ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
متن تاریخ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: ایک سو پچاس جعلی اصحاب(پہلی جلد)

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٦ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ

ISBN:۹۶۴-۵۲۹-۰۴۸-۱ www.ah ٭ -u ٭ -bayt.org

Info@ah ٭ -u ٭ -bayt.org


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، علامہ سید مرتضیٰ عسکری کی گرانقدر کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب کو مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


پہلا حصہ :

* جیمس رابسن کا مختصر تعارف

* شہرۂ آفاق مستشرق ،ڈاکٹر جیمس رابسن کا نظریہ

* مقدمۂ مؤلف


جیمس رابسن کا مختصر تعارف:

پیدائش: ١٨٩٠ ء

تعلیمی قابلیت:ادبیات عربی وا لٰہیات میں پی،ایچ ، ڈی گلاسکویونیورسٹی میں عربی زبان کے تحقیقی شعبے کے صدر، گلاسکویونیورسٹی کی انجمن شرق شناسی کے سیکریٹری ، منچسٹریونیورسٹی کے عربی شعبے کے پروفیسر،کیمبرج،ملبورن ، اڈمبورن ، سینٹ انڈرسن اور لندن یونیوسٹیوں کے ڈاکٹریٹ کلاسوں کے ممتحن۔

تألیفات: ''اسلامی تمدن کا دوسرے ادیان سے موازنہ''

''علم حدیث پر مقدمہ'' ،''مشکاة المصابیح'' کا چار جلدوں میں ترجمہ و حاشیہ کے علاوہ آپ بہت سے مقالات اور آثار کے مؤلف ہیں ۔(۱)

____________________

١)۔کتاب '' who is who '' طبع سال ١٩٧٤ئ


کتاب ''عبداللّٰہ ابن سبا '' اور کتاب '' خمسون و مائة صحابی مختلق '' کے بارے میں شہرۂ آفاق مستشرق

ڈاکٹر جیمس رابسن کا نظریہ

مولف کے نام ڈاکٹر جیمس کے خط کا ترجمہ

جناب محترم سید مرتضیٰ عسکری صاحب

گزشتہ اگست کے وسط میں آپ کی تالیف کردہ دو کتابیں '' عبداللہ ابن سبا و اساطیر اخریٰ'' اور '' خمسون و مائة صحابی مختلق''موصول ہوئیں ۔میں نے انہی دنوں آپ کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ میں ایک ضعیف العمر شخص ہوں اور صحت مند بھی نہیں ہوں ۔اس لئے مجھے ان کتابوں کے مطالعہ کے لئے کافی وقت کی ضرورت ہے ۔ان کتابوں کے مطالعہ پر توقع سے زیادہ وقت صرف ہو ا ۔میں نے کتابوں کو انتہائی دلچسپی سے دو بار پڑھ لیا۔ جی تو یہ چاہتا تھا کہ اس سلسلے میں ایک مفصل شرح لکھوں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس وقت اس خط کے ذریعہ ان دو کتابوں کے بارے میں آپ کی تحقیقی روش اور عالمانہ دقت و باریک بینی کی ستائش کروں ۔ اس پیری میں اطمینان کے ساتھ امید نہیں ہے کہ مستقل میں ایک مفصل شرح لکھ سکوں ،کیوں کہ ممکن ہے میرا بڑھاپا اس مختصر خط کے لکھنے میں بھی رکاوٹ کا سبب بنے ۔اس لئے اس خط کے لکھنے میں مزید تأخیر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

پہلی کتاب میں '' عبداللہ ابن سبا اور سبائیوں کی داستان'' کے بارے میں کی گئی تحقیق اور جزئیات مجھے بہت پسند آئے ،کیوں کہ اس میں مشرق و مغرب کے قدیم و جدید مولفین اور ان کے استناد شدہ مأخذ کے بارے میں قابل قدر بحث کرکے موضوع کی بخوبی تشریح کی گئی ہے ۔ صفحہ ٥٧پر دیا گیا خاکہ انتہائی مفید ہے یہ خاکہ ''سیف '' کی روایات اور احادیث کے اصلی منابع کی بخوبی نشاندہی کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اس کے بعد کے مصنفوں نے کس طرح ان منابع میں سے کسی ایک یاسب پر استناد کیا ہے۔


اس کے بعدبعض ایسے علماء کی فہرست درج کی گئی ہے کہ جنھوں نے ابو دائود وفات ٢٧٥ ھ (کتاب میں غلطی سے ٣١٦ھ لکھا گیا ہے) سے ابن حجر وفات ٨٥٢ھ کے زمانہ تک سیف کی روایتوں کی حیثیت کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیا ہے ۔ان سب لوگوں نے سیف کی تنقید کی ہے اور اس کے بارے میں ''ضعیف''، ''اس کی روایتیں متروک ہیں '' ،''ناچیز ''،''جھوٹا ''، ''احتمالاً وہ زندیق ہے '' ،جیسے جملے استعمال کئے ہیں ۔یہ سب علماء سیف کی روایتوں کے ،ناقابل اعتماد، حتیٰ جعلی ہونے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں .یہ ایک قوی اور مطمئن کردینے والی بحث ہے حدیث کے راویوں کے بارے میں علماء کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے ، میں اس بات کی طرف متوجہ ہوا ہوں کہ سب کے سب ایک راوی کی تقویت یا تضعیف پر اتفاق نظر نہیں رکھتے.لیکن سیف کے بارے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔اور یہ امر انسان کو تعجب اور حیرت میں ڈالتا ہے کہ اس کے باوجود اس طرح بعد والے مؤلفین نے آسانی کے ساتھ اس (سیف) کی روایتوں کو قبول کیا ہے ؟ ! !

میں یہاں پرطبری کے بارے میں کچھ اظہار نظر کرنا چاہتا ہوں ،جس نے سیف کی روایتوں کو نقل کرنے میں کسی قسم کی تردید نہیں کی ہے۔عصر جدید کی تاریخ نویسی کے اسلوب کے مطابق تاریخ طبری ایک تاریخی اثر شمار نہین ہوتا،کیونکہ ، ایسا لگتا ہے کہ اس کا اصل مقصد اس کی دست رس میں آنے والی تمام روایتوں کو تحریر میں لانا تھا،بجائے اس کے کہ ان کی قدر و قیمت اور اعتبار کے بارے میں وہ کسی قسم کا اظہار نظر بھی کرے۔لہٰذا ایک انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی بعض روایتیں اس کی اپنی ہی نقل کردہ دوسری روایتوں سے زیادہ ضعیف ہیں .شائد اس کو آج کل کے زمانے میں ناقابل قبول اسلوب کے استعمال کی بناپر معذور قرار دے دیں .کم از کم اس نے دوسروں کو بہت سی معلومات بہم پہنچائی ہیں ۔آپ جیسے باریک بین دانشور اور علماء ،جعلی روایتوں کے درمیان سے صحیح (ومعتبر) روایتوں کی تشخیص دے سکتے ہیں


سیف کی ذکر کردہ روایتوں کے بارے میں آپ کی تحقیق (و بحث) کا طرز انتہائی دلچسپ اور مؤثر ہے.آپ نے پہلے سیف کی روایتوں کو بیان کیا ہے اور اس کے بعد ان روایتوں کا ذکر کیا ہے جو دوسروں سے نقل ہوئی ہیں ۔پھر ان دو قسم کی روایتوں کی آپس میں تطبیق اور موازنہ کیا ہے۔ ان روایات اوران کی بیان شدہ اسناد کے بارے میں اس دقیق اور صحیح موازنہ نے واضح کردیا ہے کہ سیف نے زیادہ تر نامعلوم (مجہول الہویہ) راویوں سے روایتیں نقل کی ہیں ۔اس سے خود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے مؤلفین نے ان راویوں میں سے کسی ایک کا نام کیوں ذکر نہیں کیاہے ؟اور اس طرح انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سیف نے خود ان راویوں کو جعل کیا ہے ۔(سیف کے بارے میں ) یہ واقعی (قوی) الزام ایک قابل قبول منطقی نتیجہ ہے ، جو سیف (کی روایتوں ) کا دوسروں

(کی روایتوں ) سے موازنہ کرنے پر حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بحث و گفتگو کے ضمن میں بیان ہوا ہے کہ سیف نے معجزنما اتفاقات بیان کئے ہیں ، جنھیں قبول نہیں کیا جاسکتا،جیسے : صحراؤں کی ریت کا مسلمانوں کے لئے پانی میں تبدیل ہوجانا یا سمندر کا ریگستانوں میں تبدیل ہوجانا یا گائے کے ریوڑ کا گفتگو کرنا اور مسلمانوں کے لشکر کو اپنی مخفی گاہ کے بارے میں خبر دینا اور اسی طرح کے دوسرے مطالب ۔سیف کے زمانے میں ایسی (جعلی) داستانوں کو تاریخی واقعات کے طور پر دوسروں کے لئے نقل کردینا ممکن تھا،لیکن آج کل تحقیق و تجسس کرنے والے محققین کے لئے ایسی داستانیں ناقابل قبول ہیں ۔بعض اطمینان بخش بحث وگفتگو بھی (اس کتاب میں ) زیر غور قرار پائی ہے جو ''ابن سبأاور سبائیوں ''کے بارہ میں سیف کی روایات کو مکمل طور سے (جعلی اور) غیر قابل اطمینان ثابت کرتی ہے، یقین نہیں آتا۔


مؤلف نے اس کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ بعض مستشرقین کی اطلاعات سیف کی روایتوں پر مبنی ہیں .مثال کے طور پر مسلمانوں کی ابتدائی جنگوں میں بہت سے لوگوں کے قتل ہونے کی خبر اور یہ اعتقاد کہ ابن سبأ نام کا ایک گمنام یہودی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے اعتقادات میں نفوذ پیدا کرکے لوگوں کو عثمان کے خلاف شورش پر اکسانے کا اصلی محرّک ہوا اور وہی عثمان کے قتل کاسبب بھی بنا ، (اسی طرح) وہ علی اور طلحہ و زبیر کے درمیان جنگ کے شعلے بڑھکانے میں بھی کامیاب ہوا ۔بعض امور میں ممکن ہے یہ صحیح ہو،لیکن تمام مواقع پر ہرگز یہ حقیقت نہیں ہوسکتی۔یہ (بات) عبد اللہ ابن سبا کے بارے میں دائرة المعارف اسلامی کے طبع اول اور دوم میں شائع ہوئے چند مقالات میں واضح طور پر ذکر ہوئی ہے۔سیف نے قبیلہ تمیم سے سور ماؤں کو جعل کرنے میں کافی وقت صرف کیا ہے ،یہ قبیلہ سیف کا خاندان تھا،لیکن سر و یلیم مویر بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ مرتدوں کی جنگوں کے دوران کس طرح قبیلہ تمیم نے خلیفہ ٔاول کے لشکر کے سامنے ہتھیار ڈالدئے تھے۔یہاں پر سرٹامس آرنالڈ کے بیان کی طرف بھی اشارہ کیا جاسکتا ہے جو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہین کہ اسلام کے ابتدائی فتوحات زیادہ تر دینی عقائد کے پھلاؤ کے بجائے اسلامی حکومت کو وسعت دینے کے لئے تھے۔


دوسری کتاب (خمسون و مائة صحابی مختلق) میں اس نکتہ کی طرف توجہ دی گئی ہے کہ سیف کا وجود دوسری صدی ہجری کی پہلی چوتھائی میں تھا اور وہ قبائل ''مضر'' میں ''تمیم'' نامی ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور کوفہ کا رہنے والاتھا ، یہ مطلب انسان کو سیف کی داستانیں گھڑنے میں اس کے خوہشات اور اسباب وعوامل کا مطالعہ کرنے میں مدد کردیتا ہے.اس کتاب میں ''زنادقہ ''اور ''مانی''کے پیرؤں کے بارے میں بھی بحث ہوئی ہے،چونکہ اُس معاشرے میں خاندانی تعصب کا سلسلہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ سے عباسیوں تک جاری رہاہے اور اس تعصب کی وجہ سے سیف شمالی قبائل کی تعریفیں کرتا ہے اور ان سے بہادر اور شعراء جعل کرتاہے، جنہوں نے اس قبیلہ کے سور ماؤں کے بارے میں شعر کہے ہیں ، اس نے قبیلہ ''تمیم''سے پیغمبر کے کچھ اصحاب جعل کئے ہیں اور غزوات اور جنگوں کی داستانیں گڑھی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اور اپنے جعلی سورماؤں کی بہادری جتلا نے کے لئے لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے اور بہت سے افراد اسیر بنانے کا ذکر کیا ہے ۔ جو اشعار اس نے اپنے سور ماؤں سے منسوب کئے ہیں وہ قبائل ''مضر ''پھر قبیلہ ''تمیم'' اور '' بنی عمرو''کی ستائش و مدح سے مربوط ہیں ،کہ سیف اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے(۱) ۔سیف نے قبیلہ'' مضر '' کے بعض لوگوں کو ان جنگوں کے اصلی ہیرو کے عنوان سے پیش کیا ہے ،جن کے حقیقی رہبر دوسرے قبیلوں کے بہادر تھے۔ بعض موارد میں (سیف نے ) اس وقت کے معاشرے میں موجود افراد کو بہادروں کے طور پر پیش کیا ہے اور بعض دیگر موارد میں کچھ اور (جعلی) رہبر وں کا نام لیا ہے جو اس کے (اپنے ) تخیل کی ایجاد ہیں ۔ یہ موضوع بھی مورد بحث قرار پایا ہے کہ سیف کی جھوٹی روایات کا( مقصد ) ایک طرف عام لوگوں (مسلمانوں ) کے افکار میں تشویش پیدا کرکے ان کے اعتقادات میں تبدیلیاں لانا تھا اور دوسری طرف (مسلمانوں کے لئے ) غیر مسلمین میں ایک غلط تصور ایجاد کرنا تھا ۔سیف سند جعل کرنے اور جھوٹی خبر یں گڑھنے میں ایسی مہارت رکھتا تھا کہ اس کی جعلی روایتیں (بعض افراد کے نزدیک ) ایک حقیقی تاریخ کے عنوان سے مورد قبول قرار پائی ہیں ۔

یہ سیف کی خطائوں کا یک خلاصہ ہے ،جس کی وجہ سے وہ مجرم قرار پایا ہے ۔''مؤلف'' نے کتاب کے اصلی حصہ میں ٢٣اشخاص (جعلی اصحاب ) کے بارے میں مفصل بحث کی ہے اور سیف کی روایتوں کے چند نمونے پیش کرکے واضح طور پرثابت کیا ہے کہ سیف کی رواتیں کس طرح بنیادی منابع اور موثق اسناد کے ساتھ زبردست تضاد رکھتی ہیں ۔ روایت جعل کرنے میں ہی نہیں بلکہ

____________________

۱ ۔سیف کا نسب قبیلہ تمیم کے ایک خاندان ''بنی عمرو'' تک پہنچتاہے ۔


ایسے راویوں کے نام ذکر کرنے میں بھی یہ فرق صاف نظر آتا ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔

یہ کتاب انتہائی دقت و مہارت کے ساتھ لکھی گئی ہے اور اس میں سیف (کی روایتوں ) کے قابل اعتماد ہونے کے خلاف انتہائی اطمینان بخش بحث کی گئی ہے۔ جب کہ بعض معروف مولفین نے بھی سیف کی روایتوں کو اپنی تالیفات میں نقل کیا ہے ،اس کے علاوہ سیف کی دو کتابیں (فتوح و جمل) پر بھی بحث کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ ان کے مطالب اور اس کے بعد والے مولفین کی تالیفات (جنھوں نے ان مطالب پر تکیہ کیا ہے) بھروسہ کے قابل نہیں ہیں ۔

یہ (کتاب )ایک انتہائی محکم اور فیصلہ کن تحقیق ہے ،جو بڑی دقت ،دور اندیشی ،اور تنقید کی عالی کیفیت پر انجام پائی ہے ۔مجھے اس بات پر انتہائی خوشی ہے کہ ان بحثوں کے مطالعہ کے لئے کافی وقت نکال سکا ۔یہ بحثیں میرے لئے مکمل طور پر قابل قبول اور اطمینان بخش ہیں ،اور مطمئن ہوں کہ جو لوگ ان کتابوں کا کھلے ذہن سے مطالعہ کریں گے وہ ان میں موجودتنقید ی توانائی کی ستائش کریں گے ۔

کتابیں ارسال کرنے پر آپ کا انتہائی شکر گزار ہوں اور معذرت چاہتا ہوں کہ پیری اور دیگر ناتوانیوں کی وجہ سے جواب لکھنے میں تاخیر ہوئی ۔

آپ کا عقیدت مند

جیمس رابسن

پتہ : جیمس رابسن ۔ ۱۷ووڈ لینڈزڈرایو ۔گلاسکو ، Q.E۹,۴G انگلستا ن


مقدمہ مؤلف

بسم اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحیم

اسلام کی چودھویں صدی اختتام کو پہنچنے والی ہے ،زمانے کے اس قدر طولانی فاصلہ نے اسلام کی صحیح شکل پہچاننے کے کام کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے ۔حقیر نے گزشتہ چالیس برسوں سے زیادہ عرصہ کے دوران معرفت کی اس راہ میں حتی المقدور تلاش و کوشش کی ہے تاکہ شائد اسلام کو اس کی اصلی صورت میں پایا جائے جس صورت میں وہ چودہ سو سال پہلے تھا چوں کہ اسلام کو پہچاننے کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا اور نہ ہے کہ اس سلسلے میں قرآن مجید ،پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث کی طرف رجوع کیا جائے ۔لہٰذا ہم ابتدا میں قرآن کی درج ذیل آیۂ شریفہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ہیں :

( هُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰابَ مِنْهُ آیٰت مُحْکَمٰت هُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَ أُخَرُ مُتَشٰبِهٰت فَأَمّا الَّذینَ فِی قُلُوبِهِمْ زَیْغ فَیَتَّبِعُونَ مٰا تَشٰبَهَ مِنْهُ ابْتِغٰائَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغٰائَ تَأویلِه وَمٰا یَعْلَمُ تَأوِیلَهُ اِلَّا اللَّهُ وَ الرّٰاسِخُونَ فِی العِلْمِ ) (۱)

____________________

۱)۔ آل عمران ٧


''وہ جس نے آپ پر وہ کتاب نازل کی ہے جس میں کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں (وہ حصہ جو واضح وروشن نہیں ہے )۔اب جن کے دلوں میں کجی ہے وہ ان ہی متشابہات کے پیچھے لگ جاتے ہیں تا کہ فتنہ بر پاکریں اور من مانی تاویلیں کریں حالانکہ اس کی تاویل کا علم خدا کواور انھیں ہے جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں ''۔

قرآن کریم کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتاہے،قرآن مجید میں بعض آیات متشابہ ہیں جو فتنہ انگیزوں کے لئے بہانہ ہیں اور ان کی تاویل خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔دوسری طرف خدائے تعالیٰ قرآن مجید کی تاویل کے طریقہ کو درج ذیل آیت میں معین فرماتاہے :

( ''وَأَنْزَلْنٰا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مٰانُزِّلَ اِلَیْهِمْ '' ) (۱)

''اور ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف بھی ذکر(قرآن)کونازل کیاہے تاکہ جو کچھ لوگوں کے لئے نازل کیاگیاہے اسے ان سے بیان اور ان پر واضح کردیں ''

خدائے تعالیٰ اس آیہ شریفہ میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرماتاہے :ہم نے ذکر قرآن مجید کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل کیاتاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ سب کچھ لوگوں سے بیان کردیں جو قرآن مجید میں ان کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔لہٰذا قرآن مجید کی تفسیر جس کی بعض آیات متشابہ ہیں فقط پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ ہونی چاہئے اور قرآن مجید کی تفسیر کو سیکھنے کا طریقہ ہمیشہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث اور بعض اوقات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت ہے ،کیونکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی کبھی اپنے عمل وکردار سے قرآن مجید کی تفسیر فرماتے تھے ،جیسے :یومیہ نماز کے بارے میں قرآن مجید نے حکم فرمایاہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں کو سکھایا ،پس آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یومیہ نماز اُن آیات کی تفسیر ہے جو قرآن مجید

____________________

۱)۔نحل٤٤


میں نماز کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ۔(۱) اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی معرفت حاصل کرنے کے لئے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صحیح سیرت جس کا مجموعہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت ہے کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنّت تک دست رسی کا راستہ بھی اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب پر منحصر ہے.ان دوراستوں کے علاوہ سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہنچنا محال ہے.ان دو اسناد کے بارے میں بھی قرآن مجید فرماتاہے:

( وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنٰفِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفٰاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ) (۲)

''اور تمہارے اطراف کے علاقہ کے لوگوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں .تم ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں ۔''

ان منافقین کو جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں مدینہ میں تھے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ سب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں(۳) میں سے تھے ۔حقیر نے ان صحابیوں میں سے مؤمن و منافق کی پہچان کرنے کی غرض سے ان کی زندگی کے سلسلے میں تحقیق شروع کی ہے ، خواہ وہ

____________________

۱)۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشہور و معروف حدیث جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:صَلُّوا کَمٰا رَئَیتُمُونی أُصَلِّی (جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو ، اس طرح نماز پڑھو۔

۲)۔توبہ ١٠١

۳)۔ صحابی کے بارے میں جمہور کی تعریف ملاحظہ ہو:الصّحابی من لقٰی النّبی مومناً به و مات علی الاسلام، فیدخل فی من لقیه من طالت مجالسته له او قصرت، و من روی عنه اولم یرو، و من غزامعه اولم یغز، ومن رء اه رویة ولو لم یره لعارض کالعمی (و انه لم یبق بمکة ولا الطائف احد فی سنه عشر الا اسلم و شهد مع النبی حجة الوداع، و انه لم یبق فی الاوس والخزرج احد فی آخر عهد النبی الادخل فی الاسلام و ما مات النبی و واحد منهم یظهر الکفر) ملاحظہ ہو ابن حجر کی کتاب ''الاصابہ فی معرفة الصحابہ'' جلد اول کا مقدمہ ص١٣ اور ١٦۔


تفسیر قرآن ، اسلامی احکام اور دیگر علوم اور معارف اسلامی کے سلسلے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث ، فرمائشات اور سیرت بیان کرنے والے ہی کیوں نہ ہوں !

چونکہ اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی زندگی کے بارے میں معرفت حاصل کرنا حقیقت میں اسلام کی معرفت ہے،اس لئے ہم نے ان دونوں کی زندگی پر تحقیقات شروع کی۔ ان کی نجی زندگی ، باہمی میل ملاپ، تازہ مسلمانوں سے سلوک ، غیر مسلم اقوام سے تعلقات ، فتوحات اور ان کے ذریعہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام سے روایتیں نقل کرنے کے موضوعات کو مورد بحث و تحقیقات قرار دیا اور دسیوں سال کے مطالعہ اور تحقیق کے نتیجہ میں میرے سامنے حیرت انگیز مطالب واضح ہوئے ۔معلوم ہواکہ سیرت ،تاریخ اور حدیث کی روایتوں میں اس قدر غلط بیانی اور خلط ملط کی گئی ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ قاتل کو مقتول، ظالم کو مظلوم، رات کو دن اور دن کو رات دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے ۔ مقدس اور پارسا ترین صحابی ، جیسے ،ابوذر،عمار ،حجر ابن عدی کا بدکار ،احمق ، ساز شی اور تخریب کار کے طور پر تعارف کرایا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں معاویہ ، مروان بن حکم ،ابوسفیان اور زیاد جیسے افراد کو پاک دامن، بے گناہ اور خدا پرست کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث و سیرت کے بارے میں اس قدر جھوٹی اور بیہودہ حدیثیں اور افسانے گھڑے گئے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے صحیح اسلام کا اندازہ لگانا ناممکن بن گیا ہے۔یہی جعلی اور جھوٹی احادیث ، اسلام کے چہرے پر بدنما داغ بن گئی ہیں ۔ملاحظہ ہو ایک مثال:


حضرت عائشہ سے ایک روایت:

تیمم سے مربوط آیت کی شان نزول کے بارے میں صحیح بخاری ، صحیح مسلم، سنن نسائی ، موطاء مالک ، مسند احمد، ابوعوانہ ، تفسیر طبری اور دیگر موثق و معتبر کتابوں میں ام المؤمنین عائشہ سے اس طرح روایت ہوئی ہے:

عائشہ نے کہا:پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسافرتوں میں سے ایک سفر میں ہم مدینہ سے باہر آئے اور مقام ''بیدائ'' یا ''ذات الجیش''پہنچے۔(حموی نے دونوں مقام کی تشریح میں کہا ہے کہ یہ مدینہ کے نزدیک ایک جگہ ہے ، جہاں پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی پر عائشہ کے گلے کے ہار کو ڈھونڈنے کے لئے اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤڈالا تھا)عائشہ نے کہا:

وہاں پر میرے گلے کا ہار گرکر گم ہوگیا تھا۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی تلاش کے لئے وہاں رُکے اور لشکر نے بھی پڑاؤڈالا۔ اس سر زمین پر پانی نہ تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا ۔ صبح ہوئی ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میری آغوش میں سر رکھے سوئے ہوئے تھے !!ابوبکر آئے اور مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تمام لشکر کو تم نے یہاں پر اسیر کر رکھا ہے، نہ لوگوں کے پاس پانی ہے اور نہ یہاں پر پانی ملنے کا امکان ہے...ابوبکر نے جی بھر کے مجھ سے تلخ کلامی کی، اور جو منہ میں آیا مجھے کہا اور اپنے ہاتھ اور انگلیوں سے میرے پہلو میں چٹکی لیتے تھے،میری آغوش میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سرتھا، اس لئے میں ہل نہیں سکتی تھی۔!!

اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نیند سے بیدار ہوئے،پانی موجود نہیں تھا.خدائے تعالیٰ نے آیۂ تیمم نازل فرمایا۔اسید بن حضیر انصاری نے کہا: یہ آپ خاندان ابوبکر کی پہلی خیر و برکت نہیں ہے جو ہمیں نصیب ہورہی ہے.یعنی اس سے پہلے بھی ، خاندان ابوبکر ، کی خیر و برکت ہمیں نصیب ہوتی رہی ہے.میرے والد ، ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم ! مجھے معلوم نہیں تھا میری بیٹی ! کہ تم کس قدر خیر و برکت سے مالامال ہو! اس وقت جو تم یہاں پر مسلمانون کے رُکنے کا سبب بنی تو خدائے تعالیٰ نے تیری وجہ سے ان پر کس قدر برکت نازل کی اور ان کے کام میں آسانی عنایت فرمائی !

صحیح بخاری کی روایت اور دوسروں کی روایتوں کے مطابق، عائشہ نے کہا: آخر کار جب میرے اونٹ کو اپنی جگہ سے اٹھایا گیا ، تومیرے گلے کا ہار اس کے نیچے مل گیا۔

ہم نے اس حدیث پر کتاب ''احادیث عائشہ'' میں تفصیل سے بحث و تحقیق کی ہے، اس لئے یہاں پر اس کے صرف ایک حصہ پر بحث کرتے ہیں ۔(۱)

____________________

۱)۔ملاحظہ ہو مؤلف کی کتاب ''احادیث شیعہ ''حصہ دوم فصل ''المسابقة والتیمم والافک''۔


عائشہ کی روایت پر تحقیق:

اولاً ، کہاگیا ہے کہ یہ واقعہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غزوہ ٔبنی مصطلق سے واپسی پر رونما ہوا ہے،

یعنی جنگ ِاحزاب جوجنگ خندق کے نام سے مشہور ہے کے بعد یہ جنگ (غزوہ بنی المصطلق )

٦ ھ میں واقع ہوئی ہے ۔اس غزوہ میں مہاجر وانصار کے درمیان کنویں سے پانی کھینچنے کے مسئلہ پر اختلاف رونما ہوا اور نزدیک تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں ،اس لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشکر کوبے موقع کوچ کرنے کاحکم دیا تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اصحاب کے درمیان اس احتمالی ٹکراؤ کو روک سکیں ۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سفر میں کسی جگہ پڑاؤ نہیں ڈالتے تھے ،مگر یہ کہ نماز کے وقت،اور نمازادا کرنے کے وقت سے زیادہ نہیں رکتے تھے اس طرح رات گئے تک سفر کرتے تھے اور جب رات کے آخری حصہ میں کہیں رکتے تھے تو اصحاب تھکاوٹ سے نڈھال ہوکر سوجاتے تھے ۔رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لشکر کی اس غزوہ سے واپسی کے دوران ایسی حالت تھی کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ممکن نہیں تھا کہ بلا سوچے سمجھے صرف عائشہ کے گلے کے ہار کے لئے ،کہیں رات بھر کے لئے عائشہ کی روایت میں بیان شدہ صورت میں پڑاؤ ڈالتے ۔

اس کے علاوہ دوسری ایسی روایتیں بھی موجود ہیں جن میں اس آیت کی شان نزول ،ام المؤمنین کی بیان کردہ شأن نزول کے برخلاف ہے ۔ہم یہاں پر ان روایتوں کے بیان سے صرف نظر کرتے ہوئے اس سلسلے میں صرف قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں :


قرآن مجید میں دو جگہوں پر وضو وغسل اور ان کے بدل یعنی تیمم کاایک ساتھ ذکر ہواہے ۔

اولاً سورہ نسا کی ٤٣ویں آیت میں فرماتاہے:

( ''يٰااَيُّهَا الذَّینَ آمَنُوا لاٰتَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُکٰاریٰ حَتّٰی تَعْلَمُوا مٰا تَقُولُونَ وَ لاٰ جُنُباً اِلاّٰ عٰابِرِی سَبیلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوا وَ اِنْ کُنْتُمْ مَرْضیٰ اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ أَوْ جٰائَ اَحَد مِنْکُمْ مِنَ الْغٰائِطِ أَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسٰائَ فَلَمْ تَجِدُوا مٰائً فَتَیَمَّمُوا صَعیداً طَیِّباً فَامْسَحُوا بِوُجُوهِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ اِنَّ اللّٰهَ کٰانَ عَفُوّاً غَفُوراً'' ) (نسا٤٣)

ایمان والو ! خبردار نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جانا،جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم سمجھنے لگو کیا کہہ رہے ہو،اور جنابت کے حالت میں بھی (مسجد میں داخل نہ ہونا)مگریہ کہ راستے سے گزر رہے ہو ،جب تک غسل نہ کرلو اور اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو اور کسی کے پاخانہ نکل آئے ، یاعورتوں سے باہم جنسی ربط قائم کرو اورپانی نہ ملے توپاک مٹی سے تیمم کرلو ،اس طرح کہ اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو بیشک خدا بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

ثانیاً سورہ مائدہ کی چھٹی آیت میں فرماتاہے :

( ''یٰا اَیُّهَاالَّذینَ آمَنُوااِذٰاقُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِفَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَیٰ الْمَرٰافِقِ وَامْسِحُوابِرُء وسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْن وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا وَاِنْ کُنْتُمْ مَرْضیٰ اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ أَوْجٰائَ أَحَد مِنْکُمْ مِنَ الْغٰائِطِ اَوْلاٰمَسْتُمُ النِّسٰائَ فَلَمْ تَجِدُوامٰائً فَتَیَمَّمُواصَعیداًطَیِّباًفَامْسَحُوا بِوُجُوهِکُمْ وَأیْدِیْکُمْ مِنْهُ.....'' ) (مائدہ ٦)


ایمان والو !جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کواور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو دھوؤاور اپنے سر اور ٹخنے تک پیروں کامسح کرو اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرواور اگر مریض ہویا سفر کی حالت میں ہو یا پاخانہ وغیرہ نکل آیا ہے یاعورتوں سے باہم جنسی تعلق قائم کرو اور پانی نہ ملے توپاک مٹی سے تیمم کرلو ،اس طرح کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کامسح کرلو۔

اس لحاظ سے اسی وقت جب وضو اور غسل کاحکم بیان ہوا ،تیمم کاحکم بھی بیان ہواہے ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں نے ١٣ سال مکہ میں اور ٥سال مدینہ میں صرف وضواور غسل کیا اور انہیں کبھی تیمم کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی ہو یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ نے ام المؤمنین کے گلے کے ہار کی برکت سے مسلمانوں کو یہ سہولت عنایت کی ہو.!!

موضوع کی اہمیت:

ہم نے یہاں پر عائشہ کی حدیث کو نمونہ کے طور پر بیان کیا ہے ۔عائشہ کی اس حدیث میں آیہ ٔ کریمہ کی شأن نزول کی بات کی گئی ہے جو بذات خود علم تفسیر کاجزو ہے ،اور تیمم کی علت کے بارے میں تشریح بھی کی گئی ہے جو حقیقت میں احکام اسلام میں سے ایک حکم ہے اور اس کے علاوہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کی بات بھی کی گئی ہے کہ کس طرح رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی بیوی کی خوشنودی کے لئے جذبات میں آکر تمام مصلحتوں سے چشم پوشی کرکے لشکر اسلام کے ساتھ ایک خشک اور بے آب سرزمین پر صرف اپنی بیوی کے گلے کے ہار کے لئے صبح تک پڑاوکیا۔جب کہ کسی عام فوجی کمانڈر سے بھی اس قسم کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے چہ جائیکہ حکمت وبصیرت والے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے !! اور سب سے بڑھ کر اس حدیث سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس ناشائستہ وبے جاعمل پر اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تنبیہ اور سرزنش کرنے کے بجائے قرآن مجید کی ایک آیت نازل فرماکر تیمم کاحکم جاری کیا اور اس طرح مسلمانوں کی ایک گتھی حل کردی ۔

دشمنان اسلام اس حدیث اور داستان سے کیا نتیجہ لیں گے ؟!افسوس!کہ اس قسم کی احادیث جو اسلام کوحقیر وپست اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہلکا ،شہوت پرست اور کم عقل ثابت کرتی ہیں ،بہت ہیں ۔


ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس قسم کی احادیث کو ام المؤمنین عائشہ،ابوہریرہ اور دیگر اصحاب سے نسبت دینے کی تصدیق کریں اور کہیں کہ یہ نسبت سو فیصدی صحیح ہے ،ممکن ہے ان میں سے بعض کو زندیقیوں یا دیگر دشمنان اسلام نے دین میں تخریب کاری کے لئے جعل کرکے ان سے منسوب کردیاہو۔لیکن یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس قسم کی احادیث ،حدیث کی مشہورترین وصحیح کتابوں ،معتبر تفسیروں ،سیرت اور تاریخ کی موثق کتابوں میں درج ہیں ۔اس قسم کی احادیث حقائق کو اس حد تک الٹا دکھانے کی باعث بنی ہیں کہ خدا کی صفات کوغلط رنگ میں پیش کرکے مجسم ومرئی اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک شہوت پرست اور بے شعور اور قرآن مجید کو ناقص وقابل اصلاح صورت میں دکھایا گیاہے ۔(۱)

پروردگارا! مسلمانوں کے باور کئے گئے ان ہزاروں جھوٹ اور افسانوں کے مقابلے میں کیا کیاجائے ؟!ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکاہے کہ مسلمان ان افسانوں کے عادی بن کر ان پر اعتقاد رکھتے ہیں اور انھیں اسلام کی صحیح احادیث،پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سچی سیرت ،اسلام کی مؤثق تاریخ کے طور پر تسلیم کرچکے ہیں اور اسی سبب سے صحیح اسلام کو نہیں پہچان سکے ہیں !

خداوندا ! کیا ان منحرف شدہ حقائق کو چودہ سو سال کے بعد حقائق آشکار کرکے ہزاروں جرائم سے پردہ اٹھایاجائے یامسلمانوں کی عظیم اکثریت کی چاہت کے سامنے ہتھیار ڈال دئے جائیں اور خاموش تماشائی بن کر زبان پر مہر لگالی جائے؟!

بار الٰہا !کیا یہاں پر خاموشی اختیار کرنا ان تمام جرائم پر پردہ ڈالنے کے مترادف نہیں ہے؟

اور کیا خود یہ خاموشی سب سے بڑا گناہ نہیں ہے ؟جی ہاں !بیشک ان تمام جرائم کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا خود ان جرائم سے سنگین تر جرم ہے ۔اسی لئے حقیر نے حدیث وتاریخ ،حدیث کی شناخت اور اسلام کی صحیح تاریخ کے سلسلے میں میں بحث وتحقیق شروع کی ہے اور خدا کی خوشنودی کے لئے اس کی مدد سے قدم آگے بڑھائے ہیں ۔

اب قارئین کرام اور علوم اسلامی کے محققین کی خدمت میں کتاب ''خمسون ومائة صحابی مختلق'' کے مباحث کا پہلا حصہ پیش کیا جاتاہے ۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم

العسکری

تہران: ٢٤ جمادی الثانی ١٣٩٦ ھ۔

____________________

۱)۔مؤلف کامقالہ''سرگزشت حدیث ''ملاحظہ ہو۔


دوسرا حصہ :

کتاب کے مباحث :

٭سیف کو پہچانئے ۔

٭زندیق وزندیقان۔

٭مانی اور اس کا دین ۔

٭مانویوں کے چند نمونے ۔

٭یمانی و نزاری قبیلوں کے درمیان خاندانی تعصبات۔

٭نزار قبیلہ کے بارے میں سیف کا تعصب۔

٭اسلامی مأخذ میں سیف کی احادیث کا نفوذ ۔

٭سیف کی احادیث کے پھیلائو کے اسباب ۔

٭گزشتہ فصلوں کا ایک خلاصہ۔


سیف کو پہچانئے

یروی الموضوعات عن الا ثبات

سیف اپنے جعل کردہ جھوٹ کو معروف ومعتبر راویوں سے نسبت دے کر حقیقت کے طور پر نقل کرتا ہے ۔

) علمائے رجال (

اس بحث کے آغاز کا مقصد

١٣٧٥ ہجری میں جب کتاب '' عبد اللہ ابن سبا''پہلی بار چھپ رہی تھی ،میں اس کی شائع شدہ فصلوں کے باقاعدہ مطالعہ کے دور ان متوجہ ہوا کہ ابن سبااور سبائیوں کے افسانہ کے علاوہ اسلامی تاریخ کے مصادر میں اور بھی بہت سی داستانیں اور افسانے شامل کئے گئے ہیں یہی امر اس کا سبب بنا کہ تاریخ اسلام کے ان افسانوں میں ذکر شدہ بیشتر سور ماؤں کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھوں ۔

میں نے کتاب کی طباعت کو طویل عرصہ کے لئے ملتوی کردیا تاکہ اس موضوع کے بارے میں بیشتر تحقیق کروں ۔اس تحقیق وتجسس کانتیجہ یہ نکلا کہ اصحاب ،تابعین سپہ سالاروں ،شعراء اور


پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث کے راویوں میں ایسی بہت سی معروف اور تاریخی شخصیتوں کوپایا جن میں سے کسی ایک کا بھی حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔

اسی طرح بہت سی فرضی جگہوں اور سرزمینوں کے ناموں سے بھی سامناہوا کہ افسوس !ان کے نام جغرافیہ کی کتابوں میں بھی ذکر ہوئے ہیں ،جب کہ یہ سب خیالی افسانے گڑھنے والوں کی تخلیق تھے اور حقیقت میں ان کا کہیں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

اس کے علاوہ معلوم ہوا کہ اصل خبروں یاتاریخی واقعات کے سالوں میں بھی خود غرضانہ طور پر تحریفیں کی گئیں ہیں اور انہیں نام نہاد معتبرکتابوں میں درج بھی کیاگیا ہے۔

ہم نے ''کتاب عبداللہ بن سبا''کے مطالب کے ساتھ مجبوراًمذکورہ بحث کو اس کتاب کے ساتھ مربوط کیا اوران افسانوں میں سے بعض کواس میں نقل کیا اور ان میں سے بعض خیالی سور ماؤں کے بارے میں اشارہ پر اکتفا کرتے ہوئے کتاب کو پائے تکمیل تک پہنچادیا اور اسے ''عبداللہ ابن سبا۔مدخل ''یعنی اس تحقیق وبحث کامقدمہ قرار دیا۔

اس کتاب کی اشاعت کے بعد ،میں نے سکون واطمینان کے ساتھ افسانوں کے بارے میں مطبوعہ اور غیر مطبوعہ (قلمی)کتابوں اور نسخوں میں تحقیق وجستجو شروع کی اور اس کام کو اس حد تک جاری رکھا کے کہ خدائے تعالیٰ نے مختلف گروہوں کے افسانوی سور ماؤں کی قابل ذکر تعداد کی شناخت حاصل کرنے میں میری رہنمائی فرمائی ان میں بہت سے فرضی اور نام نہاد اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی نظر آتے ہیں ،یہ ایسے اصحاب اور سورما ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے اور یہ سب کے سب ،سیف بن عمر تمیمی وغیرہ جیسے مجرموں کے ہاتھوں ،اسلام اور اسلام کی تاریخ کے ساتھ غداری، حقائق کی پردہ پوشی مسلمانوں کے ذہنوں کو مشوش کرنے ،اسلام کے دشمنوں کی حوصلہ افزائی اور انھیں مشتعل کرنے کے لئے جعل و تخلیق کئے گئے ہیں ۔

ہم نے تاریخ اسلام پر ہوئے ظلم کے ایک گوشے کو آشکار کرنے اور حقائق و واقعیات کے چہرے سے پردہ اٹھانے کے لئے جعلی اور افسانوی اصحاب کی رونمائی کو دیگر جھوٹے اور فرضی چہروں کی رونمائی پر ترجیح دی ،اور ان میں سے صرف ١٥٠اصحاب پر ہی اکتفا کی اور اس مجموعہ کا نام '' ١٥٠جعلی اصحاب '' رکھا جو آپ کے ہاتھ میں ہے ،جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ کتاب ''عبد اللہ بن سبا '' در حقیقت اس بحث میں داخل ہونے کی ایک دہلیز اور مقدمہ تھا۔

ہم نے کتاب عبد اللہ ابن سبا میں ثابت کردیا ہے کہ ابن سبا کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ سیف بن عمر تمیمی کی فرضی تخلیق ہے ۔اس طرح اس کتاب میں بھی قارئین کرام مشاہدہ کریں گے یہ اصحاب سیف بن عمر کے جعل کردہ افسانوی سورما تھے اور ان میں سے ایک بھی حقیقت میں وجود نہیں رکھتاتھا۔


سیف بن عمرکون ہے ؟

حقیقت میں یہ سیف کون ہے کہ جس نے اتنے اصحاب اور سورما اور تاریخی واقعات جعل کئے اور گڑھے ہیں ؟اس کے جھوٹ سچائی میں تبدیل ہوگئے ہیں ، افسانے حقیقت میں بدل گئے ہیں اور اس کے مذاق سو فیصدی سنجیدہ مطالب کی صورت میں تاریخ کی معتبر کتابوں میں درج کئے گئے ہیں ؟!

ہمیں افسوس ہے کہ سیف کی کوئی تصویر ہماری دست رس میں نہیں ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اس کی مکمل سوانح حیات بھی دستیاب نہیں ہے جس سے اس کے خاندان ،تربیت کے ماحول اور علمی قابلیت کے بارے میں پتہ چلتا جس کے ذریعہ ہم اس غیر معمولی افسانہ ساز اور جھوٹ گڑھنے والے کی تصویر اپنے ذہن میں مجسم کرتے ۔لیکن اس کے باوجود بعض علما اور دانشوروں کی تألیفات نے اس کی طرز تفکر ،دینی اعتقادات اور دیگر اخلاقی خصوصیات کے بارے میں ہماری راہنمائی کی ہے ۔

کتاب ''عبد اللہ ابن سبا ''میں ہم نے پڑھا کہ علماء نے سیف کی زندگی کے حالات کے بارے میں لکھا ہے کہ :وہ بغدادی اور دراصل کوفی تھا ،اس کی احادیث اور بیانات کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے بلکہ ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں ۔سیف کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس کی احادیث جھوٹی اور جعلی ہیں ،اور وہ اپنی حدیثوں کا خود اور تنھا راوی ہے بالآخر سیف ایک زندیق (مانوی مذہب کا پیروکار) ہے ۔جس نے'' فتو ح وردہ ''اور'' جمل وعلی وعائشہ کی راہ''نام کی دو کتابیں تألیف کی ہیں ۔ اور کہا گیا ہے کہ سیف ١٧٠ ہجری میں عباسی خلیفہ ھارون رشید کے زمانے میں فوت ہوا ہے ۔ ١

گزشتہ بحث میں درج ذیل مطالب ہمارے مد نظر ہیں :

اول :۔سیف بن عمر در اصل کوفی اور بغداد کا رہنے والاتھا۔

دوم:۔علمائے رجال نے اسے زندیق (مانوی مذہب کاپیروکار ) جاناہے۔

سوم:۔علماء اس بات پر متفق ہیں کہ سیف،احادیث اور داستانوں کوخود جعل کرتاتھا،وہ افسانہ ساز اورجھوٹ گڑھنے والاتھا۔خداکی مددسے اس کتاب کی آیندہ فصلوں کے ضمن میں اس موضوع پر بحث وتحقیق کی جائے گی ۔

چہارم:۔''جمل''و''فتوح''کے نام سے تألیف کی گئی اس کی دو کتابیں تاریخ اسلام کی اہم مصادر قرار پائی ہیں اور ابھی تک ان سے استناد بھی کیا جاتاہے۔

پنجم :۔اس کی تاریخ وفات کو عباسی خلیفہ ہارون رشید کے زمانے میں تقریباً ١٧٠ ہجری ذکر کیاگیا ہے جب کہ درج ذیل موارد سیف بن عمر تمیمی کے عصر کے ادبی نشاط کے مظہر ہیں :


احادیث سیف کی پیدائش کازمانہ

درج ذیل موارد سیف کے عصر ِاحادیث کے مظہر ہیں :

اولاً:۔ابو مخنف لوط بن یحییٰ،وفات ١٥٧ھ ،نے سیف بن عمر کی کتاب کے بارے میں اشارہ کرکے اس سے نقل بھی کیا ہے ،اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ سیف کی کتاب ،ابو مخنف کی وفات سے پہلے لوگوں کے در میان پھیل گئی تھی۔(۱)

ثانیاً:۔ہم دیکھتے ہیں کہ سیف کی احادیث ،بنی امیہ کے سردار وں اور ان کے خاندان کی مدح و ستائش سے مالا مال اور ان کے فضائل و مناقب کے بارے میں عجیب و غریب افسانوں سے پر ہیں ،(جب کہ سیف کی روش کے مطابق ) عباسیوں کے حق میں کسی حدیث کا تقریبا کوئی اثر موجود نہیں ہے یہ موضوع ہمیں یہ قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ سیف کی احادیث کی جعلی سازی کا زمانہ عباسیوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے تھا ،کیوں کہ عباسیوں کی خلافت کا دور امویوں کے قتل عام ، ان پر اور ان کے حامیوں پر سختی اور دبائو کا زمانہ تھا ،حتٰی ان کی قبروں کو کھود کر ان کے اجساد کو باہر نکالا جاتا تھا اور ان میں آگ لگائی جاتی تھی ۔ان حالات میں بنی امیہ کے حق میں افسانے اور جھوٹے فضائل گڑھ کر ان کی تبلیغ کرنے یا صحابہ و تابعین کی اہم شخصیتوں میں بنی امیہ کے دشمنوں کے دامن کو داغدار بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

سیف کی احادیث گڑھنے کے زمانہ کو معین کرنے میں درج ذیل داستان ہماری مدد کرتی ہے۔

____________________

۱)۔ شیخ مفید ،وفات ٤١٢ ھ اپنی کتاب '' جمل '' کے صفحہ ٤٧ پر داستان جنگ بصرہ کو ابو مخنف کی کتاب ''حرب البصرہ '' سے یوں نقل کرتے ہیں :

'' سیف بن عمر نے محمد بن عبد اللہ بن سواد اور اعلم کے بیٹے طلحہ اور ابو عثمان (ان سب ) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا ہے : جب عثمان قتل ہوئے ،شہر

مدینہ میں پانچ دن تک '' غافقی '' کے علاوہ کوئی حاکم نہ تھا ....''

طبری نے اسی روایت کو انہی اسناد سے اسی عبارت کے ساتھ اپنی تاریخ کی جلد ٥ صفحہ ١٥٥پر ذکر کیا ہے ،جب کہ ہم جانتے ہیں طبری نے سیف کی احادیث کو اس کی دو کتابوں ''فتوح '' اور ''جمل'' سے نقل کیا ہے ۔

شیخ مفید نے سیف کی ایک اور روایت ،اپنی کتاب کے صفحہ ٤٨پر ابو مخنف سے نقل کی ہے چوں کہ ابو مخنف نے سیف کی باتوں کو اس کانام لے کر اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ،اس لئے یہ واضح ترین دلیل ہے کہ سیف بن عمر کی کتاب ابو مخنف کی وفات ( ١٥٧ھ) سے پہلے لوگوں کے درمیان موجود تھی''


طبری نے اس داستان کو سیف سے نقل کرتے ہوئے ٢ ٢ ھ کے حوادث کے ضمن میں ساسانیوں کے آخری فرماں روا یزد گرد کے خراسان کی طرف اس کے سفر کے بارے میں یوں روایت کی ہے :

''جنگ جلولا ء میں ایرانیوں کے شکست کھانے کے بعد یزد گرد نے رے کی طرف پسپائی اختیار کی ۔اس پسپائی کے دوران وہ اونٹ کی پشت محمل میں ہی چھپارہتا تھا اور نیچے نہیں اترتا تھا ، حتی وہیں پرسوتا تھا، کیونکہ اس کے سپاہی خطرات سے بچنے کے لئے کسی جگہ پر رات کو بھی توقت نہیں کرتے تھے۔اس دوران اس کے سپاہی ایک جگہ پانی کے کنارے پر پہنچے اور جاہتے تھے اونٹ کو لے کر پانی سے گزرجائیں .لیکن اس خوف سے کہ اونٹ کے ہلنے سے یزدگرد بیدار ہوکر ان پر برہم ہوجائے گا اور انھیں سزا دے گا .انہوں نے مجبوراًاسے نیندسے بیدار کیا، تا کہ وہ حالات سے آگاہ ہوجائے.یزد گرد بیدار ہوا اور ان پر بگڑپڑا اور کہنے لگا: تم لوگوں نے بہت برا کام کیا ! خدا کی قسم اگر مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیتے تو مجھے معلوم ہوجاتا کہ اس امت کی سربلندی کا ستارہ کب ڈوبنے والا ہے۔ کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے ساتھ صلاح مشورہ کررہے ہیں خدا کہتا تھا: اس امت کو ایک سو سال کی فرصت دیتا ہوں ۔محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا: اس سے زیادہ! خدا نے کہا: ایک سودس سال، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر کہا:اور بھی، خدا نے کہا: ایک سوبیس سال ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا: خود جانئے !اسی وقت تم لوگوں نے مجھے بیدار کردیا۔اگر ایسا نہ کرتے تو میں سمجھ جاتا کہ اس امت کی مدت کتنی ہے۔٢

اب ہم دقت کے ساتھ اس حدیث کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں :

سیف کہتا ہے کہ یزد گرد نے ''اﷲ'' کی قسم کھائی ، جبکہ یزد گرد زرتشی اور دوگانہ پرست تھا۔مجوسی لفظ ''اﷲ'' جو عربی ہے کو نہیں جانتے اور اس کی قسم نہیں کھاتے .بلکہ ان کا ایمان ''اہورامزدا'' پر ہے اور وہ آتش مقدس ، سورج اور چاند کی قسم کھاتے ہیں ۔ اللہ کی قسم کھانا مسلمانوں کی خصوصیت ہے کہ سیف نے ان ہی میں پرورش پائی تھی اور ان سے خوپیدا کرچکا تھا. اس لئے یزدگرد کی قسم میں اس نے اللہ کے نام کی نسبت دی ہے.


یزدگرد محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سچا نہیں جانتا تھا اور انھیں اس قابل نہیں جانتا تھا کہ انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خدا کے ساتھ صلاح و مشورہ کے لئے بیٹھے.حقیقت میں یہ حدیث سیف کے اسلامی ماحول ، اس کے تخیلات کے طرز اور اس کے اپنے فکر و ذہن میں تخلیق کئے گئے اسلام کی عکاسی ہے.کیونکہ مسلمان تو اپنے دین کے قیامت تک باقی رہنے کا ایمان و اعتقاد رکھتے ہیں اور سیف اسلام کی بقا کی ایک حد مقرر کرتا ہے اور اپنی دلی تمنا کو کسریٰ کی زبانی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ''اگر مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیتے تو مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس امت کی مدت کتنی ہے''۔!!

شائد وہ امت اسلامیہ کی نابودی کو''مانویوں '' کی فعالیت کے سائے میں دیکھتا تھا ، جن کے بارے میں خود بھی بخوبی آگاہ تھا کہ وہ اسلام کی بنیادوں کو نابود کرنے کی کس قدر کوشش کر رہے ہیں ۔ خود سیف بھی ان ہی میں سے ایک اور ان کا حامی تھا یا ملک روم و غیرہ جیسی بیرونی جنگوں سے اُمید باندھے ہوئے اپنی آرزو کی تکمیل کا منتظر تھا۔

بہر حال سیف اسلام کی بقا و پایداری نہیں چاہتا تھا اور اسے اطمینان تھا کہ اس مدت سے زیادہ جسے خود اس نے محسوس کیا وہی اس کااپنا زمانہ بھی تھا سے زیادہ (اسلام ) باقی و پائیدار نہیں رہے گا. اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے ساتھ سہ رکنی جلسہ میں ١٢٠سال کی حد بندی زمانہ کے اعتبار سے اس حدیث کی جعل سازی کی مظہر ہے۔

خلاصہ یہ کہ:

ابو مخنف (وفات:١٥٧ھ)نے سیف سے روایت نقل کی ہے اور اس مطلب کی تائید کرتا ہے کہ سیف اس تاریخ (١٥٧ھ) سے پہلے زندہ اور سرگرمِ عمل تھا۔

عباسیوں کے ذکر کے بجائے خاندان بنی امیہ کی عظمت و منزلت کی مدح و ستائش کرنا اور اُن کی طرفداری کا دم بھرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ احادیث عباسی خلفاء کے اقتدارمیں آنے سے پہلے جعل کی گئی ہیں ۔ کیونکہ خلفائے بنی عباس کے زمانے میں امویوں کا اجتماعی طور پرقتل عام کیا جاتا تھا اور ان کے حامیوں کا تعاقب کرکے انھیں اذیتیں پہنچائی جاتی تھیں ۔


نتیجہ :

گزشتہ مطالب کے پیش نظر،مجموعی طور پر یہ نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ سیف کے چھوٹ اور افسانے گڑھنے کی سرگرمیوں اور نشاط کا زمانہ دوسری صدی ہجری کے آغاز کا دور تھا، اور سیف کی وفات کو ١٧٠ ھ کے بعد ذکر کرنے والے تنہا شخص ،''مزی ''کا قول اور ذہبی کا اس کی تاریخ وفات کو ہارون رشید کا زمانہ بیان کرنا ، اس حقیقت کو رد نہیں کرتا ۔ کیونکہ اگر مزی اور ذہبی کا کہنا صحیح ہوتو ، سیف اپنی کتابوں کی تألیف کے بعد چالیس سے پچاس سال تک زندہ رہاہے.

ان حقائق کے پیش نظر کہ سیف کی تالیفات کا دور دوسری صدی ہجری کے ابتدائی ایک چوتھائی زمانہ سے مربوط تھا، اور یہ کہ وہ قبیلہ مضر کے خاندان تمیم سے تعلق رکھتا تھا۔ کوفہ کا رہنے والاتھا اور اس کا اصلی وطن عراق تھا، اس کی شخصیت کی بنیادوں ، اس کے عزائم اور اس کے حیرت انگیز افسانوں کی تخلیق و ایجا د کے عوامل و اسباب کے بارے میں تحقیق و مطالعہ آسان بنادیتا ہے.

سیف کے زمانہ کی خصوصیت:

سیف کا عصر ، ایسا زمانہ تھا جس میں تمام اسلامی شہروں میں قبیلہ پرستی، خاندانی تعصبات ، ان کے آثار کا تحفظ اور ان پر فخر و مباہات کرنا شد و مد کے ساتھ رائج تھا ۔یہ وہ مطلب ہے جس پر ہم آئندہ روشنی ڈالیں گے ۔

اس بیہودہ تعصب کے علاوہ سیف کا وطن (عراق) خاص طور پر مانویوں زندیقیوں کے پھلنے پھولنے اور ان کی خود نمائی کی آماجگاہ تھا۔

اس لئے اگر ہم سیف کی افسانہ سازی کے اصل محرک کی شناسائی کرنا چاہیں تو ہم مذکورہ بالا دو موضوع کے بارے میں خصوصی طور پر الگ الگ بحث و تحقیق پر مجبور ہیں ۔

ہم اس بحث کو پہلے ''زندیق'' اور ''زندقہ'' کی تعریف سے شروع کرتے ہیں ،کیوں کہ سیف کی جائے پیدائش میں اس مذہب کے اعتقاد کے بھر پور پھیلائو اور رواج کے علاوہ خود سیف بھی اس سے جدا نہ تھا ۔خاص طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ علماء اور دانشوروں نے اپنی تالیفات میں سیف کا زندیق کے عنوان سے تعارف کرایا ہے اور یہ امر بذات خود اس کے تمام افسانے ،اصحاب


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بہادروں کے جعل کرنے کے محرکات کی کافی حد تک توجیہ کر سکتا ہے ۔

زندیق اور زندیقان

المقصود من الزنادقة هم اتباع مانی

زندیقیوں سے مراد ''مانی '' کی پیروی کرنے والے ہیں ۔

) متن کتاب (

لفظ زندیق کی بنیاد :

لفظ ''زندیق '' کی بنیاد ،فارسی ہے ،مسعودی کہتا ہے :

''زردشت'' نے اپنی کتاب کا نام '' اوستا'' رکھا اور اس کی ایک تفسیر لکھی ،جو ''زند'' کے نام سے مشہور ہے ۔اس لئے اگر کوئی ان کے مذہب کے اصول کے خلاف کچھ بیان کرے یا اصل کی تفسیر کرے تو ایرانی اسے ''زندی'' کہتے ہیں ،یعنی وہ جس نے ظاہر کتاب اور تنزیل کے خلاف اس کی تفسیر پر اکتفا کی ہو ۔اسی وجہ سے ''مانی '' جس نے بہرام کی بادشاہی ( ٢٤٠ ٢٧٧ع)کے دوران ظہور کیا تھا اور ایک جماعت نے اس کی پیروی کی تھی ،وہ لوگ ''زندی '' یا منحرف کے نام سے مشہور ہوئے ۔'' ١

عربوں نے لفظ ''زندی'' کو اپنی زبان میں منتقل کرکے اسے ''زندیق'' پڑھا اور یہ لفظ ''زندیق '' ''مانی'' کے پیرئوں کے لئے اسم علم بن گیا ،جنھیں ''زنادقہ'' کہتے ہیں ۔

ایک مستشرق کہتا ہے:

''لفظ ''زندیق '' اصل میں ''صدیق'' ٢ تھا ،جو صدیقین کا واحد ہے ،یہ مانویوں کا ایک فرقہ ہے لفظ ''صدیق'' فارسی میں '' زندیک '' تبدیل ہوا اور دوبارہ عربی میں منتقل ہو کر ''زندیق'' بن گیاہے'' ٣


ہم اصلی لفظ فارسی ''زندیق ''کے سلسلے میں محققین کے نظریات کے بارے میں اسی پر اکتفا کرتے ہیں :

عربی زبان میں ''زندیق''

عربی زبان میں ''مانی '' کے پیرئوں کو ''زندیق'' کہا جاتا تھا ۔یہ لوگ دنیا کو ازلی طور پر نورو ظلمت پر مبنی جانتے تھے ،اسی لئے ان کو دوگانہ پرست بھی کہا جاتا تھا ۔

اس کے بعد یہ نام مادہ پرستوں کے لئے اطلاق ہوا جو خدا ،پیغمبر وں اور آسمانی کتابوں کے منکر ہیں اور دنیا کے ابدی ہونے کے معتقد ہیں اور آخر ت و عالم ماورائے طبیعت کے منکر ہیں ۔

اس کے بعد یہ نام ان لوگوں پر اطلاق ہوا جو اصول دین میں سے کسی ایک کے منکر ہوں یا ایسا اظہار نظر کریں جس کے نتیجہ میں اصول عقائد میں سے کسی ایک کے منکر ہونے کا سبب بنے ۔ ٤

اس کے بعد یہ لفظ اپنی جہت بدل کر ہر اس شخص پر اطلاق ہونے لگا جو مذہب اہل سنت کا مخالف ہو ۔ بالاخر یہ لفظ ہر اس بیہودہ گو ،بے شرم و بے حیا شاعر کے لئے کہا جانے لگا جو بلا لحاظ معشوق کا دم بھرتا ہے یا اسی قسم کے ہر قلمکار یا اس کے طرفداروں پر اطلاق ہونے لگا۔(۱)

____________________

۱)۔اسی طرح دائرة معارف اسلامی میں ''زیدیقان'' کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کچھ اور نظریات موجود ہیں کہ ہم ان کو


دربار خلافت میں ''زندیق '' کی تعریف :

شائد ''زندیقیوں '' کے بارے میں کی گئی قدیمی ترین اور سرکاری تعریف وہ ہے جو عباسی خلیفہ مھدی نے اپنے بیٹے اور ولی عہد موسیٰ کے نام درج ذیل وصیت نامہ میں بیان کی ہے ۔

ایک زندیق کو عباسی خلیفہ مھدی کے حضور لایا گیا خلیفہ نے اس سے توبہ کرنے کو کہا ۔چوں کہ اس زندیق نے خلیفہ کی بات ماننے سے انکار کیا لہٰذا خلیفہ نے حکم دیا کہ اس کا سر تن سے جدا کر کے جنازہ کوسولی پر لٹکا دیا جائے اس واقعہ کے بعد خلیفہ نے اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا:

'' اے فرزند !اگر میرے بعد تمھیں خلافت ملی تو صرف زندیقیوں پر توجہ دینا کیوں کہ یہ گروہ لوگوں کی توجہ کو بعض ظاہر ی خوشنما اور اچھے لیکن دل فریب امور ،جیسے دنیا سے کنارہ کشی اور آخرت کی طرف رغبت کی دعوت دیتے ہیں ،حتٰی لوگوں کو اس بات کا معتقد بناتے ہیں کہ گوشت کو حرام جانیں اور پاک پانی کو نہ چھوئیں ،کیڑوں کو مارنا حرام جانیں بالاخر وہ لوگوں کو دوگانہ پرستی پر مجبور کرتے ہیں ۔اس طرح نو و ظلمت کی پرستش کرتے ہیں اور ان حالات میں اپنے محارم ،جیسے بہن اور بیٹیوں سے ازدواج کرنا جائز سمجھتے ہیں ،اپنے آپ کو پیشاب سے دھوتے ہیں اور بچوں کو اس لئے راستے سے چرالیتے ہیں تاکہ ابلیس کی ظلمت سے نجات دے کر انھیں نور و روشنی کی طرف راہنمائی کریں ۔

جب میرے بعد خلیفہ بن جائو تو کسی ترحم کے بغیر ان کو پھانسی پر لٹکا نا اور انھیں تہ تیغ

____________________

صحیح نہیں سمجھتے ہیں از جملہ '' زندقہ '' عربی شکل میں ''زند گر '' یا ''زندہ گر'' ہے یعنی ا صل ا بدیت کے اعتقادات کی وضاحت کرنے والا یا ''زندہ کرد'' دین کا مجدد اور اس کا احیا کرنے والا یا '' زن دین'' کا معرب یعنی عورتوں کے دین کا مظہر ہے یا ''زندیک '' کتاب ''زندمزدک '' کے پیرئوں کی علامت ہے کہ ان کا دین ،دین ''مانی '' کا مشتق ہے ۔


کرنا،اور ان کو قتل کرکے خداے یکتا کا تقرب حاصل کرنا ،کیوں کہ میں نے تمھارے جد عباس کو خواب میں دیکھا کہ انھوں نے مجھے دو تلوار یں حمائل کیں اور ان دو گانہ پرستوں کے قتل کا حکم دیا ''

جب موسیٰ اپنے باپ کے بعد خلیفہ بنا تو اس نے اپنے باپ کی وصیت پر عمل کرنے کی ٹھان لی وہ اسی کام کو انجام دینے میں مصروف تھا ۔اس نے اپنی خلافت کے دسویں ماہ میں کہا : '' خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا تو تمام زندیقیوں کو تہ تیغ کردوں گا اور ان میں سے ایک فرد کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا''

کہتے ہیں کہ موسیٰ نے حکم دیا تھا کہ اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک ہزار پھانسی کے پھندے تیار کئے جائیں تاکہ پہلے سے مقرر کردہ وقت پر ایک ہزار زندیقیوں کو پھانسی پر لٹکا دے ۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ اپنے اس منصوبہ پر عمل کرے اس دنیا سے چلا گیا۔(۱)

طبری نے عباسی خلیفہ مھدی کی وصیت کے ایک اور مورد کا ذکر یوں کیا ہے:

''جب دائود ابن علی عباسی اور خاندان حارث ابن عبد المطلب کے یعقوب(۲) ابن فضل حارثی کو اس (مھدی) کے پاس حاضر کیا گیا اور ان دونوں نے زندیقی ہونے کا اعتراف کیا ۔ یعقوب نے کہا میں خلوت میں آپ کے سامنے زندیقی ہونے کا اعتراف کروں گا ،لیکن لوگوں کے سامنے کسی بھی صورت میں ''مانوی'' ہونے کا اعتراف نہیں کروں گا ،چاہے مجھے آپ قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالیں ۔ مہدی نے یعقوب کے جواب میں کہا : افسوس ہے تم پر !اگر آسمانوں کے پردے ہٹا دیئے جاتے اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ ''دین مانی'' حق ہے اور کسی قسم کا شک و شبہ بھی تمھارے لئے باقی نہ رہتا جب بھی تمھارے لئے سزاوار تھا کہ

____________________

۱)۔ کیا خلیفہ کے قتل میں زندیقیوں کا ہاتھ تھا ؟

۲)۔دائود اور یعقوب دونوں خاندان بنی ہاشم سے اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچازاد ے تھے۔


محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تعصب نہ رکھتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرفدار ی کو نہ چھوڑتے !اگر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ ہوتے تو آج تمھاری حیثیت کیا ہوتی ؟کیا ایسا نہیں ہے کہ اس صورت میں تم سادہ اور عام لوگوں میں سے ایک معمولی فردشمار ہوتے ؟ خدا کی قسم اگر میں نے اپنے خدا سے یہ عہد نہ کیا ہوتا کہ اگر مجھے خلافت عطا ہوئی تو بنی ہاشم میں سے کسی ایک کے بھی خون سے اپنے ہاتھ آلودہ نہ کروں گا ،تو تمھیں ایک لمحہ کے لئے بھی زندہ نہ رہنے دیتا! اس کے بعد اپنے ولی عہدموسیٰ سے مخاطب ہوکر کہا: اے فرزند !تجھے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تیرے اوپر ہے ،اگر میرے بعد خلافت پر پہنچے تو ان دونوں کو ایک لمحہ بھی زندہ نہ رکھنا!

دائود نے مہدی کے زندان میں وفات پائی ۔جب موسیٰ اپنے باپ کے بعد تخت خلافت پر بیٹھا تو اس نے اپنے باپ کی وصیت پر عمل کرنے کا حکم جاری کیا ۔اس کے بعد یعقوب پر ایک فرش ڈالا گیا اور لوگوں کی ایک جماعت اس پر بیٹھ گئی ۔اسی حالت میں اس نے دم توڑا ۔

یعقوب کی بیوی اور بیٹی نے بھی زندیقی ہونے کا اعتراف کیا ۔اس کی بیٹی حاملہ تھی اور اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے باپ سے حاملہ ہوئی تھی !عباسی خلیفہ موسیٰ کے حکم سے ان کے سر پر ایک ایسی چیز ماری گئی کہ خوف و وحشت سے دونوں نے جان دے دی۔ '' ٥

١٦٣ ہجری میں جب عباسی خلیفہ مہدی رومیوں سے موسم گرما کی جنگ کے لئے موصل کے اطراف میں رابق کے مقام پر پہنچاتو اس نے عبد الجبار محتسب کو اس علاقہ کے مانویوں کو گرفتار کرنے پر مامور کیا عبد الجبار نے اس حکم کی تعمیل میں ان میں سے بعض کو قتل کر ڈالا اور بعض کو پھانسی پر لٹکا دیا اور ان کی کتابوں کو چاقو سے پارہ پارہ کر دیا۔ ٦


طبری نے ان مطالب کے ذکر کے بعد ١٦٨ ہجری کے حوادث کے ضمن میں لکھا ہے :

''اس سال خلیفہ کی طرف سے زندیقیوں کو تلاش کرکے انھیں گرفتار کرنے پر خاص مامور عمر کلوازی نے وفات پائی اور حمدویہ ،یعنی میسان کارہنے والا محمد بن عیسیٰ اس کا جانشین مقرر ہوا ۔اور اسی سال عباسی خلیفہ مہدی نے بغداد میں زندیقیوں کا قتل عام کیا'' ٧

زندیقی کون تھے ؟

مسعودی ،مروج الذہب میں عباسی خلیفہ ،مامون کی تاریخ میں لکھتا ہے :

'' بصرہ کے بعض زندیقیوں کی خبر مامون کو پہنچی ۔اس نے حکم دیا کہ ان سب کو پکڑ کر مقدمہ چلانے اور سزا سنا نے کے لئے اس کے پاس حاضر کیا جائے بصرہ میں مانویوں کی پکڑ دھکڑ شدت سے شروع ہوئی ،ان کو گروہ کی صورت میں پکڑ کر بغداد روانہ کیا جاتا تھا۔

ان کو پکڑنے کے بعد جس دن بغداد روانہ کرنے کے لئے ایک جگہ جمع کیا گیا تھا ایک طفیلی انھیں اس حالت میں دیکھ کر اس خیال سے کہ یہ لوگ کہیں دعوت پر جا رہے ہیں چپکے سے ان کے ساتھ جا ملا جب مامور ین انھیں دریا کے کنارے ایک کشتی کی طرف لے گئے تو مفت خور نے خیال کیا کہ اس دعوت کے ساتھ سیرو سیاحت بھی ہے ۔ وہ خوشی خوشی ان کے ساتھ کشتی پر سوار ہو گیا۔

تھوڑی ہی دیر بعد طوق و زنجیر باندھنے کا سلسلہ جاری ہوا اور زندیقیوں کو ایک ایک کرکے زنجیر وں سے باندھا گیا ان کے ساتھ طفیلی کو بھی باندھا گیا اس وقت وہ مفت خور سوجنے لگا کہ یہ کیا ہوا کہ ولیمہ کے بجائے مجھے طوق و زنجیر کا سامنا کرنا پڑا؟اس نے پریشانی اور اضطراب کی حالت میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر پوچھا : آخر مجھے بتائو کہ تم لوگ کون ہو؟ انھوں نے جواب میں کہا: تم کون ہو کیا تم ہم میں سے نہیں ہو ؟! اس نے کہا : خدا کی قسم میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ میں ایک مفت خور اور طفیلی ہوں ۔آج جب گھر سے باہر آیاتو تم لوگوں کودیکھ کریہ خیال کیا کہ تمھیں کسی ولیمہ کے لئے جمع کیا گیا ہے اس لئے میں تم لوگوں کے ساتھ ملحق ہو گیا ۔جب کشتی پر سوار ہوئے تو خیال کیا کہ شائد کہیں سیر و سیاحت کے لئے کسی باغ میں لئے جا رہے ہیں اور میں اپنے لئے ایک مبارک دن تصور کر کے بہت خوش ہوا ،لیکن یہ سپاہی آگئے اور مجھے تم لوگوں کے ساتھ طوق و زنجیر سے باندھ دیا ،آخر مجھے بتائو کہ یہ ماجرا کیاہے؟


زندیقی یہ سن کر اس پر ہنس پڑے اور کہا : اب جب کہ تم ہمارے ساتھ آگئے ہو اور آہنی طوق و زنجیر میں ہمارے ساتھ باندھے گئے ہو تو جان لو کہ ہم ''مانوی '' ہیں ،مخبروں نے ہمارے بارے میں خلیفہ مامون کو خبر دے دی ہے ۔اس وقت ہمیں اس کے پاس لے جایا جا رہا ہے ۔جب ہم اس کے پاس پہنچائے جائیں گے ،خلیفہ ہم سے سوال کرے گا اور ہمارے مذہب کے بارے میں پوچھ تاچھ کرے گا ۔اس کے بعد ہمارا امتحان اس صورت میں لے گا کہ ''مانی'' کی تصویر ہمارے سامنے رکھی جائے گی تاکہ ہم اس پر تھوکیں اور اس سے نفرت و بیزاری کا اظہار کریں ۔اس کے بعد ہمیں حکم دے گا کہ ایک خاص پرندہ(۱) کا سر قلم کریں ۔جو بھی اطاعت کرکے اس کے حکم کی تعمیل کرے گا وہ نجات پائے گا اور خلیفہ اس کے ساتھ کچھ نہیں کرے گا ۔لیکن

____________________

ا۔ عربی میں ''طائر ماء الدرج'' آیا ہے اور معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کون سا پرندہ ہے۔


جو اس کے حکم کی تعمیل نہ کرے گا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے دین پر باقی رہنا چاہے گا اسے جلاد کے حوالے کر دیا جائے گا۔

لہٰذا ہم سے یہ بات سن لو کہ جب تمھاری باری آئے اور تم سے امتحان لینا چاہیں تو تم شروع میں ہی اپنے عقیدہ و دین کے بارے میں صاف صاف انھیں بتا دینا اس طرح تم یقینا نجات پائو گے !لیکن چوں کہ اس سفر میں تم ہمارے ساتھ مل گئے ہو اور تم نے کہا کہ ایک طفیلی ہو سنا ہے کہ طفیلیوں کے قصے دلچسپ ہوتے ہیں ،لہٰذا اس سفر میں ہمیں مفت خوروں کے چند قصے سنائو !

اسیروں کو بغداد پہنچا کر خلیفہ مامون کے دربار میں حاضر کیا گیا ۔ مامون نے نام لے کر ایک ایک کرکے انھیں بلایا ان کے مذہب کے بارے میں ان سے سوال کیا ۔ جواب میں وہ کہتے تھے ہم مسلمان ہیں ۔اس کے بعد انھیں ''مانی '' کے بارے میں نفرت و بیزاری کا اظہار کرکے اس کی تصویر پر تھوکنے کو کہا جاتا تھا اور اس طرح ان


کا امتحان لیا جاتا تھا ۔جب وہ ایسا کرنے سے انکار کرتے تھے تو انھیں جلاد کے حوالے کر دیا جاتا تھا ۔ آخر طفیلی کی باری آگئی فہرست کے مطابق زندیقیوں میں سے کوئی باقی نہ بچا تھا ۔مامون نے نگہبانوں سے اس کے بارے میں پوچھا ۔انھوں نے جواب میں کہا : ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے کہ ہم نے اسے ان کے ساتھ پایا ،اور آپ کی خدمت میں لے آئے ۔خلیفہ نے طفیلی سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ بات کیا ہے ؟اس نے جواب میں کہا:اے امیر المومنین !اگر میں ان کے بارے میں کچھ جانتاہوتاتو میری بیوی مجھ پر حرام ہو!(۱) میں ایک طفیلی اور مفت خورہوں

____________________

۱)۔ اہل سنت میں قسموں میں سے ایک قسم بیوی کی طلاق کی قسم ہوتی ہے کہ اگر اس نے جھوٹی قسم کھائی ہوتو اس کی بیوی مطلقہ ہوجاتی ہے۔طفیلی نے خلیفہ کے حضور میں بیوی کی طلاق کی قسم کھائی تھی۔


اس کے بعد اس نے مامون کو اپنی داستان سنائی۔مامون نے ہنستے ہوئے حکم دیا ''مانی '' کی تصویر لاکر اس کے سامنے رکھی جائے ۔طفیلی نے مانی پر لعنت بھیجی اور اس سے نفرت وبیزاری کااظہار کیا اورکہا: تصویرکو میرے حوالہ کردو تا کہ اس پر نجاست کروں ،خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ مانی کون ہے ؟ یہودی ہے یا مسلمان ؟! ٨

مذکورہ بیانات سے یہ مطلب واضح ہو جاتا ہے کہ زندیقیوں سے مراد وہی مانی کے پیرو ہیں ، اگر چہ یہ نام بہت نادر موارد میں اس کے علاوہ بھی استعمال ہوا ہے ۔

یہ واضح ہونے کے بعد کہ زندیقی ،حقیقت میں مانی کے پیرو تھے اور وہی ان کی بنیاد ہے،اب اس کی باری آتی ہے کہ ہم دیکھیں کہ خود''مانی''کون ہے اور اس کادین ،کیسا ہے ؟!!


مانی اور اس کادین

مانی کون ہے؟

استخرج مانی من ادیان آراء فلسفیة مختلفة دیناً واحداً عجیباً

''مانی نے مختلف ادیان اور فلسفوں سے ایک نیااور عجیب دین ایجاد کیا''۔

) مؤلف (

''مانی ''ابن ''بتک'' ٢١٦ع میں بابل کے شہروں میں سے ''رہایکی ''نام کے ایک شہر میں پیدا ہواہے۔

مانی ،جس کے پیر ٹیڑھے تھے ،نقاشی میں انتہائی ماہر اور بہترین خطاط تھا۔اس نے خود ایک خط اور بعض مخصوص لغات اور اصطلاحات ایجاد کئے تھے ،پھر اس نے اپنی تمام تالیف بجز ''سابرقان '' جو اس نے فارسی میں لکھی ہے کو اپنے ایجاد کردہ خط میں سریانی زبان میں لکھا ہے ۔

مانی کا باپ،''بتک''پہلے بت پرست تھا،بعد میں دین ''دیصان '' ٩ قبول کیا مانی اسی دین میں پرورش پائی دین ''دیصان '' نے اس کے افکار پر گہرا اثر ڈالا۔

مانی نے چوبیس ٢٤ سال کی عمر میں پیغمبری کا دعویٰ کیا ١٠ اور مختلف ادیان ،جیسے : زردشتی،ماندائید صابئہ ملسان،ہلینیسم (جو کہ اسکندر کے بعد یونان کا فلسفہ اشراق ہے)بودھ مذہب اور گنوسیزم سے کچھ چیزیں لے کر ایک سانچے میں ڈال کر ایک ایسا عجیب معجون تیار کیا جس میں سے ہر ایک اپنی دلخواہ چیز حاصل کرسکتاتھا،جیسے:پرہیزگاری ،دنیاسے کنارہ کشی،گناہوں کااعتراف،نماز وروزہ جیسی عبادات اوراوراد واذکار وغیرہ....


اس کے علاوہ ہر موضوع ،جیسے :علم ہیئت ،جغرافیہ،علوم طبیعت ،فزیکس،کمسٹری،حیوانات نباتات اور انسانوں کی شناخت ،فرشتوں ،جنات اور دیگر موجودات کی پیدائش ،دنیا کی عمر اور اس کی انتہا کے وقت کے بارے میں ہر مشکل سوال کا توہماتی طریقے سے،عقل ومنطق اور علمی معیار کے خلاف جواب موجود تھا۔

گنوسیزم جو دین مانی کی بنیادی اجزاء کو تشکیل دیتاہے خود ایک خاص دین تھا ،جو ایران اور قدیم یونان کے درمیانی علاقوں کے باشندوں کے اعتقادات اور دین ہلینیسم کی آمیزش سے وجود میں آیا تھا اور بطور خلاصہ عبارت ہے:

دنیا پر حاکم دو بنیادی اصلوں یعنی خیروشر پر ایمان ۔دنیا کے امور پر الٰہی قدرت رکھنے والے سات سیارات پر ایمان۔اور یہ کہ انسان کی روح اشیاء کے حقائق کو پانے ،ترک دنیا اور ازدواج و آمیزش سے پرہیز کرکے بالاخر شرو نجاست کی دنیا سے نجات پاکر خیر وبلندی کی دنیا کی طرف عروج کرسکتی ہے ۔


گنوس بذات خود چند فرقوں میں تقسیم ہوتاہے ،جیسے :گنوس یہودیت اور گنوس مسیحیت ۔ مذہب دیصانیہ ومانی کا پہلا اور اس کے باپ بتک کا دوسرا دین تھا دیصان کے بیٹے کے پیرو اور مرقیونیہ ،مرقیون کے پیرو بھی گنوس مسیحیت کے فرقے ہیں ۔گنوس مسیحیت کے ہر فرقہ کی اپنی ایک مخصوص انجیل ہے ۔اور وہ تمام انجیلوں کو قبول نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کی تردید کرتے ہیں( ۱ )

روسی مستشرق ''بارتولد''کااعتقاد ہے کہ :''بردسان''(١٥٥۔٢٢٢ع)پہلا سریانی مؤلف تھا،اور اوسا کے مقام زندگی بسر کرتاتھا۔اس نے گنستیزم نام کے بت پرستی کے فلسفہ اور نصرانیت کے در میان ایک قسم کا رابطہ اور ہماہنگی پیدا کی ۔اس سلسلہ میں جن عقائد و نظریات کو ''بردسان '' نے پیش کیاہے ،انہوں نے مانی کی مانویت کو بہت متاثر کیاہے ۔

ترکیہ کامؤلف ،محمد فؤاد کوبریلی بھی اس موضوع پر لکھی گئی اپنی کتاب کے حاشیہ پر لکھتاہے :

''گنوس معرفت ِاسرار کی بلندترین حد ہے''(۲)

مانی کا دین

مانی کا مکتب دنیا کی اساس کو دو اصولوں ''نور وظلمت ''اور تین ادوار ماضی ،حال اور مستقبل پر مبنی جانتاہے ۔

ماضی کے دور میں ،نور وظلمت ایک دوسرے سے جدا لیکن ایک دوسرے کے پہلو بپہلو واقع تھے ۔نور اوپر اور ظلمت نیچے اور ہر ایک کا دامن تین اطراف میں پھیلا ہواتھا۔

نور کی دنیا:نظم وضبط ،خوشبختی اور آرام وسکون جیسی تمام نیکیوں کی سرزمین اور ظلمت کی دنیا :تمام برائیوں ،ناپاکیوں ،تشویش وپریشانیوں ،جنگ ومصیبتوں اور بیماریوں کا مرکز ہے ۔

نور کی دنیا پر ''اھورامزدا''کی حکمرانی اور ظلمت وتاریکی کی دنیا پر فرشتہ یا شیطان نام تاریکی کاخدا یا ''اہریمن''حکومت کرتے تھے ۔

ظلمت کی دنیا پانچ طبقوں :کالے بادلوں ،آگ کے خوف ناک شعلوں ،طوفانوں اور

____________________

۱)۔''مانی ودین او''(٣٤۔٣٦)

۲)۔تاریخ الحضارة الاسلامیة ،تالیف ف۔بارتولد طبع مصر سال ١٩٤٢ ع ص١١۔١٢


خطرناک بگولوں ،کیچڑ اور بالکل اندھیرے پن پر مشتمل تھی ،ہر طبقہ کی سر پرستی دیو ،شیر ،عقاب و...کی صورت میں ایک شیطان(۱) کے ہاتھ میں تھی ۔

ظلمت کی دنیا کے پانچ طبقوں کو تشکیل دینے والے پانچ عناصر سونا،تانباو... اور پانچ مزے نمکی وتلخی و... تھے۔اور ہر طبقہ ناپاکیوں ،شیطنتوں ،دیؤوں اوردو پا وچار پا وحشی حیوانوں سے بھرا ہواتھا۔

نور کی دنیا کے پانچ طبقے تھے اور ہر طبقہ میں خدا کے اعضاء میں سے ایک عضو ،جیسے:ہوش ،

تفکرو...جو خداکے مظاہر میں قرار پائے تھے ۔نور کی دنیا کا خداوند ایک بادشاہ کے مانند شاہی محل میں جلوہ افروز اور ظلمت کی دنیا کاخدا سور کی شکل میں ناپاکیوں اور کثافتوں کونگلنے میں مشغول تھا۔

ظلمت کی دنیا میں جھگڑے ،دشمنیاں ،جنگ وگریز ، شیاطین کے ایک دوسرے پر مسلسل حملے ،چیر پھاڑ،مار دھاڑ،شور وشر،حیوانیت،شہوت رانی،اوراس قسم کی دوسری نا پاکیاں اور برائیاں نظر آتی ہیں ۔

نور کادرخت :نور کی دنیا ہمیشہ اپنے آپ کو ظلمت کے درخت سے بچا کے رکھتی تھی تاکہ وہ مشتعل ہوکر اس پر حملہ ور نہ ہوجائے ۔بالاخر ظلمت کی دنیا کی تاریکیوں کی وجہ سے جنگ وجدل کا ماحول اس قدر شدید ہوگیا کہ وہ نور کی دنیا کو تہس نہس کرنے پر تل گئے۔اس جنگ وگریز کے ذریعہ عالم بالا یعنی عالم نور تک پہنچ گئے۔عالم بالا کی نورانیت وصفائی وہ دم بخود ہوگئے لہٰذا اس کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے دیووں اور شیاطین کے لشکرکے ذریعہ عالم نور پر حملہ آور ہوگئے تاکہ اسے فتح کرکے عالم ظلمت میں ضم کرلیں ۔

عالم نور کے فرماں رواکے پاس کسی قسم کاجنگی سازو سامان نہیں تھاکہ شیطانوں کامقابلہ

____________________

۱)۔ در اصل عربی میں ''اراکنہ ''ذکر ہواہے ۔


کرسکے اور دوسری طرف وہ اپنے طرفدار خداؤں میں سے کسی کو شیاطین سے لڑنے کے لئے بھیجنا بھی نہیں چاہتاتھا۔مجبور ہوکر عالم ظلمت اور ناپاکیوں سے پیکار کے لئے بذات خود آمادہ ہوا۔اس فیصلہ کے نتیجہ میں اس نے پہلی بار کائنات میں ''نہ نہ '' یاحیات وزندگی مطلق کی ماں کے نام سے اپنی تخلیق کو وجود بخشا اور اس نے بھی اپنے طور پر عالم بالا کے پاک ترین جزو یعنی ازلی انسان کی تخلیق کی

انسان ازلی اپنے فرزندوں :عناصر پنجگانہ ،ہوا،پانی اور روشنی و...کے ہمراہ جن میں سب سے آگے بادشاہ نخشب تھا نیچے اترا اور ناپاکیوں کی دنیامیں ظلمت اور وحشت کے ساتھ نبرد آزما ہوا۔لیکن آخر کار انسان ِازلی نے شکست کھائی اور اس کے بیٹے شیاطین کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوئے اور شیاطین نے انھیں نگل لیا۔نور کے ٹکڑوں کو دیو اور شیاطین کے ذریعہ نگل لینے اور ان کے شکم کی تاریکی و ظلمت میں قرار پانے سے نور و ظلمت کی آمیزش وجود میں آئی کہ یہی زمانہ ٔ حال کا دور ہے اس دور کو آزادی کا دور کہا جاتا ہے ،یعنی ظلمت و تاریکی سے نور کی آزادی کا دور عالم نور کے فرماں روانے اپنے اس عمل سے عالم تخلیق میں اپنی پہلی قربانی پیش کی ،اس کی اور اس کے فرزند وں کی یہ قربانی ظلمت کے زندان سے نور کی آزادی کے لئے تھی۔

عالم نور و ظلمت کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ،نور کی یہ کوشش ہے کہ اپنے ٹکڑوں کو ظلمت کے شکم سے آزادی دلائے اور عالم ظلمت یہ چاہتا ہے کہ نور کے ٹکڑے بدستور اس کی ناپاکیوں کے زندان میں باقی رہیں ۔دوسری طرف نور کے خدا نے فرشتوں اور چھوٹے خدا ئوں کو پیدا کرکے ازلی انسان کی مدد کے لئے بھیجا ۔ازلی انسان نے ان فرشتوں اور چھوٹے خدائوں کی مدد سے خود کو ظلمت و تاریکی کے چنگل سے آزاد کیا ،لیکن اس کے بیٹے تاریکی کے شیاطین کے شکم میں بدستور پھنسے رہے ۔


عالم نور نے اپنے نور کے ٹکڑوں کو آزادی دلانے کے لئے اس دنیا کو پیدا کیا ۔اور عالم ظلمت نے بھی نور کے ٹکڑون کو بدستور زندانی بنا کر رکھنے کے لئے ناپاک اوربرے کام انجام دینے شروع کئے اور پہلی بار شیاطین کے سردار وں جنھوں نے ازلی انسان کے بیٹوں کو کھا لیا تھا میں سے دو کو آپس میں ملا دیا اس آمیزش کے نتیجہ میں ابوالبشر آدم پیدا ہوا کہ نور کا ایک بڑا حصہ اس کے اندر قیدی بنا تھا ۔اس کے بعد ان دو شیاطین نے پھر سے آپس میں آمیزش کی اور اس بار حواء (تمام انسانو کی ماں ) اپنے اندر تھوڑے سے نور کے ساتھ پیدا ہوئیں ۔

پھر عالم نور کے خدا نے عیسیٰ کو اپنے ایک چھوٹے خدا کے ہمراہ آدم کی مدد کے لئے بھیجا اور اسے رہبانیت سکھائی تاکہ اپنی ہم جنس مادہ یعنی حوا ء سے پرہیز کرے ۔نر دیو (شیطان) نے جب یہ دیکھا تو اس نے اپنی بیٹی حوا سے آمیزش کی ۔اس سے قابیل پیدا ہو ا قابیل نے اپنی والدہ حواء سے ہمبستری کی تو ہابیل پیدا ہوا ،پھر ایک بار اس سے آمیزش کی اس طرح دو بیٹیوں کو جنم دیا ۔اس تمام زادو ولد کے نتیجہ میں عالم نور کے خدا کے ٹکڑوں کے زندان کے اوپر ایک اور زندان بنتا گیا ۔اس طرح آج تک اور جب تک یہ زادو ولدکا سلسلہ جاری ہے ،نور کا حصہ تاریکی کے پیچیدہ زندانوں میں گرفتار ہوتا رہے گا۔

مانی نے تصورات اور توہمات کے ایک طولانی سلسلہ کے ذریعہ انسان ،نباتات ،حیوانات اور ،جمادات کی تخلیق کی کیفیت کے بارے میں اس طرح تصویر کشی کی ہے ۔ملاحظہ ہو:

خدا نے مومنین کی ارواح کو سورج اور نور کی طرف لے جانے کے لئے چاند کو ایک کشتی بنایا ہے تاکہ ان ارواح کو اوپر اور ان کی اصل جگہ کی طرف لے جائے ،مہینہ کے ابتدائی پندرہ دنوں کے دوران یہ کشتی پہلے ہلال کی صورت میں نمودار ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ بڑھتی جاتی ہے اور مومنین کی ارواح کو جمع کرتے ہوئے بڑھتے بڑھتے کمال تک پہنچتی ہے ،کیوں کہ اس کشتی کے سورج کی طرف جانے کے راستے میں مسلسل ارواح سوار ہوتی رہتی ہیں ۔نصف ماہ یعنی چودہویں کے چاند کے بعد ارواح مقدس کو حمل کرنے والی یہ کشتی رفتہ رفتہ چھوٹی ہوتی جاتی ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ سورج کے ساحل پر نورانی بار مسلسل اتر کر عالم نور میں قدم رکھتا ہے اور کشتی رفتہ رفتہ خالی ہوتی جاتی ہے اور ایک کشتی پھر ہلال کی صورت میں دنیا کے ساحل کی طرف لوٹتی ہے ۔ہلال اور چودھویں کے چاند کے اسرار کا یہی مطلب ہے !!


مانی و خود''فارقلیط''ہے کی ماموریت ،نسل انسان کی نجات اور انسان اور سائر موجودات عالم میں تناسل کے ذریعہ ظلمت کے شکم سے اجزائے نور کی آزادی کے لئے وجود میں آئی ہے ،یہ مأموریت عیسیٰ کی اس ماموریت کے مانند ہے جس میں وہ عالم ازلی میں آدم کی نجات کے لئے بھیجے گئے تھے ،تاکہ وہ آدم کو تولید مثل اور حوا سے آمیزش انجام دینے سے روکیں ۔مانی اس امر پر مامور ہے کہ نور و ظلمت کے درمیان آمیزش کو ختم کردے ۔اس آمیزش کا دور بارہ ہزار سال ہے ۔اس مدت میں سے ٢٧١ھ تک گیارہ ہزار اور سات سو سال گزر ے ہیں ١١ ،اب صرف تین سو سال باقی بچے ہیں کہ ٥٣١ھ میں تعلیمات مانی پر عمل در آمد ہونے کے بعد عالم وجود اور نور و ظلمت کی آمیزش کا خاتمہ ہو جائے گا ۔اس تاریخ کے بعد زوال کا دور اور مستقبل کا زمانہ ہے ،یہ وہ دور ہے جس میں ہر چیز اپنی اصل کی طرف پلٹے گی ۔

عالم بالا یعنی عالم نور میں خیر و خوبی سے بھری بہشتیں ہیں اور مومنین کی ارواح ،فرشتے اور چھوٹے چھوٹے خدا ،سب کے سب نعمتوں سے مالا مال ہیں اور نچلی دنیا ،یعنی عالم ظلمت و تاریکی میں بدی ،ناپاکی بیماریاں دیو ،شیاطین اور بد کردار افراد کی ارواح ہمیشہ دردناک عذاب و مصیبت میں مبتلا رہیں گی ۔١٢

دین مانی میں تکوین کے بارے میں پائے جانے والے اسرار کایہ ایک خلاصہ تھا ۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کے بارے میں مانی کا نظریہ کیا تھا۔


انبیاء کے بارے میں مانی کا نظریہ

مانی ،موسیٰ اور ان کی تورات پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ،گوتم بدھ اور زردشت مشرق میں عیسیٰ جو ماہ سے نہیں ہوئے تھے غرب میں پیغمبری پر مبعوث ہوئے ہیں ۔ خود مانی وہی

'' فارقلیط '' ہے ،جس کے ظہور کے بارے میں عیسیٰ نے انسانی معاشرے کو بشارت دی ہے ،اس نے خود عالم وجود کے مرکز بابل میں ظہور کیا ہے اور مأمور ہے کہ ان پیغمبروں کے مقصد اور دین کو آپس میں جمع کر کے تکمیل تک پہنچائے اور اسے دنیا کی تمام زبانوں میں منتقل کرے ۔١٣

پس چوں کہ وہ خود کو عالم بشریت کی راہنمائی کے لئے مبعوث اور اپنے دین کو تمام ادیان کا جانشین جانتا تھا ،لہٰذا خود اس نے اور اس کے جانشینوں نے اس کے افکار و نظریات کو تمام زبانوں میں ترجمہ کرکے تمام عالم بشریت تک پہنچانے کی کوشش کی تاکہ لوگ ان کو سن کر اس کے دین کی طرف مائل ہو جائیں ۔

اسی لئے اس کے پیرو جس ملت میں تبلیغ کا کام انجام دیتے تھے ،اسی قوم اور مذہب کی اصطلاحا ت سے استفادہ کرتے تھے اور اسی زبان و اصطلاحات میں ان سے مخاطب ہوتے تھے ۔مثلا اگر ایک یہودی کو زندیقی مذہب کی طرف دعوت دینا چاہتے تو دین یہود کی اصطلاحات کو اپنے مطالب سے منسلک کرتے تھے تاکہ اس یہودی کے لئے ان کے مطالب سمجھنے میں آسانی ہو اور زندیقی مذہب اس کے لئے قابل قبول ہو جائے جیسے مہینوں اور فرشتوں وغیرہ کے نام ان کی ہی اصطلاحوں میں بیان کرتے تھے ۔


اس لئے جو کتابیں ایرانیوں کے لئے ترجمہ کی گئی ہیں ،ان میں اصطلاحات ،مہینوں کے نام اور پہلوانوں کے نام دین زردشت کے مطابق استعمال کئے گئے ہیں اور ایرانی افسانے بیان کئے گئے ہیں اسی طرح مسیحیوں کے لئے مسیحی اصطلاحات سے پُر،یونانیوں کے لئے ان کے خدائوں کے نام اور اصطلاحات سے سرشار اور چینیوں کے لئے ان کی اصطلاحات اور بودھ مذہب کی تعلیمات میں بات کرتے تھے۔

اسی طرح جب کسی دین سے کسی خدا یا فرشتے کو شامل کیا جاتا تھا،تو اسے اس کے تمام ملازموں اور غلاموں کے ساتھ اس دین میں داخل کیا جاتا تھا۔اس طرح ان اواخر تک چھوٹے بڑے خدائوں اور مذہب مانی میں شیاطین کو دور کرنے کے لئے پڑھے جانے والے اوراد واذکار ،طلسمات اور منتر جنتر کی تعداد بے شمار حد تک بڑھ گئی تھی ۔

یہی امر اور اس کے علاوہ انسانی فطرت سے واضح تضاد، جیسے: لوگوں کو بچے پیدا کرنے سے منع کرنا اور دنیا کو نابودی کی طرف کھینچنا،اس بات کا سبب بنے کہ یہ مذہب اپنی پیدائش اور رظاہر کے ایک ہزار سال گزرنے کے بعد نابود ہوگیا۔


مانی کی شریعت

مانی کی شریعت میں نماز ،روزہ اور گانا یعنی خوش الحانی سے اذکار وغیرہ کاپڑھنا ،پائے جاتے ہیں ۔اور وہ سال میں ایک بار عید مناتے ہیں ۔

ان کی عبادت گاہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔اس دین میں داخل ہونے کاطریقہ یہ ہے کہ انسان پہلے ازدواج ،شہوت ،گوشت اور شراب سے پرہیز کرکے اپنا امتحان لیتاہے۔اگر اس آزمائش میں کامیاب ہوا تو اس دین کوقبول کرنے کے مرحلہ میں داخل ہوتاہے ۔کوئی شخص حقیقت میں مانی کے دین کوپسند کرتا ہو ،لیکن نفسانی خواہشات پر قابو نا پاسکے ،تو وہ عبادت ورریاضت کواپنے اوپر لازم قرار دینے کے علاوہ دین اور صدیقین کے گروہ کے تحفظ کو اپنے اوپر واجب قرار دیتاہے ۔ایسے افراد کو ''سماعین ''کہاجاتاہے ۔مانی کے اکثر پیرو اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ اس نے ان پر ایک خاص قسم کی نماز اور روزہ واجب کیا ہے ۔''سماعین ''سے بالاتر رتبہ ''صدیقین ''کاہے۔ان کے لئے ایک خاص قسم کی عبادت معین کی گئی ہے اور ان پر صرف سبزی پر مشتمل ایک دن کے کھانے کے علاوہ کھانا حرام قرار دیاگیاہے ۔وہ ایک لباس ایک سال تک استعمال کرتے ہیں ۔ان کے لئے واجب قرار دیا گیاہے کہ ہمیشہ سفر میں رہیں اور وعظ و تبلیغ کرتے رہیں ۔

''صدیقین ''سے بالاتر ''قسیسان''کا گروہ ہے ، ان کی تعداد ٣٦٠ افراد پر مشتمل ہے ۔ان میں بالاتر مقام کے حامل ''اسقف ''ہیں جن کی تعداد ٧٢ افراد تک پہنچتی ہے ،ان کے بعد ''معلم '' درجہ ہے اور اس سے اوپر مانی کاخلیفہ ہے اور ان سب کے بالاتر خود ''مانی''قرار پایاہے ۔ ١٥


مانی کاخاتمہ

مانی نے چالیس(۱) سال تک دنیا کے مختلف ممالک ،جیسے ہندوستان ،چین ،اور خراسان کادورہ کیا اوراپنے مذہب کی تبلیغ کی ۔وہ ہر جگہ پر اپنے اصحاب میں سے کسی ایک کوجانشین مقرر کرتاتھا۔

٣١ سال تک ایران کے فرماں رواؤں اور بادشاہوں نے مانی کی حمایت وتائید کی اور یہی سبب بنا کہ اس کا دین اس زمانے میں تمام دنیا میں پھیلا۔آخر کار ایران کے باد شاہ ہرمز کے بیٹے بہرام نے مانی اور اس کے دین کی مخالفت کی اور مانی کو اپنی سلطنت میں تین سال روپوشی کے بعد گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ چلایا۔

بہرام نے اس مقدمہ کے دوران اس سے کہا:تم نہ جنگ کرتے ہو اور نہ شکار کے لئے جاتے ہو اور نہ کسی بیمار کو شفا بخشتے ہو ،آخر تم کس کام کے ہو؟ مانی نے جواب میں کہا:میں نے تیرے بہت سے خدمت گاروں کو شیاطین،سحر وجادو کے شر سے نجات دلائی ہے اور بہت سے بیماروں کو شفا بخشی ہے اور بہت سے لوگوں کو موت کے چنگل سے نجات دلائی ہے !

کہتے ہیں ،بہرام نے اس سے کہا:تم ،لوگوں کو عالم وجود کی نابودی کی دعوت دیتے ہو لہٰذا یہی بہتر ہے کہ حکم دیدوں کہ اس سے پہلے کہ دنیا نابود ہو تم اپنی آرزو کو پہنچ جاؤاور تمھیں نابود کر دیاجائے۔

____________________

۱)۔ابن ندیم نے کتاب ''الفہرست ''کے صفحہ ٤٥٨میں مانی کی مدت عمل چالیس سال بتائی ہے ،جب کہ مانی نے ٢٤٠ ء میں پیغمبری کادعویٰ کیا اور ٢٧٧ء میں ہلاک ہوا ،اس حساب سے اس کی پیغمبری کے ادعا کازمانہ ٣٨ سال تھا۔


اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں اور گردن(۱) زنجیر سے جکڑ کر زندان میں ڈال دیاجائے ۔مانی نے اس حالت میں زندان میں ٢٦ روز تک برداشت کیا اور اس کے

بعد مزید تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔مانی کی وفات کی تاریخ ٢٧٧ء لکھی گئی ہے ۔اور کہاجاتاہے کہ وفات کے وقت اس کی عمر ٦٠ سال تھی۔

مانی کے مرنے کے بعد بہرام کے حکم سے اس کا سر تن سے جدا کیا گیا اور اس کی لاش کو شہر کے دروازے پر لٹکا دیاگیا ۔١٦

دین مانی کا پھیلاؤ

مانی کا مذہب چوتھی صدی عیسوی کے بعد دنیا کے مختلف مسیحی نشین علاقوں ،جیسے اسپین،جنوبی فرانس،اٹلی،بلغارستان اور ارمنستان میں پھیلا ۔چودھویں صدی عیسوی تک ان علاقوں میں اس مذہب کے پیرو دکھائی دیتے تھے۔ ۱۷

یہ مذہب ایران کے مشرقی علاقوں ،ہندوستان ،طخارستان اور بلخ میں پھیلا اور آٹھویں صدی میں مانی کا ایک خلیفہ طخارستان کاحاکم بنا۔

ساتویں صدی عیسوی میں مانی کا مذہب چین میں پھیلا اور تبلیغات کی آزادی اس کے ہاتھ آگئی۔آٹھویں صدی کے اواخر میں مشرقی چین کے بادشاہ نے مانی مذہب اختیار کیا۔لیکن نویں صدی میں اس کا مخالف ہوگیا۔پھر چودھویں صدی عیسوی تک یہ مذہب وہاں پایاجاتارہا۔

مسعودی نے مروج الذہب میں لکھاہے :

''طاقتور ترین اور منظم ترین حکومت جو ٣٣٢ ھ سے ٩٤٣ھ تک ترکیہ میں اقتدار پر تھی وہ حکومت ''کوشان''تھی اور اس کامذہب مانی تھا۔

____________________

۱)۔لکھا گیاہے کہ جو زنجیر مانی کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں ڈالی گئی تھی ،اس کاوزن ،آج کے زمانہ کے مطابق ٢٥ کلوگرام تھا۔


اسلامی ممالک میں دین مانی :

اسلامی ملک میں خلفاء میں سب سے پہلے جس نے مانی مذہب کی طرف میلان دکھایاوہ ولید دوم ( ١٢٥ ھ۔ ١٢٦ ھ)تھا ١٨ مروان بن محمد ،معروف بہ جعدی (وفات ١٣٢ھ)مانوی مذہب کاپیرو تھا۔اس کا لقب جعدی اس لئے پڑا کہ اس نے اپنے استاد جعد بن درہم سے تربیت وہدایت پائی تھی۔

جب عباسی خلفاء نے زندیقیوں کو قتل عام کرنے کافیصلہ کیا اور ان کی تلاش وجستجو شروع کی ، تومانوی عراق اور مغربی ایران سے بھاگ کر ایران کے مشرق وشمال اور ترکستان کی طرف ہجرت کرگئے ۔

ابن ندیم لکھتاہے :میں معز الدولہ کی حکومت کے زمانے میں تین سو مانویوں کوجانتاتھا کتاب ''الفہرست ''کی تالیف کے وقت ان میں سے صرف پانچ آدمی باقی بچے تھے ۔اس زمانے میں مانویوں نے سغد،بجنک،اور سمرقند کی طرف ہجرت کی۔ ١٩

اب جب کہ زندقہ وزندیقیوں کی تاریخ کا ایک حصہ ہم نے اہل نظر اور محققین کی خدمت میں پیش کیا،تو مناسب ہے سیف کے زمانے میں ان کی کارکردگی اور فعالیت کا بھی کچھ ذکر کریں تاکہ مانی ومانویوں کے مسئلہ پر ہر جہت سے بحث وتحقیق ہوجائے۔


مانویوں کی سرگرمی کازمانہ:

مسعودی نے اپنی کتاب ''مروج الذہب''میں اخبار القاہر اور مھدی عباسی کے سلسلے میں یوں ذکر کیاہے :

جب مانی ،ابن دیصان اور مرقیون کی کتابیں عبد اللہ ابن مقفع اور دیگر لوگوں کے ذریعہ فارسی اور پہلوی زبان سے عربی میں ترجمہ ہوئیں اور اسی طرح اسی زمانے میں ابن ابی العوجائ،حماد عجرد،یحییٰ بن زیاد اور مطیع بن ایاس کے ہاتھوں مذہب مانی ،دیصانیہ اور مرقونیہ کی تائید میں کتابیں تالیف کی گئیں تو ان سرگرمیوں کے نتیجہ میں اس کی حکومت کے زمانے میں مانی کے طرفداروں میں اضافہ ہوا اور ان کے عقائد ونظریات کھل کر سامنے آگئے ۔اس لئے اس نے بھی ان لوگوں کو اور دیگر دین مخالف عناصر کو قتل کرنے میں انتہائی سنجیدہ کوشش کی۔ ٠ ٢

اگلی فصلوں میں ہم ان میں سے چند افراد کاذکر کریں گے۔

مانویوں کے چند نمونے

لعلّی اصادف فی باقی ایامی

زماناًاصیب دلیلا علی هدیٰ

شائد ہم مستقبل میں حقیقت اور ہدایت کا راستہ پاجائیں گے ۔

) عبداللہ ابن المقفع (

١۔ عبداللہ بن مقفع

٢۔ابن ابی العوجا

٣۔ مطیع بن ایاس

٤۔ سیف بن عمر

چوں کہ علم رجال کے علماء نے سیف پر زندیقی ہونے کا الزام لگایا ہے ،لہٰذا ہم اس فصل میں بعض ایسے افراد کا جائزہ لیں گے جن پر اسلام میں زندیقی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے تاکہ سیف کے ساتھ ان کی ہماہنگ سرگرمی کا پتا چلے ۔


١۔عبداللہ بن مقفع

عبداللہ بن مقفع (١٠٦ ھ ١٤٢ ھ)٢١عبداللہ بن مقفع عباسی خلیفہ منصور کا ہم عصر تھا اس نے ارسطاطالیس وغیرہ کی کتابیں ،جو منطق میں تھیں منصور کے لئے عربی میں ترجمہ کیں ۔ عبداللہ اسلام میں پہلا شخص تھا جس نے ارسطو کی کتابوں کے ترجمہ کا کام شروع کیا ۔اس کے علاوہ اس نے کتاب ''کلیلہ ودمنہ '' اور دوسری کتابوں کا فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا ہے اس نے ''الادب الصغیر '' و ''الادب الکبیر '' اور والیتیمہ '' جیسے فصیح و بلیغ رسالہ بھی تحریر کئے ہیں ۔

عبداللہ پر زندیق ہونے کا الزام لگایا گیا ،عباسی خلیفہ مھدی کہتا تھا :

''میں نے زندیقیوں کی کوئی ایسی کتاب نہیں دیکھی جو عبداللہ مقفع کی خبر نہ دیتی ہو ''

عبداللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں لیکن ہم نے جو کچھ کتاب '' کلیلہ و دمنہ '' میں برزویۂ طبیب کے باب میں مشاہدہ کیا اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہ پائی جو عبداللہ کے زندیقی ہونے پردلالت کرتی ہو محققین کا یہ نظریہ ہے کہ اس کتاب (کلیلہ ودمنہ ) کے برزویہ طبیب کے باب کا خود ابن مقفع کے ہوتھوں برزویہ طبیب کی زبانی لکھا گیا ہے ۔برزویہ طبیب کے باب میں اس طرح آیا ہے:

''میں نے دیکھا کہ لوگوں کے نظریات مختلف ہیں ،اور ان کی خواہشات متناقض ہیں ، ایک طائفہ دوسرے پر حملہ کرتا ہے اور اسے دشمن جانتا ہے عیب نکالتا ہے اس کی بات کی مخالفت کرتا ہے ۔ اور دوسرا طائفہ بھی اس کے ساتھ یہی برتائو کرتا ہے ۔جب میں نے ایسا دیکھا تو سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہمسفر نہیں ہو سکتا ....''


پھر کہتا ہے '' پھر میں ادیان کی طرف پلٹ گیا ،اور عدل و انصاف کو ان میں تلاش کرنے لگا ،جس کسی کے پیچھے دوڑا اسے اپنے سوال کے جواب میں بے بس پایا ،یا ان کے جواب کو عقل و شعور کے مطابق نہیں پایا تاکہ میری عقل ان کی پیروی کرنے پر مجبور ہوتی ۔سوچنے لگا کہ اپنے اسلاف کے دین پر باقی رہوں ،دل نے تائید نہ کی اور اس بات کی اجازت نہ دی کہ اپنی عمر کو ادیان کی جستجو میں صرف کروں ۔دوسری طرف میں نے دیکھا کہ موت نزدیک ہے انتہائی فکر و پریشانی میں پڑا ،چوں کہ تردید اور تذبذب کی وجہ سے خوف و ہراس سے دو چار تھا ،سوچا کہ بہتر یہ ہے کہ کراہت سے اجتناب کروں اور اسی چیز پر اکتفا کروں جس کی دل گواہی دے کہ یہ تمام ادیان کے مطابق ہے ،لہٰذا کسی کو مارنے اور ضرب لگانے سے ہاتھ کھینچ لیا ...''

اس کے بعد کہتا ہے : میں نے قبول کیا کہ کسی پر ظلم نہ کروں گا ،بعثت انبیاء ،قیامت اور ثواب و عذاب کا انکار نہ کروں گا اور بد کرداروں سے دوری اختیار کروں گا...''

اس کے بعد کہتا ہے :اس حالت میں میرے دل نے آرام و سکون کا احساس کیا اور حتی المقدور اپنے حال ومال میں اصلاح کی کوشش کی ،اس امید سے کہ شائد اپنی عمر کے باقی دنوں میں ایک فرصت ملے اور راہ کی راہنمائی ،قوت نفس اور کام میں ثبات حاصل ہو جائے میں اسی حالت پر باقی رہا اور بہت سی کتابوں کا ترجمہ کیا۔

مذکورہ نمونہ سے ابن مقفع کا طرز تفکر ہمارے اوپر واضح ہوجاتا ہے دین میں شک ،بظاہر دین زردشت سے اسلام کی طرف مائل ہونے کے باوجود ادیان میں سے کسی ایک کو قبول کرنے میں تردید، اس کے بعد ادیان میں سے اس حصہ کو قبول کرنا جو تمام ادیان میں مشترک اور مورد تصدیق ہو،جیسے آدم کشی سے پرہیز کسی کواذیت و آزار دینے سے اجتناب اور بہت سی کتابوں کا ترجمہ کرنا اور یہ بذات خود ان چیزوں کے صحیح ہونے کا ثبوت ہے جو زندیقیوں کی کتابوں کی نقل کے مطابق اس کی طرف نسبت دی گئی ہے ،اور شائد سر انجام یہی تذبذب اور پریشانی اس کے لئے زندیقیوں کا دین قبول کرنے کا سبب بنی ہو ،تاکہ فلسفہ تکوین سے اپنے ہر سوال کا جواب حاصل کر سکے ، چاہے دنیا سے رو گردانی اور امور کے بارے میں جانکاری بصورت توہمات ہی کیوں نہ حاصل ہو ۔

یہ سب چیزیں عبداللہ کی فطرت و مزاج سے پوری طرح مربوط ہیں کہ وہ کہتا ہے :

'' شائد زندگی کے باقی دنوں میں کوئی اسی فرصت ہاتھ آئے اور مجھے ایک رہبر ملے''


٢۔ابن ابی العوجا

عبد الکریم ابن ابی العوجا ،معن بن زائد ہ شیبانی(۱) کاماموں تھا یہ بصرہ کا ضعیف الاعتقاد ترین فرد اور زندیقی تھا ٢٢ حدیث ،تاریخ اور دینی مناظروں کی بہت ساری کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے من جملہ مجلسی کی بحار الانوار میں اس کے بارے میں یوں لکھا گیا ہے :٢٣

''ابن ابی العوجا ء حسن بصری کے شاگردوں میں سے تھا۔اس نے توحید اور اسلام کی یگانہ بت پرستی سے منہ موڑ لیا تھااعمال حج کا منکر اور اسے بے اعتقادی کی نگاہ سے دیکھنے کے باوجود مکہ گیا ۔چوں کہ وہ بد فطرت اور گستاخ تھا اس لئے علماء میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ ہم نشینی اور گفتگو کرنا پسند نہیں کرتا تھا ایک دن اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت ابو عبداللہ جعفر ابن محمد الصادق کی خدمت میں پہنچا اور بات کرنے کی اجازت چاہی ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ امان میں ہو حضرت نے اسے اجازت دے دی ۔ابن ابی العوجا ء نے مراسم حج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کب تک اس خرمن کو اپنے پیروں سے کوٹتے رہیں گے ، اس پتھر سے پناہ حاصل کرتے رہیں گے ،اس بلند و محکم گھر کی پوجا کرتے رہیں گے اور رم خوردہ اونٹ کی طرح اس کے گرد گھومتے رہیں گے ؟ جب کہ کسی صاحب نظر عقلمند نے یہ عمل مقرر نہیں

____________________

۱)۔کتاب جمھرة انساب العرب ص٣١٦میں آیا ہے کہ وہ بنی عمرو بن ثعلبہ بن عامر بکری کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔


کیا ہے ،چوں کہ آپ کے باپ اس کام کے بانی تھے اور آپ اس کے اسرار سے واقف ہین لہٰذا جواب دیں ''

حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق ں نے جواب میں فرمایا: ''بیشک جسے خدا اس کی اپنی گمراہی پر چھوڑ دیتا ہے اور اس کی عقل کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں وہ حق کو نا پسنداور بری نظر سے دیکھتا ہے ۔شیطان اس پر غالب آکر اسے ہلاکت و نابودی کے گڑھے میں ایسے پھینک دیتا ہے کہ اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا یہ وہ گھر ہے جس سے خدا ئے تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے تاکہ مناسک حج انجام دینے سے ان کی اطاعت و فرمانبرداری معلوم ہو جائے اسی لئے انھیں حکم دیا گیا ہے کہ اسکی تکریم و تعظیم کریں اور اس کے دیدار کے لئے آئیں ۔خدا نے اس جگہ کو پیغمبروں کا مرکز اور نماز گزاروں کا قبلہ قرار دیا ہے اور یہ کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک حصہ ہے اور یہ وہ راستہ ہے جو اس کی بخشش و عنایتوں پر منتہی ہوتا ہے اور بیشک خدائے تعالیٰ اس کا سزاوار ہے کہ اس کے فرمان کی اطاعت کی جائے''

ابن ابی العوجاء نے کہا: آپ نے اپنی بات میں خدا کانام لے کر غائب کا حوالہ دیا !

حضرت ں نے جواب میں فرمایا:'' افسوس ہو تم پر !جو ہمیشہ اپنی مخلوق کے ہمراہ حاضر اور شاہد اور اس کی شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہو وہ کیسے غائب ہو سکتا ہے ؟!وہ اپنے بندوں کی باتوں کو سنتا ہے ان کی حالت کو محسوس کرتاہے اور ان کے اندرونی اسرار کو جانتاہے ''

ابن ابی العوجاء نے کہا:'' اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے ؟ پس جب وہ آسمان پر ہے تو زمین پر کیسے موجود ہو سکتا ہے ؟ اور جب زمین پر ہو تو آسمان پر کیسے ہوسکتاہے؟!


حضرت نے فرمایا: '' تم نے اپنے بیان کردہ و صف سے ایک مخلوق کی بات کی ہے کہ جب وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل ہو جاتا ہے تو اس کی پہلی جگہ خالی ہو جاتی ہے اور دوسری جگہ اس سے پُر ہو جاتی ہے ۔اس وقت وہ نہیں جانتا کہ جس جگہ سے وہ اٹھا تھاوہاں پر اس کے اٹھنے کے بعد کیا گزرا۔لیکن ،عادل اور جزا دینے والے خدا سے کوئی جگہ خالی نہیں ہے اور وہ کسی فضا یا جگہ کو پُر نہیں کرتا اور مکان کے لحاظ سے نزدیکی اور دوری اس کے لئے مصداق ومعنی ٰ نہیں رکھتی ''

اس کے علاوہ بیان کیا گیا ہے کہ ابن ابی العوجا نے ،آتش جہنم میں گرفتار لوگوں کے بارے میں خدا کے اس فرمان:''اگر ان کی کھال جل جائے تو ہم ان پر دوسری کھال چڑھادیں گے تاکہ وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں ۔''کے بارے میں سوال کیاکہ : ''دوسری کھال کا کیا قصور ہے؟''(۱)

حضرت نے فرمایا:''افسوس ہوتم پر !دوسری کھال وہی پہلی کھال ہے،جب کہ وہ پہلی کھال نہیں بھی ہے۔''

ابن ابی العوجا نے کہا:''ایک دنیوی مثال سے سمجھا ئیے تاکہ مطلب سمجھنا آسان ہوجائے ''

حضرت نے فرمایا:''کوئی حرج نہیں ،جب کوئی شخص کسی کچی اینٹ کو توڑ کر اس کی مٹی کو دوبارہ قالب میں ڈال کر پھر اس سے اینٹ بناتاہے ،تو یہ دوسری اینٹ وہی پہلی اینٹ ہے جب کہ پہلی اینٹ بھی نہیں ہے ۔'' ٢٤

یہ بھی ذکر کیا گیاہے کہ دوسرے سال ابن ابی العوجاء نے مسجد الحرام میں حضرت

____________________

۱)۔وَکُلَّمٰا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنٰاهُمْ جُلُوداً غَیْرَهٰا لِیَذُوقُوا الْعَذٰابَ (نسائ٥٦)


امام صادق ں سے ملاقات کی ۔حضرت نے اس سے پوچھا:''کون سی چیز تمھارے یہاں آنے کاسبب بنی ہے؟''

اس نے جواب میں کہا:''عادت اور ہم وطنوں کی پیروی ،تاکہ لوگوں کی دیوانگی،سر منڈوانے اور پتھر مارنے سے عبرت حاصل کروں ''۔

حضرت نے فرمایا:''کیا ابھی تک گمراہی اور بغاوت پر باقی ہو؟!''

ابن ابی العوجا امام سے کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھا ،حضرت نے اپنی ردا کو اس کے ہاتھ سے کھینچتے ہوئے فرمایا:''لاٰجِدٰالَ فِی الْحَجِّ ''(۱) (حج میں جھگڑا ممنوع ہے)۔

اس کے بعد فرمایا:''اگر وہ بات صحیح ہو جوتم کہتے ہو جب کہ ہرگز ایسا نہیں ہے تو ہم دونوں آخرت میں یکساں ہوں گے ۔لیکن اگر وہ صحیح ہو جو ہم کہتے ہیں جب کہ بیشک یہی صحیح ہے تو ہم آخرت میں کامیاب ہوں گے اور تم ہلاک ونابود ہوگے''۔ ٢٥

ایک اور روایت میں یوں آیا ہے:ایک دفعہ ابن ابی العوجا اور اس کے تین ساتھیوں نے مکہ میں آپس میں ایک منصوبہ بنایا کہ قرآن مجید کی مخالفت کریں ۔ہر ایک نے قرآن مجید کے ایک حصہ کی ذمہ داری لے لی کہ اس کے مثل عبارت بنائیں گے۔

دوسرے سال چاروں آدمی مقام ابراہیم کے پاس جمع ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہاکہ''جب میں قرآن مجید کی اس آیت پر پہنچا ،جہاں کہاگیاہے: ی( ٰا أَرْضُ ابْلِعِی مٰائَکِ وَیٰا سَمٰائُ أَقْلِعِی وَغِیضَ الْمٰائُ وَقَضَی الْاَمْرُ ) (۲) ''اے زمین اپنے پانی کو نگل لے اور اے آسمان اپنے پانی کو روک لے اور پانی زمین میں

____________________

۱)۔ بقرہ ١٩٧

۲)۔ ہود٤٤


جذب ہو گیااور خدا کا حکم انجام پاگیا''تومیں نے دیکھا کہ یہ ایسا کلام نہیں ہے جس سے مقابلہ کیا جاسکے ، لہٰذا میں نے قرآن سے مقابلہ کرنے کاارادہ ترک کردیا''

دوسرے نے کہا:جب میں اس آیت پر پہنچا: ''( فَلَمّٰا اسْتَیْئَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِیّٰاً'' ) (۱) ''پس جب وہ لوگ اس سے مایوس ہوگئے تو اسے چھوڑکر چلے گئے '' تو میں قرآن سے مقابلہ کرنے سے ناامید ہوا۔

وہ یہ باتیں اسرار کے طور پر چپکے چپکے ایک دوسرے سے کررہے تھے کہ اسی اثناء میں حضرت امام صادق ں نے ان کے نزدیک سے گزرتے ہوئے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:

( ''قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ أَنْ یَأْتُوا بِمِثْلِ هٰذٰا الْقُرْآنِ لاٰیَأْتُونَ بِمِثْلِهِ ) ''(۲) ''آپ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی نہیں لاسکتے''

انہوں نے سر اٹھاکے حضرت کو دیکھا اور قرآن مجید کی آیت میں حضرت کی زبانی اپنے اسرار فاش ہوتے دیکھ کر انتہائی تعجب وحیرت میں پڑگئے۔ ٢٦

مفضل بن عمر کہتاہے :''میں نے مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ایک شخص کو ابن ابی العوجا سے یہ کہتے ہوئے سنا :''عقلمندوں نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے ان کی دعوت قبول کی،اور اذان میں ان کا نام خدا کے نام کے ساتھ قرار پایاہے''۔ابن ابی العوجاء نے جواب میں کہا:''محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بات کو مختصر کرو،میری عقل ان کے بارے میں پریشان ہے ۔اور ایسی کسی اصل کو بیان کرو جسے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لائے ہوں '' ٢٧

____________________

۱)۔یوسف ٨٠

۲)۔بنی اسرائیل٨٨


ابن ابی العوجاء کی گفتگو اور مناظروں کے یہ چند نمونے تھے ۔

اس کی زندگی کے حالات کے بارے میں کتاب ''لسان المیزان''میں آیاہے: ٢٨

''وہ بصرہ کارہنے والاتھا۔دوگانہ پرستی کے عقیدہ سے دوچار ہوا۔بوڑھوں اور جوانوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرتاتھا۔اس لئے عمرو بن عبید نے اسے دھمکایا وہ ان دھمکیوں کی وجہ سے کوفہ کی طرف بھاگ گیا۔کوفہ کے گورنر محمد سلیمان نے اسے پکڑکر قتل کرڈالا اور اس کے جسد کو سولی پر لٹکادیا''۔

اس کی گرفتاری اور قتل کے واقعہ کو طبری نے ١٥٥ہجری کے حوادث کے طور پر یوں بیان کیاہے:

''کوفہ کے گورنر محمد بن سلیمان نے عبد الکریم بن ابی العوجاء کو زندیقی ہونے کے الزام میں گرفتار کرکے زندان میں ڈال دیا ۔بہت سے لوگوں نے منصور کے پاس جا کر اس کی شفاعت کی ،جس نے بھی اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھایا اور بات کی وہ خود زندیقی ہونے کا ملزم ٹھہرا ۔منصور نے مجبور ہوکر کوفہ کے گورنر کو لکھا کہ خلیفہ کا قطعی حکم صادر ہونے تک ابن ابی العوجاء کے ساتھ کچھ نہ کرے اور اس کے معاملہ میں دخل نہ دے ،ایسا لگتا ہے کہ ابن ابی العوجاء اپنے طرفداروں کے اقدامات سے با خبر تھا لہٰذا اس نے خلیفہ کے خط کے پہنچنے سے پہلے گورنر سے تین دن کی مہلت مانگی اور ایک لاکھ دینار بطور رشوت دینے کا وعدہ بھی کیا ۔ جب یہ درخواست اور تجویز گورنر کو ملی تو اس نے خلیفہ کا خط پہچنے سے پہلے ہی اس کے قتل کا حکم دے دیا جب ابن ابی العوجاء کو اپنی موت کے بارے میں یقین ہو گیا تو اس نے کہا : خدا کی قسم تم مجھے قتل کر رہے ہو لیکن جان لو کہ میں نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں اور انھیں تمھارے درمیان منتشر کر دیا ہے اور ان کے ذریعہ حلال کو حرام ،اور حرام کو حلال کر دیا ہے ۔خدا کی قسم میں نے تم لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ جس دن روزہ رکھتے تھے افطار کرو اور جس دن افطار کرتے تھے روزہ رکھو''٢٩


کاش !مجھے معلوم ہوتا کہ جن احادیث کو اس زندیق نے جعل کیا ہے ،کون سی احادیث ہیں ، ان کی روئیداد کیا ہے اور وہ کن کتابوں میں درج کی گئی ہیں ۔اگر اس زندیق نے اپنی زندگی سے نا امید ہوتے وقت اعتراف کیا ہے ،کہ اس نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں جن کے ذریعہ اس نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا ہے ،تو دیگر غیر معروف زندیقیوں کے ذریعہ جعل اور مکتب خلفاء کی مورد اعتماد کتابوں میں درج ہونے والی احادیث کی تعداد کتنی ہوگی؟

٣۔مطیع ابن ایاس

ابو سلمی مطیع ابن ایاس(۱) اموی اور عباسی دور کے شعراء میں سے تھا ۔وہ کوفہ میں پیدا ہوا تھا اور وہیں پرورش پائی تھی۔مطیع ایک ظریف طبع، بد فطرت اور بے حیا شاعرتھا۔ وہ اپنے اشعار میں اپنے باپ کو بے حیائی کے ساتھ بر ابھلا کہہ کر اس کا مضحکہ اڑاتا تھا ، اس لئے اس کے باپ نے اسے ملعون اور عاق کر دیا تھا۔٣٠

مطیع نے اپنی شہرت کے آغاز میں اموی خلیفہ عمر ابن یزید ابن عبد الملک کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی مدح سرائی کی اور اپنے آپ کو اس کے ہاں معزز بناکر دس ہزار درہم کا انعام حاصل کیا.عمر نے اس کا تعارف اپنے بھائی ولید بن عبد الملک سے کرایا۔مطیع نے ولید کے حضوراس کی مدح میں تین شعر پڑھ کر سنائے اور ولید وجد میں آگیا اور اس کی پاداش میں اس نے مطیع کو ایک ہفتہ تک

____________________

۱)۔اس کا باپ ابو قراعہ ،ایاس بن سلمی کنانی ،فلسطین کا رہنے والاتھا ،عبدالملک ابن مروان نے ابو قراعہ کو چند لوگوں کے ہمراہ حجاج بن یوسف ثقفی کی مدد کے لئے کوفہ بھیجا ۔ابو قراعہ نے کوفہ میں ہی رہائش اختیار کی اور وہاں پر ام مطیع سے شادی کی ( ملاحظہ ہو '' اغانی'' ج١٢ص٨٦ ؛اور تاریخ بغداد تالیف خطیب ج٣ص٢٢٣و٢٢٤)


اپنی می نوشی کی محفل میں اپنا ہم نشین بنایا.اس کے بعد اس کے لئے بیت المال سے ایک دائمی وظیفہ مقرر کیا. اس طرح اموی خلافت کے دربار میں مطیع نے راہ پائی اور حکومت کے ارکان اور اہل کاروں کا ہمدم بن گیا۔

مطیع،یحییٰ بن زیاد حارثی،(۱) ابن مقفّع اور والبہ آپس میں جگری دوست تھے اور دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے حتیٰ وہ ایک دوسرے کی ہر قسم کی خواہش کو پوری کرنے میں کسی قسم کی دریغ نہیں کرتے تھے۔اور ان سب پر مانوی مذہب کے پیرو کار اور زندیقی ہونے کا الزام تھا۔ ٣١

بنی امیہ کے خاتمہ اور عباسی خلافت کے آغاز میں مطیع، عبد اللہ ابن معاویہ(۲) سے جاملا۔ اس وقت عبد اللہ ایران کے مغربی علاقوں کا حاکم تھا، مطیع اس کا ہمدم اور ہم نشین بن گیا۔عبد اللہ اور اس کی پولیس کے افسر جو ایک دہریہ اور منکر خدا تھا کے ساتھ مطیع کی اس ہم نشینی اور دوستی کے بہت سے قصے موجود ہیں ۔

عباسیوں کی حکومت میں مطیع ، پہلے منصور کے بیٹے جعفر کا ہم نشین بنا. چونکہ منصور نے اپنے بھائی مہدی کی جانشینی کے لئے لوگوں سے بیعت لے لی تھے. اس لئے جعفر اپنے باپ سے ناراض تھا. جشن بیعت کے دن بہت سے مقررین اور شعرا نے اپنے بیانات اور اشعار پڑھ کے داد سخن حاصل کی. مطیع بھی اس محفل میں حاضر تھا، اس نے بھی اس مناسبت سے شعر پڑھے، اپنے اشعار کے اختتام پر مطیع نے منصور کی طرف رخ کرکے کہا: اے امیر المومنین ! فلاں نے فلاں سے ....ہمارے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''مہدی موعود، محمد ابن عبد اللہ ہے کہ اس کی والدہ ہم میں نہیں ہے، وہ روی زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھری

____________________

۱): کہا جاتا ہے کہ یحییٰ ، عباسیوں کے پہلے خلیفہ ابو العباس سفاح کا ماموں زاد بھائی تھا۔ یحییٰ ایک بد کار اور بیہودہ شاعر تھا۔

۲): عبد اللہ بن معاویہ ، جعفر ابن ابیطالب کا بیٹا تھا جو اصفہان ، قم، نہاوند اور ایران کے دیگر مغربی شہروں کا حاکم تھا۔ وہ اور اس کی پولیس کا افسر ، قیس بن عیلان ،لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے (اغانی،ج١٢،ص٧٥۔٨٥)


ہوگی، اور یہ آپ کا بھائی عباس بن محمد بھی اس بات کا گواہ ہے''.(۱) اس کے فورا بعد عباس کی طرف رخ کرکے کہا: ''میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم نے بھی یہ بات نہیں سنی ہے؟'' عباس نے منصور کے ڈر سے ہاں کہہ دی اس تقریر کے بعد منصور نے لوگوں کو حکم دیا کہ مہدی کی بیعت کریں ۔ جب محفل بر خواست ہوئی تو عباس نے کہا: ''دیکھا تم لوگوں نے کہ اس زندیق نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جھوٹ اور تہمت باندھی اور صرف اسی پر اکتفا نہین کی بلکہ مجھے بھی گواہی دینے پر مجبور کیا، میں نے ڈرکے مارے گواہی دیدی اور جانتا ہوں جس کسی نے میری گواہی سنی ہوگی ، وہ مجھے جھوٹا سمجھے گا''۔ جب یہ خبر جعفر کو پہنچی تو وہ آگ بگولا ہوگیا. جعفر ایک بے شرم اور شراب خوار شخص تھا۔ ٣٢

چونکہ مطیع کا زندیقی ہونا زبان زد خاص و عام تھا، اس لئے عباسی خلیفہ منصوریہ پسند نہیں کرتاکہ اس کا بیٹاجعفر ، مطیع کا ہمدم اور ہم نشین بنے.لہٰذا ایک دن منصور نے مطیع کو اپنے پاس بلاکر اس سے کہا : کیا تم اس پر تلے ہو کہ اپنی ہم نشینی سے جعفر کو فاسد اور بد کار بناؤاور اسے اپنے مذہب ، یعنی زندیقیت کی تعلیم دو؟! ''

مطیع نے جواب میں کہا: ''نہیں ، خلیفہ !ایسا نہیں ہے.آپ کا فرزند ، جعفر اپنے زعم میں جنیوں کی بیٹی کا عاشق ہوگیا ہے۔ اس لئے اس سے شادی کرنے کے لئے اصرار کر رہا ہے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے تعویض نویسوں اور رمّالوں کو اپنے گرد جمع کر رکھا ہے اور وہ بھی اس اہم مسئلہ کے لئے سخت کوشش میں ہیں ، اس حساب سے جعفر کے ذہن میں کفر و دین، مذاق و سنجیدگی جیسی چیزوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں رہ گئی ہے کہ میں اسے فاسد بناؤں ''

منصور چند لمحوں کے لئے سوچ میں ڈوب گیا، اس کے بعد بولا:'' اگر یہ بات سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو تو جتنی جلد ہو سکے اس کے پاس واپس جائو اور اپنی ہو شیاری ،نگرانی ،اور ہم نشینی سے جعفر کو

____________________

۲):اس طرح مطیع نے ایک حدیث جعل کی تا کہ ثابت کرے کہ منصور عباسی کا بیٹا محمد ، وہی اسلام کا مہدی موعود ہے.


اس سے روکو''٣٣

حماد عجرد اور اس کی معشوقہ نیز یحیٰ بن زیاد اور اس کی معشوقہ کے ساتھ مطیع کی بہت سی داستانیں مشہور ہیں اس کے اکثر اشعار گانے والی عورتوں کے بارے میں ہیں ٣٤ ان میں سے وہ ''جوہر'' نام کی ایک مغنیہ کے بارے میں کہتا ہے:

''نہیں !خدا کی قسم مھدی کو ن ہے وہ تو تیرے ہوتے ہوئے مسند خلافت پر بیٹھے ؟ اگر تو چاہے تو منصور کے بیٹے کو خلافت سے اتار نا تیرے لئے آسان ہے ''

جب مطیع کا یہ شعر خلیفہ عباسی مھدی کو سنایا گیا ،تو اس نے ہنس کر کہا: ''خدا اس پر لعنت کرے ! جتنی جلد ممکن ہو سکے ان دونوں کو آپس میں ملا دو ،اس سے پہلے کہ یہ فاحشہ مجھے تخت خلافت سے اتاردے ''٣٥

کتاب ''اغانی'' کے مؤلف نے مطیع کی بیہودگیوں اور بے حیائیوں کی بہت ساری داستانیں نقل کی ہیں من جملہ یہ کہ :

'' ایک دفعہ یحیٰ،(۱) مطیع اور ان کے دوسرے دوست ایک جگہ جمع ہو کر مسلسل چند روز تک شراب نوشی میں مشغول رہے ۔ایک رات یحیٰ نے اپنے دوستوں سے کہا: افسوس ہو تم پر !ہم نے تین دن سے نماز نہیں پڑھی ہے اٹھو تماز پڑھیں ،مطیع نے محفل میں حاضر مغنیہ سے کہا تو سامنے کھڑی ہو جااور ہماری امامت کر ،یہ عورت صرف ایک نازک باریک اور خوشبو دار اندرونی لباس پہنے ہوئے تھی اور نیچے شلوار بھی نہیں پہنے تھی ان کے سامنے امامت کے لئے کھڑی ہو گئی اور جب وہ سجدے میں گئی ...مطیع نے نماز کو توڑ کر بے حیائی سے بھر پور چند شعر پڑھے ،جن کو سن کر سبوں نے اپنی نماز

____________________

۱)۔یحیٰ بن زیاد حارثی منصور کا ماموں تھا اور بنی الحرث بن کعب میں سے تھا ،اغانی ١٤٥١١۔اور مھدی کی سفارش پر منصور نے اسے اہواز کے علاقوں کا گورنر منصوب کیا تھا۔اغانی ٨٨١٣


توڑ دی اور ہنستے ہوئے پھر سے شراب پینے میں مشغول ہو گئے'' ٣٦

مطیع نے ایک تاجر جو کوفہ میں اس کا دوست بن گیا تھا کو فاسد اور گمراہ بنا دیا تھا ۔ ایک دن یہ تاجر مطیع سے ملا اور مطیع نے اس سے کہا : اس کا دستر خوان شراب اور مختلف کھانوں سے پر اور آمادہ ہے اس کے بعد اسے دعوت دی کہ ان کی محفل میں شرکت کرے اس شرط پر کہ خدا کے فرشتوں کو پرا بھلا کہے !چوں کہ اس تاجر کے دل میں تھو.ڑی سی دینداری موجود تھی اس لئے اس نے جواب میں کہا : خدا تم لوگوں کو اس عیش و عشرت سے محروم کرے !تم نے مجھے ذلت و رسوائی میں پھنسا دیا ہے ۔یہ کہہ کر یہ تاجر مطیع سے دور ہو گیا راستے میں حماد سے اس کی ملاقات ہوئی تاجر نے مطیع کی داستان اسے سنادی ۔حماد نے جواب میں کہا: مطیع نے اچھا کام نہیں کیا ہے جس کا مطیع نے تجھ سے وعدہ کیا تھا میں اس سے دوبرابر نعمتوں سے مالا مال دسترخوان سجا کر تجھے دعوت دیتا ہوں لیکن اس شرط

پر کہ خدا کے پیغمبروں کو دشنام دو کیوں کہ فرشتوں کا کوئی قصور نہیں ہے کہ ہم انھیں دشنام دیں بلکہ یہ پیغمبر ہیں جنھوں نے ہمیں مشکل اور سخت کام پر مجبور کیا ہے !تاجر اس پر بھی برہم ہوا اور اس پر نفرین کر


کے چلا گیا اور یحیٰ بن زیاد کے پاس پہنچا اس سے بھی وہی کچھ سناجو مطیع اور حماد سے سنا تھا اس لئے تاجر نے اس پر بھی لعنت بھیجی ۔

بالآخر تینوں افراد نے اس تاجر کو کسی قید وشرط کے بغیر اپنی شراب نوشی کی بزم میں کھینچ لیا سب ایک ساتھ بیٹھے ۔شراب پینے میں مشغول ہوئے ۔تاجر نے ظہر وعصر کی نماز پڑھی جب تاجر پر شراب نے پورا اثر کرلیا تو مطیع نے اس سے کہا :فرشتوں کو گالیاں دو ورنہ ہماری بزم سے چلے جاؤ تاجر نے قبول کیا اور فرشتوں کو گالیا دیں ،پھر یحیٰ نے اس سے کہا: پیغمبروں کو گالیاں دو ورنہ یہاں سے چلے جائو اس نے اطاعت کرتے ہوئے پیغمبروں کو بھی گالیاں دیں ۔اس کے بعد اس سے کہا گیا کہ:اب تمھیں نماز بھی چھوڑنا پڑے گی ورنہ یہاں سے چلے جانا پڑے گا ۔تاجر نے جواب میں کہا : اے حرام زادو !اب میں نماز بھی نہیں پڑھوں گا اور یہاں سے بھی نہیں جائوں گا اس کے بعد جو کچھ اس سے کہا گیا اس نے اسے انجام دیا۔٣٧

ایک دن مطیع نے یحیٰ کو خط لکھا اور اسے دعوت دی کہ اس کی بزم شراب نوشی میں شرکت کرے ۔کہتے ہیں کہ اس روز عرفہ تھا وہ لوگ روز عرفہ اور شب عید صبح ہونے تک شراب پینے میں مشغول رہے ،اور عید قربان کے دن مطیع نے حسب ذیل (مضمون )اشعار پڑھے :


'' ہم نے عید قربان کی شب مئے نوشی میں گزاری جب کہ ہمارا ساقی یزید تھا ۔ہم نشینوں اور ہم پیالوں نے آپس میں جنسی فعل انجام دیا اور ایک دوسرے پر اکتفا کی اور...وہ ایک دوسرے کے لئے مشک وعود جیسی خوشبو تھے ''(۱)

بے شرمی اور بے حیائی کے یہ اشعار لوگوں میں منتشر ہوئے اور آخر کار سینہ بہ سینہ عباسی خلیفہ مہدی تک پہنچے ،لیکن اس نے کسی قسم کا رد عمل نہیں دکھایا۔

اسی طرح اس نے درج ذیل اشعار (مضمون ) کے ذریعہ عوف بن زیاد کو اپنی مئے گساری کی بزم میں دعوت دی ہے : اگر فساد و بد کاری چاہتے ہو تو ہمای بزم میں موجود ہے ...''٣٨

ایک سال مطیع اور یحیٰ نے حج پر جانے کا ارادہ کیا اور کاروان کے ساتھ نکلے راستہ میں زرارہ کے کلیسا کے پاس پہنچے تو اپنا ساز و سامان کا روان کے ساتھ آگے بھیج دیا اور خود شراب نوشی کے لئے کلیسا میں داخل ہو گئے تاکہ دوسرے دن کاروان اوراپنے سازوسامان سے جا ملیں گے لیکن وہ مئے

نوشی میں اتنے مست ہوئے کہ ہوش آنے پر پتا چلا کہ حجاج مکہ سے واپس آرہے ہیں !اس لئے حاجیوں کی طرح اپنے سرمنڈواکر اونٹوں پر سوار ہو کر کاروان کے ہمراہ اپنے شہر کی طرف لوٹے۔

اس قضیہ سے متعلق مطیع نے یہ اشعار کہے ہیں :

''تم نے نہیں دیکھا : میں اور یحییٰ حج پر گئے ،وہ حج جس کی انجام دہی بہترین تجارت

____________________

۱)۔ہم نے مطیع سے انتہائی نفرت کے باوجود ان مطالب کا اس لئے ذکر کیا ہے کہ ان چیزوں کو واضح کئے بغیر سیف کے ماحول اور اس کی سرگرمیوں کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔


ہے ہم خیر و نیکی کے لئے گھر سے نکلے ،راستہ میں زرارہ کے کلیسا کی طرف سے ہمارا گزر ہوا ۔لوگ حج سے مستفید ہوکر لوٹے اور ہم گناہ و زیان سے لدے ہوئے پلٹے''٣٩

اس کے علاوہ کتاب ''دیرہا'' تالیف الشابشتی ،میں مطیع سے مربوط چند اشعار حسب ذیل (مضمون کے) نقل کئے گئے ہیں :

'' ہم اس میخانے میں پادریوں کے ہم نشین اورمئے خواروں کے رقیب تھے اور زُنار میں بندھا ہوا آہو کا بچہ (کسی نوخیز لڑکے یا لڑکی سے متعلق استعارہ ہے ) ....میں نے اس بزم کے کچھ حالات تم سے کھل کر بیان کئے اور کچھ پردے میں بیان کئے!''

کہتے ہیں کہ مطیع قوم لوط کی بیماری میں مبتلا تھا ،ایک دفعہ اس کے چند رشتہ دار اس کے پاس آئے اور اسے اس نا شائشتہ اور غیر انسانی حرکت پر ملامت کرتے ہوئے کہا: حیف ہو تم پر !کہ قبیلہ میں اس قدر مقام و منزلت اور ادبی میدان میں اس قدر کمال کے حامل ہونے کے باوجود خود کو اس شرمناک اور ناپاک کام میں آلودہ کر رکھا ہے؟! اس نے ان کے جواب میں کہا: تم لوگ بھی ایک بار امتحان کرکے دیکھ لو!پھر اگر تمھارا کہنا صحیح ہو تو خود اس کام سے اجتناب کرکے ثابت کرو!! انھوں نے اس سے نفرت کا اظہار کیا اس کے بعد اس سے منہ موڑ تے ہوئے کہا: لعنت ہو تیرے اس کام، عذر و بہانہ اور ناپاک پیش کش پر ۔(۱) ٤٠

مطیع ،بستر مرگ پر

ہادی عباسی کی خلافت کے تیسرے مہینے میں مطیع فوت ہوگیا اس کے معالج نے بستر مرگ

____________________

۱)۔مطیع کی ان بدکاریوں کے بارے میں اگر مزید تفصیلات معلوم کرنا ہو تو کتاب اغانی ٨٥١٢ ملاحظہ فرمائیں ۔اظہار نفرت کے باوجود ہم ان مطالب کا اس لئے ذکر کرتے ہیں کہ اس قسم کی بدکاریوں سے پردہ اٹھائے بغیر سیف کے زمانہ اورحالات کا ادراک کرنا ممکن نہیں ہے ۔


پر اس سے سوال کیا کہ تمھیں کس چیز کی آرزو ہے ؟ اس نے جواب میں کہا : چاہتا ہوں کہ نہ مروں ۔٤١

مطیع کے پسماندگان میں ایک بیٹی باقی تھی ۔چند زندیقیوں کے ہمراہ اسے ہارون رشید کے پاس لایا گیا ، اس نے زندیقیوں کی کتاب پڑھ کر اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا : یہی وہ دین ہے جس کی مجھے میرے باپ نے تعلیم دی ہے اور میں نے اس سے منھ موڑ لیا ہے ۔اس کی توبہ قبول کر لی گئی اور اسے گھر بھیج دیا گیا۔٤٢

یہ شاعر اس قدر بے شرمی ،بے حیائی اور بدکاری کے باوجود اموی اورعباسی خلفاء اور ان کے جانشینوں کے مصاحبین اور ہم نشینوں میں شمار ہوتا تھا !خطیب بغدادی اس کی زندگی کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے : مطیع خلیفۂ عباسی منصور اور اس کے بعد مھدی کے مصاحبین میں سے تھا۔٤٣

کتاب اغانی میں درج ہے کہ مھدی ،مطیع سے اس بات پر بہت راضی اور شکر گزار تھا کہ اس زمانے کے تمام خطیبوں اور شعراء میں وہ تنہا شخص تھا جس نے اس کے بھائی منصور کے سامنے ایک جھوٹی اور جعلی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مھدی وہی مھدی موعود ہے ۔

اس کے علاوہ لکھا گیا ہے کہ منصور کی پولیس کے افسر نے اسے رپورٹ دی کہ مطیع پر زندیقی ہونے کا الزام ہے اور خلیفہ کے بیٹے جعفر اور خاندان خلافت کے چند دیگر افراد کے ساتھ اس کی رفت و آمد ہے اور بعید نہیں ہے کہ وہ انھیں گمراہ کر دے ۔منصور کے ولی عہد مھدی نے خلیفہ کے پاس مطیع کی شفاعت کی اور کہا : وہ زندیقی نہیں ہے بلکہ بدکردار ہے ،منصور نے کہا: پس اسے بلا کر حکم دو کہ ان ناشائستہ حرکتوں اور بدکاریوں سے باز آجائے۔


جب مطیع مھدی کے پاس حاضر ہوا ،مھدی نے اس سے کہا: اگر میں نہ ہوتا اور تمھارے حق میں گواہی نہ دیتا کہ تم زندیقی نہیں ہو تو تمھاری گردن جلاد کی تلوار کے نیچے ہوتی اس جلسہ کے اختتام پر مھدی کے حکم سے انعام کے طور پر سونے کے دو سو دینار مطیع کو دئے گئے ۔اس کے علاوہ مھدی نے بصرہ کے گورنر کو لکھا کہ مطیع کو کسی عہدہ پر مقرر کرے گورنر نے بصرہ کے زکوٰة کے مسئول کو بر طرف کرکے اس جگہ پر مطیع کو مامور کیا۔٤٤

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی کام یا کسی چیز کے سلسلے میں مھدی مطیع سے ناراض ہوا اور اس کی سر زنش کی ۔مطیع نے جواب میں کہا : جو کچھ میرے بارے میں تمھیں معلوم ہوا ہے اگر وہ صحیح ہو تو میرا عذر ،میری مدد نہیں کرے گا اور اگر جھوٹ اور حقیقت کے خلاف ہو تو یہ بیہودہ گوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی یہ بات مھدی کے ذوق کو بہت پسند آئی اور اس نے کہا: اس طرز سے بات کرنے پر میں نے تجھے بخش دیا اور تیرے اسرار کو فاش نہیں کروں گا۔٤٥

زندیقیوں کے مطابق ضبط نفس اور ترک دنیا اور مطیع کی بے شرمی اور بے حیائی پر مبنی رفتار و کردار کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے ،بلکہ مطیع کو عصر منصور کے مانویوں کے فرقۂ مقلاصیان سے جاننا مناسب اور بجا ہوگا ،کہ ابن ندیم اس فرقہ کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے :وہ اس مذہب کے پیرئوں اور دین مانی کی طرف تازہ مائل ہونے والوں کو اس بات کی اجازت دیتے تھے کہ ہر وہ کام انجام دیں جس کی مذہب ہر گز اجازت نہیں دیتا اور اسی گروہ کے لوگ سرمایہ داروں اور حکام وقت کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے ۔٤٦

شائد مطیع زندیق اور اس جیسے دیگر بے شرم و بے حیا افراد مانی کی مقرر کردہ شریعت کی حد سے تجاوز کر گئے ہوں ،کیوں کہ اس نے معین کیا ہے کہ : جو بھی مانی کے دین میں آنا چاہتا ہو ،اسے شہوت ،گوشت ،شراب اور ازدواج سے پرہیز کرکے اپنے آپ کو آزمانا چاہئے ...اگر اس دین کو قبول کرنے کے اس امتحان میں پاس ہو سکا تو ٹھیک ،ورنہ اگر صرف مانی کے دین کو پسند کرتا ہو اور تمام مذکورہ چیزوں کو ترک نہ کر سکے ،تو مانی کی مقرر کردہ عبادت کی طرف مائل ہو اور صدیقین سے محبت کرکے مانی کے دین میں داخل ہونے کی آمادگی کا موقع اپنے لئے محفوظ رکھ سکتا ہے ۔٤٧


شائد یہ لوگ ،مانی کی طرف سے دی گئی اس دینی اجازت یا چھوٹ کی حد سے گزر کر انسانیت سے گر گئے اور بے شرمی و بے حیائی کے گڑھے میں جا گرے ہیں ۔

مطیع کی زندگی کے حالات پر تحقیق و مطالعہ کے دوران ایک ایسی بات ہمارے سامنے آئی جو اس کے زندیقی ہونے کی سب سے واضح دلیل ہے اور وہ داستان حسب ذیل ہے :

''مطیع کے پسماندگان میں صرف ایک بیٹی بچی تھی ۔ اسے چند زندیقیوں کے ہمراہ ہارون رشید کے پاس لایا گیا ۔مطیع کی بیٹی نے زندیقیوں کی کتاب پڑھ کر اپنے زندیقہ ہونے کا اعتراف کیا اور کہا: یہ وہی دین ہے جس کی مجھے میرے باپ نے تعلیم دی ہے ''

خلاصہ

مذکورہ بالاتین افراد اور ان کی رفتاروکردار ،زندیقیوں اور مانی کے پیرؤں کانمونہ تھا،جو سیف بن عمر کے زمانے میں مانویوں کی سرگرمیوں اور ان کے پھلنے پھولنے کا بہترین نقشہ پیش کرتا ہے ۔

ان میں کا پہلا شخص (عبداللہ بن مقفع )مانو یو ں کی کتابو ں کا ترجمہ کرکے مسلمانوں میں شائع کرتا ہے۔

دوسرا آد می (ابن ابی العوجائ)جو مستعد اور تیز طرار ہے.ہر جگہ حاضر نظر آتا ہے ،کبھی مکہ میں امام جعفر صادق کے ساتھ فلسفہ حج پر مناظرہ کرتا ہوا اور حاجیوں کے عقل وشعورپر مذاق اڑاتا نظر آتاہے اور کبھی مدینہ منورہ میں مسجد النبی میںصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خداکی توہین کرتا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی بصرہ میں نوجوانوں کے پیچھے پڑجاتا ہے تاکہ انھیں گمراہ کرے ۔اس طرح وہ ہر جگہ مسلمانوں کے عقائد کو خراب کرنے اور تفرقہ اندازی اور ان کے افکار میں شک وشبہہ پیدا کرنے کی انتھک کوششوں میں مصروف دیکھائی دیتا ہے ۔


تیسرا شخص (مطیع بن ایاس ) انتہائی کوشش کرتاہے کہ لاابالی ،بے شرمی وبے حیائی ،فسق و فجور اور بد کاری کواسلامی معاشرہ میں پھیلا کر لوگوں کوتمام اخلاقی وانسانی قوانین پائمال کرنے کی ترغیب دے ۔ان تمام حیوانی صفات کے باوجود عباسی خلیفہ مہدی اس بدکردار کی صرف اس لئے ستائش ،حمایت اور مدد کرتا ہے کہ اس نے اس کی بیعت کے سلسلے میں ایک حدیث جعل کی تھی۔

اس نے اور اس کے دیگر دوساتھیوں نے علم و آگاہی کے ساتھ مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی بنیادوں میں جان بوجھ کر دراڑ اور تزلزل پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھا۔بالآخر وہ بصرہ میں اپنے لئے قافیہ تنگ ہوتے دیکھ کر کوفہ کی طرف بھاگ جاتا ہے اور وہاں پر بھی بد کرداریوں کے وجہ سے گرفتار ہوکر زندان میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے بعد سزائے موت سے دوچار ہوتا ہے ۔

ان حالات میں وہ تمام لوگ جو اس کی شفاعت کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں زندیقی عقیدہ رکھنے کے متہم تھے اور انہو ں نے خلیفہ کو مجبور کیا تا کہ وہ کوفہ کے گورنر کے نام اس کو قتل کرنے سے ہاتھ روکنے کا حکم جاری کرے ،اور خلیفہ نے مجبور ہوکر ایسا ہی کیا۔لیکن خلیفہ کے اس حکم کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ہی اسے کیفر کردار تک پہنچادیا جاتاہے ۔جب وہ اپنے سر پر موت کی تلوار منڈ لاتے ہوے دیکھتا ہے اور اسے یقین ہو جا تا ہے کہ اب مرنا ہی ہے تو اس وقت اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس نے چار ہزار ایسی احادیث جعل کی ہیں جن کے ذریعہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرکے رکھدیا ہے اور اس طرح لوگوں کو روزہ رکھنے کے دن افطار کرنے اور افطار کرنے کے دن روزہ رکھنے پر مجبور کردیا ہے


٤۔سیف بن عمر سب سے خطرناک زندیق

حدیث جعل کرنے والے زندیقیوں کی تعداد صرف اتنی ہی نہیں ہے ، جن کا ہم نے ذکر کیا بلکہ جو زندیقی اس کام میں سرگرم عمل تھے ،وہ ان سے کہیں زیادہ ہیں ۔ابن جوزی اپنی کتاب ''الموضوعا ت ''میں لکھتا ہے :

''زندیقی دین اسلام کو خراب اور مسخ کرنے کے در پے تھے اور کوشش میں تھے کہ خدا کے بندوں کے دلوں مین شک و شبہہ پیدا کریں ۔لہٰذا انہوں نے دین کو اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنالیا تھا۔''

اس کے بعد ابن ابی العوجاکی داستان بیان کرتے ہوے آخر میں عباسی خلیفہ مہدی کی زبانی یوں نقل کرتا ہے کہ:

''ایک زندیق نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں جو لوگوں میں ہاتھوں ہاتھ پھیل گئی ہیں ۔''

ان ہی زندیقیوں میں سے ایک ،شیخ کی کتاب کواٹھا کے چوری چھپے اس میں موجود احادیث میں تصرف کرکے قلمی خیانت کرتا تھا۔شیخ ان تصرف شدہ احادیث کو۔اس خیال سے کہ صحیح اور درست ہیں شاگردوں میں بیان کرتا تھا ۔اس کے علاوہ حماد ابن زید سے بھی روایت ہے کہ : زندیقیوں نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں ۔

یہ قلمی خیانت سرکاری اور دربار خلافت کی مورد اعتبار کتابوں میں انجام پائی ہے ۔ہم آج تک نہیں جانتے کہ یہ احادیث کیا تھیں اور ان کا کیا ہو ا یہ دربار خلافت کی سرکاری کتابوں میں جو قلمی خیانت ہوئی ہے وہ کس قسم کی ہے !!البتہ سیف جس پر زندیق ہونے کا الزام تھا صرف اس کے بارے میں معلوم ہو سکا کہ اس نے بھی ہزاروں احادیث جعل کی ہیں ،ان پر کسی حد تک دست رس ہونے کے باوجود ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی کل تعداد کتنی ہے جب کہ سیکڑوں برس سے یہ احادیث تاریخ اسلام کے مؤثق مصادر و ماخذ کا حصہ شمار ہوتی آئی ہیں ۔


سیف نے ان احادیث کو جعل کرکے تاریخ اسلام کو اپنے راستے سے منحرف کرنے اور جھوٹ کو حقیقت کے طور پرپیش کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔

اگر ابن ابی العوجاء نے صرف چار ہزار احادیث جعل کرکے حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا ہے ،تو سیف بھی اس سلسلے میں اس سے پیچھے نہیں ہے بلکہ اس نے ہزاروں کی تعداد میں احادیث جعل کی ہیں جن میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مومن ترین صحابیوں کو ذلیل ،کمینہ اور بے شرم و بے حیا بنا کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے مقابلہ میں ظاہری طور پر اسلام لانے والوں اور بد ترین کذابوں کا تعارف متقی، پرہیز گار اور دیندار کے طورپر کرایا گیا ہے وہ اسلام کی تاریخ میں توہمات سے بھرے افسانے درج کرنے میں کامیاب رہا ہے تاکہ ان کے ذریعہ حقائق کو الٹا پیش کرکے مسلمانوں کے عقائد اور غیر مسلموں کے افکار پر اسلام کے بارے میں منفی اثرات ڈالے ۔

اسلامی عقائد کو مخدوش کرنے کے سلسلے میں سیف اپنے مذکورہ زندیقی دوستوں کے قدم بقدم چلتا نظر آتا ہے جہاں مطیع نے حدیث جعل کرکے عباسی خلیفہ مھدی کی حمایت حاصل کی ،وہاں سیف نے بھی خلفاء اور وقت کے خود سر حکام کی حمایت اور پشت پناہی حاصل کرنے کے لئے ان کی تائید میں اور ان کے مخالفین کو کچلنے کے لئے احادیث جعل کیں ،تاکہ ان کی حمایت و حفا ظت کے تحت اپنی جھوٹی اور جعلی حدیث رائج کرسکے اور ان کے رواج کا سلسلہ آج تک جاری ہے !

سیف کے افکار و کردار پر زندقہ کا خاص اثر ہونے کے علاوہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر تلا ہوا تھا ،خاندانی اور قبیلہ ای تعصبات بھی اس کے احادیث جعل کرنے میں مؤثر تھے یہ آئندہ کے صفحات میں معلوم ہوگا کہ وہ کس قدر شدید طور پر ان خاندانی تعصبات اور طرفداریوں کے اثر میں تھا ایک ایسے قبیلہ کا تعصب کہ خلفاء راشدین سے لے کر بنی امیہ اور بنی عباس تک تمام حکام وقت اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور سیف نے اپنی جعل کردہ روایتوں کو رواج دینے کے لئے اسی تعصب کی طاقت سے بھر پور استفادہ کیا ہے ۔

سیف اور اس کے ہمعصر لوگوں پر اس قبیلہ ای تعصب کے اثرات کو بخوبی جاننے کے لئے ہم اگلے صفحات میں اس موضوع پر الگ سے ایک فصل میں قدرے تفصیل سے بحث و تحقیق کرنے پر مجبور ہیں ۔


یمانی اور نزاری قبیلوں کے درمیان شدیدخاندانی تعصبات

واهج نزارا ًو افرجلد تها واکشف الستر عن مثالبها

اٹھو!اور نزاریوں کو دشنام دو ان کی چمڑی اتار لو اور ان کے عیب فاش کردو!

(یمانی شاعر)

وهتک الستر عن ذو ی یمن اولا د قحطان غیر ها ئبها

اٹھو !اور یمانیوں کی آبرو لوٹ لو اور قحطان کی اولاد سے ہرگز نہ ڈرو!

(نزاری شاعر)

تعصب کی بنیاد اور اس کی علامتیں

یمنی ،یعنی عربستان کے جنوب میں رہنے والے قبیلے ،قحطان ،وازد اور سبا کے نام سے مشہور تھے اور جزیرہ ٔ نمائے عرب کے شمال میں آباد قبیلے ،مضر ،نزاد ،معد اور قیس(۱) کے نام سے معروف تھے اور قریش ان ہی میں سے ایک قبیلہ تھا۔ آغاز اسلام سے اور خاص کر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور یمانی اور نزار ی خاندانوں کے وہاں جمع ہونے کے بعد سے ہی ان کے افراد کے درمیان فخر و بر تری کے تصادم اور ٹکرائو نظر آتے ہیں ۔

اس تاریخ سے پہلے ، مدینہ میں اوس وخزرج نام کے دو قبیلے سکونت کرتے تھے۔یہ دونوں قبیلے ثعلبہ ابن کہلان سبائی یمانی قحطانی کی نسل سے تھے ۔ان دو خاندان کے درمیان سالہا سال جنگ وجدل ،قتل وغارت،خون ریزی اور برادر کشی کاسلسلہ جاری تھا اور وہ ایک لمحہ بھی ایک دوسرے کی دشمنی سے غافل نہیں رہتے تھے ۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ان دونوں قبیلوں کے درمیان صلح وصفائی کرائی اور چونکہ یہ سب لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور مدد کرتے تھے،اس لئے انہوں نے انصار کالقب پایا۔

____________________

۱)۔ان قبائل کے شجرۂ نسب کے بارے میں کتاب '' جمھرہ نساب العرب''٣١٠۔٣١١،اورکتاب اللباب سمعانی ملاحظہ فرمائیں


شمالی علاقوں کے نزاری قبیلہ سے تعلق رکھنے والے کئی گروہ جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ مدینہ ہجرت کر کے آئے تھے وہ مہاجر کہلائے ۔اسلام نے مہاجر وانصار کو آپس میں ملایا اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی ان دو قبیلوں کے افراد کے درمیان عقد اخوت اور بھائی چارے کے بندھن باندھے۔

تعصب کی پہلی علامت

دونوں قبیلے ایک مدت تک اطمینان وآرام کے ساتھ ایک دوسرے کااحترام کرتے ہوئے آپس میں زندگی بسر کررہے تھے۔یہاں تک کہ بنی المصطلق کی جنگ پیش آئی اور اس کے ساتھ ہی نزاریوں اور یمانیوں کے درمیان خاندانی تعصبات ،خود پرستی اور خود ستائی کا آغاز ہوا۔

مسئلہ یہ تھا کہ اس جنگ میں جب پانی لانے پر معین افراد ،مریسیع(۱) کے پانی کے منبع پر پہنچے، تو جھجاہ بن مسعور(۲) ،جو عمر کے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے تھا،پانی پر پہنچنے میں سبقت لینے کی غرض سے دھکّم دھکاّ کرتے ہوئے سنان بن وبر جہنی جو قبیلہ خزرج کا طرفدار تھا سے جھگڑپڑے اور نوبت لڑائی تک پہنچ گئی ۔جھجاہ نے چیختے پکارتے بلند آواز میں مہاجرین کے حق میں نعرے لگائے اور ان سے مدد طلب کی ۔سنان نے بھی انصار کے حق میں نعرے بلند کئے اور ان سے امداد کی درخواست کی۔منافقین کا سردار وسرغنہ،عبد اللہ بن ابی سلول خزرجی،یہ ماجرا دیکھ کر مشتعل ہوا موقع کوغنیمت جان کر وہاں پر موجود اپنے قبیلے کے چند افرادکی طرف رخ کرکے کہنے لگا :''آخر کار انہوں نے اپنا کام کرہی دیا وہ ہم پر دھونس بھی جماتے ہوئے ہم پر اپنے ہی وطن میں بالادستی دکھاتے ہیں ۔خدا کی قسم !ان بے سہارا قریش کے ساتھ ہماری داستان آستین کا سانپ پالنے کے مانند ہے خدا کی قسم !اگر ہم مدینہ لوٹے تو شریف وباعزت لوگ کمینوں اور ذلیل افراد کو اپنے شہر سے باہر نکال دیں گے''۔پھر اپنے طرفداروں کی طرف رخ کرکے کہا:''یہ مصیبت تم لوگوں نے خود اپنے اوپر مسلط کی ہے۔اپنے شہر کو ان کے اختیار میں دیدیاہے اور اپنے مال ومنال کو ان کے درمیان برادرانہ طور پر تقسیم کیاہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے!خدا کی قسم !اگر تم اپنا مال ومنال انھیں بخشنے سے گریز

____________________

۱)۔مدینہ سے ایک دن کی مسافت پر ایک پانی کا سرچشمہ تھا جس کے گرد قبیلہ خزاعہ کے کچھ لوگ زندگی بسر کرتے تھے وہ بنی مصطلق کے نام سے مشہور تھے۔غزوہ بنی مصطلق سنہ ٥یا ٦ ہجری میں واقع ہواہے ۔کتاب ''امتاع الاسماع''ص١٩٥ ملاحظہ ہو۔

۲)۔جھجاہ قبیلہ غفار سے تھا اور اس دن عمر کے پاس بعنوان مزدور کام کررہاتھا ،اسی لئے اس نے مہاجرین سے مدد طلب کی ہے۔ جھجاہ عثمان کے قتل کے بعد فوت ہواہے ۔کتاب ''اسدالغابہ '' ٣٠٩١ ملاحظہ ہو۔


کروگے تو یہ لوگ خود بخود تمھارے وطن سے کہیں اور جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ان باتوں کے بارے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اطلاع دی گئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت طلب کی گئی تاکہ عبد اللہ کو قتل کرڈالاجائے۔لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے موافقت نہیں کی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نرمی ،مہربانی اوحکمت عملی سے مسئلہ کو بخوبی حل کیا۔تدبیر کے طور پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فوراً لشکر کو کوچ کرنے کاحکم دیا۔اس دن سپاہی دن رات مسلسل ومتواتر چلتے رہے ۔دوسرے دن جب صبح ہوئی اور سورج چڑھا تو گرمی کی شدت بڑھنے لگی اور سپاہیوں کا گرمی سے دم گھٹنے لگا،قریب تھا کہ سب کے سب تلف ہوجائیں ۔اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رُکنے اور آرام کرنے کاحکم دیا۔ سپاہی اتنے تھک چکے تھے کہ سواری سے اترتے ہی لیٹے اور بے حال ہو کر سوگئے ،اس طرح کسی میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ غرور وتکبر سے بیہودہ گوئی کرے ،اسی وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سورۂ منافقون نازل ہوا جس کی آٹھویں آیت میں فرماتاہے :

( ''یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَجَعْنَا اِلٰی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِه وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ'' ) (منافقون٨)

''یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم صاحبان عزت ،ان ذلیل افراد کو نکال باہر کریں گے،حالانکہ ساری عزت اللہ ،رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صاحبان ایمان


کے لئے ہے''

جب جھجاہ اور انصار کے جوانوں کی داستان کو شاعر حسان بن ثابت انصاری نے سنا ،توغصہ میں آکر مھاجرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کنایہ اور مذاق اڑانے کے انداز میں اس (مضمون کا)شعر کہا:

''بیہودہ لوگ عزت وشرافت کے مقام پر پہنچے اور برتری پائی اور فریعہ (حسان کی ماں )کابیٹا تنہا وبیکس رہ گیا''۔ ١

صفوان بن معطل نے جب یہ شعر سنا ،تو مہاجرین میں سے ایک شخص کے پاس جاکر کہا:

''خداکی قسم !حسان کے شعر میں میرے اور تمھارے علاوہ کسی کی طرف اشارہ نہیں تھا،وہ ہمارا دل دکھانا چاہتاتھا۔آؤ!تاکہ اسے تلوار سے سبق دیں ۔اسے مہاجر نے اس سلسلے میں ہر قسم کے اقدام سے پرہیز کیا۔نتیجہ کے طور پر صفوان ننگی تلوار لہراتے اور للکارتے ہوئے تنہا حسان کی طرف بڑھا اور اسے اس کی خاندان کے افراد کے درمیان حملہ کرکے زخمی کردیااور کہا:

''مجھ سے تلوار کا مزا چکھ ،کیونکہ میں شاعر نہیں ہوں کہ تیری ہجو اور بدگوئی کا شعر میں جواب دوں ''

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہاں پر بھی ان دونوں میں صلح وصفائی کرائی اور مسئلہ کو خیریت سے نمٹایا۔ ٢ اور اس طرح مہاجرین قریش اور یمانی انصار کے دوقبیلوں کے در میان فخرو غرور کی بنیادوں پر ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی پہلی لڑائی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حکمت عملی سے ختم ہوئی ۔


تعصب کی دوسری علامت

خاندانی تعصب نے دوسری بار رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد سر اٹھایا۔یہ ماجرا اس وقت پیش آیا جب قبیلہ اوس وخزرج کے انصار بنی سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازہ کو تجہیز وتکفین کے بغیرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان میں چھوڑ کر خلافت کے انتخاب میں لگ گئے ۔ قبیلہ خزرج کے رئیس ،سعد بن عبادہ نے انصار سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حکومت خود تم لوگ اپنے ہاتھ میں لے لو''۔انصار نے ایک زبان ہوکر بلند آواز میں کہا:''ہم تمھاری تجویز سے اتفاق رکھتے ہیں ،صحیح کہتے ہو،ہم تمھارے نظریہ اور حکم کی مخالفت نہیں کریں گے''۔

جب یہ لوگ اس سلسلہ میں صلاح ومشورہ اور تبادلہ خیال میں مصروف تھے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے جمع ہونے کی خبر بعض مھاجرین تک پہنچ گئی تو وہ فوراً انصار کے اجتماع میں پہنچے اور تقریر کرتے ہوئے کہا:

''امراء اور حکام مہاجرین میں سے ہوں اور وزرا ء آپ انصار میں سے''۔

انصار میں سے ایک آدمی اٹھا اور کہا:

''اے انصار کی جماعت !تم لوگ خود زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لو ،تاکہ لوگ تمھارے سائے میں اور تمھاری حمایت میں آجائیں اور کوئی تم لوگوں سے مخالفت کرنے کی جرأت نہ کرے ۔اور کسی کو یہ طاقت نہ ہو کہ تمھارے حکم کے علاوہ کسی اور کی اطاعت کرے۔تم لوگ طاقت ،توانائی، لشکراور شأن وشوکت کے مالک ہو،اور طاقتور ،مجاہد ،باتجربہ اور محترم ہو۔لو گ تم سے امیدیں باندھے ہوئے ہیں تا کہ دیکھ لیں کہ تم لوگ کیا کر تے ہو ۔تم لوگوں میں اختلاف پیدا نہ ہونا چاہئے،ورنہ تباہ ہوجائوگے اور حکومت تمھارے ہاتھوں سے چلی جائے گی ۔مہاجرین کی بات وہی ہے جو تم لوگوں نے سنی ۔اگر وہ لوگ ہمارے ساتھ اتفاق نہ کریں اور ہماری تجویز کو قبول نہ کریں گے تو ہم اپنے لوگوں میں سے ایک آدمی کو حاکم منتخب کریں گے اور وہ بھی اپنوں میں سے ایک حاکم کا انتخاب کریں ۔''


اس مہاجر نے یہ تقریر سن کر کہا :

''ایک میان میں ہرگز دو تلواریں نہیں سماسکتی ہیں اور ایک شہر میں دو حاکم امن سے نہیں رہ سکتے ۔اس کے علاوہ خدا کی قسم !عرب آپ لوگوں کی ہرگز اطاعت نہیں کریں گے ،چونکہ ان کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا ۔''

انصاری نے اپنے ساتھیوں کی طرف رخ کرکے کہا :

''اے انصار کی جماعت !اپنے ہاتھ محکم رکھو اور مہاجرین کے ہاتھ پر ہر گز بیعت نہ کرو اور اس شخص کی باتوں پر کان نہ دھرو ،کیوں کہ اس طرح حکومت اور فرماں روائی میں تمھارا حق ضائع ہو جائے گا ۔اگر انھوں نے تم لوگوں کی تجویز قبول نہ کی تو انھیں اپنے شہر و دیار سے نکال باہر کرو اور زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لو کہ خداکی قسم تم لوگ حکومت اورفرماں روائی کے لئے ان سے لائق و شائستہ ہو''

اس کے بعد مہاجرین کی طرف رخ کرکے کہا :

''خدا کی قسم اگر چاہو تو ہم جنگ کو از سر نوشروع کرنے پر آمادہ ہیں ''

اس مہاجر نے جب انصار کی یہ باتیں سنیں تو جواب میں کہا:

''اس صورت میں خدا تجھے قتل کر دے گا!...''

اور انصاری نے فورا جواب میں کہا :'' خدا تجھے قتل کر دے گا!''

اس تلخ گفتگو کے بعد اس مرد مہاجر نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ ابو بکر کی طرف بڑھا دیا ٣ اس کے بعد حضار بھی اس کی بیعت کے لئے آگے بڑھے ۔(۱)

اس طرح حکومت و ریاست کو ہاتھ میں لینے کی انصار کی کوشش ناکام رہی۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں یہ دو قبیلے نزاری اور یمانی ایک دوسرے کے خلاف ہجو و بدگوئی پر اتر آئے ۔قریش میں سے ابن ابی عزہ نے اس بارے میں انصار سے مخاطب ہو کر کہا:

''غلط طریقہ سے خلافت کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنے والوں سے کہہ دو !کہ کسی مخلوق سے آج تک ایسی غلطی سرزد نہیں ہوئی ان سے کہہ دو ،کہ خلافت قریش کا حق ہے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خدا کی قسم !کہ اس میں تمھارے لئے کوئی بنیاد و اساس موجود نہیں ہے ''

____________________

۱)کیا خلیفہ کے انتخاب میں اتفاق آرا ء اور جمہور کی بیعت اسی کو کہتے ہیں (مترجم)


جب یہ بات گروہ انصار تک پہنچی تو انھوں نے اپنے شاعر نعمان بن عجلان سے اس کے جواب میں شعر کہنے کو کہا ،اور اس نے حسب ذیل ( مضمون کے ) شعرکہے:

''قریش سے کہہ دو کہ تمھارے وطن ،مکہ کو فتح کرنے والے ہم تھے ،ہم جنگ حنین کے سورما اور جنگ بدر کے شہسوار ہیں تم نے کہا ہے کہ سعد بن عبادہ کا خلیفہ بننا حرام ہے لیکن (کہا) ابوبکر جس کا نام عتیق ابن عثمان کا خلیفہ بننا جائز اور حلال ہے !!''

گمراہ اور نادان قریش ایک جگہ جمع ہو کر داد سخن دیتے تھے اور برابر کہتے تھے ۔جب یہ خبر حضرت علی علیہ السلام کو پہنچی تو وہ غصہ کی حالت میں مسجد میں پہنچے اور ایک تقریر کے ضمن میں فرمایا:

''قریش کو یہ جاننا چاہئے کہ انصار کو چاہنا ایمان کی علامت ہے اور اس سے دشمنی نفاق کی نشانی ہے ، انھوں نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا ہے(۱) اور اب تمھاری باری ہے ...''

اس کے بعد اپنے چچا زاد بھائی فضل کی طرف اشارہ کیا کہ شعر کی زبان میں انصار کی حمایت کرے ۔فضل نے حسب ذیل (مضمون کے ) چند شعر کہے:

''انصار تیز تلوار کے مانند ہیں اور جو بھی ان کی تلوار کے نیچے قرار پائے گا وہ ہلاک ہو جائے گا''

اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ایک خطبہ پڑھا اور اس کے ضمن میں فرمایا:

''خدا کی قسم انصار جس طرف ہوں میں ان کے ساتھ ہوں ،کیوں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے : ''جہاں کہیں انصار ہوں میں ان کے ساتھ ہوں ''حضار نے ایک زبان ہو کر کہا: خدا آپ پر رحمت نازل کرے ،اے ابو الحسن !آپ نے صحیح فرمایا''

____________________

۱)۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا مقصود یہ ہے کہ انصارنے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصرت اور دین اسلام کی مدد کی ۔


اس طرح حضرت علی علیہ السلام نے از سر نو بھڑکنے والے فتنے کے شعلوں کو بجھا دیا اور اپنے چچا زاد بھائی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح حکمت عملی اور عقلمندی سے حالات کو پر سکون کیا ۔٤

یہ پہلا قدم تھا جس کے نتیجہ میں ملت اسلامیہ کا اتحاد متفرق ہو کر دو حصوں میں بٹ گیا ۔ان میں سے ایک حصہ مضری خاندان تھا ،جو بنی عباسیوں کے خاتمہ تک خلافت و سلطنت پر قابض رہا اور دوسرا حصہ خاندان یمانی تھا جو ہمیشہ کے لئے خلافت واقتدار سے محروم رکھا گیا۔ان دونوں خاندانوں

کے ساتھ بعض دیگر افراد نے بھی عہد و پیمان باندھ کر اپنے اصلی خاندان اور نسب کو فراموش کرکے خود کو ان ہی خاندانوں میں ضم کر دیا تھا ۔اس کے علاوہ ان خاندانوں میں آزاد ہونے والے غلام بھی مربوطہ خاندان کے غم و شادی میں شریک ہو کر ان کی ایسی طرفداری اور دفاع کرتے تھے جیسے خود ان کی اولاد ہوں ۔دوسری طرف مربوطہ قبیلہ بھی ان کے ساتھ اپنے فرزند وں جیسا سلوک کرتا تھا ۔

عربی ادبیات میں تعصب کا ظہور

مذکورہ دو قبیلوں (مضر و یمانی) میں خود ستائی ،غرور تکبر اور ایک دوسرے کو برا اور کمینہ ثابت کرنے کا سلسلہ نئے سرے سے شروع ہوا ۔رزمیہ ،خودستائی اور ہجو و بد گوئی نے عربی ادبیات کی نثر و نظم پر عجیب اثر ڈالا ۔اس سلسلے میں قبیلہ کے اصل نامور شعراء ،جیسے کمیت و دعبل اور اس سے منسوب شعرا ء جیسے ابونواس اور حسن ہانی قابل ذکر ہیں ۔

ایام جاہلیت اور اسلام کے زمانہ میں تمام جزیرہ نمائے عرب میں ان دو قبیلوں کے درمیان خاندان کے سورمائوں اور ان کے نسبتی و قرابتی طرفداروں کی بہادری کو اجاگر کرکے اس پر فخر و مباہات کرنے اور ان کی عظمت اور کارناموں کے گیت گانے کا دور دورہ تھا۔

مسعودی اپنی کتاب '' التنبیہ و الاشراف '' میں لکھتا ہے :(۱)

____________________

۱)۔ملاحظہ ہو کتاب '' التنبیہ و الاشراف '' تالیف مسعودی طبع ١٣٥٧ ھ مصر ص٩٤و٩٥


'' معد بن عدنان کا خاندان اپنے آپ کو پارسیوں (ایرانیوں ) کے ساتھ ہم نسل و نسب جاننے کے سبب یمنیوں کے خاندان پر فخر و مباہات کرتا تھا ،جریر بن عطیہ نے اس فخر کو شعر کی صوررت میں حسب ذیل (مضمون میں ) بیان کیا ہے :

''ہمارا جد اعلیٰ ابراہیم خلیل ہے تم ہمارے اس فخر سے چشم پوشی نہیں کر سکتے ہو اور ہماری یہ قرابت انتہائی فخر و مباہات کا سبب ہے ہم شیر دل اسحٰق کی اولاد ہیں جو میدان کارزارمیں زرہ کے بجائے لباس مرگ زیب تن کرتے تھے اور خود ستائی کے وقت سپہید ،کسریٰ ،ہرمزان اور قیصر پر فخر کرتے ہیں ،ہمارے اور اسحٰق کی اولاد کے اجداد ایک ہیں اور ہم دونوں کا شجرۂ نسب مقدس پیغمبر اور پاک رہبر تک پہنچتا ہے ۔ ہماری اور پارسیوں (ایرانیوں ) کی نسل ایسے اجداد تک پہنچتی ہے کہ ہمیں اس بات پر کسی قسم کی تشویش نہیں ہے کہ دوسرے قبیلے ہم سے جدا ہوجائیں ''

یا اپنے قبیلے کے فخر و مباہات کے بارے میں کہے گئے اشعار میں اسحاق بن سوید عدوی قرشی یوں کہتا ہے :

''اگر قبیلہ قحطان اپنی شرافت و نجابت پر کبھی ناز کرے تو ہمارا فخر و مباہات ان سے بہت بلند ہے ۔کیوں کہ ابتداء میں ہم اپنے چچا زاد بھائیوں ،اسحاق کی اولاد کی حکومت کے دوران ان پر فرمان روائی کرتے تھے اور قحطان ہمیشہ ہمارے خدمت گار اور نوکر تھے ہم اور ایرانی ایک ہی نسل اور ایک باپ سے ہیں اور ایسا افتخار ہوتے ہوئے ہمیں کسی قسم کا خوف و تشویش نہیں ہے کہ کوئی ہم سے جدا ہو جائے ''

یا قبیلہ نزار کا ایک شخص یوں کہتا ہے :

'' اسحاق و اسماعیل کی اولاد نے بہت سے قابل افتخار اور عظیم کا رنامے انجام دیئے ہیں ۔ ایرانی اور نزاری نسل کے شہسوار ایک ہی باپ کی عظیم اصیل اور پاک اولاد ہیں '' ٥


مسعودی اپنی کتاب کے صفحہ ٧٦ پر لکھتا ہے :

''یمنی ضحاک کے وجود پر فخر کرتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ قبیلہ ازدسے تھا ۔ اسلام میں بھی شعراء نے ضحاک کا نام عزت و احترام سے لیا ہے ، اور ابو نواس حسن ابن ہانی و بنی حکم بن سعد قحطانی کا آزاد کردہ تھا اپنے ایک قصیدہ میں ضحاک کے وجود پر فخر کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی نزار ی قبائل کے تمام افراد کو دشنام اور برا بھلا کہتا ہے ۔ ''

یہ وہی قصیدہ ہے جس کی بنا پر نزاری عباسی خلیفہ ہارون رشید نے اس بے احترامی کے جرم میں ابو نواس کو طولانی مدت کے لئے زندان میں ڈلوا دیا تھا حتٰی کہا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں اس پر حد بھی جاری کی تھی۔

بہر حال ،ابو نواس نے اس قصیدہ میں یمنی اور قحطانی سے منسوب ہونے پر فخر کرتے ہوئے ضحاک کو احترام و عظمت کے ساتھ یاد کیا ہے اور اس سلسلے میں کہتا ہے :

'' ناحط کے محلوں کے مالک ہم ہیں اورصنعا کا خوبصورت شہر ہمارا ہے جس کے محرابوں میں مشک کی مہک پھیلتی ہے ۔ضحاک ہم میں سے ہے جس کی پرستش جنات اور پرندے کرتے تھے اٹھو !اور نزار کی اولاد کو دشنام دو اور ان کی ہجو کرو ۔ان کی کھال اتار دو اور ان کے عیبوں کو طشت از بام کردو''

نزاریون کی ایک جماعت ابونواس کے اس قصیدہ کا جواب دینے پر آمادہ ہوتی ہے ۔ان میں سے قبیلہ نزار کے بنی ربیعہ کا ایک آدمی نزار کے مناقب اور اعزازات بیان کرتے ہوئے یمن و یمنیوں کو برا بھلا کہہ کر ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے عیبوں سے پردہ اٹھا تے ہوئے کہتا ہے :

'' معدو نزار کی ستائش کرو اور ان کی عظمت پر فخر کرو ۔یمنیوں کی حرمت کو تار تار کردو اور قحطان کی اولاد سے کسی صورت میں تشویش نہ کرو..''


خاندنی تعصبات کی نبا پر ہونے والی خونیں جنگیں

خاندانی تعصبات ،شعر وشاعری ،فخرو مباہات بیان کرنے ،بہادر یاں جتلانے اور خود ستائی وغیرہ تک ہی محدود نہیں رہے ہیں ،بلکہ تاریخ کے سیاہ صفحات اس امر کے گواہ ہیں کہ بعض اوقات خونیں جنگیں بھی اس بنا پر واقع ہوئی ہیں ۔

امویوں کی خلافت کے آخری دنوں میں یہ تعصبات انتہا کو پہنچے اور سر انجام اس حکومت کی نابودی کا سبب بنے ۔

مسعودی اپنی کتاب ''التنبیہ والاشراف ''میں لکھتا ہے :٦

''جب خلافت ولید بن یزید(۱) کے ہاتھ میں آگئی ،اس نے خاندان نزار کو دربار خلافت میں بلا کر ان کی عزت و احترام کیا ۔انھیں بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کیا اور یمنیوں کو دربار خلافت سے نکال باہر کرکے ان کے سا تھ سرد مہری دکھائی اور ذلیل وخوار کیا ۔خلیفہ کی سرد مہری کاشکار ہونے والے یمنی بزرگ شخصیتوں میں اس خاندان کا سردار ،خالد قسری(۲) بھی تھا،جو ولید کے خلیفہ بننے سے پہلے عراق کا گورنر تھا ۔ولید نے خالد کو عزل کرکے اس کی جگہ پر عراق کے ڈپٹی کمشنر ، یوسف بن عمر ثقفی (ج) کو گورنر کے عہدہ پر مقررکیا ۔یوسف،خالد کو گرفتار کرکے کوفہ

____________________

١لف)۔ولید،عبد الملک کا نواسہ تھا،اس کی ماں ام محمد تھی ،وہ مشہور و معروف شخص حجاج کا بھتیجا تھا ۔ولید، ہشام کی وفات کے روز بدھ کے دن ٦ربیع الاول ١٢٥ھ کو تخت خلافت پر بیٹھا ۔اور جمعرات ١٢٦ھ کو جب جمادی الثانی کے دو دن باقی بچے تھے ،قتل ہوا(جمہرہ انساب العرب ص٨٤ ومروج الذہب )

۲)۔خالد قسری ،عراق، فارس،اہوزاور کرمانشاہ کاگورنر تھا(التنبیہ والاشراف ،مسعودی ص٢٨٠)

ج)۔یوسف ابن عمر ،ہشام کے زمانے میں یمن کا حکمراں تھا،اس کے بعد عراق کاحاکم بنا،اسی لئے ولید نے اسے برقرار رکھا ۔یوسف ولید کے بیٹوں کے ساتھ قتل کیا گیا۔(وفیات الاعیان ابن خلکان ٦٨٦۔١١٠)


لے گیا اور وہاں پر اسے جسمانی اذیتیں پہنچاکر قتل کرڈالا۔

ولید نے اس واقعہ اور خالد کی گرفتاری کے بعد ایک قصیدہ کہا اور اس میں یمنیوں کی سرزنش کی اور انھیں دشنام دیانیز نزاریوں کی تعریف و تمجید کی اور خالد قسری کی نزاریوں کے ہاتھوں گرفتار ی کو بھی اپنے لئے ایک افتخار شمار کرتے ہوئے کہا:

'ہم نے سلطنت اور حکومت کو نزاریوں کی پشت پناہی سے مظبوط اور محکم بنادیا اور اس(۱) اگر یمنی باعزت اور قابل قدر خاندان سے ہوتے تو خالد کے نیک کام اتنی جلدی تمام نہ طرح اپنے دشمنوں کی تنبیہ کی یہ خالد ہے جو ہمارے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے اگر یمنی مرد ہوتے تو اس کے بچاؤ کے لئے اٹھتے ہم نے ان کے سرداروں اور رئیسوں کو ذلیل وخوار کرکے رکھ دیا۔

ہوتے وہ اپنے رئیس کو اس طرح قیدی اور عریاں حالت میں نہ چھوڑتے کہ وہ طوق وزنجیر میں بندھا ہوا ہمارے ساتھ چلتا۔ یمنی ہمیشہ ہمارے غلام تھے اور ہم مدام انھیں ذلیل وخوار کرتے تھے''۔ ٧

مسعودی لکھتاہے :

''ولید نے بہت برے ،ناشائستہ اور بیہودہ کام انجام دئے،جس کی وجہ سے لوگ اس سے متنفر اور بیزار ہوگئے ۔یہی چیز باعث بنی کہ اس کے چچا زاد بھائی یزید بن ولید نے ان حالات سے استفادہ کرکے لوگوں کو اس کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسایا اور اس کاتختہ الٹ دیا''۔

____________________

۱)۔ اس کے بعد شعر کے آخرتک طبری کی روایت کے مطابق ہے ،اس کے علاوہ طبری کادعویٰ ہے کہ ان اشعار کو ایک یمنی شاعر نے ولید کی زبانی کہاہے تا کہ یمینیوں کی شورش کا سبب بنیں ۔ابن اثیر نے بھی طبری کے اس نظریہ کی تائید کی ہے۔(طبری ١٧٨١٢ وابن کثیر ١٠٤٥)


یزید کی اپنے چچیرے بھائی ولید کے خلاف شورش اور تختہ الٹنے کی سازش میں یمنیوں نے یزید کی بھر پور حمایت اور مدد کی اور خلیفہ کے طور پر اس کی بیعت کی۔(۱)

اس بغاوت میں نہ صرف خود ولید قتل ہوا بلکہ اس کی ولی عہدی کے نامزد دو بیٹے حکم وعثمان بھی مارے گئے ۔ اس کے علاوہ اس کا ایک زبردست اور باوفا طرفدار یعنی یوسف بن عمر بھی دمشق میں قتل کیا گیا۔

اصبغ بن ذوالة الکلبی یمانی(۲) اس واقعہ کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے :

''خاندان نزار ،خاص کر بنی امیہ وبنی ہاشم کے سرداروں اور بزرگوں کو کون یہ خبر دے کہ ہم نے خالد قسری کے قصاص میں خلیفہ ولید کو قتل کردیا اور اس کے جانشین دو بیٹوں کو بھی بے مصرف غلاموں کی مانند کوڑیوں میں بیچ دیا''۔

خلیفہ ابن خلیفہ بجلی یمانی نے بھی اپنے قصیدہ میں یوں کہاہے:

''ہم نے خلیفہ ولید کو خالد کے قصاص میں دروازہ پر لٹکادیا اور اس کی ناک رگڑ کے رکھدی ، لیکن خدا کے حضور سجدہ کے طور پر نہیں !قبیلہ نزار اور معد کے لوگو!اپنی ذلالت، ناکامی اور پستی کا اعتراف کرو کہ ہم نے تمھارے امیرالمؤمنین کو خالد کے قصاص میں مار ڈالا''۔

مسعودی مروج الذہب میں لکھتاہے: ٨

''شاعر کمیت (ج) نے ایک قصیدہ کہاہے ، جس میں اس نے نزار کی اولاد :مضر ،

____________________

۱)۔یزید شب جمعہ ١٢٦ ھ کو اس وقت خلافت پر پہنچا ،جب جمادی الثانی کے سات دن باقی بچے تھے اور اول ذی الحجہ ١٢٦ ھ کو اس دنیا سے چلاگیا۔یزید کی خلافت کی مدت ٥ مہینے اور دودن تھی ۔(مروج الذہب ١٥٢٣)

۲)۔ اسبغ ان افراد میں سے تھا جس نے ان شورشوں میں خود حصہ لیاتھا۔(طبری ١٥٩٥٢۔١٩٠٢)

ج)۔ کمیت بن یزید اسدی ،خاندان مضر سے تعلق رکھتاتھا۔بنی امیہ کے زمانے میں زندگی بسر کرتاتھا اس نے عباسیوں کی

خلافت کو نہیں دیکھا ہے۔خاندانی تعصبات کی وجہ سے ایک لمحہ بھی اسے یمنیوں کی ہجو گوئی سے نجات نہیں ملی ہے۔صاحب اغانی ،مذکورہ قصیدہ کے بارے میں لکھتاہے :یہ ٣٠٠ ابیات پر مشتمل تھا اور اس میں اس نے یمنی قبیلہ کے کسی ایک خاندان کو بھی اپنی ہجو وبدگوئی سے معاف نہیں کیا ہے۔(اغانی ٢٤٢١٦و ٢٥٦)


ربیعہ،ایاد اور انمار کی ستائش کی ہے اور ان کے مناقب ،خوبیوں اور افتخارات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے ایسا ظاہر کیا ہے کہ یہ لوگ متعدد جہات سے قحطانیوں اور یمانیوں پر فضیلت رکھتے ہیں اس کے علاوہ اس نے یمنیوں پر رکیک حملے کرکے انھیں گالیاں دی ہیں ''۔

یہ قصیدہ اس امر کا باعث بنا کہ ان دونوں قبیلوں کی دشمنی کی داستانیں زبان زد ہوگئیں ۔اس قصیدہ کے درج ذیل بعض حصوں میں کمیت نے صراحتاً یا کنایتاًحبشہ کی داستان اور یمن پر ان کے تسلط کی طرف اشارہ کیاہے:

''چاند اور آسمان پر موجود ہروہ ستارہ ونورانی نقطہ جس کی طرف ہاتھ اشارہ کرتے ہیں ،ہمارا ہے۔خدا نے نزار کی نام گزاری کرکے انھیں مکہ میں رہائش پزیر کرنے کے دن سے ہی فخرو مباہات کو صرف ہماری قسمت قرار دیاہے۔قوی ہیکل بیگانے کبھی نزار کی بیٹیوں کو اپنے عقد میں نہیں لاسکے ہیں ،گدھے اور گھوڑی کی آمیزش کی طرح نزار کی بیٹیاں ہرگز سرخ وسیاہ فام مردوں سے ہمبستر نہیں ہوئی ہیں ''۔

مسعودی لکھتاہے:

دعبل ابن علی خزاعی(۱) نے ایک طولانی قصیدہ کے ذریعہ کمیت کوجواب دیاہے اور یمنیوں کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے خوب داد سخن د ی ہے،ان کے بادشاہوں اور امیروں کی نیکیاں گنتے ہوئے فخرومباہات کااظہار کیاہے۔اس کے علاوہ کھلم کھلا اور کنایہ کی صورت میں

____________________

۱)۔دعبل خزاعی اور اس کے تعصب کے بارے میں ملاحظہ ہو (اغانی ٦٨٢٠۔١٤٥)


نزاریوں کا دل دکھاتے ہوئے کہتاہے :

''زندہ باد ہمارے قبیلوں کے سردار ،زندہ باد !ہمارے شہر۔اگر یہودی تم میں سے ہیں اور اگر تم عجمی ہونے کے سبب ہم پر فخر کرتے ہوتو یہ نہ بھولو کہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو بندر اور سور کی شکل میں مسخ کردیاہے اور ان مسخ شدگان کے آثار سرزمین ایلہ،خلیج اور اقیانوس احمر میں موجود ہیں ،کمیت نے جو کچھ اپنے اشعار میں کہاہے،ہم سے خون کاطالب نہیں تھا،لیکن چونکہ ہم نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصرت کی ہے،اس لئے اس نے ہمارے خلاف ہجو وبدگوئی کی ہے۔خاندان نزار اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا قبیلہ،یعنی انصار پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنے پر فخر ومباہات کرتے ہیں ''۔

شاعر کمیت کی بات یمنیوں اور نزاریوں کے درمیان بھر پور انداز میں پھیل گئی اور ہر قبیلہ دوسرے پر اپنے فخرو مباہات جتلاتے ہوئے اپنی بزرگی پر ناز کرتاتھا۔اس طرح لوگ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے اور خاندانی تعصبات کی شدت اپنی انتہاء تک پہنچ گئی ۔حتیٰ شہرو دیہات بھی

اس سے محفوظ نہ رہے۔یہ سلسلہ امویوں کے آخری خلیفہ مروان کے زمانہ تک جاری رہا۔

مروان نے اپنے خاندان نزار کو اہمیت دی اور یمنیوں کو نکال باہر کیا اس طرح اس نے خود اپنی سلطنت کو متزلزل کردیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ یمنیوں نے عباسیوں کی دعوت پر لبیک

کہہ کر ان کی مدد کی بنی امیہ کی خلافت سرنگوں ہوگئی اور عباسی اقتدار پر قابض ہوگئے۔اسی خاندانی تعصبات کا نتیجہ تھا کہ معن بن زائدہ(۱) نے اپنے رشتہ داروں ربیعہ ونزارکی طرفداری میں یمن کے لوگوں کوخاک و خوں میں غلطاں کردیا اس طرح ربیعہ

____________________

۱)۔ معن بن زائدہ شیبانی کو امویوں اور عباسیوں کی طرف سے اقتدار ملا،اور خوارج نے آخر کار سگستان (سجستان)میں ١٥١ ھ یا ١٥٢ ھ یا ١٥٨ ھ میں اسے قتل کردیا۔(وفیات الاعیان ٣٣٢٤)


ویمنیوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی کاسالہا سال قبل منعقد شدہ عہدو پیمان(۱) ٹوٹ گیا۔اور اسی خاندانی تعصبات کی بنا پر عقبہ بن سالم نے بحرین اور عمان میں معن بن زائدہ کے اقدامات کے شدید رد عمل کے طور پر خاندان عبد القیس اور ربیعہ کے دوسرے قبائل کاقتل عام کیا۔

جو کچھ بیان ہوا یا جوکچھ باقی رہا یہ سب خونین حوادث نزار اور قحطان کے دوقبیلوں کے در میان خاندانی تعصبات کا نتیجہ تھا۔اور سیف نے اسے اچھی طرح درک کیاتھا اور اپنے طور پر اظہار کرنے پر اتر آیاتھا۔

جن حوادث کا ہم نے ذکر کیاا ن سے معلوم ہوتاہے کہ یہ سبب خونیں جنگیں ،ان بیانات ، شعر گوئی اور قصیدہ گوئی کا نتیجہ تھیں ،جن میں طعنہ زنی ،گالی گلوچ، بے بنیاد نسبتیں ، ایک قبیلہ کادوسرے کے خلاف برا بھلا کہنا اور اپنے فخرو مباہات پر ناز کرناتھااور ان تمام موارد کو ایک لفظ یعنی''خاندانی فخرو مباہات''میں خلاصہ کیا جاسکتاہے۔

حدیث سازی میں تعصب کااثر

اگر کوئی شعروادب کے دیوان کا مطالعہ کرے تو اسے اس قسم کے جذبات کا اظہار اور خاندانی تعصبات کے بے شمار نمونے نظر آئیں گے ۔

قبیلہ نزار و قحطان ایک دوسرے کے خلاف خود ستائی اور فخر و مباہات جتانے میں صرف حقیقی افتخارات یا واقعی ننگ و رسوائیوں کو بیان کرنے اور گننے تک ہی محدود نہیں رہے ،بلکہ اس تعصب نے دونوں قبیلوں کے متعصب لوگوں کو اس قدر اندھا بنا دیا تھا کہ ان میں سے بعض افراد اپنے قبیلہ کے حق

میں تاریخی افسانے گڑھنے پراتر آئے حتی انھوں نے احادیث اور اسلامی روایتیں جعل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔اور بعض افراد ان افسانوں کو جذباتی تقریروں اور اشعار کا روپ دے کر اپنے دشمن قبیلہ کو نیچا دکھاتے تھے ۔

ان خاندانی تعصبات اور فخر و مباہات کے افسانہ نویسوں ،داستان سازوں ،جھوٹ گڑھنے والوں اور ہوائی قلعے بنانے والوں میں سیف بن عمر تمیمی کی حد تک کوئی نہیں پہنچا ہے ۔ہم اگلی فصل میں اس کے جعل کردہ افسانوں اور احادیث اور ان کے اسلام پر اثرات کے بارے میں بحث و تحقیق کریں گے ۔

____________________

۱) ۔ سید رضی ،نہج البلاغہ میں ابن کلبی سے روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی ں نے ربیعہ اور یمن کے درمیان ایک عہد نامہ مرقوم فرمایا،جس کاآغاز اس طرح کیاتھا:یہ وہ ضوابط ہیں جو یمن کے رہنے والے شہر نشین اورصحرا نشین اور ربیعہ کے رہنے والے شہر نشیں اور صحرا نشین ....(نہج البلاغہ ج٣ رسالہ ٧٤ ص١٤٨)


سیف بن عمر ۔حدیث جعل کرنے والا سورما

لم یبلغ احد سیف بن عمر فی وضع الحدیث حدیث گڑھنے میں سیف بن عمر کے برابر کوئی نہیں تھا ۔

(مؤلف)

سیف کی کتابیں

سیف نے '' فتوح ''اور'' جمل ''نام کی دو کتابیں تألیف کی ہیں ۔یہ دونوں کتابیں خرافات ، اور افسانوں پر مشتمل ہیں ۔اس کے باوجود ان کتابوں کے مطالب تاریخ اسلام کی معتبر ترین کتابوں میں قطعی اور حقیقی اسناد کے طور پر نقل کئے گئے ہیں اور آج تک ان سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔

سیف نے ان دو کتابوں میں رزمیہ شاعروں کی ایک ایسی جماعت جعل کی ہے ،جنھوں نے ایک زبان ہو کر عام طور پر قبائل مضر کے بارے میں اور خصوصا قبیلہ تمیم کے بارے میں اور ان سے بھی زیادہ عمرو کے خاندان جو خود سیف کا خاندان ہے کے فضائل و مناقب اور عظمتیں بیان کرنے میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دئے ہیں ۔

اس طرح سیف نے اپنے خاندان کی بر تری اور عظمت کو جتانے کے لئے اس خاندان کے اچھے خاصے افراد کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی بنا کر انھیں اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والوں کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور ان سب کو خاندان تمیم سے شمار کیا ہے ۔

اس کے علاوہ قبیلۂ تمیم سے چند سپہ سالار جعل کئے ہیں جو سیف کی فرضی جنگوں کی قیادت کرتے ہیں ۔مزید بر آن کچھ ایسے راوی بھی جعل کئے ہیں جو خاندان تمیم کے فرضی سورمائوں اور دلاوروں کے افسانے اور بہادریاں بیان کرتے ہیں ۔

اس نے قبیلہ تمیم کے جعلی پہلوانوں اور جنگی دلاوروں کی فرضی بہادریوں اور افسانوی کارناموں کو '' فتوح'' اور'' جمل '' نامی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔یہ افسانے اور فرضی قصے ایسے مرتب کئے گئے ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کریں ۔


سیف نے اپنی داستانوں میں ایسی جنگوں کا ذکر کیا ہے جو ہر گز واقع نہیں ہوئی ہیں اور ایسے میدان کا ر زار کا نام لیا ہے کہ جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے اس کے علاوہ ایسے شہروں قصبوں اور مقامات کا نام لیا ہے جن کا روئے زمین پر کوئی وجود ہی نہیں تھا اور اس وقت بھی ان کا کہیں وجود نہیں ہے ۔

قبیلہ تمیم کے افسانوی بہادروں کے جنگی کار نامے ،شجاعت و دلیری ،ہوشیاری تجربہ اور کامیابیاں ثابت کرنے کے لئے سیف نے دشمنوں کے مقتولوں کی دہشت انگیز تعداد دکھائی ہے ۔ خاص کر ہزاروں دشمن کے مارے جانے یا ایک ہی معرکہ میں صرف تین دن رات کے اندر دشمنوں کے خون کی ندیاں بہانے کی بات کرتاہے ،جب کہ اس زمانے میں اس جنگ کے پورے علاقہ میں اتنی بڑی تعداد تمام جانداروں کی موجود نہیں تھی ،انسانوں کی تو بات ہی نہیں جو اتنی تعداد میں مارے جاتے یا قیدی بنائے جاتے !سیف نے اپنے افسانوں اور خیالی خونیں جنگوں کے واقع ہونے کی تائید میں فرضی رزمی شاعر وں سے منسوب قصیدے اور اشعار بھی لکھے ہیں جن میں قبائل مضر ،خاص کر خاندان تمیم کے جنگی کارنامے ،فخر و مباہات اور عظمتیں بیان کی گئی ہیں اور دشمنوں کی کمزوری ،نااہلی اور زبوں حالی کو بیان کیا ہے ۔

ان سب کے علاوہ سیف بن عمر تمیمی نے خلفائے وقت کی طرف سے ان جعلی اور فرضی بہادروں کے نام حکم نامے اور خطوط جعل کئے ہیں اور ان حکم ناموں میں انھیں فرضی عہد ے اور ترقیاں عطا کی گئی ہیں ۔اس کے علاوہ ان فرضی سپہ سالاروں اور نام نہاد سرحدی علاقوں کے لوگوں کے درمیان جنگی معاہدے اور امان نامے بھی جعل کئے ہیں جب کہ حقیقت میں نہ اس قسم کی کوئی جنگ واقع ہوئی ہے اور نہ کوئی فتح یابی اور نہ ہی اس قسم کے افراد کا کوئی وجود ملتا ہے جن کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ طے پاتا۔

مختصر یہ کہ اس غیر معمولی ذہن والے جھوٹے اور متعصب شخص سیف نے افسانہ سازی اور جھوٹی داستانوں کے علاوہ بے شمار اصحاب ،سورما،راوی ،رزمی شعراء اور ان کے قصیدے جعل کرکے قبیلۂ مضر اور تمیم خاص کراپنے خاندان بنی عمرو کے فضائل و مناقب کا ایک عظیم منشور تیار کیا ہے اور اسے تاریخ کے حوالے کیا ہے اور ایک ہزار سال گزر نے کے بعد اس وقت بھی ان واقعات کو حقیقی اور قطعی اسناد اور تاریخ اسلام کے خصوصی واقعات کے طور پرمانا جاتا ہے ۔


مذکورہ مطالب اور سیف کے مقاصد کو بیان کرنے والے اشعار اور قصیدوں کے درج ذیل نمونے قابل غور ہیں :

سیف نے ایک فرضی شاعر قعقاع ابن عمر و تمیمی کی زبانی حسب ذیل (مضمون کے) اشعار بیان کئے ہیں ۔٩

''میں نے اپنے اباو اجداد سے سمندروں کی وسعت کے برابر نیک اعمال اور بزرگی وراثت میں پائی ہے ۔ان میں سے ہر ایک نے عظمت اور بزرگواری کو اپنے والدین سے وراثت میں پایا ہے اور عظمتوں کے عالی درجے اپنے اجداد سے حاصل کئے ہیں اور انھیں بڑھاوا دیا ہے ۔میں ان فخر و مباہات کو ہر گز ضائع ہونے نہیں دوں گا ،میری نسل بھی اگر باقی رہی تو وہ بھی عظمتوں کی بنیاد رکھنے والی ہیں ۔اس لحاظ سے میدان کارزار کے سپہ سالار ہمیشہ ہم میں سے تھے جو بادشاہوں کی طرح دشمن پر کاری ضرب لگاتے تھے اور ان کے پیچھے لشکر شکن سپاہی ہوتے تھے ۔ہم میدان جنگ کے وہ سورما ہیں جن کے خوف و دہشت سے دشمن کے سپاہی تسلیم ہو جاتے ہیں ''

اس کے علاوہ سیف نے ابی مفزر اسود تمیمی کی زبانی یہ قصیدہ کہا ہے :

'' ہم بنی عمرو کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ،میدان کارزار کے نیزہ باز ،محتاجوں کو کھلانے والے اور مہمان نواز ہیں ''

اور ابو بجید نافع بن اسود تمیمی سے منسوب یہ شعر لکھے ہیں :

'' جب یزدگرد نے فرار کیا ،تو حقیقت میں ہم نے خوف و وحشت کے ہتھیار سے اسے شکست دے دی ''

مزید کہتا ہے :

'' اگر میرے خاندان کے بارے میں پوچھو گے تو ''اسید'' بزرگی و عظمت کا معدن ہے ''

اور ربیع بن مطر تمیمی کی زبانی کہتا ہے :

''اسلام کے سپہ سالار سعد و قاص(۱) کے منادی نے خوش لحن اور سریلی آواز میں ندا دی کہ : بے شک صرف قبیلۂ تمیم کے افراد میدان کار زار کے شہسوار تھے ''

مزید کہتا ہے :

'' قبائل معد اور دیگر قبائل کے حکم یہ نظریہ رکھتے تھے کہ صرف خاندان تمیم کے افراد عجم

____________________

۱)۔ سعد بن ابی وقاص ،قادسیہ کی جنگ کا سپہ سالار تھا سعد نے ٥٤ھ یا ٥٥ ھ میں مدینہ میں وفات پائی اسد الغابہ ٢ ٢٩٠و٢٩٣


کے بادشاہوں کے ہم پلہ ہیں ''

سیف بن عمر تمیمی نے خاندان تمیم کی عظمت اور فخر و مباہات کی تبلیغ و تشہیر کے لئے صرف انسانوں کا ہی سہارا نہیں لیا ہے بلکہ ان فخر و مباہات کی تبلیغ میں جنات سے بھی مدد لی ہے اور ایک افسانہ گڑھ کر دعویٰ کیا ہے کہ جنات نے بھی آواز کی لہروں کے ذریعہ چند اشعار کہہ کر خاندان تمیم کی عظمتوں کو تمام عرب زبان لوگوں تک پہنچایا ہے ۔طبری نے اس موضوع کو سیف سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں یوں بیان کیا ہے ۔ ١٠

'' قادسیہ کی جنگ ختم ہونے کے بعد جنات نے اس خبر کو نشر کیا اور لوگوں کو حالات سے آگاہ کیا اور خبر پہنچانے میں انسانوں پر سبقت حاصل کی ''

اس کے بعد لکھتا ہے :

'' اہل یمامہ نے ایک غیبی آواز سنی ۔یہ آواز ان کے سروں کے اوپر سے گزرتے ہوئے گونجتی ہوئی یوں گویا تھی : '' ہم نے دیکھا کہ فوج بیشتر قبیلہ تمیم کے افراد پر مشتمل تھی اور میدان کارزار میں سب سے زیادہ صبر و تحمل والے وہی تھے ۔تمیم کے بے شمار سپاہیوں نے دشمن کے ایک بڑے لشکر پر ایسی یلغار کی کہ گرد وغبار ہو امیں بلند ہو گیا وہ لوگ ایرانی سپاہیوں کے ایک بڑے لشکر پر جو شجاعت اور بہادر ی میں کچھار کے شیروں کے مانند اور پہاڑ کی طرح ثابت قدم تھے حملہ آور ہوئے ایرانیوں کو جنگ قادسیہ کے میدان کارزار میں کٹھن لمحات کا سامنا کرنا پڑا آخر کار وہ تمیم کے سپاہیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے اور ان کے سامنے اپنی عظمتیں کھو بیٹھے ۔جب وہ قبیلہ ٔتمیم کے بہادروں کے مقابلے میں آتے تو اپنے ہاتھ پائوں کو ان کی تلواروں سے کٹتے دیکھتے رہ گئے ۔ یہ آواز اسی طرح پورے جزیرہ نمائے عرب میں بعض لوگوں کے کانوں تک پہنچی ہے !


سیف کے یہ افسانوی فاتح سپہ سالار وں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس فرضی اور افسانوی میدان جنگ میں ان کے اطراف سپاہیوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو ۔ اس لئے سیف نے قبیلہ مضر کے علاوہ دیگر خاندانوں اور قبیلوں کے بعض طرفدار اور حامی ان کے لئے گڑھ لئے ہیں اور انھیں بھی اس افسانوی جنگ میں کچھ فرضی ذمہ داریاں اور معمولی عہدے عطا کئے ہیں تاکہ اس کے افسانے ہر صورت میں مکمل نظر آئیں اور قبائل مضر ،نزار اور تمیم کی بہادریاں اور نمایاں ہو جائیں اس طرح سیف نے تاریخ اسلام میں ایسے بہت سے صحابی ، تابعین اور راویوں اور لوگوں کے مختلف طبقات کو جعل کیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی حقیقت میں وجود نہیں تھا اور وہ سب کے سب سیف کی خیالی تخلیق اور اس کے افسانوی افراد ہیں اور جتنی بھی داستانیں اور اشعار ان سے منسوب کئے ہیں وہ سب کے سب اس زندیق سیف کی خیالی تخلیق ہیں ۔

سیف کی تحریفات

سیف ،سورمائوں کو جعل کرنے اور افسانے گڑھنے کے علاوہ اپنی احساس کمتری کی آگ کو بجھانے کے لئے تاریخ اسلام کے حقیقی واقعات میں تحریف کرنے کا بھی مرتکب ہو اہے ۔یعنی تاریخی واقعات کو اصلی اشخاص کے بجائے غیر مربوط افراد سے منسوب کرکے بیان کرتا ہے ۔اس سلسلے میں درج ذیل نمونے قابل بیان ہیں :

اول ۔حقیقی جنگوں میں جن افراد کے ذریعہ فتح و کامرانی حاصل ہوئی ہے ،سیف نے ان کامیابیوں کو بڑی مہارت اور چالاکی کے ساتھ قبیلہ مضر کے کسی حقیقی فرد کے حق میں درج کیا ہے یا یہ کہ اس فوج کی کمانڈ کو قبیلہ مضر کے کسی افسانوی سپہ سالار اور بہادر کے ہاتھ میں دکھایا ہے تاکہ اس طرح اس فتح و کامرانی کو قبیلہ مضر کے کھاتے میں ڈال سکے ۔

دوم ۔اگر قبیلہ مضر کا کوئی فردیا چند افراد حقیقتا کسی مذموم تاریخی عمل کے مرتکب ہوئے ہوں تو سیف خاندانی تعصب کی بنا پر اس شرمناک اور مذموم فعل کو کسی ایسے شخص کے سر تھوپتا ہے جو قبیلہ مضر سے تعلق نہ رکھتا ہو ۔اس طرح خاندان مضر کے فرد یا افراد کے دامن کو اس قسم کے شرمناک اور مذموم فعل سے پاک کرتا ہے خواہ یہ غیر مضری فرد حقیقت میں وجود رکھتا ہو یا سیف کے ان افسانوی افراد مین سے ہو جنھیں اس نے جعل کیاہے ۔


سوم۔اگر قبیلہ مضر کے سردار وں کے درمیان کوئی ناگوار اور مذموم حادثہ پیش آیا ہو اور حادثہ میں دونوں طرف سے قبیلہ مضر کے افراد ملوث ہوں توسیف اپنی ذمہ داری کے مطابق اخبار میں تحریف کرکے افسانہ تراشی کے ذریعہ یا ہر ممکن طریقے سے قبیلہ مضر کو بد نام و رسوا کرنے والے اس ناگوار حادثہ کی پردہ پوشی کرتا ہے ایسے قابل ،مذمت حوادث کے نمونے تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے خلافت عائشہ ،طلحہ اور زبیر کی دشمنی اور بغاوت میں دیکھے جا سکتے ہیں ،جس کے نتیجہ میں ان کے حامیوں نے عثمان بن عفان کے گھر کا محاصرہ کیا اور بالآخر انھیں قتل کر ڈالا ۔یا ایسے نمونے قبیلہ مضر کے مذکورہ تین سرداروں (عائشہ ،طلحہ وزبیر ) کی خلیفہ مسلمین حضرت علی ں جو خودقبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے کے خلاف بغاوت مین دیکھے جا سکتے ہیں ، جو بالآخر جنگ جمل پر ختم ہوئی ۔ سیف نے خاندان مضر کے مذکورہ سرداروں کے دامن کو اس رسوائی اور بدنامی سے پاک کرنے کے لئے بڑی مہارت اور چالاکی سے '' عبداللہ ابن سبا'' نامی ایک نام نہاد شخص کا ایک حیرت انگیز افسانہ جعل کرکے مسلّم تاریخی حقائق کو بالکل الٹ دیا اور مضریوں کے دامن کو پاک کرکے ان سب کے بجائے صرف ایک فرضی شخص '' عبد اللہ ابن سبا '' کو قصور وار ٹھہرایا ہے ۔

سیف '' عبداللہ ابن سبا'' کے حیرت انگیز افسانہ کا منصوبہ مرتب کرتا ہے اور اس افسانہ کے ہیرو جو قطعا غیر مضری ہے کا نام ''ابن سبا''رکھتا ہے اور ایسا تصور پیش کرتا ہے کہ ''ابن سبا''یمن کے شہر صنعا سے اٹھتاہے ۔اسلامی ممالک کے مختلف بڑے شہروں کا دورہ کرتا ہے اور یمنی طرفداروں کو اپنے ساتھ جمع کرکے بالآخر عثمان کے زمانے کی بغاوت اور حضرت علی کے خلاف جنگ جمل برپا کرتا ہے ۔اس طرح سیف ،ان تمام بغاوتوں ،جنگوں اور فتنوں کا ذمہ دار ''عبداللہ ابن سبا''اوراس کے طرفداروں کو ٹھہرا تا ہے جو سب کے سب یمنی ہیں نہ کہ مضری۔


سیف اس حیرت انگیز افسانہ گو گڑھنے کے بعد اسے اپنی وزنی اور معتبر کتاب میں درج کرتا ہے اور تمام حوادث اور بد بختیوں کو ''عبداللہ ابن سبا''اور اس کے حامیوں کے سر تھوپتاہے جو سب کے سب اس کے خیالی اور جعلی افراد تھے اور اس نے ان کانام ''سبائی''رکھا تھا ۔اس طرح خاندان مضر کے سرداروں جو حقیقت میں ان واقعات اور حوادث کے ذمہ دار تھے کے دامن کو ہر قسم کی تہمت اور آلودگی سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس بڑے غم سے نجات دلاتا ہے جو قبیلہ مضر کے لئے شرمندگی اور ذلت کا سبب تھا۔

سیف،''عبداللہ''کو جعل کرکے اس کا نام ''ابن سبا''رکھتا ہے اور اسے سبائیوں سے نسبت دیتا ہے تا کہ اس کا یمنی ہونا مکمل طور پر ثابت ہوجائے اور اس کے قحطانی ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے ۔ کیا سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان تمام قحطانیوں کا جد اعلیٰ نہیں ہے اور یمن کے تمام قبائل کا شجرہ ٔنسب اس تک نہیں پہنچتا ؟اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص سبائی یا قحطانی ہے تو اسے ایک ایسے شخص سے نسبت دی ہے جو یمنی ہے ،جس طرح اگر اسی شخص کو یمنی کہیں تو ایک ایسی جگہ کی نسبت دیں گے جو سبا اورقحطانیوں کی اولاد کی جائے پیدایش ہے ۔اس وضاحت کے پیش نظر سیف بن عمر ،''عبداللہ ابن سبا ''کے حامیوں اور پیرو کاروں کو بھی سبائی کہتا ہے تا کہ یہ ثابت کرے کہ ''عبداللہ ابن سبا''کے تمام حامی اور پیرو یمنی تھے اور کسی کے لئے شک و شبہ باقی نہ رہے کہ قبیلہ ٔسبا کے افراد ،یمنی اور قحطانی سب کے سب بد فطرت ہیں اور بغاوت و فتنہ انگیزی میں ایک دوسرے کے برابر ہیں اور مثال نہیں رکھتے ۔صاف ظاہرہے کہ سیف نے ایک تیر سے دو کے بجائے کئی شکار کئے ہیں !زندیق ہونے کی وجہ سے اس نے اسلام کو افسا نہ اور تاریخ اسلام کو قصہ اور داستان کا نام دے کر حقائق کی تحریف کی ہے اور واقعات کو توہمات کے پردے میں چھپایا ہے اور اس طرح ملت کے خود غرضوں کو خوش کیا ہے اور تعصب کی بنا پر جزیرہ نمائے عرب کے شمال میں رہنے والے قبیلہ مضر کے دامن کو ہر رسوائی سے پاک کرنے کے علاوہ یمنیوں کی قدرت و منزلت کو گراکر اس قدر پست و ذلیل کیا ہے کہ تاریخی واقعات کا مطالعہ کرنے والے رہتی دنیا تک سبائیوں ،یمنیوں اور قحطانیوں کو لعنت ملامت کرتے رہیں گے ۔مختصر یہ کہ سیف نے مانی کی تردید لکھ کر تاریخی واقعات سے نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فرضی اور جعلی سور مائوں کو جعل کیا ہے ۔


سیف نے ''عبداللہ ابن سبا''کو جعل کرکے اسے سبائی ،صنعائی اور یمنی کہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ''عبداللہ ابن سبا''نے اسلامی ممالک کے تمام مراکز ،جیسے :شام،مصر،کوفہ اور بصرہ وغیرہ کا سفر کرکے ہر جگہ پر لوگوں کو وہاں کے گورنروں کے خلاف شورش اور بغاوت پر اکسایا اور آخر کار اپنے حامیوں اور پیرئووں کے ہمراہ مدینہ پہنچا اور خلیفہ عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا اور اس کے بعد انھیں قتل کر ڈالا ۔کچھ مدت کے بعد حضرت علی ابن ابیطالب کی حکومت کے دوران جنگ جمل میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دوبارہ ظاہر ہوا ۔جو جنگ خاندان مضر کے ایک معروف شخصیت کی حکمت عملی اور فہم و فراست کے نتیجہ میں صلح کے نزدیک پہنچ چکی تھی ،سبائیوں کی سازشوں اور براہ راست مداخلت سے ایک خونریز جنگ میں تبدیل ہوگئی ،جب کہ خاندان مضر کے سردار حضرت علی ،عائشہ ،طلحہ اور زبیر اس جنگ سے نہ راضی تھے اور نہ مطلع!!

سیف نے ''عبداللہ ابن سبا ''کا افسانہ اس لئے گڑھا ہے تا کہ یہ ثابت کرے کہ مضریوں کے پست اغراض کے سبب پیش آنے والی تمام دہشت گردیاں ،خون ریزیاں ،اختلافات اور برادر کشیاں اصل میں یمنیوں کی حرکتوں کانتیجہ ہیں اور قبیلہ مضر کے سردار اور بزرگ افراد جیسے ام المومنین عائشہ ،طلحہ ،زبیر،معاویہ،مروان اور ان ہی جیسے دسیوں افراد کا دامن ان رسوائیوں سے پاک و منزہ ہے،اور ان میں ایک فرد بھی اپنی پوری زندگی میں معمولی سی لغزش و خطا کا مرتکب بھی نہیں ہوا ہے اور یہ لوگ اتنے پاک و بے قصور ہیں جیسا یعقوب کے بیٹے کو پھاڑ کھانے والا بھیڑیا!

اس کے بر عکس خاندان مضر کے علاوہ دیگر نمایاں شخصیات،جنہوں نے ان تاریخی واقعات میں شرکت کی ہے،جیسے عمار یاسر و عبد الرحمٰن عدیس کہ دونوں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی اور قحطانی تھے ،یا مالک اشتر جو تابعین میں سے اور قحطانی تھے اور ان کے علاوہ دیگر قحطانیوں کو نہ صرف سیف نے تہمتوں سے بری نہیں رکھا ہے بلکہ انھیں تخریب کاریوں میں ملوث ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور انھیں ''عبداللہ ابن سبا''یہودی کا پیرو اور آلہ کار ثابت کرتا ہے ۔اس طرح سیف نے قبیلہ مضر کے سرداروں سے سرزد ہونے والے نا پسند اور مذموم واقعات کو اپنے افسانوں کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کی ہے ۔


چہارم۔سیف کی تحریفات کی اقسام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر قبیلہ مضر کے کسی معروف اور مالدار شخص اور اسی قبیلہ کے کسی معمولی فرد کے درمیان کوئی اختلاف یا ٹکرائو پیدا ہوتا تو سیف اس قبیلہ کی معمولی فرد کو قبیلہ کی مجد و عظمت کے لئے قربان کرکے اسے پائمال کردیتا ہے ۔قبیلہ مضر کی مجد و عظمت کے تحفظ کے لئے سیف ہر قیمت پر دل و جان سے کوشش کرتا نظر آتا ہے اور اس سلسلے میں سیف سے پہلے قبیلہ مضر کے حکمراں اور صاحب قدر ت افراد کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے اور اس کے بعد اس قبیلہ کے سورمائوں ،شہسواروں اور سپہ سالاروں کے فخر و مباہات اور احترام کے تحفظ میں کسی قسم کی کسر باقی نہیں رکھتا ۔اس کا نمونہ خالد بن سعید اموی ( خاندان مضر کی ایک معمولی فرد ) اور خلیفہ وقت ابوبکر بن قحافہ ( قبیلہ مضر کا ایک با اقتداراور زبر دست حاکم ) کی داستان میں بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔ چوں کہ خالد مضری نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کرکے اس کے خلاف بغاوت کی ہے اس لئے سیف اس کی بھر پور مذمت اور سر زنش کرتا ہے اور اسے بدنام کرتا ہے اگر چہ خالد قبیلہ مضر کا ایک معروف شخص ہے لیکن خلیفہ کے مقابلہ میں ایک معمولی فرد ہے ۔ ١١

پنجم۔بعض اوقات سیف اس طرح بھی حقائق کی تحریف کرتا ہے کہ اگر ایک یمنی اور مضری کے درمیان کوئی واقعہ پیش آئے اور سیف نے اس کا عبداللہ ابن سبا کے افسانہ کے ذریعہ علاج نہ کیا ہو تو اس کے لئے الگ سے ایک افسانہ گڑھ لیتا ہے ۔اور اپنے مخصوص انداز سے یا جس طرح بھی ممکن ہو سکے اس قضیہ میں یمنی کی قدر ومنزلت کو پائمال کرکے مضری شخص کے مقام ومنزلت کو بلند کرکے پیش کرتاہے ۔اس کا نمونہ وقت کے خلیفہ عثمان بن عفان مضری کے ذریعہ ابو موسیٰ اشعری یمانی کو معزول کرنے کے واقعہ میں مشاہدہ کیاجاسکتا ہے۔سیف نے اس داستان میں حتیٰ الامکان یہ کوشش کی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری کے مقام ومنزلت کو گھٹا کر پیش کرے اور اس کی سابقہ خدمات سے چشم پوشی کرے اور اس کے مقابلہ میں مضری خلیفہ کی منزلت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے اور اس کا دفاع کرے۔ ١٢


آخر میں سیف بن عمر تمیمی کے افسانوی اور جعلی کارناموں کو درج ذیل صورت میں خلاصہ کیا جاسکتاہے :

١۔ اس نے بالکل جھوٹ اور بہتان پر مشتمل اپنے افسانوں کو تاریخ اسلام کے طور پر مرتب کیاہے۔

٢۔ اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،تابعین ،حدیث نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے راویوں ،سپہ سالاروں اور رزمیہ شاعروں کے نام سے اسلام کی ایسے نام نہاد معروف اورمعتبر شخصیات جعل کی ہیں کہ حقیقت میں سیف کے افسانوں سے باہر ان کا کہیں سراغ نہیں ملتا،کیونکہ ان کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔

٣۔ سیف کے گڑھے ہوئے افسانے ،اشخاص اور مقامات ایک خاص صورت وسبب کے تحت اسلامی مآخذ میں درج کئے گئے ہیں اور یہی اسلامی تاریخ اور اس کے حقائق کے اپنی اصلی راہ سے منحرف ہونے کاسبب بنے ہیں ۔اگلی فصل اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔

سیف سے حدیث نقل کرنے والے

مآخذ کی فہرست

وضع سیف تاریخاً کله اختلاق

سیف نے اسلام کی ایسی تاریخ گڑھی ہے جو سراسر جھوٹی ہے۔

(مؤلف)

سیف کی احادیث میں اس قدر واضح طور پر جھوٹ ،افسانہ سازی اور تحریفات کے باوجود (اور خود سیف بھی ان صفات سے مشہور تھا)اس کی جعلی احادیث نے اسلامی کتابوں میں خاصی جگہ پائی ہے اور نام نہاد معتبر اسلامی اسناد میں یہ احادیث درج ہوئی ہیں ۔ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ بڑے علماء نے بھی اس کے افسانوں اور جعلی احادیث کو اپنی کتابوں میں تفصیل سے درج کیاہے ۔ہم اس فصل میں اس تلخ اور حیرت انگیز حقیقت کی نشاندہی کرنے کے لئے سیف کی احادیث نقل کرنے والے علماء اور ان کی کتابوں کی فہرست قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :


الف ۔وہ علماء جنھوں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی سوانح حیات لکھی ہیں اور سیف کے جعلی اصحاب کو بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واقعی اصحاب کی فہرست میں درج کیاہے:

١۔البغوی وفات ٣١٧ ھ کتاب:معجم الصحابہ

٢۔ ابن قانع وفات ٣٥١ ھ کتاب : معجم الصحابہ

٣۔ابو علی ابن السکن وفات ٣٥٣ ھ کتاب:حروف الصحابہ

٤۔ ابن شاہین وفات ٣٨٥ ھ کتاب:معجم

٥۔ ابن مندہ وفات ٣٩٥ ھ کتاب:اسماء الصحابہ

٦۔ ابو نعیم وفات ٤٣٠ ھ کتاب:فی معرفة الصحابہ

٧۔ ابن عبدالبر وفات ٤٦٣ ھ کتاب:استیعاب فی معرفة الاصحاب

٨۔ عبد الرحمن بن مندہ وفات ٤٧٠ ھ کتاب:التاریخ

٩۔ ابن فتحون وفات ٥١٩ ھ کتاب:التذییل علی الاستیعاب

١٠۔ابو موسیٰ وفات ٥٨١ ھ کتاب:علیٰ اسماء الاصحاب

١١۔ابن اثیر وفات ٦٣٠ ھ کتاب:اسد الغابة فی معرفةالصحابہ

١٢۔الذھبی وفات ٧٤٨ ھ کتاب:تجرید اسماء الصحابہ

١٣۔ابن حجر وفات ٨٥٢ ھ کتاب:الاصابہ فی تمییز الصحابہ


ب۔ درج ذیل علماء نے بھی حقیقی سپہ سالاروں اور ملک فتح کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سیف کے افسانوی سور ماؤں کی زندگی کے حالات بھی قلم بند کئے ہیں :

١٤۔ابو زکریا وفات ٣٣٤ ھ کتاب:طبقات اھل موصل

١٥۔ابو الشیخ وفات ٣٦٩ ھ کتاب:تاریخ اصبہان

١٦۔حمزة بن یوسف وفات ٤٢٧ ھ کتاب:تاریخ جرجان

١٧۔ابو نعیم وفات ٤٣٠ ھ کتاب:تاریخ اصبہان

١٨۔ابوبکر خطیب وفات ٤٦٣ ھ کتاب:تاریخ بغداد

١٩۔ابن عساکر وفات ٥٧١ ھ کتاب:تاریخ مدینہ دمشق

٢٠۔ابن بدران وفات ١٣٤٦ ھ کتاب:تہذیب تاریخ دمشق

ج۔سیف کے جعل کئے گئے شعراء کا درج ذیل کتاب میں تعارف کیا گیاہے:

٢١۔ مرزبانی وفات ٣٨٤ ھ کتاب:معجم الشعرائ

د۔ سیف کے جعلی سور ماؤں کے نام ان کتابوں میں بھی درج کئے گئے ہیں جو اسامی کے تلفظ میں غلطی کو دور کرنے کے لئے تالیف کی گئی ہیں ،جیسے:

٢٢۔دار قطنی وفات ٣٨٥ ھ کتاب:المختلف

٢٣۔ابو بکر خطیب وفات ٤٦٣ ھ کتاب:الموضح

٢٤۔ابن ماکولا وفات ٤٨٧ ھ کتاب:الاکمال

٢٥۔رشاطی وفات ٥٤٢ ھ کتاب:المؤتلف

٢٦۔ابن الدباغ وفات ٥٤٦ ھ کتاب:مشتبہ الاسماء

ھ۔سیف کی بعض ذہنی مخلوقات اور جعلی افراد کا شجرہ ٔنسب (جو خود سیف کی تخلیق ہے)درج ذیل کتابوں میں درج کیا گیاہے:

٢٧۔ابن حزم وفات ٤٥٦ ھ کتاب:الجمہرة فی النسب

٢٨۔سمعانی وفات ٥٦٢ ھ کتاب:الانساب

٢٩۔مقدسی وفات ٦٢٠ ھ کتاب:الاستبصار

٣٠۔ابن اثیر وفات ٦٣٠ ھ کتاب:اللباب


و۔سیف کے بعض جعلی راویوں کی سوانح حیات درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:

٣١۔رازی وفات ٣٢٧ ھ کتاب:الجرح والتعدیل

٣٢۔ذھبی وفات ٧٤٨ ھ کتاب:میزان الاعتدال

٣٣۔ابن حجر وفات ٨٥٢ ھ کتاب:لسان المیزان

ز۔سیف کے جعلی مقامات اور فرضی جگہوں کی تفصیلات درج ذیل کتابوں میں ذکر ہوئی ہیں :

٣٤۔ابن الفقیہ وفات ٣٤٠ ھ کتاب:البلدان

٣٥۔حموی وفات ٦٢٦ ھ کتاب:معجم البلدان

٣٦۔حموی وفات ٦٢٦ ھ کتاب:المشترک لفظاً والمفترق صقعاً

٣٧۔عبد المؤمن وفات ٧٣٩ ھ کتاب:مراصد الاطلاع

٣٨۔حمیری ١ وفات ٩٠٠ ھ کتاب:الروض المعطار

ح۔جن کتابوں میں مخصوص طور سے اسلامی جنگوں کاذکر ہواہے،ان میں بھی سیف کی بعض جعلی روایتیں ذکر کی گئی ہیں ،جیسے درج ذیل کتابیں :

٣٩۔ابو مخنف وفات ١٥٧ ھ کتاب:کتاب:الجمل

٤٠۔نصر بن مزاحم وفات ٢١٢ ھ کتاب:الصفین

٤١۔شیخ مفید وفات ٤١٣ ھ کتاب:الجمل

٤٢۔ابن ابی بکر وفات ٨٤١ ھ کتاب:مقتل عثمان

____________________

١)۔ ابو عبد اللہ ، محمد بن عبد اللہ ملقب بہ حمیری کتاب ''الروض المطار فی اخبار الاقطار'' کامؤلف ہے۔اس کتاب کا قلمی نسخہ مدینہ منورہ میں شیخ الاسلام کے کتاب خانہ میں موجود ہے۔اور مؤلف نے اس کا مطالعہ کیاہے۔


ط۔سیف کی ''فتوح ''نامی کتاب، جو سرتاپا افسانہ ہے،کو درج ذیل معتبر اور وزنی تاریخی

کتابوں میں حقیقی سند کے طور پر درج کیاگیاہے:

٤٣۔ابن خیاط وفات ٢٤٠ ھ کتاب:تاریخ خلیفہ

٤٤۔بلاذری وفات ٢٧٩ ھ کتاب:فتوح البلدان

٤٥۔طبری وفات ٣١٠ ھ کتاب:تاریخ طبری

٤٦۔ابن اثیر وفات ٦٣٠ ھ کتاب:تاریخ ابن اثیر

٤٧۔ذھبی وفات ٧٤٨ ھ کتاب:تاریخ ذھبی

٤٨۔ابن کثیر وفات ٧٧١ ھ کتاب:تاریخ ابن کثیر

٤٩۔ابن خلدون وفات ٨٠٨ ھ کتاب:تاریخ ابن خلدون

٥٠۔سیوطی وفات ٩١١ ھ کتاب:الخلفائ

ی۔مخصوص مواقع کے بارے میں جعل کئے گئے سیف کے افسانوں نے خصوصی موضوعات سے مربوط تألیف کی گئی درج ذیل کتابوں میں بھی راہ پائی ہے:

٥١۔ابن کلبی وفات ٢٠٤ ھ کتاب:انساب الخیل

٥٢۔ابن اعرابی وفات ٢٣١ ھ کتاب:اسماء الخیل

٥٣۔العسکری وفات ٣٩٥ ھ کتاب:الاوائل

٥٤۔غندجانی وفات ٤٢٨ ھ کتاب:اسماء خیل العرب

٥٥۔ابو نعیم وفات ٤٣٠ ھ کتاب:دلائل النبوة

٥٦۔بلقینی وفات ٨٠٥ ھ کتاب:امر الخیل

٥٧۔قلقشندی وفات ٨٢١ ھ کتاب:نہایة الارب


ک۔عربی زبان کی ادبی کتابوں میں بھی کافی مقدار میں ان افسانوں کو شامل کیا گیاہے،جیسے:

٥٨۔اصبہانی وفات ٣٥٦ ھ کتاب:الاغانی

٥٩۔ابن بدرون وفات ٥٦٠ ھ کتاب:ابن عبدون کے قصیدہ کی شرح

ل۔لغت کی کتابیں بھی سیف کے افسانوں سے محروم نہیں رہی ہیں ،جیسے:

٦٠۔ابن منظور وفات ٧١١ ھ کتاب:لسان العرب

٦١۔زبیدی وفات ١٢٠٥ ھ کتاب:تاج العروس

م۔بہر حال جہاں کہیں بھی نظر ڈالیں اس مکار لومڑی کے نشان نظر آئیں گے،حتیٰ حدیث کی کتابوں میں بھی،جیسے:

٦٢۔ترمذی وفات ٢٧٩ ھ کتاب:صحیح ترمذی

٦٣۔النجیرمی وفات ٤٥١ ھ کتاب:اصل مسموعات

٦٤۔ابن حجر وفات ٨٥٢ ھ کتاب:فتح الباری

٦٥۔متقی ھندی وفات ٩٧٥ ھ کتاب:کنز العمال

ن۔اس کے بعد قدرتی بات ہے کہ بعض اوقات سیف کا نام جھوٹ بولنے والوں اور روایت جعل کرنے والوں کے عنوان سے ایسی کتابوں میں آئے جو اس قسم کے اشخاص کی شناخت کے لئے تالیف کی گئی ہیں ،جیسے:

٦٦۔عقیلی وفات ٣٢٢ ھ کتاب:الضعفائ

٦٧۔ابن جوزی وفات ٥٩٧ھ کتاب:الموضوعات

٦٨۔سیوطی وفات ٩١١ ھ کتاب:اللئالی المصنوعة

اس کے علاوہ متقدمین ،متاخرین ،مستشرقین اور مغربی اسلام شناسوں کی ہزاروں کتابیں سیف کے جعلیات سے بھری ہیں ۔


احادیث سیف کی اشاعت کے اسباب

وضع سیف قصصاً تسایر مصالح السلطة فی کل عصر

سیف نے اپنے افسانوں کو ہر عہد کے حکام ظلم و جور کی مصلحتوں اور مفاد کے مطابق جعل کیا ہے۔

ہم نے گزشتہ فصل میں اسلامی اسناد و مأخذ کے ایک حصہ کی نشاندہی کی جس میں سیف کے افسانوں نے راہ پائی ہے ۔لیکن ان مأخذکے بیان کرنے سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان تمام کتابوں اور رسائل کی فہرست بیان کریں جو کسی نہ کسی طرح سیف کے افسانوں سے متاثر ہوئے ہیں ،کیونکہ یہ ایک مشکل اور تقریباًناممکن کام ہے ،اور جو کچھ ہم نے اس سلسلہ میں بیان کیا ہے وہ سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ کے مانند ہے ،بلکہ اس کامقصد یہ ہے کہ مختلف اسلامی مآخذ میں سیف کی جعلی احادیث اور انسانوں کی وسعت کا نمونہ پیش کیاجائے جو علماء واہل تحقیق کی حیرت کا باعث ہواہے۔

اب سیف کی احادیث اور افسانوں کی اشاعت (اسے دروغ گو اور زندیق جاننے کے باوجود )اور علماء ودانشوروں کے اس پر اعتماد کرنے کے اسباب کاخلاصہ ذیل میں بیان کیاجاتاہے:

١۔خود سر حکام کے موافق ہونا

پہلا سبب یہ تھا کہ سیف نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اس کے قصے اور افسانے ہر زمانے کے حکمراں طبقہ کے مفادات اور مصلحتوں کے موافق اور ہم آہنگ ہوں ۔حکمراں طبقہ کی طاقت وقدرت، مصلحتوں اور مفادات کے تحفظ کے سلسلے میں سیف کی خاص توجہ کی بہترین اور واضح دلیل جنگ دارین میں علاء حضرمی کی داستان ہے۔اس واقعہ کے بارے میں سیف کی داستان سے قطع نظر اصل قضیہ یہ ہے:


''جنگی سپاہیوں کا ایک گروہ علاء کے خوف سے قلعۂ دارین میں پناہ لیتا ہے۔اس قلعہ میں پناہ لینے والے سپاہیوں اور علاء کے درمیان پانی ہے جس کی وجہ سے علاء کے لئے قلعۂ دارین تک پہنچنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں ۔کرازالنکری نام کا ایک شخص علاء اور اس کے سپاہیوں کی اس سے عبور کرنے میں راہنمائی کرتاہے اور اس طرح دارین کا قلعہ علاء کے ہاتھوں فتح ہوتاہے'' ١

حقیقت میں پورا قضیہ یہی ہے جو چند سطروں میں خلاصہ ہوا۔لیکن سیف اپنی عادت کے مطابق اصل قضیہ میں تصرف وتبدیلی ایجاد کرکے اسے یوں نقل کرتاہے:

''میں نے جنگ دارین میں علاء کودیکھا کہ گھوڑے پر سوار ہوکے دریامیں اترا(یا چار ہزارسپاہیوں کے ساتھ دریا میں اترا)جب کہ نہ کسی اونٹ اور نہ کسی گھوڑے کے سم تک تر ہوئے ۔اس کے بعد وہ بحرین کی طرف بڑھا۔جب دہناء کے شورہ زار میں پہنچا ،تو علاء نے اس سرزمین پر خدا سے دعا مانگی،جس کے نتیجہ میں اس سرزمین سے پانی ابلنے لگا....وہاں سے آگے بڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ قافلہ کے ایک شخص کی کوئی چیز وہاں پر رہ گئی ہے۔اس لئے وہ شخص اس چیز کو اٹھانے کے لئے واپس لوٹا ، اس شخص نے اس جگہ پر اپنی چیز تو پالی لیکن وہاں پر پانی کا کوئی نام ونشاں موجود نہ تھا۔'' ٢

ابوہریرہ نے چھوٹی داستانوں کے بارے میں اپنے طریقہ کار کے مطابق علاء کے قصہ کو بھی نقل کیاہے۔چونکہ لوگوں میں اپنے اسلاف اور اجداد کی کرامتیں سننے کا بڑا شوق ہوتاہے ،اس لئے سیف کو اس میں کامیابی ہوتی تھی اور اس کی بیان کی ہوئی داستانیں اور روایتیں فوراً سینہ بہ سینہ نقل ہوکر پھیل جا تی تھیں ،ابوہریرہ کی نقل کی گئی یہ داستانیں مختلف طریقوں سے سیف کے زمانے تک رائج اور زبان زد خاص و عام تھیں اور جب غیر معمولی ذہن والے سیف کا زمانہ آیا تو اس نے مندرجہ بالا داستان کی خالی جگہوں کو پر کیا اور اس میں شاخ و برگ کا اضافہ کرکے اس کے لئے ایک سند بھی جعل کی اور اسے حسب ذیل صورت میں بیان کیا:


'' علاء جب اپنے سپاہیوں کے ساتھ دہناء پہنچا تو وہاں پر اسے ایک صحرا اور اس میں دور دور تک ریت کے ٹیلے نظر آئے اور پانی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا ،وہ اس صحرا میں کافی آگے تک بڑھا ،اس کے تمام اونٹ بار سمیت بھاگ گئے اس کے پاس نہ کوئی اونٹ باقی رہا نہ زاد راہ اور نہ پانی اس حالت میں سبوں کو اپنی ہلاک کا یقین پیدا ہو گیا اور ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے علاء اس غم و تشویش میں مبتلا لوگوں کی سرزنش اور ملامت کرتے ہوئے انھیں اپنے ساتھ مجموعی طور پر ایک ایسی دعا کرنے پر مجبور کیا جس کا متن خود سیف نے نقل کیا تھا ۔اس دعا کے نتیجہ میں اچانک ان کے سامنے پانی ظاہر ہوا اور اس پانی پر پڑی سورج کی کرنوں کے انعکاس کا مشاہدہ کرکے سب تعجب میں پڑ گئے !اس کے بعد سب پانی کی طرف بڑھتے ہیں اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور نہاتے دھوتے ہیں اسی وقت ان کے بھاگے ہوئے اونٹ بھی واپس آجاتے ہیں وہ اونٹوں کو بھی پانی پلا کر آگے بڑھتے ہیں اس تالاب سے کچھ دور پہنچنے کے بعد ،ابو ہریرہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ تالاب کے کنارے بھولے ہوئے برتن لے آنے کے لئے تالاب کی طرب لوٹتا ہے ۔وہاں پر وہ اس برتن کو تو پاجاتا ہے لیکن اس تالاب کا کہیں نام و نشان تک نظر نہیں آتا ''

خلیفہ کے سپاہیوں کا پانی پر چلنا:

اس کے بعد سیف اس قصہ میں کچھ اور اضافہ کرتے ہوئے لکھتا ہے :

''خلیفہ کے سپاہی بحرین کی طرف بڑھتے ہوئے ارادہ کرتے ہیں کہ دارین جائیں ۔ان کے اور دارین کے در میان ایک سمندر تھااور اس کو پار کرنے کے لئے کشتی کے ذریعہ ایک دن رات کافاصلہ تھا۔اس سمندر کے کنارے علاء نے اپنے سپاہیوں کو جمع کرکے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا:''خدائے تعالیٰ نے خشکی میں اپنی آیات کو تم لوگوں پر واضح کیا ۔اب جرات مندی کے ساتھ سمندر میں اتر کر دشمن کی طرف دوڑو اور دلیری سے سمندر کو پار کرو!''وہ سب سوار و پیادہ سمندر میں اترے اور گھوڑے ،اونٹ،اور خچر پر سوار سپاہیوں نے دعا پڑھی (جسے سیف نے نقل کیا ہے)وہ سمندر سے ایسے گزرے جیسے کوئی صحرا کی ریت پر قدم رکھ کر آگے بڑھتا ہے جب کہ گھوڑے اور اونٹوں کے سم مشکل سے تر ہوئے تھے ۔اس طرح وہ مرتدوں کے پاس پہنچے اور ان سے جنگ کرکے فتح پائی اس کے بعد اپنی جگہ کی طرف واپس لوٹے اور سمندر سے اسی طرح گزرے جیسے پہلے گزرے تھے۔''


سیف کے ایک افسانوی سورما عفیف ابن منذر تمیمی اس سلسلے میں کچھ شعر کہے جنہیں سیف نے نقل کیا ہے ،اس کے بعد وہ کہتا ہے :

''مسلمانوں کے ہمراہ ایک راہب تھا ۔یہ سب کرامتیں ،خارق العادہ واقعات ،اور ہوا میں فرشتوں کی دعا سن کر وہ مسلمان ہوگیا''۔

سیف نے فرشتوں کی دعا بھی نقل کیا ہے ،اوراس کے بعد لکھتا ہے :

''علاء نے اس لشکر کشی کی رپورٹ ایک خط کے ذریعہ خلیفہ اول ابوبکر کو بھیجی ۔ابوبکر نے علاء کا خط وصول کرنے کے بعد منبر پر چڑھ کر مسلمانوں کے در میان یہ داستان بیان کی ۔''

سیف اپنے زمانے تک سینہ بہ سینہ پھیلے ہوئے ابو ہریرہ کے بیان کردہ اس مختصر قصہ کو پسند کرتا ہے اور اسے ہر طرح سے سند وشاہد اور دلیل و برہان کے ذریعہ محکم بناکر کسی قسم کا شک وشبہ باقی نہ رکھتے ہوئے اس زمانے کے لوگوں کے لئے نقل کرتا ہے ۔چونکہ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ عظمت و کرامت حضرمی شخص ،اہل یمن اور سبائی کے بارے میں بیان کرے ،اس لئے ایک اور افسانہ گڑھ کر اس شخص (علاء )سے مربوط کرامت کی نفی کرتا ہے اور اس سلسلے میں یوں لکھتا ہے:

''علاء حضرمی اور سعد وقاص کے در میان مقابلہ اور رقابت تھی ۔اتفاق سے مختلف جنگوں میں علاء کی سرگرمیاں اور کارروائیاں سعد سے زیادہ تھیں ۔لیکن سعد نے عمر کے زمانے میں قادسیہ کی جنگ میں ایرانیوں پر فتح پائی اور اس نے علاء کے لائے ہوئے جنگی غنائم کے مقابلے میں بہت زیادہ غنائم خلیفہ کو بھیجے تھے ۔لہٰذاعلاء نے اس جنگ میں سر توڑ کوشش کی تا کہ ایرانیوں سے زیادہ غنائم حاصل کرے اور سعد سے پیچھے نہ رہے ۔اس غرض سے اس نے خلیفہ سے کوئی حکم حاصل کئے بغیر سمندری راستہ سے ایرانیوں پر حملہ کیا ،جب کہ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا کہ اگر جنگوں میں اسے خدا نے سعد کے مقابلے میں کوئی فضیلت و برتری عطا کی تھی تو وہ خلیفہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے سبب تھی اور مرتدوں سے جنگ میں فتحیابی بھی خلیفہ اول ابو بکر کے حکم کی پیروی کے سبب تھی نہ یہ کہ وہ کسی شخصی فضیلت و کرامت کا مالک تھا،جب کہ خلیفہ دوم عمر نے اسے سمندری راستے سے ایرانیوں پر حملہ کرنے سے منع کیا تھا...''


سیف اس کے بعد مزید لکھتا ہے:

''جب علاء نے سمندری راستے سے ایرانیوں پر حملہ کیا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہوگئیں تو ایرانی اس کے اور اس کی کشتیوں کے درمیان حائل ہوگئے اور مسلمانوں کے لشکر نے شکست کھائی اور یہ شکست علاء کی طرف سے خلیفہ کے حکم کی نافرمانی کا نتیجہ تھی ۔اگر خدائے تعالیٰ کی عنایت شامل حال نہ ہوتی تو وہ سب کے سب اس جنگ میں مارے جاتے ۔لیکن عنایت خداوندی نے اس طرح ظہور کیا کہ اس بدون اجازت حملہ کی خبر خلیفہ کو پہنچتی ہے اور خلیفہ کے دل میں یہ بات گزرتی ہے کہ علاء اس نا فرمانی کی وجہ سے شکست کھائے گا ،لہٰذا فورا اسے معزول کرکے اس کی جگہ پر دوسرے سپہ سالار کا انتخاب کرتا ہے اور اس کی مدد کے لئے تازہ دم فوج روانہ کرتا ہے ۔اس طرح خلیفہ کی فہم و فراست کے سبب خدائے تعالیٰ لشکر اسلام کو ہلاکت سے نجات دیتا ہے !''

سیف کی اس جعلی داستان کے مطابق جو کچھ ابو ہریرہ نے جنگ دارین میں علاء کی نسبت عظمت و کرامت کے طور پر بیان کیا تھا،وہ اس خلیفہ کی اطاعت و فر مانبرداری کا نتیجہ تھا،ورنہ ہم نے دیکھا کہ یہی بزرگ صحابی خلیفہ کی نافرمانی کرتا ہے تو کس طرح مصیبت اور بد بختی میں گرفتار ہوتا ہے ۔ خدائے تعالیٰ نے یہ سب نعمتیں خلیفہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے سبب علاء اور اس کی فوج کوعطا فرمائی تھیں اور نافرمانی کے سبب اس طرح شکست سے دوچار کیا تھا۔

یہ داستان اور اس جیسی دوسری داستان ،سیف نے ہر زمانے میں وقت کے حکمرانوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے جعل کی ہیں ۔اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیف کے افسانوں کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب یہی تھا تا کہ دوسروں کی صحیح روایتیں فراموشی کی نذر ہوجائیں ۔


٢۔عوام پسند ہونا

سیف کی باتوں کو شہرت ملنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ اس نے داستانوں اور افسانوں کو مختلف زمانے کے لوگوں کی دلچسپی اور پسند کے مطابق جعل کیا ہے ۔چونکہ عوام الناس پجاریوں کی طرح اپنے نیک اسلاف اور اجداد کی پوجا کرتے ہیں اور ان کی کرامتوں اور کمالات کو سننے کے والہانہ طور سے منتظر رہتے ہیں ،اس لئے سیف نے ایسی روایتیں جعل کی ہیں جو ایسے لوگوں کی تمنائوں کو بہترین صورت میں پورا کرتی ہیں ۔سیف کی روایتوں میں اس حد تک ملتاہے کہ نامور اسلاف اور اجداد کے مقابل قدرت کے لازوال قوانین بھی مطیع و فر مانبردار ہیں اور ان کے حکم کے ما تحت ہیں ،ملائکہ اور جنات ہمیشہ ان کے مددگار تھے اور ان کے حکم کی تعمیل کے لئے تیارکھڑے رہتے تھے ،حیوانات ان سے گفتگو کرتے تھے اور ان کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔خلاصہ یہ کہ جنگ کے میدانوں میں ان کی بہادری بے مثال ہوتی تھی اور وہ ہمیشہ فاتح و سرفراز ہوتے تھے۔

دوسری طرف ثقافت وادب کے شیدائیوں کو سیف کی روایتوں میں بہترین قصیدے ،بے نظیر تقریریں ،خوشنما رزم نامے اور شیرین خودستائیوں کے علاوہ بہترین اور دلچسپ عبارتوں میں جنگی عہدنامے ،صلح ودوستی کے معاہدے اور وقت کے حکمرانوں کے فصیح و بلیغ فرمان اور حکم نامے ملتے ہیں ۔


اسی طرح تاریخ کے دل دادہ اور تاریخ نگار بھی اپنے مقدور کے مطابق دیگر منابع کی نسبت سیف کی روایتوں سے بیشتر فائدہ اٹھاتے ہیں ۔تاریخ کے متوالے مشاہدہ کرتے ہیں کہ سیف نے ہر تاریخ نویس کی نسبت واقعات اور تاریخی حوادث کی بیشتر اور مکمل وضاحت کی ہے۔اس نے ہر حادثہ کے جزئیات کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور تاریخ کے نوادر اور عجائبات بیان کرنے میں کسی معمولی چیز کو بھی نظر انداز نہیں کیاہے۔کیونکہ سیف خبر سازی میں ماہر اور افسانہ گڑھنے میں کمال رکھتاتھا۔مثال کے طور پر آپ افسانہ نویسوں کے علاوہ کسی تاریخ دان کاسراغ نہیں بتاسکتے ،جس نے سیف بن عمر تمیمی کی طرح کسی سوار کے دریائے دجلہ سے عبور کرتے وقت اس کے گھوڑے کی دم کی حرکت کے بارے میں بھی وضاحت سے تعریفیں بیان کی ہوں !(۱)

مختصر یہ کہ تاریخی حوادث وواقعات کے دل دادہ لوگوں کو جو کچھ سیف سے ملتا ہے وہ نہ صرف دیگر تاریخ دانوں اور حقائق نویسوں سے انھیں نہیں ملتا بلکہ انھیں ان چیزوں کاکہیں اور سراغ ملنا بھی ناممکن ہے۔

٣۔ آسائش پرستوں کی مرضی کے ہم آہنگ ہونا

معاشرے کے سرمایہ داروں ،خود سروں ،طاقت ور لوگوں اور آرام وآسائش کے دلداہ افراد کو سیف کی روایتوں اور افسانوں سے بہت فائدہ پہنچتاہے ۔چونکہ سیف کی دلچسپ داستانیں اور اس کے پر کشش افسانے اس قسم کے لوگوں کی شب باشی ،عیش وعشرت اور تفریحی محفلوں کو خوشحال اور پر رونق بناتے ہیں ۔

جس زمانے میں ''عنترة ابن شداد ''،''ابی زید سروجی''اور''الف لیلہ''جیسے افسانے سنانے میں قصہ خوانوں کا بازار گرم تھا اور ان افسانوں سے امیر اور بڑے لوگوں ،سرمایہ دار اور با اثر شخصیتوں کو وقت گزاری میں مشغول رکھا جاتا تھا،تو اہل فکر نے بھی یہ سوچا کہ اپنے نظریات کو داستانوں اور افسانوں کے روپ میں پیش کریں تا کہ انھیں عام لوگ پڑھیں اور ہاتھوں ہاتھ ان کی تبلیغ کریں ۔اسی

____________________

۱)۔عاصم کے حالات میں اس کاتفصیل سے تذکرہ آیاہے۔


بناء پر ''اخوان الصفا''(۱) نام کے ایک گروہ نے اپنے افکار ونظریات کو پمفلٹوں کی صورت میں شائع کرکے لوگوں میں تقسیم کئے اور ابن طفیل نے اپنے نظریات کو''حی بن یقطان''(۲) کی داستان

کے روپ میں زبان زد خاص وعام کردیا اور اسی طرح ابن مقفع نے اپنا مقصد کتاب ''کلیلہ ودمنہ ''کے ترجمہ سے حاصل کیا۔اس کے بعد سیف بن عمر آیا اور اس نے ''فتوح ''اور ''جمل ''نامی اپنی دو کتابیں تالیف کرکے ان سب پر سبقت حاصل کی اور اپنے افکار ونظریات کو افسانوں کی شکل دے کر مؤثق اور قابل اعتماد روایتوں ،تاریخ اور صحیح سیرت کے طور پر رائج کیا۔اس طرح اپنی آرزؤں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہا۔

خلاصہ یہ کہ حکمران ،اہل قدرت وطاقت اور سرمایہ دار طبقہ سب سیف کی احادیث میں اپنی مرضی کے مطابق مواد پاتے ہیں اور عام لوگوں کی خواہش بھی سیف پوری کرتاہے۔اس کے علاوہ سیف کی احادیث میں علماء اور ثقافت وادب کے شیدائی بھی اپنی بحث وگفتگو کے لئے ضروری چیزیں پاتے ہیں ۔اس طرح تاریخ ،قصہ اور افسانوں کے دل دادہ افراد کی چاہت بھی ان سے پوری ہوتی ہے۔بہر حال سیف نے تقریبا بارہ صدیوں تک ان طبقات کو اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہا وہاں

ہانکا ہے اور حسب دلخواہ انھیں مواد فراہم کرتا رہا ہے ۔بالاخر اس کے بیانات اور افسانے زبان زد خاص و عام ہوکر نسل بہ نسل پھیلتے گئے اور لوگ اس کے خود ساختہ افکار و نظریات کو روایاتوں اور صحیح واقعات کی صورت میں پوری قوت کے ساتھ شائع کرتے تھے اور دوسروں کی صحیح اور معتبر احادیث کو فراموش کرتے تھے اس طرح بعض صحیح احادیث و واقعات مفقود ہو گئے ہیں ۔

____________________

۱)۔فرقہ اسماعیلیہ کے دانشوروں کے ایک گروہ نے تقریباً ٣٧٣ھ (٩٨٣ع) میں ''اخوان الصفا''نام کی ایک انجمن تشکیل دی، جس کا مرکز بصرہ میں تھا۔اس گروہ نے اپنے افکار و نظریات کے تحت مختلف موضوعات جیسے :حساب وھندسہ،موسیقی،منطق،نجوم،اور وقت کے دیگر علوم وفنون سے متعلق ٥١ رسالے تالیف کئے اور مبدأ سے معاد تک اپنے عقائد کے ایک حصے کو ان میں بیان کیا۔ان رسالوں کا ترجمہ ١٨٦١ع میں لندن میں کیا گیا۔اور اس کا اصل عربی متن ١٨٨٣ع میں لایپزیک،مصر اور ہندوستان میں دوبارہ طبع ہوا کشف الظنون ٩٢١ ۔دائرة المعارف ٥٢٧١،٥٢٩۔الذریعہ ٣٨٣١، ٧٦٤،٢٣٥٧،٩٨و١٠۔اعیان الشیعہ ج١٠ طبع اول ملاحظہ ہو ۔

۲)۔کتاب ''حی بن یقطان ابن طفیل ابوبکر اشبیلی وفات٥٨١ھ کی تالیف ہے۔یہ ایک داستان ہے جس کاہیرو ''حی بن یقطان''ہے۔ ابن سینا نے اس اسلوب میں دو رسالے لکھے ہیں ان میں سے ایک رسالہ ایک اخلاقی داستان پر مشتمل تھا۔الذریعہ ١٢٨٧۔١٢٩ملاحظہ ہو


٤۔ خاندانی تعصبات کے ہم آہنگ ہونا

مذکورہ مطالب کے علاوہ سیف کی غیر معمولی ذہانت کا اس وقت پوری طرح اندازہ ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے بڑی مہارت سے اپنے مقاصد اور عزائم کو ہر طبقہ اور خاندان کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق رکھا ہے ۔وہ اپنی احادیث میں لوگوں کی خواہشات کی رعایت کے ساتھ ساتھ ہر حدیث کی سند کا افتخار عام طور پر مضر قبیلہ اور خاص طور پر خاندان تمیم کو بخشتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ان کے دشمنوں ،یعنی یمانیوں کو ذلیل و خوار اور پست بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ مطلب محققین اور علمی کاوش گروں پر بالکل واضح ہے ۔

٥۔ زندیقیوں کے ہم آہنگ ہونا

آخر میں جو چیز قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ سیف کی احادیث میں اس کے جھوٹ اور تحریفات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم چند ایسے مسائل سے دو چار ہوتے ہیں جو کسی بھی صورت میں اس کے ان مقاصد سے جن کا ہمیں علم ہے مطابقت نہیں رکھتے جب کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ سیف نے جو جھوٹ بھی بولا ہے یا کسی موضوع کی تحریف کی ہے اس کے پیچھے کسی خاص مقصد کو تحقق بخشنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ اس بات کودیکھتے ہوئے سیف کا تاریخی حوادث کے سالوں کو تغییر دینے کا کیا مقصد تھا؟ ٣ مثال کے طور پر جنگ یرموک ١٥ ھ میں واقع ہوئی ہے ،سیف نے اس کا واقع ہونا ١٣ ھ


میں کیوں لکھا ہے ؟ شہر دمشق ١٥ھ میں فتح ہوا ہے لیکن سیف نے اسے ١٦ھ میں کیوں لکھا ہے ۔(۱)

سیف نے تاریخی شخصیتوں کے نام کیوں بدل دئے ہیں ؟جیسے امیر المومنین حضرت علی کا قاتل عبدالرحمن ابن ملجم تھا ،لیکن سیف نے خالد بن ملجم ذکر کیا ہے ٤ عبد المسیح بن عمرو نے خالد بن ولید سے جو صلح کی ہے ،اسے عمرو بن عبدالمسیح سے نسبت دی ہے !!(۲)

یاسیف کو کس چیز نے درج ذیل حدیث جعل کرنے پر مجبور کیا ہے ؟

''خلیفہ عمر نے اپنی بیوی ام کلثو م امام علی کی بیٹی سے خواہش کی کہ اس کے مہمانوں کیساتھ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھے ۔ام کلثوم نے اس کے جواب میں کہا : اگر تم چاہتے ہو کہ میں مردوں میں ظاہر ہو جائوں تو میرے لئے ایسا لباس نہیں

خرید تے !! '' ٥

کیا یہ مناسب ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ عمر اپنی بیوی سے نامحرم مردوں کے ساتھ پیٹھ کر کھانا کھانے کا تقاضا کرے؟ اور عمرکی بیوی کے لئے اپنے شوہر کی درخواست مستردکرنے کا سبب مردوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے اس کا نامناسب لباس ہو؟!

یہ افسانے اور اس کے مانند دیگر افسانے سیف کو اس کے ان مقاصد تک ہر گز نہیں پہنچاتے جن کا ہمیں علم ہے مگر یہ کہ جو نسبت اسے زندیق ہونے کی دی گئی ہے صحیح ہو! ٦ اور اگر سیف کے زندیق ہونے کی بات صحیح ہو تو اس کی آڑمیں اس نے اپنے جعلی افسانوں کے ذریعہ تاریخ اسلام کو منحرف اور مسخ کرکے رکھ دیا ہے ،اور اس صورت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقائق کو تحریف کرنے میں سیف کا مقصد اسلام سے اس کے عناد اور دشمنی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا بہرصورت وہ تاریخ اسلام کو

____________________

۱)۔'' عبداللہ ابن سبا '' ج١فصل ''تحریف سالہا ی حوادث'' ملاحظہ ہو

۲)۔ ملاحظہ ہو کتاب '' عبد اللہ ابن سبا'' ج٢ فصل تحریف اسماء


منحرف کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس سلسلے میں اس کے مانند کوئی اور نظر نہیں آتا خواہ سیف کا یہ کام اس کے زندیق ہونے کی وجہ سے ہو یا اس کی لاپروائی اور جھوٹ کی عادت کی وجہ سے ،بہر صورت وہ تاریخ اسلام کو خاص کر اسلامی فتوحات ،ارتدادکے خلاف جنگوں اور تاریخی واقعات کو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی خلافت کے زمانے تک تحریف کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

جو تاریخ سیف نے تالیف کی ہے وہ اصحاب اور ان کے فتوحات کی سرکاری تاریخ کی حیثیت سے درج ہوئی ہے اور اس تاریخ کے سرکاری حیثیت پانے کا مسلمانوں وغیرہ کیلئے یہ نتیجہ نکلا کہ سب نے قبول کیا ہے کہ مسلمانوں نے ارتداد کی جنگوں اور فتوحات میں ہزاروں انسانوں کا قتل عام کیا ہے ،اور انسانی معاشرہ میں خون کی ندیاں بہا کر ایسا رعب وو حشت اور اضطراب برپا کیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔نتیجہ کے طور پر اسلام تلوار اور خون کی ہولی کے ذریعہ پھیلا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ملتیں خود جابر اور ظالم حکام کے خلاف بغاوت کرکے مسلمان سپاہیوں سے جاملتی تھیں ۔اسلام اس طرح پھیلا ہے ،نہ کہ تلوار سے جیسا کہ سیف نے ثابت کیاہے ۔

گزشتہ حصوں کا خلاصہ

اما آن لنا ان نبحث عن الحقیقة

کیا اب وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ہم حقیقت کی تلاش کریں ؟

١) زندیقیت

ہم نے دیکھا کہ علماء اور دانشوروں نے سیف کی یوں تعریف کی ہے :

''یہ حدیث جعل کرنے والا ،اور اس پر زندیق ہونے کا الزام ہے ''


ہم نے دیکھا کہ سیف کا وطن عراق ،اس کے زمانے میں زندیقیوں کی سرگرمیوں اور ان کے نشو ونما کا مرکز تھا ۔اس لحاظ سے عراق تمام دیگر علاقوں کی نسبت ممتاز و مشخص ہے ۔ اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ سیف کے ہم عصر زندیقی ،مسلمانوں کے افکار و عقائد کو کمزور اور متزلزل کرنے اور ان کے اتحاد و یکجہتی کی بنیاد یں کھوکھلی کرنے میں کس قدر مصروف تھے اور اس سلسلے میں کیا کچھ نہ کیا ۔ ان میں ایسے افراد بھی پید اہوئے جنھوں نے احادیث جعل کرکے لوگوں کے افکار و عقیدہ میں شبہہ ڈال دیا ۔ ان ہی میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس نے قتل ہوتے وقت اعتراف کیا تھا کہ اس نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں جن کے ذریعہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا ہے ہمیں معلوم نہیں وہ احادیث کہاں گئیں اور ان کا انجام کیا ہوا اور ان احادیث نے خلفاء کی مورد تائید سرکاری کتابوں میں سے کن کن میں نفوذ کیا ہے ۔

لیکن جب ہم نے خود سیف کی جعل کردہ احادیث کی سنجیدگی سے تحقیق کی اور ان کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس نے بھی بڑی مہارت سے ہزاروں کی تعداد میں احادیث جعل کی ہیں اور ان کے درمیان ایسی احادیث بھی ملتی ہیں جن میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پرہیزگار اور باتقویٰ اصحاب کو نکما، ذلیل اور کمینہ بنا کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے برعکس اسلام کا لبادہ پہنے ہوئے منافقوں اور کذّابوں کو با تقویٰ ، پرہیزگار اور دیندار کی حیثیت سے پہچنوایا ہے ۔ اس طرح توہمات پر مبنی افسانے جعل کرکے تاریخ اسلام کو الٹا دکھاکر مسلمانوں کے عقائد پر حیرت انگیز حد تک برے اثر ات ڈالے ہیں اور غیر مسلموں کے افکار پر اسلام کی نسبت منفی اثرات ڈالنے میں کامبیاب ہوا ہے ۔اس سلسلے میں سیف اپنے ہم عصر تمام زندیقیوں کا ہم فکر اور شریک تھا ۔وہ صرف ایک لحاظ سے اپنے تمام ہم فکروں پر سبقت رکھتا تھا اور وہ یہ کہ اس نے اپنی جعل کی ہوئی اکثر حدیثوں میں وقت کے حکام اور صاحب قدر ت اشخاص کی براہ راست تعریف اور ستائش کی ہے اور ان کے مخالفوں کی مذمت اور بد گوئی کی ہے ۔ اس طرح حکام وقت سے اپنے جھوٹ اور افسانوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرکے ان حدیثوں کی اشاعت کے لئے زمین فراہم کی ہے ۔اسی طرح اس کے زمانے میں موجود خاندانی تعصب اور اس کا اپنا شدید خاندانی تعصب جو اس میں اپنے خاندان نزار کے لئے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ خلفائے راشدین کی ابتداء سے اموی حکمرانوں کے زمانے اور بنی عباسیوں کی سلطنت تک سب کے سب اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس کے افسانوں کی اشاعت میں انتہائی مؤثر رہا ہے ۔


٢)۔ تعصب

ہم نے دیکھا کہ سیف کے زمانے میں موجود اسلامی مراکز خاندانی اور قبائلی تعصب کی وجہ سے پے در پے تباہ و برباد ہو گئے اور ہر طرف فتنہ و فساد اور انتہائی خون ریزی کا بازار گرم ہو ا بالاخر یہی امر بنی امیہ کی حکمرانی کی نابودی اور بنی عباس کی خلافت کے بر سر کار آنے کا باعث ہوا ۔ان تمام فتنوں اور بغاوتوں کے بارے میں اس وقت کے شاعروں نے فخر و مباہات اور خود ستائی پر مبنی ولولہ انگیز رزمی قطعات اور قصیدے کہے ہیں ،جو یادگار کے طور پر موجود ہیں اور آج بھی ہم اس زمانے کے شعراء و ادب کے مجموعوں کو ان رزمی قصیدوں سے پر پاتے ہیں ۔

اس کے علاوہ معلوم ہو ا کہ انہی خاندانی تعصبات کی وجہ سے بعض افراد نے اپنے خاندان کی فضیلت ،منقبت اور بالادستی پر مبنی تاریخی قصے اور احادیث جعل کی ہیں اور انھیں اپنے خاندانی فخر و مباہات کی سند کے طور پر دشمن کو نیچا دکھا نے کے لئے استعمال کیا ہے ۔ لیکن اس میدان میں بھی سیف کا کوئی ہم پلہ نہیں ملتا کیوں کہ وہ اپنی کتابوں '' فتوح '' اور ''جمل'' میں شاعروں کی ایک ایسی جماعت جعل کرنے میں کامیاب ہو اہے ،جنھوں نے اپنے رزمی قصیدوں میں قبیلہ مضر کے فخر و مباہات پر عام طور سے اور خاندان تمیم کے بارے میں خصوصی طور سے داد سخن دی ہے ۔اس کے علاوہ سیف نے اپنے خاندان تمیم کے بہت سے ایسے شجاع و بہادر نیز اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جعل کئے ہیں جن کو اسلامی جنگوں میں فاتح سپہ سالار کی حیثیت سے دکھایا ہے ۔اس کے علاوہ اس نے خاندان تمیم سے احادیث کے بے شمار راوی جعل کئے ہیں


٣)۔من گڑھت

اس کے علاوہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ سیف نے فتوح اور ارتداد کی جنگوں میں اپنے افسانوں کے بہادر وں کی شجاعت کے جوہر دکھانے کے لئے قصہ اور کہانیاں گڑھی ہیں ،جب کہ ایسی جنگیں حقیقت میں واقع ہی نہیں ہوئی تھیں ۔اور اس نے ایسے جنگی میدانوں کانام لیا ہے جن کا روئے زمین پر کہیں وجود ہی نہیں تھا ۔اس کے علاوہ ان جنگوں میں قتل کئے گئے افراد کی تعداد لاکھوں بیان کی گئی ہے جب کہ اس زمانے میں پورے علاقے میں تمام جانداروں کی بھی اتنی تعداد نہیں تھی کہ اتنے انسان قتل یا گرفتار کئے جاتے ۔ سیف نے ان افسانوی بہادروں کی زبانی فخرو مباہات اور رزمی قصیدے بیان کئے ہیں اور دشمنوں کی ہجو گوئی کی ہے اس کے علاوہ اس نے اپنے خاندان کے سور مائوں کے نام خلفائے وقت کی طرف سے ترقی کے حکم نامے جعل کئے ہیں اور مذکورہ فاتح سپہ سالاروں کے فتح شدہ فرضی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ جنگی معاہدے بھی درج کئے ہیں جب کہ ایسی جنگیں حقیقت میں واقع ہی نہیں ہوئی تھیں ،رونما نہ ہوئے واقعات کو جعل کرنے اور قبیلہ نزار کی فضیلتیں بیان کرنے کے لئے اس شخص کی حرص اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ خاندان تمیم کی فضیلتوں کو پھیلانے کے لئے اس نے ملائکہ اور جنات سے بھی خدمات حاصل کرنے میں گریز نہیں کی ہے ۔سیف قبیلہ مضر ،خاندان تمیم خاص کر سیف کے اپنے خاندان بنی عمرو کے فخرو مباہات کی سند جعل کرنے کے لئے ہر قسم کے دھوکہ اور چالبازیوں کو بروئے کار لاتا ہے !

اس کے علاوہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیف کے افسانوں کے سورمائوں کے لئے کچھ معاونین کی ضرورت تھی اس لئے اس نے غیر مضریوں پرمشتمل کچھ معاون بھی جعل کئے ہیں اور ان کے لئے معمولی درجے کے عہدے مقرر کئے ہیں ۔اس طرح اس نے تاریخ اسلام میں بہت سے اصحاب تابعین اور حدیث کے راوی جعل کئے ہیں ،جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا بلکہ وہ سب سیف بن عمر کے تخیلات کی تخلیق ہیں ۔


٤)۔حقائق کو الٹا کرکے دکھا نا

ہم اس حقیقت سے بھی واقف ہوئے کہ سیف نے بعض ایسے افسانے جعل کئے ہیں ،جن میں تاریخ کے صحیح واقعات کو تحریف کرکے ایسے افراد سے نسبت دی ہے کہ یہ واقعات کسی بھی صورت میں ان سے مربوط نہ تھے ۔مثال کے طور پر قبیلہ مضر کے علاوہ کسی اور خاندان کے کسی سور ما کو نصیب ہوئی فتحیابی کو کسی ایسے سپہ سالار کے نام درج کیا ہے جو خاندان مضر سے تعلق رکھتا تھا چاہے اس مضری سورما کا کوئی وجود نہ بھی ہو اور وہ محض سیف کے ذہن کی تخلیق ہو!اسی طرح اگر قبیلہ مضر کے کسی سردار سے کوئی نامناسب اور ناگوار واقعہ رونما ہو اہو تو اسے بڑی آسانی کے ساتھ کسی غیر مضری شخص سے نسبت دے دیتا ہے اور سیف کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ غیر مضری فرد حقیقی ہو یا اس کا جعل کردہ اور فرضی۔بہر حال اس کا مقصد یہ ہے کہ مضری فردسے بد نما داغ صاف کرکے اسے کسی غیر مضری شخص کے دامن پر لگایا جائے۔

٥)۔پردہ پوشی

سیف نے قبیلہ مضر کے بعض ایسے سرداروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کے لئے بھی حقائق میں تحریف کی ہے ،جو ناقابل معافی جرم وخطاکے مرتکب ہوئے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے خلیفہ عثمان کے معاملہ میں عائشہ،طلحہ و زبیرکے اقدامات کے بارے میں دیکھا جو عثمان کے قتل پر تمام ہوئے ۔یا ان ہی تین اشخاص یعنی عائشہ ،طلحہ وزبیرکے امام علی کے خلاف اقدامات جو جنگ جمل کی شکل میں ظاہر ہوئے ۔چونکہ یہ سب قبیلہ نزار و مضر سے تعلق رکھتے تھے،اس لئے سیف نے کوشش کی کہ اس عیب سے ان تمام افراد کے دامن کو پاک کرے ۔لہٰذا اس نے ''عبداللہ ابن سبا''کے حیرت انگیز افسانہ کو جعل کرکے تمام فتنوں ،بغاوتوں اور برے کاموں کو ابن سبا اور سبائیوں کے سرتھوپ دیا۔سیف نے جس ابن سباکا منصوبہ مرتب کیاہے ،وہ یہودی ہے اور اس نے یمن سے اٹھکر مسلمانوں کے مختلف شہروں میں فتنہ اور بغاوتیں بر پاکی ہیں ۔سیف،عبداللہ اور اس کے پیرئوں کو سبائی کہتا ہے اور اس خیالی گروہ کو یمنی بتاکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یمنی روئے زمین پر فتنہ گر اور بدترین لوگ ہیں ۔اس طرح بدترین اعمال کے عاملوں ،جو در حقیقت قبیلہ نزار ومضر سے تعلق رکھتے تھے ،کی مضحکہ خیزطور پر پردہ پوشی کرتا ہے ۔لیکن قبیلہ مضر کے علاوہ دیگر افراد ،جیسے عمار یاسر ،ابن عدیس اور مالک اشتر وغیرہ ،جو سب قحطانی تھے ،کو سیف نہ فقط بری نہیں کرتابلکہ ان حوادث میں ان کی مداخلت کو محکم تر کرکے ان پر اپنے افسانے کے ہیرو عبداللہ ابن سبا کی پیروی ،ہم فکری اور مشارکت کا الزام لگاتا ہے وہ اس طرح قبیلۂ مضر کی ان رسوائیوں پر پردہ ڈالتا ہے ۔


٦)۔کمزور کو طاقتور پر فدا کرنا

لیکن قبیلہ مضر کے کسی سردار اوراسی قبیلہ کے کسی معمولی شخص کے در میان اگر کوئی ٹکرائو یااختلاف پیدا ہوتا ہے ،تو سیف اس خاندان کے معمولی فرد کو خا ندان کی عظمت پر قربان کردیتا ہے سیف کا مقصد خاندان مضر کی عظمت و بزرگی ،زرو زور کے خدائوں کے فخرو مباہات ،نامور پہلوانوں سپہ سالاروں کی شجاعت وبہادری کی ترویج و تبلیغ ہے اور اس راہ میں وہ کوئی کسراٹھا نہیں رکھتا۔اس کی مثال کے لئے سیف کا خالد بن سعید اموی مضری کو خلیفہ اول ابوبکر کی بیعت نہ کرنے پر سر کوب اور بد نام کرنا اورمالک بن نویرہ پر صرف اس لئے ناروا تہمتیں لگانا کہ خالد بن ولید نزاری کی حیثیت محفوظ رہے،کافی ہے۔

لیکن اگر کسی مضری اور یمانی کے در میان کوئی ٹکرائو یا حادثہ پیش آیا ہو اور سیف نے اسے سبائیوں کے افسانہ میں ذکر نہ کیا ہو تو اس کے لئے الگ سے قصہ اور افسانہ جعل کرکے اس میں حتیٰ الامکان یمنی کو ذلیل و خوار کرتا ہے اور مضری شخص کے مرتبہ و منزلت کو اونچا کرکے پیش کرتا ہے ۔اس سلسلے میں مضری خلیفہ عثمان کے ذریعہ ابوموسیٰ اشعری یمنی کو معزول کرنے کا مسئلہ قابل توجہ ہے۔

٧)۔حدیث سازی کا تلخ نتیجہ

ان تمام امورکے نتیجہ میں اسلام کی ایک ایسی تاریخ مرتب ہوئی ہے جو بالکل جھوٹ اور افسانوں سے بھری ہے ۔اس طرح تاریخ اسلام میں ،اصحاب ،تابعین ،راویوں ،سپہ سالاروں اور رزمیہ شعراء پر مشتمل ایسے اشخاص مشہور ہوئے ہیں ،جن میں سے ایک کابھی وجود سیف کے افسانوں سے باہر ہر گزپایا نہیں جاتا۔اس کے با وجود سیف سے نقل کرکے ان میں سے ہر ایک کی زندگی کے حالات لکھے گئے ہیں اور انھیں تاریخ کی معتبر کتابوں اور دیگر دسیوں کتابوں میں مختلف موضوعات کے تحت درج کیا گیا ہے کہ ہم نے گزشتہ بحثوں میں ان میں سے ستر کے قریب نمونوں کا ذکر کیا ہے ۔


٨)۔ سیف کی احادیث پھیلنے کے اسباب

ہم نے سیف کی احادیث کے پھیلنے کے اسباب کے بارے میں کہا کہ اس کی حیرت انگیز روایات اور افسانوں کے پھیلنے اور علماء و دانشوروں کی طرف سے ان کو اہمیت دینے کے اسباب درج ذیل ہیں :

١۔ سیف نے اپنی داستانوں اور افسانوں کو ایسے جعل کیا ہے کہ ہر زمانے کے حکمرانوں ، ارباب اقتدار اور دولتمندوں کے مفادات اور مصلحتوں کا تحفظ کر سکیں ۔جیسا کہ ہم نے علاء خضری کی داستان میں دیکھا کہ دار ین کی جنگ میں وہ اپنے پیادہ و سوار سپاہیوں کے ہمراہ سمندر کے پانی سے ایسے گزر ا جیسے وہ صحرا کی نرم ریت پر چل رہا تھا جب کہ اس سمندر ی فاصلہ کو کشتی سے طے کرنے کے لئے ایک شب و روز کا زمانہ درکار تھا اس کے علاوہ اس جنگ میں جتنی بھی کرامتیں اس نے دکھائیں وہ سب علاء کی جانب سے خلیفہ اول کی فرمانبرداری و اطاعت کے نتیجہ میں تھیں چوں کہ جب یہی علاء دوسرے خلیفہ کی اجازت کے بغیر بلکہ اس کی نا فرمانی کرتے ہوئے ایران پر حملہ کرتا ہے تو شکست سے دو چار ہوتا ہے اور ذلیل و خوار ہو جاتا ہے ۔اس لئے اگر علاء سے کوئی کارنامہ دیکھنے میں آیا ہے تو وہ صرف خلیفہ اول کی اطاعت کے نتیجہ میں تھا ،نہ یہ کہ علاء کسی ذاتی فضل و شرف کا مالک تھا کیوں کہ ہم نے دیکھا کہ دوسری بار خلیفہ دوم کی نافرمانی کے نتیجہ میں اس کے فضل و شرف کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا ۔ اس قسم کے افسانے وقت کی سیاست کے مطابق اور خلافت کی مصلحتوں اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جعل کئے گئے ہیں ۔اسی لئے یہ افسانے ہر زمانہ میں حکمراں طبقہ اور ان کے حامیوں کی طرف سے مورد تائید وحمایت قرار پائیں گے۔

٢۔اس نے اپنے افسانوں کو عوام پسند،ہر دل عزیز اور ہر زمانے کے متناسب جعل کیاہے۔ اسلاف کی پوجا کرنے والے اس افسانوں میں اپنے اجداد کی بے مثال عظمتیں اور شجاعتیں پاتے ہیں ۔ثقافت وادب کے شیدائی منتخب اور دلچسپ اشعار اور نثر میں بہترین اور دلپسند عبارتیں پاتے ہیں ۔تاریخ کے متوالوں کو بھی ایک قسم کے تاریخی اسناد،جیسے خطوط،عہد نامے،دستاویز اور تاریخ کے بارے میں جزئیات ملتے ہیں اور عیش وعشرت کی زندگی گزارنے والوں کو بھی سیف کے افسانوں میں اپنا حصہ ہاتھ آتاہے تاکہ اپنی شب باشی کی محفلوں میں اس کے شیرین قصوں اور داستانوں سے لطف اندوز ہوسکیں ۔

مختصر یہ کہ حکام اور اہل اقتدار ،جو کچھ اپنی سیاست کے مطابق چاہتے ہیں سیف کے افسانوں میں پاتے ہیں ۔اس کے علاوہ عام لوگ بھی اپنی چاہت کے مطابق مطالب سے محروم نہیں رہتے ۔علماء اور ادب کے شیدائی بھی اپنی مرضی کے مطابق بحث و مباحثے میں کام آنے والی چیزوں سے مستفید ہوتے ہیں ۔


ہم نے مشاہدہ کیا کہ سیف کو دوسروں پر اس لئے سبقت حاصل ہے کہ اس نے دوسروں کی نسبت اپنے شخصی مفاد کو کامیابی کے ساتھ تمام طبقوں کی خواہشات کے مطابق ہماہنگ کیا ہے اس نے مختلف طبقات کی خواہشات کو پورا کرنے کے باوجود عام طور پر قبیلۂ مضر کو اور خاص طور پر خاندان تمیم کو ہمیشہ کے لئے با افتخار بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔اس کے علاوہ اپنے خاندان کے دشمنوں جیسے ،یمنیوں اور سبائیوں کو ذلیل وخوار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔

٩)۔ سیف کے مقاصد

مذکورہ بالاتمام چیزوں کا سیف کے بیانات میں واضح طور پر مشاہدہ ہوتاہے۔لیکن تاریخی حواد ث کی تاریخوں میں تحریف کرنے کا کیا سبب تھا؟اور کس چیز نے سیف کو اس بات پر مجبور کیا کہ تاریخی اشخاص کے نام بدل دے ،مثال کے طور پر عبد الرحمن ابن ملجم کے بجائے خالد بن ملجم بتائے؟یا کون سی چیز اس کا باعث بنی کہ وہ یہ داستان گڑھے کہ عمر اپنی بیوی سے یہ کہیں کہ مردوں کے ساتھ بیٹھ کرکھانا کھائے!اور ان کی بیوی کا اپنے شوہر کی تجویز پر اطاعت نہ کرنے کاسبب اس کانامناسب لباس ہو؟اور اسی طرح کی دوسری مثالیں ؟یہ وہ مسائل ہیں جن سے سیف کے وہ مقاصد پورے نہیں ہوسکتے جن سے ہم واقف ہیں ،مگر یہ کہ اس پر زندیق ہونے کا الزام صحیح ثابت ہو اور اگریہ الزام اس پر صحیح ثابت ہوجائے تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ ان تمام جھوٹ اور افسانوں کے گڑھنے کا اس کا اصلی مقصد اسلامی تاریخ کے حقائق میں تبدیلی لانے،تحریف کرنے اور انھیں مسخ کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔اور اس میں سیف اس قدر کامیاب ہوا ہے کہ یہ کامیابی اس کے علاوہ کسی اور زندیق کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔

بہر حال ،خواہ سیف کے زندیقی ہونے اور اسلام کے ساتھ اس کی دشمنی کے سبب یا جھوٹ اور افسانے گڑھنے میں اس کی غفلت اور حماقت کی وجہ سے ،جو بھی ہو ،اس نے تاریخ اسلام کو خاص کر ارتداد اور فتوح کی جنگوں میں اور ان کے بعد حضرت علی ـکی خلافت کے زمانے تک کے تاریخی حوادث میں زبردست تحریف کی ہے۔


ستم ظریفی یہ ہے کہ جو کچھ سیف نے جعل کیا ہے وہ اسلام ،پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب ان کی جنگوں اور فتحیابیوں کی باقاعدہ اور معتبر تاریخ محسوب ہوتاہے۔جھوٹ اور افسانوں پر مشتمل اس قسم کی تاریخ کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے دشمنوں کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع ملا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ اور ہزار ہا انسانوں کے خون کی ہولی کھیلنے کے بعد پھیلا ہے۔جب کہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ یہ خود ملتیں اور قومیں تھیں جو ظالم اور جابر حکام کے خلاف بغاوت کرکے اسلام کے سپاہیوں کی صف میں شامل ہوکر گروہ گروہ دین اسلام قبول کرتی تھیں ۔حقیقت میں اسلام اسی طرح پھیلاہے نہ کہ تلوار کے ذریعہ جیسا کہ سیف کا دعویٰ ہے۔

١٠)۔ ہماری ذمہ داری :

یہ وہ تاریخ ہے جسے سیف نے تاریخ اسلام کے طور پر تدوین کیا ہے اور یہ عوام الناس میں محترم قرار پاکر تسلیم کی گئی ہے اور جو کچھ دوسروں نے حقیقی واقعات پر مشتمل تاریخ اسلام لکھی ہے ،سیف کے افسانوں کی وجہ سے ماند پڑگئی ہے اور سرد مہری وعدم توجہ کا شکار ہوکر فراموش کردی گئی ہے۔اس طرح ہر نسل نے جو کچھ سیف کے افسانوں سے حاصل کیا،اسے اپنے بعد والی نسل کے لئے صحیح تاریخی سند کے طور پر وراثت میں چھوڑا اور اس کے تحفظ کی تاکید کی ہے۔اسی طرح صدیاں گزرگئیں ۔

گزشتہ بارہ صدیوں سے یہی حالت جاری ہے۔اور ہماری تدوین شدہ تاریخ ،خصوصاً فتوح ،ارتداد اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی تاریخ کی یہی ناگفتہ بہ حالت ہے ۔لیکن کیا اب وقت نہیں آیا ہے کہ ہم ہوش میں آئیں اور اپنے آپ کو اس زندیق کے فتنوں کے پھندوں سے آزاد کریں ؟ کیااب بھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ہم حقیقت کی تلاش کریں ؟اگر ہمیں ایسا موقع ملا اور اس بات کی اجازت ملی کہ تاریخ کی بڑی کتابوں اور معارف اسلامی کے دیگر منابع کے بارے میں تعصب اور فکری جمود سے اوپر اٹھ کر بحث وتحقیق کریں تاکہ اسلام کے حقائق سے آشنا ہو سکیں تو ایسی بحث کے مقدمہ کے طور پر سب سے پہلے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سچے اور حقیقی اصحاب کی شناخت اور پہچان ضروری ہو گی اور اس سلسلے میں پہلے سیف کے جعلی اصحاب کو پہچاننے کی ضرورت ہے ایسے صحابی جنھیں اس نے سپہ سالار اور احادیث کے راویوں کی شکل میں جعل کیا ہے اور اپنی احادیث کی تائید کے لئے اپنی روایتوں میں بے شمار راوی جعل کئے ہیں اور شعراء ،خطباء حتٰی جن و انس سے بھی مدد حاصل کی ہے جب کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی حقیقت میں وجود نہیں ہے ۔


اس کتاب کے اگلے حصوں میں ہم سیف کے افسانوں کے ایسے سورمائوں کے بارے میں بحث و تحقیق کریں گے جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے طور پر پیش کئے گئے ہیں خدا شاہد ہے کہ ہم نے جو یہ کام اور راستہ اختیار کیا ہے اس میں اسلام کی خدمت اور خدا کی رضامندی حاصل کرنے کے علاوہ کوئی اور مقصد کارفرما نہیں ہے ۔

ہم اس کتاب کو اس کے تمام مطالب اور مباحث کے ساتھ علماء اور محققین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اس کی تکمیل میں اپنی راہنمائی اور علمی تنقید کے ذریعہ ہماری مدد اور تعاون فرمائیں ۔

خد ا ئے تعالیٰ سے دعا ہے کہ حق و حقیقت کی طرف ہماری راہنمائی و دستگیر ی فرمائے !اور اپنی پسندیدہ راہ کی طرف راہنمائی فرمائے !

گزشتہ بحث کا ایک جائزہ اور

آئندہ پر ایک نظر

گزشتہ فصلوں میں ہم نے زیر نظر مباحث کی بنیاد کے طور پر چند کلی مسائل بیان کئے اور اس طرح زندیقیت اور زندیقیوں کا تعارف کرایا اور خاندانی تعصبات کی بنیاد پر حدیث اور تاریخ اسلام پر پڑنے والے برے اثرات سے واقف ہوئے ۔ اس کے علاوہ اس حقیقت سے بھی واقف ہوئے کہ سیف بن عمر ایک زبر دست متعصب اور خطر ناک زندیقی تھا ۔اس میں زندیقیت اور تعصب دو ایسے عامل موجود تھے جو حدیث جعل کرنے کے لئے اسے بڑی شدت سے آمادہ کرتے تھے ۔اور یہی قوی دو عامل اسے تاریخ اسلام میں ہر قسم کے جعل ،تحریف ،جھوٹ اور افسانہ سازی میں مدد دیتے تھے جس کے نتیجہ میں اس نے اپنے تخیلات کی طاقت سے بہت سے راوی ،شاعر اور اصحاب کو اپنی احادیث اور افسانوں کے کردار کے طور پر جعل کرکے انھیں اسلام کی تاریخ و لغت میں داخل کر دیا ہے اس کتاب کی تالیف کا مقصد سیف کے جعل کئے ہوئے افراد کے ایک گروہ کا تعارف کرانا ہے جنھیں اس نے تاریخ اسلام میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی حیثیت سے پیش کیا ہے

سیف نے اپنے جعلی اور افسانوی اصحاب میں سے اہم اور نامور افراد کو خاندان تمیم سے مربوط ثابت کیا ہے ،جو اس کا اپنا خاندان ہے اور باقی اصحاب کو دوسرے مختلف قبیلوں سے مربوط دکھایا ہے اب ہم ان کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ الگ فصل میں بحث و تحقیق کریں گے ۔ہم اس بحث کا آغاز خاندان تمیم سے مربوط جعلی اصحاب سے کرتے ہیں ،جن کا سرغنہ اور سب سے پہلا شخص '' قعقا ع بن عمرو'' ہے ۔


تیسرا حصہ :

١۔ قعقاع بن عمر و تمیمی

٭ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں

٭ ابوبکر کے زمانے میں

٭ حیرہ کی جنگوں میں

٭ حیرہ کی جنگوں کے بعد

٭ مصیخ و فراض کی جنگوں میں

٭ خالد کے شام کی طرف جاتے ہوئے

٭ شام کی جنگوں کے دوران

٭ عمر کے زمانہ میں

٭ عراق کی جنگوں میں

٭ ایران کی جنگوں میں

٭ د وبارہ شام میں

٭ نہاوند کی جنگوں میں

٭ عثمان کے زمانے میں

٭ حضرت علی ـکے زمانے میں

٭ بحث کا خلاصہ

٭ احادیث سیف کے راویوں کا سلسلہ


قعقاع پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں

لم نجد له ذکرا فی غیر احادیث سیف

ہم نے قعقاع کا نام سیف کی احادیث کے علاوہ کہیں نہیں پایا۔

(مؤلف)

اسلامی تاریخ اور لغت کی دسیوں معروف و مشہور کتابوں میں '' قعقاع بن عمر و'' کا نام اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایک صحابی کی حیثیت سے اس کی زندگی کے حالات درج کئے گئے ہیں ابو عمر کی تالیف کتاب '' استیعاب'' ١ ان کتابوں میں سے ہے جو آج کل ہماری دست رس میں ہیں ۔اس مؤلف نے قعقاع کی زندگی کے حالات خصوصیت سے لکھے ہیں وہ لکھتا ہے :

'' قعقاع ،عاصم کا بھائی اور عمر و تمیمی کا بیٹا ہے ۔ان دونوں بھائیوں نے جنگ قادسیہ میں جس میں ایرانی فوج کا سپہ سالار رستم فرخ زاد تھا بے مثال اور قابل تحسین شجاعت اور بہادر ی کا مظاہرہ کیا ہے اور شائشتہ و قابل احترام مرتبہ و منزلت کے مالک بن گئے ''

'' استیعاب ''کے مولف کے بعد ابن عساکر '' تاریخ شہر دمشق '' ٢میں قعقاع بن عمرو کے بارے میں یوں ر قم طراز ہے :

'' قعقاع ،رسول خدا کا صحابی تھا !وہ ایک قابل ذکر بہادر اور نامور عربی شاعر تھا ۔اس نے ''جنگ یرموک ''اور ''فتح دمشق '' میں شرکت کی ہے ۔اس نے عراق اور ایران کی اکثر جنگوں میں بھی شرکت کی ہے اور شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے ہیں اور قابل ذکر و نمایاں جنگیں لڑی ہیں ''

قعقاع کے بارے میں دوسری صدی ہجری کی ابتداء سے آج تک یوں بیان کیا گیا ہے :

'' قعقاع ،اسلامی جنگوں میں ہمیشہ ایک دادرس و فریاد رس بہادر کی حیثیت سے رہا ہے ٣ وہ خانقین ،ہمدان اور حلوان کا فاتح ہے '' ٤

ان خصوصیت کا مالک قعقاع کون ہے ؟


قعقاع کا شجرۂ نسب

سیف نے قعقاع کا خیالی شجرۂ نسب ذکر کیا ہے :

''قعقاع عمرو ابن مالک کا بیٹا ١ ہے ۔اس کی کنیت ابن حنظلہ ہے ٢ ۔اس کے ماموں خاندان بارق ٣ سے تھے ۔اور اس کی بیوی ہنیدہ ،عامر ہلالیہ کی بیٹی تھی جو خاندان ہلال نخع سے تعلق رکھتا تھا '' ٤

قعقاع رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی

طبری اور ابن عساکر ،دونوں کا قول ہے کہ سیف نے یوں بیان کیا ہے :

'' ْقعقاع رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے تھا ۔'' ١

ابن حجر شعری نے سیف کا نقل کیا ہوا قعقاع کا قول حسب ذیل ذکر کیا ہے :

'' میں تہامہ کی ترقی و درخشندگی کو دیکھ رہا تھا ،جس دن خالد بن ولید ایک نفیس گھوڑ ے

پر سوار ہو کر سواروں کی قیادت کر رہا تھا ،میں سیف اللہ کی فوج میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلوار تھا اور آزادانہ طور پر سب سے پہلے اسلام لانے میں سبقت کرنے والوں کے شانہ بشانہ قدم بڑھارہا تھا ''


قعقاع سے منقول ایک حدیث :

ابن حجر '' اصابہ '' میں قعقاع کی زندگی کے حالات کے بارے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے خود قعقاع کی زبانی یوں نقل کرتا ہے :

''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے جہاد کے لئے کیا آمادہ کیا ہے ؟ میں نے جواب میں کہا: خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت اور اپنا گھوڑا ۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:سب کچھ یہی ہے ''

ابن حجر ،سیف سے نقل کرتے ہوئے قعقاع کی زبانی مزید نقل کرتا ہے :

''میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت وہاں پر موجود تھا ۔جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور بعض لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: انصار سعد کو خلیفہ منتخب کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں تاکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کئے ہوئے معاہدے اور وصیت کو کچل کے رکھ دیں ۔ مہاجرین یہ خبر سن کر پریشان ہو گئے.... ''(۱)

ابن حجر مزید لکھتا ہے :

'' ابن مسکن نے کہا ہے کہ سیف بن عمر ضعیف ہے ،یعنی اس کی یہ روایت قابل اعتبار نہیں ہے ''

____________________

۱)۔ عبداللہ ابن سباج١،بحث سقیفہ میں اس جعلی حدیث پر تحقیق کی گئی ہے ۔


علم رجال کے عالم و دانشور رازی نے بھی اس داستان کو خلاصہ کے طور قعقاع کی زندگی کے حالات میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

''سیف کی روایتوں کو دیگر لوگوں نے قبول نہیں کیا ہے ،لہٰذا یہ حدیث خود بخود مردود ہے اور ہم نے اسے صرف قعقاع کو پہچاننے کے لئے نقل کیا ہے '' ٢

ابن عبد البر نے قعقاع کی زندگی کے حالات کے بارے میں رازی کی پیروی کی ہے اور جو کچھ اس نے اس کے بارے میں لکھا ہے اور سیف کے بارے میں نظریہ پیش کیا ہے سب کو اپنی کتاب

کتاب میں درج کیا ہے ۔

سند کی تحقیقات

قعقاع کے شجرہ ٔنسب کو سیف ،صعب بن عطیہ کی زبانی ،اس کے باپ بلال ابن ابی بلال سے روایت کرتا ہے ۔سیف کی روایتوں میں نو مواقع پر صعب کا نام ذکر ہو ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سات اصحاب کی زندگی کے حالات ان روایتوں سے حاصل کئے گئے ہیں ۔(۱)

اس کی کنیت ،جو ابن الحنظلیہ بتائی گئی ہے اور یہ کہ قعقاع رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی ہے یہ سب سیف کی روایتیں ہیں اور اس کی روایتوں کی سند میں محمد بن عبداللہ بن سواد بن نویرہ کا نام ذکر ہوا ہے ۔طبری کی کتاب '' تاریخ طبری '' میں سیف کی روایتوں میں سے ٢١٦روایتوں کی سند میں عبداللہ کا نام آیا ہے ۔

سیف کی روایت میں مذکورہ محمد بن عبداللہ سے منقول قعقاع کی بیوی کانام مہلب بنت عقبہ اسدی بیان ہوا ہے ۔تاریخ طبری میں سیف کی ٧٦ روایات کی سند میں مہلب کا نام ذکر ہوا ہے ۔

لیکن قعقاع کے شعر کے بارے میں یہ ذکر نہیں ہو ا ہے کہ سیف نے کسی راوی سے نقل کیا

____________________

۱)۔ملاحظہ ہو اسی کتاب کی جلد ٢ میں عفیف بن المنذر اور دیگر چھ تمیمی اصحاب کی زندگی کے حالات۔


ہے تاکہ ہم اس کے راوی کے بارے میں بحث کریں ۔

اسی طرح جنگی آمادگی کے بارے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی گئی اس کی حدیث اور سقیفہ کے دن اس کا مسجد میں موجود ہونا ،یہ دونوں چیزیں سیف کے افسانہ کے ہیرو '' قعقاع '' سے نقل ہوئی ہیں ، اس کے علاوہ اس کی کوئی اور سند نہیں ہے ۔

ہم نے حدیث ،تاریخ ،انساب اور ادب کی تمام کتابوں میں جستجو کی تاکہ مذکورہ راویوں کا کہیں کوئی سراغ ملے ،لیکن ہماری تلاش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا چوں کہ ان کے نام یعنی صعب ،محمد ،مہلب اور خود قعقاع سیف کی روایتوں کے علاوہ کہیں اور نہیں پائے جاتے لہٰذا حدیث شناسی کے قاعدے اور قانون کے مطابق ہم نے فیصلہ کیا کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا اور یہ سب کے سب سیف کے ذہنی تخیل کی تخلیق اور جعلی ہیں ۔

تحقیقات کا نتیجہ : جو کچھ اب تک قعقاع کے بارے میں ہم نے بیان کیا وہ صرف سیف کی روایت تھی ،کسی اور نے اس کے بارے میں کسی قسم کا ذکر نہیں کیا ہے کہ ہم اس کا مقابلہ اور مقائسہ کرتے ۔سیف ان مطالب کا تنہا ترجمان ہے ۔اس طرح اس کے مطالب کے واسطے روایتوں کی سند بھی اس کے ذہن کی تخلیق معلوم ہوتی ہے ۔

سیف کی حدیث کا نتیجہ

اول ۔ سیف اپنے مطالب کا مطالعہ کرنے والے کو اس طرح آمادہ کرتا ہے کہ ایک مطیع اور فرمانبردار کی طرح آنکھ بند کرکے مست و مدہوشی کے عالم میں ایک نغمہ سننے والے کی طرح اس کی باتوں میں محو ہو جائے ۔

دوم ۔ قعقاع کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا اور جو مطالب آئندہ آئیں گے اس سے معلوم ہوگا کہ سیف نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ایک ایسا صحابی جعل کیا ہے جو بزرگوار اور جلیل القدر ہے اور یہ بزرگوار ،خاندان تمیم کی عظمت کا نمونہ ہے ۔یہ ایک خوش ذوق شاعر اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث کا راوی ہے کہ اس کے بارے میں اصحاب کی زندگی کے حالات اور احادیث کے راویوں کی شناخت کے ذیل میں گفتگو ہوگی ۔


قعقاع ،ابوبکر کے زمانے میں

لایهزم جیش فیهم مثل هٰذ ا

جس فوج میں ایسا بہادر قعقاع موجود ہو وہ فوج ہر گز شکست سے دو چار نہیں ہوگی

( ابو بکر کا بیان بقول سیف!)

قعقاع ارتداد کی جنگوں میں

طبری ١١ ھ کے حوادث میں قبیلۂ ہوازن کے ارتداد کی بحث کے بارے میں یوں روایت کی ہے :

''جب علقمہ بن علاثہ ٔ کلبی مرتد ہو ا،تو ابوبکر نے قعقاع بن عمرو کو حکم دیا کہ اس پر حملہ کرکے اسے قتل کر ڈالے یا گرفتار کرے ،قعقاع نے ابوبکر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے قبیلۂ ہوازن پر حملہ کیا علقمہ جنگل کے راستہ سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس کے خاندان کے افراد قعقاع کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ۔قعقاع نے انھیں ابوبکر کے خدمت میں بھیجا ۔علقمہ کے خاندان نے ابوبکر کے سامنے اسلام کا اظہار کیا اور اپنے خاندان کے سردار کے عقائد کی تاثیر سے انکار کیا تو ان کی توبہ قبول کر لی گئی اور ان میں سے کوئی بھی قتل نہیں ہوا '' ١

یہ داستان کہاں تک پہنچی ؟

طبری نے اس داستان کو سیف سے نقل کیا ہے اور ابو الفرج اور ابن حجر نے علقمہ کی زندگی کے حالات کے سلسلے میں طبری سے نقل کیا ہے ۔اور ابن اثیر نے اسے خلاصہ کرکے طبری سے روایت کرتے ہوئے اپنی کتاب کامل میں درج کیا ہے ۔


سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے فرق

یہ داستان مذکورہ صورت میں سیف بن عمر نے نقل کی ہے جب کہ حقیقت کچھ اور ہے ۔اس سلسلے میں مدائنی لکھتا ہے :

''ابو بکر نے خالد بن ولید کو علقمہ کے خلاف کاروائی کرنے پر مامور کیا ۔علقمہ خالد کے چنگل سے بھاگ کر ابو بکر کی خدمت میں پہنچا اور اسلام قبول کیا ۔ابو بکر نے اسے معاف کرکے امان دے دی''٢

مذکورہ داستان کے پیش نظر سیف نے خالد بن ولید کے کام کو قعقاع بن عمر و تمیمی کے کھاتے میں ڈال دیا ہے تاکہ یہ سعادت اس کے اپنے قبیلہ تمیم کو نصیب ہو جائے ۔اس کے بعد طبری نے سیف کی جعلی داستان کو نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور دیگر لوگوں نے بھی جھوٹ کو طبری سے نقل کیا ہے ۔

موازنہ کا نتیجہ

علقمہ کی داستان ایک حقیقت ہے یہ داستان پوری کی پوری سیف کے تخیلات کی ایجاد نہیں ہے ۔بلکہ موضوع یہ ہے کہ سیف بن عمر نے خالد بن ولید کے کار نامے کو قعقاع بن عمر و تمیمی سے نسبت دے دی ہے ۔

سند کی جانچ پڑتال

اس داستان کی سند میں '' سہل بن یوسف سلمی '' اور ''عبداللہ بن سعید ثابت انصاری'' جیسے راویوں کے نام ذکر ہوئے ہیں ۔تاریخ طبری میں سیف نے سہل سے ٣٧احادیث اور عبداللہ سے ١٦ احادیث روایت کی ہیں ۔چوں کہ ہم نے ان دو راویوں کا نام کتب طبقات وغیرہ میں کہیں نہیں پایا، لہٰذاہم ان دو راویوں کو بھی سیف کے جعلی راویوں کی فہرست میں شامل کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔


اس داستان کا نتیجہ

١۔ خلیفہ کے حکم سے قعقاع بن عمرو کا ہوازن کی جنگ میں شرکت کرنا اور علقمہ کے خاندان کا اس کے ہاتھوں اسیر ہونا ،قعقاع بن عمر و تمیمی کے لئے ایک فضیلت ہے ۔

٢۔ سیف نے اپنے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حقائق میں تصرف کرکے ایک سچے واقعہ کی بنیاد پر ایک الگ اور جھوٹی داستان گڑھ لی ہے اور اس سے قبیلہ تمیم کے حق میں استفادہ کیا ہے جب کہ نہ قعقاع کا کوئی وجود ہے اور نہ اس کی جعلی داستان کی کوئی حقیقت ہے ۔یہ صرف سیف بن عمر تمیمی کے خیالات اور افکار کی تخلیق ہے ۔

لیکن اس داستان کے علاوہ جو علقمہ کے نام سے مشہور ہے یا قوت حموی نے لغت ''بزاخہ '' جو سر زمین نجد میں ایک پانی کا سر چشمہ تھا اور ارتداد کی جنگیں اسی کے اطراف میں لڑی گئی ہیں کی وضاحت کرتے ہوئے یوں لکھا ہے :

''مسحلان(۱) اس روز میدان جنگ سے فرار کرکے اپنی جان بچانے میں

____________________

۱)۔ سیف کے کہنے کے مطابق دشمن کے لشکر کے معروف افراد مسحلان کہلائے جاتے تھے سیف اپنے تخیلات کی مخلوق کے سرداروں کے نام اکثر و بیشتر الف و نون پر ختم کرتا تھا مثلا قماذیان ابن ہر مزان اور ابن الحیسمان و مسحلان وغیرہ ملاحظہ ہو کتاب طبری چاپ یوروپ ( ٢٨٠١١)اور ( ٢٤٠١)


کامیاب ہوا اس دن اس نے میدان کار زار میں گرد و غبار آسمان پر اڑتے دیکھا اور خالد میدان جنگ میں دشمنوں کی فوج کو تہس نہس کر رہا تھا اور دشمنوں کو وحشی کتوں کی طرح چیر پھاڑ کر زمین پر چھوڑ دیتا اور آگے بڑھ جاتا تھا''

حموی کی یہ عادت ہے کہ جن جگہوں کا وہ نام لیتا ہے ان کے بارے میں سیف کے اشعار کو کسی راوی کا اشارہ کئے بغیر گواہ کے طور پر ذکر کرتا ہے اس قسم کی چیزیں ہمیں بعد میں بھی نظر آئیں گی

ہم نہیں جانتے ان اشعار میں سیف کیا کہنا چاہتا ہے !کیا ان شعار کے ذریعہ قعقاع کو ''بزاخہ''میں خالد کی جنگوں میں براہ راست شریک قرار دینا چاہتا ہے اور اسی لئے یہ اشعار کہے ہیں یا اس جنگ میں قعقاع کی شرکت کے بغیر اس کی توصیف کرنا چاہتا ہے۔ہماری نظر کے مطابق یہ امر بعید دکھائی دیتا ہے ۔بہر حال جنگ ''بزاخہ ''کا ذکر کرنے والوں نے قعقاع کا کہیں نام تک نہیں لیا ہے ۔

جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ،اس کے علاوہ ہم نے ارتداد کی جنگوں میں کہیں قعقاع کا نام نہیں پایا ۔لیکن ان کے علاوہ تاریخ کی اکثر مشہور کتابوں میں سیف ابن عمر سے مطالب نقل کئے گئے ہیں اور قعقاع اور اس کی شجاعت اور فتوحات کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے ۔ان تحریفات کاپہلا حصہ ،عراق میں مسلمانوں کی جنگوں سے مربوط ہے جس کی تفصیلات حسب ذیل ہیں :


قعقاع،عراق کی جنگ میں :

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ١٢ھ کے حوادث کے ضمن میں لکھا ہے : ١

''جب خالد بن ولید ،یمامہ کی جنگ سے واپس آیا ابوبکر نے اسے حکم دیا کہ اپنے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف روانہ ہو جائے اور اس ضمن میں یہ بھی حکم دیا کہ اپنے لشکر کے سپاہیوں سے کہہ دے کہ جو بھی اس فوجی مہم میں شرکت کرنا نہیں چاہتا وہ اپنے گھرجا سکتا ہے ۔جوں ہی خلیفہ کا حکم لشکر میں اعلان کیا گیا خالد کی فوج تتر بتر ہو گئی اور گنے چنے چند افراد کے علاوہ باقی سب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے ۔اس طرح خالد نے مجبور ہو کر خلیفہ سے نئی فوج کی مدد طلب کی ۔ابوبکر نے قعقاع بن عمرو کو خالد کے فوجی کیمپ کی طرف روانہ کیا ان حالات پر نظر رکھنے والے افراد نے ابوبکر پر اعتراض کیا کہ خالد نے اپنی فوج کے تتر بتر ہونے پر آپ سے نئی فوج کی درخواست کی ہے اور آپ صرف ایک آدمی کو اس کی مدد کے لئے بھیج رہے ہیں ؟! ابو بکر نے ان کے اس اعتراض کے جواب میں کہا : جس فوج میں ایسا پہلوان موجود ہو وہ ہرگز شکست نہیں کھائے گی۔''

اس کے بعد طبری نے عراق کی جنگوں میں خالد بن ولید کی ہمراہی میں قعقاع کی شجاعتوں اور بہادریوں کا ذکر کیا ہے ۔ابن حجر نے بھی مذکورہ حدیث کو آخر تک بیان کیا ہے لیکن اس کاکوئی راوی ذکر نہیں کیا ہے جب کہ اس کا راوی صرف سیف ہے ۔طبری نے یہ حدیث سیف سے لی ہے اور دسروں نے اسے طبری سے نقل کیا ہے ۔

یاقوت حموی نے نے بھی اپنی کتاب معجم البلدان میں سیف کی احادیث میں ذکر شدہ اماکن کی نشاندہی کرتے ہوئے اختصار کے ساتھ اس کی وضاحت کی ہے ۔

طبری نے سیف بن عمر کی روایت سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلی جنگ جو عراق میں مسلمانوں اور مشرقین کے درمیان واقع ہوئی '' ابلہ''(۱) کی جنگ تھی ۔

____________________

۱)۔ ''ابلہ '' خلیج فارس کے نزدیک دریائے دجلہ کے کنارے پر ایک شہر تھا جو بصرہ تک پھیلا ہوا تھا یہ شہر اس زمانہ میں فوجی اہمیت کے لحاظ سے ایرانیوں کے لئے خاص اہمیت کا حامل تھا اور ملک کی ایک عظیم فوجی جھاونی محسوب ہوتا تھا۔


ابلہ کی جنگ

طبری نے سیف سے روایت کی ہے:

'' ابو بکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ عراق کی جنگ کو ہند اور سندھ کی سرحد سے شروع کرے '' اس کے بعد سیف کہتا ہے : '' ابلہ '' ان دنوں ہند اور سندھ کی سرحد تھی اس کے بعد ''ابلہ'' کی فتح کی داستان یوں بیان کرتا ہے :

ایرانی فوج کا سپہ سالارہرمز '' ابلہ'' میں خالد کو قتل کرنے کی سازش تیار کرتا ہے اس لئے اپنے سپاہیوں سے کہتا ہے کہ جب وہ خالد کے ساتھ دست بدست جنگ شروع کرے تو بھر پور حملہ کرکے خالد کا کام تمام کردیں اس لئے ہرمز ،خالد کو دست بدست جنگ کی دعوت دیتا ہے اور خالد بھی ہرمز سے لڑنے کے لئے پیدل آگے بڑھتا ہے جب دونوں سپہ سالار آمنے سامنے آکر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ہرمز کے سپاہی اچانک خالد پر حملہ آور ہوتے ہیں اور دست بدست جنگ کے قانون اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چالبازی سے خالد کو قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن قعقاع بن عمرو جو حالات اور دشمن کی تمام نقل و حرکت پر پوری طرح نظریں جمائے ہوئے تھا خالد کو کسی قسم کا گزند پہنچنے سے پہلے اکیلا میدان میں کود پڑتا ہے اور دشمن کے سپاہیوں پر حملہ کرکے انھیں تہس نہس کرکے ان کی چالبازی کو ناکام بنا دیتا ہے اور اس گیرو دار کے دوران ہرمز خالد کے ہاتھوں قتل کیا جاتا ہے ۔ ایرانی اپنے سپہ سالار کو قتل ہوتے دیکھ کر میدان جنگ سے بھاگ جاتے ہیں اس طرح شکست سے دو چار ہوتے ہیں اور قعقاع بن عمرو فاتح کی حیثیت سے سر بلند ی کے ساتھ میدان جنگ سے واپس لوٹتا ہے ''

یہ داستان کہاں تک پہنچی ہے ؟

اس روایت کو طبری نے سیف سے نقل کیا ہے اور دیگر لوگوں نے ،جیسے ابن اثیر ،ذہبی ،ابن کثیر اور ابن خلکان نے طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں لکھا ہے ۔

طبری ابلہ کی فتح اور جنگی غنائم کی تفصیل بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے :

'' ابلہ کی فتح کے بارے میں یہ داستان اس کے برخلاف ہے جو صحیح روایتوں میں بیان ہوئی ہے ''

اس کی وضاحت ہم مناسب جگہ پر کریں گے ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ

سیف نے جو داستان فتح ابلہ کے بارے میں جعل کی ہے وہ پوری کی پوری اس کے بر خلاف ہے جو آگاہ افراد اور مؤرخین نے اس سلسلے میں لکھا ہے اس کے علاوہ صحیح کتابوں میں درج شدہ چیزوں کے خلاف بھی ہے ،کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ ابلہ عمر کے زمانے میں ١٤ھ میں عتبہ بن غزوان کے ہاتھوں فتح ہوا ہے ۔ہم بعد میں مناسب جگہ پر اس کی وضاحت کریں گے ۔

طبری ١٤ھ کے واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے جہاں شہر بصرہ کی بنا کا ذکر کرتے ہوئے ،فتح ابلہ کے بارے میں دئے گئے اپنے وعدہ پر عمل کرتا ہے اور ابلہ کی جنگ کی حقیقت

اور اس کی فتح کا ذکر کرتا ہے ۔جس میں سیف کی بیان کردہ چیزوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں

پائی جاتی ہے ۔ ٢

سند کی پڑتال

سیف کی اس داستان کے دو راوی محمد اور مہلب ہیں کہ ان کے بارے میں پہلے معلوم ہوا کہ ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے اور یہ سیف کے جعلی راویوں میں سے ہیں ۔

اس کے علاوہ مقطع بن ہیثم بکائی ہے ،اس کا نام تاریخ طبری میں سیف کی تین روایتوں میں آیا ہے ۔ایک اور راوی حنظلہ بن زیاد بن حنظلہ ہے اس کا نام تاریخ طبری میں سیف کی دوروایتوں میں آیاہے ۔ایسا لگتا ہے کہ سیف نے حنظلہ کے نام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ''اپنے جعلی صحابی '' زیاد بن حنظلہ کا ایک بیٹا بھی جعل کیا ہے ۔لہٰذا جعلی صحابی زیاد اور اس کا بیٹا حنظلہ سیف کے تخیلات کے جعلی راوی ہیں ۔

اس طرح عبد الرحمن احمری بھی ایک راوی ہے جس کا نام تاریخ طبری میں سیف کی سات روایتوں میں ذکر ہو ا ہے ۔

بہر حال ہم نے بحث و تحقیق کی کہ ان راویوں کے ناموں کو طبقات ،راویوں کی سوانح حیات حتی حدیث کی کتابوں میں کہیں پا سکیں لیکن ان میں سے کسی ایک کانام سیف کی روایتوں کے علاوہ کسی اور جگہ پر نہیں پایا ۔ لہٰذا ہم نے موخر الذکر تین راویوں یعنی مقطع ،جنظلہ اور عبدالرحمن کو بھی محمد و مہلب کی طرح سیف کے جعلی اصحاب کی فہرست میں درج کیا ہے ۔


جانچ پڑتال کا نتیجہ

سیف کہتا ہے کہ خالد بن ولید نے اپنے سپاہیوں کے تتربتر ہونے کی وجہ سے ابوبکر سے مدد طلب کی اور خلیفہ نے قعقاع بن عمر وتمیمی کی مختصر ،لیکن با معنی تعریف کرکے قعقاع کو اکیلے ہی خالد کی مدد کے لئے بھیجا۔اس قصہ کو صرف سیف نے جعل کیا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور نے اس قسم کی کوئی چیز نہیں کہی ہے۔

سیف نے شہر آبلہ کی فتح کو ١٢ ھ میں خلافت ابوبکر کے زمانے میں خالد بن ولید مضری سے نسبت دی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ شہر ابلہ کی فتح عمر کے زمانے میں ١٤ میں عتبہ بن غزوان کے ہاتھوں انجام پائی ہے۔ہم اس تحریف کے سبب کو بعد میں بیان کریں گے۔

سیف وہ تنہا قصہ گو ہے جوخالد بن ولید کو ایرانی فوج کے سپہ سالار جس کانام سیف نے ہرمز رکھا ہے کے مقابلے میں پیدل دست بدست جنگ کے لئے میدان کارزار کی طرف روانہ کرتاہے نیز ایرانیوں کی چالبازی کی حیرت انگیز داستان بیان کرتاہے اور اپنے ہم قبیلہ قعقاع بن عمرو وتمیمی کو ہر مشکل حل کرنے والے کے طور پر ظاہر کرتاہے اور اسے ایک دانا،ہوشیار ،جنگی ماہر،ناقابل شکست پہلوان،لشکر شکن بہادر اور خلفاء واصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی منظور نظر شخصیت کی حیثیت سے پہچنواتاہے اور اسے قحطانی یمنیوں کے مقابلے میں فخرو مباہات کی ایک قطعی دلیل وسند کے طور پر پیش کرتاہے۔

اس کے بعد ،سیف اپنی داستان کو ایسے راویوں کے ذریعہ نقل کرتاہے کہ وہ سب کے سب اس کے اپنے تخیلات کی مخلوق اور گڑھے ہوئے ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔


سیف کی حدیث کے نتائج :

اب ہم دیکھتے ہیں کہ سیف نے فتح ابلہ کی داستان کو گڑھ کر کیا ثابت اور کیا حاصل کیاہے:

١۔سیف ،داستان کے مقدمہ کو ایسے مرتب کرتاہے تاکہ خلیفہ ابوبکر کی زبانی قعقاع بن عمرو تمیمی کی تعریف وستائش کرائے اور اسے ایک عظیم ،شجاع اور بہادر کی حیثیت سے پیش کرے۔

٢۔قعقاع کے ناقابل شکست پہلوان ہونے کی خلیفہ کی پیشینگوئی اور خلیفہ سے یہ کہلوانا کہ جس فوج میں قعقاع موجود ہو وہ ہرگز شکست سے دوچار نہیں ہوگی۔

٣۔عراق کے ایک شہر کوخاندان مضر کے ایک پہلوان خالد کے ہاتھوں فتح کرانا تاکہ خاندان مضر کے فضائل میں ایک اور فضیلت کااضافہ ہوجائے۔

٤۔خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوان قعقاع کے ذریعہ خالد بن ولید کو ایرانیوں کی سازش اور چالبازی سے نجات دلاکر اس کی فضیلت بیان کرنا۔

٥۔اپنے خود ساختہ راویوں میں تین جعلی راویوں ،یعنی مقطع ،حنظلہ اور عبد الرحمان کااضافہ کرنا۔انشاء اللہ آنے والی بحثوں میں اس موضوع پر مزید وضاحت کریں گے۔


قعقاع ،حیرہ کی جنگوں میں

و بلغت قتلاهم فی ''الیس '' سبعین الفا

'' الیس'' کی جنگ میں قتل ہوئے ایرانی سپاہیوں کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ گئی۔

( سیف بن عمر)

مذار اور ثنی کی جنگ

طبری نے فتح ''ابلہ'' کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد سیف سے یہ روایت نقل کی ہے : ١

''ہرمزنے'' ابلہ کی جنگ سے پہلے ایران کے بادشاہ سے مدد طلب کی ۔بادشاہ نے اس کی درخواست منظور کرکے ''قارن بن قریانس'' کی کمانڈ میں ایک فوج اس کی مدد کے لئے روانہ کی۔

جب'' ہرمز '' مارا گیا اور اس کی فوج تتر بتر ہوئی ،اس وقت قارن اپنی فوج کے ہمراہ ''المذار '' پہنچا تھا ۔قارن نے ہرمز کی منتشر اور بھاگی ہوئی فوج کو دریائے ''الثنی'' کے کنارے پر جمع کیا اور لشکر اسلام سے مقابلہ کے لئے آگے بڑھا ۔دونوں سپاہیوں کے درمیان کھمسان کی جنگ چھڑ گئی ۔

سر انجام '' قارن '' اس جنگ میں مارا گیا اور اس کی فوج منتشر ہو گئی ۔اس جنگ میں دریا میں غرق ہوئے افراد کے علاوہ ایرانی فوج کے تیس ہزار سپاہی کام آئے ۔اس طرح ایرانیوں کو زبردست شکست کا سامنا ہوا''


ولجہ کی جنگ

سیف نے جنگ ''ولجہ '' کے بارے میں یوں بیان کیا ہے :

''جب ''المذار ''(۱) اور ''الثنی'' میں ایرانیوں کی شکست کی خبر ایران کے بادشاہ کو پہنچی تو اس نے ''اندرزگر'' کو کہا کہ اس علاقہ کے عرب سپاہیوں اور ایرانی کسانوں کو جمع کرکے نئی فوج تشکیل دے اور خالد بن ولید سے جنگ کرنے کے لئے جائے اس کے علاوہ ''بہمن جادویہ '' کو بھی اس کی مدد کے لئے بھیجا ۔جب یہ خبر خالد کو پہنچی تو وہ فوری طور پر ''ولجہ'' پہنچا اور ایرانی فوج سے بنرد آزما ہوا ۔یہ جنگ ''الثنی'' کی جنگ سے شدید تر تھی اس نے اس جنگ میں ایرانی سپاہیوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ''اندرزگر '' میدان جنگ سے بھاگ گیا اور فرار کے دوران پیاس کی شدت سے مرگیا''

سیف کہتا ہے :

'' خالد نے اس جنگ میں ایک ایسے ایرانی سپاہی سے جنگ کی جو تنہا ایک ہزار سپاہیوں کا مقابلہ کر سکتا تھا ۔اس ایرانی پہلوان کو خالد نے قتل کر ڈالا!اسے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کے ساتھ ٹیک لگا کر اسی جگہ ،یعنی میدان جنگ میں اپنے لئے کھانا منگوایا ۔یہ جنگ ١٢ھ کے ماہ صفر میں واقع ہوئی کہا گیا ہے کہ ''ولجہ'' خشکی کے راستے ''کسکر '' کے نزدیک ہے ''

____________________

۱)۔ حموی لکھتا ہے : ''قصبہ ''المذار'' ''میسان'' کے علاقہ میں واقع ہے یہ قصبہ ''واسط'' اور ''بصرہ'' کے درمیان ہے ۔بصرہ سے وہاں تک چاردن کا سفر ہے ۔یہاں پر عبداللہ بن علی بن ابیطالب کی قبر ہے ۔یہاں کے لوگ شیعہ ،احمق اور حیوان صفت تھے عمر کی خلافت کے زمانہ میں عتبہ بن غزوان نے بصرہ کے فتح کرنے کے بعد اس جگہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔


یہ مطلب حموی کے شیعوں کی نسبت تعصب کا ایک نمونہ ہے ۔

'' الیس'' کی جنگ

سیف نے ''الیس '' کی جنگ کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھا ہے :

''عرب عیسائی اور دیگر عرب سپاہی '' ولجہ'' کی جنگ میں اپنے مقتولین کی تعداد کو لے کر سخت غصہ میں آگئے تھے ۔اس شکست کی وجہ سے انھوں نے اپنے غم و غصہ کا اظہار ایرانیوں سے کیا نتیجہ کے طور پر '' جابان'' اپنے سپاہیوں کے ساتھ ان کی مدد کے لئے نکلا اور ''الیس '' میں ان سے ملحق ہوا ۔دونوں فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی اس دوران ایران سے مزید مدد آنے کی امید میں ''جابان'' کے سپاہیوں کی مزاحمت میں جب شدت پیدا ہوئی تو خالد نے غصہ میں آکر قسم کھائی کہ اگر ان پر غلبہ پائے تو ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گا اور دریائے ''الیس '' کو ان کے خون سے جاری کردے گا ۔سر انجام جب خالد نے ان پر فتح پائی تو حکم دیا کہ تما اسیروں کو ایک جگہ جمع کریں اور کسی ایک کو قتل نہ کریں ۔خالد کے سپاہی فراریوں کو پکڑ نے اور اسیر وں کو جمع کرنے کے لئے ہر طرف دوڑ پڑے ۔سوار وں نے اسیروں کو گروہ گروہ کی صورت میں جمع کرکے خالد کی خدمت میں پیش کیا ۔اس کے بعد خالد نے حکم دیا کہ کچھ مرد معین کئے جائیں اور اسیروں کو دریامیں لے جاکر ان کے سر تن سے جدا کریں تاکہ خون کا دریا جاری ہو جائے ۔ ایک دن اور ایک رات گزری دوسرا اور تیسرا دن بھی یوں ہی گزرا ۔اسیروں کو لا کر دریا میں سر تن سے جد اکرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔لیکن پھر بھی خون کا دریا جاری نہیں ہو ا اس موقع پر قعقاع اور اس کے جیسے بعض پہلوانوں نے خالد سے کہا : جب سے آدم کے بیٹے کا خون زمین پر گر کر جم گیا تھا تب سے اس خون کا زمین پر جاری ہونا بند ہو گیا ہے ۔اب اگر آپ انسانی خون کا دریا جاری کرکے اپنی قسم پوری کرنا چاہتے ہیں تو اس خون پر پانی جاری کر دیجئے تاکہ خون نہ جمنے پائے ۔اس واقعہ سے پہلے بند باندھ کر دریا کا پانی روک دیا گیاتھا ۔لہٰذا مجبورا ًبند کو ہٹادیا گیا پانی خون پر جاری ہوا اور اس طرح خونی دریا وجود میں آگیا ۔اس خونی دریا کے ذریعہ پن چکیاں چلیں جس کے ذریعہ خالد کے اٹھارہ ہزار سے زائد سپاہیوں کے لئے حسب ضرورت آٹا مہیا کیا گیا تین دن ورات یہ پن چکیاں خون کے دریا سے چلتی رہیں ۔اس لئے اس دریا کو دریائے خون کہا گیا''


قابل غور بات یہ ہے کہ یہ خونی دریا ستر ہزار انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کرنے کے نتیجہ میں وجود میں آیا تھا ،تاکہ ایک ہٹ دھرم سپہ سالار ،خالد مضری کی قسم پوری ہو جائے !!

حیرہ کی دوسری جنگیں

اس کے بعد طبری حیرہ کے اطراف میں خالد کی کمانڈمیں واقع ہوئی بعض بڑی جنگوں کے بارے میں نقل کرتے ہوئے سیف کی بات کو یوں تمام کرتا ہے : ٢

اور سیف نے لکھا ہے کہ قعقاع نے حیرہ کی جنگوں کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں :

''خدائے تعالیٰ دریائے فرات کے کنارے پر قتل شدہ اور نجف میں ابدی نیند سوئے ہوئے ہمارے افراد پر اپنی رحمت نازل کرے ''

'' ہم نے سرزمین ''کاظمین '' میں '' ہرمزان '' کو شکست دے دی اور دریائے ثنی کے کنارے پر ''قارن '' کے سینگ اپنے چپو سے توڑ دئے ۔جس دن ہم حیرہ کے محلوں کے سامنے اترے ان پر شکست طاری ہو گئی ۔اس دن ہم نے ان کو شہر بدر کر دیا اور ان کے تخت و تاج ہمارے ڈر سے متزلزل ہو گئے ۔ہم نے اس دن جان لیوا تیروں کو ان کی طرف چھوڑا اور رات ہوتے ہی انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا ۔یہ سب اس دن واقع ہو ا جب وہ دعویٰ کرتے تھے کہ : ہم وہ جواں مرد ہیں جو عربوں کی زرخیز زمین پر قابض ہیں ''

سیف کاا ن اشعار کو بیان کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ قعقاع بن عمرو تمیمی ،خالد بن ولید کے ہمراہ علاقہ ''حیرہ'' کے میدان جنگ میں اپنی شجاعت و بہادری پر ناز کرتا ہے ،اور فخر کرتا ہے کہ اس نے ''کاظمین '' کی جنگ میں ''ہرمز '' سے ''الثنی'' میں ''قارن'' سے اور حیرہ میں عرب کے عیسائیوں اور کسریٰ کے محلوں کے محافظوں سے جنگ کی ہے اور عربوں کی زرخیز زمینوں کو ان کے تسلط سے آزاد کیا ہے ۔


یہ روایتیں کہاں تک پہنچی ہیں ؟

یہ وہ مطالب تھے جن کی روایت طبری نے علاقہ ''حیرہ'' میں خالد بن ولید کی جنگوں کے سلسلے میں سیف بن عمر سے نقل کی ہے اور طبری کے بعد ابن اثیر اور ابن خلدون نے ان مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔اس کے علاوہ ابن کثیر نے بھی طبری اور براہ راست سیف بن عمر سے نقل کرکے اس کی اپنی تاریخ میں تشریح کی ہے ۔

حموی نے بھی الثنی کے بارے میں اپنی معلومات کو براہ راست سیف سے لیا ہے ۔وہ لغت ''الثنی'' کی تشریح میں لکھتا ہے :

'' الثنی کی جنگ ایک مشہور جنگ ہے جو خالد بن ولید اور ایرانیوں کے درمیان بصرہ کے نزدیک واقع ہوئی اور یہی جنگ تھی جس میں قعقاع بن عمر و نے درج ذیل

شعر کہا ہے :

سقی الله قتلی بالفرات مقیمه تا

وبالثنی قرنی قارن بالجوارف

اس کے علاوہ سیف سے ''الولجہ'' کے بارے میں نقل کرتے ہوئے تشریح کرتا ہے :

''ولجہ سر زمین کسکر اور صحرا کے کنارے پر واقع ہے خالد بن ولید نے ایرانی فوج کو وہاں پر شکست دی تھی یہ مطلب کتاب '' فتوح'' میں ١٢ھ کے حوادث میں درج ہو ا ہے اور قعقاع بن عمر و نے اس جنگ میں کہا:

''میں نے شجاعت اور بہادری میں اس قوم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جس قوم کو میں نے صحرائے ولجہ میں دیکھا ۔میں نے اس قوم کے مانند کسی کو نہیں دیکھا جس نے اپنے دشمن کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا ہو اور ان کے مامور پہلونوں کو ہلاک کر دیا ہو''

یہ مطالب تھے جن میں حموی نے اپنی کتاب '' معجم البلدان'' میں لکھا ہے اور عبد المؤمن نے ''ثنی '' اور ''ولجہ'' کی تشریح میں اس سے نقل کرکے اپنی کتاب ''مراصد الاطلاع'' میں درج کیا ہے ۔


سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ

بلاذری '' المذار '' کے بارے میں لکھتا ہے :

'' مثنی بن حارثہ نے ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں ''المذار '' کے سرحد بان سے جنگ کی اور اسے شکست دے دی ۔عمر کی خلافت کے زمانہ میں عتبہ بن غزوان نے ''المذار '' پر حملہ کیا اور وہاں کے سرحدبان نے اس کا مقابلہ کیا اس جنگ کے نتیجہ میں خدا نے سرحدبان کی فوج کو شکست دے دی اور وہ سب کے سب دریا میں غرق ہو گئے اور عتبہ نے سرحدبان کا سر تن سے جدا کیا'' ٣

ولجہ اور الثنی کے بارے میں ہم نے سیف کے علاوہ کسی اور کی کوئی روایت نہیں پائی کہ اس کا سیف کی روایت سے موازنہ کرتے:

''الیس ''کے بارے میں بلاذری لکھتا ہے :

'' خالد بن ولید اپنی فوج کو '' الیس '' کی طرف لے گیا اور ایرنیوں کا سردار ''جابان '' چوں کہ خالد کے اندیشہ سے آگاہ ہوا ،اس لئے خود خالد کے پاس حاضر ہوا اور اس کے ساتھ اس شرط پر جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا کہ ا لیس کے باشندے ایرانیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ میں مسلمانوں کے لئے مخبری اور راہنمائی کا کام انجام دیں گے'' ٤

خون کے دریا کا قصہ

دریائے خون کا قصہ اور خالد بن ولید کی قسم کے بارے میں ابن درید نے اپنی کتاب اشتقاق میں یوں لکھا ہے :

''منذر اعظم جس دن خاندان بکر بن وائل کے افراد کو بے رحمی سے اور دردناک طریقہ سے قتل کر رہا تھا اور انھیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکر ان کا سر تن سے جدا کرتا تھا ،اس نے قسم کھائی تھی کہ اس خاندان کے اتنے افراد کو قتل کرے گا کہ ان کا خون بہہ کر پہاڑ کے دامن تک پہنچ جائے !لیکن بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کے باوجود خون پہاڑ کے نصف راستہ تک بھی نہیں پہنچا اس امر نے منذر کو سخت غضبناک کر دیا آخر حارث بن مالک نے منذر سے کہا : آپ سلامت رہیں !اگر آپ زمین پر موجود تمام لوگوں کو بھی قتل کر ڈالیں گے جب بھی ہرگز خون پہاڑ کے دامن تک نہیں پہنچے گا۔ خون پر پانی ڈالنے کا حکم دیجئے تاکہ خون آلود پانی پہاڑ کے دامن


تک بہنچ جائے ۔

حارث کی راہنمائی مؤثر ثابت ہوئی اور پانی ڈالنے کے بعد خون آلود پانی بہہ کر پہاڑ کے دامن تک پہنچا اور منذر کی قسم پوری ہو گئی ۔اس پر حارث کو '' وصاف '' کا لقب ملا'' ٥

سیف زمانہ جاہلیت کی اس بھونڈی اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان کو پسند کرتا ہے اور اسی کے مانند ایک داستان کو قبیلۂ مضر کے فخر ومباہات کی سند کے طور پر جعل کرنے کے لئے موزوں سمجھتاہے لہذاخالد بن ولید مضری کواس داستان کاکلیدی رول اداکرنے کے لئے مناسب سمجھتا ہے اور منذر اعظم کے ہاتھوں خاندان بکر بن وائل کے بے گناہ افراد کے قتل عام کی داستان کو بنیاد بنا کر ''الیس''میں ستر ہزار اسیر انسانوں کا قتل عام کرکے خون کا دریا بہانے کی ایک داستان جعل کرتا ہے تاکہ اس لحاظ سے بھی مضر ونزار کے خاندان منذر اعظم سے پیچھے نہ رہیں !!

سند کی جانچ پڑتال :

سیف نے عبدالرحمان بن سیاہ محمد بن عبداللہ اور مہلب کو جنگ''الیس ''کے راویوں کے طور پر ذکر کیا ہے ان کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ یہ تینوں راوی سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں اور حقیقت میں ان کا کہیں وجود نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ زیاد بن سر جس احمری بھی اس کا ایک راوی ہے سیف کے اس راوی سے ٥٣احادیث تاریخ طبری میں ذکر ہوئی ہیں چوں کہ ہم نے اس زیاد کا نام بھی سیف کی روایتوں کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں پایا اس لئے اس کو بھی سیف کے جعلی راوی کی فہرست میں شامل کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ سیف نے بعض دیگر مجہول اور غیر معروف اشخاص کا نام بھی بعنوان راوی ْْْْذکر کیا ہے اور بعض مشتر ک ناموں کو بھی راویوں کے طور پر ذکر کیا ہے جن کی تحقیقات

کرنا ممکن نہیں ہے ۔


تحقیقات کا نتیجہ :

سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے ''الثنی'' اور ''الولجہ '' کی جنگوں کی روایت کی ہے اور طبری نے ''الثنی ''اور ''الولجہ '' کی جنگوں کے مطالب اسی سے لئے ہیں اور طبری کے بعد والے تمام مؤرخین نے ان مطالب کو تاریخ طبری سے نقل کیا ہے۔

یا قوت حموی نے سیف کی داستان کا ایک مختصر حصہ الثنی کی تشریح میں مصادر کا ذکر کئے بغیر اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں درج کیا ہے لیکن الولجہ کی تشریح میں سیف کی کتاب '' فتوح'' کا اشارہ کرتے ہوئے اس داستان کا ایک حصہ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے لگتا ہے ابن خاضیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی سیف ابن عمر کی کتاب ''فتوح '' کا ایک حصہ حموی کے پاس تھا انشاء اللہ مناسب موقع پر ہم اس کی وضاحت کریں گے ۔

''المذار ''اور ''الیس'' نامی جگہوں کی تاریخی حقیقت سے انکار نہیں ہے لیکن سیف نے ان دو جگہوں کے فتح کئے جانے کے طریقہ میں تحریف کی ہے جس شخص نے سب سے پہلے ''المذار '' میں جنگ کرکے فتح حاصل کی وہ '' المثنی '' تھا اور دوسری بار ''المذار'' ''عتبہ بن غزوان'' کے ہاتھوں فتح ہوا اور اس نے وہاں پر سر حد بان کا سر تن سے جد ا کیا تھا ۔

ہم نے ''الیس'' کی جنگ میں دیکھا کہ خالد نے وہاں کے باشندوں کے ساتھ اس شرط پر صلح کا معاہدہ کیا کہ وہاں کے باشندے مسلمانوں کے لئے مخبری اور راہنمائی کا کام انجام دیں گے اور ایرانیوں کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کریں گے لیکن سیف نے اس صلح کو ایک خونین تباہ کن اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی جنگ میں تبدیل کرکے اس میں تحریف کی ہے اور صرف اس جنگ میں ستر ہزار اسیروں کا سر تن سے جدا کرتے ہوئے دکھایا ہے تاکہ انسانی خون کا دریا بہے اور تین دن و رات تک اس خونی دریا سے پن چکیاں چلیں تاکہ ١٨ہزار سے زائد اسلامی فوج کے لئے آٹا مہیا ہو سکے ۔

سیف کا ایسا افسانہ گڑھنے سے کیا مقصد تھا ؟ کیا اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ خاندان مضر کے فخر و مباہات میں ایک اور فخر کا اضافہ کرے ؟ یا اس کے علاوہ اور بھی کوئی مقصد تھا تاکہ اس کے ذریعہ دوسروں کو یہ سمجھائے کہ اسلام تلوار کی دھار سے خون کے دریا بہا کر پھیلا ہے، ملتوں کی طرف سے اپنی مرضی کے مطابق اسلام قبول کرنے اور اپنے ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں نہیں پھیلا جب کہ حقیقت یہی ہے ۔


سیف کی حدیث کا نتیجہ

١۔ '' قارن بن قریانس''نام کے ایک سپہ سالار کو جعل کرنا ۔

٢۔'' الثنی '' اور '' الولجہ'' نام کی جگہیں جعل کرنا تاکہ مقامات کی تشریح کرنے والی کتابوں میں یہ جگہیں درج ہو جائیں ۔

٣۔ مہلب ، ابو عثمان بن زید زیاد بن سرجس اور عبد الرحمن بن سیاہ نام کے چار اصحاب جعل کرکے اسلام کے راویوں میں ان کا اضافہ کرنا ۔انشا اللہ ہم اسی کتاب میں ان کی تفصیلات بیان کریں گے۔

٤۔ ادبی آثار کو زینت بخشنے والے ایک قصیدہ کی تخلیق ۔

٥۔ ایک ہزار سوار کی طاقت کے برابر ایک ایرانی پہلوان کا خالد کے ہاتھوں قتل ہونا اور خالدکا اس کی لاش سے ٹیک لگا کر میدان جنگ میں کھانا کھانا تاکہ اس افسانے کے حیرت انگیز منظر کے بارے میں سن کر اپنے اسلاف و اجداد کے فضائل ومناقب سننے کا شوق رکھنے والوں کو خوش کر سکے ۔

٦۔ اسیر ہونے والے تمام انسانوں کا مسلسل چند دن ورات تک سر تن سے جدا کرکے قتل عام کرنا ۔

٧۔ خون کے دریا سے تین دن ورات تک چلنے والی پن چکیوں کے ذریعہ اسلام کے ١٨ہزار سے زیادہ فوجیوں کے لئے گندم پیس کر آٹا تیار کرنا۔

٨۔''الثنیٰ'' کے میدان میں تیس ہزار اور ''الیس''میں ستر ہزار اور سب ملاکر غرق ہوئے افراد کے علاوہ اسلامی فوج کے ہاتھوں ایک لاکھ انسانوں کا قتل عام ہونا۔

٩۔قعقاع جیسے ناقابل شکست پہلوان کی کرامت دکھانا کہ اگر وہ اور اس جیسے افراد نہ ہوتے اور مداخلت نہ کرتے تو سیف کے کہنے کے مطابق خدابہتر جانتا ہے کہ خالد انسانوں کے سر تن سے جد ا کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رکھتا !! حقیقت میں یہ وہی چیز ہے جس کو سننے کے لئے اسلام کے دشمنوں کے کان منتظر رہتے ہیں ، اور وہ یہ سننے کی تمنا رکھتے ہیں کہ اسلام اپنے دشمنوں سے جنگ کے دوران بے رحمی سے قتل عام کرنے کے بعد پھیلا ہے تاکہ وہ اعلان کریں کہ اسلام کو تلوار کے سایہ میں کامیابی نصیب ہوئی ہے اور ملتوں کا اپنی مرضی سے اسلام کی طرف مائل ہونا اسلام کے پھیلنے کا سبب نہیں بنا ہے کیا اس غیر معمولی افسانہ ساز سیف نے اپنے افسانوں کے ذریعہ اسلام کے دشمنوں کی اور اپنی دیرینہ آرزوکو پورا نہیں کیا ہے ؟


قعقاع ،حیرہ کے حوادث کے بعد

مفخرة تضاف الی مفاخر بطل تمیم القعقاع

سقعقاع کے افتخارات میں ایک اور فخر کااضافہ

(مولف)

صلح '' بانقیا'' کی داستان

طبری نے ''حیرہ کے بعد کے حوادث ''کے عنوان کے تحت سیف سے حسب ذیل روایت نقل کی ہے:

''بانقیا''اور ''بسما''کے باشندوں نے خالد ابن ولید کے ساتھ ایک صلح کے تحت معاہدہ کیا کہ مسلمان اس شرط پر ان سے جنگ نہ کریں گے کہ وہ دربار کسریٰ کو اد اکئے جانے والے خراج کے علاوہ خالد کو دس ہزار دینار ادا کریں گے۔خالد نے مذکورہ باشندوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور قعقاع بن عمرو تمیمی اور چند دیگر افراد کو اس پر گواہ قرار دیا''۔

اس کے بعد طبری نے یوں لکھاہے:

''جب خالد ''حیرہ''سے فارغ ہوا توعراقی علاقوں سے ہرمز دگرد تک سرحد بانوں نے بھی ''بانقیا''اور ''بسما''کے باشندوں کی طرح ،دربار کسریٰ کو ادا کئے جانے والے خراج کے علاوہ بیس لاکھ درہم اور سیف کی ایک دوسری روایت کے مطابق دس لاکھ درہم خالد کو ادا کرنا قبول کئے ۔خالد نے اس پر ایک معاہدہ نامہ لکھا اور قعقاع وچند دیگر اشخاص کو گواہ قرار دیا ۔

اس کے بعد سیف کہتاہے :

''خالد بن ولید اسلامی فوج کاسپہ سالار تھا ۔اس نے دیگر شخصیتوں کو مختلف عہدوں پر فائز کرنے کے ضمن میں قعقاع بن عمرو کو سرحدوں کی حکمرانی اور کمانڈسونپی ۔خالد نے خراج دینے والوں کے لئے لکھی گئی رسید میں قعقاع کو گواہ کے طور پر مقرر کیا''


یہ داستان کہاں تک پہنچی؟

ان تمام روایتوں کو طبری نے سیف کے حوالے سے ذکر کیاہے ،اس کے بعد ابن اثیر ،ابن کثیر ،اور ابن خلدون جیسے مؤرخوں نے ان کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیاہے۔اسی طرح کتاب ''الوثائق السیاسة''کے مؤلف نے مذکورہ تین عہد ناموں کو اسلامی سیاسی اسناد کے طور پر اپنی مذکورہ کتاب میں درج کیاہے ۔ ١

لیکن سیف کے علاوہ دیگر تاریخ دانوں نے ''بانقیا''اور ''بسما''کے باشندوں کے صلح نامہ کو ہزار درہم کی بنیاد پر لکھاہے،نہ کہ دس ہزار دینار!اور قعقاع کے نام اور اس کی گواہی کا ذکر تک نہیں کیاہے۔اس کے علاوہ عراقی علاقوں سے ہر مزدگرد تک کی سرزمینوں کے بارے میں صلح کانام ونشان تک نہیں ملتا،بلکہ اس کے برعکس لکھا گیاہے ۔

'' ''حیرہ''،''الیس''اور ''بانقیا''کے علاوہ کسی اور شہر کے باشندوں سے کوئی معاہدہ نہیں ہواہے ۔اسی طرح سرحدوں پر سرداروں کو معین کرنے یاخراج دینے والوں کو بری کئے جانے پر قعقاع کی گواہی کا کوئی ذکر نہیں ملتا ''٢

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھاہے:

''ابوبکر نے خالد بن ولید کو عراق کے جنوبی علاقوں کا مأمور مقرر کیا اور عیاض بن غنم کو شمالی علاقوں کی ماموریت دی۔خالد نے اپنی مأموریت میں عراق کے جنوبی علاقوں کو وسعت بخشی۔لیکن عیاض ایرانیوں کے محاصرہ میں آگیا اور مجبور ہوکر خالد سے مدد کی درخواست کی ۔خالد نے حیرہ میں قعقاع کو اپنا قائم مقام بنایا اور خود عیاض کی مدد کے لئے عراق کے شمال کی طرف روانہ ہوا ۔دوسری طرف ایرانیوں اور قبائل ربیعہ کے عربوں نے مسلمانو ں سے نبرد آزما ہونے کے لئے ''حصید''کے مقام پر اپنی فوج کی لام بندی کی تھی۔ اس علاقہ کے مسلمانوں نے ان سے نجات پانے کے لئے قعقاع سے مدد کی درخواست کی اور قعقاع نے ان کی مدد کے لئے ایک فوج روانہ کی ۔جب خالد واپس''حیرہ''پہنچا تو اس نے قعقاع کو ''حصید''میں مسلمانوں سے بر سر پیکار ایرانیوں اور جزیرہ کے عربوں سے لڑنے کے لئے روانہ کیا۔قعقاع نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی ۔یہ جنگ دشمنوں کی شکست پر تمام ہوئی ۔ ''روز مہر''نام کا ایرانی سپہ سالار ماراگیااور ''روز بہ''بھی عصمة بن عبد اللہ کے ہاتھوں قتل ہوا''


طبری اور سیف سے نقل کرنے والے مؤرخین

طبری نے ان مطالب کو سیف سے نقل کرکے لکھا ہے ۔اس کے بعد ''ابن اثیر،ابن کثیر'' اور ابن خلدون نے ان روایتوں کو طبری کے حوالے سے اپنی کتابوں میں درج کیاہے۔

ہم نے اپنی کتاب '' عبد اللہ ابن سبا'' میں طبری اور اس کی تاریخ کے بارے میں عالم اسلام کے مذکورہ تین عظیم مورخوں کے نظریات بالترتیب حسب ذیل ذکر کئے ہیں :

١۔ ابن اثیر اپنی بات یوں شروع کرتا ہے :

'' جو کچھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی تاریخ سے متعلق ہے ،ہم نے اسے کچھ گھٹائے بغیر نقل کیا ہے ''

٢۔ ابو الفدایوں کہتا ہے :

'' ہم نے ابن اثیر کی بات کو نقل کیا ہے اور اس کی تاریخ کوخلاصہ کے طور پر پیش کیا ہے''

٣۔ ابن خلدون لکھتا ہے :

'' خلافت اسلامیہ سے متعلق مطالب اور جو کچھ ارتداد کی جنگوں اور فتوحات سے مربوط ہے مختصر طور پر تاریخ طبری سے نقل کیا گیا ہے ''

٤۔لیکن ابن کثیر ،اکثر اپنی روایتوں کے مآخذ یا مآخذ کے بارے میں کہ طبری ہے کا صراحتا ذکر کرتا ہے یا بعض مواقع پر براہ راست سیف کا نام لیتا ہے اور اسے اپنی داستان کی سند کے طور پر پیش کرتا ہے ۔

حموی ،سیف کی اس داستان پر اعتبار کرتا ہے اور ''حصید '' کا نام لیتے ہوئے لکھتا ہے :

'' حصید '' کوفہ و شام کے درمیان ایک صحراہے ،یہاں پر ١٣ھ میں قعقاع بن عمر و نے ایرانی فوجوں اور ربیعہ وتغلب کے عربوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ کی اور ایرانی فوج کے دو سردار ''روزمہر '' اور ''روزبہ'' مارے گئے اور قعقاع نے اس جنگ میں رزم نامہ اس طرح کہا ہے :

'' اسماء(۱) کو خبر دو کہ اس کا شوہر ایرانی سردار'' روزمہر '' کے بارے میں اس دن

____________________

۱)۔عربوں میں رسم تھی کہ جنگوں میں رزم نامہ پڑھتے ہوئے اپنی بہن یا بیوی کا نام لیتے تھے اور اپنے افتخارات بیان کرتے تھے ۔


اپنی آرزو کو پہنچا ،جب ہم ہندی تلواروں کو نیام سے نکال کر ان کی فوج پر حملہ آور ہوکر ان کے سر تن سے جدا کر رہے تھے ''

یہ سب کچھ سیف نے کہا ہے اور طبری نے اس سے نقل کیا ہے اور دوسروں نے بعد میں طبری سے نقل کیا ہے ۔

سیف کے علاوہ کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ عیاض ،خالد کے ساتھ عراق کی ماموریت پر تھا بلکہ اس کے بر خلاف اس کا ابوعبید کے ساتھ شام میں ہونا ذکر کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف ''حصید'' نامی مقام اور وہاں پر جنگ کے بارے میں ہم نے سیف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نام ونشان تک نہیں پایا۔

سند کی پڑتال

سیف نے مذکورہ حدیث ،محمد مہلب اور زیاد سے روایت کی ہے ۔ان کے بارے میں پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ تینوں راوی سیف کے جعلی راویوں میں سے ہیں ۔

اس کے علاوہ غصن بن قاسم نام کے ایک اور راوی سے بھی روایت کی ہے کہ تاریخ طبری میں سیف کے ذریعہ اس سے ١٣،احادیث نقل ہوئی ہیں ۔

اسی طرح ابن ابی مکنف نام کے ایک اور شخص کا نام بھی لیا ہے ۔

موخّر الذکر دونوں راویوں کے نام بھی ہم نے طبقات اور راویوں کی فہرست میں کہیں نہیں پائے ۔

آخر میں سیف نے اس داستان کے بانچویں راوی کے طور پر بنی کنانہ کے ایک شخص کو پیش کیا ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ سیف نے اپنے خیال میں اس شخص کا نام کیا رکھا تھا تاکہ ہم اس کی بھی تلاش کرتے !۔

اس اصول کے تحت ہمیں حق پہنچتا ہے کہ مذکورہ بالا راویوں کو بھی سیف کے جعلی راویوں کی فہرست میں شامل کریں ۔


اس حدیث کے نتائج

١۔تین فوجی معاہدوں اور ایک صلح نامہ کو سیاسی اسناد کے طور پر پیش کرنا۔

٢۔ ''حصید'' نام کی ایک جگہ کو تخلیق کرکے جغرافیہ کی کتابوں میں درج کرانا۔

٣۔ ایسے اشعار کی تخلیق کرنا جو ادبیات کی کتابوں درج ہو جائیں ۔

٤۔خاندان تمیم کے سورما ،قعقاع بن عمرو کے افتخارات میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنا ۔

یہ سب اپنی جگہ پر لیکن وہ کون سا سبب تھا جس نے سیف کو یہ کام انجام دینے پر مجبور کیا کہ ابو عبیدہ کے ہمراہ شام میں جنگ میں مصروف '' عیاض'' کو خالد کے ساتھ عراق پہنچادے ؟!اگر زندیقی ہونے کے سبب یا کسی اور چیز نے اسے ایسا کرنے پر مشتعل نہیں کیا کہ وہ اسلام کی تاریخ میں تحریف کرے ،تو اور کیا سبب ہو سکتا ہے ؟!


قعقاع ،مصیخ اور فراض میں

وبلغ قتلاهم فی المعرکة والطلب مائة الف

''جنگ فراض میں مقتولین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی''

(سیف)

مصیخ کی جنگ

طبری نے سیف سے روایت کی ہے کہ :

'' ایرانی اور مختلف عرب قبیلوں نے ''حصید '' میں شکست کھانے کے بعد '' احنافس'' سے پسپائی اختیار کرکے ''حوران '' و ''قلت'' کے درمیان واقع ایک جگہ '' مصیخ'' میں اپنی منتشر فوج کو پھر سے منظم کیا جب اس فوج کے ''مصیخ '' میں دوبارہ منظم ہونے کی خبر خالد کو ملی ،تو اس نے قعقاع ،ابی لیلیٰ بن فدکی ا عبد بن فدکی اور عروہ بن بارقی کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ذہن نشین کرایا کہ فلاں شب فلاں وقت پر اپنی فوج کو لے کر '' مصیخ '' کے فلاں مقام پر پہنچ جائیں وہ بھی وعدہ کے مطابق مقررہ وقت پر اس جگہ حاضر ہوئے انھوں نے تین جانب سے دشمن پر شب خون مارا اور ان کے کشتوں کے پشتے لگادیئے ۔ لوگوں نے اس قتل عام کے مناظر کی بھیڑ بکریوں کی لاشوں پر لاشیں گرنے سے تشبیہ دی ہے !!''

وہ مزید لکھتا ہے :

'' دشمن کی سپاہ کے کیمپ میں عبد الغزی نمری اور ولید بن جریر بھی موجود تھے انھوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کے اسلام قبول کرنے کی گواہی کے طور پر ابوبکر کا خط بھی ان کے پاس موجود تھا یہ دونوں بھی اس جنگ میں قتل کئے گئے ۔ان کے مارے جانے کی خبر ابوبکر کو پہنچی اور خاص کر یہ خبر کہ عبد الغزی نے اس شب تین جانب سے ہونے والے حملہ کو دیکھ کر فریاد بلند کی تھی کہ : اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خدا تو پاک و منزہ ہے !'' چوں کہ یہ دونوں بے گناہ مارے گئے تھے اس لئے ابوبکر نے ان کی اولاد کو ان کا خون بہا ادا کیا ۔ عمر نے ان کے مارے جانے اور اسی طرح مالک بن نویرہ کے قتل کے بارے میں خالد پر اعتراض کیا اور اس سے ناراض ہو گئے اور ابوبکر ،عمر کی تسلی کے لئے یہی کہتے تھے '' جو بھی فوج کے درمیان رہے گا اس کا یہی انجام ہوگا!''


یہ داستان کہاں تک پہنچی؟

حموی نے سیف کی روایت کو اعتبار کی نگاہ سے دیکھا ہے اور '' مصیخ'' کے بارے میں سیف کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی تشریح کی ہے اور اسے ایک واقعی جگہ کے طور پرپیش کیاہے اور لکھتاہے :

'' مصیخ '' حوران اور قلت'' کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں پر خالد بن ولید اور خاندان تغلب کے درمیان جنگ ہوئی تھی ''

اسی کے بعد لکھتا ہے :

'' قعقاع نے اس جنگ کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں :

'' مصیخ کی جنگ میں خاندان تغلب کے کارناموں کے بارے میں ہم سے پوچھو !کیا عالم اور جاہل برابر ہوتے ہیں ؟ جب ہم نے ان پر شب خون مارا تو اس کے نتیجہ میں ان کا صرف نام ہی باقی رہا ۔ ''ایاد''اور ''نمور''(۱) کے قبیلے بھی خاندان تغلب کے دوش بدوش تھے اور وہ بھی ان باتوں کو جوان کے وجود کو لرزہ بر اندام کئے دے رہی تھیں سن رہے تھے''

آپ ان مطالب کو صرف سیف کے افسانوں میں پاسکتے ہیں ۔دیگر لوگوں نے ''مصیخ '' اور اس جنگ کے بارے میں کسی قسم کا اشارہ تک نہیں کیاہے ۔کیوں کہ وہ حقیقت لکھنے کی فکر میں تھے نہ کہ افسانہ سازی میں ۔

سند کی پڑتال:

''مصیخ بنی البرشائ'' کے بارے میں سیف کی حدیث ''حیرہ'' کے واقعات کے بعد اور ان ہی حوادث کا سلسلہ ہے ۔اس لحاظ سے اس کی سند بھی وہی ہے جو ''حیرہ'' کے بارے میں بیان ہوئی ہے اور ہم نے ثابت کیا ہے کہ اس کے تمام راوی سیف کے خیالات کی تخلیق ہیں ۔

جانچ پڑتال کا نتیجہ

جیسا کہ ہم نے کہا کہ تاریخ دانوں نے اس قصہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے تاکہ ہم ان کے اور سیف کے بیان کے درمیان موازنہ و بحث کریں ،بلکہ یہ تنہا سیف ہے جس نے یہ روایت جعل کی ہے ،اور انشاء اللہ ہم جلد ہی اس کے جھوٹ اور افسانہ نویسی کے سبب پر بحث و تحقیق کریں گے ۔

____________________

۱)۔ سیف نے ایسا خیال کیا ہے کہ ایاد ،نموراور تغلب کے قبیلوں نے ایک دوسرے کے دوش بدوش جنگ میں شرکت کی ہے ۔


داستان مصیخ کے نتائج :

١۔ '' مصیخ بنی البرشائ'' نام کی ایک جگہ کی تخلیق کرنا تاکہ اسے جغرافیہ کی کتابوں میں درج کیا جاسکے ۔

٢۔ عبد ابن فدکی اور اس کے بھائی ابو لیلیٰ نام کے دو صحابی جعل کرنے کے علاوہ '' نمری'' نام کے ایک اور صحابی کو جعل کرنا جسے ابوبکر نے عبداللہ نام دیا ہے تاکہ ان کی زندگی کے حالات سیف کے افسانوں کے مطابق درج ہوں ۔

٣۔ افسانوی سورما قعقاع کے اشعار بیان کرنا۔

٤۔ ایک خونیں اور رونگٹے کھڑے کرنے والی جنگ کی تخلیق کرنا تاکہ میدان میں بھیڑ بکریوں کی طرح انسانی کشتوں کے پشتے لگتے دکھائے جائیں جس سے ایک طرف اپنے اسلاف کے افسانے سننے کے شوقین اور دوسری طرف اسلام کے دشمنوں کے دل شاد کئے جائیں اور اس قسم کی چیزیں سیف کے افسانوں کے علاوہ کہیں اور نہیں پائی جاتیں !

فراض کی جنگ

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

''واقع مصیخ کے بعد تغلب کے بھگوڑ ے''دارالثنی''اور ''زمیل''میں جمع ہوئے اور خالد بن ولید نے قعقاع کے ہمراہ ان پر وہی مصیبت توڑی جو مصیخ میں رو نما ہوچکی تھی۔''

اس کے بعد لکھتاہے:

''خالد ،شام اور عراق کی سرحد پر واقع ''فراض ''کی طرف روانہ ہوا ۔سیف کہتاہے :رومی مشتعل ہوئے اور انہوں نے ایرانی سرحد بانوں سے اسلحہ اور مدد حاصل کی اور مختلف عرب قبیلوں ،جیسے تغلب ،ایاد اور نمر سے بھی مدد طلب کی اس طرح ایک عظیم فوج جمع کر کے خالد بن ولید کے ساتھ ایک لمبی مدت تک خونیں جنگ لڑی ۔ سرانجام اس جنگ میں رومیوں نے شکست کھائی اور سب کے سب میدان جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ۔خالد نے حکم دیا کہ بھاگنے والوں کے سر تن سے جدا کئے جائیں ۔ خالد کے سوار ،فراریوں کو گروہ گروہ کی صورت میں ایک جگہ جمع کرکے ان کا سر تن سے جدا کرتے تھے ۔اس طرح مقتولین کی کل تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔''


اس کے بعد طبری لکھتا ہے:

''خالدکی اس فوج کشی کے دوران متعدد جنگیں لڑی گئیں اور بہت سے رزمیہ قصیدے لکھے گئے اس کے بعد خالد ''حیرہ'' کی طرف واپس ہو ااور قعقاع کے بھائی عاصم بن عمرو کو حکم دیا تاکہ فوج کے ساتھ چلے اور باقی فوجیوں کی کمانڈ شجرہ بن اعزکے ہاتھ میں دی اور یہ افواہ پھیلائی کہ باقی فوجیوں کے ہمراہ پیچھے پیچھے خود بھی آرہا ہے ۔اس طرح ماہ ذی قعدہ کے پانچ دن بچے تھے کہ وہ چھپکے سے فوج سے خارج ہوا اور حج انجام دینے کی غرض سے مکہ کی طرف روانہ ہو ا۔ جب وہ حج سے واپس آیا تو اس وقت ابھی باقی فوجی حیرہ نہیں پہنچے تھے ۔خالد کے اس اچانک سفر کی خبر خلیفہ ابوبکر کو پہنچی خلیفہ کو یہ خبر سخت ناگوار گزری ۔انھوں نے غضبناک ہو کر تنبیہ کے طور پر خالد کو عراق کے بجائے اسے شام کی ماموریت دے دی ''

حموی اس روایت پر اعتبار کرتے ہوئے ''فراض ''کے بارے میں لکھتاہے:

''جو کچھ سیف کی کتاب''فتوح''میں آیاہے،اس کے مطابق ،خالد بن ولید نے ''فراض''جو شام ، عراق اور جزیرہ کی مشترک سرحد پر فرات کی مشرق میں واقع ہے اور رومیوں ،عرب اور ایرانیوں نے وہاں پر اجتماع کیاتھا میں قبیلہ بنی غالب پر اچانک حملہ کیا اور گھمسان کی جنگ کی''۔سیف کہتاہے:اس جنگ میں ایک لاکھ انسان مارے گئے ۔اس کے بعد خالد ١٢ ھ میں جب ماہ ذی الحجہ کے دس دن باقی بچے تھے سفر حج سے واپس بحیرہ پہنچا ۔قعقاع نے اس واقعہ کے بارے میں یہ شعر کہے ہیں :

''میں نے سرزمین ''فراض ''میں ایرانیوں اور رومیوں کے اجتماع کو دیکھا کہ ایام کے طولانی ہونے کی وجہ سے اس کی سلامتی خطرے میں پڑگئی تھی ۔جب ہم وہاں پہنچے تو ان کی جمعیت کو تتر بتر کرکے رکھ دیا اور اس کے بعد قبیلۂ بنی رزام پر شب خون مارا۔ابھی اسلام کے سپاہی جابجا نہیں ہوئے تھے کہ دشمن سر کٹی بھیڑوں کی طرح بکھرے پڑے تھے۔''

سند کی پڑتال

فراض کی روایت بیان کرنے والے بھی سیف کے دو راوی محمدومہلب ہیں اور پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور وہ سیف کے جعلی راوی ہیں ۔اس کے علاوہ سیف کا ایک اور راوی ظفر بن دہی ہے کہ انشا ء اللہ اس کی آئندہ وضاحت کریں گے ۔ان کے علاوہ اس نے بنی سعد سے ایک شخص کوراوی کے طور پر ذکر کیا ہے کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ سیف کے خیال میں اس کا کیا نام تھا تاکہ ہم اس کی تحقیقات کرتے۔


بحث کا نتیجہ:

سیف کے جعلی صحابی ابی مفزرکے سلسلے میں بحث کے دوران ''الثنی''اور ''زمیل''کی جنگ کے بارے میں بھی انشاء اللہ تفصیل سے بیان کریں گے ۔لیکن ''فراض'' کی جنگ میں خالد کے اچانک حملہ کرکے شب خون مارنے اور ایک لاکھ انسانوں کا قتل عام کرنے ،قعقاع کی خو دستائی اور رجز خوانی وغیرہ اور خالد کے چوری چھپے حج پر جانے کے بارے میں صرف سیف نے روایت اور افسانہ سازی کی ہے ۔طبری پہلا مشہور مورخ ہے جس نے سیف کے افسانوں کو نقل کرکے لوگوں کی نگاہ میں اپنی معتبر تاریخ کی کتاب میں درج کیاہے ۔اور ان افسانوں کو دوسر ے تاریخ دانوں نے طبری سے نقل کیا ہے ۔اس میں صرف یہ فرق ہے کہ طبر ی نے اپنی عادت کے مطابق اپنی تاریخ میں اشعار اور رجز خوانیوں کوثبت نہیں کیا ہے اگر چہ اس امرکی طرف اشارہ کرتاہے کہ ان جنگوں میں بہت سے رزمیہ اشعار کہے گئے ہیں ۔

لیکن مشہور جغرافیا نویس ،حموی نے قعقاع کی رجز خوانیوں میں سے ایک حصہ سیف کی کتاب ''فتوح ''سے نقل کیا ہے اور ایک حصے کو ''الفراض ''کے ذکر کے ذیل میں اپنی کتاب میں ذکر کرتا ہے ۔

لیکن یہ بات قابل غورہے کہ طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خالد بن ولید نے اس طرح ظاہر کیا کہ وہ اپنی فوج میں موجود ہے ،لیکن چوری چھپے اس وقت حج کے لئے نکل جاتا ہے جب کے ماہ ذیقعدہ کے ابھی پانچ دن باقی تھے اور حموی کے قو ل کے مطابق ذی الحجہ کے ١٠دن باقی تھے جب وہ واپس آکر اپنی فوج سے ملحق ہو تا ہے ۔سوچنے کی بات ہے کہ سپہ سالار کی ٢٥ دن فوج کی غیر حاضری کو سپاہی کس طرح نہ سمجھ سکے ؟!اس مدت میں فوج کے لئے نماز کی امامت کے فرائض کس نے انجام دئے(۱) ؟! اس کی غیر حاضری سے فوج کے افسر تک کیسے آگاہ نہ ہوسکے؟! اور اس سے بھی بڑھ کر ،خالد نے اس زمانے میں ''حیرہ ''سے مکہ تک کا سفر نوہی دنوں میں کس طرح طے کیا ؟!یہ وہ مسائل ہیں جو ہمیں غور وفکر پر مجبور کرتے ہیں اور اس امرکاسبب بنتے ہیں کہ ان مسائل پر بیشتر بحث وتحقیق کریں ۔انشاء اللہ ہم بعد میں اس سلسلے میں مزید بحث وتحقیق کریں گے کہ سیف نے کیوں ان حالات میں خالد بن ولید کے لئے اس طرح کے حج کی داستان جعل کی ہے۔

____________________

(۱)۔اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ ،بہر صورت اسلامی فوج کی نماز پنجگانہ کی امامت فوج کاسردار کرتاتھا۔


جنگ فراض کی داستان کے نتائج:

١۔ میدان کارزار میں مضری خاندان کے سپہ سالار خالد بن ولید اور تمیمی خاندان کے سورما قعقاع کے کمالات وافتخارات دکھانا۔

٢۔حج کی لمبی مسافت کو طے کرنے میں خالد بن ولید کی کرامت کااظہار کرنا۔

٣۔شجرہ نامی ایک شخص کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے طور پر جعل کرنا۔

٤۔جنگ میں ایک لاکھ انسانوں کے قتل عام کی داستان گڑھ کر اسلام کے دشمنوں کو شاد کرنا۔

٥۔اسلامی ادبیات میں اشعار کا اضافہ کرکے اپنے اسلاف کی کرامتیں سننے کے شوقین لوگوں کو افسانوی اشعار سے خوش کرنا۔


قعقاع ،خالد کے ساتھ شام جاتے ہوئے

و فیهم صحابة ورواة مختلفون

اس داستان کی سند میں بہت سے افسانوی اصحاب اور راوی نظر آتے ہیں !

(مؤلف)

خالدکی شام کی جانب روانگی کی داستان

مؤرخین نے لکھا ہے کہ عمرو عاص نے شام میں دشمن کی فوج کی کثرت دیکھ کر ابوبکر کو ایک خط لکھا اور انھیں حالات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان سے مدد طلب کی ۔ابوبکر نے مجلس میں حاضر مسلمانوں سے صلاح و مشورہ کیا۔ان میں سے عمر بن خطاب نے یوں کہا:''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین !خالد کو حکم دیجئے کہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ شام کی جانب روانہ ہوجائے اور عمر وعاص کی مدد کرے ''۔ابوبکر نے ایسا ہی کیا اور خالد کے نام ایک خط لکھا ۔جب ابوبکر کاخط خالد کوپہنچا تو اس نے کہا:''یہ عمر کاکام ہے ،چونکہ وہ میرے ساتھ حسد کرتے ہیں اس لئے نہیں چاہتے کہ پورا عراق میرے ہاتھ فتح ہو بلکہ چاہتے ہیں کہ میں عمر وعاص اور اس کے ساتھیوں کی مدد کروں اور ان میں شامل ہوجاؤں ۔اگر انھوں نے کوئی کامیابی حاصل کی تو میں بھی اس میں شریک رہوں ،یا ان میں سے کسی کی کمانڈ میں کام کروں تاکہ اگر کوئی کامیابی حاصل ہو تو میرے بجائے اس کو فضیلت ملے '' ١


ایک دوسری روایت میں ہے:

''یہ اعسیر(۱) بن ام شملہ کاکام ہے،اسے یہ پسند نہیں ہے کہ پورا عراق میرے ہاتھوں فتح ہو .....تا آخر ''

سیف یہ نہیں چاہتاتھا کہ خلیفہ عمر اور خالد جیسے سورما کہ دونوں قبیلہ مضر کے بزرگ ہیں کے درمیان بد گمانی دشمنی کی خبر لوگوں میں پھیلے ۔اور یہ بھی نہیں چاہتاتھا کہ خالد کو عراق کی فتح سے محروم رکھے ۔اس لئے اس مسئلہ کے بنیادی علاج کی فکر میں پڑا ہے اور خالد بن ولید کے ہاتھوں عراق کے مختلف شہروں کی فتحیابی کے سلسلے میں مذکورہ داستانیں جعل کی ہیں ۔ہم نے ان داستانوں کا کچھ حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا۔اسی طرح خالد کی عراق سے شام کی طرف روانگی کے سلسلہ میں سیف نے یہ داستان جعل کی کہ :خالد کے شب خون کے نتیجہ میں مصیخ بنی البرشاء میں دو مسلمانوں کا قتل ہونا ،عمر کا ان کے قتل کی وجہ سے خالد پر غضبناک ہونا ،خالد کے مخفی طور پر حج پر جانے کے سلسلے میں خلیفہ ابوبکر کا اس پر ناراض ہونا،خالد کو شام بھیجے جانے کے وجوہات تھے اور وہ عراق کو فتح کرنے سے محروم رہے۔

جیسا کہ ایک اور روایت میں ہے کہ :

''عمر ،خالد بن ولید کے بارے میں ابوبکر کے پاس مسلسل شکایت کرتے تھے۔لیکن ابوبکر ان کی باتوں پر اعتناء نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے:''میں اس تلوار کو دوبارہ نیام میں نہیں ڈالوں گا جسے خدا نے نیام سے باہر کھینچا ہے!''۔ ٢

____________________

(۱)اعیسر ،اعسر کا اسم تصغیر ہے ،عربی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بائیں ہاتھ سے کام کرتا ہو۔


اس کے بعد خالد کے نام ابو بکر کے خط کا ایک اور روایت میں ذکر کرتا ہے کہ یہ سب جعلی ہے اور اس میں ذرہ برابر حقیقت نہیں ہے اس پوری مقدمہ سازی کے بعد ایک روایت میں کہتا ہے :٣

''خالد عمر کے بارے میں بد گمان تھا اور کہتا تھا: یہ ان ہی کا کام ہے ۔وہ حسد کی وجہ سے نہیں چاہتے کہ عراق میرے ہاتھوں فتح ہو اور یہ افتخار مجھے ملے اس کے باوجود خدا نے عراق کی سرحدوں کو میرے ہاتھوں توڑدیا اور وہاں کے لوگوں کے دلوں میں میرا خوف ڈال دیا اور مسلمانوں کو میری وجہ سے حوصلہ اور جرأت بخشی ''

باالآخر چھٹی روایت میں کہتا ہے :

''لیکن (خالد) یہ نہیں جانتا تھا کہ عمر کا کوئی قصور نہیں تھا ،یہاں تک کہ قعقاع نے اس سے کہا : عمر کے بارے میں بد ظن نہ ہو خدا کی قسم ابوبکر نے جھوٹ نہیں بولا ہے ۔ اور ظاہر داری نہیں کی ہے ''خالد نے قعقاع سے کہا:'' تم نے سچ کہا !لعنت ہو غصہ و بدگمانی پر ۔خدا کی قسم اے قعقاع !تم نے مجھے خوش بینی پر آمادہ کیا اور عمر کے بارے میں مجھے خوش بین بنا دیا '' قعقاع نے خالد کے جواب میں کہا:'' خدا کا شکر ہے جس نے تمھیں سکون بخشا اور تم میں خیر و نیکی کو باقی رکھا اور شر و بدگمانی کو تم سے دور کیا !!''

اس روایت سے سیف کی زبانی خالد کی جنگوں میں فتحیابیوں ،غنائم وغیرہ کے بارے میں جھوٹ اور افسانوں کے اسرار فاش ہوتے ہیں ۔سیف نے ان سب داستانوں اور افسانوں کو اس لئے گڑھا ہے تاکہ سرانجام خالد کی زبانی یہ کہلوائے کہ:

'' خدا نے میرے ذریعہ عراق کی سرحدوں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ،وہاں کے لوگوں کے دلوں میں میرا خوف ڈال دیا اور مسلمانوں کو ان سے جنگ کرنے کی جرأت وہمت بخشی ''

سیف کے بقول خالد بن ولید کے بعد یہ سب فضل وافتخار خاندان تمیم کے بے مثال سورما ''قعقاع ''اور اس کے تمیمی بھائیوں تک پہنچتے ہیں اور سر انجام قعقاع کی وجہ سے عمر کی نسبت خالد کی بد گمانیاں دور ہو جاتی ہیں ۔

اسی طرح ہم نے خون کے دریا کی داستان میں دیکھا کہ کس طرح یہ فضل وشرف ان دوناقابل شکست سور مائوں کے درمیا ن تقسیم ہوتے ہیں ۔

سیف نے خالد بن ولید کے لئے عراق کی طرح شام میں بھی قابل توجہ افتخارات کے افسانے گڑھے ہیں ،انشاء اللہ ان کا ہم آگے ذکر کریں گے ۔


سند کی پڑتال :

خالد کی عراق سے شام کی جانب روانگی کے بارے میں سیف کی حدیث کے راوی وہی ہیں جنھیں داستان ''الفراض''میں نقل کیا گیا ہے ۔جن کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے کہ وہ سب راوی جعلی اور سیف کے خیالات کی تخلیق تھے۔

اس جانچ کا خلاصہ :

طبری نے اپنی تاریخ میں ١٢ ہجری کے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے خالد کے ہمراہ قعقاع کی جنگوں کے بارے میں سیف کی روایتوں کا ذکر کیا ہے اور حموی نے اپنی جغرافیہ کی کتاب میں سیف کے ذکر کردہ مقامات کا نام لیا ہے ، اس کے بعد طبری سے ابن اثیر ،ابن کثیر ،ابن خلدون اور دیگر مورخین نے ان تمام مطالب کو نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ،جن کا ہم نے ذکر کیا جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں کہ صحابہ کی تاریخ کے بارے میں مذکورہ مورخین نے صرف طبری سے نقل کیا ہے اور طبری کی معتبر تاریخی سند سیف ابن عمر تمیمی کی کتابیں ''فتوح '' اور ''جمل '' ہیں ہم نے اس مطلب کو '' سبائیوں کے افسانے کا سرچشمہ '' کے عنوان سے اپنی کتاب '' عبد اللہ ابن سبائ'' میں واضح طورسے بیان کیا ہے ۔

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتیں :

بلاذری نے اپنی معتبر کتاب '' فتوح البلدان'' میں عراق میں خالد کی فتوحات کو تفصیل سے بیان کیا ہے، لیکن اس نے وہاں پر قعقاع اور لاکھوں انسانوں کے قتل عام کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے ،اور اس کے علاوہ متعدد جنگوں جیسے الثنی ،الولجہ اور حصید وغیرہ اور کئی شہروں کو فتح کئے جانے کا بھی ذکر نہیں کیا ہے ۔

طبری نے بھی سیف کے علاوہ ابن اسحاق کے ذریعہ خالد کی جنگوں کا ذکر کیا ہے اور اس میں تقریبا بلاذری کی طرح قعقاع اور دیگر مطالب کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملتا ۔

دینوری نے بھی اپنی کتاب '' اخبار الطوال '' میں عراق میں خالد کی جنگوں کے بارے میں کچھ مطالب درج کئے ہیں اس میں بھی قعقاع اور دیگر افسانوں کا کہیں ذکر نہیں ہے بلکہ جو کچھ اس سلسلے میں کہا گیا ہے وہ صرف سیف ابن عمر تمیمی کے یہاں پایا جاتا ہے اور وہ ان تمام افسانوں اور جھوٹ کا سر چشمہ ہے ۔٤


خالد شام جاتے ہوئے

سیف خالد ابن ولید کے سفر شام کے بارے میں لکھتا ہے :

''خالد نے عراق کے علاقہ '' سماوہ'' کے ایک گائوں کی طرف حرکت کی اور وہاں سے قصوان میں واقع '' مصیخ بہراء '' پر حملہ کیا اور مصیخ ایک بستی ہے '' نمر'' کے باشندے مئے نوشی میں مصروف تھے اور ان کا ساقی یہ شعر پڑھ رہا تھا :'' اے ساقی مجھے صبح کی شراب پلا دے اس سے قبل کہ ابوبکر کی سپاہ پہنچ جائے '' کہ تلوار کی ایک ضرب سے اس طرح اس کا سرتن سے جدا کیا گیا کہ شراب کا جام جو اس کے ہاتھ میں تھا خون سے بھر گیا''

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ایک اور روایت پیش کی ہے :

'' خالد نے ولید بہراء کے اسیروں کو اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا وہاں پر اسے اطلاع ملی کہ غسانیان نے ''مرج راہط '' میں فوج کشی کی ہے لہٰذا وہ ان کی طرف بڑھ گیا اور ''مرج الصفر '' کے مقام پر ان سے رو برو ہوا ان کا سردار '' حارث ابن الایہم '' تھا خالد نے ان سے سخت جنگ کی اور اس کو اور اس کے خاندان کو نابود کرکے رکھ دیا اس کے بعد چند دن وہاں پر قیام کیا اور جنگی غنائم کا پانچواں حصہ وہیں سے ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیجا اس کے بعد قنات بصری کی طرف بڑھا یہ شام کے ابتدائی شہروں میں سے ایک شہر تھا جو خالد کے ہاتھوں فتح ہوا اور خالد نے اس شہر میں پڑائو ڈال دیا پھر خالد قنات بصری سے نو ہزار سپاہیوں کے ساتھ رومیوں سے لڑنے کے لئے '' واقوصہ'' کی طرف بڑھا اور وہاں پر رومیوں سے جنگ کی ''طبری کی روایت کا خاتمہ ۔

یہ داستان کہاں تک پہنچی :

ابن اثیر نے یہی مطالب طبری سے نقل کئے ہیں اور اپنی تاریخ میں انھیں درج کیا ہے :

ابن عساکر نے قعقاع کے حالات کے بارے میں سیف کی روایت کو نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں لکھتا ہے :

''قعقاع بن عمرو نے خالد کے '' واقوصہ'' کی جانب بڑھنے کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں '' :


قعقاع کے رزمیہ اشعار

'' ہم نے خشک اور تپتے صحرائوں کو اپنے گھوڑوں کے ذریعہ طے کیا اور ''سومی'' کے بعد ''فرافر''کی طرف آگے بڑھے ۔وہیں پر ''بہرائ'' کی جنگ کا آغاز کیا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر ہمارے سفید اور زرد اونٹ ہمیں حملہ کے لئے ان غیر عرب اجنبیوں کی طرف لے گئے جو بھاگ رہے تھے ۔میں نے شہر بصری سے کہا : اپنی آنکھیں کھول دے اس نے خود کو اندھا بنا لیا کیوں کہ ''مرج ا لصفر ''کے مقام پر'' ایہم'' اور ''حارث غسانی' ' کی سرکردگی میں بعض گروہ خونخوار درندوں کی طرح جمع ہو گئے تھے۔ ہم نے ''مرج الصفر '' میں جنگ کی اور خاندان غسان کی ناک کاٹ کے رکھ دی اور انھیں شکست فاش سے دو چار کیا !اس دن ان لوگوں کے علاوہ جو ہماری تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھرے پڑے تھے بقیہ تمام غسانی بھاگ گئے ۔وہاں سے ہم پھر بصری کی طرف لوٹے اور اسے اپنے قبضہ میں لے لیا اور اس نے بھی جو کچھ ہم سے پوشیدہ تھا ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ۔ہم نے بصری کے دروازے کھول دیئے اس کے بعد وہاں سے اونٹوں پر سوار ہوکر '' یرموک'' کے قبائل کی طرف بڑھے ''

اس رجز کو ابن عساکر نے سیف کی روایت کے آخر مین درج کیا ہے جب کہ طبری نے اپنی عادت کے مطابق کہ وہ اکثر اشعار و رجز کو حذف کردیتا ہے اس رجز کا ذکر نہیں کیا ہے اور سیف کی روایت سے اسے حذف کر دیا ہے ۔

حموی بھی مصیخ کی معرفی میں سیف کی حدیث کو سند قرار دے کر لکھتا ہے :

' 'مصیخ بہرائ''شام کی سرحد پر ایک اور بستی ہے۔ خا لد بن ولید نے شام جاتے ہوئے ''سومی '' کے بعد وہاں پر پڑائوڈالا ۔چونکہ خالد نے مصیخ کے لوگوں کو مستی کی حالت میں پایا اوریہی مستی ان کے لئے موت کا سبب بنی ۔جب خالد نے اپنے سپاہیوں کو ان پر حملہ کرنے کا حکم دیا،ان کے بزرگ و سردار نے یہ حالت دیکھ کر چیختے ہوئے کہا : ''اے ساقی !صبح کی شراب پلا!اس سے قبل کہ ابوبکر کی فوج پہنچ جائے ،شائد ہماری موت نزدیک ہو اور ہم کچھ نہ جانتے ہوں ''

کہ تلوار کی ایک ضرب سے اس کاسر تن سے جدا کیا گیا اور خون و شراب باہم مل گئے۔ان کا کام تمام کرنے کے بعد ان کے اموال پر غنیمت کے طور پر قبضہ کیا گیا ۔غنائم کے پانچویں حصہ کو ابوبکر کے لئے مدینہ بھیج د یا گیا۔


اس کے بعد خالد یرموک کی جانب بڑھا ۔قعقاع بن عمرو نے مصیخ بہراء کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں :

یہاں پر حموی نے مذکورہ بالا اشعار کے شروع کے تین شعر ذکر کئے ہیں ۔

حموی نے یرموک کے موضوع کے بارے میں بھی سیف کی اسی روایت سے استناد کرتے ہوئے لکھاہے:

''قعقاع بن عمرو نے خالد کے عراق سے شام کی جانب روانگی کے بارے میں اس طرح کہاہے: ...''

اور یہاں پر وہ مذکورہ اشعار کادوسرا حصہ ذکر کرتاہے۔

عبد المؤمن نے یرموک اور مصیخ کی تشریح کرتے ہوئے اپنی کتاب ''مراصد الاطلاع''میں حموی کی روایت سے استناد کیاہے۔

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ:

جو کچھ خالد کی فتوحات کے بارے میں ذکر کیا گیاوہ سیف ابن عمر کی تحریر ہے۔ لیکن دوسروں کی تحریروں میں ایک تو ''مصیخ بہرائ''کا کہیں ذکر نہیں آیاہے۔دوسرے فتح بصری کے بارے میں تمام مورخین اس بات پر متفق القول ہیں کہ خالد کے وہاں پہنچنے سے پہلے ابو عبیدہ جراح ،یزید بن ابوسفیان ،اور شرجیل بن حسنہ کی سربراہی میں اسلامی فوج وہاں پر پہنچ چکی تھی ۔خالد اور اس کی فوج وہاں پہنچنے کے بعد ان سے ملحق ہوئی ۔اس لحاظ سے بصری صرف خالد اور اس کی سپاہ کے ہاتھوں فتح نہیں ہواہے۔ ٥

سند کی پڑتال:

سیف ،خالد کے عراق سے شام کی جانب جانے کے بارے میں محمد ومہلب سے روایت کرتا ہے کہ یہ دونوں راوی اس کے جعلی اصحاب ہیں ۔اسی طرح عبیداللہ بن محفز بن ثعلبہ سے بھی روایت کی ہے کہ اس نے قبیلہ بکر بن وائل کے کسی ایک فردسے روایت کی ہے ۔لیکن عبید خود ان افراد میں سے ہے جو مجہول ہیں اور وہ سیف کے ذہن کی مخلوق ہے ۔طبری نے سیف کی چھ روایتیں اس سے نقل کی ہیں ۔لیکن بکر بن وائل کے قبیلہ کاوہ فرد معلوم نہیں کون ہے کہ ہم راویوں کی فہرست میں اس کو تلاش کرتے !!


تحقیق کانتیجہ :

ابن عساکر قعقاع کے حالات کے بارے میں شروع سے آخر تک صرف سیف کی ایک حدیث کو نقل کرتا ہے اور خاص کرتاکید کرتا ہے کہ یہ سیف کی روایت ہے۔

طبری نے خالد کے شام کی طرف سفر کے بارے میں سیف کی حدیث کو نقل کیاہے لیکن اپنی

عادت کے مطابق اس کے رجز کوحذف کردیا ہے ۔

حموی نے اس روایت کے ایک حصہ کو مصیخ کے ذکر میں اور دوسرے حصہ کو یرموک کی تشریح میں کسی راوی کانام لئے بغیر ذکر کیا ہے اور یہی امر سبب بن جاتاہے کہ ایک محقق اس پر شک وشبہ کرے کہ ممکن ہے قعقاع کا نام سیف کی روایتوں کے علاوہ بھی کہیں آیا ہو ۔اسی طرح یہ شبہ مصیخ کے بارے میں بھی دکھائی دیتا ہے جب کہ وہ (محقق) نہیں جانتا کہ مصیخ سیف کے خیالات کی تخلیق ہے اور حقیقت میں اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔

سیف کی حدیث کے نتائج :

١۔ خالد بن ولید کے لئے شجاعتیں اور افتخارات درج کرانا۔

٢۔ مصیخ نام کی ایک جگہ کی تخلیق کرنا تاکہ یہ نام جغرافیہ کی کتابوں میں درج ہو جائے ۔

٣۔قعقاع کے اشعار سے ادبیات عرب کو مزین کرنا ۔

٤۔شام میں پہلی فتح کو خالد بن ولید اور اس کے عراقی سپاہیوں کے نام درج کرانا کیوں کہ عراق سیف ابن عمر کا وطن ہے ۔


قعقاع ،شام کی جنگوں میں

کم من اب لی قد و رثت فعاله

کتنے ایسے میرے اسلاف و اجداد ہیں جن سے میں نے نیکی اور شجاعت وراثت میں پائی ہے

(سیف کا افسانوی سورما ،قعقاع)

جنگ یرموک کی داستان

طبری ١٣ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

''یرموک کی جنگ میں خالد بن ولید نے گھوڑسواروں کی فوج کے ایک دستہ کی کمان قعقاع بن عمر و کو سونپی اور اسے دشمنوں سے لڑنے کا حکم دیا قعقاع نے خود کو جنگ کے لئے آمادہ کیا اور حسب ذیل رجز پڑھے :

'' کاش !جنگجو اور شجاع سپاہیوں کو تہس نہس کرنے سے پہلے تجھے سواروں کے درمیان دیکھتا ،تجھے میدان جنگ میں دیکھ کر تیرا مقابلہ کرتا''

اس کے بعد طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے جنگ کی تفصیلات درج کرتے ہوئے رومیوں کی جنگی تیاریوں کی عجیب طرز سے توصیف کی ہے:

''رومیوں نے اپنے سپاہیوں کی اس طرح تقسیم بندی کی تھی : اسّی (٨٠)ہزار فوجی ایک دوسرے سے سٹی ہوئی قطاروں کی صورت میں خود کو ایک دوسرے سے باندھے ہوئے تھے !چالیس ہزار فدائی جنگجوئوں نے خود کو زنجیروں سے ایک دوسرے سے وابستہ کر رکھا تھا !چالیس ہزار سپاہیوں نے بھی خود کو دستاروں کے ذریعہ ایک دوسرے سے باندھ رکھا تھا! اس کے علاوہ اسی(٨٠) ہزار سوار اور اسّی ہزار پیدل فوج تھی ،غرض دشمن نے ایک عظیم اور حیرت انگیز فوج کو منظم اور آمادہ رکھا تھا ''


خالد نے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ دشمن کی پیدل فوج پر حملہ کیا اور انھیں ایسے تہس نہس کرکے رکھ دیا کہ دشمن کی فوج ایک دیوار کے مانند دھڑام سے گر گئی ۔ رومی فوج اپنی خندق کی طرف دوڑ پڑی اور برگ خزاں کے مانند گروہ گروہ واقوصہ کی خندق میں ڈھیر ہو کر نابود ہوتی گئی اس طرح واقوصہ میں ایک دوسرے سے بندھے ہوئے سپاہیوں کی ایک عظیم قتل گاہ وجود میں آگئی ۔کافی تھا کہ ان میں سے ایک سپاہی کو قتل کیا جاتا اور وہ اپنے ساتھ دس سپاہیوں کو لیکر خندق میں جا گرتا تھا ،اس طرح دشمن کے ایک لاکھ بیس ہزار سپاہی مارے گئے !!''

ابن عساکر اس روایت کے آخر میں ،جسے اس نے واقوصہ کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل کیا ہے ،نیز قعقاع کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہوئے دو نوں کے آخر میں درج ذیل اشعار نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : قعقاع بن عمرو تمیمی نے یرموک کی جنگ میں یہ شعر کہے تھے ۔

''کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم یرموک کی جنگ میں اسی طرح فتحیاب ہوئے جس طرح عراق کی جنگوں میں کامیاب ہوئے تھے ؟ہم نے شہر یرموک سے پہلے شہر بصری کو فتح کیا جسے ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا تھا ۔ اسی طرح ایسے نئے نئے شہروں کو بھی فتح کیا جنھیں آج تک کسی نے فتح نہیں کیا تھا ۔ ہم نے شہر مرج الصفر کو اپنے سواروں اور پیدل فوج کے ذریعہ فتح کیا ۔جو بھی ہمارے سامنے آجاتا تھا اسے ہم ننگی تلوار سے قتل کر ڈالتے تھے اور جنگی غنائم لے کر لوٹتے تھے ۔واقوصہ کی جنگ میں ہم نے رومیوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کیا میدان جنگ میں ہمارے لئے ان کی قدر کبوتر کے فضلہ سے بھی حقیر تھی ۔واقوصہ کی جنگ میں ہم نے ان کی فوج کا قتل عام کیا اور ان کے کشتوں کے پشتے لگا دئے یہ ان کا المناک اور درد ناک انجام تھا''

ابن کثیر نے سیف کی اس روایت کو قعقاع کے اشعار کے ساتھ اپنی تاریخ کی کتاب میں ایک جگہ ذکر کیا ہے ۔

ابن اثیر نے صرف اصل روایت کو نقل کیا ہے لیکن مذکورہ اشعار درج نہیں کئے ہیں ۔

حموی نے لغت '' واقوصہ'' میں روایت کے ایک حصہ کو درج کیا ہے اور یوں لکھتا ہے:

'' واقوصہ شام میں سر زمین حوران میں ایک صحرا ہے ۔وہاں پر ابوبکر کے زمانہ میں اسلامی فوج نے پڑائو ڈال کررومیوں سے جنگ کی ہے اور قعقاع بن عمرو نے اس جنگ میں یہ شعر کہے ہیں :..

یہاں پر مذکورا بالا اشعار میں سے پہلا شعر اور پھر پانچویں سے ساتویں شعر تک درج کیا ہے ۔


سیف کی روایت کی حیثیت :

سیف نے یرموک کی فتح کو ١٣ھ میں بصری کی فتح کے بعد نقل کیا ہے ۔

لیکن ابن اسحاق اور دیگر مورخین نے '' اجنادین ''کی فتح کو '' بصری'' کی فتح کے بعد ذکر کیا ہے اور یرموک کی فتح کو ١٥ھ میں بیان کیا ہے اور اسے اس علاقہ کے شہروں کی آخری فتح جانتے ہیں دوسری جانب ''واقوصہ'' کا کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا ۔اس سلسلے میں صرف بلاذری لکھتا ہے کہ:

''رومیوں نے جنگ '' اجنادین '' کے بعد ''یاقوصہ'' میں ایک بڑی فوج جمع کی اور مسلمانوں نے وہاں پر رومیوں سے جنگ کی اور انھیں پسپا ہونے پر مجبور کیا''

لگتا ہے سیف نے لفظ'' یاقوصہ '' کو اس لئے ''واقوصہ'' میں تبدیل کیا ہے تاکہ اپنے مقصد کو پانے کے لئے مادئہ وقص یعنی گردن توڑنا سے استفادہ کرے اور اپنے فرضی میدان جنگ میں خالد بن ولید کی پیدل فوج کے شدید حملہ کے ذریعہ دشمن کی گردن توڑنے کو ثابت کرے۔

سند کی پڑتال :

سیف نے اس حدیث کے راوی کے طور پرمحمد بن عبداللہ کا نام لیا ہے ،جس کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہو چکا کہ وہ سیف کا جعلی راوی ہے ۔اس کے علاوہ ابو عثمان یزید بن اسیدعسانی کو راوی کے طورپر پیش کیا ہے ۔لیکن اس کے بارے میں ہم نے نہ تاریخ طبری میں اور نہ تاریخ ابن عساکر میں کوئی روایت پائی ،اس کے علاوہ چوں کہ ہم نے اس کانام راویوں کی فہرست اور طبقات روایت میں بھی کہیں نہیں پایا ،اس لئے اسے بھی سیف کا جعلی راوی جانتے ہیں ۔اور معلوم ہوا کہ یہ شخص بھی اس کے دیگر راویوں اور ناقابل شکست جعلی سورمائوں کی طرح حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتا ۔


حدیث کی پڑتال کا نتیجہ

سیف کے کہنے کے مطابق ،یرموک میں جنگ کے لئے آمادہ ہوکر حملہ کرنے والے اور رجزو رزم نامے پڑھنے والے بزرگ اصحاب،ناقابل شکست پہلوان اور اسلام کے سچے سپاہی ،خاندان تمیم کے دوسورماؤں ،یعنی قعقاع بن عمرو اور ابو مفزر کے علاوہ اور کون ہوسکتے ہیں ؟

''واقوصہ''کی جنگ میں ایک لاکھ بیس ہزار انسان قتل عام کئے جاتے ہیں ،سیف نے کمانڈر انچیف،خالد بن ولید اور اس کی پیدل فوج کے برق رفتار حملے کے نتیجے میں صرف واقوصہ کی جنگ میں ایک لاکھ بیس ہزار جوانوں کو خاک وخون میں لوٹتے دکھایاہے۔اس طرح اتنے انسانوں کاخون بہاکر چند لمحوں کے لئے اپنی نہ بجھنے والی پیاس کو تسکین دی ہے،جب کہ دیگر مؤرخین نے اس قسم کی کوئی بات بیان نہیں کی ہے۔انہی میں سے بلاذری بھی ہے جس نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان'' میں یرموک میں قتل ہوئے کل افراد کی تعداد ستر ہزار بتائی ہے۔اس کے علاوہ جاننا چاہئے کہ سیف وہ تنہا شخص ہے جس نے یرموک کی جنگ کو ١٣ ھ میں ذکر کیاہے۔

سیف کے افسانوی سورما قعقاع کی جنگوں اور فتوحات کے یہ وہ چند نمونے تھے جنھیں اس نے ابو بکر کے دور میں روایت کیاہے۔عمر کے دور میں شام میں قعقاع کی جنگ وفتوحات کے نمونوں کاجائزہ ہم آنے والی فصل میں پیش کریں گے۔


قعقاع ،عمر کے زمانے میں

قتل فیه من الروم ثمانون الفاً

''جنگ فحل میں اسّی ہزار رومی قتل کئے گئے ''

فتح دمشق کی داستان:

شہر دمشق کی فتح کے بارے میں سیف لکھتاہے:

''شہر دمشق کے محافظین کے سردار کے ہاں بیٹا پیدا ہواتھا۔محافظین نے ایک ولیمہ کا اہتمام کیاتھا۔اور کھانے پینے میں مشغول ہوئے اور اپنی ذمہ داریوں کوفراموش کرکے شہر کی اہم چوکیوں کی حفاظت سے غافل ہوگئے ۔اس امر سے خالد بن ولید کے علاوہ کوئی مسلمان آگاہ نہیں ہوا، چونکہ وہ ہوشیار تھا اور اس سے اس شہر کے باشندوں اور محافظوں سے متعلق کوئی چیز پوشیدہ نہ تھی!

رات ہوتے ہی خالد،قلعہ کے ساکنوں کی مستی اور غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قعقاع بن عمرو اور مذعور بن عدی کے ہمراہ پہلے سے بنائی گئی رسیوں کی سیڑھیاں لے کر قلعہ کے نزدیک پہنچا ۔ انھوں نے رسی کی سیڑھیاں دشمن کے قلعہ کی دیوار کے کنگروں پر پھینکیں دو رسیاں کنگروں میں اٹک گئیں ۔ قعقاع اور مذعور سیڑھیوں سے اوپر چڑھ گئے پھر انھوں نے باقی سیڑھیوں کی رسیاں کنگروں سے محکم باندھ لیں اور دیگر لوگ بھی قلعہ کی دیوارسے اوپر چڑھ گئے ۔اس کے بعد بے خبر ومست محافظین پر حملہ کرکے ماردھاڑ شروع کی۔اورآسانی کے ساتھ ان پر غلبہ پالیا۔اس کے بعد اسلام کے سپاہیوں کے لئے قلعہ کادروازہ کھولدیا...''

ابن عساکر نے اس پوری داستان کو سیف سے نقل کرنے کے بعد اضافہ کیاہے:

''اور قعقاع بن عمرو نے فتح دمشق کی مناسبت سے یہ شعر کہے ہیں :

سلیمان کے دوشہروں (دمشق وتدمر)کے نزدیک ہم نے کئی مہینوں تک استقامت کی اور اپنی تلواروں پر ناز کرنے والے رومیوں سے جنگ کرتے رہے۔جب ہم نے دمشق کے عراقی دروازے کو اپنے قبضے میں لے کر کھول دیا تو ان کے تمام سپاہیوں نے ہتھیار ڈال دئے۔جب پورے شہر پر ہمارا قبضہ ہوگیاتو میں نے حکم دیا کہ ان کے سر تن سے جدا کردئے جائیں اور ان کے گلے پھاڑدئے جائیں ۔ جب انھوں نے شہر دمشق اور تدمر میں ہمارے پنجے مستحکم ہوتے دیکھے توخوف ووحشت سے انگشت بدندان رہ گئے''۔


لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے کہ طبری نے اپنی تاریخ میں روایت کے آخر میں اشعار حذف کئے ہیں ۔اسی لئے مذکورہ اشعار کو بھی اپنی روایت میں درج نہیں کیاہے۔

یہ داستان کہاں تک پہنچی

فتح دمشق کی داستان کو طبری اور ابن عساکر دونوں نے سیف سے نقل کیاہے اور دوسروں جیسے،ابن اثیر اور ابن کثیر نے اسی طرح طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیاہے۔خاص کر ابن کثیر اس روایت کو اس طرح شروع کرتاہے:

''سیف کہتاہے .....''

اس کے بعد داستان کو آخر تک لکھتاہے۔

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ :

بلاذری نے فتح دمشق کی تشریح کرتے ہوئے اپنی کتاب ''فتوح البلدان '' میں لکھا ہے:

''خالدبن ولید نے ''دیرخالد ''کے باشندوں سے یہ شرط رکھی کہ اگر اسے ایک سیڑھی دیدیں ، جس کے ذریعہ وہ دمشق کے قلعہ کی دیوار پر چڑھ سکے تو ان کے خراج میں تخفیف کردے گا۔کہ آخر کار ابو عبید نے خالد کے مطالبہ کو پورا کیا''۔

سند کی پڑتال

فتح دمشق کی داستان کو سیف نے صرف ایک جگہ اور ایک روایت میں تین راویوں ،ابو عثمان ،خالد اور عبادہ سے نقل کیاہے۔ابو عثمان کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہوچکاہے کہ وہ سیف کا جعلی راوی اور اس کے ذہن کے تخلیق ہے۔

لیکن خالد وعبادہ جن سے طبری اور ابن عساکرنے سیف کے ذریعہ سولہ روایتیں نقلی کی ہیں کے بارے میں ہم فہرست اور طبقات رجال میں کوئی سراغ نہ پاسکے۔


فحل کی جنگ

طبری اور ابن عساکر نے سیف سے نقل کرتے ہوئے اس طرح روایت کی ہے:

''دمشق کو فتح کرنے کے بعد ابوعبیدہ''فحل''کی طرف روانہ ہوا۔رومیوں نے اسلامی فوج سے لڑنے اور ان کی پیشقدمی کو روکنے کے لئے اسّی ہزار فوج آمادہ کر رکھی تھی اور گھات لگاکر اچانک اسلامی فوج پر حملہ کیا۔مسلمانوں نے شجاعت اور دلیری کے ساتھ رومیوں کے اس اچانک حملہ کاڈٹ کر مقابلہ کیا۔اس طرح ایک گھمسان جنگ چھڑگئی ۔یہ جنگ ایک دن اور ایک رات جاری رہی۔مسلمانوں نے رومیوں کی فوج کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور سر انجام یہ جنگ مسلمانوں کی فتحیابی اور رومیوں کی ہزیمت پر ختم ہوئی۔

رومیوں نے پہلے سے ہی ایک خندق کھود کر اس میں پانی بھر دیاتھا تا کہ اسلامی فوج کی پیشقدمی کو روک سکیں ۔لیکن شکست کھاکر پیچھے ہٹتے ہوئے رومی خود اس خندق میں گر کر دلدل میں پھنس گئے ۔ایسے پھنسنے والوں کاحال معلوم ہی ہے کہ کیا ہوگا!اس طرح اس جنگ میں اسّی ہزار رومی ہلاک ہوگئے مگر یہ کہ کوئی فرار ہونے میں کامیاب ہواہو !

ابن عساکر نے اس داستان کے آخر میں یہ اضافہ کیاہے:

''اور قعقاع بن عمرو نے فحل کی فتحیابی کے سلسلے میں اس طرح شعر کہے ہیں :

''کتنے ایسے میرے اسلاف ہیں ،کہ ان کے نیک کام مجھے وراثت میں ملے ہیں ۔میرے اجداد ایسے ہیں جن کی عظمت وبزرگواری سمندر کے مانندہے۔انھوں نے بھی فضائل کو اپنے اجداد سے وراثت میں پایاتھا اور بصیرت وبلند نظریات کی بناپر ان فضائل کو چار چاند لگائے تھے ۔میں نے بھی اپنی ذمہ داری کے مطابق ان مفاخر وفضائل کو بڑھاوادیا اور انھیں نقصان پہنچنے نہیں دیا۔میری اولاد بھی اگر میرے بعد زندہ رہے تو وہ بھی ان فضائل و مفاخر کے بانی ہوں گے ''


''فوج کے سپہ سالار ہمیشہ ہم میں سے رہے ہیں ،وہ بادشاہوں کی طرح حملہ کرتے ہیں ، ان کے پیچھے بہادر فوج ہے ۔ہم میدان کارزار کے بہادر ہیں ،جس وقت سرحد کے محافظ سستی دکھاتے ہیں ،ہم ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ان پر فتح پاتے ہیں ''

فحل کی جنگ میں جب میرا گھوڑا کرو فر کے ساتھ لمبی لمبی سانسیں لینے لگا اور بلائیں چاروں طرف سے گھیرنے لگیں تو لوگ میری سر بلندی اور بہادر ی کا مشاہدہ کر رہے تھے ۔اگر میری جگہ پر کوئی اور ان بلائوں سے مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آتا تو بے چارہ اور ذلیل ہو کے رہ جاتا اور ایسے کام کو اپنے ذمہ لینے پر شرمندہ ہو جاتا !''

عربی گھوڑے فحل کے میدان کارزار میں گردو غبار کو آسمان پر اڑاتے ہوئے دشمن کی فوج کو کچلے دے رہے تھے ،سر انجام ان کے گھوڑوں نے اپنے ہی سرداروں کو دلدل میں گرادیا اور وہ اٹھنے کے قابل نہ رہے ۔اس کے بعد ہم نے سر نیزوں سے دشمن پر حملہ کیا ۔ ہم نے ان کی فوج کو دلدل میں نابود کرکے رکھ دیا اس دن تمام نگاہیں مجھ پر متمرکز تھیں ۔

اس کے علاوہ سیف نے روایت کی ہے کہ قعقاع نے جنگ فحل میں یہ شعر کہے ہیں :

''فحل کی جنگ میں ہم اتنے مشکلات سے دو چار ہوئے کہ جس کے خوف سے پہلوان اپنے اسلحہ کو گھر میں ہی بھول جاتے تھے ۔میں اس دن اپنے مشہور گھوڑے پر پوری طاقت سے سوار ہوکر اپنے بہادر فوجیوں کے ساتھ دشمن پر تیر باران کرتا تھا ۔ بالاخر ہم نے مقاومت کرنے والے دشمن کے فوجیوں کو تلوار کے وار سے منتشر کرکے بھگا دیا''

''ہم ہی ہیں جنھوں نے عراق کو اپنے گھوڑوں سے عبور کیا اور شام میں اپنی تلواروں کے سائے میں جنگ لڑی اور عراق اور اس کی جنگوں کے بعد بہت سے نصرانیوں کو نابود کرکے رکھ دیا ''

حموی نے سیف کی اس روایت پر استناد کرکے لغت ''فحل'' کے بارے میں لکھا ہے :

''جس سال مسلمانوں کے ہاتھوں دمشق فتح ہوا ،اسی سال فحل میں مسلمانوں اور اسّی(٨٠) ہزار رومی فوج کے درمیان جنگ ہوئی اور قعقاع بن عمرو تمیمی نے اس جنگ کے بارے میں یوں کہا ہے ...:

اس کے بعد روایت کی سند کے بارے میں کسی قسم کا اشارہ کئے بغیر چار شعر ذکر کئے ہیں ۔


سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ:

طبری نے ''فحل'' کی پوری داستان سیف سے نقل کی ہے ،اور معمول کے مطابق اس سے مربوط رجز و شعر کو حذف کیا ہے ۔

ابن عساکر نے بھی فحل کی پوری داستان سیف سے نقل کی ہے اور اس سے مربوط اشعار بھی ذکر کئے ہیں ۔

حموی نے اس داستان کا تھوڑ ا سا حصہ لغت '' فحل '' کے سلسلے میں سند کے بغیر ذکر کیا ہے لیکن اس داستان سے مربوط مطالب ،ان مطالب سے مختلف ہیں جو دیگر مورخین نے اس سلسلے میں درج کئے ہیں مثال کے طور پر بلاذری نے اس معرکہ میں قتل ہوئے لوگوں کی تعداد دس ہزار بتائی ہے ۔اس کے علاوہ کسی بھی مورخ نے شام کی جنگوں میں خاندان تمیم کے سورمائوں کی شرکت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

ابن عساکر لکھتا ہے :

''مورخین کا اتفاق ہے کہ شام کی فتوحات میں قبائل اسد ،تمیم اور ربیعہ میں سے کسی نے شرکت نہیں کی ہے بلکہ وہ اپنی لشکر گاہ یعنی عراق کے حالات کے مطابق وہیں پر ایرانیوں سے بر سر پیکار تھے '' ١

سند کی پڑتال :

سیف نے داستان فحل ،ابو عثمان یزید سے روایت کی ہے جب کہ پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کاحقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے بلکہ وہ سیف کا جعل کردہ راوی ہے ۔


جانچ پڑتال کا نتیجہ :

فتح دمشق میں ''دیرخالد ''کے باشندے ،خالد بن ولید کو ایک سیڑھی دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ وہ دمشق کے قلعہ پر چڑھ سکے ۔جبکہ سیف کہتاہے کہ قعقاع اور اس کے ساتھی رسیوں سے سیڑھیاں بنائیں اور ان کے ذریعہ قلعہ کے برج پر چڑھے۔

سیف کہتاہے کہ جنگ فحل مین اسّی ہزار دشمن کے سپاہی مارے گئے ،جب کہ دوسرے مورخین اس جنگ میں قتل ہوئے لوگوں کی تعداد تقریباً دس ہزار بتاتے ہیں ۔

سیف نے فحل کی جنگ اور اس میں دشمن کی شکست کو فتح دمشق کے بعد ذکر کیا ہے ،جبکہ دوسرے مؤرخین کاکہنا ہے کہ یہ جنگ فتح دمشق سے پہلے واقع ہوئی ہے۔

سیف نے اپنے افسانوی سورما،قعقاع بن عمرو سے فتح فحل کے بارے میں اشعار نقل کئے ہیں ۔طبری نے اپنی روش کے مطابق انھیں اپنی روایتوں میں حذف کیا ہے ، جب کہ ابن عساکر نے طبری کے برعکس ان تمام اشعار کو درج کیاہے ۔اورحموی نے لغت''فحل''کے بارے میں ،جیسا کہ ذکر ہوا،سیف کی روایتوں اور اشعار کے ایک مختصر حصہ کو درج کرنے پر اکتفاء کی ہے۔

طبری نے یہ داستان سیف سے نقل کی ہے اور اس کے بعد والے مؤرخین ،جیسے ،ابن اثیر،ابن کثیراور ابن خلدون نے مذکورہ داستان کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیاہے۔خاص کر ابن کثیر اس سلسلے میں داستان کے مصدر یعنی طبری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں لکھتاہے:

''امام ابوجعفر ،فتح دمشق کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے یوں روایت کرتے ہیں :......''


سیف کی حدیث کے نتائج:

١۔قلعہ دمشق پر چڑھ کر قلعہ کو تسخیر کرنے میں خاندان تمیم کے افسانوی اور ناقابل شکست سورما قعقاع بن عمرو کی شجاعت و بہادری دکھانا۔

٢۔جنگ فحل میں واقعی مارے گئے افراد کے علاوہ ستر ہزار انسانوں کا قتل عام دکھانا۔

٣۔ قعقاع سے منسوب رزمی اشعار کو نشر کرنا ،جس میں اس نے ثابت کیا ہے کہ خاندان تمیم کے بہادر میدان کارزار کے بادشاہ ہیں ،وہ ایک دوسرے سے بہتر ناقابل شکست اور نامور ہیں ،قدرت اور جوانمردی انھیں اپنے اسلاف سے وراثت میں ملی ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی یعنی قعقاع کو یہ بہادری اپنے اجداد سے وراثت میں ملی ہے اور اس کے بعد اس کی اولاد بھی اس بہادری کے بانی ہیں ۔وہ (قعقاع) جنگوں میں فتح و کامرانی کا مرکز ی کردار تھا اور وہ تنہا سورما ہے کہ جس کی طرف میدان کا رزار میں نگاہیں متمرکز رہتی ہیں !

تحقیقات کا خلاصہ :

قعقاع وہی ناقابل شکست سورما ہے جس نے یرموک کی جنگ کا محاذ کھولا اور اس جنگ میں عراق کی جنگوں کی طرح فتح و کامرانیاں حاصل کیں ۔ قعقاع نے یرموک ،دمشق اور فحل کی جنگوں میں شرکت کی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں رزمیہ اشعار کہے ہیں !

ان جنگوں کا نتیجہ ایک لاکھ دس ہزار انسانوں کا قتل عام ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں خاک و خون میں غلطاں کئے گئے اور اس سے قبل والے مقتولین میں ان کا اضافہ ہوا ہے ۔

یہ سب مطالب سیف کے افسانوں کا نتیجہ ہیں اور وہ تنہا قصہ گو اور افسانہ سازہے جو اس طرح کی بیہودگیوں کا خالق ہے ۔

یہ وہ مطالب تھے جو ہم نے سیف کی روایتوں میں شام کے مختلف نقاط میں قعقاع کی افسانوی جنگوں کی صورت میں پائے ۔سیف کے مطابق شام کی فتوحات کے بعد قعقاع دو بارہ عراق لوٹا ہے اور چند دیگر جنگوں میں شرکت کرکے فتوحات حاصل کی ہیں جن کا ہم اگلی فصل میں جائزہ لیں گے ۔


قعقاع ،عراق کی جنگوں میں

ازعجهم عمداً بها ازعاجا

اطعن طعنا صائبا ثجاجا

'' دشمن کی صفوں کو اپنے پے د رپے حملوں سے تہس نہس کرتا ہوں اور ان پر ایسا نیزہ مارتا ہو ں جو صحیح نشانہ پر لگے اور خون بہائے''

قعقاع کی شام سے واپسی

ابن عساکر اور طبری نے سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے قعقاع کی شام سے واپسی کا سبب یوں بیان کیا ہے :

'' خلیفہ عمر نے ابو عبید ہ کو ایک خط لکھا تاکہ وہ شام میں مامور عراقی سپاہیوں کو سعد و قاص کی مدد کے لئے واپس عراق بھیج دے ۔ابو عبیدہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عراقی سپاہیوں کو قعقاع کی سرکردگی میں ان کے وطن عراق کی طرف

لوٹنے کا حکم دیا''٢

اب ہم سعد بن وقاص کی کمانڈ میں عراق کی جنگوں میں قعقاع کی جنگی کاروائیوں کی تفصیلات پر نظر ڈالتے ہیں :


جنگ قادسیہ میں

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے جنگ قادسیہ کے تین روز کے واقعات کی یوں تشریح کی ہے :

١۔روز ارماث : ارماث کے واقعات پر قعقاع کے بھائی عاصم بن عمرو کے بارے میں گفتگو کرتے وقت وضاحت کریں گے؛

٢۔''روز اغواث'':اس سلسلے میں طبری نے پہلے ابو عبیدہ کے نام خلیفہ کے خط اور قعقاع کی سرپرستی میں عراقی فوجیوں کو اپنے وطن روا نہ کرنے کا مسئلہ بیان کیا ہے اور اس کے بعد لکھتا ہے :

''قعقاع فوری طور پر شام سے عراق کی طرف روانہ ہوا اور یکے بعد دیگرے پڑائو کو طے کرتے ہوئے اغواث کے دن میدان جنگ قادسیہ کے نزدیک پہنچا ۔وہاں پر ایک ہزار افراد پر مشتمل اپنے سپاہیوں کو دس دس افراد کی ٹولیوں میں تقسیم کرکے حکم دیا کہ اس طرح میدان کارزار میں داخل ہوں کہ پہلا گروہ آگے بڑھے اور دوسرا گروہ تب قدم آگے بڑھائے،جب پہلا گروہ نظروں سے غائب ہو چکا ہو اسی طرح تیسرا اور چوتھا گروہ آگے بڑھے اور خود قعقاع پہلے گروہ کے آگے آگے مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوا ان پر درود بھیج کر انھیں خوشخبری دی کہ مدد پہنچ رہی ہے اور انھیں دشمن سے لڑنے کی ہمت دلائی اور شدید جنگ کے لئے آمادہ کیا اور کہا : جو کچھ میں انجام دوں ،تم لوگ بھی اسی پر عمل کرنا '' اس کے بعد میدان جنگ کی طرف روانہ ہو ا اور مقابلہ کے لئے اپنا مقابل طلب کیا''

قعقاع جب اس ٹھاٹ باٹ اور شان و شوکت سے آگے بڑھا تو دوسرے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے ۔اسلام کے دلاور سپاہی قعقاع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کودکھاتے ہوئے کہتے تھے : یہ وہی بہادر شخص ہے جس کے بارے میں ابوبکر نے کہا ہے کہ : جس فوج میں یہ بہادر ہوگا وہ کبھی شکست سے دو چار نہیں ہوگی!''


قعقاع نے جب میدان جنگ میں مقابلہ کے لئے اپنا مقابل طلب کیا تو ایرانی فوج میں سے ''ذوالحاجب '' نامی ایک پہلوان آگے بڑھا ۔یہ وہی پہلوان تھا جس نے جسر کی جنگ میں ابو عبیدکو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا قعقاع نے ابو عبید کے قاتل کو پہچان کر بلند آواز میں اس سے مخاطب ہو کر کہا :'' اب میں تجھے اپنے دوستوں ابو عبید وغیرہ جو جسر کی جنگ میں مارے گئے کے انتقام میں قتل کر ڈالوں گا'' اس کے بعد ایک زور دار حملہ کیا اور تلوار کی ایک ضرب سے ہی ذوالحاجب کو ڈھیر کر دیا۔ اس کے بعد ایرانی فوج کا بیرزان نامی دوسرا پہلوان مقابلہ کے لئے میدان میں آیا ،قعقاع نے اس کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

دوسری طرف قعقاع کے سوار فوجی ،رات گئے تک اپنے سردار کے حکم کے مطابق دس دس افراد کی ٹولیوں میں مشخص فاصلہ اور وقت کی رعایت کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمانوں کی فوج میں پہنچا رہے تھے ہر ٹولی کے پہنچنے کے وقت قعقاع خبر دیتے ہوئے اور فوج کے حوصلے بلند کرنے کے لئے نعرۂ تکبیر بلند کرتا تھا اس کے نتیجہ میں اسلامی فوج کی ہمت بڑھتی تھی اور دشمن کی فوج کی بنیادیں متزلزل ہو تی جاتی تھیں ۔

قعقاع نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنے کے لئے پکار کر کہا '' اے مسلمانوں ! دشمن کو اپنی تیز تلواروں کے ذریعہ خبر دے دو کہ یہ ان کے لئے موت کا پیغام ہے ''

قادسیہ کی جنگ میں اغواث کے دن ہی اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف سعد وقاص نے شجاع ترین سپاہیوں کے لئے خلیفہ عمر کی طرف سے بھیجے گئے تحفوں میں سے ایک گھوڑا قعقاع کو عطا کیا قعقاع نے اس سلسلے میں درج ذیل شعر کہے ہیں ۔

'' عربی گھوڑے ہمارے علاوہ کسی کو نہیں پہچانتے ،اغواث کے دن شام کو قادسیہ کے نزدیک اس شب جب ہم نے دشمن پر حملہ کیا ہمارے نیزے پرندوں کی طرح دشمن کی طرف پرواز کر رہے تھے ...''


اغواث کے دن قبیلہ تمیم کی پیدل فوج دس دس افراد کی ٹولیوں میں اونٹوں کے ہمراہ جنھیں انھوں نے سرتاپا ڈھانپ رکھا تھا اور ان کی خوفناک اور بھیانک صورت بنا رکھی تھی اپنے قبیلہ کے سواروں کی حفاظت میں خصم کے سپاہیوں پر تا پڑتوڑ حملے کر رہی تھی ۔قعقاع نے حکم دیا تھا کہ ان اونٹوں کے ذریعہ دشمن کی سوارفوج کی صفوں پر حملہ آور ہوں تاکہ دشمن کے گھوڑے مسلمانوں کے سر تا پاڈھانپے گئے اونٹوں کو ہاتھی سمجھ کر ڈر کے مارے بھاگ جائیں اور دشمن کی فوج میں بھگدڑ مچ جائے بالاخر ایسا ہی ہوا اور دشمن کی فوج پر کاری ضرب لگ گئی ۔اغواث کے دن قعقاع کی اس فوجی حکمت عملی کے نتیجہ میں ایرانی فوج کو جس قدر جانی نقصان اٹھانا پڑا وہ ارماث کے دن کی شکست اور جانی نقصان سے کہیں شدید اور سنگین تھا جو مشرکین سے مسلمانوں کو اٹھانا پڑا تھا۔

اغواث کے دن جنگ کے دوران قعقاع جہاں کہیں بھی مشرکین کے سواروں کو پاتا تھا ،ان پر حملہ کرکے انھیں بری طرح شکست دیتا تھا اور ہر حملہ میں ان کے نامور سپاہیوں کے ایک گروہ کو موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا۔ قعقاع نے اس روز دشمن کی فوج پر تیس ایسے حملے کئے کہ ہر حملہ میں ان کے کسی نہ کسی پہلوان اور دلاور کو موت کے گھاٹ اتارتا تھا تیسویں حملہ مین اس نے '' بزرگ مہر '' کو قتل کر ڈالا اس سلسلے میں قعقاع نے یہ شعر کہے ہیں :

''میں ان کو اپنے حملوں سے اذیت پہنچاتاہوں ،ان پر نیزے پرساتا ہوں اور ان نیزوں کو صحیح نشانوں پر مارتا ہوں ۔اس طرح اپنے لئے بہشت میں بہترین جگہ کی امید رکھتا ہوں ۔میں اپنی تلوار کی جان لیوا ضرب ان پر لگاتا تھا ،وہ تلوار جو سورج کی کرنوں کی طرح چمکتی تھی ۔اغواث کے دن میں نے پراکندہ اور فراری ایرانیوں کو اپنے نیزوں کا نشان بنا دیا ۔جب تک میرے اور میرے ساتھیوں کے بدن میں جان ہے ہم جنگ کو جاری رکھیں گے ''

٣۔روز عماس : طبری نے سیف بن عمرو سے نقل کرتے ہوئے '' روز عماس '' کے بارے میں تفصیل سے یوں لکھا ہے:

''قعقاع بن عمرو نے اپنے افراد کو رات کی تاریکی میں منتشر حالت میں اسی جگہ بھیجا ،جہاں پر اغواث کی شب کو جمع ہوئے تھے اور ان کے ساتھ طے کیا کہ اس بار سو سو افراد پر مشتمل دستہ کی صورت میں صبح سویرے روز اغواث کے مانند اسلامی فوج کے ساتھ جاکر ملحق ہوں ،تاکہ اس طرح اسلامی فوج کی امید یں اور حوصلے بڑھ جائیں قعقاع کی اس فوجی حکمت عملی سے دشمن کی فوج کا ایک شخص بھی آگاہ نہ ہوا۔


فوجی کمان کے صدر مقام پر قعقاع بذات خود حاضر تھا ۔پو پھٹتے ہی اپنی فوج کے پہلے دستہ کی آمد کا منتظر افق کی طرف آنکھیں گاڑے ہوئے تھا کہ اچانک اس کے سوار وں کی گرد دور سے اڑتی ہوئی نظر آئی ۔قعقاع نے تازہ دم امدادی فوج کی آمد کی خبر دینے کے لئے تکبیر کی آواز بلند کی ،اسلامی فوج نے اس تکبیر کو سن کر جواب میں تکبیر کہی اور ان کے حوصلے بلند ہوگئے

سعد وقاص نے جب دیکھا کہ دشمن کے جنگی ہاتھی مسلمانوں کی فوج کی صفوں میں شگاف پیدا کر رہے ہیں اور عنقریب اسلامی فوج کا شیرازہ بکھرنے والا ہے تو اس نے خاندان تمیم کے دو نامور پہلوانوں ،قعقاع اور اس کے بھائی عاصم کو حکم دیا کہ وہ کوئی چارہ تلاش کریں اور سفید ہاتھی کہ دوسرے ہاتھی جس کے پیچھے پیچھے حرکت کر رہے تھے کو موت کے گھاٹ اتار دیں ۔دونوں بھائی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دو چھوٹے ،مضبوط ١ لیکن نرم اور لچک دار نیزے اٹھاکر چند ساتھیوں کے ہمراہ انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے لشکر سے جدا ہو کر آگے بڑھے اور بالآخر اس راہنماسفید ہاتھی کے نزدیک پہنچے جب سفید ہاتھی مکمل طور پر ان کے سامنے پہنچا اور ان دو پہلوانوں کے حملے کی زد میں آگیا ،تو دونوں بھائی بجلی کی طرح اس سفید ہاتھی پر ٹوٹ پڑے اور بڑی مہارت اور پوری طاقت کے ساتھ اس کی دونوں آنکھوں میں نیزے بھونک دئے اور اسے اندھا کر دیا ۔ہاتھی نے درد کے مارے تڑپتے ہوئے غصہ کی حالت میں اپنی سونڈ کو بلند کیا کہ قعقاع نے انتہائی مہارت اور چابکدستی سے تلوار کے ایک وار سے اس کی سونڈ کو کاٹ کر رکھ دیا ۔ہاتھی دھڑام سے زمین پر گر گیا اور اس کا سارا کروفر ختم ہو گیا ۔

قعقاع نے اس فتحیابی پر یہ شعر کہے ہیں :

''میرے خاندان ،فرزندان یعمر نے جنگ و پیکار میں میری حوصلہ افزائی کی وہ اس ہمت افزائی میں کیا خوب نیزوں کو میدان کارزار میں لہرا تے تھے ،جس دن آزاد کردہ لوگوں کی حمایت میں اٹھ کر جنگ قادسیہ کے لئے آگے بڑھے تھے۔میرے خاندان نے جنگ کی ذمہ داری سے کبھی پہلو تہی نہیں کی ہے ۔جب میں دشمن سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہوجائوں تو ان کی فو ج کو جہاں کہیں بھی ہو تہس نہس کرکے رکھدوں گا۔میں جنگوں میں مشکلات کو مول لیتا ہوں اور عمارتوں کے برابر عظیم الجثہ ہاتھیوں کو جب حملہ آور حالت میں دیکھتا ہوں تو اپنے نیزے کو ان کی آنکھوں میں بھونک دیتا ہوں ۔''


ابن عساکر نے سیف سے نقل کیا ہے کہ ام المومنین عائشہ نے کہا ہے :

''قعقاع پہلا پہلوان ہے جس نے قادسیہ کی جنگ میں مسلمانوں کو عملی طور پر سکھایا کہ کس طرح ہاتھی کی سونڈ کو کاٹ دینا چاہئے ۔ اس کے بعد مسلمان ہاتھیوں پر جان لیوا تیروں کی بارش کرتے تھے ،جو صرف ہاتھیوں پر لگتے تھے اس کے بعد ان کی سونڈکاٹ کر انھیں موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے ...!''

ابن حجر نے بھی قعقاع کی زندگی کے حالات کے بارے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے ام المونین عائشہ کی زبانی مختصر طور پر اسی داستان کو نقل کیا ہے ۔

اسلامی ثقافت پر سیف کی روایتوں کے اثرات :

حموی ،سیف کی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے لغت ''اغواث'' کے بارے میں لکھتا ہے :

''مجھے معلوم نہیں ارماث ،اغواث اور عماس ہر ایک کسی جگہ کے نام ہیں یا لفظ رمث،غوث اور عمس سے لئے گئے ہیں ۔بہرحال قعقاع بن عمرو نے اپنے اشعار میں روز اغواث کے بارے میں اشارہ کیا ہے ۔اور وہ پہلا دن تھا،جس دن قعقاع نے شام سے واپسی پر قادسیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے۔''

لفظ عماس کے بارے میں لکھتا ہے :

''عماس عین پر کسرہ کے ساتھ جنگ قادسیہ کا تیسرا دن ہے ۔مجھے معلوم نہیں کہ ''عماس''کسی جگہ کا نام ہے یالفظ ''عمس ''سے لیا گیا ہے جو ''معس''کا مقلوب ہے۔

روز اغواث جو سیف کے خیالات کی تخلیق ہے نے بہت شہرت حاصل کی ہے ،اس حد تک کہ ابن عبدون نے اپنے اشعار میں اس دن کے بارے میں اشارہ کیا ہے اور ابن بدرون نے اس کے قصیدہ کی تشریح کی ہے اس میں روز اغواث کے بارے میں سیف کی تمام روایت کو نقل کیا ہے۔ ٢

قلقشندی وفات ٨٢١ھ نے روز ''اغواث ''کو اسلام کے معروف دنوں کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ ٣

زبیدی وفات١٢٠٠ھ نے ''تاج العروس ''میں لفظ ''اغواث ''کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :

''روز اغواث ،جنگ قادسیہ کا دوسرا دن تھا ،اور قعقاع بن عمرو نے اس روز درج ذیل شعر کہے ہیں :

''عربی گھوڑے ہمارے علاوہ کسی کو نہیں پہچانتے تھے...''تاآخر


لیلةالھریر

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: ٤

''جب عماس کا دن تمام ہو ااور رات آئی تو جنگجوئو ں نے تھوڑی دیر کے لئے لڑائی روک لی ۔پھر رات بھر دونوں لشکر دوبارہ جنگ میں مصروف ہوگئے ۔شب کے سناٹے میں تلواروں کی جھنکار جنگجوئوں کے بگل کی آواز سے مل کر ایک عجیب اور مرموز آواز پیدا کررہی تھی اسی لئے اسے ''لیلة الھریر''کا نام دیا گیاہے۔یعنی وہ شب جس میں کتے کے رونے کی آواز آتی ہو۔''

طبری نے سیف سے روایت کی ہے:

''ایرانیوں نے مسلمانوں کے محاذ پر اندھا دھند اور جان لیوا تیر اندازی کی ، جس کے نتیجہ میں خالد بن یعمر تمیمی مارا گیا۔قعقاع نے جب یہ حال دیکھا تو جذبات میں آکر سعد وقاص سے اجازت لئے بغیر دشمن کے تیر اندازوں پر ٹوٹ پڑا۔ وہ خالد کے سوگ میں یوں رجز پڑھ رہا تھا:

''خدا ،ابن یعمر کے مزار کو سیراب کرے ۔جب مسافر بار باندھ رہے ہیں وہ اپنی جگہ پر باقی ہے ۔خدا صبح کی بارش سے اس زمین کو ہمیشہ سیراب کرے جہاں پرخالد کی قبر ہے۔میں نے قسم کھائی ہے کہ میری تلوار ہمیشہ دشمنوں کے خون سے رنگین رہے اور ان کو قتل کرے ۔اگر لوگ یہاں سے چلے جائیں ،پھر بھی خالد یہیں پر رہے گا۔''

سپہ سالار ،سعد نے جب قعقاع کی بغیر اجازت جنگ کا مشاہدہ کیا،تو ہاتھ اٹھاکر دعا کی:خداوندا!اسے اس نافرمانی کے لئے بخش دے اور اس کی مدد فرما!اس وقت میں اسے اجازت دیتا ہوں ۔اس کے بعد اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ قعقاع کی مدد کے لئے فوری طور پر آگے بڑھیں ۔

اس رات پو پھٹنے تک جنگ کا بازار اتنا گرم رہا کہ اس کے شعلے بھڑک رہے تھے ، سعد وقاص نے فتحیابی کی نوید پر مشتمل جو پہلی آواز سنی وہ قعقاع کی درج ذیل آواز تھی:

''ہم نے ایک ،چار اور پانچ کے گروہ کو نابود کردیا ۔ان میں ان مردوں کوبھی شمار کیا،جو گھوڑوں پر زہریلے نر سانپوں کی طرح سوار تھے۔چونکہ ہم نے ان سب کو موت کے گھاٹ اتاردیا ،لہٰذا خدا کا شکر ادا کیا۔''


جنگجوئوں نے اس رات آنکھ نہ جھپکائی بلکہ پو پھٹنے تک دشمنوں سے جنگ کرتے رہے۔ اس تھکاوٹ اور بے خوابی کے عالم میں قعقاع لشکر کے درمیان گھوم گھوم کر لوگوں سے کہہ رہا تھا : '' ایک گھنٹہ صبر کرو کہ استقامت کے سائے میں کامیابی مضمرہے'' قعقاع کی اس گفتگو کو سن کر بعض فوجی افسر اس سے ہم آہنگ ہو کر جنگ کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرنے کے لئے دشمن کی فوج کے سپہ سالار رستم کی طرف حملہ آور ہوئے اور ایک گھمسان جنگ کے بعد پو پھٹتے ہی اپنے آپ کو اس کے نزدیک پہنچا دیا دوسری طرف بقیہ تمام قبائل کے سردار وں نے جب قعقاع کے فیصلہ کن حملہ کا مشاہدہ کیا تو اپنے افراد کو بھی ڈٹ کر لڑنے کے لئے آمادہ کیا ۔اسی دوران ہوا کا ایک طوفان آیا اور ایک ہولناک بگولے نے ایرانی فوج کے سپہ سالار کا تخت نیچے گرا دیا ۔اسی حالت میں قعقاع اور اس کے ساتھی اس کے پاس پہنچے اور اس کا کام تمام کردیا ۔رستم کے قتل ہونے سے دشمن کی فوج کا شیرازہ بکھر گیا اور مشرکین بھاگنے پر مجبور ہو گئے اور مسلمان فتحیاب ہوگئے ۔

سعد وقاص نے قعقاع اور دیگر سپاہیوں کو حکم دیا کہ فراریوں کا پیچھا کریں ۔فراری جب دریا پر بنے پل سے گزرے تو انھوں نے پل کو اٹھا دیا تاکہ مسلمانوں کی پیش قدمی روک سکیں ''

''اطلال '' گھوڑے کی گفتگو

'' بکیر ،اطلال نامی ایک گھوڑے پر سوار دشمنوں کا پیچھا کر رہا تھا ۔دریائے قادسیہ کے کنارے اپنے گھوڑے سے بلند آواز میں بولا : اطلال چھلانگ مارااطلال نے اپنے سوار کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو سمیٹا اور بولا سورۂ بقرہ کی قسم میں چھلانگ مارتا ہوں !یہ کہتے ہوئے اطلال نے چھلانگ لگائی اور دریا کے اس پار زمین پر اترا ۔اس کے بعد دوسرے سواروں نے بھی اپنے گوڑے دریا میں ڈال دیئے اور اس کو پار کرتے ہوئے فراری دشمنوں کا پیچھا کیا ،جسے بھی پاتے تھے اسے قتل کرتے ہوئے آگے بڑھتے تھے ،حتی نجف کی بلندیوں تک پہنچ گئے اور اس کے بعد واپس لوٹے ''


بکیر کے گھوڑے ،اطلال کی گفتگو اور دریاکے اوپر سے چھلانگ لگانے کے لئے اس گھوڑے کی سورہ بقرہ کی قسم کھانے کے بارے میں سیف کے افسانہ نے تعجب انگیز حد تک شہرت پائی ہے اور علماء نے بھی اپنی کتابوں میں سیف کی روایت میں کچھ بڑھا گھٹا کر اسے نقل کیا ہے اگر چہ اس افسانہ کے سر چشمہ ،یعنی سیف بن عمر کا کوئی اشارہ نہیں کیا ہے منجملہ ابن کلبی اطلال کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

''اطلال ،بکیر بن عبداللہ الشداخ اللیثی کے گھوڑے کا نام ہے کہ یہ شخص قادسیہ کی جنگ میں سعد وقاص کے ہمراہ موجود تھا ''

مزید لکھتا ہے :

'' خدا بہتر جانتا ہے ،جب ایرانیوں نے دریائے قادسیہ کے پل کو مسلمانوں کی پیش قدمی روکنے کے لئے اٹھا دیا تھا ۔بکیر دریا کے کنارے پہنچ کر اپنے گھوڑے اطلال سے مخاطب ہوکر بلند آواز میں بولا : اطلال چھلانگ لگا !اطلال نے خود کو سمیٹا اور چھلانگ لگائی ۔خدا نے اس دن مشرکین کو شکست دے دی کہا جاتا ہے کہ ان دنوں دریائے قادسیہ کی چوڑائی چالیس ہاتھ تھی ۔مشرکین نے جب دریا کی اس چوڑائی سے بکیر کے گھوڑے کو چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا تو وہ تعجب سے کہنے لگے کہ یہ الٰہی امر ہے ''

اس کے علاوہ ابن الا عرابی نے اپنی کتاب ''انساب الخیل ''میں ،غند جانی نے اپنی کتاب ''اسماء الخیل العرب''میں اور بلقینی نے اپنی کتاب ''امرالخیل ''میں اس داستان کی طرف اشارہ کیاہے۔

اسی طرح لغت کی کتابوں میں بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔لفظ ''طلل '' کے بارے میں ابن منظور کی کتاب ''لسان العرب ''میں یوں ذکر آیا ہے:

''لوگ کہتے ہیں کہ جب قادسیہ کی جنگ میں ایرانی فرار کررہے تھے ،اطلال نے گفتگو کی ہے ۔داستان اس طرح ہے کہ جب مسلمان فراریوں کاپیچھا کرتے ہوئے اس دریا کے کنارے پر پہنچے جس کاپل ایرانیوں نے اٹھادیا تھا ،تو سوار نے اپنے گھوڑے سے مخاطب ہوکر کہا:''اطلال ،چھلانگ لگا !''گھوڑے نے جواب میں کہا : سورۂ بقرہ کی قسم میں چھلانگ لگا تا ہوں !''


فیروز آبادی نے اپنی لغت میں لکھا ہے :

''کہتے ہیں کہ اطلال نے قادسیہ کی جنگ میں دریا کے کنارے اپنے سوار سے گفتگو کی ہے ۔جب سوار نے اس سے مخاطب ہوکر کہا :''اطلال چھلانگ مار''تو اطلال اس کے جواب میں بولا:''سورۂ بقرہ کی قسم میں نے چھلانگ لگادی ۔''

زبیدی نے بھی تاج العروس میں یہی مطالب درج کئے ہیں ۔

یہ وہ مطالب تھے جوسیف بن عمر نے جنگ ِقادسیہ کے تین دنوں کے بارے میں بیان کئے ہیں ۔''لیلةالحریر ''کے بارے میں بلاذری کی ''فتوح البلدان ''میں اس نام کا صرف اشارہ ہوا ہے لیکن جس چیز کو سیف نے تفصیل سے بیان کیا ہے وہ اس میں نہیں پائی جاتی۔

بکیر اور اس کے اطلال نامی گھوڑے کی حقیقت سے کسی کو انکارنہیں ہے اور بکیر کانام ''فتح موقنان''میں آیا ہے ۔لیکن اطلال کی گفتگو اور سورہ بقرہ کی قسم کھانے کی فقط سیف نے روایت کی ہے ، کسی اور نے ٥اس سلسلے میں کچھ نہیں لکھاہے۔

سند ِروایت کی پڑتال :

قعقاع کی شام سے عراق کی طرف واپسی اور اس کے عراق کی دوسری جنگوں میں شرکت کے موضوع کے بارے میں سیف کی روایات کی سند میں ابو عثمان یزید،زیادبن سرجس،محمداورغصن جیسے راوی ملتے ہیں ۔اور پہلے یہ ثابت ہوچکاہے کہ یہ سب راوی سیف کے خیالات کی تخلیق اور جعلی ہیں اوران کاحقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ سیف نے عمر بن ریان کواس حدیث کے راوی کی حیثیت سے ذکر کیا ہے ۔ اس کانام تاریخ طبری میں پانچ حدیثوں کے راوی کے طور پر آیاہے۔


اس راوی کی حسب ذیل صورت میں معرفی کی گئی ہے :

''یہ وہ شخص ہے جس سے سیف بن عمرنے روایت کی ہے اور یہ ایک مجہول شخص ہے ، اور بس۔''

اسی طرح سیف نے جن راویوں سے صرف ایک حدیث روایت کرنے پر اکتفاکی ہے ، ان کو ہم نے سیف کے علاوہ کسی اور کتاب ،فہرست یا طبقات میں نہیں پایا۔ایسے راویوں میں حمید بن ابی شجار ،قبیلہ طی کا ابن محراق نام کا ایک شخص !اور عصمد الوائلی سے جخدب ،جرعب قابل ذکر ہیں حتی ہم یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ سیف نے ابن محراق یاقبیلہ طی کے اس شخص کا اپنے خیال میں کیا نام رکھا ہے ۔

لگتا ہے کہ سیف بن عمر نے ایسے افسانوں اور راویوں کو نقل کرکے لوگوں کامضحکہ اڑایا ہے اور کبھی کوئی سنجیدہ بات نہیں کی ہے ۔خاص کر جب وہ اپنی حدیث کے راویوں کی حیثیت سے قبیلہ ٔ طی کے ابن محراق وغیرہ جیسے افراد کاذکر کرتا ہے ۔کیااس کے زندیقی ہونے کے علاوہ کوئی اور سبب ہو سکتا ہے جو سیف کو ایسے افسانے تخلیق کرنے اور ایسے عجیب وغریب ناموں کے ذریعہ اپنی روایتوں کو مستند بنانے کے لئے آمادہ کرے ؟!

یہ روایت کہاں تک پہنچی اور بحث کانتیجہ :

سیف تنہا شخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ کے لئے تین دن مخصوص کرکے ان کو الگ الگ نام سے یاد کیا ہے ۔یہ تنہا راوی ہے جس نے قعقاع کی سرپرستی میں عراقی سپاہیوں کی اپنے وطن کی طرف واپسی کاذکر کیا ہے ۔اس کے علاوہ کسی بھی شخص نے ایسی چیزیں نہیں لکھی ہیں ۔ایسے میں امام مؤرخین ابن جریر طبری آکر ان تمام مطالب کو سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کرتا ہے اور ابن اثیر نے بھی ان سب روایتوں کو ایک جگہ جمع کرکے طبری سے نقل کرتے ہوئے اپنی خاص روش کے تحت سند کا ذکر کئے بغیر درج کیا ہے ۔ابن کثیر نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کرکے اس کا ایک حصہ خلاصہ کے طور پر درج کیا ہے اور اس کی ابتدا ء میں یوں لکھتا ہے :


'' ابن جریر طبری خدا اس پر رحمت نازل کرے اس طرح لکھاہے :.... اس کے بعد سیف کی روایت نقل کرتے ہوئے ٩بار سیف بن عمر کا نام لیتا ہے ۔ابن خلدون نے بھی اس داستان کو نقل کرتے ہوئے بات کو اس طرح شروع کیا ہے : سیف کہتا ہے :....تاآخر''

میر خواندنے بھی '' روضة الصفا '' میں ان افسانوں کو درج کیا ہے ،لیکن اپنی خاص روش کے مطابق سند کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے ۔

سیف تنہا شخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ کے بارے میں یہ افسانے تخلیق کئے ہیں ٦ جن افسانوں کا ہم نے اس سلسلے میں اب تک ذکر کیا ان کا وہ تنہا راوی ہے اور دوسرے مورخین نے اس سے نقل کرکے ان مطالب کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور ہم نے اس امر کو مختلف مراحل میں ثابت بھی کیا ہے ۔

قابل توجہ بات ہے کہ سیف نے اپنی داستان کو گڑھتے وقت یہ کوشش کی ہے کہ ایک داستان دوسری داستان کی تائید کرے اور ایک مطلب دوسرے موضوع کا گواہ بنے اس سلسلے میں قعقاع اور اس کی شجاعت اور کارناموں کے بارے میں گڑھا ہوا افسانہ بطور نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے ، جس میں جگہ جگہ پرسیف کا اس بات پر اصرار نظر آتا ہے کہ ابوبکر کی قعقاع کے بارے میں کی گئی ستائش کی لوگوں کی زبانی تائید کرائی جائے مثلاوہ کہتا ہے :

'' لوگ قعقاع کی تعریف اور ستائش میں ایک دوسرے کو اشارہ کرکے یہ کہتے تھے کہ '' یہ وہی پہلوان ہے جس کے بارے میں ابوبکر نے کہا ہے : جس فوج میں اس جیسا دلاور اور پہلوان موجود ہو وہ ہر گز شکست سے دو چار نہیں ہوگی !''

اس طرح سیف اپنی سابقہ بات جو اس نے ابوبکر کی زبانی قعقاع کی تعریف میں گڑھی ہے پر تاکید کرتے ہوئے اسے ایک ناقابل انکار حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے


اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ قادسیہ کی جنگ میں بکیر کے گھوڑے اطلال کی گفتگو کو اس قدر شہرت بخشی گئی کہ اس موضوع کو اہم کتابوں میں درج کرکے اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے بجائے اس کے کہ اس مطلب پر ایک علمی تحقیق کی جائے اور اس تخلیق کے سر چشمہ کو علم و عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے ،اس متبذل افسانہ کو کتابوں میں درج کیا گیا ہے اور اسی طرح واضح خرافات کو تاریخ کے حقیقی واقعات کے طور پر پیش کیا گیاہے ۔لوگوں میں اس افسانہ کی مقبولیت اور شہرت کا سبب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس افسانہ کو اس طرح گڑھ لیا گیا ہے تاکہ عوام کو پسند ہو اور اپنے اسلاف و اجداد کی کرامتیں اور غیر معمولی قصے سننے کے شائقین کی مرضی کے مطابق ہو ۔چوں کہ جس قدر افسانہ سنسنی خیز ہو اسی قدر اس کی شہرت بھی زیادہ ہوتی ہے ؟!

ساس داستان کے نتائج :

اب ہم دیکھتے ہیں کہ سیف نے اس داستان کو گڑھ کر کیا مقصد پایا ہے اور اس افسانہ سرائی سے کون سے نتائج حاصل کئے ہیں :

١۔ اپنے ہم قبیلہ قعقاع تمیمی کے لئے ایسی شجاعتیں اور بہادریاں خلق کی ہیں کہ افسانوں کی تاریخ ،حتی اسلام کے واقعی پہلوانوں میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی ۔

٢۔ فوج کی ہمت افزائی کے لئے میدان کا رزار میں سپاہیوں کو بھیجتے وقت دودن کے اندر دوبار مختلف دستوں میں مساوی طور پر بانٹنے کے سلسلے میں قعقاع کی فوجی حکمت عملی کی دقیق تشریح کرنا

٣۔سرگروہ ہاتھی کی سونڈ کو کاٹ دینا ،جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے دشمن پر فتح پائی ۔خاص کر اس دعویٰ کے بارے میں ام المومنین عائشہ کی تاکید اور گواہی بیان کرنا۔

٤۔ ارماث ،اغواث اور عماس کے نام سے تین سنسنی خیز تاریخی دنوں کی تخلیق ۔

٥۔رجز اور رزمینہ قصائد کی تخلیق کرکے قدیمی ادب کو مزین کرنا ۔

٦۔آخر میں بکیر کے گھوڑے اطلال کی معجزہ نما گفتگو ،خاص کر اس کا فصیح عربی میں بات کرنا اور سورہ بقرہ کی قسم کھانا!۔


جنگ کے بعد کے حوادث

طبری نے سیف سے روایت کی ہے کہ :

''ایرانیوں کی شکست اور ان کے فرار کے بعد تیس سے زیادہ فوجی دستے فرار کی شرمندگی کو اختیار نہ کرتے ہوئے سرداروں کے ہمراہ اپنی جگہ پر ڈٹے رہے ۔لہٰذا تیس سے زیادہ اسلامی سپہ سالار ان کے مقابلے میں آئے اور از سر نو جنگ شروع ہوگئی ۔اس معرکہ میں خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوان قعقاع نے اپنے ہم پلہ ایرانی پہلوان قارن کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اس کے قتل ہونے پر ایرانیوں کے باقی ماندہ فوجی دستے یا قتل ہوئے یا میدان جنگ سے فرار کر گئے ۔اسلامی فوج کے سپہ سالار اعظم سعد وقاص نے فراریوں کا پیچھا کرنے کا حکم دیا اور قعقاع ابن عمرو کو اس کی ذمہ داری سونپی''

اس کے علاوہ روایت کرتا ہے کہ جریر بن عبداللہ بجلی نے اس دن یہ شعر کہے ہیں :

'' میں جریر ہوں اور ابو عمر و میری کنیت ہے ۔خدا نے جنگ میں ہماری مدد فرمائی جب کہ سعد اپنے محل میں بیٹھاتھا''

جریر کی یہ باتیں سعدوقاص تک پہنچیں تو سعد نے جواب میں کہا :

''مجھے خاندان بجیلہ کے جنگجوئوں سے کوئی توقع نہیں ہے خدا سے ان کے لئے قیامت کے دن بدلہ چاہتاہوں ۔ان کے گھوڑے ایسے گھوڑوں کے مقابلے میں آئے کہ سواروں کے درمیان مڈبھیڑ ہوگئی ۔اگر دو تمیمی سورما قعقاع بن عمرو اور حمال نہ ہوتے تو بجیلیوں کو ہزیمت اٹھاناپڑتی کیوں کہ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے نیزوں اور تلواروں سے دشمنوں کی چمڑی اتار ی اور تمھارے گروہ کا دفاع کیا اگر ان دو پہلوانوں کا دفاع نہ ہوتا تو تم اس وقت ایسے گروہوں کو اپنے سامنے دیکھتے جو تمھارے گروہ کو مکھی کی طرح بے بس کرکے رکھ دیتے ''


مندرجہ بالا اشعار کو سیف نے اسی صورت میں ذکر کیا ہے جب کہ طبری نے ابن اسحاق سے نقل کرتے ہوئے پہلے دو شعر کے بعد یوں بیان کیا ہے :

'' ان کے میدان جنگ میں ایسے ہاتھی آئے جو عظیم الجثہ ہونے کے لحاظ سے بڑی کشتیوں کے مانند تھے ''

اس کے بعد تین شعر جن کا سیف نے اضافہ کیا ہے اس میں نظر نہیں آتے ۔معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے اپنی روایت میں تیسرا شعر جس میں بجیلہ قحطانی کی تعریف و تمجید ہوئی ہے کو حذف کیا ہے اس کی جگہ پر ایسے تین شعر گڑھ لئے ہیں جن میں قعقاع تمیمی اور حمل اسدی مضری کی تعریف و تمجید اور بجیلۂ قحطانی یمانی کی مذمت کی گئی ہے ۔اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سیف ابن عمر تمیمی نہ فقط اسلام کے لئے افسانوی تاریخ جعل کرتا ہے بلکہ دوسروں کے اشعار اور قصیدوں میں بھی قبیلہ مضر کے حق میں تصرف کرتا ہے ۔

بے شوہر یمانی عورتیں :

سیف نے روایت کی ہے :

''قادسیہ کی جنگ میں قبائل عرب میں سے کوئی بھی قبیلہ بے سر پرست عورتوں کے لحاظ سے بجیلہ اور نخع قبیلوں کے برابر نہ تھا ۔اس کا یہ سبب تھا کہ خالد بن ولید نے عراق میں اپنی جنگوں کے دوران اس علاقہ کے باشندوں کی اجتماعی نابودی اور قتل عام کے سبب عراق کو مسلمانوں کی رہائش کے لئے آمادہ کیا تھا ۔اسی اطمینان اور امید کی وجہ سے دو یمانی قبیلے اپنے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ قادسیہ کی جنگ میں شریک ہوئے تھے ۔اس جنگ میں ان دو قبیلوں کے ایک ہزار سات سو مرد کام آئے جس کے نتیجہ میں خاندان نخع میں سات سو اور خاندان بجیلہ میں ایک ہزار عورتیں اپنے شوہروں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ''

مہاجرین نے بزرگواری کا ثبوت دیتے ہوئے ان بیوہ عورتوں کو اپنی حمایت و سرپرستی فراہم کی اور ان کے ساتھ شادی کی ۔


یہ شادیاں جنگ کے دوران اور اسی طرح دشمن پر فتح پانے کے بعد انجام پائیں ان ایک ہزار سات سو بیوہ عورتوں میں سے عامر ہلالیہ نخع کی بیٹی اروی کے علاوہ ایک بھی عورت بے سرپرست نہ رہی ۔جنگ قادسیہ کے بعد اس عورت سے بھی بکیر بن عبد اللہ (وہی سورما جس سے اس کے گھوڑے نے گفتگو کی تھی)،عتبہ بن فرقد اللیثی اور سماک بن خرشہ انصاری نے خواست گاری کی ۔ اروی ان نامور عرب پہلوانوں کی خواست گاری کے جواب میں کسی ایک کے انتخاب کرنے میں شش وپنج میں پڑی مجبور ہوکر اس نے اپنی بہن ھنیدہ قعقاع کی بیوی سے مدد کی درخواست کی اور اس سلسلے میں اس کے شوہر سے اظہار نظر کوکہا۔ہنیدہ نے یہ بات اپنے شوہر سے بیان کی۔قعقاع نے جواب میں کہا:میں شعر کی زبان میں ان کی توصیف کروں گا،تم اسے اپنی بہن کے پاس پہنچادینا تاکہ اس کے لئے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا آسان ہوجائے۔اس کے بعد اس نے یہ شعر کہا:

''اگر تم درہم ودینار کی طلبگار ہو تو مرد انصاری سماک یا فرقدکو اپنے شوہر کے طور پر انتخاب کرنا اور اگر نیزہ باز ،شجاع ودلیر شہسوار کو پسند کرتی ہوتو بکیر کا انتخاب کرنا۔ان میں سے ہر ایک صاحب کمال وفضیلت ہے ۔میں نے ان کے آئندہ کی خبر دیدی ،تم اپنے حال کو بہتر جانتی ہو!''

ابن حجر سیف بن عمر سے روایت کرتا ہے کہ:

''عمر نے سعد وقاص کولکھا:جنگ قادسیہ کے نامور ترین شہسوار کانام مجھے بتاؤ'' ۔سعد نے خلیفہ کا خط حاصل کرنے کے بعد جواب میں لکھا :''میں قعقاع بن عمرو جیسا سورما کسی کو نہیں پاتا،وہ ایسا بہادر ہے جس نے ایک ہی دن میں تیس بار دشمن پر حملہ کیا اور ہر حملہ میں دشمن کے ایک پہلوان کو موت کے گھاٹ اتارا''

قادسیہ کی جنگ کے ان تمام افسانوں کو سیف نے گڑھا ہے۔اس جنگ کے بارے میں اس کی روایتیں دوسروں کی روایتوں کے بر عکس ہیں ۔کیونکہ طبری نے قادسیہ کی جنگ کے بارے میں ابن اسحاق سے بھی روایت کی ہے۔

بلاذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان ''میں اور دینوری نے اپنی کتاب ''اخبار الطوال''میں ١ جنگ قادسیہ کی تشریح کی ہے۔لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی سیف کے یہ افسانے دکھائی نہیں دیتے ۔


سند کی پڑتال:

قادسیہ کی جنگ میں فتحیابی کے بعد کے واقعات کے بارے میں سیف کے راوی محمد اور مہلب ہیں کہ ان کے بارے میں ہم نے بارہا کہاہے کہ یہ سیف کے تخیلات کے جعل کردہ راوی ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔اس کے علاوہ چند دیگر مجہول راویوں کانام بھی لیاہے۔

سند کی پڑتال کا نتیجہ:

سیف نے سپہ سالار اعظم سعد وقاص کے اشعار میں تصرف کرکے ان میں بڑھا گھٹا کر قبیلۂ بجیلہ ٔقحطانی کی مذمت اور قبیلہ مضر کے سرداروں کی مدح وستائش کی ہے۔اسی طرح ایک اور افسانہ جعل کرکے ایک ہزار سات سو قحطانی عورتوں کو خاندان مضر کے مردوں سے شادی کا افتخار بخش کر انھیں بے سرپرستی اور مفلوک الحالی سے نجات دلائی ہے۔اور اپنے ادبی ذوق سے استفادہ کرتے ہوئے اس داستان کے مطالب کی تائید میں اشعار بھی کہے ہیں ۔

اس کے علاوہ سیف نے ایک ایسی روایت بھی جعل کی ہے جس میں خلیفہ عمر جنگ قادسیہ کے بہترین اور شجاع ترین شہسوار کو پہچنوانے کا حکم دیتاہے اور سعد وقاص کا جواب ایسا ہے جس میں اس نے سیف کے افسانوی اور جعلی پہلوان قعقاع کی تائید کی ہے۔اس تائید کی سند کے طور پر یہ واقعہ بیان کیاہے کہ قعقاع نے ایک ہی دن میں تیس حملے کئے اور ہر حملہ میں دشمن کے کسی نہ کسی پہلوان کو موت کے گھاٹ اتارا اور ان میں کا آخری پہلوان ''بزرگ مہر''تھا۔

سیف اپنی روایتوں کو ایسے جعل کرتاہے کہ اس کی روایتیں ایک دوسری کی تائید کرسکیں ۔


اس داستان کانتیجہ:

سیف اپنے اس جعلی افسانہ میں درج ذیل مقاصد اور نتائج حاصل کرتاہے:

١۔خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوان قعقاع بن عمرو کے ہاتھوں ایرانی سپہ سالار اور پہلوان قارن کو قتل کرکے قعقاع کے افتخارات اور فضائل میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنا۔

٢۔ایک ہزار سات سو قحطانی بیوہ عورتوں کو سیف کے زعم میں جن کے شوہر نااہلی اور جنگی حکمت عملی سے کام نہ لینے کی وجہ سے میدان جنگ میں ،مارے گئے تھے خاندان مضر کے مردوں کے ساتھ شادی کراکے انھیں فضیلت بخشنا۔

٣۔آخر میں اسلامی فوج کے سپہ سالار اعظم سعد وقاص کے ذریعہ قعقاع بن عمرو تمیمی کو جنگ قادسیہ کے بے مثال پہلوان کی حیثیت سے خلیفہ وقت عمر کی خدمت میں ذکر کرنا۔


قعقاع ،ایران کی جنگوں میں

اعجزت الاخوات ان یلدن مثلک یا قعقاع ! (بارق۔قعقاع کاماموں )

(سیف کا بیان)

بہر سیر کی فتح

طبری ،سیف سے نقل کرتے ہوئے فتح بہر سیر کی داستان کو حسب ذیل صورت میں بیان کرتاہے:

''ابو مفزر تمیمی نے ایران کے بادشاہ کے مأمور اور ایلچی سے ایک ایسی بات کہی جو ایرانیوں کے فرار کاسبب بنی''۔

اس قصہ کی تفصیل ابو مفزر تمیمی جو سیف کے جعلی اصحاب میں سے ایک ہے کی

زندگی کے حالات پر بحث کے دوران بیان ہوگی۔

حمیری ''روض المعطار ''میں جب مدائن کی تشریح کرنے پر پہنچتا ہے تو اس شہر کو تسخیر کئے جانے کے سلسلہ میں سیف کی روایت بیان کرتے ہوئے اس کے آخر میں لکھتاہے:

''اور قعقاع بن عمرو نے اس سلسلے میں یہ شعر کہے ہیں :ہم نے بہر سیر کو شجع وقافیہ سے مزین اس حق بات کے ذریعہ فتح کیا جو ہماری زبان پر جاری ہوئی ۔ہمارے خوف سے ان کے دل ہل گئے اور وہ ہماری ننگی اورتیز تلواروں کے سامنے آنے سے ڈرگئے''۔


مدائن کی فتح

سیف روایت کرتاہے کہ:

''قعقاع کی کمانڈ میں فوجی دستہ کانام خرساء (خموشان)اور اس کے بھائی عاصم کی کمانڈ میں فوجی دستہ کانام اہوال (وحشت)تھا''۔

ان دو دستوں کے دریائے دجلہ سے عبور کی تفصیلات ہم عاصم سیف کے افسانوی صحابی کی سوانح حیات پر بحث کے دوران بیان کریں گے۔

بہر حال سیف اپنی ایک روایت کے ضمن میں کہتاہے:

''دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے دوران سپاہیوں میں غرقدہ نام کے ایک شخص کے علاوہ کوئی شخص غرق نہیں ہوا۔غرقدہ دریا کو عبور کرتے ہوئے اچانک گھوڑے کی پیٹھ سے پھسل کر پانی مین جاگرا۔قعقاع بن عمرو متوجہ ہوا،اس نے ہاتھ بڑھایااور غرقدہ کا ہاتھ پکڑ کر دریائے دجلہ پار کرکے اسے ساحل تک پہنچادیا۔غرقدہ چونکہ ایک قوی پہلوان تھا اور قعقاع کی والدہ بھی خاندان بارق سے تعلق رکھتی تھی ،اس لئے غرقدہ نے قعقاع کی والدہ کی طرف اشارہ کرکے اس لشکر شکن پہلوان سے خطاب کرکے کہا:اے قعقاع! میری بہنیں پھر کبھی تجھ جیسا پہلوان پیدا نہیں کرسکتیں ''

سپاہیوں کے مدائن میں داخل ہونے کے سلسلے میں سیف لکھتاہے :

''سب سے پہلا فوجی دستہ جو شہر مدائن میں داخل ہوا،اہوال فوجی دستہ تھا جس کی کمانڈ عاصم بن عمرو کررہاتھا۔اس کے بعد خرساء فوجی دستہ مدائن میں داخل ہوا ۔ سپاہیوں نے اس شہر کی گلی کو چوں میں کسی فوجی کو نہیں پایا،کیونکہ سبوں نے سفید محل میں پناہ لے رکھی تھی۔اسلامی فوجیوں نے سفیدمحل کو اپنے محاصرے میں لے لیا اور انھیں ہتھیار ڈالنے کوکہا۔انھوں نے مجبور ہوکر ہتھیار ڈال دئے اور جزیہ دینا قبول کیا''۔


بادشاہوں کا اسلحہ ،غنیمت میں

سیف نے حسب ذیل روایت کی ہے:

''مدائن کے فتح ہونے کے دن ،قعقاع شہر سے باہر نکلا اور تلاش و جستجو میں مشغول ہوا، اسی دوران اس کی ایک ایرانی سے مڈبھیڑ ہوئی جو دو چوپایوں کے اوپر ایک بھاری بوجھ لے کرجا رہا تھا ۔اور لوگ چاروں طرف سے اس کی حفاظت کر رہے تھے قعقاع نے اس شخص پر حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا اور ان دونوں چوپایوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا جب ان پر لدے ہوئے سامان کی جستجو کی تو ان میں سے ایک کے اندر کسریٰ ،ہرمز ،قباد ،فیروز ،ہراکلیوس ،ترکمنستان کے بادشاہ خاقان ،ہندوستان کے بادشاہ داہر ،بہرام سیاوش اور نعمان جیسے بادشاہوں کی تلواریں موجود تھیں دوسرے صندوق میں کسریٰ کی زرہ ،کلاہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کی حفاظتی سپر اور ہراکلیوس ، خاقان اور داہر کی زرہ سیاوش کی زرہ اور نعمان کی زرہ جو جنگ میں ان سے غنیمت کے طور پر لی گئی تھی موجود تھیں ۔اس کے علاوہ بہرام چوبین اور نعمان کے وہ اسلحہ بھی اس میں موجود تھے جو ان سے اس وقت غنیمت میں لئے گئے تھے جب وہ کسریٰ کی بغاوت کرکے اس سے جدا ہوئے تھے ۔

قعقاع نے یہ سب غنائم یکہ و تنہا اپنے قبضہ میں لینے کے بعد انھیں سپہ سالار اعظم سعد وقاص کی خدمت میں پیش کیا سعد نے تجویز کی کہ ان میں سے ایک تلوار قعقاع اپنے لئے انتخاب کرے ۔قعقاع نے ہر اکلیوس کی تلوار کا انتخاب کیا اس کے علاوہ سعد نے بہرام چو بین کی زرہ بھی اسے بخش دی اور کسریٰ و نعمان کی تلواروں کو جن کے بارے میں عربوں میں کافی شہرت تھی خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا کہ مسلمان اسے دیکھ لیں اور باقی غنائم خرساء فوجی دستہ کے سپاہیوں کو بخش دئے ''

یہ سب روایتیں افسانہ سازی کے بہادر اور ماہر سیف بن عمر تمیمی کی ہیں ۔اس داستان کی ، دریائے دجلہ سے سپاہیوں کے عبور کرتے وقت ،عاصم بن عمر و کی سوانح حیات بیان کرتے وقت اور فتح بہرسیر کے واقعہ کے بارے میں ابو مفزر اسود بن قطبہ کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت مزید وضاحت کی جائے گی ۔


سند کی پڑتال:

سیف نے اس داستان کو اپنے دو جعلی راوی محمد اور مہلب سے نقل کیا ہے کہ حقیقت مین ان کا کہیں وجود نہیں ہے ۔

ا ن کے علاوہ عصمة بن حارث کو بھی راوی کے طور پر ذکر کیا ہے کہ یہ بھی سیف بن عمر کے جعلی روایوں میں سے ایک ہے اور اس کی زندگی کے حالات مناسب جگہ پر بیان کئے جائیں گے ۔

مزید بر آں نضر بن السری نام کا ایک اور راوی سیف نے پیش کیا ہے کہ اس کے ذریعہ طبری میں چوبیس روایات نقل ہوئی ہیں ۔دو اور راوی رفیل اور ابن رفیل ہیں جن سے طبری نے سیف سے بیس روایتیں نقل کی ہیں ۔

ان سب راویوں کو بھی ہم نے سیف کی روایتوں کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں پایا ۔

دلچسب بات یہ ہے کہ سیف کے مندرجہ بالا جعلی راویوں کے علاوہ اس داستان کے چند دیگر راوی ایک شخص !قبیلہ ٔحارث کا ایک شخص کے عنوان سے بھی ذکر کئے گئے ہیں ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان دوافراد کے نام کیا تھے تاکہ ہم انھیں راویوں کی فہرست میں تلاش کریں !!

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ سیف کی باتیں سنجیدہ اور بھاری بھرکم ہونے کے بجائے بیشتر لچر اور مضحکہ خیز ہوتی ہیں ،خاص کر جب وہ اپنے افسانوں کے راویوں کو ایک شخص ،یا قبیلہ حارث کا ایک شخص یا ابن رفیل وغیرہ کے عنوان سے ذکر کرتا ہے ۔

ستم ظریفی کی حد ہے کہ ان واضح جھوٹ ،بہتان اور افسانوں پر مشتمل داستان کو سیف نے گڑھاہے اور امام المورخین طبری نے انھیں بے چوں وچرا نقل کرکے اپنی گراں قدر اور معتبر کتاب میں درج کیا ہے اور دوسرے تاریخ دانوں نے بھی اس کے بعد انہی مطالب کو طبری سے نقل کیا ہے ۔


اس داستان کی تحقیق اور اس کے فوائد :

جو کچھ اس بحث و تحقیق سے حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ سیف نے دو تمیمی بھائیوں کی کمانڈ میں ''خاموش '' و ''وحشت'' نامی دو افسانوی فوجی دستے مشخص کئے ہیں اور ایک روایت کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ دریائے دجلہ کو پار کرکے مدائن میں داخل ہونے والے فوجیوں میں یہ دو دستے پیش پیش تھے اور یہ افتخار صرف خاندان تمیم کے ناقابل شکست دو سورمائوں یعنی قعقاع ابن عمرو تمیمی و عاصم ابن عمر و تمیمی کو حاصل ہوا ہے ۔اس کے علاوہ اس بے مثال پہلوان بارقی جو آسانی کے ساتھ کسی کی تعریف نہیں کرتا تھا کی زبانی یہ کہلوایا ہے کہ : '' اے قعقاع !دنیا کی عورتیں کبھی تم جیسا سورما جنم نہیں دے سکتیں !''

یہاں پر بھی قعقاع تمیمی ہی ہے جو فرار کرنے والے سپاہیوں کا پیچھا کرکے غنائم کے محافظین کو قتل کر ڈالتا ہے اور اس قدر غنائم پر قبضہ کرتا ہے ۔ان غنائم میں ایرانی بادشاہوں : کسریٰ ،ہرمز ،قباد ، فیروز اور بہرام چوبین کے علاوہ ہندوستان کے بادشاہ داہر ،روم کے بادشاہ ہراکلیوس اور عرب قحطانی یمانی سلطان نعمان کے اسلحے اور جنگی ساز وسامان شامل تھا ۔اس افتخار سے بڑھ کر مضر خاندان کے عظیم پہلوان اور ناقابل شکست سورما قعقاع بن عمرو تمیمی کے لئے کون سا فخر ہو سکتا ہے کہ اس نے تمام دنیا کے بادشاہوں سے باج لے کر خاندان تمیم کے سرپر فضیلت کا تاج رکھ دیا ہے !!

شاباش ہو سیف پر !جس نے خاندانی تعصب کی بنیاد پر تمام اصولوں کو پائمال کرتے ہوئے خاندان تمیم کے پیروں تلے ایک لڑکھڑاتی سیڑھی قرار دے کر اسے بلند سے بلند لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے چاہے اس کا یہ کام کسی ملت یا اسلام کی تاریخ کے نابود ہونے کا سبب کیوں نہ بن جائے !!


جلولا ء کی فتح

طبری نے سیف سے روایت کی ہے :

''خلیفہ عمر نے سپہ سالار اعظم سعد و قاص کو حکم دیا کہ ایرانیوں سے جنگ کرنے کے لئے ہاشم کو جلولاء بھیج دے اور قعقاع بن عمرو تمیمی کو اس کے ماتحت ہر اول دستہ کے سردار کی حیثیت سے مقرر کرے ۔خدا کی طرف سے ایرانیوں کو شکست اور مسلمانوں کی فتحیابی کے بعد عراق اور ایران کے سرحدی علاقوں کی حکومت قعقاع کے سپرد کی جائے ۔

جب ہاشم ،جلولاء پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ ایرانیوں نے اپنے چاروں طرف ایک خندق کھودی ہے اور خود اس میں مخفی ہو گئے ہیں خندق کے اطراف میں تیز دھار والے لوہے کے ٹکڑے اور جنگی سازوسامان کے ٹوٹے پھوٹے آلات پھیلا کے رکھے گئے تھے تاکہ اپنی پناہ گاہ میں داخل ہونے سے اسلامی فوج کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر سکیں انھوں نے اپنی پناہ گاہ کے چاروں طرف ایسی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں کہ اسلامی فوج کے لئے کسی صورت میں اس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا اس کے برعکس ایرانی جب چاہتے ان تما م رکاوٹوں کے باوجود آسانی کے ساتھ اس پناہ گاہ میں رفت و آمد کر سکتے تھے ۔

مسلمان اس معرکہ میں اسّی (٨٠) دن تک مشرکین پر حملہ کرتے رہے لیکن تقریبا تین ماہ کی اس مدت کے دوران کوئی خاص پیش قدمی نہ کر سکے ۔

ان حالات کے پیش نظر قعقاع ،وہ معروف شہسوار اور ناقابل شکست پہلوان اس تنہا راستہ پر قبضہ کرنے کے لئے مناسب فرصت کی تلاش میں تھا ،جسے مشرکین نے اپنے فوجیوں کی رفت و آمد کے لئے بنا رکھا تھا جب اسے مناسب موقع ملا تو اس نے یکہ و تنہا اس جگہ پر حملہ کیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا اور پکار کر کہا : اے مسلمانو!تمھارا سپہ سالار اس وقت دشمن کے مورچے کے اندر ہے حملہ کرو!'' قعقاع نے اس لئے یہ جھوٹ بولا تاکہ اسلامی فوج کے حوصلے بلند ہو جائیں اور وہ دشمن پر ٹوٹ پڑیں ۔

قعقاع کی یہ چال کامیاب ہوئی اور اسلامی فوج نے اجتماعی طور پر مشرکین پر حملہ کردیا اس یورش کے دوران انھیں یہ یقین تھا کہ ان کا سپہ سالار ہاشم دشمن کے مورچوں کے اندر گھس گیا ہے ،لیکن اس کے بر عکس قعقاع ابن عمر وتمیمی کو پایا جس نے دشمنوں کی گزرگاہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔


اس کے بعد گھمسان کی جنگ چھڑ گئی اور ایرانی جان کے لالے پڑ نے کی وجہ سے اندھا دھند بھاکتے ہوئے خود اسی جال میں پھنس کر ہلاک ہو گئے جسے انھوں نے اپنے دشمن کے لئے رکاوٹ کے طور پر بچھا رکھا تھا ۔ اس طرح ان کے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور لاشوں سے زمین بھر گئی ۔اسی لئے اس جگہ کی جنگ کو ''جنگ جلولاء ''(۱) کہتے ہیں !!

قعقاع نے فراریوں کا خانقین تک پیچھا کیا بعض کو قتل کیا اور بعض کو اسیر بنایا ۔ ایرانی فوج کے سردار مہران کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ۔اس کے بعد قعقاع قصر شرین کی طرف بڑھا اور حلوان سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر پہنچا ۔حلوان کا سرحد بان قعقاع کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے مقابلے میں آیا ،لیکن اس جنگ کے نتیجہ میں قعقاع کے ہاتھوں مارا گیا اور مسلمانوں نے حلوان پر بھی قبضہ کر لیا۔

سپہ سالار اعظم سعد وقاص کے مدائن سے کوفہ واپس آنے تک قعقاع بن عمر و ،تسخیر شدہ سرحدی علاقوں اور ان کے اطراف کا حاکم رہا جب وہ سعد وقاص سے ملنے کے لئے کوفہ کی طرف روانہ ہوا تو قباد خراسانی کو سرحد بان کی حیثیت سے مقرر کیا ۔

حموی ،جلولاء کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

''ایک دریا ہے جو بعقوبہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے دونوں کناروں پر اس علاقہ کے باشندوں کے گھر بنے ہیں ۔وہاں پر ١٦ھ میں مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان ایک گھمسان اور مشہور جنگ واقع ہوئی ہے کہ اس میں ایرانیوں کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی ۔میدان جنگ لاشوں سے بھر گیا اور زمین ان لاشوں سے ڈھک گئی تھی ،اسی سبب سے اسے '' جلولاء و قیعہ '' کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسے کہ سیف کہتا ہے : خدائے تعالیٰ نے جنگ جلولاء میں مشرکین کے ایک لاکھ افراد کو ہلاک کر دیا اور ان کی لاشوں سے زمین بھر گئی ،اسی لئے اسے جنگ جلولاء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ قعقاع ابن عمر ونے جنگ جلولاء میں شعر کہے :

____________________

۱)۔ جللہ ۔یعنی ایسا پردہ اس پر رکھا گیا جس نے اسے پوری طرح ڈھانپ لیا سیف کا کہنا ہے کہ اس زمین کو خون نے پوری طرح ڈھانپ لیا تھا ،اس لئے اسے '' جلولاء '' کہا گیا ۔یعنی خون سے ڈھکی ہوئی زمین۔


'' ہم نے جلولاء میں ''اثابر'' اور ''مہران'' کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب ان کے لئے راستے بند ہوگئے اس وقت ہماری فوجوں نے ایرانیوں کو محاصرے میں لے لیا اور ایرانی نسل نابود ہو کر رہ گئی :

اس جنگ کے بارے میں کہے گئے اشعار بہت زیادہ ہیں :

حموی نے حلوان کی تشریح کرتے ہوئے اس کے بارے میں لکھا ہے :

'' یہ جگہ ١٩ھ میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوئی ''

جب کہ سیف بن عمر نے اپنی کتاب میں اسے ١٦ھ لکھا ہے ۔اور قعقاع بن عمر وتمیمی نے حلوان کی فتح کے بارے میں شعر کہے ہیں :

'' کیا تمھیں یاد ہے کہ ہم اور تم نے کسریٰ کے گھروں میں پڑائو ڈالا ؟ ہم نے حلوان کی جنگ میں تمھاری مدد و حمایت کی اور بالاخر ہم سب وہاں ایک ساتھ اترے ۔اور عورتوں اور کنیزوں کے کسریٰ کے اوپر نالہ و شیون کرنے کے بعد ہم نے حلوان میں فتح پائی ''

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ :

طبری نے فتح جلولاء اور فتح حلوان کے بارے میں اپنی کتاب میں سیف بن عمر تمیمی کی روایت کے علاوہ کسی اور کی روایت کے بارے مین کوئی ذکر نہیں کیا ہے جب کہ یہ داستانیں دینوری اور بلاذری کی کتابوں میں درج کئے گئے واقعات کے بر عکس ہیں ۔دینوری اور بلاذری نے لکھا ہے :

''جلو لاء میں مسلمانوں کا حملہ ایک ہی دن شروع ہوا اور اس دن شام تک جنگ جاری رہی۔افق پر سرخی نمودار ہوتے ہی مسلما نوں کی کا میابی کے آثار نظر آنے لگے اور دشمن بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور شام ہوتے ہی جنگ ختم ہوئی ۔دشمن کے چھوٹے بڑے خیموں پر مسلما نوں نے قبضہ کرلیا۔''


جب کہ سیف کہتا ہے:

''مسلما نوں کا حملہ او ر ان کی پیش قدمی اسّی دن تک جاری رہی۔''

وہ مزید کہتا ہے :

''سر حدی علاقوں کے ایک حصہ کی حکومت قعقاع بن عمرو تمیمی کو دیدی گئی ۔''

جب کہ بلا ذری اور دینوری نے لکھا ہے :

''جرید بن عبداللہ بجلی قحطانی یمانی نے چار ہزار سپاہیوں کی سر کردگی میں جلولاء کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسی نے حلوان کو بھی فتح کیا ہے ۔''

نہ کہ بقول سیف قعقاع بن عمرو تمیمی نے !!

سند کی جانچ :

سیف نے اس داستان کو بھی محمد اور مھلب سے نقل کیا ہے جب کہ یہ دونوں اس کے جعلی راوی ہیں ۔

اسی طرح سیف نے اس روایت کے راوی کے طور پر عبداللہ محفز کا ذکر کیا ہے جس نے اپنے باپ سے رو ایت کی ہے ۔عبداللہ محفز سے مجموعی طور پر چھہ احادیث تاریخ طبری میں سیف کے ذریعہ درج ہوئی ہیں ۔

سیف کی نظر میں اس روایت کا ایک اور راوی مستنیر بن یزید ہے کہ تاریخ طبری میں سیف کے ذریعہ اس سے اٹھارہ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔

اس کے علاوہ بطان بن بشیر ہے ،جس سے سیف کی تاریخ طبری میں صرف ایک روایت نقل ہوئی ہے اور حماد بن فلان !!البرجمی ہے جس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ۔اس سے سیف کے ذریعہ طبری میں دو روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔

ہم نے سیف کے مذکورہ بالا راویوں کو راویوں کا فہرست اور طبقات میں بہت تلاش کیا لیکن ان کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں پایا ۔صرف سیف کے یہا ں ان کا سراغ ملتا ہے چونکہ گزشتہ تجربے کی روشنی میں جا ن گئے ہیں کہ سیف اشخاص کو جعل کرنے میں ماہر ہے ،اس لئے ہم سمجھ گئے کہ یہ راوی بھی اس کے تخیلات کی تخلیق اور جعلی ہیں ۔


اس کے علاوہ ہم نے اس سے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ سیف کی روایتیں سنجیدہ ہونے کے بجائے مضحکہ خیز ہوتی ہیں ،خاص کر جب وہ اپنے افسانوں کے لئے کسی راوی کو حماد بن فلان !!کے نام سے ذکر کرتا ہے جس نے جناب فلاں سے روایت کی ہے !!

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایات سے موازنہ:

ہم نے مشاہدہ کیا کہ طبری نے سیف سے جلولاء کی جنگ ،اس کی وجہ تسمیہ اور اس جنگ میں مقتولین کی تعداد کے بارے میں مطالب ذکر کئے ہیں جو سب کے سب اس کے بر عکس ہیں جن کا دوسروں نے ذکر کیا ہے ۔

حموی نے داستان سیف کے ایک حصہ کو سیف کے قعقاع سے نسبت دئے گئے اشعار کو جلولاء کی تشریح میں اپنے مطالب کی دلیل کے طور پر درج کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ جلولاء اور حلوان کے بارے میں سیف کی کتاب میں بہت سے اشعار موجود ہیں ۔

لیکن طبری نے اپنی عادت کے مطابق ان تمام اشعار میں سے ایک شعر بھی اپنی کتاب میں درج نہیں کیا ہے ۔ وہ سیف سے نقل کرتے ہوئے عراق وایران کے سر حدی علاقوں کی حکومت قعقاع بن عمرو تمیمی کے ہاتھ میں ہونا بیان کرتا ہے اور حلوان کا فاتح بھی اسی کو ٹھہرا تا ہے ۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے کی حکومت جریر بن عبداللہ بجلی قحطانی یمانی کے ہاتھ میں تھی اور یہی جریر یمانی ہے جس نے حلوان کو کرمانشاہ تک فتح کیا ہے ،نہ کہ قعقاع نے !

اور یہ نکتہ ہم نے گزشتہ بحثوں میں مکرر کہا ہے کہ طبری نے اس داستان کو براہ راست سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور دیگر مورخین ،جیسے ابن کثیر ،ابن اثیر ،ابن خلدون اور میر خواند،سبوں نے طبری سے نقل کرکے اسے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔


اس حدیث کے نتائج :

١۔ناقابل تسخیر مورچہ پر قبضہ کرنے کی صورت میں قعقاع کے افتخارات میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنا۔

٢۔ خاندان تمیم کے افسانوی سورما قعقاع کے ہاتھوں ایرانی سپہ سالار مہر ان کا قتل ہونا۔

٣۔ حلوان کی فتح اور اس کے سرحدبان کا قتل ہونا۔

٤۔ تسخیر شدہ سرحدی علاقوں پر خاندان تمیم کے ناقابل شکست بہادر قعقاع کی حکومت جتلا کر خاندان تمیم کے سر پر فضیلت کا تاج رکھنا۔

٥۔ اور آخر کار جنگ جلولاء میں ایک لاکھ انسانوں کے قتل عام کا مسلمانوں کی دوسری جنگوں

میں کئے گئے انسانی قتل عام میں اضافہ کرکے ان لوگوں کے لئے ایک اور سند فراہم کرنا ،جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے ۔

یہاں تک ہم نے قعقاع کی ایران میں فتوحات کے سلسلے میں سیف کی روایات کا جائزہ لیا اگلی فصل میں ہم ان دیگر فتوحات کے بارے میں تحقیق کریں گے جن کو سیف نے ایران کی فتح کے بعد دوبارہ شام میں اس افسانوی سورما قعقاع کے لئے جعل کیا ہے۔


قعقاع دوبارہ شام میں

یدعون قعقاعا لکل کریهة

فیجیب قعقاع دعاء الهاتف

ہر خطر ناک حادثہ میں قعقاع سے مددکی درخواست کی جاتی ہے اور وہ بھی فریاد رس بن کر تیزی سے دوڑتا ہے ۔

حمص کی فتح :

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ١٧ھ کے حوادث کے ضمن میں لکھا ہے :

'' ابو عبید ہ جراح خلیفہ عمر کی طرف سے شام میں مامور تھا ،اس نے خلیفہ سے مدد طلب کی خلیفہ نے سعد وقاص کو لکھا کہ ابو عبیدہ دشمن کے محاصرہ میں ہے میرے اس خط کے ملتے ہی قعقاع بن عمر و کو ایک لشکر کے ہمراہ اس کی مدد کے لئے روانہ کرو کیوں کہ ابوعبیدہ کو دشمن نے گھیرلیا ہے ۔

قعقاع خلیفہ کا حکم ملتے ہی حکم کی تعمیل میں اسی روز چار ہزار سپاہیوں کے ہمراہ شام کی طرف روانہ ہوا ،جوں ہی مشرکین کو پتا چلا کہ ابوعبیدہ کے لئے فوجی کمک پہنچ رہی ہے انھوں نے محاصرہ کھول دیا اور منتشر ہوگئے ۔اس طرح خدا ئے تعالیٰ نے قعقاع کے وجود کی برکت سے شہر حمص کو ابوعبیدہ کے ہاتھوں فتح کیا ۔

قعقاع اپنے سپاہیوں کی قیادت میں فتح حمص کے واقعہ کے تین دن بعد ابو عبیدہ سے ملحق ہوا ۔ ابوعبیدہ نے فتح حمص کے موضوع اور تین دن گزرنے کے بعد قعقاع اور اس کی فوج کے اس سے ملحق ہونے کے بارے میں خلیفہ عمر کو رپورٹ دی اور جنگی غنائم کی تقسیم کے سلسلے میں دریافت کیا ،عمر نے ابو عبیدہ کو لکھا کہ جنگی غنائم میں قعقاع اور اس کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ شریک قرار دے ،کیوں کہ وہ تیری مدد کے لئے آئے ہیں اور انہی کے سبب دشمن نے تم پر سے محاصرہ اٹھالیا تھا ۔اور اپنے خط کے آخر میں حسب ذیل اضافہ کیا:

'' خدا ئے تعالیٰ کو فیوں کو نیک جزاء دے کیوں کہ وہ اپنے وطن کا خیال رکھتے ہیں اور دوسرے شہر یوں کی مدد بھی کرتے ہیں ''


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ :

ابن عساکر نے قعقاع کی زندگی کے حالات میں حمص کی داستان کو سیف سے نقل کیا ہے اور اس کے ضمن میں لکھتا ہے :

'' قعقاع بن عمرو حمص کی جنگ کے بارے میں اپنے شعر میں یوں تشریح کرتا ہے ''

''قعقاع کو ہر سختی اور مشکل سے مقابلہ کرنے کے لئے طلب کرتے ہیں اور وہ بھی مدد طلب کرنے والوں کی طرف فریاد رس کی حیثیت سے دوڑ تا ہے ۔

ہم دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے حمص کی طرف اس طرح دوڑپڑے جیسے کوئی کسی بے چارہ کی مدد کرنے کے لئے فریاد رس کی حیثیت سے بڑھتا ہے ۔

جب ہم دشمن کے نردیک پہنچے تو خدائے تعالیٰ نے ہماری ہیبت سے ان کو شکست دے دی اور وہ فرار کر گئے ۔

میں نے صحرائوں اور درّوں میں دشمن پر پے در پے تیر اندازی کی ،حتیٰ حمص کو اپنے تیروں ،نیزوں اور زور و غلبہ سے اپنے قبضہ میں لے لیا ''

ابن حجر نے ''الاصابہ '' میں اس قصیدہ کے پہلے شعر کو قعقاع کے حالات میں سیف کی روایت سے نقل کیا ہے ۔لیکن طبری نے اپنی روش کے مطابق اسے حذف کیا ہے اور صرف سیف سے روایت کرکے واقعات کی تشریح پر اکتفا کی ہے ۔

حموی نے حمص کی جنگ کے بارے میں سیف کی حدیث سے بالکل چشم پوشی کی ہے اور اس کی داستان اور اشعار کو اپنی کتاب میں درج نہیں کیا ہے ۔حموی کے علاوہ جن لوگوں نے بھی حمص کی فتح کے بارے میں ذکر کیا ہے صرف سیف بن عمر کی روایت کا حوالہ دیا ہے کیوں کہ ہم اس سے پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ تمام مورخین اس بات پرمتفق ہیں کہ فتوحات شام میں خاندان تمیم میں سے کسی ایک فرد نے بھی شرکت نہیں کی ہے ۔

بہر حال جیسا کہ بیان ہوا ،اس داستان کو طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور دوسرے(۱) مورخوں نے جو طبری کے بعد آئے ہیں اپنے مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

____________________

۱) ۔طبری کے بعد دوسرے مورخین سے خاص طور پر ہمارا مقصود ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون ہے ۔ گزشتہ صفحات میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ انھوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد والے واقعات اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے بارے میں انھوں نے تاریخ طبری سے ہی استناد کیا ہے ہم نے فہرست مصادر میں ان کی کتابوں کے صفحات کے نمبر بھی حوالہ کے طور پر درج کئے ہیں ۔


سند کی پڑتال :

سیف نے اس داستان کی سند کے طور پر محمد اور مہلب کا نام لیا ہے ان کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ یہ سیف کے تخیلات کی پیداوار ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

اس جانچ کا نتیجہ :

فتح حمص کے بارے میں سیف کی روایت اور اس کا دوسروں کی روایت سے موازنہ کرنے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ سیف بن عمر تنہا وہ شخص ہے جس نے حمص کی داستان کی دوبارہ روایت کی ہے اور اس سلسلے میں اتفاقات و واقعات بیان کئے ہیں جب کہ ابن اسحاق اور بلاذری نے ایسی کوئی چیز درج نہیں کی ہے ۔

اس روایت کا نتیجہ

اب ہم دیکھتے ہیں کہ سیف نے اس داستان کو گڑھ کے کیا ثابت کیا ہے اور کیا پایا ہے :

١۔قعقاع بن عمرو تمیمی اور اس کے ہم وطن کوفیوں کے لئے فضیلت فراہم کرنا۔کیونکہ صرف قعقاع اور اس کے کوفی لشکر کی آمد کی خبر نے ہی دشمن کی بنیادوں کو متزلزل کردیااور اسی ہیبت نے دشمن کو منتشر کرکے مسلمانوں کو فتح عطا کی ۔

٢۔خلیفہ عمر کا بیان اور اس کی یہ گواہی کہ:''خدا کوفیوں کو نیک جزا دے ،کیونکہ وہ اپنے وطن کاخیال رکھتے ،ہیں اور دوسرے شہر یوں کی مدد بھی کرتے ہیں ''۔خلیفہ عمر ابن خطاب جیسی شخصیت کی طرف سے اس قسم کی گواہی اور تائید اس غیر معمولی جھوٹے افسانہ ساز سیف بن عمر کے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کی راہ میں انتہائی بیش قیمت اور گراں قدر ہے۔

٣۔قعقاع کی رجز خوانی اور رزمیہ شاعری ،خود اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اسے ہمیشہ مشکل اور بڑے کاموں کے لئے بلایاجاتا تھا،کیونکہ وہ مشکل کشا اور ہر میدان کا رزار کا بے مثال فاتح ہے۔اور وہ بھی اپنی بہادری کی بناء پر ہمیشہ اس قسم کے مسائل ومشکلات کو حل کرتارہاہے۔اس کے ثبوت کے لئے خلیفہ کابیان بھی جو یہ کہتے ہیں :یہ کوفی ہیں جو اپنے وطن کی بہتر صورت میں حفاظت کرتے ہیں اور مشکلات وسختیوں میں دوسرے شہریوں کی مدد بھی کرتے ہیں ۔


قعقاع ،نہاوند کی جنگ میں

قتل من الفرس ما طبق ارض المعرکة

نہاوند کی جنگ میں اتنے ایرانی مارے گئے کہ ان کی لاشوں سے زمین بھر گئی اور ان کے خون سے زمین پھسلنی بن گئی ۔

(سیف بن عمر)

جنگ نہاوند کی داستان:

قعقاع ،کوفی سپاہیوں کے ہمراہ دوبارہ عراق لوٹتاہے،لیکن کب،کیسے اور کیوں ؟۔ہم نے اس سلسلہ میں نہ طبری سے اور نہ سیف کے دیگر راویوں سے کہ اس مطلب کے جوابگو ہوں کچھ نہیں پایا اور یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ سیف نے اس سلسلے میں کیا خیال بندی کی ہے۔

بہر حال ،نہاوند کی جنگ کے بارے میں طبری،سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتاہے:

''نہاوند کی جنگ ١٨ ھ میں واقع ہوئی ۔ایرانیوں نے نہاوند کے قلعہ میں پناہ لے لی تھی،اپنی ضرورت اور مصلحت کے بغیر اس سے باہر نہیں نکلتے تھے کبھی کبھی جنگ کے لئے باہر نکلتے تھے ۔مسلمانوں نے اس قلعہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا اور یہ محاصرہ طولانی مدّت تک جاری رہا ۔مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار اعظم نعمان بن مقرن تھا۔نعمان نے قعقاع بن عمرو کو مأمور کیا کہ کسی صورت سے ایرانیوں کو قلعہ سے باہر نکال کر میدان کارزار میں کھینچ لائے۔قعقاع بن عمرو (خاندان تمیم کا افسانوی پہلوان ) ہراول دستہ کے سوار فوجیوں کا سردار تھا۔اس نے ایک تدبیر سوچی اور میدان کارزار میں داخل ہوا۔اس نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ قلعہ پر حملہ کیا،ایرانی مقابلہ کے لئے آگے بڑھے ،قعقاع نے اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا ۔اسی طرح جنگ وگریز کی حالت میں وہ پیچھے ہٹتا گیا ۔ایرانیوں نے یہ خیال کیا کہ مسلمان ہزیمت اٹھارہے ہیں ،اس لئے ان کا کام تمام کرنے کی غرض سے قلعہ اور مورچوں سے باہر آگئے اور دور تک مسلمان سپاہیوں کا پیچھا کیا ۔جب قلعہ کے محافظوں کے علاوہ تمام ایرانی قلعہ سے باہر آگئے تو مسلمان اسی چیز کا انتظار کررہے تھے ،اس لئے فرصت کو غنیمت سمجھ کر مسلمان سپہ سالار نے واقعی حملہ کا حکم دیا اور گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ۔اس معرکہ میں اتنے ایرانی مارے گئے کہ زمین پر کشتوں کے پشتے لگ گئے اور ان کے خون سے زمین اتنی پھسلنی بن گئی کہ سوار اور پیادہ اس پر پھسل جاتے تھے ۔


شام ہونے سے پہلے ہی مشرکین بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور حیرانی و پریشانی کے عالم میں چاروں طرف بھاگنے لگے۔ان میں ایسی بھگدڑمچ گئی کہ راہ وچاہ میں فرق نہیں سمجھ سکے۔اسی سبب سے قلعہ اور پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے کے بجائے دشمن کے لئے کھودی گئی اپنی ہی خندق جس میں انھوں نے دشمن کے لئے آگ لگا رکھی تھی کی طرف بھاگے اور ان خوفناک آگ کے شعلوں میں گرتے گئے۔اس خندق میں گرتا ہوا ہر سپاہی فارسی زبان میں چیخ کر کہتاتھا ''وائے خرد!!''۔اسی لئے وہ سرزمین ''وائے خرد!''کے نام سے مشہور ہوگئی اور آج تک اسی نام سے معروف ہے۔ جن ایرانی سپاہیوں نے اس دہکتی ہوئی آگ میں گر کر جان دی ان کی تعداد ایک لاکھ تک بلکہ اس سے زیادہ تک پہنچ گئی ۔مقتولین کی یہ تعدادان بے شمار کشتو ں کے علاوہ تھی جو میدان کار زار میں کام آئے تھے ۔بہت کم ایسے لوگ تھے جو اس معرکہ سے زندہ بچ کر نکلے ۔فرار کرنے والوں میں ایرانی فوج کا کمانڈ ر فیروزان بھی تھا جو بڑی چالاکی سے اس معرکہ سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا اور ہمدان کی طرف بھاگ گیا تھا قعقاع بن عمرو نے فیروزان کا پیچھا کیا اور درۂ ہمدان میں اس کے نزدیک پہنچ گیا ۔

اس وقت وہ گزرگاہ ایسے چوپایوں سے کھچا کھچ بھری تھی جن کی پیٹھ پر شہد لدا ہوا تھا ۔ان چوپائوں کی کثرت کی وجہ سے اس تنگ گزرگاہ سے فیروزان کے لئے گزرنا مشکل ہو گیا ۔اس لئے وہ مجبور ہو کر گھوڑے سے اترا اور بڑی تیز ی کے ساتھ پہاڑ پر چڑھنے لگا ۔اسی اثنا میں اس کا پیچھا کرنے والا قعقاع بھی وہاں پہنچ گیا اور اس نے پہاڑ کی طرف بھاگتے ہوئے فیروزان کا پیچھا کیا ۔آخر کار پہاڑکی بلندی پر اس پر قابو پا لیا اور وہیں پر اسے قتل کر ڈالا ۔اسی سبب سے اس دن کے بعد اس گزر گاہ کا نام '' گزر گاہ عسل'' (یعنی شہد کی گزرگاہ) پڑ ا ۔اس امر کے پیش نظر کہ اس گزر گاہ پر شہد کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ کامیابی حاصل ہوئی تھی اس لئے اسلام کے سپاہیوں نے وہاں پر یہ جملہ کہا :'' خدا کے پاس شہد کی فوج بھی ہے '' ۔

دوسری طرف ایرانی فوج کے فراری سپاہی دوڑتے بھاگتے ہمدان پہنچ گئے ۔ان کا پیچھا کرنے والے مسلمانوں نے ہمدان کا محاصرہ کیا اور اس کے اطراف کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔ہمدان کے باشندوں نے جب یہ حالت دیکھی تو وہ سمجھ گئے کہ اسلامی فوج سے مقابلہ نہیں کر سکتے ،اس لئے مجبور ہو کر امان چاہی اور ان کی درخواست منظور کرکے انھیں امان دے دی گئی۔


جب ہمدان کے زوال اور تسخیر ہونے کی خبر ماہان کے باشندوں کو پہنچی ،اور انھیں اطلاع ملی کہ نعیم بن مقر ن اور قعقاع بن عمر و نے ہمدان کو فتح کر لیا ہے تو ماہان کے باشندوں نے بھی ہمدان کے باشندوں کی طرح امان کی درخواست کی اور انھیں بھی امان دے دی گئی ۔ماہان کے باشندوں کے امان نامے کے آخر میں قعقاع بن عمرو تمیمی نے تائید کی اور گواہ کے طور پر دستخط کئے ۔اس فتح ،یعنی فتح نہاوند کو '' فتح الفتوح '' کا نام دیا گیا ہے ۔

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ:

نہاوند کی فتح کے سلسلہ میں طبری کی سیف سے کی گئی روایت کا یہ ایک خلاصہ ہے طبری کے بعد آنے والے مورخین(۱) نے ان ہی مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے

لیکن حموی نے فتح نہاوند کی اس داستان کو '' نہاوند '' ''وائے خرد !''اور ''ماہان ''کی لفظوں کی تشریح کے ضمن میں پراگندہ حالت میں درج کیا ہے ۔اس سلسلے میں وہ نہاوند کے بارے میں لکھتاہے

مسلمانوں نے نہاوند کی فتح کا نام '' فتح الفتوح '' رکھا ہے اس مناسبت سے قعقاع بن عمرو نے یہ شعر کہے ہیں :

'' جو بلا سبب کسی خاندان کی بدگوئی کرے خدا اسے ایسی بلا میں مبتلا کرے ،جس کے

____________________

۱)۔ دیگر مورخین سے ہمارا مقصود خاص کر ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون ہے ہم نے مناسب جگہوں پر ان کے عین متن جوان کے تمام مطالب کو طبری کی کتاب سے نقل کرنے کی دلیل ہے کو درج کیا ہے ،ہم مصادر کتاب درج کرتے ہوئے ان کتابوں کے صفحات کا نمبر بھی الگ الگ درج کریں گے تاکہ خواہشمند حضرات اور محققین کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا آسان ہو جائے ۔


عذاب سے اس کے سر کے بال سفید ہو جائیں ،پس تم بھی اپنی شماتت کی زبان مجھ سے دور رکھو ،کہ میں دشمن کے مقابلے میں اپنی شرافت کا دفاع کرتا ہوں کیوں کہ جب ہم نہاوند کے پانی میں داخل ہوئے تو اس سے سیراب ہو کر نکلے جب کہ دشمن بے بسی کے عالم میں اپنی جگہ پر پیاسے ہی کھڑے تھے''

وہ مزید کہتا ہے :

'' نہاوند سے پوچھ لو کہ ہمارے حملے کیسے تھے ؟ جب ہم اس کے درودیوار سے دشمنوں پر بلائیں اور مصیبتیں برسا رہے تھے !''

جب عجم پر منحوس ترین راتیں گزر رہی تھیں ،ہم نے نہاوند کے تمام مقامات پراپنے گھوڑے ٹھہرائے تھے اور تمام علاقوں میں پھیل گئے تھے ،ہم ان کے لئے موت کا تلخ پیغام تھے ۔حقیقت میں نہاوند کا دن انتہائی سخت دنوں میں سے تھا جو ان پر گزرا۔ ہم نے دہکتے آگ کے شعلوں والی خندق کو ان کے سوار اور پیدل سپاہیوں کی لاشوں سے بھر دیا اور پہاڑوں کی صاف اور کھلی گزر گاہوں نے بھی فراری فیروزان کے لئے راہ تنگ کردی تھی اور اس کے لئے بھاکنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی تھی''

وہ لفظ '' وائے خرد!'' کے بارے میں لکھتا ہے :

نہاوند کے نزدیک ''وائے خرد '' نام کی ایک خندق ہے کہ ایرانی فوج شکست کھا کر اس میں گرتے ہوئے فریا د بلند کرتے تھے '' وائے خرد'' اور اسی سبب اس جگہ کا نام ''وائے خرد '' پڑا ہے اس مطلب کو کتاب ''فتوح'' کے مولف سیف بن عمر تمیمی نے لکھا ہے... اور قعقاع بن عمرو نے اس کے بارے میں یوں کہا ہے :

'' جب ''وائے خرد !'' میں وہ سر کے بل گر گئے ،تو صبح کے وقت گدھ اور لاش خور ان کی ملاقات کے لئے آئے ۔ہم نے ان کے اتنے لوگوں کو قتل کیا کہ جس خندق میں انھوں نے آگ سلگائی تھی ،وہ لاشوں سے بھر گئی''


پھر چند دیگر اشعار کے ضمن میں اس طرح کہا ہے :

''میں نے نہاوند کی جنگ میں کسی خوف و ہراس کے بغیر شرکت کی ۔ اس دن تمام عرب قبیلوں نے جنگ میں شجاعت کے جوہر دکھائے ،شام کے وقت جب فیروزان ہماری ننگی تلواروں کی ہیبت سے اپنی جان بچانے کے لئے پہاڑ کی طرف بھاگ گیا تو ہمارے ایک شجاع اور جوان مرد جنگجو نے اس کا پیچھا کیا اور چوپایوں کے نزدیک اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔دشمنوں کی لاشیں ''وائے خرد '' میں پڑی ہیں تاکہ وحشی بھیڑیے ان کی ملاقات کے لئے آئیں اور ان کے مہمان بنیں ''

وہ ہامان کے بارے میں لکھتا ہے :

عرب اسے لفظ جمع کی شکل میں ''وماہات''کہتے ہیں ...اور قعقاع بن عمرو نے ماہان کے بارے میں یوں کہا ہے:

'' ہم نے ماہات میں اس وقت ایرانیوں کی ناک رگڑ کے رکھ دی جب ان کے فرزندوں کو جو شیر کے بچے کہلاتے تھے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ان کے گھروں کو مسمار کرکے رکھ دیا ،اسی روز جب میں ان سے لڑنے کے لئے نکلا تھا اور جو بھی میرے مقابلے میں آئے گا اس کا یہی انجام ہوگا''

یہ وہ مطالب ہیں جنھیں سیف نے درج کیا ہے اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،کیوں کہ :

١۔ بلاذری اور دینوری نے روایت کی ہے کہ ایرانی فوج کا سپہ سالار شاہ ذوالحاجب تھا نہ فیروزان۔

٢۔دینوری نے ایرانیوں کو پناہ گاہ سے باہر لانے کا طریقہ یوں بیان کیا ہے :

'' عمر بن معد یکرب نے اسلامی فوج کے سپہ سالار نعمان بن مقرن کی خدمت میں تجویز پیش کی کہ خلیفہ عمر کی وفات کا اعلان کریں اور اپنے پورے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف پیچھے ہٹیں اور اس طرح ایرانیوں کو فریب دیں ۔نعمان نے اس تجویز کو پسند کیا اور اس کوعملی جامہ پہنایا۔ ایرانیوں نے جب فریب میں آکر اس خبر کو نوید کے طور پر ایک دوسرے تک پہنچایا اور وہ مسلمانوں کا پیچھا کرنے کے لئے باہر نکلے تو مسلمانوں نے اچانک مڑکر ان پر حملہ کر دیا ...''


٣۔ طبری نے لکھا ہے کہ سیف ابن عمر نے نہاوند کی فتح کی تاریخ ١٨ھ روایت کی ہے جب کہ دیگر مورخین اسے ٢١ھ درج کیا ہے ۔

٤۔ بلاذری نے ایرانی سپہ سالار اعظم مردان شاہ کے قتل ہونے کے طریقہ کے بارے میں یوں لکھا ہے :

'' وہ اس خچر سے نیچے گر گیا ،جس پر سوار تھا اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اسی کے سبب وہ مرگیا''

٥۔بلاذری نے کہا ہے کہ :

'' ہمدان ،جریر بجلی قحطانی کے ذریعہ فتح ہوا ہے نہ قعقاع بن عمر وتمیمی کے ہاتھوں ''

٦۔اس موضوع ''خدا کے پاس شہد کی فوج بھی ہے '' کے بارے میں کتاب ''معجم البدان '' میں بعلبک کی تشریح میں درج ہے کہ : مشہور یہ ہے کہ یہ جملہ معاویہ ابن ابو سفیان سے مربوط ہے ،جب اس نے مالک اشترہمدانی کو فریب سے شہد میں ملائے ہوئے زہر کے ذریعہ قتل کرایا۔

ابن کثیر بھی کہتا ہے کہ ،معاویہ اور عمر و عاص دونوں نے یہ جملہ ' ' خدا کے پاس شہد کی فوج بھی ہے '' اس وقت کہا جب مالک اشتر شہد میں ملائے ہوئے زہر کے سبب قتل ہوئے ۔

طبری بھی کہتا ہے کہ ،عمرو عاص نے شہد میں ملائے ہوئے زہر کے سبب مالک اشتر کے قتل ہونے کے بعد یہ جملہ کہا۔(۱)

____________________

الف )۔ ملاحظہ ہو تاریخ ابن کثیر ج٨ص٢١٢،تاریخ طبری ٣٢٤٢١


اس کے علاوہ جو کچھ سیف نے اس سلسلہ میں کہا ہے وہ جعلی ہے اور تنہا وہی اس کا راوی ہے دیگر راویوں نے اس قسم کی کوئی چیز ذکر نہیں کی ہے اور یہ سب دیگر مورخین کے نظریات اور نقل و روایت کے خلاف ہے ۔

سند کی تحقیق :

سیف نے یہ داستان محمد اور مہلب سے نقل کی ہے کہ یہ دونوں اس کے جعلی راوی ہیں اور ہم اس سے پہلے ان کا ذکر کر چکے ہیں ۔

اسی طرح عروہ ابن ولید اور ابو معبد العبسی کہ جنھوں نے اپنے رشتہ دار وں سے روایت کی ہے ،کو بھی اس داستان کے راویوں کے طور سے ذکر کیا ہے ۔ہم نے عروہ اور ابومعبد کا نام سیف کی حدیث کے علاوہ کہیں نہیں پایا ،ان کے مجہول رشتہ داروں کا پتا لگانا تو دور کی بات ہے !!۔

پڑتال کا نتیجہ :

ہم نے مشاہدہ کیا کہ سیف بن عمر نے ایران کی فوج کے سپہ سالار اعظم کا نام بدل دیاہے۔

ایرانیوں کو اپنی پناہ گاہ سے نکالنے کے طریقہ کار میں تحریف کی ہے فتح کے سال کوبھی بدل دیا ہے اور شاید '' گزر گاہ شہد ''کو اس لئے جعل کیا ہے تاکہ معاویہ ابن ابو سفیان مضری کی کارکردگی اور مالک اشتر کو شہد میں ملائے زہر سے قتل کرنے کی اس کی بات گول مول کردے ۔

اس کے علاوہ ہم نے واضح طور پرمشاہدہ کیاکہ اس نے ہمدان کی فتح کو جریر بجلی قحطانی یمانی کے بجائے قعقاع بن عمر و تمیمی مضری کے کارناموں میں درج کردیا ہے ۔


اس داستان کے نتائج:

١۔ ایرانیوں کو جنگی حیلہ اور فریب سے ان کی پناہ گاہ سے باہر لاکر خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوان قعقاع بن عمرو کے لئے خاص فضیلت و ستائش تخلیق کرنا۔

٢۔ نہاوند میں ''وائے خرد !'' نام کی جگہ ایک لاکھ سے زائد ایرانیوں کا ان کے اپنی ہی آگ سے بھری خندق میں گر کر ہلاک ہوجانا۔

٣۔ نہاوند کی فتح میں ایک لاکھ انسان کے قتل ہونے اور ایک لاکھ کے جل کر ہلاک ہونے ، یعنی مجموعی طور سے دو لاکھ انسانوں کی ہلاکت پر تاکید اور اصرار کرنا۔

٤۔فیروزان نام کی ایک نمایاں ایرانی شخصیت کو ایرانی فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے جعل کرنا۔

٥۔ ''وائے خرد'' نام کی ایک خندق کی تخلیق کرنا تاکہ جغرافیہ کی کتابوں میں یہ نام درج ہو جائے ۔

٦۔ ''گزر گاہ شہد '' کے نام سے ایک گزرگاہ تخلیق کرنا تاکہ دشمنان اسلام کے لئے رکاوٹ بن جائے ۔اور اس فیروزان کو قتل کر کے قعقاع کے افتخارات میں ایک اور فخر کااضافہ کرنا ۔

٧۔ ہمدان کی فتح کا سحرا قعقاع اور دیگر مضری سرداروں کو بخش کر ان کے افتخارات میں ایک اورفخر کا اضافہ کرنا ۔

٨۔ ان جنگوں میں بے مثال پہلوان قعقاع بن عمرو کے رجز اور رزم ناموں پر مشتمل قصیدوں کو ادبیات عرب کی زینت بنانا۔

٩۔ ہمدان اور ماہان کے باشندوں کے ساتھ صلح و امان نامے جعل کرنا تاکہ تاریخ کی کتابوں میں ناقابل انکار تاریخی اسناد کے طور پر ثبت ہو جائیں اور ہمیشہ کے لئے باقی رہیں ۔


بحث کاخلاصہ:

یہ ہے سیف کا افسانوی دلاور ،پہلوان ،عقلمند سیاست داں ،نامور رزمی شاعر اور تمام معرکوں اور فتوحات میں ناقابل شکست سورما قعقاع ،جس کی نیک نامیاں ،بہادریاں ،دوراندیشیاں ،سنجیدگیاں اور قابل قدر خدمات کتابوں میں درج ہوئے ہیں اور اس کے نام کی شہرت دنیا میں پھیل گئی ہے ۔

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ٣٤ھو ٣٥ھ کے حوادث کے ضمن میں عثمان کی خلافت کے زمانے میں قعقاع کی سرگرمیوں کا ایک اور باب کھول کر یوں ذکر کیا ہے ۔

'' خلیفہ عثمان نے قعقاع بن عمر و کو کوفہ کی جنگ کا سپہ سالار مقر ر کیا ۔اس زمانے میں کوفہ اسلامی ممالک کا مشرقی دارالخلافہ تھا اور عسکری نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کا حامل تھا ۔سیف کی اس روایت کے مطابق خلیفہ عثمان نے قعقاع بن عمرو کو اسلامی ممالک کے مشرقی حصے کے کمانڈر انجیف کی حیثیت سے مقرر کیا ہے ۔

سیف کی روایت کے مطابق اس کے بعد قعقاع بن عمر و کی سرگرمیاں ایک اور صورت اختیار کرتی ہیں اور اس کے لئے ایک خاص مقام و مرتبہ پر فائز ہوتا ہے ۔آخر اس جیسا افسانوی ''مرد مجاہد '' کیوں ہر لحاظ سے کامل نہ ہو !؟

قعقاع ابن عمرو کی سرگرمیوں کے اس نئے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو ایک خیر خواہ ،صلح و صفائی کے ایلچی اور عثمان اور حضرت علی ں کی خلافت کے دوران پیدا ہوئی بغاوتوں اور فتنوں کو دوستی و برادری سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔انشاء اللہ ہم اس حصے کی تفصیل اگلی فصل میں پیش کریں گے ۔


قعقاع ،عثمان کے زمانے میں

انی لکم ناصح و علیکم شفیق

میں آپ کا شجاع دوست اورخیر خواہ ہوں

( قعقاع افسانوی خیر خواہ )

قعقاع ،عثمان کے زمانے کی بغاوتوں میں

طبری نے سیف بن عمر سے روایت کی ہے :

'' جب قعقاع سبائیوں کی عثمان کے خلافت بغاوت کے سلسلے میں مسجد کوفہ میں منعقدہ میٹنگ سے آگاہ ہوا ،تو فوراً وہاں پہنچ گیا اور انھیں ڈرادھمکا کے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں سوال کیا ۔سبائیوں نے اپنے جلسہ کا مقصد اس سے چھپاتے ہوئے کہا : ہم کوفہ کے گورنر سعید کی برطرفی کے حامی ہیں قعقاع نے جواب میں کہا : کاش !تم لوگوں کی خواہش صرف یہی ہوتی !اس کے بعد ان کو منتشر کیا اور مسجد میں رکنے نہیں دیا ''

وہ مزید لکھتا ہے :

جب مالک اشتر سعید کو گورنر کی حیثیت سے کوفہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے باغیوں کو اکسارہا تھا ،تو ڈپٹی گورنر عمر وبن حریث اس شورش کو روکنے اور نصیحت و رہنمائی کرنے کی غرض سے آگے بڑھا اور انھیں اس سلسلہ میں ہر قسم کی انتہا پسندی سے پرہیز کرنے کو کہا ۔اسی اثنا میں قعقاع بھی وہاں پہنچتا ہے اور ابن حریث سے کہتا ہے کیا تم سیلاب طوفانی لہروں کو نصیحت کی زبان سے پلٹنا چاہتے ہو !؟کیا دریائے فرات کو مہربانی اور نرمی سے اپنے سر چشمہ کی طرف پلٹنا چاہتے ہو !؟ یہ ناممکن ہے !! خدا کی قسم اس بغاوت اور شورش کے شعلوں کو تلوار کی تیز دھار کے علاوہ کوئی چیز بجھا نہیں سکتی اب وہ وقت آگیا ہے کہ یہ تلوار میان سے باہر آئے ۔اس وقت ان کی چیخ پکار بلند ہوگی اور وہ اپنے گنوائے ہوئے وقت کی آرزو کریں گے کہ خدا کی قسم :اس وقت دیر ہوچکی ہوگی وہ ہرگز اپنے عزائم کو نہیں پہنچ پائیں گے،لہٰذا تم چپ رہو اور صبر سے کام لو۔


ابن حریث نے قعقاع کی نصیحت وراہنمائی قبول کی اور اپنے گھر چلاگیا۔وہ مزید کہتاہے:

جب یزید بن قیس مسجد کوفہ میں لوگوں کو سعید کے خلاف بھڑکارہاتھا اور عثمان کے بارے میں بد گوئی کررہاتھا ،تو قعقاع بن عمرو اٹھتاہے اور اس کے سامنے کھڑا ہوکر کہتاہے:کیا تم ہمارے عثمان کے مامور حکام کے استعفا دینے کے علاوہ کچھ

اور چاہتے ہو؟ توہم تمھاری یہ خواہش پوری کردیں گے!

اس نے مزید روایت کی ہے:

جب عثمان کا محاصرہ کیاگیا تو خلیفہ نے مختلف اسلامی شہروں کو خط لکھا اور ان سے مد د چاہی ۔ عثمان کے جواب میں قعقاع بن عمرو ،ساتھیوں کے ایک گروہ کے ہمراہ کوفہ سے مدینہ کی طرف عثمان کی مدد کے لئے روانہ ہوا ۔ادھر عثمان کا محاصرہ کرنے والے باغیوں کو یہ اطلاع ملی کہ مختلف شہروں سے لوگ عثمان کی مدد کے لئے آرہے ہیں اور ان کو یہ بھی پتا چلا کہ معاویہ شام سے اور قعقاع بن عمرو کوفہ سے اور ......خلیفہ کو نجات دینے کے لئے مدینہ کے طرف آرہے ہیں ،تو انھوں نے محاصرہ کا دائرہ تنگ تر کرکے عثمان کا کام تمام کردیا اور اسے قتل کرڈالا۔جب عثمان کے قتل کی خبر راستے میں ہی قعقاع کوملی تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت کوفہ پلٹ گیا۔

یہ تھی ،عثمان کے خلاف لوگوں کی بغاوت اور اس میں قعقاع کے رول کے بارے میں ، سیف کی روایت ۔آئندہ فصل میں ہم امام علی ں کے زمانے میں قعقاع کے رول کے بارے میں سیف کی روایت کا جائزہ لیں گے۔


قعقاع ،امام علی کے زمانے میں

نادی علی ان اعقرواالجمل

علی نے فریاد بلند کی ،اونٹ کوپے کرو!

(مؤرخین)

امر قعقاع بالجمل فعقر

قعقاع نے حکم دیا اونٹ کوپے کرو اور اونٹ پے کیاگیا۔

(سیف بن عمر)

جنگ جمل کی داستان ،سیف کی روایت کے مطابق:

طبری نے سیف سے یوں روایت کی ہے :

حضرت علی بن ابیطالب کی خلافت کے زمانہ میں کوفہ کے باشندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امام کی مدد کرتے ہوئے ان کے ساتھ بصرہ جائیں گے۔لیکن ابو موسیٰ اشعری جو عثمان کے زمانے سے کوفہ کا گورنر تھا نے انھیں بصرہ جانے سے روکا ۔اس کی وجہ سے زید بن صوحان ابوموسیٰ سے الجھ گیا اور ان دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی !آخر میں قعقاع اٹھا اور بولا:

میں آپ سبوں کا دوست اور ناصح ہوں ،میں چاہتاہوں کہ آپ لوگ ذرا عقل سے کام لیں اور میری بات مان لیں ،کیونکہ میری بات عین حقیقت ہے۔جو کچھ گورنر ابو موسیٰ اشعری نے کہا، وہ حق بات ہے لیکن قابل اعتماد نہیں ہے۔جہاں تک زید کی بات کا تعلق ہے ،چونکہ اس بغاوت میں خود اس کا ہاتھ ہے،اس لئے اسے ہرگز قبول نہ کرنا ۔(۱) ۔حق و حقیقت یہ ہے کہ بے شک لوگوں کو حکومت اور خلیفہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ پوری طاقت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کا اقدام کرے اور سماج میں نظم وضبط برقرار کرے ۔ظالموں کو قرار واقعی سزادے اور مظلوموں کی دادرسی کرے امام علی ـ لوگوں کے حاکم مقرر ہوئے ہیں ۔انھوں نے خیر خواہانہ طور پر لوگوں کو اپنی حمایت کی دعوت دی ہے۔وہ لوگوں کو اصلاح کی طرف بلارہے ہیں ۔لہٰذا ان کاساتھ دو اور ان کی اطاعت کرو۔


صلح کا سفیر

طبری نے مزید روایت کی ہے :

قعقاع بن عمرو کوفہ کے کمانڈروں میں وہ پہلا کمانڈر تھا ،جس نے علی کا ساتھ دیا۔اور جب ذی قار کے مقام پر علی کی خدمت میں پہنچا،تو حضرت نے اسے اپنے پاس بلاکر اسے بصرہ کے لوگوں کی جانب اپنا سفیر اور ایلچی بنا کر روانہ کیا اور فرمایا:

اے ابن حنظلیہ !ان دو مردوں (طلحہ وزبیر) سے ملاقات کرو (سیف کا کہنا ہے کہ قعقاع

١لف۔سیف نے اس افسانہ میں زید بن صوحان کو اس کے مقام ومنزلت کے پیش نظر خاص طور پر سبائی جتلاکر قعقاع کی زبانی اس کی اس طرح تصویر کشی کی ہے۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تھا)اور انھیں اسلامی معاشرے میں اتحاد ویکجہتی قائم کرنے کی دعوت دو اور معاشرے میں اختلاف وافتراق سے انھیں خبر دار کرو!اس کے بعد فرمایا:ان کا جواب سننے کے بعد اگر کسی خاص امر میں تمھارے پاس میرا حکم موجود نہ ہو تو ،تم کیا کروگے؟قعقاع نے جواب میں کہا:آپ کے حکم کے مطابق ان دونوں سے ملوں گا۔اگر کوئی ایسا امر پیش آیا جس کا حکم آپ نے نہ دیا ہوتو میں اپنی رائے اور اجتہاد سے اس کا تدارک کروں گا۔ان کے ساتھ جو بھی سزاوار ہو،مشاہدہ کے مطابق اسی پر عمل کروں گا۔

امام علی ں نے جواب میں کہا:تم اس کام کے لائق ہو ،جاؤ!

اس کے بعد قعقاع اپنی ماموریت پر روانہ ہوا۔جب ان (عائشہ،طلحہ وزبیر)کے پاس پہنچا،تو ان سے گفتگو کی ۔ام المومنین عائشہ نے اس کی بات مان لی اور طلحہ وزبیر نے بھی توافق کیا اور کہا:شاباش ہو!سچ کہتے ہو اور حق یہی ہے۔اس طرح انھوں نے دو گروہوں کے درمیان صلح وآشتی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

جب قعقاع صلح وآشتی کی نوید لے کر امام علی ں کی خدمت میں پہنچا تو علی ں اٹھ کر منبر پر تشریف لے گئے اور تقریر کرتے ہوئے بولے:

تم لوگ یہ جان لو کہ میں کل روانہ ہورہاہوں ۔تم لوگ بھی تیار رہنا۔لیکن جس نے عثمان کے خلاف کوئی اقدام کیا ہو وہ ہمارے ساتھ نہ آئے ۔ہم احمقوں کی حمایت سے بے نیاز ہیں ۔


سبائیوں کی میٹنگ:

سبائیوں نے جب دو سپاہیوں کے درمیان صلح کی خبر سنی تو بڑی تیزی کے ساتھ آپس میں جلسہ منعقد کرکے صلاح و مشورہ کرنے لگے ۔کافی گفتگو کے بعد عبداللہ بن سبا نے یہ تجویز پیش کی کہ :'' دونوں سپاہوں کے قائدین کی بے خبری میں ہم راتوں رات جنگ کے شعلے بھڑکا دیں گے اور انھیں آپس میں ٹکرا دیں گے '' اس تجویز پر تمام سبائیوں نے موافقت کی اور قول و قرار کے بعد متفرق ہو گئے۔

دوسری طرف دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آراہوئیں ۔حضرت علی ـ،طلحہ اور زبیر نے اپنی فوج کے مختلف دستوں کے کمانڈروں کو بلا کر انھیں مطلع کیا کہ دونوں گروہوں کے درمیان صلح کا معاہدہ طے ہونے والا ہے اور جنگ نہیں ہوگی ۔نتیجہ کے طور پت دو طرف کے سپاہیوں نے صلح و آشتی کی امید میں وہ دن آرام سے گزارا ۔لیکن اسی رات تاریکی میں سبائیوں نے عبداللہ ابن سبا کی سرکردگی میں جنگ کے شعلے بھڑکا دئے اور دونوں فوجوں کو ایک دوسرے سے ٹکرادیا۔

قعقاع کی جنگ

جنگ چھڑ گئی اسی گرما گرمی کی حالت میں قعقاع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ طلحہ کے نزدیک سے گزررہا تھا کہ اس نے طلحہ کو یہ کہتے ہوئے سنا :'' اے خدا کے بندو!میری جانب آجائو ،صبر کرو! صبر کرو! قعقاع نے طلحہ سے کہا : تم زخمی ہو چکے ہو اور اپنی طاقت کھو بیٹھے ہو ،اپنے گھر چلے جائو۔

طبری سیف سے مزید روایت کرتا ہے :

قعقاع نے جنگ کی اس حالت میں مالک اشتر کی شماتت کرتے ہوئے کہا : کیا تم جنگ کی طرف نہیں بڑھو گے ؟! چوں کہ مالک اشتر نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اس لئے قعقاع اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا : ہم مضری جنگ میں اپنے مد مقابل سے لڑنے میں دیگر لوگوں سے زیادہ ماہر ہیں ۔اس کے بعد وہ جنگ کو جاری رکھتے حسب ذیل رجز خوانی کرنے لگا:


''جب ہم کسی پانی پینے کی جگہ پر وارد ہوتے ہیں تو اسے پاک و صاف کرکے رکھتے ہیں اور جس پانی پر ہم قبضہ کر لیتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کی طرف دست درازی کرے ''

طبری نے مزید روایت کی ہے :

''زفر بن حارث آخر ی شخص تھا جس نے میدان کا رزار میں جاکر جنگ کی قعقاع نے جاکر اس کا مقابلہ کیا ۔

عائشہ کے اونٹ کے اطراف میں جنگ شدت اختیار کر گئی تھی ،اس اونٹ کے اطراف میں قبیلہ بنی عامر کے مردوں میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا ،اس وقت قعقاع نے حکم دیا کہ عائشہ کے اونٹ کو پئے کردیں ۔عائشہ کے اونٹ کے مارے جانے کے بعد قعقاع نے ہی عام معافی کا اعلان کیا اور اپنے اطراف میں موجود سپاہیوں سے کہا :''تم امان میں ہو !!'' اس کے بعد اس نے اور زفربن حارث نے اونٹ کے پالان کی پٹیاں کاٹ دیں اور عائشہ کے محمل کو اس سے جدا کر کے آہستہ سے زمین پر رکھ دیا اور اس کے اطراف میں حفاظت کا انتظام کیا۔

جب عائشہ کا اونٹ قتل ہوا تو لوگ (جنگ جمل کے حامی) بھاگ گئے اور جنگ کے شعلے فوراً بجھ گئے ۔یہ کامیابی قعقاع بن عمرو تمیمی مضری کے وجود کی برکت سے نصیب ہوئی ۔جنگ کا عفریت فرار کر گیا اور خطرات ٹل گئے ۔

جنگ جمل کا فخر بھی ابتدا ء سے آخر تک خاندان تمیم کو ہی نصیب ہوا ۔کیوں کہ قعقاع بن عمرو تمیمی کے ذریعہ ہی قوم کے قائدین کے درمیان دوستی و آشتی کا باب کھلتا ہے ۔ سبائیوں کے عبداللہ بن سبا کی سرکردگی میں جنگ کے شعلے بھڑکا نے اور قعقاع کی صلح کی کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے برادر کشی کا بازار گرم کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقہ ڈالنے کے بعد بھی قعقاع بن عمر و تمیمی ہی ہمت و حوصلہ سے میدان کا رزار میں اتر کر ،عرب قوم کو نابود کرنے والی جنگ کے ان شعلوں کو اپنی تدبیر و حکمت عملی سے بجھاتا ہے اور عائشہ کے اونٹ کو قتل کرنے کے بعد جنگ کا خاتمہ کرتا ہے ۔ عام معافی کا اعلان کرنے والا بھی قعقاع بن عمرو تمیمی ہی تھا ۔


حضرت علی ں اور عائشہ کی پشیمانی

طبری سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے عائشہ اور قعقاع بن عمر و کے درمیان گفتگو کی حسب ذیل روایت بیان کرتا ہے :

عائشہ نے قعقاع بن عمرو تمیمی سے کہا:

''خدا کی قسم !تمنا کرتی ہوں کاش اب سے بیس سال پہلے مر چکی ہوتی ''

امام علی ـنے بھی قعقاع سے یہی کہا ۔علی اور عائشہ کے جملے یکساں تھے ۔

طبری مزید روایت کرتا ہے :

حضرت علی ـابن ابی طالب نے قعقاع بن عمرو کو مامور کیا کہ ان افراد کا سر تن سے جدا کردے ،جنھوں نے عائشہ کے بارے میں شعر کہہ کر اس کی بے احترامی کی تھی ۔

ان میں سے ایک شعر یہ کہا گیا تھا:

'' اے ماں !تیرا جرم نافرمانی ہے ''

اور دوسرے نے کہا تھا:

'' اے ماں !توبہ کر کیوں کہ تونے خطا کی ہے ''

حضرت علی ں نے یہ حکم جاری کرنے کے بعد قعقاع سے کہا : میں انھیں سخت سزا دوں گا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ ان دونوں کے کپڑے اتار دئے جائیں ہر ایک کو سو سو

کوڑے مارے ۔

مورخین نے سیف کی روایت طبری سے نقل کی ہے

یہ تھا اس داستان کا خلاصہ جس کی طبری نے سیف بن عمر سے ،جنگ جمل ،اس کے وقوع کے اسباب اور افسانوی سورما قعقاع بن عمرو تمیمی کے نمایاں خدمات اور قابل ذکر سرگرمیوں کے بارے میں روایت کی ہے ۔اور ان ہی مطالب کو ابن کثیر اورابن اثیر نے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔


ابن کثیر اپنے بیان کے آغاز میں کہتا ہے : سیف بن عمر نے اس طرح کہا ہے اور اس کے آخر میں لکھتا ہے : یہ اس کا خلاصہ ہے جسے ابو جعفر طبری

ابن خلدون نے بھی جمل کے بارے میں درج کی گئی اپنی داستان کے آخر میں لکھاہے : ابو جعفر طبری کی روایت کے مطابق جنگ جمل کا یہ ایک خلاصہ ہے ۔

دوسرے مورخین نے بھی سیف کے افسانے کو طبری سے اقتباس کیا ہے منجملہ میر خواند بھی ہے کہ جس نے ''روضة الصفا '' میں جنگ جمل کے بارے میں طبری کے نقل کئے ہوئے مطالب درج کئے ہیں ۔

ان مردود اور باطل مطالب کی وقعت معلوم کرنے کے لئے ایک تفصیلی تجزیہ اور تشریح کی ضرورت ہے کہ یہاں پر اس کی گنجائش نہیں ہے ۔ہم نے اس کے ایک بڑے حصے کی ''اسلامی تاریخ میں عائشہ کا کردار ''نام کی اپنی کتاب کی فصل ''عائشہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دامادوں کے دوران'' میں تشریح کی ہے اور یہاں پر اس کے ایک حصے کو خلاصہ کے طور پر پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ دوسری صدی ہجری کے اس افسانہ ساز ،سیف بن عمر نے کس طرح حقائق میں تحریف کی ہے اور کس طرح اسلام اور تاریخ اسلام کا مضحکہ اڑاتے ہوئے اپنے زندیقی اور مانوی پن کے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دوستی کے لباس میں اسلام کو نابود کرنے کے درپئے رہا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہوتا ہے امام المورخین ابو جعفر جریر طبری جیسے نام کا عالمی شہرت یافتہ شخص اور مورخ کس طرح اور کیوں اس دروغ گو اور عیار افسانہ ساز کا آلۂ کار بن گیا!!


جنگ جمل کی داستان ،سیف کے علاوہ دیگر راویوں کے مطابق

طبری نے جنگ جمل میں شرکت کرنے کے لئے کوفیوں کی رضاکارانہ آمادگی کے بارے میں اس طرح روایت کی ہے :

''امیرالمومنین علی ں نے ہاشم بن عتبہ کوایک خط دے کر ابو موسیٰ اشعری جو عثمان کے زمانے سے کوفہ کا حاکم تھا کے پاس کوفہ بھیجا ۔اس خط میں ابو موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ کوفیوں کی ایک فوج کمک کے طور پرجنگ کے لئے اس کے ساتھ بصرہ بھیج دے۔ چوں کہ ابو موسیٰ اشعری نے امام کے حکم کی نافرمانی کی اور کوفیوں کو امام کی مدد کے لئے بھیجنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اس لئے حضرت نے اپنے بیٹے حسن اور عمار یاسر کو کوفہ کی طرف روانہ کیا اور ابو موسیٰ کو کوفہ کی حکومت سے معزول کر دیا ۔

حسن ابن علی اور عمار یاسر کوفہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تقریر و ہدایت کرنے لگے ان دونوں کی تقریر وں کا یہ نتیجہ نکلا کہ کوفہ کے باشندوں نے بصرہ کی جنگ میں شرکت کی آمادگی کا اعلان کیا اور تقریباً بارہ ہزار جنگجو کوفی حضرت علی ں کے ساتھ ملحق ہوگئے۔

نیزطبری بصرہ میں حضرت علی ں کی موجودگی کے بارے میں روایت کرتا ہے :

''تین دن تک دونوں متخاصم فوجوں کے درمیان جو ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں کوئی جنگ نہ ہوئی ۔بلکہ حضرت علی ـ،بعض افراد کو ایلچیوں کے طور پر ان کے (طلحہ ،زبیر و عائشہ) پاس بھیجتے رہے اور پیغام دیتے رہے کہ اس نافرمانی ،اختلاف اور دشمنی سے باز آجائیں ۔

طبری نے ان تین دنوں کے دوران دو طرفہ خط و کتابت اور گفتگو کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے ۔لیکن اس کے ایک حصہ کو ابن قتیبہ ،ابن اعثم اور سید رضی نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

منجملہ درج ذیل خط یہ ہے جو امام نے طلحہ و زبیر کے پاس لکھ کر بھیجا تھا:

''خد ا کی حمد و ثنا اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام کے بعد ،دونوں بخوبی جانتے ہو اور دل سے اقرار بھی کرتے ہو اگر چہ زبان پر نہیں لاتے اور اعتراف نہیں کرتے ہو ، کہ میں نے کسی کو لوگوں کے پاس نہیں بھیجا تھا اور ان سے یہ نہیں چاہاتھا کہ میری بیعت کریں بلکہ یہ لوگ ہی تھے جنھوں نے مجھے حکومت اور بیعت قبول کرنے پر مجبور کیا اور تب تک ارام سے نہ بیٹھے جب تک میرے ہاتھ پر خلافت کے لئے بیعت نہ کرلی۔


تم دونوں بھی ان کے ساتھ تھے بارہا میرے پاس آئے ہو اور مجھ سے اصرار کرتے رہے ہو کہ میں حکومت قبول کرلوں ۔تملوگ میری خلافت کے لئے میرے ہا تھ پر بیعت کرنے تک آرام سے نہ بیٹھے ۔جن لوگوں نے میری خلافت کو قبول کرتے ہوئے میری بیعت کی انھوں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا ہے کہ اس کے بدلے میں انھیں کوئی مال وثروت ملے اور نہ زور و زبردستی ،دھمکی اور خوف وہراس سے میری بیعت کی ہے ۔

بہر حال اگر تم دونوں نے اپنی مرضی اور اختیار سے میرے ساتھ عہد و پیمان کرکے میری خلافت کی بیعت کی ہے تو،یہ راہ جو تم نے اختیار کی ہے (بغاوت ،مخالفت اور مسلمانوں کے در میان اختلاف اندازی )سے جتنا جلد ممکن ہوسکے ہاتھ کھینچ لو اور دل سے خداکے حضور توبہ کرو اور اگر اپنی مرضی کے بر خلاف میری بیعت کی ہے تو تمھارے لئے کوئی عذر و بہانہ نہیں ہے بلکہ یہ میرا حق بنتا ہے کہ تم سے یہ پوچھوں کہ اس ظاہرداری اور دو رخی کا سبب کیا تھا؟تم لوگوں نے کیوں ظاہر ی طور پر میرے ہاتھ پر بیعت کی (اور میری حکومت کے مقاصد کے سلسلے میں جانثاری کا اعلان کیا؟)اور باطن میں میرے ساتھ مخالفت اور امت اسلامیہ میں اختلاف و افتراق کے بیج بوئے ؟اپنی جان کی قسم !تم دونوں دیگر مہاجرین سے کچھ کم فضیلت نہیں رکھتے تھے ،تم بے بس و کمزور نہیں تھے کہ ظاہر داری اور تقیہ سے اپنے دل کی خواہشات چھپاتے ۔تم دونوں کے لئے (میری بیعت کرنے کے بعد اس سے منہ موڑکر رسوائی مول لینے سے ) بہت آسان یہ تھا کہ اسی دن میری بیعت نہ کرتے اور میری خلافت کو قبول نہ کرتے ۔تم لوگوں نے اپنی مخالفت اور بغاوت کے سلسلے میں عثمان کے خون کا بہانہ بنایا ہے اور یہ افواہ پھیلائی ہے کہ میں نے عثمان کو قتل کیا ہے ۔میرے اور تمھارے درمیان مدینہ کے وہ لوگ حَکَم ہوں جو نہ تمھارے طرفدار ہیں اور نہ میرے بلکہ غیر جانبدار ہیں ،تا کہ معلوم ہوجائے کہ عثمان کے قاتل کون ہیں ۔اس وقت جو اس سلسلے میں جتنا مجرم قرار پائے اسی قدر سزا کا مستحق ہوگا ۔

پس اے دو بوڑھو!ان (بے بنیاد و بیہودہ ) افکار کو اپنے دماغ سے نکال باہر کرو اور اس احمقانہ اقدام سے پرہیز کرو ،اگر چہ یہ تمھاری نظرمیں بہت ننگ وعار ہے ،لیکن قیامت کے دن اس سے بڑے ننگ یعنی آتش جہنم سے دوچار نہ ہوگے ۔والسلام

اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو مامور کیا کہ زبیر سے تنہائی میں ملاقات کرے اور اس سے یوں تاکید کی :

'' طلحہ کے پیچھے نہ جانا ،کیوں کہ اگر اسے دیکھو گے تو اس بیل کے مانند پائوگے جو اپنا سر نیچے کئے ہوئے اپنے سینگوں سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے آمادہ ہے وہ ایک متکبر ،خود غرض اور تند خو آدمی ہے ،وہ مشکل، سخت اور بڑا کام شروع کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ بہت آسان ہے ۔


لیکن اس کے بر عکس زبیر سے ملنا ۔وہ نرم مزاج ،در گزر کرنے والا اور بات سننے والا ہے ۔ اس سے کہنا کہ تیرا ماموں زاد بھائی کہتا ہے : تم حجاز میں (اس کی جائے پیدئش میں ) میرے آشنا اور حامی تھے ،اب کیا ہوا کہ عراق میں (بے وطنی میں ) نا آشنا،میری مخالفت اور دشمنی پر تلے ہوئے ہو؟

(حضرت اس زیبا اور دلچسب بیان میں فرماتے ہیں : عرفتنی بالحجاز وانکرتنی بالعراق فما عدا ممابدا؟)

ابن عباس کہتے ہیں : میں نے امام کے پیغام کو کسی کمی بیشی کے بغیرزبیر تک پہنچا دیا ۔زبیر چند لمحات کے لئے غور فکر میں پڑا ،پھر جواب کے طور پر صرف اتنا کہا: ان سے کہنا : اس راہ میں تمام موجود ہ مشکلات اور خوف و ہراس کے باوجود ہم امید وار ہیں ۔

عبداللہ ابن زبیر نے بھی مجھ سے مخاطب ہو کر کہا:(۱) ان سے کہنا : ہمارے درمیان خون عثمان کا مسئلہ در پیش ہے اور خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ اس شوریٰ کو وا گزار کرنا ہے جس کی تشکیل عمر نے کی تھی ۔اس صورت میں تمھیں جاننا چاہئے کہ ان میں سے دو افراد یعنی طلحہ و زبیر ایک طرف ہوں گے اور ام المومنین عائشہ بھی ان کی حمایت سے ہاتھ نہیں کھینچیں گی ۔جو اثر ورسوخ عائشہ

عوام میں رکھتی ہیں ،اس کے پیش نظر یہ دونوں بھی انھیں نہیں چھوڑیں گے اور اگر مسئلہ لوگوں کے انتخاب پر منحصر ہوا تو اکثریت عائشہ اور ان کے طرفداروں کی ہوگی ۔اس صورت میں تم اکیلے

رہ جائو گے ۔

ابن عباس کہتے ہیں :میں ابن زبیر کی ان باتوں سے سمجھ گیا کہ اس کی گفتگو کے پیچھے صرف جنگ حکم فرما ہے ۔میں علی علیہ السلام کے پاس آیا اور انھیں حالات سے آگاہ کیا۔

امام نے ابن عباس کو ایک بار پھر عائشہ کے پاس درج ذیل پیغام دے کر بھیجا :

'' خدائے تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم اپنے گھر میں رہو اور کسی صورت میں گھر سے باہر

____________________

۱)۔، وقال لی ابنہ عبداللہ : قل لہ بیننا و بینک دم خلیفة و وصیة خلیفة ،واجتماع اثنین و انفراد واحد ، وأم مبرورة و مشاورة العامة : قال ابن عباس فعلمت انہ لیس وراء ھذا الکلام الا الحرب


نہ نکلو اور تم خود اسے بخوبی جانتی ہو ۔مسئلہ حقیقت میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے تمھیں اکسایاہے اور تمھاری کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر آسانی کے ساتھ اپنے حق میں اور تمھارے نقصان میں اقدام کیاہے اور تمھیں اپنے گھر ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے ۔یہ عہد وپیمان جو تم نے ان کے ساتھ باندھاہے اور ان کے ساتھ ہم فکری اور تعاون کررہی ہو،اس سے تم نے لوگوں کو مصیبت ونابودی سے دوچار کرکے رکھدیاہے اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف وافتراق کے شعلے بھڑکائے ہیں ۔

اس کے باوجود تمہارے لئے اسی میں بھلائی ہے کہ اپنے گھر چلی جاؤاور کسی بھی صورت دشمنی ،جنگ اور برادر کشی کی مرتکب نہ ہو!۔

اگر تم اس نصیحت کو قبول کرکے اپنے گھر نہ لوٹیں اور اس فتنہ کی آگ کو ،کہ جسے تم نے خود بھڑکایاہے،نہ بجھایا تو بلاشک ایک خونیں جنگ رونما ہوگی اور یہ جنگ انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو نابود کرکے رکھ دے گی اور اس کی ذمہ داری کسی شک وشبہ کے بغیر اس جنگ کی آگ کو ہوا دینے والوں کے ذمہ ہوگی۔

لہٰذا ،اے عائشہ!خدا سے ڈرو،اس اختیار کی گئی راہ سے پیچھے ہٹ کر توبہ کرو ،خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور خطاؤں کو معاف کرنے والاہے ۔ایسا نہ ہو کہ ابن زبیر اور طلحہ سے تمھاری رشتہ داری تمھیں اس جگہ پر کھینچ لے جائے ،جس کا انجام جہنم کی آگ ہے!!

امام کے ایلچی عائشہ کے پاس پہنچے اور پیغام پہنچادیا۔اس نے امام کے جواب میں صرف اتناکہا:

میں فرزند ابو طالب کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکتی ،کیونکہ فصاحت اور استدلال کی قدرت میں اس کی ہم پلہ نہیں ہوں ۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ طلحہ نے بلند آواز میں اپنے دوستوں سے مخاطب ہوکر کہا:

ان لوگوں سے جنگ کے لئے اٹھو!تمھارے پاس فرزند ابوطالب کے استدلال کے مقابلے میں استدلال کی کوئی طاقت نہیں ہے۔


عبد اللہ بن زبیر نے بھی اس روز ایک تقریر کی اور اس کے ضمن میں بولا

اے لوگو!علی بن ابیطالب نے خلیفہ بر حق عثمان بن عفان کو قتل کیاہے۔اب ایک بڑے لشکر کے ہمراہ تمھاری طرف آیاہے تاکہ تمہاری سرزمین کو تسخیر کرے اور تمھیں اپنی اطاعت پر مجبور کرے۔

اب تمہاری باری ہے کہ مردانہ وار اٹھ کھڑے ہو جاؤاور اپنے خلیفہ کے قتل کے انتقام میں اپنی عزت و آبرو کا تحفظ کرو اور اپنی شرافت ،عفت،اولاد واموال بالاخر اپنی شخصیت کا خیال رکھو اور جان کی بازی لگاکر ان کا تحفظ کرو۔کیاتم جیسے دلاوروں ،ناموس کے شدید محافظوں اور عثمان وعائشہ کی راہ میں جانثاری کرنے والوں کے ہوتے ہوئے رواہے کہ کوفی تمھارے شہرووطن پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کریں ؟!

انھوں نے تم پر حملہ کیا ہے،تمھاری شخصیت کی بے حرمتی کی ہے ،تمھارے جذبات کو مجروح کیاہے ۔اس وقت موقع ہے کہ جوش میں آجاؤاور ہر قسم کی مروت کو بالائے طاق رکھ دو۔ان کے اسلحہ کا جواب اسلحہ سے دو اور ان سے جنگ کرو۔علی سے جنگ کرنے میں کسی قسم کی پریشانی اور وسواس سے دوچار نہ ہو،کیونکہ وہ اپنے علاوہ کسی کو خلافت وحکومت کے لائق وسزاوار نہیں سمجھتا ۔خدا کی قسم اگر اس نے تم لوگوں پر تسلط جمانے میں کامیابی پائی تو تمھارے دین ودنیا دونوں کو نابود کردے گا اور تمھیں ذلیل وخوار کرکے رکھ دے گا.....اور اسی طرح کی بہت سی باتیں کہیں ۔

ابن زبیر کی اس تقریر کی رپورٹ علی کو پہنچادی گئی۔امام ں نے اپنے بیٹے حسن ں سے مخاطب ہوکر فرمایا:بیٹے!کھڑے ہوکر ابن زبیر کا جواب دو!۔

علی ں کا بیٹا کھڑا ہو اور بارگاہ الٰہی میں حمد وثناء اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود وسلام کے بعد بولا:


لوگو!ہم نے اپنے باپ کے بارے میں ابن زبیر کی باتیں سن لیں کہ وہ کہتاہے :عثمان کو انھوں نے قتل کیاہے ،کتنی بڑی تہمت ہے !۔اے مہاجرو انصار !اے مسلمانو!تم بہتر جانتے ہو کہ زبیر عثمان کے بارے میں کیاکہتاتھا اور اس کا کیا نام رکھا تھا اور اسے کس نام سے لوگوں میں مشہور کرتاتھا،اور آخر میں اس نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیااور کیسے ظلم وستم عثمان پرڈھائے!

اور طلحہ !یہ وہی طلحہ ہے کہ ابھی عثمان زندہ تھے کہ اس نے ان کے خلاف مخالفت اور بغاوت کا پرچم بلند کیا،اس پرچم کو بیت المال پر نصب کیا اور حق وانصاف کو پائمال کرتے ہوئے بیت المال پر ڈالا،جب کہ عثمان ابھی زندہ اور خلیفہ تھے!

عثمان کی خلافت کی پوری مدت کے دوران ان دو افراد کے اس کے ساتھ برتاؤ ( اس کے ساتھ اتنی بے وفائی اورظلم کرنے کے بعد بالاخر انھیں خاک وخون میں غلطاں کیا)کے پیش نظر ان کے لئے یہ سزاوار نہ تھا کہ ہمارے باپ پر عثمان کے قتل کی تہمت لگائیں اور ان کے خلاف بدگوئی کریں ! اگر ہم چاہیں تو ضرورت کے مطابق ان کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتے ہیں ۔

لیکن ،یہ جو کہتے ہیں کہ علی زبردستی قدرت حاصل کرکے لوگوں پر حکومت کررہے ہیں اور اس سلسلہ میں ابن زبیر،جو سب سے بڑی دلیل پیش کرتاہے وہ یہ ہے کہ اس کے باپ نے علی کی دل سے بیعت نہیں کی ہے بلکہ ہاتھ سے بیعت کی ہے۔یہ بات کہکر اس نے خود بیعت کا اعتراف واقرار کیاہے اور اس کے بعد بہانہ تراشیاں کرتاہے۔اگر وہ سچ کہتاہے تو اس سلسلے میں دلیل وبرہان پیش کرے،لیکن وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتا۔

اور ،ابن زبیر کا اس پر تعجب کرنا کہ کوفیوں نے بصرہ کے لوگوں پرحملہ کیاہے،تو یہ تعجب بے جاہے ۔آخر یہ کون سی حیرت کی بات ہے کہ حق وحقیقت کے حامی گمراہوں اور بدکاروں پرحملہ کریں ؟


اما،عثمان کے دوست اور ان کی مدد کرنے والے ،ہمیں ان کے ساتھ کوئی جنگ واختلاف نہیں ہے،بلکہ ہماری جنگ اونٹ سوار اس خاتون اور اس کے حامی باغیوں اور تخریب کاروں سے ہے نہ کہ عثمان کے طرفداروں اور حامیوں کے ساتھ !(۱)

جب امام کے ایلچی ،عائشہ ،طلحہ وزبیر سے مل کر واپس آئے اور ان کے پیغام کو جس میں خون اور اعلان جنگ کی بوتھی امام ں کی خدمت میں پہنچادیا،تو علی ں اٹھے اور خدا کی حمد وثنا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے بعد فرمایا:

اے لوگو!میں ان سے مہربانی اور نرمی سے پیش آیا تاکہ وہ شرم وحیا کریں اور دوسرے لوگوں کے اکسانے پر مسلمانوں میں تفرقہ واختلاف پیدا کرنے سے باز آئیں ۔

میں نے عہد شکنی اور بیعت توڑنے پر ان کی تنبیہ کی اور ان کی بغاوت اور گمراہی کو واضح کرکے انھیں دکھا کر گوش زد کردیا اور حق وحقیقت کا راستہ دکھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تاکہ وہ ہوش میں آکر باطل کے مقابلے میں حق کی پیروی کریں ۔لیکن انھوں نے ایک نہ مانی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو حقیقت پر ترجیح دی اور میری دعوت قبول نہ کی ۔اس کے بر عکس مجھے ہی دھمکی دینے لگے اور مجھے پیغام بھیجا کہ ان کی تلواروں اور نیزوں کے حملوں کے لئے خود کوآمادہ کروں ۔حقیقت میں وہ طولانی آرزؤں کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوکر غرور وغلط فہمیوں کے شکار ہوگئے ہیں ۔

سوگ منانے والے ان کے سوگ میں نالہ وفریاد بلند کریں ۔آخر وہ میرے بارے میں کیا

____________________

۱)۔ علی تواضع اور مہربانی سے پیش آتے تھے تا کہ شاید کوئی بات بن جائے اور جنگ نہ چھڑے،بے گناہوں کا خون نہ بہے اور اس سے زیادہ مسلمانوں میں اختلاف وافتراق پیدا نہ ہو۔اس لئے مسلسل پیغام دیتے رہے ،خط لکھتے رہے،صبر وشکیبائی سے کام لیتے رہے،نصیحت وہدایت فرماتے رہے،حقائق کی وضاحت فرماتے رہے تاکہ جمل کے خیر خواہوں کی طرف سے بھڑکائی گئی فتنہ وبغاوت کی آگ کو تدبیر وتلاش سے بجھاسکیں ۔شاید وہ اس کی ناکام کوشش کررہے تھے تاکہ درخشاں وتاباں ماضی اور صدر اسلام میں جانثار یوں کے مالک اصحاب جیسے ،طلحہ وزبیر کو منحوس اور بدترین حوادث کی زد میں آنے سے بچالیں ۔کیونکہ ان کو اقتدار اور حکومت کی ہوس نے اس حد تک اندھا بنادیاتھا کہ انھوں نے دین خدا،حقیقت اسلام حتیٰ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام نصیحتوں کوبھی پس پشت ڈال دیاتھا۔کیا حقیقت میں ان کے اس اقدام کو جس کے نتیجہ میں اتنے انسانوں کا خون بہایاگیا خدا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کے علاوہ کسی اور چیز سے تعبیر کیا جاسکتاہے؟ اور قیامت کے دن خدا کے سامنے وہ کیا جواب دیں گے؟!


سوچتے ہیں ؟اور مجھے کس قسم کاآدمی سمجھتے ہیں ؟جب کہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیاہے اور اپنے پورے وجود سے محسوس کیاہے کہ میں وہ مرد نہیں ہوں جو دشمن کی جنگ کی دھمکیوں سے خوف زدہ ہوجاؤں گا یا تلواروں کی جھنکار اور میدان کارزار کے شور وغل سے وحشت کروں گا۔ولقد انصف القارہ من راماھا۔(۱)

(حقیقت میں انھوں نے اپنے برپا کئے ہوئے فتنہ وبغاوت کے سلسلے میں بھیجے گئے میرے ایلچیوں کے جواب میں مجھے میدان جنگ کی دعوت دی ہے اور مجھے جنگ کی دھمکیاں دی ہیں اور جنگ وپیکار کے بارے میں میرے ساتھ حق وانصاف پر مبنی برتاؤ کیاہے)

چھوڑو انھیں گرجنے دو،وہ ذرا رجز خوانی کرلیں اور جنگ کا بازار گرم کرلیں ،تب وہ جان لیں گے کہ ہم خود نمائی کے محتاج نہیں ہیں ۔انھوں نے ہمیں بہت پہلے جنگ کے میدان میں دیکھا ہے

اور کارزاروں میں میرے ہاتھ کی کاری ضربوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں ۔

اس وقت وہ مجھے کیسا پاتے ہیں ؟میں وہی علی اور وہی ابوالحسن ہوں جو کل مشرکین کی گنجان صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتاتھا اور ان کی طاقت کو چورچور کرکے رکھ دیتاتھا اور آج بھی اس قدرت اور اطمینان کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کروں گا اور کسی قسم کا خوف وہراس نہیں کروں گا ۔مجھے اس وعدۂ الٰہی پر ایمان ہے جو اس نے مجھے دیاہے اور اس راہ میں اپنی حقانیت پر یقین رکھتاہوں اور اس مستحکم ایمان میں کسی قسم کے تذبذب سے دوچار نہیں ہوں یہاں تک کہ فرمایا:

خداوندا !تو جانتاہے کہ طلحہ نے میری بیعت توڑدی ہے اور یہ وہی تھا جس نے عثمان کے

____________________

۱)۔''وقد انصف القارہ من راماھا''عربی زبان میں ایک ضرب المثل ہے اور اس کا موضوع یہ ہے کہ قبیلہ قارہہ کے افراد تیر اندازی اور کمان چلانے میں کافی ماہر اور صاحب شہرت تھے۔اس فن میں کوئی ان کاہم پلہ نہ تھا۔لہٰذا جب طلحہ وزبیر نے امام کوجنگ کی دعوت دی ،تو گویا یہ ایسا ہے کہ قبیلۂ قارہ کے تیر اندازوں کو تیر اندازی کی دعوت دی ہے اور انھیں دھمکی دے رہے ہیں ۔اسی بناء پر امام نے اس مثل کو اپنے کلام میں بیان کیاہے۔


خلاف بغاوت کی اور سر انجام اسے قتل کیا،اسکے بعد بے قصور مجھ پر اسے قتل کرنے کی تہمت لگائی ۔ خداوندا ! اسے خود نمائی کی فرصت نہ دے !

خداوندا !زبیرنے ہماری رشتہ داری سے چشم پوشی کی اور میرے ساتھ قطع رحم کیا اور بیعت توڑدی اور میرے دشمنوں کو میرے خلاف جنگ کرنے پر اکسایا۔خداوندا!جس طرح مناسب ہو آج مجھے اس کے شر سے نجات دے!اس کے بعد آپ ں منبر سے نیچے تشریف لائے۔

جنگ سے پہلے امام کی سفارشیں

حاکم ،ذہبی اور متقی لکھتے ہیں :

علی ں نے جنگ جمل کے دن بلند آواز سے اپنے سپاہیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

اس سے پہلے کہ وہ جنگ شروع کریں تم کو حق نہیں ہے کہ کسی پر تیر یا نیزہ برساؤیاتلوار سے حملہ کرکے جنگ میں پہل کرو۔بلکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ان سے مہربانی اورملائمت سے پیش آؤ اور ان کے ساتھ نرمی سے بات کرو اور دوستانہ گفتگو کرو۔کیونکہ جو یہاں پر امام کی اطاعت کرکے کامیاب ہوا ،وہ قیامت کے دن بھی کامیاب ہوگا۔

راوی کہتاہے :

دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہوئیں ۔ظہر تک دونوں طرف سے کسی قسم کا اقدام نہ ہوا۔صرف ''جمل''کے خیرخواہ بیچ بیچ میں فریاد بلند کرتے تھے:(یالثارات عثمان) ''عثمان کے خون کا انتقام لینے میں جلدی کرو ۔امیرالمومنین نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے فرمایا:

خداوندا!عثمان کے قاتلوں کو آج نابود کردے!


دوسرے راویوں اور مؤلفین نے بھی بیان کیاہے:

جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہوئیں ،امام نے اپنے سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

خدا کا شکر ہے کہ تم ، میرے پیرو،حق پر ہو۔اس لئے خودداری ،مہربانی اور جوانمردی سے پیش آنا تاکہ انھیں کوئی بہانہ ہاتھ نہ آئے ۔ان کے لئے جنگ شروع کرنے کا کوئی موقع وفرصت فراہم نہ کرنا تاکہ وہ خود جنگ شروع کریں اور یہ تمھاری حقانیت کی ایک دلیل ہوگی۔

جب جنگ شروع ہوگی،تو زخمیوں پر رحم کرنا اور انھیں قتل نہ کرنا۔جب دشمن شکست کھاکر بھاگنے لگے تو فراریوں کاپیچھا نہ کرنا ۔میدان جنگ میں مقتولین کو برہنہ نہ کرنا۔ان کے کان اور ناک نہ کاٹنا اور انھیں مثلہ نہ کرنا۔

جب ان کے شہر ووطن پر قابض ہوجاؤ تو ان کی عصمتیں نہ لوٹنا،حکم کے بغیر کسی گھر میں داخل نہ ہونا اور ان کے مال وثروت پرڈاکا نہ ڈالنا۔

مسعودی نے اس کے بعد امام ں کے بیانات کو یو ں نقل کیاہے :

. ... ان کامال وثروت تم لوگوں پر حرام ہے،مگر وہ چیزیں جو دشمن کے فوجی کیمپ میں جنگی اسلحہ مویشی،غلام اور کنیز کی صورت میں تمھارے ہاتھ آئیں ۔اس کے علاوہ ان کا باقی تمام مال وثروت اسلامی قوانین اور قرآن مجید کے مطابق ان کی میراث ہے اور ان کے وارثوں سے

متعلق ہے۔

کسی کو کسی عورت کے ساتھ تند کلامی کرنے اور اسے اذیت پہنچانے کا حق نہیں ہے، چاہے وہ تمھیں برا بھلا بھی کہے اور تمھاری بے احترامی بھی کرے ،حتیٰ تمھارے مقدسات اور کمانڈروں کو گالیاں بھی دے۔کیونکہ وہ عقل ونفسیات کے لحاظ سے کمزور ہیں اور قابل رحم ہیں ۔جس زمانہ میں ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ کفار سے جنگ کررہے تھے ہمیں حکم ملاتھا کہ ان (عورتوں )سے در گزر کریں باوجود اس کے کہ وہ مشرک وکافر تھیں ۔زمانہ قدیم میں اگر کوئی مرد اپنے عصا یا لاٹھی سے کسی عورت کو اذیت پہنچاتاتھا ،تو اس مرد کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو بھی اس ناشائستہ کام کی وجہ سے ملامت ومذمت کا سامنا کرنا پڑتاتھا۔


جمل کے خیر خواہوں کی طرف سے جنگ کاآغاز

حاکم نے مستدرک میں لکھاہے کہ زبیر نے اپنے حامیوں سے کہا:

حضرت علی ـکے سپاہیوں پر تیروں کی بارش کرو !گویا زبیر اس طرح جنگ شروع کرنے کا اعلان کرنا چاہتا تھا۔

ابن اعثم اور دیگر لوگ روایت کرتے ہیں کہ عائشہ نے کہا:

مجھے مٹھی بھر کنکریاں دے دو!اس کے بعد مٹھی بھر کنکریاں حضرت علی ں کی سپاہ کی طرف پھینکنے کے بعد پوری طاقت کے ساتھ فریاد بلند کی : چہرے سیاہ ہو جائیں !۔

عائشہ کا یہ عمل ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنگ حنین میں مشرکین کے ساتھ کئے گئے عمل کی تقلید تھا عائشہ کے اس کام کا رد عمل یہ ہوا کہ حضرت علی ں کی سپاہ میں ایک مرد عائشہ سے مخاطب ہو کر بولا : یہ تم نہیں تھیں جس نے کنکریاں پھینکیں بلکہ یہ شیطان تھا جس نے کنکریاں پھینکیں ۔(۱)

طبری اور دیگر مورخین نے روایت کی ہے :

حضرت علی ں نے جمل کے دن قرآن مجید کو ہاتھ میں لیا اور اپنے سپاہیوں میں گھوماتے ہوئے فرمایا:

'' ہے کوئی جو اس قرآن مجید کو دشمن کے پاس لے جائے اور انھیں اس پرعمل کرنے کی

____________________

الف )۔ عائشہ کی بات '' شاھت الوجوہ '' تھی اور اس مرد کا جواب : ومارمیت اذرمیت ولٰکن الشیطان رمی تھا ۔داستان اس طرح ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ حنین میں مٹھی بھر کنکریاں مشرکین کی طرف پھینکیں اور فرمایا: '' شاھت الوجوہ'' (رو سیاہ ہو جائو )اور آیہ نازل ہوئی : وما رمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی ( اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !یہ تم نہیں تھے جس نے کنکریاں پھینکیں بلکہ یہ خدا نے کنکریاں پھینکی ہیں ۔


دعوت دے چاہے قتل بھی ہو جائے ؟ کوفیوں سے ایک نوجوان سفید قبا پہنے ہوئے آگے بڑھا اور بولا ''میں '' ہو ں امام نے اس پر ایک نگاہ ڈالی اور اس کی کمسنی کو دیکھ کر اس سے منہ موڑ کر اپنی بات کو پھر سے دہرانے لگے ۔دوبارہ اسی نوجوان نے اس جاں نثاری کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا پھر حضرت علی ـنے قرآن مجید کو اس کے ہاتھ میں دے دیا ۔

نوجوان ،جمل کے خیر خواہ سپاہیوں کی طرف بڑھا اور امام کی فرمائش کے مطابق انھیں قرآن مجید پر عمل کرنے اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کی دعوت دی بصرہ کے جنگ افروزوں نے علی کے اس اقدام پر ایک لمحہ کے لئے بھی فکر کرنے کی اپنے آپ کو تکلیف نہیں دی اور بزدلانہ طور پر اس نوجوان پر حملہ کرکے تلوار سے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا ۔جوان نے قرآن مجید کو اپنے بائیں ہاتھ میں اٹھا لیا اور اپنی تبلیغ جاری رکھی ۔اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ۔نوجوان نے ہاتھ کٹے دونوں بازئوں سے قرآن مجید اپنے سینے پر رکھ کر بلند کیا جب کہ اس کے کٹے ہوئے دونوں ہاتھوں سے خون کا فوارہ جاری تھا اور یہ خون قرآن مجید اور اس کی سفید قبا پر بہہ رہا تھا، پھر بھی وہ اپنی تبلیغ میں مصروف تھا کہ سر انجام اسے قتل کردیا گیا۔

طبری نے اسی داستان کو ایک اور روایت کے مطابق حسب ذیل بیان کیا ہے :

'' حضرت علی ـنے اپنے حامیوں سے مخاطب ہو کر کہا: تم میں سے کون شخص آمادہ ہے جو اس قرآن مجید کو ان کے پاس لے جاکر انھیں اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دے ،اگر چہ اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے وہ قرآن مجید کو دوسرے ہاتھ سے بلند کرے اور اگر وہ ہاتھ بھی کاٹا جائے تو قرآن مجید کو اپنے دانتوں سے پکڑ لے ؟!ایک کمسن نوجوان نے اٹھ کر کہا: میں ہوں حضرت علی ـبار بار اپنی بات دہراتے ہوئے اپنے حامیوں میں جستجو کرتے تھے ،لیکن اس نوجوان کے علاوہ کسی نے علی کی بات کا مثبت جواب نہیں دیا ۔ حضرت علی ـنے قرآن مجید اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایا: یہ قرآن مجید انھیں پیش کرنا اور کہنا ،خدا کی کتاب اول سے آخر تک ہمارے اور تمھارے درمیان حَکَم و منصف ہے ۔ایک دوسرے کا خون بہانے کے سلسلے میں خدا کو مد نظر رکھیں اور بلا سبب ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں ۔


نوجوان قرآن مجید کو ہاتھ میں لئے دشمن کی سپاہ کی طرف بڑھا اور ماموریت کے مطابق تبلیغ کرنے لگا ۔جیسے کہ بیان ہوا ،اس کے ہاتھ کاٹے گئے یہاں تک کہ اس نے قرآن مجید کو دانتوں سے بکڑ لیا اور سر انجام اسے قتل کر دیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد حضرت علی ـنے کہا: چوں کہ انھوں نے قرآن مجید کا احترام نہیں کیا ،لہٰذا ان کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے ۔

اس نوجوان کی ماں اپنے بیٹے کے سوگ میں اس طرح شیون کرتی تھی :

''خدا وندا !(میرا بیٹا مسلم) ان سے نہ ڈرا اور انھیں کتاب خدا کی طرف دعوت دی ان کی ماں (عائشہ ) کھڑی دیکھ رہی تھی کہ کس طرح وہ سرکشی اور گمراہی میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں اور وہ انھیں اس سے منع نہیں کرتی تھی جب کہ ان کی داڑھی خون سے خضاب ہو رہی تھی''

ابو مخنف نے لکھا ہے :

اس نوجوان پر ماتم کرنے والی خاتون کا نام ام ذریح عبدیہ تھا ۔

ابن اعثم لکھتا ہے :

وہ نوجوان خاندان مجاشع سے تھا اورجس نے اس کے ہاتھ تلوار سے کاٹے وہ عائشہ کے غلاموں میں سے ایک تھا۔

مسعودی نے لکھا ہے :

عمار یاسر دو فوجوں کے درمیان کھڑے ہو کر بولے : اے لوگو!تم نے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے انصاف نہیں کیا ہے ،کیوں کہ اپنی عورتوں کو اپنے گھروں میں رکھ کر ان کی زوجہ (عائشہ ) کو میدان کارزار میں کھینچ لائے ہو اور انھیں جنگجوئوں کی تلوار وں اور نیزوں کے درمیان لئے ہوئے ہو!!

مسعودی مزید روایت کرتا ہے :

عائشہ تختوں سے بنی ایک محمل میں بیٹھی تھیں ۔اس محمل کو ٹاٹ اور گائے کی کھال سے ڈھانپا گیا تھا اسے نمدہ کے فرش سے مضبوط کیا گیا تھا۔جنگی ہتھیار وں اور تلواروں کی ضربوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے اوپر لوہے کی زرہ ڈالی گئی تھی ۔اس طرح یہ محمل ایک مضبوط آہنی قلعہ کے مانند اونٹ پر رکھی گئی تھی ۔عمار جب ان لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے آگے بڑھے تو عائشہ کی محمل کے پاس جاکر ان سے یوں سوال کیا:

تم ہمیں کس چیز کی دعوت دیتی ہو اورہم سے کیا چاہتی ہو؟


عائشہ نے جواب دیا : عثمان کے خون کا انتقام !

عمار نے کہا:خد ا سر کش کو نابود کرے اور اسے بھی نابود کرے جو ناحق کسی چیز کا طالب ہو!

اس گفتگو کے بعد عمار نے پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا: اے لوگو!تم بہتر جانتے ہو کہ ہم میں سے کن کے ہاتھ عثمان کے خون سے رنگین ہیں ؟

یہاں پر جمل کے خیر خواہوں نے عمار پر تیروں کی بوچھار کردی اسی حالت میں عمار نے عائشہ سے مخاطب ہو کر فی البدیہہ یہ شعر پڑھے :

''فتنہ کی بنیاد تم نے ڈالی اور پہلی بار تم نے ہی عثمان پر شیون و زاری بھی کی لہٰذا طوفان و ہوا تم سے تھے اور بارش بھی تم ہی سے تھی ۔تم نے ہی عثمان کو قتل کرنے کا حکم دیا ہم اسی کو عثمان کا قاتل جانتے ہیں جس نے اس کے قتل کا حکم جاری کیا ہے ''

چوں کہ عمار کی طرف تیربرس رہے تھے ۔وہ مجبور ہوکر اپنے گھوڑے کو موڑ کر امام کے لشکر کی طرف لوٹے اور حضرت علی ـسے مخاطب ہوکر بولے :اے امیرالمومنین !آپ کو کس چیز کا انتظار ہے؟ان لوگوں کے دماغ میں جنگ و خوں ریزی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے ۔

حضرت علی کی طرف سے جوابی حملہ کا حکم

ابو مخنف اور دوسروں نے لکھا ہے کہ :

جمل کے خیر خواہوں نے حضرت علی ـکے لشکر پر شدید تیر اندازی کی،اس حد تک کہ علی کے سپاہی تنگ آکر کہنے لگے ، ١ اے امیر المومنین !کوئی حکم دیجئے ،دشمنوں کے تیر ہمیں نابود کر رہے ہیں ۔

امام ایک چھوٹے خیمہ میں تھے۔ ایک لاش ان کے پاس لائی گئی اور کہا گیا: یہ فلاں ہے جسے قتل کیا گیا ۔امام نے فرمایا:خداوندا !گواہ رہنا ! اور فرمایا: صبر کا مظاہرہ کرو تا کہ ان کے لئے کوئی عذر و بہانہ باقی نہ رہے۔

اسی دوران عبد اللہ بدیل اپنے بھائی عبد الرحمان بدیل جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں میں سے تھے اور جمل کے خیر خواہوں کے تیروں سے قتل ہوئے تھے کی لاش کو اپنے کندھے پر اٹھا کے لائے اور اس بے جان لاش کو علی کے سامنے رکھ کر بولے:اے امیر المومین ! یہ میرا بھائی ہے ، جو شہید ہوا۔


علی ـ نے کہا :''اناللہ واناالیہ راجعون ''تب حکم دیا کہ ''ذات الفضول '' نامی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زرہ لائی جائے ،اسے زیب تن کیا اور چونکہ وہ آپ کے شکم تک لٹک رہی تھی لہٰذا اپنے اعزّہ میں سے ایک کو حکم دیا کہ اسے دستار کے ذریعہ درمیان سے باندھ دے ۔اس کے بعد ذوالفقار کو حمائل کیا اور ''عقاب'' نام کے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سیاہ پرچم کو اپنے بیٹے محمد حنفیہ کے ہاتھ میں دیا اور اپنے دو بیٹوں حسن و حسین سے مخاطب ہو کر فرمایا: میں نے پرچم کو اس لئے تمھارے بھائی کے ہاتھ میں دیا ہے اور تم دونوں کو اس سلسلے میں نظر انداز کیا ہے ،کیوں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تمھاری قرابت کی وجہ سے تمھاری حیثیت قابل قدر و معزز ہے ۔(۱)

ابو مخنف لکھتا ہے :

امیر المومنین ـاس آیہ ٔ شریفہ''ام حسبتم ان تدخلوا الجنّة و لما یا تکم مثل الذین خلو ا من قبلکم مستھم الباساء والضراء وزلزلوا.... ''(۲) کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں میں گھوم رہے تھے اور اس کے بعد فرمایا:

خدائے تعالیٰ ہمیں صبر و تحمل عطا فرمائے ،ہمیں کامیابی عنایت کرکے سر بلند فرمائے اور ہمارے ہر کام میں ہمارا یاور ومدد گارہو :

ہم نے امام کی سپاہ اور جمل کے خیر خواہوں کے درمیان جنگ چھڑنے کے اسباب سے متعلق عین مطالب کو بیان کرنے میں اسی مقدار پر اکتفاکی اور باقی مطالب ،جیسے جنگ شروع ہونے

سے پہلے حضرت علی ـاور زبیر کا آمنا سامنا کہ جس کے سبب زبیر کا امام سے دشمنی ترک کرکے میدان سے بھاگنا یا جنگ کے دوران مروان کے ہاتھوں طلحہ کا قتل ہونا وغیرہ سے صرف نظر کیا ہے اور اب صرف جنگ جمل کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں تاکہ جمل کے بارے میں سیف ابن عمر کی احادیث اور دوسرے راویوں کی روایتوں کے درمیان موازنہ کرکے حق و حقیقت کی جانچ کی جا سکے ۔

____________________

۱)۔کیوں کہ جنگوں میں دشمن کی فوج کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ علمدار کو مغلوب کیا جائے ،امام چاہتے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نواسوں کو اس خطر ہ سے دور رکھیں ؛

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جنگ کے بعد حضرت نے محمد حنفیہ کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: بیٹے تم میرے لئے دست و بازو کی حیثیت رکھتے ہو اور وہ دونون میری آنکھیں ہیں انسان آنکھوں کا تحفظ کرتا ہے ۔

۲)۔کیا تمھارا خیال ہے کہ تم آسانی سے جنت میں داخل ہو جائو گے جب کہ ابھی تمھارے سامنے سابق امتوں کی مثال پیش نہیں آئی جنھیں جنگ وفقر وفاقہ اور پریشانیوں نے گھیر لیا اور جھٹکے دئے ۔


جب اونٹ مارا گیا تب جنگ ختم ہوئی

ابو مخنف لکھتا ہے :

''جب امام نے دیکھا کہ عائشہ کے اونٹ کی لگام کے اطراف میں جمل کے خیر خواہوں پر موت کے بادل منڈلا رہے ہیں اور جوں ہی کوئی ہاتھ اونٹ کی لگام تھامتا ہے فورا ًکٹ جاتا ہے اور اس کے اطراف میں بہت سی جانیں جا رہی ہیں تو فرمایا: اشتر اور عمار کو بلائو ؛ جب یہ دونوں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام نے ان سے فرمایا: آگے بڑھ کر اس اونٹ کا کام تمام کرو جب تک یہ اونٹ زندہ ہے جنگ کی آگ نہیں بجھے گی ،کیوں کہ جمل کے خیر خواہوں نے عائشہ کے اونٹ کو اپنا قبلہ بنا رکھا ہے ۔

طبری لکھتا ہے :

علی ـنے فریاد بلند کی !اونٹ کا کام تمام کرو کیوں کہ اگر اونٹ ماراجائے گا تو جنگ ختم ہو جائے گی اور جمل کے خیر خواہ منتشر ہو جائیں گے ۔

ابو مخنف کی ایک دوسری روایت میں آیا ہے :

'' حضرت علی ـنے جب عائشہ کے اونٹ کے اطراف میں جنگجوئوں کو موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھا تو سمجھ گئے کہ جب تک اونٹ زندہ ہے جنگ کے شعلے نہیں بجھیں گے آپ اپنی ننگی تلوار کو اٹھا کے اونٹ کی طرف بڑھے اور حکم دیا کہ آپ کے حامی بھی ایسا ہی کریں اس طرح وہ جمل کے خیر خواہوں اور اونٹ کی لگام پکڑنے والوں کی طرف بڑھے ۔

اس وقت عائشہ کے اونٹ کی لگام خاندان بنی ضبہ کے افراد کے ہاتھوں میں دست بدست منتقل ہو رہی تھی ۔جو بھی ان میں زمین پر گرتا تھا فورا ًدوسرا آدمی اونٹ کی لگام کو پکڑ لیتا تھا یہاں تک کہ قتل ہو جاتا تھا ۔عائشہ کے اونٹ کے اطراف میں جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی تھی اور اونٹ کی لگام پکڑنے والے خاندان بنی ضبہ کے افراد بڑی تیزی سے یکے بعد دیگرے خاک و خون میں غلطاں ہو رہے تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد قتل ہو چکی تھی ۔حضترت علی ـاور ان کے حامیوں نے ان کی دفاعی لائن (اونٹ کے محاصرہ) کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور ان کی جگہ پر خود عائشہ کے اونٹ کے قریب پہنچ گئے ۔اسی حالت میں امام نے خاندان نخع کے بجیرنامی ایک شخص سے کہا: اے بجیر !اس اونٹ کا کام تمام کردو !بجیر نے پوری طاقت سے اونٹ کے حلق پر تلوار ماری جس کے سبب اونٹ پہلو کے بھل دھڑام سے گر گیا ۔اس کا سینہ زور سے زمین پر لگا اور اونٹ نے ایسی زور دار چیخ ماری کہ اس روز تک ایسی چیخ نہ سنی گئی تھی ۔


جب عائشہ کا اونٹ گرکے مر گیا تو جمل کے خیر خواہ اس کے اطراف سے فرار کر گئے اورجنگ ختم ہو گئی ۔امام نے پکار کر کہا :محمل کی رسیاں کاٹ دو !حضرت علی کے حامیوں نے فوری طور پر اونٹ کی پیٹھ پر مضبوطی کے ساتھ باندھی ہوئی محمل کی رسیاں کاٹ دیں اور عائشہ کی محمل کو ہاتھوں پر اٹھا کر زمین پر رکھ دیا ۔

امام کی طرف سے عام معافی

جنگ ختم ہوئی تو حضرت علی ـکے ترجمان نے امام کے حکم سے حسب ذیل اعلان کیا :

''زخمیوں کو صدمہ نہ پہنچائو ،فراریوں کا پیچھا نہ کرو اور انھیں زخمی نہ کرو دشمن کی فوج میں جو بھی ہتھیار زمین پر رکھ دے وہ امان میں ہے ۔ جو اپنے گھر میں رہ کر گھر کا دروازہ بند کرلے وہ بھی امان میں ہے ۔اس کے بعد امام نے سب کو امان دے دی ۔ اس طرح عام معافی کا اعلان ہو گیا اور سبوں کو امام کی حمایت نصیب ہوئی ۔

حضرت علی ـکے حکم سے ،عائشہ کا بھائی محمد بن ابو بکر ،عائشہ کو ان کے کجاوے کے ساتھ ایک طرف لے گیا اور وہاں پر ان کے لئے خصوصی خیمہ نصب کیا ۔اس کے بعد حضرت علی ـعائشہ کے خیمہ کے پیچھے آکے رُکے اور بہت سی باتوں کے ضمن میں عائشہ سے کہا: تم نے لوگوں کو میرے خلاف بغاوت پر اکسایا ،انھیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنایا یہاں تک کہ انھوں نے ایک دوسرے کو خاک و خون میں غلطاں کیا ۔

طبری نے امام کی اس مفصل تقریر کو درج نہیں کیا ہے حتیٰ اتنا بھی نہیں لکھا ہے کہ اس میں کیا کیا باتیں بیان ہوئیں ۔(۱)

مسعودی اپنی کتاب مروج الذہب میں لکھتا ہے :

حضرت علی ـنے عائشہ سے فرمایا: کیا پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمھیں اسی چیز کا حکم دیا تھا؟ کیا انھوں نے تمھیں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھنے اور گھر سے باہر قدم نہ رکھنے کو نہیں کہا تھا؟ خدا کی قسم جنھوں نے تمھیں میدان جنگ میں کھینچا اور اپنی عورتوں کو

____________________

۱)۔ جب کہ یہی طبری جھوٹے سیف کے عجیب و غریب افسانے درج کرتے وقت ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا راز کیا ہے ؟


پردے میں اپنے گھروں میں محفوظ رکھا ، انھوں نے تم پرظلم و ستم کیا ہے !

طبری نے لکھا ہے کہ

عائشہ نے امام کے جواب میں کہا :

اے فرزند ابوطالب ـ!اب جب کہ جنگ کا خاتمہ آپ کے حق میں ہو گیا ہے اور آپ فتح پا چکے ہیں تو اب ماضی سے درگزر کریں ۔آج آپ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا اچھا برتائو کیا !

طبری نے مزید روایت کی ہے :

جب جنگ ختم ہوئی تو عمار یاسر نے عائشہ سے مخاطب ہو کر کہا:

اے ام المومنین !تمھارا کردار تمھیں کی گئی وصیت سے کتنا فاصلہ رکھتا ہے ؟

عائشہ نے عمار یاسر کی بات ان سنی کرتے ہوئے سوال کیا : کیا تم ابو الیقظان ہو؟

عمار نے جواب دیا جی ہاں ،

عائشہ نے کہا: خدا کی قسم تم ہر وقت حق بات کہتے ہو ۔

عمار نے جواب میں کہا : شکر ہو اس خدا کا جس نے تمھاری زبان پر میرے حق میں یہ بات جاری کی !

جنگ جمل کے بارے میں روایات سیف کی سند کی جانچ:

جہاں پر سیف ''فتنہ ''(۱) کی داستان کے بارے میں بات کرتاہے وہاں اس کے راوی محمد اور مستنیر ہیں اور گزشتہ بحثوں میں معلوم ہو چکا ہے کہ یہ دونوں راوی سیف کے ذہن کی تخلیق

اور جعلی ہیں اور ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے ۔

____________________

(۱)مورخین نے عثمان کے قتل اور جنگ جمل کی داستان کو فتنہ کے نام سے یاد کیا ہے۔


اس کے دیگر راوی عبارت ہیں : قیس بن یزید نخعی ،اس سے تین روایت ،جریر بن اثر س ، اس سے دو روایت ،صصعہ یا صصعۂ مزنی اور مخلد بن کثیر ،ان دونوں سے ایک ایک روایت تاریخ طبری میں درج ہیں ۔ہم نے ان چاروں راویوں کے نام سیف کی احادیث کے علاوہ کہیں نہیں پائے اس لئے وہ بھی سیف کے جعلی راوی محسوب ہوتے ہیں ۔

اس کے علاوہ قبیلہ بنی ضبہ سے'' ایک بوڑھا ''کے نام سے ایک راوی اور بنی اسد سے ''ایک مرد ''نام سے ایک اور راوی کا ذکر کرتا ہے کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ قبیلہ ضبہ اور بنی اسد کے ان دو افراد کا اس نے کیا نام تصور کیاہے تاکہ ہم راویوں کی فہرست طبقات میں ان کو بھی ڈھونڈتے ۔

سیف کی باتوں کا دوسروں سے موازنہ:

سیف بن عمر تمیمی کی روایتیں اپنے افسانوی سورما قعقاع بن عمرو تمیمی کے بارے میں اتنے معجزہ نما افسانے ،کارنامے اور ماموریتیں عثمان کے زمانے کی بغاوتوں کے بعد تک مورخین کے اقوال کے خلاف ہیں ۔

سیف کہتا ہے کہ کوفہ کے لوگوں کے حضرت علی ں کی حمایت اور مدد کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہونے کا سبب قعقاع بنا جب کہ دوسرے مورخین معتقد ہیں کہ کوفی جنگجو ئوں کی روانگی حسن ابن علی ،عمار یاسر اور مالک اشتر کے ذریعہ انجام پائی ہے ۔

سیف کہتا ہے کہ صلح و آشتی کے منصوبہ کے سلسلے میں امام نے قعقاع کو اپنے ایلچی کے طور پر جمل کے خیر خواہوں کے پاس بھیجا جب کہ یہ ماموریت ابن عباس اور ابن صوحان نے انجام دی ہے

سیف کا دعویٰ ہے کہ جمل کے خیر خواہوں نے صلح و آشتی کی تجویز کو قبول کیا ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جمل کے سرداروں اورخیر خواہوں نے امام کے صلح کے پیغام اور نصیحتوں کو پوری طاقت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور امام سے جنگ کرنے پر مصر رہے اور انھیں جنگ کی دھمکی دیتے رہے ۔


سیف تنہا راوی ہے جو یہ کہتا ہے کہ جنگ جمل کی شب عبداللہ ابن سبا کی صدارت میں سبائیوں کے سردار وں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی اور ابن سبا نے ایک دور اندیش قائد کی حیثیت سے ضروری ہدایت حاضرین کو دیں اور یاد دہانی کرائی کہ ان کا شیطانی منصوبہ نقش بر آب ہو گیا ہے اور جو دو فوجین جنگ و پیکار کے لئے صف آرا ہو چکی تھیں ،صبح ہوتے ہی ایک دوسرے سے صلح و آشتی کا ہاتھ ملانے والی ہیں ۔ابن سبا اپنے جیسے شیطان صفت یمانی سردار وں سے اس کا کوئی حل تلاش کرنے کو کہتا ہے سر انجام اپنی شیطانی تجویز کو سامنے رکھتا ہے کہ سبائیوں کو چاہئے کہ اس سے قبل کہ دونوں فوجوں کے سردار آگاہ ہوں ،دونوں سپاہوں کی صفوں میں نفوذ کر کے جنگ کے شعلے بھڑکا دیں ۔ جلسہ کے حاضرین اس نظریہ کو پسند کرکے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے منتشر ہو جاتے ہیں ۔

سیف نے اپنی چالاکی سے سبائیوں کے اس اجلاس کو اسی صور ت میں منعقد کیا ہے جیسا کفار قریش نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنے کے سلسلے میں ''دارالندوہ'' میں اجلاس منعقد کیا تھا ۔اس اجلاس میں بھی شیخ نجدی ( جس کے روپ میں شیطان آیا تھا ) ''دارالندوہ '' کے ہر ایک رکن کے نظریات سننے کے بعد انھیں مسترد کرکے حاضرین پر اپنا نظریہ مسلط کرتا ہے ۔

مذکورہ دو اجلاس کے درمیان جو دو مختلف زمانوں میں واقع ہوئے جو فرق نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ شیخ نجدی کی قیادت میں ''دار الندوہ '' کا اجلاس ناکامی سے دو چار ہوتا ہے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچ جاتی ہے ،جب کہ عبداللہ ابن سبا کی قیادت میں منعقد ہوئے اس جلسہ کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے اور دو مضری سپاہ کے قائدین جیسے ،امیر المومنین ـ،عائشہ ،طلحہ و زبیر کی بے خبری اور ان کی مرضی کے خلاف رات کی تاریکی میں دو لشکروں کو آپس میں ٹکرا کر اسلامی معاشرے میں برادر کشی اور اختلاف و افتراق پیدا کرنے والی جنگ کے شعلے بھڑکا دئے جاتے ہیں !


اس داستان کو بڑی مہارت سے زمان و مکان کے اقتضا کے مطابق مرتب کئے جانے کے اس منصوبہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس تباہ کن اور رونگٹے کھڑے کردینے والی جنگ کے تمام گناہ اور ذمہ داریاں یمانی سبائیوں کے قائد عبد اللہ ابن سبا کی گردن پر ڈال دی جاتی ہیں اور حقیقت میں اس جنگ کے تباہ کن شعلے بھڑکانے والے اصلی مجرم '' مضری سردار عائشہ طلحہ و زبیر کے دامن کو اس الزام سے پاک کر دیا جاتا ہے تاکہ قحطانی یمانی قبائل کے چہروں پر تباہی مچانے والی اس بد ترین رسوائی کا داغ رہتی دنیا تک باقی رہے ۔یہ سب سے پہلا اور واضح ترین نتیجہ ہے جو سیف کو اس قسم کا افسانہ گڑھنے سے حاصل ہوتا ہے اور اس طرح وہ خاندانی تعصبات کی پیاس کو اپنی مرضی کے مطابق بجھا تا ہے ۔

دوسری جانب ایسے افسانوں کی اس زمانے میں مکمل حمایت اور تائید کے نتیجہ میں سیف حقائق میں تحریف کرکے تاریخ اسلام کو اپنے ہم عقیدہ مانویوں کے ذوق کے مطابق بدل دیتا ہے اور اسلامی معاشرہ میں نظریات اور عقاید کے اختلافات ایجاد کرکے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خون کے پیاسا بنادیتا ہے اور زندیقیوں کی آرزوکے مطابق اسلام کی بنیادپر کاری ضرب لگا کر اس کو کمزور کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔

جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سیف کے بیان کے مطابق جمل کے خیر خواہوں کی صلح و آشتی کے لئے موافقت کے بر عکس امام مسلم مجاشعی نام کے ایک نوجوان کے ہاتھ میں قرآن مجید دے کر جمل کے خیر خواہوں کی طرف بھیجتے ہیں تاکہ انھیں قرآن اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دے لیکن جمل کے خیر خواہ جواب میں اس نوجوان کے دونوں ہاتھ کاٹ کر اسے قتل کر ڈالتے ہیں ۔

اور جو کچھ سیف نے مالک اشتر نخعی یمانی کے جنگ سے دوری اختیار کرنے کے بارے میں لکھا ہے تو مالک اشتر کی شہرۂ آفاق شجاعت و دلاوری کے پیش نظر اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔

سیف نے لکھا ہے کہ حقیقت میں قعقاع بن عمرو نے عائشہ کے اونٹ کو مار ڈالنے کا حکم جاری کرکے جنگ کا خاتمہ کیا جب کہ یہ حکم امام کی طرف سے جاری ہوا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ خود اقدام کیاہے ۔


سیف لکھتا ہے کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے قعقاع بن عمرو نے عام معافی کا اعلان کیا اور کہا ''تم سب امان میں ہو'' جب کہ دیکھتے ہیں کہ یہ اعلان امام کے ترجمان کے ذریعہ امام کے حکم سے انجام پایا ہے ۔فرض کریں اگر قعقاع نام کا کوئی آدمی موجود بھی ہوتا تو امام کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت و مجال تھی کہ خود ایسا حکم جاری کرتا ؟!

اس کے علاوہ سیف مدعی ہے کہ جنگ کے خاتمے پر قعقاع اور چند دیگر افراد نے عائشہ کے کجاوے کو اونٹ کی پیٹھ سے جدا کرکے ایک گوشے میں رکھا ،جب کہ امام کے حکم سے عائشہ کے بھائی محمد ابن ابوبکر نے یہ کام انجام دیاہے ۔

آخر میں سیف نے امام اوراسی طرح عائشہ سے منسوب کچھ بیانات ذکر کئے ہیں کہ یہ سب باتیں ان حقائق و مطالب کے بر عکس ہیں جنھیں تمام مورخین نے مختلف طریقوں سے درج کیا ہے ۔

داستان جمل کے نتائج

سیف کی روایات میں ،عثمان کے زمانے کے بعد رونما ہوئی بغاوتوں اور شورشوں کے شعلے کبجھانے میں نمایاں اور قابل تحسین کام انجام دینے کا سحرا افسانوی سورما قعقاع بن عمر وتمیمی کے سر ہی باندھا گیا ہے اور کسی کواس میں شریک نہیں کیا گیا ہے ۔

کیوں کہ سیف کی روایتوں کے مطابق :

یہ قعقاع ہے جو سبائی شورشیوں کو مسجد کوفہ میں جمع ہونے سے منع کرتا ہے اور اس روز ان کے اور کوفہ کے گونر کے درمیان بھڑکنے والے فتنہ کے شعلوں کو بجھاتاہے ۔

یہ وہی شخص ہے جو ایک فوج کو اپنی قیادت میں لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوتا ہے تاکہ محاصرہ میں پھنسے خلیفہ عثمان بن عفان کو باغیوں اور تخریب کاروں سے نجات دلائے ،لیکن جب راستے میں عثمان کے قتل ہونے کی خبر سنتا ہے تو کوفہ واپس لوٹنے پر مجبور ہوتا ہے ۔

یہ قعقاع ہی تھا جو لوگوں اور کوفہ کے گورنر کے درمیان حکمیت کا رول ادا کرتا ہے اور حکمیت میں اس کی بات مؤثر ثابت ہوتی ہے ،وہ حکم دیتا ہے کہ امام کی مدد کے لئے لوگ ان کے فوجی کیمپ کی طرف روانہ ہو جائیں اور لوگ بھی اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔


اور یہی قعقاع ہے کہ امام اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے حکم دیتے ہیں کہ امام کے ایلچی کی حیثیت سے جمل کے خیر خواہوں اور امام کے درمیان صلح و آشتی کی کوشش کرے اور اس کی سرگرمیاں مطلوبہ نتیجہ تک پہنچتی ہیں اور دونوں گروہوں کے درمیان صلح کے مقدمات طے پاتے ہیں کہ اچانک عبداللہ ابن سبا یمانی کی شیطنتوں اور دخل اندازی سے تمام کوشیشی نقش بر آب ہو جاتی ہیں اور قعقاع کی فہم و فراست سے خاموش ہونے والی جنگ کی آگ سبائیوں کی شازشوں کے نتیجہ میں انتہائی تباہ کن صورت میں بھڑک اٹھتی ہے اور انسانوں کی ایک بڑی تعداد لقمۂ اجل بنادیتی ہے ۔

یہ وہی قعقاع تھا جس نے اونٹ کو مارڈالنے کا حکم جاری کرکے جنگ کو خاتمہ بخشا۔

یہ وہی قعقاع تھا جس نے جنگ کے آخر میں ''تم سب امان میں ہو '' کا حکم جاری کرکے جمل کے سپاہیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اورجمل کے پریشان حال جنگجوئوں کو بد ترین حالات و نتائج سے نجات دلائی ۔

آخر میں یہ قعقاع ہی ہے جو عائشہ کی محمل کو اٹھا کر اسے زمین پر رکھتا ہے ۔

جی ہاں !ان سب افتخارات اور سر بلندیوں کا مالک وہی ہے ،یعنی قعقاع بن عمرو ،ناقابل شکست پہلوان،امت کا محب ، مسلمانوں کا ہمدرد ، ایک قابل اطاعت سپہ سالار اور خاندان تمیم کا با اثر قائد جو خاندان تمیم اورمضر کے تاج میں ستارے کی طرح چمکتا ہے اور ان تمام فخر و مباہات کا مالک ہے

اس کے مقابلے میں جو تمام برائیاں ، شور شیں ، فتنے، تخریب کاریاں ،مصیبت و بلائیں اور بد بختیاں اسلامی معاشرے کو در پیش آئی ہیں وہ سب کی سب عبد اللہ ابن سبا یہودی یمانی کے ہیرو سبائیوں کی وجہ سے تھیں ۔ اس لئے تمام نفرین و ملامت کے مستحق سبائی اور یمانی ہیں ۔


سیف ابن عمر تمیمی نے اس تمہید سازی، عجیب و غریب افسانے گڑھ کر ، تاریخ کے سنوں میں تبدیلی کرکے، حکام کے خطوط میں تغیر دے کر، جنگیں اور میدان جنگ جعل کرکے اور خاص کر سبائیوں اور ابن سبا کے افسانے کے منصوبے کے ذریعہ اپنا شیطانی مقصد حاصل کرنا چاہا ہے اور سیف کی خوش قسمتی سے امام المؤرخین ابو جعفر جریر طبری کی مہربانی اور خصوصی توجہ سے جو اہمیت سیف کے افسانوں کو ملی ہے اس سے سیف اپنے ناپاک عزائم میں اچھی طرح کامیاب ہوا ہے، کیونکہ بارہ صدیوں سے تاریخ اسلام کے حقائق سیف کے ان تخیلاتی افسانوں کے بادلوں کے پیچھے کھوگئے ہیں ۔

آخر میں کیا یہ کہنا بہتر نہیں کہ سیف خاندانی تعصب کا بہانہ بناکر اس کی آڑ میں خود اپنے دینی اعتقادات کے تحت اسلام کو کمزور کرکے اسے نابود کرنے کے در پے تھا۔کیا سیف کو زندیق اور مانوی مذہب کا پیرو ذکر نہیں کیا گیا ہے؟

قعقاع کے کام کا خاتمہ

یہاں تک ،سیف بن عمر کی طرف سے اس کے ناقابل شکست افسانوی سور ما قعقاع بن عمرو کے سلسلے میں اس کی شجاعتوں ،رجز خوانیوں ، رزمیہ اشعار اور تعجب خیز کارناموں کے بارے میں ہمیں جو کچھ ملاہے، وہ اختتام کو پہنچتا ہے۔

جنگ جمل کے بعدسے اس وقت تک قعقاع کا کہیں نام نہیں لیا جاتا ہے، یہاں تک کہ طبری دوبارہ سیف سے نقل کرتے ہوئے جنگ صفین کی جنگ جمل سے شباہت کے بارے میں قعقاع ابن عمر و سے یوں روایت کرتا ہے:

میں نے دنیا میں کسی چیز کو صفین اور جمل کی دوجنگوں جیسا شبیہ نہیں دیکھا۔ کیونکہ اس جنگ میں دوفوجیں اس قدر ایک دوسرے کی نزدیک آچکی تھیں کہ ہم نے مجبور ہو کر اپنے نیزوں کے ساتھ ٹیک لگائی اور اپنے دانتوں سے ایک دوسرے سے جنگ کی اس طرح روبرو ہونا اور نیزوں کا زمین میں نصب ہونا اس قدر گنجان اور نزدیک تھا کہ اگر لوگ نیزوں پر قدم رکھ کر چلنا چاہتے تو یہ ممکن تھا!!

سیف نے صفین کے بارے میں یہ عجیب و غریب توصیف کرکے اپنے افسانوی سورما قعقاع کو اس میں شریک قرار دیا ہے کیونکہ یہ قعقاع ہے جس نے جنگ کو نزدیک سے دیکھا ہے اور اس میں شرکت کی ہے.


اس روایت کے علاوہ کوئی اور روایت سیف سے نقل نہیں ہوئی ہے جو اس بات کی دلیل ہو کہ قعقاع نے صفین یا صفین کے بعد کسی جنگ میں شرکت کی ہو۔

قعقاع کے بارے میں سیف کے ذریعہ جو آخری روایت ہم تک پہنچی ہے وہ ایک ایسی روایت ہے جسے طبری نے ١١ ھکے حوادث کے ضمن میں بیان کیا ہے اور وہ حسب ذیل ہے:

معاویہ نے (عام الجماعة) سال ''اتحاد و یکجہتی''جس سال امام حسن ں اور معاویہ نے صلح کی کے بعد علی کے دوستوں اور طرفداروں کو ایک ایک کرکے کوفہ سے جلاوطن کیا اور ان کی جگہوں پر اپنے دوستوں اور طرفداروں کو آباد کیا۔انھیں مختلف شہروں میں ''جلاوطن ''ہونے والوں کے نام سے یاد کیا جاتاہے.کوفہ سے جلاوطن ہونے والوں میں سے ایک قعقاع بن عمرو بھی تھا کہ اسے فلسطین کے شہر ایلیا جلاوطن کیا گیا اور اس کی جگہ پر خاندان تغلب کے افراد من جملہ سجاح نامی ایک شخص کو لاکر قعقاع اور بنی عقفان سے مربوط اس کے دیگر رشتہ داروں کے محلے میں آباد کیا گیا۔

اسلامی اسناد میں قعقاع کانام

جو کچھ ہم نے یہاں تک قعقاع بن عمرو کے بارے میں بیان کیا، ان سب نے مل جل کر نوبت یہاں تک پہنچائی ہے کہ ابو جعفر محمد بن حسن ملقب بہ شیخ طوسی(وفات ٤٦٠ھ )بھی علم رجال کی اپنی کتاب میں دوجگہوں پر قعقاع کو امیر المؤمنین کے صحابی کے طور پر درج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :''اس کانام قعقاع تھا''.اور دوسری جگہ پر لکھتے ہیں :''قعقاع بن عمیر تیمی''۔ ان دو جملوں کے علاوہ اس سلسلے میں کسی قسم کی تشریح و تفسیر نہیں لکھی ہے۔

شیخ طوسی کے بعد جن علماء نے ان سے اس بات کو نقل کرکے اپنی کتابوں م میں درج کیاہے، حسب ذیل ہیں :

اردبیلی(وفات ١١٠١ھ )نے کتاب ''جامع الروات''میں ، قہپائی نے ''مجمع الرجال''میں جس کی تألیف ١٠١٦ھ میں مکمل ہوئی ہے اور مامقانی نے کتاب ''تنقیح المقال '' میں شیخ طوسی کی کتاب رجال کا حوالہ دیکر قعقاع کانام لیا ہے ۔


مامقانی لکھتے ہیں :

قعقاع شیخ(رض) نے اپنی رجال کی کتاب میں ''اصحاب علی ''کے باب میں دو جگہوں پر اس کا نام لیا ہے۔ ایک جگہ پر صرف اس کا نام لیا ہے اور دوسری جگہ پر اس کے باپ اور خاندان کا نام بھی ذکر کیا ہے۔لیکن اس کے حالات کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔ شیخ نے قعقاع کے باپ کا نام عمیر لکھا ہے جبکہ عبد البر اور ابن اثیر نے اس کا نام عمر لکھا ہے۔ بعید نہیں ہے کہ پہ پیغام صحیح تر ہو۔ اسی طرح ''اسد الغابہ'' میں جنگِ قادسیہ میں ایرانیوں کے خلاف پیکار کے دوران قعقاع کی شجاعتوں اور نمایاں کارناموں کے پیش نظر اسے روئے زمین کا شجاع ترین اور بے مثال پہلوان بتایاگیاہے۔ اس کے علاوہ اس میں آیا ہے کہ قعقاع نے جنگ جمل اور دیگر جنگوں میں علی کے ہمراہ شرکت کی ۔طلحہ و زبیر کے ساتھ اس نے اتنی بہتر گفتگو کی کہ اس کے سبب لوگ آپس میں صلح و آشتی کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اور یہ وہی شخص ہے جس کے

بارے میں ابوبکر نے کہا ہے:''لشکر میں قعقاع کی آواز ایک ہزار مردوں کی آواز سے بڑھکر ہے۔'' !

لفظ ''قعقاع'' کی تشریح میں صاحب ''قاموس الرجال'' نے مامقانی کی اس سلسلے میں درج کی گئی تمام باتوں کو ذکر کرتے ہوئے لکھاہے:

ظاہرا ًشیخ طوسی کا اپنی کتاب رجال میں مقصود پہلا قعقاع ، یعنی قعقاع بن ثور ہے کہ ابن ابی الحدید نے اس کے بارے میں کہا ہے: علی علیہ السلام نے اسے ''لشکر'' کی سرداری تفویض کی. اس نے ایک عورت کو ایک لاکھ درہم مہر دیدی اور علی کی بازپرسی کے ڈرسے معاویہ سے جاملا۔


گزشتہ فصلوں کا خلاصہ

تخیل سیف القعقاع بن عمرو تمیماً

سیف نے اپنے خیالی سورما قعقاع کو عمرو کا بیٹا اور اپنے خاندان تمیم سے قرار دیا ہے ۔

(مولف)

قعقاع کا شجرۂ نسب اور منصب

سیف نے اپنے خیال میں قعقاع کو عمرو کا بیٹا ،مالک تصویر کا نواسہ اور اپنے قبیلہ تمیم سے تعلق رکھنے والا بتایا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی ماں حنظلیہ تھی ،اس کے ماموں خاندان بارق سے تھے ۔ اس کی بیوی ہنیدہ خاندان ہلال نخع سے تھی ۔

سیف کہتا ہے کہ قعقاع رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے تھا اور اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے احادیث روایت کی ہیں ۔وہ سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود تھا اور اس نے وہاں پر گزرے حالات کی اطلاع دی ہے ۔

ملاحظہ ہو اس کی جنگی سرگرمیاں :

ابوبکر کے زمانے میں قعقاع کی شجاعتیں

قعقاع ،قبیلہ ہوران کے خلاف حملہ میں ابوبکر کے حکم سے منظم کئے گئے ایک لشکر میں شرکت کرتا ہے کہ قبیلہ کا سردار علقمہ اس کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوتا ہے اور قعقاع علقمہ کے اہل خانہ کو اسیر بنا لیتا ہے۔

فتوح کی جنگوں میں ابوبکر ،قعقاع کو سپہ سالار اعظم خالد بن ولید کی مدد طلب کرنے پر عراق کے علاقوں میں جنگ میں شرکت کرنے کے لئے مامور کرتے ہیں ،جب ابوبکر پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ خالد نے آپ سے ایک لشکر کی مدد چاہی تھی اور آپ صرف ایک آدمی کو اس کی مدد کے لئے بھیج رہے ہیں ؟ !تو ابوبکر جواب میں کہتے ہیں :جس سپاہ میں اس جیسا پہلوان موجود ہو وہ ہرگز شکست سے دو چار نہیں ہوگی !۔


قعقاع جنگ ابلہ میں شرکت کرتا ہے ۔جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کی سپاہ کا کمانڈر ، خالد سے مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آیا ہے اور خالد کو فریب دینے کا نقشہ کھینچ رہا ہے تو قعقاع تن تنہا دشمن کی فوج پر حملہ کرکے دشمن کی ریشہ دوانیوں کو نقش بر آب کرکے رکھ دیتا ہے ۔

اس کے بعد قعقاع خالد بن ولید کے ساتھ المذار ،الثنی ،الولجہ اور الیس کی جنگوں میں شرکت کرتا ہے ۔

جنگ الیس میں خالد بن ولید اپنی قسم پوری کرنے کے لئے تین دن رات جنگی اسیروں کے سر تن سے جدا کرتا ہے تاکہ ان کے خون سے ایک بہتا ہوا دریا وجود میں لائے !لیکن خون زمین پر جاری نہیں ہوتا تب قعقاع اور اس کے ہم خیال خالد کی مدد کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ خون پر پانی جاری کردے ۔اس طرح خالد کی قسم پوری ہوتی ہے اور تین دن رات تک خون کا دریا بہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس دریا پر موجود پن چکیاں چلتی ہیں اور خالد کی فوج کے لئے آٹا مہیا ہوتا ہے ۔

حیرہ کے فتح کے بعد خالد بن ولید ،قعقاع کو سرحدی علاقوں کی کمانڈ اور حکومت سونپتا ہے اور قعقاع ،خالد کی طرف سے خراج ادا کرنے والوں کو دی جانے والی رسید پر دستخط کرتا ہے جب خالد عیاض کی مدد کے لئے حیرہ سے باہر جاتا ہے تو قعقاع کو اپنی جگہ پر جانشین مقرر کرکے حیرہ کی حکومت اسے سونپتا ہے ۔

قعقاع حصید کی جنگ میں سپہ سالار کی حیثیت سے عہدہ سنبھالتا ہے اور ایرانی فوج کے سپہ سالار روز مہر کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے اور فوج کے دوسرے سردار وں کے ہمراہ مصیخ بنی البرشاء اور فراض کی جنگوں میں شرکت کرتا ہے ۔اسی آخری جنگ کے خاتمہ پر خالد بن ولید حکم دیتا ہے کہ فراری دشمنوں کو تہہ تیغ کیا جائے ۔اس طرح میدان جنگ میں قتل کئے گئے اور فراری مقتولین کی کل تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔

اس کے بعد خلیفہ ابوبکر خالد بن ولید کو حکم دیتا ہے کہ عراق کی جنگ کو ناتمام چھوڑکر شام کی طرف روانہ ہو جائے ۔خالد گمان کرتا ہے کہ عمر نے اس کے ساتھ حسد کے پیش نظر ابوبکر کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہوگا ۔قعقاع فوراً خالد کو نصیحت کرتا ہے اور عمر کے بارے میں اس کی بد ظنی کو حسن ظن میں تبدیل کر دیتا ہے ۔


قعقاع خالد کی سپاہ کے ساتھ عراق سے شام کی طرف روانہ ہوتا ہے اور اس کے ہمراہ مصیخ بہراء ،مرج الصفر اور شام کے ابتدائی شہر قنات عراقی فوجیوں کے ہاتھوں فتح ہونے والاپہلا شہر کی جنگوں میں شرکت کرتا ہے اور اس کے بعد واقوصہ کی جنگ میں شرکت کرتا ہے ۔

قعقاع ان تمام جنگوں کی مناسبت سے شعر ،رزم نامے اور رجز کے ذریعہ ادبیات عرب کے خزانوں کو پُر کرتا ہے ۔

یرموک کی جنگ میں خالد اسے عراقی سپاہ کی کمانڈ سونپتا ہے اور اسے حملہ کرنے کا حکم دیتا ہے قعقاع حکم کی تعمیل کرتا ہے اور چند اشعار بھی کہتا ہے ۔جنگ کے خاتمے پر جنگ واقوصہ میں رومیوں کے مقتولین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچتی ہے ۔

دمشق کی جنگ میں قعقاع اور ایک دوسرا پہلوان قلعۂ دمشق کے برج پر کمندیں ڈال کر دیوار پر چڑھتے ہیں اور دوسروں کی کمندوں کو برج کے ساتھ مضبوطی سے باندھتے ہیں اور اس طرح قلعہ کی دیوار سے اوپر چڑھ کر قلعہ کے محافظوں سے نبرد آزما ہونے کے بعد قلعہ کا دروازہ اسلامی فوج کے لئے کھولنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور شہر پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔قعقاع نے اس مناسبت سے بھی چند اشعار کہے ہیں ۔

عمر کے زمانے میں قعقاع کی شجاعتیں

اس کے بعد قعقاع جنگ فحل میں شرکت کرتا ہے ،جس میں اسّی ہزار رومی مارے جاتے ہیں ۔ وہ اس سلسلے میں دولافانی رزم نامے کہتا ہے اس کے بعد ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے شام سے عراق کی طرف روانہ ہوتا ہے تاکہ اسلامی فوج کے سپہ سالارسعد وقاص کی مدد کرے اور جنگ قادسیہ میں شرکت کرے.


قعقاع ایک ہزار سپاہیوں کو اپنی کمانڈ میں لئے ہوئے بڑی تیزی کے ساتھ یکے بعد دیگرے منازل کو طے کرتے ہوئے اغواث کے دن اپنی وعدہ گاہ، یعنی قادسیہ کے میدان جنگ میں پہنچ جاتاہے۔ وہ اپنے سپاہیوں کو دس دس افراد کی ٹولیوں میں تقسیم کرتاہے اور انھیں حکم دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ایک خاص فاصلہ کی رعایت کرتے ہوئے ایک عظیم طاقت کی صورت میں میدان جنگ میں داخل ہوں تاکہ فوجیوں کی ٹولیوں کی کثرت اسلامی فوج کی ہمت افزائی کا سبب بنیں اور خود پہلی ٹولی کے آگے آگے قدم بڑھاتا ہے اور اسلامی فوج کو امداد پہنچنے کی نوید دیکر حوصلہ افزائی کرتاہے اور ان سے کہتاہے، جو کام میں کروں تم بھی اسی کو انجام دینا۔ اس کے بعد تن تنہا میدان جنگ میں جاتا ہے اور اپنے ہم پلہ مد مقابل کا مطالبہ کرتاہے اور مثنی کے قاتل دشمن کے سپہ سالار ذوالحاجب کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد دشمن کے ایک اور سردار اور پہلوان بیرزانِ پارسی کو قتل کرڈالتا ہے۔ اس کی شجاعت کو دیکھ کر اسلامی فوج کے سپاہی ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : یہ وہی پہلوان ہے جس کے بارے میں ابوبکر نے کہا ہے:''جس سپاہ میں یہ پہلوان موجود ہو وہ سپاہ ہرگز شکست نہیں کھائے گی''۔قعقاع کے سپاہی اس کے حکم کے مطابق اس دن شام ہونے تک وقفے وقفے سے ٹولیوں کی صورت میں آکر اسلامی فوج کے ساتھ ملحق ہوتے ہیں اور ہر ٹولی کے پہنچنے پر قعقاع نعرۂ تکبیر بلند کرتا ہے اور مسلمان بھی اس کے جواب میں نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہیں ۔ اس طرح دوستوں کے دل قوی ہوتے ہیں اور دشمن متزلزل اور پریشان ہوجاتے ہیں ۔

اسی فرضی اغواث کے دن سعد وقاص ان گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا قعقاع کو انعام کے طور پر دیتا ہے، جو خلیفہ عمر نے جنگ قادسیہ کے بہترین پہلوانوں کے لئے بھیجے تھے ۔ قعقاع اس روز تین بہترین رزم نامے کہتا ہے۔

اسی جنگ میں قعقاع اپنے ما تحت افراد کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے اونٹوں کو کپڑے سے اس طرح ڈھانپیں تا کہ وہ ہاتھی جیسے نظر آئیں پھر ان کو دس دس کی ٹولیوں میں ایرانی فوج کے گھوڑسواروں کی طرف روانہ کریں تا کہ وہ وحشت سے اپنے ہی لشکر کی صفوں کو چیرتے ہوئے بھگدڑمچائیں ، پھر خاندان تمیم کے چابک سوار بھی ان کی مدد کے لئے آگے بڑھیں ۔

عماس کی شب کو قعقاع اپنے ماتحت افراد کو دوست و دشمنوں کی نظروں سے چھپاتے ہوئے اسی جگہ پر لے جاتا ہے جہاں پر اغواث کے دن انھیں جمع کرچکاتھا، اور حکم دیتا ہے کہ اس کے افراد


اغواث کے دن کی طرح لیکن اس دفعہ سو١٠٠ سو١٠٠افراد کی ٹولیوں میں میدان جنگ کی طرف بڑھیں اور

جب سو افراد کی پہلی ٹولی نظروں سے اوجھل ہوجائے تو دوسری ٹولی آگے بڑھے اور اسی ترتیب سے

دیگر ٹولیاں آگے بڑھیں ۔ اس جنگی حکمت عملی کی وجہ سے مسلمان فوج کا حوصلہ اس روز بھی اغواث کے دن کی طرح مددگار فوج کی آمد کی امیدمیں بلند ہوجاتاہے۔

جب سعد وقاص مشاہدہ کرتا ہے کہ ایرانی فوج کا ہاتھی سوار دستہ اسلامی فوج کی صفوں کو تتربتر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے تو وہ قعقاع اور اس کے بھائی کو حکم دیتا ہے کہ ان کے راہنما اور آگے آگے چلنے والے سفید ہاتھی کا کام تمام کردیں ۔قعقاع اور اس کا بھائی سفید ہاتھی کی دونوں آنکھیں نکال کر اسے اندھا بنا دیتے ہیں اور قعقاع تلوار کے ایک وار سے اس کی سونڈ کوکاٹ کر جدا کردیتا ہے اور بالاخر اسے مار ڈالنے کے بعد ایک لافانی رزم نامہ لکھتا ہے ۔

جنگ ''لیلة الھریر '' میں قعقاع میدان جنگ کی طرف دوڑ نے میں دیگر لوگوں کے مقابلے میں پہل کرتا ہے اور ایک شعلہ بیان تقریر کرکے اپنے سپاہیوں کو دشمن سے لڑنے کے لئے جوش دلاتا ہے اور دوسرے پہلوانوں اور دلاوروں کی مدد سے دشمن کے سپہ سالار اعظم رستم کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور مشرکین کی فوج کو تہس نہس کرکے رکھ دیتا ہے ۔اس طرح ایرانی فوج کے تیس سے زائد دستوں کے دلاوروں کے مقابلے میں اسی تعداد میں اسلامی فوج کے دلاور بھی مقابلے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ان میں قعقاع اپنے ہم پلہ پہلوان قارن کو خاک و خون میں غلطاں کر دیتا ہے اور باقی ایرانی فوجی یا مارے جاتے ہیں یا فرار کر جاتے ہیں ۔اور سعد وقاص حکم جاری کرتا ہے کہ فراریوں کا پیچھا کیا جائے آخر میں سعد وقاص قعقاع کے حق میں ایک قصیدہ بڑھ کر اس کی تمجید و تجلیل کرتا ہے ۔

قادسیہ کی جنگ کی وجہ سے ایک ہزار سات سو قحطانی عورتیں اپنے شوہر وں کے مارے جانے کی وجہ سے بیوہ ہوجاتی ہیں اور قبیلہ مضر کے مہاجرین سے شادیاں کرتی ہیں ان میں قعقاع کی بیوی کی بہن ہنیدہ بھی تھی وہ اپنی بہن کے ذریعہ اپنے لئے شوہر کے انتخاب کے سلسلے میں قعقاع کا نظریہ معلوم کرتی ہے اور قعقاع چند اشعار کے ذریعہ اس کی راہنمائی کرتا ہے اور فتح بہر سیر کے بارے میں شعر کہتا ہے ۔


اسلامی فوج کے دریائے دجلہ کو عبور کرتے ہوئے غرقدہ نامی قبیلۂ بارق کا ایک شخص گھوڑے سے گر کر دریا میں ڈوب جاتا ہے ،قعقاع اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساحل تک کھینچ لے آتا ہے اور اسے غرق ہونے سے بچالیتا ہے ۔غرقدہ ایک قوی پہلوان تھا ۔وہ قعقاع کی ستائش کرتے ہوئے کہتا ہے '' عورتیں تجھ جیسا فرزند ہر گز جنم نہیں دے سکتیں ''

قعقاع کا فوجی دستہ'' اہوال'' کے نام سے مشہور تھا ،پہلا فوجی دستہ تھا جس نے مدائن میں قدم رکھا ۔

قعقاع ایرانی شکست خوردہ فراری سپاہیوں کا تعاقب کرتا ہے اور اس کی ایک فراری شخص کے ساتھ مڈبھیڑ ہوتی ہے ،قعقاع اسے قتل کر ڈالتا ہے اور دو چوپایوں پر بار کئے ہوئے اس کے اثاثہ پر غنیمت کے طور پر قبضہ کر لیتا ہے ۔جب ان گٹھریوں کو کھول کے دیکھتا ہے تو ان میں ایران ،روم ،ترک اور عرب بادشاہوں کا فو جی سازوسامان پاتا ہے ۔اسلامی فوج کا کمانڈر انچیف سعد وقاص قعقاع کے حاصل کئے ہوئے اس مال غنیمت میں سے روم کے بادشاہ ہر کلیوس کی تلوار اور بہرام کی زرہ قعقاع کو بخش دیتا ہے اور باقی مال خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیتا ہے ۔

جلولا کی جنگ:

جلولاء کی جنگ میں خلیفہ ،سعد وقاص کو حکم دیتا ہے کہ قعقاع کو ایک فوجی دستے کی کمانڈدے کر فتح جلولاء کے لئے ہراول دستے کے طور پر ماموریت دے اور جلولاء کو فتح کرنے کے بعد شام تک پھیلے ہوئے ایران کے مغربی علاقوں کی حکومت اس کو سونپے ۔قعقاع جلولاء کی طرف روانہ ہوتا ہے اور پناہ گاہوں میں مورچہ بند ی کئے ہوئے ایرانیوں کو اپنے محاصرہ میں لے لیتاہے ۔ لیکن ایرانی اپنی پناہ گاہ کے چاروں طرف لوہے کے تیز دھار والے ٹکڑے پھیلاکر اسلامی فوج کے لئے پناہ گاہ تک پہنچنے میں رکاوٹیں گھڑی کرتے ہیں اور صرف اپنے لئے رفت و آمد کا ایک خاص اور محفوظ راستہ بناتے ہیں اور ضرورت کے علاوہ پناہ گاہ سے باہر نہیں نکلتے یہ حالت اسّی روز تک جاری رہتی ہے ۔


قعقاع اس مدت میں ایک مناسب فرصت کی انتظار میں رہتا ہے اور اچانک حملہ کرکے رفت و آمد کے تنہا راستہ پر قبضہ جما لیتا ہے اور جنگی حکمت عملی سے مسلمان فوج کو حملہ کے لئے جو ش دلاتا ہے اور یہی امر دشمن کو شکست دینے کا سبب بن جاتا ہے ،اس معرکہ میں مشرکین کے ایک لاکھ فوجی کا م آتے ہیں او رباقی فرار کرتے ہیں اور مسلمان ،فراریوں کا خانقین تک پیچھا کرتے ہیں ۔ فراریوں میں سے بعض مارے جاتے ہیں اور بعض اسیر کئے جاتے ہیں ایرانی فوج کا کمانڈر مہران بھی مارا جاتا ہے ۔

قعقاع اپنی پیش قدمی کو قصر شیریں تک جاری رکھتا ہے ،حلوان کے سرحد بانوں کو قتل کرتاہے فوجی کیمپ اور شہر پر قبضہ کرکے سعد وقاص کے واپس کوفہ پہنچنے تک وہیں پر پڑائو ڈالتا ہے ۔قععقاع نے جلولاء کے بارے میں بھی شعر کہے ہیں ۔

شام سے ابو عبیدہ خلیفہ عمر سے مدد طلب کرتا ہے خلیفہ سعد کو حکم دیتا ہے کہ قعقاع کو ایک سپاہ کی کمانڈ میں ابو عبیدہ کی مدد کے لئے شام روانہ کرے ۔قعقاع چار ہزار جنگجوئوں کو لے کر شام کی طرف روانہ ہوتا ہے جب مشرکین کو قعقاع اور اس کے سپاہیوں کے آنے کی خبر ملتی ہے تو ابو عبیدہ پر سے محاصرہ اٹھا لیتے ہیں منتشر ہو جاتے ہیں اور ابوعبیدہ ،قعقاع کی مدد کے پہنچنے سے پہلے ہی حمص کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیتا ہے ۔عمر حکم دیتا ہے کہ قعقاع اور اس کے سپاہیوں کو بھی مال غنیمت کی تقسیم میں شریک قرار دیا جائے ۔قعقاع اس مناسبت سے بھی چند شعر کہتاہے ۔

نہاوند کی جنگ :

نہاوند میں ایرانی ،قلعہ میں پناہ لیتے ہیں اور ضرورت کے علاوہ اس سے باہر نہیں نکلتے ہیں ۔ قلعۂ نہاوند پر مسلمانوں کے محاصرہ کا کام طول پکڑتا ہے ۔آخر قعقاع ایک تدبیر سوچتاہے اور جنگ شروع کرتا ہے ،اچانک حملہ کرتا ہے ،جب مشرکین دفاع کرنے لگتے ہیں تو مسلمان پیچھے ہٹتے ہیں ، ایرانی ان کا پیچھا کرتے ہیں اور مسلمان پیچھے ہٹتے جاتے ہیں ،اس طرح دشمن کو قلعہ سے باہر کھینچ لاتے ہیں ۔ وہ اس حد تک باہر آتے ہیں کہ قلعہ میں قلعہ کے محافظوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہتا ۔اچانک مسلمان مڑ کر تلواروں سے ان پر وار کر دیتے ہیں اور ان کے کشتوں کے پشتے لگادیتے ہیں ،زمین ان کے خون سے بھرجاتی ہے اور ایسی پھسلنی بن جاتی ہے کہ سوار اور پیدل فوجی اس پر پھسل جاتے ہیں جب دن گزر کر رات پہنچ جاتی ہے تو ایرانی شکست کھا کر فرار کرنے لگتے ہیں ۔وہ راہ اور چاہ میں تمیز نہیں کرسکتے اور اپنی کھودی ہوئی خندق اور اس میں جلائی گئی آگ میں ایک ایک کرکے گرتے جاتے ہیں اور جل جاتے ہیں وہ اس آگ سے بھری خندق میں گرتے ہوئے فارسی زبان میں فریاد بلند کرتے ہیں '' وائے خرد'' آخر کار ایک لاکھ انسان اس آگ میں جل کر راکھ ہوجاتے ہیں یہ تعداد ان مقتولین کے علاوہ ہے جو اس جنگ کے میدان کارزار میں کام آئے تھے !


نہاوند کی جنگ میں ایرانی فوج کا سپہ سالار فیروزان بھاگنے میں کامیاب ہوتا ہے او ر ہمدان کی طرف فرار کرتا ہے ،قعقاع اس کا پیچھا کرتا ہے اور ہمدان کی گزرگاہ پر اس کے قریب پہنچتا ہے ۔ لیکن گزر گاہ میں موجود شہدکا بار لے جانے والے مویشیوں کی کثرت کی وجہ سے فیروزان گزر گاہ کو عبور نہیں کر سکتا ہے ۔گھوڑے سے اتر کر پہاڑ کی طرف بھاگتا ہے اسی اثنا ء میں قعقاع پہنچ کر اسے وہیں پر قتل کر ڈالتا ہے ۔شہد کا بار لئے ہوئے مویشیوں کے سبب راستہ بند ہونے کے موضوع کی وجہ سے یہ جملہ عام ہو جاتاہے کہ '' خدا کے پاس شہد کی ایک فوج بھی ہے ''

فیروزان کے قتل ہونے کے بعد ہمدان اور ماہان کے باشندے قعقاع سے امان کی درخواست کرتے ہیں ۔امان نامہ لکھا جاتا ہے اور قعقاع اس کی تائید و گواہی میں اس پر دستخط کرتا ہے ۔ وہ اس مناسبت سے بھی اشعار کہتا ہے ۔

قعقاع ،عثمان کے زمانہ میں

خلیفہ عثمان ٣٤ھاور ٣٥ھ میں قعقاع کو کوفہ کے علاقوں کے سپہ سالار اعظم کی حیثیت سے مقرر کرتا ہے ۔

کوفہ میں شورش و فتنہ پرپا ہونے پر قعقاع دیکھتا ہے کہ سبائی مسجد کوفہ میں اجتماع کرکے خلیفہ عثمان کی معزولی وبر طرفی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔قعقاع انھیں دھمکاتا ہے ،سبائی ڈر کے مارے اپنے مطالبات کو چھپاتے ہیں او ر اظہار کرتے ہیں کہ وہ کوفہ کے گورنر کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ قعقاع ان سے کہتا ہے :تمھارا مطالبہ پورا ہوگا !اس کے بعد انھیں حکم دیتا ہے کہ متفرق ہو جائیں اور اب مسجد میں اجتماع نہ کریں ۔

جب مالک اشتر کوفہ کے گونر کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے شورشیوں اور باغیوں کو اکساتا ہے تو کوفہ کا ڈپٹی گورنر ان کو نصیحت کرتے ہوئے بغاوت کو روکتا ہے ۔قعقاع ڈپٹی گورنر کو صبر کا مظاہر ہ کرنے کا حکم دیتا ہے وہ بھی اس کی بات کو مانتے ہوئے اپنے گھر چلا جاتا ہے۔


جب سبائی دوبارہ مسجد کوفہ میں ا جتماع کرتے ہیں اور عثمان کے خلاف بد گوئی کرتے ہیں تو قعقاع سبائیوں کو نصیحت کرکے ٹھنڈا کرتا ہے اور وعدہ دیتا ہے کہ عثمان کے مقرر کردہ تمام عہدہ داروں کو برطرف کر دے گا اور ان کے مطالبات قبول کئے جائیں گے ۔

جب عثمان نے مختلف شہروں کے باشندوں سے مدد طلب کی کہ اسے محاصر ہ سے نجات دلائیں تو قعقاع کوفہ سے اور دوسرے لوگ دیگر شہروں سے عثمان کی مدد کے لئے مدینہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔جب عثمان کو محاصرہ کرنے والے سبائی اس خبر سے مطلع ہوتے ہیں کہ عثمان کے حامی ان کی مدد کے لئے مدینہ کی طرف آرہے ہیں تو فورا ًعثمان کا کام تمام کر دیتے ہیں عثمان کے قتل کی خبر سنتے ہی قعقاع راستے ہی سے کوفہ کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے ۔


قعقاع ،حضرت علی کے زمانہ میں

جب حضرت علی ـ نے بصرہ میں جنگ جمل کے لئے کوفیوں سے مدد طلب کی اور ابو موسیٰ اشعری نے اس امر میں امام کی نافرمانی کی اور ان کے اور کوفہ کے باشندوں سے اختلافات پیدا ہوئے ،تو قعقاع مصلح کی حیثیت سے آگے بڑھتا ہے اور لوگوں کو نصیحت کرتا ہے اور انھیں اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لئے امام کی دعوت قبول کریں ۔لوگ اس کی نصیحت قبول کرکے امام کی فوج سے ملحق ہوتے ہیں اور خود قعقاع بھی پانچ ہزار سپاہیوں کے ہمراہ امام کی خدمت میں پہنچ جاتا ہے ۔(۱)

امام حکم دیتے ہیں کہ قعقاع ان کے ایلچی کی حیثیت سے صلح و آشتی برقرار کرنے کے لئے طلحہ ،زبیر اور عائشہ کے پاس جائے ۔قعقاع کی سر گرمیوں اور حسن نیت کی وجہ سے اختلاف وتفرقہ ختم ہونے والا تھا لیکن سبائی اس صلح و آشتی کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیتے ہیں اور طرفین کی بے خبری میں رات کی تاریکی میں دونوں فوجوں کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑکا دیتے ہیں ۔

قعقاع امام کے ہمراہ جنگ میں شرکت کرتے ہوئے خود کو عائشہ کے اونٹ کے نزدیک پہنچا تا ہے اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ اونٹ کا کام تمام کردو او ر جنگ کے خاتمہ پر جمل کے خیر خواہوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ : ''تم امان میں ہو''

ام المومنین عائشہ رو نما ہوئے ان حالات پر پشیمان ہوتی ہیں ،امام بھی پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں اور دونوں تمناکرتے ہیں کہ کاش اس واقعہ سے بیس سال پہلے مر چکے ہوتے!

امام قعقاع کو حکم دیتے ہیں کہ ام المومنین کی بے احترامی کرنے والے دو افراد کو سو سوکوڑے مارے ۔

آخر میں سیف نے ایک ایسی روایت بھی نقل کی ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ قعقاع نے صفین کی جنگ میں بھی شرکت کی ہے ۔

آخر کار معاویہ '' عام الجماعة'' کے بعد حضرت علی ـکے حامیوں اور طرفداروں کو جلاوطن کرتا ہے ۔اور قعقاع کو بھی اسی الزام میں فلسطین کے ایلیا نام کے علاقہ میں جلا وطن کرتا ہے اور ان کی جگہ پر اپنے حامیوں اور رشتہ دارون کو کوفہ میں آباد کرتا ہے ،سیف نے ان جلاوطن ہونے والوں کے نام بھی رکھے اور انھیں ''منتقل ہونے والے '' کہا ہے ۔

____________________

الف )۔تاریخ طبری طبع یورپ ٢١٦١


احادیث سیف کے راویوں کا سلسلہ

لم نجد لهم ذکرا فی غیر احادیث سیف

ہم نے ان راویوں کے نام ، سیف کی روایت کے علاوہ روایتوں کی کسی بھی کتاب میں نہیں پائے۔

(مولف)

ہم نے گزشتہ فصلو ں میں قعقاع کے بارے میں سیف کی روایات پر بحث و تحقیق کی ۔ اب ہم اس فصل میں پہلے ان راویوں کے بارے میں بحث کریں گے جن سے سیف نے روایات نقل کی ہیں اور اس کے بعد ان کتابوں کا جائزہ لیں گے جن میں سیف سے رواتیں نقل کی گئی ہیں ۔

١۔وہ راوی جن سے سیف نے رواتیں نقل کی ہیں

قعقاع بن عمر تمیمی کا افسانہ سیف کی ٦٨روایات میں ذکر ہوا ہے ۔امام المورخین طبری نے ان میں سے اکثر کو اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے ۔جب ہم ان روایات کی سند کی طرف رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے :

(١) اس کی ٣٨روایات میں محمد کانام راوی کی حیثیت سے ذکر ہواہے ۔سیف اس محمد کو ابن عبد اللہ بن سوادبن نویرہ بتاتاہے اور اختصار کے طور پر اسے محمد نویرہ یا محمد بن عبداللہ اور اکثر صرف محمد کے نام سے ذکر کرتا ہے ۔

(٢) اس کا ایک راوی مہلب بن عتبہ اسدی ہے جس سے اس نے اپنی پندرہ روایات نقل کی ہیں طبری اسے اختصار کے طور پر مہلب ذکر کرتا ہے ۔

(٣) یزید بن اسید غسانی ،اس کا ایک اور راوی ہے ۔اس کا نام اس نے اپنی دس روایات کی سند میں ذکر کیا ہے اور اس کی کنیت ابو عثمان بیان کی ہے ۔


(٤) سیف کی آٹھ احادیث کا راوی زیاد بن سرجس احمری ہے ۔سیف اختصار کے طور پر اسے زیاد یا زیاد بن سرجس کے نام سے یاد کرتا ہے ۔

(٥) الغصن بن قاسم کنانی ۔

(٦) عبداللہ بن سعید بن ثابت جذع ،اختصار کے طور پر سیف اسے عبداللہ بن سعید یا عبداللہ کے نام سے ذکر کرتا ہے۔

(٧) ظفر بن دہی ،یہ سیف کے ان اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ہے جنھیں اس نے خود جعل کیا ہے اور اس کی احادیث کا راوی بھی ہے ۔

(٨) قعقاع بن عمروتمیمی ،ظفر کے مانند یہ بھی اس کا ایک جعلی صحابی ہے اور اس کی احادیث کا راوی بھی ہے ،

(٩) صعب بن عطیہ بن بلال یہ اپنے باپ سے روایت کرتا ہے ،جب کہ باپ بیٹے دونوں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں اور ایک ہی انداز کی روایت کرتے ہیں ۔

(١٠) نضر بن سری الضبی ،بعض اوقات اس کا نام سیف کی احادیث میں اختصار کے طور پر نضر ذکر ہواہے ۔

(١١) ابن رفیل ،اپنے باپ سے روایت کرتا ہے ،رفیل کے باپ کو سیف بن عمر ،رفیل بن میسور کے نام سے یاد کرتا ہے ۔

(١٢) عبدالرحمن بن سیاہ احمر ی ،سیف اس کانام لقب کے بغیر ذکرکرتاہے۔

(١٣) مستنیر بن یزید ،اس نام سے سیف کامقصود مستنیر بن یزید نخعی ہے ۔

(١٤) قیس ،سیف اسے مستنیرکابھائی بتاتاہے ۔

(١٥) سہل ،سیف نے اسے سہل بن یوسف سلمی خیال کیاہے ۔

(١٦) بطان بشر

(١٧) ابن ابو مکنف

(١٨) طلحہ بن عبد الرحمان ،اس کی کنیت ابوسفیان بتائی ہے ۔

(١٩) حمید بن ابی شجار

(٢٠) المقطع بن ھیثم بکائی


(٢١) عبد اللہ بن محفز بن ثعلبہ ،وہ اپنے باپ سے روایت کرتا ہے ،باپ بیٹے دونوں سیف کی صرف ایک حدیث کے راوی ہیں ۔

(٢٢) حنظلة بن زیاد بن حنظلۂ تمیمی.

(٢٣) عروة بن ولید

(٢٤) ابو معبد عبسی

(٢٥) جریر بن اشرس

(٢٦) صعصعةالمزنی

(٢٧) مخلد بن کثیر

(٢٨) عصمة الوامکی

(٢٩) عمرو بن ریان

٢۔وہ علما ء جنھوں نے سیف سے روایتیں نقل کی ہے

١۔تمام وہ افسانے جنھیں اب تک ہم نے قعقاع کے بارے میں ذکر کیا ،انہیں پہلی بار سیف بن عمر تمیمی( وفات تقریباً ١٧٠ ھ )نے ''فتوح''اور ''جمل''نامی اپنی دوکتابوں میں ثبت و ضبط کیا ہے۔

مندرجہ ذیل علماء نے ان کتابوں سے قعقاع کے بارے میں سیف کی روایتوں کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے:

٢۔طبری (وفات ٣١٠ھ)نے اپنی کتاب ''تاریخ کبیر''میں ۔

٣۔الرّازی(وفات ٣٧٧ھ )نے کتاب ''جرح و تعدیل''میں ۔

٤۔ابن السکن(وفات ٣٥٣ھ ) نے کتاب ''حروف الصحابہ''میں ۔

٥۔ابن عساکر (وفات ٥٧١ ھ) نے کتاب ''تاریخ مدینہ و دمشق''میں ۔

ان سے بھی درج ذیل مؤلفین نے اپنی ادبی کتابوں میں سیف کے مطالب کو نقل کیاہے :

٦۔الاصبھانی (وفات ٣٥٦ھ ) نے کتاب ''اغانی''میں ،طبری سے نقل کیا ہے۔


٧۔ابن بدرون(وفات ٥٦٠ ھ) نے ابن عبدون کے قصیدہ کی شرح میں طبری سے نقل کیا ہے۔

٨۔ابن عبد البر(وفات ٤٦٣ھ ) نے کتاب ''الاستیعاب'' میں ، سیف کے مطالب کو رازی سے نقل کیا ہے۔

٩۔ابن اثیر (وفات ٦٣٠ ھ) نے کتاب''اسد الغابہ ''میں ،سیف کے مطالب کو ابن عبدالبر سے نقل کیا ہے۔

١٠۔ذہبی (وفات ٧٤٨ھ) نے کتاب ''التجرید''میں ابن اثیر سے نقل کیاہے۔

١١۔ابن حجر (وفات ٨٥٢ھ) نے کتاب ''الاصابہ '' میں ان مطالب کو خود سیف بن عمر، طبری ، رازی ، ابن سکن اور ابن عساکر سے نقل کیا ہے۔

سیف کے افسانے تاریخ کی مندرجہ ذیل عمومی کتابوں میں بھی نقل ہوئے ہیں :

١٢۔ابن اثیر(وفات ٦٣٠ھ) نے کتاب ''تاریخ کامل '' میں طبری سے نقل کیا ہے۔

١٣۔ابن کثیر (وفات ٧٧٠ھ ) نے کتاب ''تاریخ البدایہ''میں طبری سے نقل کیاہے۔

جغرافیہ کی کتابوں میں بھی سیف کے افسانے درج کئے گئے ہیں :

١٥۔الحموی(وفات ٦٢٦ ھ) نے کتاب ''معجم البلدان''میں براہ راست سیف بن عمر سے نقل کیاہے۔

١٦۔عبد المؤمن (وفات ٧٣٠ھ) نے کتاب ''مراصدا لاطلاع'' میں حموی سے نقل کیا ہے ۔

١٧۔الحمیری(وفات ٩٠٠ھ ) نے کتاب ''روض المعطار'' میں براہ راست سیف سے نقل کیا ہے۔

قعقاع کے افسانوں کا ان کتابوں میں اشاعت پانا اس امر کاسبب بنا کہ قعقاع کا نام شیعوں کی رجال کی کتابوں میں بھی درج ہوجائے ،جیسے:


١٨۔شیخ طوسی (وفات ٤٦٠ھ) نے کتاب ''رجال''میں ۔

١٩۔قہپائی (سال تألیف ١٠١٦ھ) نے کتاب ''مجمع الرجال'' میں شیخ کتاب ''رجا ل '' سے نقل کیا ہے۔

٢٠۔اردبیلی(وفات ١١٠١ھ) نے کتاب ''جامع الروات'' میں شیخ کی کتاب رجال سے نقل کیا ہے۔

٢١۔مامقانی ( وفات ١٣٥٠ھ ) نے کتاب ''تنقیح المقال'' میں شیخ طوسی کی کتاب رجال سے نقل کیاہے۔

٢٢۔شوشتری، معاصر نے مامقانی کی کتاب ''تنقیح المقال ''اور شیخ طوسی کی کتاب رجال سے نقل کیاہے۔

قعقاع کے بارے میں

سیف کی سڑسٹھ٦٧ روایتوں کا خلاصہ

قعقاع کی خبر اور اس کے حیرت انگیز افسانوی شجاعتیں اور کارنامے، مذکورہ کتابوں کے علاوہ تاریخ اسلام کے دیگر معتبر مصادر و منابع میں وسیع پیمانے پر، شائع ہوچکے ہیں ۔ اس سلسلے میں سبوں نے سیف بن عمر تمیمی سے روایت نقل کی ہے۔ کیونکہ سیف مدعی ہے اور وہی روایت کرتا ہے کہ بے مثال اور نا قابل شکست تمیمی پہلوان، قعقاع بن عمرو تمیمی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی رہ چکا ہے اور اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایتیں نقل کی ہیں ، سقیفہ بنی ساعدہ کو دیکھا ہے اور اس کے بارے میں خبر بھی دی ہے، ارتداد اور فتوحات اسلامی کی اکتس جنگوں میں شرکت کی ہے۔ ان جنگوں میں سات لاکھ سے زائد انسان قتل عام ہوئے ہیں ان کے سرتن سے جدا کئے گئے ہیں یا جل کر راکھ ہوئے ہیں ۔ قعقاع بن عمر و تمیمی ان جنگوں کا بے مثال پہلوان اور مرکزی کردار و شیر مرد تھا، اس نے١ ٣ رزم نامے لکھے ہیں ۔

سیف نے ان تمام مطالب کو٦٧،احادیث میں بیان کیا ہے اور ان میں سے ہر حدیث کو چند راویوں سے نقل کیا ہے کہ ان میں سے چالیس راوی صرف سیف کے ہاں پائے جاتے ہیں ۔

اسی طرح سیف نے ایسی جنگوں کا نام لیا ہے جو ہرگز واقع نہیں ہوئی ہیں اور ایسی جگہوں کا نام لیاہے جو بالکل وجود نہیں رکھتی تھیں اور وہ تنہا شخص ہے جس نے ایسی جنگوں اور جگہوں کا نام لے کر ان کا تعارف کرایاہے۔

سیف منفرد شخص ہے جو تاریخ اسلا م کے چھبیس سال تک کے ایسے واقعات و حالات کی تشریح کرتا ہے جو ہرگز واقع نہیں ہوئے ہیں اور دیگر کسی بھی خبر بیان کرنے والے نے ایسی باتیں نہیں کہی ہیں ، بلکہ سیف نے تن تنہا ان افسانوں کی ایجاد کرکے اپنے تصور میں تخلیق اور کتابوں میں ثبت کیا ہے۔


تحقیق کے منابع

ہم نے سیف کی احادیث کے راویوں کی تلاش کے سلسلے میں ان مختلف کتابوں کا مطالعہ کیا جن میں تاریخ و حدیث کے تمام رایوں کے حالات درج ہیں ، مثال کے طور پر:

٭ '' علل و معرفة الرجال '' تالیف احمد بن حنبل ( وفات ٢٤١ھ)

٭ ''تاریخ بخاری '' تالیف بخاری ( وفات ٣٥٦ھ)

٭ '' جرح و تعدیل'' تالیف رازی(وفات٣٢٧)

٭ '' میزان الاعتدال '' ،والعبر''اور '' تذکرة الحفاظ''تألیف ذہبی (وفات ٧٤٨ھ

٭ ''لسان المیزان ''''تہذیب التہذیب'' ''تقریب التہیب'' اور ''تبصیرالمنتبہ'' تالیف ابن حجر (وفات ٨٥٢ھ)

٭ '' خلاصة التہذیب '' تالیف صفی الدین ،کتاب کی تالیف کی تاریخ ٩٢٣ھ ہے۔

اس کے علاوہ طبقات کی کتابوں میں ،مثال کے طور پر :

٭ طبقات ابن سعد (وفات ٢٣٠ ھ )

٭ طبقات حنیفة بن خیاط (وفات ٢٤٠ھ)

اسی طرح کتب انساب میں ،جیسے :

٭ ''جمہرة انساب العرب '' تالیف ابن حزم (وفات ٤٥٤ھ)

٭ ''انساب ''سمعانی (وفات ٥٦٢ھ)

٭ ''اللباب '' ابن اثیر (وفات ٦٣٠)


تحقیق کانتیجہ

ہم نے مذکورہ تمام کتابوں میں انتہائی تلاش و جستجو کی ،صرف انہی کتابوں پر اکتفا نہیں کی بلکہ اپنے موضوع سے مربوط مزید دسیوں منابع و مصادر کا بھی مطالعہ کیا ،حدیث کی کتابیں جیسے مسند احمد کا مکمل دورہ اور صحاح ستہ کی تمام جلدیں ،ادبی کتابیں جیسے : ''عقد الفرید'' تالیف عبدالبر (وفات ٣٢٨ھ ) اور ''اغانی'' تالیف اصفہانی (وفات ٣٥٦ھ) اور ان کے علاوہ بھی دسیوں کتابوں کی ورق گردانی کی تاکہ سیف ابن عمر کے ان راویوں میں سے کسی ایک کا پتا چل جائے ،جن سے اس نے سیکڑوں احادیث روایت کی ہیں ،لیکن ان راویوں کے ناموں کا ہمیں سیف کے علاوہ کہیں نشان نہ ملا!اس بنا ء ہم ان تمام راویوں کو بھی سیف کے جعلی راویوں میں شمار کرتے ہیں ۔انشاء اللہ جہاں ہم سیف کے جعلی راویوں کے بارے میں بحث کریں گے وہاں سیف کی زبانی ان کی زندگی کے حالات کی بھی تشریح کریں گے ۔

مذکورہ راویوں کے علاوہ سیف نے قعقاع کی روایات میں چند منفرد نام بھی راویوں کے طور پر ذکر کئے ہیں ،جیسے :

'' خالد کو تین روایات میں ،عبادہ کو دو روایات میں اور عطیہ و مغیرہ اور دیگر چند مجہول القاب و نام ،جن کی شناسائی کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ان حالات کے پیش نظر کیسے ممکن ہے کہ سیف کے درج ذیل عنوان کے راویوں کی پہچان کی جا سکے :

''بنی کنانہ کا ایک مرد '' ،''بنی ضبہ کا ایک مرد ''،'' طی سے ایک مرد '' بنی ضبہ کا ایک بوڑھا '' ''اس سے جس نے خود بکر بن وائل سے سنا ہے '' ،ان سے جنھوں نے اپنے رشتہ داروں سے سنا ہے ''، ابن محراق نے اپنے باپ سے '' اور'' ان جیسے دیگر مجہول راوی جن سے سیف نے روایت کی ہے ؟!

تقریبا یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سیف ابن عمرتمیمی نے ایسے راویوں کا ذکر کرتے وقت سنجیدگی کو مد نظر نہیں رکھا بلکہ لوگوں کو بے وقوف بنایا ہے اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا ہے ۔

مذکورہ حالات کے پیش نظر قارئین کرام کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جب سیف کی احادیث کے راویوں کی یہ حالت ہوتوخود سیف کی احادیث اور اس کی باتوں پر کس حد تک اعتبار اور بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟!


چوتھا حصہ :

٢۔عاصم بن عمر و تمیمی

٭ عراق کی جنگ میں ۔

٭ ''دومة الجندل'' کی جنگ میں ۔

٭ مثنی کی جنگ میں ۔

٭ قادسیہ کی جنگ میں ۔

٭ جراثیم کے دن ۔

٭ سرزمین ایران میں ۔

٭ عاصم کے فرزند اور خاندان ۔

٭ عاصم کے بارے میں سیف کی احادیث کے راوی


عاصم ،عراق کی جنگ میں

مصدر الجمیع فی ماذکروا هواحادیث سیف

جو کچھ علماء نے عاصم کے بارے میں لکھا ہے وہ سب سیف سے منقول ہے

( مولف )

عاصم کون ہے ؟

سیف بن عمر نے عاصم کو اپنے خیال میں قعقاع کا بھائی اور عمرو تمیمی کا بیٹا جعل کیا ہے اور اس کے لئے عمر و نامی ایک بیٹا بھی خلق کیا ہے کہ انشاء اللہ ہم باپ کے بعد اس کے اس بیٹے کے بارے میں بھی بحث و تحقیق کریں گے ۔

عاصم بن عمر و سیف کے افسانوی سورمائوں کی دوسری شخصیت ہے کہ شجاعت ،دلاوری ،فہم و فراست ،سخن وری اور شعر و ادب وغیرہ کے لحاظ سے بھی سیف کے افسانوں میں اپنے بھائی قعقاع کے بعد دوسرے نمبر کا پہلوان ہے ۔

ابن حجر نے اپنی کتاب '' الاصابہ'' میں عاصم بن عمرو کی یوں تعریف کی ہے :

''عاصم ،خاندان بنی تمیم کا ایک دلاور اور اس خاندان کے نامور شاعروں میں سے ہے ''

ابن عساکر بھی اپنی عظیم تاریخ میں عاصم کی یوں تعریف کرتا ہے :

'' عاصم قبیلہ بنی تمیم کا ایک پہلوان اور اس خاندان کا ایک مشہور شاعر ہے ۔''

'' استیعاب'' اور تجرید '' جیسی کتابوں میں بھی اس کی تعریف کی گئی ہے ۔تاریخ طبری میں بھی اس کے بارے میں مفصل مطالب درج ہیں اور دوسروں نے بھی تاریخ طبری سے اقتباس کر کے عاصم بن عمرو کے بارے میں مطالب بیان کئے ہیں ۔طبری ہو یا دیگر مورخین ،عاصم سے مربوط تمام روایتوں کا سر چشمہ سیف بن عمر تمیمی کی جعل احادیث اور روایتیں ہیں ''

چونکہ طبری نے عاصم بن عمرو کے بارے میں روایات کو ١٢ھ سے ٢٩ھ کے حوادث کے ضمن میں اپنی تاریخ کی کتاب میں مفصل اور واضح طور پر درج کیاہے،اس لئے ہم بھی عاصم کے بارے میں اسی کی تالیف کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کے بعد تحقیق کرکے حقائق کے پانے کے لئے ١٢ ھ سے ٢٩ھ تک کے حوادث سے مربوط دوسروں کے بیانات کا طبری سے موازنہ کرکے تحقیق کریں گے۔


عاصم ،خالد کے ساتھ عراق میں

جریر طبری نے ١٢ھ کے تاریخی حوادث وواقعات کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھاہے:

چونکہ خالد بن ولید یمامہ(۱) کے مرتدوں سے بر سر پیکار تھا،اس لئے عاصم

بن عمرو کو ہراولی دستہ کے طور پر عراق روانہ کیا۔

____________________

١لف۔ یمامہ ،شہر نجد سے بحرین تک ١٠ دن کا فاصلہ ہے۔معجم البلدان۔


عاصم نے خالد کی قیادت میں ایک سپاہ کے ہمراہ المذار کی جنگ میں شرکت کی اور انوش جان نامی ایرانی سپہ سالار کے تحت المذار میں جمع ایرانی فوج سے نبرد آزما ہوا۔المقر اور دہانہ فرات باذقلی کی جنگ اور فتح حیرہ کے بارے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے طبری لکھتاہے:

خالد ،حیرہ کی طرف روانہ ہوا۔اپنے افراد اور اپناسازو سامان کشتی میں سوار کیا۔حیرہ کے سرحد بان نے اسلامی سپاہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے اپنے بیٹے کو بند باندھنے کا حکم دیا تاکہ خالد کی کشتیاں کیچڑ میں دھنس جائیں ، خالد،سرحد بان کے بیٹے کی فوج کے ساتھ نبرد آزما ہوا اور ان میں سے ایک گروہ کو مقر کے مقام پر قتل کیا ،سرحد بان کے بیٹے کو بھی فرات باذقلی کے مقام پر قتل کیا،سرحد بان کی فوج کو تہس نہس کرکے رکھ دیا سرحد بان بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔خالد اپنی فوج کے ہمراہ حیرہ میں داخل ہوا اور اس کے محلوں اور خزانوں پر قبضہ جمالیا۔

خالد نے جب حیرہ کو فتح کیا تو عاصم بن عمرو کو کربلا کی فوجی چھاونی اور اس کے جنگی سازو سامان کی کمانڈ پر منصوب کیا۔

یہ ان مطالب کا ایک خلاصہ تھا جنھیں عاصم اور اس کی جنگوں کے بارے میں طبری اور ابن عساکر دونوں نے سیف سے نقل کرکے لکھا ہے.

حموی نے سیف کی روایتوں کے پیش نظر ان کی تشریح کی ہے اور مقر کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا ہے:

مقر ، حیرہ کی سرزمینوں میں سے فرات باذقلی کے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے۔ اس جگہ پر خلافت ابوبکرکے زمانے میں مسلمانوں نے خالد بن ولید کی قیادت میں ایرانیوں سے جنگ کی ہے اور عاصم بن عمرو نے اس سلسلے میں یوں کہا ہے:

''سرزمین مقر میں ہم نے آشکارا طور پر اس کے جاری پانی اور وہاں کے باشندوں پر تسلط جمایا اور وہاں پر ان کو (اپنے دشمنوں کو) موت کے گھاٹ اتاردیا۔ اس کے بعد فرات کے دہانہ کی طرف حملہ کیا ، جہاں پر انہوں نے پناہ لی تھی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں پر ہم ان ایرانی سواروں سے نبرد آزما ہوئے جو میدان جنگ سے بھاگنا نہیں چاہتے تھے۔''


حیرہ کی تشریح میں یوں کہتا ہے:

حیرہ نجف سے تین میل کی دوری پر ایک شہر ہے...

یہاں تک کہ کہتا ہے:

شہر حیرہ کو حیرة الروحاء کہتے ہیں ، عاصم بن عمرو نے اس جگہ کے بارے میں یوں کہاہے:

''ہم نے پیدل اور سوار فوجوں سے صبح سویر ے حیرۂ روحاپر حملہ کیا اور اس کے اطراف میں موجود سفید محلوں کو اپنے محاصرہ میں لے لیا''۔

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ:

یہ وہ مطلب ہیں جو سیف نے کہے ہیں .لیکن ہم نے سیف کے علاوہ کسی کو نہیں پایا جس نے مقر اور فرات باذقلی کے بارے میں کچھ لکھا ہو! لیکن ، حیرہ کے سرحد بان کے بارے میں جیسا کہ قعقاع ابن عمر و تمیمی کی داستان میں بلاذری سے نقل کرکے بیان کیا گیا ہے: ''ابوبکرکی خلافت کے زمانے میں مثنی نے المذار کے سرحد بان سے جنگ کی اور اسے شکست دی اور عمربن خطاب کی خلافت کے زمانے میں عتبہ بن غزوان فتح حیرہ کے لئے مأمور ہوا اور المذار کا سرحدبان اس کے مقابلہ کے لئے آیا اور ان دونوں کے درمیان جنگ ہوئی ۔ ایرانیوں نے شکست کھائی اور وہ سب کے سب پانی میں ڈوب گئے ۔ سرحد بان کا سر بھی تن سے جدا کیا گیا''۔

سند کی پڑتال:

سیف کی حدیث کی سند میں مھلب اسدی ، عبد الرحمان بن سیاہ احمری اور زیاد بن سرجس احمری کا نام راویوں کے طور پر آیا ہے اور اس سے پہلے قعقاع کے افسانے کی تحقیق کے دوران معلوم ہوچکا کہ یہ سب جعلی اور سیف کے خیالی راوی ہیں ۔

ان کے علاوہ ابوعثمان کا نام بھی راوی کے طور پر لیا گیا ہے کہ سیف کی احادیث میں یہ نام دو افراد سے مربوط ہے۔ ان میں ایک یزید بن اسید ہے۔ یہاں پر معلوم نہیں کہ سیف کا مقصود ان دو میں سے کون ہے؟


پڑتال کا نتیجہ:

المذار کے بارے میں سیف کی روایت دوسروں کی روایت سے ہماہنگ نہیں ہے۔ المقر اور فرات باذقلی کی جنگوں کا بیان کرنے والا سیف تنہا شخص ہے کیونکہ دوسروں نے ان دوجگہوں کا کہیں نام تک نہیں لیا ہے چہ جائیکہ سیف کے بقول وہاں پر واقع ہوئے حوادث اور واقعات کے ذکر کی بات !!

طبری نے ان اماکن کے بارے میں سیف کی احادیث کواپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیا ہے اور اپنی روش کے مطابق عاصم کی رجز خوانی اور رزمیہ اشعار کو حذف کیا ہے ۔

حموی نے مقامات اور جگہوں کے نام کو افسانہ ساز سیف کی روایتوں سے نقل کیا ہے اوراس کے افسانوی سورمائوں کے اشعارورزم ناموں سے بھی استناد کیا ہے،پھر مقر کی بھی اسی طریقے سے تعریف کی ہے ۔اس سلسلے میں عاصم بن عمرو کے اشعار میں '' حیرة الروحاء ''کا اشارہ کرتے ہوئے حیرہ کاذکرکرتا ہے ،جب کہ ہماری نظرمیں ضرورت شعری کا تقاضا یہ تھاکہ سیف لفظ ''روحاء '' کو لفظ ''حیرہ''کے بعد لائے نہ کہ ']روحاء ''کو ''حیرہ''کے لئے اسم اضافہ کے طور پر لائے جیسا کہ حموی نے خیال کیا ہے َ

سیف کی روایات کا نتیجہ :

١۔ ''مقر'' نام کی ایک جگہ کا نام جعل کرکے اسے جغرافیہ کی کتابوں میں درج کرانا۔

٢۔ایرانیوں کے انوش جان نامی ایک سپہ سالار کی تخلیق ۔

٣۔فرضی اور خیالی جنگی ایام کی تخلیق جو تاریخ میں ثبت ہوئے ہیں ۔

٤۔ان اشعار کی تخلیق جو عربی ادبیات کی زینت بنے ہیں

٥۔عراق میں خالد کی خیالی فتوحات میں ایک اور فتح کا اضافہ کرنا۔

٦۔ اور آخر میں سیف کے خاندان تمیم سے تعلق رکھنے والے افسانوی سورما عاصم بن عمرو تمیمی کے افتخارات کے طور پر اس کی شجاعتوں ،اشعار اور کربلا کی فوجی چھاونی اور اسلحوں پر اس کی کمانڈ کا ذکر کرنا۔ ١


عاصم ،دومة الجندل کی جنگ میں

ترکنا هم صرعی لخیل تنوبهم تنافسهم فیها سباع المرجب

ہم نے دشمن کے سپاہیوں کا اس قدر قتل عام کیا کہ لاشیں گھوڑوں سے پامال ہوئیں اور درندوں کے لئے گزرگاہ بن گئیں

(عاصم ،افسانوی سورما)

دو مة الجندل کی فتح

طبری نے ''دومة الجندل ''کے بارے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے حسب ذیل روایت کی ہے :

مختلف عرب قبیلوں نے جن میں ودیعہ کی سرپرستی میں قبیلہ کلب بھی موجود تھا اپنے تمام سپاہیوں کو ایک جگہ پر جمع کیا ۔اس منسجم فوج کی قیادت کی ذمہ داری اکید ر بن عبد الملک اور جودی بن ربیعہ نامی دو افراد نے سنبھالی ۔

اکیدر کا نظریہ تھا کہ خالد بن ولید سے صلح کرکے جنگ سے پرہیز کیا جائے جب اکیدر کی تجویز عوام کی طرف سے منظور نہیں ہوئی تو اس نے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔خالد بن ولید نے عاصم بن عمر و کو حکم دیا کہ اکیدر کو راستے سے پکڑ کر اس کے سامنے حاضر کرے خالد کے حکم سے اکیدر کو قتل کیا گیا. اس کے بعد خالد بن ولید نے دومة الجندل پر حملہ کیا ۔

دوسری جانب مختلف عرب قبیلے ،جنھوں نے خالد سے جنگ کرنے کے لئے آپس میں اتحاد و معاہدہ کیا تھا ،قلعہ دومة الجندل کی طرف روانہ ہوئے ۔چوں کہ اس قلعہ میں ان تمام لوگوں کے لئے گنجائش نہیں تھی ،اس لئے ان میں سے بیشتر افراد قلعہ سے باہر مورچے سنبھالنے پر مجبور ہوئے۔ خالد بن ولید نے ان سے جنگ کی سر انجام اس نے ان پر فتح پائی جودی بھی مارا گیا ۔قبیلہ کلب کے علاوہ تمام افراد مارے گئے ۔کیوں کہ عاصم بن عمرو نے دشمن پر فتح پانے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ :اے قبیلہ تمیم کے لوگو!اپنے قدیمی ہم پیمان ساتھیوں کو اسیر کرکے انھیں پناہ دو کیوں کہ انھیں فائدہ پہنچانے کا اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا ۔تمیمیوں نے ایسا ہی کیا ۔اس طرح قبیلہ کلب کے لوگ بچ گئے ۔ خالد بن ولید عاصم کے اس عمل سے ناخوش ہوا اور اس کی سرزنش کی ۔


ان مطالب کے بارے میں طبری نے سیف سے روایت کی ہے اور اپنی روش کے مطابق عاصم بن عمر و کی زبانی کہے گئے سیف کے اشعار کو ذکر نہیں کیا ہے ۔

ابن عساکر نے اس داستان کے ایک حصہ کو اپنی تاریخ میں عاصم کے حالات سیف سے نقل کرتے ہوئے درج کیا ہے اور اس کے ضمن میں لکھا ہے:....اور عاصم نے دو مة الجندل کے بارے میں یوں کہا ہے :

''میں جنگوں میں کارزار کے انداز کو کنٹرول میں رکھتا ہوں ،دوستوں کی حمایت کرتاہوں ،انھیں تنہانہیں چھوڑتا ہوں ۔شام ہوتے ہی جب ودیعہ نے اپنے سپاہیوں کو مصیبتوں کے دریا میں ڈال دیا ،میں نے جب دومة الجندل میں دیکھا کہ وہ غم واندوہ میں ڈوبے خون جگر پی رہے ہیں تو میں نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ،لیکن اپنے ہم پیمان ،کلب کے افراد کا خیال رکھ کر اپنے قبیلہ کے لئے ایک بڑی نعمت فراہم کی ''

یاقوت حموی نے بھی اس داستان کے ایک حصہ کو روضة السلہب اور دومة الجندل کے ناموں کی مناسبت سے اپنی کتاب معجم البلدان میں درج کیا ہے اور اس کے ضمن میں لکھتا ہے :

''روضة السلہب عراق کے دومة الجندل میں واقع ہے ،اور عاصم بن عمرو نے اس سلسلے میں اشعار کہے ہیں جن کے ضمن میں خالد بن ولید کی دومة الجندل کی جنگ کا اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :

'' روضة السلہبکے دن دشمن خاک و خون میں غرق تھے ،وہ ہمارے دلوں کے لئے شفابخش منظر تھا کیوں کہ ان کے سردار کی ہوائے نفس نے انھیں فریب دیا تھا ۔اس دن ہم نے تلواروں کی ایک ضرب سے جودی کا کام تمام کیا اور اس کے سپاہیوں کو زہر قاتل پلا یا ۔انھیں قتل عام کیا ،ان کی لاشیں گھوڑوں سے پائمال ہوئیں اور درندوں کے لئے گزر گاہ بن گئیں ''


سیف بن عمر اپنے افسانوی سورما ،عاصم بن عمرو کے زبانی بیان کردہ اشعار کے ضمن میں پہلے مذکورہ قبائل کی جنگ بیان کرتا ہے اور اس میں قبیلہ کلب کے پیشوا''ودیعہ''کی نا اہلی کی وجہ سے اپنے قبیلہ کو ہلاکت و نابود ی اور مصیبت سے دوچار کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے اورثابت کرتاہے کہ عاصم نے قبیلہ کلب کے ساتھ اپنے قبیلہ کے عہد و پیمان کو فراموش نہیں کیا تھا ۔اور وہ اس معاہدہ پر اس کے خاندان کے لئے فضیلت وافتخار کا سبب باقی رہا ۔اس دن اس عہد نامہ کا پاس رکھتے ہوئے اس نے اپنے قبیلہ ادر قبیلہ کلب پر احسان کیا اور اس طرح اس نے قبیلہ کلب کے افراد کو یقینی مو ت سے نجات دی ہے ۔

عاصم کے اشعار کے دوسرے حصے میں تمام عرب قبیلوں کو شامل کیا گیا ہے اور ان میں ان کے احمقانہ اقدام کی وجہ سے بدترین انجام اور ان کے قائد جودی کی شکست کے بارے میں لکھا گیا ہے ۔

''لسان ''اور ''ملطاط''کی تشریح

حموی نے لفظ ''الملطاط ''کی حسب ذیل تشریح کی ہے :

عرب ،کوفہ کے مشرقی علاقے جو کوفہ کے پیچھے واقع ہے کو ''لسان''اور اس کے دریائے فرات کے قریب واقع مغربی علاقے کو ''ملطاط''کہتے ہیں ....عاصم بن عمرو تمیمی نے خالد بن ولید کے ساتھ کوفہ و بصرہ کے در میان سر زمینوں کو فتح کرکے ''حیرہ''کو اپنے قبضے میں لیتے وقت اس طرح کہا ہے :

''ہم نے سواری کے گھوڑوں اور تیز رفتار اونٹوں کو عراق کے وسیع آبادی والے علاقوں کی طرف روانہ کیا ۔ان حیوانوں نے اس دن تک ہم جیسے چابک سوار کبھی نہیں دیکھے تھے اور کسی نے اس دن تک ان جیسے بلند قامت حیوان بھی نہیں دیکھے تھے۔''

ہم نے فرات کے کنارے ''ملطاط''کو اپنے ان سپاہیوں سے بھردیا جو کبھی فرار نہیں کرتے۔ ہم نے ''ملطاط ''میں فصل کاٹنے کے موسم تک توقف کیا ۔اس کے بعد ہم ''انبار''کی طرف بڑھے ،جہاں پر ہمارے ساتھ لڑنے کے لئے دشمن کے جنگجو بڑی تعداد میں موجود تھے ۔''بحیرہ''میں جمع ہوئے سپاہیوں کے ساتھ ہماری سخت اور شدید جنگ ہوئی۔


جب ہم سیف کی معروف روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی ابیات اسی شرح کے ساتھ من وعن اس کی روایتوں میں ذکر ہوئے ہیں ۔مثلا لفظ '' ملطاط''سیف کی چار روایتوں میں طبری کی کتاب ''تاریخ طبری ''میں ذکر ہوا ہو،من جملہ ٧١ ھمیں سعد بن وقاص کے ذریعہ کوفہ کے حدود کو معین کرتے ہوئے طبری لکھتا ہے :

عربوں کے امراء اور معروف شخصیتوں نے سعد وقاص کی توجہ ''لسان''نامی کوفہ کے پیچھے واقع علاقہ کی طرف مبذول کرائی

یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :

وہ حصہ جو دریائے فرات کے نزدیک ہے ،اسے ''ملطاط ''کہا جاتا ہے ۔اب رہے اس سے مربوط اشعار تو ہم ان سب کو تاریخ ابن عساکر میں عاصم بن عمرو کی تشریح میں پاتے ہیں ،جہاں پر لکھتا ہے :

سیف بن عمرو کہتا ہے :...اور عاصم بن عمرو اور اس کے علاقہ ''سواد''میں داخل ہونے (کوفہ اور بصرہ و موصل کے در میان کے رہائشی علاقہ )اور وہاں پر ان کے ٹھہرنے کی مدت اور پیش آئے مراحل کو ان اشعار میں بیان کرتا ہے :...اس کے بعد اشعار کو آخر تک درج کرتا ہے ۔

داستان کے متن کی چانچ:

''دومة الجندل'' کی فتح کے بارے میں یہ سیف کی روایتیں ہیں ،جنھیں طبری نے سیف سے نقل کرکے تفصیل کے ساتھ اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیا ہے ۔طبری کے بعدابن اثیر نے ان ہی روایتوں کو اختصار کے طور پر تاریخ طبری سے نقل کیا ہے اور اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔ لیکن ابن کثیر نے اس داستان کی روایتوں کی سند کی طرف اشارہ کئے بغیر اور اس کے مصدر کو معین کئے بغیر ،پوری داستان کو اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیا ہے ۔

حموی نے ''دومة ''و ''حیرہ ''کی تشریح میں سیف کے بعض اشعار اور روایا ت کا ذکر کیا ہے لیکن یہ نہیں کہا ہے کہ ان مطالب کو اس نے کہاں سے نقل کیا ہے ۔


اصل بات یہ ہے کہ عراق میں ''دومة الجندل ''نام کی کوئی جگہ تھی ہی نہیں ،بلکہ ''دومة الجندل ''مدینہ سے دمشق جاتے ہوئے ساتویں پڑائو پر شام میں ایک قلعہ تھا۔اور عراق میں ''دوما'' یا ''دومہ''کے نام پر ایک جگہ تھی ،جسے ''دومة الحریر ''بھی کہتے تھے۔وہاں پر واقع ہونے والی جنگ میں ''اکیدر ''مارا گیاہے۔اس کے بعد خالد نے شام کی طرف رخت سفر باندھا اور ''دومة الجندل ''پر حملہ کیااور اسے فتح کرنے کے بعد جن افراد کو اسیر کیا ان میں جودی غسانی کی بیٹی لیلیٰ بھی تھی۔

لیکن ''ربیعہ''و''روضة سلھب ''نام کی ان دو جگہوں کو ہم نے کسی کتاب میں نہیں پایا اور یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سیف نے ان مقامات کے ناموں کاذکر کرنے میں ہرگز غفلت،فراموشی اور غلط فہمی سے کام نہیں لیا ہے کہ شام میں واقع ''دومة الجندل''اور عراق میں ''دومة الجندل ''میں کوئی فرق نہ کرپائے اورایک کو دوسرے کی جگہ تصور کرلے ۔بلکہ سیف سے دروغ بافی ،افسانہ نگاری ،اشخاص اورمقامات کے تخلیق کرنے کا جو ہم گزشتہ تجربہ رکھتے ہیں ،اس کے پیش نظر اس نے عراق کے لئے بھی عمدا ''دومة الجندل''نام کی ایک جگہ تخلیق کی ہے اوراس کے لئے ایک علیٰحدہ اور مخصوص میدان کارزار تخلیق کیا ہے تا کہ محققین کے اذہان کو بیشتر گمراہ کرے اور تاریخ اسلام کو مضحمل ، سست و بے اعتبا ر بنائے ۔

سند کی پڑتا ل :

سیف نے ''دومة الجندل''کی داستان کے راوی کے طور پر محمد نویرہ، ابوسفیان طلحہ بن عبد الرحمان اور مھلب کا ذکر کیا ہے ۔ہم نے قعقاع سے مربوط افسانوی داستانوں میں ان کو راویوں کی حیثیت سے مکرر دیکھا ہے اور معلوم ہو چکا ہے کہ یہ تینوں افراد سیف کے ذہن کی تخیلق ہیں اور حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتے ۔

''ملطاط'' سے متعلق روایت میں نضر بن سری ،ابن الرفیل اور زیاد کو راویوں کے عنوان سے ذکر کیا ہے کہ ان کے بارے میں بھی قعقاع کی داستانوں میں معلوم ہو چکا ہے کہ یہ سیف کے جعلی راویوں میں سے ہیں ۔


تحقیق کا نتیجہ :

سیف اپنے افسانوں میں مختلف مناطق ،خاص کر تاریخی اہمیت کے خطّوں کے سلسلے میں ، ''دومة ''جیسے ہم نام مقامات کی تخلیق کرکے محققین کو حیرت اور تعجب میں ڈالتا ہے ۔اس کے با وجود طبری سیف سے نقل کرتے ہوئے عراق کے ''دومة الجندل''کی جنگ کے افسانوں کی روایت کرتا ہے اور اپنی روش کے مطابق صرف عاصم کے رزم ناموں کو حذف کرتا ہے ۔

ابن عساکر بھی ان اشعار کے ایک حصہ کی روایت کرتاہے اور اس کی سندکی سند کے طور پر سیف ابن عمرتمیمی کا نام لیتا ہے ۔اس کے ایک حصہ کو حموی بھی سند کی طرف اشارہ کئے بغیر اپنی کتاب میں درج کرتا ہے ۔اسی طرح حموی ''ملطاط ''کی بھی تشریح کرتا ہے اور عاصم ابن عمرو کے اشعار کو شاہد کے طور پر درج کرتا ہے لیکن اس سلسلے میں اپنی روایت کی سند کا نام نہیں لیتا ،جب کہ ''ملطاط''کے بارے میں اسی تشریح کو ہم اول سے آخر تک تاریخ طبری میں سیف سے نقل شدہ دیکھتے ہیں ،اور عاصم کے اشعار کو بھی ابن عساکر کی روایت کے مطابق ،سیف بن عمرسے منقول تاریخ ابن عساکر میں مشاہدہ کرتے ہیں ۔٢

اس داستان کے نتائج:

١۔خالد مضری کے لئے عراق میں جنگوں اور فتوحات کی تخلیق کرکے عام طور پر اس کی تحسین اور بڑائی کا اظہار کرانا ۔

٢۔ایک دوسرے سے دور دوعلاقوں عراق اور شام میں ایک ہی نام کی دو جگہوں کو خلق کرکے جغرافیہ کی کتابوں ،خاص کر حموی کی کتاب ''المشترک '' میں درج کرانا اور محققین کو حیرت و پریشانی سے دوچار کرنا۔

٣۔اشعار اور رزم ناموں سے ادبیات عرب کے خزانوں کو زینت دینا۔

٤۔ سرانجام ان تمام افسانوں کا ماحصل یہ ہے کہ عاصم بن عمرو تمیمی جیسے افسانوی سور ماکی شجاعتوں ،رجز خوانیوں اور خاندانی معاہدوں کی رعایت جیسے کارناموں کی اشاعت کرکے انھیں ہمیشہ کے لئے عام طور سے قبیلہ مضر اور خاص طور پر خاندان تمیم کے افتخارات میں شامل کیا جائے اور یہ باتیں امام المورخین محمد جریر طبری کی کتاب تاریخ میں درج ہوں تاکہ دوسرے مورخین کے لئے اس کے معتبر ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ باقی نہ رہے۔


عاصم وخالد کے باہمی تعاون کا خاتمہ

طبری اس سلسلے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے روایت کرتا ہے :

''فراض ''کی جنگ کے بعد خالد بن ولید نے ارادہ کیا کہ سب سے چھپ کے خاموشی کے ساتھ حج کے لئے مکہ چلاجلائے ،تو اس نے عاصم بن عمرو کو اسلامی فوج کے ساتھ ''حیرة''جانے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ طبری ١٣ ھ کے حوادث کے ضمن میں خالد بن ولید کے شام کی طرف روانگی کے سلسلے میں لکھتا ہے :

شام میں مشرکین سے جنگ میں مشغول مسلمانوں نے خلیفہ ابوبکر سے مدد کی در خواست کی۔ ابوبکر نے خالد کو ایک خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ اسلامی فوج کی مدد کے لئے شام کی طرف روانہ ہوجائے ۔اس غرض سے وہ عراق میں موجود فوج میں سے آدھے حصے کو اپنے ساتھ لیتا ہے اور باقی حصے کو المثنی بن حارثہ شیبانی کی قیادت میں عراق میں ہی رکھتا ہے۔اس تقسیم میں خالد کسی ایسے پہلوان کو اپنے ساتھ لے جانے کے لئے انتخاب نہیں کرتا ،مگر یہ کہ اس کے برابر کا ایک پہلوان مثنی کے لئے چھوڑ تاہے ۔

فوج کی اس تقسیم میں خالد ،رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کا اپنے لئے انتخاب کرتا ہے اور غیر اصحاب کو مثنی کے پاس چھوڑتا ہے ۔

مثنی نے اس تقسیم پر اعتراض کیا اور تقاضا کیا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے کو خالد اپنے ساتھ لے جائے اور ایک حصہ کو مثنی کے پاس رکھے ۔ خالد،مثنی کی اس تجویز کو منظور کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے قعقاع بن عمرو تمیمی کو اپنے ساتھ لے جانے کے لئے انتخاب کرتا ہے اور دوسرے صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عاصم بن عمرو تمیمی قعقاع کے بھائی کو مثنی کے پاس چھوڑ دیتا ہے ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ :

یہ تھاان مطالب کا خلاصہ جنھیں سیف نے عاصم وخالد کے باہمی تعاون کے خاتمہ کے طور پر ذکر کیا تھا۔لیکن اس سلسلے میں دوسرے مورخین کے حسب ذیل نظریات سے سیف ابن عمر تمیمی کے افسانے کا پول کھل جاتاہے:

اس سلسلے میں ابن عساکر ،ابن اسحاق سے نقل کرکے روایت کرتا ہے:

جس وقت خالد بن ولید ''حیرة''میں تھا ،خلیفہ ابوبکر نے اسے ایک خط لکھا اور حکم دیا کہ اپنے بہادر اور کار آمد سپاہیوں کے ساتھ اسلامی فوج کی مدد کے لئے شام روانہ ہو جائے ۔اور اپنے باقی بے کار اور سست و کمزور سپاہیوں کو ان ہی میں سے ایک کی قیادت میں وہیں پر چھوڑ دے ۔

ابن عساکر نے ابو بکر کے خط کا متن یوں نقل کیا ہے :

''اما بعد ،عراق سے روانہ ہو جائو اور ان عراقیوں کو وہیں پر رکھو جو تمھارے وہاں پہنچنے پر وہیں موجود تھے اور اپنے طاقتور ساتھیوں جو یمامہ سے تمھارے ساتھ عراق آئے ہیں یا حجاز سے آکر تمھارے ساتھ ملحق ہوئے ہیں کے ساتھ

روانہ ہو جائو ....''

سند کی پڑتال :

سیف کی اس افسانوی داستان کے راوی محمد مہلب اور ظفر بن دہی ہیں کہ قعقاع کی افسانوی داستان میں مکرر ان کی اصلیت معلوم ہو چکی ہے ۔

اس کے علاوہ اس روایت کا ایک اور راوی طلحہ ہے ۔سیف کی روایت میں طلحہ کا نام دو راویوں میں مشترک ہے ،ان میں سے ایک اصلی راوی ہے ۔یہاں پر معلوم نہ ہو سکا کہ ان دو میں سے سیف کا مقصود کون سا طلحہ ہے ؟!

اس کے علاوہ ''قبیلہ بنی سعد سے ایک مرد'' کے عنوان سے بھی ایک راوی کا ذکر ہے کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ سیف نے اس کانام کیا تصور کیا تھا تاکہ ہم اس کے بارے میں تحقیق کرتے ؟!


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ :

سیف کہتا ہے کہ خلیفہ ابوبکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ اپنی فوج میں سے ایک حصہ کو شام لے جانے کے لئے انتخاب کرے اور اس انتخاب میں کسی ایسے پہلوان کو اپنے لئے انتخاب نہ کرے ، مگر یہ کہ اس کے برابر کا ایک پہلوان المثنی کے لئے وہاں پر رکھے ۔خالد نے تمام اصحاب رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا کو اپنے لئے انتخاب کرنا چاہا ،لیکن مثنی نے اس پر اعتراض کیا اور اسے مجبور کیا کہ آدھے اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے لئے وہاں چھوڑے ۔

لیکن دوسرے مورخین کہتے ہیں کہ خلیفہ ابوبکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ فوج میں سے قوی اور کار آمد سپاہیوں کو اپنے ساتھ لے جانے کے لئے انتخاب کرے اور بے کار اور سست افراد کو وہیں پر چھوڑ دے اس کے علاوہ اپنے افراد کو ان لوگوں میں انتخاب کرے جو اس کے ساتھ عراق آئے تھے ۔ یہ بات شام کے حالات اور جنگ کی پوزیشن اور رومیوں کے آزمودہ اور تجربہ کار فوجیوں سے جنگ کے پیش نظر مناسب نظر آتی ہے ۔

شاید ایسی داستان دجعل کرنے سے سیف کا مقصد یہ ہو کہ اس کے ذریعہ اپنے وطن عراق کے جنگجوئوں کی تجلیل کرے ،کیوں کہ اس افسانے کے ذریعہ وہ عراقی فوجیوں کے ایک حصہ کو اسلامی سپاہیوں کے ساتھ مسلمانوں کی فوج کی مدد کے لئے شام روانہ کرتا ہے اور فتحیاب بھی ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے نتائج بھی حاصل کرتا ہے ۔٣

اس داستان کا نتیجہ :

اس داستان کو جعل کرنے میں سیف کی نظر میں موجود تمام مقاصد کے علاوہ سیف اپنی روایت میں واضح طور پر یہ تاکید کرتا ہے کہ اس کے افسانوی سورما ئوں قعقاع اور عاصم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درک کیا ہے اور یہ دونوں اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ۔اس طرح سیف پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں قعقاع اور عاصم دو اصحاب کا اضافہ کرتا ہے ۔


عاصم ،نمارق کی جنگ میں

هذا واکثرمن هذا من نتائج خیال سیف الحصب

یہ داستان اور ایسی دوسری بہت سی داستانیں ،سیف کے ذہن کی پیدا وار ہیں

(مولف)

جنگ نمارق کی داستان

طبری نے جنگ'' نمارق ''( ۱)کی داستان کو سیف سے حسب ذیل بیان کیا ہے :

مسلمانوں نے ایرانی فوجیوں سے ''نمارق '' کے مقام پر صلابت کے ساتھ مقابلہ کیا ،یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی اور فراری دشمنوں کا ''کسکر '' تک پیچھا کیا گیا۔

طبری ''سقاطیۂ کسکر '' کے بارے میں لکھتا ہے :

____________________

الف )۔''نمارق ''کے بارے میں '' معجم البلدان ''میں یوں تشریح کی گئی ہے : یہ کوفہ کے نزدیک ایک جگہ ہے معلوم نہیں اس لفظ کو اس کی تشریخ کے ساتھ سیف کی احادیث سے لیا گیا ہے یا کہیں اور سے


''کسکر کا علاقہ ایران کے پادشاہ کے ماموں زاد بھائی نرسی کی جاگیر تھا اور وہ خود اس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اس علاقہ کی پیداوار میں علاقہ نرسیان کے خرمے تھے ۔یہ

خرمے بڑے مشہور تھے ۔یہ خرمے قیمتی اور کمیاب تھے کہ صرف بادشاہ کے دسترخوانوں کی زینت ہوتے تھے اور بادشاہ انھیں نوش کرتا تھا یا اپنے معزز و محترم مہمانوں کو بخشتا تھا۔

اس کے بعد کہتا ہے :

ابو عبیدہ نے اپنے بعض سپاہیوں کو حکم دیا کہ دشمن کے فراری سپاہیوں کا تعاقب کریں اور ''نمارق '' اور ''بارق'' و ''درتا'' کے درمیانی علاقوں کو ان کے وجود سے پاک کریں ...''

اس کے بعد مزید کہتا ہے :

عاصم بن عمرو، اس سلسلے میں یوں کہتا ہے :

'' اپنی جان کی قسم ،میری جان میرے لئے کم قیمت نہیں ہے ،اہل ''نمارق '' صبح سویرے ان لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہو کر رہے جنھوں نے خداکی راہ میں سفر و مہاجرت کی صعوبتیں برداشت کی تھیں ۔انھوں نے انھیں سرزمین ''درتا'' اور بارق'' میں ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا ہم نے ان کو ''بذارق '' کی راہ میں ''مرج مسلح '' اور ''ہوافی'' کے درمیان نابود کرکے رکھ دیا''!(۱)

وہ مزید کہتا ہے :

''ابو عبید ہ نے ایرانیوں کے ساتھ '' سقاطیۂ کسکر '' کے مقام پر جنگ کی ۔ایک سخت

____________________

۱)۔ ان اشعار کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ (٢٧٧) میں ذکر کیا ہے لیکن شاعر کا نام نہیں لیا ہے بلکہ صرف اتنا لکھا ہے کہ : ایک مسلمان نے یوں کہا ہے :


اور خونیں جنگ واقع ہوئی سرانجام دشمن شکست کھاکر فرارہوا۔نرسی بھی بھاگ گیا۔اس کی جاگیر ،فوجی کیمپ اور مال و منال پر اسلامی فوج نے مال غنیمت کے طور پر قبضہ کر لیا ۔کافی مال اور بہت مقدار میں کھانے پینے کی چیزیں منجملہ نرسیان کے خرمے مسلمانوں کے ہاتھ آگئے اور انھیں اس علاقہ کے کسانوں میں تقسیم کیا گیا ۔اس کے بعد ابو عبیدہ نے عاصم بن عمرو کو حکم دیا کہ ''رود جور'' یا ''رودجوبر '' کے اطراف میں آباد علاقوں پر حملہ کرے ۔عاصم نے اس یورش میں مذکورہ علاقوں میں سے بعض کو ویران کیا اور بعض پر قبضہ کیا''

طبری نے اس داستان کو سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور ابن اثیر نے اسے اختصار کے ساتھ طبری سے نقل کیا ہے ۔

رنگارنگ کھانوں سے بھرا دسترخوان

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے جنگ کے بعد درج ذیل داستان روایت کی ہے :

اس علاقے کے ایرانی امراء جن میں فرخ کا بیٹا بھی موجود تھا نے رنگ برنگ ایرانی کھانے آمادہ کرکے ابو عبیدہ اور عاصم بن عمر و کی خدمت میں الگ الگ پیش کئے ۔ابو عبیدہ نے اس گمان سے کہ عاصم ایسے کھانوں سے محروم ہوگا اس کے تمام ساتھیوں کے ہمراہ اسے کھانے پر دعوت دی ۔عاصم نے ابوعبیدہ کی دعوت کے جواب میں درج ذیل اشعار کہے :

''ابو عبیدہ !اگر تیرے پاس کدو ،سبزی ،چوزے اور مرغ ہیں تو فرخ کے بیٹے کے پاس بھی بریانی ،ہری مرچ سبزی کے ساتھ تہ شدہ نازک چپاتیاں اور مرغی کے چوزے ہیں ''

عاصم نے مزید کہا:

'' ہم نے خاندان کسری ٰ کو '' بقایس '' میں ایسی صبح کی شراب پلائی جو عراق کے دیہات کی شرابوں میں سے نہیں تھی ہم نے انھیں جو شراب پلائی وہ ایسے جوانمرد دلاور جوانمرد تھے جو قوم عاد کے گھوڑوں کی نسل کے تیز طرار گھوڑوں پر سوار تھے !''


معجم البلدان میں سیف کے گڑھے ہوئے الفاظ

چوں کہ اس روایت میں '' سقاطیہ کسکر ،'' نرسیان '' ،''مرج مسلح'' اور ''ہوافی '' جیسے مقامات کا نام آیا ہے ۔اس لئے یاقوت حموی نے سیف کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی کتاب '' معجم البدان'' میں اس کی تشریخ کی ہے منجملہ وہ ''سقاطیہ '' کی تشریخ میں لکھتا ہے :

سقاطیہ ،سرزمین '' واسط'' میں ''کسکر ''کا ایک علاقہ ہے ۔یہاں پر ابوعبیدہ نے ایرانی سپاہوں کے کمانڈر نرسی سے جنگ کی اور اسے بری طرح شکست دی ہے ۔

نرسیان کی تشریح میں لکھتا ہے :

نرسیان ،عراق میں ''کوفہ '' اور ''واسط'' کے درمیان ایک علاقہ ہے ۔اس کا نام سیف بن عمر کی کتاب ''فتوح '' میں آیا ہے ۔خدا بہتر جانتا ہے ،شاید اس کانام ناسی ہوگا ۔ عاصم بن عمرو نے اسے اس طرح یاد کیا ہے :

'' ہم نے '' کسکر '' میں صبح کے وقت نرسیان کے حامیوں سے مقابلہ کیا اور انھیں اپنی سفیداور چمکیلی تلواروں سے شکست دے دی ۔ہم جنگ کے دنوں تیز رفتار گھوڑے اور جوان اونٹوں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے ،جنگ ہمیشہ حوادث کو جنم دیتی ہے ۔ہم نے '' نرسیان '' کی سرزمین کو اپنے قبضے میں لے لیا ،نرسیان کے خرمے ''دبا'' اور ''اصافر'' کے باشندوں کے لئے مباح کر دئے ''

وہ مسلح کی تشریح میں لکھتا ہے :

مرج مسلح ،عراق میں واقع ہے ۔اس کا نام عاصم نے فتوحات عراق سے مربوط اشعار میں ذکر کیاہے ۔ان اشعار میں مسلمانوں کی طرف سے ایرانیوں پر پڑی مصیبتوں اور زبردست مالی و جانی نقصان کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں وہ کہتا ہے :

'' مجھے اپنی جان کی قسم ! میری جان کم قیمت نہیں ہے ....'' اور اس کے باقی اشعار کو آخر تک ذکر کرتا ہے ۔

''ہوافی''کی تشریح میں لکھتا ہے :

ہوافی، کوفہ و بصرہ کے درمیان ایک جگہ ہے ۔اس کا ذکر عاصم بن عمرو کے اشعار میں آیا ہے ، جو عبیدہ ثقفی کی فوج میں ایک چابک سوار پہلوان تھا ۔وہ اس سلسلے میں کہتا ہے :

'' ہم نے ان کو ''مرج مسلح'' کے درمیان شکست دے دی''

حموی نے اپنی کتاب '' معجم البدان '' میں ان مقامات کے بارے میں صرف اس لئے کہ اسے سیف کی باتوں پر اعتبار اور بھروسہ تھا بیان کیا ہے ۔لیکن ان کے مصدر یعنی سیف کا ذکر نہیں کیا ہے ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ :

یہ اور اس کے علاوہ دیگر سب روایتیں سیف کی ذہنی پیدا وار اور اس کی افسانہ نگار ی کا نتیجہ ہیں جب کہ حقیقت ان کے علاوہ کچھ اور ہے کیوں کہ دوسروں نے اس سلسلے میں سیف کے بر عکس کہا ہے ، جیسے بلاذری ابوعبیدہ کے عراق میں فتوحات کے بارے میں لکھتا ہے:

''ا یرانی فوج کے ایک گروہ نے علاقہ '' درتی' 'پر اجتماع کیا تھا ۔ابو عبیدہ نے اپنی فوج کے ساتھ وہاں پر حملہ کیا اور ایرانیوں کوبری طرح شکست دے کر ''کسکر ''تک پہنچا ۔ اس کے بعد ''جالینوس ''کی طرف بڑھا جو''باروسیما''میں تھا ۔اس علاقہ کے سر حد بان اندرز گرنے ابو عبیدہ سے صلح کی اور علاقہ کے باشندوں کے لئے فی نفر چار درہم جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہوا اور ابو عبیدہ نے اس کی یہ تجویز قبول کی ۔اس کے بعد ابو عبیدہ نے مثنی کو ''زند رود ''کے لئے مامور کیا ۔مثنی نے وہاں پر ایرانی سپاہیوں سے جنگ کی اور ان پر فتح پائی اور ان میں سے کچھ لوگوں کو اسیر بنایا ۔اس کے علاوہ عروة ابن زید خیل طائی کو ''زوابی ''کی طرف بھیجا ۔عروہ نے ''دہقان زوابی''سے ''بارو سیما''کے باشندوں کی مصالحت کی بناء پر صلح کی ....یہ وہ مطالب ہیں جو ابو عبیدہ اور مثنی کی فتوحات کے بارے میں جنگ پل سے پہلے بیان ہوئے ہیں ''۔

اس داستان کے نتا ئج :

جو کچھ ہم نے اس داستان میں مشاہدہ کیا،جیسے :بادشاہ کے ماموں زاد بھائی نرسی کی سرزمین ''کسکر''پر مالکیت ،نرسیان اور وہاں کے مشہور خرمے ،جو بادشاہوں اور ان کے محترم افراد کے لئے مخصوص تھے،'' سقا طیہ کسکر''،''ھوافی ''اور ''مرج مسلح ''جیسے مقامات اور وہان کی شدید خونیں جنگیں ، عاصم اور اس کی جنگیں شجاعتیں اور رزم نامے ،فرخ کے بیٹے کا رنگ برنگ ایران کھانوں اور اس زمانے کے شراب سے بھرا دستر خوان ،خاندان تمیم کے نامور پہلوان کے ذریعہ ''جوبر''کے باشندوں کا قتل عام اور انھیں اسیر بنانا وغیرہ سب کے سب ایسے مطالب ہیں جوصرف دوسری صدی ہجری کے دروغ گو اور قصے گڑھنے والے سیف ابن عمر تمیمی کی افسانوی روایتوں میں پائے جاتے ہیں ۔اور یہ صرف سیف ہی ہے جس نے ان افسانوں کو عجیب و غریب ناموں کی تخلیق کرکے انھیں طبری جیسے تاریخ نویسوں کے سپرد کیا ہے ۔ ٤


پل کی جنگ

'نمارق''کی جنگ کے خا تمے کے بعد ایک اور داستان نقل کرتا ہے جسے طبری نے اپنی تاریخ میں یوں درج کیا ہے :

(اس جنگ میں جسے ابو عبیدہ کی جنگ پل کہاجاتا ہے مسلمانوں کو زبر دست نقصانات اٹھا نے پڑے اور اس میں ابو عبیدہ بھی ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں ماراگیا ۔سیف مسلما ن فوج کے دریائے دجلہ سے عبور کی کیفیت کی اس طرح روایت کرتا ہے :)

عاصم بن عمرو نے مثنی اور اس کی پیدل فوج کی معیت میں ان لوگوں کی حمایت کی جو دریائے دجلہ پر پل تعمیر کرنے میں مشغول تھے ۔اس طرح دریائے دجلہ پر پل تعمیر کیا گیا اور سپاہیوں نے اس پر سے عبور کیا ۔

خلیفہ بن خیاط نے یہی روایت سند کو حذف کرتے ہوئے اپنی کتاب میں درج کی ہے۔

لیکن دینوری لکھتا ہے:

مثنی نے عروة بن زید خیل طائی قحطانی یمانی کو حکم دیا کہ پل کے کنارے پر ٹھہرے اور اسلامی فوج اور ایرانی سپا ہیوں کے درمیان حا ئل بنے۔اس کے بعد حکم دیا کہ سپا ہی پل کو عبور کریں ،خود بھی لشکر کے پیچھے روانہ ہوا اور ان کی حمایت کی ۔سب سپاہی پل سے گزرگئے ۔

طبری نے الیس صغریٰ کے بارے میں سیف سے نقل کرکے روایت کی ہے :

مثنی نے اپنی فوج میں سے عاصم ابن عمرو کا اپنے جانشین کے طور پر انتخاب کیا اور خود ایک سوار فوجی دستے کی قیادت میں دشمن کی راہ میں گھات لگا کر حملے کرتاتھا اس طرح وہ ایرانی فوج کے حوصلے پست اور ان کے نظم کو درہم برہم کر رہا تھا ۔

اس کے علاوہ جنگ ''بویب ''کے بارے میں لکھتاہے :

مثنی نے عاصم بن عمرو کو اسلامی فوج کے ہر اول دستے کا کمانڈر معین کیا ۔اور جنگ کے بعد اسے اجازت دی کہ ایرانیوں کا تعاقب کرتے ہوئے حملے کرے ۔عاصم نے ان اچانک حملوں اور بے وقفہ یورشوں کے نتیجہ میں مدائن میں واقع ''ساباط''کے مقام تک پیش قدمی کی ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ :

جو کچھ ہم نے یہاں تک پل کی جنگ کے بارے میں بیان کیا ،یہ وہ مطالب ہیں جن کی سیف نے روایت کی ہے جب کہ دوسروں ،جیسے بلاذری نے پل کی جنگ کے بارے میں اپنی کتا ب ''فتوح البلدان ''میں مفصل تشریح کی ہے اور دینوری نے بھی اپنی کتا ب ''اخبار الطوال''میں مکمل طور پر اسے ثبت کیا ہے لیکن ان میں سے کسی ایک میں سیف کے افسانوی سورما عاصم بن عمرو تمیمی کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔ ٥

سند کی تحقیق :

سیف نے عاصم بن عمرو کی ابو عبیدہ اور مثنی کے ساتھ شرکت کے بارے میں محمد، طلحہ ،زیاد اور نضر کو راویوں کے طور پر پیش کیا ہے کہ پہلے ہم ان کے بارے میں عرض کرچکے ہیں کہ ان کا حقیقت میں کہیں وجود ہی نہیں ہے اور یہ سب سیف کی ذہنی تخلیق کا نتیجہ ہیں ۔

اس کے علاوہ اس روایت کے راوی حمزة بن علی بن محفز اور ''قبیلہ بکربن وایل کا ایک مرد ''ہیں کہ ہم نے تاریخ و انساب کی کتا بوں میں ان راویوں کا کہیں نام و نشان نہیں پایا ۔ان کا نام صرف سیف ابن عمرکی دو روایتوں میں پایا جنھیں طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔اس بناء پر ہم نے حمزہ کو بھی سیف کے جعلی راویوں میں شمار کیا ہے ۔

چونکہ سیف نے کہا ہے کہ خود حمزہ نے بھی ''قبیلہ بکر بن وایل کے ایک مرد ''سے داستان پل کی روایت کی ہے ،لہٰذا قارئیں کرام خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس غیر معمولی دروغ گو سیف نے ''اس مرد''کا اپنے خیال میں کیا نام رکھا ہوگا؟!


موازنہ کا نتیجہ اور اس داستان کے نتائج:

حقیقت یہ ہے کہ مثنی نے عروة بن زیاد خیل طائی قحطانی یمانی کو ماموریت دی کہ اسلامی فوج کی کمانڈ سنبھا ل کر پل پار کرائے ۔

خاندانی تعصب رکھنے والے سیف بن عمر جیسے شخص کے لئے ایک یمانی و قحطانی فرد کی اس جاں نثاری اور شجاعت کا اعتراف نا قابل برداشت تھا ،اس لئے وہ مجبور ہوتا ہے کہ خاندان قحطانی کے اس شخص کی شجاعت و جاں نثاری کو سلب کرکے اس کی جگہ پر قبیلہ مضر کے ایک فرد کو بٹھادے ۔اس عہدے کے لئے اس کے افسانوی سور ما عاصم بن عمرو تمیمی سے شائستہ و مناسب تر اور کون ہو سکتا ہے ؟ اسی بناء پر سیف ایک تاریخی حقیقت کی تحریف کرتا ہے اور اسلامی فوج کے پل سے گزرتے وقت عروة قحطانی یمانی کی اس فوج کی حمایت وشجاعت کا اعزازی نشان اس سے چھین کر خاندان مضر کے افسانوی سورما عاصم بن عمرو کو عطا کر دیتا ہے اور اس طرح پل سے عبور کرتے وقت اسلامی فوج کی حمایت کو عاصم بن عمرو کے نام پر درج کرتا ہے ۔سیف صرف اسی تحریف پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے اس افسانوی سورما کے لئے اس کے بعد بھی شجاعتیں اور کارنامے گڑھ لیتا ہے ،جیسے مثنی کی جانشینی اور سپہ سالاری کا عہدہ اور ہر اول دستے کی کمانڈ میں دشمنوں پر پے درپے حملے کرتے ہوئے مدائن کے نزدیک ''ساباط ''تک پیش قدمی کرنا وغیرہ...


عاصم ،قادسیہ کی جنگ میں

واللّٰه معکم ان صبر تم و صدقتموهم الضرب والطعن

اگر صبر و شکیبائی کو اپنا کر صحیح طور پر جنگ کروگے تو خدا تمھارے ساتھ ہے ۔

(افسانوی سورما ،عاصم)

''گائے کا دن ''،گائے گفتگو کرتی ہے!!

طبری ١٤ھ کے حوادث کے ضمن میں جنگ قادسیہ کے مقدمہ کے طور پر سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتاہے:

''مسلمانوں کا سپہ سالار،سعد وقاص جب ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں اپنی سپاہ کے سرداروں میں عہدے تقسیم کررہاتھا اور ہر ایک کو اس کی استعداد ،لیاقت و شائستگی کے مطابق کوئی نہ کوئی عہدہ سونپ رہا تھا،تو عاصم بن عمرو تمیمی کو اسلامی فوج کے اساسی اور اہم دستہ کی کمانڈ سونپی۔

جب سعد قادسیہ کی سرزمین پر اترا تو اس نے عاصم کو فرات کے جنوبی علاقوں کی ماموریت دی اور عاصم نے ''میسان'' تک پیش قدمی کی۔

عاصم فوج کے لئے گوشت حاصل کرنے کی غرض سے گایوں اور بھیڑوں کی تلاش میں نکلتاہے ۔وہ ''میسان''میں بھی جستجو کرتا ہے ۔ادھر ادھر دوڑ نے اور تلاش کرنے کے باوجود کچھ نہیں پاتا، کیوں کہ وہاں کے باشندوں نے عرب حملہ آور وں کے ڈر سے مویشیوں کو طویلوں اور کچھاروں میں چھپا رکھا تھا ۔بالآخر اس تلاش وجستجو کے دوران عاصم کی ایک شخص سے ملاقات ہو جاتی ہے وہ اس سے گائے اور گوسفند کے بارے میں سوال کرتا ہے ۔اتفاقا وہ شخص چرواہا تھا اور اس نے اپنے گلہ کو نزدیک ہی ایک کچھار میں چھپا رکھا تھا وہ شدید اور جھوٹی قسمیں کھا کر بولاکہ اسے مویشیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے !جب اس آدمی نے عاصم کے سامنے ایسی جھوٹی قسمیں کھائیں تو اچانک کچھار سے ایک گائے چیختے ہوئے بول اٹھی : خدا کی قسم یہ آدمی جھوٹ بولتا ہے ،ہم یہاں پر موجود ہیں '' عاصم کچھار میں گیا اور تمام مویشیوں کو ہانکتے ہوئے اپنے ساتھ کیمپ کی طرف لے آیا ۔ سعد وقاص نے انھیں فوج کے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا ۔اس طرح اسلامی سپاہی چند دنوں کے لئے خوراک کے لحاظ سے مستغنی ہو گئے۔


حجاج بن یوسف ثقفی نے کوفہ کی حکومت کے دوران ایک دن کسی سے عاصم بن عمرو سے گائے کی گفتگوکی داستان سنی ۔اس نے حکم دیا کہ اس داستان کے عینی شاہد اس کے پاس آکر شہادت دیں اور اس داستان کو بیان کریں ۔جب عینی شاہدحاکم کے دربار میں حاضرہوئے تو حجاج نے ان سے اس طرح سوالات کئے :

أگائے کے گفتگوکرنے کا معاملہ کیا ہے ؟

٭انھوں نے جواب میں کہا : ہم نے اپنے کانوں سے گائے کی باتیں سنیں اور گائے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور بالآخر ہم ہی تھے جو ان مویشیوں کو ہانکتے ہوئے کیمپ تک لے آئے ۔

أتم چھوٹ بولتے ہو!

٭انھوں نے جواب میں کہا: ہم جھوٹ نہیں بولتے ،لیکن موضوع اس قدر عجیب اور عظیم ہے کہ اگر آپ بھی ہماری جگہ پر ہوتے اور اس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہم سے بیان کرتے تو ہم بھی اس کو جھٹلاتے اور یقین نہیں کرتے !

أحجاج نے کہا : سچ کہتے ہو ،ایسا ہی ہے ...مجھے بتائو کہ لوگ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ؟

٭انھوں نے جواب میں کہا: لوگ ،گائے کی گفتگو کو فتح و کامیابی کے لئے خدا کی آیات میں سے ایک نوید بخش آیت سمجھتے تھے جو دشمنوں پر ہماری فتح کے لئے خدا کی تائید و خوشنودی کی علامت ہے ۔

أحجاج نے کہا:خدا کی قسم !یہ اس کے بغیر ناممکن ہے کہ اس سپاہ کے تمام افراد نیک اور پرہیزگار ہوں ۔

٭کہا گیا: جی ہاں ہمیں تو ان کے دل کی خبر نہیں تھی لیکن جو ہم نے دیکھا وہ یہ ہے کہ ہم نے اب تک ان جیسے لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جنھوں نے اس قدر دنیا سے منہ موڑا ہو اور اسے دشمن جان کر نفرت کرتے ہوں !!

سیف اس داستان کے ضمن میں مزید کہتا ہے : یہ دن اتنا اہم اور قابل توجہ تھا کہ ''گائے کادن'' کے عنوان سے مشہور ہوا ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ:

اس روایت کو تمام تفصیلات کے ساتھ امام المورخین ابن جریر طبری ،سیف ابن عمرو تمیمی سے نقل کرتا ہے اور ابن اثیر بھی اسے طبری کی کتاب سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کرتا ہے ۔

لیکن دوسرے لوگ ،یعنی بلاذری اور دینوری لکھتے ہیں :

... جب اسلام کے سپاہی ،مویشیوں کے لئے چارے اور اپنے لئے غذا کی ضرورت پیدا کرتے تھے تو فرات کے نچلے علاقوں میں جا کر لوٹ مار مچاتے تھے...

بلاذری نے اس روایت کے ضمن میں لکھا ہے :

عمر بھی مدینہ سے ان کے لئے گائے اور گوسفند بھیجا کرتے تھے ۔

سند کی تحقیق :

سیف نے'' گائے کا دن '' کی داستان کے سلسلے میں عبداللہ بن مسلم عکلی اور کرب بن ابی کرب عکلی کو راویوں کے طور پر پیش کیا ہے ۔ہم نے ان دو کا نام سیف کے علاوہ راویوں کے کسی بھی مصدر اور ماخذ میں نہیں پایا۔

عاصم ،کسریٰ کے دربار میں

طبری ،سیف بن عمرو تمیمی سے روایت کرتا ہے :

''خلیفہ عمر ابن خطاب نے سعد وقاص کو حکم دیا کہ چند سخن پرور ،فصیح اور قدر ت فیصلہ رکھنے والے افراد کو کسریٰ کے پاس بھیجے تاکہ اسے اسلام کی دعوت دیں ۔سعد نے اس کام کے لئے چند افراد پر مشتمل ایک گروہ کا انتخاب کیا کہ ان میں عاصم بن عمر و بھی شامل تھا ۔یہ لوگ کسریٰ کی خدمت میں پہنچے اور اس کے ساتھ گفتگو کی ۔کسریٰ نے غصہ میں آکر حکم دیا کہ تھوڑی سی مٹی لا کر اس گروہ کے سر پرست کے کندھوں پر رکھی جائے ۔اس کے بعد سوال کیا کہ ان کا سردار کون ہے ؟ انھوں نے کسریٰ کے سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کی ۔عاصم بن عمرو نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا : میں اس گروہ کا سردار ہوں ،مٹی کو میرے کندھوں پر بار کرو!


کسریٰ نے دوسرے افراد سے سوال کیا : کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟

انھوں نے جواب میں کہا: ہاں :

اس کے بعد عاصم نے مٹی کو اپنے کندھوں پر رکھ کر کسریٰ کے محل کو ترک کیا اور فورا ًاپنے گھوڑے کے پاس پہنچ کر مٹی کو گھوڑے پر رکھ کر دیگر افراد سے پہلے تیز ی کے ساتھ اپنے آپ کو سعد وقاص کی خدمت میں پہنچا دیا ۔اور دشمن پر کامیابی پانے کی نوید دیتے ہوئے کہا: خدا کی قسم ،بیشک خدائے تعالیٰ نے ان کے ملک کی کنجی ہمیں عنایت کردی ۔جب عاصم کے اس عمل اور بات کی اطلاع ایرانی فوج کے سپہ سالاررستم کو ملی تو رستم نے اسے بدشگونی سے تعبیر کیا ۔

یہاں پر یعقوبی نے سیف کی بات کو حق سمجھ کر اور اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس داستان کو اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیاہے ۔

لیکن اس سلسلے میں بلاذری لکھتا ہے :

عمر نے ایک خط کے ذریعہ سعد وقاص کو حکم دیا کہ چند افراد کو کسریٰ کی خدمت میں مدائن بھیجے تاکہ وہ اسے اسلام کی دعوت دیں ،سعد نے خلیفہ عمر کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عمروابن معدی کرب اور اشعث بن قیس کندی کہ دونوں قحطانی یمانی تھے کو ایک گروہ کے ہمراہ مدائن بھیجا ۔ جب یہ لوگ ایرانی سپاہیوں کے کیمپ کے نزدیک سے گزررہے تھے تو ایرانی محافظوں نے انھیں اپنے کمانڈر انچیف رستم کی خدمت میں حاضر ہونے کی ہدایت کی ۔رستم نے ان سے پوچھا : کہاں جا رہے تھے اور تمھارا ارادہ کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : کسریٰ کی خدمت میں مدائن جا رہے تھے

بلازری لکھتا ہے :

ان کے اور رستم کے درمیان کافی گفتگو ہوئی ۔اس حد تک کہ انھوں نے کہا :

پیغمبر خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں نوید دی ہے کہ تمھاری سرزمین کو ہم اپنے قبضے میں لے لیں گے رستم نے جب ان سے یہ بات سنی تو حکم دیا کہ مٹی سے بھری ایک زنبیل لائی جائے ۔اس کے بعد ان سے مخاطب ہو کر کہا:یہ ہمارے وطن کی مٹی ہے تم لوگ اسے لے جائو ۔رستم کی یہ بات سننے کے بعد عمرو بن معدی کرب فورا ًاٹھا اپنی رد ا پھیلا دی اور مٹی کو اس میں سمیٹ کر اپنے کندھوں پر لئے ہوئے وہاں سے چلا ۔اس کے ساتھیوں نے اس سے سوال کیا کہ کس چیز نے تمھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟ اس نے جواب میں کہا : رستم نے جوعمل انجام دیا ہے اس سے میرے دل نے گواہی دی کہ ہم ان کی سر زمین پر قبضہ کر لیں گے اور اس کا م میں کامیاب ہوں گے ۔


سند کی تحقیق :

اس داستان کی سند میں دو راویوں کے نام اس طرح آئے ہیں '' عن بنت کیسان الضبیة عن بعض سبا یا القاد سیہ ممن حسن اسلامہ ''(۱) یعنی کیسان ضبیی کی بیٹی سے اس نے جنگ قادسیہ کے ایک ایرانی اسیر سے روایت کی ہے ۔جس نے اسلام قبول کیا ۔

اب ہم سیف سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیسان کی بیٹی کا کیا نام تھا؟ خود کیسان کون تھا؟ ایک ایرانی اسیر کا اس کے خیال میں کیا نام ہے ؟ تاکہ ہم راویوں کی کتاب میں ان کو ڈھونڈ نکالتے !!

تحقیق کا نتیجہ اور داستان کا ماحصل:

سعد وقاص ،عمرو ابن معدی کرب اور اشعث بن قیس قندی کہ دونوں قحطانی یمانی

تھے و چند افراد کے ہمراہ ایلچی کے طور پر کسریٰ کے پاس بھیجا ہے کہ ان لوگوں کی راستے میں ایرانی فوج کے کمانڈرانچیف رستم فرخ زاد سے مڈبھیڑ ہوتی ہے ،ان کے اور رستم کے درمیان گفتگو ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں عمرو ایران کی سرزمین کی مٹی بھری ایک زنبیل لے کر واپس ہوتا ہے ۔سیف بن عمرتمیمی خاندانی تعصب کی بنا پر یہ پسند نہیں کرتا کہ اس قسم کی مسئولیت خاندان قحطانی یمانی کا کوئی فرد انجام دے جس سے سیف عداوت و دشمنی رکھتا ہے ۔اس لئے اس کے بارے میں تدبیر کی فکر میں لگتاہے اورحسب سابق حقائق میں تحریف کرتا ہے ۔اس طرح قبیلہ مضرکے اپنے افسانوی سورما عاصم بن عمرو تمیمی کو ان دو افراد کی جگہ پر رکھ کر اس گروہ کے ساتھ دربار کسریٰ میں بھیجتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے

____________________

الف )۔ تاریخ طبری طبع یورپ (٢٢٣٨١ ٢٢٤٥)


کہ اس کے اور کسریٰ کے درمیان گفتگو ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں کسریٰ کے ہاں سے مٹی اٹھا کر لانا عاصم بن عمرو تمیمی کے لئے دشمن پر فتحیابی کا فال نیک ثابت ہو تاہے ۔

سیف خاندانی تعصب کی بناء پر ایک تاریخی حقیقت میں تحریف کرکے عمرو بن معدی کرب جیسے یمانی و قحطانی فرد کی ماموریت ،جرأت اور شجاعت کو قلم زد کردیتا ہے اور اس کی جگہ پر قبیلہ مضر کے اپنے افسانوی سورما عاصم بن عمرو تمیمی کو رکھ دیتا ہے ۔ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف رستم فرخ زاد کے پاس منعقد ہونے والی مجلس و گفتگو کو کسریٰ کے دربار میں لے جاکر رستم کے حکم کو کسریٰ کے حکم میں تبدیل کردیتا ہے اور اس طرح کے افسانے جعل کرکے محققین کو حیرت اور تشویش سے دو چار کرتا ہے

عاصم کی تقریر

طبری نے قادسیہ کی جنگ کے آغاز میں سیف سے یوں نقل کیا ہے:

اسلامی فوج کے کمانڈرانچیف سعد وقاص نے اپنی فوج میں ایک گروہ کو حکم دیا کہ نہر ین کے آبادی والے علاقوں پر حملہ کریں ۔اس گروہ کے افراد نے حکم کی تعمیل کی اور اچانک حملہ کرکے اپنے کیمپ سے بہت دور جا پہنچے ۔اس حالت میں ایک ایرانی فوج کے سوار دستہ سے دو چار ہوئے اور یہ محسوس کیا کہ اب نابودی یقینی ہے ۔جوں ہی یہ خبر سعد وقاص کو ملی تواس نے فوراً عاصم بن عمرو تمیمی کو ان کی مدد کے لئے روانہ کیا ۔ایرانیوں نے جوں ہی عاصم کو دیکھا تو ڈر کے مارے سب فرار کر گئے !! جب عاصم اسلامی سپاہ کے پاس پہنچا تو اس نے حسب ذیل تقریر کی :

'' خدائے تعالیٰ نے یہ سرزمین اور اس کے رہنے والے تمھیں عطا کئے ہیں ، تین سال سے تم اس پر قابض ہو اور ان کی طرف سے کسی قسم کا صدمہ پہنچے بغیر ان پر حکمرانی اور برتری کے مالک ہو''

اگر صبر و شکیبائی کو اپنا شیوہ بنا کر صحیح طور پر جنگ کروگے اور اچھی طرح تلوار چلائوگے اور خوب نیزہ اندازی کروگے تو خدا ئے تعالیٰ تمھارے ساتھ ہے ،اس صورت میں ان کا مال و منال ، عورتیں ، اولاد اور ان کی سر زمین سب تمھارے قبضہ میں ہوگی ۔


لیکن اگر خدا نخواستہ کسی قسم کی کوتاہی اور سستی دکھائو گے تو دشمن تم پر غالب آجائے گا اور اس ڈر سے کہ کہیں تم لوگ دو بارہ منظم ہوکر ان پر حملہ کرکے ان کو نیست و نابود نہ کر دو ،انتہائی کوشش کرکے تم میں سے ایک آدمی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گے ۔

اس بنا پر خدا کو مد نظر رکھو ،اپنے گزشتہ افتخارات کو یاد رکھو اور خدا کی عنایتوں کو ہر گز نہ بھولو ۔ اپنی نابودی اور شکست کے لئے دشمن کو کسی صورت میں بھی فرصت نہ دو ۔کیا تم اس خشک و بنجر سرزمین کو نہیں دیکھ رہے ہو ۔نہ یہاں پر کوئی آبادی ہے اور نہ پناہگاہ کہ شکست کھانے کی صورت میں تمھارا تحفظ کر سکے ؟ لہٰذا ابھی سے اپنی کوشش کو آخرت اور دوسری دنیا کے لئے جاری رکھو ۔

ایک اور تقریر

طبری سیف سے نقل کرکے ایک اور روایت میں لکھتا ہے :

سعد وقاص نے دشمن سے نبرد آزمائی کے لئے چند عقلمند اور شجاع افراد کا انتخاب کیا جن میں عاصم بن عمرو بھی شامل تھا اور ان سے مخاطب ہو کر بولا:

''اے عرب جماعت !تم لوگ قوم کی معروف اور اہم شخصیتیں ہو جو ایران کی معروف اور اہم شخصیتوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے منتخب کئے گئے ہو ،تم لوگ بہشت کے عاشق ہو جب کہ وہ دنیا کی ہو او ہوس اور زیبائیوں کی تمناّ رکھتے ہیں ۔ اس مقصد کے پیش نظر ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے دنیوی مقاصد میں تمھارے اخروی مقاصد کے مقابلے میں بیشتر تعلق خاطر رکھتے ہوں !تو اس صورت میں ان کی دنیا تمھاری آخرت سے زیادہ زیبا و آباد ہوگی ۔''

لہٰذا آج ایسا کام نہ کرناجو کل عربوں کے لئے ننگ و شرمندگی کا سبب بنے !

جب جنگ شروع ہوئی تو عاصم بن عمرو تمیمی حسب ذیل رجز خوانی کرتے ہوئے میدان جنگ کی طرف حملہ آور ہوا ۔

سونے کی مانند زرد گردن والا میرا سفید فام محبوب اس چاندی کے جیسا ہے جس کا غلاف سونے کا ہو ۔وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں ایک ایسامرد ہوں جس کا تنہا عیب دشنامی ہے ۔اے میرے دشمن !یہ جان لو کہ ملامت سننا مجھے تم پر حملہ کے لئے بھڑکاتاہے ۔''


اس کے بعد ایک ایرانی مرد پر حملہ آور ہوا، وہ مرد بھاگ گیا ،عاصم نے اس کا پیچھا کیا ، حتی وہ مرد اپنے سپاہیوں میں گھس گیا اور عاصم کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔عاصم اس کا تعاقب کرتے ہوئے دشمن کے سپاہیوں کے ہجوم میں داخل ہوا اور اس کا پیچھا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اس کی ایک ایسے سوارسے مڈبھیڑ ہو ئی جو ایک خچر کی لگام پکڑکر اسے اپنے پیچھے کھینچ رہا تھا سوار نے جب عاصم کو دیکھا تو خچر کی لگام چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو سپاہیوں کے اندر چھپا دیا انھوں نے بھی اسے پناہ دے دی عاصم خچر کو بار کے سمیت اپنی سپاہ کی طرف لے چلا اس خچر پر لدا ہو ابار ، ایرانی کمانڈرانچیف کے لئے انواع و اقسام کے کھانے ، جیسے حلوا ،شہد اور شربت وغیرہ تھے معلوم ہوا کہ وہ آدمی کمانڈر انچیف کا خانساماں تھا ۔

عاصم نے کھانوں کو سعد وقاص کی خدمت میں پیش کیا اور خود اپنی جگہ لوٹا ۔ سعد وقاص نے انھیں دیکھ کر حکم دیا کہ تمام مٹھائیوں کو عاصم کے افراد میں تقسیم کر دیا جائے اور انھیں پیغام بھیجا کہ یہ تمھارے سردار نے تمھارے لئے بھیجا ہے،تمھیں مبارک ہو!


ارماث کادن

سیف کی روایت کے مطابق : عاصم کی تقریر کے بعد قادسیہ کی جنگ شروع ہو گئی یہ جنگ تین دن تک جاری رہی اور ہر دن کے لئے ایک خاص نام رکھا گیا ،اس کے پہلے دن کا نام '' ارماث'' تھا۔(۱)

طبری نے سیف سے روایت کرکے ارماث کے دن کے بارے میں یوں لکھا ہے :

اس دن ایرانی پوری طاقت کے ساتھ اسلامی فوج پر حملے کر رہے تھے اور جنگ کے شعلے قبیلہ اسد کے مرکز میں بھڑک اٹھے تھے ،خاص کر ایران کے جنگی ہاتھیوں کے پے در پے حملوں کی وجہ سے مسلمانوں کی سوار فوج کا شیرازہ بالکل بکھر چکا تھا ۔سعد وقاص نے جب یہ حالت دیکھی تو اس نے عاصم بن عمرو کو پیغام بھیجا کہ : کیا تم تمیمی خاندان کے افراد اتنے تیز رفتار گھوڑوں اور تجربہ کار اور کارآمد اونٹوں کے باوجود دشمن کے جنگی ہاتھیوں کا کوئی علاج نہیں کر سکتے ؟ قبیلہ تمیم کے لوگوں نے اور ان کے آگے آگے اس قبیلہ کے جنگجو پہلوان اور شجاع عاصم بن عمرو نے سعد کے پیغام کا مثبت جواب دیتے ہوئے کہا: جی ہاں !خد اکی قسم ہم یہ کان انجام دے سکتے ہیں اور اس کے بعد اس کا م کے لئے کھڑے ہوگئے

عاصم نے قبیلہ تمیم میں سے تجربہ کار اور ماہر تیر انداز وں اور نیزہ بازوں کے ایک گروہ کا انتخاب کیا اور جنگی ہاتھیوں سے جنگ کرنے کی حکمت عملی کے بارے میں یوں تشریح کی :

تیر اندا ز قبیلہ تمیم کے نیزہ بازوں کی مدد کریں ،ہاتھی بان اور ہاتھیوں پر تیروں کی بوچھار کریں گے اور نیزہ باز جنگی ہاتھیوں پرپیچھے سے حملہ کریں گے اور ہاتھیوں کی پیٹیاں کاٹ کر ان کی پیٹھ پر موجود کجاوے الٹ کر گرا دیں ،عاصم نے خود دونوں فوجی دستوں کی قیادت سنبھالی ۔

____________________

الف )۔ قعقاع کی داستان میں ان تین دنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔


قبیلہ اسد کے مرکز میں جنگ کے شعلے بدستور بھڑک رہے تھے ۔میمنہ اور میسرہ کی کوئی تمییز نہیں کر سکتا تھا ۔عاصم کے جنگجو ئوں نے دشمن کے ہاتھیوں کی طرف ایک شدید حملہ کیا ۔اس طرح ایک خونین جنگ چھڑ گئی عاصم کے افراد ہاتھیوں کی دموں او ر محمل کے غلاف کی جھالروں سے آویزاں ہو کر ان پر حملے کر رہے تھے اور بڑی تیزی سے ان کی پیٹیاں کاٹ رہے تھے اور دوسری طرف سے تیر انداز اور نیزہ باز بھی ہاتھی بانوں پر جان لیوا حملے کر رہے تھے اس دن (ارماث کے دن) دشمن کے ہاتھیوں میں سے نہ کوئی ہاتھی زندہ بچا او ر نہ ہاتھی سوار اور کوئی محمل بھی باقی نہ بچی ۔خاندان تمیم کے تجربہ کار تیر اندازوں کی تیر اندازی سے دشمن کے تمام ہاتھی اور ہاتھی سوار بھی نابود ہوئے اور اس طرح جنگی ہاتھیوں کے اس محاذ پر دشمن کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی وقت دشمن کے جنگی ہاتھی غیر مسلح ہوئے اور خاندان اسد میں جنگ کے شعلے بھی قدر ے بجھ گئے ۔سوار فوجی اس گرماگرم میدان جنگ سے واپس آرہے تھے ۔اس دن عاصم لشکر اسلام کا پشت پناہ تھا۔

قادسیہ کی جنگ کے اس پہلے دن کا نام ''ارماث'' رکھا گیا ہے ۔اسی داستان کے ضمن میں سیف کہتا ہے :

جب سعد وقاص کی بیوی سلمیٰ جو پہلے مثنی کی بیوی تھی نے ایرانی فوج کے حملے اور ان کی شان وشوکت کا قبیلہ اسد کے مرکز میں مشاہدہ کیا تو فریاد بلند کرکے کہنے لگی:کہاں ہو اے مثنی ! ان سواروں میں مثنی موجود نہیں ہے ،اس لئے اس طرح تہس نہس ہورہے ہیں ،اگر ان میں مثنی ہوتا تو دشمن کو نیست ونابود کرکے رکھ دیتا!

سعد ،بیمار اور صاحب فراش تھا،اپنی بیوی کی ان باتوں سے مشتعل ہوا اور سلمیٰ کو ایک زور دار تھپڑ مار کے تند آواز میں بولا : مثنی کہاں اور یہ دلیر چابک کہاں !جو بہادری کے ساتھ میدان جنگ کو ادارہ کر رہے ہیں ۔سعد کا مقصود خاندان اسد ،عاصم بن عمرو اور خاندان تمیم کے افراد تھے ۔


یہ وہ مطالب تھے جنھیں طبری نے سیف بن عمر تمیمی سے نقل کرکے روز '' ارماث'' اور اس دن کے واقعات کے تحت درج کیا ہے ۔

حموی لفظ ''ارماث'' کی تشریح میں قمطراز ہے :

گویا ''ارماث'' لفظ ''رمث'' کی جمع ہے ۔یہ ایک بیابانی سبزی کا نام ہے ۔

بہر حال ''ارماث'' جنگ قادسیہ کے دنوں میں سے پہلا دن ہے۔ عاصم بن عمرو اس کے بارے میں اس طرح شعر کہتا ہے :

'' ہم نے ''ارماث '' کے دن اپنے گروہ کی حمایت کی اور ایک گروہ نے اپنی نیک کارکردگی کی بناء پر دوسرے گروہ پر سبقت حاصل کی ''

یہ ان مطالب کا خلاصہ تھا جنھیں سیف نے ''ارماث'' کے دن کی جنگ اور عاصم کی شجاعت کے بارے میں ذکر کیاہے ۔دوسرے دن کو روز ''اغواث'' کا نام رکھا گیا ہے ۔

روز ''اغواث''

روز ''اغواث''کے بارے میں طبری نے قادسیہ کی جنگ کے دوسرے دن کے واقعات کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :

اس دن خلیفہ عمر بن خطاب کی طرف سے ایک قاصد ،چار تلوار یں اور چار گھوڑے لے کر جنگ قادسیہ کے کمانڈرانچیف سعد وقاص کی خدمت میں پہنچا کہ وہ انھیں بہترین جنگجوئوں اور مجاہدوں میں تحفے کے طور پر تقسیم کرے ۔سعد نے ان میں سے تین تلوار یں قبیلہ اسد کے دلاوروں میں تقسیم کیں اور چوتھی تلوار عاصم بن عمرو تمیمی کو تحفے کے طور پر دی اور تین گھوڑے خاندان تمیم کے پہلوانوں میں تقسیم کئے اور چوتھا گھوڑا بنی اسد کے ایک سپاہی کو دیا ۔اس طرح عمر کے تحفے صرف اسد اور تمیم کے دو قبیلوں میں تقسیم کئے گئے ۔


روز'' عماس''

جنگ قادسیہ کا تیسرا دن ''عماس'' ہے۔

طبری '' عماس'' کے دن کے جنگ کے بارے میں سیف سے نقل کرکے یوں بیان کرتا ہے :

قعقاع نے روز '' عماس'' کی شام کو اپنے سپاہیوں کو دوست و دشمنوں کی نظروں سے بچاکر مخفی طور سے اسی جگہ لے جاکر جمع کیا ،جہاں پر روز ''اغواث''کی صبح کو اپنے سپاہیوں کو جمع کرکے دس دس افراد کی ٹولیوں میں تقسیم کرکے میدان جنگ میں آنے کا حکم دیا تھا ۔فرق صرف یہ تھا کہ اب کی بار حکم دیا کہ پو پھٹتے ہی سو ،سو افراد کی ٹولیوں میں سپاہی میدان جنگ میں داخل ہوں تاکہ اسلام کے سپاہی مدد پہنچنے کے خیال سے ہمت پیدا کر سکیں او ر دشمن پر فتح پانے کی امید بڑھ جائے ،قعقاع کے بھائی عاصم نے بھی اپنے سواروں کے ہمراہ یہی کام انجام دیا اور ان دو تمیمی بھائیوں کی جنگی چال کے سبب اسلام کے سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوگئے ۔

سیف کہتا ہے : ''عماس'' کے دن دشمن کے جنگی ہاتھیوں نے ایک بار پھر اسلامی فوج کی منظم صفوں میں بھگدڑ مچا کر '' ارماث'' کے دن کی طرح اسلامی فوج کے شیرازہ کو بکھیر کر رکھ دیا ۔سعد نے جنگی ہاتھیوں کے پے در پے حملوں کا مشاہدہ کیا ،تو خاندان تمیم کے ناقابل شکست دو بھائیوں قعقاع و عاصم ابن عمرو کو پیغام بھیجا اور ان سے کہا کہ سر گروہ اور پیش قدم سفید ہاتھی کا کام تمام کرکے اسلام کے سپاہیوں کو ان کے شر سے نجات دلائیں ۔کیوں کہ باقی ہاتھی اس سفید ہاتھی کی پیروی میں آگے بڑھ رہے تھے ۔

قعقاع اور عاصم نے دشمن کے جنگی ہاتھیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کیا انھوں نے دو محکم اور نرم نیزے اٹھالئے اور پیدل اور سوار فوجوں کے بیچوں بیچ سفید ہاتھی کی طرف دوڑ ے اور اپنے سپاہیوں کو بھی حکم دیا کہ چاروں طرف سے اس ہاتھی پر حملہ کرکے اسے پریشان کریں جب وہ اس ہاتھی کے بالکل نزدیک پہنچے تو اچانک حملہ کیا اور دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ اپنے نیزے سفید ہاتھی کی آنکھوں میں بھونک دئے ۔ہاتھی نے درد کے مارے تڑپتے ہوئے اپنے سوار کو زمین پر گرا دیا اور زور سے اپنے سر کو ہلاتے ہوئے اپنی سونڈ اوپر اٹھا ئی اور ایک طرف گر گیا ۔قعقاع نے تلوار کی ایک ضرب سے اس کی سونڈ کاٹ ڈالی ۔


سیف نے عاصم بن عمرو کے لئے '' لیلة الھریر '' سے پہلے اور اس کے بعد کے واقعات میں بھی شجاعتوں ،دلاوریوں کی داستانیں گڑھی ہیں اور ان کے آخر میں کہتا ہے :

جب دشمن کے سپاہیوں نے بری طرح شکست کھائی اور مسلمان فتحیاب ہوئے تو ایرانی فوجی بھاگ کھڑے ہوئے ۔بعض ایرانی سردار وں اور جنگجوئوں نے فرار کی ذلت کو قبول نہ کرتے ہوئے اپنی جگہ پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا ۔ان کے ہی برابر کے چند مشہور اور نامور عرب سپاہی ان کے مقابلے میں آئے اور دوبارہ دست بدست جنگ شروع ہوئی ۔ان مسلمان دلاوروں میں دو تمیمی بھائی قعقاع اور عاصم بھی تھے ۔عاصم نے اس دست بدست جنگ میں اپنے ہم پلہ ایک نامور ایرانی پہلوان زاد بھش ،جو ایک نامور اوربہادر ایرانی جنگجو تھا ،کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ٦ اور اسی طرح قعقاع نے بھی اپنے ہم پلہ پہلوان کو قتل کر ڈالا۔

تاریخ اسلام کی کتابوں میں اس داستان کی اشاعت :

جو کچھ یہاں تک بیان ہو ا یہ سیف کی وہ باتیں تھیں جو اس نے ناقابل شکست پہلوان ، شہسوار،دلیر عرب، شجاع، قعقاع بن عمرو تمیمی نامی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی نامور سیاستداں اور جنگی میدانوں کے بہادر اس کے بھائی اور صحابی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عاصم بن عمر تمیمی کے بارے میں بیان کی ہیں ۔سیف بن عمر تمیمی کے ان دو افسانوی بھائیوں جو سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں کی داستانوں کو امام المؤرخین طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی معتبر اور گراں قدر کتاب میں درج کیا ہے ، اور اس کے بعد دوسرے مورخین ،جیسے ابن اثیر اور ابن خلدون نے بھی ان روایتوں کی سند کا اشارہ کئے بغیر طبری سے نقل کرکے انھیں اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ اس طرح ابن کثیر نے اس داستان کو طبری سے نقل کرتے ہوئے گیارہ جگہوں پر سیف کا نام لیا ہے ۔


سند کی تحقیق :

ان داستانوں کی سند میں جند راوی مثل نضربن سری تین روایتوں میں ،ابن رخیل اور حمید بن ابی شجار ایک ایک روایت میں ذکر ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ محمد اور زیادہ کا نام بھی راویوں کے طور پر لیا گیا ہے ۔ان سب راویوں کے بارے میں ہم نے مکرر لکھا ہے کہ وہ حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتے اور سیف کے جعلی راوی ہیں ۔

تحقیق کا نتیجہ

یہاں تک ہم نے عاصم کے بارے میں سیف کی روایتوں '' گائے کادن '' اور قاسیہ کی جنگ کے تین دنوں کے بارے میں پڑتال کی اور حسب ذیل نتیجہ واضح ہوا :

سیف منفرد شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ علاقۂ میسان کے کچھار میں گائے نے عاصم بن عمرو سے گفتگو کی اور حجاج بن یوسف ثقفی کی تحقیق کو اس کی تائید کے طور بیان کرتا ہے حجاج بن یوسف ثقفی برسوں بعد اس داستان کے بارے میں تحقیق کرتا ہے،عینی شاہد اس کے سامنے شہادت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ داستان بالکل صحیح ہے اور اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں ہے اگرچہ آپ اسے با ور نہ کریں گے ،کیوں کہ اگر ہم بھی آپ کی جگہ پر ہوتے اور ایسی داستان سنتے تو ہم بھی یقین نہ کرتے ۔اس وقت حجاج اس مرد خدا (عاصم) اور کامل روحانی شخص جس کی تلاش اسے پہلے ہی سے تھی کے بارے میں سر ہلاتے ہوئے تصدیق کرتا ہے اور خاص کر تاکید کرتا ہے کہ وہ تمام افراد جنھوں نے جنگ قادسیہ میں شرکت کی ہے ،وقت کے پارسااور نیک افراد تھے ۔یہ سب تاکید پر تاکید گفتگو ،تائید و تردید اس لئے ہے کہ سیف بن عمر جس نے تن تنہا اس افسانہ کو جعل کرکے نقل کیا ہے ،دوسروں کو قبول کرائے کہ یہ واقعہ افسانہ نہیں ہے اور کسی کے ذہن کی تخلیق نہیں ہے اور اس قصہ میں کسی قسم کی بد نیتی اورخود غرضی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت تھی جو واقع ہوئی ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس قسم کے افسانوں کو طبری کی کتاب تاریخ میں پڑھیں اور یقین کریں کہ طبری کے تمام مطالب حقیقت پر مبنی ہیں ۔نتیجہ کے طور پر اسلام کے حقائق آیات الٰہی اور پیغمبروںصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معجزات کا آسانی کے ساتھ انکار کرنا ممکن ہو جائے گا اور ایسے موقع پر سیف اور سیف جیسے دیگر لوگ خوشیوں سے پھولے نہیں سمائیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ سیف کے ہم مسلک اور ہم عقیدہ لوگ طبری کو شاباش اور آفرین کہتے ہیں اور اسے پیار کرتے ہیں ۔اور ہم بھی کہتے ہیں : '' شاباش '' ہو تم پر طبری !!


بہر حال سیف نے میسان کے کچھار میں چھپا کے رکھی گئی گائے کی عاصم سے باتیں کرنے کا افسانہ گڑھا ہے ،جب کہ دوسرے مورخوں نے کہا ہے کہ : جب سعد کی سپاہ کو مویشیوں کے لئے چارہ اور اپنے لئے کھانے کی ضرورت ہوئی تھی تو سعد وقاص حکم دیتا تھا کہ دریا ئے فرات کے نچلے علاقوں میں جا کر لوٹ مار کر کے اپنی ضرورت توں کی چیزیں حاصل کریں ۔ان دنوں سپاہ کے حالا ت کے پیش نظر یہی موضوع بالکل مناسب اور ہماہنگ نظر آتا ہے ۔

اسی طرح سیف کہتا ہے کہ کسریٰ نے اس کی خدمت میں آئے ہوئے شریف اور محترم قاصدوں کے ذریعہ سر زمین ایران کی مٹی بھیجنے کاحکم دیا عاصم بن عمرو تمیمی مضری ،کسریٰ کے اس عمل کو نیک شگون جانتا ہے اور مٹی کو اٹھا کر سعدوقاص کے پاس پہنچتا ہے اور دشمن پر فتح و کامرانی کی نوید دیتا ہے ۔جب کہ دوسروں نے لکھاہے کہ ایرانیوں کے سپہ سالار رستم نے ایسا کیا تھا اور جو شخص مٹی کو سعد کے پاس لے گیا وہ عمر بن معدی کرب قحطانی یمانی تھا۔

اس کے علاوہ سیف وہ منفرد شخص ہے جو عاصم کی جنگوں ،تقریروں ،رجز خوانیوں ، جنگ قادسیہ میں '' ارماث'' ،''اغواث'' اور'' عماس'' کے دن اس کی شجاعتوں اور دلاوریوں کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے ،جب کہ دینوری اوربلاذری نے قادسیہ کی جنگ کے بارے میں مکمل اور مفصل تشریح کی ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ''ارماث'' ،''اغواث'' اور ''عماس'' کا نام تک نہیں لیا ہے اور سیف کے یہ تمام افسانے بھی ان کے ہاں نہیں ملتے ۔ہم نے یہاں پر بحث کے طولانی ہونے کے اندیشہ سے جنگ قادسیہ کے بارے میں بلاذری اور دینوری کی تفصیلات بیان کرنے سے پرہیز کیا ہے اور قارئین کرام سے اس کے مطالعہ کی درخواست کرتے ہیں ۔


قادسیہ کے بارے میں سیف کی روایتوں کے نتائج :

١۔ میسان کے کچھار میں گائے کا اس کے ساتھ فصیح عربی زبان میں بات کرنے کا افسانہ کے ذریعہ صحابی بزرگوار اور خاندان تمیم کے نامور پہلوان عاصم بن عمرو کے لئے کرامت جعل کرنا ۔

٢۔ دربارکسریٰ میں بھیجے گئے گروہ میں عاصم بن عمرو کی موجودگی اور اس کا اچانک اور ناگہانی طور پر مٹی کو اٹھا کر سعد وقاص کے پاس لے جانا اوراس فعل کو نیک شگون سے تعبیر کرنا۔

٣۔عمروتمیمی کے دو بیٹوں قعقاع اور عاصم کو ایسی بلندی ،اہمیت اور مقام و منزلت کا حامل دکھانا کہ تمام کامیابیوں کی کلیدانہی کے پاس ہے ۔کیا یہ عاصم ہی نہیں تھا جس کے حکم سے خاندان تمیم کے تیر اندازوں اور نیزہ برداروں نے دشمن کے ہاتھیوں اور ان کے سواروں کو نابود کرکے رکھ دیا اور ہاتھیوں کی پیٹھ پر جو کچھ تھا ''ارماث'' کے دن انھوں نے اسے نیچے گرا دیا؟!

٤۔یہ کہنا کہ: مثنی کہاں اور عاصم جیسا شیر دل پہلوان کہاں !! تاکہ مثنی کی سابقہ بیوی سلمیٰ پھر کبھی زبان درازی نہ کرے اور ایسے لشکر شکن پہلوان جوجنگ کرتا ہے اور دوسرے مجاہدوں کی مدد بھی کرتا ہے کوحقیر نہ سمجھے ۔

٥۔سب سے آگے آنے والے سفید ہاتھی کا کام تمام کرنے کے بعد ہاتھی سوار فوجی دستے کو درہم برہم کرکے ایرانیوں کو بھگا کر دو افسانوی پہلوانوں قعقاع اور عاصم کے لئے فخر و مباہات میں اضافہ کرنا۔

قبیلہ نزار اور خاندان تمیم کے لئے سیف نے یہ اوراس قسم کے دسیوں افتخارات جعل کئے ہیں تاکہ طبری ،ابن عساکر ،ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون جیسے مورخین انھیں اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کریں اور صدیاں گزر جانے کے بعد دین کو سطحی اور ظاہری نگاہ سے دیکھنے والے انھیں آنکھوں سے لگا ئیں اورمضر ،نزار اور خاص کر خاندان تمیم کو شاباشی دیں !اور اس کے مقابلے میں ان کے دشمنوں ، یعنی قحطانی یمانی قبیلوں جن کے بارے میں سیف نے بے حد رسوائیاں اور جھوٹ کے پوٹ گڑھے ہیں سے لوگوں کے دلوں میں غصہ و نفرت پیدا ہو جائے اوروہ رہتی دنیا تک انھیں لعنت و ملامت کرتے رہیں ۔


عاصم ''جراثیم'' کے دن !

قتلوا عامتهم ونجا منهم عورانا

اسلام کے سپاہیوں نے دشمن کے سپاہیوں کایک جا قتل عام کیا ۔ان میں صرف وہ لوگ بچ رہے جو اپنی آنکھ کھو چکے تھے ۔

( سیف بن عمر)

سیف نے ''جراثیم کے دن''کی داستان ،مختلف روایتوں میں نقل کی ہے ۔یہاں پر ہم پہلے روایتوں کو بیان کریں گے اور اس کے بعد ان کے متن و سند پر تحقیق کریں گے :

١۔ جریر طبری سیف سے نقل کرتے ہوئے روایت کرتا ہے :

سعد وقاص سپہ سالار اعظم قادسیہ کی جنگ میں فتح پانے کے بعد ایک مدت تک دریائے دجلہ کے کنارے پر حیران و پریشان سوچتا رہا کہ اس وسیع دریا کو کیسے عبور کیا جائے ؟! کیوں کہ اس سال دریائے دجلہ تلاطم اور طغیانی کی حالت میں موجیں مار رہا تھا ۔

سعد وقاص نے اتفاقاً خواب دیکھا تھا کہ مسلمانوں کے سپاہی دریائے دجلہ کو عبور کرکے دوسرے کنارے پر پہنچ چکے ہیں ۔لہٰذا اس نے فیصلہ کیا کہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرے اس نے اپنے سپاہیوں کو جمع کیا اور خدا کی بارگاہ میں حمد و ثنا کے بعد یوں بولا:

تمھارے دشمن نے تمھارے خوف سے اس عظیم اور وسیع دریا کی پناہ لی ہے اور ان تک تمھاری رسائی ممکن نہیں ہے ،جب کہ وہ اپنی کشتیوں کے ذریعہ تم لوگوں تک رسائی رکھتے ہیں اور جب چاہیں ان کشتیوں کے ذریعہ تم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ اس نے کہا:


یہ جان لو کہ میں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ دریا کو عبور کرکے ان پر حملہ کروں گا ۔سپاہیوں نے ایک آواز میں جواب دیا : خدائے تعالیٰ آپ کا اور ہمارا راہنما ہے ،جو چاہیں حکم دیں !اور سپاہیوں نے اپنے آپ کو دجلہ پار کرنے کے لئے آمادہ کیا ۔سعد نے کہا: تم لوگوں میں سے کون آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے جو دریا پار کرکے ساحل پر قبصہ کرلے وہاں پر پائوں جمائے اور باقی سپاہی امن و سکون کے ساتھ اس سے ملحق ہوجائیں اور دشمن کے سپاہی دجلہ میں ان کی پیش قدمی کو روک نہ سکیں ؟ عربوں کا نامور پہلوان عاصم بن عمر و پہلا شخص تھا جس نے آگے بڑھ کر سعد کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ۔عاصم کے بعد چھہ سوشجاع جنگجو بھی عاصم سے تعاون کرنے کے لئے آگے بڑھے سعد و قاص نے عاصم کو ان چھہ سوافراد کے گروہ کا کمانڈر معین کیا ۔

عاصم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دریا کے کنارے پر پہنچ گیا اور ان سے مخاطب ہو کر بولا : تم لوگوں میں سے کون حاضر ہے جو میرے ساتھ دشمن پرحملہ کرنے کے لئے آگے بڑھے ۔ہم دریا کے دوسرے ساحل کو دشمنوں کے قبضہ سے آزاد کردیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے تاکہ باقی سپاہی بھی ہم سے ملحق ہو جائیں ؟ ان لوگوں میں سے ساٹھ آدمی آگے بڑھے ،عاصم نے انھیں تیس تیس نفر کی دو ٹولیوں میں تقسیم کیا اور گھوڑوں پر سوار کیا تاکہ پانی میں دوسرے ساحل تک پہنچنے میں آسانی ہو جائے ۔اس کے بعد ان ساٹھ افراد کے ساتھ خود بھی دریائے دجلہ میں اتر گیا۔

جب ایرانیوں نے مسلمانوں کے اس فوجی دستے کو دریا عبور کرکے آگے بڑھتے دیکھا ،تو انھوں نے اپنی فوج میں سے ان کی تعداد کے برابر فوجی سواروں کو مقابلہ کے لئے آمادہ کرکے آگے بھیج دیا ۔ایران کے سپاہیوں کا ساٹھ نفری گروہ عاصم کے ساٹھ نفری گروہ جوبڑی تیزی کے ساتھ ساحل کے نزدیک پہنچ رہے تھے کے مقابلے کے لئے آمنے سامنے پہنچا ۔اس موقع پر عاصم نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر بلند آواز میں کہا : نیزے !نیزے ! اپنے نیزوں کو ایرانیوں کی طرف بڑھائو اور ان کی آنکھوں کو نشانہ بنائو !اور آگے بڑھو !عاصم کے سواروں نے دشمنوں کی آنکھوں کو نشانہ بنا یا اور آگے بڑھے ۔ایرانیوں نے جب یہ دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ۔لیکن تب تک مسلمان ان کے قریب پہنچ چکے تھے اور تلواروں سے ان سب کا کام تمام کرکے رکھ دیا ۔جو بھی ان میں بچا وہ اپنی ایک آنکھ کھو چکا تھا ۔اس فتح کے بعد عاصم کے دیگر افرادبھی کسی مزاحمت اور مشکل کے بغیر اپنے ساتھیوں سے جا ملے ۔


سعد وقاص جب عاصم بن عمرو کے ہاتھوں ساحل پر قبضہ کرنے سے مطمئن ہوا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو آگے بڑھنے اور دریائے دجلہ عبور کرنے کا حکم دیا اور کہا: اس دعا کو پڑھنے کے بعد دریائے دجلہ میں کود پڑو:

'' ہم خدا سے مدد چاہتے ہیں اورا سی پر توکل کرتے ہیں ۔ہمارے لئے خدا کافی ہے اور وہ بہتر ین پشت پناہ ہے ۔ خدائے تعالیٰ کے علاوہ کوئی مدد گار اور طاقتور نہیں ہے ''

اس دعا کے پڑھنے کے بعد سعد کے اکثر سپاہی دریا میں کود پڑے اور دریاکی پر تلاطم امواج پر سوار ہو گئے ۔دریا ئے دجلہ سے عبور کرتے ہوئے سپاہی آپس میں معمول کے مطابق گفتگو کر رہے تھے ایک دوسرے کے دوش بدوش ایسے محو گفتگو تھے جیسے وہ ہموار زمین پر ٹہل رہے ہوں ۔

ایرانیوں کو جب ایسے خلاف توقع اورحیرت انگیز حالات کا سامنا ہوا تو سب کچھ چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور اس طرح مسلمان ١٦ھ کو صفر کے مہینہ میں مدائن میں داخل ہو گئے ۔

٢۔ ایک اور حدیث میں ابو عثمان نہدی نامی ایک مرد سے سیف ایسی ہی داستان نقل کرتا ہے ،یہاں تک کہ راوی کہتا ہے:

دریائے دجلہ سپاہیوں ،منجملہ پیدل ،سواروں اور چوپایوں سے اس قدر بھر چکا تھا کہ ساحل سے دیکھنے والے کو پانی نظر نہیں آتا تھا ،کیوں کہ اسلام کے سپاہیوں نے حد نظر تک پورے دریا کو ڈھانپ رکھا تھا۔

دجلہ کو عبور کرنے کے بعد سواروں نے ساحل پر قدم رکھا۔گھوڑے ہنہنا رہے تھے اور اپنی یال و گردن کو زور سے ہلا رہے تھے اور اس طرح ان کی یال و گردن سے پانی کے قطرات دوردور تک جا گرتے تھے ۔جب دشمن نے یہ عجیب حالت دیکھی تو فرار کر گئے ۔


٣۔ایک اورروایت میں کہتاہے :

سعد وقاص اپنی فوج کو دریا میں کود نے کا حکم دینے سے پہلے دریائے دجلہ کے کناے پر کھڑا ہوکر عاصم اور اس کے سپاہیوں کا مشاہدہ کر رہا تھا جو دریا میں دشمنوں کے ساتھ لڑرہے تھے ،اسی اثناء میں وہ اچانک بول اٹھا : خدا کی قسم !اگر '' خرسائ'' فوجی دستہ قعقاع کی کمانڈ میں فوجی دستہ کو سیف نے خرساء دستہ نام دے رکھا تھا ان کی جگہ پر ہوتا اور دشمن سے نبرد آزما ہوتا تو ایسی ہی بہتر اور نتیجہ بخش صورت میں لڑتا ۔اس طرح اس نے فوجی دستہ ''اھوال'' عاصم کی کمانڈ میں افراد کو سیف نے اھوال نام رکھا تھا جو پانی اور ساحل پر لڑرہے تھے ،کی خرسا فوجی دستے سے تشبیہ دی ہے یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :

جب عاصم کی کمانڈ میں فوجی دستہ '' اھوال '' کے تمام افراد نے ساحل پر اتر کر اس پر قبضہ کر لیا توسعد وقاص اپنے دیگر سپاہیوں کے ساتھ دریائے دجلہ میں اترا ۔سلمان فارسی سعد وقاص کے شانہ بہ شانہ دریا میں چل رہے تھے یہ عظیم اور وسیع دریا اسلام کے سوار سپاہیوں سے بھر چکا تھا ۔اس حالت میں سعد وقاص نے یہ دعا پڑھی :

'' خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ ہمارے لئے بہترین پناہ گاہ ہے خدا کی قسم !پرور دگار اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے ،اس کے دین کو واضح کرتا ہے اور اس کے دشمن کو نابود کرتا ہے ، اس شرط پر کہ فوج گمراہی اور گناہ سے پاک ہو اوربرائیاں خوبیوں پر غلبہ نہ پائیں ''

سلمان نے سعد سے مخاطب ہو کر کہا :اسلام ایک جدید دین ہے ،خدا نے دریائوں کو مسلمانوں کا مطیع بنادیا ہے جس طر ح زمینوں کوان کے لئے مسخر کیا ہے ۔ا س کی قسم ،جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے !اس عظیم دریا سے سب لوگ جوق در جوق صحیح و سالم عبور کریں گے ،جیسے انھوں نے گروہ گروہ دریا میں قدم رکھا تھا ان میں سے ایک فرد بھی غرق نہیں ہوگا۔

دریائے دجلہ اسلام کے سپاہیوں سے سیاہ نظر آرہا تھا اور ساحل سے پانی دکھائی نہیں دیتا تھا اکثر افراد پانی میں اسی طرح آپس میں گفتگو کر رہے تھے جیسے خشکی پرٹہلتے ہوئے باتیں کرتے ہوں ۔سلمان کی پیشنگوئی کے مطابق سب سپاہی دریا سے صحیح و سالم باہر آگئے ۔نہ کوئی غرق ہوا اور نہ ان کے اموال میں سے کوئی چیز کم ہوئی ۔


٤۔ایک دوسری روایت میں ایک اور راوی سے نقل کرکے کہتا ہے :

...سب خیریت سے ساحل تک پہنچ گئے ۔لیکن قبیلہ بارق کا غرقدہ نامی ایک مرد اپنے سرخ گھوڑے سے دریائے دجلہ میں گرگیا ۔گویا کہ میں اس وقت بھی اس گھوڑے کو دیکھ رہا ہوں جو زین کے بغیر ہے اور خود کو ہلارہا ہے اور اپنی یال و گردن سے پانی کے چھینٹے ہوا میں اڑا رہا ہے ۔غرقدہ ،جو پانی میں ڈبکیاں لگا رہا تھا ،اسی اثنا میں قعقاع نے اپنے گھوڑے کا رخ ڈوبتے ہوئے غرقدہ کی طرف موڑلیااور اپنے ہاتھ کو بڑھا کر غرقدہ کا ہاتھ پکڑلیا اور اسے ساحل تک کھینچ لایا ۔قبیلہ بارق کا یہ شخص،غرقدہ ایک نامور پہلوان تھا ،وہ قعقاع کی طرف مخاطب ہو کر بولا :''اے قعقاع بہنیں تم جیسے شخص کو پھر کبھی جنم نہیں دیں گی !وجہ یہ تھی کہ قعقاع کی ماں اس مرد کے قبیلہ ،یعنی قبیلہ بارق سے تھی۔

٥۔ایک اور روایت میں ایک دوسرے راوی سے اس طرح نقل کرتا ہے :

اس لشکر کے مال و اثاثہ سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوئی ۔صرف مالک بن عامر نامی ایک سپاہی

جو قریش کے ہم معاہدہ قبیلہ عنز سے تھا کا برتن بندھن فرسودہ ہو کر ٹوٹنے کی وجہ سے پانی میں گرگیا تھا اور پانی اسے بہالے گیا تھا ۔عامر بن مالک نام کا ایک شخص مالک کے شانہ بہ شانہ پانی میں چل رہاتھا ، اس نے مالک سے مذاق کرتے ہوئے کہا:تقدیر تمھارا برتن بہا لے گئی !مالک نے جواب میں کہا: میں سیدھے راستے پر ہوں اور خدائے تعالیٰ اتنے بڑے لشکر میں سے میرے برتن کو ہر گز مجھ سے نہیں چھینے گا !جب سب لوگ دریا سے عبور کرگئے، تو ایک شخص جو دریا کے نچلے حصے میں محا فظت کر رہا تھا ۔اس نے ایک برتن کو دیکھا جسے دریا کی لہریں ساحل کی طرف پھینک چکی تھیں ۔وہ شخص اپنے نیزے سے اس برتن کو پانی سے نکال کر کیمپ میں لے آیا۔مالک نے اپنے برتن کو حاصل کرتے ہوئے عامر سے مخاطب ہوکر کہا :کیا میں نے سچ نہیں کہا تھا؟


٦۔ سیف ایک اور راوی سے نقل کرتے ہوئے ایک دوسری روایت میں یوں کہتاہے:

جب سعد وقاص نے لوگوں کوحکم دیاکہ دریا ئے دجلہ کوعبور کریں ،سب پانی میں اتر گئے اور دو دوآدمی شانہ بہ شانہ آگے بڑھتے رہے ۔دریائے دجلہ میں پانی کی سطح کافی حدتک اوپر آچکی تھی۔سلمان فارسی ،سعدوقاص کے شانہ بہ شانہ چل رہے تھے ۔اسی اثناء میں سعد نے کہا :یہ ''خدائے تعالیٰ کی قدرت ہے !!''دریائے دجلہ کی پرتلاطم لہریں انہیں اپنے ساتھ اوپرنیچے لے جارہی تھیں ۔ مسلمان آگے بڑھ رہے تھے ۔اگر اس دوران کوئی گھوڑاتھک جاتا تودریاکی تہہ سے زمین کاایک ٹکڑااوپر اٹھ کر تھکے ہوئے گھوڑے کے چارپائوں کے بالکل نیچے آجاتاتھااوروہ گھوڑااس پر رک کر تھکاوٹ دور کرتاتھا،جیسے کہ گھوڑاکسی خشک زمین پرکھڑاہو!!مدائن کی طرف اس پیش قدمی میں اس سے بڑھ کرکوئی حیرت انگیز واقعہ پیش نہیں آیا۔اس دن کو ''یوم المائ''یعنی پانی کادن یا''یوم الجراثیم '' یعنی زمین کے ٹکڑے کادن کہتے ہیں ۔

٧۔ پھر ایک حدیث میں ایک راوی سے نقل کرکے لکھتاہے:

بعض لوگوں نے روایت کی ہے کہ جس دن اسلام کے سپاہی دریائے دجلہ سے عبور کرنے کے لئے اس میں کود پڑے اس دن کو زمین کے ٹکڑے کادن نام رکھاگیا ہے ۔کیونکہ جب بھی کوئی سپاہی تھک جاتاتھا توفوراًدریا کی تہہ سے زمین کاایک ٹکڑا اوپر اٹھ کر اس کے پائوں کے نیچے قرارپاجاتاتھا اور وہ اس پر ٹھہر کراپنی تھکاوٹ دور کرتاتھا۔

٨ ۔ ایک اور حدیث میں ایک اور راوی سے نقل کرتاہے:

ہم دریائے دجلہ میں کود پڑے جب کہ اس کی مو جوں میں تلاطم اور لہریں بہت اونچی اٹھ رہی تھیں ۔جب ہم اس کے عمیق ترین نقطہ پر پہنچ گئے تھے تو پانی گھوڑے کی پیٹی تک بھی نہیں پہنچتا تھا

٩۔سر انجام ایک دوسری حدیث میں ایک اور راوی سے روایت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ راوی کہتا ہے :

جس وقت ہم مدائن کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ،ایرانیوں نے ہمیں دریائے دجلہ سے عبور کرتے ہوئے دیکھا تو وہ ہمیں بھوتوں سے تشبیہ دے رہے تھے اور فارسی میں آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے : بھوت آگئے ہیں !بعض کہتے تھے : خدا کی قسم ہم انسانوں سے نہیں بلکہ جنوں سے جنگ کر رہے ہیں ۔

اس لئے سب ایرانی فرار کر گئے َ


تاریخ کی کتابوں میں سیف کی روایتوں کی اشاعت:

مذکورہ تمام نو روایتوں کو طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور جو تاریخ لکھنے والے طبری کے بعد آئے ہیں ،ان سبوں نے روایات کی سند کا کوئی اشارہ کئے بغیر انھیں طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

ابو نعیم نے بھی احادیث میں سے بعض کو بلا واسطہ سیف سے لے کر ''دلائل النبوة'' نامی اپنی کتاب میں درج کیاہے۔

لیکن دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے سلسلے میں دوسرے کیا لکھتے ہیں ؟ ملاحظہ فرمائیے :

حموی ،کوفہ کے بارے میں کی گئی اپنی تشریح کے ضمن میں ایرانی فوج کے سپہ سالار رستم فرخ زاد اور قادسیہ کی جنگ کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

ایرانی کسان ،اسلامی فوج کو ایرانی سپاہیوں کی کمزوریوں کے بارے میں راہنمائی کرکے مسلمانوں کے ساتھ اپنی ہمدردی اور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے تھے اس کے علاوہ ان کو تحفے تحائف دے کر اور ان کے لئے روز انہ بازار قائم کرکے اپنے آپ کو بیشتر اسلام اور اس کی سپاہ کے نزدیک لاتے تھے ،سعد بن وقاص نے بزرگ مہر (ایرانی کمانڈر) کو پکڑنے کے لئے مدائن کی طرف عزیمت کی. یہاں تک کہ وہ لکھتا ہے :

اس نے دریائے دجلہ پر کوئی پل نہیں پایا کہ اپنی فوج کو دریا کے اس پار لے جائے بالآخر مدائن کے جنوب میں صیادین کی جگہ اس کی راہنمائی کی گئی جہاں پر ایک گزرگاہ تھی ۔اس جگہ پر دریا کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے سوار و پیادہ فوج کے لئے آسانی کے ساتھ دریا کو عبور کرنا ممکن تھا ۔سعد وقاص نے وہاں پر اپنی فوج کے ہمراہ دریا کو عبور کیا۔

خطیب ،ہاشم کی تشریح کے ضمن میں اپنی تاریخ میں لکھتا ہے:

جب قادسیہ کی جنگ میں خدائے تعالیٰ نے ایرانیوں کوشکست دیدی تووہ مدائن کی طرف پیچھے ہٹے ،سعد نے اسلامی فوج کے ہمراہ ان کا تعاقب کیا۔دریائے دجلہ کوعبور کرنے کے لئے مدائن کے ایک باشندہ نے ''قطر بل ''نام کی ایک جگہ کی راہنمائی کی جہاں پر دریا کی گہرائی کم تھی ۔سعد نے بھی اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اسی جگہ سے دریاکوعبور کرکے مدائن پرحملہ کیا ۔


طبری نے بھی اس داستان کی تفصیل میں ابن اسحاق سے نقل کرکے روایت کی ہے :

جب اسلامی فوج تمام سازوسامان ومال ومنال لے کر دریائے دجلہ کے ساحل پر پہنچی ، توسعددریاسے گزرنے کی ایک جگہ تلاش کرنے لگا۔لیکن دجلہ کوعبور کرنے کی کوئی راہ نہ پائی ۔بالآخر شہر مدائن کاایک باشندہ راہنمائی کے لئے سعد کی خدمت میں آیا اور سعد سے کہا:میں تم لوگوں کو ایک کم گہری جگہ سے عبور کراسکتا ہوں تاکہ تم لوگ دشمن کے دور ہونے سے پہلے اس تک پہنچ سکو ۔ اس کے بعد اس نے سعد کی سپاہ کو قطر بل نام کی ایک گزرگاہ کی طرف راہنمائی کی ۔ جس شخص نے اس گزرگاہ پر سب سے پہلے دریا میں قدم رکھاوہ ہاشم بن عتبہ تھاجو اپنے پیدل فوجیوں کے ہمراہ دریا میں کود پڑا ۔ جب ہاشم اوراس کے پیادہ ساتھی دریاسے گزر ے تو ہاشم کے سوار بھی دریا میں اترے ۔اس کے بعد سعد نے حکم دیاکہ عرفطہ کے سوار بھی دریائے دجلہ کوعبور کریں ۔اس کے بعد عیاض بن غنم کوحکم دیا کہ اپنے سوار فوجیوں کے ہمراہ دجلہ کوعبور کرے ۔اس کے بعد باقی فوجی دریا میں اترے اور اسے عبور کرگئے

ابن حزم بھی اپنی کتاب ''جمہرہ''میں لکھتا ہے :

اسلام کے سپاہیوں میں بنی سنبس کا سلیل بن زید تنہا شخص تھا جو مدائن کی طرف جاتے ہوئے دریائے دجلہ عبور کرنے کے دن غرق ہوا ۔اس کے علاوہ اس دن کوئی اور غرق نہیں ہواہے،

سند کی تحقیق:

طبری نے سیف کی پہلی روایت ،یعنی داستان کے اس حصہ کے بارے میں ،جہاں سے وہ سعد وقاص کے دریائے دجلہ کے کنارے پر حیران حالت میں کھڑے رہنے کا ذکر کرتا ہے، وہاں سے سپاہیوں سے خطاب کرنے،عاصم کے پیش قدم ہونے ،سرانجام ساحل پرقبضہ کرنے اور ماہ صفر ١٦ھ میں مدائن میں داخل ہونے تک کسی راوی کاذکر نہیں کرتاہے اور نہ کسی قسم کی سند پیش کرتاہے۔


لیکن دوسری روایت میں ،سیف داستان کو''ایک مرد''کی زبانی رو ایت کرتاہے ۔ ہمیں معلوم نہ ہوسکاکہ سیف نے اپنے خیال میں اس مرد کا کیا نام رکھاہے؟!تاکہ ہم راویوں کی فہرست میں اسے تلاش کرتے۔

اس کی پانچویں اور ساتویں روایت کے راوی محمد ،مھلب اور طلحہ ہیں کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں یہ سیف کی ذہنی تخلیق اور جعل کردہ راوی ہیں ۔

اسی طرح پانچویں روایت میں عمیر الصائری کوبھی راوی کی حیثیت سے پیش کرتاہے کہ ہم نے عمیر الصائری کانام سیف کی حدیث کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا۔اس نباء پرعمیر کوبھی سیف کے جعلی راویوں میں شمار کر تے ہیں ۔

لیکن تیسری اور چوتھی روایت کو ایسے رایوں سے نسبت دیتا ہے کہ جو در حقیقت موجود ہیں ایسے راوی تھے ۔لیکن ہم ہر گز یہ گناہ نہیں کرسکتے کہ سیف کے خود ساختہ جھوٹ کو ان کی گردنوں پر بار کریں جب کہ ہم نے پورے اطمینان کے ساتھ یہ معلوم کر لیا ہے کہ سیف وہ تنہا شخص ہے جس نے ایسے مطالب ان راویوں سے منسوب کئے ہیں اور دوسرے مورخین و مولفین نے ان راویوں سے اس قسم کی چیزیں نقل نہیں کی ہیں ۔

تحقیق کا نتیجہ:

مدائن کی طرف جاتے وقت دریائے دجلہ سے عبور کرنا ایک مقامی راہنما کی راہنمائی سے انجام پایا ہے ۔اس نے اس گزرگاہ کی نشاندہی کی جہاں پر پانی کی گہرائی کم تھی اور جس شخص نے سب سے پہلے دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے لئے قدم رکھا ،وہ ہاشم اور اس کی پیادہ فوج تھی ۔اس کے بعد ہاشم کے سوار فوجیوں نے دجلہ کو عبور کیا ۔اس کے بعد خالد اور اس کے بعد عیاض نے دریا میں قدم رکھا اوراسے عبور کیا ۔جب کہ سیف اپنے افسانے میں یوں ذکر کرتا ہے :


سعد دریائے دجلہ ک کنارے پر متحیر و پریشان کھڑا تھا ۔دریا تلاطم اور طغیان کی حالت میں تھا کہ اس کا دیکھا ہوا خواب اس کی آنکھوں سے پردہ اٹھا تاہے ۔ وہ اپنی بات دوسرے سپاہیوں کے سامنے بیان کرتا ہے اور وہ جواب دیتے ہیں کہ: خدائے تعالیٰ ہماری اور تمھاری راہنمائی کرے ،جو چاہو حکم دو یہ باتیں اسے امید بخشتی ہیں عاصم بن عمرو وہ پہلوان ہے جو دریائے دجلہ عبور کرنے کے لئے سب سے پہلے آمادگی کا اعلان کرتاہے ۔سعد اسے چھ سو جنگجو ئوں اور دلیروں کی قیادت سونپتا ہے جو دریاکو عبور کرنے کے لئے آمادہ تھے ۔عاصم ساٹھ افراد کے ساتھ دریا میں قدم رکھتا ہے ،پانی میں دشمنون سے نبرد آزما ہوتا ہے اور ان پر فتح پاتا ہے ۔اس موقع پر سعد وقاص عاصم کے ''اھوال'' فوجی دستہ کو قعقاع کے ''خرساء '' فوجی دستے سے تشبیہ دیتا ہے ۔

سیف اس بات کی تشریخ کرتا ہے کہ دریا کے ساحل پر عاصم کے قدم جمانے کے بعد کسی طرح باقی سپاہیوں نے دریائے دجلہ میں قدم رکھا کہ ان کی کثرت کی وجہ سے ساحل سے دریا کی طرف دیکھنے والا پانی نہیں دیکھ سکتا تھا ،اور کیسے وہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اپنی حالت یعنی دریا میں چلنے کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے تھے ،جیسے کہ خشکی میں ٹہل رہے تھے سیف تشریح کرتا ہے کہ جب بھی کوئی سپاہی تھک جاتا تھا ،تو دریا کی تہہ سے فورا ًزمین کا ایک ٹکڑا جدا ہو کر اوپر اٹھ آتا تھا اور بالکل اس شخص کے پائوں کے نیچے قرار پاجاتا تھا اور وہ شخص اس پر ٹھہر کر تھکاوٹ دور کرتا تھا ۔اسی سبب سے اس دن کو '' یوم الجراثیم'' یعنی زمین کے ٹکڑے کا دن کہا گیا ہے ۔

سیف کہتا ہے کہ اس دن غرقدہ کے علاوہ کوئی جنگجو دریا ئے دجلہ میں غرق نہیں ہوا ،غرقدہ قبیلہ بارق سے تھا اور ایک نامور جنگجو اور شجاع سپاہی تھا ،وہ اپنے سرخ گھوٹے سے دریا میں گر گیا اور پانی میں ڈپکیاں لگا نے لگا جب مرد میدان اور خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوان قعقاع نے یہ ماجرا دیکھا تو اپنے گھوڑے کو غرقدہ کی طرف موڑا اوراپنا ہاتھ بڑھا کر غرقدہ کے ہاتھ کو پکڑ کر اسے کھینچ کے ساحل تک لے آیا اور اسے نجات دی ۔اس وقت غرقدہ نے اس سے مخاطب ہو کر کہا: اے قعقاع بہنیں تجھ جیسے کسی اور پہلوان کو جنم نہیں دے سکتیں !


وہ مزید حکایت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : سپاہیوں میں سے ایک سپاہی کا برتن بندھن فرسودہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ کر دریا میں گر گیا اور دریا کی موجیں اسے اپنے ساتھ بہا لے گئیں آخر ان موجوں نے برتن کو ساحل تک پہنچا دیا ۔ساحل پر موجود ایک محافظ اسے دیکھتا ہے اور اپنے نیزہ کے ذریعہ پانی سے باہر کھینچ لیتا ہے اور سپاہ تک پہنچا دیتا ہے ۔برتن کا مالک اسے پہچان کر لے لیتا ہے ۔

سیف اپنے افسانوں کو اس صورت میں جعل کرکے اسلام کے حقائق کو توہمات کے پردے کے پیچھے چھپانے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ دریائے دجلہ کی تہہ سے زمین کا ایک ٹکڑا جدا ہو کر غرقدہ کے پائوں کے نیچے کیوں نہ آگیا کہ وہ بیچارہ پانی میں گرکر نہ ڈوبا ہوتا اور قعقاع کو اسے نجات دینے کی ضرورت نہ پڑتی ؟کیا اس داستان میں یہی طے نہیں کیا گیا ہے کہ ایسی حالت میں بھی قعقاع اور خاندان تمیم افتخار حاصل کرنے سے محروم نہ رہیں ۔اسی لئے غرقدہ کو غرق کیا جاتا ہے تاکہ یہاں پر بھی قعقاع کا نام نجات دہندہ ،بہادر اور بشر دوست کی حیثیت سے زبان زد خاص و عام ہو جائے ؟جب فوج کے تمام سپاہی ،حتی گھوڑے بھی اس فضیلت کے لائق تھے کہ دریا ئے دجلہ کی تہہ سے زمین کا ٹکڑا جد ا ہوکر ان کے پائوں کے نیچے قرار پائے تاکہ وہ تھکاوٹ دور کریں ،تو بیچارہ غرقدہ کیوں اس فضیلت سے محروم کیا گیا ؟ شائد سیف نے غرقدہ کے نام اور لفظ ''غرق'' کے درمیان موجود یکسانیت سے فائدہ اٹھاکر ایک بامسمیٰ داستان گڑھ لی ہے !!

سیف نے اپنے اس افسانے میں قعقاع اور عاصم نامی دو تمیمی بھائیوں کے لئے خاص فضائل ،شجاعتیں اور بہادریاں ذکر کی ہیں اور عام سپاہیوں کے بھی منقبت و فضائل بیان کئے ہیں تاکہ سیف کی کرامتیں اور فضائل درج کرنے والوں کو ایک جذبات بھرا اور جوشیلا افسانہ ہاتھ آئے ،چنانچہ ابونعیم نے اس افسانہ کو معتبر اور قطعی سند کے طور پر اپنی کتاب '' دلائل النبوہ'' میں درج کیا ہے۔

سیف نے سپاہیوں کے دریائے دجلہ عبور کرنے کے افسانہ کو مستقل اور ایک دوسرے سے جدا چند روایات کی صورت میں اور مختلف راویوں کی زبانی نقل کرکے پیش کیا ہے تاکہ اس کی روایت پائدار اور ناقابل انکار ثابت ہو۔


سیف اس افسانہ کو بھی اپنے اکثر افسانوں کی شکل و صورت بخشتا ہے اور اپنی مخصوص مہارت سے اپنے افسانہ کے سورمائوں کی سرگوشیاں ،باتیں اور حرکات و سکنات کی ایسی منظر کشی کرتا ہے کہ گویا پڑھنے والا انھیں زندہ اپنے سامنے مشاہدہ کرتا ہے ،ان کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے ،ان کے حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہوتا ہے ،ان کی باتوں حتی سانس لینے کی آوازدجلہ کے پانی کے ساتھ لگنے والی گھوڑوں کی سموں کی آواز ،دریا کی لہروں کی آواز اور لوگوں کا شور وغل سب سن رہا ہوتا ہے ۔اور لوگوں کا پانی میں ایک دوسرے کے ساتھ اوپر نیچے ہونا ،حتی دریائے دجلہ کی تہہ سے اٹھنے والے زمین کے ٹکڑوں کے اوپر نیچے جانے کے منظر کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے ،اس قسم کے زندہ اور محسوس افسانہ کے لئے راوی اور سند کی کیا ضرورت ہے کہ اسے قبول کریں اس کے سورمائوں کو پہچانیں اور باور کریں ؟کیا آپ نے سیف کی اس روایت کو غور سے نہیں پڑھا ہے جس میں وہ غرقدہ کے غرق ہونے کے بارے میں لکھتا ہے :

غرقدہ اپنے سرخ گھوڑے سے دریائے دجلہ میں گر گیا ،برسوں گزرنے کے بعد بھی میں اس وقت اس منظر کو جیسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں غرقدہ کا گھوڑا اپنے سرگردن دراز کرکے تیز ی کے ساتھ ہلا رہا ہے اور پانی کی چھینٹیں اس کے گردن اور یال سے ہوا میں چھٹک رہی ہیں ڈوبنے والا پانی میں ڈبکیاں کھا رہا ہے اور اپنے گرد گھوم رہا ہے اور دریا کی موجیں اسے غرق نہیں کرتیں اسی اثنا میں مرد میداں اور بیچاروں کا دادرس ،قعقاع متوجہ ہوتا ہے ،اپنے گھوڑے کی لگام کو غرقدہ کی طرف موڑلیتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے پاس پہنچاتاہے ،اپنا ہاتھ بڑھا تا ہے اور غرقدہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اور اسے کھینچ کر ساحل تک لے آتا ہے ،غرقدہ قبیلہ بارق سے ہے اور قعقاع کی ماں بھی اسی قبیلہ سے ہے وہ قعقاع کی طرف مخاطب ہوکر کہتا ہے : اے قعقاع بہنیں تم جیسے سورما کو پھر جنم نہیں دے سکتیں ۔

سیف کے ایسے افسانے کڑھنے کا اصلی مقصد شائد یہی ہے کہ : صرف قبیلہ بارق کی عورتیں ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کی عورتیں قعقاع تمیمی جیسا دلاور اور پہلوان جنم دینے سے قاصر ہیں ۔

سیف اپنے افسانہ میں قعقاع کے بھائی عاصم کی شجاعتیں اور دلاوریاں بھی ایک ایک کرکے گنواتاہے کہ وہ اتنے افسروں اور دلاوروں میں پہلا شخص تھا جس نے دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے لئے قدم بڑھایا اور پانی و خشکی میں دشمنوں سے نبرد آزما ئی کی اور سب کو نابود کرکے رکھ دیا اور اگر کوئی بچ بھی نکلا تو وہ اپنی ایک آنکھ کھو چکا تھا اور کس طرح اس دلاور پہلوان نے ساحل پر قبضہ جمایا کہ باقی سپاہی امن و سلامتی کے ساتھ دریا ئے دجلہ کو عبور کرگئے ۔


داستان جراثیم کے نتائج

١۔ سعد وقاص کا ایک خطبہ ،جو عبارتوں کی ترکیب ،نثر نویسی اور خطابہ کے فن کے لحاظ سے ادبی کتابوں کی زینت بنے ۔

٢۔ سعد وقاص کی دعائیں جو دعائوں کی کتابوں میں درج ہو جائیں ۔

٣۔اسلامی جنگوں میں '' یوم جراثیم '' '' زمین کے ٹکڑوں کا دن'' کے نام سے ایک ایسے دن کی تخلیق کرنا جو تاریخ کی کتابوں میں ثبت ہو جائے ۔

٤۔ اسلام کے سپاہیوں کے لئے فضیلت و منقبت کی تخلیق ،جیسے تھکاوٹ دور کرنے کے لئے دریائے دجلہ کی تہہ سے زمین کے ٹکڑے کا جدا ہوکر اوپر اٹھنا اور سپاہ اسلام کے پائوں کے نیچے قرار پاجانا تاکہ وہ فضائل و مناقب کی کتابوں میں ثبت ہو۔

٥۔گزشتہ افسانوں کی تائید وتاکید ،جیسے دوتمیمی بھائیوں کی کمانڈمیں سپاہ کے دو دستے ''اھوال'' اور '' خرسائ'' اور ان دو تمیمی بہادر بھائیوں کے دسیوں بلکہ سیکڑوں فضائل بیان کرنا


عاصم ،سرزمین ایران میں !

قال سیف و کان عاصم من الصحابه

سیف کہتا ہے کہ عاصم ،پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے تھا۔

جندی شاپور کی فتح کی داستان :

طبری ١٧ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے روایت کرتا ہے :

علاء بن خضرمی یمانی بحرین میں تھا ۔سعد وقاص نزاری کا سخت رقیب تھا جب اسے پتا چلا کہ قادسیہ کی جنگ میں سعد کو فتحیابیاں نصیب ہوئی ہیں اور وہ ارتداد کی جنگوں کی نسبت اس جنگ میں بیشتر جنگی غنائم حاصل کرکے شہرت پا چکا ہے ،تو اس نے بھی فیصلہ کیا کہ اپنے طورپر جنوب کی طرف سے ایران پر حملہ کرکے سعد کے نمایاں کارناموں کے مقابلہ میں قابل توجہ کا رنامے انجام دے ۔ لہٰذا اس نے خلیفہ کی اطاعت یا نافرمانی وسرکشی کے موضوع کو اہمیت دئے بغیر جنوب کے سمندری راستے سے ایران پر حملہ کیا ،جب کہ خلیفہ عمر نے پہلے اسے ایسا کام کرنے سے منع کیا تھا۔

اپنے اس بلا منصوبہ حملہ کی وجہ سے علاء اور اس کے سپاہی ایرانی سپاہیوں کے محاصرے میں پھنس گئے ،سرانجام خلیفہ عمر ابن خطاب نے حکم دیا کہ عتبہ بن غزوان اپنے سپاہیوں کے ساتھ علاء اور اس کے سپاہیوں کو نجات دینے کے لئے بصرہ کی جانب سے فوراً روانہ ہو جائے ۔ایران کی طرف عزیمت کرنے والی عتبہ کی فوج کے نامور سرداروں میں عاصم بن عمرو تمیمی بھی تھا ۔

عتبہ ،عاصم اور بصرہ کے سپاہیوں نے علاء اور اس کے سپاہیوں کی مدد کی اور سر انجام دشمنوں کے محاصرہ کو توڑ کر ان پر فتح پانے میں کامیاب ہوئے ۔


طبری نے یہ داستان سیف سے نقل کی ہے اور ابن اثیر نے اسے طبری سے نقل کرتے ہوئے اس کی سند کی روایت کا اشارہ کئے بغیر اپنی تاریخ میں درج کیاہے۔ابن کثیر نے بھی اس داستان کے مطالب کو اس جملہ کے ساتھ کہ :'' طبری نے یہ روایت سیف سے نقل کی ہے'' طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ذکر کیاہے۔

طبری اس داستان کو سیف سے نقل کرنے کے بعد روایت کرتاہے کہ اسلامی فوج نے ایران میں مختلف شہروں کو فتح کیا اور ان کا آخری شہر''جندی شاپور''تھا۔

طبری نے ،''جندی شاپور'' کی فتح کے بارے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے یوں لکھاہے:

انھوں نے ،یعنی عتبہ ،عاصم اور علاء نے ایک دوسرے کے تعاون اور مدد سے شہر کامحاصرہ کیا اور محاصرہ کے دوران ایرانیوں سے نبرد آزمارہے۔ایک دن اچانک اور خلاف توقع مسلمانوں کے لئے قلعہ کے دروازے کھل گئے اور قلعہ کے محافظوں نے مسلمانوں سے کہا:تم لوگوں نے جوامان نامہ ہمارے لئے اپنے ایک تیر کے ہمراہ قلعہ کے اندر پھینکا تھا،ہم نے اسے قبول کیاہے۔مسلمانوں نے ان کی یہ بات آسانی سے قبول نہیں کی اور امان نامہ کو تیر کے ہمراہ قلعہ کے اندر پھینکنے پر یقین نہیں کیا ۔ اس موضوع پر کافی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پرپہنچے کہ مکنف نام کے ایک غلام نے یہ حرکت کی تھی جو حقیقت میں ''جندی شاپور'' کا باشندہ تھا ۔اس نے تیر کے ذریعہ امان نامہ دشمن کے قلعہ کے اندر پھینکا تھا۔اس موضوع کی رپورٹ خلیفہ عمر کی خدمت میں بھیجی گئی تا کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے۔عمر نے ان کے جواب میں مکنف کے اقدام کی تائید اور امان نامہ کو منظور فرمایا۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ:

طبری نے سیف کی بات کی یہیں تک روایت کی ہے اور دوسرے مؤرخین نے اس چیز کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں لکھاہے۔

لیکن حموی ''جندی شاپور''نام کے تحت اس داستان کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں لکھتاہے کہ عاصم بن عمرو نے ''جندی شاپور'' کی فتح کے بارے میں یہ شعر کہے ہیں :

''اپنی جان کی قسم!مکنف نے بہترین صورت میں رشتہ داری کی رعایت کی ہے اور قطع رحم نہیں کیاہے۔اس نے ذلالت ،خواری،رسوائی اور شہروں کے ویران ہونے کے خوف سے انھیں اپنی پناہ میں لے لیا، اور خلیفہ نے بھی غلام کے دئے گئے امان نامہ کو برقرار رکھ کر منظور فرمایاباوجود یکہ ہم ان سے اختلاف رکھتے تھے ۔جن امور کے بارے میں جنگ ہورہی تھی ،انھیں ایک ایسے منصف کو سونپاگیا جو صحیح فیصلہ کرتاہے اور اس حاکم نے بھی کہا کہ امان نامہ کو توڑا نہیں جاسکتاہے''۔

اس کے بعد حموی حسب ذیل صورت میں سلسلہ جاری رکھتاہے :

یہ سیف کا کہنا ہے ،جب کہ بلاذری فتح تستر(شوشتر)کی تشریح کے بعد لکھتاہے :

ابو موسیٰ اشعری نے وہاں سے ''جندی شاپور'' پر حملہ کیا۔لیکن شہر کے باشندوں نے انتہائی خوف کے سبب اس سے امان مانگی،ابوموسیٰ نے بھی موافقت کی اور مان لیا کہ سب باشندے امان میں ہوں گے،کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ اسیر بنائے جائیں گے اور جنگ سے مربوط سازوسامان کے علاوہ کسی چیز پر ہاتھ نہ ڈالا جائے گا.....

یہ وہ مطالب تھے جنھیں حموی نے لفظ ''جندی شاپور'' کے بارے میں اپنی کتاب ''معجم البلدان '' میں درج کیاہے ۔

حمیری نے بھی اپنی کتاب ''روض المعطار '' میں لفظ''جندی شاپور '' کے بارے میں سیف سے نقل کرکے مندرجہ بالا داستان کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں عاصم بن عمرو کے چوتھے شعر کے بعد پانچویں شعر کا حسب ذیل اضافہ کیاہے :

''خدا جانتاہے !''جندی شاپور'' کتنا زیبا ہے !کتنا اچھا ہوا کہ ویران اور مسمار ہونے سے بچ گیا،اتنے شہروں کے تباہ ہونے کے بعد''۔


تحقیق کا نتیجہ:

سیف تنہا شخص ہے جو علاء خضرمی یمانی اور سعد وقاص کے در میان حسد اور رقابت کی خبر دیتاہے اور وقت کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حکم کی علاء کی طرف سے نافرمانی اور اپنے سپاہیوں کے ساتھ محاصرہ میں پھنسنے کی خبر لکھتاہے کہ ہم نے اس کتاب کے آغاز میں ،جہاں پر خاندانی تعصبات کی بات کی ہے ،اس داستان کی طرف اشارہ کرکے اس کا سبب بھی بیان کیاہے ۔

اس کے علاوہ سیف تنہا شخص ہے،جو عاصم بن عمرو کا نام لیتاہے اور اس کی شجاعتیں شمار کراتا ہے اور بعض رجز خوانیوں کو اس سے منسوب کرتاہے ۔

یہ طبری ہے جو سیف کی روایتوں کو رجز خوانیوں اور رزم ناموں کی وضاحت کئے بغیر اپنی کتاب میں نقل کرتا ہے ۔جب کہ حموی نے اسی داستان کو عاصم کے چار اشعار اور اس کے مصدر یعنی سیف کی وضاحت کے ساتھ اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں ثبت کیا ہے ،اور حمیری نے اس داستان کو اس کے مصدر کے بارے میں اشارہ کئے بغیر عاصم کے پانچ اشعار کے ساتھ اپنی کتاب '' روض المعطار'' میں درج کیا ہے ٨

سند داستان کی تحقیق :

افسانوی سورما عاصم بن عمرو کے بارے میں بیان کی گئی سیف کی زیادہ تر احادیث میں راوی کے طور پر محمد اور مہلب کے نام نظر آتے ہیں ۔اس کے بعد بھی اس کے بیانات میں جہاں عاصم کا نام آئے ،یہ دو اشخاص راویوں کے طور پر ملتے رہیں گے ۔اور ہم بھی مکرر کہتے رہیں گے کہ ان دو راویوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ سیف کے جعل کردہ راوی ہیں ۔

سیف ایک بار پھر شوش کی فتح کے بارے میں اپنی روایت کی سند کا یوں ذکر کرتا ہے : ''...اس سے جس نے فتح شوش کی روایت کی ہے ...'' جس نے فتح شوش کی روایت کی ہے وہ کون ہے؟ اور اس کا نام کیا تھا ؟ کچھ معلوم نہیں ہے کہ اس کی تلاش کی جاتی ۔ ٩


داستان کے نتائج:

١۔یمانی قحطانی صحابی کی مذمت و بدگوئی کرنا جو ایک مضری نزاری شخص سے حسد و رقابت کی بناء پر جنگ کے لئے اٹھتا ہے ،مضری خلیفہ سے سرکشی اور اس کے حکم کی نافرمانی جیسی لغزش سے دو چار ہوکر ایک بڑی اور ناقابل بخشش گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور ان دو فاحش غلطیوں کی وجہ سے نزدیک تھا کہ اپنے سپاہیوں سمیت ہلاک ہو جائے ۔

٢۔ کبھی واقع نہ ہوئی جنگوں کی تفصیلات اور تشریح بیان کرنا اور ایسی فتوحات کا سبب صرف افسانوی سورما عاصم بن عمرو تمیمی کا وجود ہوا کرتا تھا۔

٣۔ رزمیہ اشعار بیان کرنا تاکہ ادبیات عرب کے خزانے میں اضافہ ہو ۔

٤۔ سیف کے افسانوی سورما عاصم بن عمر وتمیمی کے درخشان اور قابل تحسین کارناموں کا اظہار۔

فتح سیستان کی داستان

طبری نے سیف بن عمر تمیمی سے نقل کرتے ہوئے ١٧ھ کے حوادث کے ضمن میں اس طرح روایت کی ہے :

خلیفہ عمر ابن خطاب نے ایران کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے فوج کے سات سرداروں کا انتخاب کیا اور ان علاقوں کی فتح کا حکم اور پرچم انھیں دیا ،ان میں سیستان کی فتح کا پرچم عاصم بن عمرو تمیمی کے لئے بھیجا اور اسے اس علاقے کو فتح کرنے پر مامور کیا۔

یہاں پر سیف صراحتاًکہتا ہے کہ : عاصم بن عمرو اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے تھا ۔

طبری ٢٣ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے سیستان کی فتح کے بارے میں یوں روایت کرتا ہے :


عاصم بن عمرو نے سیستان کی طرف عزیمت کی ۔اس علاقے کے مرکز تک پیش قدمی کرنے کے بعد وہاں کے باشندوں سے اس کا سامنا ہو اان کے ساتھ سخت جنگ کرنے کے بعد اس نے انھیں بری طرح شکست دی ۔سیستانی مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے پیچھے ہٹے اور سیستان کے دارالحکومت شہر ''زرنج '' میں پناہ لے لی اور چاروں طرف دیوار کھینچ دی ۔عاصم نے اپنی پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے شہر'' زرنج'' کا محاصرہ کیا اور وہاں کے باشندوں کا قافیہ تنگ کر دیا ۔لوگوں نے جب اپنے اندر عاصم سے لڑنے کی ہمت نہ پائی تو مجبور ہوکر صلح کی تجویز پیش کی ،اس شرط پر کہ عاصم ان کی کاشت کی زمین انھیں واپس کردے ۔عاصم نے یہ تجویز منظور کی اور ان کی زمینیں انھیں واپس کر دیں اس طرح اس نے منطقۂ سیستان ،جو منطقہ خراسان سے بھی وسیع تھا ،کواپنے قبضے میں لے لیا ۔ اس علاقہ کی سرحدیں وسیع و عریض تھیں اور مختلف علاقوں کے لوگوں ،جیسے قندہار ،ترک اور دیگر قوموں کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے کافی جنگ و جدال ہوا کرتی تھی۔

یہ وہ مطالب ہیں جنھیں طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے عاصم بن عمرو کے ذریعہ سیستان کو فتح کرنے کے سلسلے میں ذکر کیا ہے اور تاریخ لکھنے والوں نے طبری کے بعد ،ان ہی مطالب کو اس سے نقل کیاہے ۔

حموی لفظ '' زرنج'' کے بارے میں لکھتا ہے :

...اور سیستان کو خلافت عمر کے زمانے میں عاصم بن عمرو نے فتح کیا ہے اور اس نے اس سلسلے میں اشعار کہے ہیں :

'' زرنج کے بارے میں مجھ سے پوچھو !کیا میں نے زرنج کے باشندوں کو بے سہارا اور پریشان نہیں کیا جب میں ان کے ہاتھ کی ضرب کو اپنے انگوٹھے کی ضرب سے جواب دیتا تھا ؟!''

طبری ٢٩ھ کے حوادث کے ضمن میں روایت کرتا ہے :

وقت کے خلیفہ عثمان بن عفان نے سیستان کی حکومت کسی اور کو سونپی ،اس کے بعد دو بارہ یہ عہد ہ عاصم بن عمرو کو سونپا ۔عثمان نے اپنی خلافت کے چوتھے سال عاصم بن عمر و کو صوبہ کرمان کا گورنر منصوب کیا اور وہ مرتے دم تک اسی عہدہ پر باقی رہا۔

عاصم کے مرنے کے بعد ایران کے علاقے میں شورش و بغاوتیں شروع ہوئیں اور علاقہ میں افرا تفری پھیل گئی ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ:

عاصم کے ذریعہ فتح سیستان اور سیستان و کرمان پراس کی حکومت کے بارے میں طبری نے سیف سے روایت کی ہے اور دوسرے مورخین نے اسے طبری سے نقل کیا ہے ،جب ک بلاذری فتح سیستان کے بارے میں لکھتا ہے:

عبد اللہ بن عامر بن کریز نے ربیع بن زیاد حارثی کو سیستان کی جانب بھیجا ۔ ربیع نے سیستان کے باشندوں سے صلح کی اور دو سال تک سیستان پر حکومت کی ،اس کے بعد عبداللہ بن عامر نے عبدالرحمن بن سمرہ کو سیستا ن کی حکومت کے لئے منصوب کیا اور خلافت عثمان کے زوال تک یہی عبدالرحمن سیستان پر حکومت کرتا رہا ۔ ١٠

تحقیق و موازنہ کا نتیجہ :

سیف تنہا فرد ہے جو ایران کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے خلیفہ عمر کے واضح حکم کی روایت کرتا ہے اور فتح سیستان کے پرچم کو عمر کی طرف سے عاصم بن عمرو کے حوالے کرکے نتیجہ حاصل کرتا ہے کہ یہ عاصم بن عمرو ہی تھا جس نے سیستان کے دارالحکومت زرنج کو وہاں کے باشندوں

سے صلح کرکے اپنے قبضے میں لے لیا اور حموی بھی سیف پر اعتماد کرکے فتح سیستان کے

مطالب کو لفظ ''زرنج'' کے سلسلہ میں اپنی کتاب میں درج کرتاہے ،جب کہ زرنج کا فاتح

ربیع بن زیاد ہے۔

اور سیف تنہا فرد ہے جس نے عاصم بن عمرو کی سیستان پر حکومت اور کرمان کی گورنری کی روایت کی ہے اور عاصم کی وفات کی کرمان میں روایت کی ہے۔


داستان کا نتیجہ:

١۔خلیفہ کی جانب سے عاصم کے لئے حکومت سیستان اور کرمان کا حکم جاری کرکے عاصم بن عمرو کے لئے افتخار کا اضافہ۔

٢۔خراسان سے زیادہ سے وسیع علاقہ پر عاصم بن عمرو کی فتحیابی جتلانا،کیونکہ سیستان وسعت اور مختلف اقوام سے ہمسائیگی نیز فوجی اور سیاسی لحاظ سے بہت اہم تھا۔

٣۔اس بات کی وضاحت اور تاکید کرنا کہ عاصم بن عمرو تمیمی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تھا۔

٤۔عاصم کی تاریخ وفات اور جگہ معین کرنا۔


عمرو بن عاصم

یہاں تک ہم نے سیف کے ان افسانوں کا ایک خلاصہ پیش کیا جو اس نے عمرو تمیمی کے دو بیٹوں قعقاع اور عاصم کے بارے میں تخلیق کئے ہیں ۔مناسب ہے کہ ان دو بھائیوں کے سلسلے کو یہیں پر ختم نہ کیاجائے بلکہ اگلی فصل میں بھی ان دو ''نامور''اور ''بے مثال''بھائیوں میں سے ایک کے بیٹے کے بارے میں سیف کی زبانی روایت سنیں ۔

عاصم کا بیٹا اور اس کا خاندان

ھذا عن القعقاع وعن اخیہ عاصم

یہ ہے سیف کے ان مطالب کا خلاصہ ،جو اس نے قعقاع اور اس کے بھائی عاصم کے بارے میں جھوٹ کے پل باندھ کربیان کئے ہیں ۔

(مؤلف)

عمرو بن عاصم

سیف نے اپنی ذہنی تخلیق ،عاصم کے لئے عمرو نام کا ایک بیٹا بھی خلق کیاہے اور اس کے بارے میں ایک داستان بھی گڑھی ہے۔

عثمان کی خلافت کے زمانے میں گڑھی گئی اپنی داستانوں میں سے ایک کے ضمن میں سیف یوں لکھتاہے:

شہر کوفہ کے چند جوانوں نے رات کے وقت ابن حیسمان کے گھر میں نقب زنی کی وہ ننگی تلوار لے کر ان کے مقابلے میں آیا۔جب اس نے دیکھا کہ نقب زنوں کی تعداد زیادہ ہے،تو اس نے شور مچاتے ہوئے لوگوں سے مدد طلب کی ۔مذکورہ جوان جو آشوب وفتنہ وفساد کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تھے انھوں نے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا:چپ ہوجاؤ!تلوار کا صرف ایک وار تجھے اس وحشتناک شب کے خوف سے آزاد کرنے کے لئے کافی ہے۔اس کے بعد انھوں نے اس کو سخت زدو کوب کرکے قتل کر ڈالا۔


اس کے فریاد اور شور وغل سے جمع ہوئے لوگوں نے فتنہ گر جوانوں کا محاصرہ کرکے انھیں پکڑ کر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دئے ۔اس موضوع کی مکمل روداد خلیفہ عثمان کی خدمت میں بھیجی گئی ۔ عثمان نے ان کے لئے سزائے موت کا حکم صادر کیا۔اس کے بعد انھیں کوفہ کے دار الامارة پر پھانسی پر لٹکادیاگیا۔عمرو بن عاصم تمیمی جو اس ماجرا کا عینی شاہد تھا،یوں کہتاہے:

''اے فتنہ انگیزو!حکومت عثمان میں کبھی اپنے ہمسایوں پر جارحانہ حملہ کرکے انھیں ہلاک کرنے کی کوشش نہ کرنا،کیونکہ عثمان بن عفان وہی ہے جسے تم لوگوں نے آزمایا ہے۔وہ چوروں کو قرآن مجید کے حکم کے مطابق چوری کرنے سے روکتاہے اور ہمیشہ ان کے ہاتھ اور انگلیاں کاٹ کر احکام قرآن نافذ کرتاہے''۔

سیف نے عثمان کے دور حکومت کے لئے بہت سے افسانے تخلیق کئے ہیں اور خاندان مضر کے ان سرداروں کا دفاع کیاہے جو اس زمانے میں بر سر اقتدار تھے۔اور حتی الامکان کوشش کی ہے کہ اس زمانے کی اسلامی شخصیات پر جھوٹے الزامات عائد کرکے انھیں اخلاقی برائیوں ،کم فہمیوں اور برے کاموں سے منسوب کیاہے اور اس کے مقابلے میں صاحب اقتدار افراد کو سادہ دل،پاک،نیک صفات اور نیک کردار ثابت کرنے کی زبردست کوشش کی ہے ۔ہم نے یہاں پراس سلسلہ میں اپنے موضوع سے مربوط کچھ مختصر نمونے پیش کئے ۔ ان تمام مطالب کی تحقیق کرنا اس کتاب میں ممکن نہیں ہے۔صرف یہ مطلب بیان کرنا ضروری ہے کہ مندرجہ بالا داستان سیف کی دیگر داستانوں کی طرح صرف اس کے ذہن کی تخلیق ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔ ١١

داستان کا نتیجہ :

١۔ عثمان کے زمانے میں واقع ہونے والے حوادث سے خاندان مضر کو مبرّا قرار دینا۔

٢۔عاصم کے لئے عمرو نامی ایک بیٹے کا وجود ثابت کرنا تاکہ اس کانام خاندان تمیم کے نیک تابعین کی فہرست میں قرار پائے۔


تاریخ میں عمرو کا خاندان

سیف کی روایتوں کے مطابق عاصم کے باپ،عمرو تمیمی کے گھرانے کے بارے میں ایک اور زاوئے سے مطالعہ کرنا بے فائدہ نہیں ہے :

١۔ قعقاع :سیف قعقاع کی کنیت ،ابن حنظلیہ بتاتاہے ۔اس کے لئے قبیلۂ بارق میں چند ماموں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی بیوی کوہنیدہ بنت عامر ہلالیہ نخع نام دیتاہے اور اصرار کرتاہے کہ وہ صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھا اور اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی ہے۔

قعقاع سقیفہ بنی ساعدہ میں حاضر تھااور وہاں پر واقع ہونے والے حالات کی خبر دیتاہے۔

قعقاع ارتداد کی جنگوں میں کمانڈر کی حیثیت سے شرکت کرتاہے اور عراق کی فتوحات میں خالد بن ولید کے ہمراہ شرکت کرتا ہے ، اس کے ساتھ اسلامی فوج کے سپہ سالارکی مدد کرنے کے لئے شام کی طرف عزیمت کرتاہے اور وہاں سے ایران کی جنگوں مین اسلامی فوج کے سپہ سالار سعد وقاص کی مدد کے لئے ایران عزیمت کرتاہے ۔قادسیہ کی جنگ میں اور اس کے بعد والی جنگوں جیسے :فتوح مدائن ،جلولاء اور حلوان میں شرکت کرتاہے اس کے بعد ابو عبیدہ کی مدد کرنے کے لئے دوبارہ شام جاتاہے اور سرانجام حلوان کے گورنرکے عہدے پر منصوب ہوتاہے۔

قعقاع نے نہاوند کی جنگ ''فتح الفتوح ''میں اور اس کے بعدہمدان وغیرہ کی فتح میں شرکت کی ہے اور عثمان کی حکومت کے زمانے میں عظیم مملکت اسلامیہ کے مشرقی علاقوں ۔جن کا مرکز کوفہ تھا۔ کے وزیر دفاع کے عہدے پر منصوب ہوتاہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ قعقاع فتنہ اور بغاوتوں کے شعلوں کے بجھانے کی کوشش کرتاہے ،حتی خلیفہ عثمان کی جان بچانے کے لئے مدینہ کی طرف روانہ ہوتاہے لیکن اسے یہ توفیق حاصل نہیں ہوتی ہے اور اس کے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی عثمان شورشیوں کے ہاتھوں قتل ہوجاتے ہیں ۔


ہم اسے امام علی ں کی خلافت کے زمانے میں بھی دیکھتے ہیں کہ وہ کوفہ کے لوگوں کو اسلامی فوج سے ملحق ہونے کی ترغیب دیتاہے اور خود امام علی ں اور عائشہ ،طلحہ وزبیر کے درمیان صلح کرانے کے لئے سفیر صلح بن کر نمایاں سرگرمیاں انجام دیتاہے لیکن عبد اللہ ابن سبا اور اس کے چیلوں کی تخریب کاریوں کے نتیجہ میں اس مصلح اعظم کی کوششوں پر پانی پھر جاتاہے اور جنگ جمل شروع ہوجاتی ہے۔قعقاع جنگ جمل میں امام کے پرچم کے تلے شرکت کرتاہے عائشہ کے اونٹ کاکام تمام کرتاہے اور جنگ کے خاتمے پر جمل کے خیرخواہوں کو عام معافی دیتاہے۔

سرانجام یہی قعقاع اتنے درخشا ں کارناموں کے باوجود معاویہ ابن ابوسفیان کی حکومت میں ''عام الجماعہ''کے بعد امام علی ں کی محبت اور ان کی طرفداری کے جرم میں فلسطین کے علاقہ ایلیا میں جلا وطن کیاجاتاہے ۔اور اس کے بعد سیف کے اس افسانوی سورما اور ''تابناک اور بے مثال'' چہرے کاکہیں کوئی سراغ نہیں ملتا۔

٢۔عاصم :سیف نے اپنے افسانوں اور داستانوں میں عاصم کے بارے میں جوکچھ بیان کیاہے اس کا حسب ذیل خلاصہ یوں کیاجاسکتاہے:

عاصم کو جو سیف کے کہنے کے مطابق رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تھا خالد،ارتداد کی جنگوں کے بعد اپنے ہراول دستہ کے سردار کے طور پر عراق کی طرف روانہ کرتاہے اور وہ خالد کی قیادت اور پرچم کے تحت عراق کے شہروں کی فتوحات میں شرکت کرتاہے،اس کے بعد مثنی اور ابو عبیدہ کی سر کردگی میں عراق کی جنگوں کو جاری رکھتاہے۔ان دو نامور سرداروں کے بعد قادسیہ ومدائن کسریٰ کی جنگوں میں سعد وقاص کی قیادت میں شرکت کرتاہے ۔اس کے بعد عتبہ بن غزوان کی سر کردگی میں علاء خضرمی یمانی کی نجات کے لئے ایران کے جنوبی علاقوں کی جنگ میں شرکت کرتاہے اور یہ لوگ ''جندی شاپور ''کوا یک دوسرے کی مدد سے فتح کرتے ہیں ۔اس کے بعد عمر کے زمانے میں ایک فوجی دستی کے کمانڈر کی حیثیت سے سیستان کی فتح کے لئے انتخاب ہوتاہے اور خلیفہ اسے فوج کا علم عطاکرتے ہیں ۔عاصم اپنی ماموریت کی طرف روانہ ہوتاہے ،سیستان کو فتح کرتاہے اور خلافت عمر کے زمانے مین وہاں کی حکومت کو سنبھالتاہے ۔

خلیفہ عثمان بن عفان بھی سیستان میں عاصم کی حکومت کی تائید کرتے ہیں ۔اور صوبہ کرمان کی حکومت بھی اسی کو سونپتے ہیں ۔سر انجام خلیفہ عثمان کی خلافت کے چوتھے سال جب کہ عاصم سیستان اور کرمان پر حکومت کررہاتھا ،وفات پاجاتاہے،اور عمرو کے نام سے اس کاایک بیٹا باقی بچتاہے جو تابعین میں سے ہے اور اپنے چند اشعار کے ذریعہ امت اسلامیہ میں خلافت عثمان کے زمانے میں شورشوں اور بغاوتوں کے وجود کی خبر دیتاہے اور اشرار ومجرمین کے خلاف خلیفہ کے شدید اقدامات کو بیان کرتاہے ۔


عاصم کے بارے میں

سیف کے راویوں کاسلسلہ

وردت اسطور عاصم عند سیف فی نیف واربعین حدیثاً

عاصم کا افسانہ چالیس سے زیادہ روایات میں ذکر ہواہے۔

(مولف)

جن لوگوں سے سیف نے عاصم کا افسانہ نقل کیاہے

سیف نے عاصم کے افسانے کو چالیس سے زائد روایات کے ضمن میں درج ذیل راویوں سے نقل کیاہے :

١۔محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ ٢٨ روایات میں

٢۔زیاد بن سرجس احمری ١٦ روایات میں

٣۔مھلب بن عقبہ اسدی ٩ روایات میں

٤۔نضر بن سری ٣ روایات میں

٥۔ابو سفیان ،طلحہ بن عبد الرحمن ٢ روایات میں

٦۔ حمید بن ابی شجار ١ روایت میں

٧۔ ابن الرفیل

٨۔وہ اپنے باپ سے جب کہ باپ بیٹوں نے ایک ہی صورت میں ایک دوسرے سے روایت کی ہے۔

٩۔ظفر بن دہی

١٠۔عبد الرحمن بن سیاہ


اور یہی راوی ہیں جنھوں نے قعقاع کی روایات نقل کی ہیں اور سیف ان ہی کی زبانی قعقاع کے افسانے بھی بیان کرتا تھا اور ہم نے ثابت کیا کہ ان میں سے ایک راوی بھی حقیقت میں وجود نہیں رکھتا تھا ۔یہ سب کے سب سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں اور اس کے جعلی راویوں میں سے ہیں ۔

درج ذیل نام بھی عاصم کے افسانوں کی روایات میں سے ہر ایک روایت کی سند میں راوی کے طور پر ذکر ہوئے ہیں لیکن قعقاع کے بارے میں سیف کی روایتوں میں ان کا نام نظر نہیں آتا ۔

١١۔حمزة بن علی بن محفز

١٢۔عبداللہ بن مسلم عکلی

١٣ ۔کرب بن ابی کرب عکلی

١٤۔عمیر صائدی

ان کے بارے میں بھی ہم نے اپنی جگہ پر وضاحت کی ہے کہ چونکہ ان ناموں کو ہم نے سیف کے علاوہ کسی بھی روایت میں کہیں نہیں پایا اور راویوں کی فہرست میں بھی ان کے نا م نظر نہیں آتے۔لہٰذا انھیں بھی ہم سیف کے دیگر راویوں کی طرح اس کے اپنے ذہن کی تخلیق محسوب کرتے ہیں اور انشاء اللہ ان کی زندگی کے حالات سیف کے دیگر جعلی راویوں کے ساتھ ایک الگ کتاب میں بیان کریں گے ۔

اس کے علاوہ چند مجہول راویوں کے نام بھی لئے گئے ہیں ،جیسے عطیہ ،بنی بکر سے ایک مرد، بنی اسد سے ایک مرد، ایک مرد سے ،اس سے جس نے فتح شوش کی روایت کی ہے وغیرہ ۔چوں کہ ان کا کامل طور سے ذکر نہیں کیا گیا ہے اور ان کے نام بھی ذکر نہیں کئے گئے ہیں اس لئے ان کی پہچان کرنا ممکن نہیں ہے ۔

اسی طرح بقول سیف جو روایت موسیٰ ابن طریف نے محمد بن قیس سے نقل کی ہے ،اس سلسلے میں علمائے رجال کے ہاں وہ تمام راوی مشخص و معلوم ہیں جن سے موسیٰ ابن طریف نے روایت کی ہے لیکن ان میں محمد بن قیس نام ١٢ کا کوئی راوی موجود نہیں ہے ۔


ایک اور حدیث اس نے مقدام ابن ابی مقدام اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے کرب ابن ابی کرب کے ذریعہ روایت کی ہے ۔علمائے رجال نے شیوخ مقدام کے ضمن میں ان کے باپ اور کرب کا کوئی نام نہیں لیا ہے ۔یعنی کسی روایت میں مقدام نے اپنے باپ یا کرب سے کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ١٣ اور یہ تنہا سیف ہے جس نے اپنی حدیث کے لئے ایسی سندجعل کی ہے اس کے علاوہ سیف بن عمر نے اپنے راویوں کے طور پر بعض دیگر نام لئے ہیں کہ سیف کے سابقہ ریکارڈ کے پیش نظر ہم نہیں چاہتے کہ سیف کے جھوٹ اور افسانوی گناہ ایسے اشخاص کے کندھوں پر ڈالیں ۔

جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ سیف تنہا شخص ہے جس نے ایسی احادیث ان راویوں کی زبانی نقل کی ہیں ۔بے شک سیف ایک جھوٹا اور افسانہ نگار شخص ہے ۔

جن لوگوں نے عاصم کے افسانہ کو سیف سے نقل کیا ہے

ہم نے قعقاع کے افسانہ کو سیف ابن عمر تمیمی کی تقریبا ستّر روایات میں اور اس کے بھائی عاصم کے افسانہ کو سیف کی چالیس سے زاید روایات میں بیان کیا ہے ۔

طبری نے ان دو بھائیوں کے بارے میں احادیث کے ایک بڑے حصے کو سیف سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور اس کے بعد والے مورخین جیسے : ابن اثیر ،ابن کثیر ،ابن خلدون ،ابو الفرج نے اغانی میں اور ابن عبدون نے شرح القصیدہ میں ان ہی مطالب کو طبری سے نقل کیاہے ۔اس کے علاوہ '' اسد الغابہ'' ''استیعاب'' ''التجرید '' اور '' الاصابہ'' جیسی کتاب کے مولفین نے بھی ان مطالب کو براہ راست سیف یا طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

ابن عساکر ،حموی اور حمیری نے ''الجرح والتعدیل '' میں تمام مطالب بلا واسطہ سیف سے نقل کئے ہیں ۔

مذکورہ اور دسیوں دیگر مصادر نے خاندان تمیم کے ناقابل شکست دو افسانوی سورما قعقاع اور عاصم کے بارے میں ان مطالب کو بالواسطہ یا بلاواسطہ سیف ابن عمر تمیمی سے لیا ہے ۔


سیف کی احادیث سے استناد نہ کرنے والے مورخین

مذکورہ مصادر کے مقابلہ میں ایسے مصادر بھی پائے جاتے ہیں ،جنھوں نے فتوحات اور ارتدادکی جنگوں کے بارے میں وضاحت کی ہے یا اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سوانح لکھی ہیں ،لیکن سیف کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے اور سیف کے ان دو جعلی اور افسانوی بھائیوں ،قعقاع اور عاصم کا نام و نشان تک ان کی تحریروں میں نہیں پایا جاتا ۔یہ مصادر حسب ذیل ہیں :

طبقات ابن سعد میں (جس حصہ میں کوفہ جانے والے اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے بعد جو تابعین کوفہ میں ساکن ہوئے ہیں ،کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے )نہ ا ن دو تمیمی بھائیوں کا کہیں نام ملتاہے اور نہ عمرو ابن عاصم کو تابعین میں شمار کیا گیا ہے اور نہ اس کتاب کے دیگر حصوں میں ان کا کوئی ذکر ہے ۔

اس کے علاوہ بلاذری کی کتاب ''فتوح البلدان ''اور شیخ مفید کی کتاب ''جمل ''میں بھی سیف کے جعل کردہ ان دو تمیمی بھائیوں کا کسی صورت میں کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب طبری اور ابن عساکر نے باوجود اس کے کہ ''فتوح ''اور ''ارتداد''کے سلسلہ میں ان دو افسانوی بھائیوں کے بارے میں بہت سارے مطالب سیف بن عمر تمیمی سے نقل کئے ہیں ، لیکن حسب ذیل راویوں :

١۔ابن شہاب زہری وفات ١٢٤ ھ

٢ ۔موسی بن عقبہ وفات ١٤١ ھ

٣۔محمد بن اسحاق وفات ١٥٢ ھ

٤۔ابو مخنف لوط بن یحییٰ وفات ١٥٧ ھ

٥۔محمد بن سائب کلبی وفات ١٤٦ ھ

٦۔ھشام بن محمد بن سائب وفات ٢٠٦ ھ

٧۔محمد بن عمر الواقدی وفات ٢٠٧ ھ

اور


٨۔زبیر بن بکار وفات ٢٥٧ ھ

نیزان کے علاوہ دسیوں دیگر راویوں سے بھی مطالب نقل کرکے اپنی کتابوں میں ثبت کئے ہیں ۔ ان احادیث میں سے کسی ایک میں بھی ان دوتمیمی افسانوی سور مائو ں ،قعقاع اور عاصم کے نام نہیں پائے جاتے ۔

ابن عساکر نے بھی اپنی تاریخ کے پہلے حصہ میں خالد بن ولید کے یمامہ سے عراق اور عراق سے شام اور فتوح شام کی طرف عزیمت کے بارے میں ساٹھ روایات میں مذکورہ بالا راویوں سے نقل کیا ہے اور انھوں نے بھی ان ہی واقعات کو نقل کیا ہے ،جس کی تشریح سیف نے کی ہے ۔لیکن ان دو افسانوی تمیمی سور مائوں کا کسی ایک حدیث میں ذکر نہیں پایا جاتا اور ان کی شجاعتوں اور حیرت انگیز کارناموں کا کہیں اشارہ تک نہیں ملتا ۔

طبری نے بھی فتوح اور ارتداد کی جنگوں میں ١٣ ھسے ٣٢ ھکے حوادث اور واقعات کے ضمن میں پچاس سے زیادہ روایات مذکورہ طریقہ سے ان ہی راویوں سے بیان کی ہیں جن کے بارے میں اوپر اشارہ ہوا ۔اس کے علاوہ خلافت عثمان کے زمانے کے حوادث و واقعات کو بھی پچاس سے زیادہ روایات اور جنگ جمل کے بارے میں انتالیس روایات مذکورہ راویوں سے نقل کی ہیں اور ان ہی حوادث و واقعات کی تشریح کی ہے جن کی سیف نے وضاحت کرتے ہوئے خاندان تمیم کے دو افسانوی بہادر بھائیوں کا ذکر کیا ہے ،لیکن ان میں سے ایک روایت میں بھی ان دو بھائیوں کا کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا ،ان کے حیرت انگیز کارناموں کا تذکرہ تو دور کی بات ہے ۔

اس کے علاوہ کتاب انساب میں بھی ان دو تمیمی بھائیوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا اور اس کتاب میں سیف ابن عمرتمیمی زندیق ،جھوٹے اور افسانہ ساز کی باتوں کو کسی قدر و منزلت کی نگاہ سے بھی نہیں دیکھا گیا ہے ۔

یہ تھے سیف کے خیالی اور جعلی صحابیوں کے دو نمونے جنھیں اس نے اپنی خیالی قدرت سے خلق کرکے اپنے خاندان تمیم کے سور مائوں کے عنوان سے پہچنوایا ہے ۔انشاء اللہ ہم اس کے دیگر جعلی اصحاب کے بارے میں اس کتاب کی اگلی جلدوں میں بحث و تحقیق کریں گے ۔

واللّٰه ولی التوفیق


فہرستیں :

٭ کتاب کے اسناد

٭ اس کتاب میں مذکور شخصیتوں کے نام

٭ اس کتاب میں مذکور قبیلوں کے نام

٭ اس کتاب میں مذکور مقامات کے نام

٭ اس کتاب میں ذکر شدہ سیف کے افسانوی دنوں کے نام


کتاب کے اسناد

مباحث کے حوالے :

١۔ ''عبد اللہ بن سبا'' ،''سیف بن عمر'' کے حالات سے مربوط فصل۔

٢۔''تاریخ طبری'' ،طبع یورپ ٢٦٨١١ وطبع مصر ٢٦٣٤

زندیق وزندیقان :

١۔ ''مروج الذہب'' حاشیہ ''ابن اثیر'' میں ٨٤٢و ١١٦ عبارتوں میں تغیر کے ساتھ۔

٢۔ Browne, vo ٭ ,۱,P,۱۶۰

٣۔''دائرة المعارف الاسلامیة'' انگریزی ١ ٤٤٥

٤۔ ''الطبری'' طبع یورپ ٣ ٥٨٨ موسیٰ عباسی کے زمانے کے حوادث میں اور '' ابن اثیر ''میں ۔

٥۔ ''الطبری'' ،طبع یورپ ٣ ٥٤٩۔٥٥١اور طبع مصر ١٤١٠ ١٦٩ھ کے حوادث میں اور ''ابن اثیر'' ٢٩٦۔

٦۔ ''الطبری'' ،طبع یورپ ٤٩٩٣

٧۔ ''الطبری'' طبع یورپ ٣ ٥٢٢

٨۔''مروج الذہب'' ،''ابن اثیر'' کے حاشیہ میں ٧٩۔٩ مأمون کے مختصر حالات کے بیان میں ۔

مانی اور اس کا دین :

٩۔ ''مانی و دین او'' ٥و٦

١٠۔''الفہرست'' ٤٥٨ اور ''مانی ودین او '' ٧و ٢٩۔٣٧۔


مانی کا دین

١١۔ ''مانی ودین او'' عبد الکریم شہرستانی سے منقول مانیوں کے ایک سردار ابن سعید کے بقول

١٢۔'' الفہرست'' ٤٥٦۔٤٦٤ اور '' مانی ودین او'' ٢٧۔٥٤۔

انبیاء کے بارے میں مانی کانظریہ :

١٣۔ '' الفہرست'' ٤٥٧ اور '' مانی ودین او'' ٥٧و ٥٨

١٤۔'' مانی ودین او'' ٢٢۔

مانی کی شریعت:

١٥۔'' الفہرست'' ٤٦٥ و٤٦٦ اور '' مانی ودین او'' ٤٩۔٥٤

مانی اور اس کے دین کاخاتمہ:

١٦ ۔'' مانی ودین او''١۔١٦و٥٨

١٧۔'' مانی ودین او'' ١٨۔٢٠

١٨۔'' الفہرست'' ٤٧٢،'' الاغانی ''١٣١٦،'' ابن اثیر ''طبع یورپ ٣٢٩٥

١٩۔'' الفہرست''٤٧٢

مانیوں کی سرگرمیاں :

٢٠۔'' الفہرست'' ٤٧١۔٤٧٤اور '' مروج الذہب''زمانہ قاہر عباسی کے حوادث کے بیان میں ۔


عبد اللہ بن مقفّع:

٢١۔'' ابن خلکان'' ٤١٣١

عبد الکریم ابن ابی العوجائ:

٢٢۔ '' طبری'' اور '' ابن اثیر'' میں ١٥٥ھ کے حوادث کے ضمن میں آیاہے وہ کہ معن بن زائدہ کا ماموں تھا۔صاحب '' لسان المیزان '' نے اس کے حالات کے بارے میں ٥٢٤ اور صالح کی شرح حالات میں ١٧٣٣ میں لکھاہے کہ وہ پہلے بصرہ میں زندگی بسر کرتاتھا۔

٢٣۔ '' بحار الانوار '' ١١٢ '' احتجاج'' سے نقل کرتے ہوئے کہ یہاں پر مختصر بیان ہواہے ۔

٢٤۔ '' بحار الانوار'' ٣ ١٩٩ اور ١٤١٤۔

٢٥۔ '' بحار الانوار'' ١٤٢۔١٥ ایک مفصل روایت نقل کی گئی ہے کہ اس میں '' عالم '' سے مقصود حضرت امام صادق ـ ہیں ۔

٢٦۔'' بحار الانوار ''١٣٧١١

٢٧۔'' بحار الانوار ''١٨٤ توحید کے موضوع پر ایک مفصل حدیث ہے جسے حضرت امام صادق ـ نے تین دن کے اندر مفضل بن عمر کو املاء فرمایاہے۔

٢٨۔'' لسان المیزان''٥٢٤۔

٢٩۔'' طبری ''طبع یورپ ٣٧٦٣،'' ابن اثیر''٣٦،'' ابن کثیر''١١٣١٠، '' میزان الاعتدال''ذہبی طبع دار الکتب العربیہ تحقیق علی محمد البجادی ٦٤٤٢،'' لسان المیزان ''نے اسی کے حالات تفصیل سے ذکر کئے ہیں ۔


مطیع بن ایاس:

٣٠۔'' اغانی'' ٩٩١٢

٣١۔'' اغانی'' ٨٦١٢

٣٢۔'' اغانی'' ٨١١٢

٣٣۔'' اغانی'' ٨١١٢

٣٤۔'' اغانی'' ٩٩١٢۔١٠١

٣٥۔'' اغانی'' ٩٤١٢

٣٦۔'' اغانی'' ١٠٠١٢

٣٧۔'' اغانی'' ٩٦١٢

٣٨۔'' اغانی'' ٨٦١٢

٣٩۔'' اغانی'' ٨٧١٢ و ''الدیارات''شابشتی ١٦٠۔١٦٢

٤٠۔'' اغانی'' ٨٧١٢

٤١۔'' اغانی'' ١٠٥١٢

٤٢۔'' اغانی'' ٨٥١٢

٤٣۔''تاریخ بغداد'' خطیب ٢٢٥١٣

٤٤۔''اغانی'' ٩٦١٢

٤٥۔''اغانی' ٩٨١٢

٤٦۔''الفہرست'' ٤٦٧و٤٦٨

٤٧۔فصل شریعت مانی۔اسی کتاب میں

٤٨۔''اغانی'' ٨٥١٢

٤٩۔''تہذیب''ابن عساکر ١١٢۔١٢ اور ''الموضوعات'' ابن جوزی ٣٨١


نزاریوں اور یمانیوں کے درمیان خاندانی تعصبات :

١۔ ''طبری '' ١٥٢٦١،''اغالی'' ١٢٤، از زہری و ۔ل۔م (بیض)

٢۔'' امتاع الاسماع'' مقریزی ٢١٠۔٢١٢ ،اوردیوان حسان

٣۔''طبری ''سقیفہ کی داستان میں ١٨٣٨١و ١٩٤٩

٤۔کتاب '' سقیفہ '' کا قلمی نسخہ از مولف جس میں اس واقعہ کے مفصل اسناد پیش کئے گئے ہیں

٥۔ '' التنبیہ والاشراف '' مسعودی طبع ١٣٥٧ھ،دارالصاوی مصر ٩٤۔٩٥

٦۔ مذکورہ سند ٢٨٠۔٢٨١

٧۔ '' طبری '' ١٧٨١٢قصیدہ کے الفاظ میں تھوڑے فرق کے ساتھ ،مسعوی سے منقول ''ابن اثیر '' ١٠٤٥

٨۔'' مروج الذہب '' ''ابن اثیر'' کے حاشیہ میں ١٨٠٧و١٨١

نزاریوں کی حمایت میں سیف کا تعصب:

٩۔ قعقاع ،ابی بجید و ابی مفز ز،سیف کے افسانوں کے سورمائوں کی روئیداد اسی کتا ب کی اگلی فصلوں میں

١٠۔ '' طبری '' طبع یورپ ٣٢٦٤١۔ ٣٢٦٥ اور طبع مصر ١٤٤٤،داستان جنگ قادسیہ ١٤ھ میں '' ابن کثیر '' ٤٧٧

١١۔'' عبداللہ ابن سبا '' طبع دارالکتب بیروت ٧٧ ( سقیفہ کے بارے میں سیف کی ساتویں حدیث )اور ١٢٤ ( خالد بن سعید اموی کے بارے میں )

١٢۔ابو موسیٰ کی معزولی کے بارے میں سیف کی روایت کا ''طبری '' ٢٨٩٩١ اور اسی کتاب میں دوسروں کی روایت سے ٢٨٢٨١۔٢٨٣١ میں اور '' استیعاب'' میں شبل کے حالات میں موازنہ کیا جا سکتا ہے ۔


سیف سے روایت نقل کرنے والی کتابیں :

١۔ روئیداد '' عبید بن صخر بن لوذان'' اسی کتاب '' ١٥٠جعلی اصحاب '' کے طبع اول میں

٢۔'' اسد الغابہ '' ۔'' الاصابہ'' اور سیوطی کی ''اللئالی المصنوعہ''کے باب مناقب سائر الصحابہ ٤٢٧۔٤٢٨ ،میں عاصم کے بیٹے قریمہ و عدس کی روئیداد۔

٣۔'' عبیدبن صخر '' کی روئیداد ،اسی کتاب کی پہلی طبع میں اور ''الاصابة '' میں قعقاع کے حالات کی وضاحت ۔

٤۔''اسد الغابہ''اور ''الاصابہ '' میں ''منجاب بن راشد'' اور کبیس بن ہوذہ'' کے حالات

٥۔'' الاصابہ ''میں '' کبیس بن ہوذہ'' کے حالات

٦۔ ''اسد الغابہ'' میں '' کبیس بن ہوذہ ''کے حالات۔

٧۔ ''قعقاع '' کے حالات اسی کتاب '' جعلی اصحاب'' میں ۔

٨۔ اسی کتاب میں '' عبید بن صخر بن لوذان'' کے حالات ۔

٩۔ '' الاصابہ '' اور اسی کتاب میں ''اط''اور ''عبد بن فدکی'' کے حالات زندگی ۔

١٠۔'' اسد الغابہ'' میں ''حارث بن حکیم ضبی'' اور ''عبد اللہ بن حکیم '' کے حالات۔

١١۔'' اسد الغابہ'' اور اسی کتاب میں '' قعقاع '' کے حالات۔

١٢۔''التجرید ''میں ''قعقاع''اور'' عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبان''کے حالات۔

١٣۔اسی کتاب کی (١٥٠ جعلی اصحا۲) تمام داستانیں ۔

١٤۔''اسد الغابہ ''اور ''الاصابہ'' میں ''عبد اللہ بن المعتم ''کی داستان۔

١٥۔''اسد الغابہ ''اور ''الاصابہ'' میں ''عبد اللہ بن عتبان ''کے حالات۔

١٦۔کتاب ''تاریخ جرجان''٤۔٢٧٨ فاتحین شہر گرگان کے باب میں ۔

١٧۔ابو نعیم کی ''تاریخ اصبہان'' اصفہان جانے والے اصحاب کی روئیداد کی فصل میں ۔

١٨۔''تاریخ بغداد''''عتبہ بن غزوان''کے حالات ١٥٥١ اور بشیر بن الخصاصیہ کے حالات ١٩٥١۔

١٩۔'' تاریخ دمشق''کتب خانہ ظاہریہ دمشق میں موجود قلمی نسخہ میں '' قعقاع''کی روئیداد۔


٢٠۔'' التہذیب''میں '' قعقاع''کے حالات ۔

٢١۔'' الاصابہ''اور اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحا۲) میں '' نافع الاسود''اور '' عبداللہ بن المنذر''کے حالات۔

٢٢۔'' الاصابہ''اور اسی کتاب کا آخری شخص '' عبد اللہ بن صفوان''اور '' اسود بن قطبہ''کی زندگی کے حالات۔

٢٣۔اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحا۲)طبع اول میں '' خزیمہ غیر ذی الشہادتین''کی روئیداد

٢٤۔دارالکتب مصر میں موجود '' الاکمال''کے قلمی نسخہ ج١،ورق ١١١(۲) ٤٠(۲) '' جاریہ ابن عبد اللہ ''اور'' ابی بجید''کے حالات۔

٢٥۔'' الاصابہ ''میں '' حزیمة بن عاصم''کے حالات اور اسی کتاب میں '' عمرو بن الخفاجی '' کی روئیداد۔

٢٦۔'' اسد الغابہ''میں '' عدس بن عاصم ''کے حالات ۔

٢٧۔'' جمہرة انساب العرب''١٩٩ اور اسی کتاب میں '' حارث بن ابی ھالہ ''کی زندگی کے حالات۔

٢٨اور ٣٠۔'' الانساب''میں '' الاقفانی ''کی زندگی کے حالات اور اسی کتاب میں '' حرملہ '' کے حالات۔

٢٩۔ابن قدامہ مقدسی کی '' الاستبصار''٣٣٨۔

٣١۔'' الجرح والتعدیل''طبع حیدر آباد ١٣٧١ھ میں '' قعقاع''اور '' زبیر بن ابی ھالہ''کے حالات ۔

٣٢۔'' میزان الاعتدال''میں '' عمرو بن ریان ''٢٦٠٣ اور '' مبشر بن فضیل ''٤٣٤٣ کے حالات۔

٣٣۔'' لسان المیزان ''میں ١٢٢٣ '' سہل بن یوسف''،'' عمرو بن ریان''٣٤٦٤ اور '' مبشر بن فضیل''١٣٥ کے حالات۔

٣٤۔ابن فقیہ کی کتاب '' مختصر البلدان''١٣٩۔

٣٥۔٣٦۔٣٧۔کتاب '' عبد اللہ بن سبا''فصل '' شہر ہای جعلی سیف''۔

٣٨۔اسی کتاب (١٥٠جعلی اصحا۲)میں '' 'عاصم 'اور'' قعقاع''کے حالات ۔

٣٩و٤١۔اسی کتاب کے مقدماتی بحثوں کی ابتدائی بحث۔

٤٠۔'' نضربن مزاحم ''کی کتاب '' صفین ''٥۔٦۔٩۔١٠۔٥٣٣.

٤٢۔کتاب'' عبد اللہ بن سبا''فصل'' افسانہ سبا کی پیدائش کی بنیاد ''۔

٤٣۔'' ابن خیاط''کی '' تاریخ خلیفہ''طبع اول نجف١٣٨٦ھ ١٠٧۔١٠٨.


٤٤۔'' فتوح البلدان ''طبع ١٩٥٨ھ دارالنشر للجامعین بیروت ٣٥٤و٤٣١

٤٥۔٤٩۔(اسی فہرست کا) مأخذ نمبر ٤٢۔

٥٠۔سیوطی کی '' تاریخ الخلفائ''٩٧۔

٥١۔٥٢۔٥٤۔٥٦۔٦٠۔٦١۔اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحاب )کی فصل '' لیلة الھریر''میں '' قعقاع ''کی سوانح ۔

٥٣۔٦٣۔اسی کتاب میں '' زبیر بن ابی ہالہ''کی زندگی کے حالات۔

٥٥۔اسی کتاب کی فصل '' یوم الجراثیم ''میں '' عاصم ''کے حالات۔

٥٧۔'' الخاقانی''کی تحقیق '' نہایة الارب''طبع بغداد ١٣٧٨ھ ٤٢٥۔

٥٨۔'' اغانی''٥٥١٥و٥٦۔

٥٩۔ابن بدرون کی '' شرح قصیدہ ''طبع سعادہ ،قاہرہ ١٣٤٠ھ ١٤٢و١٤٤۔

٦٢۔'' ترمذی ''طبع دار الصاوی،مصر ١٣٥٢ھ ٢٤٥١٣ اور '' ذہبی''کی '' میزان الاعتدال '' ٢ ٢٥٦میں '' سیف''کے حالات ۔

٦٤۔ابن'' حجر''کی '' فتح الباری''٥٨٨۔

٦٥۔'' کنزالعمال''٣٢٣١١اور ٦٩١٥و٢٣٣۔

٦٦۔'' عقیلی''میں '' عمروبن ریان''کے حالات۔

٦٧۔ابن '' جوزی''کی '' الموضوعات''۔

٦٨۔'' اللئالی المصنوعہ''باب '' مناقب سائر الصحابة''٤٢٧و ٤٢٨۔


روایات سیف کی اشاعت کے اسباب:

١۔''عبد اللہ بن سبا''طبع بیروت ١٥٩۔١٦٣

٢۔'' ذہبی''کی '' النبلائ''١٩٢ اور '' طبقات ابن سعد''٣٦٢٤

٣۔'' عبد اللہ ابن سبا''طبع قاہرہ ١٥٢ فصل '' حوادث وواقعات کے سال میں تحریف''

٤۔'' طبری''٢٢٢٢١و٢٩٤٤و٣١٦٣ از عبد الرحمن بن ملجم

٥۔'' طبری''٢٧٠٢١

٦۔'' عبد اللہ ابن سبا''طبع بیروت ،فصل '' سیف کی زندگی کے حالات ''سیف کے بارے میں علماء کے نظریات

قعقاع بن عمرو

١۔ یہاں پرہم نے کتاب ''الاستیعاب'' طبع حیدر آباد ١٣٣٦ھ پر اعتماد کیاہے۔

٢۔'' ظاہریہ ''لائبریری دمشق کاقلمی نسخہ جس کی فوٹو کاپی ہمارے پاس موجود ہے۔

٣۔ استاد ابراہیم واعظ کی '' خریجو مدرسہ محمد''

٤۔مجلہ'' المسلمون ''شمارہ ٤و٥سال ہفتم اور محمود شیت خطاب کی '' قادة الفتوح''

اس کاشجرۂ نسب :

١۔ '' طبری ''طبع یورپ ١٩٢٠١ اس سند کے ساتھ :''عن سیف عن الصعب بن عطیہ بن بلال عن ابیہ''

٢۔'' طبری ''٣١٥٦١و٣١٥٨تا ٣١٦٤ اس سند کے ساتھ '' عن سیف عن محمد وطلحہ باسنادھا''

٣۔'' طبری ''٢٤٣٧١ اس سند کے ساتھ:'' عن سیف عن ابی عمرو دثار عن ابی عثمان النھدی''

٤۔ '' طبری''٢٣٦٣١ اس سند کے ساتھ:'' عن سیف عن محمد والمھلب و الطلحہ قالوا''


قعقاع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی:

١۔ '' طبری''٣١٥٦١ اور '' تاریخ ابن عساکر ''سیف سے نقل '' قعقاع''کے حالات میں ۔

٢۔'' الاصابہ''٢٣٠٣ میں '' قعقاع''کے حالات کی تشریح ۔

قعقاع سے منقول ایک حدیث:

١۔ ابن حجر کی '' الاصابہ ''اور الرازی کی '' الجرح والتعدیل''١٣٦٢٣ میں '' قعقاع''کے حالات میں ۔

سند کی تحقیقات:

١۔سیف کی روایتیں '' صعب''سے'' تاریخ طبری''١٩٦٢١ میں ،'' سہم بن منجاب ''اور '' صعب''نیز اس کے باپ سے ١٩٠٨١و١٩٢١و٣١٩٥،اور ٣٢٠٦۔٣٢١٠میں چار روایتیں ہیں ۔اور ''اسد الغابہ ''١٣٨٣و ١٤٥و١٦٧ اور '' الاصابہ ''٣٠٦ میں آئی ہیں اور '' الاستیعاب''میں عبد اللہ بن حارث کے حالات میں اس کی سند بھی روایت ہوئی ہے اور محمد بن عبد اللہ سے سیف کی روایتیں '' طبری''٢٠٢٥١۔٣٢٥٥ میں ١٢ تا ٣٦ ھ کے حوادث کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں ۔اور '' مھلب بن عقبہ ''سے سیف کی روایتیں '' طبری ''٢٠٢٣١۔٢٧١٠ میں ٢ ١ ھ سے ٢٣ھ کے حوادث کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں ۔

ابوبکر کے زمانہ میں :

١۔ اس روایت کو '' طبری''طبع یورپ ١٨٩٩١ نے '' السری ''سے'' سیف ''سے '' سہل ''اور '' عبد اللہ ''سے نقل کیاہے اور ابوالفرج اصفہانی نے '' الاغانی ''٥٥١٥ طبع ساسی میں طبری سے روایت کرکے لکھاہے:روایت کی ہے ہم سے '' محمد بن جریر طبری''نے '' السری''سے اور اس نے '' شعیب ''سے اور اس نے '' سیف بن عمر''سے اور '' ابن حجر''نے اسے '' علقمہ ''کے حالات میں '' الاصابہ'' ٤٩٧٢ نمبر ٥٦٧٧میں بیان کرتے ہوئے لکھاہے: '' سیف نے فتوح میں یوں کہاہے''اور ابن '' اثیر''نے '' الکامل''١٣٣ میں اسے مختصر طور پر ذکر کیاہے۔

٢۔''ابوالفرج اصفہانی'' نے '' الاغانی '' ٥٥١٥میں '' عامر '' کے حالات میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہتا ہے : '' مدائنی '' نے اس طرح نقل کیا ہے ۔


سند کی پڑتال:

١۔''طبری '' ١٨٤٤١ ۔٣١٢٠میں ''سہل ''سے ''سیف'' کی رواتیں ١١ھ سے ٣٦ھ تک کے حوادث کے ضمن میں نقل ہوئی ہیں اور تاریخ طبری ١٧٥٠١۔٣٠٩٥ میں عبداللہ سے نقل کی گئی سیف کی روایتیں سنہ ١٠،١١،١٣،١٦،١٧،٣٥،اور٣٧ہجری کے حوادث کے ضمن میں پراکندہ صورت میں پائی جاتی ہیں ۔

قعقاععراق کی جنگ میں :

١۔''طبری '' ٢٠١٦١ و ٢٠٢٠تا ٢٠٢٦ ، '' ابن اثیر '' ١٤٨٢۔ ١٤٩، '' ابن خلدون '' ٢٩٥٢ و٢٩٦ ،'' تاریخ الاسلام الکبیر '' ذہبی ٣٧٤١،اور '' ابن کثیر '' ٣٤٢٦

٢۔''طبری '' ٢٣٧٧١۔ ٢٣٨٩

سند کی پڑتال:

١۔ ''طبری '' ٢٠٢٤١و٢٠٧٦و٣١٥١،اور روایت عبدالرحمن ٢٠٢١١۔٢١١٠،اور حنظلہ ٢٠٢٥۔٢٠٢٦ ۔زیاد بن حنظلہ کی روئیداد بعد میں بیان ہوگی۔

قعقاعحیرہ کی جنگوں میں :

١۔''طبری '' ٢٠٢٦١۔ ٢٠٣٦،'' ابن اثیر '' ١٤٨٢۔١٤٩،ابن کثیر ٣٤٤٦۔٣٤٦، اور'' ابن خلدون'' ٢٩٧٢۔٢٩٨

٢۔''طبری '' ٢٠٤٦١۔٢٠٤٧

٣۔ بلاذری '' فتوح البلدان'' ٣٥٣و٤٧٨ میں ۔

٤۔بلاذری '' فتوح البلدان''٣٣٩و٣٤٢۔

٥۔'' ابن درید '' کی '' الاشتقاق'' اور '' ابن حزم '' کی '' الجمہرہ '' ٢٩٥۔


سند کی جانچ و پڑتال:

١۔ ''طبری '' ٢٠٢٦١و٢٤٩٥میں '' زیاد بن سرجس'' سے ''سیف '' کی روایت ١٢سے١٧ھ تک کے حوادث کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں اور '' ابو عثمان النھدی عبدالرحمن بن مل ،'' طبری ٢٤٨١٣ و ٢٥٤٧ میں اور '' ابو عثمان یزید بن اسید '' سیف کے جعلی صحابی ہیں ۔فہرست طبری ٣٧٨ ۔کہ یہ لوگ ''محمد بن طلحہ '' کے ہمراہ تین افراد ہوتے ہیں ،فہرست طبری ٥١٦ میں ذکر ہوئے ہیں ۔

قعقاعحیرہ کے حوادث کے بعد :

١۔ ''طبری '' ٢٠٤٩١و٢٠٥٥،'' ابن اثیر '' ١٥٠٢،'' ابن کثیر ٣٤٨٦۔ابن خلدون ٢٩٩٢ حیدرآبادی '' مجموعة الوثائق السیاسیہ '' مکتوبات نمبر ٢٩٣و ٣٠١ اور ٣٤٠ میں ۔

٢۔ ''طبری '' ٢٠١٦١و٢٠١٨میں کلبی سے اور '' ابی مخنف '' سے اور '' ابن اسحاق '' سے اور بلاذری نے فتوح البلدان ٣٤٢ اور معجم البلدان میں '' بانقیائ'' کے حالات میں ۔

سند کی پڑتال:

١۔روایت غصن '' طبری''١٩٧٧١۔٢٩٨٠میں سنہ ١١و١٢و١٤و٢٢و٣٠و٣٤ ہجری کے حوادث کے ضمن میں اور ابن مکنف سے ٢٠٥٠١ میں اور بنی کنانہ کے ایک مرد سے ٢٠٣٩١۔٢٨٩٠ میں سنہ ١٢۔٣٢ ہجری کے حوادث کے ضمن میں ۔

حدیث المصینح کی سند:

١۔ '' طبری''٢٠٧٤١ میں '' بنی سعد سے ایک مرد''نقل ہواہے۔


خالد کی شام کی شام کی جانب روانگی کی داستان:

١۔ '' ابن عساکر''٤٤٧١ اور ٤٤٦ میں مختصر طور سے ذکر ہے۔

٢۔ '' طبری''٢٠٧٠١ اور ٢٠٧٦ اور ٢٠٨٥۔

٣۔ '' ابن عساکر''٤٦٤١۔

٤۔ عراق میں خالد کی فتوحات کے بارے میں جو نقل ہواہے: '' طبری''٢٠٢٠١ ۔٢٠٧٧ '' ابن اثیر''١٤٧٢۔١٥٣، '' ابن کثیر''٦ ٣٤٢۔٣٥٢، '' ابن خلدون''٢٩٥٢۔٣٠٣، '' بلاذری''، '' فتوح البلدان''کے باب '' فتوح السواد میں ''٣٣٧۔٣٥٠ اور دینوری کے'' اخبار الطوال''١١١۔١١٢

٥۔مؤرخین کے روایات میں اختلافات کو '' ابن عساکر''نے ٤٤٧١ ۔٤٧٠،طبری نے ٢١١٠١۔٢١٢٧اور ابن اثیر نے ٣١٢٢۔٤میں ذکر کیاہے۔

سند کی پڑتال:

١۔'' طبری''٢١١٣١۔٢٤٦٠میں '' عبید اللہ بن محفز''سنہ ١٣اور ١٦ہجری کے حوادث کے ضمن میں آیاہے اور '' ابن عساکر ''٤٦٦١میں '' عبد اللہ''اور وہ جس نے اس کے لئے '' بکر بن وائل ''سے روایت نقل کی ہے '' طبری''٢١١٣١اور ابن عساکر ٤٦٦١۔

شام کی جنگوں میں :

١۔ '' طبری ''٢٠٩٣١۔٢٠٩٧،ابن عساکر ٥٤١اور قعقاع کے حالات میں نیز ابن کثیر ٧٧۔١٦ ،داستان یرموک ابن اثیر وابن خلدون اور فتوح البلدان ١٥٧و١٨٤ اور ''عبد اللہ ابن سبا'' کی فصل ''حوادث کے سنوں میں سیف کی تحریف''ملاحظہ فرمائیے۔

سند کی تحقیق:

١۔ روایت '' ابو عثمان یزید'''' طبری ''٢٠٨٤١۔٢٥٨٦ سنہ ١٣ اور ١٨ ہجری کے حوادث کے ضمن میں اور تاریخ ابن عساکر ٤٨٤١۔٥٤٦ میں آئی ہے ۔


فتح دمشق:

١۔طبری ٢١٥٠١۔٢١٥٦،ابن عساکر ٥١٥١۔٥١٨،اور قعقاع کے حالات میں سیف کے اشعار نقل ہوئے ہیں ،فتوح البلدان ١٦٥،ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون نے انھیں طبری سے نقل کیاہے۔

سند کی تحقیق:

١۔ '' طبری''٢٠٨٤١۔٢٨٢٢میں سنہ ١٣۔١٨ ہجری کے حوادث کے ضمن میں اور تاریخ ابن عساکر ٤٨٤١۔٥٤٥میں '' خالد''و'' عبادہ''سے سیف کی روایتیں ۔

فحل کی جنگ:

١۔ طبری ٥٩٤۔٦٠،ابن عساکر ٤٨٥١۔٤٨٨و٥٣٥اور '' فتوح البلدان''بلاذری ١٥٨

٢۔طبری ٢١٥٤١ سنہ ١٣ ہجری کے حوادث کے ضمن میں وطبع مصر ١٢٠٤،تاریخ ابن عساکر ٥١٧١،ابن کثیر ٢٥٧اور کتاب عبد اللہ ابن سبا کی فصل '' حوادث کے سالوں میں تحریف''کے ذیل میں ۔

عراق میں دوبارہ جنگیں ۔قادسیہ:

١۔ طبری ٢٣٠٥١۔٣٣٢٧ اور طبع مصر ١٢٠٤ ۔١٢٨ ١٤ھ کے حوادث۔

٢۔'' شرح قصیدہ ابن عبدون ''طبع لیدن ١٤٤۔١٤٦۔

٣۔'' نہایة الارب''تحقیق علی الخاقانی ٤٢٥اور تاج العروس ٦٣٧١۔

٤۔ طبری ٢٣٢٧١۔٢٣٣٣

٥۔ طبری ٢٣٠٥١۔٢٣٣٨ اور طبع مصر ١٢٠٤۔١٣٣، نیز '' ابن عساکر ''قعقاع کے حالات ٥١٧١،شرح قصیدہ ابن عبدون،ابن کلبی کی '' انساب الخلیل'' ،'''قاموس'' فیروزہ آبادی ، ''لسان العرب'' ابن منظور،'' نہایة الارب'' قلقشندی اور ابن کثیر ٤٥٧۔

٦۔ '' ابن اثیر '' ٣٤٥٢۔٣٧٧، ابن کثیر ٣٥٧۔٤٧، ابن خلدون٣٠٨٢و٣١٥اور ''روضة الصفا'' ٦٨٢٢۔٦٨٥


سند کی تحقیق:

١۔روایت عمرو '' طبری'' ٢٢٩٥١۔٢٤٩٨میں آئی ہے اور اس کے حالات '' میزان الاعتدال'' ٢٦٠٣،اور لسان المیزان ٣٤٦٤میں سنہ ١٤و ١٧ ہجری کے حوادث کے ضمن میں آئے ہیں ۔حمید نے ''طبری '' ٢٣٢٩١میں ،جحذب و عصمة نے طبری ٢٣٢١١میں اور ابن محراق جو قبیلہ طی کے ایک مرد سے نقل کرتا ہے ،نے طبری ٢٣١٢١میں روایت کی ہے ۔

جنگ کے بعد کے حوادث:

١۔طبری ٢٣٥٧١۔٢٣٦٤اور طبع مصر ١٣٦٤۔١٤٣،اور'' قعقاع ''کے حالات ''الاصابہ'' و '' فتح البلدان '' میں اور '' الاخبار الطوال '' فتح قادسیہ۔

فتح مدائن اور جنگی غنائم:

١۔ '' طبری '' ٢٤٣٤١۔٢٤٣٦،اور ٢٤٤٧۔٢٤٤٩و ابن اثیر ٣٩٥٢۔٤٠٤،ابن کثیر ٦١٧۔٦٨،ابن خلدون ٣٢٨٢۔٣٣٠،'' الروض '' ورق ٢٢٨٢سے مدائن کی روئیداد۔

سند کی تحقیق :

١۔ان کی روایت طبری میں اس طرح نقل ہوئی ہے : '' بنی الحارث '' سے ایک مرد اور ''عصمة '' ٢٤٤٨١و مرد گمنام ٢٤٣٥١و الرفیل اور اس کابیٹا ٢٢٤٩١۔٢٤٤٥ سنہ ١٤،١٥ و ١٦ہجری کے واقعات میں اور النضر ٢١٧١١۔٢٤٤٥ ،سنہ ١٣،١٤و١٦ہجری کے واقعات میں ۔

جلولاء میں :

١۔''طبری ''٢٤٥٦١۔٢٤٧٤اور طبع مصر ١٧٩٤ و١٨٦و١٩١ و١٩٤،''اخبار الطوال '' ١٢٧۔ ١٢٩،'' فتوح البلدان'' ٣٦٨۔٤٢٣،'' معجم البلدان'' ،ابن اثیر ٤٠٤٢۔٧٠٠'' ابن کثیر '' ٦٩٧، ''ابن خلدون'' ٣٣١٢۔٣٣٢،اور '' روضة الصفا'' ٦٨٩٢۔


سند کی تحقیق:

١۔''طبری میں حدیث '' حماد'' ٢٤٦٣١۔٣٢١٤و '' بطان'' ٢٤٥٨١و عبداللہ ٢١١٣١۔ ٢٤٦٠سنہ ١٣۔١٦ہجری کے حوادث اور '' المستنیر'' ١٧٩٥١۔ ٣٠٣٤سنہ ١١۔٣٤ہجری کے حوادث میں ۔

شام کی دوبارہ جنگوں میں :

١۔''طبری '' طبع مصر ١٩٥٤ و١٩٧،قعقاع کے حالات ابن ''عساکر '' اور '' الاصابہ'' میں ، ابن اثیر ٤١٣٢،ابن کثیر ٧٥٧،اور ابن خلدون ٣٣٨٢۔

نہاوند میں :

١۔ ''طبری '' طبع مصر ٢٣١٤۔٢٤٥طبع یورپ ٢٥٩٦١۔٢٦٣٤،الاخبار الطوال ١٣٣۔ ١٣٧، بلاذری ٤٢٤۔٤٣٣، '' الوثائق السیاسیہ'' مکتوب نمبر ٣٣٢، معجم البلدان میں '' ثنیة الرکاب '' ''ماہان''''وایہ خرد''اور نہاوند کی روداد ،'' ابن اثیر ''٤٣،'' ابن کثیر ''١٠٥٧۔١١٠،'' ابن خلدون'' ٣٥٠٢ ''ابن کثیر '' اس باب کی ابتداء میں لکھتا ہے جو کچھ اس نے سیف سے نقل کیا ہے '' طبری '' سے لیا ہے ۔

سند کی تحقیق :

١۔ ان کی روایات '' طبری '' ٢٥٠٥١و٢٦٣١میں ہیں ۔

بحث کا خلاصہ :

١۔'' طبری '' ٢٩٢٨١۔٢٩٣٠و٢٩٣٦و٢٩٥٠،اور طبع مصر ٩٢٥۔٩٣و ٩٦و١٠١۔


قعقاععثمان کے زمانے کی بغاوتوں میں :

١۔'' طبری '' ٢٩٢٨١۔٢٩٣٦و٢٩٥٠و٣٠٥٨،اور طبع مصر ٩٢٥۔٩٣و ٩٦و١٤٨۔

٢۔'' طبری '' ٢٩٥٨١۔٢٩٦٠،اور طبع مصر ١٠٥٥و١٠٦۔

٣۔'' طبری '' ٣٠٠٩١۔٣٠١٣و٣٠٨٨اور طبع مصر ١٢٦٥۔١٢٨و٢ ١٦۔

٤۔'' طبری '' ٣١٤٩١۔٣١٥٠،اور طبع مصر ١٨٨٥۔١٨٩۔

٥۔'' طبری '' ٣١٥٦١۔٣١٥٨۔

٦۔'' طبری '' ٣١٥٦١۔٣٢٢٦،اور طبع مصر ٢٠٠٥۔٢٢٣۔

٧۔''ابن اثیر ''١٧٠٣۔٢١٧و''ابن خلدون''٤٢٥٢ و''ابن کثیر'' ١٦٧٧و٢٤٦و ''روضةالصفا'' ٧٢٠٢۔

٨۔جو کچھ ہم نے طبری سے نقل کیا ہے ١٩٨١۔١٩٩میں ہے ،اور امیرالمومنین کا مکتوب ''نہج البلاغہ'' ١٢٢٣ سے نقل کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ '' الامامة والسیاسة'' ٦٥اور'' ابن اعثم'' ١٧٣سے۔

٩۔اس جواب کو '' العقد الفرید '' ٣١٤٤ میں خود زبیر سے نسبت دی گئی ہے ،لیکن '' زبیر ابن بکار '' نے اسے '' ابن زبیر'' سے نسبت دے دی ہے ۔''تہذیب '' ابن عساکر ٣٦٣٥،اور نہج البلاغہ ١٦٩٢۔

١٠۔ان دو خطبوں کو '' ابن اعثم'' نے ص١٧٤ میں اور شیخ مفید نے '' الجمل '' ١٥٨۔١٥٩ میں نقل کیا ہے ۔

١١۔ '' تاریخ اعثم'' ١٧٥،اورشرح نہج البلاغہ ٣٠٥١۔

١٢۔'' حاکم نیشاپوری '' نے '' المستدرک'' ٣٧١٣ میں ،'' الذہبی'' نے ''تلخیص '' میں اور ''المتقی'' نے '' کنزالعمال'' ٨٥٦میں ۔

١٣۔'' یعقوبی'' و '' مسعودی'' و '' ابن اعثم'' و '' الاغانی'' ١٢٧١٦و '' ابو مخنف'' بروایت ''شرح نہج البلاغہ '' ٤٣٠٢و٨١۔

١٤۔''طبری '' ٢٠٥٥و ''الکنز'' ٨٥٦و '' ابن اثیر'' ١٠٤٣و '' تاریخ اعثم'' و ''ابومخنف'' بروایت '' شرح نہج البلاغہ'' ٤٣١٢۔

١٥۔'' ابن اعثم'' و '' ابو الفرج'' نے ''اغانی'' ١٢٧١٦ میں اور ''یعقوبی''نے و ''شرح نہج البلاغہ'' ٨١٢و٤٣٠۔ابو مخنف کی کتاب '' الجمل'' سے کہ ہم نے اس کی عبارت درج کی ۔

١٦۔ ''شرح نہج البلاغہ'' ٨١٢اور ٨٩١۔ابو مخنف کی '' الجمل'' سے

١٧۔'' تاریخ یعقوبی'' و ''الکنز '' ٨٣٦۔٨٥و'' اغانی''اس کے علاوہ '' احادیث عائشہ'' اسی کتاب کے مولف سے ٦١۔١٨٩

١٨۔'' طبری'' طبع مصر ٢٠٤٥،'' العقد الفرید'' ٣٢٨٤،اور'' یعقوبی''

١٩۔'''' طبری'' طبع مصر ٢٢٥٥،'' ابن اثیر'' ١٠٢٣،اور'' انساب الاشراف''١٦٧١۔


سند کی تحقیق:

١۔روایت یزید ''طبری ''٢٨٤٩١۔٢٩٤٢میں سنہ ٣٠۔٣٥ ہجری کے حوادث کے ضمن میں آئی ہے اور ''مرد اسدی '' ''طبری''٢٩٤٨١و''جریر'' ٣١٥٨١و٣٢١١ و''صعصعہ ''٣٢١١١و'' مخلد'' ٣٢١٢١و ''الشیخ الضبی ''٣٢١٤١ و قیس ٢٨٩١١و٣٠٣٤ میں ذکر ہوئی ہیں ۔

خاتمہ:

١۔''طبری ''٣٢١٥١ و١٩٢٠١ اور طبع مصر ٢١٨٥

عاصم بن عمرو عراق کی جنگ میں :

١۔ عاصم کے حالات ''الا ستیعاب ''،تاریخ ابن عساکر کے قلمی نسخے ،''التجرید '' ، ''الاصابہ '' میں اور ''مقر '' و ''حیرہ ''کے حوادث کی شرح معجم البلدان ،''طبری''٢٠٢٢١۔٢٠٥٨ اور ''ابن کثیر '' ٤٣٤٣٦میں ۔

''دومة الجندل ''میں :

١۔ ''طبری''٢٠٦٥١۔٢٠٦٨ اور ''الملطاط''کے بارے میں ٢١٨٥١و ٢٢٥٥و ٢٤٨٥ و ٢٩٠٨،ابن کثیر ٣٥٠٦۔

'' لسان و ملطاط''کی تشریح :

٢۔'' طبری '' ٢٤٨٥١،'' تاریخ ابن عساکر'' کے قلمی نسخے میں '' عاصم'' کے حالات ،حموی کی '' المعجم '' اور '' المشترک '' میں '' دومة الجندل '' کی روئیداد ،فتوح البلدان ٨٣،اور ابن عساکر ٤٤٨١ :


عاصم وخالد کے باہمی تعاون کا خاتمہ :

٣۔'' طبری'' ٢٠٧٤١و٢٠٧٥و٢١١٥ ،اور ابن عساکر ٤٤٧١۔٤٧٠۔

مثنی کے ساتھ:

٤۔ ''طبری '' ٦٤٤۔٦٦، '' فتوح البلدان'' ٣٥٠۔٣٥١، '' تراجم الاماکن'' از حموی اور ''ابن اثیر '' ٣٣٥٢۔

جسر (پل ) کی جنگ:

٥۔'طبری '' ٦٧٤۔٧٧، '' فتوح البلدان'' ٣٥١'' اخبار الطوال'' ١١٣،اور حدیث ''حمزہ'' ''طبری '' ٢٠١٨١و٢١٩٨ میں ۔

سعد کے ساتھ:

٦۔ ''طبری '' ٨٨٤۔١٣٦،''یعقوبی '' ١٤٤٢،معجم البلدان و '' فتوح البلدان'' ٣٥٦۔٣٦٥،اور ''اخبارالطوال'' ١١٩۔١٢٦۔

٧۔ '' طبری''١١٤٤و١٧٠۔١٧٣،'' تاریخ بغداد''از خطیب ،ہاشم کے حالات کے بارے میں ١٩٦١ اور داستان فتح مدائن از فتوح البلدان ٣٦٦ اور کوفہ کی روئیداد از معجم البلدان ٣٢٣٤'' دلائل النبوة''٢٠٨٣۔٢٠٩،'' جمہرة انساب العرب''از'' ابن حزم''٣٧٨،'' ابن اثیر''٣٧٢٢۔ ٣٧٤۔٣٩٨،'' ابن کثیر''٣٧٧۔٤٧۔٦٤اور '' ابن خلدون ''٣١٥٢۔٣٢٨و٣٢٩۔

جنگ قادسیہ میں :

٨۔ '' طبری''٢١٣٤۔٢٢١،'' ابن اثیر''٤١٩٢۔٤٢٠،'' ابن کثیر''٨٣٧،'' ابن خلدون'' ٣٤١٢،''فتوح البلدان''٥٣٧،کتاب '' حموی''اور'' حمیری''میں '' جندی شاپور''کی روئیداد ورق ٢٩٧ عبارت میں تھوڑے اختلاف کے ساتھ ۔

٩۔سیف کی روایت اس سے '' جس نے فتح شوش کی روایت کی ہے'''' طبری''٢٥٢٦١ میں ۔


سیستان میں :

١٠۔'' طبری''٢٢١٤،٦٥و٥٤و٦٥،'' فتوح البلدان''٥٥٣۔٥٥٦،'' حموی''سیستان کی روئیداد میں ،'' تاریخ ابن خیاط''١٤٤١،'' ابن اثیر ''٤٣٢٢۔٤٣٣،ابن کثیر٨٩٧اور '' ابن خلدون''٣٤٥٢و٣٦٠ و٣٧٣۔

عمرو بن عاصم :

١١۔ '' طبری''٥٩٥وطبع یورپ٢٨٤١١

سند کی تحقیق:

١٢۔'' الجرح والتعدیل''٤ق١٤٨١،'' میزان الاعتدال''٢٠٨٤اور لسان المیزان

١٢١٦۔

١٣۔'' الجرح والتعدیل''٤ق٣٠٢١۔


اس کتاب میں مذکور شخصیتوں کے نام

(۱)

آدم

ابراہیم

ابن ابی بکر

ابن ابی عزہ قرشی

ابن ابی العوجائ

ابن ابی مکنف

ابن ابی الحدید

ابن اثیر

ابن اسحاق

ابن اعثم

ابن اعرابی

ابن بدران

ابن بدرون

ابن جوزی

ابن حجر

ابن حزم

ابن حنظلیہ


ابن الحیسمان خزاعی

ابن خاضیہ

ابن خلدون

ابن خلکان

ابن خیاط

ابن دباغ

ابن درید

ابن دیصان

ابن رفیل

ابن سعد

ابن سکن

ابن شاہین

ابن شہاب زہری

ابن صعصعہ

ابن طفیل

ابن عباس

ابن عبد البر

ابن عبد ربہ

ابن عبدون

ابن عدیس

ابن عساکر


ابن فتحون

ابن فرح

ابن فقیہ

ابن فتیبہ دینوری

ابن قانع

ابن کثیر

ابن کلبی

ابن ماکولا

ابن محراق

ابن مرزبان (حیرہ کے سرحد بان کابیٹا)

ابن مقفع(عبد اللہ مقفع)

ابن مندہ

ابن منظور

ابن ندیم

ابوبجید

ابوبکر (خلیفہ)

ابوبکر خطیب(خطیب بغدادی)

ابوبکر عبداللہ

ابوجعفر محمد بن حسن (شیخ طوسی)

ابوذر غفاری

ابوزکریا


ابوسفیان

ابوسفیان طلحہ بن عبد الرحمن

ابوالشیخ

ابوالعباس سفاح

ابوعبد اللہ جعفر بن محمد (امام جعفر صادق ں )

ابوعبید ثقفی

ابوعبیدہ

ابو عثمان نھدی

ابوعثمان یزید

ابوعمر

ابوالفدائ

ابوالفرج (اصفہانی)

ابولیلیٰ فدکی

ابومخنف (لوط بن یحییٰ)

ابومعبد عبسی

ابومفزر تمیمی

ابوموسیٰ

ابوموسیٰ اشعری

ابو نعیم

ابونواس حسن ہانی

ابوہریرہ

ابوالیقظان (عمار)


اردبیلی(مقدس اردبیلی)

احمد بن حنبل

ارسطاطالیس

ارویٰ دختر عامر

اسحق

اسحاق بن مؤید

اسماء

اسماعیل

اشعث بن قیس کندی

اعبد بن فدکی

اعیسر

اکیدر بن عبد الملک

امام علی ـ

ابو جعفر بن جریر =طبری

ام ذریح عبدیہ

ام شملہ

ام کلثوم

ام محمد

ام مطیع

ام المؤمنین

امیرالمومنین (علی بن ابیطالب ـ)

اندرزگر


انسان ازلی

انوش جان

اھریمن

اھورامزدا

ایاس بن سلمیٰ

(۲)

بارتولد

بجیر

بخاری

بردسان

برزویہ

بزرگمہر

بطان بن بشر

بکر بن وائل

بکیر بن عبد اللہ

بلاذری

بلال بن ابی بلال بلقینی

بہرام

بہمن

بودا

بیرزان


(ت)

ترمذی

(ث)

ثعلبہ بن کھلان

(ج)

جابان

جادویہ

جالینوس

جُخدف بن جرعب

جریر بن اشرس

جریر بن عبد اللہ بجلی

جریر بن عطیہ

جعد بن درہم

جعفر بن ابوطالب

جعفر منصور دوانیقی

جھجابن مسعود

جودی بن ربیعہ

جیمس رابسن


(ح)

حارث بن ایہم

حارث بن مالک

حاکم

حجاج بن یوسف ثقفی

حجر بن عدی

حسان بن ثابت

حسن بصری

حسن بن علی

حکم بن ولید اموی

حماد بن فلان برجمی

حماد عجرد

حمال اسدی

حماد بن زید

حمزہ بن علی بن محفز

حمزہ بن یوسف

حموی

حمیر بن ابی شجار

حمیری

حنظلہ بن زیاد

حوا

حی بن یقظان


(خ)

خاقان

خالد بن سعید

خالد بن عرفطہ

خالد قسری

خالد بن ملجم

خالدبن ولید

خالد بن یعمر تمیمی

خطیب بغدادی

خلف بن خلیفہ بجلی

خلیفہ بن خیاط

(د)

دار قطنی

داؤد بن علی عباسی

داہر پادشاہ ھندوستان

دعبل

(ذ)

ذو الحاجب

ذہبی


(ر)

رازی

ربیع بن زیاد

ربیع بن مطر تمیمی

رستم فرخ زاد

رشاطی

رشید

رضی (سید رضی )

رفیل وابن رفیل

روزبہ

روزمھر

(ز)

زاد مھش

زبیدی

زبیر

زردشت

زفر بن حارث

زیاد بن سرجس احمری

زید بن صوحان


(س)

سجاح

سعد بن ابی وقاص

سرویلیام مویر

سرٹامس آرنالڈ

سعید اموی

سعد بن عبادہ

سلمیٰ

سلمان فارسی

سلیل بن زید

سماک بن خرشہ انصاری

سمعانی

سنان بن وبر جہنی

سیاوش

سید رضی

سہل بن یوسف سلمی

سیف بن عمرتمیمی

سیوطی


(ش)

شابشتی

شجرة بن اعز

شرحبیل بن حسنہ

شیخ الاسلام

شیخ طوسی

شیخ مفید

شیخ نجدی

(ص)

صعب بن عطیہ

صعصعہ مزنی

صفوان بن معطل

صفی الدین

(ض)

ضحّاک

(ط)

طبری

طلحہ

طلحہ بن اعلم

طوسی(شیخ طوسی)


(ظ)

ظفر بن دھی

(ع)

عائشہ

عاصم بن عمرو تمیمی

عامر

عامربن مالک

عامر ہلالیہ نخع

عبادہ

عباس(رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا)

عباس بن محمد

عبد الجبار محتسب

عبد الرحمن بُدَیل

عبد الرحمن سیاہ احمری

عبد الرحمن سمرہ

عبد الرحمن عدیس

عبد الرحمن بن ملجم

عبد العزی نمری

عبد الکریم بن ابی العوجاء

عبد اللہ بن ابی سلول

عبد اللہ بجلی


عبد اللہ بدیل

عبد اللہ بن زبیر

عبد اللہ بن سبا

عبد اللہ بن سعید

عبد اللہ بن عامر بن کریز

عبد اللہ بن عباس

عبد اللہ بن علی بن ابیطالب ـ

عبد اللہ بن مسلم عکلی

عبد اللہ بن معاویہ

عبد الملک

عبد المومن

عبید اللہ بن محفز

عتبہ بن غزوان

عتبہ بن فرقد لیثی

عثمان (خلیفہ)

عثمان بن ولید

عروة بن بارقی

عروة بن زید خیل طائی

عروة بن ولید

عصمة بن حارث

عصمة بن عبد اللہ


عصمة وائلی

عطیہ

عفیف بن منذر تمیمی

عقبة بن سالم

عقیلی

علاء حضرمی

علقمہ بن علاثہ کلبی

علی بن ابیطالب ـ(امیرالمومنین)

عمار یاسر

عمر بن خطاب (خلیفہ)

عمر کلواذی

عمروبن حریث

عمرو بن ریان

عمرو عاص

عمرو بن عاصم تمیمی

عمرو بن عبید

عمرو بن معدی کرب

عمیر صائدی

عنترة بن شداد

عوف بن زیاد

عیاض بن غنم

عیسیٰ ـ


(غ)

غافقی

غرقدہ

غصن بن قاسم کنانی

غمربن یزید بن عبدالملک

غندجانی

(ف)

فارقلیط

فضل بن عباس

فیروزان

فیروز

فیروزآبادی

(ق)

قارن بن قریانس

قاہر عباسی

قباد(پادشاہ ساسانی)

قباد خراسانی

قحطان


قعقاع بن عمرو تمیمی

قعقاع بن ثور

قلقشندی

قیس بن یزید نخعی

قیس بن عیلدن

قیصر

قہپائی

(ک)

کرازنکری

کرب بن ابی کرب عکلی

کسریٰ

کمیت بن زید اسدی

(ل)

لبید بن جرید

لیلیٰ بنت جودی غسانی


(م)

مالک اشتر

مالک بن عامر اسیدی

مالک بن نویرہ

مامقانی

مامون خلیفہ عباسی

مانی

متقی ہندی

مثنی بن حارثہ

محمد بن ابی بکر

محمد جریر طبری

محمد بن سلیمان

محمد بن عبداللہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

محمد بن عبداللہ بن مراد

محمد بن علی (محمد حنفیہ)

محمد بن عمر واقدی

محمد فواد کوبریلی

محمد بن قیس

مخلد بن کثیر

مدائنی


مذعور بن عدی

مروان شاہ ذوالحاجب

مرزبانی

مروان حکم

مروان بن محمد جعدی

مزدک

مروی

مستنیر بن یزید

مسعودی

مسلم

مطیع بن ایاس

معاویہ بن ابو سفیان

معزالدولہ دیلمی

معن بن زائدہ

مفضل بن عمر

مقدام بن ابی مقدام

مقطع بن ھیثم بکائی

مکنف

منذر

منصور خلیفہ عباسی

مھدی خلیفہ عباسی

مہران


مھلب بن عقبہ اسدی

موسیٰ عباسی

موسی

میرخواند

(ن)

نجیرمی

نرسی

نصر بن مزاحم

نصر بن سری

نعمان بن عجلان

نعمان=نعمان بن منذر

نعمان بن مقرن

(ھ )

ہابیل

ہادی عباسی

ہارون رشید

ہاشم بن عتبہ

ہراکلیوس

ہرمز


ھشام (بن عبد الملک)

ھنیدہ بنت عامر

(و)

والبہ

ودیعہ

ولید بن عبد الملک

ولید بن یزید بن عبد الملک

ولید دوم اموی

(ی)

یحییٰ بن زیاد حارثی

یزدگرد(پادشاہ ساسانی)

یزید ابن ابو سفیان

یزید بن اسید غسانی

یزید بن قیس

یزید بن ولید

یعقوب بن فضل حارثی

یعقوبی

یوسف بن عمر ثقفی

یعمر


اس کتاب میں مذکور قبیلوں کے نام

(۱)

ازد

اسد

اوس

ایاد

(۲)

بارق

بجیلہ

بکر بن وائل

بنی امیہ

بنی سنبِس

بنی ضبّہ

بنی عامر

بنی عقفان

بنی عمرو

بنی ہاشم


(ت)

تمیم

تغلب

(خ)

خزرج

(ر)

ربیعہ

(س)

سبائیہ

(غ)

غسّانیان

غنز

(ق)

قحطان

قریش

قیس


(ک)

کلب

(م)

مجاشع

مضر

معدّ

(ن)

نخع

نِزار

نِمر

(ہ)

ہوازن

(ی)

یمانی


اس کتاب میں مذکور مقامات کے نام

(۱)

اُبُلّہ

اَجنادین

اصافر

الیس

الیس صغریٰ

انبار

اندر زرود

ایلیای فلسطین

(۲)

بابل

بارق

باروسیما

بانقیا

بحرین

بسم

بصرہ

بُصریٰ


بعقوبہ

بعبلک

بغداد

بَویْب

بہرسیر

بیدائ

(پ)

پارس

(ت)

تدمُر

تُستَر

(ث)

ثنی(الثنی)

(ج)

جالینوس

جلولا

جُندی شاپور


(ح)

حصید

حلوان

حمص

حوران

حیرہ

(خ)

خانقین

خراسان

خنافِس

(د)

دابق

دبا

دُرتا

دُوما

دومہ

دومة الجندل

دومة الحیرہ

دَمشق

دَیرخالد


دیرزرارہ

(ذ)

ذات الجیش

ذی قار

(ر)

رود جوبر

روضة السَلْہَب

(ز)

زرنج

زُمْیَل

زوابی

(س)

ساباط

سقاطیہ کسکر

سماوہ

سویٰ

سیستان


(ش)

شام

شوش

(ص)

صفین

صنعائ

صیّادین

(ع)

عراق

عمّان

(ف)

فارس

فِحل

فرات

فرات بادقلیٰ

فِراض


(ق)

قادسیہ

قصر شیرین

قصوانی

قُطرَبُلّ

قلت

قنات بصریٰ

قندہار

(ک)

کسکر

کربلا

کرمان

کرمانشاہ

کوفہ

(ل)

لسان


(م)

ماہان

مدائن

مدینہ

مزار (المزار)

مرج راھط

مرج الصفّر

مرج مسلّح

مصیّخ برشائ

مصیّخ بہرائ

مقر(المقر)

مکہ

ملطاط

موصل

موقان(مغان)

میسان

(ن)

نجف

نہاوند

نمارق


(و)

واسط

واقوصہ

وای خرد

ولجہ (الولجہ)

(ھ)

ھرمزگان

ھمدان

ھوافی

(ی)

یاقوصہ

یرموک

یمامہ

یمن


اس کتاب میں ذکرشدہ

سیف کے افسانوی دنوں کے نام

روز آب (یوم المائ)

روز ارماث(ارماث کادن)

روز اغواث(اغواث کادن)

روز جراثیم (جراثیم کادن)

روز عماس(عماس کادن)

گائے کادن(یوم الاباقر)


فہرست

حرف اول ۴

پہلا حصہ : ۷

جیمس رابسن کا مختصر تعارف: ۸

پیدائش: ١٨٩٠ ء ۸

تألیفات: ''اسلامی تمدن کا دوسرے ادیان سے موازنہ'' ۸

کتاب ''عبداللّٰہ ابن سبا '' اور کتاب '' خمسون و مائة صحابی مختلق '' کے بارے میں شہرۂ آفاق مستشرق ۹

ڈاکٹر جیمس رابسن کا نظریہ ۹

مولف کے نام ڈاکٹر جیمس کے خط کا ترجمہ ۹

مقدمہ مؤلف ۱۵

حضرت عائشہ سے ایک روایت: ۱۹

عائشہ کی روایت پر تحقیق: ۲۰

موضوع کی اہمیت: ۲۲

دوسرا حصہ : ۲۴

کتاب کے مباحث : ۲۴

سیف کو پہچانئے ۲۵

اس بحث کے آغاز کا مقصد ۲۵

سیف بن عمرکون ہے ؟ ۲۷

احادیث سیف کی پیدائش کازمانہ ۲۸

نتیجہ : ۳۱


سیف کے زمانہ کی خصوصیت: ۳۱

زندیق اور زندیقان ۳۲

لفظ زندیق کی بنیاد : ۳۲

عربی زبان میں ''زندیق'' ۳۳

دربار خلافت میں ''زندیق '' کی تعریف : ۳۴

زندیقی کون تھے ؟ ۳۷

مانی اور اس کادین ۴۲

مانی کون ہے؟ ۴۲

مانی کا دین ۴۴

انبیاء کے بارے میں مانی کا نظریہ ۴۹

مانی کی شریعت ۵۱

مانی کاخاتمہ ۵۲

دین مانی کا پھیلاؤ ۵۳

اسلامی ممالک میں دین مانی : ۵۴

مانویوں کی سرگرمی کازمانہ: ۵۵

مانویوں کے چند نمونے ۵۵

١۔عبداللہ بن مقفع ۵۶

٢۔ابن ابی العوجا ۵۸

٣۔مطیع ابن ایاس ۶۴

مطیع ،بستر مرگ پر ۷۱


خلاصہ ۷۴

٤۔سیف بن عمر سب سے خطرناک زندیق ۷۶

یمانی اور نزاری قبیلوں کے درمیان شدیدخاندانی تعصبات ۷۸

تعصب کی بنیاد اور اس کی علامتیں ۷۸

تعصب کی پہلی علامت ۷۹

تعصب کی دوسری علامت ۸۲

عربی ادبیات میں تعصب کا ظہور ۸۵

خاندنی تعصبات کی نبا پر ہونے والی خونیں جنگیں ۸۸

حدیث سازی میں تعصب کااثر ۹۳

سیف بن عمر ۔حدیث جعل کرنے والا سورما ۹۴

سیف کی کتابیں ۹۴

سیف کی تحریفات ۹۸

سیف سے حدیث نقل کرنے والے ۱۰۳

مآخذ کی فہرست ۱۰۳

احادیث سیف کی اشاعت کے اسباب ۱۰۹

١۔خود سر حکام کے موافق ہونا ۱۰۹

خلیفہ کے سپاہیوں کا پانی پر چلنا: ۱۱۱

٢۔عوام پسند ہونا ۱۱۴

٣۔ آسائش پرستوں کی مرضی کے ہم آہنگ ہونا ۱۱۵

٤۔ خاندانی تعصبات کے ہم آہنگ ہونا ۱۱۷


٥۔ زندیقیوں کے ہم آہنگ ہونا ۱۱۷

گزشتہ حصوں کا خلاصہ ۱۱۹

١) زندیقیت ۱۱۹

٢)۔ تعصب ۱۲۱

٣)۔من گڑھت ۱۲۲

٤)۔حقائق کو الٹا کرکے دکھا نا ۱۲۳

٥)۔پردہ پوشی ۱۲۳

٦)۔کمزور کو طاقتور پر فدا کرنا ۱۲۴

٧)۔حدیث سازی کا تلخ نتیجہ ۱۲۴

٨)۔ سیف کی احادیث پھیلنے کے اسباب ۱۲۵

٩)۔ سیف کے مقاصد ۱۲۶

١٠)۔ ہماری ذمہ داری : ۱۲۷

گزشتہ بحث کا ایک جائزہ اور ۱۲۸

آئندہ پر ایک نظر ۱۲۸

تیسرا حصہ : ۱۲۹

١۔ قعقاع بن عمر و تمیمی ۱۲۹

قعقاع پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں ۱۳۰

قعقاع کا شجرۂ نسب ۱۳۱

قعقاع رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی ۱۳۱

قعقاع سے منقول ایک حدیث : ۱۳۲


سند کی تحقیقات ۱۳۳

سیف کی حدیث کا نتیجہ ۱۳۴

قعقاع ،ابوبکر کے زمانے میں ۱۳۵

قعقاع ارتداد کی جنگوں میں ۱۳۵

یہ داستان کہاں تک پہنچی ؟ ۱۳۵

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے فرق ۱۳۶

موازنہ کا نتیجہ ۱۳۶

سند کی جانچ پڑتال ۱۳۶

اس داستان کا نتیجہ ۱۳۷

قعقاع،عراق کی جنگ میں : ۱۳۹

ابلہ کی جنگ ۱۴۰

یہ داستان کہاں تک پہنچی ہے ؟ ۱۴۰

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ ۱۴۱

سند کی پڑتال ۱۴۱

جانچ پڑتال کا نتیجہ ۱۴۲

سیف کی حدیث کے نتائج : ۱۴۳

قعقاع ،حیرہ کی جنگوں میں ۱۴۴

مذار اور ثنی کی جنگ ۱۴۴

ولجہ کی جنگ ۱۴۵

'' الیس'' کی جنگ ۱۴۶


حیرہ کی دوسری جنگیں ۱۴۷

یہ روایتیں کہاں تک پہنچی ہیں ؟ ۱۴۸

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ ۱۴۹

خون کے دریا کا قصہ ۱۴۹

سند کی جانچ پڑتال : ۱۵۰

تحقیقات کا نتیجہ : ۱۵۱

سیف کی حدیث کا نتیجہ ۱۵۲

قعقاع ،حیرہ کے حوادث کے بعد ۱۵۳

صلح '' بانقیا'' کی داستان ۱۵۳

یہ داستان کہاں تک پہنچی؟ ۱۵۴

طبری اور سیف سے نقل کرنے والے مؤرخین ۱۵۵

سند کی پڑتال ۱۵۶

اس حدیث کے نتائج ۱۵۷

قعقاع ،مصیخ اور فراض میں ۱۵۸

مصیخ کی جنگ ۱۵۸

یہ داستان کہاں تک پہنچی؟ ۱۵۹

سند کی پڑتال: ۱۵۹

جانچ پڑتال کا نتیجہ ۱۵۹

داستان مصیخ کے نتائج : ۱۶۰

فراض کی جنگ ۱۶۰


سند کی پڑتال ۱۶۱

بحث کا نتیجہ: ۱۶۲

جنگ فراض کی داستان کے نتائج: ۱۶۳

قعقاع ،خالد کے ساتھ شام جاتے ہوئے ۱۶۴

خالدکی شام کی جانب روانگی کی داستان ۱۶۴

سند کی پڑتال : ۱۶۷

اس جانچ کا خلاصہ : ۱۶۷

خالد شام جاتے ہوئے ۱۶۸

یہ داستان کہاں تک پہنچی : ۱۶۸

قعقاع کے رزمیہ اشعار ۱۶۹

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ: ۱۷۰

سند کی پڑتال: ۱۷۰

تحقیق کانتیجہ : ۱۷۱

سیف کی حدیث کے نتائج : ۱۷۱

قعقاع ،شام کی جنگوں میں ۱۷۲

جنگ یرموک کی داستان ۱۷۲

سیف کی روایت کی حیثیت : ۱۷۴

سند کی پڑتال : ۱۷۴

حدیث کی پڑتال کا نتیجہ ۱۷۵

قعقاع ،عمر کے زمانے میں ۱۷۶


فتح دمشق کی داستان: ۱۷۶

یہ داستان کہاں تک پہنچی ۱۷۷

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ : ۱۷۷

سند کی پڑتال ۱۷۷

فحل کی جنگ ۱۷۸

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ: ۱۸۰

سند کی پڑتال : ۱۸۰

جانچ پڑتال کا نتیجہ : ۱۸۱

سیف کی حدیث کے نتائج: ۱۸۲

تحقیقات کا خلاصہ : ۱۸۲

قعقاع ،عراق کی جنگوں میں ۱۸۳

قعقاع کی شام سے واپسی ۱۸۳

جنگ قادسیہ میں ۱۸۴

اسلامی ثقافت پر سیف کی روایتوں کے اثرات : ۱۸۸

لیلةالھریر ۱۸۹

''اطلال '' گھوڑے کی گفتگو ۱۹۰

سند ِروایت کی پڑتال : ۱۹۲

یہ روایت کہاں تک پہنچی اور بحث کانتیجہ : ۱۹۳

ساس داستان کے نتائج : ۱۹۵

جنگ کے بعد کے حوادث ۱۹۶


بے شوہر یمانی عورتیں : ۱۹۷

سند کی پڑتال: ۱۹۹

سند کی پڑتال کا نتیجہ: ۱۹۹

اس داستان کانتیجہ: ۲۰۰

قعقاع ،ایران کی جنگوں میں ۲۰۱

بہر سیر کی فتح ۲۰۱

مدائن کی فتح ۲۰۲

بادشاہوں کا اسلحہ ،غنیمت میں ۲۰۳

سند کی پڑتال: ۲۰۴

اس داستان کی تحقیق اور اس کے فوائد : ۲۰۵

جلولا ء کی فتح ۲۰۶

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ : ۲۰۸

سند کی جانچ : ۲۰۹

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایات سے موازنہ: ۲۱۰

اس حدیث کے نتائج : ۲۱۱

قعقاع دوبارہ شام میں ۲۱۲

حمص کی فتح : ۲۱۲

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ : ۲۱۳

سند کی پڑتال : ۲۱۴

اس جانچ کا نتیجہ : ۲۱۴


اس روایت کا نتیجہ ۲۱۴

قعقاع ،نہاوند کی جنگ میں ۲۱۵

جنگ نہاوند کی داستان: ۲۱۵

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ: ۲۱۷

سند کی تحقیق : ۲۲۱

پڑتال کا نتیجہ : ۲۲۱

اس داستان کے نتائج: ۲۲۲

بحث کاخلاصہ: ۲۲۳

قعقاع ،عثمان کے زمانے میں ۲۲۴

قعقاع ،عثمان کے زمانے کی بغاوتوں میں ۲۲۴

قعقاع ،امام علی کے زمانے میں ۲۲۶

جنگ جمل کی داستان ،سیف کی روایت کے مطابق: ۲۲۶

صلح کا سفیر ۲۲۷

سبائیوں کی میٹنگ: ۲۲۸

قعقاع کی جنگ ۲۲۸

حضرت علی ں اور عائشہ کی پشیمانی ۲۳۰

جنگ جمل کی داستان ،سیف کے علاوہ دیگر راویوں کے مطابق ۲۳۲

جنگ سے پہلے امام کی سفارشیں ۲۴۰

جمل کے خیر خواہوں کی طرف سے جنگ کاآغاز ۲۴۲

حضرت علی کی طرف سے جوابی حملہ کا حکم ۲۴۵


جب اونٹ مارا گیا تب جنگ ختم ہوئی ۲۴۷

امام کی طرف سے عام معافی ۲۴۸

سیف کی باتوں کا دوسروں سے موازنہ: ۲۵۰

داستان جمل کے نتائج ۲۵۳

قعقاع کے کام کا خاتمہ ۲۵۵

اسلامی اسناد میں قعقاع کانام ۲۵۶

گزشتہ فصلوں کا خلاصہ ۲۵۸

قعقاع کا شجرۂ نسب اور منصب ۲۵۸

ابوبکر کے زمانے میں قعقاع کی شجاعتیں ۲۵۸

عمر کے زمانے میں قعقاع کی شجاعتیں ۲۶۰

جلولا کی جنگ: ۲۶۳

نہاوند کی جنگ : ۲۶۴

قعقاع ،عثمان کے زمانہ میں ۲۶۵

قعقاع ،حضرت علی کے زمانہ میں ۲۶۷

احادیث سیف کے راویوں کا سلسلہ ۲۶۸

١۔وہ راوی جن سے سیف نے رواتیں نقل کی ہیں ۲۶۸

٢۔وہ علما ء جنھوں نے سیف سے روایتیں نقل کی ہے ۲۷۰

قعقاع کے بارے میں ۲۷۲

سیف کی سڑسٹھ٦٧ روایتوں کا خلاصہ ۲۷۲

تحقیق کے منابع ۲۷۳


تحقیق کانتیجہ ۲۷۴

چوتھا حصہ : ۲۷۵

٢۔عاصم بن عمر و تمیمی ۲۷۵

عاصم ،عراق کی جنگ میں ۲۷۶

عاصم کون ہے ؟ ۲۷۶

عاصم ،خالد کے ساتھ عراق میں ۲۷۷

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ: ۲۷۹

سند کی پڑتال: ۲۷۹

پڑتال کا نتیجہ: ۲۸۰

سیف کی روایات کا نتیجہ : ۲۸۰

عاصم ،دومة الجندل کی جنگ میں ۲۸۱

دو مة الجندل کی فتح ۲۸۱

''لسان ''اور ''ملطاط''کی تشریح ۲۸۳

داستان کے متن کی چانچ: ۲۸۴

سند کی پڑتا ل : ۲۸۵

تحقیق کا نتیجہ : ۲۸۶

اس داستان کے نتائج: ۲۸۶

عاصم وخالد کے باہمی تعاون کا خاتمہ ۲۸۷

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ : ۲۸۸

سند کی پڑتال : ۲۸۸


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ : ۲۸۹

اس داستان کا نتیجہ : ۲۸۹

عاصم ،نمارق کی جنگ میں ۲۹۰

جنگ نمارق کی داستان ۲۹۰

رنگارنگ کھانوں سے بھرا دسترخوان ۲۹۲

معجم البلدان میں سیف کے گڑھے ہوئے الفاظ ۲۹۳

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ : ۲۹۴

اس داستان کے نتا ئج : ۲۹۴

پل کی جنگ ۲۹۵

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ : ۲۹۶

سند کی تحقیق : ۲۹۶

موازنہ کا نتیجہ اور اس داستان کے نتائج: ۲۹۷

عاصم ،قادسیہ کی جنگ میں ۲۹۸

''گائے کا دن ''،گائے گفتگو کرتی ہے!! ۲۹۸

أگائے کے گفتگوکرنے کا معاملہ کیا ہے ؟ ۲۹۹

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ: ۳۰۰

سند کی تحقیق : ۳۰۰

عاصم ،کسریٰ کے دربار میں ۳۰۰

سند کی تحقیق : ۳۰۲

تحقیق کا نتیجہ اور داستان کا ماحصل: ۳۰۲


عاصم کی تقریر ۳۰۳

ایک اور تقریر ۳۰۴

ارماث کادن ۳۰۶

روز ''اغواث'' ۳۰۸

روز'' عماس'' ۳۰۹

تاریخ اسلام کی کتابوں میں اس داستان کی اشاعت : ۳۱۰

سند کی تحقیق : ۳۱۱

تحقیق کا نتیجہ ۳۱۱

قادسیہ کے بارے میں سیف کی روایتوں کے نتائج : ۳۱۳

عاصم ''جراثیم'' کے دن ! ۳۱۴

تاریخ کی کتابوں میں سیف کی روایتوں کی اشاعت: ۳۲۰

سند کی تحقیق: ۳۲۱

تحقیق کا نتیجہ: ۳۲۲

داستان جراثیم کے نتائج ۳۲۶

عاصم ،سرزمین ایران میں ! ۳۲۷

جندی شاپور کی فتح کی داستان : ۳۲۷

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ: ۳۲۹

تحقیق کا نتیجہ: ۳۳۰

سند داستان کی تحقیق : ۳۳۰

داستان کے نتائج: ۳۳۱


فتح سیستان کی داستان ۳۳۱

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ: ۳۳۳

تحقیق و موازنہ کا نتیجہ : ۳۳۳

داستان کا نتیجہ: ۳۳۴

عمرو بن عاصم ۳۳۵

عاصم کا بیٹا اور اس کا خاندان ۳۳۵

عمرو بن عاصم ۳۳۵

داستان کا نتیجہ : ۳۳۶

تاریخ میں عمرو کا خاندان ۳۳۷

عاصم کے بارے میں ۳۳۹

سیف کے راویوں کاسلسلہ ۳۳۹

جن لوگوں سے سیف نے عاصم کا افسانہ نقل کیاہے ۳۳۹

جن لوگوں نے عاصم کے افسانہ کو سیف سے نقل کیا ہے ۳۴۱

سیف کی احادیث سے استناد نہ کرنے والے مورخین ۳۴۲

فہرستیں : ۳۴۴

کتاب کے اسناد ۳۴۵

مباحث کے حوالے : ۳۴۵

زندیق وزندیقان : ۳۴۵

مانی اور اس کا دین : ۳۴۵

مانی کا دین ۳۴۶


انبیاء کے بارے میں مانی کانظریہ : ۳۴۶

مانی کی شریعت: ۳۴۶

مانی اور اس کے دین کاخاتمہ: ۳۴۶

مانیوں کی سرگرمیاں : ۳۴۶

عبد اللہ بن مقفّع: ۳۴۷

عبد الکریم ابن ابی العوجائ: ۳۴۷

مطیع بن ایاس: ۳۴۸

نزاریوں اور یمانیوں کے درمیان خاندانی تعصبات : ۳۴۹

نزاریوں کی حمایت میں سیف کا تعصب: ۳۴۹

سیف سے روایت نقل کرنے والی کتابیں : ۳۵۰

روایات سیف کی اشاعت کے اسباب: ۳۵۳

قعقاع بن عمرو ۳۵۳

اس کاشجرۂ نسب : ۳۵۳

قعقاع رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی: ۳۵۴

قعقاع سے منقول ایک حدیث: ۳۵۴

سند کی تحقیقات: ۳۵۴

ابوبکر کے زمانہ میں : ۳۵۴

سند کی پڑتال: ۳۵۵

قعقاععراق کی جنگ میں : ۳۵۵

سند کی پڑتال: ۳۵۵


قعقاعحیرہ کی جنگوں میں : ۳۵۵

سند کی جانچ و پڑتال: ۳۵۶

قعقاعحیرہ کے حوادث کے بعد : ۳۵۶

سند کی پڑتال: ۳۵۶

حدیث المصینح کی سند: ۳۵۶

خالد کی شام کی شام کی جانب روانگی کی داستان: ۳۵۷

سند کی پڑتال: ۳۵۷

شام کی جنگوں میں : ۳۵۷

سند کی تحقیق: ۳۵۷

فتح دمشق: ۳۵۸

سند کی تحقیق: ۳۵۸

فحل کی جنگ: ۳۵۸

عراق میں دوبارہ جنگیں ۔قادسیہ: ۳۵۸

سند کی تحقیق: ۳۵۹

جنگ کے بعد کے حوادث: ۳۵۹

فتح مدائن اور جنگی غنائم: ۳۵۹

سند کی تحقیق : ۳۵۹

جلولاء میں : ۳۵۹

سند کی تحقیق: ۳۶۰

شام کی دوبارہ جنگوں میں : ۳۶۰


نہاوند میں : ۳۶۰

سند کی تحقیق : ۳۶۰

بحث کا خلاصہ : ۳۶۰

قعقاععثمان کے زمانے کی بغاوتوں میں : ۳۶۱

سند کی تحقیق: ۳۶۲

خاتمہ: ۳۶۲

عاصم بن عمرو عراق کی جنگ میں : ۳۶۲

''دومة الجندل ''میں : ۳۶۲

'' لسان و ملطاط''کی تشریح : ۳۶۲

عاصم وخالد کے باہمی تعاون کا خاتمہ : ۳۶۳

مثنی کے ساتھ: ۳۶۳

جسر (پل ) کی جنگ: ۳۶۳

سعد کے ساتھ: ۳۶۳

جنگ قادسیہ میں : ۳۶۳

سیستان میں : ۳۶۴

عمرو بن عاصم : ۳۶۴

سند کی تحقیق: ۳۶۴

اس کتاب میں مذکور شخصیتوں کے نام ۳۶۵

اس کتاب میں مذکور قبیلوں کے نام ۳۸۶

اس کتاب میں مذکور مقامات کے نام ۳۸۹


اس کتاب میں ذکرشدہ ۳۹۷

سیف کے افسانوی دنوں کے نام ۳۹۷


ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ١

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416