تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک

مؤلف: غلام حسن محرمی
تاریخ شیعہ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک

تالیف : غلام حسن محرمی

ترجمہ : سید نسیم رضا آصف

تصحیح : فیروز حیدر فیضی

نظر ثانی:مرغوب عالم عسکری (سمندپوری)

پیشکش:معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر:مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول: ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ء

تعداد : ٣٠٠٠پ

مطبع : لیلیٰ


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنہوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھیں اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی پیدا کرنے کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نوراڈنی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگراہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال کے ساتھ دنیا تک پہنچائی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں نیز نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب،مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،فاضل علامہ ''غلام حسن محرمی ''کی گرانقدر کتاب ''تاریخ تشیّع (ابتدا سے غیبت صغری تک)'' کو فاضل جلیل مولانا سید نسیم رضا آصف زیدی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


پہلی فصل

منابع پر ایک سرسری نظر

ہم اس کتاب میں وہ تمام چیزیں جو تاریخ تشیع سے مربوط ہیں ان پر تمام جوانب سے تحقیق وجستجو نہیں کریں گے بلکہ اہم ترین منابع و مآخذ کی طرف صرف اشارہ کریں گے، تاریخی کتابیں یاوہ کتابیں جو معصومین کی زندگی کے بارے میں لکھی گئی ہیں نیز کتب احادیث،رجال وغیرہ بھی جو شیعہ تاریخ سے مربوط ہیں ، ان کا مختصر طور سے خلاصہ بھی پیش کریں گے ،اس وجہت سے شیعہ تاریخ کے منابع کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے :

١)خصوصی منابع

٢)عمومی منابع

ہم عمومی منابع کو بعد میں بیان کریں گے ۔

خصوصی منابع

١)مقاتل الطالبین

شیعہ تاریخ کے حوالے سے ایک بہترین منبع کتاب مقاتل الطالبین ہے، اس کتاب کے مؤلف ابو الفرج علی ابن حسین اصفہانی ہیں جو ٢٨٤ھ میں اصفہان میں پیدا ہوئے اور بغداد میں پروان چڑھے، آپ نے بغداد کے بزرگ علماء سے علم حاصل کیا، آپ کا سلسلہ نسب بنی امیہ تک پہنچتا ہے لیکن آپ کا مذہب علوی ہے۔

اس کتاب کا موضوع جیسا کہ خود اس کتاب کے نام سے و اضح اور روشن ہے ان طالبیین کے بارے میں ہے جو ظالموں اور ستمگاروں کے ہاتھوں قتل ہوئیہیں جیسا کہ مؤلف فرماتے ہیں :


انشاء اللہ ہم اس کتاب میں خدائے متعال کی مددسے ابوطالب کی وہ اولاد جو زما نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لے کر اس وقت تک (جس دن یہ کتا ب لکھنی شروع کی ہے یعنی جمادی الاول ٣١٣ھ میں لکھی گئی ہے )قتل اور شہید ہوئے ہیں ا س میں مختصراً ذکر کیا ہے کہ کون زہرسے شہید ہوا، کون وقت کے بادشاہوں کے ظلم سے مخفی و روپوش ہو گیا اور پھر وہیں انتقال کیا اور کن لوگوں نے زندان میں انتقال فرمایاوغیرہ اور ان تمام چیزوں کے ذکرکرنے میں ترتیب کی رعایت کی ہے نہ کہ ان کے فضل کی(١)

یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ،پہلا حصہ زمانہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بنی عباس کی تشکیل حکومت تک اوردوسرا حصہ عباسیوں کے زمانہ سے مربوط ہے ۔

اگرچہ اس کتاب میں آل ابو طالب کے شھدا ء کی تحقیق اور چھان بین کی گئی ہے لیکن اس اعتبار سے کہ اماموں ،رہبروں اور علوی شہیدوں کے ماننے والوں کے حالات بھی معرض تحریر میں آگئے ہیں اورکتاب کے کسی حصہ سے بھی آپ تاریخ شیعہ کا استخراج کر سکتے ہیں یہ کتاب تشیع کی سیاسی تاریخ سے مربوط ہے اس لئے اس میں تاریخ شیعہ پرتمام جوانب سے کم بحث کی گئی ہے ۔

____________________

(١)ابولفرج اصفہانی، مقدمہ کتاب مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ،قم ،طبع دوم ١٤١٦ھ ، ص٢٤


٢)الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ

اس کتاب کے مؤلف سید علی خا ن شیرازی ہیں جو ٥جمادی الاول ١٠٥٢ھ مدینہ میں پیدا ہوئے اور وہیں آپ نے علم حاصل کیا ، ١٠٦٨ ھ میں حیدرآباد ہندوستان ہجرت کرگئے،٤٨ سال وہیں قیام کیا اور وہیں سے امام رضاکے زیارت کے لئے ایران کا سفر کیا،١١١٧ ھ میں شاہ سلطان حسین صفوی کے زمانہ میں اصفہان تشریف لے گئے دو سال

اسی شہر میں قیام کیا اور دو سال کے بعد شیراز تشریف لے گئے او راس شہر کی علمی و دینی زعامت کو اپنے ذمہ لیا(١)

کتاب الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ اس بلند مرتبہ شیعہ دانشور کی تالیفات میں سے ایک ہے اگر چہ اس کتاب کا موضوع شیعوں کے حالات کی وضاحت اور ان کی تاریخ ہے نہ کہ تاریخ تشیع ،لیکن اس سے تشیع کی عام تاریخ کے بارے میں دو دلیلوں سے استفادہ کیاجاسکتا ہے ایک تو یہ کہ مختلف زمانوں میں شیعوں کے حالات کی چھان بین ، دوسرے یہ کہ خود مؤلف کتاب نے مقدمہ میں اختصار کے ساتھ شیعہ تاریخ کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ خصو صاً بنی امیہ کے سخت دور کا ذکرکیا ہے، آپ نے کتاب کے مقدمہ میں بیان کیا ہے، خدا تم پر رحمت نازل کرے تم یہ جان لو کہ امیرالمومنین اور تمام ائمہ کے شیعہ ہر زمانے میں حاکموں کے ڈر سے خفیہ زندگی بسر کرتے تھے اور بادشاہ وقت کی نگاہ سے دور رہتے تھے۔(٢)

اس کے بعد معاویہ کے استبدادی زمانے سے لے کرعباسیوں کے دور تک کو بیان کیا ہے،یہ کتاب جیسا کہ مؤلف نے مقدمہ میں ذکر کیا ہے بارہ طبقات پر مشتمل ہے یعنی شیعوں کو بارہ طبقوں میں تقسیم کر نے کے بعد ان کی تحقیق او رچھان بین کی ہے جو اس طرح سے ہے۔

____________________

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی،قم ،طبع دوم ،١٤١٦ہجری، ص٢٤۔

(٢) الشیرازی ،سید علی خا ن ، الدرجات الرفیعہ فی طبقا ت الشیعہ ،مؤسسة الوفا ، بیروت ص٣،٤۔


١)صحابہ

٢)تابعین

٣)وہ محدثین جنہوں نے ائمہ طاہرین علیہم السلام سے حدیثیں نقل کی ہیں

٤)علماء دین

٥)حکماء اورمتکلمین

٦) عرب علمائ

٧)صوفی سردار

٨)بادشاہ اور سلاطین

٩)رؤسا

١٠)وزرائ

١١)شعرائ

١٢)خواتین

اس قیمتی کتاب سے اس وقت جو ہماری دسترس میں ہے وہ مذکورہ مطالب پر مشتمل ہے پہلا طبقہ یعنی صحابہ کا حصہ بطور کامل۔ چوتھا طبقہ یعنی علماء کے باب کا کچھ حصہ، گیارہواں طبقہ یعنی شعراء کے باب سے بہت تھوڑا۔


یہ کتاب صحابہ کے درمیان تشیع کے موضوع پر ایک اہم اور بہترین کتاب ہے نیز اس سلسلے میں جامعیت رکھتی ہے، اس کتاب کے مؤلف نے شیعہ رجال او رعلماء کے نظریات کوشیعہ صحابہ کے بارے میں جمع کیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں اظہار نظر نیزتحقیق و تجزیہ بہت کم کیا ہے۔

٣)اعیان الشیعہ

اس بے نظیرا ور قیمتی کتاب کے مؤلف شیعوں کے عظیم محقق اور عالم دین مرحوم سید محسن امین ہیں ، کتاب اعیا ن الشیعہ خود ہی جیساکہ اس کے نام سے معلوم ہے ایک ایسی کتاب ہے جو بزرگان شیعہ کے حا لات اور ان کے زندگی نام کو بیان کرتی ہے، اس کتاب میں تین مقدمے ہیں جن میں سے پہلے مقدمہ میں مصنف کی روش کوبیان کیا گیا ہے اس مقدمہ کے شروع میں آیا ہے :''فی ذکر طریقتنافی هذا الکتاب وهی امور... '' یعنی اس کتاب میں ہماری روش کے ذکر کے متعلق جس میں یہ چند امور ہیں ...پھرچودہ حصوں میں اپنی روش کی تفصیل بیان کی ہے لیکن دوسرا مقدمہ شیعوں کی عمومی تاریخ کے بارے میں ہے جو بارہ ابحاث پر مشتمل ہے اور تیسرا مقدمہ کتاب کے منابع و مصادر کے بارے میں ہے:


پہلی بحث:شیعیت کا مفہوم اور اس کے معنی :تمام شیعہ اصطلاحا ت، شیعہ فرقوں کے بارے میں اہل سنت مصنفین کے نظریات اور تنقید۔

دوسری بحث : شیعیت کی ابتدا ا ور اس کا فروغ پانا، شیعہ صحابہ،شیعوں کی کثرت

تیسری بحث: بعض مظالم کی طرف اشارہ ہے جو اہل بیت اور ان کے شیعوں پر ہوئے ہیں ۔

چوتھی بحث :شیعیان اہل بیت سے غیر منصفانہ برتاؤ ۔

پانچویں بحث : اہل بیت پر مسلسل حملے ۔

چھٹی بحث :شیعوں پر بہت زیادہ بہتان و افترا پردازی اور شیعہ اثنا عشری عقائد کا خلاصہ۔

ساتویں بحث :اسلامی ممالک میں تشیع کے پھیلنے کے اسباب ۔

آٹھویں بحث :اہل بیت کی فضیلت اور اسلام کے لئے ان کی خدمات ۔

نویں بحث: شیعۂ امامیہ کے عقائد ۔

دسویں بحث : شیعہ ادبا،علما ،شعراء اورمؤلفین اور ان کی کتابوں کے بارے میں ۔

گیارہویں بحث : وزرا ،امرا ،قضات اورنقیبان شیعہ کے بارے میں ۔

بارہویں بحث:شیعہ نشین شہروں کاذکر۔(۱)

کتاب اعیان الشیعہ کی ارزش و اہمیت ہمارے بیان سے باہر ہے اس لئے کہ یہ کتاب تاریخی معلومات اورمعارف کا ایک ایسا دریا ہے جس کی گہرائی تک ہم نہیں پہنچ سکتے اور نہ ہی پوری طرح سے اس پر مسلط ہوسکتے ہیں کہ جس سے اس کا اندازہ لگائیں اور اس کے بررسی کریں بلکہ ا پنی توانائی کے مطابق اس سے استفادہ کریں ،قلم کی فصاحت و بلاغت، مطالب کی گہرائی ، مباحث کا نفوذ ،عناوین کی تقسیم بندی اور منطقی ترتیب جیسے پہلو اس کتاب کے خاص امتیاز ات ہیں ۔

اس کتاب کے بارے میں تنقیدی اعتبار سے ایک جزئی اشارہ کیا جاسکتا ہے جیسے

____________________

(١) سید محسن امین،اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبوعات،بیروت،ج١،ص١٨،٢٠٩۔


شیعہ کے دوسرے ناموں کی بحث بہت مختصر کی گئی ہے اور صرف امامیہ ،متأولہ ، قزلباش ، رافضیہ،جعفر یہ ا ورخاصہ جیسے ہی کے ناموں کو شمار کیا گیا ہے(١) جبکہ جو نام شیعوں پر صادق آتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں فقط پہلی صدی میں علوی ، ترابی ، حسینی وغیرہ نام شیعوں کے بارے میں بیان ہو ئے ہیں ۔

دوسرااعتراض جو اس کتاب پر ہو سکتا ہے وہ معنای شیعیت اوراس کے حدود کے بارے میں ہے، بعض ایسے اشخاص کو مؤلف نے شیعہ شمار کیا ہے جن کو خود شیعہ علمائے رجال شیعہ نہیں جانتے ، اس لئے کہ اگر چہ یہ لوگ سیاسی اعتبار سے شیعہ تھے لیکن اعتقادی اعتبار سے شیعہ نہیں تھے یعنی سی اسی کشمکش میں اہل بیت کے طرفدار تھے لیکن عقائد کے لحاظ سے اہل بیت کے سرچشمہ سے استفادہ نہیں کرتے تھے ۔

تیسرا اعتراض یہ کہ ایک فصل کو اس بحث سے مخصوص کرنا چاہیے تھا ا ور کتاب کے شروع میں کہنا چا ہیے تھا کہ شیعوں سے مراد کون لوگ ہیں ۔

٤) تاریخ الشیعہ

کتاب تاریخ شیعہ کے مؤلف علامۂ بزرگ مرحوم شیخ محمد حسین مظفر ہیں یہ کتاب تاریخ تشیع کا ایک اہم ماخذ و منبع ہے یہ کتاب متعدد بار چھپ چکی ہے اور استاد ڈاکٹر سید محمد باقر حجتی صاحب کے توسط سے فارسی میں بھی اس کا ترجمہ ہوچکا ہے ۔

مرحوم مظفر نے تاریخ شیعہ کو دور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لے کر اپنے زمانے تک مورد بحث قراردیا

____________________

(١)اعیان الشیعہ،سید محسن امین،دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ، ج١،ص٢٠،٢١۔


ہے جو بیاسی عناوین پر مشتمل ہے بطور کلی اس کتاب کے عناوین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

١)تشیع کی وسعت کے زمانے

٢)شیعہ نشین علاقے

٣)شیعہ حکومتیں

مرحوم مظفر جو ایک عظیم مصنف ،عالم ،ماہر صاحب قلم اور انشاء پردازی میں بھرپور تجربہ رکھتے تھے جن کے قلم میں روانی اور طرز تحریر کی خوبی کے علاوہ قادر الکلامی اور استحکام بھی پایا جاتا ہے۔ کتاب تاریخ شیعہ کی ایک خوبی اور امتیاز یہ بھی ہے کہ روئے زمین پرہر زمانہ میں شیعوں کے پائے جانے کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے۔

یہ کتاب تاریخ تشیع پر تحقیق کرنے والوں کے لئے ہر زمانہ میں ایک اہم ترین ماخذ و منبع ہوسکتی ہے، تاریخ شیعہ دوسری تمام کتابوں پر امتیاز رکھتی ہے لیکن اختصار کی وجہ سے حق مطالب کو ادا نہیں کیا گیا ہے، ہاں بعض موارد جیسے ، شیعہ،کے مفہوم اور اس کے نام کو اہلبیت کے دوستوں سے مختص ہونے کا زمانہ ، آغاز تشیع ا ور شیعیت کا فروغ پانا کہ جس کا تعلق اسا س شیعیت سے ہے، ان سب کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔ مرحوم مظفر مقدمۂ کتاب میں تحریر کرتے ہیں :

میں کسی چیز کاطالب نہیں ہوں مگر یہ کہ لوگ اس بات کو جان لیں کہ تشیع کا سلسلہ رسالت مآب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے شروع ہو ا ہے ایرانی اور ابن سبااس کی تأسیس میں کوئی دخالت نہیں رکھتے ہیں ۔

دوسرااعتراض جو اس کتاب کے بارے میں ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتاب تحقیقی نہیں ہے مؤلف محترم نے اختصار کی وجہ سے دوسروں کے نظریوں ،آراکو نقل نہیں کیا ہے اور تنقید بھی نہیں کی ہے ۔

مناسب تھاکہ اس کتاب کا ایک حصہ جو اسلامی حکومت کے بارے میں تھا اسے مکمل کیا جاتا اس لئے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ او ران تحولات وتغیرات کے پیش نظر گئی جوشیعہ حکومتوں کو در پیش تھے مورد بحث قرار دئے گئے ہیں اور ان میں سے بعض ختم ہوگئی ہیں لیکن مترجم محترم نے بعض نئی حکومتوں کا ذکر نہیں کیا ہے اور مزیدمطالعہ کی زحمت گوارہ نہیں کی ہے، نتیجہ میں اسی شکل میں ترجمہ کردیاہے بلکہ بعض شیعہ حکومتوں کی بحث سے کہنگی اورقدامت کی بو آتی ہے۔


٥)شیعہ در تاریخ

کتاب شیعہ در تاریخ ،جو محمد حسین زین عاملی کی تالیف ہے اور محمد رضا عطائی نے اس کتاب کافارسی ترجمہ کیا ہے ،یہ کتاب آستانہ قدس رضوی کے توسط سے چھپی ہے شیعہ تاریخ کے بارے میں لکھی جانی والی کتابوں کے لئے یہ ایک اہم منبع و ماخذ ہے،یہ کتاب پانچ فصلوں اور ایک خاتمہ پر مرتب ہوئی ہے:

پہلی فصل:شیعہ عقائد کا مختصرخاکہ اس کے معنی اور مفہوم نیز سابقہ شیعیت کے بیان میں ہے ۔

دوسری فصل: شیعوں سے وجود میں آنے والے گروہ اور فرقوں کے بیان میں ہے۔

تیسری فصل:پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد سے امام حسین کی شہادت تک کی تاریخ اور اس پر تجزیہ وتبصرہ کے علاوہ اس دوران جو حادثات واقعات واقع ہوئے ہیں ان کا بیان ہے۔

چوتھی فصل:اموی اور عباسی خلفاء کے زمانے میں شیعوں کا اپنے موقف پرقائم رہنا سے مربوط ہے۔

پانچویں فصل : غلواور غالیوں سے شیعوں کا اظہار بیزاری کرنا۔

''شیعہ در تاریخ '' شیعوں کے اندرونی فرقوں کے بارے میں ایک اچھا منبع و ماخذ ہے بالخصوص شیعوں کے فرقوں کے وجود میں آنے کے علل و اسباب کو بیان کیاگیا ہے اور اچھا تجزیہ و تبصرہ کیا ہے۔

یہ کتاب تاریخ تشیع کے عنوان سے بہت زیادہ جامع نہیں ہے کیونکہ کہیں کہیں ایسی بحثیں جوبیان ہوئی ہیں جو تاریخ تشیع کے دائرے سے خارج ہیں ،جیسے وہ بحثیں تاریخ خلافت اور خوارج کے بارے میں پیش کی گئی ہیں وہ تاریخ تشیع سے بالکل خارج ہیں ۔


٦) جہاد ا لشیعہ

تاریخ شیعہ کے منابع میں سے ایک کتاب جہاد شیعہ ہے اگر چہ اس کی اصلی بحثیں شیعہ اور شیعہ فوجیوں کے جہاد و انقلاب کے بارے میں ہیں ،اس کتاب کی مؤلفہ محترمہ ڈاکٹر سمیرہ مختار لیثی (استا دعین شمس یونیورسٹی ،مصر)ہیں کتاب جہاد شیعہ دارالجیل مطبع بیروت وزیری سائزمیں بصورت مجلد ١٣٩٦ھ میں شائع ہوئی جو ٤٢٤ صفحات پر مشتمل ہے، یہ کتاب مقدمہ کے بعد پانچ ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے، اس کتاب کا موضوع جہاد شیعہ ہے کہ اس کتاب میں تقریباً دوسری صدی ہجری کے آخر تک کے حالات کو مورد بحث و بررسی قراردیا گیا ہے ،بہ عبارت دیگر :اس کتاب کی مؤلفہ ایک طرف عباسیوں کے خلاف شیعوں کی فوجی تحریک اور جہاد،نیز علویوں کے قیام اور ان کی شکست کے اسباب کو بیان کرتی ہیں ،شیعہ فرقوں ،ان کی تحریکیں ،ان کے اجتماعی اور سیاسی موقف کو جو اس زمانہ میں موجود تھے بیان کرتی ہیں دوسری طرف خلفا کی سیاست جو ائمہ اطہارعلیہم السلام اور شیعوں کے بارے میں تھی اس پر بھی انہوں نے روشنی ڈالی ہے۔ عام شیعہ تاریخ کے مباحث پہلے باب کے ایک حصہ میں بیان کئے ہیں جیسے: شیعہ درلغت، مفاہیم شیعہ شیعوں کے وجود میں آنے کی تاریخ، امام حسین کے جہاد کااثر، عراق میں شیعوں کا جہاد، شیعۂ کیسانیہ کا وجود، شیعۂ امامیہ کے فرقے نیز تحقق شیعیت اور تاریخ شیعہ کے بارے میں مختلف نظریوں کو بیان کیا ہے۔ تنہا ایک اعتراض جو اس کتاب پر وارد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے سیاسی نظریات کو اپنے لحاظ سے بیان کیاہے چونکہ وہ شیعہ نہیں تھیں اسی وجہ سے وہ ائمہ کے سیاسی تفکرکے اصول کو نہیں سمجھ سکیں اور اسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام کے بعدوہ امامت کے مبانی اور اصول کور وحانی وعلمی امامت بتاتی ہیں وہ ان (بقیہ نو ائمہ )کی روش کو امیرالمومنین ،امام حسن اور امام حسین کی روش سے جدا جانتی ہیں ۔(١)

____________________

(١)مختا ر لیثی، سمیرہ ،جہاد شیعہ ، دارالجیل ،بیروت ،١٣٩٦ھ ص٣٦۔


٧)ایران میں تاریخ تشیّع اپنے آغازسے ساتویں صدی ہجری تک

اس کتاب کے لکھنے والے جناب رسول جعفریان، حوزہ علمیہ قم کے ایک بزرگ محقق ہیں ، یہ کتاب اپنی صنف میں محققا نہ و بے نظیر ہے مؤلف مذکورکی بہت سی تألیفات میں ایک بہترین تألیف ہے نیز تاریخ تشیع پر تحقیق کے لئے بہترین منابع میں سے ایک ہے، یہ کتاب تاریخ کی معلومات کے حوالہ سے نہایت قیمتی ہے کہ تاریخ تشیع میں کوئی بھی محقق اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، اس کتاب کی خوبیوں میں سے ایک خوبی اس کے متن کی بے نیازی ہے اگر کوئی نقص اس میں پایا بھی جاتا ہے تو اس کی شکل و صورت کے اعتبار سے ہے مثلاًجوحا شیے ہیں وہ فنی اعتبار سے اعلیٰ اور معیاری نہیں ہیں ، دوسرے یہ کہ بعض مطالب جیسے منابع پر تنقید و تبصرہ خود مطالب کے درمیان ذکر کیا گیا ہے جو پڑھنے والوں کے لئے دشواری کا سبب ہوا ہے بہتر یہ تھا کہ ان مطالب کو علیحدہ اسی عنوان سے لکھا جاتا یا کم از کم حاشیہ میں جدا گانہ لکھا جاتا تا کہ اصل کتاب کا امتیازاپنی جگہ باقی رہتا۔


عمومی منابع:

تاریخ تشیع کے بارے میں بعض خصوصی کتابوں کی مختصر تحقیق کے بعد تاریخ کے عمومی منابع سے متعلق ہم تحقیق کریں گے، موضوع کی حیثیت سے عمومی منابع اس طرح ہیں

(١) تاریخ عمومی

(٢) ائمہ کی زندگانی

(٣) کتب فتن وحروب

(٤)کتب رجال وطبقات

(٥)کتب جغرافیہ

(٦) کتب اخبار

(٧)کتب نسب

(٨)کتب حدیث

(٩)کتب ملل ونحل


۱)تاریخ عمومی

اس کتاب میں تاریخ تشیع کی تحقیق زیادہ تر ان کتابوں سے کی گئی ہے جو پہلی صدی ہجری یا تاریخ خلفا ء یا اس جیسے دور میں لکھی گئی ہیں ، جیسے تاریخ یعقوبی ،مروج الذہب، تاریخ طبری، الکامل فی التاریخ ،الامامة والسیاسة ،العبر، تاریخ خلفاء ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،حتیٰ وہ تحقیقی اور تاریخی کتابیں جو معاصرین نے لکھی ہیں ،تاریخ کی عمومی کتابوں میں سے سب سے زیادہ جس سے فائدہ اٹھا یا گیا ہے وہ تاریخ یعقوبی اور مروج الذھب ہے، ان دو کتابوں میں تقریباًبے طرف ہوکر تاریخی حوادث اور واقعات کو لکھا گیا ہے اور اس میں حقیقت پوشی سے کام نہیں لیا گیا ہے، یعقوبی نے اصحاب پیغمبرکی ابو بکر کی خلافت سے مخالفت کو تفصیل سے بیان کیا ہے(۱) نیزپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد جو گروہ بندیاں ہوئیں انہیں بھی بیان کیا ہے،وہ ان واقعات اور حوادث کو ذکر کرتے ہیں جوتاریخ شیعہ

____________________

(١ )ابن واضح ،احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف الرضی ،قم ١٤١٤ھ ج:٢ ص١٢٣تا١٢٦.


سے مربوط ہیں جیسے حکومت امیرالمومنین(١) ،صلح امام حسن(٢) ، شہادت حجر بن عدی(٣) ، شہادت عمرو بن حمق(٤) اور شہادت امام حسین(٥) کواپنی قدرت و توانائی کے مطابق بیان کیا ہے اور اس نے حقّ مطلب کو تقریباًادا کیا ہے۔

مسعودی ایسے مؤرخ ہیں جنہوں نے کتاب مروج الذہب اور التنبیہ والاشراف میں حقیقت کو چھپانے میں تعمد سے کام نہیں لیاہے، نیز کتاب مروج الذہب اور التنبیہ والاشراف میں سقیفہ کا خلاصہ بیان کیا ہے ،اصحاب کے درمیان ا ختلاف اور بنی ہاشم کا ابوبکر کی بیعت نہ کرنے کو ذکر کیا ہے(٦) مسعودی نے اس کتاب میں دوسری جگہ قضیہ فدک کو تحریر کیا ہے،(٧) جو بھی واقعات امیر المومنین اور شہادت امام حسین کے دوران وجود میں آئے ہیں ان کو تفصیل سے بیان کیا ہے(٨) اس کے علاوہ مروج الذہب میں

____________________

(١)ابن واضح ،احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف الرضی ،قم ١٤١٤ھ، ج٣ ص ١٧٨،١٧٩۔

(٢)گزشتہ حوالہ ،ص٢١٤،٢١٥۔

(٣)گزشتہ حوالہ، ص٢٣٠،٢٣١۔

(٤)گزشتہ حوالہ،ص٢٣١،٢٣٢۔

(٥)گزشتہ حوالہ، ص٢٤٣،٢٤٦۔

(٦)مسعودی علی بن حسین ،مروج الذھب ،منشورات مؤسسةالاعلمی للمطبوعات بیروت ١٤١١ھ، ج٢، ص٣١٦ ، التنبیہ والاشراف دار الصاویٰ للطبع والنشر والتالیف ،قاہرہ ،(بغیر تاریخ کے)ص ٤٢

(٧)مروج الذھب،ج٣،ص٢٦٢ ۔

(٨) گزشتہ حوالہ ،ج٢،ص٢٤٦تا٢٦٦ ۔


جگہ جگہ شیعوں کے نام ان کے قبیلوں اور دشمنان اہل بیت کے ناموں کو ذکر کیا ہے، اسی طرح ائمہ اطھار علیہم السلام کی وفات کے تمام سال کو ان کی مختصرحیات طیبہ کے ساتھ بیان کیا ہے خصوصی طور سے دوسری صدی ہجری میں علویوں کے قیام کی بطورمفصل وضاحت کی ہے۔(١)

٢)ائمہ علیہم السلام کی زندگانی

ائمہ علیہم السلام کی زندگی سے مربوط جو کتابیں ہیں ان میں شیخ مفید کی کتاب الارشاد ، ابن جوزی کی تذکرةالخواص کی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں ۔

کتاب الارشاد مہم ترین شیعوں کا پہلا مآخذ ہے جس میں بارہ اماموں کی زندگی موجود ہے اس اعتبار سے کہ امیرالمومنین کی زندگی کا بعض حصہ رسول اسلا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں تھا،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کو بھی اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے خصو صاًآنحضرت کی جنگیں ، جنگ تبوک کے علاوہ حضرت علی تمام جنگوں میں موجود تھے، اس کتاب کے بارے میں صرف اتنا ہی کہناکافی ہے کہ تاریخ تشیع اور امام معصوم کی زندگی کی تاریخ کے بارے میں کوئی بھی محقق اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہے ۔

٣) کتب فتن و حروب

یہ کتاب ان جنگوں کے بیا ن سے مخصوص ہے جو مسلمانوں کی تاریخ نگاری میں کافی

____________________

(١)مروج الذہب ،ج٢،ص٣٢٤ ۔ ٣٢٦ ۔ ٣٥٨۔


اہمیت کی حامل ہیں ، ان میں سے قدیم ترین کتاب وقعةالصفین ہے جونصربن مزاحم منقری (متوفی ٢١٢ھ ) کی تالیف ہے۔ جس میں صفین کے واقعہ میں اور جنگ کو بیان کیا گیا ہے، اس کتاب میں حضرت علی اور معاویہ کے درمیان مکاتبات اور حضرت کے خطبات اور مختلف تقریروں کے سلسلہ میں اہم اطلاعات موجود ہیں ، اس کتاب کے مطالب کے درمیان مفید معلومات اصحا ب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت علی سے متعلق خیا لات اور عرب کے مختلف قبائل کے درمیان تشیع کے نفوذ کی عکاسی پائی جاتی ہے ۔

کتاب الغارات مؤلف ابراہیم ثقفی کوفی٢٨٣ھ یہ کتاب بھی ایک اہم منابع میں سے ہے جو اسی سلسلے میں لکھی گئی ہے اس کتاب میں امیر المو منین کی خلافت کے زمانے کے حالات بیان کئے گئے ہیں ،اس کتاب میں معاویہ کے کا رندوں اور غارت گروں کے بارے میں کہ جوحضرت علی کی حکومت میں تھے تحقیق کی گئی ہے، اس کتاب سے امیرالمومنین کے دور کے شیعوں کے حالات کو سمجھا جا سکتا ہے۔

الجمل یا نصرةالجمل شیخ مفیدکی یہ کتاب ارزش مند منابع میں سے ایک ہے کہ جس میں جنگ جمل کے حالات کی تحقیق کی گئی ہے چونکہ یہ کتاب حضرت علی کی پہلی جنگ جو آپ کی خلافت کے زمانے میں واقع ہوئی ہے اس کے متعلق ہے لہٰذا اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا مرتبہ عراق کے لوگوں کے درمیان آپ کے وہاں جانے سے پہلے کیا تھا ۔


(٤)کتب رجال و طبقات

علم رجال ان علوم میں سے ہے کہ جن کاربط علم حدیث سے ہے اور اس علم کا استعمال احادیث کی سند سے مربوط ہے، اس علم کے ذریعہ راویان حدیث اور اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حالات زندگی کا پتہ چلتا ہے،رجال شیعہ میں اصحا ب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ ائمہ معصومین کے اصحاب کو بھی مورد بحث قرار دیا گیا ہے ، علم رجال شناسی دوسری صدی ہجری سے شروع ہو ااور آج تک جاری ہے اور زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ا س میں تکامل وترقی ہوتی جارہی ہے ، اہل سنت کی بعض معروف ومعتبر کتابیں اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل ہیں :

(١)الاستیعاب فی معرفة الاصحاب ، ابن عبدالبرقرطبی ٤٦٣ھ

(٢) اسد الغابہ فی معرفةالصحابہ، ابن اثیر جزری ٦٣٠ھ

(٣) تاریخ بغداد، خطیب بغدادی ٤٦٣ ھ

(٤) ا لاصابہ فی معرفة الصحابہ، ابن حجر عسقلانی

اسی طرح شیعوں کی بھی اہم ترین کتابیں درج ذیل ہیں :

(١)اختیار معرفة الرجال کشی،شیخ طوسی ٤٦٠ھ

(٢)رجال نجاشی(فہرست اسماء مصنفی الشیعة)

(٣)کتاب رجال یا فہرست شیخ طوسی

(٤)رجال برقی،احمد بن محمد بن خالد برقی٢٨٠ھ

(٥)مشیخہ ،شیخ صدوق ٣٨١ھ


(٦)معالم العلما ئ،ابن شہر آشوب مازندرانی٥٨٨ ھ

(٧)رجال ابن دائود،تقی الدین حسن بن علی بن دائود حلی٧٠٧ھ

البتہ شیعوں کے درمیان علم رجال نے زیادہ تکامل وارتقاپیدا کیا ہے اور مختلف حصوں میں تقسیم ہوا ہے۔

بعض کتب رجال جیسے اسد الغابہ ،فہرست شیخ ،رجال نجاشی اور معالم العلماء کو حروف کی ترتیب کے لحاظ سے لکھا گیا ہے اور کچھ کتابیں جیسے رجال شیخ اور رجال برقی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم اور ائمہ کے اصحاب کے طبقات حساب سے لکھی گئی ہیں ،علم رجال پر اور بھی کتابیں ہیں جن میں لو گوں کو مختلف طبقات کی بنیاد پر پرکھا گیا ہے ان میں سے اہم کتاب طبقات ابن سعد ہے ۔

(٥) کتب جغرافیہ

کچھ جغرافیائی کتابیں سفر نا موں سے متعلق ہیں ، جن میں اکثر کتابیں تیسری صدی ہجری کے بعد لکھی گئی ہیں چونکہ اس کتاب میں تاریخ تشیّع کی تحقیق شروع کی تین ہجری صدیوں میں ہوئی ہے ،اس بنا پر ان سے بہت زیادہ استفا دہ نہیں کیا گیا ہے،ہاں بعض جغرافیائی کتابیں جن میں سند کی شناخت کرائی گئی ہے اس تحقیق کے منابع میں سے ہیں ، ان کتابوں میں معجم البلدان جامع ہونے کے اعتبار سے زیادہ مورد استفادہ قرار پائی ہے، اگر چہ مؤلف کتاب''یاقوت حموی'' نے شیعوں کے متعلق تعصب سے کام لیا ہے اور کوفہ کے بڑے خاندان کا ذکر کرتے وقت کسی بھی شیعہ عالم اور بڑے شیعہ خاندانوں کا ذکر نہیں کیا ہے ۔


(٦)کتب اخبار

کتب اخبارسے مراداحادیث کی وہ کتابیں نہیں ہیں جن میں حلال و حرام سے گفتگو کی گئی ہے بلکہ ان سے مراد وہ قدیم ترین تاریخی کتابیں ہیں جو تاریخ کی تدوین کے عنوان سے اسلامی دور میں لکھی گئی ہیں کہ ان کتابوں میں تاریخی اخباراور حوادث کو راویوں کے سلسلہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، یعنی تاریخی اخبار کے ضبط ونقل میں اہل حدیث کا طرز اپنایا گیاہے ۔ اس طرح کی تاریخ نگاری کی چند خصوصیات ہیں ،پہلی خصوصیت یہ کہ ایک واقعہ سے متعلق تمام اخبار کو دوسرے واقعہ سے الگ ذکر کیاجاتا ہے وہ تنہا طور پر مکمل ہے اورکسی دوسری خبر اور حادثہ سے ربط نہیں ہے،دوسری خصوصیت یہ کہ اس میں ادبی پہلوئوں کا لحاظ کیا گیاہے یعنی مؤلف کبھی کبھی شعر، داستان مناظرے سے استفادہ کرتا ہے یہ خصوصیت خاص طور پر سے ان اخبار یین کے آثار میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے جو ''ایام العرب'' کی روایات سے متاثر تھے ، اسی وجہ سے بعض محققین نے ''خبر '' کی تاریخ نگاری کو زمانۂ جاہلیت کے واقعات کے اسلوب و انداز سے ماخوذ جانا ہے۔تیسری خصوصیت یہ کہ ان میں روایات کی سند کا ذکر ہوتا ہے ۔


در حقیقت تاریخ نگاری کا یہ پہلا طرز خصوصاً اسلام کی پہلی دو دصدیوں میں کہ جس میں اکثرتاریخ کے خام موادو مطالب کا پیش کرنا ہوتا تھا اسلامی دور کے مکتوب آثار کا ایک اہم حصہ رہاہے۔اسی طرح سے اخبار کی کتابوں کے درمیان کتاب الاخبارالموفقیات جو زبیر بن بکارکی تالیف کردہ ہے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ،اس کتاب کا لکھنے والا خاندان زبیر سے ہے کہ جس کی اہل بیت سے پرانی دشمنی تھی اس کے علاوہ اس کے ، متوکل عباسی( جو امیر المومنین اور ان کی اولاد کا سخت ترین دشمن تھا) سے اچھے تعلقات تھے اور اس کے بچوں کا استاد بھی تھا۔(١) نیز اس کی جانب سے مکہ میں قا ضی کے عہدے پر فائز تھا(٢) ان سب کے باوجوداس کتاب میں ابوبکر کی خلافت پر اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اعتراضات کے بارے میں اہم معلومات ہیں خصوصاً اس میں ان کے وہ اشعاربھی نقل کئے گئے ہیں جو حضرت علی کی جانشینی اور وصایت پر دلالت کرتے ہیں ۔

(٧)کتب نسب

نسب کی کتابوں میں انساب الاشراف بلاذری سب سے زیادہ قابل استفادہ قرار پائی ہے جو نسب کے سلسلہ میں سب سے بہترین ماخذ جانی جاتی ہے ،دوسری طرف اس کتاب کو سوانح حیات کی کتابوں میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ علم نسب کے لحاظ سے کتاب جمہرة الانساب العرب جامع ترین کتاب ہے کہ جس میں مختصر وضاحت بھی بعض لوگوں کے بارے میں میں کی گئی ہے ۔

کتاب منتقلہ الطالبیین میں ذریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور سادات کی مہاجرت سے متعلق تحقیق کی گئی ہے، ان مطالب سے استفادہ کرتے ہوئے ابتدائی صدیوں میں اسلامی سرزمینوں پر تشیع سے متعلق تحقیق کی جا سکتی ہے۔

____________________

(١)خطیب بغدادی،الحافظ ابی بکر احمد بن علی ،تاریخ بغداد،مطبعة السعادہ،مصر،١٣٤٩ھ ج٨،ص٤٦٧

(٢) ابن ندیم ،الفہرست،بیروت،(بی تا)ص١٦٠


(٨)کتب ا حادیث

تاریخ تشیع کے دوسرے منابع میں سے حدیث کی کتابیں ہیں عرف اہل سنت میں حدیث سے مراد قول ،فعل اور تقریر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے ،لیکن شیعوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ائمہ معصومین کو بھی شامل کیا ہے اور شیعہ رسول کے ساتھ ائمہ معصومین کے قول ،فعل اورتقریر کوبھی حجت مانتے ہیں ،اہل سنت کی کتابوں میں صحیح بخاری (١٩٤۔٢٥٦)مسند احمد بن حنبل (١٦٤۔٢٤١) مستدرک علی الصحیحین حاکم نیشاپوری (ف٤٥٠)صحابہ کے درمیان تشیع اور امیرالمومنین کی حقانیت( جو تشیع کی بنیادہے) کی تحقیق کے لئے بہترین کتابیں ہیں ۔

شیعہ حضرات کی حدیث کی کتابیں جیسے کتب اربعہ :الکافی کلینی(٣٢٩ھ )، من لا یحضرہ الفقیہ صدوق (ف٣٨١ھ) تہذیب الاحکام و استبصارشیخ طوسی (وفات ٣٦٠ھ)اوردوسری کتابیں جیسے امالی ،غررالفوائدو درر القلائدسید مرتضیٰ (٣٥٥۔٤٣٦) الاحتجاج طبرسی( چھٹی صدی )شیعہ احادیث کا عظیم دائرة المعارف (انسائیکلوپیڈیا) بحارالانوار مجلسی (١١١١ھ) وغیرہ کہ جو اہل سنت کی کتابوں پر امتیازی حیثیت رکھتی ہیں ، اس کے علاوہ شیعوں کے فروغ ، ان کے رہائشی علاقے، ان کے اجتماعی روابط اور ائمۂ معصومین کے ساتھ انکے اربتاط کے طریقہ کار کا اندازہ ان کی حدیثوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔


(٩)کتب ملل ونحل

اس سلسلہ میں اہم ترین ماخذشہرستانی (٤٧٩ ۔٥٤٨ ) کی کتاب ملل ونحل ہے، یہ کتاب جامعیت اورماخذ کے قدیم ہونے کے اعتبار سے بہترین منابع میں شمار ہوتی ہے بلکہ یہ کتاب محققین اور دانشمندوں کے لئے مرجع ہے اگرچہ مؤلف نے مطالب کو بیان کی میں تعصب سے کام لیا ہے،اس نے کتاب کے مقدمہ میں ٧٣فرقہ والی حدیث کا ذکر کیا ہے اور اہل سنت کو فرقہ ناجیہ قرار دیا ہے حتی الامکان شیعہ فرقوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ثابت کرے کہ شیعہ فرقوں کی کثرت شیعوں کے بطلان پر دلیل ہے، شہرستانی نے مختاریہ ،باقریہ ،جعفریہ ،مفضلہ ،نعمانیہ ، ہشامیہ ،یونسیہ جیسے فرقوں کو بھی شیعہ فرقوں میں شمار کیا ہے جب کہ ان فرقوں کا خارج میں کوئی وجود ہی نہیں ہے، جیسا کہ مقریزی نے اپنی کتاب خطط میں کہاہے کہ شیعہ فرقوں کی تعدادتین سو ہے لیکن ان کو بیان کرتے وقت بیس سے زیادہ فرقہ نہیں بیان کرسکا ۔

ملل ونحل کی جملہ قدیم ترین ا ور اہم ترین ، اشعری قمی کی المقالات والفرق او ر نو بختی کی فرق الشیعہ ہے۔ اشعری قمی اور نو بختی کا شمارشیعہ علماء اوردانشوروں میں ہوتاہے جن کا زمانہ تیسری صدی ہجری کا نصف دوم ہے ۔

کتاب'' المقالات و الفرق ''معلومات کے لحاظ سے کافی وسیع ہے اور جامعیت رکھتی ہے لیکن اس کے مطالب پراگندہ ہیں اورمناسب ترتیب کی حامل نہیں ہے۔ بعض محققین کی نظر میں نوبختی کی کتاب فرق الشیعہ حقیقت میں کتاب المقالات والفرق ہی ہے ۔


دوسری فصل

شیعوں کے آغاز کی کیفیت

شیعہ:لغت اور قرآن میں

لفظ شیعہ لغت میں مادہ شیع سے ہے جس کے معنی پیچھے پیچھے چلنے اور کامیابی اور شجاعت کے ہیں ۔(١)

اسی طرح اکثر لفظ شیعہ کا اطلاق حضرت علی کی پیروی کرنے والوں اور ان کے دوستوں پر ہوتا ہے۔(٢)

جیساکہ ازہری نے کہا ہے: شیعہ یعنی وہ گروہ جو عترت اور خاندان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتا ہے۔(٣)

ابن خلدون نے کہا ہے : لغت میں شیعہ دوست اور پیروکار کو کہتے ہیں ، لیکن فقہااور

____________________

(١)اس شعر کی طرح:

والخزرجی قلبه مشیع

لیس من الامر الجلیل یفزع

ترجمہ: خزرجی لوگ شجاع اور بہادر ہیں اور بڑے سے بڑا کام انجام دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔ الفراہیدی'الخلیل بن احمد' ترتیب کتاب العین'انتشارات اسوہ'تھران، ج٢،ص٩٦٠

(٢)فیروزہ آبادی'قاموس اللغة'طبع سنگی ص ٣٣٢۔

(٣)الحسینی الواسطی الزبیدی الحنفی،ابو فیض السید مرتضیٰ،تاج العروس ،ج١١ص٢٥٧


گذشتہ متکلمین کی نظر میں علی اور ان کی اولاد کی پیروی کرنے والوں پراطلاق ہوتاہے(١) لیکن شہرستانی نے معنا ی شیعہ کے سلسلے میں دائرہ کو تنگ اور محدودکرتے ہوئے کہاہے : شیعہ وہ ہیں جو صرف علی کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ علی کی امامت اور خلافت نص سے ثابت ہے اور کہتے ہیں کہ امامت ان سے خارج نہیں ہو گی مگر ظلم کے ذریعہ ۔(٢)

قرآن میں بھی لفظ شیعہ متعدد مقامات پر پیروی کرنے والوں اور مدد گار کے معنی میں آیا ہے جیسے''انّ من شیعتہ لابراھیم،،(٣) (نوح کی پیروی کرنے والوں میں ابراہیم ہیں )دوسری جگہ ہے ''فاستغاثه الذی من شیعته علی الذی من عدوه ،،(٤) موسیٰ کے شیعوں میں سے ایک شخص نے اپنے دشمن کے خلاف جناب موسیٰ سے نصرت کی درخواست کی ،روایت نبوی میں بھی لفظ شیعہ پیروان اور علی کے دوستوں کے معنی میں ہے(٥) لفظ شیعہ شیعوں کے منابع میں صرف ایک ہی معنی اور مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ شیعہ، علی اور ان کے گیارہ فرزندوں کی جانشینی کے معتقدہیں جن میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد سے لے کر غیبت صغریٰ تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ، جس طرح سے تیسری ہجری کے دوسرے حصہ کے نصف میں مکمل بارہ اماموں پر یقین

____________________

(١)ابن خلدون،عبدالرحمٰن بن محمد،مقدمہ ،دار احیا التراث العربی بیروت ١٤٠٨ھ ص١٩٦

(٢)شہرستانی،الملل والنحل ،منشورات الشریف الرضی ،قم ،١٣٦٤ ھ ش،ج١ص١٣١

(٣)سورہ صافات٣٧،٨٣

(٤)سورہ قصص٢٨،١٥

(٥)بعد والی فصل میں اس روایت پر اشارہ کیا جائے گا۔


رکھتے تھے ،پہلے دور کے شیعہ جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب تھے و ہ بھی اس بات کے معتقد تھے۔

اس لئے کہ انہوں نے بارہ اماموں کے نام حدیث نبوی سے یاد کئے تھے اگرچہ ستمگار حاکموں کے خوف کی بنا پر کچھ شیعہ ان روایات کو حاصل نہیں کر پائے جواس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت واجب ہے جیسا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:(من مات لایعرف امامه مات میتة جاهلیة )(١) جو اپنے زمان کے امام کو نہ پہچانے اور مر جائے تو ا س کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

اس رو سے ہم دیکھتے ہیں جس وقت امام جعفرصادق ـ کی شہادت واقع ہوئی

____________________

(١)ابن حجر ہیثمی جو اہل سنت کے دانشمندوں میں سے ایک ہیں انہوں نے اس حدیث کوجو بارہ اماموں کے بارے میں آئی ہے ذکر کیا ہے اور اس حدیث کے صحیح ہو نے پر اجماع کا دعویٰ بھی کیا ہے جو مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے، وہ اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے اہل سنت کے علماء اور دانشوروں کے متضاد و متناقض اقوال پیش کرتے ہیں کہ جو اس سلسلہ میں وارد ہوئے ہیں اور آخر میں کسی نتیجہ تک نہیں پہونچتے ہیں ،ان میں سے قاضی عیاض نے کہا :شاید اس سے مراد بارہ خلیفہ ہیں کہ جو اسلام کی خلافت کے زمانہ میں حاکم تھے کہ جو ولیدبن یزید کے زمانہ تک جاری رہا ،بعض دوسروں نے کہا: بارہ سے مراد خلیفہ بر حق ہیں کہ جو قیامت تک حکومت کریں گے جن میں سے چند کا دور گزر چکا ہے جیسے خلفائے راشدین ،امام حسن ،معاویہ عبداللہ بن زبیر ،عمر بن عبد العزیز اور مھدی عباسی، دوسرے اورجو دو با قی ہیں ان میں سے ایک مھدی منتظر ہیں جو اہل بیت میں سے ہوں گے،نیز بعض علما ء نے بارہ ائمہ کی حدیث کی تفسیربارہ اماموں سے کی ہے کہ جو مہدی کے بعد آئیں گے ان میں سے چھ امام حسن کے فرزندوں میں سے اور پانچ امام حسین کے فرزندوں میں سے ہوں گے(الصواعق المحرقہ ، مکتبةقاہرہ، طبع دوم، ١٣٨٥،ص٣٧٧)


زرارہ جو کہ بوڑھے تھے انہوں نے اپنے فرزند عبید کو مدینہ بھیجا تاکہ امام صادق کے جانشین کا پتہ لگائیں لیکن اس سے پہلے کہ عبید کوفہ واپس آتے،زرارہ دنیا سے جاچکے تھے، آپ نے موت کے وقت قرآن کو ہاتھ میں لے کر فرمایا : اے خدا !گواہ رہنا میں گواہی دیتاہوں اس امام کی امامت کی جس کو قرآن میں معین کیا گیا ہے۔(٢)

البتہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لفظ شیعہ کا معنی اور مفہوم اپنی اصلی شکل اختیار کرنا ہو گیا اور اس کے حدو د مشخص ہوگئے ،اسی لئے ائمہ اطہار نے باطل فرقوں اور گروہوں کی طرف منسو ب لوگوں کو شیعہ ہونے سے خارج جانا ہے ، چنانچہ شیخ طوسی حمران بن اعین سے نقل کرتے ہیں ، میں نے اما م محمد باقر سے عرض کیا:کیا میں آپ کے واقعی شیعوں میں سے ہوں ؟امام نے فرمایا:ہاں تم دنیااورآخرت دونوں میں ہمارے شیعوں میں سے ہواورہمارے پاس شیعوں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں ،مگر یہ کہ وہ ہم سے روگردانی کریں ،پھر وہ کہتے ہیں ، میں نے کہا : میں آپ پر قربان ہوجاؤں کیا کوئی آپ کا شیعہ ایسا ہے کہ جو آپ کے حق کی معرفت رکھتا ہو اور ایسی صورت میں آپ سے روگردانی بھی کر ے ؟امام نے فرمایا: ہاں حمران تم ان کو نہیں دیکھو گے ۔

حمزہ زیّات جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کے سلسلہ میں بحث کی لیکن ہم امام کے مقصد کو نہیں سمجھ سکے لہذاہم نے امام رضاکو خط لکھا اور امام سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو امام نے فرمایا : امام صادق

____________________

(١) کلینی ،اصول کافی ،دارالکتب ا لاسلامیہ طبع پنجم تھران ،١٣٦٣ش،ج١ ص٣٧٧

(٢)شیخ طوسی ، اختیارمعرفةالرجال ،مؤسسہ آل البیت لاحیا ء التراث ،قم ١٤٠٤ ھ، ص،٣٧١


کا مقصود، فرقہ واقفیہ تھا(١)

اس بنا پر رجال شیعی میں صرف شیعہ اثنا عشری پر عنوانِ شیعہ کا اطلاق ہوتا ہے،اورفقہا کبھی کبھی اس کو اصحابنا یا اصحابناالامامیہ سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ لوگ جو صحیح راستہ یعنی راہ تشیع سے منحرف ہوگئے تھے ان کوفطحی ،واقفی ،ناؤوسی وغیرہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اگر ان کا نام شیعوں کی کتب رجال میں آیا بھی ہے توانہوں نے منحرف ہونے سے قبل روایتیں نقل کی ہیں ،چنانچہ اہل سنت کے چند راویوں کے نام اس کتاب میں آئے ہیں جنہوں نے ائمہ اطہار سے روایتیں نقل کی ہیں لیکن اہل سنت کے دانشمندوں اور علماء رجال نے شیعہ کے معنی کو وسیع قرار دیا ہے اور تمام وہ فرقے جو شیعوں سے ظاہر ہوئے ہیں جیسے غلاة وغیرہ ان پر بھی شیعہ کا اطلاق کیا ہے، اس کے علاوہ اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوستوں اور محبوں کو بھی شیعہ کہا ہے جب کہ ان میں سے بعض اہل بیت کی امامت اور عصمت پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے ،جیسے سفیان ثوری جومفتیان عراق میں سے تھا اور اہلسنت کے مبنیٰ پر فتویٰ دیتاتھا لیکن ابن قتیبہ نے اس کو شیعوں کی فہرست میں شمار کیا ہے۔(۲)

ابن ندیم کہ جو اہل سنت کے چار فقہامیں سے ایکہے شافعیوں ان کے بارے میں یوں کہتا ہے کہ شافعیوں میں تشیع کی شدت تھی(٣) البتہ دوسری ا ور تیسری صدی ہجری میں شیعہ اثناعشری کے بعد شیعوں کی زیادہ تعداد کو زیدیوں نے تشکیل دیا ہے، وہ لوگ اکثر سیاسی معنیٰ

____________________

(١) شیخ طوسی،معرفة الرجال موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ، ج٢ص٧٦٣۔

(٢) ابن قتیبہ ،المعارف منشورات شریف الرضی ،قم ،طبع اول ،١٤١٥،١٣٧٣،ص ٦٢٤۔

(٣)ابن ندیم ،ا لفہرست ،دارالمعرفة للطبع والنشر ،بیروت،ص٢٩٥،(کان الشافعی شدیداًفی التشیع)


میں شیعہ تھے نہ کہ اعتقادی معنیٰ میں ، اس لئے کہ فقہی اعتبار سے وہ فقہ جعفری کے پیروی نہیں کرتے تھے بلکہ فقہ حنفی کے پیرو تھے،(٢) اصول اعتقادی کے اعتبار سے شہرستانی نقل کرتا ہے، زید ایک مدت تک واصل بن عطا کا شاگرد تھا جس نے مذہب معتزلہ کی بنیاد ڈالی اور اصول مذہب معتزلہ کو زید نے پھیلایا ہے، اس وجہ سے زیدیہ اصول میں معتزلی ہیں اسی باعث یہ مفضول کی امامت کوافضل کے ہوتے ہوئے جائز جانتے ہیں اور شیخین کو برا بھی نہیں کہتے ہیں اور اعتقادات کے اعتبار سے اہل سنت سے نزدیک ہیں ۔(٣)

چنانچہ ابن قتیبہ کہتا ہے: زیدیہ رافضیوں کے تمام فرقوں سے کم تر غلو کرتے ہیں ۔(٤)

اس دلیل کی بنا پر محمد نفس زکیہ کے قیام(جو زیدیوں کے قائدین میں سے ایک تھے) کو بعض اہل سنت فقہاکی تاکید اور رہنمائی حاصل تھی اور واقدی نے نقل کیا ہے، ابوبکر بن ابیسیرہ(٥) ابن عجلان(٦) عبد اللہ بن جعفر(٧) مکتب مدینہ کے بڑے محدثین میں سے تھے اور خود واقدی نے ان سے حدیث نقل کی ہے ،وہ سب محمد نفس زکیہ کے قیام میں شریک تھے ،اسی طرح شہرستانی کہتاہے محمد نفس زکیہ کے شیعوں میں ابوحنیفہ بھی تھے ۔(٨)

____________________

(٢)شہرستانی ،ملل و نحل، منشورات شریف الرضی ،قم ١٣٦٤ھ ش ،ج ١، ص١٤٣

(٣)شہرستانی ،ملل و نحل، منشورات شریف الرضی ،قم ١٣٦٤ھ ش ،ج ١، ص ١٣٨

(٤)ابن قتیبہ ،المعارف ،ص ٦٢٣

(٥)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ١٣٧٤ص٢٥١

(٦)گزشتہ حوالہ ص،٥٤

(٧)گزشتہ حوالہ ص،٢٥٦ ٢

(٨ )شہرستانی ،ملل و نحل ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٣٦٤ ھ ش مج ١ ص١٤٠


بصرہ کے معتزلی بھی محمد کے قیام کے موافق تھے اور ابو الفرج اصفہانی کے نقل کے مطابق بصرہ میں معتزلیوں کی ایک جماعت نے جن میں واصل بن عطا اور عمرو بن عبید تھے ان لوگوں نے ان کی بیعت کی تھی(١) اس لحاظ سے زیدیہ صرف سیاسی اعتبار سے شیعوں میں شمار ہوتے تھے اگر چہ وہ اولاد فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت واولویت کے معتقد بھی تھے ۔

آغاز تشیّع

آغاز تشیع کے سلسلہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ، جنہیں اجمالی طور پر دو طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(١) وہ صاحبان قلم اور محققین جن کا کہنا ہے: شیعیت کا آغاز رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ہوا، خود وہ بھی چند گروہ میں تقسیم ہوجاتے ہیں ۔

(الف )پہلے گروہ کا کہنا ہے : شیعیت کا آغاز سقیفہ کے دن ہوا ، جب بزرگ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کہا :حضرت علی علیہ السلام امامت و خلافت کے لئے اولویت رکھتے ہیں ۔(٢)

____________________

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص ٢٥٨

(٢)یعقوبی بیان کرتے ہیں :چند بزرگ صحابہ نے ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کیااور کہا: حضرت علی خلافت کے لئے اولویت رکھتے ہیں ، تاریخ یعقوبی، جلد ٢،ص ١٢٤،طبع، منشورات الشریف الرضی قم ١٤١٤ھ


(ب)دوسرے گروہ کا کہنا ہے : آغاز تشیع خلافت عثمان کے آخری زمانے سے مربوط ہے اور یہ لوگ اس زمانہ میں ، عبد اللہ بن سبا کے نظریات کے منتشر ہونے کوآغاز تشیع سے مربوط جانتے ہیں ۔(١)

(ج)تیسرا گروہ معتقد ہے کہ شیعیت کا آغاز اس دن سے ہوا جس دن عثمان قتل ہوئے ،اس کے بعد حضرت علی کی پیروی کرنے والے شیعہ حضرات ان لوگوں کے مدمقابل قرار پائے ،جو خون عثمان کا مطالبہ کررہے تھے ، چنانچہ ابن ندیم ر قم طراز ہیں :جب طلحہ و زبیر نے حضرت علی کی مخالفت کی اور وہ انتقام خون عثمان کے علاوہ کسی دوسری چیز پر قانع نہ تھے ، نیز حضرت علی بھی ان سے جنگ کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ حق کے سامنے تسلیم ہوجائیں ،اس دن جن لوگوں نے حضرت علی کی پیروی کی وہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوگئے اور حضرت علی بھی خود ان سے فرماتے تھے:یہ میرے شیعہ ہیں ،(٢) نیز ابن عبدربہ اندلسی ر قم طراز ہیں :

''شیعہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علی کو عثمان سے افضل قرار دیتے ہیں ۔(٣)

(د)چوتھا گروہ معتقد ہے کہ شیعہ فرقہ روز حکمیت کے بعدسے شہادت حضرت علی تک وجود میں آیا۔(٤)

____________________

(١)مختار اللیثی، سمیرہ ، جہاد الشیعہ ، دار الجیل ، بیروت ، ١٣٩٦ھ، ص :٢٥

(٢)ابن ندیم الفہرست ''دار المعرفة''طبع،بیروت(بی تا) ص٢٤٩

(٣)ابن عبدربہ اندلسی احمد بن محمد ، العقد الفرید ،دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت ١٤٠٩ھ ج٢ ص٢٣٠

(٤)بغدادی ، ابو منصور عبد القادر بن طاہر بن محمد ''الفرق بین الفرق'' طبع،قاہرہ،١٣٩٧، ص١٣٤


(ھ )پانچواں گروہ آغاز تشیع کو واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین سے مربوط قرار دیتاہے۔(١)

(٢) دوسرا طبقہ ان محققین کا ہے جو معتقد ہیں کہ شیعیت کا ریشہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات طیبہ میں پایا جا تا تھا،تمام شیعہ علما بھی اس کے قائل ہیں ۔(٢)

بعض اہل سنت دانشوروں کابھی یہی کہنا ہے ،چنانچہ محمد کردعلی جو اکابرعلمائے اہل سنت سے ہیں ،کہتے ہیں :''رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں بعض صحابہ کرام شیعیان علی کے نام سے مشہور تھے۔(٣)

مذکورہ بالا نظریات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ روز سقیفہ ، خلافت عثمان کا آخری دور،جنگ جمل ، حکمیت اور واقعہ کربلا وغیرہ وہ موارد ہیں جن میں رونما ہونے والے کچھ حادثات تاریخ تشیع میں مؤثر ثابت ہوئے ،چونکہ عبداللہ بن سبا نامی کے وجود کے بارے میں شک و ابہام پایا جاتاہے،لہٰذا ان ادوار میں شیعیت کا تشکیل پا نا بعید ہے ۔

کیونکہ اگر احادیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر محققانہ نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب سے پہلے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانی بہت سی احادیث میں لفظ شیعہ حضرت علی کے چاہنے والوں کے لئے استعمال ہوا ہے ،جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں ، نیز یہ تمام احادیث اہل سنت و الجماعت کے نزدیک مقبول ہیں اور منابع احادیث میں ہیں ،جیسا کہ سیوطی جو کہ اہل سنت والجماعت کے مفسروں

____________________

(١)مختار اللیثی، ڈاکٹر سمیرہ '' جہاد الشیعہ '' ٣٥ ۔ نقل از برنا '' رولویس '' اصول الاسماعیلیہ ص٨٤

(٢)دفاع از حقانیت شیعہ، ترجمہ غلام حسن محرمی ، مومنین ، طبع اول ١٣٧٨ ص ٤٨، اورشیعہ در تاریخ،، ترجمہ محمد رضا عطائی ، انتشارات آستانہ قدس رضوی ، طبع دوم ، ١٣٧٥ ، ش ، ص ، ٣٤

(٣)خطط الشام ، مکتبة النوری ، دمشق ، طبع سوم ، ١٤٠٣ ھ ۔ ١٩٨٣ ، ج ٦ ، ص ٢٤٥


میں سے ہیں اس آیۂ کریمہ:''اولٰئکٔ هم خیر البریة '' کی تفسیر میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حدیث نقل کرتے ہیں ، منجملہ یہ حدیث کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے فرمایا : اس آیۂ کریمہ: ''اولٰئکٔ هم خیر البریة '' میں خیرالبریہ سے مراد حضرت علی اور ان کے شیعہ ہیں اور وہ قیامت کے دن کامیاب ہیں ۔(١)

ر سول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے فرمایا : خداوند کریم نے آپ کے شیعوں کے اور شیعوں کو دوست رکھنے والے افراد کے گناہوں کو بخش دیا ہے ،(٢) نیز پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے فر مایا :آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے در حالانکہ آپ حوض کوثر سے سیراب ہوں گے اور آپ کے چہرے (نور سے ) سفیدہوں گے اور آپ کے دشمن پیاسے اور طوق و زنجیر میں گرفتا رہوکر میرے پاس آئیں گے(٣) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک طولانی حدیث میں حضرت علی کے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنی صاحبزادی فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا سے فرمایا: اے فاطمہ! علی اور ان کے شیعہ کل (قیامت میں ) کامیاب(نجات پانے والوں میں ) ہیں ۔(٤)

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

اے علی ! خداوند عالم نے آپ کے اور آپ کے خاندان اور آپ کے شیعوں کو

____________________

(١) الدر المنثور فی التفسیر بالمأ ثور،ج :٦ ،ص :٣٧٩، منشورات مکتبةآیة اللہ مرعشی نجفی ، قم ١٤٠٤ھ

(٢) ابن حجر ھیثمی المکی صواعق محرقہ ،ص ٢٣٢ طبع دوم مکتب قاہرہ، ١٣٨٥

(٣)ابن حجرمجمع الزوائد، نورالدین علی ابن ابی بکر ۔ ج ٩ ، ص ١٧٧ ، دار الفکر ١٤١٤ھ

(٤) المناقب ، ص ٢٠٦ ، اخطب خوارزمی منشورات مکتبةالحیدریہ ، نجف ١٣٨٥


دوست رکھنے والوں کے گناہوں کو بخش دیا ہے ۔(١)

نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

اے علی !جب قیامت برپا ہوگی تو میں خدا سے متمسک ہوں گا اورتم میرے دامن سے اورتمہارے فرزندتمہارے دامن سے اورتمہاری اولاد کے چاہنے والے تمہاری اولاد کے دامن سے متمسک ہوں گے۔(٢)

نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا :

تم قیامت میں سب سے زیادہ مجھ سے نزدیک ہو گے اور (تمہارے) شیعہ نورکے منبر پر ہوں گے ۔(٣)

ابن عباس نے روایت کی ہے کہ جناب جبرئیل نے خبر دی کہ (حضرت) علی اور ان کے شیعہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ جنت میں لے جائے جائیں گے ۔(٤)

جناب سلمان فارسی نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا : اے علی !سیدھے ہاتھ میں انگوٹھی پہنو تاکہ مقرب لوگوں میں قرار پاؤ، حضرت علی نے پوچھا : مقربین کون ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

____________________

(١) مذکورہ مصدر کے علاوہ، ینابیع المودة ، قندوزی حنفی ، منشورات مؤسسہ اعلمی طبع اول، ١٤١٨ ھ ج ١، ص ٣٠٢

(٢) المناقب ، ص ٢١٠ ، اخطب خوارزمی

(٣) المناقب ، ص ١٥٨، ١٣٨٥ھ

( ٤) مذکورہ مصدر ،ص ٣٢٢ ۔ ٣٢٩ حدیث کے ضمن میں ، فصل ١٩


جبرئیل و میکائیل، پھر حضرت علی نے پوچھا :کون سی انگوٹھی ہاتھ میں پہنوں ؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : وہ انگوٹھی جس میں سرخ عقیق ہو ، کیونکہ عقیق وہ پہاڑ ہے ،جس نے خدائے یکتا کی عبودیت ، میری نبوت ، آپ کی وصایت اور آپ کے فرزندوں کی امامت کا اقرار و اعتراف کیا ہے اور آپ کو دوست رکھنے والے اہل جنت ہیں اور آپ کے شیعوں کی جگہ فردوس بریں ہے ،(١) پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :ستر ہزار (٧٠٠٠٠)افراد میری امت سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ،حضرت علی نے دریافت کیا : وہ کون ہیں ؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:وہ تمہارے شیعہ ہیں اورتم ان کے امام ہو۔(٢)

انس ابن مالک حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:''جبرئیل نے مجھ سے کہا :خدائے کریم حضرت علی کواسقدر دوست رکھتا ہے کہ ملائکہ کو بھی اتنا دوست نہیں رکھتا ،جتنی تسبیحیں پڑھی جاتی ہیں ، خدائے کریم اتنے ہی فرشتوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ وہ حضرت علی کے دوستوں اور ان کے شیعوں کے لئے تاقیامت استغفار کریں ۔(٣)

جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :خدائے یکتا کی قسم جس نے مجھے پیغمبر بنا کر مبعوث کیاکہ خدا وند عالم کے مقرب بارگاہ

____________________

(١) مذکورہ مصدر ص ٢٣٤

(٢) مذکورہ مصدر ص ٢٣٥

(٣) ینابیع المودة ، القندوزی الحنفی ، شیخ سلمان ،ص ٣٠١


فرشتے حضرت علی کے لئے طلب مغفرت کرتے ہیں نیز ان کے اور ان کے شیعوں کے لئے باپ کی طرح الفت و محبت اور اظہارہمدردی کرتے ہیں ۔(١)

خود حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اے علی!اپنے شیعوں کو خوش خبری دیدوکہ میں روز محشر(ان کی ) شفاعت کروں گا جس دن میری شفاعت کے علاوہ مال و فرزند کوئی فائدہ نہیں دیں گے ۔(٢)

رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی ! سب سے پہلے جنت میں جو چار افراد داخل ہوں گے وہ میں ،تم اور حسن و حسین ،ہیں ،ہماری ذریت ہمارے پیچھے اور ہماری ازواج ہماری ذریت کے پیچھے اور ہمارے شیعہ دائیں ،بائیں ہوں گے۔(٣)

خلاصہ، بہت سے محققین اور مؤرخین اہل سنت، منجملہ ابن جوزی ، بلاذری ، شیخ سلیمان قندوزی حنفی ، خوارزمی اور سیوطی نے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا :

'' یہ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہیں ''(٤) حتیٰ بعض شیعہ حضرات

____________________

(١) ینابیع المودة ص ٣٠١

(٢) ینابیع المودة ص ٣٠٢

(٣)مجمع الزوائد ص١٧٨، ھیثمی نور الدین علی بن ابی بکر

(٤) تذکرة الخواص ص ٥٤ ، ابن جوزی ، منشورات المطبعة الحیدریہ نجف ١٣٨٣ ھ، ص ٥٤، بلا ذری انساب الاشراف ،تحقیق محمد باقر محمودی ، موسسہ اعلمی بیروت ، ج ٢ ،ص ١٨٢ ، قندوزی حنفی ینابیع المودة منشورات اعلمی للمطبوعات ،طبع بیروت ،طبع اول ١٤١٨ ھ ج ١، ص٣٠١، اخطب خوارزم المناقب، منشورات المطبعة الحیدریہ ، نجف ، ١٣٨، ص٢٠٦، سیوطی جلا ل الدین ، الدر المنثور فی تفسیر بالمأ ثور ، مکتبة آیة اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی ، قم ، ١٤٠٤ھ ، ج ٦، ص ٩ا٣٧


کے بارے میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایات منقول ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ شیعوں کے مخالفین کی زبانی روایات نقل ہوئی ہیں ،جیسے جناب عائشہ سے حجر بن عدی کے بارے میں روایت منقول ہے ،جب معاویہ حجر اور ان کے دوستوں کے قتل کے بعد حج کرکے مدینہ آیاتو عائشہ نے اس سے کہا:

''اے معاویہ ! جب تم نے حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کو قتل کیا توتمہاری شرافت کہاں چلی گئی تھی؟آگاہ ہوجاؤ کہ میں نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے ،آنحضرت صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :ایک جماعت ''مرج عذرائ''نام کی جگہ قتلہوگی، ان کے قتل کی وجہ سے اہل آسمان غضب ناک ہوں گے۔(١)

چونکہ یہ احادیث قابل انکار نہیں ہیں اور انہیں بزرگان اہل سنت نے نقل کی ہیں ، لہٰذا بعض صاحبان قلم نے ان میں بیجا و نارواتاویلیں کی ہیں ،چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں :

''بہت سی روایات میں ان شیعوں سے مراد جن سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ افراد ہیں جو حضرت علی کو تمام مخلوق میں سب سے افضل و برتر سمجھتے ہیں ،اس وجہ سے ہمارے معتزلی علمانے اپنی تصانیف اور کتابوں میں لکھا ہے کہ در حقیقت ہم شیعہ ہیں اور یہ جملہ قریب بہ صحت اور حق سے مشابہ ہے ''(٢)

نیز ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب'' الصواعق محرقه فی الرد علی اهل البدع والزندقة''م یں جوکہ شیعوں کے اصول و اعتقادکے خلاف لکھی گئی ہے،اس حدیث کو نقل

____________________

(١ ) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج٢، ص٢٣١

(٢) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ۔دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت ، ج ٢٠ ، ص ٢٢٦


کرتے وقت بیان کیا : اس حدیث میں شیعوں سے مراد موجودہ شیعہ نہیں ہیں بلکہ ان سے مراد حضرت علی کے خاندان والے اوران کے دوست ہیں جو کبھی بدعت میں مبتلا نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اصحاب کرام کو سب و شتم کیا ''(١)

مرحوم مظفر ان کے جواب میں بیان کرتے ہیں :

بڑے تعجب کی بات ہے کہ ابن حجر نے گمان کیا ہے کہ یہاں شیعوں سے مراد اہل سنت حضرات ہیں مجھے نہیں معلوم کہ یہ مطلب لفظ شیعہ و سنی کے مترادف ہونے کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ یہ دونوں فرقے ایک ہی ہیں ؟یا یہ کہ اہل سنت حضرات شیعوں سے زیادہ خاندان پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت و پیروی کرتے ہیں اور انہیں دوست رکھتے ہیں ۔(٢)

مرحوم کاشف الغطاء کہتے ہیں :

لفظ شیعہ کو شیعیان حضرت علی سے منسو ب کرنے ہی کی صورت میں یہ معنیٰ سمجھ میں آتے ہیں ،ورنہ پھر اس کے علاوہ شیعہ کے کوئی دوسرے افراد ہیں ۔(٣)

احادیث اور اقوال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں شیعہ معنیٰ کا ظہور روز روشن کی طرح واضح وآشکار ہے اور یہ حضرات اس طرح کی بے جا تاویلات کے ذریعہ حقیقت سے روگردانی کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے خود اپنے نفسوں کو دھوکا دیا،کیونکہ لفظ شیعہ کے

____________________

(١)ہیثمی مکی ،ابن حجر ، صواعق محرقہ، مکتبة قاہرة، ١٣٨٤، ص ٢٣٢

(٢)مظفر ، محمد حسین تاریخ الشیعہ ، منشورات مکتبة بصیرتی ، ص٥

(٣) دفاع از حقانیت شیعہ ، ترجمہ غلام حسن محرمی ،مؤمنین، طبع اول ١٣٧٨ھ،ص٤٨۔٤٩


مصادیق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں موجود تھے اور کچھ اصحاب پیغمبر اسلام صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم شیعیان علی کے نام سے مشہورتھے ۔(١)

اصحاب پیغمبر اسلام صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو شیعہ کہتے تھے ، ہاشم مرقال نے 'حضرت علی سے''محل بن خلیفہ طائی ''نامی شخص کے بارے میں کہا:

''اے امیرالمؤمنین!وہ آپ کے شیعوں میں سے ہیں ۔''(٢)

اور خود شیعہ بھی آپس میں ایک دوسرے کو شیعہ کہتے تھے ،چنانچہ شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ ایک جماعت نے حضرت علی کی خدمت میں شرفیاب ہوکر عرض کی:''اے امیرالمومنین!''ہم آپ کے شیعوں میں سے ہیں ۔

نیز حضرت علی نے فرمایا :

____________________

(١) سعد بن عبد اللہ اشعری اس بارے میں کہتے ہیں :سب سے پہلا فرقہ شیعہ ہے اوریہی فرقہ علی بن ابی طالب کے نام سے مشہورہے کہ جس کے افراد زمانہ ٔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں شیعیان علی کہے جاتے تھے اور وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد بھی مشہور تھا کہ یہ افرادحضرت علی کی امامت کے معتقد ہیں ،جن میں مقداد بن اسود کندی ، سلمان فارسی اور ابوذر و عمار ہیں ،یہ حضرات حضرت علی کی اطاعت و پیروی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے اور آنجناب کی اقتدا کرتے تھے ،دیگر کچھ افراد ایسے تھے کہ جن کا نظریہ حضرت علی کے موافق تھا اور یہ اس امت کا پہلا گروہ ہے ، جس کو شیعیت کے نام دیا گیا،نیز شیعہ ایک قدیم نام ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی لفظ شیعہ کا استعمال ہوا ہے مثلا، شیعۂ نوح ، شیعۂ ابراہیم ، شیعۂ موسیٰ اور شیعۂ عیسیٰ نیزدیگر انبیا کے سلسلہ میں بھی ملتا ہے''المقالات والفرق ، مرکز انتشارات علمی ، فرہنگی ، تہران ص٣۔

(٢)شیخ مفید محمد، بن محمد نعمان ''الجمل ''مکتبة العلوم الاسلامی ، مرکز نشر ط دوم ١٤٢٦ھ ص٢٤٣


''ہمارے شیعوں کے چہرے راتوں میں عبادت کی وجہ سے زرد پڑجاتے ہیں اور گریہ و زاری کی وجہ سے ان کی آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں ،(١) مذکورہ بالا روایت کی طرح حضرت علی نے بہت سے مقامات پر اپنی پیروی کرنے والوں کو شیعوں کے نام سے یاد کیا ہے ،مثلا جب طلحہ وزبیر کے ہاتھوں بصرہ میں رہنے والے شیعوں کی ایک جماعت کی خبر شہادت پہنچی تو حضرت نے (ان قاتلوں ) کے حق میں نفرین کرتے ہوئے فرمایا :

خدایا !انہوں نے میرے شیعوں کو قتل کردیا ،تو بھی انہیں قتل کر''(٢)

حتیٰ دشمنان حضرت علی بھی اس زمانہ میں آپ کی پیروی کرنے والوں کو شیعہ کہتے تھے ،چنانچہ جب عائشہ و طلحہ و زبیر نے مکہ سے سفر عراق کی طرف سفر کیا تو آپس میں گفتگوکی اور کہا :

''بصرہ چلیں گے اور حضرت علی کے عاملین کو وہاں سے باہر نکالیں گے اور ان کے شیعوں کو قتل کریں گے۔(٣)

بہر حال حقیقت تشیع وہی حضرت علی سے دوستی و پیروی اور آ پ کو افضل وبرتراور مقدم قرار دینا ہے جوکہ زمانہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مربوط ہے،آنحضر ت صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی احادیث و اقوال میں لوگوں کو حضرت علی اورآپ کے خاندان کی دوستی و پیروی کا حکم دیا ۔

منجملہ غدیر خم کا واقعہ ہے جیسا کہ ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں :یہ روایات، ان

____________________

(١) شیخ مفید ،محمد بن محمد نعمان ، ''الارشاد'' ترجمہ محمد باقر ساعدی خراسانی ، کتاب فروشی اسلامیہ ، طبع دوم ، ص٢٢٨

(٢) شیخ مفید، محمد بن محمد نعمان''الجمل ''ص٢٨٥

(٣) شیخ مفید ،محمد بن محمد نعمان ص٢٣٥


لوگوں نے نقل کی ہیں جنہیں رافضی اور شیعہ ہونے سے کسی نے بھی متہم نہیں کیاہے یہاں تک کہ وہ دوسروں کی نسبت حضرت علی کی افضلیت و برتری اور تقدم کے قائل بھی نہیں تھے ۔(١)

ہم اس سلسلہ کی بعض احادیث کی طرف( مزید) اشارہ کرتے ہیں :

بریدہ اسلمی کہتے ہیں :

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : خدائے تعالیٰ نے مجھے چار لوگوں سے دوستی کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھ سے فرمایا ہے : میں بھی انہیں دوست رکھتا ہوں ، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !ان کا نام بتائے؟

آنحضرت نے تین بار فرمایا: ''علی ''اور پھر ابوذر ، مقداد اور سلمان فارسی کا نام لیا۔(٢)

طبری جنگ احد کے سلسلہ میں بیان کرتے ہیں کہ رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہیں ''(٣)

جناب ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا :

''جب کبھی حضرت رسو ل خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم غصہ ہوتے تھے تو حضرت علی کے علاوہ کوئی ان سے گفتگو کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا،سعد ابن ابی وقاص نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

____________________

(١)شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید معتزلی ،ج ٢، ص٣٤٩،طبع دار الاحیاء التراث العربی

(٢)ہیثمی مکی صواعق المحرقہ، ص١٢٢، مکتبة القاہرہ، طبع دوم ١٣٥٨

(٣)تاریخ طبری، ج٢ ص٦٥ طبع سوم، دار الکتب العلمیة ، بیروت، تیسری طباعت ١٤٠٨ھ


''جس نے علی کو دوست رکھا ، اس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا ، اس نے خدا کو دوست رکھا اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی گویااس نے خدا سے دشمنی کی۔(١)

ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

''اے علی ! تم جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والے ہو، تم جنت کے دروازہ کوکھولوگے اور بغیر حساب داخل ہوجاؤ گے ،(٢)

کتاب مناقب خوارزمی میں جناب ابن عباس سے نقل ہواہے کہ رسو ل خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

''جب مجھے معراج پر لے جا یا گیا ،تو میں نے جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا:لااله الااللّه ، محمد رسول اللّه ،علی حبیب اللّه ،الحسن والحسین صفوة اللّه،فاطمة امة اللّه،علیٰ مبغضهم لعنة اللّه ''(١)

زبیر بن بکار جو زبیر کے پوتے ہیں اور حضرت علی سے انحراف اختیار کرنے میں مشہور ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

'' جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور میری نبوت کو قبول کیا ،میں انہیں علی بن ابیطالب علیہماالسلام کی ولایت اور دوستی کی وصیت کرتا ہوں ، جس نے انہیں دوست رکھا، اس نے مجھے

____________________

(١)صواعق محرقہ ص١٢٣، ہیثمی مکی

(٢)ہیثمی مکی الصواعق المحرقہ ، ص ١٢٣،تذکرة الخواص،ص ٢٠٩، سبط ابن جوزی طبع ، منشورات مطبعہ حیدریہ نجف اشرف ١٣٨٣

(٣) مناقب ، ص ٢١٤ ، اخطب خوارزمی ١٣٨٥


دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا ،اس نے خدا کود وست رکھا''(١)

ابن ابی الحدید ، زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

''میں تمہیں اس چیز کی طرف راہنمائی کررہا ہوں کہ اگر جان لو گے تو ہلاک نہیں ہوگے ، تمہارے امام علی بن ابی طالب( علیہماالسلام )ہیں ،ان کی تصدیق کر وکہ جناب جبرئیل نے مجھے اس طرح خبر دی ہے ''۔

ابن ابی الحدید معتزلی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں اگرلوگ کہیں کہ یہ حدیث صریحی طور پر حضرت علی کی امامت پر دلالت کرتی ہے توپھر معتزلہ کس طرح اس اشکال کو حل کریں گے ؟

ہم جواب میں کہتے ہیں :ہوسکتاہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد یہ ہو کہ حضرت علی فتویٰ دینے اور احکام شرعی میں لوگوں کے امام ہیں ، نہ کہ خلافت کے سلسلہ میں ، جس طرح ہم نے بغدادی علمائے معتزلہ کے اقوال کی شرح میں جو بات کہی ہے وہ (اس اشکال کا ) جواب ہوسکتی ہے ،جس کا خلاصہ یہ ہے:

در حقیقت امامت و خلافت حضرت علی کا حق تھا ، اس شرط کے ساتھ کہ آنجناب اس کی طرف میل و رغبت کا اظہار کرتے اور اس کی خاطر دوسروں کے مد مقابل آجاتے لیکن چونکہ آپ نے اس عہدہ امامت و خلافت کو دوسروں پر چھوڑکر سکوت اختیار کیا،لہذا ہم نے ان کی ولایت و سر براہی کو قبول کرتے ہوئے ان کی خلافت کے صحیح ہونے کا اقرار

____________________

(١) الاخبار الموفقیات ، انتشارات الشریف الرضی ، قم، ١٤١٦ھ ص٣١٢


واعتراف کرلیا ،چنانچہ حضرت علی نے خلفائے ثلاثہ کی مخالفت نہیں کی اور ان کے مقابلہ میں تلوار نہیں اٹھائی اور نہ ہی لوگوں کو ان کے خلاف بھڑ کایا ، پس آپ کا یہ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے ان کی خلافت کی تصدیق کی، اسی وجہ سے ہم ان کو قبول کرتے ہیں اور ان کے بے قصور ہونے اور ان کے حق میں خیر وصلاح کے قائل ہیں ،ورنہ اگر حضرت علی ا ن حضرات سے جنگ کرتے اور ان کے خلاف تلوار اٹھا لیتے اور ان سے جنگ کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دیتے تو ہم بھی ان کے فاسق و فاجر اور گمراہ ہونے کا اقرار و اعتراف کرلیتے''(١)

شیعوں کے دوسرے نام:

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے بعد جب تشیع وسیع تر ہوئی تو شیعہ نام کے علاوہ آہستہ آہستہ اور دوسرے عناوین جیسے علوی ،امامی ،حسینی ،اثنا عشری ،خاصہ، جعفری ترابی ، رافضی، خاندان رسالت کے دوستوں کے لئے استعمال ہونے لگے اگر چہ عام طور پر اہل بیت کے دوستوں کو شیعہ ہی کہتے تھے، یہ القاب اور عناوین مختلف مناسبتوں سے شیعوں کے متعلق کہے گئے کبھی مخالفین یہ القاب شیعوں کی سرزنش اور ان کو تحقیر کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے، چنانچہ معاویہ کے زمانے میں بنی امیہ اور اہل شام علی کے القاب اور کنیت میں سے آپ کو ابو تراب اور آپ کے شیعوں کو ترابی کہتے تھے ،معاویہ نے صفین

____________________

(١)شرح نہج البلاغہ ،ج ٣ ، ص ٩٨ ابن ابی الحدید معتزلی ،طبع ، دار الاحیاء الکتب العربیة مصر،طباعت اول، ١٣٧٨ھ ق


اورحکمیت کے بعد جب عبداللہ بن خزرمی کو بصرہ بھیجنا چاہاتو تمام قبیلوں کے بارے میں اس نے بہت تاکید کی لیکن قبیلہ ربیعہ کے بارے میں کہا کہ:ربیعہ کو چھوڑواس لئے کہ اس کے تمام افراد ترابی ہیں ۔(١)

مسعودی کے بقول ابو مخنف کے پاس ایک کتاب تھی جسکا نام'' اخبار الترابیین'' تھا، مسعودی اس کتاب سے نقل کرتا ہے کہ جس میں ( عین الورد کے حوادث)کا تذکرہ کیا گیا ہے۔(٢)

رافضی عنوان کو مخالفین، شیعوں پر اطلاق کرتے تھے اور اکثر جب کسی کو چاہتے تھے کہ اس پر دین کو چھوڑنے کی تہمت لگائیں تو اس کورافضی کہتے تھے ۔

چنانچہ شافعی کہتے ہیں :

ان کان رفضاً حب آل محمدٍ

فلیشهد الثقلان انی رافضی

یعنی اگر آل محمد علیہم السلام کی دوستی رفض ہے تو جن وانس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں ۔(٣)(٤)

تاریخ میں آیا ہے کہ زید بن علی کے قیام کے بعد شیعوں کو رافضی کہا جاتا تھا،

____________________

(١) بلاذری ،انساب الاشراف ،منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ،بیروت ،١٣٩٤ھ ج ٢ ص٤٢٣

(٢)مسعودی ،مروج الذہب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات،بیروت، ١٤١١ھ ج٣ ص١٥

(٣)ہیثمی مکی ،الصواعق المحرقہ ص ١٢٣،

(٤)الامین ،سید محسن ،اعیا ن الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت ،ج١، ص٢١


شہرستانی کہتا ہے: جس وقت شیعیان کوفہ نے زید بن علی سے سنا کہ وہ شیخین پر تبرّا نہیں کرتے اور افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت کو جائز جانتے ہیں تو ان کو چھوڑ دیا اوروہ اسی وجہ سے رافضی کہلانے لگے، کیونکہ رفض کے معنیٰ چھوڑنے کے ہیں ۔(١)

علوی لقب کے بارے میں سید محسن امین لکھتے ہیں :عثمان کے قتل نیز معاویہ کے حضرت علی سے برسر پیکار ہونے کے بعد معاویہ کی پیروی کرنے والوں کو عثمانی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ عثمان کو دوست رکھتے تھے اورحضرت علی سے نفرت کرتے تھے اور حضرت علی کے چاہنے والوں پر شیعہ کے علاوہ علوی ہونے کا بھی اطلاق ہوتا ہے اور یہ طریقۂ کار بنی امیہ کے دور حکومت کے آخر تک جاری رہا اور عباسیوں کے زمانے میں علوی اور عثمانی نام منسوخ ہو گئے اور صرف شیعہ اور سنی استعمال ہو نے لگا،(٢) شیعوں کے لئے دوسرا نام امامی تھا جو زیدیوں کے مقابلے میں بولا جاتا تھا۔

چنانچہ ابن خلدون لکھتا ہے: بعض شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ روایات صریح دلالت کرتی ہیں کہ امامت صرف علی کی ذات میں منحصر ہے اور یہ امامت ان کے بعد ان کی اولاد میں منتقل ہو جائے گی ،یہ لوگ امامیہ ہیں اور شیخین سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں کیوں کہ انہوں نے علی کو مقدم نہیں کیا اور ان کی بیعت نہیں کی ،یہ لوگ ابو بکر اور عمر کی امامت کو قبول نہیں کرتے ہیں اور بعض شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی جگہ پر کسی کو معین نہیں کیا بلکہ

____________________

(١)شہرستانی ،ملل و نحل، منشورات شریف الرضی ،قم ،١٣٦٤ ھ ج: ١، ص١٣٩

(٢) امین ،سید محسن ،اعیان الشیعہ ص١٩


امام کے اوصاف بیان کردیئے کہ جوصرف امام علی پر منطبق ہوتے ہیں اور یہ لوگوں کی کو تاہی تھی کہ انہوں نے ان کو نہیں پہچانا ،وہ لوگ جو شیخین کو برا نہیں کہتے ہیں وہ فرقہ زیدیہ میں سے ہیں ۔(١)

امام اور ان کے اصحاب کی شہادت کے بعد جوا شعار کہے گئے ہیں اور ابھی تک باقی ہیں ان سے بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ امام مظلوم کی شہادت کے بعد ان کے شیعوں کو حسینی بھی کہا جاتا تھا، ان لوگوں نے اپنے کو اکثر اشعار میں حسینی اور دین حسین پر اپنے آ پ کو پہچنوایاہے۔(٢)

ابن حزم اندلسی اس بارے میں کہتے ہیں : رافضیوں میں سے کچھ حسینی ہیں کہ جو ابراہیم (ابن مالک)اشتر کے اصحاب میں سے ہیں کہ جو کوفہ کی گلیوں میں گھومتے پھرتے تھے اور ''یا لثارات الحسین'' کا نعرہ لگاتے تھے ان کو (حسینی) کہا جاتا تھا۔(٣)

لیکن قطعیہ کانام امام موسیٰ کاظم کی شھادت کے بعد واقفیہ کے مقابلہ میں شیعوں پر اطلاق ہوتا تھایعنی ان لوگوں نے امام موسیٰ کاظم کی شہادت کا قاطعیت کے ساتھ یقین کرلیا تھا اور امام رضا اور ان کے بعد آنے والے اماموں کی امامت کے قائل ہوگئے تھے جب کہ واقفیہ امام موسیٰ کاظم کی شہادت کے قائل نہ تھے۔(٤)

____________________

(١)ابن خلدون ،مقدمہ ،دار احیاء ا لتراث العربی،بیروت،١٤٠٨ھ ص١٩٧

(٢)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،مؤسسہ انتشارات علامہ ،قم ،ج٤،ص١٠٢

(٣)عبد ربہ اندلسی ،العقد الفرید، دار احیاء التراث العربی، بیروت ،١٤٠٩ھ ج٢ ،ص٢٣٤

(٤)شہرستانی ،ملل و نحل ،ص ١٥٠


آج جعفریہ کالقب،فقہی اعتبار سے زیادہ تر اہل سنت کے چار مذاہب کے مقابل میں استعمال ہوتا ہے کیو نکہ فقہ شیعہ امام جعفر صادق کے توسط سے زیادہ شیعوں تک پہنچی ہے اور زیادہ تر روایتیں بھی امام جعفرصادق سے نقل ہوئی ہیں ، لیکن سید حمیری کے شعر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلمۂ جعفری کانہ صرف فقہی لحاظ سے امام صادق کے زمانہ میں شیعوں پر اطلاق ہوتا تھا بلکہ اصولی لحاظ سے بھی تمام فرقوں کے مقابلہ میں یہ نام استعمال ہوا ہے، سیدحمیری اپنے شعر میں کہتے ہیں ۔

''تجعفرت باسم الله والله اکبر''

میں خدا کے نام سے جعفری ہو گیا ہوں اور خدا وند متعال بزرگ ہے ۔(١)

سید حمیری کا مقصد جعفری ہونے سے فرقۂ حقہ شیعہ اثنا عشری کے راستہ پر چلنا ہے کہ جو کیسانیہ کے مقابلہ میں ذکر ہوا ہے۔

صحابہ کے درمیان حضرت علی کا مقام

حضرت علی کا اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان ایک خاص مقام ہے ،مسعودی کہتا ہے: وہ تمام فضائل و مناقب جو اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تھے جیسے اسلام میں سبقت ، ہجرت ،نصرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ قرابت ،قناعت ،ایثار ، کتاب خدا کا جاننا ،جھاد، تقویٰ، ورع پرہیز گاری ، زہد،قضا،فقہ وغیرہ یہ تمام فضیلتیں حضرت علی میں بدرجہ اتم موجود تھیں بلکہ ان

____________________

(١)مسعودی ،علی بن حسین ،مروج الذھب منشورات مؤسسةالاعلمی،ج:٣،ص٩٢


کے علاوہ بعض فضیلتیں صرف آپ کی ذات گرامی سے مختص ہیں جیسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کابھائی ہونا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آپ کے بارے میں فرمانا: یا علی: تم کومجھ سے و ہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، اور یہ بھی کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں ، اے اللہ !علی کے دوستوں کودوست رکھ اور علی کے دشمن کو دشمن قراردے اور جب انس بھنے ہوئے پرندے کو لے کر حاضر ہوئے تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعاکی: پرور دگار ا!پنی محبوب ترین مخلوق کو بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ کھا نا کھائے اس وقت حضرت علی وارد ہوئے اورآپ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کھانا کھایا ، جب کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام اصحاب ان فضائل سے محروم تھے۔(١)

بنی ہاشم میں بھی حضرت علی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سب سے زیادہ نزدیک تھے بچپنے ہی سے آپ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر اور انھیں کے زیر نظر تربیت پائی۔(٢)

آپ شب ہجرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سوئے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتوں کو صاحبان امانت تک پہنچایااور مدینہ میں آپ سے ملحق ہوئے ۔(٣)

ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا نے اسلام میں حضرت علی کے مقام کو آغاز پیغمبری ہی میں معین فرمادیاتھا، جس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوحکم ہو ا کہ اپنے قرابت داروں کو ڈرائیں اس جلسہ میں جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کے لئے حاضر ہوئے وہ صرف علی تھے اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسی جلسہ میں خاندان کے بزرگوں کے درمیان یہ اعلان کردیا کہ

____________________

(١)مسعودی ، علی بن حسین مروج الذھب ، موسسة الاعلمی ، للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھج ٢ ص٤٤٦

(٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ١٤١٦ھ ص٤١

(٣)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذہب ،ص٢٩٤


علی میرے وصی وزیر ،خلیفہ اور جا نشین ہیں جب کہ حضرت علی کا سن تمام حاضرین سے کم تھا(١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مختلف مقامات پر مناسبت کے لحاظ سے حضرت علی کی موقعیت اور ان کے مقام کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے اور ان کے مقام کے لئے خاص تاکید کی ہے، خاص طور پر اسلام کے پھیلنے کے بعد کافی لوگ جو مسلمانوں کے لباس میں آگئے تھے خصوصاًقریش کا حسد خاندان بنی ہاشم و رسالت سے کافی زیادہ ہوچکا تھا ، ابن شہر آشوب نے عمر بن خطاب سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں :

میں علی کو اذیت دے رہا تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقا ت ہوگئی تو آپ نے فرمایا: اے عمر! تونے مجھے اذ یت دی ہے عمر نے کہا : خدا کی پناہ کہ میں اللہ کے رسول کو اذیت دوں ،آپ نے فرمایا تونے علی کو اذیت دی ہے اور جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔

مصعب بن سعدنے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے نقل کیا ہے وہ کہتا ہے : میں اور ایک دوسرا شخص مسجد میں علی کو برا بھلا کہہ رہے تھے، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غضب ناک حالت میں ہماری طرف آئے اورفرمایا :کیو ں مجھ کو اذیت دے رہے ہو جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔

ہیثمی نقل کرتا ہے: بریدہ اسلمی ان لو گوں میں سے ہے کہ جو حضرت علی کی سپہ سالاری میں یمن گئے تھے وہ کہتا ہے کہ میں لشکر سے پہلے مدینہ واپس آگیا لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا خبر ہے؟میں نے کہا : خبریہ ہے کہ خدا نے مسلمانوں کو کامیاب کردیاہے پھر لوگوں

____________________

(١)یوسفی غروی ،محمد ہادی ،موسوعة التاریخ الاسلامی ،مجمع الفکرالاسلامی ،قم ،طبع اول ١٤١٧ھ ج١ ص٤١٠


نے دریافت کیا کہ تو تم کیوں پہلے واپس آگئے؟میں نے کہا : علی نے ایک کنیز خمس میں سے اپنے لئے مخصوص کرلی ہے میں آیاہوں تاکہ اس بات کی خبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوں ، جس وقت یہ خبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہنچی تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ناراض ہوئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: آخرکیوں کچھ لوگ علی کے بارے میں چوں چرا کرتے ہیں جس نے علی پر اعتراض کیا اس نے مجھ پر اعتراض کیا ہے جو علی سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہو ا، علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ،وہ میری سرشت سے خلق ہوئے ہیں اور میں سرشت ابراہیم سے، اگرچہ میں ابراہیم سے افضل ہوں ،اے بریدہ! کیا تم نہیں جانتے کہ علی ایک کنیزسے زیادہ کے مستحق ہیں اور وہ میرے بعد تمہارے ولی ہیں ۔(١)

ابن شہر آشوب نے بھی اس طرح کی حدیث محدثان اہل سنت سے نقل کی ہے جیسے تر مذی ،ابو نعیم ،بخاری و موصلی وغیرہ۔(٢)

ابن شہر آشوب انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں :

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں اگر کسی کو پہچاننا چاہتے تھے کہ کون حرام زادہ ہے اور کون حرام زادہ نہیں ہے تو اس کو علی بن ابی طالب کے بغض سے پہچانتے تھے ،جنگ خیبر کے بعد لوگ اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے جاتے تھے جب راستہ میں علی کو دیکھتے تھے اوروہ ہاتھوں سے حضرت علی کی طرف اشارہ کرتے تھے اور بچہ سے پوچھتے تھے کہ اس شخص

____________________

(١)ہیثمی ،نورالدین علی بن ابی بکر ،مجمع الزوائد، دار الفکر للطباعةوالنشر التوزیع،بیروت ١٤١٤ھ ، ج٩، ص١٧٣

(٢) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ،ص،١١ ٢۔٢١٢


کو دوست رکھتے ہو اگر بچہ نے کہا: ہاں تو اس کا بوسہ لیتے تھے اور اگروہ کہتاتھا نہیں ، تو اس کو زمین پراتاردیتے اور کہتے کہ اپنی ماں کے پاس چلے جائو،عبادہ بن صامت کا بھی کہناہے: ہم اپنی اولادکو بھی علی بن ابی طالب کی محبت پر آزماتے تھے اگر دیکھتے تھے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت علی کو دوست نہیں رکھتاتو سمجھ لیتے تھے کہ یہ نجات یافتہ نہیں ہو سکتا ۔(١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عمر کے آخری سال گزرنے کے ساتھ ساتھ مولا علی کی جانشینی کا مسئلہ عمومی تر ہوتا گیا اور اس قدر عام ہو ا کہ لقب وصی حضرت علی سے مخصو ص ہو گیا جس کو دوست و دشمن سبھی قبول کرتے تھے خاص کر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تبوک جانے سے پہلے حضرت علی سے فرمایا: اے علی !تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حجةالوداع کے موقع پر بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منیٰ و عرفات کے میدان میں اپنی تقریر وں کے ذریعہ لوگو ں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی تھی کہ میرے بارہ جانشین ہوں گے جو سب کے سب بنی ہاشم سے ہوں گے۔(٢)

بالآخر مکہ سے واپسی پرغدیر خم کے میدان میں خدا کا حکم آیاکہ تمام مسلمانوں کے درمیان علی کی جانشینی کا اعلان کردیں ،رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ،مسلمانوں کو ٹھہرنے کا حکم دیا اور اونٹ کے کجاؤں کے منبر پر تشریف لے گئے اورمفصل تقریر کے بعد فرمایا:

____________________

(١) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ،ص،٢٠٧

(٢)مرتضیٰ عاملی ،سید جعفر ،الغدیروالمعارضون ،دار السیر، بیروت ،١٤١٧ھ ص٦٢۔٦٦


(من کنت مولاه فهٰذا علی مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله )

اس کے بعد لوگوں کو حکم دیا کہ علی کی بیعت کریں اس مطلب کی تفصیل علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد میں بیان کی ہے ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں میں اعلان کر دیا کہ کون میرا جانشین ہے اسی بنا پر لوگوں کو یقین تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد علی ان کے جانشین ہوں گے، زبیر بن بکار اس سلسلے میں لکھتا ہے :

تمام مہاجرین اور انصار کو اس بارے میں بالکل شک نہیں تھا کہ رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا کی وفات کے بعد حضرت علی خلیفہ اور صاحب الامر ہوں گے۔(١)

یہ مطلب زمانۂ سقیفہ کے اشعار سے بخوبی آشکار ہے اور یہ اشعار اس مطلب پر دلیل ہیں جب کہ ان اشعار میں مختصر سی تحریف ہوئی ہے عتبہ بن ابی لہب نے سقیفہ کے واقعہ کے بعداور ابوبکر کے خلیفہ بن جانے کے بعد اس طرح اشعار پڑھے ہیں ۔

ما کنت احسب ان الأمر منصرف

عن هاشم ثم منها عن ابی حسن

میں نے اس بات کا گمان بھی نہیں کیا تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم اور ان کے درمیان ابوالحسن یعنی حضرت علی سے چھین لیں گے۔

الیس اول من صلّی لقبلتکم

و اعلم الناس بالقرآن و السنن

____________________

(١) زبیر بن بکار، الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی،قم ،١٤١٦ھ ،ص٥٨


کیاوہ سب سے پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور لوگوں میں قرآن و سنت کو سمجھنے میں سب سے دانا ہیں ۔

و اقرب الناس عهداً باالنبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و من

جبرئیل عون له فی الغسل و الکفن

وہ لوگوں میں سب سے آخری شخص ہیں جس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرے پر نگاہ کی ، جبرئیل آنحضرت کے غسل و کفن میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

ما فیه ما فیهم لا یمترون به

و لیس فی القوم ما فیه من الحسن

جوکچھ ان کے پاس ہے اور جو کچھ دوسروں کے پاس ہے اس کے بارے میں فکر نہیں کرتے در حالانکہ قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کی نیکیاں ان کے برابر ہوں

ماذا الذی ردهم عنه فتعلمه

ها ان ذا غبننا من اعظم الغبن

کون سی ایسی چیز ہے جس نے ان کو ان سے برگشتہ کردیا ہے ،جان لو کہ یہ ہمارا ضرر بہت بڑا نقصان ہے ۔

ان اشعار کے کہنے کے بعد حضرت علی نے اس سے سفارش کی کہ دوبارہ ایسا نہیں کرنا اس لئے ہمارے لئے دین کی سلامتی سب سے زیادہ اہم نکلے ۔(١)

____________________

(١)زبیر بن بکار ،الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی قم ،١٤١٦ھ ص ا٥٨


ابن ابی عبرہ قرشی نے بھی یہ شعرپڑھے :

شکراً لما هو باالثنا ء حقیق

ذهب الّجاج و بویع الصدیق

اس کا شکر جو تعریف کے لائق ہے ،صدیق کی بیعت کی گئی اور ہمارے درمیان جھگڑا ختم ہو گیا ۔

کنّا نقول لها علی و الرضا

عمر و اولاهم بذاکٔ عتیق

ہم کہتے تھے کہ علی خلافت کے حقدار ہیں اور ہم عمر سے بھی راضی تھے لیکن اس مورد میں ان کے درمیان سب سے بہتر ابو بکر نکلے۔(١)

خلافت کے موقع پر وہ اختلاف جو سقیفہ کی بنا پر قریش و انصار کے درمیان پیدا ہوا اور عمرو عاص نے انصارکے خلاف گفتگو کی نعمان بن عجلان جو انصار کے شعراء میں سے ایک تھے انہوں نے عمرو عاص کے جواب میں اشعار کہے جو علی کے حق کی وضاحت کرتے ہیں ۔

فقل لقریشٍ نحن اصحاب مکة

و یوم حنین والفوارس فی بدر

قریش سے کہو ہم فتح مکہ کے لشکر، جنگ حنین اور بدر کے سواروں میں سے ہیں

____________________

(١) زبیر بن بکار ،الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی، قم ،١٤١٦ھ ص ٥٨٠


و قلتم حرام نصب سعد و نصبکم

عتیق بن عثمان حلال ابا بکر

تم نے کہا سعد کو خلافت پر منصوب کرنا حرام ہے اور تمہارا عتیق بن عثمان، (ابوبکر) کو نصب کرنا جائز ہے۔

و اهل ابو بکر لها خیر قائم

و ان علیاً کان اخلق بالامر

اور تم نے کہا ابو بکر اس کے اہل ہیں اور اس کو انجام دے سکتے ہیں جبکہ علی لوگوں میں سب سے زیادہ خلافت کے حقدارو سزاوار تھے۔

وکان هوانا فی علیّ و انه

لاهل لها یا عمرو من حیث لاتدری

ہم علی کے طرفدار تھے اور وہ اس کے اہل تھے لیکن اے عمر و !تو اس بات کو نہیں سمجھتا

فذاکٔ بعون اللّه یدعواالی الهدیٰ

و ینهیٰ عن الفحشاء و البغی و النّکر

یہ علی ہیں جو خدا کی مدد سے لو گوں کی ہدایت کرتے ہیں ،علی ہیں جو ظلم و فحشا سے روکتے ہیں اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔


وصی النبی المصطفیٰ وابن عمه

وقاتل فرسان الضلالة والکفر

یہ علی ہیں جو وصی مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے بھائی ہیں جو کفر و ضلالت کے پہلوانوں کو قتل کرنے والے ہیں ۔(١)

حسان بن ثابت نے بھی فضل بن عباس کے شکریہ کی وجہ سے کہجنہوں نے حضرت علی کے حکم سے انصار کا دفاع کیا، ان اشعار کو پڑھا:

جزیٰ اللّه عنا و الجزابکفّه

ابا حسن عنا و من کان کابی حسن

خدا ہماری طرف سے ابوالحسن کو جزائے خیر دے کیوں کہ جزا اسی کے ہاتھ میں ہے اور کون ہے جو کہ علی کے مانند ہے؟

سبقت قریش بالذی انت اهله

فصدرکٔ مشروح و قلبک ممتحن

علی ہی اس کے اہل تھے قریش پر سبقت لے گئے آپ کا سینہ کشادہ اور قلب امتحان شدہ (پاک و پاکیزہ )ہے ۔

حفظت رسول اللّه فینا و عهده

الیکٔ و من اولیٰ به منکٔ من و من

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سفارش کو ہمارے بارے میں حفظ کیا آپ کے علاوہ کون ہے جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ولی اور جانشین ہو؟

الست اخاه فی الهدیٰ و وصیّه

واعلم منه باالکتاب و السّنن

____________________

(١)زبیر بن بکار ،الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی، قم ،١٤١٦ھ ص٥٩٢


کیا آپ وہ نہیں ہیں جو ہدایت میں پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی اور ان کے وصی اور لوگوں میں کتاب و سنت کے سمجھنے میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ؟(١)

ابو سفیان بھی شروع میں (سقیفہ کی) خلافت کا مخالف تھا اور حضرت علی کی طرف سے دفاع کرتا تھا ،تقریر کے علاوہ جو اس نے سلسلہ میں کہے ہیں وہ ذیل کے اشعار کہ جس کی نسبت اس کی طرح دی گئی ہے :

بنی هاشم لاتطمعوا الناس فیکم

ولا سیّما تیم بن مرّة اوعدی(٢)

اے بنی ہاشم! تم اس بات کی اجازت نہ دو کہ دوسرے تمھارے کام میں لالچ کریں بالخصوص تیم بن مرہ یا عدی ۔

فما الأمر الأ فیکم و الیکم

و لیس لها الّا ابوالحسن علیّ

خلافت فقط تمہارا حق ہے اور صرف ابوالحسن علی اس کے اہل اور سزاوار ہیں ۔(٣)

غدیر کے دن حسان بن ثابت جو شاعر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہے جاتے تھے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگی اور غدیر کے واقعہ کو اپنے اشعار میں اس طرح پیش کیا :

____________________

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف الرضی ،قم ،طبع اول ١٤١٤ ھ ج ٢ ص ١٢٨

(٢)تیم ابو بکر کا اور عدی عمر کا قبیلہ تھا ۔

(٣)ابن واضح، تاریخ یعقوبی ص١٢٦


ینادیهم یوم ا لغدیر نبیهم

بخم واسمع بالنبی منادیاً

مسلمانوں کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غدیر خم کے دن ان کو آواز دیتا ہے لوگو آئو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آواز کو سنو

وقد جاء جبرئیل عن امر ربه

بانکّ معصوم فلاتکٔ وانیا

جبرئیل خدا کی طرف سے پیغام لائے کہ(اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) تم خدا کی حفظ و امان میں ہو لہذا اس سلسلہ میں سستی وغفلت نہ برتو۔

و بلّغهم ما انزل اللّه ربهم

الیکٔ ولا تخش هناکّ الاّ عادیا

جو کچھ تمہارے خدا نے تم پر نازل کیا ہے اس کو پہنچا دواور اس موقع پر دشمنوں سے نہ ڈرو۔

وتقام به اذ ذاکٔ رافع کفّه

بکف علیّ معلن الصوت عالیا

علی کو اپنے ہاتھوں سے اٹھایااس طرح سے کہ علی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلندکیا اور بلند آواز سے اعلان کیا۔

فقال فمن مولاکم و ولیکم

فقالوا ولم یبدوا هناکّ تعامیا

اس کے بعد لوگوں سے کہا: کون ہے تمہارا مولا و ولی؟ پس انہوں نے بے توجہی کا ثبوت دئے بغیر کہا۔

الهک مولانا وانت ولینا

ولن تجدن فینا لکٔ الیوم عاصیا

آپ کا خدا ہمارا مولا ہے اور آپ ہمارے ولی ہیں ؟ ہم میں سے کوئی بھی سرکش نہیں ہے۔

فقال قم یا علی فاننی

رضیتک من بعدی اماماً و هادیاً

اس کے بعد آپ نے فرمایا: اے علی ! اٹھو میں راضی ہوں اس بات سے کہ تم میرے بعد امام اور ہادی ہوگے۔

فمن کنت مولا ه فهذا ولیّه

فکونو له انصار صدق موالیاً

اس کے بعد کہا جس شخص کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں تم لوگ ا ن کے حقیقی اور سچے دوست بنو۔


هناک دعا اللهم وال ولیه

وکن للذی عادی علیاً معادیاً

اس مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا کی: خدایا !علی کے دوست کو دوست رکھ اور علی کے دشمن کو دشمن قرار دے۔

فیارب انصر ناصریه لنصرهم

امام هدی کالبدر یجلوا الدیا جیا(١)

پرور دگارا!علی کی مدد کرنے والوں کی مدد کرکیونکہ جس طرح تاریک شب میں چاند ہدایت کرتا ہے اسی طرح وہ اپنے چاہنے والوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔

ان اشعارمیں حسان نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تقریر جو علی کے بارے میں تھی ان کو امام، ولی اور ہادی جاناکہ جو امت کی رہبری اور زعامت کی وضاحت کرتی ہے

ہاں !عام مسلمان اس بات کا گمان نہیں کرتے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدکوئی بھیپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی اور خلافت کے بارے میں علی سے جھگڑا کرے گاجیسا کہ معاویہ نے محمد بن ابی بکر کے خط کے جواب میں تحریر کیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں میں اور تمہارے باپ ابوطالب کے بیٹے کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم سمجھتے تھے اور ان کے فضل کو اپنے اوپر آشکار جانتے تھے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد تمہارے باپ اورعمر سب سے پہلے وہ شخص تھے کہ جنہوں نے علی کے مرتبہ کو گھٹا یا اور لوگوں سے اپنی بیعت لی ۔(٢)

یہی وجہ ہے وہ لوگ جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخری مہینوں میں مدینہ میں نہیں تھے انہیں بعد وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعض انجام دی جانے والی سازشوں کا علم نہیں تھا، جیسے خالدبن سعید

____________________

(١)امینی ، عبد الحسین،الغدیر ،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران،١٣٦٦ہجری شمسی ج،١ ص١١،و ج٢،ص ٣٩

(٢)بلاذری ،احمد بن یحییٰ بن جابر ،انساب الاشراف ،منشورات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٣٩٤ھ ،ج٢،ص٣٩٦


اور ابوسفیان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد جب مدینہ آئے تو انے دیکھاکہ ابوبکر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ بیٹھے ہیں اور خود کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خلیفہ بتا رہے ہیں تو ان لوگوں کو بہت تعجب ہوا ۔( ١)

حتیٰ کہ جب ابو سفیان سفر سے واپس آیا اور ان حالات کو دیکھا تو عباس بن عبدالمطلب اور علی کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ اپناحق لینے کے لئے قیام کریں لیکن انہوں نے اس کی بات کو قبول نہیں کیا، البتہ ابو سفیان کی نیت میں خلوص نہیں تھا۔(٢)

اگر چہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اکثر صحابہ نے ابو بکر کی خلافت کو قبول کرلیا لیکن علی کے کی فضلیت وبرتری کو نہیں بھولے جب آپ مسجد میں ہوتے تھے شرعی مسائل میں آپ کے علاوہ کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا کیونکہ آپ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کی صاف و صریح حدیث کی بنا پر امت میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والا جانتے تھے۔(٣)

حضرت عمر کا کہنا تھا کہ خدانہ کرے کوئی مشکل پیش آئے اور ابوالحسن نہ ہوں ۔(٤)

نیزاصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہتے تھے ؛ جب تک علی مسجد میں موجودر ہیں ان کے علاوہ کوئی بھی فتویٰ دینے کا حق نہیں رکھتا۔(٥)

____________________

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی منشورات شریف الرضی، قم ،طبع اول ،١٤١٤ھ، ج٢، ص١٢٦

(٢) ابن اثیر، عزالدین ابی الحسن علی بن ابی الکرم ،اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ،ج٣ ،ص١٢، ابن واضح، تاریخ یعقوبی ۔ج٢ ،ص١٢٦

(٣)بلاذری ،انساب الاشراف ،ص٩٧

(٤)ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ،دار احیاء التراث االعربی ،ج ١ ،ص١٨

(٥)ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ،دار احیاء التراث االعربی ،ج ١ ،ص١٨


اگر چہ علی نے پیغمبر کی وفات کے بعد سیاسی اقتدارحاصل نہیں کیالیکن آپ کے فضائل ومناقب کویہی اصحا ب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیان کرتے ہیں ، ابن حجر ہیثمی جو اہل سنت کے متعصب عالموں میں سے ہیں انہوں نے حدیث غدیر کے راویوں کی تعداد تیس افراد بتائی ہے۔(١)

لیکن ابن شہر آشوب نے حدیث غدیر کے اصحاب میں راویوں کی تعداد اسی(٨٠) بیان کی ہے۔(٢)

لیکن علامہ امینی نے حدیث غدیر کے راویوں کی تعداد جو صحابہ سے نقل ہوئی ہے ایک سو دس ذکر کی ہے کہ جس کی تفصیل یوں ہے:۔(٣)

ابو ہریرہ، ابو لیلیٰ انصاری ،ابو زینب انصاری، ابو فضالہ انصاری، ابو قدامہ انصاری، ابو عمرہ بن عمرو بن محصن انصاری، ابوالہیثم بن تیّہان، ابو رافع، ابو ذؤیب، ابوبکر بن ابی قحافہ، اسامہ بن زید،ا بی بن کعب ،اسعد بن زراۂ انصاری، اسماء بنت عمیس،ام سلمہ، ام ہانی، ابو حمزہ انس بن مالک انصاری، براء بن عازب، بریدہ اسلمی، ابوسعید ثابت بن ودیعہ انصاری، جابر بن سمیرہ، جابر بن عبد اللہ انصاری، جبلہ بن عمرو انصاری، جبیر بن مطعم قرشی، جریر بن عبد اللہ بجلی ، ابوذر جندب بن جنادہ، ابو جنیدہ انصاری ،حبہ بن جوین عرنی، حبشی بن جنادہ سلولی ،حبیب بن بدیل بن ورقاء خزاعی، حذیفہ بن اسید غفاری، ا بو ایوب خالد زید انصاری، خالد بن ولید مخزومی، خزیمہ بن

____________________

(١)صواعق المحرقہ ،مکتبہ قاہرہ ،طبع١٣٨٥،ص١٢٢

(٢)مناقب آل ابی طالب ،مؤسسہ انتشارات علامہ ،ج٣،ص٢٥و٢٦

(٣)الغدیر ،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران،ج١،ص١٤۔٦١


ثابت، ابو شریح خویلد بن عمرو خزاعی، رفاعہ بن عبد المنذر انصاری، زبیر بن عوام، زید بن ارقم ،زید بن ثابت ،زید بن یزید انصاری ،زید بن عبداللہ انصاری، سعد بن ابی وقاص، سعد بن جنادہ،سلمہ بن عمرو بن اکوع، سمرہ بن جندب، سہل بن حنیف، سہل بن سعد انصاری، صدی بن عجلان، ضمیرة الاسدی، طلحہ بن عبید اللہ، عامر بن عمیر، عامر بن لیلیٰ، عامر بن لیلیٰ غفاری،عامر بن واثلہ،عائشہ بنت ابی بکر ،عباس بن عبدالمطلب، عبد الرحمن بن عبدربہ انصاری،عبد الرحمن بن عوف قرشی، عبدالرحمن بن یعمر الدیلی ، عبداللہ بن ابی عبد الاثر مخزومی، عبد اللہ بن بدیل، عبد اللہ بن بشیر، عبد اللہ بن ثابت انصاری،عبد اللہ بن ربیعہ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن ابی عوف، عبد اللہ بن عمر،عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن یامیل، عثمان بن عفان، عبید بن عازب انصاری، ابو طریف عدی بن حاتم، عطیہ بن بسر، عقبہ بن عامر، علی بن ا بی طالب، عمار بن یاسر، عمارہ الخزرجی، عمر بن عاص، عمر بن مرہ جہنی، فاطمہ بن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمہ بنت حمزہ، عمربن ابی سلمہ، عمران بن حصین خزاعی ،عمر و بن حمق خزاعی، عمر و بن شراحیل، قیس بن ثابت انصاری ،قیس بن سعد انصاری، کعب بن عجرہ انصاری، مالک بن حویرث لیثی،مقداد بن عمرو، ناجیہ بن عمرو خزاعی، ابو برزہ فضلہ بن عتبہ اسلمی، نعمان بن عجلان انصاری، ہاشم مرقال، وحشی بن حرب، وہب بن حمزہ، ابو جحیفہ، وہب بن عبد اللہ و یعلی بن مرہ۔(١)

حدیث غدیر کے راویوں کے درمیان وہ لوگ جو علی سے دشمنی رکھتے تھے جیسے ابوبکر،عمر،عثمان،طلحہ،عبدالرحمن بن عوف،زیدبن ثابت،اسامہ بن زید،حسان بن ثابت،

____________________

(١) الغدیر، درالکتب الاسلامیہ،تہران،ج١،ص١٤ـ ٦١۔


خالد بن ولید،اور عائشہ کا نام لیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ یہی صحابہ جوحضرت علی کے موافق بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجودکبھی آپ کی طرف سے آپ کے دشمن کے مقابلے میں دفاع بھی کرتے تھے جیسے سعد بن وقاص ،یہ ان چھ لوگوں میں سے تھے جو عمر کے مرنے کے بعد انتخاب خلافت کے لئے چھ رکنی کمیٹی بنی تھی اورانہوں نے علی کے مقابلے میں عثمان کو ووٹ دیا نیز خلافت کے مسئلہ میں حضرت علی کی طرفداری اور حمایت بھی نہیں کی اور بے طرفی اختیار کی، وہ باتیں جو ان کے اور معاویہ کے درمیان ہوئیں تو انہوں نے معاویہ سے کہا: تونے اس شخص سے جنگ و جدال کیا ہے جو خلافت میں تجھ سے زیادہ سزاوار تھا، معاویہ نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا : میرے پاس دلیل یہ ہے کہ ایک تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کے بارے میں فرمایا جس کا میں مولاہوں اس کے علی مولاہیں بارالہاٰ! علی کے دوستوں کو دوست اورعلی کے دشمنوں کو دشمن رکھ اوردوسرے ان کے فضل و سابقہ کی وجہ سے(١)

اسی طرح عمرو عاص کا بیٹا عبد اللہ جنگ صفین میں اپنے باپ کے ساتھ معاویہ کی طرف تھا ،جب عمارقتل ہوگئے اور ان کے سر کو معاویہ کے پاس لایا گیا تو دو شخص آپس میں جھگڑنے لگے ہر ایک یہ دعویٰ کرنے لگا کہ عمار کو اس نے قتل کیا ہے عبد اللہ نے کہا :بہتر یہ ہے کہ تم میں سے ایک اپنا حق دوسرے کو بخش دے اس لئے کہ میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: عمار کو ایک ظالم گروہ قتل کرے گا معاویہ نا راض ہوا اور اس نے کہا:

____________________

(١)بلاذری،انساب الاشراف،موسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت، طبع اول، ١٣٩٤ ہجری، ج٢،ص ١٠٩،اخطب خوارزمی ،المناقب، منشورات، المکتبة الحیدریہ، نجف، ١٣٥٨، ہجری ص٥٩۔٦٠


تو یہاں پر کیا کر رہا ہے عبد اللہ نے کہا :کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ کو باپ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اس لئے میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جنگ نہیں کروں گا۔(١)

جناب عمار کا امیر المومنین کی رکاب میں موجود ہونا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے عمار کے قاتلوں کو ایک ستم گار گروہ بتایا ہے اس پر آشوب دور میں یہ علی کی حقانیت کی بہترین گواہی تھی جس کا عمرو عاص کے بیٹے نے بھی اعتراف کیا ۔

سقیفہ کی تشکیل میں قریش کاکردار

علی کی جانشینی کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام کوششوں اور واقعہ غدیرکے باوجودسقیفہ کا اجتماع واقع ہوا خدا کافرمان زمین میں دھرارہ گیا اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خانوادہ خانہ نشین ہو گیا ، اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ قریش کے کردارکی نشاندہی کی جائے اس لئے کہ قریش ہی چاہتے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عترت کا حق غصب کریں ،حضرت علی نے مختلف مقامات پر قریش کے مظالم اور خلافت حاصل کرنے کی کوشش کو بیان کیا ہے ۔(٢)

اس طرح اپنے بھائی عقیل کے خط کے جواب میں فرماتے ہیں :قریش سخت گمراہی میں ہیں ، ان کی دشمنی اور نا فرمانی معلوم ہے انہیں سر گردانی میں ہی چھوڑ دو اس لئے کہ انہوں نے مجھ سے جنگ ٹھان لی ہے جس طرح رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ پر تلے ہوئے تھے مجھ کو سزا دینے سے پہلے ،

____________________

(١)بلاذری،انساب الاشراف،ص٣١٢۔٣١٣

(٢)بطور نمونہ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٧،میں فرماتے ہیں خدایا قریش اور ان لوگوں کے مقابلے میں جو ان کی مدد کرتے ہیں تجھ سے مدد چاہتا ہوں کیوں کہ انہوں نے میرے مرتبہ کو کم کیا اور وہ خلافت جو مجھ سے مخصوص تھی اس کے بارے میں میرے خلاف متفق ہوگئے، نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، ص ٥٥٥،


انہیں چاہئے کہ وہ قریش کو سزا دیں اورانہیں مزہ چکھائے کیونکہ انہوں نے رشتہ داری توڑ دی اور میرے بھائی کی حکومت مجھ سے چھین لی۔

امام حسن نے جو خط معاویہ کو لکھا تھا اس میں سقیفہ کی تشکیل میں قریش کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا : پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد قبیلۂ قریش نے اپنے آپ کواس حیثیت سے پہچنوایا کہ ہم لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ نزدیک ہیں اور اسی دلیل کی بنا پر تمام عربوں کوکنارے کردیا اور خلافت کواپنے ہاتھ میں لے لیا ہم اہل بیت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی یہی کہاتو ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ہم کو ہمارے حق سے محروم کردیا۔(١)

امام باقر نے بھی اپنے ایک صحابی سے فرمایا : قریش نے جو ستم ہمارے اور ہمارے دوستوں اور شیعوں پر کئے ہیں اس کے بارے میں کیا کہوں ؟ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہوئی جب کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا تھاکہ لوگوں کے درمیان(خلافت کے لئے) اولیٰ ترین فردکون ہے؟ لیکن قریش نے ہم سے روگردانی کی اور خلافت کو اس کی جگہ سے منحرف کردیا ہماری دلیلوں کے ذریعہ انصار کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے بعد خلافت کو ایک دوسرے کے حوالے کرتے رہے اور جس وقت ہمارے پاس واپس آئی توبیعت شکنی کی اور ہم سے جنگ کی ۔(٢)

قریش کافی مدت پہلے ایسا عمل انجام دے چکے تھے جس سے لوگ سمجھ گئے تھے کہ یہ

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ١٤١٦ھ ص ٦٥

(٢)کتاب سلیم بن قیس العامری، منشورات دار الفنون ، بیروت ، ١٤٠٠ھ ص ١٠٨، شیرازی السید علی خان، الدرجات الرفیعة فی طبقات الشیعة ، مؤسسة الوفاء ، بیروت ،ص ٥


خلافت کو غصب کرنا چاہتے ہیں اسی لئے انصار سقیفہ کی طرف دوڑے تاکہ قریش تک حکومت پہنچنے سے مانع ہوں ، اس لئے کہ قریش فرصت طلب تھے۔

خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قریش کی دشمنی کے اسباب

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیوں قریش خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دشمنی رکھتے تھے؟ کیاان کا دین اور ان کی دنیا اس خاندان کی مرہون منت نہیں تھی؟ کیاانہوں نے اسی خاندان کی برکت کی وجہ سے ہلاک ہونے سے نجات نہیں پائی تھی ؟اس سوال کا جواب دینے کے لئے چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

١) قریش کی ریاست طلبی

قریش زمانہ جاہلیت میں پورے جزیرة العرب پر تمام عربوں میں ایک امتیاز رکھتے تھے، ابوالفرج اصفہانی کا اس بارے میں کہنا ہے : تمام عرب قومیں قریش کو شعر کے علاوہ ہر چیز میں مقدم جانتی تھی(١) یہ موقعیت اورحشیت ان کو دوجہتوں سے حاصل ہوئی تھی۔

(الف) اقتصادی قوت : قریش نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جد جناب ہاشم کے زمانہ ہی سے پڑوسی ممالک جیسے یمن، شام ،فلسطین ، عراق، حبشہ سے تجارت کرنی شروع کردی تھی اور اشراف قریش اس تجارت کی وجہ سے بہت زیادہ ثروتمند ہو گئے تھے۔(٢)

____________________

(١) اصفہانی، الاغانی، دار الاحیاء تراث العربی ، ج ١ ص ٧٤

(٢) مہدی پیشوائی، تاریخ اسلام ، دانشگاہ آزاد اسلامی ،واحد اراک ، ص ٥٠۔٥١


خداوند عالم اس تجارت کو قریش کے لئے سرمایہ افتخار اور عیش و مسرت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے :ایک دوسرے سے محبت و الفت پیدا کرنے گرمیوں اور سردیوں میں آپس میں رابطہ رکھنے کے لئے اللہ کی عبادت کریں وہی پروردگارکہ جس نے بھوک سے انہیں نجات دی اورخوف و ہراس ان سے دور کیا۔(١)

(ب) معنوی حیثیت :قریش کعبہ کے وجود کی بنا پر کہ جو عرب دنیامیں ، عرب قبائل کے درمیان ایک مشہورزیارت گاہ تھی نیز اسے عربوں کے درمیان ایک خاص معنوی حیثیت حاصل تھی خاص طور پر ہاتھیوں کے لشکر ابرہہ کی شکست کے بعد قریش کا احترام لوگوں کی نظر میں زیادہ ہو گیاتھا اور یہ کعبہ کے کلید دار بھی تھے،قریش نے اس واقعہ سے فائدہ اٹھایا اور خود کو آل اللہ ، جیران اللہ اور سکان حرم اللہ کہلواناشروع کر دیا ، اسی وسیلہ کی بنیاد پر انہوں نے اپنے مذہبی مقام کو استوار کرلیا ۔(٢)

اسی احساس برتری و اقتدار کی وجہ سے قریش نے کوشش شرو ع کی کہ اپنی برتری کو ثابت کریں چونکہ مکہ کعبہ کی وجہ سے عرب کے لئے مرکز تھا جزیرةالعرب کے اکثر ساکنین وہاں آتے جاتے تھے،قریش اپنی رسومات کو مکہ آنے والوں پرتھوپتے تھے طواف کعبہ کے وقت لوگوں کو متوجہ کرتے تھے کہ حاجی ان سے خریدے ہوئے لباس میں طواف کریں(٣) لیکن رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے احساس کیا کہ تعلیمات اسلامی ان کی برتری اور انحصار طلبی کے منافی ہے ،قریش نے ان کو قبول نہیں کیا اور اپنی تمام

____________________

(١)سورہ قریش

(٢)تاریخ اسلام ،مہدی پیشوائی ، ص ٥٢

(٣)ابن سعد ، الطبقات الکبری ، دار صادر ، بیروت ، ج١ ،ص ٧٢


طاقت کے ساتھ مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور جو بھی اسلام کی نابودی کے لئے ممکن تھا اس کوانجام دیا لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے، آخر کار پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قریش پرکامیابی حاصل کرلی ،آٹھویں ہجری میں قریش کے کچھ افراد مدینہ آئے اور مسلمانوں سے مل گئے لیکن دشمنی سے باز نہ آئے مثلاًحکم بن عاص نے پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مذاق اڑایا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا سے طائف کی جانب شہر بدر کردیا۔(١)

جب قریش میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مقابلے کی طاقت نہیں رہی تو انہوں نے ایک نیا فارمولہ بنا یاکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین سے مقابلہ کریں عمر نے ہمیشہ ابن عباس سے کہا: عرب نہیں چاہتے کہ نبوت اور خلافت تم بنی ہاشم کے درمیان جمع ہواسی طرح مزید کہا:(٢) اگر بنی ہاشم میں سے کوئی امر خلافت کا ذمہ دار بن گیا تو اس خاندان سے خلافت باہر نہیں جائے گی اور ہمارا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا لیکن اگر بنی ہاشم کے علاوہ کوئی اس کا ذمہ دار ہوگیا تو وہ لوگ اپنے ہی درمیان ایک دوسرے کو منتقل کرتے رہیں گے۔(٣)

اس زمانے کے لوگ بھی قریش کے اس رویہ سے آگاہ تھے جیسا کہ براء بن عازب نے نقل کیا کہ میں بنی ہاشم کے چاہنے والوں میں سے تھا جس وقت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دنیا سے گئے تو مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ قریش بنی ہاشم سے خلافت کو نہ چھین لیں اور میں کافی حیران وسر گردان تھا۔(٤)

____________________

(١) ابن اثیر، اسد الغابة فی معرفة الصحابہ،دار احیا التراث العربی،ج٢،ص٣٤

(٢) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج١،ص١٩٤

(٣)ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج١،ص١٩٤

(٤) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج٢،ص٥١


قریش کا ابو بکر اور عمر کی خلافت پر راضی ہونا خود ان کے فائدے میں تھا جیساکہ ابوبکر نے مرتے وقت قریش کے کچھ لوگوں سے کہ جو اس کی عیادت کے لئے آئے تھے کہا: میں جانتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک یہ خیال کرتا ہے کہ میرے بعد خلافت اس کی طرف منتقل ہوگی لیکن میں نے تم میں سے بہترین شخص کو اس کے لئے چنا ہے۔(١)

ابن ابی الحدید کہتا ہے: قریش عمر کی طولانی خلافت کی وجہ سے ناراض تھے اور عمربھی اس بات سے آگاہ تھے لہذاوہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ مدینہ سے باہر جائیں ۔(٢)

(٢) قبیلوں کی رقابت و حسادت

عربوں میں قبیلوں کے درمیان رقابت اور حسادت بہت تھی خدا وند عالم نے قرآن مجید میں سورہ تکاثر(٣) اور سورہ سبائ(٤) میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے، زمانۂ جاہلیت

____________________

(١) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج١،ص١١٠

(٢) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،دار احیا التراث العربی،ج٢ ،ص١٥٩

(٣)تمہاری سرگرمی کا باعث زیادہ طلبی ہے یہاں تک کہ تم اپنے مرنے والوں کی قبروں سے ملاقات کرو۔

(٤)تم نے کہا : ہمارے پاس مال اور بیٹے زیا دہ ہیں اسی وجہ سے ہم سزا نہیں پاسکتے ان سے کہہ دوکہ میراخدا جب کسی کو چاہے گا اس کی روزی کم کردے اور جب چاہے زیادہ کردے گا لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ہیں کہ اولاد اور مال کا زیادہ ہونا ان کو مجھ سے نزدیک نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ لوگ جو ایمان لائیں اور عمل صالح انجام دیں ۔


میں بنی ہاشم اور دوسرے تمام قبائل کے درمیان رقابت موجود تھی، زمزم کھودتے وقت جناب عبدالمطلب کے مقابلہ میں قریش کے تمام قبائل جمع ہوگئے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ افتخار صرف عبد المطلب کو حاصل ہو ۔(١)

یہی وجہ ہے کہ ابو جہل کہتا تھا ہم بنی ہاشم سے ان کے شرف کی وجہ سے رقابت کرتے تھے وہ بھی لوگوں کو کھانا دیتے تھے توہم بھی لوگوں کو کھانا دیتے تھے ، وہ لوگوں کو سواری مہیاکرتے تھے تو ہم بھی لوگوں کو سواری مہیا کرتے تھے تو وہ لوگوں کو پیسے دیتے تھے ہم بھی لوگوں کو پیسے بانٹتے تھے اور ہم ان کے ساتھ اس طرح شانہ بشانہ بڑھ رہے تھے جیسے گھوڑوں کی دوڑمیں دو گھوڑے ساتھ چل رہے ہوں ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے کہا : ہم میں ایک ایسا پیغمبرمنتخب ہوا ہے کہ جس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے اب ہم ان تک کیسے پہونچتے ؟ خدا کی قسم !ہم اس پر ہرگز ایمان لائے اور نہ ہی ان کی تصدیق کی۔(٢)

امیہ بن ابی ا لصلت جو طائف کے اشراف میں سے تھا اس نے اسی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیااور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موعودکا سالہا سال انتظار کرتا رہاتاکہ اس انتطارمیں خود کو اس منصب تک پہنچا دے جب اس کو بعثت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خبر ملی پیروی کرنے سے اجتناب کیا اور اس کی علت یہ بتائی کہ مجھ کو ثقیف کی عورتوں سے شرم آتی ہے، اور اس کے بعد کہتا ہے : کافی عرصہ تک میں ان سے یہ کہتا رہاکہ وہ پیغمبر موعود میں ہوگااب کس طرح تحمل کروں کہ وہ مجھے بنی عبد مناف کے ایک جوان کا پیرو دیکھیں ۔(٣)

____________________

(١)ابن ہشام ،السیرة النبویہ ،دارالمعرفة،بیروت ،ج ١ ،ص١٤٣،١٤٧

(٢)ابن ہشام ،سیرةالنبویہ، دار المعرفة ، بیروت (بی تا) ج١ ص ١٤٣۔١٤٧

(٣) ابن قتیبہ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ١٤١٥ھ ص ٦٠، اور تاریخ اسلام ، مہدی پیشوائی ، زمانہ جاہلیت سے حجة الوداع تک ، دانشگاہ آزاد اسلامی ، واحد اراک ، ص ٨٨


لیکن اس حسد ورقابت کے باوجود خدا نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کامیاب کیا اور قریش کی شان و شوکت کو خاک میں ملادیا ،آٹھویں ہجری کے بعد اکثر اشراف قریش مدینہ منتقل ہو گئے اور وہاں بھی خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے۔

ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک نے عباس بن عبدالمطلب سے چند بار کہا : آپ کے والد عبدالمطلب اور بنی سہم کاہنہ غیطلہ دونوں جہنم میں ہیں ، آخر کار عباس غصہ ہو گئے اور اس کے منھ پر طمانچہ مارا اور اس کی ناک سے خون نکل آیا، اس شخص نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آکر عباس کی شکایت کی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا عباس سے اس با ت کی وضاحت چاہی ،عباس نے سارا قضیہ بیان کیا تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : کیوں عباس کو اذیت دیتے ہو؟(١)

حضرت علی اپنے مخصوص کمال کی بنا پر زیادہ مورد حسد قرار پائے امام باقر فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی ـ کے فضا ئل بیان کرناچاہتے تھے یا اس آیت کی تلاوت کرنا چاہتے تھے جو علی کی شان میں نازل ہوئی تھی تو کچھ لوگ مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے، اس طرح کی روایت نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت زیا دہ وارد ہوئی ہیں ۔(٢)

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جس نے علی سے حسد کیا اس نے مجھ سے حسد کیا اور جس نے مجھ سے حسد کیا وہ کافر ہوگیا ۔(٣)

____________________

(١)طبقات الکبریٰ داربیروت ١٤٠٥ھ ، ج ٤ ،ص٢٤

(٢)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، مؤسسہ انتشارات ١٤٦،قم ،ج ٣ ،ص٢١٤

(٣)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، مؤسسہ انتشارات ١٤٦،قم ،ج ٣ ص، ٢١٣۔٢١٤


یہاں تک کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں بعض افراد علی سے حسد کرتے تھے اور آ پ کو اذیت پہونچاتے تھے جیسا کہ سعد بن وقاص سے نقل ہواہے کہ میں اور دوسرے دو آدمی مسجد میں بیٹھے علی کی برائی کر رہے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غصہ کی حالت میں ہم لوگو ں کی طرف آئے اورفرمایا : علی نے تمہارا کیا بگاڑاہے؟ جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی ۔(١)

(٣)حضرت علی سے قریش کی دشمنی

علی کی محرومیت اورمظلومیت کی اہم ترین دلیل قریش کی مخالفت اور دشمنی تھی کیونکہ وہ حضرت علی سے زک کھا چکے تھے حضرت نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے زمانے میں جنگوں میں ان کے باپ،بھائیوں اور عزیزوں کو قتل کیا تھا ،چنانچہ یعقوبی حضرت علی کی خلافت کے شروع کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے :قریش کے مروان بن حکم ،سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ کے علاوہ تمام لوگوں نے حضرت علی کے ہاتھوں پر بیعت کی ، ولید نے ان لوگوں کی طرف سے حضرت علی سے کہا:آپ نے ہم لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے، بدرکے بعد میرے باپ کی گردن اڑائی سعیدکے باپ کو جنگ میں قتل کیا اور جب عثمان نے مروان کے باپ کو مدینہ واپس بلا نا چاہا تو آپ نے اعتراض کیا ۔(٢)

اسی طرح خلافت علی کے وقت عبید اللہ بن عمر نے امام حسن سے سفارش کی

____________________

(١)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، مؤسسہ انتشارات ١٤٦،قم ،ج :٣ ،ص٢١١

(٢)ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف رضی ، قم ،٤١٤١ھ، ج٢،ص ١٧٨


کہ آپ مجھ سے ملاقات کریں مجھے آ پ سے کام ہے، جس وقت دونوں کی ملا قات ہوئی تو عبید اللہ بن عمرنے امام حسن سے کہا : آپ کے والد نے شروع سے آخر تک قریش کو نقصان پہنچایا لوگ ان کے دشمن ہو گئے ہیں آپ میری مدد کریں تاکہ ان کو ہٹا کر آ پ کو ان کی جگہ بٹھادیا جائے۔(١)

جب ابن عباس سے سوال کیاگیا: کیوں قریش حضرت علی سے دشمنی رکھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : پہلے والوں کو حضرت علی نے واصل جہنم کیا اور بعد والوں کے لئے باعث عار ہو گئے ،حضرت علی کے دشمن قریش کی اس ناراضگی سے فائدہ اٹھاتے تھے اورقضیہ کو مزید ہوا دیتے تھے۔(٢)

عمر بن خطاب نے سعد بن عاص سے کہا : تومجھے اس طرح دیکھ رہا ہے جیسے میں نے ہی تیرے باپ کو قتل کیا ہو میں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ علی نے ان کو قتل کیا ہے۔(٣)

خود حضرت علی نے بھی ابن ملجم کے ہا تھوں سے ضربت کھانے کے بعد ایک شعر کے ضمن میں قریش کی دشمنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

تکلم قریش تمنا ی لتقتلنی

فلا و ربکٔ ما فازوا وما ظفروا(٤)

قریش کی خود تمنا تھی کہ وہ مجھے قتل کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے ۔

____________________

(١) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلا غہ ،ج١،ص٤٩٨

(٢) ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ، ص ٢٢٠

(٣) ابن سعد ، طبقات الکبریٰ ، دار بیروت ، ١٤٠٥ھ ، ج ٥ ،ص ٣١

(٤)ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ،ص٣١٢


(٤)حضرت علی کا سکوت :

اب یہ دیکھناچاہیے کہ حضرت علی نے سقیفہ اور ابوبکر کی حکومت کے آغا ز کے بعد کیوں اپنے حق سے صرف نظر کیا ؟چند ماہ کے استدلال اور احتجاجات کے بے اثر ہونے کا یقین کر لینے کے بعد حکومت کے خلاف مسلحانہ جنگ کیوں نہیں کی؟ جب کہ بعض بزرگ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کے واقعی طرفداروں میں تھے اور عمومی طور سے مسلمان بھی آپ سے مخالفت نہیں رکھتے تھے، بہ طورکلی کہا جا سکتا ہے کہ امیر المومنین نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر رکھا اور سکوت اختیار کیا جیساکہ خطبہ شقشقیہ میں آپ نے فرمایا:

''میں نے خلافت کی قباکو چھوڑ دیا اور اپنے دامن کو اس سے دور کر لیا حالانکہ میں اس فکر میں تھا کہ آیا تنہا بغیر کسی یاورومدد گار کے ان پر حملہ کردو ں یا اس دم گھٹنے والی تنگ و تاریک فضا میں جوان کی کار ستانیوں کانتیجہ تھی اس پر صبر کروں ایسی فضاجس نے بوڑھوں کو فرسودہ بنادیا تھا، جوانوں کو بوڑھا اور با ایمان لوگوں کو زندگی کے آخری دم تک کے لئے رنجیدہ کردیا تھامیں نے انجام پر نگاہ کی تو دیکھا کہ بردباری اور حالات پر صبر کرنا ہی عقل و خرد سے زیادہ نزدیک ہے اسی وجہ سے میں نے صبر کیا لیکن میں اس شخص کی طرح رہا کہ جس کی آنکھ میں کانٹا اور گلے میں کھردری ہڈی پھنسی ہوئی ہو میں اپنی میراث کو اپنی آنکھ سے لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔(١)

____________________

(١)نہج البلاغہ ،فیض الا سلام، خطبہ ، ٧٤((فَسَد َلْتُ دُونها ثوباً و طَویتُ عنها کَشحاً و طفِفتُ ارتئی بین ان اصُول بِیَدٍ جذّٰائَ اَو أَصبِرَ علیٰ طَخیَةٍ عَمیٰا ء یَهْرَمُ فیها الکبیر ، و یَشِیبُ فیها الصّغیرُ ، و یَکْدَحُ فیها مُوْمِن حتّیٰ یلقی ربَّه ! فَرَاَیْتُ انَّ الصَّبْرَ علیٰ هٰاتا اَحجیٰ فَصَبَرتُ وَ فی المعین قَذیٰ ، و فی الحلْقِ شجی ٰأَرَیٰ تُراثِی نَهْباً))


حضرت علی کے کلام سے خاموشی کے دوسرے اسباب کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے (اگرچہ وہ اسباب جزئی ہیں جیسے :)

(١)مسلمانوں کے درمیان تفرقہ

امیر المومنین فرماتے ہیں : جب خدا نے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روح قبض کی قریش نے اپنے کو ہم پر مقدم کیا اور ہم (جو امت کی قیادت کے لئے سب سے زیادہ سزاوار تھے)کو ہمارے حق سے بازر کھا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کام میں صبر و برد باری کرنا مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور ان کے خون بہنے سے بہتر ہے کیونکہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے دین کی مثال بالکل دودھ سے بھری ہوئی اس مشک کی سی تھی کہ جس میں جھاگ بھر گیا ہوکہ جس میں ذرا سی غفلت اور سستی اسے نابود کر دے گی اور تھوڑا سا بھی اختلاف اسے پلٹ دے گا۔(١)

____________________

(١)انّ اللّه لمّا قبض نبیّه استاثرث علینا قریش بالامر ودفعتنا عن حقٍّ نحن احقُّ به مِن النّاسِ کافّةً فرایْتُ انَّ الصّبر علیٰ ذلکٔ افضَلُ مِن تفیقِ کلمةِ المُسلمین َ و سفْکِٔ دِمائِهم و النّاسُ حد یثو عهدٍ بالاسلام والدین ِ یُمخَص مخْصَ الوطب ، یُفسَدهُ ادنیٰ و هَنٍ و یعکسه خُلفٍ

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ،دار الجیل بیروت،طبع اول،١٤٥٧ہجری ،ج١،ص٣٠٨


(٢)مرتد ہونے کا خطرہ

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد، عرب قبائل کی بڑ ی تعداد کہ جنہوں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آخری زندگی میں اسلام قبول کیا تھا وہ دین سے پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے تھے

کہ جس کی وجہ سے ،مدینہ کے لئے خطرہ بہت بڑھ گیا تھاان کے مقابلہ میں مدینہ کی حکومت کمزورنہ ہو نے پائے اس لئے حضرت علی نے سکوت اختیار کیا حضرت علی نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے یہ کبھی نہیں سوچا اور نہ میرے ذہن میں کبھی یہ بات آئی کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدعرب منصب امامت اور رہبری کو ان کے اہل بیت سے چھین لیں گے اور خلافت کو مجھ سے دور کر دیں گے تنہا وہ چیز کہ جس نے مجھے نا راض کیا وہ لوگوں کا فلاں (ابو بکر ) کے اطراف میں جمع ہوجانا اور اس کی بیعت کرنا تھا میں نے اپناہاتھ کھینچ لیامیں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کچھ گروہ اسلام سے پھر گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کونابودکردیں ، میں نے ا س بات کا خوف محسوس کیا کہ اگر اسلام اور اس کے اہل کی مددد نہ کروں نیز اسلام میں شگاف اور اس کے نابود ہونے پر شاہد رہوں تو میرے لئے اس کی مصیبت حکومت اور خلافت سے محروم ہونے سے زیادہ بڑی تھی کیونکہ دنیا کا فائدہ چند روزہ ہے جو جلدہی ختم ہوجائے گا جس طرح سراب تمام ہوجاتا ہے یا بادل چھٹ جاتے ہیں پس میں نے اس چیز کو چاہا کہ باطل ہمارے درمیان سے چلا جائے اور دین اپنی جگہ باقی رہے۔(١)

____________________

(١)فواللّه ما کان یلقی فی روعی و لا یخطر ببالی ، انّ العرب تزعج هذا الامر من بعده عن اهل بیته ولا انهم منحّوه عنّی من بعده فما راعنی الّا انثیال النّاس علی فلان یبایعونه، فامسکت یدی حتّی رایت رجعة النّاس قد رجعت عن الاسلام یدعون الی محق دین محمد ٍ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فخشیتُ ان لم انصر الاسلام و اهله ان اری فیه ثلماً او هدماً تکون المصیبة به علیَّ اعظم من قوت ولا یتکم الّتی انّما هی متاع ایّام قلائل یزول منها ما کان یزول السَّراب او کما یتقشّع السحاب فنهضت فی تلکٔ الاحداث حتی زاح الباطل و زهق ،واطمانّ الدین و تنهنه ( نہج البلاغہ ، فیض الاسلام، مکتوب ٦٢


امام حسن نے بھی معاویہ کو خط میں لکھا :میں نے منافقوں اور عرب کے تمام گروہ کہ جو اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ان کی وجہ سے اپنے حق سے چشم پوشی کی(١) حتیٰ کہ ان لوگوں میں کچھ ایسے تھے جن کے لئے قرآن نے شہادت دی ہے: ان کے قلوب میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے زبردستی اسلا م قبول کیا تھا اور اپنے نفاق کی وجہ سے علی کی ولایت کے منکر تھے حتیٰ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور میں بھی اس مطلب پر اعتراض کرتے تھے۔

طبرسی نے آیۂ ''سئل سائل بعذاب واقع'' کی تفسیرمیں حضرت امام صادق سے نقل کیا ہے : غدیر خم کے واقعہ کے بعد نعمان بن حارث فھری پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا:آپ کے حکم کے مطابق ہم نے خداکی وحدانیت اور آ پ کی رسالت کی گواہی دی اورآپ نے جہاد ، روزہ ،حج ، زکوٰ ة، نماز کا حکم دیا ہم نے قبول کیا ان تمام باتوں پر آپ راضی اور خوش نہیں ہوئے اور کہہ رہے ہیں کہ جس کامیں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں ، کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا خداکی جانب سے ؟تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے یہ حکم خدا کی طرف سے ہے ،نعمان بن حا رث وہاں سے یہ کہتا ہوا واپس ہوا کہ اگر یہ مطلب حق ہے تو آسمان سے میرے اوپر پتھر نازل فرما ،اسی وقت آسمان سے اس کے اوپر پتھر نازل ہو ااور وہ وہیں پر ہلا ک ہوگیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔(٢)

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، قم ١٤١٦ھ ص ٦٥

(٢)مجمع البیان ،دارالمعرفة للطباعة ،١٤٠٨ھ ،ج١٠،ص٥٣٠


سقیفہ میں بھی یہ لوگ قریش کے حامی اورطرف دار تھے جیسا کہ ابو مخنف نے نقل کیا ہے کہ کچھ صحرائی عرب مدینہ کے اطراف میں کار وبار کے لئے آئے ہوئے تھے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے دن مدینہ میں موجود تھے ان لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔(١)

(٣) عترت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصلی وارث اور دین کے سچے حامی نیز خیر خواہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خا ندان والے تھے یہ لوگ قرآن کے ہم پلہ اورہم رتبہنیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسری عظیم یاد گارنیز قرآن وشریعت کی تفسیر کرنے والے تھے انہوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اسلام کا صحیح چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کیاتھا ان لوگوں کا قتل ہوجانا ناقابل تلافی نقصان تھا امیر المؤمنین فرماتے ہیں : میں نے سوچا اور فکر کی کہ اس وقت اہل بیت کے علاوہ کوئی میرا مدد گار نہیں ہے میں راضی نہیں تھا کہ یہ لوگ قتل کر دئیے جائیں ۔(٢)

سقیفہ کے بعد شیعوں کے سیاسی حالات

اگرچہ سقیفہ تشکیل پانے کے بعد حضرت علی سیاسی میدان سے دور ہوگئے تھے، شیعہ مخصوص گروہ کی صورت میں سقیفہ کے بعدسیاسی طور پر وجود میں آئے اور انفرادی یا جماعت

____________________

(١) شیخ مفید ، محمد بن محمد بن نعمان ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی، مرکز نشر ،ص١١٨،١١٩

(٢)فَنَظَرتُ فاِذَا لَیْسَ لِی مُعِینُ اِلّا اَهل بَیْتِی فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَن المُوْت ( نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، خطبہ : ٢٦ )


جماعت کی صورت میں حضرت علی کی حقانیت کادفاع کرتے رہے پہلے حضرت فاطمہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زہراکے گھر جمع ہوئے اور بیعت سے انکار کیا اور سقیفہ کے کارندوں سے روبروہوئے۔(١)

لیکن حضرت علی تحفظ اسلام کی خاطر خشونت اور سختی کا رویہ ان کے ساتھ اپنانا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ بحث و منا ظرہ کے ساتھ مسئلہ کا تصفیہ کریں چنانچہ براء بن عازب نقل کرتا ہے:میں سقیفہ کے قضیہ سے دل برداشتہ رات کے وقت مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں گیا اور دیکھا: مقداد، عبادہ بن صامت ، سلمان فارسی ،ابوذر ، حذیفہ اور ابوالہیثم بن تیہان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد رونما ہونے والے حالا ت کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ہم سب ایک ساتھ ابی بن کعب کے گھر گئے تو اس نے کہا: جو بھی حذیفہ کہیں اس کی رائے بھی وہی ہوگی۔(٢)

آخر کار شیعان علی نے جمعہ کے دن مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ابو بکر کے ساتھ مناظرہ کیا اور اس کو ملامت کیا ، طبرسی نقل کرتے ہیں :

ابا ن بن تغلب نے امام صادق سے پوچھا : میں آپ پر فدا ہو جاؤں ،جس وقت ابو بکر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ پر بیٹھے تو کیا کسی نے اعتراض نہیں کیا ؟امام نے فرمایا : کیوں نہیں انصار و مہاجرین میں سے بارہ افرادنے مثلاًخا لد بن سعید ،سلمان فارسی ، ابوذر ، مقداد، عمار، بریدہ اسلمی ،ابن ا لہیثم بن تیھان ، سہل بن حنیف ،عثمان بن حنیف ،خزیمہ بن ثابت (ذوالشہادتین)،ابی بن کعب ،ابو ایوب انصاری ایک جگہ پر جمع ہوئے اور

____________________

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف رضی ،قم، ١٤١٤ھ، ج٢،ص١٢٦

(٢)ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء التراث العربی ،بیروت ،ج٢ص٥١


انہوں نے سقیفہ کے متعلق آپس میں گفتگو کی، بعض نے کہا : مسجد چلیں اور ابوبکر کو منبر سے اتارلیں لیکن بعض لوگوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا یہ لوگ امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اورکہا چلتے ہیں اور ابوبکر کو منبر سے کھینچ لیتے ہیں حضرت نے فرمایا: ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اگرسختی کرو گے اور یہ کام انجام دوگے تو وہ لوگ آئیں گے اور مجھ سے کہیں گے کہ بیعت کرو ورنہ تمہیں قتل کردیں گے بلکہ اس کے پاس جائوجو کچھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے اس سے بیان کرو، اس طرح سے اتمام حجت ہوجائے گی ،وہ لوگ مسجد میں آئے اور سب سے پہلے خالد بن سعید اموی نے کہا : اے ابوبکر! آپ جانتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ بنی نضیر کے بعد کیاکہا تھا : یاد رکھو! اور میری وصیت کو حفظ کرلو تمہارے درمیان میرے بعد میرے جانشین اور خلیفہ علی ہیں ، اس کے بعد جناب سلمان فارسی نے اعتراض کیا اس کے بعد جب دوسرے لوگوں نے احتجا ج کیا تو ابوبکر منبر سے نیچے اترے اور گھر چلے گئے اور تین دن تک گھر سے باہر نہیں نکلے ،خالد بن ولید ، ابو حذیفہ کا غلام سالم اور معاذبن جبل کچھ افراد کے ساتھ ابو بکر کے گھر آئے اور اس کے دل کو قوت دی، عمر بھی اس جماعت کے ساتھ مسجد میں آئے اور کہا کہ اے شیعیان علی اور دوستداران علی، جان لو اگر دوبارہ ان باتوں کی تکرار کی تو تمہاری گردنوں کو اڑا دوں گا۔(١)

اسی طرح وہ چند صحابہ جو وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وقت زکوٰ ة وصول کرنے پر مامور تھے جب وہ اپنی ماموریت سے واپس آئے جن میں خالد بن سعید اوراس کے دو بھائی

____________________

(١) طبرسی،ابی احمد منصور بن علی بن ابی طالب ،الاحتجاج ، انتشارات اسوہ،ج١ ،ص٨٦ا ٢٠٠١ئ


ابان اور عمر وتھے، ان حضرات نے ابو بکر پر اعتراض کیا اور دوبارہ زکوٰ ة وصول کرنے سے انکار کیا اور کہا: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ہم کسی دوسرے کے لئے کام نہیں کریں گے۔(١)

خالد بن سعید نے حضرت علی سے یہ درخواست کی آپ آئیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں کیونکہ آپ ہی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ کے لائق و سزاوار ہیں ۔(٢)

خلفاء ثلاثہ کی حکومت کے پورے ٢٥ سالہ دور میں شیعیان علی آپ کو خلیفہ اور امیر المومنین کے عنوان سے پہچنواتے رہے،عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں : قرآن کی فرمائش کے مطابق خلیفہ چار ہیں آدم،داؤد ،ہارون اور علی ۔(٣)

____________________

(١) ابن اثیر، ابی الحسن علی بن ابی اکرام ،اسد الغابہ فی معرفةالصحابہ،قاہرہ، ،دار احیاء التراث العربی بیروت ،ج٢،ص٨٣

(٢) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، منشورات مؤسسةا لاعلمی للمطبوعات ،بیروت ،طبع اول ،ج٢ ص١١

(٣)خدا وند عالم حضرت آدم کے لئے قرآن میں فرماتا ہے ،(انّی جاعل فی الارضِ خلیفة )(سورہ بقرہ ، آیت ٣٠)


خدا وند عالم حضرت دائود کے لئے فرماتا ہے :(یا داؤد انّا جعلناکٔ خلیفة فی الارض )سورہ ص ٣٨،آیت: ٣٦

خدا وند عالم حضرت ہارون کے لئے موسیٰ کی زبانی نقل فرماتا ہے (اخلفنی فی قومی ) سورہ اعراف آیت ١٤٢

خدا وند عالم حضرت علی کے لئے فرماتا ہے :(وعد اللّه الذین آمنوا منکم و عملوا الصّالحات لیستخلفنّهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم )سورہ نور : ٢٤،آیت ٥٥، ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ، دارالاضواء ، بیروت ، ١٤٠٥ھ، ج ٣ ،ص ٧٧۔٧٨

حذیفہ بھی کہتے تھے: جو بھی امیر المومنین بر حق کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے وہ علی سے ملاقات کرے۔(١)

حارث بن خزرج جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگوں میں انصار کے علمدار ہواکرتے تھے نقل کرتے ہیں : نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا : اہل آسمان آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں ۔(٢)

یعقوبی لکھتا ہے: عمر کی چھ رکنی کمیٹی کی تشکیل اور عثمان کے انتخاب کے بعد کچھ لوگوں نے یہ ظاہر کیا کہ ہم علی کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور عثمان کے خلاف باتیں کرتے تھے، ایک شخص نقل کرتا ہے کہ میں مسجدالنبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں داخل ہوا دیکھا ایک آدمی دوزانو بیٹھا ہے اور اس درجہ بیتاب ہو رہا ہے جیسے تمام دنیا اس کی تھی اور اب پوری دنیا اس سے چھن گئی ہے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: قریش پر تعجب ہے کہ خلافت کو خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خارج کردیا حالانکہ ان کے درمیا ن سب سے پہلا مومن اوررسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا زاد بھائی دین خدا کا دانا ترین عالم ا ور فقیہ ترین شخص صراط مستقیم موجود تھا ،خدا کی قسم! امام ہادی و مہدی اور طاہر و نقی سے خلافت کو لے لیا گیاکیونکہ ان کا ہدف اصلاح امت و دین داری نہ تھا بلکہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی'' راوی کہتا ہے:میں نزدیک ہوا اور دریافت کیا خدا آپ پر رحمت نازل کرے آپ کون ہیں ؟ اور یہ شخص جس کے بارے میں بیان کر رہے ہیں وہ کون ہے؟ فرمایا :میں مقداد بن عمر وہوں اور وہ علی بن ابی طالب

____________________

(١) بلاذری ،محمد بن یحیی ، انساب الاشراف ،منشورات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت ،١٢٩٤ھ ، ج٣،ص١١٥

(٢)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، موسسہ انتشارات علامہ ، قم ، ج٣، ص ٥٤


ہیں ، میں نے کہا : آپ قیام کریں میں آپ کی مدد کرو ں گا ،مقداد نے کہا: میرے بیٹے یہ کام ایک دو آدمی سے ہونے والا نہیں ہے۔(١)

ابوذر غفاری بھی عثمان کی خلافت کے روز مسجد نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دروازہ پر کھڑے کہہ رہے تھے جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ مجھے پہچان لے میں جندب بن جنادہ ابوذر غفاری ہوں ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علم آدم کے وارث اور تمام فضائل انبیاء کے حامل ہیں اور علی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین اور ان کے علم کے وارث ہیں ، اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد سرگرداں امت! آگاہ ہوجاؤ جس کو خدانے مقدم کیا تھا اس کو اگر تم مقدم رکھتے اور ولایت کو خاندان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں رہنے دیتے تو خداکی نعمتیں اوپر اور نیچے سے نازل ہوتیں جو بھی مطلب تم چاہتے اس کا علم کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل کرلیتے لیکن اب تم نے ایسا نہیں کیا تو اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھنا۔(٢)

ہاں شیعیان علی کے پہلے گروہ میں یہی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب با وفا تھے انہیں کے ذریعہ تشیع تابعین تک منتقل ہوئی اور انہیں کی تلاش و کوشش کی وجہ سے عثمان کی حکومت کے آخری دور میں سیاسی حوالہ سے حضرت علی کی خلافت کے اسباب فراہم ہوئے۔

____________________

(١) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، ص ٥٧

(٢)تاریخ یعقوبی ، ابن واضح ، ص ٦٧


شیعہ صحابی

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے پیروان علی کو شیعہ کہا وہ حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی تھی، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کچھ صحابہ شیعیان علی کے نام سے مشہور تھے ،محمدکرد علی خطط الشام میں لکھتا ہے :رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں اصحاب میں سے چند بزرگ، دوستداران علی کے نام سے معروف تھے جیسے سلمان فارسی جوکہتے ہیں ہم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھوں پر بیعت کی تاکہ مسلما نوں کے ساتھ خیرخواہی کریں اور علی کے دوستوں اور ان کی اقتدا کرنے والوں میں سے رہیں ، ابوسعید خدری کہتے ہیں : ہم کو پانچ چیزوں کا حکم ہو الوگوں نے چار پر عمل کیا اور ایک کو چھوڑدیا پوچھا گیا وہ چار چیزیں کون سی ہیں ؟ ا نہوں نے کہا: نماز ،زکوٰة ،روزۂ ماہ رمضان اور حج ،پھر پوچھا گیا کہ وہ کیا ہے جس کو لوگوں نے ترک کردیا؟ تو انہوں نے کہا : وہ علی بن ابیطالب کی ولایت ہے لوگوں نے کہا: کیا یہ بھی انہیں چار چیزوں کی طرح واجب ہے؟ کہا: ہاں یہ بھی اسی طرح واجب ہے،یا ابوذر غفاری ، عمار یاسر ، حذیفہ بن یمان ، خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین ابو ایوب انصاری ، خالد بن سعید قیس بن سعدوغیرہ شیعۂ علی کے عنوان سے جانے جاتے تھے۔(١)

ابن ابی الحدید کاپہلے دور کے شیعوں کے بارے میں کہناہے علی کی افضلیت کا قول پرانا قول ہے اصحاب اور تابعین میں سے اکثر اس کے قائل تھے جیسے عمار، مقداد، ابوذر، سلمان، جابر، ابی بن کعب، حذیفہ، بریدہ ،ابو ایوب ،سہل بن حنیف، عثمان بن

____________________

(١)خطط الشام ، مکتبة النوری، دمشق، طبع سوم ، ١٤٠٣ھ ١٩٨٣ئ ، ج ٦ ص ٢٤٥


حنیف ابولہیثم بن تیھان، خزیمہ بن ثابت ،ابوالطفیل عامر بن واثلہ، عباس بن عبد المطلب اور تمام بنی ہاشم اور بنی مطلب، شروع میں زبیر بھی حضرت علی کے مقدم ہونے کے قائل تھے بنی امیہ میں سے بھی کچھ افراد جیسے خالد بن سعید اور اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز بھی علی کی افضلیت کے قائل تھے۔(١)

سید علی خان شیرازی نے درجات الرفیعةفی طبقات الشیعہ میں ایک حصہ شیعہ صحابیوں سے مخصوص کیا ہے، سب سے پہلے بنی ہاشم کا ذکر کیا ہے اس کے بعد تما م شیعہ صحابیوں کوپیش کیا ہے، پہلا حصہ جو بنی ہاشم سے مربوط شیعہ اصحاب سے ہے اس طرح ذکر کیا ہے: ابوطالب، عباس بن عبدالمطلب، عبداللہ بن عباس ، فضل بن عباس ، عبیداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن عباس ، تمام بن عباس، عقیل بن ابی طالب ، ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ،نوفل بن حارث بن عبدالمطلب عبداللہ بن زبیر بن عبد المطلب ،عبداللہ بن جعفر ،عون بن جعفر ،محمدبن جعفر ،ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب ،طفیل بن حارث بن عبدالمطلب، مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ،عباس بن عتبہ بن ابی لھب عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب ،جعفر بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ۔(٢)

سید علی خان نے دوسرے باب میں شیعیان بنی ہاشم کے علاوہ اصحاب شیعہ کا اس طرح تذکرہ کیا ہے عمربن ابی سلمہ، سلمان فارسی ،مقداد بن اسود ،ابوذر غفاری ، عماربن

____________________

(١)ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء التراث العربی ،بیروت ج٢٠ ص ٢٢١،٢٢٢

(٢)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعة فی طبقات الشیعة مؤسسة الوفا، بیروت ص١٤١۔١٩٥


یاسر ، حذیفہ بن یمان ،خزیمہ بن ثابت، ابو ایوب انصاری، ابوالہیثم مالک بن تیہان ، ابی ابن کعب ،سعد بن عبادہ ،قیس بن سعد ،سعدبن سعدبن عبادہ ، ابو قتادہ انصاری ،عدی بن حاتم عبادہ بن صامت، بلال بن رباح ، ابوالحمرا ، ابو رافع، ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص ، عثمان بن حنیف ، سہل بن حنیف ،حکیم بن جبلہ العدوی، خالد بن سعید بن عاص، ولید بن جابربن طلیم الطائی، سعد بن مالک بن سنان ، براء بن مالک انصاری ،ابن حصیب اسلمی کعب بن عمرو انصاری ،رفاعہ بن رافع انصاری، مالک بن ربیعہ ساعدی ،عقبہ بن عمربن ثعالبہ انصاری، ہند بن ابی ہالہ تمیمی ،جعدہ بن ہبیرہ ، ابو عمرہ انصاری ، مسعود بن اوس ، نضلہ بن عبید ،ابو برزہ اسلمی ،مرداس بن مالک اسلمی ، مسور بن شدا دفہری، عبداللہ بن بدیل الخزاعی ، حجر بن عدی کندی ، عمر وبن الحمق خزاعی ، اسامہ بن زید ،ابو لیلیٰ انصاری ، زید بن ارقم اوربراء بن عازب اوسی ۔(١)

مؤلف رجال البرقی نے بھی شیعیان ا ورمحبان علی جو اصحاب پیغمبر سے تھے انہیں اپنی کتاب کے ایک حصہ میں اس طرح ذکرکیا ہے:

سلمان ، مقداد،ابوذر، عمار،اور ان چار افراد کے بعد ابولیلیٰ ،شبیر ،ابو عمرة انصاری ابو سنان انصاری ،اور ان چار افراد کے بعدجابر بن عبداللہ انصاری، ابو سعید انصاری جن کا نام سعد بن مالک خزرجی تھا،ابو ایوب انصاری خزرجی ، ابی بن کعب انصاری ابوبرزہ اسلمی خزاعی جن کا نام نضلہ بن عبید اللہ تھا،زید بن ارقم انصاری بریدہ بن حصیب اسلمی ،عبدالرحمن بن قیس جن کا لقب سفینہ راکب اسد تھا،عبداللہ بن سلام ،عباس بن

____________________

(١)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعة فی طبقات الشیعة مؤسسة الوفا، بیروت ص١٩٧ ،٤٥٥


عبد المطلب،عبد اللہ بن عباس ،عبد اللہ بن جعفر ، مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب ،حذیفة الیمان جو انصار میں شمار کئے جاتے تھے، اسامہ بن زید ، انس بن مالک ابو الحمرائ،براء بن عا زب انصاری اور عرفہ ازدی ۔(١)

بعض شیعہ علماء رجال عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیعہ صحابہ کی تعداد اس سے زیادہ تھی جیسا کہ شیخ مفید نے وہ تمام اصحاب جنہوں نے مدینہ میں حضرت کے ہاتھوں پر بیعت کی خصوصاًوہ اصحاب جو جنگوں میں حضرت کے ساتھ تھے انہیں شیعیان و معتقدین امامت حضرت علی میں سے جاناہے جنگ جمل میں اصحاب میں سے پندرہ سو افراد حاضر تھے۔(٢)

رجال کشی میں آیا ہے :شروع کے اصحاب جو حق کی طرف آئے اور حضرت علی کی امامت کے قائل ہوئے وہ یہ ہیں : ابو الہیثم بن تیہان،ابو ایوب،خزیمہ بن ثابت،جابر بن عبد اللہ ،زید بن ارقم، ابو سعید،سہل بن حنیف،برا ء بن مالک،عثمان بن حنیف،عبادہ بن صامت،ان کے بعد قیس بن سعد ،عدی بن حاتم،عمرو بن حمق،عمران بن حصین،بریدہ اسلمی، اور بہت سے دوسرے جن کو'' بشر کثیرة''سے تعبیر کیا ہے۔(٣)

____________________

(١) احمد بن محمد بن خالدبرقی، رجال البرقی ،مؤسسةقیوم ص٢٩ ،٣١

(٢)شیخ مفید ، محمدبن محمدبن نعمان ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ، ص ١٠٩۔١١٠

(٣)شیخ طوسی ، ابی جعفر ، اختیار معرفة الرجال ، رجال کشی ، موسسہ آل البیت التراث،قم ،١٤٠٤ھ ج١، ص١٨١۔١٨٨


مرحوم میر داماد تعلیقہ رجال کشی میں بشر کثیر کی وضاحت و شرح میں کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے بہت سے بزرگان اور تابعین کے چنندہ افراد ہیں ۔(١)

سید علی خان شیرازی نے کہا ہے کہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیشتر تعداد امیر المومنین کی امامت کی طرف واپس آگئی تھی کہ جس کا شمار کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور اخبار نقل کرنے والوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اکثر صحابہ جنگوں میں حضرت علی کے ساتھ تھے ۔(٢)

محمد بن ابی بکر نے معاویہ کو خط لکھا کہ جس میں علی کی حقانیت کی طرف اشارہ اس بات سے کیا ہے کہ اکثر اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت علی کے ارد گرد جمع ہیں ۔(٣)

محمدبن ابی حذیفہ جو حضرت علی کے وفادارساتھی تھے اور معاویہ کے ماموں کے بیٹے تھے حضرت علی سے دوستی کی بنا پرمدتوں معاویہ کے زندان میں زندگی بسر کی اور آخر کار وہیں دنیا سے رخصت ہوگئے ،معاویہ سے مخاطب ہوکر کہا : جس روز سے میں تجھ کو پہچانتا ہوں چاہے وہ جاہلیت کا دور ہو یا اسلام کا تجھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اسلام نام کی کوئی چیز تیرے اندر نہیں پائی جاتی، اس کی علامت یہ ہے کہ تو مجھے علی سے محبت کی بناپر ملامت کرتا ہے حالانکہ تمام زاہد و عابد، مہاجر وانصار علی کے ساتھ ہیں اور تیرے ساتھ آزاد کردہ غلام اور منافقین ہیں ۔(٤)

____________________

(١)شیخ طوسی ، ابی جعفر ،ا ختیار معرفة الرجال ، رجال کشی ، موسسہ آل البیت التراث ، قم ، ١٤٠٤ھ ج ١ ،ص ١٨٨

(٢)امین،سید محسن،اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات،بیروت،ج٢،ص٢٤

(٣) بلاذری ، انساب الاشراف، منشورات موسسہ الاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،١٣٩٤ھ ج ٢ ، ص٣٩٥

(٤)شیخ طوسی ابی جعفر،رجال کشی،ص٢٧٨


البتہ جو لوگ امیر المومنین کی فوج میں تھے ان سب کا شمار آپ کے شیعوں میں نہیں ہوتا تھا لیکن چونکہ آپ قانونی خلیفہ تھے اس لئے آپ کا ساتھ دیتے تھے اگر چہ یہ بات تمام لوگوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے سوائے ان صحابیوں کے جو علی کے ساتھ تھے اس لئے کہ وہ اصحاب جو حضرت امیر کے ساتھ تھے کہ جن سے وہ اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مد د لیتے تھے ان کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے جیسا کہ سلیم ابن قیس نقل کرتا ہے: امیر المومنین صفین میں منبر پر تشریف لے گئے اور مہاجر و انصار کے سبھی افراد جو لشکر میں تھے منبرکے نیچے جمع ہوگئے حضر ت نے اللہ کی حمد و ثنا ء کی اور اس کے بعد فرمایا: اے لوگو!میرے فضائل و مناقب بے شمار ہیں میں صرف اس پر اکتفا کرتا ہوں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے اس آیت کے بارے میں ''السابقون السابقون اولئک المقربون '' پوچھا گیا توآپ نے فرمایا : خدا نے ا س آیت کو انبیا و اوصیا کی شان میں نازل کیا ہے اور میں تمام انبیا و پیغمبروں سے افضل ہوں اور میرا وصی علی ابن ابی طالب تمام اوصیاء سے افضل ہے اس موقع پر بدر کے ستّر اصحاب جن میں اکثر انصار تھے کھڑے ہو گئے اور گواہی دی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے ہم نے ایساہی سنا ہے۔(١)

____________________

(١)سلیم ابن قیس العامری ، منشورات دار الفنون ، للطبع والنشر والتوزیع ، بیروت ،١٤٠٠ھ ص ١٨٦، طبری، ابی منصور احمد ابن علی ابن ابی طالب ، الاحتجاج ، انتشارات اسوہ ، ج ١ ص ٤٧٢


تیسری فصل

شیعی تاریخ میں تحول وتغیر

(١)شیعہ خلفا کے زمانے میں

شیعہ پہلے تینوں خلیفہ ،ابوبکر،عمر، عثمان کے زمانے میں حسب ذیل خصوصیات کے حامل تھے ۔

(الف)شیعہ ان تین خلفا کے دور میں سقیفہ کے ابتدائی دنوں کے علاوہ بہت زیادہ فشار میں نہیں تھے اگر چہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے شیعہ، شیعہ ہونے کی وجہ سے اہم منصبوں سے محروم تھے۔(١)

(ب)سقیفہ کے بعد مسلمانوں کی قیادت کا مسئلہ انتشار کا شکار ہوگیا اور مسلمان دو اہم گروہوں میں تقسیم ہوگئے، اہل سنت علمی فقہی و اعتقادی مشکلات میں خلفاء زمانہ کی طرف اور شیعہ حضرت علی کی طرف رجوع کرتے تھے، شیعہ اپنے علمی اور فقہی مشکلات بلکہ بطورکلی معارف اسلامی سے متعلق امور میں حضرت علی کی شہادت کے بعد

____________________

(١)ابو بکر نے پہلی بارخالد بن سعید کو شام کی جنگ کا سردار بنایا عمر نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ خالد نے بیعت نہیں کی ہے اور بنی ہاشم کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے؟ اس وجہ سے ابو بکر نے خالد سے سرداری اور فرمان روائی کو واپس لے لیا اور خالد کی جگہ کسی اور کو معین کردیا،ابن واضح ،احمد بن ابی یعقوب تاریخ یعقوبی،منشورات الشریف الرضی،قم، ١٤١٤ہجری، ج٢، ص١٣٣


ائمہ طاہرین کی طرف رجوع کرتے رہے اورشیعہ و اہل سنت کے درمیان فقہ و حدیث و تفسیر کلام وغیر ہ میں اختلاف کی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں گروہوں کی دینی درسگاہ اورپناہ گاہ ایک دوسرے سے علیحدہ تھی۔

(ج) اسی طرح حضرت علی نے قانونی طور پر خلفاء وقت کے ساتھ فوجی اور سیاسی شعبہ میں عالم اسلام کی حفا ظت اور مصلحت کی خاطر کافی حد تک طرفداری وحمایت کی(١) چند بزرگ شیعہ صحابہ نے بھی امام کی موافقت سے فوجی او رسیاسی منصوبوں کو قبول کرلیا تھا مثلاً حضرت علی کے چچازاد بھائی فضل بن عباس جو سقیفہ میں حضرت علی کے مدافع تھے شام میں فوجی منصب پر فائز تھے اور ١٨ ھ میں فلسطین میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔(٢)

____________________

(١)جیسے حضرت علی کی رائے ابو بکر کے لئے ،فوج کو شام کی طرف بھیجنے کے بارے میں ، ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی،منشورات الشریف الرضی،قم، ١٤١٤ہجری، ج٢، ص١٣٣ ،اور حضرت علی کا عمر کو رہنمائی کرناکہ جب انہوں نے رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے جانے پر آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا : اگرآپ خود ان دشمنوں کے مقابلے میں جائیں گے تو مغلوب ہوجائیں گے اورمسلمانوں کے لئے کسی دور دراز شہر میں بھی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی نیز آپ کے بعد کوئی نہیں ہے کہ جس کی طرف لوگ رجوع کریں ، لہٰذا جنگ کے ماہر اور بہادرافراد کو ان کی طرف بھیجیں اور ایسے لوگوں کو ساتھ انہیں بھیجیں کہ جو سختی کو برداشت کر سکیں اور نصیحت کو قبول کریں ، اگر خدا وند متعال نے کامیاب و کامران کر دیا تو یہ وہی ہے کہ جس کی آپ آرزو رکھتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا واقعہ پیش آگیا توآپ مسلمانوں کے مددگار اور پناہ دینے والے ہوں گے ( نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ، خطبہ : ١٣٤) ونیز جب عمر نے بنفس نفیس ایرانیوں سے جنگ کرنے کے بارے میں آپ سے پوچھا

(٢)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥١


حذیفہ ا ور سلمان ترتیب وار مدائن کے حاکم تھے،(١) عمار یاسر ،سعد بن ابی وقاص کے بعد خلیفہ دوم کی طرف سے کوفہ کے حاکم ہوئے( ٢)ہاشم مرقال جو حضرت علی کے مخلص شیعوں میں تھے اور جنگ صفین میں علی کے لشکرمیں شہید ہوئے(٣) تینوں خلفا کے زمانے میں بڑے افسر تھے ٢٢ ھمیں آذر بائیجان کو فتح کیا(٤) عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان عمر کی طرف سے عراق کی زمین کی پیمائش پر مامور تھے(٥) عبداللہ بن بدیل بن ورقہ خزاعی،شیعیان علی میں سے تھے جن کا بیٹا جنگ جمل میں سب سے پہلے شہید ہوا(٦) یہ فوجی افسروں میں سے تھا اور اس نے اصفہان اور ہمدان کو فتح کیاتھا۔(٧)

اسی طرح سے دوسرے افراد بھی جیسے جریر بن عبد اللہ بجلی(٨) قرظہ بن کعب

____________________

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٣٢٣

(٢)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٥

(٣)مسعودی علی ابن الحسین ، ، مروج الذھب ، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٤٠١

(٤)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٦

(٥)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٢

(٦)شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان ، الجمل ، مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ، ص ٣٤٢

(٧)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٧

(٨)بلاذری ، احمد بن یحیی بن جابر ، انساب الاشراف ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٣٩٤ ج ٢ ص ٢٧٥


انصاری(۱) یہ لوگ امیر المومنین کی خلافت میں اہم افراد شمار کئے جاتے تھے جب کہ تینوں خلفا کے زمانے میں ملکی اور لشکری عہدوں پر فائز تھے جریر نے کوفہ کا علاقہ فتح کیا(٢) اور زمانۂ عثمان میں ہمدان کے حاکم تھے(٣) قرظہ بن کعب انصاری نے بھی عمر بن خطاب کے زمانے میں شہر ری کو فتح کیا۔(٤)

____________________

(١)ابن اثیر ، عز الدین علی بن ابی الکرم ، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت، ج٤ ص ٢٠٢

(٢) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، ج ٢ ص ١٤٣

(٣) ابن قتیبہ ، ابی محمد عبد اللہ بن مسلم ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٥ھ، ص ٥٨٦،

(٤) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، ج ٢ ص ١٥٧


اظہار تشیّع ( امیرالمومنین کی خلافت میں )

اگر چہ تشیّع کا سابقہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ سے ہے، لیکن قتل عثمان کے بعد خلافت علی کے دورمیں علی الاعلان اظہار ہو ااس زمانہ میں صف بندی ہوئی اور پیروان علی نے آشکار ا اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کیا ،شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ ایک جماعت حضرت علی کے پاس آئی اور کہا:

''اے امیر المومنین! ہم آپ کے شیعہ ہیں ،حضرت نے ان کو غور سے دیکھا اور فرمایا :آخرمیں تمہارے اندر شیعہ ہونے کی علامت کیوں نہیں دیکھ رہا ہوں ؟اس جماعت نے کہا:اے امیرالمومنین شیعوں کی کیاعلامت ہونی چاہیے حضرت نے فرمایا:

راتوں میں کثرت عبادت سے ان کارنگ زردپڑ جائے،(خوف خدا میں ) گریہ

کرنے سے ان کی بینائی ضعیف ہوگئی ہومسلسل قیام عبادت سے ان کی کمر خمیدہ ہوگئی ہو اور ان کا پیٹ روزہ رکھنے کی وجہ سے پیٹھ سے لگ گیا ہو اور خضوع اور خشوع میں ڈوبے ہوئے ہوں(١)

اسی طرح بہت سے اشعار حضرت علی کی خلافت کے دور میں کہے گئے ہیں کہ جو امام کے بر حق نیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین اور بلا فصل خلیفہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ،قیس بن سعد نے کہا :

و علی امامنا و امام

لسوانااتیٰ به التنزیل(٢)

علی ہمارے اورہمارے علاوہ لوگوں کے امام ہیں اس بات کو قرآن نے بیان کیا ہے ۔

خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین کہتے ہیں :

فدیت علیاً امام الوری

سراج البریّه مأوی التّقیٰ

میں علی پر قربان ہو جاؤں وہ لوگوں کے امام اور چراغ خلق اور متقین کی پناہ گاہ ہیں ۔

وصی الرّسول وزوج البتول

امام البریّه شمس الضّحی

وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی اورحضرت فاطمہ زہرا کے شوہرنیز خلائق کے امام اور خورشید تاباں ہیں ۔

____________________

(١)شیخ مفید، ارشاد ،ترجمہ شیخ محمد باقر ساعدی خراسانی ،کتاب فروشی اسلامیہ ١٣٧٦ھ ش،ص ٢٢٧،٢٢٨

( ٢)ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ،موسسہ انتشارات علامہ ، قم ج٣ ص ٢٨


تصدق خاتمه راکعا

فاحسن بفعل امام الوری

وہ اما م خلق ہیں انہوں نے ہیں رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی زکوٰة میں دے کر کتنا بڑا نیک کارنامہ انجام دیا

ففضّله اللّٰه رب العباد

و انزل فی شأنه هل اتی

اللہ نے ان کو دوسروں پر برتری عطا کی اور ان کی شان میں سورہ ہل اتیٰ نازل کیا۔

حضرت کے شیعوں نے بھی اپنے بعض اشعار میں خود کو علی کے دین پر ہونے کو ثابت کیا ہے عمار یاسر نے جنگ جمل میں عمرو بن یثربی کے سامنے یہ اشعار پڑھے:

لا تبرح العرصة یا ابن یثربی

حتی اقاتلک علی دین عل

نحن وبیت اللّه اولی بالنّبی

اے یثربی کے بیٹے! میدان سے فرار نہ کرناتاکہ میں دین علی کے دین پر رہ کر تجھ سے جنگ کروں ،خانہ کعبہ کی قسم !ہم نبی کے حوالے سے تم سے اولیٰ ہیں ۔

جیسا کہ عمر بن یثربی کہ جو دشمن علی تھا،محبان علی کو قتل کر کے افتخار کرتا تھا وہ شعر میں کہتاہے:

ان تنکرونی فانا ابن یثربی قاتل علبائ

و هند الجملی ثم ابن صوحان علی دین عل

اگر مجھے نہیں پہچانتے تو پہچان لو میں یثربی کا فرزند ہوں اورعلبا و ہندجملی کا قاتل ہوں ( یہ دو لوگ علی کے دوستوں اور شیعوں میں سے تھے ) اور میں نے علی کی دوستی کے جرم میں صوحان کے بیٹے کو بھی قتل کیا ہے ۔(١)

____________________

(١)شیخ مفید ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ١٤١٦ ھ، ص ٣٤٦


(٢) شیعہ، بنی امیہ کے زمانہ میں

بنی امیہ کا زمانہ شیعوں کے لئے بہت دشوار زمانہ تھا جو چالیس ہجری سے شروع ہوتا ہے اور ایک سو بتیس ہجری تک جاری رہتا ہے، عمر بن عبد العزیز کے علاوہ تمام خلفائے اموی شیعوں کے سخت ترین دشمن و مخالف تھے، البتہ ہشام اموی کے بعد سے وہ داخلی اختلافات وشورش کا شکار ہوگئے تھے اور عباسیوں سے مقابلہ میں لگ گئے تھے اور گذشتہ سختیوں میں کمی آگئی تھی خلفائے بنی امیہ شام کے علاقہ میں وہاں کے حاکموں کے ذریعہ شیعوں کے اوپر فشار لاتے تھے اور تمام اموی حکام، شیعوں کے دشمنوں میں سے منتخب ہوتے تھے جو شیعوں کو اذیت دینے سے گریز نہیں کرتے تھے لیکن ان کے درمیان زیاد، عبیداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف نے ظلم کرنے میں دوسروں پر سبقت کی، اہل تسنن کا مشہور دانشمند ابن ابی الحدید لکھتا ہے : شیعہ جہاں کہیں بھی ہو تے تھے ان کو قتل کر دیا جاتا تھا، بنی امیہ صرف شیعہ ہونے کے شبہ کی وجہ سے لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹ دیا کرتے تھے جو بھی خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کرتا تھااس کو زندان میں ڈال دیتے تھے یا اس کے مال لوٹ لیا کرتے تھے یا اس کا


گھر ویران کر دیا جاتا تھا، اس ناگفتہ بہ صورت حال کی شدت اس حدتک پہنچ چکی تھی کہ علی سے دوستی کی تہمت لگانا کفر و بے دینی سے زیادہ بد تر شمار کیا جاتا تھااور اس کے نتائج بڑے سخت ہوتے تھے، اس خشونت آمیز سیاست میں کوفہ کے حالات کچھ زیادہ بدتر تھے کیونکہ کوفہ شیعیان علی کا مرکز تھا معاویہ نے زیاد بن سمیہ کوکوفہ کا حاکم بنادیاتھا، بعد میں بصرہ کی سپہ سالاری بھی اس کے حوالہ کردی گئی، زیادچونکہ پہلے کبھی علی کے دوستوں کی صفوں میں تھاجو شیعیان علی کو اچھی طرح پہچانتا تھا اس نے شیعوں کا تعاقب کیا، شیعہ جہاں کہیں گوشہ و کنار میں مخفی تھے ان کو ڈھونڈکر قتل کردیا ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کو نا بینا بنادیا اور انہیں کھجور کے درخت پرپھانسی دے دی نیز انہیں شہر بدر کر دیا یہاں تک کہ کوئی بھی مشہور شیعہ شخصیت عراق میں باقی نہیں رہی۔(١)

ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن الجوزی کہتا ہے:

زیادمنبر پر خطبہ دے رہا تھا کچھ شیعوں نے اس پر اعتراض کیا اس نے حکم دیا اسی٨٠ افراد کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں وہ لوگوں کو مسجد میں جمع کرتا تھا اوران سے کہتا تھا کہ علی پر تبر اکرو اور جو بھی تبرانہیں کرتا تھا ،حکم دیتا کہ اس کا گھر کو منہدم کر دیا جائے۔(٢)

زیاد ہ چھ مہینہ کوفہ میں اور چھ مہینہ بصرہ میں حکومت کرتا تھا، سمرہ ابن جندب کو بصرہ میں اپنی جگہ رکھتا تھا تاکہ اس کی غیر موجودگی میں وہ امور حکومت کی دیکھ بھال کرتا رہے ، سمرہ نے اس مدت میں آٹھ ہزار افراد کو قتل کیا تھازیاد نے اس سے کہا :کیا تجھے خوف نہیں

____________________

(١)ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء الکتب العربیة ، قاہرہ ، ١٩٦١ ء ، ص ٤٣۔٤٥

(٢)ابن جوزی ،عبد الرحمن بن علی ، المنتظم فی الامم والملوک،دارالکتب العلمیہ، بیروت، طبع اول، ١٤١٢ہجری،ج٥،ص٢٢٧


ہوا کہ تونے ان میں سے کسی ایک بے گناہ کو بھی قتل کیا ہو؟ سمرہ نے جواب دیا : اگر اس کے دو برابر بھی قتل کرتا تب بھی اس طرح کی کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی۔(١)

ابو سوارعدوی کہتا ہے: سمرہ نے ایک دن صبح میں ٤٧ ،افراد کو قتل کیا جومیرے قبیلہ سے وابستہ تھے اور سب کے سب حافظ قرآن تھے۔(٢)

معاویہ نے خط میں اپنے کارندوں کو لکھا کہ شیعیان او رخاندان علی میں سے کسی کی گواہی قبول نہ کرنا ،اور دوسرے خط میں لکھا کہ اگر دو افرادگواہی دیں کہ اس کا تعلق شیعیان علی اور دوستداران علی سے ہے تو اس کانام بیت المال کے دفتر سے حذف کردو اور اس کے وظائف اورحقوق کو قطع کردو۔(٣)

حجاج بن یوسف جو بنی امیہ کا انتہائی درجہ سفاک و بے رحم عامل تھا مکہ و مدینہ میں لوگوں کو بنی امیہ کا مطیع بنانے کے بعد ٧٥ہجری میں خلیفہ اموی عبد الملک بن مروان کی جانب سے عراق کی حکومت پر مامور ہوا جو شیعوں کا مرکز تھا، حجاج چہرہ کو چھپائے ہوئے مسجد کوفہ میں داخل ہوا صفوں کو چیرتا ہوا منبر پر بیٹھ گیا کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں کہ یہ کون ہے؟ایک نے کہا: نیا حاکم ہے دوسرے نے کہا اس پرپتھر مارے جائیں کچھ نے کہا: نہیں صبر سے کام لیا جائے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کہتا ہے؟ جب سب لوگ خاموش ہو گئے تواس نے اپنے چہرہ سے نقاب ہٹائی اور چند جملوں

____________________

(١)طبری،محمدبن جریر، تاریخ الامم والملوک، دار القاموس الحدیث بیروت،ج٦،ص١٢٣

(٢)طبری محمد بن جریر ،تاریخ الامم والملوک ،ج٦،ص١٣٢

(٣)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،دار احیاء الکتب العربیہ،قاہرہ،ج١،ص٤٥


کے ذریعہ سے ایسا ڈرایا کہ جس کے ہاتھ میں مارنے کے لئے پتھر تھے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئے اس نے اپنے خطبہ کی ابتدا اس طرح کی:

''اے کوفہ والو! برسوں سے آشوب و فتنہ برپا ہے تم نے نا فر مانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے میں ایسے سروں کو دیکھ رہا ہوں جو پھلوں کی طرح بالکل تیار ہیں انہیں جسمو ں سے جدا کر دینا چاہئیے، میں اتنے سروں کو قلم کروں گا کہ تم فرمانبرداری کا راستہ یاد کرلو گے''۔(١)

حجاج نے پورے عراق میں اپنی حکومت قائم کی اور کوفہ کے نیک اور بے گناہ بہت سے لوگوں کا قتل کیا ۔

مسعودی حجاج کے مظالم کے بارے میں لکھتا ہے :

حجاج کی بیس سال کی حکومت میں جو لوگ اس کی شمشیر کے ذریعہ شکنجوں میں رہ کر جاں بحق ہوئے ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے، اس کے علاوہ کچھ وہ افراد ہیں جو حجاج کے ساتھ جنگ میں اس کی فوج کے ہاتھوں قتل کئے گئے حجاج کی موت کے وقت اس کے مشہور زندان میں پچاس ہزار مرد اورتیس ہزار عورتیں قیدتھیں ، ان میں سولہ ہزار عریاں اور بے لباس تھے حجاج مرد اور عورتوں کو ایک جگہ قید کرتا تھا، اس کے تمام زندان بغیر چھت کے تھے اس وجہ سے زندان میں رہنے والے گرمی اور سردی سے امان میں نہیں تھے۔(٢)

____________________

(١)زبیر بن بکار،اخبار الموفقیات ،منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٦ہجری ص٩٩،٩٥،ڈاکٹر شہیدی جعفر ،تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان اموی ، مرکز نشر ، دانشگاہ ، تہران ، ١٣٦٣ھ ش، ص ١٨٤، پیشوائی ، مہدی، سیرہ پیشوایان ، موسسہ ، امام صادق قم ، طبع ہشتم ، ١٣٧٨ھ ش، ص ٢٤٦

(٢)مروج الذہب،منشورات موسسةالاعلمی،للمطبوعات ،بیروت،١٤١١ہجری ج٣،ص١٨٧


حجاج معمولاً شیعوں کو زندانی اور شکنجہ کرتا تھا اور انہیں قتل کرتا تھا شیعوں کی دردناک وضعیت کا پتہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے جس کو انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کو اموی دور میں امام سجاد سے بیان کیا ہے ،مرحوم علامہ مجلسینے نقل کیاہے :کچھ شیعیان علی امام زین العابدین کے پاس آ ئے اورمصیبتوں پر آہ و گریہ کیا نیز اپنے درد ناک حالات کو بیان کیا: فرزند رسول، ہم کو ہمارے شہر سے نکال دیا گیا قتل و غارت کے ذریعہ ہم کو نابودکردیا گیا امیر المومنین پر شہروں میں مسجد نبوی میں منبروں سے سب و شتم کیا گیالیکن کوئی مانع نہیں ہوا، اور اگرہم میں سے کسی نے اعتراض کیا تو کہتے تھے کہ یہ ترابی ہے جب اس کا علم حاکم کو ہوتا تھاتو اس شخص کے بارے میں حاکم کے پاس لکھ بھیجتے تھے کہ اس نے ابوتراب کی تعریف کی ہے وہ حکم دیتا تھا کہ اس کو زندان میں ڈال دیا جائے اور قتل کردیا جائے۔(١)

____________________

(١)مجلسی،محمد باقر، بحار الانوار،ج٤٦،ص٢٧٥


اموی دور میں تشیع کی وسعت

اموی خلفا کے دور میں شیعوں پر ظلم و ستم ہونے کے باوجود تشیع کی ترویج و فروغ میں کوئی کمی نہیں آئی پیغمبر و خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مظلومیت لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف کھینچتی رہی اور نئے نئے لوگ شیعہ ہوتے گئے، یہ مطلب اموی حکومت کے آخری زمانہ میں پورے طور سے دیکھا جا سکتا ہے اموی زمانہ میں تشیع کے پھیلنے کے کئی مراحل تھے ہر مرحلہ کی ایک خصوصیت تھی کلی طور پر شیعوں کی کثرت کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

(الف) ٤٠ھ سے ٦١ھ تک، دوران امام حسن اور امام حسین ۔

(ب) ٦١ھ سے ١١٠ ھ تک، دورا ن امام سجاد و امام باقر علیہما السلام۔

(ج) ١١٠ ھ سے ١٣٢ھ یعنی اموی حکومت کے اختتام تک، دوران اما م صادق


(الف) عصر امام حسن ١و امام حسین علیہما السلام

امیر المومنین کے زمانہ میں شیعیت نے آہستہ آہستہ ایک گروہ کی شکل اختیار کر لی تھی اور شیعوں کی صف بالکل نمایاں تھی اسی بنیاد پر امام حسن نے صلح نامہ کے شرائط میں ایک شرط شیعوں کی امنیت کی رکھی تھی کہ ان پر تجاوز نہ کیا جائے(١)

شیعہ رفتہ رفتہ عادت ڈال رہے تھے کہ جو امام اور خلیفہ حکومت سے وابستہ ہو اس کی اطاعت ضروری نہیں ہے، اسی وجہ سے جس وقت لوگ دھیرے دھیرے امام حسن کے ہاتھ پر بیعت کررہے تھے حضرت نے ان سے شرط رکھی تھی کہ وہ جنگ و صلح میں آپ کی اطاعت کریں گے اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ امامت لازمی طور پر حاکمیت کے مساوی نہیں ہے اور معاویہ جیساظالم حاکم امام نہیں ہو سکتا اور اس کی اطاعت واجب نہیں ہے ،چنانچہ امام نے جو خطبہ صلح کے بعد معاویہ کے فشار کی وجہ سے مسجدکوفہ میں دیا، اس میں فرمایا :

خلیفہ وہ ہے جو کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عمل کرے ،جس کا کام ظلم کرناہے وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ایک بادشاہ ہے جس نے ایک ملک کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے

____________________

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،مؤسسة انتشارات علامہ ، قم ،ج ٤ ص ٣٣


مختصر سی مدت تک اس سے فائدہ اٹھائے گا بعدمیں اس کی لذتیں ختم ہو جائیں گی لیکن بہر حال اسے حساب و کتاب دینا پڑے گا(١)

اس دور کے تشیع کی دوسری خصوصیت شیعوں کے درمیان اتحاد ہے جس کا سرچشمہ بہترین رہبر کا وجود ہے امام حسین کی شہادت تک شیعوں میں کوئی فرقہ نہیں تھاامام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو مسلمانوں کے درمیان ایک خاص اہمیت حاصل تھی ان کے بعد ائمہ طاہرین میں سے کسی کوبھی یہ مقام حاصل نہیں ہوسکایہی دونوں فرزندتنہا ذریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے ، امیر المومنین نے جنگ صفین میں جس وقت دیکھا کہ اما م حسن تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں فرمایا:میرے بجائے تم اس جوان کی حفاظت کرو (ان کو جنگ سے روکومجھے مضطرب نہ کرو مجھے ان دونوں کی بہت فکر ہے) یہ دونوں جوان (امام حسن وامام حسین) قتل نہ ہوں کیونکہ ان کے قتل ہونے سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نسل منقطع ہوجائے گی ۔(٢)

حسنین کا مقام اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان بھی ایک خاص اہمیت کا حامل تھااس کی دلیل یہ ہے کہ لوگوں نے امام حسن کی بیعت کی اور صحابۂ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت کی خلافت کو قبول کیایہی وجہ ہے کہ خلافت امام حسن میں کوئی مشکل دیکھنے میں نہیں آتی کسی نے اعتراض تک نہیں کیا ،صرف شام کی حکومت کی طرف سے مخالفت کی گئی جس وقت حضرت نے صلح کی اور کوفہ سے مدینہ جانا چاہا تو لوگوں نے شدت سے گریہ کیا مدینہ میں

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی، قم ، ١٤١٦ھ ص ٨٢

(٢)نہج البلاغہ ،فیض الاسلام ،خطبہ،١٦٨،ص٦٦٠


قریش کی طرف سے کسی نے معاویہ کو جو خبر دی اس سے حضرت کی اہمیت و عظمت کا اندازہ ہوتا ہے قریش کے کسی آدمی نے معاویہ کو لکھا :یا امیر المومنین!! امام حسن نماز صبح مسجد میں پڑھتے ہیں ، مصلیٰ پر بیٹھ جاتے ہیں اور سورج طلوع ہونے تک بیٹھے رہتے ہیں ، ایک ستون سے ٹیک لگائے ہوتے ہیں اور جو لوگ بھی مسجد میں ہوتے ہیں ان کی خدمت میں جاتے ہیں اور ان سے گفتگو کرتے ہیں یہاں تک کہ کچھ حصہ دن کا چڑھ جاتا ہے اس کے بعددو رکعت نماز پڑھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیو یوں کی احوال پرسی کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔(١)

امام حسین کا بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح اقبال بہت بلند تھا یہاں تک کہ عبداللہ بن زبیر جو اہل بیت کاسر سخت دشمن تھا وہ بھی امام حسین کی عظمت سے انکار نہ کرسکا،جب تک حضرت مکہ میں تھے لوگوں نے ابن زبیر کی طرف کوئی توجہ نہ دی اسی بنا پر وہ چاہتا تھا کہ امام جلدی مکہ سے چلے جائیں لہذاا مام سے کہتاہے کہ اگر میرا بھی آپ کی طرح عراق میں بلند مقام ہوتا تومیں بھی وہاں جانے میں جلدی کرتا۔(٢)

حضرت کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ جب آپ نے بیعت سے انکار کردیا تو حکومت یزیدزیر بحث آگئی اور یہی وجہ ہے کہ حضرت سے بیعت لینے کا اصرار و فشار اس قدر زیادہ تھا ،بنی ہاشم کے ان دو بزرگوں کاایک خاص احترام واکرام تھا اس طرح سے کہ ان کے

____________________

(١) بلاذری ،انساب الاشراف، دار التعارف ،للمطبوعات ، بیروت، ١٣٩٤ھ، ج٣، ص ٢١

(٢) ابن عبد ربہ اندلسی ، احمد بن محمد ، عقد الفرید، دار احیاء التراث، العربی ، بیروت، ١٤٠٠ھ، ج٤، ص ٣٢٦


زمانے میں ، بنی ہاشم میں سے نہ ہی کسی نے رہبری کا دعویٰ کیا اور نہ ہی کوئی (بنی ہاشم کی)سرداری کا مدعی ہوا،جس وقت امام حسن معاویہ کے زہر دینے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے تو شام میں معاویہ نے ابن عباس سے کہا :اے ابن عباس !امام حسن وفات کر چکے ہیں اور اب تم بنی ہاشم کے سردار ہو، ابن عباس نے جواب دیا: جب تک امام حسین موجود ہیں اس وقت تک نہیں ۔(١)

ابن عباس بلند مقام ،مفسر قرآن ا ور حبرالامة تھے اور سن میں بھی امام حسن اور امام حسین دونوں سے بڑے تھے اس کے باوجود ان دوبزرگواروں کی خدمت کرتے تھے مدرک بن ابی زیاد نقل کرتا ہے:

ابن عباس امام حسن امام حسین کی رکاب سنبھالتے تھے تاکہ یہ دو حضرات سوار ہوجائیں ، میں نے کہا : آپ ایساکیوں کرتے ہیں توانہوں نے فرمایا: احمق! تو نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں یہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند ہیں کیا یہ ایک عظیم نعمت نہیں ہے جس کی خدانے مجھے توفیق دی ہے کہ میں ان کی رکاب پکڑوں ؟(٢)

تشیع کی وسعت میں انقلاب کربلاکا اثر

امام حسین کی شہادت کے بعد شیعہ اپنی پناہ گاہ کھو دینے کے بعد کا فی خوف زدہ تھے اور دشمن کے مقابلہ میں مسلحانہ تحریک اوراقدام سے نا امید ہو گئے تھے دل خراش واقعۂ

____________________

(١) مسعودی علی بن حسین ، مروج الذھب ، موسسہ ا لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،ج٣ ص ٩

(٢)ابن شہر آشوب،مناقب آل ابی طالب،موسسةانتشارات علامہ،ج٣ ص٤٠٠


عاشورہ کے بعد مختصر مدت کے لئے انقلاب شیعیت کو کافی نقصان پہونچا،اس حادثہ کی خبر پھیلنے سے اس زمانے کی اسلامی سر زمین خصوصاً عراق و حجاز میں شیعوں پر رعب و وحشت کی کیفیت طاری ہوگئی تھی کیونکہ یہ مسلّم ہو گیا کہ یزید فرزند رسوصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ل کو قتل کرکے نیز ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرکے اپنی حکومت کی بنیادمستحکم کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی حکومت کوپائیدار کرنے میں کسی بھی طرح کے ظلم سے گریز نہیں کرنا چاہتا ہے اس وحشت کے آثار مدینہ اور کوفہ میں بھی نمایاں تھے ،واقعہ حرّہ کے ظاہر ہوتے ہی لوگوں کی بے رحمانہ سرکوبی میں یزید کی فوج کی جانب سے شدت آگئی تھی عراق و حجازکے شیعہ نشین علاقے خاص کر کوفہ اور مدینہ میں سانس لینابھی دشوارہو گیااور شیعوں کی یکجہتی و انسجام کا شیرازہ یکسر منتشر ہوگیا تھا امام صادق اس ابتر اورناگفتہ بہ وضعیت کے بارے میں فرماتے ہیں : امام حسین کی شہادت کے بعد لوگ خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اطراف سے پرا گندہ ہو گئے ان تین افراد کے علاوہ ابو خالد کابلی، یحییٰ ابن ام الطویل ، جبیر ابن مطعم۔(١)

مورخ مسعودی بھی ا س بارے میں کہتا ہے : ''علی بن حسین مخفی اور تقیہ کی حالت میں بہت دشوار زمانے میں امامت کے عہدے دار ہوئے ،،(٢) یہ وضعیت حکومت یزید کے خاتمہ تک جاری رہی ،یزید کے مرنے کے بعد شیعوں کا قیام شروع ہوا اور اموی

____________________

(١)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ،معروف بہ رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ١٤٠٤ہجری، ج ١،ص ٢٣٨

(٢) اثبات الوصیة، مکتبة الحیدریة ، نجف ، طبع چہارم ، ٣١٧٣ھ ص ١٦٧


حکومت کے مضبوط ہونے تک یعنی عبد الملک کی خلافت تک یہ سلسلہ جاری رہا، یہ مدت تشیع کے فروغ کے لئے ایک اچھی فرصت ثابت ہوئی، قیام کربلا کی جو اہم ترین خاصیت تھی وہ یہ کہ لوگوں کے ذہنوں سے بنی امیہ کی حکومت کی مشروعیت یکسرختم ہوگئی تھی اور حکومت کی بدنامی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ خلافت بالکل سے اپنی حیثیت کھوچکی تھی اور لوگ اسے پاکیزہ عنوان نہیں دیتے تھے یزید کی قبر سے خطاب کر کے جو شعر کہا گیا اس سے بخوبی اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے :

ایها القبر بحوارینا

قدضمنت شر الناس اجمعینا(١)

اے وہ قبرکہ جو حوارین کے شہر میں ہے لوگوں میں سے سب سے بد ترین آدمی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔

اس زمانہ میں سوائے شامیوں کے شیعہ و سنی سب کے سب، حکومت بنی امیہ کے مخالف تھے، شیعہ اور سنی کی جانب سے بغاوتیں بہت زیادہ جنم لے رہی تھیں ۔(٢)

یعقوبی لکھتا ہے:'' عبد الملک بن مروان نے اپنے حاکم حجاج بن یوسف کو لکھا تک تو مجھے آ ل ابی طالب کا خون بہانے میں ملوث نہ کر کیونکہ میں نے سفیانیوں ( ابوسفیان کے

____________________

(١) مسعودی علی بن حسین ، مروج الذھب ، موسسہ ا لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،١٤١١ھ ج٣ ص ٥٦

(٢)مسعودی علی بن حسین ، مروج الذہب ، موسسہ لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت، ١٤١١ ھ، ج٣ ، ص٨١۔٩٩


بیٹے)کا نتیجہ ان کے قتل کرنے میں دیکھا کہ کن مشکلات سے دوچار ہوئے تھے''(١)

آخرکار خون اما م حسین علیہ السلام نے بنی امیہ کے قصر کو خاک میں ملا دیا ۔

مقدسی کہتا ہے :'' جب خدا وند عالم نے خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بنی امیہ کا ظلم و ستم دیکھا تو ایک لشکر کو کہ جو خراسان کے مختلف علاقوں سے اکٹھا ہواتھا شب کی تاریکی میں ان کے سروں پر مسلط کردیا۔(٢)

دوسری طرف سے امام حسین علیہ السلام اور شھداء کربلا کی مظلومیت کی وجہ سے خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گئی اور ان کے مقام کو اولاد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوراسلام کے تنہا سرپرست ہونے کے عنوان سے مستحکم کردیا ،بنی امیہ کے دور میں جگہ جگہ لوگ یالثارات الحسین کے نعرہ کے ساتھ جمع ہوتے، یہاں تک کہ سیستان میں ابن اشعث کاقیام ،(٣) حسن مثنیٰ فرزند اما م حسن علیہ السلام

____________________

(١) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ص٣٠٤

(٢) مقدسی، احسن التقاسیم ، ترجمہ منذوی ، شرکت مولفان و مترجمان ایرانی، ج ٢ ص ٤٢٦۔٤٢٧

(٣) عبد الرحمن بن محمد بن اشعث حجاج کی جانب سے سیستان میں حاکم تھا ، سیستان کا علاقہ مسلمانوں اور ہندئوں کے درمیان سر حدواقع ہوتا تھا یہاں مسلمانوں اور ہندوستان کے حاکموں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں ، حجاج کو عبد الرحمن سے جو دشمنی تھی اس کی بنا پر اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ اسے اس طرح ختم کر دے ، عبد الرحمن جب اس سازش سے آگاہ ہوا تواس نے ٨٢ھ میں حجاج کے خلاف بغاوت کردی ، چونکہ عوام حجاج سے نفرت کرتی تھی لہذابصرہ و کوفہ کے کافی لوگ عبد الرحمن کے ساتھ ہوگئے، کوفہ کے بہت سے قاریان قرآن ا ور شیعہحضرات قیام کرنے والوں کے ساتھ ہوگئے، اس طرح عبد الرحمن سیستانسے عراق کی جانب روانہ ہوا ، اس کا پہلا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو )


کے نام سیتشکیل پایا(١) اسی بنیاد پر امام مہدی کی احادیث انتقام آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عنوان سے پھیلی(٢) اور لوگ بنی امیہ سے انتقام لینے والے کا بے صبری اور شدت سے انتظار کرنے لگے(٣) کبھی مہدی کے نام کو قیام اور تحریک کے قائدین پر منطبق کرتے تھے۔(٤)

دوسری طرف ائمہ اطہار اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان والے شہدائے کربلاکی یادوں کو زندہ رکھے ہوئے تھے ،امام سجاد جب بھی پانی پیناچاہتے تھے اور پانی پر نظر پڑتی تھی تو

____________________

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا ) پروگرام یہ تھا کہ حجاج کو بر طرف کردے پھر خود عبد الملک کو خلافت سے ہٹادے ، عبد الملک نے شام سے بہت بڑا لشکر حجاج کی مدد کے لئے روانہ کیا ،کوفہ سے سات فرسخ کے فاصلہ پر ''دیر الجماجم ''نامی جگہ پر شام کے لشکر نے عبد الرحمن کو شکست دے دی ،وہ ہندوستان بھاگا اور وہاں کے ایک بادشاہ سے پناہ طلب کی لیکن حجاج کے عامل نے اسے قتل کر دیا ، مسعودی ، مروج الذھب ، ج ٣ ص ١٤٨، معجم البلدان ، یاقوت حموی ، ج ٤ ص ٣٣٨

(١)ابن عنبہ ،عمدةالطالب فی انساب آل ابی طالب، انتشارات رضی،قم ، ص ١٠٠

(٢)ابوالفرج اصفہانی مقاتل الطالبین ،منشوارات شریف رضی ، قم ١٤١٦ھ،ص٢١٦

(٣)یعقوبی نقل کرتا ہے : عمر بن عبد العزیز نے اپنی خلافت کے دور میں عامر بن وائلہ کو کہ جس کا نام وظیفہ لینے والوں کی فہرست سے کاٹ دیا گیا تھا ، اس کے اعتراض کے جواب میں کہا: سنا ہے تم نے اپنی شمشیر کو تیز کیا ہے ،نیزہ کو تیز کیا ہے تیر اور کمان کو آمادہ رکھا ہے اور ایک امام قائم کے کہ وہ قیام کریں لہذا انتظار کرو جس وقت بھی وہ خروج کریں گے اس وقت تمہیں وظیفہ دیا جائے گا،( تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ ھ، ج ٢ ص ٣٠٧ )

(٤)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ج ٢، ص٢١٠


آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے، جب لوگوں نے اس کا سبب معلوم کیا تو آپ نے فرمایا : کیسے گریہ نہ کروں اس لئے کہ انہوں نے پانی جنگلی جانوروں اور پرندوں کے لئے آزاد رکھاتھا اور میرے بابا کے لئے بند کردیا تھا؛ایک روز امام کے خادم نے دریافت کیا، کیا آپ کا غم تمام نہیں ہوگا؟امام نے فرمایا: ''افسوس تجھ پر یعقوب کے بارہ بیٹوں میں سے ایک آنکھوں سے اوجھل ہوگیا تھا اس کے فراق میں اتنا گریہ کیا کہ نابینا ہوگئے اور شدت غم سے کمر جھک گئی حالانکہ ان کا فرزند زندہ تھا لیکن میں نے اپنے باپ بھائی ،چچا نیز اپنے خاندان کے سترہ افراد کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے ان کے لاشے زمین پر پڑے ہوئے تھے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ میرا غم تمام ہوجائے ؟!''۔(١)

امام صادق امام حسین کی مدح میں اشعارکہنے والے شاعروں کی تشویق کرتے تھے اور فرماتے:'' جو بھی امام حسین کی شان میں شعر کہے اور گریہ کرے اور لوگوں کو رلائے اس پر جنت واجب ہے اور اس کے گناہ معاف کر دئے جائیں گے۔(٢)

امام حسین تشیع کی بنیاداور علامت ٹھہرے اسی بنا پربہت سے زمانوں میں جیسے متوکل کے دور میں آپ کی زیارت کو ممنوع قرار دیا گیا۔(٣)

____________________

(١)علامہ مجلسی ،بحار الانوار ، المکتبة الاسلامیہ ،تہران،طبع دوم ،١٣٩٤ھ ق،ج٤٦ص١٠٨

(٢)شیخ طوسی ، اختیارمعرفة الرجال ، معروف بہ رجال کشی ،ج٢ ص ٥٧٤

(٣)طبری، ابی جعفر محمد بن جریر ،تاریخ طبری ، دارالکتب العلمیہ بیروت،طبع دوم،١٤٠٨ھ ج٥،ص٣١٢


(ب) عصر امام سجّاد علیہ السّلام

امام سجّاد کے دور کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا مرحلہ: شہادت امام حسین اوربنی امیہ کی حکومت کے متزلزل ہونے کے بعدسے اورسفیانیوں (ابو سفیان کے بیٹوں اور پوتوں ) کے خاتمہ اور مروانیوں کے برسراقتدار آنے نیز بنی امیہ کے آپس میں جھگڑنے اور مختلف طرح کی شورشوں اور بغاوتوں میں گرفتار ہونے تک یہاں تک کہ مروانیوں کی حکومت برقرار ہوگئی۔

دوسرا مرحلہ: حجاج کی حکمرانی اورمکہ میں عبداللہ بن زبیر کی شکست،(١) سے لے کر امام محمد باقر کا ابتدائی زمانہ اور عباسیوں کے قیام تک۔

____________________

( ١ ) مکہ میں عبد اللہ بن زبیر کی حاکمیت ،اس زمانے سے کہ جب اس نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور لوگوں کو اپنی طرف آنے کی دعوت دی ، یہاں تک کہ ٧٢ھ میں حجاج کے سپاہیوں نے اسے قتل کردیا ، یہ کل بارہ سال کا عرصہ ہے ابن عبدر بہ نے اس بارہ سال کے طولانی دور کو ''العقد الفرید ''میں ابن زبیر کے فتنہ کے عنوان سے ذکر کیا ہے، معاویہ کے مرنے کے بعد مدینہ کے حاکم نے ابن زبیر سے یزید کی بیعت طلب کی، یزید کی بیعت سے بچنے کے لئے جس وقت امام حسین مکہ تشریف لے گئے تو ابن زبیر بھی مکہ آگیا لیکن وہاں لوگوں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی، اسی بنا پرمکہ میں امام حسین کا رہنا اسے ناگوار لگ رہا تھا لہذا اس نے امام حسین سے کہا : اگر آپ کی طرح لوگ مجھے بلاتے تو میں عراق چلا جاتا ، امام حسین کی شہادت کے بعد یزید کے خلاف پرچم بغاوت بلند کر دیا یزید نے ٦٢ ھ میں مسلم بن عقبہ کو ایک لشکر کے ساتھ مدینہ کی شورش کو دبانے اور ابن زبیر کی سر کوبی کے لئے پہلے مدینہ اور پھر مکہ روانہ کیا لیکن واقعۂ حرّہ کے بعد مکہ جاتے ہوئے راستہ ہی میں وہ مر گیا اس کا جا نشین حصین بن نمیر شام کے لشکر کے ہمراہ مکہ گیا اور ٦٤ ھ میں منجنیق کے ذریعہ کعبہ پر آگ برسائی انہ کعبہ کا پردہ جل گیا اسی جنگ کے دوران یزید کے مرنے کی خبر ملی، شام کی فوج سست پڑ گئی ،حصین نے ابن زبیر سے کہا : بیعت کر لو اور شام چلو وہاں مجھے تخت حکومت پر بٹھادو لیکن ابن زبیر نے قبول نہیں کیا،یزید کے مرنے کے بعد اردن کے علاوہ تمام اسلامی سر زمین نے ابن زبیر کی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کر لی اور اس کی حکومت کو تسلیم کر لیا لیکن بنی امیہ نے مروان کو جابیہ میں اپنا خلیفہ منتخب کرلیا اس نے شام میں اپنے مخالفین کو تخت سے اتار دیا، اس کے بعد اس کا بیٹا عبد الملک خلیفہ بنا عبد الملک نے مصعب بن زبیر کو شکست دینے کے بعد اس کے بھائی عبد اللہ ابن زبیر کو شکست دینے کے لئے حجاج ابن یوسف کو عراق سے مکہ روانہ کیا حجاج نے مکہ کا محاصرہ کر لیا ، کوہ ابو قبیس پر منجنیق رکھ کر گولہ باری کر کے کعبہ اور مکہ کو ویران کر دیا اس جنگ میں عبد اللہ بن زبیر کے ساتھیوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن عبد اللہ نے مقاومت کی اور آخر کار قتل ہو گیا، اس طرح ١٢ سال بعد عبد اللہ ابن زبیر کا کام تمام ہو گیا ( ابن عبد ربہ اندلسی ، احمد بن محمد ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ١٤٠٩ھ ج ٤ ص ٢٦٦، مسعودی ، علی ابن الحسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ج ٣ ص ٧٨۔٧٩


امام حسین کی شہادت کے بعدایک طرف سے تو بنی امیہ عراق و حجاز کے علاقہ میں برپا ہونے والے انقلابات میں گرفتار تھے تو دوسری طرف سے ان کے اندر اندرونی اختلاف تھا جس کی بنا پرحکومت یزید زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکی یزید تین سال کی حکومت کے بعد ٦٤ ھ میں مر گیا،(١) اس کے بعداس کا بیٹا معا ویہ صغیر بر سر اقتدار آیا ا س نے چا لیس روز سے زیادہ حکومت نہیں کی تھی کہ خلافت سے الگ ہو گیا اور بلا فاصلہ دنیاسے رخصت ہو گیا،(٢) اس کے مر تے ہی خاندان بنی امیہ کے درمیان اختلاف

____________________

(١) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ج ٢،ص٢٥٢

(٢) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ج ٢،ص٢٥٦


شروع ہو گیا ، مسعودی نے اس کے مرنے کے بعد پیش آنے والے واقعات کہ جس سے بنی امیہ کی ریاست طلبی کی عکاسی ہوتی ہے یوں بیان کیا ہے: معاویہ دوّم ٢٢ سال کی عمر میں دنیا سے چلا گیااوردمشق میں دفن ہوا ولید بن عتبہ بن ابی سفیان خلافت کی لالچ میں آ گے بڑھا تا کہ معاویہ دوم کے جنازہ پر نماز پڑھے نماز تمام ہونے سے پہلے ہی اسے ایسی ضرب لگی کہ وہیں پر ڈھیر ہوگیا اس وقت عثمان بن عتبہ بن ابی سفیان نے نماز پڑھائی لیکن لوگ اس کی خلافت پربھی راضی نہیں ہوئے اور وہ ابن زبیر کے پاس مکہ جانے پر مجبور ہوگیا ۔(١)

امام حسین کی شہادت کو ابھی تین سال بھی نہ گزرے تھے کہ سفیانیوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، اسلامی سر زمین کے لوگ یہاں تک کہ بنی امیہ کے کچھ بزرگ افراد جیسے ضحاک بن قیس ا و رنعمان بن بشیر،ابن زبیر کی طرف مائل ہو گئے تھے، اسی وقت ابن زبیر نے مدینہ سے اموی ساکنین منجملہ مروان کونکال باہرکیا وہ سب وہاں سے نکل کرر اہی شام ہو گئے چونکہ دمشق میں کوئی خلیفہ نہیں تھا ،امویوں نے جابیہ میں مروان بن حکم کوخلیفہ بنا د یااور خالد بن یزید اور اس کے بعد عمرو بن سعید اشدق کو اس کا ولی عہد قرار دیا ، کچھ مدّت کے بعد مروان نے خالد بن یزید کو بر طرف کر دیا اور اس کے بیٹے عبدالملک کو اپنا ولی عہد بنایا اسی وجہ سے خالد کی ماں جو مروان کی بیوی تھی اس نے اس کو زہر دیا اور مروان مر گیا ، عبدالملک نے بھی عمرو بن سعید کو اپنے راستے سے ہٹاکر اس کے فرزند کو اپنا ولی عہد بنایا۔

دوسری طرف سے امویوں کو بہت سی شورشوں اور بغاوتوں کا سامنا تھا یہ قیام دو

____________________

(١)مسعودی ،مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ج٣ ص ٨٥۔٨٦


حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے،ایک وہ قیام جو شیعہ ما ہیت نہیں رکھتا تھا جیسے حرّہ کا قیام اور ابن زبیر کا قیام، ابن زبیرکے قیام کی حقیقت معلوم ہے اس قیام کا قائد ابن زبیر تھا جو خاندان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سخت ترین دشمن تھا ،جنگ جمل میں شکست کے بعدہی اس کا دل (اہل بیت کے ) بغض و کینہ سے بھر گیا تھا لیکن اس کا بھائی مصعب شیعیت کی طرف مائل تھا اس نے امام حسین کی بیٹی سکینہ سے شادی کی تھی، اسی بنا پر عراق میں اس کو ایک حیثیت حاصل تھی، امویوں کے مقابلہ میں شیعہ اس کے ساتھ تھے، جناب مختار کے بعد ابراہیم بن مالک اشتر ان کے ساتھ ہوگئے تھے اور انہیں کے ساتھ شہید ہوئے ۔

دوسر ے وہ قیام جو ماہیت کے اعتبار سے شیعہ فکر رکھتے تھے ۔

قیام حرّہ کو بھی شیعی حمایت حاصل نہیں تھی ،(١) اس قیام میں امام سجاد

کی کسی قسم کی مداخلت نہ تھی جس وقت مسلم بن عقبہ لوگوں سے بیعت لے رہا تھااور یہ کہہ رہا تھا غلام کی سے جنگ کروں گا اس نے مجھے تحفے دئے اکرام کیا میں نے اس کے ہدیہ و تحفہ کو قبول نہیں کیا جگہ یزید کی بیعت کریں اس وقت وہ امام سجاد کا احترام کر رہا تھا اور حضرت پر کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالا۔(۲)

____________________

(١)حرّہ کا واقعہ ٦٢ھ میں پیش آیا ، مسعودی اس کی وجہ لوگوں کا یزید کے فسق و فجور سے نا خوش ہونا اور امام حسین کی شہادت جانتا ہے ، مدینہ جو اولاد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مرکز تھا یہاں کے لوگ یزید سے ناراض تھے مدینہ کا حاکم عثمان بن محمد بن ابی سفیان جو ایک نا تجربہ کار نوجوان تھا ، مدینہ کے لوگوں کی نمائندگی میں کچھ لوگوں کو شام روانہ کیا تاکہ یزید کو قریب سے دیکھیں اور اس کی نوازشات سے فائدہ اٹھائیں اور جب مدینہ آئیں لوگوں کو یزید کی اطاعت پر تشویق کریں ، اس عثمانی تجویز میں مدینہ کے بزرگان کہ جن میں عبد اللہ بن حنظلہ جو غسیل الملائکہ کہے جاتے ہیں وہ بھی شامل تھے ، یزید جو اسلامی تربیت سے بالکل بے بہرہ تھا ان لوگوں کے سامنے بھی اس نے اپنے فسق و فجور کو جاری رکھا، لیکن مدینہ سے آنے والوں کی خوب آئو بھگت کی سب کو گراں بہا تحفے دئے تاکہ یہ لوگ واپس جا کر اس کی تعریفیں کریں لیکن اس کا سب کچھ کرنا بیکار ہو گیا یہ لوگ جب مدینہ پلٹے تو مجمع میں یہ اعلان کیا کہ ہم اس کے پاس سے واپس آرہے ہیں جو بے دین ہے شراب پیتا ہے ، ناچ گانا سنتا ہے ، کتے سے کھیلتا ہے ،ان طوائفوں کے ساتھ ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرتا ہے، ان سے ہمنشینی کرتاہے کی آواز یں سنتا ہے ، عیش و عشرت میں زندگی گذارتا ہے ، ہم لوگ آپ کو گواہ قرار دیتے ہیں کہ ہم نے اسے خلافت سے معزول کر دیا ہے ، عبد اللہ ابن حنظلہ نے کہا اگر کسی نے بھی میری مدد نہیں کی تو میں صرف اپنے بچوں کے ساتھ یزیدمگر صرف اس لئے لے لیا کہ خود اس کے خلاف استعمال کروں اس کے بعد لوگوں نے عبد اللہ ابن حنظلہ کی بیعت کی مدینہ کے حاکم اور تمام بنی امیہ کو مدینہ سے باہر بھگا دیا ۔جب یزید کو یہ خبر ملی تو اس نے بنی امیہ کے ایک نمک خوار و تجربہ کار شخص مسلم بن عقبہ کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ مدینہ روانہ کیا اور کہا: ان لوگوں کو تین دن کی مہلت دینا اگر تسلیم ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے جنگ کرکے کامیابی کے بعد تین دن تک جتنی لوٹ مار کرنی ہو کر لینا اور سپاہیوں کو کھلی اجازت دے دینا ۔اہل مدینہ اور لشکر شام میں شدید جنگ ہوئی آخر کار اہل مدینہ کو شکست ہوئی بڑے بڑے رہبر مارے گئے مسلم نے تین دن بالکل قتل عام کا حکم صادر کر دیا ،لشکر شام نے وہ کام کیا جسے بیان کرنے سے قلم کو بھی شرم آتی ہے اس ظلم و بربریت کی بنا پر مسلم کو مسرف کہا گیا ،قتل و غارت کے بعد اس نے یزید کے لئے لوگوں سے زبر دستی بیعت لی ۔ابن عبد ربہ اندلسی ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ج ٤ ص ٣٦٢، ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٢٥٠۔ ٨٢ ، ابن اثیر ، الکامل دار صادر ، بیروت ، ج ٤ ص ١٠٢۔١٠٣۔ ٢٥٥۔٢٥٦

(۲) ابی حنیفہ ، دینوری ، احمد بن دائود ، الاخبار الطوال ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ص ٢٦٦


شیعی قیام

شیعی قیام درج ذیل ہیں : قیام توّابین اور قیام مختار، ان دو قیام کا مقام ومرکز عراق میں شہر کوفہ تھا اور جو فوج تشکیل پائی تھی وہ شیعیان امیرالمو منین کی تھی سپاہ مختار میں شیعہ غیر عرب بھی کافی موجود تھے ۔

توابین کے قیام کی ماہیت میں کوئی ابہام نہیں ہے یہ قیام صحیح ہدف پر استوار تھا جس کا مقصد صرف خون خواہی امام حسین اور حضرت کی مدد نہ کرنے کے گناہ کو پاک کرنے اور ان کے قاتلوں سے مقابلہ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا، توابین کوفہ سے نکلنے کے بعد کربلا کی طرف امام حسین کی قبر کی زیارت کے لئے گئے اور قیام سے پہلے اس طرح کہا:

پروردگارا!ہم فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد نہ کر سکے ہمارے گنا ہوں کو معاف فرما، ہماری توبہ کو قبول فرما ، امام حسین کی روح اور ان کے سچّے ساتھیوں پر رحمت نازل کر، ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم اسی عقیدہ پر ہیں جس عقیدہ پر امام حسین قتل ہوئے، پروردگارا!اگر ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا اور ہم پر لطف وکرم نہیں کیا تو ہم بد بخت ہو جائیں گے۔(١)

مختار نے مسلم بن عقیل کے کوفہ میں داخل ہونے کے بعد ان کی مدد کی جس کی وجہ سے عبید اللہ بن زیادکے ذریعہ دستگیر ہوئے اور زندان میں ڈال د یئے گئے اور واقعہ عاشورہ کے بعداپنے بہنوئی عبداللہ بن عمر کے توسط سے آزاد ہوئے وہ ٦٤ھ میں کوفہ آئے اور اپنے قیام کو قیام توابین کے بعد شروع کیا اور یا لثارات الحسین کے نعرہ کے

____________________

(١)ابن اثیر ،الکامل فی التاریخ ، ج ٤ ص ١٥٨۔١٨٦


ذریعہ تمام شیعوں کو جمع کیا وہ اس منصوبے اور حوصلہ کے ساتھ میدان عمل میں وارد ہوئے کہ امام حسین کے قاتلوں کوان کے عمل کی سزادیں اور اس طرح سے ایک روز میں (٢٨٠) ظالموں کو قتل کیا اور فرار کرنے والوں کے گھروں کو ویران کیا، من جُملہ محمّد بن اشعث کے گھر کو خراب کیا اور اس کی باقیات (ملبہ و اسباب) سے علی کے وفادار ساتھی حجر بن عدی کا گھر بنوایا جس کو معاویہ نے خراب کر دیا تھا۔(١)

جناب مختار کے بارے میں اختلاف نظرہے بعض ان کو حقیقی شیعہ اور بعض انہیں جھوٹا جانتے ہیں ، ابن داؤد نے رجال میں مختار کے بارے میں اس طرح کہا ہے:

مختار ابو عبیدثقفی کا بیٹا ہے بعض علماء شیعہ نے ان کو کیسانیہ سے نسبت دی ہے اور اس بارے میں امام سجّاد کا مختار کا ہدیہ رد کرنے کوبطور دلیل پیش کیا گیا ہے لیکن یہ اس کی رد پر دلیل نہیں ہو سکتی ،کیونکہ امام محمّد باقر نے ان کے بارے میں فرما یا : مختار کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہے اور اس نے نہیں چاہا کہ ہمارا خون پامال ہو ،ہماری لڑکیوں کی شادی کرائی اور سختی کے موقع پر ہمارے درمیان مال تقسیم کیا ۔

جس وقت مختار کا بیٹا ابو الحکم امام باقر کے پاس آیا امام نے اس کا کافی احترام کیا ابو الحکم نے اپنے باپ کے بارے میں معلوم کیا اور کہا :لوگ میرے باپ کے بارے میں کچھ باتیں کہتے ہیں لیکن آپ کی جو بات ہو گی وہ صحیح میرے لئے معیار ہوگی اس وقت امام نے مختار کی تعریف کی اور فرمایا :

'' سُبحان اللہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میری ماں کا مہر اس مال میں سے تھا جو

____________________

(١)مقتل الحسین ، منشورات المفید ، قم ، ج ٢ ص ٢٠٢


مختار نے میرے والد کو بھیجا تھا اور چند بار کہا: خدا تمہارے باپ پر رحمت نازل کرے اس نے ہمارے حق کو ضائع نہیں ہونے دیا ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارا خون پامال نہیں ہونے دیا ''۔

امام صادق نے بھی فرمایا : ''جب تک مختار نے امام حسین کے قاتلوں کے سرقلم کر کے ہم تک نہیں بھیجااس وقت تک ہمارے خاندان کی عورتوں نے بالوں میں کنگھا نہیں کیا اور بالوں کو مہندی نہیں لگائی '' ۔

روایت میں ہے جس وقت مختار نے عبید اللہ ابن زیاد ملعون کا سر امام سجّاد کے پاس بھیجا امام سجدہ میں گر پڑے اور مختار کے لئے دعائے خیر کی، جو روایتیں مختار کی سرزنش میں ہیں وہ مخالفین کی بنائی ہوئی روایتیں ہیں ۔(١)

مُختار کی کیسانیہ سے نسبت کے بارے میں یا فرقۂ کیسانیہ کی ایجادمیں ، مختار کے کردار کے بارے میں آیةاللہ خوئی مختار کے دفاع اور کیسانیہ سے ان کی نسبت کی رد میں لکھتے ہیں :

بعض علماء اہل سنّت مختار کو مذہب کیسانیہ سے نسبت دیتے ہیں اور یہ بات قطعاً باطل ہے کیونکہ محمد حنفیہ خود مدعی امامت نہیں تھے کہ مختار لوگوں کو ان کی امامت کی دعوت دیتے مختار مُحمّد حنفیہ سے پہلے قتل ہو گئے اور محمّد حنفیہ زندہ تھے، اور مذہب کیسا نیہ محمّد حنفیہ کی موت کے بعد وجود میں آیا ہے لیکن یہ کہ مختار کو کیسانیہ کہتے تھے اس وجہ سے نہیں کہ ان کا مذہب کیسانی ہے اور بالفرض اس لقب کو مان لیا جائے تو یہ وہ روایت ہے کہ امیرالمومنین نے ان سے دو مرتبہ فرمایا:( یاکیس یا کیس) اسی کو صیغئہ تثنیہ میں کیسان کہنے لگے ۔(٢)

____________________

(١)رجال ابن دائود ، منشورات الرضی ، قم ص ٢٧٧

(٢)آیة اللہ سید ابو القاسم خوئی ،معجم رجال الحدیث، بیروت، ج ١٨، ص ١٠٢۔١٠٣


مروانیوں کی حکومت ( سخت دور)

جیسا کہ بیان کر چکے امام سجّاد کے دور کا دوسرامرحلہ مروانی حکومت دور تھا بنی مروان نے عبداللہ بن زبیر کے قتل کے بعد ٧٣ ھ(١) میں اپنی حکومت کومستحکم کر لیا تھا ، اس نے اور اس دور میں ظالم و جابرحجّاج بن یوسف کے وجود سے فائد ہ اُٹھایاوہ دشمن کو ختم کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی یہاں تک کہ کعبہ کو بھی مورد حملہ قرار دیا اس پر آگ کے گولے برسائے اور اس کو ویران کردیا اور بنی امیہ کے مخالفین کوچاہے وہ شیعہ ہو ں یا سُنّی جہاں کہیں بھی پایا فوراان کو قتل کردیا٨٠ ھ میں ابن اشعث نے قیام کیا مگر اس قیام سے بھی حجاج کو کوئی نقصان نہیں پہونچا(٢) ٩٥ ھ تک حجاز اور عراق میں اس کی ظالم

____________________

(١)ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ،منشورات الشریف الرضی ، قم، ١٤١٤ھ ج ٢ ص ٢٦٧

(٢)٨٠ھ میں با وجود اس کے کہ حجاج ، عبد الرحمن بن اشعث سے خوش نہیں تھا مگر سیستان اور زابلستان کا حاکم بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ رتبیل کو کہ جس نے سیستان پر حملہ کیا تھا اسے باہر بھگا دے ، عبد الرحمن جب وہاں پہونچا تو حملہ آوروں کو ٹھکانے لگادیا شہر میں امن و امان قائم کیا اس کے بعد بھی چونکہ حجاج نے مطالبہ تھاکہ دشمن کا تعاقب کرے جسے عبد الرحمن اور اس کے فوجیوں نے حجاج کی چال سمجھا لہٰذا وہ دشمن سے لڑنے کے بجائے حجاج پر ہی حملہ کرنے کے لئے عراق روانہ ہو گیا خوزستان کے علاقہ میں حجاج اور عبد الرحمن میں جنگ ہوئی، پہلے تو حجاج کے سپاہیوں کو شکست ہوئی عبد الرحمن نے اپنے کو عراق پہنچا دیا اور کوفہ پر قابض ہو گیا بصرہ کے بہت سے لوگوں نے بھی اس کی مدد کی، حجاج نے عبد الملک سے مدد طلب کی، شام سے لشکر اس کی مدد کے لئے روانہ ہوا لشکر کے پہنچنے پر حجاج نے دوبارہ حملہ کیا یہ شدید جنگ( دیر الجماجم )کے نام سے مشہور ہے، بصرہ اور کوفہ کے لوگ یہاں تک کہ قاریان و حافظان قرآن جو حجاج کے دشمن تھے عبد الرحمن کی نصرت کی، عبد الرحمن کے پاس اتنی بڑی فوج تھی کہ خود

عبد الملک کو خوف ہونے لگا اس نے لوگوں سے کہا : اگر لوگحجاج کو معزول کرنا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں لیکن عراق والوں نے اس کی سازش قبول نہ کی اور عبد الملک کو ہی معزول کر دیا، بڑی شدید جنگ ہوئی عبد الملک نے عبد الرحمن کے کچھ فوجیوں کو فریب دیا اورشب خون مار ا، ابن اشعث کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوئے اور رتبیل کے پاس پناہ حاصل کی، بعد میں رتبیل نے حجاج کے فریب اور لالچ میں آکر اسے قتل کر دیا اور سر کو حجاج کے پاس بھیجا ( مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت ، ١٤١٤ھ ق ، ج ٣ ص ١٤٨۔١٤٩، و شہیدی ، دکتر سید جعفر ، تاریخ اسلام تا پایان امویان ، مرکز نشر دانشگاہ تہران ، طبع ششم ، ١٣٦٥ھ ش، ص ١٨٥۔١٨٦


حکومت قائم رہی۔(١)

امام سجّاد نے ایسے حالات میں زندگی گذاری اور دعائوں کے ذریعہ اسلامی معارف کو شیعوں تک منتقل کیا، ایسے وقت میں شیعہ یا تو فرار تھے یا زندان میں زندگی بسر کر رہے تھے یا حجاج کے ہا تھوں قتل ہورہے تھے یا تقیہ کرتے تھے اس بنا پر لو گو ں میں امام سجّاد سے نزدیک ہو نے کی جرأت نہیں تھی اورحضرت کے مددگار بہت کم تھے ، مرحوم علّا مہ مجلسی نقل کرتے ہیں : حجّاج بن یو سف نے سعید بن جبیر کو اس وجہ سے قتل کیا کہ اس کا ارتباط امام سجّاد سے تھا ۔(٢)

البتہ اس زمانے میں شیعوں نے سختیوں کی وجہ سے مختلف اسلامی سر زمینوں کی

____________________

(١) مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ص ١٨٧

(٢)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ، معروف بہ رجال کشی، موسسہ آل البیت ، لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ھ ج١ ص ٣٣٥


طرف ہجرت کی جو تشیع کے پھیلنے کا سبب بنی، اسی زمانے میں کوفہ کے چند شیعہ قم کی طرف آئے اور یہا ں سکونت اختیار کر لی اور وہ تشیع کی ترویح کا سبب بنے۔(١)

امام محمد باقرکی امامت کا ابتدائی دور بھی حکومت امویان سے متصل تھا اس دور میں ہشّام بن عبد الملک حکومت کرتا تھاجو صاحب قدرت اور مغرور بادشاہ تھا، اس نے ا مام محمدباقر کو امام صادق کے ساتھ شام بلوایا اور ان کو اذیت وآزار دینے میں کسی قسم کی کو تاہی نہیں کی۔(٢)

اسی کے زمانے میں زید بن علی بن الحسین نے قیام کیا اور شہید ہو گئے اگرچہ عمر بن عبد العزیز کے دور میں سختیوں میں بہت کمی آگئی تھی لیکن اس کی مدت خلافت بہت کم تھی وہ دو سال اور کچھ مدت کے بعدسرّی طور پر(اس کو موت ایک معمہ رہی ) اس دنیا سے چلا گیا ، بنی امیہ اس قدر فشار اور سختیوں کے باوجود نور حق کو خاموش نہ کر سکے اور علی ابن ابی طالب کے فضائل ومناقب کومحو نہ کر سکے چونکہ یہ خدا کی مرضی تھی، ابن ابی الحدید کہتا ہے : ''اگر خدانے علی میں سر(راز) قرار نہ دیا ہوتاتوایک حدیث بھی ان کی فضیلت و منقبت میں موجودنہ ہوتی''اس لئے کہ حضرت کے فضائل نقل کرنے والوں پر مروانیوں کی طرف سے بہت سختی تھی۔(٣)

____________________

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ، معجم البلدان ، دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت طبع اول ١٤١٧ھ ، ج ٧ ص ٨٨

(٢)طبری، محمد بن جریر بن رستم ، دلائل الامامہ منشورات المطبعة الحیدریہ، نجف ، ١٣٨٣ھ ص ١٠٥

(٣)محمد عبدہ ، شرح نہج البلا غہ، دار احیاء الکتب العربیہ، قاہرہ، ج ٤ ص ٧٣


عباسیوں کی دعوت کا آغاز اورشیعیت کا فروغ

سن ١١١ھ سے عباسیو ں کی دعوت شروع ہو گئی(١) یہ دعوت ایک طرف تو اسلامی سر زمینوں میں تشیع کے پھیلنے کا سبب بنی تو دوسری طرف سے بنی امیہ کے مظالم سے نجات ملی جس کے نتیجہ میں شیعہ راحت کی سانس لینے لگے ،ائمہ معصومین علیہم السّلام نے اس زمانے میں شیعہ فقہ وکلام کی بنیاد ڈالی تشیّع کے لئے ایک دور کا آغاز ہوا ، کلّی طور پرامویوں کے زمانے میں فرزندان علی اور فر زندان عبّاس کے درمیان دو گا نگی کا وجود نہیں تھا کوئی اختلاف ان کے درمیان نہیں تھا جیسا کہ سیّد محسن امین اس سلسلے میں کہتے ہیں : ''ابنائِ علی اور بنی عباس، بنی امیہ کے زمانے میں ایک راستے پر تھے، لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ بنی عباس، بنی امیہ سے زیادہ خلافت کے سزا وار ہیں اور ان کی مدد کرتے تھے کہ نبی عباس لوگ شیعیان آل محمد کے نام سے یاد کئے جاتے تھے اس زمانے میں فر زندان علی و فرزندان عبّاس کے درمیان نظریات و مذہب کا اختلاف نہیں تھا لیکن جس وقت بنی عباس حکومت پر قابض ہوئے شیطان نے ان کے اور فرزندان علی کے درمیان اختلاف پیدا کر دیا، انہوں نے فرزندان علی پر کا فی ظلم وستم کیا،(٢) اسی سبب سے داعیان فرزندان عبّاس لوگوں کو آل محمّد کی خشنو دی کی طرف دعوت دیتے تھے اور خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مظلومیت بیان کرتے تھے ۔

ابو الفرج اصفہانی کہتا ہے: ولید بن یزید کے قتل اور بنی مروان کے درمیان

____________________

(١) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، ج ٢ ص ٣١٩

(٢)سید محسن امین ، اعیان الشیعہ ،دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ، ج ١ص ١٩


اختلاف کے بعد بنی ہاشم کے مبلّغین مختلف جگہوں پرتشریف لے گئے اورانہوں نیجس چیز کا سب سے پہلے اظہار کیا وہ علی ابن ابی طالب اور ان کے فرزندوں کی فضیلت تھی،وہ لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ بنی امیہ نے اولاد علی کو کس طرح قتل کیا اور ان کو کس طرح دربدر کیا ہے،(١) جس کے نتیجہ میں اس دور میں شیعیت قابل ملاحظہ حد تک پھیلی یہا ں تک امام مہدی سے مربوط احادیث مختلف مقامات پر لوگوں کے درمیان کافی تیزی سے منتشر ہوئی داعیان عبّاسی کی زیادہ تر فعالیت وسر گرمی کا مرکز خراسان تھا اس بنا پر وہاں شیعو ں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ۔

یعقوبی نقل کرتا ہے : ١٢١ھ میں زید کی شہادت کے بعدشیعہ خراسان میں جوش وحرکت میں آگئے اور اپنی شیعیت کو ظاہرکرنے لگے بنی ہاشم کے بہت سے مبلّغین ان کے پاس جاتے تھے اور خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بنی امیہ کی طرف سے ہونے والے مظالم کو بیان کرتے تھے، خراسان کاکوئی شہر بھی ایسا نہیں تھا کہ جہاں ان مطالب کو بیان نہ کیا گیا ہواس بارے میں اچھے اچھے خواب دیکھے گئے ،جنگی واقعات کو درس کے طور پر بیان کیا جانے لگا ۔(٢)

مسعودی نے بھی اس طرح کے مطلب کو نقل کیا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خراسان میں کس طرح شیعیت پھیلی وہ لکھتا ہے کہ١٢٥ھمیں یحییٰ بن زید جو زنجان میں قتل ہوئے تو لوگوں نے اس سال پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کا نا م یحییٰ رکھا۔(٣)

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، ١٤١٦ھ ص ٢٠٧

(٢) ابن واضح ، ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، ج ٢ ص٣٢٦

(٣) مروج الذھب منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٧ھ ج٣ ص ٢٣٦


اگر چہ خراسان میں عبّاسیوں کا زیادہ نفوذتھا چنانچہ ابو الفرج، عبداللہ بن محمد بن علی ابی طالب کے حالات زندگی میں کہتا ہے: خراسان کے شیعو ں نے گمان کیا کہ عبداللہ اپنے باپ محمّد حنفیہ کے وارث ہیں کہ جو امام تھے اور محمد بن علی بن عبداللہ بن عبّاس کو اپنا جانشین قرار دیا اورمحمدکے جانشین ابراہیم ہوئے اور وراثت کے ذریعہ امامت عباسیوں تک پہونچ گئی۔(١)

یہی وجہ ہے کہ عباسیوں کی فوج میں اکثر خراسانی تھے اس بارے میں مقدسی کا کہنا ہے : جب خدا وند عالم نے بنی امیہ کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھا تو خراسان میں تشکیل پانے والے لشکر کو رات کی تاریکی میں ان پر مسلط کردیا حضرت مہدی کے ظہور کے وقت بھی آپ کے لشکر میں خراسانیوں کے زیادہ ہونے کا احتمال ہے ۔(٢)

بہر حال اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کالوگوں کے درمیان ایک خاص مقام تھا چنانچہ عباسیوں کی کامیابی کے بعد شریک بن شیخ مہری نامی شخص نے بخارا میں خانوادہ پیغمبر پر عباسیوں کے ستم کے خلاف قیام کیا اور کہا :ہم نے ان کی بیعت اس لئے نہیں کی ہے کہ بغیر دلیل کے ستم کریں اورلوگوں کا خون بہائیں اور خلاف حق کام انجام دیں چنانچہ یہ ابومسلم کے ذریعہ قتل کردیا گیا ۔(٣)

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقا تل الطالبین ، منشورات ؛شریف الرضی ، قم ١٤١٦ ص ١٣٣

(٢)مقدسی ، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ، ترجمہ دکتر علی نقی منزوی ، شرکت مولفان و مترجمان ایران ، ج٢ ص ٤٢٦۔٤٢٧

(٣) تاریخ یعقوبی، منشورات الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج ٢ ص ٣٤٥


(ج) تشیع عصرامام باقر اور امام صادق علیہما السّلام میں

امام محمد باقر ـ کی امامت کا دوسرا دور اور امام صادق علیہما السّلام کی امامت کا پہلا دور عباسیوں کی تبلیغ اور علویو ں کے قیام سے متصل ہے علویوں میں جیسے زید بن علی ، یحییٰ بن زید ، عبداللہ بن معاویہ کہ جوجعفر طیّار کے پوتے ہیں ۔(١)

عباسیوں میں رہبری کا دعوی کرنے والے ابو مسلم خراسانی کا خراسان میں قیام جو لوگوں کو بنی امیہ کے خلاف ابھاررہے تھے۔(٢)

دوسری طرف بنی امیہ آپس میں اپنے طرفداروں کے درمیان مشکلات واختلافات کاشکار تھے اس لئے کہ بنی امیہ کے طرفداروں میں مصریوں اور یمنیوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف تھا، یہ مشکلات اور گرفتاریا ں سبب واقع ہوئیں کہ بنی امیہ شیعوں سے غافل ہو گئے جس پر شیعیوں نے سکون کا سانس لیا اور شدید تقیہ کی حالت سے باہر آئے تاکہ اپنے رہبروں سے رابطہ برقرار کر یں اور دوبارہ منظم ہوں ،یہ وہ دور تھا کہ جس میں لوگ امام باقر کی طرف متوجہ ہوئے اور ان نعمتوں سے بہرہ مند ہوئے کہ جس سے برسوں سے محروم تھے، حضرت نے مکتب اہل بیت کو زندہ رکھنے کے لئے قیام کیا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں درسی نششتیں اورجلسے تشکیل دیئے جو کہ لوگوں کے رجوع کرنے کا محل قرار پایا ان کی علمی اور فقہی مشکلات کواس طرح حل کرتے تھے کہ جو ان کے لئے حجت ہو ،قیس بن ربیع نقل کرتے ہیں کہ میں

____________________

(١) مقاتل الطالبین، منشورات الشریف الرضی ، قم ،ج٢ ص ٣٣٢

(٢)تاریخ یعقوبی، منشورات الشریف الرضی ، قم ،ج٢ ص ٣٣٣


نے ابواسحاق سے نعلین پرمسح کرنے کے متعلق سوال کیا اس نے کہا :میں بھی تمام لوگوں کی طرح نعلین پر مسح کرتا تھا یہاں تک کہ بنی ہاشم کے ایک شخص سے ملاقات کی کہ میں نے ہر گز اس کے مثل نہیں دیکھا تھا اوراس سے نعلین پر مسح کرنے کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے مجھے اس کام سے منع کیا اور فرمایا امیر المو منین نعلین پر مسح نہیں کرتے تھے اس کے بعد میں نے بھی ایسا نہیں کیا ، قیس بن ربیع کہتے ہیں : یہ بات سننے کے بعد میں نے بھی نعلین پر مسح کرنا ترک کردیا۔

خوارج میں سے ایک شخص امام مُحمّد باقر کی خدمت میں آیا اور حضر ت کو مخاطب کر کے کہا: اے ابا جعفر !کس کی عبادت کرتے ہیں ؟ حضرت نے فرمایا: خُدا کی عبادت کرتا ہوں ،اس شخص نے کہا :کیا اس کو دیکھا ہے؟ فرمایا: ہاں لیکن دیکھنے والے اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے بلکہ بہ چشم قلب حقیقت ایمان سے اس کو دیکھا جا سکتا ہے، قیاس سے اس کی معرفت نہیں ہو سکتی حواس کے ذریعہ اس کو درک نہیں کیاجا سکتا،وہ لوگوں کی شبیہ نہیں ہے،وہ خارجی شخص امام کی بارگا ہ سے یہ کہتا ہوا نکلا کہ خُدا خوب جانتا ہے کہ رسالت کو کہاں قرار دے ۔

عمر و بن عبید ،طاؤس یمانی ،حسن بصری ، ابن عمرکے غلام نافع ،علمی وفقہی مشکلات کے حل کے لئے امام کی خدمت میں حاضر ہو تے تھے۔(١)

امام محمد باقر علیہ السلام جس وقت مکہ میں آتے تھے تو لو گ حلال و حرام کو جاننے کے لئے امام کے پاس آتے تھے اور حضرت کے پاس بیٹھنے کی فرصت کو غنیمت شمار کرتے تھے اور اپنے علم ودانش میں اضافہ کرتے تھے۔ سر زمین مکہ پر آپ کے حلقہ درس

____________________

(١)حیدر ، اسد،امام صادق و مذاہب اربع، دار الکتاب العربی ، طبع سوم ، ج١ ص ٤٥٢۔٤٥٣


میں طالب علموں کے علاوہ اس زمانہ کے دانشمند بھی شریک ہوا کرتے تھے۔(١)

جس وقت ہشام بن عبد الملک حج کے لئے مکہ آیااور حضرت کے حلقۂ درس کو دیکھا تو اس پر یہ بات گراں گذری اس نے ایک شخص کو امام کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ امام سے یہ سوال کرے کہ لوگ محشر میں کیا کھائیں گے؟ امام نے جواب میں فرمایا: محشر میں درخت اور نہریں ہوں گی جس سے لوگ میوہ کھائیں گے اور نہر سے پانی پئیں گے یہاں تک کہ حساب و کتاب سے فارغ ہوجائیں ،ہشام نے دوبارہ اس شخص کو بھیجا کہ وہ امام سے سوال کرے کہ کیامحشر میں لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ملے گی ؟ امام نے فرمایا:جہنم میں بھی لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ہوگی اور اللہ سے پانی اور تمام نعمتوں کی درخواست کریں گے۔

زُرارہ کا بیان ہے امام باقرکے ہمراہ کعبہ کے ایک طرف بیٹھا ہوا تھا امام روبقبلہ تھے اور فرمایا: کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کعب الاحبارکا کہنا ہے کہ کعبہ بیت المقدس کو ہر روز صبح کو سجدہ کرتا ہے، حضر ت نے فرمایا: تم کیا یہ کہتے ہو اس شخص نے کہا :کعب سچ کہتا ہے، ا مام ناراض ہو گئے اور فرمایا: تم اور کعب دونوں جھو ٹ بو لتے ہو ۔(٢)

حضرت کے محضراقدس میں بزرگ علمائ،فقہا اور محدّثین نے تربیت پائی ہے جیسے زُرارہ بن اعین کہ جن کے بارے میں امام صادق نے فرمایاہے: اگر زُرارہ نہ

____________________

(١)علامہ مجلسی ، محمد باقر ،بحار الانوار،مکتبة الاسلامیہ، ج ٢٦، ص ٣٥٥

(٢)حیدر ، اسد ، امام صادق و مذاھب اربعہ ، دار الکتاب العربی ، طبع سوم ، ج ١ ص ٤٥٢۔ ٤٥٣


ہوتے تو میر ے والد کی احادیث کے ختم ہو جانے کا احتمال تھا۔(١)

محمدبن مسلم نے امام محمد باقرسے تیس ہزار حدیثیں سنی تھیں(٢) ابو بصیر جن کے بارے میں امام صادق ـنے فرمایا:اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آثار نبوت پرانے ہو جاتے یا قطع ہو جاتے(٣) اور دوسرے بزرگ جیسے یزید بن معاویہ عجلی ،جابر بن یزید ، حمران بن اعین ، ہشّام بن سالم حضر ت کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے ، شیعہ علماء کے علاوہ بہت سے علمائے اہل سنّت بھی امام کے شاگرد تھے اور حضرت سے روایتیں نقل کی ہیں ، سبط ابن جوزی کہتا ہے :جعفر اپنے باپ کے حوالے سے حدیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نقل کرتے تھے، اسی طرح تا بعین کی کچھ تعداد نے جیسے عطا بن ابی رباح، سفیان ثوری ، مالک بن انس (مالکی فرقہ کے رہنما) شعبہ اور ابو ایوب سجستانی نے حضرت کی طرف سے حدیثیں نقل کی ہیں(٤) خلاصہ یہ کہ حضرت کے مکتب سے علم فقہ وحدیث کے ہزاروں علماء و ماہرین نے کسب فیض کیا اور ان کی حدیثیں تمام جگہ پھیلیں بزر گ محدّث جابر جعفی نے ستّر ہزارحدیثیں حضرت سے نقل کی ہیں(٥) حضرت نے ١١٤ھ میں ساتویں ذی الحجہ کوشہادت پائی ۔(٦)

____________________

(١)شیخ طوسی اختیارمعرفة الرجال،ج ١ ص ٣٤٥

(٢)شیخ طوسی ، اختیا ر معرفة الرجال ،ج ١ ص ٣٨٦

(٣)شیخ طوسی ، اختیا ر معرفة الرجال ،ج ١ ص٣٩٨

(٤) ابن جوزی ، تذکرة الخواص ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٣٧٦ھ ش، ١٤١٨ھ ص ٣١١

(٥) تاریخ الشیعہ ، ص ٢٢

(٦)کلینی، اصول کافی ،دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ١٣٦٣ھ ش، ج١ ص ٧٢


جعفریہ یونیورسٹی

امام صادق کوایک مناسب سیاسی موقع فراہم ہوا تھا کہ جس میں انہوں نے اپنے والد کی علمی تحریک کو آگے بڑھایا اور ایک عظیم یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالی کہ جس کی آوازپورے آفاق میں گونج گئی ۔

شیخ مفید لکھتے ہیں : حضرت سے اتنی مقدار میں علوم نقل ہوئے کہ زبان زدخلائق تھے امام کی آواز تمام جگہ پھیل گئی تھی، خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے کسی فرد سے اتنی مقدار میں علوم نقل نہیں ہوئے ہیں ۔(١)

امیر علی حضرت کے بارے میں لکھتے ہیں : علمی مباحث اور فلسفی مناظروں نے تمام مراکز اسلامی میں عمومیت پیدا کرلی تھی اور اس سلسلے میں جو رہنمائی اور ہدایت دی جاتی تھی وہ فقط اس یونیورسٹی کی مرہون منت تھی جو مدینہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کے زیر نظر تھی ،آپ امیر المومنین کی اولاد میں سے تھے نیز ایک عظیم وبزرگ دانشور تھے کہ جن کی نظر دقیق اور فکر عمیق تھی اس دور میں تمام علوم کے متبحرتھے، در حقیقت اسلام میں دانشکدئہ شعبۂ معقولات کے بانی تھے۔(٢)

اس بنا پر علم و دانش کے چاہنے والے اور معارف محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تشنہ لب افراد جوق در جوقمختلف اسلامی سر زمینوں سے امام کی طرف آتے اور تمام علوم و حکمت کے

____________________

(١)شیخ مفید ، الارشاد ، ترجمہ ، محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی الاسلامیہ ،تہران ١٣٧٦ھ ش ، ص ٥٢٥

(٢) امیر علی ، تاریخ عرب و اسلام،ترجمہ فخر داعی گیلانی ،انتشارات گنجینہ ، تہران ، ١٣٦٦ ھ ،ش، ص ٢١٣


چشمہ سے بہرہ مند ہوتے تھے ، سید الاہل کہتے ہیں :

کوفہ، بصرہ، واسط اور حجاز کے ہر قبیلہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو جعفر بن محمد کی خدمت میں بھیجا عرب کے اکثر بزرگان اور فارسی دوست بالخصوص اہل قم حضر ت کے علم کدے سے شرفیاب ہوئے ہیں ۔(١)

مرحوم محقق، معتبر میں لکھتے ہیں :امام صادق کے زمانے میں اس قدر علوم منتشر ہوئے کہ عقلیں حیران ہیں ، رجا ل کی ایک جماعت میں چار ہزار افراد نے حضرت سے روایتیں نقل کی ہیں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ کافی لوگوں نے مختلف علوم میں مہارت پیدا کی ، یہا ں تک کہ حضر ت کے جوابات اورلوگوں کے سوالات سے چارسو کتابیں معرض وجود میں آگئیں کہ جن کو اصولاربعہ ماة کا نام دیا گیا ۔(٢)

شہید اوّل بھی کتاب ذکریٰ میں فرماتے ہیں : امام صادق علیہ السلام کے جوابات لکھنے والے عراق و حجاز اور خُراسان کے چار ہزار افراد تھے۔(٣)

حضرت کے مکتب کے برجستہ ترین دانشمند جو مختلف علوم منقول و معقول کے ماہر تھے جیسے ہشّام بن حکم ، محمد بن مسلم، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم ، مومن طاق مفضل بن عمر ،جابر بن حیا ن و غیرہ ۔

ان کی تصنیف جو اصول اربع مائةکے نام سے مشہور ہے جو کافی، من لا یحضر ہ الفقیہ،تہذیب،استبصار کی اساس و بنیاد ہے ۔

____________________

(١)حیدر ، اسد،الامام الصادق والمذاہب الاربعة، طبع سوم ، ١٤٠٣ ھ، ق

(٢)المعتبر ،طبع سنگی، ص ٤۔٥

(٣)ذکری،طبع سنگی ، ص ٦


امام صادق کے شاگر د صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ اہل سنّت کے بزرگ دانشوروں نے بھی حضرت کی شاگردی اختیارکی تھی، ابن حجر ہیثمی اہل سنّت کے مصنف اس بارے میں لکھتے ہیں : فقہ وحدیث کے بزرگ ترین پیشوا جیسے یحییٰ بن سعد ، ابن جریح مالک ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، ابو حنیفہ، شعبی وایوب سجستانی وغیرہ نے حضرت سے حدیثیں نقل کی ہیں ۔(١)

ابو حنیفہ حنفی فرقہ کے پیشوا کہتے ہیں : ایک مدت تک جعفر بن محمد کے پاس رفت و آمدکی، میں ان کوہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی حالت میں ضرور دیکھتا تھا یا نماز میں مشغول ہو تے تھے یا روزہ دار ہواکرتے تھے یا تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتے تھے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے بغیر وضو کے حدیث نقل کی ہو ،(٢) علم وعبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے بر تر نہ آنکھوں نے دیکھا اور نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی کے بارے میں دل میں ایسا تصور پیدا ہوا ۔(٣)

آپ کے درس میں صرف وہی لوگ شریک نہیں ہوئے کہ جنہوں نے بعد میں مذاہب فقہی کی بنیا د رکھی بلکہ دور ودراز کے رہنے والے فلاسفرا ور فلسفہ کے طالب علم آپ کے درس میں حاضرہوتے تھے، انہوں نے اپنے امام سے علوم حاصل کرنے کے بعداپنے وطن ایسی درسگاہیں تشکیل دیں کہ جس میں مسلمان ان کے گرد جمع ہوتے تھے

____________________

(١)الصواعق المحرقة ، مکتبة القاہرہ ، ١٣٨٥ھ ،ص ٢٠١

(٢)ابن حجر عسقلانی ، تہذیب ، دار الفکر ، بیروت ، طبع اول ، ١٤٠٤ھ ،ق ،ج ١ ص ٨٨

(٣)حیدر ، اسد ،الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،دار الکتب العربیہ ، بیروت، ج١ ص ٥٣


اور یہ لوگ معارف اہل بیت سے لوگوں کو سیراب کرتے تھے اور تشیع کو فروغ دیتے تھے، جس وقت ابان بن تغلب مسجد بنیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تشریف لاتے تو لوگ اس ستون کو کہ جس سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تکیہ لگا تے تھے ان کے لئے خالی کردیتے تھے اور وہ لوگوں کے لئے حدیث نقل کرتے تھے، امام صادق نے ان سے فرمایا: آپ مسجد نبوی میں بیٹھ کے فتویٰ دیجیے میں دوست رکھتا ہو ں کہ میرے شیعوں کے درمیان آپ جیسے شخص دیکھنے میں آئیں ۔

ابان پہلے شخص ہیں جنہوں نے علوم قرآن کے بارے میں کتاب تالیف کی ہے اور علم حدیث میں بھی انہیں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ آپ مسجد نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تشریف فرما ہوتے اور لوگ آآکر آپ سے طرح طرح کے سوالات کرتے تھے اور مختلف جہت سے ان کے جوابات دیتے تھے مزید احادیث اہل بیت کوبھی ان کے درمیان بیان کرتے تھے ،(١)

ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں : ابان کے مثل افراد جو تشیع سے متہم ہیں اگر ان کی حدیث رد ہو جائے تو کافی آثار نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ختم ہو جائیں گے ۔(٢)

ابو خالد کابلی کا بیان ہے: ابو جعفر مومن طاق کو مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بیٹھے ہوئے دیکھا مدینہ کے لوگوں نے ان کے اطراف میں ہجوم کر رکھا تھا، لوگ ان سے سوال کر رہے تھے، اور وہ جواب دے رہے تھے۔(٣)

____________________

(١)حیدر ، اسد، الامام الصادق و المذاھب الاربعہ، ج١ ص ٥٥

(٢)ذہبی ، شمس الدین محمد بن احمد ،میزان الاعتدال ، دار المعرفة، بیروت ،ج١ ص ٤

(٣)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ، ج ٢ ص ٥٨١


شیعیت اس دور میں اس قدر پھیلی کہ بعض لوگوں نے اپنی اجتماعی حیثیت کے چکر میں اپنی طرف سے حدیث جعل کرنا شروع کردیا اور احادیثِ ائمہ طاہرین کی بیجاتاویل کرنے لگے نیزاپنے نفع میں روایات ائمہ کی تفسیر کر نے لگے ،جیسا کہ امام صادق نے اپنے صحابی فیض ابن مختار سے اختلاف احادیث کے بارے میں فرمایا :وہ ہم سے حدیث اور اظہار محبت میں رضائے خُدا طلب نہیں کرتے بلکہ دنیا کے طالب ہیں اور ہر ایک اپنی ریاست کے چکر میں لگا ہوا ہے۔(١)

شیعہ عبّاسیو ں کے دور میں

شیعیت ١٣٢ ھ یعنی عباسیوں کے آغازسے غیبت صُغریٰ کے آخریعنی ٣٢١ ھ تک امویوں کے دور کی بہ نسبت زیادہ پھیلی، شیعہ دور و دراز کے علاقہ میں منتشر اوربکھرے ہوئے تھے جیسا کہ ہارون کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شکایت کی جاتی تھی کہ دنیا کے مشرق ومغرب سے آپ کے پاس خُمس آتا ہے،(٢) جس وقت امام رضا نیشا پورآئے دو حافظان حدیث جن میں ابو زرعہ رازی اور محمد بن مسلم طوسی اور بے شما رطالبان علم حضرت کے ارد گرد جمع ہو گئے اور امام سے خواہش ظاہرکی کہ اپنے چہرئہ انور کی زیارت کرائیں اس کے بعد مختلف طبقات کے لوگ جو ننگے پائوں کھڑے ہوئے تھے ان کی آنکھیں حضرت کے جمال سے روشن ہوگئیں ، حضرت نے حدیث سلسلة الذہب ارشاد فرمائی بیس ہزار کاتب اور صاحبان قلم نے اس حدیث کو لکھا۔(٣)

____________________

(١)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ، ج ٢ ص٣٤٧

(٢) شیخ مفید ،الارشاد،ترجمہ محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی اسلامیہ ، ١٣٧٦ھ، ص ٥٨١

(٣)شیخ صدوق ، عیون اخبار الرضا ،طبع قم ، ١٣٧٧ ھ ق، ج٢ ص ١٣٥


اسی طرح امام رضا نے ولی عہدی قبول کر نے کے بعد مامون سے کہ جو حضرت سے بہت کچھ توقع رکھتاتھا،اس کے جواب میں فرمایا: اس ولی عہد ی نے میری نعمتو ں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے جب میں مدینہ میں تھا تو میرالکھاہوا شرق وغرب میں اجر ا دہوتا تھا۔(١)

اسی طرح ابن داؤد جو فقہا ئے اہل سنّت میں سے تھا اور شیعوں کا سرسخت مخالف اور دشمن تھا اس کا اعتراف کر نا بھی اہمیت کا حامل ہے اس سے پہلے کہ معتصم عباسی چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں امام جواد کی رائے کو فقہا ئے اہل سنت کے مقابلہ میں قبول کرے ،ابن داؤد تنہائی میں اس کومشورہ دیتا ہے کہ کیوں اس شخص کی بات کو کہ آدھی امت جس کی امامت کی قائل ہے درباریوں ، وزیروں ،کاتبوں اور تمام علما ئے مجلس کے سامنے ترجیح دیتے ہیں ،(٢) یہا ں تک کہ شیعیت حکومت بنی عباس کے فرمانروائوں اور حکومت کے لوگوں کے درمیان بھی پھیل گئی تھی جیسا کہ یحییٰ بن ہر ثمہ نقل کرتا ہے۔

عباسی خلیفہ متوکل نے مجھے امام ہادی کو بلانے کے لئے مدینہ بھیجا جس وقت میں حضرت کو لے کر اسحاق بن ابراہیم طاہری کے پاس بغداد پہنچا جو اس وقت بغداد کا حاکم تھاتو اس نے مجھ سے کہا: اے یحییٰ! یہ شخص رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُدا کا فرزند ہے ،تم متوکل کو بھی پہچانتے ہو اگر تم نے متوکل کو ان کے قتل کے لئے برانگیختہ کیا تو گویا تم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُدا سے دشمنی کی، میں نے کہا: میں نے اس سے نیکی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ،اسکے بعد میں

____________________

( ١) علامہ مجلسی ،بحار الانوار،مکتبة الاسلامیہ ،تہران ، ١٣٥٨ھ ق ،ج٤٩،ص ١٥٥

(٢) علّامہ مجلسی ،بحارر الانوار، ج٠ ٥، ص٦


سامرہ کی طرف روانہ ہو ا جس وقت میں وہاں پہونچا سب سے پہلے وصیف ترکی کے پاس گیا اس نے بھی مجھ سے کہا،(١) اگر اس شخص کے سر کا ایک با ل بھی کم ہو گیا تو تم میرے مقابلہ میں ہو۔(٢)

سیّد محسن امین نے اپنی کتاب کی پہلی جلد میں عباسی حکومت کے چند افراد کو شیعوں میں شمار کیا ہے منجملہ ان میں سے ابو سلمہ خلال ہیں(٣) کہ جو خلافت عباسی کے پہلے وزیر تھے اور وزیر آل محمد کے لقب سے مشہور تھے ، ابو بجیر اسدی بصری منصور کے زمانے میں بزرگ فرمانروائوں میں محسوب ہوتے تھے، محمد بن اشعث ہارون رشیدکے وزیر تھے اور امام کاظم کی گرفتاری کے وقت اسی شخص سے منسوب داستان ہے جو اس کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، علی بن یقطین ہارون کے وزیروں میں سے تھے،اسی طرح یعقوب بن داؤد مہدی عباسی کے وزیر اور طاہر بن حسین خزاعی مامون کے دور میں خراسان کے حاکم اور بغداد کے فاتح تھے ،اسی وجہ سے حسن بن سہل نے ان کو ابی السرایا کی جنگ میں نہیں بھیجا۔(٤)

اسی طرح بنی عباس کے دور میں من جملہشیعہ قاضیوں کی فہرست یوں ہے:

____________________

(١)ترک کے سردار وں میں سے

(٢) مسعودی، مروج الذھب ، منشورات موسسئہ الا علمی للمطبوعات، بیروت ، طبع اول ، ج ٤، ص ١٨٣

(٣) البتہ کچھ صاحبان نظر اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر ابو سلمہ کے شیعہ ہونے کی دلیل وہ خط ہے کہ جو امام صادق کی خدمت لکھا گیا تھاتویہ دلیل نہیں ہے کیو نکہ اس اقدام کو ایک سیاسی اقدام تصور کیاگیا ہے ، رجوع کیا جائے پیشوائی ،مہدی ، سیرئہ پیشوایان ،موسسئہ امام صادق ، طبع چہارم ، ١٣٧٨، ص٣٧٨

(٤)اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج ١ ص ١٩١


شریک بن عبداللہ نخعی کوفہ کے قاضی اورواقدی مشہور مورّخ جو مامون کے دور میں قاضی تھے ،(١) یہاں تک کہ تشیع ان مناطق میں کہ جہاں پر عباسیوں کارسوخ و نفوذ تھااس قدر پھیل گئی تھی کہ ان کو بڑا خطرہ لا حق ہونے لگاتھا جیسا کہ امام کاظم کی تشییع جنازہ کے موقع پر سلیمان بن منصورکہ جوہارون کا، چچا تھااس نے شیعوں کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جوکافی تعداد میں جمع تھے آپ کے جنازہ میں پا برہنہ شرکت کی۔(٢)

اسی طرح جس وقت امام جواد شہید ہوئے وہ چاہتے تھے کہ ان کو مخفی طور پر دفن کردیں لیکن شیعہ باخبر ہو گئے اور بارہ ہزار افراد مسلح ہوکرہاتھوں میں تلوار لئے گھروں سے باہر آگئے اور عزت و احترام کے ساتھ حضرت کے جنازہ کی تشییع کی(٣) امام ہادی کی شہادت کے موقع پر بھی شیعوں کی کثرت کی بنا پر اور بہت کافی گریہ و بکا کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ حضرت کو ان کے گھر میں دفن کردیں ۔(٤)

امام رضاعلیہ السلام کے دور کے بعدعباسی خُلفا نے فیصلہ کیا کہ ائمہ طاہرین کے ساتھ اچھی رفتار سے پیش آئیں تاکہ شیعوں کے غصّہ کا سبب نہ بنیں ، اسی بنا پرمام رضا کو ہارون کے دور میں نسبتاً آزادی حاصل تھی اور آپ نے شیعوں کے لئے علمی ا و رتبلیغی

____________________

(١) اعیان الشیعہ، دار التعارف ، للمطبوعات ،بیروت ،ص١٩٢۔١٩٣ ،( البتہ واقدی کامحققین کے درمیان تشیع کے بارے میں اختلاف ہے )

(٢) امین، سید محسن،اعیان شیعہ ،دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت ،ج ١ ،ص ٢٩

(٣) حیدر، اسد، الامام الصادق والمذاہب ا لا ربعہ ، دار الکتاب عربی، بیروت ،طبع سوم، ج١ ، ص٢٢٦

(٤)ابن واضح، تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ،ج٢ ،ص٤٨٤


فعالیت وسر گرمیاں بھی انجام دیں نیز اپنی امامت کا کھل کر اعلان کیا اور تقیہ سے باہر آئے مزید دوسرے تمام فرق و مذاھب کے اصحاب سے بحث وگفتگو کی، اور ان میں سے بعض کوجواب سے مطمئن کیا جیسا کہ اشعری قمی نقل کرتا ہے: امام کاظم اور امام رضا کے زمانے میں اہل سنّت فرقہ سے مرحبۂ اور زیدیوں کے چند افراد شیعہ ہو گئے اور ان دو اماموں کی امامت کے قائل ہوگئے۔(١)

بعض خُلفائے عباسی کی کوشش یہ تھی کہ ائمہ طاہرین کو اپنی نظارت میں رکھیں تاکہ ان پر کنٹرول کر سکیں ، ان حضرات کو مدینہ سے لاتے وقت اس بات کی کوشش کی کہ ان کو شیعہ نشین علاقہ سے نہ گذارا جائے ،اسی وجہ سے امام رضا کو مامون کے دستور کے مطابق'' بصرہ'' ،''اہواز'' اور'' فارس'' کے راستے سے مرو لے گئے نہ کہ کوفہ،جبل ا ور قم کے راستے سے کیونکہ یہ شیعوں کے علاقے تھے۔(٢)

یعقوبی کے نقل کے مطابق جس وقت امام ہادی علیہ السلام کو متوکل عباسی کے دستور کے مطابق سامرّہ لے جایا گیا توجس وقت آپ بغداد کے نزدیک پہنچے تب اس بات سے باخبر ہوئے کہ کافی تعداد میں لوگ امام کے دیدار کے منتظر ہیں یہ لوگ وہیں ٹھہر گئے اور رات کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور وہاں سے سامرہ گئے ،(٣)

عباسیوں کے دور میں شیعہ حضرات ،دور د ر از اور مختلف مناطق میں پراگندہ

____________________

(١)المقا لات و الفرق، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی ، تہران ، ص٩٤

(٢)پیشوائی ، مھدی ،سیرئہ پیشوایان ، موسسئہ امام صادق ، طبع ھشتم، ١٣٧٨ھ ش ، ص ٤٧٨

(٣)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، ج ٢، ص ٥٠٣


تھے ائمہ طاہرین نے وکالت کے نظام کی داغ بیل ڈالی اور مختلف مناطق اور شہروں میں اپنے نائب اور وکیل معین کئے تاکہ ان کے اور شیعوں کے درمیان رابطہ قائم ہوسکے، یہ مطلب امام صادق کے زمانے سے شروع ہوا اس وقت خلفا کا کنٹرول ائمہ طاہرین پر جتنا شدید ہو تا گیا اتنی ہی شیعو ں کی دسترسی اماموں تک مشکل ہوتی گئی اور اسی اعتبار سے وکالت اور وکیلوں کے نظام کی اہمیت میں اضافہ ہوتاگیا ، کتاب تاریخ عصر غیبت میں آیا ہے کہ مخفی کمیٹیو ں کے پھیلنے اورتقویت پانے کا سب سے اہم ترین سبب وکلا ہیں ،یہ نظام امام صادق کے زمانے سے شروع ہوا اور عسکریین کے دور میں اس میں بہت زیادہ ترقی اور وسعت ہوئی۔(١)

استاد پیشوائی اس بارے میں لکھتے ہیں : شیعہ ائمہ جن بحرانی شرائط سے عباسیوں کے زمانے میں رو برو تھے وہ سبب بناکہ ان کی پیروی کرنے والوں کے درمیان رابطہ برقرار کرنے کے لئے نئے وسائل کی جستجوکی جائے اور ان کی بروئے کار لایا جائے اور یہ وسائل وکالت کے ارتباط اور نمائندوں سے رابطہ نیز وکیلوں کا تعین کرنا مختلف مناطق میں امام کے توسط سے تھا، وکلا اورنمائندوں کے معین کرنے کا مقصد مختلف مناطق سے خمس و زکوٰة،ہدایا اورنذورات کی رقم کا جمع کرنا تھا اور وکلاکے توسط سے لوگوں کی طرف سے ہونے والی فقہی مشکل اور عقیدتی سوالات کا امام کو جواب دینا تھا چنانچہ اس طرح کی کمیٹیاں امام کے مقاصدکوآگے بڑھانے میں کافی مؤثر رہیں ۔(٢)

____________________

(١) پور طبا طبائی ،سید مجید ، تاریخ عصر غیبت ، مرکز جہانی علوم اسلامی ، ص ٨٤

(٢)پیشوائی ، مہدی،تاریخ عصر غیبت ،ص ٥٧٣


وہ مناطق اور علاقے کہ جہاں امام کے وکیل ا و ر نائب ہوا کرتے تھے وہ مندرجہ ذیل ہیں ، کوفہ ، بصر ہ ، بغداد قم،و ا سط، اہواز ،ہمدان ،سیستان ، بست ،ری ، حجاز ، یمن ، مصر ا و رمدائن ۔(١)

شیعہ مذہب چوتھی صدی ہجری میں ،شرق وغرب اور اسلامی دنیا کے تمام مناطق میں اتنی اوج اور بلندی پیدا کر چکا تھا کہ اس کے بعد اور اس سے پہلے ایسی وسعت دیکھنے میں نہیں آئی مقدسی نے شیعہ نشین شہروں کی فہرست اس دور کے اسلامی سر زمین میں جو پیش کی ہے وہ اس مطلب کی طرف نشاندہی کرتی ہے ، ہم اس کی کتاب سے وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس میں اس نے ایک جگہ کہا ہے: یمن ، کرانہ ، مکہ اور صحار میں اکثر قاضی معتزلی اور شیعہ تھے۔(٢)

جزیرة العرب میں بھی کافی شیعیت پھیلی ہوئی تھی،(٣) اہل بصرہ کے ارد گردرہنے والوں کے بارے میں ملتا ہے کہ اکثر اہل بصرہ قدری ،شیعہ ، معتزلی یاپھر حنبلی تھے(٤) کوفہ کے لوگ بھی اس صدی میں کناسہ کے علاوہ سب شیعہ تھے ،(٥)

____________________

(١)رجال نجاشی،دفتر نشر فرہنگ اسلامی ،وابستہ جامع مدر سین ،قم ،١٤٠٤ھ ص ٣٤٤، ٧٩٧، ٨٠٠، ٨٢٥،٨٤٧

(٢) مقدسی ، ابو عبداللہ محمد بن احمد ، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم،ترجمہ منذوی، شرکت مؤلفان ، ومترجمان، ایران، ١٣٦١ ،ج ١ ،ص ١٣٦

(٣)احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ،ص ١٤٤

(٤)گزشتہ حوالہ ،ص١٧٥

(٥)گزشتہ حوالہ ،ص ١٧٤


موصل کے علاقوں میں بھی کچھ شیعہ موجود تھے ،(١) اہل نابلس ، قدس اور عُمان میں بھی شیعوں کی اکثریت تھی ،(٢) قصبہ فسطاط او ر صند فا کے لوگ بھی شیعہ ہی تھے(٣) سندہ کے شہر ملتان میں بھی شیعہ تھے کہ جو اذان واقامت میں ہرفقرے کو دو بار پڑھتے ہیں ۔(٤)

اہواز میں شیعہ اور سنی کے درمیان حالات کشیدہ رہے اورجنگ تک نوبت پہونچ گئی۔(٥)

مقریزی نے بھی حکومت آل بویہ اور مصری فاطمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے رافضی مذہب مغرب کے شہروں میں شام ، دیار بکر ، کوفہ ، بصرہ ، بغداد ، پورے عراق، خراسان کے شہر، ماوراء النہراور اسی طرح حجاز، یمن، بحرین، میں پھیل گیا ، ان کے اور اہل سنت کے درمیان اس قدر جنگیں ہوئیں کہ جن کو شمارنہیں کیا جا سکتا ،(٦) اس صدی میں بغداد میں بھی اکثر شیعہ ہی تھے جب کہ بغدادبنی عباس کی خلافت کا مرکز تھا اور جتنا ہو سکتا تھا روز عاشو را کھل کر آزادانہ طور پر عزاداری کرتے تھے ،جیسا کہ ابن کثیر کا بیان ہے شیعوں کی کثرت اورحکومت آل بویہ کی حمایت کی بنا پر اہل سنت ان کو اس

____________________

(١)گزشتہ حوالہ ، ص ٢٠٠

(٢) گزشتہ حوالہ ، ص ٢٢٠

(٣) گزشتہ حوالہ ، ص٢٨٦

(٤) گزشتہ حوالہ،ج٢ ،ص ٧٠٧

(٥) احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ،ج٢ ،ص ٦٢٣

(٦)مقریزی ،تقی الدین ابن العباس احمد بن علی ، المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الآثار ''المعروف با لخطط المقریزیہ ''دار الکتب العلمیہ ، بیروت ،طبع اوّل ، ١٤١٨،ج ٤ ،ص ١٩١


عزاداری سے نہیں روک سکے،(١) اس زمانے میں شیعوں کے لئے اتنا زیادہ راستہ ہموار ہو گیا تھا کہ اکثر اسلامی سرزمینیں شیعہ حاکموں کے زیر تسلط تھیں ، ایران کے شمال میں ، گیلان اور مازندران میں طبرستان کے علوی حکومت کرتے تھے ،مصر میں فاطمی ، یمن میں زیدی ، شمال عراق او ر سوریہ میں حمدانی اور ایران وعراق میں آل بویہ حکومت کرتے تھے ، البتہ بعض عباسی خلفا جیسے مھدی ، امین ، مامون، معتصم واثق اور منتصر ان کے زمانے میں شیعہ نسبتاً عملی طورسے آزاد تھے، ان خلفا کے زمانے میں پہلے کی بہ نسبت سخت گیری کم ہو گئی تھی ، یعقوبی کے نقل کے مطابق مھدی عباسی نے طالبیان او ر شیعوں کو کہ جو زندان میں تھے آزاد کر دیا تھا ۔(٢)

امین کی پنج سالہ دور حکومت میں بھی عیش ومستی اور اپنے بھائی مامون سے جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے شیعوں پر سختی کم تھی مامون ، معتصم، واثق ، اور معتضدعباسی بھی شیعیت کی طرف مائل تھے ،لیکن متوکل خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعوں کا سخت ترین دشمن تھا اگر چہ اس کے دور میں شیعہ کنٹرول کے قابل نہیں تھے اس کے باو جود بھی و ہ زیارت قبر امام حسین علیہ السلا م سے روکتا تھا ۔(۳)

ابن اثیرکا کہناہے: متوکل اپنے سے پہلے خلفا، جیسے مامون ، معتصم ، واثق جو علی ا و ر خاندان علی سے محبت کا اظہار کرتے تھے ان سے دشمنی رکھتا تھا اور جن کا شمار دشمنان علی میں

____________________

(١)البدایہ والنھایہ، بیروت ، ١٩٦٦، ج ١١، ص٢٤٣

(٢) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ج ٢ ، ص ٤٠٤

(٣)طبری ،محمد بن جریر ،تاریخ طبری، دارالکتب العلمیة ،بیروت،ج٥ ص٣١٢


ہوتاتھا مثلاً شامی شاعر علی بن جہم ، عمر بن فرج ، ابو سمط اور مروان بن ابی حفصہ کی اولادیں کہ جو بنی امیہ کا دم بھرتی تھیں اسی طرح عبداللہ بن محمد بن داؤد ھاشمی کہ جو ناصبی اور دشمن علی تھا اس کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا(١) اس دور میں ناصبی اور بے دین شاعروں میں متوکل سے نزدیکی کی وجہ سے یہ جرأت پیدا ہوگئی تھی کہ خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف اشعار کہنے لگے، لیکن متوکل کے جانشین منتصر نے اس روش کے خلاف کام کیا اور شیعوں کو عملی آزادی دی اور قبر امام حسین کی تعمیر کرائی اور زیارت کی ممانعت کو بر طرف کر دیا ۔(٢)

اس دور کے شاعر بحتری نے اس طرح کہا ہے:

انّ علیاًلاولی بکم

وازکی یداًعند کم من عمر(٣)

عمر کی بہ نسبت حضرت علی علیہ السلام زیادہ مقرب و مقدس ہیں ۔

عبّاسی خلفاء کی شیعہ رہبروں پرکڑی نظر

عباسی حکومت نے ٣٢٩ھ تک کلی طور پر ایرانی وزرا ء اور افسروں نیزترک فوجیوں کی برتری کے دو دور گذارے ہیں ، اگر چہ ترکوں کے دور میں خلافت کی باگ ڈور ضعیف رہی

____________________

(١)الکامل فی التاریخ،دار صادر ، بیروت ، ١٤٠٢ھ ، ج ٧ ، ص٥٦

(٢) مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ، ج ٤ ، ص١٤٧

(٣)مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ، ج ٤ ، ص١٤٧


اورزیادہ تر عباسی خلفاکے افسر اور نمائندے ترک تھے ،اور کلی طور پر حکومت کی سیاست شیعوں کے خلاف تھی عباسیوں کے دور میں تشیّع کے زیادہ پھیلنے کی بنا پر عباسی خُلفا کی سیاست یہ تھی کہ شیعہ قائدین پر سخت نظر رکھی جائے ،اگر چہ شیعوں کے سلسلہ میں خلفاکا رویہ ایک دوسرے سے مختلف تھا بعض ان میں سے جیسے منصور ،ہادی ،رشید ، متوکل ، مستبدحددرجہ سخت گیر اور خون بہانے والے تھے ان میں سے بعض دوسر ے جیسے مہدی عباسی ، مامون واثق اپنے پہلے خلفا کی طرح بہت زیادہ سخت گیر نہیں تھے اور ا ن کے زمانہ میں شیعہ کسی حد تک آرام کی سانس لے رہے تھے،جس وقت منصور عباسی نے محمد نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم کی طرف سے خطرہ کا احساس کیا تو اس نے ان کے باپ ، بھائیوں اور چچاؤں کو گرفتار کیا اور زندان میں ڈال دیا ۔(١)

منصور نے بارہا امام صادق ـ کو دربار میں بلوایا اور حضرت کے قتل کا ارادہ کیا لیکن خُدا کاارادہ کچھ اور ہی تھا ،(٢)

____________________

(١)مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ج ٣ ،ص ٣٢٤

(٢)ابن جوزی نقل کرتا ہے جس وقت منصور مکہ کے ارادے سے مدینہ میں وارد ہو ا ،ربیع حاجب سے کہا ،جعفر بن محمد کو حاضر کرو خُدا مجھ کو مار ڈالے اگر میں ان کو قتل نہ کروں ، ربیع نے حضرت کے حاضر کرنے میں سُستی برتی ،منصور کے فشار کی وجہ سے ربیع نے حضرت کو حاضر کیا ،جس وقت امام حاضر ہوئے اس وقت آپ نے آہستہ آہستہ اپنے لبوں کو حرکت دی،جب منصور کے نزدیک پہنچے اور آپ نے سلام کیا تو منصور نے کہا: اَے خُدا کے دشمن !نابود ہوجا، ہماری مملکت میں خلل واقع کرتا ہے خُدا مجھ کو مارڈالے اگر میں تم کو قتل نہ کروں ،امام صادق نے فرمایا :سُلیمان پیغمبرکوسلطنت ملی انہوں نے خدا کا شکرادا کیا ،ایوب نے مصیبت دیکھی اور صبر کیا ،یوسف مظلوم واقع ہوئے ظالموں کو بخش دیا ،تم ان کے جانشین ہوبہتر ہے کہ ان سے عبرت حاصل کرو ،منصور نے اپنے سر کو نیچے جھکالیا دوسری بار اپنے سر کو اُٹھا کر یہ کہا: آپ ہمارے قرابت داروں اور رشتہ داروں میں سے ہیں اس کے بعد اس نے حضرت کو عزّت دی، معانقہ کیا اور آپ کو اپنے نزدیک بٹھاکر آپ سے بات کرنے میں مشغول ہوگیا ،پھر ربیع سے کہا : جتنی جلدی ہوسکے انعام واکرام اورجعفر بن محمد کے لباس کو لے آئواوران کو رخصت کرو،جس وقت حضرت باہر نکلے ربیع آپ کے پیچھے پیچھے آیااور آپ سے کہا :میں تین دن سے آپ کی طرف سے دفاع اورمدار اکر رہاتھاآپ جب آئے تومیں نے دیکھا کہ آپ کے لب حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے منصور آپ کے خلاف کچھ بھی نہ کرسکا چونکہ میں سُلطان کا کارندہ ہوں اِس دُعا کا محتاج ہوں چاہتاہوں کہ آپ مجھ کو یہ دُعا تعلیم فرمائیں حضرت نے فرمایا : یہ کہہ :

((اَللّهمّ احرِ سنی بِعینِکٔ الّتِی لَا تنام وَ اَکنِفنِی بکنَفِکٔ الّذِی لَا یرامُ اَو یَضامُ وَ اغْفِر لِی بِقْدرَتِکَٔ عَلیَّ وَ لا اَهْلِکٔ وَ اَنْتَ رَجَائیِ اللّهُمَ اِنَّکَٔ اَکْبَرُ وَ اَجَلُّ مِمَّنْ اخَافُ وَ اَحذَرُ اَللّهُمَ بِکَٔ اَدفَعُ فِی نَحْرِ هِ و َ اَ سْتعِیذ ُ بِکَٔ مِنْ شَرِ ه ))

بارالٰہا! تیری آنکھوں کی قسم! کہ جوسوتی نہیں میری حفاظت کر اورتجھے اس قدرت کا واسطہ ! کہ جو ہدف ِ بلا قرارنہیں پاتی مجھے اس چیز سے محفوظ رکھ اور میں ہلاک نہ کیاجائوں کیونکہ توہی میری اُمید کا سر چشمہ ہے ، بارالٰہا! وہ فراوان نعمتیں کہ جوتونے مجھے دی ہیں میں ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکااور تونے مجھ کو ان نعمتوں سے محروم نہیں کیابہت سی وہ بلائیں کہ جس میں تو نے مجھے مبتلا کیا اور میں نے کم صبری کا مظاہرہ کیا اس سے تومجھے نجات دے ،بار الٰہا! تیری قدرت کے دفاع اور پشت پناہی سے ہی اس کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہوں اور اس کے شر سے تجھ سے پناہ چاہتاہوں ۔(تذکرة الخواص ، منشورات المطبعة الحیدریہ ومکتبتھا ، النجف الاشرف ،١٣٨٣ ھ ،ص ٣٤٤ )


خلفائے عباسی کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ شیعہ رہنمائوں کو جو ان کے رقیب ہوا کرتے تھے ان کو راستے سے ہٹادیا جائے یہاں تک کہ منصور نے ابن مہاجر نام کے ایک شخص کو کچھ رقم دیکر مدینہ بھیجا تاکہ وہ عبداللہ ابن حسن اور امام صادق علیہ السّلام اور بعض دوسرے علویوں کے پاس جائے اور ان سے کہے کہ میں خراسان کے شیعوں کی طرف سے آیا ہوں اور اس رقم کو ان کے حوالہ کر کے ان سے دستخط لے لے، امام صادق نے اس کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ تم کو منصور نے بھیجا ہے اور اس سے تاکید کی کہ منصور سے جاکرکہنا :علویوں کو ابھی کچھ عرصہ سے مروانی حکومت سے نجات اور راحت ملی ہے اورانہیں ابھی اس کی ضرورت ہے، ان کے ساتھ حیلہ اور فریب نہ کر۔(١)

اسدحیدر کہتے ہیں : منصورنے اما م صا دق کو ختم کرنے کے لئے مختلف وسیلوں کا سہارا لیا اور شیعوں کی طرف سے ان کو خط لکھوایا اور ان کی طرف سے آپ کی خدمت میں کچھ مال بھیجا لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔(٢)

جس وقت منصور کوامام صادق علیہ السّلام کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے مدینہ کے حاکم محمد بن سلیمان کوخط لکھا کہ اگر جعفر بن محمد نے کسی معین شخص کو اپنا وصی قرار دیا ہے تو اس کو پکڑ لیا جائے اور اس کی گر دن اُڑادی جائے، تو مدینہ کے حاکم نے اس کے جواب میں لکھا : جعفر بن محمد نے ان پانچ افراد کو اپنا وصی قرار دیا ہے ، ابو جعفر منصور ،محمد بن سلیمان عبداللہ ، موسیٰ اور حمیدہ ،اس وقت منصور نے کہا:تب ان کو قتل نہیں کیا جاسکتا ،(٣)

____________________

(١) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ،موسسئہ انتشارات علامہ، قم ، (بی تاج ٤ ص ٢٢٠

(٢)الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،دار الکتاب العربی ، بیروت ، طبع سوم ، ١٤٠٣ھ ج١، ص ٤٦

(٣) طبرسی ، ابو علی فضل بن حسین ، اعلام الوریٰ موسسة احیا ء التراث ، قم ، ١٤١٧ ج ٢ ،ص ١٣


مہدی عباسی اپنے باپ کی طرح شیعو ں اور علویوں کے لئے سخت گیر نہیں تھا ۔

یعقو بی نقل کرتا ہے: مہدی جب خلیفہ ہوا تواس نے دستور دیا جتنے بھی علوی زندان میں ہیں ان کو آزاد کردیا جائے ،(١) اس وجہ سے اس کے زمانے میں کوئی بھی علوی قیام وجود میں نہیں آیا ، ابوالفرج اصفہانی نے فقط دو کا ذکر کیا ہے کہ جو اس کے زمانے میں مارے گئے ایک علی عبّاس حسنی کہ جن کو زہر کے ذریعہ قتل کیا گیا دوسرے عیسیٰ بن زیدکہ جن کی نا معلوم طریقہ سے موت واقع ہوئی وہ منصور کے زمانے سے پوشیدہ طور پر زندگی بسر کررہے تھے۔(٢)

ہادی عباسی کے زمانے میں علویوں اور شیعوں کے بڑے قائدین پر شدید فشار تھا جیسا کہ یعقوبی نے لکھا ہے:ہادی نے شیعوں اور طالبیوں پر بہت سختی کر رکھی تھی اور ان کو بہت زیادہ ڈرا رکھا تھا اور وہ وظائف او رحقوق کہ جو مہدی نے اپنے زمانے میں ان کے لئے مقرر کئے تھے ان کو قطع کر دیا اور شہروں کے حاکم ا و ر فرمانروائوں کو یہ لکھ بھیجا کہ طالبیوں کا تعاقب کریں اور ان کو گرفتار کر لیں ،(٣) اس غلط رویے کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے حسین بن علی کہ جو سادات حسنی سے تعلق رکھتے تھے( شہید فخ ) نے قیام کیااور اس جنگ میں حسین کے علاوہ بہت سے علوی قتل ہوئے۔(٤)

____________________

(١) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ ھ ، ج ٢ ،ص ٣٩٤

(٢) ابو الفرج ،اصفہانی ، مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٦ ھ ،ص ٣٤٢ ۔ ٣٦١

(٣) ابن واضح، تاریخ یعقوبی ،ص٤٠٤

(٤)ابو الفرج ،اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٤١٦ ھ ،ص٣٦٦


یہ جنگ امام کاظم علیہ السلام پرشدید فشارکا باعث بنی ،ہادی عباسی نے حضرت کوڈرایا اور اس طرح سے کہا :خُدا کی قسم حسین (شہید فخ ) نے موسیٰ بن جعفر کے دستور کی بنا پر میر ے مقابل قیام کیا ہے اوروہ اس نے ان کے تابع اور پیروہیں کیوں کہ اس خاندان کا امام او ر پیشوا موسیٰ بن جعفر کے سوا کوئی اورنہیں ہے، خُدا مجھے موت دیدے اگر میں ان کو زندہ چھوڑدوں ،(١) لیکن وہ اپنی موت کا وقت قریب آنے سے اپنے ارادہ کو نافذ نہ کر سکا ۔

دوسر ی صدی ہجری میں منصور کے بعد ہارون رشید علویوں اور شیعہ قائدین کے لئے سخت تر ین خلیفہ تھا ،ہارون علویوں کے ساتھ بے رحمانہ رفتار رکھتا تھا اس نے یحییٰ بن عبداللہ محمد نفس زکیہ کے بھائی کو امان دینے کے بعد بے رحمانہ طریقہ سے زندان میں ڈالا اور قتل کر وا د یا ۔(٢)

اسی طرح ایک داستان عیون اخبار الرضا میں ذکر ہوئی ہے جو ہارون رشید کی بے رحمی کی حکایت کرتی ہے، حمید بن قحطبہ طائی طوسی نقل کرتا ہے : ہارون نے ایک شب مجھ کو بلوایا اور حکم دیا کہ اس تلوار کو پکڑو اور اس خادم کے دستور پر عمل کرو خادم مجھے ایک گھر کے پاس لایا جس کا دروازہ بند تھا ، اس نے دروازہ کو کھولا اس گھر میں تین کمرے اور ایک کنواں تھا اس نے پہلے کمرہ کو کھولا او ر اس میں سے بیس سیّدوں کو باہرنکا لا جن کے بال بلند اور گھنگھریلے تھے ،ان کے درمیان بوڑھے اور جوان دکھائی دے رہے

____________________

(١) علّامہ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار،ج٤٨، ص١٥١

(٢) ابو الفرج اصفہانی ، مقا تل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٦ ھ ، ص ٣٨١ ۔ ٤٠٤


تھے ان سب کو زنجیر وں میں جکڑا گیا تھا ہارون کے نوکر نے مجھ سے کہا: امیر المومنین کا دستور ہے کہ ان سب کو قتل کردو یہ سب اولاد علی ا و راولاد فاطمہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہیں ، میں ایک کے بعد دوسرے کو قتل کرتا گیا اور نو کر ان کے بدن کو سروں کے بل کنویں میں ڈالتا رہا ،اس کے بعد اس نے دوسر ے کمرہ کو کھولا اس کمرہ میں بھی بیس افراد اولاد علی او راولاد فاطمہ میں سے تھے میں نے ان کو بھی پہلے افراد کی طرح ٹھکانے لگادیا،اس کے بعد تیسرے کمرہ کو کھولا اس میں دوسرے بیس افراد اہل سادات تھے میں نے ان کو بھی پہلے والے چالیس افراد کے ساتھ ملحق کردیا ، صرف ایک بوڑھا شخص باقی رہ گیا تھا وہ میری طرف متوجہ ہوا اور اس نے مجھ سے کہا: اے منحوس آدمی! خُدا تجھے نابود کرے روز قیامت ہمارے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُدا کے سامنے کیا عذر پیش کرے گا اس وقت میرے ہاتھ کانپنے لگے تو نوکر نے غضبناک آنکھوں سے مجھے دیکھا اور دھمکی دی تو میں نے بوڑھے آدمی کوبھی قتل کردیا اور نوکر نے اس کا بدن بھی کنویں میں ڈال دیا ۔(١)

آخر کا ر ہارون رشید نے امام کاظم علیہ السلام کو باوجود اس کے کہ وہ ان کے مقام و مرتبہ کاقائل تھا گرفتار کیا اور زندان مین ڈال دیا اور آ خر میں ز ہر دے کر آپ کو شہید کردیا۔(٢)

امام کاظم علیہ السّلام کی شہادت کے بعد ہارون رشید نے اپنے سرداروں میں سے

____________________

(١) صدوق ، عیون اخبار الرضا ، دار العلم ، قم ، طبع ١٣٧٧ ھ ق ، ص ١٠٩

(٢)طبرسی ، ابو علی فضل بن حسین، اعلام الوریٰ ، موسسئہ آل البیت لا حیاء التراث ، قم ، ١٤١٧ ، ھ ج٢، ص ٣٤


ایک جلودی نامی شخص کو مدینہ بھیجا تاکہ آل ابی طالب کے گھروں پر حملہ کرے، اورعورتوں کے لباس لوٹ لے ہر عورت کے لئے صرف ایک لباس چھوڑدے امام رضادروازے پر کھڑے ہوگئے اور آپ نے عورتوں کو حکم دیا کہ تم اپنے اپنے لباس ان کے حوالے کر دو۔(١)

مامون ،عباسی خلفا میں سب سے زیادہ سیاست مدارتھا کہ جس نے شیعہ اماموں اور رہبروں پر پابندی کے لئے ایک نئی روش اختیار تاکہ ائمہ اطہار کو زیر نظر رکھ سکے، مامون کے مہم ترین انگیزوں میں سے ایک انگیزہ امام رضا کی ولی عہدی اسی مقصد کے لئے تھی جیسا کہ مامون نے اِس سیاست کو دوسری بار امام جواد کے لئے بھی انجام دیا اور اپنی بیٹی کی شادی آپ کے ساتھ کردی تاکہ مدینہ میں آپ کی فعالیت وسر گرمی پر نظر رکھ سکے مامون کے بعد والے خُلفانے بھی اس روش کو اختیار کیا اور ہمیشہ ائمہ معصومین علیہم السلام حکومت کے جبر سے مرکز خلافت میں زندگی بسر کرتے رہے یہاں تک کہ دسویں اور گیارہویں امام سامرہ میں زندگی گذارنے کی وجہ سے جو ایک فوجی شہر تھا عسکریین کے نام سے مشہور ہو گئے۔

عباسیوں کے زمانے میں شیعوں کی کثرت کے ا سباب

شیعیت عباسیوں کے دور میں روز بروز بڑھتی گئی اس مسئلہ کے کچھ عوامل واسباب ہیں کہ ان میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں :

(١)ہاشمی اور علوی بنی امیہ کے زمانے میں :

بنی امیہ کے دور میں ہاشمی چاہے علوی ہوں یا عباسی متحد تھے اور ہشام کے زمانے سے عباسیوں کی تبلیغ شروع ہوگئی تھی وہ زید اور ان کے فرزند یحییٰ کے قیام کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے تھے انہوں نے تشیع کی بنیاد پر اپنے کام کا آغاز کر دیا تھا جیساکہ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے :

____________________

(١) امین، سید محسن ،ص٢٩


جس وقت اموی خلیفہ ولید بن یزید قتل ہوااور مروانیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تو بنی ہاشم کے مبلغین مختلف علاقے میں ہجرت کر گئے اور سب سے پہلے جس چیز کا اظہار کیا وہ حضرت علی کی افضلیت اور ان کے فرزندوں کی مظلومیت تھی ۔

منصور عباسی جو حدیث غدیر کے راویوں میں سے ایک تھا(١) جس وقت عباسی سپاہیوں نے علویوں کے مقابلہ میں ان کی سیاست کو دیکھا تواس کو قبول نہیں کیا اوران کا عباسیوں کے ساتھ اختلاف پیدا ہوگیا، ابو سلمہ خلال جو عراق میں عباسیوں کی جانب لوگوں کو دعوت دینے والا تھا۔(٢)

علویوں کی طرف میلان کی وجہ سے عباسیوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا(٣) اگر چہ یہ شخص عقیدہ کے اعتبار سے شیعہ نہیں تھا مگر خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جواس کو لگائو تھا اس سے

انکار نہیں کیا جا سکتا، خاص کرقبیلۂ حمدان سے اور کوفہ کا رہنے والا تھا۔(۴)

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، منشوارات شریف رضی، قم ١٤١٦ھ ص ٢٠٧

(٢) خطیب بغدادی،تاریخ بغداد،دارالکتب العلمیہ بیروت طبع اول ١٤١٧ھ ج١٢،ص ٣٤٠

(٣) ابراہیم کی موت کے بعد ابو سلمہ( خلال کہ جو عراقیوں کو عباسیوں کی جانب سے دعوت دینے والا تھااور بعد میں سفاح کا وزیر بھی بنا) عباسیوں سے منصرف ہو گیا اور سادات علوی میں سے جعفر بن محمد الصادق ، عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی اور عمرالاشرف بن زیدالعابدین کے پاس خط لکھا اور اپنے نامہ بر سے کہا: سب سے پہلے جعفر بن محمد کے پاس جانا اگر وہ قبول کرلیں تو بقیہ دونوں خطوط کے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ قبول نہ کریں تو عبد اللہ محض کے پاس جانا اور اگر وہ بھی قبول نہ کریں تب عمرالاشرف کے پاس جانا ، نامہ بر سب سے پہلے مام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا ، نامہ دیا امام نے فرمایا : ابو سلمہ دوسروں کا محب اور چاہنے والاہے مجھے اس سے کیا کام ، نامہ بر نے کہا: خط تو پڑھ لیجیے امام نے خادم سے چراغ منگوایا اور خط کو جلا دیا ، نامہ بر نے کہا: جواب نہیں دیجیے گا؟ امام نے فرمایا : جواب یہی ہے جو تم نے دیکھا ہے ، ابو سلمہ کا نمایندہ عبد اللہ بن حسن کے پاس گیا اور خط دیا عبد اللہ نے جیسے ہی خط پڑھا خط کو بوسہ دیا فوراً امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یہ ہمارے چاہنے والے شیعہ ابو سلمہ کا خط ہے ، خراسان میں مجھے خلافت کی دعوت دی ہے امام نے فرمایا :خراسان کے لوگ کب سے تمہارے چاہنے والے ہو گئے ہیں کیا ابو مسلم کو تم نے ان کی جانب روانہ کیا ہے ؟کیا تم ان میں سے کسی کو پہچانتے ہو؟ تم نہ انہیں جانتے ہو اور نہ وہ تمہیں جانتے ہیں تو پھر وہ کیسے تمہارے چاہنے والے ہیں ؟ !عبد اللہ نے کہا :آپ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ آپ ان ساری باتوں سے واقف ہیں ، امام نے فرمایا :خدا جانتا ہے میں ہر مسلمان کی بھلائی چاہتا ہوں تمہاری بھلائی کیوں نہ چاہوں ، اے عبد اللہ! ان باطل آرزوئوں کو چھوڑ دو اور اس بات کو جان لو! کہ یہ حکومت بنی عباس کی ہے ایسا ہی خط میرے پاس بھی آچکا ہے، عبد اللہ وہاں سے ناراض ہو کر واپس آگئے عمر بن زیدالعابدین نے بھی ابو سلمہ کے خط کو رد کر دیا اور کہا: میں خط بھیجنے والے کو نہیں جانتا کہ جواب دوں (ابن طقطقا ، الفخری ، صادر بیروت ١٣٦٨ھ ص ١٥٤، اور مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ج ٤ ، ص ٢٨٠

(۴) امین سید محسن ، اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبو عات ، بیروت ، ج١ ،ص ١٩٠


قحطانی قبائل کے درمیان قبیلۂ حمدان تشیع میں سب سے آگے تھا چنانچہ سید محسن امین نے اس کو وزراء شیعہ میں شمار کیا ہے،(١) حتیٰ شروع میں خود عباسیوں نے بھی ذریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت سے انکار نہیں کیا ہے جیسا کہ لکھا ہے :جس وقت بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کا سر ابوالعباس سفاح کے سامنے لایا گیا تو وہ طولانی سجدہ بجالایا اور اس نے سر کو اٹھا کر کہا: حمد اس خدا کی جس نے مجھے تیرے اوپر کامیابی عطا کی، اب مجھے اس بات کاغم نہیں ہے کہ میں مر جائوں کیونکہ میں نے حسین اوران کے بھائی اور دوستوں کے مقابلہ میں بنی امیہ کے دو سوافراد کو قتل کردیا، اپنے چچا کے بیٹے زید بن علی کے بدلے میں ہشام کی ہڈیوں کو جلا دیااور اپنے بھائی ابراہیم کے بدلے میں مروان کو قتل کردیا۔(٢)

جب عباسیوں کی حکومت مضبوط و مستحکم ہوگئی توان کے نیز خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعوں کے درمیان فاصلہ ہوگیا،منصور عباسی کے زمانے سے عباسیوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذریت کے ساتھ بنی امیہ کی روش اختیا ر کی، بلکہ خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دشمنی میں بنی امیہ سے بھی آگے بڑھ گئے۔

____________________

(١)امین سید محسن ، اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبو عات ، بیروت ، ج١ ،ص ١٩٠

(٢)مسعودی علی بن حسین ،مروج الذھب، ص ٣٨٣۔٢٨٤


(٢)بنی امیہ کا خاتمہ اور عباسیوں کا آغاز

اموی دور حکومت کے ختم ہونے اور عباسیوں کی حکومت آنے کے بعداور ان کے درمیان جنگ و جدال کی وجہ سے امام باقر و امام صادق کو فرصت مل گئی انہوں نے تشیع کے مبانی کوپہچنوانے میں غیر معمولی فعالیت وسر گرمی انجام دیں ،خاص طور پر امام صادق نے مختلف شعبوں اور مختلف علوم میں بہت سے شاگردوں کی تر بیت کی ممتاز دانشور جیسے ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ،ابان بن تغلب،ہشام بن سالم مومن طاق ، مفضل بن عمر، جابر بن حیان وغیرہ نے حضرت کے محضر میں تر بیت پائی تھی ،شیخ مفیدکے قول کے مطابق ان کے موثقین (معتمدین )کی تعداد چار ہزار تھی،(١) مختلف اسلامی سر زمین کے لوگ امام کے پاس آتے تھے اور امام سے فیض حاصل کرتے تھے اور اپنے شبہات کو برطرف کرتے تھے ،حضرت کے شاگرد مختلف مناطق اور شہروں میں پھیلے ہوئے تھے، فطری بات ہے کہ یہ لوگ مختلف مناطق میں تشیع کے پھیلانے کا سبب بنے ۔

(٣)علویوں کی ہجرت

عباسیوں کے دور میں تشیع کے پھیلنے کے سلسلہ میں ،سادات اور علویوں کا مختلف مقامات پر ہجرت کرجانا بھی ایک اہم سبب بنا ،ان میں اکثر تشیع نظریات کے حامل تھے اگر چہ ان میں سے کچھ زیدی مسلک کی طرف چلے گئے تھے یہاں تک کہ بعض منابع کے نقل کے مطابق سادات کے درمیان ناصبی بھی موجود تھے۔(٢)

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سادات میں اکثر شیعہ تھے اورشیعہ مخالف

____________________

(١)شیخ مفید ،الارشاد ،ترجمہ محمد ساعدی خراسانی، کتاب فروشی اسلامیہ ،١٣٦٧ھ ش ،ص ٥٢٥

(٢)ابن عنبہ، عمدة الطالب، مطبعةالحیدریہ نجف١٩٦١ص٧١،٢٢٠۔٢٥٣


حکومت کے ذریعہ ان پرجو مصیبتیں پڑیں ان کی وجہ بھی واضح ہے،اکثراسلامی سرزمینوں میں سادات تھے، ماوراء النہر اور ہندوستان سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے اگر چہ یہ ہجرت حجاج کے زمانے سے شروع ہوگئی تھی عباسیوں کے زما نے میں علویوں کی طرف سے جو قیام ہواان میں سے زیادہ تر میں شکست ہوئی اور بہت نقصان ہوا ، شمال ایران، گیلان ،مازندران نیز خراسان کے پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ علویوں کے لئے امن کی جگہ شمار ہوتے تھے ،سب سے پہلی بار ہارون رشید کے زمانے میں یحییٰ بن عبد اللہ حسنی مازندران کی طرف گئے کہ جو اس زمانے میں طبرستان کے نام سے مشہور تھا ،جب انہوں نے قدرت حاصل کرلی اور ان کے کام میں کافی ترقی پیدا ہوگئی توہارون نے اپنے وزیر فضل بن یحییٰ کے ذریعہ امان نامہ لکھ کر صلح کے لئے وادار کیا۔(١)

اس کے بعدوہاں کافی تعداد میں علوی آباد ہوگئے اور روز بروز شیعیت کو فروغ ملتا گیا اور وہاں کے لوگوں نے پہلی بار علویوں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اورتیسری صدی ہجری کے دوسرے حصہ میں علویوں کی حکومت طبرستان میں حسن بن زید علوی کے ذریعہ تشکیل پائی اس زمانے میں سادات کے لئے یہ جگہ مناسب سمجھی جاتی تھی، جیسا کہ ابن اسفند یار کا بیان ہے کہ اس موقع پر درخت کے پتوں کے مانند علوی سادات اور بنی ہاشم حجازنیز اطراف عراق وشام سے ان کی خدمت میں جمع ہوگئے سبھی کو عزت و شرف سے

____________________

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم ، پہلی اور دوسری طبع،١٤١٦، ١٣٧٤، ص٣٨٩،٣٩٥


بہت بہت نوازااور ایساہوگیا تھاکہ جب وہ کہیں جاناچاہتا تھا تین سو شمشیر بکف علوی اس کے ارد گرد صف بستہ ہوتے تھے۔(١)

جس وقت امام رضا مامون کے ذریعہ ولایت عہدی کے منصب پر پہنچے، حضرت کے بھائی اور ان کے قریبی افرادایران کی طرف روانہ ہوئے جیسا کہ مرعشی نے لکھا ہے: سادات نے ولایت کی آواز اور اس عہد نامہ پر کہ جو مامون کی طرف سے آنحضرت کی امامت کا پروانہ تھا اس طرف رخ کیاآنحضرت کے اکیس دوسرے بھائی تھے یہ تمام بھائی اور چچا زاد بھائی حسنی اور حسینی سادات میں سے تھے جہوں نے ری اور عراق میں حکومت کی ، جب سادات نے یہ سنا کہ مامون نے حضرت امام رضا سے غداری کی ہے تو انہو ں نے کوہستان دیلمستان اور طبرستان میں جاکر پناہ لی اور بعض لوگ وہیں شہید ہوگئے ، ان کی قبریں اور مزار مشہور ہیں ،جیسیاہل اصفہان مازندران کہ جنہوں نے شروع میں اسلام قبول کیا تھا وہ سب کے سب شیعہ تھے اور اولاد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حُسن عقیدت رکھتے تھے اور سادات کے لئے وہاں قیام کرنا آسان تھا۔(٢)

شہید فخ کے قیا م کی شکست کے بعد ہادی عباسی کے دور خلافت میں حسین بن علی حسنی، ادریس بن عبد اللہ محمد نفس زکیہ کا بھائی افریقہ گئے تو وہاں پرلوگ ان کے اطراف ہیں جمع ہوگئے اورانہوں نے حکومت ادریسیان کی مغرب میں بنیاد ڈالی، چند روز نہیں گذرے تھے کہ خلافت کے کارندوں کے ذریعہ انہیں زہر دے دیا ہوگیا، لیکن

____________________

(١)تاریخ طبرستان و رویان ، ص ٢٩٠

(٢)مرعشی ،تاریخ طبرستان و رویان و مازندران ،نشتر گسترہ ،تھران ١٣٦٣،٢٧٧ و٢٧٨


ان کے بیٹوں نے وہاں پرتقریباً ایک صدی حکومت کی،(١) اس طرح سادات نے اس طرف کا رخ کیا اسی وجہ سے متوکل عباسی نے ایک نامہ مصر کے حاکم کو لکھا کہ سادات علوی میں مردوں کوتیس دینار اور عورتوں کو پندرہ دینارکے بدلے نکال باہر کرے لہذایہ لوگ عراق منتقل ہوگئے اور وہاں سے مدینہ بھیج دئے گئے۔(٢)

منتصر نے بھی مصر کے حاکم کو لکھا کہ کوئی بھی علوی صاحب ملکیت نہ ہونے پائے اور گھوڑے پر سوار نہ ہونیز پائے تخت سے کسی دوسرے علاقہ میں کوچ نہ کرنے پائے اور ایک غلام سے زیادہ رکھنے کا انہیں حق حاصل نہ ہو۔(٣)

علویوں نے تیزی سے لوگوں کے درمیان خاص مقام پیدا کر لیا اس حد تک کہ حکومت سے مقابلہ کر سکیں جیسا کہ مسعودی نقل کرتا ہے:

٢٧٠ھ کے آس پاس طالبیوں میں سے ایک شخص بنام احمد بن عبد اللہ نے مصر کے منطقہ صعید میں قیام کیا لیکن آخر میں احمد بن طولان کے ہاتھوں شکست کھائی اور قتل ہوگیا۔(٤)

____________________

(١) ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم پہلی اور دوسری طبع ١٤١٦، ١٣٧٤، ص٤٠٦،٤٠٩

(٢)ادام تمدن اسلامی در قرن چہارم ہجری،ترجمہ علی رضا ذکاوتی،قرا گزلو،موسسہ انتشارات امیر کبیر،تہران ١٣٦٤ھ،صفحہ٨٣،الولاة والقضاة کندی کے نقل کے مطابق،ص ١٩٨

(٣)الولاة والقضاةکندی،ص ٢٠٣،٢٠٤

(٤)مسعود ی ،علی بن حسین مروج الذہب موسسة الاعلمی للمطبوعات ،بیرو ت ،طبع اول ١٤١١ہجری ج٤، ص ٣٢٦


یہی وجہ ہے کہ عباسی دور خلافت میں ان کے اہم ترین رقیب اور دشمن علوی شمار ہوتے تھے ٢٨٤ھ میں معتضد خلیفئہ عباسی نے ارادہ کیا کہ یہ دستورصادر کرے کہ منبر پر معاویہ کو نفرین(لعنت )کی جائے اور اس بارے میں اس نے حکم لکھا لیکن اس کے وزیر نے ہنگامہ ہونے سے ڈرایا،معتضد نے کہا: میں ان کے درمیان شمشیر سے کام لوں گاوزیر نے جواب دیا: اس وقت ان طالبیان کے ساتھ کیا کرے گا جو ہر طرف سے نکل رہے ہیں اور خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوستی کی بنا پرلوگ ان کے حامی ہیں ،یہ تیرا فرمان ان کے لئے لائق ستائش اور قابل قبول ہوگا اور جیسے ہی لوگ سنیں گے ان کے طرفداراور حامی ہو جائیں گے۔(١)

علوی جس منطقہ میں بھی رہتے تھے مورد احترام تھے اسی وجہ سے لوگ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی قبروں پر مزار اور روضے تعمیر کرتے تھے اور ان کی زندگی میں ان کے اطراف جمع ہوتے تھے جس وقت محمد بن قاسم علوی معتصم کے دور میں خراسان تشریف لے گئے مختصر سی مدت میں چالیس ہزار افراد اس کے اطراف جمع ہوگئے اور ان کوایک مضبوط قلعہ میں جگہ دی۔(٢)

چونکہ ایک طرف علوی پاک دامن اور پرہیز گار افراد تھے جب کہ اموی اور عباسی حاکموں کا فسق و فجور لوگوں پر روشن تھا دوسری طرف ان کی مظلومیت نے لوگوں کے

____________________

(١)طبری ،ابی جعفر، محمد بن جریر،تاریخ طبری دارلکتب علمیہ بیروت طبع دوم،١٤٠٨ہجری ج، ص٦٢٠۔٦٢٥

(٢)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذھب، ص٦٠


دلوں میں جگہ بنالی تھی جیساکہ مسعودی نے نقل کیا ہے :جس سال یحییٰ بن زید شہید ہوئے اس سال خراسان میں جو بھی بچہ پیدا ہوا اس کا نام یحییٰ یا زید رکھاگیا۔(١)

سادات کی ہجرت کے اسباب

سادات کے مختلف اسلامی علاقے میں ہجرت کرنے اور پھیلنے کے تین اسباب بیان کئے جاسکتے ہیں :

جنگوں میں علویوں کی شکست ،حکومتی دبائو،ہجرت کے لئے مناسب موقع کا فراہم ہونا۔

(١)علویوں کے قیام کی شکست

جنگوں میں شکست کھانے کی وجہ سے ان کے لئے عراق اور حجاز میں زندگی بسر کرنا مشکل ہوگیا تھا جو اس وقت مرکز خلافت بغداد کے کنٹرول میں تھا لہٰذا وہ مجبور ہوئے کہ دور دراز کے علافوں میں ہجرت کرجائیں اور اپنی جان بچائیں جیسا کہ محمد نفس زکیہ کے بھائیوں کے منتشر کے بارے میں مسعودی کا کہنا ہے: محمد نفس زکیہ کے بھائی اور بیٹے مختلف شہروں میں منتشرگئے اور لوگوں کو ان کی رہبری کی طرف دعوت دی ان کا بیٹا علی بن محمد مصر گیا اور وہاں قتل کردیاگیا ان کا دوسرا بیٹا عبداللہ خراسان گیا اور وہاں سے سندھ کی طرف کوچ کیا اور سندھ میں اسے قتل کردیاگیا،ان کا تیسرا بیٹا حسن یمن پہونچا

____________________

(١)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذھب، ج٣،ص٢٣٦


زندان میں ڈال دیا گیا اوروہیں دنیا سے چل بسا ، ان کے ایک بھائی موسیٰ جزیرہ گئے او ر ایک بھائی یحییٰ ری اور وہاں سے طبرستان تشریف لے گئے نیز ایک دوسرے بھائی ادریس مغرب کی طرف روانہ ہوئے تولوگ ان کے اطراف جمع ہونا شروع ہو گئے۔(١)

(٢)حکومتی دبائو

حجاز و عراق کے علاقہ جو مر کز حکومت سے نزدیک تھے جس کی وجہ سے یہاں کے علوی افراد ہمیشہ حکومت کے فشار میں تھے مسعودی کے بقول محمد بن قاسم کا کوفہ سے خراسان کی جانب کوچ کرنامعتصم عباسی کے دبائو کی وجہ سے تھا ۔(٢)

(٣)مناسب موقع کا فراہم ہونا

علویوں کی ہجرت کے اسباب میں سے ایک سبب قم اور طبرستان کے علاقے میں ان کے لئے اجتماعی لحاظ سے بہترین موقعیت کا پایا جانا ہے۔

____________________

(١)مسعودی،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ج٣،ص٣٢٦

(٢)مسعودی،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ج٤،ص٦٠


چوتھی فصل

شیعوں اور علویوں کا قیام

بنی امیہ کے زمانے میں شیعوں اور علویوں کا قیام

شیعوں کاقیام او ر ان کا مسلحانہ بر تائوکربلا اور قیام عاشورہ سے شروع ہوتا ہے لیکن ہم فی الحال کربلا کی بحث کو دوسری جگہ کے لئے چھوڑتے ہیں ٦٠ھ امام حسین کی شہادت کے بعد دو شیعہ قیام، قیام توابین اور قیام مختار،وجود میں آیا، ان دونوں قیاموں کے رہنما علوی نہیں تھے بلکہ پاک دامن شیعہ تھے ( ہم اس بارے میں اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں )ان دونوں قیام کی ماہیت جیسا کہ ان کے نعروں سے خود معلوم ہے مکمل طور پرشیعی تھا ،توابین کے رہبروں کے بارے میں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ وہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعیان علی میں سے تھے۔(١)

جناب مختار کے بارے میں بھی علمائے رجال اور بزرگوں کے نظریہ کوتفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے سب ان کی حسن نیت کے قائل ہیں اور ان کے خلاف جو روایات ذکر ہوئی ہیں انہیں جعلی تصورکیا گیاہے۔

____________________

(١)دکتر سید حسین جعفری ،تشیع در مسیر تاریخ،ترجمہ،دکتر سید محمد تقی آیت اللہی:ص٢٦٨۔٢٧٣


تشیع کے فروغ کے حوالے سے انقلابات کے موثر ہونے کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ قیام توابین کا زمانہ بہت کم تھاجس کی وجہ سے تشیع کو ترویج کی فرصت نہیں ملی اگر چہ کیفیت کے لحاظ سے تشیع کے مقاصدبہت زیادہ اہمیت کے حامل تھے اس قیام کی وجہ سے محبت اہل بیت دلوں میں راسخ ہوگئی اور شیعہ اپنے عقیدہ میں شدید اورمستحکم تر ہوگئے لیکن اس بات کی بہ نسبت قیام مختار شیعیت کی توسیع میں زیادہ مؤثر ثابت ہوا اور مختار نے موالیان اور غیر عرب کو بھی شیعوں کی صف میں داخل کردیا حالانکہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔(١)

اس زمانے میں شرق اسلام میں تشیع کی نبیاد پڑی کہ جس کا عروج ہمیں عباسیوں اور سپاہ جامگان کی تحریکوں میں نظر آتا ہے ،بنی امیہ کے آخری دور میں علویوں کی جانب سے جو قیام عمل میں آیا اس کا عباسیوں کے قیام کے ساتھ ایک طرح کارابطہ تھا اس لئے کہ علوی خواہ بنی ہاشم ہو ں یا عباسی ،بنی امیہ کے دور میں متحد تھے اور ان کے درمیان اختلاف نہیں تھا، یہاں تک کہ سفاح اور منصور ان دونوں خلیفہ نے محمد نفس زکیہ سے پہلے امام حسن کی اولاد کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی لیکن عباسیوں کی کامیابی کے بعد یہی محمد اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ منصور عباسی کے ہاتھوں قتل کردیئے گئے، دوسری صدی ہجری میں علویوں کی جانب سے جو قیام وجود میں آئے وہ زیاد ہ تر زیدی نظریات و عقائد پر استوار تھے ،اگر چہ عباسیوں نے زید کے قیام سے زیادہ فائدہ اٹھایا ، جیسا کہ مؤرخ معاصر امیر علی اس بارے میں بیان کرتاہے۔

____________________

(١)جعفریان،رسول ،تشیع در ایران از آغاز تا قرن ہفتم ہجری،شرکت چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی ، طبع پنجم،١٣٧٧ہجری ،ص٧٦


''زید کی موت نے عباسی مبلغین کو تقویت بخشی اور وہ تبلیغیں جو اولاد عباس کی خلافت کے سلسلے میں جاری تھی اس کی تائید کی کیونکہ اس نے احتمالی خطروں کو بھی راستے سے دور کردیا اس ماجرا کو ابو مسلم کے حالات کے ذیل میں بیان کیاگیا ہے جو بنی امیہ کی حکومت کو اکھاڑ نے کے لئے بنائی گئی تھی ''۔(١)

(الف) قیام زید

امام سجاد کے فرزند ارجمند اور امام باقر کے بھائی زید نے اموی خلیفہ ہشام او ر اس کے ظلم کے مقابلے میں قیام کیا، زید عراق کے حاکم یوسف بن عمرو کی شکایت کرنے ہشام کے پاس دمشق گئے تھے، ہشام کے یہاں ان کی توہین کی گئی اور شام سے کوفہ واپس آنے کے بعدبہت سے شیعہ ان کے ارد گرد اکٹھا ہوگئے اور بنی امیہ کے مقابلہ میں قیام کرنے کی انہیں تر غیب کی لیکن جنگ میں تیر کھانے کی وجہ سے ان کا قیام شکست کھاگیا اور خود شہیدہوگئے۔(٢)

زید کی شخصیت اور قیام کے بارے میں متعدد روایتیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے بعض روایتیں ان کی سر زنش پر دلالت کرتی ہیں ، لیکن شیعہ علماء اور صاحبان فکر ونظر کا عقیدہ

____________________

(١)تاریخ عرب اسلام ، امیر علی ،ترجمہ : فخر داعی گیلانی، انتشارات گنجینہ ، تہران ، طبع سوم ، ١٣٦٦ھ ص ١٦٢۔١٦٣

(٢)مسعودی ،علی بن حسین،مروج الذہب،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات،بیروت،١٤١١ھ ج٣، ص٢٢٨۔٢٣٠


یہ ہے کہ زیدایک مردوارستہ اور قابل ستائش فردتھے اور ان کے منحرف ہونے کا ثبوت ہماری دسترس میں نہیں ہے شیخ مفید کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ بعض مذہب شیعہ ان کو امام جانتے ہیں اور اس کی علت یہ ہے کہ زید نے خروج کیااور لوگوں کو رضائے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف دعوت دی، لوگوں نے اس سے یہ مطلب نکالا کہ یہ اپنے بار ے میں کہہ ر ہے ہیں حالانکہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بھائی محمد باقر امام برحق ہیں اور خودانہوں نے اپنے بیٹے امام صاد ق کی امامت کی تاکید کی ہے۔(١)

علامہ مجلسی بھی زید سے مربوط روایتیں نقل کرتے ہیں کہ زید کے بارے میں گوناگوں ا وراختلافی روایتیں موجودہیں لیکن وہ روایات جوان کی عظمت و جلالت کی حکایت کرتی ہیں اور یہ کہ ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا،وہ بہت زیادہ ہیں اکثر علمائے شیعہ نے زید کی بلندعظمت اور شخصیت کے بارے میں اپنے آرا و نظریات کا اظہار کیا ہے، اس بنا پر مناسب یہ ہے کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے اور ان کی مذمت نہ کی جائے۔(٢)

آیةاللہ خوئی زید کے بارے میں فرماتے ہیں :روایات زید کی مدح ان کی قدر و منزلت کے بارے میں نیز یہ کہ انہوں نے امر بالمعروف و نہی از منکر کے لئے قیام کیا ہے مستفیض ہیں اور ان کی مذمت میں تمام روایات ضعیف ہیں ۔(٣)

____________________

(١)شیخ مفید محمد بن نعمان، ارشاد ،ترجمہ محمد باقرمساعدی خراسانی،کتاب فروشی اسلامیہ ص٥٢٠

(٢)علامہ مجلسی ، محمد باقر ،بحار الانوار،ج٤٦،ص٢٥٠

(٣) خوئی ،سید ابو القاسم ،معجم رجال حدیث،طبع بیروت ،ج ١٨ص؛١٠٢۔١٠٣


کافی شواہد و ادلہ گواہی دیتے ہیں کہ زید کا قیام امام صادق کی خفیہ اجازت و موافقت سے تھا، ان شواہد میں سے امام رضاکامامون کے جواب میں یہ فرمانا کہ میرے والدامام موسی بن جعفر علیہما السلام نے نقل کیا کہ انہوں نے جعفر بن محمد سے سناتھا کہ زید نے اپنے قیام سے متعلق مجھ سے مشورہ لیا تھاتو میں نے ان سے کہا : اے عمو جان ! اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو کناسہ میں پھانسی دی جائے تو آپ کا راستہ صحیح ہے۔(١)

جس وقت زید امام کے حضور سے باہر چلے گئے تو امام نے فرمایا: افسوس ہے اس پرجو زید کی آواز کو سنے اور اس کی مدد کو نہ جائے۔(٢)

زید حقیقی شیعہ اور امام صادق کی امامت کے معتقد تھے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ہر زمانہ میں ہم اہل بیت میں سے ایک شخص لوگوں پر خدا کی حجت ہے اور ہمارے زمانے میں یہ حجت میرے بھائی کے فرزند جعفر بن محمد ہیں جو شخص بھی ان کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہیں ہوگا اور جو بھی ان کی مخالفت کرے گا وہ ہدایت نہیں پائے گا۔(٣)

زید خود کو امام نہیں سمجھتے تھے اور لوگوں سے بھی منع کرتے تھے اس بارے میں امام صادق فرماتے ہیں خدا میرے چچا زید پر رحمت نازل کرے وہ جب بھی

____________________

(١)کوفہ کے محلہ میں سے ایک محلہ ہے ،حموی ،یاقوت بن عبد اللہ ، معجم البلدان ،دار احیاء التراث العربی،بیروت ،طبع اول ،١٤١٧ہجری،ج٤،ص١٥٣

(٢)صدوق عیون اخبار رضا ،موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٤٠٤ہجری ،ج١ ص٢٢٥، باب:٢٥،حدیث:١

(٣)شیخ صدوق ،الامالی،المطبعہ،قم ،١٣٧٣ہجری قمری ،ص٣٢٥


کامیاب ہوتے اپنے وعدے کو وفا کرتے زید نے جن آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف دعوت دی ہے وہ میں ہوں ۔(١)

امام صادق نے زید کی شہادت کے بعد ان کے خاندان کی سر پرستی فرمائی(٢) جس خاندان کے افراد زید کے ساتھ شہید ہوگئے تھے ان کی نصرت و مدد کی اورایک دفعہ تو ایک ہزار دینار ان کے درمیان تقسیم کیا۔(٣)

اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ زید کا قیام توابین و مختار کے قیام کی طرح پوری طرح شیعی او ردرست موقعیت پر استوار تھا نیز ظلم کے مقابلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے تھا ان کی روش فرقہ زیدیہ سے بالکل جداتھی۔

(ب)قیام یحییٰ بن زید

زید کی شہادت کے بعد ١٢١ھ میں ان کے فرزند یحییٰ نے اپنے والد کی تحریک کو آگے بڑھایا اور مدائن کے راستے سے خراسان آئے اور شہر بلخ میں ایک مدت تک ناآشنا طریقہ سے زندگی بسر کی، یہاں تک کہ نصر بن سیار نے ان کو گرفتار کرلیا اور ایک عرصہ تک زندان میں رہے یہاں تک کہ اموی خلیفہ ہشام کے مرنے کے بعد جیل سے فرار

____________________

(١)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال (رجال کشی)تحقیق سید مہدی رجائی ،موسسہ آل البیت الاحیاء التراث،قم ،ہجری،ج ص٢،پیشوائی،مہدی:سیرئہ پیشوایان ،موسسہ امام صادق،قم ،طبع ہشتم ١٣٧٨ھ ، شمسی،ص٤٠٧۔٤٠٩

(٢)اصفہانی ابو الفرج ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم،١٤١٦ہجری ص ٣٣١

(٣)شیخ مفید ،الامالی،المطبعہ،قم ،١٣٧٣ہجری قمری ،ص٣٤٥


ہوگئے، خراسان کے شیعہ کافی تعداد میں ان کے اطراف میں جمع ہوگئے وہ نیشاپور آئے اور وہاں کے حاکم عمر بن زرارہ قسری کے ساتھ جنگ کی اوراس کو شکست دی لیکن آخر کار ١٢٥ ھ میں جوزجان میں بنی امیہ کی افواج سے جنگ کرتے ہوئے آپ کی پیشانی پر تیر لگا اور میدان جنگ میں قتل ہوگئے اور ان کی فوج منتشر ہوگئی۔(١)

قیام زید کے بر خلاف ان کے بیٹے یحییٰ کا قیام کاپوری طرح زیدیہ فرقہ کے مطابق اور اس سے ہماہنگ تھا یہ مطلب متوکل بن ہارون کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہے کہ جو امام صادق کے اصحاب میں سے تھے وہ ایک طرح سے اپنے باپ کی امامت کے قائل تھے اور خود کو اپنے باپ کا جانشین سمجھتے تھے، امامت کے تمام شرائط کے ساتھ وہ تلوار سے جنگ کرنے کو بھی امامت کے شرائط میں سے جانتے تھے۔(٢)

یہاں سے فرقہ زیدیہ کی بنیاد پڑتی ہے ان کا راستہ اور شیعہ اثنا عشری سے بالکل جدا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ فقہی مسائل میں بھی ائمہ معصومین کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے ۔

____________________

(١)ابن واضح، تاریخ یعقوبی،منشورات شریف رضی،قم ،١٤١٤ہجری ،ج٢،ص٣٢٦،٣٢٧،٣٣٢

(٢)متوکل بن ہارون کہتے ہیں : یح بن زید اپنے باپ کی شہادت کے بعد جب خراسان جا رہے تھے تو میں نے ان سے ملاقات کی ،میں نے سلام کیا انہوں نے پوچھا تم کہاں سے آرہے ہو؟ میں نے کہا: حج سے، پھرانہوں نے مدینہ میں اپنے عزیز و اقارب کے بارے میں پوچھا نیزجعفر بن محمد کے بارے میں بہت سے سوالات کئے، میں نے حضرت کے بارے میں زید کی شہادت کے بعد جوصدمہ و غم تھا اسے بتایا، یح نے کہا: میرے چچا محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے بنی امیہ کے خلاف جنگ کرنے سے میرے والد کو منع کیا تھا اور انجام سے با خبر کیا تھا ، کیا تم نے میرے بھائی جعفر بن محمد سے بھی ملاقات کی، میں نے کہا: ہاں ، پوچھا میرے بارے میں بھی انہوں نے کچھ کہا ہے ؟میں نے کہا : انہوں نے جو کچھ کہا ہے اسے میں آپ کے سامنے بیان نہیں کر سکتا ، کہنے لگے ،مجھے موت سے نہ ڈرائو جو کچھ سنا ہے اسے بیان کرو، میں نے بتا یا کہ حضرت نے فرمایاتھا

کہ آپ کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیاجائے گاجس طرح آپ کے والد کو شہید کر کے سولی پر لٹکا دیا گیا تھا، یحکا رنگ متغیر ہو گیا کہا : (یمحواللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب)اے متوکل! خدا نے اپنے دین کی تائید ہمارے ذریعہ کرائی ہے ، علم و تلوار کا دھنی ہمیں بنایا ہے اور یہ دونوں چیزیں مجھ میں موجود ہیں لیکن ہمارے چچازادبھائیوں کو صرف علم دیا ہے ، میں نے کہا :میں آپ پر قربان جائوں لیکن لوگ تو آپ سے زیادہ جعفر بن محمد کی طرف راغب ہیں کہنے لگے: میرے چچا محمد بن علی اور جعفر بن محمد لوگوں کو زندگی کی دعوت دیتے ہیں اور ہم لوگوں کوموت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، میں نے کہا :فرزند رسول! آپ زیادہ جانتے ہیں یا وہ لوگ ، تھوڑی دیر سر جھکا کر سوچتے رہے پھر کہا : ہم سب علم و دانش رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں اسے وہ جانتے ہیں مگر وہ جو جانتے ہیں ہم اسے نہیں جانتے ، پھر سوال کیا گیا : میرے بھائی کی کوئی چیز تمہارے پاس محفوظ ہے ؟ میں نے کہا : ہاں میں نے حضرت کی کچھ حدیث اور صحیفہ سجادیہ کی کچھ دعائیں دکھائیں ( صحیفہ کاملہ سجادیہ ، ترجمہ علی نقی فیض الاسلام ،انتشارات فیض الاسلام ، ص ٩۔ ١٢


عباسیوں کے زمانے میں شیعوں او رعلویوں کا قیام

چوتھی صدی ہجری کے اوائل تک عباسیوں کے دوران حکومت قیام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

١)منظم اور پلاننگ کے ساتھ قیام جیسے زیدیوں کا قیام

٢)پراگندہ اور نا منظم قیام

(١)زیدیوں کا قیام

زیدیوں نے پہلی تین صدیوں میں شیعوں کی بہت زیادہ آبادیوں کو تشکیل دیا اور خلافت وامامت کو فرزندان فاطمہ کا حق جانتے تھے اور عباسیوں کو غاصب جانتے تھے انہوں نے بعض مناطق جیسے طبرستان،مغرب ویمن میں حکومت تشکیل دینے کے لئے پہلے ہی سے پلان بنا رکھا تھا، فرقہ ٔزیدیہ محمد نفس زکیہ اور ابراہیم کو زیدیوں کا امام شمار کرتے ہیں کیونکہ یحییٰ بن زید نے ان کو اپنا جانشین قرار دیا تھا یہیں سے زیدیوں اور اولاد زید کا امام حسن کے پوتوں کے ساتھ یا دوسری اصطلاح میں بنی حسن کے ساتھ گہرارابطہ وجود میں آیا ، ابراہیم بن عبداللہ جو اپنے بھائی محمد نفس زکیہ کے جانشین تھے کہ جنہوں نے بصرہ میں عباسیوں کے مقابلے میں پرچم انقلاب بلند کیا اورزید کے دوسرے فرزندعیسیٰ کو اپنا جانشین قرار دیا ،عیسیٰ ابراہیم کے قتل کے بعدفرار ہو گئے اور مہدی عباسی کے دور خلافت میں بطور مخفی دنیا سے رخصت ہوگئے۔(١)

زیدیوں نے محمد نفس زکیہ اور ابراہیم کے قتل کے بعدکسی ایک کی رہبری پر اتفاق نہیں کیا اور اولاد فاطمہ میں سے ایسے امام کو تلاش کرتے رہے جو جنگ کے لئے شجاعت رکھتا ہو اور ان کی رہبری کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے ،لیکن ٣٠١ھ تک کسی ایک امام پربھی اتفاق نہ کر سکے یہاں تک کہ حسن بن علی حسنی کہ جواطروش کے لقب سے جانے جاتے تھے اس سال خراسان میں قیام کیا اور گیلان ومازندران کی طرف کوچ کیاتاکہ زیدیوں کی تحریک کو آگے بڑھا سکیں ۔(٢)

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی، ص٣٤٥

(٢)مسعودی ،علی بن حسین ،مروج الذھب،منشورات مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٤١١ھ ،ج٤، ص٣٩٣۔٣٩٤، و شہرستانی ، کتاب ملل و نحل ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٣٦٤ھ ش، ج ١ ص١٣٩


یہی وجہ ہے کہ عباسی حکام زیدیوں سے کافی خوف زدہ رہتے تھے اور کوششیں کرتے تھے کہ جس میں بھی رہبریت ہے اس کو قتل کردیا جائے خصوصاً اولاد زید کو ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ایسے افراد کو گرفتار کرنے کے لئے جاسوس معین کرتے اور انعامات کا اعلان کرتے تھے۔(١)

جیسا کہ عیسیٰ بن زید مخفی طریقہ سے دنیا سے چلے گئے اورہارون نے ان کے بیٹے احمد بن عیسیٰ کو صرف بدگمانی کی بنیاد پرگرفتار کرلیا اور زندا ن میں ڈال دیا۔(٢)

ا لبتہ اس دوران بنی حسن کے بعض بزرگان کہ جو بعض تحریکوں کے رہنما شمار ہوتے تھے زیدیوں کے راستے پر نہیں چلے اور زیدیوں کے اصول کے پابند نہیں تھے اسی وجہ سے جب جنگ میں کوئی مشکل پیش آتی اور شکست کا احتمال ہوتاتھاتو زیدی ان کو تنہا جنگ میں چھوڑ کر فرار ہوجاتے تھے اور ان کا قیام شکست کھا جا تا تھا (جیسے یحییٰ بن عبداللہ) ان کے درمیان یحییٰ کا بھائی ادریس تنہاوہ شخص ہے جوکسی حد تک

____________________

(١) جیسا کہ ہارون کو جب احمد بن عیسیٰ کے زندان سے فرارہونے کا علم ہو ا تو اس نے ابن کردیہ کو اس بات پر معین کیا کہ وہ کوفہ اور بصرہ کے اطراف میں جاکر تشیع کا اظھار کرے شیعوں اور زیدیوں کے درمیان رقم تقسیم کرے تاکہ وہ مخفی طور سے احمدبن عیسیٰ کا پتہ لگائے ابن کردیہ نے بہت زیادہ کوشش کی اور بہت ساری رقم خرچ کرنے کے بعداس کے خفیہ ٹھکانے کاپتہ لگایا پھر بھی وہ احمد کو گرفتار نہیں کر سکا ۔

ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ،قم ١٤١٦ھ ص٤٩٢،٤٩٦

(٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ،قم ١٤١٦ھ ص٤٩٢،٤٩٦


کامیاب ہوا،(١) اور وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ افریقہ میں عباسیوں کی دسترس سے دور تھا ،وہاں اس نے عباسیوں کے خلاف جد وجہد کی اور حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا۔(٢)

منجملہ ان رہبروں میں کہ جنہوں نے زید یوں کے اصول اور مبنیٰ کو قبول نہیں کیا اور اہل بیت کے راستہ کو اختیا ر کیا، ان میں یحییٰ بن عبداللہ محمد نفس زکیہ کے بھائی تھے کہ جو محمد کی شکست کے بعد خراسان چلے گئے اور وہاں سے سرزمین دیلم جو آج گیلان و مازندران کے نام سے مشہور ہے منتقل ہوگئے،لیکن وہاں کا حاکم جو ابھی مسلمان نہیں ہواتھا ہارون رشیدکی دھمکی پر اس نے چاہاکہ ان کو گرفتا رکرکے ہارون کے کار ندوں کے حوالہ کردے اس وقت یحییٰ ہارون کے وزیر فضل بر مکی سے امان چاہنے پر مجبور ہوئے وزیر نے ان کو امان بھی دی لیکن امان کے بر خلاف انہیں بغداد میں جیل میں ڈیاگیا اور زندان ہی میں دنیا سے رخصت ہوگئے،(٣)

____________________

(١)ادریس بن عبداللہ کہ جو محمد نفس زکیہ کے بھائی تھے حسین بن علی حسنی (شہید فخ)کے قیام میں کہ جو ہادی عباسی کے زمانہ میں رونما ہوا تھا اور وہ حسین کی شکست کے بعد حاجیوں کے ساتھ انجان طریقہ سے مصرچلے گئے اور وہاں سے مراقش کی طرف کوچ کیامراقش کے لوگ ان کے اطراف جمع ہوگئے انہوں نے وہاں پر ایک حکومت بنائی لیکن ایک شخص نے ان کو خلیفۂ عباسی ہارون کے حکم سے زہر دے دیا اور لوگوں نے ان کے مرنے کے بعد ان کے کمسن بچے کانام ادریس رکھ دیا ادریس دوم نے جوان ہونے کے بعد وہاں پر حکومت بنائی اور حکومت اداریسیہ وہاں پر تقریباًایک صدی قائم رہی مسعودی مروج الذھب ج٣،ص ٣٢٦

(٢) ابوالفرج اصفہانی ،مقا تل الطالبین،ص٤٠٦،٤٠٨

(٣) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص٣٩٣


یہ امام صادق کے تربیت یافتہ شاگردوں میں سے تھے اور جب بھی امام صادق سے حدیث نقل کرتے تھے تو کہتے تھے میرے حبیب جعفر بن محمد نے اس طرح فرمایا ہے۔(١)

کیونکہ ان کے اہل بیت کے راستے پر چلنے اور فقہ پر عمل کرنے کی وجہ سے زیدیوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کے اطراف سے دور ہو گئے لہذاوہ مجبور ہوئے کہ خود کو ہارون کے وزیر فضل بن یحییٰ کے سامنے تسلیم ہو جائیں ۔(٢)

(الف) قیام محمد نفس زکیہ

دوسری صدی ہجری میں علویوں کے قیام عروج پر تھا ان قیاموں میں سے ایک اہم قیام منصور عباسی کے زمانے میں تھا اس قیام کے رہبر محمد نفس زکیہ تھے کہ ان کی یہ تحریک عباسیوں کی کامیابی سے پہلے شروع ہوچکی تھی اور امام صادق کے سوا تمام بنی ہاشم نے ان کی بیعت کرلی تھی، یہاں تک کہ اہل سنت کے فقہاو علماء حضرات جیسے ابو حنیفہ، محمد بن عجلان مدینہ کے فقیہ ابو بکر بن ابی سبرہ فقیہ ،عبداللہ بن جعفر؛ہشام بن عروہ ،عبداللہ بن عمر ، واصل بن عطا،عمرو بن عبیدسبھی نے ان کی بیعت کرلی تھی اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول روایات جو امام مہدی کے قیام کے بارے میں تھیں اس کو ان پر تطبیق کرتے تھے۔(٣)

لیکن عباسیوں کے زمانے میں اس کا قیام وقت سے پہلے ہونے کی وجہ سے

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص٣٩٣

(٢) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص٣٩٢۔٣٩٣

(٣)مقاتل الطالبین ،ص٢٥٤،٢٥٥،٢٥١،٣٤٧


شکست کھا گیا ،بصرہ میں بھی ان کے بھائی ابراہیم کا قیام زیدیوں کی خیانت کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکا لیکن ان کے اور بھائی منتشر ہوگئے تھے، ہارون کے زمانے تک ان کی بغاوت جاری رہی ادریس بن عبداللہ نے مراقش کی طرف فرار کیا اور وہاں کے لوگوں نے اس کو قبول کیا لیکن ہارون کے کارندوں کے ذریعہ انہیں زہر دے دیاگیا، اس کے بعد اس کی پیر وی کرنے والوں نے ان کے چھوٹے بیٹے کو ان کی جگہ بٹھا دیا اور اس کا ادریس ثانی نام رکھا اور مدتوں تک شمالی افریقہ میں ادریسیوں کی حکومت بر قرار رہی ،محمد کا دوسرا بھائی یحییٰ طبرستان چلاگیا محمد کے ایک اور بھائی نے شمال اور جزیرہ کی طرف سفر کیا ،محمد نفس زکیہ کے اور دوسرے بیٹے بنام علی ،عبد اللہ حسن مصر، ہنداور یمن کی طرف چلے گئے اورمدتوں عباسی حکومت ان سے پریشان تھی۔(١)

(ب)قیام ابن طبا طبائی حسنی

ہارون کی موت کے بعد اس کے دو بیٹے امین و مامون کے درمیان حکومت کی خاطر لڑائی کے سبب شیعوں نے فرصت کو غنیمت جانا اور علویوں کے قیام بھی اس زمانے میں عروج پر تھے اس دور میں ابوسرایا جیسے لائق و سزوار فوجی کمانڈر کی وجہ سے علویوں کا محاذتمام عراق (سوائے بغداد کے ) حجاز ، یمن اور جنوب ایران تک پھیل گیا اور یہ علاقے عباسیوں کی حکومت سے خارج ہوگئے۔(٢)

____________________

(١)مسعودی ،علی بن حسین ،مروج الذہب ،ج٣ ،ص٣٢٦

(٢) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف رضی ،قم ،١٤١٤ہجری، ج٢، ص٤٤٥


لشکر ابو سرایا جس فوج کے مقابلہ میں بھی جاتا اسے تحس نحس کردیتا اور جس شہر میں بھی جاتا اس پر قبضہ جما لیتاتھا،کہتے ہیں کہ ابو السرایا کی فوج سے خلیفہ کے دولاکھ سپاہی قتل ہوئے حالانکہ اس کے قیام کے روز سے اس کی گردن زنی تک دس ماہ سے زیادہ نہیں گزرے تھے یہاں تک کہ بصرہ جو عثمانیوں کا مرکز تھایہاں بھی علویوں کی حمایت کی گئی اس شہرمیں زید النار نے قیام کیا ،مکہ اور اطراف حجاز میں محمد بن جعفر (جس کا لقب دیباج تھا)نے قیام کیا کہ جس کو امیر المو منین کہا جاتا تھا،یمن میں ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر نے قیام کیا، مدینہ میں محمد بن سلیمان بن دائود بن حسن نے قیام کیا، واسط کہ جہاں اکثر لوگ عثمانیوں کی طرف مائل تھے وہاں جعفر بن زید بن علی اور حسین بن ابراہیم بن حسن بن علی نے قیام کیا، اور مدائن میں محمد بن اسماعیل بن محمد نے قیام کیا ،خلاصہ یہ کہ کوئی ایسی سرزمین نہیں تھی جہاں علویوں نے خود سے یالوگوں کے ابھار نے کی وجہ سے عباسیوں کے خلاف قیام نہ کیاہو اورنوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اہل شام اور بین النہرین جو اموی اور آل مروان سے دوستی میں شہرت رکھتے تھے ابو السرا یا کے ساتھی محمد بن محمد علوی کے گرویدہ ہوگئے اور اس کو خط لکھا کہ ہم آپ کے ایلچی کے انتظار میں بیٹھے ہیں تا کہ آپ کے فرمان کو نافذ کریں ۔(١)

(ج)قیام حسن بن زید حسنی ( طبرستان کے علوی )

٢٥٠ھمستعین عباسی کے دور خلافت میں حسن بن زید جو پہلے رے میں ساکن تھے انہوں

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی،قم ،ص٤٣٥۔٤٣٦


نے طبرستان میں خروج کیا اور لوگوں کو آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضا کی طرف دعوت دی طبرستا ن اور جرجان کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی جھڑپیں کرکے اپنے قبضہ میں کرلیا(١) اور طبرستان میں علوی حکومت کی بنیاد قائم کردی جو ٣٤٥ھ تک جاری رہی۔(٢)

حسن بن زید نے بیس سالہ حکومت میں چند مرتبہ ری ،زنجان ،قزوین پر غلبہ حاصل کیا اور اسی سال کہ جس میں قیام کیا تھا علویوں میں سے محمد بن جعفر کو ری کی طرف روانہ کیاجو طاہر یوں کے ہاتھوں گرفتا رہوگیا۔(٣)

٢٥١ھ میں حسین بن احمد علوی نے قزوین میں قیام کیا اور طاہریوں کے کارندوں کو وہاں سے نکال باہرکردیا۔(٤)

جیسا کہ حسین بن زید کے بھائی نے لارجان ، قصران اور موجودہ شمال تہران پر غلبہ حاصل کیا اوروہاں کے لوگوں سے اپنے بھائی کے لئے بیعت لی ۔(٥)

____________________

(١)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ ج٥،ص ٣٤٦

(٢)سیوطی جلال الدین ،تاریخ الخلفا،منشورات الرضی،طبع اول،١٤١١ و ١٣٧٥ھ، ص ٥٢٥

(٣)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ، ج٥،ص ٣٦٥

(٤)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ، ج٥، ص ٣٦٥

(٥) طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع١٤٠٨ھ ج٥،ص ٣٦٥


طبری ٢٥٠ھکے حالات کے بارے میں کہتا ہے: طبرستا ن کی حکومت کے علاوہ حکومت ری کا علاقہ ہمدان تک حسن بن زید کے ہاتھ میں تھا،(١) شمال ایران کے مناطق کے علاوہ جن مناطق میں حسن بن زید نے قیام کیا،اس میں عراق(٢) شام(٣) مصر(٤) بھی شامل ہیں نیز علویوں میں جرأت پیدا ہوگئی تھی کہ وہ لوگوں کو اپنے پاس جمع کرکے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔

یہاں تک کہ ٢٧٠ ھ میں حسن بن زید کا انتقال ہوگیا اور ان کے بھائی محمد بن زید کو ان کا جانشین قرار دیاگیا اور انہوں نے ٢٨٧ ھ تک حکمرانی کی، آخر کار محمد بن ہارون سے جنگ کے درمیان ایک سامانی کمانڈر کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔(٥)

٢٨٧ ھ میں محمد بن زید کی شہادت کے بعد ناصر کبیر( جس کا لقب اطروش تھا) نے منطقہ گیلان و دیلم کے علاقہ میں لو گوں کو اسلام کی دعوت دی اور ١٤ سال وہاں حکومت کی۔(٦)

٣٠١ھمیں طبرستان آیا اور وہاں کی حکومت کو اپنے قبضہ میں کیا۔(٧)

____________________

(١)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع١٤٠٨ھ ج٥،ص ٣٦٥

(٢)،طبری ،محمد بن جریر،تاریخ طبری،دارالکتب العلمیہ،بیروت،دو سری طبع،١٤٠٨ھ ج٥: ص٣٩٥۔ ٣٦۔٤٣٠

(٣)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ، ص ٣٢٧

(٤)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ص٣٢٦

(٥)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ، طبع دوم،١٤١٦ھ ١٣٧٤، ص٥٤٢

(٦)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ص٢٨٣

(٧)مسعودی ،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ص ٣٢٧


(د)قیام یحییٰ بن حسین ( یمن کے زیدی)

٢٨٨ھ میں یحییٰ بن حسین علوی جو'' الھادی الیٰ الحق ''کے لقب سے مشہور تھا ،اس نے حجاز میں قیام کیا، زیدی اس کے اطراف جمع ہوگئے اور وہ اسی سال یمنی قبائل کی مدد سے صنعامیں داخل ہوا اوراس نے زیدیوں کے امام کے نا م سے اس جگہ خطبہ پڑھا، اگرچہ یمنی قبائل سے اس کی چھڑپ ہوتی رہی ،مگر پھر بھی وہاں کی زمام حکومت کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب ہوگیااوراپنی حکومت قائم کی آخر کار ٢٩٨ھمیں زہر کی وجہ سے اس دنیا سے چلاگیا، اس کا شمار زیدیوں کی بزرگ ترین شخصیتوں میں ہوتاہے، علم و دانش کے لحاظ سے بھی اسے ایک خاص مقام حاصل تھایہی وجہ ہے کہ زیدیہ فرقہ یمن میں اس کے نام سے معروف ہوا اوراسے'' ہادویہ ''کہا جانے لگا،(١) اس کے فرزند زیدیوں کے امام اور حکمراں تھے۔(٢)

یمن میں زیدیوں کی امامت و حکومت انقلاب جمہوریہ عرب کے قیام یعنی ١٣٨٢ھ تک قائم تھی حکومت پر ہادی الی الحق کے بیٹے او رپوتوں کی حکمرانی تھی۔

____________________

(١)رجوع کیا جائے ،علی ربانی گلپائیگانی،فرق و مذاہب کلامی،مرکز جہانی علوم اسلامی ج١، ١٣٧٧،ص١٣٤

(٢)سیوطی جلاالدین، تاریخ الخلفائ،منشورات شریف الرضی،قم ،طبع اول، ١٤١١ھ،ص٥٢٥


(٢)پراگندہ قیام

اس قسم کے قیام بغیر کسی پروگرام اور پلاننگ کے ایک فرد کے عزم و ارادے سے وجود میں

آئے ہیں اور اکثر خلفاو حکام کی طرف سے شیعوں اور علویوں پر ہونے والے ظلم وجور کے مقابلے میں رد عمل کے طور پر متحقق ہوئے ہیں ، ان قیاموں میں سے اہم ترین قیا م حسب ذیل ہیں :

(الف)قیام شہید فخ

آپ حسین بن علی حسنی( شہید فخ) کے نام سے مشہور تھے جنہوں نے ہادی عباسی کے دور حکومت میں قیام کیا ان کا خروج ،خلیفہ وقت کی طرف سے علویوں اور شیعوں پر بے حد ظلم و ستم کے مقابلے میں تھا ،یعقوبی کا بیان ہے : خلیفہ عبا سی موسیٰ ہادی نے طالبیوں کو تلاش کیا، ان کو شدت سے ڈرایا اور ان کے حقوق کو قطع کر دیا اور مختلف علاقہ میں یہ لکھ بھیجا کہ طالبیوں پر سختی کی جائے ۔(١)

ہادی عباسی نے مدینہ میں عمر کے پوتے کو حاکم بنایا تھا جو کہ طالبیوں پر بے حد سختی کرتا تھا ، اور ہر روز ان کی تلاشی لیتاتھا اس ظلم کے مقابلے میں حسین بن علی حسنی نے قیام کیا اور حکم دیا کہ مدینہ کی اذان میں '' حی علیٰ خیر العمل'' کہا جائے اور کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بنیاد پر لوگوں سے بیعت لی اورلوگوں کو'' الرضا من آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' یعنی اولاد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک معین شخص کی رہبری کی طرف دعوت دی، ان کی روش امام کاظم کی

____________________

(١) ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف الرضی،قم،طبع١٤١٧،ج٢،ص٤٠٤


مرضی کے مطابق تھی، ان سے امام نے فرمایاتھا : تم قتل کردئے جائوگے۔(١)

اس وجہ سے زیدی ان سے دورہوگئے اور وہ پانچ سوسے کم افراد کے ساتھ عباسی سپاہیوں کے مقابلے میں کہ جن کا سردار سلیمان بن ابی جعفر تھا کھڑے ہوگئے آخرکار مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کہ جس کا نام فخ ہے وہاں اپنے دوست اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوگئے۔(٢)

امام رضانے فرمایا: کربلا کے بعد فخ سے زیادہ عظیم اور بڑی مصیبت کوئی نہیں تھی،(٣) بطور کلی علوی رہنمائوں کے قیام میں محمد بن عبداللہ نفس زکیہ کے علاوہ عمومیت کے ساتھ مقبولیت کے حامل نہیں تھے ،شیعیان اور اصحاب ائمہ اطہار میں سے چند تن کے علاوہ ان تحریکوں میں زیادہ شریک نہیں تھے ۔

(ب)قیام محمد بن قاسم

محمد بن قاسم کا خروج ٢١٩ھ میں واقع ہوا وہ امام سجاد کے پوتوں میں سے تھے اور کوفہ میں ساکن تھے یہ علو ی سادات میں عابد و زاہد و پر ہیز گارشمار ہوتے تھے ، معتصم کی

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، طبع دوم ، ١٤١٦ھ١٣٧٤ھ، ص٣٧٢

(٢)ابوالفرج اصفہانی،گزشتہ حوالہ،ص٣٨٠،٣٨١

(٣) کیاء گیلانی ،سید احمد بن محمدبن عبد الرحمٰن،سراج الانساب،منشورات مکتبة آیة اللہ العظمیٰ المرعشی النجفی،قم ،١٤٠٩ھ،ص٦٦


جانب سے فشار بڑھا تو مجبور ہوئے کہ کوفہ چھوڑ کر خراسان کی طرف چلے جائیں یہی فشار قیام کا باعث بنا ،جیسا کہ مسعودی کا بیان ہے اس سال یعنی ٢١٩ھ میں معتصم نے محمد بن قاسم کو ڈرایا وہ بہت زیادہ زاہد اور پر ہیز گار تھے جس وقت معتصم کی جانب سے جان کا خطرہ ہوا تو آپ نے خراسان کی طرف کوچ کیا اور خراسان کے مختلف شہروں جیسے مرو، سرخس طالقان اور نسا میں گھومتے رہے۔(١)

ابوالفرج کے نقل کے مطابق ٤٠ ہزار کے قریب افراد ان کے اطراف میں جمع ہوگئے تھے ایسے حالات میں بھی ان کا قیام کسی نتیجہ کو نہیں پہنچا اور یہ جمعیت ان کے اطراف سے منتشر ہوگئی آخر میں طاہر یوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے اور اس کے بعد سامرہ کی جانب روانہ ہوئے اور وہیں پران کو زندان میں ڈال دیا گیا۔(٢)

البتہ شیعوں اور اپنے چاہنے والوں کی وجہ سے آزاد ہوگئے لیکن اس کے بعد کوئی خبر ان کے بارے میں نہیں ملتی اور گمنام طریقہ سے دنیا سے چلے گئے۔(٣)

____________________

(١)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذہب ،موسسة الاعلمی للمطبوعات ،بیروت،طبع اول ١٤١١ھ: ج٤:ص٦٠

(٢)ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، منشورات الشریف الرضی، قم طبع دوم ، ١٤١٦ھ ص،٤٦٤۔ ٦٤٧

(٣)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذہب ،موسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت،طبع اول : ١٤١١ھ، ج٤،ص١٦٠


(ج)قیام یحییٰ بن عمر طالبی

یحییٰ بن عمر جعفر طیار کے پوتوں میں سے تھے آپ نے کوفہ کے لوگوں میں اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے بلند مقام حاصل کرلیاتھا ،متوکل عباسی اور ترکی فوجیوں کی طرف سے جو ذلت آمیز مظالم آپ پر ہوئے اس کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ کوفہ میں ان کے خلاف قیام کریں ، جب تک امور کی زمام آپ کے ہاتھ میں تھی آپ نے عدل و انصاف سے کام لیا یہی وجہ ہے کہ کوفہ کے لوگوں میں آپ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوگئی لیکن آپ کا قیام محمد بن عبداللہ بن طاہر کے ہاتھوں شکست کھا گیا اورلوگوں نے آپ کی مجلس عزا میں بہت زیادہ رنج وغم کا مظاہرہ کیا۔(١)

جیسا کہ مسعودی کاکہنا ہے : دور اور نزدیک کے لوگوں نے ان کے لئے مرثیہ کہا چھوٹے بڑوں نے ان پر گریہ کیا ۔(٢)

ابوالفرج اصفہانی کے مطابق وہ علوی جو دوران عباسی شہید ہوئے تھے ان میں کسی ایک کے لئے بھی اتنے مرثیہ نہیں کہے گئے ۔(٣)

____________________

(١)مسعودی، علی بن حسین ، مروج الذہب، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت، طبع اول ١٤١١ھ ج ص١٦٠

(٢)مسعودی، علی بن حسین ، مروج الذہب، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت، طبع اول ، ١٤١١ھ ج ص١٦٠

(٣)ابو الفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،منشورات الشریف الرضی،قم،طبع دوم،١٤١٦ھ،ص٥١١


قیام و انقلاب کے شکست کے اسباب

ان قیام کی شکست کے اسباب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

ایک تو قیادت اور رہبری کا سُست ہونااور دوسرے فوج کا ہم آہنگ نہ ہونا غالباً اس طرح کے انقلاب کے اکثررہنما اور قائد صحیح طریقہ سے پلاننگ نہیں کرتے تھے اور ان کے قیام صحیح طرح سے اسلامی اصول وطریقہ پراستوار نہیں تھے اسی وجہ سے ان میں سے بہت سے انقلاب ایسے تھے کہ جسے امام معصوم کی طرف سے حمایت اور تائید حاصل نہیں تھی، دوسرے بعض قیام کی ناکامی، اگر چہ ان کے رہنما قابل اطمینان اور مؤثق افراد تھے، سبب یہ تھا کہ ان کی پلاننگ ایسی تھی کہ جن کی شکست پہلے سے قابل ملاحظہ تھی ایسی صورت میں اگر امام واضح طور پر ان کی تائید کر دیتے تو قیام کی شکست کے بعد تشیع کی بنیاد اور امامت خطرہ میں پڑ جاتی۔

دوسری طرف یہ قیام آپس میں ہم آہنگ نہیں تھے اگر چہ ان کے درمیان حقیقی اور مخلص شیعہ موجود تھے جو آخری دم تک اپنے مقصدکے حصول کی کوشش کرتے رہے ان میں سے اکثر لوگوں کا ہدف ایمانی نہیں تھا یاتو ان کا علوی رہبروں کے ساتھ توافق نہ ہوسکایازیادہ تر لوگوں نے میدان جنگ میں اپنے کمانڈروں کا ساتھ چھوڑ دیا، علامہ جعفر مرتضیٰ اس بارے میں لکھتے ہیں : ان کی شکست کی علت اس کے علاوہ کچھ نہیں تھی کہ زیدیوں کے قیام سب سے پہلے سیاسی محرکات رکھتے تھے ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے جس نے بھی حکومت کے مقابلے میں تلوارکھینچی اس کو دعوت دیتے تھے، ان کے اندرایمانی فکر اوراعتمادی وجدان نہیں تھا بغیر سوچے سمجھے اٹھ جاتے تھے،اپنے مردہ احساسات اور خشک و فرسودہ ثقافت پراس قدر بھروسہ کرتے تھے کہ احساسات اور وجدان میں ہم آہنگی باقی نہیں رہ گئی تھی کہ ایک مضبوط ومحکم سر چشمہ سے اپنی رسالت و پیغام کو اخذکر سکیں انہیں وجوہ کی بنا پران کی کشتی شکشت کے گرداب میں پھنس جاتی تھی اور جانیں مفت میں تلف ہو جاتی تھیں ، بلکہ خود اندرونی طور پر انقلاب سے روکنے کا جذبہ ان میں ابھرتا تھا، ایسی طاقتوں پر اتنا ہی اعتماد تھا جتنا پیاسے کو سراب پر ہوتا ہے ، یہ وہ نکتہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ لوگ حادثات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے اور جب پانی سر سے گذر جاتا تھا اور پھل تیار ہو جاتے تھے تو وہ عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے۔(١)

____________________

(١) زندگی سیاسی امام جواد علیہ السلام ، ترجمہ سید محمد حسینی ، دفتر انتشارات اسلامی ، قم ، طبع ہشتم ، ١٣٧٥ھ ، ص ١٩


پانچویں فصل

جغرافیائی اعتبار سے تشیع کی وسعت

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے تشیع کا مرکزمدینہ تھا اور اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان سب سے پہلے شیعہ اسی شہر میں رہتے تھے تینوں خلفاکے زمانے میں شیعہ اصحاب مختلف مناطق و شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے بعض سیا سی اور فوجی عہدوں پر فائز تھے، علامہ محمد جواد مغنیہ اس بارے میں لکھتے ہیں :

شیعہ اصحاب کاتشیع کے پھیلانے میں ایک اساسی کردار رہا ہے جہاں بھی گئے لوگوں کو قرآن و حدیث اور صبرو تحمل کی طرف دعوت دی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب ہونے کی بنا پر لوگوں کے درمیان ان کابے حد احترام تھا اور ان کی تقاریربہت زیادہ اثر انداز ہوتی تھیں ۔(١)

حتی ایسی جگہیں جیسے جبل عامل جو شام کا ایک حصہ تھا اور وہاں پر معاویہ کا نفوذ زیادہ تھا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بزرگ صحابی ابوذر کے جانے کی برکت سے وہ شیعوں کا اصلی مرکز ہوگیا۔(٢)

____________________

(١)الشیعہ فی المیزان ،منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٣ہجری،ص٢٦،٢٨

(٢)امین ،سید محسن،اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبوعات ،بیروت،ج١،ص٢٥


عثمان کی خلافت کے آخری زمانے میں بہت زیادہ شیعہ اسلامی سر زمینوں میں رہتے تھے، اس طرح سے کہ مسلسل حضرت علی کا نام خلافت کے لئے لیا جانے لگا، اسی وجہ سے مدینہ میں جب مخالفین نے اجتماع کیا توعثمان نے علی سے تاکیدکی کہ وہ کچھ مدت کے لئے مدینہ سے نکل جائیں اوراپنی کھیتی جو ینبع میں ہے وہاں چلے جائیں تاکہ شاید شورش کرنے والوں کی تحریک میں کمی آجائے۔(١)

خصوصاً عراق میں عثمان کے زمانے میں شیعہ کا فی تعداد میں تھے مثلاً بصرہ کے شیعہ باوجود اس کے کہ یہ شہر ،سپاہ جمل کے تصرّف نیز ان کے تبلیغ کی وجہ سے ان کے زیر اثرآگیا تھا لیکن جس وقت انہیں یہ خبر ملی کہ امیر المومنین مہاجر اور انصار کے ہمراہ ان کی جانب آرہے ہیں تو صرف قبیلئہ ربیع سے تین ہزار افرادمقام ذی قارمیں حضرت سے ملحق ہو گئے،(٢) علی کے ساتھ ان کی ہمراہی عقیدت کی بنا پر تھی اور علی کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب سے منصوب خلیفہ کے عنوان سے مانتے تھے ۔

بلا ذری نے انہیں شیعیان علی اور قبیلہ ربیع سے تعبیر کیا ہے۔(٣)

اورجب علی خود بر سر حکومت آگئے اور عراق تشریف لے گئے تو تشیع کی وسعت میں عجیب وغریب اضافہ ہوا، اسی طرح حضرت کے حکام اوروالیوں کی اکثریت شیعہ ہونے کی وجہ سے ان مناطق میں شیعیت کو بہت زیادہ فروغ ملا، جیسا کہ سید محمد امین کا بیان ہے جہاں بھی والیان علی جاتے تھے وہاں کے لوگ شیعہ ہوجاتے تھے ۔(٤)

____________________

(١)نہج البلاغہ ، فیض اسلام ،خطبہ٢٣٥

(٢)بلاذری ، انساب الاشراف ، منشورات الاعلمی ، للمطبوعات ، بیروت ١٣٩٤ھ ج٢ ص ٢٣٧

(٣)بلاذری ، انساب الاشراف ، منشورات الاعلمی ، للمطبوعات ، بیروت ١٣٩٤ھ ج٢ ص ٢٣٧

(٤)اعیان الشیعہ ، دار التعارف ، للمطبوعات ، بیروت ، ج١ ص ٢٥


البتہ اس دور میں شام کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقہ میں بھی عثمان کی طرف میلان بڑھ گیا تھا ،شام تو پورے طور پر بنی امیہ کے زیر اثر تھامثلاً بصرہ اور شمالی عراق کے علاقہ میں عثمان کے قریبی افراد ا کے مستقر ہونے کی بناپر اس علاقے کے لوگ عثمان کی طرف مائل ہو گئے تھے،(١) اور شمال عر اق میں یہ میلان دوسری صدی ہجری کے آخر تک باقی تھا۔

مکہمیں بھی زمانہ ٔجاہلیت سے ہاشمیوں اور علویوں کے خلاف ایک فضا قائم تھی اسی طرح طائف میں بھی دورجاہلیت کی طرح اسلام کے بعد بھی قریش کو بنی ہاشم سے رقابت تھی اور وہ بنی ہاشم کی سر براہی کو قبول نہیں کرتے تھے اور یہ قریش کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے ساتھ مخالفت کے اسباب میں سے ہے طائف والوں نے بھی قریش کی ہم آہنگی سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت قبول نہیں کی تھی اگر چہ اسلام کے طاقتور ہونے کے بعد تا خیر سے سہی وہ لوگ بھی تسلیم ہو گئے۔

حجّاج کے زمانے میں شیعیت عراق و حجاز کی سرحدوں سے عبور کر کے تمام علاقے میں پھیل گئی،اسی دور میں شیعہ حجّاج کی طرف سے سختی اور فشار کی بنا پر عراق سے نکل کر منتشرہوگئے اور دوسری اسلامی سرزمینوں میں ساکن ہوگئے ،خاص کر اسلامی شرق جیسے ایران کہ جہاں پہلی صدی کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ شیعہ مرکز قائم ہو گیا، خراسان میں عباسیوں نے ان سے خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نسبت کی وجہ سے استفادہ کیا اور ''الرّضا من آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''کے نعرہ کے ساتھ اپنے ارد گرد جمع کر لیا اور امویوں کے خلاف جنگ میں ان سے فائدہ اُٹھایا ۔

____________________

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، منشورات الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج٢ ص ١٧٨


عباسیوں کے دور میں تشیع کی وسعت میں معتدبہ اضافہ ہوا شیعہ مشرق میں ایران، ہندوستان، قفقازوغیرہ کی طرف ہجرت کرگئے اوردولت اموی کے خاتمہ پرغرب یعنی یورپ کی سمت (مراقش )میں بھی شیعوں کا نفوذ ہو گیا،خصوصاً افریقہ میں دوسری صدی میں ادریسیوں کی شیعہ حکومت قائم ہوگئی اگر چہ یہ حکومت زیدیوں کی تھی لیکن شیعیت کے پھیلنے کا پیش خیمہ تھی البتہ اس کا ارتباط مصر میں اغلبیوں کی حکومت کی وجہ سے کہ جو اس کے مقابلہ میں قائم ہوئی تھی مرکز یعنی مدینہ میں بہت کم اثر تھا۔(١)

اس طرح دوسری صدی ہجری میں مذہب تشیع، جہانِ اسلام کے شرق وغرب میں پھیل گیا اس کے علاوہ خوزستان جبل مرکزی ایران نیز مشرق وسطی کے دور دراز علاقے ، افغانستان ،آذر بائیجان ، مراقش ہندوستان اور طبرستان تک پھیل گیا۔(٢)

شیعہ اجتماعی مراکز

جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے پہلی تین صدی ہجری میں شیعہ اسلامی سر زمین کے کافی علاقوں میں زندگی بسرکرتے تھے اور تمام جگہ منتشرہو گئے تھے لیکن شیعوں کی بھاری

____________________

(١)امیر علی ، تاریخ عرب اسلام ، انتشارات گنجینہ ، طبع سوم ، ١٣٦٦ھ ص ٢٤١۔٢٤٥، ابوالفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، ق، ١٤١٦ھ ،ص ٤٠٨

(٢) ائمہ اطہار کے اصحاب کے درمیان حلب ، مصر ، مدائن ، قزوین ، ری ، کاشان ، ارمنستان ، ساباط ، اصفہان ، ہمدان ، سمرقند ،کابل وغیرہ کے رہنے والے بھی موجود تھے ، رجال نجاشی ، دفتر نشر اسلامی ص ٨۔ ٩۔ ٦٦۔١٣٠۔١٦١۔٢٠٨۔٢٣٣۔٢٣٦۔٢٩٠۔٣٤٤۔٣٦٧،اور ابن شہر آشوب ، معالم العلماء ، منشورات مطبعة الحیدریة، نجف ، ١٣٨٠ھ ش، ص ٣١


اکثریت اورعظیم اجتماع چند ہی مناطق میں تھا پہلی صدی ہجری میں شیعہ اجتماعی مراکز یہ تھے :مدینہ یمن،کوفہ، بصرہ، مدائن ، جبل عامل ، دوسری صدی میں ان مراکز کے علاوہ قم، خراسان، طبرستان، بغداد،جبل عامل، افریقہ وغیرہ میں بھی شیعہ مراکز قائم ہو گئے تھے ، اب ہم یہاں ان جگہوں کی وضاحت کریں گے۔

(الف )پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے

پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے زیادہ تر حجاز ویمن وعراق کی حد تک محدود تھے، ان علاقے میں رہنے والے افراد عرب تھے اور پہلے دور کے مسلمانوں میں ان کاشمار ہوتا تھا، حجاز ویمن میں تشیع کی بنیاد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے دور میں پڑ چکی تھی، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد عراق کا اضافہ ہوا جو یمنی قبائل کا محل زندگی قرار پایا اورحضرت علی علیہ السّلام کے دور حکومت میں وہاں کے تشیع کی وسعت میں مزید اضافہ ہوا۔(١)

مدینہ :

ہجرت سے پہلے مدینہ کا نام یثرب تھا یہاں یمن کے دو قبیلے آباد تھے جنہیں اوس و خزرج کہا جاتا تھا جنہیں بعد میں انصار کہا گیا اور تین یہودی قبیلے بنام بنی قینقاع ،بنی نضیراور بنی قریظہ یہاں آبادتھے، جب رسالت مآب نے ہجرت فرمائی تو اس شہر کا نام مدینة النبی یعنی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شہر پڑ گیا ،کثرت استعمال اور تکرار کی وجہ سے نبی حذف ہو گیا،اور صرف مدینہ مشہور ہو گیا تینوں خلفاکا مرکز

____________________

(١)شہیدی ، دکتر سید جعفر ،تاریخ تحلیل اسلام تا پایان اموی، مرکز نشر دانشگاہ ، تہران ج ٢ ،ص ١٣٧۔ ١٣٨


حکومت مدینہ رہا ،اہل بیت کے سر سخت دشمن قریش یہیں رہتے تھے اس کے باوجود مدینہ کی بیشتر آبادی انصار سے مربوط تھی جو اہل بیت کے محب تھے اور سیاسی کشمکش کے وقت اہل بیت کا ساتھ دیتے تھے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہت سے جلیل القدر صحابی یہاں رہتے تھے اور لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے تھے ، چنانچہ آپ کے عظیم صحابی جناب جابربن عبد اللہ انصاری اپنے عصا کا سہارا لے کر مدینہ کی گلیوں میں گھومتے اور اعلان کرتے :

(علی خیرُ البَشَرِ مَن انکَرَهٰا فَقَدْ کَفَر )

یعنی حضرت علی بہترین مخلوق ہیں جس نے انکار کیا وہ کافر ہو گیا ۔

اے انصار !تم اپنے بچوں کو علی کی محبت کا عادی بنائو اور جو بھی علی کی محبت قبول نہ کرے اس کے نطفہ کے بارے میں اس کی ماں سے پوچھو!(١)

یہی جابر مسجد النبی کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے اور آواز دیتے تھے :

اے باقر العلوم! آپ کہاں ہیں ؟ بہت سے لوگ کہتے تھے جابر ہذیان بک رہے ہیں ،جابر کہتے تھے میں ہذیان نہیں بک رہا ہوں بلکہ میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے : میرے بعد میری نسل سے ایک بچے کی زیارت کرو گے جس کا نام میرا نام ہوگا وہ مجھ سے مشابہ ہوگا وہ لوگوں کے سامنے علم کے دروازے کھولے گا ۔(٢)

جناب جابر نے جب امام پنجم کی زیارت کی تو اپنا معمول بنا لیا تھاکہ ہر روز دو بار آنحضرت کی زیارت سے مشرف ہوں ۔(٣)

____________________

(١)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ( رجال کشی ) تحقیق سید مہدی رجائی ، ج ١ ص ٢٣٧

(٢) شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ( رجال کشی ) تحقیق سید مہدی رجائی ، ج ١ ص ٢١٨

(٣)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ( رجال کشی ) تحقیق سید مہدی رجائی ، ج ١ ص ٢٢٢


حضرت ابوذر غفاری مسجد نبی کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہتے تھے:جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتاہے اور جو مجھے نہیں پہچانتا وہ پہچان لے میں ابو ذرغفاری جند ب بن جنادہ ہو ں ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علم آدم اور تمام انبیاء کے فضائل کے وارث ہیں اور علی ابن ابی طالب محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی اور ان کے وارث ہیں ۔(١)

اکثر بنی ہاشم اسی شہر میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے جد کے حرم کا احترام کرتے تھے، اس کے علاوہ ائمہ معصومین بھی اس شہر میں ساکن تھے لہذا یہاں کے لوگ ان کی تعلیمات سے بہرمندہوتے تھے ، خاص طور پر امام باقر اور امام صادق کے زمانے میں ان کے حلقۂ درس نے لوگوں کو مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب کھینچ لیا تھا ۔

ابو حمزہ ثمالی کا بیان ہے : میں مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بیٹھا ہوا تھا میرے نزدیک ایک شخص آیا اور سلام کیا اور امام محمدباقر کے متعلق پو چھا میں نے دریافت کیا کہ کیا کام ہے؟ اس نے جواب دیا :میں نے چالیس مسئلہ آمادہ کئے ہیں تاکہ امام محمدباقر سے سوال کروں اس کی بات ابھی تمام بھی نہ ہونے پائی تھی کہ امام محمدباقر مسجد میں داخل ہوئے، کچھ اہل خراسان نے ان کو گھیر رکھا تھا اور مناسک حج کے بارے میں حضرت سے سوالات کررہے تھے ۔(٢)

ان دو بزرگوار کے بعض شاگرد جیسے ابان بن تغلب بھی مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں درس دیتے تھے ، ابان جس وقت مسجد میں داخل ہوتے تھے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ بیٹھتے تھے اور لوگ ان کے

____________________

(١)تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ،١٤١٢ھ، ج٢ ص ١٧١

(٢)بحار الانوار، ج ٤٦، ص ٣٥٧


اردگرد جمع ہو جاتے تھے، ابان ان کے لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے،امام صادق ان سے فرماتے تھے: آپ مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بیٹھ کر فتو یٰ دیا کیجئے میں چاہتا ہو ں کہ میرے شیعوں کے درمیان آپ جیسے افرادظاہر ہوں ۔(١)

یمن:

عراق کی فتح اور کوفہ کی بناء سے پہلے شیعہ یمن میں زندگی بسر کرتے تھے یمن مدینہ کے بعد دوسرا علاقہ تھا جہاں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد شیعیان علی موجود تھے،اس لئے کہ وہا ں کے لوگ سب سے پہلی مرتبہ حضرت علی کے ذریعے مسلما ن ہوئے تھے ، ابن شہر آشوب لکھتا ہے: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم نے خالدبن ولید کو یمن کی جانب روانہ کیا تاکہ ان کو اسلام کی دعوت دے، براء بن عازب بھی خالد کی فوج میں موجود تھا خالد وہاں چھ مہینے رہا لیکن کسی کو مسلمان نہ کر سکا، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس بات سے بہت ناراض ہوئے اور خالد کو بر طرف کر کے اس کی جگہ امیر المو منین علی کو بھیجا،حضرت جس وقت وہاں پہنچے ،نماز صبح بجالائے اور یمن کے لوگوں کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خط پڑھ کر سنایا،قبیلہ حمدان کے تمام لوگ ایک ہی دن میں مسلمان ہو گئے اورحمدان کے بعد یمن کے تمام قبائل نے اسلام قبول کر لیا، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس خبر کو سننے کے بعد سجدئہ شکر بجا لائے ۔(٢)

یمن میں جس جگہ سب سے پہلے حضرت علی نے سکونت اختیار کی وہ ایک خاتون بنام امّ سعدبر زخیہ کا گھر تھا ،حضرت علی نے وہاں قرآن کی تعلیم دینا شروع کی، بعد میں یہ گھر مسجد ہو گیا اور اس کا نام مسجد علی رکھ دیا گیا ،خاص طور پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آخری عمر میں

____________________

(١)نجاشی ، احمد بن علی ،فہرست اسماء مصنفی الشیعة ، رجال نجاشی ، دفتر نشر اسلامی ، قم، ص ١٠

(٢)مناقب آل ابی طالب ، موسسہ انتشارات علامہ ، قم ، ج٢ ص ١٢٢


یمن کے مختلف قبائل نے مدینہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دیدار کیا اور درمیان میں ہونے والی گفتگومیں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کی وصایت اور جانشینی کو بیان کیا،(١) اس بنا پر ان کے ذہن میں یہ مطلب موجود تھا ۔(٢)

____________________

(١)مظفر، محمد حسین ،تاریخ الشیعہ،منشورات مکتبہ بصیرتی ، ص ١٢٢

(٢)جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں : یمن کے مختلف قبیلہ کے لوگ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں ایسے نرم دل اورقوی الایمان افراد پیدا ہوں گے ، کہ جو میرے جانشین ( امام مہدی ) کی نصرت کرنے کے لئے سترّہزار افراد ان کے درمیان اٹھ کھڑے ہوں گے وہ سب کے سب اپنی تلواروں کو خرمے کی چھال سے حمائل کئے ہوں گے ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کا وصی کون ہے ؟ فرمایا: میرا وصی وہ ہے جس سے متمسک ہونے کا حکم خدا وند عالم نے دیا ہے اور آیت پڑھی: (واعتصموا بحبل اللّہ جمیعا ولا تفرقوا )( آل عمران ، آیت : ١٠٣) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور انتشار کا شکار نہ بنو ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اللہ کی رسی کیا ہے ؟ یہ رسی وہی اللہ کا فرمان ہے : (الا بحبل من اللّٰہ و من الناس) ( آل عمران ، آیت : ١١٢) خدا کی جانب سے رسی قرآن ہے اور لوگوں کی جانبسے رسی میرا وصی ہے ، پوچھا یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! آپ کا وصی کون ہے ؟ فرمایا : میرا وصی وہ ہے جس کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے : (ان تقول نفس یا حسرتی علی ما فرطت فی جنب اللّٰہ )( سورہ زمر آیت : ٥٦) لوگ کہیں گے کے امر خدامیں کتنی کوتاہی کی ہے ، لوگوں نے سوال کیا یہ امر خدا کیا ہے ؟ فرمایا : وہ میرا وصی ، لوگوں کا رہبر ہے جو میرے بعد لوگوں کی میری جانب ہدایت کرے گا ، لوگوں نے کہا :یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !آپ کو اس خدا کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے آپ اپنے وصی کوہمیں دکھا دیں ،ہم ان کی زیارت کے مشتاق ہیں ، فرمایا : خدا نے اسے لوگوں کے لئے علامت قرار دیا ہے دل سے دیکھو گے تو پہچان لوگے کہ کون میرا وصی ہے جس طرح تم نے اپنے پیغمبر کو پہچان لیا ہے ، جائو مسجد میں لوگوں کو دیکھو ( )

جس کی طرف تمہارا قلب مائل ہو جائے سمجھ لووہی میرا وصی ہے ، اس لئے کہ خدا فرماتا ہے : (فاجعل افئدة من الناس تھوی الیھم) ( ابراہیم ، آیت : ٣٧) خدایا! لوگوں کے دلوں کو اسی کی طرف مائل کر دےاسی وقت اشعریوں میں سے ابو عامر اشعری ،خولانیوں میں سے ابو عزہ خولانی ، بنی قیس سے عثمان بن قیس ، قبیلہ دوس سے غریہ دوسی اور لاحق بن علافہ کھڑے ہوئے اور مسجد النبی میں لوگوں کو دیکھنا شروع کیا اور حضرت علی کا ہاتھ پکڑکر خدمت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آئے اور کہا: یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !ہمارا دل ان کی جانب کھنچتاجارہا ہے ، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : خدا کا شکر ہے تم نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی کو پہچان لیا شاید اس کے پہلے تم نے انہیں دیکھا ہو یمنی لوگ رونے لگے کہا :یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !ہم کسی چیز کی بنا پر نہیں رورہے ہیں بلکہ ہمارے دل رو رہے ہیں ہم نے جیسے ہی انہیں دیکھا ہمیں سکون حاصل ہوگیا ایسا لگا جیسے ہم نے اپنے باپ کو پا لیا ہے۔ ( مظفر ، محمد حسین ، تاریخ الشیعہ مکتبة بصیرتی ، قم ، ص ١٢٤۔١٢٥


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفا ت کے بعد انہوں نے مدینہ کی حکومت کو رسمیت نہیں دی اور خلیفہ وقت ابو بکر کو زکوٰة دینے سے انکار کیا جیسا کہ ان کے اشعار میں آیا ہے:

اطعنارسول اللّه ما دام وسطنا

فیا قوم شأنی وشان ابی بکر

أیورثها بکراً اذا کان بعده

فتلکٔ لعمر اللّه قاصمة الظهر

جس وقت تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہمارے درمیان تھے ہم ان کی اطاعت کرتے تھے اے لوگو !ہم کہاں اور ابو بکر کہاں ؟!

اگر ابو بکر کے پاس بکر نام کا فرزند ہو تاتوکیا وہ اس کے بعد خلافت کا وارث


ہوتا؟میری جان کی قسم یہ سوال کمر شکن ہے ۔(١)

حضرت علی کے دور خلافت میں یمن کے رہنے والے لاکھوں افراد عراق میں رہتے تھے(٢)

اور ہزاروں آدمی حضر ت کے لشکر میں تھے ،یمن میں رہنے والے، اکثر شیعہ تھے عثمانی اور بنی امیہ کے طرفداروں کی تعداد بہت کم تھی اس کے لئے بطور شاہد معاویہ کا وہ رویہ ہے کہ جو اس نے بسرابن ارطاة کو جس کے بار ے میں تاکید کی تھی ،(٣) کہ جس علاقہ میں لوگ قریش اور بنی امیہ کے طرف دارہوں ان سے کوئی سرو کار نہیں رکھناچنانچہ جب وہ مکہ اور طائف کے نزدیک سے گذرا تو ان دو شہروں کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔(٤)

لیکن جس وقت یمن کے شہر'' ارحب ''، صنعا اور حضر موت پہنچا توقتل و غارت گری شروع کردی ،صنعا میں تقریبا سو افراد کہ جن کا شمار ایرانی بزرگوں میں ہوتا تھا ان کا سر قلم کردیا اور مأرب کے نمائند ہ جو امان لینے کے لئے آئے تھے ان پر رحم نہیں کیا اور سب کو قتل کردیا اور جس وقت حضر موت پہنچا تو اس نے کہا :میں چاہتا ہوں کہ اس شہر کے ایک چو تھائی لوگوں کو قتل کردوں ۔(٥) خصوصاًجیشان میں یعقوبی کے کہنے کے مطابق وہاں کے تمام افراد شیعہ تھے

____________________

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان ، احیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اوّل ، ١٤١٧ھ ، ج٣ ، ص ١٥٨

(٢)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان ، احیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اوّل ، ١٤١٧ھ ، ج ٧ ، ص ١٦١

(٣) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ،ص ١٩٧

(٤) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ،ص :١٩٧

(٥) ثقفی کوفی، ابراھیم بن محمد ،الغارات،محمد باقر کمرہ ای کا ترجمہ ، فرہنگ اسلام ص ٣٢٥ ۔ ٣٣١


اس نے وہاں پر بہت زیادہ قتل وغارت کیا۔(۱)

ابن ابی الحدید نے بسربن ارطاة کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار بیان کی ہے، ان میں سے زیادہ تر یمن کے رہنے والے تھے ،(۲) یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس زمانے میں وہاں پر شیعوں کی آبادی قابل ملاحظہ تھی بہر حال بسر نے جو ہنگامہ کر رکھا تھا اسے کچلنے کے لئے امیر المومنین نے جاریہ بن قدامہ کو بھیجا یہ سنکر بسر یمن سے بھا گ کھڑا ہوا یمن کے لوگ اور وہاں کے شیعہ جہاں بھی عثمانیوں اور بنی امیہ کے طرفداروں کو پاتے تھے قتل کر دیتے تھے۔(۳)

حضرت علی کی شہادت کے بعد بھی یمن شیعوں کا عظیم مرکز تھا اور جس وقت امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے کوفہ کی جانب کوچ کیا توابن عباس نے امام حسین کو مشورہ دیاکہ وہ عراق نہ جائیں بلکہ یمن کی طرف روانہ ہوں کیونکہ وہاں آپ کے والد کے شیعہ ہیں ۔(۴)

البتہ اس بات کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ابتدائی کامیابی اور اسلامی سرزمین کی سر حدوں کے پھیلنے کے ساتھ یمن اور پوری طرح سے جزیرئہ عرب کا علاقہ ٹھپ نظر آیا یہی وجہ ہے کہ سپاہی اورفوجی لحاظ سے وہاں کا کوئی نقش نظر نہیں آتا اگر چہ دو شہر مکہ،اور مدینہ مذہبی وجہ سے ایک اجتماعی حیثیت رکھتے تھے لیکن یمن جو پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں ایک مہم ترین اسلامی

____________________

(١)ابن واضح ، تاریخ یعقوبی،ص١٩٩

(٢)شرح نہج البلاغہ ، دارالکتاب العربیہ ، قاہرہ ، ج ٢ ، ص ١٧

(٣)ثقفی کوفی ،ابراھیم بن محمد ،الغارت،ص ٣٣٣

( ٤)بلاذری، انساب الاشراف، منشورات الا علمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٣٩٤ھ ق، ج ٣ ،ص ١٦١


حکومت شمارہوتاتھا مسلمانوں کے وسیلہ سے قریب کے ملکوں پر فتح حاصلکرنے کے بعد تقریباً اسلامی سر زمینوں کے ایک گوشہ میں واقع ہوگیا تھا اوروہ جنوب کا آخری نقطہ شمار ہوتا ہے اس کے با وجود روح تشیع وہاں پر حاکم تھی دوسری صدی کے اختتام پر ابو سرایا ابراہیم بن موسیٰ وہاں پربغیر مزاحمت کے داخل ہوگیا اور اس نے اس علاقہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا،(١) آخرکار مذہب زیدیہ کو سر زمین یمن میں کامیابی حاصل ہوئی آج بھی وہاں کے رہنے والے اکثر زیدی ہیں ۔(٢)

کوفہ:

کو فہ وہ شہر ہے جو اسلام کے بعد وجود میں آیا اور مسلمانوں نے اس کی بنیاد رکھی کوفہ سے قریب قدیمی شہر حیرہ تھا جو لخمیوں کی حکومت کا مرکز تھا۔(٣)

١٧ھ میں سعد بن وقاص جو ایران محاذ کا کمانڈر تھا اس نے خلیفۂ دوّم کے حکم پر اس شہر کی بنیادرکھی اس کے بعد اصحاب میں سے اسّی لوگ وہاں پر ساکن ہو گئے،(٤) ابتدامیں شہر کوفہ میں زیادہ تر فوجی چھاونی تھی جو شرقی محاذپر فوجیوں کی دیکھ ریکھ کرتی تھی اس شہر کے اکثر رہنے والے مجاہدین اسلام تھے جس میں اکثر قحطانی اور یمن کے قبائل تھے، اس و جہ سے کوفہ میں قحطانی اور یمنی ماحول زیادہ تھا ،(٥) اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے اکثر

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی،علی بن حسین،مقاتل الطالبین،منشورات الشریف الرضی،قم ١٤١٦ہجری، ص٤٣٥

(٢)مظفر ،محمد حسین،تاریخ شیعہ ،ص١٣٢

(٣) یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان،دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اوّل ، ١٤١٧ھ، ص ١٦٢

(٤)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ھ ،ج ٢ ، ص ١٥٠

(٥) یاقوت حموی ،شہاب الدین ابی عبداللہ، معجم البلدان ،ص ١٦١


انصار وہاں رہنے لگے جودر اصلیمنی تھے، انصار کے دو قبیلوں میں سے ایک خزرج تھا جن کا کوفہ میں اپنا مخصوص محلہ تھا ،یا قوت حموی کا بیان ہے: زیاد کے زمانے میں زیادہ تر جو گھر اینٹ کے بنے ہوئے تھے وہ خزرج ا و رمرادکے تھے ،(١) البتہ کچھ موالی اور ایرانی بھی کوفہ میں زندگی بسر کرتے تھے جو امیر المومنین علیہ السلام کے دور خلافت میں کوفہ کے بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے،(٢) جناب مختارکے قیام کے وقت ان کی فوج میں زیادہ تر یہی موالی تھے۔(٣)

کوفہ کی فضیلت کے بارے میں اہل بیت سے کافی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ جن میں سے بعض یہ ہیں : حضرت علی نے فرمایا:

کوفہ کتنا اچھا شہر ہے کہ یہاں کی خاک ہم کو دوست رکھتی ہے اور ہم بھی اس کو دوست رکھتے ہیں ، کوفہ کے باہر قبرستان (وہ قبرستان کوفہ جو شہر سے باہر واقع تھا ) سے روز قیامت ستّر ہزار افراد ایسے محشور ہوں گے جن کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے، کوفہ ہمارا شہر اور ہمارے شیعوں کے رہنے کی جگہ ہے ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خُدایا !جو شخص بھی کوفہ سے دشمنی رکھے توبھی اسے دشمن قرار دے،(٤) کوفہ میں شیعیت حضرت علی کی ہجرت سے بھی پہلے موجود تھی

____________________

(١)یاقوت حموی ،شہاب الدین ابی عبداللہ، معجم البلدان ،ص ١٦١

(٢)بلاذری، انساب الاشراف، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت، ١٣٩٤ھ ،ج٢ ص١٢٦

(٣)جعفریان ،رسول،تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا ہفتم ہجری، شرکت چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی ، ١٣٧٧ھ ، ص٧١

(٤)ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ،دار الاحیاء کتب العربیہ،طبع قاہرہ ،ج٣،ص١٩٨


جس کے دوعوامل بیان کئے جاتے ہیں ۔

ایک یمنی قبائل کا وہاں پر ساکنہونا جیسا کہ پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ زیادہ تر افراد وہاں خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھنے والے تھے۔

دوسرے بزرگ شیعہ اصحاب کا وجود جیسے عبداللہ بن مسعود ، عمّار یاسر،عمر نے عمّار کووہاں کا حاکم بناکر اور ابن مسعود کو معلّم قرآن کے عنوان سے بھیجا تھاابن مسعود نے برسوں وہاں لوگوں کو فقہ او رقرآن کی تعلیم دی۔(١)

ان دو بزرگو ں کی تعلیمات کے اثرات حضرت علی کی خلافت کے آغاز میں قابل مشاہدہ ہیں ،آنحضرت کی بیعت کے وقت مالک اشتر کا وہ خطبہ جو کوفہ کے لوگوں کے درمیان روح تشیع کی حکایت کرتا ہے ا س وقت مالک اشتر کہہ رہے تھے: اے لوگو! وصی ا وصیاء اوروارث علم انبیا وہ شخص ہے جس کے ایمان کی گواہی کتاب خُدا نے دی ہے اور اس کے جنّتی ہونے کی گواہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دی ہے تمام فضائل اس پر ختم ہوجاتے ہیں ، اس کے سابقہ علمی اور فضل و شرف کے سلسلہ میں اولین اور آخرین میں کسی نے شک نہیں کیاہے۔(٢)

جس وقت حضرت علی نے اپنے بیٹے امام حسن اور عمار کواہل کوفہ کے پاس ناکثین کے مقابلہ میں جنگ کرنے کے حوالے سے بھیجا تو ابو موسیٰ اشعری وہاں کا حاکم تھا اور لوگوں کو حضرت علی کا ساتھ دینے سے منع کر رہاتھا ،اس کے باوجود نو ہزار افراد حضر ت

____________________

(١)ابن اثیر ، ابی الحسن علی بن ابی کرم، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، دار الاحیاء التراث العربی بیروت ، ج٣ ، ص ٢٥٨

(٢) ابن واضح، تاریخ یعقوبی،ص١٧٩


علی سے ملحق ہوگئے۔(١)

حضرت علی کی ہجرت کے وقت سے تیسر ی صدی ہجری کے آخر تک کوفہ شیعوں کا اہم ترین شہر تھا ،ڈاکٹر حسین جعفری اس سلسلے میں کہتے ہیں : جس وقت حضرت علی سن ٣٦ھ میں کوفہ منتقل ہوئے اس وقت سے بلکہ اس سے بھی پہلے یہ شہر در واقع بہت سی تحریکوں ، آرزؤں ، الہامات اوربسا اوقات شیعوں کی ہم آہنگ کوششوں کا مرکز تھا اور کوفہ کے اندر اور باہر بہت سے نا گوار حادثات رونما ہوئے جو تشیع کے آغاز کے لئے تاریخ ساز تھے ،ان حوادث میں جیسے جنگ جمل وصفّین کے لئے حضرت علی کا فوج کو آراستہ کرنا، امام حسن علیہ السّلام کا خلافت سے دورہونا ۔حجر بن عدی کندی کا قیام ، امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی در ناک شہادت ،انقلاب توابین اور قیام مختارمنجملہ انہیں حوادث میں سے ہیں ، اس کے باوجود کوفہ نا امّیدی و محرومیت کا مرکز تھا،حتی کہ شیعوں کے ساتھ خیانت، اور ان کی آرزوں کی پامالی ان لوگوں کی طرف سے تھی جو خاندان علی کواسلامی سماج میں قیادت کے عنوان سے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔(٢)

اگر چہ امام حسین کو قتل کرنے والے اہل کوفہ تھے،(٣) شیعوں کی بزرگ ہستیاں اس وقت ابن زیادکے زندان میں مقید تھیں ،(٤) دوسری طرف حضرت مسلم اور ہانی کی

____________________

(١) بلاذری ،انساب الاشراف،ص ٢٦٢

(٢) ڈاکٹر سید حسین جعفری ،تشیع در مسیر تاریخ، ترجمہ ڈاکٹر سید محمد تقی آیت اللھی، دفتر نشر فر ہنگ اسلامی، طبع قم ، ١٣٧٨ھ، ص ١٢٥

(٣) مسعودی ، علی بن حسین، مروج الذھب،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ١٤١١ھ، ج٣، ص٧٣

(٤) مظفر محمد حسین تاریخ الشیعہ،منشورات مکتب بصیرتی ، ص٦٧


شہادت سے شیعہ ابن زیاد جیسے قوی خونخوار دشمن کے مقابلے میں بغیررہبر کے سر گردان و پریشان تھے لیکن امام حسین کی شہادت کے بعدوہ خواب غفلت سے بیدار ہوئے، توابین اور مختارکا قیام عمل میں آیا ،کوفہ اہل بیت کے ساتھ دوستی اور بنی امیہ کے ساتھ دشمنی میں مشہور تھا یہاں تک کہ مصعب بن زبیر نے اہل کوفہ کے دلوں کو اپنی طرف موڑنے کے لئے محبت اہل بیت کا اظہار کیا اور اسی وجہ سے امام حسین کی بیٹی سے شادی کی۔(١)

پہلی صدی ہجری کے تمام ہونے تک اگر چہ نئے شیعہ نشین علاقے قائم ہوچکے تھے پھر بھی کوفہ شیعوں کا اہم ترین شہرشمار کیا جاتا تھا ۔

جیسا کہ عباسی قیام کے رہنما محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس نے دوسری صدی کی ابتدا اور بنی امیہ کے خِلاف قیام کے شروع میں بطور شفارش اپنی طرف دعوت دینے والوں سے کہا:یادرہے کوفہ اور اس کے اطراف میں شیعیان علی ابن ابی طالب رہتے ہیں ۔(٢)

____________________

(١) ابن قتیبہ ، ابی محمد عبداللہ بن مسلم ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، طبع اوّل ، ص ٢١٤

(٢) فخری نقل کرتا ہے: محمد بن علی نے اپنے چاہنے والوں اور مبلغوں سے کہا : کوفہ اور اس کے اطراف میں علی بن ابی طالب کے شیعہ رہتے ہیں ،بصرہ کے لوگوں نے عُثمانی جماعت کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے لیکن جزیرہ کے لوگ حروری مسلک اور دین سے خارج ہیں ، شام کے لوگ آلِ ابوسُفیان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے اور بنی مروان کے علاوہ دوسرے کی اطاعت نہیں کرتے لیکن مدینہ اور مکہ کے لوگ ابو بکر اورعمر کی سیرت پر ہیں اس بنا پر خُراسان کے لوگوں سے غفلت نہ کرو کیونکہ وہاں کے لوگ بہت ہوشیار ، پاک دل اور آسودہ خاطر ہیں ، انہیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے نہ تو مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں اور نہ ہی دین و دیانت کے پابند ہیں ۔( ابن طباطبا ،الفخری فی اٰداب السُلطانیہ،طبع مصر ،ص ١٠٤


دوسری اور تیسری صدی ہجری میں بھی طالبیوں کے چند افراد نے کوفہ میں قیام کیا تھا ، عباسیوں کے دور میں عراق میں بغداد ایک اہم شہر بن چکا تھا اس کے باوجود بھی کوفہ نے اپنی سیاسی اہمیت کو ہاتھوں سے نہ جانے دیا اوردوسری صدی ہجری کے آخری نصف میں ابوالسرایا کی سپہ سالاری میں ابن طبا طبا کا قیام اس شہر میں عمل میں آیا ۔(١)

اسی وجہ سے بنی امیہ کی طرف سے کوفہ کی سخت نگرانی ہونے لگی اور سفّاک و ظالم افراد جیسے زیاد، ابن زیاداور حجّاج بن یوسف اس شہر کے حاکم بنادیئے گئے وہاں کے حکاّم علویوں کے مخالف تھے اور اگر اتفاق سے کوئی حاکم مثل خالد بن عبداللہ قسری اگر تھوڑاسا شیعوں پر رحم بھی کرتا تھا تو فوراً اس کو ہٹا دیا جاتاتھا حتیٰ کہ اس کو زندان میں ڈال دیا جاتا تھا۔(٢)

کوفہ سیاسی حیثیت کے علاوہ علمی اعتبار سے بھی ایک اہم شہر شمار ہوتا تھا اور شیعہ تہذیب وہاں پرحاکم تھی، اس شہر کاعظیم حصّہ ائمہ کے شیعہ شاگردوں پر مشتمل تھا ، شیعوں کے بہت سے بزرگ خاندان اس شہر کوفہ میں زندگی گذارتے تھے کہ جنہوں نے شیعہ تہذیب کی بے حد خدمت کی ،جیسے آل اعین امام سجاد کے زمانے سے غیبت صغریٰ تک اس خاندان کے افراد ائمہ طاہرین کے اصحاب میں سے تھے، اس خاندان سے ساٹھ جلیل القدر محدثین پیدا ہوئے جن میں زرارہ بن اعین،حمران بن اعین ، بکیر بن اعین ، حمزہ بن حمران ،محمد بن حمران ،عبید بن زُرارہ کہ یہی عبید امام صادق کی شہادت کے بعد

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، منشورات شریف الرضی ، قم، ١٤١٦ ھ ق ، ص٤٢٤ ۔ ٤٣١

(٢) بلاذری ، ، انساب الاشراف، دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ، ٣٩٧ ھ ج ٣، ص ٢٣٣


اہل کوفہ کی طرف سے نمائندہ بن کر مدینہ آئے تھے تاکہ امامت کے متعلق پیدا ہونے والے شبہات کو دور کریں اور کوفہ پلٹ جائیں ۔( ١)

آل ابی شعبہ بھی کوفہ میں شیعوں کا ایک بڑا خاندان تھا کہ ان کے جد ابو شعبہ نے امام حسن اور امام حسین سے حدیثیں نقل کی ہیں ،نجّاشی کا بیان ہے کہ وہ سب کے سب قابل اطمینان ا ور موثق ہیں ۔(٢)

اسی طرح آل نہیک جیسے شیعوں کے بڑے خاندان کوفہ میں رہتے تھے ،عبداللہ بن محمد اور عبد الرّحمن سمری انہیں میں سے ہیں ۔(٣)

کوفہ کی مساجد بالخصوص وہاں کی جامع مسجد میں ائمہ طاہرین کی احادیث کی تدریس ہوتی تھی ،امام رضا علیہ السلام کے صحابی حسن بن علی وشّا کہتے ہیں : کوفہ کی مسجد میں میں نے نوسو افراددیکھے کہ وہ سب امام صادق سے حدیث نقل کر رہے تھے۔(٤)

____________________

(١) بلاذری،ابو غالب ، رسا لة فی آل اعین،مطبعہ ربانی، اصفہانی ، ص ٢ ۔١٨

(٢) نجاشی ، ابو العباس احمد بن علی ، فہرست اسمأ مصنفی شیعہ،دفتر نشر اسلامی ،وابستہ جامعہ مدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ، ص ٢٣٠

(٣) نجاشی ، ابو العباس احمد بن علی ، فہرست اسمأ مصنفی شیعہ،دفتر نشر اسلامی ،وابستہ جامعہ مدرسین ، قم ، ٠٧ ١٤ھ ، ص٢٣٢

(٤) نجاشی ، ابو العباس احمد بن علی ، فہرست اسمأ مصنفی شیعہ،دفتر نشر اسلامی ،وابستہ جامعہ مدرسین ، قم ، ٠٧ ١٤ھ ، ص ٣٩ ۔ ٤٠ ) ۔


بصرہ:

بصر ہ و ہ شہر ہے کہ جس کی مسلمانو ں نے کوفہ کے ساتھ ہی ١٧ ھ

میں بنیاد رکھی ،(١) اگر چہ بصرہ کے لوگ عائشہ،طلحہ وزبیر کی حمایت کی وجہ سے عثمانی حوالے سے شہرت رکھتے تھے جس زمانے میں جمل کی فوج بصرہ میں مقیم تھی شیعیان امیر المومنین بھی وہاں زندگی بسر کرتے تھے اور امیر مومنین کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ان کے شیعوں نے دشمنوں سے جنگ بھی کی کہ جس میں کافی تعداد میں لوگ شہید ہوئے جیسا کہ شیخ مفید نے نقل کیا ہے کہ فقط عبدالقیس قبیلہ سے پانچ سو شیعہ افراد شہید ہوئے۔(٢)

بلاذری کے نقل کے مطابق ربیعہ قبیلہ کے تین ہزار شیعہ محل ذی قار میں حضرت سے ملحق ہوئے ۔(٣)

جنگ جمل کے بعد بصرہ میں عثمانی رجحان بڑھنے کے باوجود کافی تعداد میں شیعہ وہاں زندگی بسر کر تے تھے ،اسی وجہ سے جب معاویہ نے ابن حضرمی کو فتنہ ایجاد کرنے کے لئے وہاں بھیجا تو اس کواس بات کی تاکید کی کہ بصرہ میں رہنے والے کچھ لوگ شیعہ ہیں بعض قبائل جیسے ربیعہ سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی، بہر حال عثمانی خیال وہاں پر زیادہ تھے اور اگرحضرت علی علیہ السّلام کوفہ سے فوج نہیں بھیجتے تو ابن حضرمی کی فتنہ پردازیوں سے بصرہ عثمانیوں کے ذریعہ ان کے کنٹرول سے نکل جاتا ۔(٤)

____________________

(١) یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبداللہ ، معجم البلدان،دار احیا ء التراث العربی ، بیروت طبع اوّل ، ١٤١٧ ھ، ج ٢ ، ص ٣٤٠

(٢) شیخ مفید، الجمل، مکتب الاعلام الا سلامی ،مر کز نشر ، قم ، ١٤١٦ھ،ص٢٧٩

(٣)انساب الاشراف،منشورات موسسئہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٣٩٤ ھ ، ج ٢ ، ص ٢٣٧

(٤) ثقفی کوفی ، ابراھیم بن محمد ، الغارت ،ترجمہ محمد باقر کمرہ ای ، فرہنگ اسلامی ،ص١٦٦


واقعہ کربلا کے وقت بھی امام حسین نے بصرہ کے چند بزرگوں کو خط لکھا ان میں سے یزید بن مسعود نہشلی نے امام کی دعوت کو قبول کیااور لبیک کہا اورکچھ قبائل بنی تمیم ، بنی سعد، اور بنی حنظلہ کو جمع کرکے ان کو امام حسین کی مدد کے لئے دعوت دی ، اس وقت ان قبیلوں نے اپنی آمادگی کا خط امام کو لکھا ،لیکن جب امام حسین سے ملحق ہونے کے لئے آمادہ ہوئے توان کو حضرت کی خبر شہادت ملی۔( ١)

مسعودی کے نقل کے مطابق توابین کے قیام میں بھی بصرہ کے کچھ شیعہ مدائن کے شیعوں کے ساتھ فوج میں ملحق ہوئے لیکن جس وقت وہاں پہنچے جنگ تمام ہو چکی تھی۔(٢)

بنی امیہ کے دور میں بصرہ کے شیعہ زیاد اور سمرہ بن جندب جیسے ظالموں کے ظلم کا شکار تھے، زیاد ٤٥ھ میں بصرہ آیا اور خطبہ بتراء پڑھا ،(٣) کیونکہ زیاد نے اس خُطبہ کو بغیر نام خدا کے شروع کیا اس لئے اس کو بتراء کہا جانے لگا اس نے اس طرح کہا: خدا کی قسم میں غلام کوآقا، حاضر کو مسافر ، تندرست کو بیمار کے گناہ کی سزا د وں گا یہاں تک کہ تم ایک دوسرے کا منھ دیکھو گے اور کہو گے سعد خود کو بچائو کہ سعید تباہ ہو گیا،آگاہ ہو جائواس کے بعد اگر کوئی بھی رات میں باہر نکلاتومیں اس کا خون بہادوں گا اپنے ہاتھوں اور

____________________

(١)امین ، سید محسن ، اعیان الشیعہ ،دارالتعارف للمطبوعات ، بیروت ،( بی تا ) ج ١ ،ص ٥٩٠

(٢)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ ج٣ ، ص ١٠٩

(٣) بتراء ابتر کا مؤنث ہے جس کے معنی بریدہ اور ناقص کے ہیں حدیث میں ہر وہ گفتگو جو خُدا کے نام سے شروع نہ ہو اس کو ابتر کہا جاتا ہے۔


زبان کو بند رکھنا تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امان میں رہو،(١) بعد میں کوفہ بھی زیادکے کنٹرول میں آگیا، زیاد چھ ماہ کوفہ میں رہتاتھا اور چھ ماہ بصرہ میں جس وقت کوفہ جاتا تھا سمرة بن جندب کو بصرہ میں اپنی جگہ معین کر دیتا تھا، سمرہ ایک ظالم شخص تھا جو خون بہانے میں ذرہ برابر بھی اعتنانہیں کرتا تھا اس نے زیاد کی غیر موجود گی میں آٹھ ہزار افراد کو قتل کیا(٢) وقت کے ساتھ ساتھ بصرہ میں شیعیت بڑھتی گئی یہاں تک کہ حکومت عباسی کے آغاز میں دوسرا علوی قیام جو محمد نفس زکیہ کے بھائی ابراہیم کانے کیا بصرہ میں واقع ہوا ۔(٣)

مدائن :

کوفہ اور بصر ہ کے بر خلاف مدائن ایساشہر ہے کہ جو اسلام سے پہلے بھی موجود تھا اور سعد بن ابی وقاص نے ١٦ھ میں عمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں اس کو فتح کیا، ایک قول کے مطابق نوشیرواں نے اس شہر کی بنا رکھی اور فارسی میں اس کانام تیسفون تھا جو ساسانیان کے پائے تخت میں شمار ہوتا تھا طاق کسریٰ بھی اسی شہر میں واقع ہے اس شہر میں سات بڑے محلے تھے ہر محلہ ایک شہر کے برابر تھا اسی بنا پر عربوں نے اسے مدائن کہا جو مدینے کی جمع ہے البتہ کوفہ بصرہ ،بغداد ،واسط اور سامرہ جیسے جدید شہروں کی بناکے بعد یہ شہر ویران ہوتاگیا۔(٤)

____________________

(١) شہیدی ڈاکٹر سید جعفر ، تاریخ تحلیل اسلام تا پایان امویان،مر کز نشر دانشگاہ علمی ، تہران ، ص ١٥٦

(٢)طبری ، محمد بن جریر ، تاریخ الامم والملوک،دار القاموس الحدیث ، بیروت ، ج ٦ ، ص ١٣٢

(٣)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ١٤١٦ ھ ، ص٢٩٢

(٤)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ،معجم البلدان، طبع اول ، ١٤١٧ھ ، ج٧ ص ٢٢١۔٢٢٢، مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ج١ ص ٢٦٧


پہلی دوسری وتیسری صدی ہجری تک مدائن شیعہ نشین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور یہ جلیل القدرشیعہ اصحاب جیسے سلمان فارسی ،حذیفہ بن یمان کی حکمرانی کی وجہ سے تھا اسی وجہ سے مدائن کے لوگوں نے اسلام کوشروع میں شیعہ اصحاب سے قبول کیا تھا قیام توابین میں شیعیان مدائن کے نام واضح و روشن ہیں ،مسعودی کا بیان ہے سلیمان بن صرد خزاعی اور مسیب بن نجبہ فزاری کی شہادت کے بعد توابین کی قیادت کی ذمہ داری عبداللہ بن سعد بن نفیل نے اپنے ذمہ لے لی ،اس وقت مدائن و بصرہ کے شیعوں کی تعداد تقریباً پانچ سو افرادتھی اور مثنیٰ بن مخرمہ اور سعد بن حذیفہ ان کے سردار تھے ، تیزی سے آگے آئے اور اپنے کو توابین تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن نہیں پہنچ سکے،(١) یاقوت حموی کے قول کے مطابق اکثر اہل مدائن شیعہ تھے ۔(٢)

جبل عامل:

پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین مناطق میں سے ایک جبل عامل تھا یہاں شیعیت اس وقت سے وجودمیں آئی جب عثمان نے جناب ابوذرکو ملک شام شہربدرکیا مرحوم سید محسن امین کہتے ہیں :

معاویہ نے بھی ابوذر کو جبل عامل کے دیہاتوں میں شہر بدرکردیا ابوذر وہاں لوگوں کی ہدایت اور تبلیغ کرتے رہے، لہذا وہاں کے لوگوں نے مذہب تشیع اختیار کر لیا جبل عامل کے دو گائوں صرفند ،اور میس میں دو مسجدیں ہیں ، جو ابوذر سے منسوب ہیں یہاں تککہ امیر المومنین کے زمانے میں اسعار نام کے گائوں میں شیعہ مذہب کے

____________________

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، ج٣ص ١٠٩

(٢)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ،معجم البلدان، طبع اول ، ١٤١٧ھ ، ج٧ ص٢٢٢


لوگ تھے۔(١)

مرحوم مظفر نے بھی وہاں کے تشیع کے بارے میں کہا ہے جبل عامل میں تشیع کی ابتدا ابوذر غفاری کے فضل سے ہے ،(٢) کرد علی کا بھی کہنا ہے :دمشق ،جبل عامل اور شمال لبنان میں تشیع کا آغازپہلی صدی ہجری سے ہی ہے۔(٣)

____________________

(١)اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج١، ص ٢٥

(٢)تاریخ الشیعہ، منشورات مکتبة بصیرتی ، ص ١٤٩

(٣)خطط الشام ، مکتبة النوری ، دمشق ،طبع سوم ،١٤٠٣ھ ١٩٨٣ ج ٦ ص ٢٤٦


(ب)دوسری صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے

دوسری صدی ہجری کی ابتدا میں تشیع جزیرةالعرب اور عراق کی سرحدوں سے عبور کر کے تمام اسلامی مناطق میں پھیل گیا ،شیعوں اور علویوں کے اسلامی سرزمینوں میں پھیلنے سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانہ سے شیعوں اور علویوں کی مہاجرت شروع ہوئی دوسری صدی ہجری کے شروع میں علویوں کی تبلیغ اور قیام سے اس ہجرت میں تیزی آ گئی کوفہ میں قیام زید کے شکست کھانے کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ نے اپنے چند چاہنے والوں کے ساتھ خراسان ہجرت کی،(۱) اس کے بعد عبد اللہ بن معاویہ کاقیام عمل میں آیا،یہ جعفر طیار کے بیٹوں میں سے ہیں انہوں نے ہمدان ،قم، ری،قرمس،اصفہان اورفارس جیسے مناطق کو اپنے قبضہ میں کیا اور خود اصفہان میں زندگی گذاری۔

____________________

(۱)ابوالفرج اصفھانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤١٦ھ ص١٤٦


ابوالفرج اصفہانی کا بیان ہے : بنی ہاشم کے بزرگ اس کے پاس جاتے تھے اور وہ ہر ایک کے لئے کو اطراف میں حکومت فراہم کرتا تھایہاں تک کہ منصور اور سفاح عباسی نے بھی اس کا ساتھ دیا ،مروان حمار اورابو مسلم کے زمانہ تک وہ اپنی جگہ پر مستحکم تھا۔(١)

عباسیوں کے دور میں مسلسل علوی قیام وجود میں آتے رہے ان قیام کا ایک حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف علاقہ میں علوی افرادپھیل گئے جیسا کہ منصور کی حکومت میں محمد نفس زکیہ کے قیام کی شکست کے بعد امام حسن کی اولاد مختلف منا طق میں پھیل گئی، مسعودی کا اس بارے میں کہنا ہے :

محمد بن عبداللہ (نفس زکیہ )کے بھائی مختلف ملکوں میں پھیل گئے علی بن محمد مصر چلے گئے اور وہیں پر قتل کر دیئے گئے دوسرے بیٹے عبداللہ بن محمد نے خراسان اور وہاں سے سندھ مہاجرت کی اور وہاں مار دیئے گئے تیسرے بیٹے حسن بن محمدنے یمن کا سفر کیا وہاں زندان میں ڈال دئے گئے اور زندان ہی میں دنیا سے رخصت ہوگئے ا ن کے بھائی موسیٰ نے جزیرہ کا رخ کیا اور دوسرے بھائی یحٰ نے ری اور وہاں سے طبرستان کا سفر کیا، ان کے تیسرے بھائی مراقش چلے گئے اور چوتھے بھائی ابراہیم نے بصرہ کا رخ کیا اور نے وہاں پر اہواز ،فارس اور دوسرے شہروں کے لوگوں کے ساتھ ملکرلشکر بنایا لیکن ان کاقیام شکست کھاگیا۔(٢)

اگر چہ ان میں سے زیادہ تر عباسی مامورین کی نگرانی میں تھے اور ایک جگہ

____________________

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤١٦ھ،ص :١٥٧

(٢)مسعودی ،علی بن حسین، مروج الذھب،منشورات مؤسسةالاعلمی للمطبوعات ،بیروت ١٤١١ھ، ج٣،ص٣٢٦


قیام نہیں کر سکتے تھے اورقتل ہوجاتے تھے لیکن اپنے اثرات چھوڑ جاتے تھے کبھی ان کے بیٹے ان علاقوں میں رہتے تھے، جیسا کہ عبداللہ نفس زکیہ کا بیٹا ،مسعودی کے نقل کے مطابق وہ خراسان میں نہیں رہ سکے اور سندھ کی طرف چلے گئے،( ١)لیکن صاحب کتاب ''منتقلة الطالبیین'' کے نقل کے مطابق عبداللہ بن ابراہیم خراسان میں رہتے تھے اور ان کے قاسم اور محمد نام کے دو بیٹے تھے،(٢) اسی طرح ماوراء النہرمیں کچھ ایسے گروہ تھے کہ جو اپنے کو ابراہیم بن محمد نفس زکیہ سے نسبت دیتے تھے۔(٣)

اب ہم ان شہراورعلاقوں کے حالات کی تحقیق کریں گے جہاں دوسری صدی ہجری میں شیعہ کثیر تعداد میں زندگی بسر کررہے تھے۔

خراسا ن :

دوسری صدی کے شروع ہو نے کے ساتھ ساتھ بنی ہا شم کے مبلغین کی تحریک اور کوشش سے خراسا ن کے اکثرلوگ شیعہ ہوگئے ۔(٤)

____________________

(١)مسعودی ،علی بن حسین، مروج الذھب،منشورات مؤسسةالاعلمی للمطبوعات ،بیروت ١٤١١ھ،ج٣،ص٣٢٦

(٢)ابن طباطبا،ابو اسماعیل بن ناصر ،منتقلةالطالبیین ،ترجمہ محمد رضا عطائی انتشارات آستانہ قدس رضوی ۔طبع اول١٣٧٢ش ھ،ص٢٠٧

(٣)ابن طباطبا،ابو اسماعیل بن ناصر ،منتقلةالطالبیین ،ترجمہ محمد رضا عطائی انتشارات آستانہ قدس رضوی ۔طبع اول١٣٧٢ش ھ:ص٤٠٣

(٤) اس بات پر توجہ رہے کہ بنی ہاشم کی اصطلاح اس زمانہ میں عباسیوں کو بھی شامل تھی کیونکہ ہاشم ان کے بھی جد تھے۔


یعقوبی نقل کرتا ہے: زید کی شہا دت کے بعد خراسان کے شیعہ جوش و خروش میں آگئے اور اپنے شیعہ ہونے کابرملہ ا ظہارکرنے لگے نیزمبلغوں اور خطیبوں نے بنی امیہ کی جانب سے خا ندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ہونے والے مظالم کا کھلم کھلا اعلان کرنا شروع کردیا۔(١)

یحییٰ بن زید خراسا ن چلے گئے اور اور چند دنوں تک مخفی زندگی گزاری جس وقت خروج کیا کافی لوگ ان کے ارد گر دجمع ہو گئے ،(٢)

مسعودی کے نقل کے مطابق جس سال یحٰ کا قتل ہو ا اس سال جوبچہ بھی خراسان میں پیدا ہوا اس کا نا م یحٰ رکھا گیا۔(٣)

البتہ خراسان کے شیعوں پر زیدیوں اور عباسیوں کے مبلغین کے سبب زیدیت اور کیسانیت کارنگ چڑھا ہو اتھاخاص کر عباسیوں نے اپنی خلافت کے آغاز میں محمد حنفیہ کے بیٹے محمد بن علی ابو ہاشم کی جانشینی کا اعلان کیا ،جیسا کہ ابو الفرج اصفہانی نے عبد اللہ بن محمد حنفیہ کے حالات کے ذیل میں لکھا ہے : یہ وہی ہیں جن کے بارے میں خراسان کے لوگوں کا گمان تھا کہ ان کے والد امام تھے اور یہ ان کے وارث ہیں اور ان کے وارث محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس ہیں اور محمد بن علی نے ابراہیم کو اپنا وصی بنایا ہے اس طرح سے عباسیوں میں جانشینی استوار ہوئی ،(٤) خراسانی مسلسل عباسیوں کے طرفدار تھے علویوں او ر عباسیوں کے درمیان ہونے والے نزاع کے دوران عباسیوں کی طرفداری

____________________

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ،منشورات شریف الرضی ،قم ، ١٤١٤ھ، ج٢ ص ٣٢٦

(٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤١٦ھ،ص ١٤٩

(٣)مسعودی ، علی بن حسین ،مروج الذھب، ص٣٣٦

(٤) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ص ١٢٣


کرتے تھے چنانچہ محمد نفس زکیہ کے ساتھ جنگ میں اکثر عباسی سپاہی خراسانی تھے اور فارسی میں گفتگو کرتے تھے، ابوالفرج اصفہا نی نقل کرتے ہیں : جس وقت محمد نفس زکیہ کے سرداروں میں سے ایک سردار بنام خضیر زبیری مدینہ سے فوجی چھائونی کی طرف آرہا تھاخراسانی فارسی میں کہہ رہے تھے :

خضیرآمدخضیر آمد۔(١)

قم:

دوسری صدی ہجری کے بعد قم اہم ترین شیعہ نشین شہرشمار ہوتا تھا اور اس شہرکی بنیاد نہ صرف یہ کہ اسلامی ہے بلکہ شیعوں کے ہاتھوں سے رکھی گئی ہے اور اس میں شروع سے ہی شیعہ آباد تھے اور ہمیشہ شیعہ اثنا عشری رہے کہ جو کبھی راستہ سے منحرف نہیں ہوئے ،نہ صرف یہ کہ سنیوں نے اس شہر میں کبھی سکونت نہیں کی بلکہ غالیوں کے لئے بھی یہاں آنا ممکن نہیں ہوااور اگرکبھی اس شہر میں آبھی جاتے تھے تو قم کے لوگ ان کو بھگادیتے تھے۔(٢)

یہاں کے بہت سے لوگوں نے ائمہ اطہار کی خد مت میں حاضری دی ہے اور ان بزرگوں سے کسب فیض کیا ہے اور مسلسل ائمہ سے رابطہ میں رہے ہیں ٨٢ ھ میں ابن اشعث کی شورش حجاج کے مقابلہ میں ناکام ہوگئی اور وہ کابل کی جانب فرار کر گیا ،(٣) ا س کی

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ص ٢٣٨

(٢) رجال بن داؤد ،منشورات الرضی ، ص ٢٤٠۔٢٧٠

(٣)مسعودی علی بن حسین ،مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی مطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ، ج٣ص ١٤٩


فوج میں بعض شیعہ بھی موجود تھے ،منجملہ عبداللہ ،احوص،نعیم ،عبدالرحمٰن اوراسحاق ،سعد بن مالک بن عامر اشعری جو ابن اشعث کی شکست کے بعد قم کی طرف آگئے ،وہاں سات گاؤں تھے ان میں ایک گاؤں کا نام کمندان تھا یہ سارے بھائی اس گاؤں میں ساکن ہو گئے اور ان کے رشتہ داراور رفقا ان سے ملحق ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ یہ تمام دہات آپس میں مل گئے اور سات محلوں کی طرح ہو گئے ان سب کو کمندان کہا جانے لگا آہستہ آہستہ آگے کے حروف کم ہوتے گئے اورترخیم ہوکر عربی میں قم ہو گیا۔(١)

اس کے بعد قم شیعوں کا ایک اہم مرکز ہو گیا اور شیعہ خصوصاًعلوی ہر جگہ سے یہاں آئے اور قم میں ساکن ہوگئے ،(٢) دوسری صدی ہجری کے آخر میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی تشریف آوری سے اس شہر کی تاریخی عظمت بڑھ گئی اور معصومہ(س)کے آنے کی برکت سے اس شہر کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ۔

بغداد:

دوسری صدی ہجری ١٤٥ ھ میں خلیفہ عباسی کے دوسرے خلیفہ منصور کے ذریعہ اس شہر کی بنا رکھی گئی اور بہت جلدی شیعوں کا مرکز ہو گیا ،(٣) اس چیز کو امام کاظم کی تشییع جنازہ میں پوری طرح ملاحظہ کیا جاسکتا ہے،شیعوں کے ازدہام اور جم غفیر کی

____________________

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ، معجم البلدان ،دار احیاء التراث العربی ، بیروت، طبع اول ، ١٤١٧ھ، ج٧ ص ٨٨

(٢)ابن طبا طبا ، ابو اسماعیل بن ناصر ، منتقلةالطالبین ،ترجمہ ، محمد رضا عطائی ، انتشارات آستان قدس رضوی ، طبع اول ، ١٣٧٢ھ ص ٣٣٣۔٣٣٩

(٣)حموی ،یاقوت بن عبد اللہ ،معجم البلدان،دار احیاء التراث ، بیروت ج ٢ ص ٣٦١


بناپر عباسی خوف زدہ ہو گئے،سلیمان بن منصور، ہارون کا چچا لوگوں کے غصہ کو کم کرنے کے لئے پا برہنہ تشییع جنازہ میں شریک ہوا ۔(١)

بغدادکی بنیاد عراق میں رکھی گئی اور عراق کے اکثر لوگ شیعہ تھے اگر چہ ابتدا میں یہ ایک فوجی و سیاسی شہر تھا ،مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ جہان اسلام کی علمی مرکز یت یہاں منتقل ہوگئی اور کوفہ بصرہ مدائن کے شیعہ یہاں ساکن ہو گئے، اور مختصر سا زمانہ گزرنے کے بعد یہاں کی آبادی بہت زیادہ ہو گئی رفتہ رفتہ غیبت صغریٰ کے بعد شیعہ مذہب کی علمی مرکزیت بھی یہاں منتقل ہو گئی اور آل بویہ کی شیعہ حکومت کے سائے میں وہاں تشیع نے مزیدرونق حاصل کی، اس کے بعد شیخ طوسی نے شیعی مرکزیت کو نجف منتقل کیا ۔

(ج)تیسری صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے

تیسری صدی ہجری میں شیعوں کی جغرافیائی صورت حال کو دو طریقہ سے مورد بحث قرار دیا جا سکتا ہے :

اسلامی سر زمین میں شیعہ حکومتوں کی تشکیل،٢٥٠ھمیں علویوں نے طبرستان میں حکومت تشکیل دی،(٢) تیسری صدی ہجری کے اواخر میں سادات حسنی نے یمن میں زیدیوں کی حکومت تشکیل دی،٢٩٦ھمیں فاطمی حکومت شمال افریقہ میں تشکیل پائی،(٣) اگرچہ یہ حکومتیں شیعہ اثنا عشری کے مبانی اور اصولوں پر استوار نہیں تھیں اس

____________________

(١)امین سید محسن ،اعیان الشیعہ، دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج١ ص ٢٩

(٢) ابی محمد بن جریر طبری ،تاریخ طبری، دار الکتب العلمیہ ، بیروت، طبع دوم ، ١٤٠٨ھ ج٥ ص ٣٦٥

(٣) جلال الدین سیوطی ، تاریخ الخلفائ،منشورات الرضی ، طبع اول ، ١٤١١ھ ،ج ص ٥٢٤


کے باوجود ان حکومتوں کا وجود ان علاقوں اور سر زمینوں پر فروغ شیعیت کے لئے ایک سنگ میل قرار پایا،زیدیوں اور اسماعیلیوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا ۔

دوسرا راستہ ان مناطق کی فہرست ہے جہاں ائمہ اطہار کے وکیل تھے، وکالت کا نظام امام صادق کے دور سے شروع ہوا اور امام ہادی و امام حسن عسکری کے زمانے میں یہ نظام اپنے عروج پر تھا اور پوری طرح سے اس کی فعالیت جاری و ساری تھی جن مناطق میں ائمہ کے وکلاتھے وہ حسب ذیل ہیں : اہواز، ہمدان، سیستان، بست،ری، بصرہ،واسط، بغداد ،مصر، یمن،حجاز،مدائن۔(١)

البتہ تیسری صدی ہجری کے آخر میں کوفہ،قم ،سامرہ اور نیشاپور اہم ترین شیعہ شہروں میں شمار ہونے لگے، ان جگہوں پر شیعہ فقہ کی تدریس ائمہ معصومین کی احادیث کی بنیاد پر ہوتی تھی، ہاں تیسری صدی ہجری کے بعد کوفہ کی رونق کم ہو گئی اور آہستہ آہستہ بغداد نے اس کی جگہ لے لی آل بویہ کے وہاں آنے سے نیز بزر گان شیعہ جیسے شیخ مفید سید مرتضیٰ،سید رضی ،شیخ طوسی کے وجود سے بغداد کے حوزۂ علمیہ کو مزید فروغ ملا۔

بغداد میں شیعہ نفود کے بارے میں آدام متزچوتھی صدی ہجری کے حوالہ سے لکھتا ہے : بغداد جو تمام جہت سے اسلام کا پایہ تخت تھا اورہر طرح کے فکری نظریات کا دریا وہاں موجزن تھا ،تمام مذاہب کے طرفدار وہاں موجود تھے جن میں دو گروہ سب سے زیادہ قوی اور حد سے زیادہ متعصب تھے، ایک حنبلی دوسرے شیعہ، طرفداران تشیع بازار کرخ کے اطراف میں منظم طریقہ سے مقیم تھے اور چوتھی صدی ہجری کے آخر میں پل

____________________

(١)پور طباطبائی ، مجید،تاریخ عصر غیبت، مرکز جہانی علوم اسلامی ، ص ١١٩


کے اس طرف باب الطاق میں بھی آباد ہوگئے دجلہ کے غرب میں خصوصاًباب بصرہ میں ہاشمیوں (سادات عباسی) نے ایک طاقتور اور قوی دستہ تشکیل دیا تھا، جو شیعوں سے شدید دشمنی رکھتا تھا یاقوت لکھتا ہے :

باب البصرہ کے محلے میں رہنے والے کرخ و قبلہ کے درمیان سب سنی حنبلی ہیں بائیں ہاتھ اور جنوب کے محلے میں بھی سبھی سنی ہیں لیکن کرخ کے تمام افراد شیعہ امامیہ ہیں اور ان کے در میان سنیوں کا وجود نہیں ہے۔

مؤرخین کے مطابق بغداد کے شیعوں نے ٣١٣ھ میں سب سے پہلے مسجد براثا میں اجتماع کیا وہاں کے خلیفہ کو یہ خبر ہوگئی کہ ایک گروہ خلفا پر لعنت کرنے کے لئے وہاں جمع ہوا ہے حاکم کے حکم کے مطابق روز جمعہ نماز کے وقت اس جگہ کا محاصرہ کرلیا گیا اور تیس نمازیوں کو گرفتار کرکے ان کے بارے میں چھان بین کی گئی ،ان کے پاس ایک سفید مٹی کی سجدگاہ برآمد ہوئی کہ جس پر امام کا نام منقوش تھا ،٣٢١ھ سردار ترک میں علی بن یلبق نے حکم دیا کہ معاویہ اور یزیدپر منبروں سے لعنت کی جائے، سنیوں نے اس کے خلاف شورش برپا کی، جن کی عنان حنبلیوں کے پیشوا اور ان کے دوستوں کے ہاتھ میں تھی، حنبلیوں کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے ٣٢٣ھ میں بغداد میں یہ قانون پاس کیا گیا کہ دوحنبلی ایک جگہ جمع نہ ہوسکتے اور خلیفہ نے ایک خط لکھا جس میں حنبلیوں کی غلطیوں کی سزا معین کی(١) اور یہ چیز مشہور ہو گئی۔

____________________

(١)آدم متزتمدن اسلامی درقرن چہارم ہجری،ترجمہ علی رضا ذکاوتی قرا گز لو، انتشارات امیر کبیر،تہران،طبع دوم ،١٣٦٤ہجری،ص٨٥،٨٦


قبائل کے درمیان تشیّع

اصولی طور پر عدنانیوں کے مقابلہ میں قحطانی قبائل میں حضرت علی کے چاہنے والے اور ان کے شیعہ زیادہ تھے اور قحطانیوں کے درمیان تشیع کو زیادہ فروغ ملا امیرالمؤمنین کے دور خلافت میں آنحضرت کے سر کردہ افراد اور سپاہی نیزاہل شیعہجنوب عرب کے قبائل اور قحطانی تشکیل دیتے تھے، جیسا کہ حضرت نے ایک رجز میں صفین کے میدان میں اس طرح فر مایا :

انا الغلام القرشی المؤتمن

الماجد الابیض لیث کالشطن

میں امین اور بزرگوار قریش کا ایک جوان ہوں سفید رو اور مثل شیر ہوں ۔

یرضی به السادة من اهل الیمن

من ساکنی نجد ومن اهل عدن(١)

اہل یمن کے بزرگ اور عدن کے رہنے والے اس سے راضی ہیں ۔

اسی طرح پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان علی کے طرفداروں میں سب سے زیادہ انصار تھے جو اصل میں قحطانی تھے اور علی کے ساتھی مدینہ سے جمل تک انصار ہی تھے۔(٢)

ابن عباس نے بھی امام حسین سے کوفہ کی جانب کوچ کرتے وقت کہاتھا:'' اگر اہل عراق آپ کے خوا ہاں ہیں اور آپ کی مدد کے لئے آمادہ ہیں تو ان کو لکھ بھیجے کہ میرے دشمن

____________________

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،موسسہ انتشارات علا مہ ،قم ،ج٣،ص١٧٨

(٢)بلاذری ،انساب الاشراف،ج٣،ص١٦١


کو باہر نکال دیں ، اس کے بعد آپ وہاں جائیں ورنہ آپ یمن کی جانب رحلت کریں کیونکہ وہاں ایسے پہاڑ اور قلعے ہیں جو عراق میں نہیں ہیں یمن ایک بزرگ سر زمین ہے اوروہاں آپ کے والد کے شیعہ موجود ہیں ،اس جگہ آپ اپنے مبلغین کو اطراف میں بھیجئے تاکہ لوگ آپ کی طرف آئیں ''امام حسین کے اصحاب بھی بنی ہاشم اورچند غفاریوں کے علاوہ سب یمنی قبائل میں سے تھے۔(١)

جیساکہ مسعودی کا بیان ہے:

اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں صرف چار افراد حضرت امام حسین کے ساتھ شہید ہوئے اور یہ چاروں افرادانصارمیں سے تھے۔(٢)

انصار کا انتساب بھی قبائل یمن کے ساتھ معلوم ہے اس کے برخلاف اشراف قریش، علی اور خاندان علی کے دشمن تھے (جس طرحسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن تھے )ان کے درمیان دوست بہت کم تھے یہاں تک وہ قبائل جن کاقریش کے ساتھ نزدیکی رابطہ تھا وہ بھی ہمیشہ علی کے مخالفین کی صف میں کھڑے ہوتے تھے مثل قبیلۂ ثقیف اور اہل طائف کہ جو جنگ صفین میں اور اس کے بعد معاویہ کے طرفدار تھے ، جس وقت معاویہ نے بسر بن ارطاة کو حجاز اور یمن کی غارت گری کے لئے بھیجا اور جس وقت وہ طائف کے نزدیک پہنچا تو مغیرہ بن شعبہ اس کے استقبال کے لئے آیا اور کہا : خدا تجھے جزائے خیر دے، تو دشمن کے ساتھ سخت گیر اور دوستوں کے ساتھ احسان کرنے والا ہے اس کی خبر مجھ کو ملی ہے'' بسر نے کہا : اے مغیرہ !میں چاہتا ہوں کہ اہل طائف پردبائوڈالوں تاکہ معاویہ کی بیعت

____________________

(١)کلبی،جمہرة النسب،عالم الکتب ،بیروت ،ص٨٨

(٢)مسعودی،علی بن الحسین،مروج الذھب ، بیروت،١١١٤ھ ج :٣، ص ٧٤


کریں ،مغیرہ نے کہا : جو برتائو تو نے دشمنوں کے ساتھ کیا وہی برتائو تو دوستوں کے ساتھ کیوں کرنا چاہتا ہے ایسا کام انجا م نہ دے ورنہ سب تیرے دشمن ہو جائیں گے۔(١)

بنی ہاشم کے علاوہ قریش کے معدودے چند افراد حضرت علی کے ساتھ تھے جیسے محمد بن ابی بکر اور ہاشم مرقال اگر چہ قریش کے ان اندھیروں اور ظلمتوں کے درمیان کچھ لوگ حضرت علی کے ساتھ تھے۔ مثلاًخالد بن ولید جو دشمن امیرالمومنین میں سے تھا اس کابیٹا مہاجر بن خالد صفین میں حضرت کے سپاہیوں میں تھا، یا عبداللہ بن ابو حذیفہ معاویہ کے ماموں کا بیٹا حضرت علی کے مخلص شیعوں میں سے تھا اور آخر میں معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا،یمن کے تمام قبیلوں میں علی کے دوست اور طرفدار موجود تھے مثلاً قبائل کندہ ، نخع ،ازد جہینہ ،حمیر بجیلہ، خثعم، خزاعہ، حضرموت ،مذحج ،اشعر ،طی،سدوس،حمدان اور ربیعہ،(٢) لیکن ان میں دو قبیلہ حمدان اور ربیعہ سب سے آگے تھے ۔(٣)

حمدانی زمانہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ہی حضرت علی کے ذریعے اسلام لائے اور مسلمان ہوگئے تھے اور حضرت کے دوست نیز ان کے مخلص شیعوں میں شمار ہوتے تھے ،مسعودی کہتا ہے: صفین میں ان میں سے ایک آدمی بھی معاویہ کی فوج میں نہیں تھا۔(٤)

حضرت علی نے حمدان کے بارے میں فرمایا:

____________________

(١)شہیدی ، دکتر سید جعفر ،تاریخ تحلیل اسلام تا پایان امویان ،مرکز نشر دانش گاہی ، تہران ١٣٦٣ھ، ص١٣٧

(٢)احمد بن محمد بن خالد البرقی،رجال برقی،موسسہ القیوم ص٣٧ج٤٠ ، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ،دار احیاء الکتب العربیة،قاہرہ ،ج ٣،ص١٩٣

(٣)ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب،موسسہء انتشارات علامہ، قم ،ج٣،ص١٧٨

(٤)مسعودی مروج الذھب،منشورات موئسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت،ج٣، ص٩٩


و لوکنت بواً باًعلیٰ باب الجنة

لقلت لحمدان ادخلوا بسلام( ١)

اگر میں بہشت کا دربان رہا تو قبیلہء حمدان سے کہوں گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائیں ۔

معاویہ حمدانیوں سے دلی دشمنی رکھتا تھا وہ صفین میں ایک دن میدان میں آیا اور یہ اشعار پڑھے :

لاعیش الا فلق الهام

من ارحب ویشکر شبام

زندگی نہیں چاہئے مگراس لئے کہ حمدان کے قبیلوں میں سے یشکر و شبام اور ارحب کے سروں کو جدا نہ کر دوں ۔

قوم هم اعداء اهل الشام

کم من کریم بطل همام

وہ لوگ جو شام والوں کے دشمن ہیں ان میں بہت سے لوگ کریم النفس بلند مرتبہ نیز شجاع و بہادرہیں ۔

و کم قتیل و جر یح ذام

کذلکٔ حرب السادة الکرام

اگر چہ ان میں سے کتنے مر گئے ہیں اور مجروح و معلول ہو گئے ہیں لیکن

____________________

(١)بلاذری ،انساب الاشراف،منشورات موئسسة الاعلمی بیروت،ج٢،ص٣٢٢


ہاں بہادروں کی جنگ اسی طرح ہوتی ہے۔

اس وقت سعد بن قیس نے اس رجز کو پڑھتے ہوئے کہا:

لا هم رب الحل والحرام

لا تجعل الملکٔ لأهل الشام

اے حل و حرام کے پرور دگار !حکومت کو اہل شام کے لئے قرار نہ دے''

ہاتھ میں نیزہ لئے آگے بڑھے اور معاویہ پر حملہ کیا معاویہ وہاں سے فرار ہوکر لشکر شام میں داخل ہو گیااور ذوالکلاع (جو شام کے لشکر کا ایک کمانڈر تھا)کو سعد بن قیس کے مقابلہ کے لئے بھیجا ،تمام شب ان کے درمیان جنگ جاری رہی، آخر میں اہل شام نے اپنی شکست قبول کرلی اور فرار ہو گئے اس وقت امیرالمؤمنین نے ان کی تشویق کے لئے یہ اشعار پڑھے:

فوارس من حمدان لیسوا بعزل

غداة الوغیٰ من شاکر وشبام

حمدان کے شہ سوار جو شاکر و شبام کے قبائل میں سے تھے وہ جنگ کی صبح تک سست نہیں ہوئے ۔

یقودهم حامی الحقیقة ماجد

سعید بن قیس والکریم محام

حقیقت کے حامی و طرفدار عظیم شخص سعد بن قیس ان کی کمانڈری کرتے ہیں اور شریف لوگوں کی انہیں حمایت حاصل ہوتی ہے۔


جزی الله حمدان الجنان فانهم

سهام العدی فی کل یوم حمام(١)

خدا قبیلۂ حمدان کو بہشت عطا کرے اس لئے کہ جنگ کے دنوں میں یہ دشمنوں کے قلب کے لئے نیزہ و تیر ہیں ۔

اس طرح فوج شام کی جانب سے حمدان کے خلاف جنگ صفین میں پڑھے جانے والے اشعار کوملاحظہ کریں ، مثلاًعمرو عاص صفین کے دن قبیلہء حمدان کو مخاطب کرکے کہتا ہے:

الموت یغشاه من القوم الانف

یوم لحمدان ویوم للصدف

موت کواس قوم کے ذریعہ دعوت دینا ہے ایک روز قبیلہء حمدان کامیاب ہیں اور ایک روز صدف۔

و فی سدوس نحوه ماینحرف

نضربها بالسیف حتیٰ ینصرف

قبیلہ سدوس بھی انہیں کی طرح ہیں جب تک وہ بوڑھے نہ ہوجائیں ہم ان کو تلوار سے قتل کرتے رہیں گے یہاں تک کہ حالات بدل جائیں ۔

____________________

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب، موسسۂ انتشارات علامہ،قم،ج٣،ص١٧٠ ،١٧١


و لتمیم مثلها اویعترف (١)

تمیم کے ساتھ بھی ایسا برتائو کریں گے مگر یہ کہ وہ اطاعت قبول کرلیں ۔

قبیلہ حمدان کی چند عورتوں نے بھی صفین میں امیرالمومنین کے سپاہیوں کو معاویہ کے مقابلہ میں جوش دلایا،جیسے سودہ حمدانیہ ،زرقاء حمدانیہ جو عدی بن قیس کی بیٹیاں ہیں ۔(٢)

سودہ نے اپنے باپ کومخاطب قرار دے کر کہا :

شمرکفعل ابیکٔ یابن عمارة

یوم الطعان و ملتقی الاقران

اے عمارہ کے فرزند! میدان کار زاراور جنگ کے دنوں میں اپنے باپ کے مانند آستین ہمت چڑھا اور اپنے دشمن سے جنگ کر۔

وانصر علیاًوالحسین و رهطه

واقصد لهندوابنها بهوان

علی اورحسین نیز ان کی قوم کی مدد ونصرت کر ،ہنداورا س کے بیٹوں کوذلت اور اہانت کا مزا چکھا۔

انّ الامام اخاالنبی محمد

علم الهدیٰ و منارةالایمان

بیشک حضرت علی نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی ہیں جو ہدایت کی علامت اور ایمان کے روشن منارہ ہیں ۔

____________________

(١)بلاذری ،انساب الاشراف ، ج٢، ص٣٢٣

(٢) ابن عبدریہ العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،١٤٠٩ھ ج١ ص١٣٥۔٣٣٧


فقدم الجیوش و سر امامهم لوائه

قدماًبابیض صارم وسنان(١)

لشکر کے آگے بڑھو اورآگے بڑھ کر چمکتے نیزوں اور خون آشام تلواروں کے پرچم لہرائو۔

معاویہ ان سے دشمنی رکھتا تھا حضرت علی کی شہادت کے بعد معاویہ نے ان کو شام بلایا اور ان کے اشعار کی وضاحت چاہی اور ان کی سر زنش کی۔(٢)

دوسرا یمنی قبیلہ کہ جس میں شیعیان علی بہت زیادہ تھے قبیلہ ربیعہ تھا جیسا کہ برقی نے یاران و شیعیان علی کو شمار کیا ہے اور بعض اصحاب علی کو قبیلہ ربیعہ سے مخصوص کیا ہے جبکہ باقی یمنی شیعوں کو ایک دوسر ے حصہ میں ذکر کیا ہے۔(٣)

حضرت علی نے جس وقت سناکہ قبیلۂ ربیعہ کے چند افراد عائشہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تو آپ نے فرمایا:

یالهف نفسی علیٰ ربیعة

ربیعةالسّامعةالمطیعة(٤)

ربیعہ پر افسوس کہ ربیعہ فرمانبر دار اور مطیع ہیں ۔

____________________

(١)ابن عبدریہ العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،١٤٠٩ھ ج١ ص ٣٣٢

(٢)ابن عبدربہ العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،١٤٠٩ھ ج١ ص ٣٣٥

(٣) احمد بن محمد بن خالد البرقی ،رجال برقی ،موسسة القیوم،ص ٣٧

(٤)زبیر بن بکار الاخبار الموفقیات ،منشورات شریف الرضی ،قم ،١٤٦١ھ ص ١٥٩


مسعودی کا بھی بیان ہے کہ ربیعہ کی تعریف کے بارے میں حضرت علی کی بہت سی تقریریں ہیں کیونکہ وہ حضرت علی کے انصار ،مددگار ، اور ان کے ارکان میں شامل تھے جنگ صفین میں ربیعہ کے بارے میں حضرت نے فرمایا :

لمن رایة سوداء یخفق ظلها

اذا قیل قدمها حضین تقدماً

اگر کوئی سیاہ پرچم لہرارہا ہو توان سے کہا جاتاہے کہ پرچم لیکر آگے بڑھو ۔

فیوردها فی الصف حتیٰ یعلها

حیاض المنا یا تقطر الموت والدما

پھروہ اس کوصف میں شامل کرتے ہیں تاکہ وہ نیزوں سے آگے بڑھ جائیں کہ جس سے موت اورخون کے قطرے ٹپکتے ہیں ۔

جزی اللّٰه قوماًقاتلوا فی لقا ئه

لدی الموت قدماًما اعروا کرما

خدا س قوم کو جزا دے جو جنگ کے وقت لڑتی ہے اور موت کا سامنا کرتی ہے، اور کبھی بھی نیکیوں سے منھ نہیں موڑتی۔

واطیب اخباراًو اکرم شیمة

اذا کان اصوات الرجال تغمغما

لباس کے اعتبار سے، اچھی علامت کے اعتبار سے خوب صورت ہیں جب میدان جنگ میں ان کی للکار گونجتی ہے۔


ربیعه اعنی انهم اهل نجدة

وبأس اذا لاقو ا خمیساًعر مر ما(١)

میری مراد ربیعہ ہے وہ لوگ طاقتور پہلوان کے مقابلہ میں شجاع اور بہادر ہیں ۔

ربیعہ کے بزرگان میں سے ایک جمیل بن کعب ثعلبی تھے جن کا علی کے شیعوں میں شما ر ہوتا تھا ،جب معاویہ نے ان کواسیر کیا تو ان سے کہا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ خدانے مجھ کو ایسے انسان پر مسلط کیا کہ جس نے ایک گھنٹہ کے اندر میرے بہت سے ساتھیوں کو قتل کیا تھا۔(٢)

شقیق بن ثور سدوسی نے بھی قبیلۂ ربیعہ کو صفین میں اس طرح سے خطاب کیا۔

اے گروہ ربیعہ !تمہارے لئے کوئی عذر نہیں ہے اگر علی قتل کردیئے جائیں اور تم میں سے ایک شخص زندہ رہ جائے۔(٣)

یزید کی موت کے بعد بھی اہل کوفہ نے عاملین بنی امیہ کو شہرسے نکا ل دیا، انہوں نے چاہا کہ کسی کو اپنا قائد اور امیر معین کریں ،بعض نے مشورہ دیا کہ عمر بن سعدکو امیر قرار دیا جائے ، مسعودی نقل کرتا ہے : اس موقع پر حمدان ،کہلان ،انصار ،ربیعہ اور نخع کی عورتیں آئیں اور مسجدجامع میں داخل ہوگئیں وہ امام حسین پر گریہ کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں :

____________________

(١) مسعودی ، مروج الذھب ، ج٣ ص ٥٩

(٢)مسعودی ، مروج الذھب ، ج٣ ص ٦٠

(٣)بلاذری ،انساب الاشراف ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبو عات ،ج٢ ص٣٠٦


کیا یہ کافی نہیں ہے کہ عمر بن سعد نے امام حسین کوقتل کیا ہے اور اب وہ ہما را امیر بننا چاہتا ہے'' یہ باتیں بین کرکے لوگوں کو رلا رہی تھیں اورمردوں کو اس بات پر آمادہ کررہی تھیں کہ عمر بن سعد کی حمایت نہ کریں ۔(١)

____________________

(١)بلاذری ،انساب الاشراف ، ج٢، ص٣٠٦


چھٹی فصل

تشیع کے اندر مختلف فرقے

شیعوں کے اہم ترین گروہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے ہیں اور دوسری صدی ہجری کے تمام ہونے تک کوئی خاص تفریق نظر نہیں آتی اسی وجہ سے صاحبان ملل ونحل نے واقفیہ کے مقابلہ میں شیعہ امامیہ کو کہ جو امام رضا کی امامت کے قائل ہیں انہیں قطعیہ اور اثنا عشری کانام دیا ہے نیز وہ امام رضا کے بعد امام زمانہ تک کی امامت کے قائل ہیں ۔(١)

البتہ پہلی صدی ہجری میں بھی ٦١ھ تک یعنی امام حسین کی شہادت تک کوئی بھی نیا فرقہ تشیع میں پیدا نہیں ہوا،اگرچہ شہرستانی نے فرقہ غلات سبئیہ کو شیعہ فرقہ کی ایک شاخ جانا ہے کہ جو امام امیر المومنین کے زمانہ میں پیداہو ا ہے(٢) جبکہ خود ابن سبا نام کے شخص کے بارے میں شک و تردید کا اظہار کیا گیا۔(٣)

____________________

(١)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١ص١٥٠

(٢) شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١ص١٥٥

(٣)عسکری ، سید مرتضی ،عبد اللہ بن سباء و اساطیر اخری ، طبع ہشتم١٤١٣ھ ج ٢، ص ٣٢٨۔٣٧٥


جب کہ خود رجال کشی نے کہا ہے: کچھ غالی افراد حضرت علی کے زمانہ میں بھی موجود تھے امام نے انہیں توبہ کرنے کا حکم دیاجب انہوں نے توبہ نہیں کی توآپ نے ان کوپھانسی دے دی۔(١)

امام حسن اور امام حسین مسلمانوں کے درمیان ایک خاص مقام ومنزلت رکھتے تھے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یکتا ذریت شمار ہوتے تھے ، شیعوں کے علاوہ عام مسلمان بھی انہیں خلافت کا سزاوار جانتے تھے ،اس وجہ سے ان دو بزرگ شخصیتوں کے زمانہ میں امر امامت سے متعلق کوئی شبہ پیش نہیں آیا اور کسی قسم کا فرقہ بھی وجود میں نہیں امام حسین کی شہادت کے بعد شیعوں کے درمیان ہم بہت سے فرقوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جو فرقہ نکلے ہیں وہ حسب ذیل ہیں ۔

کیسانیہ:یہ فرقہ محمد حنفیہ کی امامت کا معتقدہے ۔

زیدیہ :یہ فرقہ زید بن علی کی امامت کامعتقد ہے۔

ناووسیہ :یہ فرقہ امام صادق کی غیبت اوران کی مہدویت کا قائل ہے ۔

فطحیہ:امام صادق کے فرزند عبداللہ افطح کی امامت کا قائل ہے ۔

اسماعیلیہ:امام صادق کے فرزند اسماعیل کی امامت کا قائل ہے۔

طفیہ :یہ لوگ معتقد ہیں کہ امام صادق نے موسیٰ بن طفیّ کی امامت کی تاکیدو سفارش کی ہے۔

اقمصیہ :یہ لوگ قائل ہیں کہ امام صادق نے موسیٰ بن عمران اقمص کی امامت کی

____________________

(١)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ، موسسہ آل البیت ، الاحیاء التراث ، قم ، ١٤٠٤ھ ج١ ص ٣٢٥


تاکید کی ہے ۔

یرمعیہ:یہ لوگ کہتے ہیں کہ امام صادق نے یرمع بن موسیٰ کی امامت تاکید کی ہے۔

تمیمیہ: یہ لوگ قائل ہیں کہ امام صادق نے عبد اللہ بن سعد تمیمی کی امامت کی تاکید فرمائی ہے ۔

جعدیہ :یہ لوگ کہتے ہیں کہ امام صادق کاجانشین ابی جعدہ نامی شخص تھا ۔

یعقوبیہ:یہ لوگ موسیٰ بن جعفر کی امامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ فرزندان امام صادق کے علاوہ بھی امامت کا پایا جانا ممکن ہے ا ن کے بڑے لیڈر کانام ابویعقوب تھا ۔

ممطورہ:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام کاظم پرتوقف کیا اور کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ حضرت دنیاسے گئے یا نہیں ؟۔(١)

واقفیہ :یہ لوگ قائل ہیں کہ امام کا ظم با حیات ہیں اور قیامت تک با حیات رہیں گے۔(٢)

البتہ ان فرقوں میں سے بعض چھوٹے فرقے اور بھی نکلے ہیں مثلاًکیسانیہ کہ جو محمد حنفیہکی امامت کے قائل تھے ان میں دو گروہ تھے ،کچھ قائل ہیں کہ محمد حنفیہ امام حسین کی امامت کے بعدامام ہو ئے اور کچھ کہتے ہیں محمد حنفیہ اپنے والد حضرت علی کے بعد امام تھے ، ان کے بعد امامت کو ان کے بیٹے ابو ہاشم کی طرف نسبت دیتے ہیں ، اس میں بھی چند گروہ

____________________

(١)ابن ہیثم البحرانی ، حیثم بن علی ، النجاة فی القیامة فی تحقیق امر الامامة،مجمع الفکر الاسلامی ، قم طبع اول ، ص١٧٢۔١٧٤

(٢)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١،ص١٥٠


ہیں ،ایک گروہ معتقد تھا کہ ابو ہاشم نے محمد بن علی عباسی کی امامت کی تاکید کی تھی، دوسراگروہ یہ کہتاہے کہ ابو ہاشم نے اپنے بھائی علی بن محمد حنفیہ کی امامت کی تاکید کی تھی، تیسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ابو ہاشم نے اپنے بھتیجے حسن بن علی کو اپنا جانشین بنایا تھا،چوتھا گروہ معتقد تھا کہ ابو ہاشم نے عبداللہ بن عمرو کندی کی امامت کے بار ے میں تاکیدکی تھی۔(١)

زیدیہ بھی تین بنیادی گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں :(٢)

جارودیہ :یہ لوگ حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے بعد حضرت علی کو خلافت کا مستحق جانتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو ان کے اوصاف کے ساتھ لو گوں کو پہچنوایا نہ کہ نام کے ساتھ لوگوں نے ان کو پہچاننے میں کو تاہی کی اور ابو بکر کو اپنے اختیار سے چنا اور کفر اختیار کیا۔

سلیمانیہ:یہ لوگ قائل ہیں کہ امام کا انتخاب شوری کے ذریعہ ہوتا ہے یہ لوگ فاضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت کو جائز جانتے ہیں ، اسی بنا پر ابو بکر و عمر کی خلافت کو جائز جانتے ہیں ان کا خیال ہے کہ امت نے حضرت علی کا انتخاب نہ کر کے خطا کی ہے لیکن فسق کی مرتکب نہیں ہوئی یہ لوگ عثمان کو بھی کافر جانتے ہیں ۔(٣)

____________________

(١)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل ،منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١ص١٣١۔ ١٣٥

(٢)وہ ابی جارود کے اصحاب زیاد بن ابی زیاد تھے اس وجہ سے ان کو جارودیہ کہتے ہیں

(٣)ان کا رہنما ایک شخص سلیمان بن جریر تھا ، اس وجہ سے اس فرقہ کو سلیمانیہ کہا گیا۔


بتریہ:ان کے عقائد بھی سلیمانیہ کی طرح ہیں ، صرف اس فرق کے ساتھ کہ عثمان کے بارے میں یہ توقف کے قائل ہیں ۔(١)

فرقۂ اسماعیلیہ بھی تین گروہ میں تقسیم ہوگیا:

ایک فرقہ قائل ہے کہ امام صادق کے بعد ان کے فرزنداسماعیل امام ہیں اور وہ ابھی تک زندہ ہیں اور وہی مہدی موعود ہیں ۔

دوسرا فرقہ قائل ہے کہ اسماعیل دنیا سے جا چکے ہیں ان کے بیٹے محمد امام ہیں اور وہ غائب ہیں ایک دن ظاہر ہوں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

تیسرا فرقہ بھی دوسرے فرقہ کی طرح محمد بن اسماعیل کی امامت کا قائل ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد دنیا سے رخصت ہوگئے اور امامت ان کی نسل میں باقی ہے۔(٢)

ان میں سے بہت سے فرقے زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہے بلکہ ان پر فرقہ ہونے کا اطلاق بھی مشکل سے ہوگا جو اپنے قائد کی موت کے بعد نابود ہوگئے اور انہیں سیاسی و اجتماعی میدانوں میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں رہا ان فرقوں میں سے تین فرقہ کیسانیہ زیدیہ،اسماعیلیہ پہلی دوسری اور تیسری صدی ہجری میں پائدار تھے البتہ فرقہ اسماعیلیہ اگرچہ دوسری صدی میں امام صادق کی شہادت کے بعد پیکر تشیع سے جدا ہو گیا تھا لیکن تیسری صدی ہجری کے نصف تک ان میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی تھی ان

____________________

(١)کثیر النویٰ ابتر نام کا شخص ہے اس وجہ سے یہ ابتریہ کہلائے(شہرستانی ،کتاب ملل ونحل منشورات الشریف الرضی قم،١٣٦٤ھ ش، ج١،ص١٤٠۔١٤٢)

(٢)خراسانی،تاریخ و عقائد فر قہ آقا خانیہ:ص ٢۔٣


کیپیشوا خفیہ زندگی بسر کر رہے تھے۔(١)

پہلی صدی ہجری میں شیعہ امامیہ کے بعد زید کے خروج تک کیسانیہ ایک موثر ترین شیعہ فرقہ شمار ہوتا تھا، کیسانیہ فرقہ کا قیام مختار میں اہم کردار رہا ہے اگر مختار کو کیسانیہ سے وابستہ نہ بھی جانیں تو بھی ان کی فوج میں بہت سے افراد کیسانیہ فرقہ پرقائم تھے۔(٢)

اس فرقہ نے پہلی صدی ہجری کے آخر تک اپنی سیاسی کوشش کو جاری رکھا اور ابوہاشم عبد اللہ بن محمد نفس زکیہ جو اس فرقہ کے قائد تھے انہوں نے پہلی مرتبہ لفظ داعی اور حجت کے لفظ کا اطلاق اپنے مبلغین کے لئے کیا اور بعد میں دوسرے فرقوں نے ان الفاظ سے فائدہ اٹھا یاجیسے عباسی، زیدی، اسماعیلی اسی طرح سب سے پہلے انہوں نے ہی خفیہ تبلیغ و مبلغین کا نظام قائم کیااس کے بعد عباسیوں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا ۔(٣)

اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے جس وقت اس کی طرف سے خطرہ کا احساس کیااس کو شام بلاکر زہر دے دیا جب ابو ہاشم کو معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہے تو خفیہ طور پر بنی عباس میں سے اپنے چچازاد بھائیوں کی رہائش (مقام حمیمہ) پر گئے اوراپنے چچا زاد بھائی محمد بن علی عباسی کو اپنا جانشین بنادیا اور اپنے مبلغین اور فوج سے ان کی شناسائی کرائی۔(٤)

____________________

(١)خراسانی ، محمد کریم ،تاریخ و عقائد فرقہ آقا خانیہ، تلخیص و تنظیم ، حسین حسنی ، نشر الہادی ، ص٤٣

(٢) مسعودی علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات لاعلمی ،للمطبوعات ،بیروت ١٤١١ھ ج٣ ص ٩١

(٣)مختار لیثی ڈاکٹرسمیرة ،جہاد الشیعہ،دار الجبل ، بیروت ، ١٣٩٦ھ ،ص ٨٧

(٤)مقاتل الطالبین،ابو الفرج اصفہانی، منشورات شریف الرضی ، قم ١٤١٦ھ ،ص ١٢٤، ابن عبدربہ اندلسی، احمد بن محمد ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت،١٤٠٩ھ ج ٤ ص ٤٣٨


اس کے بعد بنی عباس نے کیسانیہ کی قیادت کو اپنے کاندھوں پر لے لیا اور اپنی فعالیت وسرگرمی کو خراسان میں متمرکز کر دیا جیسا کہ ابوالفرج اصفہانی کا بیان ہے :

اہل خراسان معتقد ہیں کہ ابو ہاشم اپنے باپ کاجانشین تھا اور اس کے باپ نے وصایت کو اپنے باپ (حضرت علی )سے ارث کے طور پر لیا تھااورانہوں نے بھی محمد بن علی عباس کو اپناجانشین قرار دیا تھا اور محمد بن علی نے اپنے بیٹے ابراہیم کو امام بنایااس طرح سے وہ بنی عباس میں اپنی جانشینی کو ثابت کرتے ہیں ۔(١)

شہرستانی یہاں تک معتقد ہے کہ ابو مسلم خراسانی ابتدا میں کیسانی تھا لیکن بعد میں جب عباسی کامیاب ہوگئے تو اپنی مشروعیت کویعنی اپنے جد عباس کی جانشینی کورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے وابستہ اورمنسلک کردیا ،کیسانیوں کی سیاسی اور اجتماعی فعالیت کو عبد اللہ بن معاویہ (کہ جو جعفر طیار کی نسل سے تھے)کے قیام میں تلاش کیا جاسکتا ہے شہرستانی کاکہنا ہے: کیسانیوں میں سے کچھ عبداللہ بن عمرو کندی کی جانشینی کے معتقد تھے اور جب لوگوں نے اس کی خیانت اور جھوٹ کودیکھ لیا تو عبد اللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر طیار کی امامت کے قائل ہوگئے عبد اللہ بن معاویہ اور محمد بن علی کے ماننے والوں کے درمیان امامت کے سلسلے میں شدید اختلاف تھا ۔(٢)

فرقہ کیسانیہ کے بعد جو فرقہ سیاسی اور اجتماعی میدان میں بہت زیادہ فعال و سرگرم تھا وہ فرقہ زیدیہ ہے کہ جو قیام زید کے بعدوجو د میں آیا یہ فرقہ شیعہ فرقوں میں سب سے زیادہ سیاسی رہا ہے اور تمام شیعہ فرقوں کی بہ نسبت اہل سنت کے اصول سے

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین ، ص١٢٥

(٢)شہرستانی، کتاب ملل و نحل ، ج١،ص١٣٥


بہت زیادہ نزدیک تھا چنانچہ فرقہ زیدیہ بتریہ ابو بکر و عمر و عثمان کی خلافت کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ عائشہ ،طلحہ ،زبیر کی تکفیر بھینہیں کرتے تھے۔(١)

اسی وجہ سے فقہائے اہل سنت کی کافی تعداد نے محمد نفس زکیہ (کہ جو زیدی تھے) کے قیام کی تائید کی ہے ۔(٢)

فرقہ مرجئہ کے بزرگ مسعر بن کدام نے محمد نفس زکیہ کے بھائی ابراہیم کو کوفہ آنے کے لئے خط بھی لکھا تھا۔(٣)

ابو حنیفہ مذہب حنفی کے امام محمد نفس زکیہ کے قیام میں شریک تھے اور لوگوں کو ان کی مدد کرنے کی تشویق کرتے تھے۔(٤)

سعد بن عبداللہ اشعری قمی فرقہ زیدیہ بتریہ کے بارے میں کہتا ہے: انہوں نے ولایت علی ـ کو ولایت ابو بکر و عمر کے ساتھ مخلوط کردیا ہے،(٥) خاص کر اصول دین میں معتزلہ کے پیرو ہیں اور فروع دین میں ابو حنیفہ اور کچھ حد تک شافعی کی پیروی کرتے ہیں ۔(٦)

مذہب زیدی یعنی تشیع بمعنی اعم بہت زیادہ، سنی عقائد سے معارض نہیں تھا اسی

____________________

(١)شہرستانی، کتاب ملل والنحل ، ج١،ص١٤٢

(٢)ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،ص ٢٤٧

(٣)ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،ص ٣١٤

(٤)ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین،ص ٣١٤

(٥)اشعری سعد بن عبد اللہ ،المقالات والفرق،مرکز انتشارات علمی و فرھنگی ، تہران ، طبع دوم ١٣٦٠ھ ص١٠

(٦)شہرستانی کتاب ملل و نحل ،منشورات الشریف الرضی ،قم ١٣٦٤ھ ،ج١ص١٤٣


بناپر زیدیوں کے بعض قیام جیسے محمد نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم کے قیام میں بہت سے علماء اہل سنت بھی شریک تھے اور جو شیعہ ان کے قیام میں ساتھ تھے ان کا خیال تھا کہ منجملہ سبھی علوی قیام کے قائد و رہنماامام معصوم کی طرف سے منصوب ہیں ، شاید شیعوں کے ان کے ارد گرد سے منتشر ہونے کی علت یہی ہو خلاصہ یہ کہ صرف زیدی پوری طرح ان رہبروں کے ساتھ باقی رہ گئے تھے مثلاً محمد نفس زکیہ کے بھائی براہیم بن عبد اللہ نے مسعودی کے بقول زیدیوں کے چارسو افراد ہمراہ جنگ کی اور یہ چند لوگ ان کے ساتھ قتل ہوئے۔(١)

تیسرا فرقہ جو اجتماعی اورسیاسی میدان میں فعال و سرگرم تھا وہ فرقہ اسماعیلیہ ہے یہ فرقہ دوسری صدی کے دوسرے نصف میں پیکر تشیع سے جدا ہوگیا لیکن تیسری صدی ہجری کے آخر تک اسے معاشرے میں کوئی خاص اہمیت ومقبولیت حاصل نہیں ہوتی اور اس کے قائدین ٢٩٦ھ یعنی مراقش میں پہلے فاطمی خلیفہ عبید اللہ مہدی تک خفیہ زندگی بسر کرتے رہے اس وجہ سے اس فرقہ کے تشکل کے مراحل کا پوری طرح سے علم نہیں ہے نو بختی جو تیسری صدی ہجری میں موجود تھا اس نے ان کی پہلی فعالیت اور سرگرمیوں کو غلات اور ابن الخطاب کی پیروی سے ربط دیا ہے۔(٢)

ان کے عقائد بھی ابہام کی شکل میں باقی رہ گئے۔

مسعودی اس بارے میں لکھتا ہے مختلف فرقوں کے متکلمین مثلاًشیعہ،معتزلہ

____________________

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ١٤١١ھ، ج٣ ص ٣٢٦

(٢)فرق الشیعہ المطبعةالحیدریہ ،نجف ١٣٥٥ ١٩٣٦ھ ص٧١


مرجئہ او رخوارج نے اپنے فرقوں کی موافق میں اوراپنے مخالفین کی رد میں کتابیں لکھی ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی فرقہ قرامطہ کے عقائدکے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور جنہوں نے ان کی ردبھی کی ہے جیسے قدامہ بن یزید النعمانی ،ابن عبد الجرجانی،ابی الحسن زکریا الجرجانی ،ابی عبداللہ محمد بن علی بن الرزام الطائی الکوفی اور ابی جعفر الکلابی ،ان میں سے ہر ایک اہل باطن کے عقائد کی شرح کرتا ہے کہ جس کودوسرے بیان نہیں کرتے ہیں اور خود اس فرقہ والوں نے ان مطالب سے انکار کیا ہے اور ان کی تائید نہیں کی ہے،(١) یہ چیز علت بنی کہ یہ لوگ مختلف مناطق میں متفاوت ناموں سے یاد کئے گئے۔

خواجہ نظام الملک نے اس بارے میں لکھا :ان کو ہر شہر میں ایک الگ نام سے یاد کیا جاتا تھا ،حلب و مصر میں اسماعیلی ،قم ،کاشان ،طبرستان اور سبزوار میں سبعی، بغداد اور ماوراء النہر میں قرمطی، ری میں خلفی اوراصفہان میں(٢)

فاطمی حکومت بننے سے پہلے اسماعیلیوں نے سیا سی کو ششیں کم کردیں زیادہ تر توجہ تبلیغ و تر بیت پر مرکوز رکھی اسی وجہ سے اسماعیلی قائدین منجملہ محمد بن اسماعیل، عبد اللہ بن محمد، احمد بن عبد اللہ و حسین بن احمدنے ان علاقوں میں جیسے ری،نہاوند، دماوند،سوریہ ،جبال، قندھار، نیشاپور،دیلم ،یمن،ہمدان،استانبول ،اور آذر بائیجان گئے انہوں نے ان مناطق میں اپنے چاہنے والوں اور مبلغین کو بھیجا(٣) یہ وہ جگہیں تھیں جس کی بنا پر

قرمطیو ں اپنے کوفرقہ اسماعیلیہ سے منسوب کیا اور اتنی وسعت اختیار کی کہ عباسیوں کا لشکر بھی ان کے آشوب کو خاموش نہیں کر سکا ۔(۴)

٢٩٦ھ میں فاطمی حکومت مراقش میں اسماعیلی مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئی اور بہت سی اسلامی سر زمینوں کوعباسیوں کے ہاتھوں سے چھین لیا۔

____________________

(١)التنبیہ والاشراف ،دار الصاوی لطبع والنشر والتالیف،قاہرہ ،ص٣٤١

(٢)سیاست نامہ،انتشارات علمی و فرہنگی تہران ١٣٦٤ھ ص٣١١

(٣)جعفریان،رسول،تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا قرن ہفتم ہجری،سازمان تبلیغات اسلامی، طبع٥،١٣٧٧ہجری،ص٢٠٧،٢٠٩

(۴)مسعودی ، علی ابن الحسین ، مروج الذہب ،منشورات موسسہ الاعلمی مطبوعات ، بیروت ، طبع اول ، ١٤١١ھ ، ١٩٩١ج٤ ص ٢٩٧


شیعہ فرقوں کے وجود میں آنے کے اسباب

بارہ اماموں کے اسماء مبارک احادیث نبوی میں وارد ہوئے ہیں اورپہلے دور کے شیعہ ان حضرات کو دیکھنے سے پہلے ان کے نا م جانتے تھے ،جیسا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وفا دار صحابی جابر بن عبداللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ جس وقت قرآن مجید کی یہ آیت:( یا ایّهاالّذین آمنوااطیعوااللّٰه و اطیعوا الرّسول و اولی الامر منکم ) (۱)

اے ایمان لانے والو! اللہ کی ، اس کے رسول کی اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔

ناز ل ہوئی تو میں نے عرض کی: یارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ! میں خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہچانتا ہوں اور ان کی اطاعت بھی کرتا ہوں لیکن اولی الامرسے مراد کون لوگ ہیں جن کی اطاعت کو خدا وند عالم نے اپنی اور آپ کی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے؟ حضرت نے

____________________

(۱) سورہ نساء ،٤آیت٥٩


فرمایا: اولی الامرسے مراد میرے جانشین اور میرے بعدکے پیشوا ہیں ، ان میں سب سے پہلے علی بن ابی طالب اور ان کے بعدحسن ان کے بعد حسین ان کے بعد علی بن حسین ان کے بعد محمد بن علی جو توریت میں باقر کے نام سے معروف ہیں تم ان کی زیارت بھی کرو گے جس وقت تم ان کو دیکھنا میراسلام کہنا ، ان کے بعد جعفربن محمد ان کے بعد موسیٰ بن جعفر ان کے بعدعلی بن موسی ان کے بعد محمد بن علی ان کے بعد علی بن محمدپھران کے بعد حسن بن علی اور ان کے بعدان کا فرزندجو میرا ہمنام اورجس کی کنیت میری کنیت ہوگی وہ امام ہو گا، اسی کے ذریعہ شرق وغرب فتح ہوں گے وہ لوگوں کی آنکھوں سے غائب ہو گا اس کی غیبت اتنی طولانی ہوگی جس کی وجہ سے لوگ اس کی امامت میں شک کریں گے سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں کو خدا وندعالم نے ایمان کے ذریعہ پاک کیا ہے۔(١)

یہی جابر مسجد نبوی کے دروازے پر بیٹھ کر کہتے تھے اے باقرالعلم !آپ کہاں ہیں ؟ لوگ کہتے تھے: جابر ہذیان بک رہا ہے۔ جابر کہتے تھے کہ میں ہذ یان نہیں بک رہا ہوں بلکہ مجھ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم نے خبر دی ہے کہ میرے خاندان میں سے ایک شخص جو میرا ہم نام اور میرا ہم شکل ہو گا تم اس کی زیارت کرو گے وہ علم کو شگافتہ کرے گا۔(٢)

ائمہ معصومین نے بھی دلیلوں اور معجزوں کے ذریعہ اپنی حقا نیت ثابت کی ہے اس

کے باوجودبعض اسباب و وعوامل اس بات کا باعث بنے کہ بعض شیعوں پر حقیقت مشتبہ ہوگئی اور وہ راہ (حق )سے منحرف ہوگئے ان عوامل کو ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں ۔

____________________

(١)پیشوائی ،مہدی ،شخصیت ہای اسلامی،انتشارات توحید۔قم١٣٥٩ ص٦٣،تفسیر صافی سے نقل کیا ہے ، ج١،ص٣٦٦،کمال الدین وتمام النعمة،ج١،ص٣٦٥،طبع تہران،فارسی ترجمہ

(٢)شیخ طوسی اختیارمعرفةالرّجال،(رجال کشی)موسسہ آل البیت لاحیا التراث قم،١٤٠٤ھ ج :١، ص٢١٨


(١) اختناق(گھٹن، اضطراب)

٤٠ھ کے بعد خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے چاہنے والوں پراس قدرگھٹن کا ماحول چھایا ہواتھا کہ شیعہ کے لئے ممکن نہیں ہوسکا کہ وہ ا پنے اماموں سے رابطہ برقرار کریں اورا ن کی ضروری معرفت حاصل کر تے پہلی صدی میں ٧٢ ھ اور ابن زبیر(جو شیعوں کا دشمن تھا) کی شکست کے بعد حجاج بن یوسف بیس سال تک عراق و حجازپر حاکم رہا اور شیعوں کو بہت زدو کوب کیا ان کو قتل کیا زندان میں ڈالااور عراق و حجاز سے انہیں فرار ہونے پر مجبورکیا۔(١)

امام سجاد تقیہ میں تھے اورشیعہ معارف کو دعائوں کی شکل میں بیان کرتے تھے فرقہ کیسانیہ اسی زمانہ میں رونما ہوا ،امام باقراور امام صادق کواگرچہ نسبتاًآزادی ملی تھی، انہوں نے شیعہ معارف کو وسعت بخشی لیکن جب منصور عباسی کوحکومت ملی تو شیعوں کی طرف متوجہ ہوا اور جس وقت اس کوامام صادق کی خبر شہادت ملی تو اس نے مدینہ میں اپنے والی کو خط لکھا کہ امام صادق کے جانشین کی شناسائی کرکے ان کی گردن اڑادے، امام جعفر صادق نے پانچ لوگوں کو اپنا جانشین بنایا تھا، ان میں ابو جعفرمنصور (خلیفہ)محمد بن سلیمان، عبداللہ، موسیٰ اور حمیدہ تھے۔(٢)

____________________

(١)زین عاملی ، محمد حسین، شیعہ در تاریخ، ترجمہ محمد رضا عطائی، انتشارات آستانہ قدس رضوی،طبع دوم،١٣٧٥ھ ش،ص١٢٠

(٢)طبرسی،بو علی فضل بن حسن، اعلام الوریٰ،موسسہ آل البیت، لاحیاء التراث، قم ١٤١٧ھ ج٢ ص١٣


امام کاظم کی عمر کا زیادہ حصہ زندان میں گذرا سب سے پہلے موسیٰ ہادی عباسی نے حضرت کو زندان میں ڈالا اور کچھ مدت کے بعد آزاد کر دیا ہارون نے چار بار امام کو گرفتارکیا اور شیعوں کوآپ کے پاس آنے جانے اور دیدار سے منع کیا ۔(١)

شیعہ حیران وسرگردان اور بغیر سرپرست کے رہ گئے ، اسماعیلیہ اور فطحیہ کے مبلغین کے لئے راستہ ہموار ہو گیا ،اس زمانہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو شیعوں کو ان کے شبہ کا جواب دیتا،عباسی حکومت اور اس کے جاسوسوں کی نظرامام کاظم کی کوششوں کے بارے میں اس حد تک تھی کہ علی بن اسماعیل جو آپ کے بھتیجے تھے وہ بھی اپنے چچا کی مخالفت میں چغلخوری کرتے تھے(٢) اکثر شیعہ اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ امام موسیٰ کاظم زندہ ہیں یا نہیں ؟

چنانچہ یحییٰ بن خالد برمکی کا بیان ہے:

میں نے رافضیوں کے دین کو ختم کر دیا اس لئے کہ انکا خیال ہے کہ دین بغیر امام کے زندہ اور استوار نہیں ر ہ سکتاآج وہ نہیں جانتے کہ ان کے امام زندہ ہیں یا مردہ۔(٣)

حضرت کی شہادت کے وقت ایک بھی شیعہ حاضر نہیں تھا اسی لئے واقفیہ نے آپ کی موت( شہادت )سے انکار کردیا اگرچہ مالی مسائل واقفیہ کے وجود میں زیادہ مؤثر تھے ،ائمہ معصومین مسلسل عباسی حکومت کے زیر نظر تھے ،یہاں تک کہ امام ہادی اور

____________________

(١) مظفر،محمد حسین ،تاریخ شیعہ،منشورات مکتب بصیرتی،قم،(بی تا) ص٤٧

(٢)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ،قم ١٤١٦ھص ٤١٤

(٣)زین عاملی(،محمد حسین)شیعہ در تاریخ: ج ١، ص٢٣


امام عسکری کوسامرہ کی فوجی چھاونی میں رکھاگیاتا کہ ان دو نوں اماموں پرکڑی نظر رکھ سکیں ،امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد آپ کے جانشین ( حضرت ولی عصر)کو پہچاننے کے لئے امام حسن عسکری کی کنیزوں اور بیویوں کوقید خانوں میں ڈال دیا، یہاں تک کہ جعفر بن علی (جو جعفر کذاب کے نام سے مشہور ہیں )نے اپنے بھائی امام حسن عسکری کے خلاف جد و جہد کی اسی وجہ سے غلات کے عقائدنصیری یعنی محمد ابن نصیر فہری کے ذریعہ پھیل گئے چند لوگ جعفر کے ارد گرد جمع ہوگئے اورانہوں نے امامت کا دعویٰ کردیا۔(١)

(٢)تقیہ

یعنی جب جان کا خوف ہو تو حقیقت کے خلاف اظہار کرنا، شیعوں نے اس طریقہ کار کو گذشتہ شریعتوں اور شریعت اسلام کی پیروی میں عقل وشرع سے اخذ کیا ہے جیسا کہ مومن آل فرعون نے فرعو ن اور فرعونیوں کے خوف سے اپنے ایمان کو چھپایا ،اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے عمار یاسر نے بھی مشرکین کے شکنجہ اور آزار کی وجہ سے تقیہ کیا اور کفر کا اقرار کیا اور روتے ہوئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آئے تو حضرت نے فرمایا : اگرد وبارہ تم کو شکنجہ کی اذیت دیں تو پھر ا س کام کو انجام دینا۔(٢)

شیعہ چونکہ بہت ہی کم مقدار میں تھے اس لئے اپنی حفاظت کے لئے تقیہ

____________________

(١)شیخ طوسی،اخبار معرفت الرجال(رجال کشی)موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ھ ج ٢

(٢)امین ،سید محمد،اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات،بیروت(بی تا)ج١،ص١٩٩


کرتے تھے اور اس روش کی بنا پر مکتب تشیع باقی رہاجیسا کہ ڈاکٹر سمیرہ مختار اللیثی نے لکھا ہے: شیعہ تحریک جاری رہنے کے عوامل میں سے ایک عامل تقیہ اور مخفی دعوت ہے کہ جس نے یہ فر صت دی کہ شیعوں کی نئی تحریک خلفائے عباسی اور ان کے حاکموں کی آنکھوں سے دور رہ کر ترقی کرے ۔(١)

لیکن دوسری طرف تقیہ شیعو ں کے مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کا سبب بنا کیونکہ شیعہ وقت کے ظالموں کے خوف سے اپنے عقائد کو مخفی رکھتے تھے اور ہمارے ائمہ بھی ایسا کرتے تھے چنانچہ اس دور کی خفقانی کیفیت اور گھٹن اور سختی کی وجہ سے اپنی امامت کو ظاہر نہیں کرتے تھے یہ بات امام رضا اور واقفیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے روشن ہوجاتی ہے۔

علی بن ابی حمزہ کہ جس کا تعلق واقفی مذہب سے تھا اس نے امام علی رضا سے سوال کیا کہ آپ کے والد کیا ہوئے؟امام نے فرمایا: انتقال کرگئے، ابن ابی حمزہ نے کہا:انہوں نے اپنے بعد کس کو اپنا جانشین قرار دیا؟ امام نے فرمایا : مجھ کو، اس نے کہا :تو پس آپ واجب الاطاعت ہیں ؟ امام نے فرمایا: ہاں ، واقفیوں کے دو افراد ، ابن سراج اور ابن مکاری نے کہا : کیاآپ کے والد نے امامت کے لئے آپ کو معین کیا ہے؟ امام رضا نے فرمایا : وای ہو تم پریہ لازم نہیں ہے کہ میں خود کہوں کہ مجھے معین کیا ہے، کیا تم چاہتے ہوکہ میں بغداد جائوں اور ہارون سے کہوں کہ میں اما م واجب الاطاعت ہوں ؟ خدا کی قسم یہ میرا وظیفہ نہیں ہے ،ابن ابی حمزہ نے کہا :آپ نے ایسی چیز کا اظہار

____________________

(١)جھادالشیعہ،دارالجیل،بیروت ،١٣٩٦ھ،ص٣٩٤


کیا کہ آپ کے آبائو اجدا دمیں سے کسی نے بھی ایسی چیز کا اظہار نہیں کیا ،امام نے فرمایا: خدا کی قسم میں ان کا بہترین جانشین ہوں یعنی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جس وقت آیت یہ نازل ہوئی اور خدا وند متعال نے حکم دیاکہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائو تو آپ نے اس کا اظہار کیا۔(١)

امام محمد باقر نے اپنے زمانہ میں کئی مسئلہ کے جواب میں تقیہ سے کام لیا جس کی وجہ سے کچھ شیعہ آپ کی امامت سے منحرف ہو کر فرقۂ زیدیہ بتریہ کے پیروں ہوگئے۔(٢)

دوسری طرف بعض افراد تقیہ کی مصلحت کو نہیں سمجھ سکے اور ائمہ اطہارکا اپنی امامت کے بارے میں کھل کر اظہار نہ کرنے کو خطا سے تعبیر کیا یعنی وہ لوگ تند خو اور افراطی تھے یہ بات بھی زیدیہ مذہب کے وجود میں آنے کا سبب بنی ،جس وقت فشار و گھٹن کا ماحول کم ہوا اور حالات کچھ بہتر ہوئے اور ائمہ نے اپنی حجت تمام کی تو شیعوں کے اندر فرقہ بندی بھی کم ہوگئی امام صادق کے زمانہ میں امویوں اور عباسیوں کے درمیان کشمکش کی وجہ سے ایک بہترین موقع فراہم ہوگیا تھا اور امام صاد ق کو عملی اعتبار سے آزادی حاصل تھی اس بنا پر شیعہ فرقہ بندی میں کمی واقع ہوگئی تھی، لیکن آپ کی شہادت کے بعد منصور خلیفہ مقتدر عباسی کادبائو بہت زیادہ تھا،فرقۂ ناؤسیہ،اسماعیلیہ ، خطابیہ ،قرامطہ، سمطیہ اور فطحیہ وجود میں آئے ۔(٣)

____________________

(١)جہادالشیعہ،دارالجیل،بیروت ،١٣٩٦ھ، ص ٧٦٣

(٢)اشعر ی قمی،سعد بن عبداللہ،مقالات والفرق،مرکز انتشارات علمی فرہنگی،تہران ص٧٥

(٣)اشعر ی ،قمی ، سعد بن عبد اللہ المقالات والفرق،مرکز انتشارات علمی و فرھنگی تہران، ص٧٩


امام رضا کے زمانہ میں حالات بہتر ہو گئے یہاں تک کہ ہارون کے زمانہ میں

حضرت نسبتاًعمل میں آزاد تھے اور اس زمانہ میں واقفیہ کے چند بزرگ مثلاًعبدالرحمٰن بن حجاج ،رفاعةبن موسیٰ،یونس بن یعقوب ،جمیل بن دراج،حماد بن عیسیٰ،وغیرہ اپنے باطل عقیدہ سے پھر گئے اور حضرت کی امامت کے قائل ہو گئے، اسی طرح امام رضا کی شہادت کے بعد باوجود اس کے کہ امام جواد سن میں چھوٹے تھے لیکن امام رضا کی کوششوں اور اپنے فرزند کو جانشین کے عنوان سے پہچنوانے کی بنا پر شیعوں کے اندر فرقہ بندی میں کمی آگئی تھی۔

(٣)ریاست طلبی اورحب دنیا :

جس وقت گھٹن کا ماحول ہوتاتھاتو ائمہ اطہار اساس تشیع کے تحفظ نیز شیعوں کی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کرتے تھے، اس وقت مطلب پرست اور ریاست طلب افراد جوشیعوں کی صفوں میں شامل ہوتے تھے لیکن دیانت پر بالکل اعتقاد نہیں رکھتے تھے وہ اس وضعیت سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے جیسا کہ امام جعفرصادق نے ایک صحابی کے جواب میں کہ جس نے احادیث کے اختلاف کے بارے میں پوچھا تھاتو آپ نے فرمایا :کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہماری حدیثوں کی تاویل کرکے دنیا اور ریاست تک پہنچنا چاہتے ہیں ۔(١)

اس بنیاد پر دوسری صدی ہجری میں اور اس کے بعد جب شیعیت پھیل گئی تھی امام صادق،امام کاظم اور امام عسکری کی شہادت کے بعد مطلب پرست اور ریاست طلب افراد شیعوں کے درمیان کچھ زیادہ پیدا ہوگئے تھے، مال ا ور ریاست کی بنیاد پر

____________________

(١) شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال، رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ ج ١ ص ٣٧٤


فرقوں کو ایجاد کرتے تھے امام باقرکی شہادت کے بعد مغیرہ بن سعید نے اپنی امامت کادعویٰ کیا اور کہا : امام سجاد اور امام باقرنے میرے بارے میں تاکید کی ہے اس وجہ سے اس کے طرفدار مغیریہ کہلائے ۔

امام صادق کی شہادت کے بعد نائوسیہ اور خطابیہ فرقے پیدا ہوئے جن کے رہبروں نے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے امام صادق اور ان کے فرزند اسماعیل کے نام سے فائدہ اٹھایا ،فرقۂ نائوسیہ کا رہبر ابن نائوس ہے اس نے امام صادق کی رحلت کا انکار کیا اور ان کو مہدی مانا ہے او ر خطابیہ امام صادق کے فرزند اسماعیل کی موت کے منکر ہیں اور ان کے رہبروں نے ان دو بزرگوں کے بعد خود کو امام کے عنوان سے مشہور کیا ۔(١)

امام موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعدمال کی وجہ سے کثرت سے فرقے وجود میں آئے یونس جو امام کاظم کے صحا بی ہیں نقل کرتے ہیں : جس وقت امام موسیٰ کاظم دنیا سے گئے ان کے نوابین ووکلا کے پاس بہت سے مال اور رقوم شرعیہ موجودتھی اسی وجہ سے انہوں نے حضرت پر توقف کیا اور حضرت کی شہادت کے منکر ہوگئے، نمونہ کے طور پر زیاد قندی انباری کے پاس ستر ہزار دینار اور علی بن حمزہ کے پاس تیس ہزار دینار تھے یونس کا بیان ہے : جس وقت میں نے ان کی اس وضعیت کو دیکھا تو میرے لئے حقیقت روشن ہوگئی اور حضرت امام رضا کی امامت کا قضیہ بھی مرے لئے واضح ہو گیا تھا،میں نے حقائق بیان کرنا شروع کردیئے اورلوگوں کو حضرت کی جانب دعوت دی، ان دونوں نے میرے پاس پیغام کہلوایا کہ تم کیوں لوگوں کو امام رضا کی امامت کی طرف دعوت دیتے

____________________

(١)شیخ طوسی ،رجال کشی ،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ، قم ، ١٤٠٤ھ ج١،ص٨٠


ہواگر تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم تم کو بے نیاز کردیں گے اورانہوں نے دس ہزار دینار کی مجھے پیش کش کی لیکن میں نے قبول نہیں کیا لہذاوہ غصہ ہوئے اورانہوں نے مجھ سے دشمنی اور عداوت کا اظہار کیا ۔(١)

سعد بن عبداللہ اشعری کا بیان ہے : امام کاظم کی شہادت کے بعد فرقۂ ہسمویہ کا یہ عقیدہ تھاکہ امام موسیٰ کاظم کی وفات نہیں ہوئی ہے اور وہ زندان میں بھی نہیں رہے ہیں بلکہ وہ غائب ہو گئے ہیں اور وہی مہدی ہیں ، محمد بن بشیر ان کا رہبر تھا اس نے دعوٰی کیا کہ ساتویں امام نے خوداس کواپنا جانشین بنایا ہے، انگوٹھی اور وہ تمام چیزیں جن کی دینی او ردنیوی امور میں احتیاج ہوتی ہے اسے میرے حوالے کیا ہے اور اپنے اختیارات بھی مجھے دیئے ہیں اور مجھے اپنی جگہ بٹھایا ہے لہذا میں امام کاظم کے بعد امام ہوں محمد بن بشیر نے اپنی موت کے وقت اپنے فرزند سمیع بن محمد کو اپنی جگہ بٹھایا اور اس کی اطاعت کو امام موسیٰ کاظم کے ظہور تک واجب قرار دیا اور لوگوں سے کہا کہ جوبھی خدا کی راہ میں کچھ دیناچاہتا ہے وہ سمیع بن محمد کو عطا کرے ان لوگوں کانام ممطورہ پڑا۔(٢)

____________________

(١)زین عاملی ،محمد حسین ،شیعہ در تاریخ ،ص١٢٣،شیخ طوسی کی غیبت سے نقل کی ہے ص٤٦

(٢)اشعری قمی،سعد بن عبد اللہ،المقالات والفرق،ص٩١


(٤)ضعیف النفس افراد کا وجود :

شیعوں میں کچھ ضعیف النفس افراد موجود تھے جس وقت امام سے کوئی کرامت دیکھتے تھے تو ان کی عقلیں اس کو تحمل نہیں کرپاتی تھیں اور وہ غلو کر نے لگتے تھے اگرچہ خود

ائمہ طاہرین نے شدت سے اس طرح کے عقائد کا مقابلہ کیا ہے ،رجال کشی کے نقل کے مطابق بصرہ کے سیاہ نام لوگوں میں سے ستّر لوگوں نے جنگ جمل کے بعد حضرت علی کے بارے میں غلو کیا۔(١)

مفاد پرست اور ریاست طلب افرادان لوگوں کے عقید ے سے سو ء استفادہ کرتے تھے ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو منحرف کرتے تھے اور اپنے مفاد میں ان سے کام لیتے تھے جیسا کہ ابی خطاب نے فرقۂ خطابیہ کو ایجاد کیا اور امام صادق کو مقام پیغمبری میں قرار دیا اورکہا : خدا ا ن میں حلول کر گیا ہے اور خود کو ان کا جانشین بتایا۔(٢)

امام زمانہ کی غیبت صغریٰ میں بھی ابن نصیر نے خود کو پہلا باب اور احکام کے نشر کرنے اور اموال جمع کرنے میں خود کوامام کا وکیل مشہور کیا ، اس کے بعد پیغمبری کا دعویٰ کیا اور آخر میں خدائی کا دعویٰ کیا،(٣) اس کے چاہنے والوں نے اس کو قبول بھی کرلیا بلکہ اپنے چاہنے والوں کے ایمان کی بنا پر ہی اس نے یہ دعوے کئے تھے اور اسی طرح فرقہ غلات وجود میں آئے ۔

____________________

(١)جب امیر المومنین جنگ جمل سے فارغ ہوئے ٧٠لوگ جو سیاہ پوست جوبصرہ میں رہتے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے نے اپنی زبان میں علی سے بات کرنا شروع کی علی نے ان کی زبان میں ان کو جواب دیا انہوں نے آپ کے بارے میں غلو کیا علی نے فر مایا: میں خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں انہوں نے قبول نہیں کیاانہوں نے کہا: آپ ہی خدا ہیں ، آپ نے ان سے توبہ کرنے کی در خواست کی لیکنانہوں نے توبہ نہیں کی اس وجہ سے آپ نے ان کو پھانسی دی،شیخ طوسی،اختیار معرفة الرجال، رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث،قم،١٤٠٤ھ،ج١، ص ٣٢٥

(٢)شہرستانی ،کتاب ملل ونحل،منشورات شریف رضی،قم ،ج١،ص١٦٠

(٣)شیخ طوسی، رجال کشی،ج٢،ص٨٠٥


غالیوں کے خلاف ائمہ کا مبارزہ

اہم ترین خطروں میں ایک خطرہ جو طول تاریخ میں شیعوں کے لئے چیلنج کا سبب بنا رہا وہ غالیوں کامسئلہ اور عقائد کا شیعوں کی ظرف نسبت دیناہے ہمیشہ شیعوں کے دشمن شیعوں کو ان کے اماموں کے متعلق غلو اور زیادہ روی سے متہم کرتے تھے ہم یہاں غلات کے مختلف فرقوں اور ان کے عقائد کو بیان نہیں کریں گے لیکن قابل توجہ مطلب یہ ہے کہ اہم ترین خصوصیت اور غلات کے تمام فرقوں کے درمیان نقطئہ اشتراک ائمہ اطہار کے بارے میں غلو کرنا ہے اور ان کوخدا کے مرتبہ تک پہنچانا ہے مسلمانوں کے درمیان غلات کاوجود داخلی عوامل سے زیادہ خارجی عوامل کی بنیاد پر ہے جب دشمنان اسلام براہ راست مقابلہ نہیں کرسکے اوروہ تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام کو خاطر خواہ نقصان نہ پہنچاسکے تو انہیں یہ حربہ اپنایا ،چونکہ اسلام ان کی سر زمینوں میں داخل ہوچکا تھا اور ان کی پوری طرح سے شکست ہوچکی تھی لہٰذا ان کی یہ کوشش یہ رہی کہ اسلام کو داخلی طریقہ سے نقصان پہنچایا جائے اسی وجہ سے انہوں نے اسلام کے پہلے اصول کو مورد ہد ف قرار دیا، سیاسی حکومتیں بھی اس جانب مائل تھیں کہ اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چاہنے والوں اور ان کے شیعوں کے درمیا ن ایسے افراد پیدا ہوں جن کے عقائد کی نسبت شیعوں کی طرف دی جائے اور اس طریقہ سے اہل بیت کے چاہنے والوں کو غالی اور مسلمانوں کے زمروں سے علیحدہ کردیا جائے ،اگر چہ یہ سلسلۂ خلافت امیرالمومنین کے دور سے شروع ہو گیا تھااور کچھ غیر فعّال لوگ آپ کے بارے میں افراطی عقیدہ رکھنے لگے تھے جب وہ اپنے عقیدہ سے نہیں پلٹے توحضرت نے ان کو ختم کر دیا۔(١)

____________________

(١)شیخ طوسی ،رجال کشی ،ج١،ص٣٢٥


عبداللہ بن سبا جو ایک موہوم اور خیالی شخص ہے جس نے سب سے پہلے اس کا نام لیا وہ طبری ہے اس نے ابن سبا کی داستان کو سیف ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ تمام علمائے رجال ابن سیف کے کذاب ہونے پر متفق ہیں ،(١) ائمہ اطہار مسلسل اس طرح کے مسائل سے دوچار تھے اورانہوں نے شدت سے اس کا مقابلہ کیا ہے اور ہمیشہ ان پر لعنت کی ہے اور لوگوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کیا ہے اور شیعوں کو حکم دیا ہے کہ ان کے پاس نہ بیٹھیں اور ان سے رابطہ برقرار نہ کریں ۔(٢)

امام صادق نے چندغالی لیڈروں کا نام لیا ہے، جیسے مغیرہ بن سعید ،بیان، صائدنہدی ،حارث شامی ،عبداللہ بن حارث، حمزہ بن عمار بربری، اور ابوالخطاب وغیرہ اور ان افراد پر لعنت بھی کی ہے ۔(٣)

یہ لوگ ائمہ طاہرین کی نفرین اور لعنت کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا ہوتے تھے اور بری حالت میں مارے جاتے تھے جیسا کہ امام رضا نے فرمایا :بنان نے امام سجاد پر جھوٹ کا الزام لگایا خدا نے اس کوتیز تلوار کا مزہ چکھایا ،مغیرہ بن سعید نے امام باقر پر جھوٹ کا الزام لگایا کہ اس کو بھی خدا نے تیز تلوار کا مزہ چکھایا ،محمد بن بشیر نے امام کاظم کی طرف جھوٹی نسبت دی اس کو بھی خدانے تلوار کے ذریعہ ختم کر دیا ابوالخطاب نے امام صادق کی نسبت جھوٹ الزام لگایا وہ بھی شمشیر کی زد میں آیا اور جو مجھ پر جھوٹ کا الزام لگاتاہے وہ محمد بن فرات ہے۔(٤)

____________________

(١)رجوع کیا جائے ،عسکری ،سید مرتضیٰ، عبداللہ بن سبا و اساطیر اخریٰ،طبع ششم،١٤١٣ ھ ١٩٩٢ ج٢ ص ٣٢٨۔٣٧٥

(٢)شیخ طوسی،رجال کشی ،ج٢،ص٥٨٦

(٣)شیخ طوسی،رجال کشی ،ص٥٧٧

(٤)شیخ طوسی،رجال کشی ،ص٥٩١


امام حسن عسکری کے دور میں غلات کاسلسلہ بہت زیادہ وسیع ہوگیاتھا اس وجہ سے امام نے قاسم یقطینی ،علی بن حسکہ قمی ،ابن باباقمی فہری،محمد بن نصیر نمیری و فارس بن حاتم قزوینی وغیرہ غلات کے رہبر اور سردار تھے ان لوگو ں پرآپ نے لعنت بھیجی ہے ۔(١)

شیعہ نشین علاقہ جیسے قم کہ جوہمیشہ غالیوں کا مخا لف تھا اور غالیوں کو یہاں سکونت کی اجازت نہیں تھی اس بنا پر ابن دائود نے حسین بن عبداللہ محررکی سوانح حیات کے ضمن میں یہ تحریر کیا ہے :روایت میں ہے کہ اس کو کسی غالی کے ساتھ ہونے کی بنا پر قم سے نکال دیا گیاتھا ۔(٢)

ابن جزم کے نقل کے مطابق ابوالحسن محمد بن احمد جو امام کاظم کے فرزند وں میں سے ہیں اورجنہوں نے تیسری صدی ہجری میں آذر بائیجان میں زندگی بسرکی ہے، وہاں ان کا ایک بلندمقام تھاانہوں نے غلات کے مبلغین پر بہت سختی کی یہاں تک کہ ان کے قتل کے اسباب فراہم کئے اور آذر بائیجان کے حاکم ابن ابی ساج کے غلام مفلح کواس بات پر وارد کیا کہ وہ تمام مبلغینِ غلاف کو قتل کردے۔(٣)

____________________

(١)شیخ طوسی،رجال کشی ،ص٨٠٥

(٢)رجال ابن دائود،منشوارت رضی،قم، ص٢٤٠

(٣)جمہرة انساب العرب،بیروت،طبع اول،١٤٠٣ھ،ص٦٣


ساتویں فصل

شیعوں کی علمی میراث

شرع مقدس اسلام میں تالیف وتصنیف کی اہمیت کسی پر مخفی نہیں ہے کیونکہ علم وآگاہی کے منتقل کرنے کے راستوں میں ایک راستہ لکھنا ہے، عرب کے معاشر ے میں اسلام سے پہلے اس نعمت سے بہت کم لوگ بہرہ مند تھے اور صرف چند افراد لکھنے اور پڑھنے کی توانائی رکھتے تھے۔( ١)

لیکن بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور نزول وحی کے بعدتعلیمات اسلامی سے واقفیت کے لئے قرآنی آیات کے لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ،جیسا کہ ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ عمر بن الخطاب کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ا ن کے شوہر سعید بن زید مسلمان ہوئے،خباب ابن ارث نے ایک نوشتہ کے ذریعہ کہ جسے صحیفہ کہتے ، عمر کی نظروں سے مخفی ہوکر انہیں سورہ طہ کی تعلیم دی۔(٢)

مدینہ میں بھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں میں سے بعض افراد کو کہ جو لکھنے پر قادتھے وحی لکھنے کے لئے انتخاب کیا اس کے علاوہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امیرالمومنین کو کہ جو دائمی وحی لکھنے والے تھے

____________________

(١)ابن خلدون،عبد الرحمن بن محمد،(مقدمہ)دار احیاء التراث، بیروت، ١٤٠٨ھ ص ٤١٧

(٢)ابن ہشام ،سیرة النبوة،دار المعرفة ،بیروت،(بی تا) ج١ ،ص٣٣٤


مسلسل آیات محکمات ومتشابہات اور ناسخ ومنسوخ آیات کے بارے میں وضاحت پیش کرتے تھے جس کی بنا پر صحیفۂ جامعہ کے نام سے ایک کتاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے املا کرایا جو حلال و حرام ، احکام و سنن اور وہ احکام جن کی دنیا و آخرت میں لوگوں کو ضرورت ہے ان سب کو شامل تھی۔(١)

دوسری دو کتابیں جن میں سے ایک دیات کے بارے میں تھی جس کا نام صحیفہ تھا اور دوسری کتاب جس کا نام فریضہ تھا اس کی نسبت بھی حضرت کی طرف دی گئی ہے۔(٢)

بعض دوسرے صحابہ نے بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداکی تقاریر اور احادیث کو جمع کیا تھا اس کو بھی صحیفہ کہتے تھے جیسا کہ بخاری نے ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے: اصحاب پیغمبر میں سے سب سے زیادہ میں احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نقل کرتا ہوں سوائے عبد اللہ بن عمر کے کیونکہ وہ جوچیز بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنتے تھے اس کو لکھ لیتے تھے لیکن میں نہیں لکھتا تھا۔(٣)

____________________

(١)نجاشی احمد بن علی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ ، موسسة النشر الاسلامی التابع لجماعة المدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ص ٣٦٠، اور طبرسی ، اعلام الوری باعلام الھدی ، موسسة آل البیت لاحیاء التراث، قم طبع اول ، ١٤١٧ھ ج١ ص ٥٣٦

(٢) شیخ طوسی ، محمد بن حسن،تہذیب الاحکام،مکتبة الصدوق،طبع اول،٣٧٦ ھ ق ١٤١٨ھ ج١ ، ص٣٣٨۔٣٤٢

(٣) صحیح بخاری،دارالفکر،للطباعة والنشر والتوزیع،بیروت،ج١،ص٣٦


لیکن وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد دوسرے خلیفہ ،عمر نے احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کولکھنے سے منع کر دیا۔(١)

عمر بن عبدالعزیز نے پہلی صدی ہجری کے آخر میں اس ممانعت کو ختم کر دیا اور ابو بکر بن حزم کو احادیث لکھنے کے لئے خط لکھا۔(٢)

لیکن دوسری صدی ہجری کے شروع تک یہ کام عملی طور پر نہیں ہو سکا کیونکہ غزالی کے نقل کی بنا پر جن لوگوں نے اہل سنت کے درمیان حدیث کی کتاب کو سب سے پہلے تالیف کیا ہے وہ یہ ہیں : ابن جریح ،معمر بن راشد ،مالک بن انس اور سفیان ثوری،(٣) یہ لوگ دوسری صدی ہجری کے نصف دوم میں تھے، ان کی وفات کے سال ان کے نام کی ترتیب کے ساتھ اس طرح ہیں ١٥٠ھ، ١٥٢ھ،١٧٩ھ،١٦١ھ لیکن خلیفہ دوم کی طرف سے کتابت احادیث پر پابندی اور روک ٹوک شیعوں کے درمیان مؤثر نہ ہوئی اور شیعوں کے بزرگ اصحاب جیسے سلمان فارسی ،ابو ذر غفاری،ابو رافع قبطی نے تالیف و تصنیف کی راہ میں پہلے قدم بڑھائے، ابن شہر آشوب کا بیان ہے ،غزالی معتقد ہے کہ سب سے پہلی کتاب جو جہان اسلام میں لکھی گئی وہ ابن جریح کی کتاب ہے جو تفاسیر کے حروف اور آثار کے بارے میں ہے کہ جس کو مجاہد اور عطا نے مکہ میں نقل کیا ہے، اس کی کتاب کے بعد یمن میں معمر بن راشد صنعانی کی کتاب ہے اس کے بعد مدینہ میں موطا مالک بن انس کی کتا ب ہے نیز اس کتا ب کے بعدسفیان ثور ی کی کتاب جامع ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ عالم اسلام میں سب سے پہلی کتاب

____________________

(١)حیدر،اسد ، امام صادق و مذاہب اربعہ، دارالکتاب عربی، بیروت،١٤٠٣ھ،ج١ ص٥٤٤

(٢) صحیح بخاری ،دار الفکر ،للطباعة والنشر والتوزیع،بیروت،ج١،ص٢

(٣) ابن شہر آشوب ،معالم العلمائ،منشورات المطبعة الحیدریہ،نجف ١٣٨٠ھ،ص٢


امیرالمومنین نے لکھی ہے کہ جس میں قرآن کو جمع کیا ہے حضرت کے بعد سلمان فارسی ، ابو ذر غفاری اصبغ بن نباتہ عبیداللہ بن ابی رافع نے تصنیف و تالیف کی راہ میں قدم اٹھایا اور ان کے بعد امام زین العابدین نے صحیفۂ کاملہ تالیف کی۔(١)

ابن ندیم نے بھی شیعی تالیفات کو پہلی صدی سے مربوط جانتا ہے۔(٢)

شیعو ں کی تالیف و تصنیف اور آثار نبوی کی جمع آوری میں مقدم ہونے کی وجہ سے ذہبی نے ابان بن تغلب کی سوانح حیات میں کہاہے: اگر ابان جیسے شخص کی وثاقت تشیع کی طرف جھکائو اور میلان کی وجہ سے ختم ہو جائے تو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بہت سی حدیثیں اور آثار ہمارے درمیان سے ختم ہو جائیں گے۔(٣)

اہل سنت کے گذشتہ فقہا اور محدثین خصوصاً ائمہ اربعہ نے امام صادق سے بلا واسطہ یا با لواسطہ استفا دہ کیا ہے نیز اس کے علاوہ مستقل طور پر شیعہ محدثین کی شاگردی بھی کی ہے اور ان سے احادیث دریافت کی ہیں ۔(٤)

____________________

(١)ابن شہر آشوب ،معالم العلمائ، ص ٢

(٢)الفہرست،دار المعرفة،للطباعة والنشر،بیروت، ص٣٠٧

(٣)ذہبی ، میزان الاعتدال، دار الفکر للطباعة والنشرو التوزیع، بیروت ، ج١ ص ٤

(٤)ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغة،دار الاحیاء التراث العربی،بیروت ،ج١، ص١٨


لیکن ان کتا بوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے جو شیعوں کے درمیان تیسری صدی ہجری تک لکھی گئی ہیں ، صاحب وسائل نے کہا ہے : ائمہ اطہار کے ہم عصر دانشمندوں اور محدثوں نے امام امیر المومنین کے زمانہ سے لے کر امام حسن عسکری

کے زمانہ تک چھ ہزار چھ سو کتابیں تحریر فر مائی ہیں ۔(١)

شیعوں نے اس دور میں روز مرّہ کے مختلف علوم جیسے ادبیات، لغت ،شعر ،علوم قرآن ،تفسیر ،حدیث، اصول فقہ ،کلام ،تاریخ، سیرت،رجال ، اخلاق کے بارے میں بے حد کوششیں کی ہیں اور کثیر تعداد میں اپنی تالیفات چھوڑی ہیں نیز بیشترعلوم میں وہ سبقت رکھتے ہیں ۔

ابوالاسود دوئلی نے علم نحو کی بنیاد رکھی ،(٢) انہوں نے ہی سب سے پہلی مرتبہ قرآن پر نقطہ گذاری کی۔(٣)

مسلمانوں کی سب سے پہلی لغت کی کتاب، کتاب العین ہے جس کو خلیل بن احمد نے مرتب کیا ہے(٤) ان کا شمار شیعہ دانشوروں میں ہوتا ہے ۔(٥)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگوں اور سیرت کے بارے میں سب سے پہلی کتاب ابن اسحاق نے لکھی اور ابن حجر نے اس کے شیعہ ہونے کی گواہی دی ہے۔(٦)

اس مختصر سی روشنی ڈالنے کے بعد ہم یہاں علم فقہ و حدیث اور کلام کی مختصر وضاحت پیش کرتے ہیں جن کو مکتب تشیع نے اپنے مبانی اور اصول کی بنیاد پر اپنے سے مخصوص کیا ہے ۔

____________________

(١)شیخ حرعاملی،محمد بن حسن،وسائل الشیعہ،مکتبةالاسلامیہ ، تہران، طبع ششم ج ٢٠، ص ٤٩

(٢)ابن ندیم،وہی کتاب ص٦١

(٣)بستانی،دائرةالمعارف،دار المعرفة،بیروت،ج١،ص٧٨٨

(٤)ابن ندیم،وہی کتاب،ص٦٣

(٥)اردبیلی الغربی الحائری ،محمد بن علی ،جامع الرواة،منشورات مکتبة آیةاللہ مرعشی نجفی،قم، ١٤٠٣ھ قمری،ج١،ص٢٩٨

(٦)ابن حجر عسقلانی، تحریر تقریب التہذیب ،موسسة الرسالة ،بیروت ،طبع اول ،١٤١٧ھ ١٩٩٧ئ، ج٣،ص٢١١۔٢١٢


علم حدیث:

حدیث یا سنت:

قرآن کے بعد اسلامی فقہ کا دوسرا منبع و ماخذہے یعنی معصوم کا قول،فعل اور تقریر،(تقریر یعنی معصوم کے سامنے کوئی کام انجام دیا جائے اور معصوم خاموش رہیں اس کی رد میں کچھ نہ کہیں ) اہل سنت حضرات سنّت یاحدیث کوپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قول و فعل و تقریر میں منحصرجانتے ہیں لیکن شیعہ اما م معصوم کے قول،فعل اور تقریر کو بھی حجت قراردیتے ہیں اور حدیث کا حصہ شمار کرتے ہیں(١) اب ہم ائمہ کے زما نے میں حدیثوں کی تحقیق کے چار طبقہ جو چار مرحلوں کو شامل ہے انجام دیں گے :

پہلا طبقہ :

نجاشی کے مطابق پہلے حدیث لکھنے والے حسب ذیل ہیں :

ابو رافع قطبی ، علی ابن ابی رافع ، ربیعہ بن سمیع ، سلیم بن قیس ہلالی، اصبغ بن نباتہ مجا شعی ، عبید اللہ بن حر جعفی یہ افراد امیرالمومنین علیہ السّلام اور امام حسن و امام حسین کے اصحاب میں سے ہیں ۔(٢)

____________________

(١)شہید ثانی،شیخ زین الدین،ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ،طبع سنگی،ص٤،اور الرعایة فی علم الدرایة،شہید ثانی،مکتبة آیةاللہ مرعشی نجفی،طبع اول ١٤٠٨،ص٥٠۔٥٢

(۲)رجال نجاشی،موسسہ نشر اسلامی التابعہ لجامعة المدرسین ، قم ، ١٤٠٧ھ ، قم ، ١٤٠٧ھ ق ص ٤۔ ٩


دوسراطبقہ :

بعض محققین کے مطابق امام سجّاد اور امام باقر کے اصحاب کے درمیان بارہ افرادصاحب تالیف ا ورصاحب کتاب تھے۔(١) ان میں ابان بن تغلب کا نام لیا جا سکتا ہے کہ جن کو ائمہ کے نزدیک ایک خاص مقام و مرتبہ تھا امام باقر نے ان سے فرمایا : مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بیٹھ کر لوگوں کو فتوی دوکیونکہ میں تم جیسے افرد کو اپنے شیعوں کے درمیان دیکھنا چاہتا ہوں ۔(٢)

نجاشی کا بیان ہے :ابان بن تغلب مختلف فنون و علوم میں ماہر تھے ، ابان نے ان فنون کے بارے میں کتابیں تحریر کی ہیں ،ان میں سے تفسیر غریب القرآن اور کتاب الفضائل وغیرہ ہیں ۔(٣)

اسی طرح ابو حمزہ ثمالی جن کے بارے میں امام صادق علیہ السّلام نے فرمایا: ابوحمزہ اپنے زمانے میں سلمان کی طرح تھے،(٤) ان کی تالیف کردہ کتابیں درج ذیل ہیں کتاب نوادر ، کتاب زھد اور تفسیر قرآن ۔(٥)

____________________

(١)ان بارہ افراد کے نام یہ ہیں ، برد الاسکاف ، ثابت بن ابی صفیہ ابو حمزہ ثمالی ، ثابت بن ہرمز ، بسام بن عبد اللہ صیرفی ، محمد بن قیس بجلی ، حجر بن زائد حضرمی ، زکریا بن عبد اللہ فیاض، ابو جہم کوفی ، حسین بن ثویر ، عبد المومن بن قاسم انصاری ، عبد الغفار بن قاسم انصاری ،اور ابان بن تغلب ،رجوع کریں مقدمۂ وسائل الشیعہ، مکتبة الاسلامیہ ، طبع تہران ،ج ٦ ،١٤٠٣ھ ق ص

(٢) نجاشی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة، ص ١٠

(٣) نجاشی ،احمد بن علی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة،موسسہ النشر الاسلامی لجماعة المدرسین،قم، ص ١١

(٤)احمد بن علی ، نجّاشی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة، ص١٥

(٥)ابن شہر آشوب ،معالم العلماء ،منشورات مطبعة الحیدریہ، نجف ،١٣٨٠ھ ص ٣٠


تیسرا طبقہ :

امام صادق کا زمانہ اسلامی معاشرہ میں علوم کی پیشرفت اور رشد کا زمانہ تھا اور شیعہ بھی نسبتاً آزاد تھے ،شیخ مفید کے مطابق امام صادق کے موثق اورمعتبر شاگردوں کی تعداد چار ہزارسے زائد ہے ۔(١)

امام رضا کے صحابی حسن بن علی وشاکا بیان ہے میں نے مسجد کوفہ میں نو سو افراد کو دیکھا جو امام صادق سے حدیث نقل کر رہے تھے ،(٢) اس وجہ سے حضرت سے کئے گئے سوالات کے جوابات میں چارسو کتابیں تالیف کی گئیں ،(٣) کہ جن کو اصل کہتے ہیں ان کتابوں کے علاوہ بھی دوسری کتابیں مختلف علوم و فنون میں امام صادق کے اصحاب اور شاگردوں کے ذریعہ تحریر میں آئی ہیں ۔

چوتھا طبقہ :

یہ دور امام صادق کے بعد کا دور ہے اس دور میں بہت سی حدیثوں کی کتابیں لکھی گئیں مثلاً امام رضا کے صحابی حسین بن سعید کوفی نے تیس کتابیں حدیث میں لکھی ہیں ۔(٤)

امام رضا کے دوسرے صحابی محمدبن ابی عمیر نے چورانوے٩٤کتابیں لکھی ہیں اور امام رضا و امام جواد کے صحابی صفوان بن بجلی نے تیس٣٠ کتابیں تالیف کی

ہیں ان کتابوں میں اکثر پرجامع کا عنوا ن منطبق ہوتا ہے محدّ ثین جیسے ثقة الاسلام کلینی شیخ صدوق، شیخ طوسی نے اپنی کتابوں کی تالیف میں ان لوگوں کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے ۔

____________________

(١)شیخ مفید،الارشاد،ترجمہ ، محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی اسلامی ، تہران ، ١٣٧٦ھ ش، ص ٥٢٥

(٢) نجاشی ، فہرست اسماء مصنفی الشیعة، ص ٣٩۔٤٠

(٣) اعلام الوریٰ با علام الہدیٰ ،موسسة آل البیت الاحیاء التراث ، قم طبع اول ج١ ص ٥٣٥

(٤)معالم العلماء ، ص ٤٠


علم فقہ :

مجموعی طور پر انسان کے اعمال کا رابطہ خُدا اور اس کی مخلوق سے ہے کہ جس کے لئے کچھ اصول اورقوانین کی ضرورت ہے اسی اصول اورقوانین کا نام علم فقہ ہے اسلامی قوانین خُدا کی جانب سے ہیں اور خُدا کے ارادے سے ظاہر ہوتے ہیں ، البتہ ارادئہ خُدا کہیں بھی فقط قرار دادی اور اعتباری نہیں ہیں بلکہ مصالح و مفاسد تکوینی کی بنیاد پر استوارہوتے ہیں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُدا کے بھیجے ہوئے نبی ہیں ان کا حکم خُدا کا حکم ہے :

( ما ینطق عن الهویٰ اِن هواِلّا وحی یوحی ) (١)

اور آیۂ( اطیعوا اللّٰه و اطیعوا الرّسول و اولی الأمر منکم ) (٢)

کی بنیاد پر خُدا نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے، ائمہ معصومین علیہم السلام کی باتیں وحی کے سوا کچھ نہیں ہیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح ان کی بھی اطاعت واجب ہے۔

____________________

(١)سورہ نجم ،٥٣، آیت ٣۔٤

(٢)سورہ نسائ، آیت ٥٩


عصر صحابہ و تابعین میں فقہ کی موقعیت و وضعیت

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کی وفات کے بعدحقیقی اسلام کا راستہ متغیرو منحرف ہو گیا اور لوگ بر حق جانشین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور ہو گئے، مسائل شرعی میں اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کرنے لگے البتہ چنداصحاب ان میں سے پیش قدم تھے، جیسا کہ ابن سعد کا بیان ہے کہ ابوبکر، عمر، عثمان کے دور خلافت میں حضرت علی علیہ السلام، عبد الرّحمن بن عوف ،معاذ بن جبل ابی بن کعب اور زید بن ثابت فتویٰ دیتے تھے ۔(١)

اگر چہ ائمہ اطہار اور کچھ بزرگان شیعہ جیسے ابن عبّاس، ابو سعید خدری بھی فقیہ اور قانون شریعت سے واقف ہونے کی وجہ سے عامہ اور اہل سنّت کے لئے مورد توجہ قرار پائے اور ان کی طرف لوگ رجوع بھی کرتے تھے ۔(٢)

البتہ اس دور میں شیعہ افراد فقہی مسائل اور اسلامی معارف کے بارے میں اپنے معصوم امام نیز اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب مراجعہ کرتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں فقہی اصول آج کی طرح بیان نہیں ہوئے تھے لیکن صحابہ کا دور ختم ہونے کے بعد تابعین کی کچھ تعداد نے جدیدفقہی مسائل کے لئے فقہ میں کاوش کی اور فقیہ کا عنوان ان پرمنطبق ہوا منجملہ ا نہیں میں سے وہ سات فقہائے مدینہ ہیں ۔(٣)

____________________

(١)ابن سعد، طبقات الکبری، دار احیاء التراث ، العربی ، بیروت ، طبع اول ،ج ٢ ص ٢٦٧

(٢)ابن سعد،طبقات الکبری، ج ٢ ص ٢٧٩۔٢٨٥

(٣) ابن سعد کہتا ہے : مدینہ میں جو لوگوں کے فقہی مسائل کا جواب دیتے تھے اور ان کا قول قابل اعتماد تھا وہ یہ ہیں : سعید بن مسیّب، ابو بکر بن عبد الرحمن ، عروة بن زبیر ، عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبة، قاسم بن محمد، خارجة بن زید اور سلیمان بن سیّار ،طبقات الکبری، ج ٢ ص ٢٩٣


شیعو ں کے درمیان فقہ کی وضعیت وحیثیت

فقہ کی وضعیت شیعوں کے درمیان حضور ِمعصوم کے سبب فرق کر تی ہے اور اس طرح کا اجتہاد جو اہل سنّت کے درمیان رائج تھا وہ شیعوں کے درمیان معنی نہیں رکھتا ہے بلکہ کلّی طور پرکہا جا سکتا ہے کہ فقہ شیعہ اماموں کے حضور کے دوران غیبت صغریٰ کے ختم ہونے تک ایک فرعی چیز تھی جو اجتہاد کے لئے راستہ ہموار کر رہی تھی۔(١)

____________________

(١)آیة اللہ ابراہیم جنّاتی معتقد ہیں کہ ابتدائے اسلام سے اب تک فقہ شیعہ آٹھ دور گذار چکی ہے :

(١) اجتہاد کی ابتدا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت سے ١١ھ تک ہوتی ہے ۔

(٢)تمہیدی دور یا اجتہادی مقدمات کا دور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت سے غیبت صغریٰ تک ہے

(٣) اصول قوانین کی تدوین یا مشترک عناصر اجتہادی کی تدوین کا دور جو ابن ابی عقیل ٣٢٩ھ سے شروع ہوتا ہے اور شیخ طوسی ٤٦٠ھ پر ختم ہوتا ہے ۔

(٤) اجتہاد کے مشترک عناصر کے یاد کرنے کا دور جو شیخ طوسی سے شروع ہوتا ہے اور ان کے پوتے ابن ادریس ٥٩٨ھ پر ختم ہوتا ہے ۔

(٥) اجتہادی مسائل کے استدلال کے پھیلنے کا دور جو ابن ادریس سے شروع ہو کر وحید بہبہائی ١٢٠٥ھ پر ختم ہوتا ہے ۔

(٦) اجتہاد کے تکامل وارتقا کا دور جو وحید بہبہائی سے شروع ہوتا ہے اور شیخ انصاری ١٢٨١ھ پر ختم ہوتا ہے ۔

(٧) اجتہادی مباحث میں عمیق غور و فکر کا دور جو شیخ انصاری سے شروع ہوتا ہے اور آقای خمینی پر ختم ہوتا ہے ۔

(٨) جدید طرزو روش سے اجتہاد سے فائدہ اٹھانے کا دور جس کے موجد آقای خمینی ہیں ۔

(ادوار اجتہاد ، سازمان انتشارات کیہان ، طبع اول ، ١٣٧٢ھ ش،فصل دوم کے بعد سے)


معصوم کے ہوتے ہوئے اور علم کا دروازہ کھلا رہنے کے ساتھ نیز نص تک دسترسی کی بنا پر اجتہادجو اکثر دلائلی ظنّی سے وابستہ ہے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ،فقہ شیعہ میں اجتہاد کی بنیاد سب سے پہلے ابن ابی عقیل عمانی کے ذریعہ قرن چہارم کے اوائل میں رکھی گئی ،جو شیخ کلینی کے ہم عصر تھے، ان کے بعد محمد بن جنید اس کافی نے ان کے مقصد کوجاری رکھااور اجتہاد و فقہ کی بنیادوں کو مستحکم کیا یہ لوگ قد یمین سے معروف ہیں ،شیخ مفید متوفی ٤١٣ ھ ، اورسید مرتضیٰ علم الھدیٰ متوفی ٤٣٦ھ ان لوگوں نے بھی اجتہاد کے راستہ کو ہموار کیا پھر نوبت شیخ طوسی ٤٦٠ھتک پہنچی ، شیعہ فقہ کو اس فقیہ بزرگ کے ذریعہ رونق اورترقی ملی انہوں نے حدیث کی دو معتبر کتا ب، تہذیب و استبصار کے علاوہ فقہی کتابیں بھی تالیف کی ہیں اور نہایہ، مبسوط اور خلاف جیسی کتا بیں انہیں کی قلم سے معرض وجود میں آئی ہیں ۔

البتہ ایسا نہیں ہے کہ اجتہاد، فقہ و اصول حضورائمہ میں اصلاًرائج ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ بُعد مکانی کی وجہ سے ائمہ تک لوگوں کی رسائی نہیں تھی اس وجہ سے ائمہ معصومین ان موارد میں ان افراد کے ساتھ تعاون کر تے تھے اور فقہا کی شناسائی اورمعیار کو جن کے ذریعہ ان تک رسائی ہوسکے ان کی نشاندہی کر تے تھے اور وہ اجتہاد کے ذریعہ لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے ۔


جیسا کہ مقبو لہ عمر بن حنظلہ میں ہے کہ امام صادق سے سوال کیا گیا اگر شیعوں میں سے دو افراد کے درمیان کسی مسئلہ شرعی سلسلہسے متعلق مثلاً قرض او رمیراث میں اختلاف ہوجائے توکیا کہا جائے،امام نے فرمایا: اس کی طرف رجوع کرو جو ہماری احادیث کو نقل کر تا ہے اور ہمارے حلال و حرام پر نظر رکھتا ہے اور ہمارے احکام سے واقف ہے کہ میں نے ایسے شخص کو تمہارے لئے قاضی اور حاکم قرار دیا ہے۔(١)

ائمہ طاہرین بھی کبھی کبھی بعض اشخاص کو شیعو ں کے مسائل شرعی کا جواب دینے کے لئے منتخب کرتے تھے جیسا کہ شیخ طوسی نے کہا: علی بن مسیب نے امام رضا سے عرض کی راستہ بہت دور ہے اور میں جب چاہوں ا پ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا ایسی حالت میں میں احکام دین خُدا کے بارے میں کس سے سوال کروں ؟ امام نے فرمایا: زکریا بن آدم قمی سے کیونکہ وہ دین و دنیا میں امین ہیں ۔(٢)

اسی طرح امام محمد باقر نے ابان بن تغلب کو حکم دیا کہ مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بیٹھ کر لوگوں کو فتویٰ دیں ۔(٣)

آغاز اجتہاد:

اس دور میں أئمہ طاہر ین علیہم السلام اصول فقہ اور استنباط کے قواعد اپنے شاگردوں کو سکھاتے تھے، اسی وجہ سے وہ کتابیں جو شیعہ دانشمندوں کے ذریعہ لکھی گئی ہیں ،ان کی نسبت اماموں کی جانب دی جاتی ہے ، مثلاً کتاب آل الرسول ہاشم خوانساری کی تالیف ہے اصول اصلیہ، سیّدعبداللہ بن محمد رضا حسین کی تالیف ہے، کتاب فصول المہمہ در اصول ائمہ محمد بن حسن حر عاملی کی تالیف ہے۔(٤)

____________________

(١)حر عاملی ، وسائل الشیعہ، ج ١٨، ص ٩٩، کتاب القضا ابواب صفات قاضی ، باب ١١، حدیث ١

(٢) شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ، قم ج٢ ،ص ٨٥٧

(٣)احمد بن علی ، رجال نجاشی ،النشر الاسلامی، الطابعة جامعة المدرسین، قم ، ١٤٠٧،ص١٠

(٤)صدر سید حسین، تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام،منشورات، الاعلمی ، تہران، ٣١٠


رجال کی کتابوں میں ائمہ طاہرین کے بعض بزرگ اصحاب، فقہا میں شمار کئے گئے ہیں جیسا کہ فضل بن شاذان کے بارے میں نجاشی کا بیان ہے،''کا ن ثقة احد اصحابنا الفقها والمتکلمین ''۔(١)

____________________

(١)رجال نجاشی،ص ٣٠٧۔


فقہاء اصحاب ائمہ

شیخ طوسی نے امام باقر ـ،امام صادق ـ، امام کاظم ـاور امام رضا ـکے اصحاب میں سے اٹھارہ اصحاب کو فقیہ بزرگ کے عنوان سے پہچنوایاہے اورانہیں فقہائے اصحاب ابی جعفر فقہائے اصحاب ابی عبداللہ اور فقہائے اصحاب ابی ابراہیم اور ابی الحسن الرضا سے تعبیر کیا ہے،پھر مزیدفرماتے ہیں کہ شیعہ ان حضرات کی روایات کی صحت پر اجماع رکھتے ہیں اور اصحاب أئمہ کے درمیان ان کے افقہ ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ، شیخ نے ان کو تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے:

پہلاطبقہ :

فقہائے اصحاب امام باقر،جیسے زرارہ ،معروف بن خربود ،بریدہ ابوبصیر اسدی ، فضیل بن یسارا ور محمد بن مسلم طائفی کہ زرارہ ان سب میں افقہ تھے یعنی سب سے بڑے فقیہ تھے ان لوگوں کا اصحاب امام صادق علیہ السلام میں بھی شمار ہو تا ہے

دوسرا طبقہ:

فقہائے امام صادق علیہ السلام ،جمیل بن درّاج ،عبداللہ بن مسکان، عبداللہ بن بکیر ، حماد بن عیسیٰ ا و رحماد بن عثمان ۔


تیسرا طبقہ:

فقہائے امام کاظم اور امام رضا علیہما السلام ،یو نس بن عبدالرحمن، صفوان بن یحٰ ، بیاع السابری، محمد بن ابی عمیر ، عبداللہ بن مغیرہ ،حسن بن محبوب، احمد بن محمد بن ابی نصر۔(١)

ابن ندیم نے بھی چند شیعہ فقہا اور ان کی تالیف کردہ کتابوں کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وہ بزرگان ہیں کہ جنہوں نے فقہ کو امامو ں سے نقل کیا ہے کہ اس کے بعدابن ندیم نے ان کے نامو ں کا تذکرہ کیا ہے جو حسب ذیل ہیں :

صالح بن ابی الاسود ،علی بن غرّاب ، ابی یحییٰ لیث مرادی ، زریق بن زبیر، ابی سلمہ بصری ،اسماعیل بن زیاد ، ابی احمد عمربن الرّضیع ،دائود بن فرقد ، علی بن رئاب ، علی بن ابراھیم معلی،ہشام بن سالم ، محمد بن حسن عطار، عبدالمومن بن قاسم انصاری سیف بن عمیرہ نخعی ، ابراھیم بن عمر صنعانی ، عبداللہ بن میمون قداح، ربیع بن ا بی مدرک، عمر بن ابی زیاد ابزاری، زیکار بن یحیی واسطی، ابی خالد بن عمرو بن خالد واسطی ، حریزبن عبدللہ ازدی سجستانی ، عبداللہ حلبی، زکریا ی مومن ثابت ضرری ، مثنیٰ بن اسد خیاط، عمر بن اذینہ، عمّار بن معاویہ دہنی عبدی کوفی ، معاویہ بن عمّار دہنی، حسن بن محبوب سراد، ان بزرگوں میں سے ہر ایک نے فقہ میں کتاب تحریر کی ہے۔(٢)

____________________

(١)شیخ طوسی، رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم، ج ٢ ص ٥٠٧۔ ٣٧٦۔٨٣٠

(٢) طوسی، ابی جعفر محمد بن حسن ، بن علی،الفہرست ،دار المعرفة للجماعة والنشر ، بیروت، ص ٣٠٨


علم کلام

ان اعتقاد کے مجموعہ کا نام علم کلام ہے جن پر ہر مسلمان کو یقین رکھناضروری ہے،دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ علم کلام ایک ایسا علم ہے جو اصول دین میں تحقیق و گفتگو کا متکفل ہوتا ہے اصول دین میں پہلا اختلاف مسئلہ امامت میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعد وجود میں آیا ، شہر ستانی کاکہناہے: اسلام میں اہم ترین اختلاف امامت کے سلسلہ میں ہے امامت کی طرح کسی دوسرے دینی مسئلہ میں تلواریں نہیں کھینچی گئی۔(١)

نوبختی کا بھی بیان ہے:رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُداربیع الاوّل ١٠ ھ(١) میں دنیا سے گئے آپ کی عمر ترسٹھ سال تھی ا ور مدّت نبوت تیئس سال تھی ، اس وقت امّت اسلام تین فرقوں میں تقسیم ہو گئی ، ایک فرقہ کا نام شیعہ یعنی شیعان علی ابن ابی طالب تھا،شیعوں کی تمام قسمیں ان سے وجود میں آئی ہیں ،دوسرا فرقہ جس نے حکومت وامارت کا دعویٰ کیا وہ انصار تھے ، تیسرا فرقہ ابو بکر بن ابی قحافہ کی طرف مائل ہو گیا اور کہا: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا ہے اور اس کا اختیار امت کو دے دیا ہے۔(٣)

اس بناپراس وقت سے مسلسل شیعوں اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان امر امامت کے سلسلہ میں احتجاج بحث و مباحث نیز گفتگو کا سلسلہ جاری ہے لیکن دوسرے اصول اور مبانی میں اختلاف پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے اوائل

____________________

(١) ملل ونحل، شہرستانی ، منشورات الشریف الرضی قم ، طبع دوم ١٣٦٤ھ ج ١ ص ٣٠

(٢) مشہور یہ ہے کہ رسول خدا نے اٹھائیس صفر کو رحلت فرمائی

(٣)نو بختی ابن ابی محمد حسن بن موسیٰ، فرق الشیعہ، مطبع حیدریہ نجف ١٣٥٥ ، ١٩٣٦ ص ٢۔ ٣


میں وجود میں آیا ہے ، جیسا کہ شہرستانی کا بیان ہے: اصول میں اختلاف صحابہ کے آخری ایّام میں ہوا ،معبد جہنی، غیلان دمشقی اور یونس اسواری نے خیر و شر کے سلسلہ میں قدر جیسے قول کی بدعت جاری کی ہے اورو اصل بن عطا جوحسن بصری کا شاگرد ہے اور عمر بن عبید نے قدر میں کچھ چیزوں کا اضافہ کیا ہے۔(١)

وہ کلامی فرقے جو اس دور میں تھے حسب ذیل ہیں :

وعیدیہ ، خوارج،مرجئہ اور جبریہ، البتہ کلامی بحث اس وقت عروج پر پہنچی جب واصل بن عطا، حسن بصری سے علیحدہ ہوگیااور مذہب معتزلہ کی بنیاد رکھی ،(٢) مکتب معتزلہ کہ جو زیادہ تر عقلی استدلال پر مبنی تھا اہل حدیث کے مقابلہ میں قرار پایا کہ جسے حشویہ کہا جاتا ہے ابوالحسن اشعری تیسری صدی ہجری کے آخر میں مکتب معتزلہ سے جدا ہو گیا اور مذہب اہل حدیث کا عقلی بنیادوں پردفاع کیا اور اس کا مذہب ،مذہب اشعری کے نام سے موسوم ہو گا ۔(٣)

اس کے بعد معتزلی مذہب نے پیشرفت نہیں کی اور اہل حدیث کے مقابلے میں عقب نشینی اختیار کی اس حد تک کہ اس وقت اہل سنّت کے درمیا ن رائج کلام اشعری کاکلام ہے، کلام شیعہ مسلمانوں کے درمیان سابق ترین کلامی مکتب ہے، شیعوں کے پہلے امام معصوم حضرت علی نے اعتقادی مسائل جیسے توحید قضاو قدر ، جبرو اختیار کے بارے میں گفتگو کی اور اس طریقے کے مطالب حضرت کی زبان سے نہج البلا غہ میں جمع ہوئے

____________________

(١) شہرستانی، ملل و نحل ، منشورات الشریف الرضی ، قم طبع دوم ١٣٦٤ ھ ج ١ ص ٣٥

(٢)ملل ونحل، شہرستانی ، ص ٥٠٠

(٣)شہرستانی، ملل و نحل ، ص ٨٥۔٨٦


ہیں ، لیکن شیعوں کے درمیان امامت کے سلسلہ میں کلامی گفتگو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراًبعد حضرت علی کی حقانیت کے دفاع میں شروع ہو گئی تھی ،شیخ صدوق کے مطابق جنہوں نے سب سے پہلے سقیفہ کے مقابلہ میں حضرت علی کے حق سے دفاع کیا وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بزرگ اصحاب میں سے بارہ افراد ہیں کہ جنہوں نے سقیفہ کے چند روز بعد مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ابو بکر کے خلاف احتجا ج کیا اور ابو بکر ان کے جواب میں عاجز و نا تواں نظرآئے۔(١)

ان کے بعد بھی ابوذر غفّاری جیسے شخص، امیرالمومنین کے حق کے غاصبوں کے مقابلہ میں خاموش نہیں بیٹھے، عثمان نے خوف کی وجہ سے ان کو شام اور ربذہ شہر بدر کردیا ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ابن عم حضرت علی کے شاگرد ابن عباس (مفسر قرآن، عظیم دانشور اوربر جستہ ہاشمی سیاست مدار)مکتب تشیع کے مدافعین میں سے تھے اور مستقل حقانیت علی کی جانبداری کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے ان پر اشکال واعتراض کیا کیوں آپ کہتے رہتے ہیں کہ ہمارا حق غصب ہوا ہے ؟وہ آخر عُمر میں نا بینا ہوگئے تھے، ایک روز سنا کہ کچھ لوگ کہیں پر علی کو برا کہہ رہے ہیں اپنے بیٹے علی سے کہا میر ا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے چلو ،جس وقت وہاں پہنچے ان کو مخاطب کر کے کہا تم میں سے کون خُدا کو بُرا کہہ رہا تھا: سب نے کہا: کوئی نہیں ، پھر سوال کیا تم میں سے کون رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا کہہ رہا تھا ؟سب نے کہا:کوئی نہیں پھر کہا :تم میں سے کون علی کو بُرا کہہ رہا تھا؟اس بار ان لوگوں نے کہا : ہم کہہ رہے تھے، ابن عباس نے کہا گواہ رہنا میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُدا سے سنا ہے کہ جس نے

____________________

(١)شیخ صدوق، الخصال، منشورات جماعة المدرسین ، فی الحوزہ العلمیہ قم ١٤٠٣ ص ٤٦١، ٤٦٥


علی کو برا کہا اس نے مجھ کو برا کہا اور جس نے مجھ کو برا کہا اس نے خُدا کو برا کہا اور خُدا کو برا کہنے والا جہنّم میں جائے گا، وہاں سے پلٹتے وقت راستے میں بیٹے سے کہا ان کو کس حال میں دیکھ رہے ہو،بیٹے نے یہ شعر پڑھا :

نظروا الیکٔ بأ عین محمره

نظرا لیتو س الیٰ شفار الجارز

آپ کو سُرخ آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جیسے قربانی کے جانورکی نگاہ قصّا ب کی چھری پر ہو تی ہے، ابن عبّاس نے کہا :آگے پڑھو ، کہا:

خزر الحواجب نا کسی اذقا نهم

نظرالذلیل الیٰ العزیز القادر

ان ابرواوران کی بھویں چڑھی ہوئی تھیں منہ پچکا ہوا تھا، اس طرح آپ کو دیکھ رہے تھے جیسے ذلیل قدرتمند کودیکھتا ہے ۔

ابن عبّاس نے کہا: مزید کہو،بیٹے نے جواب دیا: دوسری چیزیں بیان نہیں کرسکتا، ابن عبّاس نے خود یہ شعر پڑھے:

احیا ؤ هم خزی علیٰ امواتهم

والمیّتون فضیحة للغابر(١)

ان کے زندہ ان کے مرنے والوں کے لئے ذلت کا باعث ہیں اور ان کے مرنے والے گزشتہ لوگوں کے لئے توہینکا سبب ہیں ۔

____________________

(١)شیرازی سید علی خان ، الدرجات الرفیعہ، منشورات مکتبہ بصیرتی ،قم ، (بی تا)ص ١٢٧


اصحاب امیر المو منین میں سے بعض بزرگان جیسے صعصعة بن صوحان، میثم تمّار،کمیل بن زیاد ، اویس قرنی ، سلیم بن قیس ،حارث حمدانی اور اصبغ بن نباتہ نے بھی امیرالمومنین کے حق کا دفاع کیا اور اس بارے میں حضرت کے دشمنوں سے احتجاج کیا ، لیکن شیعوں میں سب سے پہلے علم کلام میں کس نے کتاب لکھی یہ تحقیقی موضوع ہے، ابن ندیم و ابن شہر آشوب کے مطابق علی بن اسماعیل بن میثم تمّار کلام شیعہ کے پہلے مصنف ہیں ،انہوں نے اس بارے میں کتاب امامت اور کتاب استحقاق لکھی ہے۔(١)

لیکن مرحوم سیّد حسن صدر علم کلام میں پہلے مصنف عیسیٰ بن روضہ کو جانتے ہیں ۔(٢)

البتہ کلام شیعہ کی قدیم ترین کتاب جوآج بھی دسترس میں ہے، کتاب ''الایضاح '' ہے جس کے مصنف فضل بن شاذان متوفی ٢٦٠ھ ہیں جو امام ہادی اور امام حسن عسکری کے صحابی تھے ،امام صادق کے دور میں علم کلام نے بھی دوسرے تمام علوم کی طرح ترقی پائی اور حضرت کے چند شاگرد جیسے ہشام بن حکم ،ہشام بن سالم، مومن طاق ، فضال بن حسن ، جابر بن یزید جعفی وغیرہ اس موضوع میں سب زیادہ برجستہ اورنمایاں تھے اور اس سلسلہ انہوں نے میں اپنی کتابیں چھوڑی ہیں ان کا دوسرے مکاتب کے دانشمندوں سے مناظرہ ہوتا تھا ، فضل بن شاذان نیشاپوری متوفی ٢٦٠ھ ممتاز ترین شیعہ متکلم تھے، انہوں نے امام رضا امام جواد اور امام ہادی کے زمانے کو درک کیا ہے اور کلام و عقائد اور منحرف مذاہب

____________________

(١) ابن ندیم گزشتہ حوالہ ، ص ٢٤٩، اور ابن شہر آشوب ، معالم العلماء ، منشورات مکتبة الحیدریہ ، نجف ١٣٨٠ھ ١٩٦١م ص ٦٢

(٢)تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام، منشورات الاعلمی ، تہران ص ٣٥٠


کے خلاف کافی کتابیں لکھی ہیں ۔(١)

حسن بن نو بختی متوفی ٣١٠ ھ شیعہ متکلمین میں سے تھے ان کی جملہ کتابوں میں سے ایک فرق الشیعہ ہے ۔(٢)

____________________

(١)نجاشی، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ، نجاشی موسسة الاسلامی تابعة لجماعة المدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ، ص٣٠٦

(٢) فہرست اسماء مصنفی الشیعہ، نجاشی موسسة الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین ، قم ١٤٠٧ھ ص ٦٣


آٹھویں فصل

شیعیت کے فروغ میں شیعہ شاعروں کا کردار

شیعہ شعرا ء اور اشعار کی اہمیت

گزشتہ زمانے میں شعر کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی اشعار اپنے ادبی اور فنی پہلوئوں سے قطع نظر تبلیغی امور کا اہم ترین ذریعہ ہوا کرتے تھے اورجو کام آج اخبار ریڈیو ٹیلی ویژن انجام دیتے ہیں وہ کام اشعار کے ذریعہ لیا جاتا تھا، زمانۂ جاہلیت میں عرب قوموں کے درمیان یہ چیز بہت زیادہ قابل اعتناء تھی کیونکہ وہ فصاحت و بلاغت اورحُسن کلام کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے،یہی وجہ ہے کہ قرآن کے اہم ترین اعجاز کا ایک پہلو اس کی فصاحت و بلاغت ہے، اسی وجہ سے عربوں کے درمیان شعرکو ایک خاص اہمیت حاصل تھی ،جیسا کہ یعقوبی کا اس بارے میں کہنا ہے :

عرب لوگ شعر کو علم وحکمت کے برابر اور ہم پلہ جانتے تھے جس وقت کسی قبیلہ میں کوئی نکتہ سنح شاعر اورسخنور ظاہر ہوتا تھاتو اس کے لئے سالانہ کے بازاروں اور مراسم حج جیسے اجتماعات میں شرکت کا موقع فراہم کرتے تھے تاکہ وہ شعر پڑھے اور اس کے شعر کو دوسرے قبیلہ والے سنیں اور اس پر فخر کریں ، عرب اپنے تمام امور کے لئے شعر کا سہارا لیتے تھے شعر کے ذریعہ دشمنی کرتے تھے شعر کے ذریعہ مثال پیش کرتے تھے شعر کے ذریعہ ایک دوسرے پر افتخار کر تے تھے،ایک دوسرے کی عیب جوئی کرتے


تھے اور ایک دوسرے کی مدح وثنا کرتے تھے۔(١)

سقیفہ کی تشکیل اور تشیع کی صف علیحدہ ہونے کے بعد عربی اشعار نے اپنی حیثیت محفوظ کر لی اور شیعیان علی نے اپنے امر امامت وولایت میں اپنے نظریات کی وسعت کے لئے اس سے فائدہ اٹھایا اور شیعہ مدافعین ولایت مکتب تشیع کی حقانیت میں کہ جس کا اصلی مقصد خلافت کے باب میں امیر المومنین کی حقانیت کوثابت کرنا ہے، اشعار کہااور اس نے تشیع کی وسعت اورفروغ میں اہم رول ادا کیا،زبیر بن بکار جوشیعہ مخالف رجحان رکھتا تھااس کے باوجود اس نے کچھ اشعار کو ذکر کیا ہے منجملہ اشعار میں سے عتبہ بن ابی لہب کے اشعار ہیں :

ما کنت احسب ان الامر منصرف

عن هاشم ثم منها عن ابی حسن

میں نے سو چا بھی نہیں تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم سے اور ان کے درمیان ابوالحسن(علی )سے چھین لیا جائے گا۔

الیس او لیٰ من صلّی لقبلتکم

واعلم الناس بالقرآن والسّنن

کیا وہ پہلا شخص نہیں ہے کہ جس نے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور قرآن و سنت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔

____________________

(١)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی،منشورات شریف الرضی،قم،ج١،ص٢٦٢


واقرب الناس عهداًبالنبی ومن

جبریل عون له فی الغسل والکفن

کیا وہ آخری فرد نہیں ہے جس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا؟کیا وہ شخص وہ نہیں ہے کہ جبرئیل نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل و کفن میں جس کی مدد کی ہے؟

ما فیه وما فیهم لا یمترون به

ولیس فی القوم مافیه من الحسن

کیوں نہیں اپنے اور علی کے درمیان فرق قائل ہوتے لوگو ں کے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جوعلی کے مانند فضائل رکھتا ہو۔

ماذا الذی ردهم عنه فتعلمه

ها ان ذاغبنا من اعظم الغبن(١)

اس سے منصرف ہونے کی علت کیا ہے؟ ان کو اس مطلب سے آگاہ کرو کہ یہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہے۔

ائمہ طاہرین بھی شعر کے استعمال کی ضرورت اوراس کے نفوذ سے کاملاً آگاہ تھے اور شیعہ شعراء کا بے حد احترام و اکرام کرتے تھے، ایک روز کمیت اسدی امام باقرکی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصیدہ میمیّہ پڑھنا شروع کیا جس وقت اس شعر پر پہنچے :

وقتیل با لطف غودر منهم

بین غوعاء امة وطغام

سر زمین طف (کربلا)میں ذلیل اور پست صفت لوگوں کے درمیان انہیں شہیدکردیا گیا جو عظیم تھے۔

____________________

(١)زبیر بن بکار،الاخبار الموفقیات،منشورات الشریف الرضی،قم،١٤١٦ھ ،ص ٥٨١


امام باقرعلیہ السلام نے گریہ کیا اور فرمایا ،اے کمیت! اگر ہمارے پاس ثروت ہوتی ہم تمہیں عطا کرتے لیکن جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حسان بن ثابت کے لئے فر مایاتھا وہی میں تم سے کہتا ہوں جب تک تم ہم اہل بیت کا دفاع کرو گے اس وقت تک روح القدس کے ذریعہ تمہاری تائید ہوتی رہے گی ۔(١)

اسی طرح امام صادق فرماتے ہیں : اے شیعو! اپنی اولاد کو عبدی(٢) کے اشعار سکھائو کیونکہ وہ خدا کے دین پر ہیں ۔(٣)

اسی وجہ سے حقیقت گو شعراء شیعوں اور دوستداران پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک قابل احترام و اعتبار تھے جیسا کہ ابن المعتز نے نقل کیا ہے قم کے لوگ پچاس ہزار درہم سا لانہ شیعہ شاعر دعبل خزاعی کو ا دا کرتے تھے۔(٤)

____________________

(١)مسعودی علی بن الحسین،مروج الذہب،منشورات مو سسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت، ج٣، ص٢٥٤

(٢)عبدی امام صادق کے اصحاب میں سے تھے ان کا نام رجال کشی میں سفیان بن مصعب اور ان کی کنیت ابو محمدذکر ہوتی ہے ،شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال ،مئوسسة الآل البیت لاحیاء التراث قم، ١٤٠٤ھ، ج٢،ص٧٠٤،ابن شہرآشوب نے صفیان بن مصعب کو اہل بیت کے شعرا ء کے طبقہ میں ذکر کیا ہے اور شعرا کے طبقہ میں (مجاہر)اس کے نام کوغلطی سے علی بن حماد عبدی کے نام سے ذکرکیاہے) (معالم العلما،منشورات المطبعةالحیدریہ،النجف،١٣٠٨ہجری،١٩٦١م،ص١٤٧و١٥١)

(٣)ابن شہرآشوب ، گزشتہ حوالہ ،ص١٤٧

(٤)ڈاکٹر شوقی ،ضیف تاریخ الادب العربی العصر العباسی الاول،دارالمعارف ،مصر،ص٣٢١


اسی بنا پر شیعہ شعرا ء بنی عباس اور بنی امیہ جیسے دشمن حاکموں کی طرف سے مستقل آزارو اذیت کا شکارتھے ،کمیت بن زیدی اسدی نے جو اشعار اہل بیت کی مدح اور ان کے غم میں کہے تھے اس کی بنا پر بنی امیہ نے ان کوزندان میں ڈال دیا(١) سدیف بن میمون(٢) نے محمد نفس زکیہ کی مدح میں اشعار کہے تھے۔(٣) جس کی بنا پر منصور عباسی کے غضب کانشانہ بنے مدینہ کے حاکم عبد الصمد بن علی نے منصور کے حکم سے سدیف کو زندہ در گور کر دیا۔(٤)

اسی طرح ابراہیم بن ہرمہ جو شیعوں کے شیرین سخن شعرا ء میں سے تھے اور اہلبیت کی مدح میں کافی اچھے اشعارکہے تھے جس وقت وہ منصور عباسی کے در بار میں داخل ہوئے منصور نے ان سے تند لہجہ میں کہا :اگر اس کے بعد ایسے اشعار کہے جو ہماری پسندکے نہ ہوئے تو تم کو قتل کردوں گا۔(٥)

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،الاغانی،دار احیاء التراث العربی،بیروت،ج١٧،ص١۔٨

(٢)سدیف بن میمون امام سجاد کے مدّاح اور ماننے والوں میں سے تھے، ابن شہر آشوب نے آپ کو اہلبیت کا چاہنے والا اورمیانہ رو لوگوں کی فہرست میں قرار دیا ہے انہوں ہی نے پہلے عباسی خلیفہ سفاح کو بنی امیہ کے باقی افراد کے قتل پراپنے اشعار کے ذریعہ تحریک کیا تھا ،امین ،سید محسن ، اعیان الشیعہ دارالتعارف للمطبوعات، بیروت، ج١ ص١٦٩

(٣)یہ امام حسن کے پوتوں میں سے تھے اور آپ کے باپ عبد اللہ بن حسن مثنیٰ تھے بنی امیہ کے آخری دور میں بنی ہاشم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن امام صادق کاخیال یہ تھا کہ ان کا کام انجام کو نہیں پہنچے گا ،عباسیوں کے خلافت پر آنے کے بعد عباسی خلیفہ کے دوسرے دور میں منصور نے مدینہ میں قیام کیا لیکن عباسی طاقت کے سامنے وہ شکست کھا گئے اور قتل ہو گئے )

(٤) ابن عبدربہ اندلسی،العقدالفرید،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،ج٥،ص ٧٢۔٧٣

(٥)اسد حیدر ،امام صادق و مذاہب اربعہ،دار الکتاب عربی بیروت ، طبع سوم ،١٤٠٣ ھ ج١،ص٤٥٢


ہاں بہت سے شاعر ایسے بھی تھے جو جان کی پراوا نہیں کرتے تھے جان کو خطرے میں ڈال کر اشعار کہتیتھے،جیسے دعبل کہتے ہیں پچاس سال سے پھانسی کے پھندے کو گلے میں ڈالے پھر رہا ہوں کوئی نہیں ہے جو مجھے پھانسی دے۔(١)

غیبت صغریٰ تک کے شیعہ شعراء

جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ سقیفہ کی تشکیل کے پہلے ہی روز سے شعراء کے درمیان ایسے حقیقت گو شعرا ء پیدا ہوئے کہ جنہوں نے اپنی نوک زبان کے ذریعہ مکتب تشیع کا دفاع کیاامیرالمو منین کے دور حکومت میں جنگ جمل و صفین میں ان عراقی شعرا کے علاوہ کہ جوپیروان علی میں سے تھے حضرت کے بہت زیادہ اصحاب جیسے ،عمار یاسر،خزیمہ بن ثابت،ابو ایوب انصاری،ابن عباس وغیرہ نے امیرالمومنین کے حق کے دفاع میں اشعار پڑھے۔

بنی امیہ کے دور میں بھی چند شعرا نے خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنی وا بستگی کا ثبوت دیا لیکن بنی امیہ کے زمانے میں بنی عباس کے زمانے کی بہ نسبت کم شعراء تھے کیونکہ بنی امیہ کے زمانہ میں شیعہ معاشرہ پر شدیدگھٹن کاچھایا ہوا حاکم تھا جیسا کہ ابوالفرج اصفہانی کا بیان ہے:وہ شعراء جو بنی امیہ کے دور میں تھے انہوں نے امام حسین کے مرثیہ میں کم اشعار کہے ہیں ۔(٢)

____________________

(١)الشکعة ،ڈاکٹرمصطفیٰ ،الادب فی موکب الحضارةالاسلامیہ کتاب الشعراء،دار الکتاب اللبنانیہ، ص ١٦٢۔٣٦٣

(٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم ص١٢١


جس وقت کمیت اسدی نے قبیلۂ بنی ہاشمکی مدح و ثنا کی تو عبداللہ بن معاویہ نے کہ جو جعفر طیّار کی اولاد میں سے تھے بنی ہاشم کو مخاطب کر کے کہا: اے بنی ہا شم !جس وقت لوگ تمہاری فضیلت بیان کرنے سے سکوت اختیار کئے ہوئے تھے اس وقت کمیت نے تمہارے بارے میں اشعار کہے اور بنی امیہ کے مقابلہ میں اپنی جان کی بازی لگا دی یہی اشعار ان کے گرفتاری کا باعث بنے اور انہیں شہید کر دیا گیا ۔(١)

ان سے پہلے فرزدق بھی امام سجادکی مدح و ثنا کرنے کی بنا پر بنی امیہ کے زندان میں گرفتار ہو چکے تھے۔ ( ٢)

بنی عباس کا دور میں حقیقت گو شعراء کے لئے بہت زیاد ہ حساس تھا لیکن چونکہ شیعہ معاشرہ بنی عباس کے دور میں وسیع ہو چکا تھالہذا بنی امیہ کے زمانہ کی بہ نسبت ان پر کم کنٹرول ہوسکا آہستہ آہستہ جب بنی عباس کمزور ہوگئے تومکتب تشیع کے دفاع میں بہت سے شعرا ئظاہر ہوئے جیسا کہ ڈاکٹر شوقی ضیف کا کہنا ہے:''عباسیوں کے دوسرے دور میں بہت سے شیعی اشعار کہے گئے، اور شیعہ شعراء اس دور میں دو گروہ میں بٹے ہوئے تھے ایک علوی شعرا ء دوسرے غیر علوی شعراء۔(٣)

شیعہ شعراء کی تعداد کے بارے میں بزرگ دانشور ابن شہر آشوب ،علی خان شیرازی اور مرحوم علامہ امینی نے تحریرکیا ہے،لیکن اس سلسلے میں جامع ترین کارنامہ سید محسن

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ،الاغانی،دا راحیاء التراث العربی ،بیروت،ج١٧،ص١۔٨

(٢)قطب الدین راوندی الخرائج والجرائح مؤسسہ امام المہدی ،قم،طبع ١،١٤٠٩ھ ،ج١ ص٢٦٧

(٣) ضیف ،شوقی ،تاریخ الادب العربی العصرالعباسی الثانی ،دار المعارف بمصر،ص٣٨٦


امین نے انجام دیا ہے کہ شیعہ شعرا ء کو ان کے سال وفات کے ساتھ ٣٢٩ ھ یعنی غیبت صغریٰ کے خاتمہ تک ایک ایک کاذکر کیا ہے۔

شیعہ شعراء مرحوم سید محسن امین کے مطابق درج ذیل ہیں ۔

برجستہ شیعہ شعراء

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام

حضرت فاطمہ زہرا بنت رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

فضل بن عباس ، م ، ١٢، یا ١٥ ھ

ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب

حضرت عباس بن عبد المطلب ،م ٣٢

حضرت حسن بن علی ـ

حضرت حسین بن علی علیہ السلام

عبد اللہ بن عباس ، ٦٨ ھ

عبد اللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبد المطلب ، ش ، ٦١ھ

ام حکیم بنت عبد المطلب ، پہلی صدی

عمار بن یاسر ٣٧ھ

نابغة جعدی قیس بن عبد اللہ ، پہلی صدی

ابو الہیثم بن تیّھان انصاری ٣٧ھ

خذیمہ بن ثابت ذو الشہادتین ٣٧ھ

اروی بنت عبد المطلب


عبد اللہ بن بدیل بن ورقا الخزاعی

خزیم بن فاتک اسدی

صعصعة بن صوحان العبدی ، پہلی صدی

لبید بن ربیعة عامری ،م ٤١ھ

کعب بن زہیر اسلمی ، م ٤٥ھ

حجر بن عدی کندی ، م،٥١ھ

کعب بن مالک انصاری ، پہلی صدی

قیس بن سعد انصاری ، م، ٦٠

منذر بن جارود عبدی ، م ٦١ یا ٦٢ھ

سلیمان بن صرد خزاعی ، ش ٦٥ھ

احنف بن قیس تمیمی ،م، ٦٧ یا ٦٨ھ

عدی بن حاتم طائی ، م ٦٨ھ

ابو الطفیل عامر بن واثلة کنانی

ہاشم مرقال ، ش، ٣٧

مالک اشتر ، ش، ٣٨، یا ٣٩ھ

ثابت بن عجلان انصاری

نجاشی قیس بن عمرو حاثی ، شاعر اہل عراق

قیس بن فہدان کندی ، م ٥١ھ

شریک بن حارث اعور ، م، ٦٠ھ

سعیة بن عریض ، پہلی صدی


جریر بن عبد اللہ بجلی ، پہلی صدی

رباب زوجہ امام حسین

ام البنین فاطمہ کلابیہ زوجۂ امیر المومنین

عبید اللہ بن حر جعفی ، پہلی صدی

مثنی بن مخرمة عبدی ، پہلی صدی

ابو دہبل جمحی ، پہلی صدی

ابو الاسود الدؤلی ، م ٦٩ھ

عقبة بن عمر و سھمی

عبد اللہ بن عوف بن احمر

مسیب بن نجبة الفزاری ش، ٦٥

عبد اللہ بن سعد بن نفیل ، ٦٥ھ

عبد اللہ ابن خضل طائی

عبد اللہ بن وال تمیمی ،ش، ٦٥ھ

رفاعة بن شداد بجلی ،ش، ٦٦ھ

اعشی حمدان ، پہلی صدی

ابراہیم اشتر ، ش، ٦٦ھ

ایمن بن خریم اسدی ، م ٩٠ھ

فضل بن عباس بن عقبة بن ابی لہب

ابو الرمیح خزاعی ، م١٠٠ھ

خالد بن معدان الطائی ، م ١٠٣ھ

کثیر عزہ ، م ،١٠٥ھ


فرزدق ھمام بن غالب تمیمی ،م ١١٠ھ

سفیان بن مصعب عبدی ،م١٢٠ھ

زید بن علی ابن الحسین ش، ١٢٢ھ

سلیمان بن قتیبہ عدوی ،م ١٢٦ھ

کمیت بن زید اسدی ، م ١٢٦ھ

مستحل بن کمیت ، دوسری صدی

یحی بن یعمر،م ١٢٧ھ

فضل بن عبد الرحمن بن عباس بن ربیعة بن حارث بن عبد المطلب ،م ١٢٩ھ

مالک بن اعین جھنی ، دوسری صدی کے درمیان

وردبن زیدبرادر کمیت ،م ١٤٠ھ

ابراہیم بن حسن ، ١٤٥ھ

قاضی عبد اللہ بن شبر مہ کوفی ،م١٤٤ھ

موسی بن عبد اللہ ، دوسری صدی

سدیف بن میمون ، ١٤٧ھ

زرارةبن اعین ،م ١٥٠ھ

محمد بن غالب بن حزیل کوفی ،دوسری صدی

ابراہیم بن حرمت ،١٥٠ھ

عبد اللہ بن معاویہ از نسل جعفر طیار

ابو ہریرہ اجلی ،دوسری صدی

ابو ہریرة الابرار ،م دوسری صدی

قدامت سعدی


جعفر بن عفان طائی ، م١٥٠ھ

ابو جعفر مومن طاق دوسری صدی ہجری

شریک بن عبداللہ نخعی ، دوسری صدی

علی بن حمزہ نحوی کسائی ،م ١٨٩ھ

منصور نمری ، دوسری صدی ہجری

معاذ بن مسلم ہرہ ،م ١٨٨ھ عبد اللہ بن غالب اسدی

مسلم بن ولید انصاری ، دوسری صدی ہجری

،ابو نواس ، مستولد ،م١٩٨ھ

سید حمیری ،م ١٩٩ھ

علی بن عبد اللہ خوافی ،تیسری صدی

عبد اللہ علی مرانی تیسری صدی ہجری

عبد اللہ بن ایوب حریبی

مشیع مانی ، تیسری صدی ہجری

قاسم بن یوسف کاتب ،تیسری صدی

اشجع بن عمر و سلمی ،٢١٠ھ

محمد بن وہب حمیری ،تیسری صدی

ابو دلف عجلی ، م ٢٥٥ھ

ابو طالب قمی ، تیسری صدی ہجری

ابو تمام حبیب بن اوس طائی

دیک الجن تیسری صدی ہجری


ابراہیم بن عباس صولی ،م ٢٣٤ھ

ابن سکیت یعقوب بن اسحاق

ابو محمد عبد اللہ بن عمار برقی ،م ٢٤٥ھ

دعبل بن علی خزاعی ، م ٢٤٦ھ

محمد بن عبد اللہ خزاعی

عبد اللہ بن محمد خزاعی ،تیسری صدی

حسین بن دعبل خزاعی ، تیسری صدی

موسی بن عبد الملک ،م ٢٤٦ھ

احمد بن خلاد اشروی ، تیسری صدی ہجری

احمد بن ابراہیم، تیسری صدی

بکر بن محمد نحوی م ٢٤٨ھ

احمد بن عمران اخفش

ابو علی حسین بن ضحاک ،م ٢٥٠ھ

محمد بن اسماعیل صمیری ، م٢٥٥ھ

فضل بن محمد تیسری صدی کے درمیان حمانی علی بن محمد ،م ٢٦٠ھ

دائود بن قاسم جعفری ،م ٢٦١ھ

ابن رومی علی بن عباس ،م ٢٨٣ھ

بحتری ، ولید بن عبید طائی ،م ٢٨٤ھ

شریف محمد بن صالح ،تیسری صدی

نصر بن نصیر حلوانی ، تیسری صدی

علی بن محمد بن منصور بن بسام


احمد بن عبید اللہ ،م ٣٤١ھ

خُبزارزی بصری نصر بن احمد

خباز البلدی محمد بن احمد چوتھی صدی

احمد بن علویہ اصفہانی ،م ٣٢٠ھ

ابو بکر محمد بن حسن درید ،م ٣٢١ھ

محمد بن احمد بن ابراہیم طباطبائی حسنی

محمد بن مزید بو شنجی ،م ٣٢٥ھ علی بن عباس نوبختی ، م، ٣٢٩ھ

مفجع بصری محمد بن احمد ،م ،یا، ش٣٢٧ھ


شیعوں کے ممتاز اور نمائندہ شعراء

ہر دور میں چند معروف شعراء شیعہ کے نام سے مشہور تھے جو شیعی اشعا رکے زرین دور کے نمائندے تھے اور انہوں نے خود کو خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولایت و دوستی میں محو کر دیا تھا من جملہ ان شعرا میں کمیت بن زید اسدی ، کثیر عزہ، فرزدق اور سید حمیری کہ جو بنی امیہ کے دور میں تھے، ابن عبدربہ کا کہنا ہے:کمیت ا و رکثیر تند وغالی شیعوں میں سے تھے ۔(١)

کمیت کے فرزند مستہل نے کہاہے:(میرے باپ) کمیت نے موت کے وقت آخری بارآنکھ کھولی توتین بار کہا :الٰلھم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (٢)

ابن معتزکا بیان ہے :سید حمیری نے علی کے تما م معروف فضائل کو شعر میں جمع کیا ہے۔(٣)

ابوالفرج اصفہانی کہتے ہیں :سید حمیری کے اکثر اشعار بنی ہا شم کی مدح اور ان کے دشمنوں کی سر زنش میں ہیں ،بنی ہاشم کی مدح میں تئیس سو قصیدہ ان سے نقل ہوئے ہیں ۔(٤)

اسی وجہ سے شیعوں کے نزدیک سید حمیری کا مقام بہت بلند تھا اور مسجد کوفہ میں ان کے لئے ایک خاص مسند تھی ۔(٥)

پہلے عباسی دور میں دو بزرگ شاعر منصور نمری اور دعبل خزاعی شیعوں کے دوزودگو

____________________

(١)ابن عبد ربہ اندلسی، عقد الفرید، ج ٥،ص٢٩٠

(٢)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،ج١٧،ص٤٠

(٣) ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،ج١٧،ص ٢٤١

(٤)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ،ج١٧،ص ٢٤١

(٥) ابن عبدربہ اندلسی ،عقد الفرید ،ج٤ ص٣٢٠


اور برجستہ شاعر تھے ہارون رشید نے نمری کے قتل کرنے کا دستور دیا تھالیکن وہ ان کی موت سے پہلے انہیں نہیں پکڑ سکا۔(١)

ڈاکٹر مصطفیٰ شکعہ کا دعبل کے بارے میں کہنا ہے: دعبل اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدح کرتے تھے اور اہل بیت اطہار جن صفات کے اہل تھے ویسے وہ اشعار میں توصیف کرتے تھے نیز،بنی امیہ و بنی عباس کی سر زنش و مذمت کرتے تھے اور اگر وہ ان کو موت سے ڈراتے تھے تو کہتے تھے کہ میں پچاس سال سے پھانسی کے پھندے کو گردن میں ڈالے پھر رہا ہوں مگرکوئی نہیں ہے جو مجھے پھانسی دے ۔(٢)

ڈاکٹر شوقی ضیف کا اس بارے میں کہناہے :عباسیوں کے دوسرے دور(٣) میں بہت زیادہ شیعہ شعرا ء نے اشعارکہے ہیں ان میں سے بعض اشعار علوی شعرا ء کی جانب سے کہے گئے ہیں اور بعض کو تمام شیعہ شعراء نے کہاہے اس دور میں اہم ترین علوی شعرا ء محمد بن صالح علوی حمانی اور محمد بن علی کہ جو عباس بن علی کے پوتوں میں سے تھے محمد بن علی نے متوکل کے زمانے میں اپنے اشعار میں اپنے باپ دادا پر افتخار کیا ہے اور شیعہ نظریوں کو اپنے اشعار میں پیش کیا۔(٤)

____________________

(١)اسد حیدر،الامام الصادق المذاہب الاربعہ، دارالکتاب العربی،بیروت، طبع سوم،١٤٠٣ھ ج١ ص٢٥٤،ذہر الآداب کے نقل کی بنا پر، ج٣ ص٧٠

(٢)الادب فی موکب الحضارةالاسلامیہ ،کتاب الشعر ١، دارالکتاب اللبنانیہ ،ص ١٦٢۔١٦٣

(٣)عباسیوں کا دوسرا دورمعتصم کے زمانہ میں تیسری صدی ہجری کے آغازسے ترکوں کے عباسیوں کے دربار میں آنے سے شروع ہوا ہے

(٤)تاریخ العرب العربی العصر العباسی الثانی، دارالمعارف ،مصر،ص٣٨٦


شیعہ شعراء کا میدان

شیعہ شعرا نے مختلف میدانوں میں اشعار کہے ہیں ان عناوین کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے :

(١) غاصبین حقوق اہل بیت کے مقابلہ میں احتجاج

شیعہ شعرا ء اور اہل سخن ،سقیفہ کی تشکیل سے ہی حضرت علی اور ان کی اولاد کی ولایت کے معتقد تھے، ان کی مظلومیت کا نوحہ پڑھتے تھے، ان کے حق کا دفاع کرتے تھے ان کی کوشش تھی کہ جس راستے کو رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دکھایاہے اسے لوگوں کے سامنے نمایاں کریں اس بارے میں مشہور ہے کہ سب سے پہلے شیعہ شاعروں کے لئے کمیت اسدی نے راستہ کھولا ،علامہ امینی نے اس بات کی نسبت جاحظ کی طرف دیتے ہوئے فرمایا ہے : کمیت اسدی کا نطفہ منعقد ہونے سے بھی پہلے شیعہ صحابہ اور تابعین جیسے خزیمہ بن ثابت ، ذو الشہادتین، عبد اللہ بن عباس ، فضل بن عباس ، عمار یاسر ، ابوذر غفاری ، قیس بن سعد انصاری ، ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب ، عبد اللہ بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب ، زفر بن زید بن حذیفہ ، نجاشی بن حارث بن کعب ، جریر بن عبد اللہ بجلی ، عبد اللہ بن حنبل نے اپنے اشعار کے ذریعہ حق امیر المومنین کا دفاع کیا ہے(١) جن لوگوں نے سب سے پہلے امیر المومنین کے دفاع میں شعر کہے ہیں ان میں عبد اللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبد المطلب ہیں ۔

شیخ مفید نقل فرماتے ہیں : جس وقت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہوئی عبد اللہ

____________________

(١) الغدیر ، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج١ ص ١٩١


بن ابی سفیان مدینہ میں نہ تھے جب مدینہ آئے دیکھاکہ لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کر لی ہے تو آپ نے مسجد کے وسط میں کھڑے ہوکریہ اشعار پڑھے :

ما کنت احسب ان الا امر منتقل

عن هاشم ثم منها عن ابی الحسن

میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم سے اور وہ بھی ابو الحسن علی سے چھین لیا جائے گا۔

الیس اول من صلّی لقبلتهم

و اعرف الناس بالآثار والسنن(١)

کیا وہ تمہارے قبلہ کی طرف رخ کرے نماز پڑھنے والے پہلے شخص نہیں ہیں اور آثار و سنن کو سب سے زیادہ جاننے والے نہیں ہیں ۔

____________________

(١)کتاب الجمل ، شیخ مفید ، مکتب الاعلام الاسلامی مرکز نشر ، ص ١١٨


اس شعر کے شاعر کے بارے میں مؤرخوں کے درمیان اختلاف ہے شیخ مفید نے اس شعر کو عبداللہ بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب سے منسوب کیاہے ،ابن جحرنے کہا ہے کہ یہ اشعار الاصابہ فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی الہب کے ہیں ،موید الدین خوارزمی نے اپنی کتاب مناقب میں ان اشعار کو عباس بن عبد المطلب جو پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا ہیں ،ان سے نسبت دی ہے، شریف رضی نے اپنی کتاب المجالس میں ربیعہ بن حارث بن عبد المطب کی طرف نسبت دی ہے قاضی بیضاوی اور نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں ان کی نسبت حسان بن ثابت کی طرف دی ہے زبیر بن بکار نے کہا ہے کہ یہ اشعار ابو لہب کے بیٹوں کے ہیں ، قاضی نور اللہ نے ابن حجر کے نظریہ کو رد کیا ہے اور کہاہے : ان اشعار کو سقیفہ سے پہلے کہا گیا ہے اور وہ فضل بن عباس بن عتبہ نہیں ہے کیونکہ وہ بعد میں پیدا ہوا تھا لہذا ان اشعار کو کہنے والا فضل تھالیکن وہ فضل بن عتبہ بن ابی الہب ہے بہر حال یہ اختلاف نظر ہماری بحث میں کوئی اثر نہیں رکھتاکیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ ان اشعار کا پڑھنے والا شیعہ تھا ۔

سید علی خان شیرازی،الدرجا ت الرفیعہ فی طبقات الشیعہ ،منشورات مکتبة بصیرتی،قم،ص١٩٣


اسی طرح چند دوسرے شعرا ء نے بھی حقانیت علی کے دفاع میں اشعار کہے ہیں فضل بن عباس اپنے اشعار کے ضمن میں اس طرح کہتے ہیں :

الا ان خیر الناس بعد محمد

وصی النبی المصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عند ذی الذکر

آگاہ ہو جائو کہ خدا کے نزدیک محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کے جانشین (حضرت علی)سب سے بہتر ہیں ۔

واول من صلّیٰ وصنو نبییه

واول من اردی الغوا ه لدی بدر(١)

وہ سب سے پہلا نماز گذار اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی ہیں انہوں نے بدر میں ستمگاروں کو عقب نشینی پر مجبور کردیا تھا۔

مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب نے جنگ صفین میں اصحاب علی کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

فیکم وصی رسول اللّٰه قائدکم

وصهره و کتاب اللّٰه قد نشرا(٢)

تمہارے درمیان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاجانشین تمہار اقائدو فرمانرواہے جو رسول کا داماد بھی ہے اور کتاب خدا کی تفسیر کرنے والا بھی۔

____________________

(١)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ، ص ١٤٣

(٢)سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ ،ص١٨٧


فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی الہب پہلی صدی ہجری کے آخر ی مشہور شعراء میں سے تھے ،ابن عبدربہ نے نقل کیا ہے:جس وقت ولید بن عبد الملک کعبہ کا طواف کر رہاتھا توفضل بن عباس زمزم کے کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

یا ایهاالسائل عن علیّ

تسال عن بدرلنا بدریّ

اے علی کے بارے میں سوال کرنے والے کیا توجنگ بدر میں شریک ہونے والے بنی ہاشم کے ماہ کامل بار ے میں پوچھ رہا ہے؟

مردّ دٍ فی المجد ابطحی

سائلةٍغرته مضیی(١)

ایک با فضیلت مرد کے شرف میں تم شک کررہے ہو یا اس کے سابقہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟!

جنہوں نے حقانیت امیر المومنین کے دفاع میں سب سے پہلے اشعار کہے ہیں ان میں ایک عورت بھی ہے جس کا نام( ام مسطح بن اثاثہ ہے)مورخین نے نقل کیاہے کہ ابوبکر و عمر نے علی سے زبر دستی بیعت لینے پر سختی کا مظاہرہ کیا تو ام مسطح مسجد میں آئی

____________________

(١)ابن عبد ربہ اندلسی،العقد الفرید ،دار احیاء التراث العربی،بیروت،ج٥،ص٧٥


اورقبرپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب رخ کرکے یہ اشعار پڑھے :

قد کان بعدک انبائ وهینمة

لوکنت شاهد ها لم تکثر الخطب

آپ کے بعد وہ حوادث واختلافات وجود میں آئے اگر آپ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا

انا فقدناک فقد الارض وابلها

فاختل قومکٔ فاشهد هم ولا تغب(١)

ہم نے آپ کوہاتھ سے کھو دیا جیسے پانی زمین کی تہوں میں غائب ہوجاتا ہے آپ کی قوم نے رخنہ ایجاد کیا، گواہ رہیے گا اور غافل نہ ہویئے گا۔

وہ شعرا ء جنہوں نے علی کے دفاع میں زبانِ احتجاج کھولی، ان میں ایک عظیم شاعر اور ادیب ابو الا سود دوئلی بھی تھے جو بصرہ کے محلہ قبیلہ بنی قیشر میں زندگی بسر کرتے تھے اس محلہ میں عثمانی رہتے تھے جوابو الا سود دوئلی کے ہم خیال نہیں تھے اسی وجہ سے وہ ان کواذیت دیتے تھے اور رات میں ان کے گھر پر پتھر مارتے تھے انہوں نے اس طریقہ سے لو گوں کا جواب دیا ہے :

یقول الارذلون بنو قشیر

طوال الدهر لا تنسی علیا

بنی قشیرجیسے پست لوگ کہتے ہیں کہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ علی کو کیوں فراموش نہیں کرتے؟!

____________________

(١)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،دارالکتب العربیہ ، مصر،ج٦،ص٤٣


فقلت لهم وکیف یکون ترکی

من الأعمال مفروضاً علیاًّ

میں نے ان سے کہا جو اعمال مجھ پرعلی کے حوالے سے واجب ہیں ، ان کو کیسے ترک کردوں ۔

احب محمد اًحباً شد یدا

و عباساً و حمز ة وا لوصیا

میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بے حد دوست رکھتا ہوں ، اسی طرح عباس ،حمزہ اور ان کے وصی علی کو۔

بنی عم النبی واقر بیه

احب الناس کلهم اِلینا

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچاکی اولادیں اور ان کے قرابتدار تمام لوگوں میں سب سے زیادہ میرے لئے عزیز و محبوب ہیں ۔

فان یکٔ حُبُّهم رشدااًصبه

ولست بمخطی ء ان کان غیاًّ

اگر ان کی دوستی ہدایت ہے تو میں حاصل کر چکا ہوں اور اگر یہ دوستی بے فائدہ ہے تو بھی میں نے کوئی ضرر نہیں کیا۔


هم اهل النصیحة غیر الشکٔ

واهل مودتی مادمت حیاًّ

بے شک وہ لوگ اہل نصیحت ہیں اور جب تک زندہ ہوں وہ میرے دوست ہیں ۔

رایت اللّه خالق کل شئی

هداهم واجتبی منهم نبیاّ

خدا کو تمام چیزوں کا خالق جانتا ہوں ، اس نے ان کی ہدایت کی ہے اور ان کے درمیان سے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو منتخب کیا ہے۔

ولم یخصص بها احداً سوا هم

هنیاًما اصطفاه لهم مرّیاًّ(١)

ان کے علاوہ کسی کواس سے مخصوص نہیں کیا یہ انتخاب خدا کاانہیں کو مبارک ہو۔

یہاں تک کہ بنی امیہ کے آخری زمانے میں بہت سے بزرگ اور معروف شاعر جیسے کمیت اسدی ،کثیرعزہ اور سید حمیری جو علی کی ولایت میں ڈوبے ہوئے تھے حضرت کی حقانیت اور دفاع میں اشعار کہے ہیں :

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،الاغانی ،دار احیاء التراث العربی،بیروت ،ج١٢،ص٣٢١


(٢)شیعہ شعراء کا بنی امیہ اور بنی عباس کے شعراء سے مقابلہ

دوسرا موضوع کہ جس پر شیعہ شعرا ء نے اشعار کہے ہیں وہ بنی عباس اور بنی امیہ کے شعرا ء کے جواب میں ہیں ٣٥ھکے بعد عثمان کا قتل ہوا،بنی امیہ نے اپنے برے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اور امیر المو منین کے خلاف لو گوں کو بھڑکانے کے لئے بطور اسلحہ اشعار کا سے استفادہ کیا سب سے پہلے جس نے حضرت کے خلاف شعر کہا وہ عثمان

کاماموں ولید بن عقبہ ہے کہ جس کو قرآ ن نے فاسق کہاہے ،اس نے بنی ہاشم خصوصاً حضرت علی کو عثمان کا قاتل اور اموال کی غارت گری سے متہم کیا ہے اور کہا ہے:

بنی هاشم ردواسلاح ابن اختکم

ولا تنهبوه لا تحل نهائبه

بنی ہاشم اپنے بھانجوں کے اسلحہ واپس کردو ان کے مال کو غارت نہ کرو کیونکہ ان کا مال تم پر حلال نہیں ہے۔

بنی هاشم کیف الهوادة بیننا

وعند علی درعه ونجائبه

بنی ہاشم ہمارے اور تمہارے درمیان کیسے دوستی ہو سکتی ہے؟ جبکہ عثمان کا اونٹ اور زرہ علی کے پاس ہے۔


بنی هاشم کیف التودد منکم

ابن اروی فیکم وحرائبه(١)

ا یبنی ہاشم ہم کیسے تم سے دوستی کریں ؟ جب کہ ابن اروی(عثمان ) کے نیزے تمہارے پاس ہیں ۔

اس موقع پر عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبد المطلب نے اس کا جواب دیا اور اپنے اشعار میں اس طرح کہا :

فلا تسألون سیفکم ان سیفکم

اضیع والقا ه لدی الروع صاحبه

ہم سے اپنی تلواروں کو نہ مانگو کیونکہ جب اس کا مالک ڈرگیا تو اس کوپھینک کر بھاگ کھڑا ہوا۔

وشبهته کسریٰ وقد کان مثله

شبیهاً بکسریٰ هدیه وضرائبه

تم نے ان کو کسری ٰسے تشبیہ دی ہے وہ واقعاًاس کے مثل تھے اور ان کی سواری اور مال کسریٰ سے مشابہ تھے۔

منا علیّ الخیرصاحب خیبر

وصاحب بدر یوم سالت کتائبه

علی سراسر خیر ہیں اور ہم میں سے ہیں اور فاتح بدرو خیبر ہیں جب دشمن کے سپاہی ان کے مقابلہ میں آئیں ۔

وکان ولی الامر بعد محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

علیّ وفی کل المواطن صاحبه

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ولی امر علی ہیں جوتمام جنگوں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ تھے۔

وصی النبی المصطفی وابن عمه

واول من صلی ومن لان جانبه(١)

وہ مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین اور ان کے چچا کے بیٹے ہیں نیز وہ سب سے پہلے نماز گذار ہیں اور بہت خوش اخلاق ہیں ۔

____________________

(١) سید علی خان شیرازی ، الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ ، ص ١٨٨


دوسری مرتبہ جب اس نے حضرت امیر المومنین کے خلاف شعر کہے اوراپنے بھائی عمارہ بن ولید کو کوفہ میں خط لکھا تو حضرت علی کے خلاف تحریک چلانے کے لئے اس طرح کہا :

ان یکٔ ظنی فی عماره صادقا

ینم ولا یطلب بذحل ولا وتر

اگر میرا گمان عمار ہ کے بارے میں سچ ہے تو وہ سورہا ہے اور(عثمان کی) خون خواہی کے بارے میں سعی نہیں کررہا ہے۔

یبیت واوتاد ابن عفان عنده

مخیمةبین الخورنق والقصر

وہ آرام سے سو رہا ہے حالانکہ عثمان کے قاتل اس کے نزد یک خورنق اور قصر کے درمیان خیمہ لگائے ہیں ۔

تمشی رخی البال متشزر القوی

کانکٔ لم تسمع بقتل ابی عمر

آسودہ خاطر اور جسمانی صحت و سلامتی کے ساتھ راستہ چل رہے ہو جیسا کہ تم نے قتل ابوعمرو(عثمان)کو سنا ہی نہیں ۔

الا ان خیر الناس بعد ثلاثه

قتبل التجیبی الذی جاء من مصر(٢)

آگاہ ہو جائوتین افراد کے بعد بہترین شخص وہی ہے کہ جس کو تجیبی نے مصر سے آکر قتل کیا ہے۔

____________________

(١) سید علی خان شیرازی الدرجات الرفیعہ فی طقات الشیعہ ،ص١٨٩

(٢)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ، ج ٢،ص١١٤


ا س موقع پر ان اشعار کا جواب فضل بن عباس بن عبدالمطلب نے اس طرح دیا:

اتطلب ثاراًلست منه ولا له

وما لابن ذکر ان الصفوری والوتر

کیا تم اس کے خوں خواہ ہو جس کے ساتھ تمہاری کوئی رشتہ داری نہیں ہے ابن ذکران صفوری کہاں ؟ اور خوں خواہی عثمان کہاں ؟!

کما افتخرت بنت الحمار بامّها

وتنسی اباها اذا تسامی اولو الفخر

تمہاری مثال اس خچر کی طرح ہے جو مقام فخر میں اپنے باپ گدھے کوتو بھول گیا ہے مگر اپنی ماں گھوڑی پر افتخار کرتا ہے۔

الا ان خیرالناس بعد نبیهم

وصی النبی المصطفی ٰعند ذی الذکر

آگاہ ہو جائو!پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد خدا کے نزدیک نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین سب سے افضل ہیں ۔

واول من صلی وصفو نبیه

واول من اردی ا لغواه لدی بدر(١)

وہ پہلا نماز گزار اور نبی کا بھائی ہے اور اسی نے سب سے پہلے بدر میں ظالموں کو بھگایا۔

____________________

(١)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ، ج ٢،ص١١٤


جنگ جمل میں بنی امیہ کے طرفدار اور عثمانی افراد اپنی تحریک کی تائید میں اور اپنے دوستوں کو جوش دلانے کے لئے رجز پڑھتے تھے اصحاب امیرالمومنین بھی ان کے مقابلہ میں جواب دیتے تھے جواب دینے والوں میں عمار یاسر اور مالک اشتر تھے ، مثلاً قبیلۂ بنی ضبہ کے چند افرادجو عائشہ کے اونٹ کو گھیرے میں لئے ہوئے اونٹ کی لگام پکڑے تھے اور قتل ہورہے تھے آخری آدمی نے جب اونٹ کی لگام پکڑی تو اس طرح کہا:

نحن بنو ضبه اصحاب الجمل

ننعی ابن عفان باطراف الاسل

ہم بنی ضبہ یاران جمل ہیں اور اپنے نیزوں کے ذریعہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں ۔

ردوّا علینا شیخنا ثم بجل (١)

ہمارے بزرگ کوہماری طرف صحیح و سالم پلٹادو۔

مالک اشتر اس کی طرف دوڑے اور اس طرح کہا:

کیف نردّ نعثلاً وقد قخل

سارت به ام المنایا ورحل(٢)

ہم کس طرح نعثل کو پلٹائیں جب کہ وہ سڑ گیاہے اور بدن پر تلواریں لگنے کی وجہ سے مرگیا ہے یہ کہہ کر اس کو ضربت لگائی اور اس کو قتل کر دیا۔

____________________

(١)کتاب الجمل ، شیخ مفید ، مکتب الاعلام الاسلامی مرکز نشر ، ص ١١٨،

(٢)کتاب الجمل ، شیخ مفید ، مکتب الاعلام الاسلامی مرکز نشر ، ص ١١٨


جنگ صفین میں جنگ کی مدت طولانی ہونے کی وجہ سے فوجی تصادم و پیکار کے علاوہ دونوں فوجوں میں شعری مقابلہ بر قرار تھا،نصر بن مزاحم نے مالک اشتر،خزیمہ بن ثابت، فضل بن عباس، قیس بن سعد ،عدی بن حاتم ،عمرو بن حمق خزاعی،حجر بن عدی کندی،نعمان بن عجلان انصاری،محمد بن ابی سبرہ قریشی،مغیرہ بن حارث بن عبد المطلب جندب بن زہیر ابو زبید طائی،احمر شاعر عراق،ابو حبة بن غزیہ انصاری وغیرہ جیسے بزرگوں کے اشعار کو نقل کیا ہے کہ جنہوں نے اہل شام کے شعرا ء کے مقابلہ میں شعرکہے:

خود امیر المومنین نے عمرو عاص جیسے افراد کے جواب میں شعر کہا ہے،ابن ابی الحدید کا کہنا ہے ،صفین میں اہل عراق کے منجملہ شاعروں میں سے ایک نجاشی تھا کہ جس کو حضرت علی نے حکم دیا تھا کہ اہل شام کے شعراء مثل کعب بن جعیل اور اسی کے مانند دوسروں کا مقابلہ کرے۔(١)

____________________

(١)ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ،ج ٤،ص٨٧


(٣ )مرثیہ گوئی

دوسرے اہم ترین موضوعات جس پر شیعہ شعرانے اپنی سخنوری میں بہت ہی وسیع پیمانہ پر طبع آزمائی کی ہے اور شعر کہے ہیں وہ خاندان پیغمبر کی مصیبت کویاد دلانا اور شہداء کے

لئے مرثیہ ہے یہ موضوع ٦١ ھ امام حسین کی شہادت کے بعد وجود میں آیا اسسلسلہ میں دو حصہ میں گفتگو کی گئی ہے ۔

(الف) امام حسین اور شہدائے کربلا کے مراثی

آغاز اسلام سے آج تک تا ریخ اسلام میں واقعہ کربلا سے زیادہ درد ناک واقعہ پیش نہیں آیا چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی ابھی تک مومنین کے دلوں میں اس کی تاثیر موجودہے اس زمانے سے اہل بیت کے چاہنے والوں نے اپنی توا نائی کے مطابق اس سلسلے میں اشعار کہے ہیں ۔

حادثۂ کربلا کے بارے میں بہت زیادہ اشعار پہلی صدی ہجری کے اختتام بعد اور بنی امیہ کا زوال کے دور میں کہے گئے ہیں جیساکہ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے کہ بہت سے متاخرین شعراء نے امام حسین کے لئے مرثیہ کہے ہیں ، بحث کے طویل ہونے کی وجہ سے ہم ان اشعارکوذکر نہیں کرسکتے، لیکن بنی امیہ کے دور میں بنی امیہ کی طرف سے سختی کی بنا پراس وقت کے شعراء نے امام حسین کے بارے میں بہت کم مرثیے کہے ہیں ۔(١)

جیسے عبیداللہ بن حربہ امام حسین کا مرثیہ کہنے کی وجہ سے ابن زیاد کی زیادتی کا نشانہ بنے اور فرار کرنے پر مجبور ہوئے۔(٢)

اگر چہ پہلی صدی ہجری ہی میں امام حسین کے بارے میں کافی اشعار کہے گئے

____________________

(١)مقاتل الطالبین،منشورات الشریف الرضی،طبع دوم،١٤١٦ھ،١٣٧٤ ھ ش،ص١٢١

(٢)ابی مخنف ،مقتل الحسین ،تحقیق حسن غفاری ،قم،طبع دوم ،١٣٦٤ھ،ش،ص٢٤٥


ہیں لیکن ان کا حجم دوسری صدی ہجری میں کہے گئے اشعار کی بہ نسبت بہت کم ہے ، سب سے پہلے بنی ہاشم کی داغ دیدہ خواتین نے اپنے عزیزوں کے بارے میں مرثیہ کہے ہیں ،جس وقت امام حسین کی خبر شہادت مدینہ پہنچی بنی ہاشم زینب بنت عقیل سے نالہ و شیون کرتی ہوئی باہرنکل آئیں ان کی زبان پر یہ اشعار تھے :

ماذا تقو لون اذ قال النبی لکم

ماذا فعلتم وانتم آخر الامم

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کیا جواب دوگے جب تم سے پوچھیں گے کہ اے آخری امت! تم نے کیا کیا؟

بعترتی وباهلی بعد مفتقدی

نصف اساری و نصف ضرٍّوجوابدم

میرے مرنے کے بعد میرے اہل بیت کے ساتھ تم نے کیاسلوک کیا؟ ان میں سے نصف کو اسیر کیا اور نصف کو خون میں نہلا یا۔

ما کان هذا جزائی اذ نصحت لکم

ان تخلفونی بشر فی ذوی رحمی(١)

کیا میری یہی جزا تھی؟! کہ میں تمہاری ہدایت کروں اور تم میرے اہل بیت کے ساتھ بد رفتاری کرو۔

من جملہ دل خراش مراثی میں سے شہدائے کربلا کے بارے میں سب سے زیادہ

دل خراش مرثیہ جناب ابو الفضل العباس کی والدہ ٔگرامی جناب ام البنین کا مرثیہ ہے ابوالفرج اصفہانی نقل کرتے ہیں : حضرت عباس کے فرزند عبید اللہ کا ہاتھ پکڑ کر جناب

ام البنین بقیع جاتی تھیں ،مدینہ کے لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے تھے اور ان کے مرثیہ پڑھنے سے رو تے تھے ،مروان بن حکم جیسا شخص بھی اس بانو کے مرثیہ پر رو پڑا۔(٢)

____________________

(١) مقتل الحسین،ص٢٢٧۔٢٢٨

(٢)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ، قم ، طبع دوم ، ١٤١٦ھ ١٣٧٤ھ ش، ص٩٠


جناب ام البنین کے مرثیہ کے اشعار یہ تھے:

یامن رای العباس کر

علی جماهیر النقد

اے وہ لوگو! کہ جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرا عباس کس طرح پست صفت لوگوں پر حملہ کرتا تھا۔

و کل لیث ذی لبد

ورائه من ابناء حیدر

اس کے پیچھے فرزندان حیدر شیر کے مثل کھڑے رہتے تھے ۔

انبئت ان ابنی اصیب

براسه مقطوع ید

مجھے خبر دی گئی ہے کہ جب اس کے ہاتھ قلم ہوگئے تب سر پر گرز لگا ۔

ویل علیٰ شبلی اما

لبراسه ضر ب العمد

افسوس میرے بیٹے کے سر پر گرزگراں پڑا۔

لوکان سیفکٔ فی ید

یکٔ لمادنا منکٔ احد(١)

(اے عباس! )اگر تیرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو تیرے پاس کوئی نہیں آتا۔

____________________

(١)غفاری،حسن ،ذیل کتاب مقتل الحسین ابی مخنف،قم،١٣٦٤،ص١٨١


جس وقت کربلا کے اسیروں کا کارواں مدینہ کی جانب چلا اور مدینہ کینزدیک پہنچا تو امام زین العابدین نے پہلے بشیر بن جذلم کو مدینہ بھیجا اور بشیر نے ان اشعار کے ساتھ اسیران اہل بیت علیہم السلام کے مدینہ میں داخلہ کی خبردی :

یا اهل یثرب لا مقام لکم بها

قتل الحسین فاد معی مدرار

اے اہل مدینہ! اب یہ جگہ تمہارے رہنے کے قابل نہیں رہی حسین قتل کردئیے گئے ان پر آنسو بہاؤ ۔

ا لجسم منه بکربلامضرّج

والرأس منه علیٰ ا لقناة یدار(۱)

ان کا جسم کربلا کی زمین پر خون میں غلطاں اور ان کا سر نیزہ کے اوپر بلند تھا۔

شاعروں کے درمیان خالدبن معدان،عقبہ بن عمرو،ابو الرمیح خزاعی،سلیمان بن قتہ عدوی ،عوف بن عبد اللہ احمر ازدی اور عبید اللہ بن حرّ پہلی صدی ہجری کے شعرا ء ہیں جنہوں نے مرثیہ گوئی کی ہے اور امام حسین کی مصیبت میں اشعار کہے ہیں جس وقت خالد بن معدان نے شام میں حضرت کاسر نیزہ پر دیکھا تو یہ اشعارپڑھے:

جائو ا براسک یا ابن بنت محمّد

مترملاً بد ما ئه تر میلا

اے نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! آپ کے سر کو خون میں ڈوبا ہوا لائے۔

____________________

(۱)ابن طائوس ،لھوف،ترجمہ محمد دز فولی،موسسہ فرہنگی وانتشاراتی انصاری،قم،طبع اول ١٣٧٨،ص٢٨٤


و کانّمابک یا ابن بنت محمّد

قتلوا جهاراًعامدین رسولا

اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نواسے! تمہیں علی الاعلان قتل کرکے چاہتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے انتقام لیں ۔

قتلوک عطشاناًو لم یترقبوا

فی قتلک التنزیل والتاویلا

آپ کو پیاسا قتل کیا اور آپ کے قتل میں قرآن کی تاویل و تنزیل کی رعایت نہیں کی ۔

ویکبرون بان قتلت وانّما

قتلو بک التکبیر و التهلیلا(١)

جب آپ قتل ہوئے تو تکبیریں بلند کیں حالانکہ آپ کے قتل ساتھ تکبیرو تہلیل کو بھی قتل کر دیا۔

گزشتہ شعرا ء میں عبید اللہ بن حر ہیں کہ جنہوں نے امام حسین کی مصیبت میں مرثیہ کہا ان کے مرثیہ کا پہلا شعر یہ ہے :

یقو ل امیرغادر ای غادر

ألا کنت قاتلت الشهید بن فاطمه

خائن کاامیر ،خائن کا بیٹا مجھ سے کہتا ہے کہ تم نے کیوں فاطمہ کے شہید فرزند کے ساتھ جنگ نہیں کی؟

ابن زیاد نے جس وقت ان اشعار کو سنا عبید اللہ کے پیچھے بھاگااس نے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی جان بچائی۔(١)

سلیمان بن قتة من جملہ اہم ترین مرثیہ کہنے والوں میں سے تھے ان کے اشعار یہ ہیں :

مررت علیٰ ابیات آل محمّد

فلم أرهاکعهدهایوم حلّّت

میں آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھروں کی جانب سے گزرا اور ان کو پہلے کی طرح بھرا ہوا نہیں پایا۔

____________________

(١)الامین،سیدمحسن،اعیان الشیعہ،دارالتعار ف للمطبوعات،بیروت ( بی تا) ج١ ص ٦٠٢٣

(١)ابی مخنف،مقتل الحسین ،ص٢٤٥


و کانوا رجائً ثمّ صاروا رزیّة

و قد عظمت تلکٔ الرّزایا وجلّت

آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امید کا گھر تھے اور بعد میں مصیبت کا محل بن گئے اور وہ بھی بزرگ اورعظیم مصیبتیں ۔

الم ترانّ الشمس اضحت مریضه

لفقد حسین والبلاد اقشعرّت

کیا تم نہیں دیکھتے سورج شہادت حسین سے مریض ہو گیا ہے اور شہرافسر دہ ہوگئے ہیں ۔

و قد اعولت تبکی السماء لفقده

وانجمها ناحت علیه و صلّت(١)

کیا تم نہیں دیکھتے آسمان نے امام حسین پر گریہ ونالہ کیا اور ستاروں نے نوحہ پڑھااور درود بھیجا ۔

پہلی صدی ہجری کے بعد اموی حُکّام کادبائو عبّاسیوں کے ساتھ اختلاف و ٹکرائو کی وجہ سے کم ہوا اور آخر کارامیوں کا عباسیوں کے ہاتھوں خاتمہ ہوا ائمّہ اطہار نے امام حسین کی مرثیہ گوئی کو زندہ کیا اور بزرگ شعرا جیسے کمیت اسدی،سید حمیری،سفیان بن مصعب عبدی،منصور نمری اوردعبل خزاعی ائمہ کے حضور میں امام حسین کی مصیبت میں اشعار پڑھتے تھے ۔

جیسا کہ سفیان بن مصعب عبدی نے نقل کیا ہے کہ میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہو اامام نے خادموں سے فرمایا: امّ فروہ سے کہو وہ آئیں اور سنیں ان کے جدامجد پر کیاگزری، امّ فروہ آئیں اور پشت پردہ بیٹھ گئیں ، اس وقت امام صادق نے مجھ سے فرمایا:پڑھو میں نے قصیدہ پڑھنا شروع کیاقصیدہ اس بیت سے شروع ہوتا ہے:

فرو جودی بدمعکٔ المسکوب

اے فروہ اپنی آنکھوں سے آنسو بہاؤ

اس موقع پر ام فروہ اور تمام عورتوں کی آواز گریہ بلند ہو گئی ۔(۲)

____________________

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص ١٢١

(۲)علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج٢ ص ٢٩٤۔٢٩٥


اسی طرح ابوالفرج اصفہانی،اسماعیل تمیمی سے نقل کرتے ہیں کہ میں امام صادق کی خدمت میں تھا کہ سید حمیری امام سے اجازت لے کر داخل ہو ئے امام نے اہل خانہ سے فرمایا: پشت پردہ بیٹھ جائیں ، اس کے بعد سید حمیری سے امام حسین کی مصیبت میں مرثیہ پڑھنے کو کہا، سید نے ان اشعار کو پڑھا :

امرر علیٰ جدث الحسین

فقل لا عظمه الزکیه

امام حسین کی قبر کی طرف سے گذروتوان کی پاک ہڈیوں سے کہو ۔

یا اعظماًلازلت من

وظفاًوساکبه رویّه

اے ہڈیو سلامت رہو اور مسلسل سیراب ہوتی رہو۔

فاذا مررت بقبره

فاطل به وقف المطیّه

جس وقت ان کی قبرکے پاس سے گذرنا اونٹوں کے مانند دیر تک ٹھہرنا ۔

وابکٔ المطهرللمطهر

والمطهرة النقیه

امام مطہّر کو حسین مطہّرپر گریہ کراؤ ۔

کبکاء معوله اتت

یوماًلواحدها المنیة

اور تمہاراگریہ ایسا ہو جیسے ماں اپنے فرزند کی لاش پر روتی ہے۔


راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ امام کی آنکھ سے آنسو جاری ہیں اور گھر سے بھی

رونے کی آوازیں بلند ہیں ۔(١)

کبھی کبھی دوسرے لوگ بھی جیسے فضیل رسان،ابو ہارون مکنوف وغیرہ سیدحمیری کے اشعار امام جعفر صادق کی خدمت میں پڑھتے تھے اور حضرت کو رلاتے تھے،ابن قولویہ کے مطابق امام صادق نے اپنے صحابی ابو عمار سے کہا: عبدی کے مرثیہ کے اشعار جو امام حسین کے بارے میں ہیں میرے سامنے پڑھو۔(٢)

دعبل خزاعی نے امام حسین کے لئے بہت سے مرثیہ کے اشعار کہے ہیں امام رضا علیہ السلام اپنے جد کا مرثیہ پڑھنے کے لئے ان کو بلاتے تھے۔(٣)

____________________

(١)علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج٢ ص٢٣٥

(٢)علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ج٢ ص٢٩٥

(٣) مسعودی ، علی ابن الحسین ،مروج الذہب،منشورات لاعلمی للمطبوعات ، طبع اول ١٤١١ھ، ج٣ ص ٣٢٧، رجال ابن دائود ، منشورات رضی ، قم ، ص ٩٢


(ب)اولاد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر تمام شہداء کے لئے مراثی

دل سوختہ شیعہ شاعر جس وقت جناب مسلم بن عقیل اور ھانی بن عروہ کے حالات کا مشاہدہ کرتا ہے تو یہ اشعار اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے:

اذا کنت لا تدرین ما الموت فانظری

الیٰ هانی فی السوق وابن عقیل

اگر نہیں جانتے کہ موت کیا ہے تو ابن عقیل اور ھانی کے ساتھ بازار کی سیر کرواور دیکھو۔

الیٰ بطل قد هشّم السیف وجهه

وآخریهوی فی طمارقتیل

ایک جوان مرد کی صورت کو تلواروں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اوردوسرے کو بالاخانہ سے گرا کرشہید کردیاگیا۔

اصابها امر الامیر فاصبها

احادیث من یسعیٰ بکل سبیل

امیر کے حکم سے وہ ان مصیبتوں میں مبتلا ہیں اور ان کی خبریں مسافروں کی زبان پر جاری ہے۔

تریٰ جسداًوقد غیّر الموت لونه

ونضج دم قد سال کل مسیل

تم جس جسم کودیکھ رہے ہو موت نے ان کا رنگ بدل دیا ہے اور ہر طرف سے خون بہہ رہا ہے

ایترک اسماء المهایج آمناً

وقد طلبته مذ حج بذحول(١)

کیاقبیلۂ اسما ء مہاج امان میں رہ سکتے ہیں ؟ حالانکہ قبیلہ مذحج قصاص کے درپے ہیں ۔

____________________

(١) مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذھب، ج٣ ص ٧١


شاعر ا عشی حمدان نے طولانی قصیدہ کے ضمن میں شہدا ء توابین کے بارے میں اس طرح کہا ہے:

توجه من دون ثنیة سائرا

الیٰ ابن زیاد فی الجموع الکتائب

تمام فوجی دستہ ثنیہ کی طرف سے ابن زیاد کی طرف روانہ ہوئے ۔

فیاخیر جیش للعراق واهله

سقیتم روایا کل اسحم ساکب(١)

اے عراق کے بہترین سپاہ! تم نے ہر ابرباراں کو سیراب کیا ہے ۔

اسی طرح شیعہ شعراء نے زید بن علی کے بیٹے یحٰ اور امام حسن کے فرزند کہ جنہوں نے عباسیوں کے دور میں قیام کیا تھا اور شہید ہو گئے تھے،ان کے بارے میں شعر کہے ہیں ، اسی طرح علی بن عبداللہ خوافی،مشیع مدنی،اشجع بن عمر وسلمی اور ابو طالب قمی جیسے شعرا ء نے امام رضا کے بارے میں مرثیہ لکھا ہے۔(٢)

لیکن امام حسین کے بعد آل ابو طالب کے شہدا ء میں سب سے زیادہ اشعار یحٰ بن عمر طالبی کے بارے میں کہے گئے ہیں انہوں نے ٢٤٨ھ میں قیام کیا اور محمد بن عبداللہ ابن طاہر کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔(٣)

مسعودی کا بیان ہے : دور اور نزدیک والوں نے ان کے حال میں مرثیہ کہا ہے چھوٹے اور بڑے ان پر روئے ہیں ۔(٤)

____________________

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذھب، ج٣ ص ١١٠

(٢)الامین، سید محسن ،اعیان الشیعہ، ص ١٧٠

(٣)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذہب، ج٤ ص ١٥٩۔١٦٠

(٤)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذہب، ج٤ ص ١٦٢


ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے کہ آل ابی طالب کے فرزندوں میں کہ جو عباسیوں کے دور میں قتل ہوئے ہیں یحٰ بن عمر طالبی سے سے زیادہ کسی کے بارے میں اشعار ومرثیہ نہیں کہے گئے ہیں ۔(١)

(٤) خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فضائل و مناقب

دوسری صدی ہجری کے بعد شیعہ شعرا ء زیادہ تر فضائل امیر المومنین میں شعر کہتے تھے اور اس کے ذریعہ مذہب تشیع کی ترویج اور حضرت علی کی جانشینی اور امامت سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے،اس سلسلہ میں فر زدق ،کمیت اسدی ،حمیری،سفیان بن مصعب عبدی اور دعبل خزاعی سب سے آگے تھے ۔

سید حمیری نے اپنی زندگی کو فضائل علی بیان کرنے لئے وقف کردیا تھایہ اپنے دور میں مکتب تشیع کے بزرگ ترین مبلغ تھے ،اسی وجہ سے شیعوں کے نزدیک ان کا بہت زیادہ احترام ہے،ابو الفرج اصفہانی کے بقول انہوں نے تئیس سو، ٢٣٠٠ قصید ے بنی ہاشم کی مدح میں کہے ہیں اورکوئی بھی شعر اہل بیت کی مدح اور دشمنوں کی سر زنش سے خالی نہیں ہے، اسی طرح ابو الفرج اصفہانی کہتے ہیں : سیدحمیری کوفہ میں سلیمان بن مہران معروف بہ اعمش کے گھر جاتے تھے اور ان سے فضائل علی سنتے تھے اور ان کو لکھنے کے بعد شعر میں قلم بند کرتے تھے ۔

ابن معتزکا بیان ہے:سید حمیری نے حضرت علی کے تمام فضائل کو شعر میں تبدیل

____________________

(۱) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ص ٥١١


کردیا ہے اور جس مجلس میں آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ذکر نہیں ہوتا تھاوہاں جلدی خستہ ہوجاتے تھے ، چنانچہ ایک شخص نے نقل کیا ہے کہ میں عمرو بن علاء کے پاس بیٹھا تھا کہ سید حمیری تشریف لائے ہم لوگ روز مرہ کی گفتگو میں سر گرم تھے سید اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اورجانے لگے اور جب ان سے اس کا سبب معلوم کیا گیا تو اس طرح جواب دیا :

انی لأکره ان اطیل بمجلس

لا ذکر فیه لفضل آل محمد

میں جس مجلس میں رہوں اس میں اگر آل نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ذکر نہ ہو تو وہاں میرے لئے بیٹھناباعث کراہت ہے ۔

لا ذکر فیه لأحمد و وصیه

و بنیه ذلکٔ مجلس نطف ردی

جس مجلس میں احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوران کے جانشین نیزان کی اولاد کا ذکر نہ ہو وہ مجلس بے ارزش ہے ۔

ان الذی ینساهم فی مجلس

حتی یفارقه لغیر مسدد(١)

جس نے ان کو اپنی مجلس میں بھلا دیا ہے وہ بغیر فائدہ کے اس مجلس سے جائے گا۔

اسی طرح ایک روز کوفہ کے امرا ء میں سے کسی نے ان کو گھوڑا اور کچھ تحفہ عطا کیا انہوں نے ہدیہ لیا اور گھوڑے پر سوار ہوئے اور کوفہ کے محلہ کنا سہ آئے اور شیعوں کو مخاطب

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، ص ٢٤٢


کرکے کہا: اے علی والو! اگر کوئی علی کے فضائل میں سے ایسی فضیلت پیش کرے کہ جس کے بارے میں میں نے شعر نہ کہا ہو تومیں یہ گھوڑا اور یہ تحفہ اس کو بخش دوں گا لوگوں نے ہر طرف سے مولا علی کی فضیلت کوبیان کرنا شروع کیا اورانہوں نے اس فضیلت کے بارے میں جو شعر کہا تھااسے پڑھ کر سنایا ان میں سے کسی نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ایک روز علی نے چاہااپنی نعلین پہن کر گھر سے با ہر تشریف لے جا ئیں ایک نعلین پہنی تھی کہ عقاب(ایک پرندہ)آیا اور اپنی منقار(چونچ )سے دوسرے پیر کی نعلینلے کر آسمان کی طرف چلاگیا اور دوبارہ وہاں سے اس نعلین کو نیچے گرایا کہ جس ایک کالا سانپ نکلا اور سوراخ میں چلا گیا ،پھر حضرت نے اس نعلین کو پہنا،اس وقت سید حمیری نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا: میں نے اس کے متعلق ابھی تک کوئی شعر نہیں کہا ہے اس وقت اس شخص کو گھوڑا اورتحفہ بخش دیا اور یہ اشعار کہے:

الا یا قوم للعجب العجاب

لخفّ ابی الحسن وللحباب

اے لوگو! آ گاہ ہوجائو ابو الحسن کی نعلین کا یہ عجیب و غریب کارنامہ ہے۔

عدوّمن عدا ة الجن وغد

بعید فی المراد ه من صواب

کہ علی دشمنوں میں سے ایک جن نے کہ جو کم عقل اور راستے سے منحرف ہے۔

اتی خفاًله انساب فیه

لینهش رجله منه بناب

علی کی نعلین میں خود کو چھپایا تاکہ انہیں گزندپہنچائے۔


لینهش خیر من رکب المطایا

امیر المؤمنین ابا تراب

اس بہترین شخص کو گز ند پہنچائے جو چار پایوں پر سوار ہوتا ہے یعنی امیر المومنین ابو تراب کو۔

فخرّمن السما له عقاب

من العقبان او شبه العقاب

اس وقت آسمان سے ایک عقاب یا عقاب کی شبیہ کوئی پرندہ نیچے آیا۔

ودوفع عن ابی حسن علی

نقیع سمامه بعد انسیاب(١)

اور اس پر حملہ آور ہوااس طرح سے ابوالحسن علی سے زہرا ورشر دفع ہوگیا۔

سفیان بن مصعب عبدی کا شمار منجملہ ان شعراء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنی عمر کو ذکر علی میں صرف کر دیا ،علامہ امینی ان کے بارے میں کہتے ہیں :آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ کسی کی مدح میں میں نے ان کے ایک شعر بھی نہیں دیکھے، خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فضائل و مناقب کی حدیثیں امام صادق سے یاد کرتے تھے اور فوراً ان کو شعر کے قالب میں ڈھال لیتے تھے۔(١)

ابن شہر آشوب نقل کرتے ہیں : امام صادق نے فرمایا :اے گروہ شیعہ! اپنی اولاد کو عبدی کے اشعار کی تعلیم دو کیونکہ وہ دین خدا پر ہیں ۔

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین، ص ٢٤١۔٢٤٢

(٢)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین، ص ٢٩٥


(٥)خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن کی ہجو

دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک راستہ تبلیغ ہے جو آج کی دنیا میں ارتباط کی صورت میں پورے طور پر رائج اور معمول ہے،گذشتہ زمانے میں بھی شعر کے دائرے میں تبلیغ کے سلسلہ میں مہم ترین تاثیر قائم تھی ،شیعہ شعرانے بھی اپنے اشعار کے ذریعہ اصل تشیع کا دفاع کیا ہے اور دشمنان اہل بیت کی ہجو کی ہے نیز موقع و مناسبت سے کچھ شعر کہہ کر اپنے دشمن کو ذلیل کیا اور ان کی کمر توڑ دی ہے ،معاویہ،ولید بن عقبہ و عمرو بن عاص جیسے لوگ جو دشمن خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے بارہشعراءے بنی ہاشم کی طرف سے مورد ہجو قرار پائے ہیں ، ایسے شعراء کہ جو نہیں چاہتے تھے کہ ان کے نام آئیں کہ جس کی وجہ سے منظر عام پربنی امیہ انہیں نقصان پہنچائیں انہوں نے یزید کی موت کے بعد یزید کی ہجواور مذمت کر کے شیعوں کے دل کو ٹھنڈا کیا اور اس طرح کہا:

یا ایها القبر بحوّارینا

ضممت شرّ الناس اجمعینا(١)

اے وہ قبر! جو حوارین میں ہے! دنیا کے سب سے بد ترین آدمی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے،(حوارین ایک شہر ہے جہاں یزید کی قبر ہے)

____________________

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ،مروج الذھب، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت طبع اول ، ١٤١١ھ ،ج٣ ص ٦٥


منجملہ بنی امیہ کی مذمت اورہجو میں بہترین اشعار کمیت بن زید اسدی کے ہیں

جوانہوں نے بنی امیہ کے بارے میں کہے ہیں :

فقل لبنی امیه حیث حلوّا

وان خفت المهندّوالقطیعا

بنی امیہ جہاں کہیں بھی ہوں ان سے کہوکہ تلوار، تازیانہ سے ڈریں ۔

اجاع اللّٰه من اشبعتموه

واشبع من بجورکم اجیعا

خدا اسے بھوکا رکھے جسے تو نے سیر کیا ہے اور خدا انہیں اسیر کرے جو تمہارے ظلم کی وجہ سے بھوکے رہے ہیں ۔

مبرضیّ السیاسة هاشمی

یکون حیالأمّته ربیعاً(١)

بنی ہاشم کی پسندیدہ سیاست امت کے لئے بہار زندگی فراہم کرنا ہے ۔

ڈاکٹر شوقی ضیف کا بیان ہے:شیعہ عراق، خراسان اور حجاز میں کمیت کے اشعار کو ایک دوسرے تک منتقل کرتے تھے اسی سبب سے امویوں اور ان کے حاکم یوسف بن عمر ثقفی نے کمیت کی جانب سے شدید خطرہ کا احساس کیا۔(٢)

ابو الفرج اصفہانی نے کمیت کے بارے میں کہا ہے:بنی امیہ کے طرف سے سختی اورپابندی کے دور میں ہر لحاظ سے کمیت اسدی شیعوں میں بہت بڑے شاعر تھے، وہ شعرا ء

____________________

(١)حافظ ابی عثمان عمر وبن بحر،البیان والتبیین،مطبعةلجنة التالیف والترجمة والنشر ، قاہرہ، طبع اول ، ١٣٦٧ھ،ق ١٩٤٨ ج٣ ص ٣٦٥

(٢)الشعر و طوابعہ الشبعیہ علی مرّ العصور، دار المعارف ، قاہرہ ،ص٣٦


جو علی کے دشمن تھے اور بنی امیہ کے طرفدار تھے اور خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف شعر کہتے تھے، ان کا جواب دینے سے باز نہیں آتے تھے ۔

حکیم بن عباس کلبی جس نے علی کی ہجو کی تھی ا ور قحطانیوں میں اس کا شمار ہوتا تھا، کمیت نے اس پر شدت سے حملہ کیا اور اس کے اشعار کو بزرگان قریش اور عدنانیوں کے مدمقابل قرار دیااور اس طرح اس کی ہجو کی اور اس کو مغلوب کیا۔(١)

کبھی کبھی شعراء بغیر نام لئے حکومتی شعراکا جواب دیتے تھے اور ان کو ذلیل ورسوا کرتے تھے ،سعید بن حمید جو مستعین کے دور حکومت میں تھا اور حضرت علی و خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دشمن تھا مختلف مواقع پر شیعہ شعراء کی جانب سے مورد ہجو قرار پا یا ۔

اسی طرح شاعری کے اس دور میں علی بن جہم جو ناصبی اور امیر المومنین کا دشمن تھا، علی بن محمد بن جعفر علوی جو شیعہ شاعر تھے، انہوں نے اس کی ہجو کی اور اس کے نسب سے انکار کیا اور کہا: سامة بن لوی کی جانب اس کی نسبت صحیح نہیں ہے ۔

ابن زیاد کی ہجو میں ابو الاسود دوئلی کہتے ہیں :

اقول وذاک من جزع و و جد

ازل اللّٰه ملکٔ بنی زیاد

غم واندوہ کی بنیاد پر کہتا ہوں خدا ابن زیاد کی حکومت کو نیست و نابود کرے ۔

وابعدهم بما غدروا و خانوا

کما بعدت ثمود و قوم عاد(٢)

اور ان کو ان کی حیلہ و خیانت کی وجہ سے اس طرح ہلاک کرے جس طرح قوم عاد و ثمود ہلاک ہو گئی ۔

____________________

(١)ابو الفرج اصفہانی ،الا غانی،ج١٧، ص ٣٦

(٢)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ج٣ ص ٨١


بنی عباس کے ایک قاضی نے سید حمیری کی گواہی فقط شیعہ ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کی تو سید حمیری نے اس کی ہجو میں اس طرح کہا:

ابوکٔ ابن سارق عنز النبی

وانت ابن بنت ابی جحدر

تیرا باپ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بھیڑوں کا چرانے والا ہے اور تو جحدر کی بیٹی کا بیٹا ہے۔

ونحن علیٰ رغمکٔ الرافضون

لأهل الضلا له والمنکر(١)

اور ہم تیرے خیال اورنظریہ کے مطابق رافضی ہیں یعنی اہل ضلالت و گمراہی کو ترک کرنے والے ہیں ۔

ابو نعامہ دقیقی کوفی تیسری صدی ہجری کے ان شعرا ء میں سے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ بنی عباس کے بزرگان کی ہجو کی ہے اور ان کی طرف برے کاموں کے ارتکاب کی نسبت دی ہے آخر میں وہ عباسی حکومت کے ایک ترک سردار کے ذریعہ جس کانام مفلح تھا قتل کردئے گئے۔(٢)

والحمد لله ربّ العٰالمین

____________________

(١) علامہ امینی ، عبد الحسین ، الغدیر ، ص ٢٥٦

(٢)تاریخ الادب العربی العصر العباسی الثانی،دار المعارف، مصر، ص ٣٨٨.


فہرست

حرف اول ۴

پہلی فصل ۷

منابع پر ایک سرسری نظر ۷

خصوصی منابع ۷

١)مقاتل الطالبین ۷

٢)الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ ۹

٣)اعیان الشیعہ ۱۱

٤) تاریخ الشیعہ ۱۳

٥)شیعہ در تاریخ ۱۵

٦) جہاد ا لشیعہ ۱۶

٧)ایران میں تاریخ تشیّع اپنے آغازسے ساتویں صدی ہجری تک ۱۷

عمومی منابع: ۱۸

۱)تاریخ عمومی ۱۹

٢)ائمہ علیہم السلام کی زندگانی ۲۱

٣) کتب فتن و حروب ۲۱

(٤)کتب رجال و طبقات ۲۳

(٥) کتب جغرافیہ ۲۴

(٦)کتب اخبار ۲۵

(٧)کتب نسب ۲۶


(٨)کتب ا حادیث ۲۷

(٩)کتب ملل ونحل ۲۸

دوسری فصل ۲۹

شیعوں کے آغاز کی کیفیت ۲۹

شیعہ:لغت اور قرآن میں ۲۹

آغاز تشیّع ۳۵

شیعوں کے دوسرے نام: ۴۹

صحابہ کے درمیان حضرت علی کا مقام ۵۳

سقیفہ کی تشکیل میں قریش کاکردار ۷۰

خاندان پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قریش کی دشمنی کے اسباب ۷۲

١) قریش کی ریاست طلبی ۷۲

(٢) قبیلوں کی رقابت و حسادت ۷۵

(٣)حضرت علی سے قریش کی دشمنی ۷۸

(٤)حضرت علی کا سکوت : ۸۰

(١)مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ۸۱

(٢)مرتد ہونے کا خطرہ ۸۲

(٣) عترت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت ۸۴

سقیفہ کے بعد شیعوں کے سیاسی حالات ۸۴

شیعہ صحابی ۹۰

تیسری فصل ۹۶


شیعی تاریخ میں تحول وتغیر ۹۶

(١)شیعہ خلفا کے زمانے میں ۹۶

اظہار تشیّع ( امیرالمومنین کی خلافت میں ) ۱۰۰

(٢) شیعہ، بنی امیہ کے زمانہ میں ۱۰۲

اموی دور میں تشیع کی وسعت ۱۰۷

(الف) عصر امام حسن ١و امام حسین علیہما السلام ۱۰۸

تشیع کی وسعت میں انقلاب کربلاکا اثر ۱۱۱

(ب) عصر امام سجّاد علیہ السّلام ۱۱۷

شیعی قیام ۱۲۱

مروانیوں کی حکومت ( سخت دور) ۱۲۴

عباسیوں کی دعوت کا آغاز اورشیعیت کا فروغ ۱۲۷

(ج) تشیع عصرامام باقر اور امام صادق علیہما السّلام میں ۱۳۰

جعفریہ یونیورسٹی ۱۳۴

شیعہ عبّاسیو ں کے دور میں ۱۳۸

عبّاسی خلفاء کی شیعہ رہبروں پرکڑی نظر ۱۴۷

عباسیوں کے زمانے میں شیعوں کی کثرت کے ا سباب ۱۵۳

(١)ہاشمی اور علوی بنی امیہ کے زمانے میں : ۱۵۳

(٢)بنی امیہ کا خاتمہ اور عباسیوں کا آغاز ۱۵۶

(٣)علویوں کی ہجرت ۱۵۶

سادات کی ہجرت کے اسباب ۱۶۱


(١)علویوں کے قیام کی شکست ۱۶۱

(٢)حکومتی دبائو ۱۶۲

(٣)مناسب موقع کا فراہم ہونا ۱۶۲

چوتھی فصل ۱۶۳

شیعوں اور علویوں کا قیام ۱۶۳

بنی امیہ کے زمانے میں شیعوں اور علویوں کا قیام ۱۶۳

(الف) قیام زید ۱۶۵

(ب)قیام یحییٰ بن زید ۱۶۸

عباسیوں کے زمانے میں شیعوں او رعلویوں کا قیام ۱۷۰

(١)زیدیوں کا قیام ۱۷۰

(الف) قیام محمد نفس زکیہ ۱۷۳

(ب)قیام ابن طبا طبائی حسنی ۱۷۴

(ج)قیام حسن بن زید حسنی ( طبرستان کے علوی ) ۱۷۵

(د)قیام یحییٰ بن حسین ( یمن کے زیدی) ۱۷۸

(٢)پراگندہ قیام ۱۷۹

(الف)قیام شہید فخ ۱۷۹

(ب)قیام محمد بن قاسم ۱۸۰

(ج)قیام یحییٰ بن عمر طالبی ۱۸۲

قیام و انقلاب کے شکست کے اسباب ۱۸۳

پانچویں فصل ۱۸۴


جغرافیائی اعتبار سے تشیع کی وسعت ۱۸۴

شیعہ اجتماعی مراکز ۱۸۷

(الف )پہلی صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے ۱۸۸

مدینہ : ۱۸۸

یمن: ۱۹۱

کوفہ: ۱۹۶

بصرہ: ۲۰۳

مدائن : ۲۰۵

جبل عامل: ۲۰۶

(ب)دوسری صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے ۲۰۸

خراسا ن : ۲۱۰

قم: ۲۱۲

بغداد: ۲۱۳

(ج)تیسری صدی ہجری میں شیعہ نشین علاقے ۲۱۴

قبائل کے درمیان تشیّع ۲۱۷

چھٹی فصل ۲۲۸

تشیع کے اندر مختلف فرقے ۲۲۸

شیعہ فرقوں کے وجود میں آنے کے اسباب ۲۳۸

(١) اختناق(گھٹن، اضطراب) ۲۴۰

(٢)تقیہ ۲۴۲


(٣)ریاست طلبی اورحب دنیا : ۲۴۵

(٤)ضعیف النفس افراد کا وجود : ۲۴۸

غالیوں کے خلاف ائمہ کا مبارزہ ۲۴۹

ساتویں فصل ۲۵۲

شیعوں کی علمی میراث ۲۵۲

علم حدیث: ۲۵۷

حدیث یا سنت: ۲۵۷

پہلا طبقہ : ۲۵۷

دوسراطبقہ : ۲۵۸

تیسرا طبقہ : ۲۵۹

چوتھا طبقہ : ۲۵۹

علم فقہ : ۲۶۰

عصر صحابہ و تابعین میں فقہ کی موقعیت و وضعیت ۲۶۱

شیعو ں کے درمیان فقہ کی وضعیت وحیثیت ۲۶۲

آغاز اجتہاد: ۲۶۴

فقہاء اصحاب ائمہ ۲۶۶

پہلاطبقہ : ۲۶۶

دوسرا طبقہ: ۲۶۶

تیسرا طبقہ: ۲۶۷

علم کلام ۲۶۸


آٹھویں فصل ۲۷۴

شیعیت کے فروغ میں شیعہ شاعروں کا کردار ۲۷۴

شیعہ شعرا ء اور اشعار کی اہمیت ۲۷۴

غیبت صغریٰ تک کے شیعہ شعراء ۲۷۹

برجستہ شیعہ شعراء ۲۸۱

شیعوں کے ممتاز اور نمائندہ شعراء ۲۸۸

شیعہ شعراء کا میدان ۲۹۰

(١) غاصبین حقوق اہل بیت کے مقابلہ میں احتجاج ۲۹۰

(٢)شیعہ شعراء کا بنی امیہ اور بنی عباس کے شعراء سے مقابلہ ۲۹۸

(٣ )مرثیہ گوئی ۳۰۴

(الف) امام حسین اور شہدائے کربلا کے مراثی ۳۰۴

(ب)اولاد پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر تمام شہداء کے لئے مراثی ۳۱۲

(٤) خاندان پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فضائل و مناقب ۳۱۴

(٥)خاندان پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن کی ہجو ۳۱۸


تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک

تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک

مؤلف: غلام حسن محرمی
زمرہ جات: تاریخ شیعہ
صفحے: 328