چودہ ستارے

مؤلف: علامہ نجم الحسن کراروی
تاریخ شیعہ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کانام : چودہ ستارے

مصنف: علامہ نجم الحسن کراروی


حضرت رسول اكرم صلى الله عليه وآله وسلم

آنحضرت کی ولادت باسعادت

آپ کے نوروجودکی خلقت ایک روایت کی بنیاد پر حضرت آدم کی تخلقیق سے ۹ لاکھ برس پہلے اور دوسری روایت کی بنیاد پر ۴ ۔ ۵ لاکھ سال قبل ہوئی تھی، آپ کانوراقدس اصلاب طاہرہ، اورارحام مطہرہ میں ہوتاہواجب صلب جناب عبداللہ بن عبدالمطلب تک پہنچا توآپ کاظہور و شہودبشکل انسانی میں بطن جناب ”آمنہ بنت وہب“ سے مکہ معظمہ میں ہوا۔

آنحضرت کی ولادت کے وقت حیرت انگیزواقعات کاظہور

آپ کی ولادت سے متعلق بہت سے ایسے اموررونماہوئے جوحیرت انگیزہیں ۔ مثلاآپ کی والدہ ماجدہ کوبارحمل محسوس نہیں ہوااوروہ تولید کے وقت کثافتون سے پاک تھیں ، آپ مختون اورناف بریدہ تھے آپ کے ظہورفرماتے ہی آپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلااله الاالله انا رسول الله زبان پرجاری کیا۔

بروایت ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ہء شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے تمام دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ تمام دنیاکے کینسے اوردیگر غیراللہ کی عبادت کرنے کے مقامات منہدم ہوگئے ، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کسی کبھی کسی نے دیکھانہ تھا۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی جوکاشان میں ہے وہ خشک ہوگئی ۔ وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا محل کسری میں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۱۴ کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فورابجھ گئی۔(تاریخ اشاعت اسلام دیوبندی ۲۱۸ طبع لاہور)

اسی رات کوفارس کے عظیم عالم نے جسے (موبذان موبذ)کہتے تھے، خواب میں دیکھاکہ تندوسرکش اوروحشی اونٹ، عربی گھوڑوں کوکھینچ رہے ہیں اورانہیں بلادفارس میں متفرق کررہے ہیں ، اس نے اس خواب کابادشاہ سے ذکرکیا۔ بادشاہ نوشیرواں کسری نے ایک قاصدکے ذریعہ سے اپنے حیرہ کے کورنرنعمان بن منذرکوکہلابھیجاکہ ہمارے عالم نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھاہے توکسی ایسے عقلمنداور ہوشیار شخص کومیرے پاس بھیج دے جواس کی اطمینان بخش تعبیردے کر مجھے مطمئن کرسکے۔ نعمان بن منذرنے عبدالمسیح بن عمرالغسافی کوجوبہت لائق تھابادشاہ کے پاس بھیج دیانوشیروان نے عبدالمسیح سے تمام واقعات بیان کئے اوراس سے تعبیر کی خواہش کی اس نے بڑے غوروخوض کے بعد عرض کی”ائے بادشاہ شام میں میراماموں ”سطیح کاہی“ رہتاہے وہ اس فن کابہت بڑاعالم ہے وہ صحیح جواب دے سکتاہے اوراس خواب کی تعبیربتاسکتاہے نوشیرواں نے عبدالمسیح کوحکم دیاکہ فوراشام چلاجائے چنانچہ روانہ ہوکر دمشق پہنچااوربروابت ابن واضح ”باب جابیہ“ میں اس سے اس وقت ملاجب کہ وہ عالم احتضارمیں تھا، عبدالمسیح نے کان میں چیخ کراپنامدعا بیان کیا۔ اس نے کہاکہ ایک عظیم ہستی دنیامیں آچکی ہے جب نوشیرواں کونسل کے ۱۴ مردوزن حکمران کنگروں کے عدد کے مطابق حکومت کرچکیں گے تویہ ملک اس خاندان سے نکل جائے گا ثم” فاضت نفسہ“ یہ کہہ کر وہ مرگیا۔(روضة الاحباب ج ۱ ص ۵۶ ،سیرت حلبیہ ج ۱ ص ۸۳ ، حیات القلوب ج ۲ ص ۴۶ ، الیعقوبی ص ۹) ۔

آپ کی تاریخ ولادت

آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے بعض مسلمان ۲ ربیع الاول بعض ۶ ربیع الاول اہل تسنن ۱۷ ربیع الاول ۱ عام الفیل مطابق ۵۷۰ کوصحیح سمجھتے ہیں -

علامہ مجلسی علیہ الرحمة حیات القلوب ج ۲ ص ۴۴ میں تحریرفرماتے ہیں کہ علماء امامیہ کااس پراجماع واتفاق ہے کہ آپ ۱۷ ربیع الاول ۱ عام الفیل یوم جمعہ بوقت شب یابوقت صبح صادق”شعب ابی طالب“ میں پیداہوئے ہیں ، اس وقت انوشیرواں کسری کی حکومت کابیالیسواں سال تھا۔

آپ کی پرورش وپرداخت اورآپ کابچپنا

مورخ ذاکرحسین لکھتے ہیں کہ بروایتے آپ کے پیداہونے سے پہلے اوربروایتے آپ دوماہ کے بھی نہ ہونے پائے تھے کہ آپ کے والد ”عبداللہ“ کاانتقال بمقام مدینہ ہوگیاکیونکہ وہیں تجارت کیلئے گئے تھے انھوں نے سوئے پانچ اونٹ اورچند بھیڑوں اورایک حبشی کنیز برکت (ام ایمن) کے اورکچھ ورثہ میں نہ چھوڑا۔ حضرت آمنہ کوحضرت عبداللہ کی وفات کااتناصدمہ ہواکہ دودھ خشک ہوگیا۔ چونکہ مکہ کی آب وہوابچوں کے چنداں موافق نہ تھی اس واسطے نواح کی بدوعورتوں میں سے دودھ پلانے کے واسطے تلاش کی گئی انا کے دستیاب ہونے تک ابولہب کی کنیزک، ثوبیہ نے آنحضرت کوتین چارمہینے تک دودھ پلایا اقوام بدوکی عادت تھی کہ سال میں دومرتبہ بہاراورموسم خزاں میں دودھ پلانے اوربچے پالنے کی نوکری کی تلاش میں آیاکرتی تھیں آخرحلیمہ سعدیہ کے نصیبہ نے زورکیا اوروہ آپ کواپنے گھرلے گئیں اورآپ حلیمہ کے پاس پرورش پانے لگے۔ (تاریخ اسلام ج ۲ ص ۳۲ ، تاریخ ابوالفداء ج ۲ ص ۲۰) ۔

مجھے اس تحریرکے اس جزء سے کہ رسول خداکوثوبیہ اورحلیمہ نے دودھ پلایا، اتفاق نہیں ہے۔

مورخین کابیان ہے کہ آپ میں نموکی قوت اپنے سن کواعتبارسے بہت زیادہ تھی جب تین ماہ کے ہوئے توکھڑے ہونے لگے اورجب سات ماہ کے ہوئے توچلنے لگے، آٹھویں مہینے اچھی طرح بولنے لگے ،نویں مہینے اس فصاحت سے کلام کرنے لگے کہ سننے والوں کی حیرت ہوتی تھی۔

آپ کی سایہ رحمت مادری سے محرومی

آپ کی عمرجب چھ سال کی ہوئی توسایہ مادرس سے محروم ہوگئے آپ کی والدہ جناب آمنہ بنت وہب حضرت عبداللہ کی قبرکی زیارت کے لئے مدینہ گئی تھیں وہاں انھوں نے ایک ماہ قیام کیا، جب واپس آنے لگیں توبمقام ابواء (جوکہ مدینہ سے ۲۲ میل دورمکہ کی جانب واقع ہے) انتقال فرماگئیں اوروہیں دفن ہوئیں آپ کی خادمہ ام ایمن ، آپ کولے کرمکہ آئیں ۔ (روضة الاحباب ۱ ص ۶۷) ۔

جب آپ کی عمر ۸ سال کی ہوئی توآپ کے دادا”عبدالمطلب“ کا ۱۲۰ سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا۔ عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ کے بڑے چچاجناب ابوطالب اورآپ کی چچی جناب فاطمہ بنت اسدنے فرائض تربیت اپنے اوپرعائدکئے ۔اوراس شان سے تربیت کی کہ دنیانے آپکی ہمدردی اورخلوص کالوہامان لیا عبدالمطلب کے بعدابوطالب بھی خانہ کعبہ کے محافظ اورمتولی اورسردارقریش تھے حضرت علی فرماتے ہیں کہ کوئی غریب اس شان کاسردارنہیں ہواجس شان وشوکت کی سرداری میرے پدرمحترم کوخدانے دی تھی(الیعقوبی ج ۲ ص ۱۱) ۔

حضرت ابوطالب کوحضرت عبدالمطلب کی وصیت وہدایت

بعض مؤرخین نے لکھاہے کہ جب حضرت عبدالمطلب کاوقت وفات قریب پہنچا توانہوں نے آنحضرت کواپنے سینے سے لگایااورسخت گریہ کیا اوراپنے فرزندابوطالب کی طرف متوجہ ہوکرفرمایاکہ” اے ابوطالب یہ تیرے حقیقی بھائی کابیٹاہے اس دریگانہ کی حفاظت کرنا، اسے اپنا نورنظراورلخت جگرسمجھنا، اس کے تفقد وخبر گیری میں کوتاہی نہ کرنا اوردست وزبان اورجان ومال سے اس کی اعانت کرتے رہنا“ روضة الاحباب)

حضرت ابوطالب کے تجارتی سفرشام میں آنحضرت کی ہمراہی اوربحیرئہ راہب کاواقعہ

حضرت ابوطالب جوتجارتی سفرمیں اکثرجایاکرتے تھے جب ایک دن روانہ ہونے لگے، توآنحضرت کوجن کی عمراس وقت بروایت طبری وابن اثیر ۹ سال اوربروایت ابوالفداء وابن خلدون ۱۳ سال کی تھی، اپنے بال بچوں میں چھوڑدیا۔ اورچاہاکہ روانہ ہوجائیں یہ دیکھ کرآنحضرت نے اصرارکیاکہ مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلئے آپ نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ میربھتیجہ یتیم ہے انہیں اپنے ہمراہ لے لیا اورچلتے چلتے جب شہربصرہ کے قریہ کفرپہنچے جوکہ شام کی سرحدپر ۶ میل کے فاصلہ پرواقع ہے جواس وقت بہت بڑی منڈی تھی اوروہاں نسطوری عیسائی رہتے تھے وہاں ان کے ایک نسطوری راہبوں کے معبدکے پاس قیام کیا راہبوں نے آنحضرت اورابوطالب کی بڑی خاطرداری کی پھران میں سے ایک نے جس کانام جرجیس اورکنیت ”ابوعداس“اورلقب بحیراراہب“ تھاآپ کے چہرہ مبارک سے آثارعظمت وجلالت اوراعلی درجے کے کمالات عقلی اورمحامداخلاق نمایاں دیکھ کر اوران صفات سے موصوف پاکرجواس نے توریت اورانجیل اوردیگرکتب سماوی میں پڑھی تھیں ، پہچان لیاکہ یہی پیغمبرآخرالزمان ہیں ، ابھی اس نے اظہارخیال نہ کیاتھاکہ ناگاہ لکئہ ابرکوسایہ فگنی کرتے ہوئے دیکھا، پھرشانہ کھلواکر مہرنبوت پرنگاہ کی، اس کے بعدفورا مہرنبوت کابوسہ لیااورنبوت کی تصدیق کرکے ابوطالب سے کہاکہ اس فرزندارجمند کادین تمام عرب وعجم میں پھیلے گا اوریہ دنیاکے بہت سے حصے کامالک بن جائے گا یہ اپنے ملک کوآزادکرائے گااوراپنے اہل وطن کونجات دلائے گا ائے ابوطالب اس کی بڑی حفاظت کرنااوراس کواعداء کے شرسے بچانے کی پوری کوشش کرنا، دیکھوکہیں ایسانہ ہوکہ یہ یہودیوں کے ہاتھ لگ جائے پھراس نے کہاکہ میری رائے یہ ہے کہ تم شام نہ جاؤ اوراپنامال یہیں فروخت کرکے مکہ واپس چلے جاؤ چنانچہ ابوطالب نے اپنامال باہرنکالاوہ حضرت کی برکت سے آنافانا بہت زیادہ نفع پرفروخت ہوگیا اورحضرت ابوطالب واپس مکہ چلے گئے۔( روضة الاحباب ج ۱ ص ۷۱ ، تنقیدالکلام ص ۳۰) ایرونگ ص ۲۴ ،تفریح الاذکار وغیرہ۔

جناب خدیجہ کے ساتھ آپ کی شادی خانہ آبادی

جب آپ کی عمرپچس سال کی ہوئی اورآپ کے حسن سیرت،آپ کی راستبازی، صدق اوردیانت کی عام شہرت ہوگئی اورآپ کوصادق وامین کاخطاب دیا جاچکاتوجناب خدیجہ بنت خویلد نے جوانتہائی پاکیزہ نفس، خوش اخلاق اورخاندان قریش میں سب سے زیادہ دولت مندتھیں ایسے حال میں ابنی شادی کا پیغام پہنچایاجب کہ ان کی عمرچالیس سال کی تھی پیغام عقدمنظورہوااورحضرت ابوطالب نے نکاح پڑھا(تلخیص سیرت النبی علامہ شبلی ص ۹۹ طبع لاہور ۱۹۶۵ ءء۔ مورخ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ء کابیان ہے کہ حضرت ابوطالب نے جوخطبہ نکاح پڑھاتھا اس کی ابتداء اس طرح تھی۔ الحمدللہ الذی جعلنامن زرع ابراہیم وذریتہ اسماعیل الخ تمام تعرفیں اس خدائے واحدکے لئے ہیں جس نے ہمیں نسل ابراہیم اورذریت اسماعیل سے قراردیاہے (یعقوبی ج ۲ ص ۱۶ طبع نجف اشرف)

مؤرخین کابیان ہے کہ حضرت خدیجہ کامہربارہ اونس سونا اور ۲۵ اونٹ مقررہوا جسے حضرت ابوطالب نے اسی وقت اداکردیا۔(مسلمان عالم ص ۳۸ طبع لاہور) تواریخ میں ہے کہ جناب خدیجہ کی طرف سے عقدپڑھنے والے ان کے چچاعمروابن اسداورحضرت رسول خداکی طرف سے جناب ابوطالب تھے۔(تاریخ اسلام ج ۲ ص ۸۷ طبع لاہور ۱۹۶۲ ء۔

ایک روایت میں ہے کہ شادی کے وقت جناب خدیجہ باکرہ تھیں یہ واقعہ نکاح ۵۹۵ کاہے ۔ مناقب ابن شہرآشوب میں ہے کہ رسول خداکے ساتھ خدیجہ کایہ پہلاعقدتھا ۔سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۱۱۹ میں ہے کہ جب تک خدیجہ زندہ رہیں رسول کریم نے کوئی عقدنہیں کیا۔

کوہ حرامیں آنحضرت کی عبادت گذاری

تواریخ میں ہے کہ آپ نے ۳۸ سال کی عمرمیں ” کوہ حرا“ جسے جبل ثوربھی کہتے ہیں کواپنی عبادت گذاری کی منزل قراردیااوراس کے ایک غارمیں بیٹھ کر جس کی لمبائی چارہاتھ اورچوڑائی ڈیڑھ ہاتھ تھی عبادت کرتے تھے اورخانہ کعبہ کودیکھ کرلذت محسوس کرتے تھے یوں تودودو، چارچارشبانہ روزوہاں رہاکرتے تھے لیکن ماہ رمضان سارے کاساراوہیں گزراتے تھے۔

آپ کی بعثت

مورخین کابیان ہے کہ انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی ”یامحمد“ آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھرآوازآئی پھرآپ نے ادھرادھردیکھاناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پرپڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقرا“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا”مااقراء-“ کیاپڑھوں انہوں نے عرض کی کہ ” اقراء باسم ربک الذی خلق الخ“ پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔

کیونکہ آپ کوعلم قرآن پہلے سے حاصل تھا جبرئیل کے اس تحریک اقراء کامقصدیہ تھا کہ نزول قرآن کی ابتداء ہوجائے اس وقت آ پ کی عمرچالیس سال ایک یوم تھی اس کے بعدجبرئیل نے وضواورنمازکی طرف اشارہ کیااوراس کی تعدادرکعات کی طرف بھی حضورکومتوجہ کیاچنانچہ حضوروالانے وضوکیااورنمازپڑھی آپ نے سب سے پہلے جونمازپڑھی وہ ظہرکی تھی پھرحضرت وہاں سے اپنے گھرتشریف لائے اورخدیجة الکبری اورعلی ابن ابی طالب سے واقعہ بیان فرمایا۔ ان دونوں نے اظہارایمان کیااورنمازعصران دونوں نے بجماعت اداکی یہ اسلام کی پہلی نمازجماعت تھی جس میں رسول کریم امام اورخدیجہ اورعلی ماموم تھے۔

آپ درجہ نبوت پربدوفطرت ہی سے فائزتھے، ۲۷ رجب کومبعوث برسالت ہوئے حیات القلوب کتاب المنتقی، مواہب اللدنیہ) اسی تاریخ کونزول قرآن کی ابتداء ہوئی۔

دعوت ذوالعشیرہ کاواقعہ اوراعلان رسالت ووزارت

بعثت کے بعد آپ نے تین سال تک نہایت رازداری اورپوشیدگی کے ساتھ فرائض کی ادائیگی فرمائی اس کے بعد کھلے بندوں تبلیغ کاحکم آگیا”فاصدع بماتومر“ جوحکم دیاگیاہے اس کی تکمیل کرومیں اس مقام پر” تاریخ ابوالفداء کے اس ترجمہ کی لفظ بہ لفظ عبارت نقل کرتاہوں جسے مولاناکریم الدین حنفی انسپکٹر مدارس پنجاب نے ۱۸۴۶ ءء میں کیاتھا۔

”واضح ہوکہ تین برس تک پیغبرخدادعوت فطرت اسلام خفیہ کرتے رہے مگر جب کہ یہ آیت نازل ہوئی ” وانذرعشیرتک الاقربین“ یعنی ڈرا اپنے کنبے والوں کوجوقریب رشتہ کے ہیں اس وقت حضرت نے بموجب حکم خداکے اظہارکرنادعوت کاشروع کیابعدمیں نازل ہونے سے اس آیت کے پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی سے ارشاد فرمایاکہ” ائے علی ایک پیمانہ کھانے کامیرے واسطے تیارکرواورایک بکری کاپیراس پرچھوالے اورایک بڑاکانسہ دودھ کامیرے واسطے لااورعبدالمطلب کی اولادکومیرے پاس بلاکرلا تاکہ میں اس سے کلام کروں اورسناؤں ان کووہ حکم کہ جس پرجناب باری سے مامورہواہوں چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وہ کھانا ایک پیمانہ بموجب حکم تیارکرکے اولادعبدالمطلب کوجوقریب چالیس آدمی کے تھے بلایا، ان آدمیوں میں حضرت کے چچا ابوطالب اورحضرت حمزہ اورحضرت عباس بھی تھے اس وقت جضرت علی نے وہ کھانا جوتیارکیاتھالاکرحاضرکیا۔

سب کھاپی کرسیرہوگئے حضرت علی نے ارشاد کیاکہ جوکھانا ان سب آدمیوں نے کھایاہے وہ ایک آدمی کی بھوک کے موافق تھا اس اثناء میں حضرت چاہتے تھے کہ کچھ ارشاد کریں کہ ابولہب جلدبول اٹھااوریہ کہاکہ محمدنے بڑاجادوکیا یہ سنتے ہی تمام آدمی الگ الگ ہوگئے تھے ، چلے گئے پیغمبرخداکچھ کہنے نہ پائے تھے یہ حال دیکھ کر جناب رسالتماب نے ارشاد کیاکہ ایے علی دیکھاتونے اس شخص نے کیسی سبقت کی مجھ کوبولنے ہی نہ دیااب پھرکل کوتیارکر جیساکہ آج کیاتھا اورپھران کوبلاکرجمع کر_

چنانچہ حضرت علی نے دوسرے روزپھرموافق ارشاد آنحضرت کے وہ کھاناتیارکرکے سب لوگوں کوجمع کیا، جب وہ کھانے سے فراغت پاچکے اس وقت رسول اللہ نے ارشادکیاکہ ”تم لوگوں کی بہت اچھی قسمت اورنصیب ہے کیونکہ ایسی چیزمیں اللہ کی طرف سے لایاہوں کہ اس سے تم کوفضیلت حاصل ہوتی ہے اورلے آیاہوں تمہارے پاس دنیاوآخرت میں اچھا۔ خداتعالی نے مجھ کوتمہاری ہدایت کاحکم فرمایاہے کوئی شخص تم میں سے اس امرکااقتداء کرکے میرابھائی اوروصی اورخلیفہ بنناچاہتاہے اس وقت سب موجودتھے اورحضرت پرایک ہجوم تھا اورحضرت علی نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں آپ کے دشمنوں کونیزہ ماروں گااورآنکھیں ان کوپھوڑوں گا اورپیٹ چیروں گا اورٹانگیں کاٹوں گااورآپ کاوزیرہوں گا حضرت نے اس وقت علی مرتضی کی گردن پرہاتھ مبارک رکھ کر ارشادکیاکہ یہ میرابھائی ہے اورمیراوصی ہے اورمیراخلیفہ ہے تمہارے درمیان اس کی سنواوراطاعت قبول کرو۔ یہ سن کرسب قوم کے لوگ ازروئے تمسخرے ہنس کرکھڑے ہوگئے اورابوطالب سے کہنے لگے کہ اپنے بیٹے کی بات سن اوراطاعت کریہ تجھے حکم ہواہے الخ ص ۳۳ تاص ۳۶ طبع لاہور۔

حضرت رسول کریم شعب ابی طالب میں (محرم ۷ ء بعثت)

مورخین کابیان ہے کہ جب کفارقریش نے دیکھاکہ اسلام روزافزوں ترقی کرتاچلاجارہاہے توسخت مضطرب ہوئے پہلے توچندقریش دشمن تھے اب سب کے سب مخالف ہوگئے اوربروایت ابن ہشام وابن اثیروطبری ابوجہل بن ہشام، شیبة، عتبہ بن ربیعة، نصربن حارث، عاص بن وائل اورعقبہ بن ابی معیط ایک گروہ کے ساتھ رسول خداکے قتل پرکمرباندھ کرحضرت ابوطالب کے پاس آئے اورصاف لفظوں میں کہاکہ محمدنے ایک نئے مذہب کااختراع کیاہے اوروہ ہمارے خداوں کوہمیشہ برابھلاکہاکرتے ہیں لہذا انہیں ہمارے حوالے کردوہم انہیں قتل کردیں یاپھرآمادہ جنگ ہوجاؤ حضرت ابوطالب نے اس وقت انھیں ٹالدیا اوروہ لوگ واپس چلے گئے ورروسول کریم اپناکام برابرکرتے رہے چنددنوں کے بعددشمن پھرآئے اورانھوں نے آکرشکایت کی اورحضرت کے قتل پراصرارکیا حضرت ابوطالب نے آنحضرت سے واقعہ بیان کیاانہوں نے فرمایاکہ اے چچامیں جوکہتاہوں ،کہتارہوں گا میں کسی کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوسکتا اورنہ کسی لالچ میں پھنس سکتاہوں اگرمیرے ایک ہاتھ پرآفتاب اوردوسے پرماہتاب رکھ دیاجائے جب بھی میں تعمیل حکم خداوندی سے بازنہ آوں گا میں جوکرتاہوں حکم خداسے کرتاہوں ، وہ میرامحافظ ہے یہ سن کرحضرت ابوطالب نے فرمایاکہ ” بیٹاتم جوکرتے ہوکرتے رہو، میں جب تک زندہ ہوں تمہاری طرف کوئی نظراٹھاکرنہیں دیکھ سکتا تھوڑے عرصہ کے بعدبروایت ابن ہشام وابن ا ثیر، کفارنے ابوطالب سے کہا کہ تم اپنے بھتیجے کوہمارے حوالے کردو ہم اسے قتل کردیں اوراس کے بدلے میں ایک نوجوان ہم سے بنی مخزوم میں سے لے لو حضرت ابوطالب نے فرمایاکہ تم بعیدازعقل باتیں کرتے ہو، یہ کبھی نہیں ہوسکتا یہ کیونکہ ممکن ہے کہ میں تمہارے لڑکے کولے کراس کی پرورش کروں اورتم ہمارے بیٹے کولے کرقتل کردو۔ یہ سن کر ان کی آتش غضب اوربرافروختہ ہوگئی اوروہ ان کے ستانے پربھرپورتل گئے حضرت ابوطالب نے اس کے ردعمل میں بنی ہاشم اوربنی مطلب سے امدادچاہی اوردشمنوں سے کہلابھیجاکہ کعبہ وحرم کی قسم اگرمحمدکے پاؤں میں تمہاری طرف سے کانٹابھی چبھاتومیں سب کوہلاک کردوں گا حضرت ابوطالب کے اس کہنے پردشمن کے دلوں میں آگ لگ گئی اوروہ آنحضرت کے قتل پرپوری طاقت سے تیارہوگئے۔

حضرت ابوطالب نے جب آنحضرت کی جان کوغیرمحفوظ دیکھاتوفورا ان لوگوں کولے جنہوں نے حمایت کاوعدہ کیاتھا جن کی تعدادبروایت حیات القلوب چالیس تھی۔ محرم ۷ بعثت میں ”شعب ابی طالب“ کے اندرچلے گئے اوراس کے اطراف کو محفوظ کردیا۔

کفارقریش نے ابوطالب اس عمل سے متاثرہوکرایک عہدنامہ مرتب کیاجس میں بنی ہاشم اوربنی مطلب سے مکمل بائیکاٹ کافیصلہ تھا طبری میں ہے کہ اس عہدنامہ کومنصوربن عکرمہ بن ہاشم نے لکھاتھاجس کے بعدہی اس کاہاتھ شل ہوگیاتھا۔

تواریخ میں ہے کہ دشمنوں نے شعب کاچاروں طرف سے بھرپورمحاصرہ کرلیاتھا اورانھیں مکمل قیدمیں مقیدکردیاتھا اس قیدنے اہل شعب پربڑی مصیبت ڈآلی جسمانی اورروحانی تکلیف کے علاوہ رزق کی تنگی نے انہیں تباہی کے کنارے پرپہنچادیااورنوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ دینداردرختوں کے پتے کھانے لگے ناتے ،کنبے والے اگرچوری چھپے کچھ کھانے پینے کی چیزپہنچادیتے اورانہیں معلوم ہوجاتاتوسخت سزائیں دیتے اسی حالت میں تین سال گزرگئے ایک روایت میں ہے کہ جب اہل شعب کے بچے بھوک سے بے چین ہوکرچیختے اورچلاتے تھے توپڑسیوں کی نیندحرام ہوجاتی تھی اس حالت میں بھی آپ پروحی نازل ہوتی رہی ، اورآپ کاررسالت انجام دیتے رہے۔

تین سال کے بعد ہشام بن عمربن حرث کے دل میں یہ خیال آیاکہ ہم اورہمارے بچے کھاتے پیتے اورعیش کرتے ہیں اوربنی ہاشم اوران کے بچے فاقہ کشی کررہے ہیں ، یہ ٹھیک نہیں ہے پھراس نے اورچندآدمیوں کوہم خیال بناکرقریش کے اجتماع میں اس سوال کواٹھایا۔ ابوجہل اورا سکی بیوی ”ام جمیل“ جسے بزبان قرآن ”حمالة الحطب“کہاجاتاہے نے مخالفت کی لیکن عوام کے دل پسیج اٹھے اسی دوران میں حضرت ابوطالب آگئے اورانہوں نے کہاکہ ”محمد“ نے بتایاہے کہ تم نے جوعہدنامہ لکھاہے اس دیمک چرگئی ہے اورکاغذ کے اس حصہ کے سواجس پراللہ کانام ہے سب ختم ہوگیاہے اے قریش بس ظلم کی حدہوچکی تم اپنے عہدنامہ کودیکھواگرمحمدکاکہناسچ ہوتوانصاف کرواوراگر جھوٹ ہوتوجوچاہے کرو۔

حضرت ابوطالب کے اس کہنے پرعہدنامہ منگوایاگیااورحضرت رسول کریم کا ارشاداس کے بارے میں من وعن صحیح ثابت ہواجس کے بعدقریش شرمندہ ہوگئے اورشعب کاحصارٹوٹ گیا۔

اس کے بعدہشام بن عمربن حرث اوراس کے چارساتھی ،زبیربن ابی امیہ مخزومی اورمطعم بن عدی ابوالبختری بن ہشام، زمعہ بن الاسودبن المطلب بن اسدشعب ابی طالب میں گئے اوران تمام لوگوں کوجواس میں محصورتھے ان کے گھروں میں پہنچادیا۔(تاریخ طبری، تاریخ کامل، روضة الاحباب)۔

مورخ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ء کابیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد” اسلم یومسئذخلق من الناس عظیم“ بہت سے کافرمسلم ہوگئے۔ (الیعقوبی ج ۲ ص ۲۵ طبع نجف ۱۳۸۴ ہء)_

آپ کامعجزہ شق القمر( ۹ بعثت )

ابن عباس، ابن مسعود،انس بن مالک، حذیفہ بن عمر، حبیربن مطعم کابیان ہے کہ شق القمرکامعجزہ کوہ ابوقبیس پرظاہرہواتھا، جب کہ ابوجھل نے بہت سے یہودیوں کوہمراہ لاکرحضرت سے چاندکودوٹکڑے کرنے کی خواہش ظاہرکی تھی یہ واقعہ چودھویں رات کوہواتھاجبکہ آپ کوموسم حج میں شعب ابی طالب سے نکلنے کی اجازت مل گئی تھی اہل سیرلکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ۹ ء بعثت کاہے، اس معجزہ کاذکر”تاریخ فرشتہ میں بھی ہے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”مجب اعتقادوقوعہ“ اس معجزہ کے واقع ہونے پرایمان واجب ہے۔( سفینة البحارج ۱ ص ۷۰۹) اس معجزہ کاذکرعزیزلکھنوی مرحوم نے کیاخوب کیاہے

معجزہ شق القمرکاہے ”مدینہ“ سے عیاں

مہ نے شق ہوکرلیاہے دین کوآغوش میں

آنحضرت صلعم کی معراج جسمانی ( ۱۲ ئبعثت)

۲۷/ رجب ۱۲ بعثت کی رات کوخداوندعالم نے جبرئیل کوبھیج کربراق کے ذریعہ آنحضرت صلعم کو”قاب قوسین“ کی منزل پربلایا اوروہاں علی بن ابی طالب کی خلافت وامامت کے متعلق ہدایات دیں (تفسیرقمی) اسی مبارک سفراورعروج کو”معراج“ کہاجاتاہے یہ سفرام ہانی کے گھرسے شروع ہواتھاپہلے آپ بیت المقدس تشریف لے گئے پھروہاں سے آسمان پرروانہ ہوئے منازل آسمانی کوطے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پرپہنچے جس کے آگے جبرئیل کاجاناممکن نہ ہوا جبرئیل نے عرض کی حضورلودنوت لیلة لاحترقت“ اب اگرایک انگل بھی آگے بڑہوں گاتوجل جاؤں گا ۔

اگریک سرموئے برترروم

بنورتجلی بسوزد پرم

پھرآپ براق پرسوارآگے بڑھے ایک منزل پربراق رک گیااورآپ ”رفرف“ پربیٹھ کرآگے روانہ ہوگئے یہ ایک نوری تخت تھاجونورکے دریامیں جارہاتھا یہاں تک کہ منزل مقصودپرآپ پہنچ گئے آپ جسم سمیت گئے اورفوراواپس آئے قرآن مجید میں ”اسری بعبدہ“ آیاہے عبدکالفظ اطلاق جسم اورروح دونوں پرہوتاہے وہ لوگ جومعرادج روحانی کے قائل ہیں وہ غلطی پرہیں (شرح عقائدنسفی ص ۶۸ ) معراج کااقراراوراس کااعتقادضروریات دین میں سے ہے حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جومعراج کامنکرہواس کاہم سے کوئی تعلق نہیں (سفینة البحارج ۲ ص ۱۷۴)

ایک روایت میں ہے کہ پہلے صرف دونمازیں واجب تھیں معراج کے بعدپانچ وقت کی نمازیں مقررہوئیں ۔

بیعت عقبہ اولی

اسی ۱۲ بعثت کے موسم حج میں ان چھ آدمیوں میں سے جوسال گذشتہ مسلمان ہوکرمدینہ واپس گئے تھے پانچ آدمیوں کے ساتھ سات آدمی مدینہ والوں میں سیاورآکرمشرف بالسلام ہوئے حضرت کی حمایت کاعہدکیایہ بیعت بھی اسی مکان عقبہ میں ہوئی جومکہ سے تھوڑے فاصلہ پرشمال کی جانب واقع ہے، مورخ ابوالفداء لکھتاہے کہ اس عہدپربعیت ہوئی کہ خداکاکوئی شریک نہ کرو چوری نہ کرو،زنانہ کرو، اپنی اولادکوقتل نہ کرو، جب وہ بیعت کرچکے توحضرت نے مصعب بن عمیربن ہاشم بن عبدمناف ابن عبدالعلاء کوتعلیم قرآن اورطریقہ اسلام بتانے کے لیے مامورفرمایا الخ(تاریخ ابوالفداء ج ۲ ص ۵۲) ۔

بیعت عقبہ ثانیہ ۱۳ بعثت

۱۳ بعثت کے ماہ ذی الحجہ میں مصعب بن عمیر، ۷۳ مرداوردوعورتوں کومدینہ سے لے کرمکہ آئے اورانہوں نے مقام عقبہ پررسول کریم کی خدمت میں ان لوگوں کوپیش کیاوہ مسلمان ہوچکے تھے انہوں نے بھی حضرت کی حمایت کاعہدکیااورآپ کے دست مبارک پربیعت کی، ان میں اوس اورخزرج دونوں کے افراد شامل تھے۔

ہجرت مدینہ

۱۴ بعثت مطابق ۲۲۶ میں حکم رسول کے مطابق مسلمان چوری چھپے مدینہ کی طرف جانے لگے اوروہاں پہنچ کرانہوں نے اچھی منزل حاصل کرلی قریش کوجب معلوم ہواکہ مدینہ میں اسلام زورپکڑرہاہے تو”دارالندوہ“ میں جمع ہوکریہ سوچنے لگے کہ اب کیاکرنا چاہئے کسی نے کہاکہ محمدکویہیں قتل کردیاجائے تاکہ ان کادین ہی ختم ہوجائے کسی نے کہاکہ جلاوطن کردیاجائے ابوجہل نے رائے دی کہ مختلف قبائل کے لوگ جمع ہوکربیک ساعت ان پرحملہ کرکے انہیں قتل کردیں تاکہ قریش خون بہانہ لے سکیں اسی رائے پربات ٹہرگئی، سب نے مل کرآنحضرت کے مکان کامحاصرہ کرلیاپروردگارکی ہدایت کے مطابق جوحضرت جبرئیل کے ذریعہ پہنچی آپ نے حضرت علی کواپنے بسترپرلٹادیااورایک مٹی دھول لے کرگھرسے باہرنکلے اوران کی آنکھوں میں جھونکتے ہوئے اس طرح نکل گئے جیسے کفرسے ایمان نکل جائے علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ یہ سخت خطرہ کاموقعہ تھا جناب امیرکومعلوم ہوچکاتھا کہ قریش آپ کے قتل کاارادہ کرچکے ہیں اورآج رسول اللہ کابسترخواب گاہ قتل کی زمین ہے لیکن فاتح خیبرکے لیئے قتل گاہ فرش گل تھا (سیرةالنبی ومحسن اعظم ص ۱۶۵) ۔

صبح ہوتے ہوتے دشمن دروازہ توڑکرداخل خانہ ہوئے توعلی کوسوتاہواپایا پوچھامحمدکہاں ہیں ؟ جواب دیاجہاں ہیں خداکی امان ہیں طبری میں ہے کہ علی تلوارسونت کرکھڑے ہوگئے اورسب گھرسے نکل بھاگے احیاء العلوم غزالی میں ہے کہ علی کی حفاظت کے لئے خدانے جبرئیل اورمیکائیل کوبھیج دیاتھا یہ دونوں ساری رات علی کی خواب گاہ کاپہرہ دیتے رہے حضرت علی کافرماناہے کہ مجھے شب ہجرت جیسی نیند ساری عمرنہ آئی تھی ۔ تفاسیرمیں ہے کہ اس موقع کے لئے آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ مرضات اللہ“ نازل ہوئی ہے الغرض آنحضرت کے روانہ ہوتے ہی حضرت ابوبکرنے ان کاپیچھاکیا آپ نے رات کے اندھیرے میں یہ سمجھ کر کوئی دشمن آرہاہے اپنے قدم تیزکردئیے پاؤں میں ٹھوکرلگی خون جاری ہوگیاپھرآپ نے محسوس کیا کہ ابن ابی قحافہ آرہے ہیں آپ کھڑے ہوگئے پاؤں صحیح بخاری ج ۱ حصہ ۳ ص ۶۹ میں ہے کہ رسول خدانے ابوبکربن ابی قحافہ سے یہ قیمت ناقہ خریدا۔ اورمدارج النبوت میں ہے کہ حضرت ابوبکرنے دوسودرہم کی خریدی ہوئی اونٹنی آنحضرت کے ہاتھ نوسودرہم کی فروخت کی اس کے بعدیہ دونوں غارثورتک پہنچے یہ غارمدینہ کی طرف مکہ سے ایک گھنٹہ کی راہ پرڈھائی یاتین میل جنوب کی طرف واقع ہے اس پہاڑکی چوٹی تقریباایک میل بلندہے سمندروں وہاں سے دکھائی دیتاہے(تلخیص سیرت النبی ص ۱۶۹ وزرقانی)۔

یہ حضرات غارمیں داخل ہوگئے خدانے ایساکیاکہ غارکے منہ پرببول کادرخت اگادیامکڑی نے جالاتناکبوترنے انڈادیا،اورغارمیں داخلہ کاشبہ نہ رہا، جب دشمن اس غارپرپہنچے تووہ یہی سب کچھ دیکھ کرواپس ہوگئے (عجائب القصص صفحہ ۲۵۷ میں ہے کہ اسی موقع پرحضرت نے کبوترکوخانہ کعبہ پرآکربسنے کی اجازت دی۔ اس سے قبل دیگر پرندوں کی طرح کبوتربھی اوپرسے گذرنہیں سکتاتھا۔

مختصریہ کہ یکم ربیع الاول ۱۴ ء بعثت یوم پنجشنبہ بوقت شب قریش نے آنحضرت کے گھرکامحاصرہ کیاتھاصبح سے کچھ پہلے ۲/ ربیع الاول یوم جمعہ کوغارثورمیں پہنچے یوم یکشنبہ ۴/ ربیع الاول تک غارمیں رہے حضرت علی آپ لوگوں کے لئے رات میں کھاناپہنچاتے رہے اوریہ چاروں اشخاص معمولی راستہ چھوڑکربحیرئہ قلزم کے کنارے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے کفارمکہ نے انعام مقررکردیاتھاکہ جوشخص آپ کوزندہ پکڑکرلائے گایاآپ کاسرکاٹ کرلائے گاتوسواونٹ انعام میں دئیے جائیں گے اس پرسراقہ بن مالک آپ کی کھوج لکاتاہواغارتک پہنچااسے دیکھ کرحضرت ابوبکررونے لگے ۔ توحضرت نے فرمایاروتے کیوں ہو” خدا ہمارے ساتھ ہے “ سراقہ قریب پہنچاہی تھاکہ اس کاگھوڑابابزانوزمین میں دھنس گیااس وقت حضرت روانگی کے لیے برآمدہوچکے تھے اس نے معافی مانگی حضرت نے معافی دیدی گھوڑازمین سے نکل آیاوہ جان بچاکربھاگا اورکافروں سے کہہ دیاکہ میں نے بہت تلاش کیامگرمحمدکاسراغ نہیں ملتا اب دوہی صورتیں ہین ۔”یازمین میں سماگئے یاآسمان پراڑگئے۔“

تحویل کعبہ

ماہ شعبان ۲ ہجری میں بیت المقدس کی طرف سے قبلہ کارخ کعبہ کی طرف موڑدیاگیا قبلہ چونکہ عالم نمازمیں بدلاگیااس لئے آنحضرت کاساتھ حضرت علی کے علاوہ اورکسی نے نہیں دیا کیونکہ وہ آنحضرت کے ہرفعل وقول کوحکم خداسمجھتے تھے اسی لیے آپ مقام فخرمیں فرمایاکرتے تھے انامصلی القبلتین میں ہی وہ ہوہ جس نے ایک نمازبیک وقت دوقبلوں کی طرف پڑھی۔

تبلیغی خطوط

حضرت کوابھی صلح حدبیہ کے ذریعہ سے سکون نصیب ہواہی تھا کہ آپ نے ۷ ہجری میں ایک مہربنوائی جس پر”محمد رسول اللہ“ کندہ کرایا اس کے بعد شاہان عالم کوخطوط لکھے ان دنوں عرب کے اردگردچاربڑی سلطنتیں قائم تھیں : ۱ ۔ حکومت ایران جس کااثروسط ایشیاسے عراق تک پھیلاہواتھا۔

۲ ۔ حکومت روم جس میں ایشیائے کوچک ،فلسطین،شام اوریورپ کے بعض حصے شامل تھے۔ ۳ ۔ مصر۔ ۴ ۔ حکومت حبش جومصری حکومت کے جنوب سے لے کر بحیرئہ قلزم کے مغربی علاقوں پرتھا۔ حضرت نے بادشاہ حبش نجاشی ، شاہ روم قیصرہرقل، گورنرمصرجریح ابن میناقبطی عرف مقوقش ، بادشاہ ایران خسروپرویزاورگورنریمن باذان، والی دمشق حارث وغیرہ کے نام خطوط روانہ فرمائے۔

آپ کے خطوط کامختلف بادشاہوں پرمختلف اثرہوا، نجاشی نے اسلام قبول کرلیا، شاہ ایران نے آپ کاخط پڑھ کرغیظ وغضب کے تحت خط کے ٹکڑے اڑا دے قاصد کونکال دیا ، اورگورنریمن نے لکھاکہ مدینہ کے دیوانہ (آنحضرت) کوگرفتارکرکے میرے پاس بھیجدے اس نے دوسپاہی مدینہ بھیجے تاکہ حضورکوگرفتار کریں حضرت نے فرمایا، جاؤتم کیاگرفتارکروگے تمہیں خبربھی تمہارابادشاہ انتقال کرگیا، سپاہی جویمن پہنچے توسناکہ شاہ ایران داعی اجل کولبیک کہہ چکاہے آپ کی اس خبردہی سے بہت سے کافرمسلمان ہوگئے۔ قیصرروم نے آپ کے خط کی تعظیم کی گورنرمصرنے آپ کے قاصدکی بڑی مدارات کی اوربہت سے تحفوں سمیت اسے واپس کردیا۔ ان تحفوں میں ماریہ قبطیہ(زوجہ آنحضرت)اوران کی ہمشیرہ شیریں (زوجہ حسان بن ثابت) ایک دلدل نامی جانوربرائے حضرت علی، یعفورنامی درازگوش مابورنامی خواجہ سراشامل تھے۔

اصحاب کاتاریخی اجتماع اورتبلیغ رسالت کی آخری منزل

حضرت علی کی خلافت کااعلان

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خلاق عالم نے انتخاب خلافت کواپنے لیے مخصوص رکھاہے اوراس میں لوگوں کادسترس نہیں ہونے دیا۔ فرماتاہے :ربک یخلق مایشاء ویختارماکان لهم الخیرة سبحان الله تعالی عمایشرکون ۔

تمہارارب ہی پیداکرتاہے اورجس کوچاہتاہے (نبوت وخلافت) کے لیے منتخب کرتاہے یادرہے کہ انسان کونہ انتخاب کاکوئی حق ہے اورنہ وہ اس میں خداکے شریک ہوسکتے ہیں (پ ۲۰ رکوع ۱۰) یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے تمام خلفاء آدم سے خاتم تک خود مقررکئے ہیں اوران کااعلان اپنے نبیوں کے ذریعہ سے کرایاہے۔(روضة الصفا، تاریخ کامل، تاریخ ابن الوری، عرائس ثعلبی وغیرہ) اوراس میں تمام انبیاء کے کردارکی موافقت کااتنالحاظ رکھاہے کہ تاریخ اعلان تک میں فرق نہیں آنے دیا۔ علامہ مجلسی وعلامہ بہائی لکھتے ہیں کہ تمام انبیاء نے خلافت کااعلان ۱۸/ ذی الحجہ کوکیاہے(جامع عباسی واختیارات مجلسی) مورخین کااتفاق ہے کے آنحضرت صلعم نے حجة الوداع کے موقع پر ۱۸/ ذی الحجہ کوبمقام غدیرخم حکم خداسے حضرت علی کے جانشین ہونے کااعلان فرمایاہے۔

حجة الوداع

حضرت رسول کریم صلعم ۲۵/ ذی قعدہ ۱۰ ء ہجری کوحج آخرکے ارادہ سے روانہ ہوکر ۴/ ذی الحجہ کومکہ معظمہ پہنچے آپ کے ہمراہ آپ کی تمام بیبیاں اورحضرت سیدہ سلام اللہ علیہاتھیں روانگی کے وقت ہزاروں صحابہ کی تعدادایک لاکھ چوبیس ہزارہوگئی حضرت علی یمن سے مکہ پہنچے حضورصلعم نے فرمایاکہ تم قربانی اورمناسک حج میں میرے شریک ہو۔ اس حج کے موقع پرلوگوں نے اپنی آنکھوں سے آنحضرت صلعم کومناسک حج اداکرتے ہوئے دیکھااورمعرکة الاراء خطبے سنے جن میں بعض باتیں یہ تھیں ۔

۱ ۔ جاہلیت کے زمانہ کے دستورکچل ڈالنے کے قابل ہیں ۔

۲ ۔ عربی کوعجمی اورعجمی کوعربی پرکوئی فضیلت نہیں ۔

۳ ۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔

۴ ۔ غلاموں کاخیال ضروری ہے۔

۵ ۔ جاہلیت کے تمام خون معاف کردئیے گئے۔

۶ ۔جاہلیت کے تمام واجب الاداسود باطل کردئیے گئے۔

غرضکہ حج سے فراغت کے بعدآپ مدینہ کے ارادہ سے ۱۴/ ذی الحجہ کوروانہ ہوئے ایک لاکھ چوبیس ہزاراصحاب آپ کے ہمراہ تھے جحفہ کے قریب مقام غدیر پرپہنچتے ہی آیہ بلغ کانزول ہوا آپ نے پالان اشترکامنبربنایااوربلاکوحکم دیاکہ ”حی علی خیرالعمل“ کہہ کرآوازیں دیں مجمع سمٹ کرنقطہ اعتدال پرآگیا آپ نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ فرمایاجس میں حمدوثناکے بعداپنی افضلیت کاافرارلیااورفرمایاکہ میں تم میں دوگرانقدرچیزیں چھوڑے جاتاہوں ایک قرآن اوردوسرے میرے اہلبیت ۔

اس کے بعد علی کواپنے نزدیک بلاکردونوں ہاتھوں سے اٹھایااوراتنابلندکیاکہ سفیدی زیربغل ظاہرہوگئی پھرفرمایا”من کنت مولاہ فہذاعلی مولاہ جس کامیں مولاہ ہوں اس کے یہ علی مولاہیں خدایاعلی جدھرمڑیں حق کواسی طرف موڑدینا پھرعلی کے سرپرسیاہ عمامہ باندھالوگوں نے مبارکبادیاں دینی شروع کیں سب آپ کی جانشینی سے مسرورہوئے حضرت عمرنے بھی نمایاں الفاظ میں مبارکباددی جبرئیل نے بھی بزبان قرآن اکمال دین اوراتمام نعمت کامژدہ سنایا۔

سیرہ حلبیہ میں ہے کہ یہ جانشینی ۱۸/ ذی الحجہ کوواقع ہوئی ہے نورالابصارصفحہ ۷۸ میں ہے کہ ایک شخص حارث بن نعمان فہری نے حضرت کے عمل غدیرخم پراعتراض کیاتواسی وقت آسمان سے اس پرایک پتھرگراوروہ مرگیا۔

واضح ہوکہ اس واقعہ غدیرکوامام المحدثین حافظ ابن عبدہ نے ایک سوصحابہ سے اس حدیث غدیرکی روایت کی ہے امام جزری وشافعی نے اسی صحابیوں سے امام احمدبن حنبل نے تیس صحابیوں سے اورطبری نے پچھترصحابیوں سے روایت کی ہے علاوہ اس کے تمام اکابراسلام مثلاذہبی صنعائی اورعلی القاری وغیرہ اسے مشہوراورمتواترمانتے ہیں ( منہج الوصول صدیق حسن ص ۱۳ تفسیرثعلبی فتح البیان صدیق حسن جلد ۱ ص ۴۸) ۔

واقعہ مباہلہ

نجران یمن میں ایک مقام ہے وہاں عیسائی رہتے تھے اورہاں ایک بڑاکلیساتھا آنحضرت صلعم نے انہیں بھی دعوت اسلام بھیجی ، انھوں نے تحقیق حالات کے لئے ایک وفدزیرقیادت عبدالمسیح عاقب مدینہ بھیجا وہ وفدمسجدنبوی کے صحن میں آکرٹہرا حضرت سے مباحثہ ہوامگروہ قائل نہ ہوئے حکم خدانازل ہوا ”( فقل تعالوا ندع انباء نا ) “ الخ ائے پیغمبران سے کہدوکہ دونوں اپنے بیٹوں اپنی عورتوں اوراپنے نفسوں کولاکرمباہلہ کریں ۔ چنانچہ فیصلہ ہوگیا اور ۲۴/ ذی الحجہ ۱۰ کوپنجتن پاک جھوٹوں پرلعنت کرنے کے لئے نکلے نصاری کے سردارنے جونہی ان کی شکلیں دیکھیں کانپنے لگا اورمباہلہ سے بازآیا۔ خراج دینامنظور کیا جزیہ دے کررعایابنناقبول کرلیا(معراج العرفان ص ۱۳۵ ، تفسیربیضاوی ص ۷۴) ۔

سرورکائنات کے آخری لمحات زندگی

حجة الوداع سے واپسی کے بعد آپ کی وہ علالت جوبروایت مشکواة خیبرمیں دئے ہوئے زہرکے کروٹ لینے سے ابھراکرتی تھی مستمرہوگئی آپ علیل رہنے لگے بیماری کی خبرکے عام ہوتے ہی جھوٹے مدعی نبوت پیداہونے لگے جن میں مسیلمہ کذاب ،اسودعنسی، طلیحہ، سجاح زیادہ نمایاں تھے لیکن خدانے انہیں ذلیل کیا اسی دوران میں آپ کواطلاع ملی کہ حکومت روم مسلمانوں کوتباہ کرنے کامنصوبہ تیارکررہی ہے آپ نے اس خطرہ کے پیش نظرکہ کہیں وہ حملہ نہ کردیں اسامہ بن زیدکی سرکردگی میں ایک لشکربھیجنے کافیصلہ کیا اورحکم دیاکہ علی کے علاوہ اعیان مہاجروانصارمیں سے کوئی بھی مدینہ میں نہ رہے اوراس روانگی پراتنا زور دیاکہ یہ تک فرمایا”لعن اللہ من تخلف عنہا“ جواس جنگ میں نہ جائے گااس پرخداکی لعنت ہوگی اس کے بعدآنحضرت نے اسامہ کواپنے ہاتھوں سے تیار کرکے روانہ کیا انہوں نے تین میل کے فاصلہ پرمقام جرف میں کیمپ لگایااوراعیان صحابہ کاانتظارکرنے لگے لیکن وہ لوگ نہ آئے ۔ مدارج النبوت جلد ۲ ص ۴۸۸ وتاریخ کامل جلد ۲ ص ۱۲۰ وطبری جلد ۳ ص ۱۸۸ میں ہے کہ نہ جانے والوں میں حضرت ابوبکروحضرت عمربھی تھے ۔ مدارج النبوت جلد ۲ ص ۴۹۴ میں ہے کہ آخرصفرمیں جب کہ آپ کوشدیددردسرتھا آپ رات کے وقت اہل بقیع کے لئے دعاکی خاطر تشریف لے گئے حضرت عائشہ نے سمجھاکہ میری باری میں کسی اوربیوی کے وہاں چلے گئے ہیں ۔ اس پروہ تلاش کے لیے نکلیں توآپ کوبقیع میں محودعاپایا۔

اسی سلسہ میں آپ نے فرمایاکیااچھاہوتا ائے عائشہ کہ تم مجھ سے پہلے مرجاتیں اورمیں تمہاری اچھی طرح تجہیزوتکفین کرتا انہوں نے جواب دیاکہ آپ چاہتے ہیں میں مرجاؤں توآپ دوسری شادی کرلیں ۔ اسی کتاب کے ص ۴۹۵ میں ہے کہ آنحضرت کی تیمارداری آپ کے اہل بیت کرتے تھے۔

ایک روایت میں ہے کہ اہل بیت کوتیمارداری میں پیچھے رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

واقعہ قرطاس

حجة الوداع سے واپسی پربمقام غدیرخم اپنی جانشینی کااعلان کرچکے تھے اب آخری وقت میں آپ نے یہ ضروری سمجھتے ہوئے کہ اسے دستاویزی شکل دیدوں اصحاب سے کہاکہ مجھے قلم ودوات اورکاغذ دیدو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسا نوشتہ لکھ دوں جوتمہیں گمراہی سے ہمیشہ ہمیشہ بچانے کے لیے کافی ہو یہ سن کر اصحاب میں باہمی چہ می گوئیاں ہونے لگیں لوگوں کے رحجانات قلم ودوات دے دینے کی طرف دیکھ کر حضرت عمرنے کہا ”ان الرجل لیهجرحسبناکتاب الله “ یہ مرد ہذیان بک رہاہے ہمارے لیے کتاب خداکافی ہے صحیح بخاری پ ۳۰ ص ۸۴۲ علامہ شبلی لکھتے ہیں روایت میں ہجرکالفظ ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں ۔۔۔۔

حضرت عمرنے آنحضرت کے اس ارشادکو ہذیان سے تعبیرکیاتھا(الفاروق ص ۶۱) لغت میں ہذیان کے معنی بیہودہ گفتن یعنی بکواس کے ہیں (صراح جلد ۲ ص ۱۲۳)

شمس العلماء مولوی نذیراحمددہلوی لکھتے ہیں ”جن کے دل میں تمنائے خلافت چٹکیاں لے رہی تھی انہوں نے تودھینگامستی سے منصوبہ ہی چٹکیوں میں اڑادیا اورمزاحمت کی یہ تاویل کی کہ ہمارے ہدایت کے لیے قرآن بس کرتاہے اورچونکہ اس وقت پیغمبرصاحب کے حواس برجانہیں ہیں ۔

کاغذ،قلم ودوات کالانا کچھ ضروری نہیں خداجانے کیاکیالکھوادیں گے ۔ (امہات الامة صفحہ ۹۲) اس واقعہ سے آنحضرت کوسخت صدمہ ہوا اورآپ نے جھنجلاکر فرمایاقومواعنی میرے پاس سے ہٹ اٹھ کرچلے جاؤ نبی کے روبروشوروغل انسانی ادب نہیں ہے علامہ طریحی لکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں پانچ افراد نے حضرت ابوبکر،حضرت عمر،ابوعبیدہ ،عبدالرحمن ،سالم غلام حذیفہ نے متفقہ عہدوپیمان کیاتھا کہ ”لانودہذہ الامرفی بنی ہاشم“ پیغمبرکے بعدخلافت بنی ہاشم میں نہ جانے دیں گے (مجمع البحرین) میں کہتاہوں کہ کون یقین کرسکتاہے کہ جیش اسامہ میں رسول سے سرتابی کرنے والوں جس میں لعنت تک کی گئی ہے اورواقعہ قرطاس میں حکم کوبکواس بتلانے والوں کورسول خدانے نمازکی امامت کاحکم دیدیاہوگا میرے نزدیک امامت نمازکی حدیث ناقابل قبول ہے۔

وصیت اوراحتضار

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری وقت آپ نے فرمایامیرے حبیب کوبلاؤ میں نے اپنے باپ ابوبکرپھرعمرکوبلایا انہوں نے پھریہی فرمایاتومیں نے علی کوبلا بھیجا آپ نے علی کوچادرمیں لے لیااورآخر تک سینے سے لپٹائے رہے (ریاض النضرة ص ۱۸۰ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جناب سیدہ اورحسنین کوطلب فرمایا اورحضرت علی کوبلاکروصیت کی اکرہاجیش اسامہ کے لیے میں نے فلاں یہودی سے قرض لیاتھا اسے اداکردینا اوراے علی تمہیں میرے بعدسخت صدمات پہنچیں گے تم صبرکرنا اوردیکھوجب اہل دنیادنیاپرستی کریں توتم دین اختیارکئے رہنا(روضة الاحباب جلد ۱ ص ۵۵۹ ،مدارج النبوة جلد ۲ ص ۱۱۵ ، تاریخ بغداد ج ۱ ص ۲۱۹) ۔

رسول کریم کی شہادت

حضرت علی علیہ السلام سے وصیت فرمانے کے بعد آپ کی حالت متغیر ہوگئی حضرت فاطمہ جن کے زانو پرسرمبارک رسال مآب تھا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ انتہائی پریشانی میں تھے کہ ناگاہ ایک شخص نے اذن حضوری چاہا میں نے داخلہ سے منع کردیا، اورکہااے شخص یہ وقت ملاقات نہیں ہے اس وقت واپس چلاجا اس نے کہامیری واپسی ناممکن ہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں حاضرہوجاؤں آنحضرت کوجوقدرے افاقہ ہواتو آپ نے فرمایااے فاطمہ اجازت دے دو یہ ملک الموت ہیں فاطمہ نے اجازت دیدی اوروہ داخل خانہ ہوئے پیغمرکی خدمت میں پہنچ کرعرض کی مولایہ پہلادروازہ ہے جس پرمیں نے اجازت مانگی ہے اوراب آپ کے بعدکسی کے دروازے پراجازت طلب نہ کروں گا (عجائب القصص علامہ عبدالواحد ص ۲۸۲ ،روضة الصفا جلد ۲ ص ۲۱۶ ، انوارالقلوب ص ۱۸۸) ۔

الغرض ملک الموت نے اپناکام شروع کیااورحضوررسول کریم نے بتاریخ ۲۸/ صفر ۱۱ ء ہجری یوم دوشنبہ بوقت دوپہرظاہری خلعت حیات اتاردیا(مودة القربی ص ۴۹ م ۱۴ طبع بمبئی ۳۱۰ ہجری اہلبیت کرام میں رونے کاکہرام مچ گیاحضرت ابوبکراس وقت اپنے گھرمحلہ سخ گئے ہوئے تھے جومدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پرتھا حضرت عمرنے واقعہ وفات کونشرہونے سے روکااورجب حضرت ابوبکرآگئے تودونوں سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے جومدینہ سے تین میل کے فاصلہ پرتھا اورباطل پرمشوروں کے لیے بنایاگیاتھا (غیاث اللغات) اورانہیں کے ساتھ ابوعبیدہ بھی چلے گئے جوغسال تھے غرض کہ اکثرصحابہ رسول خداکی لاش چھوڑ کر ہنگامہ خلافت میں جاشریک ہوئے اورحضرت علی نے غسل وکفن کابندوبست کیاحضرت علی غسل دینے میں ،فضل ابن عباس حضرت کاپیراہن اونچاکرنے میں ، عباس اورقثم کروٹ بدلوانے میں اوراسامہ وشقران پانی ڈالنے میں مصروف ہوگئے اورانہیں چھ آدمیوں نے نمازجنازہ پڑھی اوراسی حجرہ میں آپ کے جسم اطہرکودفن کردیاگیا جہاں آپ نے وفات پائی تھی ابوطلحہ نے قبرکھودی ۔

حضرت ابوبکروحضرت عمرآپ کے غسل وکفن اورنمازمیں شریک نہ ہوسکے کیونکہ جب یہ حضرات سقیفہ سے واپس آئے توآنحضرت کی لاش مطہر سپردخاک کی جاچکی تھی (کنزالعمال جلد ۳ ص ۱۴۰ ،ارجح المطالب ص ۶۷۰ ، المرتضی ص ۳۹ ، فتح الباری جلد ۶ ص ۴) ۔

وفات کے وقت آپ کی عمر ۶۳ سال کی تھی (تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۵۲) ۔

وفات اورشہادت کااثر

سرورکائنات کی وفات کااثریوں توتمام لوگوں پرہوا ،اصحاب بھی روئے اورحضرت عائشہ نے بھی ماتم کیا (مسنداحمدبن حنبل جلد ۶ ص ۲۷۴ ، تاریخ کامل جلد ۲ ص ۱۲۲ ،تاریخ طبری جلد ۳ ص ۱۹۷) لیکن جوصدمہ حضرت فاطمہ کوپہنچا اس میں وہ منفردتھیں تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی وفات سے عالم علوی اورعالم سفلی بھی متاثرہوئے اوران میں جوچیزیں ہیں ان میں بھی اثرات ہویداہوئے علامہ زمخشری کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نے ام معبدکے وہاں قیام فرمایا آپ کے وضوکے پانی سے ایک درخت اگا،جوبہترین پھل لاتارہا، ایک دن میں نے دیکھاکہ اس کے پتے جھڑ ہوئے ہیں اورمیوے گرے ہوئے ہیں میں حیران ہوئی کہ ناگاہ خبروفات سرورعالم پہنچی پھرتیس سال بعددیکھاگیاکہ اس میں تمام کانٹے اگ آئے تھے بعدمیں معلوم ہواکہ حضرت علی نے شہادت پائی پھرمدت مدیدکے بعداس کی جڑسے خون تازہ ابلتاہوادیکھاگیا بعدمیں معلوم ہواکہ حضرت امام حسین نے شہادت پائی ہے اس کے بعد وہ خشک ہوگیا (عجائب القصص ص ۲۵۹ بحوالہ ربیع الابرارزمخشری)۔

آنحضرت کی شہادت کاسبب

یہ ظاہرہے کہ حضرات چہاردہ معصومین علیہم السلام میں سے کوئی بھی ایسانہیں جودردجہ شہادت پرفائزنہ ہواہو۔ حضرت رسول کریم سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام تک سب ہی شہیدہوئے ہیں کوئی زہرسے شہیدہوا، کوئی تلوارسے شہیدہوا ان میں ایک خاتون تھیں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ وہ ضرب شدیدسے شہیدہوئیں ان چودہ معصوموں میں تقریبا تمام کی شہادت کاسبب واضح ہے لیکن حضرت محمدمصطفی صلعم کی شہادت کے سبب سے اکثرحضرات ناواقف ہیں اس پرروشنی ڈالتاہوں ۔

حجة الاسلام امام ابوحامد محمدالغزالی کی کتاب سرالعالمین کے ص ۷ طبع بمبئی ۱۳۱۴ ئھ اورکتاب مشکواة شریف کے باب ۳ ص ۵۸ سے واضح ہے کہ آپ کی شہادت زہرکے ذریعہ ہوئی ہے اوربخاری شریف کی ج ۳ طبع مصر ۱۳۱۴ ء کے باب اللدودص ۱۲۷ کتاب الطب سے مستفاد اورمستنبط ہوتاہے کہ ”آنحضرت کو دوامیں ملا کرزہردیاگیاتھا۔

میرے نزدیک رسول کریم کے بسترعلالت پرہونے کے وقت کے واقعات وحالات کے پیش نظردوامیں زہرملاکردیاجانا متوقع نہیں ہے علامہ محسن فیض ”کتاب الوافی“ کی جلد ۱ کے ۱۶۶ میں بحوالہ تہذیب الاحکام تحریرفرماتے ہیں کہ حضور مدینہ می ں زہرسے شہیدہوئے ہیں ۔ الخ۔

مجھے ایسامعلوم ہوتاہے کہ خیبرمیں میں زہرخورانی کی تشہیراخفائے جرم کے لیے کی گئی ہے۔

ازواج

چندکنیزوں کے علاوہ جنہیں ماریہ اورریحانہ بھی شامل تھیں آپ کے گیارہ بیویاں تھیں جن میں سے حضرت خدیجة اورزینب بنت خزیمہ نے آپ کی زندگی میں وفات پائی تھی اورنوبیویوں نے آپ کی وفات کے بعدانتقال فرمایا آنحضرت کی بیویوں کے نام درج ذیل ہیں :

۱ ۔ خدیجة الکبری ۲ ۔ سودہ ۳ ۔ عائشہ ۴ ۔ حفصہ ۵ ۔ زینب بنت خزیمہ ۶ ۔ ام سلمہ ۷ ۔ زینب بنت جحش ۸ ۔ جزیریہ بنت حارث ۹ ۔ ام حبیبہ ۱۰ ۔ صفیہ ۱۱ ۔میمونہ

اولاد

آپ کے تین بیٹے تھے اورایک بیٹی تھی جناب ابراہیم کے علاوہ جوماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے سب بچے حضرت خدیجة کے بطن سے تھے حضورکی اولادکے نام حسب ذیل ہیں :

۱ ۔ حضرت قاسم طیب : آپ بعثت سے قبل مکہ میں پیداہوئے اوردوسال کی عمرمیں وفات پاگئے۔

۲ ۔ جناب عبداللہ : جوطاہرکے نام سے مشہورتھے بعثت سے قبل مکہ میں پیداہوئے اوربچپن ہی میں انتقال کرگئے۔

۳ ۔ جناب ابراہیم : ۸ ہجری میں پیداہوئے اور ۱۰ ہجری میں انتقال کرگئے۔

۴ ۔ حضرت فاطمةالزہرا :آپ پیغمبراسلام کی اکلوتی بیٹی تھیں آپ کے شوہرحضرت علی اوربیٹے حضرت امام حسن اورامام حسین تھے آں جناب کی نسل سے گیارہ امام پیداہوئے اوران ہی کے ذریعہ سے رسول خداکی نسل بڑھی اورآپ کی اولادکاسیادت کاشرف نصیب ہوااوروہ قیامت تک ”سید“ کہی جائے گی۔

حضرت رسول کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت میں میرے سلسہ نسب کے علاوہ سارے سلسلے ٹوٹ جائیں گے اورکسی کارشتہ کسی کے کام نہ آئے گا (صواعق محرقہ ص ۹۳)

علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ تمام انبیاء کی اولادہمیشہ قابل تعظیم سمجھی جاتی رہی ہے ،ہمارے نبی اس سلسلہ میں سب سے زیادہ حق دارہیں (روضة الشہداء ص ۴۰۴) امام المسلمین علامہ جلال الدین فرماتے ہیں کہ حضرات حسنین کی اولادکے لیے سیادت مخصوص ہے مردہویاعورت جوبھی ان کی نسل سے ہے وہ قیامت تک ”سید“ رہے گا ”ویحبب علی اجمع الخلق تعظیمہم ابدا“ اورساری کائنات پرواجب ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ ان کی تعظیم کرتی رہے (لوامع التنزیل ج ۳ ص ۴،۳ ،اسعاف الراغبین برحاشیئہ نوالابصارشبلنجی ص ۱۱۴ طبع مصر)۔


حضرت علی علیہ السّلام

نام

پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کا نام اللہ کے نام پر علی رکھا ۔ حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کیا کہ ہم نے ہاتف غیبی سے یہی نام سنا تھا۔

القاب

آپ کے مشہور القاب امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں ۔

کنیت

حضرت علی علیہ السّلام کی مشہور کنیت ابو الحسن و ابو تراب ہین۔

والدین

حضرت علی (ع) ہاشمی خاندان کے وه پھلے فرزند ہیں جن کے والد اور و الده دونوں ہاشمی ہیں ۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ہاشم ہیں اور ماں فاطمه بنت اسد بن ہاشم ہیں ۔

ھاشمی خاندان قبیل ہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے مشھور و معروف تھے ۔

جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور بھت سے فضائل بنی ہاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

ولادت

جت حضرت علی (ع) کی ولادت کا وقت قریب آیا تو فاطمه بنت اسد کعبه کے پاس ائیں اور آپنے جسم کو اس کی دیوار سے مس کر کے عرض کیا:

پروردگارا ! میں تجھ پر، تیرینبیوں پر، تیری طرف سے نازل شده کتابوں پر اور اس مکان کی تعمیر کرنے والے، آپنے جد ابراھیم (ع) کے کلام پر راسخ ایمان رکھتی ہوں ۔

پروردگارا ! تجھے اس ذات کے احترام کا واسطہ جس نے اس مکان مقدس کی تعمیر کی اور اس بچه کے حق کا واسطه جو میرے شکم میں موجود ہے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما ۔

ابھی ایک لمحہ بھی نھیں گزرا تھا که کعبہ کی جنوبی مشرقی دیوار ، عباس بن عبد المطلب اور یزید بن تعف کی نظروں کے سامنے شگافته ہوئی، فاطمه بنت اسد کعبہ میں داخل ہوئیں اور دیوار دوباره مل گئی ۔ فاطمه بنت اسد تین دن تک روئے زمین کے اس سب سے مقدس مکان میں اللہ کی مھمان رہیں اور تیره رجب سن ۳۰/ عام الفیل کو بچہ کی ولادت ہوئی ۔ ولادت کے بعد جب فاطمه بنت اسد نے کعبہ سے باھر آنا چاھا تو دیوار دو باره شگافتہ ہوئی، آپ کعبه سے باھر تشریف لائیں اور فرمایا :” میں نے غیب سے یہ پیغام سنا ہے که اس بچے کا ” نام علی “ رکھنا “ ۔

بچپن ا ور تربیت

حضرت علی (ع) تین سال کی عمر تک آپنے والدین کے پاس رہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آگئے۔ کیون کہ جب آپ تین سال کے تھیاس وقت مکہ میں بھت سخت قحط پڑا ۔جس کی وجہ سے رسول الله (ص) کے چچا ابو طالب کو اقتصادی مشکل کابہت سخت سامنا کرنا پڑا ۔ رسول الله (ص) نے آپنے دوسرے چچا عباس سے مشوره کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ ہم میں سے ہر ایک، ابو طالب کے ایک ایک بچے کی کفالت آپنے ذمہ لے لے تاکہ ان کی مشکل آسان ہو جائے ۔ اس طرح عباس نے جعفر اور رسول الله (ص) نے علی (ع) کی کفالت آپنے ذمہ لے لی ۔

حضرت علی (ع) پوری طرح سے پیغمبر اکرم (ص) کی کفالت میں آگئے اور حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفےٰ کے زیر نظر ہونے لگی ۔ ا ٓ پ نے انتہائی محبت اور توجہ سے آپنا پورا وقت، اس چھوٹے بھائی کی علمی اورا خلاقی تربیت میں صرف کیا. کچھ تو حضرت علی (ع) کے ذاتی جوہر اور پھراس پر رسول جیسے بلند مرتبہ مربیّ کافیض تربیت ، چنانچہ علی علیہ السّلام دس برس کے سن میں ہی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ جب پیغمبر اسلام (ص) نے رسالت کا دعوی ک یا، تو آپ نے ان کی تصدیق فرمائ ۔ آپ ہمیشه رسول الله (ص) کے ساتھ رہتے تھے، یہاں تک کہ جب پیغمبر اکرم (ص) شھر سے باھر، کوه و بیابان کی طرف جاتے تھے تو آپ کو آپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔

پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت اور حضرت علی (ع)

جب حضرت محمد مصطفے ( ص ) چالیس سال کے ہوئے تو اللہ نے انہیں عملی طور پر آپنا پیغام پہنچانے کے لئے معین فرمایا ۔ اللہ کی طرف سے پیغمبر (ص) کو جو یہ ذمہ داری سونپی گئ ، اسی کو بعثت کہتے ہیں

حضرت محمد (ص) پر وحی الٰھی کے نزول و پیغمبری کے لئے انتخاب کے بعدکی تین سال کی مخفیانہ دعوت کے بعد بالاخرخدا کی طرف سے وحی نازل ہوئ اور رسول الله (ص) کو عمومی طور پر دعوت اسلام کا حکم دیا گیا ۔

اس دوران پیغمبراکرم (ص) کی الٰھی دعوت کے منصوبوں کو عملی جامہ پھنانے والے تنھا حضرت علی (ع) تھے۔ جب رسول الله (ص) نے اپنے اعزاء و اقرباء کے درمیان اسلام کی تبلیغ کے لئے انہیں دعوت دی تو آپ کے ہمدرد و ہمدم، تنھا حضرت علی (ع) تھے ۔

اس دعوت میں پیغمبر خدا (ص) نیحاضرین سے سوال کیا کہ آپ میں سے کون ہے جو اس راه میں میری مدد کرے اور آپ کے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین ہو؟

اس سوال کا جواب فقط حضرت علی (ع) نے دیا :” اے پیغمبر خدا ! میں اس راه میں آپ کی نصرت کروں گا ۔ پیغمبر اکرم (ص) نے تین مرتبه اسی سوال کی تکرار اور تینوں مرتبہ حضرت علی (ع) کا جواب سننے کے بعد فرمایا :

اے میرے خاندان والوں ! جان لو که علی میرا بھائی اور میرے بعد تمھارے درمیان میرا وصی و جانشین ہے ۔

علی (ع) کے فضائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ (ع) رسول الله (ص) پر ایمان لانے والے سب سے پھلے شخص ہیں ۔ اس سلسلے میں ابن ابی الحدید لکھتے ہیں :

”بزرگ علماء اور گروه معتزلہ کے متکلمین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نھیں ہے کہ علی بن ابی طالب (ع) وه پھلے شخص ہیں جو پیغمبر اسلام پر ایمان لائے اور پیغمبر خدا (ص) کیتصدیق کی “۔

رسول اسلام کی بعثت، زمانہ , ماحول, شہر اور آپنی قوم و خاندان کے خلاف ایک ایسی مہم تھی ، جس میں رسول کا ساتھ دینے والا کوئی نظر نہ ی اتا تھا ۔ بس ایک علی علیہ السّلام تھے کہ جب پیغمبر نے رسالت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے ا ن کی تصدیق کی اور ان پر ایمان کااقرارکیا دوسری ذات جناب خدیج ۃ ال کبریٰ کی تھی، جنھوں نے خواتین کے طبقہ میں سبقتِ اسلام ک ا شرف حاصل کیا۔

پیغمبر کادعوائے رسالت کرنا تھا کہ مکہ کا ہر آدمی رسول کادشمن نظر انے لگا وہی لوگ جو کل تک آپ کی سچائی اورامانتداری کادم بھرتے تھے اج آپ کو ( معاذ الله ( یوانہ، جادو گر اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔ اللہ کے رسول کے راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے، انہیں پتھر مارے جاتے اور ان کے سر پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا. اس مصیبت کے وقت میں رسول ک ے شریک صرفاور صرف حضرت علی علیہ السّلام تھے، جو بھائی کاساتھ دینے میں کبھی بھی ہمت نہیں ہار تے تھے ۔ وہ ہمیشہ محبت ووفاداری کادم بھرتے رہیاور ہرموقع پر رسول کے سینہ سپر رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی ایا جب مخالف گروہ نے انتہائی سختی کے ساتھ یہ طے کرلیا کہ پیغمبر اور ان کے تمام گھر والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ حالات اتنے خراب تھے کہ جانوں کے لالے پڑ گئے تھے .حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے آپنے تمام ساتھیوں کو حضرت محمدمصطفےٰ سمیت ایک پہاڑ کے دامن میں محفوظ قلعہ میں بند کردیا۔ وہان پر تین برس تک قید وبند کی زندگی بسر کرنی پڑی کیون کہ اس دوران ہر رات یہ خطرہ رہتا تھا کہ کہیں دشمن شب خون نہ مار دے اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ رات بھر رسول کو ایک بستر پر نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ ک بھی رسول کے بستر پر جعفر کو اور جعفر کے بستر پر رسول کو ک بھی عقیل کے بستر پر رسول کو اور رسول کے بستر پر عقیل کو ک بھی علی کے بستر پر رسول کو اور رسول کے بستر پر علی علیہ السّلام کو لٹا تے رہتے تھے. مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن رسول کے بستر کا پتہ لگا کر حملہ کرنا چاہے تو میرا کوئ بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول کا بال بیکانہ ہونے پائے اس طرح علی علیہ السّلام بچپن سے ہی فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کو عملی طور پر دہراتے رہے

رسول کی ہجرت اور حضرت علی (ع)

حضرت علی (ع) کے دیگر افتخارات میں سے ایک یہ ہے کہ جب شب ہجرت مشرک دشمنوں نے رسول الله (ص) کے قتل کی سازش رچی تو آپ (ع) نے پوری شجاعت کے ساتھ رسول الله (ص) کے بستر پر سو کر انکی سازش کو نا کام کر دیا۔

حضرت ابو طالب علیہ السّلام کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کاارادہ کرلیا ۔ دشمنوں نے یہ سازش رچی کہ ایک رات جمع ہو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شہید کرڈالیں ۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے آپنے جاں نثار بھائی علی علیہ السّلام کو بلا کر اس سازش کے بارے میں اطلاع دی اور فرمایا کہ میری جان اس طرح بچ سکتی ہے اگر آج رات آپ میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مکہ سے روانہ ہوجاؤں کوئی دوسرا ہوتاتو یہ پیغام سنتے ہی اس کا دل دہل جاتا، مگر علی علیہ السّلام نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ سے رسول کی جان کی حفاظت ہوگی، خدا کاشکر ادا کیا اور بہت خوش ہوئے کہ مجھے رسول کافدیہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہی ہوا کہ رسالت ماب شب کے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور علی بن ابی طالب علیہ ما السّلام رسول کے بستر پر سوئے۔ چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ہو اور سب کے سب گھر میں داخل ہو کر رسالت ما ٓ ب کو شہید کر ڈالیں علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتھ بستر پرارام کرتے رہے اور اپنی جان کا ذرا بھی خیال نہ کیا۔ جب دشمنوں کو صبح کے وقت یہ معلوم ہوا کہ محمد نہیں ہیں تو انھوں نے آپ پر یہ دباؤ ڈالا کہ آپ بتلادیں کہ رسول کہا ں گئے ہیں ? مگر علی علیہ السّلام نے بڑے بہادرانہ انداز میں یہ بتانے سے قطعیطور پر انکار کردیا اس کا نتیجہ یہ ہواکہ رسول الله (ص) مکہ سے کافی دور تک بغیر کسی پریشانی اور رکاوٹ کے تشریف لے جاسکیں .علی علیہ السّلام تین روز تک مکہ میں رہے جن لوگوں کی امانتیں رسول الله کے پاس تھیں ان کے سپرد کر کیخواتین ُبیت ُ رسالت کو آپنے ساتھ لے کرمدینہ کی طرف روانہ ہوئے آپ کئ روز تک رات دن پیدل چلے کر اس حالت میں رسول کے پاس پہنچے کہ آپ کے پیروں سے خون بہ رہا تھا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علی علیہ السّلام پر رسول کو سب سے زیادہ اعتماد تھااور جس وفاداری , ہمت اور دلیری سے علی علیہ السّلام نے اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے وہ بھی آپنی آپ میں ایک مثال ہے۔

شادی

جب رسول اکرم (ص) ہجرت کر کے مدینے گئے تو فاطمہ زہرا السّلام اللہ عل یہا بالغ ہو چکی تھیں اور پیغمبر(ص) اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ک ی شادی کی فکر میں تھے.کیوں کہ رسول(ص) اپنی بیٹی س ے بہت محبت کر تے تھے اور انہیں اتنی عزت دیتے تھے کہ جب فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ان کے پاس تشریف لاتی تھیں تو رسولاللہ (ص)ان کی تعظیم کے ل ئے کھڑے ہوجاتے تھے .اس لئے ہر شخص رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتھ منسوب ہونے کا شرف حاصل کرنے کی تمنا میں تھا. کچھ لو گوں نے ہمت کر کے سول کو پیغام بھی دیا مگر حضرت نے سب کی خواہشوں کو رد کردیا اور فرمایا کہ فاطمہ کی شادی اللہ کے حکمِ بغیر نہیں ہوسکتی ۔

عمر و ابوبکر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ سے مشوره کرنے کے بعد اس نتیجے پر پھونچ چکے تھے کہ علی (ع) کے سوا کوئی بھی زھرا (س) کے ساتھ ازدواج کی لیاقت نھیں رکھتا۔ ایک دن جب حضرت علی (ع) انصار رسول (ص) میں سے کسی کے باغ میں آبیاری کر رہے تھیتو انھوں نے اس موضوع کو آپ (ع) کے سامنے چھیڑا اور آپ نے فرمایا :

” میں بھی دختر رسول (ص) سے شادی کا خواھاں ہوں ، یہ کہہ کر آپ رسول الله (ص) کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

جب رسول الله (ص) کی خدمت میں پھونچے تو رسول الله (ص) کی عظمت اس بات میں مانع ہوئی که آپ (ع) کچه عرض کریں ۔جب رسول الله (ص) نے آنے کی وجہ دریافت کی تو حضرت علی (ع) نے اپنے فضائل، تقویٰ اور اسلام کے لئے آپنے سابقہ کارناموں کی بنیاد پرعرض کیا : ” آیا آپ فاطمه کو میرے عقد میں دینا بہتر سمجھتے ہیں ؟“

حضرت زھرا (س) کی رضامندی کے بعد رسول الله (ص) نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔

ہجرت کا پہلا سال تھا کہ رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کے لئے منتخب کیا یہ شادی نہایت سادگی کے ساتھ انجام دی گئ حضرت فاطمہ (س) کا مہر حضرت علی علیہ السّلام سے لے کر اسی سے ُ کچھ گھر کا سامان خریدا گیا جسے جہیز طور پر دیا گیا۔ وہ سامان بھی کیاتھا ؟ کچھ مٹی کے برتن ، خرمے کی چھال کے تکیے، چمڑے کابستر، چرخہ، چکی اور پانی بھرنے کی مشک حضرت زہرا (س) کا مہر ایک سو سترہ تولے چاندی قرار پایا، جسیحضرت علی علیہ السّلام نے آپنی زرہ فروخت کر کے ادا کیا ۔

کتابت وحی

وحی الٰھی کی کتابت اور بھت سے تاریخی و سیاسی اسناد کی تنظیم اور دعوت الٰھی کے تبلیغی خطوط لکھنا، حضرت علی (ع) کے بھت اھم کاموں میں سے ایک ہے ۔ آپ (ع) قرآنی آیات کو لکھتے اور منظم و کرتے تھے اسی لئے آپ کو کاتبان وحی اور حافظان قرآن میں شمار کیا جاتا ہے ۔

حضرت علیہ السلام ، پیغمبراسلام (ص) کے بھائی

پیغمبراسلام (ص) نیمدینے پہنچ کر مسلمانوں کے درمیان بھائ کا رشتہ قائم کیا۔ عمر کو ابو بکر کا بھائ بنا بنا یاطلہ کو زبیر کا بھائ قرار دیا و۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور حضرت علی (ع)کو رسول الله (ص) نے اپنا بھائ بنایا اور حضرت علی (ع) سے فرمایا :

” تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو، اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ۔۔۔ میں تمھیں آپنی اخوت کے لئے انتخاب کرتا ہوں ، ایک ایسی اخوت جو دونوں جھان میں بر قرار رہے “۔

. حضرت علی علیہ السلام اور اسلا می جہاد

اسلام کے دشمنوں نے پیغمبراسال (ص) کو مدینہ میں چین سے نہ بیٹھنے دیا. جو مسلمان مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں کچھ کو قتل کر دیا گیا، کچھ کو قیدی بنا لیاگیا اور کچھ کو مارا پیٹاگیا. یہی نہیں بلکہانہوں نے اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑاھئی کردی۔ اس موقع پر رسول اللہ (ص) کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کریں ، کیوں کہ انھوں نے آپ کو پریشانی کے عالم میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت و مداد کاوعدہ کیا تھا، لہذا آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا کہ آپ شہر کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کو مدینہ کی پر امن ابادی میں داخل ہونے اور عورتوں اور بچوں کو پریشان کرنے کا موقع دیں آپ کے ساتھیوں تعداد بہت کم تھی۔ آپ کے پاس کل تین سو تیرہ آدمی تھے اور مب کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے، مگر آپ نے یہ طے کیا کہ ہم مدینے سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ چنانچہ یہ اسلام کی پہلی جنگ ہوئی جوآگے چل کر جنگِ بدر کے نام سے مشہور ہوئ اس جنگ میں رسول اللہ (ص) نے آپنے عزیزوں کو زیادہ آگے رکھا، جس کی وجہ سے آپ کے چچا زاد بھائی عبید ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوگئے علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۲۵ برس تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی علیہ السّلام کے سر ہی بندھا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے ان میں سے ادھیحضرت علی علیہ السّلام کے ہاتھ سے اور ادھے، باقی مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اس کے بعد ،اُحد، خندق،خیبراور اخر میں حنین یہ وہ بڑی جنگیں تھیں جن میں حضرت علی علیہ السّلام نے رسول کے ساتھ رہ کر اپنی بہادری کے جوہر دکھا ئے۔ تقریباً ان تمام جنگوں میں علی علیہ السّلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا اس کے علاوہ بہت سی جنگیں ایسی تھیں جن میں رسول نیحضرت علی علیہ السّلام کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ہی بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ فتح حاصل کی اور استقلال،تحمّل اور شرافت ُ نفس کا وہ مطاہرہ کیا کہاس کا اقرار خود ان کے دشمن کو بھی کرنا پڑا۔ جب خندق کی جنگ میں دشمن کے سب سے بڑے سورماعمر وبن عبدود کو آپ نے مغلوب کر لیا اور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پرسوار ہوئے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ اگیا اور آپ اس کے سینے سے اتر ا ٓئے صرف اس خیال سے کہ اگراس غصّیکی حالت میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل خواہش نفس کے مطابق ہوگا، خدا کی راہ میں نہ ہوگا۔ اسی لئے آپ نے اس کو کچھ دیر کے بعد قتل کیا۔ اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش کو برہنہ کردیتے تھے، مگر حضرت علی علیہ السّلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری جبکہ وہ بہت قیمتی تھی چناچہجب عمرو کی بہن آپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہاگر علی کے علاوہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی، مگر مجھے یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کاقاتل شریف انسان ہے جس نے آپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یابچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور نہ کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ کیا

غدیر خم

پیغمبر اکرم (ص) آپنی پر برکت زندگی کے آخری سال میں حج کا فریضہ انجام دینے کے بعد مکہ سیمدینے کی طرف پلٹ رہے تھے، جس وقت آپ کا قافلہ جحفه کے نزدیک غدیر خم نامی مقام پر پہنچا تو جبرئیل امین یہ آیہ بلغ لیکرنازل ہوئے، پیغمبر اسلام (ص)نے قافلیکو ٹھرنے کا حکم دیا ۔

نماز ظھر کے بعد پیغمبر اکرم (ص) اونٹوں کے کجاوں سے بنے منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا :

” ایھا الناس ! وہ وقت قریب ہے که میں دعوت حق پر لبیک کہتے ہوئے تمھارے درمیان سے چلا جاؤں ،لہذا بتاو کہ میرے بارے میں تمہاری کیا رای ہے؟ “

سب نے کہا :” ہم گواھی دیتے ہیں آپ نے الٰھی آئین و قوانین کی بہترین طریقے سے تبلیغ کی ہے “ رسول الله (ص) نے فرمایا ” کیا تم گواھی دیتے ہو کہ خدائے واحد کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نھیں ہے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے “۔

پھر فرمایا: ” ایھا الناس ! مومنوں کے نزدیک خود ان سے بھتر اور سزا وار تر کون ہے ؟“۔

لوگوں نے جواب دیا :” خدا اور اس کا رسول بھتر جانتے ہیں “۔

پھر رسول الله (ص) نے حضرت علی (ع) کے ہاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا

:” ایھا الناس ! من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں “ ۔

رسول الله (ص) نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی ۔

اس کے بعد لوگوں نے حضرت علی (ع) کواس منصب ولایت کے لئے مبارک باددی اور آپ (ع) کے ہاتھوں پر بیعت کی ۔

حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں

علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او آپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں « .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے کبھی یہ کہا »آپ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے کبھی یہ کہا»علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے .,,

کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ جب مسجدکے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا جب مہاجرین وانصار میں بھائی کا رشتہ قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے آپنا بھائی قرار دیا۔ اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کے مجمع میں علی علیہ السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں تم سب کا حاکم اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب کے سرپرست اور حاکم ہیں ۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے علی علیہ السّلام کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے

رسول اللہ (ص)کی وفات اور حضرت علی علیہ السلام

ہجرت کا دسواں سال تھا کہ پیغمبر خدا (ص)ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوئے، جو ان کے لئے مرض الموت ثابت ہوا۔ یہ خاندان ُ رسول کے لئے بڑی مصیبت کاوقت تھا۔ حضرت علی علیہ السّلام رسول کی بیماری میں آپ کے پاس موجود رہ کر تیمارداری کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اور رسول اللہ (ص) بھی آپنے پاس سے ایک لمحہ کے لئے بھی حضرت علی علیہ السّلام کا جدا ہونا گوارانہیں کرتے تھے پیغمبر اسلام (ص) نے علی علیہ السّلام کو آپنے پاس بلایا اور سینے سے لگا کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اور ضروری وصیتیں فرمائیں اس گفتگو کے بعد بھی حضرت علی علیہ السّلام کو آپنے سے جدا نہ ہونے دیا اور ان کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا. جس وقت رسول اللہ (ص) کی روح جسم سے جداہوئی، اس وقت بھی حضرت علی علیہ السّلام کاہاتھ رسول کے سینے پر رکھاہوا تھا۔

جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا ہو، وہ بعد رسول ان کی لاش کو کس طرح چھوڑ سکتا تھا، لہذا رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل کا تمام کام علی علیہ السّلام نیاپنے ہاتھوں سے انجام دیا اور رسول اللہ (ص)کواپنے ہاتھوں سے قبر میں رکھ کر دفن کر دیا۔

حضرت علی علیہ السلام کی طاہری خلافت

رسول اللہ (ص) کے بعدحضرت علی علیہ السّلام نے پچیس برس خانہ نشینی میں بسر کئے۔ جب سن ۳۵ ہجری قمری میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا تو پہلیتو آپ نے انکار کر دیا، لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکرلیا کہ میں قران اور سنت ُ پیغمبر(ص) کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔ جب مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کر لیا تو آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص دینی حکومت کو برداشت نہ کرسکا، لہذا بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ، جنھیں آپ کی دینی حکومت کی وجہ سے آپنے اقتدار کے ختم ہوجانے کا خطرہمحسوس ہو گیا تھا، وہ آپ کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا،جس کے نتیجے میں جمل، صفین، اور نہروان کی جنگیں ہوئیں ان جنگوں میں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السّلام نے اس شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر، احد، خندق، وخیبرمیں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان جنگوں کی وجہ سے آپ کو اتنا موقع نہ مل سکا کہ آپ اس طرح اصلاح فرماتے جیساکہ آپ کا دل چاہتا تھا پھر بھی آپ نے اس مختصرسی مدّت میں ، سادہ اسلامی زندگی، مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے۔ آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور آپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھالیتے تھے جو مال بیت المال میں اتا تھا اسے تمام حقداروں کے درمیان برابر تقسیم کردیتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نیجب یہ چاہا کہ انہیں ، دوسرے مسلمانوں سے کچھ زیادہ مل جائے،تو آپ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ممکن تھا، مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ، لہذا مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے اپنے کسی عزیز کو دوسروں سے زیادہ حصہ دوں ۔ انتہا یہ ہے کہ اگرآپ کبھی رات کے وقت بیت المال میں حساب وکتاب میں مصروف ہوتے اور کوئی ملاقات کے لیے آجاتا اور غیر متعلق باتیں کرنے لگتا تو آپ چراغ کو بھجادیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہیں ہونا چاہئے آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں ائے وہ جلد سے جلد حق داروں تک پہنچ جائے آپ اسلامی خزانے میں مال کو جمع کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت

جنگ نھروان کے بعد خوارج میں سے کچھ لوگ جیسے عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، ومبرک بن عبد الله تمیمی اور عمر و بن بکر تمیمی ایک رات میں ایک جگہ جمع ہوئیاور نھروان میں مارے گئے اپنیساتھیوں کو یاد کیا کرتے ہوئے ان دنوں کے حالات اور داخلی جنگوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنیلگے۔ بالآخروہ اس نتیجہ پر پھونچے که اس قتل و غارت کی وجہ حضرت علی (ع) معاویہ اورعمرو عاص ہیں اور اگر ان تینوں افراد کو قتل کر دیا جائے تو مسلمان اپنے مسائل کوخود حل کر لیں گے۔ لھذا انھوں نے آپس میں طیکیا کہ ہم میں سے ہر ایک آدمی ان میں سے ایک ایک کو قتل کرے گا ۔

ابن ملجم نے حضرت علی (ع) کے قتل کا عھد کیا اور سن ۴۰ ہجری قمری میں انیسویں رمضان المبارک کی شب کو کچھ لوگوں کے ساتھ مسجد کوفہ میں آکر بیٹھ گیا ۔ اس شب حضرت علی (ع) اپنی بیٹی کے گھر مھمان تھے اور صبح کو واقع ہونے والے حادثہ سے با خبر تھے۔ لھذا جب اس مسئلہ کو اپنی بیٹی کے سامنے بیان کیا تو ام کلثوم نے کہا کہ کل صبح آپ ۔۔۔کو مسجد میں بھیج دیجئے ۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا : قضائے الٰھی سے فرار نھیں کیا جا سکتا۔ پھر آپنے کمر کے پٹکے کو کس کر باندھا اور اس شعر کو گنگناتیہوئے مسجد کی طرف روانہ ہوگئے ۔

” اپنی کمر کو موت کے لئے کس لو ، اس لئے کہ موت تم سے ملاقات کرے گی ۔

اور جب موت تمھاری تلاش میں آئے تو موت کے ڈر سے نالہ و فریاد نہ کرو “۔

حضرت علی (ع) سجده میں تھے کہ ابن ملجم نے آپ کے فرق مبارک پر تلوار کا وار کیا۔ آپ کے سر سے خون جاری ہواآپ کی داڑھی اور محراب خون سے رنگین ہو گئ۔ اس حالت میں حضرت علی (ع) نے فرمایا : ” فزت و رب الکعبه “ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ پھر سوره طہ کی اس آیت کی تلاوت فرمائی :

”ھم نے تم کو خاک سے پیدا کیا ہے اور اسی خاک میں واپس پلٹا دیں گے اور پھر اسی خاک تمھیں دوباره اٹھائیں گے “۔

حضرت علی (ع) اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی لوگوں کی اصلاح و سعادت کی طرف متوجہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں ، عزیزوں اور تمام مسلمانوں سے اس طرح وصیت فرمائی :

” میں تمہیں پرہیز گاری کی وصیت کرتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ تم اپنے تمام امور کو منظم کرو اور ہمیشه مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی فکر کرتے رہو ۔ یتیموں کو فراموش نہ کرو ۔ پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرو ۔ قرآن کو اپنا عملی نصاب قرار دو ،نماز کی بہت زیادہ قدر کرو، کیوں کہ یہ تمھارے دین کا ستون ہے “۔

آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کا عالم یہ تھا کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لا یا گیا، اورآپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور انکھوں سے انسو جاری ہیں ، تو آپ کو اس پر بھی رحم اگیا۔ آپنے اپنے دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ ہمارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا، اگر میں صحتیاب ہو گیا تو مجھے اختیار ہے کہ چاہے اسے سزا دوں یا معاف کردوں اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور آپ نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگاناکیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے ۔ اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کرنا کیوں کہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔

حضرت علی علیہ السّلام دو روز تک بستر بیماری پر کرب و بیچینی کے ساتھ کروٹیں بدلتے رہے۔ اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور ۲۱ رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی روح جسم سے پرواز کر گئ .حضرت امام حسن و امام حسین علیہما السّلام نے تجہیزو تکفین کے بعد آپ کے جسم اطہر کو نجف میں دفن کر دیا۔


حضرت فاطمہ زہراسلام الله علیہا

نام،القاب و کنیت

نام فاطمہ اور مشہور لقب زہرا ، سیدۃ النساء العلمین ، راضیۃ ، مرضیۃ ، شافعۃ، صدیقہ ، طاھرہ ، زکیہ،خیر النساء اور بتول ہیں ۔ اورآپ کی مشہور کنیت ام الآئمۃ ، ام الحسنین، ام السبطین اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیھا ہے، یعنی اپنے باپ کی ماں ، یہ لقب اس بات کا ترجمان ہے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاھتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں ۔

پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا ۔ کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ہیں یعنی جڑ اور بنیاد ۔لھذااس لقب( ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدابھی ہے۔ کیونکر یہ آپ ہی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ امامت اور ولایت نے رشد پایا ، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا۔

والدین

اآپ کیوالد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خولد ہیں ۔ ہم اس باپ کی تعریف میں کیا کھیں ، جو ختم المرسلین، حبیب خدا اور منجی بشریت ہو ؟ کیا لکھیں اس باپ کی تعریف میں جسکیتمام اوصاف و کمالات لکھنے سے قلم عاجز ہو؟ فصحاء ویلفاء عالم ،جس کے محاسن کی توصیف سے ششدر ہوں ؟ اور آپ کی والدہ ماجدہ، جناب خدیجہ بنت خویلد جو قبل از اسلام قریش کی سب سیزیادہ با عفت اور نیک خاتون تھیں ۔ وہ عالم اسلام کی سب سے پھلی خاتون تھیں ، جو خورشید اسلام کے طلوع کے بعد حضرت محمد مصطفی(ص) پر ایمان لائیں اور اپنا تمام مال دنیا اسلام کو پروان چڑھانے کیلئے اپنے شوھر کے اختیار میں دے دیا ۔ تاریخ اسلام، حضرت خدیجہ (س)کی پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ وفاداری اور جان و مال کی فدا کاری کو ہر گز نھیں بھلا سکتی۔ جیسا کہ خود پیغمبر اسلام (ص) کے کردار سے ظاھر ہوتا ہے کہ جب تک آپ زندہ تھیں کوئی دوسری شادی نھیں کی اور ہمیشہ آپ کی عظمت کا قصیدہ پڑھا ، عائشہ زوجہ پیغمبر (ص) فرماتی ہیں :

ازواج رسول (ص) میں کوئی بھی حضرت خدیجہ کے مقام و احترام تک نھیں پھونچ پائ۔ پیغمبر اسلام (ص) ہمیشہ انکا ذکر خیر کیا کرتے تھے اور اتنا احترام کہ گویا ازواج میں سے کوئی بھی ان جیسی نھیں تھی ۔

پھر عائشہ کھتی ہیں : میں نیایک دن پیغمبر اسلام (ص) سے کہا : وہ محض ایک بیوہ عورت تھیں ،تو یہ سن کر پیغمبر اسلام (ص) اس قدر ناراض ہوئے کہ آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور پھر فرمایا : خدا کی قسم میرے لئے خدیجہ سے بھتر کوئی نھیں تھا ۔

جب سب لوگ کافر تھے تو وہ مجھ پر ایمان لائیں ، جب سب لوگ مجھ سے رخ پھیرچکے تھے تو انہون نے اپنی ساری دولت میرے حوالے کر دی ۔ خدا نے مجھے اس سے ایک ایسی بیٹی عطا کی کہ جو تقویٰ ، عفت و طھارت کا نمونہ ہے ۔

پھر عائشہ کہتی ہیں : میں یہ بات کہہ کربہت ارمندہ ہوئی اور میں نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کیا : اس بات سے میرا کوئی غلط مقصد نھیں تھا ۔

حضرت فاطمہ زھراء (س) ایسی والدہ اور والد کی آغوش پروردہ ہیں ۔

ولادت

حضرت فاطمہ زھرا (ع) کیتاریخ ولادت کے سلسلہ میں علماء اسلام کے درمیان اختیاف ہے۔ لیکن اہج بیت عصمت و طہارت کی روایات کی بنیاد پر آپ کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ہوئی ۔

بچپن اور تربیت

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری کے زیر سایہ رہیں اور جب بعثت کے دسویں برس خدیجۃ الکبریٰ علیہا السّلامکا انتقال ہو گیا ماں کی اغوش سے جدائی کے بعد، ان کا گہوارہ تربیت صرف باپ کا سایہ رحمت تھا اور پیغمبر اسلام کی اخلاقی تربیت کا افتاب تھا جس کی شعاعیں براهِ راست اس بے نظیر گوہر کی اب وتاب میں اضافہ کررہی تھیں

جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا ک و اپنے بچپن میں بہت سے ناگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کے سن میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا۔ اب باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئ تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول کو دی جانے والی اذیتین سامنے تھیں کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھرون سے لہو لہان دیکھتیں تو کبھی سنتی کے مشرکوں نے بابا کے س پر کوڑا ڈال دیا۔ کبھی سنتیں کہ دشمن بابا کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ ڈریں نہ سہمیں نہ گھبرائیں بلکہ اس ننھی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی مدد گاربنی رہیں

. حضرت فاطمہ (س) کی شادی

یہ بات شروع سے ہی سب پر عیاں تھی کہ علی (ع) کے علاوہ کوئی دوسرا دختر رسول (ص) کا کفو و ہمتا نھیں ہے ۔ اس کے باوجودبھی بہت سے ایسے لوگ، جو اپنے آپ کو پیغمبر (ص) سے نزدیک سمجھتے تھے اپنے دلوں میں دختر رسول (ص) سے شادی کی امید لگائے بیٹھے تھے ۔

مورخین نے لکھا ہے : جب سب لوگوں نے قسمت آزمائی کر لی تو حضرت علی (ع) سے کہنا شروع کر دیا : اے علی (ع) آپ دختر پیغمبر (ص) سے شادی کے لئے نسبت کیوں نہیں دیتے ۔ حضرت علی (ع) فرماتے تھے : میرے پاس ایسا کچھ بھی نھیں ہے جس کی بنا پر میں اس راہ میں قدم بڑھاؤں ۔ وہ لوگ کہتے تھے : پیغمبر (ص) تم سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔

آخر کار حضرت علی (ع) نے اس پیغام کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کیا ۔ اور ایک دن رسول اکرم (ص) کے بیت الشرف میں تشریف لے گئے لیکن شرم و حیا کی وجہ سے آپ اپنا مقصد ظاھر نہیں کر پا رہے تھے ۔

مورخین لکھتے ہیں کہ :آپ اسی طرح دو تین مرتبہ رسول اکرم (ص) کے گھر گئے لیکن اپنی بات نہ کہہ سکے۔ آخر کار تیسری مرتبہ پیغمبر اکرم (ص) نے پوچھ ہی لیا : اے علی کیا کوئی کام ہے ؟

حضرت امیر (ع) نے جواب دیا : جی ، رسول اکرم (ص) نے فرمایا : شاید زھراء سے شادی کی نسبت لے کر آئے ہو ؟ حضرت علی (ع) نے جواب دیا، جی۔ چونکہ مشیت الٰھی بھی یہی چاہ رہی تھی کہ یہ عظیم رشتہ برقرار ہو لھذا حضرت علی (ع) کے آنے سے پہلیہی رسول اکرم (ص) کو وحی کے ذریعہ اس بات سے آگاہ کیا جا چکا تھا ۔ بہتر تھا کہ پیغمبر (ص) اس نسبت کا تذکرہ زھراء سے بھی کرتے لھذا آپ نے اپنی صاحب زادی سے فرمایا : آپ ، علی (ع) کو بہت اچھی طرح جانتیں ہیں ، وہ مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک ہیں ، علی (ع) اسلام سابق خدمت گذاروں اور با فضیلت افراد میں سے ہیں ، میں نے خدا سے یہ چاہا تھا کہ وہ تمھارے لئے بھترین شوھر کا انتخاب کرے ۔

اور خدا نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں آپ کی شادی علی (ع) سے کر دوں آپ کی کیا رائے ہے ؟

حضرت زھراء (س) خاموش رہیں ، پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کی خاموشی کو آپ کی رضا مندی سمجھا اور خوشی کے ساتھ تکبیرکہتے ہوئے وھاں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ پھر حضرت امیر (ع) کو شادی کی بشارت دی۔ حضرت فاطمہ زھرا (س) کا مھر ۴۰ مثقال چاندی قرار پایا اور اصحاب کے ایک مجمع میں خطبہ نکاح پڑھا دیا گیا ۔قابل غور بات یہ ہے کہ شادی کے وقت حضرت علی (ع) کے پاس ایک تلوار ، ایک ذرہ اور پانی بھرنے کے لئے ایک اونٹ کے علاوہ کچہ بھی نہیں تھا ، پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا : تلوار کو جھاد کے لئے رکھو ، اونٹ کو سفر اور پانی بھرنے کے لئے رکھو لیکن اپنی زرہ کو بیچ ڈالو تاکہ شادی کے وسائل خرید سکو ۔ رسول اکرم (ص) نے جناب سلمان فارسی سے کھا : اس زرہ کو بیچ دو جناب سلمان نے اس زرہ کو پانچ سو درہم میں بیچا ۔ پھر ایک بھیڑ ذبح کی گئ اور اس شادی کا ولیمہ ہوا ۔ جھیز کا وہ سامان جو دختر رسول اکرم (ص) کے گھر لایا گیا تھا ،اس میں چودہ چیزیں تھی ۔

شھزادی عالم، زوجہ علی (ع)، فاطمہ زھراء (ع) کا بس یہی مختصر سا جہیز تھا ۔ رسول اکرم (ص) اپنے چند با وفا مھاجر اور انصار اصحاب کے ساتھ اس شادی کے جشن میں شریک تھے ۔ تکبیروں اور تہلیوں کی آوازوں سے مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں ایک خاص روحانیت پیدا ہو گئی تھی اور دلوں میں سرور و مسرت کی لہریں موج زن تھیں ۔ پیغمبر اسلام (ص) اپنی صاحب زادی کا ہاتھ حضرت علی (ع) کے ہاتھوں میں دے کر اس مبارک جوڑے کے حق میں دعا کی اور انھیں خدا کے حوالے کر دیا ۔ اس طرح کائنات کے سب سے بہتر جوڑے کی شادی کے مراسم نہایت سادگی سے انجام پائے ۔

حضرت فاطمہ (س) کا اخلاق و کردار

حضرت فاطمہ زھرا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ کی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں جو دو سخا ، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں ۔ وہ اپنے شوھر حضرت علی (ع) کے لئے ایک دلسوز، مھربان اور فدا کار زوجہ تھیں ۔آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاھلیت کی بت پرستی سے آپ کو سوں دور تھیں ۔ آپ نیشادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علی مرتضیٰ (ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گذارے ۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گذرتا تھا ۔ فاطمہ (س) اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجودکے ذرات میں گھل مل چکا تھا ۔

فاطمہ زھرا (س) نے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الھٰی کو، سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ انہوں نے جو کچہ بھی ازدواجی زندگی سے پھلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوھر کے گھر میں عملی جامہ پھنایا ۔ وہ ایک ایسی مسن و سمجھدار خاتون کی طرح جس نے زندگی کے تمام مراحل طے کر لئے ہوں اپنے اپنے گھر کے اموراور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے اور اپنے شوھر کے حق کا دفاع کرتی تھیں ۔

حضرت فاطمہ(س) کا نظام عمل

حضرت فاطمہ زہرا نے شادی کے بعدجس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہطبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تما م کام اپنے ہاتھ سے کر تی تھیں ۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہ لیکن نہ توکبھی تیوریوں پر بل پڑے اورنہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا سے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسول نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا کے نام سے مشہورہے ۳۴ مرتبہ الله اکبر،۳۳ مرتبہ الحمد الله اور ۳۳ مرتبہ سبحان الله۔ حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئی کہ کنیز کی خواہش ترک کردی۔ بعد میں رسول نے بلاطلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسابرتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ اس سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک مدن فضہ سے کراتیں ۔ اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم ُ عمل ہے اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ نے مکمل طریقہ پر دُنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنی قوت ُ بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے حرچ کاسامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھے اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا انجام دیتی تھیں ۔

حضرت زہرا سلام اللہ کا پردہ

سیدہ عالم نہ صرف اپنی سیرت زندگی بلکہ اقوال سے بھی خواتین کے لیے پردہ کی اہمیت پر بہت زور دیتی تھیں آپ کا مکان مسجدِ رسولِ سے بالکل متصل تھا۔ لیکن آپ کبھی برقع وچارد میں نہاں ہو کر بھی اپنے والدِ بزرگوار کے پیچھے نماز جماعت پڑھنے یا اپ کا وعظ سننے کے لیے مسجد میں تشریف نہیں لائیں بلکہ اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے جب وہ مسجد سے واپس جاتے تھے اکثر رسول کے خطبے کے مضامین سن لیا کرتی تھیں ایک مرتبہ پیغمبر نے منبر پر یہ سوال پیش کر دیا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے یہ بات سیدہ کو معلوم ہوئ تو آپ نے جواب دیا عورت کے لئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ نہ اس کی نظر کسی غیر مرد پر پڑے اور نہ کسی غیر مرد کی نظر ا س پر پڑے .رسول کے سامنے یہ جواب پیش ہوا تو حضرت نے فرمایا "کیوں نہ ہو فاطمہ میرا ہی ایک ٹکڑا ہے۔"

حضرت زہرا (س) اور جہاد

اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔ لٰہذا حضرت فاطمہ زہرا نے کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں رکھا۔ لیکن جب کبھی پیغمبر میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھو تیں تھیں .اور جب علی علیہ السّلام خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ اسے دھو کر پاک کرتی تھیں ۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کے کرتی ہیں ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلے کا موقع۔ کیوں کہ یہ ایک پر امن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔ یعنی صرف مباہلہ کا میدان ایسا تھا جہاں سیدہ عالم خدا کے حکم سے برقع وچادر میں نہاں ہو کر اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں جس کا واقعہ یہ تھا کہ یمن سے عیسائ علماء کا ایک وفد رسول کے پاس بحث ومباحثہ کے لیے ایا اور کئ دن تک ان سے بحث ہوتی رہی جس سے حقیقت ان پر روشن تو ہوگئی مگر سخن پروری کی بنا پر وہ قائل نہ ہونا تھے نہ ہوئے اس وقت قران کی یہ ایت نازل ہوئ کہ اے رسول اتنے سچے دلائل کے بعد بھی یہ نہیں مانتے توان سے کہو کہ پھر جاؤ »ہم اپنے بیٹوں کو لائیں تم اپنے بیٹوں کو لاو، ہم اپنی عورتوں کو لائیں تم اپنی عورتوں کولاو، ہم اپنے نفسوں کو لائیں تم اپنے نفسوں کو اور الله کی طرف رجوع کریں اور اور جھوٹوں کے لیے الله کی لعنت یعنی عذاب کی بددعا کریں .» عیسائی علماء پہلے تو اس کے لیے تیار ہوگئے مگر جب رسول الله اس شان سے تشریف لے گئے کہ حسن علیہ السّلام اور حسین علیہ السّلام جیسے بیٹے فاطمہ زہرا جیسی خاتون اور علی علیہ السّلام جیسے نفس ان کے ساتھ تھے تو عیسائیوں نے مباہلہ سے انکار کردیا اور مخصوص شرائط پر صلح کرکے واپس ہو گئے

فاطمہ زہرا (س) اور پیغمبر اسلام

حضرت فاطمہ زہرا (س)کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول(ص) فاطمہ زہرا (س)سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی عزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے اخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہونیتھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے

اور عزت و احترام کانمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان کے پاس اتی تھیں تو اپ تعظیم کو کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہراکے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر (ص) کی نطر میں

سیدہ عالم کی فضیلت میں پیغمبر کی اتنی حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ جتنی حضرت علی علیہ السّلام کے سوا کسی دوسری شخصیت کے لیے نہیں ملتیں

ان میں سے اکثر علماء اسلام میں متفقہ حیثیت رکھتی ہیں مثلاً "اپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں .ْ

ْایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں .,, تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ., »اپ کی رضا سے الله راضی ہوتا ہے اور اپ کی ناراضگی سیاللہ ناراض ہوتا ہے ,,»جس نے اپ کو ایذادی اس نے رسول کو ایذا دی., اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو معتبر کتابوں میں درج ہیں

فاطمہ زہرا (س) پر پڑنے والی مصیبتیں

افسوس ہے کہ وہ فاطمہ(س) جن کی تعظیم کو رسول کھڑے ہوجاتے تھے بعدِ رسول اہل زمانہ کا رخ ان کی طرف سے پھر گیا۔ ان پر طرہ طرہ کے ظلم ہونے لگے ۔علی علیہ السّلام سے خلافت چھین لی گئ۔پھر اپ سے بیعت کا سوال بھی کیا جانے لگا اور صرف سوال ہی پر اکتفا نہیں بلکہ جبروتشدّد سے کام لیا جانے لگا. انتہا یہ کہ سیّدہ عالم کے گھر پر لکڑیاں جمع کردیں گئیں اور آگ لگائی جانے لگی اس وقتآپ کو وہ جسمانی صدمہ پہنچا، جسے آپ برداشت نہ کر سکیں اور وہی آپ کی وفات کا سبب بنا۔ ان صدموں اور مصیبتوں کا اندازہ سیّدہ عالم کی زبان پر جاری ہونے والے اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے کہ

صُبَّت علیَّ مصائبُ لوانهّا صبّت علی الایّام صرن لیالیا

یعنی مجھ پر اتنی مصیبتیں پڑیں کہ اگر وہ دِنوں پر پڑتیں تو وہ رات میں تبدیل ہو جاتے۔

سیدہ عالم کو جو جسمانی وروحانی صدمے پہنچے ان میں سے ایک، فدک کی جائداد کا چھن جانا بھی ہے جو رسول نے سیدہ عالم کو مرحمت فرمائی تھی۔ جائیداد کا چلاجانا سیدہ کے لئے اتنا تکلیف دہ نہ تھا جتنا صدمہ اپ کو حکومت کی طرف سے آپ کے دعوے کو جھٹلانے کا ہوا. یہ وہ صدمہ تھا جس کا اثر سیّدہ کے دل میں مرتے دم تکبا قی رہا

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی وصیتیں

حضرت فاطمہ زہرا (س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی طاہر کیا جب اپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں اس طرح کہ اپ ایک دن غیر معمولی طو ر فکر مند نظر ائیں اپ کی چچی ( جعفر طیار (رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیاتو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کاقدوقامت نظر اتا ہے اسما (رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً اپ کو پسند ہو. ا سکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بناکر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں

اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ اگئی چناچہ اپ نے وصیّت فرمائی کہ اپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے مورخین تصریح کرتے ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہراکی تھی۔ ا سکے علاوہ اپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ اپ کا جنازہ شبکی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزِ عمل نے میریدل میں زخم پیدا کر دئے ہیں ۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اپ اس دنیاسے رخصت ہوئیں ۔

شہادت

سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے ۳مہینہ بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی اپ کی وصیّت کے مطابق اپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی (رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کردیا اپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ اپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجدرسول کا جزوبن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا۔ اس مبارکروضہ کو ۸شوال سن ۱۳۴۴ ھجری قمری میں ابن سعود لعنتی نے دوسرے مقابر اہلیبیت علیہ السّلام کے ساتھ منہدم کرادیا۔

اولاد

حضرت فاطمہ زہرا (س) کو اللہ نے پانچ اولاد عطا فرمائ جن میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں ۔ شادی کے بعد حضرت فاطمہ زہرا صرف نو برس زندہ رہیں ۔ اس نو برس میں شادی کے دوسرے سال حضرت امام حسن علیہ السّلام پیدا ہوئے اور تیسرے سال حضرت امام حسین علیہ السّلام پھر غالباً پانچویں سال حضرت زینب اور ساتویں سال حضرت امِ کلثوم ۔ نویں سال جناب محسن علیہ السلام بطن میں تھے جبھی وہ ناگوار مصائب پیش ائے جن کے سبب سے وہ دنیا میں تشریف نہ لا سکے اور بطن مادر میں ہی شہید ہو گئے۔ اس جسمانی صدمہ سے حضرت سیّدہ بھی جانبر نہ ہوسکیں .لہذا وفات کے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہما السّلام اور دوصاحبزادیوں زینب کبری و امِ کلثوم کو چھو ڑا جو اپنے اوصاف کے لحاظ سے طبقہ خواتین میں اپنی ماں کی سچی جانشین ثابت ہوئیں


حضرت امام حسن علیہ السلام

آپ کی ولادت

آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کومدینہ منورہ میں پیداہوئے ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھاکہ رسول اکرم کے جسم مبارک کاایک ٹکڑامیرے گھرمیں آپہنچاہے خواب رسول کریم سے بیان کیاآپ نے فرمایااس کی تعبیریہ ہے کہ میری لخت جگرفاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کروگی مورخین کاکہناہے کہ رسول کے گھرمیں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اوردنیاکے سامنے سورئہ کوثرکی ایک عملی اوربنیادی تفسیر پیش کردی۔

آپ کانام نامی

ولادت کے بعداسم گرامی حمزہ تجویزہورہاتھا لیکن سرورکائنات نے بحکم خدا،موسی کے وزیرہارون کے فرزندوں کے شبروشبیرنام پرآپ کانام حسن اوربعدمیں آپ کے بھائی کانام حسین رکھا، بحارالانوارمیں ہے کہ امام حسن کی پیدائش کے بعدجبرئیل امین نے سرورکائنات کی خدمت میں ایک سفیدریشمی رومال پیش کیا جس پرحسن لکھاہواتھا ماہرعلم النسب علامہ ابوالحسین کاکہناہے کہ خداوندعالم نے فاطمہ کے دونوں شاہزادوں کانام انظارعالم سے پوشیدہ رکھاتھا یعنی ان سے پہلے حسن وحسین نام سے کوئی موسوم نہیں ہواتھا۔ کتاب اعلام الوری کے مطابق یہ نام بھی لوح محفوظ میں پہلے سے لکھاہواتھا۔

زبان رسالت دہن امامت میں

علل الشرائع میں ہے کہ جب امام حسن کی ولادت ہوئی اورآپ سرورکائنات کی خدمت میں لائے گئے تورسول کریم بے انتہاخوش ہوئے اوران کے دہن مبارک میں اپنی زبان اقدس دیدی بحارالانورمیں ہے کہ آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کوآغوش میں لے کرپیارکیااورداہنے کان میں اذن میں اوربائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسن اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایااس کواوراس کی اولادکواپنی پناہ میں رکھنا بعض لوگوں کاکہناہے کہ امام حسن کولعاب دہن رسول کم اورامام حسین کوزیادہ چوسنے کاموقع دستیاب ہواتھا اسی لیے امامت نسل حسین میں مستقرہوگئی۔

آپ کاعقیقہ

آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکارکائنات نے خوداپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایااوربالوں کومنڈواکراس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ( اسدالغابة جلد ۳ ص ۱۳) ۔

علامہ کمال الدین کابیان ہے کہ عقیقہ کے سلسلے میں دنبہ ذبح کیا گیاتھا (مطالب السؤل ص ۲۲۰) کافی کلینی میں ہے کہ سرورکائنات نے عقیقہ کے وقت جودعا پڑھی تھی اس میں یہ عبارت بھی تھی ”اللہم عظمہابعظمہ،لحمہایلحمہ دمہابدمہ وشعرہابشعرہ اللہم اجعلہا وقاء لمحمد والہ“ خدایااس کی ہڈی مولودکی ہڈی کے عوض، اس کاگوشت اس کے گوشت کے عوض ،اس کاخون اس کے خون کے عوض، اس کابال اس کے بال کے عوض قراردے اوراسے محمدوآل محمد کے لیے ہربلاسے نجات کاذریعہ بنادے ۔

امام شافعی کاکہناہے کہ آنحضرت نے امام حسن کاعقیقہ کرکے اس کے سنت ہونے کی دائمی بنیادڈل دی (مطالب السؤل ص ۲۲۰) ۔

بعض معاصرین نے لکھاہے کہ آنحضرت نے آپ کاختنہ بھی کرایاتھا لیکن میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ امامت کی شان سے مختون پیداہونا بھی ہے۔

کنیت والقاب

آپ کی کنیت صرف ابومحمدتھی اورآپ کے القاب بہت کثیرہیں : جن میں طیب،تقی، سبط اورسیدزیادہ مشہورہیں ،محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ آپ کا”سید“ لقب خودسرورکائنات کاعطاکردہ ہے (مطالب السؤل ص ۲۲۱) ۔

زیارت عاشورہ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کالقب ناصح اورامین بھی تھا۔

امام حسن پیغمبراسلام کی نظرمیں

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن اسلام پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کادرجہ دیاہے اوراپنے دامن میں جابجاآپ کے تذکرہ کوجگہ دی ہے خودسرورکائنات نے بے شماراحادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں :

ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشادفرمایاکہ میں حسنین کودوست رکھتاہوں اورجوانہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتاہوں ۔

ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کواس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کواورایک کندھے پرامام حسین کوبٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کامنہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نمازپڑھ رہے تھے اورحسنین آپ کی پشت پرسوارہو گئے کسی نے روکناچاہاتوحضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ ص ۱۲) ۔

ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگاہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کرانہیں ڈاڈھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔

ایک دن سرورکائنات امام حسن کوکاندھے پرسوارکئے ہوئے کہیں لیے جارہے تھے ایک صحابی نے کہاکہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدراچھی ہے یہ سن کرآنحضرت نے فرمایایہ کہوکہ کس قدراچھاسوارہے (اسدالغابةجلد ۳ ص ۱۵ بحوالہ ترمذی)۔

امام بخاری اورامام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خداامام حسن کوکندھے پربٹھائے ہوئے فرمارہے تھے خدایامیں اسے دوست رکھتاہوں توبھی اس سے محبت کر ۔

حافظ ابونعیم ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت نمازجماعت پڑھارہے تھے کہ ناگاہ امام حسن آگئے اوروہ دوڑکرپشت رسول پرسوارہوگئے یہ دیکھ کررسول کریم نے نہایت نرمی کے ساتھ سراٹھایا،اختتام نمازپرآپ سے اس کاتذکرہ کیاگیاتوفرمایایہ میراگل امیدہے“۔” ابنی ہذا سید“ یہ میرابیٹا سیدہے اوردیکھویہ عنقریب دوبڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔

امام نسائی عبداللہ ابن شدادسے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نمازعشاء پڑھانے کے لیے آنحضرت تشریف لائے آپ کی آغوش میں امام حسن تھے آنحضرت نمازمیں مشغول ہوگئے ، جب سجدہ میں گئے تواتناطول دیاکہ میں یہ سمجھنے لگاکہ شایدآپ پروحی نازل ہونے لگی ہے اختتام نمازپرآپ سے اس کاذکرکیاگیا توفرمایاکہ میرافرزندمیری پشت پرآگیاتھا میں نے یہ نہ چاہاکہ اسے اس وقت تک پشت سے اتاروں ،جب تک کہ وہ خودنہ اترجائے ، اس لیے سجدہ کوطول دیناپڑا۔

حکیم ترمذی ،نسائی اورابوداؤد نے لکھاہے کہ آنحضرت ایک دن محوخطبہ تھے کہ حسنین آگئے اورحسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پرگرپڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت نے خطبہ ترک کردیااورمنبرسے اترکرانہیں آغوش میں اٹھالیااورمنبر پرتشریف لے جاکرخطبہ شروع فرمایا (مطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔

امام حسن کی سرداری جنت

آل محمدکی سرداری مسلمات سے ہے علماء اسلام کااس پراتفاق ہے کہ سرورکائنات نے ارشادفرمایاہے ”الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة وابوہماخیرمنہما“ حسن اورحسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے والدبزرگواریعنی علی بن ابی طالب ان دونوں سے بہترہیں ۔

جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت کوایک دن بہت زیادہ مسرورپاکرعرض کی مولاآج افراط شادمانی کی کیاوجہ ہے ارشادفرمایاکہ مجھے آج جبرئیل نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن وحسین جوانان بہشت کے سردارہیں اوران کے والدعلی ابن ابی طالب ان سے بھی بہترہیں (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۰۷ ،صواعق محرقہ ص ۱۱۷) اس حدیث سے اس کی بھی وضاحت ہوگئی کہ حضرت علی صرف سیدہی نہ تھے بلکہ فرزندان سیادت کے باپ تھے۔

جذبہ اسلام کی فراوانی

مؤرخین کابیان ہے کہ ایک دن ابوسفیان حضرت علی کی خدمت میں حاضرہوکرکہنے لگاکہ آپ آنحضرت سے سفارش کرکے ایک ایسامعاہدہ لکھوادیجئے جس کی روسے میں اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکوں آپ نے فرمایاکہ آنحضرت جوکچھ کہہ چکے ہیں اب اس میں سرموفرق نہ ہوگا اس نے امام حسن سے شفارش کی خواہش کی ،آپ کی عمراگرچہ اس وقت صرف ۱۴ ماہ کی تھی لیکن آپ نے اس وقت ایسی جرائت کاثبوت دیاجس کاتذکرہ زبان تاریخ پرہے لکھاہے کہ ابوسفیان کی طلب سفارش پرآپ نے دوڑکراس کی ڈاڈھی پکڑلی اورناک مروڑکرکہاکلمہ شہادت زبان پرجاری کرو،تمہارے لیے سب کچھ ہے یہ دیکھ کرامیرالمومنین مسرورہوگئے (مناقب آل ابی طالب جلد ۴ ص ۴۶) ۔

امام حسن اورترجمانی وحی

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ امام حسن کایہ وطیرہ تھاکہ آپ انتہائی کم سنی کے عالم میں اپنے ناناپرنازل ہونے والی وحی من وعن اپنی والدہ ماجدہ کوسنادیاکرتے تھے ایک دن حضرت علی نے فرمایاکہ اے بنت رسول میراجی چاہتاہے کہ میں حسن کوترجمانی وحی کرتے ہوئے خوددیکھوں ، اورسنوں ، سیدہ نے امام حسن کے پہنچنے کاوقت بتادیاایک دن امیرالمومنین حسن سے پہلے داخل خانہ ہوگئے اورگوشئہ خانہ میں چھپ کربیٹھ گئے امام حسن حسب معمول تشریف لائے اورماں کی آغوش میں بیٹھ کروحی سناناشروع کردی لیکن تھوڑی دیرکے بعد عرض کی ”یااماہ قدتلجلج لسانی وکل بیانی لعل سیدی یرانی“مادرگرامی آج زبان وحی ترجمان میں لکنت اوربیان مقصدمیں رکاوٹ ہورہی ہے مجھے ایسامعلوم ہوتاہے کہ جیسے میرے بزرگ محترم مجھے دیکھ رہے ہیں یہ سن کرحضرت امیرالمومنین نے دوڑکرامام حسن کوآغوش میں اٹھالیا اوربوسہ دینے لگے(بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۱۹۳) ۔

حضرت امام حسن کابچپن میں لوح محفوظ کامطالعہ کرنا

امام بخاری رقمطرازہیں کہ ایک دن کچھ صدقہ کی کھجوریں ائی ہوئی تھیں امام حسن اورامام حسین اس کے ڈھیرسے کھیل رہے تھے اورکھیل ہی کھیل کے طورپر امام حسن نے ایک کھجوردہن اقدس میں رکھ لی، یہ دیکھ کرآنحضرت نے فرمایااے حسن کیاتمہیں معلوم نہیں ہے ؟ کہ ہم لوگوں پرصدقہ حرام ہے (صحیح بخاری پارہ ۶ ص ۵۲) ۔

حضرت حجة الاسلام شہیدثالث قاضی نوراللہ شوشتری تحریرفرماتے ہیں کہ ”امام پراگرچہ وحی نازل نہیں ہوتی لیکن اس کوالہام ہوتاہے اوروہ لوح محفوظ کامطالعہ کرتاہے جس پرعلامہ ابن حجرعسقلانی کاوہ قول دلالت کرتاہے جوانہوں نے صحیح بخاری کی اس روایت کی شرح میں لکھاہے جس میں آنحضرت نے امام حسن کے شیرخوارگی کے عالم میں صدقہ کی کھجورکے منہ میں رکھ لینے پراعتراض فرمایاتھا”کخ کخ اماتعلم ان الصدقة علیناحرام“ تھوکوتھو،کیاتمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگوں پرصدقہ حرام ہے اورجس شخص نے یہ خیال کیاکہ امام حسن اس وقت دودھ پیتے تھے آپ پرابھی شرعی پابندی نہ تھی آنحضرت نے ان پرکیوں اعتراض کیا اس کاجواب علامہ عسقلانی نے اپنی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں دیاہے کہ امام حسن اوردوسرے بچے برابرنہیں ہوسکتے کیونکہ ان الحسن یطالع لوح المحفوظ امام حسن شیرخوارگی کے عالم میں بھی لوح محفوظ کامطالعہ کیاکرتے تھے(احقاق الحق ص ۱۲۷) ۔

امام حسن کابچپن اورمسائل علمیہ

یہ مسلمات سے ہے کہ حضرت آئمہ معصومین علیہم السلام کوعلم لدنی ہواکرتاتھا وہ دنیامیں تحصیل علم کے محتاج نہیں ہواکرتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن میں ہی ایسے مسائل علمیہ سے واقف ہوتے تھے جن سے دنیاکے عام علماء اپنی زندگی کے آخری عمرتک بے بہرہ رہتے تھے امام حسن جوخانوادہ رسالت کی ایک فرد اکمل اورسلسلہ عصمت کی ایک مستحکم کڑی تھے، کے بچپن کے حالات وواقعات دیکھے جائیں تومیرے دعوی کاثبوت مل سکے گا:

۱ ۔ مناقب ابن شہرآشوب میں بحوالہ شرح اخبارقاضی نعمان مرقوم ہے کہ ایک سائل حضرت ابوبکرکی خدمت میں آیااوراس نے سوال کیا کہ میں نے حالت احرام میں شترمرغ کے چندانڈے بھون کرکھالیے ہیں بتائیے کہ مجھ پرکفارہ واجب الاداہوا۔ سوال کاجواب چونکہ ان کے بس کانہ تھا اس لیے عرق ندامت پیشانی خلافت پرآگیا ارشادہواکہ اسے عبدالرحمن بن عوف کے پاس لے جاؤ، جوان سے سوال دھرایاتووہ بھی خاموش ہوگئے اورکہاکہ اس کاحل توامیرالمومنین کرسکتے ہیں _

سائل حضرت علی کی خدمت میں لایاگیاآپ نے سائل سے فرمایاکہ میردوچھوٹے بچے جوسامنے نظرآرہے ہیں ان سے دریافت کرلے سائل امام حسن کی طرف متوجہ ہوا اورمسئلہ دہراہا امام حسن نے جواب دیاکہ تونے جتنے انڈے کھائے ہیں اتنی ہی عمدہ اونٹیاں لے کرانہیں حاملہ کرا اوران سے جوبچے پیداہوں انہیں راہ خدامیں ہدیہ خانہ کعبہ کردے ۔ امیرالمومنین نے ہنس کرفرمایاکہ بیٹا جواب توبالکل صحیح ہے لیکن یہ بتاؤ کہ کیاایسا نہیں ہے کہ کچھ حمل ضائع ہوجاتے ہیں اورکچھ بچے مرجاتے ہیں عرض کی باباجان بالکل درست ہے مگرایسابھی توہوتاہے کہ کچھ انڈے بھی خراب ہاورگندے نکل جاتے ہیں یہ سن کرسائل پکاراٹھاکہ ایک مرتبہ اپنے عہدمیں سلیمان بن داؤد نے بھی یہی جواب دیاتھا جیساکہ میں نے اپنی کتابوں میں دیکھاہے۔

۲ ۔ ایک روزامیرالمومنین مقام رحبہ میں تشریف فرماتے تھے اورحسنین بھی وہاں موجودتھے ناگاہ ایک شخص آکرکہنے لگا کہ میں آپ کی رعایا اوراہل بلد(شہری) ہوں حضرت نے فرمایاکہ توجھوٹ کہتاہے تونہ میری رعایامیں سے ہے اورنہ میرے شہرکاشہری ہے بلکہ توبادشاہ روم کافرستادہ ہے تجھے اس نے معاویہ کے پاس چندمسائل دریافت کرنے کے لیے بھیجاتھا اوراس نے میرے پاس بھیجدیاہے اس نے کہایاحضرت آپ کاارشاد باکل درست ہے مجھے معاویہ نے پوشیدہ طورپرآپ کے پاس بھیجاہے اوراس کاحال خداوندعالم کے سواکسی کومعلوم نہیں ہے مگرآپ بہ علم امامت سمجھ گئے ، آپ نے فرمایاکہ اچھا اب ان مسائل کے جوابات ان دوبچوں میں سے کسی ایک سے پوچھ لے وہ امام حسن کی طرف متوجہ ہواچاہتاتھا کہ سوال کرے امام حسن نے فرمایا:

ایے شخص تویہ دریافت کرنے آیاہے کہ ۱ ۔ حق وباطل کتنا فاصلہ ہے ۲ ۔ زمین وآسمان تک کتنی مسافت ہے ۳ ۔ مشرق ومغرب میں کتنی دوری ہے ۔

۴ ۔ قوس قزح کیاچزہے ۵ ۔ مخنث کسے کہتے ہیں ۶ ۔ وہ دس چیزیں کیاہیں جن میں سے ہرایک کوخداوندعالم نے دوسرے سے سخت اورفائق پیدا کیاہے۔

سن ، حق وباطل میں چارانگشت کافرق وفاصلہ ہے اکثروبیشتر جوکچھ آنکھ سے دیکھاحق ہے اورجوکان سے سناباطل ہے(آنکھ سے دیکھاہوایقینی ۔ کان سے سناہوامحتاج تحقیق )۔

زمین اورآسمان کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ مظلوم کی آہ اورآنکھ کی روشنی پہنچ جاتی ہے ۔

مشرق ومغرب میں اتنافاصلہ ہے کہ سورج ایک دن میں طے کرلیتاہے ۔

اورقوس وقزح اصل میں قوس خداہے اس لئے کہ قزح شیطان کانام ہے ۔ یہ فراوانی رزق اوراہل زمین کے لیے غرق سے امان کی علامت ہے اس لئے اگریہ خشکی میں نمودارہوتی ہے توبارش کے حالات میں سے سمجھی جاتی ہے اوربارش میں نکلتی ہے تو ختم باران کی علامت میں سے شمارکی جاتی ہے ۔

مخنث وہ ہے جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوکہ مردہے یاعورت اوراس کے جسم میں دونوں کے اعضاء ہوں اس کاحکم یہ ہے کہ تاحدبلوغ انتظارکریں اگرمحتلم ہوتو مرد اورحائض ہواورپستان ابھرائیں توعورت ۔

اگراس سے مسئلہ حل نہ ہوتو دیکھناچاہئے کہ اس کے پیشاب کی دھاریں سیدھی جاتی ہیں یانہیں اگرسیدھی جاتی ہیں تومرد ،ورنہ عورت ۔

اوروہ دس چیزیں جن میں سے ایک دوسرے پرغالب وقوی ہے وہ یہ ہیں کہ خدانے سب سے زائدسخت قوی پتھرکوپیداکیاہے مگراس سے زیادہ سخت لوہا ہے جوپتھرکوبھی کاٹ دیتاہے اوراس سے زائدسخت قوی آگ ہے جولوہے کوپگھلادیتی ہے اورآگ سے زیادہ سخت قوی پانی ہے جوآگ کوبجھادیتاہے اوراس سے زائد سخت وقوی ابرہے جوپانی کواپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتاہے اوراس سے زائد وقوی ہواہے جوابرکواڑائے پھرتی ہے اورہواسے زائد سخت وقوی فرشتہ ہے جس کی ہوامحکوم ہے اوراس سے زائدسخت وقوی ملک الموت ہے جوفرشتہ بادکی بھی روح قبض کرلیں گے اورموت سے زائد سخت وقوی حکم خداہے جوموت کوبھی ٹال دیتاہے۔یہ جوابات سن کرسائل پھڑک اٹھا۔

۳ ۔حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھاکہ ایک شخص کے ہاتھ میں خون آلودچھری ہے اوراسی جگہ ایک شخص ذبح کیاہوا پڑاہے جب اس سے پوچھاگیاکہ تونے اسے قتل کیاہے،تواس نے کہا ہاں ،لوگ اسے جسدمقتول سمیت جناب امیرالمومنین کی خدمت میں لے چلے اتنے میں ایک اور شخص دوڑتاہواآیا،اورکہنے لگا کہ اسے چھوڑدو اس مقتول کاقاتل میں ہوں ۔ ان لوگوں نے اسے بھی ساتھ لے لیااورحضرت کے پاس لے گئے ساراقصہ بیان کیا آپ نے پہلے شخص سے پوچھاکہ جب تواس کاقاتل نہیں تھاتوکیاوجہ ہے کہ اپنے کواس کاقاتل بیان کیا،اس نے کہایامولا میں قصاب ہوں گوسفندذبح کررہاتھا کہ مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی ،اس طرح خون آلود چھری میں لیے ہوئے اس خرابہ میں چلاگیا وہاں دیکھاکہ یہ مقتول تازہ ذبح کیاہواپڑاہے اتنے میں لوگ آگئے اورمجھے پکڑلیا میں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس وقت جبکہ قتل کے سارے قرائن موجودہیں میرے انکارکوکون باور کرے گا میں نے اقرارکرلیا ۔

پھرآپ نے دوسرے سے پوچھاکہ تواس کاقاتل ہے اس نے کہا جی ہاں ، میں ہی اسے قتل کرکے چلاگیاتھا جب دیکھاکہ ایک قصاب کی ناحق جان چلی جائے گی توحاضرہوگیا آپ نے فرمایامیرے فرزندحسن کوبلاؤ وہی اس مقدمہ کافیصلہ سنائیں گے امام حسن آئے اورسارا قصہ سنا، فرمایادونوں کوچھوڑدو یہ قصاب بے قصورہے اوریہ شخص اگرچہ قاتل ہے مگراس نے ایک نفس کوقتل کیاتودوسرے نفس (قصاب) کوبچاکر اسے حیات دی اورا سکی جان بچالی اورحکم قرآن ہے کہ ”من احیاہافکانما احیاالناس جمیعا“ یعنی جس نے ایک نفس کی جان بچائی اس نے گویاتمام لوگوں کی جان بچائی لہذا اس مقتول کاخون بہابیت المال سے دیاجائے۔

۴ ۔ علی ابن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیرمیں لکھاہے کہ شاہ روم نے جب حضرت علی کے مقابلہ میں معاویہ کی چیزہ دستیوں سے آگاہی حاصل کی تودونوں کولکھا کہ میرے پاس ایک ایک نمائندہ بھیج دیں حضرت علی کی طرف سے امام حسن اورمعاویہ کی طرف سے یزید کی روانگی عمل میں ائی یزیدنے وہاں پہنچ کر شاہ روم کی دست بوسی کی اورامام حسن نے جاتے ہی کہاکہ خداکاشکرہے میں یہودی ،نصرانی، مجوسی وغیرہ نہیں ہوں بلکہ خالص مسلمان ہوں شاہ روم نے چندتصاویر نکالیں یزیدنے کہامیں ان سے ایک کوبھی نہیں پہنچانتا اورنہ بتاسکتاہوں کہ یہ کن حضرات کی شکلیں ہیں امام حسن نے حضرت آدم ،نوح، ابراہیم، اسماعیل، اورشعیب ویحی کی تصویریں دیکھ کرپہچان لیں اورایک تصویردیکھ کرآپ رونے لگے بادشاہ نے پوچھایہ کس کی تصویرہے فرمایامیرے جدنامدارکی ،

اس کے بعد بادشاہ نے سوال کیا کہ وہ کون سے جاندارہیں جواپنی ماں کے پیٹ سے پیدانہیں ہوئے آپ نے فرمایااے بادشاہ وہ سات جاندارہیں :

۱ ۔ ۲ ۔آدم وحوا ۳ ۔ دنبہ ابراہیم ۴ ناقہ صالح ۵ ۔ ابلیس ۶ ۔ موسوی اژدھا ۷ ۔ وہ کوا جس نے قابیل کی دفن ہابیل کی طرف رہبری کی ۔

بادشاہ نے یہ تبحرعلمی دیکھ کرآپ کی بڑی عزت کی اورتحائف کے ساتھ واپس کیا۔

امام حسن اورتفسیرقرآن

علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفیروسیط واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس اورابن عمرسے ایک آیت سے متعلق ”شاہدومشہود“ کے معنی دریافت کئے ابن عباس نے شاہدسے یوم جمعہ اورمشہودسے یوم عرفہ بتایااورابن عمرنے یوم جمعہ اوریوم النحرکہا اس کے بعدوہ شخص امام حسن کے پاس پہنچا،آپ نے شاہدسے رسول خدااورمشہودسے یوم قیامت فرمایااوردلیل میں آیت پڑھی :

۱ ۔( یاایهاالنبی اناارسلناک شاهداومبشرا ونذیرا ) ۔ائے نبی ہم نے تم کوشاہد ومبشر اورنذیربناکربھیجاہے ۔

۲ ۔( ذالک یوم مجموع له الناس وذالک یوم مشهود ) ۔ قیامت کاوہ دن ہوگا جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع ہوں کردیے جائیں کے ، اوریہی یوم مشہود ہے ۔ سائل نے سب کاجواب سننے کے بعدکہا”فکان قول الحسن احسن“ امام حسن کا جواب دونوں سے کہیں بہترہے (مطالب السؤل ص ۲۲۵) ۔

امام حسن کی عبادت

امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام زبردست عابد،بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا،کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثرموت، عذاب،قبر،صراط اوربعثت ونشورکویادکرکے رویاکرتے تھے جب آپ وضوکرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زردہوجایاکرتاتھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے آپ کامعمول تھاکہ جب دروازہ مسجدپرپہنچتے توخداکومخاطب کرکے کہتے میرے پالنے والے تیراگنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اسے رحمن ورحیم اپنے اچھائیوں کے صدقہ میں مجھ جیسے برائی کرنے والے بندہ کومعاف کردے آپ جب نمازصبح سے فارغ ہوتے تھے تواس وقت تک خاموش بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج طالع نہ ہوجائے (روضة الواعظین بحارالانوار)۔

آپ کازہد

امام شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اوربعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایاہے وہ عظیم وپرہیزگارتھے۔

آپ کی سخاوت

مورخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے کچھ مانگادست سوال درازہوناتھاکہ آپ نے پچاس ہزاردرہم اورپانچ سواشرفیاں دے دیں اورفرمایاکہ مزدورلاکراسے اٹھوالے جا اس کے بعدآپ نے مزدورکی مزدوری میں اپناچغابخش دیا(مراة الجنان ص ۱۲۳) ۔

ایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کوخداسے دعاکرتے دیکھا خدایامجھ دس ہزاردرہم عطافرما آپ نے گھرپہنچ کرمطلوبہ رقم بھجوادی (نورالابصار ص ۱۲۲) ۔

آپ سے کسی نے پوچھاکہ آپ توفاقہ کرتے ہیں لیکن سائل کومحروم واپس نہیں فرماتے ارشادفرمایاکہ میں خداسے مانگنے والاہوں اس نے مجھے دینے کی عادت ڈال رکھی ہے اورمیں نے لوگوں کودینے کی عادت ڈالی رکھی ہے میں ڈرتاہوں کہ اگراپنی عادت بدل دوں ، توکہیں خدابھی نہ اپنی عادت بدل دے اورمجھے بھی محروم کردے (ص ۱۲۳) ۔

توکل کے متعلق آپ کاارشاد

امام شافعی کابیان ہے کہ کسی نے امام حسن سے عرض کی کہ ابوذرغفاری فرمایاکرتے تھے کہ مجھے تونگری سے زیادہ ناداری اورصحت سے زیادہ بیماری پسندہے آپ نے فرمایاکہ خداابوذرپررحم کرے ان کاکہنادرست ہے لیکن میں تویہ کہتاہوں کہ جوشخص خداکے قضاوقدرپرتوکل کرے وہ ہمیشہ اسی چیزکوپسند کرے گا جسے خدااس کے لیے پسندکرے (مراة الجنان جلد ۱ ص ۱۲۵) ۔

امام حسن حلم اوراخلاق کے میدان میں

علامہ ابن شہرآشوب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں معاویہ کے طرف داروں کاایک شامی سامنے آپڑا اس نے حضرت کوگالیاں دینی شروع کردیں آپ نے اس کامطلقا کوئی جواب نہ دیا جب وہ اپنی جیسی کرچکاتوآپ اس کے قریب گئے اوراس کوسلام کرکے فرمایاکہ بھائی شایدتومسافرہے ،سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہوتومیں تجھے سوری دیدوں ، اگرتوبھوکاہے توکھاناکھلادوں ، اگرتجھے کپڑے درکارہوں توکپڑے دیدوں ،اگرتجھے رہنے کوجگہ چاہئے تو مکان کاانتظام کردوں ، اگردولت کی ضرورت ہے توتجھے اتنا دیدوں کہ توخوش حال ہوجائے یہ سن کرشامی بے انتہاشرمندہ ہوااورکہنے لگا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ زمین خداپراس کے خلیفہ ہیں مولامیں توآپ کواورآپ کے باپ دادا کوسخت نفرت اورحقارت کی نظرسے دیکھتاتھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کاگردیدہ بنادیا اب میں آپ کے قدموں سے دورنہ جاؤں گا اورتاحیات آپ کی خدمت میں رہوں گا (مناقب جلد ۴ ص ۵۳ ،وکامل مبروج جلد ۲ ص ۸۶) ۔

عہد امیرالمومنین میں امام حسن کی اسلامی خدمات

تواریخ میں ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام کوپچیس برس کی خانہ نشینی کے بعدمسلمانوں نے خلیفہ ظاہری کی حیثیت سے تسلیم کیااوراس کے بعدجمل، صفین،نہروان کی لڑائیاں ہوئیں توہرایک جہادمیں امام حسن علیہ السلام اپنے والدبزرگوارکے ساتھ ساتھ ہی نہیں رہے بلکہ بعض موقعوں پرجنگ میں آپ نے کارہائے نمایاں بھی کئے۔ سیرالصحابہ اورروضة الصفامیں ہے کہ جنگ صفین کے سلسلہ میں جب ابوموسی اشعری کی ریشہ دوانیاں عریاں ہوچکیں توامیرالمومنین نے امام حسن اورعماریاسرکوکوفہ روانہ فرمایاآپ نے جامع کوفہ میں ابوموسی کے افسون کواپنی تقریرکرتریاق سے بے اثربنادیا اورلوگوں کوحضرت علی کے ساتھ جنگ کے لیے جانے پرآمادہ کردیا۔ اخبارالطوال کی روایت کی بناپرنوہزارچھ سوپچاس افرادکالشکر تیارہوگیا۔

مورخین کابیان ہے کہ جنگ جمل کے بعدجب عائشہ مدینہ جانے پرآمادہ نہ ہوئیں توحضرت علی نے امام حسن کوبھیجاکہ انھیں سمجھاکر مدینہ روانہ کریں چنانچہ وہ اس سعی میں ممدوح کامیاب ہوگئے بعض تاریخوں میں ہے کہ امام حسن جنگ جمل وصفین میں علمدارلشکرتھے اورآپ نے معاہدہ تحکیم پردستخط بھی فرمائے تھے اورجنگ جمل وصفین اورنہروان میں بھی سعی بلیغ کی تھی۔

فوجی کاموں کے علاوہ آپ کے سپردسرکاری مہمان خانہ کاانتظام اورشاہی مہمانوں کی مدارات کاکام بھی تھا آپ مقدمات کے فیصلے بھی کرتے تھے اوربیت المال کی نگرانی بھی فرماتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔

حضرت علی کی شہادت اورامام حسن کی بیعت

مورخین کابیان ہے کہ امام حسن کے والدبزرگوارحضرت علی علیہ السلام کے سرمبارک پربمقام مسجدکوفہ ۱۸/ رمضان ۴۹ ہجری بوقت صبح امیرمعاویہ کی سازش سے عبدالرحمن ابن ملجم مرادی نے زہرمیں بجھی ہوئی تلوارلگائی جس کے صدمہ سے آپ نے ۲۱/ رمضان المبارک ۴۰ ہجری کوبوقت صبح شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر ۳۷ سال چھ یوم کی تھی_

حضرت علی کی تکفین وتدفین کے بعدعبداللہ ابن عباس کی تحریک سے بقول ابن اثیرقیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعدادچالیس ہزارتھی یہ واقعہ ۲۱/ رمضان ۴۰ ہ یوم جمعہ کاہے کفایة الاثر علامہ مجلسی میں ہے کہ اس وقت آپ نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا جس میں آپ نے فرمایاہے کہ ہم میں ہرایک یاتلوارکے گھاٹ اترے گایازہروغاسے شہیدہوگا اس کے بعدآپ نے عراق، ایران،خراسان،حجاز،یمن اوربصرہ وغیرہ کے اعمال کی طرف توجہ کی اورعبداللہ ابن عباس کوبصرہ کاحاکم مقررفرمایا۔ معاویہ کوجونہی یہ خبرپہنچی کی بصرہ کے حاکم ابن عباس مقررکردیئے گئے ہیں تواس نے دوجاسوس روانہ کیے ایک قبیلہ حمیرکاکوفہ کی طرف اوردوسراقبیلہ قین کابصرہ کی طرف، اس کامقصدیہ تھاکہ لوگ امام حسن سے منحرف ہوکرمیری طرف آجائیں لیکن وہ دونوں جاسوس گرفتارکرلیے گئے اوربعدمیں انہیں قتل کردیاگیا۔

حقیقت ہے کہ جب عنان حکومت امام حسن کے ہاتھوں میں آئی توزمانہ بڑاپرآشوب تھاحضرت علی جن کی شجاعت کی دھاک سارے عرب میں بیٹھی ہوئی تھے دنیاسے کوچ کرچکے تھے ان کی دفعة شہادت نے سوئے ہوئے فتنوں کوبیدارکردیاتھا اورساری مملکت میں سازشوں کی کھیچڑی پک رہی تھی خودکوفہ میں اشعث ابن قیس ، عمربن حریث، شیث ابن ربعی وغیرہ کھلم کھلابرسرعناداورآمادہ فسادنظرآتے تھے ۔۔۔ معاویہ نے جابجاجاسوس مقررکردئیے تھے جومسلمانوں میں پھوٹ ڈلواتے تھے اورحضرت کے لشکرمیں اختلاف وتشتت وافتراق کابیچ بوتے تھے اس نے کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں سے سازشی ملاقات کیں اوربڑی بڑی رشوتیں دے کرانہیں توڑلیا۔

بحارالانوارمیں علل الشرائع کے حوالہ سے منقول ہے کہ معاویہ نے عمربن حریث ، اشعث بن قیس، حجرابن الحجر، شبث ابن ربعی کے پاس علیحدہ علیحدہ یہ پیام بھیجاکہ جس طرح ہوسکے حسن ابن علی کوقتل کرادو،جومنچلایہ کام کرگزرے گااس کودولاکھ درہم نقدانعام دوں گا فوج کی سرداری عطاکروں گا اوراپنی کسی لڑکی سے اس کی شادی کردوں گا یہ انعام حاصل کرنے کے لیے لوگ شب وروزموقع کی تاک میں رہنے لگے حضرت کواطلاع ملی توآپ نے کپڑوں کے نیچے زرہ پہننی شروع کردی یہاں تک کہ نمازجماعت پڑھانے کے لیے باہرنکلتے توزرہ پہن کرنکلتے تھے_

معاویہ نے ایک طرف توخفیہ توڑجوڑکئے دوسری طرف ایک بڑالشکرعراق پرحملہ کرنے کے لیے بھیج دیا جب حملہ آورلشکرحدودعراق میں دورتک آگے بڑھ آیا توحضرت نے اپنے لشکرکوحرکت کرنے کاحکم دیاحجرابن عدی کوتھوڑی سی فوج کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے فرمایاآپ کے لشکرمیں بھیڑ بھاڑتوخاصی نظرآنے لگی تھی مگر سردارجوسپاہیوں کولڑاتے ہیں کچھ تومعاویہ کے ہاتھ بک چکے تھے کچھ عافیت کوشی میں مصروف تھے حضرت علی کی شہادت نے دوستوں کے حوصلے پست کردئیے تھے اوردشمنوں کوجرائت وہمت دلادی تھی۔

مورخین کابیان ہے کہ معاویہ ۶۰ ہزارکی فوج لے کرمقام مسکن میں جااترا جوبغدادسے دس فرسخ تکریت کی ”جانب اوانا“ کے قریب واقع ہے امام حسن علیہ السلام کوجب معاویہ کی پیشقدمی کاعلم ہواتوآپ نے بھی ایک بڑے لشکرکے ساتھ کوچ کردیااورکوفہ سے ساباط میں جاپہنچے اور ۱۲ ہزارکی فوج قیس ابن سعد کی ماتحتی میں معاویہ کی پیش قدمی روکنے کے لیے روانہ کردی پھرساباط سے روانہ ہوتے وقت آپ نے ایک خطبہ پڑھا ،جس میں آپ نے فرمایاکہ

”لوگوں ! تم نے اس شرط پرمجھ سے بیعت کی ہے کہ صلح اورجنگ دونوں حالتوں میں میراساتھ دوگے“ میں خداکی قسم کھاکرکہتاہوں کہ مجھے کسی شخص سے بغض وعداوت نہیں ہے میرے دل میں کسی کوستانے کاخیال نہیں میں صلح کوجنگ سے اورمحبت کوعداوت سے کہیں بہترسمجھتاہوں ۔“

لوگوں نے حضرت کے اس خطاب کامطلب یہ سمجھاکہ حضرت امام حسن، امیرمعاویہ سے صلح کرنے کی طرف مائل ہیں اورخلافت سے دستبرداری کاارادہ دل میں رکھتے ہیں اسی دوران میں معاویہ نے امام حسن کے لشکرکی کثرت سے متاثرہوکریہ مشورہ عمروعاص کچھ لوگوں کوامام حسن کے لشکروالے سازشیوں نے قیس کے لشکرمیں بھیج کرایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈاکرادیا۔ امام حسن کے لشکروالے سازشیوں نے قیس کے متعلق یہ شہرت دینی شروع کی کہ اس نے معاویہ سے صلح کرلی ہے اورقیس بن سعدکے لشکرمیں جوسازشی گھسے ہوئے تھے انہوں نے تمام لشکریوں میں یہ چرچاکردیاکہ امام حسن نے معاویہ سے صلح کرلی ہے_

امام حسن کے دونوں لشکروں میں اس غلط افواہ کے پھیل جانے سے بغاوت اوربدگمانی کے جذبات ابھرنکلے امام حسن کے لشکر کاوہ عنصرجسے پہلے ہی سے شبہ تھاکہ یہ مائل بہ صلح ہیں کہ کہنے لگا کہ امام حسن بھی اپنے باپ حضرت علی کی طرح کافرہوگئے ہیں بالآخرفوجی آپ کے خیمہ پرٹوٹ پڑے آپ کاکل اسباب لوٹ لیاآپ کے نیچے سے مصلی تک گھسیٹ لیا،دوش مبارک پرسے ردابھی اتارلی اوربعض نمایاں قسم کے افرادنے امام حسن کومعاویہ کے حوالے کردینے کاپلان تیارکیا،آخرکارآپ ان بدبختیوں سے مایوس ہوکرمدائن کے گورنر،سعدیاسعیدکی طرف روانہ ہوگئے ، راستہ میں ایک خارجی نے جس کانام بروایت الاخبارالطوال ص ۳۹۳ ” جراح بن قیصہ“تھا آپ کی ران پرکمین گاہ سے ایک ایساخنجرلگایاجس نے ہڈی تک محفوظ نہ رہنے دیاآپ نے مدائن میں مقیم رہ کرعلاج کرایا اوراچھے ہوگئے (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۱ ،تاریخ آئمہ ص ۳۳۳ فتح باری)۔

معاویہ نے موقع غنیمت جان کر ۲۰ ہزارکالشکرعبداللہ ابن عامرکی قیادت وماتحتی میں مدائن بھیج دیاامام حسن اس سے لڑنے کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ اس نے عام شہرت کردی کہ معاویہ بہت بڑالشکرلیے ہوئے آرہاہے میں امام حسن اوران کے لشکرسے درخواست کرتاہوں کہ مفت میں اپنی جان نہ دین اورصلح کرلیں ۔

اس دعوت صلح اورپیغام خوف سے لوگوں کے دل بیٹھ گئے ہمتیں پست ہوگئیں اورامام حسن کی فوج بھاگنے کے لیے راستہ ڈھونڈنے لگی۔

صلح

مورخ معاصرعلامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ امیرشام کوحضرت امام حسن علیہ السلام کی فوج کی حالت اورلوگوں کی بے وفائی کاحال معلوم ہوچکاتھااس لیے وہ سمجھتے تھے کہ امام حسن کے لیے جنگ ممکن نہیں ہے مکراس کے ساتھ وہ بھی یقین رکھتے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کتنے ہی بے بس اوربے کس ہوں ، مگرعلی وفاطمہ کے بیٹے اورپیغمبرکے نواسے ہیں اس لیے وہ ایسے شرائط پرہرگزصلح نہ کریں گے جوحق پرستی کے خلاف ہوں اورجن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو، اس کونظرمیں رکھتے ہوئے انہوں نے ایک طرف توآپ کے ساتھیوں کوعبداللہ بن عامرکے ذریعہ پیغام دلوایاکہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو، اورخون ریزی نہ ہونے دو۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کورشوتیں بھی دی گئیں اورکچھ بزدلوں کواپنی تعدادکی زیادتی سے خوف زدہ کیاگیااوردوسری طرف حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس پیغام بھیجاکہ آپ جن شرائط پرکہیں انہیں شرائط پرصلح کے لیے تیارہوں ۔

امام حسن یقینا اپنے ساتھیوں کی غداری کودیکھتے ہوئے جنگ کرنامناسب نہ سجھتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ ضرورپیش نظرتھاکہ ایسی صورت پیداہوکہ باطل کی تقویت کادھبہ میرے دامن پرنہ آنے پائے، اس گھرانے کوحکومت واقتدارکی ہوس توکبھی تھی ہی نہیں انھیں تومطلب اس سے تھا کہ مخلوق خداکی بہتری ہواورحدودوحقوق الہی کااجراہو،اب معاویہ نے جوآپ سے منہ مانگے شرائط پرصلح کرنے کے لیے آمادگی ظاہرکی تواب مصالحت سے انکارکرنا شخصی اقتدارکی خواہش کے علاوہ اورکچھ نہیں قرارپاسکتاتھا اوریہ معاویہ صلح کی شرائط پرعمل نہ کریں گے ،بعدکی بات تھی جب تک صلح نہ ہوتی یہ انجام سامنے آکہاں سکتاتھا اورحجت تمام کیونکر ہوسکتی تھی پھربھی آخری جواب دینے سے قبل آپ نے ساتھ والوں کوجمع کرلیا اورتقریرفرمائی

آگاہ رہوکہ تم میں وہ خون ریزلڑائیاں ہوچکی ہیں جن میں بہت لوگ قتل ہوئے کچھ مقتول صفین میں ہوئے جن کے لیے آج تک رورہے ہواورکچھ مقتول نہروان کے جن کامعاوضہ طلب کررہے ہو، اب اکرتم موت پرراضی ہوتوہم اس پیغام صلح کوقبول نہ کریں اوران سے اللہ کے بھروسہ پرتلواروں سے فیصلہ کریں اوراگرزندگی کوعزیز رکھتے ہوتوہم اس کوقبول کرلیں اورتمہاری مرضی پرعمل کریں ۔

جواب میں لوگوں نے ہرطرف سے پکارناشروع کیاہم زندگی چاہتے ہیں ہم زندگی چاہتے ہیں آپ صلح کرلیجیے ،اسی کانتیجہ تھاکہ آپ نے صلح کی شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کئے (ترجمہ ابن خلدون)۔

شرائط صلح

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسب ذیل ہیں :

۱ ۔ معاویہ حکومت اسلام میں ،کتاب خدااورسنت رسول پرعمل کریں گے۔ ۲ ۔ معاویہ کواپنے بعدکسی کوخلیفہ نامزد کرنے کاحق نہ ہوگا۔ ۳ ۔ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی۔ ۴ ۔ حضرت علی کے اصحاب اورشیعہ جہاں بھی ہیں ان کے جان ومال اورناموس اوراولاد محفوظ رہیں گے۔ ۵ ۔ معاویہ،حسن بن علی اوران کے بھائی حسین ابن علی اورخاندان رسول میں سے کسی کوبھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں گے نہ خفیہ طورپراورنہ اعلانیہ ،اوران میں سے کسی کوکسی جگہ دھمکایااورڈرایانہیں جائے گا۔ ۶ ۔ جناب امیرالمومنین کی شان میں کلمات نازیباجواب تک مسجدجامع اورقنوت نمازمیں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردئیے جائیں ، آخری شرط کی منظوری میں معاویہ کوعذرہوا تویہ طے پایاکہ کم ازکم جس موقع پرامام حسن علیہ السلام موجودہوں اس جگہ ایسانہ کیاجائے ،یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول ۴۱ ء ہجری کوعمل میں آیا۔

صلح نامہ پردستخط

۲۵/ ربیع الاول کوکوفہ کے قریب مقام انبارمیں فریقین کااجتماع ہوا اورصلح نامہ پردونوں کے دستخط ہوئے اورگواہیاں ثبت ہوئیں (نہایة الارب فی معرفتہ انساب العرب ص ۸۰)

اس کے بعد معاویہ نے اپنے لیے عام بیعت کااعلان کردیااوراس سال کانام سنت الجماعت رکھا پھرامام حسن کوخطبہ دینے پرمجبورکیا آپ منبرپرتشریف لے گئے اورارشاد فرمایا:

”ائے لوگوں خدائے تعالی نے ہم میں سے اول کے ذریعہ سے تمہاری ہدایت کی اورآخرکے ذریعہ سے تمہیں خونریزی سے بچایا معاویہ نے اس امرمیں مجھ سے جھگڑاکیاجس کامیں اس سے زیادہ مستحق ہوں لیکن میں نے لوگوں کی خونریزی کی نسبت اس امرکوترک کردینابہترسمجھا تم رنج وملال نہ کروکہ میں نے حکومت اس کے نااہل کودے دی اوراس کے حق کوجائے ناحق پررکھا، میری نیت اس معاملہ میں صرف امت کی بھلائی ہے یہاں تک فرمانے پائے تھے کہ معاویہ نے کہا”بس ائے حضرت زیادہ فرمانے کی ضرورت نہیں ہے“ (تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲۵) ۔

تکمیل صلح کے بعدامام حسن نے صبرواستقلال اورنفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناخوشگوارحالات کوبرداشت کیا اورمعاہدہ پرسختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہواکہ امیرشام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اورسیاسی اقتدارکے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہوکرنخیلہ میں جسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہئے ،قیام کیا اورجمعہ کے خطبہ کے بعداعلان کیاکہ میرامقصد جنگ سے یہ نہ تھا کہ تم لوگ نمازپڑھنے لگو روزے رکھنے لگو ،حج کرویازکواة اداکرو، یہ سب توتم کرتے ہی ہومیرامقصد تویہ تھاکہ میری حکومت تم پرمسلم ہوجائے اوریہ مقصدمیراحسن کے اس معاہدہ کے بعدپوراہوگیا اورباوجودتم لوگوں کی ناگواری کے میں کامیاب ہوگیا رہ گئے وہ شرائط جومیں نے حسن کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچیہیں ان کاپوراکرنا یانہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے یہ سن کرمجمع میں ایک سناٹاچھاگیا مگراب کس میں دم تھا کہ اس کے خلاف زبان کھولتا۔

شرائط صلح کاحشر

مورخین کااتفاق ہے کہ امیرمعاویہ جومیدان سیاست کے کھلاڑی اورمکروزور کی سلطنت کے تاجدارتھے امام حسن سے وعدہ اورمعاہدہ کے بعد ہی سب سے مکر گئے ”ولم یف لہ معاویة لشئی مماعاہد علیہ“ تاریخ کامل ابن اثیرجلد ۳ ص ۱۶۲ میں ہے کہ معاویہ نے کسی ایک چیزکی بھی پرواہ نہ کی اورکسی پرعمل نہ کیا ، امام ابوالحسن علی بن محمدلکھتے ہیں کہ جب معاویہ کے لیے امرسلطنت استوراہوگیاتواس نے اپنے حاکموں کوجومختلف شہروں اورعلاقوں میں تھے یہ فرمان بھیجاکہ اگرکوئی شخص ابوتراب اوراس کے اہل بیت کی فضیلت کی روایت کرے گاتومیں اس سے بری الذمہ ہوں ، جب یہ خبرتمام ملکوں میں پھیل گئی اورلوگوں کومعاویہ کامنشاء معلوم ہوگیاتوتمام خطیبوں نے منبروں پرسب وشتم اورمنقصت امیرالمومنین پرخطبہ دیناشروع کردیاکوفہ میں زیادابن ابیہ جوکئی برس تک حضرت علی علیہ السلام کے عہدمیں ان کے عمال میں رہ چکاتھا وہ شیعیان علی کواچھی طرح سے جانتاتھا ۔ مردوں ،عورتوں ، جوانوں ، اوربوڑھوں سے اچھی طرح آگاہ تھا اسے ہرایک رہائش اورکونوں اورگوشوں میں بسنے والوں کاپتہ تھا اسے کوفہ اوربصرہ دونوں کاگورنربنادیاگیاتھا۔

اس کے ظلم کی یہ حالت تھی کہ شیعیان علی کوقتل کرتااوربعضوں کی آنکھوں کوپھوڑدیتا اوربعضوں کے ہاتھ پاؤں کٹوادیتاتھا اس ظلم عظیم سے سینکڑوں تباہ ہوگئے، ہزاروں جنگلوں اورپہاڑوں میں جاچھپے، بصرہ میں آٹھ ہزارآدمیوں کاقتل واقع ہواجن میں بیالیس حافظ اورقاری قرآن تھے ان پرمحبت علی کاجرم عاید کیاگیا تھا حکم یہ تھا کہ علی کے بجائے عثمان کے فضائل بیان کئے جائیں اورعلی کے فضائل کے متعلق یہ فرمات تھاکہ ایک ایک فضیلت کے عوض دس دس منقصت ومذمت تصنیف کی جائیں یہ سب کچھ امیرالمومنین سے بدلالینے اوریزیدکے لیے زمین خلافت ہموارکرنے کی خاطرتھا۔

کوفہ سے امام حسن کی مدینہ کوروانگی

صلح کے مراحل طے ہونے کے بعد امام حسن علیہ السلام اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام اورعبداللہ ابن جعفراوراپنے اطفال وعیال کولے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے تاریخ اسلام مسٹرذاکرحسین کی جلد ۱ ص ۳۴ میں ہے کہ جب آپ کوفہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تومعاویہ نے راستہ میں ایک پیغام بھیجااوروہ یہ تھا کہ آپ خوارج سے جنگ کرنے کے لیے تیارہوجائیں کیونکہ انہوں نے میری بیعت ہوتے ہی پھرسرنکالاہے امام حسن نے جواب دیا کہ اگر خونریزی مقصودہوتی تومیں تجھ سے صلح کیوں کرتا۔

جسٹس امیرعلی اپنی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں کہ خوارج حضرت ابوبکراورحضرت عمرکومانتے اورحضرت علی علیہ السلام اورعثمان غنی کونہیں تسلیم کرتے تھے اوربنی امیہ کومرتد کہتے تھے۔

صلح حسن اوراس کے وجوہ واسباب

استاذی العلام حضرت علامہ سیدعدیل اختراعلی اللہ مقامہ (سابق پرنسپل مدرسة الواعظین لکھنؤ) اپنی کتاب تسکین الفتن فی صلح الحسن کے ص ۱۵۸ میں تحریر فرماتے ہیں :

امام حسن کی پالیسی بلکہ جیساکہ باربارلکھاجاچکاہے کل اہلبیت کی پالیسی ایک اورصرف ایک تھی (دراسات اللبیب ص ۲۴۹) ۔وہ یہ کہ حکم خدااورحکم رسول کی پابندی انہیں کے احکام کااجراء چاہئے ،اس مطلب کے لیے جوبرداشت کرناپڑے ،مذکورہ بالاحالات میں امام حسن کے لیے سوائے صلح کیاچارہ ہوسکتاتھا اس کوخودصاحبان عقل سمجھ سکتے ہیں کسی استدلال کی چنداں ضرورت نہیں ہے یہاں پرعلامہ ابن اثیرکی یہ عبارت (جس کاترجمہ درج کیاجاتاہے) قابل غورہے:

”کہاگیاہے کہ امام حسن نے حکومت معاویہ کواس لیے سپردکی کہ جب معاویہ نے خلافت حوالے کرنے کے متعلق آپ کوخط لکھااس وقت آپنے خطبہ پڑھا اورخداکی حمدوثناکے بعدفرمایاکہ دیکھوہم کوشام والوں سے اس لیے نہیں دبناپڑرہاہے (کہ اپنی حقیقت میں ) ہم کوکوئی شک یاندامت ہے بات توفقط یہ ہے کہ ہم اہل شام سے سلامت اورصبرکے ساتھ لڑرہے تھے مگراب سلامت میں عداوت اورصبرمیں فریاد مخلوط کردی گئی ہے جب تم لوگ صفین کوجارہے تھے اس وقت تمہارادین تمہاری دنیاپرمقدم تھا لیکن اب تم ایسے ہوگئے ہوکہ آج تمہاری دنیاتمہارے دین پرمقدم ہوگئی ہے اس وقت تمہارے دونوں طرف دوقسم کے مقتول ہیں ایک صفین کے مقتول جن پررورہے ہودوسرے نہروان کے مقتول جن کے خون کابدلہ لیناچاہ رہے ہوخلاصہ یہ کہ جوباقی ہے وہ ساتھ چھوڑنے والاہے اورجورورہاہے وہ توبدلہ لیناہی چاہتاہے خوب سمجھ لوکہ معاویہ نے ہم کوجس امرکی دعوت دی ہے نہ اس میں عزت ہے اورنہ انصاف ، لہذا اگرتم لوگ موت پرآمادہ ہوتوہم اس کی دعوت کوردکردیں اورہمارااوراس کافیصلہ خداکے نزدیک بھی تلوارکی باڑھ سے ہوجائے اوراگرتم زندگی چاہتے ہوتوجواس نے لکھاہے مان لیاجائے اورجوتمہاری مرضی ہے ویساہوجائے، یہ سنناتھا کہ ہرطرف سے لوگوں نے چلاناشروع کردیابقابقا، صلح صلح، (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۲) ۔

ناظرین انصاف فرمائیں کہ کیااب بھی امام حسن کے لیے یہ رائے ہے کہ صلح نہ کریں ان فوجیوں کے بل بوتے پر(اگرایسوں کہ فوج اوران کی قوتوں کوبل بوتا کہاجاسکے) لڑائی زیباہے ہرگزنہیں ایسے حالات میں صرف یہی چارہ تھاکہ صلح کرکے اپنی اوران تمام لوگوں کی زندگی تومحفوظ رکھیں جودین رسول کے نام لیوا اورحقیقی پیروپابندتھے ،اس کے علاوہ پیغمبراسلام کی پیشین گوئی بھی صلح کی راہ میں مشعل کاکام کررہی تھی (بخاری) علامہ محمدباقرلکھتے ہیں کہ حضرت کواگرچہ کی وفائے صلح پراعتماد نہیں تھالیکن آپ نے حالات کے پیش نظرچاروناچاردعوت صلح منظورکرلی (دمعئہ ساکبہ)۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت

مورخین کااتفاق ہے کہ امام حسن اگرچہ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نیشین ہوگئے تھے ،لیکن امیرمعاویہ آپ کے درپئے آزاررہے انہوں نے باربار کوشش کی کسی طرح امام حسن اس دارفانی سے ملک جاودانی کوروانہ ہوجائیں اوراس سے ان کامقصدیزیدکی خلافت کے لیے زمین ہموارکرناتھی ،چنانچہ انہوں نے ۵/ بارآپ کوزہردلوایا ،لیکن ایام حیات باقی تھے زندگی ختم نہ ہوسکی ،بالاخرہ شاہ روم سے ایک زبردست قسم کازہرمنگواکرمحمدابن اشعث یامروان کے ذریعہ سے جعدہ بنت اشعث کے پاس امیرمعاویہ نے بھیجا اورکہلادیاکہ جب امام حسن شہدہوجائیں گے تب ہم تجھے ایک لاکھ درہم دیں گے اورتیراعقد اپنے بیٹے یزید کے ساتھ کردیں گے چنانچہ اس نے امام حسن کوزہردے کرے ہلاک کردیا،(تاریخ مروج الذہب مسعودی جلد ۲ ص ۳۰۳ ،مقاتل الطالبین ص ۵۱ ، ابوالفداء ج ۱ ص ۱۸۳ ،روضةالصفاج ۳ ص ۷ ، حبیب السیرجلد ۲ ص ۱۸ ،طبری ص ۶۰۴ ،استیعاب جلد ۱ ص ۱۴۴) ۔

مفسرقرآن صاحب تفسیرحسینی علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطرازہیں کہ امام حسن مصالحہ معاویہ کے بعدمدینہ میں مستقل طورپرفروکش ہوگئے تھے آپ کواطلاع ملی کہ بصرہ میں رہنے والے محبان علی کے اوپرچنداوباشوں نے شبخون مارکران کے ۳۸ آدمی ہلاک کردئیے ہیں امام حسن اس خبرسے متاثرہوکربصرہ کے لیے روانہ ہوگئے آپ کے ہمراہ عبداللہ ابن عباس بھی تھے ،راستے میں بمقام موصلی سعدموصلی جوجناب مختارابن ابی عبیدہ ثقفی کے چچاتھے کے وہاں قیام فرمایا اس کے بعدوہاں سے روانہ ہوکردمشق سے واپسی پرجب آپ موصل پہنچے توباصرارشدیدایک دوسرے شخص کے ہاں مقیم ہوئے اوروہ شخص معاویہ کے فریب میں آچکاتھا اورمال ودولت کی وجہ سے امام حسن کوزہردینے کاوعدہ کرچکاتھا چنانچہ دوران قیام میں اس نے تین بارحضرت کوکھانے میں زہردیا، لیکن آپ بچ گئے ۔

امام کے محفوظ رہ جانے سے اس شخص نے معاویہ کوخط لکھا کہ تین بارزہردیے چکاہوں مگر امام حسن ہلاک نہیں ہوئے یہ معلوم کرکے معاویہ نے زہرہلاہل ارسال کیا اورلکھاکہ اگراس کاایک قطرہ بھی تودے سکاتویقینا امام حسن ہلاک ہوجائیں گے نامہ برزہراورخط لیے ہوئے آرہاتھا کہ راستے میں ایک درخت کے نیچے کھاناکھاکرلیٹ گیا ،اس کے پیٹ میں درداٹھا کہ وہ برداشت نہ کرسکاناگاہ ایک بھیڑیابرامد ہوا اوراسے لے کر رفوچکرہوگیا ،اتفاقا امام حسن کے ایک ماننے والے کااس طرف سے گزرہوا،اس نے ناقہ، اورزہر سے بھرہوئی بوتل حاصل کرلی اورامام حسن کی خدمت میں پیش کیا،امام علیہ السلام نے اسے ملاحظہ فرماکرجانمازکے نیچے رکھ لیاحاضرین نے واقعہ دریافت کیاامام نے نہ بتایا۔

سعدموصلی نے موقع پاکرجانمازکے نیچے سے وہ خط نکال لیاجومعاویہ کی طرف سے امام کے میزبان کے نام سے بھیجاگیاتھا خط پڑھ کر سعدموصلی آگ بگولہ ہوگئے اورمیزبان سے پوچھاکیامعاملہ ہے، اس نے لاعلمی ظاہرکی مگراس کے عذرکوباورنہ کیاگیا اوراس کی زدوکوب کی گئی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا اس کے بعدآپ روانہ مدینہ ہوگئے۔

مدینہ میں اس وقت مروان بن حکم والی تھا اسے معاویہ کاحکم تھاکہ جس صورت سے ہوسکے امام حسن کوہلاک کردو مروان نے ایک رومی دلالہ جس کانام ”الیسونیہ“ تھا کوطلب کیااوراس سے کہا کہ توجعدہ بنت اشعث کے پاس جاکراسے میرایہ پیغام پہنچادے کہ اگرتوامام حسن کوکسی صورت سے شہید کردے گی توتجھے معاویہ ایک ہزاردینارسرخ اورپچاس خلعت مصری عطاکرے گا اوراپنے بیٹے یزیدکے ساتھ تیراعقدکردے گا اوراس کے ساتھ ساتھ سودینانقد بھیج دئیے دلالہ نے وعدہ کیااورجعدہ کے پاس جاکراس سے وعدہ لے لیا،امام حسن اس وقت گھرمیں نہ تھے اوربمقام عقیق گئے ہوئے تھے اس لیے دلالہ کوبات چیت کااچھاخاصاموقع مل گیا اوروہ جعدہ کوراضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔

الغرض مروان نے زہربھیجااورجعدہ نے امام حسن کوشہدمیں ملاکر دیدیا امام علیہ السلام نے اسے کھاتے ہی بیمارہوگیے اورفوراروضہ رسول پرجاکر صحت یاب ہوئے زہرتوآپ نے کھالیا لیکن جعدہ سے بدگمان بھی ہوگئے ،آپ کوشبہ ہوگیا جس کی بناپرآپ نے اس کے ہاتھ کاکھاناپیناچھوڑدیااوریہ معمول مقررکرلیاکہ حضرت قاسم کی ماں یاحضرت امام حسین کے گھرسے کھانامنگاکرکھانے لگے ۔

تھوڑے عرصہ کے بعد آپ جعدہ کے گھرتشر یف لے گئے اس نے کہاکہ مولا حوالی مدینہ سے بہت عمدہ خرمے آئے ہیں حکم ہوتوحاضرکروں آپ چونکہ خرمے کوبہت پسندکرتے تھے فرمایالے آ،وہ زہرآلودخرمے لے کرآئی اورپہچانے ہوئے دانے چھوڑکرخودساتھ کھانے لگی امام نے ایک طرف سے کھانا شروع کیا اوروہ دانے کھاگئے جن میں زہرتھا اس کے بعدامام حسین کے گھرتشریف لائے اورساری رات تڑپ کربسرکی ،صبح کوروضة رسول پرجاکردعامانگی اورصحتیاب ہوئے_

امام حسن نے بارباراس قسم کی تکلیف اٹھانے کے بعداپنے بھائیوں سے تبدیلی آب وہواکے لیے موصل جانے کامشورہ کیااورموصل کے لیے روانہ ہوگئے ،آپ کے ہمراہ حضرت عباس اورچند ہواخواہان بھی گئے، ابھی وہاں چندیوم نہ گزرے تھے کہ شام سے ایک نابینا بھیج دیاگیا اوراسے ایک ایسا عصادیاگیاجس کے نیچے لوہالگایاہواتھا جوزہرمیں بجھاہواتھا اس نابینا نے موصل پہنچ کر امام حسن کے دوستداران میں سے اپنے کوظاہرکیا اورموقع پاکر ان کے پیرمیں اپنے عصاکی نوک چبھودی زہرجسم میں دوڑگیااورآپ علیل ہوگئے ،جراح علاج کے لیے بلایاگیا،اس نے علاج شروع کیا، نابینا زخم لگاکر روپوش ہوگیاتھا ،چودہ دن کے بعدجب پندرہویں دن وہ نکل کرشام کی طرف روانہ ہواتوحضرت عباس علمدارکی اس پرنظرجاپڑی آپ نے اس سے عصاچھین کراس کے سرپراس زورسے ماراکہ سرشگافتہ ہوگیااوروہ اپنے کیفروکردارکوپہنچ گیا ۔

اس کے بعدجناب مختاراوران کے چچا سعدموصلی نے اس کی لاش جلادی چنددنوں کے بعدحضرت امام حسن مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔

مدینہ منورمیں آپ ایام حیات گزاررہے تھے کہ ”ایسونیہ“ دلالہ نے پھرباشارئہ مروان جعدہ سے سلسلہ جنبائی شروع کردی اورزہرہلاہل اسے دے کرامام حسن کاکام تمام کرنے کی خواہش کی،امام حسن چونکہ اس سے بدگمان ہوچکے تھے اس لیے اس کی آمدورفت بندتھی اس نے ہرچندکوشش کی لیکن موقع نہ پاسکی بالآخر،شب بست وہشتم صفر ۵۰ کووہ اس جگہ جاپہنچی جس مقام پرامام حسن سورہے تھے آپ کے قریب حضرت زینب وام کلثوم سورہی تھیں اورآپ کی پائیتی کنیزیں محوخواب تھیں ،جعدہ اس پانی میں زہرہلاہل ملاکرخاموشی سے واپس آئی جوامام حسن کے سرہانے رکھاہواتھا اس کی واپسی کے تھوڑی دیربعدہی امام حسن کی آنکھ کھلی آپ نے جناب زینب کوآوازدی اورکہا ائے بہن ،میں نے ابھی ابھی اپنے نانااپنے پدربزرگواراوراپنی مادرگرامی کوخواب میں دیکھاہے وہ فرماتے تھے کہ اے حسن تم کل رات ہمارے پاس ہوگے، اس کے بعدآپ نے وضوکے لیے پانی مانگااورخوداپناہاتھ بڑھاکرسرہانے سے پانی لیا اورپی کرفرمایاکہ اے بہن زینب ”این چہ آپ بودکہ ازسرحلقم تابناقم پارہ پارہ شد“ ہائے یہ کیساپانی ہے جس نے میرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے اس کے بعدامام حسین کواطلاع دی گئی وہ آئے دونوں بھائی بغل گیرہوکرمحوگریہ ہوگئے ،اس کے بعدامام حسین نے چاہاکہ ایک کوزہ پانی خودپی کرامام حسن کے ساتھ ناناکے پاس پہنچیں ،امام حسن نے پانی کے برتن کوزمین پرپٹک دیاوہ چورچورہوگیاراوی کابیان ہے کہ جس زمین پرپانی گراتھا وہ ابلنے لگی تھی ۔

الغرض تھوڑی دیرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے سترٹکڑے طشت میں آگئے آپ زمین پرتڑپنے لگے، جب دن چڑھاتوآپ نے امام حسین سے پوچھاکہ میرے چہرے کارنگ کیساہے ”سبز“ ہے آپ نے فرمایاکہ حدیث معراج کایہی مقتضی ہے ،لوگوں نے پوچھاکہ مولاحدیث معراج کیاہے فرمایاکہ شب معراج میرے نانا نے آسمان پردوقصرایک زمردکا،ایک یاقوت سرخ کادیکھاتوپوچھاکہ ائے جبرئیل یہ دونوں قصرکس کے لیے ہیں ، انہوں نے عرض کی ایک حسن کے لیے اوردوسرا حسین کے لیے پوچھادونوں کے رنگ میں فرق کیوں ہے؟ کہاحسن زہرسے شہیدہوں گے اورحسین تلوارسے شہادت پائیں گے یہ کہہ کرآپ سے لپٹ گئے اوردونوں بھائی رونے لگے اورآپ کے ساتھ درودیواربھی رونے لگے۔

اس کے بعدآپ نے جعدہ سے کہاافسوس تونے بڑی بے وفائی کی ،لیکن یادرکھ کہ تونے جس مقصد کے لیے ایساکیاہے اس میں کامیاب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسین اوربہنوں سے کچھ وصیتیں کیں اورآنکھیں بندفرمالیں پھرتھوڑی دیرکے بعدآنکھ کھول کرفرمایاائے حسین میرے بال بچے تمہارے سپرد ہیں پھربندفرماکرناناکی خدمیں پہنچ گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ۔

امام حسن کی شہادت کے فورا بعدمروان نے جعدہ کواپنے پاس بلاکردوعورتوں اورایک مرد کے ساتھ معاویہ کے پاس بھیج دیامعاویہ نے اسے ہاتھ پاؤں بندھواکردریائے نیل میں یہ کہہ کرڈلوادیاکہ تونے جب امام حسن کے ساتھ وفا نہ کی، تویزیدکے ساتھ کیاوفاکرے گی(روضة الشہداء ص ۲۲۰ تا ۲۳۵ طبع بمبئی ۱۲۸۵ ءء وذکرالعباس ص ۵۰ طبع لاہور ۱۹۵۶ ءء۔

امام حسن کی تجہیزوتکفین

الغرض امام حسن کی شہادت کے بعدامام حسین نے غسل وکفن کاانتظام فرمایااورنمازجنازہ پڑھی گئی امام حسن کی وصیت کے مطابق انہیں سرورکائنات کے پہلومیں دفن کرنے کے لیے اپنے کندھوں پراٹھاکر لے چلے ابھی پہنچے ہی تھے کہ بنی امیہ خصوصامروان وغیرہ نے آگے بڑھ کر پہلوئے رسول میں دفن ہونے سے روکااورحضرت عایشہ بھی ایک خچرپرسوارہوکر آپہنچیں ،اورکہنے لگیں یہ گھیرمیراہے میں توہرگزحسن کواپنے گھرمیں دفن نہ ہونے دوں گی (تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۸۳ ،روضة المناظرجلد ۱۱ ص ۱۳۳ ،یہ سن کربعض لوگوں نے کہااے عائشہ تمہاراکیاحال ہے کبھی اونٹ پرسوارہوکردامادرسول سے جنگ کرتی ہو کبھی خچرپرسوارہوکر فرزندرسول کے دفن میں مزاحمت کرتی ہوتمہیں ایسانہیں کرناچاہئے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوذکرالعباس ص ۵۱) ۔

مگروہ ایک نہ مانیں اورضدپراڑی رہیں ،یہاں تک کہ بات بڑھ گئی ،آپ کے ہواخواہوں نے آل محمدپرتیربرسائے ۔

کتاب روضة الصفا جلد ۳ ص ۷ میں ہے کہ کئی تیرتابوت میں پیوست ہوگئے ۔

کتاب ذکرالعباس ص ۵۱ میں ہے کہ تابوت میں سترتیرپیوست ہوئے تھے۔

(تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۲۸ میں ہے کہ ناچارنعش مبارک کوجنت البقیع میں لاکردفن کردیاگیا۔ تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۸۲ میں ہے کہ شہادت کے وقت آپ کی عمر ۴۷ سال کی تھی۔

آپ کی ازواج اوراولاد

آپ نے مختلف اوقات میں ۹ بیویاں کیں ، آپ کی اولادمیں ۸ بیٹے اور ۷ بیٹیاں تھیں ،یہی تعدادارشادمفید ص ۲۰۸ ،نورالابصارص ۱۱۲ طبع مصرمیں ہے ۔

علامہ طلحہ شافعی مطالب السؤل کے ص ۲۳۹ پرلکھتے ہیں کہ امام حسن کی نسل زیداورحسن مثنی سے چلی ہے امام شبلنجی کاکہناہے کہ آپ کے تین فرزند، عبداللہ ،قاسم، اورعمرو ،کربلامیں شہیدہوئے ہیں (نورالابصارص ۱۱۲) ۔

جناب زیدبڑے جلیل القدراورصدقات رسول کے متولی تھے انہوں نے ۱۲۰ ہء میں بعمر ۹۰ سال انتقال فرمایاہے ۔

جناب حسن مثنی نہایت جلیل القدر فاضل متقی اورصدقات امیرالمومنین کے متولی تھے آپ کی شادی امام حسین کی بیٹی جناب فاطمہ سے ہوئی تھی آپ نے کربلاکی جنگ میں شرکت کی تھی اوربے انتہازخمی ہوکر مقتلوں میں دب گئے تھے جب سرکاٹے جارہے تھے تب ان کے ماموں ابواحسان نے آپ کوزندہ پاکرعمرسعدسے لے لیاتھا آپ کوخلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے ۹۷ ہء میں زہردیدیاتھا جس کی وجہ سے آپ نے ۵۲ سال کی عمرمیں انتقال فرمایاآپ کی شہادت کے بعد آپ کی بیوی جناب فاطمہ ایک سال تک قبرپرخیمہ زن رہیں (ارشادمفید ص ۲۱۱ ونورالابصار ص ۲۶۹) ۔


حضرت امام حسین علیہ السلام

آپ کی ولادت

حضرت امام حسن علیہ لسلام کی ولات کے بعدپچاس راتیں گزریں تھیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کانطفہ وجودبطن مادرمیں مستقرہواتھا حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ ولادت حسن اوراستقرارحمل حسین میں ایک طہرکافاصلہ تھا(اصابہ نزول الابرار واقدی)۔

ابھی آپ کی ولادت نہ ہونے پائی تھی کہ بروایتی ام الفضل بنت حارث نے خواب میں دیکھاکہ رسول کریم کے جسم کاایک ٹکڑا کاپ کرمیری آغوش میں رکھاگیاہے اس خواب سے وہ بہت گھبرائیں اوردوڑی ہوئی رسول کریم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پردازہوئیں کہ حضورآج ایک بہت براخواب دیکھاہے ،حضرت نے خواب سن کرمسکراتے ہوئے فرمایاکہ یہ خواب تونہایت ہی عمدہ ہے اے ام الفضل کی تعبیریہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جو تمہاری آغوش میں پرورش آئے گا ۔

آپ کے ارشاد فرمانے کوتھوڑی ہی عرصہ گزراتھاکہ خصوصی مدت حمل صرف چھ ماہ گزرکرنورنظررسول امام حسین بتاریخ ۳/ شعبان ۴ ء ہجری بمقام مدینہ منورہ بطن مادرسے آغوش مادرمیں آگئے۔ (شواہدالنبوت ص ۱۳ ،انوارحسینہ جلد ۳ ص ۴۳ بحوالہ صافی ص ۲۹۸ ،جامع عباسی ص ۵۹ ، بحارالانوارومصاح طوسی ابن نما ص ۲ وغیرہ)۔

ام الفضل کابیان ہے کہ میں حسب الحکم ان کی خدمت کرتی رہی ،ایک دن میں بچہ کولے کر آنحضرت کی خدمت میں حاضرہوئی آپ نے آغوش محبت میں لے کرپیارکیااورآپ رونے لگے میں نے سبب دریافت کیا توفرمایاکہ ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے وہ بتلاگئے ہیں کہ یہ بچہ امت کے ہاتھوں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہیدہوگا،اوراے ام الفضل وہ مجھے اس کی قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دے گئے ہیں (مشکواة جلد ۸ ص ۱۴۰ طبع لاہور)۔

اورمسنداامام رضا ص ۳۸ میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایادیکھویہ واقعہ فاطمہ سے کوئی نہ بتلائے ورنہ وہ سخت پریشان ہوں گی ،ملاجامی لکھتے ہیں کہ ام سلمہ نے بیان کیاکہ ایک دن رسول خدامیرے گھراس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے سرمبارک کے بال بکھرے ہوئے تھے ، اورچہرہ پرگردپڑی ہوئی تھی ،میں نے اس پریشانی کودیکھ کرپوچھا کیابات ہے فرمایامجھے ابھی ابھی جبرئیل عراق کے مقام کربلامیں لے گئے تھے وہاں میں نے جائے قتل حسین دیکھی ہے اوریہ مٹی لایاہوں ائے ام سلمہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھو جب یہ خون ہوجائے توسمجھنا کہ میرا حسین شہیدہوگیا ۔الخ(شواہدالنبوت ص ۱۷۴) ۔

آپ کااسم گرامی

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعدسرورکائنات صلعم نے امام حسین کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایااوراپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا،اس کے بعدداہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے خیرفرماکر حسین نام رکھا (نورالابصار ص ۱۱۳) ۔

علماء کابیان ہے کہ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کابھی نہیں تھا ،وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نام خودخداوندعالم کارکھاہواہے (ارجح المطالب وروضة الشہداء ص ۲۳۶) ۔

کتاب اعلام الوری طبرسی میں ہے کہ یہ نام بھی دیگرآئمہ کے ناموں کی طرح لوح محفوظ میں لکھاہواہے۔

آپ کاعقیہ

امام حسین کانام رکھنے کے بعد سرورکائنات نے حضرت فاطمہ سے فرمایاکہ بیٹی جس طرح حسن کاعقیقہ کیاگیاہے اسی طرح اسی کے عقیقہ کابھی انتظام کرو،اوراسی طرح بالوں کے ہم وزن چاندی تصدق کرو، جس طرح اس کے بھائی حسن کے لیے کرچکی ہو ،الغرض ایک مینڈھا منگوایاگیا،اوررسم عقیقہ اداکردی گئی (مطالب السؤل ص ۲۴۱) ۔

بعض معاصرین نے عقیقہ کے ساتھ ختنہ کاذکرکیاہے جومیرے نزدیک قطعا ناقابل قبول ہے کیونکہ امام کامختون پیداہونا مسلمات سے ہے۔

کنیت والقاب

آپ کی کنیت صرف ابوعبداللہ تھی ،البتہ القاب آپ کے بے شمارہیں جن میں سیدوصبط اصغر، شہیداکبر، اورسیدالشہداء زیادہ مشہورہیں ۔ علامہ محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ سبط اورسیدخودرسول کریم کے معین کردہ القاب ہیں (مطالب السؤل ص ۳۱۲) ۔

آپ کی رضاعت

اصول کافی باب مولدالحسین ص ۱۱۴ میں ہے کہ امام حسین نے پیداہونے کے بعدنہ حضرت فاطمہ زہراکاشیرمبارک نوش کیااورنہ کسی اوردائی کادودھ پیا، ہوتایہ تھا کہ جب آپ بھوکے ہوتے تھے توسرورکائنات تشریف لاکرزبان مبارک دہن اقدس میں دے دیتے تھے اورامام حسین اسے چوسنے لگتے تھے ،یہاں تک کہ سیر وسیرآب ہوجاتے تھے ،معلوم ہوناچاہئے کہ اسی سے امام حسین کاگوشت پوست بنااورلعاب دہن رسالت سے حسین پرورش پاکر کاررسالت انجام دینے کی صلاحیت کے مالک بنے یہی وجہ ہے کہ آپ رسول کریم سے بہت مشابہ تھے (نورالابصار ص ۱۱۳) ۔

خداوندعالم کی طرف سے ولادت امام حسین کی تہنیت اورتعزیت

علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطرازہیں کہ امام حسین کی ولادت کے بعدخلاق عالم نے جبرئیل کوحکم دیاکہ زمین پرجاکرمیرے حبیب محمدمصطفی کومیری طرف سے حسین کی ولادت پرمبارک بادد یدو اورساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی مطلع کرکے تعزیت اداکردو،جناب جبرئیل بحکم رب جلیل زمین پرواردہوئے اورانہوں نے آنحضرت کی خدمت میں شہادت حسینی کی تعزیت بھی منجانب اللہ اداکی جاتی ہے ،یہ سن کرسرورکائنات کاماتھا ٹھنکا اورآپ نے پوچھا ،جبرئیل ماجراکیاہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل نے عرض کی کہ مولاایک وہ دن ہوگا جس دن آپ کے چہیتے فرزند”حسین“ کے گلوئے مبارک پرخنجرآبداررکھاجائے گا اورآپ کایہ نورنظربے یارومددگارمیدان کربلامیں یکہ وتنہاتین دن کابھوکاپیاسا شہیدہوگا یہ سن کرسرورعالم محوگریہ ہوگئے آپ کے رونے کی خبرجونہی امیرالمومنین کوپہنچی وہ بھی رونے لگے اورعالم گریہ میں داخل خانہ سیدہ ہوگئے ۔

جناب سیدہ نے جوحضرت علی کوروتادیکھا دل بے چین ہوگیا،عرض کی ابوالحسن رونے کاسبب کیاہے فرمایابنت رسول ابھی جبرئیل آئے ہیں اوروہ حسین کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبردے گئے ہیں حالات سے باخبرہونے کے بعد فاطمہ کے گریہ گلوگیرہوگیا،آپ نے حضرت کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی باباجان یہ کب ہوگا،فرمایاجب میں نہ ہوں گانہ توہوگی نہ علی ہوں گے نہ حسن ہوں گے فاطمہ نے پوچھابابامیرابچہ کس خطاپرشہید ہوگافرمایافاطمہ بالکل بے جرم وخطاصرف اسلام کی حمایت میں شہادت ہوگی، فاطمہ نے عرض کی باباجان جب ہم میں سے کوئی نہ ہوگا توپھراس پر گریہ کون کرے گااوراس کی صف ماتم کون بچھائے گا،راوی کابیان ہے کہ اس سوال کاحضرت رسول کریم ابھی جواب نہ دینے پائے تھے کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی، اے فاطمہ غم نہ کروتمہارے اس فرزندکاغم ابدالآباد تک منایاجائے گا اوراس کاماتم قیامت تک جاری رہے گا ایک روایت میں ہے کہ رسول خدانے فاطمہ کے جواب میں یہ فرمایاتھا کہ خداکچھ لوگوں کوہمیشہ پیداکرتارہے گا جس کے بوڑھے بوڑھوں پراورجوان جوانوں پراوربچے بچوں پراورعورتیں عورتوں پر گریہ وزاری کرتے رہیں گے۔

فطرس کاواقعہ

علامہ مذکوربحوالہ حضرت شیخ مفید علیہ الرحمہ رقمطرازہیں کہ اسی تہنیت کے سلسلہ میں جناب جبرئیل بے شمارفرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف آرہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظرزمین کے ایک غیرمعروف طبقہ پرپڑی دیکھاکہ ایک فرشتہ زمین پرپڑاہوازاروقطاررورہاہے آپ اس کے قریب گئے اورآپ نے اس سے ماجرا پوچھااس نے کہااے جبرئیل میں وہی فرشتہ ہوں جوپہلے آسمان پرسترہزارفرشتوں کی قیادت کرتاتھا میرانام فطرس ہے جبرئیل نے پوچھا تجھے کس جرم کی یہ سزاملی ہے اس نے عرض کی ،مرضی معبودکے سمجھنے میں ایک پل کی دیرکی تھی جس کی یہ سزابھگت رہاہوں بال وپرجل گئے ہیں یہاں کنج تنہائی میں پڑاہوں ۔

ائے جبرئیل خدارامیری کچھ مددکروابھی جبرئیل جواب نہ دینے پائے تھے کہ اس نے سوال کیاائے روح الامین آپ کہاں جارہے ہیں انہوں نے فرمایاکہ نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفی صلعم کے یہاں ایک فرزندپیداہواہے جس کانام حسین ہے میں خداکی طرف سے اس کی ادائے تہنیت کے لیے جارہاہوں ، فطرس نے عرض کی اے جبرئیل خداکے لیے مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلو مجھے اسی درسے شفااورنجات مل سکتی ہے جبرئیل اسے ساتھ لے کر حضورکی خدمت میں اس وقت پہنچے جب کہ امام حسین آغوش رسول میں جلوہ فرماتھے جبرئیل نے عرض حال کیا،سرورکائنات نے فرمایاکہ فطرس کے جسم کوحسین کے بدن سے مس کردو ،شفاہوجائے گی جبرئیل نے ایساہی کیا اورفطرس کے بال وپراسی طرح روئیدہ ہوگیے جس طرح پہلے تھے ۔

وہ صحت پانے کے بعد فخرومباہات کرتاہوااپنی منزل”اصلی“ آسمان سوم پرجاپہنچا اورمثل سابق سترہزارفرشتوں کی قیادت کرنے لگا ،بعدازشہادت حسین چوں برآں قضیہ مطلع شد“ یہاں تک کہ وہ زمانہ آیاجس میں امام حسین نے شہادت پائی اوراسے حالات سے آگاہی ہوئی تواس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی مالک مجھے اجازت دی جائے کہ مین زمین پرجاکردشمنان حسین سے جنگ کروں ارشادہواکہ جنگ کی ضرورت نہیں البتہ توسترہزارفرشتے لے کر زمین پر جا اوران کی قبرمبارک پرصبح وشام گریہ ماتم کیاکراوراس کاجوثواب ہواسے ان کے رونے والوں کے لیے ہبہ کردے چنانچہ فطرس زمین کربلاپرجاپہنچا اورتا قیام قیامت شب وروزروتارہے گا(روضة الشہداازص ۲۳۶ تاص ۲۳۸ طبع بمبئی ۱۳۸۵ ئھ وغنیة الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی)۔

امام حسین سینہ رسول پر

صحابی رسول ابوہریرہ راوی حدیث کابیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھاہے کہ رسول کریم لیٹے ہوئے اورامام حسین نہایت کمسنی کے عالم میں ان کے سینہ مبارک پرہیں ،ان کے دونوں ہاتھوں کوپکڑے ہوئے فرماتے ہیں اے حسین تومیرے سینے پرکودچنانچہ امام حسین آپ کے سینہ مبارک پر کودنے لگے اس کے بعدحضورصلعم نے امام حسین کامنہ چوم کرخداکی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے میں اسے بے حدچاہتاہوں توبھی اسے محبوب رکھ ،ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت امام حسین کالعاب دہن اوران کی زبان اس طرح چوستے تھے جس طرح کجھورکوئی چوسے (ارجح المطالب ص ۳۵۹ وص ۳۶۱ ، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۴ ،اصابہ جلد ۲ ص ۱۱ ،کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۴ ،کنوزالحقائق ص ۵۹) ۔

جنت کے کپڑے اورفرزندان رسول کی عید

امام حسن اورامام حسین کابچپناہے عیدآنے والی ہیاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کاکیاذکرپرانے کپڑے بلکہ نان جویں تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عیدکے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عیدمنائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤنہیں ،تمہارے کپڑے درزی لائے گا عیدکی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کاتقاضاکیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا،دروازہ کھٹکھٹایافضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدئہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیااب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں ،دوعبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کادل باغ باغ ہوگیاوہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہابچوں کوجگایاکپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہامادرگرامی یہ توسفیدکپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انورکواطلاع ملی ،تشریف لائے، فرمایاگھبراؤنہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل آفتابہ لیے ہوئے آپہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمدمصطفی کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن نے پہناسرخ جوڑاحسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگالیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے نونہالو،رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو(روضة الشہداء ص ۱۸۹ بحارالانوار) ۔

بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات بچوں کوپشت پربٹھاکردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے (کشف المحجوب)۔

امام حسین ک ا سردارجنت ہونا

پیغبراسلام کی یہ حدیث مسلمات اورمتواترات سے ہے کہ ”الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة وابوہماخیرمنہما“ حسن اورحسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدربزرگواران دنوں سے بہترہیں (ابن ماجہ)صحابی رسول جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے ایک دن سرورکائنات صلعم کوبے انتہا مسرور دیکھ کرپوچھاحضور،افراط مسرت کی کیاوجہ ہے فرمایااے حذیفہ آج ایک ایساملک نازل ہواہے جومیرے پاس اس سے قبل کبھی نہیں ایاتھا اس نے مجھے میرے بچوں کی سرداری جنت پرمبارک دی ہے اورکہاہے کہ”ان فاطمة سیدة نساء اہل الجنة وان الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة“ فاطمة جنت کی عورتوں کی سردارہیں اورحسنین جنت کے مردوں کے سردارہیں (کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۷ ، تاریخ الخلفاص ۱۲۳ ،اسدالغابہ ص ۱۲ ،اصابہ جلد ۲ ص ۱۲ ،ترمذی شریف ،مطالب السول ص ۲۴۲ ،صواعق محرقہ ص ۱۱۴) ۔

اس حدیث سے سیادت علویہ کامسئلہ بھی حل ہوگیا قطع نظراس سے کہ حضرت علی میں مثل نبی سیادت کاذاتی شرف موجوتھا اورخودسرورکائنات نے باربارآپ کی سیادت کی تصدیق سیدالعرب ،سیدالمتقین ،سیدالمومنین وغیرہ جیسے الفاظ سے فرمائی ہے حضرت علی کاسرداران جنت امام حسن اورامام حسین سے بہترہونا واضح کرتاہے کہ آپ کی سیادت مسلم ہی نہیں بلکہ بہت بلنددرجہ رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک جملہ اولادعلی سیدہیں یہ اوربات ہے کہ بنی فاطمہ کے برابرنہیں ہیں ۔

امام حسین عالم نمازمیں پشت رسول پر

خدانے جوشرف امام حسن اورامام حسین کوعطافرمایاہے وہ اولادرسول اورفرزندان علی میں آل محمدکے سواکسی کونصیب نہیں ان حضرات کاذکرعبادت اوران کی محبت عبادت، یہ حضرات اگرپشت رسول پرعالم نمازمیں سوارہوجائیں ،تونمازمیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا،اکثرایساہوتاتھاکہ یہ نونہالان رسالت پشت پرعالم نمازمیں سوارہوجایاکرتے تھے اورجب کوئی منع کرناچاہتاتھا توآپ اشارہ سے روک دیاکرتے تھے اورکبھی ایسابھی ہوتاتھا کہ آپ سجدہ میں اس وقت تک مشغول ذکررہاکرتے تھے جب تک بچے آپ کی پشت سے خودنہ اترآئیں آپ فرمایاکرتے تھے خدایامیں انہیں دوست رکھتاہوں توبھی ان سے محبت کر؟ کبھی ارشادہوتاتھااے دنیاوالو! اگرمجھے دوست رکھتے ہوتومیرے بچوں سے بھی محبت کرو(اصابہ ص ۱۲ جلد ۲ ومستدرک امام حاکم ومطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔

حدیث حسین منی

سرورکائنات نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشادفرمایاہے کہ اے دنیاوالو! بس مختصریہ سمجھ لوکہ ”حسین منی وانامن الحسین “حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدااسے دوست رکھے جوحسین کودوست رکھے (مطالب السؤل ص ۲۴۲ ،صواعق محرقہ ص ۱۱۴ ،نورالابصار ص ۱۱۳ ،صحیح ترمذی جلد ۶ ص ۳۰۷ ،مستدرک امام حاکم جلد ۳ ص ۱۷۷ ومسنداحمدجلد ۴ ص ۹۷۲ ،اسدالغابہ جلد ۲ ص ۹۱ ،کنزالعمال جلد ۴ ص ۲۲۱) ۔

مکتوبات باب جنت

سرورکائنات حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ شب معراج جب میں سیرآسمانی کرتاہواجنت کے قریب پہنچاتودیکھاکہ باب جنت پرسونے کے حروف میں لکھاہواہے۔

لااله الاالله محمدحبیب الله علی ولی الله وفاطمة امةالله والحسن والحسین صفوة الله ومن ابغضهم لعنه الله

ترجمہ : خداکے سواکوئی معبودنہیں ۔ محمدصلعم اللہ کے رسول ہیں علی ،اللہ کے ولی ہیں ۔ فاطمہ اللہ کی کنیزہیں ،حسن اورحسین اللہ کے برگزیدہ ہیں اوران سے بغض رکھنے والوں پراللہ کی لعنت ہے(ارجح المطالب باب ۳ ص ۳۱۳ طبع لاہور ۱۲۵۱ )

امام حسین اورصفات حسنہ کی مرکزیت

یہ تومعلوم ہی ہے کہ امام حسین حضرت محمدمصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے نواسے،حضرت علی وفاطمہ کے بیٹے اورامام حسن کے بھائی تھے اورانہیں حضرات کو پنتن پاک کہاجاتاہے اورامام حسین پنجتن کے آخری فردہیں یہ ظاہرہے کہ آخرتک رہنے والے اورہردورسے گزرنے والے کے لیے اکتساب صفات حسنہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ،امام حسین ۳/ شعبان ۴ ہجری کوپیداہوکرسرورکائنات کی پرورش وپرداخت اورآغوش مادرمیں میں رہے اورکسب صفات کرتے رہے ، ۲۸/ صفر ۱۱ ہجری کوجب آنحضرت شہادت پاگئے اور ۳/ جمادی الثانیہ کوماں کی برکتوں سے محروم ہوگئے توحضرت علی نے تعلیمات الہیہ اورصفات حسنہ سے بہرہ ورکیا، ۲۱/ رمضان ۴۰ ہجری کوآپ کی شہادت کے بعدامام حسن کے سرپرذمہ داری عائد ہوئی ،امام حسن ہرقسم کی استمدادواستعانت خاندانی اورفیضان باری میں برابرکے شریک رہے ، ۲۸/ صفر ۵۰ ہجری کوجب امام حسن شہیدہوگئے توامام حسین صفات حسنہ کے واحدمرکز بن گئے ،یہی وجہ ہے کہ آپ میں جملہ صفات حسنہ موجودتھے اورآپ کے طرزحیات میں محمدوعلی وفاطمہ اورحسن کاکردارنمایاں تھا اورآپ نے جوکچھ کیا قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا،کتب مقاتل میں ہے کہ کربلامیں حب امام حسین رخصت آخری کے لیے خیمہ میں تشریف لائے توجناب زینب نے فرمایاتھا کہ ائے خامس آل عباآج تمہاری جدائی کے تصورسے ایسامعلوم ہوتاہے کہ محمدمصطفی ،علی مرتضی، فاطمةالزہراء، حسن مجتبی ہم سے جداہورہے ہیں ۔

حضرت عمرکااعتراف شرف آل محمد

عہدعمری میں اگرچہ پیغمبراسلام کی آنکھیں بندہوچکی تھی اورلوگ محمدمصطفی کی خدمت اورتعلیمات کوپس پشت ڈال چکے تھے لیکن پھربھی کبھی کبھی ”حق برزبان جاری“ کے مطابق عوام سچی باتیں سن ہی لیاکرتے تھے ایک مرتبہ کاذکرہے کہ حضرت عمرمنبررسول پرخطبہ فرمارہے تھے ناگاہ حضرت امام حسین کاادھرسے گزر ہوا آپ مسجدمیں تشریف لے گئے اورحضرت عمرکی طرف مخاطب ہوکربولے ”انزل عن منبرابی“ میرے باپ کے منبرسے اترآئیے اورجائیے اپنے باپ کے منبرپربیٹھے آپ نے کہاکہ میرے باپ کاتوکوئی منبرنہیں ہے اس کے بعدمنبرسے اترکرامام حسین کواپنے ہمراہ گھرلے گئے اوروہاں پہنچ کرپوچھاکہ صاحب زادے تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے توانہوں نے فرمایاکہ میں نے اپنے سے کہاہے ،مجھے کسی نے سکھایانہیں اس کے بعدانہوں نے کہاکہ میرے ماں باپ تم پرفداہوں ،کبھی کبھی آیاکروآپ نے فرمایابہترہے ایک دن آپ تشریف لے گئے توحضرت عمرکومعاویہ سے تنہائی میں محوگفتگوپاکوواپس چلے گئے ۔۔۔۔ جب اس کی اطلاع حضرت عمرکوہوئی توانہوں نے محسوس کیااورراستے میں ایک دن ملاقات پرکہاکہ آپ واپس کیوں چلے آئے تھے فرمایا کہ آپ محوگفتگوتھے اس لیے میں نے عبداللہ (ابن عمر) کے ہمراہ واپس آیاحضرت عمرنے کہاکہ ”فرزندرسول میرے بیٹے سے زیادہ تمہاراحق ہے“ فانما انت ماتری فی روسنااللہ ثم انتم“ اس سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ میراوجودتمہارے صدقہ میں ہے اورمیرا رواں تمہارے طفیل سے اگاہے (اصابة ج ۲ ص ۲۵ ،کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۷ ،ازالة الخفاء )۔

ابن عمرکااعتراف شرف حسینی

ابن حریب راوی ہیں کہ ایک دن عبداللہ ابن عمرخانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے باتیں کررہے تھے کہ اتنے میں حضرت امام حسین علیہ السلام سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دئیے ابن عمرنے لوگوں کی طرف مخاطب ہوکرکہاکہ یہ شخص یعنی امام حسین اہل آسمان کے نزدیک تمام اہل زمین سے زیادہ محبوب ہیں ۔

کرم حسین کی ایک مثال

امام فخرالدین رازی تفسیرکبیرمیں زیرآیة ”علم آدم الاسماء کلہا“ لکھتے ہیں کہ ایک اعرابی نے خدمت امام حسین میں حاضرہوکرکچھ مانگا اورکہاکہ میں نے آپ کے جدنامدارسے سناہے کہ جب کچھ مانگناہوتوچارقسم کے لوگوں سے مانگو : ۱ ۔ شریف عرب سے ۲ ۔ کریم حاکم سے ۳ ۔ حامل قرآن سے ۴ ۔ حسین شکل والے سے ۔

میں آپ آپ میں یہ جملہ صفات پاتاہوں اس لیے مانگ رہاہوں آپ شریف عرب ہیں آپ کے ناناعربی ہیں آپ کریم ہیں ،کیونکہ آپ کی سیرت ہی کرم ہے، قرآن پاگ آپ کے گھرمیں نازل ہواہے آپ صبیح وحسین ہیں ، رسول خداکاارشاد ہے کہ جومجھے دیکھناچاہے وہ حسن اورحسین کودیکھے، لہذا عرض ہے کہ مجھے عطیہ سے سرفرازفرمائیے، آپ نے فرمایاکہ جدنامدارنے فرمایاہے کہ ”المعروف بقدرالمعرفة“ معرفت کے مطابق عطیہ دیناچاہئے، تومیرے سوالات کاجواب دے ۔ بتا:

سب سے بہترعمل کیاہے؟اس نے کہااللہ پرایمان لانا۔ ۲ ۔ ہلاکت سے نجات کاذریعہ ہے؟ اس نے کہااللہ پربھروسہ کرنا۔ ۳ ۔ مردکی زینت کیاہے؟ کہا ”علم معه حلم “ ایساعلم جس کے ساتھ حلم ہو، آپ نے فرمایادرست ہے اس کے بعدآپ ہنس پڑے۔ ورمی بالصرةالیہ اورایک بڑاکیسہ اس کے سامنے ڈال دیا۔ (فضائل الخمسة من الصحاح الستہ جلد ۳ ص ۲۶۸) ۔

امام حسین کی نصرت کے لیے رسول کریم کاحکم

انس بن حارث کابیان ہے جوکہ صحابی رسول اوراصحاب صفہ میں سے کہ میں نے دیکھاکہ حضرت امام حسین علیہ السلام ایک دن رسول خداکی گودمیں تھے اوروہ ان کوپیاررکررہے تھے ،اسی دوران میں فرمایا،ان ابنی ہذا یقتل بارض یقال لہاکربلاء فمن شہدذالک منکم فلینصرہ“ کہ میرا یہ فرزندحسین اس زمین پرقتل کیاجائے گاجس کانام کربلاہے دیکھوتم میں سے اس وقت جوبھی موجودہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مددکرے۔

راوی کابیان ہے کہ اصل راوی اورچشم دیدگواہ انس بن حارث جوکہ اس وقت موجودتھے وہ امام حسین کے ہمراہ کربلامیں شہیدہوگئے تھے(اسدالغابہ جلد ۱ ص ۱۲۳ و ۳۴۹ ،اصابہ جل ۱ ص ۶۸ ،کنزالعمال جلد ۶ ص ۲۲۳ ،ذخائرالعقبی محب طبری ص ۱۴۶) ۔

امام حسین علیہ السلام کی عبادت

علماء ومورخین کااتفاق ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام زبردست عبادت گزارتھے آپ شب وروزمیں بے شمارنمازیں پڑھتے تھے اورانواع واقسام عبادات سے سرفرازہوتے تھے آپ نے پچس حج پاپیادہ کئے اوریہ تمام حج زمانہ قیام مدینہ منورہ میں فرمائے تھے، عراق میں قیام کے دوران آپ کواموی ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے کسی حج کاموقع نہیں مل سکا۔ (اسدالغابہ جلد ۳ ص ۲۷) ۔

امام حسین کی سخاوت

مسندامام رضا ص ۳۵ میں ہے کہ سخی دنیاکے لوگوں کے سرداراورمتقی آخرت کے لوگوں کے سردارہوتے ہیں امام حسین سخی ایسے تھے جن کی نظیرنہیں اورمتقی ایسے تھے کہ جن کی مثال نہیں ، علماء کابیان ہے کہ اسامہ ابن زیدصحابی رسول علیل تھے امام حسین انھیں دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے توآپ نے محسوس کیاکہ وہ بے حدرنجیدہ ہیں ، پوچھا،ائے میرے ناناکے صحابی کیابات ہے”واغماہ“ کیوں کہتے ہو،عرض کی مولا، ساٹھ ہزاردرہم کامقروض ہوں آپ نے فرمایاکہ گھبراو نہیں اسے میں اداکردوں گا چنانچہ آپ نے ان کی زندگی میں ہی انہیں قرضے کے بارسے سبکدوش فرمادیا۔

ایک دفعہ ایک دیہاتی شہرمیں آیا اوراس نے لوگوں سے دریافت کیاکہ یہاں سب سے زیادہ سخی کون ہے؟ لوگوں نے امام حسین کانام لیا، اس نے حاضر خدمت ہوکربذریعہ اشعارسوال کیا،حضرت نے چارہزاراشرفیاں عنایت فرمادیں ،اس نے شعیب خزاعی کاکہناہے کہ شہادت امام حسین کے بعدآپ کی پشت پرباربرداری کے گھٹے دیکھے گئے جس کی وضاحت امام زین العابدین نے یہ فرمائی تھی کہ آپ اپنی پشت پرلادکراشرفیاں اورغلوں کے گٹھربیواؤں اور یتیموں کے گھررات کے وقت پہنچایاکرتے تھے کتابوں میں ہے کہ آپ کے ایک غیرمعصوم فرزندکوعبدالرحمن سلمی نے سورہ حمدکی تعلیم دی،آپ نے ایک ہزاراشرفیاں اورایک ہزارقیمتی خلعتیں عنایت فرمائیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۴ ص ۷۴) ۔

امام شلبجی اورعلامہ محمدابن طلحہ شافعی نے نورالابصاراورمطالب السؤل میں ایک اہم واقعہ آپ کی صفت سخاوت کے متعلق تحریرکیاہے جسے ہم امام حسن کے حال میں لکھ آئے ہین کیونکہ اس واقعہ سخاوت میں وہ بھی شریک تھے۔

جنگ صفین میں امام حسین کی جدوجہد

اگرچہ مورخین کاتقریبااس پراتفاق ہے کہ امام حسین عہدامیرالمومنین کے ہرمعرکہ میں موجودرہے، لیکن محض اس خیال سے کہ یہ رسول اکرم کی خاص امانت ہیں انہیں کسی جنگ میں لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی (نورالحسینہ ص ۴۴) ۔

لیکن علامہ شیخ مہدی مازندرانی کی تحقیق کے مطابق آپ نے بندش آپ توڑنے کے لیے مقام صفین میں نبرآزمائی فرمائی تھی(شجرئہ طوبی طبع نجف اشرف ۱۳۵۴ ئھ وبحارالانوارجلد ۱۰ ص ۲۵۷ طبع ایران)۔

علامہ باقرخراسانی لکھتے ہیں کہ اس موقع پرامام حسین کے ہمراہ حضرت عباس بھی تھے (کبریت الاحمرص ۲۵ وذکرالعباس ص ۲۶) ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام گرداب مصائب میں

واقعہ کربلاکاآغاز

حضرت امام حسین علیہ السلام جب پیغمبراسلام حضرت محمدمصطفی صلعم کی زندگی کے آخری لمحات سے لے کرامام حسن کی حیات کے آخری ایام تک بحرمصائب وآلام کے ساحل سے کھیلتے ہوئے زندگی کے اس عہدمیں داخل ہوئے جس کے بعدآپ کے علاوہ پنجتن میں کوئی باقی نہ رہاتوآپ کاسفینہ حیات خود گرداب مصائب میں آگیاامام حسن کی شہادت کے بعدسے معاویہ کی تمام ترجدوجہدیہی رہی کہ کسی طرح امام حسین کاچراغ زندگی بھی اسی طرح گل کردے، جس طرح حضرت علی اورامام حسن کی شمع حیات بجھاچکاہے اوراس کے لیے وہ ہرقسم کاداؤں کرتارہااوراس سے کامقصدصرف یہ تھاکہ یزیدکی خلافت کے منصوبہ کوپروان چڑھائے ،بالآخراس نے ۵۶ ء میں ایک ہزارکی جمیعت سمیت یزیدکے لیے بیعت لینے کی غرض سے حجازکاسفراختیارکیا اور مدینہ منورہ پہنچا۔

وہاں امام حسین سے ملاقات ہوئی اس نے بیعت یزیدکاذکرکیا،آپ نے صاف لفظوں میں اس کی بدکرداری کاحوالہ دے کرانکارکردیا،معاویہ کوآپ کاانکار کھلاتوبہت زیادہ لیکن چندالٹے سیدھے الفاظ کہنے کے سوااورکچھ کرنہ سکا اس کے بعدمدینہ اورپھرمکہ میں بیعت یزید لے کرشام کوواپس چلاگیا۔ علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ امیرمعاویہ نے جب مدینہ میں بیعت کاسوال اٹھایاتوحسین بن علی، عبدالرحمن بن ابی بکر،عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیرنے بیعت یزید سے انکارکردیا اس نے بڑی کوشش کی لیکن یہ لوگ نہ مانے اوررفع فتنہ کے لیے امام حسین کے علاوہ سب مدینہ سے چلے گئے ۔

معاویہ ان کے پیچھے مکہ پہنچااوروہاں ان پردباؤڈالا لیکن کامیاب نہ ہوا،آخرکار شام واپس چلاگیا (روضة الشہداء ص ۲۳۴) ۔

معاویہ بڑی تیزکی ساتھ بیعت لیتارہا اوربقول علامہ ابن قتیبہ اس سلسلہ میں اس نے ٹکوں میں لوگوں کے دین بھی خریدلیے، الغرض رجب ۶۰ ہ میں معاویہ رخت سفر باندھ کر دنیاسے چلاگیا،یزیدجواپنے باپ کے مشن کوکامیاب کرناضروری سمجھتاتھا سب سے پہلے مدینہ کی طرف متوجہ ہوگیا اوراس نے وہاں کے والی ولیدبن عقبہ کولکھا کہ امام حسین ،عبدالرحمن بن ابی بکر،عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیرسے میری بیعت لے لے ،اوراگریہ انکارکریں توان کے سرکاٹ کرمیرے پاس بھیج دے ،ابن عقبہ نے مروان سے مشورہ کیااس نے کہاکہ سب بیعت کرلیں گے لیکن امام حسین ہرگزبیعت نہ کریں گے اورتجھے ان کے ساتھ پوری سختی کابرتاؤ کرناپڑے گا۔

صاحب تفسیرحسینی علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ ولیدنے ایک شخص (عبدالرحمن بن عمربن عثمان) کوامام حسین اورابن زبیرکوبلانے کے لیے بھیجا، قاصد جس وقت پہنچادونوں مسجدمیں محوگفتگوتھے آپ نے ارشادفرمایاکہ تم چلوہم آتے ہیں ، قاصدواپس چلاگیااوریہ دونوں آپ میں بلانے کے سبب پرتبادلہ خیالات کرنے لگے امام حسین نے فرمایاکہ میں نے آج ایک خواب دیکھاہے جس سے میں یہ سمجھتاہوں کہ معاویہ نے انتقال کیااوریہ ہمیں بیعت یزیدکے لیے بلارہاہے ابھی یہ حضرات جانے نہ پائے تھے کہ قاصدپھرآگیا اوراس نے کہاکہ ولیدآپ حضرات کے انتظارمیں ہے امام حسین نے فرمایاکہ جلدی کیاہے جاکرکہہ دوکہ ہم تھوڑی دیرمیں آجائیں گے ۔

اس کے بعدامام حسین دولت سرامیں تشریف لائے اور ۳۰ بہادروں کوہمراہ لے کرولیدسے ملنے کاقصد فرمایا آپ داخل دربارہوگئے اوربہادران بنی ہاشم بیرون خانہ درباری حالات کامطالعہ کرتے رہے ولیدنے امام حسین کی مکمل تعظیم کی اورخبرمرگ معاویہ سنانے کے بعدبیعت کاذکرکیا ،آپ نے فرمایاکہ مسئلہ سوچ بچارکاہے تم لوگوں کوجمع کرواورمجھے بھی بلالومیں ”علی روس الاشہاد“ یعنی عام مجمع میں اظہارخیال کروں گا۔

ولیدنے کہابہترہے ،پھرکل تشریف لائیے گا ابھی آپ جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ مروان بول اٹھا اے ولیداگرحسین اس وقت تیرے قبضہ سے نکل گئے توپھرہاتھ نہ آئیں گے ان کواسی وقت مجبورکردے اورابھی ابھی بیعت لے لے اوراگریہ انکارکریں توحکم یزیدکے مطابق سرتن سے اتارلے یہ سننا تھا کہ امام حسین کوجلال آگیاآپ نے فرمایا”یابن الزرقا“ کس میں دم ہے کہ حسین کوہاتھ لگاسکے، تجھے نہیں معلوم کہ ہم آل محمد ہیں فرشتے ہمارے گھروں میں آتے رہتے ہیں ہمیں کیونکر مجبورکیاجاسکتاہے کہ ہم یزید جیسے فاسق وفاجراورشرابی کی بیعت کرلیں ، امام حسین کی آوازکابلند ہونا تھاکہ بہادران بنی ہاشم داخل دربار ہوگئے اورقریب تھاکہ زبردست ہنگامہ برپاکردیں لیکن امام حسین نے انہیں سمجھابجھاکرخاموش کردیا اس کے بعدامام حسین واپس دولت سراتشریف لے گئے ولیدنے ساراواقعہ یزیدکولکھ کربھیج دیااس نے جواب میں لکھاکہ اس خط کے جواب میں امام حسین کاسربھیج دو،ولیدنے یزید کاخط امام حسین کے پاس بھیج کر کہلابھیجا کہ فرزندرسول ،میں یزید کے کہنے پرکسی صورت سے عمل نہیں کرسکتا لیکن آپ کوباخبرکرتاہوں اوربتانا چاہتاہوں کہ یزیدآپ کے خون بہانے کے درپے ہے_

امام حسین نے صبرکے ساتھ حالات پرغورکیااورناناکے روضہ پرجاکردرددل بیان فرمایااوربے انتہاروئے ،صبح صادق کے قریب مکان واپس آئے دوسری رات کوپھرروضہ رسول پرتشریف لے گئے اورمناجات کے بعد روتے روتے سوگئے خواب میں آنحضرت کودیکھاکہ آپ حسین کی پیشانی کابوسہ لے رہے ہیں اورفرمارہے ہیں کہ اے نورنظرعنقریب امت تمہیں شہیدکردے گی بیٹاتم بھوکے پیاسے ہوگے تم فریادکرتے ہوگے اورکوئی تمہاری فریادرسی نہ کرے گا امام حسین کی آنکھ کھل گئی آپ دولت سراواپس تشریف لائے اوراپنے اعزا کوجمع کرکے فرمانے لگے کہ اب اس کے سواکوئی چارہ کارنہیں ہے کہ میں مدینہ کوچھوڑدوں ،ترک وطن کافیصلہ کرنے کے بعدروضہ امام حسن اورمزارجناب سیدہ پرتشریف لے گئے بھائی سے رخصت ہوئے ماں کوسلام کیاقبرسے جواب سلام آیا، ناناکے روضہ پررخصت آخری کے لیے تشریف لے گئے روتے روتے سوگئے سرورکائنات نے خواب میں صبرکی تلقین کی اورفرمایا بیٹاہم تمہارے انتظارمیں ہیں ۔

علماء کابیان ہے کہ امام حسین ۲۸/ رجب ۶ ۰ ہ یوم سہ شنبہ کومدینہ منورہ سے بارادہ مکہ معظمہ روانہ ہوئے علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ ”نفرلمکته خوفا علی نفسه “ امام حسین جان کے خوف سے مکہ تشریف لے گئے (صواعق محرقہ ص ۴۷) ۔

آپ کے ساتھ تمام مخدرات عصمت وطہارت اورچھوٹے چھوٹے بچے تھے البتہ آپ کی ایک صاحبزادی جن کانام فاطمہ صغری تھا اورجن کی عمراس وقت ۷/ سال تھی بوجہ علالت شدیدہ ہمراہ نہ جاسکیں امام حسین نے آپ کی تیمارداری کے لیے حضرت عباس کی ماں جناب ام البنین کومدینہ میں ہی چھوڑدیاتھا اورکچھ فریضہ خدمت ام المومنین جناب ام سلمہ کے سپردکردیاتھا، آپ ۳/ شعبان ۶۰ ہ یوم جمعہ کومکہ معظمہ پہنچ گئے آپ کے پہنچتے ہی والی مکہ سعیدابن عاص مکہ سے بھاگ کرمدینہ چلاگیا اوروہاں سے یزیدکومکہ کے تمام حالات لکھے اوربتایاکہ لوگوں کارجحان امام حسین کی طرف اس تیزی سے بڑھ رہاہے جس کاجواب نہیں ،یزیدنے یہ خبرپاتے ہی مکہ میں قتل حسین کی سازش پرغورکرناشروع کردیا۔

امام حسین مکہ معظمہ میں چارماہ شعبان،رمضان،شوال،ذیقعدہ مقیم رہے یزیدجوبہرصورت امام حسین کوقتل کرناچاہتاتھا اس نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ حسین اگرمدینہ سے بچ کرنکل گئے ہیں تومکہ میں قتل ہوجائیں اوراگرمکہ سے بچ نکلیں توکوفہ پہنچ کرشہیدہوسکیں ، یہ انتظام کیاکہ کوفے سے ۱۲ ہزارخطوط دوران قیام مکہ میں بھجوائے کیونکہ دشمنوں کویہ یقین تھاکہ حسین کوفہ میں آسانی سے قتل کئے جاسکیں گے ،نہ یہاں کے باشندوں میں عقیدہ کاسوال ہے اورنہ عقیدت کا یہ فوجی لوگ ہیں ان کی عقلیں بھی موٹی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شہادت حسین سے قبل جب تک جتنے افسر بھیجے گئے وہ محض اس غرض سے بھیجے جاتے رہے کہ حسین کوگرفتارکرکے کوفہ لے جائیں (کشف الغمہ ص ۶۸) ۔

اورایک عظیم لشکر مکہ میں شہیدکئے جانے کے لیے ارسال کیااور ۳۰ / خارجیوں کوحاجیوں کے لباس میں خاص طورپربھجوادیاجس کاقائد عمرابن سعدتھا (ناسخ التواریخ جلد ۶ ص ۲۱ ،منتخب طریحی خلاصة المصائب ص ۱۵۰ ،ذکرالعباس ص ۱۲۲) ۔

عبدالحمید خان ایڈیٹر رسالہ مولوی دہلی لکھتے ہیں کہ ”اس کے علاوہ ایک سازش یہ بھی کی گئی کہ ایام حج میں تین سوشامیوں کوبھیج دیاگیاکہ وہ گروہ حجاج میں شامل ہوجائیں اورجہاں جس حال میں بھی حضرت امام حسین کوپائیں قتل کرڈالیں (شہیداعظم ص ۷۱) ۔

خطوط جوکوفہ سے آئے تھے انہیں شرعی رنگ دیاگیاتھا اوروہ ایسے لوگوں کے نام سے بھیجے گئے تھے جن سے امام حسین متعارف تھے شاہ عبدالعزیز دہلوی کاکہناہے کہ یہ خطوط ”من کل طائفة وجماعة “ ہرطائفہ اورجماعت کی طرف سے بھجوائے گئے تھے (سرالشہادتین ص ۶۷) ۔ علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ خطوط بھیجنے والے عام اہل کوفہ تھے (صواعق محرقہ ص ۱۱۷) ابن جریرکابیان ہے کہ اس زمانہ میں کوفہ میں ایک دوگھرکے علاوہ کوئی شیعہ نہ تھا (طبری) حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی شرعی ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے لیے تفحص حالات کی خاطرجناب مسلم ابن عقیل کوکوفہ روانہ کردیا۔

مکہ معظمہ میں امام حسین کی جان نہ بچ سکی

یہ واقعہ ہے کہ امام حسین مدینہ منورہ سے اس لے عازم مکہ ہوئے تھے کہ یہاں ان کی جان بچ جائے گی لیکن آپ کی جان لینے پرایساسفاک دشمن تلاہواتھا جس نے مکہ معظمہ اورکعبہ محترمہ میں بھی آپ کومحفوظ نہ رہنے دیا اوروہ وقت آگیاکہ امام حسین مقام امن کومحل خوف سمجھ کر مکہ معظمہ چھوڑنے پرمجبورہوگئے اورقریب تھاکہ آپ کوعالم حج وطواف میں قتل کردیں ۔

امام حسین کوجیسے ہی سازش کاپتہ لگا،آپ نے فوراحج کوعمرہ منفردہ سے بدلااور ۸/ ذی الحجہ ۶ ۰ ہ کوجناب مسلم کے خط پربھروسہ کرکے عازم کوفہ ہوگئے ابھی آپ روانہ نہ ہونے پائے تھے کہ اعزاء واقربانے کمال ہمدردی کے ساتھ التوائے سفر کوفہ کی درخواست کی ،آپ نے فرمایا کہ گرچیونٹی کے بل میں بھی چھپ جاؤں توبھی ضرورقتل کیاجاؤں گا اورسنومیرے نانا نے فرمایاہے کہ حرمت مکہ ایک دنبہ کے قتل سے بربادہوگی میں ڈرتاہوں کہ وہ دنبہ میں ہی نہ قرارپاؤں میری خواہش ہے کہ میں مکہ سے باہرچاہے ایک ہی بالشت پرکیوں نہ ہوں قتل کیاجاوں گا(تاریخ کامل جلد ۴ ص ۲۰ ،ینابع المودة ص ۲۳۷ ، صواعق محرقہ ص ۱۱۷) ۔

یہ واقعہ ہے کہ کہ یزیدکاارادہ بہرصورت امام حسین کوقتل کرنااوراستیصال بنی فاطمہ تھا۔(کشف الغمہ ص ۸۷) ۔

یہی وجہ ہے کہ جب امام حسین کے مکہ معظمہ سے روانہ ہونے کی اطلاع والی مکہ عمربن سعیدکوہوئی تواس نے پوری طاقت سے آپ کوواپس لانے کی سعی کی اوراسی سلسلہ میں اسی نے یحی بن سعیدابن العاص کوایک گروہ کے ساتھ آپ کوروکنے کے لیے بھیج دیا”فقالوا له انصرف این تذهب “ ان لوگوں نے آپ کو روکااورکہاکہ آپ یہاں سے کہاں نکلے جارہے ہیں فورالوٹیے ،آپ نے فرمایاایساہرگز نہیں ہوگا،یہ روکنامعمولی نہ تھا بلکہ ایساتھاجس میں مارپیٹ کی بھی نوبت آئی (دمعةساکبة ص ۳۱۶) مقصدیہ ہے کہ والی مکہ یہ نہیں چاہتاتھاکہ امام حسین ا سکے حدوداقتدارسے نکل جائیں اوریزید کے منشاء کوپورانہ کرسکے کیونکہ اس کے پیش نظروالی مدینہ کی برطرفی یاتعطل تھا،وہ دیکھ چکاتھا کہ حسین کے مدینہ سے سالم نکل آنے پروالی مدینہ برطرف کردیاگیاتھا۔

امام حسین کی مکہ سے رونگی

الغرض امام حسین اپنے جملہ اعزاء واقرباء اورانصارجان نثار کوہمراہ لے کرجن کی تعدادبقول امام شبلنجی ۸۲ تھی مکہ سے روانہ ہوگئے آپ جس وقت منزل صفاح پرپہنچے توفرزدق شاعرسے ملاقات ہوئی وہ کوفہ سے آرہاتھا استفساربراس نے بتایاکہ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہوں لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں آپ نے اپنی روانگی کے وجوہ بیان فرمائے اورآپ وہاں سے آگے بڑھے پھرمنزل حاجزکے ایک چشمہ پراترے وہاں عبداللہ ابن مطیع سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی کوفیوں کی بے پروائی کاذکرکیا،اسکے بعد آپ منزل بطن الرمہ پہنچے اوروہاں سے منزل ذات العرق میں ڈیرہ ڈالا،وہاں شخص بشیربن غالب سے ملاقات ہوئی اس نے بھی کوفیوں کی غداری کاتذکرہ کیا۔

پھرآپ وہاں سے آگے بڑھے ایک مقام پرایک خیمہ نصب دیکھا پوچھااس جگہ کون ٹہراہے معلوم ہوکہ زبیرابن ایقین ،آپ نے انہیں بلوابھیجا،جب وہ آئے توآپ نے اپنی حمایت کاذکرکیاانہوں نے قبول کرکے اپنی بیوی کوبروائتے اپنے بھائی کے ہمراہ گھرروانہ کردیااورخودامام حسین کے ساتھ ہوگئے ، پھروہاں سے روانہ ہوکر منزل ”زبالہ“ میں پہنچے وہاں آپ کوحضرت مسلم وہانی اورمحمدبن کثیراورعبداللہ بن یقطرجیسے دلیروں کی شہادت کی خبرملی آپ نے اناللہ واناالیہ راجعون فرمایا اورداخل خیمہ ہوکرحضرت مسلم کی بچیوں کوکمال محبت کے ساتھ پیارکیا اوربے انتہاروئے اس کے بعد ارشادفرمایا کہ میراقتل یقینی ہے ،میں تم لوگوں کی گردنوں سے طوق بیعت اتارے لیتاہوں تمہاراجدھرجی چاہے چلے جاؤ،دنیادارتوواپس ہوگئے ،لیکن سب دیندارہم رکاب ہی رہے۔

پھروہاں سے روانہ ہوکر منزل قصربنی مقاتل پراترے وہاں عبداللہ ابن حرجعفی سے ملاقات ہوئی آپ کے اصرارکے باوجودوہ بقول واعظ کاشفی آپ کے ہمرکاب نہ ہوا پھرمنزل ثعلبیہ پرپہنچے ،وہاں جناب زینب کی آغوش میں سررکھ کے سوگئے خواب میں رسول خداکودیکھاکہ وہ بلارہے ہیں آب روپڑے ،ام کلثوم نے سبب گریہ پوچھاآپ نے خواب کاحوالہ دیااورخاندان کی تباہی کاتاثرظاہرفرمایا ،علی اکبرنے عرض کی باباہم حق پرہیں ہمیں موت سے ڈرنہیں ۔

اس کے بعدآپ نے منزل قطقطانیہ پرخطبہ دیااوروہاں سے روانہ ہوکرقبیلہ بنی سکون میں ٹہرے آپ کی یہاں سکونت کی اطلاع ابن زیادہ کودی گئی اس نے ایک ہزاریادوہزارکے لشکرسمیت حربن یزیدریاحی کوامام حسین کی گرفتاری کے لیے روانہ کردیاامام حسین اپنی قیام گاہ سے نکل کرکوفہ کی طرف بدستورروانہ ہوگئے راستے میں بنی عکرمہ کاایک شخص ملا، اس نے کہاقادسیہ سے غدیب تک ساری زمین لشکرسے پٹی پڑی ہے آپ نے اسے دعائے خیردی اورخودآگے بڑھ کر”منزل شراف“ پرقیام کیاوہاں آپ نے محرم ۶۱ ئھ کاچانددیکھا اورآپ رات گذارکر علی الصباح روانہ ہوگئے۔

حربن یزیدریاحی

صبح کاوقت گزرادوپہرآئی لشکر حسین بادیہ پیمائی کررہاتھا کہ ناگاہ ایک صحابی حسین نے تکبیرکہی لوگوں نے سبب پوچھا،اس نے جواب دیاکہ مجھے کوفہ کی سمت خرمے اورکیلے کے درخت جیسے نظرآرہے ہیں یہ سن کرلوگ یہ خیال کرتے ہوئے کہ س جنگل میں درخت کہاں ، اس طرف غورسے دیکھنے لگے ،تھوڑی دیرمیں گھوڑوں کی کنوتیاں نظرآئیں امام نے فرمایاکہ دشمن آرہے ہیں لہذا منزل ذوخشب یاذوحسم کی طرف مڑچلو، لشکرحسین نے رخ بدلا اورلشکرحرنے تیزرفتاری اختیارکی بالآخرسامنے آپہنچا اوربروایتے لجام فرس پرہاتھ ڈال دیا یہ دیکھ کرحضرت عباس آگے بڑھے اورفرمایاتیری ماں تیرے ماتم ماتم میں بیٹھے ”’ماترید“ کیاچاہتاہے (مائیتین) ص ۱۸۳) ۔

مورخین کابیان ہے کہ چونکہ لشکرحرپیاس سے بے چین تھا اس لے ساقی کوثرکے فرزندنے اپنے بہادروں کوحکم دیاکہ حرکے سواروں اورسواری کے جانوروں کواچھی طرح سیراب کردو، چنانچہ اچھی طرح سیرابی کردی گئی اس کے بعدنمازظہرکی اذان ہوئی حرنے امام حسین کی قیادت میں نمازاداکی اوریہ بتایاکہ ہمیں آپ کی گرفتاری کے لیے بھیجاگیاہے اورہمارے لیے یہ حکم ہے کہ ہم آپ کوابن زیادکے دربارمیں حاضرکریں ، امام حسین نے فرمایاکہ میرے جیتے جی یہ ناممکن ہے کہ میں گرفتارہوکرخاموشی کے ساتھ کوفہ میں قتل کردیاجاؤں ۔

پھراس نے تنہائی میں رائے دی کہ چپکے سے رات کے وقت کسی طرف نکل جائیے آپ نے اس کی رائے کوپسندکیا اورایک راستے پرآپ چل پڑے جب صبح ہوئی توپھرحرکوتعاقب کرتے دیکھے اورپوچھاکہ اب کیابات ہے اس نے کہامولاکسی جاسوس نے ابن زیادسے غمازی کردی ہے چنانچہ اب اس کاحکم یہ آگیاہے کہ میں آپ کوبے آب وگیاہ جنگل میں روگ لوں گفتگوکے ساتھ ساتھ رفتاربھی جاری تھی کہ ناگاہ امام حسین کے گھوڑے نے قدم روکے، آپ نے نے لوگوں سے پوچھااس زمین کوکیاکہتے ہیں کہاگیاکربلا آپ نے اپنے ہمراہیوں کوحکم دیاکہ یہیں پرڈیرے ڈال دواوریہیں خیمے لگادوکیونکہ قضائے الہی یہیں ہمارے گلے ملے گی(نورالابصار ص ۱۱۷ ،مطالب السؤل ص ۲۵۷ ، طبری جلد ۳ ص ۴۰۷ ،کامل جلد ۴ ص ۲۶ ،ابوالفداء ج ۲ ص ۲۰۱ ،دمعة ساکبة ص ۳۳۰ اخبارالطوال ص ۲۵۰ ،ابن الوردی جلد ۱ ص ۱۷۲ ،ناسخ جلد ۶ ص ۲۱۹ ،بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۲۸۶) ۔

کربلامیں ورود

۲/ محرم الحرام ۶۱ ہ یوم پنجشنبہ کوامام حسین علیہ السلام واردکربلاہوگئے نورالعین ص ۴۶ حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۵۱ مطالب السؤل ص ۲۵۰ ، ارشادمفید،دمعة ساکبة ص ۳۲۱ ۔

واعظ کاشفی اورعلامہ اربلی کابیان ہے کہ جیسے ہی امام حسین نے زمین کربلاپرقدم رکھا زمین کربلازردہوگئی اورایک ایساغباراٹھاجس سے آپ کے چہرئہ مبارک پرپریشانی کے آثارنمایاں ہوگئے ،یہ دیکھ کر اصحاب ڈرگئے اورجناب ام کلثوم رونے لگیں (کشف الغمہ ص ۶۹ روضة الشہداء ص ۳۰۱) ۔

صاحب مخزن البکالکھتے ہیں کہ کربلاپرورودکے فورابعد جناب ام کلثوم نے امام حسین سے عرض کی ،بھائی جان یہ کیسی زمین ہے کہ اس جگہ ہمارے دل دھل رہے ہیں امام حسین نے فرمایابس یہ وہی مقام ہے جہاں باباجان نے صفین کے سفرمیں خواب دیکھاتھا یعنی یہ وہ جگہ ہے جہاں ہماراخون بہے گا ،کتاب مائین میں ہے کہ اسی دن ایک صحابی نے ایک بیری کے درخت سے مسواک کے لیے شاخ کاٹی تواس سے خون تازہ جاری ہوگیا۔

امام حسین کاخط اہل کوفہ کے نام

کربلاپہنچنے کے بعدآپ نے سب سے پہلے اتمام حجت کے لیے اہل کوفہ کے نام قیس ابن مسہرکے ذریعہ سے ایک ارسال فرمایا ،جس میں آپ نے تحریرفرمایا کہ تمہاری دعوت پرمیں کربلاتک آگیاہوں ،الخ۔ قیس خط لیے جارہے تھے کہ راستے میں گرفتارکرلیے گئے اورانہیں ابن زیاد کے سامنے کوفہ لے جاکرپیش کردیاگیا،ابن زیادنے خط مانگا قیس نے بروایتے چاک کرکے پھینک دیا اوربروایتے خط کوکھالیا ابن زیادنے انہیں بضرب تازیانہ شہیدکردیا(روضة الشہداء ص ۳۰۱ ،کشف الغمہ ص ۶۶) ۔

عبیداللہ ابن زیادکاخط امام حسین کے نام

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسین کے کربلاپہنچنے کے بعدحرنے ابن زیادکوآپ کی رسیدگی کربلاکی خبردی اس نے امام حسین کوفوراایک خط ارسال کیاجس میں لکھاکہ مجھے یزیدنے حکم دیاہے کہ میں آپ سے اس کے لیے بیعت لے لوں ، یاآپ کوقتل کردوں ،امام حسین نے اس خط کاجواب نہ دیا ”القاه من یده “ اوراسے زمین پرپھینک دیا(مطالب ا لسؤل ص ۲۵۷ ،نورالابصار ص ۱۱۷) ۔

اس کے بعد آپ نے محمدبن حنفیہ کواپنے کربلاپہنچنے کی ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی اورتحریرفرمایاکہ میں نے زندگی سے ہاتھ دھولیاہے اورعنقریب عروس موت سے ہم کنارہوجاؤں گا(جلاء العیون ص ۱۹۶) ۔

حضرت امام حسین میدان جنگ میں

جب آپ کے بہتراصحاب وانصاراوربنی ہاشم قربان گاہ اسلام پرچڑھ چکے توآپ خوداپنی قربانی پیش کرنے لیے میدان کارزارمیں آپہنچے ،لشکر یزیدجوہزاروں کی تعدادمیں تھا،اصحاب باوفااوربہادران بنی ہاشم کے ہاتھوں واصل جہنم ہوچکاتھا امام حسین جب میدان میں پہنچے تودشمنوں کے لشکرمیں تیس ہزارسواروپیادے باقی تھے ،یعنی صرف ایک پیاسے کوتیس ہزاردشمنوں سے لڑناتھا (کشف الغمہ)۔میدان میں پہنچنے کے بعدآپ نے سب سے پہلے دشمنوں کومخاطب کرکے ایک خطبہ اراشادفرمایاآپ نے کہا:

”ائے ظالمو! میرے قتل سے بازآؤ،میرے خون سے ہاتھ نہ رنگو،تم جانتے ہومیں تمہارے نبی کانواسہ ہوں ، میرے باباعلی سابق الاسلام ہیں ، میری ماں فاطمة الزہراتمہارے نبی کی بیٹی ہیں اورتم جانتے ہوکہ میرے نانا رسول اللہ نے مجھے اورمیرے بھائی حسن کوسردارجوانان بہشت فرمایاہے،افسوس تم اپنے نبی کی ذریت اوراپنے رسول کی آل کا خون بہاتے ہواورمیرے خون ناحق پرآمادہ ہوتے ہو،حالانکہ نہ میں نے کسی کوقتل کیاہے نہ کسی کامال چھیناہے کہ جس کے بدلے میں تم مجھ کوقتل کرتے ہو،میں تودنیاسے بے تعلق اپنے نانارسول کی قبرپرمجاوربیٹھاتھا تم نے مجھے ہدایت کے لیے بلایااورمجھے نہ نانا کی قبرپربیٹھنے دیا نہ خداکے گھرمیں رہنے دیا،سنواب بھی ہوسکتاہے کہ مجھے اس کاموقع دے دو، کہ میں ناناکی قبرپرجابیٹھوں یاخانہ خدامیں پناہ لے لوں ۔

اس کے بعدآپ نے اتمام حجت کے لیے عمرسعدکوبلایا اوراس سے فرمایا تم میرے قتل سے بازآؤ ۲ ۔ مجھے پانی دیدو ۳ ۔ اگریہ منظورنہ ہوتوپھرمیرے مقابلہ کے لیے ایک ایک شخص کوبھیجو۔

اس نے جواب دیاآپ کی تیسری درخواست منظورکی جاتی ہے اورآپ سے لڑنے کے لیے ایک ایک شخص مقابلہ میں آئے گا۔(روضة الشہداء)۔

امام حسین کی نبردآزمائی

معاہدہ کے مطابق آپ سے لڑنے کے لیے شام سے ایک ایک شخص آنے لگا اورآپ اسے فناکے گھاٹ اتارنے لگے سب سے پہلے جوشخص مقابلہ کے لیے نکلاوہ ثمیم ابن قحطبہ تھا آپ نے اس پربرق خاطف کی طرف حملہ کیا اوراسے تباہ وبربادکرڈالا،یہ سلسلہ جنگ تھوڑی دیرجاری رہا اورمدت قلیل میں کشتوں کے پشتے الگ گئے اورمقتولین کی تعدادحدشمارسے باہرہوگئی یہ دیکھ کرعمرسعدنے لشکروالوں کوپکارکرکہاکیادیکھتے ہوسب مل کریکبارگی حملہ کردو، یہ علی کاشیرہے اس سے انفرادی مقابلہ میں کامیابی قطعا ناممکن ہے ،عمرسعدکی اس آوازنے لشکرکے حوصلے بلندکردئیے اورسب نے مل کر یکبارگی حملہ کافیصلہ کیا آپ نے لشکر کے میمنہ اورمیسرہ کوتباہ کردیاآپ کے پہلے حملہ میں ایک ہزارنوسوپچاس دشمن قتل ہوئے اورمیدان خالی ہوگیا ابھی آپ سکون نہ لینے پائے تھے کہ اٹھائیس ہزاردشمنوں نے پھرحملہ کردیا،اس تعدادمیں چارہزارکمانڈرتھے اب صورت یہ ہوئی کہ سورا،پیادے اورکمانڈروں نے ہم آہنگ وعمل ہوکرمسلسل اورمتواتر حملے شروع کردئیے اس موقع پرآپ نے جوشجاعت کاجوہردکھلایااس کے متعلق مورخین کاکہناہے کہ سربرسنے لگے دھڑگرنے لگے ،اورآسمان تھرتھرایا زمین کانپی، صفیں الٹیں ، پرے درہم برہم ہوگئے۔

اللہ رے حسین کاوہ آخری جہاد

ہروارپرعلی ولی دے رہے تھے داد

کبھی میسرہ کوالٹتے ہیں ،کبھی میمنہ کوتوڑتے ہیں ،کبھی قلب لشکرمیں درآتے ہیں کبھی جناح لشکر پرحملہ فرماتے ہیں شامی کٹ رہے ہیں کوفی گررہے ہیں لاشوں کے ڈھیرلگ رہے ہیں حملے کرتے ہوئے فوجوں کوبھگاتے ہوئے نہرکی طرف پہنچ جاتے ہیں بھائی کی لاش ترائی میں پڑی نظرآتی ہے آپ پکارکرکہتے ہیں اے عباس تم نییہ حملے نہ دیکھے ،یہ صف آرائی نہ دیکھی افسوس کہ تم نے میری تنہائی نہ دیکھی علامہ اسفرائنی کاکہناہے کہ امام حسین دشمنوں پر حملہ کرتے تھے ،تولشکراس طرح سے بھاگتاتھاجس طرح ٹڈیاں منتشرہوجاتی ہیں نورالعین میں ایک مقام پرلکھاہے کہ امام حسین بہادرشیرکی طرح حملہ فرماتے اورصفوں کودرہم برہم کردیتے تھے اوردشمنوں کواس طرح کاٹ کرپھینک دیتے تھے جس طرح تیزدھارآلہ سے کھیتی کٹتی ہے۔

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ آنحضرت حملہ گراں افگندہرکہ بادکوشید شربت مرگ نوشیدوبہرجانب کہ تاخت گردہے را بخاک انداخت ،کہ آپ عظیم الشان حملہ کی کوئی تاب نہ لاسکتاتھا جوآپ کے سامنے آتاتھا ،شربت مرگ سے سیراب ہوتاتھا اورآپ جس جانب حملہ کرتے تھے گروہ کے گروہ کوخاک میں ملادیتے تھے (کشف الغمہ ص ۷۸) ۔

مورخ ابن اثیرکابیان ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کویوم عاشوراداہنے اوربائیں دونوں جانب سے گھیرلیاگیاتوآپ نے دائیں جانب حملہ کرکے سب کوبھگادیا پھرپلٹ کر بائیں جانب حملہ کرتے ہوئے آئے توسب کومارکرہٹادیاخداکی قسم حسین سے بڑھ کرکسی شخص کوایساقوی دل ثابت قدم، بہادرنہیں دیکھاگیاجوشکستہ دل ہو،صدمہ اٹھائے ہوئے ،بیٹوں ،عزیزوں اوردوست، احباب کے داغ بھی کھائے ہوئے ہو، اورپھرحسین کی سی ثابت قدمی اوربے جگری سے جنگ کرسکے، بخدادشمنوں کی فوج کے سواراورپیادے حسین کے سامنے اس طرح بھاگتے تھے جس طرح بھیڑبکریوں کے گلے شیرکے حملہ سے بھاگتے ہیں حسین جنگ کررہے تھے ”اذاخرجت زینب“ کہ جب جناب زینب خیمہ سے نکل آئیں اورفرمایا کاش آسمان زمین پرگرپڑتا اے عمرسعد تودیکھ رہا ہے اورعبداللہ قتل کئے جارہے ہیں ،یہ سن کرعمرسعد روپڑا،آنسوڈاڈھی پربہنے لگے ،اوراس نے منہ پھیرلیا، امام حسین اس وقت خزکاجبہ پہنے ہوئے تھے سرپرعمامہ باندھاہواتھا اوروسمہ کاخضاب لگائے ہوئے تھے ،حسین نے گھوڑے سے گرکر بھی اسی طرح جنگ فرمائی جس طرح جنگ جوبہادرسوارجنگ کرتے ہیں تیروں کامقابلہ کرتے تھے حملوں کوروکتے تھے اورسواورں کے پیروں پرحملہ کرتے تھے اورکہتے تھے ، اے ظالمو! میرے قتل پرتم نے ایکاکرلیاہے قسم خداکی تم میرے قتل سے ایساگناہ کررہے ہوجس کے بعدکسی کے قتل سے بھی اتنے گنہگارنہ ہوگے تم مجھے ذلیل کررہے ہواورخدمجھے عزت دے رہاہے اورسنووہ دن دورنہیں کہ میراخداتم سے اچانک میرابدلہ لے گا،تمہیں تباہ کردے گا تمہاراخون بہائے گاتمہیں سخت عذاب میں مبتلاکرے گا۔(تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۰) ۔

مسٹرجسٹس کارکرن امام حسین کی بہادری کاذکرکرتے ہوئے واقعہ کربلاکے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”دنیامیں رستم کانام بہادری میں مشہورہے لیکن کئی شخص ایسے گزرے گئے ہیں کہ ان کے سامنے رستم کانام لینے کے قابل نہیں ،چنانچہ اول درجہ میں حسین بن علی ہیں کیونکہ میدان کربلامیں گرم ریت پر اورگرسنگی میں جس شخص نے ایساایساکام کیاہو،اس کے سامنے رستم کانام وہی شخص لیتاہے جوتاریخ سے واقف نہیں ہے کسی کے قلم کوقدرت ہے کہ امام حسین کاحال لکھے کس کی زبان میں طاقت ہے کہ ان بہتربزرگواروں کی ثبات قدمی اورتہودوشجاعت اورہزروں خونخوارسواروں کے جواب دینے اورایک ایک کے ہلاک ہوجانے کے باب میں ایسی مدح کرے جیسی ہونی چاہئے کس کے بس کی بات ہے جوان پرواقع ہونے والے حالات کاتصورکرسکے، لشکرمیں گھرجانے کے بعد سے شہادت تک کے حالات عجیب وغریب قسم کی بہادری کوپیش کرتے ہیں ، یہ سچ ہے کہ ایک کی دوا، دومشہورہے اورمبالغہ کی یہی حدہے کہ جب کسی کے حال میں یہ کہاجاتاہے کہ تم نے چارطرف سے گھیرلیالیکن حسین اوربہترتن کوآٹھ قسم کے دشمنون نے تنگ کیاتھا چارطرف سے یزیدی فوج جوآندھی کی طرح تیربرسارہی تھی ،پانچواں دشمن عرب کی دھوپ ،چھٹادشمن ریگ گرم جوتنورکے ذرات کی مانندلودے رہی تھی ،اورساتواں اورآٹھواں دشمن بھوک اورپیاس جودغاباز ہمراہی کے مانند جان لیواحرکتیں کررہے تھے پس جنہوں نے ایسے معرکہ میں ہزاروں کافروں کامقابلہ کیا ہوان پربہادری کاخاتمہ ہوچکا،ایسے لوگوں سے بہادری میں کوئی فوقیت نہیں رکھتا (تاریخ چین دفتردوم باب ۱۶ جلد ۲) ۔

امام حسین عرش زین سے فرش زمین پر

آپ پرمسلسل وارہوتے رہے تھے کہ ناگاہ ایک پتھرپیشانی اقدس پرلگا اس کے فورابعدابوالحتوف جعفی ملعون نے جبین مبارک پرتیرماراآپ نے اسے نکال کرپھینک دیااورپوچھنے کے لیے آپ اپنادامن اٹھاناہی چاہتے تھے کہ سینہ اقدس پرایک تیرسہ شعبہ پیوست ہوگیا،جوزہرمیں بجھاہواتھا اس کے بعدصالح ابن وہب لعین نے آپ کے پہلوپراپنی پوری طاقت سے ایک نیزہ مارا جس کی تاب نہ لاکرزمین گرم پرداہنے رخسارکے بل گرے، زمین پرگرنے کے بعدآپ پھرکھڑے ہوئے ورعہ ابن شریک لعین نے آپ کے داہنے شانے پرتلوارلگائی اوردوسرے ملعون نے داہنے طرف وارکیا آپ پھرزمین پرگرپڑے ، اتنے میں سنان بن انس نے حضرت کے ”ترقوہ“ ہنسلی پرنیزہ مارااوراس کوکھینچ کر دوسری دفعہ سینہ اقدس پرلگایا، پھراسی نے ایک تیرحضرت کے گلوئے مبارک پرمارا۔

ان پیہم ضربات سے حضرت کمال بے چینی میں اٹھ بیٹھے اورآپ نے تیرکواپنے ہاتھوں سے کھینچا اورخون ریش مبارک پرملا، اس کے بعدمالک بن نسرکندی لعین نے سرپرتلوارلگائی اوردرعہ ابن شریک نے شانہ پرتلوارکاوارکیا،حصین بن نمیرنے دہن اقدس پرتیرمارا،ابویوب غنوی نے حلق پرحملہ کیا نصربن حرشہ نے جسم پرتیرلگائی صالح ابن وہب نے سینہ مبارک پرنیزہ مارا۔

یہ دیکھ کرعمرسعدنے آوازدی اب دیرکیاہے ان کاسرکاٹ لو، سرکاٹنے کے لیے شیث ابن ربیع بڑھا، امام حسین نے اس کے چہرہ پرنظرکی اس نے حسین کی آنکھوں میں رسول اللہ کی تصویردیکھی اورکانپ اٹھا،پھرسنان ابن انس آگے بڑھا اس کے جسم میں رعشہ پڑگیا وہ بھی سرمبارک نہ کاٹ سکا یہ دیکھ کر شمرملعون نے کہا یہ کام صرف مجھ سے ہوسکتاہے اوروہ خنجرلیے ہوئے امام حسین کے قریب آکرسینہ مبارک پرسوارہوگیا آپ نے پوچھاتوکون ہے؟ اس نے کہامیں شمرہوں ،فرمایاتومجھے نہیں پہچانتا ،اس نے کہا،”اچھی طرح جانتاہوں “ تم علی وفاطمہ کے بیٹے اورمحمدکے نواسے ہو، آپ نے فرمایاپھرمجھے کیوں ذبح کرتاہے اس نے جواب دیا اس لیے کہ مجھے یزیدکی طرف سے مال ودولت ملے گا(کشف الغمہ ص ۷۹) ۔ اس کے بعدآپ نے اپنے دوستوں کویادفرمایا اورسلام آخری کے جملے اداکئے۔

جب آپ اس کی شقی القلبی کی وجہ سے مایوس ہوگئے توفرمانے لگے ائے شمرمجھے اجازت دیدے کہ میں اپنے خالق کی آخری نمازعصراداکرلوں اس نے اجازت دی آپ سجدہ میں تشریف لے گئے (روضة الشہداء ص ۳۷۷)﷼

اورشمرنے آپ کے گلومبارک کوخنجرکے بارہ ضربوں سے قطع کرکے سراقدس کونیزہ پربلندکردیاحضرت زینب خیمہ سے نکل پڑیں ،زمین کانپنے لگی، عالم میں تاریکی چھاگئی ،لوگوں کے بدن میں کپکپی پڑگئی،آسمان خون کے آنسورونے لگا جوشفق کی صورت سے رہتی دنیاتک قائم رہے گا(صواعق محرقہ ص ۱۱۶) ۔

اس کے بعدعمرسعدنے خولی بن یزیداورحمیدبن مسلم کے ہاتھوں سرمبارک کربلاسے کوفہ ابن زیادکے پاس بھیج دیا (الحسین ازعمربن نصرص ۱۵۴) امام حسین کی سربریدگی کے بعدآپ کالباس لوٹاگیا،اخنس بن مرتدعمامہ لے گیا اسحاق ابن حشوہ قمیص،پیراہن لے گیا ،ابحربن کعب پائجامہ لے گیا اسودبن خالدنعلین لے گیاعبداللہ ابن اسیدکلاہ لے گیا،بجدل بن سلیم انگشتری لے گیا قیس بن اشعث پٹکالے گیا عمربن سعدزرہ لے گیا جمیع بن خلق ازدی تلوارلے گیا اللہ رے ظلم ایک کمربندکے لیے جمال معلون نے ہاتھ قطع کردیا ایک انگوٹھی کے لیے بجدل نے انگلی کاٹ ڈالی۔

اس کے بعددیگرشہداء کے سرکاٹے گئے اورلاشوں پرگھوڑوے دوڑانے کے لیے عمرسعدنے لشکریوں کوحکم دیادس افراداس اہم جرم خدائی کے لیے تیارہوگئے جن کے نام یہ ہیں کہ اسحاق بن حویہ، اطنس بن مرثد، حکیم بن طفیل،عمروبن صبیح ،رجابن منقذ،سالم بن خثیمہ صالح بن وہب، واعظ بن تاغم ،ہانی مثبت،اسید بن مالک ،تورایخ میں ہے کہ ”فداسواالحسین بحوافرخیولهم حتی رضواظهره وصدره “ امام حسین کی لاش کواس طرح گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیاکہ آپ کاسینہ اورآپ کی پشت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی بعض مورخین کاکہناہے کہ جب ان لوگوں نے چاہاکہ جسم کواس طرح پامال کردیں کہ بالکل ناپیدہوجائے توجنگل سے ایک شیرنکلااوراس نے بچالیا (دمعة ساکبة ص ۳۵۰) علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے فورابعدوہ مٹی جورسول خدامدینہ میں ام سلمہ کودے گئے تھے خون ہوگئی (صواعق محرقہ ۱۱۵) اوررسول خدا،ام سلمہ کے خواب میں مدینے پہنچے ان کی حالت یہ تھی وہ بال بکھرائے ہوئے خاک سرپرڈالے ہوئے تھے ام سلمہ نے پوچھاکہ آپ کایہ کیاحال ہے؟ فرمایا”شہدت قتل الحسین انفا“ میں ابھی ابھی حسین کے قتل گاہ میں تھا اوراپنی آنکھوں سے اسے ذبح ہوتے ہوئے دیکھاہے (صحیح ترمذی جلد ۲ ص ۳۰۶ ،مستدرک حاکم جلد ۴ ص ۱۹ ،تہذیب التہذیب جلد ۲ ص ۳۵۶ ،ذخائرالعقبی ص ۱۴۸) ۔


حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

آپ کی ولادت باسعادت

آپ بتاریخ ۱۵/ جمادی الثانی ۳۸ ہ یوم جمعہ بقولے ۱۵/ جمادی الاول ۳۸ ہ یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورہ پیداہوئے (اعلام الوری ص ۱۵۱ ومناقب جلد ۴ ص ۱۳۱) ۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانوایران سے مدینہ کے لیے روانہ ہورہی تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان کاعقدحضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھ دیاتھا (جلاء العیون ص ۲۵۶) ۔ اورجب آپ واردمدینہ ہوئیں توحضرت علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے سپردکرکے فرمایاکہ یہ وہ عصمت پروربی بی ہے کہ جس کے بطن سے تمہارے بعدافضل اوصیاء اورافضل کائنات ہونے والابچہ پیداہوگا چنانچہ حضرت امام زین العابدین متولدہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کالطف اٹھانہ سکے ”ماتت فی نفاسہابہ“ آپ کے پیداہوتے ہی ”مدت نفاس“ میں جناب شہربانوکی وفات ہوگئی (قمقام جلاء العیون)۔عیون اخباررضا دمعة ساکبة جلد ۱ ص ۴۲۶) ۔

کامل مبردمیں ہے کہ جناب شہربانو،بادشاہ ایران یزدجردبن شہریاربن شیرویہ ابن پرویزبن ہرمزبن نوشیرواں عادل ”کسری“ کی بیٹی تھیں (ارشادمفیدص ۳۹۱ ،فصل الخطاب) علامہ طریحی تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت علی نے شہربانوسے پوچھاکہ تمہارانام کیاہے توانہوں نے کہا”شاہ جہاں “ حضرت نے فرمایانہیں اب ”شہربانوہے (مجمع البحرین ص ۵۷۰)

نام،کنیت ،القاب

آپ کااسم گرامی ”علی“ کنیت ابومحمد۔ ابوالحسن اورابوالقاسم تھی، آپ کے القاب بیشمارتھے جن میں زین العابدین ،سیدالساجدین، ذوالثفنات، اورسجادوعابد زیادہ مشہورہیں (مطالب السؤل ص ۲۶۱ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۶ ،نورالابصار ص ۱۲۶ ،الفرع النامی نواب صدیق حسن ص ۱۵۸) ۔

لقب زین العابدین کی توجیہ

علامہ شبلنجی کابیان ہے کہ امام مالک کاکہناہے کہ آپ کوزین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہاجاتاہے (نورالابصار ص ۱۲۶) ۔

علماء فریقین کاارشادہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک شب نمازتہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آگیا اوراس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کومنہ میں لے کاٹناشروع کیا، امام جوہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کارجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، وہ ذرابھی اس کے اس عمل سے متاثرنہ ہوئے اوربدستورنمازمیں منہمک ومصروف ومشغول رہے بالآخروہ عاجزآگیا اورامام نے اپنی نمازبھی تمام کرلی اس کے بعدآپ نے اس شیطان ملعون کوطمانچہ مارکردورہٹادیا اس وقت ہاتف غیبی نے انت زین العابدین کی تین بارصدادی اورکہابے شک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپ کایہ لقب ہوگیا(مطالب السؤل ص ۲۶۲ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۷) ۔

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اژدھے کے دس سرتھے اوراس کے دانت بہت تیزاوراس کی آنکھیں سرخ تھیں اوروہ مصلی کے قریب سے زمین پھاڑکے نکلاتھا (مناقب جلد ۴ ص ۱۰۸) ایک روایت میں اس کی وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قیامت میں آپ کواسی نام سے پکاراجائے گا (دمعة ساکبة ص ۴۲۶) ۔

لقب سجادکی توجیہ

ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمدباقرعلیہ السلام لکھاہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کوسجاد اس لیے کہاجاتاہے کہ آپ تقریبا ہرکارخیرپرسجدہ فرمایاکرتے تھے جب آپ خداکی کسی نعمت کاذکرکرتے توسجدہ کرتے جب کلام خداکی آیت ”سجدہ“ پڑھتے توسجدہ کرتے جب دوشخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کانتیجہ تھاکہ آپ کے مواضع سجودپراونٹ کے گھٹوں کی گھٹے پڑجاتے تھے پھرانہیں کٹواناپڑتاتھا۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی نسبی بلندی

نسب اورنسل باپ اورماں کی طرف سے دیکھے جاتے ہیں ، امام علیہ السلام کے والدماجد حضرت امام حسین اورداداحضرت علی اوردادی حضرت فاطمہ زہرا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اورآپ کی والدہ جناب شہربانوبنت یزدجردابن شہریارابن کسری ہیں ،یعنی آپ حضرت پیغمبراسلام علیہ السلام کے پوتے اورنوشیرواں عادل کے نواسے ہیں ،یہ وہ بادشاہ ہے جس کے عہدمیں پیداہونے پرسرورکائنات نے اظہارمسرت فرمایاہے ،اس سلسلہ نسب کے متعلق ابوالاسود دوئلی نے اپنے اشعارمیں اس کی وضاحت کی ہے کہ اس سے بہتر اورسلسلہ ناممکن ہے اس کاایک شعریہ ہے۔

وان غلاما بین کسری وهاشم

لاکرم من ینطت علیه التمائم

اس فرزندسے بلندنسب کوئی اورنہیں ہوسکتا جونوشیرواں عادل اورفخرکائنات حضرت محمدمصطفی کے داداہاشم کی نسل سے ہو(اصول کافی ص ۲۵۵) ۔

شیخ سلیمان قندوزی اوردیگرعلماء اہل اسلام لکھتے ہیں کہ نوشیرواں کے عدل کی برکت تودیکھوکہ اسی کی نسل کوآل محمدکے نورکی حامل قراردیا اورآئمہ طاہرین کی ایک عظیم فردکواس لڑکی سے پیداکیا جونوشیرواں کی طرف منسوب ہے ،پھرتحریرکرتے ہیں کہ امام حسین کی تمام بیویوں میں یہ شرف صرف جناب شہربانوکونصیب ہوجوحضرت امام زین العابدین کی والدہ ماجدہ ہیں (ینابیع المودة ص ۳۱۵ ،وفصل الخطاب ص ۲۶۱) ۔

علامہ عبیداللہ بحوالہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ جناب شہربانوشاہان فارس کے آخری بادشاہ یزدجردکی بیٹی تھیں اورآپ ہی سے امام زین العابدین متولدہوئے ہیں جن کو”ابن الخیرتین“ کہاجاتاہے کیونکہ حضرت محمدمصطفی فرمایاکرتے تھے کہ خداوندعالم نے اپنے بندوں میں سے دوگروہ عرب اورعجم کوبہترین قراردیاہے اورمیں نے عرب سے قریش اورعجم سے فارس کومنتخب کرلیاہے ،چونکہ عرب اورعجم کااجتماع امام زین العابدین میں ہے اسی لیے آپ کو”ابن الخیرتین“ سے یادکیاجاتاہے (ارجح المطالب ص ۴۳۴) ۔ علاہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ جناب شہربانوکو ”سیدةالنساء “ کہاجاتاہے (مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱) ۔

امام زین العابدین کے بچپن کاایک واقعہ

علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ ایک دن امام زین العابدین جب کہ آپ کابچپن تھا بیمارہوئے حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا”بیٹا“ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے اورتم کوئی چیزچاہتے ہوتوبیان کروتاکہ میں تمہاری خواہش کے مطابق اسے فراہم کرنے کی سعی کروں آپ نے عرض کیا باباجان اب خداکے فضل سے اچھاہوں میری خواہش صرف یہ ہے کہ خداوندعالم میراشماران لوگوں میں کرے جوپروردگارعالم کے قضاوقدرکے خلاف کوئی خواہش نہیں رکھتے ،یہ سن کرامام حسین علیہ السلام خوس ومسرورہوگئے اورفرمانے لگے بیٹا،تم نے بڑامسرت افزا اورمعرفت خیزجواب دیاہے تمہاراجواب بالکل حضرت ابراہیم کے جواب سے ملتاجلتاہے ،حضرت ابراہیم کوجب منجیق میں رکھ کر آگی طرف پھینکا گیاتھا اورآپ فضامیں ہوتے ہوئے آگ کی طرف جارہے تھے توحضرت جبرئیل نے آپ سے پوچھا”ہل لک حاجة“ آپ کی کوئی حاجت وخواہش ہے اس وقت انہوں نے جواب دیاتھا ”نعم اماالیک فلا “ بیشک مجھے حاجت ہے لیکن تم سے نہیں اپنے پالنے والے سے ہے (بحارالانوار جلد ۱۱ ص ۲۱ طبع ایران)۔

آپ کے عہدحیات کے بادشاہان وقت

آپ کی ولادت بادشاہ دین وایمان حضرت علی علیہ السلام کے عہدعصمت مہدمیں ہوئی پھرامام حسن علیہ السلام کازمانہ رہاپھربنی امیہ کی خالص دنیاوی حکومت ہوگئی، صلح امام حسن کے بعدسے ۶۰ ہ تک معاویہ بن ابی سفیان بادشاہ رہا، اس کے بعداس کافاسق وفاجربیٹا یزید ۶۴ ہ تک حکمران رہا ۶۴ ہ میں معاویہ بن یزیدابن معاویہ اورمروان بن حکم حاکم رہے ۶۵ ہ سے ۸۶ ہ تک عبدالملک بن مروان حاکم اوربادشاہ رہا پھر ۸۶ ہ سے ۹۶ ہ تک ولیدبن عبدالملک نے حکمرانی کی اوراسی نے ۹۵ ہء میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کوزہردغاسے شہیدکردیا (تاریخ آئمہ ۳۹۲ ،وصواعق محرقہ ص ۱۲ ،نورالابصار ص ۱۲۸) ۔

امام زین العابدین کاعہدطفولیت اورحج بیت اللہ

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ ابراہیم بن اوہم کابیان ہے کہ میں ایک مرتبہ حج کے لیے جاتاہواقضائے حاجت کی خاطرقافلہ سے پیچھے رہ گیاابھی تھوڑی ہی دیرگزری تھی کہ میں نے ایک نوعمرلڑکے کواس جنگل میں سفرپیمادیکھا اسے دیکھ کرپھرایسی حالت میں کہ وہ پیدل چل رہاتھا اوراس کے ساتھ کوئی سامان نہ تھا اورنہ اس کاکوئی ساتھی تھا،میں حیران ہوگیافورا اس کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پردازہوا ”صاحبزادے“ یہ لق ودق صحرا اورتم بالکل تنہا، یہ معاملہ کیاہے، ذرا مجھے بتاؤتوسہی کہ تمہارازادراہ اورتمہاراراحلہ کہاں ہے اورتم کہاں جارہے ہو؟ اس نوخیزنے جواب دیا ”زادی تقوی وراحلتی رجلاء وقصدی مولای“ میرا زادراہ تقوی اورپرہیزگاری ہے اورمیری سواری میرے دونوں پیرہیں اورمیرامقصد میراپالنے والاہے اورمیں حج کے لے جارہاہوں ،میں نے کہاکہ آپ توبالکل کمسن ہیں حج توابھی آپ پرواجب نہیں ہے اس نوخیزنے جواب دیابے شک تمہاراکہنادرست ہے لیکن اے شیخ میں دیکھاکرتاہوں کہ مجھ سے چھوٹے بچے بھی مرجاتے ہیں اس لیے حج کوضروری سمجھتاہوں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ اس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے مرجاؤں میں نے پوچھااے صاحبزادے تم نے کھانے کاکیاانتظام کیاہے ،میں دیکھ رہاہوں کہ تمہارے ساتھ کھانے کابھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے، اس نے جواب دیااے شیخ کیاجب تم نے کسی کے یہاں مہمان جاتے ہوتوکھانااپنے ہمراہ لے جاتے ہو؟ میں نے کہانہیں پھراس نے فرمایا سنومیں توخداکامہمان ہوکرجارہاہوں کھانے کاانتظام اس کے ذمہ ہے میں نے کہااتنے لمبے سفرکوپیدل کیوں کرطے کروگے اس نے جواب دیاکہ میراکام کوشش کرناہے اورخداکاکام منزل مقصودپہنچاناہے ۔

ہم ابھی باہمی گفتگوہی میں مصروف تھے کہ ناگاہ ایک خوبصورت جوان سفیدلباس پہنے ہوئے آپہنچا اوراس نے اس نوخیزکوگلے سے لگالیا،یہ دیکھ کر میں نے اس جوان رعناسے دریافت کیاکہ یہ نوعمرفرزندکون ہے؟ اس نوجوان نے کہاکہ یہ حضرت امام زین العابدین بن امام حسین بن علی بن ابی طالب ہیں ، یہ سن کر میں اس جوان رعناکے پاس سے امام کی خدمت میں حاضرہوا اورمعذرت خواہی کے بعدان سے پوچھاکہ یہ خوبصورت جوان جنہوں نے آپ کوگلے سے لگایا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایاکہ یہ حضرت خضرنبی ہیں ان کافرض ہے کہ روزانہ ہماری زیارت کے لیے آیاکریں اس کے بعدمیں نے پھرسوال کیااورکہا کہ آخرآپ اس طویل اورعظیم سفرکوبلازاداورراحلہ کیونکہ طے کریں گے توآپ نے فرمایاکہ میں زادارراحلہ سب کچھ رکھتاہوں اوروہ یہ چارچیزیں ہیں :

۱ ۔ دنیااپنی تمام موجودات سمیت خداکی مملکت ہے۔

۲ ۔ ساری مخلوق اللہ کے بندے اورغلام ہیں ۔ ۳ ۔ اسباب اورارزاق خداکے ہاتھ میں ہے_

۴ ۔ قضائے خداہرزمین میں نافذہے ۔

یہ سن کرمیں نے کہاخداکی قسم آپ ہی کازادوراحلہ صحیح طورپرمقدس ہستیوں کاسامان سفر ہے (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۴۳۷) علماء کابیان ہے کہ آپ نے ساری عمرمیں ۲۵ حج پاپیادہ کئے ہیں آپ نے سواری پرجب بھی سفرکیاہے اپنے جانورکوایک کوڑابھی نہیں مارا

آپ کاحلیہ مبارک

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کارنگ گندم گوں (سانولا) اورقدمیانہ تھا آپ نحیف اورلاغرقسم کے انسان تھے (نورالابصار ص ۱۲۶ ، اخبارالاول ص ۱۰۹) ۔

ملامبین تحریرفرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال ،صورت وکمال میں نہایت ہی ممتازتھے، آپ کے چہرہ مبارک پرجب کسی کی نظرپڑتی تھی تووہ آپ کااحترام کرنے اورآپ کی تعظیم کرنے پرمجبورہوجاتاتھا(وسیلة النجات ص ۲۱۹) محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تونہایت خشوع کے ساتھ راہ روی میں آپ کے ہاتھ زانوسے باہرنہیں جاتے تھے (مطالب السؤل ص ۲۲۶،۲۶۴) ۔

حضرت امام زین العابدین کی شان عبادت

جس طرح آپ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوارہے ایک وہ ہستی جس کامطمع نظرمعبودکی عبادت اورخالق کی معرفت میں استغراق کامل ہواورجواپنی حیات کامقصداطاعت خداوندی ہی کوسمجھتاہواورعلم ومعرفت میں حددرجہ کمال رکھتاہو اس کی شان عبادت کی سطح قرطاس پرکیونکر لایاجاسکتاہے اورزبان قلم میں کس طرح کامیابی حاصل کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ علماء کی بے انتہاکاہش وکاوش کے باوجود آپ کی شان عبادت کامظاہرہ نہیں ہوسکا ”قدبلغ من العبادة مالم یبلغہ احد“ آپ عبادت کی اس منزل پرفائزتھے جس پرکوئی بھی فائزنہیں ہوا (دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹) ۔

اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جوکچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں :

آپ کی حالت وضو کے وقت

وضونمازکے لیے مقدمہ کی حیثیت رکھتاہے ،اوراسی پرنمازکادارومدارہوتاہے ، امام زین العابدین علیہ السلام جس وقت مقدمہ نمازیعنی وضوکا ارادہ فرماتے تھے آپ کے رگ وپے میں خوف خداکے اثرات نمایاں ہوجاتے تھے ،علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضوکا قصد فرماتے تھے اوروضوکے لیے بیٹھتے تھے توآپ کے چہرہ مبارک کارنگ زردہوجایاکرتاتھا یہ حالت بارباردیکھنے کے بعدان کے گھروالوں نے پوچھا کہ بوقت وضوآپ کے چہرہ کارنگ زردکیوں پڑجایاکرتاہے توآپ نے فرمایاکہ اس وقت میراتصورکامل اپنے خالق ومعبودکی طرف ہوتاہے اس لیے اس کی جلالت کے رعب سے میرایہ حال ہوجایاکرتاہے (مطالب السؤل ص ۲۶۲) ۔

عالم نمازمیں آپ کی حالت

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کوعبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا رات بھرجاگنے کی وجہ سے آپ کاسارابدن زردرہاکرتاتھا اورخوف خدامیں روتے روتے آپ کی آنکھیں پھول جایاکرتی تھیں اورنمازمیں کھڑکھڑے آپ کے پاؤں سوج جایاکرتے تھے (اعلام الوری ص ۱۵۳) اورپیشانی پرگھٹے رہاکرتے تھے اورآپ کی ناک کاسرازخمی رہاکرتاتھا (دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹) علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ نمازکے لے مصلی پرکھڑے ہواکرتے تھے تولرزہ براندام ہوجایاکرتے تھے لوگوں نے بدن میں کپکپی اورجسم میں تھرتھری کاسبب پوچھاتوارشادفرمایا کہ میں اس وقت خداکی بارگاہ میں ہوتاہوں اوراس کی جلالت مجھے ازخود رفتہ کردیتی ہے اورمجھ پرایسی حالت طاری کردیتی ہے (مطالب السؤل ص ۲۲۶) ۔ ایک مرتبہ آپ کے گھرمیں آگ لگ گئی اورآپ نمازمیں مشغول تھے اہل محلہ اورگھروالوں نے بے حدشورمچایا اورحضرت کوپکارا حضورآگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سرنیازسجدئہ بے نیازسے نہ اٹھایا، آگ بجھادی گئی اختتام نمازپرلوگوں نے آپ سے پوچھاکہ حضورآگ کامعاملہ تھا ہم نے اتناشورمچایا لیکن آپ نے کوئی توجہ نہ فرمائی۔

آپ نے ارشادفرمایا ”ہاں “ مگرجہنم کی آگ کے ڈرسے نمازتوڑکراس آگ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا (شواہدالنبوت ص ۱۷۷) ۔

علامہ شیخ صبان مالکی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضوکے لیے بیٹھتے تھے تب ہی سے کانپنے لگتے تھے اورجب تیزہواچلتی تھی توآپ خوف خداسے لاغرہوجانے کی وجہ سے گرکربے ہوش ہوجایاکرتے تھے (اسعاف الراغبین برحاشیہ نورالابصار ۲۰۰) ۔

ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت زین العابدین علیہ السلام نمازشب سفروحضردونوں میں پڑھاکرتے تھے اورکبھی اسے قضانہیں ہونے دیتے تھے (مطالب السؤل ص ۲۶۳) ۔

علامہ محمدباقربحوالہ بحارالانوارتحریرفرماتے ہیں کہ امام علیہ السلام ایک دن نمازمیں مصروف ومشغول تھے کہ امام محمدباقرعلیہ السلام کنوئیں میں گرپڑے بچہ کے گہرے کنویں میں گرنے سے ان کی ماں بے چین ہوکر رونے لگیں اورکنویں کے گردپیٹ پیٹ کرچکرلگانے لگیں اورکہنے لگیں ،ابن رسول اللہ محمدباقرغرق ہوگئے امام زین العابدین نے بچے کے کنویں میں گرنے کی کوئی پرواہ نہ کی اوراطمینان سے نمازتمام فرمائی اس کے بعدآپ کنویں کے قریب آئے اوراگرپانی کی طرف دیکھا پھرہاتھ بڑھاکر بلارسی کے گہرے کنوئیں سے بچے کوونکال لیا بچہ ہنستاہوابرآمدہوا، قدرت خداوندی دیکھیے اس وقت بہ بچے کے کپڑے بھیگے تھے اورنہ بدن ترتھا(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۰ ،مناقب جلد ۴ ص ۱۰۹) ۔

امام شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ طاؤس راوی کابیان ہے کہ میں نے ایک شب حجراسودکے قریب جاکردیکھاکہ امام زین العابدین بارگاہ خالق میں سجدہ ریزی کر رہے ہیں ،میں اسی جگہ کھڑاہوگیا میں نے دیکھاکہ آپ نے ایک سجدہ کوبے حدطول دیدیاہے یہ دیکھ کر میں نے کان لگایا توسنا کہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں ”عبدک بفنائک مسکینک بفنائک سائلک بفنائک فقیرک بفنائک “ یہ سن کرمیں نے بھی انہیں کلمات کے ذریعہ سے دعامانگی فوراقبول ہوئی (نورالابصار ص ۱۲۶ طبع مصر،ارشادمفیدص ۲۹۶) ۔

امام زین العابدین کی شبانہ روزایک ہزاررکعتیں

علماء کابیان ہے کہ آپ شب وروزمیں ایک ہزاررکعتیں ادافرمایاکرتے تھے (صواعق محرقہ ص ۱۱۹ ،مطالب السؤل ۲۶۷) ۔

چونکہ آپ کے سجدوں کاکوئی شمارنہ تھا اسی لیے آپ کے اعضائے سجود”ثغنہ بعیر“ کے گھٹے کی طرح ہوجایاکرتے تھے اورسال میں کئی مرتبہ کاٹے جاتے تھے (الفرع النامی ص ۱۵۸ ،دمعہ ساکبہ کشف الغمہ ص ۹۰) ۔

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپ کے مقامات سجودکے گھٹے سال میں دوبارکاٹے جاتے تھے اورہرمرتبہ پانچ تہ نکلتی تھی (بحارالانوارجلد ۲ ص ۳) علامہ دمیری مورخ ابن عساکرکے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ دمشق میں حضرت امام زین العابدین کے نام سے موسوم ایک مسجدہے جسے”جامع دمشق“کہتے ہیں (حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۱۲۱) ۔

امام زین العابدین علیہ السلام منصب امامت پرفائزہونے سے پہلے

اگرچہ ہماراعقیدہ ہے کہ امام بطن مادرسے امامت کی تمام صلاحیتیوں سے بھرپوراآتاہے تاہم فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری اسی وقت ہوتی ہے جب وہ امام زمانہ کی حیثیت سے کام شروع کرے یعنی ایساوقت آجائے جب کائنات ارضی پرکوئی بھی اس سے افضل واعلم برترواکمل نہ ہو، امام زین العابدین اگرچہ وقت ولادت ہی سے امام تھے لیکن فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری آپ پراس وقت عائد ہوئی جب آپ کے والدماجد حضرت امام حسین علیہ السلام درجہ شہادت پرفائزہوکرحیات ظاہری سے محروم ہوگئے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت ۳۸ ہء میں ہوئی جبکہ حضرت علی علیہ السلام امام زمانہ تھے دوسال ان کی ظاہری زندگی میں آپ نے حالت طفولیت میں ایام حیات گزارے پھر ۵۰ ہء تک امام حسین علیہ السلام کازمانہ رہاپھرعاشورا، ۶ ۱ ہ تک امام حسین علیہ السلام فرائض امامت کی انجام دہی فرماتے رہے عاشورکی دوپہرکے بعدسے ساری ذمہ داری آپ پرعائدہوگئی اس عظیم ذمہ داری سے قبل کے واقعات کاپتہ صراحت کے ساتھ نہیں ملتا،البتہ آپ کی عبادت گزاری اورآپ کے اخلاقی کارنامے بعض کتابوں میں ملتے ہیں بہرصورت حضرت علی علیہ السلام کے آخری ایام حیات کے واقعات اورامام حسن علیہ السلام کے حالات سے متاثرہوناایک لازمی امرہے پھرامام حسین علیہ السلام کے ساتھ تو ۲۳ ۔ ۲۲ سال گزارے تھے یقینا امام حسین علیہ السلام کے جملہ معاملات میں آپ نے بڑے بیٹے کی حیثیت سے ساتھ دیاہی ہوگا لیکن مقصدحسین کے فروغ دینے میں آپ نے اپنے عہدامامت کے آغازہونے پرانتہائی کمال کردیا۔

واقعہ کربلاکے سلسلہ میں امام زین العابدین کاشاندارکردار

۲۸/ رجب ۶۰ ہ کوآپ حضرت امام حسین کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہوکرمکہ معظمہ پہنچے چارماہ قیام کے بعدوہاں سے روانہ ہوکر ۲/ محرم الحرام کوواردکربلاہوئے، وہاں پہنچتے ہی یاپہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اورآپ کی علالت نے اتنی شدت اختیارکی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک اس قابل نہ ہوسکے کہ میدان میں جاکردرجہ شہادت حاصل کرتے، تاہم فراہم موقع پرآپ نے جذبات نصرت کوبروئے کارلانے کی سعی کی جب کوئی آوازاستغاثہ کان کان میں آئی آپ اٹھ بیٹھے اورمیدان کارزارمیں شدت مرض کے باوجودجاپہنچنے کی سعی بلیغ کی، امام کے استغاثہ پرتوآپ خیمہ سے بھی نکل آئے اورایک چوب خیمہ لے کر میدان کاعزم کردیا،ناگاہ امام حسین کی نظرآپ پرپڑگئی اورانہوں نے جنگاہ سے بقولے حضرت زینب کوآوازدی ”بہن سیدسجادکوروکو ورنہ نسل رسول کاخاتمہ ہوجائے گا“ حکم امام سے زینب نے سیدسجادکومیدان میں جانے سے روک لیایہی وجہ ہے کہ سیدوں کاوجودنظر آرہاہے اگرامام زین العابدین علیل ہوکر شہیدہونے سے نہ بچ جاتے تونسل رسول صرف امام محمدباقرمیں محدودرہ جاتی ،امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ مرض اورعلالت کی وجہ سے آب درجہ شہادت پرفائزنہ ہوسکے (نورالابصار ص ۱۲۶) ۔

شہادت امام حسین کے بعدجب خیموں میں آگ لگائی گئی توآپ انہیں خیموں میں سے ایک خیمہ میں بدستورپڑے ہوئے تھے ،ہماری ہزارجانیں قربان ہوجائیں ،حضرت زینب پرکہ انہوں نے اہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سب سے پہلافریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کاادافرمایا اورامام کوبچالیاالغرض رات گزاری اورصبح نمودارہوئی، دشمنوں نے امام زین العابدین کواس طرح جھنجوڑا کہ آپ اپنی بیماری بھول گیے آپ سے کہاگیاکہ ناقوں پرسب کوسوارکرواورابن زیادکے دربارمیں چلو،سب کوسوارکرنے کے بعدآل محمد کاساربان پھوپھیوں ،بہنوں اورتمام مخدرات کولئے ہوئے داخل دربار ہوا حالت یہ تھی کہ عورتیں اوربچے رسیوں میں بندھے ہوئے اورامام لوہے میں جکڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے آپ چونکہ ناقہ کی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سکتے تھے اس لیے آپ کے پیروں کوناقہ کی پشت سے باندھ دیاگیاتھا دربارکوفہ میں داخل ہونے کے بعدآپ اورمخدرات عصمت قیدخانہ میں بندکردئیے گئے ،سات روزکے بعدآپ سب کولیے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور ۱۹ منزلیں طے کرکے تقریبا ۳۶/ یوم میں وہاں پہنچے کامل بھائی میں ہے کہ ۱۶/ ربیع الاول ۶۱ ہء کوبدھ کے دن آپ دمشق پہنچے ہیں اللہ رے صبرامام زین العابدین بہنوں اورپھوپھیوں کاساتھ اورلب شکوہ پرسکوت کی مہر ۔

حدودشام کاایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑی، پیروں میں بیڑی اورگلے میں خاردارطوق آہنی پڑاہواتھا اس پرمستزادیہ کولوگ آپ برسارہے تھے اسی لیے آپ نے بعدواقعہ کربلاایک سوال کے جواب میں ”الشام الشام الشام“ فرمایاتھا(تحفہ حسینہ علامہ بسطامی)۔

شام پہنچنے کے کئی گھنٹوں یادنوں کے بعدآپ آل محمدکولیے ہئوے سرہائے شہدا سمیت داخل دربارہوئے پھرقیدخانہ میں بندکردئیے گئے تقریباایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں ۔

قیدخانہ بھی ایساتھاکہ جس میں تمازت آفتابی کی وجہ سے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیرہوگئی تھیں (لہوف) مدت قیدکے بعدآپ سب کولیے ہوئے ۲۰/ صفر ۶۲ ہء کوواردہوئے آپ کے ہمراہ سرحسین بھی کردیاگیاتھا ،آپ نے اسے اپنے پدربزرگوارکے جسم مبارک سے ملحق کیا(ناسخ تواریخ)۔

۸/ ربیع الاول ۶۲ ہ کوآپ امام حسین کالٹاہواقافلہ ہوئے مدینہ منورہ پہنچے ،وہاں کے لوگوں نے آہ وزاری اورکمال رنج وغم سے آپ کااستقبال کیا۔ ۱۵ شبانہ وروز نوحہ وماتم ہوتارہا (تفصیلی واقعات کے لیے کتب مقاتل وسیرملاحظہ کی جائیں ۔

اس عظیم واقعہ کااثریہ ہواکہ زینب کے بال اس طرح سفیدہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سکے (احسن القصص ص ۱۸۲ طبع نجف) رباب نے سایہ میں بیٹھناچھوڑدیا امام زین العابدین تاحیات گریہ فرماتے رہے (جلاء العیون ص ۲۵۶) اہل مدینہ یزیدکی بیعت سے علیحدہ ہوکرباغی ہوگئے بالآخرواقعہ حرہ کی نوبت آگئی۔

واقعہ کربلااورحضرت امام زین العابدین کے خطبات

معرکہ کربلاکی غم آگیں داستاں تاریخ اسلام ہی نہیں تاریخ عالم کاافسوسناک سانحہ ہے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اول سے اخرتک اس ہوش ربا اورروح فرساواقعہ میں اپنے باپ کے ساتھ رہے اورباپ کی شہادت کے بعدخوداس المیہ کے ہیروبنے اورپھرجب تک زندہ رہے اس سانحہ کاماتم کرتے رہے ۔

۱۰/ محرم ۶۱ ہء کاواقعہ یہ اندوہناک حادثہ جس میں ۱۸/ بنی ہاشم اوربہتراصحاب وانصارکام آئے حضرت امام زین العابدین کی مدت العمرگھلاتارہا اورمرتے دم تک اس کی یادفراموش نہ ہوئی اوراس کاصدمہ جانکاہ دورنہ ہوا، آپ یوں تواس واقعہ کے بعدتقریبا چالیس سال زندہ رہے مگر لطف زندگی سے محروم ہرے اورکسی نے آپ کوبشاش اورفرحناک نہ دیکھا،اس جانکاہ واقعہ کربلاکے سلسلہ میں آپ نے جوجابجاخطبات ارشادفرمائے ہیں ان کاترجمہ درج ذیل ہے۔

کوفہ میں آپ کاخطبہ

کتاب لہوف ص ۶۸ میں ہے کہ کوفہ پہنچنے کے بعدامام زین العابدین نے لوگوں کوخاموش رہنے کااشارہ کیا،سب خاموش ہوگئے، آپ کھڑے ہوئے خداکی حمدوثناء کی ،حضرت نبی کاذکرکیا، ان پرصلوات بھیجی پھرارشادفرمایاائے لوگو! جومجھے جانتاہے وہ توپہچانتاہی ہے جونہیں جانتا اسے میں بتاتاہوں میں علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ہوں ،میں اس کافرزندہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کاسامان لوٹاگیاجس کے اہل وعیال قیدکردئیے گئے میں اس کافرزندہوں جوساحل فرات پرذبح کردیاگیا،اوربغیرکفن ودفن چھوڑدیاگیااور(شہادت حسین)ہمارے فخرکے لیے کافی ہے اے لوگو! تمہارابراہوکہ تم نے اپنے لیے ہلاکت کاسامان مہیاکرلیا، تمہاری رائیں کس قدربری ہیں تم کن آنکھوں سے رسول صلعم کودیکھوگے جب رسول صلعم تم سے بازپرس کریں گے کہ تم لوگوں نے میری عترت کوقتل کیااورمیرے اہل حرم کوذلیل کیا ”اس لیے تم میری امت میں نہیں “۔

مسجددمشق (شام) میں آپ کاخطبہ

مقتل ابی مخنف ص ۱۳۵ ،بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۲۳۳ ،ریاض القدس جلد ۲ ص ۳۲۸ ، اورروضة الاحباب وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اہل حرم سمیت درباریزیدمیں داخل کئے گئے اور ان کومنبرپرجانے کاموقع ملاتوآپ منبرپرتشریف لے گئے اورانبیاء کی طرح شیریں زبان میں نہایت فصاحت وبلاغت کے ساتھ خطبہ ارشادفرمایا :

ائے لوگو! تم سے جومجھے پہچانتاہے وہ توپہچانتاہی ہے، اورجونہیں پہچانتامیں اسے بتاتاہوں کہ میں کون ہوں ؟ سنو، میں علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ہوں ، میں اس کافرزندہوں جس نے حج کئے ہیں اس کافر زندہوں جس نے طواف کعبہ کیاہے اورسعی کی ہے ، میں پسرزمزم وصفاہوں ، میں فرزندفاطمہ زہراہوں ، میں اسکافرزند جس پس گردن سے ذبح کیاگیا،میں اس پیاسے کافرزند ہوں جوپیاساہی دنیاسے اٹھا،میں اس کافرزندہوں جس پرلوگوں نے پانی بندکردیا، حالانکہ تمام مخلوقات پرپانی کوجائزقراردیا،میں محمدمصطفی صلعم کافرزندہوں ، میں اس کافرزندہوں جوکربلامیں شہیدکیاگیا،میں اس کافرزندہوں جس کے انصارزمین میں آرام کی نیندسوگئے میں اسکا پسرہوں جس کے اہل حرم قیدکردئے گئے میں اس کافرزندہوں جس کے بچے بغیرجرم وخطاذبح کرڈالے گئے ، میں اس کابیٹاہوں جس کے خیموں میں آگ لگادی گئی، میں اس کافرزندہوں جس کاسرنوک نیزہ پربلندکیاگیا، میں اس کافرزندہوں جس کے اہل حرم کی کربلامیں بے حرمتی کی گئی، میں اس کافرزندہوں جس کاجسم کربلاکی زمین پرچھوڑدیاگیااورسردوسرے مقامات پرنوک نیزہ پربلندکرکے پھرایاگیا میں اس کافرزندہوں جس کے اردگردسوائے دشمن کے کوئی اورنہ تھا،میں اس کافرزندہوں جس کے اہل حرم کوقیدکرکے شام تک پھرایاگیا، میں اس کافرزندہوں جوبے یارومددگارتھا۔

پھرامام علیہ السلام نے فرمایا لوگو! خدانے ہم کوپانچ فضیلت بخشی ہیں :

۱ ۔ خدا کی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں کی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت ورسالت ہیں ۔

۲ ۔ ہماری شان میں قرآن کی آیتیں نازل کیں ، اورہم نے لوگوں کی ہدایت کی۔

۳ ۔ شجاعت ہمارے ہی گھرکی کنیزہے ،ہم کبھی کسی کی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے اورفصاحت ہماراہی حصہ ہے، جب فصحاء فخرومباہات کریں ۔

۴ ۔ ہم ہی صراط مستقیم اورہدایت کامرکزہیں اوراس کے لیے علم کاسرچشمہ ہیں جوعلم حاصل کرناچاہے اوردنیاکے مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ہے۔

۵ ۔ ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمینوں میں بلندہیں ،اکرہم نہ ہوتے توخدادنیاکوپیداہی نہ کرتا،ہرفخرہمارے فخرکے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقیامت ) سیروسیراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقیامت بدبختی میں ہوں گے۔

جب لوگوں نے امام زین العابدین کاکلام سناتوچینخ مارکررونے اورپیٹنے لگے اوران کی آوازیں بے ساختہ بلندہونے لگیں یہ حال دیکھ کر یزیدگھبرااٹھاکہ کہیں کوئی فتنہ نہ کھڑاہوجائے اس نے اس کے ردعمل میں فورا موذن کوحکم دیا(کہ اذان شروع کرکے) امام کے خطبہ کومنقطع کردے، موذن (گلدستہ اذان پرگیا) _

اورکہا”اللہ اکبر“ (خداکی ذات سب سے بزرگ وبرترہے) امام نے فرمایاتونے ایک بڑی ذات کی بڑائی بیان کی اورایک عظیم الشان ذات کی عظمت کااظہارکیااورجوکچھ کہا”حق“ ہے ۔پھرموذن نے کہا”اشہد ان لاالہ الااللہ (میں گواہی دیتاہوں کہ خداکے سوا کوئی معبودنہیں ) امام نے فرمایامیں بھی اس مقصدکی ہرگواہ کے ساتھ گواہی دیتاہوں اورہرانکارکرنے والے کے خلاف اقرارکرتاہوں ۔

پھرموذن نے کہ” اشہدان محمدارسول اللہ“ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمدمصطفی اللہ کے رسول ہیں ) فبکی علی، یہ سن کرحضرت علی ابن الحسین روپڑے اورفرمایاائے یزیدمیں تجھ سے خداکاواسطہ دے کرپوچھتاہوں بتا حضرت محمدمصطفی میرے ناناتھے یاتیرے ، یزیدنے کہاآپ کے، آپ نے فرمایا،پھرکیوں تونے ان کے اہلبیت کوشہیدکیا، یزیدنے کوئی جواب نہ دیااوراپنے محل میں یہ کہتاہواچلاگیا۔”لاحاجة لی بالصلواة “ مجھے نمازسے کوئی واسطہ نہیں ،اس کے بعد منہال بن عمرکھڑے ہوگئے اورکہافرزندرسول آپ کاکیاحال ہے، فرمایااے منہال ایسے شخص کاکیاحال پوچھتے ہوجس کاباپ(نہایت بے دردی سے) شہیدکردیاگیاہو، جس کے مددگارختم کردئیے گئے ہوں جواپنے چاروں طرف اپنے اہل حرم کوقیدی دیکھ رہاہو،جن کانہ پردہ رہ گیانہ چادریں رہ گئیں ، جن کانہ کوئی مددگارہے نہ حامی، تم تودیکھ رہے ہوکہ میں مقیدہوں ، ذلیل ورسواکیاگیاہوں ، نہ کوئی میراناصرہے،نہ مددگار، میں اورمیرے اہل بیت لباس کہنہ مین ملبوس ہیں ہم پرنئے لباس حرام کردئیے گئے ہیں اب جوتم میراحال پوچھتے ہوتومیں تمہارے سامنے موجودہوں تم دیکھ ہی رہے ہو،ہمارے دشمن ہمیں برابھلاکہتے ہیں اورہم صبح وشام موت کاانتظارکرتے ہیں ۔

پھرفرمایاعرب وعجم اس پرفخرکرتے ہیں کہ حضرت محمدمصطفی ان میں سے تھے، اورقریش عرب پراس لیے فخرکرتے ہیں کہ آنحضرت صلعم قریش میں سے تھے اورہم ان کے اہلبیت ہیں لیکن ہم کوقتل کیاگیا، ہم پرظلم کیاگیا،ہم پرمصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے اورہم کوقیدکرکے دربدرپھرایاگیا،گویاہماراحسب بہت گراہواہے اورہمارانسب بہت ذلیل ہے، گویاہم عزت کی بلندیوں پرنہیں چڑھے اوربزرگوں کے فرش پرجلوہ افروزنہیں ہوئے آج گویا تمام ملک یزیداوراس کے لشکرکاہوگیااورآل مصطفی صلعم یزید کی ادنی غلام ہوگئی ہے، یہ سنناتھا کہ ہرطرف سے رونے پیٹنے کی صدائیں بلندہوئیں _

یزیدبہت خائف ہوا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑاہوجائے اس نے اس شخص سے کہاجس نے امام کومنبرپرتشریف لے جانے کے لیے کہاتھا ”ویحک اردت بصعودہ زوال ملکی“ تیرابراہوتوان کومنبربربٹھاکرمیری سلطنت ختم کرناچاہتاہے اس نے جواب دیا، بخدا میں یہ نہ جانتاتھا کہ یہ لڑکا اتنی بلندگفتگوکرے گا یزیدنے کہاکیاتونہیں جانتاکہ یہ اہلبیت نبوت اورمعدن رسالت کی ایک فردہے، یہ سن کرموذن سے نہ رہاگیا اوراس نے کہاایے یزید”اذاکان کذالک فلماقتلت اباه “ جب تویہ جانتاتھا توتونے ان کے پدربزرگوارکوکیوں شہیدکیا،موذن کی گفتگوسن کریزیدبرہم ہوگیا،”فامربضرب عنقہ“ اورموذن کی گردن ماردینے کاحکم دیدیا۔

مدینہ کے قریب پہنچ کرآپ کاخطبہ

مقتل ابی مخنف ص ۸۸ میں ہے (ایک سال تک قیدخانہ شام کی صعوبت برداشت کرنے کے بعدجب اہل بیت رسول کی رہائی ہوئی اوریہ قافلہ کربلاہوتاہوامدینہ کی طرف چلاتوقریب مدینہ پہنچ کرامام علیہ السلام نے لوگوں کوخاموش ہوجانے کااشارہ کیا،سب کے سب خاموش ہوگئے آپ نے فرمایا:

حداس خداکی جوتمام دنیاکاپروردگارہے، روزجزاء کامالک ہے ، تمام مخلوقات کاپیداکرنے والاہے جواتنادورہے کہ بلندآسمان سے بھی بلندہے اوراتناقریب ہے کہ سامنے موجودہے اورہماری باتوں کاسنتاہے، ہم خداکی تعریف کرتے ہیں اوراس کاشکربجالاتے ہیں عظیم حادثوں ،زمانے کی ہولناک گردشوں ، دردناک غموں ، خطرناک آفتوں ، شدیدتکلیفوں ، اورقلب وجگرکوہلادینے والی مصیبتوں کے نازل ہونے کے وقت اے لوگو! خداورصرف خداکے لیے حمدہے، ہم بڑے بڑے مصائب میں مبتلاکئے گئے ،دیواراسلام میں بہت بڑارخنہ(شگاف) پڑگیا، حضرت ابوعبداللہ الحسین اوران کے اہل بیت شہیدکردیے گئے، ان کی عورتیں اوربچے قیدکردئیے گئے اور(لشکریزیدنے)ان کے سرہائے مبارک کوبلندنیزوں پررکھ کر شہروں میں پھرایا، یہ وہ مصیبت ہے جس کے برابرکوئی مصیبت نہیں ، اے لوگو! تم سے کون مردہے جوشہادت حسین کے بعدخوش رہے یاکونسادل ہے جوشہادت حسین سے غمگین نہ ہویاکونسی آنکھ ہے جوآنسوؤں کوروک سکے، شہادت حسین پرساتوں آسمان روئے، سمندراوراس کی شاخیں ورئیں ، مچھلیاں اورسمندرکے گرداب روئے ملائکہ مقربین اورتمام آسمان والے روئے، اے لوگو! کون ساقطب ہے جوشہادت حسین کی خبرسن کرنہ پھٹ جائے، کونساقلب ہے جومحزون نہ ہو، کونساکان ہے جواس مصیبت کوسن کرجس سے دیواراسلام میں رخنہ پڑا،بہرہ نہ ہو، اے لوگو! ہماری یہ حالت تھی کہ ہم کشاں کشاں پھرائے جاتے تھے، دربدرٹھکرائے جاتے تھے ذلیل کئے گئے شہروں سے دورتھے، گویاہم کواولادترک وکابل سمجھ لیاگیاتھا ،حالانکہ نہ ہم نے کوئی جرم کیاتھا نہ کسی برائی کاارتکاب کیاتھا نہ دیواراسلام میں کوئی رخنہ ڈالاتھا اورنہ ان چیزوں کے خلاف کیاتھاجوہم نے اپنے اباؤاجدادسے سناتھا،خداکی قسم اگرحضرت نبی بھی ان لوگوں (لشکریزید) کوہم سے جنگ کرنے کے لیے منع کرتے (تویہ نہ مانتے) جیساکہ حضرت نبی نے ہماری وصایت کااعلان کیا(اوران لوگوں نے مانا)بلکہ جتنا انہوں نے کیاہے اس سے زیادہ سلوک کرتے،ہم خداکے لیے ہیں اورخداکی طرف ہماری بازگشت ہے“۔

روضہ رسول پرامام علیہ السلام کی فریاد

مقتل ابی مخنف ص ۱۴۳ میں ہے کہ جب یہ لٹاہواقافلہ مدینہ میں داخل ہواتوحضرت ام کلثوم گریہ وبکاکرتی ہوئی مسجدنبوی میں داخل ہوئیں اورعرض کی، اے ناناآپ پرمیراسلام ہو”انی ناعیة الیک ولدک الحسین“ میں آپ کوآپ کے فرزندحسین کی خبرشہادت سناتی ہوں ، یہ کہناتھا کہ قبررسول سے گریہ کی صدابلندہوئی اورتمام لوگ رونے لگے پھرحضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے ناناکی قبرمبارک پرتشریف لائے اوراپنے رخسارقبرمطہرسے رگڑتے ہوئے یوں فریادکرنے لگے :

اناجیک یاجداه یاخیرمرسل

اناجیک محزوناعلیک موجلا

سبیناکماتسبی الاماء ومسنا

حبیبک مقتول ونسلک ضائع

اسیرا ومالی حامیا ومدافع

من الضرمالاتحمله الاصابع

ترجمہ: میں آپ سے فریادکرتاہوں اے نانا، اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر،آپ کامحبوب ”حسین“ شہیدکردیاگیا اورآپ کی نسل تباہ وبربادکردی گئی، اے نانامیں رنج وغم کاماراآپ سے فریادکرتاہوں مجھے قید کیاگیامیراکوئی حامی ومددگار نہ تھا اے نانا ہم سب کواس طرح قیدکیاگیا،جس طرح (لاوارث) کنیزوں کوقیدکیا جاتاہے،اے ناناہم پراتنے مصائب ڈھائے گئے جوانگلیوں پرگنے نہیں جاسکتے۔

امام زین العابدین اورخاک شفا

مصباح المتہجد میں ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس ایک کپڑے میں بندھی ہوئی تھوڑی سی خاک شفاء کرتی تھی (مناقب جلد ۲ ص ۳۲۹ طبع ملتان)۔

حضرت کے ہمراہ خاک شفاء کاہمیشہ رہناتین حال سے خالی نہ تھایااسے تبرکارکھتے تھے یااس پرنمازمیں سجدہ کرتے تھے یااسے بحیثیت محافظ رکھتے تھے اورلوگوں کویہ بتانا مقصودرہتاتھا کہ جس کے پاس خاک شفاء ہووہ جملہ مصائب وآلام سے محفوظ رہتاہے اوراس کامال چوری نہیں ہوتا جیساکہ احادیث سے واضح ہے ۔

امام زین العابدین اورمحمدحنفیہ کے درمیان حجراسودکافیصلہ

آل محمدکے مدینہ پہنچنے کے بعدامام زین العابدین کے چچامحمدحنفیہ نے بروایت اہل اسلام امام سے خواہش کی کہ مجھے تبرکات امامت دیدو، کیونکہ میں بزرگ خاندان اورامامت کااہل وحقدارہوں آپ نے فرمایاکہ حجراسودکے پاس چلووہ فیصلہ کردے گا جب یہ حضرات اس کے پاس پہنچے تووہ بحکم خدایوں بولا ”امامت زین العابدین کاحق ہے“ اس فیصلہ کودونوں نے تسلیم کرلیا(شواہدالنبوت ص ۱۷۶) ۔

کامل مبردمیں ہے کہ اس واقعہ کے بعدسے محمدحنفیہ ،امام زین العابدین کی بڑی عزت کرتے تھے ایک دن ابوخالدکابلی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی توکہاکہ حجراسودنے خلافت کاان کے حق میں فیصلہ دے دیاہے اوریہ امام زمانہ ہیں یہ سنکر وہ مذہب امامیہ کاقائل ہوگیا(مناقب جلد ۲ ص ۳۲۶) ۔

ثبوت امامت میں امام زین العابدین کاکنکری پرمہرفرمانا

اصول کافی میں ہے کہ ایک عورت جس کی عمر ۱۱۳ سال کی ہوچکی تھی ایک دن امام زین العابدین کے پاس آئی اس کے پاس وہ کنکری تھی جس پرحضرت علی امام حسن ،امام حسین کی مہرامامت لگی ہوئی تھی اس کے آتے ہی بلاکہے ہوئے آپ نے فرمایاکہ وہ کنکری لاجس پرمیرے آباؤاجدادکی مہریں لگی ہوئی ہیں اس پر میں بھی مہرکردوں چنانچہ اس نے کنکری دیدی آپ نے اسے مہرکرکے واپس کردی، اوراس کی جوانی بھی پلٹادی،وہ خوش وخرم واپس چلی گئی (دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۳۶) ۔

واقعہ حرہ اورامام زین العابدین علیہ السلام

مستندتواریخ میں ہے کہ کربلاکے بے گناہ قتل نے اسلام میں ایک تہلکہ ڈال دیاخصوصا ایران میں ایک قوی جوش پیداکردیا،جس نے بعدمیں بنی عباس کوبنی امیہ کے غارت کرنے میں بڑی مدددی چونکہ یزیدتارک الصلواة اورشارب الخمرتھاا وربیٹی بہن سے نکاح کرتااورکتوں سے کھیلتاتھا ،اس کی ملحدانہ حرکتوں اورامام حسین کے شہیدکرنے سے مدینہ میں اس قدرجوش پھیلاکر ۶۲ ہء میں اہل مدینہ نے یزیدکی معطلی کااعلان کردیااورعبداللہ بن حنظلہ کواپناسرداربناکریزیدکے گورنرعثمان بن محمدبن ابی سفیان کومدینہ سے نکال دیا، سیوطی تاریخ الخلفاء میں لکھتاہے کہ غسیل الملائکہ (حنظلہ) کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت یزیدکی خلافت سے انکارنہیں کیاجب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگیاکہ آسمان سے پتھربرس پڑیں گے غضب ہے کہ لوگ ماں بہنوں ،اوربیٹیوں سے نکاح کریں ۔ علانیہ شرابیں پئیں اورنمازچھوڑبیٹھیں ۔

یزیدنے مسلم بن عقبہ کوجوخونریزی کی کثرت کے سبب ”مسرف“ کے نام سے مشہورہے ،فوج کثیردے کر اہل مدینہ کی سرکوبی کوروانہ کیااہل مدینہ نے باب الطیبہ کے قریب مقام”حرہ“ پرشامیوں کامقابلہ کیا،گھمسان کارن پڑا،مسلمانوں کی تعدادشامیوں سے بہت کم تھی باوجودیکہ انہوں نے دادمردانگی دی ،مگرآخرشکست کھائی ،مدینہ کے چیدہ چیدہ بہادررسول اللہ کے بڑے بڑے صحابی انصارومہاجراس ہنگامہ آفت میں شہیدہوئے، شامی شہرمیں گھس گئے مزارات کوان کی زینت وآرایش کی خاطرمسمارکردیا،ہزاروں عورتوں سے بدکاری کی ہزاروں باکرہ لڑکیوں کاازالہ بکارت کرڈالا،شہرکولوٹ لیا،تین دن قتل عام کرایا،دس ہزارسے زائدباشندگان مدینہ جن میں سات سومہاجروانصاراوراتنے ہی حاملان وحافظان قران علماء وصلحاء ومحدث تھے اس واقعہ میں مقتول ہوئے ہزاروں لڑکے لڑکیاں غلام بنائی گئیں اورباقی لوگوں سے بشرط قبول غلامی یزیدکی بیعت لی گئی۔

مسجد نبوی اورحضرت کے حرم محترم میں گھوڑے بندھوائے گئے یہاں تک کہ لیدکے انبارلگ گئے یہ واقعہ جوتاریخ اسلام میں واقعہ حرہ کے نام سے مشہورہے ۔ ۲۷/ ذی الحجہ ۶۳ ہء کو ہواتھا اس واقعہ پرمولوی امیرعلی لکھتے ہیں کہ کفروبت پرستی نے پھرغلبہ پایا، ایک فرنگی مورخ لکھتاہے کہ کفرکادوبارہ جنم لینالسلام کے لیے سخت خوفناک اورتباہی بخش ثابت ہوابقیہ تمام مدینہ کویزیدکاغلام بنایاگیا،جس نے انکارکیا اس کاسراتارلیاگیا، اس رسوائی سے صرف دوآدمی بچے ”علی بن الحسین“ اورعلی بن عبداللہ بن عباس ان سے یزیدکی بیعت بھی نہیں لی گئی ۔

مدارس شفاخانے اوردیگررفاہ عام کی عمارتیں جوخلفاء کے زمانے میں بنائی گئیں تھی یاتوبندکردی گئیں یامسماراورعرب پھرایک ویرانہ بن گیا،اس کے چندمدت بعدعلی بن الحسین کے پوتے جعفرصادق نے اپنے جدامجدعلی مرتضی کامکتب خانہ پھرمدینہ میں جاری کیا،مگریہ صحرامیں صرف ایک ہی سچانخلستان تھا اس کے چاروں طرف ظلمت وضلالت چھائی ہوئی تھی ،مدینہ پھرکبھی نہ سنبھل سکا، بنی امیہ کے عہدمیں مدینہ ایسی اجڑی بستی ہوگیاکہ جب منصورعباس زیارت کومدینہ میں آیاتواسے ایک رہنماکی ضرورت پڑی جواس کووہ مکانات بتائے جہاں ابتدائی زمانہ کے بزرگان اسلام رہاکرتے تھے (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۶ ، تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۹۱ ،تاریخ فخری ص ۸۶ ،تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۹ ،صواعق محرقہ ص ۱۳۲) ۔

واقعہ حرہ اورآپ کی قیام گاہ

تواریخ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی ایک چھوٹی سی جگہ ”منبع“ نامی تھی جہاں کھیتی باڑی کاکام ہوتاتھا واقعہ حرہ کے موقع پرآپ شہرمدینہ سے نکل کراپنے گاؤں چلے گئے تھے (تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۵) یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت علی خلیفہ عثمان کے عہدمیں قیام پذیرتھے (عقدفریدجلد ۲ ص ۲۱۶) ۔

خاندانی دشمن مروان کے ساتھ آپ کی کرم گستری

واقعہ حرہ کے موقع پرجب مروان نے اپنی اوراہل وعیال کی تباہی وبربادی کایقین کرلیاتوعبداللہ بن عمرکے پاس جاکرکہنے لگاکہ ہماری محافظت کرو، حکومت کی نظرمیری طرف سے بھی پھری ہوئی ہے ،میں جان اورعورتوں کی بے حرمتی سے ڈرتاہوں ،انہوں نے صاف انکارکردیا،اس وقت وہ امام زین العابدین کے پاس آیااوراس نے اپنی اوراپنے بچوں کی تباہی وبربادی کاحوالہ دے کرحفاظت کی درخواست کی حضرت نے یہ خیال کیے بغیرکہ یہ خاندانی ہمارادشمن ہے اوراس نے واقعہ کربلاکے سلسلہ میں پوری دشمنی کامظاہرہ کیاہے آپ نے فرمادیابہترہے کہ اپنے بچوں کومیرے پاس بمقام منبع بھیجدو، جہاں میرے بچے رہیں گے تمہارے بھی رہیں گے چنانچہ وہ اپنے بال بچوں کوجن میں حضرت عثمان کی بیٹی عائشہ بھی تھیں آپ کے پاس پہنچاگیااورآپ نے سب کی مکمل حفاظت فرمائی (تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۵) ۔

دشمن ازلی حصین بن نمیرکے ساتھ آپ کی کرم نوازی

مدینہ کوتباہ وبربادکرنے کے بعدمسلم بن عقبہ ابتدائے ۶۴ ہ میں مدینہ سے مکہ کوروانہ ہوگیااتفاقا راہ میں بیمارہوکروہ گمراہ راہی جہنم ہوگیا،مرتے وقت اس نے حصین بن نمیرکواپناجانشین مقررکردیااس نے وہاں پہنچ کرخانہ کعبہ پرسنگ باری کی اوراس میں آگ لگادی، اس کے بعدمکمل محاصرہ کرکے عبداللہ ابن زبیر کوقتل کرناچاہا اس محاصرہ کوچالیس دن گزرے تھے کہ یزیدپلیدواصل جہنم ہوگیا، اس کے مرنے کی خبرسے ابن زبیرنے غلبہ حاصل کرلیااوریہ وہاں سے بھاگ کرمدینہ جاپہنچا۔

مدینہ کے دوران قیام میں اس معلون نے ایک دن بوقت شب چندسواروں کولے کرفوج کے غذائی سامان کی فراہمی کے لیے ایک گاؤں کی راہ پکڑی ،راستہ میں اس کی ملاقات حضرت امام زین العابدین سے ہوگئی ،آپ کے ہمراہ کچھ اونٹ تھے جن پرغذائی سامان لداہواتھا اس نے آپ سے وہ غلہ خریدناچاہا، آپ نے فرمایاکہ اگرتجھے ضرورت ہے تویونہی لے لے ہم اسے فروخت نہیں کرسکتے (کیونکہ میں اسے فقراء مدینہ کے لیے لایاہوں ) اس نے پوچھاکہ آپ کانام کیاہے،آپ نے فرمایامجھے ”علی بن الحسین“ کہتے ہیں پھرآپ نے اس سے نام دریافت کیاتواس نے کہامیں حصین بن نمیرہوں ، اللہ رے، آپ کی کرم نوازی، آپ جاننے کہ باوجودکہ یہ میرے باپ کے قاتلوں میں سے ہے اسے ساراغلہ مفت دیدیا(اورفقراء کے لیے دوسرابندوبست فرمایا) اس نے جب آپ کی یہ کرم گستری دیکھی اوراچھی طرح پہچان بھی لیاتوکہنے لگاکہ یزیدکاانتقال ہوچکاہے آپ سے زیادہ مستحق خلافت کوئی نہیں ، آپ میرے ساتھ تشریف لے چلیں ، میں آپ کوتخت خلافت پربٹھاؤں گا،آپ نے فرمایاکہ میں خداوندعالم سے عہدکرچکاہوں کہ ظاہری خلافت قبول نہ کرو ں گا، یہ فرماکر آپ اپنے دولت سراکوتشریف لے گئے(تاریخ طبری فارسی ص ۶۴۴) ۔

امام زین العابدین اورفقراء مدینہ کی کفالت

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فقراء مدینہ کے سوگھروں کی کفالت فرماتے تھے اورساراسامان ان کے گھرپہنچایاکرتے تھے جنہیں آپ بہ بھی معلوم نہ ہونے دیتے تھے کہ یہ سامان خوردونوش رات کوکون دے جاتاہے آپ کااصول یہ تھاکہ بوریاں پشت پرلادکر گھروں میں روٹی اورآٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اوریہ سلسلہ تابحیات جاری رہا، بعض معززین کاکہناہے کہ ہم نے اہل مدینہ کویہ کہتے ہوئے سناہے کہ امام زین العابدین کی زندگی تک ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔ (مطالب السؤل ص ۲۶۵ ،نورالابصار ص ۱۲۶) ۔

امام زین العابدین اوربنیادکعبہ محترمہ ونصب حجراسود

۷۱ ہ میں عبدالملک بن مروان نے عراق پرلشکرکشی کرکے مصعب بن زبیرکوقتل کیا بھر ۷۲ ہء میں حجاج بن یوسف کوایک عظیم لشکرکے ساتھ عبداللہ بن زبیرکو قتل کرنے کے لیے مکہ معظمہ روانہ کیا۔(ابوالفداء)۔

وہاں پہنچ کرحجاج نے ابن زبیرسے جنگ کی ابن زبیرنے زبردست مقابلہ کیا اوربہت سی لڑائیاں ہوئیں ،آخرمیں ابن زبیرمحصورہوگئے اورحجاج نے ابن زبیرکوکعبہ سے نکالنے کے لیے کعبہ پرسنگ باری شروع کردی، یہی نہیں بلکہ اسے کھدواڈالا، ابن زبیرجمادی الآخر ۷۳ ہء میں قتل ہوا(تاریخ ابن الوردی)۔ اورحجاج جوخانہ کعبہ کی بنیادتک خراب کرچکاتھا اس کی تعمیرکی طرف متوجہ ہوا۔ علامہ صدوق کتاب علل الشرائع میں لکھتے ہیں کہ حجاج کے ہدم کعبہ کے موقع پرلوگ اس کی مٹی تک اٹھاکرلے گئے اورکعبہ کواس طرح لوٹ لیاکہ اس کی کوئی پرانی چیزباقی نہ رہی، پھرحجاج کوخیال پیداہواکہ اس کی تعمیرکرانی چاہئے چنانچہ اس نے تعمیرکاپروگرام مرتب کرلیااورکام شروع کرادیا،کام کی ابھی بالکل اتبدائی منزل تھی کہ ایک اژدھابرآمدہوکرایسی جگہ بیٹھ گیاجس کے ہٹے بغیرکام آگے نہیں بڑھ سکتاتھا لوگوں نے اس واقعہ کی اطلاع حجاج کودی، حجاج گھبرااٹھا اورلوگوں کوجمع کرکے ان سے مشورہ کیاکہ اب کیاکرناچاہئے جب لوگ اس کاحل نکالنے سے قاصررہے توایک شخص نے کھڑے ہوکرکہاکہ آج کل فرزندرسول حضرت امام زین العابدین علیہ السلام یہاں آئے ہوئے ہیں ، بہترہوگا کہ ان سے دریافت کرایاجائے یہ مسئلہ ان کے علاوہ کوئی حل نہیں کرسکتا، چنانچہ حجاج نے آپ کوزحمت تشریف آوری دی، آپ نے فرمایاکہ اے حجاج تونے خانہ کعبہ کواپنی میراث سمجھ لیاہے تونے توبنائے ابراہیم علیہ السلام کواکھڑوا کر راستہ میں ڈلوادیاہے ”سن“ تجھے خدااس وقت تک کعبہ کی تعمیرمیں کامیاب نہ ہونے دیے گا جب تک توکعبہ کالٹاہواسامان واپس نہ منگائے گا، یہ سن کراس نے اعلان کیاکہ کعبہ سے متعلق جوشے بھی کسی کے پاس ہووہ جلدسے جلد واپس کرے، چنانچہ لوگوں نے پتھرمٹی وغیرہ جمع کردی جب آپ اس کی بنیاداستوارکی اورحجاج سے فرمایاکہ اس کے اوپرتعمیرکراؤ ”فلذالک صار البیت مرتفعا“ پھراسی بنیادپرخانہ کعبہ کی تعمیرہوئی (کتاب الخرائج والجرائح میں علامہ قطب راوندی لکھتے ہیں کہ جب تعمیرکعبہ اس مقام تک پہنچی جس جگہ حجراسودنصب کرناتھا تویہ دشواری پیش ہوئی کہ جب کوئی عالم،زاہد، قاضی اسے نصب کرتاتھا تو”یتزلزل ویضطرب ولایستقر“ حجراسودمتزلزل اورمضطرب رہتا اوراپنے مقام پرٹہرتانہ تھا بالآخرامام زین العابدین علیہ السلام بلائے گئے اورآپ نے بسم اللہ کہہ کراسے نصب کردیا، یہ دیکھ کر لوگوں نے اللہ اکبرکانعرہ لگایا(دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۳۷) ۔

علماء ومورخین کابیان ہے کہ حجاج بن یوسف نے یزیدبن معاویہ ہی کی طرح خانہ کعبہ پرمنجنیق سے پتھروغیرہ پھنکوائے تھے۔

امام زین العابدین اورعبدالملک بن مروان کاحج

بادشاہ دنیاعبدالملک بن مروان اپنے عہدحکومت میں اپنے پایہ تخت سے حج کے لیے روانہ ہوکرمکہ معظمہ پہنچااوربادشاہ دین حضرت امام زین العابدین بھی مدینہ سے روانہ ہوکرپہنچ گئے مناسک حج کے سلسلہ میں دونوں کاساتھ ہوگیا، حضرت امام زین العابدین آگے آگے چل رہے تھے اوربادشاہ پیچھے چل رہاتھا عبدالملک بن مروان کویہ بات ناگوارہوئی اوراس نے آپ سے کہاکیامیں نے آپ کے باپ کوقتل کیاہے جوآپ میری طرف متوجہ نہیں ہوتے، آپ نے فرمایاکہ جس نے میرے باپ کوقتل کیاہے اس نے اپنی دیناوآخرت خراب کرلی ہے کیاتوبھی یہی حوصلہ رکھتاہے اس نے کہانہیں میرامطلب یہ ہے کہ آپ میرے پاس ائیں تاکہ میں آپ سے کچھ مالی سلوک کروں ، آ پ نے ارشادفرمایا مجھے تیرے مال دنیاکی ضرورت نہیں ہے مجھے دینے والاخداہے یہ کہہ کر آپ نے اسی جگہ زمین پرردائے مبارک ڈال دی اورکعبہ کی طرف اشارہ کرکے کہا،میرے مالک اسے بھردے، امام کی زبان سے الفاظ کانکلنا تھاکہ ردائے مبارک موتیوں سے بھرگئی ،آپ نے اسے راہ خدامیں دیدیا(دمعہ ساکبہ،جنات الخلود ص ۲۳) ۔

امام زین العابدین علیہ السلام اخلاق کی دنیامیں

امام زین العابدین علیہ السلام چونکہ فرزندرسول تھے اس لئے آپ میں سیرت محمدیہ کاہونالازمی تھا علامہ محمدابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کوبرابھلاکہا، آپ نے فرمایابھائی میں نے توتیراکچھ نہیں بگاڑا،اگرکوئی حاجت رکھتاہے توبتاتاکہ میں پوری کروں ،وہ شرمندہ ہوکرآپ کے اخلاق کاکلمہ پڑھنے لگا(مطالب السؤل ص ۲۶۷) ۔

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں ،ایک شخص نے آپ کی برائی آپ کے منہ پرکی آپ نے اس سے بے توجہی برتی، اس نے مخاطب کرکرکے کہا،میں تم کوکہہ رہاہوں ، آپ نے فرمایا،میں حکم خدا”واعرض عن الجاہلین“ جاہلوں کی بات کی پرواہ نہ کرو پرعمل کررہاہوں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔ علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے آکرکہاکہ فلاں شخص آپ کی برائی کررہاتھا آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کے پاس لے چلو، جب وہاں پہنچے تواس سے فرمایابھائی جوبات تونے میرے لیے کہی ہے، اگرمیں نے ایساکیاہوتوخدامجھے بخشے اوراگرنہیں کیاتوخداتجھے بخشے کہ تونے بہتان لگایا۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ مسجدسے نکل کرچلے توایک شخص آپ کوسخت الفاظ میں گالیاں دینے لگا آپ نے فرمایاکہ اگرکوئی حاجت رکھتاہے تومیں پوری کروں ، ”اچھالے“ یہ پانچ ہزاردرہم ،وہ شرمندہ ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آپ پربہتان باندھا،آپ نے فرمایامیرے اورجہنم کے درمیان ایک گھاٹی ہے،اگرمیں نے اسے طے کرلیاتوپرواہ نہیں جوجی چاہے کہواوراگراسے پارنہ کرسکاتومیں اس سے زیادہ برائی کامستحق ہوں جوتم نے کی ہے (نورالابصار ص ۱۲۷ ۔ ۱۲۶) ۔

علامہ دمیری لکھتے ہیں کہ ایک شامی حضرت علی کوگالیاں دے رہاتھا،امام زین العابدین نے فرمایا بھائی تم مسافرمعلوم ہوتے ہو،اچھا میرے ساتھ چلو،میرے یہاں قیام کرو،اورجوحاجت رکھتے ہوبتاؤتاکہ میں پوری کروں وہ شرمندہ ہوکرچلاگیا(حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۱۲۱) ۔ علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے بیان کیاکہ فلاں شخص آپ کوگمراہ اوربدعتی کہتاہے،آپ نے فرمایاافسوس ہے کہ تم نے اس کی ہمنشینی اوردوستی کاکوئی خیال نہ کیا، اورا سکی برائی مجھ سے بیان کردی،دیکھویہ غیبت ہے ،اب ایساکبھی نہ کرنا(احتجاج ص ۳۰۴) ۔

جب کوئی سائل آپ کے پاس آتاتھا توخوش ومسرورہوجاتے تھے اورفرماتے تھے خداتیرابھلاکرے کہ تومیرازادراہ آخرت اٹھانے کے لیے آگیاہے (مطالب السؤل ص ۲۶۳) ۔ امام زین العابدین علیہ السلام صحیفہ کاملہ میں فرماتے ہیں خداوندمیراکوئی درجہ نہ بڑھا،مگریہ کہ اتناہی خودمیرے نزدیک مجھ کوگھٹا اورمیرے لیے کوئی ظاہری عزت نہ پیداکرمگریہ کہ خودمیرے نزدیک اتنی ہی باطنی لذت پیداکردے۔

امام زین العابدین اورصحیفہ کاملہ

کتاب صحیفہ کاملہ آپ کی دعاؤں کامجموعہ ہے اس میں بے شمارعلوم وفنون کے جوہرموجوہیں یہ پہلی صدی کی تصنیف ہے (معالم العلماء ص ۱ طبع ایران)۔

اسے علماء اسلام نے زبورآل محمداورانجیل اہلبیت کہاہے (ینابیع المودة ص ۴۹۹ ،فہرست کتب خانہ طہران ص ۳۶) ۔ اوراس کی فصاحت وبلاغت معانی کودیکھ کراسے کتب سماویہ اورصحف لوحیہ وعرشیہ کادرجہ دیاگیاہے (ریاض السالکین ص ۱) اس کی چالیس شرحیں ہیں جن میں میرے نزدیک ریاض السالکین کو فوقیت حاصل ہے۔

امام زین العابدین عمربن عبدالعزیزکی نگاہ میں

۸۶ ہ میں عبدالملک بن مروان کے انتقال کے بعداس کابیٹاولید بن عبدالملک خلیفہ بنایاگیایہ حجاج بن یوسف کی طرح نہایت ظالم وجابرتھا اسی کے عہدظلمت مین عمربن عبدالعزیزجوکہ ولیدکاچچازادبھائی تھا حجازکاگورنرہوایہ برامنصف مزاج اورفیاض تھا ،اسی کے عہدگورنری کاایک واقعہ یہ ہے کہ ۸۷ ہ ء میں سرورکائنات کے روضہ کی ایک دیوارگرگئی تھی جب اس کی مرمت کاسوال پیداہوا، اوراس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کسی مقدس ہستی کے ہاتھ سے اس کی ابتداء کی جائے توعمربن عبدالعزیزنے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہی کوسب پرترجیح دی (وفاء الوفاء جلد ۱ ص ۳۸۶) ۔

اسی نے فدک واپس کیاتھا اورامیرالمومنین پرسے تبراء کی وہ بدعت جومعاویہ نے جاری کی تھی، بندکرائی تھی۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت

آپ اگرچہ گوشہ نشینی کی زندگی بسرفرمارہے تھے لیکن آپ کے روحانی اقتدارکی وجہ سے بادشاہ وقت ولیدبن عبدالملک نے آپ کوزہردیدیا،اورآپ بتاریخ ۲۵/ محرم الحرام ۹۵ ہ مطابق ۷۱۴ کودرجہ شہادت پرفائزہوگئے امام محمدباقرعلیہ السلام نے نمازجنازہ پڑھائی اورآپ مدینہ کے جنت البقیع میں دفن کردئیے گئے علامہ شبلنجی ،علامہ ابن حجر،علامہ ابن صباغ مالکی، علامہ سبط ابن جوزی تحریرفرماتے ہیں کہ ”وان الذی سمہ الولیدبن عبدالملک“ جس نے آپ کوزہردے کر شہیدکیا،وہ ولیدبن عبدالملک خلیفہ وقت ہے (نورالابصار ص ۱۲۸ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ،فصول المہمہ، تذکرہ سبط ابن جوزی، ارجح المطالب ص ۴۴۴ ، مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱) ۔

ملاجامی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے بعدآپ کاناقہ قبرپرنالہ وفریادکرتاہوا تین روزمیں مرگیا (شواہد النبوت ص ۱۷۹ ، شہادت کے وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی۔

آپ کی اولاد

علماء فریقین کااتفاق ہے کہ آپ نے گیارہ لڑکے اورچارلڑکیاں چھوڑیں ۔(صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ،وارجح المطالب ص ۴۴۴) ۔

علامہ شیخ مفیدفرماتے ہیں کہ ان پندرہ اولادکے نام یہ ہیں ۱ ۔ حضرت امام محمدباقر آپ کی والدہ حضرت امام حسن کی بیٹی ام عبداللہ جناب فاطمہ تھیں ۔ ۲ ۔ عبداللہ ۳ ۔ حسن ۴ ۔زید ۵ ۔عمر ۶ ۔ حسین ۷ ۔عبدالرحمن ۸ ۔سلیمان ۹ ۔علی ۱۰ ۔محمد اصغر ۱۱ ۔حسین اصغر ۱۲ ۔خدیجہ ۱۳ ۔فاطمة، ۱۴ ۔علیہ ۱۵ ۔ ام کلثوم (ارشاد مفید فارسی ص ۴۰۱) ۔


حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام

آپ کی ولادت باسعادت

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ہ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیداہوئے (اعلام الوری ص ۱۵۵ ،جلاء العیون ص ۲۶۰ ،جنات الخلود ص ۲۵) ۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے توآباؤ اجدادکی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے توفرشتوں کی بے انتہاآوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا،ولادت کے بعدقبلہ روہوکرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین باچھینکنے کے بعدحمدخدا بجالائے،ایک شبانہ روزدست مبارک سے نورساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولدہوئے۔ (جلاء العیون ص ۲۵۹) ۔

آسم گرامی ،کنیت اورالقاب

آپ کااسم گرامی ”لوح محفوظ“ کے مطابق اورسرورکائنات کی تعیین کے موافق ”محمد“تھا آپ کی کنیت ”ابوجعفر“تھی، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں (مطالب السؤل ص ۳۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۸۱) ۔

باقرکی وجہ تسمیہ

باقر،بقرہ سے مشتق ہے اوراسی کااسم فاعل ہے اس کے معنی شق کرنے اوروسعت دینے کے ہیں ، (المنجد ص ۴۱) ۔ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کواس لقب سے اس لیے ملقب کیاگیاتھا کہ آپ نے علوم ومعارف کونمایاں فرمایااورحقائق احکام وحکمت ولطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاہرفرمادئیے جولوگوں پرظاہروہویدانہ تھے(صواعق محرقہ،ص ۱۲۰ ،مطالب السؤل ص ۶۶۹ ،شواہدالنبوت صذ ۱۸۱) ۔

جوہری نے اپنی صحاح میں لکھاہے کہ ”توسع فی العلم“ کوبقرہ کہتے ہیں ، اسی لیے امام محمدبن علی کوباقرسے ملقب کیاجاتاہے ،علامہ سبط ابن جوزی کاکہناہے کہ کثرت سجودکی وجہ سے چونکہ آپ کی پیشانی وسیع تھی اس لیے آپ کوباقرکہاجاتاہے اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ جامعیت علمیہ ک کی وجہ سے آپ کویہ لقب دیاگیاہے ،شہیدثالث علامہ نوراللہ شوشتری کاکہناہے کہ آنحضرت نے ارشادفرمایاہے کہ امام محمدباقرعلوم ومعارف کواس طرح شگافتہ کردیں گے جس طرح زراعت کے لیے زمین شگافتہ کی جاتی ہے۔(مجالس المومنین ص ۱۱۷) ۔

بادشاہان وقت

آپ ۵۷ ہ میں معاویہ بن ابی سفیان کے عہدمیں پیداہوئے ۶۰ ہ میں یزیدبن معاویہ بادشاہ وقت رہا، ۶۴ ہ میں معاویہ بن یزیداورمروان بن حکم بادشاہ رہے ۶۵ ہ تک عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت رہاپھر ۸۶ ہ سے ۹۶ ہ تک ولیدبن عبدالملک نے حکمرانی کی، اسی نے ۹۵ ہ میں آپ کے والدماجدکودرجہ شہادت پرفائزکردیا، اسی ۹۵ ہ سے آپ کی امامت کاآغازہوا، اور ۱۱۴ ہ تک آپ فرائض امامت ادافرماتے رہے، اسی دروان میں ولیدبن عبدالملک کے بعدسلیمان بن عبدالملک ،عمربن عبدالعزیز، یزیدبن عبدالملک اورہشام بن عبدالملک بادشاہ وقت رہے (اعلام الوری ص ۱۵۶) ۔

واقعہ کربلامیں امام محمدباقرعلیہ السلام کاحصہ

آپ کی عمرابھی ڈھائی سال کی تھی، کہ آپ کوحضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ وطن عزیزمدینہ منورہ چھوڑناپڑا،پھرمدینہ سے مکہ اوروہاں سے کربلاتک کی صعوبتیں سفربرداشت کرناپڑی اس کے بعدواقعہ کربلاکے مصائب دیکھے، کوفہ وشام کے بازاروں اوردرباروں کاحال دیکھاایک سال شام میں قیدرہے، پھروہاں سے چھوٹ کر ۸/ ربیع الاول ۶۲ ہ کومدینہ منورہ واپس ہوئے۔

جب آپ کی عمرچارسال کی ہوئی ،توآپ ایک دن کنویں میں گرگئے ،لیکن خدانے آپ کوڈوبنے سے بچالیا(اورجب آپ پانی سے برآمدہوئے توآپ کے کپڑے اورآپ کابدن تک بھیگاہوانہ تھا(مناقب جلد ۴ ص ۱۰۹) ۔

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورجابربن عبداللہ انصاری کی باہمی ملاقات

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت امام محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری زندگی کے اختتام پرامام محمدباقرکی ولادت سے تقریبا ۴۶/ سال قبل جابربن عبداللہ انصاری کے ذریعہ سے امام محمدباقرعلیہ السلام کوسلام کہلایاتھا، امام علیہ السلام کایہ شرف اس درجہ ممتازہے کہ آل محمدمیں سے کوئی بھی اس کی ہمسری نہیں کرسکتا(مطالب السؤل ص ۲۷۲) ۔

مورخین کابیان ہے کہ سرورکائنات ایک دن اپنی آغوش مبارک میں حضرت امام حسین علیہ السلام کولئے ہوئے پیارکررہے تھے ناگاہ آپ کے صحابی خاص جابربن عبداللہ انصاری حاضرہوئے حضرت نے جابرکودیکھ کر فرمایا،اے جابر!میرے اس فرزند کی نسل سے ایک بچہ پیداہوگا جوعلم وحکمت سے بھرپورہوگا،اے جابرتم اس کازمانہ پاؤگے،اوراس وقت تک زندہ رہوگے جب تک وہ سطح ارض پرآنہ جائے ۔

ائے جابر!دیکھو،جب تم اس سے ملناتواسے میراسلام کہہ دینا،جابرنے اس خبراوراس پیشین گوئی کوکمال مسرت کے ساتھ سنا،اوراسی وقت سے اس بہجت آفرین ساعت کاانتظارکرناشروع کردیا،یہاں تک کہ چشم انتظارپتھراگیں اورآنکھوں کانورجاتارہا۔

جب تک آپ بیناتھے ہرمجلس ومحفل میں تلاش کرتے رہے اورجب نورنظرجاتا رہاتوزبان سے پکارناشروع کردیا،آپ کی زبان پرجب ہروقت امام محمدباقرکانام رہنے لگاتولوگ یہ کہنے لگے کہ جابرکادماغ ضعف پیری کی وجہ سے ازکاررفتہ ہوگیاہے لیکن بہرحال وہ وقت آہی گیاکہ آپ پیغام احمدی اورسلام محمدی پہنچانے میں کامیاب ہوگئے راوی کابیان ہے کہ ہم جناب جابرکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں امام زین العابدین علیہ السلام تشریف لائے، آپ کے ہمراہ آپ کے فرزندامام محمدباقرعلیہ السلام بھی تھے امام علیہ السلام نے اپنے فرزندارجمندسے فرمایاکہ چچاجابربن عبداللہ انصاری کے سرکابوسہ دو،انہوں نے فوراتعمیل ارشادکیا،جابرنے ان کواپنے سینے سے لگالیااورکہاکہ ابن رسول اللہ آپ کوآپ کے جدنامدارحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام فرمایاہے۔

حضرت نے کہاائے جابران پراورتم پرمیری طرف سے بھی سلام ہو،اس کے بعدجابربن عبداللہ انصاری نے آپ سے شفاعت کے لیے ضمانت کی درخواست کی، آپ نے اسے منظورفرمایااورکہاکہ میں تمہارے جنت میں جانے کاضامن ہوں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ، وسیلہ النجات ص ۳۳۸ ،مطالب السؤل ، ۳۷۳ ،شواہدالنبوت ص ۱۸۱ ، نورالابصارص ۱۴۳ ،رجال کشی ص ۲۷ ،تاریخ طبری جلد ۳ ،ص ۹۶ ،مجالس المومنین ص ۱۱۷ ۔

علامہ محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ آنحضرت نے یہ بھی فرمایاتھا کہ ”ان بقائک بعدرویته یسیر “ کہ اے جابرمیراپیغام پہنچانے کے بعد بہت تھوڑازندہ رہوگے ،چنانچہ ایساہی ہوا(مطالب السؤل ص ۲۷۳) ۔

سات سال کی عمرمیں امام محمدباقرکاحج خانہ کعبہ

علامہ جامی تحریرفرماتے ہیں کہ راوی بیان کرتاہے کہ میں حج کے لیے جارہاتھا،راستہ پرخطراورانتہائی تاریک تھا جب میں لق ودق صحرامیں پہنچاتوایک طرف سے کچھ روشنی کی کرن نظرآئی میں اس کی طرف دیکھ ہی رہاتھاکہ ناگاہ ایک سات سال کالڑکامیرے قریب آپہنچا،میں نے سلام کاجواب دینے کے بعداس سے پوچھاکہ آپ کون ہیں ؟ کہاں سے آرہے ہیں اورکہاں کاارادہ ہے، اورآپ کے پاس زادراہ کیاہے اس نے جواب دیا،سنومیں خداکی طرف سے آرہاہوں اورخداکے طرف سے آرہاہوں اورخداکی طرف جارہاہوں ،میرازادراہ ”تقوی“ ہے میں عربی النسل،قریشی خاندان کاعلوی نزادہوں ،میرانام محمدبن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ہے، یہ کہہ کروہ دونوں سے غائب ہوگئے اورمجھے پتہ نہ چل سکاکہ آسمان کی طرف پروازکرگئے یازمین میں سماگئے (شواہدالنبوت ص ۱۸۳) ۔

حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اوراسلام میں سکے کی ابتدا

مورخ شہیرذاکرحسین تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۲ میں لکھتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے ۷۵ ہ میں امام محمدباقرعلیہ السلام کی صلاح سے اسلامی سکہ جاری کیا اسے سے پہلے روم وایران کاسکہ اسلامی ممالک میں بھی جاری تھا۔

اس واقعہ کی تفصیل علامہ دمیری کے حوالہ سے یہ ہے کہ ایک دن علامہ کسائی سے خلیفہ ہارون رشیدعباسی نے پوچھاکہ اسلام میں درہم ودینارکے سکے، کب اورکیونکررائج ہوئے انہوں نے کہاکہ سکوں کااجراخلیفہ عبدالملک بن مروان نے کیاہے لیکن اس کی تفصیل سے ناواقف ہوں اورمجھے نہیں معلوم کہ ان کے اجراء اورایجادکی ضرورت کیوں محسوس ہوئی،ہارون الرشیدنے کہاکہ بات یہ ہے کہ زمانہ سابق میں جوکاغذوغیرہ ممالک اسلامیہ میں مستعمل ہوتے تھے وہ مصرمیں تیارہواکرتے تھے جہاں اس وقت نصرانیوں کی حکومت تھی،اوروہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب برتھے وہاں کے کاغذپرجوضرب یعنی (ٹریڈمارک) ہوتاتھا،اس میں بزبان روم(اب،ابن،روح القدس لکهاهواتها ،فلم یزل ذلک کذالک فی صدرالاسلام کله بمعنی علوما کان علیه ،الخ)

اوریہی چیزاسلام میں جتنے دورگذرے تھے سب میں رائج تھی یہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کازمانہ آیا، توچونکہ وہ بڑاذہین اورہوشیارتھا،لہذا اس نے ترجمہ کراکے گورنرمصرکولکھاکہ تم رومی ٹریڈمارک کوموقوف ومتروک کردو،یعنی کاغذکپڑے وغیرہ جواب تیارہوں ان میں یہ نشانات نہ لگنے دوبلکہ ان پریہ لکھوادو ”( شهدالله انه لااله الاهو ) “ چنانچہ اس حکم پرعمل درآمدکیاگیاجب اس نئے مارک کے کاغذوں کاجن پرکلمہ توحیدثبت تھا،رواج پایاتوقیصرروم کوبے انتہاناگوارگزرااس نے تحفہ تحائف بھیج کرعبدالملک بن مروان خلیفہ وقت کولکھاکہ کاغذوغیرہ پرجو”مارک“ پہلے تھاوہی بدستورجاری کرو،عبدالملک نے ہدایالینے سے انکارکردیااورسفیرکو تحائف وہدایاسمیت واپس بھیج دیا اوراس کے خط کاجواب تک نہ دیا قیصرروم نے تحائف کودوگناکرکے پھربھیجااورلکھاکہ تم نے میرے تحائف کوکم سمجھ کرواپس کردیا،اس لیے اب اضافہ کرکے بھیج رہاہوں اسے قبول کرلواورکاغذسے نیا”مارک“ ہٹادو، عبدالملک نے پھرہدایاواپس کردیا اورمثل سابق کوئی جواب نہیں دیااس کے بعدقیصرروم نے تیسری مرتبہ خط لکھااورتحائف وہدایابھیجے اورخط میں لکھاکہ تم نے میرے خطوط کے جوابات نہیں دئیے ،اورنہ میری بات قبول کی اب میں قسم کھاکر کہتاہوں کہ اگرتم نے اب بھی رومی ٹریڈمارک کوازسرنورواج نہ دیا اورتوحیدکے جملے کاغذسے نہ ہٹائے تومیں تمہارے رسول کوگالیاں ،سکہ درہم ودینارپرنقش کراکے تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردوں گااورتم کچھ نہ کرسکوگے دیکھواب جومیں نے تم کولکھاہے اسے پڑھ کرارفص جبینک عرقا،اپنی پیشانی کاپسینہ پوچھ ڈالواورجومیں کہتاہوں اس پرعمل کروتاکہ ہمارے اورتمہارے درمیان جورشتہ محبت قائم ہے بدستورباقی رہے۔

عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کوپڑھااس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ،ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں میں دنیاتاریک ہوگئی اس نے کمال اضطراب میں علماء فضلاء اہل الرائے اورسیاست دانوں کوفوراجمع کرکے ان سے مشورہ طلب کیا اورکہاکہ کوئی ایسی بات سوچوکہ سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے یاسراسراسلام کامیاب ہوجائے، سب نے سرجوڑکربہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی ایسی رائے نہ دے سکے جس پرعمل کیاجاسکتا”فلم یجد عنداحدمنہم رایایعمل بہ“ جب بادشاہ ان کی کسی رائے سے مطمئین نہ ہوسکاتواورزیادہ پریشان ہوااوردل میں کہنے لگا میرے پالنے والے اب کیاکروں ابھی وہ اسی ترددمیں بیٹھاتھاکہ اس کاوزیراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا،بادشاہ تویقیناجانتاہے کہ اس اہم موقع پراسلام کی مشکل کشائی کون کرسکتاہے ،لیکن عمدا اس کی طرف رخ نہیں کرتا،بادشاہ نے کہا”ویحک من“ خداتجھے سمجھے،توبتاتوسہی وہ کون ہے؟ وزیراعظم نے عرض کی ”علیک بالباقرمن اہل بیت النبی“ میں فرزند رسول امام محمدباقرعلیہ السلام کی طرف اشارہ کررہاہوں اوروہی اس آڑے وقت میں تیرے کام آسکتاہیں ،عبدالملک بن مروان نے جونہی آپ کانام سنا قال صدقت کہے لگا خداکی قسم تم نے سچ کہااورصحیح رہبری کی ہے۔

اس کے بعداسی وقت فورااپنے عامل مدینہ کولکھا کہ اس وقت اسلام پرایک سخت مصیبت آگئی ہے اوراس کادفع ہوناامام محمدباقرکے بغیرناممکن ہے،لہذا جس طرح ہوسکے انھیں راضی کرکے میرے پاس بھیجدو،دیکھواس سلسلہ میں جو مصارف ہوں گے،وہ بذمہ حکومت ہوں گے۔

عبدالملک نے دوخواست طلبی، مدینہ ارسال کرنے کے بعدشاہ روم کے سفیرکونظر بندکردیا،اورحکم دیاکہ جب تک میں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پایہ تخت سے جانے نہ دیاجائے۔

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں عبدالملک بن مروان کاپیغام پہنچااورآپ فوراعازم سفرہوگئے اورہل مدینہ سے فرمایاکہ چونکہ اسلام کاکام ہے لہذا میں تمام اپنے کاموں پراس سفرکوترجیح دیتاہوں الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جاپہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پریشان تھا،اس لیے اسے نے آپ کے استقبال کے فورابعدعرض مدعاکردیا،امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا”لایعظم ہذاعلیک فانہ لیس بشئی“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادروتواناقیصرروم کواس فعل قبیح پرقدرت ہی نہ دے گا اورپھرایسی صورت میں جب کہ اس نے تیرے ہاتھوں میں اس سے عہدہ برآہونے کی طاقت دے رکھی ہے بادشاہ نے عرض کی یابن رسول اللہ وہ کونسی طاقت ہے جومجھے نصیب ہے اورجس کے ذریعہ سے میں کامیابی حاصل کرسکتاہوں ۔

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ تم اسی وقت حکاک اور کاریگروں کوبلاؤ اوران سے درہم ودینارکے سکے ڈھلواؤ اورممالک اسلامیہ میں رائج کردو، اس نے پوچھاکہ ان کی کیاشکل وصورت ہوگی اوروہ کس طرح ڈھلیں گے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ سکہ کے ایک طرف کلمہ توحیددوسری طرف پیغمراسلام کانام نامی اورضرب سکہ کاسن لکھاجائے اس کے بعداس کے اوزان بتائے آپ نے کہاکہ درہم کے تین سکے اس وقت جاری ہیں ایک بغلی جودس مثقال کے دس ہوتے ہیں دوسرے سمری خفاف جوچھ مثقال کے دس ہوتے ہیں تیسرے پانچ مثقال کے دس ،یہ کل ۲۱/ مثقال ہوئے اس کوتین پرتقسیم کرنے پرحاصل تقسیم ۷/ مثقال ہوئے،اسی سات مثقال کے دس درہم بنوا،اوراسی سات مثقال کی قیمت سونے کے دینارتیارکرجس کاخوردہ دس درہم ہو،سکہ کانقش چونکہ فارسی میں ہے اس لیے اسی فارسی میں رہنے دیاجائے ،اوردینارکاسکہ رومی حرفوں میں ہے لہذااسے رومی ہی حرفوں میں کندہ کرایاجائے اورڈھالنے کی مشین (سانچہ) شیشے کابنوایاجائے تاکہ سب ہم وزن تیارہوسکیں ۔

عبدالملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلوالیے اورسب کام درست کرلیا اس کے بعدحضرت کی خدمت میں حاضرہوکردریافت کیاکہ اب کیاکروں ؟ ”امرہ محمدبن علی“ آپ نے حکم دیاکہ ان سکوں کوتمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردے، اورساتھ ہی ایک سخت حکم نافذکردے جس میں یہ ہوکہ اسی سکہ کواستعمال کیاجائے اوررومی سکے خلاف قانون قراردیئے گئے اب جوخلاف ورزی کرے گااسے سخت سزادی جائے گی ،اوربوقت ضرورت اسے قتل بھی کیاجاسکے گا۔

عبدالملک بن مروان نے تعمیل ارشادکے بعدسفیرروم کورہاکرکے کہاکہ اپنے بادشاہ سے کہناکہ ہم نے اپنے سکے ڈھلواکررائج کردیے اورتمہارے سکہ کوغیرقانونی قراردے دیا اب تم سے جوہوسکے کرلو۔

سفیرروم یہاں سے رہاہوکرجب اپنے قیصرکے پاس پہنچااوراس سے ساری داستان بتائی تووہ حیران رہ گیا،اورسرڈال کردیرتک خاموش بیٹھاسوچتارہا، لوگوں نے کہابادشاہ تونے جویہ کہاتھا کہ میں مسلمانوں کے پیغمبرکوسکوں پرگالیاں کنداکرادوں گا اب اس پرعمل کیوں نہیں کرتے اس نے کہاکہ اب گالیاں کندا کرکے کیاکروں گااب توان کے ممالک میں میراسکہ ہی نہیں چل رہااورلین دین ہی نہیں ہورہا(حیواة االحیوان دمیری المتوفی ۹۰۸ ہ جلد ۱ طبع مصر ۱۳۵۶ ہ)۔

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی علمی حیثیت

کسی معصوم کی علمی حیثیت پرروشنی ڈالنی بہت دشوارہے ،کیونکہ معصوم اورامام زمانہ کوعلم لدنی ہوتاہے، وہ خداکی بارگاہ سے علمی صلاحیتوں سے بھرپورمتولدہوتاہے،حضرت امام محمدباقر علیہ السلام چونکہ امام زمانہ اورمعصوم ازلی تھے اس لیے آپ کے علمی کمالات،علمی کارنامے اورآپ کی علمی حیثیت کی وضاحت ناممکن ہے تاہم میں ان واقعات میں سے مستثنی ازخروارے،لکھتاہوں جن پرعلماء عبورحاصل کرسکے ہیں ۔

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کاخودارشادہے کہ”( علمنامنطق الطیرواوتینامن کل شئی ) “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھاگئی ہے اورہمیں ہرچیزکاعلم عطاکیاگیاہے (مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱) ۔

روضة الصفاء میں ہے کہ بخداسوگندکہ ماخازنان خدائیم درآسمان زمین الخ خداکی قسم ہم زمین اورآسمان میں خداوندعالم کے خازن علم ہیں اورہم یہ شجرہ نبوت اورمعدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اورفرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیاکے ظاہری ارباب اقتدارہم سے جلتے اورحسدکرتے ہیں ، لسان الواعظین میں ہے کہ ابومریم عبدالغفار کاکہناہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پردازہواکہ :

۱ ۔ مولاکونسالسلام بہترہے جس سے اپنے برادرمومن کوتکلیف نہ پہنچے

۲ ۔ کونساخلق بہترہے فرمایاصبراورمعاف کردینا ۳ ۔ کون سامومن کامل ہے فرمایا جس کے اخلاق بہترہوں ۴ ۔ کون ساجہادبہترہے ، فرمایا ج س میں اپناخون بہہ جائے ۵ ۔ کونسی نمازبہترہے ،فرمایاجس کاقنوت طویل ہو، ۶ ۔ کون سا صدقہ بہترہے، فرمایاجس سے نافرمانی سے نجات ملے، ۷ ۔ بادشاہان دنیاکے پاس جانے میں آپ کی کیارائے ہے، فرمایامیں اچھانہیں سمجھتا، پوچھاکیوں ؟ فرمایاکہ اس لیے کہ بادشاہوں کے پاس کی آمدورفت سے تین باتیں پیداہوتی ہیں : ۱ ۔ محبت دنیا، ۲ ۔فراموشی مرگ، ۳ ۔ قلت رضائے خدا۔

پوچھاپھرمیں نہ جاؤں ،فرمایا میں طلب دنیاسے منع نہیں کرتا، البتہ طلب معاصی سے روکتاہوں ۔

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہداورشرف میں ساری دنیاسے فوقیت لے گئے ہیں آپ سے علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے مظاہرہ میں کوئی نہیں ہوا،بڑے بڑے صحابہ اورنمایاں تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے آپ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابرین عبداللہ انصاری کے ذریعہ سے سلام کہلایاتھا اوراس کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ یہ میرافرزند”باقرالعلوم“ ہوگا،علم کی گتھیوں کوسلجھائے گا کہ دنیاحیران رہ جائے گی(اعلام الوری ص ۱۵۷ ،علامہ شیخ مفید۔

علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اورتفسیر قرآن وعلم السیرت وعلوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدرامام محمدباقرعلیہ السلام سے ظاہرہوئے اتنے امام حسین اورامام حسین کی اولادمیں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔ ملاحظہ ہوکتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷ ۔

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کادماغ خراب ہوگیاہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ آپ ”باقرالعلوم“ علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں ، آپ کادل صاف، علم وعمل روشن وتابندہ نفس پاک اورخلقت شریف تھی، آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسرہوتے تھے۔

عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثارراسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہوگئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجزوماندہ ہیں آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کااحصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمدباقرعلامہ زمان اورسردارکبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراوروسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰) علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کواچھی طرح سمجھ لیاتھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔

علامہ شبراوی لکھتے ہیں کہ امام محمدباقرکے علمی تذکرے دنیامیں مشہور ہوئے اورآپ کی مدح وثناء میں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہنی نے یہ تین شعر لکھے ہیں :

ترجمہ : جب لوگ قرآن مجیدکاعلم حاصل کرناچاہیں توپوراقبیلہ قریش اس کے بتانے سے عاجزرہے گا،کیونکہ وہ خودمحتاج ہے اوراگرفرزندرسول امام محمدباقر کے منہ سے کوئی بات نکل جائے توبے حدوحساب مسائل وتحقیقات کے ذخیرے مہیاکردیں گے یہ حضرات وہ ستارے ہیں جوہرقسم کی تاریکیون میں چلنے والوں کے لیے چمکتے ہیں اوران کے انوارسے لوگ راستے پاتے ہیں (الاتحاف ص ۵۲ ،وتاریخ الائمہ ص ۴۱۳) ۔

علامہ ابن شہرآشوب کابیان ہے کہ صرف ایک راوی محمدبن مسلم نے آپ سے تیس ہزارحدیثیں روایت کی ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۱۱) ۔

آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات

علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابرجعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے ملاتوآپ نے فرمایا اے جابرمیں دنیا سے بالکل بے فکرہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہووہ دنیاکوکچھ نہیں سمجھتا،اور تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ دنیاچھوڑی ہوئی سواری اتاراہواکپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے مومن دنیاکی بقاسے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نورخدااس سے پوشیدہ نہیں ہوتا مومن کوتقوی اختیارکرناچاہئے کہ وہ ہروقت اسے متنبہ اوربیدارکھتاہے سنودنیاایک سرائے فانی ہے نزلت بہ وارتحلت منہ “ اس میں آناجانالگارہتاہے آج آئے اورکل گئے اوردنیاایک خواب ہے جوکمال کے ماننددیکھی جاتی ہے اورجب جاگ اٹھے توکچھ نہیں

آپ نے فرمایا تکبربہت بری چیزہے ،یہ جس قدرانسان میں پیداہوگا اسی قدراس کی عقل گھٹے گی ،کمینے شخص کاحربہ گالیاں بکناہے ۔

ایک عالم کی موت کوابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہترسمجھتاہے ایک ہزارعابدسے وہ ایک عالم بہترہے جواپنے علم سے فائدہ پہنچارہاہو۔

میرے ماننے والے وہ ہیں جواللہ کی اطاعت کریں آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والابخشاجاتاہے اورجس رخسارپر آنسوجاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔

سستی اورزیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے ۔

خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہئے کہ اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہوں کومحفوظ رکھیں ۔

دعاسے قضابھی ٹل جاتی ہے ۔ نیکی بہترین خیرات ہے

بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کواپنی آنکھ کی شہتیردکھائی نہ دے،اور دوسرے کی آنکھ کاتنکانظرآئے ،یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اوردوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظرآئیں اورخودعمل نہ کرے، صرف دوسروں کوتعلیم دے۔

جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دوررہے ،وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے (مطالب السؤل ص ۲۷۲) ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ جب کوئی نعمت ملے توکہوالحمدللہ اورجب کوئی تکلیف پہنچے توکہو”لاحول ولاقوة الابالله “ اورجب روزی تنگ ہوتوکہواستغفراللہ ۔

دل کودل سے راہ ہوتی ہے،جتنی محبت تمہارے دل میں ہوگی ،اتنی ہی تمہارے بھائی اوردوست کے دل میں بھی ہوگی

تین چیزیں خدانے تین چیزوں میں پوشیدہ رکھی ہیں :

۱ ۔ اپنی رضااپنی اطاعت میں ،کسی فرمانبرداری کوحقیرنہ سمجھو شایداسی میں خداکی رضاہو۔

۲ ۔ اپنی ناراضی اپنی معصیت میں کسی گناہ کومعمولی نہ جانوتوشایدخدا اسی سے ناراض ہوجائے۔

۳ ۔ اپنی دوستی یااپنے ولی، مخلوقات میں کسی شخص کوحقیرنہ سمجھو، شایدوہی ولی اللہ ہو (نورالابصار ص ۱۳۱ ،اتحاف ص ۹۳) ۔

احادیث آئمہ میں ہے امام محمدباقرعلیہ السلام فرماتے ہیں انسان کوجتنی عقل دی گئی ہے اسی کے مطابق اس سے قیامت میں حساب وکتاب ہوگا۔

ایک نفع پہنچانے والاعالم سترہزارعابدوں سے بہترہے ،عالم کی صحبت میں تھوڑی دیربیٹھنا ایک سال کی عبادت سے بہترہے خداان علماء پررحم وکرم فرمائے جواحیاء علم کرتے اورتقوی کوفروغ دیتے ہیں ۔

علم کی زکواة یہ ہے کہ مخلوق خداکوتعلیم دے جائے ۔ قرآن مجیدکے بارے میں تم جتناجانتے ہواتناہی بیان کرو۔

بندوں پرخداکاحق یہ ہے کہ جوجانتاہواسے بتائے اورجونہ جانتاہواس کے جواب میں خاموش ہوجائے ۔ علم حاصل کرنے کے بعداسے پھیلاو،اس لیے کہ علم کوبند رکھنے سے شیطان کاغلبہ ہوتاہے ۔

معلم اورمتعلم کاثواب برابرہے ۔ جس کی تعلیم کی غرض یہ ہوکہ وہ علماء سے بحث کرے ،جہلاپررعب جمائے اورلوگوں کواپنی طرف مائل کرے وہ جہنمی ہے ،دینی راستہ دکھلانے والااورراستہ پانے والادونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں ۔ جودینی راستہ دکھلانے والااورراستہ پانے والادونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں ۔

جودینیات میں غلط کہتاہواسے صحیح بنادو، ذات الہی وہ ہے، جوعقل انسانی میں نہ سماسکے اورحدودمیں محدودنہ ہوسکے ۔

اس کی ذات فہم وادراک سے بالاترہے خداہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا، خداکی ذات کے بارے میں بحث نہ کرو،ورنہ حیران ہوجاؤگے ۔ اجل کی دوقسمین ہیں ایک اجل محتوم،دوسرے اجل موقوف، دوسری سے خداکے سواکوئی واقف نہیں ، زمین حجت خداکے سواکوئی واقف نہیں ،زمین حجت خداکے بغیرباقی نہیں رہ سکتی۔

امت بے امام کی مثال بھیڑکے اس گلے کی ہے،جس کاکوئی بھی نگران نہ ہو۔

امام محمدباقرعلیہ السلام سے روح کی حقیقت اورماہیت کے بارے میں پوچھاگیاتوفرمایاکہ روح ہواکی مانندمتحرک ہے اوریہ ریح سے مشتق ہے ، ہم جنس ہونے کی وجہ سے اسے روح کہاجاتاہے یہ روح جوجانداروں کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ،وہ تمام ریحوں سے پاکیزہ ترہے۔

روح مخلوق اورمصنوع ہے اورحادث اورایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی ہے۔

وہ ایسی لطیف شئے ہے جس میں نہ کسی قسم کی گرانی اورسنگینی ہے نہ سبکی، وہ ایک باریک اوررقیق شئے ہے جوقالب کثیف میں پوشیدہ ہے،اس کی مثال اس مشک جیسی ہے جس میں ہوابھردو،ہوابھرنے سے وہ پھول جائے گی لیکن اس کے وزن میں ا ضافہ نہ ہوگا۔۔ روح باقی ہے اوربدن سے نکلنے کے بعدفنا نہیں ہوتی، یہ نفخ صورکے وقت ہی فناہوگی۔

آپ سے خداوندعالم کے صفات بارے میں پوچھاگیاتوآپ نے فرمایا،کہ وہ سمیع وبصیرہے اورآلہ سمع وبصرکے بغیرسنتااوردیکھتاہے،رئیس معتزلہ عمربن عبیدنے آپ سے دریافت کیاکہ”من یحال علیہ غضبی“ ابوخالدکابلی نے آپ سے پوچھاکہ قول خدا”فامنواباللہ ورسولہ والنورالذی انزلنا“ میں ،نورسے کیامرادہے؟آپ نے فرمایا”واللہ النورالائمة من آل محمد“ خداکی قسم نورسے ہم آل محمدمرادہیں ۔

آپ سے دریافت کیاگیاکہ یوم ندعواکل اناس بامامہم سے کون لوگ مرادہیں آپ نے فرمایاوہ رسول اللہ ہیں اوران کے بعدان کی اولادسے آئمہ ہوں گے، انہیں کی طرف آیت میں اشارہ فرمایاگیاہے جوانہیں دوست رکھے گااوران کی تصدیق کرے گاوہی نجات پائے گااورجوان کی مخالفت کرے گاجہنم میں جائے گا، ایک مرتبہ طاؤس یمانی نے حضرت کی خدمت مین حاضرہوکریہ سوال کیاکہ وہ کونسی چیزہے جس کاتھوڑااستعمال حلال تھا اورزیادہ استعمال حرام،آپ نے فرمایاکہ وہ نہرطالوت کاپانی تھاجس کاصرف ایک چلوپیناحلال تھا اوراس سے زیادہ حرام پوچھاوہ کون ساروزہ تھاجس میں کھاناپیناجائزتھا،فرمایاو ہ جناب مریم کا روزہ صمت تھا جس میں صرف نہ بولنے کاروزہ تھا ،کھاناپیناحلال تھا، پوچھاوہ کون سی شئے ہے جوصرف کرنے سے کم ہوتی ہے بڑھتی نہیں ، فرمایاکہ وہ عمرہے ۔ پوچھاوہ کون سی شئے ہے جوبڑھتی ہے گھٹتی نہیں ،فرمایاوہ سمندرکاپانی ہے ،پوچھاوہ کونسی چیزہے جوصرف ایک باراڑی پھرنہ اڑی،فرمایاوہ کوہ طورہے جوایک بارحکم خداسے اڑکربنی اسرائیل کے سروں پرآگیاتھا۔ پوچھاوہ کون لوگ ہیں جن کی سچی گواہی خدانے جھوٹی قراردی،فرمایاوہ منافقوں کی تصدیق رسالت ہے جودل سے نہ تھی۔

پوچھابنی آدم کا ۱/۳ حصہ کب ہلاک ہوا،فرمایاایساکبھی نہیں ہوا،تم یہ پوچھوکہ انسان کا ۱/۴ حصہ کب ہلاک ہواتومیں بتاؤں کہ یہ اس وقت ہواجب قابیل نے ہابیل کوقتل کیا،کیونکہ اس وقت چارآدمی تھے آدم،حوا،ہابیل اورقابیل ،پوچھاپھرنسل انسانی کس طرح بڑھی فرمایاجناب شیش سے جوقتل ہابیل کے بعدبطن حواسے پیداہوئے۔

آپ کی عبادت گذاری اورآپ کے عام حالات

آپ آباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ساری رات نمازپڑھنی اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی آپ کی زندگی زاہدانہ تھی، بورئیے پربیٹھتے تھے ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اورفروتنی ،صبروشکرغلام نوازی صلہ رحم وغیرہ میں اپنی آپ نظیرتھے آپ کی تمام آمدنی فقراء پرصرف ہوتی تھی آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ ص ۹۵ ۔

آپ کے ایک غلام افلح کابیان ہے کہ ایک دن آپ کعبہ کے قریب تشریف لے گئے، آپ کی جیسے ہی کعبہ پرنظرپڑی آپ چیخ مارکررونے لگے میں نے کہا کہ حضورسب لوگ دیکھ رہے ہیں آپ آہستہ سے گریہ فرمائیں ارشادکیا،اے افلح شاید خدابھی انہیں لوگوں کی طرح میری طرف دیکھ لے اورمیری بخشش کاسہاراہوجائے، اس کے بعدآپ سجدہ میں تشریف لے گئے اورجب سراٹھایاتوساری زمین آنسوؤں سے ترتھی (مطالب السؤل ص ۲۷۱) ۔

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورہشام بن عبدالملک

تواریخ میں ہے ۹۶ ہ میں ولیدبن عبدالملک فوت ہوا(ابوالفداء) اوراس کابھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ مقررکیاگیا(ابن الوردی ) ۹۹ ہ میں عمربن عبدالعزیزخلیفہ ہواابن الوردی اس نے خلیفہ ہوتے ہی اس بدعت کوجو ۴۱ ہ سے بن امیہ نے حضرت علی پرسب وشتم کی صورت میں جاری کررکھی تھی حکما روک دیا (ابوالفداء) اوررقوم خمس بنی ہاشم کودیناشروع کیا(کتاب الخرائج ابویوسف) ۔

یہ وہ زمانہ تھاجس میں علی کے نام پراگرکسی بچے کانام ہوتاتھا تووہ قتل کردیاجاتاتھا اورکسی کوبھی زندہ نہ چھوڑاجاتاتھا (تدریب الراوی سیوطی) اس کے بعد ۱۰۱ ہ میں یزیدبن عبدالملک خلیفہ بنایاگیا(ابن الوردی) ۱۰۵ ہ میں ہشام بن عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت مقررہوا(ابن الوردی)۔

ہشام بن عبدالملک،چست،چالاک،کنجوس ومتعصب،چال باز،سخت مزاج، کجرو،خودسر،حریص،کانوں کاکچاتھا اورحددرجہ کاشکی تھا کبھی کسی کااعتبارنہ کرتاتھا اکثرصرف شبہ برسلطنت کے لائق لائق ملازموں کوقتل کرادیتاتھا یہ عہدوں پرانہیں کوفائزکرتاتھا جوخوشامدی ہوں ، اس نے خالدبن عبداللہ قسری کو ۱۰۵ ہ سے ۱۲۰ ہ تک عراق کاگورنرتھا قسری کاحال یہ تھاکہ ہشام کورسول اللہ سے افضل بتاتااوراسی کاپروپیگنڈہ کیاکرتاتھا(تاریخ کامل جلد ۵ ص ۱۰۳) ۔

ہشام آل محمدکادشمن تھااسی نے زیدشہیدکونہایت بری طرح قتل کیاتھا، تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۹) اسی نے اپنے زمانہ ولیعہدی میں فرزدق شاعرکوامام زین العابدین کی مدح کے جرم میں بمقام عسقلان قیدکیاتھا۔(صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

ہشام کاسوال اوراس کاجواب

تخت سلطنت پربیٹھنے کے بعدہشام بن عبدالملک حج کے لیے گیاوہاں اس نے امام محمدباقرعلیہ السلام کودیکھاکہ مسجدالحرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں کوپند ونصائح سے بہرہ ورکررہے ہیں یہ دیکھ کر ہشام کی دشمنی نے کروٹ لی اوراس نے دل میں سوچاکہ انہیں ذلیل کرناچاہئے اوراسی ارادہ سے اس نے ایک شخص سے کہاکہ جاکران سے کہوکہ خلیفہ پوچھ رہے ہیں کہ حشرکے دن آخری فیصلہ سے قبل لوگ کیاکھائیں اورپئیں گے اس نے جاکرامام علیہ السلام کے سامنے خلیفہ کاسوال پیش کیاآپ نے فرمایاجہاں حشرونشرہوگاوہاں میوے داردرخت ہوں گے،وہ لوگ انہیں چیزوں کواستعمال کریں گے بادشاہ نے جواب سن کرکہایہ بالکل غلط ہے کیونکہ حشرمیں لوگ مصیبتوں اوراپنی پریشانیوں میں مبتلاہوں گے ان کوکھانے پینے کاہوش کہاں ہوگا؟ قاصدنے بادشاہ کاگفتہ نقل کردیا،حضرت نے قاصدسے فرمایاکہ جاؤاور بادشاہ سے کہوکہ تم نے قران بھی پڑھاہے یانہیں ،قرآن میں یہ نہیں ہے کہ ”جہنم“ کے لوگ جنت والوں سے کہیں گے کہ ہمیں پانی اورکچھ نعمتیں دیدوکہ پی اورکھالیں اس وقت وہ جواب دیں گے کہ کافروں پرجنت کی نعمتیں حرام ہیں (پ ۸ ،رکوع ۱۳) توجب جہنم میں بھی لوگ کھاناپینانہیں بھولیں گے توحشرونشرمیں کیسے بھول جائیں گے جس میں جہنم سے کم سختیاں ہوں گی اوروہ امیدوبیم اورجنت ودوزخ کے درمیان ہوں گے یہ سن کرہشام شرمندہ ہوگیا(ارشادمفید ص ۴۰۸ ،تاریخ آئمہ ص ۴۱۴) ۔

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی دمشق میں طلبی

علامہ مجلسی اورسیدابن طاؤس رمقطرازہیں کہ ہشام بن عبدالملک اپنے عہدحکومت کے آخری ایام میں حج بیت اللہ کے لیے مکہ معظمہ میں پہنچاوہاں حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام بھی موجودتھے ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے مجمع عام میں ایک خطبہ ارشادفرمایاجس میں اورباتوں کے علاوہ یہ بھی کہاکہ ہمیں روئے زمین پرخداکے خلیفہ اورا سکی حجت ہیں ،ہمارادشمن جہنم میں جائے گا،اورہمارادوست نعمات جنت سے متنعم ہوگا۔

اس خطبہ کی اطلاع ہشام کودی گئی ،وہ وہاں توخاموش رہا،لیکن دمشق پہنچنے کے بعدوالی مدینہ کوفرمان بھیجاکہ محمدبن علی اورجعفربن محمدکومیرے پاس بھیجدے ، چنانچہ آپ حضرات دمشق پہنچے وہاں ہشام نے آپ کوتین روزتک اذن حضورنہیں دیاچوتھے روزجب اچھی طرح دربارکوسجالیا،توآپ کوبلوابھیجاآپ حضرات جب داخل دربارہوئے توآپ کوذلیل کرنے کے لیے آپ سے کہاکہ ہمارے تیراندازوں کی طرح آپ بھی تیراندازی کریں حضرت امام محمدباقر نے فرمایا کہ میں ضعیف ہوگیاہوں مجھے اس سے معاف رکھ، اس نے بہ قسم کہاکہ یہ ناممکن ہے پھرایک کمان آپ کودلوایاآپ نے ٹھیک نشانہ پرتیرلگائے ، یہ دیکھ کروہ حیران رہ گیا اس کے بعدامام نے فرمایا، بادشاہ ہم معدن رسالت ہیں ،ہمارامقابلہ کسی امرمیں کوئی نہیں کرسکتا،یہ سن کرہشام کوغصہ آگیا،وہ بولاکہ آب لوگ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں آپ کے دادعلی بن ابی طالب نے غیب کادعوی کیاہے آپ نے فرمایابادشاہ قرآن مجیدمیں سب کچھ موجود ہے اورحضرت علی امام مبین تھے انہیں کیانہیں معلوم تھا(جلاء العیون)۔

ثقةالاسلام علامہ کلینی تحریرفرماتے ہیں کہ ہشام نے اہل دربارکوحکم دیاتھاکہ میں محمدبن علی(امام محمدباقرعلیہ السلام) کوسردربارذلیل کروں گا تم لوگ یہ کرناکہ جب میں خاموش ہوجاؤں توانہیں کلمات ناسزاکہنا،چنانچہ ایساہی کیاگیاآخرمیں حضرت نے فرمایا،بادشاہ یادرکھ ہم ذلیل کرنے ذلیل نہیں ہوسکتے ،خداوندعالم نے ہمیں عزت دی ہے،اس میں ہم منفردہیں یادرکھ عاقبت کی شاہی متقین کے لیے ہے یہ سن کرہشام نے فامربہ الی الحبس آپ کوقیدکرنے کاحکم دیدیا،چنانچہ آپ قیدکردیئے گئے۔

قیدخانہ میں داخل ہونے کے بعدآپ نے قیدیوں کے سامنے ایک معجزنماتقریر کی جس کے نتیجہ میں قیدخانہ کے اندرکہرام عظیم برپاہوگیا،بالآخرقیدخانہ کے داروغہ نے ہشام سے کہاکہ اگرمحمدبن علی زیادہ دنوں قیدرہے توتیری مملکت کانظام منقلب ہوجائے گاان کی تقریرقیدخانہ سے باہربھی اثرڈال رہی ہے اورعوام میں ان کے قیدہونے سے بڑاجوش ہے یہ سن کرہشام ڈرگیااوراس نے آپ کی رہائی کاحکم دیااورساتھ یہ بھی اعلان کرادیاکہ نہ آپ کوکوئی مدینہ پہنچانے جائے اورنہ راستے میں آپ کوکوئی کھاناپانی دے، چنانچہ آپ تین روزکے بھوکے پیاسے داخل مدینہ ہوئے۔

وہاں پہنچ کرآپ نے کھانے پینے کی سعی،لیکن کسی نے کچھ نہ دیا، بازارہشام کے حکم سے بندتھے یہ حال دیکھ کرآپ ایک پہاڑی پرگئے اورآپ نے اس پرکھڑے ہوکرعذاب الہی کاحوالہ دیایہ سن کرایک پیرمردبازارمیں کھڑاہوکرکہنے لگا بھائیو!سنو،یہی وہ جگہ ہے جس جگہ حضرت شعیب نبی نے کھڑے ہوکرعذاب الہی کی خبردی تھی اورعظیم ترین عذاب نازل ہواتھا میری بات مانواوراپنے کوعذاب میں مبتلانہ کرویہ سن کرسب لوگ حضرت کی خدمت میں حاضرہوگئے اورآپ کے لیے ہوٹلوں کے دروازے کھول دئیے (اصول کافی)۔

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدہشام نے والی مدینہ ابراہیم بن عبدالملک کولکھاکہ امام محمدباقرکوزہرسے شہیدکردے (جلاء العیون ص ۲۶۲) ۔

کتاب الخرائج والبحرائح میں علامہ راوندی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدہشام بن عبدالملک نے زیدبن حسن کے ساتھ باہمی سازش کے ذریعہ امام علیہ السلام کودوبارہ دمشق میں طلب کرناچاہالیکن والی مدینہ کی ہمنوائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ارادہ سے بازآیا اس نے تبرکات رسالت جبرا طلب کئے اورامام علیہ السلام نے بروایتے ارسال فرمادئیے۔

دمشق سے روانگی اورایک راہب کامسلمان ہونا

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام قیدخانہ دمشق سے رہاہوکرمدینہ کوتشریف لئے جارہے تھے کہ ناگاہ راستے میں ایک مقام پرمجمع کثیرنظرآیا،آپ نے تفحص حال کیاتومعلوم ہواکہ نصاری کاایک راہب ہے جوسال میں صرف ایک باراپنے معبدسے نکلتاہے آج اس کے نکلنے کادن ہے حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اس مجمع میں عوام کے ساتھ جاکربیٹھ گئے ،راہب جوانتہائی ضعیف تھا،مقررہ وقت پربرامدہوا،اوراس نے چاروں طرف نظردوڑانے کے بعدامام علیہ السلام کی طرف مخاطب ہوکربولا:

۱ ۔ کیاآپ ہم میں سے ہیں فرمایامیں امت محمدیہ سے ہوں ۔

۲ ۔آپ علماء سے ہیں یاجہلاسے فرمایامیں جاہل نہیں ہوں ۔

۳ ۔ آپ مجھ سے کچھ دریافت کرنے کے لیے آئے ہیں فرمایانہیں ۔

۴ ۔ جب کہ آپ عالموں میں سے ہیں کیا؟میں آپ سے کچھ پوچھ سکتاہوں ، فرمایاضرورپوچھیے۔

یہ سن کرراہب نے سوال کیا ۱ ۔ شب وروزمیں وہ کونساوقت ہے،جس کاشمار نہ دن میں ہے اورنہ رات میں ، فرمایاوہ سورج کے طلوع سے پہلے کاوقت ہے جس کاشماردن اوررات دونوں میں نہیں ،وہ وقت جنت کے اوقات میں سے ہے اورایسا مبترک ہے کہ اس میں بیماروں کوہوش آجاتاہے دردکوسکون ہوتاہے جورات بھرنہ سوسکے اسے نیندآتی ہے یہ وقت آخرت کی طرف رغبت رکھنے والوں کے لیے خاص الخاص ہے۔

۲ ۔ آپ کاعقیدہ ہے کہ جنت میں پیشاب وپاخانہ کی ضرروت نہ ہوگی؟کیا دنیا میں اس کی مثال ہے ؟ فرمایابطن مادرمیں جوبچے پرورش پاتے ہیں ان کافضلہ خارج نہیں ہوتا۔

۳ ۔ مسلمانوں کاعقیدہ ہے کہ کھانے سے بہشت کامیوہ کم نہ ہوگااس کی یہاں کوئی مثال ہے، فرمایاہاں ایک چراغ سے لاکھوں چراغ جلائے جاتے ہیں تب بھی پہلے چراغ کی روشنی میں کمی نہ ہوگی۔

۴ ۔ وہ کون سے دوبھائی ہیں جوایک ساتھ پیداہوئے اورایک ساتھ مرے لیکن ایک کی عمرپچاس سال کی ہوئی اوردوسرے کی ڈیڑھ سوسال کی، فرمایا”عزیز اورعزیرپیغمبرہیں یہ دونوں دنیامیں ایک ہی روزپیداہوئے اورایک ہی روزمرے پیدائش کے بعدتیس برس تک ساتھ رہے پھرخدانے عزیرنبی کومارڈالا(جس کاذکرقرآن مجیدمیں موجودہے) اورسوبرس کے بعدپھرزندہ فرمایا اس کے بعدوہ اپنے بھائی کے ساتھ اورزندہ رہے اورپھرایک ہی روزدونوں نے انتقال کیا۔

یہ سن کرراہب اپنے ماننے والوں کی طرف متوجہ ہوکرکہنے لگاکہ جب تک یہ شخص شام کے حدودمیں موجودہے میں کسی کے سوال کاجواب نہ دوں گاسب کو چاہئے کہ اسی عالم زمانہ سے سوال کرے اس کے بعدوہ مسلمان ہوگیا(جلاء العیون ص ۲۶۱ طبع ایران ۱۳۰۱ ہ۔

امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت

آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذریعہ سے شہیدکرادیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ہ یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں انتقال فرماگئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میں دفن ہوئے (کشف الغمہ ص ۹۳ ،جلاء العیون ص ۲۶۴ ،جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ ص ۴۴۹ ،انوارالحسینہ ص ۴۸ ، شواہدالنبوت ص ۱۸۱ ، روضة الشہداء ص ۴۳۴) ۔

علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوارامام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہرسے شہیدکردیئے گئے (نورالابصار ص ۳۱ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولیدوالی مدینہ کی زہرخورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ وقت ہشام بن عبدالملک کی مرسلہ زہرآلودزین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی (جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۸) ۔

شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اورکہا کہ بیٹامیرے کانوں میں میرے والدماجدکی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلدبلارہے ہیں (نورالابصار ص ۱۳۱) ۔ آپ نے غسل وکفن کے متعلق خاص طورسے ہدایت کی کیونکہ امام راجزامام نشوید امام کوامام ہی غسل دے سکتاہے (شواہدالنبوت ص ۱۸۱) ۔

علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی کہاکہ ۸۰۰/ درہم میری عزاداری اورمیرے ماتم پرصرف کرنااورایساانتظام کرناکہ دس سال تک منی میں بزمانہ حج میرے مظلمومیت کاماتم کیاجائے (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔

علماء کابیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بندہائے کفن قبرمیں کھول دینا اورمیری قبر چارانگل سے زیادہ اونچی نہ کرنا(جنات الخلود ص ۲۷) ۔

ازواج اولاد

آپ کی چاربیویاں تھیں اورانہیں سے اولادہوئیں ۔ام فروہ،ام حکیم،لیلی،اور ایک اوربیوی ام فروہ بنت قاسم بن محمدبن ابی بکرجن سے حضرات امام جعفرصادق علیہ السلام اورعبداللہ افطح پیداہوئے اورام حکیم بنت اسدبن مغیرہ ثقفی سے ابراہیم وعبداللہ اورلیلی سے علی اورزینب پیداہوئے اورچوتھی بیوی سے ام سلمی متولدہوئے (ارشادمفید ص ۲۹۴ ، مناقب جلد ۵ ص ۱۹ ،نورالابصارص ۱۳۲) ۔

علامہ محمدباقربہبھانی ،علامہ محمدرضاآل کاشف الغطاء اورعلامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ حضرت امام باقرعلیہ السلام کی نسل صرف امام جعفر صادق علیہ السلام سے بڑھی ہے ان کے علاوہ کسی کی اولادزندہ اورباقی نہیں رہی (دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۹ ،انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۴۸ ،روضة الشہداء ص ۴۳۴ طبع لکھنؤ ۱۲۸۵ ءء)۔


حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام

آپ کی ولادت باسعادت

آپ بتاریخ ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ہ مطابق ۲۰۷ ءیوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے (ارشادمفیدفارسی ص ۴۱۳ ،اعلام الوری ص ۱۵۹ ،جامع عباسی ص ۶۰ وغیرہ)۔

آپ کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا(جنات الخلوج ص ۲۷) ۔

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں (جلاء العیون ص ۲۶۵) ۔ آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔

اسم گرامی ،کنیت ،القاب

آپ کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفربن محمدکولقب صادق سے موسوم وملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔

علامہ ابن خلکان کاکہناہے کہ صدق مقال کی وجہ سے آپ کے نام نامی کاجزو”صادق“ قرارپایاہے (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۰۵) ۔

جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے (ارجح المطالب ص ۳۶۱ ،بحوالہ تذکرة الخواص الامة)۔

امام اہل سنت علامہ وحیدالزمان حیدرآبادی تحریرفرماتے ہیں ،جعفر،چھوٹی نہریابڑی واسع (کشادہ ) امام جعفرصادق،مشہورامام ہیں بارہ اماموں میں سے اوربڑے ثقہ اورفقیہ اورحافظ تھے امام مالک اورامام ابوحنیفہ کے شیخ (حدیث)ہیں اورامام بخاری کونہیں معلوم کیاشبہ ہوگیاکہ وہ اپنی صحیح میں ان سے روایتیں نہیں کرتے اوریحی بن سعیدقطان نے بڑی بے ادبی کی ہے جوکہتے ہیں کہ میں ”فی منہ شئی ومجالداحب الی منہ“ میرے دل میں امام جعفرصادق کی طرف سے خلش ہے، میں ان سے بہترمجالدکوسمجھتاہوں ،حالانکہ مجالدکوامام صاحب کے سامنے کیارتبہ ہے؟ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اہل سنت بدنام ہوتے ہین کہ ان کوآئمہ اہل بیت سے کچھ محبت اوراعتقادنہیں ہے۔

اللہ تعالی امام بخاری پررحم کرے کہ مروان اورعمران بن خطان اورکئی خوارج سے توانہوں نے روایت کی اورامام جعفرصادق سے جوابن رسول اللہ ہیں ان کی روایت میں شبہ کرتے ہیں (انواراللغتہ پارہ ۵ ص ۴۷ طبع حیدرآباددکن)۔

علامہ ابن حجرمکی اورعلامہ شبلنجی رقمطرازہیں کہ اعیان آئمہ میں سے ایک جماعت مثل یحی بن سعیدبن جریح،امام مالک ،امام سفیان ثوری بن عینیہ،امام ابوحنیفہ ،ایوب سجستانی نے آپ سے حدیث اخذکی ہے ،ابوحاتم کاقول ہے کہ امام جعفرصادق ایسے ثقہ میں لایسئل عنہ مثلہ کہ آپ ایسے شخصوں کی نسبت کچھ تحقیق اوراستفساروتفحص کی ضرورت ہی نہیں ،آپ ریاست کی طلب سے بے نیازتھے اورہمیشہ عبادت گزاری میں بسرکرتے رہے ،عمرابن مقدام کاکہناہے کہ جب میں امام جعفرصادق علیہ السلام کودیکھتاہوں تومجھے معاخیال ہوتاہے کہ یہ جوہررسالت کی اصل وبنیادہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ،نورالابصار، ص ۱۳۱ ،حلیة الابرارتاریخ آئمہ ص ۴۳۳) ۔

بادشاہان وقت

آپ کی ولادت ۸۳ ہ میں ہوئی ہے اس وقت عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھرولید،سلیمان،عمربن عبدالعزیز،یزیدبن عبدالملک ،ہشام بن عبدالملک،ولیدبن یزیدبن عبدالملک ،یزیدالناقص، ابراہیم ابن ولید،اورمروان الحمار،علی الترتیب خلیفہ مقررہوئے مروان الحمارکے بعدسلطنت بنی امیہ کاچراغ گل ہوگیا اوربن عباس نے حکومت پرقبضہ کرلیا،بنی عباس کاپہلابادشاہ ابوالعباس ،سفاح اوردوسرا منصور دوانقی ہواہے ۔ملاحظہ ہو(اعلام الوری) تاریخ ابن الوردی ،تاریخ ائمہ ص ۴۳۶) ۔

اسی منصورنے ابنی حکومت کے دوسال گزرنے کے بعدامام جعفرصادق علیہ السلام کوزہرسے شہیدکردیا(انوارالحسینہ جلد ۱ ص ۵۰) ۔

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کاایک مناظرہ

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے بے شمارعلمی مناظرے فرمائے ہیں آپ نے دہریوں ، قدریوں ،کافروں اوریہودیوں ونصاری کوہمیشہ شکست فاش دی ہے کسی ایک مناظرہ میں بھی آپ پرکوئی غلبہ حاصل نہیں کرسکا،عہدعبدالملک بن مروان کاذکرہے کہ ایک قدریہ مذہب کامناظراس کے دربارمیں آکرعلماء سے مناظرہ کاخوہشمندہوا،بادشاہ نے حسب عادت اپنے علماء کوطلب کیااوران سے کہاکہ اس قدریہ مناظرسے مناظرہ کروعلماء نے اس سے کافی زورآزمائی کی مگروہ میدان مناظرہ کاکھلاڑی ان سے نہ ہارسکا، اورتمام علماء عاجزآگئے اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبدالملک بن مروان نے فوراایک خط حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیااوراس میں تاکیدکی کہ آپ ضرورتشریف لائیں حضرت امام محمدباقرکی خدمت میں جب اس کاخط پہنچاتوآپ نے اپنے فرزندحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے فرمایاکہ بیٹامیں ضعیف ہوچکاہوں تم مناظرہ کے لیے شام چلے جاؤ حضرت اما م جعفرصادق علیہ السلام اپنے پدربزرگوارکے حسب الحکم مدینہ سے روانہ ہوکرشام پہنچ گئے۔

عبدالملک بن مروان نے جب امام محمدباقرعلیہ السلام کے بجائے امام جعفرصادق علیہ السلام کودیکھاتوکہنے لگاکہ آپ ابھی کم سن ہیں اوروہ بڑاپرانامناظر ہے ،ہوسکتاہے کہ آپ بھی اورعلماء کی طرح شکست کھاجائیں ،اس لیے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ منعقدکی جائے حضرت نے ارشادفرمایا،بادشاہ توگھبرا نہیں ، اگرخدانے چاہاتومیں صرف چندمنٹ میں مناظرہ ختم کردوں گاآپ کے ارشادکی تائیددرباریوں نے بھی کی اورموقعہ مناظرہ پرفریقین آگیے۔

چونکہ قدریوں کااعتقادہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خداکوبندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں ،اورنہ خداکچھ کرسکتاہے یعنی خداکے حکم اورقضاوقدروارادہ کوبندوں کے کسی امرمیں دخل نہیں لہذا حضرت نے اس کی پہلی کرنے کی خواہش پرفرمایاکہ میں تم سے صرف ایک بات کہنی چاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ تم ”سورہ حمد“پڑھو،اس نے پڑھناشروع کیا جب وہ ”ایاک نعبدوایاک نستعین“ پرپہنچاجس کاترجمہ یہ ہے کہ میں صرف تیری عبادت کرتاہوں اوربس تھجی سے مدد چاہتاہوں توآپ نے فرمایا،ٹہرجاؤاورمجھے اس کاجواب دوکہ جب خداکوتمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کاحق نہیں توپھرتم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو، یہ سن کروہ خاموش ہوگیااورکوئی جواب نہ دے سکا،بالآخرمجلس مناظرہ برخواست ہوگئی اوربادشاہ نے بے حدخوش ہوا(تفسیر برہان جلد ۱ ص ۳۳) ۔

ابوشاکردیصانی کاجواب

ابوشاکردیصانی جولامذہب تھا حضرت سے کہنے لگاکہ کیاآپ خداکاتعارف کراسکتے ہیں اوراس کی طرف میری رہبری فرماسکتے ہیں آپ نے ایک طاؤس کا انڈا ہاتھ میں لے کرفرمایادیکھواس کی بالائی ساخت پرغورکرو،اوراندرکی بہتی ہوئی زردی اورسفیدی کابنظرغائردیکھواوراس پرتوجہ دوکہ اس میں رنگ برنگ کے طائرکیوں کرپیداہوجاتے ہیں کیاتمہاری عقل سلیم اس کوتسلیم نہیں کرتی کہ اس انڈے کااچھوتے اندازمیں بنانے والااوراس سے پیداکرنے والاکوئی ہے، یہ سن کروہ خاموش ہوگیااوردہریت سے بازآیا۔

اسی دیصانی کاواقعہ ہے کہ اس نے ایک دفعہ آپ کے صحابی ہشام بن حکم کے ذریعہ سے سوال کیاکہ کیایہ ممکن ہے ؟کہ خداساری دنیاکوایک انڈے میں سمودے اورنہ انڈابڑھے اورنہ دنیاگھٹے آپ نے فرمایابے شک وہ ہرچیزپرقادرہے اس نے کہاکوئی مثال؟ فرمایامثال کے لیے مردمک چشم آنکھ کی چھوٹی پتلی کافی ہے اس میں ساری دنیاسماجاتی ہے ،نہ پتلی بڑھتی ہے نہ دنیاگھٹتی ہے (اصول کافی ص ۴۳۳ ،جامع الاخبار)۔

امام جعفرصادق علیہ السلام اورحکیم ابن عیاش کلبی

ہشام بن عبدالملک بن مروان کے عہدحیات کاایک واقعہ ہے کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے حاضرہوکرعرض کیاکہ حکیم بن عیاش کلبی آپ لوگوں کی ہجوکرتاہے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایاکہاگرتجھ کواس کاکچھ کلام یادہوتوبیان کر اس نے دوشعرسنائے جس کاحاصل یہ ہے کہ ہم نے زیدکوشاخ درخت خرمہ پرسولی دیدی ،حالانکہ ہم نے نہیں دیکھا، کوئی مہدی دارپرچڑھایاگیاہو اورتم نے اپنی بیوقوفی سے علی کوعثمان کے ساتھ قیاس کرلیاحالانکہ علی سے عثمان بہتراورپاکیزہ تھا یہ سن کرامام جعفرصادق علیہ السلام نے دعاکی بارالہا اگریہ حکیم کلبی جھوٹاہے تواس پراپنی مخلوق میں کسی درندے کومسلط فرماچنانچہ ان کی دعاقبول ہوئی اورحکیم کلبی کوراہ میں شیرنے ہلاک کردیا(اصابہ ابن حجرعسقلانی جلد ۲ ص ۸۰) ۔

ملاجامی تحریرکرتے ہیں کہ جب حکیم کلبی کے ہلاک ہونے کی خبرامام جعفرصادق علیہ السلام کوپہنچی توانہوں نے سجدہ میں جاکرکہاکہاس خدائے برترکاشکرہے کہ جس نے ہم سے جووعدہ فرمایااسے پوراکیا(شواہدالنبوت ،صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،نورالابصار ص ۱۴۷) ۔

۱۱۳ ہ میں امام جعفرصادق کاحج

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ آپ نے ۱۱۳ ہئمیں حج کیااوروہاں خداسے دعاکی،خدانے بلافصل انگوراوردوبہترین ردائیں بھیجیں آپ نے انگورخودبھی کھایااور لوگوں کوبھی کھلایا اورردائیں ایک سائل کودیدیں ۔

اس وقعہ کی مختصرتفصیل یہ ہے کہ بعث بن سعدسنہ مذکورہ میں حج کے لیے گئے وہ نمازعصرپڑھ کرایک دن کوہ ابوقبیس پرگئے وہاں پہنچ کردیکھاکہ ایک نہایت مقدس شخص مشغول نمازہے، پھرنمازکے بعدوہ سجدہ میں گیااوریارب یارب کہہ کرخاموش ہوگیا،پھریاحی یاحی کہااورچپ ہوگیا،پھریارحیم یارحیم کہااورخاموش ہوگیا پھریاارحم الراحمین کہہ کرچپ ہوگیا پھربولاخدایامجھے انگورچاہئے اورمیری ردابوسیدہ ہوگئی ہے دوردائیں درکارہیں ۔

راوی حدیث بعث کہتاہے کہ یہ الفاظ ابھی تمام نہ ہوئے تھے کہایک تازہ انگوروں سے بھری ہوئی زنبیل آموجوہوئی دراس پردوبہترین چادریں رکھی ہوئی تھیں اس عابدنے جب انگورکھاناچاہاتومیں نے عرض کی حضورمیں امین کہہ رہاتھا مجھے بھی کھلائیے ،انہوں نے حکم دیامیں نے کھاناشروع کیا،خداکی قسم ایسے انگور ساری عمرخواب میں بھی نہ نظرآئے تھے پھرآپ نے ایک چادرمجھے دی میں نے کہامجھے ضرورت نہیں ہے اس کے بعدآپ نے ایک چادرپہن لی اورایک اوڑھ لی پھرپہاڑسے اترکرمقام سعی کی طرف گئے میں ان کے ہمراہ تھاراستے میں ایک سائل نے کہا،مولامجھے چادردیجئے خداآپ کوجنت لباس سے آراستہ کرے گاآپ نے فورادونوں چادریں اس کے حوالے کردیں میں نے اس سائل سے پوچھایہ کون ہیں ؟ اس نے کہاامام زمانہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام یہ سن کرمیں ان کے پیچھے دوڑاکہ ان سے مل کرکچھ استفادہ کروں لیکن پھروہ مجھے نہ مل سکے (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،کشف الغمہ ص ۶۶ ، مطالب السؤل ص ۲۷۷) ۔

امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ

یہ تاریخی مسلمات سے ہے کہ جناب امام ابوحنیفہ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اورحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے شاگردتھے لیکن علامہ تقی الدین ابن تیمیہ نے ہمعصر ہونے کی وجہ سے اس میں منکرانہ شبہ ظاہرکیاہے ان کے شبہ کوشمس العلماء علامہ شبلی نعمانی نے ردکرتے ہوئے تحریرفرمایاہے ”ابوحنیفہ ایک مدت تک استفادہ کی غرض سے امام محمدباقر کی خدمت میں حاضررہے اورفقہ وحدیث کے متعلق بہت بڑاذخیرہ حضرت ممدوح کافیض صحبت تھا امام صاحب نے ان کے فرزندرشیدحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی فیض صحبت سے بھی بہت کچھ فائدہ اٹھایا،جس کاذکرعموما تاریخوں میں پایاجاتاہے ابن تیمیہ نے اس سے انکارکیاہے اوراس کی وجہ یہ خیال کی ہے کہ امام ابوحنیفہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے معاصراورہمعصرتھے اس لیے ان کی شاگردی کیونکر اختیارکرتے لیکن یہ ابن تیمیہ کی گستاخی اورخیرہ چشمی ہے امام ابوحنیفہ لاکھ مجتہد اورفقیہہ ہوں لیکن فضل وکمال میں ان کوحضرت جعفرصادق سے کیانسبت ، حدیث وفقہ بلکہ تمام مذہبی علوم اہل بیت کے گھرسے نکلے ہیں ”وصاحب البیت ادری بمافیہا“ گھروالے ہی گھرکی تمام چیزوں سے واقف ہوتے ہیں (سیرة النعمان ص ۴۵ ، طبع آگرہ)۔

امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعض نصائح وارشادات

علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں :

۱ ۔ سعید وہ ہے جوتنہائی میں اپنے کولوگوں سے بے نیازاورخداکی طرف جھکاہواپائے ۔

۲ ۔ جوشخص کسی برادرمومن کادل خوش کرتاہے خداوندعالم اس کے لیے ایک فرشتہ پیداکرتاہے جواس کی طرف سے عبادت کرتاہے اورقبرمیں مونس تنہائی ،قیامت میں ثابت قدمی کاباعث، منزل شفاعت میں شفیع اورجنت میں پہنچانے مین رہبرہوگا۔

۳ ۔ نیکی کاتکملہ یعنی کمال یہ ہے کہ اس میں جلدی کرو،اوراسے کم سمجھو،اورچھپاکے کرو۔

۴ ۔ عمل خیرنیک نیتی سے کرنے کوسعادت کہتے ہیں ۔

۵ ۔ توبہ میں تاخیرنفس کادھوکہ ہے۔ ۶ ۔ چارچیزیں ایسی ہیں جن کی قلت کوکثرت سمجھناچاہئے ۱ ۔آگ، ۲ ۔ دشمنی ، ۳ ۔ فقیر، ۴ ۔مرض

۷ ۔ کسی کے ساتھ بیس دن رہناعزیزداری کے مترادف ہے ۔ ۸ ۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پراحسان کرو۔

۹ ۔ جب اپنے کسی بھائی کے وہاں جاؤتوصدرمجلس میں بیٹھنے کے علاوہ اس کی ہرنیک خواہش کومان لو۔

۱۰ ۔ لڑکی (رحمت) نیکی ہے اورلڑکانعمت ہے خداہر نیکی پرثواب دیتاہے اورہرنعمت پرسوال کرے گا۔

۱۱ ۔ جوتمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تم بھی اس کی عزت کرو،اورجوذلیل سمجھے اس سے خودداری رتو۔ ۱۲ ۔ بخشش سے روکناخداسے بدظنی ہے۔

۱۳ ۔ دنیامیں لوگ باپ داداکے ذریعہ سے متعارف ہوتے ہیں اورآخرت میں اعمال کے ذریعہ سے پہچانے جائیں گے۔

۱۴ ۔ انسان کے بال بچے اس کے اسیراورقیدی ہیں نعمت کی وسعت پرانہیں وسعت دینی چاہئے ورنہ زوال نعمت کااندیشہ ہے۔

۱۵ ۔ جن چیزوں سے عزت بڑھتی ہے ان میں تین یہ ہیں : ظالم سے بدلہ نہ لے، اس پرکرم گستری جومخالف ہو،جواس کاہمدردنہ ہواس کے ساتھ ہمدردی کرے۔ ۱۶ ۔ مومن وہ ہے جوغصہ میں جادہ حق سے نہ ہٹے اورخوشی سے باطل کی پیروی نہ کرے ۔ ۱۷ ۔جوخداکی دی ہوئی نعمت پرقناعت کرے گا،مستغنی رہے گا۔ ۱۸ ۔ جودوسروں کی دولت مندی پرللچائی نظریں ڈالے گا وہ ہمیشہ فقیررہے گا۔ ۱۹ ۔ جوراضی برضائے خدانہیں وہ خدا پراتہام تقدیرلگارہاہے۔

۲۰ ۔ جواپنی لغزش کونظراندازکرے گاوہ دوسروں کی لغزش کوبھی نظرمیں نہ لائے گا ۔ ۲۱ ۔ جوکسی پرناحق تلوارکھینچے گاتونتیجہ میں خودمقتول ہوگا ۲۲ ۔ جوکسی کوبے پردہ کرنے کی سعی کرے گاخودبرہنہ ہوگا ۲۳ ۔ جوکسی کے لیے کنواں کھودے گا خود اس میں گرجائے گا”چاہ کن راچاہ درپیش“

۲۴ ۔ جوشخص بے وقوفوں سے راہ ورسم رکھے گا،ذلیل ہوگا،جوعلماء کی صحبت حاصل کرے گا عزت پائے گا،جوبری جگہ دیکھے گا،بدنام ہوگا۔

۲۵ ۔ حق گوئی کرنی چاہئے خواہ وہ اپنے لیے مفیدہویامضر،۔ ۲۶ ۔ چغل خوری سے بچوکیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں دشمنی اورعدوات کابیج بوتی ہے۔

۲۷ ۔اچھوں سے ملو،بروں کے قریب نہ جاو،کیونکہ وہ ایسے پتھرہیں جن میں جونک نہیں لگتی ،یعنی ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا(نورالابصارص ۱۳۴) ۔

۲۸ ۔ جب کوئی نعمت ملے توبہت زیادہ شکرکروتاکہ اضافہ ہو۔ ۲۹ ۔ جب روزی تنگ ہوتواستغفارزیادہ کیاکروکہ ابواب رزق کھل جائیں ۔

۳۰ ۔ جب حکومت یاغیرحکومت کی طرف سے کوئی رنج پہنچے تولاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم زیادہ کہوتاکہ رنج دورہو،غم کافورہو،اورخوشی کاوفورہو (مطالب السول ص ۲۷۴،۲۵۷) ۔

آپ کے اخلاق اورعادات واوصاف

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے ایک غلام کوکسی کام سے بازاربھیجاجب اس کی واپسی میں بہت دیرہوئی توآپ اس کوتلاش کرنے کے لیے نکل پڑے،دیکھاایک جگہ لیٹاہواسورہاہے آپ اسے جگانے کے بجائے اس کے سرہانے بیٹھ گئے اورپنکھاجھلنے لگے جب وہ بیدار ہواتوآپ نے فرمایایہ طریقہ اچھانہیں ہے رات سونے کے لیے اوردن کام کاج کرنے کے لیے ہے آئندہ ایسانہ کرنا(مناقب جلد ۵ ص ۵۲) ۔

علامہ معاصر مولاناعلی نقی مجتہدالعصررقمطرازہیں ،آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندعالم نے نوع انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکرپیداکیا ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہرشعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے خاص خاص اوصاف جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طورپرواقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ پرغرباکی خبرگیری ،عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک عفوجرائم، صبروتحمل وغیرہ ہیں ۔

ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں واردہوااورمسجدرسول میں سوگیا،آنکھ کھلی تواسے شبہ ہواکہ اس کی ایک ہزارکی تھیلی موجودنہیں ہے اس نے ادھرادھردیکھا، کسی کونہ پایاایک گوشہ مسجدمیں امام جعفرصادق علیہ السلام نمازپڑھ رہے تھے وہ آپ کوبالکل نہ پہنچانتاتھا آپ کے پاس آکرکہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے حضرت نے پوچھااس میں کیاتھا اس نے کہا ایک ہزاردینار،حضرت نے فرمایا،میرے ساتھ میرے مکان تک آؤ، وہ آپ کے ساتھ ہوگیابیت الشرف میں تشریف لاکر ایک ہزاردیناراس کے حوالے کردئیے ،وہ مسجدمیں واپس آگیااوراپنااسباب اٹھانے لگا،توخود اس کی دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظرآئی ،یہ دیکھ کربہت شرمندہ ہوااوردوڑتا ہواامام کی خدمت میں آیااورعذرخواہی کرتے ہوئے وہ ہزاردیناواپس کرناچاہا، حضرت نے فرمایا ہم جوکچھ دیدیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔

موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ معلوم ہوتاہے کہ اناج مشکل سے ملے گاتوجس کوجتناممکن ہووہ اناج خریدکررکھ لیتاہے مگرامام جعفرصادق علیہ السلام کے کردارکاایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے آپ کے وکیل معقب نے کہاکہ ہمیں اس گرانی اورقحط کی تکلیف کاکوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کااتناذخیرہ ہے جوبہت عرصہ تک کے لے کافی ہوگا حضرت نے فرمایایہ تمام غلہ فروخت کرڈالواس کے بعدجوحال سب کاہوگا،وہی ہمارابھی ہوگاجب غلہ فروخت کردیاگیاتوفرمایااب خالص گہیوں کی روٹی نہ پکاکرے، بلکہ آدھے گہیوں اورآدھے جوکی پکائی جائے، جہاں تک ممکن ہوہمیں غریبوں کاساتھ دیناچاہئیے۔

آپ کاقاعدہ تھاکہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے مزدوروں کی بڑی قدرفرماتے تھے خودبھی تجارت فرماتے تھے اوراکثراپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کررہے تھے اورپسینہ سے تمام جسم ترہوگیاتھا، کسی نے کہا،یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں حضرت نے فرمایا،طلب معاش میں دھوپ اورگرمی کی تکلیف سہناعیب کی بات نہیں ، غلاموں اورکنیزوں پروہی مہربانی رہتی تھی جواس گھرانے کی امتیازی صفت تھی ۔

اس کاایک حیرت انگیزنمونہ یہ ہے کہ جسے سفیان ثوری نے بیان کیاہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوادیکھاکہ چہرہ مبارک کارنگ متغیرہے، میں نے سبب دریافت کیا،توفرمایامیں نے منع کیاتھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پرنہ چڑھے ،اس وقت جومیں گھرآیاتودیکھاکہ ایک کنیزجوایک بچہ کی پرورش پرمتعین تھی اسے گودمیں لیے ہوئے زینہ سے اوپرجارہی تھی مجھے دیکھاتوایساخوف طاری ہواکہ بدحواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا،اوراس صدمہ سے جاں بحق تسلیم ہوگیامجھے بچہ کے مرنے کااتناصدمہ نہیں جتنااس کارنج ہے کہ اس کنیزپراتنارعب وہراس کیوں طاری ہوا،پھر حضرت نے اس کنیزکوپکارکرفرمایا،ڈرونہیں میں نے تم کوراہ خدامیں آزادکردیا، اس کے بعدحضرت بچہ کی تجہیزوتکفین کی طرف متوجہ ہوئے (صادق آل محمد ص ۱۲ ،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۴) ۔

کتاب مجانی الادب جلد ۱ ص ۶۷ میں ہے کہ حضرت کے یہاں کچھ مہمان آئے تھے حضرت نے کھانے کے موقع پراپنی کنیزکوکھانالانے کاحکم دیا،وہ سالن کابڑاپیالہ لے کرجب دسترخوان کے قریب پہنچی تواتفاقاپیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرگرگیا، اس کے گرنے سے امام علیہ السلام اوردیگرمہمانوں کے کپڑے خواب ہوگئے،کنیز کانپنے لگی اورآپ نے غصہ کے بجائے اسے راہ خدامیں یہ کہہ کرآزادکردیاکہ توجو میرے خوف سے کانپتی ہے شایدیہی آزادکرنا کفارہ ہوجائے ۔

پھراسی کتاب کیص ۶۹ میں ہے کہ ایک غلام آپ کاہاتھ دھلارہاتھا کہ دفعتہ لوٹاچھوٹ کرطشت میں گرااورپانی اڑکرحضرت کے منہ پرپڑا،غلام گھبرااٹھاحضرت نے فرمایاڈرنہیں ،جامیں نے تجھے راہ خدامیں آزادکردیا۔

کتاب تحفہ الزائرعلامہ مجلسی میں ہے کہ آپ کے عادات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے جاناداخل تھا،آپ عہدسفاح اورزمانہ منصورمیں بھی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تھے کربلاکی آبادی سے تقریباچارسوقدم شمال کی جانب،نہرعلقمہ کے کنارے باغوں میں ”شریعہ صادق آل محمداسی زمانہ سے بناہواہے (تصویرعزا ص ۶۰ طبع دہلی ۱۹۱۹ ءء)۔

کتاب اہلیلچیہ

علامہ مجلسی نے کتاب بحارالانوارکی جلد ۲ میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی کتاب اہلیلچیہ کومکمل طورپرنقل فرمایاہے اس کتاب کے تصنیف کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ ایک ہندوستانی فلسفی حضرت کی خدمت میں حاضرہوااوراس نے الہیات اورمابعد الطبیعات پرحضرت سے تبادلہ خیال کرناچاہا حضرت نے اس سے نہایت مکمل گفتگوکی اورعلم کلام کے اصول پردہریت اورمادیت کوفناکرچھوڑا،اس آخرمیں کہناپڑاکہ آپ نے اپنے دعوی کواس طرح ثابت فرمادیاہے کہ ارباب عقل کومانے بغیرچارہ نہیں ،تواریخ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے ہندی فلسفی سے جوگفتگوکی تھی اسے کتاب کی شکل میں مدون کرکے باب اہلبیت کے مشہورمتکلم جناب مفضل بن عمرالجعفی کے پاس بھیج دیاتھا اوریہ لکھاتھاکہ:

اے مفضل میں نے تمہارے لیے ایک کتاب لکھی ہے جس میں منکرین خداکی ردکی ہے ،اوراس کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ میرے پاس ہندوستان سے ایک طبیب (فلسفی) آیاتھا اوراس نے مجھ سے مباحثہ کیاتھا،میں نے جوجواب اسے دیاتھا،اسی کوقلم بندکرکے تمہارے پاس بھیج رہاہوں ۔

حضرت صادق آل محمدکے فلک وقارشاگرد

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے شاگردوں کاشمارمشکل ہے بہت ممکن ہے کہ آئندہ سلسلہ تحریرمیں اپ کے بعض شاگردوں کاذکرآتاجائے ، عام مورخین نے بعض ناموں کوخصوصی طورپرپیش کرکے آپ کی شاگردی کی سلک میں پروکرانہیں معززبتایاہے ۔

مطالب السؤل،صواعق محرقہ،نورالابصار وغیرہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ، یحی بن سعیدانصاری،ابن جریح، امام مالک ابن انس ،امام سفیان ثوری،سفیان بن عینیہ،ایوب سجستانی وغیرہ کاآپ کے شاگردوں میں خاص طورپرذکرہے(تاریخ ابن خلکان جلد ۱ ص ۱۳۰ ،خیرالدین زرکلی کی الاعلام ص ۱۸۳ ،طبع مصر محمدفرید وجدی کی ادارہ معارف القرآن کی جلد ۳ ص ۱۰۹/ طبع مصرمیں ہے وکان تلمیذہ ابوموسی جابربن حیان الصوفی الطرسوسی آپ کے شاگردوں میں جابربن حیان صوفی طرسوسی بھی ہیں ۔

آپ کے بعض شاگردوں کی جلالت قدراوران کی تصانیف اورعلمی خدمات پرروشنی ڈالنی توبے انتہادشوارہے اس لیے اس مقام پرصرف جابربن حیان طرسوسی جوکہ انتہائی باکمال ہونے کے باوجودشاگردامام کی حیثیت سے عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں کاذکرکیاجاتاہے۔

امام الکیمیاجناب جابرابن حیان طرسوسی ۔

آپ کاپورانام ابوموسی جابربن حیان بن عبدالصمد الصوفی الطرسوسی الکوفی ہے آپ ۷۴۲ ءء میں پیداہوئے اور ۸۰۳ ءء میں انتقال فرماگئے بعض محققین نے آپ کی وفات ۸۱۳ ءء بتائی ہے لیکن ابن ندیم نے ۷۷۷ ءء لکھاہے انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے کہ استاداعظم جابربن حیان بن عبداللہ ،عبدالصمد کوفہ میں پیداہوئے وہ طوسی النسل تھے اورآزادنامی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے خیالات میں صوف تھا اوریمن کارہنے والاتھا،اوئل عمرمیں علم طبیعیات کی تعلیم اچھی طرح حاصل کرلی اورامام جعفرصادق ابن امام محمدباقرکی فیض صحبت سے امام الفن ہوگیا۔

تاریخ کے دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفرصادق علیہ السلام کی عظمت کااعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ ساری کائنات میں کوئی ایسا نہیں جوامام کی طرح سارے علوم پربول سکے الخ۔

تاریخ آئمہ میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی تصنیفات کاذکرکرتے ہوئے لکھاہے کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے ایک کتاب کیمیاجفررمل پرلکھی تھی حضرت کے شاگردومشہورومعروف کیمیاگرجابربن حیان جویورپ میں جبرکے نام سے مشہورہیں جابرصوفی کالقب دیاگیاتھا اورذوالنون مصری کی طرح وہ بھی علم باطن سے ذوق رکھتے تھے، ان جابرابن حیان نے ہزاروں ورق کی ایک کتاب تالیف کی تھی جس میں حضرت امام جعفرصادق کے پانچ سو رسالوں کوجمع کیاتھا،علامہ ابن خلکان کتاب وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۰ طبع مصر میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے مقالات علم کیمیااورعلم جفروفال میں موجودہیں اورجابربن حیان طرسوسی آپ کے شاگردتھے، جنہوں نے ایک ہزار ورق کی کتاب تالیف کی تھی، جس میں امام جعفرصادق علیہ السلام کے پانچ سورسالوں کوجمع کیاتھا ،علامہ خیرالدین زرکلی نے بھی الاعلام جلد ۱ ص ۱۸۲ طبع مصرمیں یہی کچھ لکھاہے ،اس کے بعدتحریرکیاہے کہ ان کی بے شمارتصانیف ہیں جن کاذکرابن ندیم نے اپنی فہرست میں کیاہے علامہ محمدفریدوجدی نے دائرئہ معارف القرآن الرابع عشر کی ج ۳ ص ۹۰۱ طبع مصرمیں بھی لکھاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفرصادق کے پانچ سو رسائل کوجمع کرکے ایک کتاب ہزارصفحے کی تالیف کی تھی ،علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ ابن خلدون مطبوعہ مصرص ۳۸۵ میں علم کیمیامیں علم کیمیاکاذکرکرتے ہوئے جابربن حیان کاذکرکیاہے اورفاضل ہنسوی نے اپنی ضخیم کتاب اورکتاب خانہ غیرمطبوعہ میں بحوالہ مقدمہ ابن خلدون ص ۵۷۹ طبع مصرمیں لکھاہے کہ جابربن حیان علم کیمیاکے مدون کرنے والوں کاامام ہے، بلکہ اس علم کے ماہرین نے اس کو جابرسے اتنامخصوص کردیاہے کہ ا س علم کانام ہی ”علم جابر“ رکھ دیاہے (الجوادشمارہ ۱۱ جلد ۱ ص ۹) ۔

مورخ ابن القطفی لکھتے ہیں کہ جابربن حیان کوعلم طبیعات اورکیمیامیں تقدم حاصل ہے ان علوم میں اس نے شہرئہ افاق کتابیں تالیف کی ہیں ان کے علاوہ علوم فلسلہ وغیرہ میں شرف کمال پرفائزتھے اوریہ تمام کمالات سے بھرپورہونا علم باطن کی پیروی کانتیجہ تھا ملاحظہ ہو (طبقات الامم ص ۹۵ واخبارالحکماص ۱۱۱ طبع مصر)۔

پیام اسلام جلد ۷ ص ۱۵ میں ہے کہ یہ وہی خوش قسمت مسلمان ہے جسے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شاگردی کاشرف حاصل تھا،اس کے متعلق جنوری ۲۵ ء میں سائنس پروگریس نوشتہ جے ہولم یارڈایم ائے ایف آئی سی آفیسر اعلی شعبئہ سائنس کفٹن کالج برسٹل نے لکھاہے کہ علم کیمیا کے متعلق زمانہ وسطی کی اکثرتصانیف ملتی ہیں جن میں گیبرکاذکرآتاہے اورعام طورپرگیبرابن حین اوربعض دفعہ گیبرکی بجائے جیبربھی دیکھاگیاہے اورگیبریاجیبردراصل جابرہے، چنانچہ جہاں کہیں بھی لاطینی کتب میں گیبرکاذکرآتاہے وہاں مرادعربی ماہرکیمیاجابربن حیان ہی ہے جسے() کے بجائے() کاآناجانا آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے لاطینی میں جے کے مترادف کوئی آوازاوربعض علاقوں مثلا مصر وغیرہ میں جے کواب بھی بطور(جی) یعنی (گ) استعمال کیاجاتا ہے اس کے علاوہ خلیفہ ہارون رشیدکے زمانے میں سائنس کیمسٹری وغیرہ کاچرچہ بہت ہوچکاہے اوراس علم کے جاننے والے دنیاکے گوشہ گوشہ سے کھینچ کر دربارخلافت سے منسلک ہورہے تھے جابربن حیان کازمانہ بھی کم وبیش اس ہی دورمیں پھیلاتھا پچھلے بیس پچیس سال میں انگلستان اورجرمنی میں جابرکے متعلق بہت سی تحقیقات ہوئی ہیں لاطینی زبان میں علم کیمیاکے متعلق چندکتب سینکڑوں سال سے اس مفکرکے نام سے منسوب ہیں جس میں مخصوص ۱ ۔ سما ۲ ۔ برفیکشن ۳ ۔ ڈی انویسٹی پرفیکشن ۴ ۔ڈی انویسٹی گیشن ورٹیلس ۵ ۔ ٹٹیابہن لیکن ان کتابوں کے متعلق اب تک ایک طولانی بحث ہے اوراس وقت مفکرین یورپ انہیں اپنے یہاں کی پیداواربتاتے ہیں اس لیے انہیں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جابرکوحرف (جی)(گ) سے پکاریں اوربجائے عربی النسل کے اسے یورپین ثابت کریں ۔

حالانکہ سماکے کئی طبع شدہ ایڈیشنوں میں گیبرکوعربی ہی کہاگیاہے رسل کے انگریزی ترجمہ میں اسے ایک مشہورعربی شہزادہ اورمنطقی کہاگیاہے ۱۵۴۱ ء میں کی نورن برگ کے ایڈیشن میں وہ صرف عرب ہے اسی طرح اوربہت سے قلمی نسخے ایسے مل جاتے ہیں جن میں کہیں اسے ایرانیوں کے بادشاہ سے یادکیاگیاہے کسی جگہ اسے شاہ بندکہاگیاہے ان اختلافات سے سمجھ میں آتاہے کہ جابربراعظم ایشیاسے نہ تھا بلکہ اسلامی عرب کاایک درخشندہ ستارہ تھا۔

انسائکلوپیڈیاآف اسلامک کیمسٹری کے مطابق جعفربرمکی کے ذریعہ سے جابربن حیان کاخلیفہ ہارون الرشیدکے دربارمیں آناجاناشروع ہوگیاچنانچہ انہوں نے خلیفہ کے نام سے علم کیمیامیں ایک کتاب لکھی جس کانام ”شگوفہ“ رکھااس کتاب میں اس نے علم کیمیاکے جلی وخفی پہلوؤں کے متعلق نہایت مختصرطریقے نہایت ستھراطریق عمل اورعجیب وغریب تجربات بیان کئے جابرکی وجہ ہی سے قسطنطنیہ سے دوسری دفعہ یونانی کتب بڑی تعدادمیں لائی گئیں ۔

منطق میں علامہ دہرمشہورہوگیا اورنوے سال سے کچھ زائدعمرمیں اس نے تین ہزارکتابیں لکھیں اوران کتابوں میں سے وہ بعض پرنازکرتاتھا اپنی کسی تصنیف کے بارے میں اس نے لکھا ہے کہ ”روئے زمین پرہماری اس کتاب کے مثل ایک کتاب بھی نہیں ہے نہ آج تک ایسی کتاب لکھی گئی ہے اورنہ قیامت تک لکھی جائے گی (سرفراز ۲/ دسمبر ۱۹۵۲ ء)۔

فاضل ہنسوی اپنی کتاب”وکتاب خانہ“ میں لکھتے ہیں کہ جابرکے انتقال کے بعد دوبرس بعدعزالدودولہ ابن معزالدولہ کے عہدمیں کوفہ کے شارع باب الشام کے قریب جابرکی تجربہ گاہ کاانکشاف ہواچکاتھا جس کوکھودنے کے بعدبعض کیمیاوی چیزیں اورآلات بھی دستیاب ہوئے ہیں (فہرست ابن الندیم ۴۹۹) ۔

جابرکے بعض قدیمی مخطوطات برٹش میوزیم میں اب تک موجودہیں جن میں سے کتاب الخواص قابل ذکرہے اسی طرح قرون وسطی میں بعض کتابوں کاترجمہ لاطینی میں کیاگیامنجملہ ”ان تراجم کے کتاب“ سبعین بھی ہے جوناقص وناتمام ہے اسی طرح ”البحث عن الکمال“ کاترجمہ بھی لاطینی میں کیاجاچکاہے یہ کتاب لاطینی زبان میں کیمیاپریورپ کی زبان میں سب سے پہلی کتاب ہے اسی طرح اوردوسری کتابیں بھی مترجم ہوئیں جابرنے کیمیاکے علاوہ طبیعیات،ہیئت،علم رویا،منطق،طب اوردوسرے علوم پربھی کتابیں لکھیں اس کی ایک کتاب سمیات پربھی ہے ۔

یوسف الیاس سرکس صاحب معجم المطبوعات بتلاتے ہیں کہ جابربن حیان کی ایک نفیس کتاب سمیات بربھی ہے جوکتب خانہ تیموریہ قاہرہ مصرمیں بہ ضمن مخطوطات ہے ان میں چندایسے مقالات کوجوبہت مفیدتھے بعدکرئہ حروف نے رسالہ مقتطف جلد ۵۸،۵۹ میں شائع کیاہے ملاحظہ ہو(معجم ا لمطبوعات العربیہ المعربہ جلد ۳ حرف جیم ص ۶۶۵) ۔

جابربحیثیت ایک طبیب کے کام کرتاتھا لیکن اس کی طبی تصانیف ہم تک نہ پہنچ سکیں ،حالانکہ اس مقالہ کا لکھنے والایعنی ڈاکٹر ماکس می یرہاف نے جابرکی کتاب کوجوسموم پرہے حال ہی میں معلوم کرلیاہے۔

جابرکی ایک کتاب جس کومع متن عربی اورترجمہ فرانسیسی پول کراؤ متشرق نے ۱۹۳۵ ء میں شائع کیاہے ایسی بھی ہے جس میں اس نے تاریخ انتشارآراوعقائد وافکارہندی ،یونانی اوران تغیرات کاذکرکیاہے جومسلمانوں نے کئے ہیں اس کتاب کانام ”اخراج مافی القوة الی الفعل “ ہے (الجوادج ۹،۱۰ ص ۱۰ طبع بنارس)۔

صادق آل محمدکے علمی فیوض وبرکات

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام جنہیں راسخین فی العلم میں ہونے کاشرف حاصل ہے اورجوعلم اولین وآخرین سے آگاہ اوردنیاکی تمام زبانوں سے واقف ہیں جیساکہ مورخین نے لکھاہے میں ان کے تمام علمی فیوض وبرکات پرتھوڑے اوراق میں کیاروشنی ڈال سکتاہوں میں نے آپ کے حالات کی چھان بین کی ہے اوریقین رکھتاہوں کہ اگرمجھے فرصت ملے،توتقریبا چھ ماہ میں آپ کے علوم اورفضائل وکمالات کاکافی ذخیرہ جمع کیاجاسکتاہے آپ کے متعلق امام مالک بن انس لکھتے ہیں میری آنکھوں نے علم وفضل وروع وتقوی میں امام جعفرصادق سے بہتردیکھاہی نہیں جیساکہ اوپرگذراوہ بہت بڑے لوگوں میں سے تھے اوربہت بڑے زاہدتھے خداسے بے پناہ ڈرتے تھے ،بے انتہاحدیث بیان کرتے تھے ،بڑی پاک مجلس والے اورکثیرالفوائد تھے، آپ سے مل کر بے انتہاء فائدہ اٹھایاجاتاتھا(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۲ طبع بمبئی)۔

علمی فیوض رسانی کا موقع

یوں توہمارے تمام آئمہ اہلبیت علمی فیوض وبرکات سے بھرپورتھے اورعلم اولین وآخرین کے مالک،لیکن دنیاوالوں نے ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں قیدوبندمیں رکھ کرعلوم وفنون کے خزانے پرہتھکڑیوں اوربیڑیوں کے ناگ بٹھادئیے تھے اس لیے ان حضرات کے علمی کمالات کماحقہ، منظرعام پرنہ آسکے ورنہ آج دنیاکسی علم میں خاندان رسالت مآب کے علاوہ کسی کی محتاج نہ ہوتی فاضل معاصرمولاناسبط الحسن صاحب ہنسوی لکھتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام المتوفی ۱۴۸ ہ کاعہدمعارف پروری کے لحاظ سے ایک زرین عہدتھا،وہ رکاوٹیں جوآپ سے قبل آئمہ اہل بیت کے لیے پیش آیاکرتی تھیں ان میں کسی حدتک کمی تھی ،اموی حکومت کی تباہی اورعباسی سلطنت کااستحکام آپ کے لیے سکون وامن کاسبب بنااس لیے حضرت کومذہب اہلیبت کی اشاعت اورعلوم وفنون کی ترویج کاایک بہترین موقع ملالوگوں کوبھی ان عالمان ربانی کی طرف رجوع کرنے میں اب کوئی خاص زحمت نہ تھی جس کی وجہ سے آپ کی خدمت میں علاوہ حجازکے دوردرازمقامات مثل عراق ،شام،خراسان، کابل سندھ ہند اوربلادروم ،فرنگ کے طلباء وشائقین علم حاضرہوکر مستفیدہوتے تھے حضرت کے حلقہ درس میں چارہزاراصحاب تھے علامہ شیخ مفیدعلیہ الرحمہ کتاب الارشادمیں فرماتے ہیں :

ترجمہ : لوگوں نے آپ کے علوم کونقل کیاجنہیں تیزسوارمنازل بعیدہ کی طرف لے گئے اورآوازہ آپ کے کمال کاتمام شہروں میں پھیل گیااورعلماء نے اہل بیت میں کسی سے بھی اتنے علوم وفنون کونہیں نقل کیاہے جوآپ سے روایت کرتے ہیں اورجن کی تعدادچارہزاہے غیرعرب طالبان علم سے ایک رومی النسل بزرگ زرارہ بن اعین متوفی ۱۵۰ ہ قابل ذکرہیں جن کے داداسنسن بلادردم کے ایک مقدس راہب ( Nonk ) تھے زرارہ اپنی خدمات علمیہ کے اعتبارسے اسلامی دنیامیں کافی شہرت رکھتے تھے اورصاحب تصانیف تھے (کتاب الاستطاعت والجبران کی مشہورتصنیف ہے (منہج المقال ص ۱۴۲ ،مولفواالشیعة فی صدر اسلام ص ۵۱) ۔

کتب اصول اربعمایة

حضرت کے اصحاب میں چارسواییس مصنفین تھے جنہوں نے علاوہ دیگرعلوم وفنون کے کلام مصوم کوضبط کرکے چارسوکتب اصول مدون کیں اصل سے مرادمجموعہ احادیث اہلبیت کی وہ کتابیں ہیں جن میں جامع نے خودبراہ راست معصوم سے روایت کرکے احادیث کوضبط تحریرکیاہے یاایسے راوی سے سناہے جوخودمعصوم سے روایت کرتاہے اس قسم کی کتاب میں جامع کی دوسری کتاب یارویت سے معنعنا (عن فلاں عن فلاں ) کے ساتھ نہیں نقل کرتا جس کی سند میں اوروسائط کی ضرورت ہواس لیے کتب اصول میں خطاوغلط سہوونسیان کااحتمال بہ نسبت اوردوسری کتابوں کے بہت کم ہے کتب اصول کے زمانہ تالیف کاانحصارعہد امیرالمومنین سے لے کرامام حسن عسکری کے زمانہ تک ہے حس میں اصحاب معصومین نے بالمشاذمعصوم سے روایت کرکے احادیث کوجمع کیاہے یاکسی ایسے ثقہ راوی سے حدیث معصوم کواخذکیاہے جوبراہ راست معصوم سے روایت کرتا ہے شیخ ابوالقاسم جعفربن سعیدالمعروف بالمحقق الحلی اپنی کتاب المعبر میں فرماتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے جوابات مسائل کوچارسومصنفین اصحاب امام نے تحریرکرکے چارسوتصانیف مکمل کی ہیں ۔

صادق آل محمدکے اصحاب کی تعداداوران کی تصانیف

آگے چل کر فاضل معاصرالجوادمیں بحوالہ کتاب وکتب خانہ لکھتے ہیں کتب رجال میں جن اصحاب آئمہ کے حالات وتراجم مذکورہیں ،ان کی مجموعی تعدادچار ہزارپانچ سواصحاب ہیں جن میں سے صرف چارہزاراصحاب حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے ہیں سب کاتذکرہ ابوالعباس احمدبن محمدبن سعیدبن عقدہ نے اپنی کتاب رجال میں کیاہے اورشیخ الطائفہ ابوجعفرالطوسی نے بھی ان سب کااحصاء اپن ی کتاب رجال میں کیاہے ۔

معصومین علیہم السلام کے تمام اصحاب میں سے مصنفین کی جملہ تعداد ایک ہزارتین سوسے زائدنہیں ہے جنہوں نے سینکڑوں کی تعدادمیں کتب اصول اورہزاروں کی تعدادمیں دوسری کتابیں تالیف اورتصنیف کی ہیں جن میں سے بعض مصنفین اصحاب آئمہ توایسے تھے جنہوں نے تنہا سینکڑوں کتابیں لکھیں ۔

فضل بن شاذان نے ایک سواسی کتابیں تالیف کی ہیں ،ابن دول نے سوکتابیں لکھیں ہیں اسی طرح برقی نے بھی تقریبا سوکتابیں لکھیں ،ابن عمیرنے نوے کتابیں لکھیں اوراکثراصحاب آئمہ ایسے تھے جنہوں نے تیس یاچالیس سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں غرضیکہ ایک ہزارتین سومصنفین اصحاب آئمہ نے تقریبا پانچ ہزارتصانیف کیں ،مجمع البحرین میں لفظ جبرکے ماتحت ہے کہ صرف ایک جابرالجعفی،امام جعفرصادق علیہ السلام کے سترہزاراحادیث کے حافظ تھے۔

تاریخ اسلام جلد ۵ ص ۳ میں ہے کہ ابان بن تغلب بن رباح (ابوسعید) کوفی صرف امام جعفرصادق علیہ السلام کی تیس ہزاراحادیث کے حافظ تھے ان کی تصانیف میں تفسیرغریب القرآن کتاب المفرد، کتاب الفضائل، کتاب الصفین قابل ذکرہیں ، یہ قاری فقیہ لغوی محدث تھے، انہیں حضرت امام زین العابدین اورحضرت امام محمدباقر،حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے صحابی ہونے کاشرف حاصل تھا ۱۴۱ ہ میں انتقال کیا۔

حضرت صادق آل محمداورعلم طب

علامہ ابن بابویہ انفمی کتاب الخصائل جلد ۲ باب ۱۹ ص ۹۷،۹۹ طبع ایران میں تحریرفرماتے ہیں کہ ہندوستان کاایک مشہورطبیب منصوردوانقی کے دربارمیں طلب کیاگیا،بادشاہ نے حضرت سے اس کی ملاقات کرائی، امام جعفرصادق علیہ السلام نے علم تشریح الاجسام اورافعال الاعضاء کے متعلق اس سے انیس سوالات کئے وہ اگرچہ اپنے فن میں پوراکمال رکھتاتھا لیکن جواب نہ دے سکابالاخرکلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا،علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اس طبیب سے حضرت نے بیس سوالات کئے تھے اوراس انداز سے پرازمعلومات تقریرفرمائی کہ وہ بول اٹھا ”من این لک ہذا العلم“اے حضرت یہ بے پناہ علم آپ نے کہاں سے حاصل فرمایا؟ آپ نے کہاکہ میں نے اپنے باپ داداسے ،انہوں نے محمدمصطفی صلعم سے ،انہوں نے جبرئیل سے ،انہوں نے خداوند عالم سے اسے حاصل کیاہے ،جس نے اجسام وارواح کوپیداکیاہے ”فقال الھندی صدقت-“ اس نے کہابے شک آپ نے سچ فرمایا،اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھ کراسلام قبول کرلیااورکہا ”انک اعلم اہل زمانہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ عہدحاضرکے سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۱ ص ۴۵ طبع بمبئی)۔

حضرت صادق آل محمدکاعلم القرآن

مختصریہ کہ آپ کے علمی فیوض وبرکات پرمفصل روشنی ڈالنی تودشوارہے جیساکہ میں نے پہلے عرض کیاہے ،البتہ صرف یہ عرض کردیناچاہتاہوں کہ علم القرآن کے بارے میں دمعہ ساکبہ ص ۴۸۷ پرآپ کاقول موجودہے وہ فرماتے ہیں خداکی قسم میں قرآن مجیدکواول سے آخرتک اس طرح جانتاہوں گویامیرے ہاتھ میں آسمان وزمین کی خبریں ہیں ،اوروہ خبریں بھی ہیں جوہوچکی ہیں ،اورہورہی ہیں اورجوہونے والی ہیں اورکیوں نہ ہوجبکہ قرآن مجیدمیں ہے کہ اس پرہرچیزعیاں ہے ایک مقام پرآپ نے فرمایاہے کہ ہم انبیاء اوررسل کے علوم کے وارث ہیں (دمعہ ساکبہ ص ۴۸۸) ۔

علم النجوم

علم النجوم کے بارے میں اگرآپ کے کمالات دیکھناہوں توکتب طوال کامطالعہ کرنا چاہئے آپ نے نہایت جلیل علماء علم النجوم سے مباحثہ اورمناظرہ کرکے انہیں انگشت بدندان کردیاہے ،بحارالانوار،مناقب شہرآشوب ،دمعہ ساکبہ ،وغیرہ میں آپ کے مناظرے موجود ہیں علماء کافیصلہ ہے کہ علم نجوم حق ہے لیکن اس کاصحیح علم آئمہ اہلبیت کے علاوہ کسی کونصیب نہیں ،یہ دوسری بات ہے کہ حلقہ گوشان مودت نورہدایت سے کسب ضیا کرلیں ۔

علم منطق الطیر

صادق آل محمددیگرآئمہ کی طرح منطق الطیرسے بھی باقاعدہ واقف تھے، جوپرندہ یاکوئی جانورآپس میں بات چیت کرتاتھااسے آپ سمجھ لیاکرتے تھے اوربوقت ضرورت اس کی زبان میں تکلم فرمایاکرتے تھے مثال کے لیے ملاحظہ ہو،کتاب تفسیرلباب التاویل جلد ۵ ص ۱۱۳ ،معالم التنزیل ص ۱۱۳ ،عجائب القصص ص ۱۰۵ ، نورالابصار ص ۳۱۱ ،طبع ایران میں ہے کہ صادق آل محمدنے قبرنامی پرندہ جس کو (چکور) یاچنڈول کہتے ہیں کہ بولتے ہوئے اصحاب سے فرمایا کہ تم جانتے ہے یہ کیاکہتاہے اصحاب نے صراحت کی خواہش کی توفرمایایہ کہتاہے ”اللهم العن مبغضی محمدوآل محمد “ خدایامحمد،آل محمدسے بغض رکھنے والوں پرلعنت کر،فاختہ کی آوازپرآپ نے کہاکہ اسے گھرمیں نہ رہنے دو،یہ کہتی ہے کہ ”فقدتم فقدتم“ خداتمہیں نیست ونابودکرے، وغیرہ وغیرہ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام اورعلم الاجسام

مناقب بن شہرآشوب اوربحارالانوارجلد ۱۴ میں ہے کہ ایک عیسائی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے علم طب کے متعلق سوالات کرتے ہوئے جسم انسان کی تفصیل پوچھی آپ نے ارشادفرمایاکہ خداوندعالم نے انسان کے جسم میں ۱۲ وصل دوسواڑتالیس ہڈیاں اورتین سوساٹھ رگیں خلق فرمائی ہیں ، رگیں تمام جسم کوسیراب کرتی ہیں ،ہڈیاں جسم کو،گوشت ہڈیوں کواوراعصاب گوشت کوروکے رہتے ہیں ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اوردوراندیشی

مورخین لکھتے ہیں کہ جب بنی عباس اس بات پرآمادہ ہوگئے کہ بنی امیہ کوختم کردیں ،توانہوں نے یہ خیال کیاکہ آل رسول کی دعوت کاحوالہ دئیے بغیرکام چلنا مشکل ہے لہذاوہ امدادوانتقام آل محمدکی طرف دعوت دینے لگے اوریہی تحریک کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے جس سے عام طورپرآل محمدیعنی بنی فاطمہ کی اعانت سمجھی جاتی تھی ،اسی وجہ سے شیعیان بنی فاطمہ کوبھی ان سے ہمدردی پیداہوگئی تھی اوروہ ان کے معاون ہوگئے تھے اوراسی سلسلہ میں ابوسلمہ جعفربن سلیمان کوفی آل محمد کی طرف سے وزیرتجویزکئے تھے یعنی یہ گماشتہ کے طورپرتبلیغ کرتے تھے انہیں امام وقت کی طرف سے کوئی اجازت حاصل نہ تھی،یہ بنی کے مقابلہ میں بڑی کامیابی سے کام کررہے تھے جب حالات زیادہ سازگارنظرآئے توانہوں نے امام جعفرصادق علیہ السلام اورابومحمدعبداللہ بن حسن کوالگ الگ ایک ایک خط لکھاکہ آپ یہاں آجائیں تاکہ آپ کی بیعت کی جائے۔

قاصداپنے اپنے خطوط لے کرمنزل تک پہنچے، مدینہ میں جس وقت قاصدپہنچا وہ رات کاوقت تھا،قاصدنے عرض کی مولامیں ،ابوسلمہ کاخط لایاہوں حضوراسے ملاحظہ فرماکرجواب عنایت فرمائیں ۔

یہ سن کرحضرت نے چراغ طلب کیااورخط لے کراسی وقت پڑھے بغیرنذرآتش کردیااورقاصدسے فرمایاکہ ابوسلمہ سے کہناکہ تمہارے خط کایہی جواب تھا۔

ابھی وہ قاصدمدینہ پہنچابھی نہ تھا کہ ۳/ ربیع الاول ۱۲۳ ہ کوجمعہ کے دن حکومت کافیصلہ ہوگیااورسفاح عباسی خلیفہ بنایاجاچکاتھا(مروج الذہب مسعودی برحاشیہ کامل جلد ۸ ص ۳۰ ،تاریخ الخلفاء ص ۲۷۲ ،حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۷۴ ،تاریخ آئمہ ص ۴۳۳ ،)۔

امام جعفرصادق علیہ السلام کادربارمنصورمیں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات

علامہ رشیدالدین ابوعبداللہ محمدبن علی بن شہرآشوب مازندرانی المتوفی ۵۸۸ ء نے دربارمنصورکاایک اہم واقعہ نقل فرمایاہے جس میں مفصل طورپریہ واضح کیاہے کہ ایک طبیب جس کواپنی قابلیت پربڑابھروسہ اورغرورتھا وہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے سامنے کس طرح سپرانداختہ ہوکرآپ کے کمالات کامعترف ہوگیاہم موصوف کی عربی عبارت کاترجمہ اپنے فاضل معاصرکے الفاظ میں پیش کرتے ہیں :

ایک بارحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام منصوردوانقی کے دربارمیں تشریف فرماتھے،وہاں ایک طبیب ہندی کی باتیں بیان کررہاتھا اورحضرت خاموش بیٹھے سن رہے تھے جب وہ کہہ چکاتوحضرت سے مخاطب ہوکرکہنے لگا اگرکچھ پوچناچاہیں توشوق سے پوچھیں ، آپ نے فرمایا،میں کیاپوچھوں ،مجھے تجھ سے زیاد ہ معلوم ہے (طبیب اگریہ بات ہے تومیں بھی کچھ سنوں ۔

امام : جب کسی مرض کاغلبہ ہوتواس کاعلاج ضدسے کرناچاہئے یعنی حارگرم کاعلاج سردسے ترکاخشک سے ،خشک کاترسے اورہرحالت میں اپنے خداپربھروسہ رکھے یادرکھ معدہ تمام بیماریوں کاگھرہے اورپرہیزسودواں کی ایک دواہے جس چیزکاانسان عادی ہوجاتاہے اس کے مزاج کے موافق اورا سکی صحت کاسبب بن جاتی ہے ۔

طبیب: بے شک آپ نے جوبیان فرمایاہے اصلی طب ہے۔

امام : اچھامیں چندسوال کرتاہوں ،ان کاجواب دے : آنسووں اوررطوبتوں کی جگہ سرمیں کیوں ہے؟ سرپربال کیوں ہے؟ پیشانی بالوں سے خالی کیوں ہے؟ پیشانی پرخط اورشکن کیوں ہے؟ دونوں پلکیں آنکھوں کے اوپرکیوں ہیں ؟ ناک کاسوراخ نیچے کی طرف کیوں ہے؟ منہ پردوہونٹ کیوں بنائے گئے ہیں ؟ سامنے کے دانت تیزاورڈاڈھ چوڑی کیوں ہے؟ اوران دونوں کے درمیان میں لمبے دانت کیوں ہیں ؟ دونوں ہتھیلیاں بالوں سے خالی کیوں ہیں ؟

مردوں کے ڈاڈھی کیوں ہوتی ہے؟ ناخن اوربالوں میں جان کیوں نہیں ؟ دل صنبوری شکل کاکیوں ہوتاہے؟ پھیپڑے کے دوٹکڑے کیوں ہوتے ہیں ،اوروہ اپنی جگہ حرکت کیوں کرتاہے ؟ جگرکی شکل محدب کیوں ہے ،گردے کی شکل لوبئے کے دانے کی طرح کیوں ہوتی ہے گھٹنے آگے کوجھکتے ہیں پیچھے کوکیوں نہیں جھکتے؟ دونوں پاوں کے تلوے بیچ سے خالی کیوں ہیں ؟

طبیب: میں ان باتوں کاجواب نہیں دے سکتا۔

امام : بفضل خدامیں ان سب باتوں کاجواب جانتاہوں ۔ طبیب بیان فرمائیے۔

امام علیہ السلام : ۱ ۔ سراگرآنسوؤں اوررطبوتوں کامرکزنہ ہوتاتوخشکی کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔

۲ ۔ بال اس لیے سرپرہیں کہ ان کی جڑوں سے تیل وغیرہ دماغ تک پہنچتارہے اوربہت سے دماغی انجرے نکلتے رہیں دماغ گرمی اورزیادہ سردی سے محفوظ رہے۔

۳ ۔ پیشانی اس لیے بالوں سے خالی ہے کہ اس جگہ سے آنکھوں میں نور پہنچتاہے۔

۴ ۔ پیشانی میں خطوط اورشکن اس لیے ہیں کہ سرسے جوپشینہ گرے وہ آنکھوں میں نہ پڑجائے ،جب شکنوں میں پسینہ جمع ہوتوانسان اسے پونچھ کرپھینک دے جس طرح زمین پرپانی جاری ہوتاہے توگڑھوں میں جمع ہوجاتاہے۔

۵ ۔ پلکیں اس لیے آنکھوں پرقراردی گئی ہیں کہ آفتاب کی روشنی اسی قدران پر پڑے جتنی کہ ضرورت ہے اوربوقت ضرورت بندہوکرمردمک چشم کی حفاظت کرسکیں نیزسونے میں مدد دے سکیں ، تم نے دیکھاہوگاکہ جب انسان زیادہ روشنی میں بلندی کی طرف کسی طرف کسی چیزکودیکھناچاہتاہے توہاتھ کوآنکھوں کے اوپررکھ کرسایہ کرلیتاہے۔

۶ ۔ ناک دونوں آنکھوں کے بیچ میں اس لیے قراردیاہے کہ مجمع نورسے روشنی تقسیم ہوکربرابردونوں آنکھوں کوپہنچے۔

۷ ۔ آنکھوں کوبادامی شکل کااس لیے بنایاہے کہ بوقت ضرورت سلائی کے ذریعہ سے دوا(سرمہ وغیرہ) اس میں آسانی سے پہنچ جائے،اگرآنکھ چوکور یاگول ہوتی توسلائی کااس میں پھرنامشکل ہوتادوااس میں بخوبی نہ پہنچ سکتی اوربیماری دفع نہ ہوتی۔

۸ ۔ ناک کاسوراخ نیچے کواس لیے بنایاکہ دماغی رطوبتیں آسانی سے نکل سکیں ،اگراوپرکوہوتاتویہ بات نہ ہوتی اوردماغ تک کسی چیزکی بوبھی جلدی نہ پہنچ سکتی

۹ ۔ ہونٹ اس لیے منہ پرلگائے گئے کہ جورطوبتیں دماغ سے منہ میں آئیں وہ رکی رہیں اورکھانابھی انسان کے اختیارمیں رہے جب چاہے پھینک اورتھوک دے۔

۱۰ ۔ داڑھی مردوں کواس لیے دی کہ مرداورعورت میں تمیزہوجائے ۔

۱۱ ۔ اگلے دانت اس لیے تیزہیں کہ کسی چیزکاکاٹنایاکھٹکھٹاسہل ہو، اورڈاڈھ کوچوڑا اس لیے بنایاکہ غذاپیسنااورچباناآسان ہو،ان دونوں کے درمیان لمبے دانت اس لیے بنائے کہ ان دونوں کے استحکام کے باعث ہوں ، جس طرح مکان کی مضبوطی کے لیے ستون (کھمبے) ہوتے ہیں ۔

۱۲ ۔ ہتھیلوں پربال اس لیے نہیں کہ کسی چیزکوچھونے سے اس کی نرمی سختی،گرمی،سردی وغیرہ آسانی سے معلوم ہوجائے، بالوں کی صورت میں یہ بات حاصل نہ ہوتی۔

۱۳ ۔ بال اورناخن میں جان اس لیے نہیں ہے کہ ان چیزوں کابڑھنابرامعلوم ہوتاہے اورنقصان رساں ہے،اگران میں جان ہوتی توکاٹنے میں تکلیف ہوتی

۱۴ ۔ دل صنوبری شکل یعنی سرپتلااوردم چوڑی (نچلاحصہ) اس لیے ہے کہ بآسانی پھیپڑے میں داخل ہوسکے اوراس کی ہواسے ٹھنڈک پاتارہے تاکہ اس کے بخارات دماغ کی طرف چڑھ کربیماریاں پیدانہ کرے۔

۱۵ ۔ پھیپڑے کے دوٹکڑے اس لیے ہوے کہ دل ان کے درمیان ہے اوروہ اس کوہوادیں ۔

۱۶ ۔ جگرمحدب اس لیے ہواہے کہ اچھی طرح معدے کے اوپرجگہ پکڑے اوراپنی گرانی اورگرمی سے غذا کوہضم کرے۔

۱۷ ۔ کردہ لوبئے کے دانہ کی شکل کااس لیے ہواکہ (منی) یعنی نفطفہ انسانی پشت کی جانب سے اس میں آتاہے اوراس کے پھیلنے اورسکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتاہے جوسبب لذت ہے۔

۱۸ ۔ گھٹنے پیچھے کی طرف اس لیے نہیں جھکتے کہ چلنے میں آسانی میں ہواگرایسانہ ہوتاتوآدمی چلتے وقت گرگرپڑتا،آگے چلناآسان نہ ہوتا۔

۱۹ ۔ دونوں پیروں کے تلوے بیچ میں سے اس لیے خالی ہیں کہ دونوں کناروں پربوجھ پڑنے سے باسانی پیراٹھ سکیں اگرایسانہ ہوتااورپورے بدن کابوجھ پیروں پرپڑتاتوسارے بدن کابوجھ اٹھانادشوارہوتا۔

یہ جوابات سن کرہندوستانی طبیب حیران رہ گیااورکہنے لگاکہ آپ نے یہ علم کس سے سیکھاہے فرمایااپنے داداسے انہوں نے رسول خداسے حاصل کیاتھا اورانہوں نے خداسے سیکھاہے اس نے کہا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدارسول اللہ وعبدہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ خداایک ہے اورمحمداس کے رسول اورعبد خاص ہیں ،”وانک اعلم اہل زمانہ“ اورآپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۴۶ طبع بمبئی وسوانح چہاردہ معصومین حصہ ۲ ص ۲۵) ۔

امام جعفرصادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ

طبیب ہندی سے گفتگوکے بعدامام علیہ السلام کاعام شہرہ ہوگیااورلوگوں کے قلوب پہلے سے زیادہ آپ کی طرف مائل ہوگئے،دوست اوردشمن آپ کے علمی کمالات کاذکرکرنے لگے یہ دیکھ کرمنصورکے دل میں آگ لگ گئی ،اوروہ اپنی شرارت کے تقاضوں سے مجبورہوکریہ منصوبہ بنانے لگاکہ اب

جلدسے جلدانہیں ہلاک کردیناچاہئے،چنانچہ اس نے ظاہری قدرومنزلت کے ساتھ آپ کومدینہ روانہ کرکے حاکم مدینہ حسین بن زیدکوحکم دیا۔

ان احرق جعفربن محمدفی دارہ “ امام جعفرصادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت گھرکے اندرجلادیاجائے، یہ حکم پاکروالی مدینہ نے چندغنڈوں کے ذریعہ سے رات کے وقت جبکہ سب محوخواب تھے آپ کے مکان میں آگ لگوادی،اورگھرجلنے لگاآپ کے اصحاب اگرچہ اسے بجھانے کی پوری سعی کررہے تھے،لیکن بجھنے کونہ آتی تھی ،بالاخرہ آپ انہیں شعلوں میں کہتے ہوئے کہ ”اناابن اعراق الثری اناابن ابراہیم الخلیل“ اے آگ میں وہ ہوں جس کے آباواجدادزمین آسمان کی بنیادوں کے سبب ہیں اورمیں خلیل خداابرہیم نبی کافرزندہوں ،نکل پڑے۔

اپنی عباکے دامن سے آگ بجھادی،(تذکرة المصومین ص ۱۸۱ بحوالہ اصول کافی آقائے کلینی علیہ الرحمة)۔

۱۴۷ ہ میں منصورکاحج اورامام جعفرصادق کے قتل کاعزم بالجزم

علامہ شبلنجی اورعلامہ محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں کہ ۱۴۷ ہ میں منصورحج کوگیا،اسے چونکہ امام کے دشمنوں کی طرف سے برابریہ خبردی جاچکی تھی کہ امام جعفرصادق تیری مخالفت کرتے رہتے ہیں ،اورتیری حکومت کاتختہ پلٹنے کی سعی میں ہیں ،لہذا اس نے حج سے فراغت کے بعدمدینہ کاقصدکیااوروہاں پہنچ کراپنے مصاحب خاص،ربیع سے کہاکہ جعفربن محمدکوبلوادو،ربیع نے وعدہ کے باوجودٹال مٹول کی اس نے پھردوسرے دن سختی کے ساتھ کہاکہ انہیں بلواو،میں کہتاہوں کہ خدامجھے قتل کرے اگرمیں انہیں قتل نہ کرسکوں ، ربیع نے امام جعفرصادق کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی، مولاآپ کومنصوربلارہاہے، اوراس کے تیوربہت خراب ہیں ،مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملاقات میں آپ کوقتل کردے گا، حضرت نے فرمایا”لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم“ یہ اس دفعہ ناممکن ہے غرضکہ ربیع آنحضرت کولے کرحاضردربارہوا،منصورکی نظرجیسے ہی آپ پرپڑی توآگ بگولہ ہوکربولا”یاعدواللہ“ اے دشمن خداتم کواہل عراق امام مانتے ہیں اورتمہیں زکواة اموال وغیرہ دیتے ہیں اورمیری طرف ان کاکوئی دھیان نہیں ، یادرکھو،میں آج تمہیں قتل کرکے چھوڑوں گا اوراس کے لیے میں نے قسم کھالی ہے ہے یہ رنگ دیکھ کرامام جعفرصادق نے ارشادفرمایا ایے امیرجناب سلیمان کوعظیم سلطنت دی گئی توانہوں نے شکرکیا، جناب ایوب بلا میں مبتلا کیاگیاتوانہوں نے صبرکیا، جناب یوسف پرظلم کیاگیاتوانہوں نے ظالموں کومعاف کردیا، اے بادشاہ یہ سب انبیاء تھے اورانہیں کی طرف تیرانسب بھی پہنچتاہے تجھے توان کی پیروی لازم ہے، یہ سن کراس کاغصہ ٹھنڈاہوگیا(نورالابصار ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۶۷) ۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شہادت

علماء فریقین کااتفاق ہے کہ بتاریخ ۱۵/ شوال ۱۴۸ ہ بعمر ۶۵ سال آپ نے اس دارفانی سے بطرف ملک جاودانی رحلت فرمائی ہے،ارشادمفید ص ۴۱۳ ،اعلام الوری ص ۱۵۹ ،نورالابصار ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۷۷ ،یوم وفات دوشنبہ تھا اورمقام دفن جنت البقیع ہے۔

علامہ ابن حجرعلامہ علامہ ابن جوزی علامہ شبلنجی علامہ ابن طلحہ شافعی تحریررقمطرازہیں کہ مات مسموما ایام المنصور، منصورکے زمانہ میں آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،تذکرةخواص الامتہ ،نورالابصار ص ۱۳۳ ، ارجح المطالب ص ۴۵۰) ۔

علماء اہل تشیع کااتفاق ہے کہ آپ کومنصوردوانقی نے زہرسے شہیدکرایاتھا، اورنمازحضرت امام موسی کاظم علیہ اسلام نے پڑھائی تھی علامہ کلینی اورعلامہ مجلسی کاارشادہے کہ آپ کونہایت کفن دیاگیااورآپ کے مقام وقات پرہرشب چراغ جلایاجاتارہا۔ کتاب کافی وجلاء العیون مجلسی ص ۲۶۹ ۔

آپ کی اولاد

آپ کے مختلف بیویوں سے دس اولادتھیں جن میں سے سات لڑکے اورتین لڑکیاں تھیں لڑکوں کے نام یہ ہیں :

۱ ۔جناب اسماعیل ۲ ۔حضرت امام موسی کاظم ۳ ۔عبداللہ ۴ ۔ اسحاق ۵ ۔ محمد ۶ ۔عباس ۷ ۔ علی ۔ اورلڑکیوں کے اسماء یہ ہیں : ۱ ۔ام فروہ ۲ ۔ اسماء ۳ ۔فاطمہ (ارشادوجنات الخلود) علامہ شبلنجی نے سات اولادتحریرکیاہے جن میں صرف ایک لڑکی کاحوالہ دیاہے جس کانام ”ام فروہ“ تھا(نورالابصار ص ۱۳۳) ۔

آپ ہی کی اولادسے خلفاء فاطمیہ گزرے ہیں جن کی سلطنت ۲۹۷ ئسے ۵۶۷ ء تک دوسوسترسال قائم رہی، ان کی تعدادچودہ تھی۔


حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

آپ کی ولادت باسعادت

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بتاریخ ۷/ صفرالمظفر ۱۲۸ ہ مطابق ۷۴۵ ء یوم شنبہ بمقام ابواجومکہ اورمدینہ کے درمیان واقع ہے پیداہوئے (انوارالنعمانیہ ص ۱۲۶ ،واعلام الوری ص ۱۷۱ ،جلاء العیون ص ۲۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۲ ،روضة الشہداء ص ۴۳۶) ۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ پیداہوتے ہی آپ نے ہاتھوں کوزمین پرٹیک کر آسمان کی طرف رخ کیااورکلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایا آپ نے یہ عمل بالکل اسی طرح کیا،جس طرح حضرت رسول خداصلعم نے ولادت کے بعدکیاتھاآپ کے داہنے بازوپرکلمہ تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لکھاہواتھا آپ علم اولین وآخرین سے بہرہ ورمتولدہوئے تھے آپ کی ولادت سے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کو بیحد مسرت ہوئی تھی اورآپ نے مدینہ جاکراہل مدینہ کودعوت طعام دی تھی (جلاء العیون ص ۲۷۰) ۔ آپ دیگرآئمہ کی طرح مختون اورناف بریدہ متولدہوئے تھے۔

اسم گرامی،کنیت،القاب

آپ کے والدماجدحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے خداوندمتعال کے معین کردہ نام ”موسی“ سے موسوم کیاعلامہ محمدرضالکھتے ہیں کہ موسی ،قبطی لفظ ہے اورمواورسی سے مرکب ہے موکے معنی پانی اور”سی“ کے معنی درخت کے ہیں اس نام سے سب سے پہلے حضرت کلیم اللہ موسوم کئے گئے تھے۔

اوراس کی وجہ یہ تھی کہ خوف فرعون سے مادرموسی نے آپ کواس صندوق میں رکھ کر دریامیں بہایاتھاجو”حبیب نجار“ کابنایاہواتھا اوربعدمیں ”تابوت سکینہ“ قرارپایا، تووہ صندوق بہہ کرفرعون اورجناب آسیہ تک پانی کے ذریعہ سے ان درختوں سے ٹکراتاہواجوخاص باغ میں تھے پہنچاتھا لہذا پانی اوردرخت کے سبب سے ان کانام موسی قرارپایاتھا (جنات الخلود ص ۲۹) ۔

آپ کی کنیت ابوالحسن،ابوابراہیم،ابوعلی ابوعبداللہ تھی اورآپ کے القاب کاظم،عبدصالح،نفس زکیہ،صابر،امین، باب الحوائج وغیرہ تھے ”شہرت عامہ“ کاظم کوہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بدسلوک کے ساتھ احسان کرتے اورستانے والے کومعاف فرماتے اورغصہ کوپی جاتے تھے، بڑے حلیم،بردباراوراپنے ظلم کرنے والے کومعاف کردیاکرتے تھے(مطالب السول ص ۲۷۶ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۲ ،روضة الشہداء ص ۴۳۲ ،تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲) ۔

لقب باب الحوائج کی وجہ

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ کثرت عبادت کی وجہ سے عبدصالح اورخداسے حاجت طلب کرنے کے ذریعہ ہونے کی وجہ سے آپ کوباب الحوائج کہا جاتاہے،کوئی بھی حاجت ہوجب آپ کے واسطے سے طلب کی جاتی تھی توضرور پوری ہوتی تھی ملاحظہ ہو(مطالب السول ص ۲۷۸ ، صواعق محرقہ ص ۱۳۱) ۔

فاضل معاصرعلامہ علی حیدررقمطرازہیں کہ حضرت کالقب باب قضاء الحوائج یعنی حاجتیں پوری ہونے کادروازہ بھی تھا حضرت کی زندگی میں توحاجتیں آپ کے توسل سے پوری ہوتی تھیں شہادت کے بعدبی یہ سلسلہ جاری رہااوراب بھی ہے ”اخبارپایزالہ آباد ۱۰/ اگست ۱۹۲۸ ءء میں زیرعنوان ”امام موسی کاظم کے روضہ پرایک اندھے کوبینائی مل گئی“ ایک خبرشائع ہوئی ہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ حال ہی میں روضہ کاظمین شریف پرجوشہربغدادسے باہرہے ایک معجزہ ظاہرہواہے کہ ایک اندھااوربوڑھا”سید“ نہایت مفلسی کی حالت میں روضہ شریف کے اندرداخل ہوااورجیسے ہی اس نے امام موسی کاظم کے روضہ کی ضریح اقدس کواپنے ہاتھ سے مس کیاوہ فوراچلاتاہواباہرکی طرف دوڑا ”مجھے بینائی مل گئی“ میں دیکھنے لگاہوں ، اوراس پرلوگوں کابڑاہجوم جمع ہوگیااوراکثرلوگ اس کے کپڑے تبرک کے طورپرچھین جھپٹ کرلے گئے اس کوتین دفعہ کپڑے پہنائے گئے اورہردفعہ وہ کپڑے ٹکڑے ہوکرتقسیم ہوگئے آخرروضہ شریف کے خدام نے اس خیال سے کہ کہیں اس بوڑھے سیدکے جسم کونقصان نہ پہنچے اس کواس کے گھرپہنچادیا ۔

اس کابیان ہے کہ بغدادکے ہسپتال میں اپنی آنکھ کاعلاج کررہاتھا بالآخرسب ڈاکٹروں نے یہ کہہ کرمجھے ہسپتال سے نکال دیاکہ تیرا مرض لاعلاج ہوگیاہے اب اس کاعلاج ناممکن ہے تب میں مایوس ہوکر روضہ اقدس امام موسی کاظم علیہ السلام پرآیااوریہاں آپ کے وسیلہ سے خداسے دعاکی ”بارالہاتجھے اسی امام مدفون کاواسطہ مجھے ازسرنوبینائی عطاکردے“ یہ کہہ کرجیسے ہی میں نے روضہ کی ضریح کومس کیا میری آنکھوں کے سامنے روشنی نمودارہوئی اورآوازآئی ”جاتجھے پھرسے روشنی دیدی گئی“ اس آوازکے ساتھ ہی میں ہرچیزکودیکھنے لگا،تمام لوگ اس امرکی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ضعف العمرسیداندھاتھا، اوراب دیکھنے لگاہے (اخبارانقلاب لاہور،اخباراہل حدیث امرتسر مورخہ ۲۴/ اگست ۱۹۲۸ ءء ۔

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے میں امام موسی کاظم علیہ السلام کے روضے پرچلاجاتاہوں اوران کی قبرپردعاکرتاہوں میری مشکل حل ہوجاتی ہے (مناقب جلد ۳ ص ۱۲۵ طبع ملتان)۔

باشاہان وقت

آپ ۱۲۸ ہ میں مروان الحماراموی کے عہدمیں پیداہوئے اس کے بعد ۱۳۲ ہ میں سفاح عباسی خلیفہ ہوا(ابوالفداء) ۱۳۶ ہ میں منصور دوانقی عباسی خلفہ بنا ۱۵۸ ہ میں مہدی بن منصورمالک سلطنت ہوا( حبیب السیر) ۱۶۹ ہ میں ہادی عباسی کی بیعت کی گئی (ابن الوردی) ۱۷۰ ہ میں ہارون الرشید عباسی ابن مہدی خلیفہ وقت ہوا ۱۸۳ ہ میں ہارون کے زہردینے سے امام علیہ السلام بحالت مظلومی قیدخانہ میں شہیدہوئے (صواعق محرقہ اخبارالخلفاء بن راعی)۔

نشوونمااورتربیت

علامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ آپ کی عمرکے بیس برس اپنے والدبزرگوار حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے سایہ تربیت میں گزرے ایک طرف خداکے دئیے ہوئے فطری کمال کے جوہراوردوسری طرف اس باپ کی تربیت جس نے پیغمبرکے بتائے ہوئے مکارم الاخلاق کی یاد کوبھولی ہوئی دنیامیں ایساتازہ کردیاکہ انھیں ایک طرح سے اپنابنالیااورجس کی بناپر”ملت جعفری“ نام ہوگیاامام موسی کاظم نے بچپنا اورجوانی کاکافی حصہ اسی مقدس آغوش میں گزارا،یہاں تک کہ تمام دنیاکے سامنے آپ کے ذاتی کمالات وفضائل روشن ہوگئے اورامام جعفرصادق علیہ السلام نے اپناجانشین مقررفرمادیاباوجودیکہ آپ کے بڑے بھائی بھی موجودتھے، مگرخداکی طرف کامنصب میراث کاترکہ نہیں ہے بلکہ ذاتی کمال کوڈھونڈتاہے سلسلہ معصومین مین امام حسن کے بعدبجائے ان کی اولادکے امام حسین کاامام ہونااوراولادامام جعفر صادق علیہ السلام میں بجائے فرزنداکبرکے امام موسی کاظم علیہ السلام کی طرف امامت کامنتقل ہونا اس کاثبوت ہے کہ معیارامامت میں نسبی وراثت کومدنظرنہیں رکھاگیاہے (سوانح موسی کاظم ص ۴) ۔

آپ کے بچپن کے بعض واقعات

یہ مسلمات سے ہے کہ نبی اورامام تمام صلاحیتوں سے بھرپورمتولدہوتے ہیں ،جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی عمرتین سال کی تھی ،ایک شخص جس کانام صفوان جمال تھا حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرمستفسرہواکہ مولا،آپ کے بعدامامت کے فرائض کون اداکرے گا، آپ نے ارشادفرمایاائے صفوان!تم اسی جگہ بیٹھواوردیکھتے جاؤجوایسابچہ میرے گھرسے نکلے جس کی ہربات معرفت خداوندی سے پرہو،اورعام بچوں کی طرح لہوولعب نہ کرتاہو،سمجھ لیناکہ عنان امامت اسی کے لیے سزاوارہے اتنے میں امام موسی کاظم علیہ السلام بکری کاایک بچہ لیے ہوئے برآمدہوئے اورباہرآکراس سے کہنے لگے ”اسجدی ربک“ اپنے خداکاسجدہ کریہ دیکھ کر امام جعفرصادق نے اسے سینہ سے لگالیا(تذکرةالمعصومین ص ۱۹۲) ۔

صفوان کہتاہے کہ یہ دیکھ کرمیں نے امام موسی سے کہا،صاحبزادے !اس بچہ کوکہئے کہ مرجائے آپ نے ارشادفرمایا :کہ وائے ہوتم پر،کیاموت وحیات میرے ہی اختیارمیں ہے (بحارالانوارجلد ۱۱ ص ۲۶۶) ۔

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے مسائل دینیہ دریافت کرنے کے لیے حسب دستورحاضرہوئے اتفاقا آپ آرام فرمارہے تھے موصوف اس انتظارمیں بیٹھ گئے کہ آپ بیداہوں توعرض مدعاکروں ،اتنے امام موسی کاظم جن کی عمراس وقت پانچ سال کی تھی برآمدہوئے امام ابوحنیفہ نے انہیں سلام کرکے کہا: اے صاحبزادے یہ بتاؤکہ انسان فاعل مختارہے یاان کے فعل کاخدافاعل ہے یہ سن کرآپ زمین پردوزانو بیٹھ گئے اورفرمانے لگے سنو! بندوں کے افعال تین حالتوں سے خالی نہیں ،یاان کے افعال کا فاعل صرف خداہے یاصرف بندہ ہے یادونوں کی شرکت سے افعال واقع ہوتے ہیں اگرپہلی صورت ہے توخداکوبندہ پرعذاب کاحق نہیں ہے،اگرتیسری صورت ہے توبھی یہ انصاف کے خلاف ہے کہ بندہ کوسزادے اوراپنے کوبچالے کیونکہ ارتکاب دونوں کی شرکت سے ہواہے اب لامحالہ دوسری صورت ہوگی،وہ یہ کہ بندہ خودفاعل ہے اورارتکاب قبیح پرخدااسے سزادے۔بحارالانوارجلد ۱۱ ص ۱۸۵) ۔

امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے اس صاحبزادے کواس طرح نمازپڑھتے ہوئے دیکھ کران کے سامنے سے لوگ برابرگزررہے تھے امام جعفرصادق علیہ السلام سے عرض کیاکہ آپ کے صاحبزادے موسی کاظم نمازپڑھ رہے تھے اورلوگ ان کے سامنے سے گزررہے تھے، حضرت نے امام موسی کاظم کوآوازدی وہ حاضرہوئے، آپ نے فرمایابیٹا! ابوحنیفہ کیاکہتے ہیں ان کاکہناہے کہ تم نمازپڑھ رہے تھے اورلوگ تمہارے سامنے سے گزررہے تھے امام کاظم نے عرض کی باباجان لوگوں کے گزرنے سے نمازپرکیااثرپڑتاہے، وہ ہمارے اورخدا کے درمیان حائل تونہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ تو”اقرب من حبل الورید“ رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے ،یہ سن کرآپ نے انھیں گلے سے لگالیا اورفرمایااس بچہ کواسرارشریعت عطاہوچکے ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۶۹) ۔

ایک دن عبداللہ ابن مسلم اورابوحنیفہ دونوں واردمدینہ ہوئے، عبداللہ نے کہا،چلوامام صادق علیہ السلام سے ملاقات کریں اوران سے کچھ استفادہ کریں ، یہ دونوں حضرت کے دردولت پرحاضرہوئے یہاں پہنچ کردیکھاکہ حضرت کے ماننے والوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے ،اتنے امام صادق علیہ السلام کے بجائے امام موسی کاظم برآمدہوئے لوگوں نے سروقدتعظیم کی، اگرچہ آپ اس وقت بہت ہی کمسن تھے لیکن آپ نے علوم کے دریابہانے شروع کیے عبداللہ وغیرہ نے جوقدرے آپ سے دورتھے آپ کے قریب جاتے ہوئے آپ کی عزت ومنزلت کاآپس میں تذکرہ کیا،آخرمیں امام ابوحنیفہ نے کہا کہ چلومیں انھیں ان کے شیعوں کے سامنے رسوااورذلیل کرتاہوں ، میں ان سے ایسے سوالات کروں گا کہ یہ جواب نہ دیے سکیں گے عبداللہ نے کہا، یہ تمہاراخیال خام ہے ،وہ فرزند رسول ہیں ،الغرض دونوں حاضرخدمت ہوئے، امام ابوحنیفہ نے امام موسی کاظم سے پوچھا صاحبزادے، یہ بتاؤکہ اگرتمہارے شہرمیں کوئی مسافر آجائے اوراسے قضاحاجت کرنی ہوتوکیاکرے اوراس کے لیے کونسی جگہ مناسب ہوگی حضرت نے برجستہ جواب فرمایا:

”مسافرکوچاہئے کہ مکانوں کی دیواروں کے پیچھے چھپے، ہمسایوں کی نگاہوں سے بچے نہروں کے کناروں سے پرہیزکرے جن مقامات پردرختوں کے پھل گرتے ہوں ان سے حذرکرے۔

مکان کے صحن سے علیحدہ، شاہراہوں اورراستوں سے الگ مسجدوں کوچھوڑکر،نہ قبلہ کی طرف منہ کرے نہ پیٹھ ،پھراپنے کپڑوں کو بچاکرجہاں چاہے رفع حاجت کرے یہ سن کرامام ابوحنیفہ حیران رہ گیے ،اورعبداللہ کہنے لگے کہ میں نہ کہتاتھا کہ یہ فرزندرسول ہیں انہیں بچپن ہی میں ہرقسم کاعلم ہواکرتاہے (بحار،مناقب واحتجاج)۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام مکان میں تشریف فرماتھے اتنے میں آپکے نورنظرامام موسی کاظم علیہ السلام کہیں باہر سے واپس آئے امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایابیٹے! ذرااس مصرعہ پرمصرعہ لگاؤ”تنح عن القبیح ولامزتودہ“ آپ نے فورامصرعہ لگایا ”ومن اولیتہ حسنا فزدہ“ بری باتوں سے دوررہو اوران کاارادہ بھی نہ کرو ۲ ۔ جس کے ساتھ بھلائی کرو،بھرپورکرو“ پھرفرمایا! اس پرمصرعہ لگاؤ ”ستلقی من عدوک کل کید“ آپ نے مصرعہ لگایا ”اذاکاوالعدوفلاتکدہ“ (ترجمہ) ۱ ۔ تمہارادشمن ہرقسم کامکروفریب کرے گا ۲ ۔ جب دشمن مکروفریب کرے تب بھی اسے برائی کے قریب نہیں جانا چاہئے (بحارالانوار جلد ۱۱ ص ۳۶۶) ۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت

۱۴۸ ہ میں امام جعفرصادق علیہ السلام کی وفات ہوئی، اس وقت سے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بذات خودفرائض امام کے ذمہ دارہوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پرمنصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں لاتعدادسادات مظالم کانشانہ بن چکے تھے تلوارکے گھاٹ اتارے گئے دیواروں میں چنوائے گئے یاقیدرکھے گئے ،خودامام جعفرصادق علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اورمختلف صورت سے تکلیفیں پہنچائی گئی تھی، یہاں تک کہ منصورہی کابھیجاہوازہرتھا جس سے آپ دنیاسے رخصت ہوئے تھے۔

ان حالات میں آپ کواپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھا کہ حکومت وقت اسے زندہ نہ رہنے دے گی اس لیے آپ نے آخری وقت اخلاقی بوجھ حکومت کے کندھوں پررکھ دینے کے لیے یہ صورت اختیارفرمائی،کہ اپنی جائیداداورگھربارکے انتظامات کے لیے پانچ شخصوں کی ایک جماعت مقررفرمائی جس میں پہلاشخص خود خلیفہ وقت منصورعباسی تھا، اس کے علاوہ محمدبن سلیمان حاکم مدینہ، اورعبداللہ افطح جوامام موسی کاظم کے سن میں بڑے بھائی تھے ،اورحضرت امام موسی کاظم اوران کی والدہ معظمہ حمیدہ خاتون۔

امام کااندیشہ بالکل صحیح تھا،اورآپ کاتحفظ بھی کامیاب ثابت ہوا،چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاح منصورکوپہنچی تواس نے پہلے توسیاسی مصلحت سے اظہاررنج کیا،تین مرتبہ اناللہ واناالیہ راجعون ،کہا اورکہاکہ اب بھلاجعفرکامثل کون ہے؟ اس کے بعدحاکم مدینہ کولکھاکہ اگرجعفرصادق نے کسی شخص کواپنا وصی مقررکیاہوتواس کاسرفوراقلم کردو، حاکم مدینہ نے جواب میں لکھاکہ انہوں نے توپانچ وصی مقررکئے ہیں جن میں سے پہلے آپ خودہیں ، یہ جواب سن کر منصوردیرتک خاموش رہااورسوچنے کے بعدکہنے لگاکہ اس صورت میں تویہ لوگ قتل نہیں کئے جاسکتے اس کے بعددس برس منصورزندہ رہا،لیکن امام موسی کاظم علیہ السلام سے کوئی تعرض نہ کیا، اورآپ مذہبی فرائض امامت کی انجام دہی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رہے یہ بھی تھاکہ اس زمانہ میں منصورشہربغداد کی تعمیرمیں مصروف تھاجس سے ۱۵۷ ہ یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی،اس لیے وہ امام موسی کاظم کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نہیں ہوالیکن اس عہدسے قبل وہ سادات کشی میں کمال دکھاچکاتھا۔

علامہ مقریزی لکھتے ہیں کہ منصورکے زمانے میں بے انتہاسادات شہیدکئے گئے ہیں اورجوبچے ہیں وہ وطن چھوڑکر بھاگ گئے ہیں انہیں تارکین وطن میں ہاشم بن ابراہیم بن اسماعیل الدیباج بن ابراہیم عمربن الحسن المثنی ابن امام حسن بھی تھے جنہوں نے ملتان کوعلاقوں میں سے مقام”خان“میں سکونت اختیارکرلی تھی (النزاع والتخاصم ص ۴۷ طبع مصر)۔

۱۵۸ ہ کے آخرمیں منصوردوانقی دنیاسے رخصت ہوا،اوراس کابیٹامہدی تخت سلطنت پربیٹھا،شروع میں تواس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کی عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤنہیں کیا مگرچندسال بعدپھروہی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور ۱۶۴ ہ میں جب وہ حج کے نام سے حجازکی طرف گیاتوامام موسی کاظم علیہ السلام کواپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیااورقیدکردیاایک سال تک حضرت اس کی قیدمیں رہے پھراس کواپنی غلطی کااحساس ہوااورحضرت کومدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیاگیا۔

مہدی کے بعداس کابھائی ہادی ۱۶۹ ہ میں تخت سلطنت پربیٹھا اورصرف ایک سال ایک ماہ تک اس نے سلطنت کی ، اس کے بعدہارون الرشیدکازمانہ آیاجس میں امام موسی کاظم علیہ السلام کوآزادی کی سانس لینانصیب نہیں ہوئی (سوانح امام موسی کاظم ص ۵) ۔

علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ درجہ امامت پرفائزہوئے اس وقت آپ کی عمربیس سال کی تھی (اعلام الوری ص ۱۷۱) ۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعض کرامات

واقعہ شقیق بلخی

علامہ محمدبن شافعی لکھتے ہیں کہ آپ کے کرامات ایسے ہیں کہ ”تحارمنہاالعقول“ ان کودیکھ کرعقلیں چکراجاتی ہیں ،مثال کے لیے ملاحظہ ہو؟ ۱۴۹ ہ میں شقیق بلخی حج کے لیے گئے ان کابیان ہے کہ میں جب مقام قادسیہ میں پہنچاتومیں نے دیکھاکہ ایک نہایت خوب صورت جوان جن کارنگ سانولہ (گندم گوں ) تھا وہ ایک عظیم مجمع میں تشریف فرماہیں جسم ان کاضعیف ہے وہ اپنے کپڑوں کے اوپر ایک کمبل ڈالے ہوئے ہیں اورپیروں میں جوتیاں پہنے ہوئے ہیں تھوڑی دیر بعدوہ مجمع سے ہٹ کر ایک علیحدہ مقام پرجاکربیٹھ گئے، میں نے دل میں سوچا کہ یہ صوفی ہے اورلوگوں پرزادراہ کے لیے باربنناچاہتاہے ،میں ابھی اس کی ایسی تنبیہ کروں گاکہ یہ بھی یادرکھے گا،غرضیکہ میں ان کے قریب گیاجیسے ہی میں ان کے قریب پہنچاہوں ،وہ بولے ائے شقیق بدگمانی مت کیاکرویہ اچھاشیوہ نہیں ہے، اس کے بعدوہ فورااٹھ کرروانہ ہوگئے ،میں نے خیال کیاکہ یہ معاملہ کیاہے انہوں نے میرانام لے کرمجھے مخاطب کیااورمیرے دل کی بات جان لی

اس واقعہ سے میں اس نتیجہ پرپہنچاکہ ہونہ ہویہ کوئی عبدصالح ہوں بس یہی سوچ کرمیں ان کی تلاش میں نکلااوران کاپیچھاکیا، خیال تھاکہ وہ مل جائیں گے تومیں ان سے کچھ سوالات کروں گا،لیکن نہ مل سکے،ان کے چلے جانے کے بعدہم لوگ بھی روانہ ہوئے ، چلتے چلتے جب ہم ”وادی فضہ“ میں پہنچے توہم نے دیکھاکہ وہی جوان صالح یہاں نمازمیں مشغول ہیں اوران کے اعضاء وجوارح بیدکی مانندکانپ رہے ہیں اوران کی آنکھوں سے آنسوجاری ہیں میں یہ سوچ کران کے قریب گیاکہ اب ان سے معافی طلب کروں گاجب وہ نمازسے فارغ ہوئے توبولے ائے شفیق خداکاقول ہے کہ جوتوبہ کرتاہے میں اسے بخش دیتاہوں اس کے بعدپھرروانہ ہوگئے اب میرے دل میں یہ یقین آیاکہ یقینا یہ بندہ عابد،کوئی ابدال ہے ،کیوں کہ دو باریہ میرے ارادہ سے اپنی واقفیت ظاہرکرچکاہے میں نے ہرچندپھران سے ملنے کی سعی کی لیکن وہ نہ مل سکے جب میں منزل زبالہ پرپہنچاتودیکھاکہ وہی جوان ایک کنویں کی جگت پربیٹھے ہوئے ہیں اس کے بعدانہوں نے ایک کوزہ نکال کرکنوئیں سے پانی لیناچاہا،ناگاہ ان کے ہاتھ سے کوزہ چھوٹ کرکنوئیں میں گرگیا،میں نے دیکھاکہ کوزہ گرنے کے بعدانہوں نے آسمان کی طرف منہ کرکے بارگاہ احدیت میں کہا: میرے پالنے والے جب میں پیاساہوتاہوں توہی سیراب کرتاہے اورجب بھوکاہوتاہوں توہی کھانادیتاہے خدایا!اس کوزہ کے علاوہ میرے پاس کوئی اورکوزہ نہیں ہے ،میرے مالک! میرا کوزہ پرآب برآمدکردے،اس جوان صالح کایہ کہناتھاکہ کنوئیں کاپانی بلندہوااوراوپرتک آگیاآپ نے ہاتھ بڑھاکر اپناکوزہ پانی سے بھراہوالے لیااوروضوفرماکر چاررکعت نمازپڑھی، اس کے بعدآپ نے ریت کی ایک مٹھی اٹھائی اورپانی میں ڈال کرکھاناشروع کردیایہ دیکھ کرمیں عرض پردازہواجناب والا! مجھے بھی کچھ عنایت ہومیں بھوکاہوں آپ نے وہی کوزہ میرے حوالے کردیاجس میں ریت بھری تھی خداکی قسم جب میں نے اس میں سے کھایاتواسے ایسالذیذستوپایاجیسامیں نے کھایاہی نہ تھا، پھراس ستومیں ایک خاص بات یہ تھی کہ میں جب تک سفرمیں رہابھوکانہیں ہوا اس کے بعدآپ نظروں سے غائب ہوگئے ۔

جب میں مکہ معظمہ میں پہنچاتومیں نے دیکھاکہ ایک بالو(ریت) کے ٹیلے کے کنارے مشغول نمازہیں اورحالت آپ کی یہ ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہیں اوربدن پرخضوع وخشوع کے آثارنمایاں ہیں آپ نمازہی میں مشغول تھے کہ صبح ہوگئی ، آپ نے نمازصبح ادافرمائی اوراس سے اٹھ کرطواف کاارادہ کیا،پھرسات بارطواف کرنے کے بعد ایک مقام پرٹہرے میں نے دیکھاکہ آپ کے گردبیشمارحضرات ہیں اورسب بے انتہاتعظیم وتکریم کررہے ہیں ،میں چونکہ ایک ہی سفرمیں کرامات دیکھ چکاتھا اس لیے مجھے بہت زیادہ فکرتھی کہ یہ معلوم کروں کہ یہ بزرگ ہیں کون؟ انہوں نے کہاکہ یہ فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم ہیں ،میں نے کہابے شک یہ صاحب کرامات جومیں میں نے دیکھے وہ اسی گھرانے کے لیے سزاوارہیں (مطالب السول ص ۲۷۹ ،نورالابصارص ۱۳۵ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۳ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ، ارجح المطالب ص ۴۵۲) ۔

مورخ ذاکرحسین لکھتے ہیں کہ شقیق ابن ابراہیم بلخی کاانتقال ۱۹۰ ہ میں ہواتھا ( تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۵۹) ۔

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ عیسی مدائنی حج کے لیے گئے اور ایک سال مکہ میں رہنے کے بعدوہ مدینہ چلے گئے ان کاخیال تھا کہ وہاں بھی ایک سال گزاریں گے، مدینہ پہنچ کرانہوں نے جناب ابوذرکے مکان کے قریب ایک مکام میں قیام کیا۔

مدینہ میں ٹہرنے کے بعد انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کے وہاں آناجاناشروع کیا،مدائنی کابیان ہے کہ ایک شب کوبارش ہورہی تھی اورمیں اس وقت امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرتھا، تھوڑی دیرکے بعد آپ نے فرمایاکہ اے عیسی تم فورااپنے مکان چلے جاؤکیونکہ ”انہدم البیت علی متاعک“ تمہارامکان تمہارے اثاثہ پرگرگیاہے اورلوگ سامان نکال رہے ہیں یہ سن کرمیں فورامکان کی طرف گیا، دیکھاکہ گھرگرچکاہے اورلوگ سامان نکال رہے ہیں ،دوسرے دن جب حاضرہواتوامام علیہ السلام نے پوچھاکہ کوئی چیزچوری تونہیں ہوئی ،میں نے عرض کی صرف ایک طشت نہیں ملتا جس میں وضو کیاکرتاتھا، آپ نے فرمایاوہ چوری نہیں ہوا،بلکہ انہدام مکان سے پہلے تم اسے بیت الخلاء میں رکھ کربھول گئے ہو،تم جاؤاورمالک کی لڑکی سے کہو،وہ لادے گی، چنانچہ میں نے ایساہی کیا اورطشت مل گیا(نورالابصارص ۱۳۵) ۔

علامہ جامی تحریرفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک صحابی کے ہمراہ سو دینارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بطورنذرارسال کیاوہ اسے لے کرمدینہ پہنچا، یہاں پہنچ کراس نے سوچاکہ امام کے ہاتھوں میں اس جاناہے لہذا پاک کرلیناچاہئے وہ کہتاہے کہ میں نے ان یناروں کوجوامانت تھے شمارکیا تووہ نناوے تھے میں نے ان میں اپنی طرف سے ایک دینارشامل کرکے سوپورا کردیا،جب میں حضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے فرمایاسب دینارزمین پرڈال دو،میں نے تھیلی کھو ل کرسب زمین پرنکال دیا ، آپ نے میرے بتائے بغیراس میں سے میرا وہی دینارجومیں نے ملایاتھا مجھے دیدیا اورفرمایا بھیجنے والے نے عددکالحاظ نہیں کیا بلکہ وزن کالحاظ کیاہے جو ۹۹ میں پوراہوتاہے۔

ایک شخص کاکہناہے کہ مجھے علی بن یقطین نے ایک خط دے کرامام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا،میں نے حضرت کی خدمت میں پہنچ کر ان کاخط دیا، انہوں نے اسے پڑھے بغیرآستین سے ایک خط نکال کرمجھے دیااورکہا کہ انہوں نے جوکچھ لکھاہے اس کایہ جواب ہے (شواہدالنبوت ص ۱۹۵) ۔

ابوبصیرکابیان ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام دل کی باتیں جانتے تھے اورہرسوال کاجواب رکھتے تھے ہرجاندارکی زبان سے واقف تھے (روائح المصطفی ص ۱۶۲) ۔

ابوحمزہ بطائنی کاکہناہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت کے ساتھ حج کوجارہاتھا کہ راستہ میں ایک شیربرآمدہوا،اس نے آپ کے کان میں کچھ کہاآپ نے اس کواسی کی زبان میں جواب دیااوروہ چلاگیا ہمارے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنی شیرنی کی ایک تکلیف کے لیے دعاکی خواہش کی، میں نے دعاکردی اوروہ واپس چلاگیا(تذکرة المعصومین ص ۱۹۳) ۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے اخلاق وعادات اوشمائل واوصاف

علامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اس مقدس سلسلہ کی ایک فردتھے جس کوخالق نے نوع انسانی کے لیے معیارکمال قراردیاتھا اسی لیے ان میں سے ہرایک اپنے وقت میں بہترین اخلاق واصاف کامرقع تھا ،بیشک یہ حقیقت ہے کہ بعض افرادمیں بعض صفات اتنے ممتازنظرآتے ہیں کہ سب سے پہلے ان پرنظرپڑتی ہے چنانچہ ساتویں امام میں تحمل وبرداشت اورغصہ ضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ کالقب کاظم قراردیاگیاجس کے معنی ہیں غصہ کوپینے والا،آپ کوکبھی کسی نے ترش روئی اورسختی کے ساتھ بات چیت کرتے نہیں دیکھا اورانتہائی ناگوارحالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظرآئے مدینہ کے ایک حاکم سے آپ کوسخت تکلیفیں پہنچیں یہاں تک کہ وہ جناب امیرعلیہ السلام کی شان میں بھی نازیباالفاظ استعمال کیاکرتاتھا ، مگرحضرت نے اپنے اصحاب کوہمیشہ اس کے جواب دینے سے روکا۔

جب اصحاب نے اس کی گستاخیوں کی بہت شکایت کی اورکہاکہ اب ہمیں ضبط کی تاب نہیں ہمیں ان سے انتقام لینے کی اجازت دی جائے، توحضرت نے فرمایاکہ میں خوداس کاتدارک کروں گا اس طرح ان کے جذبات میں سکون پیدا کرنے کے بعد حضرت خود اس شخص کے پاس اس کی زراعت پرتشریف لے گئے اورکچھ ایسا احسان اورحسن سلوک فرمایا کہ وہ اپنی گستاخیوں پرنادم ہوا، اوراپنے طرزعمل کوبدل دیا حضرت نے اپنے اصحاب سے صورت حال بیان فرماکر پوچھاکہ جومیں نے اس کے ساتھ کیا وہ اچھاتھا یا جس طرح تم لوگ اس کے ساتھ کرناچاہتے تھے سب نے کہایقینا حضورنے جوطریقہ اختیارفرمایا وہی بہترتھا اس طرح آپ نے اپنے جدبزرگوارحضرت امیرعلیہ السلام کے اس ارشاد کوعمل میں لاکردکھلایاجوآج تک ”نہج البلاغہ“میں موجودہے کہ اپنے دشمن پراحسان کے ساتھ فتح حاصل کروکیونکہ یہ دوقسم کی فتح میں زیادہ پرلطف کامیابی ہے بے شک اس لیے فریق مخالف کے ظرف کاصحیح اندازہ ضروری ہے اوراسی لیے حضرت علی نے ان الفاظ کے ساتھ یہ بھی فرمایاہے کہ ”خبردار! یہ عدم تشدد کاطریقہ نااہل کے ساتھ اختیارنہ کرنا ورنہ اس کے تشدد میں اضافہ ہوجائے گا۔

یقیناایسے عدم تشددکے موقع کوپہنچاننے کے لیے ایسی ہی بالغ نگاہ کی ضرورت ہے جیسی امام کوحاصل تھی، مگریہ اس وقت میں ہے جب مخالف کی طرف سے کوئی ایساعمل ہوچکاہوجواس کے ساتھ انتقامی تشددکاجوازپیداکرسکے لیکن اگراس کی طرف سے کوئی اقدام ابھی ایسانہ ہواہو تویہ حضرات بہرحال اس کے ساتھ احسان کرناپسندکرتے تھے تاکہ اس کے خلاف حجت قائم ہواوراسے ایسے جارحانہ اقدام کے لیے تلاش سے بھی کوئی عذرنہ مل سکے بالکل اسی طرح جیسے ابن ملجم کے ساتھ جوجناب امیرعلیہ السلام کوشہیدکرنے والاتھا آخروقت تک جناب امیرعلیہ السلام احسان فرماتے رہے اسی طرح محمدبن اسماعیل کے ساتھ جوامام موسی کاظم علیہ السلام کی جان لینے کاباعث ہوا، آپ احسان فرماتے رہے یہاں تک کہ اس سفرکے لیے جواس نے مدینہ سے بغدادکی طرف خلیفہ بنی عباسی کے پاس امام موسی کاظم علیہ السلام کی شکایتیں کرنے کے لیے کیاتھا ساڑھے چارسودیناراورپندرہ سودرہم کی رقم خودحضرت ہی نے عطافرمائی تھی جس کووہ لے کر روانہ ہواتھا۔

آپ کوزمانہ بہت ناسازگارملاتھا نہ اس وقت وہ علمی دربارقائم رہ سکتاتھا جوامام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانہ میں قائم رہ چکاتھا نہ دوسرے ذرائع سے تبلیغ واشاعت ممکن تھی پس آپ کی خاموش سیرت ہی تھی جودنیاکوآل محمدکی تعلیمات سے روشناس بناسکتی تھی آپ اپنے مجمعوں میں بھی اکثربالکل خاموش رہتے تھے یہاں تک کہ جب تک آپ سے کسی امرکے متعلق کوئی سوال نہ کیاجائے آپ گفتگومیں ابتداء بھی نہ فرماتے تھے ، اس کے باوجودآپ کی علمی جلالت کاسکہ دوست اوردشمن سب کے دل پرقائم تھا اورآپ کی سیرت کی بلندی کوبھی سب مانتے تھے۔

اس لیے عام طورپرآپ کواکثرعبادت اورشب زندہ داری کی وجہ سے عبدصالح کے لقب سے یادکیاجاتاتھا آپ کی سخاوت اورفیاضی کابھی شہرہ تھا اورفقراء مدینہ کی اکثرپوشیدہ طورپرخبرگیری فرماتے تھے ہرنمازصبح کی تعقیبات کے بعد، آفتاب کے بلندہونے کے بعد سے پیشانی سجدہ میں رکھ دیتے تھے اورزوال کے وقت سراٹھاتے تھے قرآن مجیدکی نہایت دلکش اندازمیں تلاوت فرماتے تھے خودبھی روتے جاتے تھے اورپاس بیٹھنے والے بھی آپ کی آوازسے متاثرہوکر روتے تھے (سوانح موسی کاظم ص ۸ ، اعلام الوری ۱۷۸) ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کایہ طریقہ تھا کہ آپ فقیروں کوڈھونڈاکرتے تھے اورجوفقیرآپ کومل جاتاتھا اس کے گھرمیں روپیہ پیسہ اشرفی اورکھانا پانی پہنچایاکرتے تھے اوریہ عمل آپ کارات کے وقت ہوتاتھا اس طرح آپ فقراء مدینہ کے بے شمارگھروں کاآذوقہ چلارہے تھے اورلطف یہ ہے کہ ان لوگوں تک کویہ پتہ نہ تھاکہ ہم تک سامان پہنچانے والاکون ؟ یہ رازاس وقت کھلاجب آپ دنیاسے رحلت فرماگئے (نورالابصارص ۱۳۶ طبع مصر)۔

اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۴ میں ہے کہ آپ ہمیشہ دن بھرروزہ رکھتے تھے اوررات بھرنمازیں پڑھاکرتے تھے علامہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ آپ بے انتہاعبادت وریاضت فرمایاکرتے تھے اورطاعت خدامیں اس درجہ شدت برداشت کرتے تھے جس کی کوئی حدنہ تھی۔

ایک دفعہ مسجدنبوی میں آپ کودیکھاگیاکہ آپ سجدہ میں مناجات فرمارہے ہیں اوراس درجہ سجدہ کوطول دیاکہ صبح ہوگئی (وفیات الاعیان جلد ۲ ص ۱۳۱) ۔

ایک شخص آپ کی برابربلاوجہ برائیاں کرتاتھا جب آپ کواس کاعلم ہواتوآپ نے ایک ہزاردینار(اشرفی) اس کے گھرپربطورانعام بھجوادیا(روائح المصطفی ص ۲۶۴) جس کے نتیجہ میں وہ اپنی حرکت سے بازآگیا۔

خلیفہ ہارون الرشید عباسی اورحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

۱۵/ ربیع الاول ۱۷۰ ہ کومہدی کابیٹا ابوجعفرہارون الرشیدعباسی خلیفہ وقت بنایاگیااس نے اپناوزیراعظم یحی بن خالدبرمکی کوبنایااورامام ابوحنیفہ کے شاگردابویوسف کوقاضی قضاة کادرجہ دیا،بروایتے ذاہبی اس نے اگرچہ بعض اچھے کام بھی کئے ہیں لیکن لہوولعب اورحصول لذت ممنوعہ میں منفردتھا، ابن خلدون کاکہناہے کہ یہ اپنے دادامنصورکے نقش قدم پرچلتاتھا فرق اتناتھا کہ وہ بخیل تھا اوریہ سخی، یہ پہلاخلیفہ ہے جس نے راگ راگنی اورموسیقی کوشریف پیسہ قراردیاتھا ،اس کی پیشانی پرسادات کشی کابھی نمایاں داغ ہے علم موسیقی کاماہرابواسحاق ابراہیم موصلی اس کادرباری تھا ۔

حبیب السیرمیں ہے کہ یہ پہلالسلام ی بادشاہ ہے جس نے میدان میں گیندبازی کی اورشطرنج کے کھیل کاشوق کیااحادیث میں ہے کہ شطرنج کھیلنا بہت بڑا گناہ ہے جامع الاخبارمیں ہے کہ جب امام حسین کاسردرباریزیدیمں پہنچاتھاتووہ شطرنج کھیل رہاتھا تاریخ الخلفاء سیوطی میں ہے کہ ہارون رشیداپنے باپ کی مدخولہ لونڈی پرعاشق ہوگیا اس نے کہامیں تمہارے باپ کے پاس رہ چکی ہوں ، تمہارے لیے حلال نہیں ہوں ہارون نے قاضی ابویوسف سے فتوی طلب کیا انہوں نے کہاآپ اس کی بات کیوں مانتے ہیں یہ جھوٹ بھی بول سکتی ہے اس فتوے کے سہارے سے اس نے اس کے ساتھ بدفعلی کی ۔

علامہ سیوطی یہ بھی لکھتے ہیں کہ بادشاہ ہارون نے ایک لونڈی خریدکراس کے ساتھ اسی رات بلااستبراء جماع کرنا چاہا،قاضی ابویوسف نے کہاکہ اسے اپنے کسی لڑکے کوہبہ کرکے استعمال کرلیجئے علامہ سیوطی کاکہناہے کہ اس فتوی کی اجرت امام ابویوسف نے ایک لاکھ درہم لی تھی علامہ ابن خلکان کاکہناہے کہ ابوحنیفہ کے شاگردوں میں ابویوسف کی نظیرنہ تھی اگریہ نہ ہوتے توامام ابوحنیفہ کاذکربھی نہ ہوتا۔

تاریخ اسلام مسٹرذاکرحسین میں بحوالہ صحاح الاخبارمرقوم ہے کہ ہارون الرشیدکادرجہ سادات کشی میں منصورسے کم نہ تھا اس نے ۱۷۶ ہ میں حضرت نفس زکیہ علیہ الرحمة کے بھائی یحی کودیوارمیں زندہ چنوادیاتھا اسی نے امام موسی کاظم کواس اندیشہ سے کہ کہیں یہ ولی اللہ میرے خلاف علم بغاوت بلندنہ کردیں اپنے ساتھ حجازسے عراق میں لاکر قیدکردیااور ۱۸۳ ہ میں زہرسے ہلاک کردیا۔

علامہ مجلسی تحفة الزائرمیں لکھتے ہیں کہ ہارون الرشیدنے دوسری صدی ہجری میں امام حسین علیہ السلام کی قبرمطہرکی زمین جتوائی تھی اورقبرپرجوبیری کادرخت بطورنشان موجودتھا اسے کٹوادیاتھا ،جلاء العیون اورقمقام میں بحوالہ امالی شیخ طوسی مرقوم ہے کہ جب اس واقعہ کی اطلاع جریرابن عبدالحمیدکوہوئی توانہوں نے کہا کہ رسول خداصلعم کی حدیث”لعن اللہ قاطع السدرة“بیری کے درخت کاٹنے والے پرخداکی لعنت ہو، کامطلب اب واضح ہوا(تصویرکربلا ص ۶۱ طبع دہلی ص ۱۸۳۸) ۔

ہارون الرشیدکاپہلاحج اورامام موسی کاظم علیہ السلام کی پہلی گرفتاری

مورخ ابوالفداء لکھتاہے کہ عنان حکومت لینے کے بعد ہارون الرشیدنے ۱۷۳ ہ میں پہلے پہل حج کیا علامہ ابن حجرمکی تحریرفرماتے ہیں کہ ”جب ہارون الرشیدحج کوآیاتولوگوں نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں چغلی کھائی کہ ان کے پاس ہرطرف سے مال چلاآتاہے ،اتفاق سے ایک روزہارون رشیدخانہ کعبہ کے نزدیک حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقی ہوا اورکہنے لگاتم ہی ہوجن سے لوگ چھپ چھپ کربیعت کرتے ہیں امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایاکہ ہم دلوں کے امام ہیں اورآپ جسموں کے،ہارون رشیدنے امام موسی کاظم علیہ السلام سے پوچھاکہ تم کس دلیل سے کہتے ہوکہ ہم رسول اللہ کی ذریت ہیں حالانکہ تم علی کی اولادہواورہرشخص اپنے داداسے منتسب ہوتاہے ناناسے منتسب نہیں ہوتا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائے کریم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے ”( ومن ذریته داؤد وسلیمان وایوب وزکریاویحی وعیسی ) “ اورظاہرہے کہ حضرت عیسی بے باپ کے پیداہوئے تھے توجس طرح محض اپنی والدہ کی نسبت سے ذریت انبیاء میں ملحق ہوئے اسی طرح ہم بھی اپنی مادرگرامی حضرت فاطمہ کی نسبت سے جناب رسول خداکی ذریت ٹہرے، پھرفرمایا کہ جب آیہ مباہلہ نازل ہوئی تومباہلہ کہ وقت پیغمبرنے سواعلی اورفاطمہ اورحسن وحسین کے کسی کونہیں بلایا اوربفحوائے ”ابنانا“ حضرت حسن وحسین ہی رسول اللہ کے لیے بیٹے قرارپائے (صواعق محرقہ ص ۱۲۲ ،نورالابصار ص ۱۳۴ ،ارجح المطالب ص ۴۵۲) ۔

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ ہارون رشیدحج کرنے کے بعد مدینہ منورہ آیااورزیارت کے لیے روضہ مقدسہ نبوی پرحاضرہوا اس وقت اس کے گردقریش اوردیگر قبائل عرب جمع تھے،نیزحضرت امام موسی کاظم بھی ساتھ تھے ہارون رشیدنے حاضرین پراپنافخرظاہرکرنے کے لیے قبرمبارک کی طرف ہوکرکہا، سلام ہوآپ پرائے رسول اللہ ،اے ابن عم(میرے چچازادبھائی) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ سلام ہو، آپ پرائے میرے پدربزرگوار! یہ سن کرہارون کے چہرہ کارنگ فق ہوگیا،اوراس نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کواپنے ہمراہ لے جاکر قیدکردیا(وفیات الاعیان جلد ۲ ص ۱۳۱ ، تاریخ احمدی ص ۳۴۹) ۔

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں آپ ہارون رشیدکے قیدخانہ میں تھے ہارون نے آپ کاامتحان کرنے کے لیے ایک نہایت حسین وجمیل لڑکی، آپ کی خدمت کرنے کے لیے قیدخانہ میں بھیجدی حضرت نے جب اسے دیکھاتولانے والے سے فرمایاکہ ہارون سے جاکر کہہ دینا کہ انہوں نے یہ ہدیہ واپس کیاہے اورکہاہے کہ ”بل انتم بہدیتکم تفرحون“ وہ عطائے توبہ لقاء تواس سے تم ہی خوشی حاصل کرو، اس نے ہارون سے واقعہ بیان کیا، ہارون نے کہا کہ اسے لے جاکروہیں چھوڑآؤ، اورابن جعفرسے کہوکہ نہ میں نے تمہاری مرضی سے تمہیں قیدکیاہے اورنہ تمہاری مرضی سے تمہارے پاس یہ لونڈی بھیجی ہے، میں جوحکم دوں وہ کرناہوگاالغرض وہ لومڑی حضرت کے پاس چھوڑ دی گئی

چند دنوں کے بعد ہارون نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جاکر پتہ لگائے کہ اس لونڈی کا کیا رہا اس نے جو قید خانے میں جا کر دیکھا تو وہ حیران رہ گیا اور بھاگا ہوا ہارون کے پاس آکر کہنے لگا کہ وہ لونڈی توزمین پر سجدہ میں پڑی ہوئی ”سبّوح قدّوس“ ۔کہہ رہی ہے۔اور اس کا عجیب حال ہے ۔ہارون نے حکم دیا کہ اسے اس کے سامنے پیش کیا جائے ، جب وہ آئی تو بالکل مبہوث تھی ،ہارون نے پوچھا کہ بات کیا ہے ،اس نے کہا کہ جب میں حضرت کے پاس گئی اور میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوئی ہوں ،تو آپ نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ لوگ جب کہ میرے پاس موجود ہیں مجھے تیری کیا ضرورت ہے ،میں نے جب اس سمت کو نظر کی تو دیکھا کہ جنّت آراستہ ہے ،اورحوروغلماں موجودہے ان کاحسن وجمال دیکھ کرمیں سجدہ میں گرپڑی اورعبادت کرنے پرمجبورہوگئی ۔

اے بادشاہ میں نے وہ چیزیں کبھی نہیں دیکھیں جوقیدخانہ میں میری نظرسے گزریں ، بادشاہ نے کہاکہ کہیں تونے سونے کی حالت میں خواب نہ دیکھاہو، اس نے کہااے بادشاہ ایسانہیں ہے میں نے عالم بیداری میں بچشم خودسب کچھ دیکھاہے یہ سن کربادشاہ نے اس عورت کوکسی محفوظ مقام پرپہنچادیا اوراس کے لیے حکم دیاگیاکہ اس کی نگرانی کی جائے تاکہ یہ کسی سے یہ واقعہ بیان نہ کرنے پائے ،راوی کابیان ہے کہ اس واقعہ کے بعدوہ تاحیات مشغول عبادت رہی اورجب کوئی اس کی نمازوغیرہ کے بارے میں کچھ کہتاتھا تویہ جواب میں کہتی تھی کہ میں نے عبدصالح امام موسی کاظم علیہ السلام کواسی طرح کرتے دیکھاہے۔

یہ پاکبازعورت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی وفات سے چنددنوں پہلے فوت ہوگئی (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۶۳) ۔

قیدخانہ سے آپ کی رہائی

آپ قیدخانہ میں تکالیف سے دوچارتھے، اورہرقسم کی سختیاں آپ پرکی جارہی تھیں کہ ناگاہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھاجس سے مجبورہوکر اس نے آپ کورہاکردیا،علامہ ابن حجرمکی بحوالہ علامہ مسعودی لکھتے ہیں کہ ایک شب کوہارون رشیدنے حضرت علی علیہ السلام کوخواب میں اس طرح دیکھا کہ وہ ایک تیشہ لیے ہوئے تشریف لائے ہیں اورفرماتے ہیں کہ میرے فرزندکورہاکردے ورنہ میں ابھی تجھے کیفرکردارتک پہنچادوں گا اس خواب کودیکھتے ہی اس نے رہائی کاحکم دیا،اورکہاکہ اگرآپ یہاں رہناچاہیں تورہئے اورمدینہ جاناچاہتے ہیں توتشریف لے جائیے آپ کواختیارہے، علامہ مسعودی کاکہناہے کہ اسی شب کوحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے حضرت محمدمصطفی صلعم کوخواب میں دیکھاتھا (صواعق محرقہ ص ۱۲۲ طبع مصر،علامہ جامی لکھتے ہیں کہ مدینہ روانہ کرتے وقت ہارون نے آپ سے خروج کاشبہ ظاہرکیا آپ نے فرمایاکہ خروج وبغاوت میرے شایان شان نہیں ہے خداکی قسم میں ایساہرگزنہیں کرسکتا(شواہدالنبوت ص ۱۹۲) ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام اورعلی بن یقطین بغدادی

قیدخانہ رشیدسے چھوٹنے کے بعدحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام مدینہ منورہ پہنچے اوربدستوراپنے فرائض امامت کی ادائیگی میں مشغول ہوگئے، آپ چونکہ امام زمانہ تھے اس لیے آپ کوزمانہ کے تمام حوادث کی اطلاع تھی ۔

ایک مرتبہ ہارون رشیدنے علی بن یقطین بن موسی کوفی بغدادی کہ جوکہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاص ماننے والے تھے اوراپنی کارکردگی کی وجہ سے ہارون رشیدکے مقربین میں سے تھے ،بہت سی چیزیں دیں جن میں خلعت فاخرہ اورایک بہت عمدہ قسم کاسیاہ زربفت کابناہوا چغہ تھا جس پرسونے کے تاروں سے پھول کڑھے ہوئے تھے اورجسے صرف خلفاء اوربادشاہ پہناکرتے تھے علی ین یقطین نے ازراہ تقرب وعقیدت اس سامان میں اوربہت سی چیزوں کااضافہ کرکے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دیا آپ نے ان کاہدیہ قبول کرلیا ،لیکن اس میں سے اس لباس مخصوص کوواپس کردیا جوزربفت کابناہواتھا اورفرمایاکہ اسے اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے اس وقت کام آئے گاجب ”جان جوکھم“ میں پڑی ہوگی انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام نہ جانے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایاہواسے اپنے پاس رکھ لیا تھوڑے دنوں کے بعدابن یقطین اپنے ایک غلام سے ناراض ہوگئے اوراسے اپنے گھرسے نکال دیا اس نے جاکررشیدخلیفہ سے ان کی چغلی کھائی اورکہاکہ آپ نے جس قدرخلعت وغیرہ انہیں دی ہے انہوں نے سب کاسب امام موسی کاظم علیہ السلام کودیدیاہے،اور چونکہ وہ شیعہ ہیں ، اس لیے امام کوبہت مانتے ہیں ، بادشاہ نے جونہی یہ بات سنی، وہ آگ بگولہ ہوگیااوراس نے فوراسپاہیوں کوحکم دیا کہ علی بن یقطین کواسی حالت میں گرفتارکرلائیں جس حال میں ہوہوں ،الغرض ابن یقطین لائے گئے ،بادشاہ نے پوچھامیرادیاہواچغہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہابادشاہ میرے پاس ہے اس نے کہامیں دیکھناچاہتاہوں اورسنو! اگرتم اس وقت اسے نہ دیکھاسکے تومیں تمہاری گردن ماردوں گا، انہوں نے کہابادشاہ میں ابھی پیش کرتاہوں ، یہ کہہ کرانہوں نے ایک شخص سے کہاکہ میرے مکان میں جاکرمیرے فلاں کمرہ سے میراصندوق اٹھالا، جب وہ بتایاہواصندوق لے آیاتوآپ نے اس کی مہرتوڑی اورچغانکال کراس کے سامنے رکھ دیا، جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے چغہ دیکھ لیا،تواس کاغصہ ٹھنڈاہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا(شواہد النبوت ص ۱۹۴) ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ پھراس کے بعدرشیدنے اوربہت ساعطیہ دے کرانہیں عزت واحترام کے ساتھ واپس کردیا اورحکم دیاکہ چغلی کرنے والے کوایک ہزارکوڑے لگائے جائیں چنانچہ جلادوں نے مارناشروع کیااوروہ پانچ سوکوڑے کھاکرمرگیا(بحارالانوار ص ۱۳۰) ۔

علی ابن یقطین کوالٹاوضوکرنے کاحکم

علامہ طبرسی اورعلامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ علی بن یقطین نے امام موسی کاظم علیہ السلام کوایک خط لکھاجس میں تحریرکیاکہ ”ہمارے درمیان“ اس امرمیں بحث ہورہی ہے کہ آیامسح کعب سے اصابع(انگلیوں ) تک ہوناچاہئے یاانگلیوں سے کعب تک حضوراس اس کی وضاحت فرمائیں ، حضرت نے اس خط کاایک عجیب وغریب جواب تحریرفرمایا آپ نے لکھا کہ میراخط پاتے ہی تم اس طرح وضوشروع کروکہ تین مرتبہ کلی کرو، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالو،تین مرتبہ منہ دھوؤ،اپنی ڈاڈھی کواچھی طرح بھگوؤ،سارے سرکامسح کرو،اندرباہرکانوں کامسح کرو،تین مرتبہ پاؤں دھوؤ اوردیکھومیرے اس حکم کے خلا ف ہرگزہرگزنہ کرنا۔

علی بن یقطین نے جب اس خط کوپڑھا،حیران رہ گئے لیکن یہ سمجھتے ہوئے کہ ”مولائی اعلم بماقال “ آپ نے جوکچھ حکم دیاہے اس کی گہرائی اوراس کوجہ کااچھی طرح آپ کوعلم ہوگا اس پرعمل کرناشروع کردیا۔

راوی کابیان ہے کہ علی بن یقطین کی مخالفت برابردربارمیں ہواکرتی تھی اورلوگ بادشاہ سے کہاکرتے تھے کہ یہ شیعہ ہے اورتمہارے مخالف ہے ایک دن بادشاہ نے اپنے بعض مشیروں سے کہاکہ علی بن یقطین کی شکایات بہت ہوچکی ہیں ،اب میں خودچھپ کردیکھوں گا اوریہ معلوم کروں گاکہ وضوکیونکہ کرتے اورنمازکیسے پڑھتے ہیں ،چنانچہ اس نے چھپ کرآپ کے حجرہ میں نظرڈالی تودیکھاکہ وہ اہل سنت کے اصول اورطریقے پروضوکررہے ہیں یہ دیکھ کروہ ان سے مطمئن ہوگیااوراس کے بعدسے پھرکسی کے کہنے کوباورنہیں کیا۔

اس واقعہ کے فورا بعدامام موسی کاظم علیہ السلام کاخط علی بن یقطین کے پاس پہنچا جس میں مرقوم تھا کہ خدشہ دورہوگیا”توضاء کماامرک اللہ“ اب تم اسی طرح وضوکرو،جس طرح خدانے حکم دیاہے یعنی اب الٹاوضونہ کرنا،بلکہ سیدھااورصحیح وضوکرنااورتمہارے سوال کاجواب یہ ہے کہ انگلیوں کے سرے سے کعبین تک پاؤں کامسح ہوناچاہئے (اعلام الوری ص ۱۷۰ ،مناقب جلد ۵ ص ۵۸) ۔

وزیراعظم علی بن یقطین کوامام موسی کاظم کی فہمایش

علامہ حسین بن عبدالوہاب تحریرفرماتے ہیں کہ ”محمدبن علی صوفی کابیان ہے کہ ابراہیم جمال(جوامام موسی کاظم کے صحابی تھے) نے ایک دن ابوالحسن علی بن یقطین سے ملاقات کے لیے وقت چاہاانہوں نے وقت نہ دیا،اسی سال وہ حج کے لیے گئے اورحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بھی تشریف لے گئے ابن یقطین حضرت سے ملنے کے لیے گئے انہوں نے ملنے سے انکارکردیا،ابن یقطین کوبڑاتعجب ہوا،راستے میں ملاقات ہوئی توحضرت نے فرمایاکہ تم نے ابراہیم سے ملاقات کرنے سے انکارکیاتھا اس لیے میں بھی تم سے نہیں ملااوراس وقت تک نہ ملوں گا جب تک تم ان س معافی نہ مانگوگے اورانہیں راضی نہ کروگے ،ابن یقطین نے عرض کی مولامیں مدینہ میں ہوں اوروہ کوفہ میں ہیں ، فوری ملاقات کیسے ہوسکتی ہے، فرمایاتم تنہابقیع میں جاؤ،ایک اونٹ تیارملے گااوراونٹ پرسوارہوکر کوفہ کے لیے روانہ ہوچشم زدن میں وہاں پہنچ جاؤگے چنانچہ وہ گئے اوراونٹ پرسوارہوکر کوفہ پہنچے ،ابراہیم کے دروازہ پردق الباب کیا آوازآئی کون ہے؟ کہامیں ابن یقطین ہوں ، انہوں نے کہا،تمہارامیرے دروازہ پرکیاکام ہے؟ ابن یقطین نے جواب دیا،سخت مصیبت میں مبتلاہوں ، خداکے لیے ملنے کاوقت دو، چنانچہ انہوں نے اجازت دی، ابن یقطین نے قدموں پرسررکھ کرمعافی مانگی اورساراواقعہ کہہ سنایا ابراہیم نے معافی دی پھراسی اونٹ پرسوار ہوکر چشم زدن میں مدینہ پہنچے اورامام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوئے، امام نے بھی معاف کردیااورملاقات کاوقت دے کرگفتگوفرمائی (عیون المعجزات ص ۱۲۳ طبع ملتان)۔

امام موسی کاظم اورفدک کے حدوداربعہ

علامہ یوسف بغدادی سبط ابن جوزی حنفی تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن ہارون الرشیدنے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے کہاکہ آپ فدک لیناچاہیں تومیں دیدوں ،آپ نے فرمایاکہ میں جب اس کے حدودبتاؤں گاتوتواسے دینے پرراضی نہ ہوگا اورمیں اسی وقت لے سکتاہوں جب اس کے پورے حدوددئیے جائیں ، اس نے پوچھااس کے حدودکیاہیں فرمایا پہلی حد،عدن ہے دوسری سمرقندہے تیسری حدافریقہ ہے چوتھی حدسیف البحرہے جوخزراورآرمینیہ کے قریب ہے یہ سن کرہارون رشیدآگ بگولہ ہوگیا اورکہنے لگاکہ پھرہمارے لیے کیارہا؟ حضرت نے فرمایاکہ اسی لیے تومیں نے لینے سے انکارکیاتھا اس واقعہ کے بعدہی سے ہارون رشیدحضرت کے درپئے قتل ہوگیا (خواص الامة علامہ سبط ابن جوزی س ۴۱۶) ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوبارہ گرفتاری

علامہ ابن شہرآشوب،علامہ طبرسی،علامہ اربلی،علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ۷۰ ۔ ۱۶۹ ہ میں ہادی کے بعدہارون تخت خلافت پربیٹھا، سلطنت عباسیہ کے قدیم روایات جوسادات بنی فاطمہ کی مخالفت میں تھے اس کے پیش نظرتھے، خوداس کے باپ منصورکارویہ جوامام صادق علیہ السلام کے خلاف تھا، اسے معلوم تھا ،اس کایہ ارادہ کے جعفرصادق کے جانشین کوقتل کرڈالاجائے ،یقینااس کے بیٹے ہاؤوں کومعلوم ہوچکاہوگا ،وہ توامام جعفرصادق علیہ السلام کی حکیمانہ وصیت کااخلاقی دباؤتھا جس نے منصورکے ہاتھ باندھ دئے تھے اورپھرشہربغداد کی تعمیرکی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ہونے دیاتھا، اب ہارون کے لیے سب سے پہلے یہی تصورپیداہوسکتاتھا کہ اس روحانیت کے مرکزکوجومدینہ کے محلہ بنی ہاشم میں قائم ہے توڑنے کی کوشش کی جائے، مگرایک طرف امام موسی کاظم علیہ السلام کامحتاط اورخاموش طرزعمل اوردوسری طرف سلطنت کی اندرونی مشکلات ان کی وجہ سے نوبرس تک ہارون رشیدکوبھی کسی کھلے ہوئے تشدد کاامام کے خلاف موقع نہ ملا۔

اسی دوران میں عبداللہ ابن حسن کے فرزندیحی کاواقعہ درپیش ہوااوروہ امان دئیے جانے کے بعد تمام عہدوپیمان توڑکردردناک طریقے پرقیدرکھے گئے اورپھر قتل کئے گئے باوجودیکہ یحی کے معاملات سے امام موسی کاظم علیہ السلام کوکسی طرح کاسروکارنہ تھا، بلکہ واقعات سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت ان کوحکومت کی مخالفت سے منع فرماتے تھے مگرعداوت بنی فاطمہ کاجذبہ جویحی بن عبداللہ کی مخالفت کے بہانے سے ابھرگیاتھا ،اس کی زد سے امام موسی کاظم علیہ السلام بھی محفوظ نہ رہ سکے، ادھریحی بن خالدبرمکی نے جووزیراعظم تھا،امین (فرزندہارون رشید) کے اتالیق جعفربن محمداشعث کی رقابت میں اس کے خلاف یہ الزام قائم کیاکہ یہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے شیعوں میں سے ہے اوران کے اقتدارکاخواہاں ہے۔

براہ راست اس کامقصدہارون کوجعفرسے برگشتہ کرناتھا ،لیکن بالواسطہ اس کاتعلق حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے ساتھ بھی تھا اس لئے ہارون کو حضرت کی ضرررسانی کی فکرپیداہوگئی اسی دوران میں یہ واقعہ ہواکہ ہارون رشیدحج کے ارادہ سے مکہ معظمہ میں آیا اتفاق سے اسی سال حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بھی حج کوتشریف لائے ہوئے تھے ہارون نے اپنی آنکھوں سے اس عظمت ومرجعیت کامشاہدہ کیاجو مسلمانوں میں امام موسی کاظم کے متعلق پائی جاتی تھی اس سے اس کے حسدکی آگ بھڑک اٹھی اس کے بعداس میں محمدبن اسماعیل کی مخالفت نے اوراضافہ کردیا۔

واقعہ یہ ہے کہ اسماعیل ،امام جعفرصادق علیہ السلام کے بڑے فرزندتھے اوراس لیے ان کی زندگی میں عام طورپرلوگوں کاخیال یہ تھا، کہ وہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے قائم مقام ہوں گے مگر ان کاانتقال امام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانے میں ہوگیااورلوگوں کایہ خیال غلط ثابت ہوا، پھربھی بعض سادہ لوح اس اصحاب اس خیال پررہے کہ جانشینی کاحق اسماعیل اوراولاداسماعیل میں منحصرہے انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کوتسلیم نہیں کیاچنانچہ اسماعیلیہ فرقہ بن گیا مختصرتعدادمیں صحیح اب بھی دنیامیں موجودہے محمدان ہی اسماعیل کے فرزندتھے اوراس لیے امام موسی کاظم علیہ السلام سے ایک طرح کی مخالفت پہلے سے رکھتے تھے مگرچونکہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم تھی اوروہ افرادکوئی نمایاں حیثیت نہ رکھتے تھے اس لیے ظاہری طورپرامام موسی کاظم کے یہاں آمدورفت رکھتے تھے اورظاہری طورپرقرابت داری کے تعلقات قائم کئے ہوئے تھے۔

ہارون رشیدنے امام موسی کاظم علیہ السلام کی مخالفت کی صورتوں پرغورکرتے ہوئے یحی برمکی سے مشورہ لیا، کہ میں چاہتاہوں کہ اولادابوطالب میں سے کسی کو بلاکراس سے موسی بن جعفرکے پورے حالات دریافت کروں یحی جوخودبھی عداوت بنی فاطمہ میں ہارون سے کم نہ تھا اس نے محمدبن اسماعیل کاپتہ دیا، کہ آپ ان کوبلاکر دریافت کریں ، توصحیح حالات معلوم ہوسکیں گے، چنانچہ اسی وقت محمدبن اسماعیل کے نام خط لکھاگیا۔

شہنشاہ وقت کاخط جومحمدبن اسماعیل کوپہنچاتواس نے اپنی دنیاوی کامیابی کابہترین ذریعہ سمجھ کرفورا بغداد جانے کاارادہ کرلیامگران دنوں ہاتھ بالکل خالی تھا، اتناروپیہ پاس موجودنہ تھا کہ سامان سفرکرتے ، مجبورااسی ڈیوڑھی پرآناپڑاجہاں کرم وعطاء میں دوست اوردشمن کی تفریق نہ تھی امام موسی کاظم علیہ السلام کے پاس آکربغدادجانے کاارادہ ظاہرکیاحضرت خوب سمجھتے تھے کہ اس بغدادکے سفرکاپس منظراوراس کی بنیاد کیاہے حجت تمام کرنے کی غرض سے آپ نے سفرکاسبب دریافت کیاانہوں نے اپنی پریشان حالی بیان کرتے ہوئے کہا قرضداربہت ہوگیاہوں ، خیال کرتاہوں کہ شایدوہاں جاکرکوئی صورت بسر اوقات کی نکلے اورمیراقرضہ اداہوجائے حضرت نے فرمایا،وہاں جانے کی ضرروت نہیں ہے میں وعدہ کرتاہوں کہ تمہاراتمام قرضہ اداکردوں گا اورجہاں تک ہوگاتمہارے ضروریات زندگی بھی پورے کرتارہوں گا۔

افسوس ہے کہ محمدنے اس کے بعدبھی بغدادجانے کاارادہ نہیں بدلاچلتے وقت حضرت سے رخصت ہونے لگے توعرض کیاکہ مجھے وہاں کے متعلق کچھ ہدایت فرمائی جائے ، حضرت نے اس کاکچھ جواب نہ دیا جب انہوں نے کئی مرتبہ اصرارکیاتوحضرت نے فرمایاکہ ”بس اتناخیال رکھناکہ میرے خون میں شریک نہ ہونا،اورمیرے بچوں کی یتمی کاباعث نہ بننا“ محمدنے اس کے بعدبہت کہاکہ یہ بھلاکونسی بات ہے جومجھ سے کہی جاتی ہے کچھ اورہدایت فرمائیے حضرت نے اس کے علاوہ کچھ کہنے سے انکارکیا، جب وہ چلنے لگاتوحضرت نے ساڑھے چارسودیناراورپندرہ سودرہم انہیں مصارف سفرکے لیے عطا فرمائے نتیجہ وہی ہوا،جوحضرت کے پیش نظرتھا،محمدبن اسماعیل بغدادپہنچے اوروزیراعظم برمکی کے مہمان ہوئے اس کے بعدیحی کے ساتھ ہارون کے دربارمیں پہنچے ،مصلحت وقت کی بناپربہت تعظیم وتکریم کی گئی ،اثناء گفتگومیں ہارون نے مدینہ کے حالات دریافت کئے محمدنے انتہائی غلط بیانیوں کے ساتھ وہاں کے حالات کاتذکرہ کیااوریہ بھی کہا کہ”میں نے آج تک نہیں دیکھا اورنہ سناکہ ایک ملک میں دوبادشاہ ہوں “۔

اس نے کہا: کہ اس کامطلب ؟ محمدنے کہاکہ بالکل اسی طرح جیسے آپ بغدادمیں سلطنت کررہے ہیں ،موسی کاظم مدینہ میں اپنی سلطنت قائم کئے ہوئے ہیں ، اطراف ملک سے ان کے پاس خراج پہنچتاہے اوروہ آپ کے مقابلہ کے دعوے دارہیں انہوں نے تیس ہزاراشرفی کی ایک زمین خریدی ہے جس کانام ”سیریہ“(شبلنجی) یہی وہ باتیں تھیں جن کے کہنے کے لیے یحی برمکی نے محمدکومنتخب کیاتھا، ہارون کاغیظ وغضب انتہائی اشتغال کے درجہ تک پہنچ گیااس نے محمد کودس ہزاردینارعطاکرکے رخصت کیاخداکاکرنایہ کہ محمدکواس رقم سے فائدہ اٹھانے کاایک دن بھی موقع نہیں ملا، اسی شب کوان کے حلق میں دردپیداہوا، غالبا ”خناق“ ہوگیااورصبح ہوتے ہوتے وہ دنیاسے رخصت ہوگئے ہارون کویہ خبرپہنچی تواس نے اشرفیوں کے توڑے واپس منگوالیے ،مگرمحمدکی باتوں کااثراس کے دل پرایساجم گیاتھا کہ اس نے یہ طے کرلیاکہ امام موسی کاظم کانام صفحہ ہستی سے مٹادیاجائے۔

چنانچہ ۱۷۹ ہ میں پھرہارون رشیدنے مکہ کاسفرکیااوروہاں سے مدینہ منورہ گیا، دوایک روز قیام کے بعد کچھ لوگ امام موسی کاظم علیہ السلام کو گرفتارکرنے کے لیے روانہ کیے جب یہ لوگ امام کے مکان پرپہنچے تومعلوم ہواکہ حضرت روضئہ رسول اللہ پرہیں ان لوگوں نے روضئہ رسول کی عزت کابھی خیال نہ کیاحضرت اس وقت قبررسول کے نزدیک نمازمیں مشغول تھے بے رحم دشمنوں نے آپ کونمازکی حالت میں قیدکرلیا، اورہارون کے پاس لے گئے مدینہ رسول کے رہنے والوں میں بے حسی اس کے پہلے بھی بہت دفعہ دیکھی جاچکی تھی یہ بھی اس کی ایک مثال تھی کہ رسول کافرزندروضہ رسول سے اس طرح گرفتارکرکے لے جایاجارہاتھامگرنام ونہادمسلمانوں میں ایک بھی ایسانہ تھاجوکسی طرح کی آوازاحتجاج بلندکرتا، یہ ۲۰/ شوال ۱۷۹ ہ کاواقعہ ہے۔

ہارون نے اس اندیشہ سے کہ کوئی جماعت امام موسی کاظم کورہاکرانے کی کوشش نہ کرے، دومحملیں تیارکرائیں ایک میں امام موسی کاظم کوسوارکرایااوراس کی ایک بہت بڑی فوجی جمعیت کے حلقہ میں بصرہ روانہ کیااوردوسری محمل جوخالی تھی اسے بھی اتنی ہی جمعیت کی حفاظت میں بغدادروانہ کیامقصدیہ تھاکہ آپ کے محل قیام اورقیدکی جگہ کوبھی مشکوک بنادیاجائے یہ نہایت حسرتناک واقعہ تھاکہ امام کے اہل حرم اوربچے وقت رخصت آپ کودیکھ بھی نہ سکے اوراچانک محل سرامیں صرف یہ اطلاع پہنچ سکی کہ حضرت سلطنت وقت کی طرف سے قیدکرلیے گئے اس سے بیویوں اوربچوں میں کہرام برپاہوگیااوریقیناامام کے دل پربھی اس کاصدمہ ہوسکتاہے وہ ظاہرہے مگر آپ کے ضبط وصبرکی طاقت کے سامنے ہر مشکل آسان تھی۔

معلوم نہیں کتنے ہیرپھیرسے راستہ طے کیاگیاتھاکہ پورے ایک مہینہ سترہ روزکے بعد ۷/ ذی الحجہ کوآپ بصرہ پہنچائے گئے ایک سال تک آپ بصرہ میں قید رہے یہاں کاحاکم ہارون کاچچازادبھائی عیسی بن جعفرتھا، شروع میں تواسے صرف بادشاہ کے حکم کی تعمیل مدنظرتھی، بعدمیں اس نے غورکرناشروع کیاکہ آخر ان کے قیدکئے جانے کاسبب کیاہے؟ اس سلسلہ میں اس کوامام علیہ السلام کے حالات اورسیرت زندگی اوراخلاق واوصاف کی جستجوکاموقع بھی ملا، اورجتنا اس نے امام کی سیرت کامطالعہ کیااتنااس کے دل پرآپ کی بلندی اخلاق اورحسن کردارکااثرقائم ہوتاگیا اپنے ان اثرات سے اس نے ہارون کومطلع بھی کردیا، ہارون پراس کاالٹااثرہواکہ عیسی کے متعلق بدگمانی پیداہوگئی اس لیے اس نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو بغدادمیں بلابھیجااورفضل بن ربیع کی حراست میں دیدیااورپھرفضل کارجحان شیعیت کی طرف محسوس کرکے یحی برمکی کواس کے لیے مقررکیامعلوم ہوتاہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے اخلاق واوصاف کی کشش ہرایک پراثرڈالتی تھی اس لیے ظالم بادشاہ کونگرانوں کی تبدیلی کی ضرورت پڑتی تھی سب سے آخرمیں امام علیہ السلام ”سندی بن شاہک“ کے قیدخانہ میں رکھے گئے یہ بہت ہی بے رحم اورسخت دل تھا ملاحظہ ہو(مناقب جلد ۵ ص ۶۸ ، اعلام الوری ص ۱۸۰ ، کشف الغمہ ص ۱۰۸ ، نورالابصار ص ۱۳۶ ، سوانح امام موسی کاظم ص ۱۵) ۔

امام علیہ السلام کاقیدخانہ میں امتحان اورعلم غیب کامظاہرہ

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں آپ ہارون رشیدکے قیدخانہ کی سختیاں برداشت فرمارہے تھے امام ابوحنیفہ کے شاگردرشیدابویوسف اورمحمدبن حسن ایک شب قیدخانہ میں اس لیے گئے کہ آپ کے بحرعلم کی تھاہ معلوم کریں اوردیکھیں کہ آپ علم کے کتنے پانی میں ہیں وہاں پہنچ کران لوگوں نے سلام کیا،امام علیہ السلام نے جواب سلام عنایت فرمایا،ابھی یہ حضرات کچھ پوچھنے نہ پائے تھے کہ ایک ملازم ڈیوٹی ختم کرکے گھرجاتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض پردازہواکہ میں کل واپس آؤں گااگرکچھ منگاناہوتومجھ سے فرمادیجیے میں لیتاآؤں گا آپ نے ارشادفرمایامجھے کسی چیزکی ضرورت نہیں ، جب وہ چلاگیاتوآپ نے ابویوسف وغیرہ سے کہاکہ یہ بیچارہ مجھ سے کہتاہے کہ میں اس سے اپنی حاجت بیان کروں تاکہ یہ کل اس کی تکمیل وتعمیل کردے لیکن اسے خبرنہیں ، کہ یہ آج رات کووفات پاجائے گا،ان حضرات نے جویہ سناتوسوال وجواب کئے بغیرہی واپس چلے آئے اورآپس میں کہنے لگے کہ ہم ان سے حلال وحرام ،واجب وسنت کے متعلق سوالات کرناچاہتاتھے ”فاخذیتکلم معناعلم الغیب “ مگریہ توہم سے علم غیب کی باتیں کررہے تھے اس کے بعدان دونوں حضرات نے اس ملازم کے حالات کاپتہ لگایا،تومعلوم ہواکہ وہ ناگہانی طورپررات ہی میں وفات کرگیایہ معلوم کرکے یہ حضرات سخت متعجب ہوئے(نورالابصار ص ۱۴۶) ۔

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدیہ حضرات پھرامام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پردازہوئے کہ ہمیں معلوم تھاکہ آپ کوصرف علم حلال وحرام ہی میں مہارت حاصل ہے لیکن قیدخانہ کے ملازم نے واضح کردیا،کہ آپ علم المنایااورعلم غیب بھی جانتے ہیں آپ نے ارشادفرمایا کہ یہ علم ہمارے لیے مخصوص ہے اس کی تعلیم حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کودی تھی ،اوران سے یہ علم ہم تک پہنچاہے۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ جب ہارون رشیدن بصرہ میں ایک سال قیدرکھنے کے بعدعیسی ابن جعفروالی بصرہ کولکھاکہ موسی بن جعفر(امام موسی کاظم)کوقتل کرکے بادشاہ کوان کے وجودسے سکون دے دیے تواس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کے بعدہارون رشیدکولکھاکہ اے بادشاہ امام موسی کاظم علیہ السلام میں میں نے اس ایک سال کے اندرکوئی برائی نہیں دیکھی یہ شب وروزنمازروزہ میں مصروف ومشغول رہتے ہیں عوام اورحکومت کے لیے دعائے خیرکیاکرتے ہیں اورملک کی فلاح وبہبودکے خواہشمندہیں بھلامجھ سے کیونکرہوسکتاہے کہ میں انہیں قتل کرکے اپنی عاقبت بگاڑوں ۔

”اے بادشاہ ! میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اوراپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہاہوں اورسخت حرج محسوس کرتاہوں ، لہذاتومجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کربلکہ مجھے حکم دیدے کہ میں انہیں قیدمشقت سے رہاکردوں اس خط کے پانے کے بعدہارون رشیدنے اخر میں یہ کام سندی بن شاہک کے حوالہ کیا اوراسی سے آپ کوزہردلواکرشہیدکرادیازہرکھانے کے بعدآپ تین روزتک تڑپتے رہے، یہاں تک کہ وفات پاگئے (نورالابصار ص ۱۳۷) ۔

علامہ جامی لکھتے ہیں کہ زہرکھاتے ہی آپ نے فرمایاکہ آج مجھے زہردیاگیا ہے کل میرابدن زردہوجائیگا اورتیسرے سیاہ ہوگا اوراسی دن میں اس دنیاسے رخصت ہوجاؤں گاچنانچہ ایساہی ہوا(شواہدالنبوت ص ۱۹۳) ۔

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ ہارون رشیدنے آپ کوبغدادمیں قیدکردیا ”فلم یخرج من حبسہ الامیتامقیدا“ اورتاحیات قیدرکھاآپ کی وفات کے بعدوفات کے بعدہتھکڑی اوربیڑی کٹوائی گئی آپ کی وفات ہارون رشیدکے زہرسے ہوئی جواس نے ابن شاہک کے ذریعہ سے دلوایا تھا جب آپ کوکھانے یاخرمہ میں زہردیاگیاتوآپ تین روزتک تڑپتے رہے یہاں تک کہ انتقال ہوگیا(صواعق محرقہ ۱۳۲ ،ارحج المطالب ص ۴۵۴)

علامہ ابن الساعی علی بن انجب بغدادی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے انتہائی مظلومی کی حالت میں شہیدکردیاگیا(اخبارالخلفاء) علامہ ابوالفداء لکھتے ہیں کہ قیدخانہ رشیدمیں آپ نے وفات پائی (ابوالفداء جلد ۲ ص ۱۵۱) ،علامہ دیار بکری لکھتے ہیں کہ آپ کوہارون رشیدکے حکم سے یحی بن خالدبرمکی

وزیراعظم نے خرمہ میں زہردے کرشہیدکردیا(تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲۰) ۔

علامہ جامی لکھتے ہیں کہ آپ کوہارون رشیدنے بغدادمیں لاکرتاعمرقیدرکھاآخرمیں اپنے وزیراعظم یحی برمکی کے ذریعہ سے قیدخانہ میں زہردلوایااورآپ وفات پاگئے (شواہدالنبوت ص ۱۹۳) ۔

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپ کوکئی مرتبہ زہردیاگیالیکن آپ ہربارمحفوظ رہے ایک مرتبہ آپ نے وہ خرمہ اٹھاکرجس میں زہرتھا زمیں پرپھینک دیاجسے ہارون کے کتے نے کھالیااوروہ مرگیا کتے کے مرنے کی خبرسے ہارون رشیدکو شدید رنج ہوااوراس نے خادم سے سخت بازپرس کی (جلاء العیون ص ۲۷۶) ۔

تعداداولاد

صواعق محرقہ میں ہے کہ آپ کے ۳۷ اولادتھی


حضرت امام علی رضا علیہ السلام

ولادت باسعادت

علماء ومورخین کابیان ہے کہ آپ بتاریخ ۱۱/ ذی قعدہ ۱۵۳ ہ یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں (اعلام الوری ص ۱۸۲ ، جلاء الیعون ص ۲۸۰ ،روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۳ ، انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷)

آپ کی ولادت کے متعلق علامہ مجلسی اورعلامہ محمدپارساتحریرفرماتے ہیں کہ جناب ام البنین کاکہناہے کہ جب تک امام علی رضا علیہ السلام میرے بطن میں رہے مجھے گل کی گرانباری مطلقا محسوس نہیں ہوئی،میں اکثرخواب میں تسبیح وتہلیل اورتمہیدکی آوازیں سناکرتی تھی جب امام رضا علیہ السلام پیداہوئے توآپ نے زمین پرتشریف لاتے ہی اپنے دونوں ہاتھ زمین پرٹیک دئے اوراپنا فرق مبارک آسمان کی طرف بلندکردیا آپ کے لبہائے مبارک جنبش کرنے لگے ،ایسامعلوم ہوتاتھاکہ جیسے آپ خداسے کچھ باتیں کررہے ہیں ، اسی اثناء میں امام موسی کاظم علیہ السلام تشریف لائے اورمجھ سے ارشادفرمایاکہ تمہیں خداوندعالم کی یہ عنایت وکرامت مبارک ہو،پھرمیں نے مولودمسعودکوآپ کی آغوش میں دیدیا آپ نے اس کے داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی اس کے بعدآپ نے ارشادفرمایاکہ”بگیر این راکہ بقیہ خدااست درزمین حجت خداست بعدازمن“ اسے لے لویہ زمین پرخداکی نشانی ہے اورمیرے بعدحجت اللہ کے فرائض کاذمہ دار ہے ابن بابویہ فرماتے ہیں کہ آپ دیگرآئمہ علیہم السلام کی طرح مختون اورناف بریدہ متولدہوئے تھے(فصل الخطاب وجلاء العیون ص ۲۷۹) ۔

نام ،کنیت،القاب

آپ کے والدماجدحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے لوح محفوظ کے مطابق اورتعیین رسول صلعم کے موافق آپ کو”اسم علی“ سے موسوم فرمایا،آپ آل محمد،میں کے تیسرے ”علی“ ہیں (اعلام الوری ص ۲۲۵ ،مطالب السئول ص ۲۸۲) ۔

آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اورآپ کے القاب صابر،زکی،ولی،رضی،وصی تھے واشہرہاالرضاء اورمشہورترین لقب رضا تھا(نورالابصارص ۱۲۸ وتذکرة خواص الامة ص ۱۹۸) ۔

لقب رضاکی توجیہ

علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کورضااس لیے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین میں خداوعالم ،رسول اکرم اورآئمہ طاہرین،نیزتمام مخالفین وموافقین آپ سے راضی تھے (اعلام الوری ص ۱۸۲) علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ بزنطی نے حضرت امام محمدتقی علیہ السلام سے لوگوں کی افواہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ کے والدماجدکولقب رضاسے مامون رشیدنے ملقب کیاتھا آپ نے فرمایاہرگزنہیں یہ لقب خداورسول کی خوشنودی کاجلوہ بردارہے اورخاص بات یہ ہے کہ آپ سے موافق ومخالف دونوں راضی اورخوشنودتھے (جلاء العیون ص ۲۷۹ ،روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۲) ۔

آپ کی تربیت

آپ کی نشوونمااورتربیت اپنے والدبزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیرسایہ ہوئی اوراسی مقدس ماحول میں بچپنااورجوانی کی متعددمنزلیں طے ہوئیں اور ۳۰ برس کی عمرپوری ہوئی اگرچہ آخری چندسال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسی کاظم اعراق میں قیدظلم کی سختیاں برداشت کررہے تھے مگراس سے پہلے ۲۴ یا ۲۵/ برس آپ کوبرابراپنے پدربزرگوارکے ساتھ رہنے کاموقع ملا۔

بادشاہان وقت

آپ نے اپنی زندگی کی پہلی منزل سے تابہ عہدوفات بہت سے بادشاہوں کے دوردیکھے آپ ۱۵۳ ہ میں بہ عہدمنصوردوانقی متولدہوئے (تاریخ خمیس) ۱۵۸ ہ میں مہدی عباسی ۱۶۹ ہ میں ہادی عباسی ۱۷۰ ہ میں ہارون رشیدعباسی ۱۹۴ ہئمیں امین عباسی ۱۹۸ ہئمامون رشید عباسی علی الترتیب خلیفہ وقت ہوتے رہے (ابن الوردی حبیب السیرابوالفداء)۔

آپ نے ہرایک کادوربچشم خوددیکھااورآپ پدربزرگوارنیزدیگراولادعلی وفاطمہ کے ساتھ جوکچھ ہوتارہا،اسے آپ ملاحظہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ۲۳۰ ہ میں آپ دنیاسے رخصت ہوگئے اورآپ کوزہردے کرشہیدکردیاگیا۔

جانشینی

آپ کے پدربزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کومعلوم تھا کہ حکومت وقت جس کی باگ ڈوراس وقت ہارون رشیدعباسی کے ہاتھوں میں تھی آپ کوآزادی کی سانس نہ لینے دے گی اورایسے حالات پیش آجائیں گے کہ آب کی عمرکے آخری حصہ میں اوردنیاکوچھوڑنے کے موقع پردوستان اہلبیت کاآپ سے ملنایابعدکے لیے راہنماکادریافت کرناغیرممکن ہوجائے گااس لیے آپ نے انہیں ازادی کے دنوں اورسکون کے اوقات میں جب کہ آپ مدینہ میں تھے پیروان اہلبیت کواپنے بعدہونے والے امام سے روشناس کرانے کی ضرورت محسوس فرمائی چنانچہ اولادعلی وفاطمہ میں سے سترہ آدمی جوممتازحیثیت رکھتے تھے انہیں جمع فرماکراپنے فرزندحضرت علی رضاعلیہ السلام کی وصایت اورجانشینی کااعلان فرمادیا اورایک وصیت نامہ تحریرابھی مکمل فرمایا جس پرمدینہ کے معززین میں سے ساٹھ آدمیوں کی گواہی لکھی گئی یہ اہتمام دوسرے آئمہ کے یہاں نظرنہیں آیا صرف ان خصوصی حالات کی بناء پرجن سے دوسرے آئمہ اپنی وفات کے موقعہ پردوچارنہیں ہونے والے تھے۔

امام موسی کاظم کی وفات اورامام رضاکے درامامت کاآغاز

۱۸۳ ہ میں حضرت اما م موسی کاظم علیہ السلام نے قیدخانہ ہارون رشیدمیں اپنی عمرکاایک بہت بڑاحصہ گذارکردرجہ شہادت حاصل فرمایا، آپ کی وفات کے وقت امام رضاعلیہ السلام کی عمرمیری تحقیق کے مطابق تیس سال کی تھی والدبزرگوارکی شہادت کے بعدامامت کی ذمہ داریاں آپ کی طرف منتقل ہوگئیں یہ وہ وقت تھا جب کہ بغدادمیں ہارون رشیدتخت خلافت پرمتمکن تھا اوربنی فاطمہ کے لیے حالات بہت ہی ناسازگارتھے۔

ہارونی فوج اورخانہ امام رضاعلیہ السلام

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد دس برس ہارون رشیدکادوررہایقینا وہ امام رضاعلیہ السلام کے وجودکوبھی دنیامیں اسی طرح برداشت نہیں کرسکتاتھا جس طرح اس کے پہلے آپ کے والدماجدکارہنااس نے گوارانہیں کیامگریاتوامام موسی کاظم علیہ السلام کے ساتھ جو طویل مدت تک تشدداورظلم ہوتارہا اورجس کے نتیجہ میں قیدخانہ ہی کے اندرآپ دنیاسے رخصت ہوگئے اس سے حکومت وقت کی عام بدنامی ہوگئی تھی اوریاواقعی ظالم کو بدسلوکیوں کااحساس اورضمیرکی طرف سے ملامت کی کیفیت تھی جس کی وجہ سے کھلم کھلاامام رضاکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی تھی لیکن وقت سے پہلے اس نے امام رضاعلیہ السلام کوستانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاحضرت کے عہدہ امامت کوسنبھالتے ہی ہارون رشیدنے آپ کاگھرلٹوادیا،اورعورتوں کے زیوارت اورکپڑے تک اتروالیے تھے۔

تاریخ اسلام میں ہے کہ ہارون رشیدنے اس حوالہ اوربہانے سے کہ محمدبن جعفرصادق علیہ السلام نے اس کی حکومت وخلافت سے انکارکردیاہے ایک عظیم فوج عیسی جلودی کی ماتحتی میں مدینہ منورہ بھیج کرحکم دیاکہ علی و فاطمہ کی تمام اولادکی بالکل ہی تباہ وبربادکردیاجائے ان کے گھروں میں آگ لگادی جائے ان کے سامان لوٹ لیے جائیں اورانہیں اس درجہ مفلوج اورمفلوک کردیاجائے کہ پھران میں کسی قسم کے حوصلہ کے ابھرنے کاسوال ہی پیدانہ ہوسکے اورمحمدبن جعفرصادق کوگرفتارکرکے قتل کردیاجائے، عیسی جلودی نے مدینہ پہنچ کرتعمیل حکم کی سعی بلیغ کی اورہرممکن طریقہ سے بنی فاطمہ کوتباہ وبربادکیا، حضرت محمدبن جعفرصادق علیہ السلام نے بھرپورمقابلہ کیا لیکن آخرمیں گرفتار ہوکرہارون رشیدکے پاس پہنچادیئے گئے۔

عیسی جلودی سادات کرام کولوٹ کرحضرت امام علی رضاعلیہ السلام کے دولت کدہ پرپہنچااوراس نے خواہش کی کہ وہ حسب حکم ہارون رشید،خانہ امام میں داخل ہوکراپنے ساتھیوں سے عورتوں کے زیورات اورکپڑے اتارے ،امام علیہ السلام نے فرمایایہ نہیں ہوسکتا،میں خودتمہیں ساراسامان لاکردئے دیتاہوں پہلے تووہ اس پرراضی نہ ہوالیکن بعدمیں کہنے لگاکہ اچھاآپ ہی اتارلائیے آپ محل سرامیں تشریف لے گئے اورآپ نے تمام زیورات اورسارے کپڑے ایک سترپوش چادرکے علاوہ لاکردیدیااوراسی کے ساتھ ساتھ اثاث البیت نقدوجنس یہاں تک کہ بچوں کے کان کے بندے سب کچھ اس کے حوالہ کردیاوہ ملعون تمام سامان لے کر بغدادروانہ ہوگیا،یہ واقعہ آپ کے آغازامامت کاہے۔

علامہ مجلسی بحارالانوارمیں لکھتے ہین کہ محمدبن جعفرصادق کے واقعہ سے امام علی رضا علیہ السلام کاکوئی تعلق نہ تھا وہ اکثراپنے چچامحمدکو خاموشی کی ہدایت اورصبرکی تلقین فرمایاکرتے تھے ابوالفرج اصفہانی مقاتل الطالبین میں لکھتے ہیں کہ محمدبن جعفرنہایت متقی اورپرہیزگارشخص تھے کسی ناصبی نے دستی کتبہ لکھ کر مدینہ کی دیواروں پرچسپاں کردیاتھا جس میں حضرت علی وفاطمہ کے متعلق ناسزاالفاظ تھے یہی آپ کے خروج کاسبب بنا۔

آپ کی بیعت لفظ امیرالمومنین سے کی گئی آپ جب نمازکونکلتے تھے توآپ کے ساتھ دوسوصلحاواتقیاہواکرتے تھے علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کی وفات کے بعدصفوان بن یحی نے حضرت امام علی رضاعلیہ السلام سے کہاکہ مولاہم آپ کے بارے میں ہارون رشیدسے بہت خائف ہیں ہمیں ڈرہے کہ یہ کہیں آپ کے ساتھ وہی سلوک نہ کرے جوآپ کے والدکے ساتھ کرچکاہے حضرت نے ارشادفرمایاکہ یہ تواپنی سعی کرے گالیکن مجھ پرکامیاب نہ ہوسکے گاچنانچہ ایساہی ہوااورحالات نے اسے کچھ اس اس درجہ آخرمیں مجبورکردیاتھا کہ وہ کچھ بھی نہ کرسکایہاں تک کہ جب خالدبن یحی برمکی نے اس سے کہاکہ امام رضااپنے باپ کی طرح امرامامت کااعلان کرتے اوراپنے کوامام زمانہ کہتے ہیں تواس نے جواب دیاکہ ہم جوان کے ساتھ کرچکے ہیں وہی ہمارے لیے کافی ہے اب توچاہتاہے کہ ”ان نقتلہم جمیعا“ ہم سب کے سب کوقتل کرڈالیں ،اب میں ایسانہیں کروں گا(نورالابصارص ۱۴۴ طبع مصر)۔

علامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ پھربھی ہارون رشیدکااہلبیت رسول سے شدیداختلاف اورسادات کے ساتھ جوبرتاؤاب تک رہاتھا اس کی بناء پرعام طورسے عمال حکومت یاعام افرادبھی جنہیں حکومت کوراضی رکھنے کی خواہش تھی اہلبیت کے ساتھ کوئی اچھارویہ رکھنے پرتیارنہیں ہوسکتے تھے اورنہ امام کے پاس آزادی کے ساتھ لوگ استفادہ کے لیے آسکتے تھے نہ حضرت کوسچے اسلامی احکام کی اشاعت کے مواقع حاصل تھے۔

ہارون کاآخری زمانہ اپنے دونوں بیٹوں ،امین اورمامون کی باہمی رقابتوں سے بہت بے لطفی میں گزرا،امین پہلی بیوی سے تھا جوخاندان شاہی سے منصوردوانقی کی پوتی تھی اوراس لیے عرب سردارسب اس کے طرف دارتھے اورمامون ایک عجمی کنیزکے پیٹ سے تھااس لیے دربارکاعجمی طبقہ اس سے محبت رکھتاتھا ،دونوں کی آپس کی رسہ کشی ہارون کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی اس نے اپنے خیال میں اس کاتصفیہ مملکت کی تقسیم کے ساتھ یوں کردیاکہ دارالسلطنت بغداداوراس کے چاروں طرف کے عربی حصہ جسے شام،مصرحجاز،یمن، وغیرہ محمدامین کے نام کئے اورمشرقی ممالک جیسے ایران،خراسان، ترکستان، وغیرہ مامون کے لیے مقررکئے مگریہ تصفیہ تواس وقت کارگرہوسکتاتھا جب جودونوں فریق ”جیواورجینے دو“ کے اصول پرعمل کرتے ہوتے لیکن جہاں اقتدارکی ہوس کارفرماہو، وہاں بنی عباس میں ایک گھرکے اندردوبھائی اگرایک دوسرے کے مدمقابل ہوں توکیوں نہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ کاروائی کرنے پرتیارنظرآئے اورکیوں نہ ان طاقتوں میں باہمی تصادم ہوجب کہ ان میں سے کوئی اس ہمدردی اورایثاراورخلق خداکی خیرخواہی کابھی حامل نہیں ہے جسے بنی فاطمہ اپنے پیش نظررکھ کراپنے واقعی حقوق سے چشم پوشی کرلیاکرتے تھے اسی کانتیجہ تھا کہ ادھرہارون کی آنکھ بندہوئی اورادھربھائیوں میں خانہ جنگیوں کے شعلے بھڑک اٹھے آخرچاربرس کی مسلسل کشمکش اورطویل خونریزی کے بعدمامون کوکامیابی حاصل ہوئی اوراس کابھائی امین محرم ۱۹۸ ہ میں تلواکے گھاٹ اتاردیاگیااورمامون کی خلافت تمام بنی عباس کے حدودسلطنت پرقائم ہوگئی۔

یہ سچ ہے کہ ہارون رشیدکے ایام سلطنت میں آپ کی امامت کے دس سال گزرے اس زمانہ میں عیسی جلودی کی تاخت کے بعدپھراس نے آپ کے معاملات کی طرف بالکل سکوت اورخاموشی اختیارکرلی اس کی دووجہیں معلوم ہوتی ہیں :

اول تویہ کہ اس س سالہ زندگی کے ابتدائی ایام میں وہ آل برامکہ کے استیصال رافع بن لیث ابن تیارکے غداورفسادکے انسدادمیں جوسمرقندکے علاقہ سے نمودارہوکرماوراء النہراورحدودعرب تک پھیل چکاتھاایساہمہ وقت اورہمہ دم الجھارہاکہ پھراس کوان امورکی طرف توجہ کرنے کی ذرابھی فرصت نہ ملی

دوسرے یہ کہ اپنی دس سالہ مدت کے آخری ایام میں یہ اپنے بیٹوں میں ملک تقسیم کردینے کے بعدخودایساکمزوراورمجبورہوگیاتھا کہ کوئی کام اپنے اختیارسے نہیں کرسکتاتھانام کابادشاہ بنابیٹھاہوا،اپنی زندگی کے دن نہایت عسرت اورتنگی کی حالتوں میں کاٹ رہاتھااس کے ثبوت کے لیے واقعہ ذیل ملاحظہ فرمائیں :

صباح طبری کابیان ہے کہ ہارون جب خراسان جانے لگا تومیں نہروان تک اس کی مشایعت کوگیاراستہ میں اس نے بیان کیاکہ ائے صباح تم اب کے بعدپھرمجھے زندہ نہ پاؤگے میں نے کہاامیرالمومنین ایساخیال نہ کریں آپ انشاء اللہ صحیح وسالم اس سفرسے واپس آئیں گے یہ سن کراس نے کہاکہ شایدتجھ کومیراحال معلوم نہیں ہے آؤ میں دکھادوں ،پھرمجھے راستہ کاٹ کرایک سمت درخت کے نیچے لے گیااوروہاں سے اپنے خواصوں کوہٹاکرآپنے بدن کاکپڑااٹھاکرمجھے دکھایا،توایک پارچہ ریشم شکم پرلپیٹاہواتھا،اوراس سے سارابدن کساہواتھا یہ دکھاکرمجھ سے کہاکہ میں مدت سے بیمارہوں تمام بدن میں درداٹھتاہے مگرکسی سے اپناحال نہیں کہہ سکتاتمہارے پاس بھی یہ رازامانت رہے میرے بیٹوں میں سے ہرایک کاگماشتہ میرے اوپرمقررہے ماموں کی طرف سے مسرور،امین کی جانب سے بختیشوع ،یہ لوگ میری سانس تک گنتے رہتے ہیں ،اورنہیں چاہتے کہ میں ایک روزبھی زندہ رہوں ، اگرتم کویقین نہ ہوتودیکھومیں تمہارے سامنے گھوڑاسوارہونے کومانگتاہوں ،ایسالاغرٹٹومیرے لیے لائیں گے جس پرسوارہوکرمیں اورزیادہ بیمارہوجاؤں ،یہ کہہ کرگھوڑاطلب کیاواقعی ایساہی لاغراڑیل ٹٹوحاضرکیااس پرہارون نے بے چون وچراسوارہوگیااورمجھ کووہاں سے رخصت کرکے جرجان کاراستہ پکڑلیا(لمعة الضیاء ص ۹۲) ۔

بہرحال ہارون رشیدکی یہی مجبوریاں تھیں جنہوں نے اس کوحضرت امام علی رضاعلیہ السلام کے مخالفانہ امورکی طرف متوجہ نہیں ہونے دیاورنہ اگراسے فرصت ہوتی اوروہ اپنی قدیم ذی اختیاری کی حالتوں پرقائم رہتاتواس سلسلہ کی غارت گری وبربادی کوکبھی بھولنے والانہیں تھا، مگراس وقت کیاکرسکتاتھا اپنے ہی دست وپااپنے اختیارمیں نہیں تھے بہرحال حارون رشیداسی ضیق النفس مجبوری ناداری اوربے اختیاری کی غیرمتحمل مصیبتوں میں خراسان پہنچ کرشروع ۱۹۳ ہ مرگیا۔

ان دونوں بھائیوں امین اورمامون کے متعلق مورخین کاکہناہے کہ مامون توپھربھی سوجھ بوجھ اوراچھے کیرکٹرکاآدمی تھا لیکن امین عیاش،لاابالی اورکمزور طبیعت کاتھا سلطنت کے تمام حصوں ،بازی گر،مسخرے اورنجومی جوتشی بلوائے، نہایت خوبصورت طوائف اورنہایت کامل گانے والیوں اورخواجہ سراوں کوبڑی بڑی رقمیں خرچ کرکے اورناٹک کی ایک محفل مثل اندرسبھاکے ترتیب دی،یہ تھیٹر اپنے زرق برق سامانوں سے پریوں کااکھاڑاہوتاتھا سیوطی نے ابن جریرسے نقل کیاہے کہ امین اپنی بیویوں اورکنیزوں کوچھوڑکرخصیوں سے لواطت کرتاتھا (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۶۰) ۔

امام علی رضاکاحج اورہارون رشیدعباسی

زمانہ ہارون رشیدمیں حضرت امام علی رضاعلیہ السلام حج کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اسی سال ہارون رشیدبھی حج کے لیے آیاہواتھا خانہ کعبہ میں داخلہ کے بعد امام علی رضاعلیہ السلام ایک دروازہ سے اورہارون رشید دوسرے دروازہ سے نکلے امام علیہ السلام نے فرمایاکہ یہ دوسرے دروازہ سے نکلنے والاجوہم سے دورجارہاہے عنقریب طوس میں دونوں ایک جگہ ہوں گے ایک روایت میں ہے کہ یحی ابن خالدبرمکی کوامام علیہ السلام نے مکہ میں دیکھاکہ وہ رومال سے گردکی وجہ سے منہ بندکئے ہوئے جارہاہے آپ نے فرمایاکہ اسے پتہ بھی نہیں کہ اس کے ساتھ امسال کیاہونے والاہے یہ عنقریب تباہی کی منزل میں پہنچادیاجائے گاچنانچہ ایساہوی ہوا۔

راوی مسافرکابیان ہے کہ حج کے موقع پرامام علیہ السلام نے ہارون رشیدکودیکھ کراپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملاتے ہوئے فرمایاکہ میں اوریہ اسی طرح ایک ہوجائیں گے وہ کہتاہے کہ میں اس ارشادکامطلب اس وقت سمجھاجب آپ کی شہادت واقع ہوئی اوردونوں ایک مقبرہ میں دفن ہوئے موسی بن عمران کاکہناہے کہ اسی سال ہارون رشیدمدینہ منورہ پہنچااورامام علیہ السلام نے اسے خطبہ دیتے ہوئے دیکھ کرفرمایاکہ عنقریب میں اورہارون ایک ہی مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے (نورالابصار ص ۱۴۴) ۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام کامجددمذہب امامیہ ہونا

حدیث میں ہرسوسال کے بعد ایک مجدداسلام کے نمودوشہودکانشان ملتاہے یہ ظاہرہے کہ جواسلام کامجددہوگااس کے تمام ماننے والے اسی کے مسلک پرگامزن ہوں گے اورمجددکاجوبنیادی مذہب ہوگااس کے ماننے والوں کابھی وہی مذہب ہوگا،حضرت امام رضاعلیہ السلام جوقطعی طورپرفرزندرسول اسلام تھے وہ اسی مسلک پرگامزن تھے جس مسلک کی بنیادپیغمبراسلام اورعلی خیرالانام کاوجودذی وجودتھا یہ مسلمات سے ہے کہ آل محمدعلیہم السلام پیغمبرعلیہ السلام کے نقش قدم پرچلتے تھے اورانہیں کے خدائی منشاء اوربنیادی مقصدکی تبلیغ فرمایاکرتے تھے یعنی آل محمدکامسلک وہ تھاجومحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامسلک تھا۔

علامہ ابن اثیرجزری اپنی کتاب جامع الاصول میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام تیسری صدی ہجری میں اورثقة الاسلام علامہ کلینی چوتھی صدی ہجری میں مذہب امامیہ کے مجددتھے علامہ قونوی اورملامبین نے اسی کودوسری صدی کے حوالہ سے تحریرفرمایاہے (وسیلةالنجات ص ۳۷۶ ،شرح جامع صغیر)۔

محدث دہلوی شاہ عبدالعزیزابن اثیرکاقول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابن اثیرجذری صاحب جامع الاصول کہ حضرت امام علی بن موسی الرضامجددمذہب امامیہ دوقرن ثالث گفتہ است ابن اثیرجذری صاحب جامع الاصول نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کوتیسری صدی میں مذہب امامیہ کامجددہوناظاہروواضح فرمایاہے (تحفہ اثناعشریہ کید ۸۵ ص ۸۳)

بعض علماء اہل سنت نے آپ کودوسری صدی کااوربعض نے تیسری صدی کامجدد بتلایاہے میرے نزدیک دونوں درست ہے کیوں کہ دوسری صدی میں امام رضاعلیہ السلام کی ولادت اورتیسری صدی کے آغازمیں آپ کی شہادت ہوئی ہے ۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام کے اخلاق وعادات اورشمائل وخصائل

آپ کے اخلاق وعادات اورشمائل وخصائل کالکھنااس لیے دشوارہے کہ وہ بے شمارہیں ”مشتی نمونہ ازخرداری“یہ ہیں بحوالہ علامہ شبلنجی ابراہیم بن عباس تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام علی رضاعلیہ السلام نے کبھی کسی شخص کے ساتھ گفتگوکرنے میں سختی نہیں کی،اورکبھی کسی بات کوقطع نہیں فرمایا آپ کے مکارم عادات سے تھا کہ جب بات کرنے والااپنی بات ختم کرلیتاتھا تب اپنی طرف سے آغازکلام فرماتے تھے کسی کی حاجت روائی اورکام نکالنے میں حتی المقدوردریغ نہ فرماتے ،کبھی ہمنشین کے سامنے پاؤں پھیلاکرنہ بیٹھتے اورنہ اہل محفل کے روبروتکیہ لگاکربیٹھتے تھے کبھی اپنے غلاموں کوگالی نہ دی اورچیزوں کاکیاذکر،میں نے کبھی آپ کے تھوکتے اورناک صاف کرتے نہیں دیکھا،آپ قہقہہ لگاکرہرگز نہیں ہنستے تھے خندہ زنی کے موقع پرآپ تبسم فرمایاکرتے تھے محاسن اخلاق اورتواضع وانکساری کی یہ حالت تھی کہ دسترخوان پرسائیس اوردربان تک کواپنے ساتھ بٹھالیتے ،راتوں کوبہت کم سوتے اوراکثرراتوں کوشام سے صبح تک شب بیداری کرتے تھے اکثراوقات روزے سے ہوتے تھے مگرہرمہینے کے تین روزیتوآپ سے کبھی قضانہیں ہوئے ارشادفرماتے تھے کہ ہرماہ میں کم ازکم تین روزے رکھ لیناایساہے جیسے کوئی ہمیشہ روزے سے رہے ۔

آپ کثرت سے خیرات کیاکرتے تھے اوراکثررات کے تاریک پردہ میں اس استحباب کوادافرمایاکرتے تھے موسم گرمامیں آپ کافرش جس پرآپ بیٹھ کرفتوی دیتے یامسائل بیان کیاکرتے بوریاہوتاتھااورسرمامیں کمبل آپ کایہی طرزاس وقت بھی رہا جب آپ ولی عہدحکومت تھے آپ کالباس گھرمیں موٹااورخشن ہوتاتھا اوررفع طعن کے لیے باہرآپ اچھالباس پہنتے تھے ایک مرتبہ کسی نے آپ سے کہاکہ حضوراتنا عمدہ لباس کیوں استعمال فرماتے ہیں آپ نے اندرکاپیراہن دکھلاکرفرمایااچھالباس دنیاوالوں کے لیے اورکمبل کاپیراہن خداکے لیے ہے۔

علامہ موصوف تحریرفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ حمام میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص جندی نامی آگیااوراس نے بھی نہاناشروع کیادوران غسل میں اس نے بھی نہاناشروع کیادوران غسل میں اس نے امام رضاعلیہ السلام سے کہاکہ میرے جسم پرپانی ڈالئے آپ نے پانی ڈالناشروع کیااتنے میں ایک شخص نے کہااے جندی فرزندرسول سے خدمت لے رہاہے ارے یہ امام رضاہیں ، یہ سنناتھا کہ وہ پیروں پرگرپڑااورمعافی مانگنے لگا(نورالابصار ص ۳۸،۳۹) ۔

ایک مردبلخی ناقل ہے کہ حضرت کے ساتھ ایک سفرمیں تھاایک مقام پردسترخوان بچھاتوآپ نے تمام غلاموں کوجن میں حبشی بھی شامل تھے بلاکربٹھلالیامیں نے عرض کیامولاانہیں علیحدہ بٹھلائیں توکیاحرج ہے آپ نے فرمایاکہ سب کارب ایک ہے اورماں باپ آدم وحوابھی ایک ہیں اور جزاوسزا اعمال پرموقوف ہے، توپھرتفرقہ کیاآپ کے ایک خادم یاسرکاکہناہے کہ آپ کایہ تاکیدی حکم تھا کہ میرے آنے پرکوئی خادم کھاناکھانے کی حالت میں میری تعظیم کونہ اٹھے۔

معمر بن خلادکابیان ہے کہ جب بھی دسترخوان بچھتاآپ ہرکھانے میں سے ایک ایک لقمہ نکال لیتے تھے ،اوراسے مسکینوں اوریتیموں کوبھیج دیاکرتے تھے شیخ صدوق تحریرفرماتے ہیں کہ آپ نے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے فرمایاکہ بزرگی تقوی سے ہے جومجھ سے زیادہ متقی ہے وہ مجھ سے بہترہے۔

ایک شخص نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مجھے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ مال عنایت کیجیے، فرمایایہ ممکن ہے چنانچہ آپ نے اسے دوسواشرفی عنایت فرمادی، ایک مرتبہ نویں ذی الحجہ یوم عرفہ آپ نے راہ خدامیں ساراگھرلٹادیا یہ دیکھ کرفضل بن سہیل وزیرمامون نے کہاحضرت یہ توغرامت یعنی اپنے آپ کونقصان پہنچاناہے آپ نے فرمایایہ غرامت نہیں ہے غنیمت ہے میں اس کے عوض میں خداسے نیکی اورحسنہ لوں گا۔

آپ کے خادم یاسرکابیان ہے کہ ہم ایک دن میوہ کھارہے تھے اورکھانے میں ایساکرتے تھے کہ ایک پھل سے کچھ کھاتے اورکچھ پھینک دیتے ہمارے اس عمل کوآپ نے دیکھ لیا اورفرمایانعمت خداکوضائع نہ کروٹھیک سے کھاؤ اورجوبچ جائے اسے کسی محتاج کودیدو،آپ فرمایاکرتے تھے کہ مزدورکی مزدوری پہلے طے کرناچاہئے کیونکہ ں چکائی ہوئی اجرت سے زیادہ جوکچھ دیاجائے گاپانے والااس کوانعام سمجھے گا۔

صولی کابیان ہے کہ آپ اکثرعودہندی کابخورکرتے اورمشک وگلاب کاپانی استعمال کرتے تھے عطریات کاآپ کوبڑاشوق تھانمازصبح اول وقت پڑھتے اس کے بعدسجدہ میں چلے جاتے تھے اورنہایت ہی طول دیتے تھے پھرلوگوں کوپندونصائح فرماتے۔

سلیمان بن جعفرکاکہناہے کہ آپ آباؤاجدادکی طرح خرمے کوبہت پسندفرماتے تھے آپ شب وروزمیں ایک ہزاررکعت نمازپڑھتے تھے جب بھی آپ بسترپرلیٹتے تھے تابہ خواب قرآن مجیدکے سورے پڑھاکرتے تھے موسی بن سیار کاکہناہے کہ آپ اکثراپنے شیعوں کی میت میں شرکت فرماتے تھے اورکہاکرتے تھے کہ ہرروزشام کے وقت امام وقت کے سامنے شیعوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں اگرکوئی شیعہ گناہ گارہوتاہے توامام اس کے لیے استغفارکرتے ہیں علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کے سامنے جب بھی کوئی آتاتھا آپ پہچان لیتے تھے کہ مومن ہے یامنافق (اعلام الوری، تحفہ رضویہ ،کشف الغمہ ص ۱۱۲) ۔

علامہ محمدرضا لکھتے ہیں کہ آپ ہرسوال کاجواب قرآن مجیدسے دیتے تھے اورروزانہ ایک قرآن ختم کرتے تھے (جنات الخلود ص ۳۱) ۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام کاعلمی کمال

مورخین کابیان ہے کہ آل محمدکے اس سلسلہ میں ہرفردحضرت احدیت کی طرف سے بلندترین علم کے درجے پرقراردیا گیاتھاجسے دوست اوردشمن کومانناپڑتاتھا یہ اوربات ہے کہ کسیکوعلمی فیوض پھیلانے کازمانے نے کم موقع دیا اورکسی کوزیادہ، چنانچہ ان حضرات میں سے امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعداگرکسی کوسب سے زیادہ موقع حاصل ہواہے تو وہ حضرت امام رضاعلیہ السلام ہیں ،جب آپ امامت کے منصب پرنہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے تمام فرزندوں اورخاندان کے لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے کہ تمہارے بھائی علی رضا عالم آل محمدہیں ، اپنے دین مسائل کوان سے دریافت کرلیاکرو، اورجوکچھ اسے کہیں یادرکھو،اورپھرحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اورروضہ رسول پرتشریف فرمارہے تھے توعلمائے اسلام مشکل مسائل میں آب کی طرف رجوع کرتے تھے۔

محمدبن عیسی یقطینی کابیان ہے کہ میں نے ان تحریری مسائل کو جوحضرت امام رضاعلیہ السلام سے پوچھے گئے تھے اورآپ نے ان کاجواب تحریرفرمایاتھا،اکھٹا کیاتواٹھارہ ہزارکی تعدادمیں تھے، صاحب لمعة الرضاء تحریرکرتے ہیں کہ حضرت آئمہ طاہرین علیہم السلام کے خصوصیات میں یہ امرتمام تاریخی مشاہداورنیزحدیث وسیرکے اسانیدمعتبرسے ثابت ہے ،باوجودیکہ اہل دنیاکوآپ حضرات کی تقلیداورمتابعت فی الاحکام کابہت کم شرف حاصل تھا،مگرباین ہمہ تمام زمانہ وہرخویش وبیگانہ آپ حضرات کوتمام علوم الہی اوراسرارالہی کاگنجینہ سمجھتاتھا اورمحدثین ومفسرین اورتمام علماء وفضلاء جوآپ کے مقابلہ کادعوی رکھتے تھے وہ بھی علمی مباحث ومجالس میں آپ حضرات کے آگے زانوئے ادب تہ کرتے تھے اورعلمی مسائل کوحل کرنے کی ضرورتوں کے وقت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے لے کرامام زین العابدین علیہ السلام تک استعفادے کئے وہ سب کتابوں میں موجودہے۔

جابربن عبداللہ انصاری اورحضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں سمع حدیث کے واقعات تمام احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں ،اسی طرح ابوالطفیل عامری اورسعیدین جبیرآخری صحابہ کی تفصیل حالات جوان بزرگون کے حال میں پائے جاتے ہیں وہ سیروتواریخ میں مذکورومشہورہیں صحابہ کے بعدتابعین اورتبع تابعین اوران لوگوں کی فیض یابی کی بھی یہی حالت ہے ،شعبی ،زہری، ابن قتیبہ ،سفیان ثوری،ابن شیبہ ،عبدالرحمن ،عکرمہ،حسن بصری ،وغیرہ وغیرہ یہ سب کے سب جواس وقت اسلامی دنیامیں دینیات کے پیشوااورمقدس سمجھے جاتے تھے ان ہی بزرگوں کے چشمہ فیض کے جرعہ نوش اورانہی حضرات کے مطیع وحلقہ بگوش تھے ۔

جناب امام رضاعلیہ السلام کواتفاق حسنہ سے اپنے علم وفضل کے اظہارکے زیادہ موقع پیش آئے کیوں کہ مامون عباسی کے پاس جب تک دارالحکومت مروتشریف فرمارہے، بڑے بڑے علماء وفضلاء علوم مختلفہ میں آپ کی استعداداور فضیلت کااندازہ کرایاگیااورکچھ اسلامی علماء پرموقوف نہیں تھا بلکہ علماء یہودی ونصاری سے بھی آپ کامقابلہ کرایاگیا،مگران تمام مناظروں ومباحثوں مین ان تمام لوگوں پرآ پ کی فضیلت وفوقیت ظاہرہوئی،خودمامون بھی خلفائے عباسیہ میں سب سے زیادہ اعلم وافقہ تھا باوجوداس کے تبحرفی العلوم کالوہامانتاتھا اورچاروناچاراس کااعتراف پراعتراف اوراقرارپراقرارکرتاتھا چنانچہ علامہ ابن حجرصواعق محرقہ میں لکھتے ہیں کہ آپ جلالت قدرعزت وشرافت میں معروف ومذکورہیں ،اسی وجہ مامون آپ کوبمنزلہ اپنی روح وجان جانتاتھا اس نے اپنی دخترکانکاح آنحضرت علیہ السلام سے کیا،اورملک ولایت میں اپناشریک گردانا، مامون برابرعلماء ادیان وفقہائے شریعت کوجناب امام رضاعلیہ السلام کے مقابلہ میں بلاتااورمناظرہ کراتا،مگرآپ ہمیشہ ان لوگوں پرغالب آتے تھے اورخودارشادفرماتے تھے کہ میں مدینہ میں روضہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھتا،وہاں کے علمائے کثیرجب کسی علمی مسئلہ میں عاجزآجاتے توبالاتفاق میری طرف رجوع کرتے،جواب ہائے شافی دیکران کی تسلی وتسکین کردیتا۔

ابوصلت ابن صالح کہتے ہیں کہ حضرت امام علی بن موسی رضاعلیہماالسلام سے زیادہ کوئی عالم میری نظرسے نہیں گزرا ،اورمجھ پرموقوف نہیں جوکوئی آپ کی زیارت سے مشرف ہوگا وہ میری طرح آپ کی اعلمیت کی شہادت دے گا۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام کے بعض مرویات وارشادات

حضرت امام رضاعلیہ السلام سے بے شماراحادیث مروی ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں :

۱ ۔ بچوں کے لیے ماں کے دودھ سے بہترکوئی دودھ نہیں ۔

۲ ۔ سرکہ بہترین سالن ہے جس کے گھرمیں سرکہ ہوگاوہ محتاج نہ ہوگا۔

۳ ۔ ہرانارمیں ایک دانہ جنت کاہوتاہے

۴ ۔ منقی صفراکودرست کرتاہے بلغم کودورکرتاہے پٹھوں کومضبوط کرتاہے نفس کوپاکیزہ بناتااوررنج وغم کودورکرتاہے

۵ ۔شہدمیں شفاہے ،اگرکوئی شہدہدیہ کرے توواپس نہ کرو ۶ ۔ گلاب جنت کے پھولوں کا سردار ہے۔

۷ ۔ بنفشہ کاتیل سرمیں لگاناچاہئے اس کی تاثیرگرمیوں میں سرداورسردیوں میں گرم ہوتی ہے۔

۸ ۔ جوزیتون کاتیل سرمیں لگائے یاکھائے اس کے پاس چالیس دن تک شیطان نہ آئے گا۔

۹ ۔ صلہ رحم اورپڑوسیوں کے ساتھ اچھاسلوک کرنے سے مال میں زیادتی ہوتی ہے۔

۱۰ ۔ اپنے بچوں کاساتویں دن ختنہ کردیاکرواس سے صحت ٹھیک ہوتی ہے اورجسم پرکوشت چڑھتاہے ۔

۱۱ ۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنا دس روزوں کے برابرہے۔

۱۲ ۔ جوکسی عورت کامہرنہ دے یامزدورکی اجرت روکے یاکسی کوفروخت کردے وہ بخشانہ جاوے گا۔

۱۳ ۔ شہدکھانے اوردودھ پینے سے حافظہ بڑھتاہے۔ ۱۴ ۔ گوشت کھانے شفاہوتی ہے اورمرض دورہوتاہے۔

۱۵ ۔ کھانے کی ابتداء نمک سے کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ستربیماریوں سے حفاظت ہوتی ہے جن میں جذام بھی ہے۔

۱۶ ۔ جودنیامیں زیادہ کھائے گاقیامت میں بھوکارہے گا۔

۱۷ ۔ مسورسترانبیاء کی پسندیدہ خوراک ہے اس سے دل نرم ہوتاہے اورآنسوبنتے ہیں ۔ ۱۸ ۔ جوچالیس دن گوشت نہ کھائے گابداخلاق ہوجائیگا۔

۱۹ ۔ کھاناٹھنڈاکرکے کھاناچاہئے۔ ۲۰ ۔ کھانے پیالے کے کنارے سے کھانا چاہئے۔

۲۱ ۔ عمرطول کے لیے اچھاکھانا،اچھی جوتی پہننااورقرض سے بچنا،کثرت جماع سے پرہیزکرنا مفیدہے۔

۲۲ ۔ اچھے اخلاق والاپیغمبراسلام کے ساتھ قیامت میں ہوگا۔ ۲۳ ۔ جنت میں متقی اورحسن خلق والوں کی اورجہنم میں پیٹواور زناکاروں کی کثرت ہوگی۔

۲۴ ۔ امام حسین کے قال بخشے نہ جائیں گے ان کابدلہ خدالے گا۔

۲۵ ۔ حسن اورحسین علیہم السلام جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدربزرگواران سے بہترہیں ۔

۲۶ ۔ اہل بیت کی مثال سفینہ نوح جیسی ہے ،نجات وہی پائے گا جواس پرسوارہوگا۔

۲۷ ۔ حضرت فاطمہ ساق عرش پکڑکرقیامت کے دن واقعہ کربلاکافیصلہ چاہیں گی اس دن ان کے ہاتھ میں امام حسین علیہ السلام کاخون بھراپیراہن ہوگا۔

۲۸ ۔ خداسے روزی صدقہ دیے کرمانگو۔

۲۹ ۔ سب سے پہلے جنت میں وہ شہدااورعیال دارجائیں گے جوپرہیزگارہوں گے اورسب سے پہلے جہنم میں حاکم غیرعادل اورمالدارجائیں گے (مسندامام رضاطبع مصر ۱۳۴۱ ہجری)

۳۰ ۔ ہرمومن کاکوئی نہ کوئی پڑوسی اذیت کاباعث ضرورہوگا۔

۳۱ ۔ بالوں کی سفیدی کاسرکے اگلے حصے سے شروع ہونا سلامتی اوراقبال مندی کی دلیل ہے اوررخساروں ڈاڑھی کے اطراف سے شروع ہونا سخاوت کی علامت ہے اورگیسوؤں سے شروع ہونا شجاعت کانشان ہے اورگدی سے شروع ہونانحوست ہے۔

۳۲ ۔ قضاوقدرکے بارے میں آپ نے فضیل بن سہیل کے جواب میں فرمایاکہ انسان نہ بالکل مجبورہے اورنہ بالکل آزادہے (نورالابصار ص ۱۴۰) ۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام اورمجلس شہداء کربلا

علامہ مجلسی بحارالانوارمیں لکھتے ہیں کہ شاعرآل محمد،دعبل خزاعی کابیان ہے کہ ایک مرتبہ عاشورہ کے دن میں حضرت امام رضاعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا،تودیکھاکہ آپ اصحاب کے حلقہ میں انتہائی غمگین وحزیں بیٹھے ہوئے ہیں مجھے حاضرہوتے دیکھ کر فرمایا،آؤآؤہم تمہاراانتظارکررہے ہیں میں قریب پہنچاتوآپ نے اپنے پہلومیں مجھے جگہ دے کرفرمایا کہ اے دعبل چونکہ آج یوم عاشوراہے اوریہ دن ہمارے لیے انتہائی رنج وغم کادن ہے لہذا تم میرے جد مظلوم حضرت امام حسین علیہ السلام کے مرثیہ سے متعلق کچھ شعرپڑھو،اے دعبل جوشخص ہماری مصیبت پرروئے یارلائے اس کااجرخداپرواجب ہے ،اے دعبل جس شخص کی آنکھ ہمارے غم میں ترہو وہ قیامت میں ہمارے ساتھ محشورہوگا ، اے دعبل جوشخص ہمارے جدنامدارحضرت سیدالشہداء علیہ السلام کے غم میں روئے گا خدااس کے گناہ بخش دے گا۔

یہ فرماکرامام علیہ السلام نے اپنی جگہ سے اٹھ کر پردہ کھینچااورمخدرات عصمت کوبلاکراس میں بٹھادیاپھرآپ میری طرف مخاطب ہوکرفرمانے لگے ہاں دعبل! ابے میرے جدامجدکامرثیہ شروع کرو، دعبل کہتے ہیں کہ میرادل بھرآیااورمیری آنکھوں سے آنسوجاری تھے اورآل محمدمیں رونے کاکہرام عظیم برپاتھا صاحب درالمصائب تحریرفرماتے ہیں کہ دعبل کامرثیہ سن کرمعصومہ قم جناب فاطمہ ہمیشرہ حضرت امام رضاعلیہ السلام اس قدرروئیں کہ آپ کوغش آگیا۔

اس اجتماعی طریقہ سے ذکرحسینی کومجلس کہتے ہیں اس کاسلسلہ عہدامام رضامیں مدینہ سے شروع ہوکرمروتک جاری رہا،علامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ اب امام رضاعلیہ السلام کوتبلیغ حق کے لیے نام حسین کی اشاعت کے کام کوترقی دینے کابھی پوراموقع حاصل ہوگیاتھا جس کی بنیاداس کے پہلے حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اورامام جعفرصادق علیہ السلام قائم کرچکے تھے مگروہ زمانہ ایساتھا کہ جب امام کی خدمت میں وہی لوگ حاضرہوتے تھے جوبحیثیت امام یابحیثیت عالم دین آپ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے اوراب امام رضاعلیہ السلام توامام روحانی بھی ہیں اورولی عہدسلطنت بھی، اس لیے آپ کے دربارمیں حاضرہونے والوں کادائرہ وسیع ہے۔

مرو،وہ مقام ہے جوایران کے تقریبا وسط میں واقع ہے ہرطرف کے لوگ یہاں آتے ہیں اوریہاں یہ عالم کہ ادھر محرم کاچاند نکلااورآنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے دوسروں کوبھی ترغیب وتحریص کی جانے لگی کہ آل محمدکے مصائب کویادکرواوراثرات غم کوظاہرکرو یہ بھی ارشادہونے لگا کہ جواس مجلس میں بیٹھے جہاں ہماری باتیں زندہ کی جاتی ہیں اس کادل مردہ نہ ہوگااس دن کے جب سب کے دل مردہ ہوں گے۔

تذکرہ امام حسین کے لیے جومجمع ہو،اس کانام اصطلاحی طورپرمجلس اسی امام رضاعلیہ السلام کی حدیث سے ہی ماخوذہے آپ نے عملی طورپربھی خودمجلسیں کرنا شروع کردیں جن میں کبھی خودذاکرہوئے اوردوسرے سامعین جیسے ریان بن شبیب کی حاضری کے موقع پرآپ نے مصائب امام حسین علیہ السلام بیان فرمائے اورکبھی عبداللہ بن ثابت یادعبل خزاعی ایسے کسی شاعرکی حاضری کے موقع پراس شاعرکوحکم ہواکہ تم ذکرامام حسین میں اشعارپڑھووہ ذاکرہوا، اورحضرت سامعین میں داخل ہوئے الخ۔

مامون رشیدکی مجلس مشوارت

حالات سے متاثرہوکرمامون رشیدنے ایک مجلس مشاورت طلب کی جس میں علماء وفضلاء ،زعماء اورامراء سب ہی کومدعوکیا جب سب جمع ہوگئے تواصل رازدل میں رکھتے ہوئے ان سے یہ کہاکہ چونکہ شہرخراسان میں ہماری طرف سے کوئی حاکم نہیں ہے اورامام رضاسے زیادہ لائق کوئی نہیں ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ امام رضاکوبلاکروہاں کی ذمہ داری ان کے سپردکردیں ، مامون کامقصدتویہ تھا کہ ان کوخلیفہ بناکر علویوں کی بغاوت اوران کی چابکدستی کوروک دے لیکن یہ بات اس نے مجلس مشاورت میں ظاہرنہیں کی،بلکہ ملکی ضرورت کاحوالہ دے کرانہیں خراسان کاحاکم بناناظاہرکیا، اورلوگوں نے تواس پرجوبھی رائے دی ہولیکن حسن بن سہل اوروزیراعظم فضل بن سہل اس پرراضی نہ ہوئے اوریہ کہاکہ اس طرح خلافت بنی عباس سے آل محمدکی طرف منتقل ہوجائے گی مامون نے کہاکہ میں نے جوکچھ سوچاہے وہ یہی ہے اوراس پرعمل کروں گا یہ سن کروہ لوگ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت علی ابن ابی طالب کے ایک معززصحابی ،سلیمان بن ابراہیم بن محمدبن داؤدبن قاسم بن ہیبت بن عبداللہ بن حبیب بن شیخان بن ارقم،کھڑے ہوگئے اورکہنے لگے ائے مامون رشید”راست می گوئی امامی ترسم کہ توباحضرت امام رضاہمان کنی کہ کوفیان باحضرت امام حسین کردند“ توسچ کہتاہے لیکن میں ڈرتاہوں کہ توکہیں ان کے ساتھ وہی سلوک نہ کرے جوکوفیوں نے امام حسین کے ساتھ کیاہے۔

مامون رشیدنے کہا کہ اے سلیمان تم یہ کیاسوچ رہے ہو ،ایساہرگزنہیں ہوسکتا،میں ان کی عظمت سے واقف ہوں جوانہیں ستائے گاقیامت میں حضرت رسول کریم اورحضرت علی حکیم کوکیون کرمنہ دکھائے گا تم مطمئن رہو، انشاء اللہ ان کاایک بال بھی بیکانہ ہوگایہ کہہ کربروایت ابومخنف مامون رشیدنے قرآن مجیدپرہاتھ رکھااورقسم کھاکرکہاکہ میں ہرگزاولادپیغمبرپرکوئی ظلم نہ کروں گا اس کے بعدسلیمان نے تمام لوگوں کوقسم دے کربیعت لے لی پھرانہوں نے ایک بیعت نامہ تیارکیااوراس پراہل خراسان کے دستخط لیے دستخط کرنے والوں کی تعداد چالیس ہزارتھی بیعت نامہ تیارہونے کے بعد مامون رشیدنے سلیمان کوبیعت نامہ سمیت مدینہ بھیج دیا،سلیمان قطع مراحل وطے منازل کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے اورحضرت امام رضاعلیہ السلام سے ملاقات کی، ان کی خدمت میں مامون کاپیغام پہنچادیا۔

اورمجلس مشاورت کے تمام واقعات بیان کئے اوربیعت نامہ حضرت کی خدمت میں پیش کیا،حضرت نے جونہی اس کوکھولااوراس کاسرنامہ دیکھا،سرمبارک ہلاکر فرمایاکہ یہ میرے لیے کسی طرح مفیدنہیں ہے،اس وقت آپ آبدیدہ تھے پھرآپ نے فرمایاکہ مجھے جدنامدارنے خواب میں نتائج واعواقب سے آگاہ کردیاہے ،سلیمان نے کہاکہ مولایہ توخوشی کاموقع ہے آپ اس درجہ پریشان کیوں ہیں ، ارشادفرمایاکہ میں اس دعوت میں اپنی موت دیکھ رہاہوں انہوں نے کہاکہ مولامیں نے سب سے بیعت لے لی ہے کہادرست ہے لیکن جدنامدارنے جوفرمایاہے وہ غلط نہیں ہوسکتا، میں مامون کے ہاتھوں شہیدکیاجاؤں گا۔

بلآخرآپ پرکچھ دباؤپڑاکہ آپ مروخراسان کے لیے عازم ہوگئے جب آپ کے عزیزوں اوروطن والوں کوآپ کی روانگی کاحال معلوم ہوابے پناہ روئے۔

غرضکہ آپ روانہ ہوگئے ،راستے میں ایک چشمہ آب کے کنارے چندآہوؤں کودیکھاکہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں جب ان کی نظرحضرت پرپڑی سب دوڑپڑے اورباچشم ترکہنے لگے کہ حضورخراسان نہ جائیں کہ دشمن بہ لباس دوستی آپ کی تاک میں ہے اورملک الموت استقبال کے لیے تیارہیں ، حضرت نے فرمایاکہ اگرموت آنی ہے تووہ ہرحال میں آئے گی (کنزالانساب ابومخنف ص ۸۷ طبع بمبئی ۱۳۰۲ ہ)۔

ایک روایت میں ہے کہ مامون نے اپنی غرض کے لیے حضرت کوخلیفہ وقت بنانے کے لیے لکھاتوآپ نے انکارکردیا پھراس نے تحریرکیاکہ آپ میری ولی عہدی قبول کیجئے آپ نے اس سے بھی انکارکردیاجب وہ آپ کی طرف سے مایوس ہوگیاتواس نے تین سوافرادپرمشتمل فوج بھیج دی اورحکم دیدیاکہ وہ جس حالت میں ہوں اورجہاں ہوں ان کوگرفتارکرکے لایاجائے اورانہیں اتنی مہلت نہ دی جائے کہ وہ کسی سے مل سکیں چنانچہ فوج غالبا فضل بن سہل وزیراعظم کی قیادت میں مدینہ پہنچی اورامام علیہ السلام کومسجدسے گرفتاررکے مروخراسان کے لے روانہ ہوگئی، اتناموقع نہ دیا کہ امام علیہ السلام،اپنے اہل وعیال سے رخصت ہولیتے۔

مامون کی طلبی سے قبل امام علیہ السلام کی روضہ رسول پرفریاد

ابومخنف بن لوط بن یحی خزاعی کابیان ہے کہ حضرت امام موسی کاظم کی شہادت کے بعد ۱۵/ محرم الحرام شب یک شنبہ کوحضرت امام رضاعلیہ السلام نے روضہ رسول خداپرحاضری دی وہاں مشغول عبادت تھے کہ آنکھ لگ گئی، خواب میں دیکھاکہ حضرت رسول کریم بالباس سیاہ تشریف لائے ہیں اورسخت پریشان ہیں امام علیہ السلام نے سلام کیاحضورنے جواب سلام دے کرفرمایا،ائے فرزند،میں اورعلی وفاطمہ ،حسن وحسین سب تمہارے غم میں نالاں وگریاں ہیں اورہم ہی نہیں فرزندم زین العابدین ،محمدباقر،جعفرصادق اورتمہارے پدرموسی کاظم سب غمگین اوررنجیدہ ہیں ،ائے فرزندعنقریب مامون رشیدتم کوزہرسے شہیدکرے گا،یہ دیکھ کرآپ کی آنکھ کھل گئی ،اورآپ زارزاررونے لگے پھرروضہ مبارک سے باہرآئے ایک جماعت نے آپ سے ملاقات کی اورآپ کوپریشان دیکھ کرپوچھاکہ مولااضطراب کی وجہ کیاہے فرمایاابھی ابھی جدنامدارنے میری شہادت کی خبردی ہے ائے ابوصلت دشمن مجھے شہیدکرناچاہتاہے اورمیں خداپربھروسہ کرتاہوں جومرضی معبودہووہی میری مرضی ہے اس خواب کے تھوڑے عرصہ بعد مامون رشیدکالشکرمدینہ پہنچ گیااوروہ امام علیہ السلام کو اپنی سیاسی غرض کرنے کے لیے وہاں سے دارالخلافت ”مرو“ میں لے آیا(کنزالانساب ص ۸۶) ۔

امام رضاعلیہ السلام کی مدینہ سے مرومیں طلبی

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حالات کی روشنی میں مامون نے اپنے مقام پریہ قطعی فیصلہ اورعزم بالجزم کرلینے کے بعد کہ امام رضاعلیہ السلام کوولیعہد خلافت بنائے گا اپنے وزیراعظم فضل بن سہل کوبلابھیجا اوراس سے کہاکہ ہماری رائے ہے کہ ہم امام رضاکوولی عہدی سپردکردیں تم خودبھی اس پرسوچ وبچارکرو، اوراپنے بھائی حسن بن سہل سے مشورہ کروان دونوں نے آپس میں تبادلہ خیال کرنے کے بعد مامون کی بارگاہ میں حاضری دی، ان کامقصدتھا کہ مامون ایسانہ کرے ورنہ خلافت آل عباس سے آل محمدمیں چلی جائے گی ان لوگوں نے اگرچہ کھل کرمخالفت نہیں کی،لیکن دبے لفظوں میں ناراضگی کااظہارکیا مامون نے کہاکہ میرا فیصلہ اٹل ہے اورمیں تم دونوں کو حکم دیتاہوں کہ تم مدینہ جاکرامام رضاکواپنے ہمراہ لاؤ(حکم حاکم مرگ مفاجات) آخرکاریہ دونوں امام رضاکی خدمت میں مقام مدینہ منورہ حاضرہوئے اورانہوں نے بادشاہ کاپیغام پہنچایا۔

حضرت امام علی رضانے اس عرضداشت کومستردکردیااورفرمایاکہ میں اس امرکے لیے اپنے کوپیش کرنے سے معذورہوں لیکن چونکہ بادشاہ کاحکم تھا کہ انہیں ضرورلاؤ اس لیے ان دونوں نے بے انتہااصرارکیااورآپ کے ساتھ اس وقت تک لگے رہے جب تک آپ نے مشروط طورپروعدہ نہیں کرلیا (نورالابصارص ۴۱) ۔

امام رضاعلیہ السلام کی مدینہ سے روانگی

تاریخ ابوالفداء میں ہے کہ جب امین قتل ہواتومامون سلطنت عباسیہ کامستقل بادشاہ بن گیایہ ظاہرہے کہ امین کے قتل ہونے کے بعد سلطنت مامون کے پائے نام ہوگئی مگریہ پہلے کہاجاچکاہے کہ امین ننہیال کی طرف سے عربی النسل تھا ،اورمامون عجمی النسل تھا امین کے قتل ہونے سے عراق کی عرب قوم اورارکان سلطنت کے دل مامون کی طرف سے صاف نہیں ہوسکتے تھے بلکہ وہ ایک غم وغصہ کی کیفیت محسوس کرتے تھے دوسری طرف خودبنی عباس میں سے ایک بڑی جماعت جوامین کی طرف دارتھی اس سے بھی مامون کوہرطرح خطرہ لگاہواتھا۔

اولادفاطمہ میں سے بہت سے لوگ جووقتافوقتابنی عباس کے مقابل میں کھڑے ہوتے رہتے تھے وہ خواہ قتل کردیے گئے ہوں یاجلاوطن کئے گئے ہوں یاقید رکھے گئے ہوں ان کے موافق جماعت تھی جواگرچہ حکومت کاکچھ بگاڑنہ سکتی تھی مگردل ہی دل میں حکومت بن عباس سے بیزارضرورتھی ایران میں ابومسلم خراسانی نے بنی امیہ کے خلاف جواشتعال پیداکیاوہ ان مظالم ہی کویاددلاکرجوبنی امیہ کے ہاتھوں حضرت امام حسین علیہ السلام اوردوسرے بنی فاطمہ کے ساتھ کیے تھے اس سے ایران میں اس خاندان کے ساتھ ہمدردی کاپیداہونافطری تھا درمیان میں بنی عباس نے اس سے غلط فائدہ اٹھایامگراتنی مدت میں کچھ نہ کچھ توایرانیوں کی آنکھیں بھی کھل گئی ہوں گی کہ ہم سے کہاگیاتھاکیااوراقتدارکن لوگوں نے حاصل کرلیا، ممکن ہے ایرانی قوم کے ان رجحانات کا چرچامامون کے کانوں تک بھی پہنچاہواب جس وقت کہ ا مین کے قتل کے بعد وہ عرب قوم پراوربنی عباس کے خاندان پربھروسہ نہیں کرسکتاتھا اوراسے ہروقت اس حلقہ سے بغاوت کااندیشہ تھا،تواسے سیاسی مصلحت اسی میں معلوم ہوئی کہ عرب کے خلاف عجم اوربنی عباس کے خلاف بنی فاطمہ کواپنالیاجائے،اورچونکہ طرزعمل میں خلوص سمجھانہیں جاسکتا اوروہ عام طبائع پراثرنہیں ڈال سکتااگریہ نمایاں ہوجائے کہ وہ سیاسی مصلحتوں کی بناپرہے اس لے ضرورت ہوئی کہ مامون مذہبی حیثیت سے اپنی شیعت نوازی اورولائے اہلبیت کے چرچے عوام کے حلقوں میں پھیلائے اوریہ دکھلائے کہ وہ انتہائی نیک نیتی پرقائم ہے اب ”حق بہ حقدار رسید“ کے مقولہ کوسچابناناچاہتاہے۔

اس سلسلہ میں جناب شیخ صدوق اعلی اللہ مقامہ نے تحریرفرمایاہے کہ اس نے اپنی زندگی کی حکایت بھی شائع کی کہ جب امین کااورمیرامقابلہ تھا،اوربہت نازک حالت تھی اورعین اسی وقت میرے خلاف سیستان اورکرمان میں بھی بغاوت ہوگئی تھی اورخراسان میں بھی بے چینی پھیلی ہوئی تھی اورفوج کی طرف سے بھی اطمینان نہ تھا اوراس سخت اوردشوارماحول میں ،میں نے خداسے التجاکی اورمنت مانی کہ اگریہ سب جھگڑے ختم ہوجائیں اورمیں بام خلافت تک پہنچوں تواس کواس کے اصل حقداریعنی اولادفاطمہ میں سے جواس کااہل ہے اس تک پہنچادوں گا اسی نذرکے بعدسے میرے سب کام بننے لگے ،اورآخر تمام دشمنوں پرمجھے فتح حاصل ہوئی۔

یقینایہ واقعہ مامون کی طرف سے اس لیے بیان کیاگیاکہ اس کاطرزعمل خلوص نیت اورحسن نیت پربھی مبنی سمجھاجائے ،یوں توجواہلبیت کے کھلے ہوئے دشمن سخت سے سخت تھے وہ بھی ان کی حقیقت اورفضیلت سے واقف تھے اوران کی عظمت کوجانتے تھے مگرشیعیت کے معنی صرف یہ جانناتونہیں ہیں بلکہ محبت رکھنا اوراطاعت کرناہیں اورمامون کے طرزعمل سے یہ ظاہرہے کہ وہ اس دعوے شیعیت اورمحبت اہل بیت کاڈھنڈوراپیٹنے کے باوجودخودامام کی اطاعت نہیں کرنا چاہتا تھا،بلکہ امام کواپنے منشاکے مطابق چلانے کی کوشش تھی ولی عہدبننے کے بارے میں آپ کے اختیارات کوبالکل سلب کردیاگیا اورآپ کومجبوربنادیاگیا تھا اس سے ظاہرہے کہ یہ ولی عہدی کی تفویض بھی ایک حاکمانہ تشددتھا جواس وقت شیعیت کے بھیس میں امام کے ساتھ کیاجارہاتھا۔

امام رضاعلیہ السلام کاولی عہدکوقبول کرنابالکل ویساہی تھا جیساہارون کے حکم سے امام موسی کاظم کاجیل خانہ میں چلاجانا اسی لیے جب امام رضاعلیہ السلام مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہورہے تھے توآپ کے رنج وصدمہ اوراضطراب کی کوئی حدنہ تھی روضہ رسول سے رخصت کے وقت آپ کاوہی عالم تھا جوحضرت امام حسین علیہ السلام کامدینہ سے روانگی کے وقت تھا دیکھنے والوں نے دیکھاکہ آپ بے تابانہ روضہ کے اندرجاتے ہیں اورنالہ وآہ کے ساتھ امت کی شکایت کرتے ہیں پھرباہرنکل کرگھرجانے کاارادہ کرتے ہیں اورپھردل نہیں مانتاپھرروضہ سے جاکرلپٹ جاتے ہیں یہ ہی صورت کئی مرتبہ ہوئی،راوی کا بیان ہے کہ میں حضرت کے قریب گیاتوفرمایاائے محول! میں اپنے جدامجدکے روضے سے بہ جبرجدا کیاجارہاہوں اب مجھ کویہاں آنا نصیب نہ ہوگا (سوانح امام رضاجلد ۳ ص ۷) ۔

محول شیبانی کابیان ہے کہ جب وہ ناگواروقت پہنچ گیاکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام اپنے جدبزرگوارکے روضہ اقدس سے ہمیشہ کیلے وداع ہوئے تو میں نے دیکھاکہ آپ نے تابانہ اندرجاتے ہیں اوربانالہ وآہ باہرآتے ہیں اورظلمہ امت کی شکایت کرتے ہیں یاباہرآکر گریہ وبکافرماتے ہیں اورپھراندرواپس چلے جاتے ہیں آپ نے چندبارایساہی کیااورمجھ سے نہ رہاگیااورمیں نے حاضرہوکرعرض کی مولااضطراب کی کیاوجہ ہے ؟ فرمایاائے محول ! میں اپنے نانا کے روضہ سے جبراجداکیاجارہاہوں مجھے اس کے بعداب یہاں آنانصیب نہ ہوگامیں اسی مسافرت اورغریب الوطنی میں شہیدکردیاجاؤں گا،اورہارون رشید کے مقبرہ میں مدفون ہوں گااس کے بعدآپ دولت سرامیں تشریف لائے اورسب کوجمع کرکے فرمایاکہ میں تم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہورہاہوں یہ سن کر گھرمیں ایک عظیم کہرام بپاہوگیااورسب چھوٹے بڑے رونے لگے ، آپ نے سب کوتسلی دی اورکچھ دیناراعزامیں تقسیم کرکے راہ سفراختیار فرمالیا ایک روایت کی بناپر آپ مدینہ سے روانہ ہوکرمکہ معظمہ پہنچے اوروہاں طواف کرکے خانہ کعبہ کورخصت فرمایا۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام کانیشاپورمیں ورودمسعود

رجب ۲۰۰ ہجری میں حضرت مدینہ منورہ سے مرو”خراسان“ کی جانب روانہ ہوئے اہل وعیال اورمتعلقین سب کومدینہ منورہ ہی میں چھوڑا اس وقت امام محمد تقی علیہ السلام کی عمرپانچ برس کی تھی آپ مدینہ ہی میں رہے مدینہ سے روانگی کے وقت کوفہ اورقم کی سیدھی راہ چھوڑکر بصرہ اوراہوازکاغیرمتعارف راستہ اس خطرہ کے پیش نظراختیارکیاگیاکہ کہیں عقیدت مندان امام مزاحمت نہ کریں غرضکہ قطع مراحل اورطے منازل کرتے ہوئے یہ لوگ نیشاپورکے نزدیک جاپہنچے۔

مورخین لکھتے ہیں کہ جب آپ کی مقدس سواری نیشاپوری کے قریب پہنچی توجملہ علماء وفضلاء شہرنے بیرون شہر حاضرہوکرآپ کی رسم استقبال اداکی ، داخل شہرہوئے توتمام خوردوبزرگ شوق زیارت میں امنڈپڑے،مرکب عالی جب مربعہ شہر(چوک) میں پہنچاتو خلاق سے زمین پرتل رکھنے کی جگہ نہ تھی اس وقت حضرت امام رضاقاطرنامی خچرپرسوارتھے جس کاتمام سازوسامان نقرئی تھاخچرپرعماری تھی اوراس پردونوں طرف پردہ پڑے ہوئے تھے اوربروایتے چھتری لگی ہوئی تھی اس وقت امام المحدثین حافظ ابوزرعہ رازی اورمحمدن بن اسلم طوسی آگے آگے اوران کے پیچھے اہل علم وحدیث کی ایک عظیم جماعت حاضرخدمت ہوئی اورباین کلمات امام علیہ السلام کومخاطب کیا”اے جمیع سادات کے سردار،اے تمام مومنوں کے امام اوراے مرکزپاکیزگی ،آپ کورسول اکرم کاواسطہ، آپ اپنے اجدادکے صدقہ میں اپنے دیدارکاموقع دیجئے اورکوئی حدیث اپنے جدنامدارکی بیان فرمائیے یہ کہہ کرمحمدبن رافع ،احمدبن حارث،یحی بن یحی اوراسحاق بن راہویہ نے آپ کے خاطرکی باگ تھام لی۔

ان کی استدعاسن کرآپ نے سواری روک دئیے جانے کے لیے اشارہ فرمایا، اورشارہ کیاکہ حجاب اٹھادئیے جائیں فوراتعمیل کی گئی حاضرین نے جونہی وہ نورانی چہرہ اپنے پیارے رسول کے جگرگوشہ کادیکھاسینوں میں دل بیتاب ہوگئے دوزلفین نورانورپر مانندگیسوئے مشک بوئے جناب رسول خداچھوٹی ہوئی تھیں کسی کویارائے ضبط باقی نہ رہاوہ سب کے سب بے اختیارڈھاریں مارکررونے لگے بہتوں نے اپنے کپڑے پھاڑڈالے کچھ زمین پرگرکرلوٹنے لگے بعض سواری کے گردوپیش گھومنے اورچکرلگانے لگے اورمرکب اقدس کی زین ولجام چومنے لگے اورعماری کابوسہ دینے لگے آخرمرکب عالی کے قدم چومنے کے اشتیاق میں درانہ بڑھے چلے آتے تھے غرضکہ عجیب طرح کاولولہ تھاکہ جمال باکمال کودیکھنے سے کسی کوسیری نہیں ہوئی تھی ٹکٹکی لگائے رخ انورکی طرف نگراں تھے یہاں تک دوپہرہوگئی اوران کے موجودہ اشتیاق وتمناکی پرجوشیوں میں کوئی کمی نہیں آئی اس وقت علماء وفضلاء کی جماعت نے بآوازبلندپکارکرکہاکہ مسلمانوں ذراخاموش ہوجاؤ، اورفرزندرسول کے لیے آزارنہ بنو، ان کی استدعاپرقدرے شوروغل تھما توامام علیہ السلام نے فرمایا:

حدثنی ابی موسی الکاظم عن ابیه جعفرالصادق عن ابیه محمدالباقرعن ابیه زین العابدین عن ابیه الحسین الشهیدبکربلاعن ابیه علی المرتضی قال حدثنی حبیبی وقرة عینی رسو ل الله صلی الله علیه وآله وسلم قال حدثنی جبرئیل علیه السلام قال حدثنی رب العزت سبحانه وتعالی قال لااله الاالله حصنی فمن قالهادخل حصنی ومن دخل حصنی امن من عذابی (مسندامام رضاعلیہ السلام ص ۷ طبع مصر ۱۳۴۱ ہ)۔

ترجمہ :

میرے پدربزرگوارحضرت امام موسی کاظم نے مجھ سے بیان فرمایااوران سے امام جعفرصادق علیہ السلام نے اوران سے امام محمدباقرنے اوران سے امام زین العابدین نے اوران سے امام حسین نے اوران سے حضرت علی مرتضی نے اوران سے حضرت رسول کریم جناب محمدمصطفی صلعم نے اوران سے جناب جبرئیل امین نے اوران سے خداوندعالم نے ارشادفرمایاکہ ”لاالہ الااللہ “ میراقلعہ ہے جواسے زبان پرجاری کرے گا میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اورجومیرے قلعہ میں داخل ہوگا میرے عذاب سے محفوظ ہوجائے گا۔

یہ کہہ کرآپ نے پردہ کھینچوادیا، اورچندقدم بڑھنے کے بعد فرمایا بشرطہاوشروطہاوانامن شروطہا کہ لاالہ الااللہ کہنے والانجات ضرورپائے گالیکن اس کے کہنے اورنجات پانے میں چندشرطیں ہیں جن میں سے ایک شرط میں بھی ہوں یعنی اگرآل محمدکی محبت دل میں نہ ہوگی تولاالہ الااللہ کہناکافی نہ ہوگاعلماء نے ”تاریخ نیشابور“ کے حوالے سے لکھاہے کہ اس حدیث کے لکھنے میں مفرددواتوں کے علاوہ ۲۴ ہزارقلمدان استعمال کئے گئے احمدبن حنبل کاکہناہے کہ یہ حدیث جن اسناداوراسماء کے ذریعہ سے بیان فرمائی گئی ہے اگرانہیں اسماء کوپڑھ کر مجنون پردم کیاجائے تو”لافاق من جنونہ“ ضروراس کاجنون جاتارہے گا اوروہ اچھاہوجائے گاعلامہ شبلنجی نورالابصارمیں بحوالہ ابوالقاسم تضیری لکھتے ہیں کہ ساسانہ کے رہنے والے بعض رؤسا نے جب اس سلسلہ حدیث کوسناتواسے سونے کے پانی سے لکھواکراپنے پاس رکھ لیااورمرتے وقت وصیت کی کہ اسے میرے کفن میں رکھ دیاجائے چنانچہ ایساہی کیاگیامرنے کے بعداس نے خواب میں بتایاکہ خداوندعالم نے مجھے ان ناموں کی برکت سے بخش دیاہے اورمیں بہت آرام کی جگہ ہوں ۔

مؤلف کہتاہے کہ اسی فائدہ کے لیے شیعہ اپنے کفن میں خواب نامہ کے طورپران اسماء کولکھ کررکھتے ہیں بعض کتابوں میں ہے کہ نیشاپورمیں آپ سے بہت سے کرامات نمودارہوئے۔

شہرطوس میں آپ کانزول وورود

جب اس سفرمیں چلتے چلتے شہرطوس پہنچے تووہاں دیکھاکہ ایک پہاڑسے لوگ پتھرتراش کرہانڈی وغیرہ بناتے ہیں آپ اس سے ٹیک لگاکرکھڑے ہوگئے اورآپ نے اس کے نرم ہونے کی دعاکی وہاں کے باشندوں کاکہناہے کہ اس پہاڑکاپتھربالکل نرم ہوگیااوربڑی آسانی سے برتن بننے لگے۔

امارضا کادارالخلافہ مرومیں نزول

امام علیہ السلام طے مراحل اورقطع منازل کرنے کے بعد جب مروپہنچے جسے سکندرذوالقرنین نے بروایت معجم البلدان آبادکیاتھا اورجواس وقت دارالسلنطت تھا تومامون نے چندروزضیافت تکریم کے مراسم اداکرنے کے بعد قبول خلافت کاسوال پیش کیا حضرت نے اس سے اسی طرح انکارکیا جس طرح امیرالمومنین چوتھے موقعہ پرخلافت پیش کئے جانے کے وقت انکارفرمارہے تھے مامون کوخلافت سے دستبردارہونا ،درحقیقت منظورنہ تھا ورنہ وہ امام کواسی پرمجبورکرتا۔

چنانچہ جب حضرت نے خلافت کے قبول کرنے سے انکارفرمایا،تواس نے ولیعہدی کاسوال پیش کیا حضرت اس کے بھی انجام سے ناواقف نہ تھے نیزبخوشی جابرحکومت کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا آپ کے خاندانی اصول کے خلاف تھا حضرت نے اس سے بھی انکارفرمایا مگراس پرمامون کااصرارجبرکی حدتک پہنچ گیا اوراس نے صاف کہہ دیاکہ ”لابدمن قبولک“ اگرآپ اس کومنظورنہیں کرسکتے تواس وقت آپ کواپنی جان سے ہاتھ دھوناپڑے گا جان کاخطرہ قبول کیاجاسکتاہے جب مذہبی مفادکاقیام جان دینے پرموقوف ہوورنہ حفاظت جان شریعت اسلام کابنیادی حکم ہے امام نے فرمایا، یہ ہے تومیں مجبورا قبول کرتاہوں مگرکاروبارسلطنت میں بالکل دخل نہ دوں گا ہاں اگرکسی بات میں مجھ سے مشورہ لیاجائے تونیک مشورہ ضروردوں گا ۔

اس کے بعدیہ ولی عہدی صرف برائے نام سلطنت وقت کے ایک ڈھکوسلے سے زیادہ کوئی وقعت نہ رکھتی تھی جس سے ممکن ہے کچھ عرصہ تک سیاسی مقصد میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہومگرامام کی حیثیت اپنے فرایض کے انجام دینے میں بالکل وہ تھی جوان کے پیش روحضرت علی مرتضی اپنے زمانے کے بااقتدارطاقتوں کے ساتھ اختیارکرچکے تھے جس طرح ان کاکبھی کبھی مشورہ دیدنا ان حکومتوں کو صحیح وناجائزنہیں بناسکتا ویسے ہی امام رضاعلیہ السلام کااس نوعیت سے ولیعہدی کاقبول فرمانا اس سلطنت کے جوازکاباعث نہیں ہوسکتاتھا صرف مامون کی ایک راج ہٹ تھی جوسیاسی غرض کے پیش نظراس طرح پوری ہوگئی مگرامام نے اپنے دامن کوسلطنت ظلم کے اقدامات اورنظم ونسق سے بالکل الگ رکھا۔

تواریخ میں ہے کہ مامون نے حضرت امام رضاعلیہ السلام سے کہاکہ شرطیں قبول کرلیں اس کے بعدآپ نے دونوں ہاتھوں کوآسمان کی طرف بلندکئے اور بارگاہ اہدیت میں عرض کی پروردگار توجانتاہے کہ اس امرکومیں نے بہ مجبوروناچاری اورخوف قتل کی وجہ سے قبول کرلیاہے۔

خداونداتومیرے اس فعل پرمجھ سے اسی طرح مواخذہ نہ کرناجس طرح جناب یوسف اورجناب دانیال سے بازپرس نہیں فرمائی اس کے بعدکہامیرے پالنے والے تیرے عہدکے سواکوئی عہدنہیں اورتیری عطاکی ہوئی حیثیت کے سواکوئی عزت نہیں خدایاتومجھے اپنے دین پرقائم رہنے ک توفیق عنایت فرما، خواجہ محمدپارساکاکہناہے کہ ولیعہدی کے وقت آپ رورہے تھے ملاحسین لکھتے ہیں کہ مامون کی طرف سے اصراراور حضرت کی طرف سے انکارکاسلسلہ دوماہ جاری رہا اس کے بعدولی عہدی قبول کی گئی۔

جلسلہ ولیعہدی کاانعقاد

یکم رمضان ۲۰۱ ہجری بروزپنجشنبہ جلسہ ولیعہدی منعقدہوا،بڑی شان وشوکت اورتزک واحتشام کے ساتھ یہ تقریب عمل میں لائی گئی سب سے پہلے مامون نے اپنے بیٹے عباس کواشارہ کیااوراس نے بیعت کی، پھراورلوگ بیعت سے شرفیاب ہوئے سونے اورچاندی کے سکے سرمبارک پرنثارہوئے اورتمام ارکان سلطنت اورملازمین کوانعامات تقسیم ہوئے مامون نے حکم دیاکہ حضرت کے نام کاسکہ تیارکیاجائے، چنانچہ درہم ودیناپرحضرت کے نام کانقش ہوا، اورتمام قلمرومیں وہ سکہ چلایاگیاجمعہ کے خطبہ میں حضرت کانام نامی داخل کیاگیا۔

یہ ظاہرہے کہ حضرت کے نام مبارک کاسکہ عقیدت مندوں کے لیے تبرک اورضمانت کی حیثیت رکھتاتھا اس سکہ کوسفروحضرمیں حرزجان کے لیے ساتھ رکھنا یقینی امرتھا صاحب جنات الخلودنے بحروبرکے سفرمیں تحفظ کے لیے آپ کے توسل کاذکرکیاہے اسی کی یادگارمیں بطورضمانت بعقیدہ تحفظ ہم اب بھی سفر میں بازوپرامام ضامن ثامن کاپیسہ باندھتے ہیں ۔

علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ ۳۳ ہزارعباسی مردوزن وغیرہ کی موجودگی میں آپ کوولیعہدخلافت بنادیاگیا اس کے بعداس نے تمام حاضرین سے حضرت امام علی رضاکے لیے بیعت لی اوردربارکالباس بجائے سیاہ کے سبزقراردیاگیا جوسادات کاامتیازی لباس تھا فوج کی وردی بھی بدل دی گئی تمام ملک میں احکام شاہی نافذہوئے کہ مامون کے بعدعلی رضاتخت وتاج کے مالک ہیں اوران کالقب ہے ”الرضامن آل محمد“ حسن بن سہل کے نام بھی فرمان گیاکہ ان کے لیے بیعت عام لی جائے اورعموما اہل فوج وعمائدبنی ہاشم سبزرنگ کے پھرہرے اورسبزکلاہ وقبائیں استعمال کریں ۔

علامہ شریف جرجانی نے لکھاہے کہ قبول ولیعہدی کے متعلق جوتحریرحضرت امام علی رضاعلیہ السلام نے مامون کولکھی اس کامضمون یہ تھا کہ ”چونکہ مامون نے ہمارے ان حقوق کوتسلیم کرلیاہے جن کوان کے آباؤاجدادنے نہیں پہچاناتھا لہذامیں نے اس کی درخواست ولی عہدی قبول کرلی اگرچہ جفروجامعہ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کام انجام کونہ پہنچے گا“۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ قبول ولیعہدی کے سلسلہ میں آپ نے جوکچھ تحریرفرمایاتھا اس پرگواہ کی حیثیت سے فضل بن سہل ،سہل بن فضل ،یحی بن اکثم، عبداللہ بن طاہر، ثمامہ بن اشرس،بشربن معتمر،حمادبن نعمان وغیرہم کے دستخط تھے انہوں نے یہ بھی لکھاہے کہ امام رضاعلیہ السلام نے اس جلسہ ولیعہدی میں اپنے مخصوص عقیدت مندوں کوقریب بلاکرکان میں فرمایاتھا کہ اس تقریب پردل میں خوشی کوجگہ نہ دو ملاحظہ ہوصواعق محرقہ ص ۱۲۲ ، مطالب السول ص ۲۸۲ ، نورالابصار ص ۱۴۲ ، اعلام الوری ص ۱۹۳ ، کشف الغمہ ص ۱۱۲ ، جنات الخلودص ۳۱ ،المامون ص ۸۲ ، وسیلة النجات ص ۳۷۹ ، ارحج المطالب ص ۴۵۴ ، مسندامام رضا ص ۷ ، تاریخ طبری ،شرح مواقف ،تاریخ آئمہ ص ۴۷۲ ،تاریخ احمدی ص ۳۵۴ ،شواہدالنبوت، ینابع المودة ،فصل الخطاب ،حلیة الاولیا، روضة الصفا، عیون اخباررضا، دمعہ ساکبہ ، سوانح امام رضا۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام کی ولیعہدی کادشمنوں پراثر

تاریخ اسلام میں ہے کہ امام رضاعلیہ السلام کی ولیعہدی کی خبرسن کربغدادکے عباسی یہ خیال کرکے کہ خلافت ہمارے خاندان سے نکل چکی ہے کمال دل سوختہ ہوئے اورانہوں نے ابراہیم بن مہدی کوبغداکے تخت پربٹھادیااورمحرم ۲۰۲ ہجری میں مامون کی معزولی کااعلان کردیا بغداداوراس کے نواح میں بالکل بد نظمی پھیل گئی لچے غنڈے دن دھاڑے لوٹ مارکرنے لگے جنوبی عراق اورحجازمیں بھی معاملات کی حالت ایسی ہی خراب ہورہی تھی فضل وزیراعظم سب خبروں کوبادشاہ سے پوشیدہ رکھتاتھا مگرامام رضاعلیہ السلام نے اسے خبردارکردیا بادشاہ وزیرکی طرف سے بدگمان ہوگیامامون کوجب ان شورشوں کی خبرہوئی توبغدادکی طرف روانہ ہوگیا سرخس میں پہنچ کراس نے فضل بن سہل وزیرسلطنت کو حمام میں قتل کرادیا(تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۶۱) ۔

شمس العلماء شبلی نعمانی حضرت امام رضاکی بیعت ولیعہدی کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس انوکھے حکم نے بغدادمیں ایک قیامت انگیزہلچل مچادی اورمامون سے مخالفت کاپیمانہ لبریزہوگیا بعضوں نے (سبزرنگ وغیرہ کے اختیارکرنے کے حکم کی بہ جبرتعمیل کی مگرعام صدایہی تھی کہ خلافت خاندان عباس کے دائرہ سے باہرنہیں جاسکتی (المامون ص ۸۲) ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام جب ولی عہدخلافت مقررکئے جانے لگے مامون کے حاشیہ نشین سخت بدظن اوردل تنگ ہوگئے اوران پریہ خوف چھاگیاکہ اب خلافت بنی عباس سے نکل کر بنی فاطمہ کی طرف چلی جائے گی اوراسی تصورنے انہیں حضرت امام رضاعلیہ السلام سے سخت متنفرکردیا (نورالابصارص ۱۴۳) ۔

واقعہ حجاب

مورخین لکھتے ہیں کہ اس واقعہ ولیعہدی سے لوگوں میں اس درجہ بغض وحسداورکینہ پیداہوگیاکہ وہ لوگ معمولی معمولی باتوں پراس کامظاہرہ کردیتے تھے علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام کاولیعہدی کے بعدیہ اصول تھا کہ آپ مامون سے اکثرملنے کے لیے تشریف لے جایاکرتے تھے اورہوتایہ تھا کہ جب آپ دہلیزکے قریب پہنچتے تھے توتمام دربان اورخدام آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے اورسلام کرکے پردہ در اٹھایاکرتے تھے ایک دن سب نے مل کرطے کرلیا کہ کوئی پردہ نہ اٹھائے چنانچہ ایساہی ہوا جب امام علیہ السلام تشریف لائے توحجاب نے پردہ نہیں اٹھایامطلب یہ تھا کہ اس سے امام کی توہین ہوگی، لیکن اللہ کے ولی کوکوئی ذلیل نہیں کرسکتاجب ایساواقعہ آیاتوایک تندہوانے پرداہ اٹھایااورامام داخل دربارہوگئے پھرجب آپ واپس تشریف لائے توہوانے بدستورپردہ اٹھانے میں سبقت کی اسی طرح کئی دن تک ہوتارہا بالآخرہ وہ سب کے سب شرمندہ ہوگئے اورامام علیہ السلام کی خدمت مثل سابق کرنے لگے (نورالابصارص ۱۴۳ ،مطالب السؤل ص ۲۸۲ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۷) ۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام اورنمازعید

ولی عہدی کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ عیدکاموقع آگیامامون نے حضرت سے کہلابھیجاکہ آپ سواری پرجاکرلوگوں کونمازعیدپڑھائیں حضرت نے فرمایاکہ میں نے پہلے ہی تم سے شرط کرلی ہے کہ بادشاہت اورحکومت کے کسی کام میں حصہ نہیں لوں گااورنہ اس کے قریب جاؤں گا اس وجہ سے تم مجھ کو اس نمازعیدسے بھی معاف کردوتوبہترہے ورنہ میں نمازعیدکے لے اسی طرح جاؤں گا جس طرح میرے جدامجدحضرت محمد رسول اللہ صلعم تشریف لے جایاکرتے تھے مامون نے کہاکہ آپ کواختیارہے جس طرح چاہیں جائیں اس کے بعداس نے سواروں اورپیادوں کوحکم دیاکہ حضرت کے دروازے پہ حاضرہوں ۔

جب یہ خبرشہرمیں مشہورہوئی تولوگ عیدکے روزسڑکوں اورچھتوں پرحضرت کی سواری کی شان دیکھنے کوجمع ہوگئے، اکی بھیڑلگ گئی عورتوں اورلڑکوں سب کوآرزو تھی کہ حضرت کی زیارت کریں اورآفتاب نکلنے کے بعدحضرت نے غسل کیااورکپڑے بدلے، سفیدعمامہ سرپرباندھا،عطرلگایااورعصاہاتھ میں لے کرعیدگاہ جانے پرآمادہ ہوگئے اس کے بعدنوکروں اورغلاموں کوحکم دیاکہ تم بھی غسل کرکے کپڑے بدل لواوراسی طرح پیدل چلو۔

اس انتظام کے بعدحضرت گھرسے باہرنکلے پائجامہ آدھی پنڈلی تک اٹھالیا کپڑوں کوسمیٹ لیا، ننگے پاؤں ہوگئے اورپھردوتین قدم چل کرکھڑے ہوگئے اورسرکو آسمان کی طرف بلند کرکے کہا اللہ اکبراللہ اکبر، حضرت کے ساتھ نوکروں ، غلاموں اورفوج کے سپاہیوں نے بھی تکبرکہی راوی کابیان ہے کہ جب امام رضاعلیہ السلام تکبرکہتے تھے توہم لوگوں کومعلوم ہوتاتھا کہ درودیواراورزمین آسمان سے حضرت کی تکبیرکاجواب سنائی دیتاہے اس ہیبت کودیکھ کریہ حالت ہوئی کہ سب لوگ اورخود لشکروالے زمین پرگرپڑے سب کی حالت بدل گئی لوگوں نے چھریوں سے اپنی جوتیوں کے کل تسمے کاٹ دئیے اورجلدی جلدی جوتیاں پھینک کرننگے پاؤں ہوگئے شہربھرکے لوگ چینخ چینخ کررونے لگے ایک کہرام بپاہوگیا۔

اس کی خبرمامون کوبھی ہوگئی اس کے وزیرفضل بن سہل نے اس سے کہاکہ اگرامام رضااسی حالت سے عیدگاہ تک پہنچ جائیں گے تومعلوم نہیں کیافتنہ اورہنگام برپاہوجائے گا سب لوگ ان کی طرف ہوجائیں گے اورہم نہیں جانتے کہ ہم لوگ کیسے بچیں گے وزیرکی اس تقریرپرمتنبہ ہوکرمامون نے اپنے پاس سے ایک شخص کوحضرت کی خدمت میں بھیج کرکہلابھیجاکہ مجھ سے غلطی ہوگئی جوآپ سے عیدگاہ جانے کے لیے کہا اس سے آپ کوزحمت ہورہی ہے اورمیں آپ کی مشقت کوپسندنہیں کرتا بہترہے کہ آپ واپس چلے آئیں اورعیدگاہ جانے کی زحمت نہ فرمائیں پہلے جوشخص نمازپڑھاتاتھا وہ پڑھائے گا یہ سن کرحضرت امام رضاعلیہ السلام واپس تشریف لائے اورنمازعیدنہ پڑھاسکے (وسیلة النجات ص ۳۸۲ ، مطالب السول ص ۲۸۲ واصول کافی)۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں ،فرجع علی رضاالی بیته ورکب المامون فصلی بالناس “ کہ امام رضاعلیہ السلام دولت سراکوواپس تشریف لائے اورمامون نے جاکرنماز پڑھائی (نورالابصارص ۱۴۳) ۔

حضرت امام رضاکی مدح سرائی اوردعبل خزاعی اورابونواس

عرب کے مشہورشاعرجناب دعبل خزاعی کانام ابوعلی دعبل ابن علی بن زرین ہے آپ ۱۴۸ ہجری میں پیداکر ۲۴۵ ہجری میں بمقام شوش وفات پاگئے (رجال طوسی ۳۷۶) ۔اورابونواس کاپورانام ابوعلی حسن بن ہانی ابن عبدالاول ہوازی بصری بغدادی ہے یہ ۱۳۶ ہجری میں پیداہوکر ۱۹۶ ہجری میں فوت ہوئے دعبل آل محمدکے مدح خاص تھے اورابونواس ہارون رشیدامین ومامون کاندیم تھا۔

دعبل خزاعی کے بے شماراشعارمدح آل محمدمیں موجودہیں علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضرت امام رضاعلیہ السلام ولی عہدسطلنت تھے دعبل خزاعی ایک دن دارالسلطنت مرومیں آپ سے ملے اورانہوں نے کہاکہ حضورمیں نے آپ کی مدح میں ۱۲۰ اشعارپرمشتمل ایک قصیدہ لکھاہے میری تمناہے میں اسے سب سے پہلے حضورہی کوسناؤں حضرت نے فرمایابہترہے، پڑھو:

دعبل خزاعی نے اشعارپڑھناشروع کیا قصیدہ کامطلع یہ ہے:

ذکرت محل الربع من عرفات

فاجریت دمع العین بالعبرات

جب دعبل قصیدہ پڑھ چکے توامام علیہ السلام نے ایک سواشرفی کی تھیلی انہیں عطافرمائی دعبل نے شکریہ اداکرنے کے بعد اسے واپس کرتے ہوئے کہاکہ مولا میں نے یہ قصیدہ قربة الی اللہ کہاہے میں کوئی عطیہ نہیں چاہتا خدانے مجھے سب کچھ دے رکھاہے البتہ حضوراگرمجھے جسم سے اترے ہوئے کپڑے عنایت فرما دیں ،تووہ میری عین خواہش کے مطابق ہوگا آپ نے ایک جبہ عطاکرتے ہوئے فرمایاکہ اس رقم کوبھی رکھ لو یہ تمہارے کام آئے گی دعبل نے اسے لے لیا۔

تھوڑے عرصہ کے بعد دعبل مروسے عراق جانے والے قافلے کے ساتھ ہوکر روانہ ہوئے راستہ میں چوروں نے اورڈاکوں نے حملہ کرکے سب کچھ لوٹ لیا اورچند آدمیوں کوگرفتاربھی کرلیا جن میں دعبل بھی تھے ڈاکوؤں نے مالی تقسیم کرتے وقت دعبل کاایک شعرپڑھا دعبل نے پوچھایہ کس کاشعرہے انہوں نے کسی کاہوگا دعبل نے کہاکہ یہ میراشعرہے اس کے بعدانہوں نے ساراقصیدہ سنادیا ان لوگوں نے دعبل کے صدقے میں سب کوچھوڑدیا اورسب کامال واپس کردیا یہاں تک کہ یہ نوبت آئی کہ ان لوگوں نے واقعہ سن کرامام رضاکادیاہواجبہ خریدناچاہا،اوراس کی قیمت ایک ہزاردینارلگائی دعبل نے جواب دیا کہ یہ میں نے بطورتبرک اپنے پاس رکھاہے اسے فروخت نہ کروں گا بالآخرباربار گرفتارہونے کے بعد انہوں نے اسے ایک ہزاراشرفی پرفروخت کردیا ۔

علامہ شبلنجی بحوالہ ابوصلت ہروی لکھتے ہیں کہ دعبل نے جب امام رضاکے سامنے یہ قصیدہ پڑھاتھاتوآپ رورہے تھے اورآپ نے دوبیتوں کے بارے میں فرمایاتھاکہ یہ اشعارالہامی ہیں (نورالابصارص ۱۳۸) ۔

علامہ عبدالرحمن لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے قصیدہ سنتے ہوئے نفس زکیہ کے تذکرہ پرفرمایاکہ ائے دعبل اس جگہ ایک شعرکااوراضافہ کرو، تاکہ تمہاراقصیدہ مکمل ہوجائے انہوں نے عرض کی مولافرمائیے ارشادہوا:

وقبربطوس نالها من مصیبة

الحت علی الاحشاء بالزفرات

دعبل نے گھبراکے پوچھامولا، یہ کس کی قبرہوگی، جس کاحضورنے حوالہ دیاہے فرمایاائے دعبل یہ قبرمیری ہوگی اورمیں عنقریب اس عالم میں غربت میں جب کہ میرے اعزاواقرباء بال بچے مدینہ میں ہیں شہیدکردیاجاؤں گا اورمیری قبریہیں بنے گی اے دعبل جومیری زیارت کو آئے گاجنت میں میرے ہمراہ ہوگا (شواہدالنبوت ص ۱۹۹) ۔

دعبل کایہ مشہورقصیدہ مجالس المومنین ص ۴۶۶ میں مکمل منقول ہے البتہ اس کامطلع بدلاہواہے علامہ شیخ عباس قمی نے لکھاہے کہ دعبل نے ایک کتاب لکھی تھی جس کانام تھا”طبقات الشعراء“ (سفینة البحار جلد ۱ ص ۲۴۱) ۔

ابونواس کے متعلق علماء اسلام لکھتے ہیں کہ ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے کہا کہ تم اکثرشعارکہتے ہواورپھرمدح بھی کیاکرتے ہولیکن افسوس کی بات ہے کہ تم نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کی مدح میں اب تک کوئی شعرنہیں کہااس نے جواب دیاکہ حضرت کی جلالت قدرہی نے مجھے مدح سرائی سے روکاہے میری ہمت نہیں پڑتی کہ آپ کی مدح کروں یہ کہہ کراس نے چندشعرپڑھے جس کاترجمہ یہ ہے:

لوگوں نے مجھ سے کہاکہ عمدہ کلام کے ہررنگ اورمذاق کے اشعارسب لوگوں سے سننے والوں کے سامنے موتی جھڑتے ہیں پھرتم نے حضرت کے فضائل ومناقب میں کوئی قصیدہ کیوں نہیں کہا؟ تومیں نے سب کے جواب میں کہہ دیاکہ بھائیوجن جلیل الشان امام کے آبائے کرام کے خادم جبرئیل ایسے فرشتے ہوں ان کی مدح کرنامجھ سے ممکن نہیں ہے ۔

اس کے بعداس نے چنداشعارآپ کی مدح میں لکھے جس کاترجمہ یہ ہے:

یہ حضرات آئمہ طاہرین خداکے پاک وپاکیزہ کئے ہوئے ہیں اوران کالباس بھی طیب وطاہر ہے جہاں بھی ان کاذکرہوتاہے وہاں ان پردرودکانعرہ بلندہوجاتاہے جب حسب ونسب بیان ہوتے وقت کوئی شخص علوی خاندان کانہ نکلے تواس کوابتدائے زمانہ سے کوئی فخرکی بات نہیں ملے گی جب خدانے سب سے زیادہ شریف بھی قراردیااورسب پرفضیلت بھی دی، میں سچ کہتاہوں کہ آپ حضرات ہی ملااعلی ہیں اورآپ ہی کے پاس قرآن مجیدکاعلم اورسوروں کے مطالب ومفاہیم ہیں “ (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۳۲۲ ،نورالابصارص ۱۳۸ طبع مصر)۔

مذاہب عالم کے علماء سے حضرت امام رضاکے علمی مناظرے

مامون رشیدکوخودبھی علمی ذوق تھا اس نے ولی عہدی کے مرحلہ کوطے کرنے کے بعدحضرت امام علی رضاعلیہ السلام سے کافی استفادہ کیاپھراپنے ذوق کے تقاضے پراس نے مذاہب عالم کے علماء کودعوت مناظرہ دی اورہرطرف سے علماء کوطلب کرکے حضرت امام رضاعلیہ السلام سے مقابلہ کرایاعہدمامون میں امام علیہ السلام سے جس قدرمناظرے ہوئے ہیں ان کی تفصیل اکثرکتب میں موجودہے اس سلسلہ میں احتجاجی طبرسی ،بحار،دمعہ ساکبہ، وغیرہ جیسی کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں ،میں اختصارکے پیش نظرصرف دوچارمناظرے لکھتاہوں ۔

عالم نصاری سے مناظرہ

مامون رشیدکے عہدمیں نصاری کاایک بہت بڑاعالم ومناظرشہرت عامہ رکھتاتھا جس کانام ”جاثلیق“ تھااس کی عادت تھی کہ متکلمین اسلام سے کہا کرتاتھا کہ ہم تم دونوں نبوت عیسی اوران کی کتاب پرمتفق ہیں اوراس بات پربھی اتفاق رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پرزندہ ہیں اختلاف ہے توصرف نبوت محمد مصطفی صلعم میں ہے تم ان کی نبوت کااعتقادرکھتے ہو اورہمیں انکارہے پھرہم تم ان کی وفات پرمتفق ہوگئے ہیں اب ایسی صورت میں کونسی دلیل تمہارے پاس باقی ہے جوہمارے لیے حجت قرارپائے یہ کلام سن کراکثرمناظرخاموش ہوجایاکرتے تھے ۔

مامون رشیدکے اشارے پرایک دن وہ حضرت امام رضاعلیہ السلام سے بھی ہم کلام ہواموقع مناظرہ میں اس نے مذکورہ سوال دھراتے ہوئے کہاکہ پہلے آپ یہ فرمائیں کہ حضرت عیسی کی نبوت اوران کی کتاب دونوں پرآپ کاایمان واعتقادہے یانہیں آپ نے ارشادفرمایا، میں اس عیسی کی نبوت کایقینا اعتقادرکھتاہوں جس نے ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلعم کی نبوت کی اپنے حوارین کوبشارت دی ہے اوراس کتاب کی تصدیق کرتاہوں جس میں یہ بشارت درج ہے جوعیسائی اس کے معترف نہیں اورجوکتاب اس کی شارح اورمصدق نہیں اس پرمیراایمان نہیں ہے یہ جواب سن کرجاثلیق خاموش ہوگیا۔

پھرآپ نے ارشادفرمایاکہ ائے جاثلیق ہم اس عیسی کوجس نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی بشارت دی ،نبی برحق جانتے ہیں مگرتم ان کی تنقیص کرتے ہو، اورکہتے ہو کہ وہ نمازروزہ کے پابندنہ تھے جاثلیق نے کہا کہ ہم تویہ نہیں کہتے وہ توہمیشہ قائم اللیل اورصائم النہاررہاکرتے تھے آپ نے فرمایاعیسی توبنابراعتقادنصاری خودمعاذاللہ خداتھے تویہ روزہ اورنمازکس کے لیے کرتے تھے یہ سن کرجاثلیق مبہوت ہوگیااورکوئی جواب نہ دے سکا۔

البتہ یہ کہنے لگاکہ جومردوں کوزندہ کرے جذامی کوشفادے نابیناکوبیناکردے اورپانی پرچلے کیاوہ اس کاسزاوارنہیں کہ اس کی پرستش کی جائے اوراسے معبود سمجھاجائے آپ نے فرمایاالیسع بھی پانی پرچلتے تھے اندھے کوڑی کوشفادیتے تھے اسی طرح حزقیل پیغمبرنے ۳۵ ہزارانسانوں کوساٹھ برس کے بعدزندہ کیا تھا قوم اسرائیل کے بہت سے لوگ طاعون کے خوف سے اپنے گھرچھوڑکرباہرچلے گئے تھے حق تعالی نے ایک ساعت میں سب کوماردیا بہت دنوں کے بعدایک نبی استخوان ہائے بوسیدہ پرگزرے توخداوندتعالی نے ان پروحی نازل کی کہ انہیں آوازدوانہوں نے کہاکہ ائے استخوان بالیہ”استخوان مردہ) اٹھ کھڑے ہووہ سب بحکم خدااٹھ کھڑے ہوئے اسی طرح حضرت ابراہیم کے پرندوں کو زندہ کرنے اورحضرت موسی کے کوہ طورپرلے جانے اوررسول خداکے احیاء اموات فرمانے کاحوالہ دے کرفرمایاکہ ان چیزوں پرتورات انجیل اورقرآن مجیدکی شہادت موجودہے اگرمردوں کوزندہ کرنے سے انسان خداہوسکتا ہے تو یہ سب انبیاء بھی خداہونے کے مستحق ہیں یہ سن کروہ چپ ہوگیااوراس نے اسلام قبول کرنے کے سوااورکوئی چارہ نہ دیکھا۔

عالم یہودسے مناظرہ

عالم یہودمیں سے ایک عالم جس کانام”راس الجالوت“ تھا کواپنے علم پربڑا غروراورتکبرونازتھاوہ کسی کوبھی اپنی نظرمیں نہ لاتاتھاایک دن اس کامناظرہ اورمباحثہ فرزندرسول حضرت امام رضاعلیہ السلام سے ہوگیاآپ سے گفتگوکے بعداس نے اپنے علم کی حقیقت جانی اورسمجھاکہ میں خودفریبی میں مبتلاہوں ۔

امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہونے کے بعد اس نے اپنے خیال کے مطابق بہت سخت سوالات کئے جن کے تسلی بخش اوراطمینان آفرین جوابات سے بہرہ ورہوا جب وہ سوالات کرچکاتو امام علیہ السلام نے فرمایاکہ اے راس الجالوت ! تم تورات کی اس عبارت کاکیامطلب سمجھتے ہوکہ ”آیانورسیناسے روشن ہوا جبل ساعیرسے اورظاہرہواکوہ فاران سے“ اس نے کہاکہ اسے ہم نے پڑھاضرورہے لیکن اس کی تشریح سے واقف نہیں ہوں ۔

آپ نے فرمایاکہ نورسے وحی مرادہے طورسیناسے وہ پہاڑمرادہے جس پرحضرت موسی خداسے کلام کرتے تھے جبل ساعیرسے محل ومقام عیسی علیہ السلام مراد ہے کوہ فاران سے جبل مکہ مرادہے جوشہرسے ایک منزل کے فاصلے پرواقع ہے پھرفرمایاتم نے حضرت موسی کی یہ وصیتت دیکھی ہے کہ تمہارے پاس بنی اخوان سے ایک نبی آئے گا اس کی بات ماننااوراس کے قول کی تصدیق کرنااس نے کہا ہاں دیکھی ہے آپ نے پوچھاکہ بنی اخوان سے کون مرادہے اس نے کہا معلوم نہیں ، آپ نے فرمایاکہ وہ اولاداسماعیل ہیں ، کیوں کہ وہ حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے ہیں اوربنی اسرائیل کے مورث اعلی حضرت اسحاق بن ابراہیم کے بھائی ہیں اورانہیں سے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔

اس کے بعدجبل فاران والی بشارت کی تشریح فرماکرکہاکہ شعیانبی کاقول توریت میں مذکورہے کہ میں نے دوسواردیکھے کہ جن کے پرتوسے دنیاروشن ہوگئی، ان میں ایک گدھے پرسواری کئے تھااورایک اونٹ پر، اے راس الجالوت تم بتلاسکتے ہوکہ اس سے کون مرادہیں ؟ اس نے انکارکیا، آپ نے فرمایاکہ راکب الحمارسے حضرت عیسی اورراکب الجمل سے مرادحضرت محمدمصطفی صلعم ہیں ۔

پھرآپ نے فرمایاکہ تم حضرت حبقوق نبی کے اس قول سے واقف ہو کہ خدااپنابیان جبل فاران سے لایااورتمام آسمان حمدالہی کی (آوازوں ) سے بھرگئے اسکی امت اوراس کے لشکرکے سوارخشکی اورتری میں جنگ کرینگے ان پرایک کتاب آئے گی اورسب کچھ بیت المقدس کی خرابی کے بعدہوگا اس کے بعدارشادفرمایاکہ یہ بتاؤکہ تمہارے پاس حضرت موسی علیہ السلام کی نبوت کی کیادلیل ہے اس نے کہاکہ ان سے وہ امورظاہرہوئے ،جوان سے پہلے کے انبیاء پرنہیں ہوئے تھے مثلادریائے نیل کاشگافتہ ہونا،عصاکاسانپ بن جانا، ایک پتھرسے بارہ چشمہ جاری ہوجانااوریدبیضاوغیرہ ،

آپ نے فرمایاکہ جوبھی اس قسم کے معجزات کوظاہرکرے اورنبوت کامدعی ہو،اس کی تصدیق کرنی چاہیے اس نے کہانہیں آپ نے فرمایاکیوں ؟ کہااس لیے کہ موسی کوجوقربت یامنزلت حق تعالی کے نزدیک تھی وہ کسی کونہیں ہوئی لہذاہم پرواجب ہے کہ جب تک کوئی شخص بعینہ وہی معجزات وکرامات نہ دکھلائے ہم اس کی نبوت کااقرارنہ کریں ،ارشادفرمایاکہ تم موسی سے پہلے انبیاء مرسلین کی نبوت کاکس طرح اقرارکرتے ہو حالانکہ انہوں نے نہ کوئی دریاشگافتہ کیا، نہ کسی پتھرسے چشمے نکالے نہ ان کاہاتھ روشن ہوا،ا ورنہ ان کاعصااژدھابنا،راس الجالوت نے کہاکہ جب ایسے اموروعلامات خاص طورسے ان سے ظاہرہوں جن کے اظہارسے عموماتمام خلائق عاجزہو،تووہ اگرچہ بعینہ ایسے معجزات ہوں یانہ ہوں ان کی تصدیق ہم پرواجب ہوجائے گی حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایاکہ حضرت عیسی بھی مردوں کوزندہ کرتے تھے کورمادرنوزادکوبینابناتے تھے مبروص کوشفادیتے تھے مٹی کی چڑیابناکرہوامیں اڑاتے تھے وہ یہ امورہیں جن سے عام لوگ عاجزہیں پھرتم ان کوپیغمبرکیوں نہیں مانتے؟

راس الجالوت نے کہاکہ لوگ ایساکہتے ہیں ، مگرہم نے ان کوایساکرتے دیکھانہیں ہے فرمایاتوکیاآیات ومعجزات موسی کوتم نے بچشم خوددیکھاہے آخروہ بھی تومعتبرلوگوں کی زبانی سناہی ہوگاویساہی اگرعیس کے معجزات ثقہ اورمعتبرلوگوں سے سنو،توتم کوان کی نبوت پرایمان لاناچاہئے اوربالکل اسی طرح حضرت محمدمصطفی کی نبوت ورسالت کااقرارآیات ومعجزات کی روشنی میں کرناچاہیئے سنوان کاعظیم معجزہ قرآن مجیدہے جس کی فصاحت وبلاغت کاجواب قیامت تک نہیں دیاجاسکے گا یہ سن کروہ خاموش ہوگیا۔

عالم مجوسی سے مناظرہ

مجوسی یعنی آتش پرست کاایک مشہورعالم ہربذاکبر حضرت امام رضاعلیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرعلمی گفتگوکرنے لگاآپ نے اس کے سوالات کے مکمل جوابات عنایت فرمائے اس کے بعداس سے سوال کیاکہ تمہارے پاس رزتشت کی نبوت کی کیادلیل ہے اس نے کہاکہ انہوں نے ہماری ایسی چیزوں کی طرف رہبری فرمائی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے رہنمائی نہیں کی تھی ہمارے اسلاف کہاکرتے تھے کہ زرتشت نے ہمارے لیے وہ ا مورمباح کئے ہیں کہ ان سے پہلے کسی نے نہیں کئے تھے آپ نے فرمایاکہ تم کو اس امرمیں کیاعذرہوسکتاہے کہ کوئی شخص کسی نبی اوررسول کے فضائل وکمالات تم پرروشن کرے اورتم اس کے ماننے میں پس وپیش کرو، مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم نے معتبرلوگوں سے سن کرزرتشت کی نبوت مان لی اسی طرح معتبرلوگوں سے سن کرانبیاء اوررسل کی نبوت کے ماننے میں تمہیں کیاعذرہوسکتاہے؟ یہ سن کروہ خاموش ہوگیا۔

آپ کی تصانیف

علماء نے آپ کی تصانیف میں صحیفة الرضا،صحیفةالرضویہ، طب الرضااور مسندامام رضاکاحوالہ دیاہے اوربتایاہے کہ یہ آپ کی تصانیف ہیں صحیفة الرضاکاذکر علامہ مجلسی علامہ طبرسی اورعلامہ زمخشری نے کیاہے اس کااردوترجمہ حکیم اکرام الرضالکھنوی نے طبع کرایاتھااب جوتقریباناپیدہے۔

صحیفة الرضویہ کاترجمہ مولوی شریف حسین صاحب بریلوی نے کیاہے طب الرضاکاذکرعلامہ مجلسی شیخ منتخب الدین نے کیاہے اس کی شرح فضل اللہ بن علی الراوندی نے لکھی ہے اسی کورسالہ ذھبیہ بھی کہتے ہیں اوراس کاترجمہ مولاناحکیم مقبول احمدصاحب قبلہ مرحوم نے بھی کیاہے اس کاتذکرہ شمس العلماء شبلی نعمانی نے المامون ص ۹۲ میں کیاہے مسندامام رضاکاذکرعلامہ چلیپی نے کتاب کشف الظنون میں کیاہے جس کوعلامہ عبداللہ امرت سری نے کتاب ارجح المطالب کے ص ۴۵۴ پرنقل کیاہے ناچیزمؤلف کے پاس یہ کتاب مصرکی مطبوعہ موجودہے یہ کتاب ۱۳۲۱ ہجری میں چھپی ہے اوراس کے مرتب علامہ شیخ عبدالواسع مصری اورمحشی علامہ محمدابن احمدہیں ۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام نے ماء اللحم بنانے اورموسمیات کے متعلق جوافادہ فرمایاہے اس کاذکرکتابوں میں موجودہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو(دمعہ ساکبہ وغیرہ)۔

مامون رشیدعباسی اورحضرت امام رضاعلیہ السلام کی شہادت

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ غیرمعصوم ارباب اقتدارہوس حکمرانی میں کسی قسم کاصرفہ نہیں کرتے اگرحصول حکومت یاتحفظ حکمرانی میں باپ بیٹے، ماں بیٹی یامقدس سے مقدس ترین ہستیوں کوبھینٹ چڑھادے ،تووہ اس کی پرواہ نہیں کیاکرتے اسی بناء پرعرب میں مثل کے طورپرکہاجاتاہے کہ الملک عقیم، علامہ وحیدالزمان حیدرآبادی لکھتے ہیں کہ الملک عقیم بادشاہت بانجھ ہے یعنی بادشاہت حاصل کرنے کے لیے باپ بیٹے کی پرواہ نہیں کرتابیٹاباپ کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ ایسابھی ہوجاتاہے کہ بیٹاباپ کومارکرخودبادشاہ بن جاتاہے (انواراللغة پارہ ۸ ص ۱۷۳) ۔

اب اس ہوس حکمرانی میں کسی مذہب اورعقیدہ کاسوال نہیں ہروہ شخص جواقتدارکابھوکاہوگاوہ اس قسم کی حرکتیں کرے گا۔

مثال کے لیے اسلامی تواریخ کی روشنی میں حضوررسول کریم کی وفات کے فورابعدکے واقعات کودیکھیے جناب سیدہ کے مصائب وآلام اوروجہ شہادت پرغور کیجیے امام حسن کے ساتھ برتاؤپرغورفرمائیے ،واقعہ کربلااورشہادت کے واقعات کوملاحظہ کیجیے ان امورسے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ حکمرانی کے لیے کیاکیا مظالم کیے جاسکتے ہیں اورکیسی کیسی ہستیوں کی جانیں لی جاسکتی ہیں اورکیاکچھ کیاجاسکتاہے تواریخ میں موجودہے کہ مامون رشیدعباسی کی دادی نے اپنے بیٹے خلیفہ ہادی کو ۲۶ سال کی عمرمیں زہردلوکرماردیامامون رشیدکے باپ ہارون رشیدنے اپنے وزیروں کے خاندان کوتباہ وبربادکردیا(المامون ص ۲۰) ۔

مروان کی بیوی نے اپنے خاوندکوبسترخواب پردوتکیوں سے گلاگھٹواکرمروادیا ولیدبن عبدالملک نے فرزندرسول امام زین العابدین کوزہرسے شہیدکیاہشام بن عبدالملک نے امام محمدباقرکوزہرسے شہیدکیا امام جعفرصادق کومنصوردوانقی نے زہرسے شہیدکیا امام موسی کاظم کوہارون رشیدنے زہرسے شہیدکیا امام علی رضاعلیہ السلام کومامون عباسی نے زہردیے کرشہیدکیاامام محمدتقی کومعتصم باللہ نے ام الفضل بنت مامون کے ذریعہ سے زہردلوایا امام علی نقی کومعتمدعباسی نے زہرسے شہیدکیا اسی طرح امام حسن عسکری کوبھی زہرسے شہیدکیاگیا غرضیکہ حکومت کے سلسلے میں یہ سب کچھ ہوتارہتاہے اورنگ زیب کودیکھیے اس نے اپنے بھائی کوقتل کرادااوراپنے باپ کوسلطنت سے محروم کرکے قیدکردیاتھا اسی نے شہیدثالث حضرت نوراللہ شوشتری (آگرہ)کی زبان گدی سے کھچوائی تھی بہرحال جس طرح سب کے ساتھ ہوتارہا حضرت امام رضاعلیہ السلام کے ساتھ بھی ہوا۔

تاریخ شہادت

حضرت امام رضاعلیہ السلام کی شہادت ۲۳/ ذی قعدہ ۲۰۳ ہجری مطابق ۸۱۸ ء یوم جمعہ کوبمقام طوس واقع ہوئی ہے (جلاء العیون ص ۲۸۰ ،انوراالنعمانیہ ص ۱۲۷ ، جنات الخلود ص ۳۱) ۔

آپ کے پاس اس وقت عزاء واقربا اولادوغیرہ میں سے کوئی نہ تھا ایک توآپ خودمدینہ سے غریب الوطن ہوکرآئے دوسرے یہ کہ دارالسلطنت مرومیں بھی آپ نے وفات پائی بلکہ آپ سفر کی حالت میں بعالم غربت فوت ہوئے اسی لیے آپ کوغریب ا لغرباء کہتے ہیں ۔

واقعہ شہادت کے متعلق مورخین نے لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایاتھا کہ ”فمایقتلنی واللہ غیرہ“ خداکی قسم مجھے مامون کے سواء کوئی اورقتل نہیں کرے گا اورمیں صبرکرنے پرمجبورہوں (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۷۱) ۔علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ہرثمہ بن اعین سے آپ نے اپنی وفات کی تفصیل بتلائی تھی اوریہ بھی بتایاتھا کہ انگوراورانارمیں مجھے زہردیاجائے گا(نورالابصارص ۱۴۴) ۔

علامہ معاصرلکھتے ہیں کہ ایک روزمامون نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کواپنے گلے سے لگایااورپاس بٹھاکران کی خدمت میں بہترین انگوروں کاایک طبق رکھا اوراس میں سے ایک خوشااٹھاکرآپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہاابن رسول اللہ یہ انگورنہایت ہی عمدہ ہیں تناول فرمائیے آپ نے یہ کہتے ہوئے انکارفرمایاکہ جنت کے انگوراس سے بہترہیں اس نے شدید اصرارکیااورآپ نے اس میں سے تین دانے کھالیے یہ انگورکے دانے زہرآلودتھے انگورکھانے کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے ،مامون نے پوچھاآپ کہاں جارہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تونے بھیجاہے وہاں جارہاہوں قیام گاہ پرپہنچنے کے بعد آپ تین دن تک تڑپتے رہے بالآخرانتقال فرماگئے (تاریخ آئمہ ص ۴۷۶) ۔

انتقال کے بعدحضرت امام محمدتقی علیہ السلام باعجازتشریف لائے اورنمازجنازہ پڑھائی اورآپ واپس چلے گئے بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ آپ سے ملے مگرنہ مل سکا(مطالب السول ص ۲۸۸) اس کے بعدآپ کوبمقام طوس محلہ سنابادمیں دفن کردیاگیا جوآج کل مشہدمقدس کے نام سے مشہورہے اوراطراف عالم کے عقیدت مندوں کے حوائج کامرکزہے۔

شہادت امام رضاکے موقع پرامام محمدتقی کاخراسان پہنچنا

ابومخنف کابیان ہے کہ جب حضرت امام رضاعلیہ السلام کو خراسان میں زہردیدیااورآپ بسترعلالت پرکروٹیں لینے لگے ،توخداوندعالم نے امام محمدتقی کووہاں بھیجنے کابندوبست کیاچنانچہ امام محمدتقی جب کہ مسجدمدینہ میں مشغول عبادت تھے ایک ہاتف غیبی نے آوازدی کہ ”اگرمی خواہی پدرخودرازندہ دریابی قدم درراہ نہ“ اگرآپ اپنے والدبزرگوارسے ان کی زندگی میں ملناچاہتے ہیں توفوراخراسان کے لیے روانہ ہوجائیں یہ آوازسنناتھا کہ آپ مسجدسے برآمدہوکر داخل خانہ ہوئے اورآپ نے اپنے اعزاواقرباکوشہادت پدرسے آگاہ کیا ،گھرمیں کہرام برپاہوگیااس کے بعدآپ وہاں سے روانہ ہوکرایک ساعت میں خراسان پہنچے وہاں پہنچ کردیکھاکہ دربان نے دروازہ بندکررکھاہے آپ نے فرمایاکہ دروازہ کھول دو میں اپنے پدربزرگوارکی خدمت میں جاناچاہتاہوں آپ کی آوازسنتے ہی امام علیہ السلام خوداپنے بسترسے اٹھے اوردروزاہ کھول کرامام محمدتقی کواپنے گلے سے لگالیا اوربے پناہ گریہ کیا امام محمدتقی پدربزرگوارکی بے بسی ،بے کسی اورغربت پرآنسوبہانے لگے پھرامام علیہ السلام تبرکات امامت فرزندکے سپردکرکے راہی ملک بقاہوگئے”اناللہ واناالیہ راجعون“۔ (کنزالانساب ص ۹۵) ۔

علامہ شیخ عباس قمی بحوالہ اعلام الوری تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کوجونہی خبرشہادت ملی ،خراسان تشریف لے گئے اوراپنے والدبزرگوارکو دفن کرکے ایک ساعت میں واپس آئے اوریہاں پہنچ کرلوگوں کوحکم دیاکہ امام علیہ السلام کاماتم کریں (منتہی الآمال جلد ۲ ص ۳۱۲) ۔


حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

ولادت باسعادت

علماء کابیان ہے کہ امام المتقین حضرت امام محمدتقی علیہ السلام بتاریخ ۱۰/ رجب المرجب ۱۹۵ ہ بمطابق ۸۱۱ ء یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے تھے (روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۶ ،شواہدالنبوت ص ۲۰۴ ، انورالنعمانیہ ص ۱۲۷) ۔

علامہ یگانہ جناب شیخ مفیدعلیہ الرحمة فرماتے ہیں چونکہ حضرت امام علی رضاعلیہ ا لسلام کے کوئی اولادآپ کی ولادت سے قبل نہ تھی اس لئے لوگ طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں یہ سن کرحضرت امام رضاعلیہ السلام نے ارشادفرمایاکہ اولادکاہونا خداکی عنایت سے متعلق ہے اس نے مجھے صاحب اولادکیاہے اورعنقریب میرے یہاں مسندامامت کاوارث پیداہوگا چنانچہ آپ کی ولادت باسعادت ہوئی (ارشاد ص ۴۷۳) ۔

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے ارشادفرمایاتھا کہ میرے یہاں جوبچہ عنقریب پیداہوگا وہ عظیم برکتوں کاحامل ہوگا (اعلام الوری ص ۲۰۰) ۔

واقعہ ولادت کے متعلق لکھاہے کہ امام رضاعلیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے بھائی نے مجھے بلاکر کہاکہ آج تم میرے گھرمیں قیام کرو،کیونکہ خیزران کے بطن سے آج رات کوخدامجھے ایک فرزندعطافرمائے گا ،میں نے خوشی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی جب رات آئی توہمسایہ کی اورچندعورتیں بھی بلائی گئیں ، نصف شب سے زیادہ گزرنے پریکایک وضع حمل کے آثارنمودارہوئے یہ حال دیکھ کر میں خیزران کوحجرہ میں لے گئی، اورمیں نے چراغ روشن کردیا تھوڑی دیرمیں امام محمدتقی علیہ السلام پیداہوئے میں نے دیکھاکہ وہ مختون اورناف بریدہ ہیں ولادت کے بعدمیں نے انہیں نہلانے کے لیے طشت میں بٹھایا، اس وقت جوچراغ روشن تھا وہ گل ہوگیامگرپھربھی اس حجرہ میں روشنی بدستوررہی ،اوراتنی روشنی رہی کہ میں نے آسانی سے بچہ کونہلادیا،

تھوڑی دیرمیں میرے بھائی امام رضاعلیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے میں نے نہایت عجلت کے ساتھ صاحبزادے کوکپڑے میں لپیٹ کر حضرت کی آغوش میں دیدیا آپ نے سراورآنکھوں پربوسہ دیے کرپھرمجھے واپس کردیا، دودن تک امام محمدتقی علیہ السلام کی آنکھیں بندرہیں تیسرے دن جب آنکھیں کھلیں تو آپ نے سب سے پہلے آسمان کی طرف نظرکی پھرداہنے بائیں دیکھ کرکلمہ شہادتین زبان پرجاری کیا میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوئی اورمیں نے ساراماجرا اپنے بھائی سے بیان کیا، آپ نے فرمایاتعجب نہ کرو، یہ میرا فرزندحجت خدااوروصی رسول ہدی ہے اس سے جوعجائبات ظہورپذیرہوں ،ان میں تعجب کیا؟ محمدبن علی ناقل ہیں کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان اسی طرح مہر امامت تھی جس طرح دیگرآئمہ علیہم السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان مہریں ہواکرتی تھیں (مناقب)۔

نام کنیت اورالقاب

آپ کااسم گرمی ،لوح محفوظ کے مطابق ان کے والدماجدحضرت امام رضاعلیہ السلام نے ”محمد“ رکھا آپ کی کنیت ”ابوجعفر“ اورآپ کے القاب جواد،قانع، مرتضی تھے اورمشہورترین لقب تقی تھا (روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۶ ، شواہدالنبوت ص ۲۰۲ ، اعلام الوری ص ۱۹۹) ۔

بادشاہان وقت

حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی ولادت ۱۹۵ ہ میں ہوئی اس وقت بادشاہ وقت ،امین ابن ہارون رشیدعباسی تھا(وفیات الاعیان)۔

۱۹۸ ہجری میں مامون رشیدبادشاہ وقت ہوا(تاریخ خمیس وابوالفداء) ۲۱۸ ہجری میں معتصم عباسی خلیفہ وقت مقررہوا(ابوالفداء)۔

اسی معتصم نے ۲۲۰ ہجری میں آپ کوزہرسے شہیدکرادیا(وسیلة النجات)۔

امام محمدتقی کی نشونمااورتربیت

یہ ایک حسرتناک واقعہ ہے کہ امام محمدتقی علیہ السلام کونہایت کمسنی ہی کے زمانہ میں مصائب اورپریشانیوں کامقابلہ کرنے کے لیے تیارہوجانا پڑاانہیں بہت ہی کم اطمینان اورسکون کے لمحات میں ماں باپ کی محبت اورشفقت وتربیت کے سایہ میں زندگی گزارنے کاموقع مل سکا آپ کوصرف پانچ برس تھا،جب حضرت امام رضاعلیہ السلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفرکرنے پرمجبورہوئے امام محمدتقی علیہ السلام اس وقت سے جواپنے باپ سے جداہوئے توپھرزندگی میں ملاقات کاموقع نہ ملا،امام محمدتقی علیہ السلام سے جداہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السلام کی وفات ہوگئی، دنیاسمجھتی ہوگی کہ امام محمدتقی کے لیے علمی اورعملی بلندیوں تک پہنچنے کاکوئی ذریعہ نہیں رہا، اس لیے اب امام جعفرصادق علیہ السلام کی علمی مسندشایدخالی نظرآئے مگر خالق خداکی حیرت کی ا نتہا نہ رہی جس اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعدمامون کے پہلومیں بیٹھ کربڑے بڑے علماء سے فقہ وحدیث وتفسیراورکلام پرمناظرے کرتے اوران سب کوقائل ہوجاتے دیکھا ان کی حیرت اس وقت تک دور ہوناممکن نہ تھی جب تک وہ مادی اسباب کے آگے ایک مخصوص خداوندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے جس کے بغیریہ معمہ نہ حل ہوا، اورنہ کبھی حل ہوسکتاہے (سوانح امام محمدتقی ص ۴) ۔

مقصدیہ ہے کہ امام کوعلم لدنی ہوتاہے یہ انبیاء کی طرح پڑھے لکھے اورتمام صلاحیتوں سے بھرپورپیداہوتے ہیں انہوں نے سرورکائنات کی طرح کبھی کسی کے سامنے زانوئے تلمذ نہیں تہ کیا اورنہ کرسکتے تھے، یہ اس کے بھی محتاج نہیں ہوتے تھے کہ آباؤاجدادانہیں تعلیم دیں ، یہ اوربات ہے کہ ازدیادعلم وشرف کے لیے ایساکردیاجائے، یاعلوم مخصوصہ کی تعلیم دیدی جائے۔

والدماجدکے سایہ عاطفیت سے محرومی

یو ں توعمومی طورپرکسی کے باپ کے مرنے سے سایہ عاطفت سے محرومی ہواکرتی ہے لیکن حضرت امام محمدتقی علیہ السلام اپنے والدماجدکے سایہ عاطفت سے ان کی زندگی ہی میں محروم ہوگئے تھے،ابھی آپ کی عمر ۶ سال کی بھی نہ ہونے پائی تھی کہ آپ اپنے پدربزرگوارکی شفقت وعطوفت سے محروم کردیئے گئے اورمامون رشیدعباسی نے آپ کے والدماجدحضرت امام رضاعلیہ السلام کواپنی سیاسی غرض کے ماتحت مدینہ سے خراسان طلب کرلیا۔

اورساتھ ہی یہ شق بھی لگادی کہ آپ کے بال بچے مدینہ ہی میں رہیں گے جس کانتیجہ یہ ہواکہ آپ سب کوہمیشہ کے لیے خیربادکہہ کرخراسان تشریف لے گئے اوروہیں عالم غربت میں سب سے جدامامون رشیدکے ہاتھوں ہی شہیدہوکردنیاسے رخصت ہوگئے۔

آپ کے مدینہ سے تشریف لے جانے کااثرخاندان پریہ پڑا کہ سب کے دل کاسکون جاتارہااورسب کے سب اپنے کوزندہ درگورسمجھتے رہے بالاخروہ نوبت پہنچی ، کہ آپ کی ہمشیرہ جناب فاطمہ جوبعدمیں ”معصومہ قم“ کے نام سے ملقب ہوئیں ،انتہائی بے چینی کی حالت میں گھر سے نکل کرخراسان کی طرف روانہ ہوئیں ،ان کے دل میں جذبات یہ تھے کہ کسی طرح اپنے بھائی علی رضاعلیہ السلام سے ملیں ، لیکن ایک روایت کی بناء پرآپ مدینہ سے روانہ ہوکرجب مقام ساوہ میں پہنچیں توعلیل ہوگئیں ، آپ نے پوچھاکہ یہاں سے قم کتنی دورہے؟ لوگوں نے کہاکہ یہاں سے قم کی مسافت دس فرسخ ہے، آپ نے خواہش کی کہ کسی صورت سے وہاں پہنچادی جائیں ، چنانچہ آپ آل سعدکے رئیس موسی بن خزرج کی کوششوں سے وہاں پہنچیں اوراسی کے مکان میں ۱۷/ یوم بیمار رہ کراپنے بھائی کوروتی پیٹتی دنیاسے رخصت ہوگئیں اورمقام ”بابلان“ قم میں دفن ہوئیں یہ واقعہ ۲۰۱ ہجری کاہے (انوارالحسینیہ جلد ۴ ص ۵۳) ۔

اورایک روایت کی بناپرآپ اس وقت خراسان پہنچیں جب بھائی شہیدہوچکاتھا اورلوگ دفن کے لیے کالے کالے علموں کے سایہ میں لیے جارہے تھے آپ قم آکروفات پاگئیں ۔

حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے لیے حضرت امام رضاعلیہ السلام کی جدائی ہی کیاکم تھی کہ اس پرمستزاداپنی پھوپھی کے سایہ سے بھی محروم ہوگئے ہمارے امام کے لیے کمسنی میں یہ دونوں صدمے انتہائی تکلیف دہ اوررنج رساں تھے لیکن مشیت ایزدی میں چارہ نہیں آخرآپ کوتمام مراحل کامقابلہ کرناپڑا اورآپ صبرو ضبط کے ساتھ ہرمصیبت کوجھیلتے رہے۔

مامون رشیدعباسی اورحضرت امام محمدتقی علیہ السلام کاپہلاسفرعراق

عباسی خلیفہ مامون رشیدحضرت امام رضاعلیہ السلام کی شہادت سے فراغت کے بعدیااس لیے کہ اس پرامام رضاکے قتل کا الزام ثابت نہ ہوسکے یااس لیے کہ وہ امام رضاکی ولیعہدی کے موقع پراپنی لڑکی ام حبیب کی شادی کااعلان بھی کرچکاتھا کہ ولی عہدکے فرزندامام محمدتقی کے ساتھ کرے گا اسے نبھانے کے لیے یااس لیے کہ ابھی اس کی سیاسی ضرورت اسے امام محمدتقی کی طرف توجہ کی دعوت دے رہی تھی ،بہرحال جوبات بھی ہو،اس نے یہ فیصلہ کرلیاکہ امام محمدتقی علیہ السلام کومدینہ سے دعوت نامہ ارسال کیا اورانہیں اسی طرح مجبورکرکے بلایاجس طرح امام رضاعلیہ السلام کوبلوایاتھا ”حکم حاکم مرگ مفاجات“ بالاخرامام محمدتقی علیہ السلام کوبغدادآناپڑا۔

بازاراورمچلی کاواقعہ

امام محمدتقی علیہ السلام جن کی عمراس وقت تقریبا ۹ سال کی تھی ایک دن بغدادکے کسی گزرگاہ میں کھڑے ہوئے تھے اورچند لڑکے وہاں کھیل رہے تھے کہ ناگہاں خلیفہ مامون کی سواری دکھائی دی، سب لڑکے ڈرکربھاگ گئے مگرحضرت امام محمدتقی علیہ السلام اپنی جگہ پرکھڑے رہے جب مامون کی سواری وہاں پہنچی تواس نے حضرت امام محمدتقی سے مخاطب ہوکرکہاکہ صاحبزادے جب سب لڑکے بھاگ گئے تھے توتم کیوں نہیں بھاگے انہوں نے بے ساختہ جواب دیا کہ میرے کھڑے رہنے سے راستہ تنگ نہ تھا جوہٹ جانے سے وسیع ہوجاتااورمیں نے کوئی جرم نہیں کیاتھا کہ ڈرتا نیزمیراحسن ظن ہے کہ تم بے گناہ کوضررنہیں پہنچاتے مامون کوحضرت امام محمدتقی کااندازبیان بہت پسندآیا۔

اس کے بعدمامون وہاں سے آگے بڑھا،اس کے ساتھ شکاری بازبھی تھے جب آبادی سے باہرنکل گیا تواس نے ایک بازکوایک چکورپرچھوڑابازنظروں سے اوجھل ہوگیا اورجب واپس آیاتو اس کی چونچ میں ایک چھوٹی سی مچھلی تھی جس کودیکھ کرمامون بہت متعجب ہواتھوڑی دیرمیں جب وہ اسی طرف لوٹاتواس نے حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کودوسرے لڑکوں کے ساتھ وہیں دیکھا جہاں وہ پہلے تھے لڑکے مامون کی سواری دیکھ کرپھربھاگے لیکن حضرت امام محمدتقی علیہ السلام بدستورسابق وہیں کھڑے رہے جب مامون ان کے قریب آیاتومٹھی بندکرکے کہنے لگاکہ صاحبزادے بتاؤ،میرے ہاتھ میں کیاہے انہوں نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے اپنے دریائے قدرت مین چھوٹی مچھلیاں پیداکی ہیں اورسلاطین اپنے بازسے ان مچھلیوں کاشکارکرکے اہلبیت رسالت کے علم کاامتحان لیتے ہیں یہ سن کرمامون بولا! بے شک تم علی بن موسی رضاکے فرزندہو، پھران کواپنے ساتھ لیتاگیا (صواعق محرقہ ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۹۰ ،شواہدالنبوت ص ۲۰۴ ،نورالابصار ص ۱۴۵ ،ارحج المطالب ص ۴۵۹) ۔

یہ واقعہ ہماری بھی بعض کتابوں میں ہے اس واقعہ کے سلسلہ میں میں نے جن کتابوں کاحوالہ دیاہے ان میں ”ان اللہ خلق فی بحرقدرتہ سمکا صغارا“ مندرج ہے البتہ بعض کتب میں ”بین السماء والہواء“ لکھاہے، اول الذکرکے متعلق توتاویل کاسوال ہی پیدانہیں ہوتاکیونکہ ہردریاخداہ کی قدرت سے جاری ہے اورمذکورہ واقعہ میں امکان قوی ہے کہ بازاسی زمین پرجودریاہیں انھیں کے کسی ایک سے شکارکرکے لایاہوگا البتہ آخرالذکر کے متعلق کہاجاسکتاہے:

۱ ۔ جہاں تک مجھے علم ہے ہرگہرے سے گہرے دریاکی انتہاکسی سطح ارضی پرہے۔

۲ ۔ بقول علامہ مجلسی بعض دریاایسے ہیں جن سے ابرچھوٹی مچھلیوں کواڑاکراوپرلے جاتے ہیں ۔

۳ ۔ ۱۹۲۳ ء کے اخبارمیں یہ شائع ہوچکاہے کہ امریکہ کی نہرپانامہ میں جوسڈوبول بندرگاہ کے قریب ہے مچھلیوں کی بارش ہوئی ہے۔

۴ ۔ آسمان اورہواکے درمیان بحرمتلاطم سے مرادفضاکی وہ کیفیات ہوں جودریا کی طرح پیداہوتے ہیں ۔

۵ ۔ کہاجاتاہے کہ علم حیوان میں یہ ثابت ہے کہ مچھلی دریاسے ایک سوپچاس گزتک بعض حالات میں بلندہوجاتی ہے بہرحال انہیں گہرائیوں کی روشنی میں فرزندرسول نے مامون سے فرمایاکہ بادشاہ بحرقدرت خداوندی سے شکارکرکے لایاہے اورآل محمدکاامتحان لیتاہے۔

ام الفضل کی رخصتی ، امام محمدتقی علی السلام کی مدینہ کوواپسی اور حضرت کے اخلاق واوصاف عادات وخصائل

اس شادی کاپس منظرجوبھی ہو ،لیکن مامون نے نہایت اچھوتے اندازسے اپنی لخت جگرام الفضل کوحضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے حبالہ نکاح میں دیدیا تقریبا ایک سال تک امام علیہ السلام بغدادمیں مقیم رہے، مامون نے دوران قیام بغدادمیں آپ کی عزت وتوقیرمیں کوئی کمی نہیں کی ”الی ان توجه بزوجته ام الفضل الی المدینة المشرفة “۔ یہاں تک آپ اپنی زوجہ ام الفضل سمیت مدینہ مشرفہ تشریف لے آئے (نورالابصارص ۱۴۶) ۔

مامون نے بہت ہی انتظام واہتمام کے ساتھ ام الفضل کوحضرت کے ساتھ رخصت کردیا۔

علامہ شیخ مفید، علامہ طبرسی، علامہ شبلنجی، علامہ جامی علیہم ا لرحمة تحریرفرماتے ہیں کہ امام علیہ السلام اپنی اہلیہ کولئے ہوئے مدینہ تشریف لے جارہے تھے، آپ کے ہمراہ بہت سے حضرات بھی تھے چلتے چلتے شام کے وقت آپ واردکوفہ ہوئے وہاں پہنچ کرآپ نے جناب مسیب کے مکان پرقیام فرمایااورنمازمغرب پرہنے کے لیے وہاں کی ایک نہایت ہی قدیم مسجدمیں تشریف لے گئے آپ نے وضوکے لیے پانی طلب فرمایا، پانی آنے پرایک ایسے درخت کے تھالے میں وضوکرنے لگے جوبالکل خشک تھا اورمدتوں سے سرسبزی اورشادابی سے محروم تھا امام علیہ السلام نے اس جگہ وضوکیا، پھرآپ نمازمغرب پڑھ کروہاں سے واپس ہوئے اوراپنے پروگرام کے مطابق وہاں سے روانہ ہوگئے۔

امام علیہ السلام توتشریف لے گئے لیکن ایک عظیم نشانی چھوڑگئے اوروہ یہ تھی کہ جس خشک درخت کے تھالے میں آپ نے وضوفرمایاتھا وہ سرسبزوشاداب ہوگیا، اوررات ہی بھرمیں وہ تیارپھلوں سے لدگیا لوگوں نے اسے دیکھ کربے انتہا تعجب کیا(ارشادص ۴۷۹ ، اعلام الوری ص ۲۰۵ ، نورالابصارص ۱۴۷ ، شواہداالنبوت ص ۲۰۵) ۔

کوفہ سے روانہ ہوکرطے مراحل وقطع منازل کرتے ہوئے آپ مدینہ منورہ پہنچے وہاں پہنچ کرآپ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں منہمک ومشغول ہوگئے پندونصائح،تبلیغ وہدایت کے علاوہ آپ نے اخلاق کاعملی درس شروع کردیاخاندانی طرہ امتیازکے بموجب ہرایک سے جھک کرملنا ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا مساوات اورسادگی کوہرحال میں پیش نظررکھنا، غرباء کی پوشیدہ طورپرخبرلینا، دوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھاسلوک کرتے رہنا مہمانوں کی خاطرداری میں انہماک اورعلمی ومذہبی پیاسوں کیے لیے فیض کے چشموں کوجاری رکھنا ،آپ کی سیرت زندگی کانمایاں پہلوتھا اہل دنیاجوآپ کی بلندی نفس کاپورااندازہ رنہ رکھتے تھے انہیں یہ تصورضروری ہوتاتھا کہ ایک کمسن بچے کاعظیم الشان مسلمان سلطنت کے شہنشاہ کادامادہوجانا یقینا اس کے چال ڈھال ،طورطریقے کوبدل دے گا اوراس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی۔

حقیقت میں یہ ایک بہت بڑامقصدہوسکتاہے جومامون کی کوتاہ نگاہ کے سامنے بھی تھا بنی امیہ یابنی عباس کے بادشاہوں کوآل رسول کی ذات سے اتنااختلاف نہ تھا، جتناان کی صفات سے تھا وہ ہمیشہ اس کے درپئے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اورمعراج انسانیت کا وہ مرکزجومدینہ منورہ میں قائم ہے اورجوسلطنت کے مادی اقتدارکے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کامرکزبناہوا ہے، یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لیے گھبراگھبراکروہ مختلف تدبیریں کرتے تھے ۔

امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کرنا،اسی کی ایک شکل تھی اورپھرامام رضاکوولی کوعہدبنانا اسی کادوسراطریقہ تھا فقط ظاہری شکل وصورت میں ایک کااندازمعاندانہ اوردوسرے کاطریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا، مگراصل حقیقت دونوں صورتوں کی ایک تھی ،جس طرح امام حسین نے بیعت نہ کی، تووہ شہیدکرڈالے گئے، اسی طرح امام رضاعلیہ السلام ولی عہدہونے کے باوجودحکومت کے مادی مقاصدکے ساتھ ساتھ نہ چلے توآپ کوزہرکے ذریعہ سے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیاگیا۔

اب مامون کے نقطہ نظرسے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضاکا جانشین ایک آٹھ، نو،برس کابچہ ہے، جوتین چاربرس پہلے ہی باپ سے چھڑالیا جاچکاتھا حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچہ کواپنے طریقے پرلانانہایت آسان ہے اوراس کے بعدوہ مرکزجوحکومت وقت کے خلاف ساکن اورخاموش مگرانتہائی خطرناک قائم ہے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

مامون رشیدعباسی، امام رضاعلیہ السلام کے ولی عہدی کی مہم میں اپنی ناکامی کومایوسی کاسبب نہیں تصورکرتاتھا اس لیے کہ امام رضاکی زندگی ایک اصول پرقائم رہ چکی تھی، اس میں تبدیلی نہیں ہوئی تویہ ضروری نہیں کہ امام محمدتقی جوآٹھ ،نوبرس کے سن سے قصرحکومت میں نشوونماپاکربڑھیں وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پربرقرارہیں ۔

سوائے ان لوگوں کے جوان مخصوص افرادکے خدادادکمالات کوجانتے تھے اس وقت کاہرشخص یقینا مامون ہی کاہم خیال ہوگا، مگرحکومت کوحیرت ہوگئی جب یہ دیکھاکہ وہ نوبرس کابچہ جسے شہنشاہ اسلام کادامادبنایاگیاہے اس عمرمیں اپنے خاندانی رکھ رکھاؤاوراصول کااتناپابندہے کہ وہ شادی کے بعدمحل شاہی میں قیام سے انکارکردیتاہے ،اوراس وقت بھی کہ جب بغدادمیں قیام رہتاہے توایک علیحدہ مکان کرایہ پرلے کر اس میں قیام فرماتے ہیں اس سے بھی امام کی مستحکم قوت ارادی کااندازہ کیاجاسکتاہے عمومامالی اعتبارسے لڑکی والے جوکچھ بھی بڑادرجہ رکھتے ہوتے ہیں تووہ یہ پسندکرتے ہیں کہ جہاں وہ رہیں وہیں دامادبھی رہے اس گھرمیں نہ سہی تو کم ازکم اسی شہرمیں اس کاقیام رہے، مگرامام محمدتقی نے شادی کے ایک سال بعدہی مامون کوحجازواپس جانے کی اجازت پرمجبورکردیا یقینا یہ امرایک چاہنے والے باپ اورمامون ایسے باقتدارکے لیے انتہائی ناگوارتھا مگراسے لڑکی کی جدائی گواراکرنا پڑی اورامام مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے۔

مدینہ تشریف لانے کے بعد ڈیوڑھی کاوہی عالم رہا جواس کے پہلے تھا ،نہ پہرہ دارنہ کوئی خاص روک ٹوک، نہ تزک واحتشام نہ اوقات ملاقات، نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی تفریق زیادہ ترنشست مسجدنبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرت کے وعظ ونصحیت سے فائدہ اٹھاتے تھے راویان حدیث، اخبار واحادیث دریافت کرتے تھے طالب علم مسائل پوچھتے تھے ،صاف ظاہرتھا کہ جعفرصادق ہی کاجانشین اورامام رضاکافرزندہے جواسی مسندعلم پربیٹھاہوا ہدایت کاکام انجام دے رہاہے۔

امورخانہ داری اورازدواجی زندگی میں آپ کے بزرگوں نے اپنی بیویوں کوجن حدودمیں رکھاہواتھا انہیں حدودمیں آپ نے ام الفضل کوبھی رکھا، آپ نے اس کی مطلق پرواہ نہ کی کہ آپ کی بیوی ایک شہنشاہ وقت کی بیٹی ہے چنانچہ ام الفضل کے ہوتے ہوئے آپ نے حضرت عماریاسرکی نسل سے ایک محترم خاتون کیساتھ عقدبھی فرمایااورقدرت کونسل امامت اسی خاتون سے باقی رکھنامنظورتھی ،یہی امام علی نقی کی ماں ہوئیں ام الفضل نے اس کی شکایت اپنے باپ کے پاس لکھ کربھیجی، مامون کے دل کے لیے بھی یہ کچھ کم تکلیف دہ امرنہ تھا، مگراسے اب اپنے کئے کونباہناتھا اس نے ام الفضل کوجواب میں لکھا کہ میں نے تمہارا عقدابوجعفرسے ساتھ اس لیے نہیں کیاکہ ان پرکسی حلال خداکوحرام کردوں خبردار! مجھ سے اب اس قسم کی شکایت نہ کرنا۔

یہ جواب دے کرحقیقت میں اس نے اپنی خفت مٹائی ہے ہمارے سامنے اس کی نظریں موجودہیں کہ اگرمذہبی حیثیت سے کوئی بااحترام خاتون ہوئی ہے تو اس کی زندگی میں کسی دوسری بیوی سے نکاح نہیں کیاگیا،جیسے پیغمبراسلا م کے لیے جناب خدیجة اورحضرت علی المرتضی کیلیے جناب فاطمة الزہراء ، مگرشہنشاہ دنیا کی بیٹی کویہ امتیازدیناصرف اس لیے کہ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی ہے اسلام کی اس روح کے خلاف تھا جس کے آل محمدمحافظ تھے اس لیے امام محمدتقی علیہ السلام نے اس کے خلاف طرزعمل اختیارکرنااپنافریضہ سمجھا (سوانح محمدتقی جلد ۲ ص ۱۱) ۔

امام محمدتقی علیہ السلام اورطی الارض

امام محمدتقی علیہ السلام اگرچہ مدینہ میں قیام فرماتھے لیکن فرائض کی وسعت نے آپ کومدینہ ہی کے لے محدودنہیں رکھاتھا آپ مدینہ میں رہ کراطراف عالم کے عقیدت مندوں کی خبرگیری فرمایاکرتے تھے یہ ضروری نہیں کہ جس کے ساتھ کرم گستری کی جائے وہ آپ کے کوائف وحالات سے بھی آگاہ ہوعقیدہ کاتعلق دل کی گہرائی سے ہے کہ زمین وآسمان ہی نہیں ساری کائنات ان کے تابع ہوتی ہے انہیں اس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ کسی سفرمیں طے مراحل کے لیے زمین اپنے قدموں سے نانپاکریں ، ا ن کے لیے یہی بس ہے کہ جب اورجہاں چاہیں چشم زدن میں پہنچ جائیں اوریہ عقلا محال بھی نہیں ہے ایسے خاصان خدا کے اس قسم کے واقعات قران مجیدمیں بھی ملتے ہیں ۔

آصف بن برخیاوصی جناب سلیمان علیہ السلام کے لیے علماء نے اس قسم کے واقعات کاحوالہ دیاہے ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ مدینہ منورہ سے روانہ ہوکرشام پہنچے، وہاں ایک شخص کواس مقام پرعبادت میں مصروف ومشغول پایاجس جگہ امام حسین کاسرمبارک لٹکایاگیاتھا آپ نے اس سے کہاکہ میرے ہمراہ چلووہ روانہ ہوا، ابھی چندقدم نہ چلاتھا ،کہ کوفہ کی مسجدمیں جاپہنچا وہاں نمازاداکرنے کے بعد جوروانگی ہوئی، توصرف چندمنٹوں میں مدینہ منورہ جاپہنچے اورزیارت ونمازسے فراغت کی گئی، پھروہاں سے چل کر لمحوں میں مکہ معظمہ رسیدگی ہوئی ،طواف ودیگرعبادت سے فراغت کے بعدآپ نے چشم زدن میں اسے شام کی مسجدمیں پہنچادیا۔

اورخود نظروں سے اوجل ہوکرمدینہ منورہ جاپہنچے پھرجب دوسراسال آیا توآپ بدستورشام کی مسجدمیں تشریف لے گئے اوراس عابدسے کہاکہ میرے ہمراہ چلو،چنانچہ وہ چل پڑاآپ نے چندلمحوں میں اسے سال گزشتہ کی طرح تمام مقدس مقامات کی زیارت کرادی پہلے ہی سال کے واقعہ سے وہ شخص بے انتہامتاثرتھا ہی، کہ دوسرے سال بھی ایساہی واقعہ ہوگیااب کی مرتبہ اس نے مسجدشام واپس پہنچتے ہی ان کادامن تھام لیا اورقسم دے کرپوچھا کہ فرمائیے آپ اس عظیم کرامت کے مالک کون ہیں آپ نے ارشادفرمایا کہ میں محمدبن علی (امام محمدتقی ہوں ) اس نے بڑی عقیدت اورتعظیم وتکریم کے مراسم دااکئے۔

آپ کے واپس تشریف لے جانے کے بعد یہ خبربجلی کی طرح تمام پھیل گئی جب والی شام محمدبن عبدالملک کواس کی اطلاغ ملی اوریہ بھی پتہ چلاکہ لوگ اس واقعہ سے بے انتہامتاثرہوگئے ہیں تواس نے اس عابدپر”مدعی نبوت“ ہونے کاالزام لگاکراسے قیدکردیا اورپھرشام سے منتقل کراکے عراق بھجوادیا اس نے والی کوقیدخانہ سے ایک خط بھیجا جس میں لکھاکہ میں بے خطاہوں ، مجھے رہاکیاجائے، تواس نے خط کی پشت پرلکھاکہ جوشخص تجھے شام سے کوفہ اورکوفہ سے مدینہ اوروہاں سے مکہ اورپھروہاں سے شام پہنچاسکتاہے اپنی رہائی میں اسی کی طرف رجوع کر۔

اس جواب کے دوسرے دن یہ شخص مکمل سختی کے باوجود، سخت ترین پہرہ کے ہوتے ہوئے قیدخانہ سے غائب ہوگیا، علی بن خالدراوی کابیان ہے کہ جب میں قیدخانہ کے پھاٹک پرپہنچا تودیکھاکہ تمام ذمہ داران حیران وپریشان ہیں ، اورکچھ پتہ نہیں چلتا کہ عابد شامی زمین میں سماگیا یاآسمان پراٹھالیاگیا، علامہ مفید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے علی بن خالد جودوسرے مذہب کاپیروتھا، امامیہ مسلک کامعتقدہوگیا (شواہدالنبوت ص ۲۰۵ ،نورالابصار ص ۱۴۶ ، اعلام الوری ص ۷۳۱ ، ارشادمفید ص ۴۸۱) ۔

حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے بعض کرامات

صاحب تفسیرعلامہ حسین واعظ کاشفی کابیان ہے کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے کرامات بے شمارہیں (روضة الشہدا ص ۴۳۸) میں بعض کاتذکرہ مختلف کتب سے کرتاہوں ۔

علامہ عبدالرحمن جامی تحریرکرتے ہیں کہ :

۱ ۔ مامون رشیدکے انتقال کے بعدحضرت امام محمدتقی علیہ السلام نے ارشادفرمایاکہ اب تیس ماہ بعدمیرا بھی انتقال ہوگا، چنانچہ ایساہی ہوا۔

۲ ۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیاکہ ایک مسماة (ام الحسن) نے آپ سے درخواست کی ہے کہ اپناکوئی جامہ کہنہ دیجیے تاکہ میں اسے اپنے کفن میں رکھوں آپ نے فرمایاکہ اب جامہ کہنہ کی ضرورت نہیں ہے روای کابیان ہے کہ میں وہ جواب لے کرجب واپس ہواتومعلوم ہواکہ ۱۳ ۔ ۱۴ دن ہوگئے ہیں کہ وہ انتقال کرچکی ہے۔

۳ ۔ ایک شخص (امیہ بن علی) کہتاہے کہ میں اورحمادبن عیسی ایک سفرمیں جاتے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے تاکہ آپ سے رخصت ہولیں ، آپ نے ارشادفرمایاکہ تم آج اپناسفرملتوی کردو، چنانچہ میں حسب الحکم ٹہرگیا، لیکن میراساتھی حمادبن عیسی نے کہاکہ میں نے ساراسامان سفرگھرسے نکال رکھاہے اب اچھانہیں معلوم ہوتا کہ سفرملتوی کردوں ، یہ کہہ کروہ روانہ ہوگیا اورچلتے چلتے رات کو ایک وادی میں جاپہنچا اوروہیں قیام کیا، رات کے کسی حصہ میں عظیم الشان سیلاب آگیا،اوروہ تمام لوگوں کے ساتھ حمادکوبھی بہاکرلے گیا (شواہدالنبوت ص ۲۰۲) ۔

۴ ۔ علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ معمربن خلادکابیان ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ میں جب کہ آپ بہت کمسن تھے مجھ سے فرمایاکہ چلومیرے ہمراہ چلو! چنانچہ میں ساتھ ہوگیا حضرت نے مدینہ سے باہرنکل کرے ایک وادی میں جاکرمجھ سے فرمایاکہ تم ٹھرجاؤ میں ابھی آتاہوں چنانچہ آپ نظروں سے غائب ہوگئے اورتھوڑی دیرکے بعد واپس ہوئے واپسی پرآپ بے انتہاء ملول اوررنجیدہ تھے، میں نے پوچھا : فرزندرسول ! آپ کے چہرہ مبارک سے آثارحزن وملال کیوں ہویداہیں ارشادفرمایاکہ اسی وقت بغدادسے واپس آرہاہوں وہاں میرے والدماجدحضرت امام رضاعلیہ السلام زہرسے شہیدکردئیے گئے ہیں میں ان پرنمازوغیرہ اداکرنے گیاتھا۔

۵ ۔ قاسم بن عبادالرحمن کابیان ہے کہ میں بغدادمیں تھا میں نے دیکھاکہ کسی شخص کے پاس تمام لوگ برابرآتے جاتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ جس کے پاس آنے جانے کاتانتابندھاہواہے یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہاکہ ابوجعفرمحمدبن علی علیہ السلام ہیں ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ آپ ناقہ پرسواراس طرف سے گذرے ،قاسم کہتاہے کہ انہیں دیکھ کرمیں نے دل میں کہا کہ وہ لوگ بڑے بیوقوف ہیں جوآپ کی امامت کے قائل ہیں اورآپ کی عزت وتوقیرکرتے ہیں ، یہ توبچے ہیں اورمیرے دل میں ان کی کوئی وقعت محسوس نہیں ہوتی، میں اپنے دل میں یہی سوچ رہاتھا کہ آپنے قریب آکرفرمایاکہ ایے قاسم بن عبدالرحمن جوشخص ہماری اطاعت سے گریزاں ہے وہ جہنم میں جائے گا آپ کے اس فرمانے پرمیں نے خیال کیاکہ یہ جادوگرہیں کہ انہوں نے میرے دل کے ارادے کومعلوم کرلیاہے جیسے ہی یہ خیال میرے دل میں آیاآپ نے فرمایاکہ تمہارے خیال بالکل غلط ہیں تم اپنے عقیدے کی اصلاح کرو یہ سن کرمیں نے آپ کی امامت کااقرارکیا اورمجھے مانناپڑاکہ آپ حجت اللہ ہیں ۔

۶ ۔ قاسم بن الحسن کابیان ہے کہ میں ایک سفرمیں تھا ، مکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مفلوج الحال شخص نے مجھ سے سوال کیا،میں نے اسے روٹی کاایک ٹکڑا دیدیا ابھی تھوڑی دیرگذری تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی اوروہ میری پگڑی اڑاکرلے گئی میں نے بڑی تلاش کی لیکن وہ دستیاب نہ ہوسکی جب میں مدینہ پہنچا اورحضرت امام محمدتقی علیہ السلام سے ملنے گیاتوآپ نے فرمایاکہ اے قاسم تمہاری پگڑی ہوااڑالے گئی میں نے عرض کی جی حضور!آپ نے اپنے ایک غلام کوحکم دیاکہ ان کی پگڑی لے آؤ غلام نے پگڑی حاضرکی میں نے بڑے تعجب سے دریافت کیاکہ مولا! یہ پگڑی یہاں کیسے پہنچی ہے آپ نے فرمایاکہ تم نے جورہ خدامیں روٹی کاٹکڑادیاتھا، اسے خدانے قبول فرمالیاہے، ایے قاسم خداوندعالم یہ نہیں چاہتا جواس کی راہ میں صدقہ دیے وہ اسے نقصان پہنچنے دے۔

۷ ۔ ام الفضل نے حضرت امام محمدتقی کی شکایت اپنے والدمامون رشید عباسی کولکھ کربھیجی کہ ابوجعفرمیرے ہوتے ہوئے دوسری شادی بھی کررہے ہیں اس نے جواب دیاکہ میں نے تیری شادی ان کے ساتھ اس نہیں کی حلال خداکوحرام کردوں انہیں قانون خداوندی اجازت دیتاہے کہ وہ دوسری شادی کریں ، اس میں تیراکیادخل ہے دیکھ آئندہ سے اس قسم کی کوئی شکایت نہ کرنا اورسن تیرافریضہ ہے کہ تواپنے شوہرابوجعفرکوجس طرح ہوراضی رکھ اس تمام خط وکتابت کی اطلاع حضرت کوہوگئی (کشف الغمہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ شیخ حسین بن عبدالوہاب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن ام الفضل نے حضرت کی ایک بیوی کوجوعماریاسر کی نسل سے تھی دیکھاتومامون رشیدکو کچھ اس طرح سے کہاکہ وہ حضرت کے قتل پرآمادہ ہوگیا، مگرقتل نہ کرسکا(عیون المعجزات ص ۱۵۴ طبع ملتان)۔

حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے ہدایات وارشادات

یہ ایک مسلہ حقیقت ہے کہ بہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے آپ سے علوم اہل بیت کی تعلیم حاصل کی آپ کے لیے مختصرحکیمانہ مقولوں کابھی ایک ذخیرہ ہے، جیسے آپ کے جدبزرگوارحضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں جناب امیرعلیہ السلام کے بعدامام محمدتقی علیہ السلام کے مقولوں کوایک خاص درجہ حاصل ہے بعض علماء نے آپ کے مقولوں کوتعدادکئی ہزاربتائی ہے علامہ شبلنجی بحوالہ فصول المہمہ تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کااراشادہے کہ :

۱ ۔ خداوندعالم جسے جونعمت دیتاہے بہ ارادہ دوام دیتاہے ، لیکن اس سے وہ اس وقت زائل ہوجاتی ہے جب وہ لوگوں یعنی مستحقین کودینابندکردیتاہے ۔

۲ ۔ ہرنعمت خداوندی میں مخلوق کاحصہ ہے جب کسی کوعظیم نعمتیں دیتاہے تولوگوں کی حاجتیں بھی کثیرہوجاتی ہیں اس موقع پراگرصاحب نعمت (مالدار) عہدہ برآہوسکاتوخیرورنہ نعمت کازوال لازمی ہے۔

۳ ۔ جوکسی کوبڑاسمجھتاہے اس سے ڈرتاہے۔

۴ ۔ جس کی خواہشات زیادہ ہوں گی اس کاجسم موٹاہوگا۔ ۵ ۔ صحیفہ حیات مسلم کاسرنامہ ”حسن خلق“ ہے۔

۶ ۔ جوخداکے بھروسے پرلوگوں سے بے نیازہوجائے گا، لوگ اس کے محتاج ہوں گے۔ ۷ ۔ جوخداسے ڈرے گاتولوگ اسے دوست رکھیں گے۔

۸ ۔ انسان کی تمام خوبیوں کامرکززبان ہے۔ ۹ ۔ انسان کے کمالات کادارومدارعقل کے کمال پرہے ۔

۱۰ ۔ انسان کے لیے فقرکی زینت ”عفت “ ہے خدائی امتحان کی زینت شکرہے حسب کی زینت تواضع اورفرتنی ہے کلام کی زینت ”فصاحت“ ہے روایات کی زینت ”حافظہ“ ہے علم کی زینت انکساری ہے ورع وتقوی کی زینت ”حسن ادب “ ہے قناعت کی زینت ”خندہ پیشانی“ ہے ورع وپرہیزگاری کی زینت تمام مہملات سے کنارہ کشی ہے۔

۱۱ ۔ ظالم اورظالم کامددگاراورظالم کے فعل کے سراہانے والے ایک ہی زمرمیں ہیں یعنی سب کادرجہ برابرہے۔

۱۲ ۔ جوزندہ رہناچاہتاہے اسے چاہئے کہ برداشت کرنے کے لیے اپنے دل کوصبرآزمابنالے۔

۱۳ ۔ خداکی رضاحاصل کرنے کے لیے تین چیزیں ہونی چاہئیں اول استغفار دوم نرمی اورفرتنی سوم کثرت صدقہ۔

۱۴ ۔ جوجلدبازی سے پرہیزکرے گا لوگوں سے مشورہ لے گا ،اللہ پربھروسہ کرے گاوہ کبھی شرمندہ نہیں ہوگا۔ ۱۵ ۔ اگرجاہل زبان بندرکھے تواختلافات نہ ہوں گے ۱۶ ۔ تین باتوں سے دل موہ لیے جاتے ہیں ۱ ۔ معاشرہ انصاف ۲ ۔ مصیبت میں ہمدردی ۳ ۔ پریشان خاطری میں تسلی ۔

۱۷ ۔ جوکسی بری بات کواچھی نگاہ سے دیکھے گا، وہ اس میں شریک سمجھاجائے گا۔ ۱۸ ۔ کفران نعمت کرنے والاخداکی ناراضگی کودعوت دیاہے۔

۱۹ ۔ جوتمہارے کسی عطیہ پرشکریہ اداکرے، گویااس نے تمہیں اس سے زیادہ دیدیا۔

۲۰ ۔ جواپنے بھائی کوپوشیدہ طورپرنصیحت کرے وہ اس کاحسن ہے، اورجوعلانیہ نصیحت کرے،گویااس نے اس کے ساتھ برائی کی۔

۲۱ ۔ عقلمندی اورحماقت جوانی کے قریب تک ایک دوسرے پرانسان پرغلبہ کرتے رہتے ہیں اورجب ۱۸ سال پورے ہوجاتے ہیں تواستقلال پیداہوجاتاہے اورراہ معین ہوجاتی ہے ۔

۲۲ ۔ جب کسی بندہ پرنعمت کانزول ہواوروہ اس نعمت سے متاثرہوکریہ سمجھے کہ یہ خداکی عنایت ومہربانی ہے توخداوندعالم کاشکرکرنے سے پہلے اس کانام شاکرین میں لکھ لیتاہے اورجب کوئی گناہ کرنے کے ساتھ یہ محسوس کرے کہ میں خداکے ہاتھ میں ہوں ، وہ جب اورجس طرح چاہے عذاب کرسکتاہے تو خداوندعالم اسے استغفارسے قبل بخش دیتاہے۔

۲۳ ۔ شریف وہ ہے جوعالم ہے اورعقلمندوہ ہے جومتقی ہے۔ ۲۴ ۔ جلدبازی کرکے کسی امرکوشہرت نہ دو، جب تک تکمیل نہ ہوجائے ۔

۲۵ ۔ اپنی خواہشات کواتنانہ بڑھاؤکہ دل تنگ ہوجائے۔ ۲۶ ۔ اپنے ضعیفوں پررحم کرو اوران پرترحم کے ذریعہ سے اپنے لیے خداسے رحم کی درخواست کرو۔

۲۷ ۔ عام موت سے بری موت وہ ہے جوگناہ کے ذریعہ سے ہو اورعام زندگی سے خیروبرکت کے ساتھ والی زندگی بہترہے۔

۲۸ ۔ جوخداکے لیے اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچائے وہ ایساہے جیسے اس نے اپنے لیے جنت میں گھربنالیا۔

۲۹ ۔ جوخداپراعتمادرکھے اوراس پرتوکل اوربھروسہ کرے خدااسے ہربرائی سے بچاتاہے اوراس کی ہرقسم کے دشمن سے حفاظت کرتاہے۔

۳۰ ۔ دین عزت ہے، علم خزانہ ہے اورخاموشی نورہے۔ ۳۱ ۔ زہدکی انتہاورع وتقوی ہے۔ ۳۲ ۔ دین کوتباہ کردینے والی چیزبدعت ہے۔

۳۳ ۔ انسان کوبربادکرنے والی چیز”لالچ“ ہے۔ ۳۴ ۔ حاکم کی صلاحیت رعایاکی خوشحالی کادارومدارہے۔ ۳۵ ۔ دعاکے ذریعہ سے ہربلاٹل جاتی ہے ۔

۳۶ ۔ جوصبروضبط کے ساتھ میدان میں آجائے وہ کامیاب ہوگا۔ ۳۷ ۔ جودنیامیں تقوی کابیج بوئے گا آخرت میں دلی مرادوں کاپھل پائے گا۔(نورالابصار ص ۱۴۸ طبع مصر)۔

امام محمدتقی کی نظربندی، قیداورشہادت

مدینہ رسول سے فرزندرسول کوطلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی،اس لیے عظیم شرف کے باوجودآپ حکومت وقت کی کسی رعایت کے قابل نہیں متصورہوئے معتصم نے بغدادبلواکرآپ کوقیدکردیا، علامہ اربلی لکھتے ہیں ، کہ چون معتصم بخلافت بہ نشست آنحضرت راازمدینہ طیبہ بدارالخلافة بغداد آورد وحبس نمود(کشف الغمہ ص ۱۲۱) ۔

ایک سال تک آپ نے قیدکی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اورآپ کوخدانے یہ شرف کیوں عطا فرمایاہے بعض علماء کاکہناہے کہ آپ پراس قدرسختیاں تھیں اوراتنی کڑی نگرانی اورنظربندی تھی کہ آپ اکثراپنی زندگی سے بیزارہوجاتے تھے بہرحال وہ وقت آگیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال ۳ ماہ ۱۲/ یوم کی عمرمیں قیدخانہ کے اندرآخری ذی قعدہ (بتاریخ ۲۹/ ذی قعدہ ۲۲۰ ہجری یوم سہ شنبہ) معتصم کے زہرسے شہیدہوگئے (کشف الغمہ ص ۱۲۱ ، صواعق محرقہ ص ۱۲۳ ، روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۶ ، اعلام الوری ص ۲۰۵ ، ارشاد ص ۴۸۰ ، انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷ ، انوارالحسینیہ ص ۵۴) ۔

آپ کی شہادت کے متعلق ملامبین کہتے ہیں کہ معتصم عباسی نے آپ کوزہرسے شہیدکیا (وسیلة النجات ص ۲۹۷) علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ آپ کوامام رضاکی طرح زہرسے شہیدکیاگیا(صواعق محرقہ ص ۱۲۳) علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ ”گویندیہ زہرشہیدشہ“ کہتے ہیں کہ آپ زہرسے شہیدہوئے (روضة الشہداء ص ۴۳۸) ۔ ملاجامی کی کتاب میں ہے ”قیل مات مسموما“ کہاجاتاہے کہ آپ کی وفات زہرسے ہوئی ہے (شواہدالنبوت ص ۲۰۴) ۔علامہ نعمت اللہ جزائری لکھتے ہیں کہ ”مات مسموما قدسمم المعتصم“ آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں اوریقینا معتصم نے آپ کوزہردیاہے، انوارالعنمانیہ ص ۱۹۵)

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ انہ مات مسموما آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں ”یقال ان ام الفضل بنت المامون سقتہ ،بامرابیہا“ کہاجاتاہے کہ آپ کوآپ کی بیوی ام الفضل نے اپنے باپ مامون کے حکم کے مطابق (معتصم کی مددسے) زہردے کرشہیدکیا (نورالابصارص ۱۴۷ ،ارحج المطالب ص ۴۶۰) ۔

مطالب یہ ہواکہ مامون رشیدنے امام محمدتقی کے والدماجدامام رضاکواوراس کی بیٹی نے امام محمدتقی کوبقول امام شبلنجی شہیدکرکے اپنے وطیرہ مستمرة اوراصول خاندانی کوفروغ بخشاہے ، علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ ”دخلت امراتہ ام الفضل الی قصرالمعتصم “ کہ امام محمدتقی کوشہیدکرکے ان کی بیوی ام الفضل معتصم کے پاس چلی گئی بعض معاصرین لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے شہادت کے وقت ام الفضل کے بدترین مستقبل کاذکرفرمایاتھا جس کے نتیجہ میں اس کے ناسور ہوگیاتھا اوروہ آخرمیں دیوانی ہوکرمری۔

مختصریہ کہ شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیزوتکفین میں شرکت کی اورنمازجنازہ پڑھائی اوراس کے بعدآپ مقابرقریش اپنے جدنامدار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے پہلومیں دفن کئے گئے چونکہ آپ کے داداکالقب کاظم اورآپ کالقب جوادبھی تھا اس لیے اس شہرت کوآپ کی شرکت سے ”کاظمین“ اوروہاں کے اسٹیشن کوآپ کے داداکی شرکت کی رعایت سے ”جوادین“ کہاجاتاہے۔

اس مقبرہ قریش میں جسے کاظمین کے نام سے یادکیاجاتاہے ۳۵۶ ہجری میں مطابق ۹۹۸ ء میں معزالدولہ اور ۴۵۲ ہجری مطابق ۱۰۴۴ ء میں جلال الدولہ شاہان آل بویہ کے جنازے اعتقادمندی سے دفن کئے گئے کاظمین میں جوشاندارروضہ بناہواہے اس پربہت سے تعمیری دورگزرے لیکن اس کی تعمیر تکمیل شاہ اسماعیل صفوی نے ۹۶۶ ہجری مطابق ۱۵۲۰ ء میں کرائی ۱۲۵۵ ہجری مطابق ۱۸۵۶ ء میں محمدشاہ قاچارنے اسے جواہرات سے مرصع کیا۔

آپ کی ازواج اوراولاد

علماء نے لکھا ہے کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے چندبیویاں تھیں جن ام الفضل بنت مامون رشیدعباسی اورسمانہ خاتون یاسری نمایاں حیثیت رکھتی تھیں جناب سمانہ خاتون جوکہ حضرت عماریاسر کی نسل سے تھیں ، کے علاوہ کسی سے کوئی اولادنہیں ہوئی، آپ کواولادکے بارے میں علماء کااتفاق ہے کہ دونرینہ اوردوغیرنرینہ تھیں ، جن کے اسماء یہ ہیں ۱ ۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام، ۲ ۔ جناب موسی مبرقع علیہ الرحمة، ۳ ۔ جناب فاطمہ، ۴ ۔ جناب امامہ، (ارشادمفید ص ۴۹۳ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۳ ،روضة الشہداء ص ۴۳۸ ، نورالابصارص ۱۴۷ ، انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷ ، کشف الغمہ ص ۱۱۶ ، اعلام الوری ص ۲۰۵ وغیرہ)۔


حضرت امام علی نقی علیہ السلام

ولادت باسعادت

آپ بتاریخ ۵/ رجب المرجب ۲۱۴ ہجری یوم سہ شنبہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے (نورالابصارص ۱۴۹ ،دمعہ ساکبہ ص ۱۲۰) ۔

شیخ مفیدکاکہناہے کہ مدینہ کے قریب ایک قریہ ہے جس کانام صریا ہے آپ وہاں پیداہوئے ہیں (ارشادص ۴۹۴) ۔

اسم گرامی،کنیت، اورالقاب

آپ کااس گرامی علی، آپ کے والدماجدحضرت امام محمدتقی نے رکھا،اسے یوں سمجھنا چاہئے کہ سرورکائنات نے جواپنے بارہ جانشین اپنی ظاہری حیات کے زمانہ میں معین فرمائے تھے، ان میں سے ایک آپ کی ذات گرامی بھی تھی آپ کے والدماجدنے اسی معین اسم سے موسوم کردیا علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ چہاردہ معصومین کے اسماء لوح محفوظ میں لکھے ہوئے ہیں سرورکائنات نے اسی کے مطابق سب کے نام معین فرمائے ہیں اورہرایک کے والدنے اسی کی روشنی میں اپنے فرزندکوموسوم کیاہے (اعلام الوری ص ۲۲۵) ۔

کتاب کشف الغطاء ص ۴ میں ہے کہ آنحضرت نے سب کے نام حضرت عائشہ کولکھوادئیے تھے آپ کی کنیت ابوالحسن تھی آپ کے القاب بہت کثیرہیں جن میں نقی،ناصح ،متوکل مرتضی اورعسکری زیادہ مشہورہیں (کشف الغمہ ص ۱۲۲ ، نورالابصار ۱۴۹ ، مطالب السؤل ص ۲۹۱) ۔

آپ کاعہدحیات اوربادشاہان وقت

آپ جب ۲۱۴ ہجری میں پیداہوئے تواس وقت بادشاہ وقت مامون رشیدعباسی تھا ۲۱۸ ہجری میں مامن رشیدنے انتقال کیااورمعتصم خلیفہ ہوا(ابوالفداء)

۲۷۲ ہجری میں واثق بن معتصم خلیفہ بنایاگیا (ابوالفداء) ۲۳۲ ہجری میں واثق کاانتقا ل ہوا اورمتوکل عباسی خلیفہ مقررکیاگیا (ابوالفداء)۔

پھر ۲۴۷ ہجری میں منتصربن متوکل اور ۲۴۸ ہجری میں مستعین اور ۲۵۲ ہجری میں زبیرابن متوکل المکنی بہ متزباللہ علی الترتیب خلیفہ بنائے گئے(ابوالفداء ،دمعہ ساکبہ ۱۲۱) ۲۵۴ ہجری میں معتزکے زہردینے سے امام علی نقی علیہ السلام شہیدہوئے (تذکرة المعصومین)۔

حضرت امام محمدتقی کاسفربغداد اورحضرت امام علی نقی کی ولیعہدی

مامون رشیدکے انتقال کے بعد معتصم باللہ خلیفہ ہواتواس نے بھی اپنے آبائی کردارکوسراہا اورخاندانی رویہ کااتباع کیا اس کے دل میں بھی آل محمدکی طرف سے وہ جذبات ابھرے جواس کے آباؤاجدادکے دلوں میں ابھرچکے تھے،اس نے بھی چاہا کہ آل محمدکو کوئی فردسطح ارض پرباقی نہ رہے ، چنانچہ اس نے تخت نشین ہوتے ہی حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کو مدینہ سے بغدادطلب کرکے نظربندکردیاامام محمدتقی علیہ السلام نے جواپنے آباؤاجدادکی طرح قیامت تک کے حالات سے واقف تھے مدینہ سے چلتے وقت اپنے فرزندکو اپناجانشین مقررکردیا اوروہ تمام تبرکات جوامام کے پاس ہواکرتے ہیں آپ نے امام علی نقی علیہ السلام کے سپردکردئیے مدینہ منورہ سے رونہ ہوکر آپ ۹/ محرم الحرام ۲۲۰ ہجری کو واردبغدادہوئے بغدادمیں آپ کو ایک سال بھی نہ گزرتھاکہ معتصم عباسی نے آپ کوبتاریخ ۲۰/ ذی قعدہ زہرسے شہید کردیا (نورالابصارص ۱۴۷) ۔

اصول کافی میں ہے کہ جب امام محمدتقی علیہ السلام کوپہلی بارمدینہ سے بغدادطلب کیاگیاتو راوی خبراسماعیل بن مہران نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی مولا، آپ کوبلانے والے دشمن آل محمدہے کہیں ایسانہ ہوکہ ہم بے امام ہوجائیں آپ نے فرمایاکہ ہم کو علم ہے تم گھبراؤ نہیں اس سفرمیں ایسانہ ہوگا اسماعیل کابیان ہے کہ جب دوبارہ آپ کومعتصم نے بلایاتوپھرمیں حاضرہوکرعرض پردازہواکہ مولایہ سفرکیسارہے گااس سوال کاجواب آپ نے آنسوؤں کے تارسے دیا اورباچشم نم کہاکہ اے اسماعیل میرے بعدعلی نقی کواپناامام جاننا اورصبر وضبط سے کام لینا۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کاعلم لدنی

بچپن کاواقعہ

یہ ہمارے مسلمات سے ہے کہ ہمارے آئمہ کوعلم لدنی ہوتاہے یہ خداکی بارگاہ سے علم وحکمت لے کرکامل اورمکمل دنیامیں تشریف لاتے رہے ہیں انہیں کسی سے علم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اورانہوں نے کسی دنیاوالے کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں فرمایا ”ذاتی علم وحکمت کے علاوہ مزیدشرف کمال کی تحصیل اپنے آباؤاجدادسے کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی کمسنی میں بھی یہ دنیاکے بڑے بڑے عالموں کوعلمی شکست دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے اورجب کسی نے اپنے کوان کی کسی فردسے مافوق سمجھا تووہ ذلیل ہوکررہ گیا،یاپھر سرتسلیم خم کرنے پرمجبورہوگیا۔

علامہ مسعودی کابیان ہے کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی وفات کے بعدامام علی نقی علیہ السلام جن کی اس وقت عمر ۷ ۔ ۶/ سال کی تھی مدینہ میں مرجع خلائق بن گئے تھے، یہ دیکھ کروہ لوگ جوآل محمدسے دلی دشمنی رکھتے تھے یہ سوچنے پرمجبورہوگئے کہ کسی طرح ان کی مرکزیت کوختم کیاجائے اورکوئی ایسامعلم ان کے ساتھ لگادیاجائے جوانہیں تعلیم بھی دے اوران کی اپنے اصول پرتربیت کرنے کے ساتھ ان کے پاس لوگوں کے پہونچنے کاسدباب کرے، یہ لوگ اسی خیال میں تھے کہ عمربن فرج رجحی فراغت حج کے بعدمدینہ پہنچا لوگوں نے اس سے عرض مدعاکی بالآخر حکومت کے دباؤسے ایساانتظام ہوگیا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو تعلیم دینے کے لیے عراق کاسب سے بڑاعالم، ادیب عبیداللہ جنیدی معقول مشاہرہ پرلگایاگیا یہ جنیدی آل محمدکی دشمنی میں خاص شہرت رکھتاتھا۔

الغرض جنیدی کے پاس حکومت نے امام علی نقی علیہ السلام کورکھ دیااورجنیدی کوخاص طورپراس امرکی ہدایت کردی کہ ان کے پاس روافض نہ پہنچنے پائیں جنیدی نے آپ کوقصرصربامیں اپنے پاس رکھا ہوتایہ تھا کہ جب رات ہوتی تھی تودروازہ بندکردیاجاتاتھا اوردن میں بھی شیعوں کے ملنے کی اجازت نہ تھی اس طرح آپ کے ماننے والوں کی آمدکاسلسلہ منقطع ہوگیااورآپ کافیض جاری بندہوگیا لوگ آپ کی زیارت اورآپ سے استفادہ سے محروم ہوگئے ۔

راوی کابیان ہے کہ میں نے ایک دن جنیدی سے کہا غلام ہاشمی کاکیاحال ہے اس نے نہایت بری صورت بناکر کہا انہیں غلام ہاشمی نہ کہو، وہ رئیس ہاشمی ہیں ، خداکی قسم وہ اس کمسنی مین مجھ سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں سنو میں اپنی پوری کوشش کے بعد جب ادب کاکوئی باب ان کے سامنے پیش کرتاہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتاہوں ”یظن الناس اتی اعلمہ واناواللہ اتعلم مہ“ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ میں انہیں تعلیم دے رہاہوں لیکن خداکی قسم میں ان سے تعلیم حاصل کررہاہوں میرے بس میں یہ نہیں کہ میں انھیں پڑھا سکوں ”ہذاواللہ خیراہل الارض وافضل من بقاء اللہ“ خداکی قسم وہ حافظ قرآن ہی نہیں وہ اس کی تاویل وتنزیل کوبھی جانتے ہیں اورمختصر یہ ہے کہ وہ زمین پربسنے والوں میں سب سے بہتراورکائنات میں سب سے افضل ہیں (اثبات الوصیت ودمعہ ساکبہ ص ۱۲۱) ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کرامات اورآپ کاعلم باطن

امام علی نقی علیہ السلام تقریبا ۲۹/ سال مدینہ منورہ میں قیام پذیررہے آپنے اس مدت عمرمین کئی بادشاہوں کازمانہ دیکھا تقریبا ہرایک نے آپ کی طرف رخ کرنے سے احترازکیا یہی وجہ ہے کہ آپ امورامامت کوانجام دینے میں کامیاب رہے یعنی تبلیغ دین اورتحفظ بنائے مذہب اوررہبری ہواخواہاں میں فائزالمرام رہے آپ چونکہ اپنے آباؤاجدادکی طرح علم باطن اورعلم غیب بھی رکھتے تھے اسی لیے آپ اپنے ماننے والوں کوہونے والے واقعات سے باخبرفرمادیاکرتے تھے اورسعی فرماتے تھے کہ حتی الوسع مقدورات کے علاوہ کوئی گزند نہ پہنچنے پائے اس سلسلہ میں آپ کے کرامات بے شمارہیں جن میں سے ہم اس مقام پرکتاب کشف الغمہ سے چندکرامات تحریرکرتے ہیں ۔

۱ ۔ محمدبن فرج رجحی کابیان ہے کہ حضرت امام علی نقی نے مجھے تحریرفرمایا کہ تم اپنے تمام امورومعاملات کوراست اورنظام خانہ کودرست کرلو اور اپنے اسلحوں کوسنبھال لو، میں نے ان کے حکم کے بموجب تمام درست کرلیا لیکن یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ حکم آپ نے کیوں دیاہے لیکن چنددنوں کے بعد مصرکی پولیس میرے یہاں آئی اورمجھے گرفتارکرکے لے گئی اورمیرے پاس جوکچھ تھا سب لے لیا اورمجھے قیدخانہ میں بندکردیا میں آٹھ سال اس قیدخانہ میں پڑارہا، ایک دن امام علیہ السلام کاخط پہنچا، جس میں مرقوم تھا کہ اے محمدبن فرج تم اس ناحیہ کی طرف نہ جانا جومغرب کی طرف واقع ہے خط پاتے ہی میری حیرانی کی کوئی حدنہ رہی میں سوچتارہا کہ میں توقیدخانہ میں ہوں میراتوادھرجاناممکن ہی نہیں پھرامام نے کیوں یہ کچھ تحریرفرمایا آپ کے خط آنے کوابھی دوچاریوم ہی گذرے تھے کہ میری رہائی کاحکم آگیا اورمیں ان کے حسب الحکم مقام ممنوع کی طرف نہیں گیا قیدخانہ سے رہائی کے بعدمیں نے امام علیہ السلام کولکھا کہ حضورمیں قیدسے چھوٹ کرگھرآگیاہوں ، اب آپ خداسے دعاء فرمائیں کہ میرامال مغصوبہ واپس کرادے آپ نے اس کے جواب میں تحریرفرمایاکہ عنقریب تمہاراسارامال تمہیں واپس مل جائے گا چنانچہ ایساہی ہوا۔

۲ ۔ ایک دن امام علی نقی علیہ السلام اورعلی بن حصیب نامی شخص دونوں ساتھ ہی راستہ چل رہے تھے علی بن حصیب آپ سے چندگآم آگے بڑھ کرلولے آپ بھی قدم بڑھاکرجلدآجائیے حضرت نے فرمایاکہ اے ابن حصیب ”تمہیں پہلے جاناہے“ تم جاؤ اس واقعہ کے چاریوم بعدابن حصیب فوت ہوگئے۔

۳ ۔ ایک شخص محمدبن فضل بغدادی کابیان ہے کہ میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کولکھا کہ میرے پاس ایک دکان ہے میں اسے بیچنا چاہتاہوں آپ نے اس کاکوئی جواب نہ دیا جواب نہ ملنے پرمجھے افسوس ہوا لیکن جب میں بغداد واپس پہنچا تووہ آگ لگ جانے کی وجہ سے جل چکی تھی۔

۴ ۔ ایک شخص ابوایوب نامی نے امام علیہ السلام کولکھاکہ میری زوجہ حاملہ ہے، آپ دعا فرمائیے کہ لڑکاپیداہو،آپ نے فرمایاانشاء اللہ اس کے لڑکاہی پیداہوگا اورجب پیداہوتو اس کانام محمدرکھنا چنانچہ لڑکاہی پیداہوا، اوراس کانام محمدرکھاگیا۔

۵ ۔ یحی بن زکریاکابیان ہے کہ میں نے امام علی نقی علیہ السلام کولکھاکہ میری بیوی حاملہ ہے آپ دعافرمائیں کہ لڑکاپیداہوآپ نے جواب میں تحریرفرمایا، کہ بعض لڑکیاں لڑکوں سے بہترہوتی ہیں ، چنانچہ لڑکی پیداہوئی۔

عہدواثق کاایک واقعہ

۶ ۔ ابوہاشم کابیان ہے کہ میں ۲۲۷ ہجری میں ایک دن حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضرتھا کہ کسی نے آکرکہاکہ ترکوں کی فوج گذررہی ہے امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ائے ابوہاشم چلوان سے ملاقات کریں میں حضرت کے ہمراہ ہوکرلشکریوں تک پہنچا حضرت نے ایک غلام ترکی سے اس کی زبان میں گفتگوشروع فرمائی اوردیرتک باتیں کرتے رہے اس ترکی سپاہی نے آپ کے قدموں کابوسہ دیا میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کونسی چیزہے جس نے تجھے امام کاگرویدہ بنادیاہے اس نے کہاامام نے مجھے اس نام سے پکاراجس کاجاننے والا میرے باپ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔

تہترزبانوں کی تعلیم

۷ ۔ ابوہاشم کہتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے مجھ سے ہندی زبان میں گفتگوکی جس کامیں جواب نہ دے سکا توآپ نے فرمایاکہ میں تمہیں ابھی ابھی تمام زبانوں کاجاننے والابتائے دیتا ہوں یہ کہہ کرآپ نے ایک سنگریزہ اٹھایا اوراسے اپنے منہ میں رکھ لیا اس کے بعداس سنگریزہ کومجھے دیتے ہوئے فرمایاکہ اسے چوسو، میں نے منہ میں رکھ کراسے اچھی طرح چوسا، اس کانتیجہ یہ ہواکہ میں تہترزبانوں کاعالم بن گیا جن میں ہندی بھی شامل تھی اس کے بعدسے پھرمجھے کسی زبان کے سمجھنے اوربولنے میں دقت نہ ہوئی ص ۱۲۲ تا ۱۲۵

امام علی نقی کے ہاتھوں میں ریت کی قلب ماہیت

۸ ۔ آئمہ طاہرین کے اولوالامرہونے پرقرآن مجیدکی نص صریح موجودہے ان کے ہاتھوں اورزبان میں خداوند جوارادہ کریں اس کی تکمیل ہوجائے جوحکم دیں اس کی تعمیل ہوجائے ابوہاشم کابیان ہے کہ ایک دن میں نے امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں اپنی تنگ دستی کی شکایت کی آپ نے فرمایابڑی معمولی بات ہے تمہاری تکلیف دورہوجائے گی اس کے بعدآپ نے رمل یعنی ریت کی ایک مٹھی زمین سے اٹھاکرمیرے دامن میں ڈال دی اورفرمایااسے غورسے دیکھو اوراسے فروخت کرکے کام نکالو ابوہاشم کہتے ہیں کہ خداکی قسم جب میں نے اسے دیکھاتووہ بہترین سونا تھا، میں نے اسے بازارلے جاکرفروخت کردیا(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۹) ۔

امام علی نقی اوراسم اعظم

۹ ۔ حضرت ثقة الاسلام علامہ کلینی اصول کافی میں لکھتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا اسم اللہ الاعظم ۷۳/ حروف میں ان میں سے صرف ایک حرف آصف برخیا وصی سلیمان کودیاگیاتھا جس کے ذریعہ سے انہوں نے چشم ردن میں ملک سباسے تخت بلقیس منگوالیاتھا اوراس منگوانے میں ہوایہ تھا کہ زمین سمٹ کرتخت کوقریب لے آئی تھی، اے نوفلی(راوی) خداوندعالم نے ہمیں اسم عظم کے بہترحروف دئیے ہیں اوراپنے لیے صرف ایک حرف محفوظ رکھاہے جوعلم غیب سے متعلق ہے مسعودی کاکہناکاہے کہ اس کے بعدامام نے فرمایاکہ خداونداعالم نے اپنی قدرت اوراپنے اذن وعلم سے ہمیں وہ چیزیں عطاکی ہیں جوحیرت انگیزاورتعجب خیزہیں مطلب یہ ہے کہ امام جوچاہیں کرسکتے ہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوسکتی(اصول کافی،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۸ ، دمعہ ساکبہ ص ۱۲۶) ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورصیحفہ کاملہ کی ایک دعا

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے ایک صحابی سبع بن حمزہ قمی نے آپ کوتحریرکیاکہ مولامجھے خلیفہ معتصم کے وزیرسے بہت دکھ پہنچ رہاہے مجھے اس کابھی اندیشہ ہے کہ کہیں وہ میری جان نہ لے لے حضرت نے اس کے جواب میں تحریرفرمایا کہ گھبراؤ نہیں اوردعائے ”صحیفہ کاملہ“ یامن تحل بہ عقدالمکارہ الخ پڑھو مصیبت سے نجات پاؤگے۔

یسع بن حمزہ کابیان ہے کہ میں نے امام کے حسب الحکم نمازصبح کے بعداس دعاکی تلاوت کی جس کاپہلے ہی دن یہ نتیجہ نکلاکہ وزیر خودمیرے پاس آیا مجھے اپنے ہمراہ لے گیا اورلباس فاخرہ پہناکرمجھے بادشاہ کے پہلومیں بٹھادیا۔

حکومت کی طرف سے امام علی نقی کی مدینہ سے سامرہ میں طلبی اور راستہ کاایک اہم واقعہ

متوکل ۲۳۲ ہجری میں خلیفہ ہوا اوراس نے ۲۳۶ ہجری میں امام حسین علیہ السلام کی قبرکے ساتھ پہلی باربے ادبی کی، لیکن اس میں پوری کامیابی نہ حاصل ہونے پراپنے فطری بغض کی وجہ سے جوآل محمدکے ساتھ تھا وہ حضرت علی نقی علیہ السلام کے طرف متوجہ ہوا متوکل ۲۴۳ ہجری میں امام علی نقی کوستانے کی طرف متوجہ ہوا، اوراس نے حاکم مدینہ عبداللہ بن محمدکوخفیہ حکم دے کربھیجا کہ فرزندرسول امام علی نقی کوستانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے چنانچہ اس نے حکومت کے منشاء کے مطابق پوری توجہ اورپورے انہماک کے ساتھ اپنا کام شروع کردیا خودجس قدرستاسکا اس نے ستایا اورآپ کے خلاف ریکارڈ کے لیے متوکل کوشکایات بھیجنی شروع کیں ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام کویہ معلوم ہوگیاکہ حاکم مدینہ نے آپ کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردی ہیں اوراس سلسلہ میں اس نے متوکل کوآپ کی شکایات بھیجنی شروع کردی ہیں توآپ نے بھی ایک تفصیلی خط لکھا جس میں حاکم مدینہ کی بے اعتدالی اورظلم آفرینی کاخاص طورسے ذکرکیا متوکل نے آپ کا خط پڑھ کرآپ کواس کے جواب میں لکھاکہ آپ ہمارے پاس چلے آئیے اس میں حاکم مدینہ کے عمل کی معذرت بھی تھی، یعنی جوکچھ وہ کررہاہے اچھانہیں کرتا ہم اس کی طرف سے معذرت خواہ ہیں مطلب یہ تھا کہ اسی بہانہ سے انہیں سامرہ بلالے خط میں اس نے اتنانرم لہجہ اختیارکیاتھا جوایک بادشاہ کی طرف سے نہیں ہواکرتا یہ سب حیلہ سازی تھی اورغرض محض یہ تھی کہ آپ مدینہ چھوڑکرسامرہ پہنچ جائیں (نورالابصارص ۱۴۹) ۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ متوکل نے یہ بھی لکھاتھا کہ میں آپ کی خاطرسے عبداللہ ابن محمدکومعزول کرکے اس کی جگہ پرمحمدبن فضل کومقررکررہاہوں (جلاء العیون ص ۲۹۲) ۔

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ متوکل نے صرف یہ نہیں کیا کہ علی نقی علیہ السلام کوخط لکھا ہوکہ آپ سامرہ چلے آئیے بلکہ اس نے تین سوکا لشکریحی بن ہرثمہ کی قیادت میں مدینہ بھیج کرانہیں بلاناچاہا، یحی بن ہرثمہ کابیان ہے کہ میں حکم متوکل پاکرامام علیہ السلام کولانے کے لیے بہ ارادہ مدینہ منورہ روانہ ہوگیا میرے ہمراہ تین سوکالشکرتھا اوراس میں ایک کاتب بھی تھاجوامامیہ مذہب رکھتاتھا ہم لوگ اپنے راستہ پر جارہے تھے اوراس سعی میں تھے کہ کسی طرح جلدسے جلدمدینہ پہنچ کرامام علیہ السلام کولے آئیں اورمتوکل کے سامنے پیش کریں ہمارے ہمراہ جوایک شیعہ کاتب تھا اس سے ایک لشکرکے افسرسے راستہ بھرمذہبی مناظرہ ہوتارہا۔

یہاں تک کہ ہم لوگ ایک عظیم الشان وادی میں پہنچے جس کے اردگرد میلوں کوئی آبادی نہ تھی اوروہ ایسی جگہ تھی جہاں سے انسان کامشکل سے گزرہوتاتھا بالکل جنگل اوربے آب وگیاہ صحراتھا جب ہمارے لشکروہاں پہنچاتواس افسرنے جس کانام ”شادی“ تھا، اورجوکاتب سے مناظرہ کرتاچلاآرہاتھا کہنے لگااے کاتب تمہارے امام حضرت علی کایہ قول ہے کہ دنیاکی کوئی ایسی وادی نہ ہوگی جس میں قبرنہ ہویاعنقریب قبرنہ بن جائے کاتب نے کہا بے شک ہمارے امام علیہ السلام غالب کل غالب کایہی ارشادہے اس نے کہابتاؤاس زمین پرکس کی قبرہے یاکس کی قبربن سکتی ہے تمہارے امام یونہی کہہ دیاکرتے ہیں ابن ہرثمہ کاکہنا ہے کہ میں چونکہ حشوی خیال کاتھا لہذاجب یہ باتیں ہم نے سنیں توہم سب ہنس پڑے اورکاتب شرمندہ ہوگیاغرض کہ لشکربڑھتارہااوراسی دن مدینہ پہنچ گیا واردمدینہ ہونے کے بعد میں نے متوکل کاخط امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا امام علیہ السلام نے اسے ملاحظہ فرماکرلشکرپرنظرڈالی اورسمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالاہے آپ نے فرمایااے ابن ہرثمہ چلنے کوتیارہوں لیکن ایک دوروزکی مہلت ضروری ہے میں نے عرض کی حضور”خوشی سے“ جب حکم فرمائیں میں حاضرہوجاؤں اورروانگی ہوجائے ۔

ابن ہرثمہ کابیان ہے کہ امام علیہ السلام نے میرے سامنے ملازمین سے کہاکہ درزی بلادواوراس سے کہوکہ مجھے سامرہ جاناہے لہذا راستے کے لیے گرم کپڑے اورگرم ٹوپیاں جلدسے جلدتیارکردے میں وہاں سے رخصت ہوکراپنے قیام گاہ پرپہنچااورراستے بھریہ سوچتارہاکہ امامیہ کیسے بیوقوف ہیں کہ ایک شخص کوامام مانتے ہیں جسے (معاذاللہ) یہ تک تمیزنہیں ہے کہ یہ گرمی کازمانہ ہے یاجاڑے کا، اتنی شدیدگرمی میں جاڑے کے کپڑے سلوارہے ہیں اوراسے ہمراہ لے جانا چاہتے ہیں الغرض میں دوسرے دن ان کی خدمت میں حاضرہواتودیکھا کہ جاڑے کے بہت سے کپڑے سلے ہوئے رکھے ہیں اورآپ سامان سفر درست فرمارہے ہیں اوراپنے ملازمین سے کہتے جاتے ہیں دیکھوکلاہ بارانی اوربرساتی وغیرہ رہنے نہ پائے سب ساتھ میں باندھ دو، اس کے بعدمجھے کہااے یحی بن ہرثمہ جاؤتم بھی اپناسامان درست کروتاکہ مناسب وقت میں روانگی ہوجائے میں وہاں سے نہایت بددل واپس آیا دل میں سوچتاتھا کہ انہیں کیاہوگیاہے کہ اس شدیدگرمی کے زمانہ میں سردی اوربرسات کاسامان ہمراہ لے رہے ہیں اورمجھے بھی حکم دیتے ہیں کہ تم بھی اس قسم کے سامان ہمراہ لے لو۔

مختصریہ کہ سامان سفردرست ہوگیااورروانگی ہوگئی میرالشکرامام علیہ السلام کوگھیرے میں لیے ہوئے جارہاتھا کہ ناگاہ اسی وادی میں جاپہنچے، جس کے متعلق کاتب امامیہ اورافسرشادی میں یہ گفتگوہوئی تھی کہ یہاں پرکس کی قبرہے یاہوگی اس وادی میں پہنچناتھا کہ قیامت آگئی، بادل گرجنے لگے،بجلی چمکنے لگی اوردوپہرکے وقت اس قدرتاریکی چھائی کہ ایک دوسرے کودیکھ نہ سکتاتھا ، یہاں تک کہ بارش ہوئی اورایسی موسلادھاربارش ہوئی کہ عمربھرنہ دیکھی تھی امام علیہ السلام نے آثارپیداہوتے ہی ملازمین کوحکم دیاکہ برساتی اوربارانی ٹوپیاں پہن لو اورایک برساتی یحی بن ہرثمہ اورایک کاتب کودیدو غرض کہ خوب بارش ہوئی اورہوااتنی ٹھنڈی چلی کہ جان کے لالے پڑگئے جب بارش تھمی اوربادل چھٹے تو میں نے دیکھاکہ ۸۰/ افرادمیری فوج کے ہلاک ہوگئے ہیں ۔

امام علیہ السلام نے فرمایاکہ اے یحی بن ہرثمہ اپنے مردوں کودفن کردو اوریہ جان لو کہ ”خدائے تعالی ہم چنین پرمی گرواندبقاع راازقبور“ اس طرح خداوندعالم نے ہربقعہ ارض کو قبروں سے پرکرتاہے اسی لیے میرے جدنامدارحضرت علی علیہ السلام نے فرمایاکہ زمین کاکوئی ٹکڑاایسانہ ہوگا جس میں قبرنہ بنی ہو

”یہ سن کرمیں اپنے گھوڑے سے اترپڑااورامام علیہ السلام کے قریب جاکرپابوس ہوا،اوران کی خدمت میں عرض کی مولامیں آج آپ کے سامنے مسلمان ہوتاہوں ، یہ کہہ کرمیں نے اس طرح کلمہ پڑھا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وانکم خلفاء اللہ فی ارضہ “ اوریقین کرلیاکہ یہی حضرت خداکی زمین پرخلیفہ ہیں اوردل میں سوچنے لگاکہ اگرامام علیہ السلام نے جاڑے اوربرسات کاسامان نہ لیاہوتااوراگرمجھے نہ دیاہوتا تومیرا کیاحشرہوتاپھروہاں سے روانہ ہوکر ”عسکر“ پہنچا اورآپ کی امامت کاقائل رہ کرزندہ رہا اورتاحیات آپ کے جدنامدارکاکلمہ پڑھتارہا (کشف الغمہ ص ۱۲۴) ۔

علامہ جامی اورعلامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ دوسوسے زائدافرادآپ کے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے سامرہ پہنچے وہاں آپ کے قیام کا کوئی انتظام نہیں کیاگیاتھا اورحکم تھا متوکل کاکہ انہیں فقیروں کے ٹہرانے کی جگہ اتاراجائے چنانچہ آپ کوخان الصعالیک میں اتارگیا وہ جگہ بدترین تھی وہاں شرفاء نہیں جایاکرتے تھے ایک دن صالح بن سعیدنامی ایک شخص جوآپ کے ماننے والے تھے آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اورکہنے لگے مولایہ لوگ آب کی قدرومنزلت پرپردہ ڈالنے اورنورخداکوچھپانے کی کس قدرکوشش کرتے ہیں کجاحضورکی ذات اقدس اورکجایہ قیام گاہ حضرت نے فرمایاائے صالح تم دل تنگ نہ ہو۔میں اس کی عزت افزائی کاخواہاں اوران کی کرم گستری کاجویاں نہیں ہوں خداوندعالم نے آل محمدکوجودرجہ دیاہے اورجومقام عطافرمایاہے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اے صالح بن سعید میں تمہیں خوش کرنے کے لیے بتاناچاہتاہوں کہ تم مجھے اس مقام پردیکھ کرپریشان نہ ہوخداوندعالم نے یہاں بھی میرے لیے بہشت جیسا بندوبست فرمایاہے یہ کہہ کرآپ نے انگلی سے اشارہ کیااورصالح کی نظرمیں بہترین باغ بہترین قصوراوربہترین نہریں وغیرہ نظرآنے لگیں صالح کابیان ہے کہ یہ دیکھ کرمجھے قدرے تسلی ہوگئی (شواہدالنبوت ص ۲۰۸ ، نورالابصارص ۱۵۰) ۔

امام علی نقی علیہ السلام کی نظربندی

امام علی نقی علیہ السلام کودھوکہ سے بلانے کے بعدپہلے توخان الصعالیک میں پھر اس کے بعد ایک دوسرے مقام میں آپ کونظربندکردیا اورتاحیات اسی میں قیدرکھا امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ متوکل آپ کے ساتھ ظاہرداری ضرورکرتاتھا، لیکن آپ کاسخت دشمن تھا اس نے حیلہ سازی اوردھوکہ بازی سے آپ کوبلایا اوردر پردہ ستانے اورتباہ کرنے اورمصیبتوں میں مبتلاکرنے کے درپے رہا (نورالابصار ص ۱۵۰) ۔

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ متوکل نے آپ کوجبرا بلاکرسامرہ میں نظربندکردیا اورتازندگی باہرنہ نکلنے دیا (صواعق محرقہ ص ۱۲۴) ۔

امام علی نقی علیہ السلام کا جذبہ ہمدردی

مدینہ سے سامرہ پہنچنے کے بعد بھی آپ کے پاس لوگوں کی آمدکاتانتا بندھارہا لوگ آپ سے فائدے اٹھاتے اوردینی اوردنیاوی امورمیں آپ سے مدد چاہتے رہے اورآپ حل مشکل میں ان کے کام آتے رہے علمائے اسلام لکھتے ہیں کہ سامرہ پہنچنے کے بعدجب آپ کی نظر بندی میں سختی اورشدت نہ تھی ایک دن آپ سامرہ کے ایک قریہ میں تشریف لے گئے آپ کے جانے کے بعدایک سائل آپ کے مکان پرآیا، اسے یہ معلوم ہوا کہ آپ فلاں گاوں میں تشریف لے گئے ہیں ، وہ وہاں چلاگیا اورجاکرآپ سے ملا، آپ نے پوچھا کہ تم کیسے آئے ہو تمہاراکیاکام ہے؟

اس نے عرض کی مولامیں غریب آدمی ہوں ، مجھ پردس ہزاردرہم قرض ہوگیاہے اوراس کی ادائیگی کی کوئی سبیل نہیں ، مولا خداکے لیے مجھے اس بلاسے نجات دلائیے حضرت نے فرمایاگھبراؤنہیں ،انشاء اللہ تمہاراقرضہ کی ادائیگی کابندوبست ہوجائے گا وہ سائل رات کو آپ کے ہمراہ مقیم رہاصبح کے وقت آپ نے اس سے کہاکہ میں تمہیں جوکہوں اس کی تعمیل کرنا اوردیکھو اس امرمیں ذرا بھی مخالفت نہ کرنا اس نے تعمیل ارشادکاوعدہ کیا آپ نے اسے ایک خط لکھ کردیا جس میں یہ مرقوم تھا کہ ”میں دس ہزاردرہم اس کے اداکردوں گا“اورفرمایاکہ کل میں سامرہ پہنچ جاؤں گا جس وقت میں وہاں کے بڑے بڑے لوگوں کے درمیان بیٹھاہوں توتم مجھ سے روپے کاتقاضاکرنا اس نے عرض کی حضوریہ کیوں کرہوسکتاہے کہ میں لوگوں میں آپ کی توہین کروں حضرت نے فرمایاکوئی حرج نہیں ، میں تم سے جوکہوں وہ کرو غرض کہ سائل چلاگیا اورجب آپ سامرہ واپس ہوئے اورلوگوں کوآپ کی واپسی کی اطلاع ملی تواعیان شہرآپ سے ملنے آئے جس وقت آپ لوگوں سے محوملاقات تھے سائل مذکوربھی پہنچ گیا سائل نے ہدایت کے مطابق آپ سے رقم کاتقاضہ کیا آپ نے بہت نرمی سے اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ ٹلا اوربدستوررقم مانگتارہا بالاخرحضرت نے اس سے تین میں ادائیگی کاوعدہ فرمایا اوروہ چلاگیا یہ خبرجب بادشاہ وقت کوپہنچی تواس نے مبلغ تیس ہزاردرہم آپ کی خدمت میں بھیج دئیے، تیسرے دن جب سائل آیاتو آپ نے اسے فرمایاکہ تیس ہزاردرہم لے لے اوراپنی راہ لگ اس نے عرض کی مولامیرا قرضہ توصرف دس ہزارہے آپ تیس ہزاردے رہے ہیں آپ نے فرمایا جوقرضہ کی ادائیگی سے بچے اسے اپنے بچوں پرصرف کرنا وہ بہت خوش ہوا اوریہ پڑھتاہوا ”اللہ یعلم حیث یجعل رسالتہ“ خداہی خوب جانتاہے کہ رسالت وامامت کاکون اہل ہے) اپنے گھرچلاگیا (نورالابصارص ۱۴۹ ، صواعق محرقہ، ۱۲۳ ، شواہدالنبوت ص ۲۰۷ ، ارجح المطالب ص ۴۶۱) ۔

امام علی نقی کی حالت سامرہ پہنچنے کے بعد

متوکل کی نیت خراب تھی ہی امام علیہ السلام کے سامرہ پہنچنے کے بعداس نے اپنی نیت کامظاہرعمل سے شروع کیا اورآپ کے ساتھ نامناسب طریقہ سے دل کابخارنکالنے کی طرف متوجہ ہوا لیکن اللہ جس کی لاٹھی میں آوازنہیں اس نے اسے کیفرکردارتک پہنچادیا مگراس کی زندگی میں بھی ایسے آثاراوراثرات ظاہرکئے جس سے وہ یہ بھی جان لے کہ وہ جوکچھ کررہاتھا خداونداسے پسندنہیں کرتا مورخ اعظم لکھتے ہیں کہ متوکل کے زمانے میں بڑی آفتیں نازل ہوئیں بہت سے علاقوں میں زلزلے آئے زمینیں دھنس گئیں آگیں لگیں ، آسمان سے ہولناک آوازیں سنائی دیں ، بادسموم سے بہت سے جانوراورآدمی ہلاک ہوئے ، آسمان سے مثل ٹڈی کے کثرت سے ستارے ٹوٹے دس دس رطل کے پتھرآسمان سے برسے، رمضان ۲۴۳ ہجری میں حلب میں ایک پرندہ کوے سے بڑاآکربیٹھا اوریہ شورمچایا ”یاایهاالناس اتقوالله الله الله “ چالیس دفعہ یہ آوازلگاکر اڑگیا دودن ایساہی ہوا (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۶۵) ۔

حضرت امام علی نقی اورسواری کی برق رفتاری

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے مدینہ سے سامرہ تشریف لے جانے کے بعد ایک دن ابوہاشم نے کہا مولامیرا دل نہیں مانتا کہ میں ایک دن بھی آپ کی زیارت سے محروم رہوں ، بلکہ جی چاہتاہے کہ ہرروز آپ کی خدمت میں حاضرہواکروں حضرت نے پوچھا اس کے لیے تمہیں کونسی رکاوٹ ہے انہوں نے عرض کی میراقیام بغدادہے اورمیری سواری کمزورہے حضرت نے فرمایا”جاو“ اب تمہاری سواری کاجانور طاقتورہوجائے گا اوراس کی رفتاربہت تیزہوجائے گی ابوہاشم کابیان ہے کہ حضرت کے اس ارشادکے بعدسے ایساہوگیاکہ میں روزانہ نمازصبح بغدادمیں نمازظہرسامرہ عسکرمیں اورنمازمغرب بغدادمیں پڑھنے لگا (اعلام الوری ص ۲۰۸) ۔

دوماہ قبل عزل قاضی کی خبر

علامہ جامی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ سے آپ کے ایک ماننے والے نے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے بغدادکے قاضی شہر کی شکایت کی اورکہاکہ مولاوہ بڑا ظالم ہے ہم لوگوں کو بے حد ستاتاہے آپ نے فرمایا گھبراونہیں دوماہ بعد بغدادمیں نہ رہے گا راوی کابیان ہے کہ جونہی دوماہ پورے ہوئے قاضی اپنے منصب سے معزول ہوکراپنے گھربیٹھ گیا (شواہدالنبوت)۔

آپ کااحترام جانوروں کی نظرمیں

علامہ موصوف یہ بھی لکھتے ہیں کہ متوکل کے مکان میں بہت سی بطخیں پلی ہوئی تھیں جب کوئی وہاں جاتاتووہ اتناشورمچایاکرتی تھیں کہ کان پڑی آوازسنائی نہ دیتی تھی لیکن جب امام علیہ السلام تشریف لے جاتے تھے تووہ سب خاموش ہوجاتی تھیں اورجب تک آپ وہاں تشریف رکھتے تھے وہ چپ رہتی تھیں (شواہدالنبوت)۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورخواب کی عملی تعبیر

احمدبن عیسی الکاتب کابیان ہے کہ میں نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماہیں اورمیں ان کی خدمت میں حاضرہوں ، حضرت نے میری طرف نظراٹھاکردیکھا اوراپنے دست مبارک سے ایک مٹھی خرمہ اس طشت سے عطافرمایا جوآپ کے سامنے رکھاہواتھا میں نے انہیں گناتووہ پچس تھے اس خواب کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ مجھے معلوم ہواکہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام سامرہ سے تشریف لائے ہیں میں ان کی زیارت کے لیے حاضرہوا تومیں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک طشت رکھا ہے جس میں خرمے ہیں میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کوسلام کیا حضرت نے جواب سلام دینے کے بعد ایک مٹھی خرمہ مجھے عطافرمایا ، میں نے ان خرموں کوشمارکیا تووہ پچیس تھے میں نے عرض کی مولاکیا کچھ خرمہ اورمل سکتاہے جواب میں فرمایا! اگرخواب میں تمہیں رسول خدانے اس سے زیادہ دیاہوتاتومیں بھی اضافہ کردیتا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔

اسی قسم کا واقعہ امام جعفرصادق علیہ السلام اورامام علی رضاعلیہ السلام کے لیے بھی گزراہے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورفقہائے مسلمین

یہ تومانی ہوئی بات ہے کہ آل محمدوہ ہیں جن کے گھرمیں قرآن مجیدنازل ہوا ان سے بہترنہ قرآن کاسمجھنے والاہے، نہ اس کی تفسیرجاننے والا، علماء کابیان ہے کہ جب متوکل کوزہردیاگیا تواس نے یہ نذرمانی کہ ”اگرمیں اچھاہوگیاتوراہ خدامیں مال کثیردوں گا“ پھرصحت پانے کے بعد اس نے اپنے علماء اسلام کوجمع کیااوران سے واقعہ بیان کرکے مال کثیرکی تفصیل معلوم کرناچاہی اس کے جواب میں ہرایک نے علیحدہ علیحدہ بیان دیا ایک فقیہ نے کہا مال کثیرسے ایک ہزاردرہم دوسرے فقیہ نے کہا دس ہزاردرہم ،تیسرے نے کہاایک لاکھ درہم مرادلینا چاہئے متوکل ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک دربان سامنے آیا جس کانام ”حسن“ تھا عرض کرنے لگا کہ حضوراگرمجھے حکم ہواتومیں اس کاصحیح جواب لادوں متوکل نے کہابہترہے جواب لاو اگرتم صحیح جواب لائے تو دس ہزاردرہم تم کوانعام دوں گا اوراگرتسلی بخش جواب نہ لاسکے توسوکوڑے ماروں گا اس نے کہامجھے منظورہے اس کے بعد دربان حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں گیا امام علیہ السلام جونظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے دربان کودیکھ کربولے اچھامال کثیرکی تفصیل پوچھنے آیاہے جا اورمتوکل سے کہہ دے مال کثیرسے اسی درہم مرادہے دربان نے متوکل سے یہی کہہ دیا متوکل نے کہا جاکردلیل معلوم کر ،وہ واپس آیا حضرت نے فرمایا کہ قرآن مجیدمیں آنحضرت علیہ السلام کے لیے آیا ہے ہ ”لقدنصرکم اللہ فی مواطن کثیرة“ اے رسول اللہ نے تمہاری مددمواطن کثیرہ یعنی بہت سے مقامات پرکی ہے جب ہم نے ان مقامات کاشمارکیا جن میں خدانے آپ کی مددفرمائی ہے تووہ حساب سے اسی ہوتے ہیں معلوم ہواکہ لفظ کثیرکااطلاق اسی پرہوتاہے یہ سن کرمتوکل خوش ہوگیا اوراس نے اسی درہم صدقہ نکال کر دس ہزاردرہم دربان کوانعام دیا (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۶) ۔

اسی قسم کاایک واقعہ یہ ہے کہ متوکل کے دربارمیں ایک نصرانی پیش کیاگیاجومسلمان عورت سے زنا کرتاہواپکڑاگیا جب وہ دربارمیں آیاتوکہنے لگا مجھ پرحدجاری نہ کی جائے میں اس وقت مسلمان ہوتاہوں یہ سن کرقاضی یحی بن اکثم نے کہاکہ اسے چھوڑدیناچاہئے کیونکہ یہ مسلمان ہوگیا ایک فقیہ نے کہا کہ نہیں حدجاری ہوناچاہئے غرض کہ فقہائے مسلمین میں اختلاف ہوگیا متوکل نے جب یہ دیکھاکہ مسئلہ حل ہوتانظرنہیں آتا توحکم دیا کہ امام علی نقی کوخط لکھ کران سے جواب منگایاجائے ۔

چنانچہ مسئلہ لکھا گیا حضرت امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں تحریرفرمایا ”یضرب حتی یموت “ کہ اسے اتناماراجائے کہ مرجائے جب یہ جواب متوکل کے دربارمیں پہنچا تویحی بن اکثم قاضی شہراورفقیہ سلطنت نیزدیگرفقہانے کہا اس کاکوئی ثبوت قران مجیدمیں نہیں ہے براہ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیے آپ نے خط ملاحظہ فرماکریہ آیت تحریرفرمائی جس کاترجمہ یہ ہے (جب کافروں نے ہماری سختی دیکھی توکہاکہ ہم اللہ پرایمان لاتے ہیں اوراپنے کفرسے توبہ کرتے ہیں یہ ان کاکہناان کے لیے مفیدنہ ہوا، اورنہ ایمان لاناکام آیا)

آیت پڑھنے کے بعدمتوکل نے تمام فقہا کے اقوال کومستردکردیا اورنصرانی کے لیے حکم دیدیا کہ اسے اس قدر ماراجائے کہ ”مرجائے“ (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۰) ۔

شاہ روم کوحضرت امام علی نقی کاجواب

علامہ محمدباقرنجفی لکھتے ہیں کہ بادشاہ روم نے خلیفہ وقت کولکھا کہ میں نے انجیل میں پڑھاہے کہ جوشخص اس سورہ کی تلاوت کرے گا جس میں یہ سات لفظ نہ ہوں ث، ج، ح، ز، ش، ظ ، ف، وہ جنت میں جائے گا اسے دیکھنے کے بعد میں نے توریت وزبورکااچھی طرح مطالعہ کیا لیکن اس قسم کاکوئی سورہ اس میں نہیں ملا آپ ذرااپنے علماء سے تحقیق کرکے لکھیے کہ شایدیہ بات آپ کے قرآن مجیدمیں ہوبادشاہ وقت نے بہت سے علماء جمع کئے اوران کے سامنے یہ چیز پیش کی سب نے بہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی اس نتیجہ پرنہ پہنچ سکا کہ تسلی بخش جواب دے سکے جب خلیفہ وقت تمام علماء سے مایوس ہوگیا توامام علی نقی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا جب آپ دربارمیں تشریف لائے اورآپ کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیاگیا توآپ نے بلاتاخیرفرمایاوہ سورہ حمدہے اب جوغورکیاگیا توبالکل ٹھیک پایاگیا ، بادشاہ اسلام خلیفہ وقت نے عرض کی، ابن رسول اللہ کیااچھاہوتا اگرآپ اس کی وجہ بھی بتادیتے کہ یہ حروف اس سورہ میں کیوں نہیں لائے گیے کہ آپ نے فرمایا یہ سورہ رحمت وبرکت ہے اس میں یہ حروف اس لے نہیں لائے گئے کہ (ث) سے ثبورہلاکت تباہی، بربادی کی طرف،ج ۔سے جہیم جہنم کی طرف ، خ۔ خیبت یعنی خسران کی طرف،ز۔ سے زقوم یعنی تھوہڑکی طرف،ش۔ سے شقاوت کی طرف،ظ۔ سے ظلمت کی طرف،ف۔ سے فرقت کی طرف تبادرذہنی ہوتاہے اوریہ تمام چیزیں رحمت وبرکت کے معافی ہیں ۔

خلیفہ وقت نے آپ کاتفصیلی بیان شاہ روم کوبھیج دیا بادشاہ روم نے جونہی اسے پڑھا وہ مسرورہوگیا اوراسی وقت اسلام لایا اورتاحیات مسلمان رہا (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۰ بحوالہ شرح شافیہ ابوفراس)۔

متوکل کے کہنے سے ابن سکیت وابن اکثم کاامام علی نقی سے سوال

علماء کابیان ہے کہ ایک دن متوکل اپنے دربارمیں بیٹھاہواتھا دیگرکاموں سے فراغت کے بعدابن سکیت کی طرف متوجہ ہوکر بولاابوالحسن سے ذراسخت سخت سوال کرو ابن سکیت نے اپنی قابلیت بھرسوال کئے امام علیہ السلام نے تمام سوالات کے مفصل اورمکمل جواب دیئے یہ دیکھ کر یحی ابن اکثم قاضی سلطنت نے کہااے ابن سکیت تم نحو،شعر،لغت کے عالم ہو،تمہیں مناظرہ سے کیادلچسپی، ٹہرو میں سوال کرتاہوں یہ کہہ کراس نے ایک سوالنامہ نکالاجوپہلے سے لکھ کراپنے ہمراہ رکھے ہوئے تھا اورحضرت کودیدیا حضرت نے اس کااسی وقت جوال لکھنا شروع کردیا اورایسامکمل جواب دیا کہ قاضی شہرکو متوکل سے کہنا پڑا کہ ان جوابات کو پوشیدہ رکھاجائے ، ورنہ شیعوں کی حوصلہ افزائی ہوگی ان سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قرآن مجیدمیں ”سبعة البحر“ اورنفدت کلمات اللہ“ جوہے اس میں کن سات دریاؤں کی طرف اشارہ ہے اورکلمات اللہ سے مراد کیاہے آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایاکہ وہ سات دریایہ ہیں عین الکبریت، عین الیمن ، عین البرہوت، عین الطبریہ، عین السیدان، عین الافریقہ، عین الیاحوران، اورکلمات سے ہم محمدوآل محمدمرادہیں جن کے فضائل کااحصاناممکن ہے (مناقب جلد ۵ ص ۱۱۷) ۔

قضاوقدرکے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کی رہبری ورہنمائی

قضاوقدرکے بارے میں تقریباتمام فرقے جادہ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں ، اس کی وضاحت میں کوئی جبرکاقائل نظر آتاہے کوئی مطلقا تفویض پرایمان رکھتا ہوادکھائی دیتاہے ہمارے امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے آباؤاجدادکی طرح قضاوقدرکی وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے ”لاجبرولاتفویض بل امربین امرین“ نہ انسان بالکل مجبورہے نہ بالکل آزادہے بلکہ دونوں حالتوں کے درمیان ہے (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۳۴) ۔

میں حضرت کا مطلب یہ سمجھتاہوں کہ انسان اسباب واعمال میں بالکل آزادہے اورنتیجہ کی برآمدگی میں خداکامحتاج ہے۔

علماء امامیہ کی ذمہ داریوں کے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کاارشاد

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے ارشادفرمایاہے کہ ہمارے علماء ،غیبت قائم آل محمدکے زمانے میں محافظ دین اوررہبرعلم ویقین ہوں گے ان کی مثال شیعوں کے لیے بالکل ویسی ہی ہوگی جیسی کشتی کے لیے ناخداکی ہوتی ہے وہ ہمارے ضیعفوں کے دلوں کوتسلی دیں گے وہ افضل ناس اورقائدملت ہوں گے (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۳۷) ۔

حضرت امام علی نقی اورعبدالرحمن مصری کاذہنی انقلاب

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ ایک دن متوکل نے برسردربارامام علی نقی کوقتل کردینے کا فیصلہ کرکے آپ کودربارمیں طلب کیا آپ سواری پرتشریف لائے عبدالرحمن مصری کابیان ہے کہ میں سامرہ گیاہواتھا اورمتوکل کے دربارکایہ حال سناکہ ایک علوی کے قتل کاحکم دیاگیاہے تومیں دروازے پراس انتظارمیں کھڑاہوگیا کہ دیکھوں وہ کون شخص ہے جس کے قتل کے انتظامات ہورہے ہیں اتنے میں دیکھاکہ امام علی نقی علیہ السلام تشریف لارہے ہیں مجھے کسی نے بتایاکہ اسی علوی کے قتل کابندوبست ہواہے میری نظرجونہی ان کے چہرہ پرپڑی میرے دل میں ان کی محبت سرایت کرگئی اورمیں دعا کرنے لگا خدایامتوکل کے شرسے اس شریف علوی کوبچانا میں دل میں دعاکرہی رہاتھا کہ آپ نزدیک آپہنچے اورمجھ سے بلاجانے پہچانے فرمایاکہ اے عبدالرحمن تمہاری دعاقبول ہوگئی ہے اورمیں انشاء اللہ محفوظ رہوں گا چنانچہ دربارمیں آپ پرکوئی ہاتھ نہ اٹھاسکا اورآپ محفوظ رہے پھرآپ نے مجھے دعادی اورمیں مالامال ہوگیا اورصاحب اولادہوگیا عبدالرحمن کہتاہے کہ میں اسی وقت آپ کی امامت کاقائل ہوکرشیعہ ہوگیا (کشف الغمہ ص ۱۲۳ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۵) ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اوربرکتہ السباع

علماء کابیان ہے کہ ایک دن متوکل کے دربارمیں ایک عورت جوان اورخوبصورت آئی اوراس نے آکرکہا کہ میں زینب بنت علی وفاطمہ ہوں متوکل نے کہاکہ تو جوان ہے اورزینب کوپیداہوئے اوروفات پائے عرصہ گذرگیا اگرتجھے زینب تسلیم کرلیاجائے تویہ کیسے ماناجائے، کہ زینب اتنی عمرتک جوان رہ سکتی ہیں اس نے کہاکہ مجھے رسول خدانے یہ دعادی تھی کہ میں ہرچالیس اورپچاس سال کے بعد جوان ہوجاؤں اسی لیے میں جوان ہوں متوکل نے علماء دربارکوجمع کرکے ان کے سامنے اس مسئلہ کوپیش کیاسب نے کہایہ جھوٹی ہے زینب کے انتقال کوعرصہ ہوگیا ہے متوکل نے کہاکوئی ایسی دلیل دو کہ میں اسے جھٹلاسکوں سب نے اپنے عجزکاحوالہ دیا۔

فتح ابن خاقان وزیرمتوکل نے کہاکہ اس مسئلہ کو”ابن الرضا“ علی نقی کے سواکوئی حل نہیں کرسکتا لہذاانہیں بلایاجائے متوکل نے حضرت کوزحمت تشریف آوری دی جب آپ دربارمیں پہنچے متوکل نے صورت مسئلہ پیش کی امام نے فرمایا جھوٹی ہے، متوکل نے کہاکوئی ایسی دلیل دیجئیے کہ میں اسے جھوٹی ثابت کرسکوں ، آپ نے فرمایا میرے جدنامدارکاارشادہے کہ ”حرم لحوم اولادی علی السباع“ درندوں پرمیری اولادکاگوشت حرام ہے اے بادشاہ تواس عورت کو درندوں میں ڈال دے ،اگریہ سچی ہوگی اس کازینب ہوناتودرکنار اگریہ سیدہ بھی ہوگی توجانوراسے نہ چھیڑیں گے اوراگرسادات سے بھی بے بہرہ اورخالی ہوگی تودرندے اسے پھاڑکھائیں گے ابھی یہ گفتگوجاری ہی تھی کہ دربارمیں اشارہ بازی ہونے لگی اوردشمنوں نے مل جل کرمتوکل سے کہا کہ اس کاامتحان امام علی نقی ہی کے ذریعہ سے کیوں نہ لیاجائے اوردیکھاجائے کہ آیا درندے سیدوں کوکھاتے ہیں یانہیں ۔

مطلب یہ تھا کہ اگرانہیں جانوروں نے پھاڑکھایا تومتوکل کامنشاء پوراہوجائے گا اوراگریہ بچ گئے تومتوکل کی وہ الجھن دورہوجائے گی جوزینب کذاب نے ڈآل رکھی ہے غرض کی متوکل نے امام علیہ السلام سے کہا ”اے ابن الرضا“ کیااچھاہوتا کہ آپ خودبرکتہ السباع میں جاکر اسے ثابت کردیجئے کہ آل رسول کاگوشت درندوں پرحرام ہے امام علیہ السلام تیارہوگئے متوکل نے اپنے بنائے ہوئے برکت السباع شیرخانہ میں آپ کوڈلواکرپھاٹک بندکروادیا، اورخود مکان کے بالاخانہ پرچلاگیا تاکہ وہاں سے امام کے حالات کامطالعہ کرے۔

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ جب درندوں نے دروازہ کھلنے کی آوازسنی توخاموش ہوگئے جب آپ صحن میں پہنچ کرسیڑھی پرچڑھنے لگے تودرندے آپ کی طرف بڑھے (جن میں تین شیراوربروایت دمعہ ساکبہ چھ شیربھی تھے) اورٹہرگئے اورآپ کوچھوکرآپ کے گردپھرنے لگے، آپ نے اپنی آستین ان پرملتے تھے پھردرندے گھٹنے ٹیک کربیٹھ گئے متوکل امام علیہ السلام کے متعلق چھت پرسے یہ باتیں دیکھتارہااوراترآیا، پھرجناب صحن سے باہرتشریف لے آئے متوکل نے آپ کے پاس گراں بہاصلہ بھیجا لوگوں نے متوکل سے کہاتوبھی ایساکرکے دکھلادے اس نے کہاشایدتم میری جان لیناچاہتے ہو ۔

علامہ محمدباقرلکھتے ہیں کہ زینب کذابہ نے جب ان حالات کوبچشم خوددیکھا توفورا اپنی کذب بیانی کااعتراف کرلیا، ایک روایت کی بناپراسے توبہ کی ہدایت کرکے چھوڑدیا گیا دوسری روایت کی بناپرمتوکل نے اسے درندوں میں ڈلواکرپھڑواڈالا(صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، ارحج المطالب ص ۴۶۱ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۵ ، جلاء العیون ص ۳۹۳ ،روضة الصفاء، )

فصل الخطاب، علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ اسی قسم کاواقعہ عہدرشیدعباسی میں جناب یحی بن عبداللہ بن حسن مثنی ابن امام حسن علیہ السلام کے ساتھ بھی ہواہے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورمتوکل کاعلاج

علامہ عبدالرحمن جامی تحریرفرماتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام نظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے متوکل کے بیٹنے کی جگہ یعنی کمرکے نیچے جسم کے پچھلے حصہ میں ایک زبردست زہریلاپھوڑانکل آیا، ہرچندکوشش کی گئی مگر کسی صورت سے شفاء کی امیدنہ ہوئی جب جان خطرہ میں پڑگئی تومتوکل کی ماں نے منت مانی کہ اگرمتوکل اچھاہوگیاتومیں ابن الرضا کی خدمت میں مال کثیرنذرکروں گی اورفتح بن خاقان نے متوکل سے درخواست کی کہ اگرآپ کاحکم ہوتومیں مرض کی کیفیت ابوالحسن سے بیان کرکے کوئی دواء تجویزکرالاؤں ۔

متوکل نے اجازت دی اورابن خاقان حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے انہوں نے ساراواقعہ بیان کرکے دواکی تجویزچاہی،امام علیہ السلام نے فرمایا ”کسب غنم“ (بکری کی مینگنیاں ) لے کرگلاب کے عرق میں حل کرکے لگاؤ، انشاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا وزیرفتح ابن خاقان نے دربارمیں امام علیہ السلام کی تجویزپیش کی، لوگ ہنس پڑے اورکہنے لگے کہ امام ہوکرکیا دواتجویزفرمائی ہے وزیرنے کہااے خلیفہ تجربہ کرنے میں کیاحرج ہے اگرحکم ہوتومیں انتظام کروں خلیفہ نے حکم دیا، دوالگائی گئی، پھوڑاپھوٹا، متوکل کی آنکھ کھل گئی اوررات بھرپورا سویا تین یوم کے اندرشفاء کامل ہوجانے کے بعدمتوکل کی ماں نے دس ہزار اشرفی کی سربمہرتھیلی امام علیہ السلام کی خدمت میں بھجوادی (شواہدالنبوت ص ۲۰۷ ، اعلام الوری ص ۲۰۸) ۔

امام علی نقی علیہ السلام کے تصورحکومت پرخوف خوف خداغالب تھا

حضرت کی سیرت زندگی اوراخلاق وکمالات وہی تھے جواس سلسلہ عصمت کی ہرفردکے اپنے اپنے دورمیں امتیازی طورپر مشاہدہ میں آتے رہتے تھے قیدخانہ اورنظربندی کاعالم ہویاآزادی کازمانہ ہروقت ہرحال میں یادالہی، عبادت ، خلق خداسے استغناء، ثبات قدم، صبرواستقلال، مصائب کے ہجوم میں ماتھے پرشکن کانہ ہونا ، دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے کام لینا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی امدادکرنا، یہی وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی کی سیرت زندگی میں نمایاں نظرآتے ہیں ۔

قیدکے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبرکھدی تیاررہتی تھی دیکھنے والوں نے جب اس پرحیرت اوردہشت کااظہارکیا توآپ نے فرمایامیں اپنے دل میں موت کاخیال رکھنے کے لیے یہ قبراپنی نگاہوں کے سامنے تیاررکھتاہوں حقیقت میں یہ ظالم طاقت کواس کے باطل مطالبہ اطاعت اوراسلام کے حقیقی تعلیمات کی نشرواشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کاایک عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جوکچھ ہے وہ جان کالے لینا مگرجوشخص موت کے لیے اتناتیارہوہ ہروقت کھدی ہوئی قبراپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈرکرسرتسلیم خم کرنے پرکیسے مجبورکیاجاسکتا ہے مگراس کے ساتھ دنیاوی سازشوں میں شرکت یاحکومت وقت کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے آپ کادامن اس طرح بری رہاکہ باوجود دارالسلطنت کے اندرمستقل قیام اورحکومت کے سخت ترین جاسوسی انتظام کے کبھی آپ کے خلاف تشدد کے جوازکی نہ مل سکی باوجودیکہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس وقت اتنی کھوکھلی ہورہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہرروزایک نئی سازش کافتنہ کھڑاہوتاتھا۔

متوکل سے خوداس کے بیٹے کی مخالفت اوراس کے انتہائی عزیزغلام باغررومی کی اس سے دشمنی منتصرکے بعدامرائے حکومت کاانتشاراور آخر متوکل کے بیٹوں کوخلافت سے محروم کرنے کافیصلہ مستعین کے دورحکومت میں یحی بن عمربن یحی بن حسین بن زیدعلوی کاکوفہ میں خروج اورحسن بن زیدالملقب بہ داعی الحق کاعلاقہ طبرستان پرقبضہ کرلینا اورمستقل سلطنت قائم کرلینا پھردارالسلطنت میں ترکی غلاموں کی بغاوت، مستعین کاسامرہ کوچھوڑکربغدادکی طرف بھاگنا اورقلعہ بندہوجانا آخرکوحکومت سے دست برداری پرمجبورہونا اورکچھ عرصہ کے بعدمعتزباللہ کے ہاتھ سے تلوارکے گھاٹ اترنا، پھرمعتزباللہ کے دورمیں رومیوں کامخالفت پرتیاررہنا، معتزباللہ کوخوداپنے بھائیوں سے خطرہ محسوس ہونا اورمویدی زندگی کاخاتمہ اورموفق کابصرہ میں قیدکیاجانا، ان تمام ہنگامی حالات، ان تمام شورشوں ، ان تمام بے چینیوں اورجھگڑوں میں سے کسی میں بھی امام علی نقی کی شرکت کاشبہ تک نہ پیداہونا، کیااس طرزعمل کے خلاف نہیں ہے؟۔

جوایسے موقعوں پرجذبات سے کام لینے والوں کا ہواکرتاہے ایک ایسے اقتدارکے مقابلہ میں جسے نہ صرف وہ حق وانصاف کے روسے ناجائزسمجھتے ہیں بلکہ ان کے ہاتھوں انہیں جلاوطنی قیداوراہانتوں کاسامنابھی کرناپڑاہے مگر جذبات سے بلنداورعظمت نفس کے کامل مظہردنیاوی ہنگاموں اوروقت کے اتفاقی موقعوں سے کسی طرح کافائدہ اٹھانا اپنی بے لوث حقانیت اورکوہ سے بھی گراں صداقت کے خلاف سمجھتاہے اورمخالفت پرپس پشت حملہ کرنے کواپنے بلندنقطہ نگاہ اورمعیارعمل کے خلاف جانتے ہوئے ہمیشہ کنارہ کش رہتاہے (دسویں امام ص ۱۶) ۔

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت

متوکل کے بعداس کابیٹا مستنصرپھرمستعین پھر ۲۵۲ ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا معتزابن متوکل نے بھی اپنے باپ کی سنت کونہیں چھوڑااورحضرت کے ساتھ سختی ہی کرتارہا یہاں تک کہ اسی نے آپ کوزہردیدیا ۔

”سمعہ المعتز، انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۵۵ ،اورآپ بتاریخ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری یوم دوشنبہ انتقال فرماگئے (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۹) ۔

علامہ ابن جوزی تذکرة خواص الامة میں لکھتے ہیں کہ آپ معتزباللہ کے زمانہ خلافت میں شہیدکئے گئے ہیں اورآپ کی شہادت زہرسے واقع ہوئی ہے، علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے شہیدکیاگیاہے (انوارالابصارص ۱۵۰) ۔

علامہ ابن حجرلکھتے ہیں کہ آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں ، صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۸ میں ہے کہ آپ نے انتقال سے قبل امام حسن عسکری علیہ السلام کومواریث انبیاء وغیرہ سپردفرمائے تھے وفات کے بعدجب امام حسن عسکری علیہ السلام نے گریبان چاک کیاتولوگ معترض ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ سنت انبیاء ہے حضرت موسی نے وفات حضرت ہارون پراپناگریبان پھاڑاتھا (دمعہ ساکبہ ص ۱۴۸ ، جلاء العیون ص ۲۹۴) ۔

آپ پرامام حسن عسکری نے نمازپڑھی اورآپ سامرہ ہی میں دفن کئے گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ، علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی وفات انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہوئی انتقال کے وقت آپ کے پاس کوئی بھی نہ تھا (جلاء العیون ص ۲۹۲) ۔

آپ کی ازواج واولاد

آپ کی کئی بیویاں تھیں ، ان سے کئی اولادیں پیداہوئیں جن کے اسماء یہ ہیں امام حسن عسکری، حسین بن علی، محمدبن علی، جعفربن علی، دخترموسومہ عائشہ بن علی (ارشادمفید ص ۵۰۲ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۶ طبع مصر)۔


حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

امام حسن عسکری کی ولادت اوربچپن کے بعض حالات

علماء فریقین کی اکثریت کااتفاق ہے کہ آپ بتاریخ ۱۰/ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری یوم جمعہ بوقت صبح بطن جناب حدیثہ خاتون سے بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں ملاحظہ ہوشواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصارص ۱۱۰ ، جلاء العیون ص ۲۹۵ ، ارشادمفید ص ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ ص ۱۶۳ ۔

آپ کی ولادت کے بعد حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت محمدمصطفی صلعم کے رکھے ہوئے ”نام حسن بن علی“ سے موسوم کیا (ینابع المودة)۔

آپ کی کنیت اورآپ کے القاب

آپ کی کنیت ”ابومحمد“ تھی اورآپ کے القاب بے شمارتھے جن میں عسکری، ہادی، زکی خالص، سراج اورابن الرضا زیادہ مشہورہیں (نورالابصار ص ۱۵۰ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۲ ،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۲۵) ۔

آپ کالقب عسکری اس لئے زیادہ مشہورہوا کہ آپ جس محلہ میں بمقام ”سرمن رائے“ رہتے تھے اسے عسکرکہاجاتاتھا اوربظاہراس کی وجہ یہ تھی کہ جب خلیفہ معتصم باللہ نے اس مقام پرلشکرجمع کیاتھا اورخو دب ہی قیام پذیرتھاتواسے ”عسکر“ کہنے لگے تھے، اورخلیفہ متوکل نے امام علی نقی علیہ السلام کومدینہ سے بلواکریہیں مقیم رہنے پرمجبورکیاتھا نیزیہ بھی تھا کہ ایک مرتبہ خلیفہ وقت نے امام زمانہ کواسی مقام پرنوے ہزار لشکر کامعائنہ کرایاتھا اورآپ نے اپنی دوانگلیوں کے درمیان سے اسے اپنے خدائی لشکرکامطالعہ کرادیاتھا انہیں وجوہ کی بناپراس مقام کانام عسکر ہوگیاتھا جہاں امام علی نقی اورامام حسن عسکری علیہماالسلام مدتوں مقیم رہ کرعسکری مشہورہوگئے (بحارالانوارجلد ۱۲ ص ۱۵۴ ،وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۵ ،مجمع البحرین ص ۳۲۲ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۳ ، تذکرة ا لمعصومین ص ۲۲۲) ۔

آپ کاعہدحیات اوربادشاہان وقت

آپ کی ولادت ۲۳۲ ہجر ی میں اس وقت ہوئی جبکہ واثق باللہ بن معتصم بادشاہ وقت تھا جو ۲۲۷ ہجری میں خلیفہ بناتھا (تاریخ ابوالفداء) پھر ۲۳۳ ہجری میں متوکل خلیفہ ہوا(تاریخ ابن الوردی) جوحضرت علی اوران کی اولادسے سخت بغض وعنادرکھتاتھا، اوران کی منقصت کیاکرتا تھا (حیواة الحیوان وتاریخ کامل) اسی نے ۲۳۶ ہجری میں امام حسین کی زیارت جرم قراردی اوران کے مزارکوختم کرنے کی سعی کی (تاریخ کامل) اوراسی نے امام علی نقی علیہ السلام کوجبرامدینہ سے رمن رائے میں طلب کرالیا، (صواعق محرقہ) اورآپ کوگرفتارکراکے آپ کے مکان کی تلاشی کرائی (وفیات الاعیان) پھر ۲۴۷ ہجری میں مستنصربن متوکل خلیفہ وقت ہوا۔(تاریخ ابوالفداء)پھر ۲۴۸ ہجری میں مستعین خلیفہ بنا(ابوالفداء) پھر ۲۵۲ ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا(ابوالفداء) اسی زمانے میں امام علیہ السلام کو زہرسے شہیدکردیاگیا (نورالابصار) پھر ۲۵۵ ہجری میں مہدی باللہ خلیفہ بنا(تاریخ ابن الوردی) پھر ۲۵۶ ہجری میں معتمدعلی اللہ خلیفہ ہوا(تاریخ ابوالفداء) اسی زمانہ میں ۲۶۰ ہجری میں امام علیہ السلام زہرسے شہیدہوئے (تاریخ کامل) ان تمام خلفاء نے آپ کے ساتھ وہی برتاؤکیا جوآل محمدکے ساتھ برتاؤکئے جانے کادستورچلاآرہاتھا۔

چارماہ کی عمراورمنصب امامت

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عمرجب چارماہ کے قریب ہوئی توآپ کے والدامام علی نقی علیہ السلام نے اپنے بعدکے لیے منصب امامت کی وصیت کی اورفرمایاکہ میرے بعدیہی میرے جانشین ہوں گے اوراس پربہت سے لوگوں کوگواہ کردیا(ارشادمفید ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۳ بحوالہ اصول کافی)۔

علامہ ابن حجرمکی کاکہناہے کہ امام حسن عسکری ،امام علی نقی کی اولادمیں سب سے زیادہ اجل وارفع اعلی وافضل تھے۔

چارسال کی عمرمیں آپ کاسفرعراق

متوکل عباسی جوآل محمدکاہمیشہ سے دشمن تھا اس نے امام حسن عسکری کے والدبزرگوارامام علی نقی علیہ السلام کوجبرا ۲۳۶ ہجری میں مدینہ سے ”سرمن رائے“ بلالیا آپ ہی کے ہمراہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کوبھی جاناپڑااس وقت آپ کی عمرچارسال چندماہ کی تھی(دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۲) ۔

یوسف آل محمدکنوئیں میں

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نہ جانے کس طرح اپنے گھرکے کنوئیں میں گرگئے، آپ کے گرنے سے عورتوں میں کہرام عظیم برپاہوگیا سب چیخنے اورچلانے لگیں ، مگرامام علی نقی علیہ السلام جومحونمازتھے، مطلق متاثرنہ ہوئے اوراطمینان سے نمازکااختتام کیا، اس کے بعدآ پ نے فرمایا کہ گھبراؤنہیں حجت خداکوکوئی گزندنہ پہنچے گی، اسی دوران میں دیکھاکہ پانی بلندہورہاہے اورامام حسن عسکری پانی میں کھیل رہے ہیں (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۹) ۔

امام حسن عسکری اورکمسنی میں عروج فکر

آل محمدجوتدبرقرآنی اورعروج فکرمیں خاص مقام رکھتے ہیں ان میں سے ایک بلند مقام بزرگ حضرت امام حسن عسکری ہیں ، علماء فریقین نے لکھاہے کہ ایک دن آپ ایک ایسی جگہ کھڑے رہے جس جگہ کچھ بچے کھیل میں مصروف تھے اتفاقا ادھرسے عارف آل محمدجناب بہلول داناگزرے، انہوں نے یہ دیکھ کرکہ سب بچے کھیل رہے ہیں اورایک خوبصورت سرخ وسفیدبچہ کھڑارورہاہے ادھرمتوجہ ہوئے اورکہاکہ اے نونہال مجھے بڑاافسوس ہے کہ تم اس لیے رورہے رہو کہ تمہارے پاس وہ کھلونے نہیں ہیں جوان بچوں کے پاس ہیں سنو! میں ابھی ابھی تمہارے لیے کھلونے لے کرآتاہوں یہ کہناتھا کہ اس کمسنی کے باوجودبولے، انانہ سمجھ ہم کھیلنے کے لیے نہیں پیداکئے گئے ہم علم وعبادت کے لیے پیداکئے گئے ہیں انہوں نے پوچھاکہ تمہیں یہ کیونکرمعلوم ہواکہ غرض خلقت علم وعبادت ہے، آپ نے فرمایاکہ اس کی طرف قرآن مجیدرہبری کرتاہے،کیاتم نے نہیں پڑھاکہ خدافرماتاہے ”افحسبتم انماخلقناکم عبثا“ الخ(پ ۱۸ رکوع ۶) ۔

کیاتم نے یہ سمجھ لیاہے کہ ہم نے تم کوعبث (کھیل وکود) کے لیے پیداکیاہے؟ اورکیاتم ہماری طرف پلٹ کرنہ آؤگے یہ سن کربہلول حیران رہ گئے، اورکہنے پرمجبورہوگئے کہ اے فرزندتمہیں کیاہوگیاتھا کہ تم رورہے تھے گناہ کاتصورتوہونہیں سکتا کیونکہ تم بہت کم سن ہو، آپ نے فرمایاکہ کمسنی سے کیاہوتاہے میں نے اپنی والدہ کودیکھاہے کہ بڑی لکڑیوں کوجلانے کے لیے چھوٹی لکڑیاں استعمال کرتی ہیں میں ڈرتاہوں کہ کہیں جہنم کے بڑے ایندھن کے لیے ہم چھوٹے اورکمسن لوگ استعمال نہ کئے جائیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصار ص ۱۵۰ ،تذکرة المعصومین ص ۲۳۰) ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ بادشاہان وقت کاسلوک اورطرزعمل

جس طرح آپ کے آباؤاجدادکے وجودکوان کے عہدکے بادشاہ اپنی سلطنت اورحکمرانی کی راہ میں روڑاسمجھتے رہے ان کایہ خیال رہاکہ دنیاکے قلوب ان کی طرف مائل ہیں کیونکہ یہ فرندرسول اوراعمال صالح کے تاجدارہیں لہذا ان کوانظارعامہ سے دوررکھاجائے ورنہ امکان قوی ہے کہ لوگ انہیں اپنا بادشاہ وقت تسلیم کرلیں گے اس کے علاوہ یہ بغض وحسدبھی تھا کہ ان کی عزت بادشاہ وقت کے مقابلہ میں زیادہ کی جاتی ہے اوریہ کہ امام مہدی انہیں کی نسل سے ہوں گے جوسلطنتوں کا انقلاب لائیں گے انہیں تصورات نے جس طرح آپ کے بزرگوں کو چین نہ لینے دیا اورہمیشہ مصائب کی آماجگاہ بنائے رکھااسی طرح آپ کے عہد کے بادشاہوں نے بھی آپ کے ساتھ کیا عہدواثق میں آپ کی ولادت ہوئی اورعہدمتوکل کے کچھ ایام میں بچپناگزرا،متوکل جوآل محمدکا جانی دشمن تھا اس نے صرف اس جرم میں کہ آل محمدکی تعریف کی ہے ابن سکیت شاعرکی زبان گدی سے کھنچوالی (ابوالفداء جلد ۲ ص ۱۴) ۔

اس نے سب سے پہلے توآپ پریہ ظلم کیاکہ چارسال کی عمرمیں ترک وطن کرنے پرمجبورکیا یعنی امام علی نقی علیہ السلام کوجبرا مدینہ سے سامرہ بلوالیا جن کے ہمراہ امام حسن عسکری علیہ السلام کولازماجاناتھا پھروہاں آپ کے گھرکی لوگوں کے کہنے سننے سے تلاشی کرائی اوراپ کے والدماجدکو جانوروں سے پھڑوا ڈالنے کی کوشش کی ، غرضکہ جوجوسعی آل محمدکوستانے کی ممکن تھی وہ سب اس نے اپنے عہدحیات میں کرڈالی اس کے بعداس کابیٹا مستنصرخلیفہ ہوا یہ بھی اپنے پاپ کے نقش قدم پرچل کرآل محمدکوستانے کی سنت اداکرتارہا اوراس کی مسلسل کوشش یہی رہی کہ ان لوگوں کوسکون نصیب نہ ہونے پائے اس کے بعدمستعین کاجب عہدآیاتواس نے آپ کے والدماجدکوقیدخانہ میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی سعی پیہم کی کہ کسی صورت سے امام حسن عسکری کوقتل کرادے اوراس کے لیے اس نے مختلف راستے تلاش کیے۔

ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس نے اپنے شوق کے مطابق ایک نہایت زبردست گھوڑاخریدا، لیکن اتفاق سے وہ کچھ اس درجہ سرکش نکلاکہ اس نے بڑے بڑے لوگوں کوسواری نہ دی اورجواس کے قریب گیا اس کوزمین پردے مارکرٹاپوں سے کچل ڈالا،ایک دن خلیفہ مستعین باللہ کے ایک دوست نے رائے دی کہ امام حسن عسکری کوبلاکرحکم دیاجائے کہ وہ اس پرسواری کریں ، اگروہ اس پرکامیاب ہوگئے توگھوڑارام ہوجائے گا اوراگرکامیاب نہ ہوئے اورکچل ڈالے گئے تو تیرامقصدحل ہوجائے گا چنانچہ اس نے ایساہی کیا لیکن اللہ رے شان امامت جب آپ اس کے قریب پہنچے تووہ اس طرح بھیگی بلی بن گیاکہ جیسے کچھ جانتاہی نہیں بادشاہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیا اوراس کے پاس اس کے سواکوئی اورچارہ نہ تھا کہ گھوڑاحضرت ہی کے حوالے کردے (شواہدالنبوت ص ۲۱۰) ۔

پھرمستعین کے بعدجب معتزباللہ خلیفہ ہواتواس نے بھی آل محمدکوستانے کی سنت جاری رکھی اوراس کی کوشش کرتارہا کہ عہدحاضرکے امام زمانہ اورفرزندرسول امام علی نقی علیہ السلام کودرجہ شہادت پرفائزکردے چنانچہ ایساہی ہوا اوراس نے ۲۵۴ ہجری میں آپ کے والدبزرگوارکوزہرسے شہیدکرادیا، یہ ایک ایسی مصیبت تھی کہ جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کوبے انتہامایوس کردیا امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بعدامام حسن عسکری علیہ السلام خطرات میں محصور ہوگئے کیونکہ حکومت کارخ اب آپ ہی کی طرف رہ گیا آپ کوکھٹکالگاہی تھا کہ حکومت کی طرف سے عمل درآمدشروع ہوگیا معتزنے ایک شقی ازلی اورناصب ابدی ابن یارش کی حراست اورنظربندی میں امام حسن عسکری کودیدیا اس نے آپ کوستانے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا لیکن آخرمیں وہ آپ کامعتقدبن گیا،آپ کی عبادت گزاری اورروزہ داری نے اس پرایساگہرااثرکیا کہ اس نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکرمعافی مانگ لی اورآپ کودولت سراتک پہنچادیا۔

علی بن محمدزیادکابیان ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے ایک خط تحریرفرمایاجس میں لکھاتھا کہ تم خانہ نشین ہوجاؤ کیونکہ ایک بہت بڑافتنہ اٹھنے والاہے غرضکہ تھوڑے دنوں کے بعد ایک عظیم ہنگامہ برپاہوااورحجاج بن سفیان نے معتزکوقتل کردیا(کشف الغمہ ص ۱۲۷) ۔

پھرجب مہدی باللہ کاعہدآیا تواس نے بھی بدستوراپناعمل جاری رکھا اورحضرت کوستانے میں ہرقسم کی کوشش کرتارہا ایک دن اس نے صالح بن وصیف نامی ناصبی کے حوالہ آپ کوکردیااورحکم دیا کہ ہرممکن طریقہ سے آپ کوستائے، صالح کے مکان کے قریب ایک بدترین حجرہ تھا جس میں آپ قیدکئے گئے صالح بدبخت نے جہاں اورطریقہ سے ستایا ایک طریقہ یہ بھی تھاکہ آپ کوکھانا اورپانی سے بھی حیران اورتنگ رکھتاتھا آخرایساہوتارہاکہ آپ تیمم سے نمازادا فرماتے رہے ایک دن اس کی بیوی نے کہاکہ اے دشمن خدایہ فرزندرسول ہیں ان کے ساتھ رحم کابرتاؤ کر، اس نے کوئی توجہ نہ کی ایک دن کاذکرہے کہ بنی عباسیہ کے ایک گروہ نے صالح سے جاکردرخواست کی کہ حسن عسکری پرزیادہ ظلم کیاجاناچاہئے اس نے جواب دیاکہ میں نے ان کے اوپردوایسے شخصوں کومسلط کردیاہے جن کاظلم وتشدد میں جواب نہیں ہے، لیکن میں کیاکروں ، کہ ان کے تقوی اوران کی عبادت گذاری سے وہ اس درجہ متاثرہوگئے ہیں کہ جس کی کوئی حدنہیں ، میں نے ان سے جواب طلبی کی توانہوں نے قلبی مجبوری ظاہرکی یہ سن کروہ لوگ مایوس واپس گئے (تذکرة المعصومین ص ۲۲۳) ۔

غرضکہ مہدی کاظلم وتشددزوروں پرتھا اوریہی نہیں کہ وہ امام علیہ السلام پرسختی کرتاتھا بلکہ یہ کہ وہ ان کے ماننے والوں کوبرابرقتل کررہاتھا ایک دن آپ کے ایک صحابی احمدبن محمدنے ایک عریضہ کے ذریعہ سے اس کے ظلم کی شکایت کی، توآپ نے تحریرفرمایاکہ گھبراؤنہیں کہ مہدی کی عمراب صرف پانچ یوم باقی رہ گئی ہے چنانچہ چھٹے دن اسے کمال ذلت وخواری کے ساتھ قتل کردیاگیا(کشف الغمہ ص ۱۲۶) ۔اسی کے عہدمیں جب آپ قیدخانہ میں پہنچے توعیسی بن فتح سے فرمایاکہ تمہاری عمراس وقت ۶۵ سال ایک ماہ دویوم کی ہے اس نے نوٹ بک نکال کراس کی تصدیق کی پھرآپ نے فرمایا کہ خداتمہیں اولادنرینہ عطاکرے گا وہ خوش ہوکرکہنے لگا مولا!کیاآپ کوخدافرزندنہ دے گا آپ نے فرمایاکہ خداکی قسم عنقریب مجھے مالک ایسافرزندعطاکرے گا جوساری کائنات پرحکومت کرے گا اوردنیاکو عدل وانصاف سے بھردے گا (نورالابصارص ۱۰۱) پھرجب اس کے بعدمعتمدخلیفہ ہواتواس نے امام علیہ السلام پرظلم وتشدد واستبدادکا خاتمہ کردیا۔

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت اورامام حسن عسکری کاآغازامامت

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے فرزندامام حسن عسکری علیہ السلام کی شادی جناب نرجس خاتون سے کردی جوقیصرروم کی پوتی اورشمعون وصی عیسی کی نسل سے تھیں (جلاء العیون ص ۲۹۸) ۔

اس کے بعدآپ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری کودرجہ شہادت پرفائزہوئے۔

آپ کی شہادت کے بعدحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کاآغازہوا آپ کے تمام معتقدین نے آپ کومبارک باددی اورآپ سے ہرقسم کااستفادہ شروع کردیا آپ کی خدمت میں آمدورفت اورسوالات وجوابات کاسلسلہ جاری ہوگیا آپ نے جوابات میں ایسے حیرت انگیزمعلومات کاانکشاف فرمایاکہ لوگ دنگ رہ گئے آپ نے علم غیب اورعلم بالموت تک کاثبوت پیش فرمایا اوراس کی بھی وضاحت کی کہ فلاں شخص کواتنے دنوں میں موت آجائے گی۔

علامہ ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے والدسمیت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی راہ میں بیٹھ کریہ سوال کرناچاہاکہ باپ کوپانچ سو درہم اوربیٹے کو تین سوردرہم اگرامام دیدیں توتوسارے کام ہوجائیں ، یہاں تک امام علیہ السلام اس راستے پرآپہنچے ،اتفاقا یہ دونوں امام کوپہچانتے نہ تھے امام خودان کے قریب گئے اوران سے کہاکہ تمہیں آٹھ سودرہم کی ضرورت ہے آؤتمہیں دیدوں دونوں ہمراہ ہولیے اوررقم معہودحاصل کرلی اسی طرح ایک اورشخص قیدخانہ میں تھا اس نے قیدکی پریشانی کی شکایت امام علیہ السلام کولکھ کربھیجی اورتنگ دستی کا ذکرشرم کی وجہ سے نہ کیا آپ نے تحریرفرمایاکہ تم آج ہی قید سے رہاہوجاؤگے اورتم نے جوشرم سے تنگدستی کاتذکرہ نہیں کیا اس کے متعلق معلوم کروکہ میں اپنے مقام پرپہنچتے ہی سودیناربھیج دوں گا۔

چنانچہ ایساہی ہوا اسی طرح ایک شخص نے آپ سے اپنی تندستی کاکی شکایت کی آپ نے زمین کریدکرایک اشرفی کی تھیلی نکالی اوراس کے حوالہ کردی اس میں سودینارتھے۔

اسی طرح ایک شخص نے آپ کوتحریرکیاکہ مشکوة کے معنی کیاہیں ؟ نیزیہ کہ میری بیوی حاملہ ہے اس سے جوفرزندپیداہوگا اس کانام رکھ دیجیے آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ مشکوة سے مراد قلب محمدمصطفی صلعم ہے اورآخرمیں لکھ دیا ”اعظم اللہ اجرک واخلف علیک“ خداتمہیں جزائے خیردے اورنعم البدل عطاکرے چنانچہ ایساہی ہوا کہ اس کے یہاں مردہ بیٹاپیداہوا۔

اس کے بعداس کی بیوی حاملہ ہوئی ، فرزندنرینہ متولدہوا، ملاحظہ ہو(شواہدالنبوت ص ۲۱۱) ۔

علامہ ارلی لکھتے ہیں کہ حسن ابن ظریف نامی ایک شخص نے حضرت سے لکھ کردریافت کیاکہ قائم آل محمدپوشیدہ ہونے کے بعدکب ظہورکریں گے آپ نے تحریرفرمایا جب خداکی مصلحت ہوگی اس کے بعدلکھا کہ تم تپ ربع کاسوال کرنابھول گئے جسے تم مجھ سے پوچھناچاہتے تھے ، تودیکھوایساکروکہ جواس میں مبتلاہواس کے گلے میں ایة ”یانارکونی برداولاما علی ابراہیم“ لکھ کرلٹکادوشفایاب ہوجائے گاعلی بن زیدابن حسین کاکہناہے کہ میں ایک گھوڑاپرسوارہوکرحضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے فرمایاکہ اس گھوڑے کی عمرصرف ایک رات باقی رہ گئی ہے چنانچہ وہ صبح ہونے سے پہلے مرگیا اسماعیل بن محمدکاکہناہے کہ میں حضرت کی خدمت میں حاضرہوا، اورمیں نے ان سے قسم کھاکرکہاکہ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہے آپ نے مسکراکر فرمایا کہ قسم مت کھاؤ تمہارے گھردوسودینار مدفون ہیں یہ سن کروہ حیران رہ گیا پھرحضرت نے غلام کوحکم دیاکہ انہیں سواشرفیاں دیدو عبدی روایت کرتاہے کہ میں اپنے فرزندکو بصرہ میں بیمار چھوڑکرسامرہ گیااوروہاں حضرت کوتحریرکیاکہ میرے فرزندکے لیے دعائے شفاء فرمائیں آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ ”خدااس پررحمت نازل فرمائے“ جس دن یہ خط اسے ملااسی دن اس کافرزندانتقال کرچکاتھا محمدبن افرغ کہتاہے کہ میں نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ کے ذریعہ سے سوال کیاکہ ”آئمہ کوبھی احتلام ہوتاہے“ جب خط روانہ کرچکاتو خیال ہواکہ احتلام تووسوسہ شیطانی سے ہواکرتاہے اورامام تک شیطان پہنچ نہیں سکتا بہرحال جواب آیاکہ امام نوم اوربیداری دونوں حالتوں میں وسوسہ شیطانی سے دورہوتے ہیں جیساکہ تمہارے دل میں بھی خیال پیداہواہے پھراحتلام کیونکرہوسکتاہے جعفربن محمدکاکہناہے کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرتھا، دل میں خیال آیا کہ میری عورت جوحاملہ ہے اگراس سے فرزندنرینہ پیداہوتوبہت اچھاہوآپ نے فرمایاکہ اے جعفرلڑکانہیں لڑکی ہوگی چنانچہ ایساہی ہوا(کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔

اپنے عقیدت مندوں میں حضرت کادورہ

جعفربن شریف جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعدحضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں حاضرہوا ،اوران سے عرض کی کہ مولا! اہل جرجان آپ کی تشریف آوری کے خواستگارہیں آپ نے فرمایاکہ تم آج سے ایک سونوے دن کے بعدواپس جرجان پہنچوگے اورجس دن تم پہچوگے اسی دن شام کو میں بھی پہنچ جاؤں گا تم انہیں باخبرکردینا، چنانچہ ایساہی ہوا میں وطن پہنچ کرلوگوں کوآگاہ کرچکاتھا کہ امام علیہ السلام کی تشریف آوری ہوئی آپ نے سب سے ملاقات کی اورسب نے شرف زیارت حاصل کیا، پھرلوگوں نے اپنی مشکلات پیش کیں امام علیہ السلام نے سب کومطمئن کردیا اسی سلسلہ میں نصربن جابرنے اپنے فرزندکوپیش کیا، جونابیناتھا حضرت نے اس کے چہرہ پردست مبارک پھیرکراسے بینائی عطاکی پھرآپ اسی روزواپس تشریف لے گئے (کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔

ایک شخص نے آپ کوایک خط بلاروشنائی کے قلم سے لکھا آپ نے اس کاجواب مرحمت فرمایااورساتھ ہی لکھنے والے کا اوراس کے باپ کانام بھی تحریرفرمادیا یہ کرامت دیکھ کروہ شخص حیران ہوگیااوراسلام لایا اورآپ کی امامت کامعتقدبن گیا(دمعہ ساکبہ ص ۱۷۲) ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کاپتھرپرمہر لگانا

ثقة الاسلام علامہ کلینی اورامام اہلسنت علامہ جامی رقمطرازہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں ایک خوبصورت سایمنی آیا اوراس نے ایک سنگ پارہ یعنی پتھرکاٹکڑا پیش کرکے خواہش کی کہ آپ اس پراپنی امامت کی تصدیق میں مہرکردیں حضرت نے مہرنکالی اوراس پرلگادی آپ کااسم گرامی اس طرح کندہ ہوگیاجس طرح موم پرلگانے سے کندہ ہوتاہے ایک سوال کے جواب میں کہاگیاکہ آنے والامجمع ابن صلت بن عقبہ بن سمعان ابن غانم ابن ام غانم تھا یہ وہی سنگ پارہ لایاتھا جس پراس کے خاندان کی ایک عورت ام غانم نے تمام آئمہ طاہرین سے مہرلگوارکھی تھی اس کاطریقہ یہ تھا کہ جب کوئی امامت کادعوی کرتاتھا تووہ اس کولے کراس کے پاس چلی جاتی تھی اگراس مدعی نے پتھرپرمہرلگادی تواس نے سمجھ لیاکہ یہ امام زمانہ ہیں اوراگروہ اس عمل سے عاجزرہاتووہ اسے نظراندازکردیتی تھی چونکہ اس نے اسی سنگ پارہ پرکئی اماموں کی مہرلگوائی تھی ، اس لیے اس کالقب (صاحبةالحصاة) ہوگیاتھا ۔

علامہ جامی لکھتے ہیں کہ جب مجمع بن صلت نے مہرلگوائی تواس سے پوچھاگیاکہ تم حضرت امام حسن عسکری کوپہلے سے پہچانتے تھے اس نے کہانہیں ، واقعہ یہ ہواکہ میں ان کاانتظارکرہی رہاتھا کہ کہ آپ تشریف لائے میں لیکن پہچانتانہ تھا اس لیے خاموش ہوگیا اتنے میں ایک ناشناس نوجوان نے میری نظروں کے سامنے آکرکہاکہ یہی حسن بن علی ہیں ۔

راوی ابوہاشم کہتاہے کہ جب وہ جوان آپ کے دربارمیں آیاتومیرے دل میں یہ آیاکہ کاش مجھے معلوم ہوتاکہ یہ کون ہے، دل میں اس کاخیال آناتھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایاکہ مہرلگوانے کے لیے وہ سنگ پارہ لایاہے ، جس پرمیرے باپ داداکی مہریں لگی ہوئی ہیں چنانچہ اس نے پیش کیا اورآپ نے مہرلگادی وہ شخص آیة ”( ذریة بعضهامن بعض ) “ پڑھتاہواچلاگیا (اصول کافی ،دمعہ ساکبہ ص ۱۶۴ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۱ ،طبع لکھنو ۱۹۰۵ ء اعلام الوری ۲۱۴) ۔

حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کوشکست دینا

مورخین کابیان ہے کہ عراق کے ایک عظیم فلسفی اسحاق کندی کویہ خبط سوارہواکہ قرآن مجیدمیں تناقض ثابت کرے اوریہ بتادے کہ قرآن مجیدکی ایک آیت دوسری آیت سے، اورایک مضمون دوسرے مضمون سے ٹکراتاہے اس نے اس مقصدکی تکمیل کے لیے ”تناقض القرآن“ لکھناشروع کی اوراس درجہ منہمک ہوگیا کہ لوگوں سے ملناجلنا اورکہیں آناجانا سب ترک کردیا حضرت امام حسن عسکر ی علیہ السلام کوجب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس کے خبط کو دور کرنے کاارادہ فرمایا، آپ کاخیال تھا کہ اس پرکوئی ایسااعتراض کردیاجائے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سے اورمجبورااپنے ارادہ سے بازآئے ۔

اتفاقا ایک دن آپ کی خدمت میں اس کاایک شاگرد حاضرہوا، حضرت نے اس سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسانہیں ہے جواسحاق کندی کو ”تناقض القرآن“ سے لکھنے سے بازرکھے اس نے عرض کی مولا! میں اس کاشاگردہوں ، بھلااس کے سامنے لب کشائی کرسکتاہوں ، آپ نے فرمایاکہ اچھایہ توکرسکتے ہو کہ جومیں کہوں وہ اس تک پہنچادو، اس نے کہاکرسکتاہوں ، حضرت نے فرمایاکہ پہلے توتم اس سے موانست پیداکرو، اوراس پراعتبارجماؤ جب وہ تم سے مانوس ہوجائے اورتمہاری بات توجہ سے سننے لگے تواس سے کہناکہ مجھے ایک شبہ پیداہوگیاہے آپ اس کودورفرمادیں ، جب وہ کہے کہ بیان کروتوکہناکہ ”ان اتاک هذالمتکلم بهذاالقرآن هل یجوزمراده بماتکلم منه عن المعانی التی قدظننتها انک ذهبتها الیها

اگراس کتاب یعنی قرآن کامالک تمہارے پاس اسے لائے توکیاہوسکتاہے کہ اس کلام سے جومطلب اس کاہو، وہ تمہارے سمجھے ہوئے معانی ومطالب کے خلاف ہو، جب وہ تمہارا یہ اعتراض سنے گا توچونکہ ذہین آدمی ہے فوراکہے گا کہ بے شک ایساہوسکتاہے جب وہ یہ کہے توتم اس سے کہناکہ پھرکتاب ”تناقض القرآن“ لکھنے سے کیافائدہ؟ کیونکہ تم اس کے جومعنی سمجھ کراس پراعتراض کررہے ہو ،ہوسکتاہے کہ وہ خدائی مقصودکے خلاف ہو، ایسی صورت میں تمہاری محنت ضائع اوربرباد ہوجائے گی کیونکہ تناقض توجب ہوسکتاہے کہ تمہارا سمجھاہوا مطلب صحیح اورمقصود خداوندی کے مطابق ہو اورایسا یقینی طورپرنہیں توتناقض کہاں رہا؟ ۔

الغرض وہ شاگرد ،اسحاق کندی کے پاس گیا اوراس نے امام کے بتائے ہوئے اصول پر اس سے مذکورہ سوال کیا اسحاق کندی یہ اعتراض سن کر حیران رہ گیا اورکہنے لگا کہ پھرسوال کودہراؤ اس نے پھراعادہ کیا اسحاق تھوڑی دیرکے لیے محو تفکرہوگیا اورکہنے لگا کہ بے شک اس قسم کااحتمال باعتبار لغت اوربلحاظ فکروتدبرممکن ہے پھراپنے شاگرد کی طرف متوجہ ہواکربولا! میں تمہیں قسم دیتاہوں تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ کہ تمہیں یہ اعتراض کس نے بتایاہے اس نے جواب دیا کہ میرے شفیق استاد یہ میرے ہی ذہن کی پیداوارہے اسحاق نے کہاہرگزنہیں ، یہ تمہارے جیسے علم والے کے بس کی چیزنہیں ہے، تم سچ بتاؤ کہ تمہیں کس نے بتایا اوراس اعتراض کی طرف کس نے رہبری کی ہے شاگرد نے کہا کہ سچ تویہ ہے کہ مجھے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایاتھا اورمیں نے انھیں کے بتائے ہوئے اصول پرآپ سے سوال کیاہے اسحاق کندی بولا ”ان جئت بہ “ اب تم نے سچ کہاہے ایسے اعتراضات اورایسی اہم باتیں خاندان رسالت ہی سے برآمدہوسکتی ہیں ”ثم انہ دعا بالنا رواحرق جمیع ماکان الفہ“ پھراس نے آگ منگائی اورکتاب تناقض القرآن کاسارامسودہ نذرآتش کردیا (مناقب ابن شہرآشوب مازندرانی جلد ۵ ص ۱۲۷ ،بحارالانوار جلد ۱۲ ص ۱۷۲ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۸۳) ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورخصوصیات مذہب

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کاارشادہے کہ ہمارے مذہب میں ان لوگوں کاشمارہوگا جواصول وفروع اوردیگرلوزم کے ساتھ ساتھ ان دس چیزوں کے قائل ہوں بلکہ ان پرعامل ہوں گے۔:

۱ ۔ شب وروزمیں ۵۱/ رکعت نمازپڑھنا۔

۲ ۔سجدگاہ کربلاپرسجدہ کرنا۔

۳ ۔ داہنے ہاتھ میں انگھوٹھی پہننا۔

۴ ۔اذان واقامت کے جملے دودومرتبہ کہنا۔

۵ ۔ اذان واقامت میں حی علی خیرالعمل کہنا۔

۶ ۔ نمازمیں بسم اللہ زورسے پڑھنا۔

۷ ۔ ہردوسری رکعت میں قنوت پڑھنا۔

۸ ۔ آفتاب کی زردی سے پہلے نمازعصراورتاروں کے ڈوب جانے سے پہلے نماز صبح پڑھنا۔

۹ ۔سراورڈاڑھی میں وسمہ کاخضاب کرنا۔

۱۰ ۔ نمازمیت میں پانچ تکبرکہنا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۲) ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورعیدنہم ربیع الاول

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام چندعظیم اصحاب جن میں احمدبن اسحاق قمی بھی تھے، ایک دن محمدبن ابی علاء ہمدانی اوریحی بن محمدبن جریح بغدادی کے درمیان ۹/ ربیع الاول کے یوم عیدہونے پرگفتگوہورہی تھی، بات چیت کی تکمیل کے لیے یہ دونوں احمدبن اسحاق کے مکان پرگئے، دق الباب کیا،ایک عراقی لڑکی نکلی، آنے کاسبب پوچھا کہا، احمدسے ملناہے اس نے کہاوہ اعمال کررہے ہیں انہوں نے کہا کیساعمل ہے ؟ لڑکی نے کہاکہ احمدبن اسحاق نے حضرت امام علی نقی سے روایت کی ہے کہ ۹/ ربیع الاول یوم عیدہے اورہماری بڑی عیدہے اورہمارے دوستوں کی عیدہے الغرض وہ احمدسے ملے، انہوں نے کہا میں ابھی غسل عیدسے فارغ ہواہوں اورآج عیدنہم ہے پھرانہوں نے کہاکہ میں آج حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہواہوں ، ان کے یہاں انگیٹھی سلگ رہی تھی اورتمام گھرکے لوگ اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے خوشبولگائے ہوئے تھے میں نے عرض کی ابن رسول اللہ آج کیاکوئی تازہ یوم مسرت ہے فرمایاہاں آج ۹/ ربیع الاول ہے، ہم اہلبیت اورہمارے ماننے والوں کے لیے یوم عیدہے پھرامام علیہ السلام نے اس دن کے یوم عیدہونے اوررسول خدا اورامیرالمومنین کے طرزعمل کی نشان دہی فرمائی ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندسودمند

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندونصائح حکم اورمواعظ میں سے مشتی نمونہ ازخرواری یہ ہیں :

۱ ۔ دوبہترین عادتیں یہ ہیں کہ اللہ پرایمان رکھے اورلوگوں کوفائدے پہنچائے۔

۲ ۔ اچھوں کودوست رکھنے میں ثواب ہے۔

۳ ۔ تواضع اورفروتنی یہ ہے کہ جب کسی کے پاس سے گزرے توسلام کرے اورمجلس میں معمولی جگہ بیٹھے۔

۴ ۔بلاوجہ ہنسنا جہالت کی دلیل ہے۔

۵ ۔پڑوسیوں کی نیکی کوچھپانا، اوربرائیوں کواچھالناہرشخص کے لیے کمرتوڑدینے والی مصیبت اوربے چارگی ہے۔

۶ ۔ یہی عبادت نہیں ہے کہ نماز،روزے کواداکرتارہے، بلکہ یہ بھی اہم عبادت ہے کہ خداکے بارے میں سوچ وبچارکرے۔

۷ ۔ وہ شخص بدترین ہے جودومونہااوردوزباناہو، جب دوست سامنے آئے تواپنی زبان سے خوش کردے اورجب وہ چلاجائے تو اسے کھاجانے کی تدبیرسوچے ،جب اسے کچھ ملے تویہ حسدکرے اورجب اس پرکوئی مصیبت آئے توقریب نہ پھٹکے۔

۸ ۔ غصہ ہربرائی کی کنجی ہے۔

۹ ۔ حسدکرنے اورکینہ رکھنے والے کوکبھی سکون قلب نصیب نہیں ہوتا۔

۱۰ ۔ پرہیزگاروہ ہے کہ جوشب کے وقت توقف وتدبرسے کام لے اورہرامرمیں محتاط رہے۔

۱۱ ۔ بہترین عبادت گزاروہ ہے جوفرائض اداکرتارہے۔

۱۲ ۔بہترین متقی اورزاہدوہ ہے جوگناہ مطلقا چھوڑدے۔

۱۳ ۔ جودنیامیں بوئے گا وہی آخرت میں کاٹے گا۔

۱۴ ۔ موت تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے اچھابوگے تواچھاکاٹوگے، برا بوگے توندامت ہوگی۔

۱۵ ۔ حرص اورلالچ سے کوئی فائدہ نہیں جوملناہے وہی ملے گا ۔

۱۶ ۔ ایک مومن دوسرے مون کے لیے برکت ہے۔

۱۷ ۔ بیوقوف کادل اس کے منہ میں ہوتاہے اورعقلمندکامنہ اس کے دل میں ہوتاہے ۔ ۱۸ ۔ دنیاکی تلاش میں کوئی فریضہ نہ گنوادینا۔

۱۹ ۔ طہارت میں شک کی وجہ سے زیادتی کرناغیرممدوح ہے۔

۲۰ ۔ کوئی کتناہی بڑاآدمی کیوں نہ ہو جب وہ حق کوچھوڑدے گاذلیل ترہوجائے گا۔

۲۱ ۔ معمولی آدمی کے ساتھ اگرحق ہوتووہی بڑاہے۔

۲۲ ۔ جاہل کی دوستی مصیبت ہے۔

۲۳ ۔ غمگین کے سامنے ہنسنا بے ادبی اوربدعملی ہے۔

۲۴ ۔ وہ چیزموت سے بدترہے جوتمہیں موت سے بہترنظرآئے۔

۲۵ ۔ وہ چیززندگی سے بہترہے جس کی وجہ سے تم زندگی کوبراسمجھو۔

۲۶ ۔ جاہل کی دوستی اوراس کے ساتھ گزاراکرنا معجزہ کے مانندہے۔

۲۷ ۔ کسی کی پڑی ہوئی عادت کوچھڑانااعجازکی حیثیت رکھتاہے۔

۲۸ ۔ تواضع ایسی نعمت ہے جس پرحسدنہیں کیاجاسکتا۔

۲۹ ۔ اس اندازسے کسی کی تعظیم نہ کروجسے وہ براسمجھے۔

۳۰ ۔ اپنے بھائی کی پوشیدہ نصیحت کرنی اس کی زینت کاسبب ہوتا۔

۳۱ ۔ کسی کی علانیہ نصیحت کرنابرائی کاپیش خیمہ ہے۔

۳۲ ۔ ہربلااورمصیبت کے پس منظرمیں رحمت اورنعمت ہوتی ہے۔

۳۳ ۔ میں اپنے و الوں کووصیت کرتاہوں کہ اللہ سے ڈریں دین کے بارے میں پرہیزگاری کوشعاربنالیں خداکے متعلق پوری سعی کریں اوراس کے احکام کی پیروی میں کمی نہ کریں ، سچ بولیں ، امانتیں چاہے مون کی ہوں یاکافرکی ،اداکریں ، اوراپنے سجدوں کوطول دیں اورسوالات کے شیریں جواب دیں تلاوت قرآن مجیدکیاکریں موت اورخداکے ذکرسے کبھی غافل نہ ہوں ۔

۳۴ ۔ جوشخص دنیاسے دل کااندھااٹھے گا، آخرت میں بھی اندھارہے گا،دل کااندھاہونا ہماری مودت سے غافل رہناہے قرآن مجیدمیں ہے کہ قیامت کے دن ظالم کہیں گے ”رب لماحشرتنی اعمی وکنت بصیرا“ میرے پالنے والے ہم تودنیامیں بیناتھے ہمیں یہاں اندھاکیوں اٹھایاہے جواب ملے گا ہم نے جونشانیاں بھیجی تھیں تم نے انھیں نظراندازکیاتھا۔ ”لوگو! اللہ کی نعمت اللہ کی نشانیاں ہم آل محمدہیں ۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ نے دوشنبہ کے شرونحوست سے بچنے کے لیے ارشادفرمایاہے کہ نمازصبح کی رکعت اولی میں سوہ ”ہل اتی“ پڑھنا چاہئے،نیزیہ فرمایاہے کہ نہارمنہ خربوزہ نہیں کھاناچاہئے کیونکہ اس سے فالج کااندیشہ ہے (بحارالانوارجلد ۱۴) ۔

معتمدعباسی کی خلافت اورامام حسن عسکری علیہ السلام کی گرفتاری

۲۵۶ ہجری میں معتدعباسی خلافت مقبوضہ کے تخت پرمتمکن ہوا، اس نے حکومت کی عنان سنبھالتے ہی اپنے آبائی طرزعمل کواختیارکرنا اورجدی کردارکوپیش کرناشروع کردیا اوردل سے اس کی سعی شروع کردی کہ آل محمدکے وجودسے زمین خالی ہوجائے، یہ اگرچہ حکومت کی باگ ڈوراپنے ہاتھوں میں لیتے ہی ملکی بغاوت کاشکارہوگیاتھا لیکن پھربھی اپنے وظیفے اوراپنے مشن سے غافل نہیں رہا” اس نے حکم دیاکہ عہدحاضرمیں خاندان رسالت کی یادگار،امام حسن عسکری کوقیدکردیاجائے اورانہیں قیدمیں کسی قسم کاسکون نہ دیاجائے حکم حاکم مرگ مفاجات آخرامام علیہ السلام بلاجرم وخطاآزادوفضاسے قیدخانہ میں پہنچادئیے گئے اورآپ پرعلی بن اوتاش نامی ایک ناصبی مسلط کردیاگیا جوآل محمداورال ابی طالب کاسخت ترین دشمن تھا اوراس سے کہہ دیاگیاکہ جوجی چاہے کرو، تم سے کوئی پوچھنے والانہیں ہے ابن اوتاش نے حسب ہدایت آپ پرطرح طرح کی سختیاں شروع کردیں اس نے نہ خداکاخوف کیانہ پیغمبرکی اولادہونے کا لحاظ کیا۔

لیکن اللہ رے آپ کا زہدوتقوی کہ دوچارہی یوم میں دشمن کادل موم ہوگیا اوروہ حضرت کے پیروں پرپڑگیا، آپ کی عبادت گذاری اورتقوی وطہارت دیکھ کر وہ اتنامتاثرہواکہ حضرت کی طرف نظراٹھاکردیکھ نہ سکتاتھا، آپ کی عظمت وجلالت کی وجہ سے سرجھکاکرآتااورچلاجاتا، یہاں تک کہ وہ وقت آگیاکہ دشمن بصیرت آگیں بن کرآپ کامعترف اورماننے والاہوگیا(اعلام الوری ص ۲۱۸) ۔

ابوہاشم داؤدبن قاسم کابیان ہے کہ میں اورمیرے ہمراہ حسن بن محمد القتفی ومحمدبن ابراہیم عمری اوردیگربہت سے حضرات اس قیدخانہ میں آل محمد کی محبت کے جرم کی سزابھگت رہے تھے کہ ناگاہ ہمیں معلوم ہواکہ ہمارے امام زمانہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام بھی تشریف لارہے ہیں ہم نے ان کااستقبال کیاوہ تشریف لاکرقیدخانہ میں ہمارے پاس بیٹھ گئے، اوربیٹھتے ہی ایک اندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ اگریہ شخص نہ ہوتاتو میں تمہیں یہ بتادیتاکہ اندرونی معاملہ کیاہے اورتم کب رہاہوگے لوگوں نے یہ سن کراس اندھے سے کہا کہ تم ذراہمارے پاس سے چندمنٹ کے لیے ہٹ جاؤ، چنانچہ وہ ہٹ گیا اس کے چلے جانے کے بعدآپ نے فرمایاکہ یہ نابیناقیدی نہیں ہے بلکہ تمہارے لیے حکومت کاجاسوس ہے اس کی جیب میں ایسے کاغذات موجودہیں جواس کی جاسوسی کاثبوت دیتے ہیں یہ سن کرلوگوں نے اس کی تلاشی لی اورواقعہ بالکل صحیح نکلاابوہاشم کہتے ہیں کہ ہم قیدکے ایام گذاررہے تھے کہ ایک دن غلام کھانالایا حضرت نے شام کا لیے کھانانہ لوں گا چنانچہ ایساہی ہواکہ آپ عصرکے وقت قیدخانہ سے برآمدہوگئے۔ (اعلام الوری ص ۲۱۴) ۔

اسلام پرامام حسن عسکری کااحسان عظیم واقعہ قحط

امام علیہ السلام قیدخانہ ہی میں تھے کہ سامرہ میں جوتین سال سے قحط پڑاہواتھا اس نے شدت اختیارکرلی اورلوگون کاحال یہ ہوگیاکہ مرنے کے قریب پہنچ گئے بھوک اورپیاس کی شدت نے زندگی سے عاجزکردیا یہ حال دیکھ خلیفہ معتمدعباسی نے لوگوں کوحکم دیا کہ تین دن تک باہرنکل کر نمازاستسقاء پڑھیں چنانچہ سب نے ایساہی کیا ،مگرپانی نہ برسا، چوتھے روزبغدادکے نصاری کی جماعت صحرا میں آئی اوران میں سے ایک راہب نے آسمان کی طرف اپناہاتھ بلندکیا، اس کاہاتھ بلندہوناتھا کہ بادل چھاگئے اورپانی برسناشروع ہوگیا اسی طرح اس راہب نے دوسرے دن بھی عمل کیا اوربدستوراس دن بھی باران رحمت کانزول ہوا، یہ دیکھ کرسب کونہایت تعجب ہوا حتی کہ بعض جاہلوں کے دلوں میں شک پیداہوگیا، بلکہ ان میں سے اسی وقت مرتدہوگئے، یہ واقعہ خلیفہ پربہت شاق گذرا۔

اس نے امام حسن عسکری کوطلب کرکے کہا کہ ائے ابومحمداپنے جدکے کلمہ گویوں کی خبرلو، اوران کوہلاکت یعنی گمراہی سے بچاؤ، حضرت امام حسن عسکری نے فرمایاکہ اچھاراہبوں کوحکم دیاجائے کہ کل پھروہ میدان میں آکردعائے باران کریں ،انشاء اللہ تعالی میں لوگوں کے شکوک زائل کردوں گا، پھرجب دوسرے دن وہ لوگ میدان میں طلب باران کے لیے جمع ہوئے تواس راہب نے معمول کے مطابق آسمان کی طرف ہاتھ بلندکیا، ناگہاں آسمان پرابرنمودارہوئے اورمینہ برسنے لگا یہ دیکھ کرامام حسن عسکری نے ایک شخص سے کہا کہ راہب کاہاتھ پکڑکر جوچیزراہب کے ہاتھ میں ملے لے لو، اس شخص نے راہب کے ہاتھ میں ایک ہڈی دبی ہوئی پائی اوراس سے لے کرحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی، انہوں نے راہب سے فرمایاکہ اب توہاتھ اٹھاکر بارش کی دعاکراس نے ہاتھ اٹھایاتوبجائے بارش ہونے کے مطلع صاف ہوگیا اوردھوپ نکل آئی، لوگ کمال تعجب ہوئے۔

خلیفہ معتمدنے حضرت امام حسن عسکری سے پوچھا، کہ ائے ابومحمدیہ کیاچیزہے؟ آپ نے فرمایاکہ یہ ایک نبی کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے راہب اپنے مدعامیں کامیاب ہوتارہا، کیونکہ نبی کی ہڈی کایہ اثرہے کہ جب وہ زیرآسمان کھولی جائے گی، توباران رحمت ضرورنازل ہوگایہ سن کرلوگوں نے اس ہڈی کاامتحان کیاتواس کی وہی تاثیردیکھی جوحضرت امام حسن عسکری نے بیان کی تھی، اس واقعہ سے لوگوں کے دلوں کے وہ شکوک زائل ہوگئے جوپہلے پیداہوگئے تھے پھرامام حسن عسکری علیہ السلام اس ہڈی کولے کراپنی قیام گاہ پرتشریف لائے(صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ،کشف الغمہ ص ۱۲۹) ۔/

پھرآپ نے اس ہڈی کوکپڑے میں لپیٹ کردفن کردیا (اخبارالدول ص ۱۱۷) ۔

شیخ شہاب الدین قلبونی نے کتاب غرائب وعجائب میں اس واقعہ کوصوفیوں کی کرامات کے سلسلہ میں لکھاہے بعض کتابوں میں ہے کہ ہڈی کی گرفت کے بعدآپ نے نمازاداکی اوردعافرمائی خداوندعالم نے اتنی بارش کی کہ جل تھل ہوگیا اورقحط جاتارہا۔

یہ بھی مرقوم ہے کہ امام علیہ السلام نے قیدسے نکلتے وقت اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ فرمایاتھا جومنظورہوگیاتھا، اوروہ لوگ بھی راہب کی ہوااکھاڑنے کلے ہمراہ تھے (نورالابصار ص ۱۵۱) ۔

ایک روایت میں ہے کہ جب آپ نے دعائے باران کی اورابرآیاتوآپ نے فرمایاکہ فلاں ملک کے لیے ہے اوروہ وہیں چلاگیا، اسی طرح کئی بارہوا پھر وہاں برسا۔

امام حسن عسکری اورعبیداللہ وزیرمعتمدعباسی

اسی زمانہ میں ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام متوکل کے وزیرفتح ابن خاقان کے بیٹے عبیداللہ ابن خاقان جوکہ معتمدکاوزیرتھا ملنے کے لیے تشریف لے گیے اس نے آپ کی بے انتہا تعظیم کی اورآپ سے اس طرح محوگفتگورہاکہ معتمدکابھائی موفق دربارمیں آیا تواس نے کوئی پرواہ نہ کی یہ حضرت کی جلالت اورخداکی دی ہوئی عزت کانتیجہ تھا۔

ہم اس واقعہ کوعبیداللہ کے بیٹے احمدخاقان کی زبانی بیان کرتے ہیں کتب معتبرہ میں ہے کہ جس زمانہ میں احمدخاقان قم کاوالی تھا اس کے دربارمیں ایک دن علویوں کاتذکرہ چھڑگیا، وہ اگرچہ دشمن آل محمدہونے میں مثالی حیثیت رکھتاتھا لیکن یہ کہنے پرمجبورہوگیا کہ میری نظرمیں امام حسن عسکری سے بہترکوئی نہیں ہے ان کی جووقعت ان کے ماننے والوں اوراراکین دولت کی نظرمیں تھی وہ ان کے عہدمیں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوئی ،سنو! ایک مرتبہ میں اپنے والدعبیداللہ ابن خاقان کے پاس کھڑاتھاکہ ناگاہ دربان نے اطلاع دی کہ امام حسن عسکری تشریف لائے ہوئے ہیں وہ اجازت داخل چاہتے ہیں یہ سن کرمیرے والدنے پکارکرکہاکہ حضرت ابن الرضاکوآنے دو، والدنے چونکہ کنیت کے ساتھ نام لیاتھا اس لیے مجھے سخت تعجب ہوا، کیونکہ اس طرح خلیفہ یاولیعہدکے علاوہ کسی کانام نہیں لیاجاتاتھا اس کے بعد ہی میں نے دیکھا کہ ایک صاحب جوسبزرنگ ، خوش قامت، خوب صورت، نازک اندام جوان تھے، داخل ہوگئے جن کے چہرے سے رعب وجلال ہویداتھا میرے والدکی نظرجونہی ان کے اوپرپڑی وہ اٹھ کھڑے ہوئے اوران کے استقبال کے لیے آگے بڑھے اورانھیں سینے سے لگاکر ان کے چہرہ اورسینے کابوسہ دیااوراپنے مصلے پرانہیں بٹھایا اورکمال ادب سے ان کی طرف مخاطب رہے، اورتھوڑی تھوڑی دیرکے بعدکہتے تھے میری جان آپ پرقربان ائے فرزندرسول۔

اسی اثناء میں دربان نے آکراطلاع دی کہ خلیفہ کابھائی موفق آیاہے میرے والدنے کوئی توجہ نہ دی ،حالانکہ اس کاعموما یہ اندازرہتاتھا کہ جب تک واپس نہ چلاجائے دربارکے لوگ دورویہ سر جھکائے کھڑے رہتے تھے یہاں تک کہ موفق کے غلامان خاص کواس نے اپنی نظروں سے دیکھ لیا، انہیں دیکھنے کے بعد میرے والدنے کہایاابن رسول اللہ اگراجازت ہوتو موفق سے کچھ باتیں کرلوں حضرت نے وہاں سے اٹھ کرروانہ ہوجانے کاارادہ کیا میرے والدنے انہیں سینے سے لگایا اوردربانوں کوحکم دیا کہ انہیں دومکمل صفوں کے درمیان سے لے جاؤ کہ موفق کی نظرآپ پرنہ پڑے چنانچہ اسی اندازسے واپس تشریف لے گئے۔

آپ کے جانے کے بعدمیں نے خادموں اورغلاموں سے کہاکہ وائے ہوتم نے کنیت کے ساتھ کس کانام لے کراسے میرے والدکے سامنے پیش کیا تھا جس کی اس نے اس درجہ تعظیم کی جس کی مجھے توقع نہ تھی ان لوگوں نے پھرکہا کہ یہ شخص سادات علویہ میں سے تھا اس کانام حسن بن علی اورکنیت ابن الرضا ہے، یہ سن کرمیرے غم وغصہ کی کوئی انتہانہ رہی اورمیں دن بھراسی غصہ میں بھنتارہا کہ علوی سادات کی میرے والدنے اتنی عزت وتوقیرکیوں کی یہاں تک کہ رات آگئی۔

میرے والدنمازمیں مشغول تھے جب وہ فریضہ عشاء سے فارغ ہوئے تومیں ان کی خدمت میں حاضرہوا انہوں نے پوچھااے احمد اس وقت آنے کاسبب کیاہے ، میں نے عرض کی کہ اجازت دیجیے تو میں کچھ پوچھوں ، انہوں نے فرمایاجوجی چاہے پوچھو میں نے کہایہ شخص کون تھا ؟ جوصبح آپ کے پاس آیاتھا جس کی آپ نے زبردست تعظیم کی اورہربات میں اپنے کو اوراپنے ماں باپ کو اس پرسے فداکرتے تھے انہوں نے فرمایاکہ ائے فرزندیہ رافضیوں کے امام ہیں ان کانام حسن بن علی اوران کی مشہورکنیت ابن الرضا ہے یہ فرماکر وہ تھوڑی دیرچپ رہے پھر بولے اے فرزندیہ وہ کامل انسان ہے کہ اگرعباسیوں سے سلطنت چلی جائے تواس وقت دنیا میں اس سے زیادہ اس حکومت کامستحق کوئی نہیں ہے یہ شخص عفت زہد،کثرت عبادت، حسن اخلاق، صلاح، تقوی وغیرہ میں تمام بنی ہاشم سے افضل واعلی ہے اورائے فرزند اگرتوان کے باپ کودیکھتاتوحیران رہ جاتا وہ اتنے صاحب کرم اورفاضل تھے کہ ان کی مثال بھی نہیں تھی یہ سب باتیں سن کر میں خاموش توہوگیا لیکن والدسے حددرجہ ناخوش رہنے لگا اورساتھ ہی ساتھ ابن الرضا کے حالات کاتفحص کرنااپناشیوہ بنالیا۔

اس سلسلہ میں میں نے بنی ہاشم ،امراء لشکر،منشیان دفترقضاة اورفقہاء اورعوام الناس سے حضرت کاحالات کااستفسارکیا سب کے نزدیک حضرت ابن الرضا کوجلیل القدراورعظیم پایا اورسب نے بالاتفاق یہی بیان کیا کہ اس مرتبہ اوران خوبیوں کاکوئی شخص کسی خاندان میں نہیں ہے جب میں نے ہرایک دوست اوردشمن کو حضرت کے بیان اخلاق اوراظہارمکارم اخلاق میں متفق پایاتومیں بھی ان کادل سے ماننے والاہوگیا اوراب ان کی قدرومنزلت میرے نزدیک بے انتہاہے یہ سن کرتمام اہل دربارخاموش ہوگئے البتہ ایک شخص بول اٹھا کہ ائے احمدتمہاری نظرمیں ان کے برادرجعفرکی کیاحثیت ہے احمدنے کہاکہ ان کے مقابلہ میں اس کاکیاذکرکرتے ہو وہ توعلانیہ فسق وفجورکاارتکاب کرتاتھا، دائم الخمرتھا خفیف العقل تھا، انواع ملاہی ومناہی کامرتکب ہوتاتھا۔

ابن الرضاکے بعد جب خلیفہ معتمدسے اس نے ان کی جانشینی کاسوال کیا تواس نے اس کے کردارکی وجہ سے اسے دربارسے نکلوادیاتھا (مناقب ابن آشوب جلد ۵ ص ۱۲۴ ، ارشادمفید ص ۵۰۵) ۔

بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ گفتگوامام حسن عسکری کی شہادت کے ۱۸/ سال بعد ماہ شعبان ۲۷۸ ہجری کی ہے (دمعہ ساکبہ ص ۱۹۲ جلد ۳ طبع نجف اشرف)۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت

امام یازدہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام قیدوبندکی زندکی گزارنے کے دوران میں ایک دن اپنے خادم ابوالادیان سے ارشادفرماتے ہوئے کہ تم جب اپنے سفرمدائن سے ۱۵/ یوم کے بعد پلٹوگے تو میرے گھرسے شیون وبکاکی آواز آتی ہوگی (جلاء العیون ص ۲۹۹) ۔

نیزآپ کایہ فرمانابھی معقول ہے کہ ۲۶۰ ہجری میں میرے ماننے والوں کے درمیان انقلاب عظیم آئے گا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۷) ۔

الغرض امام حسن عسکری علیہ السلام کوبتاریخ یکم ربیع الاول ۲۶۰ ہجری معتمدعباسی نے زہردلوادیا اورآپ ۸/ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کوجمعہ کے دن بوقت نمازصبح خلعت حیات ظاہری اتارکر بطرف ملک جاودانی رحلت فرماگئے ”اناللہ وانا الیہ راجعون“ (صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، فصولف المہمہ ،ارجح المطالب ص ۲۶۴ ، جلاء العیون ص ۲۹۶ ،انوارالحسینیہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔

علماء فریقین کااتفاق ہے کہ آپ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اولادنہیں چھوڑی (مطالب السول ص ۲۹۲ ، صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ،نورالابصار ارجح المطالب ۴۶۲ ،کشف الغمہ ص ۱۲۶ ، اعلام الوری ص ۲۱۸) ۔


حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام

امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھویں اورسلک امامت علویہ کی بارہویں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس( ۱) خاتون تھیں ۔

آپ اپنے آباواجدادکی طرح امام منصوص ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کا ئنات ہیں ۔آپ بچپن ہی میں علم وحکمت سے بھرپور تھے۔ (صواعق محرقہ ۲۴۱# ) آپ کو پانچ سال کی عمرمیں ویسی ہی حکمت دے دی گئی تھی ،جیسی حضرت یحیی کو ملی تھی اورآپ بطن مادرمیں اسی طرح امام قراردئیے گئے تھے،جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرارپائے تھے۔(کشف الغمہ ص ۱۳۰ ) آپ انبیاء سے بہترہیں ۔(اسعاف الراغبین ص ۱۲۸) آپ کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار پیشین گوئیاں فرمائی ہیں اوراس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضورکی عترت اورحضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ ملاحظہ ہوجامع صغیرسیوطی ص ۱۶۰ طبع مصرومسند احمدبن حنبل جلد ۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص ۱۲۲ ومستدرک جلد ۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شریف ) آپ نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پےچھے نماز پڑھیں گے ۔ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ ۱۴ ص ۳۹۹ وصحیح مسلم جلد ۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص ۳۴ وص ۳۰۹ وجامع صغیرص ۱۳۴ وکنوزالحقائق ص ۹۰) آپ نے یہ بھی کہاہے کہ امام مہدی میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور یختم الدین بہ کما فتح بنا جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذریعہ سے مہراختتام لگادی جائیگی ۔ ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ص ۲۰۹ آپ نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اورکنیت میری کنیت کی طرح ابوالقاسم ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح پرکردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔ ملاحظہ ہو جامع صغیرص ۱۰۴ ومستدرک امام حاکم ص ۴۲۲ و ۴۱۵ ظہورکے بعد ان کی فورابیعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ خداکے خلیفہ ہوں گے ۔ (سنن ابن ماجہ اردوص ۲۶۱ طبع کراچی ۱۳۷۷ ہج) ۔

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت

مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہج یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے جیسا کہ (وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ،ینابع المودة،تاریخ کامل طبری ،کشف الغمہ ،جلاالعیون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ وغیرہ میں موجود ہے (بعض علما کا کہنا ہے کہ ولادت کا سن ۲۵۶ ہج اور ما دہ تاریخ نور ہے )یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور وشہود میں تشریف لائے ہیں ۔

۱# نرجس ایک یمنی بوٹی کو کہتے ہیں جس کے پھول کی شعرا آنکھوں سے تشبیہ دیتے ہیں (المنجد ص ۸۶۵ ) منتہی الادب جلد ۴ ص ۲۲۲۷ میں ہے کہ یہ جملہ دخیل اورمعرب یعنی کسی دوسری زبان سے لایاگیا ہے ۔ صراح ص ۴۲۵ اورالعماط صدیق حسن ص ۴۷ میں ہے کہ یہ لفظ نرجس ،نرگس سے معرب ہے جوکہ فارسی ہے ۔رسالہ آج کل لکھنؤ کے سالنامہ ۱۹۴۷ کے ص ۱۱۸ میں ہے کہ یہ لفظ یونانی نرکسوس سے معرب ہے ، جسے لاطینی میں نرکسس اورانگیریزی میں نرس سس کہتے ہیں ۔ ۱۲

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئتو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہئے کیونکہ خداوندعالم مجھے آج ایک وارث عطافرماے گا ۔ میں نے کہاکہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہوگا ۔آپ نے فرمایاکہ بطن نرجس سے متولد ہوگا ،جناب حکیمہ نے کہا :بیٹے!میں تونرجس میں کچھ بھی حمل کے آثارنہیں پاتی،امام نے فرمایاکہ اسے پھوپھی نرجس کی مثال مادرموسی جیسی ہے جس طرح حضرت موسی کاحمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہرنہیں ہوا ۔اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بروقت ظاہرہوگا غرضکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب وہیں رہی جب آدھی رات گذرگئی تومیں اٹھی اورنمازتہجدمیں مشغول ہوگئی اورنرجس بھی اٹھ کرنمازتہجدپڑھنے لگی ۔ اس کے بعدمیرے دل میں یہ خیال گذراکہ صبح قریب ہے اورامام حسن عسکری علیہ السلام نے جوکہاتھا وہ ابھی تک ظاہرنہیں ہوا ، اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آوازدی :اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے ،حجت خداکے ظہورکا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کرمیں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی ،نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں ، مگران کی حالت اس وقت متغیرتھی ،وہ لرزہ براندام تھیں اوران کا ساراجسم کانپ رہاتھا ،میں نے یہ دیکھ کران کواپنے سینے سے لپٹالیا ،اورسورہ قل ہواللہ ،اناانزلنا وایة الکرسی پڑھ کران پردم کیا بطن مادرسے بچے کی آواز آنے لگی ،یعنی میں جوکچھ پڑھتی تھی ،وہ بچہ بھی بطن مادرمیں وہی کچھ پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن ومنورہوگیا ۔ اب جومیں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پرسجدہ میں پڑاہوا ہے میں نے بچہ کواٹھالیا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی اے پھوپھی ! میرے فرزند کو میرے پاس لائیے میں لے گئیی آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا ،اورزبان دردھان دے کراوراپنی زبان بچے کے منہ میں دیدی اورکہا کہ اے فرزند !خدا کے حکم سے کچھ بات کرو ،بچے نے اس آیت :( بسم الله الرحمن الرحيم ونريدان نمن علی اللذين استضعفوا فی الارض ونجعلهم الوارثین ) کی تلاوت کی ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پرجوزمین پرکمزورکردئیے گئے ہیں اور ان کوامام بنائیں اورانھیں کوروئے زمین کاوارث قراردیں ۔

اس کے بعد کچھ سبزطائروں نے آکرہمیں گھیرلیا ،امام حسن عسکری نے ان میں سے ایک طائرکوبلایا اوربچے کودیتے ہوئے کہا کہ خدہ فاحفظہ الخ اس کولے جاکراس کی حفاظت کرویہاں تک کہ خدا اس کے بارے میں کوئی حکم دے کیونکہ خدا اپنے حکم کوپورا کرکے رہے گآ میں نے امام حسن عسکری سے پوچھا کہ یہ طائرکون تھا اوردوسرے طائر کون تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل تھے ،اوردوسرے فرشتگان رحمت تھے اس کے بعد فرمایاکہ اے پھوپھی اس فرزند کواس کی ماں کے پاس لے آوتاکہ اس کی آنکھیں خنک ہوں اورمحزون ومغوم نہ ہو اور یہ جان لے کہ خدا کاوعدہ حق ہے واکثرہم لایعلمون لیکن اکثرلوگ اسے نہیں جانتے ۔ اس کے بعد اس مولود مسعود کو اس کی ماں کے پاس پہنچادیاگیا (شواہدالنبوة ص ۲۱۲ طبع لکھنؤ ۱۹۰۵ ء علامہ حائری لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد آپ کو جبرئیل پرورش کے لئے اٹھاکرلے گئے (غایۃالمقصود جلد ۱ ص ۷۵) کتاب شواہدالنبوت اوروفیات الاعیان وروضةالاحباب میں ہے کہ جب آپ پیداہوے تومختون اورناف بریدہ تھے اورآپ کے داہنے بازوپریہ آیت منقوش تھی( جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زهوقا ) یعنی حق آیا اورباطل مٹ گیا اورباطل مٹنے ہی کے قابل تھا ۔ یہ قدرتی طورپربحرمتقارب کے دومصرعے بن گئے ہیں حضرت نسیم امروہوی نے اس پرکیا خوب تضمین کی ہے وہ لکھتے ہیں #

ّ ٖ چشم وچراغ دیدہ نرجس

عین خداکی آنکھ کاتارا

بدرکمال نیمہ شعبان

چودھواں اختراوج بقاکا

حامی ملت ماحی بدعت

کفرمٹانے خلق میں آیا

وقت ولادت ماشاء اللہ

قرآن صورت دیکھ کے بولا

جاء الحق وزھق الباطل

ان الباطل کان زھوقا

محدث دہلوی شیخ عبدالحق اپنی کتاب مناقب ائمہ اطہارمیں لکھتے ہیں کہ حکیمہ خاتون جب نرجس کے پاس آئیں تودیکھا کہ ایک مولود پیداہوا ہے ،جومختون اورمفروغ منہ ہے یعنی جس کا ختنہ کیا ہوا ہے اورنہلانے دھلانے کے کاموں سے جومولود کے ساتھ ہوتے ہیں بالکل مستغنی ہے ۔ حکیمہ خاتون بچے کو امام حسن عسکری کے پاس لائیں ، امام نے بچے کولیا اوراس کی پشت اقدس اور چشم مبارک پرہاتھ پھیرا اپنی زبان مطہران کے منہ میں ڈالی اورداہنے کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہی یہی مضمون فصل الخطاب اوربحارالانوارمیں بھی ہے ، کتاب روضةالاحباب ینابع المودة میں ہے کہ آپ کی ولادت بمقام سرمن رائے سامرہ میں ہوئی ہے ۔

کتاب کشف الغمہ ص ۱۳۰ میں ہے کہ آپ کی ولادت چھپائی گئی اورپوری سعی کی گئی کہ آپ کی پیدائیش کسی کومعلوم نہ ہوسکے ، کتاب دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۹۴ میں ہے کہ آپ کی ولادت اس لئے چھپائی گئی کہ بادشاہ وقت پوری طاقت کے ساتھ آپ کی تلاش میں تھا اسی کتاب کے ص ۱۹۲ میں ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ حضرت حجت کوقتل کرکے نسل رسالت کاخاتمہ کردے ۔ تاریخ ابوالفدا میں ہے کہ بادشاہ وقت معتزباللہ تھا ، تذکرہ خواص الامة میں ہے کہ اسی کے عہدمیں امام علی نقی کوزہردیاگیاتھا ۔ معتزکے بارے میں مورخین کی رائے کچھ اچھی نہیں ہے ۔ ترجمہ تاریخ الخلفا علامہ سیوطی کے ص ۳۶۳ میں ہے کہ اس نے اپنے عہد خلافت میں اپنے بھائی کوولی عہدی سے معزول کرنے کے بعد کوڑے لگوائے تھے اورتاحیات قید میں رکھاتھا ۔ ا کثرتواریخ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتمد بن متوکل تھا جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کوزہرسے شہید کیا ۔ تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۶۷ میں ہے کہ خلیفہ معتمد بن متوکل کمزورمتلون مزاج اورعیش پسند تھا ۔ یہ عیاشی اورشراب نوشی میں بسرکرتاتھا ، اسی کتاب کے صفحہ ۲۹ میں ہے کہ معتمد حضرت امام حسن عسکری کوزہرسے شہید کرنے کے بعدحضرت امام مہدی کوقتل کرنے کے درپے ہوگیاتھا ۔

آپ کا نسب نامہ

آپ کاپدری نسب نامہ یہ ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی ابن جعفربن محمدبن علی بن حسین بن علی وفاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، یعنی آپ فرزندرسول ،دلبند علی اورنورنظربتول علےھم السلام ہیں ۔ امام احمد بن حنبل کاکہناہے کہ اس سلسہ نسب کے اسماکو اگر کسی مجنون پردم کردیاجائے تواسے یقینا شفاحاصل ہوگی (مسندامام رضاص ۷) آپ سلسہ نسب ماں کی طرف سے حضرت شمعون بن حمون الصفاوصی حضرت عیسی تک پہنچتاہے ۔ علامہ مجلسی اورعلامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کی والدہ جناب نرجس خاتون تھیں ، جن کاایک نام ”ملیکہ“ بھی تھا ،نرجس خاتون یشوعا کی بیٹی تھیں ، جوروم کے بادشاہ” قیصر“ کے فرزند تھے جن کاسلسلہ نسب وصی حضرت عیسی جناب شمعون تک منتہی ہوتاہے ۔ ۱۳ سال کی عمرمیں قیصرروم نے چاہاتھا کہ نرجس کاعقد اپنے بھتیجے سے کردے لیکن بعض قدرتی حالات کی وجہ سے وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا، بالاخرایک ایسا وقت آگیا کہ عالم ارواح میں حضرت عیسی ، جناب شمعون حضرت محمد مصطفی ، جناب امیرالمومنین اورحضرت فاطمہ بمقام قصرقیصرجمع ہوئے ، جناب سیدہ نے نرجس خاتون کواسلام کی تلقین کی اورآنحضرت صلعم نے بتوسط حضرت عیسی جناب شمعون سے امام حسن عسکری کے لئے نرجس خاتون کی خواستگاری کی ،نسبت کی تکمیل کے بعد حضرت محمد مصطفی صلعم نے ایک نوری منبرپربیٹھ کرعقد پڑھا اورکمال مسرت کے ساتھ یہ محفل نشاط برخواست ہوگئی جس کی اطلاع جناب نرجس کوخواب کے طورپرہوئی ، بالاخروہ وقت آیا کہ جناب نرجس خاتون حضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں آپہنچیں اورآپ کے بطن مبارک سے نورخدا کاظہور ہوا۔ (کتاب جلاالعیون ص ۲۹۸ وغایۃ المقصود ص ۱۷۵) ۔

آپ کا اسم گرامی :

آپ کانام نامی واسم گرامی ”محمد“ اورمشہورلقب ” مہدی “ ہے علما کاکہنا ہے کہ آپ کانام زبان پرجاری کرنے کی ممانعت ہے علامہ مجلسی اس کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”حکمت آن مخفی است “ اس کی وجہ پوشیدہ اورغیرمعلوم ہے ۔ (جلاالعیون ص ۲۹۸) علماء کابیان ہے کہ آپ کایہ نام خود حضرت محمدمصطفی نے رکھا تھا ۔ ملاحظہ ہو روضة الاحباب وینابع المودة ۔ مورخ اعظم ذاکرحسین تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۱ میں لکھتے ہیں کہ ”آنحضرت نے فرمایا کہ میرے بعد بارہ خلیفہ قریش سے ہوں گے آپ نے فرمایا کہ آخرزمانہ میں جب دنیا ظلم وجورسے بھرجائے گی ،تومیری اولاد میں سے مہدی کاظہورہوگا جوظلم وجورکودورکرکے دنیا کوعدل وانصاف سے بھردے گا ۔ شرک وکفرکودنیا سے نابود کردے گا ، نام ”محمد “ اورلقب ” مہدی “ ہوگا حضرت عیسی آسمان سے اترکر اس کی نصرت کریں گے اوراس کے پےچھے نماز پڑھیں گے ،اوردجال کوقتل کریں گے۔

آپ کی کنیت :

اس پرعلما فریقین کااتفاق ہے کہ آپ کی کنیت ” ابوالقاسم “ اورآپ ابوعبداللہ تھی اوراس پربھی علما متفق ہیں کہ ابوالقاسم کنیت خود سرورکائنات کی تجویزکردہ ہے ۔ ملاحظہ ہو جامع صغیرص ۱۰۴ تذکرہ خواص الامة ۲۰۴ روضة الشہدا ص ۴۳۹ صواعق محرقہ ص ۱۳۴ شواہدالنبوت ص ۳۱۲ ، کشف الغمہ ص ۱۳۰ جلاالعیون ص ۲۹۸ ۔

یہ مسلمات سے ہے کہ آنحضرت صلعم نے ارشادفرمایا ہے کہ مہدی کانام میرانام اوران کی کنیت میری کنیت ہوگی ۔ لیکن اس روآیت میں بض اہل اسلام نے یہ اضافہ کیاہے کہ آنحضرت نے یہ بھی فرمایاہے کہ مہدی کے باپ کانام میرے والد محترم کانام ہوگا مگر ہمارے راویوں نے اس کی روآیت نہیں کی اورخود ترمذی شریف میں بھی ” ا سم ابیہ اسم ابی “ نہیں ہے ،تاہم بقول صاحب المناقب علامہ کنجی شافعی یہ کہاجاسکتاہے کہ روآیت میں لفظ ”ابیہ“ سے مراد ابوعبداللہ الحسین ہیں ۔ یعنی اس سے اس امرکی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی حضرت امام حسین کی اولادسے ہیں ۔

آپ کے القاب :

آپ کے القاب مہدی ، حجة اللہ ، خلف الصالح ، صاحب ا لعصر، صاحب الامر ، والزمان القائم ، الباقی اورالمنتظرہیں ۔ ملاحظہ ہو تذکرہ خواص الامة ۲۰۴ ، روضة الشہدا ص ۴۳۹ ، کشف الغمہ ۱۳۱ ، صواعق محرقہ ۱۲۴ ،مطالب السؤال ۲۹۴ ،اعلام الوری ۲۴ حضرت دانیال نبی نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے ۱۴۲۰ سال پہلے آپ کالقب منتظرقراردیاہے ۔ ملاحظہ ہو کتاب دانیال باب ۱۲ آیت ۱۲ ۔ علامہ ابن حجرمکی ، المنتظرکی شرح کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ انھیں منتظریعنی جس کاانتظارکیاجائے اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سرداب میں غائب ہوگئے ہیں اوریہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے گيے (مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کاانتظارکررہے ہیں ،شیخ العراقین علامہ شیخ عبدالرضا تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کومنتظراس لئے کہتے ہیں کہ آپ کی غیبت کی وجہ سے آپ کے مخلصین آپ کاانتظارکررہے ہیں ۔ ملاحظہ ہو۔ (انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۵۷ طبع بمبئی)۔

آپ کاحلیہ مبارک

کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشادہے کہ امام مہدی ،شکل وشباہت خلق وخلق شمائل وخصایل ،اقوال وافعال میں میرے مشابہہ ہوں گے۔

آپ کے حلیہ کے متعلق علما نے لکھا ہے کہ آپ کارنگ گندگون ، قدمیانہ ہے ۔ آپ کی پیشانی کھلی ہوئی ہے اورآپ کے ابرو گھنے اورباہم پیوستہ ہیں ۔ آپ کی ناک باریک اوربلند ہے آپ کی آنکھیں بڑی اورآپ کا چہر ہ نہآیت نورانی ہے ۔ آپ کے داہنے رخسارہ پرایک تل ہے ”کانہ کوکب دری “ جوستارہ کی مانند چمکتاہے ، آپ کے دانت چمکداراورکھلے ہوئے ہیں ۔ آپ کی زلفیں کندھوں پرپڑی رہتی ہیں ۔ آپ کاسینہ چوڑا اورآپ کے کندھے کھلے ہوئے ہیں آپ کی پشت پراسی طرح مہرامامت ثبت ہے جس طرح پشت رسالت مآب پرمہرنبوت ثبت تھی (اعلام الوری ص ۲۶۵ وغایۃ المقصود جلد ۱ ص ۶۴ ونورالابصارص ۱۵۲) ۔

تین سال کی عمرمیں حجت اللہ ہونے کادعوی :

کتب تورایخ وسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پرورش کاکام جناب جبرئیل علیہ ا لسلام کے سپرد تھا اوروہ ہی آپ کی پرورش وپرداخت کرتے تھے ظاہرہے کہ جوبچہ ولادت کے وقت کلام کرچکاہو اورجس کی پرورش جبرئیل جیسے مقرب فرشتہ کے سپرد ہووہ یقینا دنیا میں چنددن گزارنے کے بعد بہرصورت اس صلاحیت کامالک ہوسکتاہے کہ وہ اپنی زبان سے حجت اللہ ہونے کادعوی کرسکے ۔ علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ احمد ابن اسحاق اورسعدالاشقری ایک دن حضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں حاضرہوئے اورانھوں نے خیال کیا کہ آج امام علیہ السلام سے یہ دریافت کریں گے کہ آپ کے بعد حجت اللہ فی الارض کون ہوگا ، جب سامناہوا توامام حسن عسکری نے فرمایا کہ اے احمد !تم جودل میں لے کرآئے ہو میں اس کا جواب تمہیں دےئے دیتاہوں ،یہ فرماکرآپ اپنے مقام سے اٹھے اوراندجاکریوں واپس آئے کہ آپ کے کندھے پرایک نہآیت خوب صورت بچہ تھا ،جس کی عمرتین سال کی تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ اے احمد !میرے بعد حجت خدایہ ہوگا اس کانام محمد اوراس کی کنیت ابوالقاسم ہے یہ خضرکی طرح زندہ رہے گا ۔ اورذوالقرنین کی طرح ساری دنیاپرحکومت کرے گا ۔احمدبن اسحاق نے کہا مولا! کوئی ایسی علامت بتادیجئے کہ جس سے دل کواطمینان کامل ہوجائے ۔ آپ نے امام مہدی کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا ،بیٹا ! اس کوتم جواب دو ۔ ا مام مہدی علیہ السلام نے کمسنی کے باوجود بزبان فصیح فرمایا : ”اناحجة اللہ وانا بقےةاللہ “ ۔ میں ہی خدا کی حجت اورحکم خداسے باقی رہنے والاہوں ، ایک وہ دن آئے گاجس میں دشمن خداسے بدلہ لوں گا ، یہ سن کراحمدخوش ومسروراورمطمئن ہوگئے (کشف الغمہ ۱۳۸ )

پانچ سال کی عمرمیں خاص الخاص اصحاب سے آپ کی ملاقات

یعقوب بن منقوش ومحمد بن عثمان عمری وابی ہاشم جعفری اورموسی بن جعفربن وہب بغدادی کابیان ہے کہ ہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوئے اورہم نے عرض کی مولا! آپ کے بعد امرامامت کس کے سپرد ہوگا اورکون حجت خداقرارپائے گا ۔ آپ نے فرمایا کہ میرا فرزند محمدمیرے بعد حجت اللہ فی الارض ہوگا ہم نے عرض کی مولا ہمیں ان کی زیارت کروادیجئے آپ نے فرمایا وہ پردہ جوسامنے آویختہ ہے اسے اٹھاؤ ۔ ہم نے پردہ اٹھا یا ، تواس سے ایک نہآیت خوب صورت بچہ جس کی عمرپانچ سال تھی برآمدہوا ،اور وہ آکر امام حسن عسکری کی آغوش میں بیٹھ گیا۔ ا مام نے فرمایاکہ یہی میرافرزند میرے بعد حجت اللہ ہوگا محمد بن عثمان کا کہناہے کہ ہم اس وقت چالیس افراد تھے اورہم سب نے ان کی زیارت کی ۔ امام حسن عسکری نے اپنے فرزند امام مہدی کوحکم دیا کہ وہ اندرواپس چلے جائیں اورہم سے فرمایا : ”شمااورا نخوا ہید دید غیرازامروز “ کہ اب تم آج کے بعد پھراسے نہ دیکھ سکوگے ۔ چنانچہ ایساہی ہوا ، پھرغیبت شروع ہوگئی (کشف الغمہ ص ۱۳۹ وشواہدالنبوت ص ۲۱۳) علامہ طبرسی اعلام الوری کے ص ۲۴۳ میں تحریرفرماتے ہیں کہ آئمہ کے نزدیک محمد اورعثمان عمری دونوں ثقہ ہیں ۔ پھراسی صفحہ میں فرماتے ہیں کہ ابوہارون کاکہنا ہے کہ میں نے بچپن میں صاحب الزمان کودیکھا ہے ” کانہ القمرلیلة البدر “ ان کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتاتھا ۔

امام مہدی نبوت کے آئینہ میں

علامہ طبرسی بحوالہ حضرات معصومین علیہم السلام تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ ا لسلام میں بہت سے انبیا کے حالات وکیفیات نظرآتے ہیں ۔ اورجن واقعات سے مختلف انبیا کودوچارہوناپڑا ۔ وہ تمام واقعات آپ کی ذات ستودہ صفات میں دکھا ئی دیتے ہیں مثال کے لئے حضرت نوح ،حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ،حضرت عیسی ، حضرت ایوب ،حضرت یونس ، حضرت محمدمصطفی صلعم کولے لیجئے اور ان کے حالات پرغورکیجئے ، آپ کوحضرت نوح کی طویل زندگی نصیب ہوئی حضرت ابراہیم کی طرح آپ کی ولادت چھپائی گئی ۔ اورلوگوں سے کنارہ کش ہوکر روپوش ہونا پڑا ۔ حضرت موسی کی طرح حجت کے زمین سے اٹھ جانے کا خوف لاحق ہوا ، اورانھیں کی ولادت کی طرح آپ کی ولادت بھی پوشیدہ رکھی گئی ، اورانھیں کے ماننے والوں کی طرح آپ کے ماننے والوں کو آپ کی غیبت کے بعد ستایا گیا ۔ حضرت عیسی کی طرح آپ کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا حضرت ایوب کی طرح تمام امتحانات کے بعد آپ کوفرج وکشائش نصیب ہوگی ۔حضرت یوسف کی طرح عوام اورخواص سے آپ کی غیبت ہوگئی حضرت یونس کی طرح غیبت کے بعد آپ کا ظہورہوگا یعنی جس طرح وہ اپنی قوم سے غائب ہوکربڑھاپے کے باوجود نوجوان تھے ۔ ا سی طرح آپ کا جب ظہورہوگا توآپ چالیس سالہ جوان ہوں گے اورحضرت محمد مصطفی کی طرح آپ صاحب السیف ہوں گے ۔ (اعلام الوری ص ۲۶۴ طبع بمبئی ۱۳۱۲ ہجری )

امام حسن عسکری کی شہادت :

امام مہدی علیہ السلام کی عمرابھی صرف پانچ سال کی ہوئی تھی کہ خلیفہ معتمد بن متوکل عباسی نے مدتوں قید رکھنے کے بعد امام حسن عسکری کوزہردیدیا ۔ جس کی وجہ سے آپ بتاریخ ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری مطابق ۸۷۳ ء بعمر ۲۸ سال رحلت فرماگئے ”وخلف من الولد ابنہ محمد “ اورآپ نے اولاد میں صرف امام محمد مہدی کوچھوڑا ۔ (نورالابصارص ۱۵۲ دمعة الساکبة ص ۱۹۱ ) علامہ شلنجبی لکھتے ہیں کہ جب آپ کی شہادت کی خبرمشہورہوئی ، توسارے شہرسامرہ میں ہلچل مچ گئی ، فریاد وفغاں کی آوازیں بلند ہوگئیں ، سارس شہرمیں ہڑتال کردی گئی ۔ یعنی ساری دکانیں بند ہوگئیں ۔ لوگوں نے اپنے کاوربارچھوڑدئیے۔ تمام بنی ہاشم حکام دولت ، منشی ،قاضی ، ارکان عدالت اعیان حکومت اور عامہ خلائق حضرت کے جنازے کے لئے دوڑپڑے ،حالت یہ تھی کہ شہرسامرہ قیامت کامنظرپیش کررہاتھا ۔تجہیزاورنماز سے فراغت کے بعد آپ کواسی مکان میں دفن کردیاگیا جس میں حضرت امام علی نقی علیہ مدفون تھے ۔ نورالابصار ص ۱۵۲ وتاریخ کامل صواعق محرقہ وفصول مہمہ،جلاالعیون ص ۲۹۶) علامہ محمد باقرفرماتے ہیں کہ امام حسن عسکری کی وفات کے بعد نمازجنازہ حضرت امام مہدی علیہ السلام نے پڑھائی ،ملاحظہ ہو ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۹۲ وجلاالعیون ص ۲۹۷ ) علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ نمازکے بعد آپ کوبہت سے لوگوں نے دیکھا اور آپ کے ہاتھوں کا بوسہ دیا (اعلام الوری ص ۲۴۲ ) علامہ ابن طاؤس کابیان ہے کہ ۸ ربیع الاول کوامام حسن عسکری کی وفات واقع ہوئی اور ۹ ربیع الاول سے حضرت حجت کی امامت کا آغازہوا ہم ۹ ربیع الاول کوجوخوشی مناتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے (کتاب اقبال) علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ ۹ ربیع الاول کوعمربن سعد بدست مختارآل محمد قتل ہواہے ۔(زادالمعاد ص ۵۸۵) جوعبیداللہ بن زیاد کا سپہ سالارتھا جس کے قتل کے بعد آل محمد نے پورے طورپرخوشی منائی ۔ (بحارالانوارومختارآل محمد) کتاب دمعہ ساکبہ کے ص ۱۹۲ میں ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے ۲۵۹ ہجری میں اپنی والدہ کوحج کے لئے بھیج دیاتھا ،اورفرمادیاتھا کہ ۲۶۰ ہجری میں میری شہادت ہوجائے گی اسی سن میں آپ نے حضرت امام مہدی کوجملہ تبرکات دیدئیے تھے اوراسم اعظم وغیرہ تعلیم کردیاتھا (دمعہ ساکبہ وجلاالعیون ص ۲۹۸ ) انھیں تبرکات میں حضرت علی کا جمع کیاہوا وہ قرآن بھی تھا جوترتیب نزولی پرسرورکائنات کی زندگی میں مرتب کیاگیاتھا ۔ (تاریخ الخلفا واتقان) اورجسے حضرت علی نے اپنے عہد خلافت میں بھی اس لئے رائج نہ کیاتھا کہ اسلام میں دوقرآن رواج پاجائیں گے ۔ اوراسلام میں تفرقہ پڑجائے گا (ازالةالخلفا ۲۷۳) میرے نزدیک اسی سن میں حضرت نرجس خاتون کاانتقال بھی ہواہے اوراسی سن میں حضرت نے غیبت اختیارفرمائی ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اوراس کی ضرورت :

بادشاہ وقت خلیفہ معتمدبن متوکل عباسی جواپنے آباؤاجداد کی طرح ظلم وستم کاخوگراورآل محمد کاجانی دشمن تھا ۔ اس کے کانوں میں مہدی کی ولادت کی بھنک پڑچکی تھی ۔ اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفین وتدفین سے پہلے بقول علامہ مجلسی حضرت کے گھرپرپولیس کاچھاپہ ڈلوایااورچاہاکہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتارکرالے لیکن چونکہ وہ بحکم خدا ۲۳ رمضان المبارک ۲۵۹ ہجری کوسرداب میں جاکرغائب ہوچکے تھے۔ جیسا کہ شواہدالنبوت ،نورالابصار،دمعة ساکبہ ،روضة الشہدا ،مناقب الا ئمہ ،انوارالحسینیہ وغیرہ سے مستفاد ومستنبط ہوتاہے ۔ اس لئے وہ اسے دستیاب نہ ہوسکے ۔اس نے اس کے رد عمل میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تمام بیبیوں کوگرفتارکرالیا اورحکم دیا کہ اس امرکی تحقیق کی جائے کہ آیاکوئی ان میں سے حاملہ تونہیں ہے اگرکوئی حاملہ ہو تواس کاحمل ضائع کردیاجائے ،کیونکہ وہ حضرت سرورکائنات صلعم کی پیشین گوئی سے خائف تھا کہ آخری زمانہ میں میرا ایک فرزند جس کانام مہدی ہوگا ۔ کائنات عالم کے انقلاب کا ضامن ہوگا ۔ اوراسے یہ معلوم تھا کہ وہ فرزند امام حسن عسکر ی علیہ السلام کی اولاد سے ہوگا لہذا اس نے آپ کی تلاش اورآپ کے قتل کی پوری کوشش کی ۔تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۱ میں ہے کہ ۲۶۰ میں امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد جب معتمد خلیفہ عباسی نے آپ کے قتل کرنے کے لئے آدمی بھیجے توآپ سرداب ( ۱) ” سرمن رائے “میں غائب ہوگئے بعض اکابرعلما اہل سنت بھی اس امرمیں شیعوں کے ہم زبان ہیں ۔ چنانچہ ملاجامی نے شواہدالنبوت میں امام عبدالوہاب شعرانی نے لواقع الانواروالیواقیت والجواہرمیں اورشیخ احمدمحی الدین ابن عربی نے فتوحات مکہ میں اورخواجہ پارسانے فصل الخطاب میں اورعبدالحق محدث دہلوی نے رسالہ ا ئمہ طاہرین میں اورجمال الدین محدث نے روضةالاحباب میں ،اورابوعبداللہ شامی صاحب کفایة الطالب نے کتاب التبیان فی اخبارصاحب الزمان میں اورسبط ابن جوزی نے تذکرة خواص الامہ میں اورابن صباغ نورالدین علی مالکی نے فصول المہمہ میں اورکمال الدین ابن طلحہ شافعی نے مطالب السؤل میں اورشاہ ولی اللہ نے فضل المبین میں اورشیخ سلیمان حنفی نے ینابع المودة میں اوربعض دیگرعلما نے بھی ایساہی لکھا ہے اورجولوگ ان حضرت کے طول عمرمیں تعجب کرکب انکارکرتے ہیں ۔ ان کویہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کی قدرت سے کچھ بعیدنہیں ہے جس نے آدم کوبغیرماں باپ کے اورعیسی کوبغیرباپ کے پیداکیا ،تمام اہل اسلام نے حضرت خضرکواب تک زندہ ماناہوا ہے ،ادریس بہشت میں اورحضرت عیسی آسمان پراب تک زندہ مانے جاتے ہیں اگرخدائے تعالی نے آل محمد میں سے ایک شخص کوعمرعنآیت کیاتوتعجب کیاہے ؟حالانکہ اہل اسلام کودجال کے موجود ہونے اورقریب قیامت ظہورکرنے سے بھی انکارنہیں ہے ۔

( ۱ ) یہ سرداب ،مقام ”سرمن رائے“ میں واقع ہے جسے اصل میں سامراکہتے ہیں

سامراکی آبادی بہت ہی قدیمی ہے اوردنیاکے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے ، اس سام بن نوح نے آبادکیاتھا (معجم البلدان) اس کی اصل سام راہ تھی بعدمیں سامراہوگیا ، آب وہواکی عمدگی کی وجہ سے خلیفہ معتصم نے فوجی کیمپ بناکرآبادکیاتھا اوراسی کو دارالسلطنت بھی بنادیاتھا ، اس کی آبادی ۸ فرسخ لمبی تھی ، اسے اس نے نہآیت خوبصورت شہربنادیاتھا ۔ ا سی لئے اس کانام سرمن رائے رکھ دیاتھا یعنی وہ شہرجسے جوبھی دیکھے خوش ہوجائے ،عسکری اسی کاایک محلہ ہے جس میں امام علی نقی علیہ السلام نظربندتھے بعد میں انھوں نے دلیل بن یعقوب نصرانی سے ایک مکان خریدلیاتھا جس میں اب بھی آپ کامزارمقدس واقع ہے ۔

سامرامیں ہمیشہ غیرشیعہ آبادی رہی ہے اس لئے اب تک وہاں شیعہ آباد نہیں ہیں وہاں کے جملہ خدام بھی غیرشیعہ ہیں ۔

حضرت حجت علیہ السلام کے غائب ہونے کاسرداب وہیں ایک مسجدکے کنارے واقع ہے جوکہ حضرت امام علی نقی اورحضرت امام حسن عسکری کے مزاراقدس کے قریب ہے ۱۲ منہ۔

کتاب شواہدالنبوت کے ص ۶۸ میں ہے کہ خاندان نبوت کے گیارہویں امام حسن عسکری ۲۶۰ میں زہرسے شہیدکردےئے گئے تھے ان کی وفات پران کے صاحبزادے محمد ملقب بہ مہدی شیعوں کے آخری امام ہوئے۔مولوی امیرعلی لکھتے ہیں کہ خاندان رسالت کے ان اماموں کے حالات نہآیت دردناک ہیں ۔ ظالم متوکل نے حضرت امام حسن عسکری کے والدماجد امام علی نقی کومدینہ سے سامرہ پکڑبلایاتھا ۔اوروہاں ان کی وفات تک ان کونظربندرکھا تھا ۔ (پھرزہرسے ہلاک کردیاتھا ) اسی طرح متوکل کے جانشینوں نے بدگمانی اورحسدکے مارے حضرت امام حسن عسکری کوقیدرکھاتھا ،ان کے کمسن صاحبزادے محمدالمہدی جن کی عمراپنے والدکی وفات کے وقت پانچ سال کی تھی ۔ خوف کے مارے اپنے گھرکے قریب ہی ایک غارمیں چھپ گئے اورغائے ہوگئے ۔الخ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامہ میں لکھا ہے کہ جس غارمیں امام مہدی کی غیبت بتائی جاتی ہے ۔ اسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔(نورالابصارجلد ۱ ص ۱۵۲) علامہ ابن حجرمکی کاارشادہے، کہ امام مہدی سرداب میں غائب ہوے ہیں ۔” فلم یعرف این ذھب “ پھرمعلوم نہیں کہاں تشریف لے گئے۔ (صواعق محرقہ ص ۱۲۴) ۔

غیبت امام مہدی پرعلمااہل سنت کااجماع :

جمہورعلما اسلام امام مہدی کے وجودکوتسلیم کرتے ہیں ، اس میں شیعہ اورسنی کاسوال نہیں ۔ ہرفرقہ کے علماء یہ مانتے ہیں کہ آپ پیدا ہوچکے ہیں اورموجودہیں ۔ہم علماء اہل سنت کے اسماء مع ان کی کتابوں اورمختصراقوال کے درج کرتے ہیں :

( ۱ ) ۔ علامہ محمدبن طلحہ شافعی کتاب مطالب السوال میں فرماتے ہیں کہ امام مہدی سامرہ میں پیداہوئے ہیں جوبغداد سے ۲۰ فرسخ کے فاصلہ پرہے۔

( ۲ ) ۔ علامہ علی بن محمدصباغ مالکی کی کتاب فصول المہمہ میں لکھتے ہیں کہ امام حسن عسکری گیارہویں امام نے اپنے بیٹے امام مہدی کی ولادت بادشاہ وقت کے خوف سے پرشیدہ رکھی ۔

( ۳ ) ۔علامہ شیخ عبداللہ بن احمد خشاب کی کتاب تاریخ موالید میں ہے کہ امام مہدی کانام محمد اورکنیت ابوالقاسم ہے ۔آپ آخری زمانہ میں ظہوروخروج کریں گے ۔

( ۴ ) ۔ علامہ محی الدین ابن عربی حنبلی کی کتاب فتوحات مکہ میں ہے کہ جب دنیا ظلو وجورسے بھرجائے گی توامام مہدی ظہورکریں گے۔

( ۵ ) ۔علامہ شیخ عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہرمیں ہے کہ امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری میں پیداہوئے اب اس وقت یعنی ۹۵۸ ہجری میں ان کی عمر ۷۰۶ سال کی ہے ،یہی مضمون علامہ بدخشانی کی کتاب مفتاح النجاة میں بھی ہے ۔

( ۶ ) ۔ علامہ عبدالرحمن جامی حنفی کی کتاب شواہدالنبوت میں ہے کہ امام مہدی سامرہ میں پیداہوئے ہیں اوران کی ولادت پوشیدہ رکھی گئی ہے وہ امام حسن عسکری کی موجودگی میں غائب ہوگئے تھے ۔اسی کتاب میں ولادت کاپوراواقعہ حکیمہ خاتون کی زبانی مندرج ہے ۔

( ۷ ) ۔ علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب مناقب الائمہ ہے کہ امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ میں پیداہوئے ہیں امام حسن عسکری نے ان کے اذان واقامت کہی ہے اورتھوڑے عرصہ کے بعد آپ نے فرمایا کہ وہ اس مالک کے سپردہوگئے جن کے پاس حضرت موسی بچپنے میں تھے۔

( ۸ ) ۔ علامہ جمال الدین محدث کی کتاب روضةالاحباب میں ہے کہ امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ میں پیداہوئے اورزمانہ معتمد عباسی میں بمقام ”سرمن رائے“ ازنظربرایاغائب شد لوگوں کی نظرسے سرداب میں غائب ہوگئے ۔

( ۹ ) ۔ علامہ عبدالرحمن صوفی کی کتاب مراةالاسرارمیں ہے کہ آپ بطن نرجس سے ۱۵ شعبان ۲۵۵ میں پیداہوئے ۔

( ۱۰ ) ۔ علامہ شہاب الدین دولت آبادی صاحب تفسیربحرمواج کی کتاب ہدایة السعداء میں ہے کہ خلافت رسول حضرت علی کے واسطہ سے امام مہدی تک پہونچی آپ ہی آخری امام ہیں ۔

( ۱۱ ) ۔ علامہ نصربن علی جھمنی کی کتاب موالیدالائمہ میں ہے کہ امام مہدی نرجس خاتون کے بطن سے پیداہوئے ۔

( ۱۲ ) ۔ علامہ ملا علی قاری کی کتاب مرقات شرح مشکوة میں ہے کہ امام مہدی باہویں امام ہیں شیعوں کایہ کہناغلط ہے کہ اہل سنب اہل بیت کے دشمن ہین۔

( ۱۳ ) ۔ علامہ جواد ساباطی کی کتاب براہین ساباطیہ میں ہے کہ امام مہدی اولادفاطمہ میں سے ہیں ، وہ بقولے ۲۵۵ میں متولد ہوکرایک عرصہ کے بعد غائب ہوگئے ہیں ۔

( ۱۴ ) ۔ علامہ شیخ حسن عراقی کی تعریف کتاب الواقع میں ہے کہ انھوں نے امام مہدی سے ملاقات کی ہے ۔

( ۱۵ ) ۔ علامہ علی خواص جن کے متعلق شعرانی نے الیواقیت میں لکھا ہے کہ انھوں نے امام مہدی سے ملاقات کی ہے ۔

( ۱۶ ) ۔ علامہ شیخ سعدالدین کاکہناہے کہ امام مہدی پیداہوکرغائب ہوگئے ہیں ”دورآخرزمانہ آشکارگردد“ اوروہ آخرزمانہ میں ظاہرہوں گے ۔جیساکہ کتاب مقصداقصی میں لکھا ہے ۔

( ۱۷ ) ۔ علامہ علی اکبرابن اسعداللہ کی کتاب مکاشفات میں ہے کہ آپ پیداہوکرقطب ہوگئے ہیں ۔

( ۱۸ ) ۔ علامہ احمدبلاذری ااحادیث لکھتے ہیں کہ آپ پیداہوکرمحجوب ہوگئے ہیں ۔

( ۱۹ ) ۔ علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے رسالہ نوارد میں ہے، محمد بن حسن( المہدی ) کے بارے میں شیعوں کاکہنا درست ہے ۔

( ۲۰ ) ۔ علامہ شمس الدین جزری نے بحوالہ مسلسلات بلاذری اعتراف کیاہے ۔

( ۲۱ ) ۔علامہ علاالدولہ احمدمنانی صاحب تاریخ خمیس دراحوالی النفس نفیس اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امام مہدی غیبت کے بعد ابدال پھرقطب ہوگئے۔

علامہ نوراللہ بحوالہ کتابیان الاحسان لکھتے ہیں کہ امام مہدی تکمیل صفات کے لئے غائب ہوئے ہیں

۲۴ علامہ ذہبی اپنی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں کہ امام مہدی ۲۵۶ میں پیداہوکرمعدوم ہوگئے ہیں

۲۵ علامہ ابن حجرمکی کی کتاب صواعق محرقہ میں ہے کہ امام مہدی المنتظرپیداہوکرسرداب میں غائب ہوگئے ہیں ۔

۲۶ علامہ عصرکی کتاب وفیات الا عیان کی جلد ۲ ص ۴۵۱ میں ہے کہ امام مہدی کی عمرامام حسن عسکری کی وفات کے وقت ۵ سال تھی وہ سرداب میں غائب ہوکرپھرواپس نہیں ہوے ۔

۲۷ علامہ سبط ابن جوزی کی کتاب تذکرةالخواص الامہ کے ص ۲۰۴ میں ہے کہ آپ کالقب القائم ، المنتظر،الباقی ہے ۔

۲۸ علامہ عبیداللہ امرتسری کی کتاب ارجح المطالب کے ص ۳۷۷ میں بحوالہ کتاب البیان فی اخبارصاحب الزمان مرقوم ہے کہ آپ اسی طرح زندہ باقی ہیں جس طرح عیسی ، خضر، الیاس وغیرہ ہم زندہ اورباقی ہیں ۔

۲۹ علامہ شیخ سلیمان تمندوزی نے کتاب ینابع المودة ص ۳۹۳ میں

۳۰ علامہ ابن خشاب نے کتاب موالیداہل بیت میں

۳۱ علامہ شبلنجی نے نورالابصارکے ص ۱۵۲ طبع مصر ۱۲۲۲ میں بحوالہ کتاب البیان لکھا ہے کہ امام مہدی غائب ہونے کے بعد اب تک زندہ اورباقی ہیں اوران کے وجود کے باقی ،اورزندہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے وہ اسی طرح زندہ اورباقی ہیں جس طرح حضرت عیسی ،حضرت خضراورحضرت الیاس وغیرہم زندہ اورباقی ہیں ان اللہ والوں کے علاوہ دجال ،ابلیس بھی زندہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید صحیح مسلم ،تاریخ طبری وغیرہ سے ثابت ہے لہذا ”لاامتناع فی بقائه “ان کے باقی اورزندہ ہونے میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے علامہ چلپی کتاب کشف الظنون کے ص ۲۰۸ میں لکھتے ہیں کہ کتاب البیان فی اخبارصاحب الزمان ابوعبداللہ محمد بن یوسف کنجی شافعی کی تصنیف ہے ۔ (علامہ فاضل روزبہان کی ابطال الباطل میں ہے کہ امام مہدی قائم ومنتظرہیں وہ آفتاب کی مانند ظاہرہوکردنیاکی تاریکی ،کفرزائل کردے گے ۔

۳۱ علامہ علی متقی کی کتاب کنزالعمال کی جلد ۷ کے ص ۱۱۴ میں ہے کہ آپ غائب ہیں ظہورکرکے ۹ سال حکزمت کریں گے ۔

۳۲ علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب درمنشورجلد ۳ ص ۲۳ میں ہے کہ امام مہدی کے ظہورکے بعد عیسی نازل ہوں گے وغیرہ۔

امام مہدی کی غیبت اورآپ کاوجود وظہورقرآن مجیدکی روشنی میں :

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اورآپ کے موجودہونے اورآپ کے طول عمرنیزآپ کے ظہوروشہود اورظہورکے بعد سارے دین کوایک کردینے کے متعلق ۹۴ آیتیں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں سے اکثردونوں فریق نے تسلیم کیاہے ۔اسی طرح بے شمارخصوصی احادیث بھی ہیں تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو غایۃ المقصود وغایۃالمرام علامہ ہاشم بحرانی اورینابع المودة ،میں اس مقام پرصرف دوتین آیتیں لکھتاہوں :

۱ ) آپ کی غیبت کے متعلق :( آلم ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ) ہے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان بالغیب سے امام مہدی کی غیبت مراد ہے ۔نیک بخت ہیں وہ لوگ جوان کی غیبت پرصبرکریں گے اورمبارک باد کے قابل ہیں ۔ وہ سمجھدار لوگ جوغیبت میں بھی ان کی محبت پرقائم رہیں گے ۔(ینابع المودة ص ۳۷۰ طبع بمےئی )

۲ ) آپ کے موجود اورباقی ہونے کے متعلق ”( جعلها کلمةباقية فی عقبه ) “ ہے ابراھیم کی نسل میں کلمہ باقیہ کوقراردیاہے جوباقی اورزندہ رہے گا اس کلمہ باقیہ سے امام مہدی کاباقی رہنا مراد ہے اوروہی آل محمد میں باقی ہیں ۔(تفسیرحسینی علامہ حسین واعظ کاشفی ص ۲۲۶) ۔

) آپ کے ظہوراورغلبہ کے متعلق ”( يظهره علی الدين کله ) “ جب امام مہدی بحکم خداظہورفرمائیں گے توتمام دینوں پرغلبہ حاصل کرلیں گے یعنی دنیا میں سوا ایک دین ا سلام کے کوئی اوردین نہ ہوگا ۔(نورالابصارص ۱۵۳ طبع مصر)۔

امام مہدی کاذکرکتب آسمانی میں :

حضرت داؤد کی زبورکی آیت ۴# مرموز ۹۷ میں ہے کہ آخری زمانہ میں جوانصاف کامجسمہ انسان آئے گا ، اس کے سر پرابرسایہ فگن ہوگا ۔ کتاب صفیائے پیغمبرکے فصل ۳ آیت ۹ میں ہے آخری زمانے میں تمام دنیا موحدہوجائے گی ۔کتاب زبورمرموز ۱۲۰ میں ہے جوآخرالزماں آئے گا، اس پرآفتاب اثراندازنہ ہوگا۔صحیفہ شعیاپیغمبرکے فصل ۱۱ میں ہے کہ جب نورخداظہورکرے گا توعدل وانصاف کا ڈنکا بجے گا ۔شیراوربکری ایک جگہ رہیں گے چیتااوربزغالہ ایک ساتھ چریں گے شیراورگوسالہ ایک ساتھ رہیں گے ،گوسالہ اورمرغ ایک ساتھ ہوں گے شیراورگائے میں دوستی ہوگی ۔ طفل شیرخوارسانپ کب بل میں ہاتھ ڈالے گااوروہ کاٹے گانہیں پھراسی صفحہ کے فصل ۲۷ میں ہے کہ یہ نورخدا جب ظاہرہوگا، توتلوارکے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا صحیفہ تنجاس حرف الف میں ہے کہ ظہورکے بعد ساری دنیا کے بت مٹادئیے جائیں گے ،ظالم اورمنافق ختم کردئیے جائیں گے یہ ظہورکرنے والاکنیزخدا (نرجس) کابیٹاہوگا ۔ توریت کے سفرانبیامیں ہے کہ مہدی ظہورکریں گے عیسی آسمان سے اتریں گے ،دجال کوقتل کریں گے انجیل میں ہے کہ مہدی اورعیسی دجال اورشیطان کوقتل کریں گے ۔ اسی طرح مکمل واقعہ جس میں شہادت امام حسین اورظہورمہدی علیہ السلام کااشارہ ہے ۔انجیل کتاب دانیال باب ۱۲ فصل ۹ آیت ۲۴ رویائے ۲# میں موجود ہے (کتاب الوسائل س ۱۲۹ طبع بمبئی ۱۳۳۹ ہجری )۔

امام مہدی کی غیبت کی وجہ :

مذکورہ بالاتحریروں سے علمااسلام کااعتراف ثابت ہوچکا یعنی واضح ہوگیا کہ امام مہدی کے متعلق جوعقائد اہل تشیع کے ہیں وہی منصف مزاج اورغیرمتعصب اہل تسنن کے علماء کے بھی ہیں اورمقصد اصل کی تائید قرآن کی آیتوں نے بھی کردی ،اب رہی غیبت امام مہدی کی ضرورت اس کے متعلق عرض ہے کہ :

۱ ) اخلاق عالم نے ہدآیت خلق کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبراورکثیرالتعداد ان کے اوصیا بھیجے ۔پیغمبروں میں سے ایک لاکھ تيس ہزار نوسو ننانویں انبیاء کے بعد چونکہ حضوررسول کریم تشریف لائے تھے ۔لہذا ان کے جملہ صفات وکمالات ومعجزات حضرت محمدمصطفی صلعم میں جمع کردئیے تھے اورآپ کوخدانے تمام انبیاء کے صفات کا جلوہ برواربنایا بلکہ خود اپنی ذات کامظہرقراردیا تھا اورچونکہ آپ کوبھی اس دنیائے فانی سے ظاہری طورپرجاناتھا اس لئے آپ نے اپنی زندگی ہی میں حضرت علی کوہرقسم کے کمالات سے بھرپورکردیاتھا یعنی حضرت علی اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ نبوی کمالات سے بھی ممتازہوگئے تھے ۔سرورکائنات کے بعد کائنات عالم صرف ایک علی کی ہستی تھی جوکمالات انبیاء کی حامل تھی آپ کے بعد سے یہ کمالات اوصیامیں منتقل ہوتے ہوئے امام مہدی تک پہونچے بادشاہ وقت امام مہدی کوقتل کرنا چاہتاتھا اگروہ قتل ہوجاتے تودنیاسے انبیاء واوصیاء کا نام ونشان مٹ جاتا اورسب کی یادگاربیک ضرب شمشیرختم ہوجاتی اورچونکہ انھیں انبیاء کے ذریعہ سے خداوند عالم متعارف ہواتھا لہذا اس کابھی ذکرختم ہوجاتا اس لئے ضرورت تھی کہ ایسی ہستی کومحفوظ رکھا جائے جوجملہ انبیاء اوراوصیاء کی یادگاراورتمام کے کمالات کی مظہرہو ۔

۲ ) خداوندے عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے ” وجعلھا کلمة باقےة فی عقبہ “ ابراہیم کی نسل میں کلمہ باقیہ قراردیاہے نسل ابراہیم دوفرزندوں سے چلی ہے ایک اسحاق اوردوسرے اسماعیل ۔ اسحاق کی نسل سے خداوندعالم جناب عیسی کوزندہ وباقی قراردے کر آسمان پرمحفوظ کرچکاتھا ۔ اب بہ مقتضائے انصاف ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل سے کسی ایک کوباقی رکھے اوروہ بھی زمین پرکیونکہ آسمان پرایک باقی موجودتھا ،لہذا امام مہدی کوجونسل اسماعیل سے ہیں زمین پرزندہ اورباقی رکھا اورانھیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شرسے محفوظ کردیا جس طرح حضرت عیسی کومحفوظ کیاتھا ۔

۳ ) یہ مسلمات اسلامی سے ہے کہ زمین حجت خدا اورامام زمانہ سے خالی نہیں رہ سکتی (اصول کافی ۱۰۳ طبع نولکشور) چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدی کے سوا کوئی نہ تھا اورانھیں دشمن قتل کردینے پرتلے ہوئے تھے اس لئے انھیں محفوظ ومستورکردیاگیا ۔حدیث میں ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی ہے اورانھیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے (بحار)۔

۴ ) یہ مسلم ہے کہ حضرت امام مہدی جملہ انبیاء کے مظہرتھے اس لئے ضرورت تھی کہ انھیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوتی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح ،حضرت ابراہیم ،حضرت موسی ،حضرت عیسی اورحضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے عہدحیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے تھے اسی طرح یہ بھی غائب رہتے ۔

۵ ) قیامت کاآنا مسلم ہے اورواقعہ قیامت میں امام مہدی کا ذکربتاتاہے کہ آپ کی غیبت مصلحت خداوندی کی بناء پرہوئی ہے ۔

۶ ) سور ہ اناانزلنا سے معلوم ہوتاہے کہ نزول ملائکہ شب قدرمیں ہوتا رہتاہے یہ ظاہرہے کہ نزول ملائکہ انبیاء واوصیاء ہی پرہواکرتاہے ۔امام مہدی کواس لئے موجود اورباقی رکھا گیاہے تاکہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض پوری ہوسکے ،اورشب قدرمیں انھیں پرنزول ملائکہ ہوسکے حدیث میں ہے کہ شب قدرمیں سال بھرکی روزی وغیرہ امام مہدی تک پہونچادی جاتی ہے اوروہی اس تقسیم کرتے رہتے ہیں ۔

۷ ) حکیم کافعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا یہ دوسری بات ہے کے عام لوگ اس حکمت ومصلحت سے واقف نہ ہوں غیبت امام مہدی اسی طرح مصلحت وحکمت خداوندی کی بناپرعمل میں آئی ہے جس طرح طواف کعبہ ،رمی جمرہ وغیرہ ہے جس کی اصل مصلحت خداوندعالم ہی کومعلوم ہے ۔

۸ ) امام جعفرصادق علیہ السلام کافرماناہے کہ امام مہدی کواس لئے غائب کیاجائے گا تاکہ خداوندعالم اپنی ساری مخلوق کا امتحان کرکے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اورباطل پرست کون لوگ ہیں (اکمال الدین )۔

۹ ) چونکہ آپ کواپنی جان کاخوف تھا اوریہ طے شدہ ہے کہ ” من خاف علی نفسہ احتاج الی الاستتار“ کہ جسے اپنے نفس اوراپنی جان کاخوف ہو وہ پوشیدہ ہونے کولازمی جانتاہے (المرتضی )۔

) آپ کی غیبت اس لئے واقع ہوئی ہے کہ خداوندعالم ایک وقت معین میں آل محمد پرجومظالم کیے گئے ہیں ۔ ان کابدلہ امام مہدی کے ذریعہ سے لے گا یعنی آپ عہد اول سے لے کربنی امیہ اوربنی عباس کے ظالموں سے مکمل بدلہ لیں گے ۔ (اکمال الدین )۔

غیبت امام مہدی جفرجامعہ کی روشنی میں :

علامہ شیخ قندوزی بلخی حنفی رقمطرازہیں کے سدیرصیرفی کابیان ہے کہ ہم اورمفضل بن عمر،ابوبصیر،ابان بن تغلب ایک دن صادق آل محمد کی خدمت میں حاضرہوئے تودیکھا کہ آپ زمین پربیٹھے ہوئے رورہے ہیں ، اورکہتے ہیں کہ ” اے محمد!تمہاری غیبت کی خبرنے میرا دل بے چین کردیاہے “ میں نے عرض کی حضورخدا آپ کی آنکھوں کوبھی نہ رلائے بات کیا ہے کس لئے حضورگریہ کناں ہیں فرمایا ۔ ا ے سدیر!میں نے آج کتاب ”جعفرجامع“ میں بوقت صبح امام مہدی کی غیبت کا مطالعہ کیاہے ،اے سدیر!یہ وہ کتاب ہے جس میں ”علم ماکان ومایکون“ کااندراج ہے اورجوکچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اس میں لکھا ہواہے اے سدیر! میں نے اس کتاب میں یہ دیکھا ہے کہ ہماری نسل سے امام مہدی ہوں گے ۔ پھروہ غائب ہوجائیں گے اور ان کی غیبت نیزعمر بہت طویل ہوگی ان کی غیبت کے زمانہ میں مومنین مصائب میں مبتلا ہوں گے اور ان کے امتحانات ہوتے رہیں گے اورغیبت میں تاخیرکی وجہ سے ان کے دلوں میں شکوک پیداہوتے ہوں گے پھرفرمایا : اے سدیرسنو! ان کی ولادت حضرت موسی کی طرح ہوگی اوران غیبت عیسی کی مانندہوگی اوران کے ظہورکا حال حضرت نوح کے مانند ہوگا اوران کی عمرحضرت خضرکی عمرجیسی ہوگی (ینابع المودة) اس حدیث کی مختصرشرح یہ ہے کہ :

۱ ) تاریخ میں ہے کہ جب فرعون کومعلوم ہوا کہ میری سلطنت کا زوال ایک مولود بنی اسرائیل کے ذریعہ ہوگا تواس نے حکم جاری کردیا کہ ملک میں کوئی عورت حاملہ نہ رہنے پائے اورکوئی بچہ باقی نہ رکھا جائے چنانچہ اسی سلسلہ میں ۴۰ ہزاربچے ضائع کئے گئے لیکن نے خدا حضرت موسی کوفرعون کی تمام ترکیبوں کے باوجود پیداکیا،باقی رکھا اورانھیں کے ہاتھوں سے اس کی سلطنت کاتختہ الٹوایا ۔ اسی طرح امام مہدی کے لئے ہوا کہ تمام بنی امیہ اوربنی عباسیہ کی سعی بلیغ کے باوجود آپ بطن نرجس خاتون سے پیداہوئے اورکوئی آپ کودیکھ تک نہ سکا۔

۲ ) حضرت عیسی کے بارے میں تمام یہودی اورنصرانی متفق ہیں کہ آپ کو سولی دید ی گئی اور آپ قتل کئے جاچکے ،لیکن خدا وندعالم نے اس کی ردفرمادی اورکہ دیا کہ وہ نہ قتل ہوئے ہیں اورنہ ان کوسولی دی گئی ہے یعنی خداوندعالم نے اپنے پاس بلالیاہے اوروہ آسمان پرامن وامان خدا میں ہیں ۔اسی طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بھی لوگوں کایہ کہنا ہے کہ پیداہی نہیں ہوئے حالانکہ وہ پیداہوکر حضرت عیسی کی طرح غائب ہوچکے ہیں ۔

۳ حضرت نوح نے لوگوں کی نافرمانی سے عاجزآکرخداکے عذاب کے نزول کی درخواست کی خداوند عالم نے فرمایا کہ پہلے ایک درخت لگاؤوہ پھل لائے گاتب عذاب کروں گا اسی طرح نوح نے سات مرتبہ کیا بالاخراس تاخیرکی وجہ سے آپ کے تمام دوست وموالی اورایمان دار کافرہوگئے اورصرف سترمومن رہ گئے ۔ اسی طرح غیبت امام مہدی اورتاخیرظہورکی وجہ سے ہورہا ہے ۔ لوگ فرامین پیغمبراور آئمہ علیہم السلام کی تکذیب کررہے ہیں اورعوام مسلم بلاوجہ اعتراضات کرکے اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں اورشاید اسی وجہ سے مشہور ہے کہ جب دنیا میں چالیس مومن کامل رہ جائیں گے تب آپ کا ظہورہوگا ۔

) حضرت خضرجوزندہ اورباقی ہیں اورقیامت تک موجود رہیں گے اورجب کہ حضرت خضرکے زندہ اورباقی رہنے میں مسلمانوں کوکوئی اختلاف نہیں ہے حضرت امام مہدی کے زندہ اورباقی رہنے میں بھی کوئی اختلاف کی وجہ نہیں ہے ۔

غیبت صغری وکبری اورآپ کے سفرا

آپ کی غیبت کی دوحیثیت تھی ، ایک صغری اوردوسری کبری ، غیبت صغری کی مدت ۷۵ یا ۷۳ سال تھی ۔ اس کے بعد غیبت کبری شروع ہوگئی غیبت صغری کے زمانے میں آپ کاایک نائب خاص ہوتا تھا جس کے ذریعہ اہتمام ہرقسم کانظام چلتاتھا سوال وجواب، خمس وزکوة اوردیگرمراحل اسی کے واسطہ طے ہوتے تھے خصوصی مقامات محروسہ میں اسی کے ذریعہ اورسفارش سے سفرا مقررکئے جاتے تھے ۔

سب سے پہلے جنہیں نائب خاص ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ان کانام نامی واسم گرامی حضرت عثمان بن سعیدعمری تھا آپ حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورامام حسن عسکری علیہ السلام کے معتمد خاص اوراصحاب خلص میں سے تھے آپ قبیلہ بنی اسد سے تھے آپ کی کنیت ابوعمرتھی ،آپ سامرہ کے قریہ عسکرکے رہنے والے تھے وفات کے بعد آپ بغداد میں دروازہ جبلہ کے قریب مسجد میں دفن کئے گئے آپ ک وفات کے بعد بحکم امام علیہ السلام آپ کے فرزند،حضرت محمد بن عثمان بن سعید اس عظیم منزلت پرفائزہوئے ، آپ کی کنیت ابوجعفرتھی آپ نے اپنی وفات سے ۲ ماہ قبل اپنی قبرکھدوادی تھی آپ کاکہناتھا کہ میں یہ اس لئے کررہاہوں کہ مجھے امام علیہ السلام نے بتادیاہے اورمیں اپنی تاریخ وفات سے واقف ہوں آپ کی وفات جمادی الاول ۳۰۵ ہجری میں واقع ہوئی ہے اورآپ ماں کے قریب بمقام دروازہ کوفہ سرراہ دفن ہوئے ۔ پھرآپ کی وفات کے بعد بواسطہ مرحوم حضرت امام علیہ السلام کے حکم سے حضرت حسین بن روح اس منصب عظیم پرفائزہوئے ۔جعفربن محمد بن عثمان سعیدکاکہناہے ،کہ میرے والد حضرت محمد بن عثمان نے میرے سامنے حضرت حسین بن روح کواپنے بعد اس منصب کی ذمہ داری کے متعلق امام علیہ السلام کا پیغام پہنچایا تھا ۔حضرت حسین بن روح کی کنیت ابوقاسم تھی آپ محلہ نوبخت کے رہنے والے تھے آپ خفیہ طورپرجملہ ممالک اسلامیہ کادورہ کیاکرتے تھے آپ دونوں فرقوں کے نزدیک معتمد ،ثقہ ،صالحاورامین قراردئے گئے ہیں آپ کی وفات شعبان ۳۲۶ میں ہوئی اورآپ محلہ نوبخت کوفہ میں مدفون ہوئے ہیں آپ کی وفات کے بعد بحکم امام علیہ السلام حضرت علی بن محمد السمری اس عہدہ جلیلہ پرفائزہوئے آپ کی کنیت ابوالحسن تھی ،آپ اپنے فرائض انجام دئے رہے تھے ،جب وقت قریب آیاتوآپ سے کہاگیا کہ آپ اپنے بعد کاکیاانتظام کریں گے ۔ آپ نے فرمایا کہ اب آئندہ یہ سلسہ قائم نہ رہے گا ۔ (مجالس المومنین ص ۸۹ وجزیزہ خضرا ص ۶ وانوارالحسینیہ ص ۵۵) ۔ ملاجامی اپنی کتاب شواہدالنبوت کے ص ۲۱۴ میں لکھتے ہیں کہ محمد السمری کے انتقال سے ۶ یوم قبل امام علیہ السلام کا ایک فرمان ناحیہ مقدسہ سے برآمد ہوا ۔ جس میں ان کی وفات کا ذکراورسلسہ سفارت کے ختم ہونے کا تذکرہ تھا ۔ امام مہدی کے خط کے عیون الفاظ یہ ہیں

بسم الله الرحمن ا لرحیم

” یاعلی بن محمد عظم الله اجراخرانک فيک فانک ميت مابينک وبين ستة ایام فاجمع امرک ولاترض الی احد يقوم مقامک بعدوفاتک فقد وقعت الغيبة السامة فلاظهورالا بعداذن الله تعالی وذلک بعد طول الامد الخ“

ترجمہ : اے علی بن محمد ! خداوند عالم تمھارے بارے میں تمھارے بھائیوں اورتمھارے اوردوستوں کواجرجزیل عطاکرے ،تمہیں معلوم ہو کہ تم چھ یوم میں وفات پانے والے ہو،تم اپنے انتظامات کرلو۔ اورآئندہ کے لئے اپنا کوئی قائم مقام تجویز وتلاش نہ کرو۔ اس لئے کہ غیبت کبری واقع ہوگئی ہے اور اذن خدا کے بغیرظہورناممکن ہوگا ۔ یہ ظہوربہت طویل عرصہ کے بعد ہوگا ۔

غرضکہ چھ یوم گذرنے کے بعد حضرت ابوالحسن علی بن محمدالسمری بتاریخ ۱۵ شعبان ۳۲۹ انتقال فرماگئے ۔اورپھرکوئی خصوصی سفیرمقررنہیں ہوا اورغیبت کبری شروع ہوگئی ۔

سفرا عمومی کے اسماء

مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان سفرا کے اسماء بھی درج ذیل کردئے جائیں جوانھیں نواب خاص کے ذریعہ اورسفارش سے بحکم امام ممالک محروسہ مخصوصہ میں امام علیہ السلام کاکام کرتے تھے اورحضرت کی خدمت میں حاضرہوتے رہتے تھے ۔

) بغداد سے حاجز،بلالی ،عطار ۔ کوفہ سے عاصمی ۔ اہوازسے محمد بن ابراہیم بن مہریار ۔ ہمدان سے محمد بن صالح ۔ رے سے بسامی واسدی ۔ آذربائیجان سے قسم بن علا۔ نیشاپورسے محمد بن شاذان ۔ قسم سے احمد بن اسحاق۔ (غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۲۰) ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے بعد :

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت چونکہ خداوندعالم کی طرف سے بطورلطف خاص عمل میں آئی تھی ،اس لئے آپ خدائی خدمت میں ہمہ تن منہمک ہوگئے اورغائب ہونے کے بعد آپ نے دین اسلام کی خدمت شروع فرمادی ۔ مسلمانوں ، مومنوں کے خطوط کے جوابات دینے ، ا ن کی بوقت ضرورت رہبری کرنے اورانھیں راہ راست دکھانے کا فریضہ اداکرنا شروع کردیا ضروری خدمات آپ زمانہ غیبت صغری میں بواسطہ سفرا یابلاوسطہ اورزمانہ غیبت کبری میں بلاواسطہ انجام دیتے رہے اورقیامت تک انجام دیتے رہیں گے۔

۳۰۷ ہجری میں آپ کا حجراسود نصب کرنا :

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ زمانہ نیابت میں بعہد حسین بن روح ،ابوالقاسم جعفربن محمد بن قولویہ بارادہ حج بغداد گئے اوروہ مکہ معظمہ پہنچ کرحج کرنے کافیصلہ کئے ہوئے تھے ۔ لیکن وہ بغداد پہنچ کرسخت علیل ہوگئے ۔ اسی دوران میں آپ نے سناکہ قرامطہ نے حجراسود کونکال لیاہے اوروہ اسے کچھ درست کرکے ایام حج میں پھرنصب کریں گے ۔ کتابوں میں چونکہ پڑھ چکے تھے کہ حجراسود صرف امام زمانہ ہی نصب کرسکتاہے جیساکہ پہلے آنحضرت صلعم نے نصب کیاتھا ،پھرزمانہ حجاج میں امام زین العابدین نے نصب کیاتھا ۔ اسی بناء پرانھوں نے اپنے ایک کرم فرما” ابن ہشام “ کے ذریعہ سے ایک خط ارسال کیا اوراسے کہ دیا کہ جوحجراسود نصب کرے اسے یہ خط دیدینا ۔ نصب حجرکی لوگ سعی کررہے تھے ۔لیکن وہ اپنی جگہ پرقرارنہیں لیتاتھا کہ اتنے میں ایک خوبصورت نوجوان ایک طرف سے سامنے آیا اور اس نے اسے نصب کردیا اوروہ اپنی جگہ پرمستقرہوگیا ۔جب وہ وہاں سے روانہ ہوا توابن ہشام ان کے پےچھے ہولئے ۔راستہ میں انھوں نے پلٹ کرکہا اے ابن ہشام ،توجعفربن محمد کاخط مجھے دیدے ۔دیکھ اس میں اس نے مجھ سے سوال کیاہے کہ وہ کب تک زندہ رہے گا ۔ ا س سے یہ کہدینا کہ وہ ابھی تیس سال اورزندہ رہے گا یہ کہہ کروہ ونظروں سے غائب ہوگئے ۔ ابن ہشام نے ساراواقعہ بغداد پہنچ کرجعفربن قولویہ سے بیان کردیا ۔ غرضکہ وہ تیس سال کے بعد وفات پاگئے ۔(کشف الغمہ ص ۱۳۳) اسی قسم کے کئی واقعات کتاب مذکورمیں موجودہیں ۔

علامہ عبدالرحمن ملاجامی رقمطرازہیں کہ ایک شخص اسماعیل بن حسن ہرقلی جونواحی حلہ میں مقیم تھا اس کی ران پرایک زخم نمودارہوگیاتھا جوہرزمانہ بحارمیں ابل آتاتھا جس کے علاج سے تمام دنیا کے اطبا عاجزاورقاصرہوگئے تھے وہ ایک دن اپنے بیٹے شمس الدین کوہمراہ لے کرسیدرضی الدین علی بن طاؤس کی خدمت میں گیا ۔انھوں نے پہلے توبڑی سعی کی ،لیکن کوئی چارہ کارنہ ہوا ہرطبیب یہ کہتاتھا کہ یہ پھوڑا ”رگ اکحل “ پرہے اگراسے نشتر دیاجائے توجان کاخطرہ ہے اس لئے اس کاعلاج ناممکن ہے ۔اسماعیل کابیان ہے کہ ”چون ازاطبامایوس شدم عزیمت مشہدشریف سرمن رائے کردم“ جب میں تمام اطباء سے مایوس ہوگیا توسامرہ کے سرداب کے قریب گیا،اوروہاں پرحضرت صاحب الامرکومتوجہ کیا ،ایک شب دریائے دجلہ سے غسل کرکے واپس آرہاتھا کہ چارسوارنظرآئے ،ان میں سے ایک نے میرے زخم کے قریب ہاتھ پھیرا اورمیں بالکل اچھا ہوگیا میں ابھی اپنی صحت پرتعجب ہی کررہاتھا کہ ان میں سے ایک سوارنے جوسفید ریش تھے کہا کہ تعجب کیا ہے تجھے شفادینے والے امام مہدی علیہ السلام ہیں یہ سن کرمیں نے ان کے قدموں کا بوسہ دیا اوروہ لوگ نظروں سے غائب ہوگئے ۔ (شواہدالنبوت ص ۲۱۴ وکشف الغمہ ص ۱۳۲) ۔

اسحاق بن یعقوب کے نام امام عصرکاخط :

علامہ طبرسی بحوالہ محمد بن یعقوب کلینی لکھتے ہیں کہ اسحق بن یعقوب نے بذریعہ محمد بن عثمان عمری حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت ایک خط ارسال کیا جس میں کئی سوالات مندرج تھے ۔حضرت نے بخط خود جواب تحریرفرمایا اورتمام سوالات کے جوابات تحریرا عنآیت فرمائے جس کے اجزا یہ ہیں :

۱ ) جوہمارامنکرہے ،وہ ہم سے نہیں ۔

۲ ) میرے عزیزوں میں سے جومخالفت کرتے ہیں ،ان کی مثال ابن نوح اوربرادران یوسف کی ہے ۔

۳ ) فقاع یعنی جوکی شراب کاپینا حرام ہے ۔

۴ ) ہم تمہارے مال صرف اس لئے (بطورخمس قبول کرتے ہیں کہ تم پاک ہوجاؤ اورعذاب سے نجات حاصل کرسکو۔

۵ ) میرے ظہورکرنے اورنہ کرنے کا تعلق صرف خداسے ہے جولوگ وقت ظہورمقررکرتے ہیں وہ غلطی پرہیں جھوٹ بولتے ہیں ۔

۶ ) جولوگ یہ کہتے ہیں کہ امام حسین قتل نہیں ہوئے وہ کافرجھوٹے ا ورگمراہ ہیں ۔

۷ ) تمام واقع ہونے والے حوادث میں میرے سفراپراعتماد کرو ،وہ میری طرف سے تمھارے لئے حجت ہیں اورمیں حجت اللہ ہوں ۔

۸ ) ” محمد بن عثمان “ امین اورثقہ ہیں اوران کی تحریرمیری تحریرہے ۔

۹ ) محمد بن علی مہریاراہوازی کادل انشاء اللہ بہت صاف ہوجائے گا اورانھیں کوئی شک نہ رہے گا ۔

۱۰ ) گانے والی کی اجرت و قیمت حرام ہے ۔

۱۱ ) محمد بن شاذان بن نیعم ہمارے شیعوں میں سے ہے ۔

۱۲ ) ابوالخطاب محمدبن ابی زینب اجدع ملعون ہے اوران کے ماننے والے بھی ملعون ہیں ۔ میں اورمیرے باپ دادا اس سے اور اس کے باپ دادا سے ہمیشہ بے زاررہے ہیں ۔

۱۳ ) جوہمارا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھررہے ہیں ۔

۱۴ ) خمس ہمارے سادات شیعہ کے لئے حلال ہے ۔

۱۵ ) جولوگ دین خدامیں شک کرتے ہیں وہ اپنے خود ذمہ دارہیں ۔

۱۶ ) میری غیبت کیوں واقع ہوئی ہے ۔ یہ بات خداکی مصلحت سے متعلق ہے اس کے متعلق سوال بیکارہے۔ میرے آباؤاجداد دنیا والوں کے شکنجہ میں رہے ہیں لیکن خدانے مجھے اس شکنجہ سے بچالیاہے جب میں ظہورکروں گا بالکل آزاد ہوں گا ۔

) زمانہ غیبت میں مجھ سے فائدہ کیاہے ؟ اس کے متعلق یہ سمجھ لوکہ میری مثال غیبت میں ویسی ہے جیسے ابرمیں چھپے ہوئے آفتاب کی ۔ میں ستاروں کی مانند اہل ارض کے لئے امان ہوں تم لوگ غیبت اورظہورسے متعلق سوالات کا سلسلہ بندکرواورخداوندعالم کی بارگاہ میں دعاکرو کہ وہ جلد میرے ظہورکاحکم دے ،اے اسحاق ! تم پراوران لوگوں پرمیراسلام ہو جوہدآیت کی اتباع کرتے ہیں ۔ (اعلام الوری ص ۲۵۸ مجالس المومنین ص ۱۹۰ ، کشف الغمہ ص ۱۴۰) ۔

شیخ محمدبن محمد کے نام امام زمانہ کامکتوب گرامی

علما کابیان ہے کہ حضرت امام عصرعلیہ السلام نے جناب شیخ مفید ابوعبداللہ محمد بن محمد بن نعمان کے نام ایک مکتوب ارسال فرمایا ہے ۔ جس میں انھوں نے شیخ مفید کی مدح فرمائی ہے اوربہت سے واقعات سے موصوف کوآگاہ کیا ہے ان کے مکتوب گرامی کا ترجمہ یہ ہے :

میریے نیک برادراورلائق محب، تم پرمیراسلام ہو ۔ تمہیں دینی معاملہ میں خلوص حاصل ہے اورتم ہمارے بارے میں یقین کامل رکھتے ہو ۔ہم اس خداکی تعریف کرتے ہیں جس کے سواکوئی معبود نہیں ہے ۔ ہم درود بھیجتے ہیں حضرت محمد مصطفی اوران کی پاک آل پرہماری دعاء ہے کہ خداتمہاری توفیقات دینی ہمیشہ قائم رکھے اورتمہیں نصرت حق کی طرف ہمیشہ متوجہ رکھے ۔تم جوہمارے بارے میں صدق بیانی کرتے رہتے ہو ،خدا تم کواس کااجرعطافرمائے ۔تم نے جوہم سے خط وکتابت کاسلسہ جاری رکھا اوردوستوں کوفائدہ پہونچایا ، وہ قابل مدح وستائش ہے ۔ ہماری دعاہے کہ خداتم کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب رکھے ۔ اب ذرا ٹہرجاؤ ۔ اورجیساہم کہتے ہیں اس پرعمل کرو ۔ اگرچہ ہم ظالموں کے امکانات سے دورہیں لیکن ہمارے لئے خداکافی ہے جس نے ہم کوہمارے شیعہ مومنین کی بہتری کے لئے ذرائع دکھائے دئیے ہیں ۔ جب تک دولت دنیا فاسقوں کے ہاتھ میں رہے گی ۔ ہم کوتمہاری خبریں پہونچتی رہیں گی اورتمہارے معاملات کے متعلق کوئی بات ہم سے پوشیدہ نہ رہے گی ۔ ہم ان لغزشوں کوجانتے ہیں جولوگوں سے اپنے نیک اسلاف کے خلاف ظاہرہورہی ہیں ۔ (شاید اس سے اپنے چچا جعفرکی طرف اشارہ فرمایاہے ) انھوں نے اپنے عہدوں کوپس پشت ڈال دیاہے ،گویاوہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ تاہم ہم ان کی رعآیتوں کوچھوڑنے والے نہیں اورنہ ان کے ذکربھولنے والے ہیں اگرایساہوتا توان پرمصیبتیں نازل ہوجاتیں اوردشمنوں کوغلبہ حاصل ہوجاتا ،پس ان سے کہو کہ خداسے ڈرواورہمارے امرونہی کی حفاظت کرو اوراللہ اپنے نورکاکامل کرنے والاہے ،چاہے مشرک کیسے ہی کراہت کریں ۔ تقیہ کوپکڑے رہو ،میں اس کی نجات کاضامن ہوں جوخداکی مرضی کاراستہ چلے گا ۔ ا س سال جمادی الاول کامہینہ آئے گا تواس کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا تمہارے لئے زمین وآسمان سے روشن آیتیں ظاہرہوں گی ۔مسلمانوں کے گروہ حزن وقلق میں بمقام عراق پھنس جائیں گے اور ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے رزق میں تنگی ہوجائے گی پھریہ ذلت ومصیبت شریروں کی ہلاکت کے بعد دورہوجائیگی ۔ ان کی ہلاکت سے نیک اورمتقی لوگ خوش ہوں گے لوگوں کوچاہیے کہ وہ ا یسے کام کریں جن سے ان میں ہماری محبت زیادہ ہو ۔یہ معلوم ہوناچاہیے کہ جب موت یکایک آجائے گی توباب توبہ بند ہوجائے گا اورخدائی قہرسے نجات نہ ملے گی خدا تم کونیکی پرقائم رکھے ،اورتم پررحمت نازل کرے ۔ “

میرے خیال میں یہ خط عہد غیبت کبری کاہے ،کیونکہ شیخ مفید کی ولادت ۱۱ ذیقعدہ ۳۳۶ ہجری ہے اوروفات ۳ رمضان ۴۱۳ میں ہوئی ہے اورغیبت صغری کااختتام ۱۵ شعبان ۳۲۹ میں ہواہے علامہ کبیرحضرت شہید ثالث علامہ نوراللہ شوشتری مجالس المومنین کے ص ۲۰۶ میں لکھتے ہیں کہ شیخ مفید کے مرنے کے بعد حضرت امام عصرنے تین شعر ارسال فرمائے تھے جومرحوم کی قبرپرکندہ ہیں ۔

ان حضرات کے نام جنھوں نے زمانہ غیبت صغری میں امام کودیکھا ہے

چاروکلائے خصوصی اورسات وکلائے عمومی کے علاوہ جن لوگوں نے حضرت امام عصرعلیہ السلام کودیکھا ہے ان کے اسماء میں سے بعض کے نام یہ ہیں :

بغداد کے رہنے والوں میں سے ( ۱) ابوالقاسم بن رئیس ( ۲) ابوعبداللہ ابن فروخ ( ۳) مسرورالطباخ( ۴ ۔ ۵) احمدومحمدپسران حسن ( ۶) اسحاق کاتب ازنوبخت ( ۷) صاحب الفرا ( ۸) صاحب الصرة المختومہ ( ۹) ابوالقاسم بن ابی جلیس ( ۱۰) ابوعبداللہ الکندی ( ۱۱) ابوعبداللہ الجنیدی ( ۱۲) ہارون الفراز ( ۱۳) النیلی (ہمدان کے باشندوں میں سے) ( ۱۴) محمد بن کشمر( ۱۵) و جعفربن ہمدان (دینورکے رہنے والوں میں سے ) ( ۱۶) حسن بن ہروان( ۱۷) احمدبن ہروان (ازاصفہان ) ( ۱۸) ابن بازشالہ (ازضیمر) ( ۱۹) زیدان (ازقم) ( ۲۰) حسن بن نصر ( ۲۱) محمدبن محمد ( ۲۲) علی بن محمد بن اسحاق ( ۲۳) محمدبن اسحاق ( ۲۴) حسن بن یعقوب (ازری ) ( ۲۵) قسم بن موسی ( ۲۶) فرزند قسم بن موسی ( ۹۲۷ ابن محمد بن ہارون ( ۲۸) صاحب الحصاقہ ( ۲۹) علی بن محمد ( ۳۰) محمد بن یعقوب کلینی ( ۳۱) ابوجعفرالرقا (ازقزوین) ( ۳۲) مرواس ( ۳۳) علی بن احمد (ازفارس ) ( ۳۴) المجروح (ازشہزور) ( ۳۵) ابن الجمال (ازقدس) ( ۳۶) مجروح (ازمرو) ( ۳۷) صاحب الالف دینار ( ۳۸) صاحب المال والرقة البیضا ( ۳۹) ابوثابت (ازنیشابور) ( ۴۰) محمدبن شعیب بن صالح (ازیمن) ( ۴۱) فضل بن برید ( ۴۲) حسن بن فضل ( ۴۳) جعفری ( ۴۴) ابن الاعجمی ( ۴۵) شمشاطی (ازمصر) ( ۴۶) صاحب المولودین ( ۴۷) صاحب ا لمال ( ۴۸) ابورحا (ازنصیبین) ( ۴۹) ابومحمدابن الوجنا(ازاہواز) ( ۵۰) الحصینی (عایة المقصود جلد ۱ ص ۱۲۱) ۔

ِِزیارت ناحیہ اوراصول کافی :

کہتے ہیں کہ اسی زمانہ غیبت صغری میں ناحیہ مقدسہ سے ایک ایسی زیارت برآمد ہوئی ہے جس میں تمام شہدا کربلا کے نام اورانکے قاتلوں کے آسماہیں ۔ اس ”زیارت ناحیہ “ کے نام سے موسوم کیاجاتاہے ۔ اسی طرح یہ بھی کہاجاتاہے کہ اصول کافی جوکہ حضرت ثقة الاسلام علامہ کلینی المتوفی ۳۲۸ کی ۲۰ سالہ تصنیف ہے وہ جب ا مام عصرکی خدمت میں پیش ہوئی توآپ نے فرمایا : ” ہذا کاف لشیعتنا۔“ یہ ہمارے شیعوں کے لئے کافی ہے زیارت ناحیہ کی توثیق بہت سے علماء نے کی ہے جن میں علامہ طبرسی اورمجلسی بھی ہیں دعائے سباسب بھی آپ ہی سے مروی ہے ۔

غیبت کبری میں امام مہدی کامرکزی مقام :

امام مہدی علیہ السلام چونکہ اسی طرح زندہ اورباقی ہیں جس طرح حضرت عیسی ،حضرت ادریس ،حضرت خضر،حضرت الیاس ۔ نیز دجال بطال ، یاجوج ماجوج اورابلیس لعین زندہ اورباقی ہیں اوران سب کامرکزی مقام موجود ہے ۔ جہاں یہ رہتے ہیں مثلا حضرت عیسی چوتھے آسمان پر(قرآن مجید) حضرت ادریس جنت میں (قرآن مجید) حضرت خضراورالیاس ،مجمع البحرین یعنی دریائے فارس وروم کے درمیان پانی کے قصرمیں (عجائب القصص علامہ عبدالواحد ص ۱۷۶) اوردجال بطال طبرستان کے جزیرہ مغرب میں (کتاب غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۰۲) اوریاجوج ماجوج بحیرہ روم کے عقب میں دوپہاڑوں کے درمیان (کتاب غایۃ المقصود جلد ۲ ص ۴۷) اورابلیس لعین ،استعمارارضی کے وقت والے پایہ تخت ملتان میں (کتاب ارشادالطالبین علامہ اخوند درویزہ ص ۲۴۳) تو لامحالہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کابھی کوئی مرکزی مقام ہوناضروری ہے جہاں آپ تشریف فرماہوں اوروہاں سے ساری کائنات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوں اسی لئے کہاجاتاہے کہ زمانہ غیبت میں حضرت امام مہدی علیہ السلام (جزیرہ خضرااوربحرابیض) میں اپنی اولاد اپنے اصحاب سمیت قیام فرماہیں اوروہیں سے باعجازتمام کام کیاکرتے اورہرجگہ پہنچاکرتے ہیں ،یہ جزیرہ خضرا سرزمین ولآیت بربرمیں درمیان دریائے اندلس واقع ہے یہ جزیرہ معموروآبادہے ، اس دریاکے ساحل میں ایک موضع بھی ہے جوبشکل جزیرہ ہے اسے اندلس والے (جزیرہ رفضہ ) کہتے ہیں ،کیونکہ اس میں ساری آبادی شیعوں کی ہے اس تمام آبادی کی خوراک وغیرہ جزیرہ خضراسے براہ بحرابیض سال میں دوبار ارسال کی جاتی ہے ۔ملاحظہ ہو(تاریخ جہاں آرا۔ ریاض العماء ،کفایة المہدی ،کشف القناع ، ریاض المومنین ،غایۃ المقصود ،رسالہ جزیرہ خضراء وبحرابیض اورمجالس المومنین علامہ نوراللہ شوشتری وبحارالانوار،علامہ مجلسی کتاب روضة الشہداء علامہ حسین واعظ کاشفی ص ۴۳۹ میں امام مہدی کے اقصائے بلاد مغرب میں ہونے اوران کے شہروں پرتصرف رکھنے اورصاحب اولادوغیرہ ہونے کاحوالہ ہے ۔ امام شبلنجی علامہ عبدالمومن نے بھی اپنی کتاب نورالابصارکے ص ۱۵۲ میں اس کی طرف بحوالہ کتاب جامع الفنون اشارہ کیاہے ، غیاث اللغاث کے ص ۷۲ میں ہے کہ یہ وہ دریاہے جس کے جانب مشرق چین ،جانب غربی یمن ، جانب شمالی ہند، جانب جنوبی دریائے محیط واقع ہے ۔ اس بحرابیض واخضرکاطول ۲ ہزارفرسخ اورعرض پانچ سوفرسخ ہے اس میں بہت سے جزیزے آباد ہیں جن میں ایک سراندیب بھی ہے اس کتاب کے ص ۲۹۵ میں ہے کہ ”صاحب الزمان“ حضرت امام مہدی علیہ السلام کالقب ہے علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ جس مکان میں رہتے ہیں اسے ”بیت الحمد“ کہتے ہیں ۔ (اعلام الوری ص ۲۶۳) ۔

جزیرہ خضرا میں امام علیہ السلام سے ملاقات

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیام گاہ جزیرہ خضرا میں جولوگ پہنچے ہیں ۔ ا ن میں سے شیخ صالح ،شیخ زین العابدین ملی بن فاضل مازندرانی کانام نمایاں طورپرنظرآتاہے ۔ آپ کی ملاقات کی تصدیق ، فضل بن یحیی بن علی طبیعی کوفی وشیخ عالم عامل شیخ شمس الدین نجح حلی وشیخ جلال الدین ، عبداللہ ابن عوام حلی نے فرمائی ہے ۔ علامہ مجلسی نے آپ کے سفرکی ساری وؤیداد ایک رسالہ کی صورت میں ضبط کیاہے ۔ جس کامفصل ذکربحارالانوار میں موجود ہے رسالہ جزیرہ خضراء کے ص ۱ میں ہے کہ شیخ اجل سعیدشہید بن محمد مکی اورمیرشمس الدین محمد اسداللہ شوشتری نے بھی تصدیق کی ہے۔

مؤلف کتاب ہذا کہتاہے کہ حضرت کی ولادت حضرت کی غیبت ،حضرت کاظہوروغیرہ جس طرح رمزخداوندی اوررازالہی ہے اسی طرح آپ کی جائے قیام بھی ایک رازہے جس کی اطلاع عام ضروری نہیں ہے ،واضح ہوکہ کولمبس کے ادراک سے قبل بھی امریکہ کاوجود تھا۔

امام غائب کاہرجگہ حاضرہونا

احادیث سے ثابت ہے کہ امام علیہ السلام جوکہ مظہرالعجائب حضرت علی کے پوتے ،ہرمقام پرپہونچتے اورہرجگہ اپنے ماننے والوں کے کام آتے ہیں ۔ علما نے لکھا ہے کہ آپ بوقت ضرورت مذہبی لوگوں سے ملتے ہیں لوگ انھیں دیکھتے ہیں یہ اوربات ہے کہ انھیں پہچان نہ سکیں ۔(غایۃ المقصود)۔

امام مہدی اورحج کعبہ

یہ مسلمات میں سے ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہرسال حج کعبہ کے لئے مکہ معظمہ اسی طرح تشریف لے جاتے ہیں جس طرح حضرت خضروالیاس جاتے ہیں (سراج القلوب ۷۷) علی احمد کوفی کابیان ہے کہ میں طواف کعبہ میں مصروف ومشغول تھا کہ میری نظرایک نہآیت خوبصورت نوجوان پرپڑی ،میں نے پوچھا آپ کون ہیں ؟ اورکہاں سے تشریف لائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ”انا المھدی وانا القائم۔“ میں مہدی آخرالزماں اورقائم آل محمد ہوں ۔ غانم ہندی کابیان ہے کہ میں امام مہدی کی تلاش میں ایک مرتبہ بغداد گیا،ایک پل سے گزرتے ہوئے مجھے ایک صاحب ملے اور وہ مجھے ایک باغ میں لے گئے اورانھوں نے مجھ سے ہندی زبان میں کلام کیا اورفرمایاکہ تم امسال حج کے لئے نہ جاؤ،ورنہ نقصان پہونچے گا محمد بن شاذان کاکہنا ہے کہ میں ایک دفعہ مدینہ میں داخل ہوا توحضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ،انھوں نے میراپورانام لے کرمجھے پکارا ،چونکہ میرے پورے نام سے کوئی واقف نہ تھا اس لئے مجھے تعجب ہوا۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں ؟فرمایا میں امام زمانہ ہوں ۔ علامہ شیخ سلیمان قندوزی بلخی تحریرفرماتے ہیں کہ عبداللہ بن صالح نے کہا کہ میں نے غیبت کبری کے بعد امام مہدی علیہ السلام کوحجراسود کے نزدیک اس حال میں کھڑے ہوئے دیکھاکہ انھیں لوگ چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ (ینابع المودة )۔

زمانہ غیبت کبری میں امام مہدی کی بیعت :

حضرت شیخ عبداللطیف حلبی حنفی کاکہناہے کہ میرے والد شیخ ابراہیم حسین کاشمارحلب کے مشائخ عظام میں تھا ۔وہ فرماتے ہیں کہ میرے مصری استاد نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضر ت امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پربیعت کی ہے۔ (ینابع المودةباب ۸۵ ص ۳۹۲ )

امام مہدی کی مومنین سے ملاقات :

رسالہ جزیرہ خضرا کے ص ۱۶ میں بحوالہ احادیث آل محمد مرقوم ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ہرمومن کی ملاقات ہوتی ہے۔ یہ اوربات ہے کہ مومنین انھیں مصلحت خداوندی کی بناء پراس طرح نہ پہچان سکین جس طرح پہچاننا چاہیے مناسب معلوم ہوتاہے اس مقام پرمیں اپناایک خواب لکھ دوں ۔ واقعہ یہ ہے کہ آج کل جبکہ میں امام زمانہ کے حالات لکھ رہاہوں حدیث مذکورہ پرنظرڈالنے کے بعد فورا ذہن میں یہ خیال پیداہواکہ مولا سب کودکھائی دیتے ہیں ،لیکن مجھے آج تک نظرنہیں آئے ،اس کے بعد میں استراحت پرگیا اورسونے کے ارادے سے لیٹاابھی نیند نہ آئی تھی اورقطعی طورپرنیم بیداری کی حالت میں تھا کہ ناگاہ میں نے دیکھا کہ میرے کان سے جانب مشرق تابحد نظرایک قوسی خط پڑاہواہے یعنی شمال کی جانب کاسارا حصہ عالم پہاڑہے اوراس پرامام مہدی علیہ السلام برہنہ تلوارلئے کھڑے ہیں اوریہ کہتے ہوئے کہ ”نصف دنیاآج ہی فتح کرلوں گا ۔“ شمال کی جانب ایک پاؤں بڑھارہے ہیں آپ کاقد عام انسانوں کے قد سے ڈیوڑھا اورجسم دوہراہے ،بڑی بڑی سرمگین آنکھیں اورچہرہ انتہائی روشن ہے آپ کے پٹے کٹے ہوئے ہیں اورسارا لباس سفید ہے اوروقت عصرکاہے۔

یہ واقعہ ۳۰ نومبر ۱۹۵۸ شب یکشنبہ بوقت ساڑھے چاربجے شب کاہے۔

ملامحمد باقرداماد کاامام عصرسے استفادہ کرنا :

ہمارے اکثرعلما علمی مسائل اورمذہبی ومعاشرتی مراحل حضرت امام مہدی ہی سے طے کرتے آئے ہیں ملامحمد باقرداماد جوہمارے عظیم القدرمجتہد تھے ان کے متعلق ہے کہ ایک شب آپ نے ضریح نجف اشرف میں ایک مسئلہ لکھ کرڈالا اس کے جواب میں ان سے تحریرا کہاگیاکہ تمھارا امام زمانہ اس وقت مسجدکوفہ میں نمازگذارہے تم وہاں جاؤ،وہ وہاں جاپہونچے ،خود بخود دروازہ مسجد کھل گیا ۔ اورآپ اندرداخل ہوگئے آپ نے مسئلہ کاجواب حاصل کیا اواآپ مطمئن ہوکر برآمد ہوئے۔

جناب بحرالعلوم کا امام زمانہ سے ملاقات کرنا :

کتاب قصص العلما مولفہ علامہ تنکابنی ص ۵۵ میں مجتہد اعظم کربلائے معلی جناب آقا محمدمہدی بحرالعلوم کے تذکرہ میں مرقوم ہے کہ ایک شب آپ نماز میں اندرون حرم مشغول تھے کہ اتنے میں امام عصراپنے اب وجدکی زیارت کے لئے تشریف لائے جس کی وجہ سے ان کی زبان میں لکنت ہوئی اوربدن میں ایک قسم کا رعشہ پیداہوگیا پھرجب وہ واپس تشریف لے گئے توان پرجوایک خاص قسم کی کیفیت طاری تھی وہ جاتی رہی ۔اس کے علاوہ آپ کے اسی قسم کے کئی واقعات کتاب مذکورہ میں مندرج ہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام کاحمایت مذہب فرمانا واقعہ انار :

کتاب کشف الغمہ ۱۳۳ میں ہے کہ سید باقی بن عطوہ امامیہ مذہب کے تھے اوران کے والدزیدیہ خیال رکھتے تھے ایک دن ان کے والدعطوہ نے کہا کہ میں سخت علیل ہوگیاہوں اوراب بچنے کی کوئی امیدنہیں ۔ہرقسم کے اطبا کاعلاج کراچکاہوں ، اے نورنظر ! میں تم سے وعدہ کرتاہوں کہ اگرمجھے تمہارے امام نے شفادیدی ،تومیں مذہب امامیہ اختیارکرلوں گا یہ کہنے کے بعد جب یہ رات کوبسترپرگئے توامام زمانہ کاان پرظہورہوا،امام نے مقام مرض کواپناہاتھ سے مس کردیا اوروہ مرض جاتارہا عطوہ نے اسی وقت مذہب امامیہ اختیارکرلیا اور رات ہی میں جاکر اپنے فرزند باقی علوی کوخوشخبری دیدی ۔

اسی طرح کتاب جواہرالبیان میں ہے کہ بحرین کاوالی نصرانی اوراس کاوزیرخارجی تھا ،وزیرنے بادشاہ کے سامنے چند تازہ انار پیش کئے جن پرخلفا کے نام علی الترتیب کندہ تھے اوربادشاہ کویقین دلایاکہ ہمارامذہب حق ہے اورترتیب خلافت منشاقدرت کے مطابق درست ہے بادشاہ کے دل میں یہ بات کچھ اس طرح بیٹھ گئی کہ وہ یہ سمجھنے پرمجبور ہوگیا کہ وزیرکامذہب حق ہے اورامامیہ راہ باطل پرگامزن ہیں ،چنانچہ اس نے اپنے خیال کی تکمیل کے لئے جملہ علما امامیہ کو جواس کے عہد حکومت تھے بلابھیجا اورانھیں اناردکھاکر ان سے کہاکہ اس کی رد میں کوئی معقول دلیل لاؤ ورنہ ہم تمہیں قتل کرکے تمام مذہب کوبیخ وبن سے اکھاڑدیں گے ،اس واقعہ نے علماکرام میں ایک عجیب قسم کاہیجان پیداکردیا ، بالاخرسب علماء آپس میں مشورہ کے بعد ایسے دس علما پرمتفق ہوگئے جوان میں نسبتا مقدس تھے اورپروگرام یہ بنایا کہ جنگل میں ایک ایک عالم بوقت شب جاکرامام زمانہ سے استعانت کرے ،چونکہ ایک شب کی مہلت ومدت ملی تھی ،اس لئے پریشانی زیادہ تھی غرضکہ علماء نے جنگل میں جاکرامام زمانہ سے فریاد کاسلسلہ شروع کیا۔دوعالم اپنی اپنی مدت ،فریادوفغاں ختم ہونے پرجب واپس آئے اورتیسرے عالم حضرت محمدبن علی کی باری آئی توآپ نے بدستورصحرامیں جاکرمصلی بچھادیا ،اورنماز کے بعد امام زمانہ کواپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوکر واپس آتے ہوئے انھیں ایک شخص راستے میں ملا اس نے پوچھا ۔ کیابات ہے کیوں پریشان ہو،آپ نے عرض کی امام زمانہ کی تلاش ہے اوروہ تشریف لانہیں رہے ۔ اس شخص نے کہا :”اناصاحب العصرفاذکرحاجتک “ میں ہی تمہارا امام زمانہ ہوں ،کہوکیاکہتے ہو محمدبن علی نے کہا کہ اگرآپ صاحب العصرہیں توآپ سے حاجت بیان کرنے کی ضرورت کیا،آپ کوخود ہی علم ہوگا ۔

اس کے جواب میں انھوں نے فرمایا کہ سنو ! وزیرکے فلاں کمرہ میں ایک لکڑی کا صندوق ہے اس مٹی کے چند سانچے رکھے ہوئے ہیں جب انارچھوٹاہوتاہے وزیراس پرسانچہ چڑھادیتاہے ۔ اورجب وہ بڑھتاہے تواس پروہ نام کندہ ہوجاتے ہیں جوسانچہ میں کندہ ہیں محمد بن علی ! تم بادشاہ کواپنے ہمراہ لے جاکروزیرکے دجل وفریب کوواضح کردو،وہ اپنے ارادہ سے بازآجائے گا اوروزیرکوسزا دے گا چنانچہ ایساہی کیاگیا اوروزیربرخواست کردیا گیا ۔ (کتاب بدایع الاخبارملا اسماعیل سبزواری ص ۱۵۰ وسفینة البحارجلد ۱ ص ۵۳۶ طبع نجف اشرف)۔

امام عصرکا واقعہ کربلابیان کرنا :

حضرت امام مہدی علیہ السلام سے پوچھاگیا کہ ” کھیعص “ کاکیامطلب ہے توفرمایا کہ اس میں (ک)سے کربلا (ہ) سے ہلاکت عترت (ی ) سے یزیدملعون (ع) سے عطش حسینی (ص ) سے صبرآل محمدمراد ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ آیت میں جناب زکریاکاذکر کیاگیا ہے ۔جب زکریاکوواقعہ کربلاکی اطلاع ہوئی تووہ تین روزتک مسلسل روتے رہے ۔(تفسیرصافی ص ۲۷۹) ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے طول عمرکی بحث :

بعض مستشرقین وماہرین اعمارکاکہناہے کہ ”جن کے اعمال وکرداراچھے ہوتے ہیں اورجن کا صفائے باطن کامل ہوتاہے ان کی عمریں طویل ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ علما فقہاء اورصلحاکی عمریں اکثرطویل دیکھی گئی ہیں اورہوسکتاہے کہ طول عمرمہدی علیہ السلام کی یہ بھی ایک وجہ ہو ،ان سے قبل جوآئمہ علہیم السلام گزرے وہ شہیدکردئیے گئے ،اوران پردشمنوں کادسترس نہ ہوا ،تویہ زندہ رہ گئے اوراب تک باقی ہیں لیکن میرے نزدیک عمرکاتقرر وتعین دست ایزد میں ہے اسے اختیارہے کہ کسی کی عمرکم رکھے کسی کی زیادہ اس کی معین کردہ مدت عمر میں ایک پل کابھی تفرقہ نہیں ہوسکتا ۔

تواریخ واحادیث سے معلوم ہوتاہے کہ خداوندعالم نے بعض لوگوں کوکافی طویل عمریں عطاکی ہیں ۔ عمرکی طوالت مصلحت خداوندی پرمبنی ہے اس سے اس نے اپنے دوست اوردشمن دونوں کونوازاہے ۔دوستوں میں حضرت عیسی ،حضرت ادریس ،حضرت خضروحضرت الیاس ، اوردشمنوں میں سے ابلیس لعین ،دجال بطال ،یاجوج ماجوج وغیرہ ہیں اورہوسکتاہے کہ چونکہ قیامت اصول دین اسلام سے ہے اور اس کی آمد میں امام مہدی کاظہورخاص حیثیت رکھتاہے لہذا ان کازندہ وباقی رکھنامقصودہاہو ،اوران کے طول عمرکے اعتراض کورداوررفع ودفع کرنے کے لئے اس نے بہت سے افراد کی عمریں طویل کردی ہوں مذکورہ ا فراد کوجانے دیجئے ۔ عام انسانوں کی عمروں کودیکھئے بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جن کی عمریں کافی طویل رہی ہیں ،مثال کے لئے ملاحظہ ہو :

۱ ) ۔ لقمان کی عمر ۳۵۰۰ سال ۔( ۲) عوج بن عنق کی عمر ۳۳۰۰ سال اوربقولے ۳۶۰۰ سال ۔ ( ۳) ذوالقرنین کی عمر ۳۰۰۰ سال۔ ( ۴) حضرت نوح و( ۵) ضحاک و( ۶) طمہورث کی عمریں ۱۰۰۰ سال۔( ۷) قینان کی عمر ۹۰۰ سال ۔ ( ۸) مہلائیل کی عمر ۸۰۰ سال ( ۹) نفیل بن عبداللہ کی عمر ۷۰۰ سال۔ ( ۱۰) ربیعہ بن عمرعرف سطیع کاہن کی عمر ۶۰۰ سال ۔ ( ۱۱) حاکم عرب عامربن ضرب کی عمر ۵۰۰ سال ۔ ( ۱۲) سام بن نوح کی عمر ۵۰۰ سال۔ ( ۱۳) حرث بن مضاض جرہمی کی عمر ۴۰۰ سال ۔ ( ۱۴) ارفخشد کی عمر ۴۰۰ سال ۔ ( ۱۵) دریدبن زیدکی عمر ۴۵۶ سال۔ ( ۱۶) سلمان فارسی کی عمر ۴۰۰ سال۔ ( ۱۷) عمروبن روسی کی عمر ۴۰۰ سال۔ ( ۱۸) زہیربن جناب بن عبداللہ کی عمر ۴۳۰ سال۔ ( ۱۹) حرث بن ضیاص کی عمر ۴۰۰ سال۔ ( ۲۰) کعب بن جمجہ کی عمر ۳۹۰ سال ۔ ( ۲۱) نصربن دھمان بن سلیمان کی عمر ۳۹۰ سال۔ ( ۲۲) قیس بن ساعدہ کی عمر ۳۸۰ سال ۔ ( ۲۳) عمربن ربیعہ کی عمر ۳۳۳ سال۔ ( ۲۴) اکثم بن ضیفی کی عمر ۳۳۶ سال ۔ ( ۲۵) عمربن طفیل عدوانی کی عمر ۲۰۰ سال تھی (غایۃ المقصود ص ۱۰۳ اعلام الوری ص ۲۷۰ ) ان لوگوں کی طویل عمروں کودیکھنے کے بعدہرگزنہیں کہاجاسکتا کہ ”چونکہ اتنی عمرکاانسان نہیں ہوتا ،اس لئے امام مہدی کاوجود ہم تسلیم نہیں کرتے ۔ کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کی عمراس وقت ۱۳۹۳ ہجری میں صرف گیارہ سواڑتالیس سال کی ہوتی ہے جومذکورہ عمروں میں سے لقمان حکیم اورذوالقرنین جیسے مقدس لوگوں کی عمروں سے بہت کم ہے ۔

الغرض قرآن مجید ،اقوال علمااسلام اوراحادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی پیداہوکر غائب ہوگئے ہیں اورقیامت کے قریب ظہورکریں گے ،اورآپ اسی طرح زمانہ غیبت میں بھی حجت خداہیں جس طرح بعض انبیاء اپنے عہدنبوت میں غائب ہونے کے دوران میں بھی حجت تھے (عجائب القصص ص ۱۹۱ ) اورعقل بھی یہی کہتی ہے کہ آپ زندہ اورباقی موجودہیں کیونکہ جس کے پیداہونے پرعلماکااتفاق ہواوروفات کاکوئی ایک بھی غیرمتعصب عالم قائل نہ ہو اور

طویل العمرانسانوں کے ہونے کی مثالیں بھی موجود ہوں تولامحالہ اس کاموجود اورباقی ہونا ماننا پڑے گا ۔ دلیل منطقی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے لہذا امام مہدی زندہ اورباقی ہیں ۔

ان تماشواہد اوردلائل کی موجودگی میں جن کا ہم نے اس کتاب میں ذکرکیاہے ،مولوی محمد امین مصری کا رسالہ ”طلوع اسلام “ کراچی جلد ۱۴ ص ۵۴# و ۹۴# میں یہ کہناکہ :

” شیعوں کو ابتداء روی زمین پر کوئی ظاہری مملکت قائم کرنے میں کامیابی نہ ہوسکی ،ان کوتکلیفیں دی گئیں اورپراکندہ اورمنتشر کردیا گیا توانھوں نے ہمارے خیال کے مطابق امام منتظراورمہدی وغیرہ کے پرامیدعقائد ایجاد کرلئے تاکہ عوام کی ڈھارس بندھی رہے۔ “

اورملا اخوند درویزہ کاکتاب ارشادالطالبین ص ۳۹۶ میں یہ فرمانا کہ :

” ہندوستان میں ایک شخص عبداللہ نامی پیداہوگا جس کی بیوی کاایمنہ (آمنہ) ہوگی ، اس کے ایک لڑکاپیداہوگاجس کانان محمد ہوگاوہی کوفہ جاکرحکومت کرے گا

لوگوں کایہ کہنا درست نہیں کہ امام مہدی وہی ہیں جوامام حسن عسکری کے فرزندہیں ۔ ا لخ حددرجہ مضحکہ خیز،افسوس ناک اورحیرت انگیز ہے ،کیونکہ علما فریقین کااتفاق ہے کہ ”المهدی من ولدالامام الحسن العسکری ۔“ امام مہدی حضرت امام حسن عسکری کے بیٹے ہیں اور ۱۵ شعبان ۲۵۵ کوپیداہوچکے ہیں ،ملاحظہ ہو ،اسعاف الراغبین ،وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن ا لوردی ،ینابع المودة ، تاریخ کامل ،تاریخ طبری ،نورالابصار،اصول کافی ،کشف الغمہ ،جلاالعیون ،ارشادمفید ،اعلام الوری ،جامع عباسی ،صواعق محرقہ ،مطالب السول ،شواہدالنبوت ،ارجح المطالب ،بحارالانوار ومناقب وغیرہ۔

حدیث نعثل اورامام عصر :

نعثل ایک یہودی تھا جس سے حضرت عائشہ ،حضرت عثمان کوتشبیہ دیاکرتی تھیں ،اوررسول اسلام علیہ السلام کب بعد فرمایا کرتی تھیں : اس نعثل اسلامی کو عثمان کوقتل کردو ۔ (ملاحظہ ہو،نہایة اللغة علامہ ابن اثیرجزری ص ۳۲۱) یہی نعثل ایک دن حضوررسول کریم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض پردازہوا مجھے اپنے خدا ،اپنے دین ،اپنے خلفا کاتعارف کرائیے اگر میں آپ کے جواب سے مطمئن ہوگیا تومسلمان ہوجاؤں گا ۔ حضرت نے نہآیت بلیغ اوربہترین انداز میں خلاق عالم کاتعارف کرایا،اس کے بعد دین اسلام کی وضاحت کی ۔ ”قال صدقت ۔“ نعثل نے کہا آپ نے بالکل درست فرمایا پھراس نے عرض کی مجھے اپنے وصی سے آگاہ کیجئے اوربتائیے کہ وہ کون ہے یعنی جس طرح ہمارے نبی حضرت موسی کے وصی یوشع بن نون ہیں اس طرح آپ کے وصی کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا میرے وصی علی بن ابی طالب اور ان کے فرزند حسن وحسین پھرحسین کے صلب سے نوبیٹے قیامت تک ہوں گے ۔ اس نے کہا سب کے نام بتائیے آپ نے بارہ اماموں کے نام بتائے ناموں کوسننے کے بعد وہ مسلمان ہوگیا اورکہنے لگا کہ میں نے کتب آسمانی میں ان بارہ ناموں کو اسی زبان کے الفاظ میں دیکھا ہے ،پھراس نے ہروصی کے حالات بیان کئے ،کربلا کاہونے والا واقعہ بتایا ،امام مہدی کی غیبت کی خبردی اورکہا کہ ہمارے بارہ اسباط میں سے لادی بن برخیاغائب ہوگئے تھے پھرمدتوں کے بعد ظاہر ہوئے اورازسرنودین کی بنیادیں استوارکیں ۔حضرت نے فرمایا اسی طرح ہمارابارہواں جانشین امام مہدی محمدبن حسن طویل مدت تک غائب رہ کر ظہورکرے گا ۔ اوردنیا کو عدل وانصاف سے بھردے گا ۔ (غایۃ المقصود ص ۱۳۴ بحوالہ فرائدالسمطین حموینی )۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کاظہورموفورالسرور :

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہورسے پہلے حوعلامات ظاہرہوں گے ان کی تکمیل کے دوران ہی نصاری فتح ممالک عالم کا ارادہ کرکے اٹھ کھڑے ہوں گے اوربیشمار ممالک پرقابوحاصل کرنے کے بعد ان پرحکمرانی کریں گے اسی زمانہ میں ابوسفیان کی نسل سے ایک ظالم پیداہوگا جوعرب وشام پرحکمرانی کرے گا ۔اس کی دلی تمنا یہ ہوگی کہ سادات کے وجود سے ممالک محروسہ خالی کردئیے جائیں اور نسل محمدی کا ایک فرزند بھی باقی نہ رہے ۔چنانچہ وہ سادات کو نہآیت بے دردی سے قتل کرے گا ۔ پھراسی اثنا میں بادشاہ روم کو نصاری کے ایک فرقہ سے جنگ کرنا پڑے گی شاہ روم ایک فرقہ کوہمنوابناکر دوسرے فرقہ سے جنگ کرے گا اورشہر قسطنطنیہ پرقبضہ کرلے گا ۔ قسطنطنیہ کا بادشاہ وہاں سے بھاگ کر شام میں پناہ لے گا ،پھروہ نصاری کے دوسرے فرقہ کی معاونت سے فرقہ مخالف کے ساتھ نبرد آزماہوگا یہاں تک کہ اسلام کی زبردست فتح نصیب ہوگی فتح اسلام کے باوجود نصاری شہرت دیں گے کہ ”صلیب “ غالب آگئی ،اس پرنصاری اور مسلمانوں میں جنگ ہوگی اورنصاری غالب آجائیں گے ۔ بادشاہ اسلام قتل ہوجائے گا ۔ اورملک شام پربھی نصرانی جھنڈا لہرانے لگے گا اور مسلمانوں کاقتل عام ہوگا ۔ مسلمان اپنی جان بچاکر مدینہ کی طرف کوچ کریں گے اورنصرانی اپنی حکومت کو وسعت دیتے ہوئے خیبر تک پہونچ جائیں گے اسلامیان عالم کے لئے کوئی پناہ نہ ہوگی ۔مسلمان اپنی جان بچانے سے عاجزہوں گے اس وقت وہ گروہ درگروہ سارے عالم میں امام مہدی علیہ السلام کوتلاش کریں گے ،تاکہ اسلام محفوظ رہ سکے اوران کی جانیں بچ سکیں اورعوام ہی نہیں بلکہ قطب ،ابدال ،اور اولیا جستجومیں مشغول ومصروف ہوں گے کہ ناگاہ آپ مکہ معظمہ میں رکن ومقام کے درمیان سے برآمد ہوں گے ۔ (قیامت نامہ قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین دہلوی ص ۳ طبع پشاور ۱۹۲۶) علما فریقین کاکہنا ہے کہ آپ قریہ ”کرعہ “ سے روانہ ہوکر مکہ معظمہ سے ظہورفرمائیں گے (غایۃ المقصود ص ۱۶۵ ،نورالابصار ۱۵۴) علامہ کنجی شافعی اورعلی بن محمد صاحب کفایة الاثر کابحوالہ ابوہریرہ بیان ہے کہ حضرت سرورکائنات نے ارشاد فرمایا ہے کہ امام مہدی قریہ کرعہ جومدینہ سے بطرف مکہ تیس میل کے فاصلہ پرواقع ہے (مجمع البحرین ۴۳۵) نکل کر مکہ معظمہ سے ظہورکریں گے ،وہ میری ذرہ پہنے ہوں گے اورمیرا عمامہ باندھے ہوں گے ان کے سر پرابرکاسایہ ہوگا اور ملک آواز دیتاہوگا کہ یہی امام مہدی ہیں ان کی اتباع کرو ایک روآیت میں ہے کہ جبرئیل آوازدیں گے اور ”ہوا“ اس کو ساری کائنات میں پہنچا دے گی اورلوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے (غایۃ المقصود ۱۶۵) ۔

لغت سروری ۵۳۰ میں ہے کہ آپ قصبہ خیرواں سے ظہورفرمائیں گے ۔ معصوم کافرماناہے کہ امام مہدی کے ظہورکے متعلق کسی کاکوئی وقت معین کرنا فی الحقیقت اپنے آپ کوعلم غیب میں خداکاشریک قراردینا ہے ۔ وہ مکہ میں بے خبرظہورکریں گے ،ان کے سرپرزرد رنگ کاعمامہ ہوگا بدن پررسالت مآب صلعم کی چادر اورپاؤں میں انھیں کی نعلین مبارک ہوگی ۔ وہ اپنے سامنے چند بھےڑیں رکھیں گے ،کوئی انھیں پہچان نہ سکے گا ۔ اوراسی حالت میں یکہ وتنہا بغیرکسی رفیق کے کعبة اللہ میں آجائیں گے جس وقت عالم سیاہی شب کی چادر اوڑھ لے گا اورلوگ سوجائیں گے اس وقت ملائکہ صف بہ صف ان پراتریں گے اورحضرت جبرئیل ومیکائیل انھیں نویدالھی سنائیں گے کہ ان کا حکم تمام دنیاپرجاری وساری ہے ۔ یہ بشارت پاتے ہی امام علیہ السلام شکرخدابجالائیں گے اوررکن حجراسود اورمقام ا براہیم کے درمیان کھڑے ہوکر بآواز بلند ندادیں گے کہ اے وہ گروہ جومیرے مخصوصوں اوربزرگوں سے ہوا اوروہ لوگو! جن کی حق تعالی نے روئے زمین پرمیرے ظاہرہونے سے پہلے میری مدد کے لئے جمع کیاہے ۔”آجاؤ۔“ یہ ندا حضرت کے ان لوگوں تک خواہ وہ مشرق میں ہوں یامغرب میں پہنچ جائے گی اوروہ لوگ یہ آواز سن کر چشم زدن میں حضرت کے پاس جمع ہوجائیں گے یہ لوگ ۳۱۳ ہوں گے ،اورنقیب امام کہلائیں گے ۔اسی وقت ایک نورزمین سے آسمان تک بلند ہوگا جوصفحہ دنیامیں ہرمومن کے گھرمیں داخل ہوگا جس سے ان کی طبیعتیں مسرورہوجائیں گی مگرمومنین کومعلوم نہ ہوگا کہ امام علیہ السلام کا ظہور ہواہے صبح ا مام علیہ السلام مع ان ۳۱۳ ،اشخاص کے جورات کوان کے پاس جمع ہوگئے تھے کعبہ میں کھڑے ہوں گے اوردیوار سے تکیہ لگاکر اپنا ہاتھ کھولیں گے جوموسی کے یدبیضا کی مانند ہوگا اورکہیں گے کہ جوکوئی اس ہاتھ پربیعت کرے گا وہ ایساہے گویا اس نے ”یداللہ “ پربیعت کی ۔ سب سے پہلے جبرئیل شرف بیعت سے مشرف ہوں گے ۔ان کے بعد ملائکہ بیعت کریں گے ۔ پھرمقدم الذکرنقبا ( ۳۱۳) بیعت سے مشرف ہوں گے اس ہلچل اوراژدھام میں مکہ میں تہلکہ مچ جائے گا اورلوگ حیرت زدہ ہوکر ہرسمت سے استفسارکریں گے کہ یہ کون شخص ہے،یہ تمام واقعات طلوع آفتاب سے پہلے سرانجام ہوجائیں گے پھرجب سورج چڑھے گا توقرص آفتاب کے سامنے ایک منادی کرنے والا ظاہرہوگا اورباآوازبلند کہے گا جس کوتمام ساکنان زمین وآسمان سنیں گے کہ ”اے گروہ خلائق یہ مہدی آل محمد ہیں ،ان کی بیعت کرو ،پھرملائکہ اور( ۳۱۳) آدمی تصدیق کریں گے اوردنیا کے ہرگوشہ سے جوق درجوق آپ کی زیارت کے لئے لوگ روانہ ہوجائیں گے ،اورعالم پرحجت قائم ہوجائے گی ،اس کے بعد دس ہزار افراد بیعت کریں گے ۔اورکوئی یہودی اورنصرانی باقی نہ چھوڑاجائے گا ۔ صرف اللہ کانام ہوگا اورامام مہدی کاکام ہوگا جومخالفت کرے گا اس پرآسمان سے آگ برسے گی اوراسے جلاکر خاکستر کردے گی ۔“ (نورالابصارامام شبلنجی شافعی ۱۵۵ ،اعلام الوری ۲۶۴) ۔

علما نے لکھا ہے کہ ۲۷ مخلصین آپ کی خدمت میں کوفہ سے اس قسم کے پہونچ جائیں گے جوحاکم بنائیں جائیں گے جن کے اسما(کتاب منتخب بصائر) یہ ہیں : یوشع بن نون ،سلمان فارسی ، ابودجانہ انصاری ،مقداد بن اسود، مالک اشتر، اورقوم موسی کے ۱۵ افراد اورسات اصحاب کہف (اعلام الوری ۲۶۴ ، ارشاد مفید ۵۳۶) علامہ عبدالرحمن جامی کاکہنا ہے کہ قطب ،ابدال ،عرفا سب آپ کی بیعت کریں گے ، ﷼ آپ جانوروں کی زبان سے بھی واقف ہوں گے اور آپ انسانوں اورجنوں میں عدل وانصاف کریں گے ۔(شواہدالنبوت ۲۱۶) علامہ طبرسی کاکہنا ہے کہ آپ حضرت داؤد کے اصول پراحکام جاری کریں گے ،آپ کو گواہ کی ضرورت نہ ہوگی آپ ہرایک کے عمل سے بالہام خداوندی واقف ہوں گے ۔ (اعلام الوری ۲۶۴) امام شبلنجی شافعی کابیان ہے کہ جب امام مہدی کاظہورہوگا توتمام مسلمان خواص اورعوام خوش ومسرورہوجائیں گے ان کے کچھ وزرا ہوں گے جوآپ کے احکام پرلوگوں سے عمل کروائیں گے ۔ (نورالابصار ۱۵۳ بحوالہ فتوحات مکیہ ) علامہ حلبی کاکہنا ہے کہ اصحاب کہف آپ کے وزراہوں گے (سیرت حلبیہ) حموینی کابیان ہے کہ آپ کے جسم کاسایہ نہ ہوگا ۔(غایۃ المقصود جلد ۲ ص ۱۵۰) حضرت علی کافرمانا ہے کہ انصارواصحاب امام مہدی ،خالص اللہ والے ہوں گے (ارجح المطالب ۴۶۹ ا)ورآپ کے گرد لوگ اس طرح جمع ہوجائیں گے جس طرح شہد کی مکھی اپنے ”یعسوب “ بادشاہ کے گرد جمع ہوجاتی ہیں ۔ ارجح المطالب ۴۶۹ ا ایک روآیت میں ہے کہ ظہورکے بعد آپ سب سے پہلے کوفہ تشریف لے جائیں گے اوروہاں کے کثیرافراد قتل کریں گے ۔

امام مہدی کے ظہور کاسن :

خلاق عالم نے پانچ چیزوں کاعلم اپنے لئے مخصوص رکھا ہے جن میں ایک قیامت بھی ہے (قرآن مجید) ظہورامامہدی علیہ السلام چونکہ لازمہ قیامت سے ہے ،لہذا اس کاعلم بھی خداہی کوہے کہ آپ کب ظہورفرمائیں گے کونسی تاریخ ہوگی ۔ کونسا سن ہوگا ،تاہم احادیث معصومین جوالہام اورقرآن سے مستنبط ہوتی ہیں ان میں اشارے موجود ہیں ۔علامہ شیخ مفید ،علامہ سید علی ،علامہ طبرسی ،علامہ شبلنجی رقمطرازہیں کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ طاق سن میں ظہورفرمائیں گے جو ۱ ، ۳ ، ۵ ، ۷ ، ۹ سے مل کر بنے گا ۔ مثلا ۱۳ سو ، ۱۵ سو ، ۱۷ سو ، ۱۹ سو یا ایک ہزار ۳ ہزار ، ۵ ہزار ، ۷ ہزار ، ۹ ہزار ۔ ا سی کے ساتھ ہی ساتھ آپ نے فرمایاہے کہ آپ کے اسم گرامی کااعلان بذریعہ جناب جبرئیل ۲۳ تاریخ کوکردیاجائے گا اورظہوریوم عاشورہ کوہوگا جس دن امام حسین علیہ السلام بمقام کربلا شہید ہوئے ہیں (شرح ارشاد مفید ۵۳۲ ،غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۶۱ ،اعلام الوری ۲۶۲ ،نورالابصار ۱۵۵) میرے نزدیک ذی الحجہ کی ۲۳ تاریخ ہوگی کیونکہ نفس زکیہ کے قتل اورظہورمیں ۱۵ راتوں کافاصلہ ہونامسلم ہے امکان ہے کہ قتل نفس زکیہ کے بعد ہی نام کااعلان کردیا جائے ،پھراس کے بعد ظہورہو، ملاجواد ساباطی کاکہنا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام یوم جمعہ بوقت صبح بتاریخ ۱۰ محرم الحرام ۷۱۰۰ میں ظہو ر فرمائیں گے۔غایۃ المقصود ۱۶۱ بحوالہ برا ہین ساباطیہ ) امام جعفر صادق علیہ السلام کاارشاد ہے کہ امام مہدی کاظہوربوقت عصرہوگا اور وہی عصرایة ”والعصران الانسان لفی خسر “ سے مراد ہے شاہ نعمت اللہ ولی کاظمی المتوفی ۸۲۷ ( مجالس المومنین ۲۷۶) جوشاعرہونے کے علاوہ عالم اورمنجم بھی تھے آپ کوعلم جفرمیں بھی دخل تھا ۔ آپ نے اپنی مشہورپیشین گوئی میں ۱۳۸۰ ہجری کاحوالہ دیاہے جس کاغلط ہونا ثابت ہے کیونکہ ۱۳۹۳ ہے (قیامت نامہ قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین ص ۳۸) ۔(والعلم عنداللہ )۔

ظہورکے وقت امام علیہ السلام کی عمر :

یوم ولادت سے تابظہورآپ کی کیاعمرہوگی ؟ اسے توخداہی جانے لیکن یہ مسلمات سے ہے کہ جس وقت آپ ظہورفرمائیں گے مثل حضرت عیسی آپ چالیس سالہ جوان کی حیثیت میں ہوں گے ،(اعلام الوری ۲۶۵ ،وغایۃ المقصود ص ۷۶،۱۱۹) ۔

آپ کاپرچم

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے جھنڈ ے پر ” البعےة اللہ “ لکھا ہوگا اورآپ اپنے ہاتھوں پرخداکے لئے بیعت لیں گے اورکائنات میں صرف دین اسلام کاپرچم لہرائے گا ۔ (ینابع المودة ۴۳۴) ۔

ظہورکے بعد :

ظہورکے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کعبہ کی دیوارسے ٹیک لگاکرکھڑے ہوں گے ۔ ابرکاسایہ آپ کے سرمبارک پرہوگا ، آسمان سے آوازآتی ہوگی کہ ”یہی امام مہدی ہیں “ اس کے بعدآپ ایک منبرپرجلوہ افروزہوں گے لوگوں کی خداکی طرف دعوت دیں گے اوردین حق کی طرف آنے کی سب کوہدآیت فرمائیں گے آپ کی تمام سیرت پیغمبراسلام کی سیرت ہوگی اورانھیں کے طریقہ پرعمل پیرا ہوں گے ابھی آپ کاخطبہ جاری ہوگا کہ آسمان سے جبرئیل ومکائیل آکربیعت کریں گے ،پھرملائکہ آسمانی کی عام بیعت ہوگی ہزاروں ملائکہ کی بیعت کے بعد وہ ۳۱۳ مومن بیعت کریں گے ۔ جوآپ کی خدمت میں حاضرہوچکے ہوں گے پھرعام بیعت کاسلسہ شروع ہوگا دس ہزار افراد کی بیعت کے بعد آپ سب سے پہلے کوفہ تشریف لے جائیں گے ،اوردشمنان آل محمد کاقلع قمع کریں گے آپ کے ہاتھ میں عصاموسی ہوگا جواژدھے کاکام کرے گا اورتلوارحمائل ہوگی ۔(عین الحیات مجلسی ۹۲) تواریخ میں ہے کہ جب آپ کوفہ پہونچیں گے توکئی ہزار کاایک گروہ آپ کی مخالفت کے لئے نکل پڑے گا ،اورکہے گا کہ ہمیں بنی فاطمہ کی ضرورت نہیں ،آپ واپس چلے جائیے یہ سن کر آپ تلوار سے ان سب کاقصہ پاک کردیں گے اورکسی کوبھی زندہ نہ چھوڑیں گے جب کوئی دشمن آل محمد اورمنافق وہاں باقی نہ رہے گا توآپ ایک منبرپرتشریف لے جائیں گے اورکئی گھنٹے تک رونے کاسلسہ جاری رہے گا پھرآپ حکم دیں گے کہ مشہد حسین تک نہرفرات کاٹ کرلائی جائے اورایک مسجد کی تعمیرکی جائے ۔ جس کے ایک ہزار درہوں ،چنانچہ ایساہی کیاجائے گا اس کے بعد آپ زیارت سرورکائنات کے لئے مدینہ منورہ تشریف لے جائیں گے ۔ (اعلام الوری ۲۶۳ ،ارشادمفید ۵۳۲ ،نورالابصار ۱۵۵) ۔

قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین رقمطرازہیں کہ حضرت امام مہدی جوعلم لدنی سے بھرپورہوں گے تجب مکہ سے آپ کاظہورہوگا اور اس ظہورکی شہرت اطراف واکناف عالم میں پھیلے گی توافواج مدینہ ومکہ آپ کی خدمت میں حاضرہوں گی اورشام وعراق ویمن کے ابدال اوراولیا خدمت شریف میں حاضرہوں گے اورعرب کی فوجیں جمع ہوجائیں گی ،آپ ان تمام لوگو ں کو اس خزانہ سے مال دیں گے جوکعبہ سے برآمد ہوگا ۔ اورمقام خزانہ کو ” تاج الکعبہ“ کہتے ہوں گے ،اسی اثنا میں ایک شخص خراسانی عظیم فوج لے کر حضرت کی مدد کے لئے مکہ معظمہ کوروانہ ہوگا ،راستے اس لشکرخراسانی کے مقدمہ الجیش کے کمانڈر منصورسے نصرانی فوج کی ٹکرہوگی ،اورخراسانی لشکرنصرانی فوج کوپسپا کرکے حضرت کی خدمت میں پہنچ جائے گا اس کے بعد ایک شخص سفیانی جوبنی کلب سے ہوگا حضرت سے مقابلہ کے لئے لشکرعظیم ارسال کرے گا لیکن بحکم خدا جب وہ لشکر مکہ معظمہ اورکعبہ منورہ کے درمیان پہنچے گا اورپہاڑمیں قیام کرے گا توزمین میں وہیں دھنس جائے گاپھرسفیانی جودشمن آل محمد ہوگا نصاری سے سازبازکرکے امام مہدی سے مقابلہ کے لئے زبردست فوج فراہم کرے گا نصرانی اورسفیانی فوج کے اسی نشان ہوں گے اورہرنشان کے نےچے ۱۲ ہزار کی فوج ہوگی ۔ ان کا دارالخلافہ شام ہوگاحضرت امام مہدی علیہ السلام بھی مدینہ منورہ ہوتے ہوے جلد سے جلد شام پہنچیں گے جب آپ کاورود مسعود دمشق میں ہوگا ،تودشمن آل محمد سفیانی اوردشمن اسلام نصرانی آپ سے مقابلہ کے لئے صف آراہوں گے ،اس جنگ میں فریقین کے بے شمار افراد قتل ہوں گے بالاخر امام علیہ السلام کوفتح کامل ہوگی ،اورایک نصرانی بھی زمین شام پر باقی نہ رہے گا اس کے بعد امام علیہ السلام اپنے لشکریوں میں انعام کوتقسیم کریں گے اوران مسلمانوں کو مدینہ منورہ سے واپس بلالیں گے جونصرانی بادشاہ کے ظلم وجورسے عاجزآکر شام سے ہجرت کرگئے تھے ۔(قیامت نامہ ۴) اس کے بعد مکہ معظمہ واپس تشریف لے جائیں گے اورمسجد سہلہ میں قیام فرمائیں گے ے(ارشاد ۵۲۳) اس کے بعد مسجد الحرام کوازسرنوبنائیں گے اوردنیا کی تمام مساجد کو شرعی اصول پرکردیں گے ہر بدعت کوختم کریں گے اورہرسنت کوقائم کریں گے ،نظام عالم درست کریں گے اورشہروں میں فوجیں ارسال کریں گے ،انصرام وانتظام کے لئے وزراء روانہ ہوں گے ۔(اعلام الوری ۲۶۲،۲۶۴) ۔

اس کے بعد آپ مومنین ،کاملین اورکافرین کوزندہ کریں گے ،اوراس ز ندگی کامقصد یہ ہوگا کہ مومنین اسلامی عروج سے خوش ہوں اورکافرین سے بدلہ لیاجائے ۔ ان زندہ کئے جانے والوں میں قابیل سے لے کر امت محمدیہ کے فراعنہ تک زندہ کئے جائیں گے ،اوران کے کئے کاپورا پورا بدلہ انھیں دیاجائے گا جوجوظلم انھوں نے کئے ان کامزہ چکھیں گے غریبوں ،مظلوموں اوربیکسوں پرجوظلم ہواہے اس کی (ظالم کو) سزادی جائے گی ،سب سے پہلے جوواپس لایاجائے گا وہ یزیدبن معاویہ ملعون ہوگا اورامام حسین علیہ السلام تشریف لائیں گے ۔ (غایۃ المقصود)۔

دجال اوراس کا خروج :

دجال ،دجل سے مشتق ہے جس کے معنی فریب کے ہیں ،اس کا اصل نام صائف ،باپ کانام صائد ،ماں کانام ہستہ عرف قطامہ ہے ، یہ عہد رسالت مآب میں بمقام تیہ جومدینہ سے تین میل کے فاصلہ پرواقع ہے ، چہارشنبہ کے دن بوقت غروب آفتاب پیدا ہواہے ، پیدائش کے بعد آنافانا بڑھ رہاتھا ،اس کی داہنی آنکھ پھوٹی تھی اوربائیں آنکھ پیشانی پرچمک رہی تھی ،وہ چند دنوں میں کافی بڑھ کردعوی خدائی کرنے لگا ،سروکائنات جوحالات سے برابر مطلع ہورہے تھے ۔ انھوں نے سلمان فارسی اورچند اصحاب کولیا اوربمقام تہیہ جاکراس کوتبلیغ کرناچاہی ،اس نے بہت برا بھلاکہا اورچاہا کہ حضرت پرحملہ کردے ۔لیکن آپ کے اصحاب نے مدافعت کی ،آپ نے اس سے یہ فرمایاتھا کہ خدائی کا دعوی چھوڑ دئے اورمیری نبوت کومان لے علماء نے لکھا ہے کہ دجال کی پیشانی پر بخط یزدانی ”الکافرباللہ “ لکھاہوا تھا اورآنکھ کے ڈھیلے پربھی (ک،ف ،ر) مرقوم تھا غرضکہ آپ نے وہاں سے مدینہ منورہ واپس تشریف لانے کاارادہ کیا دجال نے ایک سنگ گراں جوپہاڑکی مانند تھا حضرت کی راہ میں رکھ دیا یہ دیکھ کرحضرت جبرئیل آسمان سے آئے اوراسے ہٹادیا ابھی آپ مدینہ پہونچے ہی تھے کہ دجال لشکرعظیم لے کرمدینہ کے قریب جاپہنچا حضرت نے بارگاہ احدیت میں عرض کی ،خدایا ! اسے اس وقت تک کے لئے محبوس کردے جب تک اسے زندہ رکھنا مقصود ہے ،اسی دوران میں حضرت جبرئیل آئے اورانھوں نے دجال کی گردن کو پشت کی طرف سے پکڑکر اٹھا لیا اوراسے لے جاکر جزیرہ طبرستان میں محبوس کردیاہے ۔لطیفہ یہ ہے کہ جبرئیل اسے لے کرجانے لگے تواس نے زمین پردونوں ہاتھ مارکرتحت الثری تک کی دومٹھی خاک لے لی ،اوراسے طبرستان میں ڈال دیا جبرئیل نے حضرت سرورکائنات کے سوال کے جواب میں کہاکہ آپ کی وفات سے ۹۷۰ سال بعد یہ خاک عالم میں پھیلے گی اوراسی وقت سے آثارقیامت شروع ہوجائیں گے ۔ (غایۃالمقصود ۶۴ ، ارشادالطالبین ۳۹۴ ) پیغمبراسلام کاارشاد ہے کہ دجال کومحبوس ہونے کے بعد تمیم دارمی نے جوپہلے نصرانی تھا ،جزیرہ طبرستان میں بچشم خود دیکھا ہے۔ اس کی ملاقات کی تفصیل کتاب صحاح المصابیح ،زہرة الریاض ،صحیح بخاری ،صحیح مسلم میں موجودہے ۔

غرضکہ اکثرروایات کے مطابق دجال حضرت امام مہدی کے ظہورفرمانے کے ۱۸ یوم بعد خروج کرے گا (مجمع البحرین ۵۶۰) وغایۃ المقصود جلد ۲ ص ۶۹) ظہور امام ا ورخروج دجال سے پہلے تین سال تک سخت قحط پڑے گا ۔ پہلے سال ۱ زراعت ختم ہوجائیگی دوسرے سال آسمان وزمین کی برکت ورحمت ختم ہوجائے گا تیسرے سال بالکل بارش نہ ہوگی ،اورساری دنیا والے موت کی آغوش میں پہنچنے کے قریب ہوجائیں گے دنیا ظلم وجو ر،اضطراب وپریشانی سے بالکل پرہوگی ۔ ا ما م مہدی کے ظہورکے بعد ۱۸ ہی دن میں کائنات نہآیت اچھی سطح پرپہنچی ہوگی کہ ناگاہ دجال ملعون کے خروج کاغلغلہ اٹھے گا وہ بروآیت اخوند درویزہ ہندوستان کے ایک پہاڑپر نمودارہوگا اوروہاں سے بآواز بلند کہے گا ۔” میں خدائے بزرگ ہوں ،میری اطاعت کرو۔“ یہ آوازمشرق ومغرب میں پہنچے گی ۔ اس کے بعد تین یوم یابروآیت ۴۰ یوم اسی مقیم رہ کر لشکرتیارکرے گا ۔پھرشام وعراق ہوتا ہوا اصفہان کے ایک قریہ ”یہودیہ “ سے خروج کرے گا ۔ اس کے ہمراہ بہت بڑا لشکرہوگا ،جس کی تعداد سترلاکھ مرقوم ہے جن ،دیو،پری ،شیطان ان کے علاوہ ہوں گے ۔ وہ ایک گدھے پرسوارہوگا ۔ جوابلق رنگ کا ہوگا اس کے جسم کا بالائی حصہ سرخ ،ہاتھ پاؤں تازانوسیاہ اس کے بعد سے سم تک سفید ہوگا ۔ اس کے دونوں کانوں کے درمیان ۴۰ میل کافاصلہ ہوگا ۔وہ ۲۱ میل اونچااور ۹۰ میل لمبا ہوگا اس کاہرقدم ایک میل کاہوگا اس کے دونوں کانوں میں خلق کثیربیٹھی ہوگی چلنے میں اس کے بالوں سے ہرقسم کے باجوں کی آوازآئے گی ،وہ اسی گدھے پرسوارہوگا ۔ سواری کے بعد جب وہ روانہ ہوگا تواس کے داہنے طرف ایک پہاڑہوگا جس میں ہرقسم کے سانپ بچھوہوں گے ،وہ لوگوں کو انھیں چیزوں کے ذریعہ سے بہکائے گا اورکہے گا کہ میں خداہوں جومیراحکم ماننے گا جنت میں رکھوں گا جونہ مانے گا اس جہنم میں ڈال دوں گا ۔ اسی طرح چالیس یوم میں ساری دنیا کا چکرلگاکراور سب کوبہکاکرامام مہدی علیہ السلام کی اسکیم کوناکامیاب بنانے کی سعی میں وہ خانہ کعبہ کوگرانا چاہے گا اورایک عظیم لشکربھیج کر کعبہ اورمدینہ کوتباہ کرنے پرمامورکرے گا اورخود باارادہ کوفہ روانہ ہوگا اس کامقصد یہ ہوگا کہ کوفہ جوامام مہدی کی آماجگاہ ہے اسے تباہ کردے ”چون آن لعین نزدیک کوفہ برسد امام مہدی باستیصال اوبرسد “لیکن خداکاکرنا دیکھئے کہ جب وہ کوفہ کے نزدیک پہنچے گا ،توحضرت امام مہدی علیہ السلام خود وہاں پہنچ جائیں گے ،اوراسے بحکم خدا بیخ وبن سے اکھاڑدیں گے غرضکہ گھمسان کی جنگ ہوگی اورشام تک پھیلے ہوئے لشکر پرامام مہدی علیہ السلام زبردست حملے کریں گے ،بالاخروہ ملعون آپ کی ضربوں کی تاب نہ لاکرشام کے مقام عقبہ رفیق یابمقام لد جمعہ کے دن تین گھڑی دن چڑھے ماراجائے گا اس کے مرنے کے بعد دس میل تک دجال اوراس کے گدھے اورلشکرکاخون زمین پرجاری رہے گا علماکاکہنا ہے کہ قتل دجال کے بعد امام علیہ السلام اس کے لشکریوں پرایک زبردست حملہ کریں گے اورسب کوقتل کرڈالیں گے ۔اس وقت جوکافر زمین کے کسی گوشہ میں چھپے گا ،وہ آوازدے گا کہ فلاں کافریہاں روپوش ہے ۔امام علیہ السلام اسے قتل کردیں گے آخرکارزمین پرکوئی دجال کاماننے والا نہ رہے گا ۔(ارشادالطالبین ۳۹۷ ،معارف الملة ۳۴۸ ،صحیح مسلم ،لمعات شرح مشکوةعبدالحق ،مرقات شرح مشکوة مجمع البحار) بعض روایات میں ہے کہ دجال کوحضرت عیسی بحکم حضرت مہدی علیہ السلام قتل کریں گے ۔

نزول حضرت عیسی علیہ السلام :

حضرت مہدی علیہ السلام سنت کے قائم کرنے اوربدعت کومٹانے نیزانصرام وانتظام عالم میں مشغول ومصروف ہوں گے کہ ایک دن نمازصبح کے وقت بروآیتے نمازعصرکے وقت حضرت عیسی علیہ السلام دوفرشتوں کے کندھوں پرہاتھ رکھے ہوئے دمشق کی جامع مسجد کیم منارہ شرقی پرنزول فرمائیں گے حضرت امام مہدی ان کااستقبال کریں گے اورفرمائیں گے کہ آپ نمازپڑھئے ،حضرت عیسی کہیں گے کہ یہ ناممکن ہے ،نمازآپ کوپڑھانی ہوگی ۔چنانچہ حضرت مہدی علیہ السلام امامت کریں گے اورحضرت عیسی علیہ السلام ان کے پےچھے نمازپڑھیں گے اوران کی تصدیق کریں گے ۔(نورالابصار ۱۵۴ ،غایۃالمقصود ۱۰۴ ۔ ۱۰۵ ،بحوالہ مسلم وابن ماجہ ،مشکوة ۴۵۸) اس وقت حضرت عیسی کی عمرچالیس سالہ جوان جیسی ہوگی ۔وہ اس دنیامیں شادی کریں گے ،اوران کے دولڑکے پیداہوں گے ایک کانام احمداوردوسرے کانام موسی ہوگا ۔(اسعاف الراغبین برحاشیہ نورالابصار ۱۳۵ ،قیامت نامہ ۹ بحوالہ کتاب الوفاابن جوزی ،مشکوة ۴۶۵ وسراج القلوب ۷۷) ۔

امام مہدی اورعیسی ابن مریم کادورہ :

اس کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام اورحضرت عیسی علیہ السلام بلاد ،ممالک کادورہ کرنے اورحالات کاجائزہ لینے کے لئے برآمد ہوں گے اوردجال ملعون کے پہنچائے ہوئے نقصانات اوراس کے پیدکئے ہوئے بدترین حالات کوبہترین سطح پرلائیں گے ،حضرت عیسی خنزیرکوقتل کرنے ،صلیبوں کوتوڑنے اورلوگوں کے اسلام قبول کرنے کاانصرام وبندوبست فرمائیں گے ۔ عدل مہدی سے بلاد عالم میں اسلام کاڈنکا بجے گا اورظلم وستم کاتختہ بتاہ ہوجائے گا ۔(قیامت نامہ قدوة المحدثین ۸ بحوالہ صحیح مسلم)۔

حضرت امام مہدی کاقسطنطنیہ کوفتح کرنا :

روآیت میں ہے کہ امام مہدی علیہ السلام قسطنطنیہ ،چین اورجبل ویلم کوفتح کریں گے ،یہ وہی قسطنطنیہ ہے جسے استنبول کہتے ہیں اورجس پراس زمانہ میں نصاری کاقبضہ ہوگا ۔ اوران کاقبضہ بھی مسلمان بادشاہ کوقتل کرنے کے بعد ہواہوگا ۔چین اورجبل دیلم پربھی نصاری کا قبضہ ہوگااوروہ حضرت امام مہدی سے مقابلہ کاپوراانتظام کریں گے ،چین جس کوعربی میں ”صین“ کہتے ہیں اس کے بارے میں روآیت کے حوالہ سے علامہ طریحی نے مجمع البحرین کے ۶۱۵ میں لکھا ہے کہ: ( ۱) صین ایک پہاڑی ہے( ۲) مشرق میں ایک مملکت ہے ( ۳) کوفہ میں ایک موضع ہے ۔پتہ یہ چلتاہے کہ ساری چیزیں فتح کی جائیں گی ،ان کے علاوہ سندھ اورہندکے مکانات کی طرف بھی اشارہ ہے ، بہرحال امام مہدی علیہ السلام شہرقسطنطنیہ کوفتح کرنے کے لئے روانہ ہوں گے اوران کے ہمرا ہجوسترہزاربنواسحاق کے نوجوان ہوں گے انھیں دریائے روم کے کنارے شہرمیں جاکراسے فتح کرنے کاحکم ہوگا ،جب وہاں پہنچ کرفصیل کے کنارے نعرہ تکبیرلگائیں گے توخود بخود راستہ پیداہوجائے گا اوریہ داخل ہوکر اسے فتح کرلیں گے ،کفارقتل ہوں گے اوراس پرپوراپورا قبضہ ہوجائے گا ۔(نورالابصار ۱۵۵ بحوالہ طبرانی ،غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۵۲ وبحوالہ ابونعیم ،اعلام الوری بحوالہ امام جعفرصادق ۲۶۴ ،قیامت نامہ ،بحوالہ صحیح مسلم )۔

یاجوج ماجوج اوران کاخروج :

قیامت صغری یعنی ظہورآل محمداورقیامت کبری کے درمیان دجال کے بعد یاجوج اورماجوج کاخروج ہوگا ۔یہ سد سکندری سے نکل کرسارے عالم میں پھیل جائیں گے اوردنیاکے امن وامان کوتباہ وبربادکردینے میں پوری سعی کریں گے ۔

یاجوج ماجوج حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد سے ہیں ،یہ دونوں چارسوقبیلہ اورامتوں کے سرداراورسربرآورہ ہیں ،ان کی کثرت کاکئی اندازہ نہیں لگایاجاسکتا ۔مخلوقات میں ملائکہ کے بعد انھیں کثرت دی گئی ہے ،ان میں کوئی ایسانہیں جس کے ایک ایک ہزار اولاد نہ ہو ۔یعنی یہ اس وقت تک مرتے نہیں جب تک ایک ایک ہزاربہادرپیدانہ کردیں ۔یہ تین قسم کے لوگ ہیں ،ایک وہ جوتاڑسے زیادہ لمبے ہیں ،دوسرے وہ جولمبے اورچوڑے برابرہیں جن کی مثال بہت بڑے ہاتھی سے دی جاسکتی ہے ،تیسرے وہ جواپناایک کان بچھاتے اوردوسرا اوڑھتے ہیں ان کے سامنے لوہا ،پتھر،پہاڑتووہ کوئی چیزنہیں ہے ۔یہ حضرت نوح کے زمانہ میں دنیاکے اخیرمیں ا س جگہ پیداہوئے ، جہاں سے پہلے سورج نے طلوع کیاتھا زمانہ فطرت سے پہلے یہ لوگ اپنی جگہ سے نکل پڑے تھے اوراپنے قریب کی ساری دنیا کوکھا پی جاتے تھے یعنی ہاتھی ،گھوڑا ،اونٹ،انسان ،جانور،کھیتی باڑی غرضکہ جوکچھ سامنے آتاتھا سب کوہضم کرجاتے تھے ۔ وہاں کے لوگ ان سے سخت تنگ اورعاجزتھے ۔یہاں تک زمانہ فطرت میں حضرت عیسی کے بعد بروائتی جب ذوالقرنین اس منزل تک پہنچے توانھیں وہاں کاسارا واقعہ معلوم ہوا اوروہاں کی مخلوق نے ان سے درخواست کی کہ ہمیں اس بلائے بے درمان یاجوج ماجوج سے بچائے ۔چنانچہ انھوں نے دوپہاڑوں کے اس درمیانی راستے کوجس سے وہ آیاکرتے تھے بحکم خدالوہے کی دیوارسے جودوسوگزاونچی اورپچاس یاساٹھ گزچوڑی تھی بند کردیا ۔اسی دیوارکوسد سکندری کہتے ہیں ۔کیونکہ ذوالقرنین کااصل نام سکندراعظم تھا ،سدسکندری کے لگ جانے کے بعد ان کی خوراک سانپ قراردی گئی ،جوآسمان سے برستے ہیں یہ تابظہورامام مہدی علیہ السلام اسی میں محصوررہیں گے ان کااصول اورطریقہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی زبان سے سد سکندری کو رات چاٹ کرکاٹتے ہیں ،جب صبح ہوتی ہے اوردھوپ لگتی ہے توہٹ جاتے ہیں ،پھردوسری رات کٹی ہوئی دیواربھی پرہوجاتی ہے اوروہ پھراسے کاٹنے میں لگ جاتے ہیں ۔

بحکم خداسے یہ لوگ امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں خروج کریں گے دیوارکٹ جائے گی اوریہ نکل پڑیں گے ۔اس وقت کاعالم یہ ہوگا کہ یہ لوگ اپنی ساری تعداد سمیت ساری دنیامیں پھیل کر نظام عالم کودرہم برہم کرنا شروع کردیں گے،لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی اوردنیاکی کوئی چیزایسی باقی نہ رہے گی جوکھائی اورپی جاسکے ،اوریہ اس پرتصرف نہ کریں ۔ یہ بلاکے جنگجولوگ ہوں گے دنیاکومارکر کھاجائیں گے اوراپنے تیرآسمان کی طرف پھینک کرآسمانی مخلوق کومارنے کاحوصلہ کریں گے اورجب ادھرسے بحکم خدا تیرخون آلود آئے گا تویہ بہت خوش ہوں گے اورآپس میں کہیں گے کہ اب ہمارااقتدارزمین سے بلند ہوکر آسمان پرپہنچ گیاہے ۔اسی دوران میں امام مہدی علیہ السلام کی برکت اورحضرت عیسی کی دعا کی وجہ سے خداوندعالم ایک بیماری بھیج دے گا جس کوعربی میں ”نغف “ کہتے ہیں یہ بیماری ناک سے شروع ہوکر طاعون کیطرح ایک ہی شب میں ان سب کاکام تمام کردے گی پھران کے مردارکوکھانے کے لئے ”عنقا “ نامی پرندہ پیداہوگا ،جوزمین کوان کی گندگی سے صاف کرے گا ۔اورانسان ان کے تیروکمان اورقابل سوختنی آلات حرب کو سات سال تک جلائیں گے (تفسیرصافی ۲۷۸ ،مشکوة ۳۶۶ ،صحیح مسلم ،ترمذی ،ارشادالطالبین ۳۹۸ ،غایۃ المقصودجلد ۲ ص ۷۶ ،مجمع البحرین ۴۶۶ ،قیامت نامہ ۸) ۔

امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت اورخاتمہ دنیا :

حضرت امام مہدی علیہ السلام کاپایہ تخت شہرکوفہ ہوگا مکہ میں آپ کے نائب کاتقررہوگا ۔آپ کادیوان خانہ اورآپ کے اجرا حکم کی جگہ مسجد کوفہ ہوگی۔بیت المال ،مسجد سہلہ قراردی جائیگی اورخلوت کدہ نجف اشرف ہوگا ۔(حق الیقین ۱۴۵) آپکے عہد حکومت میں مکمل امن وسکون ہوگا ۔بکری اوربھےڑ،گائے اورشیر،انسان اورسانپ ،زنبیل اورچوہے سب ایک دوسرے سے بے خوف ہوں گے (درمنثورسیوطی جلد ۳ ص ۲۳) ۔معاصی کاارتکاب بالکل بندہوجائے گااورتمام لوگ پاک بازہوجائیں گے ۔ جہل ،جبن ،بخل کافورہو جائیں گے ۔عاجزوں ،ضعیفوں کی دادرسی ہوگی ۔ظلم دنیا سے مٹ جائے گا اسلام کے قالب بے جان میں روح تازہ پیدہوگی دنیاکے تمام مذاہب ختم ہوجائیں گے ۔نہ عیسائی ہوں گے نہ یہودی ،نہ کوئی اورمسلک ہوگا ۔صرف اسلام ہوگا ۔اوراسی کاڈنکابجتاہوگا آپ دعوت بالسیف دیں گے جوآپ کے درپئے نزاع ہوگا قتل کردیاجائے گا ۔جزیہ موقوف ہوگا خداکی جانب سے شہر عکاکے ہرے بھرے میدان میں مہمانی ہوگی ،ساری کائنات مسرتوں سے مملوہوگی ۔غرضکہ عدل وانصاف سے دنیا بھرجائے گی ،(الیواقت الجواہرجلد ۲ ص ۱۲۷) ۔

دنیاکے تمام مظلوم بلائیں جائیں گے اوران پرظلم کرنے والے حاضرکئے جائیں گے ،حتی کہ آل محمد تشریف لائیں گے اوران پرظلم کے پہاڑتوڑنے والے بلائے جائیں گے حضرت امام علیہ السلام مظلوم کی فریادرسی فرمائیں گے اورظالم کوکیفروکردارتک پہنچائیں گے ۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تمام امورمیں نگرانی کافریضہ اداکرنے کے لئے جلوہ افروزہوں گے اسی دوران میں حضرت عیسی علیہ السلام اپنی سابقہ ارضی ۲۳ سالہ زندگی میں ۷ سالہ موجودہ ارضی زندگی کااضافہ کرکے چالیس سال کی عمرمیں انتقال کرجائیں گے اور آپ کوروضہ حضرت محمد مصطفی صلعم میں دفن کردیاجائے گا ۔(حاشیہ مشکوة ۴۶۳) ،سراج القلزب ۷۷ ،عجائب القصص ۲۳) اس کے بعدحضرت امام مہدی علیہ السلاکی حکومت کاخاتمہ ہوجائے گا اورحضرت امیرالمومنین نظام کائنات پرحکمرانی کریں گے جس کی طرف قرآن مجید میں ”دابة الارض “ سے اشارہ کیاگیاہے اب رہ گیا یہ کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت کیاہوگی ؟اس کے متعلق سخت اختلاف ہے ارشاد مفید کے ۵۳۳ میں سات سال اور ۵۳۷ میں انیس سال اوراعلام الوری کے ۳۶۵ میں ۱۹ سال ،مشکوة کے ۴۶۲ میں ۷ ، ۸ ، ۹ سال ،نورالابصارکے ۱۵۴ میں ۷ ، ۸ ، ۹ ، ۱۰ سال ۔ غایۃ المقصود جلد ۲ ص ۱۶۲ میں بحوالہ حلےةالاولیا ۷ ، ۸ ، ۹ سال اورینابع المودة شیخ سلیمان قندوزی بلخی کے ۴۳۳ میں بیس سال مرقوم ہے میں نے حالات احادیث ،اقوال علما سے استنباط کرکے بیس سال کوترجیح دی ہے ہوسکتاہے کہ ایک سال دس سال کے برابرہوں (ارشادمفید ۵۳۳ ،نورالابصار ۱۵۵) غرضکہ آپ کی وفات کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام آپ کوغسل وکفن دیں گے اورنمازپڑھاکر دفن فرمائیں گے ،جیساکہ علامہ سیدعلی بن عبدالحمیدنے کتاب انوارالمضئیہ میں تحریرفرمایا ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عہدظہورمیں قیامت سے پہلے زندہ ہونے کورجعت کہتے ہیں ۔یہ رجعت ضروریات مذھب امامیہ سے ہے (مجمع البحرین ۴۲۲) اس کامطلب یہ ہے کہ ظہورکے بعد بحکم خداشدیدترین کافراورمنافق اورکامل ترین مومنین حضرت رسول کریم اورآئمہ طاہرین ،بعض انبیا سلف برائے اظہاردولت حق محمدی دنیامیں پلٹ کرآئیں گے۔(تکلیف المکلفین فی اصول الدین ۲۵) اس میں ظالموں کاظلم کابدلہ اورمظلوموں کوانتقام کاموقع دیاجائے گا اوراسلام کواتنافروغ دے دیاجائے گا کہ ”لیظہرہ علی الدین کلہ “ دنیا میں صرف ایک اسلام رہ جائیگا (معارف الملة الناجیہ والناریہ ۳۸۰) امام حسین علیہ السلام کا مکمل بدلہ لیاجائے گا (غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۸۴ بحوالہ تفسیرعیاشی ) اوردشمنان آل محمد کوقیامت میں عذاب اکبرسے پہلے رجعت میں عذاب ادنی کامزہ چکھایاجائے گا (حق الیقین ۱۴۷ بحوالہ قرآن مجید) ۔شیطان سرورکائنات کے ہاتھوں سے نہرفرات پرایک عظیم جنگ کے بعد قتل ہوگا ۔آئمہ طاہرین کے ہرعہدحکومت میں اچھے برے زندہ کئے جائیں گے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام کے عہدمیں جولوگ زندہ ہوں گے ان کی تعداد چارہزارہوگی (غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۷۸) شہداء کوبھی رجعت میں ظاہری زندگی دی جائے گی تاکہ اس کے بعد جوموت آئے اس سے آیت کے حکم ”( کل نفس ذائقة الموت ) “ کی تکمیل ہوسکے اورانھیں موت کامزہ نصیب ہوجائے (غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۷۳) اسی رجعت میں بوعدہ قرآنی آل محمد کوحکومت عامہ عالم دی جائے گی ،اورزمین کاکوئی گوشہ ایسانہ ہوگا جس پرآل محمد کی حکومت نہ ہو ،اس کے متعلق قرآن مجید میں : ”( ان الارض يرثها عبادی الصالحون ) “ و ”( نريدان نمن علی الذين استضعفوا فی الارض ونجعلهم الوارثین ) ۔“ موجود ہے (حق الیقین ۱۴۶) ۔

اب رہ گیاکہ یہ کائنات کی ظاہی حکومت ووراثت آل محمد کے پاس کب تک رہے گی ،اس کے متعلق ایک روآیت آٹھ ہزارسال کاحوالہ دے رہی ہے اورپتہ یہ چلتاہے کہ امیرالمومنین ،حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیرنگرانی حکومت کریں گے اوردیگرآئمہ طاہرین ان کے وزرا اورسفرا کی حیثیت سے ممالک عالم میں انتظام وانصرام فرمائیں گے اورایک روآیت میں یہ بھی ہے کہ ہرامام علی الترتیب حکومت کریں گے حق الیقین وغایۃ المقصود ۔حضرت علی کے ظہوراورنظام عالم پرحکمرانی کے متعلق قرآن مجید میں بصراحت موجود ہے ۔ارشادہوتاہے :

( اخرجنالهم دابة من الارض ) ۔“(پارہ ۲۰ رکوع ۱ )

علماء فریقین یعنی شیعہ وسنی کااتفاق ہے کہ اس آیت سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔ملاحظہ ہو۔میزان الاعتدال علامہ ذہبی ومعالم التنزیل علامہ بغوی وحق الیقین علامہ مجلسی وتفسیرصافی علامہ محسن فیض کاشانی اس کی طرف توریت میں بھی اشارہ موجودہے ۔(تذکرة المعصومین ۲۴۶) آپ کاکام یہ ہوگا کہ آپ ایسے لوگوں کی تصدیق نہ کریں گے جوخداکے مخالف اوراس کی آیتوں پریقین نہ رکھنے والے ہوں گے وہ صفااورمروہ کے درمیان سے برآمد ہوں گے ،ان کے ہاتھ میں حضرت سلیمان کی انگوٹھی اورحضرت موسی کاعصا ہوگا جب قیامت قریب ہوگی توآپ عصا اورانگشتری سے ہرمومن وکافرکی پیشانی پرنشان لگائیں گے ۔مومن کی پیشانی پر ”هذا مومن حقا “ اور کافرکی پیشانی پر” ہذا کافرحقا“ تحریرہوجائے گا ۔ملاحظہ ہو(کتاب ارشادالطالبین اخوند درویزہ ۴۰۰ وقیامت نامہ قدوةالمحدثین علامہ رفیع الدین ص ۱۰) علامہ لغوی کتاب مشکوة المصابیح کے ص ۴۶۴ میں تحریرفرماتے ہیں کہ دابة الارض دوپہرکے وقت نکلے گا ،اورجب اس دابة الارض کا عمل درآمد شروع ہوجائے گا توباب توبہ بند ہوجائے گا اوراس وقت کسی کاایمان لانا کارگرنہ ہوگا حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی مسجد میں سورہے تھے ،اتنے میں حضرت رسول کریم تشریف لائے ،اورآپ نے فرمایا ”قم یادابة اللہ ۔“ اس کے بعد ایک دن فرمایا : ”یاعلی اذا کان اخرجک الله الخ ۔“ اے علی ! جب دنیاکاآخری زمانہ آئے گا توخداوند عالم تمہیں برآمد کریگا اس وقت تم اپنے دشمنوں کی پیشانیوں پرنشان لگاؤگے ۔ (مجمع البحرین ۱۲۷) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ”علی دابة ا لجنة “ ہیں لغت میں ہے کہ دابہ کے معنی پیروں سے چلنے پھرنے والے کے ہیں ۔(مجمع البحرین ۱۲۷) ۔

کثیرروایات سے معلوم ہوتاہے کہ آل کی حکمرانی جسے صاحب ارجح المطالب نے بادشاہی لکھاہے اس وقت تک قائم رہے گی جب تک دنیا کے ختم ہونے میں چالیس یوم باقی رہیں گے ۔( ارشادمفید ۱۳۷ ،واعلام الوری ۲۶۵) اس کامطلب یہ ہے کہ وہ چالیس دن کی مدت قبروں سے مردوں کے نکلنے اورقیامت کبری کے لئے ہوگی ۔حشرونشر،حساب وکتاب ،صورپھونکنا اوردیگرلوازمات کبری اسی میں اداہوں گے ۔(اعلام الوری ۲۶۵) اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام لوگوں کوجنت کاپروانہ دیں گے ۔لوگ اس لے کرپل صراط پرسے گزریں گے ۔(صواعق محرقہ علامہ ابن حجرمکی ۷۵) واسعاف الراغبین ۷۵ برحاشیہ نورالابصار) پھرآپ جوض کوثرکی نگرانی کریں گے جو دشمن آل محمدحوض کوثرپرہوگا ،اسے آپ اٹھادیں گے ۔(ارجح ا لمطالب ۷۶۷) پھرآپ لواء الحمد یعنی محمدی جھنڈا لے کرجنت کی طرف چلیں گے ،پیغمبراسلام آگے آگے ہوں گے انبیاء اورشہداء وصالحین اوردیگرآل محمدکے ماننے والے پےچھے ہوں گے ۔(مناقب اخطب خوارزمی قلمی وارجح المطالب ۷۷۴) پھرآپ جنت کے دروازہ پرجائیں گے اوراپنے دوستوں کوبغیرحساب داخل جنت کریں گے اوردشمنوں کوجہنم میں جھونک دیں گے (کتاب شفاقاضی عیاض وصواعق محرقہ) اسی لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر،حضرت عمر حضرت عثمان اوربہت سے اصحاب کوجمع کرکے فرمادیاتھاکہ علی زمین اورآسمان دونوں میں میرے وزیرہیں اگرتم لوگ خداکوراضی کرنا چاہتے ہو توعلی کوراضی کرو،اس لئے کہ علی کی رضا خداکی رضا اورعلی کاغضب خداکا غضب ہے ۔(مودة القربی ص ۵۵ ۔ ۶۲) علی کی محبت کے بارے میں تم سب کوخداکے سامنے جواب دیناپڑے گااورتم علی کی مرضی کے بغیرجنت میں نہ جاسکوگے اورعلی سے کہ دیا کہ تم اورتمہارے شیعہ ”خیرالبریہ “ یعنی خداکی نظرمیں اچھے لوگ ہیں ۔یہ قیامت میں خوش ہوں گے اورتمہارے دشمن ناشاد ونامراد ہوں گے ،ملاحظہ ہو (کنزالعمال جلد ۶ ص ۲۱۸ وتحفہ اثناعشریہ ۶۰۴ تفسیرفتح البیان جلد ۱ ص ۳۲۳) ۔


حضرت خديجہ تاريخ کے آئينہ ميں

حضرت خديجہ کا شمار تاريخ انسانيت کي ان عظيم خواتين ميں ہوتا ہے جنھوں نے انسانيت کي بقاء اور انسانوں کي فلاح و بھبود کے لئے اپني زندگي قربان کر دي ـ

تاريخ بشريت گواہ ہے کہ جب سے اس زمين پر آثار حيات مرتب ہونا شروع ہوئے اور وجود اپني حيات کے مراحل سے گزر تا ہوا انسان کي صورت ميں ظھور پذير ہوا اور ابوالبشر حضرت آدم عليہ السلام اولين نمونہ انسانيت اور خلافت الھيہ کے عھدہ دار بن کر روئے زمين پر وارد ہوئے اور پھر آپکے بعد سے ہر مصلح بشريت جس نے انسانيت کے عروج اور انسانوں کي فلاح و بھبود کيلئے اسکو اسکے خالق حقيقي سے متعارف کرانے کي کوشش کي،کسي نہ کسي صورت ميں اپنے دور کے خودپرست افراد کي سر کشي اور انانيت کا سامنا کرتے ہوئے مصائب وآلام سے دوچار ہوتا رہا دوسري طرف تاريخ کے صفحات پران مصلحين بشريت کے کچہ ہمدردوں اور جانثاروں کے نام بھي نظر آتے ہيں جو ہر قدم پر انسانيت کے سينہ سپر ہوگئے اور در حقيقت ان سرکش افراد کے مقابلے ميں ان ہمدرد اورمخلص افراد کي جانفشانيوں ہي کے نتيجے ميں آج بشريت کا وجود برقرار ہے ورنہ ايک مصلح قوم يا ايک نبي يا ايک رسول کس طرح اتني بڑي جمعيت کا مقابلہ کرسکتا تھا جوھر آن اسکے در پئے آزارہويھي مٹھي بھر دوست اور فداکار تھے جنکے وجود سے مصلحين کے حوصلے پست نھيں ہونے پاتے تھےـ

مرور ايام کے ساتھ پرچم اسلام آدم (ع)و نوح (ع)و عيسيٰ وابراھيم عليھم السلام کے ہاتھوں سربلندي وعروج حاصل کرتا ہوا ہمارے رسول کے دست مبارک تک پھونچااورعرب کے ريگزار ميں آفتاب رسالت نے طلوع ہوکر ہر ذرہ کو رشک قمر بنا ديا،ھرطرف توحيد کے شاديانے بجنے لگے از زمين تا آسمان لا الھٰ الا الله کي صدائيں باطل کے قلوب کو مرتعش کرنے لگيں ،محمد رسول الله کا شور دونوں عالم پر محيط ہوگيا اور تبليغ الٰھي کا آخري ذريعہ اور ہدايت بشري کے لئے آخري رسول رحمت بنکر عرب کے خشک صحرا پر چھاتا ہوا سارے عالم پر محيط ہوگيا دوسري طرف باطل کا پرچم شيطان ونمرود ،فرعون وشداد کے ہاتھوں سے گذرتا ہوا ابولھب ،ابو جھل اور ابوسفيان کے ناپاک ہاتھوں بلند ہونے کي ناپاک کاوشوں ميں مصروف ہوگيا ـرسول کے کلمہ توحيد کے جواب ميں ايذا رساني شروع ہوگئي اور حق وباطل کي طرح برسر پيکار ہوگئے ايسے عالم ميں کہ ايک طرف مکہ کے خاص وعام تھے اور دوسري طرف بظاھر ايک تنگ دست اور کم سن جوان جس کے اپنے اس کے مخالف ہو چکے تھے ـ ليکن پيغام الٰھي کي عظمت، مصائب کي کثرت پر غالب تھي اور ہر اذيت کے جواب ميں رسول الله کا جوش تبليغ اور زيادہ ہوتا جاتا تھا ـ

ايسے کسمپر سي کے عالم ميں جھاں ايک طرف آپکے چچا ابوطالب نے آپ کي ہر ممکنہ مدد کي وھيں دوسري طرف آپ کي پاک دامن زوجہ حضرت خديجہ نے آپ کي دلجوئي اور مدارات کے ذريعہ آپکو کفار مکہ سے پھچنے والي تمام تکاليف کو يکسرہ فراموش کرنے پرمجبورکرديا ـ حضرت خديجہ نے آپ کي زبان سے خبر بعثت سنتے ہي اٰمنا وصدقنا کھہ کر آپ کي رسالت کي پھلے ہي مرحلے ميں تائيد کردي ـجناب خديجہ کا يہ اقدام رسول اکرم کيلئے بھت حوصلہ افزاء ثابت ہوا ـآپکي اسي تائيد وتعاون کو رسول اکرم آپ کي وفات کے بعد بھي ياد فرماتے رہتے تھے اور اکثر وبيشتر آپ کي زبان اقدس پر حضرت خديجہ کا تذکرہ رہتا تھا (۱)

عائشہ نے جب آپ کے اس فعل پر اعتراض کرتے ہوئے کھا کہ خديجہ ايک ضعيفہ کے سوا کچہ نھيں تھي اور خدا نے آپ کو اس سے بھتر عطا کردي ہے (عائشہ کا اشارہ اپني طرف تھا )تو حضور ناراض ہو گئے (۲ )ـ

اور غضب کے عالم o ميں فرمايا کہ خدا کي قسم خدا نے مجھکو اس سے بھتر عطا نھيں کيوللٰه لقد اٰمنت بي اذکفر الناس واٰوتيني اذرفضني الناس و صدقتني اذکذبني الناس (۳) خدا کي قسم وہ (خديجہ )اس وقت مجھ پر ايمان لائي جب لوگ کفر اختيار کئے ہو ئے تھے اس نے مجھے اس وقت پنا ہ دي جب لوگوں نے مجھے ترک کرديا تھا اور اس نے ميري اس وقت تصديق و تائيد کي جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھےـ

خاندان و نام ونسب

شجر اسلام کي ابتدائي مراحل ميں آبياري کرنے والي اور وسطي مراحل ميں اس کي شاخوں کو نمو بخشنے والي يہ خاتون قريش کے اصيل و شريف گھرانے ميں پيد ا ہوئي ـروايات ميں آپ کي ولادت عام الفيل سے پندرہ سال قبل ذکر ہوئي اور بعض لوگوں نے اس سے کم بيان کيا ہے ـآپ کے والد خويلد ابن اسد بن عبد العزي بن قصي کا شمار عرب کے دانشمند وں ميں ہوتا تھا ـاور آپکي والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن رواحہ ہيں (۴)آپ کا خاندان ايسے روحاني اور فداکار افراد پر مشتمل تھا جو خانہ کعبہ کي محفاظت کے عھد يدار تھے ـ جس وقت بادشاہ يمن ”تبع “نے حجر اسود کو مسجد الحرام سے يمن منتقل کرنے کا ارادہ کيا تو حضرت خديجہ کے والد ذات تھي جنھوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کي جس کے نتيجہ ميں مجبور ہوکر ”تبع “کو اپنے ارادہ سے منصرف ہو نا پڑا ـ(۵)

حضرت خديجہ کے جد اسد بن عبد العزي پيمان حلف الفضول کے ايک سرگرم رکن تھے يہ پيمان عرب کے بعض با صفا وعدالت خواہ افراد کے درميان ہو ا تھا جس ميں متفقہ طور پر يہ عھد کيا گيا تھا کہ مظلومين کي طرف سے دفاع کيا جائے گا اور خود رسول اکرم بھي اس پيمان ميں شريک تھے (۶)”ورقہ بن نوفل “(حضرت خديجہ کے چچا زاد بھائي )عرب کے دانشمند ترين افراد ميں سے تھے اور انکا شمار ايسے افراد ميں ہوتا تھا جو بت پرستي کو نا پسند کرتے تھے ي (۷)اور حضرت خديجہ کو چندين بار اپنے مطالعہ کتب عھدين کي بنا پر خبر دار کرچکے تھے کہ محمد اس امت کے نبي ہيں ـ(۸)خلاصہ يہ کہ اس عظيم المرتبت خاتون کے خاندان کے افراد، متفکر ،دانشمنداوردين ابراھيم کے پيرو تھے ـ

تجارت

ايسے با عظمت افراد کي آغوش عاطفت کي پروردہ خاتون کي طبيعت ميں اپنے آبا و اجداد کي طرح رفق ودانشمندي کي آميزش تھي جس کے سبب آپ نے اپنے والد کے قتل کے بعد ان کي تجارت کو بطريقہ احسن سنبھال ليا اور اپنے متفکر اور زيرک ذھن کي بنا پر اپنے سرمايہ کوروز افزوں کرنا شروع کرديا ـ آپ کي تجارت با تجربہ اور با کردار افراد کے توسط سے عرب کے گوشہ وکنارتک پھيلي ہوئي تھي روايت کي گئي ہے کہ ”ھزاروں اونٹ آپ کے کار کنان تجارت کے قبضہ مين تھے جو مصر ،شام اور حبشہ جيسے ممالک کے اطراف ميں مصروف تجارت تھے“ (۹) جن کے ذريعہ آپ نے ثروت سرشار حاصل کر لي تھي ـ

آپ کي تجارت ايسے افراد پر موقوف تھي جو بيرون مکہ جاکر اجرت پر تجارت کے فرائض انجام دے سکيں چنانچہ حضرت ختمي مرتبت کي ايمانداري ،شرافت ،اورديانت کے زير اثر حضرت خديجہ نے آپ کو اپني تجارت ميں شريک کرليا اور باھم قرار داد ہوئي اس تجارت ميں ہونے والے نفع اور ضرر ميں دونوں برابر شريک ہوں گے ـ(۱۰) اور بعض مورخين کے مطابق حضرت خديجہ نے آپ کو اجرت پر کاروان تجارت کا سربراہ مقرر کيا تھا ـ (۱۱)ليکن اس کے مقابل دوسري روايت ہے جس کے مطابق رسول الله اپني حيات ميں کسي کے اجير نھيں ہوئے ـ (۱۲) بھر کيف حضرت کاروان تجارت کے ہمراہ روانہ شام ہوئے حضرت خديجہ کا غلام ميرہ بھي آپ کے ساتھ تھا ـ(۱۳)بين راہ آپ سے کرامات سرزد ہوئيں اور راھب نے آپ ميں علائم نبوت کا مشاھدہ کيا اور ”ميسرہ“کوآپ کے نبي ہونے کي خبر دي ـ (۱۴)تمام تاجروں کو اس سفر ميں ہر مرتبہ سے زيادہ نفع ہوا جب يہ قافلہ مکہ واپس ہوا تو سب سے زيادہ نفع حاصل کرنے والي شخصيت خود پيام اکرم کي تھي جس نے خديجہ کو خوش حال کرديا اس کے علاوہ ميسرہ (غلام خديجہ )نے راستے ميں پيش آنیوالے واقعات بيان کئے جس سے حضرت خديجہ آنحضرت کي عظمت و شرافت سے متاثر ہوگئيں

ازدواج

حضرت خديجہ کي زندگي ميں برجستہ و درخشندہ ترين پھلو آپ کي حضرت رسالت مآب کے ساتھ ازدواج کي داستان ہے ـجيسا کہ سابقہ ذکر ہوا کہ ”حضرت خديجہ کي تجارت عرب کے ا طراف واکناف ميں پھيلي ہوئي تھي اور آپ کي دولت کا شھرہ تھا “ چنانچہ اس بنا پر قريش کے دولت مند طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد چندين بار پيغام ازدواج پيش کرچکے تھے ،ليکن جنکو زمانہ جاھليت ميں ”طاھرہ“کھا جاتاتھا (۱۵)اپني پاکدامني اور عفت کي بنا پر سب کو جواب دے چکي تھيں ـحضرت جعفر مرتضيٰ عاملي تحرير فرماتے ہيں ”ولقد کانت خديجه عليها السلام من خيرة النساء القريش شرفا واکثر هن مالا واحسنهن جمالا ويقال لها سيدةالقريش وکل قومها کان حريصا ًعلي الاقتران بها لو يقدر عليها (۱۶)الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج۲/ص۱۰۷)

”حضرت خديجہ قريش کي عورتوں ميں شرف و فضيلت ،دولت وثروت اور حسن وجمال کے اعتبار سے سب سے بلند و بالاتھيں اور آپ کو سيدہ قريش کھا جاتا تھا اور آپ کي قوم کا ہر افراد آپ سے رشتئہ ازدواج قائم کرنے کا خواھاں تھا“

حضرت خديجہ کو حبالئہ عقد ميں لانے کے متمني افراد ميں ”عقبہ ابن ابي معيط “”صلت ابن ابي يعاب “”ابوجھل “اور ”ابو سفيان “جيسے افراد تھے جن کوعرب کے دولتمند اورباحيثيت لوگوں ميں شمار کياجاتاتھا (۱۷)ليکن حضرت خديجہ باوجود يکہ اپني خانداني اصالت ونجابت اورذاتي مال وثروت کي بناپر بے شمار ايسے افراد سے گھري ہوئي تھيں جو آپ سے ازدواج کے متمني اوربڑے بڑے مھرديکر اس رشتے کے قيام کوممکن بنانے کيلئے ہمہ وقت آمادہ تھے ہميشہ ازدواج سے کنارہ کشي کرتي رہتي تھيں ـکسي شريف اورصاحب کردار شخص کي تلاش ميں آپ کاوجود صحراء حيات ميں حيران وسرگرداں تھاـايسے عالم ميں جب عرب اقوام ميں شرافت وديانت کاخاتمہ ہوچکاتھا،خرافات وانحرافات لوگوں کے دلوں ميں رسوخ کرکے عقيدہ ومذھب کي شکل اختيار کرچکے تھے خود باعظمت زندگي گذارنااوراپنے لئے کسي اپنے ہي جيسے صاحب عزوشرف شوھر کاانتخاب کرناايک اھم اورمشکل مرحلہ تھا ،ايسے ماحول ميں جب صدق وصفاکافقدان تھاآپ کي نگاہ انتخاب رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم پر آکر ٹھھر گئي جن کي صداقت وديانت کاشھرہ تھا،حضرتخديجہ نے کم ظرف صاحبان دولت واقتتدار کے مقابلے ميں اعلي ظرف ،مجسمہ شرافت وديانت اورعظيم کردار کے حامل رسول کو جو بظاھر تنگ دست ،يتيم اوربے سھاراتھے ترجيح دے کر قيامت تک آنے والے جوانوں کو درس عمل دے دياکہ دولت وشھرت اوراقتدار کي شرافت ،عزت اور کردار کے سامنے کوئي حيثيت نھيں ہیالمختصر برسر اقتدار افراد کومايوس کرنے والي ”خديجہ “نے باکمال شوق وعلاقہ ازطرف خود پيغام پيش کرديا (۱۸)اورمھر بھي اپنے مال ميں قراردياجس پر حضرت ابوطالب نے خطبئہ نکاح پڑھنے کے بعد فرمايا”لوگوں گواہ رہنا“”خديجہ “نے خود کومحمدصلي الله عليہ وآلہ وسلم سے منسوب کيااورمھر بھي اپنے مال ميں قرار ديا ہے اس پربعض لوگوں نے ابوطالب عليہ السلام پرطنز کرتے ہوئے کھا ياعجباھ!المھر علي النساء للرجل (تعجب ہے مرد عورت کے مال سے مھر کي ادائيگي کرے )جس پرحضرت ابوطالب نے ناراضگي کااظھار کرتے ہوئے غضب کے عالم ميں فرمايا،”اذاکانوا مثل ابن اخي هذاطلبت الرجل باغلي الاثمان وان کانوا امثالکم لم يزوجوا الابالمهر الفالي “ (۱۹)(اگرکوئي مردميرے اس بھتيجے کے مانند ہوگاتوعورت اس کوبڑے بھاري مھر دے کرحاصل کرينگي ليکن اگر وہ تمھاري طرح ہوا تواسکو خود گراں و بھاري مھر ديکر شادي کرناھوگي )ايک دوسري روايت کے مطابق حضرت نے اپنامھر (جو بيس بکرہ نقل ہوا ہے)خود ادا کياتھا (۲۰)اور ايک روايت کے مطابق آپ کے مھر کي ذمہ داري حضرت علي نے قبول کرلي تھي ،حضرت کي عمر کے سلسلے ميں تمام مورخين کااس پراتفاق ہے کہ حضرت خديجہ سے آپ نے پھلي شادي ۲۵/سال کي عمر ميں کي ليکن خود حضرت خديجہ کي عمر کے بارے ميں کثير اختلاف وارد ہوا ہے چنانچہ۲۵،۲۸،۳۰/اور۴۰سال تک بھت کثرت سے روايات وارد ہوئي ہيں (۲۱)ليکن معروف ترين قول يہ ہے کہ آپ کي عمر شادي کے وقت ۴۰سال تھيـ (۲۲)

آياحضرت خديجہ (ع)رسول سے قبل شادي شدہ تھيں ؟

اس مسئلہ ميں کہ آيارسول صلي الله عليہ وآلہ وسلم کے حبالہ عقد ميں آنے سے قبل حضرت خديجہ دوسرے افراد کے ساتھ بھي رشتہ مناکحت سے منسلک رہچکي تھيں يانھيں تاريخ کے مختلف اوراق پر متعدد راويوں کے اقوال ميں کثير اختلاف واقع ہوا ہے چنانچہ بعض راويوں کے نزديک رسول صلي الله عليہ وآلہ وسلم سے شادي کرنے سے قبل حضرت خديجہ شادي شدہ تھيں اور سابقہ شوھرو ں سے آپ کي اولاد يں بھي ہوئيں تھيں

تاريخ کے مطابق آپ کے سابق شوھروں کے نام بالترتيب ”عتيق بن عايذبن عبد اللهفخروي “اور”ابوھالہ تميمي“ھيں (۲۳)اس کے علاوہ خود آنحضرت کے بارے ميں روايت وارد ہوئي ہے کہ ”عائشھ“کے علاوہ آپ نے کسي کنواري خاتون سے شادي نھيں کي تھي (۲۴)ليکن يہ تمام روايات جويہ ثابت کرتي ہيں کہ حضرت خديجہ شادي شدہ تھيں اوررسول سے قبل بھي دوسرے کي شريک حيات رہ چکي تھيں ،دلائل اوردوسري روايات معتبرہ کي روشني ميں صحيح نظرنھيں آتيں ،بلکہ تمام تاريخ کوسياست کے ہاتھوں مسخ کئے جانے کي ناکام کوششوں ميں سے ايک کانتيجہ ہيں ـ

تجزيہ وتحليل

۱)ـابن شھر آشوب کابيان ہے کہ ”مرتضيٰ شامي ميں اورابوجعفرتلخيص ميں رقم طراز ہيں کھ”ان النبي تزوج وکانت عذراء “ (۲۵) نبي نے آپ سے شادي کي درحاليکہ آپ کنواري تھيں “ـ

اس کے علاوہ اسي مطلب کي تائيد اس روايت سے بھي ہوئي ہے جو ثابت کرتي ہے”ان رقيہ وزينب کانتاابتي ہالةاخت خديجہ (۲۶)رقيہ اور زينب خديجہ کي بہن ہالہ کي بيٹياں تھيں (نہ کہ خديجہ کي)ـ

۲)ابوالقاسم کوفي کابيان ہے کہ ”خاص وعام اس بات پر متفق ہيں کہ تمام اشراف سربرآور دہ افراد حضرت خديجہ سے ازدواج کے آرزومند تھے ليکن خديجہ کے بلند معيار کے سامنے ان کي دولت کي فراواني اورشان وشوکت ہيچ نظر آتي تھي يھي وجہ تھي کہ حضرت خديجہ نے سب کے رشتوں کوٹھکرادياتھاليکن زمانے کي حيرت کي اس وقت کوئي انتھا نہ رہي جب اسي خديجہ نے عرب کے صاحبان مال وزراورفرزندان دولت و اقتدار کوٹھکراکر حضرت رسالت مآب سے رشتہ ازدواج قائم کرلياجن کے پاس مال دنياميں سے کچہ نہ تھا اسي لئے قريش کي عورتيں خديجہ سے تحير آميز ناراضگي کااظھار کرتے ہوئے سوال کربيٹھيں کہ اے خديجہ !تو نے شرفاوامراء قريش کوجواب دے ديااورکسي کوبھي خاطر ميں نہ لائي ليکن يتيم ابوطالب کوجو تنگ دست وبے روزگار ہے انتخاب کرليااس روايت سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے کہ حضرت خديجہ نے مکہ کے صاحبان دولت وثروت کو رد کردياتھااورکسي سے بھي شادي کرنے پر آمادہ نھيں تھيں ،دوسري طرف اس روايت کي رد سے جوسابقا ذکر ہوئي آپ کے ايک شوھر کانام ”ابوھالہ تميمي “ھے جوبني تميم کاايک اعرابي تھا،عقل انساني اس بات پر متحير ہوجاتي ہے کہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئي اشراف کے پيغام کوٹھکرادے اورايک اعرابي کواپنے شريک حيات کے طور پرانتخاب کرلے ،علاوہ برايں اس سے بھي زيادہ تعجب کا مقام يہ ہے کہ خديجہ کے اشراف کونظر انداز کرکے رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم کو (جو خانداني اعتبار سے بلند مقام کے حامل تھے )انتخاب کرنے پر توقريش کي عورتيں انگشت نمائي کرتي نظر آئيں ليکن ايک اعرابي سے شادي کے خلاف عقل فعل پر، پر سخن زمانہ ساکت رہ جائے (الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج/۲ص/۱۲۳)اس دليل کي روشني ميں يہ واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت خديجہ نے رسول سے قبل کوئي شادي نھيں کي تھي اوراگر کي ہوتي توزمانے کے اعتراضات تاريخ ميں محفوظ ہوتےـ

۳)بعض لوگوں نے حضرت خديجہ کے شادي شدہ ہونے پر ا س روايت سے استدلال کيا ہے کھ”راہ اسلام کااولين شھيد حارث بن ابي ہالہ فرزند حضرت خديجہ ہے (۲۷)

مذکورہ بالاروايت کے مقابلے ميں دوسري روايات جن کي سند يں معتبر ہيں ”ابو عمار اور ام عمار“کو اسلام کے پھلے شھيد کي صورت ميں پيش کرتے ہيں ”ان اول شهيد في الاسلام سميه والده عمار “ (۲۸)(اسلام کي راہ ميں پھلي شھيد ہونے والي سميہ والدہ عمار ہيں )اورابن عباس اورمجاھد کي روايت کے مطابق ”قتل ابوعماروام عماراول قتيلين قتلا من المسلمين “ (۲۹)

اسلام کي راہ ميں شھيد ہونے والے پھلے افراد ابوعمار اورام عمار ہيں ـ

ان روايات سے کاملاًردھوتي ہیکہ يہ شخص جسکو حضرت خديجہ کے بيٹے کي حيثيت سے تاريخ کے صفحات پر مرقوم کردياگيا ہے اسلام کي راہ ميں قربان ہونے والاپھلاشھيد تھا،لھذامعلوم نھيں ہے کہ اس شخص کاوجود خارجي تھا بھي يانھيں چہ جائيکہ حضرت خديجہ کافرزند ہوناپائے ثبوت کوپھنچےـ

۴)،روايات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خديجہ کي ايک بہن تھيں جن کانام ’ھالۂتھااس ہالہ کي شادي ايک فخروي شخص کے ساتھ ہوئي جس سے ايک بيٹي پيداھوئي جس کانام ”ھالھ“تھا،پھراس ہالہ اولي (خواھرخديجہ (ع))سے ايک بني تميم سے تعلق رکھنے والے شخص نے شادي کرلي جوابوھند کے نام سے معروف ہیاس تميمي سے ہالہ کے ايک بيٹاپيداھوا جس کانام ہند تھااوراس شخص ابوھند تميمي(شوھر خواھرخديجہ )کي ايک اور بيوي تھي جسکي دوبيٹياں تھيں ’رقيۂاور”زينب“کچہ عرصے کے بعد ابو ہند کي پھلي بيوي جورقيہ اورزينب کي ماں تھي فوت ہوگئي اورپھر کچہ ہي مدت کے بعد ”ابوھند “بھي دنياسے رخصت ہوگيااوراس کابيٹا”ھند “جوھالہ سے تھا اوردوبيٹياں جو اس کي پھلي بيوي سے تھيں جن کا نام تاريخ ،رقيہ اورزينب ذکر کرتي ہے ”خديجہ “کي بہن کے پاس باقي رہ گئے جن ميں سے ہند اپنے باپ کي موت کے بعد اپني قوم بني تميم سے ملحق ہوگيااور”ھالہ “(حضرت خديجہ کي بہن )اوراس کے شوھرکي دونوں بيٹياں حضرت خديجہ کے زير کفالت آگئے ،اور آنحضرت سے آپ کي شادي کے بعد بھي آپ ہي کے ساتھ رہيں اورآپ ہي کے گھر ميں ديکھاگياتھا اس لئے عرب خيال کرنے لگے کہ يہ خديجہ ہي کي بيٹياں ہيں اورپھر ان کوحضرت سے منسوب کردياگيا ليکن حقيقت امريہ تھي کہ رقيہ اورزينب حضرت خديجہ کي بہن ”ھالہ “کے شوھر کي بيٹياں تھيں (الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج/۲ص/۱۲۶)

مذکورہ بالادلائل کي روشني ميں يہ بات پائے ثبوت کو پھنچي ہے کہ حضرت خديجہ رسول کے حبالئہ عقد ميں آنے سے قبل غير شادي شدہ تھيں اورآپ کے شوھروں اورفرزندوں کے نام جوتاريخ ميں نظر آتے ہيں ياتوکسي غلط فھمي کانتيجہ ہيں ياسياست کے ہاتھوں عظمت رسول کو کم کرنیکي ايک ناکام کوشش ،مذکورہ دلائل کے علاوہ بھي حلّي اورنقضي جوابات دئے گئے ہيں جو تاريخ کي اس حقيقت سے پردہ اٹھانے والے ہيں ليکن يہ مختصر مضمون ان تمام دلائل اورروايات کامتحمل نھيں ہوسکتا ہے،آپ کي اولاد ميں حضرت فاطمہ زھرا کے علاوہ کوئي فرزند زندہ نھيں رہاـ

رسول کي بعثت اورحضرت خديجہ کاايمان لانا

حضرت رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم کے مبعوث بہ رسالت ہونے کے بعد عورتوں ميں جس شخصيت نے سب سے پھلے آپ کي تصديق کي اورآپ پر ايمان لائي وہ حضرت خديجہ کي ذات گرامي ہے (۳۰)طبري نے واقدي سے روايت کي ہے کہ ”اجتمع اصحابنا علي ان اول اهل القبلة استجاب لرسول الله خديجه بنت خويلد (۳۱)علماء کااس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم کي آواز پر سب سے پھلے لبيک کھنے والي حضرت خديجہ کي ذات گرامي ہے )خود رسول اکرم صلي يللہ ع ليہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ”والله لقد امنت بي اذ کفر الناس واويتني اذ رفضني الناس وصدقتني اذکذبني الناس (۳۲)خداکي قسم وہ (خديجہ )مجھ پر اس وقت ايمان لائي جب لوگ کفر اختيار کئے ہوئے تھے اس نے مجھے اس وقت پناہ دي جب لوگوں نے مجھے ترک کردياتھااوراس نے ايسے موقع پر ميري تصديق کي جب لوگ مجھے جھٹلارہے تھے)

حضرت علي عليہ السلام فرماتے ہيں :ـلم يجمع بيت واحد يومئيذ في الاسلام غير رسول الله وخديجه واناثالثها (۳۳)وہ ايسا وقت تھاجب روئے زمين پر کوئي مسلمان نہ تھابجز اس خاندان کے جو رسول اور خديجہ پر مشتمل تھا اور ميں ان ميں کي تيسري فرد تھا )ابن اثير کابيان ہے:ـاول امراء ةتزوجها واول خلق الله اسلم بالاجماع المسلمين لم يتقد مهاوجل ولاامراء ة “ (۳۴)حضرت خديجہ پھلي خاتون ہيں جن سے آنحضرت نے رشتئہ ازدواج قائم کيااوراس امر پر بھي مسلمانوں کا اجماع ہے کہ آپ سے پھلے نہ کوئي مرد ايمان لايا اورنہ کسي عورت نے اسلام قبول کيا)ـ

آنحضرت کي حضرت خديجہ(ع) سے محبت وعقيدت

حضرت خديجہ کي آنحضرت کي نگاہ ميں محبت و عقيدت اورقدرومنزلت کااندازہ اس بات سے لگاياجاسکتا ہے کہ آپکي زندگي ميں آنحضرت نے کسي بھي خاتون کو اپني شريک حيات بناناگوارہ نھيں کيا (۳۵)آپ کے بارے ميں حضرت کاارشاد ہیکہ ”خديجہ اس امت کي بھترين عورتوں ميں سے ايک ہے

(۳۶)آپ کي وفات کے بعد بھي ہميشہ آپ کو ياد فرماتے رہے (۳۷)عائشہ کابيان ہے کہ مجھے رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي کسي زوجہ سے اتناحسد نھيں ہواجتناخديجہ سے ہواحالانکہ خديجہ کي وفات مجھ سے قبل ہوچکي تھي اوراس حسد کاسبب يہ تھاکہ آنحضرت آپ کاتذکرہ بھت زيادہ فرماتے تھے (۳۸) چنانچہ يھي سبب ہے کہ دوسر ي جگہ عائشہ سے روايت نقل ہوئي ہے کہ ”ايک روز رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم خديجہ کي تعريف فرمارہے تھے مجھے حسد پيداھوااورميں نے عرض کي يارسول اللہ خديجہ ايک ضعيفہ کے علاوہ کچہ بھي نھيں تھي جو مرگئي اورخدانے آپ کواس سے بھتر عطا کردي ہے (عائشہ کااشارہ اپني طرف تھا)رسول صلي الله عليہ وآلہ وسلم يہ سن کرناراض ہوگئے (۳۹)اورغضب کے عالم ميں فرمايا”لاوالله ماابد لني الله خير امنهااٰمنت بي اذکفر الناس وصدقتني اذکذبني الناس وواستني بهالهااذحرمني الناس ورزقني منهاالله ولدادون غيرهامن النساء “(۴۰)خدا کي قسم خدانے مجھکو اس سے بھتر عطانھيں کي وہ مجھ پر اس وقت ايمان لائي جب لوگ کفر اختيار کئے ہوئے تھے اس نے ميري اس وقت تصديق کي جب لوگ مجھکو جھٹلارہے تھے اوراس نے اپنے مال کے ذريعہ ميري اس وقت مدد کي جب لوگوں نے مجھے ہر چيز سے محروم کردياتھا اورخدانے صرف اسي کے ذريعہ مجھے اولاد عطافرمائي اورميري کسي دوسري بيوي کے ذريعہ مجھے صاحب اولاد نھيں کيارسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم کے اس جواب سے آنحضرت کي حضرت خديجہ کيلئے محبت اورعقيدت واحترام کااندازہ ہوتا ہے ـخديجہ کالسلام کيلئے اپنااورسب کچہ قربان کرکے بھي اسلام کي نشرواشاعت کاجذبہ ہي تھاجس نے اسلام کودنياکے گوشہ وکنار تک پھنچنے کے مواقع فراھم کئے اوريھي سبب تھاکہ ”حضرت نے آپ کوخداکے حکم سے جنت کي بشارت ديدي تھي “عائشہ سے مسلم نے روايت نقل کي ہے کہ ”بشر رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بنت خويلد ببيت في الجنة “(حضرت رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم نے خديجہ سلام الله عليھاکو جنت کي بشارت دي تھي )(۴۱)حضرت خديجہ اور ابوطالب رسول کے دو ايسے مدافع تھے جنکي زندگي ميں کفار قريش کي طرف سے آپ کو کوئي گزند نھيں پھنچا ليکن رسول کے يہ دونوں جانثار ايک ہي سال بھت مختصر وقفہ سے يکے بعد ديگرے دنياسے رخصت ہوگئے اورروايات کے مطابق رسول پر دونوں مصيبتيں ہجرت سے تين سال قبل اورشعب ابي طالب سے باھر آنے کے کچہ روز بعد واقع ہوئيں (۴۲)رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن قرار ديا(۴۳)اوريہ مصيبت رسول کيلئے اتني سخت تھي کہ رسول خانہ نشين ہوگئے اورآپ نے حضرت خديجہ اورابوطالب کي وفات کے بعد باھر نکلنابھت کم کردياتھا(۴۴)ايک روز کسي کافر نے آپ کے سر پر خاک ڈال دي رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم اسي حالت ميں گھر ميں داخل ہوئے آپ کي زبان پر يہ کلمات تھے”مانالت مني قريش شيا اکرهه حتي مات ابوطالب “(۴۵) قريش ابوطالب کي زندگي ميں مجھکوکوئي گزند نھيں پھنچا سکے)آپ حضرت ابوطالب اورخديجہ کي زندگي ميں اطمينان سے تبليغ ميں مصروف رہتے تھے ـخديجہ گھر کي چار ديواري ميں اور ابوطالب مکہ کي گليوں ميں آپ کے مدافع تھے

حضرت خديجہ جب تک زندہ رہيں رسول الله صلي الله عليہ وآلہ وسلم کے اطمينان وسکون کا سبب بني رہيں دن بھر کي تبليغ کے بعد تھک کر چور اورکفار کي ايذارسانيوں سے شکستہ دل ہوجانے والارسول جب بجھے ہوئے دل اورپژمردہ چھرے کے ساتھ گھر ميں قدم رکھتاتو خديجہ کي ايک محبت آميز مسکراھٹ رسول کے مرجھائے ہوئے چھرے کوپھر سے ماہ تمام بنادياکرتي تھي ،خديجہ کي محبتوں کے زير سايہ کشتي اسلام کاناخدا عالمين کيلئے رحمت بنکر دنياکي ايذارسانيوں کو بھلاکر ايک نئے جوش و جذبے اورولولے کے ساتھ ڈوبتے ہوئے ستاروں کاالوداعي سلام اورمشرق سے سرابھارتے ہوئے سورج سے خراج ليتاھواايک بار پھر خانہ عصمت وطھارت سے باھر آتا اورباطل کو لرزہ براندام کرنے والي لاالہ الاالله کي بلند بانگ صداؤں سے مکہ کے دروديوارہل کررہ جاتے کفارجمع ہوتے رسول پر اذيتوں کي يلغار کرديتے ليکن انسانيت کي نجات اورانسانوں کي اصلاح کاخواب دل ميں سجائے رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم خوشاآيند مستقبل کے تصور ميں ہر مصيبت کاخندہ پيشاني سے مقابلہ کرتے رہے اورآپ کے اسي صبر وتحمل اورآپ کي پاکدامن زوجہ کے تعاون اورجانثاري سے آج ہم مسلمانان جھان پرچم توحيد کے علمبردار رسول کے اس خواب اصلاح کوشرمندہ تعبير کرنے کے لئے آپ کے اس آخري جانشين کے انتظار ميں سرگرداں ہيں جوزمين کوعدل وانصاف سے پر کرديگا ـ

حوالےــــــــ

۱ـ صحيح مسلم /۴۴/۷۶/۲۴۳۵، ترمذي کتاب مناقب حديث /۳۹۰۱، کنز العمال ح/ ۱۳/ص/۶۹۳

۲ـ اسد الغابہ ج/۵ ص / ۴۳۸ ، مسلم فضائل صحابہ / ۳۴۳۷ ، البدايہ و النھايہ ج/ ۳ ص / ۱۵۸

۳ـ بحار ج/ ۱۶ ص/ ۱۲ ، اسد الغابہ ج/ ۵ ص / ۴۳۹

۴ـ طبقات ابن سعد ج/ ۱ ص /۸۸

۵ـسيرة ہشام ج/ ۴ ص / ۲۸۱ ، الاصابہ ج / ۴ ص / ۲۸۱،طبري ج / ۳ ص / ۳۳

۶ـالبدايہ و النھايہ ج / ۲ ص / ۲۶۲

۷ـ سيرة حليہ ج / ۱ ص / ۱۳۱ ، طبقات ابن سعد ج/ ۱ ص / ۸۶ ، حيات النبي و سيرتہ ج / ۱ ص / ۶۰

۸ـ سيرة ہشام ج/ ۱ ص / ۲۵۹

۹ـ البدايہ و النھايہ ج/ ۲ ص / ۳۶۲ ، سيرة ہشام ج / ۱ ص / ۳۳۸

۱۰ـ بحار ج / ۱۶ ص / ۲۲

۱۱ـ البدايہ و النھايہ ج / ۲ ص / ۲۵۸

۱۲ـ البدء و التاريخ ج / ۲ ص / ۴۷

۱۳ـ تاريخ يعقوبي ج / ۱ ص / ۳۷۶

۱۴ـ بدايہ و النھايہ ج / ۲ ص / ۳۵۸ ، طبري ج / ۲ ص / ۲۰۴

۱۵ـ الکامل في التاريخ ج/ ۱ ص / ۴۷۲ ، دلائل النبوة ج / ۲ ص / ۶۶

۱۶ـ سيرة حلبيہ ج / ۱ ص / ۱۳۵ ، البدايہ و النھايہ ج / ۲ ص / ۳۵۸ ، الکامل في التاريخ ج / ۱ ص / ۴۷۲

۱۷ـ السيرة النبويہ (دحلان ) ج / ۱ ص/ ۹۲

۱۸ـبدايہ والنھايہ ج/ ۲ ص / ۳۵۸، بحار الانوار ج/ ۱۶ ص / ۲۲

۱۹ـبحار الانوار ج/ ۱۶ ص / ۲۲

۲۰ـ سيرة حلبيہ ج / ۱ ص /۱۴۰ ، طبري ج/ ۲ ص / ۲۰۵

۲۱ـ الصحيح من سيرة النبي ج / ۲ ص / ۱۱۲ ـ۱۱۳ ، بحار الانوار ج / ۱۶ ص / ۱۴

۲۲ـسيرہ ہشام ج / ۱ ص ۲۲۷

۲۳ـالبدايہ و النھايہ ج / ۲ ص / ۳۶۰ ، البدء و التاريخ ج/ ۲ ص / ۴۸

۲۴ـسيرہ حلبيہ ج / ۱ ص /۱۴۰، الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج/ ۲ ص / ۱۱۵

۲۵ـفروغ ابديت ج/ ۱ ص / ۱۹۸

۲۶ـ سيرہ حلبيہ ج / ۱ ص/ ۱۴۰

۲۷ـ طبري ج / ۳ ص / ۳۶

۲۸ـمناقب آل ابيطالب ج / ۱ ص / ۲۰۶ ، الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج / ۲ ص / ۱۲۲

۲۹ـمناقب آل ابيطالب ج / ۱ ص / ۲۶

۳۰ـ الاصابہ ج / ۱ ص / ۲۹۳

۳۱ـ الاصابہ ج / ۴ص /۳۳۵ ، اسد الغابہ ج / ۵ ص / ۴۸۱ ، حياة النبي ج /۱ ص / ۱۲۱

۳۲ـ الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج/ ۲ ص ۱۲۵

۳۳ـ الانساب الاشراف ج / ۲ ص / ۲۳ ، الاصابہ ج / ۸ ص /۹۹ ، سيرة ہشام ج / ۱ ص / ۲۷۷، طبري ج/ ۲ ص / ۲۳۲ ـ ۲۲۱

۳۴ـ تاريخ طبري ج / ۲ ص / ۲۳۲

۳۵ـبحار الانوار ج / ۱۶ ص / ۱۲ ، اسد الگابہ ج / ۲ ص / ۴۳۹

۳۶ـ نھج البلاغہ ( خطبہ قاصعہ )

۳۷ـ اسد الغابہ ج / ۵ ص / ۴۳۴

۳۸ـ البدء و التاريخ ج / ۲ ص / ۴۸ ، اسد الغابہ ج/ ۵ ص / ۳۶۰

۳۹ـ الاصابہ ج / ۸ ص /۱۰۱ ، اسد الغابہ ج/ ۵ ص / ۴۳۱ ، سنن ترمذي کتاب مناقب / ۳


فہرست

حضرت رسول اكرم صلى الله عليه وآله وسلم ۴

آنحضرت کی ولادت باسعادت ۴

آنحضرت کی ولادت کے وقت حیرت انگیزواقعات کاظہور ۴

آپ کی تاریخ ولادت ۵

آپ کی پرورش وپرداخت اورآپ کابچپنا ۵

آپ کی سایہ رحمت مادری سے محرومی ۶

حضرت ابوطالب کوحضرت عبدالمطلب کی وصیت وہدایت ۶

حضرت ابوطالب کے تجارتی سفرشام میں آنحضرت کی ہمراہی اوربحیرئہ راہب کاواقعہ ۶

جناب خدیجہ کے ساتھ آپ کی شادی خانہ آبادی ۷

کوہ حرامیں آنحضرت کی عبادت گذاری ۸

آپ کی بعثت ۸

دعوت ذوالعشیرہ کاواقعہ اوراعلان رسالت ووزارت ۹

حضرت رسول کریم شعب ابی طالب میں (محرم ۷ ء بعثت) ۱۰

آپ کامعجزہ شق القمر( ۹ بعثت ) ۱۲

آنحضرت صلعم کی معراج جسمانی ( ۱۲ ئبعثت) ۱۲

بیعت عقبہ اولی ۱۳

بیعت عقبہ ثانیہ ۱۳ بعثت ۱۳

ہجرت مدینہ ۱۳

تحویل کعبہ ۱۵


تبلیغی خطوط ۱۵

اصحاب کاتاریخی اجتماع اورتبلیغ رسالت کی آخری منزل ۱۵

حضرت علی کی خلافت کااعلان ۱۵

حجة الوداع ۱۶

واقعہ مباہلہ ۱۷

سرورکائنات کے آخری لمحات زندگی ۱۷

واقعہ قرطاس ۱۸

وصیت اوراحتضار ۱۹

رسول کریم کی شہادت ۱۹

وفات اورشہادت کااثر ۲۰

آنحضرت کی شہادت کاسبب ۲۱

ازواج ۲۱

اولاد ۲۱

حضرت علی علیہ السّلام ۲۳

نام ۲۳

القاب ۲۳

کنیت ۲۳

والدین ۲۳

ولادت ۲۳

بچپن ا ور تربیت ۲۴


پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت اور حضرت علی (ع) ۲۴

رسول کی ہجرت اور حضرت علی (ع) ۲۶

شادی ۲۷

کتابت وحی ۲۸

حضرت علیہ السلام ، پیغمبراسلام (ص) کے بھائی ۲۸

. حضرت علی علیہ السلام اور اسلا می جہاد ۲۸

غدیر خم ۲۹

حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں ۳۰

رسول اللہ (ص)کی وفات اور حضرت علی علیہ السلام ۳۰

حضرت علی علیہ السلام کی طاہری خلافت ۳۱

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ۳۱

حضرت فاطمہ زہراسلام الله علیہا ۳۴

نام،القاب و کنیت ۳۴

والدین ۳۴

ولادت ۳۵

بچپن اور تربیت ۳۵

. حضرت فاطمہ (س) کی شادی ۳۵

حضرت فاطمہ (س) کا اخلاق و کردار ۳۷

حضرت فاطمہ(س) کا نظام عمل ۳۷

حضرت زہرا سلام اللہ کا پردہ ۳۸


حضرت زہرا (س) اور جہاد ۳۸

فاطمہ زہرا (س) اور پیغمبر اسلام ۳۹

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر (ص) کی نطر میں ۳۹

فاطمہ زہرا (س) پر پڑنے والی مصیبتیں ۴۰

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی وصیتیں ۴۰

شہادت ۴۱

اولاد ۴۱

حضرت امام حسن علیہ السلام ۴۲

آپ کی ولادت ۴۲

آپ کانام نامی ۴۲

زبان رسالت دہن امامت میں ۴۲

آپ کاعقیقہ ۴۳

کنیت والقاب ۴۳

امام حسن پیغمبراسلام کی نظرمیں ۴۳

امام حسن کی سرداری جنت ۴۴

جذبہ اسلام کی فراوانی ۴۵

امام حسن اورترجمانی وحی ۴۵

حضرت امام حسن کابچپن میں لوح محفوظ کامطالعہ کرنا ۴۵

امام حسن کابچپن اورمسائل علمیہ ۴۶

امام حسن اورتفسیرقرآن ۴۹


امام حسن کی عبادت ۴۹

آپ کازہد ۵۰

آپ کی سخاوت ۵۰

توکل کے متعلق آپ کاارشاد ۵۰

امام حسن حلم اوراخلاق کے میدان میں ۵۰

عہد امیرالمومنین میں امام حسن کی اسلامی خدمات ۵۱

حضرت علی کی شہادت اورامام حسن کی بیعت ۵۱

صلح ۵۴

شرائط صلح ۵۵

صلح نامہ پردستخط ۵۵

شرائط صلح کاحشر ۵۶

کوفہ سے امام حسن کی مدینہ کوروانگی ۵۶

صلح حسن اوراس کے وجوہ واسباب ۵۷

حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت ۵۸

امام حسن کی تجہیزوتکفین ۶۱

آپ کی ازواج اوراولاد ۶۱

حضرت امام حسین علیہ السلام ۶۳

آپ کی ولادت ۶۳

آپ کااسم گرامی ۶۴

آپ کاعقیہ ۶۴


کنیت والقاب ۶۴

آپ کی رضاعت ۶۴

خداوندعالم کی طرف سے ولادت امام حسین کی تہنیت اورتعزیت ۶۵

فطرس کاواقعہ ۶۵

امام حسین سینہ رسول پر ۶۶

جنت کے کپڑے اورفرزندان رسول کی عید ۶۷

امام حسین ک ا سردارجنت ہونا ۶۷

امام حسین عالم نمازمیں پشت رسول پر ۶۸

حدیث حسین منی ۶۸

مکتوبات باب جنت ۶۸

امام حسین اورصفات حسنہ کی مرکزیت ۶۹

حضرت عمرکااعتراف شرف آل محمد ۶۹

ابن عمرکااعتراف شرف حسینی ۷۰

کرم حسین کی ایک مثال ۷۰

امام حسین کی نصرت کے لیے رسول کریم کاحکم ۷۱

امام حسین علیہ السلام کی عبادت ۷۱

امام حسین کی سخاوت ۷۱

جنگ صفین میں امام حسین کی جدوجہد ۷۲

حضرت امام حسین علیہ السلام گرداب مصائب میں ۷۲

واقعہ کربلاکاآغاز ۷۲


مکہ معظمہ میں امام حسین کی جان نہ بچ سکی ۷۵

امام حسین کی مکہ سے رونگی ۷۶

حربن یزیدریاحی ۷۷

کربلامیں ورود ۷۸

امام حسین کاخط اہل کوفہ کے نام ۷۸

عبیداللہ ابن زیادکاخط امام حسین کے نام ۷۹

حضرت امام حسین میدان جنگ میں ۷۹

امام حسین کی نبردآزمائی ۸۰

امام حسین عرش زین سے فرش زمین پر ۸۲

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ۸۴

آپ کی ولادت باسعادت ۸۴

نام،کنیت ،القاب ۸۴

لقب زین العابدین کی توجیہ ۸۴

لقب سجادکی توجیہ ۸۵

امام زین العابدین علیہ السلام کی نسبی بلندی ۸۵

امام زین العابدین کے بچپن کاایک واقعہ ۸۶

آپ کے عہدحیات کے بادشاہان وقت ۸۷

امام زین العابدین کاعہدطفولیت اورحج بیت اللہ ۸۷

آپ کاحلیہ مبارک ۸۸

حضرت امام زین العابدین کی شان عبادت ۸۸


آپ کی حالت وضو کے وقت ۸۹

عالم نمازمیں آپ کی حالت ۸۹

امام زین العابدین کی شبانہ روزایک ہزاررکعتیں ۹۰

امام زین العابدین علیہ السلام منصب امامت پرفائزہونے سے پہلے ۹۱

واقعہ کربلاکے سلسلہ میں امام زین العابدین کاشاندارکردار ۹۱

واقعہ کربلااورحضرت امام زین العابدین کے خطبات ۹۳

کوفہ میں آپ کاخطبہ ۹۳

مسجددمشق (شام) میں آپ کاخطبہ ۹۳

مدینہ کے قریب پہنچ کرآپ کاخطبہ ۹۶

روضہ رسول پرامام علیہ السلام کی فریاد ۹۶

امام زین العابدین اورخاک شفا ۹۷

امام زین العابدین اورمحمدحنفیہ کے درمیان حجراسودکافیصلہ ۹۸

ثبوت امامت میں امام زین العابدین کاکنکری پرمہرفرمانا ۹۸

واقعہ حرہ اورامام زین العابدین علیہ السلام ۹۸

واقعہ حرہ اورآپ کی قیام گاہ ۹۹

خاندانی دشمن مروان کے ساتھ آپ کی کرم گستری ۱۰۰

دشمن ازلی حصین بن نمیرکے ساتھ آپ کی کرم نوازی ۱۰۰

امام زین العابدین اورفقراء مدینہ کی کفالت ۱۰۱

امام زین العابدین اوربنیادکعبہ محترمہ ونصب حجراسود ۱۰۱

امام زین العابدین اورعبدالملک بن مروان کاحج ۱۰۲


امام زین العابدین علیہ السلام اخلاق کی دنیامیں ۱۰۲

امام زین العابدین اورصحیفہ کاملہ ۱۰۳

امام زین العابدین عمربن عبدالعزیزکی نگاہ میں ۱۰۳

امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت ۱۰۴

آپ کی اولاد ۱۰۴

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام ۱۰۵

آپ کی ولادت باسعادت ۱۰۵

آسم گرامی ،کنیت اورالقاب ۱۰۵

باقرکی وجہ تسمیہ ۱۰۵

بادشاہان وقت ۱۰۶

واقعہ کربلامیں امام محمدباقرعلیہ السلام کاحصہ ۱۰۶

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورجابربن عبداللہ انصاری کی باہمی ملاقات ۱۰۶

سات سال کی عمرمیں امام محمدباقرکاحج خانہ کعبہ ۱۰۷

حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اوراسلام میں سکے کی ابتدا ۱۰۸

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی علمی حیثیت ۱۱۰

آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات ۱۱۲

آپ کی عبادت گذاری اورآپ کے عام حالات ۱۱۵

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورہشام بن عبدالملک ۱۱۵

ہشام کاسوال اوراس کاجواب ۱۱۶

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی دمشق میں طلبی ۱۱۷


دمشق سے روانگی اورایک راہب کامسلمان ہونا ۱۱۸

امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت ۱۱۹

ازواج اولاد ۱۲۰

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام ۱۲۱

آپ کی ولادت باسعادت ۱۲۱

اسم گرامی ،کنیت ،القاب ۱۲۱

بادشاہان وقت ۱۲۲

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کاایک مناظرہ ۱۲۲

ابوشاکردیصانی کاجواب ۱۲۳

امام جعفرصادق علیہ السلام اورحکیم ابن عیاش کلبی ۱۲۴

۱۱۳ ہ میں امام جعفرصادق کاحج ۱۲۴

امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ ۱۲۵

امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعض نصائح وارشادات ۱۲۵

آپ کے اخلاق اورعادات واوصاف ۱۲۷

کتاب اہلیلچیہ ۱۲۹

حضرت صادق آل محمدکے فلک وقارشاگرد ۱۲۹

امام الکیمیاجناب جابرابن حیان طرسوسی ۔ ۱۳۰

صادق آل محمدکے علمی فیوض وبرکات ۱۳۲

علمی فیوض رسانی کا موقع ۱۳۳

کتب اصول اربعمایة ۱۳۳


صادق آل محمدکے اصحاب کی تعداداوران کی تصانیف ۱۳۴

حضرت صادق آل محمداورعلم طب ۱۳۵

حضرت صادق آل محمدکاعلم القرآن ۱۳۵

علم النجوم ۱۳۵

علم منطق الطیر ۱۳۶

حضرت امام صادق علیہ السلام اورعلم الاجسام ۱۳۶

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اوردوراندیشی ۱۳۶

امام جعفرصادق علیہ السلام کادربارمنصورمیں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات ۱۳۷

امام جعفرصادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ ۱۳۹

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شہادت ۱۴۱

آپ کی اولاد ۱۴۱

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ۱۴۲

آپ کی ولادت باسعادت ۱۴۲

اسم گرامی،کنیت،القاب ۱۴۲

لقب باب الحوائج کی وجہ ۱۴۳

باشاہان وقت ۱۴۳

نشوونمااورتربیت ۱۴۴

آپ کے بچپن کے بعض واقعات ۱۴۴

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت ۱۴۶

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعض کرامات ۱۴۷


واقعہ شقیق بلخی ۱۴۸

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے اخلاق وعادات اوشمائل واوصاف ۱۵۰

خلیفہ ہارون الرشید عباسی اورحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ۱۵۲

ہارون الرشیدکاپہلاحج اورامام موسی کاظم علیہ السلام کی پہلی گرفتاری ۱۵۳

قیدخانہ سے آپ کی رہائی ۱۵۴

امام موسی کاظم علیہ السلام اورعلی بن یقطین بغدادی ۱۵۵

علی ابن یقطین کوالٹاوضوکرنے کاحکم ۱۵۶

وزیراعظم علی بن یقطین کوامام موسی کاظم کی فہمایش ۱۵۷

امام موسی کاظم اورفدک کے حدوداربعہ ۱۵۷

امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوبارہ گرفتاری ۱۵۸

امام علیہ السلام کاقیدخانہ میں امتحان اورعلم غیب کامظاہرہ ۱۶۱

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت ۱۶۱

تعداداولاد ۱۶۲

حضرت امام علی رضا علیہ السلام ۱۶۳

ولادت باسعادت ۱۶۳

نام ،کنیت،القاب ۱۶۳

لقب رضاکی توجیہ ۱۶۳

آپ کی تربیت ۱۶۴

بادشاہان وقت ۱۶۴

جانشینی ۱۶۴


امام موسی کاظم کی وفات اورامام رضاکے درامامت کاآغاز ۱۶۵

ہارونی فوج اورخانہ امام رضاعلیہ السلام ۱۶۵

امام علی رضاکاحج اورہارون رشیدعباسی ۱۶۸

حضرت امام رضاعلیہ السلام کامجددمذہب امامیہ ہونا ۱۶۹

حضرت امام رضاعلیہ السلام کے اخلاق وعادات اورشمائل وخصائل ۱۶۹

حضرت امام رضاعلیہ السلام کاعلمی کمال ۱۷۱

حضرت امام رضاعلیہ السلام کے بعض مرویات وارشادات ۱۷۳

حضرت امام رضاعلیہ السلام اورمجلس شہداء کربلا ۱۷۴

مامون رشیدکی مجلس مشوارت ۱۷۵

مامون کی طلبی سے قبل امام علیہ السلام کی روضہ رسول پرفریاد ۱۷۷

امام رضاعلیہ السلام کی مدینہ سے مرومیں طلبی ۱۷۷

امام رضاعلیہ السلام کی مدینہ سے روانگی ۱۷۸

حضرت امام رضاعلیہ السلام کانیشاپورمیں ورودمسعود ۱۸۰

شہرطوس میں آپ کانزول وورود ۱۸۲

امارضا کادارالخلافہ مرومیں نزول ۱۸۲

جلسلہ ولیعہدی کاانعقاد ۱۸۳

حضرت امام رضاعلیہ السلام کی ولیعہدی کادشمنوں پراثر ۱۸۴

واقعہ حجاب ۱۸۵

حضرت امام رضاعلیہ السلام اورنمازعید ۱۸۵

حضرت امام رضاکی مدح سرائی اوردعبل خزاعی اورابونواس ۱۸۶


مذاہب عالم کے علماء سے حضرت امام رضاکے علمی مناظرے ۱۸۸

عالم نصاری سے مناظرہ ۱۸۸

عالم یہودسے مناظرہ ۱۹۰

عالم مجوسی سے مناظرہ ۱۹۱

آپ کی تصانیف ۱۹۱

مامون رشیدعباسی اورحضرت امام رضاعلیہ السلام کی شہادت ۱۹۲

تاریخ شہادت ۱۹۳

شہادت امام رضاکے موقع پرامام محمدتقی کاخراسان پہنچنا ۱۹۴

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام ۱۹۵

ولادت باسعادت ۱۹۵

نام کنیت اورالقاب ۱۹۶

بادشاہان وقت ۱۹۶

امام محمدتقی کی نشونمااورتربیت ۱۹۶

والدماجدکے سایہ عاطفیت سے محرومی ۱۹۷

مامون رشیدعباسی اورحضرت امام محمدتقی علیہ السلام کاپہلاسفرعراق ۱۹۸

بازاراورمچلی کاواقعہ ۱۹۸

ام الفضل کی رخصتی ، امام محمدتقی علی السلام کی مدینہ کوواپسی اور حضرت کے اخلاق واوصاف عادات وخصائل ۱۹۹

امام محمدتقی علیہ السلام اورطی الارض ۲۰۲

حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے بعض کرامات ۲۰۳


حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے ہدایات وارشادات ۲۰۵

امام محمدتقی کی نظربندی، قیداورشہادت ۲۰۷

آپ کی ازواج اوراولاد ۲۰۸

حضرت امام علی نقی علیہ السلام ۲۰۹

ولادت باسعادت ۲۰۹

اسم گرامی،کنیت، اورالقاب ۲۰۹

آپ کاعہدحیات اوربادشاہان وقت ۲۰۹

حضرت امام محمدتقی کاسفربغداد اورحضرت امام علی نقی کی ولیعہدی ۲۱۰

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کاعلم لدنی ۲۱۰

بچپن کاواقعہ ۲۱۰

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کرامات اورآپ کاعلم باطن ۲۱۱

عہدواثق کاایک واقعہ ۲۱۲

تہترزبانوں کی تعلیم ۲۱۳

امام علی نقی کے ہاتھوں میں ریت کی قلب ماہیت ۲۱۳

امام علی نقی اوراسم اعظم ۲۱۳

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورصیحفہ کاملہ کی ایک دعا ۲۱۴

حکومت کی طرف سے امام علی نقی کی مدینہ سے سامرہ میں طلبی اور راستہ کاایک اہم واقعہ ۲۱۴

امام علی نقی علیہ السلام کی نظربندی ۲۱۷

امام علی نقی علیہ السلام کا جذبہ ہمدردی ۲۱۷

امام علی نقی کی حالت سامرہ پہنچنے کے بعد ۲۱۸


حضرت امام علی نقی اورسواری کی برق رفتاری ۲۱۸

دوماہ قبل عزل قاضی کی خبر ۲۱۹

آپ کااحترام جانوروں کی نظرمیں ۲۱۹

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورخواب کی عملی تعبیر ۲۱۹

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورفقہائے مسلمین ۲۱۹

شاہ روم کوحضرت امام علی نقی کاجواب ۲۲۱

متوکل کے کہنے سے ابن سکیت وابن اکثم کاامام علی نقی سے سوال ۲۲۱

قضاوقدرکے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کی رہبری ورہنمائی ۲۲۲

حضرت امام علی نقی اورعبدالرحمن مصری کاذہنی انقلاب ۲۲۲

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اوربرکتہ السباع ۲۲۳

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورمتوکل کاعلاج ۲۲۴

امام علی نقی علیہ السلام کے تصورحکومت پرخوف خوف خداغالب تھا ۲۲۴

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت ۲۲۶

آپ کی ازواج واولاد ۲۲۶

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ۲۲۷

امام حسن عسکری کی ولادت اوربچپن کے بعض حالات ۲۲۷

آپ کی کنیت اورآپ کے القاب ۲۲۷

آپ کاعہدحیات اوربادشاہان وقت ۲۲۷

چارماہ کی عمراورمنصب امامت ۲۲۸

چارسال کی عمرمیں آپ کاسفرعراق ۲۲۸


یوسف آل محمدکنوئیں میں ۲۲۸

امام حسن عسکری اورکمسنی میں عروج فکر ۲۲۹

امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ بادشاہان وقت کاسلوک اورطرزعمل ۲۲۹

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت اورامام حسن عسکری کاآغازامامت ۲۳۱

اپنے عقیدت مندوں میں حضرت کادورہ ۲۳۳

امام حسن عسکری علیہ السلام کاپتھرپرمہر لگانا ۲۳۳

حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کوشکست دینا ۲۳۴

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورخصوصیات مذہب ۲۳۵

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورعیدنہم ربیع الاول ۲۳۶

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندسودمند ۲۳۶

معتمدعباسی کی خلافت اورامام حسن عسکری علیہ السلام کی گرفتاری ۲۳۸

اسلام پرامام حسن عسکری کااحسان عظیم واقعہ قحط ۲۳۹

امام حسن عسکری اورعبیداللہ وزیرمعتمدعباسی ۲۴۰

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ۲۴۲

حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام ۲۴۴

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ۲۴۴

آپ کا نسب نامہ ۲۴۷

آپ کا اسم گرامی : ۲۴۸

آپ کی کنیت : ۲۴۸

آپ کے القاب : ۲۴۸


آپ کاحلیہ مبارک ۲۴۹

تین سال کی عمرمیں حجت اللہ ہونے کادعوی : ۲۴۹

پانچ سال کی عمرمیں خاص الخاص اصحاب سے آپ کی ملاقات ۲۵۰

امام مہدی نبوت کے آئینہ میں ۲۵۰

امام حسن عسکری کی شہادت : ۲۵۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اوراس کی ضرورت : ۲۵۲

غیبت امام مہدی پرعلمااہل سنت کااجماع : ۲۵۴

امام مہدی کی غیبت اورآپ کاوجود وظہورقرآن مجیدکی روشنی میں : ۲۵۶

امام مہدی کاذکرکتب آسمانی میں : ۲۵۷

امام مہدی کی غیبت کی وجہ : ۲۵۷

غیبت امام مہدی جفرجامعہ کی روشنی میں : ۲۵۹

غیبت صغری وکبری اورآپ کے سفرا ۲۶۰

سفرا عمومی کے اسماء ۲۶۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے بعد : ۲۶۲

۳۰۷ ہجری میں آپ کا حجراسود نصب کرنا : ۲۶۲

اسحاق بن یعقوب کے نام امام عصرکاخط : ۲۶۳

شیخ محمدبن محمد کے نام امام زمانہ کامکتوب گرامی ۲۶۴

ان حضرات کے نام جنھوں نے زمانہ غیبت صغری میں امام کودیکھا ہے ۲۶۵

ِِزیارت ناحیہ اوراصول کافی : ۲۶۶

غیبت کبری میں امام مہدی کامرکزی مقام : ۲۶۶


جزیرہ خضرا میں امام علیہ السلام سے ملاقات ۲۶۷

امام غائب کاہرجگہ حاضرہونا ۲۶۸

امام مہدی اورحج کعبہ ۲۶۸

زمانہ غیبت کبری میں امام مہدی کی بیعت : ۲۶۸

امام مہدی کی مومنین سے ملاقات : ۲۶۹

ملامحمد باقرداماد کاامام عصرسے استفادہ کرنا : ۲۶۹

جناب بحرالعلوم کا امام زمانہ سے ملاقات کرنا : ۲۶۹

امام مہدی علیہ السلام کاحمایت مذہب فرمانا واقعہ انار : ۲۷۰

امام عصرکا واقعہ کربلابیان کرنا : ۲۷۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے طول عمرکی بحث : ۲۷۱

حدیث نعثل اورامام عصر : ۲۷۳

حضرت امام مہدی علیہ السلام کاظہورموفورالسرور : ۲۷۳

امام مہدی کے ظہور کاسن : ۲۷۶

ظہورکے وقت امام علیہ السلام کی عمر : ۲۷۶

آپ کاپرچم ۲۷۶

ظہورکے بعد : ۲۷۷

دجال اوراس کا خروج : ۲۷۸

نزول حضرت عیسی علیہ السلام : ۲۸۰

امام مہدی اورعیسی ابن مریم کادورہ : ۲۸۰

حضرت امام مہدی کاقسطنطنیہ کوفتح کرنا : ۲۸۱


یاجوج ماجوج اوران کاخروج : ۲۸۱

امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت اورخاتمہ دنیا : ۲۸۲

حضرت خديجہ تاريخ کے آئينہ ميں ۲۸۶

خاندان و نام ونسب ۲۸۷

تجارت ۲۸۸

ازدواج ۲۸۸

آياحضرت خديجہ (ع)رسول سے قبل شادي شدہ تھيں ؟ ۲۹۰

تجزيہ وتحليل ۲۹۰

رسول کي بعثت اورحضرت خديجہ کاايمان لانا ۲۹۲

آنحضرت کي حضرت خديجہ(ع) سے محبت وعقيدت ۲۹۲

حوالےــــــــ ۲۹۴

چودہ ستارے

چودہ ستارے

مؤلف: علامہ نجم الحسن کراروی
زمرہ جات: تاریخ شیعہ
صفحے: 38