مدينہ ہجرت كر گئے ہيں اور وہاں شان و شوكت بڑھ گئي ہے ، انھوں نے دوبارہ رخت سفر باندھا اور اپنے كاشانہ كو خير اباد كر كے اپنے خليل كے جوار ميں جانے كا قصد كيا تاكہ انھيں كے زير سايہ سكون پائيں ، ا پ كى ہجرت جنگ خندق كے بعد ہوئي ہے ، ا س كے بعد تو انھوں نے ايك لمحے كے لئے بھى رسول اكرم (ص) كا ساتھ نہيں چھوڑا اپنى صلاحيت بھر انھوں نے انحضرت(ص) سے علم و روحانيت كے خرمن سے كسب فيض كيا ، انھوں نے ا س قدر خلوص كا مظاہرہ كيا ، اس قدر عبادت و رياضت كى اس قدر ذكر و فكر ميں اپنا سر كھپايا كہ محبوب ترين اصحاب رسول (ص) ميں شمار كئے جانے لگے _

پيامبر اكرم (ص) نے بہت سى احاديث صحيح ميں اپكى ستائشے فرمائي ہے

۱_ وما اظلت الخضراء ولا اقلت الغبراء من ذى لہجة اصدق من ابى ذر _ ترجمہ : نہ نيلگوں اسمان نے سايہ كيا اور نہ زمين نے بوجھ اٹھايابوذر ايسے سچے انسان كا _

۲_ جنگ تبوك ميں ابوذر لشكر اسلام سے پيچھے رہ گئے تھے ، كيونكہ اپكا اونٹ بہت ہى كمزور تھا لہذا اس نے اپكا ساتھ نہيں ديا ، ناچار ،وہ سوارى سے اتر پڑے اور ايسے ا س كے حال پر چھوڑ كر اپنا سامان پشت پرلادا ، اور پيادہ ہى لشكر اسلام سے ملحق ہو نے كے لئے چل پڑے ، صحراء تپ رہا تھا ،ريگ زاروں ميں سوزش تھى اس لئے چلنے ميں بڑى تكليف ہو رہى تھى ، ليكن ابوذر كے سچے عشق و ايمان نے يہ كام بھى سہل و اسان بنا ديا تھا ، بڑى محنت اور كوشش كے بعد اپ نے اپنے كو لشكر اسلام تك پہونچايا ، جس وقت رسول (ص) نے اپ كو ديكھا كہ اكيلے ہى مجاہدان اسلام كى طرف چلے ارہے ہيں تو فرمايا :'' رحم الله ابا ذر، يمشى وحده و يموت وحده و يبعث وحده ''

ترجمہ : خدابوذر پر رحمت نازل كرے وہ اكيلے چليں گے ، اكيلے مرينگے ، اور اكيلے ہى مبعوث ہو نگے_(۱۰)

____________________

۱۰_ سيرہ ابن ھشام ج۴ ص ۱۷۹ ، طبرى ج۳ ص ۴۵


جب عثمان مسند خلافت پر بيٹھے تو جب تك انھوں نے اپنے رشتہ داروں كى منھ بھرائي نہيں كى ، چند سال تك اسى طرح حكومت كرتے رہے جيسے ابو بكراور عمر كى حكومت تھى _

قريش كے معزز لوگ ان سے راضى تھے ليكن جس روز سے بنى اميہ كے لوگ حكومت ميں نفوذ پيدا كرنے لگے تو تمام سرداران قريش طلحہ ، زبير ، عمر وعاص اور ان كے ہم خيال افراد عليحدہ ہو گئے ،معاشرتى حالت منقلب ہو گئي ، اپنے داماد مردان كو بہت بڑا تحفہ افريقہ كى تمام امدنى دے ڈالى اپنے دوسرے چچيرے بھائي جنكا نام حارث بن حكم تھا بيس ھزار درہم بخش ديا ، اپنے ايك ہواہ خواہ زيد بن ثابت انصارى كو ايك لاكھ درہم ديديا ، اس زمانے ميں ابوذر نے اپنى عظيم ذمہ دارى كا احساس كيا كہ عام مسلمانوں كا مال خطر سے دو چار ہے ، ابوسفيان كى تمنائوں كے مطابق جاہلى حكومت واپس ارہى ہے ، انھوں نے قران كے فراموش شدہ احكام ياد دلا كر مسلمانوں كو غفلت سے چونكا يا ، انھيں احساسات كى بناء پر اپ نے اس آيت كو اپنا شعار قرار ديا ،'' الذ ين يكنزون الذ ھب و الفضة ولا ينفقونھا فى سبيل اللہ فبشرھم بعذاب اليم ''سورہ توبہ آيت۳۴

ترجمہ : جو لوگ سونے و چاندى كو ذخيرہ كرتے ہيں اور اسے راہ خدا ميں خرچ نہيں كرتے پيغمبر اپ انھيں دردناك عذاب كى بشارت ديديں _

اپ كا روئے سخن بنى اميہ كى طرف تھا ، جو مسلمانوں كے بيت المال كو ذاتى جا گير سمجھ بيٹھے تھے اور بڑے اطمينان سے استفادہ كر رہے تھے جسے چاہے ديديتے، محل كى تعمير كر رہے تھے نيز بخشش و اسراف كر رہے تھے ، ابوذر كى باتيں ناگزير طور پر اموى خلافت كے متضاد تھيں ، ابوذر اور عثمان كے درميان تلخ كلامى بڑھنے لگى ، عثمان نے ديكھا كہ ابوذر جيسے سچے اور خدا ترس مجاہد اسلام سے چھٹكارا پانا مشكل ہے وہ كسى حالت ميں بھى جاہلى رسموں كو اسلام كے زير سايہ پروان چڑھتے برداشت نہيں كرينگے ، كبھى اسكى تائيد نہ كرينگے ، عثمان نے ابوذر كو حكم ديا كہ شام چلے جائيں وہاں مسلمانوں سے روميوں كى جنگ ہو رہى تھى ، شايد ابوذر وہاں جا كر جنگ ميں الجھ جائيں اور خلافت كو اس سے نجات مل سكے ، ليكن شام ميں كون حكومت كر رہا تھا معاويہ ، جو بنى اميہ كى فرد تھا گھنگھور جاہليت كا نمائندہ ، پكا منافق جو اسلام كا لبادہ اوڑھے ہوا تھا ، نا چار وہاں بھى ابوذر امر بالمعروف اور نہى از منكر سے باز نہيں آئے ، معاويہ جيسا كہ بيان كيا گيا ، جاہليت كا ركن بزرگ تھا جو عثمان كى مدد سے ايك وسيع و عريض مملكت اسلامى پر حكومت كر رہاتھا ، وہاں بھى جھڑپ نا گزير تھا ، ابوذر نے وہاں معاويہ كى غير اسلامى حركتوں ، مطلق العنانى اور كافرانہ حركتوں پر ٹوكا اور منع كيا _


ايك دن معاويہ نے ان كے پاس تين سو دينار بھيجے ، ابوذر نے معاويہ كے فرستادے كو ديكھا جو سونے كے تين سو دينار لايا تھا ، اس سے فرمايا ، اگر يہ رقم بيت المال سے سالانہ وظيفہ ہے جس سے سال گذشتہ محروم ركھا گيا تو اسكو قبول كرتا ہوں ، ليكن يہ ہديہ اور تحفہ ہے تو مجھے اس كى ضرورت نہيں ہے _

جس گھڑى معاويہ اپنا عالى شان محل بنوا رہا تھا ، وہ قصر بہت عظيم اور سنہرا ،پتھروں سے تعمير ہو رہا تھا ، ا س وقت تك اسلام ميں ايسا كوئي قصر نہيں تھا ، وہ اسلامى عہد ميں جاہلى ہوا پرستى كا نمونہ تھا ، ابوذر صدائے فرياد بلند كرنے لگے ، انھوں نے معاويہ كو مخاطب كر كے فرمايا اے معاويہ ، اگر اس قصر كو بيت المال سے تعمير كروا رہا ہے تو قطعى طور پر تم نے خيانت كى ہے ، كيونكہ ايسے اموال كو مسلمانوں اور اسلام كى فلاح و بہبودى ميں خرچ ہونا چاہئے ، يہ كسى كى مخصوص ملكيت نہيں ہے ، ليكن اگر يہ خود كا مال ہے تو اسراف و زيادتى كيا ہے، ارے ايك شخص اپنے رہنے كے لئے اتنا بڑا قصر بلا وجہ بنو ارہا ہے ، معاويہ كى بولتى بند تھى ، ابوذر ہميشہ مضبوط منطقى بنيادوں پر خطابت فرماتے تھے _

ابوذر نے بارہا فرمايا ، خدا كى قسم ، تو ايسى حركات كا مرتكب ہو رہا ہے جسكا نمونہ نہ تو اسلامى معاشرے ميں ہم نے ديكھا، نہ سنا _

قسم خدا كى _ يہ حركتيں نہ تو قران كے مطابق ہيں اور نہ ہى سنت كے مطابق ، خدا كى قسم ، ميں حق كو ديكھ رہا ہوں ،كہ بجھ رہا ہے ، باطل زندہ ہوتے ديكھ رہا ہوں سچوں كى تكذيب كى جا رہى ہے ، نالائقوں اور اواروں كو سر بلندى مل رہى ہے ، امير المومنين (ع) جسيے صالح اور نيك كردار كو خانہ نشينى پر مجبور كيا جا رہا ہے(۱۱)

لوگ اس بوڑھے خير خواہ كے گرد خدا و مخلوقات كى رضا كے لئے جمع ہو گئے ، تاكہ اسكى دل سے نكلى باتيں جو خدا و اسلام كے دفاع سے ميں ان سے فائدہ اٹھا سكيں ، ليكن كيا معاويہ جيسا طاغوت اسكى اجازت دے سكتا تھا ، اس نے اعلان كرا ديا كہ ، اے لوگو كوئي شخص ابوذر سے ملاقات نہ كرے نہ انكى صحبت ميں بيٹھے _

كيونكہ وہ اسلام كے معدودے چند مخلصوں ميں تھے جو شام كى سر زمين پر زندگى گذار رہے تھے اسلام نہ تو جاہليت سے سمجھوتہ كر سكتا ہے نہ جاہليت اسلام سے

_____________________

۱۱_ مروج الذھب ، ابن اثير ج۵ ص ۱۶۳_ ۱۶۱


ايك مورخ لكھتا ہے: معاويہ نے شب كے سناٹے ميں ايك ہزار دينار ابوذر كے پاس بھيجا ، انھوں نے اسى رات تمام ديناروں كو فقراء ميں تقسيم كر ديا ، كيونكہ روح زاہدانہ اور تربيت اسلامى اس كى متقاضى نہيں تھى كہ مال دنيا كو دوست ركھے ، صبح سويرے جب معاويہ نماز كے لئے آيا تو اس نے اس فرستادے كو بلايا كہ تيزى سے جائو اور ابوذر سے كہو كہ مجھے معاويہ كے عذاب و شكنجہ سے نجات ديجئے ، ميں نے غلطى سے گذشتہ شب دوسرے كا پيسہ اپ كى خدمت ميں پيش كر ديا تھا ، ميں چاہتاہوں كہ اپ اسكو مجھے واپس كر ديں تاكہ اصلى جگہ پر پہونچا سكوں اور معاويہ كى سزا سے بچ سكوں _

ابوذر نے فرمايا ، اس سے كہو كہ ابوذر نے كہا ہے كہ خدا كى قسم اس صبح كے اجالے تك اسميں كا ايك پيسہ بھى باقى نہيں بچا ہے تم مجھے تين دن كى مہلت دو تاكہ فقراء سے وہ پيسہ واپس لے سكوں معاويہ نے سمجھ ليا كہ يہ شخص صرف كہتا ہى نہيں ہے بلكہ پہلے ہى مرحلے ميں اقدام كر بيٹھتا ہے ، اسكى گفتار عمل سے ہم اھنگ ہے _

يہى وجہ تھى كہ معاويہ ابوذر سے خوف كھانے لگا ، اكيلے ابوذر معاويہ كو لرزہ بر اندام كر رہے تھے _

كيونكہ وہ اسلام شناس اور اس پر عمل بھى كرتے تھے _

اس وقت معاويہ نے مجبور ہو كر اپنے رہبر سے پناہ مانگى اور اس نے عثمان كو لكھا كہ ، اگر تمہيں شام اور اسكے باشندوں كو بچانا ہے تو ابوذر كو اپنے پاس بلا ليجئے كيونكہ انھوں نے لوگوں كے سينے كينے سے بھر ديئے ہيں(۱۲)

بقول بلاذرى كے، كہ عثمان نے جواب خط ميں لكھا ، ابوذر كو ايك سخت و سر كش سوارى سے مدينہ بھيج دو ، وہ بوڑھے صحابى ايك سر كش سوارى پر زبر دستى سوا ر كئے گئے ، رات دن بغير كہيں دم لئے مدينہ كى طرف ليجائے گئے راستہ بہت طويل اور تھكا دينے والا تھا ، صحراء خشك اور ريگ زاروں سے بھرا ہوا ، كارندے ہر قسم كے انسانى جذبات رحم سے عارى تھے(۱۳)

يعقوبى نے مزيد تفصيل لكھى ہے كہ ، عثمان كا يہ سخت فرمان اس بندہ خاص پر نافذ كيا گيا ، نتيجہ يہ ہوا كہ جس وقت وہ مدينہ پہونچے تو ران كا گوشت اڑ چكا تھا(۱۴)

____________________

۱۲_ سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۵۰

۱۳_ انساب الاشراف ج۵ ص ۵۳

۱۴_ يعقوبى ج۲ ص ۱۲۲


مسعودى لكھتا ہے كہ :اپكو اس شتر پر سوار كيا گيا جس پر صرف ايك سوكھى لكڑى تھى پانچ سنگ دل ادمى صقالبہ سے ان كے ساتھ ہوئے جو سوارى كو بڑى تيزى سے ہنكا رہے تھے ، اسى طرح انھيں مدينہ تك لے جايا گيا اپ كى ران سخت زخمى ہو چكى تھى ، گوشت اڑ چكا تھا ، نتيجہ يہ كہ اپ پر يہ چنددن ايسے گذرے كہ بالكل مردہ حالت ميں ہو گئے تھے _

ليكن يہ دلير ايسا نہ تھا كہ ان ہوائوں سے لرز جائے نہ اپنے بارے ميں قران و اہلبيت كى ذمہ داريوں كو فرموش كر جائے ، وہ پہاڑ كى طرح ڈٹے رہے جسے كوئي حادثہ اسكى جگہ سے ٹس سے مس نہ كر سكا اسى طرح وہ مدينہ تك گئے ، وہ چلانے لگے عثمان نے جاہلى عہد پلٹا ديا ہے وہ كہہ رہے تھے چھو كروں كو حكومت ديدى گئي ہے حكومت كى جا گير يں اپنى خاص ملكيت بنا لى ہيں ، فتح مكہ كے طلقاء كى عزت افزائي كى جا رہى ہے انكو حكومت ميں خاص تقرب حاصل ہے _

اس مرد خدا كى يہى سزا تھى كہ ربذہ جلا وطن كر ديا جائے ، وہ سخت اور خشك صحراء نہ اب و گياہ نہ چارہ ، وہيں پر ابوذر نے اسلام سے قبل زندگى گذارى تھى ، انھيں ربذہ سے سخت نفرت تھى _

اس كے بعد ابوذر كى تمام زندگى ربذہ ميں گذرى وہ اخرى سانسوں تك اسى ہولناك بيابان ميں رہے ، اخر كار اپنى زوجہ اور فرزند ذر كى موت كے بعد بھوك اور بيمارى كيوجہ سے موت كے منھ ميں پہونچ گئے ، موت كے وقت انكے سرہانے صرف انكى بيٹى تھى مورخين كے بيان كے مطابق ابوذر نے ايك سال شام ميں گذارے ، وہ ۲۹ھ ميں شام سے جلا وطن كئے گئے ۳۰ھ ميں معاويہ نے عثمان سے شكايت كى پھر انھيں اس اندوہ ناك طريقے سے جسكو اوپر بيان كيا گيا ، مدينہ روانہ كيا گيا ، پھر وہ اسى سال ربذہ تبعيد كر ديئے گئے ، وہيں ربذہ ميں انھوں نے ۳۱ھ يا ۳۲ ھ ميں وفات پائي _


تاريخ اسلام كا ايك افسانہ

جو كچھ ہم نے گذشتہ صفحات ميں حضرت ابوذر كى زندگى اور انكى مدينے سے شام اور شام سے مدينہ اور مدينہ سے ربذہ كى جلا وطنى بيان كيا يہ سب اصل ميں صحيح ترين روايات كا خلاصہ تھا جسے مورخوں نے ہمارے حوالے كيا _

ليكن جو كچھ طبرى اور انكے پير و كاروں ، ابن اثير ، ابن كثير ، ابن خلدوں ، ابوالفداء ، وغيرہ نے اس بارے ميں جو كچھ روايات كو سيف بن عمر كوفى سے حاصل كيا ہے جو تاريخ كا سب سے بڑا مكار اور جھوٹى روايتيں گڑھنے والا ہے _

طبرى اور دوسرے مورخين نے اس سال كے تاريخى حوادث كو سيف ہى كے بناوٹى ذہن سے حاصل كيا ہے اور اپنى تاريخوں ميں اس جھوٹ كو بھر ديا ہے _

طبرى اپنى تاريخ ميں لكھتا ہے اس سال يعنى ۳۰ھ ميں ابوذر كا واقعہ پيش آيا كہ انھيں معاويہ نے شام سے مدينہ جلا وطن كيا ، اس جلا وطنى كا سبب راويوں نے مختلف انداز سے بيان كيا ہے جنھيں بيان كرنا ميں مناسب نہيں سمجھتا _

ليكن جن افراد نے معاويہ كى صفائي ديتے ہوئے داستانى عذر تراشا ہے اسكى روايت سيف سے لى گئي ہے اور اس نے يزيد فقعسى سے روايت كى ہے ، فقعسى يہاں كہتا ہے كہ جس وقت ابن سوداء شام ميں وارد ہوا تو اسكى ابوذر سے ملاقات ہوئي اس نے كہا ، اے ابوذر كيا اپكو معاويہ كى حركتوں پر تعجب نہيں ہے كہ جو يہ كہتا پھررہا ہے كہ مال، اللہ كا مال ہے حالانكہ ہر چيز خدا كى ملكيت ہے _

پھر وہ اضافہ كرتا ہے گويامعاويہ چاہتا ہے كہ تمام عوامى مال اور بيت المال كى امدنيوں كو ہڑپ لے اور مسلمانوں كو اس سے محروم ركھے(۱۵)

يہاں طبرى نے تاريخ اسلام كے ہيرو عبد اللہ بن سبا كو ابن سوداء كے لقب سے ياد كيا ہے جس كى بناوٹى و جعلى

____________________

۱۵_ طبرى ج۵ ص ۶۶


افسانوں كو ميں نے اپنى دو جلدوں پر مشتمل كتاب عبداللہ بن سبا ميں بيان كيا ہے ، اگر قارئين كرام جذبہ ء مطالعہ ركھتے ہيں تو اس كتاب كى طرف رجوع كريں _

طبرى كے بعد جتنے بھى مورخين آئے ہيں كم و بيش سب نے اس كى پيروى كرتے ہوئے اس خيالى شخص كے بارے ميں اسى سے نقل كيا ہے مثلا ابن اثير جو ساتويں صدى ہجرى كے مشہور مورخ ہيں اپنى كتاب ميں رقمطراز ہيں كہ ، اسى سال ۳۰ھ ميں ابوذر كى جلا وطنى كا حادثہ جو معاويہ كے ہاتھوں پيش آيا ، انھوں نے انھيں شام سے مدينہ جلا وطن كيا اس بارے ميں اور اسكى وجوہات كے سلسلے ميں بہت سى باتيں كہى گئيں ہيں ،ان ميں يہ ہے كہ معاويہ نے ابوذر كو بہت زيادہ برا بھلا كہا اور ڈرايا دھمكايا ، معاويہ نے انھيں بے كجاوہ او نٹ پر سوار كر كے مدينہ بھيجا وہ مدينہ اس ناگوار حالت ميں پہونچے جس كا بيان كرنا مناسب نہيں

اگر يہ تمام واقعات صحيح ہيں تو ہمارے لئے مناسب ہے كہ عثمان كے لئے عذر تراشى كى جائے مثلا يہ كہ امام و پيشوا كو اپنى رعيت كى تاديب كرنى چاہيئے يا اسى طرح كا كوئي عذر تراشا جائے _

نہ يہ كہ اس طرح كے واقعات كو بيان كر كے عثمان پر لعن و طعن و تنقيد كى جائے ، اس قسم كے واقعات كا بيان كرنا ميں مناسب نہيں سمجھتا ليكن معاويہ كى صفائي دينے والوں نے اس بارے ميں بہت سى صفائي دى ہے اور وہ كہتے ہيں كہ(۱۶)

اس كے بعد وہ جھوٹے اور خيالى ہيرو عبد اللہ بن سبا كى داستان سيف بن عمر كى زبانى طبرى سے نقل كرتے ہيں ، يہ وہى حركت ہے جو ابن كثير و ابن خلدون اور دوسرے لوگوں نے كى ہے _

ليكن جب ہم طبرى كى باتوں پر رجوع كرتے ہيں تو ہم مشاہدہ كرتے ہيں كہ ابوذر كے ساتھ پيش انے والے بے شمار حوادث كو غلط اور جعلى ہونے كيوجہ سے نہيں چھوڑا ہے، بلكہ صرف اس وجہ سے بيان كرنا پسند نہيں كرتا كہ وہ نہيں چاہتا ہے كہ اصحاب رسول (ص) ميں عثمان و معاويہ جيسے افراد كا كہيں دامن، داغدار نہ ہو جائے _

اسى لئے وہ عذر تراشى كرنے اور صفائي دينے والوں كے سراغ ميں جاتا ہے اور اپنى تاريخ كى بڑى كتاب كو

____________________

۱۶_ تاريخ كامل ج۳ ص ۴۳


جھوٹى خبروں اور افسانوں سے بھر ڈالتا ہے ، ان روايتوں كو اس نے خود بنام قصہ ياد كيا ہے اس طرح انے والى نسل كے لئے حقيقت كا دروازہ بند كر ديتا ہے اور ابوذر جيسے پاك نفس صحابى رسول كو اندھيرے ميں ڈال ديتا ہے _

قرن وسطى كا بزرگ مورخ ابن اثير بھى اسى كى ڈگر پر چلا اور اس نے اس عظيم جنايت اور تاريخ كى دلسوز حقيقت كو طبرى كے حوالے سے لكھ مارتا ہے ، ابن اثير نے بہت سى باتيں لكھنے كے بعد اسكے اسناد اور حوالوں كى تضعيف نہيں كى ہے ، انھيں بہت تفصيل سے لكھ مارا ہے ، كيونكہ وہ سمجھتا ہے كہ اس قسم كى باتوں كا بيان كرنا مناسب نہيں كيونكہ انھيں نقل كرنے سے خلفاء اور اموى حكمرانوں كا دامن داغدار ہوتا ہے _

ليكن ہم اج نہ تو عيب جوئي كے پيچھے پڑے ہيں نہ بلاوجہ كسى كى صفائي پر تلے ہيں بلكہ صرف حوادث تاريخ كى واقفيت اور اسكى جستجو ميں ہيں تاكہ علم و دانش كى خدمت كر سكيں ، ليكن ہم ان تاريخ اسلام كے حقاےق كو چھپانے والے مورخين كو ہرگز معاف نہيں كر سكتے كيونكہ ان لوگوں نے اپنى اس حركت سے صرف خوشنودى خلفاء اور اموى حكمرانوں كى خدمت ہى كى ہے _

ابوذر كا واقعہ جيسا كہ ہم نے ملاحظہ كيا طبرى نے سيف سے نقل كيا ہے دوسرے تمام مورخين نے بھى يا تو سيف سے نقل كيا ہے يا طبرى كے واسطے سے نقل كيا ہے ، يہ داستان خود عبد اللہ بن سبا كے افسانہ كا جز ہے جو سيف ابن عمر كے فكر كى ساختہ و پرداختہ ہے ، ہم نے اس كتاب كى دوسرى جلد ميں افسانہ عبد اللہ بن سبا كا سند و اصل كے ذريعہ چھان بين كى ہے ، يہاں صرف اتنا اضافہ كرنا مناسب سمجھتے ہيں كہ ابوذر كا واقعہ زيادہ تر عبد اللہ بن سبا كے واقعہ ميں سيف پر انحصار كرتے ہوئے لكھا گيا ہے اور اس نے سارا ماجرا يزيد فقعسى سے نقل كيا ہے _

اب ہميں جاننا چاہيئے كہ يزيد فقعسى كون ہے ؟ اور اسكى روايت كيا ہے ؟

ہم نے اس شخص كو پہچاننے كے لئے تمام موجودہ كتب رجال و حديث و تاريخ و سيرت و انساب اور ادبيات اسلام كو كھنگال مارا ، اصولا اسكے بارے ميں كوئي چھوٹى سى روايت يا نام نہيں پايا ، سوائے ان روايتوں كے جنھيں طبرى و ذہبى نے سيف سے نقل كيا ہے اور وہ بھى چھ روايتيں ہيں پانچ تو طبرى كى ہيں اور ايك ذہبى كى تاريخ اسلام ميں ديكھى جا سكتى ہے ، اس سے زيادہ كچھ نہيں _

سيف متذكرہ روايات ميں داستان عبد اللہ بن سبا كو يزيد فقعسى سے نقل كيا ہے اس ميں ايك روايت ابوذر


كے واقعہ سے مخصوص قرار ديا ہے اس روايت ميں سيف نے عظيم صحابى اور پيغمبر كے دانائے راز ابوذر كو اتنا پست دكھايا ہے كہ وہ عبد اللہ بن سبا جيسے ايك مجہول يہودى كے زير اثر اگئے ، اور معاويہ اور دوسرے اموى حكمرانوں كے خلاف بغاوت پر امادہ ہو گئے اس طرح انھوں نے تمام مملكت اسلامى كوفتنوں ميں جھونك ديا _

ان روايات سے واضح ہوتا ہے كہ ان تمام ہنگاموں ميں امويوں كى كوئي ذرہ برابر غلطى نہيں ہے نہ معاويہ كى نہ عثمان كى اور نہ دوسرے حكمرانوں كى ، ان سب كا دامن برگ گل كى طرح پاك و صاف ہے _

ہم مدتوں تحقيق كے بعد داستان ابوذر اور عبد اللہ بن سبا كى سند سے اس نتيجہ تك پہونچے كہ ان سارى داستانوں كو مورخوں نے سيف بن عمر سے روايت كى ہے اور سيف اول درجے كا جھوٹا اور جعل ساز تھا ، اس نے اپنے ذہن سے ايك واقعاتى روايت گڑھ لى اور اس نے راوى كا يزيد فقعسى جيسے جھوٹے راوى كو بھى اختراع كر ليا ، كہ جعلى راوى فقعس كے قبيلے كا فرد ہے جو قبيلہ اسد كى شاخ تھى ،ليكن سيف نے اپنى تمام روايات ميں قبيلہ كا نام تو لكھا ہے ليكن اس كے باپ كا نام نہيں لكھا ہے جيسےاس كا كوئي باپ ہى نہيں تھا ، سچى بات تو يہ ہے كہ اس راوى كا باپ اور تمام ساختہ و پر داختہ صحابہ و راويان كے باپ جو داستان سيف كے پيرو ہيں يہ صرف سيف بن عمر تميمى كى اختراع ہيں اكيلے سيف كى اختراع وحدہ لا شريك لہ _

افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ تاريخ كے بزرگ علماء جيسے طبرى ، ابن اثير ، ابن عساكر ، ابن خلدون ، ابن عبد اللہ ،اور ابن حجر كے علاوہ دوسرے سب كے سب اپنى تاريخوں ميں سيف بن عمر كى جعلى روايتوں كو جو ايك نمبر كا جھوٹا مكار تھا اس سے ليكر بہت سے مسلمانوں كے عقائد كو اصحاب رسول (ص) كے بارے ميں گندہ كر ديا ہے _

اج ان افسانوں كى حيثيت ہو گئي ہے اور لوگ دين اسلام كو اسى راہ سے پہچان رہے ہيں ، كيا اج بارہ صدياں گذرنے كے بعد اجازت ہے كہ ہم ان افسانوں كو حديث اور تاريخ كى كتابوں سے نكال ديں ، تاكہ لوگوں كے لئے اصل اسلام كى پہچان اسان ہو سكے _

كوفے كے قارى شام ميں

معاويہ كى نوك جھونك صرف ابوذر غفارى و عبادہ جيسے افراد سے نہيں ہوئي تھى بلكہ اسكى خاص عادت يہ تھى كہ جو


بھى تھوڑا سا اسلام كى معلومات ركھتا تھا اس سے اختلاف كر بيٹھتا تھا اسى لئے اس نے كوفے كے ان قاريوں سے جو شام جلا وطن كر ديئے گئے تھے سخت جھگڑا كر ليا عظيم مورخ بلاذرى اپنى كتاب انساب الاشراف ميں لكھتے ہيں _

جب حكومت كوفہ سے عثمان نے وليد كو معزول كر ديا تو اسكى جگہ سعيد بن عاص كو منصوب كر ديا عثمان نے سعيد بن عاص سے كہا كہ كوفہ والوں سے اچھے انداز ميں پيش انا اور انكى خاطر و مدارات كرتے رہنا اور وليد كى طرح اہل كوفہ سے اختلاف كر، نہ بيٹھنا ، انہيں وجوہات كى بناء پر سعيد بن عاص بزرگان شہر اور قاريوں كے ساتھ ہر شب اٹھتا بيٹھتا تھا اور ان لوگوں سے گفتگو كيا كرتا تھا _

ايك دن سعيد بن عاص كے گھر سواد و جبل پر بحث چھڑى ، حاضرين نے سواد كى پيداوار كو جبل عامل پر ترجيح ديكر كہا كہ سواد ميں جبل ( لبنان ) كى تمام پيداوار كے علاوہ اس ميں خرما كے درخت بھى پائے جاتے ہيں _

دار وغہ شہر نے كہا ، اے كاش ان پيداواروں كا تعلق امير ( سعيد ) سے ہوتا كيونكہ امير ان زراعات و باغات كے ديكھ بھال كى صلاحيت بھى ركھتے ہيں _

مالك اشتر نے جواب ديا ، اگر امير كے لئے ارزو كرتے ہو تو ارزو كرو كہ انھيں اس سے بہتر باغات و زراعات نصيب ہو ليكن ہمارے اموال كو ان كے لئے ارزو نہ كرنا اور ا س كو اس كى حالت پر چھوڑ دو _

شہر كے داروغہ نے كہا ، انھيں اس ارزو نے كيا نقصان پہونچاديا كہ اس طرح كى تلخ كلامى كر رہے ہيں ، خدا كى قسم ،اگر امير نے ٹھان ليا تو ان تمام باغوں پر قبضہ كر سكتے ہيں _

مالك اشتر نے جواب ديا ، خدا كى قسم اگر ان باغات كو لينے كا ارادہ كر بھى ليں تو اس كو نہيں لے سكتے ہيں سعيد ابن عاص ان باتوں سے بہت غضبناك ہوا اور حاضرين سے مخاطب ہو كر كہا :

سواد كے باغات صرف قريشيوں ( قريش سے مراد بزرگان بنى اميہ و قبيلہ بنى تيم اور عدى نيز اسكے مانند جو مكہ ميں تھے بر خلاف انصار كے در اصل اہل يمن سے ہونگے ، اور مالك اشتر نيز اہل كوفہ اسى قبيلوں سے تھے ) كا مال ہے _

مالك اشتر نے غصے ميں كہا كہ ، تم چاہتے ہو كہ ہمارى جنگوں كے ثمرات اور جو كچھ خدا وند عالم نے ہميں نصيب فرمايا ہے اس كو اپنے خاندان اور اپنے قبيلوں ميں تقسيم كردو ، خدا كى قسم اگر كسى نے ان زمينوں كى طرف ترچھى


نگاہ سے بھى ديكھا تو اسكو ايسا مزہ چكھائوں گا كہ ڈر كے مارے بھاگ جائے گا(۱۷)

اس بات كے بعد مالك اشتر داروغہ پر حملہ اور ہوئے ليكن اطرافيوں نے انكو پكڑ ليا _

سعيد بن عاص نے اس واقعہ كو عثمان كے يہاں خط لكھ كر تاكيد كيا كہ جب تك مالك اشتر اور انكے ساتھى ( جو قاريان كوفہ كے نام سے جانے جاتے ہيں كچھ نہيں جانتے اور ان كے پاس عقل بھى نہيں ہے ) اس شہر ميں رہينگے تو ہمارى كوئي ذمہ دارى نہيں رہے گى _

عثمان نے جواب ميں لكھا كہ ، ان تمام لوگوں كو شام بھيج دو ، قاريان كوفہ جنھوں نے سعيد سے جھگڑا كر ليا تھا كوفہ سے جلا وطن كر كے دمشق بھيج ديئے گئے _

معاويہ جو بہت چالاك تھا اس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے يہ كام كيا كہ ان قاريوں كا خير مقدم كر كے ان لوگوں كو اپنے قريب كر ليا ليكن حالات ہميشہ يكساں نہيں رہ سكتے تھے مالك اشتر اور ان كے دلير ساتھى دين شناس تھے جبكہ معاويہ مكار اور بے دين تھا اس صورت ميں ان سب كا ايك ساتھ رہنا ممكن نہيں تھا ، سر انجام جس دن كاانتظار تھا وہ دن اگيا ، مالك اشتر اور معاويہ كے درميان سخت كلامى ہوئي جسكى وجہ سے مالك اشتر كو رسى ميں جكڑ كے زندان ميں ڈال ديا گيا ، وہاں وہ طويل زمانے تك رہے مگر چھوٹنے كے بعد حالات نے اپنے اپ كروٹ لے لى كيونكہ مالك اشتر اور انكے ساتھى جو حاكم شام معاويہ سے دور ہو گئے تھے انھوں نے اہل دمشق كے ساتھ اٹھنا بيٹھنا شروع كر ديا ، اس كى خبر عثمان كو دى گئي كہ جو لوگ ہمارے يہاں آئے ہيں انھيں نہ عقل و شعور سے واسطہ ہے اور نہ ہى دين و مذہب سے لگائو ہے ان كا مقصد صرف فتنہ پرورى ہے ، مجھے انديشہ ہے كہ كہيں يہ لوگ يہاں رہ گئے تو فتنہ و فساد كو پھيلا دينگے ، اہل شام كو بغاوت پر امادہ كر دينگے ،ان لوگوں سے ان باتوں كو سيكھ لينگے جو ابھى تك نہيں جانتے ہيں ، شام والے بھى اہل كوفہ كى طرح فاسد اور اپنى اعتدال فكر كو كھو بيٹھيں گے _

عثمان نے سوچا كہ مالك اشتر اور ا ن كے ساتھيوں كو ايك دور افتادہ شہر كى طرف بھيجديا جائے تاكہ ان لوگوں كى چھاپ نہ پڑ سكے ، معاويہ نے ان تمام لوگوں كو شہر حمص بھيج كر عثمان كے حكم كى تعميل كى(۱۸)

پہلى صدى كا مشھور مورخ مدائنى نقل كرتے ہيں :

ان لوگوں كى شام ميں معاويہ كے ساتھ نشست ہوئي تھى اس نشست ميں ايك دوسرے كو برا بھلا كہتے تھے _ منجملہ

____________________

۱۷_ انساب الاشراف ج۵ ص ۴۰

۱۸_ انساب الاشراف ج۵ ص ۴۳


ايك روز معاويہ نے يہ كہديا كہ ،قريش سے يہ بات ڈھكى چھپى نہيں ہے كہ ميرا باپ ابوسفيان قريش ميں سب سے زيادہ معزز اور با وقار تھا ، ليكن رسول (ص) كو نبوت مل گئي جو كسى اوركو نصيب نہ ہو سكى اگر تمام لوگ ابوسفيان كى اولاد ہوتے تو سب كے سب حليم و بردبار ہوتے _

صعصہ بن صوحان نے فورا جواب ميں كہا :

اے معاويہ تو جھوٹ بولتا ہے ، حضرت ادم ابوسفيان سے بہر حال بہتر تھے جو اللہ نے اپنے دست قدرت سے پيدا كيا ان ميں اپنى روح پھونكى فرشتوں كو سجدہ پر مامور فرمايا ، انكى اولاد ميں عقلمند بھى ہيں اور بيوقوف بھى اچھے بھى ہيں اور برے بھى پائے جاتے ہيں تمام ايك شكل كے نہيں ہيں(۱۹)

جيسا كہ اپ نے ملاحظہ فرمايا ، معاويہ جس طرح ابوذر غفارى اور عبادہ جيسے صحابى رسول كے شام ميں رہنے سے كڑھتا تھاا سى طرح نہيں چاہتا تھا كہ تابعين اور قاريان قران اور نيك و صالح افراد اس شہر ميں رہيں ، اس مسئلے نے معاويہ كو اس قدر حيران و پريشان كيا كہ فورا خليفہ سوم سے شكوہ و شكايت كيا ، معاويہ كو اس بات كا خوف تھا كہ كہيں يہ لوگ حقائق اسلام كو جو لوگوں سے پنہاں كر ركھا ہے ان سے بيان نہ كر ڈاليں ، اگر يہ لوگ احكام خدا كو جان گئے تو پھر ہمارى قيصر و كسرى كى شان و شوكت اور خواہشات نفسانى خاك ميں مل جائے گى _

معاويہ عثمان كے بعد

جيسا كہ پہلے ملاحظہ كيا گيا كہ _ دولت كى جمع اورى اور عثمان كے رشتہ دار جو تمام اسلامى سر زمين پر قبضہ كئے ہوئے تھے ان كے جرائم نے تمام بڑے بلاد اسلامى كو فتنہ و اشوب كے سيلاب ميں گھير ليا تھا ، اور ناراض مسلمانوں نے مدينہ كے اندر عثمان پر عرصہ حيات كو تنگ كر ڈالا تو جس طرح خليفہ سوم نے تمام حكمرانوں اور واليان شہر كو خط لكھا اور ان

____________________

۱۹_ طبرى ج۵ ص ۹۰ ، ابن اثير ج۳ ص ۶۰


لوگوں سے مدد مانگى تھي، اسى طرح معاويہ كو بھى خط بھيجا اور اس سے مدد و نصرت طلب كى _

عثمان نے معاويہ كو اس طرح خط لكھا :

اہل مدينہ نے كفر اختيار كر ليا ہے اور اطاعت و پيروى كا قلادہ گردن سے اتار كر اپنى بيعت كو توڑ ڈالا ہے ، لہذا جتنا بھى ممكن ہو سپاہ شام كو ہمارى نصرت كے لئے جلد بھيج دو ، خط معاويہ كو ملا اس نے اچھے طريقہ سے حالات كو پڑھ ليا ، شايد اس انتظار ميں تھا كہ عثمان كے مرتے ہى تخت خلافت پر قبضہ ہو جائے گا ، اسى بناء پر عثمان كے تمام حقوق كے باوجود جو اسكى گردن پر تھے مدد پہونچا نے ميں كسى قسم كى جلدى نہيں دكھائي ، اور اپنى كوتاہيوں كى اس طرح توجيہ و تاويل كى كہ _ ہم مسلمين اور اصحاب رسول (ص) كى مخالفت سے راضى نہيں ہيں ، جب عثمان نے اپنے خط كے سلسلے ميں پہلو تہى ديكھى تو اہل شام كو خط لكھا اور ان سے درخواست كى كہ _ تم لوگ ہمارى نصرت كے لئے شہر سے نكلو _

بلاذرى لكھتے ہيں

جب عثمان نے معاويہ كو خط بھيجا اور اس سے مدد مانگى تو معاويہ نے يزيدابن اسد قسرى كى سر براہى ميں چھوٹى سى فوج مدينہ كى جانب روانہ كى ، اور يزيد بن اسد قسرى كو كہا كہ جس وقت تم سر زمين ذا خشب پر پہونچنا تو اسى مقام پر پڑائو ڈالدينا اور اسكے اگے نہ بڑھنا ، كبھى اپنے ذہن ميں بھى نہ لانا كہ ہم پائے تخت اسلامى كے حوادث و واقعات سے باخبر نہيں ہيں اور معاويہ كى عدم موجودگى ميں تمام چيزيں ڈھكى چھپى ہيں ، درانحاليكہ ہم با خبر بھى ہيں اور موجود بھى ؟ لشكر اپنے سربراہ كے ساتھ مدينہ كى طرف روانہ ہوا ، جب مقام ذاحشب پر پہونچا تو يہيں پر ٹھر گيا ، اور اس قدر دير لگائي كہ عثمان لوگوں كے ہاتھوں سے مار ڈالے گئے ، جب پانى نيزے سے اتر گيا اور فتنہ و اشوب فرو ہوگئے تو معاويہ نے يزيد بن اسد كو لشكر كے ہمراہ واپس بلواليا _

تيسرى صدى كا معتبر مورخ بلاذرى كا كہنا ہے كہ ، معاويہ نے بغير سوچے سمجھے ايسا نہيں كيا تھا وہ چاہتا تھا كہ عثمان اس حادثہ ميں مار ڈالے جائيں ، پھر اسكے بعد اپنے كو بھتيجے كى حيثيت سے خلافت و حكومت كا حقدار ثابت كر دے(۲۰)

____________________

۲۰_ شرح النہج ص ۵۸


ليكن جب كہ اپ جانتے ہيں كہ ايسا نہيں ہوا اور لوگ امير المومنين (ع) كے گرد جمع ہو گئے اور ان كو خليفہ تسليم كر ليا ، جب حضرت على (ع) كے ہاتھوں پر بيعت ہو گئي تو معاويہ جس نے عثمان كى مدد كرنے ميں كوتاہياں كى تھيں بہت شرمندہ ہوا ، كيونكہ اب تخت خلافت بہت دور نظر انے لگا ، لہذا ايك نئي چال چلى كہ طلحہ و زبير كو مخفيانہ طور پر خط لكھا اور اس خط ميں كچھ ايسى باتيں تحرير كيں تاكہ ان دونوں كے دل خلافت كى چٹكياں لينے لگيں ، كيونكہ يہ دونوں ہوا پرست اور خلافت عثمان كے زمانے ميں دولت و ثروت كى چاشنى بھى چكھے ہوئے تھے ، اسى بناء پر يہ دونوں معاويہ كے دام فريب ميں اگئے(۲۱) _

معاويہ كا نقشہ يہ تھا كہ ان دونوں كو جوان دنوں صاحب نفوذ و رسوخ سمجھے جاتے تھے ، حضرت امير المومنين سے جنگ كرنے پر ابھاردے ، البتہ خليفہ مظلوم اور قصاص خون عثمان ان دونوں كے لئے اچھا بہانہ تھا ، طلحہ و زبير نے معاويہ كى مكارانہ چال ميں اكر خونبار جنگ جمل برپا كر دى _

جيسا كہ پہلے بيان كيا گيا ہے كہ اغاز جنگ ميں طلحہ مار ڈالے گئے اور زبير نے جنگ سے كنارہ كشى اختيار كر لى تھى اور مرد تميمى كے ہاتھوں بے رحمانہ قتل كر ديئے گئے(۲۲)

اس طرح معاويہ كے دو طاقتور رقيب خلافت كے سلسلے ميں ميدان سے خارج ہو گئے جى ہاں جب كوئي مارا جاتا تھا تو معاويہ كى خلافت قريب الوقوع نظر انے لگتى تھى _

جب امير المومنين (ع) تخت خلافت پر آئے تو جرير كو پيغام ديكر معاويہ كے يہاں بھيجا ، اور اس سے بيعت طلب كى _

معاويہ نے جرير سے كہا _ اپنے رفيق كو لكھ دو كہ ہم دو شرط كے ساتھ بيعت كرنے پر حاضر ہيں _

۱_ شام اور مصر كو ہمارے حوالے كر ديں نيز ان دونوں سر زمين كا خراج ہمارا ہو گا

۲_ مرتے وقت كسى كى بيعت كا قلادہ ہمارى گردن ميں نہ ڈاليں

اس عبارت سے بخوبى واضح ہو جاتا ہے كہ خلافت سے معاويہ كا اشتياق كس قدر ہے معاويہ جانتا تھا كہ

____________________

۱۲_ مروج الذھب ج۲ ص ۳۳۳

۲۲_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۵۸۱


حضرت امير المومنين (ع) سے رقابت نہيں ہو سكتى ، كيونكہ جو فضيلتيں امام (ع) ميں پائي جا رہى تھيں مجھ ميں نہيں ہے _

اسى وجہ سے خليفہ وقت كے خلاف بھڑكانے كى جرائت و جسارت نہيں ہو رہى تھى ، اسى لئے وہ چاہتا تھا كہ پہلے عائشه طلحہ و زبير اس خطرناك راستے كو طے كريں ، اسكے بعد وہ اس راستہ كو طے كرے ، لہذا بہتريہى ہے كہ امام (ع) سے جنگ كرنے كے بجائے ان سے مصر اور دوسرے بڑے شہروں كى مانگ كر كے اپنى حكومت كو وسيع كرے تاكہ امام (ع) كے مرتے ہى بڑے اطمينان كے ساتھ تخت خلافت پر براجمان ہو جائے ، جرير نے معاويہ سے كہا كہ تمھيں جو كچھ لكھنا ہے لكھو ہم خط نہيں لكھيں گے _

معاويہ نے اپنى رائے كو امام (ع) كے پاس لكھ كر بھيجا ، امام (ع) نے جرير كے ذريعہ معاويہ كو جواب ديا كہ تو نے حتمى فيصلہ كر ليا ہے كہ ميرى بيعت نہيں كرے گا اور جو كچھ دوست ركھتا ہے اسكو انجام ديگا ، وہ چاہتا ہے كہ تم كو اتنا سر گردان و معطل ركھے تاكہ لوگوں كى توجہات كو مبذول كرلے _

جب ہم مدينہ ميں تھے تو مغيرہ بن شعبہ نے اس طرح كا اشارہ كيا تھا كہ معاويہ كو شام كى حكومت پر رہنے ديجيئے ليكن ہم اس كام كو ضرور انجام دينگے ، اس لئے كہ ہم نہيں چاہتے ہيں كہ خدا وند عالم معاويہ جيسے بدكردار و گمراہ كے ذريعہ ہمارى مدد و نصرت كرے ، اگر اس نے ميرى بيعت قبول كر لى تب تو ٹھيك ہے ورنہ فورا ہمارى طرف پلٹ ائو(۲۳)

اٹھويں صدى كا مورخ ابن كثير اپنى تاريخ البدايہ و النہايہ ميں لكھتے ہيں :

عقبہ بن ابى معيط نے جب يہ سنا كہ معاويہ نے حضرت على (ع) سے مصر اور شام كى حكومت كا مطالبہ كيا ہے تو اس نے معاويہ كو ايك خط لكھا اور اس خط ميں اسكى خوب مذمت كى نيز اس ميں چند اشعار لكھكر روانہ كئے جس كا ترجمہ يہ ہے كہ ، معاويہ شام كى حكومت كو ہاتھ سے نہ جانے دينا ذرا دشمن سے ہوشيار رہنا كيونكہ يہ دشمن ادہے كى مانند ہے لہذا اسكو چھوڑ نہ دينا ، على (ع) اسكے منتظر ہيں ، كہ تم كيا جواب ديتے ہو، اسكے خلاف جنگ كے شعلے ايسے بھڑكا دے كہ جوانوں كے سياہ بال سفيد ہو جائيں ، شام سے شمشير اور نيزوں كى حمايت كر اور ہاتھ پر ہاتھ ركھكر نہ بيٹھنا اور نہ اس سلسلہ ميں تساہلى كرنا اور اگر ايسا نہيں كرنا ہے تو سر تسليم كو خم كر دے _

____________________

۲۳_ نصر بن مزاحم كى صفين ص ۵۸ ، شرح النہج ج۱ ص ۲۵۰


تاكہ جو لوگ امن پسند اور جنگ كے خواہاں نہيں ہيں وہ اطمينان و ارام كے ساتھ زندگى گذار سكيں اور يہ بات كسى سے ڈھكى چھپى نہيں ہے _

اے حرب كے بيٹے ، تم نے طمع و حرص ميں اكر جو اسكو خط لكھديا ہے اس كام كو انجام ديكر اپنے سر پر بہت بڑى مصيبت مول لى ہے _

معاويہ ،حضرت على (ع) سے جو تم نے خواہش ظاہر كى ہے وہ ہرگز پورى نہيں ہو سكتى ، اور اگر اپنى مراد تك پہونچ بھى گئے تو سوائے چند دنوں كے زيادہ پايدار بھى نہيں ہے _

اخرتيرے دل ميں اس قدر تمنائيں كروٹ لے رہى ہيں جو ايك نہ ايك دن ہلاكت كى باعث ضرور بنيں گي، لہذا بہتر يہى ہے كہ اپنے دماغ سے ان امنگوں كو نكال دے ،كيونكہ على (ع) جيسے تمہارے دام فريب ميں نہيں اسكتے ہيں ، اور اس سے تم نے اچھے طريقہ سے ان كى ازمائشے بھى كى ہے جو تم نے خراب كيا اسكو على نے بنايا ہے _

اگر اس كے چنگل ميں ايك بار چلے گئے تو ياد ركھو كہ تم نے تو اسكى كھال نہيں كھينچى ليكن وہ تمھارى كھال كو ادھيڑ دے گا(۲۴)

صفين معركہ حق و باطل

اس سے قبل اپ نے ملاحظہ فرمايا كہ _ معاويہ نے كس طريقہ سے عثمان كے تمام حقوق كے باوجود جو اسكى گردن پر تھے انكى نصرت كرنے ميں كوتاہى كى ، اور اس قدر عذر تراشى كى كہ ناراض مسلمانوں نے انكو گھر كے اندر قتل كر ڈالا ، شايد معاويہ اس انتظار ميں تھا كہ جو اسكى خلافت كى راہ ميں كانٹے ہيں وہ سب صاف ہو جائيں ، ليكن قتل عثمان كے بعد معاويہ كى خواہش كے بر خلاف لوگوں نے امير المومنين(ع) كو خليفہ تسليم كر ليا ، جب زمام حكومت على (ع) كے ہاتھوں ميں اگئي تو اپ نے خاص طور سے اپنى بيعت كا مطالبہ معاويہ سے كيا لہذا معاويہ نے ايك بڑى پلاننگ تيار كى _ اس نے مظلوميت عثمان اور انتقام خون كو بہانہ بناكر جو پہلى مرتبہ جنگ جمل ميں اس پرچم كو لہرايا جا چكا تھا امام (ع) سے بر سرپيكار ہو

____________________

۲۴_ بدايہ النھايہ ج ۸ ص۱۲۹


جانے اور اسكے ذريعہ سے اپنے دل كى تمنائيں نيز اپنے باپ ابو سفيان كى وصيت پورى كر كے اسلام كى وسيع و عريض حكومت كو اپنے ہاتھوں ميں لينے كا ارادہ كيا _ اسى لئے اس نے عثمان كا خون الود كرتہ مسجد دمشق كے منبر كے نزديك لٹكا ديا ، بوڑھے اسكے گرد جمع ہو كر رونے لگے ، پھر اپنى تقرير ميں اس بات كا اعلان كيا كہ ميں مقتول كا وارث ہوں اور جن لوگوں نے خليفہ كو ناحق قتل كيا ہے ان سے خون كا انتقام لينا چاہيئے اہل شام معاويہ كے دام فريب ميں اكر سخت دھوكہ كھائے ، جى نہيں ، بلكہ ان لوگوں نے يزيد بن ابو سفيان ( برادر معاويہ ) كے ہاتھوں اسلام كو قبول كيا تھا اور تقريبا بيس سال سے معاويہ كى حكمرانى ميں زندگى گذار رہے تھے ، لہذا ايك طرف شام والوں كى سادہ لوحى تھى ، جسكى وجہ سے بنى اميہ جدہر چاہتے تھے انكو گھما ديتے تھے اور دوسرى طرف خاندان بنى اميہ سے ان لوگوں كى بيس سالہ رفاقت و محبت تھى ، يہى وہ كڑى سے كڑى تھى جو اہل شام كو معاويہ كے افكار و نقشہ كو قبول كرنے ميں معاون ومدد گار ثابت ہوئي ، اسى لئے شام والوں نے فورا اس كى بيعت كر كے اس كے فرمان پر اپنا سر تسليم خم كر ديا(۲۵) اہل شام چاہتے تھے كہ امام (ع) سے جنگ كريں كيونكہ ان لوگوں كو سمجھايا گيا تھا كہ قاتل عثمان اپكے حاشيہ نشين اور پناہ ميں ہيں ، لہذا ان لوگوں كو كھينچ كر لايا جائے گا پھر خليفہ ء مظلوم كے خون كا بدلہ ان سے ليں گے _ شام والے معاويہ كى سر براہى ميں خون عثمان كا بدلہ لينے كےلئے امام (ع) سے جنگ كرنے كى خاطر يہاں سے چل ديئے ، دونوں لشكر كا ربيع الثانى ۳۸ھ ميں ميدان صفين ميں امنا سامنا ہوا(۲۶) صفين كے كھلے ميدان ميں نہر فرات كے كنارے دونوں لشكر كے ما بين كافى دنوں تك جنگ بند رہى ، امير المومنين (ع) نے جنگ ميں كبھى پيش قدمى نہيں كى اور جس طرح اسلام نے حكم ديا تھا اسى طرح اپنے لشكر والوں كو دستور ديا ، معاويہ نے پہلے ہى روز نہر فرات كا پانى جو تنھا مخزن اب تھا امام (ع) كے لشكر پر بند كر ديا ، چالاك مشاور عمر و عاص نے كہا _ اے معاويہ _ تمھيں معلوم ہونا چاہيئے كہ على (ع) اور انكے ساتھيوں كے ہاتھ ميں جب تك چمكتى ہوئي تلواريں اور لچكتے ہوئے نيزے ہيں كبھى پياسے نہيں رہ سكتے ہيں ، بہتر يہ ہے كہ تم انھيں پانى سے نہ روكو ، ليكن لشكر امام (ع) كا دلير سردار مالك اشتر كى سعى و كوشش نے نہر فرات كو معاويہ كے سپاہ سے چھين ليا _ جب لشكر على نے نہر فرات پر قبضہ كر ليا تو حضرت على (ع) نے اپنى شان و شوكت سے معاويہ كے پاس پيغام بھيجوايا كہ ، اگر چہ فرات پر ہمارا قبضہ ہے مگر تم اور تمھارى فوج چاہے اور جتنا چاہے پانى لے سكتى ہے اس پر سبھى كا حق بنتا ہے(۲۷) _

____________________

۲۵_ صفين ص ۱۲۸

۲۶_ صفين ص ۲۰۹، شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۲۵۰

۲۷_ صفين ص ۱۹۳


معاويہ كى چالاكي

يہ پہلى جھڑپ دونوں لشكر كے درميان تھى ، جنگ مدت دراز كے لئے متوقف ہوگئي كيونكہ امير المومنين (ع) نے حتى الامكان كوشش كى كہ جنگ اور زبر دستى كے ذريعہ اپنے نظريات كو نہيں تھوپاجائے ليكن شامى سوائے خون عثمان كے كچھ نہيں كہتے تھے ؟

ذى الحجہ كے مہينے ميں بھى چھوٹى موٹى مڈ بھيڑيں ہوئيں ليكن اسكا كوئي خاص نتيجہ نہيں نكلا ، محرم الحرام كى امد پر طرفين جنگ سے دستبرادر ہو گئے ، ليكن اس مہينہ كے تمام ہوتے ہى دوبارہ جنگ شروع ہو گئي ، ان تمام مدتوں ميں معاويہ كى يہى سعى و كوشش رہى كہ كسى نہ كسى طريقہ سے امام عليہ السلام اسكو حكومت شام كا پروانہ لكھديں تاكہ جنگ كا خاتمہ كر دے ، ليكن امام (ع) كسى قيمت پر راضى نہيں تھے كہ معاويہ جيسا انسان انكا ہمنوا بنے_

اخر ايك شديد حملہ ميں لشكر امام (ع) كى شجاعت اور پا فشارى كا نتيجہ يہ ہوا كہ فوج نے داہنى سمت سے اتنى پيش قدمى كى كہ معاويہ كے خيمہ تك پہونچ گئي _ ليكن ميسرہ كى فوج شاميوں كے حملہ كى تاب نہ لاكر پيچھے ہٹ گئي _

اس وقت امام عليہ السلام بہ نفس نفيس ميدان ميں اگئے اور اپنے فرارى لشكر كو للكارا ،پھر معاويہ سے كہا ، اے معاويہ لوگوں كا خون نا حق كيوں بہا رہا ہے ائو ہم دونوں لڑكر فيصلہ كر ليں معاويہ نے جان كے خوف سے امير المومنين كى دعوت قبول نہيں كى كيونكہ خوب جانتا تھا كہ جو بھى بہادر امام (ع) سے مقابلہ كرنے كے لئے ميدان جنگ ميں گيا وہ دوبارہ واپس نہيں آيا ہے _

تمام رات جنگ جارى رہى ، جب رات كا اندھيرا چھٹا تو لشكر امام (ع) كى شكست اخرى مرحلہ ميں تھى ، مالك اشتر كوفہ كے بہادروں كے ساتھ ميمنہ كى طرف سے اور امام (ع) قلب لشكر سے دشمنوں پر تابڑ توڑ حملہ كر رہے تھے ، اور


لشكر كوفہ كے سپاہى جب شام كى فوج ميں گھس گئے تو معاويہ نے راہ فرار اختيار كى اسكے سپاہيوں كو سوائے شكست كے كوئي اور چيز نظر نہيں ارہى تھى ، كفر اور جاہليت كا ركن بزرگ ہميشہ كے لئے نيست و نابود ہو رہاتھا اور حكومت علوى تمام بلاد اسلامى پر حكمرانى كرتى نظر ارہى تھى كہ اچانك معاويہ كے مكار مشاور عمر و عاص كے ذہن ميں ايك فتور آيا تب جا كر معاويہ كى جان ميں جان ائي _

عمر و عاص نے معاويہ سے كہا كہ :

لشكر شام كو حكم دو كہ قران كو نيزوں پر بلند كريں فوج شام نے اسكے حكم كى تعميل كر كے يہ كہنا شروع كيا كہ ہم حكم قران پر راضى ہيں اس طرح پانچ سو قران نيزے پر بلند كئے گئے(۲۸) ،امام (ع) كے لشكر كے بے دين افراد نے اس فريب ميں اكر استقامت كرنا چھوڑ ديا _

سوائے چند افراد كے كوئي بھى ثابت قدم نہ رہ سكا خاص طور پر وہ جو معاويہ كے مزدور اور سپاہ كوفہ كے منافقين تھے جيسے اشعث بن قيس كہ اس نے اس راہ ميں خوب فتنہ برپا كيا(۲۹) _

امام (ع) اور ا ن كے لشكر والوں نے بہت سمجھايا بجھايا كہ يہ كام دھوكہ اور سياست ہے يہ لوگ نہ مسلمان ہيں اور نہ ہى قران والے ہيں ہم نے بارہا ان لوگوں كو قران كى طرف دعوت دى ليكن اسكے سايہ ميں نہيں آئے _

لشكر امام (ع) كے افراطى لوگ اشعث بن قيس كى سر براہى ميں بغاوت و سر كشى پر اتر آئے ، اس ہنگامہ بلا خيز ميں مالك اشتر ايك طرف سے لشكر معاويہ كو درہم برہم كئے ہوئے تھے ، عنقريب تھا كہ جنگ لشكر امام (ع) كے حق ميں ختم ہو _

دوسرى طرف اشعث اوراسكے ساتھيوں نے امام (ع) كو سخت محاصرے ميں لے ليا اور ان سے كہا كہ اپ مالك اشتر كو حكم ديں كہ ميدان جنگ سے واپس اجائيں ، امام (ع) نے فرستادہ كو بھيجا ، مالك اشتر نے اس سے كہا كہ انحضرت سے كہنا كہ يہ گھڑى جنگ سے واپس بلانے كى نہيں ہے ، ہميں خدا وند عالم پر بھروسہ ہے كہ جلد كاميابى نصيب كر دے گا ، وہ شخص مالك كا پيغام ليكر لوٹ آيا _

اسى اثنا ء ميں شديد گرد و غبار اور ڈھول تاشے كى آواز ميدان جنگ ميں گونجنے لگى ، لشكر عراق كى فتح اور شام

____________________

۲۸_ مروج الذھب ج۲ ص ۳۹۰

۲۹_ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۶۵


والوں كى شكست نماياں تھى كہ جو لوگ امام عليہ السلام كو انگشترى كے نگينہ كى طرح گھيرے ہوئے تھے انھوں نے فرياد بلند كرنا شروع كر دى كہ اپ نے اشتر كو اتش جنگ بھڑ كانے كا حكم ديا ہے _

امام عليہ السلام نے فرمايا ، وائے ہو تم لوگوں پر ہم نے اپنے فرستادہ سے چپكے سے گفتگو كى تھى آيا تم لوگوں كے سامنے ہم نے واپسى كا پيغام نہيں كہلايا تھا _

ان لوگوں نے امام (ع) سے كہا كہ اپ مالك اشتر كے پاس كہلوايئےہ ميدان سے واپس چلے ائيں _ ورنہ ہم لوگ اپكے لشكر سے علحدہ ہو جائينگے_

امام (ع) نے مالك اشتر كے پاس پيغام بھيجوايا كہ پلٹ ائو ورنہ فتنہ و اشوب بھڑك اٹھے گا ، مالك اشتر نے كہا ، كيوں ، ان قران كى وجہ سے جو نيزوں پر بلند كئے گئے ، فرستادہ امام (ع) نے كہا ، جى ہاں ، مالك اشتر نے كہا ، خدا كى قسم ، مجھے اس بات كاخوف ہے كہ كہيں اسكى وجہ سے ہمارے درميان اختلاف نہ ہو جائے ، فرزند نابغہ عمر و عاص نے اس كام كو كر كے ہمارے ہاتھوں كو باندھ ڈالا ہے _ اہ _ آيا تم نہيں ديكھتے ہو كہ خدا وند عالم نے كس طريقہ سے فتح كو ہمارى جھولى ميں ڈالديا ہے ، ذرا تم خود بتائو يہ وقت ميدان چھوڑنے كا ہے _

امام (ع) كے فرستادہ نے كہا ، اے اشتر تم چاہتے ہو كہ ايك طرف فاتح ميدان بنو اور دوسرى طرف امام (ع) قتل كر ديئے جائيں يا دشمنوں كے حوالہ ہو جائيں ، ان لوگوں نے امام (ع) سے كہا ہے كہ اپ اشتر كو واپس بلواليں ورنہ ہم لوگ اپكو تلوار سے قتل كر دينگے ، جس طريقے سے عثمان كو قتل كيا گيا ہے ، مالك اشتر نے كہا ، خدا كى قسم ، ہم ہرگز ايسى فتح نہيں چاہتے ہيں يہ كہا اور ميدان جنگ سے واپس اگئے اور امام (ع) كى خدمت ميں شرفياب ہو كر ان لوگوں سے مخاطب ہوئے جنھوں نے امام (ع) كو محاصرہ ميں كر ليا تھا_

اے كاہلو _ ايك لمحے ميں دشمن كے اوپر پيروز وكامياب ہو جاتے اور وہ جو كتاب خدا و سنت رسول كو كچل رہا تھا انكو اپنے چنگل ميں كر ليتے مگر اسكے چھوٹے سے فريب ميں اكر پھنس گئے اور قران كے فريبى دعوت ميں اكر ميدان كو چھوڑ ديا مجھے كم از كم ايك ساعت كى مہلت ديدو تاكہ جنگ كو مرحلہ اختتام تك پہونچا دوں ،ان لوگوں نے كہا ، ہم لوگ اس بات كو تسليم نہيں كرتے _

مالك اشتر نے فرمايا : ايك مرتبہ گھوڑا دوڑانے كى مہلت ديدو


ان لوگوں نے كہا ، اگر اسكى اجازت دونگا تو تمہارے جرم ميں ہم لوگ شريك ہو جائيں گے مالك اشتر نے فرمايا ، مجھ سے بات بناتے ہو جب تم لوگوں نے جنگ كى تھى اور تمہارے اچھے عمار ياسر جيسے شھيد ہو گئے ، تو اس وقت حق پر تھے ، يا اب جبكہ تم لوگ بچ گئے ہو اور تمھيں لوگ خوا ہاں صلح ہو ؟

اگر اسوقت تم لوگ حق پر ہو تو وہ لوگ جو تم سے بہتر تھے اور انكى پاكيزگى كا تم لوگ انكار بھى نہيں كر سكتے وہ اگ ميں جل رہے ہوں گے ؟

ان لوگوں نے كہا _ اشتر ہم لوگوں كو چھوڑ دو ہم لوگ تمھارى پيروى نہيں كرينگے اور ہمارى نگاہوں سے دور ہو جائو _

مالك اشتر نے جواب ديا ، خدا كى قسم ، تم لوگوں نے دھوكہ كھايا ہے ہم تمھارى نمازوں كو شوق خدا اور زھد دنيا كى دليل سمجھے بيٹھے تھے ليكن اب مجھے معلوم ہو گيا كہ تم لوگ موت كے خوف سے بھاگ رہے ہو اور ابھى دنيا ميں رہنے كا اشتياق ركھتے ہو ، اج كے بعد كبھى عزت و سر بلندى كو نہيں ديكھو گے دور ہو جائو اسى طرح جس طرح ستمكاران دور ہو گئے ، ناہنجار و سر كش افراد ان كے جواب سے ششدر رہ گئے تھے ، اشتر كو برا بھلا كہا گيا ، يہاں تك كہ انكے گھوڑے كو تازيانے سے مارا جب حد سے زيادہ بات بڑھ گئي تو مالك اشتر نے بار ديگر ان لوگوں كو خوب سنايا _

امام (ع) نے جب ان حالات كو ديكھا تو مالك اشتر كو بلا كر ارام كرنے كو كہا ، جسوقت ارام كر رہے تھے تو اشتر نے امام (ع) سے فرمايا كہ ، اقا اتنى اجازت ديديجئے كہ ان لوگوں سے نپٹ لوں اور ان تمام لوگوں كے ہوش كو ٹھكانے تك پہونچا دوں حاضرين نے آواز بلند كرنا شروع كر دى كہ على (ع) حكميت پر راضى ہو گئے مالك اشتر نے كہا ، اگر على (ع) راضى ہو گئے ہيں تو ہم بھى حكميت پر راضى ہيں چارو ں طرف سے ايك ہى آواز تھى على (ع) راضى ہيں ، اس ہنگام ميں امام (ع) سر جھكائے خاموش تھے اور كوئي بات نہيں _(۳۰)

____________________

۳۰_ صفين ص ۴۹۲


ابو موسى اور عمر و عاص

اپ نے ملاحظہ فرمايا كہ، امام (ع) اپنے لشكر كے ان سركش اور باغى افراد كے نظريات كو قبول كرنے ميں مجبور ہو گئے تھے جو حكميت كے خواہاں تھے ، بات انتخاب حكم تك پہونچ گئي شام والوں نے عمر و عاص كو منتخب كيا اشعث اور اسكے كوفے كے ساتھيوں نے جو اس واقعہ كے بعد خوارج كہلانے لگے انھوں نے كہا كہ ، ہم ابو موسى اشعرى كو اس كام لئے منتخب كرتے ہيں _

امام (ع) نے فرمايا ، ہم ابو موسى كو اس اہم كام پر منتخب نہيں كرنا چاہتے ہيں

اشعث اور اسكے ساتھيوں نے كہا ہم سوائے ابو موسى كے كسى كو حكم نہيں بنانا چاہتے ہيں كيونكہ اس نے پہلے ہى ہم لوگوں كو جنگ ميں شريك ہونے سے منع كيا تھا _

امام (ع) نے كہا :ميں اسكى حكميت سے راضى نہيں ہوں كيونكہ اس نے مجھ سے دورى اختيار كى اور لوگوں كو ہمارى مدد سے روكا پھر مجھ سے فرار بھى كيا يہاں تك كہ ہم نے اسكو امان ديا ہم اس كام كے لئے ابن عباس كو نامزد كرتے ہيں _

ان لوگوں نے كہا ، خدا كى قسم ، ابن عباس اور تمھارے ميں فرق ہى كيا ہے لہذا ہم لوگ انكو قبول نہيں كرتے كوئي ايسا شخص لشكر عراق سے حكم ہو جسكى نسبت معاويہ اور تم سے يكساں ہو_

امام (ع) نے فرمايا ، پھر مالك اشتر كو معين كرتا ہوں

اشعث نے كہا _ انھيں كى بدولت تو جنگ كے شعلے بھڑ كے ہيں اور وہ بھلا چاہيں گے كہ تحكيم كامياب ہو ؟ امام (ع) نے فرمايا كہ اشتر كے سلسلے ميں كيا خيال ہے _

ا شعث نے كہا اگر اشتر حكم ہو گئے تو ہمارے اور لشكر شام كے درميان اسقدر تلواريں چلے گيں _كہ اشتر اور تمھارى خواہش پورى ہو جائے گي


امام (ع) نے كہا ،اخر عمر و عاص ابو موسى كو فريب ديدے گا

ان لوگوں نے كہا ، ہم ابو موسى كى حكميت پر راضى ہيں

امام (ع) نے فرمايا سوائے ابو موسى كے كسى اور كو قبول نہيں كرو گے ؟

ان لوگوں نے كہا ، جى نہيں

امام (ع) نے فرمايا _ پس جو چاہو كرو

ايك شخص ابو موسى كو بلانے گيا مالك اشتر نے عرض كيا ، امير المومنين(ع) ہم كوبھى اس كے ہمراہ حكميت ميں شريك كر ديجئے ، اس پيشكش كو اہل كوفہ كے درميان ركھا گيا ليكن وہ لوگ اس پر راضى نہيں ہوئے_

پھر قرار داد قلمبند كى گئي كہ دونوں طرف كے حكم اس كے پابند ہو نگے كہ قران كريم اور سنت رسول (ص) كى رو سے فيصلہ كرينگے ، پھر اضافہ كيا گيا كہ اگر حكمين نے قران و سنت رسول (ص) كے خلاف فيصلہ كيا تو مسلمان اس فيصلے كو نہيں مانيں گے ،_ اس عہد و پيمان پر اہل شام كى جانب سے عمر و عاص نے اور ابو موسي( جو بيوقوف اور بے ايمان عراقيوں كى طرف سے منتخب ہوا تھا )نے دستخط كئے دو مہ الجندل كے اجتماع حكمين سے پہلے عمر و عاص نے ابو موسى اشعرى كى خوب تعظيم و تكريم كى اپنے سے بلند دكھانے كے لئے كہا كہ تم تو ہم سے پہلے رسول اسلام (ص) كے ہمنشين ہوئے اور تم ہم سے سن و سال ميں بڑے بھى ہو _

قبل اس كے كہ ابو موسى اور عمر و عاص ميں باہمى اختلاف ہو ابو موسى نے كہا:

اے عمر و عاص آيا تم امت كى صلاح نہيں چاہتے ہو ؟

عمر و عاص نے پوچھا ، امت كى صلاح كس چيز ميں ہے

ابو موسى نے جواب ديا ، صلاح اس ميں ہے كہ حكومت و خلافت كو عبد اللہ بن عمر كے حوالہ كر ديا جائے كيونكہ اس نے ان جنگوں ميں شركت بھى نہيں كى ہے _

عمرو عاص نے كہا _ تم نے معاويہ كو كيوں فراموش كر ديا


ابو موسى نے كہا ، خلافت سے معاويہ كو كيا سرو كار ہے وہ تو كسى صورت ميں اسكا مستحق نہيں ہے ، بات طول پكڑ گئي اور دونوں نے كسى پر اتفاق رائے قائم نہيں كيا ، اخر اس مسئلے كو كيسے سلجھايا جائے ، ابو موسى نے كہا ، ميرى رائے يہ ہے كہ ان دونوں ( على (ع) و معاويہ ) كو تخت خلافت سے بركنار كر ديا جائے اسكے بعد خلافت كو مسلمانوں كى شورى پر چھوڑ ديا جائے جسكو چاہيں منتخب كر ليں _

عمر و عاص نے كہا ، تم صحيح كہتے ہوہم اس رائے پر اتفاق كرتے ہيں ، يہ وہى مشورہ ہے جس ميں عوام كى بھلائي بھى ہے _

دونوں صبح سويرے لوگوں كے جم غفير ميں حاضر ہوئے ، ابو موسى نے عمر و عاص سے كہا كہ منبر پر جا كر اپنى بات كو بيان كرو _

عمر و عاص نے اپنے نقشہ كے تحت جس كا اظہار بھى كيا تھا كہ ہم ہرگز تم پر سبقت نہيں كر سكتے كيونكہ تم ہجرت اور عمر كے لحاظ سے مجھ سے بڑے ہو ، پہلے بولنے كے لئے كہا :

ابو موسى اشعرى كھڑے ہوئے اور منبر پر اكر حمد الہى كے بعد كہا ، اے لوگو ، ہم دونوں نے ان چيزوں كے بارے ميں جو امت اسلامى كى يگانگى اور الفت كو دوبارہ پلٹا دے كوئي چيز ان دونوں ( على (ع) ومعاويہ ) كے بر كنار كرنے سے بہتر نہيں پايا _

اس كے بعد خلافت كو شورى كے حوالہ كر ديا جائے ، تاكہ شورى جس كو چاہے اس كو انتخاب كرے ، اور ميں على و معاويہ كو بركنار كرتا ہوں ، يہ كہہ كر فورا منبر سے اتر آيا ا س كے بعد منبر پر عمر و عاص آيا حمد الہى كے بعد اس طرح تقرير كى كہ ، اس مرد كى باتوں كو تم لوگوں نے سنا اس نے على (ع) كو بركنار كر ديا اگاہ ہو جائو كہ ميں بھى اسى طرح على كو معزول كرتا ہوں اور اس كى جگہ معاويہ كو برقرار كرتا ہوں كيونكہ وہ خون عثمان كا انتقام لينے والا اور ان كا وارث ہے اور اس كى جانشينى كا حقدار بھى ہے ، ابو موسى ان تمام مكارى و دھوكہ دھڑى سے بہت ناراض ہوا اور كہنے لگا تم نے ايسا كيوں كيا خدا وند عالم كبھى تمہارى مدد نہ كرے اور تم نے دھوكہ ديكر گناہ عظيم كيا ہے ، اے عمر و عاص تمہارى مثال اس كتے كى طرح ہے كہ اس پر حملہ كرو تو ،يا اس كو چھوڑ دو تو، منھ سے زبان نكال كر سانس ليتا ہے _


عمر و عاص بھى جواب دينے سے نہيں چونكا ، اس نے كہا ، تمھارى مثال اس گدھے كى سى ہے جس پر كتا بيں لاددى گئي ہوں _(۳۱)

حكمين اور ان كے ساتھى بادل نا خواستہ ايك دوسرے كو برا بھلا كہتے ہوئے متفرق ہو گئے ، در انحاليكہ حكميت سے كوئي خاص نتيجہ نہيں نكل پايا تھا سوائے اسكے كہ معاويہ كو امير المومنين كى صف ميں لاكر كھڑا كر ديا گيا ، جبكہ وہ اس وقت سوائے ايك حاكم طاغى كے كچھ نہ تھا جو حكومت اسلامى پر خليفہ نامزد كر ديا گيا تھا ، جنگ صفين ميں لشكر شام كى جانب سے پينتاليس ہزار افراد اور لشكر عراق سے پچيس ہزار افراد قتل ہوئے(۳۲)

شام كے ليٹرے

معاويہ اپنى بچى كھچى فوج كو ليكر ۳۷ھ ميں شام واپس اگيا ، ليكن لشكر امام (ع) اور لشكر حق كو نيست و نابود كرنے كے لئے ايك نئي تدبير سوچى اور اس كو عملى جامہ پہنايا ، معاويہ امير المومنين (ع) كے ما تحتى والے علاقوں ميں وقتا فوقتا چھوٹے موٹے لشكر كو بھيجتا رہا تاكہ سر سبز و شاداب بستيوں كو ويرانے ميں تبديل كر دے _

كچھ افراد جيسے نعمان بن بشير ، سفيان بن عون ، عبد اللہ بن مسعدہ ، ضحاك بن قيس ، بسر بن ارطاة ، اور انكے علاوہ دوسرے لوگ بھى اس جنايت عظيم كے لئے روانہ كئے گئے ، معاويہ كے فرمان سے تمام بلاد اسلامى عراق ، حجاز ، يمن ، كے بے گناہ مسلمانوں كو موت كے گھاٹ اتارا گيا ، اور بستيوں ميں قتل و غارتگرى خوف و دہشت پھيلائي گئي _

ہم اس خونريزى اور قتل و غارتگرى اور ضد انسانيت كى افسوسناك داستان كو ضمير فروش انسانوں كى پہچان كے لئے قارئين كرام كى خدمت ميں پيش كرنا چاہتے ہيں _

____________________

۳۱_ وقعة صفين ص ۵۴۹

۳۲_ صفين ص ۶۴۳


۱_ نعمان بن بشير

يہ شخص انصار كے قبيلہ خزرج سے تھا ، نعمان كى پيدائشے رسول (ص) كى رحلت سے چھہ يا اٹھ سال قبل ہوئي عثمان كے زمانے ميں جو فتنہ و اشوب انكى كرتوت كى بناء پر اٹھا تھا اسوقت يہ شخص خليفہ كے ہوا داروں ميں سے تھا ، عثمان كے بعد معاويہ كے ساتھ ہو گيا اور معاويہ كے مرنے كے بعد يزيد كے ہمنوائوں ميں ہو گيا ، نعمان نے اپنى قوم كے بر خلاف كام كيا _

قبائل انصار جو حكومت امير المومنين (ع) اور حضرت اما م حسن (ع) كے زمانہ ميں انھيں دونوں بزرگوں كى ہمراہى كى تھى اور قدم قدم پر ساتھ ديا تھا ، اس نے رو گردانى كى _

نعمان بن بشير يہ وہى شخص ہے جو عثمان كے خون الود پيراہن كو مدينہ سے شام لايا ، جيسا كہ اپ نے ملاحظہ فرمايا ، كہ معاويہ نے اس پيراہن كو مسجد دمشق كے منبر كے نزديك اويزان كر ديا اور شام كے سادہ لوح افراد نے اسكے گرد جمع ہو كر خوب گريہ كيا اور معاويہ نے ان لوگوں كو على (ع) اور انكى خلافت كے خلاف خوب بھڑكايا ، حكومت معاويہ كے زمانے ميں

____________________


حاكم كوفہ ہوا اسكے بعد شہر حمص كى فرما نراوئي حاصل ہوئي ، ليكن معاويہ بن يزيد كے بعد عبد اللہ بن زبير كے طرفداروں ميں ہو گيا _

لہذا لشكر اموى نے اسكو'' مرج راہط ''كے مقام پر ذى الحجہ ۶۴ ھ ميں قتل كر ديا(۳۳)

معاويہ نے ۳۹ھ ميں نعمان بن بشير كى سر براہى ميں ايك ہزار كى فوج كے ساتھ عين التمرپر حملہ كرنے كے لئے بھيجا _

اس مقام پر امير المومنين(ع) كى ايك فوجى چھائونى تھى اس وقت صرف سو سپاہى تھے نعمان نے خطرناك حملہ كيا ، ليكن شہر كے شجاع و دلير سپاہيوں نے اپنى تلوار كو نيام سے نكال ليا اور ليٹرے شاميوں كے مد مقابل اكر خوب جنگ كى _

جنگ كے دوران پچاس ادميوں كا ايك مختصر دستہ مدد كے لئے اگيا نعمان نے اس دستہ كو ديكھا تو يہ سمجھا كہ يہ مقدمة الجيش ہے اور اسكے عقب ميں فوج ارہى ہے _

اس نے فورا واپسى كے ارادہ سے رخ موڑ ا اور شام كى جانب بھاگ كھڑا ہوا(۳۴)

۲_ سفيان بن عوف

قلمرو علوى ميں لشكر شام كى جانب سے دوسرى لوٹ كھسوٹ سفيان بن عوف كى سربراہى ميں انجام پائي _

اس نے جنگوں اور فتوحات شام ميں ابو عبيد ہ جراح كے ساتھ اہم كردار ادا كيا تھا معاويہ نے مدتوں بعد روميوں كے مقابلہ ميں جو جنگ و جہاد كا بازار گرم تھا اس كى رہبرى سفيان بن عوف كے حوالہ كر دى ، اخر سر زمين روم ۵۲ ھ ميں دنيا سے گيا _

سفيان بن عوف نے معاويہ كى طرف سے دوسرى ماموريت بھى انجام دى ہے جن ميں عراق كى سرزمين پر حملہ ہے يہ حملہ ۳۹ ھ ميں وقوع پذير ہوا _

معاويہ نے سفيان بن عوف سے چلتے وقت كچھ باتيں كہى تھيں كہ ، اگر تمھارى سفر ميں كسى سے جنگ چھڑ جائے اور مخالف تمھارا دوست نہيں ہے يعنى خاندان اموى كو دوست نہيں ركھتا ہے تو بغير خوف و ہراس كے اسكو قتل كر دينا ، جس

____________________

۳۳_ اسد الغابہ ج۵ ص ۲۳ ، اصابہ ج۳ ص ۵۲۹

۳۴_ طبرى ج۶ ص ۱۷۷ _ ابن اثير ج۳ ص ۱۵۰ _ شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۲۱۳ ، ابن كثير ج ۷ ص ۳۱۹ _ ۳۲۴


قريہ اور ابادى سے گذرنا اسكو ويران كر كے مال كو لوٹ لينا ، كيونكہ تخريبى نقطہ نظر سے مال كا لوٹنا قتل كے برابر نہيں ہے چاہے تمہارى جان اس راہ ميں چلى ہى كيوں نہ جائے(۳۵)

طبرى اور ابن اثيرنے اس غارتگرى كى اس طرح منظر كشى كى ہے كہ ، معاويہ نے سفيان بن عوف كى سر كردگى ميں چھہ ہزار كى جمعيت كے ساتھ ھيت و انبار اور مدائن پر حملہ كرنے كے لئے بھيجا معاويہ نے سفيان كو ہدايت كى كہ حملہ كر كے انھيں تباہ و برباد كردے سفيان نے حسب دستور پہلے ھيت كا رخ كيا _

جب سفيان كا لشكرھيت پہونچا تو كيا ديكھا كہ شہر خالى ہے كسكو قتل كرے اور كسے لوٹے اخر مجبور ہو كر اس جگہ سے كوچ كيا اور شہر انبار اگيا ، يہاں پر سو ادميوں كا ايك دستہ شہر كى حفاظت كے لئے متعين تھا ، جب اسے معلوم ہوا كہ فوج كى تعداد كم ہے تو اپنے لشكر كى صف بندى كر كے حملہ كر ديا ، كافى لڑتے جھگڑتے قتل ہو گئے _

اب شاميوں كى چيرہ دستيوں كو روكنے كے لئے كوئي نہ تھا انہوں نے ايك ايك گھر كو لوٹا اخر سفيان اموال كثير كے ساتھ معاويہ كے يہاں پلٹ گيا(۳۶)

اديب شہير و مورخ ابو الفرج نے كتاب اغانى ميں سفيان كے حملے كى داستان كو يوں بيان كيا ہے '' مرد غامدى نے شہر انبار پر حملہ كيا حاكم شہر اور كثير تعداد ميں مردوں اور عورتوں كو بے رحمانہ قتل كيا اس دلخراش حادثہ كى خبر امير المومنين (ع) كو معلوم ہوئي_

اپ نے ايك خطبہ ديا كہ ، تم لوگوں نے ہمارے فرمان كو پس پشت ڈالديا ہے يہى وجہ ہے كہ تمھارے اس پڑوس كے لوگ تم پر حملہ كر رہے ہيں ، يہ مرد غامدى جو شہر انبار ميں اكر حاكم شہر اور كثير تعداد ميں مرد و زن كو موت كے گھاٹ اتار كر چلا گيا ، خدا كى قسم ہميں معلوم ہوا ہے كہ اس نے مسلمان عورتوں اور اہل كتاب پر حملہ كيا اور عورتوں كے زيورات نيز جو كچھ ہاتھ لگا اسكو سميٹ كر چلتا بنا ہے ، شام كے ڈاكو اپنے شہر كى طرف اس طريقے سے پلٹ رہے ہيں كہ انكے ہاتھ اموال سے لبريز اور ايك چھوٹا سا زخم بھى ان كے جسم پر نہيں ہوتا ہے اگر ايك غيور مسلمان اس ضد انسانى اور خلاف اسلام عمل سے رنجيدہ ہو كر مر رہا ہے تو بھتر ہے كہ اسكى مذمت و سر زنش نہ كى جائے(۳۷)

____________________

۳۵_ شرح النہج ج۲ ص ۹۰

۳۶_ عيون الاخبار ج۲ ص ۲۳۶

۳۷_ اغانى ج ۱۵ ص ۴۳


۳_ عبد اللہ بن مسعدہ

عبد اللہ بن مسعدہ انھيں ميں سے ايك ہے جسكو معاويہ نے مملكت امام (ع) كى تاخت و تاراجى كے لئے بھيجا تھا ، يہ كمسنى ميں جو زيد بن حارثہ كى جنگ قبيلہ بنى فراز سے ہوئي تھى اس ميں اسير ہوا تھا، رسول اسلام نے اسكو اپنى بيٹى فاطمہ كے حوالہ كر ديا تھا ، ليكن اپ نے اسكو ازاد كر ديا _

عبد اللہ ابتداء ميں امير المومنين(ع) كے چاہنے والوں ميں سے تھا ، ليكن مدت كے بعد معاويہ كے پاس دمشق چلا گيا _

اس نے اپنى فكر كو اس طرح بدل ڈالا كہ امام (ع) كے سر سخت دشمنوں ميں اس كا شمار ہونے لگا ، عبد اللہ بن مسعدہ نے اتنى طولانى عمر پائي كہ يزيد بن معاويہ كے لشكر كے ساتھ واقعہ حرہ كے حملہ ميں شريك ہوا يہ جنگ تمام تر قساوت قلبى اور ہتك حرمت و ذلت كا مظاہرہ تھى اور اس طرح يزيد اور خلافت بنى اميہ كے دامن پر دوسرا دھبہ لگا _

عبد اللہ نے اسكے علاوہ بھى شام كى جانب سے عبد اللہ بن زبير سے جنگ كى اور اسى جنگ ميں برى طرح زخمى ہوا ، مورخين نے اس واقعہ كے بعد كے اسكے حالات قلمبند نہيں كئے ہيں(۳۸) معاويہ نے عبد اللہ بن مسعدہ فرازى كو سترہ سو ادميوں كے ساتھ قلمرو امام (ع) كى جانب روانہ كيا اور اسے حكم ديا كہ مكہ و مدينہ تك بڑھتا چلا جائے اور راستے ميں جو بستياں پڑيں وہاں كے باشندوں سے زكواة و صدقات كو جمع كر لے اور اگر كوئي انكار كرے تو بے دريغ انھيں قتل كر دے _

۴- ضحاك بن قيس

قريش سے ضحاك بن قيس كا شمار معاويہ كے جنگى سربرا ہوں ميں ہوتا تھا ،اس كى ولادت رسول اكرم كى وفات سے سات سال قبل ہوئي تھى _

اس نے معاويہ كى جنگوں ميں بڑھ چڑھ كر حصہ ليا اور بہت سارے اسيروں كو اپنا ہمنوا بنا يا تھا ، ايك مدت تك شہر دمشق كا داروغہ رہا پھر ۵۳ھ ميں كوفہ كا حاكم بنا اور چار سال تك كوفہ پر حكومت كى ،ضحاك بن قيس نے معاويہ كے امور كو مرتے تك انجام ديا ، يزيد جو شكار كے لئے گيا تھا ، اسكے باپ كے مرنے كى خبر اسى ضحاك نے اس تك پہونچائي تھى ،

____________________

۳۸_ اسد الغابہ ج۳ ص ۲۵۵ ، اصابہ ج۲ ص ۳۵۹، جمہرة انساب العرب ص ۲۴۵ ، طبرى ج۴ ص ۸۳ ، يعقوبى ج۲ ص ۴۴


ليكن معاويہ بن يزيد كے مرتے ہى اس نے عبد اللہ بن زبير كى بيعت كر لى ، مروان بن حكم كے خلاف ''مرج راہط'' كے مقام پر اس سے جنگ كى اسى مقام اور اسى جنگ ميں ماہ ذى الحجہ كے وسط ۶۴ھ ،ميں قتل ہوا(۳۹)

معاويہ نے ضحاك بن قيس كو تين ہزار لشكر كے ساتھ عراق كى طرف روانہ كيا اور اسے حكم ديا كہ واقصہ كے باديہ نشين عربوں كو جو على (ع) كى اطاعت قبول كر چكے ہوں انكو قتل كر دے اور ان كا مال و اسباب لوٹ لے _

ضحاك نے معاويہ كے حكم كو جان و دل سے قبو ل كيا اور سر زمين ثعلبيہ كى جانب چل ديا اور اس مقام كے قبائل كا مال و اسباب لوٹا ، اسكے بعد كوفہ كى تاخت و تاراجى كے لئے رخ كيا ، قطقطانہ كے نزديك عمر و بن قيس بن مسعود جو حج كے لئے جا رہے تھے ان پر حملہ كر كے سارا زاد راہ ان سے اور انكے قافلہ والوں سے چھين كے حج كرنے سے روك ديا(۴۰)

ثقفى كتاب غارات ميں داستان ضحاك كو اس طرح بيان كرتے ہيں :

ضحاك عراق كى جانب روانہ ہوا اور ہر جگہ اموال و اسباب كو لوٹا اور بہت سارے لوگوں كو موت كے گھاٹ اتارا ، جب سرزمين ثعلبيہ پر پہونچا تو اس مقام سے كچھ حاجيوں كا قافلہ حج كے لئے مكہ جا رہا تھا ان كے قافلہ پر حملہ كر كے ان كا پورا مال و اسباب چھين ليا ، پھر كچھ دور چلا اس مقام پر عمرو بن قيس جو مشھور صحابى رسول (ص) عبد اللہ بن مسعود كے بھتيجے تھے انكو اور ان كے ساتھيوں كو قتل كيا اسكے بعد ان لوگوں كے ساز و سامان كو لوٹ ليا _

____________________

۳۹_ اسد الغابہ ج۳ ص ۳۷ ، تہذيب ابن عساكر ج۷ ص ۹

۴۰_ طبرى ج۶ ص ۷۸ ، ابن اثير ج۳ ص ۱۵۰


۵- بسر بن ارطاة

بسر بن ارطاة قبيلہ قريش سے ايك انتہائي خونخوار و سفاك سردار تھا ، جس كو معاويہ نے عراق و حجاز كو تباہ و بر باد كرنے كے لئے بھيجا تھا ، معاويہ كے سر سخت ہوا خواہوں اور جنگ صفين ميں لشكر معاويہ كى سردارى كرتے ہوئے شريك ہوا _

جنگ كے دوران ايك روز معاويہ نے اس سے كہا كہ تم على (ع) سے تنھا مقابلہ كرنے جائو گے اور ہم نے سنا ہے كہ تمھيں اس سے مقابلہ كرنے كى بہت ارزو ہے لہذا اب جا كر طاقت ازما لو ، اگر خدا وند عالم نے تم كو اس پر فتح و پيروزى عطا كى تو تمھارى دنيا و اخرت سنور جائے گى ؟

معاويہ نے كہا البتہ ميں جانتا ہوں كہ على (ع) سے تنہا لڑنا گويابھيڑيئےے منھ ميں جانا ہے اور كوئي بہادر على (ع) سے ٹكرا كے اپنى جان كوسلامت نہيں بچا سكا ہے لہذا بسر تمام عربى تعصب و جاہلى جسارت سے اپنے قدم كو كھنچ لے اور اس كام كو انجام نہ دے_

ايك دن بسر نے جنگ كرتے ہوئے حضرت على (ع) كو اپنے سامنے ديكھا تو ان پر حملہ كر ديا ليكن قبل اسكے كہ امير المومنين (ع) پر اسكى ضرب كارى اثر انداز ہو امام (ع) نے ايسا حملہ بسر پر كيا كہ زين سے زمين پر اگيا جب اس نے اپنى جان كو شير كے پنجہ ميں احساس كيا تو فورا ذليل و شرم اور حركت انجام دى كہ اپنے لباس كو اتار ڈالا ، يہاں تك كہ اسكى شرمگاہ ظاہر ہو گئي _

امام على (ع) نے فوراً اپنى انكھ بند كر كے پھير ليا اور اسكو اپنى حالت پر چھوڑ ديا _

اپ ہم جانتے ہيں كہ اسى طرح كا دوسرا واقعہ اسى جنگ صفين ميں عمر و بن عاص كے ساتھ پيش آيا تھا ، امام (ع) نے اس دن بھى اپنا منھ گھما ليا تھا اور ميدان جنگ ميں اپنى جان بچانے كے لئے ايسى گھٹيا حركت كى تھى كہ اپ اسكو قتل كرنے سے باز آئے_


ان دونوں حادثوں كا ادبيات عرب ميں بہت برا اثر پڑا اور بہت سارے شعراء نے اس سلسلہ ميں شعر بھى كہے جن ميں ايك حارث بن نضر سہمى ہے وہ كہتا ہے :

تم لوگ جنگ كے دنوں ميں ہر روز سوار ہو كر ميدان جنگ ميں جاتے ہو ، ميدان جنگ كے گرد و غبار كے درميان اپنى شرمگاہ كو ظاہر كرنے كے لئے ، يہى وہ وقت ہے جو حضرت على (ع) اپنے نيزے كو تم لوگوں پر نہيں مارتے ہيں اور معاويہ تنہائي ميں تم دونوں پرہنستا ہے گذشتہ دنوں عمرو كى شرمگاہ ظاہر ہو گى اسكى يہ ركيك حركت ہميشہ مثل دستار كے اسكے اوپر بندھى رہے گى اور اج كے دن بسر نے بھى عمرو بن عاص كى طرح اپنى شرمگاہ كو ظاہر كرديا _

عمر و اور بسر سے كوئي كہدے كہ اپنى راہ پر خوب غور و فكر كريں ، كہيں ايسا نہ ہو كہ پھر شير كے مقابلہ ميں چلے جائيں ، تم لوگوں پر لازم ہے كہ اپنى اپنى شرمگا ہوں كا شكريہ ادا كرو كيونكہ خدا كى قسم ، اگر تمھارى شرمگاہيں نہ ہوتيں تو كوئي تمہارى جان كو نجات نہيں دے سكتا تھا_

يقينا تم لوگوں كى شرمگاہيں تھيں كہ جس نے تمھارى جان بچائي ، اسى واقعہ نے تم لوگوں كو بار ديگر ميدان جنگ ميں جانے سے روك ديا ہے ،(۴۱)

جنگ صفين كے قہر مان مالك اشتر نے بھى اس سلسلے ميں شعر كہا ہے جس كاترجمہ يہ ہے كه :

جنگ كے دنوں ميں ايك روز تمھارے بزرگوں ميں سے كسى ايك كے ميدان جنگ سے قدم اكھڑ گئے تو جنگ كے گرد و غبار كے درميان شرمگاہ نظر ائي ، صاحب نيزہ كى ضربت شديد نے ان پر وہ ظلم و ستم كيا كہ خوف كے مارے اپنى شرمگاہ كو اشكار كر ديا ، كس كى شرمگاہ ؟ عمرا و ربسر كى جنكى كمر ہميشہ كے لئے ٹوٹ گئي(۴۲)

____________________

۴۱_ استيعاب ص ۶۷ ، صفين ص ۵۲۷

۴۲_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۲۰۱


مورخين نے اس مسئلہ ميں اختلاف كيا ہے كہ ، آيا بسر صحابى رسول (ص) ميں تھايا نہيں ؟ اور رسول (ص) سے شرفياب ہونے كى صورت ميں كوئي حديث سنى يا نہيں ؟

ليكن مورخين كا بيان ہے كہ وفات رسول (ص) كے بعد اپنے دين سے منحرف اور مرتد ہو گيا تھا ، جب امام عليہ السلام كو اسكى عراق و حجاز ميں ظلم وسفا كى كى خبر معلوم ہو ئي كہ بسر نے بچوں تك كو قتل كيا ہے تو اسكے حق ميں بد دعا كرتے ہوئے فرمايا ، خدا يا اس سے دين و عقل كو چھين لے ، امام عليہ السلا م كى دعا مستجاب ہوئي، مرنے سے پہلے اپنى عقل كو كھو بيٹھا مگر اس بد حواسى كے عالم ميں بھى يہ كہتا كہ مجھے تلوار دو ، اخر لكڑى كى ايك تلوار اسے دى گئي اور مشك ميں ہوا بھر كر اسكے سامنے ركھ دى گئي وہ اس مشك پر تلوار چلاتا اور جذبہ خون اشامى كى تسكين كا سامان كرتا تھا ، اخر اسى ديوانگى كے عالم ميں معاويہ كے زمانے ميں مر كھپ گيا(۴۳)

طبرى لكھتا ہے :

معاويہ نے ۴۰ھ ميں بسر بن ارطاة كے سربراہى ميں ايك فوج امام كے علاقے ميں بھيجى اس نے اپنے لشكر كے ساتھ شام سے حركت كى ، جب مدنيہ پہونچا تو اس درندہ صفت انسان نے باقى انصار جو سالہا سال اسلام كى طرف سے جنگ كئے تھے اور اس راہ ميں كسى قسم كى كسر نہ اٹھا ركھى تھى ان پر حملہ كر كے ان لوگوں كو خوب ڈرا يا دھمكايا اس حملہ كے نتيجہ ميں شہر مدينہ كے اكثر گھر ويران ہو گئے اور نہ جانے كتنے لوگ بے گھر ہو گئے _

پھر مدينہ سے نكل كر يمن كى طرف چل ديا حاكم يمن عبيد اللہ بن عباس جو اپنے بچوں كو ايك شخص كے حوالہ كر گئے تھے

بسر كے لشكر نے اس شخص سے ان بچوں كو چھين ليا پھر اس خونخوار و سفاك انسان نے اپنے ہاتھ سے ان دونوں بچوں كوتہ تيغ كيا ، بسر نے اسى جنايت و غارتگرى پر اكتفا نہيں كيا تھا ، بلكہ اكثر شيعيان على (ع) كو موت كے گھاٹ اتار ا ان لوگوں كا گناہ صرف اتنا تھا كہ محب على (ع) تھے(۴۴)

____________________

۴۳_ اغانى ج ۱۵ ص ۴۵ ، تہذيب ابن عساكر ج۳ ص ۲۲۲

۴۴_ طبرى ج۶ ص ۷۸


ابراہيم بن محمد ثقفى اپنى كتاب غارات ميں لكھتے ہيں

معاويہ نے بسر كو تين ہزار كى فوج كے ساتھ عراق كى طرف روانہ كيا اور اسے حكم ديا كہ جب مدينہ پہونچ جانا تو لوگوں كو پريشان كرنا اور جس سے ملاقات ہو اسكو خوب ڈرانا دھمكانا جو لوگ ثروتمند ہوں اور ہمارى اطاعت كو قبول نہ كرتے ہوں انكے اموال كو غارت كر دينا ، بسر نے معاويہ كے حكم كے مطابق ان امور كو انجام ديا چنانچہ بسر اور اسكے لشكر والے جہاں كہيں اونٹوں اور جانوروں كو ديكھتے تھے انكے مالكوں سے چھين كر ان پر سوار ہو جاتے تھے يا پھر اسكو ہنكا كر ساتھ لے جاتے تھے ، جب لوٹ گھسوٹ كرتے ہوئے مدينہ پہونچا تو اس نے اہل مدينہ كے درميان تقرير كى ، اور ان لوگوں كو خوب برا بھلا كہكر بہت ڈرايا دھمكايا(۴۵)

معاويہ نے بسر بن ارطاة كو ۴۰ھ كے اوائل ميں يمن و حجاز كے لئے بھيجا ، اور اس نے بسر سے كہا كہ ، جو بھى امام (ع) كى اطاعت ميں ہو اسكو قتل كر دينا ، اس خونخوار بھيڑيئے نے معاويہ كے حكم سے مكہ و مدينہ جو اسلام كى زادگاہ اور جہاں وحى نازل ہو ئي تھى ضد انسانيت اور عظيم جنايت كا ارتكاب كيا(۴۶)

ابن عساكر نقل كرتے ہيں

بسر نے قبيلوں كے لوگوں پر حملہ كيا اور جو بھى امام (ع) كى محبت كا دم بھرتا تھا اسكو قتل كر ديتا تھا جيسے قبيلہ بنى كعب كا جو مكہ و مدينہ كے ما بين ايك ابادى ميں زندگى گزار رہے تھے قتل عام كيا اور اخر ميں لاشوں كو كنويں ميں پھينك ديا(۴۷)

مسعودى اپنى كتاب مروج الذہب ميں اس سلسلے ميں رقطراز ہيں :

بسر نے مدينہ ميں اور مدينہ و مكہ كے درميان بہت سارے قبيلہ خزاعہ اور ان كے علاوہ افراد كو قتل كيا _

جب مقام جرف پر آيا تو يہاں بہت سے اعراب زندگى گذارتے تھے جو ابناء سے مشہور تھے ، ان كو قتل كيا اور اس نے جسكو بھى محب امام (ع) پايا زندہ نہيں چھوڑا(۴۸)

____________________

۴۵_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۱۴ ، يعقوبى ج۲ ص ۱۴۱

۴۶_ تہذيب التہذيب ج۱ ص ۴۳۶

۴۷_ ابن اثير ج۳ ص ۱۵۴، تہذيب ابن عساكر ج۳ ص ۲۲۵

۴۸_ جمھرة انساب العرب ص۲۳۱


مشہور اديب و مورخ ابو الفرج اصفہانى كتاب اغانى ميں بيان كرتے ہيں :

معاويہ نے واقعہ تحكيم كے بعد ، بسر كو حكومت امير المومنين (ع) كى جانب بھيجا انحضرت (ص) ان دنوں با حيات تھے _

معاويہ نے بسر سے كہا كہ مختلف شہروں ميں گھومتے پھر تے رہنا اور جس مقام پر شيعيان و اصحاب امام (ع) كو پانا انكو قتل كر دينا نيز قتل عام كے بعد انكے اموال و اسباب كو لوٹ لينا ، حتى عورتوں و بچوں پر بھى رحم نہ كرنا ، بسر معاويہ كے حكم كے مطابق تاخت و تاراجى كے لئے روانہ ہوا _

جب مدينہ پہونچا تو اس مقام پر اصحاب امير المومنين (ع) كے ايك گروہ كو موت كے گھاٹ اتارا اور اكثر گھروں كو ويران كر ديا ، پھر مكہ كى جانب رخ كيا اس جگہ پر فرزندان ابو لہب كے كچھ افراد كو مارڈالا اخر ميں سراة كى طرف حركت كى اس مقام پر امام (ع) كے چاہنے والے رہتے تھے ان كو قتل كيا اسكے بعد نجران كى طرف روانہ ہوا اس جگہ پر عبد اللہ بن مدان حارثى اور انكے فرزند كو جو خاندان عباس كے رشتہ داروں ميں تھے ، قتل كيا ، پھر يمن آيا امام (ع) كى جانب سے اس سر زمين كے حاكم و والى عبيد اللہ بن عباس تھے ، جو اس ہنگام ارائي كے وقت موجود نہ تھے ، بعض مورخين كے بقول بسر كى امد كو سنكر فرار ہو گئے تھے(۴۹) جب بسر نے انكو نہيں پايا تو ان كے دو بچوں كو دستگير كيا اور ان دونوں كو اپنے ہاتھوں سے قتل كيا پھر لشكر كو ليكر شام واپس چلا آيا(۵۰) _

مورخين لكھتے ہيں :

ايك عورت نے بسر بن ارطاة سے كہا كہ اج تك مردوں كو تو قتل كيا جاتا رہا ہے مگر اسلام تو اسلام دور جاہليت ميں بھى بچوں كو قتل نہيں كيا گيا وہ حكومت كبھى قائم رہ سكتى جسكى بنياد ظلم و جور پر ہو اور جس ميں بچوں اور بو ڑھوں پر بھى ترس نہ كھايا جاتا ہو(۵۱) كہتے ہيں كہ : ان دو بچوں كى غمخوار ماں نے جب اپنے جگر پاروں كو خاك و خون ميں غلطاں ديكھا تو اپنے

____________________

۴۹_ اغانى ج ۱۵ ص ۴۵ ، اسد الغابہ ج۳ ص ۳۴۰

۵۰_ مروج الذھب ج۶ ص ۹۳ ، نہاية الادب ص ۳۳۰

۵۱_ ابن اثير ج۳ ص ۱۵۴، ابن عساكر كى تہذيب ج۳ ص ۲۲۵


ہوش و حواس كھو بيٹھى اور والہانہ طور پر اس طرح گھومتى پھرتى تھى كہ گويا اپنے بچوں كو تلاش كر رہى ہو ،، وہ اپنے درد ناك اشعار سے لوگوں كے دل ہلا دے رہى تھى ان اشعار كا ترجمہ يہ ہے كہ:

ہاں كون ہے جو ہمارے دو فرزنددلبند كى داستان سے اگاہ نہيں ہے ؟ كہ جو دو قيمتى ہيرے تھے ، جو تازے صدف سے باہر آئے تھے ، يہ دونوں ہمارے قلب كى دھڑكن اور سننے كى طاقت تھے ، لہذا ان دونوں كے حالات سے كوئي با خبر ہے ، ارے يہ ميرے دونوں بچے ہمارى ہڈيوں كے گود ے كى طرح تھے اب تو گودے كو ہمارى ہڈيوں سے نكال ديا گيا ان كے چلے جانے سے ہم پريشان ہيں اور كف افسوس كے كوئي چارہ نہيں ہے يہ ہمارى پريشانى اس لئے ہے تاكہ لوگوں كو معلوم ہو جائے كہ ان دونوں بچوں كے دل پر كيا گذرى جو باپ كى عدم موجودگى ميں ذبح كر ڈالے گئے ، مجھ سے كہا گيا ليكن ان كے كہنے پر مجھے يقين نہيں آيا ، لوگوں نے ان مظالم كو بيان كيا جو ميرے اوپر پڑے تھے كہ بسر كى شمشير برّان نے ميرے دونوں بيٹوں كو تہ تيغ كر ديا ، اہ ، كيا اس طرح كى بيداد گرى ممكن ہے ؟(۵۲)

كتاب استيعاب و اسد الغابہ ميں مرقوم ہے كہ بسر بن ارطاة نے ايك و حشيانہ حملہ قبيلہ ہمدان پر كر كے ان كے مردوں كو قتل كر ڈالا ، پھر انكى عورتوں كو اسير بنا يا گيا اسلام ميں يہ پہلى عورتيں تھيں جو اسير بنائي گئيں ، اسكے بعد بيچنے كى خاطر ان عورتوں كو بازار ميں لے جايا گيا(۵۳) اور كتاب غارات ميں ہے كہ ، مارب سے چندلوگوں پر مشتمل ايك گروہ كا بسر اور اسكے لشكر سے راستہ ميں مڈ بھيڑ ہو گئي اس درندہ صفت انسان نے ان تمام لوگوں كو قتل كر ديا ، صرف ايك ادمى اسكے پنجہ خونين سے اپنى جا ن بچا كر اپنے قبيلے ميں پہونچا ، اس نے اس ظلم عظيم كو ايك جملہ ميں بيان كيا كہ ، ہم تمام پير و جوان كى خبر مرگ اور قتل عام كى تم لوگوں كے لئے سنانى ليكر آئے ہيں(۵۴) _

____________________

۵۲_ اغانى ج ۱۵ ص ۴۵

۵۳_ استيعاب ج۱ ص ۶۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۱۸۰

۵۴_ شرح نہج البلاغہ ، تحقيق محمد ابو الفضل ج۲ ص ۱۵


لشكر علوى (ع) كا ايك سپاہى جاريہ بن قدامہ

اب ہميں جاننا چاہيئے كہ لشكر معاويہ كے سربراہ بسر بن ارطاة كے حملات اور خونريزيوں كے مقابلے ميں امام عليہ السلام نے كيا اقدام كيا ؟

امير المومنين (ع) نے ہميشہ كى طرح ان لوگوں سے ظلم و بربريت كا اور ان عوامل كو نيست و نابود كرنے كے لئے كھڑے ہونے كو كہا :

كوفيوں نے گذشتہ كى طرح اس مرتبہ بھى حكم امام (ع) كى تعميل ميں دلچسپى كا اظہار نہيں كيا ،، سارے مجمع ميں سناٹا چھايا ہو ا تھا ، امير المومنين (ع) كى درد بھرى آواز كوفہ و مسجدكوفہ كے درو ديوار ميں گونج رہى تھى ليكن مردہ روح اور بے حس كوفيوں كو بيدار نہ كر سكى _

تھوڑى دير گذرى كہ ايك اسلام كا سپاہى جاريہ بن قدامہ اپنى جگہ سے كھڑے ہو ئے اور امام (ع) كى آواز پر لبيك كہا :

يعقوبى كے بقول امام (ع) نے جاريہ كو بھيجتے وقت ان كو يوں حكم ديا

'' كبھى زخمى كو قتل نہ كرنا اگر مجبور ہو جائو تو خود بھى اور اپنے لشكر كو بھى راستہ پيدل طئے كرانا ہرگز لوگوں كے جانوروں كو زور زبر دستى سے نہ چھين لينا ، ابادى و بيابانى چشموں سے صاحبان اب سے پہلے استفادہ نہ كرنا ، اپنے لشكر كى خوشنودى كى خاطر ہرگز مسلمانوں پر سب و شتم نہ كرنا اگر ايسا كرو گے تب جا كر دوسرے لوگ تمھارا احترام و ادب كرينگے اور ياد ركھو ہر گز اہل كتاب جو مسلمانوں سے عہد و پيمان كئے ہوئے ہيں ان پر ظلم و ستم نہ كرنا _

دوسرے مقام پر اس فرمان كو يوں بيان كيا گيا ہے

سوائے ان مقامات كے جہاں پر حق تم كو حكم ديتا ہے كسى كے خون كو نہ بہانا ، اسى طرح تمہارى ذمہ دارى ہے كہ لوگوں كے خون كى خاطر حق كا خيال و محافظت كرو(۵۵)

كتاب غارات ميں جاريہ كى دفاعى جنگ كى داستان اس طرح نقل ہوئي ہے

____________________

۵۵_ يعقوبى ج۲ ص ۱۴۳


جاريہ كوفہ سے نكلنے كے بعد سب سے پہلے بصرہ آئے يہاں سے كوچ كر كے حجاز گئے اور اس طرح بڑھتے ہوئے يمن پہونچ گئے ، اس موقع پر بسر بن ارطاة جاريہ كى امد سے مطلع ہو گيا ، لہذا اپنے راستہ كو پگڈنڈيوں سے طئے كرتا ہوا يمامہ پہونچا ، جاريہ بن قدامہ اپنى تيز رفتارى سے اگے بڑھتے چلے جا رہے تھے ، اور كسى شہر يا قلع ميں نہيں اترے تمام جگہوں پر بسر كو ڈھونڈ ھ رہے تھے اور بسر ادھر ادھر بھاگ رہا تھا تاكہ مملكت امام (ع) كى سر حدوں سے باہر ہو جائے _

جب لوگوں نے بسر ارطاة كو بھاگتا ہوا ديكھا تو چاروں طرف سے اس پر حملہ كر ديا كيونكہ لوگوں نے اسكى تباہكارى و ظلم و زيادتى كو بہت ديكھا تھا _

بسر كے وحشيانہ حملے ميں تقريبا تيس ہزار افراد قتل ہوئے اور نہ جانے كتنے قبيلوں كو اگ ميں جھونك ديا گيا _

ايك عرب شاعر بسر كى درندگى نيز اس حادثہ كے پس منظر ميں ايك بيت كہتا ہے جس كا ترجمہ قارئين كى خدمت ميں پيش كر رہے ہيں

جس جگہ بسر اپنے لشكر كو لے گيا جب تك قتل كى طاقت رہى قتل كرتارہا ورنہ اگ لگا دى(۵۶)

دو متضاد سياستيں

معاويہ نے اور دوسرے لٹيروں كو بھى امام (ع) كى حكومتى سرحدوں كو تاخت و تاراج كرنے كے لئے بھيجا تھا جس كو ہم نے اپ حضرات كے لئے بيان نہيں كيا _

اگر تفصيل سے ديكھنا چاہتے ہيں تو تاريخ كى كتابوں كو ملاحظہ فرمائيں :

معاويہ كى فوج نے ہميشہ امام (ع) كے سپاہيوں سے مقابلہ نہ كرنے كے لئے صرف ان مقامات پر حملہ كيا جو انكى دسترس سے دور تھايا انكے فوجى ٹھكانے اسلحوں يا سپاہيوں كے لحاظ سے بہت كمزور تھے جب بھى لشكر كوفہ نے ان لٹيروں كا پيچھا كيا تو ان كے خوف سے بھاگ كھڑے ہو ئے _

حقيقت ميں يہ لوگ تخريب كار اور پيشہ ور ڈاكو تھے ، منجملہ وہ لٹيرے شامى جنكى لشكر امام (ع) سے مڈ بھيڑ ہوئي معاويہ نے

____________________

۵۶_ اغانى ج ۱۷ ص ۷۲


انكو بين النھرين بھيجا تھا، اس مقام پر امام(ع) كى طرف سے جو حاكم تھے انھوں نے كميل بن زياد سے جو شہر ہئيت كے والى تھے فوجى مدد مانگى ، كميل چھہ سو سواروں كا ايك دستہ ليكر انكى مدد كو چل ديئے ، دونوں لشكر كے درميان گھمسان كى جنگ ہوئي لشكر شام معمول كے مطابق اپنے كشتہ ہائے نجس كو وہيں چھوڑ كر فرار كر گئے_

كميل نے حكم ديا ، خبر دار بھاگنے والوں كا پيچھا نہ كيا جائے اور نہ ہى زخميوں كو جان سے مارا جائے اس جھڑپ ميں لشكر كميل سے صرف دو افراد شھيد ہوئے _

دوسرا واقعہ

امام (ع) كے ايك والى نے معاويہ كے لٹيرے دستہ كا پيچھا كيا ، تعاقب كرتے كرتے فرات سے اگے نكل گئے تو اپنے لشكر والوں كو شام كے مختلف علاقوں ميں لوٹنے كے لئے بھيج ديا يہاں تك كہ لوٹ مار كرتے ہوئے رقہ كے قريب پہونچ گئے جو عثمان كے ہوا خواہوں كا مركز تھا اس مقام پر بھى لوٹ گھسوٹ كى اور كافى مقدار ميں ہتھيار گھوڑے وغيرہ چھينے ، معاويہ نے ان لوگوں كا پيچھا كرنے كے لئے ايك چھوٹا دستہ روانہ كيا مگر يہ لوگ ان كے ہاتھ نہ آئے كيونكہ اپنے مركز نصيبين ميں صحيح سالم پلٹ آئے تھے ، اس سردار لشكر نے واپس انے كے بعد امام (ع) كو سارى روداد لكھكر بھيجى ، اس حاكم شہر كى گذارش سے نتيجہ يہ نكلتا ہے كہ اس نے اپنے امور كو كسى صورت ميں غير شرعى نہيں جانا تھا _

كيونكہ معاويہ كے خونخوار بھڑيئےور لٹيرے لشكر كے مقابلہ ميں اس نے بہت چھوٹا انتقام ليا تھا شايد اس انتظار ميں تھا كہ حضرت امير المومنين (ع) ہميں انعام و اكرام سے نوازيں گے _

ليكن امام (ع) عليہ السلام نے نہ يہ كہ اسكى شاباشى نہ كى جواب ميں يہ لكھا كہ :

ائندہ ايسى حركت نہ كرنا دشمن كے اموال كو اس وقت لينے كا حق ركھتے ہو جب جنگ ہو اور دشمن ہاتھوں ميں تلوار ليكر سامنے اجائے اس وقت تمھيں حق ہے كہ دشمن كے اموال كو تصرف كرو _

جيسا كہ اج بھى ديكھنے ميں اتا ہے كہ جہان اسلام اسى دو متضاد سيا ستوں كى شكار ہے


( ۱ )

سياست امير المومنين (ع)

صرف جنگجوئوں سے جنگ كرنا لوگوں كے جانوروں كو نہ چھيننا ، اگر مجبور ہو جائو تو راستہ كو پيدل طئے كرنا چشموں اور كنويں كے پانى كو نہ پى لينا ان لوگوں سے پہلے جو اس علاقہ كے افراد ہيں _

مسلمانوں كو برا بھلا نہ كہنا ، عہد و پيمان والوں كو مورد ستم قرار نہ دينا اگر چہ اہل كتاب يا غير مسلم ہى كيوں نہ ہوں ، صرف حق و قانون كے مطابق كسى كے خون كو بہا سكتے ہو ، دشمنوں كے مال و اسباب پر حق تصرف نہ جتانا سوائے ان چيزوں كے جو ميدان جنگ ميں گھوڑے و ہتھياروں كو اپنے ساتھ ليكر آئے ہوں(۱)

( ۲ )

سياست معاويہ

اگر كوئي شخص تمھارا ہم خيال وہم عقيدہ نہيں ہے تو اسكو مار ڈالنا تمام اباديوں كو خاك ميں ملا دينا اموال كو لوٹ لينا ، اگر كوئي شخص ہمارى اطاعت ميں نہيں ہے اور ثروتمند ہے تو زور زبردستى سے اسكے مال كو چھين لينا ، لوگوں كو بے جھجك اذيت و تكليف پہونچانا ، محبان على (ع) كو موت كے گھاٹ اتار دينا يہاں تك كہ انكے بچوں اور عورتوں پر بھى رحم نہ كرنا(۲)

* * *

تجزيہ و تحليل

ان دو سياستوں كے درميان ہونا تو يہ چاہئے تھا كہ جس نے لوگوں كے اموال كو محترم جانا تھا اس انسان كى سياست پر جس نے اسباب و اموال كو غارت كرنے كا حكم ديا تھا كامياب ہو _

ليكن ايسا نہيں ہوا بلكہ اور جو لوگ زندگى كو ازاد اور قانون و انسانيت سے كوسوں دور ركھنا چاہئے تھے ان افراد پر جو خود كو

____________________

۱_ يعقوبى ج۲ ص ۱۴۲

۲_ شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۱۴ ، يعقوبى ج۲ ص ۱۴۱


پابند اسلام اور فضيلت و انسانيت كى معرفت ركھتے تھے كامياب ہوئے _

ليكن يہ كاميابى حقيقى معنوں ميں كاميابى نہيں ہے بلكہ چند روزہ كاميابى ہے ، اس لئے كہ پہلے گروہ كو اپنے افكار و نظريات كو كامياب بنانے كے لئے قاعدہ و قانون كى ضرورت نہيں ہے ، جبكہ دوسرا گروہ انسانيت كے قيد و بند ميں جكڑا ہوا ہے _

يہى وہ پابندياں تھيں جو لشكر علوى (ع) ميں پائي جا رہى تھى اہل عراق و لشكر امام (ع) نے اسلامى پابندى اور انسانى حقوق كى رعايت كى بناء پر بہت تساہلى كى اور امام (ع) كى آواز پر لبيك نہيں كہا ، كيونكہ ان لوگوں كے پيش نظر وہ جنگ تھى جس كا دنيا ميں سوائے موت كے كوئي دوسرا نتيجہ نہ تھا _

اگر كامياب ہوتے تو لشكر مغلوب كے اموال كو ہاتھ نہيں لگا سكتے تھے اور نہ كسى كو قتل كر سكتے تھے نيز عورتوں و بچوں كو اسير بھى نہيں بنا سكتے پھر ايسى صورت ميں كيوں جنگ كريں ؟

كيونكہ ان لوگوں كو اس راہ ميں كوئي مادى فائدہ نظر نہيں ارہا تھا اور مقابلہ ميں موت خطرے كى گھنٹى بجا رہى تھى ، پس اگر ايك جذبہء خدائي اور فضيلت انسانى كو پيش نظر نہ ركھا جائے تو ميدان جنگ ميں جانا بے فائدہ ہو جائے گا _

مگر معاويہ كى آواز پر اہل شام جلدى سے لبيك كہنے لگنے تھے ، كيونكہ ان كے سامنے وہ جنگ تھي_ جو تمام غرائز حيوانى كو پورا كر رہى تھى جسے چاہيں موت كے گھاٹ اتار ديں يا جسكو چاہيں اسير و غلام بنا ڈاليں ، انكى مالى درامد لوگوں كے لوٹے ہوئے اموال و اسباب ہيں پھر اس صورت ميں كيوں نہ معاويہ كے حكم پر شانہ بشانہ چليں اور معاويہ كى خواہشات كو كيوں نہ پورا كريں ؟ ايك خاص بات يہ ھيكہ اہل شام اخلاق اسلامى سے بالكل عارى تھے كيونكہ بادشاہ روم كے بعد اس شہر كا حاكم معاويہ بن گيا تھا _

البتہ اگر امام (ع) بر فرض محال حق كے راستے كو چھوڑ ديتے اور خدا و اسلام كو ( العياذ باللہ ) بھلا ڈالتے اور اپنے لشكر والوں كو معاويہ كى طرح ہر كام ميں ازاد چھوڑ ديتے تو معاويہ كى سارى كى سارى مكارانہ سياست نقش بر اب ہو كر رہ جاتيں ، ليكن امام (ع) اسكى طرح نہ تھے انھوں نے اہل كوفہ سے خطاب كيا كہ :

خدا كى قسم ، تم لوگوں كى اصلاح جس طرح ہم كر رہے ہيں اسكے بارے ميں خوب جانتے ہيں ليكن كيا كروں اس كام


ميں اپنا اور اپنوں كى تباہى و بربادى ديكھ رہا ہوں(۳)

ہاں ، امام عليہ السلام چاہتے تو پيسے سے لوگوں كو خريد سكتے تھے اگر چاہتے تو چاپلوسى ، اور احكام خدا سے چشم پوشى كر كے قبيلوں كے بڑے اور قدرتمند افراد كو اپنى طرف كھينچ سكتے تھے ، ليكن ان تمام امور ميں اپنى اور اپنے دين و اخرت كى تباہى ديكھ رہے تھے ، انھوں نے كبھى برائي كو ہاتھ نہيں لگايا كيونكہ اپ پاكيزگى كى تمام چاشنى كو گہرائي سے چكھے ہوئے تھے ، كيا معاويہ نے خون عثمان كے انتقام كے لئے امام (ع) سے جنگ كى تھى ؟

كيا تمام مسلمانوں كى بستياں جيسے سرزمين عراق ، حجاز ، حتى يمن قتل عثمان ميں شريك تھيں ؟ آيا ہزاروں شامى لٹيروں نے خون عثمان كے انتقام ميں جو ايك شخص سے زيادہ نہ تھا قتل كيا ؟ كيا عثمان كے خون كے گناہ ميں اسير كى گئي مسلمانوں كى عورتوں اور قتل كئے گئے چھوٹے بچے كے كاندھوں پر تھا ؟

ہر گز نہيں

ليكن معاويہ باپ كى وصيت كے مطابق اپنى جاہ طلبى و حكومت كى تلاش ميں تھا اسكى ارزو اسلام كى وسيع و عريض سر زمين پر حاكم بننے كى تھى _

معاويہ نے اس ہدف تك پہونچنے كے لئے ہر وسيلہ كو استعمال كرنا ،روا جانا اور ہر برائي كو بے دريغ انجام ديا _

حقيقت ميں قصاص خون عثمان كا مدعى اپنے مقصد كو بروئے كار لانے كے لئے بہانہ تھا كہ جس سے اس نے فائدہ بھى اٹھايا ، يہ تمام چيزيں امام على (ع) كے زمانے ميں معاويہ كے ايك بڑے نقشے كى چھوٹى سى جھلكى تھى جسكو ہم نے اپكى خدمت ميں پيش كيا ہے _

____________________

۳_ يعقوبى ج۲ ص ۱۴۲


معاويہ امام حسن (ع) كے زمانے ميں

جب امير المومنين(ع) ابن ملجم كى تلوار سے شہيد ہو گئے اور مسلمانوں نے اپنى تاريخ ميں دوسرى مرتبہ ايك ازاد بيعت كر كے امام حسن (ع) كو اپنا خليفہ بنا ليا تو اپ نے ايك خط معاويہ كو تحرير كيا اور اس سے اطاعت و بيعت كا مطالبہ كيا ، كيونكہ ايك طرف امام بر حق تھے دوسرى طرف لوگوں نے اپكى بيعت كر لى تھى ، ليكن جيسا كہ اپ حضرات جانتے ہيں كہ _

معاويہ نے جس طرح سے اپنى تمام عمر ميں حق كى پيروى نہيں كى اسى طرح نہيں چاہتا تھا كہ حق كے سايہ ميں جائے _ يہى وجہ تھى جو اس نے امام حسن (ع) كى بيعت نہيں كى _ اور اپ سے جنگ كرنے كے لئے ايك لشكر عظيم كے ساتھ عراق كى طرف روانہ ہو گيا _ امام مجتبى (ع) بھى سر براہ كفر و جاہليت كامقابلہ كرنے كے لئے اپنى فوج كے ساتھ كوفہ سے نكل پڑے_

مقدمةالجيش كے عنوان سے اپنے چچا زاد بھائي عبيد اللہ بن عباس كو عراق و كوفہ كے بہترين بارہ ہزار سپاہيوں كے ساتھ روانہ كيا _ اور انكے ساتھ فدا كار و مومن شجاع قيس بن سعد كو بھيجا _

امام عليہ السلام نے عبيد اللہ بن عباس سے كہا كہ ہرگز قيس سعد بن كى رائے كو رد نہ كرنا اور تمام امور ميں انكى نظر كو مقدم ركھنا _

چند دنوں بعد لشكر نے امنے سامنے پڑائو ڈالا نيز چھوٹى موٹى جھڑپيں بھى ہوتى رہى _ ليكن معاويہ بجائے جنگ كے چاہتا تھا كہ چالاكى و دھوكہ دھڑى سے كام لے _ اسى لئے ايك ايسا پروپيگنڈہ كيا كہ لشكر امام (ع) كى بنياد متزلزل ہو گئي _

شب كے سناٹے ميں عبيد اللہ بن عباس كے پاس معاويہ كا ايك ايلچى آيا _ اس نے معاويہ كا پيغام ديا كہ حسن (ع) نے ايك خط صلح كرنے كے لئے ہمارے پاس بھيجا ہے اگر تم اس وقت ہمارى اطاعت كو قبول كر لو گے تو ہم تم كو والى و حاكم بنا دينگے اگر اس پيشنہاد كو ٹھكرائو گے اور مسئلہ صلح اشكار ہو جانے كے بعد ہمارے پاس ائو گے تو دوسروں كى طرح تمھيں بھى مقام و رياست نہيں ديں گے اور سوائے كف افسوس كے كوئي چارہ نہيں رہے گا ، اگر اس وقت ہمارے ہمنوا بن جائو گے تو دس لاكھ درہم تمھيں دينگے جو كہ پہلى تھيلى پانچ لاكھ درہم كى ابھى تمہارے ہاتھوں ميں پہونچ جائے گى اور باقى جب ہمارى فوج كوفہ ميں پہونچ جائے گى تو تمھيں ديديگى _


عبيد اللہ شب كے سناٹے ميں معاويہ كے دام فريب ميں اگئے جو ہوا پرستوں كو ڈانوا ڈول كرنے كے لئے كافى تھا _

عبيد اللہ سوچنے لگے كہ _ معاويہ كى باتيں صحيح و درست ہيں _ جب امام (ع) صلح پر امادہ ہو ہى گئے ہيں تو ہمارے لئے سوائے دو راہوں كے كچھ نہيں ہے _

اگر معاويہ كى طرف جاتے ہيں تو احترام و اكرام اور دولت و ثروت ہے _ اگر اپنى جگہ پر قائم رہتے ہيں تو جان كا خطرہ اور جنگ كى زحمت ہے _ پھر ہم كيوں قتل ہوں اور زحمت جنگ كو برداشت كريں _ يہى شيطانى اور تاجرانہ فكر تھى جو عبيد اللہ كو لے ڈوبى _

چنانچہ رات كى تاريكى ميں ايك دستہ كے ساتھ لشكر اموى سے جا ملے اور لشكر بغير سردار كے ہو گيا(۴)

انھيں آيا م ميں معاويہ نے جو دوسرى چال چلى وہ يہ تھى كہ _ مخفيانہ طور سے ايك سفير كو عمر و بن حريث، اشعث بن قيس _ حجار بن ابجر اورشبث بن ربعى كے پاس بھيجا _ يہ تمام لوگ قبائل كو فہ كے سردار اور لوگوں ميں اچھا رسوخ تھا _ مگر اہلبيت (ع) سے دشمنى ركھنے كى وجہ سے كوئي خاص اہميت كے حامل نہ تھے ، معاويہ كے جا سوس نے ہر ايك كو اس طرح پيغام ديا كہ اگر تم لوگوں نے حسن (ع) بن على (ع) كو قتل كر ديا تو ابھى ايك لاكھ درہم نيز لشكر شام كى سردارى اور حاكم شہر نيز اپنى بيٹيوں كو اس كام كے عوض ميں دينگے _ اسكى خبر امام حسن (ع) كو معلوم ہوئي تو اپ اپنے لباس كے اندر زرہ پہننے لگے تاكہ ناگہانى حملے سے بچ سكيں حتى امام (ع) اسى حالت ميں نماز بھى پڑھتے تھے اور زرہ كو ايك لمحہ كے لئے بھى جسم سے جدا نہيں كرتے تھے _ امام (ع) كا يہ احتياط بجا تھا كيونكہ انہيں ميں سے ايك ضمير فروش نے انحضرت (ع) پر حالت نماز ميں تير سے نشانہ بنايا تھا ليكن چونكہ امام حسن (ع) كے جسم پر زرہ تھى لہذا تير نے اپنا كام نہيں كيا اور امام عليہ السلام بچ گئے(۵)

____________________

۴_ مقاتل الطالبين ص ۶۵

۵_ بحار الانوار ج ۱۰ ص ۱۰۷


يعقوبى لكھتے ہيں :

معاويہ نے جاسوسوں كا ايك گروہ لشكر امام (ع) ميں چھوڑا تاكہ انحضرت(ص) كے لشكر ميں يہ پروپيگنڈہ كريں كہ قيس بن سعد جنھوں نے عبيد اللہ بن عباس كے لشكر كى سردارى كا عہدہ سنبھال ليا تھا معاويہ سے صلح كر لى ہے _

دوسرى طرف ايك جاسوسى دستہ كو قيس كے لشكر ميں چھوڑا تاكہ اس بات كا پروپيگنڈہ كريں كہ امام (ع) معاويہ سے صلح كرنے پر تيار ہو گئے ہيں _

معاويہ نے اس حربہ سے كوشش يہ كى كہ دونوں لشكروں كے نظم و نسق اور اتحاد كا شيرازہ بكھير ديں اور ان كے لشكر كے مختلف دستوں كو فكر و عمل ميں الجھا كر ركھ ديں _

معاويہ نے دوسرى چالاكى يہ كى كہ _ ايك حكومتى وفد كو امام (ع) كے پاس روانہ كيا جو ان لوگوں پر مشتمل تھا ، مغيرہ بن شعبہ ، عبد اللہ بن عامر ، عبد الرحمن بن حكم ، يہ تمام حضرات شہر مدائن ميں جو امام (ع) كے فوجى افسروں كا اڈہ تھا امام حسن (ع) سے ملاقات كى اور گھنٹوں بات كرنے كے بعد يہ لوگ ہنستے ہوئے نكلے ، اور ايك دوسرے سے بلند آواز ميں گفتگو كر رہے تھے تاكہ سبھى لوگ باتوں كو سن ليں ان لوگوں نے كہا ، خدا وند كريم نے پسر رسول (ص) كے ہاتھوں لوگوں كے خون كو بہنے سے بچا ديا ، اور فتنہ و فساد كى اگ كو خاموش كر كے صلح و اشتى كو قائم كر ديا _

جب ان باتوں كو لشكر امام (ع) نے سنا تو بہت حيرت ميں پڑ گيا ، خاص طور سے وہ لشكر جس كو خود امام (ع) نے تيار كيا تھا ، كيونكہ جن لوگوں نے صرف جنگ كرنے كو سوچا تھا اور امام (ع) كے ساتھ اسى لئے ہوئے تھے كہ معاويہ سے جنگ كرنے كے لئے جائينگے وہ امام (ع) كى قدر و منزلت اور انكى رہبريت كو مان كے تھوڑے ساتھ ہوئے تھے _ ورنہ معاويہ جيسے ظالم و جابر كا نمائندہ مغيرہ بن شعبہ جو سياست كار اور بد كار تھا اسكى باتوں ميں اجاتے ؟

يہى وجہ تھى كہ وہ لوگ انكى باتوں كو سنتے ہى اس طرح اگ بگولا ہوئے كہ چاروں طرف سے سردار لشكر كے خيمہ پر حملہ كر ديا اور سارا مال و اسباب لوٹ ليا _

امام عليہ السلام ان لوگوں سے بچنے كے لئے گھو ڑے پر سوار ہوئے اور حاكم مدائن كے گھر كى طرف چل ديئے


شہر مدائن كے نزديك خوارج كا ايك شخص بنام جراح بن سنان اسد ى اندھيرى گلى ميں چھپا ہوا تھا تاكہ امام (ع) پر حملہ كر كے انكو قتل كر دے لہذا جس وقت امام حسن (ع) كا كوچہ سے گذر ہوا تو اس نے خنجر سے ايسا حملہ كيا كہ اپكى ران پر زخم لگا اور اپ برى طرح زخمى ہو گئے _

امام (ع) كے وفادار ساتھيوں نے اسكو وہيں پكڑ ليا اور اسى مقام پر قتل كر ڈالا _

امام عليہ السلام كو مدائن كے دار الامارہ ليجايا گيا تاكہ اپ كے زخم كا مداوا ہو سكے _اپ كے جسم سے اس قدر خون بہہ گيا

تھا كہ اپ كافى كمزور ہو گئے ، اسى وجہ سے صحتياب ہونے ميں كافى وقت لگا _

لشكر بھى بغير سردار كے ہو گيا تھا بلكہ ان لوگوں نے صحيح معنوں ميں حقيقى ہدف كو نہيں پہنچانا تھا اور نہ ہى حوادث زمانہ ميں ثابت قدم رہے تھے ورنہ تتر بتر نہ ہوتے(۶)

طبرى اس واقعہ كو يوں بيان كرتے ہيں

جب لوگوں نے امام (ع) كى بيعت كر لى تو اپ ان لوگوں كو ليكر معاويہ سے جنگ كرنے كے لئے كوفہ سے نكلے اور مدائن كى طرف حركت كى ، مدائن پہونچنے كے بعد لشكر كى جمع اورى كرنے ميں مشغول ہو گئے اچانك ايك آواز بلند ہوئي كہ اگاہ ہو جائو كہ قيس بن سعد مار ڈالے گئے اس آواز كا بلند ہونا تھا كہ فوج ميں بھگڈر مچ گئي ، فتنہ پروروں نے موقع غنيمت جانا اور امام (ع) كے خيمہ پر چڑھائي كر دى يہاں تك كہ انحضرت (ص) كے پيركے نيچے سے چٹائي كو چھين كر بھاگ كھڑے ہوئے(۷)

ايك روايت كے مطابق انحضرت(ص) كى كنيزوں كے پا زيب اتار كر لے گئے(۸)

____________________

۶_ يعقوبى ج۲ ص ۱۵۶

۷_ طبرى ج۶ ص ۶۹

۸_ بحار الانوار ج ۱۰ ص ۱۱۶ بہ نقل ابن ابى الحديد


طبرى مزيد لكھتا ہے :

امام (ع) كى بيعت كو زيادہ دن نہيں گذرے تھے كہ اپ پر حملہ ہوا جس كى وجہ سے اپ برى طرح زخمى ہو گئے _

مشہور اديب و مورخ ابو الفرج اصفہانى لكھتے ہيں :

معاويہ نے اپنے ادمى كو امام حسن كے پاس صلح كرنے كے لئے بھيجا اپ نے اس سلسلے ميں چند شرطيں ركھيں جن ميں كچھ يہ ہيں

۱_ پہلے كى طرح كسى كو اذيت نہ ديا جائے

۲_ شيعيان امير المومنين (ع) كو ازاد چھوڑا جائے

۳_ حضرت على (ع) پر سب و شتم نہ كيا جائے

امام حسن (ع) نے صلح اس لئے كر لى كہ ايك طرف معاويہ كى مكارانہ چال تھى تو دوسرى طرف اہل كوفہ كى سستى لہذا جب معاويہ نے صلح كرنے كے بعد علوى مركز خلافت كوفہ پر قدرتمندانہ انداز ميں قدم ركھا تو جلسہ عام كو ان الفاظ ميں خطاب كيا _ خدا كى قسم ، ہم نے تم لوگوں سے نماز روزہ و حج و زكاة كى خاطر جنگ نہيں كى تھى ، تم لوگ تو خود اس كام كو انجام ديتے ہو ، بلكہ ميں نے جنگ اس لئے كى تھى كہ تمھارے اوپر حكومت كروں خداوند عالم نے ميرى دلى تمنا پورى كر دى درانحاليكہ تم لوگ اس پر راضى نہيں ہو(۹) پھر بے جھجك كہا كہ ، اگاہ ہو جائو جو كچھ ہم نے حسن (ع) سے عہد و پيمان كيا تھا اب يہ دونوں ميرے قدم تلے جاتے ہيں(۱۰) _

____________________

۹_ مقاتل الطالبين ص ۷۰ ، تاريخ ابن كثير ج۸ ص ۱۳۱ ، شرح ابن ابى الحديد ج۴ ص ۱۶

۱۰_ مقاتل الطالبين ص ۶۹ ، شرح ابن ابى الحديد ج۴ ص ۱۶


صلح كے اسباب و علل

جس طرح قيام امام حسين (ع) دين كى بقاء اور اسلام كى حقيقى تصوير كو باقى ركھنے ميں موثر ثابت ہوا ہے اسى طرح صلح امام حسن (ع) دين كى بقاء نيز اسلام حقيقى كو زندہ ركھنے ميں كافى موثر ثابت ہوئي ہے _

ہم نے اس كتاب كى تمام بحثوں ميں حتى الامكان اختصار سے كام ليا ہے لہذا صرف وجوہات كو اپ حضرات كى خدمت ميں پيش كر رہا ہوں جو مختلف جہات سے ضرورى و لازم ہيں ، البتہ ان علتوں كى تفصيل كے لئے خود ايك مستقل كتاب كى ضرورت ہے ، جسكو چند سطروں كے اندر بيان كرنا بہت مشكل ہے _

۱_ اپ نے پہلے ملاحظہ فرمايا كہ ، معاويہ نے عثمان كے خون الود كرتہ سے كس طرح ماہرانہ انداز ميں فضا كو مكدر كيا اور كوشش كى كہ امام (ع) كے پاك و مقدس دامن كو قتل عثمان سے متھم كر كے داغدار كر دے ، وہ اہل شام كى اچھى خاصى جمعيت، خليفہ مظلوم كے خون كا بدلہ لينے كے لئے اكٹھا كر كے انحضرت(ص) اور ان كے ساتھيوں كوجنگ كرنے كے لئے ميدان صفين ميں لے آيا ، اس نے اپنے امور كى اساس جھوٹ ، فريب اور چالاكى پر ركھى تھى ، اسكے ذريعہ چاہتا تھا كہ تمام سر زمين اسلامى كے سادہ لوح افراد كو كم و بيش دھوكہ ديدے يا كم از كم شك و ترديد ميں ڈال دے حتى عمار ياسر جيسے


انسان كا وجود جو اس زمانے ميں لشكر علو ى (ع) كى حقانيت كى دليل تھے اور جو بھى ان سے ٹكر اتا ، حديث رسول (ص) كے لحاظ سے گمراہ و باغى ہوتا اس نے بھى سادہ لوح افراد اور معاويہ كى نيرنگى و مكارى كے مقابلہ ميں سو فيصد فائدہ نہيں پہونچايا تھا ، لہذا ضرورى تھا كہ ايك ايسا كام كيا جائے تاكہ معاويہ اپنى مكارانہ چال سے باہر آئے اور اسكى سياہكارى و بد كارى ظاہر ہو جائے_

صلح امام حسن (ع) نے اساسى و بنيادى كام يہى كيا جسكو اوپر بيان كيا جا چكا ، جو معاويہ كى پہلى بد كردارى و سياہ انديشى كى نشاندہى كرتى ہے _

يہ تمام خون كا دريا اور غارتگرى كا بازار جو قصاص خون عثمان كے نام پر زمين پر بہايا اور انجام ديا گيا حقيقت ميں معاويہ كى جاہ طلبى اور اسكى رياست خواہى تھى _

معاويہ كى تمام كوششيں سو فيصد جوش و جذبہ مادى اور رياست و حكومت كى خاطر تھى اور بس، انتقام خون عثمان كى داستان جھوٹى نمائشے اور چالاكى كے علاوہ كچھ نہ تھى ، يہ مسئلہ جب يہاں تك پہونچ گيا اوررفتہ رفتہ لوگوں كو احساس ہونے لگا تو زيادہ دن نہيں گذرا تھا كہ لوگ عدل و مساوات اور حكومت علوى كى طرف بھاگنے لگے ، يہاں تك كہ جو شام ميں پناہ گزين تھے اور معاويہ كے عقيدتمندوں ميں تھے ہر روز گوشہ و كنار سے خاندان على (ع) كى فرد كى رہبرى ميں امويوں كے خلاف ہنگامہ كھڑا كرنے لگے(۱۱)

حقيقت ميں حكومت معاويہ كے زمانے ميں اور اسكے بعد والے سربراہان مملكت نے اتنى تباہى و بربادى اور جنايت عظيم كا بازار گرم كيا كہ مخالفين نے بھى احساس كيا كہ حكومت علوى (ع) تمام عدالت و مساوات كے لحاظ سے تنھا حكومت تھى اگر چاہتى تو ہم لوگوں كو سعادت حقيقى تك پہونچا ديتى _

۲_ دوسرا مسئلہ جو بڑا عامل صلح كے لئے بناوہ سپاہ كوفہ كى تساہلى اور فكر و عمل ميں نا ہما ھنگى تھى ، اپ نے اس سے پہلے ملاحظہ فرمايا كہ يہى لشكر اتنا قوى تھا كہ اس نے معمولى سى بات پر ہزاروں ادميوں پر مشتمل فوج كو درہم و برہم كر كے انكے نظم و اتحاد كو بكھير ديا تھا اور سبط رسول (ص) كے قتل كى سازش كو ايك معمولى حادثہ سمجھا تھا كہ اگر اس راہ ميں موانع پيش نہ

____________________

۱۱_ مقاتل الطالبين ص ۱۱۷، ۵۱ ، مقالات اسلاميين ج۲ ص ۱۶۶


اتے تو ممكن تھا كہ معاويہ كا تمام نقشہ باور ہو جاتا _

ان مطالب پر غور كرنے كے بعد واضح ہو جاتا ہے كہ معاويہ نے پہلے چند سردار لشكر كو خريد ا جيسا كہ تير اندازى كے واقعہ ميں ديكھا گيا ، پھر امام حسن (ع) كو انكى سپاہ كے ذريعہ قيد كروا يا اسكے بعدبڑى منت و سماجت كے بعد ازاد كيا يہ رسوائي ائمہ اہلبيت اور رہبران معصوم (ع) كے دامن پر تا ابد رہے گى كہ جنھوں نے كفر و نفاق كے جانے پہچانے چہروں كو فتح مكہ كے موقع پر ازاد كيا تھا وہ اج اپنى جان كے لئے خاندان اموى كے مديون ہو گئے(۱۲)

۳_ جنگ صفين ميں حضرت امير المومنين كے ہمراہ ( جيسا كہ ائندہ بيان ہو گا ) اكثر اصحاب رسول (ص) تھے جن كى تعداد مورخين نے دو ہزار سے زيادہ بتائي ہے _

ستر بدر كے جنگجو تھے جو پيغمبر اسلام (ص) كے قديم صحابى تھے ، سات سو يا اٹھ سو وہ افراد تھے جنھوں نے بيعت رضوان ميں شركت كى تھى اور قران مجيد ميں خدا وند عالم نے ان لوگوں كى تعريف و تمجيد بھى كى ہے _

مہاجرين و انصار ميں سے چودہ سو افرادوہ تھے جنھوں نے جنگ صفين ميں شركت كى تھى(۱۳) يہ تمام لوگ رسول (ص) كے زمانے كو ديكھے بھى تھے اور نزول قران كے وقت موجود بھى تھے اور اسلام حقيقى كو خود پيغمبر سے ليا پھر برسوں امير المومين(ع) كى خدمت ميں رہے جو خود مجسمہ اسلام اور ہمدوش قران تھے _

____________________

۱۲_اخبار الطوّال ص ۲۲۱، بحار الانوار ج ۴۴ ص ۲۹

۱۳_ يعقوبى ج۲ ص ۱۶۴ ، ابن خياط كى تاريخ ج۱ ص ۱۸۰


ليكن معاويہ كے ساتھ انصار و مہاجرين كے بد نام زمانہ دو ادمى كے سوا كوئي نہ تھا ، اس نے ان ضمير فروشوں كے ذريعہ اسلام كے خلاف اپنى خواہشات نفسانى كے مطابق يہ نقشہ تيار كيا كہ سادہ لوح افراد كے دلوں ميں اسلام كے خلاف بغض و كينہ كو بھر دے ، ہاں ، اس نے ابو ھريرہ ، انس بن مالك ، مغيرہ بن شعبہ ، عمرو بن عاص ، عبد اللہ بن عمر و اور خاص طور سے ام المومنين عائشه كى مددسے ايك جعلى حديث كا بڑا كار خانہ معرض وجود ميں لايا ، ان تمام ہوا پرستوں نے معاويہ كى حكومت كے زمانے ميں متعدد كو شش كيں كہ اسلام كے اصلى خد وخال كو داغدار كر ديں اور اكثر حديثيں ابو ہريرہ ، انس بن مالك اور عبد اللہ بن عمر نے مختلف ميدانوں ميں گڑھيں اگر اہلبيت (ع) كے فدا كاروں كى جد وجہد نہ ہوتى تو اسلام صفحہء ہستى سے مٹ گيا ہوتا اور كفر و جاہليت كى تمام نا پاك تمنائيں رائج ہو جاتيں _

امام حسن (ع) نے معاويہ سے جنگ كرنے كے بجائے جو صلح كر لى اسكى وجہ صرف يہ تھى كہ انحضرت (ص) نے اسكے ذريعہ سے اكثر اصحاب رسول (ص) و ياران امير المومنين (ع) كو موت كے منھ سے نكال ليا ، كيونكہ اگر امام حسن (ع) معاويہ سے جنگ كر ليتے تو اپ كے لشكر ميں وہ افراد تھے جو مومن حقيقى تھے اگر ميدان جنگ ميں چلے جاتے تو اس كا مطلب يہ تھا كہ سارے كے سارے مار ڈالے جاتے يا خاتمہ جنگ كے بعد معاويہ كے ہاتھوں اسير ہو كر خون عثمان كے جرم ميں تہ تيغ كر ديئےاتے ، اور معاويہ اطمينان كے ساتھ حقائق اسلام كو توڑ مڑوڑ كے پيش كرتا اور اسكو كوئي روك ٹوك كرنے والا بھى نہ ہوتا اس مقدمے كے بعد اتنا تو ضرور واضح ہو جاتا ہے كہ اسلام حقيقى كى صورت كو تحريف سے بچانے كے لئے صلح كے علاوہ كوئي چارہ نہ تھا _

يہى وہ راستہ تھا جو حضرت امام حسن (ع) نے اپنايا اور مرتے دم تك اس پر ثابت قدم رہے _


فصل سوم

دشمنوں كے ساتھ نرمي

معاويہ كسى طرح حكومت پر بيٹھ گيا ، حضرت على (ع) كے شھيد ہو جانے اور امام حسن (ع) كے صلح كى وجہ سے اسكى راہ كى تمام اڑ چنيں ختم ہو گئيں ، ليكن معاويہ كو دوسرا مسئلہ جو كھائے جا رہا تھا اور ا س كا حل نكالنا بہت ضرورى تھا وہ يہ تھا كہ تمام سر زمين اسلامى ميں جو شام كے لٹيروں نے قتل و غارتگرى كا بازار اسكے حكم سے گرم كر ركھا تھا نيز اسكے بعد قصاص خون عثمان كے نام پر اكثر گھروں كو خاك و خون ميں غلطاں كر كے باپ بھائي بيٹے سبكو داغدار كر ديا تھا اور اسكى وجہ سے لوگوں كے دل بغض و كينہ سے بھر گئے تھے _

ايسے حالات ميں اس ( معاويہ ) نے ايك نئي سياست اپنائي اور وہ نيكى و برد بارى تھى خواہ سامنے دشمن ہى كيوں نہ ہو _

كيونكہ اسكو ہر لمحہ خطرہ تھا كہ عراق و حجاز ميں رہنے والے مسلمان كہيں شورش بر پا نہ كر ديں اور رات دن كى محنت سے حاصل ہوئي حكومت ہاتھ سے نكل نہ جائے _

يعقوبى لكھتے ہيں :

معاويہ ۴۱ ھ ميں شام واپس آيا تو اسى وقت برى خبر موصول ہوئي كہ روميوں كا ايك بڑا لشكر سر زمين اسلام كى طرف ارہا ہے ، اس خبر نے حكومت دمشق كى چوليں ہلا كر ركھ دى ، كيونكہ ايك طرف ان تمام مسلمانوں سے خطرہ تھا جو بلاد اسلامى ميں جى رہے تھے ، دوسرى طرف يہ برى خبر پہونچ گئي_ ان تمام خطروں نے معاويہ كے اعصاب كو جھنجوڑ كر ركھ ديا اب ايسى صورت ميں كيا كيا جائے ؟

معاويہ نے يہ كيا كہ اپنے ايك نمائندہ كو امپرا طور روم كے پاس بھيجا اور اسكو سرخ سونے كا ايك لاكھ درہم ديا تاكہ واپس چلا جائے اور ذلت و رسوائي سے چھٹكارا مل جائے(۱۴)

معاويہ نے اپنى حكومت كے زمانے ميں سياست داخلى كى بنياد خاطر و مدارات پر ركھى تھى تاكہ اسكے ذريعہ اپنى حكومت كى

____________________

۱۴_ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۲۱۷ ، دولة العربيہ ص ۸۶


بنياد مستحكم و مضبوط بنا سكے(۱۵)

مگر مظلوميت عثمان كى داستان جو اسكى تمام ہنگامہ ارائيوں كے لئے بہانہ تھى حكومت كے ہاتھ اتے ہى ايسے بالائے طاق ركھ دى گئي جيسے ايسى كوئي بات ہوئي نہيں تھى ؟

ابن عبد ربہ اندلسى لكھتے ہيں

'' معاويہ حكومت پر قبضہ كرنے كے بعد مدينہ آيا تو عثمان كے گھر بھى گيا ، عائشه بنت عثمان نے جب معاويہ كو ديكھا تو باپ كى مصيبت كو ياد كر كے رونا شروع كر ديا ، وہ اسكے ذريعہ چاہتى تھى كہ اپنے باپ كے خون كا بدلہ لينے كے لئے معاويہ كو ياد دہانى كرائے ، مگر معاويہ پر اس چيخ و فرياد كا كوئي اثر نہيں پڑا اور بڑئے اطمينان سے كہا :

اے بھائي كى اولاد ، لوگوں نے زمام حكومت ہمارے ہاتھوں ميں دے دى ہے جس كى وجہ سے ہم نے بھى انكو امان ديديا ہے ، ہم نے اپنے غضب كو برد بارى كے لباس ميں چھپا ركھا ہے اور ان لوگوں نے اپنے بغض و كينہ كو ذلت كے سايہ ميں پنہاں كر ركھا ہے _

ہر ادمى اپنے ہمراہ تلوار بھى ركھتا ہے اور اپنے رفيق و دوست كو اچھى طرح سے پہچانتا بھى ہے اگر ہم لوگوں نے عہد شكنى كر كے اپنى رفتار كو بدل ڈالا تو ياد ركھو وہ لوگ بھى دوسرا بھيس بدل كر ہم سے مقابلہ كے لئے اجائينگے ، پس ايسى صورت ميں جبكہ نہ ہم اپنى قسمت سے اگاہ ہيں اور نہ ہى اس بات كا يقين ہے كہ ہنگامہ ارائي و سر كشى كا فائدہ ہمارے حق ميں ہو گا يا ان لوگوں كے حق ميں _

بہتر ہے كہ خاموش رہيں تا كہ اگر ہمارى حكومت قائم رہى تو تم دختر خليفہ كى حيثيت سے رہو گى اور اگر حكومت ہاتھوں سے نكل گئي تو تم ايك عام عورت كى حيثيت سے پہچانى جائو گى(۱۶)

_____________________

۱۵_ ابن كثير ج۷ ص ۱۳۱

۱۶_ عقد الفريد ج۳ ص ۱۲۶ چاپ مصر _ ۱۳۳۱ ، ابن كثير ج ۸ ص ۱۳۲ ، البيان التبين ج۲ ص ۱۸۲


عرب كے مكار معاويہ كے جال ميں

معاويہ نے اپنى حكومت كو ٹھوس كرنے كے لئے جو دوسرا كھيل كھيلا وہ يہ تھا كہ مكار و حيلہ گر افراد كو شہر كے گوشہ و كنار سے بلواكر جاہ و جلال اور دولت و ثروت يا دوسرے راستے سے انكو خريد نا شروع كر ديا ، اور ان لوگوں كو اپنى حكومت كے مفاد ميں استعمال كيا ، معاويہ نے اپنى سياست كى بنياد اس پر ركھى كہ بيت المال كے خزانے كو بزرگان قريش اور رئيسان شہر كى جھولى ميں ڈالديا تاكہ اسكے ذريعے گذشتہ دنوں كے كينے ختم ہو جائيں اور ان لوگوں كا دل اس سے قريب ہو جائے ، وہ خوب جانتا تھا كہ لوگ بندہ زر ہيں اور قلب حطام دنيا كا خريدار ہے _

طبرى لكھتے ہيں :

'' كچھ سردار قبائل جن ميں حتات بن يزيد مجاشعى بھى تھا معاويہ كے پاس آئے ، معاويہ نے سبكو ايك ايك لاكھ دينار ديا مگر حتات بن يزيد كو صرف ستر ہزار دينار ديا _

جب يہ لوگ شام سے جانے لگے تو ہر ايك نے اپنى اپنى تھيلى كا جائزہ ليا اور ايك دوسرے كو اپنا اپنا مبلغ بتايا ، حتات جسكو معاويہ نے ان لوگوں سے كم رقم دى تھى وہ اس حركت سے اتنا ناراض ہوا كہ اسى مقام سے واپس آيا اور معاويہ كے پاس گيا اور اسكو دل كھول كر سنايا كہ تم نے كس بناء پر ان لوگوں سے كم رقم مجھے دى ہے _

معاويہ نے كہا ہاں ، ہم نے ان لوگوں سے انكے دين كو خريدا ہے اسى بناء پر انكو ايك جيسى رقم دى ہے ليكن تم كو اس لئے ان سے كم ديا كہ ميں جانتا ہوں كہ تم عثمان كے عقيدتمند وں ميں سے ہو ، حتات نے كہ ، اگر ايسى بات ہے تو پھر مجھ سے بھى ميرے دين كو خريد لو _

معاويہ نے حكم ديا كہ جو رقم كم دى گئي تھى اسكو پورا كر ديا جائے _

وہ لوگ جو معاويہ كے دام زريں ميں پھنس گئے اور نئي حكومت اموى كى بنياد كو مستحكم كرنے ميں جٹ گئے ان ميں مغيرہ بن شعبہ اور عمر و بن عاص بھى تھے_

معاويہ نے عرب كا مشھور و معروف مكار مغيرہ بن شعبہ كو حكومت كوفہ كے لئے منصوب كر ديا اور عمر و عاص كو مصر كى حكومت ديكر اپنے جال ميں پھنسا ليا ، اور عمر و عاص نے اس سلسلہ ميں شرط ركھى كہ جب تك زندہ رہوں گا اس شہر كى


باگ ڈور ہمارے ہاتھوں ميں رہے گى ، مزيد اس جگہ كا ٹيكس بھى ہمارے پاس رہے گا _

ليكن ان كے درميان ايك زبر دست مكار تھا جو معاويہ كے چنگل ميں نہيں اپا رہا تھا ، جسكے وجود سے حكومت اموى كو بہت بڑا خطرہ لا حق تھا _

اسى لئے معاويہ نہيں چاہتا تھا كہ اسكى ذات سے بے بہرہ رہے اور تمامتر سعى و كوشش يہى تھى كہ كسى صورت سے اس شخص كو جس كا نام زيادہ تھا اپنے پرچم كے سايہ ميں لے آئے تاكہ اسكى مكارانہ چال سے اپنى حكومت كو مزيد ٹھوس كر سكے ، اور اسكى ذات سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھا سكے_

لہذا بجائے اسكے كہ دين و احكام اور فرمان الہى سے خوف كھائے ايك بہانہ ڈھونڈ نكالا ، در اصل معاويہ كى تمام زندگى ميں دنيا كى دھوكہ دھڑى اور زودھنگام لذتوں نے اس پر حكمرانى كى ہے كہ اس مقام پر بھى سوائے دنيا پرستى كے اسكو كچھ نظر نہيں آيا ہے _

زياد بن ابيہ ، ظاہرى اعتبار سے غلام عبيد كا بيٹا تھا جس نے مشھور بد كار عورت سميہ سے شادى كى تھى اور كچھ دنوں بعد اس سے زياد پيدا ہوا اس طرح زياد خاندان كے اعتبار سے عربى معاشرہ ميں كوئي خاص اہميت كا حامل نہيں تھا_

زياد كا باپ غلام تھا اور ايسا شخص پست شمار ہوتا تھا لہذا باپ كے غلام ہونے كى وجہ سے قبيلائي اعتبار سے عربى خون نہيں ركھتا تھا _

باپ كا غلام ہونا اور غير عرب ہونے كيوجہ سے زياد اپنے كو ذليل و حقير سمجھتا تھا، اس بات نے اسكو بہت اذيت پہونچائي تھى اور رفتہ رفتہ حقيقت سے اگاہ بھى ہو گيا تھا لہذا اس سے چھٹكارا پانے كے لئے اسكے دل ميں امنگيں كروٹيں لے رہى تھيں _

معاويہ ان تمام مسائل سے بخوبى اگاہ تھا لہذا اس نے اپنے نقشہ كے تحت زياد كى دكھتى رگ كو پكڑا اور اسكو پيشكش كى كہ وہ اپنا بھائي بتائے گا ، مگر ايك شرط پر كہ حكومت اموى كے زير اثر اجائے اور سر پيچى و نا فرمانى سے باز آئے _

زياد نے ايك طرف نسب پر نگاہ دوڑائي تو مشھور ترين عرب معاويہ كا بھائي ہوتا نظر ارہا تھا اور دوسرى طرف اسكا باپ عبيد غلام نہيں رہے گا بلكہ رئيس قريش ابو سفيان اس كا باپ كہلانے لگے گا وہ كل تك معمولى خاندان كى فرد تھا ليكن اج خليفہ كا بھائي بن جائے گا _


مسعودى اور ابن اثير نيز ديگر مورخين نے خاندان اموى سے زياد كے ملنے كى داستان اس طرح نقل كيا ہے _

'' زياد كى ماں سميہ عرب كا مشہور طبيب حرث بن كلدہ ثقفى كى كنيز تھى بدكارى ميں مشہور زمانہ تھى شہر طائف ميں پيشہ ور عورتوں كے درميان ايك گھر ليا اسكى چھت پر سرخ رنگ كا جھنڈا لگايا جو طوائفوں كے اڈہ كى علامت تھا ، يہ جب حرث كى كنيز تھى تو رسم جاہليت كے مطابق اپنى امدنى سے اسكو كچھ رقم ديتا تھا كيونكہ وہ عبيد كى زوجيت سے نكال كر لے آيا تھا _

دور جاہليت ميں ابو سفيان كا طائف شہر سے جب گذر ہوا تو شراب فروش ابو مريم سلّولى كے يہاں آيا اور اس سے اپنى خواہشات جنسى كا اظہار كيا ، ابو مريم نے كہا ، آيا سميہ كو چاہتے ہو ؟

ابو سفيان نے كہا ،_ ارے اسى كو لے ائو تاكہ

ابو مريم نے سميہ كو ابو سفيان كے پاس پہونچا ديا اور خود كمرہ سے باہر چلا آيا ، سميہ اس سے حاملہ ہو گئي اور ۱ھ ميں زياد پيدا ہوا _

جب حضرت امير المومنين (ع) تخت خلافت پر آئے تو زياد كى تقرير و شجاعت اور ادارى امور ميں ماہر ہونے كى وجہ سے فارس كى وسيع و عريض سر زمين كا حاكم بنا ديا ، يہاں پر خوب اچھے طريقے سے حكومت كو چلا رہا تھا ، يہ بات معاويہ كے لئے كافى تكليف دہ ثابت ہو رہى تھى ، اس نے كافى خطوط زياد كو لكھے اور ان خطوں ميں اميد بخش اور تہديد اميز باتيں بھى تحرير كيں ، يہاں تك كہ ايك خط ميں ابو سفيان كا بيٹا بنانے كے لئے لكھا ، ليكن زياد نے حكومت علوي(ع) كے رہنے تك كوئي خاص توجہ نہيں دى ، اور اسكے دام فريب ميں نہيں آيا ، مگر جب حضرت امير المومنين (ع) شہيد كر ديئے گئے اور امام حسن (ع) نے جانگداز عوامل كى بناء پر صلح كر لى ، جسكے نتيجہ ميں اكثر مملكت اسلامى معاويہ كے ہاتھ ميں اگئي ; ايك فارس تھا جس پر زياد كى حكمرانى تھى اس پر كسى كا بس نہيں چل رہا تھا ، تو معاويہ نے مغيرہ بن شعبہ كو بلايا جو زياد كا قديم دوست تھا پھر اپنى رائے كو پيش كيا كہ زياد ايك طاقتور اور ہوشيار شخص ہے جو ابھى تك حكومت فارس پر برا جمان ہے ، اور اموال كثير سے اپنى جگہ كو مستحكم كئے ہوئے ہے جسكى بناء پر ہمارا بس نہيں چل پا رہا ہے _

ہميں ہر لمحہ خطرہ ہے كہ كہيں لوگ خاندان رسول (ص) كى كسى فرد كى بيعت كر كے بار ديگر ہم سے نبرد ازما نہ ہو جائيں _

چنانچہ يہ تمام باتيں كہہ كر مغيرہ بن شعبہ كو زياد كو اپنے چنگل ميں لينے كےلئے روانہ كيا _ مغيرہ معاويہ كى مكارانہ فكر كو ليكر اپنے دوست زياد كے پاس پہونچا ،ايك عرصے كے بعد جب دونوں گفتگو كے لئے بيٹھے تو مغيرہ نے زياد سے كہا كہ ، اسوقت


جہان اسلام كے حالات دگر گوں اور گذشتہ كى نسبت كافى تبديل ہو گئے ہيں ، اور تنھا شخص جو خلافت كو حاصل كر سكتا تھا وہ حسن بن على (ع) ہيں ليكن انھوں نے معاويہ سے صلح كر لى ہے لہذا قبل اسكے كہ تم پر كوئي خطرہ لاحق ہو اپنے لئے پناہ گاہ ڈھونڈھ لو _

مغيرہ نے جواب ديا كہ ، ميرى نظر ميں بہتر يہى ہے كہ تم اپنے نسب كو خاندان اموى سے جو ڑ كر معاويہ كے رشتہ دار بن جائو _

زياد نے كہا ، گويا جڑ كو چھوڑ كر شاخ كو پكڑ لوں _

دونوں كے درميان اسى طرح كى گفتگو ہوتى رہى ، ليكن زياد كو قبيلائي اور خاندانى تعصب بہت ستا رہا تھا ان جرح و بحث نے زياد كے وجدان و ضمير كو كافى جھنجھوڑكر ركھ ديا ، خاص طور سے جب ذہن ميں حكومت كا ہاتھ سے نكل جانا اور جان كا خطرہ ميں پڑ جانے كا تصور كيا تو اس پر زياد مات كھا گيا اور مغيرہ كى پيشنھاد كو قبول كر كے اپنى حكومت كو خير اباد كر ديا اور دمشق كى طرف روانہ ہو گيا ، جب زياد نے اموى سلطنت ميں قدم ركھا تو معاويہ كے حكم پر اسكى بہن (جويريہ ) اس سے ملاقات كرنے گئي اور دوران ملاقات اپنے سر سے اوڑھنى ہٹا ديا اوركہا كہ ، تم ہمارے بھائي ہو لہذا مجھ پر تم سے پردہ واجب نہيں ہے ؟

ہم نے اس حقيقت كو ابو مريم سلّولى سے سنا ہے ، جو يريہ كى ملاقات نے زياد كے اوپر اچھے تاثرات چھوڑے اور اسكے پس منظر ميں معاويہ نے شہر دمشق كى جامع مسجد ميں ايك جلسئہ عام ركھااس ميں زياد كو دعوت دى گئي نيز شاہد ين كو بھى بلايا گيا جن ميں ايك ابو مريم سلّولى تھا _

معاويہ نے ابو مريم سے كہا كہ تم كيسے اور كس چيز كى گواہى دو گے

ابو مريم سلّولى كھڑا ہوا اور اس نے كہا كہ ، ميں گواہى ديتا ہوں كہ دور جاہليت ميں جب ميں شراب فروش تھا تو ايك روز ابو سفيان شہر طائف سے گذرا ، ميرے پاس اكر اس نے اپنى خواہشات جنسى كو مٹانے كے لئے كہا، پيشہ ور عورت كى فرمائشے كى ميں نے كہا ، اسوقت حرث كى كنيز سميہ كے علاوہ كوئي نہيں ہے ،

ابو سفيان نے كہا _ اسى كو لے ائو اگر چہ وہ ايك بد بودار و كثيف عورت ہے ، زياد غصے ميں اگيا اور كہنے لگا ، ابو مريم چپ ہو جائو تم گواہى دينے كے لئے آئے ہو نہ كہ برا بھلا كہنے كے لئے ؟


ابو مريم سلّولى نے كہا ، ٹھيك ہے اگر تم كو برا لگ رہا ہے تو ہم اس داستان كو بيان نہيں كرينگے ليكن ميں نے جو كچھ ديكھا تھا اسكو بيان كيا ہے _

خدا كى قسم ، ابو سفيان نے سميہ كى استين پكڑى اور خالى كمرے ميں لے جا كر دروازہ كو بند كر ليا اور ميں اسى مقام پر بيٹھا رہا ، تھوڑى دير بعد ابو سفيان كمرے سے باہر آيا تو ميں نے كيا ديكھا كہ پسينہ ميں شرا بور تھا ، ميں نے كہا ، ابو سفيان يہ عورت كيسى تھى ؟

ابو سفيان نے جواب ديا _ ہم نے اس عورت كى طرح كسى كو نہيں ديكھا اگر چہ زياد كھڑا ہوا اور لوگوں كو مخاطب كرتے ہوئے كہا ، اے لوگو ، اس ميں كيا سچ ہے اور كيا جھوٹ ہے مجھے نہيں معلوم ليكن جو كچھ جانتا ہوں وہ يہ ہيكہ اگر ميرا باپ عبيد تھا تو ايك ايسا باپ تھا جونہايت شريف و نيك تھا اور اگر اسكو مربى مانا جائے تو وہ ميرا حقيقى باپ تو نہيں تھا البتہ ايك اچھا مربى ضرور تھا ، جس نے زحمتيں برداشت كر كے مجھ پر احسان كيا ، البتہ گواہ حضرات اپنى بات كى حقيقت سے زيادہ اگاہ ہيں _

يونس بن عبيد ثقفى جو سميہ كا بھائي تھا اپنى جگہ سے كھڑا ہو ا اور اس نے كہا ، معاويہ رسول(ص) اسلام كا ارشاد گرامى ہے كہ بچہ شوہر كا ہوگا اور زانى كے لئے سنگسارى ہے ،الولد للفراش و للزانى الحجر ليكن اس قانون كے ہوتے ہوئے تم نے ابو سفيان كے زنا كو ابو مريم كى گواہى پر حكم ديا ہے اور غير شرعى فرزند كو اس كے حد كے بدلے ميں بيٹا بنا رہا ہے جبكہ اس طرح كا قانون نہ كتاب خدا ميں ہے اور نہ ہى حديث پيغمبر (ص) ميں _

معاويہ نے جب ماحول كو خطر ناك ديكھا تو ڈرا دھمكا كر كہا ، اے يونس اپنا منھ بند كر لو ورنہ ٹكڑے ٹكڑے كر دوں گا _

يونس نے جواب ديا كہ ، آيا قتل كے علاوہ كچھ اور كر سكتے ہو_


جب يونس نے معاويہ كى تہديد كو اٹل ديكھا تو خاموش ہو كر بيٹھ گيا اور كہنے لگا كہ ، ہم اپنے پروردگار سے طلب مغفرت كر لينگے اس واقعہ نے جہان اسلام ميں كافى ہنگامہ مچايا ، اور شعراء عرب نے مذمت اميز اشعار كہے ، جن ميں ايك عبد الرحمن بن حكم كا شعر ہے جس كا ترجمہ يہ ھيكہ :_ معاويہ بن حرب سے كہدو كہ ميں مرد يمانى ہوں ، آيا ناراض تو نہ ہو جائو گے ، اگر يہ كہيں كہ تمہارا باپ عفيف و پاك دامن ہے_ اور خوش ہو جائو گے اگر يہ كہا جائے كہ تيرے باپ نے ( زياد كى ماں سميہ سے ) زنا كيا تھا _

ميں گواہى ديتا ہوں كہ تمھارى رشتہ دارى زياد سے اسى طرح ہے جس طرح ہاتھى كى گدھے كے بچے سے(۱۷)

مشہور دانشور اور مورخ ابن اثير لكھتے ہيں :

زياد كو ابو سفيان كا بيٹا قرار دينا يہ پہلا حكم تھا جو علنى طور پر شريعت مقدس كے قوانين كے بر خلاف بيان كيا گيا ، جبكہ رسول اسلام (ص) كا ارشاد گرامى ہے كہ ، بچہ شوھر كا ہوگا اور زانى كے لئے سنگسارى ہے _ الولد للفراش وللعاھر الحجر(۱۸)

سنگين ٹيكس

جيسا كہ اپ نے پہلے ملاحظہ فرمايا كہ معاويہ نے اس وقت كے مكاروں كو مختلف ذريعوں سے اپنے قبضے ميں كر ليا تھا _

كسى كو عہدے ديكر كسى كو دولت و ثروت دے كر اور كسى سے رشتہ ناطہ جو ڑكر ان سبھوں كو كفر و جاہليت كى فوج بنا كر اموى پارٹى سے ملحق كر ديا تھا _

دوسرى طرف طاقتور قبيلوں كے سرداروں نيز دشمنوں سے چاپلوسى ، نرم دلى ، بخشش اموال اور برد بارى كا اظہار كر كے اس لئے ان لوگوں كو خاموش كر ديا تھا ، كہ يہ لوگ اسكى حكومت كے خلاف سازش نہ كر سكيں _

البتہ اس كى ضمير فروش حكومت كے اتے ہى شروع ہو گئي تھى ، ليكن جب ستون حكومت مضبوط ہو گيا اور ماحول سازگار ہو گيا تو اس وقت اپنے كينہ و عناد كو نكالنے كے لئے سارے حكمرانوں كو حكم ديا كہ تمام سر زمين اسلامى كے اموال جمع كر لئے جائيں تاكہ گذشتہ كى طرح روساء قوم كے پاس زر و جواہر نہ رہے(۱۹)

معاويہ كى طمع دن بدن بڑھتى جا رہى تھى ، چنانچہ مسلمانوں كے اموال كو ہڑپنے كے لئے ايك نيا حيلہ تلاش كر كے ايك دن حكم ديا كہ ساسانى بادشاہوں كى زمينوں پر جو كوفے كے اطراف ميں تھى اس پر كھيتى كى جائے اور اسكا خراج ہميں بھيج ديا

____________________

۱۷_ ابن عساكر ج۵ ص ۴۰۹ ، طبرى ج۴ ص ۲۵۹

۱۸_ مروج الذھب ، انساب الاشراف

۱۹_ تاريخ ابن اثير ج۳ ص ۲۰۲ ، سير اعلام النبلا ج۲ ص ۳۴۰


جائے ، ان زمينوں كاسالانہ ٹيكس تقريبا پانچ لاكھ درہم ہوتا تھا _

دوسرى مرتبہ حكم ديا كہ بصرہ كے اطراف كى پيدا وار بصرہ سے متعلق ہے اور اسكا حاكم عبد الرحمن بن ابو بكر ہے _

تيسرى مرتبہ امير شام معاويہ نے يہ حكم ديا كہ _ آيا م نوروز ميں ايراني، گذشتہ باد شاہوں كو تحفہ و تحائف ديتے تھے اس سال ميرے پاس تحفے بھيجيں ، گويا وہ عصر جاہليت كا امپراطور بنا ہوا تھا ، اور اپنے باپ كى وصيت كہ'' خلافت كو بادشاہت ميں تبديل كر دينا'' كو عملى جامہ پہنا رہا تھا _

ايران و عراق كے غريبوں كو جو آيا م نو روز ميں تحفہ دينا ضرورى تھا تقريبا لاكھوں درہم تك پہونچتا تھا(۲۰)

معاويہ نے صرف كوفہ و بصرہ كى پيداوار كو غصب نہيں كيا بلكہ يمن ، شام ، اور بين النہرين پر بھى ہاتھ مار كر ان زمينوں كو جو حكومتى تھيں ہڑپ ليا ، اس طرح اكثر بلاد اسلامى كى دولت و ثروت خاندان اموى اور معاويہ كے رشتہ داروں ميں چلى گئي _

معاويہ كى ہٹ دھرمى اس قدر بڑھ گئي تھى كہ دو مقدس شہروں مكہ و مدينہ كو بھى نہيں چھوڑا اور ان دونوں شہروں سے اسكے پاس خرما اور گيہوں اتے تھے اسى ميں فدك بھى تھا جو معاويہ نے مروان بن حكم كو ديديا تھا(۲۱)

جب حكومت اموى مضبوط ہو گئي تو معاويہ كى سياست بھى بدل گئي ابھى تك دشمنوں سے اچھے روابط تھے ليكن جب انكو دولت و رياست كے ذريعہ رام كر ديا تو اپنے كينہ ديرينہ كو اشكار كيا ، لہذا جب مدينہ آيا اور بنى ہاشم اپنى مشكلات كو ليكر گئے تو انكو ديكھتے ہى كہنے لگا كہ _ كيا كام ہے آيا اس ميں راضى نہيں ہو كہ ہم تمھارے خون كو ( قتل عثمان كے باوجود ) محترم جانے ہوئے ہيں ؟

خدا كى قسم _ تم لوگوں كا خون بہانا جائز ہے ؟

معاويہ كا لب و لہجہ اتنا برا تھا كہ گويا اس نے كچھ كيا ہى نہيں ہے اور عثمان كى مدد ميں گويا اپنى كوتاہى بھول بيٹھا ہے ؟

بات اتنى بڑھ گئي كہ امير المومنين كے شاگرد ابن عباس ( حبر امة ) بول اٹھے

____________________

۲۰_ يعقوبى ج۲ ص ۲۱۸ چاپ بيروت

۲۱_ يعقوبى ج۲ ص ۲۳۴


اے معاويہ _ جو كچھ تم نے ہمارى نسبت كہا ہے تيرى شرارت و خباثت باطنى كے علاوہ كچھ نہيں ہے _

خدا كى قسم ، پہلے تم اس سزا كے مستحق ہو كيونكہ تم نے خون عثمان كے نام پر لوگوں كو بھڑكايا اور اس كے خون كا بدلہ لينے كے لئے تم اٹھے _

ابن عباس نے اتنا سنايا كہ معاويہ كو پانى پانى كر ديا ، پھر انصار ملنے گئے تو معاويہ نے ان لوگوں سے سخت لہجہ ميں گفتگو كى اور انكو ذليل كرنے كے لئے ايك جملہ چست كيا كہ وہ تمہارے پانى ڈھونے والے اونٹ كيا ہوئے ؟

انصار نے غصہ ميں جواب ديا ، جس وقت جنگ بدر ميں باپ بھائي اور دادا كو مارا تھا اس وقت انكو ہاتھ سے كھو ديا _

پھر انصار نے كہا كہ _ ہم صرف خدا و رسول كے حكم كى بنا پر چھوڑ رہے ہيں _

معاويہ نے پوچھا _ يہ بتائو تم كو كيا وصيت كيا ہے ؟

ان لوگوں نے كہا صبر و نيكى كا حكم ديا ہے معاويہ نے كہا _ تو پھر صبر كرو

جس گھڑى مدينہ سے معاويہ شام واپس ہونے لگا تو ا س كى كوئي خواہش پورى نہيں ہوئي(۲۲) _

اسى سفر ميں معاويہ نے يہ حكم ديا كہ منبر و عصاء رسول (ص) كو شام لے چلو كيونكہ اہل مدينہ نے عثمان كو قتل كيا ہے لہذا ان چيزوں كا يہاں رہنا مناسب نہيں ہے مامورين ايك طرف عصاء رسول(ص) كو تلاش كر رہے تھے تو دوسرى طرف منبر كو اٹھا رہے تھے مورخين كہتے ہيں _

جيسے ہى مامورين نے منبر كو اٹھايا تو آواز انے لگى اور سورج كو گہن لگ گيا لہذا انھوں نے اسكو چھوڑ ديا(۲۳)

بعض كہتے ہيں كہ اصحاب پيامبر (ص) نے منع كيا اور اس طرح نقشہ معاويہ نقش بر اب ہو كر رہ گيا ، جس زمانے ميں معاويہ نے اپنى سياست بدل دى تھى ، اور اپنى پرانى عادت پر اگيا تھا ، تو اكثر شيعيان حيدر قيد و شكنجے ميں تھے ، كيونكہ معاويہ نے تمام حكمرانوں كو دستور دے ديا تھا كہ منبروں سے امام (ع) بزرگوار پر نفرين كى جائے ، لہذا امام (ع) كے چاہنے والوں كے لئے ان دو راستوں كے علاوہ كوئي چارہ نہيں تھا ، _۱_ يا جنگ كريں تو اس صورت ميں يا قتل كئے جاتے ہيں يا زندان كى زندگى گزارتے ہيں _ ۲_ يا چپ رہيں تو پھر دل دكھتا ہے _

جب مغيرہ بن شعبہ حاكم كو فہ بن كر جا رہا تھا تو معاويہ نے اس سے كہا كہ ، ہميں تم سے مختلف موضوعات پر گفتگو كرنى تھى

____________________

۲۲_ يعقوبى ج۲ ص ۲۲۳

۲۳_ ابن اثير ج۳ ص ۱۹۹ _ مروج الذھب ج۳ ص ۳۵ چاپ سعادت


ليكن ان تمام باتوں كو چھوڑتا ہوں كيونكہ تم ايك فہيم و چالاك انسان ہو ، مگر ايك بات جو بہت ضرورى ہے وہ يہ ہے كہ على (ع) پر نفرين كرنا نہ بھولنا _اور عثمان كے حق ميں ضرور دعا كرنا اس كے بعد شيعيان على (ع) كے بارے ميں كہا كہ ان پر كڑى نظر ركھنا اور ان سے سختى سے پيش انا اور عثمان كے چاہنے والوں كے ساتھ اچھا سلوك كرنا اور انكو ہم مصاحب بنانا ؟

معاويہ كے اس بدترين دستور نے خون كا بازار گرم كر ديا تاريخ اسلام اسكى شاہد ہے جسكى تفصيل ائندہ بيان ہو گى _

شيعہ شكنجہ و ازار ميں

اس سے پہلے اجمالى طور پر بيان ہو ا كہ معاويہ نے اپنے تمام حكمرانوں كو حكم دے ديا تھا كہ مواليان امير المومنين (ع) كو ايذاء و اذيت دى جائے اور حضرت امير المومنين (ع) پر على الاعلان لعنت بھيجى جائے _ يہ حكم تمام بلاد اسلامى ميں نافذ ہو گيا تھا اور ان امور كى انجام دہى ميں خلافت كى بڑى مشيزياں ايڑى چوٹى كا زور لگانے لگى تھيں _

مغيرہ بن شعبہ جو كوفے پر حكومت كر رہا تھا اس نے كبھى اس كام سے پہلو تہى نہيں كى اور جب تك حاكم كوفہ رہا اس نے حضرت على (ع) كو برا بھلا كہا _ البتہ اس كى باتوں كا منھ توڑ جواب حجر بن عدى جيسے بہادر نے ہميشہ ديا _ مگر مغيرہ كے جہنم واصل ہونے كے بعد حكومت كوفہ پر زياد بن ابيہ حاكم منصوب ہوا _ اس نے بھى حسب دستور قديم وہى كيا جس كى بناء پر كوفہ ميں بار ديگر لعن طعن كا سلسلہ شروع ہو گيا ايك روز زياد نے كچھ كہا تو شير دل حجر بن عدى نے اس كا منھ توڑ جواب ديا _

مورخين لكھتے ہيں :

ايك روز زياد بن ابيہ نے خطبہ كو بہت طول ديديا حجر بن عدى ڈرے كہ كہيں نماز كا وقت نہ نكل جائے _ لہذا با واز بلند كہا نماز _ پھر بھى كان نہيں دہرا _ جب تيسرى مرتبہ بھى ايسا ہى ہوا تو حجر بن عدى نے ايك مٹھى خاك اٹھا كر زياد كے اوپر پھينك دى اور نماز كے لئے كھڑے ہو گئے ان كو ديكھ كر دوسرے لوگ بھى نماز پڑھنے لگے _ زياد نے مجبوراً اپنے خطبہ كو تمام كر كے ان لوگوں كے ساتھ نماز كے لئے كھڑا ہو گيا _


جب نماز تمام ہو گئي تو زياد نے اپنے چوكيداروں سے كہا كہ حجر بن عدى كو گرفتار كر لو _

ليكن ان كے رشتہ داروں ( قبيلہ كندہ ) نے ان كو كہيں چھپا ديا _ لہذا حكومتى مامورين حجر بن عدى كو گرفتار نہ كر پائے _

زياد نے حجر بن عدى كو گرفتار كرنے كے لئے ايك حيلہ اختيار كيا كہ _ قبيلہ كندہ كے سرداروں كو بلا كر يہ كہا كہ ہم حجر بن عدى كو امان ديكر معاويہ كے پاس بھيجيں گے _ تاكہ وہ ان كے بارے ميں فيصلہ كرے _

ان لوگوں نے اس كى بات مان ليا _ زياد نے حجر اور ان كے گيارہ ساتھيوں كو ليكر قيد خانہ ميں ڈالديا پھر شہر كے مشہور ضمير فروشوں كى گواہى و دستخط لے كر حجر اور ان كے ساتھيوں پر الزام لگايا كہ ان لوگوں نے خليفہ وقت معاويہ كو برا بھلا كہا ہے اور لوگوں كو اپ كے خلاف جنگ اور حاكم كوفہ كے خلاف ورغلايا ہے _

ان دستخطوں ميں قاضى شہر شريح بن بانى كى بھى جعلى دستخط كر كے زياد نے معاويہ كے پاس ان لوگوں كے ساتھ خط بھى روانہ كيا ،_ جب شريح كو يہ بات معلوم ہوئي تو شہر سے نكلا اور ان لوگوں كا پيچھا كيا اور جب ملاقات ہو گئي تو ايك خط ان كے ہاتھ سے معاويہ كے پاس بھيجوايا جب زياد كے مامورين حجر اور انكے ساتھيوں كو ليكر معاويہ كے پاس پہونچے توان لوگوں نے زياد كا خط ديا اور ساتھ ہى ساتھ قاضى شريح كا بھى خط ديا _

جب امير شام معاويہ نے جھوٹى گواہى اور شريح كا خط پڑھا جس ميں يہ لكھا تھا كہ مجھے معلوم ہوا ہے كہ زياد نے ميرى طرف سے جھوٹى گواہى اپنے خط ميں لكھى ہے جبكہ ميرى گواہى يوں ہے حجر عابد ، شب زندہ دار ، زكات دينے والا اور ہر سال حج و عمرہ كو انجام ديتا ہے ، امر با لمعروف و نہى از منكر كرتا ہے ، يہ وہ شخص ہے جو دوسروں كے جان و مال پر تجاوز ، حرام جانتا ہے اب تمہيں اختيار ہے كہ چاہے قتل كرو يا اسكو چھوڑ دو _

معاويہ نے شريح كا خط پڑھنے كے بعد كہا كہ اس شخص نے اپنى شہادت كو ان لوگوں سے الگ كر ليا ہے معاويہ نے حكم ديا كہ ان لوگوں كو '' مرج غدرا ئ'' ميں جو دمشق كے نزديك تھا قيد كر دو _

مگر حجر كے ساتھى زيادہ دن قيد خانہ ميں نہيں رہے ، كيونكہ بعض لوگوں نے سفارش و پيروى كر دى تو معاويہ نے انكو ازاد كر ديا ، ليكن كچھ افراد كے لئے معاويہ نے دوسرا حربہ استعمال كيا كہ اپنے سپاہيوں كے ذريعہ سے ان لوگوں كو خوب ڈرايا دھمكايا تاكہ يہ لوگ حضرت على (ع) كو برا بھلا كہنے لگيں تب جا كر ازاد كرے گا_

اس مقام پر باقيماندہ افراد دو گروہ ميں بٹ گئے ، وہ افراد جو حقيقى معنوں ميں امام (ع) كے چاہنے والے تھے اور اسلام انكى نظروں ميں تھا ان لوگوں نے كہا نہيں


چنانچہ معاويہ كے مامورين نے انكى انكھوں كے سامنے قبر كھودى كفن تيار كيا ليكن حجر اور ان كے بعض ساتھى ٹس سے مس نہ ہوئے بلكہ ، اپنى زندگى كى اخرى رات كو عبادت الہى ميں گزارى ، جى نہيں ، بلكہ جو مخلص و مومن ہوتے ہيں وہ صرف اخرى لمحات كو عبادت ميں نہيں گزارتے بلكہ انكى پورى زندگى ياد خدا ميں گذرتى ہے تاكہ جب اپنے محبوب سے ملاقات كريں تو سب سے با فضيلت شمار ہوں _

صبح سويرے ان لوگوں كو قتل كرنے كے لئے لايا گيا ، حجر نے سپاہيوں سے كہا كہ مجھے اتنى مہلت ديدو كہ وضو كر كے نماز پڑھ لوں ، اس لئے كہ جب بھى ہم نے وضو كيا ہے ضرور نماز ادا كى ہے سپاہيوں نے نماز كى اجازت دى اپ نے نماز زيادہ طولانى نہيں پڑھى اسكے بعد بارگاہ خدا وندى ميں دونوں ہاتھوں كو بلند كر كے كہا ، پروردگارا ، ہم مسلمانوں كى شكايت تيرى بارگاہ ميں كرتے ہيں ، اسكے بعد كہا ، خدا كى قسم ، اگر تم لوگوں نے مجھے اس سر زمين پر قتل كيا تو ياد ركھو ميں پہلا وہ شخص ہوں جس نے اس سر زمين پر تكبير بھى كہى اور اتے ہى مار ڈالا بھى گيا _

جب جلاد شمشير ليكر اگے بڑھا تو حجر بن عدى كا جسم تھوڑا سا كاپنے لگا ، ان لوگوں نے كہا كہ تم تو كہتے تھے كہ ہم موت سے نہيں ڈرتے ہيں اب بھى موقع غنيمت ہے اپنے اقا مولى سے بيزارى اختيار كر لو تاكہ جان بچ جائے_

حجر بن عدى نے كہا ، اخر ہم كيوں نہ خوف كھائيں قبر كھودى ہوئي ہے كفن امادہ اور اپنے سامنے تلوار كونپى ہوئي ديكھ رہا ہوں ، پھر بھى موت سے نہيں ڈر رہا ہوں بلكہ زبان سے وہ بات نكل نہ جائے جس سے خدا غضبناك ہو جائے _

حجر اور ان كے ساتھى شھيد كر ديئےئے

ليكن حجر كے دو ساتھيوں نے سپاہيوں سے كہا كہ ہم لوگوں كو معاويہ كے پاس لے چلو ہم لوگ امير المومنين (ع) سے بيزارى كرتے ہيں _

يہ دونوں معاويہ كے يہاں لائے گئے تو معاويہ نے ايك سے مخاطب ہو كر كہا ، آيا على كے دين سے تم بيزار ہو ؟

اس نے سكوت اختيار كر ليا تو اسكے رشتہ دار نے معاويہ سے سفارش كر كے اسكو چھوڑ اليا اور حكم ديا كہ انكو شہر موصل جلا وطن كر ديا جائے _

معاويہ دوسرے شخص سے مخاطب ہوا اور اس سے كہا ، اے برادر ربيعى تم على كے بارے ميں كيا كہتے ہو ؟

اس نے جواب ديا كہ مجھے چھوڑ دو اور اس سوال سے در گزر كرو كيونكہ تيرے حق ميں بہتر ہے، معاويہ نے كہا ، خدا كى قسم


ہم تم كو كسى صورت ميں نہيں چھوڑيں گے اس مرد كوفى نے للكارتے ہوئے كہا كہ ميں گواہى ديتا ہوں كہ على (ع) وہ تھے جو عبادت گذار اور انھوں نے حق كى تلقين كى عدالت كو قائم كيا اور لوگوں كى خطائوں كو معاف كيا _

امير شام معاويہ نے پوچھا ، عثمان كے بارے ميں تمھارا كيا خيال ہے _

مرد كوفى نے كہا ، عثمان پہلا شخص تھا جس نے ظلم و ستم كے دريچے كو باز كيا اور راہ حق كو مسدود كيا ،معاويہ نے كہا ، تم نے خود كو موت كے منھ ميں ڈالا ہے _

كوفى شير نے كہا ، جى نہيں ، ہم نے تم كو مار ڈالا ہے

پھر عرض كيا اس مقام پر قبيلہ ربيعہ كا كوئي فرد نہيں ہے جو ہمارى مدد كرے ، اس وقت معاويہ نے كہا كہ زياد بن ربيعہ كے يہاں بھيجدو اور معاويہ نے زياد كو خط لكھا كہ اس شخص كو اذيت و تكليف كے بعد قتل كرنا، زياد پليد نے معاويہ كے دستور كو انكھوں پر لگايا اور اس مرد كوفى كو امير المومنين كى محبت كے جرم ميں زندہ در گور كر ديا گيا(۲۴)

ابن عبد البر اپنى مشھور كتاب استيعاب ميں لكھتے ہيں :

جس وقت حجر بن عدى قتل كئے جا رہے تھے تو انكے خاندان كے افراد وہاں موجود تھے انھوں نے وصيت كى كہ جب ہم قتل كر ديئے جائيں تو ميرى ہتھكڑيوں كو ہاتھ سے نہ اتارنا اور نہ ہى غسل دينا تاكہ اسى حالت ميں معاويہ سے پل صراط پر ملاقات كريں اور اسكى محشر ميں اسى عالم ميں شكايت كريں(۲۵)

معاويہ نے جس طرح حجر اور انكے ساتھيوں كو قتل كيا اسى طرح اكثر شيعيان على (ع) كو خاك و خون ميں غلطاں كيا ، كيونكہ ايك طرف ان لوگوں سے اپنے كينہ ديرينہ كو نكالا تو دوسرى طرف اپنى حكومت كے ستون كو مضبوط كيا اس لئے كہ ہر گھڑى ممكن تھا كہ جاہليت كے لئے دوسرا وبال جان كھڑا نہ ہو جائے ، اور شورش و فتنہ كى اگ بھڑك نہ اٹھے ورنہ حكومت كے لئے خطرہ كى گھنٹى بجنے لگے گى ، ہاں _ امير شام معاويہ نے اپنى حكومت كو ٹھوس كرنے كے سلسلے ميں كسى منكرات سے رو گردانى نہيں كى ، معاويہ نے دور جاہليت كا طور طريقہ اپنا ركھا تھا جب جہالت حكومت كرے اور كوئي

___________________

۲۴_ طبرى ج۶ ص ۱۵۵

۲۵_ استيعاب اسد الغابہ ج۱ ص ۳۸۶


قانون نہ رہے تو با عظمت انسانوں كى كوئي قدر و قيمت نہيں رہتى ہے ، اس نے اپنے ابتدائي بيس سالہ خلافت كو حكومت ميں تبديل كيا اور جب حكومت مستحكم ہو گئي تو اسكو موروثى بنا كر اپنے بيٹوں ميں سونپنا چاہا جسكى تفصيل ائندہ آئے گي

حكومت خاندانى ہوتى ہے

جب معاويہ كى حكومت قائم ہو گئي اور اسكے ستون استوار ہو گئے اور اسكو كسى چيز كا خطرہ نہيں رہا تو ايك فكر نے جنم ليا ، اور شايد كہا جا سكتا ہے يہ كوئي نئي بات نہيں تھي، بلكہ اسكے باپ ابو سفيان كى وصيتوں ميں سے ايك تھى جس كو اپ نے ملاحظہ فرمايا كہ وہ حكومت اموى كو خاندانى بنانے كى فكر تھى _ اس ہدف تك پہونچنے كے لئے معاويہ نے بہت ايڑى چوٹى كا زور لگايا اور مقصد كے حصول كى خاطر حيلہ و مكارى اور جنايت كا سہارا ليا _

مشہور دانشور ابن عبد ربہ اندلسى لكھتے ہيں :

معاويہ نے مسلسل سات سال تك مكار سيا ستمداروں كو بڑھايا اور دولت و ثروت كے ذريعہ لوگوں كو قريب كيا پھر مكاران وقت پر لطف و مہربانى كر كے انكو اپنے ہاتھوں ميں ليا ، تب جا كر اس بات كى كوشش كى كہ لوگوں كو بيعت يزيد پر امادہ كرے _

امير شام معاويہ نے جس طرح اپنى حكومت كو مستحكم كرنے ميں تمام فريبانہ الات سے كام ليا تھا اسى طرح يزيد كى بيعت كے سلسلے ميں ہو بہو انھيں وسائل كو بروئے كار لايا ، يہ وہ وسائل تھے جو معاويہ كى راہ ميں كام ارہے تھے ، اور اگر اسكى مكارى و دھوكہ دھڑى مات كھا جاتى تھى تو فورا حربہ كو استعمال كر ليتا تھا حتى مسالمت اميز دشمن كو بھى قتل كرنے سے خوف نہيں كھاتا تھا_

بعض مورخين نے حكومت كو مورثى بنانے كى يوں منظر كشى كى ہے

ابن اثير لكھتے ہيں كہ :يزيد كى بيعت كے سلسلے ميں جس شخص نے سب سے پہلے پيشنہا د كى وہ مغيرہ بن شعبہ ہے جب معاويہ نے مصمم ارادہ كر ليا كہ اسكو حكومت كوفہ سے بر خاست كر كے اسكى جگہ سعيد بن عاص كو جس كا شمار امويوں ميں ہوتا تھا اس شہر كا حاكم منصوب كر دے ، اور اسكى خبر مكار مغيرہ كو ہو گئي تو يہ چند ،ساتھيوں كے ساتھ شام آيا ، جب شہر دمشق


ميں داخل ہوا تو اپنے ساتھيوں سے كہا ، اگر ہم لوگ اس ملاقات ميں اپنى حكومت كو نہ بچا سكے تو ياد ركھو كہ ہميشہ كے لئے سنہرا موقع ہاتھ سے كھو دينگے _

پہلے يزيد كے پاس آيا اور اس سے يوں گفتگو كى كہ ، اصحاب رسول (ص) و بزرگ سردار قريش سب كے سب دنيا سے رخت سفر باندھ چكے ہيں اب صرف ان كى اولاديں رہ گئي ہيں ، ان ميں سب سے بہتر تم ہو اور سنت رسول اكرم (ص) سے واقفيت بھى ركھتے ہو نيز حكومت چلانے كى صلاحيت بھى تم ميں پائي جاتى ہے ؟

مگر مجھے نہيں معلوم كہ امير المومنين ( معاويہ ) كو كن مشكلات كا سامنا ہے جو لوگوں سے تمہارى بيعت نہيں لے رہے ہيں ؟

يزيد نے كہا ، اگر اس كام كو انجام ديا جائے تو بہتر ہوگا ؟

مغيرہ نے كہا ، جى كيوں نہيں ، ملاقات تمام ہو گئي ، ان تمام باتوں كو يزيد نے معاويہ سے بيان كيا ، معاويہ نے مغيرہ بن شعبہ كو بلايا اور اس سے حالات معلوم كئے مكار مغيرہ نے كہا، كہ تم تو خود حالات كو جانتے بھى ہو اور اس كا مشاہدہ بھى كئے ہوئے ہو كہ عثمان كے بعد ان تمام خونريزيوں و جنگوں كے ذريعہ تخت حكومت پر آئے اور يزيد تيرى جانشينى كا حقدار بھى ہے ، لہذا اس ميں ديرنہ كرو اور اسكے لئے لوگوں سے بيعت لو ، اگر كوئي مہم در پيش ہوئي تو لوگوں كى پشت پنا ہى سے تمہارا جانشين بن جائے گا اور ايك قطرہ بھى خون كا زمين پر نہيں گرے گا _

معاويہ نے كہا، اسكى ذمہ دارى كو ن قبول كرے گا _

مغيرہ نے جواب ديا ،كوفہ كى ذمہ داريوں كو ميں سنبھالتا ہوں اور زياد كو بصرہ كى ذمہ دارى سونپ دى جائے ، پھر ان دونوں شہروں كے بعد كسى ميں ہمت و جرائت نہيں ہے كہ تمھارى مخالفت كرے _

معاويہ نے كہا ، تم كوفہ چلے جائو اور اس سلسلہ ميں اپنے دوستوں سے صلاح و مشورہ كرو ، پھر ديكھا جائے گا كہ حالات كس كروٹ ليتے ہيں _

مغيرہ بن شعبہ اپنے ساتھيوں كے ساتھ واپس چلا آيا اور عرض كيا ہم نے معاويہ كو اس سر كش مركب پر سوار كر ديا ہے جسكى منزل بہت دور ہے اور امت محمد (ص) كے امور كو اس طرح پارہ پارہ كر ديا ہے كہ ہرگز جڑ نہيں سكتا _

مغيرہ بن شعبہ نے كوفہ پہونچتے ہى كچھ دوستداران بنى اميہ كو اپنے فرزند موسى كے ہمراہ شام بھيجا ، اور ان لوگوں ميں تين لاكھ درھم تقسيم كئے تاكہ معاويہ كے پاس جا كر يزيد كى بيعت كے لئے پيشكش كريں _


جب معاويہ سے ملاقات كرنے گئے اور اس بات كو اسكے سامنے ركھا تو اس نے جواب ديا كہ ابھى اس كام ميں جلدى نہ كرو البتہ ايسا نہ ہو كہ تم لوگ اپنى رائے كو بھول بيٹھو پھر فرزند مغيرہ كو چپكے سے بلايا اور اس سے كہا ،كہ تمہارے باپ نے ان لوگوں كے دين كو كتنے ميں خريدا ہے ، موسى نے كہا ، تين لاكھ درہم ميں _

معاويہ نے كہا _ ان لوگوں نے بہت سستے ميں اپنا دين بيچ ڈالا ہے(۲۶)

يزيد كى بيعت بصرہ ميں

جس زمانے ميں مغيرہ بن شعبہ اہل كوفہ كو بيعت يزيد پر ابھار رہا تھا تو اس وقت معاويہ نے حاكم بصرہ زياد بن ربيعہ كو يوں خط لكھا :

مغيرہ اہل كوفہ سے يزيد كى بيعت لے رہا ہے جبكہ تم مغيرہ سے ان امور ميں زيادہ حقدار ہو كيونكہ يزيد تمہارے بھائي كا بيٹا ہے ، لہذا جيسے ہى ميرا خط ملے فورا بصرہ والوں سے يزيد كى خلافت و وليعہدى كے سلسلے ميں بيعت لو _

جب معاويہ كا خط زياد كو ملا تو اس نے اسكو پڑھنے كے بعداپنے جگرى دوست كو بلايا اور اس سے كہا كہ ہم تمہارے اوپر بھروسہ كرتے ہوئے ايك پيغام تمہارے حوالے كرنا چاہتے ہيں اور اس پيغام كے پہونچانے كا حق تمہيں كو ہے _

معاويہ كے يہاں جا كر كہنا كہ تمہارا خط ملا اور اس ميں جس چيز كے سلسلہ ميں لكھا ہے اگر اسكى طرف لوگوں كو دعوت دوں تو اہل بصرہ كيا كہيں گے جبكہ يزيد كتا اور بندر سے كھيلتا ہے _ اور ہر روز رنگ برنگ كا فاخرہ لباس زيب تن كرتا ہے اور ہميشہ شراب ميں مست رہتا ہے ، نيز گانے بجانے سے بھى پرہيز نہيں كرتا در انحاليكہ اسكے مقابلے ميں حسيں بن على (ع) ، عبد اللہ بن عباس ، عبد اللہ بن زبير ، اور عبد اللہ بن عمر ، جيسے افراد موجود ہيں ، لہذا ايك صورت باقى رہ جاتى ہے كہ تم اس سے كہو كہ ايك دو سال اپنے رقيبوں كى طرح اخلاق سے اراستہ و مزين ہو اس صورت ميں جا كر شايد، ہم لوگوں كو فريب دينے كى كوشش كريں زياد كے فرستادہ نے ان باتوں كو معاويہ سے بيان كيا _

معاويہ نے كہا _، وائے ہو فرزند عبيد پر خدا كى قسم ميں نے سنا ہے كہ گانے والى عورتوں نے اسكے بارے ميں كہا كہ

____________________

۲۶_ ابن اثير ج۳ ص ۱۵ ، طبرى ج ۶ ص ۱۷۰


ميرے بعد امير زياد ہوگا _

خدا كى قسم _ اسكے نسب كو اسكى ماں سميہ اور غلام عبيد سے بار ديگر جوڑ دونگا(۲۷)

طبرى و ابن اثير نے تھوڑے سے اختلاف كے ساتھ اس داستان كى تفصيل كو يوں بيان كيا ہے_ زياد كے دوست نے كہا :

تم معاويہ كے حكم كو نظر انداز نہ كرو اور يزيد كو اس طرح برا بھلا نہ لكھو ، ہم يزيد كے پاس جاتے ہيں اور اس سے كہتے ہيں كہ خليفہ ( معاويہ ) نے تمہارى بيعت كے سلسلہ ميں زياد سے صلاح و مشورہ ليا ہے ، ليكن زياد لوگوں كى مخالفت سے ہر اساں ہے كيونكہ تمہارے اعمال نا شائستہ كو لوگ ديكھ رہے ہيں لہذا زياد كى رائے يہ ھيكہ تم ان افعال سے دستبردار ہو جائو تاكہ امكان بيعت اور تمہارى خلافت كى راہ ہموار ہو جائے زياد نے اپنے جگرى دوست كى رائے كو پسند كيا اور اسكو شام بھيجا ، اس نے يزيد سے ملاقات كى اور زياد كى رائے كو بيان كيا ، يزيد نے بھى زياد كے مشورے كو سراہا پھر وقتى طور پر منكرات سے دستبردار ہو گيا _

جب فرستادہ زياد نے معاويہ كو خط ديا تو اس ميں زياد نے لكھا تھا كہ ابھى اس كام ميں جلدى نہ كرو اس نے بھى زياد كى رائے كو پسند كيا ليكن جب زياد اس دنيا سے چلا گيا ، تو معاويہ نے بيعت يزيد كے لئے اپنى كمر كس لى اور سب سے پہلے اس كام كے لئے عبد اللہ بن عمر كے پاس ايك لاكھ درھم بھيجوايا ، جب عمر كے سپوت نے اس بھارى رقم كو قبول كر ليا تو فرستادہ معاويہ نے يزيد كى بيعت كرنے كے لئے كہا : عبد اللہ بن عمر نے كہا ، اچھا معاويہ كى يہ خواہش تھى اگر ہم اس قليل رقم ميں يزيد كى بيعت كر ليں تو گويا اپنے دين كو بہت سستے ميں فروخت كر ديا ہے(۲۸)

شام ميں يزيد كى بيعت

مشہور عالم ابن اثير لكھتے ہيں :

'' جس گھڑى معاويہ نے خلافت يزيد كا مصمم ارادہ كر ليا تو اہل شام كے درميان يوں خطبہ ديا _ اے لوگو_ ميں بوڑھا ہو چكا ہوں اور موت تعاقب كر رہى ہے لہذا ميں چاہتا ہوں كہ ايك شخص كى تم لوگوں سے بيعت لے لوں ، مگر شرط يہ ہے

___________________

۲۷_ استيعاب ابن كثير

۲۸_ مسند احمد ج۴ ص ۹۲


كہ تم لوگ بھى ہمارى طرح اسى جگہ پر اپنى رائے كو پيش كرو تاكہ بغير رائے كے اس كام كو انجام نہ ديا جائے ، حاضرين نے متفق الرائے ہو كر كہا كہ ہم لوگ عبد الرحمن بن خالد كى حكومت و خلافت سے راضى ہيں _

اس رائے نے معاويہ كو چكرا ديا كيونكہ اس نے سوچا تھا كہ لوگ ضرور يزيد كو اس كام كے لئے منتخب كريں گے ، اس نے اپنى موجودگى ميں ديكھ ليا كہ لوگوں نے يزيد كى طرف بالكل توجہ نہيں دى _

معاويہ اس پر اگ بگولا تو ہو گيا تھا ليكن لوگوں پر اظہار نہيں كيا ، كيونكہ اہل شام چاليس سال سے اس كى حكومت و سلطنت كے سائے ميں زندگى گزار رہے تھے اور ہميشہ خطرناك موقع پر اس كا ساتھ بھى ديئے تھے اسى بنا پر اپنے غصے كو پى گيا _

اب صرف فكر يہ تھى كہ اس كانٹے كو كيسے صاف كيا جائے ، جب عبد الرحمن بن خالد مريض ہوا تومعاويہ نے اپنے يہودى طبيب كو اس كى عيادت و علاج كرنے كے لئے بھيجا _ يہ طبيب معاويہ كا راز دار بھى سمجھا جاتا تھا لہذا معاويہ نے اسكو حكم ديا تھا كہ كسى حيلہ و بہانہ كے ذريعہ سے عبد الرحمن كو زہر ديدے _

ضمير فروش طبيب نے حكم معاويہ كے مطابق عبد الرحمن بن خالد كو مسموم كر ديا زہر اتنا خطرناك تھا كہ عبد الرحمن كا شكم چاك ہو گيا اور اس طرح دنيا سے چلا گيا(۲۹)

طبرى و ابن اثير اس واقعہ كو يوں نقل كرتے ہيں :

معاويہ نے اپنے عيسائي طبيب جس كا نام ابن اثال تھا اسكو حكم ديا كہ جسطرح بھى ممكن ہو عبد الرحمن كو قتل كر دے ، اور اسكے بدلے ميں تمام عمر كا ٹيكس معاف ہو جائے گا نيز شہر حمص كا ٹيكس وصول كرے گا ، اس جنايت كار طبيب نے عبد الرحمن كو زہر ديكر معاويہ كى دلى مراد پورى كر دى _

معاويہ نے اس خدمت كے عوض ميں اپنا وعدہ ، وفا كيا(۳۰)

ابن عبد البر مزيد لكھتے ہيں كہ ، عبد الرحمن كى موت كے بعد اسكا بھائي جو دوسرى جگہ رہتا تھا خفيہ طور پر دمشق آيا اور اپنے

____________________

۲۹_ صحيح بخارى ج۳ ص ۱۲۶

۳۰_ ابن اثير ج۳ ص ۱۹۹ ، اغانى ج ۱۶ ص ۹۱ ، مستدرك ج۴ ص ۴۸۱ ، ابن كثير ج۸ ص۸۹ ، تہذيب ابن عساكر ج۴ ص ۲۲۶


غلام كے ساتھ يہودى طبيب كے كمين ميں بيٹھ گيا _

جب طبيب شب كے سناٹے ميں معاويہ كے يہاں سے جانے لگا تو اس پر حملہ كر ديا جو اسكے ساتھى تھے وہ بھاگ كھڑے ہوئے لہذا اسكو وہيں پر مار ڈالا _

ابن عبد البراس واقعہ كو نقل كرنے كے بعد لكھتا ہے كہ يہ واقعہ دانشوروں كے درميان بہت مشہور و معروف ہے _

يزيد كى بيعت مدينہ ميں

كتاب امامہ والسياسة ميں ابن قتيبہ نے يوں لكھا ہے :

'' معاويہ نے حاكم مدينہ مروان بن حكم كو خط ميں لكھا كہ اہل مدينہ سے يزيد كى بيعت كا مطالبہ كرو ، يہ بات مروان پر گراں گذرى تو تھى ہي، دوسرى طرف مدينہ كے سردار قريش كسى صورت ميں يزيد كى بيعت نہيں كر سكتے تھے ، لہذا مروان نے معاويہ كے پاس ايك خط روانہ كيا اور اس ميں يہ لكھا كہ تمہارے رشتہ دار يزيد كى بيعت سے كترا رہے ہيں لہذا تم اپنى رائے كو ميرے پاس لكھ كر بھيجو _

معاويہ مروان كے منفى جواب سے بہت غضبناك ہوا اور اسكو حاكم مدينہ كے عہدہ سے معزول كر ديا _ اور اسكى جگہ حاكم مدينہ سعيد بن عاص كو بنا ڈالا _

مروان بنى اميہ كے چند افراد كے ساتھ شام آيا اور غصے كے عالم ميں معاويہ سے ملاقات كى اور خوب معاويہ كو برا بھلا كہا ، ليكن سياستمدار معاويہ نے نہايت ٹھنڈے اور نرم لہجے ميں مروان سے گفتگو كى اور اس كى تنخواہ مزيد بڑھا كے راضى كيا اور واپس مدينہ بھيجديا(۳۱) _

معاويہ نے اس واقعے كے بعد ،يزيد كو بطور وليعہدبنانے كى نئي چال چلى كہ ، تمام سرداران بنى اميہ كے درميان پھوٹ ڈالديا ، ايك خط حاكم مدينہ سعيد بن عاص كو بھيجا اور اس ميں دستور ديا كہ مروان كے گھر كو مسمار كر ديا جائے اور تمام

___________________

۳۱_ استيعاب ج۲ ص ۳۷۳، اسد الغابہ ج۳ ص ۳۰۶ ، اصابہ ج۲ ص ۴۰۰


اموال منجملہ باغ فدك بھى لے ليا جائے _

ابن اثير لكھتا ہے :

امير شام معاويہ نے ۴۵ھ ميں سعيد بن عاص كو حكومت مدينہ سے برخاست كر كے بار ديگر مروان بن حكم كو حاكم مدينہ بنا ديا ، سعيد بن عاص كو حاكم مدينہ كے عہدے سے معزول كرنے كى علت يہ تھى كہ معاويہ نے اس كو خط لكھا تھا ، كہ مروان كے گھر كو منہدم كر دے اور اسكى تمام جائيداد حتى فدك كو بھى چھين لے ، ليكن سعيد بن عاص نے معاويہ كے حكم سے سر پيچى كى ، دوسرى بار لكھا پھر بھى سعيد نے نہيں سنا ، اور ان دونوں خطوط كو اپنے پاس محفوظ كر ليا ، جب حكومت مدينہ سے معزول ہو گيا اور اسكى جگہ مروان حاكم بن گيا تو معاويہ نے اس كو خط لكھا كہ سعيد بن عاص كے گھر مسمار كر دے اور تمام جائيداد كو چھين لے _

مروان اپنے چند ساتھيوں سميت سعيد كے گھر كو ڈھانے كے لئے چل ديا _ سعيد اپنے گھر سے نكلا اورمروان سے پوچھا اے فرزند عبد الملك _ تم ہمارے گھر كو ڈھانے كے لئے آئے ہو ؟

مروان نے كہا _ جى ہاں _ امير المومنين معاويہ نے ايسا ايسا خط لكھا ہے اور اس ميں اس طرح كا حكم ديا ہے اگر وہ تم كو اس طرح كا حكم ديتا تو تم بھى ضرور اس كام كو انجام ديتے ؟

سعيد نے كہا _ ہم نے تو ايسا نہيں كيا ؟

مروان نے كہا _ جى نہيں _ خدا كى قسم اگر تمہيں معاويہ اس كام كو انجام دينے كے لئے لكھتا تو تم ضرور اس كا م كو انجام ديتے ؟

سعيد نے كہا ، ہم ہرگز ايسا نہيں كرتے ، پھر معاويہ كے ان دونوں خطوں كو اسے دكھلايا اور كہا _ معاويہ چاہتا ہے كہ ہمارے درميان اختلاف كى ديوار كھڑى كر دے _

جب مروان نے سعيد كے سلوك كو اس طرح پايا تو كہا ، خدا كى قسم تم ہم سے بہتر ہو ؟

اس واقعے كے بعد سعيد بن عاص نے ايك خط معاويہ كو يوں لكھا كہ بڑى تعجب كى بات ہے كہ تم اپنے رشتہ داروں كے ساتھ ايسا سلوك كر رہے ہو ، تم نے مصمم ارادہ كر ليا ہے كہ ہمارے درميان ايك دوسرے كے خلاف بغض و كينہ كى ديوار كھڑى كر كے دشمن بنا دو _ امير المومنين ( معاويہ ) تم نے ان تمام بر د بارى و صبر كے باوجود غصہ و عجلت سے كام ليا ہے


_ بجائے عفو و بخشش كے اپنے رشتہ داروں ميں پھوٹ ڈالنے كى كو شش كى ہے تاكہ اس كينے كو ہمارے فرزند ميراث ميں بانٹ ليں _ ٹھيك ہے ہم ايك خليفہ زادے نہيں ہيں اور نہ كوئي قريبى رشتہ دارى ہے البتہ ہم نے قصاص خون عثمان ميں تمھارى نصرت كى ہے لہذا بہتر تھا كہ تم ہمارے ان حقوق كى رعايت كرتے جو تمھارى گردن پر تھے _

امير شام معاويہ كا جب يہ نقشہ ناكام ہو گيا تو بہت شرمندہ و پشيمان ہوا لہذا دكھانے كے لئے ايك خط سعيد كے پاس لكھا اور اس سے معافى مانگى(۳۲)

يزيد كى بيعت بليدان چاہتى ہے

معاويہ يزيد كو اپنا جانشين بنانے كے سلسلے ميں بہت پريشان ہو رہا تھا اسكو اس راہ ميں روكاوٹيں پيش ارہى تھيں جن كا حل بہت مشكل تھا ، لہذا ان موانع دور كرنے كى فكر ميں لگ گيا ايك طرف اس وقت امام و پيشوا ء سبط رسول (ص) حضرت امام حسن (ع) تھے ، دوسرى طرف عمر بن خطاب كى چھہ ركنى كميٹى كا ايك ممبر اور بڑا سردار سعد بن ابى وقاص موجو د تھا جسكو بعض لوگ اہميت كى نگاہ سے ديكھتے تھے _

مشہور مورخ ابو الفرج اصفہانى لكھتے ہيں :

معاويہ اپنے فرزند ( يزيد ) كى بيعت كا بہت خواہاں تھا ، ليكن اس راہ ميں سب سے بڑى اڑچن حضرت امام مجتبى (ع) اور سعد بن ابى وقاص تھے ، اس نے ان دونوں كو ہٹانے كے لئے خفيہ طور پر ان لوگوں كو زہر دلوايا اور يہ دونوں زہر كى بناء پر اس دار فانى سے رخصت ہو گئے(۳۳) امام حسن (ع) اور سعد بن ابى وقاص جو معاويہ كے ہدف ميں ركاوٹ بنے ہوئے تھے اسكى علت يہ تھى كہ سعد بن ابى وقاص عمر كى اس چھہ ركنى كميٹى كا اخرى ايك ممبر تھا ، جو خليفہ كے تعين كے لئے وجود ميں ائي تھى ، اسكے بعد ان لوگوں كا دماغ اتنا اونچا ہو گيا تھا كہ گويا خلافت و حكومت كے چلانے كى تمام صلاحتيں انھيں لوگوں ميں منحصر تھيں _

____________________

۳۲_ استيعاب ج۲ ص ۳۷۳

۳۳_طبرى ج۵ ص ۱۱


ليكن امام حسن (ع) جو اپنى گذشتہ فضيلت و عظمت كے خاص مالك تھے انھوں نے معاويہ سے صلح كرتے وقت شرط ركھى تھى كہ امير شام معاويہ اپنے بعد كسى كو خليفہ نامزد نہيں كر سكتا ہے اور اسكو حق نہيں ہے كہ كسى دوسرے كو اپنا وليعہد بنائے(۳۴)

مورخين نے سعد بن ابى وقاص كے مارے جانے كى وضاحت نہيں كى ہے ، بس اتنا لكھا كہ انكو معاويہ نے زہر دلوايا ہے _ ليكن سبط رسول (ص) امام حسن (ع) كى شہادت كے سلسلے ميں چند دليليں پائي جاتى ہيں ، جو اس سانحے كى كسى حد تك وضاحت كرتى ہے _

مسعودى لكھتا ہے :

'' امير شام '' معاويہ نے خفيہ طور پر جعدہ بنت اشعث بن قيس كندى كے پاس زہر بھيجا تاكہ امام (ع) كو مسموم كر دے اور ساتھ ميں كچھ پيغامات بھى ارسال كئے كہ اگر تم نے امام حسن (ع) كوزہرديديا تو ايك لاكھ درہم ،مزيد اپنے بيٹے يزيد كے ساتھ شادى كر دوں گا ، يہى وہ دو باتيں تھيں جو جعدہ بنت اشعث كے لئے باعث ذلت بنيں اور اس نے اس كام كو انجام ديا ،جب امام عليہ السلام كو زہر ديديا تو معاويہ نے بعض وعدے پورے كئے جس ميں ايك لاكھ درہم شامل تھا ، اور جعدہ كے پاس پيغام بھيجوايا كہ ہم يزيد كى زندگى چاہتے ہيں _

لہذا دوسرا وعدہ جو تم سے شادى كرنے كا تھا اس سے معذور ہيں _ يعنى تم نے جس طرح اپنے شوہر كو وعدہ پر مسموم كر ديا ہے ممكن ہے اسى طرح ميرے بيٹے كو بھى زہر ديدو _ لہذا انھيں اسباب كى بنا ء پر ہم اپنے وعدے كو پورا نہيں كر سكتے ہيں(۳۵) معاويہ كى جنايتكار سياست نے حضرت مجتبى (ع) اور سعدبن ابى وقاص كو درميان سے صاف كر ديا تاكہ خلافت يزيد كى راہ ہموار ہو جائے اور جس طرح عبد الرحمن بن خالد كو نابود كيا تھا اسى طرح ان دونوں كو صفحہ ہستى سے مٹايا ،ہم سمجھتے ہيں كہ عبد الرحمن بن خالد اسى راہ ميں مارے گئے ہيں جسكى تفصيل ائندہ بيان ہو گى _

____________________

۳۴_ اسد الغابہ ج۳ ص ۲۸۴ ، طبقات ابن سعد ج۵ ص ۱ ، صحيح بخارى ج۳ ص ۱۱

۳۵_ بلاغات النساء ص ۸ ، تذكرة الخواص


يزيد كى تاج پوشي

معاويہ نے بڑى جدو جہد كر كے مملكت كے گوشہ و كنار سے سرداروں اور بزرگان قبائل نيز با رسوخ افراد كو دمشق بلوايا اور يزيد كى زبر دستى بيعت لى _

مخالفين كو ڈرا دھمكا كر، تو كبھى منھ مانگى رقم ديكر، تو كبھى رياست كى لالچ ديكر لوگوں كو بيعت يزيد پر راضى كيا ، چند سال تك ايسا ہى ہوتا رہا _

مملكت اسلامى كے اكثر اہم علاقے امويوں كے اشارے پر چلنے لگے ليكن اس وقت دو اہم شہر مكہ و مدينہ كے لوگ اس اشارے پر نہيں چل رہے تھے اور يزيد كى بيعت تسليم نہيں كر رہے تھے _

امير شام معاويہ نے اپنے ساتھيوں كے ہمراہ حجاز كا سفر كيا تاكہ ان لوگوں سے يزيد كى بيعت لے ، اہل مكہ و مدينہ نے يزيد كى بيعت اس لئے نہيں كى كہ يہ لوگ اسلام سے اچھى طرح واقف تھے دوسرى طرف حسين بن على (ع) ، عبد اللہ بن زبير ، عبد اللہ بن عمر ، اور عبد الرحمن بن ابو بكر جيسے با رسوخ افراد اس شہر ميں موجود تھے _

ابن اثير لكھتا ہيں :

'' معاويہ نے يزيد كى بيعت لينے كے لئے لوگوں كو منھ مانگى رقم ديكر راضى كيا اور مخالفين سے خاطر و مدارات كر كے يزيد كى بيعت كروائي ، وہ اپنى سياست ميں يوں كا مياب رہا كہ لوگوں نے اپنے سرداروں پر بھروسہ كر كے يزيد كى بيعت كر لى _

جب اہل شام و عراق نے يزيد كى بيعت تسليم كر ليا تو معاويہ نے ہزاروں سواروں كے ساتھ حجاز كا سفر كيا ، مدينہ ميں سب سے پہلے حضرت امام حسين (ع) سے ملاقات ہوئي _

ابن اثير مزيد لكھتا ہے :

حضرت امام حسين (ع) كے علاوہ تين دوسرے افراد جو روساء شہر تھے انكى معاويہ سے تلخ كلامى ہوئي تو ان لوگوں نے اسكو منھ توڑ جواب ديا _

اس كے بعد ابن اثير لكھتا ہے كہ ، معاويہ نے ان چاروں افراد سے مدينہ ميں بيعت نہيں لى جب عائشه سے ملنے گيا تو


انكو اس مڈ بھيڑ كى خبر معلوم ہو گئي تھى ، لہذا ام المومنين عائشه نے معاويہ سے كہا :

يہ لوگ كسى صورت ميں يزيد كى بيعت نہيں كرينگے ، معاويہ نے ان لوگوں كى شكايت عائشه سے كى تو انھوں نے اسكو خوب سمجھايا بجھايا ؟

ابن اثير نے معاويہ كے سفر مكہ كى داستان يوں نقل كيا ہے :

معاويہ جب مكہ انے والا تھا تو اہل مكہ كے ساتھ وہ چاروں افراد بھى استقبال كرنے كے لئے گئے معاويہ ان لوگوں سے كافى مہربانى سے پيش آيا اور ان لوگوں سے بار ديگر بيعت كا مطالبہ كيا عبد اللہ بن زبير نے كہا ، ہم تم كو تين پيشنھاد كرتے ہيں ان ميں سے ايك قبول كر لو_

۱_ جس طرح رسول اكرم (ص) نے اپنا جانشين نہيں بنايا اسى طرح تم بھى مت بنائو_

۲_ جس طرح ابو بكر نے قريش كے ايك فرد كو خلافت كے لئے چن ليا اور اپنے خاندان كے كسى فرد كو خليفہ نہيں بنايا _

۳_ عمر بن خطاب كى طرح كرو كہ انھوں نے خلافت كى كميٹى تشكيل ديدى تھى ليكن اس ميں اپنے فرزند كو نہيں ركھا تھا ،معاويہ نے عبد اللہ بن زبير سے كہا كہ اسكے علاوہ كوئي اور پيشكش نہيں ہے _

زبير نے جواب ديا ، نہيں _

معاويہ نے كہا ، ہم تم كو با خبر كر رہے ہيں كہ اگر تم نے كسى دوسرے كو اس رائے سے اگاہ كيا تو ياد دكھو كہ ہم تم كو معذور كرديں گے _

ابھى تقرير كرنے جا رہا ہوں خدا كى قسم _ اگر تم ميں سے كسى نے ہم پر اعتراض كيا تو قبل اسكے كہ تمھارا كلام ختم ہو سر تن سے جدا ہو جائے گا ، لہذا بہتر يہى ہے كہ تم لوگ اپنى اپنى حفاظت كرو ، پھر اپنے سپاہيوں كو حكم ديا كہ ہر ايك ادمى پر دو شمشير باز مسلط رہيں كہ اگر ايك حرف بھى اعتراض كا زبان سے نكلے فورا قتل كر ديا جائے _


ان لوگوں كو اسى حالت ميں مسجد الحرام لايا گيا ، معاويہ منبر پر گيا حمد الہى كے بعد اپنى تقرير شروع كى ، ابتدا ئے تقرير ميں يوں كہا كہ ، يہ لوگ سردار و بزرگان اسلام نيز با عظمت افراد ہيں كسى بھى وقت انكى رائے كے خلاف كام انجام دينا نہيں چاہيئے ، اور ان لوگوں نے يزيد كى بيعت كر لى ہے ، اب تم لوگ خدا كے نام پر كھڑے ہو جاو اور يزيد كى بيعت كرو ، يہ كہنا تھا كہ چاروں طرف سے مجمع ٹوٹ پڑا اوريزيد كى بيعت ہو گى _

بيعت جيسے ہى تمام ہوئي فورا حكم ديا كہ سواريوں كو امادہ كرو پھر سوار ہو كر مدينہ كى طرف چل ديا ، اہل مدينہ سے بھى مكہ والوں كى طرح بيعت لى پھر شام پلٹ گيا _

مگر حضرت امام حسين (ع) اور انكے دوسرے ساتھيوں كى جھوٹى بيعت كا راز فاش ہو گيا ، لوگوں نے جب ان لوگوں سے سوال كيا كہ تم لوگوں نے تو يہ فيصلہ كيا تھا كہ ہرگز بيعت نہيں كريں گے پھر كيوں بڑى سادگى كے ساتھ يزيد كى بيعت كر لي_

ان لوگوں نے معاويہ كى مكارانہ چال كو بيان كيا اور ان لوگوں كوجو جان لينے كى دھمكى دى تھى اسكو بيان كيا(۳۶)

ہم نے معاويہ كى زندگى ميں انے والے حوادث كا بہت غور سے جائزہ ليا تو ہم اس نتيجہ تك پہونچے كہ معاويہ كے دور ميں جھوٹى حديثوں كے گڑھنے كى وجہ كو سمجھنے كے لئے اسكے علاوہ كوئي چارہ نہيں ہے كہ

۱_ معاويہ كى پيچيدہ شخصيت كو پھر سے جانچا جائے

۲_ معاويہ كى ام المومنين عائشه سے دانٹ كا ٹى دوستى كن وجوہات كى بناء پر ہوئي ، يہ وہ مباحث ہيں جو ہم ائندہ پيش كريں گے _

___________________

۳۶_ ابن اثير ج۳ ص ۲۱۸ ، عقد الفريد ج۳ ص ۱۳۱


فصل چہارم

عائشه اور امويوں ميں دوستى كے اسباب

اپ نے پہلے ديكھا كہ معاويہ نے حضرت على (ع) سے دشمنى و عناد ركھنے كى وجہ سے كتنا ان سے ٹكر ليا اور انكى حكومت كے زمانے ميں كس قدر جنگ اور مقابلہ كيا _

ليكن جب حضرت امير المومنين (ع) (على (ع) ) نے مسجد كو فہ ميں جام شہادت نوش فرماليا تو اپنى مقاومت كو جنگ سرد ميں تبديل كر كے ايك لمحہ بھى امام عليہ السلام كو بر ا بھلا كہنے سے باز نہ آيا _

نيز اپ نے يہ بھى ديكھا ہو گا كہ عائشه نے امير المومنين (ع) سے كتنى بھيانك جنگ لڑى ، اور جب امام (ع) ابن ملجم كے ہا تھوں شھيد ہو گئے اور اسكى خبر عائشه كو معلوم ہوئي تو خوشى كے مارے سجدہء شكر ادا كيا(۳۷) پھر اس شعر كو پڑھا كہ جس كا ترجمہ يہ ہے _

على (ع) گزر گئے اور اب انكى واپسى نہيں ہو گى مجھے انكى موت سے اپنے دل كو اتنى خوشى ہو رہى ہے جيسے خاندان كا كوئي مسافر اپنا عزيزتر رشتہ دار گھر واپس انے سے خوش ہوتا ہے _ ہاں _ على (ع) كى موت سے ميرى انكھيں ٹھنڈى ہو گئيں _

فالقت عصا ها و استقر بها النوى كما قر عينا بالاياب المسافر

خاندان علوى (ع) سے عائشه كى عداوت اتش اتنى بھڑ كى ہوئي تھى كہ حتى شوہر كے نواسے سے پردہ كر ليا اور ان سے ملاقات نہيں كى(۳۸)

جو كچھ يعقوبى اور ابو الفرج اصفہانى نے اس زمانے كے واقعات بيان كئے ہيں اگر اس پر غور كيا جائے تو معلوم ہوگا كہ عائشه كى دشمنى خاندان علوي(ع) سے اسى طرح باقى رہى اور اس ميں ذرا برابر كمى نہيں ائي يہى وجہ تھى جو عائشه اور بنى اميہ كے درميان بطور عموم اور خاص طور پر معاويہ سے گٹھ بندھن رہا _

____________________

۳۷_ طبرى ج۶ ص ۱۶۰ _ ۱۵۵

۳۸_ طبقات الكبرى ج۸ ص ۷۳


يعقوبى لكھتے ہيں :

امام حسن (ع) نے وقت احتضار اپنے بھائي امام حسين (ع) سے كچھ وصيتيں كيں ، ان ميں ايك يہ تھى كہ اگر ميں اس دنيا سے چلا جائوں تو مجھے جدّ بزرگوار رسول اكرم (ص) كے پہلو ميں دفن كرنا كيونكہ مجھ سے زيادہ كوئي حقدار نہيں ہے ، ليكن اگر كوئي ممانعت پيش آئے اور ميرى اخرى ارزو پورى نہ ہو سكے تو اس وقت حتى الامكان كو شش كرنا كہ ايك قطرہ خون زمين پر نہ گرنے پائے ، جب امام عليہ السلام كى شہادت ہو گئي اور تجہيز و تكفين كے بعد اہل خاندان جسد مبارك كو ليكر قبر رسول (ص) كى طرف جانے لگے تو بقول مقاتل الطالبين ام المومنين عائشه خچر پر سوار ہوئيں اور انكے ساتھ بنى اميہ جنھوں نے اپنے گناہ كو انكے كاندھے پر ڈالديا تھا جسد مبارك اور جو لوگ جنازہ ميں شريك تھے انكو قبر رسول (ص) كى جانب جانے سے روك ديا اس فعل نا شائستہ پر ايك مشہور شعر كہا گيا _

ايك دن خچر پر تو ايك روز اونٹ پر سوار ہوئيں ،فيوماََعلى بغل و يوماََعلى جمل (۳۹) _

يعقوبى لكھتا ہے:

مروان بن حكم اور سعيد بن عاص سوار ہوئے اور فرزند رسول (ص) كے جنازہ كو جد بزرگوار كے پہلو ميں دفن كرنے سے منع كيا ، عائشه خچر پر سوار ہو كر مجمع عام ميں ائيں اور وا ويلا مچانا شروع كر ديا كہ يہ گھر ميرا ہے اور اس ميں كسى كو دفن كرنے كى اجازت نہيں ديتى ہوں _

ابو بكر كا پوتا قاسم نے جواب ديا ، اے پھوپھى _ ہمارے سر ابھى تك جنگ جمل كے خون سے صاف نہيں ہوئے ہيں آيا اپ چاہتى ہيں كہ انے والا دن خچر كا دن كہلائے _

ليكن لشكر علوى (ع) بھى خاموش نہيں بيٹھا بلكہ بعض لوگ حضرت امام حسين (ع) كے پاس گئے اور عرض كيا اقا ہم لوگوں كو ال مروان سے نپٹنے كے لئے جانے ديجئے خدا كى قسم _ يہ لوگ ہمارى نظروں ميں ايك لقمہ سے زيادہ نہيں ہيں _

امام عليہ السلام نے فرمايا _ ميرے بھائي نے وصيت كى ہے كہ ميرے جنازے كى خاطر ايك قطرہ بھى خون كانہ بہانا ، اسكے بعد امام حسن (ع) كا جنازہ قبر ستان بقيع ليجايا گيا اور دادى فاطمہ بنت اسد جو حضرت امير المومنين (ع) (على (ع) ) كى ماں تھيں

____________________

۳۹_ مقاتل الطالبين ص ۷۵ ، يعقوبى ج۲ ص ۲۰۰


كے پہلو ميں دفن كيا گيا(۴۰)

ام المومنين عائشه كى يہ تمام كار كردگى اہلبيت (ع) سے كينہ و دشمنى كى علامت تھى يہى وجہ تھى جو عائشه اور بنى اميہ خاص طور سے معاويہ كے درميان دانت كاٹى دوستى كى باعث بنى _ معاويہ اور اس كے حكمرانوں نے خوب تعظيم و تكريم كى اور اپ (عائشه ) كو ہديہ و تحفے بھيج كر مالى تعاون كيا _

معاويہ كے تحفے

جس گھڑى محقق، معتبر تاريخ كے متون كو بغور ديكھتا ہے تو عائشه اور حكومت اموى كے درميان گہرى دوستى كى شگفت اميز علامت پاتا ہے _

جبكہ يہ دونوں گروہ پہلے اپس ميں ايك دوسرے كے بہت مخالف تھے ، اور قتل عثمان كے مسئلہ ميں ايك دوسرے سے نوك جھونك بھى ہوئي تھى ، ليكن مصلحت وقت نے ايك دوسرے كو كافى نزديك كر ديا تھا اور وہ ايك لشكر كى شكل ميں ہو گئے تھے _

حكومت اموى كى مراعات مالى نے عائشه سے زيادہ قريب كر ديا اور متعدد بار اموال كثير نيز قيمتى تحفے معاويہ كى طرف سے اور دوسرے روساء حكومت اموى نے انكى خدمت ميں بھيجے ، ہم نے ان تمام دليلوں كو معتبر تاريخ سے جمع كيا ہے اور اپنے مدعى كو ثابت كرنے كے لئے اپكى خدمت ميں چند نمونے پيش كرتے ہيں _

ابو نعيم اصفہانى حلية اولياء ميں عبد الرحمن بن قاسم سے نقل كرتے ہيں

ايك مرتبہ معاويہ نے عائشه كى خدمت ميں مختلف تحفے بھيجے جن ميں لباس و پيسے نيز قيمتى چيزيں بھى تھيں(۴۱)

يہى ابو نعيم اصفہانى عروہ بن زبير سے نقل كرتا ہے _

معاويہ نے دوسرى مرتبہ ايك لاكھ درہم نقد عائشه كے پاس بھيجا(۴۲)

____________________

۴۰_ يعقوبى ج۲ ص ۲۰۰ كے بعد

۴۱_ حلية الاولياء ج۲ ص ۴۸

۴۲_ حلية الاولياء ج۲ ص ۴۷


اٹھويں صدى كا مشہور مورخ ابن كثير عطاء سے روايت كرتا ہے _

معاويہ نے مكہ سے عائشه كے پاس ايك قيمتى ہار بطور ہديہ بھيجا جسكى قيمت ايك لاكھ درہم تھى اور اس تحفہ كو ام المومنين عائشه نے قبول كيا(۴۳)

طبقات الكبرى ميں يوں آيا ہے كہ ، منكدر بن عبد اللہ ام المومنين عائشه كے يہاں گيا تھوڑى دير گفتگو كے بعد عائشه نے پوچھا ، آيا فرزند ركھتے ہو ؟

منكدر بن عبد اللہ نے جواب ديا كہ ، نہيں _

عائشه نے كہا _ اگرہم اس وقت دس ہزار درہم كے مالك ہوتے تو تمھيں دے ديتى تاكہ اس سے كنيز خريد ليتے اور اس سے صاحب اولاد ہوتے ، يہ ملاقات تمام ہو گئي اتفاق سے اسى روز غروب كے وقت معاويہ كى طرف سے كافى مقدار ميں رقم اگئي _

عائشه نے كہا _ كتنى جلدى اپنى مراد تك پہونچ گئي

پھر ہميں ا پنے يہاں بلايا اور دس ہزار درہم ديئے ميں نے اس رقم سے ايك كنيز خريد لى(۴۴)

ايك دوسرا واقعہ ابن كثير سعد بن عزيز سے نقل كرتے ہيں :

معاويہ نے ايك بار عائشه كا اٹھارہ ہزار دينار قرض چكايا جو انھوں نے لوگوں سے لے ركھا تھا(۴۵)

اپ حضرات نے يہاں تك معاويہ كى عائشه كى نسبت مراعات مالى كا نمونہ ملاحظہ فرمايا _ يہ صرف معاويہ نے ايسا نہيں كيا بلكہ اموى روساء بھى اسى راہ پر گامزن رہے اور كبھى كبھار انكى خدمت ميں تحائف بھيجتے رہتے تھے ، جن ميں ايك حاكم بصرہ عبد اللہ بن عامر ہے كہ جس نے ايك مرتبہ عائشه كے پاس پيسے اور لباس كى شكل ميں تحفے بھيجے _(۴۶)

صدياں گذرنے كے بعد جب مورخين نے حكومت اموى كى طرف سے عائشه كى مالى مدد كا اس مقدار ميں تذكرہ كيا ہے تو يقينا اسكى مقدار اس سے كہيں زيادہ رہى ہو گى اور حكومت جو عائشه كا احترام كرتى تھى وہ صرف دنيا وى مصالح اور

____________________

۴۳_ ابن كثير ج۷ ص ۱۳۷ ، سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۱

۴۴_ طبقات الكبرى ج۵ ص ۱۸

۴۵_ ابن كثير ج۸ ص ۱۳۶

۴۶_ مسند احمد ج۶ ص ۷۷


مفاد پرستى كيو جہ سے تھا اور وہ بھى جو كچھ احترام كرتى تھيں وہ اپنے مفاد كى خاطر تھا _

ان مفاد پرستى كيوجہ سے اسلام و مسلمين كو جو نقصانات پہونچے ہيں انھيں ائندہ بيان كروں گا _

* * *

اموى حكومت ميں ، عائشه كا رسوخ

قارئين كرام جو كچھ ہم نے عائشه كى زندگى اور انكى سياسى و اجتماعى كارنامے كو بيان كيا ہے اگر اپ حضرات اس پر غور كريں گے تو ان كى سياسى سوجھ بوجھ پہچاننے ميں كوئي دشوارى نہيں ہو گى عائشه سياست اور معاشراتى نفوذ كے لحاظ سے ان صفات كى حامل تھيں جو ايك سياستدان كے لئے بہت ضرورى ہے وہ اپنے زمانے ميں سب پر حاوى تھيں _ اس بات كو ہم بعد كے صفحات ميں بھى مختلف طريقوں سے پيش كرينگے _

ان كى پہلى خاصيت يہ تھى كہ انكى بات سب كے دل ميں اتر جاتى تھي

صاحب طبقات كبرى لكھتے ہيں _مرہ بن ابى عثمان جو عبد الرحمن بن ابو بكر كا ازاد كردہ تھا ، ايك روز عبد الرحمن كے پاس آيا اور ان سے درخواست كى كہ ايك خط زياد كو لكھديں تاكہ حاجت پورى ہو جائے _

عبد الرحمن نے خط يوں لكھا كہ زياد كو بجائے ابو سفيان كا بيٹا قرار دينے كہ اسكو عبيد كا فرزند لكھ ديا _ جب مروہ بن عثمان نے خط كو ديكھا تو عبد الرحمن سے كہا كہ ہم اس خط كو زياد كے پاس لے كر نہيں جائيں گے كيونكہ ہمارى حاجت اس خط سے پورى نہيں ہو سكتى پھر وہ عائشه كے پاس آيا اور ان سے وہى درخواست كى _ ام المومنين عائشه نے اس طرح زياد كو خط لكھا _

يہ خط ام المومنين عائشه كى طرف سے ہے زياد بن ابو سفيان _ مرہ خط ليكر زياد كے يہاں گيا ، اس نے خط پڑھنے كے بعد كہا ، تم ابھى چلے جائو اور كل صبح سويرے ميرے پاس انا تو ہم تمہارى حاجت كو پورا كر دينگے _

مرہ بن ابى عثمان دوسرے روز زياد كے يہاں گيا تو كيا ديكھا كہ حاضرين كى ايك بڑى تعداد ہے زياد نے اپنے غلام سے خط پڑھنے كو كہا ، اس نے عائشه كے خط كو پڑھا يہ خط ہے ام المومنين كى طرف سے زياد بن ابو سفيان كو _ خط كے تمام


ہونے كے بعد زياد نے مرہ بن عثمان كى حاجت پورى كر ديا(۴۷)

ياقوت حموى اسى داستان كو ( نہر مرّہ ) كے مادہ ميں اپنى جغرافيائي انسائيكلوپيڈيا ميں لكھتے ہيں _

زياد عائشه كے خط سے اتنا خوش ہوا كہ اس نے مرہ كا خوب اكرام كيا اور خط تمام ہونے كے بعد اس نے لوگوں سے كہا : يہ خط ام المومنين عائشه نے ميرے نام لكھا ہے ، پھر حكم ديا كہ مرّہ بن عثمان كو سو (۱۰۰)ايكڑ زمين نہر ابلہ كے كنارے ديديا جائے اور اس ميں زمين كى ابيارى كرنے كے لئے ايك كنواں كھودا جائے ، يہى وہ نہر ہے جو ( مرّہ ) كے نام سے مشہور ہوئي _

اس واقعہ سے جو نتيجہ نكلتا ہے وہ يہ ہے كہ زياد نے نوشتہ عائشه اور رسوخ كلام سے اپنا فائدہ اٹھايا ، كيونكہ ام المومنين نے اسكو ابو سفيان كا بيٹا تسليم كيا ، اور اپنے خط ميں اسى عنوان سے مخاطب كيا ، يہى وجہ تھى كہ بہت خوش ہوا اور حكم ديا كہ انكے خط كو مجمع عام ميں پڑھا جائے تاكہ دوسرے لوگ بھى اس بات كو جان ليں كہ دور حاضر كى بزرگ شخصيت عائشه بھى اسكے نسب اعلى كو پہچانتى ہيں ، اور سابق رئيس قريش ابو سفيان كا بيٹا اور خليفہ وقت كابھائي جانتى ہيں _

عائشه نے ديگر مواقع پر بھى زياد كو خط لكھا اور اس ميں لوگوں كى رعايت مالى كا خيال ركھنے كى تاكيد كى جسكے جواب ميں زياد نے خط بھيجا كہ مجھے ايسا محسوس ہوتا ہے كہ جيسے ہم اپنے ماں باپ كے سايہ عاطفت ميں زندگى بسر كر رہے ہيں(۴۸) _

عائشه اور معاويہ كا ايك دوسرے پر چوٹ

عداوت على ميں اگر چہ عائشه كى معاويہ سے ايك دانت كاٹى دوستى ہو گئي تھى _ ليكن بعد ميں ايسے اسباب پيدا ہو گئے جنكى وجہ سے ان دونوں ميں دورى ہو گئي _ اور رفتہ رفتہ ايك جنگ سرد ميں تبديل ہو گئي تھى _

معاويہ نے شب و روز كى تگ و دو كے بعد زمام حكومت كو ہاتھ ميں لے ليا مگر وہ اس پر بھى خوش نہيں تھا بلكہ اسكى خواہش يہ تھى كہ اپنى حكومت و سلطنت كو مورو ثى بنا ڈالے يہ مسئلہ اسوقت اور بھيانك ہو گيا جب اسكے قديم دوست جو مختلف گروہوں ميں بٹے تھے حكومت كو خاندانى بنانے ميں كسى طرح راضى نہيں ہوئے لہذا معاويہ نے اپنے بھيانك

____________________

۴۷_ طبقات ج۷ ص ۹۹

۴۸_ عقد الفريد ج۴ ص ۲۱۷


چہرے كو ظاہر كر ديا _

ام المومنين عائشه ان حالات ميں معاويہ كے مخالف گروہ سے جا مليں اور معاويہ سے اپنى دوستى تو ڑ ڈالى _

عائشه اور معاويہ كے درميان پہلا اختلاف اس بات پر ہوا كہ اس نے شير كو فہ محب على حجر بن عدى كو قتل كر ديا _

ابو الفرج اصفہانى لكھتے ہيں :

عائشه نے اپنا نمائندہ عبد الرحمن بن حرث كو شام بھيجا تاكہ معاويہ سے حجر اور ان كے ساتھيوں كے لئے سفارش كرے مگر عبد الرحمن اسوقت دمشق پہونچا كہ معاويہ نے ان لوگوں كو شھيد كر ڈالا تھا _ فرستادہ عائشه مايوس و نا اميد ہو كر واپس چلا آيا اور اس نے پورى داستان بيان كى ، جب عائشه نے ان باتوں كو سنا تو بہت ناراض ہوئيں اور كہنے لگيں كہ ،اگر ہم كو اس كا خوف لاحق نہ ہوتا كہ ہم ہى ہر بار اوضاع كو خراب كرتے ہيں تو اسكو بتا ديتى اور يہ نا گوار حادثہ پيش نہ اتا ، ليكن اس بار ميں اس كو نہيں چھوڑ ں گى اور حجر كا انتقام ضرور لونگى ، خدا كى قسم ، حجر مومن اور مجاہد فى سبيل اللہ تھا(۴۹)

عائشه كا يہ كہنا كہ اگر ہم كو اس بات كا خوف نہ ہوتا كہ ہر بار ہميں انقلاب بر پا كرتے ہيں اور حالات كو دگر گوں بناتے ہيں تو اسكے امور كٹھنائي ميں پڑ جاتے ، وہ يہ ہے كہ _ عثمان كے خلاف لوگوں كو ورغلانے كى باگ ڈور اپ ہى كے ہاتھوں ميں تھى ، اور جو انكى نظر ميں امور سخت ہو گئے اسكى وجہ يہ ہے كہ حضرت امير المومنين (ع) تخت خلافت پر بيٹھ گئے ، يہ مسئلہ ام المومنين عائشه پر اسقدر گراں گذرا تھا كہ اپ دعا مانگتى تھيں كہ اسمان زمين پر پھٹ پڑے تاكہ سب نابود ہو جائيں _

ليكن خوش نصيبى يہ رہى كہ انكى ارزو نقش بر اب ہو كر رہ گئي اور امام عليہ السلام نے مسند خلافت كو زينت بخشى ،_ لہذا كمر ہمت باندھى تاكہ انقلاب بر پا كر كے خلافت كو امام (ع) كے چنگل سے چھيڑا ليں اسى بناء پر خونين جنگ جمل برپا كر دى اوراس ميں بھى كامياب نہ ہو پائيں اور نتيجہ ميں اپنے چچا زاد بھائي طلحہ اور انكے فرزند نيز بہنوئي زبير كو ہاتھوں سے كھو ڈالا اس حادثہ نے انكو رنج و غم كا تحفہ پيش كيا لہذا انكو ڈر تھا كہ كہيں معاويہ كے خلاف محاذ ارائي كى توشايد نا گوار حادثات پيش ائيں اور پہلے كى طرح پھر محنت پر پانى پھر جائے _

يہى وجہ تھى جو اپنے غصے كو پى گئيں اور معاويہ كے مقابلہ ميں سكوت اختيار كر ليا _

____________________

۴۹_ طبرى ج۴ ص ۱۹۲ ، اغانى ج ۱۶ ص ۱۰


قتل حجر كے سلسلے ميں عائشه كى دوسرى باتيں تاريخ كى كتابوں ميں ياد گارى حيثيت سے موجود ہيں جو انكى سياسى گہرائي كى نشاندہى كرتى ہيں _

عائشه نے كہا _ خدا كى قسم _ اگر معاويہ نے اہل كو فہ كى بزدلى كا احساس نہ كيا ہوتا تو ہرگز جرا،ت و جسارت نہ كرتا كہ حجر اور انكے ساتھيوں كو قيد كر كے قتل كرتا _، ليكن فرزند جگر خوار نے عرب كى غيرت و حميت كو بھانپ ليا ہے كہ يہ لوگ اپنى غيرت و حميت كو كھو بيٹھے ہيں _

خدا كى قسم _ حجر اور انكے ساتھى شجاعت و حميت ميں بہت بلند تھے _

لبيد شاعر نے كتنا اچھا شعر كہا ہے :

ذهب الذ ين يعاش فى اكنافهم

و بقيت فى خلف كجلد الاجرب

لا ينفعون ولا يرجى خيرهم

ويعاب قائلهم و ان لم يشعب

ترجمہ : وہ لوگ چلے گئے جنكے بل بوتے پر زندگى گزارتے تھے اور ہم انكے بعد اسى طرح ہيں جيسے جذام شخص كى كھال كہ جو نہ نفع بخش ہے اور نہ ہى خير كى اميد ہے ، انكے بارے ميں كچھ كہنا گويا عيب ہے جبكہ ان لوگوں نے كوئي برائي بھى نہيں پھيلائي ہے(۵۰) _

قتل محمد بن ابى بكر

عائشه اور معاويہ كے درميان اختلاف كا دوسرا سبب جو بنا،وہ ان كے بھائي محمد بن بكر كا قتل ہے ابن عبد البر اور ابن اثير نقل كرتے ہيں _

جس سال معاويہ حج كرنے گيا تو زيارت قبر رسول (ص) كے نام پر مدينہ آيا _ قيام كے دوران ايك دن عائشه سے ملاقات كرنے گيا تو اپ نے سب سے پہلے جس بات كو چھيڑا وہ حجر بن عدى كا قتل تھا _

اس سلسلے ميں عائشه نے معاويہ كو بہت كچھ سنايا اس پر معاويہ نے كہا :

اے ام المومنين مجھے اور حجر كو ھنگام حشر تك چھوڑ ديجئے(۵۱)

____________________

۵۰_ اسد الغابہ ج۴ ص ۲۶۱ ، اغانى ج ۱۴ ص ۲۱۱

۵۱_اسد الغابة ، استيعاب حجر كے شرح حال ميں


بعض مورخوں نے اس ملاقات كى داستان كو تفصيل سے لكھا ہے كہ معاويہ جيسے ہى بيٹھا تو عائشه نے كہا _ اے معاويہ تم كيسے اطمينان كے ساتھ ميرے گھر ميں اگئے ، تم نے خوف نہيں كھايا كہ كہيں ہم تم سے اپنے بھائي ( محمد بن بكر ) كے قتل كا بدلہ نہ لے ليں _

معاويہ نے جواب ديا ، ميں اپكے گھر ميں امان كے ساتھ وارد ہوا ہوں _

عائشه نے كہا ، اے معاويہ آيا حجر اور انكے ساتھيوں كو قتل كرنے ميں خدا سے خوف نہ كھايا معاويہ نے كہا ، حققيقت تو يہ ہے كہ جن لوگوں نے ان لوگوں كے خلاف شہادت دى تھى ان ہى نے انھيں مارا ہے(۱)

احمد بن حنبل اپنى مسند ميں لكھتے ہيں :

عائشه نے جب يہ كہا كہ اے معاويہ تم كيسے ہمارے گھر ميں اگئے تو معاويہ نے جواب ديا اپ ہرگز ہم كو قتل نہيں كر سكتى ہيں كيونكہ گھر خانہ امن ہے اور ہم نے پيغمبر اسلام (ص) سے سنا ہے كہ خدا پر ايمان ركھنے والا ہرگز گھر ميں قتل نہيں كر سكتا _

معاويہ نے عائشه سے كہا _ اچھا يہ بتايئے كہ ہمارا برتائو اپ كے ساتھ كيسا ہے اور اپكى حاجت ابھى تك پورى ہوئي يا نہيں ؟

عائشه نے كہا _ بہت اچھا ہے

معاويہ نے كہا _ پھر مجھكو چھوڑ ديجئے اب ہم دونوں ايك دوسرے سے بارگاہ خدا وندى ميں ملاقات كرلينگے(۲)

جيساكہ كتب تاريخ ميں ہے كہ عائشه كے بھائي محمد بن ابى بكر ۳۷ھ ميں اور حجر بن عدى ۵۰ھ ميں قتل كئے گئے ، مگر سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ ام المومنين عائشه كيوں اور كيسے تيرہ برس تك خاموش بيٹھى رہيں ، اور اپنے بھائي كے خون كا بدلہ لينے كے لئے ايك كلمہ بھى زبان پر نہ لائيں ، اور جب حجر اور انكے ساتھى مارے گئے تب اپنے بھائي كا درد ناك قتل ياد آيا ، ہم تو يہى سمجھتے ہيں كہ يہ مسئلہ اسوقت پيش آيا ہو گا جب ان دونوں كے روابط خراب ہو گئے ہو نگے ، اور جيسا كہ اپ نے

____________________

۱_استيعاب حجر كے شرح حال ميں

۲_مسند احمد ج۴ ص ۹۲


ملاحظہ فرمايا كہ عائشه نے عبد الرحمن بن حرث كو مدينہ سے شام بھيجا تاكہ حجر اور انكے ساتھيوں كو معاويہ كے ہاتھوں چھوڑا لائيں اور اسكى خبر تمام بلاد اسلامى كے گوشہ و كنار تك پھيل گئي تھى ، اور اموى حكومت ميں عائشه كے نفوذ و رسوخ كا پہلے ہى سے لوگوں ميں ڈھونڈھورا پٹا ہوا تھا _، اور لوگ كافى اميد لگائے بيٹھے تھے كہ انكى سفارش حكومت اموى رد نہ كرے گى ، معاويہ انكو مايوس نہيں كرے گا چند دن نہيں گذرے تھے كہ اچانك نمايندہ نا اميد ہو كر واپس چلا آيا اور پہلى مرتبہ عائشه كو اپنے منھ كى كھانى پڑى _

اس واقعے نے تمام بلاد اسلامى ميں عائشه كى شخصيت كو كافى مجروح كيا كيونكہ خلفاء ثلاثہ كے زمانہ ميں بھى اپ كافى با رسوخ تھيں اور خلافت كى مشينرياں ( سوائے حكومت علوى كے ) ہميشہ انكى رائے كو احترام كى نگاہ سے ديكھتى تھيں _

مگر يہ پہلا موقع تھا كہ انكى سفارش ردّى كى ٹوكرى ميں ڈال دى گئي

جب اپ نے انكى تمام مقام و منزلت كو پہچان ليا تو اس واقعہ نے ضرور انكے اوپركوہ گراں كا كام كيا ہو گا اور خشم و كينہ نے انكو اتش فشاں پہاڑ بنا ڈالا ہو گا ، آيا يہى اسباب و عوامل باعث نہيں تھے كہ سالہا سال معاويہ سے گہرى دوستى اور ان تمام مراعات مالى كے باوجود معاويہ سے جھگڑنے لگيں ، اور اسكے برے افعال سے نقاب كشائي كرنے لگيں _

نيز اپنے بھائي كے خون ناحق كو باوجوديكہ تيرہ برس گذر چكا تھا ياد كرنے لگيں _

مكار سياستداں معاويہ نے بھى بھترى اسى ميں ديكھى كہ عائشه كے غصے كے سامنے ٹھنڈا رہے اور اپنى قديم دوستى كو ياد دلائے نيز جو محبت اور تحفے انكى خدمت ميں بھيجے تھے ان كو گوش گذار كرے _

ليكن جيسا كہ اس سے قبل اپ نے ملاحظہ فرمايا كہ _ عائشه كوئي معمولى عورت نہ تھيں بلكہ ايك طاقتور ذہين عورت تھيں ابھى غصے سے ٹھنڈى بھى نہيں ہوئيں تھيں كہ معاويہ نے اسى وقت بجائے زخم پر مرہم كے انكے دل پر نمك چھڑك ديا كہ ، بيعت يزيد كى خاطر اس نے انكے بھائي كو مروايا ہے ، اچانك عبد الرحمن بن ابى بكر كى خبر مرگ كى وجہ سے عائشه اور معاويہ كے درميان پھر سے غيظ و غضب كے تازے شعلے بھڑ كنے لگے _


عبد الرحمن بن ابى بكر كو زہر ديا گيا

عائشه اور معاويہ كے درميان تيسرا سبب جو اختلاف كا سمجھ ميں اتا ہے وہ انكے بھائي عبد الرحمن بن بكر كى ناگہانى موت ہے _

اپ نے اس سے پہلے ديكھا كہ جب معاويہ مسلمانوں كو بيعت يزيد كے لئے امادہ كر رہا تھا تو ايك دن حاكم مدينہ مروان بن حكم نے خطبے ميں يزيد كا نام لے ليا اور اسكو وليعہد بتانے لگا اس وقت عبد الرحمن كھڑے ہو گئے اور مروان كو خوب بر ا بھلا كہا :

مروان نے عبد الرحمن كو برا بھلا كہتے ہوئے ان جملوں كو استعمال كيا تھا كہ _ يہ وہى ادمى تو ہے جس كے بارے ميں قران ميں اس طرح آيا ہے كہ جس نے اپنے ماں باپ سے يہ كہا تھا كہ تمہارے لئے حيف ہے كہ تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو '' وَالَّذى قَالَ لولد َيہ اُف لّكُمَا أتعد أنني ''_ سورہ احقاف اية ۱۷

عائشه گھر ہى كے اندر سے چيخنے لگيں كہ خدا وند عالم نے ہمارے خاندان كے سلسلے ميں كوئي چيز نازل نہيں كى ہے _ ہاں _ اگر نازل كيا ہے تو ہمارى بے گناہى كو واقعہ افك ميں بيان كيا ہے(۳)

مشہور مورخ ابن اثير اس واقعہ كو يوں نقل كرتے ہيں :

معاويہ نے يزيد كى بيعت لينے كے لئے اپنے والى و حاكم مروان كو خط بھيجا ، اس نے حسب دستور اپنے خطبے ميں كہا كہ _ امير المومنين معاويہ نے اپنا ايك وليعہد معين كر كے تم لوگوں پر احسان كيا ہے اور اس نيك كام ميں كوتا ہى نہيں كى اس عہدے پر اپنے فرزند يزيد كو نامزد كياہے عبد الرحمن نے جيسے ہى سنا فورا كھڑے ہو گئے اور كہنے لگے _

اے مروان _ معاويہ بھى جھوٹ كہتا ہے اور تم بھى جھوٹ بولتے ہو ، تم لوگوں نے عوام كى خير و صلاح كو مد نظر نہيں ركھا ہے بلكہ تم لوگ خلافت كو بادشاہت ميں تبديل كرنا چاہتے ہو _ جس طرح قيصر و كسرى كے بادشاہوں نے كيا كہ ايك مرا تو دوسرا بادشاہ اسكا جا نشين ہو گيا اور تم لوگ بھى ايسا ہى كرنا چاہتے ہو _

مروان نے كہا _ اے لوگو _ يہ وہى شخص ہے جس كے بارے ميں قران نے كہا كہ جس نے اپنے والدين سے يہ كہا كہ تمھارے لئے حيف ہے كہ تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو _

____________________

۳_ صحيح بخارى ج۳ ص ۱۲۶


اس بات كو عائشه نے پس پردہ سن ليا تو اسى مقام سے فرياد بلند كرنے لگيں _

اے مروان _ اے مروان _ تمام لوگ خاموش ہو گئے مروان نے بحالت مجبورى انكى طرف رخ كيا _

عائشه نے كہا ، آيا تم وہى ہو كہ جس نے عبد الرحمن كے بارے ميں يہ كہا كہ اسكى قر ان ميں مذمت ائي ہے ، تم ايك نمبر كے جھوٹے ہو _

خدا كى قسم _ وہ اس آيت كا مخاطب نہيں ہے بلكہ كوئي دوسرا شخص ہے ، ليكن تم تو پہلے ہى سے ملعون خدا ہو(۴)

دوسرى روايت ميں يوں آيا ہے كہ تم جھوٹ بولتے ہو ، خدا كى قسم ، جو كچھ تم نے عبد الرحمن كى نسبت كہا ہے ان ميں سے وہ نہيں ہے البتہ رسول اكرم (ص) نے تمہارے باپ پر اس وقت نفرين كى جب تم اس كے صلب ميں تھے ، اور اس طرح تم پر پہلے ہى سے خدا كى پھٹكا ر ہے _

يہى وجہ تھى كہ مروان بن حكم نے بار ديگر بيعت يزيد كا بيڑا نہيں اٹھايا اور اس سے كنارہ كشى اختيار كر لي_

معاويہ نے ايك مدت كے بعد لوگوں كو دكھانے كے لئے حج كا سفر كيا پھر مدينہ آيا جس كو ہم نے مدينہ ميں وارد ہونے كے بعد جو واقعات پيش آئے ا س كو مختصر طور پر بيان كيا ہے

ليكن اس وقت دوسرے نكتے كى طرف توجہ مبذول كرانى ہے _

صاحب استيعاب ابن عبد البر لكھتے ہيں :

معاويہ مسجد نبوى كے منبر پر بيٹھا رہا اور لوگوں كو بيعت يزيد كى دعوت دى جس پر حضرت امام حسين، (ع) عبد اللہ بن زبير ، اور عبد الرحمن بن ابى بكر نے اس پر اعتراض كيا _ اور ان لوگوں كے درميان كافى تو تو ميں ميں ہوئي _

عبد الرحمن نے كہا _ اے معاويہ _ آيا خلافت بادشاہت ميں تبديل ہو گئي ہے كہ ايك بادشاہ دنيا سے گيا كہ اسكى جگہ دوسرا بادشاہ اگيا _

كسى طرح لوگوں كى رضايت كا خيال نہيں ہے ہم ہرگز بيعت نہيں كريں گے _

اسى رات معاويہ نے عبد الرحمن كے پاس ايك لاكھ درہم بھيجو آيا تاكہ بيعت يزيد پر راضى ہو جائيں _ ليكن انھوں نے اس رقم كو

____________________

۴_ ابن اثير ج۳ ص ۱۹۹


قبول نہيں كيا اور كہا _ ہم ہرگز اپنے دين كو دُنيا سے نہيں بيچيں گے ، اس كے بعد مدينہ سے مكہ كى طرف چل ديئے ، ليكن قبل اس كے كہ يزيد كى بيعت مرحلہ اختتام تك پہونچے دنيا سے چل بسے(۵)

ابن عبد البر مزيد لكھتا ہے :

عبد الرحمن مكہ كے اطراف ميں مقام ( حبشى ) پر نا گہانى موت سے مرے جو مكہ سے دس ميل كے فاصلہ پر ہے اور اسى جگہ دفن بھى ہوئے _

نيز كہتے ہيں كہ _ انھوں نے حالت خواب ميں جان دى ، ليكن جس وقت عائشه انكى خبر مرگ سے مطلع ہوئيں تو انھوں نے مكہ كا سفر كيا ، جب مقام حبشہ پر پہونچيں تو قبر برادر پر گئيں اور خوب گريہ كيا ، اور ان اشعار ميں بين و نوحہ كيا _ جس كا ترجمہ يہ ہے كہ :

ہم دونوں ايك طويل مدت تك بادشاہ حيرہ ( جذيمہ ) كے دو نديم كى طرح تھے جو دونوں ايك دوسرے سے بہت محبت كرتے تھے اور ہميشہ ساتھ رہتے تھے ، يہاں تك كہ لوگوں نے كہنا شروع كر ديا كہ ان دونوں ميں كبھى جدائي نہيں ہو سكتى ہے ، ليكن ميرے بھائي كى موت نے اسوقت ہم دونوں كو ايك دوسرے سے عليحدہ كر ديا ہے ، ان تمام الفتوں و محبتوں كے باوجود ايسا لگتا ہے كہ گويا ايك رات بھى ساتھ ميں نہيں تھے(۶)

پھر روتے ہوئے كہا _ خدا كى قسم _ اگر تمھارے دفن كے وقت موجود ہوتى تو تمھارے ساتھ دفن ہو جاتى تاكہ تمھارے حال پر گريہ كناں نہ رہتى _

ہاں _ اس طرح عائشه اور بنى اميہ كے درميان اختلاف كو نئي قوت مل گئي اور جنگ كے شعلے مزيد بھڑكنے لگے ، ليكن عائشه نے ايسے حالات ميں اپنے بھائي كو كھو ديا _

عبد الرحمن كو نا گہانى موت نہيں ائي تھى بلكہ اسكے اسباب و علل غور طلب ہيں _

اس كى شناخت اسى طرح ہو گى جس طرح مالك اشتر مصر كے راستے ميں مار ڈالے گئے

عبد الرحمن بن ابى بكر اور سعد بن وقاص كى موت بھى اسى طرح ہوئي ، يہ تمام مشہور شخصيتيں يزيد كى بيعت نہ كرنے كى وجہ

____________________

۵_استيعاب ج۲ ص ۳۷۳ ، اسد الغابة ج۳ ص ۳۰۶ ، اصابة ج۲ ص ۴۰۰

۶_ استيعاب ج۲ ص ۳۷۳


سے مارى گئيں _

يہى وہ مقامات ہيں جہاں سے عائشه اور حكومت اموى كے درميان اختلاف كى اگ بھڑكى كيونكہ انھوں نے اس راہ ميں اپنے عزيز بھائيوں كو كھو ديا تھا ، اس پر ظلم يہ ہوا كہ كس كے بل بوتے پر بنى اميہ سے جنگ كرتيں كيونكہ اب نہ طلحہ نہ زبير و عبد الرحمن اور نہ ہى دوسرے مددگار ،

عائشه نے ان دو بيتوں كے سہارے اپنے دلى كوائف كو يوں بيان كيا ہے

ذهب الذ ين يعاش اكنافهم

و بقيت فى خلف كجلد الاجرب

لا ينفعون ولا يرجى خيرهم

و يعاب قائلم و ان لم يشعب

ترجمہ _ وہ لوگ چلے گئے جن كے سايہ رحمت ميں زندگى گزارتے تھے اور ہم انكے بعد اسى طرح ہيں جيسے جذام شخص كى كھال كہ نہ نفع بخش ہے اور نہ ہى خيركى اميد ہے _ ان كے بارے ميں كچھ كہنا گويا عيب ہے جبكہ ان لوگوں نے كوئي برائي بھى نہيں پھيلائي ہے _

دوسرى بات يہ تھى كہ عائشه كا پہلے كى طرح وہ سن بھى نہيں رہا كہ مركب پر سوار ہو كر جنگل و بيابان كى خاك چھانيں ، اور بنى اميہ كے خلاف اتش جنگ كو بھڑكائيں يہى وجہ تھى كہ انھوں نے اپنے كينے اور دشمنى كو دوسرى شكل ميں ظاہر كيا _

اور اپ نے پہلے ديكھا كہ حاكم مدينہ ( مروان ) جيسے ہى ان ( عائشه ) كى چنگل ميں آيا تو انھوں نے قول رسول (ص) كو جو كہ اسكے باپ كے سلسلے ميں تھا كہ تم تو پہلے ہى سے ملعون خدا ہو اسكو بيان كر ڈالا ، اور مدتوں اسى ڈگر پر چلتى رہيں _

ميں سمجھتا ہو ں كہ عائشه نے بنى اميہ كى مذمت ميں جو احاديث رسول (ص) بيان كى ہے يہ سب اسى دور كى ہيں _ اور اسى پر اكتفا نہيں كيا بلكہ جو كچھ اہلبيت رسول (ص) اور انكے اصحاب كے فضائل و احاديث سنيں تھى اسكو بيان كيا ، كيونكہ معاويہ و بنى اميہ كو اس دور ميں چڑھانے كے لئے سوائے فضائل اہلبيت عليھم السلام كو بيان كرنے كے كوئي چارہ نہ تھا ، اس عمل نے ان لوگوں كو سخت متحير اور انكے دماغ كو چكرا ڈالا تھا _

اس دور ميں حضرت امام حسين (ع) سے كافى محبت سے پيش انے لگيں لہذا جو بھى حديثيں ان لوگوں كے سلسلہ ميں عائشه سے نقل ہوئي ہيں اور كتب احاديث ميں جو فضائل امير المومنين (ع) اور صديقہ طاہرہ نيز انكى والدہ گرامى خديجہ كبرى (ع) كے


سلسلہ ميں بيان ہوئي ہيں ضرور بالضرور اسى دور كے ہيں _

ميں سمجھتا ہوں كہ جو كلمات ندامت و شرمندگى كے عائشه نے جنگ جمل كے بارے ميں كہے ہيں اسى زمانہ كے ابتدائي دور كے ہيں اور مرتے دم تك اسى كا رونا روتى رہيں جسكى تفصيل ائندہ آئے گى _

جنگ جمل سے عائشه كى شرمندگي

ابو جندب كوفى نے عائشه سے اپنى ملاقات كى داستان يوں بيان كيا ہے

جب ہم عائشه كے گھر گئے تو انھوں نے پوچھا ، تم كون ہو ؟ ميں نے كہا ،ميں قبيلہ ازد سے جو كہ كوفہ ميں رہتا ہوں _

عائشه نے پوچھا ، آيا تم نے جنگ جمل ميں شركت كى تھى ؟

جندب كوفى نے كہا جى ہاں

عائشه نے كہا ،ايا ہمارے مخالف تھے يا موافق ؟

جندب نے جواب ديا _ ہم اپكے مخالف لشكر ميں تھے _

عائشه نے كہا _ آيا وہ كون شخص تھا كہ جس نے اپنے رجز ميں يہ كہا تھا كہ اے ام المومنين ہم اپكو جانتے ہيں ليكن اپ ہم كو نہيں پہچانتى ہيں ؟


جندب نے كہا _ہاں _ وہ ميرا چچا زاد بھائي تھا _

اسكے بعد اتنا روئيں كہ ميں سمجھا كہ انكو گريہ سے ہرگز افاقہ نہيں ہو گا(۷)

ابن اثير لكھتے ہيں :

ايك روز عائشه كے يہاں گفتگو كے درميان جنگ جمل كا تذكرہ اگيا تو عائشه نے پوچھا لوگ ابھى تك اس جنگ كو ياد كئے ہوئے ہيں ؟

حاضرين نے كہا _ ہاں _

عائشه نے كہا _ اے كاش اس جنگ ميں شركت نہ كئے ہوتى اور ديگر ازواج رسول (ص) كى طرح اپنے گھر ميں رہتى ہمارے دس قيمتى فرزند رسول (ص) عبد اللہ بن زبير، عبد الرحمن ، بن حارث جيسے افراد نہ مارے جاتے(۸)

مورخين و مفسرين نے مسروق نامى شخص سے نقل كيا ہے _

عائشه جس گھڑى سورہ احزاب كى اس آيت كو پڑھتى تھيں جسميں ازواج رسول (ص) كو گھر ميں رہنے كا حكم ديا گيا تھا تو اپ اتنا روتى تھيں كہ اوڑھنى انسو سے تر ہو جاتى تھى(۹)

''عائشه مرنے سے پہلے ''

صاحب كتاب طبقات الكبرى محمد بن سعد نقل كرتے ہيں :

ايك روز ابن عباس عائشه كے مرنے سے پہلے انكو ديكھنے گئے ، تو انھوں نے انكى خوب تعريف و تحسين كى _ جب ابن عباس چلے گئے تو عائشه نے عبد اللہ بن زبير سے كہا ، ابن عباس نے ميرى تعريف كى ہے _ اب مجھے ذرہ برابر اچھا نہيں لگتا ہے كہ كوئي ہم كو اچھے نام سے ياد كرے _، ميں چاہتى ہوں كہ لوگ ہميں اس طرح سے بھلا ديں گويا دنيا ميں قدم ہى نہيں ركھا تھا(۱۰)

____________________

۷_ طبرى ج۵ ص ۱۱ حوادث جنگ جمل

۸_اسد الغابة ج۳ ص ۲۸۴ ، طبقات ابن سعد ج۵ ص ۱

۹_ طبقات ج۸ ص ۵۶


كتاب بلاغات النساء ميں آيا ہے كہ _ جس وقت عائشه پر حالت احتضار كى كيفيت طارى ہوئي تو اپ بہت مضطرب و پريشان تھيں ، حاضرين نے ان سے كہا اپ اتنا پريشان كيوں ہيں اپ تو ابو بكر صديق كى بيٹى اور ام المومنين ہيں ؟

عائشه نے جواب ديا _ ميں سچ كہتى ہوں كہ جنگ جمل ميرے گلے كى ہڈى بن گئي ہے _

اے كاش اس دن سے پہلے مر كھپ گئي ہوتى يافعان ہو جاتى(۱۱)

ايك مرتبہ كہا تھا كہ _خدا كى قسم _ اچھا ہوتا كہ ميں درخت ہوتى _ قسم خدا كى _ بھتر تھا كہ اينٹ پتھر ہوتى _ خدا كى قسم _ اچھا ہوتا كہ خدا ہميں پيدا ہى نہ كرتا _

كہتے ہيں كہ _ عائشه مرتے وقت بہت حسرت و ياس سے كہتى تھيں كہ ہم نے بعد رسول(ص) حوادث ناگوار پيدا كئے ليكن اب اس دنيا سے جا رہى ہوں لہذا ہميں ازواج رسول (ص) كے پہلو ميں دفن كرنا _

عالم اہلسنت ذہبى لكھتا ہے :

حادثہ سے عائشه كى مراد جنگ جمل ہو سكتى ہے جسكو بھڑكا نے ميں انہوں نے اہم كردار ادا كيا تھا _

يہى ذہبى لكھتا ہے كہ: عائشه نے ۱۷ رمضان المبارك ۵۸ھ ميں نماز صبح كے بعد وفات پائي اور چونكہ انھوں نے وصيت كى تھى كہ مجھے رات ميں دفن كرنا لہذا مہاجرين و انصار كى اچھى خاصى جمعيت جنازے ميں شريك ہوئي لوگ خرما كى لكڑى كو روشن كئے ہوئے جنازہ كے ساتھ تھے تاكہ راستہ چلنے ميں كوئي پريشانى نہ ہو ، راوى كہتا ہے كہ _ مدينہ كى عورتيں قبرستان بقيع ميں اس طرح تھيں جيسے معلوم ہو رہا تھا كہ عيد كا دن ہے _

ابوہريرہ نے نماز جنازہ پڑھائي كيونكہ مروان كى نمائندگى ميں شہر مدينہ پر حكومت كر رہے تھے _

جس وقت عائشه كا انتقال ہوا تو انكى عمر ۶۳ سال كچھ مہينے كى تھى(۱۲)

ہم نے عائشه كى زندگى كو زوجيت رسول (ص) سے ليكر انكے مرتے دم تك ، پيش كيا تاكہ انكى شخصيت اور وہ تمام گوشے جو سياسى و اجتماعى لحاظ سے تھے اجاگر ہو جائيں ، ليكن ائندہ كے صفحات ميں مزيد انكى زندگى كے بارے ميں ہم بيان كرينگے _

____________________

۱۰_ طبقات ج۸ ص۴۶۲

۱۱_ شرح نووى ج۴ ص ۱۷۰

۱۲_عقد الفريد ج۴ ص ۱۵ شرح نہج البلاغہ ج۳ ص ۷


فصل پنجم

عائشه كى سخاوت

سخاوت اگر چہ اچھى چيز ہے مگر شرط يہ ھيكہ راہ خدا ميں كى جائے ، يعنى انسان خدا و خوشنودى خدا كى خاطر اپنى محبوب چيزوں كو ، چاہے مال كى صورت ميں ہو يا كسى دوسرى صورت ميں ، خدا سے اجر و ثواب لينے كے لئے انفاق كرے _

حقيقت ميں ايسے افراد خداوند عالم كے نزديك عظيم اجر و ثواب كے مستحق ہيں اور اخرت ميں رضاء الہى سے بہرہ مند ہوں گے _

ليكن ايك انسان جو صرف دكھاوے اور شہرت كى خاطر اپنے مال و اسباب كو لٹائے اگر چہ اس نے ايك اچھا كا م انجام ديا ہے ، مگر اخرت ميں اسكو كوئي ثواب نہيں ملے گا ، كيونكہ اس نے فقط مسائل دنيا كو نظر ميں ركھتے ہوئے مال كو خرچ كيا ہے _

عرب كے درميان يہ قديم رسم چلى ارہى تھى كہ جو لوگ ثروتمند اور رئيس قبيلہ ہوتے تھے وہ ان امور كو انجام دينے ميں مجبور تھے اور كبھى كھبار اپنے ہاتھوں سے مال و اسباب كو تقسيم كرتے تھے ، كيونكہ اگر كوئي شخص ان كے دروازے پر اكر خالى ہاتھ واپس چلا گيا تو يہ چيز انكے لئے باعث ذلت و ننگ شمار ہوتى تھى _

ظہور اسلام كے بعد بھى لوگوں نے بذل و بخشش سے ہاتھ نہيں كھينچا بلكہ يہ لوگ دو گروہ ميں بٹ گئے _

۱_ ايك گروہ اسلامى فكر كى بنياد پر راہ خدا ميں مال كو انفاق كرتا تھا _

۲_ دوسرا گروہ رسم جاہليت و عادت عرب كى پيروى كرتے ہوئے انفاق كرتا تھا _

اس قسم كى بذل و بخشش قبيلہ بنى تميم كے دو قدرتمند سرداروں نے حكومت على (ع) كے زمانے ميں كوفہ كے اطراف ميں كى تھى ، ان ميں ايك صعصہ دارمى اور دوسرا سحيم بن وثيل رياحى تھے

ان دونوں نے اپنے كو ثروتمند دكھانے كے لئے اپس ميں مقابلہ ارائي كى اور رسم جاہليت كے مطابق اونٹ ذبح كرنے كى شرط ركھى ، ہر ادمى ايك دوسرے پر سبقت ليجانے كے لئے كوشش كر رہا تھا ، اور نام و نمود كى دوڑ ميں تھا ، مقابلہ ايك اونٹ سے شروع ہوا يہاں تك كہ سو اونٹ سے زيادہ بڑھ گيا ، يہ اخرى مرتبہ حكومت علوى (ع) كے زمانہ ميں ہوا جس ميں كئي سو اونٹ ذبح ہوئے ، جب اہل كوفہ كو اسكى خبر پہونچى تو برتنوں كو ليكر گوشت لينے كے لئے دوڑے جب امام عليہ السلام كو


اسكى خبر معلوم ہوئي تو اپ نے فرمايا ، ان اونٹوں كے گوشت كو نہ كھانا كيونكہ غير خدا كے نام پر ذبح ہوئے ہيں _'' لا تاكلوا منہ اھل الغير اللہ''

يعنى فخر و مباہات و رسوم جاہليت كے طور طريقہ پر قتل كئے گئے ہيں _

امام عليہ السلام كا اشار ہ قران كريم كى اس آيت كى طرف ہے كہ ،'' انما حرّم عليكم الميتة والدم لحم الخنزير وما اھل بہ لغير اللہ ''

اہل كوفہ امام كے كہنے پر رك گئے ، سارا گوشت ويسا ہى پڑا رہا اخر كار ان تمام گوشتوں كو مزبلہ پر ڈال ديا گيا تاكہ جانور وغيرہ كھا ڈاليں(۱۳)

ہمارى نظر ميں ام المومنين عائشه كاا سى گروہ ميں شمار ہونا چاہيئےيونكہ اپ نام و نمود اور شہرت كى بہت بھوكى تھيں ، اور جو شہرت خلفاء ثلاثہ كے زمانے ميں كمائي تھى اسكو اسانى سے كھونا نہيں چاہتى تھيں ، لہذا اس كو بچانے كے لئے سب سے بہترين راستہ سخاوت و بذل و بخشش تھا _

اپ ملاحظہ فرمائيں گے ، كہ سختيوں اور تكليفوں كے باوجود انھوں نے حتى الامكان مال خرچ كيا ، دوسرى طرف سخاوت كرنے كے لئے معاويہ جيسے جبار كے پاس رقم لينے كے لئے گئيں ، ہمارا دعوا بغير دليل كے نہيں ہے _ بلكہ اپ ديكھيں گے كہ عائشه نے ان اموال كو خرچ كيا جو معاويہ اور اسكے حكمرانوں نے بيت المال سے لوٹ كے انكے پاس مال و اسباب بھيجے تاكہ اپ جو دوسخاوت كا مظاہرہ كريں _

ايا ايسے اموال جو ظلم و ستم كر كے لوٹے گئے ہوں اس سے سخاوت كر كے خشنودى خدا نصيب ہو سكتى ہے ، در انحاليكہ ام المومنين كا ايسى صورت ميں سب سے پہلے شرعى فريضہ يہ تھاكہ معاويہ كى تمام چيزوں سے دور رہتيں _

ام ذرّہ نقل كرتى ہيں كہ _ ميں كبھى كھبى عائشه كے گھر آيا جايا كرتى تھى ايك روز عائشه كے يہاں دو كيسہ سامان ديكھا _

ام المومنين نے مجھ سے كہا كہ ، ميں سمجھتى ہوں كہ اس كيسہ ميں تقريبا اسى ہزار يا ايك لاكھ درہم ضرور ہوگا ، پھر ايك طشت ہم سے مانگا ميں نے انكو ديديا جبكہ ميں اس دن روزے سے تھى ، ميں نے تمام درہموں كو گھر گھر تقسيم كر ديا اور

____________________

۱۳_ اصابہ ج۲ ص ۱۰۹ ، اغانى ج ۱۹ ص ۶ ، الكنى و القاب ج۳ ص ۱۸


ايك درہم بھى ام المومنين عائشه نے اپنے گھر ميں نہيں ركھا تھا_

جب غروب كا وقت ہو گيا تو عائشه نے اپنى كنيز سے ميرے لئے افطار لانے كو كہا ، كنيز نے ايك روٹى كا ٹكڑا اور زيتون كا تيل ميرے سامنے لاكر ركھا _

ميں نے كہا _ اے ام المومنين اپ نے تو سارى رقم لوگوں ميں تقسيم كردى اگر تھوڑى سى ہوتى تو ميرے لئے اس سے گوشت منگوا ديتيں تاكہ اس سے ميں افطار كرتى _

عائشه نے كہا _ اگر پہلے كہتى تو ہم ضرور اس كا انتظام كر ديتے ليكن اب كہہ رہى ہو مجھے تمھارى خواہش پورى نہ كرنے كا رنج ہے(۱۴)

عائشه كا بھانجا عروہ بن زبير كہتا ہے :

ہم نے ايك روز اپنى خالہ عائشه كو پھٹے لباس ميں ستر ہزار درہم تقسيم كرتے ہوئے ديكھا يہ بخشش مجھ پر بہت گراں گذرى كيونكہ ميں نہيں چاہتا تھا كہ ميرى خالہ اس مقدار ميں اپنے مال سے سخاوت كا مظاہرہ كريں _

ابو نعيم لكھتے ہيں :

جب عائشه نے اپنے اونٹوں كو بيچنے كى خاطر بازار ميں بھيجوايا تو عبد اللہ بن زبير نے كہا ، ہم سب سے كہہ دينگے كہ عائشه اپنا ذہنى تو ازن كھو بيٹھى ہيں تاكہ كوئي انكے اونٹوں كو نہ خريدے ، جب عائشه نے ان باتوں كو سنا تو كہا ، ميں قسم كھاتى ہوں كہ جب تك زندہ رہونگى اس سے كلام نہيں كرونگى _ چنانچہ عبد اللہ بن زبير سے پردہ بھى كر ليا ، بات چيت كافى دنوں تك بند رہى _

ايك روز مسور بن محترمہ اور عبد الرحمن بن اسود كے ساتھ عبد اللہ بن زبير چادر اوڑھ كر عائشه كے گھر گئے ، اذن دخول كے بعد تينوں گھر ميں داخل ہوئے جيسے ہى عبد اللہ بن زبير نے عائشه كو ديكھا فورا انكى گردن ميں اپنى باہيں ڈالديں اور خوب گريہ كيا ، يہاں تك كہ عبد اللہ بن زبير نے اپنى رشتہ دارى وغيرہ كى دہائي دى ، تب جا كر ام المومنين نے اس سے باتيں كيں(۱۵)

____________________

۱۴_سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۱

۱۵_حلية اولياء ج۲ ص ۴۹ ، سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۲۹


ہم نے معاويہ كى مراعات مالى كو عائشه كى نسبت بيان كيا ان ميں سے بعض واقعات انشاء اللہ ائندہ بيان كروں گا _

اخر ميں پھر كہتا ہوں كہ ہر سخاوت و بخشش رضاء الہى كے لئے نہيں ہوتى ہے ، كيونكہ خشنودى خدا اسى وقت محقق ہو سكتى ہے جب خلوص نيت سے انفاق كيا جائے ، اور انفاق ہونے والا مال راہ حلال سے كسب ہوا ہو نہ كہ معاويہ جيسے ظالم و جابر كا مال جس نے مسلمانوں كے بيت المال سے لوٹ كھسوٹ كر كے عائشه ، ابو ھريرہ ، مغيرہ بن شعبہ ، اور عمرو بن عاص جيسے انسان كو سستى شہرت كمانے كے لئے ديا ہو _

تاكہ اسلام اور حضرت على (ع) سے مقابلہ كريں اور اپنى سياست كامياب ہو اور گڑھى ہوئي حديثيں منظر عام پر ائيں _

خاندانى تعصب

ام المومنين عائشه اپنے خاندان كے سلسلے ميں بہت متعصب تھيں ، اور اس چيز كو عبادت كى حد تك مانتى تھيں ،وہ اس راہ ميں اتنى اگے بڑھ گئي تھيں كہ تمام حدود اسلامى و مقررات شرعى كو كچل كر ركھ ديا تھا ، جب كہ تاريخى حقائق سے ظاہر ہے كہ دشمنى كے باوجود تمام تلخياں انكى گہرى دوستى ميں بدل گئيں _

ہم نے اس سے پہلے بہت سارے واقعات زندگاني عائشه كے بيان كئے اور اس ادعى پر بہت سارى دليليں بھى دى تھيں جسكو قارئين كرام نے بغير شك و ترديد كے قبول بھى كيا ہو گا ; ليكن اس مقام پر صرف ايك واقعہ جو انكى خاندانى تعصب كو ثابت كرتا ہے اور وہ انكے بھائي محمد بن ابى بكر كے ساتھ پيش آيا تھا _

يہ دونوں بھائي بہن ابتداء ميں جب عثمان كے خلاف مسلمانوں نے ہنگامہ كھڑا كيا تھا شانہ بشانہ تھے ، اور ان دونوں نے اہم كردار ادا كيا تھا ، ليكن قتل عثمان كے بعد اپنے اپ پانسہ پلٹ گيا اور دونوں ايك دوسرے كے دشمن بن گئے _

محمد بن ابى بكر نے لشكر علوى (ع) ميں اكر عائشه كے خلاف تلوار اٹھا لى اور جنگ كے تمام ہونے تك ان كے مقابلہ ميں ڈٹے رہے_

جب كہ ميں سمجھتا ہوں كہ بصرہ يا جنگ جمل ميں جب عائشه كے سردار لشكركو مار ڈالا گيا اور انكى شكست فاش ہو گئي تو اسوقت امام عليہ السلام نے محمد بن ابى بكر كو بہن كے پاس بھيجا تاكہ انكى احوال پرسى كر ليں اور جانے كے سلسلے ميں ان سے پوچھيں _

جب محمد نے اپنى بہن كے محمل ميں سر ڈالا تو عائشه چيخنے لگيں ، وائے ہو تم پرتم كون ہو ؟


محمد بن ابى بكر نے كہا ، ميں ہوں جس كو اپ اپنے خاندان ميں زيادہ دشمن ركھتى ہيں _

عائشه نے كہا _ اچھا تم زن خثعمى كے بيٹے ہو _

محمد نے جواب ديا _ جى ہاں

عائشه نے كہا _ خدا كا شكر ہے كہ تم كو صحيح وسالم ديكھ رہى ہوں(۱۶)

زيادہ دن نہيں گذرا تھا كہ محمد بن ابى بكر مصر ميں مار ڈالے گئے اور انكے سر كو تن سے جدا كر كے گدھے كى كھال ميں بھر كر جلا ديا گيا _

اس ناگوار حادثے كے خبر جب عائشه كو معلوم ہوئي تو تمام خلش كے با وجود بھائي كى موت پر خوب گريہ كيا _

ليكن جس وقت خواہر معاويہ اور رسول كى زوجہ ( ام حبيبہ ) كو اسكى اطلاع ملى تو انھوں نے ايك بھنا ہوا بكرا عائشه كے دل كو جلانے كے لئے بھيج ديا _ اس سے اشارہ يہ تھا كہ ديكھو جس طرح تم دونوں نے عثمان كو مارا تھا اسى طرح ہم نے تمہارے بھائي محمد سے بدلہ لے ليا ہے _

جيسے ہى عائشه نے اس بھنے بكرے كو ديكھا تو چيخنے لگيں اور كہا _ خدا، زانى عورت (ھند ) كى بيٹى كو مار ڈالے _

خدا كى قسم _ ہم ہرگز بھنا ہوا بكرا نہيں كھائينگے _

پھر اپنے بھائي كے اہل و عيال كو اپنے يہاں لے ائيں(۱۷)

قاسم بن محمد بن ابى بكر كا بيان ہے :

جب حكومت اموى كے مامورين معاويہ بن خديج كندى اور عمرو بن عاص نے ميرے باپ كو مصر ميں مار ڈالا تو ہمارے چچا عبد الرحمن بن ابى بكر گھر آئے اور ہم بھائي بہنوں كو مدينہ لے جانے لگے ، مدينہ پہونچنے سے پہلے عائشه نے اپنا ايك نمائندہ بھيجديا تھا تاكہ عبد الرحمن اپنے گھر نہ لے جا سكيں ، ہم لوگ اپنى پھوپھى ( عائشه ) كے گھر اگئے انھوں نے ہمارے ساتھ وہى سلوك كيا جو اولاد كے ساتھ والدين كيا كرتے ہيں اور ہميشہ اپنے زانو پر بيٹھا كر شفقت و

____________________

۱۶_طبرى ج۵ ص ۲۰۴ ، عقد الفريد ج۴ ص ۳۲۸ ، يعقوبى ج۲

۱۷_تذكرة الخواص ص ۱۱۴ ، تمہيد و البيان ص ۲۰۹


محبت كيا كرتى تھيں ، كافى دنوں تك ايسا ہى چلتا رہا _

ايك دن عائشه نے اپنے بھائي عبد الرحمن كى رفتار كو بدلا ديكھا تو انہوں نے احساس كيا كہ كہيں ا ن كو برا تو نہيں لگ گيا ہے كہ ہم اپنے گھر ميں لے ائيں ،

لہذا ايك شخص كو عبد الرحمن كے پاس بھيجا ، جب وہ آئے تو عائشه نے كہا اے عبد الرحمن ، جب سے محمد كے فرزندوں كو اپنے يہاں ليكر اگئي ہوں ہم كو احساس ہوتا ہے كہ تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو ، ليكن خدا كى قسم ، ہم نے ان دونوں كو تم سے نہيں چھڑايا ہے اور نہ ہى تم سے كوئي بد گمانى ہے ، بلكہ اسكى وجہ صرف يہ ہے كہ تمھارى كئي بيوياں ہيں اور يہ ابھى كمسن ہيں ، لہذا ميں ڈرتى ہوں كہ كہيں يہ شرارت كرديں تو تمھارى بيوياں ان سے نفرت كرنے لگيں ، اور ميں ان لوگوں سے زيادہ مہربان ہو سكتى ہوں اور ايسے بہت واقعات پيش آئے ہيں ، مجھ سے بہتر كون ان كى سر پرستى كر سكتا ہے _ ہاں _ جب يہ دونوں بڑے ہو جائيں اور اپنا پورا خيال كرنے لگيں تو ميں ان دونوں كو تمھارى كفالت ميں ديدونگى _ تم ا ن كى محافظت حجية بن مضروب كے بھائي كى طرح كرنا ، اسكے بعد پورى داستان بيان كى كہ قبيلہ كندہ كا ايك ادمى تھا جب اسكا بھائي مر گيا تو اسكے چھوٹے بچوں كو اسكا بھائي اپنے گھر لے آيا اور اپنے بچوں سے زيادہ ان سے محبت كرتا تھا ، ايك مرتبہ اسكے بھائي كو اچانك سفر در پيش ہوا تو جاتے وقت اپنى بيوى سے كہا كہ بھائي كے يتيم بچوں پر كافى دھيان دينا,


ليكن جب سفر سے واپس آيا تو كيا ديكھا كہ بھائي كے بچے كافى نحيف و لاغر ہو گئے ہيں ، اپنى زوجہ سے كہا كہ لگتا ہے تم نے ان بچوں كى ديكھ بھال صحيح سے نہيں كى تھى اخر وجہ كيا ہے كہ ہمارے بچے صحت مند ہيں اور بھائي كے بچے كمزور و لاغر _ بيوى نے كہا _ ہم نے بچوں كے درميان كوئي فرق نہيں ركھا تھا ان بچوں نے كھيل و شرارت كى بناء پر اپنى حالت ايسى كر ركھى ہے ، حجية بن مضروب اتنا ناراض ہوا كہ جيسے ہى اسكے اونٹ چرانے والے صحراء سے لوٹے تو اس نے ان لوگوں سے كہا يہ تمام اونٹ اور تم لوگ ہمارے بھائي كے بچوں كى ملكيت ميں چلے گئے ہو(۱۸)

جب ام المومنين عائشه نے محمد بن بكر كے بچوں كو عبد الرحمن كے حوالے كيا تھا تو ان سے سفارش كى تھى كہ ان كا خيال حجية بن مضروب كى طرح ركھنا اور ان سے اچھا برتائو كرنا نيز ايك لمحے كے لئے بھى ان سے غافل نہ رہنا _

دوسرى علامت عائشه كى خاندانى تعصب كى يہ ہے كہ ، جب عبد اللہ بن زبير مالك اشتر كے چنگل سے جنگ جمل ميں فرار كر گئے تھے تو عائشه كو ايك نے جا كر اسكى خبر دى تو انھوں نے اسكو دس ہزار درہم ديئے(۱۹)

اس طرح كے نہ جانے كتنے واقعات عائشه كى زندگى ميں پيش آئے جو سارے كے سارے انكى خاندانى تعصب كى بووخو كو ظاہر كرتے ہيں ، اور انھوں نے اس راہ ميں كافى مصيبتوں كا سامنا بھى كيا ہے _ عائشه كے خطبے جو باپ كى مدح ميں ہيں پھر چچا زاد بھائي ( طلحہ ) كو تخت خلافت پر لانے كى كوشش جسكو ہم نے پہلے تفصيل سے بيان كيا ہے پھر رسول اكرم (ص) سے حديثيں منسوب كر كے اپنے باپ اور انكے جگرى دوست عمر نيز ديگر ارباب سقيفہ جيسے ابو عبيد ہ جراح كے متعلق بيان كيں ہيں يہ سارى كى سارى ام المومنين عائشه كى اس خصلت كى نا خواستہ پذير دليل ہے جو ہم نے ان روايتوں كو اس كتاب كے باب روايت ميں خوب جانچ پڑتال كى ہے _

عائشه كى خطابت

ايك رہبر و ليڈر كے لئے سب سے اہم چيز يہ ھيكہ معاشرے ميں كس طرح بات كى جائے تاكہ انكے دلوں ميں بيٹھ جائے ، اس طرح كے افراد اگر كلام كى نزاكت كو جان جائيں تو معاشرہ ميں كافى اچھا اثر ڈال سكتا ہے ، اور ساتھ ميں يہ بھى بتا دوں كہ اس ميں مومن ہونا شرط نہيں ہے بلكہ اگر ايك كافر و منافق شخص فن خطابت سے واقف ہے تو معاشرے ميں اپنا اچھا اثر ڈال سكتا ہے _

____________________

۱۸_اغانہ ج ۲۱ ص ۱۰ ، اشتقاق ص ۳۷۱

۱۹_ عقد الفريد ج۳ ص ۱۰۲


عائشه اجتماعى اور سياسى شخصيت كے علاوہ فن خطابت ميں بھى كافى مہارت ركھتى تھيں _ جب معاويہ اپنے غلام ذكوان كے ساتھ عائشه كے گھر جا رہا تھا تو اس نے كہا : خدا كى قسم _ ميں نے رسول(ص) اسلام كے بعد عائشه سے زيادہ كسى كو فصيح و بليغ نہيں پايا(۲۰) اخنف بن قيس كہتا ہے : ميں نے ابو بكر اور ديگر خلفاء كى تقريريں سنيں مگر عائشه سے اچھى كسى كى تقرير نہيں لگى(۲۱)

ايك دن معاويہ نے زياد سے پوچھا كہ يہ بتائو كہ لوگوں ميں سب سے اچھا مقرر كون ہے _

زياد نے كہا _ امير المومنين اپ ہيں _

معاويہ نے كہا _ پھر قسم كھائو

زياد نے جواب ديا _ چونكہ بات قسم پر اگئي ہے لہذا مجبور ہوں كہ يہ كہوں كہ عائشه سب سے اچھى خطيب ہيں _

معاويہ نے كہا _ عائشه نے جس دروازے كو بند كر ديا اس كو كوئي كھول نہ سكا اور جس كوكھول ديا اس كو كوئي بند نہ كر سكا _

جو كچھ معاويہ اور اخنف بن قيس اور ديگر حضرات نے عائشه كے فن خطابت كے سلسلہ ميں كہا ہے _ ہم اس سے اتفاق نہيں كرتے ہيں ان لوگوں نے مبالغہ سے كام ليا ہے ، كيونكہ ايك طرف يہ لوگ اپس ميں ايك دوسرے كے دوست اور ہم نوالہ و ہم پيالہ تھے ، دوسرى طرف ان لوگوں نے ہميشہ فضائل اہلبيت (ع) كو چھپانے كى كوشش كى ہے_

ليكن جو كچھ اوپر كى عبارتوں سے نتيجہ نكلتا ہے وہ يہ ہے كہ عائشه ايك اچھى خطيب تھيں اور كلام عرب نيز اشعار سے واقفيت ركھتى تھى ، اور اكثر مقامات پر اپنى تقريروں ميں دور جاہليت كا مشہور و معروف لبيد كے اشعار سے استدلال كرتى تھيں _

عائشه خود كہتى ہيں كہ ، ميں نے لبيد كے ايك ھزار بيت ياد كئے تھے جسكو پڑھا كرتى تھى(۲۲) مورخين كہتے ہيں : ايك مرتبہ عائشه نے ايك قصيدہ زبانى پڑھا جو ساٹھ يا ستر بيتوں پر مشتمل تھا(۲۳) ،يہ خود انكى قوت حافظہ كى بہترين دليل ہے _ وہ اس زمانہ ميں جبكہ علم محدود تھا علم طب سے اشنا تھيں ، عروہ بن زبير جو عائشه كا بھانجا ہے اس نے اپنى خالہ كى تعريف كرتے ہوئے كہا ، اگر چہ يہ مبالغہ ارائي ہے مگر عائشه كى استعداد ذہنى كو ضرور ثابت كرتا ہے ، وہ كہتا ہے ميں نے علم طب ميں

____________________

۲۰_ سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۲۲۹

۲۱_ سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۴

۲۲_سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۸

۲۳_ سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۶


اپنى خالہ ( عائشه ) سے زيادہ كسى كو ماہر نہيں ديكھا ، ايك دن ميں نے سوال كيا

اے خالہ _ اپ نے كس سے حكمت سيكھى ہے_

انھوں نے كہا _ ميں نے ہميشہ لوگوں كى باتوں كو غور سے سنا اور جو كچھ ان لوگوں نے كہا اسكو اپنے دماغ ميں محفوظ كر ليا(۲۴)

مورخين لكھتے ہيں

عائشه پڑھ تو ليتى تھيں ليكن لكھنے سے كوئي واسطہ نہ تھا _(۲۵)

اخر ميں بڑے افسوس كے ساتھ كہنا پڑ رہا ہے كہ ام المومنين عائشه نے ان تمام خداد اد صلاحيتوں كو حديث گڑھنے اور حضرت على (ع) اور انكے اصحاب كو شكست دينے نيز اپنے باپ كى پارٹى ( سقيفہ ) كو فروغ اور حكومت معاويہ كى مشيزيوں كى طرفدارى ميں خرچ كيا ، وہ اس فن ميں اتنى ماہر تھيں كہ جو حديثيں جذبات اور احساسات كى خاطر انھوں نے پيغمبر(ص) اسلام سے منسوب كر كے يادگارى چھوڑى ہيں وہ ابوہريرہ اور ديگر حديث پردازوں كى طرح بد ذائقہ نہيں ہيں ، بلكہ الفاظ فصيح و بليغ اور چٹ پٹے ہيں ، لہذا انكى گڑھى ہوئي حديثوں كى شناخت كرنا بہت مشكل ہے _

برادران اہلسنت پيامبر(ص) اكرم كى سيرت كو عائشه كى ہى روايتوں سے ليتے ہيں جو پا پڑ بيلنے كے مترادف ہے ، كيونكہ جھوٹ اور سچ اور خرافات اپس ميں اسقدر مل گئے ہيں كہ اس ميں طويل مدت تك چھان بين كرنے كے بعد انسان حقيقت تك نہيں پہونچ سكتا ہے _

عائشه كى زندگى ميں فاخرہ لباسي

ظہور اسلام سے پہلے عرب كا سارا معاشرہ مفلوك الحال تھا شہر مكہ ، مدينہ ، اور طائف كے چند بڑے تاجر تھے جو شان و شوكت اور رفاہ و اسائشے كے مالك تھے _

____________________

۲۴_سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۲

۲۵_ سير اعلام النبلاء ج۲ ص ۱۳۲ ، طبقات


جب اسلام كا سورج اپنى تمام جلالت و عظمت كے ساتھ طلوع ہوا تو اس نے سب سے پہلے اپنى كرنوں كو مردہ و بے حس عربوں پر ڈالا تاكہ انكى روح اور حس بيدار ہو جائے پھر انكے رہن سہن كو بدلے ، نہ كہ ايك معاشرے كو زرق و برق اور اسرافى بنائے _

اس ميں كہا جا سكتا ہے كہ ايك بے دين طبقہ تھا جو اسلام سے مقابلہ كر رہا تھا تاكہ ان لوگوں كو خراب كر دے _

ادھر پيغمبر(ص) اسلام كى انكھ بند ہوئي اور كچھ لوگوں نے تخت خلافت پر قبضہ كر ليا جس كا نتيجہ يہ ہوا كہ لوگوں نے خود كو بدل ڈالا _

جب عثمان كا زمانہ آيا تو تمام مسائل فراموش ہو گئے اور روم كى پرانى تہذيب اسلامى معاشرے ميں پروان چڑھنے لگى ، اور بزرگان قوم كے گھر مزين نيز لباس فاخرہ كا رواج اور دولت كى جمع اورى ہونے لگى _

اسلام نے جو معاشرے كو مساوات كا درس ديا تھا اور خدائے وحدہ لا شريك نے جو قانون بتايا تھا وہ سارى ناپيد ہو گئي اور خواہشات نفسانى كا رواج عام ہونے لگا ، اس كتاب ميں بحث كى محور عائشه كى شخصيت ہے جو بعد وفات رسول (ص) اس راہ پر چليں ، اور جس طرح ممكن ہوا جاہ طلبى كے لئے پيش پيش رہيں تاكہ لوگ انكو ثروتمند سمجھيں ، اور ہم نے جو كچھ انكى گڑ ھى ہوئي حديثيں نقل كيں ہيں نيز اركان خلافت سے جو رابطہ تھا يہ تمام كے تمام عائشه كى اسى صفت كى جلوہ نمائي كرتى ہيں ، اب دوسرے نمونے جو انكى دولت كے ہيں اسكو بيان كرتا ہوں _


عائشه اس زمانے ميں بھى جب مسلمانوں كى عورتيں نيز ازواج رسول (ص) سادگى كے ساتھ رہتى تھيں ، زرق و برق لباس پہنا كرتى تھيں ، اور رنگ برنگ كے زيور ات پہنتى تھيں ، حتى اپ نے آيا م حج ميں بھى قيمتى زيورات كو نہيں اتارا كہ جہاں پر انسان اس عبادت كو انجام دينے ميں تمام مادى چيزوں كو بھلا بيٹھتا ہے _ ام المومنين عائشه كے قيمتى اور رنگ برنگ لباس پہننے كے سلسلے ميں اپنے دعوے پر دليليں پيش كروں گا _ صاحب طبقات عائشه كے بھتيجے قاسم سے نقل كرتے ہيں _ ميرى پھوپھى ( عائشه ) زرد رنگ كا لباس نيز سونے كى انگوٹھياں پہنتى تھيں _ عائشه كا بھانجا عروہ كہتا ہے :

ميرى خالہ ( عائشه ) كے پاس ايك ريشمى اوڑھنى تھى جسكو كبھى كھبار اوڑھا كرتى تھيں يہ اوڑھنى عبد اللہ بن زبير نے دى تھى _(۲۶) ايك مسلمان عورت شمسيہ نام سے روايت كرتى ہے كہ ، ايك روز عائشه كے يہاں ميں گئي تو كيا ديكھا كہ اپ زرد رنگ كا پيراہن نيز اسى رنگ كى اوڑھنى زيب تن كئے ہوئي ہيں _(۲۷) _ محمد بن اشعث جو قبيلہ كندہ كا سردار تھا اس نے عائشه كے پاس ايك شال تحفے ميں بھيجى جس كوسردى ميں اوڑھا كرتى تھيں _ امينہ كا بيان ہے كہ ايك روز ميں نے عائشه كو سرخ رنگ كى چادر اور سياہ رنگ كا مقنعہ پہنے ہوئے ديكھا تھا _(۲۸) معاذ قبيلہ عدى كى عورت نقل كرتى ہے كہ _ ميں نے عائشه كو ايك روز پيلے رنگ كا برقع اوڑھے ديكھا تھا(۲۹) بكرہ بنت عقبہ كہتى ہے ، ايك دن عائشه كو مضرج رنگ كا جمپر پہنے ديكھا ، لوگوں نے پوچھا مضرج كيا ہے اس نے جواب ديا ، ارے وہى تو ہے جس كو تم لوگ پھول كا رنگ كہتے ہو(۳۰) قاسم بن محمد بن ابى بكر نقل كرتا ہے : عائشه نے زرد رنگ كے لباس سے احرام باندھا نيز سونے اور رنگين كپڑے پہن كر اعمال حج كو انجام ديا تھا(۳۱) عبد الرحمن بن قاسم اپنى والدہ سے نقل كرتا ہے كہ ميرى ماں نے عائشه كو شوخ سرخ رنگ كے لباس ميں ديكھا در انحاليكہ وہ حالت احرام ميں تھيں(۳۲) عطا ء كہتا ہے كہ ہم عبيد ہ بن عمير كے ہمراہ عائشه كے يہاں گئے ، يہ كوہ ثبير كے مسجد كى اس وقت مجاورى كرتى تھيں ، لہذا

____________________

۲۶_ طبقات ج۲ ص ۷۳

۲۷_ طبقات ج۲ ص ۶۹

۲۸_طبقات الكبرى ج۸ ص ۷۳_۶۹

۲۹_ سير اعلام النبلاء ج۲ ص۱۳۲

۳۰_طبقات ، سير اعلام النبلائ

۳۱_طبقات ، سير اعلام النبلاء

۳۲_طبقات الكبرى عائشےہ كے شرح حال ميں


ان كے لئے ايك خيمہ نصب كر ديا گيا تھا ، چونكہ ميں اس وقت بہت چھوٹا تھا لہذا ام المومنين عائشه نے صرف ايك چادر اوپر سے اوڑھ لى تھى ، ہم نے انكو سرخ رنگ كے لباس پہنے ہوئے ديكھا تھا(۳۳)

بخارى تھوڑے سے اختلاف كے ساتھ مزيد بيان كرتے ہيں :

لوگوں نے عطاء سے پوچھا كہ عائشه كيا پہنے ہوئے تھيں ، اس نے كہا ، وہ تركى خيمہ ميں تھيں اور صرف چادر اوڑھ ركھى تھى ہمارے اور انكے درميان صرف چادر كا فاصلہ تھا ميں نے عائشه كو سرخ رنگ كے لباس ميں ديكھا تھا(۳۴) _

مسئلہ رضاعت ميں ، عائشه كا نرالا فتوا

عائشه اپنے باپ كے زمانے سے ليكر عصرمعاويہ تك سوائے حكومت علوى (ع) كے مذہبى مسائل ميں مرجع وقت تھيں _ اور خلفاء ان سے مختلف مسائل ميں انكى رائے كو معلوم كرتے تھے جس كى وجہ سے وہ ديگر ازواج رسول (ص) سے زيادہ مورد توجہ تھيں ، اور انكے گھر ميں سوال كرنے والوں كا تانتا بندھا رہتا تھا ، پھر اپ نے پہلے يہ بھى ملاحظہ فرمايا كہ ديگر ازواج مطہرات ميں وہ تنھا تھيں جنھوں نے اپنى سارى زندگى كو زمانے كى سياست ميں گذارا تھا ، اور وہ تمام خونريزياں جو اپ نے ملاحظہ فرمائيں وہ ديگر ازواج رسول (ص) نے نہيں كى تھيں _

شايد يہى وہ باتيں تھيں جنكى وجہ سے اپ نے حديث رسول (ص) كى تاويل كرتے ہوئے ايك فتوا ٹھونك ديا جس پر ديگر ازواج رسول (ص) نے اعتراض كيا _

مسند احمد ميں حديث يوں بيان ہوئي ہے

عائشه فرماتى ہيں كہ سہيلہ بنت سہيل بن عمر نے جو ابو حذيفہ كى بيوى تھى رسول (ص) اكرم سے سوال كيا كہ ابو حذيفہ كا ازاد كردہ غلام سالم ہمارے گھر ميں اتا ہے اور ميں اس سے پردہ نہيں كرتى ہوں ، كيونكہ ابو حذيفہ نے اسكو اپنا منھ بولا فرزند بنا ليا ہے ، جس طرح رسول (ص) نے زيد كو اپنا فرزند بنا ليا تھا ، جس پر يہ آيت نازل ہوئي تھى'' ادعوهم لابائهم هوا قسط عند الله '' سورہ احزاب ايہ ۵

____________________

۳۳_طبقات الكبرى عائشےہ كے شرح حال ميں

۳۴_ بخارى باب طواف النساء ميں باب حج ج۱ ص ۱۸۰


ترجمہ آيت : ( ان بچوں كو انكے باپ كے نام سے پكارو كہ يہى خدا كى نظر ميں انصاف سے قريب تر ہے )

پيغمبر اسلام (ص) نے سہيلہ سے فرمايا :

تم ازاد كردہ غلام اور منھ بولے فرزند كو پانچ مرتبہ شير ديدو تاكہ وہ تمھارا فرزند رضاعى اور تمھارا محرم ہو جائے _

عائشه نے اس روايت سے ( جسكى راوى بھى خود ہيں ) استدلال كيا اور اپنى بہنوں اور بھانجيوں كو حكم ديا كہ تم لوگ اپنا دودھ پلائو چاہے جوان ہى كيوں نہ ہو ، تاكہ جو لوگ ( عائشه ) سے ملنے كے مشتاق ہوں دودھ پلانے كى وجہ سے محرم ہو جائيں ، اور اطمينان كے ساتھ انكے گھر ميں امد و رفت كريں ، مگر ام سلمى اور ديگر ازواج رسول (ص) نے اپنى بہنوں كو اس كام سے منع كيا اور ان لوگوں نے كہا كہ ، مسئلہ رضاعت كا تعلق كمسنى سے ہے اور عائشه نے اپنى طرف سے فتوا گڑھا ہے ، اور رسول خدا (ص) نے جو حكم ديا تھا شايد وہ صرف ابو حذيفہ كے غلام كے لئے ہوگا نہ كہ تمام لوگوں كے لئے(۳۵) _

صحيح مسلم ميں اس واقعے كى چھہ طريقوں سے روايت ہوئي ہے اخرى روايت كے الفاظ يوں ہيں ، ازواج رسول نے عائشه سے كہا ، خدا كى قسم ، رسول(ص) خدا نے جو سالم كو اجازت دى تھى اسكے سلسلے ميں ہم لوگ جانتے ہيں اور يہ حكم صرف اسى سے مخصوص تھا لہذا ہم لوگ دودھ پلا كر كسى كو اپنا محرم نہيں بنائيں گے(۳۶)

سالم بن عبد اللہ بن عمر ، ان ميں سے ہے جس نے عالم جوانى ميں كئي مرتبہ دودھ پيا عائشه كے يہاں امد و رفت كرنے لگا _

صاحب طبقات لكھتے ہيں :

ام المومنين عائشه نے سالم كو اپنى بہن ام كلثوم جو عبد اللہ بن ربيعہ كى بيوى تھى كے پاس بھيجا تاكہ پہلے ان كا دودھ پئے پھر عائشه كے پاس اكر حديث سنے(۳۷)

صحيح مسلم نے جو حديث بيان كى ہے وہ تمام ديگر ازواج رسول (ص) اور ام سلمى كى مسئلہ رضاعت ميں تائيد كرتى ہے _

عائشه كہتى ہيں كہ ، ايك دن رسول(ص) اسلام گھر ميں آئے تو ميرے پاس ايك شخص كو بيٹھا ديكھا رسول اكرم (ص) بہت ناراض

____________________

۳۵_مسند احمد ج۱ ص ۱۹۵

۳۶_ مسند احمد ج۶ ص ۲۷۱

۳۷_صحيح مسلم ج۴ ص ۱۷۰ ، سنن ابن ماجہ حديث نمبر ۱۹۵۷


ہوئے اور اپكا چہرہ غصے سے سرخ ہو گيا ، ميں نے عرض كى يا رسول اللہ يہ ميرا رضاعى بھائي ہے ، رسول خدا نے كہا ،''انظر اخوتكن من الرضاعة ، فانما الرضاعة من المجاعة ''(۳۸)

صحيح مسلم كے شارح نووى اس حديث كى شرح ميں لكھتے ہيں :

''انظر اخوتكن'' اس سلسلے ميں تمھيں غور كرنا چاہيئے كہ يہ رضاعت قانون اسلام كے تحت انجام دى گئي ہے يا نہيں ؟

كيونكہ شير خوارگى كا تعلق كمسنى سے ہے ، اور اسى طرح ضرورى ہے كہ المجاعة ، كے معنى بھوك كے لئے جائيں ، يعنى ، يہ رضاعت باعث حرمت ازدواج اس صورت ميں ہو گا كہ بچہ اتنا كمسن ہو كہ اس دودھ كے ذريعہ اسكى بھوك ختم ہو گئي ہو اور ديگر غذائوں كى احتياج نہ ہو ، درانحاليكہ ايك جوان خالى دودھ سے سير نہيں ہو سكتا ہے اور نہ اسكى بھوك ختم ہو سكتى ہے بلكہ اسكو روٹى وغيرہ كى ضرورت ہوتى ہے _ لہذا اگر ايك جوان ايك عورت كا دودھ پى لے تو اسكا فرزند رضاعى اور برادر رضاعى نہيں ہو سكتا ہے ، بلكہ صرف كمسنى ( دو سال ) ميں دودھ پينے سے محرميت پيدا ہوتى ہے _

سنن ترمذى ميں يہ عبارت نقل ہوئي ہے كہ '' لا يحرم من الرضاع الّا ما فتق الامعاء '' يعنى رضاعت اسوقت موجب حرمت ازدواج ہو گى جب بچپنے ميں عورت كا دودھ غذا كى جگہ ہو ، يا دوسرے لفظوں ميں شير خوار گى اس وقت حرمت كى باعث بنے گى جب طبق معمول دودھ پلايا جائے ، پھر نووى مزيد لكھتے ہيں ، يہ مسئلہ فقہى كتابوں ميں بہت مشہور ہے البتہ اس ميں اختلافات بہت پائے جاتے ہيں(۳۹)

ہم نے اخرى روايت كو جو نووى نے شرح صحيح مسلم ميں اور سنن ترمذى نے ام سلمى سے نقل كيا ہے اسكا تتمہ يہ ہے'' الّا ما فتق الامعاء فى الثدى و كان قبل العظام ''(۴۰)

ترمذى مزيد لكھتے ہيں :

يہ حديث صحيح ہے اور اكثر اصحاب كرام اور علمائے عظام اور ديگر حضرات نے اسى قول رسول(ص) كى روشنى ميں عمل كيا ہے

____________________

۳۸_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۴۶۲ ، بخارى ج۳ ص ۱۶۲ ، الموطا ء ج۳ ص ۱۱۴

۳۹_صحيح مسلم ج۴ ص ۱۷۰ ، مسند احمد ج۶ ص ۱۷۶ ، ابن ماجہ حديث نمبر ۱۹۴۵

۴۰_صحيح مسلم ج۴ ص ۱۷۰


اور ان لوگوں كا حكم رسول (ص) كے مطابق نظريہ يہ ہے كہ ، اگر بچے كے ابتدائي دو سال ميں كوئي دودھ پلائے تو وہ بچہ محرم ہو جائے گا ، ليكن اگر دو سال كے بعد كوئي دودھ پلائے تو حرمت پيدا نہ ہو گى ، يہ حديثيں عائشه كے نظريہ كو رد كرتى ہيں ، يہى وجہ ہے كہ انھوں نے ديگر ازواج رسول (ص) نيز دوسرى حديثوں سے ٹكر لينے كے بجائے اپنى مشكلات كى عقدہ كشائي كے لئے قران سے ايك آيت ڈھو نڈھ نكالى اور اسكے ذريعہ اپنے اكلوتے فتوے كو پروان چڑہاتى رہيں _

عائشه كہتى ہيں ، ايك آيت رضاعت كے سلسلے ميں نازل ہوئي تھى ، جس ميں محرميت كے لئے دس مرتبہ دودھ پينے كو كافى جانا ہے اور يہ آيت حيات رسول(ص) ميں ايك پتّہ پر لكھ كر تخت كے نيچے ڈالدى تھى ،جب رسول(ص) اسلام بيمار ہو گئے اور ہم لوگ انكى تيمار دارى ميں مشغول تھے تو اچانك ايك بكرى گھر ميں گھس گئي اور لكھے ہوئے پتے كو جس پر يہ آيت لكھى تھى كھا گئي(۴۱)

دوسرى روايت جو عائشه سے مسلم نے نقل كى ہے :

عائشه فرماتى ہيں ، قران ميں يہ آيت ( عشر رضعات معلومات يحرمن ) موجود تھى ، پھر يہ آيت ( خمس معلومات ) سے منسوخ ہو گئي ، پھر بھى اس آيت كى بعد وفات رسول (ص) تلاوت ہوتى رہى _

عالم اہلسنت اور صحيح مسلم كے شارح نووى كہتے ہيں :

اس روايت كا مطلب يہ ہے كہ عشر رضعات خمس معلومات سے منسوخ ہوئي ، جو رسول اكرم (ص) كى اخرى زندگى ميں نازل ہوئي تھى ، اور بعض لوگ ( عشر رضعات كو ) قران كى آيت سمجھ كر تلاوت كرتے رہے اور انكو معلوم نہ ہو سكا كہ يہ آيت منسوخ ہو گئي ہے _

اس كے بعد نووى ،شافعى اور مالكى فقہى نظريہ كے اختلاف كو بيان كرنے كے بعد قول مالكى كو بيان كرتے ہيں كہ ايك ادمى كے كہنے سے الفاظ و آيا ت قرانى ثابت ہو جائے گى _

پھر قاضى عياض كى بات كو نقل كيا ہے كہ ،جوانوں نے جو دودھ پيا ہوگا وہ اس طريقے سے كہ عورتوں نے اپنے شير كو پيالے ميں نچوڑ كر انكو پلايا ہوگا نہ كہ پستان ميں منھ لگا كر(۴۲)

____________________

۴۱_صحيح مسلم ج۱۰ ص ۳۰ _ ۲۹

۴۲_عقد الفريد ج۴ ص ۱۵ ، شرح نہج البلاغہ ج۳ ص ۷


ام المومنين عائشه مسئلہ رضاعت ميں تمام ازواج رسول(ص) كى مورد انتقاد بنى رہيں پھربھى اپنے نرالے فتوے پر عمل كرتى رہيں _

عائشه كى زندگى كے چند گوشے

عائشه اپنى سارى زندگى تاريك و بھيانك ماحول اور مشكلات ميں گذارنے كے باوجود اپنى ذہانت و فطانت سے مزاج كلام اور طنز كو خوب سمجھتى تھيں ، اس سلسلہ ميں تاريخ كے دامن ميں ان كے واقعات يادگارى حيثيت سے اج بھى موجود ہيں _

ابن عبد ربہ اپنى مشہور كتاب عقد الفريد ميں لكھتے ہيں :

ايك روز حسن (ع) بن على (ع) معاويہ كے پاس گئے عبد اللہ بن زبير اور ابو سعيد بن عقيل پہلے ہى سے وہاں بيٹھے ہوئے تھے ، جيسے ہى امام حسن (ع) تشريف فرما ہوئے معاويہ نے پوچھا ، اے ابا محمد (ص) على (ع) و زبير ميں كون بڑا تھا _

امام (ع) نے جواب ديا ، سن كے اعتبار سے دونوں برابر تھے ليكن عظمت و منزلت كے اعتبار سے على (ع) بڑے تھے _

عبد اللہ بن زبير نے كہا ، خدا زبير پر اپنى رحمت نازل كرے_، امام عليہ السلام اس بات پر مسكرائے اور اس كے پس منظر ميں معاويہ كى سياست كو بھانپ ليا ، ليكن ابو سعيد بن عقيل غصے ميں اكر كہنے لگے كہ ، على (ع) و زبير كى باتوں كو چھوڑو ، على (ع) نے لوگوں كو اس امر كى طرف دعوت دى جسكے خود امام و پيشوا تھے ليكن زبير نے لوگوں كو اس طرف بلايا جس كى رياست و پيشوائي كا عہدہ ايك عورت كى گردن پر تھا ؟

جس گھڑى دونوں لشكروں ميں گھمسان كى جنگ ہوئي تو زبير نے جنگ سے فرار اختيار كيا اور قبل اسكے كہ حق كى پيروى كرتے ايك شخص نے ان كو مار ڈالا اگر زبير كا مقابلہ ان كے قاتل سے كيا جائے تو بھى وہ اس سے ايك بالشت چھوٹے ہى نظر ائيں گے ، قاتل نے ان كے سر كو تن سے جدا كيا پھر امام (ع) ( على (ع) ) كى خدمت ميں تحفةََ پيش كيا ، مگر امام (ع) كا كردار جس طرح لشكر رسول (ص) ميں تھا اسى طرح اس دن بھى تھا پس خدا على (ع) پر رحمت نازل كرے نہ كہ زبير پر ؟

عبد اللہ بن زبير نے كہا ، خدا كى قسم ، اگر تمھارے علاوہ كوئي اور ہوتا تو ميں اس كو بتا ديتا ، ابو سعيد نے كہا ، امام حسن نے تمھارا خيال صرف اس لئے كيا كيونكہ تم سن ميں بڑے ہو اور يہى وجہ ہے كہ انھوں نے تم كو جواب نہيں ديا لہذا ميں مجبور ہوا كہ تمھارا جواب دوں _


اس قضيہ كى خبر عائشه تك پہونچى ، ايك روز ابو سعيد كا گذر ان كے گھر كى طرف سے ہوا ، انھوں نے ہانك لگائي ، اے احول _ اے خبيث _ آيا تم وہى ہو جس نے ميرے بھانجے كو برا بھلا كہا ہے _

ابو سعيد نے اس آواز پر چاروں طرف نگاہ دوڑائي مگر جب كسى كو نہيں پايا ، تو انہوں نے بآواز بلند كہا كہ ، شيطان تمھيں ديكھ رہا ہے مگر تم اسكو ديكھنے كى قدرت نہيں ركھتے ہو _

چونكہ آواز عائشه نے دى تھى لہذا اس جواب پر خوب ہنسيں اور كہنے لگيں ، خدا تمہارى مغفرت كرے ، تيرى زبان كتنى تيز و تند ہے(۴۳)

اگر اپ نے مذكورہ واقعہ پر غور كيا ہوگا تو معلوم ہوا ہوگا كہ معاويہ كى چال يہ تھى كہ امام حسن (ع) كو زبير كے بيٹے سے ٹكرا كر بغض و كينہ كى اگ لگا دے ، اور اسكى ہميشہ يہى سياست رہى كہ ايك سردار كو دوسرے كے خلاف بھڑكا دے ، اور ايسا ہى اس واقعہ ميں ہوا كہ عبد اللہ بن زبير معاويہ كے دام فريب ميں اگئے تھے ، ليكن امام (ع) معاويہ كى كامل شناخت ركھتے تھے ، لہذا اسكے جال ميں نہيں آئے ، اور اسى واقعہ ميں اپ نے عائشه كا كردار بھى ملاحظہ فرمايا اگر عائشه كى سارى زندگى كے واقعات كو ايك جملہ ميں سميٹا جائے تو يہ ہوگا كہ ، اپنوں سے دوستى اور دشمن كے مقابلہ ميں دشمنى ، عائشه كى زندگى ميں ايسے واقعات نہ جانے كتنى مرتبہ پيش آئے ہيں ، جنھيں خود احمد بن حنبل نے اپنى مسند ميں نقل كيا ہے وہ لكھتے ہيں :

عمار ياسر كے ساتھ مالك اشتر عائشه كے گھر گئے ، جب گھر ميں داخل ہوئے تو عمار ياسر نے ام المومنين كہہ كر خطاب كيا ، عائشه نے كہا ، ميں تمہارى ماں نہيں ہوں ، عمار نے پوچھا ، اپ ہمارى ماں كيوں نہيں ہيں اور اس سے كڑا ہتى كيوں ہيں _

عائشه نے سوال كيا كہ يہ تمہارے ساتھ كون ہے ، عمار نے كہا ، مالك اشتر ہيں

عائشه نے مالك اشتر سے كہا كہ ، تم وہى مالك اشتر ہو جو ميرے بھانجے كو قتل كرنا چاہتے تھے _

مالك اشتر نے كہا _ جى ہاں _ وہ مجھے قتل كرنا چاہتا تھا لہذا ميں بھى ايسا ہى كرنا چاہتا تھا _

عائشه نے كہا _ اگر تم اسكو مار ڈالتے تو ہر گز نيك و صالح نہ ہوتے كيونكہ ميں نے پيغمبر(ص) اسلام سے سنا ہے كہ اپ (ص) نے

____________________

۴۳_مسند احمد ج۶ ص ۲۰۵


فرمايا: تين صورتوں ميں مسلمان كو قتل كرنا جائز ہے ، اگر كوئي قتل كرے تو ا س كو قتل كرنا جائز ہے يا كوئي شخص بيوى ركھنے كے باوجود زنا كرے تو خون بہانا جائز ہے يا مسلمان ہونے كے بعد مرتد ہو جائے تو اسكو مار دينا چاہيئے(۴۴)

يہاں پر بہتر ہے كہ ہم عائشه سے سوال كريں كہ ، اے ام المومنين ، اپ نے اس قول رسول(ص) كو اپنے بھانجے كے سلسلہ ميں كيوں نہيں ياد ركھا كہ جس نے مالك اشتر جيسے نيك انسان كو قتل كرنا چاہا ؟

كيا مسلمان كے قتل كى حرمت صرف عبد اللہ بن زبير سے مخصوص تھى ، اور جو ہزاروں بے گناہ مسلمان خواہشات نفسانى كے تحت جنگ ميں مارے گئے كيا اس حكم ميں شامل نہيں تھے ، يا انكے خون خدا و اسلام كى نظر ميں بے وقعت تھے _

عائشه كى زندگى كا ايك اور واقعہ جو ابھى تك تاريخ ميں موجود ہے جس كو ابن عبد ربہ نے عقد الفريد ميں يوں نقل كيا ہے_

جنگ جمل كے بعد ايك دن عبد القيس كے قبيلے كى عورت ام اوفى عبديہ جسكے قبيلہ كے ہزاروں مشہور افراد جيسے حكيم بن جبلہ اسى جنگ ميں مارے گئے تھے ، عائشه كے پاس گئي اور ان سے كہا ، اے ام المومنين اس ماں كے بارے ميں اپكا كيا خيال ہے جس نے اپنے چھوٹے بچوں كو قتل كر ديا ہو _

عائشه نے كہا ، اس پر جہنم كى اگ واجب ہے

ام اوفى نے كہا ، اپ اس ماں كے سلسلے ميں كيا فرماتى ہيں جس نے اپنے بيسوں ھزار چھوٹے بڑے لوگوں كو خاك و خون ميں غلطاں كر ديا ہو_

عائشه يہ سنكر چيخنے لگيں اور كہا ، اس دشمن خدا كو گھر سے نكالو _(۴۵)

جيسا كہ ہم نے بيان كيا كہ جنگ جمل كے تمام ہولناك واقعات عائشه كے دل و دماغ پر مثل پہاڑ كے بوجھ بنے ہوئے تھے اور وہ انكى زندگى ميں كبھى ختم نہيں ہوئے جو انكى ندامت و پشيمانى كى علامت ہے ، نيز اسكے بعد جو باتيں پيش كروں گا شايد اسى سے مربوط ہوں گى _

جنگ جمل كے واقعات ايك طرف عائشه كے لئے كبيدہ خاطر ہو رہے تھے تو دوسرى طرف امويوں كے لئے مسرت و خوشحالى كے باعث بن رہے تھے اور يہ لوگ ہر دن كسى نہ كسى بہانے سے ضرور ياد كرتے تھے نيز جنگ جمل كے

____________________

۴۴_عقد الفريد ، عيون اخبار ج۱ ص ۲۰۲

۴۵_عقد الفريد ج۲ ص ۴۵۵


واقعات كو ہوا دينے كے لئے مدد بھى كرتے تھے _

ابن عبد ربہ كا بيان ہے كہ بصرہ سے يزيد بن منيہ معاويہ كے پاس گيا ، يہ يعلى بن منيہ كا بھائي اور رئيس بصرہ نيز جنگ جمل كا ايك سردار تھا اور جس اونٹ پر عائشه بيٹھ كر جنگ كى سربراہى كر رہى تھيں اسكى مہار اسى نے پكڑى تھى ، پھر يعلى كى معاويہ سے رشتہ دارى يوں تھى كہ اسكى بيٹى معاويہ كے بھائي عتبہ بن ابو سفيان سے بياہى تھى _

جب يزيد بن منيہ نے اپنى مشكلات كو معاويہ سے بيان كيا تو اس نے كعب سے كہا كہ اسكو بيس ہزار دينار ديدو ، جب وہ رقم ليكر جانے لگا تو معاويہ نے پھر دستور ديا كہ چونكہ جنگ جمل ميں شريك ہوا تھا لہذا تيس ہزار دينار اور ديدو(۴۶)

ايك روز عمر و عاص نے عائشه سے كہا كہ ، كتنا اچھا ہوتا كہ اپ جنگ جمل ميں مارڈالى گئي ہوتيں ، عائشه نے كہا _ اے يتم كيوں ؟

عمرو عاص نے جواب ديا ، اگر اپ مر گئي ہوتيں تو ہم لوگوں كو لشكر علوى (ع) سے ٹكڑانے كا اچھا بہانہ مل جاتا(۴۷)

عائشه اور عمر و عاص كے ما بين دوسرى جھڑپ كو تاريخ يوں بيان كرتى ہے _

ايك روز عائشه كے گھر امير المومنين (ع) كے ہاتھوں ذوالثديہ كے مارے جانے كا تذكرہ چھڑا ، راوى كہتا ہے كہ ام المومنين نے مجھ سے كہا كہ اگر تم كوفے جانا تو ہمارے لئے ان گواہوں كو ليتے انا جنھوں نے اسكو مارتے ہوئے ديكھا تھا ، ميں كوفہ پہونچا اور شہر كے ہر گروہ سے دس افراد كو ليا اور عائشه كى خدمت ميں پہونچا ديا ، جب انھوں نے ان گواہوں كو ديكھا تو كہا ، عمر و عاص پر خدا كى لعنت ہو ، اس نے يہ كہا تھا كہ ميں نے چھاتى والے انسان كو مصر ميں مارا ہے(۴۸)

____________________

۴۶_ تاريخ كامل ج۱ ص ۱۵۱

۴۷_ مستدرك ج۴ ص ۱۳، سير اعلام ج۲ ص ۱۴۱

۴۸_ابن كثير ج۸ ص ۳۰۳


ابن كثير اس واقعہ كو نقل كرنے كے بعد لكھتا ہے كہ عائشه نے سر جھكا كر خوب گريہ كيا ، جب گريہ ختم ہوا تو كہنے لگيں ، خدا على (ع) پر رحمت نازل كرے كيونكہ وہ ايك لمحہ بھى حق سے جدا نہيں ہوا ہمارے اور ان كے درميان جو چپقلش اور درارپڑى تھى وہ ايسى ہى تھى جيسے ايك بياہى عورت كى سسرال والوں سے ہوتى ہے _

سوچنے كى بات يہ ہيكہ اخر عمر و عاص نے ايسا جھوٹا دعوا كيوں كيا اور اپنے كو ذو الثديہ كا قاتل كيوں بتايا _

يہ بات اس وقت واضح ہوگى جب رسول(ص) كى حديثوں كو ملاحظہ كيا جائے جن كو محدثين اور مورخين نے ذوالثديہ كى مذمت اور اسكے قاتل كى مدح و ستائشے ميں نقل كى ہيں ، ان حديثوں كى وجہ سے عمر و عاص ذوالثديہ كے قتل كا سہرا اپنے سرپر باندھنا چاہتا تھا _

عائشه كى زندگى كے واقعات كى جانچ پڑتال ختم كرنے كے بعد ميں چاہتا ہوں كہ معاويہ كے حالات زندگى كى كريد كى جائے تاكہ جعل حديث كے اسباب سامنے ائيں نيز اس بحث ميں عائشه كا اہم كردار بھى سامنے آئے گا _

ہمارى يہى كوشش ہے كہ وہ تمام جھوٹى حديثيں جو اسلام كى سر نگونى كى علامت بن گئيں ہيں ان پر تنقيد كى جائے تاكہ اسلام كا اصل چہرہ سامنے اجائے _


فصل ششم

معاويہ كى زندگى پر ايك طائرانہ نظر

دور جاہليت ميں اميہ اور بنى اميہ، ہاشم اور بنى ہاشم كى رياست و بزرگى پر بہت حسد كرتے تھے اس حسد سے نہ جانے كتنے نا خوشگوار واقعات رونما ہوئے ليكن اسلام سے پہلے امويوں كى بنى ہاشم سے اتنى سخت گہماگہمى نہيں تھى ، جيسے ہى زمانے نے كروٹ ليا اور عبد المطلب بن ہاشم كے پوتے نے دنيا ئے انسانيت كو اسلام كے نام سے ايك دين تحفہ ميں ديا ، اسى وقت سے اميہ كا پوتا ابو سفيان نے قريش و اسلام كے خلاف جنگ كرنے كا بيڑا اٹھا ليا ، اكثر مقامات پر اسلام كے خلاف مشركين مكہ كى رياست و سربراہى كرتے ہوئے ابو سفيان نے اپنى تمامتر قوتوں كے ساتھ كمزور و ضعيف مسلمانوں كو اذيتوں اور شكنجوں ميں مبتلا كيا ، اور جہاں تك ممكن تھا ان لوگوں كو ايذا ء پہيونچائي _

ليكن حالات ہميشہ يكساں نہيں رہتے اخر خدا وند عالم نے اپنے رسول (ص) كى مدد و نصرت كر كے مكہ كو فتح كرو آيا اور رسول اسلام (ص) نيز مجاہدين اسلام كے لئے مكہ ميں انے جانے كا راستہ ہميشہ كے لئے كھول ديا _

فتح مكہ كے بعد قريش كے علاوہ كوئي دوسرا قبيلہ نہ تھا جس نے اپنے دامن پر تا ابد ازاد شدگان كا ذليل و حقير كا ٹائيٹل ليا ہو ، ابو سفيان كى رياست بت عرب كى طرح چور چور ہوگئي اور عصر جاہليت كے ضعيف و ناتواں ، عمار ، ابوذر ، بلال ، جيسے افراد سياسى و معاشرتى حقوق كے علمبردار بن گئے ، ايك روز ابو سفيان كا ان لوگوں كى طرف سے گذر ہوا انھوں نے اس كو ديكھ كر كہا كہ خدا كى تلوار اس دشمن خدا پر نہ پڑ سكى _

ابو سفيان نے اتنى عمر پائي كہ خلافت ابو بكر كا زمانہ ديكھا اس دور ميں اسكى خليفہ وقت سے مڈ بھيڑ ہو گئي تو خليفہ كے باپ ( قحافہ ) تعجب ميں پڑ گئے ، خليفہ نے اپنے باپ سے يوں استدلال كيا ، اے پدر بزرگوار ، خدا نے ہمارے خاندان كو اسلام كى خاطر سر بلند فرمايا ہے اور اسكے خاندان كو پستى ميں ڈالديا ہے _

ابو سفيان نے عمر بن خطاب كا دور ديكھا اس زمانہ ميں ايك روز خليفہ وقت عمر نے شہر مكہ ميں اسكو اس بات پر مجبور كر ديا كہ وہ اپنے كاندھوں پر اٹھا كر اينٹوں كو ركھے _

دوسرى مرتبہ خليفہ وقت نے ابو سفيان كے سر پر تازيانہ مارا ، جب اسكى خبر بيوى تك پہونچى تو بہت ناراض ہوئي اور


خليفہ سے غصے ميں كہا ، خدا كى قسم ، اگر دور جاہليت ميں اسكو چھڑ ى مارتے تو تمھارے پائوں سے زمين نكل جاتى _ خليفہ نے جواب ديا ، تم سچ كہتى ہو ، مگر كيا كيا جائے خدا وند عالم نے ايك گروہ كو اسلام كى وجہ سے عزيز و بلند اور دوسرے گروہ كو اسلام نے ذليل و پست كر ديا _

زمانہ گذرتا رہا ، يہاں تك كہ خليفہ عثمان بن گئے ، اس دور ميں بار ديگر اموى اقتدار ميں اگئے اور بچوں كى طرح حكومت سے كھيلنے لگے ، اور تمام شہروں پر بنى اميہ كى ايك ايك فرد حكومت كرنے لگى ، اور وہ اپنے تاج و تخت پر بہت ناز كرنے لگے ، يہى وہ زمانہ ہے جس ميں متقى و صالح اصحاب رسول (ص) بار ديگر كمزور اور اذيتوں ميں مبتلا ہوگئے ، اور عمار جيسے نيك و صالح پر ظلم و ستم كا پہاڑ توڑ ا جانے لگا اور ابو ذر و مالك اشتر جيسوں كو چٹيل ميدان ميں جلا وطن كيا جانے لگا _

امويوں كے دل و دماغ غرور و نخوت سے اتنے بھر گئے تھے كہ ايك اموى نے كہا كہ عراق كى سر سبز و شاداب زمين قريش كے باغوں ميں سے ايك باغ ہے ، ان تمام ظلم و ستم اور غرور و تكبر نے بلاد اسلامى كو ايسا گھيرا اور فتنہ و اشوب كے طوفان نے ايسا چكر ميں ليا كہ اموى خليفہ اپنے گھر ہى ميں مار ڈالے گئے ، اس سخت تجربے اور پئے در پئے نا كاميوں كے بعد مسلمانوں نے مہار خلافت كو امويوں سے چھين كر بنى ہاشم كے ہاتھوں ميں ديديا تاكہ عدالت علوى كى حكومت قائم ہو جائے ، جيسے ہى مسلمانوں نے اس كام كو انجام ديا دوبارہ مدينہ كے اندر امويوں نے طوق ذلت اور قريش كے سامنے سر تسليم خم كر ديا _ ليكن سر تسليم خم كرنے كے بعد بھى سكون سے نہيں بيٹھے بلكہ ہر روز كسى نہ كسى بہانے سے حكومت علوى (ع) كے خلاف محاذ ارائي كرتے رہے تاكہ خلافت عثمان كے زمانے ميں دل حكومت كرنے كى جو چٹكياں لے رہا تھا اس كى اميد بندھ جائے امام(ع) كى حكومت كے خلاف رفتہ رفتہ اتش جنگ اتنى بھڑك اٹھى كہ بصرہ خون ميں ڈوب گيا پھر بھى انكو كوئي فائدہ نہ ہو سكا _

ان تمام ادوار ميں معاويہ جو عمر كے زمانے سے شام كى امارت كو سنبھالے ہوئے تھا ہر دن اپنى حكومت كو وسيع و عريض كرنے كى تاك ميں لگا رہتا تھا _

اسى لئے معاويہ نے امام (ع) كو خط لكھ بھيجا اور اس ميں حكومت مصر و شام كا مطالبہ كيا ، جب انحضرت (ع) نے نا مساعد جواب ديا تو خون عثمان كے نام پر ہزاروں لوگوں كو اكٹھا كر كے امام عليہ السلام سے جنگ كرلى جب جنگ سے كاميابى نہيں ملى تو معاملہ حكميت پر جا كر روكا حكميت كے بعد شام واپس آيا تو لٹيروں كو مسلسل بلاد اسلامى ميں بھيجتا رہا تاكہ بے گناہ مسلمانوں كى


عورتوں كو اسير بنائيں اور چھوٹے بڑے كو قتل كر كے گھروں ميں اگ لگا ديں ، ان لٹيروں نے تقريباً تيس ہزار مسلمانوں كو تہ تيغ كيا اور ديگر مامورين نے بھى اپنے ہاتھوں سے بے گناہوں كو موت كے گھاٹ اتارا _

حضرت على (ع) كى شہادت كے بعد معاويہ نے امام حسن (ع) كى بيعت نہيں كى اور ايك بڑے لشكر كے ساتھ عراق اگيا اور امام (ع) كے محافظ و اصحاب كو سكّوں كى لالچ ديكر خريد نا شروع كر ديا اور انكو خريد كر امام (ع) پر حملہ كروايا _

جب امام (ع) نے اپنے سپاہيوں كى جنگ سے كنارہ كشى كو ديكھا اور خود اپنے كو بھى بہت زخمى پايا تو معاويہ سے صلح كر لى اور اس صلحنامہ ميں بہت سارى شرطيں ركھيں مگر اس نے ايك شرط پر بھى عمل نہ كيا ، جب كوفہ آيا تو اپنى تقرير ميں ان باتوں كو پيش كيا كہ خدا كى قسم ، اے لوگو ، ہم نے تم لوگوں سے نہ نماز كى خاطر جنگ كى تھى اور نہ ہى روزہ كيوجہ سے، ان امور كو تو تم لوگ انجام ديتے ہى ہو ، ہم نے صرف اس لئے تم لوگوں سے جنگ كى تاكہ تمھارے اوپر حكومت كروں ، اور جن شرائط پر حسن (ع) سے صلح ہوئي تھى ان سبكو اپنے قدموں تلے ركھتا ہوں _

معاويہ مجبور تھا كہ اپنى حكومت كى سياسى بنياد چاپلوسى پر ركھے اور اس نے اپنى حكومت كے پہلے ہى سال امپراطور روم سے مصالحت كر كے خراج ديا ، اور دمشق كے اطراف و اكناف ميں سكوں كى تھيلياں بھيجنے لگا ، سردار قبائل اور عرب كے مكاروں كو دولت و مقام نيز رشتہ دارى كے ذريعہ دھوكہ ديا تاكہ ان لوگوں كى مدد سے اپنى حكومت كو ٹھوس اور ظلم و ستم كے ذريعے دولت كى جمع اورى كر سكے ، يہى وہ زمانہ ہے جس ميں معاويہ نے اپنى سياست كو بدلا ، اور ايك ظالم و جابر بادشاہ كى ياد تازہ كر دى _

ايك طرف سونے اور چاندى كى بوچھار ہونے لگى تو دوسرى طرف تمام بلاد اسلامى كى پيداوار كو اپنے خونين پنجے ميں كر ليا اور تمام باشندوں كو حكم ديا كہ جس طرح عجم كے بادشاہوں كو عيد نوروز كے موقع پر تحفہ ديتے تھے اب مجھے بھى دو ، اس طرح بالكل روم و ايران كا امپرا طور بن گيا تھا_

زمانہ معاويہ ميں حديث سازياں

حكومت معاويہ كے اتے ہى اصحاب رسول (ص) نے جو حكومت علوى (ع) كے زمانے ميں امير المومنين (ع) كے ساتھ تھے ، بلاد


اسلامى ميں گوشہ نشينى اختيار كر لى ، كيونكہ امام حسن (ع) كى صلح كے بعد عوام نے ساتھ چھوڑ ديا تھا لہذا بار ديگر كمزور ہو گئے اسى وجہ سے ممالك اسلامى كے مختلف شہروں ميں پھيل گئے اور جو ميں نے يہ كہا كہ اصحاب رسول (ع) اچھى خاصى تعداد ميں حضرت على (ع) كے ساتھ اور جنگ جمل وصفين ميں شريك ہوئے تھے ، اسكو خود معتبر مورخوں نے بيان كيا ہے اور معاويہ كے ساتھ صرف تين افراد كا نام تحرير كيا ہے _

تاريخ اسلام ميں ذہبى لكھتے ہيں :

جنگ جمل ميں انصار سے اٹھ سو افراد على (ع) كے ہمراہ تھے اور سات سو وہ لوگ تھے جنھوں نے بيعت رضوان ميں شركت كى تھى نيز ايك سو بيس افراد وہ تھے جو پيامبر اكرم (ص) كے ساتھ جنگ بدر ميں شريك ہوئے تھے(۴۹)

ابن خياط اپنى كتاب ميں لكھتا ہے :

'' اٹھ سو وہ افراد جنھوں نے رسول(ص) اسلام كے ہاتھوں پر مقام رضوان ميں زير درخت عہد و پيمان كيا تھا ، حضرت على (ع) كے ساتھ جنگ صفين ميں شريك ہوئے تھے(۵۰)

وقعة صفين ميں نصر بن مزاحم لكھتے ہيں :

جنگ صفين ميں قيس بن سعد بن عبادہ نے ايك روز نعمان بن بشير سے كہا _ اے نعمان ذرا اس بات پر غور كرنا كہ معاويہ كے ساتھ غلام اور بيوقوف عربوں يا جنگل يمنيو ں كے علاوہ كوئي اور ہے ؟

ذرا اس پر بھى سوچ بچار كر ناكہ وہ متقى مہاجر و انصار اور تابعين كس كے لشكر ميں ہيں جن سے خدا راضى ہے ؟

پھر اس پر بھى غور كرنا كہ آيا تمھارے اور تمہارے دوست كے علاوہ كوئي اور معاويہ كے لشكر ميں ہے ؟ درانحاليكہ تمہارا نہ بدر كے مجاہدوں ميں شمار ہوتا ہے اور نہ ہى تم بيعت عقبہ ميں شريك ہوئے اور نہ كوئي آيت تمھارى مدح ميں نازل ہوئي ہے اور نہ ہى تم نے اسلام قبول كرنے ميں سبقت كى ہے _ اپنى جان كى قسم _ اگر ا ج كے دن تم ہم سے اور ہمارے لشكر سے ٹكرائے تو كوئي نئي بات نہيں ہے كيونكہ تمھارا باپ اس سے پہلے ٹكرا چكا ہے(۵۱)

____________________

۴۹_تاريخ ذہبى ج۲ ص ۱۴۹

۵۰_ابن خياط ج۱ ص ۱۸۰ مطبوعہ نجف

۵۱_وقعة صفين ص ۴۴۹


قيس كى مراد بيعت عقبہ سے يہ تھى كہ انصار كے كچھ افراد نے ہجرت سے پہلے رسول(ص) اكرم كے دست مبارك پر عہد و پيمان كر كے اسلام كو قبول كيا تھا _

پدر نعمان كے مخالفت سے قيس كى مراد يہ تھى كہ اسكا باپ سقيفہ ميں ابو بكر كى بيعت لينے ميں بہت اگے اگے تھا ، اور نعمان كے باپ ہى كى بدولت ابو بكر تخت خلافت پر آئے تھے ، ہم نے اپكى خدمت ميں قديم و معتبر مورخوں كى عبارتوں كو پيش كيا جن سے اپ نے اس بات كو ملاحظہ فرمايا ہو گا كہ اصحاب رسول اور مجاہدين سارے كے سارے حكومت علوى (ع) كے زمانے ميں لشكر على (ع) ميں تھے ،ليكن معاويہ كے لشكر ميں سوائے دو صحابيوں كے كوئي اور نہيں تھا _

وہ بھى ايسے تھے جو نہ اسلام ميں سبقت ركھتے تھے اور نہ ہى كوئي كارنامہ دكھايا تھا اور نہ ان كا كو ئي خاص مقام تھا _

جب حضرت امير المومنين (ع) كى شہادت ہو گئي تو ان تما م اصحاب نے اسلامى سر زمين كے مختلف شہروں ميں گوشہ نشينى اختيار كر لى اور جہاں بھى رہے ہوں گے عقيدتمند مسلمان ان كے ارد گرد ضرور اٹھتے بيٹھتے رہے ہوں گے پھر ان لوگوں نے حديث رسول (ص) كو بيان كيا ہوگا تو مومنين نے ضرور سنا ہوگا يا لكھ كر لئے گئے ہونگے تاكہ ان حديثوں سے احكام الہى كى شناخت كر سكيں _

البتہ يہ بھى تصور كيا جا سكتا ہے كہ جب صفين و جمل اور عثمان كے زمانے كا تذكرہ ہوا ہوگا تو اس زمانے كى گرما گرم باتيں ضرور بيان كى ہونگى ، پھر اس ميں امويوں كے عيوب و نقائص اور سياہكارى و جنايتكارى كا ضرور تذكرہ كيا ہو گا ،_ كبھى خليفہ اول و دوم كے دور كى باتيں چھيڑى ہوں گى اور زمانے كى فتوحات كا ذكر كيا ہو گا تو اس ميں بھى بنى اميہ كا كوئي اہم كردار نظر نہيں آيا ہوگا _

كبھى عصر رسول (ص) كى جنگوں اور كفار قريش نے جو مسلمانوں كو اذيتيں پہونچائي تھيں ان كو بيان كيا ہوگا تو ان تذكروں نے سامعين كے قلوب كو ان سے متنفر كر ديا ہو گا اور بنى ہاشم كے كارنامے اور فضائل كو سنكر ان كے قلوب ان سے كھنچ گئے ہوں گے _

ان تمام باتوں ميں اكثر بنى اميہ كے اخلاق و كردار كى مذمت كے علاوہ كوئي دوسرى بات نہيں رہى ہو گى _

ان اصحاب كرام نے جب بدر كى داستان كو بيان كيا ہوگا تو ضرور كہا ہو گا كہ معاويہ كا دادا اور ماموں نيز بھائي اور خاندان والے اسى جنگ ميں مارے گئے اور ستر افراد قريش كے اور معاويہ كے خاندان كے اسير بنائے گئے تھے _

جب جنگ احد كا تذكرہ چھڑا ہوگا تو ان لوگوں نے ضرور بتايا ہوگا كہ معاويہ كا باپ ابو سفيان نے اس جنگ كا بيڑا اٹھا ركھا تھا _


اور معاويہ كى ماں ہندہ نے رسول كے دلير چچا حمزہ كے سينے كو چاك كر كے انكے جگر كو چبايا تھا پھر يہ بھى بيان كيا ہو گا كہ ايك دن ابو سفيان نے چيخ ماركر كہا تھا كہ ، شاباش ہبل ، جس وقت حسان كا شعر جو ہندہ كى مذمت ميں كہا تھا اسكو پڑھا ہو گا تو معاويہ كى نا پاك ولادت كى تشريح كى ہو گى _

ايك روز فتح مكہ كا چرچا كيا ہوگا تو اس ميں ابو سفيان و معاويہ كے ظاہرى اسلام كى دليل يہ دى ہو گى كہ رسول اكرم (ص) نے ان دونوں كو جنگ حنين كے مال غنيمت سے مولفة القلوب ميں شمار كرتے ہوئے بہت سارے اموال ديئے تھے _

ليكن رسول (ص) اسلام كى نظر عنايت ان دونوں پر كار فرمانہ ہو سكى اور ابو سفيان نے مسلمان ہونے كے بعد كہا ، كاش ميں قدرت ركھتا تو لوگوں كو اس شخص ( محمد ) كے خلاف بھڑ كا ديتا_

جنگ صفين ميں مسلمانوں نے ناگہانى حملے كى تاب نہ لا كر جب پيٹھ دكھائي تو اس ( ابو سفيان ) نے اپنے دوستوں سے كہا كہ ابھى كيا ہے يہ لوگ شكست كھا كر دريا ئے سرخ تك بھاگيں گے وفات رسول(ص) كے بعد جنگ ير موك ميں جب مسلمان شكست كے قريب تھے تو اس ( ابو سفيان) نے ہانك لگائي تھى ، روميوں زندہ باد ، پھر تھوڑى دير بعد نہايت افسوس كے ساتھ اس شعر كو پڑھا ، كيا روم كے بادشاہوں ميں سے كوئي بھى اس مقام پر نہيں ہے ؟

يہ تمام باتيں معاويہ جيسے ظالم و جابر كى حكومت كے زمانے ميں ہوتى رہى ہونگى تو معاويہ نے بھى اپنے دادا اور باپ كى شجاعتوں كا تذكرہ كيا ہو گا _ كيونكہ عرب ان تذكروں كو سننا بہت پسند كرتے تھے لہذا اس راہ ميں جو ہاتھ آيا اس كو انجام ديا اور جو كچھ معاويہ نے اسلام كے خلاف محاذ ارائي كى تھى اس سے دستبردار نہيں ہوا ، ليكن اسكے افكار جاہلى كو ان ہى چند اصحاب نے چكنا چور كر ديا تھا ، ان باتوں سے صاف واضح ہو جاتا ہے كہ معاويہ ان اصحاب رسول(ص) كى طرح نہيں تھا اور جو كچھ اس نے مدينہ ميں تھوڑى بہت زندگى گذارى تھى ان لوگوں كے عادات و اطوار كو نہ سكيھ سكا _ ميں ان چيزوں كو پيش كروں گا جو معاويہ كى حكومت كے زمانے ميں رائج ہوئيں _

معاويہ نے اپنى حكومت ميں ربا خوارى كو عام كيا شراب كے مشكيزے اسكے گھر ميں لائے گئے نيز مسلمانوں كے بيت المال سے خواہشات نفسانى كى اگ بجھائي شہر كے خطيبوں نے اسى كے سامنے تعريف كى اور عصر جاہليت كے طور


طريقے پر فخر و مباہات كى محفليں قائم كى پھر اپنے حاشيہ نشينوں سے تكبرانہ لہجے ميں كہا ، قريش كو يہ معلوم ہونا چاہيئے كہ ان ميں سب سے بافضيلت ابو سفيان و معاويہ ہيں اگرچہ رسول(ص) خدا كو خدا وند عالم نے نبوت ديكر با عظمت بنا ديا تھا ، ميں سمجھتا ہوں كہ اگر تمام لوگ فرزند ابو سفيان ہوتے تو سب كے سب صاحب عقل و تدبر ہوتے _(۵۲)

اس سے بڑھ كر فخر اور كيا ہو سكتا ہے كہ اگر ابو سفيان تمام لوگوں كا باپ ہوتا تو سارے كے سارے صاحب علم و دانش ہوتے _

معاويہ اپنے زعم ناقص ميں يہ سمجھا كہ اسكا باپ بلند ترين فرد ہے اور قريش ميں سب سے بڑا خود ہے ، اور رسول(ص) كے علاوہ سبھى اس سے پست ہيں ، اگر كوئي شخص اس زمانہ ميں چاہتا تو اسكے فخر و مباہات كے مقابلے ميں صرف اتنا كہہ ديتا كہ_ جى ہاں _ معاويہ اپنى حكومت كے بل بوتے پر دوسروں پر اپنى فوقيت جتا رہا ہے نہ كہ اپنے ذاتى كمالات پر _

معاويہ اور بنى اميہ كے بارے ميں بزرگوں كا فيصلہ

معاويہ اپنى حكومت كے زمانے ميں حد سے زيادہ بڑھ گيا تھا اور غرور و تكبر اس ميں اتنا اگيا تھا كہ اس نے اپنى حكومت ميں سوائے اپنے قوم و قبيلہ كو بڑھانے كے كچھ نہ سوچا ، وہ اس كے پس منظر ميں اپنى حكومت كو بادشاہت ميں تبديل كرنا چاہتا تھا ، مگر اپنى خواہشات كو كس طرح عملى جامہ پہنائے ، كيونكہ مسلمانوں كے درميان صحابي امام اور دلير شخص صعصہ بن صوحان موجود ہيں ، جو يہ كہہ دينگے كہ تم اور تمہارا باپ اسى گروہ ميں تھا جو پيغمبر اكرم (ص) سے لڑنے آيا تھا ، اور تو ايك ازاد كردہ كا ازاد كيا ہوا بيٹا ہے جن پر رسول (ص) خدا نے احسان كر كے ازاد كيا ہے پھر كس طرح ممكن ہے كہ خلافت كى باگ ڈور ايك ازاد كردہ كے ہاتھوں ميں رہے(۵۳) يا يہ كہ جب ابو ہريرہ اور ابو دردا معاويہ كے نمائندے بنكر امام (ع) كے پاس آئے تھے تو اس وقت عبد الرحمن بن غنم اشعرى نے يہ كہا تھا كہ ، اخر معاويہ كيسے خليفہ بننا چاہ رہا ہے جبكہ وہ ان لوگوں ميں ہے جن كے لئے خلافت كرنا با الكل جائز نہيں ہے اور معاويہ كا باپ ( ابو سفيان ) اس گروہ كا سردار تھا جو

____________________

۵۲_تاريخ طبرى ج۵ ص ۸۹ ، كامل ابن اثير ج۳ ص ۵۹


اسلام كے خلاف جنگ كرنے آيا تھا(۵۴)

پھر معاويہ كيسے خليفہ ہو سكتا ہے جبكہ عمر نے اپنى حكومت كے زمانے ميں يہ كہا تھا كہ خلافت ازاد كردہ يا انكے فرزندوں نيز فتح مكہ كے بعد مسلمان ہونے والوں كا حق نہيں ہے اور يہ لوگ اس مقام تك پہونچنے كے لئے ايڑى چوٹى كا زور نہ لگائيں(۵۵)

جب حضرت على (ع) نے خطبہ ديا تو لوگوں كو يا دہانى كراتے ہوئے فرمايا كہ ، معاويہ ان ميں سے ہے جسكو خداوند عالم نے نہ دين ميں سبقت عطا كى اور نہ ہى كوئي فضيلت ركھتا ہے وہ ايك ازاد كردہ كا فرزند ہے كہ جس نے اسلام كے خلاف تمام جنگوں ميں شركت كى تھى اور اسكا باپ ( ابو سفيان ) ہميشہ دشمن خدا و رسول (ص) رہا ہے اور جب ظاہرى طور پر اسلام كو قبول كر ليا تب بھى اس سے كڑھتا رہا(۵۶) ايك مرتبہ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا كہ ، اے معاويہ تجھے معلوم ہونا چاہيئے كہ تو ايك ازاد شدگان ميں سے ہے جن كے لئے خلافت كرنا جائز نہيں ہے اور تجھے تو مسلمانوں كے امورميں ٹانگ لڑانے كا حق بھى نہيں ہے(۵۷)

جنگ صفين ميں علوى (ع) لشكر كے ايك سردار عبد اللہ بن بديل نے معاويہ كے بارے ميں كہا تھا كہ ، وہ اس چيز كا دعوا كر رہا ہے جو خود اسكى نہيں ہے اور اس شخص (على (ع) ) سے جھگڑا كر رہا ہے جسكو خلافت كرنے كا حق ہے ، پس اس گروہ سے جنگ كرو جو خلافت كو ہتھيانے ميں لگا ہے اور ہم نے پيامبر اكرم (ص) كے ساتھ ان لوگوں سے جنگ كى تھى پس خدا كے واسطے اپنے اور دشمن خدا سے لڑنے كے لئے امادہ ہو جائو خدا تم لوگوں پر اپنى رحمت نازل كرے گا(۵۸)

امام عليہ السلام كے وفادار صحابى عمار ياسر نے جنگ صفين ميں معاويہ كے سلسلے ميں بآواز بلند يوں كہا كہ ، اے مسلمانو ، كيا تم لوگ اس شخص ( معاويہ ) كو ديكھنا چاہتے ہو جس نے خدا و رسول (ص) سے دشمنى و عداوت ميں ان سے جنگيں لڑيں ، مسلمانوں كے خلاف بغاوت و سر كشى كو ہوا دى اور مشركين كى پشت پناہى كى ، جب اس نے ديكھا كہ اللہ نے اپنے دين

____________________

۵۳_مروج الذھب ج۳ ص ۵۰

۵۴_استيعاب ج۲ ص ۴۱۷، اسد الغابہ ج۳ ص ۳۱۸

۵۵_ اسد الغابہ ج۴ ص ۳۸۷ ، طبقات الكبرى ج۳ ص ۲۴۸ مطبوعہ ليدن

۵۶_وقعة صفين ص ۲۲۷ ، طبرى ج۶ ص ۴ ، ابن اثير ج۳ ص ۱۲۵

۵۷_عقد الفريد ج۲ ص ۲۸۴ ،شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۵

۵۸_ وقعة صفين ص ۲۶۳ ، طبرى ج۶ ص ۹ ، ابن اثير ج۳ ص ۱۲۸ ، استيعاب ج۱ ص ۳۴۰


كو مستحكم كر كے اپنے رسول (ص) كو غلبہ حاصل كرا ديا تو پيامبر اكرم (ص) كے پاس آيا پھر مسلمان ہوا جبكہ خدا اسكے دل كو خوب جانتا تھا كہ اس نے صدق دل سے اسلام كو قبول نہيں كيا ہے بلكہ خوف جان اور طمع مال كى وجہ سے مسلمان ہوا ہے ، اور جب رسول اكرم (ص) اس دنيا سے چلے گئے تو خدا كى قسم يہ ( معاويہ ) مسلمانوں كا دشمن اور كافروں كا دوست بن گيا ، اگاہ ہو جائو يہ شخص معاويہ بن ابو سفيان ہے اس پر لعنت بھيجو كيونكہ خدا اس پر لعنت بھيجتا ہے اور اس سے جنگ و قتال كرو اس لئے كہ يہ چاہتا ہے كہ نور خدا كو گل كر كے ظلمت و تار يكى پھيلائے(۵۹)

اسود بن يزيد نے معاويہ كے سلسلے ميں ام المومنين عائشه سے كہا :

اے ام المومنين آيا اپ كو اس بات پر حيرت نہيں ہوتى ہے كہ وہ شخص جو ازاد كردہ ہے اور صحابى رسول(ص) سے خلافت كے سلسلے ميں جھگڑا كر رہا ہے _

عائشه نے جواب ديا ، اس ميں تعجب كى كيا بات ہے يہ حكومت ہے خدا جسے چاہے عطا كر دے اس ميں نيك و بد كى قيد نہيں ہے جس طرح فرعون الوہيت كا دعوا كرنے كے با وجود سالہا سال مصر ميں حكومت كى اور اسكے علاوہ دوسرے بھى اس عہدے پر پہونچے ہيں(۶۰)

امام حسن (ع) نے معاويہ كو خط لكھا كہ ، اے معاويہ بڑى حيرت كى بات ہے كہ تم اج اس عہدے پر برا جمان ہو گئے جس پر كسى صورت ميں برا جمان ہونے كے لائق نہ تھے كيونكہ تم نہ دين ميں كوئي منزلت ركھتے ہو اور نہ ہى اسلام لانے ميں سبقت كى پھر تم اسكے فرزند ہو جس نے اسلام كے خلاف محاذ ارائوں كى سر براہى كى تھى اور وہ اسلام و قران اور رسول (ص) كا سخت ترين دشمن تھا(۶۱)

شعبہ بن عريض نے معاويہ سے كہا تھا كہ ، تم نے دور جاہليت ميں بھى اور اسلام لانے كے بعد بھى حق كو كچلا ، دور جاہليت ميں رسول (ص) و وحى الہى كے خلاف اتنى جنگ كى كہ خدا وند عالم نے اسلام ہى كو پيروز وكامياب بنا كر تمھارے برے نقشے كو مليا ميٹ كر ديا تھا اور مسلمان ہونے كے بعد تم نے يہ كيا كہ جب فرزند رسول (ص) تخت خلافت پر پہونچا تو تم

____________________

۵۹_ صفين ص ۲۴۰ ، طبرى ج۶ ص ۷ ، ابن اثير ج۳ ص ۱۲۶

۶۰_ در منثور ج۶ ص ۹ ابدايہ و النہايہ ج۸ ص ۱۳۱

۶۱_ مقاتل الطالبين ص ۲۲ شرح نہج البلاغہ ج۴ ص ۱۲


اسكى حكومت كو گرانے كے چكر ميں لگ گئے ، اے معاويہ تمہيں خلافت سے كيا سروكار ہے تم تو ازاد كردہ كے ازاد كئے ہوئے فرزند ہو(۶۲)

ان تمام ذلتوں اور رسوا ئيوں كا حامل اور فضيلت و منزلت سے كوسوں دور رہنے والا معاويہ كيسے حكومت كو خاندانى بنائے اور يہ تمام باتيں جو اسلام كى مشھور شخصيتوں نيز معاويہ كے ہم عصروں نے كہى ہيں اور اسكى سياہكارى اس حد تك پہونچى ہوئي تھى تو كيسے عائشه معاويہ كى صفائي پيش كر رہى ہيں كہ يہ حكومت ہے خدا جسے چاہے ديدے اگر چہ براہى كيوں نہ ہو ، جى ہاں ، اگر اس طرح كا بيان نہ ديتيں تو پھر اسلامى حكومت كا لباس معاويہ كے نا موزوں جسم پر كيسے اتا _

پھر اس حكومت كو معاويہ كيسے خاندانى بنائے كيونكہ اسلام معاشرے ميں صاحب عظمت و فضيلت افراد موجود ہيں اور ہم نے بيان بھى كيا ہے كہ اما حسن (ع) و حسين (ع) عليھما السلام جيسى شخصيتيں جو خاندان بنى ہاشم كى تمام بزرگيوں اور فضيلتوں كے وارث اور نواسئہ رسول (ص) نيز لوگوں ميں كافى محبوب تھے _

لہذا معاويہ نے يہ كام كيا كہ ايك طرف اپنى حكومت كے ستون كو مستحكم كيا ، دوسرى طرف اس حكومت كو موروثى بنانے كے لئے لوگوں كو خاندان رسول (ص) و ال على (ع) سے دور ركھا تاكہ لوگ اس سے اور اسكے خاندان كى طرف مائل ہونے لگيں ، اسى بناء پر معاويہ نے خاندان على (ع) و اصحاب رسول (ص) سے اتنى ہولناك جنگ لڑى جس كے خوف سے بچے بوڑھے ہو گئے اور مسلمانوں كے خون سے زمينيں رنگين ہو گئيں پھر انكى عورتوں كو اسير كر كے بازاروں ميں بيچا گيا _

معاويہ نے اس ہدف تك پہونچنے ميں كسى چيز سے دريغ نہيں كيا دولت ، ثروت، حيلہ سب كو اسى طرح استعمال كيا جس طرح اپنى حكومت كے سلسلہ ميں استعمال كيا تھا ، اور جسكے ذريعہ سادہ لوح افراد كو اپنى طرف كھينچا تھا وہ حيلہ قصاص خون عثمان كا تھا ، جس سے اس نے خوب فائدہ اٹھايا تھا _

____________________

۶۲_ اغانى ج۳ ص ۲۵ ، اصابہ ج۲ ص ۴۱


اپنے كرتوت پر جعلى حديثوں كا غلاف

معاويہ كے اس پرو پيگنڈے كے پيچھے دو اہداف پوشيدہ تھے _۱_ اس پروپيگنڈہ سے لوگوں كے ذہن و دماغ كو حقائق سے دور كر كے مسلمانوں كى تہذيب و تمدن كو چھين لے _۲_اپنى فكر كو جو عرب كى جہالت اور شام كے عيسائي تہذيب سے بھرى ہوئي تھى بيوقوف اور سادہ لوح مسلمانوں كے ذہن ميں بھر دے _

اس بحث ميں اپ ديكھيں گے كہ اس نے اپنى سياست كو كامياب بنانے كے لئے كن كن وسائل كا سہارا ليا تھا ، اور خاندان رسول (ص) محافظ اسلام و قران خاص طور سے حضرت على (ع) جو بے نظير فضائل و كمالات كے مالك تھے اور ان فضائل و كمالات كى وجہ سے لوگوں كے قلوب كو محو كئے تھے كس طرح داغدار كيا تھا اور جہاں تك ممكن ہوا ان كے فضائل و كمالات كو تحريف كيا ، پھر ان تحريف كئے ہوئے مطالب و مفاہيم كو مسلسل پروپيگنڈہ كے ذريعہ لوگوں كے دلوں ميں بٹھايا ، تاكہ سادہ لوح افراد اسلام و قران كے چشمہ زلال جو بعد رسول (ص) اہلبيت عليھم السلام تھے سے متنفر ہو جائيں _

طبر ى لكھتے ہيں :

معاويہ نے مغيرہ بن شعبہ كو كوفہ جانے سے پہلے اپنى خدمت ميں بلوايا اور اس سے كہا ، ميں چاہتا ہوں كہ تم سے كچھ باتيں كروں ليكن چونكہ تم كافى ذہين ہو لہذا اس بات كو چھوڑ ديتا ہوں ، مگر ايك بات جو تم سے كہنا بہت ضرورى ہے وہ يہ ہے كہ على (ع) كو برا بھلا كہنے سے كبھى نہ چوكنا اور ہميشہ عثمان كى اچھائيوں كو بيان كرنا ، دوسرى بات يہ ہے كہ شيعيان على (ع) كى عيب جوئي نيز ان لوگوں كو اذيت و تكليف دينے ميں كسى قسم كى رعايت نہ كرنا ، اور عثمان كے چاہنے والوں كے ساتھ اچھا سلوك كرنا _

مغيرہ نے كہا ، ہم اپنى ذات سے غافل نہيں ہيں اور اس سلسلہ ميں ميرا كافى تجربہ ہے اور بہت سارے امور كو انجام دے چكا ہوں ، اب تم ( معاويہ ) بھى مجھے ازما لو اگر ميرا كام پسند آيا تو ميرى تعريف كرنا ورنہ اس كام سے معزول كر دينا _

معاويہ نے كہا ، نہيں انشاء اللہ تمہارى تعريف ہى كروں گا(۶۳)

كتاب احداث ميں مدائنى نقل كرتے ہيں :

جب معاويہ تخت خلافت پر اگيا تو اپنے تمام حكمرانوں كو لكھا كہ جو بھى ابو تراب(ع) اور خاندان على (ع) كے فضائل كو بيان كرتا نظر آئے اسكو جان سے مار ڈالو اور اسكے مال و اسباب كو لوٹ لو _

____________________

۶۳_ طبرى ج۶ ص ۱۰۸ ، ابن اثير ج۳ ص ۲۰۲


اس دور ميں اہل كوفہ نيز شيعيان على (ع) زيادہ اذيت و تكليف ميں گرفتار ہوئے _

دوسرى مرتبہ امير شام معاويہ نے تمام شہر كے واليوں كو حكم ديا كہ ، محبان على (ع) اور انكے خاندان والوں كى كوئي گواہى قبول نہ كى جائے _

اور جو لوگ عثمان كے فضائل كو بيان كر رہے ہوں اور وہ لوگ تم لوگوں كى حكمرانى ميں زندگى گذار رہے ہوں انكو خوب اچھى طرح پہچان لو اور انكے ساتھ احترام و اكرام سے پيش ائو اور ان لوگوں كو اپنے نزديك جگہ دو نيز ان كے باپ اور خاندان كا نام لكھ كر ہمارے پاس روانہ كرو ، جيسے ہى يہ فرمان جارى ہوا تو ضمير فروش اور دنيا پرست لوگ حديثيں گڑھنے لگے اور عثمان كے فضائل اتنے گڑھے كہ ايك حديث كا انبار ہو گيا ، كيونكہ معاويہ نے دولت و ثروت اور فاخرہ لباس نيز جو كچھ ہاتھ ميں تھا ان سب كو اس راہ ميں بے دريغ خرچ كيا تھا _

نتيجہ يہ ہوا كہ جو بھى ضمير فروش معاويہ كے حكمرانوں كے پاس گيا عثمان كى مدح ميں ايك حديث بيان كردى تو ان كا مورد توجہ بن گيا اور اسكا نام لكھ ليا اسكے بعد حكومت كے كسى عہدے پر فائز كر ديا گيا ، معاويہ نے ايك مدت كے بعد اپنے حكمرانوں كو دوسرا دستور ديا كہ ، اب عثمان كے فضائل بہت زيادہ ہو گئے ہيں اور ان فضائل كا تمام شہروں ميں كافى پرچار بھى ہو گيا ہے ، لہذا تم لوگ خلفاء ثلاثہ اور فضائل صحابہ كے بارے ميں لوگوں سے اسى طرح حديثيں گڑھو ائو جس طرح ابو تراب كى فضيلت كے سلسلے ميں حديثيں ہيں _

ميرى نظر ميں يہ كام بہت اچھا رہے گا اور مجھے اس كام سے بہت تقويت ملے گى ، كيونكہ ابو تراب(ع) اور ان كے چاہنے والوں كے دلائل و براہين كى كاٹ كرنے كے لئے اس سے زيادہ بہتر كوئي اسلحہ نہيں رہے گا ، اور ان كے چاہنے والوں كو چڑہانے كے لئے فضائل عثمان ميں نقل كى گئيں حديثيں زيادہ مناسب رہيں گى _

معاويہ كا حكم لوگوں كو سنايا گيا جسكے نتيجہ ميں بہت سارى جھوٹى حديثيں معرض وجود ميں ائيں جس كا حقيقت سے كوئي واسطہ نہيں ہے _

اہستہ اہستہ ان احاديث كو بيوقوفوں نے منبروں سے بيان كرنا شروع كر ديا پھرمعلم مكتب نے بچوں كے حوالے كيا


انھوں نے ان حديثوں كو يا د كيا پھر ان بچوں سے نوجوانوں نے ليا اور اس طرح قران كريم كى طرح ان جھوٹى حديثوں كى تلاوت اور حفظ كيا جانے لگا ، پھر مردوں كى بزم سے ہوتى ہوئي عورتوں كے مكاتب و معاشرے ميں پہونچيں ، انھوں نے ان احاديث كو مسلمان لڑكيوں ميں پہونچايا اور ان لوگوں نے اپنے غلام و خادم كى خدمت ميں بيان كيا اسى طرح ايك مدت تك يہ حديثيں اسلامى معاشرے ميں گھومتى رہيں _

جس كا نتيجہ يہ ہوا كہ يہ جھوٹى حديثيں انے والى نسلوں كے لئے درد سر بن گئيں اور جس عالم و مفتى اور قاضى و حاكم نے ان جھوٹى حديثوں كو ديكھا اس پر يقين كر ليا(۶۴)

محدث بزرگ و مشہور عالم حديث ابن عرفہ نے اپنى تاريخ ميں ان مطالب كو ذكر كيا ہے جو مدائنى كے قول كى تصديق كرتى ہے ،يہ لكھتے ہيں :

اكثر جھوٹى حديثيں جو فضائل صحابہ كو بيان كرتى ہيں بنى اميہ كے زمانے ميں گڑھى گئي ہيں كيونكہ حديث سازوں نے اسكے ذريعہ خلافت كى مشينروں سے تقرب حاصل كرنے كے لئے ايسا كيا تھا اور امويوں نے ان جھوٹى حديثوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بات كى كوشش كى تھى كہ بنى ہاشم كے سر كو عالم اسلام ميں جھكا كر ركھ ديں(۶۵)

البتہ معاويہ نے صرف اپنى حكومت كے زمانے ميں حديث گڑھنے كا كارخانہ نہيں كھولا تھا ، بلكہ اس سے پہلے بھى اس كام كو انجام دے چكا تھا _

طبرى بيان كرتے ہيں :

جب امام (ع) كے صحابى اور حاكم مصر قيس بن سعد نے معاويہ كى پيشكش كو ٹھكرا ديا اور انكى طرف سے با لكل مايوس ہو گيا تو بہت پريشان ہوا لہذا معاويہ نے ايك حيلہ تيار كر كے اہل شام كو بلايا اور ان لوگوں سے كہا كہ قيس بن سعد نے ہمارى پيشنہادوں كو مان ليا ہے اور انھوں نے ہمارى مدد كرنے پر اپنى كمر باندھ لى ہے لہذا تم لوگ انكو دعائے خير دو ، پھر اپنى جيب سے ايك جھوٹا خط ا ن كى طرف سے نكالا اور اسكو لوگوں كے سامنے پڑھا جس ميں يہ تھا كہ _

بسم اللہ الرحمن الرحيم _ يہ خط ہے امير شام معاويہ بن ابو سفيان كے نام قيس بن سعد كى طرف سے ، اپ پر سلامتى ہو ،

____________________

۶۴_ شرح نہج البلاغہ ج۳ ص ۱۶

۶۵_ شرح نہج البلاغہ ص ۱۵ ، فجر الاسلام ص ۲۱۳


عثمان كا قتل عالم اسلام ميں بہت بڑا حادثہ ہے ميں نے بہت غور و فكر كيا تو اس نتيجے تك پہونچا كہ امام (ع) ( على (ع) ) كے متقى و پرہيز گار گروہ كے ساتھ جنھوں نے عثمان كو قتل كيا ہے نہيں رہونگا ، اور اپنے گذشتہ گناہ كى معافى و تلافى اپنے خدا كى بارگاہ ميں كرونگا ، خدا سے ميرى بس يہ دعا ہے كہ ميرے دين و ايمان كو سالم ركھے اگاہ ہو جائو كہ ہم ( قيس ) اج كے بعد تمھارے ( معاويہ ) كے ساتھ ہيں اور قتل عثمان كے سلسلہ ميں جنگ كرنے كے لئے تيار ہيں كيونكہ وہ خليفہ امت تھا جسكو موت كے گھاٹ اتار ديا گيا _

پس جتنا تمھيں دولت و ثروت نيز سپاہيوں كى ضرورت ہے اسكو ميرے پاس لكھ كر بھيجو ہم تمھارى ہر طريقے سے مدد و نصرت كرنے كے لئے امادہ ہيں ، امير ( معاويہ ) پر ہميشہ خدا كى نظر و كرم رہے(۶۶)

جى ہاں _ معاويہ ذرہ برابر جھوٹ بولنے سے خوف نہيں كھاتا تھا اور اپنى سياست كو كامياب بنانے كے لئے اس نے ان ہى چيزوں كا سہارا ليا ليكن جسوقت حكومت پر قبضہ كر ليا اور تمام سر زمين اسلامى كا حاكم بن گيا تو جعلى حديثوں كى زيادہ ضرورت محسوس ہوئي لہذا مجبور ہوا كہ ان ضمير فروشوں سے حديث بنوائے ، يہ جنگ سرد تھى مگر پروپيگنڈے كى جنگ تھى ، اسى لئے ہر ادمى بازى لے جانے كى فكر ميں تھا اگر چہ ايك گروہ كا جہاں فائدہ ہو رہا تھا اسى جگہ دوسرے گروہ كا بڑا نقصان ہو رہا تھا _

اس دور ميں كچھ ضمير فروش صحابہ كا گروہ جن ميں مغيرہ بن شعبہ ، عمر وعاص ، سمرة بن جندب ، اور ابو ہريرہ جيسے افراد جو ہميشہ مقام ودولت كے بھوكے تھے مگر دين و منزلت كے اعتبار سے كوئي خاص اہميت كے حامل نہ تھے ، معايہ سے جا ملے _

مشہور عالم اہلسنت ابن ابى الحديد معتزلى اپنے استاد ابو جعفر اسكافى سے نقل كرتا ہے معاويہ نے بعض صحابہ و تابعين كو خريدا تاكہ وہ على (ع) كو برا بھلا كہہ كر انكے دامن كو داغدار كريں ، اور لوگ ان سے متنفر ہو جائيں ، ان لوگوں كو معاويہ اچھى خاصى تنخواہيں ديتا تھا تاكہ يہ لوگ اپنے كاموں ميں تساہلى نہ برتيں ، ان لوگوں نے معاويہ كے كہنے پر حديثيں گڑھيں ، جن ميں صحابہ سے ابو ھريرہ ، عمر و عاص ، اور مغيرہ بن شعبہ جيسے افراد تھے اور تابعين سے عروہ بن زبير تھا _

زھرى بيان كرتے ہيں :

عروہ بن زبير نے معاويہ كے كہنے پر عائشه سے ايك حديث نقل كى كہ اپ ( عائشه ) نے كہا كہ ميں رسول (ص) كے ساتھ بيٹھى ہوئي تھى كہ _ عباس و على (ع) اتے ہوئے نظر آئے رسول(ص) خدا نے فرمايا اے عا ئشےہ يہ دونوں كافر مريں گے _

عبد الرزاق، معمر سے نقل كرتا ہے كہ زہرى كے پاس دو حديثيں تھيں جو عروہ نے عائشه سے بيان كى تھيں يہ دونوں حديثيں على (ع) كے بارے ميں ہيں _

____________________

۶۶_طبرى ج۵ ص ۲۳۰ ، نجوم الزاہرة ج۱ ص ۱۰۱


معمر كہتا ہے كہ ميں نے ايك روز زہرى سے ان حديثوں كے بارے ميں معلوم كيا تو اس نے جواب ديا كہ تمھيں ان حديثوں سے كيا كام ہے ، خدا بہتر جانتا ہے يہ دونوں حديثيں ہيں يا بنى ہاشم پر بہتان و الزام ہے _

ميں نے پہلى حديث عروہ سے اوپر بيان كى تھى اب دوسرى حديث ملاحظہ فرمايئے _

عروہ عائشه سے نقل كرتا ہے كہ ، ميں رسول (ص) كے پاس بيٹھى ہوئي تھى تو على (ع) و عباس اتے ہوئے نظر آئے رسول خدا (ص) نے فرمايا : اے عائشه _ اگر دو جھنمى كو ديكھنا چاہتى ہو تو ديكھ لو ، ميں نے كيا ديكھا كہ على (ع) و عباس ہيں(۶۷)

اسى قسم كى حديثيں جو عمر و عاص نے گڑھيں ہيں ، اسكو بخارى و مسلم نے اپنى كتابوں ميں نقل كيا ہے _

عمر و عاص كہتا ہے كہ ميں نے پيغمبر اكرم (ص) كو بآواز كہتے ہوئے سنا كہ ، ال ابو طالب ہمارے محبوں ميں نھيں ہيں ، بلكہ ہمارے اور خدا كے محب مومن و متقى لوگ ہيں(۶۸)

بخارى نے دوسرى روايت ميں مزيد يوں بيان كيا ہے: پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا _ ال ابو طالب ہمارے رشتہ داروں ميں سے ہيں اسى بناء پر ان سے صلہ رحم كرتا ہوں ، ليكن جو حديثيں ابوہريرہ نے معاويہ كے كہنے پر گڑھى ہيں اسكو اعمش نقل كرتا ہے _

جب صلح امام حسن (ع) كے بعد ابو ہريرہ معاويہ كے ہمراہ عراق آيا تو استقبال كرنے والوں كى بھيڑ ديكھى تو جا كر مسجد كوفہ ميں دو زانو ہو كر بيٹھ گيا ، پھر كئي مرتبہ اپنے چند ياپر ہاتھ پھيرا اور عرض كيا ، اے كوفے والو ، آيا تم لوگ چاہتے ہو كہ خدا و رسول پر بہتان لگا كر جھنم كا ايندھن بنوں _

خدا كى قسم ، ہم نے رسول(ص) خدا كو فرماتے ہوئے سنا ہے كہ ، ہر رسول (ص) كا ايك حرم ہے اور ميرا حرم مدينہ ميں كوہ عير اور كوہ ثور كے درميان ميں ہے _ جو بھى اس حرم ميں نا گوار واقعات پيدا كرے گا تو خدا اور ملائكہ اور تمام انسانوں كى اس شخص پر لعنت ہو گى _ پھر اضافہ كرتا ہے كہ _ ميں قسم كھاتا ہوں كہ اس سر زمين مقدس پر على (ع) نے فتنہ و اشوب بر پا كيا ، اس حديث كى خبر معاويہ تك پہونچى اس نے اس حديث كے گڑھنے كے اوپر مغيرہ كا خوب احترام كيا اور اسكے نتيجہ ميں اسكو واليء مدينہ بنا ديا _

مگر سمرہ بن جندب كے واقعے كو ابن ابى الحديد نے اپنے استاد ابو جعفر اسكافى سے يوں نقل كيا ہے :

معاويہ نے سمرہ بن جندب كے پاس ايك لاكھ درہم بھيجوايا تاكہ آيت'' و من الناس من يعجبك قوله من الحياة الد نيا و يشهد على ما قلبه وهو الد الخصام ''سورہ بقرہ آيت ۲۰۴

____________________

۶۷_ شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۲۵۸

۶۸_ صحيح بخارى ج۳ ص ۳۴


ترجمہ : انسانوں ميں ايسے لوگ بھى ہيں جنكى باتيں زندگانى دنيا ميں بھلى لگتى ہيں اور وہ اپنے دل كى باتوں پر خدا كو گواہ بناتے ہيں حالانكہ وہ بد ترين دشمن ہيں ، كو حضرت على (ع) سے منسوب كر دے اور'' و من الناس من يشرى نفسہ بتغاء مرضات اللہ واللّہ رئوف با العباد '' سورہ بقرہ آيت ۲۰۷كو جو حضرت على (ع) كى شان ميں نازل ہوئي تھى اسكے متعلق ايك حديث رسول (ص) سے منسوب كر كے امير المومنين كے قاتل ابن ملجم كے نام كر دے ، سمرہ بن جندب نے قبول نہيں كيا _

معاويہ نے مزيد دو لاكھ درہم بھجوائے پھر بھى قبول نہيں كيا ليكن جب معاملہ چار لاكھ درہم تك پہونچ گيا تب جا كر سمرہ بن جندب نے رسول اكرم (ص) سے جھوٹى حديث ان آيتوں كے سلسلے ميں گڑھى اور لوگوں سے بيان كيا(۱)

معاويہ كے مقابلے ميں بعض دليروں كا كردار

پرو پيگنڈے كى جنگ اتنى خطرناك تھى كہ ايمان كى اساس طوفان كے زد پر اكر فنا ہو رہى تھى ، اور بعض صحابہ و تابعين نے معاويہ كى آواز پر لبيك كہہ كر اپنا خوب پيٹ بھرا_

مملكت اسلامى كے با رسوخ افراد مسلمانوں كے بيت المال سے خريدے جانے لگے اور ان لوگوں كو خوب سونے اور چاندى كى تھيلياں دى جانے لگيں يا كسى حكومتى عہدے پر فائز كر ديا گيا ، مگر ايك چھوٹا سا گروہ تھا جس نے دين و شرافت كو مد نظر ركھتے ہوئے معاويہ كى ہونكارى نہيں بھرى تھى ، ان لوگوں كو اتنا ستايا گيا كہ انھوں نے اپنى جان و مال سب كچھ راہ خدا ميں قربان كر ديا _

جس كا نتيجہ يہ ہوا كہ ہزاروں جھوٹى حديثيں منظر عام پر اگئيں اور اسلامى معاشرہ تاريك ماحول ميں چلا گيا ، ان گڑھى ہوئي حديثوں كے ہوتے ہوئے كون انسان اسلام حقيقى كو پہچان سكتا تھا اور دوسرے يہ كہ وہ ہزاروں افراد جو متقى و پرہيزگار تھے وہ سختيوں كو جھيل كر موت كے دامن ميں سو چكے تھے _

ہم نے اس سے پہلے ان لوگوں كا تذكرہ كيا ہے جنھوں نے معاويہ كے دام فريب ميں اكر جھوٹى حديثيں گڑھيں كہ انہى ميں ايك سمرہ بن جندب ہے ، يہ وہ شخص ہے جو معاويہ كے اشارے پر ناچتا رہا جسكى وجہ سے اسكو بصرہ كى حكومت ملى تھى _

سمرہ كى اور سياہكاريوں كو چھوڑ كر صرف جو كوفہ ميں تباہياں اور قتل و غارتگرى كا اس نے بازار گرم كيا تھا ، اسكو طبرى يوں بيان كرتا ہے _

____________________

۱_شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۳۶۱


مشہور عالم ابن سيريں سے پوچھا گيا كہ سمرہ بن جندب نے كسى كو قتل كيا ہے يا نہيں سيرين نے جواب ديا ، تم لوگ سمرہ كے قتل كو شمار كر لو گے ؟

ايك مرتبہ زياد نے بصرہ ميں اپنا جا نشين بنا ديا تو چھہ مہينے كے اندر اس نے اٹھ ہزار بے گناہ مسلمانوں كو قتل كيا جن ميں پينتاليس افراد وہ تھے جو حافظان قران تھے(۲)

طبرى مزيد كہتا ہے ، جب معاويہ نے زياد كى جگہ سمرہ بن جندب كو چند مہينے تك حاكم بصرہ بنا كر معزول كر ديا تو اس نے كہا ، خدا معاويہ كو غارت كرے ، خدا كى قسم ، ميں نے جس طرح معاويہ كے حكم كو مانا تھا اگر اسى طرح اپنے پروردگار كى اطاعت كرتا تو ہرگز مستحق عذاب نہ ہوتا(۳)

انھيں ميں دوسرا ضمير فروش مغيرہ بن شعبہ تھا ، جس نے سات سال كچھ مہينے كوفہ پر حكومت كى اور ايك لمحہ بھى حضرت على (ع) اور قاتلان عثمان پر نفريں كئے بغير اور عثمان كے حق ميں دعا كئے بغير چين و سكون سے نہيں بيٹھا _

البتہ مغيرہ اپنى چالاكى و ذہانت كيوجہ سے حكومتى امور كو كبھى نرميت اور خاطر مدارات كے ذريعے تو كبھى سختى سے انجا م ديتا تھا _

طبرى لكھتے ہيں :

ايك روز مغيرہ بن شعبہ نے صحابى امام (ع) صعصہ بن صوحان سے كہا ، ذرا كان كھول كر سن لو ، ايسا نہ ہو كہ ايك دن تمھارى خبر عثمان كى بد گوئي كرتے ہوئے ميرے كانوں تك پہونچے ، اگر على (ع) كے فضائل كو بيان كرنا ہے تو علنى طور پر بيان نہ كرنا بلكہ مخفى مقام پر بيان كرنا جس طرح على (ع) كے فضائل تم جانتے ہو اسى طرح ميں بھى واقف ہوں ليكن كيا كروں حكومت اموى كى طرف سے ڈنڈا ہے كہ على (ع) كو برا بھلا كہو ، البتہ ميں نے اكثر مقامات پر ان امور ميں رو گردانى كى ہے مگر جہاں پر مجبور ہو جاتا ہوں تو اپنى محافظت كے لئے بعض جملے برائي كے كہہ ڈالتا ہوں ، اگر زياد ہ فضائل على (ع) كے بيان كرنے كا شوق ركھتے ہو تو اپنے قريبى رشتہ داروں كے گھروں ميں بيان كرنا مگر مسجد اور شاہراہ پر بيان كرنا ايك ايسا مسئلہ ہے جسكو خليفہ ( معاويہ ) برداشت نہيں كر سكتا ، اور نہ ہى اس سلسلے ميں ميرے عذر كو قبول كر سكتا ہے(۴)

____________________

۲_ طبرى ج۶ ص ۱۳۲ ، ابن اثير ج۳ ص ۱۸۹

۳_طبرى ج۶ ص ۱۶۴ ، ابن اثير ج۳ ص ۲۱۲

۴_طبرى ج۶ ص ۱۰۸


اخر ى فرد زياد بن ابيہ كى ہے جس نے معاويہ كے حكم كو نافذ كرنے ميں بہت مشكلات كا سامنا كيا ہے ، حجر اور انكے ساتھيوں كے ساتھ جو اس نے سلوك كيا تھا اسكو اپ نے ملاحظہ فرمايا ليكن اس وقت اسى واقعہ كى ايك كڑى جو زياد اور صيفى بن فسيل كے درميان آيا تھا اسكو بيان كر رہا ہوں _

ايك روز زياد نے صيفى كو بلوايا اور اس سے كہا ، اے دشمن خدا تم ابو تراب كے بارے ميں كيا كہتے ہو ، صيفى نے كہا ، ابو تراب كس كا نام ہے _

زياد نے كہا _ تمھيں نہيں معلوم ہے ارے تم اچھى طرح سے ان كو پہچانتے ہو _

صيفى نے كہا _ مجھے نہيں معلوم ہے _

زياد نے كہا _ على بن ابيطالب كا لقب ہے _

صيفى نے كہا _ اچھا وہ ہيں _

ايك طويل مدت تك ايسے ہى مكالمہ ہوتا رہا ، اخر زياد نے چھڑى منگوائي اور صيفى سے كہا كہ اب بتائو تمھارا على (ع) كے بارے ميں كيا خيال ہے _

صيفى نے كہا ، اس بندئہ خدا ميں جو خوبى ہو گى اسى كو بيان كرونگا _

زياد نے اپنے جلادوں سے كہا كہ اسكو اتنا مارو كہ انكى گردن ٹوٹ جائے ، ان لوگوں نے صيفى كى خوب پٹائي كى _

زياد نے پھر پوچھا ، اب على (ع) كے بارے ميں كيا كہتے ہو _

صيفى نے كہا خدا كى قسم ، اگر تم لوگ مجھے تلوار سے ٹكڑے ٹكڑے بھى كر دو گے تو وہى كہوں گا جو انكى خوبى كى علامت ہے _

زياد نے كہا _ اگر على (ع) پر نفرين نہيں كرو گے تو تمہارى گردن اڑا دو نگا _

صيفى نے جواب ديا _ تم ميرى گردن كو تن سے جدا كر سكتے ہو مگر جس چيز كو سننا چاہتے ہو اسكو ميرى زبان سے نہيں سن سكتے ہو ، ميں قتل ہو كر خوش نصيب بن جائو نگا اور تم قتل كر كے بدبخت ہو جائو گے _

يہ سننا تھا كہ زياد نے حكم ديا كہ اسكو زنجيروں ميں جكڑ كر قيد خانہ ميں ڈال ديا جائے اخر اس شخص ( صيفى ) كو بھى حجر اور انكے ساتھيوں كے ساتھ شھيد كر ديا گيا(۵)

____________________

۵_ طبرى ج۶ ص ۱۴۹ ، ابن اثير ج۳ ص ۲۰۴ ، اغانى ج ۱۶ ص ۷ ، ابن عساكر ج ۶ ص ۴۵۹


،واقعہ يہ ہے كہ زياد نے حضر موت كے اطراف سے دو ادميوں كو معاويہ كے پاس بھيجا اور اس نے خط ميں يہ لكھا كہ يہ لوگ دين على (ع) اور انكے چاہنے والے ہيں _

معاويہ نے جواب ديا _ جو بھى دين على (ع) اور انكى اطاعت ميں ہے انكو قتل كر كے ان كى لاشوں كو پا ئمال كر دو _

زياد نے ان دونوں محبان على (ع) كو كوفے كے دار الامارہ پر سولى ديدى(۶)

ايك دوسرا خط معاويہ كے پاس يہ لكھا كہ ايك قبيلہ خثعمى كے فرد نے ميرے سامنے على (ع) كى مدح سرائي كى ہے اور عثمان كو

برے الفاظ سے ياد كيا ہے ، اس سلسلہ ميں تمھارا حتمى فيصلہ كيا ہے _

معاويہ نے جواب ديا _ اس شخص كو زندہ در گور كر دو ، زياد نے يہ كام معاويہ كے كہنے پر انجام ديا كہ لوگ خوف و دہشت كے مارے فضائل على (ع) كو بيان نہ كر سكيں(۷) _

مورخين نے زياد كى تباہكاريوں كے سلسلے ميں بہت كچھ تحرير كيا ہے خود ابن عساكر لكھتا ہے ، ايك روز زياد نے تمام اہل كوفہ كو دعوت دى جب مسجد كوفہ لوگوں سے بھر گئي تو زياد نے اس جم غفير كو حكم ديا كہ تم لوگ على (ع) پر نفريں كرو(۸) _

مسعودى لكھتے ہيں :

زياد نے اہل كوفہ كو اپنے قصر ميں بلايا اور ان لوگوں سے كہا كہ تم لوگ على (ع) كو برا بھلا كہو اور اپنے مامورين سے جتا ديا كہ اگر كوئي شخص على (ع) پر نفرين كرنے سے كترائے تو اسكى گردن فوراً اڑا دو مگر خوش قسمتى يہ رہى كہ اسى وقت مرض طاعون ميں مبتلا ہو گيا اور اس دنيا سے مر كھپ گيا اس طرح اہل كوفہ نے چين و سكون كى سانس لى(۹)

____________________

۶_ المحبر ص ۴۷۹

۷_طبرى ج۶ ص ۱۶۰ ، ابن اثير ج۳ ص ۲۰۹ ، ا غانى ج ۱۶ ص ۱۰ ، ابن عساكر ج۲ ص ۳۷۹

۸_ ابن عساكر ج۲ ص ۵۱۷

۹_ مروج الذھب ج۳ ص ۳۰


عمرو بن حمق خزاعى كى ذات وہ تھى جن كا شماربہادروں ميں ہوتا تھا ، مگر حاكم كوفہ زياد نے انكے قتل كا فرمان جارى كر ديا تھا ، يہ امام عليہ السلام پر تبرا نہ بھيجنے كے ڈر سے جنگل ميں جا كر چھپ گئے ، ليكن حاكم كوفہ ( زياد ) كے ظالم سپاہيوں نے انكو چراغ كے ذريعہ ڈھونڈھنا شروع كيا اخر كار عراق كے تپتا صحراء كے ايك غار ميں انكو گرفتار كر ليا گيا اور حاكم كوفہ كى خدمت ميں پيش كيا گيا ، مگر عمر و بن حمق خزاعى نے امام (ع) كو كچھ نہ كہا جسكے بدلے ميں انكو زياد نے قتل كر ديا پھر انكے سر كو معاويہ كے پاس بھيجا اس نے حكم ديا كہ اس سر كو بازار ميں لٹكا ديا جائے تاكہ لوگ اس سر سے عبرت ليں _

چند دنوں بعد اس سر كو عمرو بن حمق كى بيوى كے پاس بھيجا گيا جو خود اسى محبت على (ع) كيوجہ سے قيد خانہ كى صعوبتوں كو برداشت كر رہى تھيں ، جب انھوں نے اپنے شوہر كے كٹے ہوئے سر كو ديكھا تو حسرت و ياس كے مارے يہ كہا ، كتنا زمانہ ہو گيا كہ تم لوگوں نے ميرے شوہر كو مجھ سے چھڑا ديا تھا ، ليكن اب اسكے سر كو ميرى خدمت ميں تحفہ بنا كر پيش كرتے ہو ارے يہ تحفہ بڑا قيمتى _(۱۰) _

بلاد اسلامى كے منبروں سے امير المومنين پر نفرين

امام عليہ السلام كے اصحاب كو صفحہ ہستى سے مٹانے كى كوشش اور جھوٹى حديثوں كے ذريعہ نيك كردار كو بد نام كرنا نيز بد كردار كو نيك كردار كرنے كى سازش يہ سارى كى سارى معاويہ كى سياست تھى جو تمام بلاد اسلامى ميں اگ كى طرح پھيل چكى تھى ، زياد بن ابيہ اور معاويہ كے ديگر حكمرانوں نے اس سياست كو تر ويج دينے ميں بہت مشكلات كا سامنا كيا تھا اور اس سلسلہ ميں مورخين نے ان حكمرانوں كى زيادتيوں اور تباہكاريوں كو بيان بھى كيا ہے _

يہ تمام تباہكارياں اور گندى سياست بنى اميہ كے دور ميں ديكھنے ميں اتى ہے ، كيونكہ ان لوگوں نے مسلمانوں كے ذہن و دماغ كو اسى لئے حقائق سے دور ركھا تھا تاكہ تمام بلاد اسلامى كے منبروں سے حضرت على (ع) كو برا بھلا كہا جائے اور صرف ايك سيستان كا صوبہ تھا جو معاويہ كے حكم كو نہيں مان رہا تھا اور ايك مرتبہ كے علاوہ اہل سيستان نے منبروں سے حضرت على (ع) كو برا بھلا نہيں كہا :

____________________

۱۰_ابن قتيبہ كى المعارف ص ۱۲۷ ، استيعاب ج۲ ص ۵۱۷ ، اصابہ ج۲ ص ۵۲۶ ، ابن كثير ج۸ ص ۴۸ ، المعبر ص ۴۹۰


اس ايك مرتبہ كے بعد سيستانيوں نے اموى اركان خلافت سے عہد و پيمان كيا كہ ہم كو حضرت امير المومنين (ع) پر نفرين كرنے سے باز ركھا جائے ، درانحاليكہ اسى زمانے ميں شہر اسلامى كے دو مقدس ترين شھروں ( مكہ و مدينہ ) ميں منبروں سے امام (ع) پر لعنت بھيجى جا رہى تھى(۱۱)

ضمير فروش خطيبوں نے خاندان علوى (ع) كے سامنے امام (ع) بزرگوار پر لعن و طعن كى تھى جنھيں مورخين نے نقل كئے ہيں ،ليكن ميں ان تمام واقعات كو چھوڑتے ہوئے صرف ايك واقعہ پيش كر رہا ہوں _

ايك مرتبہ عمر و بن عاص نے منبر سے حضرت على (ع) كو خوب برا بھلا كہا ، جب يہ اترگيا تو اسكے بعد مغيرہ بن شعبہ منبر پر اگيا اور اس نے بھى امام (ع) كے حق ميں نا زيبا كلمات زبان پر جارى كئے ، درانحاليكہ اس مجلس ميں حضرت امام حسن مجتبى (ع) موجود تھے ، حاضرين نے امام (ع) سے ان دونوں ( عمر و عاص، مغيرہ ) كا جواب دينے كے لئے كہا :

انحضرت (ص) نے ايك صورت ميں جواب دينے كى پيشكش كو قبول كيا كہ اگر ميں حق بات كہوں تو تم سب ميرى تصديق كرنا اور اگر نا حق بات كہوں تو ( العياذ باللہ ) ميرى تكذيب كرنا ، امام عليہ السلام اس عہد و پيمان كے بعد منبر پر گئے اور حمدالہى كے بعد عمر واور مغيرہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ ، تم دونوں سے خدا كى قسم ديكر پوچھتا ہوں كہ آيا تم دونوں بھول گئے ہو جو رسول (ص) نے مہار پكڑنے والے كو اور مركب ہنكانے والے كو نيز سوار پر لعنت بھيجى تھى جن ميں ايك فلاں شخص ( معاويہ ) تھا(۱۲) _

حاضرين نے كہا اپ سچ كہتے ہيں :

دوسرى مرتبہ پھر عمر و عاص و مغيرہ كو مخاطب كرتے ہوئے كہا :

ايا تم دونوں كو معلوم نہيں ہے جو پيغمبر اسلام (ص) نے عمر و عاص كے ہر شعركے بيت پر لعنت بھيجى تھى(۱۳) ، تمام لوگوں نے كہا خدا كى قسم اپ سچ كہتے ہيں(۱۴) _

____________________

۱۱_ياقوت حموى ج۵ ص ۳۸ مطبوعہ مصر

۱۲_ سوار ابو سفيان، مہار تھامنے والا يزيد بن ابو سفيان نيز ہنكانے والا معاويہ تھا اور پيغمبر اسلام (ص) نے ان تينوں پر لعنت بھيجى تھي

۱۳_ عمر و عاص نے عصر جاہليت ميں ايك قصيدہ رسول (ص) كى مذمت ميں كہا تھا انحضرت نے بد دعا كر كے خدا وند عالم سے درخواست كى كہ اسكے ہر بيت پر ايك لعنت بھيجے

۱۴_ تطہير اللسان ص۵۵


ليكن جو مومن اور اہلبيت عليہم السلام كے چاہنے والے تھے كبھى بھى خطبوں ميں نيز جس نشست ميں على (ع) كو برا بھلا كہا جاتا تھا اس ميں شريك نہيں ہوتے تھے ، اور قبل اسكے كہ خطبہ ديا جائے مسجد كو چھوڑ ديتے تھے _

يہى وجہ تھى جو معاويہ كے حكمرانوں نے حكم خدا و رسو ل(ص) كو بدل ديا تھا ، اور جس نماز ميں پہلے خطبہ تھا اسكو بعد ميں پڑھا گيا _

كتاب محلى ميں ابن حزم رقمطراز ہيں :

بنى اميہ كى حكومت ميں سب سے پہلے جو كام انجام ديا گيا وہ يہ تھا كہ خطبہ نماز كو نماز پر مقدم كر ديا گيا ، ان لوگوں نے اپنے نا مشروع فعل كى توجيہ و تاويل اس طرح كى كہ لوگ نماز ختم ہونے كے بعد چلے جاتے ہيں اور خطبہ كو نہيں سنتے ہيں _

ليكن حقيقت تو يہ ہے كہ ان لوگوں نے اتنا على (ع) كو برا بھلا كہا كہ نمازى اپنى نماز تمام كر كے مسجد سے بھاگ جاتے تھے اور مسلمان كا يہ فعل صحيح معنوں ميں درست و حق تھا(۱۵)

صحيح بخارى اور صحيح مسلم نيز حديث كى دوسرى معتبر كتابوں ميں ابو سعيد خدرى سے يوں نقل ہوا ہے _

ميں ( سعيد ) حاكم مدينہ مروان كے ساتھ عيد الاضحى يا عيد الفطر كى نماز عيد گاہ ميں پڑھنے گيا ، كثير بن صلت كے بنائے ہوئے منبر كے قريب جيسے ہى مروان پہونچا تو اس پر چڑھ گيا اور نماز سے پہلے خطبہ دے ڈالا ، ميں نے اسكو لاكھ روكا مگر وہ نہ مانا ، جب خطبہ ديكر مروان نيچے اترا تو ميں نے اس سے كہا كہ خدا كى قسم ، تم نے تو دين و شريعت كو بدل ڈالا ہے

مروان نے كہا ، اے ابو سعيد جن چيزوں كو تم بنام دين سمجھتے ہو وہ تمام كى تمام دنيا سے اٹھ گئي ہيں _

ابو سعيد نے كہا ، خدا كى قسم ، ان بدعتوں سے بھتر يہ تھا كہ كچھ جانتے ہى نہيں ، مروان نے كہا ، اگر نماز سے پہلے خطبہ نہ ديتے تو لوگ ميرے خطبے كو ہرگز نہيں سنتے اسى وجہ سے ميں نے نماز سے پہلے خطبہ ديديا ہے(۱۶)

____________________

۱۵_ محلى ج۵ ص ۱۸۶ ، امام شافعى ج۱ ص ۲۰۸

۱۶_بخارى ج۲ ص ۱۱۱ ، مسلم ج۳ ص ۲۰ ، سنن ابى داو د ج۱ ص ۱۷۸ ، ابن ماجہ ج۱ ص ۳۸۶ ، بيہقى ج۳ ص ۲۹۷ ، مسند احمد ج۳ ص ۲۰


بعض لوگوں كا لعنت سے گريز خلافت اموى كے حكام و مامورين نے صرف عام لوگوں سے حضرت على (ع) پر لعنت نہيں بھجوائي ، بلكہ اصحاب رسول (ص) جو اسلام كى معرفت ركھنے كيوجہ سے زيادہ مستحق پيروى تھے ان سے بھى كہا كہ ميرے حكم كو مانيں اور على (ع) پر لعنت بھيجيں _

سہل بن سعد كہتے ہيں :

ايك روز ال مروان(۱۷) كے ايك حاكم نے مدينہ ميں مجھے طلب كيا اور ہم سے كہا كہ تم على (ع) پر لعنت بھيجو ، ميں نے حاكم مدينہ كى بات كو ٹھكرا ديا _

حاكم نے كہا اچھا ابو تراب(ع) پر لعنت بھيج دو _

سہل نے كہا ، حضرت على (ع) كو سارے ناموں ميں سب سے زيادہ محبوب نام ابو تراب(ع) تھا اور جب لوگوں نے اس نام سے ياد كيا تو اپ بہت خوش ہوئے _

حاكم مدينہ نے كہا _ مجھے اس نام كى داستان سے مطلع كرو اور خوش ہونے كا سبب بتائو ، ميں نے كہا ايك مرتبہ پيغمبر(ص)

اسلام جناب سيدہ(ع) كے گھر تشريف لائے اور على (ع) كو وہاں موجود نہ پاكر اپنى بيٹى سے پوچھا كہ تمھارے چچا زاد بھائي كہا ں ہيں _

فاطمہ(ع) نے كہا كہ ميرے اور ان كے درميان تھوڑا سا سخت كلامى ہو گئي ہے اور اسكے بعد انھوں نے گھر ميں ارام نہيں كيا اور باہر چلے گئے _

انحضرت (ص) نے ايك شخص سے كہا كہ جا كر ديكھوكہ على (ع) كہا ں ہيں اس نے جب مسجد ميں حضرت على (ع) كو ليٹے ہوئے ديكھا تو رسول اكرم (ص) سے جا كر كہا كہ وہ مسجد ميں سو رہے ہيں ، جب رسول اكرم (ص) نے على (ع) كو خاك ميں اٹے ہوئے ديكھا تو بڑى مہر بانى سے انكے جسم سے خاك كو جھاڑا اور كہا ، اٹھو ابو تراب ، اٹھو ابو تراب(۱۸)

____________________

۱۷_مقصود مروان بن حكم ہو گا

۱۸_صحيح مسلم ج ۷ ص ۱۲۴


ابو تراب كے معنى مٹى كو دوست ركھنے والا ہے بنى اميہ نے يہ گمان كر ليا تھا كہ على (ع) كى يہ كيفييت ذليل و حقير ہے درانحاليكہ انكو يہ بھى نہ معلوم ہو سكا كہ يہ لقب خود على (ع) كے كمال كى دليل ہے جو اس طرح رسول (ص) اپ سے لطف و مہربانى سے پيش ارہے تھے ، ورنہ بنى اميہ لوگوں سے يہ نہ كہتے كہ ابو تراب(ع) پر لعنت بھيجو _

عامر بن سعد جو خود اس واقعہ كا چشم ديد گواہ ہے كہتا ہے :

ايك مرتبہ معاويہ نے ميرے باپ ( سعد ) كو اپنى خدمت ميں بلايا اور ان سے كہنے لگا كہ تم على (ع) كو برا بھلا كيوں نہيں كہتے ہو ؟

ميرے باپ نے جواب ديا كہ _ اے معاويہ جب تك مجھے يہ تين حديثيں ياد رہيں گى كبھى على (ع) كو برا بھلا نہيں كہہ سكتا ، اور رسول (ص) كى يہ حديثيں ميرى نظر ميں عرب كے سرخ رنگ كے اونٹوں سے زيادہ قيمتى ہيں _

۱_ جب رسول (ص) ايك جنگ ( تبوك ) ميں جا رہے تھے اور على (ع) كو ساتھ نہ لے گئے اور انكو شہر مدينہ كے منافقوں سے نپٹنے كے لئے چھوڑ ديا تھا تو اس وقت على (ع) نے بہت گريہ كيا اور انحضرت (ص) سے فرمايا : اے رسول(ص) خدا مجھے عورتوں اور بچوں كے درميان چھوڑ كر جاتے ہيں تو ميں نے اپنے كانوں سے رسول(ص) اكرم كو يہ فرماتے ہوئے سنا تھا ''اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الّا انه لا نبى بعدى ''

ترجمہ : آيا تم راضى نہيں ہو كہ تمھارا وہى مرتبہ ہے جو موسى كے لئے ہارون كا تھا فرق اتنا ہے كہ ميرے بعد كوئي نبى ہونے والا نہيں ہے _

۲_ دوسرى مرتبہ جنگ خيبر ميں كہتے ہوئے سنا تھا''لاعطينّ الراية غدا رجلا ً يحب الله و رسوله و يحبه الله و رسوله ''

ترجمہ : كل ميں اس مرد كو علم دوں گا جو خدا و رسول كو دوست ركھتا ہے اور خدا و رسول (ص) اسے دوست ركھتے ہيں ،ہم تمام لوگ گردنوں كو بلند كر كے رسول (ص) خدا كو ديكھنے لگے اپ (ص) نے فرمايا : على (ع) كہاں ہيں ؟


حاضرين ان كو بلانے كے لئے دوڑے جبكہ على (ع) كے انكھوں ميں شديد درد تھا وہ اسى حالت ميں پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں لائے گئے ، انحضرت (ص) نے ان كى انكھوں ميں اپنا لعاب دہن لگايا پھر علم جنگ انكے ہاتھوں ميں ديا جسكے بعد خدا وند عالم نے انكو فتحيابى سے ہمكنار كيا _

مجھے وہ بھى وقت ياد ہے جب يہ آيت نازل ہوئي تھى ،كہ''فقل تعالوا ندع ابنا ئنا الخ_

ترجمہ : پس ان سے كہو كہ ائو اس طرح فيصلہ كر ليں كہ ہم اپنے بيٹوں كو لاتے ہيں تم اپنے بيٹوں كو لائو ، پيغمبر(ص) اسلام نے على (ع) ، فاطمہ(ع) ، حسن(ع) ، حسين(ع) كو بلايا اور كہا ، اے ميرے مالك يہى ہمارے اہلبيت(ع) ہيں _

مسعودى سعد بن وقاص اور معاويہ كى ملاقات كو طبرى سے يوں نقل كرتا ہے _

جب معاويہ حج كرنے كے لئے مكہ آيا تو سعد بن وقاص سے طواف كعبہ كے وقت ملاقات ہوئي ، جب طواف كر چكا تو سعد كو ليكر دار الندوہ ( جو عصر جاہليت ميں بزرگان قريش كے اجتماع كى جگہ تھى ) آيا اور سعد سے كہا كہ تم على (ع) پر لعنت بھيجو ، معاويہ كى اس بات پر سعد كو اتنا غصہ آيا كہ اپنى جگہ سے كھڑے ہو گئے اور كہا :

اے معاويہ ، تو مجھے اسى لئے ليكر آيا ہے تاكہ على (ع) جيسے شخص پر لعن و طعن كروں خدا كى قسم ، اگر على كے فضائل و كمالات ميں سے ايك فضيلت ميرے اندر ہوتى تو دنيا كى تمام چيزوں سے زيادہ محبوب و قيمتى ہوتى(۱۹)

مسعودى نے اس واقعہ كو لكھنے كے بعد ايك عبارت پيش كى ہے جو اس واقعہ سے تھوڑا سا فرق ركھتى ہے_

سعد نے معاويہ سے كہا كہ ، خدا كى قسم ، جب تك زندہ رہو نگا تيرے گھر ميں قدم نہيں ركھوں گا يہ كہا اور اٹھ كھڑے ہوئے(۲۰)

ابن عبد ربہ اندلسى اپنى كتاب ميں لكھتے ہيں :

امام حسن (ع) مجتبى كى شہادت كے بعد معاويہ خليفہ بن كر مكہ حج كرنے گيا پھر مدينہ كى طرف رخ كيا اسكى اس سفر ميں يہ خواہش تھى كہ مسجد النبوى (ص) كے منبر سے على (ع) كو برا بھلا كہے_

____________________

۱۹_صحيح مسلم ج۷ ص ۱۲۰ ، ترمذى ج ۱۳ ص ۱۷۱ ، مستدرك ج۳ ص ۱۰۹ ، اصابہ ج۲ ص ۵۰۲

۲۰_مروج الذھب ج۳ ص ۲۴


معاويہ كے اطرافيوں نے اس سے كہا ، اس شہر ( مدينہ ) ميں فاتح ايران اور با عظمت صحابى سعد بن وقاص رہتے ہيں ، وہ اس كام كو ہرگز ہونے نہيں ديں گے لہذا بہتر يہى ہے كہ انكے پاس جا كر ان سے پوچھ ليا جائے _

مامورين معاويہ، سعد كے پاس گئے جيسے ہى انھوں نے سنا تو ان لوگوں سے كہا _ اگر اس كام كو انجام ديا گيا تو ياد ركھو جس مسجد كے در سے على (ع) كو برا بھلا كہا گيا اس در ميں ہرگز قدم نہيں ركھےں گے_

يہ بات اس وقت واضح ہوگى جب ہميں يہ معلوم ہو جائے كہ مدينہ ميں مسجد نبوى (ص) كے بارے ميں گفتگو ہوئي تھى يا كوئي اور مسجد تھى _

معاويہ سعد كے نفوذ كے سامنے مات كھا گيا اورجب تك وہ زندہ رہے معاويہ اس كام كو انجام نہ دے سكا _

ليكن جب سعد بن وقاص اس دنيا سے چلے گئے تو معاويہ نے مدينہ كے اندر بار ديگر سعى و كوشش كى اور امام على (ع) كو مسجد نبوى (ص) كے منبر سے گالى دي_

يہى وہ دور تھا جس ميں معاويہ نے اپنے تمام كارندوں كو خط لكھا اور حضرت على (ع) پر تمام بلاد اسلامى كے منبروں سے لعن و طعن كروائي _

زوجہ رسول (ص) ام سلمى نے كئي خطوط معاويہ كے پاس بھيجے جن ميں ان باتوں كو لكھا اے معاويہ ، تو تمام منبروں سے على (ع) اور انكے ساتھيوں پر نفرين كروا رہا ہے جبكہ يہ نفرين خدا و رسول (ص) پر ہو رہى ہے _

ميں قسم كھاتى ہوں كہ خدا اور پيغمبر(ص) اسلام اسكو دوست ركھتے تھے ، مگر ام سلمى كے خط نے كوئي خاص اثر معاويہ پر نہيں ڈالا


بلكہ اس نے ان خطوط كو ردى كى ٹوكرى ميں ڈال ديا تھا _(۲۱) _

معاويہ كا اخرى ہدف

جب بھى معاويہ اپنے حسب و نسب اور اپنے خاندان كے كرتوت پر (جو اسلام كے مقابلے ميں جنگ كى تھى )نظر دوڑاتا تھا تو شرم و حياء كے مارے اسكا سر جھك جاتا تھا اور يہ تمام چيزيں اسكى حيرانى و پريشانى كى باعث بن جاتى تھيں ، كيونكہ ايك طرف اسلام نے اس كو اور اسكے خاندان كو ضرب كارى لگا كر ذلت و رسوائي كے كھنڈر ميں ڈال ديا تھا _

دوسرى طرف اس كے ديرينہ رقيب بنى ہاشم شہرت كے فلك چہارم پر جا رہے تھے ، يہ تمام مشكلات اسكے ذہن و دماغ پر پہاڑ كى طرح بوجھ بنى ہوئي تھى ، جنكو ہلكا كرنے كے لئے اس نے اصحاب پيغمبر (ص) سے جنگ كى تھى _

ليكن ان تمام جنگوں ميں امير شام معاويہ كى يہى كوشش رہى كہ كہيں سے اپنے كينے كا اظہار نہ ہو كيونكہ ابھى حكومت نئي ہے ورنہ جان و مال خطرے ميں پڑ جائے گا ، ليكن جب ايك دن مغيرہ بن شعبہ كے ساتھ تنہائي ميں بيٹھا، چونكہ دونوں عصر جاہليت سے اپس ميں دوست تھے نيز سالہا سال دونوں سياہكاريوں و تباہكاريوں ميں ايك دوسرے كا ہاتھ بٹا رہے تھے تو معاويہ نے اپنى سياست كو فاش كر ديا _

كتاب الموفقيات ميں زبير بن بكار ، مطرف بن مغيرہ ، سے نقل كرتے ہيں ، ميں اپنے والد (مغيرہ ) كے ساتھ شام گيا ہم دونوں كا قيام معاويہ كے يہاں تھا ميرے والد ہر روز امير شام معاويہ كے پاس جا يا كرتے تھے اور جا كر گھنٹوں باتيں كيا كرتے تھے اور جب معاويہ كے پاس سے اتے تھے تو سارى باتوں كو بيان كرتے تھے _ايك دن معاويہ كے پاس سے آئے تو ميں نے كھانا حاضر كيا ، ليكن انھوں نے نہيں كھايا ، ميں اپنے دل ميں سوچنے لگا كہ كہيں ہم سے كوئي خطا تو سرزد نہيں ہو گئي ہے _

لہذا ميں نے اپنے باپ ( مغيرہ ) سے سوال كيا كہ اج كى شب اپ كيوں اتنا كبيدہ خاطر ہيں _

____________________

۲۱_عقد الفريد ج۳ ص ۱۲۷


ميرے باپ نے جواب ديا كہ ، اے ميرے لال ، اج ہم خبيث ترين و كافر ترين شخص كے پاس سے ارہے ہيں _

ميں نے پوچھا وہ كون ہے ؟

ميرے باپ نے كہا ارے وہى معاويہ ہے اج اسكى مجلس اغيار سے خالى تھى ، تو ميں نے اس سے كہا كہ اے امير المومنين اپ تو اپنے ہدف تك پہونچ گئے ہيں _

لہذا اس بوڑھاپے ميں عدل و انصاف سے كام ليجئے اور اپنے رشتہ داروں ( بنى ہاشم ) پر رحم و كرم كيجئے تاكہ لوگ اپكى تعريف و تمجيد كريں _

خدا كى قسم ، اب ان لوگوں سے كسى چيز كا خوف نہيں ہے _

اس پر معاويہ نے كہا ، جو كچھ تم نے كہا ہے بہت مشكل ہے ، ابو بكر تخت خلافت پر آئے عدل و انصاف كيا تمام زحمتوں كو برداشت كيا مگر خدا كى قسم ، ايك موذن بھى ان كا نام اذان ميں نہيں ليتا ہے _

عمر خليفہ بنے دس سال كى طويل مدت تك سختيوں كو جھيلا مرنے كے بعد كوئي بھى ان كا نام ليوا نہيں ہے _

اخر ميں ہمارے بھائي عثمان تخت خلافت پربرا جمان ہوئے جو نسب كے اعتبار سے كوئي بھى ان كا ہم پلہ نہيں ہے اور جو كچھ كرنا تھا انھوں نے انجام ديا ليكن ان كے ساتھ كيسا حادثہ پيش آيا جسكى وجہ سے مار ڈالے گئے ، مگر ان كا بھى كوئي نام نہيں ليتا ہے ، اور لوگوں نے انكى كار كردگى كو بالائے طاق ركھ ديا ہے درانحاليكہ اس مرد ہاشمى ( محمد(ص) ) كا نام موذن ہر روز پانچ مرتبہ تمام بلاد اسلامى كے گلدستہ اذان سے ليتا ہے كہ

اشھد ان محمد رسول(ص) اللہ_

اے مغيرہ تم ہى فيصلہ كرو كہ ايسى صورت ميں كون سا اچھا كام اور كس كا نام باقى رہ سكتا ہے _

خدا كى قسم ، جب تك اس نام كو نہ مٹادونگا اس وقت تك چين و سكون سے نہيں بيٹھوں گا(۲۲) رسول خدا (ص) كى شہرت

عامہ سے معاويہ كا سينہ اگ كى بھٹى ہو رہا تھا ( كيونكہ معاويہ كے بھائي ، ماموں اور دوسرے رشتہ داروں كو جنگ بدر ميں مارا تھا ) لہذا اس نام كو مٹانے كے لئے اس نے ان دو سياستوں انتخاب كيا ، اسكى پہلى سياست يہ تھى جس كا خلاصہ يہ ہے ، كہ بنى ہاشم كى ايك فرد بھى زمين پر زندہ نہ رہے يہ بات صرف ميں نہيں كہہ رہا ہوں ، بلكہ اسكى وضاحت خود مولائے

____________________

۲۲_مروج الذھب ج ۹ ص ۴۹ ، شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۴۶۳


كائنات امير المومنين (ع) نے بھى كى ہے كہ خدا كى قسم معاويہ چاہتا ہے كہ بنى ہاشم كى ايك فرد بھى روئے زمين پر باقى نہ رہے اور خدا كا نور بجھ جائے درانحاليكہ خدا وند عالم اپنے نور كو تمام عالم ميں پھيلا كر رہے گا چاہے كافروں كو برا ہى كيوں نہ لگے(۲۳)

معاويہ كى دوسرى سياست يہ تھى كہ بنى ہاشم كے نام و نشان كو صفحہ ہستى سے مٹا ديا جائے اسى لئے جھوٹى حديثوں اور سيرت و تاريخ كا ايك بڑا كارخانہ كھولا تاكہ ان كى منقصت كر كے كردار كو بد نام كر ديا جائے اور بنى اميہ كى فضيلت و منزلت كا پر چار كيا جائے ، يہى وجہ تھى كہ اس نے رسول (ص) كى لعنت والى حديث جو خود اسكے اور ابو سفيان يا خاندان اموى كى كسى ايك فرد جسيے عمر و بن عاص كے سلسلے ميں تھى كے مقابلے ميں رسول اسلام (ص) سے جھوٹى حديث منسوب كر كے لوگوں كے درميان پر چار كرائي كہ ، بارالہا ميں انسان ہوں _

اگر غصے كى حالت ميں كسى پر غلطى سے لعنت بھيجدى ہے يا اسكى مذمت كر دى ہے تو اس لعن و تشنيع كے بدلہ ميں اسكے گناہوں كو معاف كر دے تاكہ پاك و پاكيزہ ہو جائے _

ان جعلى حديثوں نے معاويہ كے حق ميں شمشير برّان كا كام كيا ، ايك طرف رسول اكرم (ص) نے جو كچھ ا س كے يا اس كے خاندان والوں كے سلسلے ميں كہا تھا جو حقيقت ميں سچ تھا ان حديثوں سے اس نے داغدار دامن كو پاك و صاف كر ليا _

دوسرى طرف پيغمبروں (ص) كو ايك معمولى انسان دكھايا كہ انھوں نے جو كچھ كہا تھا وہ سب غصے ميں كہا ، جبكہ اپ لوگ اچھى طرح سے جانتے ہيں كہ خدا وند عالم نے اپنے رسول(ص) كے اخلاق و كردار كى كتنى تعريف و تمجيد كى ہے ، اور انكو انك لعلى خلق عظيم سے ياد كيا ہے ، اور اپكے متعلق سورہ ال عمران ميں ارشاد فرمايا ہے ، ''فبما رحمة من اللہ لنت لھم ولو كنت فظا غليط القلب لا نفضوا من حولك ''نيز دوسرى جگہ كہا كہ ، انكى تمام باتيں وحى الہى كا سر چشمہ ہيں '' وما ينطق عن الھوى ان ھو الّا وحى يوحى '' سورہ نجم آيت۳_۳

معاويہ كى اس برى سياست كو ہر كس و نا كس نہيں سمجھ پايا تھا يہى وجہ تھى جو سادہ لوح افراد تھے اور وہ اپنى ذات سے بے بہرہ تھے اسكى آواز پر دوڑنے لگے ، اور معاويہ كى ہاں ميں ہاں ملانے لگے ، اور جو ضمير فروشوں نے اسكے حكم سے بناوٹى حديثيں تيار كى تھيں انھيں ہر جگہ بيان كرنے لگے اگر چہ معاويہ نے اپنے اندر ونى كينے كو لوگوں كے سامنے ظاہر نہيں كيا

____________________

۲۳_ مروج الذھب ج۳ ص ۲۸


ليكن اپنى نا پاك تمنائوں كو كھلے عام انجام ديا ہاں ،اس نے ايك طرف عثمان اور ان كے ہمراہيوں كا كھل كر ساتھ ديا_ اور دوسرى طرف على (ع) اور ان كے خاندان والوں نيز ان كے چاہنے والوں پر كہ جنھوں نے اس كى سياہكاريوں ميں ہاتھ نہيں بٹايا تھا ظلم و ستم كا پہاڑ ڈھايا ، اور كسى كو اذيت دى تو كسى كو قيد خانے ميں ڈلوايا تو كسى كو زندہ در گور كيا گيا ، ہمارى بحث كى محور ام المومنين عائشه كى ذات ہے كہ جس وقت انسانيت سولى پر چڑھائي جا رہى تھى اور شيعيان على (ع) كو شكنجوں اور قيد خانوں كى اذيتوں ميں مبتلا كيا جا رہا تھا اپ اسوقت بھى اركان حكومت اموى كى نظر ميں باعث صد احترام تھيں اور معاويہ نے جو امير المومنين (ع) سے جنگ كى تھى تو اس ميں بھى اپ نے معاويہ ہى كا ساتھ ديا تھا ،جب اپ حضرات نے يہاں تك ان كى كاركردگى كو ملاحظہ فرما ليا تو اس بات كو بھى ذہن نشين كر ليجئے كہ انھوں نے معاويہ كى جعلى حديثوں كے كار خانے ميں كتنا حصہ ليا ہے_

سعد بن ہشام نے حكيم بن افلح سے عائشه كے گھر جانے كو كہا ، اس نے كہا كہ ہم ان كے يہاں ہر گز نہيں جائيں گے ، ميں نے عائشه كو جب دو گروہوں (حزب علوى اور حزب عثمان ) ميں اختلاف چل رہا تھا تو ان كو مداخلت كرنے سے منع كيا ليكن انھوں نے ميرى بات نہيں مانى اور اپنى ڈگر پر چلتى رہيں(۲۴) يہ جو افلح نے عائشه كے بارے ميں كہا كہ حزب علوى (ع) اور حزب عثمان كے اختلاف ميں مداخلت كي، اس كا مطلب كيا ہے ؟

اپ نے پہلے ديكھا نيز ائندہ ملاحظہ فرمائيں گے كہ عائشه نے ان حالات ميں عثمان كے پارٹى كى خوب تعريف و تمجيد كى اور ان كے حق ميں رسول اسلام(ص) سے جھوٹى حديثوں كو منسوب كر كے بيان كيا تھا _

انھوں نے حزب علوى (ع) كى خدمت ميں يقيناً حديثيں گڑھى ہو نگى ، ان ہى باتوں كى وجہ سے حكيم افلح نے انكو منع كيا ليكن انھوں نے اسكى بات پر كان نہيں دھرا _

عائشه كى ايك حديث

احمد بن حنبل اپنى مسند ميں نعمان بن بشير سے نقل كرتے ہيں :

معاويہ نے مجھے ايك خط ديكر عائشه كے يہاں بھيجا ، ميں نے اس خط كو عائشه كى خدمت ميں پيش كيا تو اپ نے فرمايا ، اے ميرے لال ، ميں نے جو كچھ پيغمبر(ص) اسلام سے سنا ہے اس كو تم سے بيان نہ كروں ؟

___________________

۲۴_مسند احمد ج۶ ص ۵۶ ، تہذيب التہذيب ج۲ ص ۴۴۴


نعمان نے كہا ، ضرور بيان كيجئے :

عائشه نے كہا ، ايك روز ہم اور حفصہ رسول (ص) كى خدمت ميں بيٹھى ہوئي تھى كہ اپ(ص) نے فرمايا كہ كتنا اچھا ہوتا كہ كوئي بات كرنے والا اجاتا _

عائشه نے كہا اے رسول خدا (ص) ہم اپنے باپ ( ابو بكر ) كو بلا ديں

انحضرت (ص) نے كچھ جواب نہيں ديا

رسول (ص) نے بار ديگر اپنى خواہش بيان كى حفصہ نے كہا ہم اپنے باپ ( عمر )كو بلاديں حضور (ص) خاموش رہے _

اس كے بعد رسول اسلام (ص) نے ايك شخص كو بلايا اور چپكے سے اسكے كان ميں كچھ كہا وہ ادمى چلا گيا ، تھوڑى دير بعد عثمان اگئے ، انحضرت(ص) نے ان سے خوب باتيں كيں ، گفتگو كے درميان ميں نے سنا كہ حضور(ص) يہ فرما رہے ہيں _

اے عثمان ، عنقريب خدا وند متعال تمہارے جسم پر ايك لباس ( خلافت ) پہنانے والا ہے اگر لوگوں نے اس لباس كو تم سے چھيننے كى كوشش كى تو تم اسكو ہر گز نہ اتارنا _

رسول(ص) خدا نے اس فقرے كو تين بار دہرايا

نعمان بن بشير كہتا ہے كہ ميں نے كہا :

اے ام المومنين يہ حديث عثمان كى مخالفت كرتے وقت اور لوگوں كو انكے خلاف بھڑكاتے وقت ياد نہيں رہى تھى _

عائشه نے كہا اے نعمان ميں اسكو ايسا بھول گئي تھى گويا كبھى سنا ہى نہيں تھا(۲۵)

يہ واقعہ اس زمانہ ميں پيش آيا كہ خليفہ وقت معاويہ نے عائشه كو خط لكھا اور نعمان اس كو ليكر گيا اور يہ اس كا منتظر ہے كہ يہ

جواب ديں ايسے وقت ميں رسول (ص) كى ايك حديث عائشه كو ياد ائي ہے اور قاصد سے بيان فرمائي كہ رسول (ص) نے عثمان كے بارے ميں وصيت كى تھى كہ ائندہ كا خليفہ عثمان ہے پھر لباس خلافت كو ہرگز جسم سے نہ اتارنا _

غور طلب بات يہ ہے كہ اس خط سے حديث كا كيا ربط ہے ؟

ايا معاويہ نے اپنے خط ميں ان سے سفارش كى تھى كہ عثمان كا دفاع كريں ؟

__________________

۲۵_مسند احمد ج۶ ص ۱۴۹


يا يہ كہ جب قاصد امير شام معاويہ كے يہاں پلٹ كر جائے تو انكى حديث كو معاويہ سے بيان كرے ؟

يا كوئي دوسرى بات تھى ؟

ايا ممكن ہے كہ جو عائشه ايك طويل مدت تك عثمان سے جھگڑا كرتى رہيں اور لوگوں كو ان كے خلاف بھڑكاتى رہيں يا اسى قسم كى دوسرى باتيں جو معاويہ كے زمانے ميں پيش ائيں ، اور لوگوں سے بيان كيا تھا اسكى وجہ صرف اتنى ہے كہ معاويہ كے زمانے ميں عائشه ايك كنيز كى طرح زندگى گذار رہى تھيں _

اور جو كچھ جھوٹى حديثيں اپنے باپ يا عمر و طلحہ نيز خاندان كى فضيلت ميں بيان كى تھى اسكى وجہ يہ تھى كہ معاويہ كى حديث گڑھنے والى سياست كو كامياب بنا كر اس كو خوش كرنا تھا اور اس سلسلہ ميں انھوں نے اپنے رشتہ دار اور چاہنے والوں كے فضائل كو نشر كرنے ميں ايڑى چوٹى كا زور بھى لگايا تھا اسى لئے محاورہ بھى ہے كہ جسكو چوٹ لگتى ہے اسى كو درد ہوتا ہے '' ليست الثكلى المستاجرہ ''

ہم نے ان بحثوں ميں نہ كسى كے فضائل كو بڑھا چڑھا كر بيان كيا ہے اور نہ ہى ميرا مقصد كسى كى عيب جوئي كرنا تھا ، بلكہ ہمارا واحد ہدف يہ تھا كہ ان حديثوں كى جانچ پڑتال كى جائے جو رسول اسلام (ص) سے جھوٹ منسوب كر كے بيان كى گئي ہيں جسكو انشاء اللہ اس كتاب كى اخرى بحث ميں ملاحظہ فرمائيں گے _

تحقيق اور نتيجہ

ہم نے اس سے پہلے زندگانى عائشه كى اچھى طرح تحقيق كى تاكہ ان كى سياسى و اجتماعى اور معاشراتى كارناموں كے ساتھ انكے اغراض و مقاصد سامنے اجائيں ، اب اس كے پس منظر ميں ان چيزوں كو پيش كروں گا كہ وہ كون سى چيز باعث بنى جنھوں نے حديث نقل كرنے پر بر انگيختہ كيا تھا _

اگر اس كا خلاصہ كيا جائے تو يہ ہو گا كہ ، عائشه ايك تيز طرار عورت كے ساتھ ساتھ ايك بہترين خطيبہ تھيں جس كے ذريعہ عالم و جاہل سب كے افكار و قلوب كو جذب كر ليتى تھيں ، ايك بہترين سياستدان تھيں جس كى وجہ سے لشكر عظيم كو كنٹرول كر ليتى تھيں ، ان كا عوام ميں اتنا اثر و رسوخ تھا كہ ايك اشارے پر لوگوں كو خليفہ وقت كے خلاف ايسا بھڑكا ديا كہ انھوں نے اسكى بساط حكومت كو پلٹ ديا _


عائشه جاہ و حشم كى بھوكى عورت كا نام ہے جس كو حاصل كرنے ميں كسى چيز سے خوف نہيں كھايا تھا ، بلكہ كسى نہ كسى طرح اس كو حاصل كر كے رہيں ، انھوں نے اپنے چاہنے والوں كے ساتھ اتنا مہربانى كى كہ حد سے اگے بڑھ گئيں _

اپنے خاندان اور اپنے مخالفوں كى نسبت اتنى كينہ توز تھيں كہ ان كے دشمنوں سے مرنے مارنے پر اجاتى تھيں ، المختصر يہ كہ ايسى عورت تاريخ ميں ڈھونڈھنے سے بھى نہ ملے گى ، اگر كوئي بات اپنے خاندان يا چاہنے والوں كے حق ميں كہہ دى تو وہ سب كے زبان پر چڑھ جاتى تھى ، اور تاريخ كے صفحات ميں زندہ جاويد ہو جاتى تھى تاكہ لوگوں كے لئے مشعل راہ بن جائے اور انے والى پيڑياں انكى معرفت و شہرت سے پہچان ليں _

اگر كوئي بات اپنے دشمنوں كو شكست دينے كے لئے بيان كر دى تو تاريخ نے ہميشہ كےلئے اپنے دامن ميں جگہ ديدى ، يا يوں كہوں كہ اگر اس نے كسى كى حمايت يا مخالفت ميں كوئي بات كسى سے كہہ ڈالى تو يہ بات مسافروں و كاردانوں كے ذريعہ ايك دوسرے تك پہونچ جاتى تھى اور لوگ اس كو حديث سمجھ كر ايك شہر سے دوسرے شہر تحفہ سمجھ كرلے جاتے تھے اخر ميں يہ باتيں كتابوں ميں منتقل ہو گئيں اور انے والى نسلوں نے ان باتوں كو حديث كا نام دے ديا _

يہ تمام باتيں خود ام المومنين عائشه كى عظمت و منزلت كى بڑى دليليں ہيں ، ہم نے جب عائشه كے چہرے كو تاريخ كى حقيقت ميں ديكھا اور جن لوگوں نے ان كى ذات كو عظمت كے سانچے ميں ڈھال كے پيش كيا تو ان دونوں ميں بہت


فرق پايا ، ليكن جن لوگوں نے ان كى عظمتوں كا گيت گايا ہے ان سے ميرى ايك درخواست ہے كہ عائشه كے بطن سے ايك رسول (ص) كا بيٹا دكھا ديجئے ، البتہ يہ دونوں فضيلتيں حقيقت سے كوسوں دور ہيں _

ہميں صدر اسلام كى شخصيتوں كى اپنى طرف سے تعريف نہيں كرنى چاہيئے ، كيونكہ ايسى صورت ميں مدح و ثنا ء ايك خيالى ہو كر رہ جائيگى جسكى كوئي حيثيت نہيں ہے ، ہمارى پيش كى ہوئي سارى باتيں حقيقت سے تعلق ركھتى ہيں _

زندگانى عائشه كى تحقيق كا مقصد ہم نے بارہا كہا اور اخر ميں پھر كہتا ہوں كہ ام المومنين عائشه نے اپنے مقاصد تك پہونچنے كے لئے دو زبردست چيزوں كا سہارا ليا تھا _

۱_ عائشه نے اپنى پورى زندگى ميں زوجہء رسول (ص) نيز ام المومنين كے لقب كا سہارا ليا اور اس سے اپنى طرف لوگوں كى توجہ مبذول كروائي ، اور اس موثر حربے كو استعمال كر كے اپنے مخالفوں كى زد و كوب كى اور اپنے چاہنے والوں كى ہمت افزائي كى _

۲_ وقت كى نزاكت كو ديكھتے ہوئے پيغمبر(ص) اسلام سے ان كى حديث نقل كى ، يا اپنى قابليت جھاڑنے كے لئے زوجيت كا فائدہ اٹھا كر جھوٹى حديثيں گڑھيں ، عائشه نے جن جگہوں پر رسول (ص) كى بيوى ہونے كے ناطے فائدہ اٹھايا ہے اس كو اس مختصر بحث ميں بيان كرنا بہت مشكل ہے ، ليكن نمونے كے طور پر دو تين حديثيں پيش كر رہا ہوں _

۱_ مسلم اپنى صحيح ميں نقل كرتے ہيں :

عائشه فرماتى ہيں : جب رسول خدا (ص) بستر مرگ پر تھے تو انھوں نے ہم سے فرمايا:

اے عائشه _ اپنے باپ ( ابو بكر )اور بھائي كو بلا لائو تاكہ ايك وصيت لكھدوں كيونكہ مجھے ڈر ہے كہ كہيں لوگ ارزو نہ كرنے لگيں اور كہنے والے يہ نہ كہنے لگيں كہ ميں خلافت كا زيادہ مستحق تھا ، درانحاليكہ ، خدا اور مومنين ابو بكر ہى كو چاہتے ہيں _

۲_ صحيح بخارى ميں ہے كہ : عائشه فرماتى ہيں ، جب رسول خدا (ص) پر مرض نے شدت پكڑلى تو عبد الرحمن بن ابو بكر سے فرمايا : ہڈى يا كوئي تختى لے ائو تاكہ ميں ابو بكر كے حق ميں نوشتہ لكھدوں تاكہ ميرے بعد كوئي اس ( ابوبكر ) سے خلافت كے


سلسلے ميں جھگڑا كرنے نہ لگے ، عبد الرحمن ادھر تختى وغيرہ لينے گئے تو پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا :اے ابو بكر خدا اور مومنين تمھارے سلسلہ ميں تھوڑا سا بھى اختلاف نہيں ركھتے ہيں _

اپ نے ديكھا كہ عائشه نے ان دو حديثوں سے اپنے باپ كى حكومت و خلافت كو رسول (ص) كى بيمارى سے ملتے جلتے واقعات سے كس طرح ثابت كر ديا اور اپنے باپ كى خلافت كے لئے دو دليليں پيش كر ديں _

۳_ جب عائشه كے روابط عثمان سے مسالمت اميز تھے تو ان كى خوب مدد كى اور ان كى حكومت كى حمايت ميں بولتى رہيں ، اور زوجيت رسول (ص) سے فائدہ اٹھا تے ہوئے عثمان كے حق ميں ايك حديث بھى گڑھ ڈالى تھى ، جس كو صحيح مسلم نے عائشه سے نقل كيا ہے كہ :

ميں رسول (ص) كے ساتھ ايك چادر ميں ارام كر رہى تھى كہ ابو بكر اگئے ، پيغمبر(ص) اسلام نے انكو اندر بلا ليا ، پھر تھوڑى دير بعد عمر بن خطاب چلے آئے رسول(ص) اسلام نے انكو بھى اسى حالت ميں بلاليا ; ليكن جب حضرت عثمان آئے تو رسول خدا (ص) چادر سے باہر اگئے پھر عثمان كو گھر ميں بلايا ، جب عثمان چلے گئے تو ميں نے رسول(ص) اسلام سے سوال كيا كہ يا رسول(ص) اللہ جب ابو بكر اور عمر آئے تو اپ چادر كے اندر ليٹے رہے ليكن جب عثمان آئے تو اپنے كو چادر سے باہر كر ليا ، اس ميں كيا راز ہے ، پيغمبر(ص) اسلام نے فرمايا : چونكہ عثمان ايك شرم و حيا كا پيكر ہے لہذا ميں ڈرا كہ اگر اسى حالت ميں عثمان سے ملاقات كر ليتا تو وہ شدت شرم سے مجھ سے بات نہ كر پاتا _

۴_ صحيح مسلم نے اسى حديث كو دوسرى طرح سے عائشه كا يوں بيان نقل كيا ہے:

ايك دن پيغمبر(ص) اسلام ميرے ساتھ چادر اوڑھے ليٹے ہوئے تھے ، جيسے ہى عثمان آئے تو رسول (ص) نے مجھ سے كہا اے عائشه تم اپنا لباس وغيرہ ٹھيك كر لو ، ميں نے كہا ، يا رسول(ص) اللہ ، ابو بكر اور عمر كے انے پر اپ نے مجھ سے لباس ٹھيك كرنے كو نہيں كہا ليكن جب عثمان آئے تو اپنے ہوش و حواس كو كھو ديا نيز ان سے ملاقات كرنے كے لئے اپنے جسم پر لباس بھى پہن ليا _


۵_ صحيح مسلم ميں دوسرى روايت يوں نقل ہوئي ہے _

عائشه كہتى ہيں ، جيسے ہى ميں نے رسول خدا (ص) سے پوچھا تو اپ (ص) نے فرمايا : اے عائشه ، ميں عثمان سے حيا كيوں نہ كروں اور اسكا احترام كيوں نہ بجالائوں ، خدا كى قسم _ عثمان كے شرم كے اگے فرشتوں كے سر جھك جاتے ہيں _

عائشه نے رسول (ص) كى بيوى ہونے كے ناطے حكومت عثمان كى خوب حمايت كى ليكن زيادہ دن نہيں گذرا كہ اسى زوجيت رسول كے ذريعہ انكو شكست دينے كى ٹھان لى تھى ، اور حكومت عثمان كا تختہ الٹنے كے لئے رسول(ص) كا كرتہ ليكر مسجد ميں چلى ائيں اور انكے خلاف تقرير كى _

اے مسلمانو يہ پيراہن رسول (ص) ہے ابھى كہنہ نہيں ہوا ہے ليكن عثمان نے انكى سنت كو بدل كرفرسودہ بنا ڈالا ہے _

ايك مرتبہ حكومت عثمان كو الٹنے كے لئے پيغمبر(ص) اسلام كى نعلين مبارك ليكر مسجد ميں اگئيں _ اور تيسرى مرتبہ رسول (ص) كي داڑھى كے بال كو لوگوں كى خدمت ميں پيش كيا ، ان واقعات سے اپ نے ملاحظہ فرمايا كہ عائشه نے عثمان كے خلاف كبھى رسول(ص) كى نعلين مبارك تو كبھى داڑھى كے بال تو كبھى پيراہن رسول (ص) كے ذريعہ انكى حكومت كو گرانے كى كوشش كى تھى ، اور ان تمام چيزوں سے لوگوں كے جذبات و احساسات سے كھيلنا چاہا ، كيونكہ روابط خراب ہونے كے بعد عائشه كے اغراض و مقاصد دوسرے تھے جو زوجيت رسول (ص) سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنى چال چل رہى تھيں _


قتل عثمان كے بعد تاريخ كے صفحات پلٹے تو ان پرانى باتوں كو بالكل بھول گئيں اور بار ديگر انكے فضائل كو بيان كرنے ميں جٹ گئيں اور زوجيت رسول (ص) سے اس ميدان ميں بھى خوب فائدہ اٹھايا كيونكہ اس وقت انكے اغراض و مقاصد اور سياست دوسرى تھى _

۶_ جب معاويہ نے تمام حكمرانوں كو يہ حكم ديديا تھا كہ عثمان كى تعريف كى جائے اور انكے فضائل و كمال كو بيان كرنے كے لئے جھوٹى حديث كا كار خانہ كھول ديا جائے تو اس وقت عائشه فرستادہ معاويہ سے عثمان كے سلسلہ ميں ايك شگفت اميز حديث نقل كرتى ہيں كہ رسول (ص) نے ايك مصاحب كى خواہش كى تو ميں نے اپنے باپ ( ابو بكر ) كو پيش كيا حفصہ نے اپنے باپ ( عمر ) كو بڑھايا ، ليكن پيغمبر(ص) اسلام نے ہم دونوں كى پيشنہادوں كو ٹھكرا ديا ، پھر ايك شخص كو بلايا اور اہستہ سے كچھ اس كے كان ميں كہا ، تھوڑى دير بعد عثمان گھر ميں اگئے تو رسول(ص) خدا نے ان سے خوب باتيں كيں اور ميں نے خود سنا ہے كہ اپ(ص) نے فرمايا تھا ، اے عثمان خدا وند عالم عنقريب تمہارے جسم پر ايك لباس ( خلافت ) پہنانے والا ہے ، اگر لوگ اس پيراہن كو اتارنے كى كوشش كريں تو تم ہرگز نہ اتارنا _

۷_ عائشه نے مسئلہ رضاعت ميں اپنى خاص رائے پيش كى اور كہنے لگيں ، پانچ مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعى محرميت پيدا ہو جاتى ہے اور اپنى بہنوں اور عورتوں كو اس كا حكم ديا تھا ، اور اس اكلوتے فتوے سے فائدہ يہ اٹھانا چاہتى تھيں كہ جو


لوگ معاشرے ميں با رسوخ ہيں وہ انكے پاس ائيں جائيں اسى بنا پر اس شرعى بہانے كو تلاش كيا تاكہ لوگ ان پر كوئي انگلى نہ اٹھا سكيں ، مگر ديگر ازواج رسول (ص) نے ان پر اعتراض كر ديا اور كہنے لگيں رضاعت اس وقت محقق ہو گى جب طبق معمول انجام دى جائے نہ كہ پانچ يا دس بار دودھ دينے سے پيدا ہو گى _

عائشه نے كہا ، جب ايہ الكبير عشرا رسول پر نازل ہوئي كہ دس بار دودھ پلانے سے پردہ ساقط ہو جاتا ہے تو اسكو ايك پتے پر لكھ كر تخت كے نيچے ركھ ديا تھا ليكن جب رسول (ص) بيمار ہو گئے اور ہم لوگ انكى تيمار دارى ميں لگے ہوئے تھے تو ايك بكرى گھس گئي اور وہ پتے كو كھا گئي(۲۶)

صحيح مسلم ميں جو دوسرى روايت عائشه سے نقل ہوئي ہے وہ يہ ھيكہ ، قران ميں يہ آيت ( عشر رضعات يحرمن ) رسول كے زمانے ميں موجودتھى پھر يہ آيت ( خمسون معلومات ) سے منسوخ كر دى گئي ، پھر عائشه تعليقہ لگاتى ہيں كہ ، جب رسول (ص) اس دنيا سے چلے گئے تو يہ قران ميں تھى اور لوگ اسكى تلاوت بھى كرتے تھے(۲۷)

ام المومنين عائشه كے كہنے كا مطلب يہ ہے كہ پانچ مرتبہ دودھ پلانے سے محرميت پيدا ہو جائے گى ، اور ميرے فتوے كى دليل قران كى آيت تھى اور اس آيت كى رسول (ص) كے زمانے ميں تلاوت بھى ہوئي ليكن اس كے بعد اس آيت كو بھلا ديا گيا(۲۸)

اپ نے چند حديثيں ملاحظہ فرمائيں يہ سارى كى سارى نمونہ تھيں جو عائشه نے زوجيت رسول(ص) سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گڑھى تھيں اور معاشرے كو تحفے ميں پيش كى تھيں اگر اپ ان كى حديثوں كى چھان بين كريں گے تو ديكھيں گے كہ ازواج پيغمبر(ص) ميں سے كسى اور نے ان كى روايت نہيں كى ہے اور انھيں كى جعلى حديثوں كى وجہ سے اج پيغمبر(ص) اسلام كا چمكتا ہوا چہرہ دھندلا نظر ارہا ہے ، اور ان ہى حديثوں نے انحضرت(ص) كو ايك معمولى انسان بنا ديا ہے _

تعجب كى بات تو يہ ہے كہ اس زمانے سے ليكر اج تك تمام مسلمان ( سوائے شيعوں كے ) رسول اكرم (ص) كى سيرت و

_____________________

۲۶_مسند احمد ص ۲۶۹ ، سنن ابن ماجہ كتاب نكاح حديث نمبر ۱۹۴۴

۲۷_ صحيح مسلم كتاب رضاع ص۱۰۷۵

۲۸_ تعجب كى بات يہ ھيكہ عائشےہ كى دس مرتبہ دودھ پلانے والى آيت بكرى كھا گئي ليكن پانچ مرتبہ والى آيت كے سلسلے ميں كچھ نہيں كہا آيا اسكو بھى جانور نے كھا ليا تھا يا كوئي اور مصيبت ٹوٹ پڑى تھى ؟انا لله و انا اليه راجعون


حيات كو عائشه ہى كى روايتوں ميں تلاش كرتے ہيں _

يہ مسئلہ غور طلب ہے كہ پيغمبر(ص) اسلام كى واقعى شخصيت ايك مسلمان سے ڈھكى چھپى رہے كيونكہ حاكمان وقت كى يہى كوشش تھى كہ اگر رسول (ص) كى معرفت ہو تو ام المومنين عائشه كى حديثوں سے ہواور اس ميں كسى دوسرے كا دخل نہ ہو _

جبكہ اپ حضرات نے ديكھا كہ ان جھوٹى حديثوں نے كس طرح رسول (ص) اسلام كى حقيقى شخصيت كو مجروح كر كے بالكل نيست و نابود كر ديا ہے _

ان تمام باتوں كے كہنے كا مطلب يہ ہے كہ اگر رسول(ص) اسلام كى ذات كو پہچاننا ہے تو سب سے پہلے ضرورت اس بات كى ہے عائشه كى حديثوں كو كھنگالا جائے تب جا كر رسول(ص) كے چہرے سے تاريك و تحريف كے ضخيم پردے خود بخود اٹھ جائينگے ، اور يہ بھى جان ليجئے كہ اسلام حقيقى كى شناخت موقوف ہے رسول (ص) اسلام كى واقعى ذات پر _

اسى لئے ميں نے اس كتاب ميں عائشه كى زندگى كو تاريخ كے ائينے سے پيش كيا ہے اور انشا اللہ پھر انكى حديثوں كى چھان بين كروں گا _

اس تحقيق كى راہ ميں تمام عائشه كے چاہنے والوں سے معافى مانگتے ہيں اور مجھے اميد ہے كہ وہ لوگ مجھے معاف بھى كر ديں گے كيونكہ ميرا ہدف صرف اتنا تھا كہ رسول(ص) خدا، دين اور قوانين الہى كى صحيح معرفت ہو جائے اسى لئے ہم نے اس خارداروادى ميں قدم ركھا ہے ، تاكہ اسكے ذريعے دين كى كوئي خدمت ہو جائے _

ہم نے اس كتاب ميں پہلى فصل ميں زندگانى عائشه كى جانچ پڑتال كى ہے اور فصل دوم ميں انكى احاديث كو ملاحظہ فرمائيں گے ، بس خدا سے يہ دعا ہے كہ وہ ميرى اس خدمت كو قبول كرلے _


ايك حديث كے سلسلے ميں علماء اہلسنت كى توجيہيں :

اس بحث كے اخر ميں بہتر يہ ہے كہ تھوڑا سا اس حديث كے سلسلے ميں جس كا ميں نے پہلے وعدہ بھى كيا تھا چھان بين كر ليا جائے ، اور جو علماء اہلسنت نے اس حديث كے سلسلے ميں تاويليں كر كے اس سے مطابقت كرنے كى ايڑى چوٹى كا زور لگايا ہے اس كو ملاحظہ فرما ليجئے _

ايك حديث صحيح مسلم كے اندر يوں نقل ہوئي ہے

رسول اسلام (ص) نے فرمايا : ميرا حرم مدينہ ميں كوہ ثور سے ليكر كوہ عيريا عاير تك ہے(۲۹)

اس كے ذريعہ راويوں نے زور لگاكر مكہ كى طرح مدينہ ميں بھى حرم و حدود حرم كو بيان كيا ہے ، ليكن اس كام كو كر كے بہت بڑى غلطى كى ہے ، كيونكہ ايك حرم كى حد كوہ ثور كو بنايا ، درانحاليكہ كوہ ثور مكہ ميں ہے جس ميں پيغمبر(ص) اسلام ہجرت كرتے وقت اسى پہاڑ كے غار ميں چھپے تھے(۳۰) اور مدينہ كے اندر اس نام كا كوئي پہاڑ نہيں ہے ، جيسا كہ بزرگ دانشوروں نے اسكى وضاحت بھى كى ہے جن ميں چند يہ ہيں _

۱_ مصيب زبيرى جو مدينہ كے رہنے والے تھے اور وہاں كے بہت بڑے عالم دين تھے انھوں نے ۳۶ھ ميں وفات پائي ، وہ اس حديث كے ذيل ميں كہتے ہيں كہ كوہ ثور مدينہ ميں نہيں ہے(۳۱)

۲_ علامہ شہير ابو عبيد قاسم بن سلام متوفى ۲۲۴ھ لكھتے ہيں كہ ، يہ روايت اہل عراق كى ہے اور مدينہ والے ثور نام كے پہاڑ كو نہيں جانتے ہيں كوہ ثور مكہ ميں ہے ، ميرا گمان يہ ھيكہ اس حديث ميں در اصل كوہ احد تھا ، جو غلطى سے كوہ ثور لكھديا گيا ہے(۳۲)

ابو عبيد كے كہنے كا مقصد يہ ہے كہ يہ روايت اہل عراق نے نقل كيا ہے ، جنكو يہ بھى نہيں معلوم تھا كہ كوہ ثور مكہ ميں ہے يا مدينہ ميں _

____________________

۲۹_صحيح مسلم باب فضل المدينہ حديث نمبر ۹۹۵۰_ ۴۶۷

۳۰_طبرى ج۲ ص ۳۷۸ ، ہشام ج۱ ص ۴۸۵ ، انساب الاشراف ج۱ ص ۲۶۰ ، ابن اثير ج۲ ص ۷۳

۳۱_فتح البارى ج۴ ص ۴۵۳

۳۲_فتح البارى ج۴ ص ۴۵۲


۳_ قاضى عياض متوفي۵۴۴ ھ جنھوں نے صحيح مسلم كى شرح كى ہے

۴_ صاحب معجم ما استعجم بكرى متوفى ۴۷۸ھ جو بہت بڑے جغرافيہ دان تھے

۵_ حافظ ابوبكر محمد بن موسى حازمى ۵۴۸ھ جو علم حديث ميں ماہر تھے(۳۳)

۶_ صاحب نہاية اللغة علامہ ابن اثير جزرى متوفى ۶۰۶ھ ()

۷_ ياقوت حموى جنھوں نے ۶۲۶ھ ميں وفات پائي ہے(۳۴)

ان تمام دانشوروں نے صراحتاََ لكھا ہے كہ مدينہ ميں ثور نام كا كوئي پہاڑ نہيں تھا _

لہذا علماء اہلسنت نے اس حديث كى توجيہ و تاويل كرنے ميں خرافات كى باتيں تحرير كى ہيں جن ميں علماء حديث كے رہبر و پيشوا ، بخارى متوفى ۲۵۶ھ ميں جنھوں نے اپنى صحيح كے اندر ايك حديث لكھى ليكن اس ميں كوہ ثور كے نام كے بجائے اس عبارت كو پيش كيا كہ '' المد ينة حرم ما بين عائرالى كذا ''(۳۵) يعنى مدينہ كا حرم كوہ عائر سے ليكر فلاں مقام تك ہے ، درانحاليكہ اسى حديث كے سلسلے ميں صحيح مسلم نے ( كذا ) كى جگہ لفظ ثور كو استعمال كيا ہے _

اس حديث كے سلسلے ميں بخارى كو چھوڑ كر اور دانشوروں نے بھى نا درست توجيہ و تفسير كى ہے ايك دانشور كہتا ہے : شايد پيغمبر(ص) اسلام نے مدينہ كے كسى دو پہاڑوں كا نام ركھا ہو گا دوسرا لكھتا ہے ، شايد پيغمبر(ص) اسلام كا مقصد مدينہ كے حدود حرم كو معين كرنا تھا اسى لئے اپ نے مكہ كے دو پہاڑوں كے فاصلے سے تشبيہ دى ، كيونكہ كوہ ثور مكہ ميں ہے نہ كہ مدينہ ميں _

تيسرا كہتا ہے ، راوى نے غلطى سے كوہ ثور كہديا ہے كيونكہ مدينہ ميں كوہ احد ہے نہ كہ كوہ ثور _

____________________

۳۳_صحيح مسلم باب فضل المدينہ ج۹ ص ۱۴۳ ۶_نہاية اللغة ج۱ ص ۲۲۹

۳۴_معجم البلدان ج۲ ص ۸۶ مطبوعہ بيروت

۳۵_صحيح بخارى كتاب الحج باب حرم مدينہ


چوتھے نے روايت كے اندر پہاڑ كا نام ہى نہيں لكھا تاكہ كوئي اعتراض نہ كرے اور ان كے علاوہ دوسروں نے اس حديث كى توجيہ و تاويل دوسرے ہى انداز ميں كى ہے ، اور يہ تاويل كا سلسلہ تقريبا سات صدى تك وسيع پيمانے پر چلتا رہا ، چنانچہ محدث حنبلى عبد السلام بن محمد بن مزروع بصرى متوفى ۶۶۹ھ نے اس حديث كا زبر دست حل نكالا ، اور مدينہ ميں كوہ احد كے نزديك ايك كوہ ثور كو پيدا كر ديا پھر اعتراض كے خوف سے يہ لكھديا كہ اہل مدينہ اس پہاڑ كو جانتے ہيں ،پھر عبد اللہ مطرى متوفى ۷۶۵ھ نے اپنے والد بزگوار محمد مطرى سے انھيں مطالب كو يوں نقل كيا كہ ، اہل مدينہ پشت در پشت كوہ احد كے بغل ميں ثور نام پہاڑ كو جانتے ہيں اور يہ پہاڑ سرخ رنگ كا اور بہت چھوٹا ہے _

گويا سب سے پہلے مدينہ ميں كوہ ثور كو ابن مزروع نے كشف كيا پھر اسكے بعد عبد اللہ مطرى نے اسكے انكشاف سے اپنى نئي تحقيق پيش كى ليكن حافظ اور عالم علم الحديث يحى نووى متوفى ۶۷۶ھ نے اپنى مشھور شرح ميں اس قسم كى كوئي بات نہيں لكھى ، جبكہ ان كے پہلے والے بزرگ عالموں نے اس حديث كى توجيہ و تاويل كرنے ميں ايڑى چوٹى كا زور لگايا


تھا جسكو اپ نے پہلے ملاحظہ فرما ليا ہے ، پھر عالم لغت علامہ ابن منظور متوفى ۷۱۱ھ نے اپنى كتاب لسان العرب ميں لفظ ثور ميں مدينہ كے پہاڑ كا تذكرہ نہيں كيا ، جبكہ يہ دونوں ايك بڑے عالم اور ماہر علم حديث و لغت تھے _

يا يہ كہا جائے كہ يہ دونوں اس جغرافيائي انكشاف سے باخبر نہ ہو سكے يا انھوں نے ان لوگوں پر اعتماد نہيں كيا _

البتہ اپ يہ بھى جان ليں كہ يہ دونوں عالم زمانے كے اعتبار سے ابن مزروع كے بعد تھے ، اگر ان دونوں نے اپنى كتابوں ميں ان كے انكشاف و اختراع كو جگہ نہيں دى تو پھر اوروں نے كيسے اپنى كتابوں ،ميں لكھ مارا _ جيسے

۱_ محب الدين طبرى متوفى ۶۹۴ھ نے كتاب الاحكام ميں

۲_ فيروز ابادى متوفى ۸۱۷ ھ نے كتاب قاموس ميں

۳_ ابن حجر عسقلانى متوفى ۸۵۲ھ نے فتح البارى ميں

۴_ زبيدى متوفى ۱۲۰۵ھ نے تاج العروس ميں ابن مزروع كى چھوڑى ہوئي پھلجھڑى كو لكھا ہے ليكن ہمارے زمانے كے علماء كى غيرت اس حديث كى توجيہ و تفسير كرنے ميں گذشتہ عالموں سے زيادہ بڑھ گئي ہے ، اور اس پر اتنا زور ازمائي كى كہ كوہ ثور كى حقيقت كو جاننے كے با وجود اس كو مدينہ كے جغرافيائي نقشے ميں لاكر گھسيڑ ديا ، جيسے مولف كتاب اثار المدينہ استاد عبد القدوس نے صفحہ ۱۳۹ ميں كوہ ثور كو مدينہ كے نقشہ ميں پيش كيا ہے ، اور ان سے ڈاكٹر محمدھيكل نے كتاب منزل الوحى كے صفحہ ۵۱۲ ميں اسى نقشے كو چھاپا ہے ، پھر كتاب كے صفحہ ۴۴۰ پر لكھتے ہيں كہ ميں نے اس نقشے كو كتاب اثار المدينہ سے حاصل كيا ہے(۳۶)

مختصر يہ ہے كہ سب سے پہلے ساتويں صدى ميں كوہ ثور كو مدينہ ميں پيش كيا گيا اور چودہويں صدى ميں پہلى مرتبہ جغرافيائي نقشے ميں كوہ ثور داخل كر ديا گيا _

والله على ما نقول وكيل

سيد مرتضى عسكري

____________________

۳۶_شرح صحيح مسلم تحقيق محمد فواد عبد الباقى مطبوعہ لبنان ص ۹۹۸_ ۹۹۵


فہرست

گفتار مترجم ۴

پيش گفتار ۱۰

(فصل اول) ۱۱

معاويہ كى زندگى پر ايك نظر ۱۱

ابو سفيان اور ھند ۱۲

اموى خاندان جاہليت كے زمانے ميں ۱۶

ابو سفيان جنگ بدر ميں ۱۷

ابوسفيان جنگ احد ميں ۲۰

ھندہ جنگ احد ميں ۲۳

جنگ خندق ميں ابو سفيان كى قيادت ۲۶

كمزورى كااحساس اور صلح كى پيش كش ۲۸

مكہ فتح ہو گيا ۲۹

ابو سفيان اسلامى معاشرے ميں ۳۳

ابوسفيان شيخين كے زمانے ميں ۳۷

ابوسفيان عثمان كے زمانے مي ۳۹

( فصل دوم) ۴۱

معاويہ رسول اسلام(ص) كے زمانے ميں ۴۱

معاويہ خلفاء كے زمانے ميں ۴۴

معاويہ و عثمان ۴۸


ابوذر معاويہ كے مقابل ۵۱

تاريخ اسلام كا ايك افسانہ ۵۷

كوفے كے قارى شام ميں ۶۰

معاويہ عثمان كے بعد ۶۳

صفين معركہ حق و باطل ۶۷

معاويہ كى چالاكي ۶۹

ابو موسى اور عمر و عاص ۷۳

شام كے ليٹرے ۷۶

۱_ نعمان بن بشير ۷۷

۲_ سفيان بن عوف ۷۸

۳_ عبد اللہ بن مسعدہ ۸۰

۴- ضحاك بن قيس ۸۰

۵- بسر بن ارطاة ۸۲

لشكر علوى (ع) كا ايك سپاہى جاريہ بن قدامہ ۸۸

دو متضاد سياستيں ۸۹

دوسرا واقعہ ۹۰

( ۱ ) ۹۱

سياست امير المومنين (ع) ۹۱

( ۲ ) ۹۱

سياست معاويہ ۹۱


تجزيہ و تحليل ۹۱

معاويہ امام حسن (ع) كے زمانے ميں ۹۴

صلح كے اسباب و علل ۹۹

فصل سوم ۱۰۳

دشمنوں كے ساتھ نرمي ۱۰۳

عرب كے مكار معاويہ كے جال ميں ۱۰۵

سنگين ٹيكس ۱۱۰

شيعہ شكنجہ و ازار ميں ۱۱۳

حكومت خاندانى ہوتى ہے ۱۱۷

يزيد كى بيعت بصرہ ميں ۱۱۹

شام ميں يزيد كى بيعت ۱۲۰

يزيد كى بيعت مدينہ ميں ۱۲۲

يزيد كى بيعت بليدان چاہتى ہے ۱۲۴

يزيد كى تاج پوشي ۱۲۶

فصل چہارم ۱۲۹

عائشه اور امويوں ميں دوستى كے اسباب ۱۲۹

معاويہ كے تحفے ۱۳۱

اموى حكومت ميں ، عائشه كا رسوخ ۱۳۳

عائشه اور معاويہ كا ايك دوسرے پر چوٹ ۱۳۴

قتل محمد بن ابى بكر ۱۳۶


عبد الرحمن بن ابى بكر كو زہر ديا گيا ۱۳۹

جنگ جمل سے عائشه كى شرمندگي ۱۴۳

''عائشه مرنے سے پہلے '' ۱۴۴

فصل پنجم ۱۴۶

عائشه كى سخاوت ۱۴۶

خاندانى تعصب ۱۴۹

عائشه كى خطابت ۱۵۲

عائشه كى زندگى ميں فاخرہ لباسي ۱۵۴

مسئلہ رضاعت ميں ، عائشه كا نرالا فتوا ۱۵۷

عائشه كى زندگى كے چند گوشے ۱۶۱

فصل ششم ۱۶۶

معاويہ كى زندگى پر ايك طائرانہ نظر ۱۶۶

زمانہ معاويہ ميں حديث سازياں ۱۶۸

معاويہ اور بنى اميہ كے بارے ميں بزرگوں كا فيصلہ ۱۷۲

اپنے كرتوت پر جعلى حديثوں كا غلاف ۱۷۶

معاويہ كے مقابلے ميں بعض دليروں كا كردار ۱۸۱

بلاد اسلامى كے منبروں سے امير المومنين پر نفرين ۱۸۵

معاويہ كا اخرى ہدف ۱۹۲

عائشه كى ايك حديث ۱۹۵

تحقيق اور نتيجہ ۱۹۷


ايك حديث كے سلسلے ميں علماء اہلسنت كى توجيہيں : ۲۰۵


تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران معاويہ جلد ٣

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران معاويہ

مؤلف: سيد مرتضى عسكرى
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 213