یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : ایک سو پچاس جعلی اصحاب(دوسری جلد)
مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
مترجم: سید قلبی حسین رضوی
اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی
پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ
کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی
ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام
طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ
تعداد: ٣٠٠٠
مطبع : لیلیٰ
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، علامہ سید مرتضیٰ عسکری کی گرانقدر کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب کو مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
تمہید :
* ایک ذمہ دار دانشور کے خطوط
* ایک جامع خلاصہ
* مقدمۂ مولف
ایک ذمہ دار دانشورکے خطوط:
عام اسلام کے خیر خواہ علماء اور دانشوروں نے ہماری تالیفات کے سلسلہ میں کئی شفقت بھرے خطوط لکھے ہیں ان میں سے ایک حلب (شام) کے دنیائے علم و دانش کے شہرت یافتہ عالم ، مرحوم شیخ محمدسعید دحدوح ہیں ۔یہاں پر ہم یاد گار کے طور پر مرحوم کے دو خطوط کا ترجمہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم نے اپنا دوسرا خط ہماری کتاب ''١٥٠جعلی اصحاب '' کی پہلی جلد حاصل کرنے کے بعد ہمیں ارسال کیا تھا۔
(مؤلف)
پہلا خط:
بسمه تعالٰی و له الحمد ،وصلاته و سلامه علی سید نا محمد وعلی آله
میرے دینی بھائی اور ایمانی دوست حجة الاسلام جناب مرتضیٰ عسکری صاحب :
سلام علیکم و رحمة الله و برکاته
آپ کی اتنی محبت و مہربانیاں ،تحقیق و نیک کاموں میں انتھک کوششیں اور سچ اور جھوٹ کو جدا کرکے حقائق کو واضح کرنے کی آپ کی یہ ہمت و ثابت قدمی قابل ستائش ہے ۔
جو امر مجھے آپ سے آپ کی کتابیں اور تالیفات کی درخواست کرنے کا سبب بنا ،وہ حقائق کو پانے کی میری شدید طلب ،صحیح مطالب کی تلاش و جستجو کی نہ بجھنے والی پیاس ، آزاد فکر و اندیشہ کے نتائج کو جاننے کی بے انتہا چاہت اور محققین کے نظریات کو جاننے کی میری انتہائی دلچسپی ہے ،تاکہ اختلافی مسائل کے سلسلے میں ایسے محکم و قوی دلائل و برہان کو پا سکوں جن میں کسی قسم کی چوں و چرا کی گنجائش نہ ہو۔
خدا ئے تعالیٰ آپ کو اجر و ثواب عنایت فرمائے،گزشتہ کئی مہینوں سے میرے ساتھ روا رکھے لطف و محبت کے سلوک کے ضمن میں آپ نے اظہار فرمایا ہے کہ میری مطلوبہ کتاب کے علاوہ تازہ تالیف کی گئی کتاب بھی پوسٹ کرنے کے لئے میں اپنا پتا بھیج دوں (تاکہ اس کے پہنچنے کا اطمینان حاصل ہو سکے ) مہر بانی کرکے اسے میرے درج ذیل پتہ پر ارسال فرمائیں ۔
...میں آپ کی ان محنتوں اور زحمتوں کے لئے پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں اور رحمتوں سے مالا مال دن اور راتوں والے مبارک رمضان کی آمد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں
اپنے چاہنے والے اور بھائی کا سلام و درود قبول فرمایئے۔
محمد سعید دحدوح
سوریہ ۔حلب النوحیہ ،الزقاق المصبنہ
٢٠ شعبان ١٣٩٤ھ مطابق ١٨ستمبر ١٩٧٤ ع
دوسرا خط :
بسم اللّٰه الرّحمٰن الرّحیم
بسمه تعالی و له الحمد ،وصلاته و سلامه علی سید نا محمد وعلی آله و من اتبع هداه
میرے دینی بھائی اور ایمانی دوست جناب سید مرتضیٰ عسکری صاحب :
سلام علیکم و رحمة الله و برکاته
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی تعریف ،تجلیل اور شکر گزاری میں کن الفاظ اور جملات کا سہارا لوں تاکہ جہل و نادانی کی تاریکی سے حقائق کو نکال کر حق و حقیقت کے متلاشیوں کے حوالے کرنے میں آپ کی انتھک کوششوں کے حق کی ادائی ہو سکے ،اور عصر حاضر و مستقبل کی نسلوں کے لئے صدیوں تک مسلم اور ناقابل انکار حقائق کے طور پر قبول کئے گئے مطالب سے پردہ اٹھا کر حقائق کا انکشاف کرنے کی آپ کی قابل تحسین مجاہد توں اور کوششوں کی قدر دانی ہوسکے۔
ہمارے متقدمین علماء نے سیف کی یوں تعریف کی ہے:
''سیف سبوں کے نزدیک ناقابل اعتبار ہے اور اس کی باتیں بے بھروسہ ہیں ۔''
اور ابن حبان کہتا ہے: سیف پر زندیقیت کا الزام ہے ۔
وہ مزید کہتا ہے :
''اس کی باتیں جھوٹی ہیں ۔''
اس کے باوجود ان میں سے کسی نے یہ جرأت نہیں کی ہے کہ اس کے جھوٹے چہرے سے پردہ چاک کرکے لوگوں میں یہ اعلان کرے کہ اس کی داستانیں افسانوی ہیں اور اس طرح اس کی تخیلاتی مخلوق کی نشاندھی کرے۔ آخر کار آپ جیسے محقق اور ماہر شخص نے آکر عصر حاضر اور آئندہ نسلوں کے لئے اس معنی خیز ضرب المثل کو ثابت کرکے دکھا دیا کہ:''کم ترک الاول للآخر'' ''اسلاف نے آنے والی نسلوں کے لئے کتنے اہم کام چھوڑ رکھے اور ابو العلاء معری کی یہ بات آپ کے حق میں صادق آتی ہے:وانیّ ''لآت بما لم تستطعہ الاوائل'' میں ایک ایسا کام انجام دونگا جسے اسلاف انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے تھے!''
بے شک ، آپ نے اس ناہموار راہ کو ہموار بنادیا ہے اور اپنے ہاتھوں سے جلائے ہوئے چراغ سے اس راہ کو روشن و منور کردیا ہے اور ایسے متعدد دلائل اور راہنمائیاں فراہم کی ہیں جن سے حق و حقیقت کے متلاشیوں کے لئے اس جھوٹ کو پہچاننے میں مدد ملے گی، جسے لوگ صدیوں سے حقیقت
سمجھ بیٹھے تھے اور اس کے عادی ہو چکے تھے، اب آئندہ نسلیں اس بارے میں وسیع النظری ، کے ساتھ حقائق سے آشنا ہوکر بحث و مباحثہ کریں گی۔
یہاں پر میرا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ:
''اسلاف کی بزرگی و احترام اپنی جگہ محفوظ و مسلم ہے۔''
ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ ایک پڑھا لکھا اور محقق شخص ، جس نے قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی سے علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے، نے محمد بن عثمان ذہبی کی کتاب ''المغنی فی الضعفاء '' جس میں سیف کو زندیق کہا گیا ہے پر ایک مقدمہ کے ضمن میں لکھا ہے :
''سیف کے زندیقی ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ دستیاب اخبار و روایات اس کے برعکس مطالب کو ثابت کرتے ہیں ۔''
گویا ڈاکٹر صاحب کی نظر میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور صدر اسلام کی فتوحات کے مجاہدین پر چھوٹے الزامات لگانا اور ان پر ظلم و دہشتگردی کی تہمتیں لگانا کوئی ناروا کام نہیں ہے!!
خدا کے حضور آپ کا یہ کام محترم و معزز قرار پائے! اور پروردگار آپ کے اس اہم کام اور آپ کے نتیجہ خیز افکار و نظریات پر مبنی دیگر تحقیقاتی کاموں کو سہل و آسان فرمائے اور ہم عنقریب دیکھیں کہ علم و دانش کی موجودہ دنیا کا ہر محقق آپ کی گراں قدر اور قابل تحسین زحمتوں کے سامنے سر تسلیم خم کر کے آپ کی شب و روز کی انتہک جدو جہد کی قدر کرے گا۔
درود و سلام ہو ان بلند ہمت افراد پر جنہوں نے آپ کی اس گراں قدر تالیف کی اشاعت میں آپ کا تعاون کرکے ہمیں اس قیمتی تحفے سے نوازا ہے ۔
اُمید ہے اپنی اس تالیف کی باقی جلدیں بھی چھپتے ہی مجھے ارسال کرکے مشکور فرمائیں گے...
اپنے اس عزیز بھائی کا سلام قبول فرمائیے۔
دستخط
محمد سعید دحدوح
٢٧شوال ١٣٩٤ھ ۔١٩٧٤١١١١ئ
ایک جامع خلاصہ
چونکہ اس قسم کے علمی مباحث کی گزشتہ بحثوں کا ایک جائزہ لینا قارئین کرام کو مطالب کے سمجھنے اور ہمارے مقصد کو درک کرنے میں مدد دے گا ،اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ یہاں پر لبنان کے معاصر مفکر و دانشور اور قابل قدر استاد جناب رشاد دارغوث کا وہ خلاصہ پیش کریں جو انھوں نے اس کتاب کی پہلی جلد کی ایک مفید و اہم بحث کے ضمن میں تحریر فرمایا ہے:
کتاب کی شکل و صورت
'' اصول دین کا لج '' بغداد کے پر نسپل جناب استاد عسکری کی کتاب ''١٥٠جعلی اصحاب'' ، شکل و صورت ، مطالب اور موضوع کے لحاظ سے انتہائی گراں بہا و دلکش علمی کتابوں میں سے ایک ہے ،جو ابھی کچھ دنوں پہلے دنیائے علم و دانش میں منظر عام پر آئی ہے ۔مذکورہ کتاب بغداد کے ''اصول دین کالج '' کے پرنسپل جناب مرتضی عسکری کی تالیف ہے اور یہ کتاب بیروت کے ''درارالکتاب پبلیشنز'' کی طرف سے ٤٢٠صفحات پر مشتمل درجہ ذیل صورت میں شائع ہوئی ہے :
اس کے ٧٠ صفحات مختلف فہرستوں پر مشتمل ہیں ۔ان فہرستوں کے مطالعہ سے کتاب میں موجود مختلف مطالب کاآسانی کے ساتھ اندازہ کیاجاسکتاہے ۔جن مصادر واسناد پر کتاب میں تکیہ کیا گیا ہے اوران سے استناد کیاگیاہے وہ اس فہرست میں مشخص کئے گئے ہیں ۔اس طرح اس کتاب میں ذکرکئے گئے قبائل وخاندان کے نام ،معروف حکومتوں کے نام ،ہرمذہب کے پیروؤں اور ہر گروہ کے طرفداروں کے نام حدیث کے راویوں ،شعراء ،مؤلفین نیز،قرآن مجید کی آیات ،پیغمبر اسلام کی احادیث،دلیل وشواہد کے طور پرپیش کئے گئے اشعار ،شہروں کے نام،گاؤں کے نام ،جغرافیائی مقامات اور ممالک ،تاریخی واقعات ،خطوط،عہدناموں اور فرمان ناموں کو اس کتاب میں علمی روش کے تحت اپنی اپنی جگہ پر حروف تہجی کی ترتیب سے منظم اور مرتب فہرست کی صورت میں پیش کیا گیا ہے
کتاب کے مطالب
یہ کتاب سیف بن عمر تمیمی کے گڑھے ہوئے ''١٥٠ جعلی اصحاب'' میں سے ٣٩(۱) جعلی اصحاب کے تعارف پر مشتمل ہے،جنھیں سیف نے ذاتی طور پر جعل کرکے ان کے خیالی وجود کو واقعی صورت میں پیش کیاہے ،ان سے حدیث روایت کی ہے اور عظیم تاریخی واقعات کو جو کہ حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتے ،ان سے منسوب کیاہے۔
مؤلف محترم اس تلخ حقیقت تک پہنچنے کے لئے سیف کی زندگی کے مطالعہ کے دوران اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ :سیف پر جھوٹ بولنے اور حدیث گڑھنے میں شہرت رکھنے کے علاوہ زندیقی ہونے کا بھی الزام تھا۔لیکن ہمارے گزشتہ مصنفین اور مؤلفین نے صرف اس لئے کہ اس نے
''الفتوح الکبیرة'' و''الجمل ومسیرعلی وعائشہ'' نام کی دوکتابیں تالیف کی ہیں ،سیف کونہ صرف ایک نامور واقعہ نگار جاناہے بلکہ اس کی روایتوں اور باتوں کو صدر اسلام کے مہمترین تاریخی اسناد کے طور پر پہچانا ہے۔
____________________
(۱) طبع اول ان ٣٩ صحابیوں میں سے ٢١ افراد خاندان تمیمی کے ذکر ہوئے تھے لیکن دوسری طبع میں ان کی تعداد ٢٣ تک بڑھ گئی ہے۔
زندیقیوں کا مسئلہ
اس کے بعد مؤلف ،''زندیق'' اور ''زندیقیت'' کے عام معنی کی تشریح کرتے ہیں پھر اس کے اصلی معنی ومفہوم پر بحث کرتے ہیں اور سیف بن عمر کے زمانے کے چند نامور زندیقیوں جیسے ''ابن مقفع،ابن ابی العوجاء اور مطیع بن ایاس'' کا ذکر کرتاہے۔اور اس سلسلے میں ایک مفصل بحث کے بعد نتیجہ حاصل کرتاہے کہ اس زمانے میں زندیقیت نے ان لوگوں کے درمیان پوری طرح رواج پالیاتھا جو دین مانی اور مانوی گری سے دلوں میں ایمان پیدا کئے بغیر اسلام کی طرف مائل ہوئے تھے ۔اس کے بعد لکھتے ہیں :
''یہ زندیقیوں کے چند نمونے تھے ،جن کا عمل وکردار سیف کے زمانے کے مانویوں کی سرگرمیوں کا مظہر ہے۔ ان میں سے ایک شخص زندیقیوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتاہے اور مسلمان معاشرے میں انھیں رائج کرتاہے ۔ دوسرا ،بے باکی اور بے شرمی وبے حیا ئی ،اور کھلم کھلا فسق وفجور ،بد کاری ،بد اخلاقی اور غیر انسانی عادات کا نمونہ ہے اور ان افعال کو مسلمان نوجوانوں میں پھیلاتاہے،اور تیسرا اپنے دو پیشرؤں سے زیادہ سرگرمی ،پشتکار کے ساتھ ہر شہر ودیہات میں ایک عجیب ثابت قدمی سے مسلمانوں کے ایمان وعقائد میں شک وشبہہ اور تشویش پھیلانے میں سرگرم ہو تاہے اور فتنوں وبغاوتوں کو برپاکرنے اور لوگوں کے اسلامی اعتقادات کو سست کرنے کی سر توڑ کوشش کرتاہے اور اپنے دو پیشرو ساتھیوں کی طرح زندیقیوں کے عقائد وافکار کی ترویج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتاہے حتی جلاد کی تلوار کے نیچے بھی مسلمانوں میں شک وشبہہ پیدا کرنے سے گریز نہیں کرتاہے اور اعتراف کرتاہے کہ اس نے اکیلے ہی چار ہزار احادیث جعل کی ہیں اور انھیں لوگوں میں اس طرح رائج کردیا ہے کہ حلال کوحرام اور حرام کو حلال کردیاہے !!اگر اس شخص ابن ابی العوجاء نے اکے لئے ہی چار ہزار جھوٹی حدیث جعل کی ہیں ....تو سیف نے ہزار ہا ایسی احادیث جعل ہیں جن میں
رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاک ترین اور با ایمان ترین صحابیوں کو پست ،کمینہ اور بے دین ثابت کرکے ان کے مقابلے میں ظاہری اسلام لانے والوں اور جھوٹ بول کر اسلام کا اظہار کرنے والوں کو پاک دامن ،دین دار اور قابل احترام بناکر پیش کیاہے!اس طرح دنیائے علم وتحقیق کو حق و حقیقت کے خلاف ان دو موضوعوں کے مد مقابل حیرانی و پریشانی سے دوچار کردیاہے۔
وہ اسلام میں خرافات سے بھرے ہوئے افسانے وارد کرنے میں کامیاب ہواہے تا کہ مسلم حقائق کو شک وشبہات کے پردے کے پیچھے مخفی کردے اس طرح وہ مسلمانوں کے عقائد وافکار پر بُرا اور ناپسند اثر ڈالنے اور اس دین الٰہی کے بارے میں غیروں کے افکار کو دھندلا اور مکدر بنانے میں کامیاب ہواہے''
جذبات کو بھڑکانا
سیف کی خراب کاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے جاہلیت کے تعصب کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔وہ قبائل نزار جو زر وزور اور اقتدار وقانون کے مالک تھے اور خلفائے راشدین نیز اموی اور عباسی خلفاء سب کے سب اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے کے بارے میں اپنے تعجب خیز تعصباتی لگاؤکا اظہار کرتاہے ،یہاں پر محترم ودانشور مولف قبائل نزار ومضر اور قبائل قیس ویمانی کے درمیان اسلام سے پہلے کے خشک خاندانی تعصبات اور اپنے تئیں فخرو مباہات کے اظہار نیز دوسرے قبائل کے خلاف دشنام ،توہین اور برا بھلا کہنے اور اسلام کے سائے میں بھی اس تعصب و دشمنی کے استمرار کے سلسلے میں تشریح کرتے ہوئے لکھاہے :
''پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی ،وہاں پر اوس وخزرج نامی دو قبیلے رہتے تھے ، دونوں قبیلے یمانی تھے۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ہجرت کرنے والے جنھوں نے ''مہاجر'' کالقب پایاتھا قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔یہ دو دشمن قبیلے جو آپس میں دیرینہ دشمنی رکھتے تھے ،شہر مدینہ میں اپنی باہم زندگی کے دوران دو بار ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے قرار پائے کہ قریب تھا جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں ۔ پہلی بار رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ذاتی طور پر مداخلت فرمائی اور ان بھڑکنے والے شعلوں کو جو خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے تھے،اپنی تدبیر،حکمت عملی اور اسلام کی طاقت سے بجھادیا۔دوسری بار جب پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد اس خاندانی جذبات اور جاہلیت کے تعصبات نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خلافت کے مسئلے پر پھر سے سر اٹھایا تو حالات ایسے رونما ہوئے کہ نزدیک تھا خوں ریزی برپا ہو جائے اور تازہ قائم ہوا اسلام نابود ہوجائے ۔یہاں پر خاندانی تعصب ودشمنی کے شعلے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علی ـکی فہم وفراست کے نتیجہ میں بجھ گئے''
محترم مؤلف نے بہترین انداز میں تشریح کی ہے کہ بنیادی طور پر تعصب مردود ومنفور اور قابل نفرت ہے اور دنیائے شعرو ادب کے لئے افراط وزیادتی کا سبب ہے لیکن سیف ان میں سے کسی ایک کی طرف توجہ کئے بغیر جو کچھ انجام دیتاہے اپنے تعصب کے بنا پر انجام دیتاتھا۔اسی لئے اس نے شعراء کی ایک جماعت کو خلق کیاہے تاکہ وہ اپنے اشعار کے ذریعہ قبیلہ مضر،خاص کر خاندان تمیم کے لئے سیف کے جعل کردہ فخرومباہات کا تحفظ کریں ۔اس کے علاوہ اپنے خاندان ''تمیم ومضر'' سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے اصحاب جعل کئے ہیں اور ان کے بارے میں ثابت کیاہے کہ وہ اسلام کو قبول کرنے میں پیش قدم ہونے کی وجہ سے صاحب فضیلت واعتبار ہیں ۔مزید یہ کہ خاندان مضر سے ایک گروہ کو فوج کے سپہ سالار اور حدیث کے راویوں کے طور پر جعل کیاہے ۔اس نے قبیلہ مضر اور اپنے خاندان تمیم کے بارے میں اس قدر فضیلت وبرتری پر ہی اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اس نے اپنے تعصب اور احساس برتری کی بناء پر اپنے قبیلہ کے افتخارات کو محکم وپائیدار کرنے کے لئے جنوں سے بھی کام لیا ہے اور ایسے جنات تخلیق کئے ہیں جو تمیم اور مضر کے خاندان کے بہادروں اور دلاوروں کی فضیلتوں کے اشعار کو فضا میں گاتے ہیں تاکہ دنیا والوں کے کانوں تک ان کی فضیلتوں کو پہنچادیں ! اس کے علاوہ اس نے اپنے خاندان مضر سے باہر بھی چند افراد خلق کئے ہیں جو اس کے قبیلے کے خیر خواہ ،طرفدار کی حیثیت سے خاندان تمیم اور مضر کانام روشن کرنے کے لئے ان کے پرچم تلے جنگوں میں شرکت کرتے ہیں تاکہ خاندان تمیم ومضر کے فضل وشرف سے دوسرے درجے کی فضیلت کے مالک بن جائیں ۔
علم ولغت کے مصادر میں سیف کا رول
اس طرح ،سیف کی تخلیق کی بناء پر جھوٹے اور افسانوی اصحاب اور تابعین کی ایک بڑی جماعت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی اصحاب وتابعین کی صف میں شامل ہوجاتی ہے اور یہ لوگ تاریخ اسلا م میں اپنے لئے ایک مقام بنالیتے ہیں !!سرانجام مولف محترم ثابت کرتے ہیں کہ سیف کے اس جھوٹ ،افسانوں ،حقائق میں ترمیم اور مجاز کے منحوس سائے بعد میں اصحاب وتابعین کے حالات کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں پر وسیع پیمانے پر نظر آتے ہیں اور ان میں سیف کے جعل کردہ اصحاب وتابعین مخصوص مقام پر دکھائی دیتے ہیں ،جیسے:
بغوی (وفات ٣١٧ھ )کی ''معجم الصحابہ''
ابن اثیر (وفات ٦٣٠ھ)کی '' اسد الغابہ''
ابن حجر (وفات ٨٥٢ھ) کی '' الاصابہ''
ان کے علاوہ حالات زندگی بیان کرنے والے اور بہت سے مأخذ بھی ہیں ان ہی مقاصد کو فتوحات سے مربوط فوجی سرداروں کے حالات کی تشریح کرنے والی کتابوں میں مد نظر رکھا گیا ہے ، جیسے:
''طبقات ابوزکریا'' (وفات ٣٣٤ھ )
''تاریخ دمشق '' ابن عساکر (وفات ٥٧١ھ)
اور دوسری کتابیں ۔
اس حد تک کہ سیف کے جعل کردہ اس قسم کے افسانوی پہلوانوں کے خاندان اور شہرت ، مقامات اور جھوٹے و فرضی کیمپوں کے بارے میں ابہام و اشکالات کو دور کرنے کے لئے مجبور ا کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان پر شرح و تفسیر یں بھی لکھی گئی ہیں یہ افسانے اور جھوٹ ،کا بوس بن کر تاریخ کی گراں سنگ اور معتبر کتابوں ،جیسے : تاریخ طبری ،ابن اثیر ،ذہبی ،ابن کثیر اور ابن خلدون پر چھا گئے ہیں ۔حتیٰ ادب کی کتابیں ،جیسے : اصفہانی کی '' اغانی'' لغت کی کتابیں ،جیسے '' لسان العرب '' ابن منظور اور حدیث کی کتابیں جیسے : ''صحیح ترمذی '' بھی سیف کے تصرف اور اس کے جھوٹ اور افسانوں کے نفوذ سے محفوظ نہیں رہی ہیں ۔
خلاصہ:
یہ کہ استاد عسکری نے اپنی کتاب کی اس جلد میں ١٥٠جھوٹے اصحاب میں ٣٩ ،اصحاب (جو برسوں اور صدیوں تک حقیقت اور عینی وجود کے پردے کے پیچھے خود کو مخفی کئے ہوئے تھے اور ان کا وجود ناقابل انکار بن چکا تھا ) کی شناسائی کرکے انھیں تشت از بام کیا ہے ۔ان افسانوی اصحاب میں سے بیس اصحاب خاندان تمیم یعنی سیف کے اقربا ہیں اور مولف نے ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک الگ فصل مخصوص کی ہے ۔اور دقت نظر اور علمی روش کے تحت ان کے بارے میں بحث و تحقیق کی ہے اس کے بعد ان کے بارے میں سیف اور دیگر مورخین کے نظریات کا موازنہ کرکے قطعی اور ناقابل انکار دلائل کے ذریعہ ان میں سے ہر ایک کا افسانوی ،خیالی،و فرضی ہونا ثابت کیا ہے ۔
ہمار ا اعتقاد یہ ہے کہ اس قسم کی موضوعی تحقیق و بحث جو صرف علمی پہلو کی حامل ہے ،اس پر خطر اور نشیب و فراز والی راہ میں جس کا آغاز ،استاد عسکری نے اپنی تحقیق اور اس کتاب کے ذریعہ کیا ہے ،علماے دین اور حقائق کے متلاشیوں کی ہمت و کوشش سے جو اس سلسلے میں دوسروں سے زیادہ سرگرمی دکھانے کے مستحق ہیں گراں قیمت اسلامی آثار کو آلودگیوں سے نہ صرف اعتقادی لحاظ سے بلکہ ہر دو لحاظ سے ،یعنی فقہی و دینی لحاظ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے کہ ممکن ہے کہ ان موارد کے پیچھے جھوٹ یا دخل و تصرف دونوں کے کتنے ہی چہرے پوشیدہ اور مخفی ہوں ۔
اس قسم کے حقائق کو رائج اور ایسی سرگرمیوں کا آغاز کرکے استاد عسکری نے اپنی ثمربخش اور نتیجہ خیز کو ششوں کو دنیائے علم و دانش خاص کر عالم اسلام جو تہذیب و تمدن اور دنیا و آخرت کی بھلائی کو وجودمیں لانے والی عظیم طاقت ہے کی خدمت میں پیش کیا ہے ۔
رشاد دار غوث
مقدمۂ مؤلف
اس کتاب کی پہلی جلد ١٣٨٧ھ میں پہلی بار چھپ کر منظر عام پر آگئی ،لیکن اس میں درج کئے گئے اشعار کے بارے میں تحقیق کرنے کی فرصت پیدا نہ ہو سکی ۔اس کا سبب یہ تھا کہ میں نے مذکورہ اشعار کو بد خط قلمی نسخوں سے نقل کیا تھا کہ غالبا الفاظ اور عبارتوں کے لحاظ سے ان میں بہت سی غلطیاں موجود تھیں ۔
کتاب کی طباعت میں یہ عجلت اور اشعار کے بارے میں عدم تحقیق و دقت اس لئے تھی کہ بغداد میں(۱) '' اصول دین کالج '' کی جو بنیاد ہم نے ڈالی تھی ،انہی دنوں اس کی عملی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں ،اس لئے ہم مجبور تھے کہ ایک علمی کتاب شائع کرکے دیگر اداروں ،کالجوں اور یونیور سٹیوں میں اس کا تعارف کرائیں ۔
اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ کتاب کو اس صورت میں کالج کی مطبوعات میں سے ایک
____________________
۱۔'' اصول دین قومی کالج '' کی بنیاد ١٣٧٤ھ کو بغداد میں ڈالی گئی ۔طالب علموں کو اس کا لج سے علوم قرآن ، حدیث، عربی، ادبیات میں گریجویش کی ڈگری دی جاتی تھی ۔ہم ان دنوں اس کوشش میں تھے کہ اس کالج کے پہلے گروپ کے فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی اس کی اسناد کوبغداد یونیورسٹی اور دنیا کی دوسری یونیورسٹیوں سے رجسڑیشن کرائیں ۔
کتاب کے طور پر شائع کرکے منظر عام پر لائیں ۔شعر و شاعری حتیٰ حوادث و واقعات ،جو ایسی رجز خوانیوں اور رزم ناموں کو وجود میں لانے کا سبب بنے تھے ،کے جعلی ثابت ہونے کے بعدان کی عبارتوں اور اشعار کے تلفظ کے بارے میں تحقیق نہ فقط غیر ضروری تھی بلکہ اس سے کتاب کے بنیادی مقصد اور اس کے علمی مطالب کوکوئی ضرر نہیں پہنچتاتھا۔
اس کے علاوہ طے یہ پا یاتھا کہ اس کتاب کی پہلی جلد ،خاندان تمیم سے مربوط جعلی اصحاب سے مخصوص ہو۔لیکن ہم نے دروغ بافی کے تنوع اور غیر تمیمی صحابیوں کی تخلیق ثابت کرنے کے لئے یہ مناسب سمجھاکہ کتاب کی آخر میں چند غیر تمیمی افسانوی اصحاب کابھی اضافہ کریں اس طرح اس کتاب کی پہلی جلد (عربی میں )بیروت سے شائع ہوئی۔
اس کتاب کی طباعت کے فوراًبعد اس کاپرجوش استقبال کیاگیا،حتیٰ بعض ناشروں نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کتاب کو دوبارہ آفسٹ پرنٹنگ میں چھاپنے کی اجازت دیدوں ۔میں نے اپنے گزشتہ تجربہ کے پیش نظر انھین اس چیز کی اجازت نہیں دی لیکن میری عدم موافقت کے باوجود یہ کتاب دوبارہ چھاپی گئی اور اس کے ہزاروں نسخے چاہنے والوں تک پہنچے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں ان دنوں زیر بحث اشعار کی تحقیق و تصحیح میں لگا ہوا تھا۔ اس کام سے فراغت پانے کے بعد میں نے اس کتاب کی آخر سے دو غیر تمیمی اصحاب کو حذف کرکے ان کی جگہ پر سیف کے دو دیگر جعلی تمیمی اصحاب کی زندگی کے حالات کا اضافہ کرکے اس کی دوبارہ طباعت کا اقدام کیا ۔اس طرح حقیقت میں اب کہا جاسکتا ہے کہ کتاب ''جعلی اصحاب'' کی پہلی جلد مکمل اور تصحیح شدہ صورت میں ١٣٨٩ھ میں بعداد سے شائع ہو ئی ہے ۔
خدائے تبارک و تعالیٰ اس کام کو جاری رکھنے اور ان عملی مباحث کو مکمل کرنے میں میری مدد فرمائے!۔
مرتضیٰ عسکری
پہلا حصہ: بحث کی بنیادیں
* گزشتہ بحثوں پر ایک نظر
* سیف بن عمر کے جھوٹ اور افسانے پھیلنے کے اسباب
* دس اور کتابیں جن میں سیف سے اقوال نقل کئے گئے ہیں
گزشتہ بحثوں پر ایک سرسری نظر
ہم نے کتاب ''عبد اللہ ابن سبا '' اور ''ایک سو پچاس جعلی اصحاب '' میں مشاہدہ کیا کہ سیف کی بے بنیاد اور جھوٹی احادیث اور باتوں نے اسلامی معارف اور لغت کی معتبر اور اہم کتابوں میں اس طرح نفوذ کیا کہ ہر محقق عالم کو حیرت و سرگردانی کا سامنا ہوتا ہے۔
ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد میں سیف کے جھوٹ کے پھیلنے کے چند اسباب تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ یہاں پر ان کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کیا جاتا ہے:َ
١۔سیف نے اپنی باتوں کو ہر زمانہ کے حکام اور ہر زمانہ کے اہل اقتدار کے ذوق اور ان کی خواہش و پسند کے مطابق مرتب کیا ہے کہ ہر زمانہ کا حاکم طبقہ اس کی تائید کرتا ہے !
٢۔سیف نے سادہ لو عوام کی کمزوری کا خوب فائدہ اٹھا یا ہے کہ یہ لوگ اپنے اسلاف کے بارے میں حیرت انگیز کارنامے اور ان کی منقبتیں سننے کے مشتاق ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان سادہ لوح اور جلدی یقین کرنے والوں کے لئے اسلاف کی بہادریاں اور کرامتیں خلق کرکے ان کی خواہشیں پوری کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
٣۔ سیف نے ش شعر و رجز خوانیوں کے دلدادوں اور ادبیات کے عاشقوں کو بھی فراموش نہیں کیاہے بلکہ ان کی پسند کے مطابق اشعار کہے ہیں اور رزم نامے و رجز خوانیاں لکھی ہیں اور ان اشعار و رجز خوانیوں سے ان کی محفلوں کو گرمی ورونق بخشی ہے۔
٤۔تاریخ نویسوں ، راویوں ، واقعہ نوسیوں اور جغرافیہ دانوں نے بھی سیف کے حق نما جھوٹ کے دستر خوان سے کافی حد تک فائدہ اٹھا یا ہے اور کبھی واقع نہ ہونے والے تاریخی اسناد ، حوادث اور روئیداد اور ہرگز وجود نہ رکھنے والے مقامات ، دریا اور پہاڑوں سے اپنی کتابوں کے لئے مطالب فراہم کئے ہیں ۔
٥۔عیش پرست، ثروتمند اور آرام پسندوں کے لئے بھی سیف کے افسانے اور دروغ بافیاں عیش و عشرت کی محفلوں کی رونق ہیں ۔ سیف نے اس قسم کے لوگوں کی مستانہ شب باشیوں کئے لئے اپنے پر فریب ذہن سے تعجب انگیز شیرین اور مزہ دار داستانیں اور قصے بھی گڑھے ہیں ۔
٦۔ان سب چیزوں کے علاوہ دوسری صدی ہجری کے اس افسانہ گو سیف بن عمر تمیمی کی قسمت نے اس کی ایسی مدد کی ہے کہ وہ عالم اسلام کے مؤلفین میں سر فہرست قرار پیا ہے۔سیف کا زمانے کے لحاظ سے مقد م ہونا اور دیگر علماء و مؤلفین کا مؤخر ہونا سیف کے جھوٹ اور افسانوں کے نقل ہونے کا سبب سے بڑا سبب بنا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ انہی مؤلفین کی اکثریت سیف کو جھوٹا، حدیث گڑھنے والا، حتیٰ زندیق ہونے کا الزام بھی لگاتی ہے۔
سیف کا یہی امتیاز کہ وہ ایک مؤلف تھا اور اس نے دوسری صدی ہجری کی پہلی چوتھائی میں (افسانوی اور حقائق کی ملاوٹ پر مشتمل افسانوی)تاریخ کی دوکتابیں تألیف کی ہیں اس کا سبب بناہے کہ اسلام کے بڑے بڑے مؤلفین نے ، وقت کے اس عیّار کی دھوکہ بازی اور افسانوں سے بھری تحریروں سے خوب استفادہ کیا اپنی گراں قدر اور معتبر کتابوں کو ، حقیقی اسلام کو مسخ کرنے والے اس تخریب کا ر کے افسانوں اور جھوٹ سے آلودہ کربیٹھے ۔
بعض سر فہرست مؤلفین ، جنہوں نے اسلامی تاریخ و لغت کی کتابوں میں سیف بن عمر سے روایتیں نقل کی ہیں ، حسب ذیل ہیں :
١۔ابو مخنف، لوط بن یحییٰ (وفات ١٥٧ھ)
٢۔نصر بن مزاحم بن یحییٰ (وفات ٢٠٨ ھ)
٣۔خلیفہ بن خیاط بن یحییٰ (وفات ٢٤٠ھ)
٤۔بلاذری بن یحییٰ (وفات ٢٧٥ھ)
٥۔طبری بن یحییٰ ( وفات ٣١٠ھ)
اس کے علاوہ دسیوں دیگر نامور اور محترم مؤلفین بھی ہیں ۔
یہ اور ان جیسے مؤلفین سبب بنے کہ سیف کی جھوٹی اور افسانوی باتیں اسلام کے اہم اور قابل اعتبار مصادر میں درج ہوگئیں ۔ ہم نے ان میں سے ٦٨ مصادر و مآخذ کی طرف اس کتاب کی پہلی جلد میں اشارہ کیا ہے اور اب ان مصادر میں چند دیگر افراد کا ذیل میں اضافہ کرتے ہیں جنہوں نے سیف بن عمر سے مطالب نقل کئے ہیں :
٦٩۔ابو القاسم ، عبد الرحمان بن محمد اسحاق مندہ (وفات ٤٢٧ھ)، کتاب ''التاریخ المستخرج من کتب الناس فی الحدیث'' میں ۔
٧٠۔ الصاغی ، حسن بن محمد القرشی ، العدوی العمری (وفات ٦٥٠ھ) کتاب ''در السحابہ، فی بیان مواضع و فیات الصحابہ'' میں ۔
٧١۔عبد الحمید ،ابن ابی الحدید معتزلی (وفات ٦٥٥ ھیا٦٥٦ھ)کتاب''شرح نہج البلاغہ'' میں ۔
٧٢۔مقریزی ،تقی الدین احمد بن علی بن عبد القادر (وفات ٨٤٨ھ )کتاب ''الخطط''میں ۔
مشاہدے کے مطابق سیف بن عمر کے افسانے اور جھوٹ (ہماری دست رس کے مطابق ) ہماری در پیش بحث سے مربوط ،اسلام کی ٧٨معتبر اور گراں سنگ کتابوں میں درج ہوئے ہیں ۔اب ہم محققین محترم کی مزید اطلاع ،معلومات اور راہنمائی کے لئے مواخر الذکر مطالب کے صفحات کے حوالے بھی حسب ذیل ذکر کرتے ہیں :
گزشتہ بحث کے اسناد
١۔تاریخ المستخرج من کتب الناس فی الحدیث عبید بن صخرکے باپ بن لوذان کے حالات زندگی میں
٢۔صاغی کی درالسحابہ ،ص١٤ ،اسعد بن یربوع کے حالات میں
٣۔''شرح نہج البلاغہ '' ابن ابی الحدید معتزلی (١٨٦٤)
٤۔''الخطط مقریزی ''طبع مصر ١٣٢٤ھ صفحات (١٥١١و١٥٦)و(١٤٦٤)
٥۔فتح الباری (٧،٥٨و٥٦)
٦۔تاریخ خلفا سیوطی (٨١و٩٧)
٧۔کنز العمال ( ٣٢٣١١و١٥٥١٢و٢٣٩و١٥و٦٩و٢٣٢)
دوسرا حصہ:
جعلی صحابی کو کیسے پہچانا جائے؟
* ایک مختصر تمہید
* سیف کی سوانح حیات اور اس کے زمانے کا ایک جائزہ
* جعلی صحابی کی پہچان
* جعلی اور حقیقی روایتوں کا موازنہ
* سیف کے چند جعلی اصحاب کے نام
ایک مختصر تمہید
کتاب '' عبداللہ ا بن سبا'' اور اس کتاب کے مختلف مباحث کی بنیاد اسی پر ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ سیف ابن عمر تمیمی ان افسانوں ،پہلوانوں ،اماکن اور اس کی خیالی جگہوں کا جعل کرنے والا ہے ۔اس سلسلے میں ہماری دلیل حسب ذیل ہے :
اسلام اور علماے اسلام کے نزدیک روایت (نقل قول) مختلف علوم ،مانند تاریخ ،فقہ ،تفسیر اور دیگر فنون ادب اور لغت کی بنیاد ہے اور وہ اس کے علاوہ خبر حاصل کرنے کے کسی اور منبع کو نہیں جانتے جب کہ دوسروں نے اپنے معلومات کی تکمیل کے لئے مثال کے طور پر اتفاقا آثار و علائم اور دیگر امور کی طرف بھی رجوع کیا ہے اور ان سے استفادہ کرتے ہیں ۔
چوں کہ علماے اسلام کا طریقہ یہی رہا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ،اس لئے وہ مورد نظر روایت کو نسل بہ نسل اپنے متقدمین سے حاصل کرتے ہیں تاکہ اس طرح خبر واقع ہونے کے زمانے اور روایت کے مصدر تک پہنچ جائیں ۔ان کے نزدیک خبر کے سر چشمہ تک پہنچنے کی صرف یہی ایک راہ ہے اور وہ اس سے نہیں ہٹتے نہ کسی اور جگہ سے الہام لیتے ہیں ۔
اب اگر ہم مذکورہ علوم کے بارے میں علماے اسلام کی کتابوں کی طر ف رجوع کریں تو جوکچھ انہوں نے روایت کی ہے اس کے بارے میں انہیں مندرجہ ذیل دوگروہوں میں سے کسی ایک میں پاتے ہیں :
ان علماء میں سے ایک گروہ مثلاًطبری ،خطیب بغدادی اور ابن عساکر نے جس خبر وروایت کو اپنی تاریخوں میں ذکر کیا ہے اور اس کی سند کو بھی ثبت ومشخص کیا ہے ۔
علماء کاایک دوسرا گروہ مثلاًمسعودی مروج الذہب میں ،یعقوبی ،ابن اثیر ،اور ابن خلدون نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں ذکر کی گئی روایتوں کی سند کاذکر نہیں کیاہے ۔
اب ہم مذکورہ وضاحت کے پیش نظر کہتے ہیں :
اگر کسی متأخر مؤلف کے ہاں ہم دیکھتے ہیں کہ جس روایت کو اس نے ذکر کیا ہے اس کی سند کوذکرنہیں کیاہے ۔حتیٰ یہ بھی معین ومشخص نہیں کیا ہے کہ اس خبر کو اس نے کہاں سے لیا ہے توہم اس مطلب کی تحقیق کرتے ہیں اور دوسری کتابوں کا مطالعہ کرکے یہ نتیجہ پاتے ہیں کہ یہی خبر من وعن حالت میں کسی قدیمی عالم کی تحریر میں موجود ہے اور بحث وتحقیق کے بعد معلوم ہوتاہے کہ اس متأخر عالم کی خبر کا سرچشمہ یہی قدیمی عالم مؤلف تھا ۔یہاں پر ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ مذکورہ خبر کو فلاں متأخر عالم نے فلاں قدیمی عالم سے نقل کیا ہے ۔
درج ذیل مثال مذکور ہ مطالب کی مکمل وضاحت کرتی ہے :
ہم نے جہاں پر سبائیوں کا افسانہ اپنی کتاب ''عبداللہ ابن سبا''کی پہلی جلد میں ذکرکیا ہے وہیں پر یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اس افسانہ کو گزشتہ تاریخ نویسوں ،مؤلفوں و محققوں حتیٰ مشتشرقین نے بھی اپنے طور پر ایک دوسرے سے نقل کیا ہے ،اور اس داستان میں ان کی سند درج ذیل مصادر میں سے کسی ایک پر منتہی ہوتی ہے :
١۔ تاریخ طبری (وفات ٣١٠ھ )
٢۔ تاریخ دمشق ،ابن عساکر (وفات ٥٧١ھ )
٣۔التمہید و البیان ،ابن ابی بکر (وفات ٧٤١ھ )
٤۔ تاریخ اسلام ،ذہبی ( وفات ٧٤٨ھ)
ہم جب اس مطلب کا سلسلہ تلاش کرتے ہیں اور سبائیوں کی داستان کی سند کو مذکورہ چار مصادر میں جستجو کرتے ہیں تو نتیجہ کے طور پر متوجہ ہوتے ہیں کہ ان سب نے یہ مطلب صرف سیف بن عمر تمیمی سے لے کر اپنی تاریخوں میں درج کیا ہے اور اپنی اسناد کے سلسلے کو سیف بن عمر تک پہنچاتے ہیں ۔یہاں پر اس جستجو کے بعد ہم پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان افسانوں کو بیان کرنے والا منفرد شخص سیف ہے اور سبائیوں کی داستان اس پورے آب و تاب کے ساتھ صرف سیف کی ذہنی تخلیق ہے کسی اور نے اس کی روایت نہیں کی ہے ۔
سیف کی سوانح حیات اور اس کے زمانے کا ایک جائزہ
یہاں پر ہم سیف کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے اس تحقیق کے دوران متوجہ ہوتے ہیں کہ :
١۔ سیف نے اپنی ادبی سرگرمیوں کا آغاز دوسری صدی ہجری کی ابتدا ئی چوتھائی میں کیا ہے۔یہ وہ صدی تھی جس کے دوران عرب دنیا میں خاندانی تعصب کی دھوم تھی ۔جزیرہ نمائے عرب کے شمال میں قبیلہ عدنان کے شعرا ء اور سخن ور اور جنوب میں قبیلہ قحطان اپنی مدح و ثنا میں اور دسرے کی ہجو اور انھیں بد نام کرنے میں ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے ۔شمالی ،جنوبیوں کے خلاف اور جنوبی جزیرہ نما کے شمال میں رہنے والوں کو دشنام دیتے اور برا بھلا کہتے تھے اور اپنی فضیلتیں ، عظمتیں اور فخر و مباہات بیان کرتے تھے ۔ان ہی میں سیف ایک عدنانی اور سخت متعصب شخص تھا خاندانی تعصبات کا اظہار کرنے میں اس نے قبیلہ ٔعدنان کے مختلف خاندانوں خاص کر تمیم اور اپنے خاندان ''اسیّد'' کے لئے افسانے اور خیالی سورما جعل کئے ہیں اور اشعار و رزم نامے گڑھ کر دوسروں پر سبقت حاصل کی ہے۔ اس طرح اس نے خاندان عدنا ن کے فخر و مباہات اور شرافت و فضیلتیں تخلیق کی ہیں ، اور قحطانیوں پر بزدلی ، ذلالت ، فتنہ انگیزی اور شرارت کی تہمتیں لگائی ہیں ۔
سبائیوں کے بارے میں سیف کا افسانہ اسی امر کی وضاحت کرتا ہے۔وہ اس افسانہ کو جعل کرکے قبائل عدنان کے بعض سرداروں کے آلودہ دامن کو پاک و صاف کرتا ہے اور بے گناہ قحطانیوں پر فتنہ انگیزی اور دیگر ہزاروں برائیوں کی تہمتیں لگاتا ہے۔
٢۔دوسری جانب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ عراق ، جو سیف کا اصلی وطن ہے، ان دنوں زندیقیوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور وہ پوری طاقت کے ساتھ مسلمانوں کو اسلام سے منحرف کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے وہ اس سلسلے میں جھوٹی احادیث گھڑ نے اور انھیں پھیلانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے تھے اور اپنے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے ہر وسیلہ کا سہارا لیتے تھے۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ سیف بھی جھوٹ اور افسانے گڑھ کر، تاریخ اسلام کے ساتھ ظلم و جفا کرنے میں اپنے ہم عقیدہ زندیقیوں سے پیچھے نہیں رہاہے۔ اور یہ اس صورت میں ہے کہ علماے متقدمین نے سیف کو نہ صرف ایک جھوٹا اور غیر قابل اعتماد جانا ہے بلکہ اس پر زندیقی ہو نے کا الزام بھی لگا یا ہے۔ ان تمام تحقیقات کے پیش نظر ہم وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سیف بن عمر ہے جس نے سبائیوں کا افسانہ جعل کرکے اسے پھیلادیا ہے۔
٣۔ہم نے اپنی کتاب ''عبد اللہ بن سبا'' میں سیف کی روایتوں کو واقعات اور حوادث کے تقدم کی بنیاد پر ، یعنی اسامہ کی ماموریت ، سقیفہ بنی ساعدہ، ارتداد اور فتوح کی جنگوں کے سلسلے میں اس کی روایتوں کا ترتیب سے سیف کے علاوہ دوسرے راویوں کی روایتوں سے موازنہ و مقابلہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ:
علماء نے سیف کی توصیف اور اس کی احادیث کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، وہ صحیح ہے، کیونکہ سیف بن عمر تمیمی کی باتیں بالکل جھوٹ اور افسانہ ہیں یا تہمت و افترا ہیں یا تاریخ اسلام کے حقائق میں تحریف ہیں ۔
اسناد جعل کرنا
سیف اپنے افسانوں کے لئے تاریخ لکھنے والوں کے شیوہ کے مطابق سند جعل کرتا ہے تا کہ اپنے افسانون اور جھوٹ کو سچ اور حقیقی ظاہر کرسکے۔ وہ اپنی بات کو ایسے راویوں کی زبانی دہرا تا ہے جو حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتے اور سیف کے علاوہ ان کا نام کہیں نہیں پایا جاتا اور دوسرے علماء نے ان کا نام تک نہیں لیا ہے۔ سیف نے اپنے سور ماؤں کے لئے شجاعتیں اور بہادریاں جعل کی ہیں اور مقامات کو خلق کرکے ان کی دلاوریوں کو ان جگہوں پر واقع ہوتے ہوئے دکھلایاہے۔
وہ مؤلفین، جنھوں نے سیف کے خیالی اداکاروں کو درج کیا ہے
یہاں پر ایک ہلا ہم ہادینے والے مطلب سے دوچار ہوتے ہیں ، وہ یہ کہ ہمیں ایسے علماء اور دانشمندوں کا سراغ ملتا ہے جو سیف کے بارے میں مکمل شناخت رکھتے ہیں ، اسے جھوٹا جانتے ہوئے اس پر زندیقی ہونے کا الزام بھی لگاتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے سیف کے ہر جعلی اور افسانوی سور ما کے لئے اپنی رجال کی کتابوں میں سوانح حیات لکھی ہے اور جغرافیہ دانوں نے بھی اپنی جغرافیہ کی کتابوں میں سیف کے جعلی اور فرضی مقامات ،شہروں اور دریائوں کو درج کیا ہے اور ان علماء کے ثبت کئے گئے مطالب کی سند صرف اور صرف سیف کی جعلی روایتیں ہیں ۔اس طرح سیف کے خیالی مقامات اور شہروں کے نام اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں درج ہو گئے ہیں اور اس کے خیالی اشخاص ،افسانوی سورما ،فرضی راوی ،جعلی سپہ سالار ،خیالی شعراء و سخنور اور اس کے علاوہ خطوط ،تاریخی اسناد کہ جن میں سے کسی ایک کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اور سب کے سب دوسری صدی ہجری کے افسانہ گو سیف کے تخیلات کی پیدا وار ہیں ،کو ان علماء کی کتابوں میں مناسب جگہوں پر واقعی اور ناقبل انکار حقیقت کے طور پر درج کیا گیا ہے !!
یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو سالہا سال زندگی صرف کرنے اور دقت نظر و تحقیق کے بعد جس کا نتیجہ آپ آئندہ بحثوں میں ملاحظہ فرمائیں گے ہمیں حاصل ہو سکے ہیں تاکہ حق و حقیقت کے راہیوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں اور اسلام اور اس کی حقیقی تاریخ کے رخ سے پردہ اٹھا کر اسلام کے حقائق کو دنیا کے لوگوں اور مسلمانوں کے سامنے واضح کر سکیں ۔
جعلی صحابی کی پہچان
سیف کے افسانوی صحابی کو پہچاننے کے لئے ضروری ہے کہ ،جب ہم کسی روایت یا خبر کے مطالعہ کے دوران کسی ایسے صحابی سے رو برو ہوتے ہیں جو مشکوک لگے تو ہم سب سے پہلے اس خبر کے اسناد کا اسی کتاب میں دقت سے مطالعہ کرتے ہیں چونکہ ہم نے سیف کو پہلے ہی پہچان لیا ہے اگر اس خبر کی روایت سیف پر منتہی نہ ہو تو مذکورہ صحابی کے بارے میں تحقیق و جستجو سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور اسے سیف کا تخلیق کردہ راوی محسوب نہیں کرتے ۔
لیکن اگر روایت کی سند سیف پر منتہی ہو تو یہاں پر ہماری وسیع تحقیق و جستجو کا آغاز ہو تا ہے اور ہم مختلف مصادر اور متعدد اسلامی مآخذ کی طرف رجوع کرکے تحقیق شروع کرتے ہیں اور سیف کی روایت میں ذکر ہوئے مطالب کو اس موضوع کے سلسلے میں دوسروں کی روایت میں ذکر ہوئے مطالب سے موازنہ ، و مقابلہ کرتے ہیں .یہاں پر اگر مذکورہ مشکوک صحابی کا نام سیف کے علاوہ کسی اور راوی کی روایت میں ملے، تو اس کے بارے میں تحقیق ترک کردیتے ہیں اور اسے جعلی نہیں جانتے۔ لیکن اگر اس صحابی کا نام سیف کی روایتوں کے علاوہ کسی اور جگہ پر نہیں ہوتا تو اس وقت فیصلہ کرتے ہیں کہ:چونکہ یہ مطلب یا اس شخص کانام ، یا اس جگہ کا نام، اور ایسے راویوں کی خصوصیات کو صرف سیف بن عمر نے بیان کیا ہے اور ان کا کسی دوسری جگہ اور کسی ماخذ میں سراغ نہیں ملتا ، اس لئے یہ صحابی ، راوی یا جگہ حقیقت میں وجود نہیں رکھتے اور بالکل جھوٹ اور سیف بن عمر کے افکار و خیالات کے پیدا وار ہیں اس سلسلے میں درج ذیل مثال پیش کی جاتی ہے:
ایک تمیمی گھرانا
ہمیں مکتب خلفاء کی معتبر کتابوں میں مالک تمیمی نام کے ایک معروف خاندان سے مربوط بہت سی اخبار و روایات نظر آتی ہیں ، ان میں مشہور چہرے اور معروف صحابی بھی نظر آتے ہیں جن میں مالک تمیمی کے بہادر نواسے بھی ہیں ۔ان میں سے ایک کا نام قعقاع اور دوسرے کا نام عاصم ہے یہ دونوں عمرو کے بیٹے تھے۔ اسی طرح ان کے چچیرے بھائی اور مالک تمیمی کے دوسرے نواسے جیسے اسود بن قطبہ اور اس کا بیٹا اور صحابی نافع بن اسود یعنی مالک کا پر پوتا اور اس نامور خاندان یعنی بنی تمیم کے تمام محترم اور نامور افراد نظر آتے ہیں
ہم اس خاندان ، خاص کر ان کے غیر معمولی کار ناموں کی وجہ سے ان کے بارے میں مشکوک ہوتے ہیں ۔ اس بناء پر ہم اپنی تحقیق کے مطابق جو کچھ اس خاندان کے ہر فرد کے بارے میں بیان ہواہے، اسے ایک ایک کر کے مختلف اسلامی مصادر سے جمع کرتے ہیں ۔اس کے بعدتمام باسند اور بدون سندروایتوں کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اور آخر کار متوجہ ہوتے ہیں کہ وہ تمام روایتیں جو قعقاع کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ،سیف سے روایت ہوئی ہیں اور ان کی تعداد ٦٨ تک پہنچتی ہے اوروہ تمام روایتیں جواس کے بھائی عاصم سے مربوط ہیں ،ان کی تعداد ٤٠تک پہنچتی ہے ۔اسود بن قطبہ اور اس کے بیٹے نافع کے بارے میں روایتوں کی تعداد ٢٠تک پہنچتی ہے ،اور یہ سب کی سب صرف سیف بن عمر سے نقل ہوئی ہیں !
قعقاع کے بارے میں سیف کی روایتوں کے اسناد
اب ان روایتوں کے اسناد کے بارے میں تحقیق کی نوبت آتی ہے جو قعقاع کے بارے میں گویا ہیں ۔ہمیں اس تحقیق میں تیس ایسے راوی کے نام ملتے ہیں جوسیف کی احادیث کے علاوہ دوسروں کی احادیث میں نظرہی نہیں آتے ۔ان روایتوں کے راویوں میں خاص طور پر ایک ایسا راوی بھی ہے جس کانام ،قعقاع سے مربوط سیف کی ٣٨ احادیث میں دہرایا گیا ہے ۔دوسرے راوی کا نام ،١٥احادیث میں ،تیسرے راوی کانام ١٠ احادیث میں اور چھوتے راوی کانام قعقاع سے مربوط سیف کی ٨احادیث میں دہرایاگیاہے۔
ان راویوں میں سے چار کانام قعقاع کے بارے میں سیف کی دو احادیث میں ایک ہی جگہ پر آیا ہے ۔بعض اوقات ایک حدیث میں ان ہی راویوں میں سے ایک سے زائدہ کانام لیاگیا ہے۔ یہ سبب راوی سیف بن عمر تمیمی کے خیا لی اور جعل کردہ ہیں ۔
عاصم کے بارے میں سیف کی روایتوں کے اسناد کی تحقیق
عاصم کے بارے میں سیف کی روایتوں کی تحقیق کے دوران ہمیں ا س کے بارہ راویوں کے نام ملتے ہیں ،جن کو ہم سیف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہ پاسکے ۔ان راویوں میں سے ایک کانام عاصم کے بارے میں سیف کی ٢٨روایات میں دہرایاگیاہے۔ایک دوسرے راوی کانام ١٦روایات میں دہرایاگیاہے۔لیکن بعض اوقات عاصم کے بارے میں سیف کی ایک ہی روایت میں ایک سے زائد راویوں کانام ذکر کیا گیا ہے۔
مذکورہ نام وخصوصیات کے مالک بارہ راویوں کے علاوہ سیف نے بعض دیگر اسناد مثلاً: ''بنی بکر سے ایک مرد ''یا''بنی سعد سے ایک مرد''یا''شوش کی فتح کے بارے میں خبر دینے والا''جیسے موارد بھی پیش کئے ہیں کہ یہ انتہائی مجہول وبے نام اسناد ہیں ۔
اسود اور اس کے بیٹے کے بارے میں سیف کی روایات کے اسناد
اسود اور اس کے بیٹے نافع کے بارے میں سیف کی روایتوں کے اسناد میں ،عاصم کے سلسلے میں ذکر ہوئے راویوں کے علاوہ ،٩جعلی راوی اور چند مجہول شخصیت راویوں کاذکر کیاگیاہے کہ یہ سب کے سب مجہول اور بے نام ونشان ہیں ۔
خاندان مالک سے مربوط سیف کے روایات کے اسناد کی یہ حالت ہے اور سیف ان ہی کی وساطت سے اپنے سورماؤں اور جعلی صحابیوں کی سرگرمیوں کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے سے ،داستان سقیفہ بنی ساعدہ ،جزیرة العرب میں ارتداد اور فتوح کی جنگوں ،خلافت ابوبکر کے زمانے میں عراق وشام کی فتوحات اور نبرد آزمائیوں خلافت عمر وعثمان اور امام علی ـکے دوران حتیٰ معاویہ کے زمانے تک سرزمین عراق،شام اور ایران کی فتوحات کا ذکر کرتا ہے۔
سیف اس خاندان کے افراد کے لئے اپنی خیالی اور فرضی جنگوں میں شجاعتیں بیان کرتاہے اور رزمی شعر کہتاہے ،مختلف صوبوں کی حکومتیں انھیں تفویض کرتاہے ،کرامتوں اور غیر معمولی کارناموں کو ان سے نسبت دینے کے علاوہ دیگر ایسے مطالب بیان کرتاہے،جو صرف سیف کے ہاں نظر آتے ہیں ۔دوسری جانب ان روایتوں کی تحقیق اور چھان بین کے بعد جن میں صحابیوں اور بہادروں کا ذکر ہواہے ہم پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام روایتیں جن میں ان دلاوروں کا ذکر آیاہے اور جو بے سند ہیں ، حقیقت میں وہی پہلے درجہ کی سند دار روایتیں ہیں جن کی سندیں سیف پر منتہی ہوتی ہیں ،فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں پر ان کی سندیں حذف کردی گئی ہیں !
اس سلسلے میں مزید اطمینان حاصل کرکے قطعی فیصلہ تک پہنچنے کے لئے ہم نے ان سورماؤں کی شجاعتوں اور ان سے مربوط روایتوں کے جعلی اور افسانہ ہونا ثابت کرنے کے لئے مختلف علو م کے موضوعات کو مد نظر رکھتے ہوئے دوسرے اسلامی منابع ومآخذ کی طرف رجوع کرکے حسب ذیل صورت میں عمیق تحقیق شروع کی :
١۔ ہم نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت ،رفتار وکردار پر لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کیا جن میں اس زمانے کے گمنام ترین مسلمان شخص کے ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملاقات اور برتاؤ کو درج کیا گیاہے، مانند :
''سیرہ ابن ہشام''(وفات ٢١٣ھ )
''عیون السیرہ'' ابن سیدہ الناس (وفات ٧٤٣ھ)
اور سیرت کی دوسری کتابیں ۔
لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی سیف کے جعلی اور افسانوی سورماؤں کا کہیں نام ونشان تک نہیں پایا۔اس طرح سے کہ نہ ان کتابوں میں نہ روایتوں کے اسناد میں اور نہ ان کے متن میں کہیں بھی ان کا نام ذکر نہیں ہواہے۔
٢۔ہم نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مربوط احادیث کی کتابوں کی طرف رجوع کیا،جن میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی چھوٹی سی چھوٹی بات کوبھی درج کیا گیا ہے،مانند:
'' مسند طیالسی''(وفات ٢٠٤ھ)
'' مسند احمد''(وفات ٢٤١ھ )
''مسند ابوعوانہ''(وفات ٣١٦ھ)
'' صحیح بخاری''(وفات ٢٥٦ھ)
'' موطأ مالک ''(وفات ١٧٩ھ)
'' سنن ابن ماجہ ''(وفات ٢٧٣ھ )
'' سنن سجستانی''(وفات ٢٧٥ھ)
'' سنن ترمذی''(وفات ٢٧٩ھ)
ان کے علاوہ ہم نے دیگر مسانید اور صحاح میں بھی ڈھونڈا اور جستجو کی ،لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی سیف کے جعلی اصحاب کا کہیں نام ونشان نہ پایااور نہ ان کے متن وسند میں ان کا کہیں سراغ ملا۔
٣۔ ہم نے طبقات کی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جن میں اصحاب اور تابعین کے بارے میں ان کی سوانح حیات درج کی گئی ہیں ،مانند:
'' طبقات ابن سعد''(وفات ٢٣٠ھ)
جس میں اصحاب اور تابعین کی ، ان کی جائے پیدائش کے مطابق طبقہ بندی کی گئی ہے۔
'' طبقات خلیفہ بن خیاط''(وفات ٢٤٠ھ)
'' النبلاء ذہبی''(وفات ٧٤٨ھ)
اور اس سلسلے کے دیگر منابع کی طرف بھی رجوع کیا لیکن ان میں بھی کہیں سیف کے مذکورہ سورماؤں میں سے کسی ایک کانام نہیں پایا نہ ان کے متن میں اور نہ سند میں ۔
٤۔ اس تحقیق کو جاری رکھتے ہوئے ہم نے احادیث واخبار سے مربوط راویوں کے تعارف میں لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کیا،جیسے:
'' علل احمد حنبل''
'' جرح وتعدیل رازی''(وفات ٣٢٧ھ)
'' تاریخ بخاری''اور اس قسم کی دوسری کتابیں ۔
٥۔ اس کے علاوہ ہم نے مختلف عرب قبیلوں کے شجرہ ٔنسب کے بارے میں لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کیا،مانند:
'' جمہرۂ نسب قریش''از زبیری (وفات ٢٣٦ھ)
'' انساب سمعانی''(وفات ٥٦٢ھ)
٦۔ اسی طرح اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حالات پر لکھی گئی کتابیں ،مانند:
۔'' اسد الغابہ''اور
''اصابہ '' اور جہاں تک ممکن ہوسکا دیگر مطبوعہ وقلمی نسخوں کا بھی مطالعہ کیا۔
٧۔ اس کے علاوہ اس تحقیق وجستجو میں ہم نے عمومی تاریخوں ۔مانند:
'' تاریخ خلیفہ بن خیاط''(وفات ٢٤٠)
'' تاریخ طبری''(وفات ٣٠١ھ) وغیرہ اور ان کے علاوہ ان عمومی تواریخ کا بھی مطالعہ کیا جن میں تاریخ کے مخصوص واقعات کی تشریح کی گئی ہے ،مانند :
'' صفین ،ابن مزاحم''(وفات ٢١٢ھ)
'' تاریخ دمشق''تالیف ابن عساکر(وفات ٥٧١ھ)
اور دیگر معتبر منابع ومآخذ ۔
٨۔ ہم نے اس تحقیق وجستجو کے دوران ادبی کتابوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا بلکہ ان سے بھی استفادہ کیا،جیسے :
دورہ ٔکتاب''اغانی اصفہانی ''(وفات ٣٥٦ھ)
'' المعارف ابن قتیبہ ''(وفات ٢٧٦ھ)
'' العقد الفرید''ابن عبدربہ(وفات ٣٢٨ھ)
اور اس موضوع سے مربوط دیگر کتابوں کی طرف بھی رجوع کیا۔
اس قدر تحقیق وتلاش وجستجو پر ہم نے ایک عمر صرف کرکے یہ نتیجہ حاصل کیا ہے کہ وہ تمام روایات جن میں اس قسم کے صحابیوں کے نام ذکر ہوئے ہیں ان کی سندیں صرف اور صرف سیف بن عمر تمیمی پر منتہی ہوتی ہیں ۔
سیف کی روایات کے اسناد کی اتنی تحقیق کے علاوہ ہم نے ایسے صحابیوں کے بارے میں روایت کی گئی سیف کی ہر خبر کے متن پر بھی غور وخوض اور تحقیق کی اور اس کا دوسرے اور حقیقی راویوں کی روایت کے متن سے موازنہ و مقابلہ کیا۔اس تحقیق سے مندرجہ ذیل دو صورتوں میں سے ایک حاصل ہوئی :
١۔ یا یہ کہ سیف کی روایت کردہ خبر ،مضمون اور متن کے لحاظ سے بالکل جعلی اور جھوٹی ہے،خواہ یہ اس کا خطبہ اور معجزہ ہوا ،جنگ ہو یا صلح ،اس کا سورما ہو یا ہیرو،مکان ہو یازمان ،اس کے رزمی اشعار ہوں یااس کے اسناد اور راوی ۔اس کا نمونہ اسی کتاب میں ایک افسانوی شخص''طاہر ابوھالہ تمیمی بن خدیجہ'' ،جسے سیف نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منہ بولے بیٹے کے عنوان سے جعل کرنے کے بعد اسے ارتداد کی جنگوں ،جیسے جنگ ''اخابث'' میں شرکت کرتے ہوئے دکھایاہے ۔ ''خبراط بن ابواط تمیمی'' اور اس دریا کانام جو اس سے منسوب کیاگیاہے ۔اور اس طرح کی دوسری روایتیں جو بالکل جعلی اور جھوٹی ہیں اور ان کاکوئی بھی تانابانا حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
٢۔ یا یہ کہ سیف نے ایک حقیقی واقعہ کی خبر میں کسی نہ کسی صورت میں تحریف کی ہے۔مثلاً کسی واقعہ کے مرکزی کردار یا کرداروں کو بدل کے رکھ دیا ہے اور ہر کار خیر میں کسی یمانی قحطانی صحابی یا تابعین میں سے کسی ایک کے کردار کو بدل کر اسے عدنانی مضر ی خاندان کے کسی فرد سے منسوب کردیا ہے یا بر عکس کسی عدنانی ومضری شخص کے کسی نامناسب اور ناروا کام کو ایک قحطانی فرد سے نسبت دیدی ہے!یازمان ومکان تبدیل کیاہے یا کسی روایت میں تحریف کی کوئی دوسری صورت انجام دی ہے کہ کتاب ''عبد اللہ بن سبا '' اور اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحا۲) کی مختلف جلدوں کا مطالعہ کئے بغیر آسانی کے ساتھ سیف کی تحریف کے اقسام اور تاریخ اسلام کے سلسلہ میں اس کے جرم کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جی ہاں !اتنی طولانی بحث وتحقیق کے بعد حتی سیف کی ایک روایت وخبر کو بھی سیف کے علاوہ دوسروں کی صحیح اسناد میں نہ پائے جانے اور ہمارے مورد شک صحابی کے نام یا خبر کے ان میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں کہ اس قسم کے اصحاب سیف کے جعل کردہ ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
جعلی اورحقیقی صحابی میں فرق !
سیف کے جعلی صحابی اور دیگر حقیقی صحابیوں میں فرق یہ ہے کہ :جعلی اور جھوٹے صحابی وہ ہیں ،جن کے نام اور اخبار صرف اور صرف سیف کے ہاں پائے جاتے ہیں ۔جب کہ حقیقی صحابی وہ ہے جس کی خبر ونام مختلف طریقوں اور متعدد اشخاص اور متعدد راویوں اور منابع کے ذریعہ ہمیں دستیاب ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں :
خالد بن ولید ایک ایسی شخصیت ہے جس کا نام اور روایت ایک راوی سے مختص نہیں ہے ، بلکہ جس کسی نے بھی پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت اور کردار پرکچھ لکھا ہے اس نے جنگ احد میں مشرکین پر تیر انداز ی کرنے والے ایک ماہر اور معروف تیر انداز کے عنوان سے خالد کانام لیا ہے اور اسے اس جنگ میں فوج کے ایک دستہ کے کمانڈر کی حیثیت سے یاد کیا ہے ۔
جس نے بھی صلح حدیبیہ کے بعد قریش کے بعض افراد کے اسلام قبو ل کرنے کے بارے میں کوئی مطلب بیان کیا ہے ،بیشک اس نے خالد کے اسلام قبول کرنے کا بھی ذکر کیاہے اور اس کانام لیاہے ۔
اور جس نے بنی خدیمہ کے واقعہ اور اس قبیلہ کی جنگ کے بارے میں کوئی بات کہی ہے ،اس نے ناگزیر اس جنگ کے سپہ سالار اور اس قبیلہ کے افراد کو قتل کرنے والے کی حیثیت سے خالد بن ولید کانام لیاہے۔
جس نے مالک نویرہ کے قتل کے درد ناک واقعہ کی روایت کی ہے، بے شک اس نے خالد بن ولید کا نام لیا ہے کہ کس طرح اس نے مالک کے قتل کا حکم صادر کیا اور اسی شب اس کی بیوی کے ساتھ ہمبستری کی!!
اور جس نے مسیلمۂ کذاب کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کے حالات لکھے ہیں ، بے شک اس نے اس جنگ کے سپہ سالار کی حیثیت سے خالد بن ولید کا نام لیا ہے۔
جس نے بھی عراق و شام میں اسلامی فوج کی فتوحات کی تاریخ لکھی ہے، لازمی طور پر اس نے ان جنگوں کے سپہ سالار کی حیثیت سے خالد بن ولید کا نام لیا ہے .اور ان جنگوں میں اس کی مہارتوں کا ذکر کیا ہےان تمام اخبار کے علاوہ دیگر واقعات جو بہر صورت خالد بن ولید سے مربوط ہیں میں خالد بن ولید کا نام سیکڑوں روایات میں مختلف طریق و متعدد راویوں سے نقل ہوا ہے۔
خالد کا ذکر سیرت، حدیث اور طبقات کی ان تمام کتابوں میں آیا ہے جو سیف کے جھوٹ اور افسانوی باتوں سے کسی صورت میں آلودہ نہیں ہوئی ہیں ۔
اس طرح ہم اس صحابی کے بارے میں بحث و تحقیق شروع کرتے ہیں جس کا وجود مشکوک ہوتا ہے اور مذکورہ تمام مراحل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی بحث کے آخر میں روایت کے اسناد اور سیف کے متن کو مد نظر رکھتے ہوئے نتیجہ کا اعلان کرتے ہیں
گزشتہ بحث کے پیش نظر اور اس کتاب کے مباحث کی طرف رجوع کرنے کے بعد اس میں کسی قسم کا شک و شبہہ باقی نہیں رہتا ہے کہ جن بعض اصحاب اور بہادروں کی طرف ہم نے اشارہ کیا وہ سب کے سب سیف بن عمر تمیمی کے خیالات کی تخلیق، جعلی اور افسانوی ہیں اور ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے۔
لیکن یہی قطعی نتیجہ علمی بحث و تحقیق سے سرو کار نہ رکھنے والے لوگوں کے لئے تعجب اور ناقابل یقین بن گیا ہے۔
اور وہ مثال کے طور پر کہتے ہیں :
''کیا یہ ممکن ہے کہ سیف نے اتنے لوگوں کو جعل کیا ہوگا؟! اور اپنے تخیلات پر مبنی پوری ایک تاریخ لکھ ڈالے؟! انسان اتنے تخیلی افراد اور سور ماؤں کی تخلیق پر حیرت اور تعجب میں پڑجاتا ہے!!''
ہم جواب میں کہتے ہیں :
اس میں کیا مشکل ہے ؟جبکہ آپ اس سے ملتی جلتی باتیں ''جرجی زیدان کی داستانوں '' ، ''مقامات حریری ''، ''عنترہ کی داستانوں '' ، ''ایک ہزار اور ایک شب'' اور '' کلیلہ و دمنہ'' جیسی ہزاروں ادبی اور حکمت کی داستانوں میں ہر زبان کے قصہ اور افسانے لکھنے والوں کے ہاں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان جادوئی قلم کے مالک مؤلفوں اور افسانہ نویسوں نے اپنے فکر و نظر کی بناء پر ایسے پر کشش اور دلچسپ افسانوں کے ہیرو اور شاہکار خلق کئے ہیں جو ہرگز وجود نہیں رکھتے تھے؟ کیا مشکل ہے اگر سیف بھی انہی افسانہ نویسوں جیسا ہو؟ اس میں کوئی حیرت اور تعجب نہیں ہے ، بلکہ تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض مورخین نے سیف کے افسانوں پر اعتماد ، اور یقین کرکے ان کے مقابلے میں مسلّم حقائق بیہودہ جان کر انھیں ترک کیا ہے اور انہی افسانوں کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے!
وہ یہ کہتے ہیں :
یہ کیسے ممکن ہوسکا ہے کہ سیف کے یہ سب افسانے اور خیالی ہیرو بارہ صدیوں سے آج تک علماء اور دانشمندوں کی نظروں سے مخفی اور پوشید ہ رہے ہیں ؟
تو ہم جواب میں کہتے ہیں کہ:
ممکن ہے گزشتہ زمانے میں سیف کے افسانوں پر بحث و تحقیق کرنے کے وسائل موجود نہ ہوں ۔
اور خدائے تعالےٰ نے اس مشکل کو ہمارے ہاتھوں حل کرکے ہمیں یہ توفیق بخشی ہے کہ سیف کے جرائم پر سے پردے اٹھاکر علماء کیلئے راہ ہموار کریں ۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ:
یہ انتہائی بے ادبی اور بے انصافی ہے کہ شیخ طوسی جیسے دانشمند کی اس بناء پر عیب جوئی کی جائے کہ اس نے قعقاع جیسے صحابی کانام اپنی کتاب میں درج کیا ہے!
اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ:
علماء اور دانشوروں کا احترام کرنا ہرگز ان کے نظریات سے اتفاق کرنے پر منحصر نہیں ہے ۔
دھمکی اور دباؤ
ہمارے ان مباحث کے شائع ہونے کے بعد جو مؤلفین کی حیرت اور بے یقینی کا باعث ہوئے ان کے علاوہ ہم یونیورسٹیوں ،اداروں ،دینی مدرسوں اور بعض اشخاص کی طرف سے علمی ظلم وستم یا دھمکی اور دباؤ کے شکار ہوئے ،اور بعض فرقوں نے ہماری کتاب کا پڑھنا حرام قرار دے دیا!اور بعض حکومتوں نے اپنے ملک میں اس کتاب کے داخلہ پر پابندی لگادی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے مباحث کے شائع ہونے کے سبب ان تمام سختیوں اور دھمکیوں کا سرچشمہ ان کے بیہودہ اور بے بنیاد فخرو مباہات کادرہم برہم ہوناہے ۔کیونکہ جو لوگ ایک ہزار سال سے آج تک تاریخ وسیرت وغیرہ کی اپنی مورد اعتماد اور قابل اطمینان کتابوں سے اپنے اسلاف کی کرامتوں اور مناقب کے قابل افتخار معلومات وراثت میں حاصل کرچکے ہیں ،اس پر ہرگز آمادہ نہیں ہوسکتے کہ اپنے ان اعتقادات کو آسانی کے ساتھ تعجب خیز اور حیرت انگیز صورت میں سر نگوں ہوتے دیکھیں اور کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہ کریں !
اس قسم کی علمی اور کاری ضرب کے مقابلے میں تہمت وافتراء ایک قدرتی امر ہے اور خلاف توقع نہیں ہے ۔کیونکہ اگر کسی نے اپنے اعتقادات کی بنیاد پر عمدہ ،گراں قیمت اور قدیم اشیاء کاایک مجموعہ جمع کیاہو اور ان جمع کردہ تمام اشیاء کے اصلی ہونے کا ایمان رکھتاہو اور اچانک ایک تجربہ کار اور آثار قدیمہ کا ماہر آکر یہ کہے کہ یہ سب چیزیں نقلی اور مصنوعی ہیں ،تو قدرتی طور پر اس کا مالک ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ اس ماہر کے نظریہ کے مقابلے میں ضرور رد عمل دکھائے گا۔
گزشتہ کاخلاصہ
ہم نے بیان کیاکہ علم تاریخ اور دیگر اسلامی مصادر ومآخذ کی بنیاد روایت پر ہے۔اس صورت میں کہ کسی مطلب کے اظہار کے لئے ہر نسل اپنی پیشرونسل اور ہر راوی اپنے گزشتہ زمانے کے راوی سے استناد کرتاہے تا کہ خبر کے زمانے اور اس کے سرچشمہ تک پہنچ جائے۔
اس راہ میں '' طبری'' جیسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی روایت کے منبع یامنابع کا نام لے لیتے ہیں ۔اور ''مسعودی''جیسے بھی ہیں جو روایت کے اسناد ومنابع کانام نہیں لیتے۔
جیسا کہ بیان ہوا روایت کو متأخر اپنے متقدم سے حاصل کرتاہے ۔اگر ہم متقدم اور متاخر کے ہاں ایک روایت یا خبر کو ایک دوسرے سے مشابہ پائیں تو اگر چہ اس متاخر نے اپنی روایت کی سند کو مشخص نہ کیا ہو پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ:اس خبر کو متاخر شخص نے اپنے متقدم سے لیاہے۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ تقریباً دس صدیوں سے دانشوروں نے سبائیوں کے افسانہ کو ہمارے زمانے تک دست بدست منتقل کیاہے،حالانکہ ان سب کی سند صرف سیف پر منتہی ہوتی ہے جو زمانے کے لحاظ سے ان سب کا متقدم تھا۔چونکہ ہمیں معلوم ہواہے کہ سیف کی سرگرمیوں کے آغاز کازمانہ دوسری صدی ہجری کا ابتدائی چوتھائی دور تھا اس لئے اس کے بعد آنے والے تمام اسلامی مولفین نے ان افسانوں کو اپنی کتابوں میں درج کیاہے اور اپنی بات کو سیف سے نقل کیاہے۔
اسی طرح ہم نے دیکھا کہ اس قابل مذمت خاندانی تعصب نے سیف کے زمانے میں ہنگامہ برپاکررکھا تھا،حتیٰ قبائل ''عدنان ومضر'' کے متعصب لوگوں کو اس تعصب نے قبائل''قحطان ویمانی'' کو بدنام کرنے کے لئے اشعار کہنے پر آمادہ کیا اور وہ اپنی تعریف وتجلیل کرکے اپنے فخرو مباہات بیان کرتے تھے۔''قحطانی'' بھی اسی رویہ پر چل کر مضریوں اور نزاریوں کی مذمت میں کسی قسم کی کسر باقی نہیں رکھتے تھے۔
تعصب کی اس نبرد آزمائی میں سیف نے عدنانیوں کی مدح وستائش اور یمانی قحطانیوں کی مذمت وناسزا گوئی میں افسانے گڑھ کر دونوں قبیلوں کے درمیان اس تعصب کی جنگ میں سبقت حاصل کی ہے۔
سیف کا پیدائشی وطن عراق زندیقیوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔وہ سر توڑ کوشش کررہے تھے کہ حدیث وخبر جعل کرکے مسلم تاریخی ودینی حقائق کو مسلمانوں سے مخفی رکھیں اور انھیں گمراہ ومنحرف کریں ۔یہاں پر سیف نے افسانے گڑھ کے اس فریضہ کو انجام دیا اور حقیقت میں اس نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دے کر سب پر سبقت حاصل کی ہے۔
کتاب ''عبدا للہ بن سبا'' کی پہلی جلد میں جہاں ہم نے سیف کی باتوں کی وقعت کے بارے میں چھان بین کی ہے،وہاں ہم نے دیکھا کہ مخلص اور غیر جانبدار علماء اور دانشوروں نے سیف کو جھوٹا ،حدیث گڑھنے والا اور ناقابل اعتبار شخص بتایا ہے۔ہم نے مزید تحقیقات کے نتیجہ میں پایا کہ سیف نے اپنی حدیثوں میں تاریخی حقائق اور واقعی حوادث میں تحریف کی ہے اور بہت سے افسانے جعل کئے ہیں اور ان سب افسانوں کو ،روایت کی بنیاد پر لکھاہے اور اپنی ہر روایت کے لئے خیالی شخصیتوں پر مشتمل اسناد ،جو خود ان افسانوں کے تخلیق کار ہیں اور جنھیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
اس نے افسانوں میں پہلوان اور سورماخلق کئے ہیں اور ان سے حیرت انگیز کارنامے اور غیر معمولی کرامتیں منسوب کی ہیں ۔بعض علماء نے سیف اور اس کی باتوں پر اعتماد کرکے اس کی خیالی اور افسانوی شخصیتوں کو سیف کے ذریعہ مشخص کی گئی حیثیت ،منصب اور عہدہ کے مطابق اپنی کتابوں میں ،''اصحاب ر سولصلىاللهعليهوآلهوسلم ،احادیث کے راوی ،سپہ سالار ،گورنر،ڈپٹی کمشنر،شعرااور رجز خوانوں '' کی حیثیت سے تشریح کرکے سیف کے افسانوں کے پھیلاؤ میں مدد کی ہے ۔ہم نے ان مطالب کی ، اپنی کتاب ''عبد اللہ ابن سبا'' اور اس کتاب (١٥٠ جعلی اصحاب )کی بحثوں کے ضمن میں تحقیق کی ہے
ہم نے سیف کے چند جعلی اصحاب کاذکر اس کتاب کی پہلی جلد میں اور بعض دیگر کاذکر اس کی (دوسری)جلد میں کیاہے ۔گزشتہ بیان اور طریقہ کارکے مطابق ہم مشکوک وجود والے صحابی کی تمام روایتیں ایک جگہ پرجمع کرتے ہیں تاکہ متقدمین کے ہاں اس کی سند پاسکیں ۔اگر اس تحقیق کے دوران اس صحابی کانام یا اس کی کوئی روایت سیف کے علاوہ کہیں اور پائی جاتی ،توہم شک وشبہہ سے نکل کراسے سیف کی تخلیق محسوب نہیں کرتے اور اس کے سلسلے میں تحقیق وجستجو سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں ۔
لیکن اگر اس قسم کے صحابی کی روایت سیف ہی کے یہاں منحصر ہوتو اس صورت میں سیف کی اس روایت کو کسی دوسرے راوی کی اس سے مشابہ روایت کے ساتھ مقابلہ و موازنہ کرتے ہیں اور تحقیق کے خاتمہ پر نتیجہ کا اعلان کرتے ہوئے زیر بحث صحابی کو سیف کے جملہ افسانوی اور جعلی صحابیوں میں شمار کرتے ہیں ۔
اس سلسلے میں ہم نے خاندان مالک تمیمی کے ''قعقاع'' اس کے بھائی ''عاصم '' اور ا''اسود بن نافع'' کو مثال کے طور پر ذکر کیا ہے ،جنھیں سیف نے رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی کے طور پر پیش کیاہے۔ا ن کے بارے میں باسند یا بدون سندروایتوں کو مختلف منابع سے جمع کرنے کے بعد ہم متوجہ ہوئے کہ ان سے متعلق تمام ایک سو تیس روایات سیف بن عمر تمیمی پر منتہی ہوتی ہیں ۔اس طرح ان روایتوں کے اسناد اور دسیوں دیگر مذکورہ راویوں سے نقل کی گئی تمام کی تمام روایات سیف کے خیالات کی تخلیق ہیں !
ان کے بارے میں سیف نے جو روایات نقل کی ہیں وہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے سے معاویہ کی حکومت کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں ۔یہ اخبار وروایات جنگوں میں ان کی شجاعتوں ،ان کی کرامتوں اور معجزوں اور ان کی رجز خوانیوں اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے حدیث نقل کرنے سے متعلق ہیں اور سب کی سب سیف کی نقل کردہ ہیں !
ان کی تحقیق کے لئے ہم نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تاریخ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے کے بارے میں لکھی گئی سیرت کی کتابوں ،رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی زبانی ثبت کی گئی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی احادیث کی کتابوں اور اصحاب وتابعین کے گروہوں ان کی جائے پیدائش کے مطابق ترتیب دی گئی طبقات کی کتابوں کی طرف رجوع کیا۔لیکن ان میں سے ایک میں بھی سیف کی روایتوں کا نام ونشان نہیں پایا۔
ہم نے ،اخبار کے راویوں کا ذکر کرنے والی کتابوں ،انساب کی کتابوں ،اصحاب کی سوانح حیات کی کتابوں اور تاریخ وادبیات کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور مشاہدہ کیا کہ وہ تمام روایتیں یا اخبار جن میں اس خاندان (مالک تمیمی)کا کوئی نام ذکر ہواہے ،ان کی تمام سندیں سیف بن عمر تمیمی پر منتہی ہوتی ہیں ۔سیف کی ان روایتوں اور احادیث کے اسناد کی تحقیق کے علاوہ ہم نے سیف کی ان سے منسوب کی گئی ہر خبر وروایت کا دوسرے راویوں کی نقل کردہ اس سے مشابہ خبر اور حدیث کے ساتھ موازنہ ومقابلہ کیا اور نتیجہ کے طور پر ہمیں درج ذیل دو صورتوں میں سے کسی ایک کا سامنا ہوا:
١۔ خبر یاحدیث سرتاپا،سند ومتن سے لے کر اشخاص اور مقامات تک،افسانہ اور جھوٹ ہے۔
٢۔ صحیح خبر وحدیث مین تحریف کی گئی ہے ،خبرکے مرکزی کردار کے طور پر کسی جعلی سور ماکوقرار دیا گیا ہے !
اس طرح ہمیں معلوم ہوا کہ سیف کے جعلی صحابی اور حقیقی صحابی میں یہ فرق ہے کہ حقیقی صحا بی کی خبر کی سند ،خالد بن ولید اور اس جیسے دیگر اصحاب کے مانند ہوتی ہے ،جب کہ جعلی صحابی کی روایت کی سند صرف ایک مصدر (سیف ) سے مخصوص ہے ۔
حقیقی اصحاب کے نام اور ان کی زندگی کے حالات سیکڑوں احادیث میں دسیوں راویوں سے نقل ہوئے ہیں ۔ان کے نام سیرت ،حدیث اور طبقات کی ان کتابوں میں آئے ہیں جن میں سیف کے جھوٹ پر مبنی روایات کو درج کرنے سے اجتناب کیاگیاہے ۔جب کہ سیف کے جھوٹ اور اس کے افسانے ''جیسے اصحاب کے حالات ،جنگوں کے سپہ سالار ۔شعراء ،شجرۂ نسب ،جغرافیہ ،تاریخ ، ادب اور حدیث وغیرہ ''اس کی اپنی کتابوں کے علاوہ ان کتابوں میں درج ہوئے ہیں ،جنھوں نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرکے ان پر یقین کیاہے اور اس سلسلے میں سیف کے افسانوں سے فائدہ اٹھایا ہے اور ہم نے گزشتہ بحثوں میں ان کا ذکر کیاہے۔
سیف کے جعل کردہ چند اصحاب کے نام
ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد میں سیف کے جعلی اصحاب میں سے دویعنی :
١۔ قعقاع بن عمرو تمیمی اور
٢۔عاصم بن عمرو تمیمی
کی زندگی کے حالات ،ان کی شجاعتوں ،کرامتوں اور ان کے غیر معمولی کارناموں کی تفصیل بیان کی ہے۔سیف نے ان کو تخلیق کرکے اپنے خاندان (بنی تمیم) کے لئے فخرومباہات جعل کئے ہیں اور ان کے وجود پر ناز کیاہے۔یہاں پر ہم اس کتاب میں ذکر ہوئے سیف کے چند دیگر جعلی اصحاب کا نام لیتے ہیں :
٣۔ اسودبن قطبہ ،مالک تمیمی کا پوتا
٤۔ ابو مفزر تمیمی
٥۔نافع بن اسود ،قطبۂ تمیمی کا پوتا ۔اسے اس نے شیعہ ٔامیرالمؤمنین علی ـکے عنوان سے ذکر کیاہے۔
٦۔ عفیف بن منذر تمیمی
٧۔ زیاد بن حنظلہ تمیمی۔اسے بھی اس نے شیعہ امیرالمومنین ـکے طور پر پیش کیاہے۔
٨۔ حرملہ بن مریطہ تمیمی
٩۔حرملة بن سلمی تمیمی
١٠۔ربیع بن مطر بن ثلج تمیمی
١١۔ربعی بن افکل تمیمی
١٢۔اطّ بن ابی اطّ تمیمی
١٣۔سعیر بن خفاف تمیمی
١٤۔عوف بن علاء جشمی تمیمی
١٥۔اوس بن جذیمہ تمیمی
١٦۔سہل بن منجاب تمیمی
١٧۔وکیع بن مالک تمیمی
١٨۔حصین بن نیار حنظلی تمیمی
١٩۔زر بن ابن عبد اللہ فقیمی تمیمی
٢٠۔اسود بن ربیعہ تمیمی
٢١۔حارث بن ابی ہالہ تمیمی ۔جسے ا س نے حضرت خدیجہ کا بیٹا اور حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاتھوں تربیت یافتہ بتایاہے۔
٢٢۔زبیر بن ابی ہالہ تمیمی ۔اسے بھی ام المومنین حضرت خدیجہ کا بیٹا اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا تربیت یافتہ بتایاہے۔
٢٣۔طاہر بن ابی ہالہ تمیمی کہ اسے اس نے خدیجہ کا بیٹا اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاتھوں تربیت یافتہ شمار کیا ہے ۔
تیسرا حصہ :
خاندان مالک تمیمی سے چند اصحاب
اس کتاب کی پہلی جلد میں خاندان مالک تمیمی کے دو اصحاب ''قعقاع بن عمرو'' اور ''عاصم بن عمرو''کے حالات زندگی کی تشریح کی گئی ہے ۔
یہاں پر ہم اس خاندان کے مزید تین افراد ،اسود ، ابو مفزر ،اور نافع کے حالات پر روشنی ڈالیں گے ۔
* ٣۔اسود بن قطبہ تمیمی
* ٤۔ابو مفزر تمیمی
* ٥۔نافع بن اسود تمیمی
سیف کا تیسرا جعلی صحابی اسود بن قطبہ تمیمی
ابن ماکولانے اپنی کتاب ''الاکمال'' میں لکھا ہے :
سیف بن عمر کہتا ہے کہ : اسود نے فتح قادسیہ اور اس کے بعد والی جنگوں میں شرکت کی ہے ۔ اس نے سعد وقاص کی طرف سے فتح جلولا کی نوید عمر کو پہنچائی ہے ۔ دارقطنی نے کتاب'' المؤتلف'' میں اسود کے حالات بیان کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے :
یہ وہ مطالب ہیں جنھیں سیف بن عمر نے اسود کے بارے میں اپنی کتاب '' فتوح'' میں ذکر کیا ہے ۔
ابن عساکر نے بھی اسود کے حالات میں لکھا ہے :
وہ ایک نام آور شاعر ہے ۔اس نے یرموک ،قادسیہ اور دیگر جنگوں میں شرکت کی ہے اور ہر ایک جنگ میں حسب حال اشعار بھی کہے ہیں اور ان میں اپنی اور اپنے خاندان کی شجاعتوں کا ذکر کیا ہے ۔
اس کے بعد ابن عساکر نے اسود کے اشعار کے ضمن میں سیف کی روایتوں کو اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور جو کچھ ہم نے کتاب ''اکمال '' اور کتاب '' والمؤتلف'' سے نقل کیا ہے اس نے ان ہی سے اپنے مطالب کو اختتام بخشا ہے ۔
ابن حجر نے اپنی کتاب '' الاصابہ'' میں گزشتہ منبع سے نقل کرنے کے علاوہ سیف کی کتاب ''فتوح'' سے اسود کے حالات نقل کئے ہیں ۔
اس طرح ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اسود بن قطبہ تمیمی کے بارے میں تمام باتوں کا منبع و سرچشمہ صرف اور صرف سیف بن عمر ہے ۔
اب ہم بھی سیف کے افسانوی افراد ابو مفزر اور اسود بن قطبہ تمیمی کو خود اس کی باتوں سے ثابت کریں گے کہ وہ جعلی شخصیتیں ہیں ۔
سیف کی نظر میں اسود کا خاندان
سیف نے ابو بجیدہ نافع بن اسود ،یعنی اپنے اس افسانوی شخص کے بیٹے سے نقل کی گئی روایتوں میں اسود کے شجرہ ٔنسب کو اس طرح تصور کیا ہے :
اسود ،جس کی کنیت ابو مفزر ہے ،قطبہ کا بیٹا اور مالک عمری کا پوتا ہے جو قبیلہ تمیم سے تعلق رکھتا تھا۔
سیف نے اسود کے لئے اس کا ایک بھائی بھی فرض کیا ہے اور اس کا نام اعور رکھا ہے ۔
اسود خالد کے ساتھ عراق میں
سیف کی باتوں کو نقل کرنے والے ،اسود کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ابو بکر کی خلافت کے زمانے میں اسود بن قطبہ نے خالد بن ولید کے ہمراہ جنگوں میں شرکت کی ہے ۔
اس مطلب کو ہم درج ذیل روایتوں میں پڑھتے ہیں :
امغیشیا کی جنگ
طبری نے ١٢ھکے حوادث کے ضمن میں امغشیا کی جنگ کے بارے میں لکھا ہے :
الیس کی جنگ کے بعد خالد بن ولید نے امغیشیا کی طرف فوج کشی کی ۔یہ ''حیرہ'' جیسی سرزمین تھی اور فرات '' باذقلی '' اس زمین کو سیراب کرتی تھی ۔وہاں کے باشندے خالد کے بے امان حملوں کے خوف سے اپنا تمام مال ومتاع چھوڑ کر عراق کے دوسرے شہروں کی طرف بھاگ گئے تھے
خالد جب محافظوں سے خالی شہر میں داخل ہوا تو اس نے حکم دیا کہ شہر کو تباہ کرکے اسے نیست و نابود کردیں ۔خالد کے سپاہیوں کو شہر امغشیا کو اپنے قبضے میں لینے کے نتیجہ میں ایسا مال ملا کہ اس دن تک ایسی ثروت کبھی ان کے ہاتھ نہیں آئی تھی ۔ہر ایک سوار کے حصے میں صرف مال غنیمت کے طور پر ایک ہزار پانچ سو ملا ۔یہ مال اس انعام و اکرام کے علاوہ تھا جو عموما جنگجوئوں کو انعام کے طور پر دیا جاتا تھا ۔
جب امغیشیا کی فتح کی خبر ابوبکر کو پہنچی تو اس خبر کے پہنچانے والے نے یہ شعر کہا:
''آپ کے شیر خالد نے ایک شیر پر حملہ کرکے اس کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کا تر و تازہ گوشت اس کے ہاتھ آیا ہے !بے شک ،عورتیں خالد جیسے کسی اور پہلوان کو ہر گز جنم نہیں دیں گی!!''
یاقوت حموی نے اپنی کتاب '' معجم البلدان'' میں طبری کی مذکورہ داستان کو امغشیا کے حالات میں خلاصہ کے طور پر یہاں تک بیان کیا ہے کہ سپاہیوں کو غنیمت کے طور پر بہت سا مال ملا اس کے بعد وہ اضافہ کرتا ہے : '' ابو مفزر '' نے اس جنگ میں چند اشعار کہے ہیں اس کے بعد اس کے چار شعر ذکر کئے ہیں :
اسود ،'' الثنی'' اور ''زمیل '' کی جنگوں میں
طبری ١٢ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :
'' ربیعة ابن بجیر تغلبی '' اپنے لشکر کے ہمراہ سر زمین '' الثنی '' و ''بشر '' میں داخل ہوا یہ وہی سرزمین '' زمیل '' ہے اور قبیلہ '' ہذیل'' والے وہاں کے ساکن تھے ۔خالد جب جنگ '' مصیخ'' سے فارغ ہوا تو وہ ''الثنی ''و '' زمیل'' کی طرف روانہ ہوا ۔یہ علاقہ آج کل ''رصافہ'' کی مشرق میں واقع ہے ۔خالد نے دشمن کو تین جانب سے محاصرہ میں لے لیا اور رات کی تاریکی میں تین طرف سے ان پر حملہ کرکے ایسی تلوار چلائی کہ اس جنگ میں ان کا ایک آدمی بھی صحیح و سالم بھاگ نہ سکا کہ اس خوفناک قتل عام کی خبر دوسروں تک پہنچائے ۔خالد نے وہاں کے جنگی غنائم کا پانچواں حصہ (خمس) ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا۔
طبری اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے لکھتاہے :
قبیلہ ٔ ہذیل والے اس جنگ سے بھاگ گئے اور انھوں نے زمیل میں پناہ لے لی سیف اس جگہ کو ''بشر '' کہتا ہے اور'' عتاب بن فلان'' کا سہارا لیا ۔عتاب نے ''بشر '' میں ایک بڑا لشکر تشکیل دیا تھا ،خالد نے اسی جنگی چال کو یہاں پر بھی عملی جامہ پہنایا ،جس سے اس نے ''الثنی ''کی جنگ میں استفادہ کیا تھا اور '' عتاب'' کی فوج پر رات کی اندھیری میں تین جانب سے حملہ کیا اور دشمن کے ایسے کشتوں کے پشتے لگا دئے کہ اس دن تک کسی نے ایسا قتل عام نہیں دیکھا تھا خالد اور اس کے سپاہیوں نے اس جنگ میں کافی مال غنیمت پایا۔
یہ وہ مطالب تھے جنھیں طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور دوسرے مؤلفین نے بعد میں یہی مطالب اس سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں ۔
حموی نے بھی سیف کی روایت پر اعتماد کرکے '' الثنی'' کی تشریح میں لکھا ہے :
'' الثنی'' اول پر فتحہ دوسرے پر کسرہ اور یائے مشدد ''رصافہ'' کے مشرق میں ایک معروف سر زمین ہے '' تغلب '' اور'' بنو بحیر'' کے خاندان خالد بن ولید سے لڑنے کے لئے وہاں پر جمع ہوئے تھے اور ایک لشکر گاہ تشکیل دی تھی ۔لیکن خالد نے اپنی جنگی چال سے ان پر فتح پائی اور سب کو قتل کر ڈالا ۔یہ جنگ ابوبکر کی خلافت کے زمانے میں ١٢ھ میں واقع ہوئی ہے اور ابو مفزر نے اس جنگ سے متعلق اشعار کہے ہیں ۔
اس کے بعد حموی ان مطالب کے شاہد و گواہ ابو مفزر کے پانچ اشعار اپنی کتاب میں نقل کرتاہے ۔
یہی دانشور لفظ ''زمیل '' کے بارے میں سیف کی کتاب ''فتوح'' سے نقل کرکے لکھتاہے :
'' زمیل'' رصافہ کی مشرق میں ''بشر'' کے نزدیک ایک سر زمین ہے ۔خالد بن ولید نے ١٢ھ میں ابوبکر کی حکومت کے زمانے میں اس علاقہ کے '' تغلب '' و ''نمیر'' اور دیگر قبیلوں پر حملہ کرکے ان سے جنگ کی ابو مفزر نے اس جنگ کے بارے میں کچھ اشعار کہے ہیں ۔
مذکورہ مطالب کے ضمن میں حموی نے ابو مفزر کے پانچ اشعار شاہد کے طور پر سیف سے نقل کئے ہیں ۔ ان اشعار میں ابو مفزر نے '' الثنی'' اور اس جگہ کی جنگ کا تصور پیش کیا ہے اور '' زمیل'' و ''بشر '' کا نام لیا ہے ۔اس کے علاوہ ''ہذیل '' ،'' عتاب'' ''و عمرو'' اور دیگر پہلوانوں کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے کس طرح اپنے بے امان حملوں سے ان کے فوجیوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور ان کے مال و متاع حتی عورتوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا !
عبد المؤمن نے بھی حموی کے مطالب کا خلاصہ اپنی کتاب ''مراصدالاطلاع'' میں نقل کیا ہے ۔
ابن عساکر ابو مفزر کے بارے میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :
ابو مفزر نے خلافت ابوبکر کے زمانے میں ''حیرہ'' کی فتح کے بعد اپنے چند اشعار کے ضمن میں یوں کہا ہے :
'' ہماری طرف سے ابوبکر کو یہ پیغمام پہنچا ئو اور یہ کہہ دو کہ :ہم نے ساسانی بادشاہوں کی نصف سے زیادہ سرزمینوں اور شہروں پر قبضہ کر لیا ہے ۔
جو کچھ ہم نے یہاں تک ذکر کیا یہ سیف کے وہ مطالب ہیں جو اس نے '' امغشیا '' ،'' بشر '' اور حیرہ کی فتوحات اور خالد کی کارکردگیوں اور اس کی جنگی چالوں کے بارے میں لکھے ہیں ۔ جبکہ بلاذری نے صدر اسلام کی جنگوں اور حوادث کے بارے میں اپنی کتاب میں انتہائی باریک بینی سے کام لیتے ہوئے ان واقعات کے تمام جزئیات کو قلم بند کیا ہے اور ان میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے، لیکن سیف کے مذکورہ مطالب میں سے کسی ایک کی طرف بھی اپنی کتاب ''فتوح البلدان'' میں اشارہ تک نہیں کیاہے۔
سیف کی روایات کی تحقیق
''امغیشیا'' کے بارے میں سیف کی٩ روایتوں کی ایک سند کے طور پر طبری نے ''محمد بن نویرہ '' کانام لیا ہے اور ہم نے قعقاع کی داستان میں کہا ہے کہ وہ سیف کا جعلی راوی ہے اور حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتا۔ دوسرا ''بحر بن فرات عجلی'' ہے کہ ہم نے اس راوی کو بھی سیف سے ہی پہچانا ہے کہ اس کی دوروایتوں میں اس کا نام لیا گیا ہے اور اس کے علاوہ یہ نام حدیث کی ان تمام کتابوں میں کہیں نہیں پایا جاتا جن میں حدیث کے راویوں کے نام اور ان کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم اسے بھی سیف کی تخلیق شمار کرتے ہیں ۔
تحقیق کا نتیجہ
١۔حموی اپنی کتاب ''معجم البلدان'' میں سیف سے نقل کرکے ''امغیشیا'' نام کے ایک شہر کا ذکر کرتاا ہے اور سیف کے افسانوی شاعر ابو مفزر کی زبانی اپنے مطالب کی تائید میں اشعار ذکر کرتا ہے۔ لیکن طبری نے اپنی روش کے مطابق ابو مفزرکے بارے میں اپنے مطالب کے آخر میں ان اشعار کو حذف کردیا ہے۔
جس شہر ''امغیشیا'' کی بڑی عظمت اور اہمیت کے ساتھ سیف نے تعریف کی ہے.ممکن تھا کہ سیف کے زمانہ سے نزدیک ہونے اور ابوبکرکے زمانہ میں اس جنگ کے واقع ہونے کی وجہ سے لوگ سیف کے جھوٹ کو شک و تردید کی نگاہ سے دیکھتے ،لہٰذا اس نے بڑی چالاکی و شیطنت سے اس کا بھی حل نکال لیا، لہٰذا وہ اپنے افسانوی شہر امغشیا کی روئیداد کو اس حد تک پہنچاتا ہے کہ خالد نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ شہر کو ایسا ویران اورنیست و نابود کردیں کہ زمین پر اس کا نام و نشان باقی نہ رہے۔ اس طرح سیف اطمینان کا سانس لیتا ہے اور ''امغشیا'' کے نام سے جعل کئے گئے اپنے شہر کے وجود کے بارے میں اٹھنے والے ممکنہ سوالات سے اپنے آپ کو بچالے جاتا ہے۔
٢۔سیف نے اپنے افسانوی شہر ''امغشیا'' کو خالد مضر ی کے ہاتھوں ویران اور نابود کرکے ایک طرف خاندان قریش و تمیم کے لئے فخر و مباہات کا اظہار کر کے اپنے خاندانی تعصبات کی پیاس بجھائی ہے اور دوسری طرف اپنے زندیقی مقصد کے حصول کے لئے ایسے بے رحمانہ اور وحشتناک قتل عام کو اسلام کے سپاہیوں کے سر تھوپتا ہے کہ ایک ہزار دوسو سال تک دہشت گردی اور بے رحمی کا یہ قصہ تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوتارہے اور اسلام کے دشمنوں کو بہانہ ہاتھ آئے !جبکہ اسلام کے سپاہیوں کا دامن ایسے جرائم سے پاک اور منزہ ہے۔
٣۔''الثنی'' و''زمیل'' کی جنگوں کی داستان کو طبری نے سیف سے رجز خوانیوں کے بغیر نقل کیاہے۔ لیکن حموی نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے مصدر یعنی سیف کی کتاب ''فتوح '' کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے صرف ''زمیل'' کے بارے میں نقل کیا ہے۔
سیف نے ان دوروایتوں میں خاندان تمیم کے لئے افتخار حاصل کیا ہے اور اپنے دیرینہ دشمن ربیعہ پر کیچڑ اچھا لتے ہوئے کہتا ہے:وہ اپنی عورتوں کو تمیم کے طاقت ور مردوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوتے دیکھ کر رسوا ہوگئے۔
سیف کی روایتوں کا ماحصل
١۔اس نے تین جگہیں تخلیق کی ہیں تا کہ جغرافیہ کی کتابوں میں ان کا نام درج ہوجائے.
٢۔ایک مختصر جملہ میں خالد کی تعریف کی ہے تا کہ اسے شہرت بخشے :''عورتیں خالد جیسے سور ماکو ہرگز جنم نہیں دے سکتیں ''۔
٣۔اس نے خاندان تمیم کے لئے افتخارات جعل کئے ہیں اور قبائل ربیعہ پر مذمت اور طعنہ زنی کی بوچھار کی ہے۔
٤۔اس نے اشعار کہے ہیں تا کہ شعر و ادب کی کتابوں میں درج ہو جائیں ۔
٥۔سر انجام اس نے تاریخ اسلام میں قبائل تمیم سے ''اسود بن قطبہ'' نامی ایک صحابی ، سپہ سالار اور حماسی شاعر کا اضافہ کیا ہے جو سیف بن عمر تمیمی کے خیالات کی تخلیق ہے اور حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتا۔
اسود بن قطبہ، سرزمین شام میں
جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا ہے وہ ابو مفزر کے رزمیہ اشعار اور خالد کے ساتھ عراق کی جنگ میں اس کے بارے میں سیف کے بیان کردہ مطالب تھے۔ اس سلسلے میں اس کے بہت سے اشعار ہم نے ذکر نہیں کئے ہیں ۔
اب ہم سیف کے اس جعلی صحابی کو شام کی جنگوں میں اپنے رزمیہ اشعار کے ساتھ تاریخ ابن عساکر میں ملاحظہ کرتے ہیں کہ یہ عالم ''اسود'' کے حالات میں صراحت کے ساتھ سیف کا نام لے کر کہتا ہے:
سیف بن عمر کہتا ہے کہ اسود بن قطبہ نے یرموک کی جنگ میں شرکت کی ہے اس کے بعد اس نے قادسیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے۔ وہ جنگ یرموک کے بارے میں اپنے اشعار میں یوں تعریف کرتا ہے:
اس کے بعد ابن عساکر، اس کے اشعار میں سے تقریباً٦ ١،اشعار کو تین حصوں میں ا پنی کتاب میں درج کرتا ہے کہ ابو مفزر ان اشعار میں یرموک کی جنگ، ہر اکلیوس کی شکست اور اسلامی سپاہیوں کے ہاتھوں رومیوں کے بے رحمانہ قتل عام کاذکر کرتا ہے ۔ اور قبیلہ بنی عمرو کے مقا بلے میں دشمن کی فوج کی کثرت اور ان کی بے لیاقتی کا مذاق اڑاتا ہے ۔ ان کے کشتوں کے پشتے لگا دینے ، ان کے تمام افراد کو خاک و خون میں لت پت کرنے اور زمین کو رومیوں کے خون سے سیراب کرکے اپنے دلوں کو آرام بخشنے پر داد سخن دیتا ہے. سر انجام نحویوں کی روش کے مطابق ''عمر ووزید '' کو اپنے مطالب پر گواہ قرار دیتا ہے .لیکن ''عمرو و زید کو گواہ قرار دینا بذات خود مذکورہ رزمیہ اشعار کا ان جنگوں کی روئیداد کی تاریخ کے بعد کہے جانے کی واضح اور قطعی دلیل ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر کوفہ و بصرہ کے عملی مراکز قرار پانے کے بعد عربی ادب کے گروہ اور اس زبان کے صرف و نحو کے قواعد نے شہرت پائی اور اسی زمانے سے لفظ ''زید و عمرو '' کو عربی زبان کے نحو کے قواعد میں مثال کے طور پر لانا رائج ہوا جیسے کہتے تھے:
''ضرب زید عمرا '' یا ''جاء زید ثم عمرو '' یا ان اکرمت زیدا ''لأکرمت عمرا''۔اس طرح ''زید و عمرو '' کو فاعل و مفعول اور مبتداء و خبر کے لئے و سیلہ قرار دیتے تھے۔ تدریس کے اس طریقہ کارنے عام مقبولیت حاصل کرکے نمایاں شہرت پائی اور عربی زبان کی کتابوں میں ثبت اور تدریس میں مورد استفادہ قرار پایا.
لیکن صدر اسلام کی فتوحات میں یہ رسم نہیں تھی کہ ''زید و عمرو'' کا نام لیا جاتا. بلکہ سخن کے مخاطب ان کی اپنی کنیزیں ، قبیلہ یا خاندان ہوتے تھے۔
ابن عساکر نے یرموک کی جنگ سے مربوط مذکورہ رزمیہ اشعار کے تیسرے قطعہ کو اپنی تاریخ کی کتا ب ''تاریخ دمشق'' میں نقل کیا ہے اور ابن کثیر نے بھی انہی مطالب کو اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے۔
ہم نے ان مطالب کو اس کیفیت میں سیف کے علاوہ کہین نہیں پایا جبکہ دوسرے راویوں سے جنگ یرموک کے بارے میں صحیح اور متواتر روایتیں دستیاب ہیں اور ابن عساکر نے بھی ان روایتوں کو اپنی تاریخ میں ، اور بلاذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان'' میں درج کیاہے اور یہ سب سیف کی روایتوں سے اختلاف رکھتی ہیں ۔
طبری نے یرموک کی خبر کے بارے میں سیف کی روایتوں کو نقل کیا ہے لیکن اس کے رزم ناموں کو اپنی روش کے مطاق در ج نہیں کیا ہے۔
جستجو
ابو مفزر جیسے شخص کے رزمی اشعار صرف سیف کے ہاں پائے جاتے ہیں ، جبکہ دوسرے راوی نہ ابو مفزر کو جانتے ہیں نہ انھیں اس کے رزمیہ اشعار کی کوئی خبر ہے.اگر سیف کے ان اشعار پر غور و خوض کیا جائے تو بڑی آسانی کے ساتھ یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ سیف اسی کوشش میں ہے کہ اپنے آپ کو ایک داخلی و نفسیاتی رنجش و غم و غصہ سے نجات دے اور اپنے خاندانی تعصبات کو اس قسم کے ا شعار کہہ کر ٹھنڈا کرے اور اپنے دل کو تسکین بخشے اور اپنے قبیلہ ''خاندان بنی عمرو '' کے لئے فخر و مباہات کے نمونے تخلیق کرے ملاحظہ ہو ، کہتا ہے :
عمر و و زید جانتے ہیں کہ جب عرب قبائل ہمارے جاہ و جلال سے خوف زدہ ہوتے ہیں تو ڈر کے مارے بھاک کھڑے ہوتے ہیں .پھر ہم آسانی کے ساتھ ان کی سرزمینوں پر قبضہ جمالیتے ہیں ۔
ہم نے یرموک میں اس قدر تاخیر کی تا کہ رومی ہمارے ساتھ لڑنے کے لئے خود کو آمادہ کرسکیں ، پھر ہم نے ان پر حملہ کرکے انھیں تہ تیغ کیا اور اپنی پیاسو ان کے خون سے بجھائی !
کیا تم نہیں جانتے کہ ہم نے یرموک میں ہر کلیوس کے جنگی دستوں کا کوئی پاس نہیں کیا اور انھیں مکمل طور پر تہس نہس کرکے رکھدیا؟
یہاں پرسیف اس احتمال سے کہ کہیں ان اشعار کے بارے میں قارئین یہ تصور نہ کریں کہ اسلام کے یہ سپاہی مھاجر وانصار تھے اور انھوں نے تجربہ کار اورجنگ آزمودہ رومیوں کا کوئی خوف نہ کیا ! لہٰذا اس شبہہ کو دور کرنے کی کوشش کرتاہے اور ابو مفزر کی زبانی یہ شعر کہتاہے:
یہ خاندان بنی عمرو اور قبیلہ تمیم کے افراد سیف خود بنی عمرو سے تھا تھے جو رومیوں کے مقابلے میں نبرد آزما ہوئے کیوں کہ وہ میدان جنگ کے ماہرجنگجو تھے ۔ ایسے جنگجو جو میدان کارزار میں کبھی تلوار وں کی جھنکار اور خوں ریزی سے خائف نہیں ہوتے تھے ،بلکہ مشکلات اور سختیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ۔
بنی عمر و کے خاندان میں قوی ہیکل اور دلیر سردار پائے جاتے ہیں جو خطر ات کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہتے ہیں ۔
ہم خاندان بنی عمرو نے میدان کارزار میں بارہا دشمن کے مرکز پر حملہ کرکے ان پر خوف و دحشت طاری کی ہے ۔
یہ ہم خاندان بنی عمرو تھے جنھوں نے یرموک کی جنگ میں دشمن کی منظم صفوں کو چیر تے ہوئے آگے بڑھ کر رومیوں کے جنگل میں پھنسے اسلام کے سپاہیوں کو رہا ئی دلائی۔
اس کے بعد دعا کی صورت میں کہتا ہے :
خدا ایسا دن نہ دکھلائے جب ہر ا کلیوس کے سپاہی اپنے مقابلے میں خاندان تمیم کے بہادروں اور دلاوروں کو نہ پائیں ،تاکہ وہ ہماری کاری ضربوں کو کبھی فراموش نہ کر سکیں !
سیف کے افسانہ کا نتیجہ
یہ شعلہ بار رجز خوانیاں اور رزم نامے ہیں جو سیف کے جعلی پہلوانوں کی شجاعتوں اور دلاوریوں کی تائید کرتے ہیں ۔اس طرح سیف قارئین کو خاندان تمیم کے ابو مفزر ،اسود بن قطبہ جیسے رزمی شاعر اور رجز گو کے وجود کو قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔
ابو مفزر ،عراق اور ایران میں
طبری ١٤ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :
خلیفہ عمر نے قادسیہ کی جنگ کے بعد اس جنگ کے مامور جنگجوئوں کو انعام و اکرام سے نوازا اور ابو مفزر کو '' دار الفیل '' نام کا ایک گھر یا زمین کا ٹکڑا عطا کیا
مزید ١٦ھ کے ضمن میں بہر سیریا '' ویہ اردشیر'' کی فتح کی خبر کو سیف سے نقل کرکے خلاصہ کے طور پر لکھا ہے :
اسلام کے سپاہیوں نے ہرسیر ( یا ویہ اردشیر ) کے اطراف میں جو مدائن کسریٰ کے نزدیک سے اور پادشاہ ایران جہا ں رہتا ہے پڑائو ڈالا۔
شہر کو مسلمانوں کی دسترس سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے چاروں طرف ایک گہری خندق کھود ی گئی تھی اور محافظ اس کی حفاظت کرتے تے ،لشکر اسلام نے اس شہر کا محاصرہ کیا ،بیس عدد سنگ انداز منجنیقوں کے ذریعہ شہر پر زبر دست پتھر ائو ہو رہا تھا۔
اسلامی سپاہیوں کی طرف سے شہر و یہ اردشیر پر دبائو اور محاصرہ کے طولانی ہونے کی وجہ سے محاصرہ میں پھنسے لوگ بری طرح قحط زدہ ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتے اور بلیوں کو کاٹ کاٹ کر کھانے پر مجبور ہوئے ۔
سیف، انس بن جلیس سے نقل کرکے کہتا ہے :
جب ویہ اردشیر پر ہمارا محاصرہ جاری تھا اسی حالت میں ایران کے پادشاہ کی طرف سے ایک ایلچی ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا:پادشاہ کہتاہے:کیاتم لوگ اس شرط پر صلح کرنے پر راضی ہوکہ دجلہ ہماری مشترک سرحد ہو ،دجلہ کے اس طرف کی زمین اور پہاڑ ہمارے اور دجلہ کے اس طرف کی زمین تمھاری ہو؟ اگر اس پر بھی سیر نہیں ہوتے تو خدا تمھارے شکموں کو کبھی سیر نہ کرے !!
ایران کے پادشاہ کے ایلچی کی باتوں کے سننے کے بعد مسلمان فوجیوں میں سے ابو مفزر اسود بن قطبہ آگے بڑھا اور پادشاہ کے ایلچی کے سامنے کھڑا ہوا اور اس سے ایک ایسی زبان میں بات کی کہ نہ وہ خود جانتاتھا کہ کیا کہہ رہاہے اور نہ اس کے ساتھی!حقیقت میں وہ فارسی زبان نہ جاننے کے باوجود پادشاہ کے ایلچی سے فارسی میں بات کررہاتھا!!
پادشاہ کا ایلچی ابو مفزر کی باتوں کو سننے کے بعد واپس چلاگیا اور تھوڑی ہی دیر میں لوگوں نے دیکھا کہ ایرانی سپاہی تیزی کے ساتھ دریائے دجلہ کو عبور کرکے اس کے مشرقی علاقہ میں مدائن کی طرف پیچھے ہٹے ۔مسلمانوں نے ابو مفزر سے سوال کیا :آخر تم نے پادشاہ کے ایلچی سے کیاکہا؟کہ خدا کی قسم وہ سب فرار کرگئے؟!ابو مفزر نے جواب میں کہا:قسم اس خدا کی جس نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھیجاہے ،مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ میں کیا کہہ رہاتھا!صرف اس قدر جانتاہوں کہ خود بخود میری زبان پر کچھ کلمات جاری ہوئے ۔امید رکھتاہوں جو کچھ میں نے کہا ہوگا وہ ہمارے فائدے میں ہوگا۔
سعد وقاص اور دیگر لوگوں نے بھی ابو مفزر سے پادشاہ کے ایلچی سے اس کی باتوں کے معنی پوچھے لیکن ابو مفزر خود ان کے معنی سے بے خبر تھا !
اس کے بعد سعد نے حملہ کا حکم جاری کیا ۔لیکن اس بڑے شہر سے ایک آدمی بھی اسلامی سپاہ سے لڑنے کے لئے آگے نہیں آیا ،صرف ایک آدمی نے فریاد بلند کی اور امان کی درخواست کی ۔ مسلمانوں نے اسے امان دے دی ۔اس کے بعد اس مرد نے کہا:شہر میں داخل ہوجاؤ،یہاں پر کوئی فوجی موجود نہیں ہے جو تمھارا مقابلہ کرے ۔
اسلامی فوج شہر میں داخل ہوئی ۔چند بے پناہ افراد کے علاوہ وہاں پر کسی کو نہ پایا ،جنھیں انھوں نے اسیر بنایا۔اسیروں سے پادشاہ اور اس کے لشکر کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیوں فرار کرگئے ۔انھوں نے جواب میں کہا: پادشاہ نے تم سے جنگ کی راہ ترک کرکے صلح کرنے کا پیغام بھیجا تھا۔لیکن تم لوگوں نے جواب میں کہاتھا''ہمارے درمیان تب تک ہرگز کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا جب تک ہم افریدون علاقہ کا شہدا اور سرزمین کوثی کا چکوترانہ کھا لیں !'' پادشاہ نے آپ کا پیغام سننے کے بعد کہا:افسوس ہوہم پر!ان کی زبان سے فرشتے بولتے ہیں !! اس کے بعد وہ یہاں سے دورترین شہر کی طرف بھاگ گئے ۔
یہ وہ مطالب ہیں جنھیں طبری نے سیف سے نقل کیاہے ۔البتہ سیف نے جو اشعار اپنے افسانوی سورمااسود کی زبانی بیان کئے ہیں ان کو طبری نے نقل نہیں کیاہے ۔ابن اثیر اور ابن کثیر نے بھی انہی مطالب کو طبری سے نقل کیاہے ۔ابن عساکر نے بھی ان مطالب کو ابو مفزر کی تشریح کے سلسلے میں صراحت کے ساتھ سیف کے نام لے کر اپنی تاریخ میں درج کیاہے اور آخر میں ابو مفزر کی زبانی سیف کے رزمیہ اشعار کے تین قطعے بھی نقل کئے ہیں ۔
ان اشعار میں سیف نے ابو مفزر کی زبانی ویہ اردشیر کی فتح کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے :
یہ شہر صرف چند فارسی کلمات کے ذریعہ فتح ہواہے ،جنھیں خدائے تعالیٰ نے ابو مفزر نامی ایک عرب کی زبان پر جاری کیا!
اور خدانے صرف مجھے ابو مفزر کو صرف اس ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے پیدا کیاہے ۔
دشمن خوف ووحشت سے اپنی زبان دانتوں تلے دباتے ہوئے اپنے سامنے موت کے سائے منڈلاتے دیکھ کر ہلاکت ورسوائی کے گڑھے میں گرگئے۔
اس کے بعد ابو مفزر اسی جگہ سے یعنی مدائن ،ویہ اردشیر کے فتح شدہ شہر سے مکہ ومدینہ والوں خاص کر خلیفہ وقت ابا حفص عمر کو نوید بھیجتے ہوئے کہتاہے:
خلیفہ مطمئن رہیں ،یہ میں ہوں ! ابو مفزر جو ہمیشہ دشمنوں کے ساتھ پیکار کے لئے آمادہ ہے۔
یہ میں ہوں !جو ان کی صفوں کو چیرنے کا افتخار حاصل کرتاہوں ۔
یہ میں ہوں !جس نے خدا کی طرف سے زبان پر جاری کئے گئے کلمات کی بناء پر ویہ اردشیر کو فتح کرکے کسریٰ کا موت کے گھاٹ تک پیچھا کیااور.....
حموی لفظ''بہرسیر'' کے بارے میں لکھتاہے :
ابو مفزر بہر سیر کی فتح کے بارے میں یوں کہتاہے
اس کے بعد ابن عساکر کے نقل کئے گئے اشعار میں سے تین اشعار کو نقل کرتاہے اور کہتاہے کہ :اس سلسلے میں اس نے بہت سارے اشعار کہے ہیں اس کے بعد ویہ اردشیر کی داستان کو اس طرح شروع کرتاہے :
سیف کی کتاب '' فتوح ''میں آیاہے
حمیری نے بھی اپنی کتاب ''الروض المعطار '' میں لفظ''مدائن '' کے بارے میں سیف سے روایت نقل کرتے ہوئے لکھاہے :
قعقاع بن عمرو نے اپنے اشعار میں کہاہے :
ہم نے شہر ویہ اردشیر کو صرف اس کلام کے ذریعہ فتح کیا جسے خدا نے ہماری زبان پر جاری کیاتھا.....
اسی طرح اشعار کو آخر تک بیان کرتاہے جنھیں ہم نے قعقاع کے حالات میں اس کتاب کی پہلی جلد میں درج کیاہے ۔
اس کے بعد حمیری مزید کہتاہے :
اسود بن قطبہ نے دریائے دجلہ سے مخاطب ہوکر کہا:
اے دجلہ! خدا تجھے برکت دے ۔اس وقت اسلام کے سپاہی تیرے ساحل پر لشکر گاہ تشکیل دے چکے ہیں ۔خدا کا شکر ادا کرکہ ہم تیرے لئے عطا کئے گئے ہیں ۔لہٰذا مسلمانوں میں سے کسی ایک کوبھی نہ ڈرانا۔ وہ لفظ ''افریدون '' کے بارے میں لکھتاہے :
''افریدون'' عراق میں مدائن کے نزدیک ایک جگہ ہے ۔انس بن حلیس نے کہاہے کہ ہم نے اس زمانے میں ویہ اردشیر کو اپنے محاصرے میں لے لیاتھا
اور داستان کو آخر تک بیان کرتے ہوئے کہتاہے :
جب تک علاقۂ افریدون کا شہد نہ کھالیں
سیف کی روایتوں کا دوسروں سے موازنہ
جو کچھ یہاں تک کہاگیا وہ سیف بن عمر کے ابو مفزر اور اس کے کلام کے ذریعہ شہر ویہ اردشیر کی فتح کے بارے میں جعل کئے گئے مطالب ہیں ۔اور اس کے یہی افسانے مسلمہ سند اور تاریخی متون کے عنوان سے شعرو ادب ،تاریخ اور اسلام کے سیاسی اسناد کی کتابوں میں درج ہوگئے ہیں کہ ہم نے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا،جب کہ دوسرے مؤرخین ،جو سیف پر اعتماد نہیں کرتے ،جیسے بلاذری اور ابن قتبہ دینوری نے ویہ اردشیر کی فتح کو اس سے مختلف صورت میں ذکرکیاہے جو سیف کی روایتوں سے مطابقت نہیں رکھتے ،انھوں نے لکھاہے کہ ویہ اردشیر کی فتح ایک شدید جنگ اور طولانی محاصرہ کے بعد حاصل ہوئی ہے کہ محاصرے کے دوران خرما کے درختوں نے دوبارہ میوے دیدئے اور دوبارے قربانی کی گئی ، یعنی مسلمان فوجوں نے شہر ویہ اردشیر کی دیواروں کے پاس دو عید قربان منائیں اور اس مدت تک وہاں پر رکے رہے ۔یہی اس بات کا اشارہ ہے کہ محاصرہ کی مدت دوسال تک جاری رہی ۔ دینوری لکھتاہے :
جب اسلام کے سپاہیوں کے ذریعہ شہر کا محاصرہ طولانی ہواتو شہر کے باشندے تنگ آگئے ، سر انجام اس علاقے کے بڑے زمینداروں نے مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی ،جب ایرانی پادشاہ یزدگرد نے یہ حالت دیکھی تو اس نے سرداروں اور سرحد بانوں کو اپنے پاس بلاکر اپنا خزانہ اور مال ومتاع ان میں تقسیم کیا اور ضروری قبالے انھیں لکھ کے دئے اور ان سے کہا:
اگر یہ طے ہوکہ ہمارا یہ مال ومتاع ہمارے ہاتھ سے چلا جائے تو تم لوگ اجنبیوں سے زیادہ مستحق ہو۔اگر حالات دوبارہ ہمارے حق میں بدل گئے اور ہم اپنی حکومت کو پھر سے اپنے ہاتھ میں لے سکے تو اس وقت جو کچھ ہم نے آج تمھیں بخش دیاہے ،ہمیں واپس کردینا ۔
اس کے بعد اپنے نوکر چاکر ،خاص افراد اور پردہ نشینوں کو لے کر ''حلوان'' کی طرف روانہ ہوا اور جنگ قادسیہ میں کام آنے والے رستم فرخ زاد کے بھائی خرداد بن حرمز کو اپنی جگہ پر حاکم مقرر کرگیا۔
سند کی تحقیق
بہرسیر(یا ویہ اردشیر) کے افسانے کو سیف نے سماک بن فلان ہجیمی سے اور اس نے اپنے باپ محمد بن عبد اللہ نویرہ اور انس بن حلیس سے نقل کیاہے ۔ہم نے محمد بن عبداللہ کو قعقاع وعاصم کی داستانوں میں پہچان لیا کہ یہ سیف کا جعلی راوی ہے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتا ،دلچسپ بات یہ ہے کہ سیف نے انس بن حلیس کو محمد بن عبد اللہ کا چچا بتایاہے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس قسم کا راوی کس حد تک حقیقی ہوسکتاہے !
اس کے با وجود ہم نے سماک بن فلان ،اس کے باپ اور انس بن حلیس کے سلسلے میں تمام مصادر کی طرف رجوع کیا ۔لیکن انھیں سیف کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا۔اس بناء پر ہم ان تینوں راویوں کو بھی سیف کے جعلی راویوں میں شمار کرتے ہیں ۔
دو روایتوں کا موازنہ
بہر سیر (یا ویہ اردشیر ) کی فتح صرف ابو مفزر تمیمی کے ان کلمات سے حاصل ہوئی ہے جنھیں ملائکہ نے فارسی زبان میں اس کی زبان پر جاری کردیاتھا۔ایسے کلمات جن کے معنی وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اور نہ اس کے ساتھی ۔اس دعوے کی دلیل ایک شعر سے جسے خود اسود بن قطبہ نے کہاہے اور وہ اس میں کہتاہے :
میں نے بہرسیر کوخدا کے حکم سے صرف فارسی میں چند کلمات کے ذریعہ فتح کیا۔
اس کا دوسرا شاہد یہ ہے کہ بڑے افسانوی سورما قعقاع نے بھی ایک شعر کے ضمن میں کہاہے کہ:
بہر سیر کو ہم نے ان کلمات سے فتح کیا جنھیں خدا نے ہماری زبان پر جاری کیاتھا!
اس طرح وہ افسانہ کو آخر تک بیان کرتاہے ۔
دیگر مؤرخین ،جنھوں نے دوسرے منابع سے روایتیں حاصل کی ہیں اور سیف کی باتوں پر اعتماد نہیں کیاہے ،کہتے ہیں :
بہر سیر(یاویہ اردشیر) کی فتح ایک شدید جنگ اور دوسال کے طولانی محاصرہ کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ہے ۔اس طولانی محاصرہ کے دوران بڑے اور عام زمینداروں نے تنگ آکر مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی اور اس طرح محاصرہ سے رہاپائی ۔
سیف کا کارنامہ
قبیلہ تمیم کے خاندان بنی عمرو کے لئے ایک ایسی کرامت ثبت کرنا جس کے جیسی کوئی اور کرامت نہ ہو!کیونکہ وہ اس خاندان کے ایک ایسے معنوی فرد کو پیش کرتاہے جس کی زبان پر ملائکہ ایسے کلمات جاری کرتے ہیں کہ ان کے معنی نہ وہ خود جانتاہے اور نہ اس کے ساتھی ۔اس قسم کے کلام کے نتیجہ میں ایک بڑا شہر مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوتاہے اور اس طرح خاندان تمیم کے حق میں تاریخ کے صفحات میں ایک عظیم افتخار ثبت ہوجاتاہے ۔اس لحاظ سے کہ:
خاندان بنی عمرو تمیمی صرف تلوار سے ہی مشکل کشائی اور سرزمینوں کو فتح نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنے کلام سے بھی یہ کارنامے انجام دیتے ہیں ۔
زمین پر '' افریدون '' جیسے مقامات اور جگہوں کی تخلیق کرنا ،تا کہ ان کا نام ''معجم البلدان '' اور '' الروض المعطار'' جیسی کتابوں میں درج ہوجائے ۔
ابو مفزر اسود بن قطبہ کی سرگرمیوں کے چند نمونے
طبری کی گراں قدر اور معتبر کتاب تاریخ کے مندرجہ ذیل موارد میں صراحت کے ساتھ سیف سے نقل کرتے ہوئے ابو مفزر اسود بن قطبہ تمیمی کانام لیاگیاہے:
١۔ جلولاء کی جنگ اور اس کی فتح کے بعد سعد وقاص نے جنگی اسیروں کو اسود کے ہمراہ خلیفہ عمر کے پاس مدینہ بھیجاہے ۔
٢۔رے کی فتح کے بعد سپہ سالار ''نعیم بن مقرن'' نے جنگی غنائم کے پانچویں حصہ (خمس) کو ''اسود'' اور چند معروف کوفیوں کے ہمراہ خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ بھیجا۔
٣۔ ٣٢ھ کے حوادث کے ضمن میں ''اسود'' تمیمی کانام دیگر تین افراد کے ساتھ لیاگیا ہے جنھوں نے ایک خیمہ کے نیچے ایک انجمن تشکیل دی تھی ۔
٤۔ اس کے علاوہ ٣٢ھ میں ابو مفزر اسود بن قطبہ '' نے ابن مسعود اور چند دیگر نیک نام ایرانی مسلمانوں کے ہمراہ ،جلیل القدر صحابی ابوذر غفاری کی جلا وطنی کی جگہ ''ربذہ '' میں پہنچ کر اس عظیم شخصیت کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی ہے ۔
٥۔ قادسیہ کی جنگ میں ''اغواث'' کے دن ''اعور ابن قطبہ'' نامی ایک شخص کی ''شہر براز''کے ساتھ جنگ کی داستان بیان کی گئی ہے کہ طبری کے مطابق سیف نے روایت کی ہے کہ اس نبرد میں دونوں پہلوان مارے گئے اور اعور کے بھائی نے اس سلسلے میں یہ شعر کہے ہیں :
ہم نے ''اغواث''کا جیسا تلخ و شیرین کوئی دن نہیں دیکھا کیونکہ اس دن کی جنگ واقعاً خوشی اور غم کا سبب تھی۔
اس کے باوجود ہم نہیں جانتے کہ آیا سیف نے اپنے خیال میں ابو مفزر بن قطبہ کے لئے اعور نام کا کوئی بھائی تخلیق کیاہے کہ اسود نے اس طرح اس کاسوگ منایاہے ،یایہ کہ اعور بن قطبہ کانام کسی اور شخص کے لئے تصور کیاہے ؟!
یہ پنجگانہ موارد اور دوسروں کی روایتیں
طبری نے مذکورہ پنجگانہ موارد کو اسود بن قطبہ کے بارے میں نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیاہے ،جب کہ دوسرے مؤرخین جنھوں نے جلولا،قادسیہ،رے اور عثمان کے محاصرے کی روائیداد کی تشریح کی ہے ،نہ صرف ''اسود'' اور اس کی سرگرمیوں کا کہیں نام تک نہیں لیاہے بلکہ ان واقعات سے مربوط باتوں کو ایسے ذکر کیاہے کہ سیف کے بیان کردہ روایتوں جنھیں طبری نے نقل کیاہے سے مغایرت رکھتی ہیں ۔
سیف نے اپنے افسانوی شخص'' اسود'' کو تمام جنگوں میں شرکت کرتے دکھایاہے اور اسے خوب رو ،معروف ،موثق اور بااطمینان حکومتی رکن کی حیثیت سے پہچنوایاہے اسیروں اور جنگی غنائم کو اس کی سرپرستی میں قرار دیاہے اور خاص کر اسے جلیل القدر صحابی ابوذر غفاری کی تجہیز وتکفین میں ، مشہور ومعروف صحابی مسعود کے ساتھ دکھایاہے ۔ہم اس آخری مورد پر الگ سے بحث وتحقیق کرینگے
اسود بن قطبہ کے افسانہ کی تحقیق:
طبری نے رے کی فتح کے بارے میں روایت کی سند ذکر نہیں کی ہے ۔لیکن دیگر جنگوں اور واقعات جیسے :قادسیہ ،جلولا،محاصرہ ٔعثمان اور ابوذر کی تجہیز وتکفین میں شرکت کے بارے میں سیف کی روایتوں کی سندیں حسب ذیل ہیں :
محمد ،زیاد،مھلب،مستنیر بن یزید اپنے بھائی قیس اور باپ یزید سے ،اور کلیب بن حلحال ، حلحال بن ذری سے ۔ہم نے پہلے ثابت کیاہے کہ یہ سب راوی سیف کی تخلیق ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔
اسی طرح اپنے راویوں کاذکر کرتے ہوئے ''ایک مرد سے '' (عن رجل ) روایت کی ہے اور اسے کسی صورت سے ظاہر نہیں کیاہے اور ہم نہیں جانتے سیف کے خیال میں ''یہ مرد'' کون ہے ؟
اس کے علاوہ مجہول الہویہ دو افراد سے بھی روایت کی ہے اور ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ سیف کی نظرمیں یہ دو آدمی کون ہیں تا کہ ان کے وجود یا عدم کے سلسلے مین بحث و تحقیق کرتے !!
اس کے علاوہ ہم نے سیف کی داستان کے ہیرو ابو مفزر اسود بن قطبہ کا سیف اور اس کے افسانوی راویوں کے علاوہ کسی اور کے ہاں سراغ نہیں پایا۔
لگتاہے کہ نقل کرنے والوں سے ''اسود'' کی کنیت لکھنے میں غلطی ہوئی ہو اور انھوں نے اسے ''ابو مقرن '' لکھاہو ۔جیساکہ ہم اس جیسے ایک مورد سے پہلے دوچار ہوچکے ہیں اور شائد اسی اندراج میں غلطی نے ہی ابن حجر کو بھی شک وشبہہ سے دوچار کیاکہ اس نے ''ابومقرن ''اور '' ابو مفزر'' کو دو اشخاص تصور کیاہے ۔ان میں سے ایک ابومقرن اسودبن قطبہ ،کہ جس کا ذکر سیف کے افسانوں میں گزرا اور دوسرا '' ابو مفزر '' کے لقب سے نام ذکر کئے بغیر۔ابن حجر نے ''اصابہ'' میں ''الکنی '' سے مربوط حصہ میں اس کا ذکر کیاہے ۔
چوتھا جعلی صحابی ابو مفزر تمیمی
ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ'' کے ''الکنی ''سے مربوط حصہ میں ابو مفزر تمیمی کا ذکر یوں کیا ہے :
سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں ابو ذر غفاری کی وفات کے سلسلے میں بعض راویوں ،جیسے '' اسماعیل بن رافع نے محمد بن کعب سے نقل کرتے ہوئے ابو مفزر کے اس موقع پر موجود ہونے کی خبر دی ہے ،اور ابوذر کی وفات کی داستان کے ضمن میں لکھا ہے:
....جو افراد '' ربذہ'' میں ابو ذر غفاری کی تدفین کے موقع پر ابن مسعود کے ہمراہ موجود تھے ،ان کی تعداد ( ١٣ ) تھی اور ان میں سے ایک ابومفزر تمیمی تھا ۔اس کے علاوہ کہتا ہے :
ابومفزر ان افراد میں سے ہے جس پر خلافت عمر کے زمانے میں شراب پینے کے جرم میں خلیفہ کے حکم سے حد جاری کی گئی ہے ،اور ابو مفزر نے ایک شعر میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے :
اگر چہ مشکلات او ر سختیوں کو برداشت کرنے کی ہمیں عادت تھی ہم شراب و کباب کی محفلوں میں قدم رکھنے کے آغاز سے ہی صبر و شکیبائی کی راہ
اپنا چکے تھے ۔
جیسا کہ ہم نے کہا کہ ابن حجر دو آدمیوں کو فرض کرکے شک و شبہ سے دو چار ہو ا ہے ایک کو ''ابو مقرن اسود بن قطبہ '' فرض کیا ہے اور اس کا نام اور اس کے حالات کو رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں کے حصے میں درج کیا ہے اور دوسرا '' ابو مفزر'' کو فرض کیا ہے اور اس کی داستان کو کتاب ''اصابہ'' کے ''الکنی''کے حصہ میں ذکر کیا ہے جو اصحاب کی کنیت سے مخصوص ہے ۔
لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ ابن حجر نے ابوذر غفاری کی تدفین کے موقع پر ابو مفزر کی موجودگی کے بارے میں جو روایت سیف سے نقل کی ہے ،وہ اسی موضوع پر طبری کی سیف سے نقل کی گئی دوسری روایت سے سند اور ابوذر غفاری کی تدفین کے مراسم میں افراد کی تعداد کے لحاظ سے واضح اختلاف رکھتی ہے اور ہم نے اسے نقل کیا ہے ۔
اس کے علاوہ ابن حجر کے بیان میں یہ مطلب ذکر ہوا ہے کہ ابو مفزر تمیمی پر شراب پینے کے جرم میں خلیفہ عمر کے حکم سے حد جاری کرنے کا موضوع سیف کی روایات میں تین الگ الگ داستانوں میں ذکر ہو ا ہے اور ان میں سے کسی ایک میں بھی اسود بن قطبہ یا اس کے شعر کا نام و نشان نہیں ہے ۔شاید سیف کے لئے اس قسم کے صحابی کو جعل کرنے ،اس کی شجاعتیں اور کمالات دکھانے ، بہر شیر ( یا اردشیر ) کے میدان کا رزار میں فرشتوں کے ذریعہ اس کی زبان پر فارسی کلمات جاری کرکے ایرانیوں کو میدان جنگ سے معجزا تی طور پربھگا نے کا سبب یہ ہوگا کہ سیف کے مذہب میں جس پرزندیقی ہونے کا الزام ہے شراب پینا معمول کے مطابق ہے اور اسے ذکر کرنا کوئی اہم نہیں ہے
نسخہ برداری میں مزید غلطیاں
حموی نے اپنی کتاب '' معجم البلدان'' میں لفظ '' گرگان'' کی تشریح میں سیف سے نقل کرنے کے بعد اس کی فتح کے طریقے کے بارے میں '' سوید بن قطبہ '' کے مندرجہ ذیل دو اشعار کو شاہد کے طور پر پیش کیا ہے ۔
لوگو! ہمارے قبیلہ بنی تمیم کے خاندان اسید سے کہہ دو کہ ہم سر زمین گرگان کے سر سبز مرغزاروں میں لطف اٹھا رہے ہیں ۔
جب کہ گرگان کے باشندے ہمارے حملہ اور جنگ سے خوف زدہ ہوئے اور ان کے حکام نے ہمارے سامنے سر تسلیم خم کیا !
'' سوید بن قطبہ '' در اصل '' اسود بن قطبہ '' ہے کہ نقل کرنے والے سے کتاب سے نسخہ برداری کے وقت یہ غلطی سرزد ہوئی ہے ۔
طبری نے بھی سیف بن عمر سے ایک داستان نقل کرتے ہوئے '' سوید بن مقرن '' اور گرگان کے باشندوں کے درمیان انجام پانے والی صلح کے ایک عہدنامہ کا ذکر کیاہے اس کے آخر میں ''سواد بن قطبہ ''نے گواہ کے طور دستخط کئے ہیں یہ '' سواد '' بھی در اصل '' اسود'' ہے جو حروف کے ہیر پھیر کی وجہ سے غلط لکھا گیا ہے ۔
اسناد کی تحقیق
سیف کی احادیث میں مندرجہ ذیل راویوں کے نام نظر آتے ہیں :
محمد ،بحرین فرات عجلی ، سماک بن فلاں ہجیمی اپنے باپ سے ،انس بن حلیس، زیاد ، مہلب ، مستنیربن یزید اپنے بھائی اور باپ سے ،کلیب بن حلحال ذری نے اپنے باپ سے خصوصیات کے بغیر ایک مرد سے اور مزید دو مجہول افراد اورعامر ،مسلم ،ابی امامہ ،ابن عثمان عطیہ اور طلحہ۔ ان افراد کے بارے میں ہم اس کی روایات میں کسی قسم کا تعارف اور خصوصیات نہیں پائے کہ ان کو پہچان سکیں مثلا ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ عامر سے اس کا مقصود شعبی ہے یا کوئی اور ؟!او ر طلحہ سے اس کا مقصود طلحہ ابن عبد الرحمن ہے یا اور کوئی ۔ بہر حال اس نے اپنی روایتوں میں ایسے راویوں کا نام لیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ اس کے جعلی راوی اور اس کی ذہنی تخلیق ہیں !!
اس کی روایت کے ضمن میں چند دیگر راویوں کا نام بھی ذکر ہوا ہے کہ ہم سیف کی بیہودہ گوئیوں اور افسانہ سرائیوں کے گناہ کا مرتکب انھیں نہیں ٹھہراتے ،خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سیف تنہا شخص ہے جو ان افسانوں کو ایسے راویوں سے نسبت دیتا ہے ۔
بحث کا خلاصہ
سیف نے ابومفزر اسود بن قطبہ کو بنی عمرو تمیمی کے خاندان سے ذکر کرکے انھیں فتوحات میں مسلمانوں کے مشہور شاعر اور ترجمان کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔
سیف نے اسے حیرہ کی فتوحات میں ،جیسے : الیس ،امغشیا، مقر ،الثنی اور زمیل کی جنگوں میں خالد کے ساتھ شرکت کرتے دکھایا ہے اور اس سے چھ رزم نامے اور رجز بھی کہلوائے ہیں ۔
اس نے یرموک اور قادسیہ کی جنگوں میں اس کی شرکت دکھائی ہے اور اس سلسلے میں اس کی زبان سے تین رزمیہ قصیدے بھی کہلوائے ہیں ۔
'' ویہ اردشیر'' کی جنگ میں اس کی عظمت کو بڑھا کے پیش کیاہے اور اس کو ایک معنوی مقام کا مالک بنا کر اطمینان و سکون کا سانس لیا ہے ۔ایرانی پادشاہ کے ایلچی کے جواب میں ، اس کی زبان پر ملائکہ کے ذریعہ فارسی زبان کے کلمات جاری کئے ہیں ، جبکہ نہ خود اس زبان سے آشنا تھا اور نہ اس کے ساتھی فارسی جانتے تھے۔
اس نے فارسی میں پادشاہ کے ایلچی سے کہا تھا:
ہم ہرگز تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک علاقہ ٔافریدون کا شہد اور کوثی کے مالٹے نہ کھالیں ۔
مشرکین نے ان ہی کلکمات کے سبب ڈر کے مارے میدان کا رزار سے فرار کیا اور شہر کو محافظوں سے خالی اور تمام مال ومتاع کے سمیت مسلمانوں کے اختیار میں دیدیا اور سیف نے اپنے افسانوی شاعر کی زبانی اس سلسلے میں تین رجز کہلوائے ہیں ۔
اسی طرح سیف نے ابو مفزر کے لئے جعل کئے گئے ایک بھائی جو جنگ قادسیہ میں اغوا ث کے دن اپنے حریف کے ہاتھوں ماراگیا تھا کے سوگ میں شعر کہکر اپنے افسانوی شاعر ابومفزر سے منسوب کئے ہیں !
اور سر انجام اس نے اپنے خیالی سورماکو جلولا اور رے کی جنگوں میں شریک کر کے اسے جنگی اسیروں اور مال غنیمت کو خلیفہ عمر کے حضور مدینہ پہنچانے کی سرپرستی سونپی ہے۔
اور ان تمام افسانوں کو ایسے راویوں کی زبانی روایت کی ہے جو سیف کی داستان کے خیالی ہیرو کے ہی مانند خیالی تھے، جیسے:محمد،زیاد،مھلب،مستنیربن یزید اس کے بھائی قیس سے اور اس نے اپنے باپ سے، کلیب بن حلحال ذری نے اپنے باپ سے ،بحرین فرات عجلی، سماک بن فلان ہجیمی اپنے باپ سے ، انس بن حلیس اور ایک بے نام و نشان، اور دیگر مجہول راوی سے۔
یہاں پر یہ دیکھنا لطف سے خالی نہیں ہے کہ ابو مفزر کے بارے میں سیف کی روایات اور افسانوں کو کن اسلامی مصادر میں درج کیا گیا ہے اور کن مؤلفین نے دانستہ یا نادانستہ طور پر سیف کے جھوٹ اور افسانوں کی اشاعت کی ہے۔
اس افسانہ کو نقل کرنے والے علما
ابو مفزر تمیمی کے بارے میں سیف کے مذکورہ افسانے مندرجہ ذیل منابع و مصادر میں پائے جاتے ہیں :
١۔طبری نے اپنی تاریخ کی عظیم کتاب میں ١٢۔٢٣ھ کے حوادث کے ضمن میں ذکر کیا ہے اور اس کے اسناد بھی درج کئے ہیں ۔
٢۔دار قطنی (وفات ٣٨٥ھ) نے اپنی کتاب ''مؤتلف'' میں ''اسود'' کے حالات کے ذیل میں ،سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
٣۔ابن ماکولا(وفات ٤٨٧ھ)نے اپنی کتاب ''اکمال'' میں اسود'' کے حالات کے ذیل میں ، سند کے ساتھ ذکر کیاہے۔
٤۔ابن عساکر (وفات ٥٧١ھ ) نے اپنی کتاب '' تاریخ دمشق'' میں اسود کے حالات کے ذیل میں سیف بن عمر ،دار قطنی اور ابن ماکولا سے نقل کرکے سند کے ساتھ درج کیا ہے ۔
ٍ ٥۔ حموی ( وفات ٦٢٦ھ ) نے اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں شہروں اور علاقوں کے بارے میں لکھے گئے تفصیلات کے ضمن میں نقل کیا ہے ۔
٦۔ حمیری ( وفات ٩٠٠ ھ) نے اپنی کتاب '' الروض المعطار'' میں شہروں اور علاقوں کے بارے میں لکھے گئے تفصیلات کے ضمن میں درج کیا ہے ۔
٧۔ مرز بانی (وفات ٣٨٤ ھ ) نے اپنی کتاب '' معجم الشعراء ) میں شعراء اور رجز خوانوں کے حالات کی تشریح کے ضمن میں اپنے پیشرئوں سے نقل کرتے ہوئے سند کی طرف اشارہ کئے بغیر درج کیا ہے ۔
٨۔ عبد المومن ( وفات ٧٣٩ ھ ) نے اپنی کتاب '' مراصد الاطلاع'' میں حموی سے نقل کرکے درج کیاہے۔
٩۔ابن اثیر (وفات ٦٣٠ ھ) نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔
١٠۔ ابن کثیر ( وفات ٧٧٤ھ) نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔
١١۔ابن خلدون (وفات ٨٠٨ھ) نے اپنی تاریخ میں درج کیاہے ۔
١٢۔مقریزی (وفات ٨٤٥ھ) نے اپنی کتاب '' خطط'' میں درج کیا ہے ۔
١٣۔ابن حجر ( وفات ٨٥٢ھ ) نے اپنی کتاب '' الاصابہ '' میں '' ابو مفزر'' کی داستان کو دارقطنی سے اور بہرسیرومیں فارسی زبان میں بات کرنے کے افسانہ کو سند ذکر کئے بغیرمر زبانی سے نقل کیا ہے ۔
١٤۔ ابن بدران (وفات ١٣٤٦ھ ) نے اپنی کتاب '' تہذیب تاریخ ابن عساکر '' میں ابن عساکر (وفات ٥٧١ھ ) سے نقل کیا ہے ۔
مذکورہ اخبار و روایات سیف بن عمر تمیمی کے وہ مطالب ہیں جو اس نے اپنے جعلی صحابی اسود بن قطبہ تتمیمی کے بارے میں تخلیق کئے ہیں ۔
لیکن جس '' اسود'' کو سیف نے جعل کیا ہے وہ اس '' اسود بن قطبہ'' کے علاوہ ہے جسے امام علی علیہ السلام نے حلوان کا کمانڈرمقرر کیا تھا اور امام نے اس کے نام ایک خط بھی لکھا تھا امام کا یہ خط آپ کے دیگر خطوط کے ضمن میں نہج البلاغہ میں درج ہے حلوان میں امام کا مقرر کردہ سپہ سالار '' اسود '' خاندان تمیم سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ابن ابی الحدید نے '' شرح نہج البلاغہ' ' میں اسود کا ذکر کرتے ہوئے اسے سبائی قحطانی بتایا ہے ۔ ابن ابی الحدید لکھتا ہے :
میں نے متعدد نسخوں میں پڑھا ہے کہ وہ اسود بن قطبہ ،حلوان میں امام کا سپہ سالار جس کے نام امام نے خط بھی لکھا ہے حارثی ہے اور خاندان بنی حارث بن کعب سے تعلق رکھتا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ بنی حارث بن کعب کا شجرہ نسب چند پشت کے بعد سبائی قحطانی قبائل کے '' مالک بں اود'' سے ملتا ہے ۔اس کے حالات اور سوانح حیات کو ابن حزم نے '' جمہرہ انساب'' کے صفحہ ٣٩١میں درج کیا ہے ۔
موخر الذکر '' اسود '' کے باپ کانام نہج البلاغہ کے بعض نسخوں میں ''قطیبہ '' لکھا گیا ہے اور نصر بن مزاحم کی کتاب '' صفین'' میں اس کا نام '' قطنہ '' ذکر ہو اہے ۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ سیف نے اپنے جعلی صحابی یعنی اسود بن قطبہ تمیمی کا نام امام کے نمایندہ کے نام کے مشابہ جعل کیا ہے ۔اور یہی شیوہ اس نے خزیمة بن ثابت سماک بن خرشہ اور زربن عبداللہ کا نام رکھنے میں بھی اختیار کیا ہے انشاء اللہ ہم اس کتاب میں ان کے بارے میں بھی بحث و تحقیق کریں گے۔
سیف کا پانچواں جعلی صحابی نافع بن اسود تمیمی
سیف کی زبانی اسود کا تعارف
ابو بجید ،نافع بن اسود ،قطبہ بن مالک کا پوتا اور خاندان بنی عمرو تمیمی کا چشم و چراغ ہے سیف بن عمر نے نافع کے بارے میں یہ شجرہ نسب اپنے تصور کے مطابق جعل کیا ہے ۔
ابن ماکو لانے نافع کے حالات کے بارے میں اس طرح لکھا ہے :
سیف کہتا ہے : ابو بجید نافع بن اسود تمیمی نے ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں دلاوریاں دکھانے اور رزمیہ اشعار کہنے کی وجہ سے کافی شہرت پائی ہے ۔
ابن عساکر نے بھی اس کے حالات کی تشریح میں لکھا ہے :
نافع بن اسود تمیمی جس کی کنیت ابو بجید ہے رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ایک صحابی ہے اور اس نے عمر سے حدیث نقل کی ہے ،نافع نے دمشق اور عراق کے شہروں کی فتوحات میں شرکت کی ہے اور ان جنگوں کے بارے میں بہت سے رزمیہ اشعار کہے ہیں ۔
دلاوریاں
اس کے بعد ابن عساکر نافع کے ساٹھ سے زائد اشعار سیف ابن عمر سے روایت کرکے چھ قطعات میں نقل کرتا ہے اور اس کے پہلے قطعہ میں کہتا ہے :
سیف بن عمر نے روایت کی ہے کہ ابو بجید نافع بن اسود نے اس طرح شعر کہے ہیں :
مجھے اور میرے خاندان والوں کو ایسا تصور نہ کرنا کہ ہم جنگ کے شعلوں سے ڈر کر آہ و زاری کر تے ہیں !ہم نے دمشق کو فتح کرنے کے بعد دشمن کے لئے اسے آفت و بلا میں تبدیل کردیا۔
لگتا ہے کہ تم نے دمشق اور بصری کی جنگ کو نہیں دیکھا ہے کہ اس دن ہمارے دشمن خاک و خون میں کیسے غلطاں ہوئے ؟
اس دن ہم میدان کارزار میں دشمن پر طوفانی ابر کی مانند موت کی بارش برسارہے تھے ۔
ہم نے دشمن کے ہاتھ کو تمھارے دامنوں سے جدا کردیا ۔کیونکہ پناہ لینے والوں کی حمایت کرنا ہماری پرانی عادت تھی۔
اے میرے مغرور دشمن ! اس وقت جب صرف خالی نعرے سے لوگوں کی حمایت کرنا کافی نہ تھا ،تم بیچارے اور ذلیل وخوار ہوکر خاک وخون یں لت پھت پڑے تھے۔
سب جانتے ہیں کہ خاندان تمیم جنگوں میں فتح وکامرانی اور افتخارات اور دلاوریاں حاصل کرنے میں قدیم زمانے سے معروف ہے اور جنگی غنائم کو حاصل کرنا ہمارا حق ہوتا تھا۔
آزاد ہوکر ہماری پناہ میں آنے والے افراد عزیز ومحترم اور دوست ہیں اور جنھوں نے تمھارے ہاں پناہ لے لی ہے ،وہ ذلیل وخوار اور نابودہیں ۔
اس کے دوسرے رزمیہ اشعار میں یوں آیا ہے :
جس وقت گھمسان کی جنگ چل رہی تھی ،اس وقت ہماری شجاعت ،سربلندی و افتخار کے برابر کسی نے شجاعت نہیں دکھائی ۔
جنگ دمشق میں ہماری کاری ضربوں کے نتیجہ میں موت کے منڈلاتے ہوئے سایوں کے بارے میں رومیوں کے سپہ سالار ''نسطاص'' سے پوچھو ! اگر اس سے پوچھوگے تو وہ جواب میں کہے گا ، ہم وہ بہادرہیں جو ایرانیوں کے جوش وخروش کے باوجود سیلاب بن کر ان کی سرحدوں سے گزرے اور ان لوگوں پر حملہ آور ہوئے جو آرام کی زندگی بسر کررہے تھے اور وسیع زمینوں کے مالک تھے ۔
خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ صرف تمیم کا خاندان سیف کا قبیلہ اپنی تلاش و کوشش سے جنگ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لے ۔
مذکورہ دو حماسی اشعار کو ابن عساکر نے سیف سے نقل کرکے فتح دمشق میں ذکر کیاہے ۔
تیسرے رزمیہ اشعار کے حصہ کے بارے میں کہتاہے کہ :
ابو بجید ،نافع بن اسود نے اس طرح شعر کہے ہیں :
اور یہ ہم تھے جو دجلہ کی جنگ میں صبح سویرے اپنے سپاہیوں کے ایک گرواہ کے ہمراہ تلوار اور نیزوں سے دشمن پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑے ۔
اس دن جب تیروں کی بارش تھم گئی اور تلواروں کی باری آئی تو یہ ہماری تلواریں تھیں جودشمنوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کا قتل عام کرکے رکھ دیا۔
ہم انھیں دجلہ اور فرات کے در میانی بیابانوں میں نہروان تک پیچھا کرکے تہ تیغ کیا۔
چوتھے حماسی حصہ کے بارے میں ابن عساکر سیف سے نقل کرکے ابو بجید نافع بن اسود کے درج ذیل اشعار بیان کئے ہیں :
ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو اندھے پن کے کاجل سے دشمنوں کی آنکھوں کا علاج کرتے ہیں اور ان کے درد بھرے سروں کو میان سے نکالی گئی ننگی تلواروں سے شفا دیتے ہیں ۔
تم ہمارے گھوڑوں کو دیکھ رہے ہو جو مسلح سواروں کے ساتھ میدان کارزار میں جولانی کررہے ہیں ؟
خدائے تعالیٰ نے میرے لئے عزت ،شرافت اور سربلندی کا گھر
عطاکیاہے ۔
میرے دوست ویاور بھی ایسے مہربان اور بخشش والے ہیں کہ ہرگز کسی پر ظلم نہیں کرتے اور ہمیشہ سخاوت ووفاداری کا دامن پکڑے رہتے ہیں ۔
ہمارے گھر میں عظمت اور عزت نازل ہوئی ہے ،جو ہرگز اس سے باہر نہیں جائے گی۔
دشمنوں کے لئے کون سا دن اس دن کے برابر سخت اور بد قسمتی والا گزرا ، جب ہمارے جوانوں نے ان کو خاک وخون میں غلطاں کرکے رکھ دیا ؟
ان کے علمدار کو ہم نے اس طرح موت کے گھاٹ اتاردیا کہ پتھروں کے نشان اس کے بدن پر نمایاں تھے!
بادشاہوں کے کتنے تاج اور قیمتی دست بند ہم نے غنیمت میں لے لئے ؟
خاندان تمیم سے تعلق رکھنے والے ہمارے جنگجو ایسے قدر ومنزلت کے مالک ہیں کہ جہاں جہاں پر قدم رکھیں گے وہاں پر خوشی ومسرت کی بہار لائیں گے۔
ہم نے دشمن کے قلب پر حملہ کیا ۔دشمن پر فتح پانے کے بعد میدان کارزار سے گزرگئے ۔اس مدت میں ہماری آنکھوں نے نیند نام کی کوئی چیز نہیں دیکھی ۔
چھ دن کی نبرد آزمائی کے بعد دشمن پر ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ وہ پھر سر اٹھانے کے لائق نہ رہے ۔اس کے بعد ان کے جنگی ساز وسامان کو مال غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیا۔
اس کے بعد ہم نے کسریٰ پر حملہ کیا اور اس کی سپاہ کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔
اس وسیع میدان کارزار میں ہم قبیلہ تمیم کے علاوہ کوئی ایسا اپنے وطن سے دور موجود نہ تھا جو دشمن کے جگر کو نیزوں کے ذریعہ ان کے سینوں سے چیر کر نکال لیتا۔
اس کے بعد ہم نے مدائن کی سرزمینوں پر حملہ کیا جن کے بیابان وسیع اور دلکش تھے۔ہم نے کسریٰ کے خزانوں کو غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیا اور وہ شکست کے بعد بھاگ کھڑا ہوا۔
طبری نے بھی سیف سے نقل کرتے ہوئے مدائن پر مسلمانوں کی فتح کی صورت حال بیان کرنے کے بعد اس حماسہ کے دوشعر شاہد کے عنوان سے درج کئے ہیں ۔ابن اثیر اور ابن کثیر نے بھی انہی مطالب کو نقل کرنے میں طبری کی پیروی کی ہے اور اس سے نقل کیاہے۔
پانچویں قطعہ کے بارے میں جو بذات خود ایک طولانی قصیدہ ہے ابن عساکر یوں بیان کرتاہے :ابو بجید نافع بن اسود یوں کہتاہے:
قبائل''معد ''(۱) اور دیگر قبائل کے منصفوں کا اعتراف ہے کہ تمیمی بڑے بادشاہوں کے برابر تھے ۔
وہ فخر و عزت ،جاہ و جلال اور عظمت والے افراد ہیں خاندان '' معد'' میں ان کی سر بلندی پہاڑ کی چوٹی کے مانند ہے ۔
وہ پناہ گاہ ہیں اور ان کے ہمسائے جب تک ان کی پناہ میں ہوں ہر قسم کی ضرورت و احتیاج سے بے نیاز ہوتے ہیں ۔
جو بھی ان کا دوست و ہمدم بن جائے اور ان کی سخاوت کے دسترخوان پر حاضر ہو جائے وہ فربہ او رچاق چوبند اونٹ کے گوشت سے اس کی مہمان نوازی کرتے ہیں ۔
کیسے ممکن ہے کہ غیر عرب خاندان تمیم سے برابری کا دعوی کریں جب کہ یہ لوگ ہرقسم کی سماجی سر بلندی اور بزرگواری کے لحاظ سے مشہور و معروف ہیں ؟
وہ حاجتمند وں اور بیچاروں کو بذل و بخشش کرکے انھیں پنجہ مرگ سے نجات دلانے میں بے مثال ہیں ۔
جب دوسروں کے ہاتھ عظمت و افتخار کی بلندی تک پہنچنے سے محروم ہوتے ہیں ،اس وقت بھی خاندان تمیم پوری طاقت کے ساتھ عظمت و سر بلندی تک پہنچنے کے لئے دراز ہوتے ہیں ۔
حاجتمند وں کی حاجت روائی اور درد مندوں کی دستگیری میں تمام مال و متاع
____________________
۱)۔ حجاز کے اعراب ،جزیرہ نمائے عرب کے شمال کے باشندوں جو مختلف قبائل پر مشتمل ہیں کو ''معد'' کہتے ہیں قریش اور تمیم بھی انہی میں سے ہیں ۔
بخش دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے !
یہ خاندان تمیم کے ہی شہسوار ہیں جو اپنے نجیب گھوڑوں کو پہاڑوں پر سے دوڑاتے ہوئے میدان کار زار میں پہنچادیتے ہیں ۔
ان کے گھوڑے راستے کی مشکلات کے باوجود سستی ،کمزوری اور تھکاوٹ کا اظہار نہیں کرتے یہ گھوڑے خاندان تمیم کے شہسوار وں کو مال غنیمت تک پہنچاتے ہیں اسی لئے تمیمی ہمیشہ مال غنیمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔
ان کے بہت سے دلاوروں نے نخلستانوں اور باغوں کو غنیمت میں لے لیا ہے۔
مال غنیمت میں خاندان تمیم کا حصہ جنگ کے سرداروں کے برابر ہوتا تھا خدائے تعالیٰ نے پہلے سے ہی خاندان تمیم کو ان نیک خصوصیات سے نوازا تھا۔
اور جب اسلام آیا،تب بھی قبائل ''معد'' کی قیادت کی باگ ڈور خاندان تمیم کے ہی ہاتھوں میں رہی اور خدا نے انھیں ان جگہوں کی طرف ہجرت کرنے کی ہدایت کی جہاں پر ان کی دنیا وآخرت کی بھلائی تھی۔
ان مقامات اور مرغزاروں کی طرف اگر عرب ہجرت نہ کرتے تو وہ عجم کے بادشاہوں کے نشیمن بن جاتے!
تمیمی اس عظیم ہجرت میں منظم گروہوں اور صفوف کی شکل میں جنگلی شیروں اور فتح و کامرانی کے ہراول دستوں کی طرح آگے بڑھتے تھے۔
(تمیمی ) شہسوار، بلند قامت اور تیز رفتار اور سرکش گھوڑوں پر پوری طرح مسلح ہوکر جنگ کے لئے آمادہ تھے، کہ
خطاب آیا: اے تمیمیو! تم سر بلندی اور بہتر زندگی کی راہ میں اچھی طرح لڑو کیوں کہ فقط تم ہی مشکلات اور سختیوں میں لوگوں کے کام آنے والے ہو !
تم ۔مشرکوں کے مقابلے میں اپنی صفوف کو منظم کرو اور ننگی تلواروں سے ان پر ٹوٹ پڑو!
اس جنگ میں تمیمیوں نے دشمنوں کو اپنی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ، کیوں کہ تمیمی دلیر کبھی ناقص کام انجام نہیں دیتے ،
شہسوار ،گردو غبار میں اٹے ہوئے اپنے نیزوں اور تلواروں سے میدان کا رزار میں دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے ان کے قلب پر حملہ کرتے تھے ۔
یہ کام صرف خاندان تمیم کے بہادر ،دلاور اور شجاع جوانمرد وں کے ہاتھوں انجام پاتا تھا نہ ڈر پوک اور سست مردوں کے ہاتھوں !
ابن حجر نے بھی نافع کے اس قصیدہ کے ٩اشعارسیف سے نقل کرکے اپنی بات کے شاہد کے طور پر درج کئے ہیں ،اور کہتا ہے :
سیف نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں نافع سے بہت سے اشعار نقل کئے ہیں جس میں وہ اپنے خاندان پر افتخار کرتا ہے ۔شام و عراق کی جنگوں میں اپنی شرکت پر داد سخن دیتا ہے ،منجملہ کہتا ہے :
'' معد'' کے انصاف پسندوں اور تمام منصفوں نے گواہی دی ہے کہ صرف خاندان تمیم ہی بڑے بادشاہوں کی ذمہ داریاں نبھاسکتے ہیں اور ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں ...۔
ابن عساکر نے نافع کے اشعار کا چھٹا بند یوں بیان کیا ہے :
ہم نے رومیوں کے'' سقس''(ساکس)رومی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو زمین پرپھینک دیا جب کہ لنگڑی لومڑیوں نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا۔
اس کی لاش روم کے مرغزار میں پڑی تھی نہ کہ اس کے باپ کی ملکیت میں جہاں وہ چاہتا تھا۔
رومیوں کے ساتھ ہماری جنگ کا آغاز یہ تھا کہ عامر نے اس کے سر پر اپنی تلوار کی ایک ضرب سے کمر تک اسے دو ٹکڑے کرکے رکھ دیا !
ابن عساکر یہ چند شعر ذکر کرنے کے بعد نافع کے حالات کو دار قطنی اور ابن ماکولا سے سیف کے ذریعہ نقل کرکے اپنی بات تمام کرتا ہے ۔
لیکن طبری سیف سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے نافع کے اشعار سے صرف درج ذیل دو شعر نقل کرتا ہے :
ہمارے سوار فوجیوں نے سمندر جیسی زیبا اور وسیع سرزمین ''مدائن'' پر قدم رکھا....
اس کے بعد ١٦ھکے حوادث کے ضمن میں جلولا کی جنگ کے بارے میں سیف سے نقل کرتا ہے ۔سیف سے ایک روایت میں جلولا کی جنگ کے بارے میں نافع سے منسوب چار شعر کو حسب ذیل نقل کرتاہے :
'' جلولا '' کی جنگ میں ہمارے پہلوانوں نے قوی شیروں کی طرح میدان کا رزار میں حملے کئے ۔
میں ایرانیوں کو چیر پھاڑ کے قتل کرتے ہوئے آگے بڑھتا تھا ،اور کہتا تھا ،مجوسیوں کے ناپاک بدن نابود ہو جائیں ۔
اس دن جب سر تن سے جدا ہو رہے تھے ،'' فیروزان '' ہمارے چنگل سے بچ نکلا اور بھاگ گیا لیکن '' مہران '' مارا گیا۔
جب ہمارے دشمن موت کے گھاٹ اتاردئے گئے تو رات کو بیابانوں کے درندے ان کی لاشوں کے استقبال کے لئے آئے ۔
ابن کثیر نے بھی انہی مطالب کو تاریخ طبری سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔
ہم نے طبری کی کتاب میں مذکورہ اشعار کے چھ قطعات کے علاوہ نافع سے مربوط کوئی اور شعر نہیں پایا ،جب کہ ابن ماکولا''نافع '' کی تشریح میں کہتا ہے :
سیف نے کہا ہے کہ اس نے ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں کافی شہرت حاصل کی ہے اور بہت سے شعر کہے ہیں
ابن حجر کہتا ہے:
سیف نے اس سے بہت سے اشعار نقل کئے ہیں جن میں نافع نے اپنے خاندان پر ناز کیا ہے
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے اپنے افسانوی سورما کے نام پر بہت سے اشعار کہے ہیں اور طبری نے اپنی عادت کے مطابق ان اشعار کو درج کرنے سے اجتناب کیا ہے ۔
ہم نے '' نافع'' کے کافی تعداد میں کہے گئے اشعار کی جستجو کی لیکن ان میں سے تھوڑے ہی اشعار حموی اور حمیری کے ہاں دستیاب ہوئے کہ ان دو عالموں نے اپنی بات کے اقتضا کے مطابق مقامات کی تشریح کرتے ہوے شاہد کے طور پر ان سے استناد کیا ہے ۔ہم ہر ایک فتح کے بارے میں سیف سے نقل کرکے خلاصہ بیان کرنے کے بعد ان اشعار کی طرف بھی اشارہ کریں گے ۔
شاعر نافع ،ایران میں
طبری نے صراحت کے ساتھ سیف کا نام لے کر فتح '' ہمدان'' ''رے'' اور ''گرگان '' کے بارے میں اپنی تاریخ میں مفصل طور پر درج کیا ہے ہم یہاں پر اس کا خلاصہ ذکر کرتے ہیں :
خلیفہ عمر نے ہمدان اور اس کے مشرق میں واقع دیگر سر زمینوں کو خراسان تک فتح کرنے کا حکم '' نعیم بن مقرن '' کے نام جاری کیا اور اسے حکم دیا کہ ان علاقوں کو فتح کرے ۔
نعیم نے اطاعت کرتے ہوئے ''رے'' کی طرف لشکر کشی کی ،اس جنگ میں گرگان کے لوگ بادشاہ کی مدد کے لئے آئے دونوں لشکر کوہ رے کے دامن میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے نعیم اپنے فوجیوں کے ایک حصے کو چوری چھپے محاذ جنگ کے پیچھے بھیج چکا تھا ۔اس نے پوری طاقت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا ۔ایرانی چوں کہ آگے پیچھے دونوں طرف سے اسلامی فوج کی زد میں آچکے تھے اس لئے مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے سخت شکست و حزیمت سے دو چار ہوئے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔اس گیرودار میں بے شمار ایرانی کام آئے ۔
نعیم نے فتح پانے کے بعد غنائم جنگی کا پانچویں حصہ ''اسود بن قطبہ'' کی سرپرستی میں چند دیگر معروف کوفیوں کے ہمراہ خلیفہ کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا ۔
جب عمر کو فتح کا پیغام پہنچا خلیفہ نے حکم دیا کہ '' نعیم '' اپنے بھائی '' سوید بن مقرن '' کو ''قومس'' کی فتح پر مامور کرے۔
سوید خلیفہ کے حکم سے ایک لشکر لے کر '' قومس '' کی طرف روانہ ہوا اور اس جگہ کو کسی قسم کی مزاحمت اور خوں ریز ی کے بغیر فتح کر لیا۔
اس کے بعد طبرستان کے علاقہ پر بھی ایک فوجی معاہدے کے تحت قبضہ کیا ۔ وہا ں سے گرگان کا رخ کیا اور '' بسطام'' کے مقام پر پڑائو ڈالا اور وہیں سے بادشاہ '' رزبان صول'' کے نام خط لکھا اور اسے تسلیم و اطاعت کرنے کو کہا ''رزبان '' نے مثبت جواب دیا اور مسلمانوں کے گرگان پر حملہ نہ کرنے کی صورت میں جزیہ دے کر جنگ سے دوری اختیار کی ۔ یہ عہد نامہ ١٨ ھ کو لکھا گیا اور طرفین میں رد و بدل ہوا۔
مذکورا بالا باتیں طبری کے بیانات کا خلاصہ تھیں :
حمیری لفظ '' رے '' کی طرف اشارہ کرکے اسی داستان کو لکھتا ہے :
.....اور ابو بجید نافع بن اسود نے ''رے'' کی جنگ میں یہ اشعار کہے تھے : کیا ہماری محبوبہ کو یہ خبر ملی کہ جو گروہ ''رے '' میں ہمارے مقابلے میں جنگ کے لئے اٹھا تھا، وہ موت کا زہر کھا کر ہلاک ہوگیا؟!
وہ دو محاذوں پر پوری قدرت کے ساتھ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر ہمارے مقابلے میں آئے
ان کے گھوڑے یک رنگ ، یا سیاہ تھے یا سرخ ۔ ایسے گھوڑ ے تھے کہ بعض اوقات ہمارے حملوں کے مقابلے میں تاب نہ لاتے ہوئے فرار کو قرار پر ترجیح دیتے تھے ہم نے ان کو پہاڑ کے دامن میں ایک ایک کرکے یا دو دو کرکے پکڑ کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور ان کو قتل کرکے اپنی تمنا پوری کی۔
خدا جزائے خیر دے اس گروہ کو جس نے دشمن کے سر پر انتقام کی تلوار ماری اور اجر دے انھیں جنہوں نے ایسا کام انجام دیا۔
حموی نے بھی ''بسطام'' اور ''گرگان'' کی فتح کے بارے میں سیف کی باتوں پر استناد کرکے ''نافع بن اسود '' کا نام لیا ہے۔ مثلاً ''بسطام اور اس کی فتح کے بارے میں لکھتا ہے:
خلیفہ عمر نے حکم جاری کیا تھا کہ ''نعیم بن مقرن'' ''رے'' اور ''قومس'' کی طرف لشکر کشی کرے اور یہ لشکر کشی ١٨و١٩ھ میں واقع ہوئی ہے۔
نعیم کا ہراول دستہ اس کے بھائی ''سوید بن مقرن '' کی سرپرستی میں ''رے '' اور ''قومس'' کی طرف روانہ ہوا ۔ چونکہ ان دونوں علاقوں کے باشندوں میں لڑنے کی طاقت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے صلح کی تجویز پیش کی اور سرانجام ان کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا۔ ابو بجید نافع بن اسود نے اس سلسلے میں یہ شعر کہے ہیں :
اپنی جان کی قسم! اس میں کسی قسم کا شک و شبہہ نہیں ہے کہ ہم میدانِ جنگ میں حاضر ہونے اور اس کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے میں دوسروں سے زیادہ سزاوار ہیں !
جب صبح سویرے جنگ کا بگل بجتا ہے تو یہ ہم خاندان تمیمی ہیں جو خوشی خوشی اس کا مثبت جواب دیتے ہیں ۔
ہم نے ''بسطام '' کی سخت اور وسیع جنگ میں دشمن کو نابود کرنے کے لئے کمر ہمت باندھی۔
اس کام میں ہم نے اپنے نیزے گھمائے اور انھیں دشمن کے خون سے رنگین کیا۔
لفظ ''گرگان'' اور ''رے'' کے سلسلہ میں حموی کی دلیل
حموی اپنی کتاب ''معجم البلدان '' میں لکھتا ہے :
جب سوید بن مقرن نے ١٨ھمیں ''بسطام '' کی فتح سے فراغت پائی تو اس نے گرگان کے بادشاہ ''زربان صول'' کے نام ایک خط لکھا اور اسے اطاعت کرنے کا حکم دیا اور خود سپاہ لے کر گرگان کی طرف روانہ ہوا۔ زربان نے صلح کی درخواست کی اور مسلمانوں کے گرگان پر حملہ نہ کرنے کی صورت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہوا۔ سوید صلح کو قبول کرتے ہوئے گرگان میں داخل ہوا اور صلح نامہ لکھا گیا۔ ابو بجید نافع بن اسود نے اس سلسلے مین یہ شعر کہے ہیں :
سواد نے ہمیں گرگان کی طرف بلایا، جس سے پہلے رے ہے ۔ اس کے بعد صحرا نشین گرگان کی طرف روانہ ہوئے۔
حموی شہر ''رے''کی تشریح میں لکھتا ہے کہ ابوبجید، جو لشکر میں شامل تھا''رے'' کا یوں ذکر کرتا ہے:
سواد نے ہمیں گرگان کی طرف بلایا جس کے پہلے رے ہے۔ اس کے بعد صحرا نشین اس کی طرف بڑھے ۔ ہمیں ''رے '' کی چراگاہ اور سبزہ زار جو زینت و نعمت کے سبب ہیں بہت پسند آئے۔
پوپھٹتے ان سبزوں میں عجیب رونق ہوتی ہے جو بڑے بادشاہوں کی شادیوں کی یاد
تازہ کرتی ہے.
حموی مذکورہ اشعار کو بیان کرنے کے بعد ''گرگان'' کے بارے میں تشریح کرکے اپنی بات ختم کرتا ہے.
مذکورہ مطالب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حموی نے ''رے '' اور ''گرگان ''کی تشریح میں سیف کی باتوں اور اس کی داستانوں پر اعتماد کیا ہے ۔ اس نے ان داستانوں کی سیف سے نقل کرکے اپنی عادت کے مطابق رزمیہ اشعار کو حذف کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حموی نے سیف کی روایتوں سے ان ہی دلاور یوں کو ذکرکیا ہے جو فرضی ابو بجید اور جعلی کمانڈر سوید سے مربوط ہیں ، اور سوید کو ''صیغۂ تکبیر ''سے ''سواد '' نقل کیاہے ۔ اس کے بعد اسے بلاذری اور دیگر دانشوروں کی روایتوں سے ربط دیتا ہے جنہوں نے سپاہ کی قیادت کا عہدہ دار ''عروۂ طائی '' کو بتایا ہے۔
سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ
بلا ذری نے ''رے ''اور ''قومس''کی فتح کے بارے میں لکھا ہے کہ خلیفہ عمر نے اپنے کارگزار عمار یاسر کو حکم دیا کہ ''عروة بن خیل طائی'' کو ''رے '' کو فتح کرنے پر مامور کرے ۔ عروہ نے ''رے'' کی طرف لشکر کشی کی اور اسے فتح کیا۔ اس کے بعد خود مدینہ چلاگیا اور اس فتح کی نوید خلیفہ کی خدمت میں پہنچائی۔
''رے '' کی فتح کے بعد خلیفہ کے حکم سے ''سلمة الضبی'' نے سپاہ کی کمانڈ سنبھالی اور فوج کے ساتھ ''قومس'' اور اس کے اطراف کے دیگر علاقوں کی طرف لشکر کشی کی ''قومس '' کے باشندوں نے صلح کی تجویز پیش کی اور سلمہ کے ساتھ معاہدہ کیا اور پانچ لاکھ درہم جزیہ کے طور پر ادا کئے۔
بلاذری نے گرگان کی فتح کے بارے میں لکھا ہے:
خلیفہ ٔعثمان نے ٢٩ھ میں کوفہ کی حکومت پر ''سعید بن عاص اموی'' کو مقرر کیا .سعید نے گرگان کو فتح کرنے کی غرض سے اس علاقہ کی طرف فوج کشی کی اور گرگان کے بادشاہ کے ساتھ دولاکھ درہم پر صلح کی اور اس علاقے کو اپنے علاقوں میں شامل کیا .اس کے بعد سرزمین طبرستان کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا.
ہم نے یہاں پر بلاذری کے مطالب کو خلاصہ کے طور پر بیان کیا ہے۔
موازنہ کا نتیجہ
سیف نے اپنی روایت میں سرزمین رے کے فاتح کے طور پر ''نعیم بن مقرن'' کا ذکر کیا ہے اور ''قومس'' ''طبرستان'' ''بسطام'' اور ''گرگان'' کے فاتح کے طور پر اس کے بھائی ''سوید '' کا نام لیا ہے اور ان تمام فتوحات کو ١٨و١٩ھ میں انجام پانا بتاتاہے، جبکہ دوسرے معروف اور نامور مورخین نے سرزمین ''رے'' کا فاتح ''عروة بن زید خیل طائی '' کو بتایا ہے اور ''قومس '' اور اس کے اطراف کے دیگر علاقوں کو فتح کرنے والے اس کے جانشین کا نام ''سلمةالضبی'' بیان کیا ہے اور گرگان اور طبرستان کا فاتح ''سعید اموی '' کو بنایاہے خاص کر اس موخر الذکر فتح کی تاریخ خلافت ِعثمان کا زمانہ ٢٩ھ ثبت کیا ہے !!یہ سیف اور دیگر مورخین کی روایتوں میں نمایاں اختلافات کے نکات ہیں ۔
ان روایتوں کا مذکورہ سرسری جائزہ اور مختصر موازنہ انجام دینے سے یہ آسانی کے ساتھ واضح ہوجاتا ہے کہ حموی نے سیف کی روایتوں پر کس قدر اعتماد کیا ہے اور ان روایتوں اور علاقوں کی فتح کو صحیح اور معتبر جانا ہے کہ اس طرح نظم و نثر کی صورت میں سیف کی روایتوں کو قطعی سند کے طور پر اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔ یہاں پر ہم ایک بار پھر حموی کی تحریر پر غور کرتے ہیں
برجان برگان!
حموی کی ''معجم البلدان''میں لفظ ''برجان'' کے بارے میں یوں لکھا گیا ہے:
مسلمانوں نے ''برجان '' کو عثمان کی خلافت کے دوران فتح کیا .ابوبجید تمیمی نے اس فتح کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں :
پہلے ہم نے گرگان پر حملہ کیا، ہمارے سوار دستوں کو میدان کا ر زار میں دیکھ کر اس کی حکومت متزلزل ہوکر سرنگوں ہوگئی۔
شام کے وقت جب ہم نے حملہ روکا، تو وہاں کے لوگ سرزمین روم اور برجان کے درمیان سراسیمہ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔
اسی کتاب میں لفظ ''رزیق '' کے بارے میں آیا ہے:
ایران کے بادشاہ کسریٰ کے بیٹے ، یزدگرد شہریار کے قتل کا واقعہ ایک پن چکی میں پیش آیا ابوبجید نافع بن اسود تمیمی نے اس سلسلے میں یوں کہا ہے:
ہم تمیمیوں نے سراسیمہ بھاگتے ہوئے یزدگرد کے شکم کو خنجر سے چاک کرکے ہلاک کردیا ۔ ''مرو'' کی جنگ میں ہم ان کے مقابلے پر آئے ۔کیا تم گمان کرتے ہو کہ وہ تیز پنجوں والے پہاڑی چیتے ہیں !
ہم نے ''رزیق'' کی جنگ میں ان کو تہس نہس کرکے ان کی ہڈیوں کو چکلنا چور کرڈالا.
سورج ڈوبنے تک ہم ان کے میمنہ اور میسرہ پر مسلسل حملے کرتے رہے
خدا کی قسم !اگر خدا کا ارادہ نہ ہوتا، تو ''رزیق'' کی جنگ میں دشمنوں میں سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچتا۔
رزیق
طبری نے ''برجان '' کی فتح کے بارے میں جس کا حموی نے نام لیا ہے اور اسی طرح ''رزیق'' میں یزدگرد شہریار کے تمیمیوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے بارے میں سیف سے کچھ نقل نہیں کیا ہے کہ ہم اس کا مقابلہ و موازنہ کرتے ۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ ساسانیوں کا آخری بادشاہ یزدگردخود ایرانیوں کے ہاتھوں ماراگیا ہے۔
اگر طبری نے یزد گرد کے مارے جانے کے بارے میں سیف کی روایتوں کو اپنی کتاب میں در ج کیا ہوتا ، تو ہمیں پتہ چلتا کہ سیف نے آوارہ اور دربدر ہوئے ساسانی بادشاہ کے تمیمی دلاوروں کے خنجر کی ضربات سے مارے جانے کی کیسی منظر کشی کی ہے تا کہ اپنے افسانوی شاعر ابوبجید کے ذریعہ یزدگرد کے مارے جانے کے بارے میں شعر کہلوا کر قبیلہ تمیم کے افتخارات میں ایک اور افتخار کا اضافہ کرتا.
ابوبجید ، کتاب ''صفین''میں
یہاں تک بیان شدہ مطالب نافع کے بارے میں تھے، جو ہم نے ان علماء کے ہاں پائے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نصر بن مزاحم نے بھی جنگ صفین میں ابوبجید کا نام لیا ہے اپنی کتاب ''صفین'' کے صفحہ ٥٦٤ میں لکھتا ہے:
ابوبجید نافع بن اسود تمیمی نے جنگ صفین میں درج ذیل اشعار کہے ہیں :
میری طرف سے ''علی کو درود پہنچاؤاور ان سے کہنا : جس نے آپ کا فرمان قبول کیا ، اس نے سختیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھالیا ہے
علی نے اسلام کے گنبد کو ویرانی کے بعد پھر سے تعمیر کیا ۔ یہ عمارت پھر سے کھڑی ہوکر پائیدار ہوگئی ہے۔
گویا اسلام کی ویر انی کے بعد ایک نیا پیغمبر آیا اور اس نے نابود شدہ طریقوں کو پھر سے زندہ کیا ۔
نصر اس داستان میں اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے:
اور جب علی جنگ صفین سے واپس آرہے تھے تو نافع نے یہ اشعار کہے:
ہم نے دمشق اور اس کے اطراف کی سرزمینوں کے کتنے بوڑھے مردوں ، عورتوں اور سفید بال والوں کو ان کی اولاد کے سوگ میں بٹھادیا!
کتنی جوان عورتیں اس جنگ صفین میں اپنے شوہروں کے قتل ہونے کے بعد ان کے نیزوں کی وارث بن کر بیوہ ہوچکی ہیں ؟!
وہ اپنے شوہروں کے سوگ میں بیٹھی ہیں ، جو انھیں قیامت تک نہیں ملیں گے ۔
ہم تمیمی ایسے جنگجوہیں کہ ہمارے نیزے دشمن کو اس طرح لگتے ہیں کہ ان کا بچنا
مشکل ہوتا ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ نصر ابوبجید کے رزمیہ اشعار کہاں سے لایا ہے ؟کیا نافع کانام اور اس کے اشعار سیف کے علاوہ کسی اور کی زبان پر بھی آئے ہیں ؟
اس سلسلے میں ہم نصر بن مزاحم کی کتا ب ''صفین'' کی طرف دوبارہ رجوع کرتے ہیں اور اس کے صفحہ ٦١٢ پرا س طرح پڑھتے ہیں :
...''عمر وبن شمر'' سے متعلق گفتگو کے ضمن میں اس طرح آیا ہے:
جب علی صفین کی جنگ سے واپس ہوئے ، (تو عمرو بن شمرنے) اس طرح شعر کہے :
وکم قدر ترکنا فی دمشق و ارضھا...
کتنے بوڑھے مردوں ، عورتوں اور سفید بال والوں کو ہم نے ان کی اولاد کے سوگ میں بٹھادیا ؟!...تا آخر۔
یہاں تک کہ وہ صفحہ ٦١٣ پر لکھتا ہے:
اور سیف کی روایت میں آیا ہے کہ: ابو بجید نافع بن اسود نے اس طرح نغمہ سرائی کی ہے:
الا ابلغا عنی علیا تحیة ، فقد قبل
میرا سلام علی کو پہنچاؤ اور ان سے کہو کہ جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے مشکلات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھالیا ہے... تاآخر۔
یہاں پر نصر بھی اپنے مآخذ ،یعنی سیف کا کھلم کھلا نام لیتا ہے.
لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے اسلام کی مشہور اور فیصلہ کن جنگوں کو بھی نہیں چھوڑا ہے اور ان جنگوں کو بھی اپنے خاندان تمیم کے افسانوی دلاوروں کے وجود سے محروم نہیں کیا ہے تا کہ اس طرح وہ ہر جنگ میں اپنے خاندان یعنی قبیلۂ تمیم کے کسی طرح افتخارات کا اضافہ کرنے کی کوشش کرے ۔ حقیقت میں سیف کے بارے میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ''کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں پر اس مکار لومڑی کے نقش قدم نہ پائے جائیں ''!!
اس طرح علماء اور دانشوروں نے سیف کے افسانوں اور اس کی ذہنی مخلوقات کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ بعض اوقات ان مطالب کو سیف سے نسبت دیکر مآخذ کو کھلم کھلا بیان کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنی روایت کے راوی کانام نہیں لیتے ۔ یہی امر سبب ہوتا ہے کہ محقق ایسی روایتوں سے دوچار ہوکر پریشان ہوجاتا ہے۔ اور یہ امور تاریخی حقائق کی تلاش و تحقیق کرنے والوں کے لئے حیرت و تعجب کا سبب بنتے ہیں ، ان ہی میں ابن حجر کے وہ مطالب بھی ہیں جو اس نے اپنی کتاب ''اصابہ'' میں نافع کے حالات کے بارے میں درج کئے ہیں ۔ ملاحظہ ہو:
دار ''قطنی '' نے اپنی کتاب ''مؤلف'' میں لکھا ہے کہ ابوبجید نافع بن اسود نے عراق کی سرزمینوں کی فتح میں شرکت کی ہے اور اس سلسلے میں اس نے چند اشعار بھی کہے ہیں ، من جملہ
وہ کہتا ہے:
اگر پوچھو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ میرا خاندان ''اسید ''ہے اور میری اصل ، افتخارات کا منبع و سرچشمہ ہے
اس کے بعد ابن حجر اضافہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
...اور سیف نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں نافع سے بہت سے اشعار نقل کئے ہیں
ہم اس بات کونہیں بھولے ہیں کہ سیف کی نظر میں قبیلۂ ''اسید'' جو افتخارات کا منبع اور شرافت کا معدن ہے ، حقیقیت میں وہی سیف کا خاندان یعنی قبیلۂ تمیم ہے۔
جو کچھ بیان ہوا ، اس کے پیش نظر ہم ، ادیب اور نامور عالم ''مرزبانی'' کویہ حق دیتے ہیں کہ وہ سیف کے افسانوی شاعر اور صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ، نافع بن اسود کے لئے اپنی کتاب ''معجم الشعراء '' میں جگہ معین کرے اور اس کے وجود کو ایک مسلم حقیقت تصور کرے اور اس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالے اور سیف نے اس سے نسبت دیکر جو اشعار لکھے ہیں ان کو اپنی کتاب میں درج کرے۔
کتاب ''معجم الشعرائ'' تالیف مرزبانی (وفات ٣٨٤ھ ) میں مؤلف کی حیات تک پانچ ہزار سے زائد عرب شعراء کی زندگی کے حالات درج ہیں ۔لیکن اس کتاب کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہمیں دستیاب ہواہے اور اس کابڑا حصہ ،مؤلف کی وفات کو ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کی وجہ سے نیست ونابود ہوگیاہے۔اسی لئے اس میں نافع اور اس کے باپ ،اسود کے حالات نہیں پائے جاتے۔
لیکن ابن حجر نے ''مرزبانی ''کی کتاب سے سیف کے ان دو جعلی اصحاب کے اشعار نقل کرکے ان دو افسانوی شاعروں کے بارے میں ہمارے لئے مذکورہ کتاب میں موجود کمی کی کسی حد تک تلافی کی ہے ۔اگر چہ مذکورہ کتاب کسی کمی کے بغیر بھی ہم تک پہنچ جاتی تو وہ ہمیں اس بارے میں کسی صورت سے مدد نہ کرتی ،کیونکہ ''مرزبانی'' نے اکثرو بیشتر شعراء کے حالات کی تشریح اور ان کے اشعار مآخذ اور سند کا ذکرکئے بغیر اپنی کتاب میں درج کئے ہیں ۔یہ کہاں سے معلوم ہو کہ سیف کے تمام یا اکثر افسانوی شعراء اور ان کے اشعار حقیقی شعراء کے عنوان سے مرزبانی کی کتاب میں درج نہ ہوئے ہوں ؟!
ہم دوبارہ اصل مطلب کی طرف پلٹتے ہیں اور نافع کے بارے میں ابن حجر کی باتوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔ابن حجر نے مرزبانی کی کتاب ''معجم الشعرائ'' کا حوالہ دے کر نافع کے حالات کی تشریح میں لکھا ہے:
مرزبانی کہتاہے :ابو بجید نے جس نے دوران جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں کو درک کیا ہے عبد اللہ بن منذر حلاحل تمیمی کے سوگ میں چند دردناک اشعار کہے ہیں ۔
اس عبد اللہ نے ،خالد بن ولید کے ہمراہ یمامہ کی جنگ میں شرکت کی ہے اور وہاں پر مارا گیاہے ۔اس (مرزبانی) نے عبد اللہ منذر کے سوگ میں نافع کے مرثیہ ''ماکان یعدل...'' کے مطلع سے درج کیاہے کہ میں (ابن حجر ) نے مذکورہ اشعار اسی عبداللہ منذر کی تشریح کے ذیل میں نقل کئے ہیں ۔
اس کے بعد ابن حجر اپنی کتاب ''اصابہ'' میں عبد اللہ منذر کی تشریح میں لکھتاہے :
''مرزبانی '' نے اپنی کتاب ''معجم الشعراء ''میں ذکر کیاہے کہ عبد اللہ منذر نے خالد بن ولید کے ہمراہ یمامہ کی جنگ میں شرکت کی اور اسی جگہ پر ماراگیا۔نافع بن اسود تمیمی ،جو خود اس جنگ میں موجود تھا ،نے عبد اللہ کے سوگ میں یہ اشعار کہے ہیں :
جاؤ ،خدا تمھیں ایسے جواں مرد سے دور نہ رکھے جو جنگ کی آگ بھڑکانے والا ،بذل وبخشش کرنے والا اور انجمنوں اور محفلوں والا انسان تھا !
تمام لوگوں میں اس جیسا مردنہ تھا اور جدوجہد اور بذل وبخشش میں اس کا کوئی مانند نہ تھا۔
تم (عبد اللہ )چلے گئے اور خاندان عمرو اور قبیلہ تمیم کے دوسرے خاندانوں کو تنہا چھوڑ گئے تا کہ وہ نیازمندی اور بیچارگی کے وقت فخر کے ساتھ تمھارا نام زبان پر لائیں ۔
اس شعر میں سیف کے قبیلہ تمیم کے بارے میں خاص کر اس کے اپنے خاندان بنی عمرو کے بارے میں افتخارات کا اظہار واضح طور سے مشہود ہے ۔
اسی طرح ابن حجر نے ''مرزبانی ''کی کتاب سے نقل کرکے نافع بن اسود کے حالات کی تشریح میں مندرجہ ذیل دوشعر اور درج کئے ہیں :
جنگی غنائم کی کتنی بڑی مقدار ہمارے ہاتھ آئی جب کہ ہم بلند قامت گھوڑوں پر سوار تھے۔
کتنے بہادروں کو ہم نے تلوار کی ضرب سے موت کے گھاٹ اتاردیا اور لاش خور ، ان کی لاشوں پر اچھل کود کررہے تھے۔
''ابن حجر''،''مرزبانی'' کی تحریر اور اس کی کتاب میں درج کئے گئے اشعار پر اعتماد کرتے ہوئے عبد اللہ منذر حلاحل کو اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فہرست میں قرار دیتاہے اور اس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالتاہے ،جبکہ کسی بھی دوسرے تاریخی مآخذ اور عربوں کے شجرہ نسب میں اس کا نام کہیں ذکر نہیں ہواہے ۔یہ کہاں سے معلوم ہو کہ یہ عبد اللہ بھی سیف کے دوسرے افسانوی سورماؤں کی طرح اس کاجعل کردہ اور خیالی کردار نہ ہو؟
ہم نافع کے بارے میں گفتگو کا خاتمہ ابن عساکر کی اس بات سے کرتے ہیں جہاں وہ اپنی بات کے آغاز پر نافع کے بارے میں لکھتاہے :
اس شاعر نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کازمانہ درک کیا ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور
پہنچاہے :
ہمیں ابن عساکر کی اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملی ،صرف نافع کے اشعار کے پانچویں بند میں آیاہے :
صدر اسلام میں ایسے پیشرو تھے،جو اپنی مہاجرت میں عظمت وافتخار سے سربلند ہوکر مھاجرین کے مقام تک پہنچاہے۔
ابن عساکر کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ نافع نے خلیفہ عمر سے حدیث نقل کی ہے ۔
ہمیں اس سلسلے میں سیف کے جعلیات میں نافع کی زبانی عمر کی حدیث نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔
روایت کی تحقیق
نصر بن مزاحم ،ابن ماکولا ،ابن عساکر اور ابن حجر جیسے علماء ودانشور ،نافع کے بارے میں اپنی بات کو بلاواسطہ سیف سے نقل کرتے ہیں اور اس سلسلے میں سیف کے کسی راوی یا راویوں کا نام نہیں لیتے اور صرف اس پر اکتفا کرتے ہیں کہ :
''سیف کہتاہے ....'' اور ان علماء نے دار قطنی سے نقل کرتے ہوئے بھی اس روش کی رعایت کی ہے۔
لیکن ابن عساکر جہاں پر فتح دمشق کے بارے میں نافع کے اشعار کو اپنی کتاب میں سیف سے نقل کرتاہے وہاں سیف کے راویوں کانام اس صورت میں لیتاہے ۔
سیف نے ''ابو عثمان '' سے اور اس نے ''خالد'' و''عبادہ'' سے یوں نقل کیاہے
اور اس طرح حدیث کے راویوں کاذکر کرتاہے ۔
ان راویوں کی تحقیق کے سلسلے میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس ابو عثمان کا سیف نے ذکر کیا ہے ، در حقیقت یہ '' یزید بن غسان '' کے لئے سیف کی جعل کردہ کنیت ہے ۔ہم نے سیف کے اسناد کی تحقیق کے دوران اسی کتاب کی پہلی جلد میں اس نام کے سلسلہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ اس قسم کے کسی شخص کا حقیقت میں ہر گز کوئی وجود نہیں ہے اور یہ سیف کا جعلی راوی ہے ۔اس کے علاوہ '' خالد '' اور ''عبادہ'' دونوں مجہول الھویہ ہیں ۔
تاریخ طبری میں نافع کے بارے میں سیف سے دو روایتیں نقل ہوئی ہیں جن میں چند راویوں کا نام لیا گیا ہے کہ یہ نام حدیث اور رجال کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں حقیقت میں سیف ان کا نام لے کر دوسرے موارد کی طرح یہاں پر بھی اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے ان حدیثوں کو حقیقی راویوں سے منسوب کرتا ہے ۔اور ہم بھی اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ سیف کی دروغ بافی کے گناہ کو ان راویوں کی گردن پر نہ ڈالیں ،خاص کر جب کہ سیف وہ تنہا شخص ہے جو ان راویوں پر اس قسم کی تہمتیں لگاتاہے۔
بحث کا خلاصہ
قطبہ بن مالک تمیمی عمر ی کا پوتا ابو بجید نافع بن اسود ایک افسانوی صحابی ہے جسے سیف نے ایک قوی اور مشہور شاعر کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔
اسے یمامہ کی جنگ میں خالد بن ولید کے ساتھ دکھایا ہے '' عبد اللہ حلاحلی تمیمی '' کے سوگوار کی حیثیت سے پیش کیا ہے دمشق اور بصری کی فتوحات میں اس کی شرکت دکھائی ہے اور ان تمام واقعات کے بارے میں اس کی زبان سے اشعار ذکر کئے ہیں ۔
اس نے قادسیہ اور مدائن کی جنگیں دیکھی ہیں اور ان سے ہر ایک کے لئے دلفریب رزمیہ اشعار لکھے ہیں ۔
رومیوں کے ساتھ جنگ کے بارے میں ایک شعلہ بار قصیدہ اور '' جلولا'' و ''رے '' کی جنگوں کے بارے میں رزمیہ اشعار بھی اس کے نام درج ہیں ۔
سیف کی روایتوں کے مطابق گرگان ،گیلان اور برجان کی جنگوں کے بارے میں بھی اس نے زیبا اشعار کہے ہیں اور اپنے قبیلہ تمیم کے بارے میں دلاوریوں اور افتخارات کے قصیدہ لکھے ہیں ؛
نافع کے افسانہ کا سر چشمہ
ان تمام افسانوں کا سر چشمہ سیف کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے لیکن ان افسانوں کی اشاعت اور پھیلائو میں درج ذیل دانشوروں اور علماء نے اپنی اپنی نوبت کے مطابق ابو بجید نافع بن اسود کی داستان کو بلا واسطہ یا با واسطہ سیف سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
١)۔ نصر بن مزاحم ( وفات ٢١٢ھ )
٢)۔ دار قطنی ( وفات ٣٨٥ھ )
٣)۔ ابن ماکولا ( وفات ٤٧٥ھ )
ان تینوں علماء نے صراحت سے کہا ہے کہ نافع کی داستان انھوں نے سیف سے نقل کی ہے
٤)۔ ابن عساکر (وفات ٥٧١ھ) اس نے اپنے مطالب کو سیف اور ابن ماکولا سے نقل کیا ہے
٥)۔ طبری ( وفات ٣١٠ھ ) اس نے سیف سے مطالب نقل کرکے ان کے اسناد کا بھی ذکر کیا ہے.
٦)۔ ابن اثیر (وفات ٦٣٠ھ )
٧)۔ ابن کثیر (وفات ٧٧٤ھ)
٨)۔ ابن خلدون (وفات ٨٠٨ھ)
ان تین دانشوروں نے بھی نافع کی داستان کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
٩)۔ مرزبانی (وفات ٣٨٤ھ)
١٠)۔ یاقوت حموی ( وفات ٦٢٦ھ)
١١)۔ حمیری (وفات ٩٢٠ھ)
نافع کے بارے میں جن مطالب کو با واسطہ یا بلا واسطہ مذکورہ بالا دانشوروں نے نقل کیا ہے مؤخرالذکر تین علماء نے بھی اپنی روایت کے مآخذ کی طرف اشارہ کئے بغیر ان ہی مطالب کو اپنی کتابوں میں نقل اور درج کیا ہے ۔
نافع کے بارے میں سیف کے افسانوں کے نتائج
سیف نے مالک تمیمی کے پوتے بو بجید نافع بن اسود کو اپنے خیال میں خاندان بنی عمرو تمیم سے خلق کیا ہے ،اسے ایک شریف ،شاعر اور ایک صحابی کی حیثیت سے ذکر کرکے خاندان تمیم کے لئے فخر و مباہا ت اور سربلندی کا سبب قرار دیا ہے ۔
اسے بالکل اسی طرح امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے وفادار اور ثابت قدم صحابیوں میں شمار کیا ہے ۔ جیسے اس سے پہلے اس کے قبیلے کے بھائی قعقاع بن عمرو کو وقت کے نامور سورما اور دلاور کے طور پر خلق کرکے حضرت علی علیہ السلام کے دوستدارکی حیثیت سے ذکر کیا تھا ۔چوں کہ ہم نے حدیث اور رجال کی کتابوں کے علاوہ دیگر مأخذ میں کافی جستجو اور تحقیق کے باوجود ان افسانوی باپ بیٹے کا سیف کی احادیث کے علاوہ کہیں نام و نشاں نہیں پایا ۔ اس لئے ان کو سیف کے جعلی اور افسانوی اشخاص میں شمار کرتے ہیں ۔
سیف جو اپنے قبیلے اور خاندان کے افتخارات کے علاوہ کسی اور چیز کی فکر نہیں کرتا ،اپنے افسانوی شاعر کے ذریعہ اپنے قبیلہ تمیم بالاخص خاندان ''اسید'' وبنی عمرو کے بارے میں ستائشوں کے دلخواہ قصیدے لکھواکر ان کو سر بلندی اور شہرت بخشتاہے اور نافع کے باپ ''اسود بن قطبہ'' کی زبان پر جاری کرائے گئے اشعار میں بھی انہی مقاصد کی پیروی کرتاہے ۔
غور کیجئے کہ ،وہ کس طرح اپنے خاندان کے حق میں داد سخن دیتے ہوئے خود ستائی کرتاہے ، ملاحظہ ہو:
حجاز کے تمام منصفوں نے اس کی گواہی دی اور اعتراف کیا ہے کہ خاندان تمیم دنیا کے عظیم بادشاہوں کے برابر ہے!
یہ تلاش کوششیں ،خاندان تمیم کی سخاوت وبخشش کا نتیجہ ہے نہ کہ سست اور کمزور اشخاص کا۔
خدائے تعالیٰ نے ایسا ارادہ کیاہے کہ صرف قبیلہ تمیم کے خاندان بنی عمرو کے افراد دشمنوں کے حملوں کا مقابلہ کرکے انھیں دور کریں ۔
قبائل تمیم کے تمام افراد بخوبی جانتے ہیں کہ میدان جنگ میں حاضری اور غنائم کو حاصل کرنے میں قیادت وسرپرستی کی باگ ڈور قدیم زمانے سے قبیلہ اسید کے خاندان بنی عمرو ہی کے ہاتھوں میں تھی۔
یہ اور ان سے کہیں زیادہ اشعار کو سیف نے ان دو شاعر باپ بیٹوں کی زبان پر جاری کیاہے ۔اور ان کے ذریعہ قبیلہ تمیم اور اسید کے خاندان بنی عمرو کی اسی طرح ستائش کی ہے جیسے اس سے پہلے اس نے خاندان تمیم کے اپنے دو بے مثال افسانوی سورما،''قعقاع''و''عاصم'' کی جنگوں میں ان کی تعجب خیز شجاعتوں اور دلاوریوں کو دکھاکر مالک تمیمی کے خاندان کو قبیلہ تمیم کے تمام افتخارات کا سرچشمہ ثابت کیاتھا اسے اپنے قبیلے کا چمکتا ستارہ بناکر پیش کیاتھا۔
اس قابل فخر خاندان تمیم کے افراد کا جس طرح سیف نے تصورکیا ہے ،اس کا اندازہ اس کے مندرجہ ذیل شجرہ نسب کے خاکہ سے کیا جاسکتاہے :
مالک تمیمی
عمرو
قطبہ
قعقاع
عاصم
اسود
اعور
عمرو
نافع
سیف نے اپنے اسی خیالی خاندان میں چار اصحاب وجنگی سردار ،دو تابعین،چھ رزمیہ شعراء اور احادیث کے راوی جعل کئے ہیں ۔
اس قبیلہ کے لئے سیف کے جعل کئے گئے مذکورہ فخرومباہات کے علاوہ اس نے خاندان تمیم سے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے چند منہ بولے بیٹے بھی خلق کرکے اس خاندان کے افتخارات میں چارچاند لگائے ہیں کہ انشاء اللہ ہم اس موضوع پر الگ سے بحث وتحقیق کریں گے۔
قارئین محترم سے گذارش ہے کہ تاریخ ،حدیث ،انساب ،ادبیات،طبقات صحابی،شعرائ، رجال اوراخبار واحادیث کی کتابوں کا خود بھی مطالعہ کرکے دیکھیں کہ کیا سیف کی احادیث اور اس کے افسانوں کے علاوہ بھی کہیں اس افسانوی خاندان کا نام ونشان ملتاہے ؟!
چوتھا حصہ : قبیلہ تمیم کے چند اصحاب
* ٦۔عفیف بن منذر تمیمی
* ٧۔زیاد بن حنظلہ تمیمی
* ٨۔حرملہ بن مریطہ تمیمی
* ٩۔حرملہ بن سلمی تمیمی
* ١٠۔ربیع بن مطر بن ثلج تمیمی
* ١١۔ربعی بن افکل تمیمی
* ١٢۔اط بن ابی اط تمیمی
چھٹا جعلی صحابی عفیف بن منذر تمیمی
عفیف اور قبائل تمیم کے ارتداد کا موضوع
ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ'' میں سیف کی کتاب ''فتوح '' سے نقل کرتے ہوئے عفیف بن منذر تمیمی کے حالات میں یوں لکھا ہے :
سیف نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں لکھا ہے کہ عفیف بن منذر ،قبیلہ '' بنی عمر و بن تمیم'' کا ایک فرد ہے ۔
طبری نے بھی عفیف کی داستان کو سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے .من جملہ ''تمیم '' و ''سباح''سے مربوط خبر جسے سیف نے صعب بن بلال سے اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کو یوں بیان کیا ہے:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد قبائل تمیم کے افراد میں اختلاف و افتراق پیدا ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ اسلام پر باقی اور ثابت قدم رہے اور بعض نے مرتد ہوکر اسلام سے منہ موڑلیا۔ یہ امر قبائل تمیم کے آپسی جھگڑے کا سبب بنا۔ عفیف بن منذر تمیمی نے اس واقعہ کے بارے میں یوں کہا ہے:
خبر پھیلنے کے باوجود تمھیں خبر نہ ہوئی کہ خاندان تمیم کے بزرگوں پر کیا گزری؟
تمیم کے بعض سردار جو عظیم افراد اور شہرت کے مالک تھے ، ایک دوسرے کے ساتھ جنگ پر اتر آئے.
بے پناہوں کو پناہ دینے والے ہی بیچارے ہوکر بیابانوں میں دربدر ہوگئے۔
زمین سے پانی کا ابلنا
طبری ، بحرین کے باشندوں کے مرتد ہونے کی خبر کو مذکورہ طریقے یعنی ''صعب بن عطیہ'' سے نقل کرکے لکھتا ہے:
ابوبکر نے ''علاء بن حضرمی'' کو سرزمین تمیم سے گزر کر بحرین کے لوگوں سے نبرد آزمائی کے لئے بھیجا۔ علاء اپنے سپاہیوں کے ہمراہ تمیم کی زمینوں کے ''دھنا '' نامی ریگستان جہاں پر ریت سات ٹیلے ہیں سے گزرا۔
جب علاء اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اس تپتے اور خشک ریگستان کے بیچ میں پہنچا تو اس نے رات کو وہاں پر ٹھہرنے کا حکم دیا اور اپنے دوستوں کے ساتھ پڑاؤڈالا لیکن اسی حالت میں اچانک ان کے اونٹ رم کر گئے اور تمام بار اور سازو سامان لے کر بھاگ گئے ۔ اس طرح علاء اور اس کے سپاہیوں کو اس تپتے اور خشک ریگستان میں توشہ اور پانی سے محروم ہونا پڑا۔
اس حادثہ کی وجہ سے کہرام مچا ور ان پر ایسا غم و اندوہ چھا گیا کہ خدا کے علاوہ کوئی ان کے حال سے آگاہ نہ تھا ۔ وہ سب مرنے کے لئے آمادہ ہوکر ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے !
علاء کو جب اپنے ساتھیوں کی حالت معلوم ہوئی تو اس نے ان کو اپنے پاس بلاکر کہا: یہ کیسا غم و اندوہ تم لوگوں پر طاری ہوگیا ہے؟
انہوں نے جواب میں کہا؛ یہ ملامت کا موقع نہیں ، تم خود آگاہ ہوکہ ، ابھی صبح ہے اور آفتاب کی تمازت شروع نہیں ہوئی ہے ۔ ہمارے بارے میں اب یہاں پر ایک داستان کے سوا کچھ باقی بچنے والا نہیں ہے!!
علاء نے جواب میں کہا: نہ ڈرو! کیا تم لوگ مسلمان نہیں ہو، کیا تم لوگوں نے خدا کی راہ میں قدم نہیں رکھا ہے، کیاتم لوگ دین خدا کی نصرت کرنے کے لئے نہیں اٹھے ہو؟
انہوں نے جواب میں کہا: جی ہاں ! ایسا ہی ہے۔
علاء نے کہا: اب جب کہ ایسا ہے تو میں تمھیں نوید دیتا ہوں کہ ہمت کرو، خدا کی قسم ! پروردگار تم جیسوں کو ہرگز اس حالت میں نہیں رکھے گا.
صبح ہوئی ، علاء کے منادی نے صبح کی اذان دی۔
راوی کہتا ہے :
علاء نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ، جب کہ ہم میں بعض لوگوں نے پانی نہ ہونے کی وجہ سے مجبور ہو کر تیمم کیا تھا اور بعض دیگر رات کے ہی وضو پر باقی تھے۔
علاء نماز پڑھنے کے بعد دو زانو بیٹھا ، لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی، علاء نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے ، سپاہیوں نے بھی ایسا ہی کرتے ہوئے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے۔
یہ حالت جاری تھی کہ سورج کی کرنوں کے سبب دور سے ایک سراب نظر آیا۔ علاء نے کہا: ایک آدمی جائے اور ہمارے لئے خبر لائے۔
سپاہیوں میں سے ایک آدمی اٹھ کے سراب کی طرف گیااور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر بولا: سراب ہے اور پانی کی کوئی خبر نہیں ہے۔
علاء نے پھر سے دعا کی۔ پھر ایک سراب نمایاں ہوا۔ پہلے کی طرح پھر سے ایک آدمی جا کرنا اُمیدی کے ساتھ واپس لوٹا۔
علاء نے دعاجاری رکھی ۔ تیسری بار پانی کی لہر یں دکھائی دینے لگیں اس دفعہ جانے والا آدمی پانی کی خوشخبری لے کر آیا!!
سب پانی کی طر ف دوڑ پڑے ، ہم نے پانی پیا نہائے دھوئے۔
ابھی پوری طرح سورج نہیں چڑھا تھا کہ صحرا میں ہمارے اونٹ نظر آئے اور دوڑتے ہوئے آکر ہمارے سامنے کھڑے ہو گئے ہم سے ہر ایک نے اپنے اونٹ کو صحیح و سالم بار کے سمیت حاصل کیا!!
اس حیر ت انگیز واقعہ کے بعد ہم نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا یاا ور مشکیں پانی سے بھر کے وہاں سے روانہ ہوگئے۔
راوی آگے ،کہتا ہے:
''ابو ہریرہ '' سفر میں میرے ساتھ تھا، جب ہم تھوڑا آگے چلے اور پانی کا تالاب ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا تو ابوہریرہ نے مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھا : کیا تم اس سرزمین اور تالاب کو پہنچانتے ہو؟
میں نے کہا: اس جگہ سے میرے برابر کوئی اور آشنا نہیں ہے ۔
ابو ہریرہ نے کہا : جب ایسا ہے تو آؤمیرے ساتھ ہم تالاب کے پاس جاتے ہیں
میں ابو ہریرہ کے ساتھ تالاب کی طرف لوٹا ، لیکن انتہائی حیرت کے عالم میں نہ ہم نے وہاں پر پانی دیکھا اور نہ تالاب کا کوئی نام و نشان تھا۔
میں نے ابو ہریرہ سے کہا: خدا کی قسم یہاں پر پانی کا نام و نشان موجود نہ ہونے کے باوجود یہ اسی تالاب کی جگہ ہے ۔ اگر چہ اس سے پہلے بھی یہاں پر کوئی تالاب نہ تھا۔
اُس وقت ہماری نظر پانی سے بھر ے ایک لوٹے پر پڑی جو زمین کے ایک کونے میں پڑا تھا۔
ابو ہریرہ نے کہا: صحیح ہے ، اور خدا کی قسم یہ وہی تالاب والی جگہ ہے۔میں نے خاص طور پر اپنے لوٹے کو پانی سے بھر کے تالاب کے کنار ے پر رکھ دیا تھا تا کہ تالاب کی جگہ کو تلاش کرنے میں مشکل پیش نہ آئے!!
راوی کہتا ہے:
ہم نے خدا کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف واپس پلٹ گئے۔
سیف اس داستان کے ضمن میں کہتا ہے:
علاء اپنے سپاہیوں کے ساتھ چلتے ہوئے ''ہجر'' نام کی جگہ پر پہنچا۔ دونوں لشکروں نے ایکدوسرے کے مقابل مورچے سنھبالے۔ مشرکین کی فوج کی کمانڈ ''شریح بن ضیعہ'' نے سنھبالی تھی، وہ قبیلہ ''قیس'' کا سردا ر تھا اور اس کا اصلی نام ''حطم'' تھا۔ دشمن کے سپاہی آزادی کے ساتھ نقل و حرکت کرتے تھے۔ لیکن رات کو اسلام کے سپاہیوں کو اطلاع ملی کہ مشرکین شراب پی کر مست ہوگئے ہیں اوراپنے آپ سے بے خبر پڑے ہیں ۔ انھوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر ان پر اچانک تلواروں سے حملہ کردیا ۔اسی حالت میں خاندان بنی عمرو تمیم کے ایک دلاور ''عفیف بن منذر'' نے تلوار کی ایک ضرب سے ''حطم'' کی ایک ٹانک کاٹ کر اسے چھوڑ دیا تا کہ وہ اسی درد کے مارے جان دیدے۔
اس برق رفتار حملے میں ''عفیف'' کے چند بھائی اور رشتہ داروں نے بھی اس کے ساتھ جنگ میں شرکت کی اور اس شب کی گیرودار میں مارے گئے۔اس جنگ میں اسلام کے ایک نامور دلاور ''قیس بن عاصم ''نے ''ابجر'' کی ٹانک پر تلوار سے وار کرکے اسے کاٹ دیا ۔ ''عفیف'' نے اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اشار کہے ہیں :
اگر ٹوٹی ہوئی ٹانک ٹھیک بھی ہوجائے گی، عر ق النساء تو ہرگز ٹھیک نہیں ہوگا۔ تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم قبیلہ بنی عمرو اور رباب کے بہادروں نے دشمن کے حامیوں کو کیسے تہس نہس کرکے رکھدیا؟!
اسی داستان کو جاری رکھتے ہوئے سیف کہتا ہے:
عفیف بن منذر ''حیرہ'' کے بادشاہ نعمان بن منذر کے بھائی ''غرور بن سواد'' کو اسیر بنا لیا۔ خاندان رباب کا خاندان تمیم کے ساتھ دوستی کا معاہدہ تھا اس طرح سے کہ '' غرور'' کا باپ ان کا بھانجہ محسوب ہوتا تھا ،لہٰذا انھوں نے عفیف کے پاس شفاعت کی تاکہ اسے قتل کرنے سے صرف نظر کرے ۔ ''عفیف''نے دوستوں کی شفاعت قبول کی اور اس طرح '' غرور'' قبیلہ رباب کی پناہ میں آگیا ۔لیکن '' غرور'' کے '' منذربن سوید'' نامی سوتیلے بھائی کا سر تن سے جدا کردیا گیا!
دوسرے دن صبح سویرے علاء نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے میدان کار زار کے دلاوروں کو بھی انعامات بانٹے اس طرح عفیف کے حصہ میں بھی انعام کے طور پر ایک لباس آیا،
اسلام کے سپاہیوں کا پانی پر چلنا!
طبری نے اس افسانہ کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
مشرکوں نے اپنے منتشر شدہ سپاہیوں کو ''دارین'' کے مقام پر جمع کیا ۔ان کے اور سپاہ اسلام کے درمیان ایک عظیم دریا تھا تیز رفتار کشتیوں کے ذریعہ اسے عبور کرنے میں ایک دن اور ایک رات کا وقت لگتا تھا ،علاء نے جب یہ حالت دیکھی تو اس نے اپنے سپاہیوں کو اپنے پاس بلاکر ان سے خطاب کیا:
خدائے تعالیٰ نے شیاطین کے گروہوں کو تم لوگوں کے لئے ایک جگہ جمع کیاہے اور تم لوگوں کے لئے ان کے ساتھ اس دریا میں جنگ کرنا مقرر فرمایا ہے ۔ریگستان کے تعجب آور معجزہ اور ''دھنا'' کی ریت کی کرامت کے ذریعہ خدا نے تم لوگوں کو اس دریا سے عبور کرنے کی ہمت دی ہے ،اب دشمنوں کی طرف آگے بڑھو اور سب لوگ دریا میں کود پڑو اور کسی خوف کے بغیر ان پر ٹوٹ پڑو ،خدا ئے تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ پر تم لوگوں سے چنگل میں پھنسا دے گا! سپاہیوں نے علاء کے جواب میں ایک آواز ہوکر کہا: خدا کی قسم ،ہم قبول کرتے ہیں کہ ''دھنا'' کے معجزہ کے بعد ہم ہر گز خوف اور ڈر سے دو چار نہیں ہوئے ۔
علاء حضرمی نے اپنے سرداروں اور سپاہیوں کا جواب سننے کے بعد دریا کی طرف قدم بڑھا یا اور سپاہی بھی اس کے پیچھے پیچھے چلے اور دریا کے کنارے پر پہنچے ،یہاں پر سوار ،پیادہ ، گھوڑے ، خچر ، اونٹ اورگدھے سب دریا میں اتر گئے ۔
علاء اور اس کے ساتھی پانی پر قدم رکھتے ہوئے یہ دعا پڑھتے جاتے تھے :
اے بخشنے والے مہربان ،اے برد بار سخی ،اے بے مثال بے نیاز ،اے ہمیشہ زندہ ،اے مردوں کو زندہ کرنے والے ،اے حیّ وقیوم ،اے خدا کہ تیرے سوا کوئی پروردگار نہیں ہے اور اے ہمارے پروردگار !!
سیف کہتا ہے :
اسلام کے سپاہی اس دعا کو پڑھنے کے بعد خدا کی مدد سے صحیح و سالم اس وسیع و عریض دریا کو عبور کرگئے ۔اس وسیع اور عمیق دریا کا پانی اسلام کے سپاہیوں اور ان کے مرکبوں کے پیروں کے تلے ایسا تھا گویا وہ مرطوب ریت پر چل رہے تھے اور ان کے پیر تھوڑے سے تر ہوتے تھے کیوں کہ دریا کا پانی ان کے اونٹوں کے سموں تک پہنچتا تھا !
علاء اور اس کے سپاہیوں نے ایک ایسے دریا کو عبور کیا جس کی مسافت کو ساحل سے ''دارین'' تک طے کرنے کے لئے کشتی کے ذریعہ ایک دن ایک رات سے زائد وقت لگتا تھا ۔وہ اس مسافت کو پانی کے اوپر چل کر طے کر گئے اور اپنے دشمنوں کے پاس پہنچ کر ان پر تلوار سے حملہ آور ہوئے اور ان کے ایسے کشتوں کے پشتے لگادئے کہ ان میں سے ایک مرد بھی زندہ نہ بچ سکا !
اس حملہ اور قتل عام کے بعد ان کے بچوں اور عورتوں کو اسیر بنایا گیا اور بہت سا مال و متاع غنیمت کے طور پر حاصل کیا گیا ۔اس کے بعد مال غنیمت لے کر وہ لوگ اسی راہ سے واپس ہوگئے ،جہاں سے آئے تھے ۔
عفیف بن منذر نے اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں :
کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ خدائے تعالیٰ نے ہمارے لئے دریا کو کیسے مطیع اور آرام کر دیا اور کفار پر بڑی مصیبت نازل کی ۔
ہم نے بھی اسی خدا سے دعا مانگی جس نے موسیٰ کے لئے دریا میں شگاف ڈال دیا تھا اور اس نے بھی ہمارے لئے حیرت انگیز راہ مقرر فرمادی ۔
سیف اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :
''ہجر '' نامی جگہ کا رہنے والا ایک راہب جو مسلمانوں کا ہمسفر تھا،یہ سب معجزہ اور کرامتیں دیکھ کر مسلمان ہو گیا ،جب اس سے اسلام لانے کا سبب پوچھا گیا تو اس نے جواب میں کہا:
تین چیزوں نے مجھے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی اور مجھے ڈر لگا کہ اگر کفر پر باقی رہوں تو خدائے تعالیٰ مجھے مسخ کر ڈالے گا!
اول صحرا کے قلب اور '' دھنا'' کے ریگستان میں آب زلال کا پیدا ہونا ۔دوسرا اسلام کے سپاہیوں کے پیروں کے نیچے دریا کے پانی کا سخت ہو جانا اور تیسرا سبب ملائکہ کی وہ دعا ہے جسے میں نے صبح کے وقت فضا میں سنا ہے ۔
راہب سے پوچھا گیا کہ فرشتے اپنی دعا میں کیا کہتے تھے ؟
راہب نے جواب دیا : فرشتے یہ دعا مانگ رہے تھے :
اے خدا !تو رحمان و رحیم ہے ،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ،تو ایسا پروردگار ہے کہ تجھ سے قبل کوئی خدا نہ تھا ،وہ ایسا پائیدار خدا ہے کہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ،زندہ ہے کہ اس کے لئے ہرگز موت و نابودی نہیں ہے ،آشکار اور مخفیوں کا خدا ،وہ خدا جو ہر روز نئے نئے جلوے دکھاکر دنیا والوں کے سامنے جلوہ افروز ہوتا ہے ،اے خدا تو ہر چیز سے آگاہ ہے !یہی امر تھا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ لوگ حق پر ہیں اور فرشتے ان کی مدد کے لئے مأمور کئے گئے ہیں
سیف اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :
اس واقعہ کے بعد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب اس تازہ مسلمان راہب کے سامنے بیٹھ کر یہ حیرت انگیز داستان اس سے سنتے تھے ۔
علاء نے مشرکین کے ساتھ اپنی جنگ کی فتحیابی کی اطلاع خلیفہ کو دیتے ہوئے ایک خط میں یوں لکھا :
اما بعد ،خدائے تبارک و تعالیٰ نے '' دھنا '' کے ریگستان میں ہمارے لئے آب زلال کے چشمے جاری کئے اور اپنی قدرت نمائی سے ہماری بصیرت کی آنکھوں کو کھول دیا ۔ہم اس کی حمد و ثنا بجا لاتے ہیں اور اس کی عظمت والی بارگاہ میں سر تسلیم خم کرتے ہیں ،آپ بھی خداسے اس کے سپاہیوں اور اس کے دین کی نصرت کرنے والوں کے لئے مدد کی دعا کیجئے ۔
ابوبکر نے خدا کا شکر ادا کیا اور علاء کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا:
جہاں تک معلوم ہوا ہے ،عرب ،سرزمین ''دھنا'' کے بارے میں قصہ سناتے ہوئے کہتے ہیں ،جب لقمان سے اس سر زمین پر پانی کے لئے ایک کنواں کھودنے کی اجازت چاہی گئی تو لقمان نے جواب دیا کہ وہاں پر بالٹی اور رسی ہر گز پانی تک نہیں پہنچیں گے اور پانی پیدا نہیں ہوگا۔
اب جب کہ ایسی سر زمین سے آب زلال ابل گیا ہے تو یہ بذات خود اس معجزہ اور آیات آسمانی کی عظمت کی علامت ہے جس کی مثال گزشتہ امتوں میں کہیں نہیں ملتی پس خدا وند ا !محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حرمت و عظمت کو محفوظ فرما!
یہ وہ مطالب ہیں جنھیں طبری نے سیف سے نقل کرکے جعلی صحابی عفیف تمیمی کے حالات میں اپنی تاریخ کے اندر درج کیا ہے ،اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس داستان کو اس سے نقل کرکے اپنی کتاب '' اغانی'' (٤٥٤۔٤٧) میں درج کیا ہے ۔
ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون نے اسی داستان کو '' حطم و بحرین'' کے ارتداد کی خبر میں طبری سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی کتابوں میں ثبت کیا ہے ۔
لیکن ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ'' میں جہاں وہ عفیف بن منذر تمیمی کی بات کرتا ہے ان مطالب کو سیف کی کتاب '' فتوح '' سے نقل کرکے اس کی صراحت کی ہے ۔
حموی نے بھی لفظ ''دارین '' کے سلسلے میں اپنی کتاب '' معجم البلدان'' میں سیف کی اسی روایت سے استناد کرکے لکھا ہے :
سیف کی کتاب میں آیا ہے کہ مسلمانوں نے پانی کی سطح پر قدم رکھ کر دارین کی طرف قدم بڑھائے
یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ :
'' عفیف بن منذر'' نے اس واقعہ میں یہ اشعار کہے ہیں :
کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ خدائے تعالیٰ نے ہمارے لئے دریا کو کیسا مطیع بنایا...تاآخر
''عبد المؤمن نے'' بھی لفظ ''دارین'' کے بارے میں اپنے مطالب کو حموی سے نقل کرکے اپنی کتاب '' مرا صد الاطلاع '' میں درج کیا ہے ۔
حمیری نے بھی اپنی کتاب '' الروض المطار'' میں انہی مطالب کو ذکر کیا ہے اور ان کے آخر میں عفیف کے نام کے بجائے یوں لکھا ہے :
اسلامی فوج کے ایک سپاہی نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :
یہاں پر اس نے وہی گزشتہ دو شعر ذکر کئے ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوئے ،نہ روایت کے ماخذ کی طرف اشارہ کیا ہے اور نہ شاعر کا نام لیا ہے ۔
بحث کا خلاصہ
جو کچھ اب تک بیان ہو ا ، اس سے صحابی اور تمیمی شاعر''عفیف بن منذر '' کے بارے میں سیف کی روایت کی مندرجہ ذیل تین بنیادی باتوں کی وضاحت ہوتی ہے :
١۔قبیلہ تمیم کے بعض افراد کا مرتد ہونا اور بعض دیگر کا دوسروں کو دخل اندازی کی اجازت دئے بغیر اسلام پر ثابت قدم رہنا،مذکورہ قبیلہ کے افراد کا ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونا اور اس سلسلے میں ''عفیف بن منذر '' کا اشعار کہنا۔
٢۔''ہجر '' کے مقام پر خاندان'' قیس'' کے سردار ''حطم'' کا مرتد ہونا اور سپاہ اسلام کی اس کے ساتھ جنگ ،عفیف کا تلوار کی ایک کاری ضرب سے '' حطم'' کی ایک ٹانگ کاٹ دینا اور ''حیرہ'' کے بادشاہ '' نعمان منذر'' کے بھائی ''غرور بن سوید'' کو اسیر بنانا اور اس کے سوتیلے بھائی کا سر تن سے جدا کرنا ،اسلامی فوج کے سپہ سالار '' علاء حضرمی ''کا ''عفیف'' کو دیگر سپاہیوں کے ساتھ انعام و اکرام سے نوازنا۔
٣۔'' دھنا '' کے ریگستان میں اسلام کے سپاہیوں کے لئے آب زلال کا چشمہ ابلنا ، جنگ دارین کی طرف جاتے ہوئے دریا کے پانی کی کیفیت بدل کر علاء اور اسلام کے سپاہیوں کے پائوں تلے پانی کا سخت ہو جانا اور اس سلسلے میں عفیف کا اشعار کہنا۔
سیف کی روایتوں کا دوسروں سے موازنہ
بہتر ہے کہ یہاں پر ہم قبائل تمیم، قیس اور بحرین کے ارتداد کے موضوع کے بارے میں دوسرے مورخین کی زبان سے بھی کچھ سنیں ۔
''بلاذری '' نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان'' میں قبیلۂ تمیم کے ارتداد کی خبر دوصفحوں میں بیان کی ہے۔ اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
''خالدبن ولید '' نے ''طلیحہ'' کی جنگ سے فارغ ہونے کے بعد قبائل تمیم کی سرزمینوں میں '' بعوضہ'' کے مقام پر پڑاؤڈالا۔ یہاں پر اس نے اپنے بعض فوجی دستوں کو مخالفین کی سر کوبی اورا نھیں پکڑلانے کے لئے علاقے کے اطراف میں بھیج دیا۔
ایک گشتی گروہ نے ''مالک نویرہ'' کو سرزمین ''بطاح'' میں پکڑ اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر خالد بن ولید کے پاس لایا۔ خالد نے اس کے قتل کا حکم دیا، جس کی داستان مشہور ہے۔
اس کے علاوہ سیف کی دیگر روایتوں اور افسانوں کے بارے میں بلاذری کی کتاب میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔
لیکن سرزمین ''ہجر'' میں ''حطم '' کے ارتداد اور ''بحرین'' و ''دارین'' میں ابن منذر کی داستان کے بارے میں بلاذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان'' میں یوں ذکر کیا ہے:
جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کارگزار ''منذر بن ساوی عبدی'' رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد بحرین میں فوت ہوا، تو ایک طرف قبیلہ قیس کے ایک گروہ نے ''حطم'' کی قیادت میں اور دوسری جانب قبیلۂ ''ربیعہ'' کے چند افراد نے ''نعمان بن منذر'' کی اولاد میں سے ''منذر'' نام اور ''غرور'' کے عنوان سے معروف اس کے بیٹے کی قیادت میں بحرین میں بغاوت کی اور مرتد ہوگئے۔ ''حطم'' اپنے قبیلہ کے افراد سمیت ''ربیعہ'' کے ساتھ جاملا۔ علاء حضر می بھی ان سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔
علاء اور بحرینی مرتدوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ سرانجام باغیوں نے مقابلے کی تاب نہ لاکر قلعہ'' جواثا''میں پناہ لی اور وہاں اپنے آپ کو چھپالیا۔علاء نے رات گئے تک قلعہ کو تہس نہس کرکے رکھدیا ایک شدید جنگ کے بعد قلعہ فتح ہوا اور علاء نے اس پر قبضہ کرلیا۔
یہ جنگ ١٢ھ میں ابوبکر کی خلافت کے دوران واقع ہوئی۔ اسی جنگ کی گیرودار کے دوران، مجوسیوں کی ایک جماعت کے افراد جزیہ دینے سے انکار کرکے بحرین کے ایک قصبہ ''زارہ'' میں قبیلہ تمیم کے بعض افراد سے جاملے تھے۔ علاء نے اپنے سپاہیوں کے ہمرا ہ ان کو بھی اپنے محاصرہ میں لے لیا اوران کا قافیہ تنگ کردیا۔ خلیفہ عمر کی خلافت کے اوائل میں ''زارہ'' کے باشندوں نے اس سے صلح کی اور قصبہ ''زارہ'' کے مال و متاع اور اثاثہ کا ایک تہائی حصہ اسے دیدیا۔علاء نے بھی ان سے محاصرہ اٹھا لیا اور اس سلسلے میں ایک معاہدہ لکھا گیا۔(اس معاہدہ میں ''دارین'' کا کہیں ذکر نہیں آیا ہے۔)
''دارین'' کوفتح کرنے کے لئے علاء حضرمی نے خلافتِ عمر کے زمانے میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ ''کرازنکری''نام کے ایک شخص کی راہنمائی میں کم عمق والے حصہ سے خلیج کو عبور کیا اور مشرکین پر تین جانب سے تکبیر بلند کرتے ہوئے حملہ کیا۔ مشرکین نے علاء اور اس کے سپاہیوں کے ساتھ سخت جنگ کی ، لیکن سرانجام شکست کھا کرہتیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔
کلاعی نے بحرین کے باشندوں کے ارتداد اور علاء کی جنگی کاروائیوں کے بارے میں لکھا ہے:
جب بحرین میں واقع قصبہ ''ہجر'' کے باشندے مرتد ہوگئے تو قبیلۂ عبد القیس کے سردار ''جارود'' نے اپنے خاندان کے افراد کو جمع کرکے ایک دلچسپ اور موثر تقریر کی اور پند و نصائح کے ذریعہ حتی الامکان کوشش کی کہ وہ اسلام سے منہ موڑ کر مرتد نہ ہو ں .اس قبیلہ ''عبد القیس '' کا کوئی بھی فرد مرتدنہیں ہوا۔
لیکن قبیلہ ''بکر بن وائل'' کے لوگ''منذر بن نعمان'' جو ''غرور'' کے نام سے مشہور تھا کو اپنا پادشاہ انتخاب کرنا چاہتے تھے۔ غرور فرار کرکے ایران کے بادشاہ کے ہاں پناہ لے چکاتھا۔ ایران کے بادشاہ کسریٰ نے جب یہ خبر سنی تو ان کے قبیلہ کے سردار اور بزرگوں کو جمع کرکے اسی ''منذر'' جسے ''مخارق'' بھی کہا جاتا تھا کو ان کے اوپر بادشاہ مقرر کیا اور بحرین کی طرف روانہ کیا تا کہ اس جگہ پر قبضہ کرلیں ور بجر بن جابر عجلی(۱) کو حکم دیا کہ فوج کے ایک تجربہ کار سوار دستہ کے ہمراہ فوراً ابن نعمان کی مدد کے لئے جائے۔
''منذر'' اپنی ماتحت فوج کے ساتھ روانہ ہوا اور بحرین میں ''شقر '' کے مقام پر پڑاؤڈالا۔ جو بحرین میں ایک مضبوط قلعہ تھا۔
جب یہ خبر خلیفہ ابوبکر کو پہنچی تو اس نے '' علاء حضرمی '' کو سولہ سواروں کے ہمراہ منذر کی سرکوبی کے لئے مامور کیا اور اسے حکم دیا کہ قبیلہ ٔ ''عبد القیس '' کے افراد سے ''منذر '' کو کچلنے میں مدد حاصل کرے ۔
____________________
۱)۔'' بجر بن وائل '' قبیلہ بکر بن وائل سے ہے ۔ملاحظہ ہو : جمہرة النساب عرب ( ٣١٠۔ ٣١٤)
علاء اپنی ماموریت انجام دینے کے لئے روانہ ہوا یمامہ کی با اثر شخصیت اور فرماں روا ''ثمامہ اثال حنفی ''(۱) نے قبیلہ '' بنی سحیم '' کے چند افراد اس کی مدد کے لئے مقرر کر دئے ۔
علاء اپنے لئے فراہم کی گئی فوج کے ساتھ ''مخارق '' (نعمان بن منذر) کی طرف بڑھا ۔ اس کے ساتھ سخت جنگ کی اور اس کے بہت سے افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔اس دوران قبیلہ ''عبدالقیس '' کے سردار'' جارود'' نے بھی ''خط'' کے علاوہ ۔ سیف بحرین۔ سے علاء کی مدد کے لئے چند منظم فوجی دستے محاذ جنگ کی طرف روانہ کئے ۔
'' منذر '' نے جب یہ حالت دیکھی تو ''حطم بن شریح'' نے ''خط'' کے ذریعہ مرزبان کے پاس پیغام بھیجا اور اس سے علاء کے خلاف لڑنے میں مدد طلب کی ،مرزبان نے بھی ایرانی نسل افراد پر
مشتمل ایک فوج کو منذر کی مدد کے لئے روانہ کیا اور '' جارود '' کو قیدی بنا لیا۔
''حطم ''اور''ابجر بن جابر عجلی''اپنے تحت افرادکے ہمراہ منذر کی مدد کے لئے پہنچ گئے اور ایک شدید جنگ کے نتیجہ میں علاء کا''جواثا'' کے قلعہ میں محاصرہ کرکے اس کا قافیہ تنگ کردیا۔
اس پیش آنے والی مصیبت اور سختی کے بارے میں قبیلہ بنی عامر صعصعہ کے ایک شخص عبداللہ حذف(۲) نے حسب ذیل اشعار کہے ہیں :
لوگو!ابوبکر اور تمام اہل مدینہ کو پیغام پہنچائو اور ان سے کہو : کیا تم لوگ ''جواثا '' کے محاصرہ میں پھنسے اس چھوٹے گروہ کی فکر میں ہو؟ یہ ان کا بے گناہ خون ہے جو ہرگڑھے میں جا ری ہے اور آفتاب کی کرنوں کی طرح آنکھوں کو
____________________
۱)۔'' ثمامہ'' و '' ھوذہ'' یمامہ کے د دباد شاہ تھے ہ رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انھیں خط لکھا تھا اور انھیں اسلام کی دعوت دی تھی ،ثمامہ اسلام قبول کرکے اس پر ثابت قدم رہا ۔جب بنی حنیفہ کے افراد نے بغاوت کی اور '' مسیلمہ'' کذاب سے جاملے تو ثمامہ نے ان سے منہ موڑ لیا اور بحرین چلا گیا ۔ ملاحظہ ہو کتاب ''اصابہ'' و ''تاریخ زرہ''
۲)۔'' عبداللہ '' حذف کے حالات کے بارے میں جمہرہ انساب عرب (٢٧٣۔ ٢٧٥) ملاحظہ ہو
چکاچوند ھکررہا ہے ۔
ان حالات کے باوجود ہم نے خدا پر توکل کیا ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ خدا پر توکل کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں ،
علاء اور اس کے ساتھی بدستور محاصرہ میں پھنسے تھے ایک رات اچانک دشمن کے کیمپ سے شور وغل کی آواز بلند ہوئی عبداللہ حذف کو مامور کیا گیا کہ دشمن کے کیمپ میں جا کر معلوم کرے کہ اس شور و غل کا سبب کیا ہے ۔
عبداللہ نے ایک رسی کے ذریعہ اپنے آپ کو قلعہ کی بلندی سے نیچے پہنچا یا اور ہر طرف دشمن کی ٹوہ لینا شروع کی اس شور و ہنگامہ کا سبب جاننے کے بعد اس نے '' ابجرعجلی '' کے خیمہ میں قدم رکھا ۔ عبداللہ کی والدہ قبیلہ '' بنی عجل'' سے تعلق رکھتی تھی ،اس لئے '' ابجر '' کا رشتہ دار ہوتا تھا ۔جوں ہی ''ابجر''نے عبداللہ کو دیکھا تو چیخ کر اس سے پوچھا:
کس لئے آیا ہے ؟ خدا تجھے اندھا بنا دے !
عبد اللہ نے جواب دیا:
ماموں جان !بھوک ، مصیبت ، محاصرے کی سختی اور ہزاروں دوسری بدبختیوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے۔ میں اپنے قبیلہ کے پاس جانا چاہتا ہوں اور تمہاری مدد کا محتاج ہوں
ابجر نے کہا:
میں قسم کھاتا ہوں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو!پھر بھی میں تمہاری مدد کروں گا۔
اس کے بعد عبد اللہ کو کچھ توشۂ راہ اور ایک جوڑا جوتے دیکر کیمپ سے باہرلے گیا تاکہ اسے روانہ کر دے ۔جب یہ لوگ کیمپ سے ذرا دور پہنچے تو '' ابجر'' نے عبداللہ سے کہا:
جائو خدا کی قسم تم آج رات میرے لئے بہت برے بھانجے تھے !
عبداللہ نے منذر کی سپاہ سے دور ہونے کے لئے قلعہ کا رخ نہیں کیا بلکہ مخالف سمت میں روانہ ہوا ۔لیکن جوں ہی اسے اطمینان ہو گیا کہ وہ '' ابجر '' کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے تو فورا مڑ کر اپنے قلعہ کے پاس آپہنچا اور اسی رسی کے ذریعہ قلعہ کی دیوار پرچڑھ کر قلعہ کے اندر چلا گیا اور پوری تفصیل یوں بیان کی :
ایک شراب فروش تاجر دشمن کی سپاہ کے کیمپ میں آیا تھا ۔تمام سپاہیوں نے اس سے شراب خرید کر پی ہے اور مست و مدہوش ہوکر عقل و ہوش کھو بیٹھے ہیں اور بے عقلی کے عالم میں یہ شور وغل مچارہے ہیں ۔
عبداللہ کی رپورٹ سننے کے بعد مسلمان ننگی تلوار لے کر قلعہ سے باہر آئے اور بجلی کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔
''حطم '' مستی کے عالم میں اپنی جگہ سے اٹھا اور رکاب میں پائوں رکھ کر بلند آواز سے بولا:
ہے کوئی جو مجھے سوار کرے ؟!
عبداللہ نے جب ''حطم '' کی فریاد سنی تو اس کے جواب میں کہا:
میں ہوں !
اس کے بعد اس کے سر پر تلوار مار کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اس شبخون میں ''ابجر'' کی ٹانگ بھی کٹ گئی جس کے سبب وہ مرگیا۔
صبح سویرے غنیمت میں حاصل کیاہوا تمام مال و متاع مسلمانوں نے قلعہ ''جواثا'' کے اندر لے جاکر علاء کے سامنے رکھ دیا۔
علاء یوں ہی مشرکین کا پیجھا کرتا رہا اور وہ بھی بھاگتے ہوئے شہر کے دروازے تک پہنچ گئے مسلمانوں کے دبائو نے مشرکین کا قافیہ تنگ کر دیا تھا سرانجام ابن منذر نے علاء سے جنگ ترک کرکے صلح کی درخواست کی ۔علاء نے یہ درخواست اس شرط پر منظور کی کہ اس شہر کے اندر موجود اثاثے کی ایک تہائی اس کے حوالے کی جائے اور شہر کے باہر جو بھی ہے وہ بدستور مسلمانوں کے پاس رہے ۔علاء نے اس فتح کے بعد بہت سا مال و متاع مدینہ بھیج دیا ۔'' منذر نعمان'' جسے '' مخارق'' کہتے تھے ،جان بچا کر شام بھاگ گیا۔ وہاں پر خدا نے اس کے دل کو نورایمان سے منور کیا اور اس نے اسلام قبول کیا ۔اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے آپ کو سرزنش کرتے ہوئے کہتا تھا : میں ''غرور'' نہیں بلکہ مغرور ہوں ۔
فتح پانے کے بعد علاء علاقہ ''خط'' کی طرف واپس ہوا اور اس نے ساحل پر پڑائو ڈالا ۔ وہ دارین تک پہنچنے کی فکر میں تھا کہ اسی دوران ایک عیسائی شخص اس کی خدمت میں حاضر ہو ااور اس سے مخاطب ہو کر بولا:
اگر میں تمھارے سپاہیوں کو پانی کی کم گہری جگہ کی طرف راہنمائی کر دوں تو مجھے کیا دوگے ؟
چوں کہ علاء کے لئے یہ تجویز خلاف توقع تھی ،اس لئے فورا جواب میں کہا:
جو چاہو گے !
عیسائی نے کہا :
تم سے اور تمھارے سپاہیوں سے '' دارین '' میں ایک خاندان کے لئے امان چاہتا ہوں ۔
علاء نے جواب میں کہا:
میں قبول کرتا ہوں ،وہ تیرے اور تیری خدمات کے پیش نظر امان میں ہوں گے ۔
اس توافق کے نتیجہ میں علاء اور اس کے سوار اس عیسائی کی راہنمائی سے دریا عبور کرکے ''دارین'' پہنچ گئے ۔
علاء نے قہر و غلبہ سے '' دارین '' پر قبضہ کیا اور وہاں کے باشندوں کو قیدی بنا لیا اور غنیمت کے طور پر بہت سا مال و متاع اپنے ساتھ لے کر اپنے کیمپ کی طرف لوٹا۔
بحرین کے باشندے جب '' دارین '' کی سر نوشت سے آگاہ ہوئے اور علاء کی فتحیابی کا مشاہدہ کیا ،تو انھوں نے بھی تجویز پیش کی کہ '' ہجر '' کے باشندوں کی طرح صلح کا معاہدہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں ۔
ہم نے سیف کی روایتوں کا دیگر مورخین کی روایتوں سے موازنہ کیا اور اس سلسلے میں ''کلاعی'' کی تمام روایتوں کو اور ''بلاذری'' کی روایتوں کا خلاصہ بیان کیا لیکن ان میں عفیف اور اس کے اشعار ،شجاعتوں اور رجز خوانیوں اور قبیلہ تمیم کی دلاوریوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔
سیف بن عمر کے یہاں '' غرور'' کا نام رکھنے اور اس کے شجرہ نسب کے بارے میں بھی دوسرے مولفین کے ساتھ اختلاف ملتا ہے ۔کیوں کہ سیف نے غرور کو منذر کے سوتیلے بھائی کے طور پر ذکر کیا ہے جب کہ دوسرے لکھتے ہیں کہ اس کا اصلی نام منذر بن نعمان تھا اور اس کا کوئی بھائی نہیں تھا
سیف تنہا فرد ہے جو لکھتا ہے کہ عفیف نے تلوار کی ایک ضرب سے ''حطم'' کی ٹانگ کاٹ دی اور''غروربن سوید'' کو قیدی بنا لیا اور خاندان رباب نے اس کی شفاعت کی جس کے نتیجہ میں عفیف نے '' غرور '' کو ان کے احترام میں بخش دیالیکن '''غرور'' کے بھائی ''منذر'' کا سر تن سے جدا کردیا۔
سیف تنہا شخص ہے جس نے ''دارین''کی فتح کو خلافت ابوبکر کے زمانے میں واقع ہونا لکھا ہے اور اس کی بڑے آب وتاب سے تشریح کی ہے ،اس میں کرامتوں اور غیر معمولی واقعات کی ملاوٹ کی ہے جب کہ دوسروں کا اعتقاد یہ ہے کہ ''دارین '' کو''کرازنکری'' نامی ایک عیسائی کی مدد اور راہنمائی سے خلیج کے کم عمق والی جگہ سے عبور کرکے فتح کیاگیا ہے اور یہ فتحیابی خلیفہ عمر کے زمانے میں واقع ہوئی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہم نے ''علاء حضرمی '' کے کرامات کے افسانہ کا سرچشمہ ''ابوہریرہ'' کی روایات میں پایا ،جہاں پر وہ کہتاہے :
علاء نے بحرین جاتے ہوئے ''دھنا'' کے صحرا میں دعا کی اور خدا ئے تعالیٰ نے اس تپتی سرزمین پر ان کے لئے پانی کے چشمے جاری کئے!جب وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور کچھ فاصلہ چلنے کے بعد ان میں سے ایک آدمی کو یاد آیا کہ وہ اپنی چیز وہاں چھوڑ آیا ہے تو وہ دوبارہ اس جگہ کی طرف لوٹا اور وہاں پر اپنی چیز تو پائی لیکن پانی کا کہیں نام و نشان نہ دیکھا ۔
ابو ہریرہ نے مزید کہا ہے :
میں نے دارین کی جنگ میں دیکھا کہ علاء اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر دریا سے عبور کرگیا۔
ایک اور روایت میں کہتا ہے:
علاء اور اس کے سپاہی دریا کو عبور کر گئے جب کہ کسی کے اونٹ کا پائوں یا کسی چار پا حیوان کا سم تک تر نہیں ہوا تھا!!
یہ تھے صدر اسلام کے ایک راوی ابو ہریرہ کے بیانات جب کہ بلاذری تاکید کرتا ہے کہ ''کرازنکری'' نے اہنمائی کرکے علاء اور اس کے سپاہیوں کو ایک کم عمق والی جگہ سے دریا عبور کرایا اور دارین کی طرف راہنمائی کی ۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ابو ہریرہ اور دیگر لوگوں کے بیانات میں بھی عفیف کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ہے ۔
سیف کی روایتوں کا دوسروں سے موازنہ
ہم دیکھتے ہیں کہ سیف بن عمر کی نظر میں اس کے خاندان کے افراد کے مرتد ہو جانے اور اسلام سے منھ موڑ لینے کی ،ان کے مفاخر اور میدان جنگ میں ان کی شجاعتوں اور دلاوریوں کو ثابت کرنے کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔
چوں کہ تمیم کے بعض قبائل کے ارتداد کا مسئلہ نا قابل انکار حد تک واضح تھا، اس لئے سیف اپنے تعصب کی بناء پر یہ کوشش کرتا ہے کہ اسی موضوع سے اپنے قبیلہ کے حق میں استفادہ کرے، اس لئے اپنے خاندان کے افراد کے مرتد ہوجانے کا اعتراف کرتے ہوئے مسئلہ کو ایسے پیش کرتا ہے کہ اسی خاندان کے مسلمان اور ثابت قدم افراد تھے جو اپنے خاندان میں اسلام کے قوانین سے سرکشی کرنے والوں اور مرتد ہونے والوں کی خود تنبیہ اور گوش مالی کرتے تھے اور دوسرے قبائل اپنے معاملات میں دخل دینے اور ارتداد کے مسئلہ کو حل کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
سیف''ہجر''میں ''حطم'' اور قبیلۂ قیس کے ارتداد کے بار ے میں بھی قبیلہ تمیم کے افتخارات میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنے میں نہیں چوکتا، جیسا کہ ہم نے دیکھا وہ اپنے خیالی کردار ''عفیف'' کو مأمور کرتا ہے کہ قبیلہ قیس کے سردار ''حطم'' کی ٹانگ کو تلوار کی ایک ضرب سے کاٹ ڈالے ، شاہزادہ ربیعہ کو قیدی بنالے ، ''غرور'' کے بھائی''منذر'' کا سرتن سے جدا کرے اور ''غرور ''کو آزاد کرکے قبائل رباب پر احسان کرے۔
اس نے ''عفیف'' کو ایک ایسا بے باک بہادر اور دلاور بناکر پیش کیا کہ سپہ سالار نے اس پر مہربان ہوکر اسے انعام واکرام سے نوازا۔
سیف،تاریخ کے حزانے سے چند افسانوی افراد کے لئے شجاعت پر مبنی بے بنیاد سخاوت کا اظہار کرتے وقت اپنے ہم معاہدہ قبیلۂ ''رباب'' کو فراموش نہیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قبیلہ رباب کی شفاعت اور مداخلت سے غرور کو قتل نہیں کیا گیا اور اسے بخش دیا گیا کیونکہ غرور قبیلہ رباب کا بھانجا تھا، بہر صورت اپنے ہم معاہد کا احترام واجب ہے!توجہ فرمائیے کہ وہ عفیف کی زبانی درج ذیل اشعار میں کس طرح خاندان رباب کا نام لیتا ہے:
کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم تمیم کے سرداروں اور رباب کے بزرگوں نے کس طرح دشمن کے ہم پیمانوں کو تہس نہس کیا ذلیل و خوار کرکے رکھدیا۔
یعنی سیف نے اس مسئلہ کو ایسے پیش کیا ہے کہ قبیلہ رباب کو یہ حق تھا کہ وہ عفیف سے ''غرور'' کی آزادی کی اُمید رکھیں ۔
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ علاء اور اس کے سپاہیوں کے لئے ''دھنا '' کے صحراء میں بیٹھے اورشفاف پانی کے چشمے جاری ہونے کا افسانہ ابوہریرہ کی روایت کی وجہ سے دست بدست پھیلاہے۔ سیف نے خاص موقع شناسی کے پیش نظر فرصت سے فائدہ اٹھاکر اس روایت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے، روایت میں ابوہریرہ کی خالی چھوڑی گئی جگہوں کو پر کرکے اور داستان میں دست اندازی کرکے اسے زیبا اور پرکشش بنادیا ہے اور اسے ایک قطعی سند کے طور پر اپنی کتاب ''فتوح'' میں درج کیا ہے۔
لیکن ابوہریرہ کی روایت میں اپنے دیرینہ دشمن علاء جیسے ایک قحطانی یمانی شخص کے لئے کرامت اور غیر معمولی کارنامے دیکھ کر تاریخ میں مداخلت اور ہیر پھیر کرکے ابوہریرہ کے اس جھوٹے با افتخار میڈل کو بھی علاء کے سینہ سے نوچ کر پھینک دیتا ہے۔ملاحظہ فرمایئے سیف اپنے افسانہ کے ضمن میں فتوحات اور لشکر کشی میں علاء کی ''سعد وقاص مضر می '' اسے حاسدانہ دیکھا دیکھی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
علاء نے جوبھی خدمت انجام دی اور جو بھی کام انجام دیا سب ریاکاری اور ظاہرداری پر منبی تھا اور وہ اس میں مخلص نہیں تھا ۔اگر اس میں کوئی کرامت پائی جاتی ہے تو وہ صرف مقام خلافت کے مطیع اور فرماں بردار ہونے کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ خلیفہ عمر کی دلی رضامندی اور اجازت کے بغیر ایران پر حملہ کرتا ہے تو بری طرح شکست کھاتا ہے اور اپنی سپاہ سمیت دشمن کے محاصرے میں پھنس جاتا ہے۔ اس حالت میں اس کی نالہ و زاری اور دعائیں اس کے لئے مؤثر ثابت نہیں ہوتیں اور اسے کسی قسم کی مدد نہیں دیتیں ۔ یہاں ''دھنا'' کے معجزہ ، اور خلیج کے پُر تلاطم دریا سے گزر نے کا نام و نشان تک نہیں ہے!
اس داستان کے ضمن میں وہ لکھتا ہے:
عمرنے اپنی دور اندیشی کی بناء پر محاصرہ میں پھنسے اسلام کے سپاہیوں کو دشمن کے چنگل سے بچالیا اور خود سر علا حضرمی یمانی کی تنبیہ کی اور اسے اپنے منصب سے معزول کردیا.
اس کی تفصیل اسی کتاب کی پہلی جلد میں عاصم کے حصہ میں گزری ہے۔
اسناد کی تحقیق
اب ہم دیکھتے ہیں کہ٠ سیف بن عمر نے عفیف کے افسانہ کو کس سے نقل کیا ہے اور اس کی روایات کے راوی کون ہیں ؟!
سیف نے ان تمام مطالب کو دو روایات میں اور ان دونوں روایات کو ایک راوی سے نقل کیا ہے اور یہ راوی ''صعب بن عطیہ بن بلال'' ہے۔
یہاں ہم نے اس راوی اور اس کے باپ ''عطیہ بلال'' کے سلسلے میں راویوں کے حالات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرکے تحقیق و جستجو کی لیکن ان کا کوئی نا م و نشان نہیں ملا۔ اس لئے ہم یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس افسانہ کو سیف بن عمر نے خود جعل کیا ہے اور اس کو اپنے ہی تخلیق کئے گئے راویوں سے نسبت دیدی ہے۔
عفیف کے افسانے کا نتیجہ
سیف نے عفیف نام کے ایک بے باک شاعراور دلاور کو خلق کرکے اپنے لئے درج ذیل مقاصد اور نتائل حاصل کئے ہیں :
١۔قبیلۂ تمیم کے لئے ارتداد کی جنگوں میں فخر و مباہات ثبت کئے ہیں ۔
٢۔ معجزے تخلیق کرکے صحرائے ''دھنا'' کی تپتی ریت پر پانی کے چشمے جاری کرتا ہے، دریا کے پانی کی ما ہیت کو بدل دیتا ہے اور اسلام کے سپاہیوں کے پاؤں کے نیچے دریا کے پانی کو مرطوب ریت کے مانند بنادیتا ہے، ملائکہ کو ان جنگوؤں کی تائید کرنے پر مجبور کرتا ہے تا کہ یہ واقعہ اصحاب کی کرامتوں اور معجزوں کے طور پر ان کے مناقب کی کتابوں میں درج ہوجائے۔
٣۔دعائیں ، تقیریں ، رجز خوانیاں اور خطوط جعل کرتا ہے تا کہ اسلامی ثقافت میں اپنی طرف سے اضافہ کرے۔
٤۔ خاندان قیس کے سردار ''حطم'' کو خاک و خون میں غلطاں کرتا ہے، شہریار ربیعہ کو قیدی بنادیتا ہے اور اس کے بھائی کا سرتن سے جدا کرتا ہے اور ان تمام افتخارات کے تمغوں کو اپنے افسانوی سورما''عفیف'' بن منذر تمیم کے سینے پر لگادیتا ہے تا کہ خاندان ''بنی عمرو تمیمی'' کے افتخارات میں ایک فخر کا اضافہ کرے۔
٥۔ایک ہی نسل کے باپ بیٹے ''عطیہ''و ''صعب'' نام کے دو راویوں کی تخلیق کرتا ہے اور انھیں اپنے خیالی راویوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔
یہ سب نتائج سیف کے بیانات سے حاصل ہوتے ہیں اور افسانہ نگاری میں تو وہ بے مثال ہے ہی۔
سیف کے افسانوں کی اشاعت کرنے والے:
١۔امام المورخین محمد بن جریر طبری نے ''تاریخ کبیر'' میں ۔
٢۔یاقوت حموی نے ''معجم البلدان'' میں
٣۔حمیری نے ''روض المعطار''میں
٤۔''ابن حجر'' نے ''الاصابہ'' میں ۔
ان چار دانشوروں نے اپنے مطالب کو بلاواسطہ سیف کی کتاب سے نقل کیا ہے۔
٥۔''عبد المؤمن'' نے ''مراصد الاطلاع'' میں ۔ اس نے حموی سے نقل کیا ہے ۔
٦۔٧۔٨۔٩۔ابو الفرج اصفہانی نے '' اغانی'' میں ،ابن اثیر ،ابن خلدون اور دوسرے تاریخ نویسوں نے عفیف کے بارے میں مطالب کو طبری سے نقل کیاہے ۔
ساتواں جعلی صحابی زیاد بن حنظلہ تمیمی
ابو عمر ابن عبد البر نے اپنی کتاب ''استیعاب '' میں زیاد بن حنظلہ تمیمی کا اس طرح ذکر کیا ہے :
'' وہ (زیاد بن حنظلہ ) رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی تھا ،لیکن مجھے اس کی کسی روایت کا سراغ نہ ملا ۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے '' قیس بن عاصم '' اور '' زبرقان بن بدر'' کے ہمراہ مأموریت دی تھی کہ مسیلمۂ کذاب ،طلیحہ اور اسود کی بغاوت کو سرکوب کرے''
زید ،رسول خدا کا گماشتہ اور کار گزار اور امام علی علیہ السلام کا پیرو کار تھا ۔ اس نے آپ کی تمام جنگوں میں شرکت کی ہے ۔
ابن اثیر نے اپنی کتاب '' اسد الغابہ'' میں زیاد کے بارے میں ابن عبد البر کی عین عبارت کو درج کیا ہے اور آخر لکھتا ہے :
''ان مطالب کو کتاب '' استیعاب'' کے مؤلف ابو عمر نے '' زیاد بن حنظلہ'' کے حالات بیان کرتے ہوئے ذکر کیا ہے ۔ ''
کتاب '' تجرید'' کے مؤلف ذہبی نے بھی زیاد کی زندگی کے حالات خلاصہ کے طور پر ابن اثیر کی کتاب '' اسد الغابہ '' سے نقل کئے ہیں ۔
ابن حجر نے اپنی کتاب '' الاصابہ'' میں بعض مطالب کو بلا واسطہ سیف کی کتاب سے اور ایک حصہ کو '' استیعاب'' سے لیا ہے ۔وہ زیاد کے بارے میں یوں لکھتا ہے :
'' زیاد بن حنظلہ تمیمی جو بنی عدی کا ہم پیمان بھی ہے کے بارے میں کتاب '' استیعاب '' کے مؤلف نے یوں ذکر کیا ہے :....''
یہاں پر وہ '' استیعاب'' کے مطالب ذکر کرنے کے بعد خود اضافہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
''....اور سیف بن عمر اپنی کتاب''فتوح ''میں زیاد کے بارے میں لکھتا ہے:... اس طرح وہ زیادکی داستان کوبلاواسطہ سیف کی کتاب ''فتوح''سے نقل کرتا ہے۔''
ابن عساکرنے اپنی کتاب ''تاریخ دمشق'' میں زیاد کے بارے میں یوں لکھا ہے :
وہ (زیاد) بنی عبد بن قصی کا ہم پیمان تھااور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں میں سے تھا۔زیاد نے جنگ یرموک میں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ شرکت کی ہے ۔اور اسلامی سپاہ کے ایک فوجی دستہ کی کمانڈاس کے ہاتھو ں میں تھی ۔ اس کے بیٹے حنظلہ بن زیاد اور عاصم بن تمام نے اس سے روایت کی ہے ۔
ان مطالب کو بیان کرنے کے بعد ابن عساکر نے سیف بن عمر کی روایات سے سند ومأخذ کے ساتھ جو اس صحابی کی تخلیق کا تنہامنبع وسرچشمہ ہے زیا دکی زندگی کے حالات بیان کئے ہیں ۔
زیاد ،رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں
ٍ طبری ١٥ ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے لکھتا ہے :
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں اور مرتدوں کی سرکوبی کے لئے ایک گروہ کو روانہ کیا ۔
اس کے بعد طبری ان اصحاب کا نام لیتا ہے جنھیں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا م کے لئے انتخا ب کیا تھا اور اس سلسلے میں لکھتاہے:
....اور خاندان بنی عمرو کے زیاد بن حنظلہ کو قیس بن عاصم اور زبرقان بن بدر کے ہمراہ مأموریت دی ...کہ وہ لوگ ایک دوسرے کی مد د سے پیغمبری کادعویٰ کرنے والوں ،جیسے ،مسیلمہ ، طلیحہ اسود کے خلاف اقدام کریں
کتاب ''استیعاب ''کے مؤلف ابن عبد البراور دیگر مؤلفین ۔جن کانام اوپر ذکر ہوا ۔نے بھی اسی خبر کو سیف سے استناد کرتے ہوئے زیاد کو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گماشتہ کے طور پر شمار کیا ہے ۔
ہم نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت پر لکھی گئی کتابوں ،جیسے ،ابن ہشام کی ''سیرت ''، مقزیری کی ''امتاع الاسماع''۔ابن سیدہ کی ''عیون الاثر''،ابن حزم کی ''جوامع السیر ''،بلاذری کی ''انساب الاشراف''کی پہلی جلدجو خصوصی طور پر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت پرمشتمل ہے اور ابن سعد کی ''طبقات ''کی پہلی اور دوسری جلد کی طرف رجوع کیا جن میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت سے مربوط مطالب لکھے گئے ہیں ،حتیٰ ان میں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خچر ، گھوڑے اور اونٹ تک کاذکر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ان کتابوں میں ان تالا بوں کانام تک ذکر کیا گیا ہے جن سے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کبھی پانی پیا تھا۔ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مسواکوں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جوتوں تک کا تمام جزئیات اور اوصاف کے ساتھ ذکر کیا گیاہے۔اس کے علاوہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے احکام ، فرمانوں اور جنگی کاروائیوں کابھی مفصل ذکر کیا گیا ہے ہم نے ان سب کا مطالعہ کیا ،لیکن ہم نے ان کتابوں میں کسی ایک میں زیا د بن حنظلة تمیمی کانا م نہیں پایا۔
حتیٰ ان کے علاوہ ان موضوعات سے مربوط دوسری کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جنھوں نے سیف کی کوئی چیز نقل نہیں کی ہے ان میں بھی زیادبن حنظلہ تمیمی نام کے صحابی کا کہیں نام ونشان نہیں پایا جسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کوئی مأموریت دی ہو یاوہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کاکارگزار رہاہو۔
زیاد ،ابوبکر کے زمانہ میں
طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں یوں ذکر کیاہے:
قبائل ''قیس ''اور ''ذبیان''اُن قبائل میں سے تھے جو مرتدد ہوکر ''ابرق ربذہ''کے مقام پر جمع ہوگئے تھے اور پیغمبر ی کادعویٰ کرنے والے ''طلیحہ ''نے بھی قبیلہ ''ھوزان''کے چند افراد کو اپنے بھائی ''حبال''کی سرکردگی میں ان کی مددکے لئے بھیجا۔
ابوبکر نے مدینہ پران کے متوقع حملہ کو روکنے کے لئے اقدامات کئے اور بعض افراد ،من جملہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کوشہر مدینہ کی گزر گا ہوں کی حفاظت کے لئے مقرر کیا اور بعض افراد کو مرتدوں سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ کیا ۔مؤخر الذکر گروہ نے شکست کھا کرمدینہ تک پسپائی اختیار کی۔
ابوبکر نے جب یہ حالت دیکھی تو اس نے راتوں رات ایک سپاہ کو منظم کیا اور پوپھٹنے سے پہلے سپاہ اسلام نے مرتدوں پر حملہ کیا اور انھیں سنبھلنے کاموقع دینے سے پہلے تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔ اسلام کے سپاہیوں نے انہیں شکست دینے کے بعد ان کا پیچھا کیا ۔
زیاد بن حنظلہ نے اس مناسبت سے درج ذیل اشعار کہے ہیں :
اس دن ابوبکر نے ان پر ایسا حملہ کیا جیسے ایک وحشی درندہ اپنے شکار پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔انھوں نے حضرت علی علیہ السلام کو سواروں کی کمانڈسونپی جن کے حملہ سے ''حبال''قتل ہوا۔
ہم نے ان کے خلاف جنگ چھیڑی اور انہیں ایسے زمین پر ڈھیر کردیا ،جیسے جنگی سپاہی مال غنیمت پرٹوٹ پڑتے ہیں ۔
جب ابوبکر جنگجوؤں کو میدان کار زار میں لے آئے تو ،مرتدمقابلہ کی تاب نہ لاسکے ۔ہم نے نزدیک ترین پہاڑی سے قبیلۂ بنی عبس پر شبخون مارا اور ''ذبیانیوں ''کی کمر توڑ کر ان کے حملہ کو روک دیا
سیف نے مزید کہا کہ زیاد بن حنظلہ نے ''ابرق ربذہ'' کی جنگ میں اپنے چند اشعار کے ضمن میں اس طرح کہا ہے :
ہم '' ابرق'' کی جنگ میں موجود تھے اور یہ ہی جنگ تھی جس میں '' ذبیانی'' آگ میں جھلس گئے ۔
اور ہم نے ابو بکر صدیق کے ہمراہ جنھوں نے گفتگو کو ترک کیا تھا انھیں موت کا تحفہ دیا۔
یاقوت حموی نے سیف کے اس افسانہ پر اعتماد کرتے ہوئے '' ابرق ربذہ'' کی تشریح میں اپنی کتاب '' معجم البلدان'' میں لکھاہے :
'' ابرق ربذہ'' ایک جگہ کا نام ہے جہاں پر ابوبکر صدیق کے حامیوں اور مرتد وں کے ایک گروہ کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی ہے ۔جیسا کہ سیف کی کتاب میں آیا ہے وہاں پر قبائل ''ذبیان'' سکونت کرتے تھے اور ابوبکر نے ان کے مرتد ہونے کے بعد ان پر حملہ کیا اور انھیں بری طرح شکست دی اور ان کی سرزمینوں کو لشکر اسلام کے گھوڑوں کی چراگاہ بنا دیا یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں زیاد بن حنظلہ نے اپنے اشعار میں اس طرح اشارہ کیا ہے :
ہم '' ابرق'' کی جنگ میں موجود تھے اور یہ وہی جنگ تھی جس میں ذبیا نیوں تاآخر شعر
حموی نے اس مطلب کو اپنی کتاب '' المشترک'' میں بھی خلاصہ کے طور پر ذکر کیا ہے اور کہتا ہے :
'' ابرق ربذہ'' کا نام ایک روایت میں آیا ہے اور زیاد بن حنظلہ نے اس کے بارے میں اپنے چند اشعار کے ضمن میں ذکر کیا ہے
اس طرح زیاد کانام '' ارتداد'' کی جنگوں میں سیف بن عمر کے ذریعہ تاریخ طبری میں آیا ہے اور ابن کثیر نے ان ہی مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔
سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ
لیکن دوسروں جیسے ،بلاذری نے ارتداد کی جنگ کی خبر کو دوسری صورت میں بیان کیا ہے :
بلاذری یوں لکھتا ہے:
ابوبکر '' ذی القصہ '' کی طرف روانہ ہوئے تاکہ وہاں سے ایک فوج منظم کرکے مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے روانہ کریں ،اسی اثنا ء میں ''خارجہ بن حصن ''اور ''منظور بن سنان '' ۔جودونوں قبیلۂ فزارہ سے تعلق رکھتے تھے ۔نے مشرکوں کی ایک جماعت کی ہمت افزائی سے اسلام کے سپاہیوں پر حملہ کرکے ایک سخت جنگ شروع کی ۔لیکن آخر کار اسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں شکست کھاکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔طلحہ بن عبد اللہ نے ان کا پیچھا کیا ااور ان میں سے ایک کو موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن باقی کفار بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ۔
اس کے بعدابوبکر نے ''خالد بن ولید ''کو کمانڈرانچیف منصوب کیا اور ''ثابت بن قیس شماس ''کوانصار کی سرپرستی سونپی۔انہیں حکم دیا کہ طلیحہ اسدی کے ساتھ جنگ کریں ،جس نے پیغمبری کادعویٰ کیا تھا اور قبیلہ فزارہ کے افراد اس کی مدد کے لئے اٹھے تھے ۔
ذہبی نے بھی اس داستان کو تقریباًاسی مفہوم میں بیان کیا ہے ۔لیکن ذہبی اور بلاذری ، دونوں کی کتابوں میں ''ابرق ''اورزیاد بن حنظلہ کا کہیں نام ونشان تک نہیں ملتا۔
اس کے علاوہ ہم نے ان کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جن میں مرتدوں سے ابوبکر کی جنگ کی تفصیلات سیف کی روایتوں سے استفادہ کئے بغیر ،درج ہوئی ہیں ،لیکن ''ابرق ربذہ''،قبائل قیس و ذبیان کے ارتداد اور اسی طرح زیاد بن حنظلہ اور اس کی دلاوریوں کا کہیں نام تک نہیں پایا۔
بحث وتحقیق کا نتیجہ
''ابرق ربذہ''،نیز قبائل قیس وذبیان جیسے مرتدوں سے ابوبکر کی جنگ اور زیاد بن حنظلہ اور اس کی دلاوریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے مختلف کتابوں کے مطالعہ ،بحث و تحقیق اور تلاش وکوشش کا جو نتیجہ ہمیں حاصل ہوا وہ حسب ذیل ہے :
ابن عبد البر کی کتاب ''استیعاب ''میں زیاد بن حنظلہ کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے ،اسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندہ اور گماشتہ کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے مرتدوں اور پیغمبری کا دعویٰ کرنے والوں سے نبرد آزما ہونے کی اس کی مأموریت کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،لیکن اس روایت کی سند کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔
چونکہ ''اسد الغابہ ''اور ''تجرید ''کے مؤلفوں نے روایت کے مصدر کی طرف اشارہ کئے بغیر اپنے مطالب کتاب ''استیعاب'' سے نقل کئے ہیں ۔اس لئے یہ امر محققین کے لئے اس گمان کاسبب بنا ہے کہ ممکن ہے یہ داستان سیف کے علاوہ اور کسی سے بھی نقل کی گئی ہو۔
اس امر کے پیش نظر کہ یا قوت حموی کی کتاب ''معجم البلدان ''میں لفظ ''ابرق ربذہ ''کی سند سیف کی کتاب ''فتوح ''سے نقل کی گئی ہے ،اس لئے ایسا لگتا ہے کہ حموی کے زمانہ میں کتاب ''فتوح '' کاسیف بن عمرو سے منسوب ہونا خاص طور پر معروف ومشہور تھا۔لیکن قرائن سے معلوم ہوتاہے کہ حموی کے بعد صدیوں تک یہ کتاب شہرت کی حامل نہیں رہی ہے اور چونکہ ''ابرق ربذہ '' کی تشریح حموی کی معجم البلدان سے جغرافیہ کی دوسری کتابوں میں نقل ہوئی ہے اس لئے ممکن ہے محققین یہ باور کریں کہ اس قسم کی کوئی جگہ صدر اسلام میں موجود تھی!!!جبکہ ان تمام خبروں اور افسانوں کا مصدر صرف سیف ہے اور کوئی نہیں ۔
سیف کے افسانوں کا نتیجہ
١۔سیف نے زیاد بن حنظلہ تمیمی کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کاصحابی دکھانے کے علاوہ اسے رسو ل خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا گماشتہ اور کارندہ بھی بنا کرپیش کیا ہے ۔
٢۔''ابرق ربذہ ''کے نام سے ایک جگہ تخلیق کی ہے تاکہ جغرافیہ کی کتابوں میں اس کا نام درج ہو جائے۔
٣۔اس نے اپنے جعلی صحابی کی زبان سے بہادریوں اور دلاریوں کے قصیدے جاری کہے ہیں تاکہ ادبیات ولغت کی کتابوں کی زینت بنیں اور ادبی آثار کے خزانوں میں اضافہ ہو۔
٤۔خیالی جنگیں اور فرضی فوجی کیمپ تخلیق کئے ہیں تاکہ اسلام کی تاریخ کے صفحات میں جگہ پائیں ،اس طرح وہ اسلامی معاشرہ کو اپنے آپ میں مشغول رکھے ۔
شام کی فتوحات میں زیاد بن حنظلہ کے اشعار
طبری نے ١٣ھ کی روئد اد اور جنگ یرموک کے واقعات کے ضمن میں اور ابن عساکر نے زیاد بن حنظلہ کی زندگی کے حالات کی تشریح میں سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے اپنی کتابوں میں اس طرح درج کیا ہے :
اسلامی فوج کے سپہ سالار '' خالد بن ولید'' نے زیاد بن حنظلہ کو سواروں کے ایک دستے کی کمانڈ سونپی۔
اسی طرح طبری نے ١٥ھ کے حوادث اور ہراکلیوس کی دربدری اور مسلمانوں سے مقابلہ کے لئے فوج جمع کرنے کے سلسلے میں اس کی ناکامی نیز ابن عساکر و ابن حجر تینوں نے زیاد بن حنظلہ کے حالات کے سلسلے میں اپنی کتابوں میں سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :
جس وقت '' ہراکلیوس '' کے شہر '' رہا'' سے بھاگ رہا تھا اس نے شہر ''رہا'' کے باشندوں سے مدد طلب کی لیکن انھوں نے اسے مدد دینے سے پہلو تہی کی جس کے نتیجہ میں وہ پریشان حالت میں اس شہر سے بھاگ گیا۔
اس واقعہ کے بعد سب سے پہلے جس مسلمان دلاور نے ''رہا'' میں قدم رکھا اور علاقہ کے کتوں کو بھونکنے پر مجبور کیا اور پالتو مرغ خوفزدہ ہو کر اس سے دور بھاگے وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی اور قبیلہ '' عبد بن قصی'' کا ہم پیمان ،زیاد بن حنظلہ تھا۔
ابن عساکرنے اس داستان کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے اضافہ کیا ہے کہ زیاد بن حنظلہ نے اس حادثہ کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں :
اگر چاہو تو '' ہرا کلیوس '' سے جہاں بھی ہو جاکر پوچھو!ہم نے اس سے ایسی جنگ کی کہ قبیلوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔
ہم نے اس کے خلاف ایک جرار لشکر بھیجا جو سردی میں نیزہ بازی
کرتے تھے ۔
ہم اس جنگ میں ہر حملہ و ہجوم میں دشمن کی فوج کو نابود کرنے میں شیرنر جیسے تھے اور رومی لومڑی کے مانند تھے ۔
ہم نے جہاں جہاں انھیں پایا وہیں پر موت کے گھاٹ اتار دیا اور دشمنوں کو پا بہ زنجیر کرکے اپنے ساتھ لے آئے ۔
مندرجہ ذیل اشعار کو بھی سیف بن عمر نے زیاد بن حنظلہ سے نسبت دی ہے :
ہم شہر حمص میں اترے جو ہمارے پیروں تلے ذلیل و خوار ہو گیا تھا اور ہم نے اپنے نیزوں اور تلواروں کے کرتب دکھائے ۔
جب رومی ہمیں دیکھ کر خوف و وحشت میں پڑے تو ان کے شہر کے برج اور پشتے بھی ہماری ہیبت و قدرت سے زمین بوس ہو کر مسمار ہو گئے ۔
وہ سب ذلیل و خوار حالت میں ہمارے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے تھے ۔
سیف بن عمر نے کہا ہے کہ مندرجہ ذیل اشعار زیاد بن حنظلہ نے کہے ہیں :
ہم نے حمص میں قیصر کے بیٹے کو اپنے حال پر جھوڑدیا ،جب کہ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا ۔
ہم اس گھمسان کی جنگ میں سر بلند تھے اوراسے ایسی حالت میں چھوڑ دیا تاکہ وہ خاک و خون میں تڑپتا رہے ۔
اس کے سپاہی ہماری طاقت کے مقابلے میں اس قدر ذلیل و خوار ہوئے کہ ایک زلزلہ زدہ دیوار کی مانند زمیں پر ڈھیر ہو گئے ۔
ہم نے شہر حمص کو اس وقت ترک کیا جب اسے ہم باشندوں سے خالی کر چکے تھے ۔
سیف بن عمر کہتا ہے کہ زیاد بن حنظلہ نے '' قنسرین'' کی فتح کے سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :
اسی شب جب ''میناس ''نے اپنے کمانڈروں کی شدید ملامت کی ہم ''قنسرین '' پر فتح پاکر وہاں کے فرمان روا ہو چکے تھے ۔
جس وقت ہمارے نیزوں اور تیروں کی بارش ہو رہی تھی خاندان '' تنوخ'' ہلاکت سے دو چار تھے ۔
ہماری جنگ تب تک جاری رہی جب تک وہ جزیہ دینے پر مجبور نہ ہوئے ۔یہ ہمارے لئے تعجب خیز بات تھی جب انھوں نے اپنے برج اور پشتوں کو خود مسمار کیا!!
یہ اشعار بھی کہے ہیں :
جس دن '' میناس'' اپنی سپاہ لے کر ہمارے مقابلے میں آیا ،ہمارے محکم نیزوں نے اسے روک لیا ۔
اس کے سپاہی بیابان میں تتر بتر ہوگئے ،ہمارے دلاوروں اور نیزہ بازوں سے نبردآزمائی کی ۔
جس وقت ہمارے جنگجوئوں نے ''میناس'' کو گھیرلیا ۔اس وقت اس کے سوار سست پڑ چکے تھے ۔
سر انجام ہم نے ''میناس'' کو اس وقت چھوڑا جب وہ خون میں تڑپ رہا تھا اور ہو اکے جھونکے اس کے اور اس کے دوستوں کے چہرے پر صحرا کی ریت ڈال رہے تھے ۔
'' اجنادین '' کی جنگ کے بارے میں زیاد کے اشعار حسب ذیل ہیں :
ہم نے رومیوں کے کمانڈر ''ارطبون'' کو شکست دے دی اور وہ پسپا ہو کر مسجد اقصی تک بھاگ گیا۔
جس رات کو اجنادین کی جنگ کے شعلے ٹھنڈے پڑے ۔زمین پر پڑی لاشوں پر گدھ بیٹھے ہوئے تھے ۔
ہوا کے جھونکوں سے اٹھے ہوئے گرد وغبار کے در میان جب ہم اپنے نیزے ان کی طرف پھینکتے تھے تو ان کے کراہنے کی آوازیں ہمارے کانوں تک
پہنچی تھیں ۔
اس جنگ کے بعد ہم نے رومیوں کو شام سے بھگا دیا اور دورترین علاقہ تک ان کا تعاقب کیا ۔
رومیوں کے فوجی بھاگ کھڑے ہوئے جب کہ خوف و وحشت سے ان کے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی ۔
سر انجام وہ میدان کارزار میں لاشوں کے انبار چھوڑ کر افسوس ناک حالت میں بھاگ گئے ۔
اس نے یہ اشعا ربھی کہے ہیں :
رومیوں پر ہمارے سواروں کے حملہ نے ہمارے دلوں کو آرام و قرار بخشا اور ہمارے درد کی دوا کی ۔
ہمارے سواروں نے ان کے سرداروں کو اپنی بے رحم تلواروں کی ضرب سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور روم تک ان کا پیچھا کرکے انھیں قتل کرتے رہے ۔
ان کے ایک گروہ کا محا صرہ کیا گیا اور میں نے بڑی بے باکی سے ان کی ہر محترم خاتون کے ساتھ ہمبستری کی!!
زیاد بن حنظلہ نے مزید کہا ہے :
مجھے یاد آیا جب روم کی جنگ طولانی ہوئی اسی سال جب ہم ان سے نبرد آزما ہوئے تھے ۔
اس وقت ہم سرزمین حجاز میں تھے اور ہم روم سے راہ کی پستیوں اور بلندیوں کے ساتھ ایک مہینہ کے فاصلے پر تھے ۔
اس وقت ''ارطبون'' رومیوں کی حمایت کررہاتھا اور اس کے مقابل ایک ایسا پہلوان تھا جو اس کا ہم پلہ تھا۔
جب عمر فاروق کو محسوس ہوا کہ شام کو فتح کرنے کا وقت آپہنچا ہے تو وہ ایک خدائی لشکر لے کر روم کی طرف روانہ ہوئے ۔
جب رومیوں نے خطرہ کا احساس کیا اور ان کی ہیبت سے خوفزدہ ہوئے ،تو ان کے حضور پہنچ کر کہا:ہم آپ سے ملحق ہونا چاہتے تھے۔
یہی وقت تھا جب شام نے اپنے تمام خزانوں اور نعمتوں کی انھیں پیش
کش کی ۔
فاروق نے دنیا کے مشرق ومغرب کے گزرے ہوئے لوگوں کی وراثت ہمیں عطا کی ۔
کتنے ایسے لوگ تھے جن میں اس ثروت کو اٹھا نے کی طاقت موجود نہ یھی اور وہ دوسروں سے اسے اٹھانے میں مدد لیتے تھے۔
مزید اس طرح کے اشعار کہے ہیں :
جب خطوط خلیفہ عمر کو پہنچے ،وہ خلیفہ جو کچھار کے شیر کی مانند قبیلہ کے اونٹوں کی حفاظت کرتاہے ۔
اس وقت شام کے باشندوں میں سختی تھی۔ہر طرف سے پہلوان تلاش کئے جارہے تھے۔
یہ وہی وقت تھا جب عمر نے لوگوں کی دعوت قبول کی اور سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد لے کر ان کی طرف روانہ ہوئے۔
شام نے اپنی وسعت کے ساتھ،خلیفہ کی توقع سے زیادہ ،استقبال کرکے اپنی خوبیاں خلیفہ کے حضور تحفے کے طور پر پیش کیں ۔
خلیفہ نے روم کے قیمتی اور بہترین جزیہ کو اسلام کے سپاہیوں میں عادلانہ طور پر تقسیم کیا۔
زیاد بن حنظلہ کے بارے میں ابن عساکر کے وہ بیانات جو اس نے پورے کے پورے سیف سے نقل کئے ہیں ،یہیں پرختم ہوتے ہیں ۔ساتھ ہی فتح بیت المقدس کے بارے میں موخر الذکر دو معرکوں کو بھی طبری نے سیف سے زیاد بن حنظلہ کی زبانی نقل کیاہے ۔
حموی کی کتاب ''معجم البلدان'' میں لفظ''اجنادین '' کی تشریح میں آیاہے :
اس سلسلے میں زیاد بن حنظلہ نے اپنے اشعار میں یوں کہاہے :
ہم نے رومیوں کے کمانڈر ''ارطبون''..... تا آخر
نیز اس نے لفظ ''داروم '' کے بارے میں لکھا ہے :
مسلمانوں نے ١٣ھ میں اس جگہ پر حملہ کیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔
زیاد بن حنظلہ نے ایک شعر میں درج ذیل مطلع کے تحت اس کے بارے میں یوں ذکر کیاہے :
ہمارے سپاہیوں نے سرزمین روم پر جو حملہ کیا ،اس سے میرے دل کا غم دور ہوا اور میرے دردکا علاج ہوگیا۔
جیساکہ ملاحظہ ہوا ،یہ شعر من جملہ ان چھ قصائد میں سے ہے جن کو ابن عساکر نے سیف سے روایت کرکے زیاد کے حالات میں بیان کیاہے اور ہم نے بھی اسے نقل کیاہے ۔یہ سب سیف بن عمر تمیمی کی روایتیں ہیں ۔ان عجیب وغریب افسانوں میں سے ہر ایک کو دوسروں کی روایتوں کے تمام اہم اورمعتبر تاریخی مصادر سے مقابلہ اور موازنہ کرکے یہاں ذکر کرنا بہت مشکل ہے ۔کیونکہ ان سے ہر ایک کے بارے میں مفصل اور الگ بحث کی ضرورت ہے ۔اور یہ اس کتاب کی گنجائش میں نہیں ہے بلکہ اگر ہم ایسا کریں تو یہ کام ہمیں اپنے مقصد سے دور کردے گا ۔لیکن ہم صرف یہ بات بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ان لشکر کشیوں کے بارے میں سیف کی روایتیں زمان ومکان اور روئداد کی کیفیت ، حوادث میں کلیدی رول ادا کرنے والوں اور ذکر شدہ سپہ سالار وں کے لحاظ سے دوسروں ،جیسے ، بلاذری کے بیان کردہ تاریخی حقائق سے بالکل مغایرت واختلاف رکھتی ہیں ،کیونکہ تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ قبیلہ تمیم ۔جو عراق میں رہتاتھا ۔نے مشرکین یا دوسروں سے جنگ کرنے کے سلسلے میں اپنی سرزمین سے آگے شمال اور روم کی سرزمین کی طرف کبھی قدم نہیں بڑھایاہے ۔یہ ایک مسلم حقیقت اور مسئلہ کاایک رخ ہے ۔مسئلہ کا دوسرا رخ یہ ہے کہ تاریخ کے متون میں سے کسی بھی متن میں مسلمانوں کی جنگوں میں سے کسی جنگ میں سیف کے افسانوی سورمازیاد بن حنظلہ یا سیف کے دوسرے افسانوی دلاوروں کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا اور ان کی زبردست دلاوریوں خود ستائیوں اور خاندان تمیم کے دیگر افتخارات کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔
اس مختصر موازنہ اور مقابلہ سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ سیف بن عمر تمیمی تنہا مولف ہے جو زیاد نام کے ایک صحابی کی تخلیق کرکے اسے مسلمانوں کی جنگوں میں شرکت کرتے ہوئے دکھا تاہے اور اس کی زبردست شجاعتیں بیان کرتاہے ۔
سیف کی روایات کا ماحصل
١۔ سیف قبیلہ تمیم سے ''زیاد بن حنظلہ ''نامی ایک مردکی تخلیق کرکے اسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کاصحابی قراردیتاہے
٢۔ زیادکوایسابہادربناکر پیش کرتاہے جو رومیوں کے ساتھ جنگ میں پیش قدم تھا اور وہ پہلادلاور تھاجس نے سرزمین ''رہا''پر قدم رکھا۔
٣۔زیاد کی زبانی شجاعتوں پر مشتمل حماسی قصیدے کہہ کر اپنے قبیلہ یعنی تمیم کے لئے فخرو مباہات کسب کرتاہے اور ان قصیدوں کے دوران دعویٰ کرتا ہے کہ یہ صرف تمیمی ہیں جو ''ہرکول'' اور ''ہراکلیوس'' جیسوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور انھیں ذلیل وخوار کرکے رکھتے ہیں ،ان کی سرزمینوں پر قبضہ جماتے ہیں ۔وہ''حمص'' کو اپنا اکھاڑ بنادیتے ہیں اور روم کے پادشاہ کے بیٹے کو قتل کرتے ہیں ۔ یہ تمیمی ہیں جو''قنسرین'' پر حکمرانی کرتے ہیں ''میناس ''کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں اور''اجنادین '' میں بیت المقدس کے حاکم ''ارطبون ''کو قتل کرکے رومیوں کی تمام خوبصورت عورتوں کو اپنی بیویاں بنالیتے ہیں !
٤۔ اور آخر کار سیف ان قصیدوں کو اپنے دعووں کے شاہد کے طور پر ادبیات عرب کے خزانوں میں جمع کرادیتاہے۔
زیاد بن حنظلہ ،حاکم کوفہ
طبری ٢١ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے یہ روایت نقل کرتاہے :
عمر نے جب دیکھا کہ ایران کا بادشاہ ''یزدگرد'' ہر سال ایک فوج منظم کرکے مسلمانوں پر حملہ کرتاہے ،تو انھوں نے حکم دیاکہ مسلمان ہر طرف سے ایران کی سرزمین پر حملہ کرکے ایران کی حکومت اور بادشاہ کا تختہ الٹ دیں ۔
عمر کا یہ فرمان اس وقت جاری ہوا،جب اسلام کے ابتدائی مہاجرین میں شمار ہونے والا اور بنی عبد قصی سے دوستی کا معاہدہ منعقد کرنے والا زیاد بن حنظلہ عمر کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا۔کوفہ پر زیاد کی حکومت مختصر مدت کے لئے تھی کیونکہ عمر کی طرف سے ایران پر حملہ کرنے کے لئے لام بندی کا حکم جاری ہونے کے بعد اس نے اصرار کیا کہ اس کا استعفیٰ منظور کیاجائے ۔سر انجام خلیفہ زیاد بن حنظلہ کے بے حد اصرار اور خواہش کی وجہ سے اس کا استعفیٰ منظور کرنے پر مجبور ہوتاہے !
اس کے علاوہ''سعد وقاص'' کی کوفہ پر حکومت کے دوران بھی وہاں کی قضاوت اور قاضی کا منصب زیاد بن حنظلہ کو سونپا گیا تھا۔
یہی طبری سیف سے روایت کرتاہے کہ خلیفہ عمر نے ٢٢ھ میں ''جزیرہ'' کی حکومت زیاد بن حنظلہ کو سونپی ۔
یہ سب سیف بن عمر کا قول ہے اور اسے طبری نے سیف کانام لے کر اپنی کتاب میں درج کیاہے ۔
ابو نعیم ،ابن اثیر اور ابن کثیر ،تینوں دانشوروں نے زیاد بن حنظلہ کے حالات ،جیسے ،اس کی حکمرانی اور قاضی مقرر ہونا اور کوفہ اور جزیرہ کی حکمرانی سب کو طبری سے نقل کرکے ایک تاریخی حقیقت کے عنوان سے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیاہے ۔
سیف نے زید کی کوفہ پر حکومت کی بات کو ''مختصر مدت'' کی قید کے ساتھ ذکر کیاہے اور خلیفہ عمر سے اس عہدے سے استعفیٰ دینے کا اصرار بیان کرتاہے تاکہ اپنے لئے فرار کی گنجائش باقی رکھے اور اگر کوئی اس سے سوال کرے کہ کوفہ کے حکمرانوں کی فہرست میں زیاد کا نام کیوں نہیں پایا جاتا؟ تو وہ فوراً جواب میں کہے:کہ اس کی حکومت کازمانہ اس قدر مختصر تھا کہ حکمرانوں کی فہرست میں اس کے ثبت ہونے کی اہمیت نہیں تھی۔
سیف اپنے خاندانی تعصبات کی بناء پر زیاد کی کوفہ پر اسی قدر حکمرانی پر راضی اور مطمئن ہے کیونکہ اسی قدر کوفہ پر اس کا حکومت کرنا خاندان تمیم کے فخرو مباہات میں اضافہ کا سبب بنتاہے !!
خاندانی تعصبات کی بناء پر افسانہ کے لئے اتناہی کافی ہے کہ :اس کا '' زیاد بن حنظلہ'' ایک ایسا صحابی ہو جو مہاجر،دلاور وبے باک شہسوار ،دربار خلافت کا منظور نظر پاک دامن حکمران و فرماں روا عادل پارسا منصف و قاضی اور ایک حماسی سخنور شاعر کہ میدان کارزار میں اس کے نیزے کی نوک سے خون ٹپکتا ہو اور اس کی تلوارکی دھار موت کا پیغام دیتی ہو اور حماسی اشعار کہتے وقت اس کی زبان شعلہ بار ہو۔
زیاد بن حنظلہ ،امام علی علیہ السلام کی خدمت میں
طبری ٣٦ھ کے حوادث کے ضمن میں روایت کرتا ہے :
مدینہ کے باشندے یہ جاننا چاہتے تھے کہ حضرت علی ں معاویہ اور اس کے پیرو مسلمانوں سے جنگ کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں ؟ کیا وہ جنگ کا اقدام گریں گے ؟یا اس قسم کا اقدام کرنے کی جرأت نہیں رکھتے ؟ اس کام کے لئے زیاد بن حنظلہ جو حضرت علی ں کے خواص میں شمار ہوتا تھا کو آمادہ کیا گیا کہ حضرت علی ں کے پاس جائے اور ان کا نظریہ معلوم کرکے خبر لائے ۔
زیاد امام ں کی خدمت میں پہنچا اور کچھ دیر امام کی خدمت میں بیٹھا۔امام نے فرمایا:
زیاد ! آمادہ ہو جائو ۔
زیاد نے پوچھا :
کس کام کے لئے ؟
امام ں نے فرمایا : شام کی جنگ کے لئے !
زیاد نے امام ں کے حکم کے جواب میں کہا : صلح و مہربانی جنگ سے بہتر ہے ۔اور یہ شعر پڑھا :
جو مشکل ترین کاموں میں ساز باز نہ کرے ،اسے دانتوں سے کاٹا جائے گا اور پائوں سے پائمال کیا جائے گا!!
امام ں نے جیسے وہ بظاہر زیاد سے مخاطب نہ تھے فرمایا:
اگر تم ہوشیار دل ،تیز تلوار اور عالی دماغ کے مالک ہو تو مصیبتیں تم سے دور ہو جائیں گی ۔
زیاد امام ں کے پاس سے اٹھ کر باہر آیا۔ منتظر لوگوں نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا اور سوال کیا :
کیا خبر ہے ؟
زیاد نے جواب میں کہا: لوگ!تلوار!
مدینہ کے لوگ زیاد کا جواب سن کر سمجھ گئے کہ امام کا مقصد کیا ہے اور کیا پیش آنے والا ہے :
طبری اس افسانہ کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے لکھتا ہے :
لوگوں نے شام کی جنگ میں اپنے امام علی بن ابیطالب علیہ السلام کا ساتھ دینے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ان کی حمایت نہیں کی جب زیاد بن حنظلہ نے یہ حالت دیکھی تو امام کے پاس جاکر بولا :
اگر کوئی آپ کی حمایت نہ کرے اور آپ کا ساتھ نہ دے اور مدد نہ کرے تو ہم ہیں ، ہم آپ کی مدد کریں گے اور آپ کے دشمنوں سے لڑیں گے ۔
طبری نے یہ مطالب سیف سے لئے ہیں اور ابن اثیر نے بھی انھیں طبری سے نقل کیا ہے ۔
کتاب '' استیعاب'' کے مؤلف ابن عبد البر اور دوسرے مؤلفین نے طبری کی پیروی کرتے ہوئے سیف کی اسی روایت پر اعتماد کرکے زیا دبن حنظلہ کو امام علی علیہ السلام کے خواص میں شمار کرایا ہے ،اور شائد سیف کی زیاد سے یہ بات نقل کرنے کے پیش نظر کہ ''(ہم آپ کی یاری اور مدد کے لئے آمادہ ہیں اورآپ کے دشمن سے لڑیں گے)۔لکھا گیا ہے کہ: زیاد نے امام کی تمام جنگوں میں شرکت کی ہے۔
ابن اعثم نے بھی اپنی تاریخ میں سیف کی اسی روایت کا ایک حصہ درج کیا ہے ۔
لیکن ہم نے ان جھوٹ کے پلندوں کو سیف کی روایتوں کے علاوہ تاریخ کے کسی اور مصدر میں نہیں پایا جن میں سیف سے مطلب نقل نہیں کیا گیا ہے اور جمل،صفین اور نہروان کی جنگوں میں زیاد کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ، حتی امام علی کے اصحاب و شیعوں کے حالات پر مشتمل کتابو ں میں ''مامقانی'' کے علاوہ کہیں اس افسانوی شخص کا نام نہیں ہے '' مامقانی ''نے بھی ''اسد الغابہ'' اور ''استیعاب'' کی تحرویروں کے پیش نظر جہاں پر یہ لکھا گیا ہے کہ ''زیاد امام علی کا خاص صحابی تھا'' بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی کتا ب میں لکھا ہے :
''میرا خیا ل ہے کہ یہ شخص ایک اچھا شیعہ تھا''
ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ سیف نے زیاد کو امام کے خواص کے طور پر کیو ں ذکر کیا ہے اور قعقاع جیسے بے مثال پہلوان کو امام کی خدمت میں مشغول دکھا یا ہے ؟چونکہ ہم سیف کو جھوٹ اور افسانے گھڑنے کے سلسلہ میں ناپختہ اور ناتجربہ کار نہیں سمجھتے ،اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیف کو زیاد کا افسانہ تخلیق کرنے اور اسے امام علی سے ربط دینے میں یہ مقصد کا ر فرما نہیں تھا کہ شیعوں کو بھی اپنی طرف جذب کرے تا کہ اس کے افسانے ان میں بھی اسی طرح رائج ہوجائیں جیسے اس نے خاص افسانے تخلیق کر کے مکتبِ خلفاء کے پیرؤں کو آمادہ کیا کہ اس کے جھوٹ کو باور کرکے اپنی کتابوں میں درج کریں ؟ یا اس کا کوئی اور بھی مقصد تھا جس سے ہم بے خبر ہیں !
سیف زیاد کو اس حد تک امام کے خواص میں شمار کراتا ہے کہ نہ صرف عام لوگ بلکہ آپ کے خاص اصحاب جیسے عمار یاسر ، مالک اشتر اور ابن عباس و غیرہ بھی اس کے محتاج نظر آتے ہیں اور اسے معاویہ سے جنگ کے بارے میں امام کی طاقت اور مقصد سے متعلق اطلاع حاصل کرنے کے لئے بھیجتے ہیں ۔ ایسے جھوٹ کے پل باندھنا صرف سیف کے ہاں پایا جاسکتا ہے!!
زیاد بن حنظلہ اور نقلِ روایت
ابتداء میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ'' ابن عبد البر'' جیسا عالم اپنی کتاب ''استیعاب'' میں لکھتا ہے :
''لیکن میں نے زیاد بن حنظلہ سے کوئی روایت نہیں دیکھی''۔
ابن اثیر نے بھی ابن عبد البر کے انہی مطالب کو اپنی کتاب ''اسد الغابہ '' میں درج کیا ہے ۔
لیکن ابن عساکر لکھتا ہے :
اس کے بیٹے ''حنظلہ بن زیاد'' اور ''عاص بن تمام'' نے بھی اس سے روایت کی ہے۔
ابن حجر نے بھی اپنی کتاب ''الاصابہ '' میں ان ہی مطالب کو لکھا ہے۔
ہم نے نہ ''عاص بن تمام '' سے زیاد کے بارے میں کوئی روایت پائی اور نہ خود ''عاص'' کو رجال و روات کے حالات میں لکھی گئی کتابوں میں سے کسی ایک میں پایا۔
لیکن زیاد کے بیٹے حنظلہ کا اگر چہ مصادر اور رجال کی کتا بوں میں کہیں نام نہیں ملتا پھر بھی ہم نے اس سے مربوط سیف کی جعل کردہ دو روایتیں پائیں جو سند اور متن کے جملوں کی ترتیب کی رو سے سیف کی تحریر کی شہادت دیتی ہیں ۔
ابن عساکر نے ''زیاد بن حنظلہ'' کی روایت کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے پہلی روایت بیان کی ہے تا کہ اس سے اپنی بات کی دلیل کے طور پر پیش کرے ۔ ابن عساکر نے سیف سے نقل کرتے ہوئے یہ روایت اس طرح بیان کی ہے:
سیف بن عمر نے عبد اللہ سے اس نے حنظلہ بن زیاد سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ جب ابوبکر بیمار تھے توخالد بن ولید نے عراق سے شام کی طرف فوج کشی کی...تا آخر
دوسری روایت کو طبری فتح ''ابلّہ'' کی داستان کے بعد اور ١٢ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف بن عمر سے نقل کر کے یوں بیان کیاہے:
سیف بن عمر نے محمد نویرہ سے اس نے حنظلہ بن زیاد سے اور اس نے اپنے باپ زیاد بن حنظلہ سے روایت کی ہے کہ خالد بن ولید نے وہاں کی فتح کی نوید ایک ہاتھی اور مال غنیمت کے پانچویں حصے کے ساتھ خلیفہ کی خدمت میں مدینہ بھیجی۔
شہر مدینہ کی گلی کوچوں میں ہاتھی کی نمائش کی گئی ۔کم علم عورتیں ہاتھی کو دیکھ کر ایک دوسرے سے کہتی تھیں : کیا خدا نے ایسی عجیب و غریب مخلوق کو پیدا کیا ہے ؟!وہ تصور کرتی تھیں کہ یہ موجود انسان کی مخلوق ہے ۔ اس کے بعد ابوبکر کے حکم سے ہاتھی کو واپس بھیج دیا گیا۔
اس روایت کے بعد طبری کہتا ہے :
فتح '' ابلہ '' کی یہ داستان ان مطالب کے بر خلاف ہے جو تاریخ نویسوں اور علماء نے اس سلسلے میں بیان کی ہیں یا صحیح روایتوں میں ذکر ہوئی ہیں ۔سیف کے ان مطالب کا حقیقی واقعہ اور فتح ''ابلہ'' کی اصل داستان سے مغایرت اور ناموافق ہونے کے سلسلے میں طبری کے واضح اعتراف کے علاوہ ہاتھی کے افسانہ نے سیف کے جھوٹ کو اور بھی ننگا کرکے رکھ دیا ہے ۔کیوں کہ ہاتھی کا موضوع اور مکہ و خانہ خدا پر ابرہہ کے حملہ میں ہاتھی کی یاد ابھی لوگوں کی ذہنوں میں موجود تھی اس لئے یہ ایسا امر نہیں تھا کہ مدینہ کی عورتیں ہاتھی کو دیکھ کر تعجب اور حیرت میں پڑتیں اور وہ اس عظیم الجثہ حیوان کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کرتیں !اور اسے بشر کی تخلیق جانتیں ۔ہاتھی کا موضوع اور مکہ پر قبل از اسلام ہاتھیوں کے ساتھ ابرہہ کا حملہ ایک تاریخی واقعہ تھا اور لوگ حوادث و واقعات کو اسی واقعہ کے حوالہ سے یاد کرتے تھے اور انھیں اسی واقعہ کے قبل یابعد یعنی عام الفیل سے حساب کرتے تھے ۔اس کے علاوہ مدینہ کی عورتوں نے بارہا قرآن مجید میں سورہ فیل کو پڑھا یا سنا تھا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس قسم کے حیوان سے ناآشنا ہوں ۔اس کے باوجود سیف نے ایسا افسانہ گڑھ کے لوگوں کا مذاق اڑایا ہے !
سیف سے کسی نے یہ نہیں پوچھا ہے اور خود اس نے بھی یہ نہیں بتایا ہے کہ مدینہ سے واپس کئے جانے کے بعد ہاتھی پر کیا گزری اور تقدیر نے اسے کہاں پہنچایا !؟لیکن قوی احتمال یہ ہے کہ سیف نے اس ہاتھی کے تعجب انگیز افسانہ کو گڑھ کے اور اسے خالد بن ولید مضری کی طرف سے جنگی غنائم کے طور پر مضری خلیفہ کی خدمت میں بھیج کر اپنے خاندانی تعصبات کے مد نظر افتخارات حاصل کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے اور ہاتھی کے بارے میں اس کے بعد کوئی فکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ہے ۔اس لئے بیچارے ہاتھی کو خدا کی امان پر چھوڑ دیا ہے تاکہ جہاں چاہے چلا جائے ۔
ہم نے سیف کے اس قسم کے افسانے گڑھنے کے محرک کی طرف گزشتہ بحثوں میں مکرر اشارہ کیا ہے اور یہاں اس کی تکرار کو ضروری نہیں سمجھتے ۔
اس طرح جو کچھ بیان ہوا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سیف نے اپنے افسانوی صحابی کے لئے دو روایتیں جعل کی ہیں اور اس کے لئے حنظلہ نام کا ایک بیٹا بھی تخلیق کیا ہے تاکہ اس کی یہ روایتیں اس کی زبانی دہرائی جائیں ۔
افسانہ کا ماحصل
١۔ زیاد بن حنظلہ سے اس کے بیٹے حنظلہ کی زبانی دو روایتیں بیان کرائی ہیں تاکہ حدیث کی کتابوں کی زینت بنیں ۔
٢۔ افسانوی زیاد کے لئے ایک بیٹا ثابت کیا ہے تاکہ اسے خاندان تمیم کے تابعین میں قرار دے اور ابن عساکر اور ابن حجر جیسے علماء سیف کے جھوٹ کو سچ سمجھ کر اپنی کتابوں میں لکھیں کہ حنظلہ نے اپنے باپ زیاد سے اس طرح روایت کی ہے ۔
خلاصہ
آخر کار سیف بن عمر ایک مہاجر ،دلاور ،نامور سپہ سالار ،رزمیہ شاعر ،احادیث کا راوی اور حضرت امام علی علیہ السلام کی خدمت میں ایک با نفوذ '' زیاد بن حنظلہ '' نامی ایک صحابی کوخلق کرکے اپنے خاندان تمیم کو چار چاند لگا کر ناز کرتا ہے !
اس کے لئے ایک بیٹا بھی خلق کرتا ہے اور اس کا نام حنظلہ رکھتا ہے تاکہ ایک معروف صحابی باپ کے بعد وہ تابعین میں ایک پارسا شخص اور راوی کی حیثیت سے اپنے باپ کا جانشین بن سکے اور خاندان سیف کے افتخارات کو آگے بڑھا ئے اور خاندان تمیم،زیاد اور حنظلہ نام کے ان باپ بیٹوں اور حنظلہ تمیمی جیسے ان کے جد کے وجود کے سبب دوسرے قبیلوں خاص کر قحطانی یمانیوں پر افتخار کرے۔
ان افسانوں کا سر چشمہ
جیسا کہ ہم نے کہا کہ زیاد اور اس کے بیٹے حنظلہ کے حالات اور جو کچھ ہم نے ان کے بارے میں پڑھا ہے سب کا سر چشمہ افسانہ گو سیف ہے۔اور مندرجہ ذیل مصادر میں ان افسانوں کا ذکر کیا گیا ہے :
١۔ طبری نے اپنی ''تاریخ کبیر'' میں سند کے ذکر کے ساتھ ۔
٢۔ ابو نعیم نے '' تاریخ اصفہان'' میں سند کے ذکر کے ساتھ ۔
٣۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں سند کے ذکر کے ساتھ ۔
٤۔ حموی نے اپنی '' معجم البلدان '' میں ایک جگہ پر سند کے ذکر کے ساتھ اور دوسری جگہ پر سند کا ذکر کئے بغیر۔
٥۔ ابن اثیر نے اپنے مطلب کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے
٦۔ ابن کثیر نے مطلب کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے ۔
٧۔ ابن عبد البر نے سیف کی احادیث کا ایک خلاصہ سند کے ذکر کے بغیر '' استیعاب'' میں درج کیا ہے ۔
٨۔ کتاب '' اسد الغابہ'' کے مؤلف نے ''استیعاب'' سے یہ مطلب نقل کیا ہے ۔
٩۔ کتاب '' تجرید'' کے مؤلف نے اس کو '' اسد الغابہ'' اور ''استیعاب '' سے نقل کیا ہے ۔
١٠۔ کتاب '' تنقیح المقال '' کے مؤلف نے '' اسد الغابہ '' اور ''استیعاب'' سے نقل کیا ہے ۔
١١۔ کتاب '' تہذیب '' کے مؤلف نے ابن عساکر کی تاریخ سے ایک خلاصہ نقل کیا ہے ۔
افسانہ کی تحقیق
زیاد بن حنظلہ کے بارے میں سیف کی حدیث کی سند کے طور پر سہل بن یوسف،ابو عثمان یزید اورمحمد جسے محمد بن عبداللہ نویرہ کہا ہے ،کے نام لئے گئے ہیں ۔اسی طرح مہلب ،جسے ابن عقبہ اسدی کہا ہے اور عبد اللہ بن سعید ثابت کا نام لیا ہے ہم نے سیف کے افسانوی سورما قعقاع اور عاصم کے افسانوں کے دوران گزشتہ بحثوں میں ثابت کیا ہے ک یہ سب راوی سیف کی خیالی تخلیق ہیں اور حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتے ،سیف کی روایتوں کے علاوہ ان کو کہیں اور نہیں پا یا جا سکتا ۔
سیف زیاد کے بارے میں اپنی روایتوں کی سندکے طورپر''ابوزہراء قشیری'' نام کے ایک دوسرے راوی کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی کی حیثیت سے پیش کرتاہے کہ اس کا بھی خارج میں کوئی وجود نہیں ہے ۔ہم سیف کی باتوں کے پیش نظر اس کے حالات پر بھی بحث وتحقیق کریں گے۔
اسی طرح ''عبادہ'' اور ''خالد'' نام کے دو راویوں کا نام بھی لیتاہے ۔چونکہ ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں ،اس لئے ان کے وجود یا عدم وجود کے بارے میں رجال کی کتابوں میں تحقیق نہیں کی جاسکتی ہے ۔
پھر بھی سیف اپنی احادیث میں بعض راویوں کا اس طرح نام لیتاہے :''خاندان قشیر کے ایک شخص سے''!یا'' ایک مرد سے'' !۔ قارئین کرام سے سوال کیا جاسکتاہے کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہوسکتے ہیں ؟!
سیف نے دیگر موارد کی طرح اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے آخر چند ایسے راویوں کا بھی نام لیا ہے جو حقیقت میں وجود رکھتے ہیں لیکن چوں کہ سیف ایک جھوٹا شخص ہے اور اس کی روایتیں کسی بھی ایسے مؤرخ کے ہاں جس نے اس سے روایتوں کو نقل نہیں کیا ہے نہیں پائی جاتیں اس لئے ہم اس کے جھوٹ کے گناہوں کو ان حقیقی راویوں کے سر نہیں تھوپتے ۔
آٹھواں جعلی صحابی حرملہ بن مریطہ تمیمی
شجر ۂ نسب اور خیالی مقامات
سیف بن عمر نے حرملہ کا شجرئہ نسب اس صورت میں تصور کیا ہے :
حرملہ بن مریطہ ،حنظلی ،قبیلہ ٔ عدوی اور خاندان بنی مالک بن حنظلہ تمیمی سے ہے ۔یہ قبیلہ اس کے جد ،جس کا نام '' عدویہ '' تھا ،سے معروف ہے ،جو بنی عدو رباب سے تھا۔
حرملہ ،سیف کی روایتوں میں
جعلی صحابی ،حرملہ کو ہم مندرجہ ذیل مصادر میں پاتے ہیں :
کتاب ''اسدالغابہ'' جو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی زندگی کے حالات اور ان کے تعارف سے مخصوص ہے میں اس طرح آیا ہے :
سیف بن عمر اپنی کتاب '' فتوح'' میں حرملہ کے بارے میں لکھتا ہے :
حرملہ بن مریطہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نیک صحابیوں میں تھا ۔
تاریخ طبری میں آیا ہے کہ ''حرملہ '' ''عتبہ بن غزوان '' کے ساتھ بصرہ میں تھا اور عتبہ نے اسے ایرانیوں سے جنگ کے لئے '' میشان ''(۱) بھیجا ۔
ذہبی نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں حرملہ کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نیک اصحاب میں سے شمار کیا ہے ۔
ابن حجر کی کتاب ''الاصابہ'' میں طبری سے نقل کرتے ہوئے اس طرح لکھا گیا ہے :
حرملہ عتبہ کے ہمراہ تاآخر
طبری کی سیف سے روایتیں نقل کرنے اور کتاب '' فتوح'' میں سیف کی درج شدہ روایتوں کے پیش نظر ابن اثیر ،ذہبی اور ابن حجر جیسے علماء میں سے ہر ایک نے حرملہ کے صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہونے کے عنوان سے اس کی زندگی کے حالات جدا جدا درج کئے ہیں ۔
ذیل میں ہم طبری کا بیان پیش کرتے ہیں :
طبری نے ١٢ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف بن عمر سے نقل کرکے کچھ مطالب لکھے ہیں جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
جب خلیفہ ابو بکر کی طرف سے خالد بن ولید کو عراق کی حکمرانی کا فرمان پہنچا تو اس نے حرملہ ،
سلمی ،مثنی اور مذعور(۲) جن میں سے ہر ایک کے ماتحت دو ہزار سپاہی تھے کے نام ایک خط لکھا ،اور ان سے کہا کہ (آج کے ) بصرہ کے نزدیک عراق کی سرحد پر واقع '' ابلہ'' کے مقام پر اس
____________________
۱)۔ حموی اپنی کتاب معجم البلدان میں لکھتا ہے کہ '' میشان '' ایک وسیع سرزمین کا نام ہے جو بصرہ و واسط کے درمیان تھی اور وہاں پرخرمے کے بہت سے درخت نخلستان تھے۔
۲)۔ حرملہ سیف کا جعلی صحابی ہے جس کی تحقیق میں ہمیں در پیش ہے ۔سلمی کو سیف نے'' قین'' کا بیٹا بتایا ہے کیا وہ بھی سیف کا جعل کردہ ہے ،اس میں ہمیں شک و شبہہ ہے ۔
مثنی کو سیف نے '' لاحق عجلی'' کا بیٹا بتایا ہے ۔ہم نے اس کے حالات اسی کتاب میں بیان کئے ہیں ۔ مذعورکانام سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں میں بھی آیا ہے لیکن سیف نے حقیقی مذعور سے غلط فائدہ اٹھاکر اپنے جھوٹ کو اس سے نسبت دی ہے ۔
سے ملحق ہو جائیں ۔
چاروں سرداروں نے اطاعت کی اور اپنے ما تحت ٨ ہزار سپاہیوں کو لے کر '' ابلہ '' کی طرف روانہ ہوئے ۔خالد بھی دس ہزار جنگجو لے کر ''ابلہ'' کے مقام پر ان کے ساتھ ملحق ہو گیا۔
ابن اثیر اور ابن خلدون نے بھی انہی مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ،لیکن ان میں سے کسی ایک نے اس فوج کشی کے مقصد اور نتیجہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے اور اس موضوع کو ١٧ھ تک فراموش کردیا ہے ،جب اس سال دوبارہ ان سرداروں کا نام لیا گیا ہے ۔ کچھ معلوم نہیں کہ اس پانچ سال کی مدت کے دوران یہ ١٨ہزار سپاہی اور پانچ سپاہ سالار کہاں تھے اور کون سی ذمہ داری انجام دے رہے تھے ؟!
ہم نے اپنی جستجو اور تلاش کے دوران صرف حموی کو پایا جس نے ہمارے اس سوال کا کسی حد تک جواب دیا ہے ۔اس نے لفظ '' ورکائ'' کی تشریح میں یوں لکھا ہے :
سیف نے کہا ہے کہ سب سے پہلے سوار ،جنھوں نے سر زمین ایران پر قدم رکھے ،دو نامور صحابی ،حرملہ بن مریط اور سلمی بن القین تھے ،کہ دونوں مہاجر و رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نیک صحابی شمار ہوتے تھے ۔
ان دو صحابیوں میں سے ہر ایک اپنے ماتحت قبائل تمیم و رباب کے چار ہزار سپاہیوں کے ہمراہ اطد ،نعمان اور جعرانہ کے علاقوں میں داخل ہوئے اور ''ورکاء '' کے مقام پر '' انوشجان'' اور ''فیومان '' سے ان کا آمنا سامنا ہوا ۔ یہاں پر واقع ہونے والی جنگ میں انھوں نے ایرانی کمانڈر وں کو شکست دی اور ''ورکائ'' پر قبضہ جمالیا اور '' ہرمزگرد '' کو ''فرات بادگلی'' تک فتح کیا ۔سلمی نے اس موضوع کو حسب ذیل اشعار میں بیان کیا ہے :
خبریں جو پھیل رہی ہیں کیا تم نے ان کو نہیں سنا کہ ''ورکائ'' میں '' انو شجان'' پر کیا گزری ؟
'' انو شجان'' کے سر پر وہی بلا نازل ہوئی جو سر زمین ''طف'' میں قتل کئے گئے ''فیومان'' پر نازل ہوئی تھی۔
حرملہ نے بھی اسی سلسلے میں کہا ہے :
ہم نے ''میشان '' کے باشندوں کو اپنی تلواروں کی ضرب سے ''ورکائ'' تک پسپا کردیا ۔یہ کارنامہ ہمارے سواروں کا تھا۔
اس دن جب پہاڑوں کو بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ،ہم نے ان کے مال و ثروت کو غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیا ۔
لہٰذا حموی کے کہنے اور سیف کی روایتوں کے مطابق اس مدت کے دوران کچھ جنگیں لڑی گئی ہیں اور کچھ قتل عام ہوئے ہیں کہ طبری نے ان کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے ۔
حموی لفظ '' نعمان'' نامی چند جگہوں کا نام لینے کے بعد ''نعمان '' کے بارے میں لکھتا ہے :
منجملہ ،کوفہ کا ''نعمان'' صحرا کا علاقہ ہے ،سیف کہتا ہے :
سب سے پہلے جنھوں نے ایرانیوں سے لڑنے کے لئے سرزمین عراق پر قدم رکھا وہ حرملہ بن مریط اور سلمی بن قین تھے جنھوں نے '' اطد'' و ''جعرانہ'' میں داخل ہونے کے بعد ''ورکائ'' پر اپنا قبضہ جما یا۔
اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ حموی نے کلمہ '' نعمان '' کو صرف سیف کی حدیث میں دیکھا ہے اور اس جگہ کے وجود پر تصدیق کرتے ہوئے اس کی گواہی میں سیف کا قول نقل کیا ہے ۔
حجاز کے '' جعرانہ'' کی تشریح کے بعد لفظ ''جعرانہ'' پر حموی کی بات من عن حسب ذیل ہے :
سیف بن عمر اپنی کتاب'' فتوح '' جس کا ''ابن خاضبہ'' کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نسخہ میرے پاس موجود ہے میں اس طرح لکھتا ہے :
سب سے پہلے جنھوں نے جنگ کرنے کے لئے ایران کی سر زمین پر قدم رکھا، حرملہ بن مریط اور سلمی بن قین تھے کہ اطد و
یہاں وہ '' ورکائ'' کے بارے میں ذکر کئے گئے مطالب کو آخر تک نقل کرتا ہے ۔
حموی ،مشابہ و مشترک نام کے مقامات سے مخصوص اپنی ایک دوسری کتاب '' المشترک '' میں لفظ '' جعرانہ'' کے بارے میں لکھتا ہے :
اس نام کی دو جگہیں معروف ہیں ،ان میں سے ایک جگہ طائف و مکہ کے درمیان '' جعرانہ'' کے نام سے ہے اور دوسری جگہ وہ ہے جس کے بارے میں سیف بن عمر نے ایک روایت کے ضمن میں کہا ہے :
سب سے پہلے جنھوں نے ایرانیوں سے جنگ کے لئے عراق کی سر زمین پر قدم رکھا وہ حرملہ بن مریط اور
اس کے علاوہ اسی کتاب میں لفظ '' نعمان'' کے سلسلے میں لکھتا ہے :
چھ جگہوں کو نعمان کہا جاتا ہے.....
یہاں تک کہ وہ لکھتا ہے :
''نعمان '' ایک جگہ ہے جس کے بارے میں سیف بن عمر نے ایک روایت کے ضمن میں نام لے کر کہا ہے :
سب سے پہلے جنھوں نے ایرانیوں سے لڑنے کے لئے عراق کی سرزمین پر قدم رکھا حرملہ بن مریطہ و......
'' صفی الدین '' نے بھی جغرافیہ کی کتاب '' مراصد الاطلاع'' میں لکھاہے :
اطد (دو فتح کے ساتھ ) کوفہ کے نزدیک صحرا کی طرف ایک جگہ ہے ۔اسلام کے سپاہیوں نے ایرانیوں سے جنگ کے لئے سب سے پہلے اس سرزمین پر قدم رکھا۔
اور لفظ '' جعرانہ '' کے بارے میں بھی حموی کے مطالب کو خلاصہ کے طور پر نقل کیا ہے۔
چوں کہ سیف کے بیانات میں '' ہرمزگرد '' کا نام آیا ہے ،اس لئے حموی نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس نام کی جگہ کے وجود پر یقین کرکے اپنی کتاب میں خصوصی طور پر اس کا اس طرح ذکر کیا ہے :
گویا سر زمین عراق میں '' ہرمزگرد '' نام کی ایک جگہ تھی ۔مسلمانوں کی فتوحات کے دنوں وہاں پر ایرانیوں اور عربوں کے درمیان ایک جنگ لڑی گئی ہے جو مسلمانوں کی فتح اور اس جگہ پر مسلمانوں کے ہاتھوں قبضہ کئے جانے پر تمام ہوئی ہے
'' صفی الدین '' بھی اسی مطلب کو اپنی کتاب '' مراصد الاطلاع '' میں خلاصہ کے طور پر لکھتا ہے :
''ہرمزگرد '' عراق میں ایک علاقہ تھا ۔
جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا یہ سیف کے بیانات تھے جن کے بارے میں طبری نے کوئی اشارہ نہیں کیا ہے ۔
حرملہ بن مریطہ،ایران پر حملہ کے وقت
١٧ھ کے حوادث اور '' اہواز،مناذراور نہر تیری '' شہروں کی فتح کے ضمن میں سیف کی روایت سے نقل کرکے تاریخ طبری میں سیف کے دو جعلی صحابی اور کمانڈر حرملہ و سلمی کے نام اس طرح لئے گئے ہیں :
بصرہ کے اطراف میں موجود قصبوں اور گائوں پر '' ہرمز ان '' نے کئی بار حملے کئے بالآخر بصرہ کے گورنر عتبہ بن غزوان نے عراق کے سپہ سالار سعد بن وقاص سے مدد طلب کی۔سعد نے عتبہ کی مدد کے لئے ایک فوج روانہ کی اور ہرمزان کے شر سے نجات دلانے کے لئے حرملہ بن مریط اور سلمی بن القین کا انتخاب کیا ۔یہ دونوں قبیلہ ادویہ اور خاندان حنظلہ تمیمی سے تعلق رکھتے تھے اور مہاجر وں میں سے اور نیک محسوب ہوتے تھے حرملہ اور سلمی نے علاقہ میشان ، دشت میشان اور مناذر کے آس پاس پڑائو ڈلا اور قبیلہ '' بنی عم '' یعنی مالک کے بیٹوں سے مدد طلب کی ۔
یہاں پر طبری سیف سے ایک اور افسانہ نقل کرتے ہوئے مذکورہ خاندان کو خاندان '' بنی عم'' کہنے کا سبب بیان کرتا ہے :
سیف کہتا ہے :
'' مرة بن مالک بن حنظلہ '' جسے '' عمّی '' کہتے تھے اور قبیلہ ٔ بنی عم اس کی اولاد ہیں خاندان ''معد کے بے نام و نشان اور غیر معروف گروہ نے آکر ان کے نزدیک پڑائو ڈالا۔
'' مرة'' اس گروہ کے ساتھ ایران چلا گیا اور اس نے ایرانیوں کی مدد کا اعلان کیا ۔مرہ کا یہ کام اس کے بھائی کے لئے مشکل گزرا اور اس نے چند اشعار میں اس کی اس طرح سرزنش کی ہے :
مرہ نے جو کام انجام دیا ،وہ اندھا اور بہرہ ہو چکا تھا اور اس نے اپنے خاندان کی فریاد نہیں سنی۔
وہ ہمارے خاندان کی سرزمین سے چلا گیا اور ملک وبرتری پانے کے لئے ایران چلا گیا ۔ اسی وجہ سے ''مرہ '' کو '' عمی'' یعنی اندھا کہا جاتا تھا اور اور یہی نام اس کے بیٹوں پر باقی رہا ۔یربوع بن مالک اس سلسلے میں کہتا ہے :
قبائل ''معد '' جانتے ہیں کہ اپنی ذات پر فخر کرنے کے دن ہم اس قسم کی تابندگی کے مستحق تھے ہم ایرانی صحرا نشینوں کو بھگا کر سر بلندی حاصل
کر چکے ہیں ۔
اگر اس وقت عربوں کے افتخارات کا دریا موجیں مارے تو ہم ان سب دریائوں سے سربلند و سرفراز ہیں ۔
امریٔ القیس کے نواسہ ایوب بن عصبہ نے بھی یوں اشعار کہے ہیں :
ہم نے شرف و فضیلت حاصل کرنے میں قبائل عرب پر سبقت حاصل کی ہے اور ہم نے جان بوجھ کر یہ کام انجام دیا ہے ۔
ہم ایسے بادشاہ تھے جنھوں نے اپنے اسلاف کو سربلندی عطا کی ہے اور ہر زمانہ کے بادشاہوں کی بیویوں کو اسیر کیا ہے ۔
طبری نے سیف کے اپنے افسانہ کو جاری رکھتے ہوئے حرملہ و سلمی کے قبیلہ بنی عم سے مدد طلب کرنے کے سلسلہ میں لکھا ہے :
خاندان تمیم کے '' غالب وائلی '' اور کلیب وائلی کلبی نام کے دوسرداروں نے حرملہ اور سلمی کو مثبت جواب دیا اور ان کے پاس گئے اور ایک گفتگو کے ضمن میں ان سے کہا:
چوں کہ آپ عرب اور ہمارے خاندان سے ہیں اس لئے ہم آپ کی مدد سے انکار نہیں کر سکتے !
دوسری طرف ایرانیوں نے خاندان بنی عم پر مکمل اعتماد کر رکھا تھا اور تصور نہیں کرتے تھے کہ وہ کبھی ان کے دشمنوں یعنی عربوں سے رابطہ قائم کرکے کوئی سازش کریں گے ،کیوں کہ وہ ایران میں سکونت اختیار کر چکے تھے اور خوزستان کے علاقہ کو اپنا وطن جانتے تھے !
خاندان '' بنی عم'' کے سرداروں نے ایرانیوں کے اپنے بارے میں اس حسن ظن سے فائدہ اٹھا کر حرملہ اور سلمی کو تجویز دی کہ فلاں دن اور فلاں علامت سے '' ہرمزان '' پر حملہ کریں اور اسی دن ہم میں سے ایک '' مناذر'' پر اور دوسرا '' نہرتیری'' پر حملہ کرے گا اور اس طرح دشمن کو شکست دیتے ہوئے آپ لوگوں سے آملیں گے اور ہرمزان کو پیچھے سے کمزور بنادیں گے۔
اس جنگی نقشہ کو مرتب کرنے کے بعد ''غالب ''اور ''کلیب ''اپنے قبیلہ ''بنی عم''میں آگئے اور اپنے منصوبہ سے قبیلہ والوں کو آگاہ کیا اور اس سلسلے میں ان کی موافقت ومنظور ی حاصل کی۔
جب وعدے کی رات آپہنچی تو دوسرے دن صبح ہوتے ہی حرملہ اور سلمی نے اپنی فوج کو منظم کیا اور ہر مزان پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوئے اور ایک سخت جنگ کا آغاز کیا۔
اسی دوران ''کلیب''اور ''غالب''،''نہرتیری ''اور ''مناذر'' پر قبضہ کرکے ''حرملہ'' اور ''سلمی'' کی مدد کے لئے آگئے ۔جب ''مناذر'' اور ''نہرتیری'' کے ہاتھ سے چلے جانے کی خبر ''ہرمزان'' اور اس کے سپاہیوں کو پہنچی تو وہ جنگ میں یأس و ناامید ی سے دو چار ہوئے اور شکست کھا کر پسپائی اختیار کی ۔اسلامی فوج نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے سپاہیوں کا ایسا قتل عام کیا کہ ان کے کشتوں کے پشتے لگ گئے اور کافی مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا۔
''ہرمزان '' میدان جنگ سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا اور اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اہواز کے پل سے عبور کر گیا اس نے دریاکو اپنے اور مسلمانوں کے درمیان پناہ قرار دے کر مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی ۔مسلمانوں نے اس کی یہ درخواست منظور کی اور '' ہرمزان'' اور'' حرملہ ''و ''سلمی'' کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اور اس پر طرفین نے دستخط کئے اس طرح اس معاہدہ کے مطابق دریائے کارون کے ساحل تک کا علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔
ان مطالب کو طبری نے سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اور ابن اثیر و ابن خلدون نے بھی طبری سے نقل کرکے انھیں اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
حموی اپنی کتاب معجم البلدان میں لفظ '' مناذر'' کے سلسلے میں لکھا ہے :
''مناذر '' کا نام سیف کی کتاب ''فتوح'' اور ''خوارج'' دونوں میں آیا ہے ۔مؤرخین کے مطابق داستان اس طرح ہے :
١٨ھ میں جب '' عتبہ بن غزوان'' بصرہ کا گورنر تھا ،اس نے '' سلمی بن القین '' اور ''حرملہ بن مریطہ'' نامی دونامور سپہ سالاروں کو مأموریت دی کہ میشان اور صحرائے میشان پر لشکر کشی کریں اور مناذر و تیری کو اپنے قبضہ میں لے لیں ۔یہ دونوں شخص مہاجر ین و اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمرے میں تھے اور خاندان عدویہ بنی حنظلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کی داستان طولانی ہے ۔
''حصین بن نیار حنظلی'' نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :
کیا میری معشوقہ کو معلوم ہے کہ سرزمین مناذر کے مردوں کو موت کے گھاٹ اتار نے کے بعد ہمارا دل ٹھنڈا ہو اہے ؟
انھوں نے ''دلوث'' کے علاقہ کی بلندی سے ہماری فوج کے ایک سوار دستہ کو دیکھا اور اس کی شأن و شوکت کو دیکھ کر ان کی آنکھیں چکا چوندھ ہو گئیں ۔
ہم نے ان سب کو نخلستانوں میں اور دریائے دجلہ کے کنارے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
وہ یہاں پر صور اسرافیل بجنے تک رہیں گے ،چوں کہ ہمارے گھوڑوں کے سموں نے اس سرزمین کو ہموار بنادیا ہے ۔
یہی عالم حموی لفظ ''تیری'' کے سلسلے میں لکھتا ہے :
''تیری'' ایک شہر کا نام ہے جسے فتح کرنے کے لئے ١٨ھمیں ''عتبہ بن غزوان'' کی طرف سے ''حرملہ بن مریطہ'' اور'' سلمی بن قین '' مأمور کئے گئے تھے ۔اور اسے انھوں نے اسی سال فتح کیا '' غالب بن کلیب '' نے اس سلسلے میں درج ذیل اشعار لکھے ہیں :
جس دن کلیب نے '' تیری'' کے لوگوں کو ذلیل و خوار کیا ہم مناذر کی جنگ میں جان ٹوڑ کوشش کر رہے تھے ۔
ہم نے ''ہرمزان'' اور اس کے لشکر جرار کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور ان کی آبادیوں کی طرف حملہ کیا جو کھانے پینے کی چیزوں سے بھری تھیں ۔
جی ہاں !سیف نے یہ اشعار غالب تمیمی کی زبان پر جاری کئے ہیں تاکہ ایران کے دو شہر وں کی فتح کا افتخار قبیلہ تمیم کے نام ثبت کرے ،جب کہ طبری نے سیف کی روایتوں کو نقل کرتے وقت اپنی روش کے مطابق ان اشعار کو درج نہیں کیا ہے ۔
دربار خلیفہ میں حاضری ،اور اہواز کا زوال
طبری نے سیف بن عمر سے روایت کی ہے کہ ان فتوحات کے بعد '' عتبہ بن غزوان'' نے مناذر کی فوجی چھاونی کی کمانڈ '' سلمی بن قین'' کو سونپی اور اس شہر کی حکمرانی '' غالب'' کے سپرد کی ۔ اس کے علاوہ ''تیری'' کی فوجی چھاونی کی کمانڈ ''حرملہ بن مریط'' کے حوالہ کی اور شہر '' تیری'' کی زمام حکومت کلیب کے ہاتھ میں دی ۔
طبری نے سیف کی زبانی اس تخلیق کردہ شہر تیری اور مناذر کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈ اور شہروں کی حکومت کے عہد ے اس کے افسانوی اور فرضی افراد میں تقسیم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے سیف کے افسانے کو اس طرح آگے بیان کیا ہے :
''بنی العم'' کے بعض خاندان خوزستان سے ہجرت کرکے بصرہ اور اس کے اطراف میں رہائش اختیار کرتے ہیں ۔انہی دنوں بصرہ کا گورنر عتبہ بن غزوان ان مہاجرین کے ایک گروہ کو قبیلہ ''بنی العم'' کی نمایندگی کی حیثیت سے انتخاب کرکے خلیفہ عمر کی خدمت میں روانہ کرتا ہے ۔سلمی اور حرملہ بھی اس وفد کے ارکان تھے ۔عتبہ بن غزوان نے پہلے ہی ان سے کہا تھا کہ خلیفہ کے حضور جانے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کریں اور اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر کریں تاکہ آپ لوگوں کی عدم موجودگی میں آپ لوگوں کے زیر حکومت علاقوں کی سرپرستی کا کام ٹھپ نہ ہو جائے ۔
یہاں پر طبری سیف سے نقل کرتے ہوئے پھر اس بات کی تکرار و تاکید کرتا ہے کہ یہ دو سپہ سالار حرملہ و سلمی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی تھے ۔
طبری اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :
نمائندوں کا وفد خلیفہ عمر کے حضور پہنچا۔ اسی ملاقات میں قبیلہ ''بنی العم'' کے افراد نے اس قبیلہ کی بد حالی کی ایک مفصل رپورٹ خلیفہ کی خدمت میں پیش کی اور خلیفہ نے بھی ان کے ناگفتہ بہ حالات کو سد ھار نے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بادشاہوں کی سرکاری زمینوں کو قبیلہ ''بنی العم''میں تقسیم کردیا جائے۔
طبری اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے:
ہرمزان نے صلح نامہ کے عہد و پیمان کو توڑ کر جنگ کے لئے کردوں سے مدد طلب کی اور ایک بڑا لشکر آراستہ کیا۔
حرملہ اور سلمی نے اس صورت حال کے بارے میں قبل از وقت اطلاع حاصل کرکے اس کی رپورٹ عتبہ کو دیدی۔عتبہ نے بھی ان حالات کے بارے میں خلیفہ کی خدمت میں رپورٹ بھیجی۔
خلیفہ عمر نے ''ہرمزان'' کی گوشمالی کرنے اور علاقہ میں امن و امان برقرار کرنے کے لئے ''حرقوص بن زہیر سعدی'' جو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی تھا کو ایک سپاہ کی کمانڈ سونپ کر مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجا اور خاص طور پر تاکید کی، کہ ان شہروں کو آزاد کرنے کے بعد ''حرقوص'' خود ان شہروں کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لے!!
''حرقوص '' نے حرملہ، سلمی، کلیب اور غالب کی حمایت اور مدد سے اہواز کی طرف لشکر کشی کی اور ''سوق اہواز ''کے مقام پر ''ہرمزان '' سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور وہیں پر جنگ چھڑگئی۔
سر انجام ''ہرمزان'' نے اس جنگ میں شکست کھا کر ''رامہرمز'' کی طرف پسپائی اختیار کی ۔ ''حر قوص'' نے اہواز پر قبضہ کیا اور اسی جگہ کو اپنی فوجی کمانڈ کا صدر مقام قرار دیا۔ ان کے فوجی دستوں نے اس علاقہ کے تمام مناطق کو ''تستر'' (شوشتر) تک اپنے قبضے میں لے لیا۔ حرقوض نے فتح ہوئے شہروں کے باشندوں پر ٹیکس معین کیا اور اپنے نمایندے مقرر کئے اور غنائم کے پانچویں حصہ کو فتوحات کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ کے ساتھ خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ بھیجدیا۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایک صحابی ''اسعد بن سریع '' نے اس سلسلے میں درج ذیل اشعار کہے ہیں :
تیری جان کی قسم !ہمارے خاندان والوں کو جو بھی ذمہ داری سونپی گئی، انہوں نے اسے قبول کر کے امانتداری کا ثبوت دیاہے۔
انھوں نے اپنے پر ور دگار کی فرمانبرداری کی ہے جب کہ دوسروں نے نافرمانی کر کے اس کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔
مجوسیوں جنھیں کتاب یا کوئی فرمان برائیوں سے دور نہیں رکھتا تھا کا ہمارے سواروں کے ایک گروہ سے سامنا ہوا، اور اس گروہ نے انھیں ذلیل و خوار کرکے رکھدیا ۔
''ہرمزان'' ہمارے ساتھ جنگ میں اپنے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر فرار کر گیا اور ہمارے سپاہیوں نے اس کا پیچھا کیا ۔
وہ اپنی سرگرمیوں کے مرکز اہواز کو چھوڑ کر بھاگ گیا جب کہ بہار نے وہاں ابھی قدم رکھے تھے۔
اور '' حرقوص بن زہیر سعدی '' نے بھی اس سلسلہ میں کہا ہے :
ہم نے خزانوں سے بھری سرزمینوں پر قبضہ کیا اور ''ہرمزان'' پر فتح پائی۔
اس کے خشکی والے اور آبی علاقوں کو فتح کیا اور اس کے مال و متاع اور نایاب میوؤں پر بھی قبضہ کرلیا۔
وہ ایک وسیع سمندر کا مالک تھا جس کے دونوں طرف پر تلاطم دریا بہہ رہے تھے۔
سیف کی یہی باتیں سبب بنی ہیں کہ اس کے ذہن کی پیدا وار ''حرقوص'' بھی اس کے دوسرے جعلی صحابیوں کی طرح رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قرار پائے اور علماء اس کی زندگی کے حالات پر تفصیلات لکھیں !
ملاحظہ ہو ابن اثیر اس کے بارے میں کیا لکھتا ہے:
طبری نے اس (حرقوص) کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے:
خوزستان کے گورنر ہرمزان نے اپنے عہد و پیمان کی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے نافرمانی اور گناہ کی راہ اختیار کی اور مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری کی۔ سلمی اور حرملہ نے حالات اورحقائق کے بارے میں عتبہ کو رپورٹ دی اور
یہاں تک کہ لکھتا ہے :
وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں میں سے تھا۔
ذہبی نے اپنی کتاب ''تجرید'' میں اور ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ '' میں ابن اثیر کی پیروی کرتے ہوئے ''حرقوص'' کو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں میں شمار کیا ہے۔
ہم ایک بار پھر طبری کی بات پر توجہ کرتے ہیں اور سیف کے دو جعلی اور جھوٹے صحابی ''حرملہ'' و ''سلمی'' کی سرنوشت سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ''رامہرمز'' اور ''تستر''کی فتح اور ١٧ ھ کے حوادث کے ضمن میں اس طرح لکھا ہے:
ساسانی بادشاہ ''یزد گرد ''نے ایرانوں کے قوی جذبات کو بھڑکاکر ان سے اپنے حق میں مدد حاصل کرنے کے لئے ملک کے اطراف واکناف میں خطوط بھیجے ۔
سلمی اور حرملہ نے یزد گرد کے ان اقدامات اور سرگر میوں کے بارے میں خلیفہ اور بصرہ کے مسلمانوں کو رپورٹ بھیجی ۔خلیفہ عمر نے کوفہ کے گورنر سعد بن وقاص کو حکم دیا کہ ''نعمان ''کی قیادت میں ایک عظیم سپاہ تشکیل دے کر مسلمانوں کی مدد کے لئے روانہ کرے ۔سعد نے حکم کی تعمیل کی اور ''نعمان'' ایک عظیم سپاہ لے کرایران کی طرف روانہ ہو ااور اس نے '' سوق اہواز'' میں پڑائو ڈالا ۔اس کے بعد حرقوص ،سلمی اور حرملہ کو وہاں پر معین کرکے خود '' اربک'' کی طرف بڑھا اور وہاں پر ہرمزان سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس کے ساتھ ایک گھمسان کی جنگ ہوئی سر انجام ہرمزان نے اس جنگ میں شکست کھانے کے بعد ''رامہرمز '' سے بھاگ کر '' تستر'' تک پسپائی اختیار کی ۔نعمان نے حرقوص، حرملہ اور سلمی کے ہمراہ اس کا پیچھا کیا اور تستر (شوشتر) کے اطراف میں اس کے نزدیک پہنچے اور
پھر طبری ، ٢١ھ کے حوادث کے ضمن میں مزید لکھتا ہے :
جس زمانے میں خلیفہ عمر نے فرمان جاری کیا کہ ''نعمان '' ایک سپاہ لے کر ایران پر لشکر کشی کرے ۔اور ساتھ ہی ایک خط کے ذریعہ سلمی بن قین ،حرملہ بن مریط اور دیگر فوجی سرداروں کوجو پارس و اہواز کے درمیان فوجی کیمپ بنائے ہوئے تھے حکم دیا کہ اپنی حکمرانی کے تحت لوگوں اور علاقوں کو آگاہ و آمادہ کریں کہ وہ مسلمانوں پر ایرانیوں کے حملوں کو روکیں اور اس امر کی تاکید کی کہ اس کے دوسرے حکم کے پہنچنے تک پارس و اہواز کے علاقوں کی سرحدوں کا پورا خیال رکھتے ہوئے مسلسل حفاظت کرتے رہیں ۔
یہ حکم اس امر کا سبب بنا کہ نہاوند میں مسلمانوں سے بر سر پیکار ایرانیوں کو مزید کمک اور مدد پہنچنے میں قطعی طور پر رکاوٹ پڑ گئی اس موضوع کو طبری نے سیف بن عمر سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے اور دوسرے مورخین ،جیسے ابن اثیر اور ابن خلدون نے اس سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
بحث کا خلاصہ
سیف کے کہنے کے مطابق خالد بن ولید عراق کا گورنر بن جاتا ہے اور حرملہ ،سلمی اور مذعور کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے ماتحت فوجیوں کے ساتھ '' ابلہ '' کے مقام پر اس سے ملحق ہو جائیں ۔ان میں سے ہر ایک کی کمانڈ میں دو ہزار سپاہی تھے اور دونوں خالد کی دعوت قبول کرتے ہیں ۔حرملہ اور سلمی نیک اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی تھے ،وہ پہلے افراد تھے جنھوں نے ایرانیوں سے لڑنے کے لئے سب سے پہلے ایران کی سر زمین پر قدم رکھے اور ہر ایک نے اپنی کمانڈ میں خاندان تمیم و رباب کے چار ہزار سپاہی لے کر اطد ،نعمان اور جعرانہ کے علاقہ میں پڑائو ڈالا اور '' انوشہ جان '' اور'' فیومان'' کی کمانڈ میں موجود ایرانی فوج سے نبرد آزما ہوئے اور انھیں شکست دے کر '' ورکائ'' کو '' فرات باذقلی '' تک اپنے قبضہ میں لے لیا ''حرملہ'' و ''سلمی '' نے اس سلسلے میں رزمیہ اشعار کہے ہیں ۔
اس کے بعد سیف کے کہنے کے مطابق چوں کہ '' ہرمزان '' بصرہ کے اطراف میں حملہ کرتا ہے اس لئے '' عتبہ بن غزوان'' سلمی اور حرملہ کو اس کے ساتھ مقابلہ کے لئے انتخاب کرتا ہے اور انھیں حکم دیتا ہے کہ '' میشان '' کے نزدیک اس طرح اپنا کیمپ لگائیں کہ صحرائے میشان کو اپنے اور مناذر کے درمیان قرار دیں ۔وہ مزید حکم دیتا ہے کہ یہاں پر دو نوں سردار اور خاندان بنی عم سے ایک شخص دشمن کے حملہ کو روکنے میں اسلامی فوج کی مدد کریں ۔اس کے بعد سیف کہتا ہے کہ خاندان بنی عم کے افراد جو '' مرة بن مالک حنظلہ '' سے تعلق رکھتے ہیں ،اس لئے '' بنی عم '' کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان سے منہ موڑ کر ایران کی طرف مہاجرت کر گئے تھے اور انھوں نے ایرانیوں کی مدد کی تھی اور ایرانی ان پر کافی اعتماد کرتے تھے ۔
بہر حال ،غالب اور کلیب قبیلۂ بنی عم کے اس وقت سردار تھے ،یہ دونوں حرملہ کے پاس آکر اس سے کہتے ہیں : تم ہمارے خاندان سے ہو اور ممکن نہیں ہے کہ ہم تمھاری مدد نہ کریں ۔طے یہ پاتا ہے کہ ان میں سے ایک مناذر و نہرتیری پر حملہ کرکے ہرمزان کو پیچھے سے کمزور کرے اور سلمی و حرملہ بھی صحرائے میشان کی طرف حملہ کرکے ہرمزان سے بنرد آزما ہو جائیں ۔
اس کے بعد غالب اور کلیب اپنے قبیلے کی طرف لوٹتے ہیں اور اپنے خاندان والوں کو روئداد سے آگاہ کرتے ہیں اور ان سے اس نقشہ پر عملی جامہ پہنانے کی منظوری لیتے ہیں ۔
چنانچہ پہلے سے مرتب کئے گئے نقشہ کے مطابق حرملہ اور سلمی ہرمزان سے نبردآزما ہوتے ہیں ، اسی اثنا میں غالب وکلیب کی مدد بھی انھیں پہنچتی ہے جنھوں نے منصوبہ کے مطابق مناذر و نہرتیری پر قبضہ کر لیا تھا۔
مناذر اور نہر تیری کے زوال کی خبر دشمن کی شکست کا سبب بن جاتی ہے اور ہرمزان فرار کرکے اہواز کے پل سے گزر جاتا ہے اور اپنے اور اسلامی سپاہ کے درمیان پل کو حائل قرار دیتا ہے اور صلح کی درخواست کرتا ہے ،مسلمان کافی قتل عام کرنے اور جنگی غنائم پر قبضہ کرنے کے بعد ہرمزان کی صلح کی درخواست منظور کرتے ہیں ۔
اس فتحیابی کے بعد عتبہ ،حرملہ و سلمی کو مناذر اور نہر تیری کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈسونپتا ہے ۔ اس کے بعدوہ دونوں عتبہ کی اجازت سے اپنے خاندان کی نمائندگی کے طور پر خلیفہ عمر کی خدمت میں حاضر ہو جاتے ہیں اور اپنے خاندان کے ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں خلیفہ کو رپورٹ پیش کرتے ہیں خلیفہ حکم دیتا ہے کہ خاندان کسریٰ کی جاگیر انھیں بخش دی جائے ۔
ہرمزان صلح کی قرار داد پر عمل کرنے سے پہلو تہی کرتا ہے اور کردوں سے مدد طلب کرتا ہے ۔ ''ہرقوص بن زہر'' جو صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تھا خلیفہ عمر کے حکم سے ہرمزان سے نبرد آزما ہونے کے لئے مامور ہوتا ہے اور اس طرح مسلمان دوسری بار ہرمزان پر فتح پاتے ہیں اور سوق اہواز پر قبضہ کرلیتے ہیں ۔ہرمزان شوشتر کی طرف فرار کر جاتا ہے ۔
سیف داستان کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :
ایر ان کا بادشاہ کسریٰ لوگوں کے قوی جذبات کو ابھارکر انھیں ایرانیوں کے ساتھ جنگ کرنے پر اکساتا ہے اور اہواز کے لوگ بھی بادشاہ کی درخواست منظور کرتے ہیں ۔حرملہ و سلمی ان حالات کی رپورٹ خلیفہ کو دیتے ہیں ۔اس کے نتیجہ میں اسلامی فوج کسریٰ کی فوج سے نبرد آزما ہو کر اس کے منصوبوں کو نقش بر آب کردیتی ہے ۔اور ایک گھمسان کی جنگ کے نتیجہ میں ایرانیوں کو شکست دی جاتی ہے اور مسلمان شوش و شوشتر پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں ،حرملہ اور سلمی جو دونوں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی اور مہاجر تھے اس فتحیابی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ۔
وہ مزید کہتا ہے :
نہاوند کی جنگ میں خلیفہ عمر ،حرملہ و سلمی اور اپنے دوسرے فوجی کمانڈ روں کو لکھتے ہیں کہ : سرحدوں کا خیال رکھیں اور وہیں ٹھہریں ۔لیکن ان دو مہاجر و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں نے اس حکم پر اکتفا نہیں کی بلکہ ایرانیوں پر اپنے پے در پے حملوں کے نتیجہ میں کافی علاقوں پر قبضہ کر لیا اور اصفہان اور پارس کے اطراف تک پیش قدمی کی اور نہاوند میں لڑنے والے ایرانیوں کو رسد اور مدد پہنچنے کے راستے کاٹ کر رکھ دئے ۔یہاں پر سیف کے اشعار کو جو اس نے اپنے جعلی صحابی کی زبان پر جاری کئے ہیں نقل کیا گیا ہے ۔
یہ اس افسانہ کاخلاصہ تھا جو سیف بن عمر تمیمی نے اپنے دو جعلی صحابیوں ،حرملہ اور سلمی کے لئے تخلیق کیا ہے اور اپنے خاندان تمیم کے افتخارات میں اضافہ کرنے کی غرض سے اس جھوٹ کو گڑھا ہے وہ اپنے اس خاندانی تعصبات کی بناء پر تما م دنیا کو رسوا و بدنام کرنے لئے تیار ہے ،ایک امت کی تاریخ کی تو بات ہی نہیں !!
سیف کی روایتوں اور تاریخی حقایق کا موازنہ
اب ہم حقیقت کو پانے کے لئے اور ایران پرحملہ کے آغاز کی کیفیت کے سلسلے میں تاریخ کی دوسری کتابوں ،منجملہ تاریخ بلاذری کی طرف رجوع کرتے ہیں :
بلاذری اپنی کتاب ''فتوح البلدان '' میں لکھتا ہے :
خلیفہ عمر ابن خطاب نے خاندان ''نوفل بن عبد مناف'' کے ہم پیمان '' عتبہ بن غزوان '' کو آٹھ سو سپاہیوں کی سر کردگی میں بصرہ کی طرف روانہ کیا ۔عتبہ ایران کی سرزمین میں پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے خریبہ ( ویرانہ)(۱) کے مقام پر پہنچا اور.....
یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :
اس کے بعد عتبہ نے ''ابلہ'' کی طرف کوچ کیا اور وہاں کے لوگوں سے نبرد آزما ہوا۔ایک شدید جنگ کے بعد اس علاقہ پر قبضہ کرکے دشمن کو فرات کی طرف پسپا کردیا۔اسلامی فوج کے ان حملوں کے ہراول دستے کی کمانڈ ''مجاشع بن مسعود'' کے ہاتھ میں تھی۔اس جنگ میں فرات کے اطراف بھی فتح کئے گئے ۔اس کے بعد عتبہ مدائن کی طرف روانہ ہوا۔
مذار کے ''سرحدبان'' نے عتبہ سے جنگ کی دونوں فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی ۔سر انجام خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو دشمنوں پر فتح وکامرانی عطاکی۔سرحد بان کے تمام سپاہی یا قتل کئے گئے یا دریا میں غرق ہوگئے ۔خود سرحد بان پکڑا گیا اور عتبہ کے حکم سے اس کا سرتن سے جدا کردیاگیا۔
اس کامیابی کے بعد عتبہ نے صحرائے میشان کی طرف لشکرکشی کی ،کیونکہ ایرانی ایک بڑا لشکر لے کر وہاں پر انتظار کررہے تھے ۔عتبہ دشمن کی فوج کے شیرازہ کو بکھیرنے کے لئے اور ان کے دلوں
____________________
۱)۔ جنگ کی ابتدا میں '' خریبہ'' ایک آباد شہر تھا۔لیکن مثنی کے مسلسل اور پے در پے حملوں کے نتیجہ میں ویران ہوکر رہ گیاتھا۔بعد میں یہ شہر ''خریبہ''یعنی ویرانہ کے نام سے مشہور ہوا۔شہر بصرہ اسی ویرانہ کے کنارے پر تعمیر کیاگیاہے۔
میں اسلامی فوج کے حملے کا خوف ڈالنے کے لئے ایک ہراول دستے کے ہمراہ ان پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا ۔خدائے تعالیٰ نے بھی اس کی مدد کی اور وہ کامیاب ہوا۔اس اچانک حملہ میں ایرانیوں کے تمام مقامی کسان اور حکمران مارے گئے ۔
عتبہ نے دشمن کو شکست دینے کے بعد فرصت کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور تیزی کے ساتھ خود کو شہر''ابرقباد'' پہنچادیا اور اسے بھی فتح کرلیا۔
بلاذری اپنی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر لکھتاہے :
١٤ھ میں خلیفہ عمر نے عتبہ کو حکم دیا کہ عراق میں مسلمانوں کے لئے ایک شہر تعمیر کرے ۔عتبہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ''خریبہ'' کے نزدیک سرزمین بصرہ کا انتخاب کرکے نَے کی لکڑی کے گھر، مسجد،گورنرکی عمارت ،جیل خانہ اور عدالت کی عمارت تعمیر کی۔
عتبہ نے شہر بصرہ کو تعمیر کرنے کے بعد فریضہ حج انجام دینے کی غرض سے مکہ مکرمہ کے لئے رخت سفر باندھا اور اپنی جگہ پر '' مجاشع بن مسعود'' کو جانشین مقرر کیا۔چونکہ اس وقت ''مجاشع بن مسعود'' بصرہ میں موجود نہ تھا،اس لئے اس کے نائب کے طور پر ''مغیرہ ابن شعبہ'' کو بصرہ کی زمام حکومت سونپی گئی۔
چونکہ میشان کامقامی حکمران اسلام سے نافرمانی کرکے کافر ہوگیاتھا ۔اس کئے مغیرہ نے اس سے جنگ کی اور مذکورہ علاقہ کے کسانوں اور حکمرانوں کو قتل کرکے علاقہ میں امن وامان برقرار کیا اور اس کی رپورٹ خلیفہ عمر کوبھیج دی۔
شہر ''ابر قباد'' کے لوگوں نے بھی بغاوت کی ۔مغیرہ نے وہاں پر بھی فوج کشی کی اور جنگ کے ذریعہ دوبارہ اس شہر کو فتح کیا ۔
آخر میں بلاذری لکھتاہے :
عتبہ،فریضہ حج انجام دینے کے بعد بصرہ کی طرف لوٹتے ہوئے راستے میں فوت ہوگیا اور خلیفہ عمر نے بصرہ کی حکومت ''مغیرہ بن شعبہ'' کو سونپی۔
مدائنی لکھتاہے:
ایران کے لوگ میشان،صحرائے میشان ،فرات اور ابرقباد کے تمام علاقوں کو میشان کہتے ہیں
ایک ''امین ''گورنر!!
بصرہ پر حکومت کے دوران مغیرہ نے خاندان بنی ہلال کی ''ام جمیل '' نامی ایک شوہر دار عورت سے ناجائز تعلقات قائم کئے تھے ۔اس عورت کا شوہر قبیلۂ ثقیف سے تعلق رکھتا تھااور اس کا نام حجاج بن عتیک تھا ۔
چند مسلمان ان دونوں کے اس بھید سے آگاہ ہوئے اور ان کی تاک میں رہے ۔جب یہ خلیفہ کاامین گورنر ''مغیرہ '' ''ام جمیل'' کے پاس چلا گیا ،تو تھوڑی ہی دیر میں تاک میں بیٹھے ہوئے لوگ اچانک اس کے کمرے میں داخل ہو گئے اور ان دونوں کو عریاں ،شرمناک اور رسوائی کے عالم میں رنگے ہاتھوں پکڑا لیا !!
یہ لوگ مدینہ جاکر خلیفہ سے ملے اور روئداد کو جیسے دیکھا تھا من وعن خلیفہ کی خدمت میں بیان کیا ۔ عمر نے مغیرہ کو مدینہ بلایا اور ابو موسیٰ اشعری کو اس کی جگہ پر بصرہ بھیج دیا۔
مغیرہ کی داستان شاہدوں کی خلیفہ کے سامنے شہادت دینا ،خلیفہ کا رد عمل ،اس کا حیرت انگیز فیصلہ اور اس ماجرا کا خاتمہ ایک مفصل اور لمبا قصہ ہے ۔ اس کی تفصیلات آپ کتاب '' عبداللہ ابن سبا کی پہلی جلد کے '' مغیرہ ابن شعبہ کی زنا کاری کے عنوان سے لکھے گئے واقعات میں پڑھ سکتے ہیں ۔
بلاذری کہتا ہے :
ابو موسیٰ اشعری ١٦ھ میں مغیرہ ابن شعبہ کے بعد بصرہ کا گورنر مقرر ہوا ۔اس نے دجلہ کے اطراف میں موجود تمام آبادیوں کی جانچ پڑتال کی اور اسے معلوم ہوا کہ وہاں کے باشندے فرمانبرداری پر آمادہ ہیں ،اس لئے حکم جاری کیا کہ اس علاقہ کی زمینوں کی پیمائش کرکے ان کے لئے خراج کی مقدار معین کی جائے ۔
اہواز کے علاقوں کی فتح کے بارے میں بلاذری نے اس طرح لکھا ہے :
مغیرہ بن شعبہ جب عتبہ بن غزوان کے جانشین کی حیثیت سے بصرہ میں گورنر تھا ،اس نے ١٥ھ کے اواخر اور ١٦ھ کے اوائل میں اہواز پر حملہ کیا اور سوق اہواز کے مقام پروہاں کے مقامی حکمراں '' فیروزان '' سے جنگ کی اور سرانجام ایک رقم حاصل کرکے اس سے صلح کر لی۔
'' فیروزان'' نے مغیرہ کے جانشین ابوموسیٰ اشعری کی حکومت کے دوران اپنے معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے خراج ادا کرنے سے پہلو تہی کی ۔ ابو موسیٰ نے اس سے جنگ کی اور ١٧ھ میں سوق اہواز اور نہرتیری کو فتح کرکے اپنے مقبوضہ علاقوں میں شامل کر لیا۔
بلاذری ،واقدی اور ابو مخنف سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :
ابو موسیٰ نے اہواز کی طرف لشکر کشی کی ۔وہ ایران کے مختلف علاقوں کو یکے بعد دیگرے فتح کرتے ہوئے پیش قدمی کرتا جاتا تھا اور ایرانی بھی مقابلہ کی تاب نہ لاتے ہوئے بھاگتے جاتے تھے وہ اس طرح اپنی زمینیں چھوڑ کر پسپائی اختیار کرتے جاتے تھے ۔ اس کے نتیجہ میں ابو موسیٰ اشعری نے اس علاقہ کی تمام زمینوں پر اپنا قبضہ جما لیا ۔اس وقت وہ صرف شوش ،استخر ،مناذر اور رامہرمز کو فتح نہ کر سکا ۔
بعد میں ابو موسیٰ نے مناذر کو اپنے محاصرہ میں لے لیا تھا کہ اسے خلیفہ کا حکم ملا کہ اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر کرکے شوش پر حملہ کرے ۔ابو موسیٰ نے خلیفہ کے حکم تعمیل کرتے ہوئے '' ربیع بن زیاد حارثی '' کو اپنی جگہ پر مقرر کرکے شوش پر چڑھائی کی اور جنگ کرکے اس جگہ کو فتح کیا سر انجام ''بڑے اور چھوٹے مناذر '' دونوں کو مسلمانوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ابو موسیٰ کے حکم سے عاصم بن قیص نے وہاں کی زمام حکومت سنبھالی ۔ابو موسیٰ نے '' سوق اہواز'' کی حکومت کی باگ ڈور انصار کے ہم پیمان جندب فزاری کے حوالہ کی ۔
شوش پر اس طرح قبضہ کیا کہ ابو موسیٰ نے شوش کا محاصرہ کیا ،محاصرہ کو رفتہ رفتہ تنگ تر کرتا گیا جب محاصرہ میں پھنسے لوگوں کے کھانے پینے کے ذخائر ختم ہوئے ،تومجبور ہوکر انہوں نے عاجزانہ طور پر ابو موسیٰ سے صلح کی درخواست کی ۔ابو موسیٰ نے ان کی صلح کی درخواست اس شرط پرمنظور کی کہ محاصرہ میں پھنسے لوگوں میں سے صرف ایک سو افراد کو امان ملے گی محاصرہ میں پھنسے لوگوں نے مجبور ہوکر اسے قبول کیا ۔جب قلعہ کے دروازے کھولے گئے تو ان میں سے صرف ایک سو آدمی صحیح وسالم بچ کر نکلے اور شوش کے باقی تمام لوگ اور سپاہی قتل عام کردیئے گئے ۔
ابو موسیٰ نے رامہرمزکے باشندو ں سے آٹھ یانو لاکھ درہم وصول کرنے کے عوض ان سے صلح کی ۔لیکن رامہرمزکے باشندوں نے ابو موسیٰ کی حکومت کے آخری دنوں میں بغاوت کی۔اس بغاوت کو بری طرح کچل دیا گیا وہاں کے باشندے پھر سے اطاعت کرنے پر مجبور ہوئے۔
بلاذری نے شوشتر کی فتح کے بارے میں تفصیل سے حالات درج کئے ہیں ۔جس میں سپہ سالاروں ،کمانڈروں اور میدان کارزار کے ایک ایک جنگجو کے نام تک ذکر کئے ہیں لیکن کہیں پر حرملہ ،سلمی ،کلیب اور غالب کا نام و نشان نہیں پایا جاتا اور اسی طرح فتح نہاوند میں بھی ان کا کہیں ذکر تک نہیں ہے ۔
اس عالم نے مذکورہ علاقے کے تمام حکام ،فرماں روااورخلیفہ عمر کے کارندوں کے نام درج کئے ہیں ،مثال کے طور پر ''عاصم بن فیض'' مناذرپر ،'' ثمرہ ابن جندب فزارسوق اہواز پر ۔''مجاشع بن مسعود'' بصرہ کی سر زمینوں پر ۔'' حجاج بن عتیک '' فرات پر ،خلیفہ عمر کے اقرباء میں سے '' نعمان بن عدی '' نامی ایک شخص دجلہ کی سرزمینوں پر اور '' ابومریم حنفی '' رامہر مز پر حکومت کرتے تھے ۔
اسی طرح بلاذری نے خلیفہ عمر کے بعض عارض اور دائمی کارندوں کے نام بھی اپنی کتاب میں درج کئے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کی کیفیت اور ان کی فرماں روائی کے تحت علاقوں کے بارے میں مکمل تفصیلات ذکر کئے ہیں ۔لیکن ان میں کہیں بھی سیف کے افسانوی دلاوروں اور سورمائوں کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا !!
لیکن ''بنی عم'' کے بارے میں ابو الفرج اصفہانی نے اپنی کتاب '' اغانی'' میں انھیں قبیلۂ تمیم سے نسبت دے کر اس طرح لکھا ہے :
وہ حکومت عمر بن خطاب کے زمانے میں بصرہ میں خاندان تمیم سے مل کر اسلام لائے ہیں ۔اس کے بعد انھوں نے دوسرے مسلمانوں کے دوش بدوش مشرکین سے جنگ کی اور اچھی جنگ لڑی ہے اور عرب ان سے یوں کہتے تھے:
اگر چہ تم لوگ عرب نہیں ہو ،لیکن تم ہمارے بھائی ہمارے خاندان کے افراد ،ہمارے دوست اور ہمارے بنی عم ہو ۔
اسی سبب سے مذکورہ قبیلہ کے لوگوں کو '' بنی عم'' کہا جاتا تھا اور انھیں اعراب محسوس کیا جاتا تھا
نیز کہا جاتا ہے کہ چوں کہ '' جریر'' و '' فرزدق'' دو شاعروں کے درمیان کچھ ان بن ہو گئی اور وہ ایک دوسرے کے خلاف بد گوئی اور ہجو کہنے پر اتر آئے اس لئے ان کے خاندانوں میں بھی ایک دوسرے سے ٹھن گئی ۔اس دوران خاندان بنی عم کے افراد لاٹھی لے کر خاندان فرزدق کی مدد کے لئے آگئے ۔
''جریر''نے اس سلسلے میں یہ شعر کہے ہیں :
فرزدق کی،لاٹھی لے کر آنے والے بنی عم کے علاوہ کوئی اور مدد کرنے والا نہیں تھا !!بنی عم والو: دور ہو جائو اہواز اور نہر تیری تمھاری جگہ ہے اور عرب تمھیں نہیں پہچانتے !
کہا جاتا ہے کہ بعض شعراء نے ''بنی ناحیہ'' کی ہجو کر کے انہیں خاندان بنی عم سے تشبیہ دی ہے اور انہیں قریش سے منسوب کر کے طعنہ زنی کرتے ہوئے اس طرح اشعار کہے ہیں :
ہم قریش کے ''بنی سام''کو ''بنی عم'' کے مانند جانتے ہیں ۔
بحث و تحقیق کا نتیجہ
ہم نے دیکھا کہ سیف کہتا ہے ، خالد بن ولید نے حرملہ ، مثنی ، سلمی،اور مذعور کو خط لکھا تا کہ ''ابلّہ'' کے مقام پر اپنی سپاہ کے ساتھ اس سے ملحق ہوجائیں ۔اور کہتا ہے کہ جنہوں نے ایرانیوں سے لڑنے کے لئے پہلی بار ایران کی سرزمین پر قدم رکھا، وہ حرملہ ، سلمی اور دیگر دو تمیمی سردار تھے جو نیک مہاجر اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی محسوب ہوتے تھے، ااوران کے ماتحت چار ہزار فوجی تھے، وہ اطد، جعرانہ اور نعمان میں داخل ہوئے اور ایرانیوں سے جنگ کرتے ہوئے پیش قومی کرکے ورقائ، ہرمزگرد اور فرات باذقلی کو فتح کرلیا۔
جبکہ بلاذری نے بصرہ اور خوزستان کے تمام سپہ سالاروں اور گورنروں کو اس ترتیب سے جیسے وہ بر سرکار آئے ،بصرہ کے بانی ''عتبہ بن غزوان'' جو آٹھ سو سپاہیوں کے ساتھ وہاں پر آیا تھا سے لے کر اُن کے آخری نفر تک تمام مشخصات اور کو ائف کے ساتھ ایک ایک کر کے نام لیکر ان کا ذکر کیا ہے، ان کی فتوحات اور خدمات کی تشریح کی ہے۔ لیکن سیف کے دوسور ما و صحابیوں کا ان میں کہیں نام ونشان نہیں ملتا!! اس کے علاوہ اطد ، جعرانہ اور نعمان جیسی جگہوں کا بھی کہیں ذکر نہیں ملتا۔
ہم نے دیکھا کہ کتاب ''معجم البلدان'' کے مؤلف ، حموی نے سیف کی باتوں پر اعتماد کر کے اس کے خیالی مقامات کا اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے اور اپنے مطالب کے ثبوت میں ان کی دلاوریوں کا ذکر بھی شعر کی صورت میں پیش کیا ہے!
عبد المؤمن نے بھی حموی کی تقلید کرتے ہوئے انہی مطالب کو اپنی کتاب ''مراصد الاطلاع'' میں نقل کیا ہے۔
چونکہ حموی کا اعتقاد یہ ہے کہ ''جعرانہ'' نام کی دوجگہیں ہیں ، ان میں سے ایک جگہ حقیقتا ًحجاز میں موجود ہے اور دو سری جگہ جس کا سیف نے پتا دیا ہے وہ خوزستان میں واقع ہے .اس لئے حموی نے اسی اعتقاد سے اس مشترک نام کو اپنی کتاب ''المشترک' میں سیف کی اسی روایت کی سند کے ساتھ درج کیا ہے۔
سیف، مناذر اور تیری نام کے دو علاقوں کو اپنے افسانوی اورخیالی پہلوانوں ، خاندان بنی عم کے غالب اور کلیب کے ذریعہ فتح کرکے ان کی نسبت کو خاندان تمیم تک پہنچاتا ہے ۔ اور سوق اہواز کی فتح کو اپنے ایک دوسرے خیالی و افسانوی سورما اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی ''ہرقوص بن زہیر'' سے منسوب کرتا ہے۔ اور آخر خاندان تمیم کے چار نامور سرداروں کو الگ الگ عہدے اس ترتیب سے سونپتا ہے :مناذر اور تیری کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈ حرملہ اور سلمی کے حوالہ کرتا ہے اور ان دو علاقوں کی حکومت خاندان بنی العم کے دو سرداروں کلیب اورغالب کے ہاتھوں میں دیتا ہے اور سر انجام حرملہ و سلمی کو نمایندوں کے عنوان سے خلیفہ کی خدمت میں بھیجتا ہے تاکہ تمیمیوں کی ناگفتہ بہ حالت کی تفصیل خلیفہ کے حضور بیان کریں ۔اس کے بعد سیف ادعا کرتا ہے کہ خلیفہ عمر نے حکم دیا کہ خاندان کسریٰ کی جاگیر خاندان تمیم میں تقسیم اور ان کے نام درج کی جائے !اور اس طرح ایرانی بادشاہوں کی جاگیر و جائداد تمیمیوں کو منتقل ہوتی ہے !!
سیف ،حرملہ و سلمی کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو صحابی ،مہاجر ،فہم و فراست کے مالک اور حالات پر تسلط رکھنے والوں کی حیثیت سے پہچنواتا ہے اور اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اپنے افسانے کی ایک الگ فصل میں کسریٰ کو بھڑکاتا ہے کہ ایرانیوں کے قومی جذبات مشتعل کرکے ایک منظم فوج آمادہ کرے ساتھ ہی ساتھ اہواز کے باشندوں سے بھی مدد طلب کرے تاکہ اس کے افسانوی دلاور حرملہ اور سلمی اس زبردست خطرہ کا احساس کرکے اس روئیداد کی رپورٹ خلیفہ کو پہنچاکر کسریٰ کے منصوبے کو نقش بر آب کردیں ۔
سیف ،شوش اور شوشترکی جنگوں میں اپنے دو افسانوی اور خیالی کرداروں حرملہ اور سلمی کو اہم کام سونپتے ہوئے مناطق اصفہان اور پارس پر ان کے بے رحمانہ حملوں کی جو تشریح کرتا ہے اور فوجی اہمیت کے دوراستوں پر ان کے تسلط اور نہاوند کی جنگ میں دشمن کی کمک رسانی کے راستے کو کاٹ دینے کی جو توصیف کرتا ہے ۔یہ سب کے سب اس کے افسانے اور خیال بندیاں ہیں ۔
لیکن سیف کے اس قدر جھوٹ اور خیال بندی کے مقابلے میں بلاذری لکھتا ہے :
بصرہ کے گورنر کا جانشین '' مغیرہ بن شعبہ ثقفی'' سوق اہواز کے باشندوں سے صلح کرتا ہے ۔ جب ابو موسیٰ اشعری کی حکومت کے دوران سوق اہواز کے باشندے معاہدے سے پہلو تہی کرتے ہیں تو ابو موسیٰ اشعری ان کے ساتھ سخت جنگ کرتا ہے اور اس جگہ کو نہر تیری تک اپنے قبضے میں کر لیتا ہے ۔
ابو موسیٰ اشعری کا جانشین '' ربیع بن زیاد حارثی '' مناذر کبریٰ پر قبضہ کرتا ہے ۔اس کے بعد ابو موسیٰ اس جگہ کی حکومت '' عاصم بن قیس '' کو اور ''سوق اہواز ''کی حکومت ثمرة ابن جندب فزاری کے حوالہ کرتا ہے ۔
ہم نے دیکھا کہ بلاذری کی کتاب میں فتح شوش اور شوشتر اور نہاوند کے واقعات کی مفصل تشریح کی گئی ہے نیز دجلہ اور اہواز کے اطراف کے حکام کے نام ترتیب سے ذکر کئے گئے ہیں ،شعرا کی دلاوریوں پر مشتمل اشعار مقام و منزلت کے مطابق درج کئے گئے ہیں ،لیکن سیف کے افسانوی پہلوانوں کا کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دیتا اور تمیم کے جنگجوئوں ،ان کے رزمی اشعار اور ان مقامات و شہروں کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں ملتا جن کا سیف نے نام لیا ہے !کیوں کہ وہ تمام حکمران اور سردار جن کا بلاذری نے نام لیا ہے ،قبائل مازن ،ثقیف ،اشعری ،بنی حارثہ ،بنی سلیم اور فزارہ سے تعلق رکھتے تھے نہ کہ خاندان تمیم اور سیف بن عمر سے !!
اب ،اس کا جواب کہ سیف نے کیوں ایسا کام کیا ہے ؟
جہاں تک ہمیں سیف کی ذہنیت اور مزاج کا علم ہے خاندانی اور مذہبی تعصبات اس کے زندیقی ہونے کے پیش نظر اسے آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے ۔وہ نہیں چاہتا کہ اپنے خاندان کو ان تمام فخر و مباہات سے محروم دیکھے ،لہٰذا وہ ان تمام فتوحات کو براہ راست اپنے قبیلہ یعنی خاندان تمیم کے افسانوی دلاوروں کے نام ثبت کرتا ہے ۔
وہ ایسے شہر اور قصبوں کی تخلیق کرتا ہے جنھیں تمیمیوں نے فتح کیا ہے ،تمیمیوں کی لڑی ہوئی جنگوں اور ان کی فتوحات کے افسانے تخلیق کرتا ہے حتیٰ اس حد تک دعویٰ کرتا ہے کہ جن فوجیوں نے پہلے بار سرزمین ایران پر قدم رکھے اور ایرانی فوجوں سے نبرد آزما ہوئے تمیمی تھے !!
ان تمام افسانوی افتخارات کو شواہد و دلائل کے ساتھ رزمیہ شعراء کی زبان پر جاری کرکے خاندان تمیم سے منسوب کرتا ہے اور سرانجام ایرانی بادشاہ کی جاگیر کو بھی خلیفہ عمر سے وکالت حاصل کرکے خاندان تمیم کو بخش دیتا ہے ۔اس طرح وہ ان افتخارات کو اپنے قبیلہ کے نام ثبت کرکے ایک امت کی تاریخ کا مذاق اڑاتا ہے !!
سیف نے خاندان تمیم کے بصرہ میں ہمسایہ اور ہم پیمان ،خاندان '' بنی العم'' کے لئے شجرۂ نسب بھی گڑھ لیا ہے اور اس خاندان کا نام بنی العم رکھنے کے سلسلے میں ایک دلچسپ افسانہ تخلیق کرلیا ہے اور اپنے دعوے کے ثبوت میں چند اشعار بھی لکھے ہیں ۔اس کے علاوہ کارناموں ،جنگوں ، جنگی منصوبوں اور شجاعتوں کے ایک مجموعہ کو خاندان بنی عم سے منسوب کرتاہے تاکہ اس کی خیال بندی اور افسانہ سازی کی نعمت سے یہ خاندان بھی محروم نہ رہے ۔
سیف کے اتنی زحمتیں اٹھا کر افسانوں کو خلق کرنے کے بعد کیا شاعر عرب '' جریر '' کو یہ کہنا مناسب تھا !!
اے خاندان بنی عم !دور ہو جائو اہوازاور نہر تیری تمھاری جگہ ہے اور عرب تمھیں نہیں جانتے !!
سیف کے افسانوی شعرا
سیف نے ان افسانوں میں خاندان تمیم سے درج ذیل نو شعراء کی تخلیق کی ہے تاکہ وہ قبیلہ تمیم کی عظمت و افتخارات پر داد سخن دیں اور اس قبیلہ کی شہرت کو چار چاند لگائیں ۔یہ ایسے شعراء ہیں جن کا سراغ شعرو ادب کے کسی دیوان میں نہیں ملتا اور ان کے رزمیہ اشعار سیف کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتے :
١۔ ملاحظہ فرمائیے کہ یہ '' مرة بن مالک تمیمی '' کا بھائی ہے جو اپنے بھائی '' مرة'' کی سرزنش کرتے ہوئے یوں کہتا ہے :
عزیز ''مر'' گویا اندھا ہو چکا تھا جو مال و ثروت کے لالچ میں راہی
ملک ایرن ہوا
٢۔ اور یہ ''مر'' کا دوسرا بھائی '' یربوع بن مالک '' ہے جوکہتا ہے :
قبیلہ ٔ ''معد'' و ''نزار'' کے سردار اپنے فخر و مباہات کا اظہار کرتے وقت جانتے ہیں کہ ہمارا قبیلہ '' مضر '' دوسرے قبائل کو روشنی بخشنے والا ہے ۔
یہاں تک کہتا ہے :
اگر عربوں کے افتخارات کی لہریں اپنی خود ستائی میں موجیں ماریں گی تو ہمارے ریوں کے افتخارات کی لہریں سب سے بلند ہوں گی۔
٣۔ ''ایوب بن عصبہ '' نے یہ اشعار کہے ہیں :
ہم قبیلۂ تمیم والے ایسے بادشاہ ہیں جنھوں نے اپنے اسلاف کو عزت بخشی ہے اور ہم نے ہر زمانے میں دوسروں کی عورتوں کو اسیر بنایا ہے۔
٤۔ یہ ''حصین بن نیار حنظلی ''سیف کا جعلی شاعر اور صحابی ہے جو کہتا ہے:
جب ''دلوث'' سے بالاتر ایرانیوں کا ہمارے ایک فوجی دستہ سے آمنا سامنا ہوا تو (ہمارے فوجیوں کے )جوش و خروش کو دیکھ کر ان کی آنکھیں چکا چوندھ ہوگئیں ۔
٥۔ ''غالب بن کلیب'' یوں کہتا ہے:
ہم ''مناذر'' کی جنگ میں کافی سرگرم تھے جبکہ اسی وقت کلیب اور وائل نے ''تیری'' کے باشندوں کو بے بس کر کے رکھ دیا تھا۔
یہ ہم تھے ، جنھوں نے ''ہرمزان'' اور اس کی فوج پر فتح پائی اور ان کے کھانے پینے کی اشیاء سے بھری آبادیوں پر قبضہ جمایا۔
٦۔ اور یہ ''اسود بن سریع تمیمی'' سیف کا تخلیق کیا ہوا شاعر اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی ہے، جو کہتا ہے:
تیری جان کی قسم! ہمارے رشتہ دار امین تھے اور جو کچھ ان کے حوالے کیا جاتا تھا، اس کا تحفظ کرتے تھے۔
''ہرمزان '' اپنے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوکر میدانِ کارزار سے فرار کر گیا اور اس نے مجبور ہوکر اہواز کو ترک کردیا۔
٧۔ سیف کا ایک اور جعلی صحابی اور شاعر ''حرقوص بن زہیر'' ہے ، جو کہتا ہے:
ہم نے ''ہرمزان'' اور اس کے مال و متاع سے بھرے شہروں پر فتح پائی۔
٨۔ سیف کا ایک اور جعلی صحابی و مہاجر ''سلمی بن قین'' کہتا ہے:
کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ''ورکائ''کے مقام پر ''انوش جان'' پر ہمارے ہاتھوں کیا گزری؟
٩۔ اور یہ سیف کا جعلی مہاجر اور قدیم و مقرب صحابی ''حرملہ بن مریطہ'' ہے جو اس طرح داد سخن دیتا ہے:
'' ہم تمیمیوں نے اپنے سواروں کی تلواروں کی ضرب سے '' میشان '' کے باشندوں کو '' ورکاء '' تک پسپاکر دیا ''
سیف نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ''حرملہ بن مریطہ ''جیسا صحابی تخلیق کیا ہے کہ نہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے دیکھا ہے، نہ پہچانا ہے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے اصحاب حتی تابعین نے بھی اسے نہیں پہچانتے ۔
سیف نے ''حرملہ بن مریطہ ''کو ایک نیک صحابی و مہاجر کے عنوان سے پہچنوایا ہے اور اس کی شجاعتوں اور دلاوریوں کے قصے بیان کئے ہیں تا کہ اس کی باتیں دلوں پر اثر ڈالیں اور اس کے افسانے معتبرکتابوں میں درج کئے جائیں ۔
یہی سبب ہے ،کہ معروف علماء جیسے ،ابن اثیر ،ذہبی اور ابن حجر ،سیف پر اعتماد کرکے اس کی باتوں کی تشریح کرتے ہوئے اپنی معتبر اور قیمتی کتابوں ،اسد الغابہ ،التجرید اور الاصابہ ۔ جو اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی معرفی سے مخصوص ہیں ۔ میں ''حرملہ بن مریطہ ''کی زندگی کے حالات کو درج کئے ہیں اور اسے بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے اصحاب کی فہرست میں قرار دیا ہے ۔
ان علماء نے سیف کی انہی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ''مثنی بن لاحق ''اور ''حصین بن نیار''جن کی داستان اسی کتاب میں آئے گی اور ''حرقوص بن زہیر ''جس کی داستان بیان کی گئی ،کو بھی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی حیثیت سے ذکر کیا ہے ۔
''سلمی بن قین ''کی زندگی کے حالات بھی بیان ہو چکے اور اس کے نیک صحابی اور مہاجر ہونے پر تاکید کی گئی ہے ۔ اور''ابن کلبی ''سے روایت کرکے اس کا شجرہ نسب بھی لکھا گیا ہے ،لیکن ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ اس شجرہ نسب کو ابن کلبی نے سیف سے روایت نقل کیاہے یا کسی اور سے !!
سیف کی ان ہی باتوں پر استناد کرکے ''سمعانی ''اور ''ابن ماکولا''''ایو ب بن عصبہ ''کے بارے میں لکھتے ہیں :
سیف کی کتاب ''فتوح ''میں درج مطالب کے مطابق ''ایوب بن عصبہ''ایک شاعر ہے جس نے نہر تیری میں ''ہرمزان ''سے لڑی گئی جنگ میں شرکت کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سے اشعار بھی کہے ہیں ۔
ابن اثیر نے بھی ''سمعانی ''اور ''ابن ماکولا ''کی عین عبارت کو سند کا ذکر کئے بغیر ''اللباب''نامی اپنی دوسری کتاب میں درج کیا ہے ۔اور ایسا لگتا ہے کہ ''ایوب بن عصبہ ''کے حالات لکھتے وقت ابن اثیر کے سامنے سیف کی کتاب موجود تھی ،جیسا کہ ہم نے حموی کے بارے میں پڑھا کہ کتا ب ''معجم ''میں مطالب لکھتے وقت اس کے پاس ''ابن خاضبہ ''کے ہاتھ کی لکھی ہوئی سیف کی کتا ب موجود تھی ،اور اسی کتاب پر تکیہ کرتے ہوئے اور اس بات کا واضح طور پر اقرار کریے ہوئے اس کے افسانوں اور مقامات کی تشریح کی ہے۔ کیوں کہ یہ افسانے صرف سیف کے یہاں پائے جاتے ہیں ۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے حموی نے سیف کی کتاب ''فتوح ''سے ایسے مطالب اور اشعار بھی نقل کئے ہیں ،جن کے بارے میں طبری نے اپنی تاریخ ''کبیر''میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حموی کی کتاب ''معجم البلدان ''میں سیف کی ایسی احادیث بھی موجود ہیں جو تاریخ طبری میں نہیں پائی جاتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ طبری نے ایسی احادیث کو اہم نہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیاہے ۔
ساتھ ہی جو کچھ طبری نے سیف کی کتا ب سے نقل کیا ہے ،ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون نے بھی ان مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
''زبیدی ''نے اپنی کتاب ''تاج العروس ''میں مادہ ''مرط ''کے بارے میں جو بات لکھی ہے وہ قابل توجہ ہے :
''حرملہ بن مریطہ ''کے بارے میں سیف اپنی کتاب ''فتوح ''میں ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نیک اصحاب میں سے تھا ۔میں (زبیدی )اضافہ کرتا ہوں کہ حرملہ بنی حنظلہ سے تھا اور مہا جرین میں سے تھا ۔ اور یہ وہی شخص ہے جس نے ''مناذر''کو فتح کیا اور ''سلمی بن قین '' کے ہمراہ نہر تیری کو فتح کرنے میں شرکت کی ہے ۔اس کی داستان لمبی ہے ۔
گویا زبیدی نے اس نکتہ کہ طرف توجہ ہی نہیں کی کہ مریطہ کے بارے میں اس کی باقی روایت کامصدر بھی سیف بن عمر ہے یا کوئی ،جب کہ وہ یہ کہتا ہے کہ: میں اضافہ کرتا ہوں
حرملہ کے بارے میں سیف کے افادات
ا۔'' اطد'' '' نعمان '' اور '' جعرانہ '' نام کی تین جگہوں کی تخلیق ،تا کہ ان کا نام جغرافیہ کی کتابوں میں درج ہوکر محققین کی سر گردانی ا ور حیرت کا سبب بنے ۔
٢۔''حرملہ بن مریطہ ''نام کا ایک صحابی و مہاجر تخلیق کرنا ۔
٣۔ایسے میدان کارزار اور فوجی کیمپوں کی تخلیق جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتے تھے ۔
٤۔ خاندان تمیم کے جنگجوئوں کی طرف سے حیرت انگیز اور حساس جنگی منصوبوں کی تخلیق ۔
٥۔خاندان تمیم کو شہرت بخشنے کے لئے فتوحات اور دلاوریوں پر مشتمل رجز خوانیاں اور رزمیہ اشعار تخلیق کرنا ،اوریہ سب حرملہ سے متعلق افسانہ کی برکت سے ہے ۔
نواں جعلی صحابی حرملہ بن سلمی تمیمی
ابن حجر کی غلطی کا نتیجہ
جو کچھ ہم نے یہاں تک حرملہ بن مریطہ کے بارے میں کہا ،وہ ایسے مطالب تھے جو سیف کی روایتوں کے متن میں آئے ہیں ۔ یعنی ان ہی روایتوں کے پیش نظر ،پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی سوانح لکھنے والے مؤلفین نے حرملہ بن مریطہ کے حالات زندگی میں بھی پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی کی حیثیت سے قلم بند کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ سیف کی انہی روایتوں کے پیش نظر طد ، نعمان اور بعرانہ جیسی فرضی اور خیالی جگہیں بھی جغرافیہ کی کتابوں میں درج کی گئی ہیں !
ان حالات کے پیش نظر ابن حجر جیسا دانشور ان مطالب پر اپنی طرف سے بھی کچھ بڑھا کر پیش کرتا ہے ۔ اور ممکن ہے اس کے یہ اضافات اس امر کا نتیجہ ہوں کہ جب ابن حجر سیف کی کتاب ''فتوح'' میں حرملہ و سلمی کا افسانہ پڑھ رہا تھا تو ، یا حرملہ و سلمی کو غلطی سے حرملہ بن سلمی پڑھا ہے یا جو کتاب اس کے ہاتھ میں تھی ، اس میں کتابت کی غلطی سے حرملہ و سلمی کے بجائے حرملہ بن سلمی لکھا گیا ہو اور اس چیز نے ابن حجر کو غلطی سے دو چار کیا ہے !
بہر حال جو بھی ہو ،کوئی فرق نہیں در حقیقت بات یہ ہے کہ ابن حجر نے حرملہ بن سلمی نامی ایک نئے تخلیق شدہ صحابی کے لئے اپنی کتاب '' الاصابہ'' میں جگہ مخصوص کرکے لکھتا ہے :
سیف بن عمر تمیمی اور طبری نے لکھا ہے:
خالد بن ولید نے ١٢ھ میں عراق کی زمام حکومت سنبھالنے کے بعد حکم جاری کیا کہ حرملہ بن سلمی ،مذعور بن عدی اور سلمی بن قین اس سے ملحق ہو جائیں ۔جن کی کمانڈ میں مجموعی طور پر آٹھ ہزار جنگجو تھے ۔
جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ اس زمانے میں رواج یہ تھا کہ سپہ سالار کا عہدہ صحابی کے علاوہ کسی اور کونہیں سونپا جاتا تھا ۔(ز)
ابن حجر اپنی بات کے آخرمیں حرف ''ز '' اس لئے لایا ہے کہ واضح کرے کہ اس مطلب کو کسی اور مورخ نے ذکر نہیں کیا ہے ،بلکہ یہ حصہ اس کا زیادہ کیا ہو ا ہے ۔
سیف کے افسانوں کی تحقیق
سیف کی روایتوں کے اسناد کی جانچ پڑتال سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ خود ان س داستانوں کا خالق ہے اور مندرجہ ذیل مطالب ہماری اس بات کی حقانیت کو ثابت کرتے ہیں ۔
سیف جب اپنی خاص روش کے تحت کوئی افسانہ لکھتاہے تو اس کے لئے کسی دلاور یا دلاوروں کو خلق کرتا ہے ، پھر کسی گواہ یا کئی گواہوں کو خلق کرتا ہے تاکہ وہ ان دلاوروں کی شجاعتوں اور دلاوریوں کے شاہد رہیں ، پھر ان تمام مطالب کو ایسے روایوں کی زبانی روایت کرتا ہے جو ایک ددسرے سے سنتے ہیں اوراس طرح اس سلسلہ کو اپنے افسانے کے زمانے سے متصل کرتا ہے !
ہم ان گواہوں کے نام اور اسناد کی جستجو و تحقیق کے سلسلے میں مجبور ہو کر تاریخ اور صحابیوں کے حالات پر مشتمل کتابوں اور انساب کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اتفاق سے کبھی کبھی سیف کے راویوں کے نام سے مشابہ راویوں سے مواجہ ہوتے ہیں اور ایسے موقع پر اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں ۔
کیا واقعا ًیہ راوی وہی ہے جس کانام سیف نے اپنے افسانے کی سند میں لیا ہے ؟ لیکن یہ شخص سیف سے برسوں پہلے مر چکا ہے لہٰذا ممکن نہیں ہے کہ سیف نے اسے دیکھا ہو اورکہ اس قسم کے مطالب اس نے سنے ہوں ۔
لیکن اس کا یہ دوسرا راوی بھی سیف کے مرنے کے برسوں بعد پید ا ہوا ہے اس لئے ممکن نہیں ہے سیف نے اسے دیکھا ہو اور اس سے بات کی ہو !!
اس کے علاوہ دیگر مشابہ و ہمنام راوی بھی کنیت اور القاب کے لحاظ سے سیف کے راویوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں ۔
جوکچھ ہم نے کہا یہ اس صورت میں ہے کہ ایسا نام کہیں موجود ہو جس کا مشابہ سیف نے اپنی حدیث کی سند کے عنوان سے ذکر کیا ہو ، اگر ایسا نہ ہو تو کام اور بھی مشکل تر ہو جاتا ہے ، کیوں کہ ایسی صورت میں ہم مذکو رہ مصادر کے علاوہ ادب ، حدیث ،سیرت اور طبقات وغیرہ کی کتابوں کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہوں گے تاکہ تحقیق کرکے ایسے راویوں کے وجود یا عدم کے سلسلے میں اطمینان حاصل کریں ۔
ہم نے سیف کے گزشتہ افسانوں اور احادیث میں مشاہدہ کیا کہ وہ اپنے راویوں کے طور پر اکثر محمد ،طلحہ ، مھلب ، عمرو ، اور دیگر چند مجہول الہویہ افراد کو پیش کرتا ہے ۔ ان افراد کو پہچاننے کے لئے تحقیق کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ، کیوں کہ یہ محمد کون ہے ؟ اگر سیف کے تصور کے مطابق یہ وہی محمد بن عبداللہ بن سواد نویرہ ہے کہ طبری نے سیف سے نقل کرکے اس کی روایت کی گئی ٢١٦،احادیث اپنی تاریخ کبیر میں درج کی ہیں ، تو وہ سیف کا خلق کردہ راوی ہے ۔ ہم نے مذکورہ بالا مصادر میں اس کا کہیں نام و نشان نہیں پایا ۔
طلحہ ،کیا یہ وہی سیف کے خیالات کی تخلیق طلحہ بن عبدالرحمن ہے یا کوئی اور طلحہ ؟
اور مھلب ،کہ سیف نے اسے مھلب بن عقبہ اسدی کے نام سے پہچنوایا ہے ۔ اس کی روایت کی گئی ٧٠ ،احادیث تاریخ طبری میں موجود ہیں ۔ اس کا نام حدیث اور رجال کی کتابوں میں کہیں نہیں پایا جاتا۔
و ، عمر کون ہو سکتا ہے؟ کیا یہ وہی عمرو ہے جس کی نحویوں کی زبانی زید کے ہاتھوں پٹائی ہوتی ہے '' ضَرَبَ زَیْد عَمْراً'' یا کوئی اور عمرو ہے ؟
اس افسانہ میں سیف چند دیگر راویوں کا بھی نام لیتا ہے جن کا نام رجال کی کتابوں میں آیا ہے ،جیسے'' عبد اللہ بن مغیرہ عبدی ''اور '' ابوبکر ہذلی ''
کیا سیف نے ان دو راویوں کو دیکھا ہے اور ان کی باتوں کو سنا ہے ؟ یا یہ کہ صرف ایک افسانہ گڑھا کیا ہے اور ان کو دیکھے بغیر یا اس کے بغیر کہ انھوں نے سیف کو دیکھ کر اس سے کوئی بات کی ہو ، ان سے نسبت دے دی ہے ؟!یہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا ؟
اب جب کہ واضح ہو چکاا کہ سیف کی احادیث صرف اس کے ذہن کی پیدا وار ہیں تو ذرا اس افسانہ کی اشاعت کرنے والے منابع پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں :
١۔ امام المؤرخین ،محمد بن جریر طبری نے اپنی تاریخ کبیر میں ١٢،٢١ھ کے حوادث کے ضمن میں سند کے ذکر کے ساتھ ۔
٢۔ ابن ماکولا نے اپنی کتاب '' اکمال '' میں سند کی ذکر کے ساتھ۔
٣۔ سمعانی نے اپنی کتاب '' انساب'' میں سند کے ساتھ
٤۔ یاقوت حموی نے اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں سند کے ساتھ۔ اس بیان کے ساتھ کہ ابن خاضبہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی سیف کی کتاب فتوح اس کے سامنے تھی ۔
درج ذیل دانشوروں نے مذکورہ علماء سے مطالب نقل کئے ہیں :
٥۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب '' اسد الغابہ'' میں براہ راست سیف بن عمر اور طبری سے نقل کیا ہے
٦۔ ذہبی نے اپنی کتاب '' تجرید اسماء الصحابہ '' میں کتاب اسد الغابہ سے نقل کیا ہے ۔
٧۔ ابن حجر نے کتاب '' الاصابہ '' میں طبری سے ۔
٨۔ عبدالمؤمن نے کتاب '' مراصد الاطلاع '' میں یاقوت حموی سے ۔
٩۔ ابن اثیر نے کتاب '' اللباب '' میں سمعانی سے ۔
١٠۔ دوبارہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں طبری سے نقل کیا ہے
١١۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں طبری سے ۔
١٢۔ زبیدی نے کتاب '' تاج العروس '' میں روایت کے ایک حصہ کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
دسواں جعلی صحابی ربیع بن مطربن ثلج تمیمی
صحابی ، شاعر اور رجز خوان
ربیع بن مطر کی سوانح عمری بیان کرتے ہوئے ابن عساکر لکھتا ہے :
ربیع بن مطر ایک ماہر رزمیہ شاعر تھا ، جس نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درک کیا ہے ۔ربیع ،دمشق بیسان اور قادسیہ کی جنگوں کے دوران اسلامی فوج میں حاضر تھا اور اس نے اس سلسلے میں
اشعار کہے ہیں ۔
ابن عساکرمزید لکھتا ہے :
سیف بن عمر سے روایت ہے کہ ربیع بن مطر نے بیسان کی جنگ میں اس طرح اشعار
کہے ہیں :
'' میں نے بیسان کی جنگ میں قلعوں میں مستقر ہوئے لوگوں سے کہا کہ جھوٹے وعدے کسی کام کے نہیں ہوتے ۔
اے بیسان !اگر ہمارے نیزے تمھاری طرف بلند ہو گئے تو تمھیں ایسے دن سے دو چار ہونا پڑے گا کہ لوگ تمھارے اندر رہناپسند نہ کریں گے !
اے بیسان !آرام سے ہو اور اکڑو مت !صلح کا انجام بہتر ہے اسے قبول کرو !
اب جب کہ قبول نہیں کرتے ہو اور بیوقوفوں کی طرف سے سراب کے مانند دی گئی امیدوں کی خوش فہمی میں مبتلا ہو چکے ہو تو اسی حالت میں رہو ۔چوں کہ انھوں نے جنگ کے علاوہ کسی اور چیز کو قبول نہیں کیا ،ہماری اس جنگ ۔ جس سے ہم کبھی منہ نہیں موڑتے، کی بلائیں ان کے سر پر پے در پے نازل ہوئیں ۔
ہم نے ان کا قافیہ ایسے تنگ کر دیا کہ وہ طولانی بد بختیوں ، مصیبتوں اور تاریکیوں سے دو چار ہوئے
ہم نے کسی جنگ میں شرکت نہیں کی مگر یہ کہ ہمارے قبیلہ نے اس کے افتخارات کو خصوصی طور پر اپنے لئے ثبت کیا ہو۔
جب وہ بے بس ہوئے تو انھوں نے ہم سے معافی مانگی ،پھر ہم نے آدھے دن کے اندر ہی ان کے بزرگوں اور سرداروں کو بخش دیا۔
سیف کے کہنے کے مطابق ربیع نے طبریہ کی فتح کے سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :
ہم ان کی سرحدوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ہم ان کے مانند نہیں ہیں جو جنگ سے کتراتے ہیں ۔
وہ ڈرکے مارے اپنے گھروں کے اندر پائے جانے والے ہر سیاہ نقطہ پر تلوار او ر نیزہ سے حملہ کرتے ہیں ۔
ہمارے جوانوں نے بلندیوں سے اترتے ہوئے گروہ گروہ کی صورت میں ان پر حملے کئے اور وہ ڈر پوک ایسے بھاگ رہے تھے جیسے ان پر بجلی گرنے والی ہو ۔
جب ان پر خوف و دحشت طاری ہو گئی تو ہم نے انھیں جھیل کے نزدیک ہونے سے روکا۔
دمشق کی روئداد کو نظم کی صورت میں یوں بیان کرتا ہے :
حمص کے شہر اور رومیوں کے مرغزاروں میں رہائش کرنے والوں سے پوچھ لو کہ انھوں نے ہماری کاری ضرب کو کیسی پائی؟
یہ ہم تھے جو مشرق کی جانب سے کسی رکاوٹ کے بغیر ایک ایک شہر کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے ان تک پہنچے ۔
ہم نے مر غزاروں میں ان کے کشتوں کے پشتے لگا دئے ، اس حالت میں رومیوں نے اپنے مقتولوں کو چھوڑ کر فرار اختیار کیا ۔
عربی گھوڑے ان کو میدان کار زار سے ایسے لے کے بھاگ رہے تھے کہ اپنی جان کی قسم میں کبھی اس کا تصور بھی نہیں کرسلتا تھا ۔
ان گھوڑوں نے انھیں ان کے مقصد و آرام گاہ حمص تک پہنچادیا ۔
ربیع بن مطر نے قادسیہ کی جنگ ،اسلام کے دلاوروں کی توصیف اور میدان جنگ سے فرار کرنے والے ایرانیوں کی تعقیب کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں :
جب میدان دشمنوں سے کھچا کھچ بھرا تھا تو ،عاصم بن عمرو ان پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا
یا اس مرد مہمان نواز کی طرح ، سبوں کو حیرت میں ڈال کر ہرمزان کی اس شان و شوکت کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ۔
میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ حنظلہ نے نہر میں ایرانیوں پر حملہ کرکے ان کے کشتوں کے پشتے لگادئے ۔
یہی وقت تھا جب سعد وقاص نے بلندآواز میں کہا : جنگ کا حق صرف تمیمیوں نے اد ا کیا ہے ۔
یہی وہ دن تھا جب ہمیں انعام کے طور پر اچھے نسل کے گھوڑے ملے اور ایسے انعام حاصل کرنے میں ہم دوسرے لوگوں پر مقدم تھے ۔
ابن حجر بھی اپنی کتاب '' الاصابہ '' میں ربیع بن مطر کے بارے میں لکھتا ہے :
اس ربیع بن مطر نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درک کیا ہے ۔سیف نے اپنی کتاب فتوح میں دمشق ، قادسیہ اور طبرستان جیسے شہروں کی فتح کے بارے میں اس کے کافی اشعار درج کئے ہیں ۔ منجملہ طبرستان کی فتح کے بارے میں لکھے گئے اس کے اشعار حسب ذیل ہیں :
ہم سرحدوں پر حملہ کرتے ہیں اور انھیں اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں ہم ان لوگوں کے مانند نہیں ہیں جو جنگ سے کتراتے ہیں ۔
چوں کہ ان پر جنگ کا خوف طاری تھا اس لئے ہم نے ان کو جھیل کے نزدیک جانے سے روکا ۔
ابن حجر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :
ابن عساکر بھی کہتا ہے کہ اس ربیع بن مطر نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درک کیا ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچاہے ۔
ان دو دانشوروں ابن عساکر اور ابن حجر نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس خیالی شاعراور صحابی کے دمشق ،بیسان اور طبرستان کی جنگوں میں شرکت کرنے کا یقین کرکے اسے اپنی کتابوں میں درج کیاہے اور سیف نے اس کی زبانی اپنے خاندان کی شجاعتوں اور دلاوریوں کے بارے میں کہے گئے اشعار کو شاہد کے طور پر پیش کیا ہے ۔جب کہ ہم نے اس سلسلے میں پہلے ہی کہا ہے کہ حقیقت میں خاندان تمیم والے ان قبیلوں میں سے نہیں تھے ،جنھوں نے اپنے وطن عراق سے باہر قدم رکھا ہو اور دیگر قبیلوں کے دوش بدوش شام کی جنگوں میں شرکت کی ہو ۔
ابن عساکر نے اپنی تاریخ (٥٣٥١)میں اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
لکھا ہے :
تمیمیوں کا وطن عراق تھا ،انہوں نے اپنی اسی جائے پیدائش پر ایرانیو ں سے جنگ کی ہے ۔
چونکہ طبری اور ابن عساکر نے فتوحات کی داستانوں میں سیف کے اس افسانوی شاعر و صحابی کا کہیں ذکر نہیں کیا ہے ،لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ سیف نے ''ربیع ''کو صرف ایک سخن ور شاعر خلق کیا ہے اور اسے ان فتوحات کی شجاعتوں اور دلاوریوں میں شریک قرارنہیں دیا ہے۔
ربیع کے باپ اور دادا کے نام میں غلطی
کتاب ''تجرید ''میں سیف کے شاعر ''ربیع ''کو اس طرح پہچنوا یا گیا ہے
ربیع بن مطرف تمیمی
''تاج العروس ''کے مؤ لف زبیدی نے بھی کتاب ''تجرید ''کی پیروی کرتے ہوئے لفظ ''ربع''کے بارے میں یوں لکھا ہے :
''امیر ''کے وزن پر ''ربیع ''اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے پانچ صحا بیوں کانام تھا
اس کے بعد ایک ایک کرکے ان کے نام لینے کے بعد لکھتا ہے :
...ایک اور ربیع بن مطرف تمیمی شاعر ہے جس نے دمشق کی فتح میں شرکت کی ہے ۔
ابن عساکر کی کتابوں ''اصابہ ''اور ''تہذیب ''میں سیف کا یہ افسانوی شاعر وصحابی اس طرح پہچنوایا گیا ہے :
ربیع بن مطربن بلخ
ہم نے اس سلسلے میں ابن عساکر کی تاریخ کے قدیمی ترین قلمی نسخہ جو قدیمی ترین منبع ہے جس میں سیف کی احادیث کو مکمل اسناد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کو دیگر تمام مصادر سے صحیح تر جانا ۔اس نسخہ میں سیف کے اس خیالی شاعر کا یوں تعرف ہوا ہے :
ربیع بن مطر بن ثلج(۱)
اس ترتیب اور تسلسل کے ساتھ یہ زیبا و دلچسپ تعرف (اول ''ربیع ''پھر ''مطر ''اور پھر ثلج ) در حقیقت اصلی نام گزار یعنی سیف بن عمر تمیمی کے ادبی ذوق اور کارنامہ کی حکایت ہے ۔
اسی ترتیب سے یہ نام اردو میں حسب ذیل ہے :
بہار ولد بارش ،نواسہ ٔبرف !!
ابن ماکولا اپنی کتاب ''اکمال ''میں لفظ ''ثلج ''کے بارے میں لکھتا ہے :
اور مطر بن ثلج تمیمی وہ ہے جس کا نام سیف نے لیا ہے ۔
پھر تین سطروں کے بعد لکھتا ہے :
میرے خیال میں ربیع بن ثلج تمیمی شاعر مطر کا بھائی ہے ۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ابن ماکولا نے مطر اور ربیع کو دو بھائی اور ثلج تمیمی کے بیٹے تصور کیا ہے ، جب کہ سیف ، جو خود ان کا خالق ہے ان دونوں کو باپ بیٹے کی حیثیت سے پہچنواتا ہے ، جیسا کہ تاریخ بن عساکر میں ربیع بن مطر بن ثلج ذکر ہو ا ہے۔
ربیع بن مطر بن ثلج سے مربوط اس کی زندگی کے حالات اور اس کے اشعار کے بارے میں
____________________
الف ( ربیع: بہار مطر : بارش ثلج: برف
پایا ،یہی تھا جس کا اوپر ذکر کیا ، چوں کہ ہم نے اس صحابی اور شاعر کا نام ان مصادر کے علاوہ کہیں نہیں پایا ، جنھوں نے سیف بن عمر سے مطالب نقل کئے ہیں اس لئے اسے ہم سیف کے ذہن کی تخلیق اور جعلی جانتے ہیں ۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہم نے سیف کے بیان میں ایسا کوئی مطلب نہیں پایا جو ربیع بن مطر کے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی ہونے پر دلالت کرتا ہو !بلکہ احتمال یہ ہے کہ ابن عساکر نے ربیع کے بارے میں سیف سے جو اشعار اور دلاوریاں نقل کی ہیں وہ ہجرت کی دوسری دہائی سے مربوط ہیں اور اس زمانے میں واقع ہوئی جنگوں میں ربیع کی شرکت کی حکایت کرتے ہیں ۔ اس لئے ابن عساکر نے یہ نتیجہ نکلا کہ ربیع بن مطر اس زمانے میں ایک ایسا مرد ہونا چاہئے جو سن و سال کے لحاظ سے اتنا بالغ ہو کہ ان جنگں میں سر گرم طور پر شرکت کر سکے ۔ اس بنا ء پر ربیع رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درک کیا ہوگا اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی محسوب ہونا چاہئے !!
اس افسانہ کا ماحصل
سیف نے ربیع بن مطر تمیمی کوخلق کرکے:
١۔ عربی ادبیات کے خزانے میں مزید اشعار اور دلاوریوں کا اضافہ کیا ہے ۔
٢۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب میں ایک اور صحابی و شاعر کا اضافہ کیا ہے ۔
٣۔ آنے والی نسلیں سیف کی باتوں پر تکیہ کر کے اور ربیع کی دلاوریوں پر مشتمل اشعار کے پیش نظر تصور کریں گی کہ قبیلہ تمیم کے افراد نے اپنے وطن عراق سے دور مشرقی روم کی جنگوں میں بھی شرکت کی ہے اور اس طرح قبیلہ تمیم کے گزشتہ افتخارات میں چند دیگر فخر و مباہات کا اضافہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں ان کا شاعر ربیع کہتا ہے :
اے بیسان !اگر ہمارے نیزے تمھاری طرف بلند ہو گئے تو تمھیں ایسے دن سے دو چار ہونا پڑے گا کہ لوگ تمھارے اندر رہنے میں بے دلی
دکھائیں گے ۔
طبرستان کی جنگ میں ان کی شرکت کے بارے میں شہادت کے طور پر کہتا ہے :
یہ ہم تھے جنھوں نے انھیں شکست دینے کے بعد ان کے لئے (طبریہ) کے جھیل تک پہنچنے میں روکاوٹ ڈالی ۔
یہ ہم تھے جو مشرق کی جانب سے کسی رکاوٹ کے بغیر ایک ایک شہر کو اپنے پیچھے چھوڑتے ہوئے ان تک پہنچے ۔
ان کا شاعر فریاد بلند کرتے ہوئے کہتا ہے :
تمام زمانوں میں کوئی ایسا میدان کارزار نہ تھا کہ ہم نے وہاں پر قدم نہ رکھا ہو اور تمام افتخارات اپنے لئے مخصوص نہ کئے ہوں ۔
یہاں تک کہ سپاہ اسلام کے سپہ سالار سعد وقاص کو جوش و خروش میں لاکراس کی زبانی
کہلواتا ہے :
اس قادسیہ کی جنگ میں تلاش و کوشش اور جوش و جذبہ صرف قبیلہ تمیم نے دکھایا ہے !!
افسانہ کے اسناد کی تحقیق
ابن عساکر نے ربیع بن مطر کے بارے میں اپنے مطالب کے اسناد کو سیف بن عمر تک پہنچایا ہے اور ان کے نام لئے ہیں ۔لیکن خود سیف نے اپنے اسناد اور راویوں کو تعرف نہیں کیا ہے جس کے ذریعہ ہم ان کے وجود یا عدم کے بارے میں تحقیق و جستجو کرتے ۔
ربیع کے افسانہ کو نقل کرنے والے علما
١۔ ابن عساکر نے سند کے ساتھ اپنی تاریخ میں
٢۔ ابن حجر نے سندکے ساتھ اپنی کتاب '' الاصابہ '' میں ۔
٣۔ ذہبی نے سند کے بغیر اپنی کتاب '' تجرید '' میں ۔
٤۔ زبیدی نے سند کے بغیر اپنی کتاب '' تاج العروس '' میں ۔
٥۔ ابن بدران نے کتاب '' تہذیب تاریخ ابن عساکر '' میں ۔
گیارہواں جعلی صحابی ربعی بن افکل تمیمی
ربعی ، کمانڈر کی حیثیت سے
سیف بن عمر نے ربعی بن افکل کو خاندان عنبر اور قبیلہ بنی عمرو تمیمی سے خلق کیا ہے ۔
ابن حجر ، ربعی کی سوانح حیات کے بارے میں لکھتا ہے :
سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں لکھا ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ جنگ کے سپہ سالار اعظم سعد وقاص نے ربعی کو حکم دیا کہ موصل کی جنگ کی کمانڈ سنبھالے ۔ ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ اس زمانے میں رواج تھا کہ صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپاہ کی کمانڈ نہیں سونپی جاتی تھی ۔
سیف اپنی کتاب کی امیں جگہ پر لکھتا ہے :
عمر نے حکم دیا تھا کہ عبد اللہ معتم(۱) کی قیادت میں لشکر کے ہراول دستے کی کمانڈ ربعی کو سونپی جائے ۔
____________________
۱) ایسا لگتا ہے کہ یہ عبد اللہ بھی سیف بن عمر کی مخلوقات میں سے ہے عبداللہ معتم کے حالات کے بارے میں کتاب اسد الغابہ ٢٦٢٣، میں تشریح کی گئی ہے ۔
معلومات کے مطابق ربعی نے فتوحات میں سر گرم طور پر شرکت کی ہے '' ز'' (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )
ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ حرف '' ز'' کو ابن حجر وہاں استعمال کرتا ہے جہاں اس نے دوسرے مؤرخین کی بات پر اپنی طرف سے کوئی چیز اضافہ کی ہو
طبری نے ١٦ھ کے حوادث کے ضمن میں '' تکریت '' کی فتح کے موضوع کو بیان کرتے وقت ربعی کے بارے میں سیف کے بیانات کو مفصل طور پر ذکر کیا ہے اور یہاں پر اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں :
''کمانڈر انچیف سعد وقاص نے وقت کے خلیفہ عمر کو لکھا کہ موصل کے لوگ '' انطاق '' کے ارد گرد جمع ہوئے ہیں اور اس نے تکریت کے اطراف تک پیش قدمی کرکے وہاں پر مورچہ سنبھالا ہے تاکہ اپنی سر زمین کا دفاع کر سکے عمر نے سعد کو جواب میں لکھا:
''عبد اللہ معتم کو '' انطاق''سے لڑنے کی ماموریت دینا اور ہر اول دستے کی کمانڈ ربعی بن افکل کو سونپنا ۔ جب وہ دشمن کو سامنے سے ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں تو ربعی کو نینوا(۱) اور موصل کے قلعے فتح کرنے کی ماموریت دینا ''
اس کے بعد طبری نے انطاق پر فتح پانے کے سلسلے میں عبد اللہ کی عزیمت ، اس کی جنگوں اور دشمن کو چالیس دن تک اپنے محاصرے میں قرار دینے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
عبد اللہ نے انطاق کی پیروی میں مسلمانوں سے لڑنے والے عربوں کے دوسرے قبیلوں
____________________
۱) ۔نینوا عراق میں شہر موصل کے برابرمیں واقع تھا ۔دریائے دجلہ ان دو شہروں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا تھا ، نینوا کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں
جیسے ایاد ، نمر اور تغلب کے سرداروں سے رابطہ برقرار کیا اور سر انجام ان کو اسلام کی طرف مائل کیا اور بالآخر ان کے درمیان طے پایا کہ اسلام کے سپاہی نعرہ ٔ تکبیر بلند کرتے ہوئے جب شہر کے مقررہ دروازوں سے حملہ کریں گے تو وہ بھی تکبیر کی آواز سنتے ہی شہر کے اندر انطاق کے محافظوں کے خلاف تلوار چلائیں گے تا کہ آسانی کے ساتھ تکریت فتح ہوجائے ۔
یہ منصوبہ متفقہ طور پر سبوں کی طرف سے منظور کیا گیا اور اس کے مطابق عمل ہوا ،جس کے نتیجہ میں دشمن کی فوج میں ایک فرد بھی زندہ نہ بچ سکی !طبری ،تکریت کی فتح کی تشریح کرنے کے بعد لکھتا ہے :
خلیفہ عمر کے فرمان کے مطابق عبداللہ معتم نے حکم دیا کہ ''ربعی بن افکل ''تازہ مسلمان قبائل تغلب ، ایاد اور نمر جن کے مسلمان ہونے کی ابھی موصل و نینوا کے باشندوں کو اطلاع نہیں ملی تھی کو اپنے ساتھ لے کر موصل و نینوا کے قلعے فتح کرنے کے لئے روانہ ہوجائے ۔مزید حکم دیا کہ اس سے پہلے کہ دشمن مسلمانوں کے ہاتھوں تکریت کی فتح کی خبر کے بارے میں آگاہ ہوں ،ان پر ٹوٹ پڑیں ۔
ابن افکل نے حکم کی تعمیل کی اور اپنی حتمی کامیابی کے لئے تازہ مسلمان قبائل سے طے کرلیا کہ وہ اس علاقے میں یہ افواہ پھیلادیں کہ انطاق کے سپاہیوں نے تکریت میں مسلمانوں پر کامیابی پاکر انھیں شکست دیدی ہے ۔چونکہ یہ لوگ خود انطاق کے سپاہی شمار ہوتے تھے ،اس لئے آسانی کے ساتھ قلعہ کے اندر داخل ہوکر قلعہ کے صد ردروازوں کی حفاظت اپنے ہاتھ میں لے لیں تا کہ اسلام کے سپاہی کسی مزاحمت کے بغیر قلعے کے دروازوں سے داخل ہوجائیں ۔
ربعی کا نقشہ کامیاب ہوا اور دشمن کے قلعے کسی مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھوں
فتح ہوئے ۔
ربعی نے نینوا ،موصل اور وہاں کے مستحکم قلعوں پر فتح پانے کے بعد موصل کے دوسرے علاقے فتح کرنے کے لئے ان کے اطراف کی طرف روانہ ہوا ۔یہ ربعی بن افکل کے ذریعہ تکریت کی فتح اور موصل و نینوا کے مستحکم قلعوں پر قبضہ کرنے کی داستان کا خلاصہ تھا ،جسے طبری نے سیف سے نقل کرکے بیان کیا ہے ۔
لفظ ''انطاق''اور حموی کی غلط فہمی
جیساکہ اس افسانہ میں سیف کی باتوں سے معلوم ہوتاہے کہ ''انطاق''دشمن کے لشکر کا کمانڈر تھا ،لیکن حموی نے یہ تصور کیا ہے کہ سیف کا مورد بحث ''انطاق ''تکریت کے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے !اس لحا ظ سے ''معجم البلدان''میں لفظ ''انطاق''کے بارے میں لکھا ہے :
''انطاق''تکریت کے نزدیک ایک علاقہ ہے ۔اس کا نام سیف کی کتاب ''فتوح ''میں ١٦ھ کے مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کے ضمن میں آیا ہے اور ربعی بن افکل نے اس کے بارے میں یوں اشعار کہے ہیں :
ہم اپنی تلوارکی تیز دھار سے ہر حملہ آور اور متجاوز کو سز ا دیتے ہیں ۔
جس طرح ہم نے انطاق کو اسی کے ذریعہ سزا دی کہ وہ اپنے کو دوسروں سے الگ کرکے رویا ۔
کتاب '' مراصدالاطلاع ''کے مؤلف نے بھی حموی کی پیروی کرکے لفظ انطاق کے بارے میں لکھا ہے :
کہتے ہیں '' انطاق'' تکریت کے نزدیک ایک علاقہ تھا ۔
ایسا لگتا ہے کہ حموی کی غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ سیف کی حدیث میں آیا ہے :
'' نزولہ علی الانطاق '' اس کا '' انطاق '' میں داخل ہونا۔
یہاں پر کلمہ داخل ہونا کسی جگہ کے لئے مناسب ہے نہ کسی فرد کے لئے ، اسی طرح ہم نہیں جانتے کہ حموی نے خود سیف سے نقل کئے ہوئے شعر کے آخر ی حصہ پر کیوں توجہ نہیں کی جہاں وہ واضح طور پر کہتا ہے :
انطاق اپنے آپ کو دیگر لوگوں سے جدا کر کے رویا ۔
یہ انسان ہے جو دیگر لوگوں سے جدا ہو کر رو سکتا ہے ، نہ مکان !!
جو کچھ ہم نے اس افسانوی سورما ربعی بن افکل کے بارے میں سیف کی احادیث سے تاریخ طبری میں دیکھا ،یہی تھا جو اوپر ذکر ہوا ۔ اور انہی مطالب کو ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون جیسے دانشوروں نے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخوں میں درج کیا ہے ۔
جیسا کہ حرملہ بن مریطہ کے افسانہ میں ہم نے ذکر کیا کہ یعقوب حموی کے پاس سیف کی کتاب فتوح کا ایک قلمی نسخہ تھا جسے '' ابن خاضبہ '' نام کے ایک دانشورنے لکھا ہے ۔ حموی نے اس نسخہ پر پورا اعتماد کرکے مقامات اور دیگر جگہوں کے نام براہ راست اسی نسخہ سے نقل کئے ہیں ۔اس لئے کتاب ''معجم البدان '' میں ذکر کئے گئے بعض شہروں قصبوں اور گائوں کے نام سیف کی روایتوں کے علاوہ جغرافیہ کی دوسری کتابوں میں نہیں پائے جاتے یا دوسرے لفظوں میں سیف کے خلق کئے گئے تمام مقامات کے نام کتاب '' معجم البدان '' میں پائے جاتے ہیں ۔
ربعی کے نسب میں غلطی
ایک اور مسئلہ جو یہاں پر قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ طبری میں ربعی کانسب '' عنزی '' اور تاریخ ابن کثیرمیں '' غزی'' ذکر ہوا ہے جب کہ ابن حجر کی کتاب '' الاصابہ '' میں '' عنبری '' ثبت ہوا ہے کہ عنبری خود قبیلہ ٔتمیم کا ایک خاندان ہے ۔ ہم نے بھی موخر الذکر نسب کو حقیقت کے قریب تر پایا ، کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ سیف پوری طاقت کے ساتھ کوشش کرتا ہے کہ اپنے خیالی اور افسانوی سورمائوں کو اپنے ہی خاندان ،تمیم سے دکھلائے ، چوں کہ عنبری خاندان تمیم کی ایک شاخ ہے ، اس لئے یہ انتخاب یعنی '' عنبری '' افسانہ نگار کی خواہش کے مطابق لگتا ہے نہ کہ '' عنزی'' و '' غزی''
سیف کی روایتوں کا تاریخ کے حقائق سے موازنہ
مناسب ہے اب ہم موصل،تکریت اور نینوا کی فتح کی حقیقت کے بارے میں دوسرے مؤرخین کے نظریات سے بھی آگاہ ہو جائیں ۔
بلاذری نے موصل و تکریت کی فتح کے بارے میں اس طرح تشریح کی ہے :
عمر بن خطاب نے ٢٠ھمیں عتبہ بن فرقد سلمی کو موصل کی فتح کے لئے مامور کیا ۔
عتبہ نے نینوا کے باشندوں سے جنگ کی اور دریائے دجلہ کے مشرقی حصہ میں واقعہ ان کے ایک قلعہ کوبڑی مشکل سے فتح کیا اور دجلہ کو عبور کرکے دوسرے قلعہ کی طرف چڑھائی کی ۔ اس قلعہ کے باشندے چوں کہ عتبہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اس لئے صلح کی تجویز پیش کرکے جزیہ دینے پر آمادہ ہوئے۔
عتبہ نے ان کی صلح کی درخواست منظور کی اور طے پایا کہ جو بھی قلعہ سے باہر آئے گا امان میں ہوگا اور جہاں چاہے جا سکتا ہے ۔
بلاذری عتبہ کے ذریعہ موصل کے دیہات ،قصبہ اور ابادیوں ،منجملہ تکریت کی فتوحات کا نام لے کر آخر میں لکھتا ہے :
عتبہ بن فرقد نے ''طیرہان '' و '' تکریت'' کو فتح کیا اور قلعہ تکریت کے باشندوں کو امان دی اس بنا پر حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے جو شہر فتح ہوا وہ شہر موصل تھا ، اس کے بعد تکریت فتح ہوا ہے ۔ ان دونوں شہروں کافاتح عتبہ بن فرقد سلمی انصاری یمانی قحطانی تھا اور یہ فتح ٢٠ھ میں انجام پائی ہے ۔
لیکن سیف نے تکریت کی فتح کو موصل کی فتح پر مقدم قرار دیا ہے ،اور عبد اللہ معتم عبسی عدنانی کو ان جگہوں کا فاتح بتایا ہے ۔ موصل کا فاتح ربعی بن افکل تمیمی عدنانی مضری بتاتا ہے اور اس کے سپاہیوں کو بھی قبائل عدنان مضری کے افراد بتایا کرتاہے ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ موصل اور تکریت عتبہ یمانی قحطانی کے ہاتھوں فتح ہوئے ہیں اور یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ سیف اسے نظر انداز کرکے خاموشی اختیار کرے لہٰذا وہ قبیلۂ مضر کے دو افراد کو خلق کرکے حکومت اور فوجی کمانڈ ان کے ہاتھ سوپنتا ہے، اسلام کے سپاہی بھی قبیلہ مضر یعنی اپنے خاندان سے بتایاہے اور اسی تغیر و تبدل کو خاندانی تعصب کی بناء پر تاریخ اسلام میں درج کرتا ہے۔
لیکن اس نے ایسے تاریخی حوادث کی تاریخ کو کیوں تبدیل کرکے ٢٠ھ واقع ہوئی فتح کو ١٦ھ میں لکھا ہے ؟ یہ ایک ایسا مطلب ہے جو حائز اہمیت ہے اور اس کاربط اس کے اسلام سے منحرف ہونے کے عقیدہ سے ہے ۔ کیونکہ اگر اس کے زندیقی ہونے کی وجہ سے جس کا اس پر الزام ہے اسلام کی تاریخ میں تشویش پیدا کرنا اس کا اصلی مقصد نہ تھا تو پھر کون سی چیز اس کے لئے تاریخ اسلام میں اس جرم کے مرتکب ہونے کا سبب بن سکتی ہے؟!
اس افسانہ کا ماحصل
ربعی بن افکل تمیمی کو خلق کرکے سیف بن عمر نے حسب ذیل مقاصد حاصل کئے ہیں :
١۔ ایک صحابی سپاہ سالار ، فاتح اور سخن و ر شاعر کو خلق کرکے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی صحابیوں میں ایک اور صحابی کا اضافہ کرکے اس کی زندگی کے حالات لکھے ہیں ۔
٢۔ایک نئی جگہ کو خلق کرکے جغرافیہ کی کتابوں میں اسے درج کرایا ہے۔
٣۔خاندان تمیم کے لئے افسانوی جنگیں خلق کرکے اپنے خاندانی تعصبات کی پیاس کو بجھا کر اپنے خاندان کے افتخارات میں اضافہ کیاہے ۔
٤۔زندیقی ہونے کی وجہ سے جس کا الزام اس پر تھا اسلام کے تاریخی واقعات میں ان کے رونما ہونے کی تاریخ میں ردّو بدل کیا ہے ۔
سیف کے اسناد کی تحقیق
''ربعی بن افکل ''کے سلسلہ میں سیف نے اپنی احدیثوں کے اسناد کے طور پر درج ذیل نام ذکر کئے ہیں :
١۔محمد ، سیف نے اسے ''محمد بن عبد اللہ بن سواد بن نویرہ'' بتایا ہے اور دوسرا مھلب بن عتبہ اسدی ہے ۔ گزشتہ بحثوں میں ہم ان دو راویوں سے مواجہ ہوئے ہیں اور جان لیا ہے کہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ سیف کے خلق کئے ہوئے راوی ہیں ۔
٢۔طلحہ، ممکن ہے سیف کی روایتوں میں یہ نام دو راویوں کی طرف اشارہ ہو۔ ان میں سے ایک ''طلحہ بن اعلم'' ہے اور دوسرا طلحہ بن عبد الرحمن ہے۔
ہم نے طلحہ بن عبد الرحمن کو سیف کی روایتوں کے علاوہ کہیں نہیں پایا ۔ اس لئے یہ نام بھی سیف کے خیالات کی پیدا وار ہے اور اس قسم کا کوئی راوی خارج میں موجود نہیں ہے۔
ہاں طلحہ بن اعلم ، ایک معروف راوی ہے جس کانام سیف کے علاوہ بھی دیگر احادیث میں آیا ہے لیکن سیف کے گزشتہ تجربہ اور اس کے دروغ گو ہونے کے پیش نظر ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ سیف کے جھوٹ کے گناہ کو ایسے راویوں کی گردن پر ڈالیں خاص کر جب سیف تنہا فرد ہے جو اس قسم کے جھوٹ کی تہمت ایسے راویوں پر لگا تاہے۔
اس افسانہ کو نقل کرنے والے علما:
ان تمام افسانوں کا سرچشمہ سیف ہے ، لیکن اس کے افسانوں کی اشاعت کرنے والے منابع مندرجہ ذیل میں :
١۔طبری ، سند کے ساتھ ، اپنی تاریخ میں ۔
٢۔ ابن حجر ، سند کے ساتھ کتاب ''الاصابہ'' میں ۔
٣۔ ابن اثیر طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ۔
٤۔ابن کثیر طبری سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں ۔
٥۔ابن خلدون طبری سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں ۔
٦۔حموی ''معجم البلدان'' میں سندکے بغیر۔
٧۔ عبد المؤمن ،حموی سے نقل کرتے ہوئے کتاب ''مراصد الطلاع''میں
بارہواں جعلی صحابی اُطّ بن ابی اُطّ تمیمی
سیف نے اُط کو قبیلہ سعد بن زید بن مناة تمیمی سے بتایا ہے ۔
ابن حجر کی کتاب '' الاصابہ '' میں اُط بن ابی اط کاتعارف اس طرح کیا گیا ہے :
'' اُط بن ابی اُط خاندان سعد بن زید اور قبیلہ تمیم سے ہے ۔ اُط خلافت ابو بکر کے زمانے میں خالد بن ولید کا دوست اور کارندہ تھا ۔ عراق میں ایک دریا کا نام اس کے نام پر رکھا گیا ہے !اس دریا کا نام اسی زمانے میں اس کے نام پر رکھا گیا ہے جب خالد بن ولید نے اُط کو اس علاقے کے باشندوں سے خراج وصول کرنے پر مامور کیا تھا!
طبری نے یہی داستان سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کی ہے ۔ ایک جگہ پر اسے '' اُطّ بن سوید '' لکھا ہے ،گویا اُط کے باپ کا نام '' سوید '' تھا ۔
ابن فتحون نے بھی اط کے حالات کو اس عنوان سے لکھا ہے کہ شخصیات کی زندگی کے حالات لکھنے والے اس کا ذکرکرنا بھول گئے ہیں ۔ اور اپنی بات کا آغاز یوں کرتا ہے ۔
میں نے اس کا اُطّ کا نام ایک ایسے شخص کے ہاتھوں لکھا پایا ، جس کے علم و دانش پرمیں مکمل اعتماد کرتا ہوں ۔ اس نے اط کوپہلے حرف پر ضمہ( پیش ) سے لکھا تھا ۔
اُطّ ، دور قستان کا حاکم
طبری نے اط کی داستان کو فتح حیرہ کے بعد والے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی دو روایتوں میں ذکر کیا ہے ۔ پہلی روایت میں اس طرح لکھتا ہے :
'' خالد بن ولید نے اپنے کارندوں اور کرنیلوں کو ماموریت دی کہ (یہاں تک لکھتا ہے ) اور اط بن ابی اط جو خاندان سعد بن زید اور قبیلہ تمیم کا ایک مرد تھا کو دور قستان کے حاکم کی حیثیت سے ماموریت دی ۔اط نے اس علاقے میں ایک دریا کے کنارے پر پڑا ئو ڈالا ۔ وہ دریا اس دن اط کے نام سے مشہور ہوا اور آج بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
حموی نے سیف کی روایت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی کتاب معجم البدان میں لفظ اُط کے سلسلے میں لکھا ہے۔
جب خالد بن ولید نے حیرہ اور اس علاقہ کی دوسری سرزمینوں پر قبضہ کرلیا تو اس نے اپنے کارندوں کو مختلف علاقوں کی ماموریت دی ۔اس کے کارندوں میں سے ایک اط بن ابی اط تھا ۔جو خاندان سعد بن زید بن مناة تمیمی سے تعلق رکھتا تھا ۔اسے دور قستان کی ماموریت دی گئی ۔اط نے اس علاقے میں ایک دریا کے کنارے پڑائو ڈالا۔وہ دریا آج تک اسی کے نام سے معروف ہے۔
حموی نے یہاں پر اپنی روایت کی سند کا ذکر نہیں کیا ہے ۔اس کے اس جملہ اور وہ دریا آج تک اسی کے نام سے معروف ہے ۔سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ ممکن ہے حموی کے زمانے تک وہ دریا اسی نام ، یعنی دریائے اط کے نام سے موجود تھا اور حموی ذاتی طور پر اس سے آگاہ تھا ۔اس لئے اس بات کو یقین کے ساتھ کہتا ہے اور اس کے صحیح ہونے پر شہادت دیتا ہے ۔ جب کہ ہر گز ایسا نہیں ہے بلکہ حموی نے سیف کی بات نقل کی ہے نہ کہ خود اس سلسلے میں کچھ کہا ہے ۔
ابن عبد الحق نے بھی ان ہی مطالب کو حموی سے نقل کرکے اپنی کتاب مراصد الاطلاع میں درج کرتے ہوئے لکھا ہے :
دریائے اط ،اط ،خاندان بنی سعد تمیم کا ایک مرد تھا جو خالد بن ولید کا کارندہ تھا۔ اط کو یہ ماموریت اس وقت دی گئی تھی جب خالد بن ولید نے حیرہ اور اس کے اطراف کی سرزمینوں پر قبضہ کیا تھا (یہاں تک لکھا ہے ) اور وہ دریا اس کے نام سے مشہور ہوا ہے ۔
کتاب تاج العروس کے مؤلف نے بھی سیف کی روایت پر اعتماد کرکے لفظ اط کے بارے میں یوں لکھا ہے :
اط بن اط بنی سعد بن مناة تمیمی میں سے ایک مرد ہے جو خالد بن ولید کی طرف سے دور قستان کا ڈپٹی کمشنر مقرر ہوا اور وہاں پردریائے اط اسی کے نام سے مشہور ہو ا ہے ۔
طبری نے بھی حیرہ کے مختلف مناطق کی تقسیم بندی کے بارے میں خلاصہ کے طور پر یوں بیان کیا ہے :
خالد بن ولید نے حیرہ کے مختلف علاقوں کو اپنے کارندوں اور کرنیلوں کے درمیان تقسیم کیا ، منجملہ جریر کو علاقہ (یہاں تک لکھتا ہے ) اور حکومت اط و سوید کو سونپی ۔
ابن حجر کی غلط فہمی
یہاں پر ابن حجر ،طبری کے بیان کے پیش نظر ، غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اور اط و سوید کو اط بن سوید پڑھ کر سوید کو اط کا باپ تصور کیا ہے ۔
ابن حجر کی یہ غلط فہمی اس کی گزشتہ اسی غلط فہمی کے مانند ہے جہاں اس نے '' حرملہ و سلمی'' کے بجائے '' حرملہ بن سلمی '' پڑھا تھا اور حرملہ بن سلمی کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ایک صحابی تصور کرکے حرملہ بن مریطہ کے علاوہ حرملہ بن سلمی کے بارے میں بھی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی کے عنوان سے اس کی زندگی کے حالات لکھے ہیں ۔
البتہ یہ ممکن ہے کہ ابن حجر کی غلط فہمی کتاب کے مسودہ میں موجود کتابت کی غلطی کے سبب پیش آئی ہو کہ '' اط و سوید '' کے بجائے کاتب نے اط بن سوید لکھ کر بیچار ہ ابن حجر کو اس غلط فہمی سے دو چار کیا ہو۔!بہر حال موضوع جو بھی ہو ، اصل مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔اگر چہ یہ نام بھی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی صحابیوں کی فہرست میں درج کیا گیا ہے ، جب کہ پورا افسانہ بنیادی طور پر جھوٹ ہے اور یہ اضافات بھی اسی سیف کے افسانوں کی برکت سے وجود میں آئے ہیں ۔ ابن فتحون و ابن حجر جیسے علماء نے بھی ایسے صحابیوں کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔
یاقوت حموی ،ابن عبدالحق اور زبیدی نے نے بھی سیف کی ان ہی روایتوں اور افسانوں کے پیش نظر لفظ اط کی تشریح کرتے ہوئے اط کی زندگی کے حالات بیان کئے ہیں اور دریا ئے اط کابھی ذکر کیا ہے ۔ ستم ظریفی کا عالم ہے کہ حقائق سے خاکی ان ہی مطالب نے صدیوں تک علماء و محققین کو اس مسئلے میں الجھاکے رکھا ہے !!
ہم نے اط بن ابی اط اور اس نام کے دریا کے سلسلے میں تحقیق و جستجو کرتے ہوئے اپنے اختیار میں موجود مختلف کتابوں اور متعدد مصادر کی طرف رجوع کیا ، لیکن ہماری تلاش و کوشش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور اس قسم کے نام کو ہم نے مذکورہ مصادر میں سے کسی ایک میں نہیں پایا اس لحاظ سے سیف کی روایتوں کو دوسروں کی روایتوں سے موازنہ کرنے کے لئے کوئی چیز ہمارے ہاتھ نہ آئی جس کے ذریعہ اس کی روایتوں کا موازنہ و مقابلہ کرتے !!کیوں کہ سیف کی داستان بالکل جھوٹ اور بیہودہ خیالات پر مبنی ہے ۔
اس افسانہ کا ماحصل
سیف نے اط نام کے صحابی اور اسی نام کے دریا کو خلق کرکے درج ذیل مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے :
١۔ خاندان تمیم سے ایک اور عظیم صحابی اور لائق کمانڈر خلق کرتا ہے اور ابن فتحون و ابن حجر جیسے علماء اس کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دے کر اس کی زندگی کے حالات کو اپنی کتابوں میں لکھنے پر مجبور ہوتے ہیں ،
٢۔ سرزمین دور قستان میں ایک دریا کو خلق کرکے اس کا نام دریائے اط رکھتا ہے اور اس طرح حموی و عبد الحق اس دریا کے نام کو اپنی جغرافیہ کی کتابوں میں درج کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ اس طرح خاندان تمیم کے افتخارات میں ایک اور فخر کا اضافہ کرتا ہے ۔
افسانہ کے اسناد کی پڑتال
افسانہ اط کے سلسلے میں سیف کی حدیث کی سند میں مندرجہ ذیل نام ملتے ہیں :
١۔ ابن ابی مکنف ، مھلب بن عقبہ اسدی اور محمد بن عبد اللہ نویرہ ،ان تینوں کے بارے میں ہم نے گزشتہ بحثوں میں ثابت کیا ہے کہ یہ سیف کے جعلی راوی ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔
٢۔ طلحہ ، سیف کی احادیث میں یہ راوی یا طلحہ بن اعلم ہے یا طلحہ بن عبد الرحمن مل ہے ۔جن کا نام سیف کے علاوہ بھی دیگر روایتوں میں ملتا ہے ۔
عبد الرحمن نام کے بھی دو راوی ہیں ۔ ایک یہی مذکورہ عبد الرحمن مل ہے اور دوسرا یزید بن اسید غسانی ہے کہ ہم نے مؤخر الذکر کا نام سیف بن عمر کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا ۔
بہر حال جو بھی ہو ،خواہ ان راویوں کا نام دوسری احادیث میں پایا جاتا ہو یا وہ سیف کے ہی مخصوص راوی ہوں ، ہم سیف کے جھوٹ کا گناہ معروف راویوں کی گردن پرنہیں ڈال سکتے ہیں ، خاص کر جب اس قسم کے افسانے صرف سیف کے ہاں پائے جاتے ہوں اور وہ اکیلا ان افسانوں کا خالق ہو!
اُطّ کا افسانہ نقل کرنے والے علماء
اط کے افسانہ کا سر چشمہ سیف بن عمر ہے اور درج ذیل منابع میں اس افسانہ کی اشاعت کی گئی ہے :
١۔ طبری نے اط کے افسانہ کو سیف سے نقل کرکے سند کے ساتھ اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔
٢۔ ابن حجر نے طبری سے نقل کرکے اپنی کتاب الاصابہ میں درج کیا ہے ۔
٣۔ ابن فتحون
٤۔ یاقوت حموی ۔
٥۔ زبیدی نے'' تاریخ العروس '' میں ۔
پانچواں حصہ خاندان تمیم سے
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جعلی کارندے و صحابی رسول خدا کے چھ کارندے :
* ١٣۔سعیر بن خفاف تمیمی
* ١٤۔عوف بن علاء جشمی تمیمی
* ١٥۔اوس بن جذیمہ تمیمی
* ١٦۔سہل بن منجاب تمیمی
* ٧١۔وکیع بن مالک تمیمی
* ١٨۔حصین بن نیار حنظلی تمیمی
مزید دو صحابی
* ١٩۔زرّ بن عبد اللہ فقیمی
* ٢٠۔اسود بن ربیعہ حنظلی
رسول خدصلىاللهعليهوآلهوسلم ا کے چھ جعلی کارندے
چار روایتیں
پہلی روایت
طبری نے سیف بن عمر تمیمی سے اور اس نے صعب عطیہ سے اور اس نے اپنے باپ سے یوں روایت کی ہے :
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے وقت تمیم کے مختلف قبائل میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے حسب ذیل تھے :
١۔ زبر قان بن بدر : قبائل رباب ، عوف اور ابناء کے لئے ۔
٢۔ قیس بن عاصم : قبائل مقاعس اور بطون کے لئے ۔
قبیلہ بنی عمرو تمیمی کے لئے حسب ذیل دو آدمی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے تھے :
٣۔ صفوان بن صفوان : قبیلہ بھدی کے لئے ۔
٤۔ سبرة بن عمرو : قبیلہ خضم کے لئے
قبیلہ حنظلہ کے لئے بھی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے درجہ ذیل دو آدی مامور تھے ۔
٥۔ وکیع بن مالک : قبیلہ بنی مالک کے لئے ۔
٦۔ مالک بن نویرہ : قبیلہ بنی یر بوع کے لئے ۔
اس کے بعد طبری اس حدیث کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے اس طرح اضافہ کرتا ہے :
جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کی خبر تمیم کے قبائل میں پہنچی تو صفوان بن صفوان اپنے اور سبرہ کے جمع کئے گئے صدقات کی رقومات کو ابوبکر کے پاس مدینہ لے گیا اور سبرہ وہیں پر رہا ۔
لیکن قیس نے جو کچھ جمع کیا تھا اسے قبائل مقاعس و بطون کے ادا کرنے والے اصلی افراد کو واپس کر دیا اور ابو بکر کو کچھ نہیں بھیجا ۔
زبرقان نے قیس کے برعکس قبائل رباب ، عوف اور ابناء سے جمع کی گئی اپنی رقومات مدینہ میں ابو بکر کی خدمت میں پیش کیں ۔ چوں کہ اس کی پہلے ہی سے قیس کے ساتھ رقابت تھی اس لئے قیس کی رقومات ادا کرنے سے پہلو تہی کو بہانہ قرار دے کر ایک شعر کے ذریعہ اس کی ہجو گوئی کی اور اس ضمن میں کہا:
میں نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امانت کو پہنچادیا لیکن بعض کا رندوں نے ایک اونٹ بھی نہیں دیا ! سیف کہتا ہے :
رسول خد کی وفات کے بعد قبائل تمیم کے مختلف خاندانوں میں اسلام پر باقی رہنے اور ارتداد کے مسئلہ پر اختلافات رو نما ہوئے ۔ ان میں سے بعض اسلام پر ثابت قدم رہے ۔لیکن بعض شک و شبہ سے دو چار ہو کر سر انجام دین اسلام اور اس کے قوانین سے نا فرمانی کرکے مرتد ہوئے اور اس کے نتیجہ میں مختلف گروہ ایک دوسرے سے متخاصم ہو کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے اس طرح :
قبائل عوف و ابناء نے خاندان بنی حشم کے ۔
٧۔ '' عوف بن بلاد'' کی قیادت میں قبائل بطون سے جنگ کی جن کی قیادت
٨۔ سعیر بن خفاف کر رہا تھا ۔
قبائل رباب قبیلہ مقاس سے ، خضم مالک سے اوربہدی ، یربوع سے لڑ رہے تھے قبائل
رباب اور بہدی میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نمائندہ
٩۔ حصین بن نیار حنظلی تھا کہ قبیلہ رباب کے افراد بھی اس کی حمایت کرتے تھے ۔حصین بن
نیاران افراد میں سے تھا جو اسلام پر ثابت قدم تھے قبیلہ ضبہ کا قائد
١٠۔ عبد اللہ بن صفوان تھا۔
اور قبیلہ عبد مناة کی قیادت
١١۔ عصمة بن عبیر کے ہاتھ میں تھی ۔
سیف کہتا ہے :
اسی پکڑ دھکڑ کے دوران جب تمیم کے مختلف قبائل کے مسلمان و مرتد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے تھے تو ، پیغمبر ی کا دعوی کرنے والی خاتون ''سجاح'' تمیمی نے فرصت کو غنیمت سمجھ کر ان پر حملہ کیا ۔
تمیم کے مختلف قبائل کے درمیان لڑائی جھگڑے اور ان کی بیچارگی کو عفیف بن منذ رتمیمی اس طرح یاد کرتا ہے :
جب خبریں پھیلیں ، کیا تم نے یہ خبر نہیں سنی کہ تمیم کے مختلف قبیلوں پر
کیا مصیبت آن پڑی ؟!
طبری اسی روایت کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے یوں لکھتا ہے :
پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی خاتون '' سجاح '' جو ابوبکر سے جنگ کرنا چاہتی تھی نے مالک نویرہ کے نام ایک خط لکھا اور اسے اپنے جنگ سے منصرف ہونے کے ارادے سے آگاہ کا مالک نے ''سجاح '' کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے ابوبکر سے جنگ نہ کرنے کے اس فیصلے کے مقابلے میں اسے تمیم کے منتشر قبیلوں پر حملہ کرنے کی ترغیب دی '' سجاح '' نے مالک کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے تمیم کے قبیلوں پر چڑھائی کی اور لڑائی جھگڑوں ، قتل و غارت اور اسارت کے بعد سر انجام ان کے درمیان صلح ہوئی ۔ جن معروف اشخصیتوں نے '' سجاح '' سے دوستی اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا ان میں وکیع بن مالک بھی تھا ۔
سیف داستان کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :
قبائل تمیم سے عہد و پیمان طے پانے کے بعد '' سجاح '' نے مملکت نباج کی طرف رخ کیا ، لیکن اسی دوران بنی عمرو تمیم کے اوس بن خذیمہ نے اپنے ماتحت افراد کے ہمراہ ''سجاح '' اور اس کے پیرئوں پر حملہ کرکے ان میں سے بعض افراد کو اسیر بنا دیا ۔
'' سجاح '' نے مجبور ہو کر اوس سے صلح کی اور طے پایا کہ '' سجاح '' اپنے ساتھیوں کو اوس کی اسارت سے آزاد کرانے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ فورا ًاوس کی سرزمین سے نکل جائے ۔
دوسری روایت
طبری نے دوسرے روایت میں اسی پہلی روایت کی سند سے بحرین کے باشندوں کے ارتداد کی داستان کو سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے یوں بیان کیا ہے ۔ ٢
'' وکیع بن مالک '' اور '' عمر و عاص '' کی آپس میں رقابت تھی اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے تھے
تیسری روایت
طبری تیسری روایت میں داستان'' بطاح '' کو پہلی اور دوسری روایتوں کے اسناد سے سیف سے نقل کرکے اس طرح لکھتا ہے : ٣
'' سر انجام وکیع کو اپنی برائی کا احساس ہوا اوراچھی طرح دوبارہ اسلام کی طرف پلٹ آیا اور اپنے گزشتہ اعمال کی تلافی کے طور خاندان بنی حنظلہ اور یربوع سے جمع کی گئی صدقہ کی رقومات کو ابوبکر کے نمائندہ خالد بن ولید کی خدمت میں پیش کیا ، جو ان دنوں خلیفہ کی طرف سے قبیلہ تمیم کی بغاوتوں کو کچلنے کے لئے ماموریت پر تھا ۔
اس ملاقات کے دوران خالد نے اپنی گفتگو کے ضمن میں وکیع سے پوچھا:
تم نے کیوں مرتد وں کی دوستی اختیار کرکے ان کا ساتھ دیا ؟
وکیع نے جواب دیا :
'' بنی ضبہ '' کے چند افراد کی گردن پر ہمارا خون تھا ۔ میں بھی انتقام لینے کے لئے فرصت کی تلاش میں تھا ۔ جب میں نے دیکھا کہ بنی تمیم کے قبائل ایک دوسرے کے پیچھے پڑ ے ہیں تو انتقام لینے کے لئے اس فرصت کو غنیمت سمجھا۔
وکیع نے ایک شعر میں اپنے اس اقدام کی توجیہ یوں کی ہے :
تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں دین سے خارج ہو کر صدقہ دینے میں رکاوٹ بنا ہوں ! بلکہ حقیقت میں وہی معروف شخص ہوں جس کی شہرت زبان زد خاص
و عام تھی ۔
میں نے قبیلہ بنی مالک کی حمایت کی اور ایک مدت تک توقف کیا تاکہ میری آنکھیں کھل جائیں ۔
چوں کہ خالد بن ولید نے ہم پر حملہ کیا اورڈرایا ،اس لئے امانتیں اس کے پاس پہنچنے لگیں ۔
چوتھی روایت
طبری نے چوتھی روایت میں مالک بن نویرہ کے قتل کی داستان اپنی مذکورہ اسناد کے مطابق سیف بن عمر سے نقل کرکے اس طرح بیان کی ہے ۔ ٤
جب خالد بن ولید سر زمین بطاح میں داخل ہوا تو اس نے اپنے افراد کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا اور ہر گروہ کو ایک شخص کی قیادت میں مختلف ماموریتوں پر روانہ کیا تاکہ تمیم کے مختلف قبیلوں کے اندر داخل ہو کر گھوم پھر یں اور انھیں ہتھیار ڈالنے کی دعوت دیں ۔ اگر کسی نے نا فرمانی کرکے ان کا مثبت جواب نہ دیا تو اسے قیدی بنا کر خالد بن ولید کے پاس لے آئیں تاکہ وہ ان کے بارے میں خود فیصلہ کرے ۔
خالد کے گشتی سواروں نے اس ماموریت کو انجام دینے کے دوران مالک بن نویرہ ،اور اس کے خاندان کے چند افراد کو پکڑکر قیدی بنالیا ۔لیکن خالد کے ماموروں کے در میاں اس مسئلہ میں اختلاف ہوا کہ کیا مالک اور اس کے ساتھیوں نے اذان کے ساتھ نماز پڑھی یا اذان کے بغیر ۔اسی وجہ سے خالد بن ولید نے اسے جیل میں ڈالنے کا حکم دیا ۔
اتفاق سے اس رات کو کڑاکے کی سردی تھی اور تیز آندھی بھی چل رہی تھی ۔نا قابل برداشت ٹھنڈک تھی اور یہ سردی رات بھر لمحہ بہ لمحہ شدیدتر ہوتی جاتی تھی ۔
خالد بن ولید نے اسیروں کی بہبودی اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے حکم دیا کہ اس کا منادی فوجیوں میں اعلان کرے :
''ادفئوااسراکم ''''اپنے اسیروں کو گرم حالت میں رکھو !''
سیف کہتا ہے کہ کنانہ کے لوگوں کے ہاں یہ جملہ ''دثروا الرجل فادفئو ''یعنی مرد کو ڈھانپو اور اسے گرم گرم رکھو ''سر تن سے جدا کرنے کا معنی دیتا ہے!اس لئے خالد بن ولید کے جنگجو سپہ سالار کا حکم سننے کے بعد فوری طور پر اسے عملی جامہ پہنا نے کی فکر میں لگ گئے، کیونکہ وہ اس اعلان سے یہ تصور کر رہے تھے کہ خالد بن ولید نے اسیروں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیاہے !لہٰذا ''ضرار بن ازور'' نے اٹھ کر مالک بن نویرہ کا سر تن سے جدا کردیااور دوسرے لوگوں نے بھی مالک کے دیگر ساتھوں کو قتل کرڈالا۔
خالد بن ولید نے جب اسیروں کی فریاد و زاری کی آوازیں سنیں ، اپنے خیمے سے نکل کر دوڑتے ہوئے وہاں پہنچا لیکن اس وقت دیر ہوچکی تھی اور مالک اور اس کے ساتھی خاک و خون میں تڑپ رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر خالد بن ولید نے کہا:
جب خدائے تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ کوئی کام انجام پائے تو وہ کام انجام پاتا ہے۔
سیف روایت کے آخر میں کہتا ہے:
خالد کے سپاہیوں نے مقتولوں کے سروں کو منجملہ مالک نویرہ کے سر کو ایک دیگ میں ڈالکر اس کے نیچے آگ لگادی!!
لیکن، پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی ''سجاح'' کی باقی داستان تاریخ طبری میں سیف سے نقل کرکے اس طرح درج کی گئے ہے:
پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی ''سجاح'' اپنے مریدوں کے ہمراہ یمامہ کی طرف روانہ ہوئی اور اس کی خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ جب یہ خبر پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے دوسرے شخص ''مسیلمہ'' کو پہنچی تو وہ بہت ڈرگیا اور حفظ ماتقدم کے طور پر متوقع حوادث کے بارے میں تدبیر کی فکر میں لگ گیا۔ اس کے بعد اس نے ''سجاح'' کو کچھ تحفے بھیجے اور اس سے امان کی درخواست کی تا کہ اس کی ملاقات کے لئے آئے ۔''سجاح'' نے مسیلمہ کو امان دی اور ملاقات کی اجازت بھی ۔
مسیلمہ قبیلہ بنی حنیفہ کے اپنے چالیس مریدوں کے ہمراہ ''سجا ح'' کی خدمت میں حاضر ہوا۔
سیف کہتا ہے کہ ''سجاح'' عیسائی تھی۔پھر داستان کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے:
پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی ان دو شخصیتوں نے آپس میں گفتگو کی اور گفتگو کے دوران مسیلمہ نے ''سجاح'' سے کہا:
دنیا کی نصف دولت ہماری ہے ، اگر قریش انصاف پسند ہوتے تو باقی نصف ان کی تھی۔ اب جب کہ قریش نے انصاف کی راہ اختیار نہیں کی ہے تو خدائے تعالیٰ نے وہ حصہ قریش سے چھین کر تمھیں عنایت کیاہے!!
''سجاح'' کو مسیلمہ کی تقسیم پسند آئی اور اسے قبول کیا اور اس کے ساتھ اس شرط پر جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا کہ مسیلمہ ہر سال یمامہ کی پیدا وار کا نصف خراج کے طور پر ''سجاح'' کو دے ۔ اس کے علاوہ طے پایا کہ اگلے سال کے خراج کا نصف بھی پیشگی کے طور پر اسی سال ادا کیا جائے۔
اس قسم کے سخت اور مشکل شرط کو قبول کرنے پر مسیلمہ مجبور ہوا اور طے پایا کہ سجاح اگلے سال کا نصف خراج ساتھ لے کر لوٹے اور اپنی طرف سے ایک نمایندہ کو یمامہ میں رکھے تا کہ وہ اگلے سال خراج کا دوسرا حصہ وصول کرے ۔
''سجاح'' نے ایسا ہی کیا اور مسیلمہ سے خراج کا نصف حصہ وصول کرکے اپنی طرف سے وہاں پر ایک نمایندہ مقرر کرکے بین النہرین کی طرف روانہ ہوئی ۔
ابن اثیر نے بھی جہاں پر تمیم اور ''سجاح'' کی بات کرتا ہے یہی مطالب طبری سے نقل کئے ہیں ۔ اس موضوع پر ابن اثیر کی گفتگو کا آغاز یوں ہو تا ہے:(٥)
قبائل تمیم میں ، ان ہی قبائل میں سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے جن کا رندوں کو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے مأموریت دی گئی تھی وہ حسب ذیل تھے:
''زبر قان بن بدر، سہل بن منجاب، قیس بن عاصم، صفوان بن صفوان، سبرة بن عمرو، وکیع بن مالک اور مالک بن نویرہ''
جب پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کی خبر اس علاقے میں پہنچی تو ''صفوان بن صفوان'' نے قبیلہ بنی عمر سے وصول کئے گئے صدقات پر مشتمل رقومات....... (تا آخر روایت ِسیف)
مالک بن نویرہ کی داستان کو ابن اثیر نے بھی سیف سے روایت کرکے طبری کی کتاب سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے۔
ابن کثیر نے بھی ''سجاح'' اور قبائل تمیم اور مالک نویرہ کی داستان کو سیف کی اسی روایت کے مطابق طبری سے نقل کرکے درج کیا ہے ۔(٦)
ابن خلدون بھی ''وکیع بن مالک ''کے بارے میں گفتگو کرتے وقت تاریخ طبری سے سیف کی اسی روایت کو نقل کرتا ہے۔
یاقوت حموی نے بھی لفظ ''بطاح'' کی تشریح میں بلاواسطہ سیف کی روایت ، خاص کر اس کی تیسری روایت سے استفادہ کیا ہے اور اس کے شاہد کے طور پر وکیع کا شعر بھی پیش کیا ہے۔
سیف کی ان ہی مذکورہ روایات سے استفادہ کر کے ابن اثیر ، ذہبی ،ابن فتحون اورابن حجر نے سیف کے چھ جعلی اصحاب جن کے نام اوپر بیان ہوئے کے حالات زندگی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں ۔ ان جعلی صحابیوں میں سے ہر ایک کے بارے میں مذکورہ علماء کی باتوں کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :
١٣۔ سعیر بن خفاف
ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں اسے ''سعیر بن خفاف تمیمی'' بتایا ہے ، جب کہ تاریخ میں طبری میں سیف کی تاکید کی بناء پر ''سعر بن خفاف تمیمی '' ذکر ہوا ہے ۔ ابن حجر نے سیف کے اس جعلی صحابی کے بارے میں اس طرح لکھا ہے:
سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں لکھا ہے''سعیر بن خفاف'' ، قبائل تمیم کے ایک قبیلہ میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کارندہ تھا ۔ ابوبکر نے بھی اسے اپنے عہدے پر برقرار رکھا ۔ (٧)(ز)
یہ امر پہلے ہی واضح ہو چکا ہے کہ ابن حجر کی تحریروں میں حرف ''ز'' اس بات کی علامت ہے کہ یہ مطلب اصحاب کی سوانح لکھنے والے دوسرے مؤلفین کے مطالب کے علاوہ اور اس کا اپنا اضافہ کیا ہوا مطلب ہے۔
١٤۔عوف بن علاء جشمی
ابن حجر نے اس کا نام ''عوف بن خالد جشمی''ذکر کیا ہے، لیکن تاریخ طبری میں سیف کی روایت کے مطابق اس کا نام''عوف بن علاء بن خالد جشمی'' لکھاہے۔
ابن حجر نے اپنی کتا ب ''الاصابہ'' میں اس کی سوانح اس طرح بیان کی ہے:
سیف نے اپنی کتاب ''فتوح'' مین لکھا ہے کہ عوف اُن کارندوں میں سے ہے، جنھیں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے اور وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی تھا ۔ ابن فتحون نے بھی عوف کا نام ان صحابیوں کے عنوان میں ذکر کیا ہے جو صحابیوں کی سوانح لکھنے والوں کے درج کرنے سے رہ گئے ہیں ۔ (٨)
ہم نے عوف کے بارے میں سیف بن عمر اور دوسروں سے مذکورہ روایت کے علاوہ کوئی خبروایت اور نہ پائی اور نہ ہی اس جعلی صحابی کی جنگوں میں شرکت اور شجاعتوں کے بارے میں کوئی مطلب نہیں پایا، جب کہ سیف اپنے قبیلۂ مضر ، خاص کر تمیم کے افسانوی دلاوروں کے بارے میں اکثر و بیشتر شجاعتیں اور بہادریاں دکھلاتا ہے ۔
١٥۔اوس بن جذیمہ
ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں اسے ''اوس بن جذیمہ'' ہجیمی کے نام سے یاد کیا ہے جب کہ تاریخ طبری میں سیف کی روایت کے مطابق ''اوس بن خزیمہ ہجیمی'' ذکر ہوا ہے اور ہجیمی بنی عمرو کا ایک قبیلہ ہے۔ اسی طرح یہ نام بصرہ میں موجود ہجیمیان کے ایک محلہ سے بھی مطابقت رکھتا ہے ۔ (٩)۔
ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں اوس کی سوانح کے بارے میں یوں ذکر کیا ہے:
سیف اور طبری دونوں نے بیان کیا ہے کہ اوس نے رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دیدار کیا ہے اور قبیلہ بنی تمیم کے افراد کے مرتد ہوتے وقت بدستور اسلام پر ثابت قدم رہاہے ۔ ''سجاح'' پیغمبری کا دعویٰ کرنے کے وقت اوس نے اپنے خاندان کے ایک گروہ کے ساتھ ''سجاح'' کے سپاہیوں پر چڑھائی کی. اس طرح سیف کے اس خیالی سورما اور جعلی صحابی کے نام سے سیف کے خاندان، بنی عمرو تمیمی کے افتخارات میں اضافہ ہوتاہے۔
١٦۔سہل بن منجاب
ابن اثیر نے اپنی کتاب ''اسد الغابہ'' میں لکھا ہے:
جب تمیم کے مختلف قبائل نے اسلام قبول کیا تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان قبیلوں میں ان کے ہی چند افراد کو اپنے کارندوں کی حیثیت سے ذمہ داری سونپی ۔ قبیلہ کے صدقات کو جمع کرنے کی مأموریت ''سہل بن منجاب'' کو دی ۔ جیسا کہ طبری نے ذکر کیا ہے کہ قیس بن عاصم، سہل بن منجاب ، مالک نویرہ ، زبرقان بدر اور صفوان و غیر ہ قبائل تمیم میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے تھے۔
ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں لکھا ہے:
طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''سہل بن منجاب'' ان کارندوں میں سے تھا جنھیں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبائل بنی تمیم میں صدقات جمع کرنے پر مأمور فرمایا تھا۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات تک سہل اس عہد ے پر باقی تھا۔
ذہبی نے اپنی کتاب ''تجرید'' میں لکھا ہے:
کہا جاتا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ''سہل کو صدقات جمع کرنے کے لئے مأمور فرمایا تھا۔ (١٠)
اس مطلب پر ایک تحقیقی نظر:
ہم ، ابن اثیر کی کتاب ''اسد الغابہ '' پر ایک بار پھر نظر ڈالتے ہیں ۔ وہ لکھتا ہے:
تمیم کے مختلف قبائل کے اسلام قبول کرنے کے بعد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان ہی قبائل میں سے ان کے لئے چند کارندوں کو معین فرما کر مختلف قبائل میں ان کو مأموریت دی ۔ جیسے ''قیس بن عاصم'' ، ''سہل '' اور ''مالک''
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے تمیمیوں کو مأموریت دینے کی حدیث طبری کے متعدد نسخوں میں حسب ذیل صورت میں من و عن درج ہوئی ہے:
تمیمیوں کے بارے میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی زندگی میں اپنے چند کارندوں کو معین فرمایا تھا، جن میں سے زبرقان بن بدر کو قبیلۂ رباب ، عوف اور بناء کے لئے مأمور فرمایا تھا۔ جیسا کہ ''سری '' نے ''شعیب ''سے اس نے ''سیف سے اس نے صعب بن عطیہ سے ، اس نے اپنے باپ اور سہم بن منجاب سے روایت کی ہے کہ ''قیس بن عاصم '' قبیلہ ٔمقاعس اور بطون پر مأمور تھا۔
طبری کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ ''صعب بن عطیہ '' نے دو آدمیوں سے نقلِ قول کیا ہے کہ جن میں ایک اس کا باپ عطیہ اور دوسرا سہم بن منجاب ہے ۔ لہٰذا منجاب اس حدیث میں خود راوی ہے نہ صحابی!
گویا ان دو معروف دانشو روں ، ابن اثیر و ابن حجر نے طبری کی بات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ صعب نے صرف اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ مقاعس اور بطون کے قبائل پر ''قیس بن عاصم '' اور سہم من منجاب '' نامی دو شخص تمیمیوں کے صدقات جمع کرنے پر مأمور کئے گئے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ان دو دانشوروں کو ہاتھوں میں طبری کے جو نسخے تھے ، ان میں ''سہم بن منجاب ''کا نام ''سہل بن منجاب '' لکھا گیا ہو. اس بناء پر ان دو دانشو روں نے اسی نام کو صحیح قرار دیکر ''سہل بن منجاب'' کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی کے طور پر درج کر کے تشریح کی ہے۔
١٧۔ وکیع بن مالک
سیف نے اسے ''وکیع بن مالک تمیمی '' خیا ل کیا ہے اور اس کے نسب کو ''حنظلہ بن مالک '' تک پہنچا یا ہے جو قبائل تمیم کا ایک قبیلہ ہے ۔ (١١)
ذہبی نے اپنی کتاب ''تجرید '' میں وکیع کا تعارف اس طرح کیا ہے:
سیف بن عمر تمیمی لکھتا ہے کہ وکیع بن مالک اور مالک نویرہ ایک ساتھ قبیلہ بنی حنظلہ میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے تھے۔
ابن حجر بھی اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں لکھتا ہے:
سیف نے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ''وکیع بن مالک '' کو ''مالک نویرہ'' کے ہمراہ بنی حنظلہ اور بنی یربوع کے صدقات جمع کرنے پر مأمور فرمایا ، اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات تک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے اس عہدے پر باقی تھے۔ تاریخ طبری میں ملتاہے کہ وکیع نے سجاح کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ، لیکن جب سجاح اپنے خاندان سمیت نابود ہوئی تو وکیع اپنی مأموریت کے علاقے میں صدقات کے طور پر جمع کی گئی رقومات کو اپنے ساتھ لے کر خالد بن ولید کے پاس گیا اور عذر خواہی کے ساتھ اپنا قرض چکا دیا اور معافی مانگ کر احسن طریقے پر پھر سے اسلام کی طرف پلٹ آیا۔
سیف نے مزید کہا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ''وکیع دارمی'' کو ''صلصل'' کے ہمراہ عمرو کی مدد کے لئے بھیجا تا کہ وہ مرتدوں پر حملہ کریں ۔
ابن حجر کی تحریر سے واضح ہو تا ہے کہ یہ دانشور ''وکیع دارمی'' کی خبر کو دومنابع ، یعنی سیف کی کتاب سے اور طبری کی تاریخ سے نقل کرتا ہے اور قبائل تمیم میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندوں کے موضوع ، تمیمیوں کے مرتد ہونے کی خبر اور عمر و عاص کی مدد کے لئے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے صلصل کے ہمراہ وکیع کی مأموریت کا ذکر کر تا ہے۔
انشاء اللہ اپنی جگہ پر اس کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
اس طرح ابن حجر نے ، اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں ''وکیع '' کا کوئی شعر نقل نہیں کیاہے جب کہ طبری و حموی نے اپنی کتابوں میں وکیع کے اشعار کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
اسی طرح اس تمیمی دارمی یعنی ''وکیع بن مالک ''کا اصحاب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فہرست میں قرار پانا، اس کے اشعار اور رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے کارندہ کی حیثیت سے اس کی مخصوص مأموریت خاندان تمیم کے افتخارات میں درج ہوئے ہیں ۔
١٨۔ حصین بن نیار حنظلی
سیف نے ''حصین بن نیار حنظلی '' کو بنی حنظلہ سے تصور کیا ہے۔
ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ '' میں حصین کے بارے میں یوں لکھا ہے:
سیف بن عمر ، اور اسی طرح طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ حصین بن نیار رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندوں میں شمار ہوتا تھا۔ ابن فتحون ١ نے بھی حصین کے حالات کے بارے میں سوانح نویسوں سے یہی سمجھا ہے۔
ابن حجر کہتا ہے کہ : سیف اور طبری نے کہا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس دانشور نے حصین بن نیار کے بارے میں ان مطالب کو ان دو منابع سے نقل کیا ہے۔
ابن حجر نے حصین کی زندگی کے حالات لکھتے ہوئے صرف اسی پر اکتفاء کی ہے کہ وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کارندہ تھا۔اس کے علاوہ جو دوسری داستانیں طبری نے سیف سے نقل کرکے اس کے بارے
____________________
١)۔ابوبکر، محمد بن خلف بن سلیمان بن فتحون اندلسی، ملقب بہ ''ابن فتحون'' پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کا ایک دانشور ہے۔ اس کی تألیفات میں سے دو بڑی جلدوں پر مشتمل کتاب ''التذییل ''ہے ۔ اس کتاب میں اس نے ''عبد البر'' کی کتاب ''استیعاب'' کی تشریح و تفسیر لکھی ہے۔ ابن فتحون نے ٥١٩ھ میں اندلس کے شہر مرسیہ میں وفات پائی ۔
میں ١٤ ھ کے حوادث کے ضمن ذکر کی ہیں قادسیہ کی جنگ میں شرکت اور ہراول دستے کی کمانڈ و غیرہ کو بیان نہیں کیا ہے ۔
اس کے علاوہ ابن حجر نے حموی کی ''معجم البلدان '' میں لفظ ''دلوث '' کے سلسلے میں بیان کی گئی خبر کے بارے میں یوں لکھا ہے :
سیف بن عمر نے ''عبد القیس '' نامی ایک مرد ملقب بہ ''صحار '' سے نقل کر کے کہا ہے کہ میں نے شہر اہواز کے اطراف میں ''ہرمزان'' سے جنگ میں شرکت کرنے والے شخص ''ہرم بن حیاں '' سے ملاقات کی۔ جنگ کا علاقہ ''دلوث '' اور دجیل کے درمیان تھا۔۔۔(یہاں تک کہتا ہے:)
اس منطقہ کو دوسری جگہ پر ''دلث '' پڑھا جاتا تھا ۔ اور حصین بن نیار حنظلی نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :
کیا اسے خبر ملی کہ ''مناذر'' کے باشندوں نے ہمارے دل میں لگی آگ کو بجھادیا؟
دلوث سے آگے ہماری فوج کے ایک گروہ کو دیکھ کر ان کی آنکھیں چکا چوند ھ ہوگئیں ۔
اس مطلب کو عبد المؤمن نے حموی سے نقل کر کے اپنی کتاب ''مراصد الاطلاع ''میں درج کیا ہے۔
ابن حجر نے بھی لفظ ''مناذر'' کے بارے میں حموی کی بات پر توجہ نہیں کی ہے جب کہ وہ اپنی معجم میں لکھتا ہے :
اہل علم کا عقیدہ ہے کہ ١٨ھ میں عتبہ نے اپنی سپاہ کے سلمی و حرملہ نام کے دو سرداروں کو مأموریت دی۔۔۔(یہاں تک لکھتا ہے:)
سر انجام مناذر و تیری کو فتح کیا گیا ۔ اس فتح کی داستان طولانی ہے۔
حصین بن نیار نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :
کیا وہ آگاہ ہوا کہ مناذر کے باشندوں نے ہمارے دل میں لگی آگ کو بجھادیا ؟
انھوں نے ''دلوث''کے مقام سے آگے ہماری دفوج کی ایک بٹیلین کو دیکھا اور ان کی آنکھیں چکا چوندھ رہ گئیں ۔
ہم نے ان کو نخلستانوں اور دریا ئے دجیل کے درمیان موت کے گھاٹ اتار دیااورانھیں نابود کرکے رکھ دیا ۔
جب تک ہمارے گھوڑوں کے سموں نے انھیں خاک میں ملا کر دفن نہیں کیا ، وہ وہیں پڑے رہے ۔
طبری نے یہ آخری داستان نقل کرکے اس کو مفصل طور پر تشریح وتفسیر کے ساتھ درج کیا ہے۔ لیکن اپنی عادت کے مطابق اس سے مربوط رجز خوانیوں اور اشعار کو حذف کیا ہے ۔(١٢)
اس طرح ان علماء نے سیف کی احادیث پر اعتماد کرکے اس کے خیالات کی مخلوق ، یعنی خاندان تمیم کے ان چھ افراد کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی اصحاب اور کارندوں کی فہرست میں قرار دے کر رجال اور پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں سے مربوط اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
اب ہم سیف کی احادیث میں ان سے مربوط مطالب کو ذکر کرنے کے بعد سب سے پہلے سیف کی احادیث کے اسناد کی تحقیق کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کے افسانوں کا تاریخ کے مسلم حقائق کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں :
اسناد کی تحقیق
سیف کی پہلی حدیث میں خاندان تمیم میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گماشتوں کے بارے میں بحث ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ مذکورہ قبائل میں افراد کے مرتد ہونے ، مالک نویرہ کی داستان اور پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی خاتون '' سجاح '' کی داستان پر بحث ہوئی ہے ۔
دوسری حدیث میں بحرین میں ارتداد اور سیف کے جعلی صحابی وکیع بن مالک کے بارے میں بحث ہوئی ہے
تیسری حدیث میں بطاح ، وکیع او ر مالک نویرہ کی داستان کے ایک حصہ کا موضوع زیر بحث قرار پایا ہے
سیف نے مذکورہ تین احادیث کو صعب بن عطیہ بن بلال اور اس کے باپ سے نقل کیا ہے اس میں باپ بیٹے ایک دوسرے کے راوی ہیں ہم نے گزشتہ مباحث میں بیان کیا ، چوں کہ ان کو سیف کے علاو ہ کہیں اور نہیں پایا جا سکتا ہے ، لہٰذا ان کو ہم نے سیف کی مخلوق کی حیثیت سے جعلی راوی کے طور پر پہچان لیا ہے ۔
چوتھی حدیث ، جو مالک نویرہ کی بقیہ داستان پر مشتمل ہے ،کی سند کے طور پر سیف نے خزیمہ بن شجرہ عقفانی کا ذکر کیا ہے۔ علماے رجال اور نسب شناسوں نے اس کی سوانح کو سیف کی احادیث سے نقل کیا ہے !! دوسرا عثمان بن سوید ہے جس کے نام کو ہم نے سیف کے علاوہ کہیں اور نہ پایا۔
لیکن جہاں پر سیف حصین بن نیار کی بات کرتا ہے اس کی سند کے طور پر چند مجہول الھویہ افراد کا ذکر کرتا ہے !یہ ہے سیف کی احادیث کے اسناد کی حالت ہے !!
تاریخی حقائق
سیف کے افسانوں کا موازنہ کرنے کے لئے ہم ان منابع کی طرف رجوع کرتے ہیں جنھوں نے سیف کی روایت کو نقل نہیں کیا ہے ۔ اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ابن ہشام اور طبری نے ابن اسحاق سے نقل کر کے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گماشتوں کے موضوع کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے: ۔ (١٣)
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے گورنر ون اور عاملوں کو اسلامی ممالک کے قلمرو میں حسب ذیل ترتیب سے معین فرمایا :
١۔مہاجربن ابی امیہ کو صنعاء ، بھیجااور وہ اسود کی طرف سے اس کے خلاف بغاوت تک وہاں پر اسی عہدے پر فائز تھا ۔
٢۔زیاد بن لبید جس نے بنی بیاضہ کے ساتھ برادری کا معاہدہ کیا تھا کو حضرموت بھیجا اور وہاں کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی
اسے سونپی ۔
٣۔ عدی بن حاتم کو قبائل طے وبنی اسد کے لئے اپنا کا رندہ مقر فرمایا اور اس علاقے کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی اسے سونپی ۔
٤۔مالک بن نویرہ کو بنی حنظلہ کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری دی ۔
٥۔زبر قان بن بدر کو بنی اسد کے ایک علاقہ کی ذمہ داری دی ۔
٦۔قیس بن عاصم کو بنی اسد کے ایک دوسرے علاقہ کا کارندہ مقرر فرمایا اور اس علاقہ کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی اسے سونپی ۔
٧۔علاء بن حضر ی کوبحرین کی حکومت سونپی ۔
٨۔حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو صدقات جمع کرنے کے علاوہ نجران کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کر کے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچانے پر مأمور فرمایا ۔ چوں کہ اس سال ١٠ھ میں جب ذیقعدہ کا مہینہ آیا تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فریضہ حج انجام دینے کے لئے عزیمت فرمائی....
اس کے بعد طبری اور ابن ہشام نے حضرت علی علیہ السلام کی نجران سے واپسی ، ان کا
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملحق ہو کر فریضہ حج کے لئے جانا ، پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مکہ سے مدینہ کی طرف واپسی اور اواخر صفر میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے واقعات کو سلسلہ وار لکھا ہے ۔
اس حدیث کے مطابق تمیم کے مختلف قبائل میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حسب ذیل تین گماشتے مقرر ہوئے تھے ۔
مالک نویرہ
قیس بن عاصم اور
زبرقان بن بدر
اور سیف نے ان میں اپنی طرف سے مزید آٹھ افراد کا اضافہ کرکے ان کی تعداد گیارہ افراد تک بڑھا دی ہے !
تمیم کے مختلف قبائل کے مرتد ہونے کے موضوع کو ہم نے کسی ایسے معتبر مورخ کے ہاں نہیں پایا جس نے سیف سے روایت نقل نہ کی ہو صرف مالک نویرہ کی داستان اور خالد بن ولید کے ہاتھوں اس کی دلخراش موت کے بارے میں پایا ، جسے طبری ،ابوا لفرج اصفہانی اور وثیمہ وغیرہ جیسے معروف دانشوروں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ ہم نے اس داستان کو طبری کی تاریخ سے حاصل کیا ہے ۔
مالک نویرہ کی داستان
طبری عبد الرحمن بن ابی بکر سے نقل کرکے مالک کی موت کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے : (١٤)
جب خالد سر زمین بطاح میں پہنچا تو اس نے ضراربن ازور کو ایک گروہ کی قیادت سونپ کر جس میں ابو قتادہ اور حارث بن ربعی بھی موجود تھے اس علاقہ کے ایک حصے کے باغیوں اور مرتدوں کی شناسائی کے ئے مامور کیا ۔
ابو قتادہ خود اس ماموریت میں شریک تھا ۔ چوں کہ اس نے خالد کے پاس مالک کے مسلمان ہونے کی شہادت دی تھی ، اور خالد نے اس کی شہادت قبول نہیں کی تھی ، اس لئے اس نے قسم کھائی کہ زندگی بھر خالد کے پرچم تلے کسی بھی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا ۔ ابو قتادہ نے مالک کی داستان کی یوں تعریف کی ہے :
ہم رات کے وقت قبیلہ ٔمالک کے پاس پہنچے اور انھیں زیر نظر قرار دیا ۔ لیکن جب انھوں نے ہمیں اس حالت میں اپنے نزدیک دیکھا تو ڈر گئے اور اسلحہ ہاتھ میں لے لیا ہم نے یہ دیکھ کر ان سے مخاطب ہوکر کہا:
ہم سب مسلمان ہیں !
انھوں نے کہا
ہم بھی مسلمان ہیں :
ہم نے کہا:
پس تم لوگوں نے کیوں اسلحہ ہاتھ میں لے لیا ہے ؟!
انھوں نے جواب دیا :
تم کیوں مسلح ہو؟
ہم نے کہا:
ہم اسلام کے سپاہی ہیں ۔اگرتم لوگ سچ کہتے ہو تو اپنا اسلحہ زمین پر رکھ دو !
انھوں نے ہماری تجویز قبول کرتے ہوئے اسلحہ کو زمین پر رکھ دیا اس کے بعد ہم نماز کے لئے اٹھے اور وہ بھی نماز کے لئے اٹھے اور
گویا خالد اور مالک کے درمیاں ہوئی گفتگو خالد کے لئے مالک کو قتل کرنے کی سند بن گئی تھی،کیوں کہ جب مالک نویرہ کو پکڑ کے خالد کے سامنے حاضر کیا گیا تو اس نے اپنی گفتگو کے ضمن میں خالد سے کہا:
میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تمھارے پیشوا پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایسی ویسی کوئی بات کہی ہو !!
خالد نے جواب میں کہا:
کیا تم اسے اپنا پیشوا نہیں جانتا ؟ اس کے بعد حکم دیا کہ اس کا اور اس کے ساتھیوں کا سر تن جدا کردیں !! پھر حکم دیا کہ تن سے جد ا کئے گئے سروں کو دیگ میں ڈال کرجلتی آگ پر رکھ دیں ۔
خالد پر عمر کا غضب ناک ہونا
ٍٍ جب مالک نویرہ کے قتل کی خبر سے عمر ابن خطاب آگاہ ہوا تو اس نے اس موضوع پر ابو بکر سے بات کرتے ہوئے اس سے کہا:
اس دشمن خدا خالد ولید نے ایک بے گناہ مسلمان کا قتل کیا ہے اور ایک وحشی کی طرح اس کی بیوی کی عصمت دری کی ہے ۔
جب خالد مدینہ لوٹا ۔سیدھے مسجد النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں چلا گیا ۔ اس وقت اس کے تن پر ایک ایسی قبا تھی جس پر لوہے کے اسلحہ کی علامت کے طور پر زنگ کے دھبے لگے ہوئے تھے ، سر پر جنگجوئوں کی طرح ایسا عمامہ باندھا تھا جس کی تہوں میں چند تیر رکھے گئے تھے ۔ جوں ہی عمر نے خالد کو دیکھا ، غضبناک حالت میں اپنی جگہ سے اٹھ کر زور سے اس کے عمامہ سے تیروں کوکھینچے کر نکالا اور انھیں غصے میں توڑ ڈالا اور بلندآوازسے اس سے مخاطب ہو کر کہا:
مکاری اور ریا کاری سے ایک مسلمان کو قتل کر کے ایک حیوان کے مانند اس کی بیوی کی عصمت لوٹتے ہو ؟! خدا کی قسم اس جرم میں تجھے سنگار کروں گا !!...
ہم نے اس مطلب کو طبری سے نقل کیا ہے ۔
ابن خلکان نے بھی اپنی کتاب '' وفیات الاعیان '' میں مالک نویرہ کے بارے میں لکھا ہے:(١٥)
جب مالک نویرہ کو پکڑ کر اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ خالد کے پاس لایا گیا تو خالد کی سپاہ کے دو افراد ابو قتاد انصاری اور عبد اللہ بن عمر نے خالد کے پاس مالک کے مسلمان ہونے کی شہادت دی اور اس کی شفاعت کی لیکن خالد نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان دو صحابیوں کی باتیں بھی اسے پسند نہ آئیں ۔
مالک نویرہ نے جب حالت کو اس طرح بگڑ تے اور خطر ناک ہوتے دیکھا اور احساس کیا کہ اس کی جان خطرے میں ہے تو خالد سے مخاطب ہوکر کہا:
اے خالد ! ہمیں ابوبکر کی خدمت میں بھیج دوکہ وہ ذاتی طور پر ہمارے بارے میں فیصلہ کریں ،کیوں کہ تم نے ایسے افراد کے بارے میں ایسا اقدام کیا ہے جن کا گناہ ہم سے سنگین تر تھا۔
خالد نے جواب میں کہا:
خدا مجھے موت دے ، اگر تجھے قتل نہ کروں !!
اسی وقت مالک کو خالد کے اشارہ پر ضرار کے پاس لے گئے تاکہ وہ اس کا سر تن سے جدا کردے ۔ اس حالت میں مالک کی نظر اپنی بیوی ام تمیم پر پڑی ، جو اپنے زمانے کی خوبصورت ترین عورت تھی ۔ مالک نے خالد کی طرف رخ کرکے کہا: اس عورت نے مجھے مروا دیا ؟!
خالد نے جواب میں کہا:
خدا نے تجھے اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہونے کے جرم میں مارا ہے ۔
مالک نے کہا:
میں مسلمان ہوں ۔
خالد نے بلندآواز میں کہا:
ضرار !کیوں دیرکررہاہے؟ اس کا سر تن سے جدا کردے !!
ابن خلکان مالک کی داستان کو جاری رکھتے ہوئے مزید لکھتا ہے :
ابوزہرہ سعدی نے مالک کے سوگ میں چند درد ناک اشعار کے ضمن یوں کہا ہے :(۱)
جن سواروں نے اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہماری سر زمین کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا ، ان سے کہہ دو کہ مالک کی شہادت کے بعد مصیبت کی شام ہمارے لئے ختم ہونے والی نہیں ہے۔
خالد نے بڑی بے شرمی سے مالک کی بیوی کی عصمت لوٹ لی ،کیوں کہ وہ بہت پہلے سے اسے للچائی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
خالد نے عقل کی زمام نفسانی خواہشات کے حوالے کی تھی اور اس میں اتنی مردانگی نہیں تھی کہ اپنے دل کو اس سے کھینچ کر اپنے آپ کو کنٹرول کر سکتا ۔مالک کے قتل ہونے کے بعد خالد اپنی دیرینہ آرزو کو پاسکا۔ لیکن مالک نے اس دن اپنی بیوی کی وجہ سے جان دی اور اس کا سب کچھ لٹ گیا۔
____________________
۱ )۔الاقل لحی اوطأوا بالسنابک
تطاول هذا اللیل من بعد مالک
قضی خالد بغیاً علیه لعرسه
و کان له فیها هوی قبل ذالک
فأمضی هواه خالد غیر عاطف
عنان الهوی عنها ولا متمالک
و اصبح ذا اهل، و اصبح مالک
الیٰ غیر شیء هالکاً فی هو الک
فمن للیتامی والارامل بعده
و من للرجال المعدمین الصعالک
اصیبت تمیم غثها و سمینها
بفارسها المرجو سحب الحوالک
مالک کے بعد اب اس کے یتیموں ، بیوہ ، بوڑھوں اور بے چاروں کا سہارا اور امید کون بن سکتا ہے؟!
قبائل تمیم کے لوگوں نے مالک جیسے شہسوار کو جو ہر بلا کو ان سے دور کرتا تھا ہاتھ سے دینے کے بعد اپنی قیمتی اور معمولی سبھی چیزوں کوکھودیا۔
دو نر و مادہ پیغمبروں کی حقیقت
طبری نے پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے دو شخص ''سجاح'' اور ''مسیلمہ'' کے بارے میں اس طرح لکھا ہے:(١٦)
(سیف کے علاوہ ) دوسروں نے لکھا ہے کہ ''سجاح'' اس علاقے میں پہنچی جو پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے ''مسیلمہ '' کے تسلّط میں تھا۔ مسیلمہ نے ڈر کے مارے قلعہ کے اندر پناہ لے کر قلعہ کے در وازے اندر سے محکم طور پر بند کر دئے ۔
''سجاح'' جب قلعہ کے سامنے آپہنچی تو قلعہ کی چھت پر بیٹھے مسیلمہ سے یوں مخاطب ہوئی:
قلعہ سے نیچے اتر آؤ!
(گویا''مسیلمہ'' ،''سجاح'' کی باتوں اور اس کی حرکات و سکنات سے سمجھ گیا تھا کہ اس سنف نازک پر غلبہ پایا جاسکتا ہے ۔ اس لئے) جواب میں بولا:
تم پہلے حکم دوکہ تیرے مرید اور حامی تم سے دور ہو جائیں !
'' سجاح'' نے اس تجویز سے موافقت کی اور حکم دیاکہ اس کے مرید اپنے خیموں میں چلے جائیں ۔
مسیلمہ بھی قعلہ سے باہر آیا اور اپنے مریدوں کو حکم دیتے ہوئے کہا:
ہمارے لئے ایک الگ خیمہ نصب کرو اور اس کے اندر عود و عنبر جلا کر معطر کرو تاکہ اس معطر فضا اور حالات سے متأثر ہوکر '' سجاح'' کی نفسانی اور جنسی خواہشات بھڑ ک اٹھیں ۔
مسیلمہ کے حکم کو عملی جامہ پہنایا گیا ۔ جب '' سجاح '' نے اس خیمہ کے اندر قدم رکھا تا آخر !
یہاں پر طبری نے پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے ان دو نر و مادہ کے درمیان انجام پائی فتگو کو سجعی سے نقل کرکے درج کیا ہے ، درحقیقت پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے ان دو شخصیتوں کے درمیان گفتگو مسیلمہ کی توقع کے عین مطابق انجام پائی اور یہ گفتگو ایک ایسے حساس مرحلے میں داخل ہوئی کہ سر انجام یہ دونوں ہیجان اور جذبات کے عالم میں انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ عقد کر لیا ۔
طبری ان دونوں کی داستان کو اس طرح خاتمہ بخشتا ہے :
سجاح نے مذکورہ خیمہ میں مسیلمہ کے ساتھ تین دن رات گزارے ۔ اس کے بعد جب خیمہ سے نکل کر اپنے مریدوں کے درمیان پہنچی تو اس کے مریدوں نے اس سے سوال کیا :
اچھابتاؤ !مسیلمہ سے ملاقات کرکے تمھیں کیا ملا ؟
سجاح نے جواب میں کہا:
وہ حق پر تھا ! میں بھی اس پر ایمان لائی ۔ حتیٰ اسے اپنا شوہر بنایا ۔
اس سے پوچھا گیا:
اچھابتاؤ !کیا اس نے کسی چیز کو تیرے لئے مہر قرار دیا ؟
( یہ سوال سن کر جیسے سجاح خواب سے بیدار ہوگئی ہو اور تعجب سے کہتی ہے ) کہا :
نہیں !
انھوں نے اس سے کہا:
تم نے یہ اچھا کام نہیں کیا ہے ، لوٹ کر اس کے پاس جاؤ !تم جیسی خاتون کے لئے مناسب نہیں ہے کہ مہر لئے بغیر شوہر سے جدا ہو جائے !!
سجاح دوبارہ خیمہ کی طرف گئی اور مسیلمہ جو ابھی خیمہ میں ہی تھا سے جاملی ۔ مسیلمہ اس خیال میں تھا کہ اس کا حریف چلا گیا ہے لیکن جب اس نے اسے واپس لوٹتے دیکھا تو فکر مند ہوا اور اس سے پوچھا :
تم تو چلی گئی تھی ! ماجرا کیا ہے ؟
سجاح نے کہا:
میرا مہر، میرے مہر کا کیا ہوگا ؟! تمھیں مہر کے عنوان سے مجھے کچھ دینا چاہئے مسیلمہ نے سجاح کی مانگ کو سن کر اطمینان کا سانس لیا اور سجاح کے مؤذن سے کہا :
اپنے دوستوں میں جاکر اعلان کرو کہ مسیلمہ بن حبیب نے شام اور صبح کی دو نمازیں ، جنھیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تم لوگوں پر واجب قرار دیا تھا ، کو سجاح کے مہر کے طور پر تمھیں بخش دیا ہے اور اب انھیں انجام دینے کی تکلیف تم لوگوں سے اٹھا دی جاتی ہے !!
اب ہم دیکھتے ہیں کہ مناذر اور تیری کی فتح کے بارے میں سیف کی باتوں کے علاوہ دوسروں نے کیا کہا ہے ؟
ابن حزم اپنی کتاب '' جوامع السیر '' میں لکھتا ہے :
ابو موسیٰ اشعر ی نے عمر کی خلافت کے دوران صوبہ خوزستان کے بعض علاقوں پر زبردستی اور بعض دیگر علاقوں پر صلح ،معاہدوں اور محبت سے قبضہ جما یا تھا ۔(١٧)
ذہبی کتاب '' تاریخ الاسلام '' میں لکھتا ہے :
١٧ھ میں عمر نے ایک فرمان کے تحت بصرہ کی حکومت ابو موسیٰ اشعری کو سونپی اسے حکم دیا کہ اہواز پرلشکر کشی کرکے اس صوبہ پر قبضہ کرلے ۔ (١٨)
بلاذری نے اپنی کتاب '' فتوح البلدان '' میں لکھا ہے :
ابو موسیٰ اشعری نے سوق اہواز اور نہر تیری پر قہر و غلبہ سے قبضہ کرلیا ( یہاں تک لکھتا ہے:) ربیع بن زیاد حارثی کو مناذر میں نمائندہ کی حیثیت سے مقرر کیا اور خود تستر ( شوشتر) کی طرف لشکر کشی کی اور اسے اسی سال موسم بہار میں فتح کیا (١٩)
مناذر اور تیری کے بارے میں فتح کی داستان یہی تھی جو ہم نے بیان کی لیکن دلوث نام کی کسی جگہ کا نام ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملاکہ اس کے بارے میں سیف کی باتوں کا موازنہ کریں کیوں کہ یہ جگہ سیف بن عمر کی خیالی پیداوار کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
گزشتہ بحث کا خلاصہ اور موازنہ کا نتیجہ
سیف نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گماشتوں میں چھ افراد کا اضافہ کیا ہے ۔ اسی کی برکت سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابیوں کی زندگی کے حالات لکھنے والے علماء نے بھی سیف کے ان چھ جعلی اصحاب اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گماشتوں کو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قرار دے کر سیف سے نقل کر کے ان کی زندگی کے حالات لکھے ہیں جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن علماء نے سیف کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے ان کی کتابوں میں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس قسم کے کارندوں اور گماشتوں کا کہیں نام تک نہیں ملتا ۔
اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ سیف بن عمر نے اپنی احادیث ،ایسے راویوں سے نقل کی ہیں کہ حقیقت میں ان کا کہیں وجود نہیں ہے اور ہم انھیں سیف کے جعلی راوی محسوب کرتے ہیں ۔
ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سیف تنہا فرد ہے جو قادسیہ کی جنگ سے پہلے ایک ہر اول دستے کے کمانڈر کی حیثیت سے حصین نامی ایک صحابی کا نام لیتا ہے ۔اور حموی جیسا دانشور اور جغرافیہ کی کتاب ''معجم البلدان '' کا مؤلف اس فرضی حصین کی فتح مناذر کے بعد سیف کے دو جعلی صحابیوں اور سورما حرملہ اور سلمی کے ذریعہ اسے فتح کرنے کے سلسلے میں لکھی گئی دلاوریوں کو اپنی کتاب میں درج کرتا ہے، جب کہ حقیقت میں مناذر کو ''ربیع حارثی قحطانی'' اور دیگر لوگوں نے فتح کیا ہے۔ چونکہ حموی نے ''دلوث'' کا نام بھی اسی حصین کے اشعار میں دیکھا ہے اس لئے اسے بھی ایک حقیقی جگہ کے طور پر اپنی کتاب میں درج کیا ہے!
سیف نے اپنے قبیلہ مضرو تمیم کی حمایت و طرفداری میں تعصبات پر مبنی اپنے اندرونی جذبات اور احساسات کو جواب دینے اور اپنے دشمنوں ، جیسے قبیلہ ٔیمانی قحطانی کی طعنہ زنی کرنے کے لئے مناذر اور تیری کی حدیث کو گھڑ لیا ہے اور ابو موسیٰ اشعری یمانی قحطانی کو خلیفہ عمر کی طرف سے دئے گئے عہدے و منصب سے محروم کر کے اس عہدے پر ایک عدنانی و مضری جعلی فرد '' عتبہ بن غزوان'' کو فائز کیا ہے ۔
سیف بن عمر اپنے قبیلہ تمیم کے خیالی اور جعلی پہلوانوں حرملہ اور سلمی کو یمانی قحطانی ''ربیع حارثی'' کی جگہ پر بٹھا تا ہے اور اپنے جعلی و خیالی صحابی و شاعر حصین بن نیار حنظلی سے ان کی مداح اور تعریفیں کراتا ہے تا کہ اپنے خاندان تمیم کے افتخارات کی شہرت کودنیا میں چار چاند لگائے !!
مگر، ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سیف کے ان تاریخی واقعات کے سال کو بدل کر ١٧ھ کو ١٨ ھ لکھنے کا کو نسی چیز سبب بنی ہے؟ جبکہ تمام مورخین نے لکھا ہے کہ'' عتبہ بن غزوان'' جسے سیف بن عمر نے ابو موسیٰ اشعری کی جگہ پر بٹھادیا ہے ١٨ ھ سے پہلے فوت ہوچکا تھا اور زندہ نہیں تھا تو کہاں سے خلیفہ ٔعمر سے اپنے لئے حکومت اور سپہ سالاری کا فرمان حاصل کرتا!! مگر یہ کہ ہم یہ بات قبول کریں کہ ایک کہ زندیقی نے جس کا سیف پر الزام تھا اپنے خاص مقاصد کے پیش نظر تاریخ اسلام کی روئداد کی تاریخوں میں تصرّف کر کے ایک امت کی تاریخ کو مشکوک بنا کر اسے بے اعتبار اور نا قابل اعتماد بنانے کی کوشش کی ہے !!
ہم نے دیکھا کہ سیف ، پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے دو افراد سجاح و مسیلمہ کے بارے میں کہتا ہے کہ جب سجاح تمیمی نے مسیلمہ سے جنگ نہ کرنے کے معاہدہ پر دستخط کئے تو پہلے مسیلمہ سے یہ طے پایا کہ یمامہ کی پیدا وار کا نصف ہر سال سجاح کو ادا کرے گا۔ دوسرے اگلے سال کے خراج کا نصف بھی اسی سال ادا کرے گا اور اس طرح مسیلمہ اس قسم کے سنگین شرائط کو قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔سجاح نے قرار کے مطابق جو کچھ وصول کرنا تھا کرلیا اور باقی خراج کو وصول کرنے کے لئے نمائندہ مقرر کر کے مسیلمہ سے مرخص ہوتی ہے!!
سیف اس قسم کا افسانہ گھڑ کر صرف اس فکر میں ہے کہ قبیلۂ تمیم کو فخر و مباہات بخشے ، اس لئے لکھتا ہے کہ سجاح نے اس فوج کشی کے نتیجہ میں یمامہ کی پیدا وار کا نصف حصہ حاصل کیا ! جب کہ دوسروں نے لکھا ہے کہ پیغمبر ی کا دعویٰ کرنے والی اس خاتون کو،اس فوج کشی کے نتیجہ میں جو کچھ میسر ہوا، وہ مسیلمہ جیسا شوہر تھا نہ یمامہ کی پیدا وار ۔ اور جو کچھ اس کے مریدوں نے پایا وہ صبح اور مغرب کی نماز وں کا ساقط ہوناتھا ، اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
ہاں ، قبیلہ تمیم کے بعض افراد کے مرتد ہونے کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کے باوجود کہ بنیا دی طور پر کفر و ارتداد ایک شرم آور امر ہے ۔ لیکن سیف وہ شخص نہیں ہے جسے اسلام کی فکر ہو اور اپنے خاندان کے دامن سے ارتداد کے بد نما داغ کو پاک کرنے کی کوشش کرے، بلکہ وہ صرف اس فکر میں ہے کہ ہر ممکن طریقے سے اپنے قبیلۂ تمیم کے لئے افتخارات میں اضافہ کرے ۔ اسی لئے قبیلۂ تمیم کے مرتد اور مسلمان افراد کو آپس میں لڑاتا ہے اور کسی بھی اجنبی کو قبیلہ تمیم کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہیں دیتا، اسی لئے سیف کی حدیث میں ملتا ہے کہ صرف تمیمی مسلمان ہی اس قبیلہ کے مرتدوں کی تنبیہ کرتے ہیں ،کسی او رکو اس امر کی اجازت نہیں دی جاتی ہے !!
لیکن، مالک نویرہ کی داستان، اگر چہ مالک ایک تمیمی فرد ہے اور قاعدے کے مطابق قبیلہ کے تعصبات کے پیش نظر سیف کی ہمدردیاں اس سے مربوط ہونی چاہئے ، لیکن خالد بن ولید جیسے خاندان مضر کے سپہ سالار، شمشیر باز اور تجربہ کار جنگجو کے مقابلے میں مالک کی حیثیت انتہائی پست و حقیر ہے۔ یہاں پر سیف ضعیف کو طاقتور پر قربان کرنے کے قاعدے کے تحت مالک کو مرتد اور سجاح کے شریک کار اور ساتھی کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، اور ایک افسانہ کے ذریعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خالد بن ولید کے ایک حکم کے سلسلے میں سرزمین بطاح میں کنانہ کے لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کی وجہ سے مالک نویرہ کو قتل کیا جاتا ہے۔ اس طرح سیف یہ کوشش کرتا ہے کہ خالد مضری کے دامن کو مالک کے ناحق خون سے پاک و مبرّا ثابت کرے۔ جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے اور دوسرے مورخین نے اس سلسلے میں لکھا ہے:
مالک نویرہ اپنے اسلام اور ایمان کے سلسلے میں دفاع کرنے کے لئے خالد سے گفتگو کرتا ہے، لیکن جب اپنے قتل کئے جانے پر خالد کی ہٹ دھرمی کا احساس کرتا ہے تو اپنی عقل و فراست سے سمجھ لیتا ہے کہ یہ اس کی بیوی کی خوبصورتی اور دلفریب حسن و جمال ہے جس کی وجہ سے خالد اسے قتل کرنے پر تُلا ہوا ہے تا کہ اپنی دیرینہ آرزو اور تمنا کو پہنچ سکے۔
اسی طرح کہا گیا ہے کہ مالک کے مسلمان ہونے اور نماز گزار ہونے کے سلسلے میں ابو قتادہ اور عبد اللہ بن عمر کی گواہی بھی نہ فقط کارگر اور مؤثر ثابت نہیں ہوئی بلکہ خالد کو ان کی باتیں ہرگز پسند نہ آئیں اور یہی امر خالد کے لئے مالک کے قتل میں تعجیل کرنے کا سبب بنا۔بالآخر خالد کے اشارہ پر ضرارنے مالک کے سر تن سے جدا کیا ۔اس کے بعد خالد نے اس کے دیگر ساتھیوں کو قتل کرانے کے بعد حکم دیا کہ ان کے سروں کودیگ میں رکھ کر اس کے نیچے (چولہے کی مانند) آگ لگا دیں ۔
لکھا گیا ہے کہ عمر نے جب مالک کے قتل کئے جانے کی خبر سنی تو غضبناک ہوئے اور اس سلسلے میں ابوبکر سے گفتگو کی ۔جب عمر خالد کو جنگی اسلحہ کا کثرت سے استفادہ کرنے کی وجہ سے اس کے لباس پر زنگ کے دھبے لگے خاص حالت میں دیکھتے ہے تو غصہ میں آکر اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے عمامہ کو پھاڑکر بلند آواز میں کہتے ہیں :مکاری اور ریا کاری سے ایک مسلمان کو قتل کرڈالتے ہو پھر ایک حیوان کی طرح اس کی بیوی سے اپنا منہ کالا کرتے ہو!! خدا کی قسم میں تجھے سنگسارکروں گا!!
اس کے باوجود سیف بن عمر کو خاندانی اور زندیقی تعصب ،اسلام دشمنی پر مجبور کرتاہے۔اسی لئے وہ مالک کے بارے میں پھوہڑپن سے جھوٹ کے پلندے گھڑ لیتاہے تا کہ ''قائد اعظم'' اور '' اسلام کے سپہ سالار'' ،خالد بن ولید مضری کے دامن کو مالک کے نا حق خون سے پاک کرسکے!!
اگر ہم اس کے باوجود بھی فرضاً یہ مان لیں کہ خالد کا یہ قصد و ارادہ نہ تھا کہ مالک کو قتل کرے بلکہ اتفاق سے یہ حادثہ پیش آیاہے اور کنانہ کے لوگوں نے (جو اصلاً خالد کی سپاہ میں موجود نہ تھے ) غلط فہمی سے اسیروں کو گرم کپڑے دینے کے بجائے تلوار سے ان کے سر تن سے جدا کرکے انھیں راحت کردیاہے اور اس میں خالد کا کوئی قصور نہ تھا پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے مقتولین کے سروں کو دیگ میں رکھ کر اس کے نیچے (چولہے کے مانند) کر آگ لگانے کا حکم کیوں دیا اور اس طرح ان کی بے احترامی کی؟!!
سجاح کے افسانہ کا نتیجہ
سیف بن عمر،رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندوں ،قبیلہ ٔ تمیم کے افراد کے ارتداد ،خاندان تمیم سے پیغمبری کا دعوی کرنے والی ''سجاح'' اور مالک نویرہ و کے بارے میں داستانیں خلق کرکے اپنے خاندان یعنی قبیلہ تمیم کے لئے حسب ذیل فخرومباہات حاصل کرتاہے:
١۔ خاندان تمیم کی خاتون ''سجاح'' پیغمبری کا دعوی کرتی ہے۔قبیلہ بنی حنیفہ کے اپنے دوسرے شریک اور پیغمبری کے مدعی یعنی مسیلمہ سے یمامہ کی پیداوار کا نصف حصہ بعنوان خراج حاصل کرتی ہے تا کہ اسے آزاد چھوڑدے ۔یہ قبیلہ تمیم کے لئے بذات خود ایک عظیم افتخار ہے کہ اس قبیلہ کے پیغمبری کا دعوی کرنے والے مکار اور دھوکہ باز دوسرے جھوٹے پیغمبروں سے برتری رکھتے ہیں اور ان سے باج حاصل کرتے ہیں !!
قبیلہ تمیم کے افراد کے مرتد ہونے کے موضوع کے بارے میں افسانہ میں ایسا دکھاتا ہے کہ اس قبیلہ کے مسلمانوں نے اس قبیلہ کے مرتد ہوئے افراد کی گوشمالی کرنے کے لئے اٹھ کر ان کی سخت تنبیہ کی ہے اور اس طرح تمیمیوں کے اندرونی مسائل میں کسی اجنبی کو دخل دینے کی اجازت نہیں دی ہے اور یہ خود قبیلہ تمیم کے لئے ایک افتخار ہے کہ اپنے قبیلہ کے ارتداد کے مسئلہ کو خود حل کریں اور کسی اجنبی کو اس میں دخل دینے کی اجازت نہ دیں ۔
٢۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد جزیرہ میں ارتداد کی خبر کو جعل کرکے اس کی اشاعت کرتاہے تا کہ اسلام کے دشمنوں کے لئے ایک سند مہیا ہوجائے جس کے بناء پر وہ آسانی کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ اسلام تلوار سے پھیلاہے اور خوف و وحشت کے سائے میں پائیدار ہوا ہے نہ کسی اور کی وجہ سے!؟
٣۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے قبیلہ تمیم سے کارندے اور گماشتے خلق کرتاہے تا کہ وہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر حقیقی صحابیوں کی فہرست میں قرار پائیں اور ان کے نام طبقات اور رجال کے موضوع پر لکھی گئی دانشوروں کی کتابوں میں درج ہوجائیں !!
٤۔ علاقہ اہواز میں ایک جگہ کو خلق کرتاہے تا کہ وہ جغرافیہ کی کتابوں میں درج کی جائے۔
٥۔ چند اشعار لکھ کر انھیں اپنے جعلی اور خیالی دلاوروں کی زبان پر جاری کرتاہے تا کہ عربی ادبیات کے خزانوں کی زینت بن جائیں ۔
٦۔ تاریخ اسلام کے اہم واقعات کے سالوں میں تغیر ایجاد کرتاہے ۔ ہماری نظر میں اس سلسلے میں خاص طور پر اس کا اصل محرک سیف کا زندیقی ہونا ہے کہ جس کا اس پر الزام ہے!
سیف نے جو حدیث'' صعب بن عطیہ'' سے روایت کی ہے اس پر علماء نے بہر صورت اعتماد کیاہے اور اس کے چھ جعلی اصحاب کو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قرار دیاہے۔ پھر انھیں اپنی کتابوں میں درج کرکے سیف کی حدیث سے ان کی زندگی کے حالات پر
روشنی ڈالی ہے۔
اس کے علاوہ ان علماء نے ''صفوان بن صفوان '' کو سیف کی احادیث سے صحابی جان کر علیحدہ طور پر اس کی سوانح عمری لکھی ہے ۔چونکہ ہم نے ''صفوان'' کے بارے میں سیف کے خیالات کی مخلوق ہونے پر یقین نہیں کیا ہے اس لئے اس پر بحث نہیں کی۔
اس افسانہ کو نقل کرنے والے علما
ان تمام افسانوں کو سیف نے انفرادی طور پر خلق کیاہے اور حسب ذیل دانشوروں نے ان افسانوں کی اشاعت کی ہے :
١۔طبری نے اپنی تاریخ کبیر میں سند کے ساتھ ۔
٢۔ یاقوت حموی نے ''معجم البلدان'' میں سند کے ساتھ ۔
٣۔ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں طبری سے نقل کرکے۔
٤۔ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں طبری سے نقل کرکے۔
٥۔ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں طبری سے نقل کرکے۔
٦۔ ابن فتحون نے اپنی کتاب ''التذییل '' میں اپنے پیش رؤں سے۔
٧۔ کتاب '' اسد الغابہ '' کے مؤلف نے طبری سے نقل کرکے۔
٨۔ کتاب '' تجرید '' کے مؤلف نے طبری سے نقل کرکے۔
٩۔ابن حجر نے ''الاصابہ'' میں سیف بن عمر اور طبری سے نقل کرکے ۔
١٠۔''مراصد الاطلاع'' کے مولف نے یاقوت حموی سے نقل کرکے۔
انیسواں جعلی صحابی زر بن عبد اللہ الفقیمی
دو مہاجر صحابی
زر بن عبد اللہ الفقیمی کا کتاب '' اسد الغابہ'' میں اس طرح تعارفی کیا گیا ہے:
طبری نے لکھا ہے کہ''زر'' رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی اور مہاجرین میں سے تھا۔زر خوزستان کی فتح میں مسلمان فوجیوں کے کمانڈروں میں سے ایک کمانڈر تھا ۔وہ اس لشکر کا کمانڈر تھا جس نے جندی شاپور کو اپنے محاصرہ میں قرار دیا اور سر انجام جندی شاپور صلح ومذا کرہ کے نتیجہ میں فتح ہوا ۔
اسی مطلب کو ذہبی نے خلاصہ کے طور پر ''اسدالغابہ ''سے نقل کرکے اپنی کتاب ''تجرید '' میں درج کیا ہے ۔
زبیدی نے بھی لفظ ''زر''کے بارے میں اپنی کتاب ''تاج العروس ''میں لکھا ہے :
طبری نے کہا ہے کہ ''زربن عبداللہ الفقیمی ''رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی اور فوج کا کمانڈر تھا۔
چونکہ ان تمام کے تمام دانشوروں نے ''زربن عبداللہ''کو طبری سے نقل کرکے اس کی تشریح کی ہے ، اس لئے ہم بھی زر کی روایت کے بارے میں طبری کی طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ یہ دیکھ لیں کہ طبری نے اس خبر کو کہاں سے حاصل کیا ہے ۔
زرّ کا نام و نسب
طبری نے سیف سے نقل کرکے لکھا ہے :
زرّ بن عبد اللہ ، کلیب فقیمی کا نواسہ اور خاندان تمیم و عدنان سے تعلق رکھتا ہے ۔
طبری نے رامہر مزکی فتح کے بارے میں سیف سے نقل کرکے لکھا ہے :''اسود ''و'' زر'' پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان اصحاب اور مہاجر ین میں سے ہیں جنھوں نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درک کیا ہے ،
زر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور پہنچا اور آپ کی خدمت میں عرض کی : خاندان '' فقیم '' کے افراد دن بدن گھٹ رہے ہیں اور اس طرح یہ خاندان نابود ہو رہا ہے جب کہ تمیم کے دوسرے قبیلوں کی آبادی بڑھ رہی ہے ۔ کیا کیا جائے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے ہاں ہمارے لئے دعا فرمائیں ؟!
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا: خدا وند ا !خاندان '' زر'' کو کثرت دے اوران کی تعداد میں ا !!
یہی سبب بنا کہ خاندان زر کی نسل بڑھی اور ان کی آبادی میں اضافہ ہوا ۔ دوسروں نے بھی سیف کی اسی روایت کو طبری سے استناد کرکے لکھا ہے :
زران افراد میں سے ہے جنھوں نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور میں شرف یاب ہوکر آپ سے گفتگو کرنے کا فخر حاصل کیاہے ۔ اس کے علاوہ وہ مہاجر ین میں سے تھا ۔
طبری فتح '' ابلہ '' کے سلسلے میں ١٢ھ کے حوادث کے ضمن میں لکھتا ہے :
خالد بن ولید نے مال غنیمت کے طور پر حاصل کئے گئے ہاتھی اور دیگر غنائم کے پانچویں حصے کو زر کے ذریعہ خلیفہ کی خدمت میں مدینہ بھیجا ۔ہاتھی کی مدینہ کی گلی کوچوں میں نمائش کی گئی تاکہ لوگ اس کا مشاہدہ کریں ۔عورتیں عظیم الجثہ ہاتھی کو دیکھ کر تعجب میں پڑگئیں اور حیرت کے عالم میں ایک دوسرے سے کہتی تھیں :کیا یہ عظیم الجثہ حیوان خدا کی مخلوق ہے ؟!کیوں کہ وہ ہاتھی کو انسان کی مخلوق تصور کرتی تھیں ۔ابوبکر نے حکم دیا کہ ہاتھی کو ''زر ''کے ساتھ واپس بھیج دیا جائے ۔
طبری اس داستان کے ضمن میں لکھتا ہے :
''ابلہ ''کی فتح کے بارے میں سیف کی یہ داستان تاریخ نویسوں اور واقعہ نگاروں کے بیان کے بر خلاف ہے ۔ کیوں کہ صحیح اخبار و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلہ عمر کے زمانے میں فتح ہوا ہے نہ خلافت ابوبکر کے زمانہ میں اور یہ فتح و کامرانی عتبہ بن غزوان کے ہاتھوں ١٤ھ میں حاصل ہو ئی ہے نہ ١٢ھ میں ۔ جب ہم اس زمانہ کی بحث پر پہنچے گیں تو اس جگہ کی فتح کی کیفیت پر بحث کریں گے ۔ ( طبری کی بات کا خاتمہ)
ایک مختصر موازنہ
١۔ طبری وضاحت کرتا ہے کہ شہر '' ابلہ '' ١٤ھ میں خلافت عمر کے زمانہ میں فتح ہوا ہے نہ کہ ١٢ھ میں خلافت ابوبکر کے زمانہ میں !
٢۔ اس جنگ کی کمانڈ''عتبہ بن غزوان ''کے ہاتھ میں تھی نہ کہ ''خالد بن ولید ''کے ہاتھ میں ۔ اس فتح وپیروزی کی نوید ''نافع ''نے خلیفہ کو پہنچائی تھی نہ کہ''زر بن عبداللہ فقیمی ''نے!
اس کے علاوہ جوکچھ طبری نے سیف بن عمر سے نقل کرکے ١٤ھکے حوادث کے ضمن میں بیان کیا ہے ۔جیسے ''زر''کاموضوع اور جنگی غنائم کاپانچواں حصہ اور مذکورہ ہاتھی وغیرہ ۔سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں میں کسی صورت میں نہیں ملتا ۔خاص کر مدینہ کی عورتوں نے اس زمانے میں قرآن مجید کے سورۂ فیل کوکئی بار پڑھاتھا اور ہاتھی و ابرہہ کی لشکرکشی کی داستان اس زمانے میں زبان زد خاص وعام تھی ،کیونکہ یہ حادثہ تاریخ کی ابتدا ء قرار پایا تھا۔ لہٰذا عظیم الجثہ ہاتھی کاوجود ان کے لئے تعجب کا سبب نہیں بن سکتا ۔
سیف نے اس سلسلے میں جو کچھ لکھا اور اس کادعویٰ کیا ہے وہ سب تاریخی حقائق کے بر خلاف ہے ۔ہم نے گزشتہ بحث میں خاص کر''زیاد''کے افسانہ میں اس امر کی طرف اشارہ کیاہے۔
جندی شاپور کی صلح کاافسانہ
طبری نے سیف سے نقل کرکے ١٧ھکے حوادث کے ضمن میں ''شوش''کی فتح کے بارے میں لکھاہے :
''زر''نے اس سال نہاوند کامحاصرہ کیا اور
اس کے بعد ایک دوسری حدیث میں سیف سے نقل کرکے لکھتاہے :
عمر نے ایک تحریری فرمان کے ذریعہ ''زر''کو حکم دیا کہ ''جندی شاپور ''کی طرف لشکرکشی کرے۔''زر''نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جندی شاپور پرچڑھائی کی اور اسے اپنے محاصرہ
میں لے لیا.....
ایک دوسری حدیث میں ذکر کیا ہے :
صحابی ''ابوسبرہ'' ( ۱) نے حکم دیا کہ '' زر و مقترب ''جندی شاپور پرلشکر کشی کریں اور خود بھی شوش کو فتح کرنے کے بعد اپنا لشکر لے کران کی طرف بڑھااور اس وقت وہاں پہنچا جب زر نے جندی شاپور کو اپنے محاصرہ میں لے لیا تھا ۔
اسی حالت میں کہ جندی شاپور اسلام کے سپاہیوں کے محاصرہ میں تھا اور مسلمان وہاں کے لوگوں سے جنگ میں مصروف تھے ، انھوں نے ایک دن دیکھا کہ اچانک قلعہ کے دروازے کھل گئے
____________________
v ۱)۔ ابو سبرہ بن ابی رہم عامری قرشی نے اسلام کی تمام ابتدائی جنگوں میں شرکت کی ہے '' ابو سبرہ'' نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد مکہ میں رہائش اختیار کی اور عثمان کی خلافت کے دوران وہیں پر وفات پائی ۔ '' استیعاب ٨٢٤، اسد الغابہ ٢٠٧٥ اور اصابہ ٨٤٤۔
اور لوگ خوشی خوشی اور کھلے دل سے عرب جنگجوئوں کا استقبال کرنے لگے اور بازار کے دروازے بھی ان کے لئے کھول دیئے ۔
مسلمانوں نے ان سے اس کا سبب پوچھا ، تو ایرانیوں نے جواب دیا :
تم لوگوں نے قلعہ کے اندر ایک ایسا تیرے پھینکا جس کے ساتھ امان نامہ تھا ہم نے آپ کے امان نامہ کو قبول کیا ۔
مسلمانوں نے کہا:
ہم نے ایسا کوئی امان نامہ تمھارے پاس نہیں بھیجا ہے !
اس کے بعد تحقیق کرنے لگے تومعلوم ہوا کہ مکنف نامی ایک غلام نے یہ کام کیا تھا ، وہ خود بھی جندی شاپو ر کا باشندہ تھا۔ اس کے بعد ایرانیوں سے کہا: یہ مرد ایک غلام تھا ، اس کے امان نامہ کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ ایرانیوں نے جواب میں کہا :
ہم تمھارے غلام اور آزاد کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں امان دی ہم نے اسے قبول کیا اور ہم اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اب یہ آپ کا کام ہے ، اگر چاہیں ہو تو خیانت کر سکتے ہیں ؟!
ایرانیوں کے اس قطعی جواب کی وجہ سے مسلمان مجبور ہوئے اوروظیفہ واضح ہونے کے لئے اس سلسلے میں خلیفہ عمر کو خبر دی تاکہ وہ اس سلسلہ میں حکم فرمائیں ، اس دوران ایرنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ عمر نے مکنف کے امان نامہ کو قبول کیا اور اس طرح جندی شاپور کے لوگ مکنف کی پناہ میں آگیا اور مسلمانوں نے ان پر حملہ نہیں کیا !
جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ، اس داستان کو طبری نے سیف بن عمر سے نقل کرکے جندی شاپور کی صلح کے بارے میں اپنی تاریخ کبیر میں درج کیا ہے ۔ اور ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون نے بھی اسے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں روایت کے منبع کا ذکر کئے بغیر درج کیا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب عبد اللہ ابن سبا کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ان دانشوروں نے وہ روایات اور واقعات جو بہر صورت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب سے مربوط ہیں ، بلا واسطہ اور براہ راست طبری سے نقل کئے ہیں اور انھوں نے اس مطلب کی اپنی کتابوں کی ابتدا ء میں وضاحت کی ہے ۔
حموی اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں جندی شاپور کے سلسلے میں لکھی گئی ایک تشریح کے ضمن میں اسی روایت کو لکھ کر اس کے آخر میں یوں رقم طراز ہے :
عاصم بن عمرو نے ( وہی سورما جس کے حالات اسی کتاب کی پہلی جلد میں لکھے گئے ) مکنف کے اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں :
اپنی جان کی قسم !مکنف کی رشتہ داری صحیح تھی اس نے ہرگز اپنے شہریوں کے ساتھ قطع رحم نہیں کیا !!
اشعار کو اپنی جگہ پر ہم نے آخر تک درج کیا ہے ۔ حموی اپنی بات کی انتہا پر کہتا ہے کہ اس مطلب کو سیف بن عمر نے کہا ہے ۔
اسی داستان کو حمیری نے بھی اپنی کتاب '' الروض لمعطار '' میں درج کیا ہے۔
جندی شاپور کی داستان کے حقائق
جندی شاپور کی صلح کے بارے میں جو داستان سیف بن عمر نے گڑھی ہے اور دوسرے مؤلفین نے بھی اسے نقل کیا ہے ، اس پر بحث ہوئی ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں دوسروں نے کیا کہا ہے:
بلاذری کہتا ہے :
شوشتر کو فتح کرنے کے بعد ابو موسیٰ اشعری نے جندی شاپور کی طرف فوج کشی کی ۔چونکہ جندی شاپور کے باشندے مسلمانوں کے حملے کے بارے میں سخت پریشان اور مضطرب تھے ۔اس لئے انہوں نے قبل ازوقت امان کی در خواست کی اور اپنی اطاعت کا اعلان کیا۔ ابوموسیٰ اشعری نے بھی جندی شاپور کے باشندوں سے معاہدہ کیا کہ جنگ کے بغیرہتھیار ڈالنے کی صورت میں ان کی جان، مال اور آزادی اسلام کی پناہ میں محفوظ ہوں گے ۔
یہ وہ روایت ہے جسے بلاذری نے جندی شاپور کی فتح کے بارے میں اپنی کتاب میں درج کیاہے ۔خلیفہ بن خیاط (وفات ٢٤٠ھ)اور ذہبی (وفات ٧٤٨ھ )نے بھی خلاصہ کے طور پر اسے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
یاقوت حموی نے بھی دونوں روایتوں کو پوری تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب ''معجم البلدان '' میں درج کیا ہے۔
ان دو کی روایتوں کا مختصر موازنہ
مورخین نے لکھا ہے کہ جندی شاپور کی صلح کا سبب مسلمانوں کے حملہ سے ایرانیوں کا خوف وحشت تھا ، ئہ یہ مطلب جو سیف کہتا ہے کہ : یہ امان ایک ایر انی الاصل غلام مکنف کی وجہ سے ملا ہے ، اور ا س ا ما ن نامہ کو قبول یا ر د کرنے کے سلسلے میں ا ختلا ف پید ا ہونے پر خلیفہ عمر نے اس کی تائید کی ہے
اس کے علاوہ لکھا گیا ہے کہ جندی شاپور کی جنگ میں سپہ سالار اعظم '' ابو موسیٰ اشعری'' یمانی قحطانی تھا نہ جیسا کہ سبرہ قرشی عدنانی ،جسے سیف بن عمر تمیی نے معین کرکے زر اور اسود نامی دو جعلی اصحاب بھی اس کی مدد کے لئے خلق کئے ہیں :
سیف کہتا ہے :
زر بن کلیب اور مقترب کو خلیفہ عمر نے اپنے ایلچی کے طور پر بصرہ کے گورنر نعمان کے پاس بھیجا اور ان کے ذریعہ نعمان کو یہ پیغام دیا :
میں نے تجھے ایرانیوں سے جنگ کرنے کے لئے انتخاب و مامور کیا ہے اس سلسلے میں اقدام کرنا ۔
لیکن بلاذری اس سلسلے میں لکھتا ہے:
خلیفہ عمر نے سائب بن اقرع ثقفی(۱) کے ہاتھ نعمان کے نام ایک خط بھیجا اور اسے ایرانیوں سے جنگ کرنے کی ماموریت دی ۔ اس کے علاوہ حکم دیا کہ جنگی غنائم کی ذمہ داری سائب بن اقرع کو سونپی جائے ۔
زر ،فوجی کمانڈر کی حیثیت سے
سیف نے نہاوند کی جنگ کی روایت کے ضمن میں لکھا ہے:
خلیفہ عمر نے اہواز و فارس میں معین کمانڈرروں سلمی ، حرملہ ، زر بن کلیب اور متقرب وغیرہ کو لکھا کہ ایرانیوں کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ کو روک لیں اور انھیں مسلمانوں اور امت اسلامیہ کی سر زمین پر نفوذ کرنے کی اجازت نہ دیں ، اور میرے دوسرے فرمان کے پہنچنے تک ایرانیوں کو نہاوند کی جنگ میں مدد پہنچانے میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے فارس اور اہواز کی سر حدوں پر چوکس رہیں ۔
خلیفہ کے فرمان کو اس وقت عملی جامہ پہنایا گیا جب مذکورہ چار صحابی اور پہلوان اصفہان اور فارس کی سرحدوں کے نزدیک پہنچ چکے تھے اور اس کے نتیجہ میں وہ نہاوند میں لڑنے والے ایرانی فوجیوں کو رسد اور امداد پہنچانے میں رکاوٹ بنے !!
____________________
الف )۔ سائب پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ میں ایک چھوٹا بچہ تھا ، رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر پھیرکر اس کے حق میں دعا کی تھی ۔ سائب نے عمر کا خط نعمان مقرن کو پہنچادیا اور خود نہاوند کی جنگ میں شرکت کی سائب عمر کی طرف سے اصفہان اور مدائن کا گونر بھی رہا ہے ۔ '' اسد الغابہ ٢٤٩٢''
فارس اور اصفہان کی سر حدوں پر سیف کے جعلی صحابیوں کے رد عمل کی داستان اس کے ذہن کی پیداوار ہے اور دوسرے مولفین نے اس سلسے میں کچھ نہیں لکھا ہے جس کے ذریعہ ہم سیف کی داستان کا دوسروں کی روایت سے موازنہ کریں !
زر کی داستان کا خلاصہ
زر بن عبد اللہ بن کلیب فقیمی کے بارے میں سیف کے بیان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
یہ ایک صحابی و مہاجر ہے ، وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچا ہے ۔ اپنے خاندان میں افراد کی کمی کے سلسلے میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور میں شکایت کی ، آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے حق میں دعا کی اورخدا ئے تعالیٰ نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعاقبول فرمائی جس کے نتیجہ میں اس کے خاندان کے افراد میں اضافہ ہوا !
١٢ھ میں فتوح کی جنگوں میں زر کو بقول سیف خالد کی طرف سے '' ابلہ'' کی جنگ کی فتح کی نوید ، جنگی غنائم کا پانچواں حصہ اور ایک ہاتھی کو لے کرخلیفہ ابوبکر کی خدمت میں بھیجا جاتا ہے ۔ خلیفہ کے حکم سے مدینہ کی گلی کو چوں میں ہاتھی کی نمائش کرانے کے بعد زر کے ذریعہ اسے واپس کیا جاتا ہے
سیف کی روایت کے مطابق ١٧ھ میں ہم زر کو نہاوند کا محاصرہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ خلیفہ عمر اسے لکھتے ہیں کہ جندی شاپور پر لشکر کشی کرے اور اس وقت کا سپہ سالار ابو سبرہ اسے مقترب کے ہمراہ شہر جندی شاپور کا محاصرہ کرنے کی ماموریت دیتا ہے اور ابوموسیٰ بھی کچھ مدت کے بعد ان سے ملحق ہوتا ہے ، جب وہ جندی شاپور کے محاصرہ میں پھنسے لوگوں سے بر سر پیکار تھے ، اچانک دیکھتے ہیں کہ قلعہ کے دروازے کھل گئے اور لوگ لشکر اسلام کے لئے بازار میں اشیاء آمادہ کرکے مسلمانوں کے استقبال کے لئے آگے بڑھتے ہیں ! کیوں کہ لشکر اسلام سے جندی شاپور کا رہنے والا مکنف نامی ایک غلام نے خلیفہ کی اجازت کے بغیر اور دیگر لوگوں سے چور ی چھپے ایک تیر کے ہمراہ قلعہ کے اندر امان نامہ پھینکا تھا اور سر انجام خلیفہ عمر مکنف کے امان نامہ کی تائید کرتے ہیں اور شہر اور شہر کے باشندے مسلمانوں کی امان میں قرار پاتے ہیں ۔
پھر سیف کی روایت کے مطابق ٢١ھ میں خلیفہ عمر زر کو اپنا ایک پیغام دے کر اپنے ایلچی کے طور پر نعمان بن مقرن کے پاس بھیجتے ہین اور نعمان کو نہاوند کی جنگ کے لئے مامور قرار دیتے ہیں ۔ اس ماموریت کے بعد خلیفہ کی طرف سے زر اور سپاہ اسلام کے تین دیگر کمانڈر ماموریت پاتے ہیں کہ نہاوند کی جنگ میں لڑنے والے ایرانیوں کے لئے فارس کے باشندوں کی طرف سے کمک اور رسد پہنچنے میں رکاوٹ ڈالیں ۔ وہ خلیفہ کے حکم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اصفہان اور فارس کی سر حدوں تک پیش قدمی کرتے ہیں اور اس طرح نہاوند کی جنگ میں لڑنے والے ایرانی فوجیوں کے لئے امدادی فوج پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔
زرّ اور زرین
جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا ، یہ زر کے بارے میں سیف کی روایتیں تھیں جو تاریخ طبری میں درج ہوئی ہیں ۔
کتاب اسد الغابہ ،کے مؤلف ابن اثیر نے بھی ان تمام مطالب کو طبری سے نقل کرکے زر کی زندگی کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ لیکن زرین نام کے ایک دوسرے صحابی کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے :
زرین بن عبد اللہ فقیمی کے بارے میں ابن شاہین نے کہا ہے کہ میری کتاب میں دو جگہوں پر اس صحابی یعنی زرین بن عبد اللہ کا نام اس طرح آیا ہے حرف '' ز '' حرف '' ر '' سے پہلے ہے ۔ اور سیف بن عمر نے '' ورقاء بن عبد الرحمن حنظلی '' سے روایت کرکے نقل کیا ہے کہ زربن عبد اللہ فقیمی نے روایت کی ہے کہ وہ زرین بن عبد اللہ قبیلہ تمیم کے چند افراد کے ہمراہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچ کر اسلام لایا ہے اور رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے اور اس کی اولاد کے لئے دعا کی ۔
'' ابومعشر '' نے بھی یزید بن رومان ( الف )سے روایت کی ہے
زرین بن عبد اللہ فقیمی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت (تا اخر داستان )
اب حجر بھی زر کی تشریح میں لکھتا ہے:
طبری نے لکھا ہے کہ زر نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درک کیا ہے اور اپنے قبیلہ کی طرف سے نمائندہ کے طور پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچا ہے ۔ زر ان سپہ سالاروں میں سے تھا جنھوں نے نہاوند اور خوزستان کی فتوحات اور جندی شاپور کا محاصرہ کرنے کی کاروائیوں میں شرکت کی ہے ، ابن فتحون نے بھی زر کے بارے میں یہی مطالب درج کئے ہیں ۔
ابن حجر مذکورہ بالا مطالب کے ضمن میں زرین کے بارے میں ابن شاہین اور ابی معشرکی روایت کو بیان کرتے ہوئے زرین کے حالات کے بارے میں یوں لکھتا ہے :
اس صحابی کی داستان زر کے حالات کے سلسلے میں بیان ہوئی ہے ۔
اس لحاظ سے زر اور زرین دو نام ہیں زر سے مربوط خبر صرف سیف کی روایتوں میں آئی ہے اور طبری نے اس سے یہ روایت نقل کی ہے ۔اس کے بعد ابن اثیر اور ابن فتحون نے طبری سے نقل کرکے اسے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
ذہبی نے بھی زر کی داستان ابن اثیر سے نقل کی ہے او ر ابن حجر نے اس کو فتحون سے نقل کرکے بالترتیب اپنی کتابوں '' التجرید اور اصابہ '' میں درج کیا ہے ۔
مناسب ہے کہ ہم یہاں پر یہ بھی بتا دیں کہ آثار و قرائن سے لگتا ہے کہ سیف نے زر کا نام خاندان فقیم کے ایک شاعر سے عاریتا ً لیا ہے جو زمانہ جاہلیت میں اشعار کہتا تھا ۔ اس بات کی تائید
____________________
۱)۔یزید بن رومان اسدی خاندان زبیر کا ایک سردار دانشور اور کثیر الحدیث شخص تھا یزید رومان نے ١٣٠ ھ میں وفات پائی ہے ۔ التہذیب ٣٢٥١١ ،تقریب ٣٦٤٢ملاحظہ ہو ۔ رومان کا بیٹا حدیث کے طبقۂ پنجم کے ثقات میں سے ہے ۔
آمدی(۱) کی کتاب '' مختلف و مؤتلف'' میں شعراء کے حالات پر لکھی گئی تشریح سے ہوتی ہے وہ اس سلسلے میں لکھتا ہے :
شعراء میں سے '' زرین بن عبدا للہ بن کلیب '' ہے جو خاندان فقیم میں سے تھا...
آمدی کی یہ بات ابن ماکولا نے بھی اپنی کتاب '' اکمال '' میں درج کی ہے ۔
بحث و تحقیق کا نتیجہ
معلوم ہوا کہ سیف بن عمر تنہا شخص ہے جو زر کے نسب ، ہجرت ، پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی ہونے اور اپنے قبیلہ کی طرف سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں نمائندہ کی حیثیت سے حاضری دینے کے بارے میں روایت کرتا ہے ۔
سیف فتح ابلہ کی داستان میں نافع کے کام کو زر سے نسبت دیتا ہے ،خلیفۂ وقت اور سپہ سالارکے ناموں میں رد و بدل کرکے اس پر ہاتھی کا افسانہ بھی اضافہ کرتا ہے ۔
سیف نے جندی شاپور کی صلح کی داستان میں ابوموسیٰ اشعری یمانی قحطانی کی کار کردگی اور اقدامات کو ابو سبرہ قرشی عدنانی سے نسبت دی ہے خاص کر اس عزل و نصب میں ابو موسیٰ اشعری کو گورنر کے عہدے سے عزل کرکے اس جگہ کی پر ابو سبرہ کو منصوب کرنے میں سیف کا خاندانی تعصب بالکل واضح اور آشکار ہے ۔
سیف ، عمر کی خلافت کے زمانے میں ابو سبرہ عدنانی کو کوفہ کے گورنر کے عہدے پر منصوب کرتا ہے تاکہ اس کی سرزنش کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ وہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ سے مکہ چلا گیا تھا اور پھر مرتے دم تک وہاں سے باہر نہیں نکلا ، اسی طرح
____________________
۱)۔کتاب '' مختلف و مؤ تلف '' کے مؤلف آمدی نے ٣٧٠ھ میں وفات پائی ہے ۔
اسی ابو سبرہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جن دنوں وہ مکہ میں مقیم تھا ، سیف کے دعوے کے مطابق انہی دنوں خلیفہ عمر کی طرف سے کوفہ میں ایک امین گورنر اور مجاہد و جاں نثار افسر کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دینے میں مصروف تھا ۔
مکنف کا افسانہ اور اس کا امان نامہ بھی سیف کا جعل کیا ہوا اور اس کے تخیلات کا نتیجہ ہے۔
سیف نے فتح نہاوند کی داستان میں سائب ا قرع ثقفی کی جنگی کاروائیوں کو زر سے نسبت دی ہے ۔ سیف تنہا شخص ہے جو زر نامی ایک صحابی کی قیادت میں فارس اور اصفہان کے اطراف میں مسلمانوں کی لشکر کشی اور اسی کے ہاتھوں نہاوند کے محاصرہ کا تذکرہ کرتا ہے !!
یہ بھی معلوم ہے کہ سیف نے ان تمام احادیث اور اپنی دوسری داستانوں کو واقعہ نگاروں کے طرز پر ایسے راویوں کی زبانی نقل کیا ہے جس کو اس نے خود خلق کیا ہے یا ان مجہول الہویہ افراد سے نقل کیا ہے ، جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخ میں زرین بن عبداللہ نامی ایک اور صحابی کا نام آیا ہے جو سیف کے زرین بن عبد اللہ نامی جعلی صحابی کے علاوہ ہے اور ہم نے دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں اسد الغابہ اور الاصابہ جیسی کتابوں میں ان کی زندگی کے حالات پر جدا گانہ روشنی ڈالی گئی ہے ۔
ہمیں یہ بھی پتا لگا کہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں زید بن عبد اللہ فقیمی نام کا ایک شاعر تھا ، جو بہت مشہور تھا جس کی زندگی کے حالات پر آمدی کی کتاب میں روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اور اس شخص کاکسی صورت میں سیف کے جعلی زر کے ساتھ کوئی تعلق و ربط نہیں ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے اس زمان جاہلیت کے شاعر سے اپنے اس جعلی صحابی کے لئے یہ نام عاریتاً لیا ہوگا سیف کا یہ کام کوئی نیا کارنامہ نہیں ہے ،بلکہ ہم نے اس کے ایسے کارنامے حزیمہ بن ثابت انصاری ، سماک بن خرشہ ، اسود اور دیگر افراد کی احادیث میں مشاہدہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مناسب جگہ پر مزید وضاحت کی جائے گی ۔
زرّ کا افسانہ نقل کرنے والے علماء
زر کے افسانہ کا سر چشمہ سیف بن عمر تمیمی ہے اور یہ افسانہ حسب ذیل اسلامی منابع درج ہو کر اس کی اشاعت ہوئی ہے :
١۔ محمد بن جریر طبری ( وفات ٣١٠ ھ ) نے سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے ۔
٢۔ ابن اثیر ( وفات ٦٣٠ھ) نے طبری سے نقل کیا ہے ۔
٣۔ ابن کثیر ( وفات ٧٧١ھ ) نے طبری سے نقل کیا ہے ۔
٤۔ ابن خلدون ( وفات ٨٠٨ھ) نے طبری سے نقل کیا ہے ۔
٥۔ ابن فتحون ( وفات ٥١٩ھ) نے طبری سے نقل کیا ہے ، اس دانشور نے بعض اصحاب کی
زندگی کے حالات کو کتاب '' استیعاب '' کے حاشیہ میں درج کیا ہے ۔
٦۔ زبیدی ( وفات ١٢٠٥ھ ) نے تاج العروس میں طبری سے نقل کیا ہے۔
٧۔ ذہبی ( وفات ٧٤٨ھ نے ابن اثیر سے نقل کرکے اپنی کتاب '' التجرید '' میں درج کیا ہے ۔
٨۔ ابن حجر ( وفات ٨٥٢ھ ) نے فتحون سے نقل کرکے اپنی کتاب الاصابہ میں درج کیا ہے ۔
٩۔ یاقوت حموی ( وفات ٦٢٦ھ ) نے بلا واسطہ سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب '' معجم
البلدان'' میں درج کیا ہے ۔
١٠۔ حمیری ( وفات ٩٠٠ھ ) نے براہ راست سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب '' الروض المعطار''
میں نقل کیا ہے ۔
ان تمامعتبر اور اہم منابع کے پیش نظر اگر ہمارے زمانے کا کوئی مؤلف ،فتوحات اسلامی کے کسی سپہ سالار کے بارے میں کوئی کتاب تالیف کرنا چاہے تو وہ یہ حق رکھتا ہے کہ زربن عبد اللہ فقیمی کو ایک شجاع کمانڈر ،ایک سیاستدان اور موقع شناس صحابی کے طور پر اپنی کتاب میں تشریح و تفصیل کے ساتھ درج کرے ، جب کہ یہ مؤلف اور دیگر تمام مذکورہ علماء اس امر سے غافل ہیں کہ حقیقت میں زربن عبد اللہ فقیمی نام میں کسی صحابی یا سپہ سالار کا کہیں کوئی وجود ہی نہیں تھا بلکہ وہ صرف سیف بن عمر تمیمی کے خیالات اور توہمات کی مخلوق اور جعل کیا ہوا ہے ۔ اور یہ وہی سیف ہے جس پر زندیقی ، دروغ گو ئی اور افسانہ نگاری کا الزام ہے !!
افسانہ زر کا ماحصل
سیف نے زر کا افسانہ گڑھ کر اپنے لئے درج ذیل نتائج حاصل کئے ہیں :
١۔ فتوحات میں لشکر اسلام کا ایک ایسا سپہ سالار خلق کرتا ہے جو صحابی اور مہاجر ہے ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس اور اس کے خاندان تمیم کے لئے دعا کرے اور خدائے تعالیٰ نے بھی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا قبول فرما کر اس کی نسل میں اضافہ کیا ۔
٢۔ ایک امین اور پارسا ایلچی کو خلق کرتا ہے تاکہ جنگی غنائم اور ایک عجیب و غریب ہاتھی کو لے کر خلیفہ ابو بکر کی خدمت میں جائے ۔
٣۔ قحطانی یمانیوں کے ذریعہ حاصل ہوئے تمام افتخارات اور فتوحات کو اپنے خاندانی تعصب کی پیاس بجھانے کے لئے عدنانیوں اور مضریوں یعنی اپنے خاندان سے نسبت دیتا ہے۔
٤۔ جندی شاپور کی فتح کے لئے اپنے افسانے میں مکنف نام کا ایک غلام خلق کرتا ہے تاکہ جندی شاپور کے باشندوں کو دئے گئے اس کے امان نامہ کی خلیفہ تائید کرے ۔
٥۔ سر انجام ، جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے کہا ہے کہ سیف اپنے خاندان تمیم کے لئے افتخارات گڑھ کر اپنے خاندانی تعصب کی اندرونی آگ کو بجھاتا ہے اور زندیقی ہونے کے الزام کے تحت تاریخ اسلام کو تشویش سے دو چار کرکے اس امر کا سبب بنتا ہے کہ اسلامی اسنادمیں شک و شبہات پیدا کرے ۔
بیسواں جعلی صحابی اسود بن ربیعہ حنظلی
'' اسود بن ربیعہ'' کی زندگی کے حالات پر '' اسد الغابہ' ' ، '' التجرید '' ، الاصابہ '' اور تاریخ طبری جیسی کتابوں میں روشنی ڈالی گئی ہے اور ان تمام کتابوں کی روایت کا منبع سیف بن عمر تمیمی ہے
ایک مختصر اور جامع حدیث
طبری اپنی کتاب میں سیف بن عمر سے نقل کرکے رامہر مز کی فتح کی خبر کے سلسلے
میں لکھتا ہے ۔
مقترب یعنی '' اسود بن ربیعہ بن مالک ''جو صحابی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مہاجرین میں سے تھا ، جب پہلی بار پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں شرف یاب ہوا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کی :
میں آیا ہوں تاکہ آپ کی ہم نشینی اور ملاقات کا شرف حاصل کرکے خدائے تعالیٰ سے نزدیک ہو جائوں ۔ اسی لئے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے مقترب ( یعنی نزدیک ہوا ) کا لقب دے دیا ۔
کتاب اسد الغابہ اور الاصابہ میں مذکورہ حدیث اس طرح نقل ہوئی ہے ۔
سیف نے ورقاء بن عبد الرحمن حنظلی سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ مالک بن حنظلہ کا نواسہ اسود بن ربیعہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں شرف یاب ہوا ۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے پوچھا :
میرے پاس کس لئے آئے ہو؟
اسود نے جواب دیا :
تا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ہم نشینی کا شرف حاصل کرکے خدا کے نزدیک ہو جائوں ۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے مقترب ( یعنی نزدیک ہوا ) لقب دیا اور اس کا اسود نام متروک ہوگیا ۔
اسود یعنی مقترب ، پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی شمار ہوتا ہے ۔ وہ صفین کی جنگ میں امام علی کے ساتھ تھا ۔
یہ حدیث جس کی روایت سیف نے کی ہے اسی طرح بالترتیب کتاب اسد الغابہ اور الاصابہ میں درج ہوئی ہے ،ابو موسیٰ اور ابن شاہین ،نے اس سے نقل کیا ہے ۔ مقانی نے بھی اس مطلب کو ابن حجر سے نقل کرکے اپنی کتاب '' تنقیح المقال '' میں درج کیا ہے ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس اسود کو نمایاں کرنے کے لئے سیف کے پاس ایک اور حدیث ہے کہ جسے طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور ابن اثیر نے بھی اسی کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیا ہے ۔
اس کے علاوہ ہمیں یاد ہے کہ سیف بن عمر نے ایک حدیث کے ضمن میں زر کے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچنے اور اس کے حق میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا اور ایک دوسری حدیث میں زرین کے چند تمیمیوں کے ہمراہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہونے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس کے اور اس کی اولاد کے حق میں دعا کرنے کی داستان بیان کی ہے ۔
سیف نے ان احادیث میں رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور شرف یاب ہونے والے تمیمی گروہوں کا تعرف کرایاہے ۔ ان میں سے ہر ایک کے نام اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ساتھ ان کی گفتگو درج کی ہے ۔
اس کے ساتھ ہی ابن سعد ، مقریزی اور ابن سیدہ جیسے تاریخ نویسوں اور دانشمندوں نے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کرنے والے گروہوں کے نام لئے ہیں اور جو بھی گفتگو ان کی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے انجام پائی ہے ،اسے ضبط و ثبت کیا ہے لیکن ان میں سے کسی ایک میں سیف کی بیان کی گئی داستانوں میں سے کسی کا بھی کہیں کوئی نام و نشان نہیں پایا جاتا ہے ۔
بلکہ ان مورخین نے قبیلہ تمیم کے نمائندوں کی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کے بارے میں ایک دوسری روایت حسب ذیل بیان کی ہے :
'' رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے '' بنوخزاعہ'' کے صدقات جمع کرنے والے مامور کو حکم دیا کہ سر زمین '' خزعہ '' میں رہنے والے بنی تمیم کے افراد سے بھی صدقات جمع کرے ۔ تمیمیوں نے اپنے صدقات ادا کرنے سے انکار کیا اور ایسا رد عمل دکھایا کہ سر انجام پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مامور کے خلاف تلوار کھینچ لی ! پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کارندہ مجبور ہوکر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں اس روئداد کی رپورٹ پیش کی ۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے '' عیینہ بن حصن فزاری'' کو پچاس عرب سواروں
جن میں مہاجر و انصار میں سے ایک نفر بھی نہیں تھا کی قیادت سونپ کر تمیمیوں کی سر کوبی کے لئے بھیجا۔ اس گروہ نے تمیمیوں پر حملہ کرکے ان میں سے ایک گروہ کو قیدی بنا کر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچا دیا۔
اس واقعہ کے بعد خاندان تمیم کے چند رؤسا اور سردار مدینہ آئے اور مسجد النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں داخل ہوتے ہی فریاد بلند کی :''اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم !سامنے آئو !''ان کی اس گستاخی کی وجہ سے مذمت کے طور پر سورہ ''حجرات''کی ابتدا ئی آیا ت نازل ہوئیں ،جن میں ارشاد الٰہی ہوا :
''بیشک جو لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حجروں کے پیچھے سے پکا رتے ہیں ،ان کی اکثریت کچھ نہیں سمجھتی اور اگریہ اتنا صبر کرلیتے کہ آپ نکل کر باہر آجا تے تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے ''
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم مسجد میں تمیمیوں کے پاس تشریف لائے اور ان کے مقرر کی تقریر اور شاعرکی شاعری سنی ۔اس کے بعد انصار میں سے ایک سخنور اور شاعر کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان کا جواب دے ۔اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا کہ تمیمیوں کے قیدی آزاد کرکے ان کے حوالے کئے جائیں اور تمیمیوں کے گروہ کو ان کے شان کے مطابق کچھ تحفے بھی دیئے ۔
یہ اس داستان کاخلاصہ تھا جو ''طبقات ابن سعد ''میں تمیمیوں کے ایک گروہ کے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے سلسلے میں روایت ہوئی ہے ۔
گزشتہ بحث پر ایک نظر
ہم نے سیف سے روایت نقل نہ کرنے والے دانشمندوں کے ہاں اور اسی طرح آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے عربوں کے وفود اور نمائندوں جن کی تعداد ٧٠ سے زیادہ تھی کی روایتوں میں ''زر ''اور ''اسود''کا کہیں نام و نشان نہیں پایا اور طبقات ابن سعد میں ذکر ہوئی روایت میں بھی سیف بن عمر تمیمی کی خود ستائی اور فخر و مبا ہات کا اشارہ تک نہیں پایا ۔
کونسا افتخار ؟!کیا پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے صدقات جمع کرنے والے مامور کے ساتھ کیا گیا ان کا بر تا ئو قابل فخر ہے یا ''عینیہ فزاری ''کے ہاتھوں ان کے ایک گروہ کو اسیر اور قیدی بنانا ،کہ نمونہ کے طور پر قبیلہ تمیم پر حملہ کرنے والے گروہ میں حتیٰ ایک فرد بھی انصار یا مہاجر میں سے موجود نہ تھا ؟! یا مسجد النبی میں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان میں گستاخی کرنا قابل فخر تھا یا قرآن مجید میں ان کے لئے ذکر ہوئی مذمت اور سرکوبی ؟!
فتح شوش کا افسانہ
طبری نے ١٧ھکے حوادث کے ضمن میں سیف بن عمر تمیمی سے نقل کرکے شوش کی فتح کی داستان یوں بیان کی ہے :
''شوشتر ''اور ''رامہزر''کی فتح کے بعد خلیفہ عمر نے ''اسود''کو بصرہ کی فوج کا سپاہ سالار مقرر کیا ۔اس نے بھی اپنی فوج کے ساتھ شوش کی فتح میں جس کا کمانڈر انچیف ابو سبرہ قریشی تھا شرکت کی ہے ۔
اس کے بعد طبری شوش کی فتح کی کیفیت کو سیف کی زبانی یوں بیان کرتا ہے :
شوش کا فرمان روا ''شہریار ''''ہرمزان ''کا بھائی تھا ۔''ابو سبرہ ''نے شوش پر حملہ کیا اور بالاخر اسے اپنے محاصرہ میں لے لیا ۔
اس محا صرہ کی پوری مدت کے دوران طرفین کے در میان کئی بار گھمسان کی جنگ ہوئی اور اس جنگ میں کشتوں کے پشتے لگ گئے ۔زخمیوں کی بھی کافی تعداد تھی ۔جب محاصرہ طول پکڑگیا تو شوش کے راہبوں اور پادریوں نے شہر کے قلعے کے برج پر چڑھ کر اسلام کے سپاہیوں سے مخاطب ہوکر یہ اعلان کیا :
اے عرب کے لوگ!جیسا کہ ہمیں خبر ملی ہے اور ہمارے علماء اور دانشمندوں نے ہمیں اطمینا ن دلایا ہے کہ یہ شہر ایک ایسا مستحکم قلعہ ہے جسے خود دجال یا جن لوگوں میں دجال موجود ہو،کے علاوہ کوئی فتح نہیں کرسکتا ہے !اس لئے ہمیں اور اپنے آپ کو بلاوجہ زحمت میں نہ ڈالو اور اگر تم لوگوں کے اندر دجال موجود نہیں ہے تو ہماری اور اپنی زحمتوں کو خاتمہ دے کر چلے جائو ۔کیونکہ ہمارے شہر پر قبضہ کرنے کی تمہاری کوشش بار آور ثابت نہیں ہوگی !!
مسلمان شوش کے پادریوں کی باتوں کو اہمیت نہ دیتے ہوئے پھر ایک بار ان کے قلعہ پر حملہ آور ہوئے ۔راہب اور پادری پھر قلعہ کے برج پر نمودار ہوکر تند وتلخ حملوں سے مسلمانوں سے مخاطب ہوئے جس کے نتیجہ میں مسلمان غصہ میں آگئے ۔
لشکر اسلام میں موجود ''صاف بن صیاد ''(۱) حملہ آور گروہ میں قلعہ پر حملہ کر رہا تھا ۔ان (پادریوں ) کی باتوں کو سن کر غصہ میں آگیا اور اس نے تن تنہا قلعہ پر دھاوابول دیااور اپنے پیر سے قلعہ کے دروازے پر ایک زور دار لات ماردی اور گالی دیتے ہوئے کہا ''کھل جا بظار ''!(۲) کہ اچانک لوہے کی زنجیریں ٹوٹ کر ڈھیر ہوگئیں ۔کنڈے اور بندھن ٹوٹ کر گرگئے اور دروازہ کھل گیا ۔ مسلمانوں نے شہر پر دھاوا بول دیا !
مشرکوں نے جب یہ حالت دیکھی تو انھوں نے فورا اسلحہ زمیں پر رکھ کر صلح کی درخواست کی مسلمانوں نے ،اس کے باوجودکہ شہر پر زبردستی قبضہ کرچکے تھے ان کی درخواست منظور کر لی ۔
جیسا کہ ہم نے کہا کہ اس داستان کو طبری نے سیف سے نقل کرکے شوش کی فتح کے سلسلے میں درج کیا ہے ۔ابن اثیر اور ابن کثیر نے بھی اسے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
لیکن طبری نے شوش کی فتح کی داستان سیف کے علاوہ دوسروں سے بھی روایت کی ہے ۔ وہ مدائنی کی زبانی شوش کی فتح کے بارے میں حسب ذیل تشریح کرتا ہے۔
ابو موسیٰ اشعری شوش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا کہ جولار کی فتح اور یزدگرد ( آخری ساسانی پادشاہ ) کے فرار کی خبر شوش کے لوگوں کو پہنچی ،لہٰذا وہ لڑنے کے ارادہ کو ترک کرنے پر مجبور ہو گئے اور ابو موسیٰ سے امان کی درخواست کی ، ابو موسیٰ نے ان کو امان دے دی۔
____________________
الف )۔ مکتب خلفاء کی صحیح کتابوں میں ایسا ذکر ہوا ہے کہ '' صاف بن صیاد '' رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں مدینہ میں پیدا ہوا ہے اور '' دجال '' کے نام سے مشہور تھا اور ایسا لگتا ہے کہ سیف نے شوش کی فتح کے اپنے افسانہ کے لئے صاف کی اس شہر ت سے استفادہ کیا ہے ۔ صحیح بخاری ١٦٣٣،اور ١٧٩٢۔ مسند احمد ٧٩٢و٩٧)
۲)۔ یہ یک ننگی اور بری گالی ہے ۔ اس کا ترجمہ کرنا شرم آور تھا ۔ اس لئے ہم نے اس کلمہ کو من عن استعمال کیا ہے ۔ مترجم ۔
بلاذری نے بھی اپنی کتاب فتوح البلدا ن میں شوش کی فتح کی خبر کو اس طرح درج کیا ہے :
ابو موسیٰ اشعری نے شوش کے باشندوں سے جنگ کی ، سر انجام ان کو اپنے محاصرے میں لے لیا ۔ اس محاصرہ کا وقفہ اتنا طولانی ہوا کہ محاصرہ میں پھنسے لوگوں کے کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئیں اور لوگوں پر فاقہ کشی و قحطی چھا گئی جس کے نتیجہ میں انھوں نے ابوموسیٰ اشعری سے عاجزانہ طور پر امان کی درخواست کی ۔ ابو موسیٰ نے ان کے مردوں کو قتل کر ڈالا ، ان کے مال و متاع پر قبضہ کر لیا اور ان کے اہل خانہ کو اسیر بنا لیا ۔
ابن قتیبہ دینوری نے اس داستان کو مختصر طور پر اپنی کتاب اخبار الطوار میں لکھا ہے اور ابن خیاط نے بھی اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ابوموسیٰ اشعری نے شہر شوش کو ١٨ ھ میں مذاکرہ اور صلح کے ذریعہ فتح کیا ہے ۔
موازنہ اور تحقیق کا نتیجہ
سیف کہتا ہے کہ شوش کی فتح مسلمانوں کی فوج میں دجال کی موجودگی کے سبب ہوئی ہے ۔ اور اس خبر کے بارے میں اس شہر کے راہبوں اور پادریوں نے اسلام کے سپاہیوں کو مطلع کیا تھا ! اور ہم نے مشاہدہ کیا کہ ابن صیاد نے قلعہ کے دروازے پر لات ماری اور چلا کر کہا : ''کھل جا.... '' تو ایک دم زنجیر یں ٹوٹ گئیں ، دروازے کے کنڈے اور بندھن گر کر ڈھیر ہو گئے اور دروازہ کھل گیا ۔ شوش کے باشندوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور امان کی درخواست کی ۔
اس جنگ کا کمانڈر انچیف ابو سبرہ قرشی تھا اور قبیلہ تمیم عدنانی کے زر اور اسود نامی سیف کے دو جعلی اصحاب بھی اس کے دوش بدوش اس جنگ میں شریک تھے !!
لیکن سیف کے علاوہ دیگر مورخین نے شوش کی فتح کے عوامل کے سلسلے میں جلولاء میں ایرانیوں کی شکست اور اس شہر کا مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہونا اور ساسانیوں کے آخر ی پادشاہ یزدگرد کے فرار کی خبر کا شوش پہنچنا اور شوش کی محاصرہ گاہ میں کھانے پینے کی چیزوں کے ذخائر کا ختم ہونا اور دوسرے جنگی مشکلات بیان کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ شوش کے لوگ اسلامی فوج اور ان کے کمانڈر انچیف ابو موسیٰ اشعری یمانی قحطانی سے عاجزانہ طور پر امان کی درخواست کرنے پر مجبور ہو ئے ۔
سیف میں اپنے قبیلہ تمیم و عدنان کے بارے میں خاندانی تعصب کو ٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔ اسی کے سبب وہ ابو موسیٰ اشعری قحطانی کو گورنر ی کے عہدے سے برکنار کرکے اس کی جگہ پر ابوسبرہ عدنانی کو منصوب کرتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ بعید نہیں ہے سیف نے اہواز کی جنگ اور شوش کی فتح کو اس لئے ابو سبرہ عدنانی سے نسبت دی ہوگی تاکہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد مرتکب ہوئے اس کے ناشائستہ کام کے بد نما داغ کو پاک کر ۔ کیوں کہ عام تاریخ نویسوں نے لکھا ہے :
ہمیں جنگ بدر میں شرکت کرنے والے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب و مہاجرین میں سے ابو سبرہ کے علاوہ کسی ایک کا سراغ نہیں ملتا ہے جو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد مکہ چلا گیا ہو اور وہاں پر رہائش اختیار کی ہو صرف ابو سبرہ نے ایسا کام کیا ہے اور وہ مرتے دم تک وہیں پر مقیم تھا ۔ خلافت عثمان میں اس کی موت مکہ میں واقع ہوئی ہے ۔مسلمانوں کو ابو سبرہ کا یہ کام بہت برا لگا اور انھوں نے اس کی سرزنش کی ، حتیٰ اس کے فرزند بھی اپنے باپ کے اس برے اور ناشائستہ کام کو یاد کرکے بیقرار اور مضطرب ہوتے تھے ۔
ابو سبرہ جو اس ناشائستہ کام کا مرتکب ہو کر مسلمانوں کی طرف سے مورد سرزنش قرار پایا تھا ، یہاں سیف اس کے اس بد نما داغ کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد اس کے مکہ جا کر وہاں رہائش اختیار کرنے کا منکر ہوجا تا ہے ۔ اس لئے عمر کی خلافت کے دوران اسے کوفہ کی حکومت پر منصوب کرتا ہے اور اسے خلیفہ کی سپاہ کے کمانڈر کی حیثیت سے شوش ، شوشتر ، جندی شاپور اور اہواز کے اطراف میں واقع ہوئی دوسری جنگوں میں بھیجتا ہے تاکہ یہ ثابت کرے کہ ابو سبرہ ہجرت کے بعد ہر گز مکہ جاکر وہاں ساکن نہیں ہوا ہے ، بلکہ اس کے برعکس اس نے خدا کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے تلوار اٹھائی ہے ۔
ایسی داستانوں کی منصوبہ بندی میں سیف کا قبائل عدنان کے بارے میں تعصب اور طرفداری کی بنیاد پر قحطانی قبائل سے اختیارات سلب کرنا بخوبی واضح اور روشن ہے ۔ وہ ایک فرد یمانی کی عظمت ، و بزرگی اور عہدے کو اس سے سلب کرکے اسی مقام و منزلت پر ایک عدنانی کو منصوب کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر قبیلہ عدنان کا یہ فرد کسی برے اور ناشائستہ کام کی وجہ سے مورد سرزنش و مذمت قرار پیا ہو تو ایک افسانہ گڑھ کے نہ صرف اس ناشائستہ کام سے اس کے دامن کو پاک کرتا ہے بلکہ اس کے لئے فخر و مباہات بھی خلق کرتا ہے ۔
لیکن حقیقت میں جو کچھ گزرا اگر اسے سیف کے خاندانی تعصب سے تعبیر کریں تو فتح شوش کی خبر ، جو دجال کے قلعہ کے دروازے سے لفظ کھل جا کہہ کر خطاب کرنے کی وجہ سے رو نما ہوئی اور اس دروازے پر لات مارنے سے زنجیر وں کے ٹوٹنے کو کس چیز سے تعبیر کریں گے ؟ اس افسانہ سے قبائل عدنان کے لئے کون سے فخر و مباہاتقائم ہوئے ؟! اس افسانہ کو خلق کرنے میں سیف کا صرف زندیقی ہونا کارفرما تھا تاکہ اس طرح وہ تاریخ اسلام میں شبہ پھیلا کر مسلمانوں کے اعتقادات کے خلاف پوری تاریخ میں اسلام دشمنوں کے لئے اسلام کا مذاق اڑانے کا موقع فراہم کرے ؟!۔
اسود بن ربیعہ کا رول
جندی شاپور کی جنگ
سیف کہتا ہے کہ اسود بن ربیعہ نے زربن عبد اللہ کے ساتھ جندی شاپور کی جنگ میں شرکت کی ہے اور خلیفہ عمر نے اس کے ہاتھ نعمان مقرن کے نام ایک خط دے کر اسے نہاوند کی جنگ کے لئے مامور کیا ہے ۔
اسود خاندان تمیم کے ان سپاہ سالار وں میں تھا جنھیں خلیفہ عمر ابن خطاب نے حکم دیا تھا کہ فارس کے علاقہ کے لوگوں کو مشغول رکھ کر نہاوند کے باشندوں کو مدد پہنچانے میں رکاوٹ پیدا کریں ۔ تمیمیوں نے عمر کے فرمان کوعملی جامہ پہنانے کے لئے اسود بن ربیعہ کے ہمراہ اصفہان اور فارس کی طرف عزیمت کی اور وہاں کے لوگوں کی طرف سے نہاوند کے باشندوں کومدد پہچانے میں زبر دست رکاوٹ ڈالی ۔
سیف نے یہ افسانہ خلق کیا ہے اور طبری نے اسے نقل کیا ہے اور ابن اثیر نے بھی اسی کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔
صفین کی جنگ میں
ابن حجر کی کتاب ''الاصابہ''میں سیف بن عمر سے نقل کرکے لکھا گیا ہے کہ اسود بن ربیعہ نے امام علی علیہ السلام کے ہمراہ صفین کی جنگ میں شرکت کی ہے ۔
ہم نے ''نصر بن مزاحم ''کی کتاب ''صفین ''(جوجنگ صفین کے بارے میں ایک مستقل کتاب ہے )اور کتاب ''اخبارالطوال''اور''تاریخ طبری ''اور دیگر روایتوں کے منابع میں اس طرح کی کوئی خبر اس نام سے نہیں پائی ۔
جو کچھ سیف نے کہا ہے اور کتاب ''الاصابہ ''میں درج ہواہے ۔اس میں ''مامقانی''نے جزئی طور پر تصرف کرکے روایات کے مصادر کاذکر کئے بغیر لکھا ہے :
اسود نے امیر المؤمنین کے ہمراہ صفین کی جنگ میں شرکت کی ہے ۔اسی سے پتاچلتا ہے کہ وہ ایک نیک خصال شخص تھا۔
حقیقت میں مامقانی نے ''الاصابہ ''کے مطالب پر اعتماد کرتے ہوئے اسود کو امام علی کے شیعوں میں شمار کیا ہے۔
شیعوں کی کتب رجال میں تین جعلی اصحاب
ہم نے سیف کے افسانوں کی تحقیقات کے ضمن میں پایا کہ وہ اپنے افسانوں کو لوگوں کی خواہشات ، حکام اور سرمایہ داروں کی مصلحتوں کے مطابق گڑھتا ہے اور اس طرح اپنے جھوٹ کو پھیلانے اور افسانوں کو بقا بخشنے کی ضمانت مہیا کرتا ہے.
سیف نے جس راہ کوانتخاب کیا تھا اس کے پیش نظر اس نے عراق میں شیعیان علی اور اہلبیت کے دوستداران کو نظر انداز نہیں کیا ہے ۔ لہٰذا وہ ان کی توجہ اپنی اور اپنے افسانوں کی طرف مبذول کرانے میں غافل نہیں رہا ہے ۔ اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنے بے مثال افسانوی سورما قعقاع تمیمی کو امام علی کا حامی اور کارندہ کے عنوان سے پہچنوا یا ہے ۔ اور اس کو جنگ جمل میں علی کے ہمراہ لڑتے دکھایاہے۔ زیاد بن حنظلہ کو علی اور شیعیان علی کا دوست جتلاتا ہے اور اسے حضرت علی کی تمام جنگوں میں ان کے دوش بدوش شرکت کرتے ہوئے دکھاتا ہے اور سر انجام اسود بن ربیعہ کو صفین کی جنگ میں حضرت علی کے ہم رکاب دکھاتا ہے۔اس طرح ان تین جعلی اصحاب کو مختلف جنگوں اور فتوحات میں شیعہ سرداروں کے عنوان سے پیش کرتا ہے۔
گزشتہ بحث پر ایک سرسری نظر
سیف نے دو احادیث کے ذریعہ اسود کانسب ، اس کی پیغام رسانی اور اس کا صحابی ہونا بیان کیا ہے۔ ان میں سے ایک کی روایت ابن شاہین اور ابو موسیٰ نے سیف سے کی ہے پھر بعض دانشمندوں نے اس حدیث کو ان سے نقل کیا ہے۔
دوسری حدیث کو طبری نے سیف سے نقل کیاہے اور ابن اثیر نے اس حدیث کو اس سے نقل کیا ہے ۔
چونکہ تمیمیوں کے وفد کی داستان جسے دیگر مورخوں نے ذکر کیا ہے مذکورہ قبیلہ کے لئے کوئی قابل توجہ فخر و مباہات کی خبر نہیں ہے،اس لئے اس کمی کی تلافی کے لئے سیف نے تمیمیوں کے وفد کے حق میں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا کا افسانہ خلق کیا ہے۔
شوش کی فتح میں بھی دجّال اور اس کے قلعہ کے دروازہ پر لات مارنے اور اس کے غی بے ادبانہ خطاب کو بیان کرتا ہے ۔ ایک قحطانی شخص سے فوج کی کمانڈ چھین کر ابوسبرہ عدنانی کو یہ عہدہ سونپتا ہے اور اپنے دو جعلی اصحاب''زر''و ''اسود'' کو اس کے ساتھ بتاتا ہے ۔ اور اس طرح یہ مقام و منزلت یمانی قحطانیوں سے سلب کر کے عدنانی مضریوں کو تفویض کرتا ہے۔
''ابو سبرہ'' کے مدینہ ہجرت کرنے اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد پھر سے مکہ جانے کے ناشائستہ اور منفور کام کا ایک افسانہ کے ذریعہ منکر ہوتا ہے اور اس طرح مسلمانوں کی سرزنش و سرکوبی سے ''ابو سیرہ'' کو نجات دلاتا ہے ۔
طبری نے ان جھوٹ کے پلندوں کو سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور ابن اثیر و ابن کثیر نے بھی طبری سے نقل کرکے انہی مطالب کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔
ہم نے شوش کی فتح میں دجّال کی وجہ سے تمیمیوں کے لئے کوئی فضیلت و افتخار نہیں پایا۔ لہٰذا اس افسانہ کے بارے میں ہم شک میں پڑے اور یہ تصور کیا کہ دجّال کا افسانہ خلق کرنے میں سیف کا زندیقی ہونا محرک تھا تا کہ تاریخ اسلام میں شبہ پیدا کر کے دشمنوں کو اسلام کا مذاق اڑانے کا موقع فراہم کرے۔
سیف نے جندی شاپور کی جنگ میں اسود کو اپنے خاندان تمیم کے تین دیگر جعلی سرداروں کے ساتھ جنگ کرتے دکھایا ہے تا کہ وہ فارس کے نواحی علاقوں میں چوکس رہ کر نہاوند کے باشندوں کو ایرانیوں کی طرف سے مدد پہونچنے میں رکاوٹ بنیں ۔
سیف اسود کو صفین کی جنگ میں امام علی کے ساتھ دکھا تا ہے تا کہ اس طرح اسود کا نام شیعیان امام علی کے مذکورہ تین جعلی سرداروں میں شامل ہوجائے۔
''زر'' و ''اسود'' کے افسانہ کا سرچشمہ
''زر'' و ''اسود'' کے افسانہ کا سرچشمہ صرف سیف بن عمر تمیمی ہے اور مندرجہ ذیل منابع و مصادر نے اس افسانہ کی اشاعت میں دانستہ یا نادانستہ طور پر سیف کی مدد کی ہے :
١۔ طبری نے بلا واسطہ سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ کبیر میں درج کیا ہے ۔
٢۔ ابن شاہین (وفات ٣٨٥ھ ) نے سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب'' معجم ا لشیوخ ''میں درج کیا ہے ۔
٣۔ ابو موسیٰ ( وفات ٥٨١ھ )نے سیف سے نقل کرکے کتاب ''اسما ء الصحابہ'' کے حاشیہ میں درج کیا ہے ۔
٤۔ ابن اثیر نے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔
٥۔ ابن کثیر نے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔
٦۔ ابن اثیر نے ایک بار پھر ابوموسیٰ سے نقل کرکے اپنی کتاب اسد الغابہ میں درج کیا ہے ۔
٧۔ ذہبی نے ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' سے نقل کرکے اپنی کتاب '' التجرید '' میں درج کیا ہے۔
٨۔ ابن حجر نے ابن شاہین سے نقل کرکے اپنی کتاب '' الاصابہ '' میں درج کیا ہے ۔
٩۔ مامقانی نے ابن حجر کی کتاب '' الاصابہ '' سے نقل کرکے اپنی کتاب تنقیح المقال میں درج کیا ہے۔
ان افسانو ں کا نتیجہ
١۔ قبیلہ بنی تمیم سے ایک صحابی ، مہاجر اور لائق کمانڈر کی تخلیق ۔
٢۔ تاریخ نویسوں اور اہل علم کی طرف سے لکھے گئے حقائق کے بر خلاف خاندان تمیم سے ایک
خیالی وفد کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں بھیجنا۔
٣۔ حضرت علی علیہ السلام کے ایک صحابی کو خلق کرکے حضرت کے خاص شیعوں کی فہرست میں
قرار دینا ۔
٤۔ فتح شوش کاافسانہ ، فرضی دجال کی بے ادبی ، راہبوں اور پادریوں کی زبانی افسانہ کے اندر
افسانہ خلق کرکے خاندان تمیم کے لئے فخر و مباہات بیان کرنا ۔ اس طرح تذبذب و تشویش
ایجاد کرکے تاریخ اسلام کو بے اعتبار کرنے کی سیف کی یہ ایک چال تھی ۔
اسود بن ربیعہ یا اسود بن عبس
جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا ،وہ ''مالک کے نواسہ اسود بن ربیعہ '' کے بارے میں سیف کی روایات کا خلاصہ تھا کہ بعض دانشمندوں نے سیف کی ان ہی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے اسے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واقعی اصحاب میں شمار کیا ہے ۔
لیکن دانشمندوں نے '' کلبی '' سے نقل کرکے مالک کے نواسہ '' اسود بن عبس '' کے نام سے ایک اور صحابی کا تعارف کرایا ہے ۔ کلبی نے اس کے شجرہ نسب کو سلسلہ وار صورت میں '' ربیعہ بن مالک بن زید مناة '' تک پہنچایا ہے ۔ اس کی زندگی کے حالات کے بارے میں جو روایت بیان کی گئی ہے وہ اسود بن ربعہ کے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور پہنچنے کی روایت کے مشابہ ہے ۔ انساب کے علماء ، جنھوں نے '' اسود بن عبس '' کے حالات اور اس کا نسب اور اس کا صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہونا بتایا ہے ، انھوں نے کلبی کی نقل پر اعتماد کیا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ سیف بن عمر نے '' اسود بن ربیعہ '' کو جعل کرنے کے لئے اسے اسود بن عبس کا چچا زاد بھائی تصور کیا ہے ، کیوں کہ جس حنظلہ کے نسب کو سیف ،ابو اسود ربیعہ پر منتہی کرتا ہے وہ مالک بن زید مناة کا بیٹا ہے اور اس کے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور پہنچنے کی خبر کو اسود بن عبس کے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضورمشرف ہونے سے اقتباس کرکے اپنے افسانہ سازی کی فکر سے مدد حاصل کرکے اس خبر میں دلخواہ تحریف کی ہے ۔
سیف نے اسود بن عبس سے اسود بن ربیعہ کا نام اقتباس کرنے میں اس کی داستان میں وہی کام انجام دیا ہے جو اس نے زربن عبد اللہ و غیرہ کے سلسلے میں کیا ہے ۔
سیف اپنے کام کو مستحکم کرنے کے لئے اسود بن ربیعہ حنظلی کی روایت کے ایک حصہ کو حنظلی نام کے ایک راوی سے نقل کرتا ہے تاکہ روایت کو صحیح ثابت کر سکے ۔ کیوں کہ حنظلی نام کا یہ راوی اپنے قبیلہ کی روایتوں کے بارے میں دوسروں سے آگاہ تر ہے ۔ معروف ضرب المثل '' رب البیت ادریٰ بما فی البیت '' ( گھر کا مالک بہتر جانتا ہے کہ گھر میں کیا ہے ) اس پر صادق آتی ہے ۔ جب کہ یہ دونوں خواہ صحابی حنظلی یا راوی حنظلی سیف بن عمر تمیمی جس پر جھوٹ اور زندیقی ہونے کا الزام ہے کی تخلیق ہیں ۔
حدیث کے اسناد کی تحقیق
زر اور اسود اور ان کی نمائندگی ، زر کے ذریعہ نہاوند کا محاصرہ اور جندی شاپور کے بارے میں سیف کی احادیث کے اسناد میں حسب ذیل نام نظر آتے ہیں :
محمد ، مہلب ، ابو سفیان عبد الرحمن ۔ ان کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہوا ہے کہ یہ سیف کے خیالات کی تخلیق ہیں ۔
'' ابلہ '' کی روایت کے بارے میں سیف کی سند حنظلہ بن زیاد بن حنظلہ ہے سیف نے اسے اپنے جعلی صحابی زیاد کا بیٹا تصور کیا ہے ؟
'' اسود بن ربیعہ '' اور اس کی داستان اور تمیم کے نمائندوں کے بارے میں روایت کی سند کے طور پر '' ورقاء بن عبد الرحمن حنظلی'' کا نام لیا ہے چوں کہ ہم نے اس نام کو سیف کی رو ایتوں کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا اس لئے اس کو بھی سیف کے خیالی راویوں میں شمار کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ اس کے بعض روایت کے اسناد میں مجہول اشخاص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایسے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔
کتاب '' التجرید'' میں ذہبی کی یہ بات قابل غور ہے ، جہاں پر وہ لکھتا ہے :
اسود بن حنظلی کانام ایک ایسی روایت میں آیا ہے جو مردود اور ناقابل قبول ہے ! اس ناقابل قبول روایت سے اس کا مقصود وہ روایت ہے جسے سیف بن عمر نے اسود کے بارے میں نقل کیا ہے جس کی تفصیل گزری ۔
چھٹا حصہ
خاندان تمیم سے رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منہ بولے بیٹے
* ٢١ ۔حارث بن ابی ہالہ تمیمی
* ٢٢۔زبیر بن ابی ہالہ تمیمی
* ٢٣۔طاہر بن ابی ہالہ تمیمی
اکیسواں جعلی صحابی حارث بن ابی ہالہ تمیمی
حارث خدیجہ کا بیٹا
سیف کے سخت ، پیچیدہ اور دشوار کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ قارئین کو گمراہ کرنے کے لئے اپنی خیالی شخصیتوں کو تاریخ کی حقیقی شخصیتوں کے طور پر ایسے پیش کرتا ہے کہ ایک محقق کے لئے ، وہ بھی صدیاں گزر نے کے بعد حق کو باطل سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ بعض اوقات ناممکن
بن جاتا ہے ۔
شائد حارث ، زبیر اور طاہر جیسے سیف کے مہم جو جعلی اصحاب ، جنھیں اس نے ام المومنین حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر ابو ہالہ تمیمی کی اولاد کے طور پر پیش کیا ہے ، اس کے اس قسم کی مخلوق ہیں ۔
حضرت خدیجہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ازدواج کرنے سے پہلے ابوہالہ تمیمی کے عقد میں تھیں ۔ ابو ہالہ کون تھا ؟ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ۔ بعضوں نے اسے ہند کچھ لوگوں نے زرارہ اور ایک گروہ نے اسے نباش نام دیا ہے ۔ بہر حال جو چیز واضح ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کی کنیت اس کے نام کی نسبت معروف تر ہے اس لئے وہ اسی کنیت سے مشہور ہے ۔
حضرت خدیجہ سے ابو ہالہ کی اولاد کی تعداد کے بارے میں طبری نے لکھا ہے :
ابو ہالہ نے خویلد کی بیٹی سے ازدواج کیا ۔ خدیجہ نے پہلے ہند کو جنم دیا پھر ہالہ کو۔ البتہ ہالہ کا بچپن میں ہیانتقال ہو گیا...(یہاں تک کہ لکھتاہے )
خدیجہ ابو ہالہ کے بعد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عقد میں آگئیں ، اس وقت ہند نامی ابوہالہ کا بیٹا ان کے ہمراہ تھا ۔
ہند نے اسلام کا زمانہ درک کیا ہے اور اسلام لایا ہے ، امام حسن ابن علی علیہ السلام نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ ١
ہیثمی نے بھی اپنی کتاب مجمع الزوائد ٥١٠ میں اسی سلسلے میں طبرانی سے نقل کرکے لکھا ہے :
ام المومنین خدیجہ رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پہلے ابو ہالہ کی بیوی تھیں ۔ انھوں نے پہلے ہند کو اور پھر ہالہ کو جنم دیا ہے ۔ ابو ہالہ کی وفات کے بعد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے ازدواج کیا ۔
ابن ماکولا نے زبیر بن بکار سے نقل کرکے لکھا ہے :
خدیجہ نے پہلے ہند اس کے بعد ہالہ کو جنم دیا ہے ۔
ابو ہالہ کے نواسہ ، یعنی ہند بن ہند نے جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کرتے ہوئے شرکت کی اور شہید ہوا ہے ۔
سیف کی نظر میں اسلام کا پہلا شہید
ابن کلبی سے روایت ہوئی ہے کہ ابو ہالہ کا نواسہ ہند بن ہند عبد اللہ بن زبیر کی معیت میں قتل ہوا اور اس کی کوئی اولاد باقی نہیں بچی ہے ۔ ٢
تمام مؤرخین ،جیسے ابن ہشام ، ابن درید ،ابن حبیب ،طبری ،بلاذری ابن سعد ،ابن ماکولا وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ جس وقت حضرت خدیجہ نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ازدواج کیا تو ،اپنے پہلے شوہر ابو ہالہ سے صرف ایک بیٹا ہند کو ہمراہ لے کر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر ہیں داخل ہوئیں ۔ حقیقت میں ہند کے علاوہ ابو ہالہ سے اس کی کوئی اور اولاد نہیں تھی ۔ ٣
ان حالات کے پیش نظر انتہائی حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ ابن حزم نے اپنی کتاب ''جمہرہ نساب عرب '' میں لکھا ہے :
خدیجہ نے اپنے پہلے شوہر ابو ہالہ سے ہند نامی ایک بیٹا کو جنم دیا اور اس کے بعد حارث نام کے ایک اور بیٹے کو جنم دیا ۔ کہا گیا ہے کہ وہ اسلام کا پہلا شہید تھا جو خانہ خدا میں رکن یمانی کے پاس شہید کیا گیا ہے۔
حیرت کی بات ہے ! یہ کیسے ممکن ہے ایک ایسا اہم حادثہ رونما ہو جائے یعنی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پرورش یافتہ شخص اس عظمت و شان کے ساتھ خدا کے گھر میں رکن یمانی کے پاس قتل ہو کر اسلام کے پہلے شہید کا درجہ حاصل کرے اور تاریخ اس کے ساتھ اتنی بے انصافی اور ظلم کرے کہ وہ فراموشی اور بے اعتنائی کا شکار ہو جائے ؟!!
ہم نے اس سلسلے میں انتہائی تلاش و جستجو کی تاکہ یہ دیکھیں کہ انساب عرب کو پہچاننے والے اس ماہر شخص ابن حزم نے اس روایت کو کہاں سے نقل کیا ہے !!
اس حقیقت و تلاش کے دوران ہم نے اس مسئلہ کے جواب کو ابن حجر کے ہاں پا یا وہ اپنی کتاب '' الاصابہ '' میں حارث بن ابی ہالہ کی تشریح میں لکھتا ہے :
حارث بن ابی ہالہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پرورش یافتہ اور ہند کا بھائی ہے ابن کلبی اور ابن حزم نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اسلام کا پہلا شہید ہے جو رکن یمانی کے پاس قتل ہوا ہے ۔
عسکری بھی کتاب '' اوائل '' میں لکھتا ہے :
جب خدا ئے تعالیٰ نے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا کہ جو کچھ انھیں امر ہوا ہے اسے اعلان فرمائیں تو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم مسجد الحرام میں کھڑے ہو گئے اور اپنی رسالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے بلند آواز میں لولے '' قولو ا لاالہ الا اللّٰہ تفلحوا'' '' یعنی خدا کی وحدانیت کی گواہی دو تاکہ کامیاب ہو جائو ! '' قریش کے کفار نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر حملہ کیا ۔ شور و غل کی آواز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر تک پہنچی ْ حارث بن ابی ہالہ آپ کی مدد کے لئے دوڑکر آیا اور اس نے کفار پر حملہ کیا ۔ قریش نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کوچھوڑ کر حارث پر حملہ کیا اور اسے رکن یمانی کے پاس موت کے گھاٹ اتار دیا ۔حارث اسلام کا پہلا شہید ہے ۔ اس کے علاوہ سیف کی کتاب '' فتوح '' میں سہل بن یوسف نے اپنے باپ سے اس نے عثمان بن مظعون سے روایت کی ہے : سب سے پہلا حکم جو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں دیا ، اس وقت تھا جب ہماری تعداد چالیس افراد پر مشتمل تھی ۔ ہم سب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین پر تھے ۔ مکہ میں ہمارے علاوہ کوئی ایسا نہیں تھا جو اس دین کا پابند ہو ۔ یہ وہ وقت تھا ،جب حارث بن ابی ہالہ شہید ہوا ۔ خدائے تعالیٰ نے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا کہ جو کچھ انھیں فرمان ہوا ہے (آخر تک ) ابن حجر کی بات کا خاتمہ ۔
لہٰذا معلوم ہو ا کہ حارث بن ابی ہالہ کی داستان کا سر چشمہ سیف بن عمر تمیمی ہے ۔ ابن کلبی ، عسکری ،ابن حزم اور ابن حجر سبوں نے اس روایت کو اس سے نقل کیا ہے ۔ ان کے مقابلے میں '' استیعاب '' ، '' اسد الغابہ '' اور '' طبقات '' جیسی کتابوں کے مؤلفوں نے سیف کی باتوں پر اعتماد نہ کرتے ہوئے اس کی جعلی داستان کو اپنی کتابوں میں نقل نہیں کیا ہے۔
دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ابن حزم حارث کی شہادت کی داستان کو '' کہا گیا ہے '' کے جملہ سے آغاز کرتا ہے تاکہ اس روایت کے ضعیف ہونے کے بارے میں اشارہ کرے ۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حارث کی داستان کے صحیح ہونے کے سلسلے میں شک و شبہ میں تھا ۔
اس لحاظ سے ''حارث ابو ہالہ ''سیف اور ان لوگوں کے لئے اسلام کا پہلا شہید ہے جنھوں نے سیف کی بات پر اعتماد کرکے اس داستان کی اشاعت کی کوشش کی ہے ۔جب کہ عام تاریخ نویس اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام کی پہلی شہید ''سمیہ ''عمار یاسر کی والدہ تھیں ۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ''یاسر ''ان کا بیٹا ''عمار ''اور یاسر کی بیوی ''سمیہ ''وہ افراد تھے جنھیں راہ اسلام میں مختلف قسم کی جسمانی اذیتو ں کا سامنا کرنا پڑا ۔یہ ان پہلے سات افراد میں سے ہیں جنھوں نے مکہ میں اپنے دین کا کھل کر اظہار کیا ۔اور کفار قریش نے اس جرم میں ان کو لوہے کی زرہ پہنا کر تپتی دھوپ میں رکھا اور انھیں شدید جسمانی اذیتیں پہنچائیں ۔
ایسی ہی وحشتناک اذیت گاہوں میں سے ایک میں ''ابو جہل ''آگ بگولا حالت میں سمیہ کو برا بھلا کہتے ہوئے داخل ہوا اور آگے بڑھتے ہوئے اس نے نیزہ سمیہ کے قلب پر مار کر انھیں شہید کیا۔ اس لحاظ سے سمیہ راہ اسلام کی پہلی شہید ہیں نہ اور کوئی ۔
اس کے علاوہ لکھا ہے کہ اسی حالت میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم وہا ں تشریف لائے اور فرمایا : اے خا ندان یا سر !صبر کرو ،بہشت تمھارے انتظارمیں ہے ۔
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ عمار یاسر نے ان تمام درد و الم اور اذیتوں کی شکایت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں بیان کرتے ہوئے عرض کی :
ہم پر کفار کی اذیت و آزار حد سے گزر گئی !
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
صبر و شکیبایی سے کام لو !اس کے بعد ان کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا :
خداوندا !یاسر کے اہل خانہ میں سے کسی ایک کو عذاب نہ کرنا !
حدیث کا موازنہ اور قدر و قیمت
سیف نے لکھا ہے کہ راہ اسلام کے پہلے شہید ''حارث بن ابی ہالہ ''اور ''خدیجہصلىاللهعليهوآلهوسلم قرشی مضری ''تھے ۔ ابن کلبی اور ابن حزم نے بھی اس روایت کو سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب''جمہرہ '' میں درج کیا ہے ۔
ابن حجر نے بھی انہی مطالب کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حالات کی تشریح کے ضمن میں اپنی کتاب ''الاصابہ''میں درج کیا ہے ۔عسکری نے بھی اپنی کتا ب''اوائل ''میں حارث کو اسلام کے پہلے شہید کے طور پر پیش کیا ہے ۔جب کہ حقیقت میں اسلام کی پہلی شہید سمیہ تھیں اور ان کے بعد ان کے شوہر یاسر تھے ،اور اس مطلب کو ان دو شخصیتوں کی سوانح لکھنے والے سبھی علماء ،و محققین نے بیان کیا ہے ۔
سیف شدید طور پر خاندانی تعصب کا شکار تھا ،خاص کر قحطانیوں اور یمانیوں کے بارے میں اس کے اس تعصب کے آثار کا ہم نے مختلف مواقع پر مشاہدہ کیا ۔وہ اس تعصب کے پیش نظر ایک یمانی قحطانی شخص کو راہ اسلام میں پہلے شہید کا فخر حاصل کرنے کی حقیقت کو دیکھ کر آرام سے نہیں بیٹھ سکتا تھا !کیونکہ وہ تمام امور میں پہلا مقام حاصل کرنے کے فخر کا مستحق صرف اپنے قبیلہ تمیم ،خاص کر خاندان بنی عمرو کو جانتا ہے ۔غور فرمائیں کہ وہ خاندان تمیم کے بنی عمرو میں پہلا مقام حاصل کرنے کے سلسلے میں کیسے تشریح کرتا ہے :
اس کا افسانوی سورما قعقاع پہلا شخص تھا جو دمشق کے قلعہ کی سر بفلک دیوار پر چڑھ کر قلعہ کے محافظوں کو اپنی تلوار سے موت کی گھاٹ اتار کر قلعہ کے د ر و ا ز و ں کو ا سلا می فو ج کے لئے کھول دیتا ہے !
کیا یہی اس کا افسانوی قعقاع کچھار کا پہلا شیر نہیں تھا جس نے یرموک کی جنگ میں سب سے پہلے جنگ کے شعلے بھڑکادئے ،قادسیہ کی جنگ میں لیلة الھریر کو وجود میں لایا ،پہلے پہلوان کی حیثیت سے دشمن کے جنگی ہاتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ؟وہ پہلا پہلوان تھا جس نے جلولا کی جنگ میں سب سے پہلے دشمن کے مورچوں پر قدم رکھا ،پہلا دلیر اور پہلا سورما اور
سیف اپنے افسانوی عاصم کے ''اہوال ''نامی فوجی دستہ کو پہلا فوجی دستہ بتا تا ہے کہ جس نے سب سے پہلے شہر مدائن میں قدم رکھا ہے !
کیا اسی سیف نے ''زیاد بن حنظلہ تمیمی''کو پہلے شہسوار کے طور پر خلق نہیں کیا ہے جس نے سب سے پہلے سرزمین ''رہا''پر قدم رکھا ۔حرملہ اور سلمی اس کے پہلے پہلوان ہیں جنھوں نے سب سے پہلے سرزمین ایران پر قدم رکھے ؟!
جب ہم سیف کے جھوٹ اور افسانوں میں قبیلہ تمیم کے لئے بے شمار فضیلتیں اور پہلا مقام حاصل کرنے کے موارد کا مشاہدہ کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اسلام کے سب سے پہلے شہید کا افتخار بھی اسی خاندان کو نصیب نہ ہو ؟اور ''سمیہ''نام کی ایک کنیز اور اس کا قحطانی شوہر ''یاسر ''اس افتخار کے مالک بن جائیں اور اسلام کے پہلے شہید کی حیثیت سے پہچانے جائیں ؟!
سیف ،قحطانیوں کی ایسی فضیلت کو دیکھ کر ہرگز بے خیال نہیں بیٹھ سکتا ،لہٰذا ایک افسانہ گڑھتا ہے حضرت خدیجہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ابو ہالہ سے ایک بیٹا خلق کرکے اسے اسلام کے پہلے شہید کا افتخار بخش کر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر میں ذخیرہ کرتا ہے ۔
ہم راہ اسلام میں سیف کے اس پہلے شہید میں اس کے دوسرے افسانوی پہلوانوں کی شجاعتوں اور جاں نثار یوں کا واضح طور پر مشاہدہ کرتے ہیں ۔وہ کہتا ہے :
قریش نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرنے کی غرض سے حملہ کیا ،شور وغل کی آواز پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل خانہ تک پہنچی (رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حامی اور حقیقی پشت و پناہ ابو طالب ،حمزہ ، جعفر اور بنی ہاشم کے دیگر سرداروں اور جوانوں کے بجائے )حارث تمیمی پہلا شخص تھا جو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرنے کے لئے اٹھا اور دوڑتے ہوئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس پہنچا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت اور دفاع میں آپ کے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہوتے ہوئے کفار قریش پر حملہ کیا ،کفار نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو چھوڑ دیا اور حارث پر ٹوٹ پڑے اور سر انجام
اس طرح رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے اپنے خاندان تمیم سے یاور و مدد گار جعل کرکے اسلام کے پہلے شہید کو خاندان تمیم سے خلق کرتا ہے اور اسے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تربیت یافتہ کے طور پر پہچنواتا ہے تا کہ خاندان تمیم میں ہر ممکن حد تک افتخارات کا اضافہ کرسکے ۔
حارث کے افسانے کا نتیجہ
سیف نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پالے ہوئے ایک صحابی کو خلق کیا ہے تا کہ مؤرخین پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے حقیقی اصحاب کے ضمن میں اس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالیں اور اس کے نام ونسب کو انساب کی کتابوں میں تفصیل سے لکھیں ۔
سیف نے اپنے تخیل کی مخلوق ،''حارث تمیمی''کو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا ،چچا زاد بھائی اور بنی ہاشم کی جوانوں کی موجودگی کے باوجود ،پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پہلے جاں نثار کے طور پر پیش کرکے خاندان تمیم ،خاص کر قبیلہ اسید کے افتخارات میں ایک اور فخر کا اضا فہ کیا ہے ۔
حارث کے افسانہ کی تحقیق
سیف اسلام کے پہلے شہید کو خاندان تمیم سے خلق کرتا ہے تا کہ اسلام کی سب سے پہلی حقیقی شہید سمیہ قحطانی کی جگہ پر بٹھادے اور اس طرح اپنے خاندان تمیم کے افتخارات میں ایک اور افتخا ر کا اضافہ کرے۔
سیف نے حارث کی داستان کو سہل بن یوسف سلمی سے ،اس نے اپنے باپ سے نقل کیاہے ۔چونکہ ہم نے ان دو ر اویوں ۔ باپ بیٹے ۔ کانام سیف کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا ،اس لئے ان کو سیف کے تخیل کی مخلوق سمجھتے ہیں ۔
حارث ابو ہالہ تمیمی کی داستان سیف سے نقل کرکے عسکری کی ''اوائل ''،ابن کلبی کی ''انساب ''،ابن حزم کی ''جمہرہ''اور ابن حجر کی کتا ب ''الاصا بہ ''میں درج کی گئی ہے اور ابن حجر نے اس داستان کو سیف سے نقل کرکے اس کی وضاحت کی ہے ۔
سیف کے جعلی صحابی حارث ابو ہالہ کا افسانہ اتنا ہی تھا جو ہم نے بیان کیا ۔لیکن سیف نے صرف اسی ایک افسانہ کو خلق کرنے پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اسی ماں باپ سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایک اور پالے ہوئے کی تخلیق کرکے اس کانام ''زبیر بن ابی ہالہ ''رکھا ہے کہ انشاء اللہ اس کی داستا ن پر بھی نظر ڈالیں گے ۔
بائیسواں جعلی صحابی زبیر بن ابی ہالہ
حضرت خدیجہ کادوسرابیٹا
دانشوروں نے اس زبیر کانام دوحدیثوں میں ذکرکیاہے۔ہم یہاں پران دوحدیثوں کے بارے میں بحث وتحقیق کریں گے۔
پہلی حدیث
نجیرمی(۱) (وفات ٤٥٠ھ)نے اپنی کتاب ''فوائد'' میں ابو حاتم(۲) (وفات ٢٧٧)سے نقل کرکے اس طرح لکھاہے:
سیف بن عمر سے اس نے وائل بن داودسے اس نے بہی بن یزید سے اوراس نے زبیر بن ابی ہالہ سے روایت کی ہے ،کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
____________________
( ۱)۔ابو عثمان سعد بن احمد نیشابوری معروف بہ نجیرمی نے علم و دانش حاصل کرنے کے لئے بغداد ،گرگان اور دیگر شہروں کا سفر کیا ہے یہ نام اسی طرح لباب اللباب (٢١٦٣)میں ذکر ہوا ہے اور بصرہ میں واقع محلہ ''نجارم ''و ''نجیرم''کی ایک نسبت ہے ۔
(۲)۔محمد بن ادریس بن منذر حنظلی معروف بہ ابو حاتم رازی (١٩٥۔٢٧٧) ہے ۔اس کے حالات تذکرہ الحفاظ (٩٢و٥٦٧ )میں آئے ہیں ۔
خداوندا !تو نے مجھے برکت والے اصحاب عطا فرمائے ۔لہٰذا اب میرے اصحاب کو ابو بکر کے وجود سے برکت فرما !اور ان سے اپنی برکت نہ چھین لینا ! انھیں ابوبکر کے گرد جمع کرنا !کیونکہ ابوبکر تیرے حکم کو اپنے ارادہ پر
ترجیح دیتا ہے ۔
خداوندا !عمربن خطاب کو سرداری عطا فرما !عثمان کو صبر وشکیبایی عطا فرما !اور علی بن ابیطالب علیہ السلام کو توفیق عطا فرما !زبیر کو ثابت قدمی عطا فرما !اور طلحہ کو مغفرت عطا فرما!سعد کو سلامتی عطا فرما !،اور عبد الرحمان کو کامیابی عطا فرما !
خداوندا !نیک و پیش قدم مہاجر و انصار اور میرے اصحاب کے تابعین کو مجھ سے ملحق فرما !تا کہ میرے لئے اور میری امت کے اسلاف کے لئے دعائے خیر کریں ۔ ہوشیار رہو کہ میں اور میری امت کے نیک افراد تکلف
سے بیزار ہیں ۔
نجیرمی کہتا ہے کہ ابو حاتم رازی نے کہا ہے :زبیر بن ابی ہالہ ،پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ کا بیٹا تھا ۔
جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث کا آخری راوی زبیر ابو ہالہ ہے اور ابو حاتم رازی تاکید کرتاہے کہ یہ زبیر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ کا بیٹا ہے ۔
یہیں سے زبیر بن ابی ہالہ کا نام اسلامی مآخذ و مدارک میں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پالے ہوئے کے عنوان سے درج ہوا ہے ۔جب کہ یہی حدیث ابن جوزی کی کتا ب موضوعات(۱) میں یوں بیان ہوئی ہے :
____________________
الف )۔موضوعات یعنی جھوٹی اور جعلی احادیث ۔ابن جوزی کی کتاب موضوعات اسی سلسلے میں تالیف کی گئی ہے ۔
سیف نے اپنی کتاب ''فتوح ''میں وائل بن دائود سے اس نے بہی سے اور اس نے زبیر سے نقل کرکے لکھا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا (حدیث کی آخر تک)
ابن حجر نے مذکورہ حدیث کے آخر پر حسب ذیل اضافہ کیاہے :
اکثر نسخوں میں اس زبیر کو ''زبیر بن العوام ''لکھا گیا ہے ،خدا بہتر جانتا ہے !
گزشتہ مطالب کے پیش نظر اس حدیث کو ''ابو حاتم رازی ''نے سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اور یہیں سے ''زبیر ابو ہالہ ''کانام حضرت خدیجہ کے بیٹے اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پروردہ کی حیثیت سے شہرت پاتا ہے ۔
لیکن ابن جوزی نے اسی حدیث کو سیف بن عمر سے اسی متن اور مآخذ کے ساتھ زبیر کے باپ کا نام لئے بغیر اپنی کتا ب ''موضوعات ''میں درج کیا ہے اور ابن حجر نے بھی مذکورہ حدیث کو زبیر کے باپ کانام لئے بغیر اس کے حالات کی وضا حت کرتے ہوئے ذکر کیا ہے اور آخرمیں اضافہ کرتا ہے کہ بہت سے نسخوں میں آیا ہے کہ یہ '' زبیر ' ' '' زبیر العوام '' ہے۔
اس اختلاف کے سلسلے میں ہماری نظر میں یہ احتمال قوی ہے کہ سیف بن عمر نے مذکورہ حدیث ایک بار زبیر بن ابی ہالہ کے نام سے روایت کی ہے ۔ اور مصنفین کی ایک جماعت نے اسی صورت میں اس حدیث کو سیف سے نقل کیا ہے ۔
سیف نے اسی حدیث کو دوسری جگہ پر زبیر کے باپ کا نام لئے بغیر ذکر کیا ہے ۔ مصنفین کے ایک گروہ نے بھی اس روایت کو اسی صورت میں نقل کیا ہے ۔ اس متأ خر گروہ نے اس زبیر کو زبیر بن العوام تصور کیا ہے ۔ یہی امر دانشوروں کے لئے حقیقت کے پوشیدہ رہنے کا سبب بنا ہے ۔
بہر حال ،جو بھی ہو، اہم یہ ہے کہ سیف کی حدیث میں حضرت خدیجہ کے بیٹے '' زبیر بن ابی ہالہ '' کا نام آیا ہے اور حدیث و تاریخ کی کتابوں میں اسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی اور پروردہ کی حیثیت سے درج کیا گیا ہے۔
''زبیر ابو ہالہ '' کے بارے میں روایت کی گئی پہلی حدیث کی حالت یہ تھی ۔
لیکن دوسری حدیث کے بارے میں بحث شروع کرنے سے پہلے اس پہلی حدیث کے متن پر ایک سرسری نظرڈالنا دلچسپی سے خالی نہیں ہے ۔
مذکورہ حدیث کی ترکیب بندی میں سیف کی مہارت ، چالاکی اور چابک دستی دلچسپ اور قابل غور ہے ، ملاحظہ ہو:
١۔ سیف اس حدیث میں شخصیات کا نام اسی ترتیب سے لیتا ہے جیسے کہ وہ مسند حکومت پر بیٹھے تھے : (ابوبکر ،عمر ، عثمان اور حضرت علی علیہ السلام )۔
٢۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان میں سے ہر ایک کے حق میں جو دعا فرمائی ہے ، وہ ہرشخص کی حالت کے مطابق ہے ملاحظہ ہو :
ا)۔ ابو بکر کے لئے خدا سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کو اس کے گرد جمع کرے اور یہ سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان زبر دست اختلاف کے بعد ابو بکر کی بیعت کے سلسلے میں متناسب ہے ۔
ب)۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم عمر کے لئے خدا سے چاہتے ہیں کہ انھیں صاحب شہرت بنائے اور ان کی شان و شوکت میں افزائیش فرمائے ۔ یہ وہی چیز ہے جو سر زمین عربستان سے باہر اسلام کے سپاہیوں کی فتوحات کے نتیجہ میں دوسرے خلیفہ کو حاصل ہوئی ہے ۔
ج)۔ سیف کہتا ہے کہ رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عثمان کے لئے دعا کرتے ہوئے رو نما ہونے والے واقعات اور فتنوں کے سلسلے میں ان کے لئے خدا ئے تعالیٰ سے صبر و شکیبائی کی درخواست کی ہے ۔
د)۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم خدائے تعالیٰ سے قطعا ًچاہتے ہیں کہ امام علی علیہ السلام وقت کے تاریخی حوادث اور فتنوں کے مقابلے میں کامیاب و کامران ہو جائیں ۔ یا یہ کہ عبد الرحمن عوف کواپنے منظور نظر شخص ( عثمان ) کو خلافت کے امور سونپنے میں کامیابی عطا کرے ۔
ھ)۔ اور آخرمیں جنگ جمل میں میدان کا رزار سے بھاگنے والے زبیر کی ایک طعنہ زنی کے ذریعہ سرزنش فرماتے ہیں ۔ طلحہ کے لئے، مضری خلیفہ عثمان کے خلاف بغاوت کے آغاز سے محاصرہ اور پھر اسے قتل کئے جانے تک کی گئی اس کی خیانتوں کے بارے میں بارگاہ الٰہی میں عفو و بخشش کی درخواست کرتے ہیں ۔
دوسری حدیث
ابو نعیم ( وفات ٤٣٠ھ ) کی کتاب '' معرفة الصحابہ ''میں سیف کی دوسری حدیث یوں بیان ہوئی ہے :
عیسیٰ ا بن یونس نے وائل بن دائود سے ، اس نے بہی سے اور اس نے زبیر سے یوں روایت کی ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قریش کے ایک مرد کو موت کی سزا سنائی اور اس کے بعد فرمایا:آج کے بعد عثمان کے قاتل کے علاوہ کسی قرشی کو موت کی سزا نہ دینا ۔ اگر اسے ( عثمان کے قاتل کو ) قتل نہ کرو گے تو تمھاری عورتوں کو قتل کر ڈالیں گے۔
ابو نعیم نے اس حدیث کے ضمن میں یوں اضافہ کیا ہے :
ابو حاتم رازی مدعی ہے کہ یہ زبیر ، زبیر بن ابی ہالہ ہے ۔
کتاب اسد الغابہ کے مصنف نے بھی ابو مندہ اور ابو نعیم سے نقل کرکے اس حدیث کو زبیر بن ابی ہالہ کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے درج کیا ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ :'' رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر میں قریش کے ایک مرد کو موت کی سزا دی اور ....'' اور اس قرشی کے قتل ہونے کی جگہ بھی معین کی ہے اور آخر میں رازی کی بات کا یوں اضافہ کیا ہے : '' یہ زبیر ، زبیر بن ابی ہالہ ہے ''
کتاب '' التجرید '' کے مصنف نے اس حدیث کے سلسلے میں صرف ایک اشارہ پر اکتفا کی ہے ،اور اسے زبیر ابو ہالہ کے حالات کی تشریح میں یوں لکھا ہے : وائل نے بہی سے اور اس نے اس زبیر ابو ہالہ سے اس طرح نقل کیا ہے اور آخرمیں لکھتا ہے کہ : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔ (د۔ع )
کتاب اسد الغابہ اور کتاب التجرید میں حرف ''د '' و حرف '' ع '' ترتیب سے '' ابو مندہ '' اور ''ابو نعیم '' کے بارے میں اشارہ ہے
کتاب الاصابہ کے مصنف نے بھی اس حدیث کو ابن مندہ سے نقل کیا ہے اور اس کے آخر پر لکھتا ہے :
ابن ابو حاتم رازی کہتا ہے کہ یہ حدیث سیف بن عمر تمیمی سے روایت ہوئی ہے ۔
صاف نظر آتا ہے کہ دوسری حدیث میں بنیادی طور پر زبیر کے باپ کا نام نہیں لیا گیا ہے اور ابو حاتم رازی سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ زبیر ابو ہالہ ہے اسی دانشور کے بیٹے یعنی ابن ابی حاتم رازی سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ یہ حدیث سیف سے نقل کی گئی ہے ۔
لیکن پہلی حدیث سیف سے روایت ہوئی ہے ۔نہ دوسری حدیث !پہلی حدیث کی سندکے طورپرجو''زبیربن ہالہ''کانام آیا ہے ،اس کے بار ے میں ابوحاتم رازی نے کہاہے کہ یہ ''زبیر ابو ہالہ'' حضرت خدیجہ کابیٹاہے ۔دوسری حدیث کو سیف بن عمرسے نسبت دینے کی یہ غلط فہمی اوراس حدیث کے راوی زبیر کوابوہالہ سے منسوب کرناایک ایسا مطلب ہے جس کی ذیل میں وضاحت کی جائے گی۔
دونوں حدیثوں کے مآخذ کی تحقیق میں پہلاموضوع جو نظرآتاہے وہ یہ ہے کہ دونوں حدیثوں کے راویوں کاسلسلہ یکساں ہے (وائل بن داودنے بہی بن یزیدسے اور اس نے زبیر سے ) شائد اس حدیث کے راویوں کے سلسلے میں یہی وحدت اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کا سبب بنی ہوگی ۔خاص طور پر ابو حاتم رازی باپ کہتا ہے :یہ زبیر ،خدیجہ کا بیٹا ہے ۔اور اس دانشور کا بیٹاابن ابی حاتم رازی بھی کہتا ہے:''زبیر ابو ہالہ ''کی حدیث ہم تک صرف سیف کے ذریعہ پہنچی ہے پہاں پرعلماء کو شبہ ہوا اور ان دونوں باتوں کو دونوں حدیثوں میں بیان کیا ہے ۔
بہرحال ،مطلب جو بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا ،اہم یہ ہے کہ ''زبیر ابو ہالہ ''کا نام صرف سیف کی حدیث میں آیا ہے نہ دوسری جگہ پر ۔اس کے علاوہ اس حقیقت کے اعلان اور وضاحت کے بارے میں ''ابو حاتم رازی ''کی بات بڑی دلچسپ ہے ،وہ کہتا ہے :
''زبیر ابو ہالہ ''کا نام صرف سیف کی حدیث میں آیا ہے ،جو متروک ہے اور اس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔اسی لئے نہ میں سیف کی روایت کو لکھتا ہوں اور نہ اس کے راوی کو !
ان مطالب کے پیش نظر قطعی نتیجہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ ''زبیر ابو ہالہ ''کا نام صرف سیف کی حدیث میں آیا ہے اور اسی میں محدود ہے ۔
بحث کا خلاصہ
''زبیر ابوہالہ'' کا نام صرف دو حدیثوں میں آیا ہے ، جو حسب ذیل ہیں :
١۔ پہلی حدیث میں سیف نے ''زبیر بن ابی ہالہ '' سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے آٹھ اصحاب کے لئے دعا کی ۔یہ دعا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ان اصحاب کے بارے میں رو نما ہونے والے واقعات اور اختلافات کے متناسب ہے ۔
جس حدیث میں '' زبیر بن ابی ہالہ ''راوی کی حیثیت سے ذکر ہوا ہے ابو حاتم رازی نے اسے سیف بن عمر سے نقل کیا ہے ۔ نجیرمی نے بھی اسے اسی حالت میں ابو حاتم رازی سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔
اس کے مقابلے میں ابن جوزی اور ابن حجر نے اسی حدیث کو زبیر کے باپ ابو ہالہ کا نام لئے بغیر سیف کی زبانی نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔
ہمیں یقین ہے کہ یہ اختلاف اس سبب سے پیدا ہوا ہے کہ سیف نے اس حدیث کو ایک بار زبیر بن ابی ہالہ کے باپ کانام لے کر اور دوسری جگہ پر اسی حدیث کو اس کے باپ کا نام لئے بغیر تنہا زبیر سے روایت کی ہے اور یہی دوسری حالت اس کی کتاب فتوح میں بھی درج کی گئی ہے ۔
٢۔ دوسری حدیث میں زبیر سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قریش کے ایک مرد کو موت کی سزا دی اور اس کے بعد عثمان کے قاتل کے علاوہ کسی بھی قریشی کو اس طرح موت کی سزا دینے سے منع فرمایا :
اس حدیث میں زبیر کے باپ کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔ ضمناً یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ حدیث سیف بن عمر سے روایت کی گئی ہو ! اس حدیث کے آخر میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ابو حاتم زاری نے لکھا ہے کہ یہ زبیر زبیر ابو ہالہ ہے !
اسی طرح روایت کی گئی ہے کہ ابن ابی حاتم رازی نے کہا ہے کہ یہ حدیث سیف سے روایت ہوئی ہے جب کہ دوسری حدیث ہر گز سیف سے روایت نہیں ہوئی ہے اور اس میں زبیر کے باپ کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ۔ صرف پہلی حدیث ہے ، جسے سیف نے روایت کی ہے اور بعض جگہوں پر اس کی روایتوں میں زبیر کے باپ ابو ہالہ کا نام لیا گیا ہے ، اسی نام کے پیش نظر ابو حاتم رازی نے کہا کہ یہ زبیر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ کا بیٹا تھا !گویا یہ غلط فہمی اس لئے پیدا ہوئی کہ دونوں حدیثوں کے راویوں میں واضح اشتراک پایا جاتا ہے ( وائل نے بہی سے اور اس نے زبیر سے )
مطلب جو بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا ، اہم بات یہ ہے کہ زبیر ابو ہالہ کا نام صرف سیف بن عمر کی حدیث میں آیا ہے ،علماء کے نزدیک سیف کی روایت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ شائد ذہبی نے '' التجرید '' میں اسی موضوع کی طرف اشارہ کرکے لکھا ہے : اس سیف کی بات صحیح نہیں ہے اور قابل اعتبار بھی نہیں ہے یعنی اس کی حدیث جھوٹی ہے ۔
فیروزآبادی نے بھی ان دو حدیثوں پر اعتبار کرکے اپنی کتاب '' قاموس '' میں لفظ '' زبر '' کی تشریح میں لکھا ہے :
زبیر بن و '' زبیر بن ابی ہالہ '' دونوں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب تھے ۔
زبیدی نے بھی اپنی کتاب '' تاج العروس '' میں اسی حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
وائل بن دائود نے بہی سے اور اس نے زبیر سے نقل کیا ہے !
افسانہ ٔ زبیر کے مآخذ کی جانچ پڑتال
زبیر کا نام صرف دو حدیثوں میں آیا ہے :
ان میں سے ایک حدیث میں احتمال دے کر کہا گیا ہے کہ یہ زبیر وہی زبیر بن ابی ہالہ ہے اور اس کی زبیر ابو ہالہ کے طور پر تشریح کی گئی ہے جب کہ اس حدیث کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور اس حدیث کا زبیر ابو ہالہ کے بارے میں لکھنا بلا و جہ ہے ۔
دوسری حدیث کو خود سیف نے وائل سے ، اس نے بہی سے اور اس نے زبیر ابو ہالہ سے نقل کیا ہے یہاں پر روایت کا آخری مآخذ سیف کا خلق کردہ شخص زبیر ہے ۔ خلاصہ یہ کہ سیف اپنی مخلوق سے روایت کرتا ہے !! اس لحاظ سے جو حدیث افسانہ نگار سیف سے شروع ہو کر اس کی اپنی خیالی مخلوق پر ختم ہوتی ہو ،اس کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے ؟! ان حالات کے پیش نظر کیا اس بات کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ حدیث میں ذکر ہوئے راویوں کے نام اور ان کے سلسلے کے صحیح یا عدم صحیح ہونے پر بحث و تحقیق کی جائے ؟! اس کے باوجود کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہم سیف کی دروغ بافی کا گناہ ان صحیح راویوں کی گردن پر نہیں ڈالیں گے جن کا نام سیف نے اپنی روایتوں میں لیا ہے ۔
داستان کا نتیجہ
اس داستان سے سیف نے اپنے لئے مندرجہ ذیل نتائج حاصل کئے ہیں :
١۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پروردہ ایک صحابی کو خلق کیا ہے تاکہ وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قرا ر پائے ۔
ٍ ٢۔ خاندان تمیم کے ایک مرد کو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی احادیث کے راویوں کی فہرست میں قرار دیتا ہے ۔
٣۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک ایسی حدیث نقل کرتا ہے جو صحابہ کے فضائل و مناقب کے دلدادوں اور قبائل نزار کے متعصب افراد کو خوشحال کرے کیوں کہ اس حدیث میں صرف خاندان قریش سے تعلق رکھنے والے اصحاب کا نام لیا گیا ہے اور یمانی قحطانی انصار کا کہیں ذکر تک نہیں ہے ۔
سر انجام سیف نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو پروردہ اور خدیجہ و ابو ہالہ تمیمی کے بیٹے خلق کرکے خاندان تمیم خاص کر اسید کو ایک بڑا افتخار بخشا ہے ۔ اور اس طرح قبائل نزار کے لئے یہ سب افتخار و برکتیں سیف کی احادیث کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں ۔
راویوں کا سلسلہ
زبیر ابو ہالہ کے افسانہ کے راویوں کا سلسلہ حسب ذیل ہے :
١۔ سیف نے اپنی پہلی حدیث اپنے ہی خلق کردہ راوی زبیر ابو ہالہ سے روایت کی ہے ۔
٢۔ دوری حدیث میں آخر ی راوی زبیر ہے چوں کہ دونوں احادیث میں راویوں میں یکجہتی اور اشتراک پایا جاتاہے اس لئے یہ خیال کیا گیا ہے کہ یہ زبیر بھی وہی زبیر ابو ہالہ ہے ۔ اسی لئے دوسری حدیث کو بھی زبیر ابو ہالہ کے حالات کی وضاحت میں ذکر کیا گیا ہے ۔
٣۔ ابو حاتم رازی نے زبیر ابو ہالہ کی حدیث کو سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اسی دانشور کا بیٹا ابن ابی حاتم رازی (وفات ٣٢٧ھ) اپنی کتاب جرح و تعدیل میں تاکید کرتا ہے کہ زبیر ابوہالہ کی حدیث صرف سیف بن عمر سے نقل ہوئی ہے ۔
٤۔ ابن جوزی ( وفات ٥٩٧ھ) نے اپنی کتاب موضوعات میں سیف کی حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں زبیر کے باپ کا نام نہیں لیا ہے ۔
٥۔ ابن حجر ( وفات ٨٥٢ھ ) نے اپنی کتاب الاصابہ میں سیف کی حدیث ابن جوزی کی موضوعات سے نقل کی ہے ۔ لیکن اس میں زبیر کے باپ کا نام نہیں لیا ہے ۔
مندرجہ بالا علماء نے مذکورہ حدیث کو اپنی سند سے سیف سے نقل کیا ہے ۔
٦۔ نجیرمی ( وفات ٤٥١ھ ) نے اپنی کتاب فوائد میں سیف کی حدیث کو ابن ابی ہالہ کی وضاحت کرتے وقت رازی سے نقل کیا ہے ۔
چوں کہ تصور یہ کیا گیا ہے کہ کہ دوسری حدیث میں زبیر وہی زبیر ابو ہالہ ہے لہٰذا درج ذیل علماء نے دوسری حدیث زبیر ابو ہالہ کے حالات کے سلسلے میں درج کی ہے :
٧۔ ابن مندہ ( وفات ٣٩٥ھ) نے کتاب '' اسماء الصحابہ '' میں ۔
٨۔ ابو نعیم ( وفات ٤٣٠ھ) نے کتاب '' معرفة الصحابہ'' میں ۔
٩۔ ابن اثیر ( وفات ٦٠٣ھ) نے کتاب اسد الغابہ میں ۔
١٠۔ ذہبی ( وفات ٧٤٨ھ) نے کتاب التجرید میں ۔
١١۔ ابن حجر ( وفات ٨٥٢ھ) نے کتاب الاصابہ میں ۔
١٢۔ فیروز آبادی ( وفات ٨١٧ھ) نے کتاب قاموس میں ۔
١٣۔ زبیدی ( وفات ١٢٠٥ھ) نے اپنی کتاب تاج العروس میں ۔
منابع و مصادر
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو پروردہ صحابیوں کی حدیث کے منابع و مصادر حسب ذیل ہیں :
الف )۔ ابو ہالہ کے بیٹوں '' حارث '' و '' زبیر '' کے بارے میں :
١۔ طبری ،٢٣٥٦٣ و ٣٤٢٩
٢۔ ابن ماکولا کی کتاب اکمال ٥٢٣١
٣۔ ابن ہشام نے سیرہ ٣٢١٤میں ، ابن درید نے اشتقاق ٢٠٨میں ، ابن حبیب نے المحبر ٧٨۔٧٩و ٤٥٢میں ، بلاذری نے انساب الاشراف ٣٩٠١میں اور ابن سعد نے طبقات میں ۔
۲)۔ صرف زبیر ابو ہالہ کے بارے میں
١۔ رازی کتاب الجرع وا لتعدیل ٥٧٩١میں
٢۔ نجیر می کتاب الفوائد ولمخرجہ نسخہ عکسی ،کتب خانہ حضرت امیر المؤمنین نجف اشرف ۔
٣۔ ابن جوزی کتاب الموضوعات ٣٠٣میں ۔
٤۔ ابو نعیم نے المعرفة الصحابہ ٢٠٠١ ،نسخہ عکسی کتب خانہ حضرت امیر المؤمنین نجف اشرف ۔
٥۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ ٢ ١٩٩ ، میں ۔
٦۔ ذہبی نے التجرید ٢٠٢١ ، میں ۔
٧۔ ابن حجر نے الاصابہ ٥٢٨١ ،میں ۔
٨و٩۔ قاموس و تاج العروس لفظ زبر کی تشریح میں ۔
تیئیسواں جعلی صحابی طاہر بن ابی ہالہ تمیمی
طاہر ، گور نر کے عہدے پر
سیف نے خاندان اسید تمیم کے ابو ہالہ کی نسل سے حضرت خدیجہ کے بیٹے کے طور پر پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک تیسرے پرورش یافتہ کو خلق کرکے اس کا نام طاہر بن ابی ہالہ رکھا ہے ۔
ابو عمر ابن عبد البر اپنی کتاب استیعاب میں طاہر ابو ہالہ کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے :
طاہر بن ابی ہالہ ہند اور ہالہ کا بھائی اور ابو ہالہ تمیمی کا بیٹا ہے ۔ وہ بنی عبد الدار کا ہم پیمان تھا ۔ اس کی والدہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ تھیں رسول خدا نے طاہر کو یمن کے بعض علاقوں میں اپنے گماشتہ و کارندہ کے عنوان سے مأمور فرمایا تھا ۔ طاہر کے بارے میں سیف بن عمر لکھتا ہے :
جریر بن یزید جعفی نے ابی بردہ سے اور اس نے ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے ہمیں دیگر چار افراد کے ہمراہ ماموریت پر یمن بھیج دیا ۔یہ چار افراد حسب ذیل تھے : معاذ بن جبل ، خالد بن سعید ، طاہر بن ہالہ اور عکاشتہ بن ثور ۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں سفارش فرمائی کہ کوگوں کے معاملات میں تساہل پسندی اور نرم رویہ سے پیش آئیں ، رحم دل بنیں اور کسی پر سختی نہ کریں ۔ لوگوں کو محبت و نوازش سے اپنی طرف جذب کریں اور غصہ و بد اخلاقی سے ان کو اپنے سے دور نہ کریں ۔ اس کے علاوہ حکم دیا کہ جب معاذ جبل آپ لوگوں کے پاس پہنچے گا تو اس کی اطاعت کرنا اور نافرمانی سے پرہیز کرنا اور
ذہبی نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں بعض دخل و تصرف کے ساتھ معاذ جبل کی وضاحت کرتے ہوئے درج کیا ہے :
ابن اثیر اپنی کتاب اسد الغابہ میں اس سلسلہ میں لکھتا ہے :
طاہر ، ابو ہالہ کا بیٹا اور ہند کا بھائی خاندان اسید تمیم سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی والدہ خویلد کی بیٹی خدیجہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ ہیں ۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے طاہر کو یمن کے اطراف میں اپنے کار ندہ اور گماشتہ کی حیثیت سے ماموریت دی ۔ سیف بن عمر اس سلسلے میں لکھتا ہے
ابن اثیر مذکورہ حدیث کے آخر میں اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ اس حدیث کو ابو عمر ابن عبد البر نے نقل کیا ہے ۔
ابن حجر نے اپنی کتاب الاصابہ میں یوں بیان کیا ہے :
طاہر بن ابی ہالہ تمیمی اسید ی ہند کا بھائی اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پرورش یافتہ ہے ، سیف نے اپنی کتاب '' ردّہ'' کی جنگ کے آغاز پر ابو موسیٰ سے نقل کرکے ذکر کیا ہے ( حدیث مذکور کے آخر تک )
اس کے بعد ابن حجر اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے کھتا ہے :
عبید بن صخر لوذان کے سلسلے میں لکھی گئی تشریح میں بغوی رقمطراز ہے :
جب باذان نے وفات پائی ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی مأموریت کے علاقہ کو حسب ذیل افراد میں تقسیم فرمایا: شہر بن باذام ،عامر بن شہر ،اور طاہر بن ابی ہالہ ...آخرمیں لکھتا ہے کہ :مرز بانی نے ''ردہ ''کی جنگ میں طاہر ابو ہالہ کے بارے میں مندرجہ ذیل اشعار کہے ہیں :
میری آنکھوں نے آج تک ایسا دن کبھی نہیں دیکھا ،جس دن قبیلہ ''اخابث ''کے گروہوں کو اپنی کثافت اور ننگ آور اعمال کی وجہ سے ذلیل و خوار ہونا پڑا ۔
خدا کی قسم !اگر اس خدا کی مدد اور یاری نہ ہوتی جس کے سوا کوئی خدا نہیں تو قبیلہ ''اخابث '' کے گروہ ہرگز اس طرح دربدر اور پراکندہ نہ ہوتے !!
ابن حجران مطالب کے ضمن میں لکھتا ہے :
خاندان ''ازد ''سے جو پہلا قبیلہ مرتد ہوا وہ ''تہامہ عک ''تھا کہ طاہر نے ان پر حملہ کیا ،ان پر غلبہ پاکر شورش وبغاو توں کو سرکوب کرکے علاقہ میں امن وامان برقرار کیا ۔اس لئے اس علاقے کے مرتدوں کا ''اخابث''یعنی ''ناپاک ''نام پڑا ہے ۔
طاہر کی داستان پر بحث و تحقیق
طاہر کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ابو ہالہ کا بیٹا تھا اور اس کی والدہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ تھیں ۔علما ء کے نزدیک اس روایت کے مآخذ حسب ذیل ہیں :
سیف کی حدیث کا راوی عبد البر ہے ۔ابن اثیر نے بھی ''طاہر ابوہالہ ''کا ذکر کرتے وقت سیف کی حدیث پر عبد البر کے ذریعہ متوجہ ہوا ہے ،اس نسب شناس دانشور نے عبدا لبرسے مطالب نقل کرکے اس کی باتوں پر اپنی طرف سے بھی کچھ اضافہ کرتے ہوئے ''ابو ہالہ ''کے شجرہ ٔنسب کو اسید بن تمیم تک پہنچایا ہے !ابن اثیر نے ابوہالہ کو اسید بن تمیم سے وصل کرنے میں علم انساب کے رو سے صحیح راستہ کا انتخا ب کیا ہے ۔لیکن اصل مسئلہ میں یہ مشکل موجود ہے کہ ''ابو ہالہ ''کا جب ''طاہر ''نامی کوئی بیٹا نہ تھا تو یہ شجرہ ٔنسب کیسے مفید اور حقیقت بن سکتا ہے ؟! جب ''طاہر ''ہی حقیقت میں وجود نہ رکھتا ہو تو ایسے ''طاہر ''کے لئے شجرہ نسب کا ثابت کرنا ''ابو ہالہ ''کے لئے کسی بیٹے کو جنم نہیں دے سکتا ہے !
لیکن ابن حجر نے اپنی کتا ب ''الاصابہ ''میں ''طاہر ابو ہالہ ''کے بارے میں دو حدیثیں نقل کی ہیں ۔ان میں سے ایک کے مطابق ''طاہر '' ''باذان ''کا جا نشین انتخاب ہو ا ہے تا کہ رسو ل خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے کی حیثیت سے عہدہ سنبھالے ۔دوسری روایت میں علاقہ ''اعلاب ''کے مرتدوں سے اس کی جنگ اور ''اخابث ''کے بارے میں اس کی دلاوریوں پر مشتمل اشعار بیان کئے گئے ہیں ۔
ان دو روایتوں میں ابن حجر نے کہیں پر سیف کا نام نہیں لیا ہے ۔لیکن ہم نے تاریخ طبری میں سیف کی احادیث کی تحقیق کے دوران اس کے مآخذ تلاش کئے ہیں جن پر ہم ذیل میں نظر ڈالتے ہیں :
طاہر کے بارے میں سیف کی احادیث
١۔ ''لوذان انصاری'' کے نواسہ ''عبید بن صخر ''سے سیف نقل کرکے روایت کرتا ہے کہ :
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حجة الوداع سے لوٹتے ہوئے ١٠ھ کو ''باذام '' جو فوت ہو چکا تھا کی ماموریت کے علا قہ کو اور طاہر بن ابی ہالہ کے درمیان تقسیم کیا ۔
جیسا کہ بیان ہوا ،اس حدیث کو بغوی نے ''عبید صخر ''کے حالات کی تشریح میں بیان کیا ہے اور ابن حجر نے ''باذان ''کے جانشین کے طور پر ''طاہر ''کے انتخاب کے سلسلے میں اسی مطلب کو بغوی سے نقل کرکے اپنی کتا ب میں درج کیا ہے ۔
٢۔ اس کے بعد سیف سے متعلق ایک دوسری روایت میں کہا گیا ہے :
جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حج کے بعد مدینہ لوٹے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سرزمین یمن کی حکومت اپنے اصحاب کو سونپی .....(یہاں تک کہتا ہے ) اور ''عک ''و ''اشعریو ں ''پر ''طاہر بن ابی ہالہ ''کو مقرر فرمایا ۔
٣۔ آخر میں طبری نے یما نیوں کے ارتداد کے موضوع پر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے یمن میں مقرر کئے گئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندوں کے بارے میں سیف سے نقل کرکے مفصل طور پر بیان کیا ہے کہ ہم اسے ذیل میں درج کرتے ہیں :
طبری نے سیف سے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے وقت اسلام کے قلمرو میں آ نحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے حسب ذیل تھے :
مکہ اور اس کے اطراف میں درج ذیل دو افراد مامور تھے :
قبیلہ ''کنانہ ''میں ''عتاب بن اسید ''اور ''عک ''میں طاہر ابی ہالہ ۔اس قسم کی تقسیم بندی کا سبب یہ تھا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا تھا ،''عک ''کے کارندے ان کے اپنے قبیلہ یعنی ''معد بن عدنان ''سے انتخاب کئے جائیں ۔
طائف اور اس کی سرزمینوں میں حسب ذیل دو افراد کو مقرر فرمایا تھا: ''عثمان بن ابی العاص''کو شہر نشینوں میں اور ''مالک بن عوف نصری ''کو صحرا نشینوں کے لئے انتخاب فرمایا تھا ۔
نجران اور اس کے اطراف کے علاقوں کے لئے ''عمر ابن حزم ''کو امام جماعت کے طور پر اور ''ابو سفیان حرب ''کو علاقہ کے صدقات جمع کرنے کے لئے مامور فرمایا تھا ۔
''عاص ''کے نواسہ ''خالد بن سعید ''کو ''ربیع و زبید ''کی سرزمینوں سے نجران کی سرحدوں تک کے علاقے پر ،عامر بن شہر کو ہمدان کے تمام قبائل پر اور ''فیروز دیلمی ''کو ''داذویہ ''و ''قیس بن مکشوح ''کے تعاون سے یمن کے شہر صنعا پر مامور فرمایا تھا ۔
''یعلی بن امیہ ''کو سرزمین جند پر ،''طاہر بن ابی ہالہ ''کو عک کی حکومت کے علاوہ اشعریوں کے قبیلہ پر اور ''ابو موسی اشعری ''کو مارب کی سرزمینوں پر مامور فرمایا تھا ۔
اس کے علاوہ ''معاذ بن جبل ''کو معلم احکام اور حاکم شرع کے عنوان سے یمن اور حضر موت کے لئے منصوب فرمایا تھا ۔
طبری نے ایک اور روایت میں سیف بن عمر سے نقل کرکے ذکر کیا ہے :
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضر موت کے اطراف من جملہ قبائل ''سکاسک و سکون ''کے لئے ''عکاشہ بن ثور ''کو اورقبائل معاویہ بن کندہ کے لئے ''عبداللہ ''یا ''مہاجر ''کو مامور فرمایا ۔
مہاجر بیمار ہوا اور مجبور ہوکر ماموریت پر روانہ نہ ہوسکا لیکن رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد ابوبکر نے اسے ماموریت پر بھیج دیا ۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ''زیاد بن لبید ''کو حضر موت کی ماموریت دی اور یہی زیاد تھا جو مہاجر کی عدم موجودگی میں اس کی ذمہ داری بھی نبھاتا تھا ۔
یہ سب گماشتے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت تک اپنی اپنی جگہوں پر فرائض انجام دیتے رہے۔ صرف ''باذام ''کی وفات کے بعد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی ماموریت دوسرے لوگوں میں تقسیم فرمائی ۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد ''اسود عنسی'' نے ''شہر بن باذام'' کی مأموریت کے علاقہ پر حملہ کرکے اسے قتل کرڈالا۔
٤۔طبری نے سیف سے نقل کرکے ''اسود عنسی'' کی خبر کے بارے میں یوں لکھا ہے :
''اسود عنسی '' نے جب پیغمبری کا دعویٰ کرنے کے بعد نجران پر حملہ کیا اور ''عمر بن حزم'' و ''خالد بن سعید'' کو وہاں سے بھگا دیا تو یہ دونوں مدینہ بھاگ گئے اور''اسود ''نے نجران پر قبضہ کرلیا۔
نجران پر قبضہ کرنے کے بعد اسود نے صنعاء کی طرف رخ کیا اور ''شہر بن باذام'' جو صنعاء کا حاکم تھا کو قتل کرڈالا۔ ''معاذ بن جبل'' ڈر کے مارے بھاگ کر ''ابو موسیٰ'' کے پاس'' مأرب'' پہنچا اور وہاں سے دونوں خوف و وحشت کی وجہ سے بھاگ کر حضر موت کی طرف چلے گئے!! ان کے بھاگنے کی وجہ سے اسود نے یمن کے پورے علاقہ پر قبضہ جما لیا۔
اسود سے ڈر کے یمن میں مأمور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے کارندے اور گماشتے بھی وہاں سے فرار کر کے ''عک'' کے اطراف میں صنعا ء کے پہاڑوں کی طرف چلے گئے جہاں پر'' طاہر ابوہالہ'' ٹھکانا لگائے بیٹھا تھا۔
اس کے بعد طبری نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندوں کی روایت کے آخر میں ان کی مأموریت کے حدود کے بارے میں ذکر ہوئی روایت اور ''اخابث'' کی خبر کے بارے میں یوں لکھا ہے:
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کی خبر پھیلنے کے بعد ''تہامہ'' کے جس علاقے میں سب سے پہلے گڑ بڑ اور بغاوت پھیلی، وہ ''عک'' اور ''اشعری'' قبائل تھے۔ وہ آپس میں جمع ہوکر '' اعلاب ''
جو سمندر کے راستے پر واقع ہے میں تاک لگا کر بیٹھ گئے ۔
''طاہر بن ابی ہالہ'' نے اس موضوع کی رپورٹ ابو بکر کو بھیجی اور اس کے بعد اپنے سپاہیوں کے ساتھ ''مسروق عکی'' کے ہمراہ باغیوں کی طرف روانہ ہوا اور ان کے ساتھ گھمسان کی جنگ لڑی۔ اس جنگ میں ان کے کشتوں کے ایسے پشتے لگائے کہ سارے بیابان میں ان کی لاشوں کی بد بو پھیل گئی۔ سر انجام مشرکین نے شکست کھائی ، علاقہ شر پسندوں سے پاک ہو اا ور امن و امان برقرار ہوا۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد طاہر ابو ہالہ کے ہاتھوں مرتدوں کی یہ شکست مسلمانوں کی ایک عظیم کامیابی تھی۔
ابوبکر نے طاہر کی طرف سے اس کامیابی کی نوید پر مشتمل خط کے پہنچنے سے پہلے ہی اس خط کے جواب میں لکھا :
تمھارا خط مجھے ملا، جس خط میں تو نے اپنی اختیار کی گئی راہ اور ''مسروق'' اور اس کے خاندان سے اخابث (ناپاکوں ) کے خلاف لڑنے میں جو مدد کرنے کا ذکر کیا تھا، یہ ایک اچھا کام تھااسی راہ پر آگے بڑھو اور ان ناپاکوں کو آرام سے سانس لینے کی فرصت نہ دو، اس کے بعد ''اعلاب'' جاکر رُکنا اور میرے خط کا انتظار کرنا۔
چونکہ ابوبکر نے اس جگہ پر باغیوں کو ''اخابث'' (ناپاک) کا نام دیا ہے لہٰذا یہ جگہ آج تک طریق الاخابث (ناپاکوں کی گزرگاہ) سے مشہور ہے ۔ اور ''طاہر بن ابی ہالہ'' نے اس سلسلہ میں یہ اشعار کہے ہیں :
خدا کی قسم اگر اس خدا کی مدد نہ ہوتی جس کے سوا کوئی خد ا نہیں ہے تو قبیلہ عثاعث ہرگز وادیوں میں در بدر نہ ہوتے !
میری آنکھوں نے آج تک ایسا دن کبھی نہیں دیکھا ، جس دن قبیلہ ''اخابث'' کے گروہ کو ذلیل و خوار ہونا پڑا۔
ہم نے ان کو کوہ خامر کی چوٹی اور سرخ زمینوں کی کھاڑیوں کے درمیان تہ تیغ کرکے رکھدیا۔
اور ہم ان سے چھینی ہوئی دولت کے ساتھ لوٹے اور ان کے شور و شر پر کوئی توجہ نہ کی۔
طبری نے اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے لکھا ہے:
طاہر نے مسروق اور قبیلہ عک کے دوسرے لوگوں کے ساتھ دریائے اخابث کے ساحل پر کیمپ لگا دیا اور وہیں پر ابوبکر کے حکم کا انتظار کرنے لگا۔
(یہ روایت اسی خبر کا مآخذہے جسے ابن حجر نے مرز بانی سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے )
٥۔طبری اس داستان کے آخر میں سیف سے نقل کرکے لکھا ہے:
ابوبکر نے طاہر اور مسروق کو حکم دیدیا کہ صنعا ء جاکر ''احرار ''نامی ایران نسل کے لوگوں کی مددکریں
''طاہر ابو ہالہ ''کے بارے میں سیف سے نقل کی گئی جس روایت کو ہم نے طبری کے ہاں وہ یہی تھے جس کا ذکر ہوا ۔
سیف سے نقل کی گئی طبری کی روایت کے پیش نظر یاقوت حموی نے''اخابث ''کی جغرافیائی موقعیت کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے یوں لکھا ہے :
''اخابث'' گویا''اخبث'' کا جمع ہے ! ''بنوعک بن عدنان '' کا خاندان، پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد نافرمانی کرکے مرتد ہوا اور منطقہ ''اعلاب''جہاں ان کی سر زمین تھی میں بغاوت کی ( یہاں تک لکھا ہے کہ :) طاہر ابو ہالہ نے اعلاب میں ان کے ساتھ مقابلہ کیا اور گھمسان کی جنگ کے بعد ان سبوں کو قتل کر ڈالا ۔ ابو بکر نے طاہر کی طرف سے اس فتح کی نوید پہنچنے سے پہلے ہی اس طرح لکھا ( تاآخر)
حموی نے ابو بکر کے خط کو نقل کرنے کے بعد جس کا متن اوپر ذکر کیا گیا ہے احادیث کے بارے میں اپنی بات کو یوں خاتمہ بخشا ہے ۔
اس طرح عکیوں اور ہم فکر دوست و یاوروں کو اسی دن سے آج تک اخابث کہا جاتا ہے اور ان کے اس منطقہ کی گزرگاہ کو بھی طریق الاخابث کہا جاتا ہے ۔ طاہر ابو ہالہ نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں .( وہی اشعار جو اوپر درج ہوئے ہیں )
اس طرح حموی نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرکے اخابث کو ایک خاص منطقہ کے نام کے طور پر اپنی جغرافیہ کی کتاب میں ثبت کیا ہے اور سیف کی اس عین عبارت کو ( اور ان کے منطقہ کی گزرگاہ کو آج تک طریق الاخابث کہا جاتا ہے ) اپنی کتاب میں نقل کیا ہے ۔
حموی کی کتاب '' معجم البلدان '' میں لفظ اخابث کے سلسلے میں سیف کا یہی آخری جملہ قارئین کے لئے یہ شک و شبہ پیدا کرتا ہے کہ یہ بات حموی کی ذاتی تحقیقات کا نتیجہ ہے کہ وہ تاکید کرتا ہے کہ یہ گزر گاہ ابھی بھی گزر گاہ اخابث کے نام سے مشہور ہے اور خود حموی نے اس جگہ کا نزدیک سے مشاہدہ بھی کیا ہوگا جب کہ ہم نے ملاحظہ کیا کہ یہ جملہ من و عن سیف کا نقل قول ہے ، نہ کہ حموی کی تحقیقات کا نتیجہ ! ۔
پھر بھی حموی سیف کی باتوں کے پیش نظر اس پر اعتماد کرکے لفظ اعلاب کے بارے میں لکھتا ہے :
علاب خاندان عک و عدنان کی سر زمین کو کہا جاتا ہے جو مکہ اور سمندر کے ساحل کے درمیان واقع ہے ، اس کا نام ردہ کے واقعات میں بیان ہو چکا ہے ۔
اس کے علاوہ لفظ خامر کے بارے میں سیف کی باتوں سے استفادہ کرکے لکھتا ہے :
خامر حجاز میں عک کی سر زمینوں میں ایک پہاڑ ہے جس کی توصیف میں طاہر بن ابی ہالہ نے یہ اشعار کہے ہیں :
ہم نے ان کو کوہ خامر کی چوٹی اور سرخ زمینوں میں کھودی گئی کھاڑیوں کے درمیان موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
عبد المومن نے بھی حموی کے مطالب کے پیش نظر سیف کے انہی خیالی مقامات کو اپنی کتاب مراصد الاطلاع میں حموی سے نقل کرکے ان کی وضاحت کی ہے ۔
ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون نے بھی طاہر ابو ہالہ کی روایت کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
علامہ مرحوم سید عبد الحسین شرف الدین نے بھی ان کتابوں میں درج طاہر سے متعلق روایتوں پر اعتماد کرکے طاہر ابو ہالہ کو حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی کے طور پر درج کیا ہے ۔
اس طرح سیف کے افسانوی طاہر ابو ہالہ کی روایت اسلامی مآخذ اور منابع کے متون میں درج ہوئی ہے ، ہم طاہر سے متعلق روایتوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔
١۔ ابو ہالہ اور حضرت خدیجہ کے لئے طاہر نامی ایک بیٹے کے وجود کا مسئلہ ،سیف کے اس دعوے کے بے بنیاد ہونے کے سلسلے میں ہم نے اسی طاہر کے دوسرے دو بھائی حارثاور زبیر کی نفی میں ثابت کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب ام المومنین حضرت خدیجہ نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر میں قدم رکھا تو اس وقت ان کے ہمراہ ابو ہالہ سے ہند کے علاوہ کوئی اور بیٹا نہیں تھا۔
٢۔ دوسرا موضوع رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات کے آخری دنوں میں طاہر کا چند اصحاب کے ہمراہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے کے طور پر مامور ہونا ہے ہم نے اس سلسلے میں تحقیق کرنے کے لئے سیف کے علاوہ دوسرے مآخذ و منابع کی طرف رجوع کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ بن ہشام و طبری نے ابن اسحاق کی روایت سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ١٠ ھکے کارندوں کی تعداد اور ان کے نام حسب ذیل ذکر کئے ہیں ۔
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ١٠ ھ میں اسلام کے قلمرو میں مندرجہ ذیل گورنر وں اور کارندوں کو مامور فرمایا ہے :
مہا جر بن ابی امید کو صنعاء کی ماموریت دی جو کہ اسود عنسی کے دعوائے نبوت اور بغاوت کے وقت بھی ماموریت انجام دے رہا تھا ۔
زیاد بن لبید کو حضر موت کے لئے مامور فرمایا اور حکم دیا کہ اس علاقے کے صدقات کو بھی جمع کرے ۔
عدی بن حاتم کو قبائل طے اور بنی اسد کے لئے کارندہ اور صدقات جمع کرنے کیماموریت دے دی ۔
مالک نویرہ کو بنی حنظلہ کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی بن سعد کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری اسی خاندان کے دوافراد ، زبرقان بدر اور قیس بن عاصم کے ذمہ کی اور ان میں سے ہر ایک کو اس علاقے کے ایک حصہ کی ذمہ داری سونپی ۔
اعلا ء حضرمی کو بحرین کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی اور علی ابن ابی طالب کو نجران کے صدقات اور وہاں کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کرنے کی مسئولیت بخشی ۔(۱)
جب ١٠ ھ میں ذیقعدہ کا مہینہ آیا تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حج کا فریضہ انجام دینے کے لئے مکہ کی طرف عازم ہوئے اور حکم فرمایا کہ دوسرے لوگ بھی اس سفر میں آپ کی ہمراہی کریں ۔
اس کے بعد طبری اور ابن ہشام نے راوی سے نقل کرکے حضرت علی علیہ السلام کی نجران سے واپسی ، مکہ میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملحق ہو کر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ فریضہ حج انجام دینے کے بارے میں ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ کے مدینہ لوٹنے اور ماہ صفر میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے واقعات کو ترتیب سے ذکر کیا ہے ۔
مختصر تحقیق اور موازنہ
سیف نے اپنی روایت میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سولہ کارندوں اور گماشتوں کا نام لیا ہے جب کہ ابن اسحاق کی روایت میں ان افراد کا کوئی سراغ نہیں ملتا ۔ اسی طرح پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چند حقیقی کارندوں کے نام جو ابن اسحاق کے ہاں پائے جاتے ہیں سیف کی روایت میں دکھائی نہیں دیتے ۔
سیف نے اپنے خیالی طاہر کے لئے سر زمین مکہ اور یمن کے ایک وسیع علاقے کو اس کی مامور یت کے حد و د کے طو ر پر معین کیا ہے جو تاریخی حقائق کے ساتھ کسی صو ر ت میں مطابقت نہیں رکھتا ۔
سیف نے طاہر کی داستان عک او ر اشعریوں کے سلسلے میں جو روایت نقل کی ہے وہ مکمل طور پر افسانہ اور جھوٹ ہے اور اس کی روایت میں جنگ کی کمانڈ ، میدان کا رزار ، دلاوریوں کے اشعار ،خط و کتابت خون ریز جنگ ، بے رحمانہ قتل عام اور اخابث ، اعلاب و خامر کی نام گزاری کا ذکر کیا
____________________
الف )۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خمس جمع کرنے کے لئے یمن بھیجا ۔ اس سلسلے میں ہماری تحقیق کا نتیجہ ہماری کتاب '' مرا ة العقول '' کے مقدمہ (صفحہ ٨١ ) میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔
گیا ہے جب کہ تاریخ کے قابل اعتبار و اہم منابع و مصادر میں ان کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا جس کے ذریعہ ہم اس کا مقابلہ و موازنہ کر سکیں ۔ کیوں کہ یہ داستان دوسری صدی ہجری کے افسانہ نگار سیف بن عمر تمیمی کے سر اسر جھوٹ ، بہتان اور توہمات کے علاوہ کچھ نہیں ہے !
داستان کے مآخذ کی پڑتال
ہم نے سیف کی پانچ روایتوں میں طاہرا بو ہالہ کی داستان کو پایا ۔ ان میں سے چار روایتوں کو طبری نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور اس کے بعد دیگر تاریخ نویسوں نے طاہر کی داستان کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں ثبت کیا ہے ۔
طاہر کے بارے میں سیف کی پانچویں روایت بھی کتاب استیعاب میں درج ہوئی ہے ۔ بعض علماء نے اس روایت کو اس سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
ان روایتوں کے مآخذ حسب ذیل ہیں :
١۔ سیف نے اپنی دو روایتوں کے مآخذ یوں بیان کئے ہیں سہل بن یوسف نے اپنے باپ سے یہ دونوں راوی سیف کے تخیل کی مخلوق ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ ایک اور روایت میں سہل نے قاسم سے روایت کی ہے ۔ جن کے بارے میں ہم نے پہلے ہی بتایا ہے کہ علم رجال کی کتابوں میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا اس لئے کہ ان کابھی حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے ۔
٢۔ دو روایتوں مین عبید بن صخر بن لوذان کو راوی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ہم عبید کے حالات کے بارے میں اس کتاب کی اگلی جلدوں میں سیف کے افسانوی تخلیقات کے ضمن میں بحث و تحقیق کریں گے ۔
٣۔ ایک روایت میں جریر بن یزید جعفی کوبھی راوی کے طورپہچنوایا گیا ہے ، ہم نے اس نام کو رجال اور راویوں کی کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی نہیں پایا ۔ اس لئے ہم اسے بھی سیف کے تخیل کی مخلوق جانتے ہیں ۔
٤۔ اس کے علاوہ ان روایتوں کے راویوں کے طور پر دو مجہول الہویہ افراد ابو عمر اور مولی ابراہیم بن طلحہ کا نام بھی لیا گیا ہے اور اس قسم کے مجہول الہویہ افراد کی پہچان کرنا نا ممکن ہے ۔
٥۔ اسی طرح سیف محققین اور علماء کو حیرت و پریشانی میں ڈالنے کے لئے ایسے راویوں کے ضمن میں کہ جنھیں خدا نے ابھی خلق ہی نہیں کیا ہے چہ جائے کہ پہچانا جائے ، بعض حقیقی اور مشہور راویوں کا بھی نام لے کر اپنی روایت کے مآخذ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ لیکن سیف کے بارے میں گزشتہ تجربہ کے پیش نظر ہم سیف کے جھوٹ کے گناہوں کو ان راویوں کی گردن پر ڈالنا نہیں چاہتے
گزشتہ بحث کا ایک خلاصہ
ہم نے طاہر ابو ہالہ کی داستان کو سیف کی پانچ روایتوں میں پایا جو ایک دوسرے کی مکمل اور ناظر ہیں ۔
ابن عبد البر نے اپنی کتاب استیعاب میں مذکورہ پانچ روایتوں میں سے ایک کو نقل کیا ہے اور ذہبی نے اسے سیر اعلام النبلاء میں اور ابن اثیر نے اسی روایت کو استیعاب سے نقل کرکے اسد الغابہ میں درج کیا ہے ۔
اس کے علاوہ ابن اثیر نے اپنی بات کی ابتدا میں طاہر سے روایت کرکے ابو ہالہ کا شجرہ نسب اس طرح بیان کیا ہے کہ انسان خیال کرتا ہے کہ حقیقت میں کوئی طاہر تھا جس کا نسب اسد بن عمرو تمیمی تک پہنچتا ہے ۔
طبری نے بھی طاہر کے بارے میں سیف کی روایتوں میں چار روایتوں کو اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیا ہے اور بغوی نے ان چار روایتوں میں سے ایک کو عبید بن صخر کی تشریح میں نقل کیا ہے ۔
مر زبانی نے بھی اپنی کتاب معجم الشعراء میں سیف بن عمر کی باتوں سے استفادہ کرکے اخابث کی داستان اور طاہر کے رزمینہ اشعار کو درج کیا ہے ۔
ابن حجر نے طاہر کی داستان کو ابن عبد البر کی استیعاب اور مرز بانی کی معجم الشعراء اور تاریخ بغوی سے نقل کرکے اپنی کتاب الاصابہ میں درج کیا ہے ۔
جغرافیہ شناس دانشور حموی اعلاب ، خامر او ر اخابث جیسے الفاظ کی تشریح میں اپنی کتاب معجم البلدان میں سیف کی احادیث کے مطابق طاہر کا نام اور اس کے اشعار اپنے دعوے کے شاہد کے طور پر لائے ہیں ۔ عبد المؤمن صاحب کتاب مراصد الاطلاع نے مذکورہ مقامات کی تشریح کو حموی سے لیا ہے ۔
لیکن مندرجہ ذیل حقائق کے پیش نظر یہ تمام احادیث و اخبار ، متن ، مآخذ اور اس کا رول ادا کرنے والے سب کے سب جعلی او ر بالکل جھوٹ پر مبنی ہیں ۔
سیف کی روایتوں کے مطالب
طاہر کے بارے میں سیف کی روایتیں درج ذیل تین مطالب پر مشتمل ہیں :
١۔ طاہر ، خدیجہ کا بیٹا:۔ سیف نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ کے لئے اس کے پہلے شوہر ابو ہالہ سے طاہر نام کا ایک بیٹا خلق کرتا ہے ۔ ہم نے اس کے دوسرے دو بھائیوں '' حارث '' و '' زبیر '' کے بارے میں جو تحقیق کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدیجہ کا اس کے پہلے شوہر ابو ہالہ سے ہند کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹا ہی نہیں تھا !
٢۔ طاہر ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا گماشتہ:۔ تمام تاریخ نویسوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات کے آخری دنوں میں اسلام کے قلمرو میں مختلف مناطق میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منصوب کئے گئے گماشتوں اور کارندوں کا نام لیا ہے ، لیکن ان میں نہ طاہر ابو ہالہ کا کہیں نام ہے اور نہ ہی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے جعل کئے گئے سیف کے کارندوں کا کہیں ذکر ہے ۔ انشاء اللہ ہم اس سلسلے میں مناسب موقع پر مزید تشریح کریں گے ۔
اس کے علاوہ ہم نے پہلے کہا ہے کہ معتبر تاریخ نویسوں نے لکھاہے کہ مہاجرا میہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے صنعا ء میں مامور تھایہاں تک کہ پیغمبری کا مدعی ''اسود عنسی ''نے اس پر حملہ کرکے اسے اقتدار سے ہٹادیا ۔لیکن سیف کہتا ہے ،''مہاجر ''بیمار ہوا اور ماموریت کی جگہ پر نہ جاسکا بلکہ کسی دوسرے شخص نے اس کی ذمہ داری انجام دی اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات اور مہاجر کی صحت یابی کے بعد خلیفہ ابو بکر نے اسے ماموریت کی جگہ پر روانہ کیا ۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سیف اپنے قبیلہ تمیم اور مضر کے لئے فخر و مباہات کسب کرنے کی فکر میں ہے ۔یہی جذبہ اسے مجبور کرتا ہے کہ ابوسفیان اور اس کے ہم فکروں کے لئے عہدے اور مقام خلق کرے اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاں ان کو کارندے کی حیثیت تفویض کرکے خاندان بنی عمر و کو عزت و افتخار بخشے ۔
لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کونسے عوامل سیف کے لئے اس امر کے محرک بن گئے کہ وہ مہاجر ابی امیہ اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر گماشتوں کی روایت میں تحریف کرے ؟! کیونکہ یہ روایت ظاہرا ًسیف کے لئے کسی قسم کا افتخار ثابت نہیں کرتی ،مگر یہ کہ ہم ،اس کا زندیقی اور دشمن اسلام ہونا اس امر کا سبب مان لیں ! اور اس طرح وہ محققین اور تاریخ نویسوں کے لئے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گماشتوں اور کارندوں سے متعلق روایتوں کو مشکوک اور ناقابل اعتبار بنا کر ان کی قدر و منزلت کو گھٹادے ۔
٣۔ اخابث کا علاقہ :۔ سیف کے کہنے کے مطابق قبائل ''عک ''اور ''اشعری ''مرتد ہوکر بغاوت کرتے ہیں ۔ ''طاہر ''،مقام خلافت کے کسی حکم اور مرکز خلافت سے فوجی مدد کا انتظا ر کئے بغیر مذکورہ قبائل پر حملہ کرتا ہے ،ان کے کشتوں کے پشتے لگاتا ہے ،اور علاقہ کو ''اخابث ''یعنی ناپاکوں کے وجود سے پاک و صاف کرتا ہے ۔یہی امر سبب بن جاتا ہے کہ ڈر کے مارے فرار کرنے والے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے گماشتے اور کارندے اس تمیمی پہلوان کے ہا ں پناہ لے کر اطمینان کا سانس لیں ،جب کہ ان مطالب میں سے کچھ بھی صحیح نہیں ہے اور سب کے سب جھوٹ اور افسانہ ہے۔ قابل اعتبار اسلامی مصادر میں یہ مطالب کہیں درج نہیں ہوئے ہیں ۔بلکہ یہ سب دوسری صدی ہجری کے افسانہ گو سیف بن عمر تمیمی کے تخیل کے خلق کئے گئے افسانے ہیں تا کہ اس طرح وہ اپنے خاندان تمیم کے لئے ہر ممکن طور پر فخرو مباہات کسب کرسکے ۔
طاہر کی داستان کے نتائج
١۔خاندان بنی عمرو اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تیسرے پروردہ ''طاہر ابو ہالہ ''کی تخلیق ۔
٢۔ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ایک گماشتہ تخلیق کرنا تا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر گماشتوں کے ضمن میں اس کا نام لیا جا ئے ۔
٣۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے خاندان تمیم سے ایک فرماں بردار صحابی خلق کرنا تا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے اصحاب کی فہرست میں اس کا نام درج کیا جائے ۔
٤۔ خاندان تمیم میں سے ایک شاعر خلق کرنا تا کہ اس کا نام دوسر ے شعراء اور دلاوریاں بیان کرنے والوں میں شامل ہوجائے ۔
٥۔ خیالی میدان کارزار اور ''ردہ ''کی جنگوں کے نام سے فرضی جنگوں کے نقشے کھینچنا ،تا کہ ایک طرف سے عربوں کے دلوں میں اسلام کی نسبت ضعف و ناتوانی ایجاد کرے اور دوسری جانب سے ان کی بے رحمی اور سنگدلی دکھائے جیسا کہ اپنے دشمنوں کے کشتوں کے پشتے لگا کر میدان کارزار کو لاشوں کی بدبو سے ناقابل تنفس بنانا، تا کہ اس طرح اسلام کے دشمنوں کے لئے ایک دلیل بن جائے کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے ۔
٦۔ سیف کے خلق کئے گئے دلاوری کے اشعار اور سیاسی و سرکاری خط وکتابت کو ادب اور اسلامی سیاست کی کتابوں میں درج کرانا ۔
٧۔ کچھ جگہیں جیسے ،''اعلاب ''،''اخابث ''،اور ''خامر ''و غیرہ خلق کی ہیں تا کہ جغرافیہ کی کتابوں میں انھیں جگہ ملے ۔سر انجام ان سب چیزوں کو سیف نے اپنے خاندان تمیم ،خاص کر قبیلہ اسید کے لئے فخرو مباہات کے طور پر ایجاد کیا ہے تا کہ قبائل قحطانی اور یمانیوں کو نیچا دکھا سکے ۔
افسانہ ٔطاہر کی اشاعت کا سرچشمہ
۱) ۔ سیف کے افسانوں کے راوی :
سیف نے ،''طاہر ''کو پانچ روایتوں کے ذریعہ جعل کیا ہے اور ان روایتوں کو حسب ذیل راویوں سے نقل کیا ہے :
١۔ سہل بن یوسف ،اپنے باپ سے دو روایتوں میں ۔
٢۔ سہل بن یوسف ،قاسم سے ایک روایت میں ۔
٣۔ عبید بن صخر بن لوذان ، دو روایتوں میں ۔
٤۔ جریر بن یزید جعفی ، ایک روایت میں ۔
یہ سب راوی سیف کے تخیل کی مخلوق ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔ اسی طرح روایت کے مآخذ کے طور پر ایسے نامعلوم افراد ،راوی کے عنوان سے ذکر کیا ہے جن کو پہچاننا ممکن نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ بعض معروف اور مشہور راوی کا نام بھی لیتا ہے مگر ہم ہر گز سیف کے گناہوں کو ان کی گر د ن پر ڈ ا لنا نہیں چاہتے ۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ افسانہ صرف اور صرف سیف کا خلق کیا ہو ا ہے ۔
۲)۔ طاہر ابو ہالہ کے افسانہ کو سیف سے نقل کرنے والے علما:
مندرجہ ذیل علماء نے طاہر ابوہالہ کی روایت کو بلا واسطہ سیف سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے :
١۔ طبری نے اپنی تاریخ میں سند کے ساتھ سیف بن عمر سے ۔
٢۔ ابن عبدا لبر نے استیعاب میں سند کے ساتھ سیف سے ۔
٣۔ بغوی نے معجم الصحابہ میں سند کے ساتھ سیف سے۔
٤۔ حموی نے معجم البلدان میں سندذکر کئے بغیر ۔
٥۔ مرزبانی نے معجم الشعراء میں ۔
٦۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں استیعاب سے سیف بن عمر کے نام کی صراحت کے ساتھ ۔
٧۔ عبد المومن نے مراصد الاطلاع میں حموی کی کتاب معجم البلدان سے ۔
٨۔ ذہبی نے سیر النبلاء میں براہ راست سیف بن عمرسے ۔
٩۔ پھر ذہبی نے کتاب التجرید میں کتاب اسد الغابہ سے ۔
١٠۔ ابن حجر نے '' الاصابہ '' میں مرزبانی کی کتاب '' معجم الشعراء ''سے اور براہ راست سیف بن عمرسے بھی۔
١١،١٢،١٣،١٤۔ ابن اثیر ، ابن کثیر ، ابن خلدون ، اور میر خواند ، ہر ایک نے الگ الگ افسانۂ طاہر کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
یہاں تک سیف بن عمر کے قبائل تمیم سے جعل کئے گئے ٢٣ ،اصحاب کے سلسلے میں بحث و تحقیق مکمل ہوئی ۔
بارگاہ الٰہی سے دعا ہے کہ ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم دوسرے جعلی اصحاب اور سیف کے افسانوں کے بارے میں بحث و تحقیق کا نتیجہ علماء اور محققین کی خدمت میں پیش کریں ۔ مزید تمنا ہے کہ خدائے تعالیٰ مومنین کو بھی اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا نے کی توفیق عطا کرے خدائے تعالیٰ ہماری اس ادنیٰ کوشش کو قبول فرمائے ۔
و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین
مرتضیٰ العسکری
بغداد ٢٥ربیع الثانی ١٣٨٩ھ
فہرستیں
مآخذ و مدارک
ابو مفزر
اسود بن قطبہ :
اسود کے حالات : '' مؤتلف دار قطنی ، اکمال ابن ماکولا ،اصابہ ابن حجر ( ١١٤١) اور تاریخ
دمشق ،قلمی نسخہ '' میں
ابو مفزر ، اسود بن قطبہ ، خالد کے ساتھ :
طبری،٢٠٣٦١۔٢٠٣،٢٠٧٢١
'' امغیشیا ، زمیل ، الثنی ، کی تشریح ، یاقوت حموی کی معجم البلدان میں ۔
ابو مفزر شام میں :
تاریخ ابن عساکر میں '' زیاد '' کے حالات کی تشریح ۔
یرموک کی جنگ ( ١ ٥٥٢ ) تاریخ ابن عساکر (٤٧٣) تہذیب ( ١٥٧ ) تاریخ ابن کثیر
اسود بن قطبہ ، عراق و ایران میں :
تاریخ طبری ، ٤ھ کے حوادث( ص٢٢٧٦)و ١٦ھ کے حوادث ( ص٢٤٣٣و
ص٢٤٢٩) ابن اثیہ ( ٣٩٧٧٢)و (٦٣٧) ابن کثیر ۔
مدائن کی تشریح میں اس کے اشعار ( ٢٨٣١) اس طرح بلاذری کی فتوح البلدان ص٣٦٦
دینوری کی اخبار الطوال (ص١٢٦)
ابو مفزر کی سرگرمیاں :
تاریخ طبری ، ٤ھ حوادث کے( ص ٢٢٧٦ ) اور ١٦ ھ کے حوادث ( ص ٢٤٣٣) و
(ص٢٤٢٩) و ابن اثیر ( ٢ ٣٩٧٧ ) اور ابن کثیر ( ٧ ٦٣ )۔
معجم البلدان میں '' بہر سیر'' کی تشریح وا'' الروض المعطار'' ( ١ ٢٦ ) میں مدائن اور فریدون
کی تشریح ۔
ابو مفزر:
اصابۂ ابن حجر(١٩١٤،نمبر ١١٢١ق٣)
طبری (٢٥٧١١۔٢٥٧٣)،(٢٦٥٩١)
نہج البلاغہ ،شرح ابن ابی الحدید خط نمبر ٩٥ ،نصر مزاحم کی ''صفین ''(ص١٠٦)
نافع بن اسود تمیمی
طبری (٢٤٣٤١اور ٢٤٧٢)
ابن اثیر (٤٠٠٢)
ابن کثیر (٥٨١ و٧١ )
تاریخ ابن عساکر (٥١٨١۔٥١٩ )اور اسود کی داستان ،کتاب خانہ دمشق میں موجود قلمی نسخہ اکمال ابن ماکولا (مصر کے دارالکتب میں قلمی نسخہ ) ج١ ص١٩،٢٩و٤٠
ابن حجر کی اصابہ (٥٥٠٣ نمبر٨٨٥٠ق٣)
حموی کی ''معجم البلدان ''میں لفظ ''برجان ،بسطام ،جرجان ، رزیق اور رے ''کی تشریح ۔ حمیری (١٥٤٢)اور (١٥٥١)
نصر مزاحم کی ''صفین ''
عفیف بن منذر
طبری ،طبع یورپ (١٩٠٨١و١٩٦٩و١٩٧٣)
ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون میں ''حطم اور بحرین ''میں ارتداد ۔
بلاذری کی فتوح البلدان (ص١١٤)
حموی کی ''معجم البلدان ''مراصد الاطلاع اور الروض المعطار (١٨٢٢) مین لفظ ''دارین '' ابن حجر کی اصابہ ،رازی کی جرح وتعدیل ،بخاری کی تاریخ کبیر ،تہذیب التہذیب ،لسان المیزان ابن حجر ،صفی الدین کی ''خلاصة التہذیب ''میں عفیف کی زندگی کے حالات ۔
کلاعی کی ''اکتفا ''(ص١٤١،١٤٣، ١٤٦)سے تاریخ ''ردہ ''کے بارے میں اقتباس کرکے کتاب اغانی (٤٥١٤) میں ۔
زیاد بن حنظلہ
ابوبکر کے دربارے میں :
طبری (١٧٩٦١۔١٧٩٩و١٨٧٣۔١٨٨٠)
ابن کثیر (٣١٤٦)
استیعاب (١٩٥١ ،نمبر ٨٤٠ )
اسد الغابہ (٢١٥٢)
تجرید (٢٠٨١ نمبر ١٩١٦)
ابن حجر کی اصابہ (٥٣٩١ نمبر ٢٨٥٢)
بلاذری کی فتوح البلدان (١٣١۔١٤٨)
تاریخ ذہبی (٣٤٩١۔٣٥٢ )و(٣٥٨١۔٣٦٠)
زیاد بن حنظلہ جنگوں میں :
طبری (٢٦٣٥و٢٩٠٣و٢٣٩٥و٢٤١٠)
بلاذری کی ''فتوح البلدان ''(١٤٩۔١٨٤)
ابن کثیر (٣١٤٦)
زیاد ،گورنر کے عہدے پر :
طبری (٢٦٣٤١۔٢٦٣٨و٢٠٩٣و٢٦٦٣)
ابن اثیر (١٣٣)
ابو نعیم کی تاریخ اصفہان (٢٣١)
زیاد بن حنظلہ ،امام علی کے حضور میں :
طبری (٢٠٢٥١)
اور استیعاب ،اسد الغابہ ،اصابہ اور تاریخ دمشق میں اس کے حالات کی وضاحت میں ۔
حرملہ بن مریطہ ،حرملہ بن سلمی
حرملہ کی زندگی کے حالات :
اسد الغابہ (٣٩٨١)
تجرید (١٣٦١)
حرقوص کی زندگی کے حالات :
اسد الغابہ (٣٩٦١)
اصابہ ( ٣٢٩١ نمبر ١٦٦١)
حموی کی معجم البلدان ،مراصد الاطلاع ،المشترک میں لفظ ''ورکاء ،جعرانہ اور ہرمز گرد ''کی تشریح
اللباب ١٢٧٢و١٣٩)''عدوی ''کی تشریح میں ''عصبی ''کا ترجمہ ۔
اغانی (٧٣٣)
اکمال ابن ماکولا (٢١٢٦)
سمعانی کی ''انساب ''میں لفظ ''العصبی ''نمبر ٣٩٢ اور لفظ ''العمی ''
بلاذری کی فتوح البلدان (٤٧٥ ۔٥٤٣)
ربیع بن مطر
ابن حجر کی اصابہ :
ابن حجر کی اصابہ (٥١٠١ نمبر٢٧٢٩)
ربیع کے حالات زندگی :
تاریخ ابن عساکر ،قلمی نسخہ ،دمشق کے کتابخانہ ''ظاہریہ ''میں ۔
تاریخ ابن عساکر (٥٣٥١ )
ابن ماکولا کی اکمال (٣٥١١و٣٤٥ط)
ذہبی کی تجرید (١٩٠١)
ابن عساکرکی تہذیب (٣٠٦٥)
ربعی بن افکل
تاریخ طبری ( ٢٤٧٤١۔٢٤٨٢)
ابن اثیر (٢٠٣٢)
ابن کثیر (٧١٧۔٧٢)
ابن خلدون (٣٣٦٢)
اصابہ (٤٩٠١ نمبر ٢٥٦٩ ) پہلے حصہ سے ۔
بلاذری کی فتوح البلدان (٤٦٣ ۔٤٦٥)
جمہرہ ٔانساب العرب ( ٢٤٩)
یاقوت حموی کی ''معجم البلدان ''و مراصد الاطلاع ''لفظ ''انطلق ''۔
اط بن ابی اط
١۔ اصابہ (١١٨١ نمبر ٤٧٧پہلے حصے سے )
٢۔ طبری (٢٠٥١١ ۔ ٢٠٥٢)و(١٧٤ طبع مصر )
٣۔ حموی کی معجم البلدان اور مراصد الاطلاع میں لفظ ''دریائے اط ''
٤۔ طبری (٢٠٥٧١)و (١٩٤) طبع مصر
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کارندے
١۔ طبری ،طبع یورپ (١٩٠٨١۔١٩٢٩) ١١ ھ کے حوادث میں ''سجاح کا موضوع
اور تمیم'' کے مرتد ہونے کی خبروں میں
٢۔ طبری (١٩٦٣١) بحرین کے ارتداد کی خبر ۔
٣۔ طبری (١٩٢١١۔١٩٢٩) بطاح کی داستان ۔
٤۔ طبری ( ١٩٢٧١۔١٩٢٩)''مالک نویرہ ''کی داستان ۔
٥۔ ابن اثیر (١٣٥٢۔١٣٦)
٦۔ تاریخ ابن کثیر (٣١٩٧۔٣٢٢)
ابن خلدون (٢٨٥٢،٢٨٦و٢٩٢)
٧۔ ابن حجر کی اصابہ (٥١٢)
طبری (١٩٠٩١)
٨۔ ابن حجر کی اصابہ (٤٢٣) ''عوف ''کی زندگی کے حا لات
یہی داستان تاریخ طبری ( ١٩١٠١) میں ۔
ابن اثیر (١٣٥٢)، جمہرہ ٔ انساب العرب (ص٣٣٦)
٩۔ ابن حجر کی اصابہ (١٤٢١) میں ''اوس ''کے بارے میں تشریح ۔
اس کی داستان تاریخ طبری (١٩١٥١ )
ابن اثیر کی لباب الانساب ( ٢٨٥٣) میں لفظ ہجیمی ۔
١٠۔ ابن اثیر کی اسد الغابہ (٣٩٦٢ ) میں سہل بن منجاب کے حالات
تجرید ذہبی ( ٢٦٦١ )
ابن حجر کی اصابہ (٨٩٢ )
تاریخ طبری ( ١ ١٩٠٩ )
١١۔ ابن حجر کی اصابہ (٥٩٩٣ ) میں وکیع بن مالک کے حالات ۔ اس کی داستان
تاریح طبری ( ١٩٠٩١۔ ١٩١٥و١٩٦٣) میں ۔ جمہرہ ( ٢١٧۔٢٢٢) میں بنی
دارم کا نسب ۔
١٢۔ حصین کے بارے میں بحث کے مآخذ:
جمہرہ ( ص٢١١) میں '' حنظلہ بن تمیم '' کا نسب۔
ابن حجر کی اصابہ ( ٨١ نمبر ١١٧٤٨ حصہ اول حرف '' ح '' میں ۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جعلی
صحابی '' حصین بن نیار '' کی زندگی کے حالات۔
اس کی داستان تاریخ طبری طبع یورپ ( ١٩١٠١ ۔ ١٩١٢ و ٢٢٤٥ )
١٣۔ سیرہ ٔ ابن ہشام ( ٢٧١٤ )
تاریخ طبری ( ١ ١٧٥٠)
١٤۔ تاریخ طبری ( ١٩٢٧١ ۔ ١٩٢٨ )
١٥۔ وفیات الاعیان ( ٥ ٦٦)
اس کی باقی داستان اور مصادر مفصل طور پر مالک نویر کی داستان میں ہماری کتاب عبد اللہ
ابن سبا طبع مصر میں موجود ہے ۔
١٦۔ تاریخ طبری (١٩١٨١ )
١٧۔ ابن حزم کی جوامع السّیرہ ( ص ٢٤٧ )
١٨۔ تاریخ اسلام ذہبی ( ٢ ٢١ )
١٩۔ بلا ذری کی فتوح البلدان ( ص ٣٣١ ) فتح '' تیری '' کی خبر میں ۔
تاریخ طبری ( ٢٥٣٧ )
استیعاب ، اسد الغابہ اور اصابہ میں '' عتبہ بن غزوان '' اور '' ربیع بن حارث '' کی زندگی کے حالات درج ہیں ۔
یاقوت حموی کی معجم البلدان میں لفظ '' مناذر '' و '' دلوث ''
تمیم کے نمائندے
'' اسد الغابہ '' ( ٢ ٢٠٠ ) میں '' زر '' کے حالات ۔
تجرید ( ١ ٢٠٢ )
ابن حجر کی اصابہ (٥٣٠١)
اسد الغابہ ( ٢ ٢٠٤ ) زرین کے حالات ۔
ابن حجر کی اصابہ ( ١ ٥٣١ ) ۔
اسد الغابہ ( ١ ٨٥ ) میں اسود بن ربیعہ کے حالات ۔
تجرید ( ١ ١٩ ) ۔ اسد الغابہ ( ١ ٨٧ ) میں اسود بن عبس کے حالات ۔
تجرید ( ١ ٢٠ )
ابن حجر نے بھی اپنی کتاب '' اصابہ '' کے حصہ اول میں اصحاب کے حالات میں
'' اسود بن ربیع '' اور '' اسود بن عبس '' کا ذکر کیا ہے ۔
'' زر '' اور '' اسود '' کا نام اور ان کا شجرۂ نسب ۔
تاریخ طبری ( ١ ٢٥٥٦ )
ابن اثیر ( ٢ ٨ ٢ ٤ )
فقیم کا نسب :
جمہرۂ انساب العرب ( ص ٨ ١ ٢ )
انساب سمعانی ( ص ١ ٣ ٤ )
اللباب ( ٢ ٠ ٢ ٢ )
اس کا نمائندہ اور صحابی ہونا :
تاریخ طبری ( ١ ٧ ٥ ٥ ٢ )
ابن اثیر ( ٢ ٨ ٢ ٤ )
'' اسود'' او ر '' زرین '' کی نمائندگی :
اسد الغابہ ( ١ ٥ ٨ ) و ( ٢ ٤ ٠ ٢ )
اصابۂ ابن حجر ( ١ ٠ ٦ )
تمیم کے نمائندہ :
طبقات ابن سعد ( ١ ٣ ٩ ٢ ۔ ٥ ٩ ٢ )
مقریز ی کی امتاع الاسماع ( ٤٣٤۔٤٣٩ )
ابن ہشام ( ٢٩٦٤ )
عیون الاثر ( ٢ ٢٠٣ )
''زر ''جنگوں میں :
''ابلہ'' کی جنگ میں سیف کی حدیث، تاریخ طبری (٢٥١ ٢٠) اور سیف کے علاوہ مورخین کی باتیں تاریخ طبری (١ ٨٢ ٢٣ ۔٨٥ ٢٣) میں ۔
''جندی شاپور کی صلح:
شہر نہاوند کے ''زر'' کے محاصرہ میں آنے کے بارے میں سیف کی روایت تاریخ طبری (٢٥٦٤١ ۔٢٥٦٥)
'' زر '' جندی شاپور کی جنگ میں تاریخ طبری (٢٥٥٦١)
ابن اثیر (٤٢٨٢)
''زر'' اور ''مقرّب'' جندی شاپور کی جنگ میں
تاریخ طبری (١٥٦٨١۔١٥٦٨)
ابن اثیر (٤٣٢٢)
ابن کثیر( ٧ ٨٩)
ابن خلدون (٢ ٣٤٤)
یاقوت حموی کی معجم البلدان اور الروض المعطار میں لفظ ''جندی شاپور''
جندی شاپور کی جنگ کے بارے میں سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتیں ۔
تاریخ خلیفہ ابن خیاط (١١١١)
بلاذری کی فتوح البلدان (ص٥٣٨)
تاریخ ذہبی( ٩٤٢) اسی طرح معجم البلدان میں لفظ جندی شاپور
اسود ، شوش کی فتح میں :
تاریخ طبری (٢٥٦٥١) میں حدیث سیف
تاریخ ابن اثیر(٤٣٠٢)
تاریخ ابن کثیر(٧٧٧)
طبری(١ ٢٥٦٢) میں سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتیں ۔
بلاذری کی فتوح البلدان(ص٥٣٣)
تاریخ خلیفہ ابن خیاط (١١١١)
ابوسیرہ کے حالات:
طبقات ابن سعد (٣ق٢٩٣١) میں مختصر طور پر اور (٣٢٨٥) میں مفصل طور پر
نہاوند کی جنگ میں :
سیف کے کہنے کے مطابق ''اسود '' اور '' زر '' عمر کے ایلچی تاریخ طبری میں ( ١ ٤ ١ ٦ ٢ )
''سائب '' عمر کے ایلچی کے طور پر بلاذری کی فتوح البلدان ( ص ٧ ٢ ٤ )
میں نہاوند کو مدد پہنچنے میں '' اسود '' اور '' زر '' کا رکاوٹ ڈالنا تاریخ طبری ( ١ ٦ ١ ٦ ٢ ۔ ٧ ١ ٦ ٢ ) ابن اثیر ( ٣ ٦ )
'' زر '' کو زمانۂ جاہلیت کے شاعر کے طور پر پہچنوایا آمدی کی موتلف ( ص ١٩٣ ) و
اکمال ابن ناکولا ( ٤ ٣ ٨ ١ ) میں
اسود بن ربیعہ مامقانی کی تنقیح المقال ( ١ ٧ ٤ ٤ ١ ) میں
طاہر بن ابی ہالہ
طاہر کی زندگی کے حالات :
استیعاب ( ١ ٥ ١ ٢ )
اسد الغابہ ( ٣ ٠ ٥ )
ذہبی کی تجرید ( ١ ٥ ٩ ٢ )
ابن حجر کی اصابہ ( ٢ ٤ ١ ٢ )
سیر اعلام النبلاء ، ذہبی اور تاریخ طبری ( ١ ١٨٥٢ و ٤ ٥ ٨ ١ ) و ( ١ ٢ ٨ ٩ ١ ۔ ١٩٨٦ و
١٩٩٨٧ و ١٩٩٧)میں معاذ بن جبل کے حالات
سیرۂ ابن ہشام ( ٤ ١ ٧ ٢ )
طبری ( ١ ٠ ٥ ٧ ١ ) و تاریخ ابن اثیر ، ابن کثیر ، ابن ، خلدون ۔
میر خواند نے ١١ ھ کے حواد ث کے ضمن میں ۔
حموی کی معجم البلدان اور مراصد الاطلاع میں لفظ اعلاب و اخابث
فصول المہمہ ، شرف الدین کی فصول المھمہ طبع سوم ، نجف اشرف ١٣٧٥ھ ص ١٨٤
ابو ہالہ کے بیٹے حارث و زبیر
١ ۔ تاریخ طبری ( ٣ ٢٣٥٦ ) و ( ٢٩ ٣٤ )
٢ ۔ اکمالا بن ماکولا ( ١ ٣ ٢ ٥ )
٣ ۔ سیرہ ٔ ابن ہشام ( ٤ ١ ٢ ٣ )
اشتقاق ابن درید ( ص ٨ ٠ ٢ )
مجر ابن حبیب ( ٧٨ ۔ ٧٩ و ٢ ٥ ٤ )
انساب الاشراف بلاذری ( ١ ٣٩٠ )
اکمال بن ماکولا ( ١ ٥٢٣ ) طبع حیدر آباد د کن ۔
طبقات ابن سعد
٤ ۔ جمہرہ ٔانساب العرب ( ص ١٩٩ )
٥ ۔ اصابہ ابن حجر ( ١ ٣ ٩ ٢ نمبر ١ ٠ ٥ ١ ) پہلا حصہ حارث کے حالات ۔
٦ ۔ اسد الغابہ ( ٢ ٩ ٩ ١ )
٧ ۔ ا صابۂ ابن حجر ( ١ ٨ ٢ ٥ نمبر ٠ ٩ ٧ ٢ ) پہلا حصہ زبیر کے حالات ۔
٨ ۔ جرح و تعدیل رازی ( ج ١ ق ١ ٥٧٩ )
٩ ۔ اسد الغابہ ( ٢ ١٩٩ ) زبیرکے حالات
١٠ ۔ تاریخ طبری ( ١ ١ ٧ ٧ ١ )
اس کتاب میں ذکر ہوئی شخصیتوں کے نام
(الف )
آمدی
ابجر
ابن ابی بکر
ابن ابی حاتم رازی
ابن ابی الحدید
ابن ابی العوجا
ابن ابی مکنف
ابن اثیر
ابن اسحاق
ابن اعثم
ابن بدران
ابن جوزی
ابن حبان
ابن حبیب
ابن حجر
ابن حزم
ابن خاضبہ
ابن خلدون
ابن خلکان
ابن خیاط (ملاحظہ ہو خلیفہ بن خیاط)
ابن درید
ابن سعد
ابن سید الناس
ابن شاہین
ابن عباس
ابن عبد البر
ابن عبد الحق : عبد المؤمن ابن عبد الحق ملاحظہ ہو
ابن عبد ربہ
ابن عساکر
ابن فتحون
ابن قتیبہ دینوری
ابن کثیر
ابن کلبی
ابن ماجہ
ابن ماکولا
ابن مسعود
ابن مقفع
ابن مندہ
ابن منظور
ابن ہشام
ابو مجید نافع بن اسود
ابو بردہ
ابو بکر ( خلیفہ )
ابو بکر ہذلی
ابو جہل
ابو حاتم رازی
ابو حفص
ابو ذر غفاری
ابو زکریا
او زہرا قشیری
ابو زہرا سعدی
ابو سبرةبن ابی رہم قرشی
ابو سفیان
ابو طالب
ابو عثمان یزید
ابو الفرج اصفہانی
ابو قتادہ
ابو مخنف
ابو مریم حنفی
ابو معشر
ابو مفزرتمیمی
ابو مقرن
ابو موسیٰ
ابو موسیٰ اشعری
ابو نعیم
ابو ہالہ تمیمی
ابو ہریرہ
احمد بن حنبل
ارطبون
اسامہ بن زید
اسعد بن یربوع
اسماعیل بن رافع
اسود بن ربیعہ حنظلی
اسود بن سریع
اسود بن عبس
اسود عنسی
اسود بن قطبہ
اسید
اط بن ابی اط
اط بن سوید
اعور بن قطبہ
ام تمیم
ام جمیل
امر ؤالقیس
انس بن حلیس
انصار
انوشہ جان
اوس بن جذیمہ
ایوب بن عصبہ
(۲)
باذان
بحرین فرات عجلی
بخاری
بغوی
بلاذری
بہی بن یزید
(پ)
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
(ت)
ترمذی
تولستوی
(ث)
ثابت بن قس
ثمامہ آثال
(ج)
جارود
جربی زیدان
جریر
جریر بن یزید جعفی
جعفر بن ابی طالب
(ح )
حارث بن ابی ہالہ
حبال ( برادر طلحہ )
حجاج بن عتیک
حرقوص بن زہیر
حرملہ بن سلمی
حرملہ بن مریطہ
حریری
حسن ابن علی
حصین بن نیار
حطیم بن شریھ
حموی ( یاقوت حموی )
حمیری
حمزہ ( سید الشہداء )
حنظلہ بن زیاد
(خ)
خارجہ بن حصین
خالد بن سعید
خالد بن ولید
خدیجہ ( ام المومنین)
خزیمہ بن ثابت
خزیمہ بن شجرہ ٔعقفانی
خردار
خطیب بغدادی
خلیفہ بن خیاط
(د)
دازویہ
دارقطنی
دجال
دینوری ( ابن قتیبہ)
(ذ)
ذہبی
(ر)
رازی
ربعی بن افکل
ربیعہ بن بجیر تغلبی
ربیعہ بن مالک
ربیع بن زیاد حارثی
ربیع بن مطر بلخ
ربیع بن مطر بن ثلج
ربیع بن مطرف
رزبان صول
رستم فرخ زاد
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
رشاد دارغوث
(ز)
زبر قان بن بدر
زبیدی
زبیر ( ابن العوام )
زبیر بن بکار
زبیر بن ابی ہالہ
زر بن عبد اللہ فقیمی
زر ین بن عبد اللہ فقیمی
زیاد
زیاد بن حنظلہ
زیاد بن لبید
(س)
سائب بن اقرع ثقفی
سبرة بن عمرو
سجاح ( مدعی پیغمبری خاتون )
سجستانی
سعد بن ابی وقاص
سعد بن زید مناة
سعد بن عاصی
سعیر بن خفاف
سقس = ساکس
سلمی بن قین
سلمة الضبی
سماک بن خرشہ
سماک بن فلان
سمرة بن جندب
سمعانی
سمیہ ( عمار یاسر کی والدہ )
سہل ابن منجاب تمیمی
سہل بن یوسف
سہم بن منجاب
سواد بن قطبہ
سوید بن قطبہ
سوید بن مقرن
سیف بن عمر تمیمی
(ش)
شرف الدین عبد الحسین
شریح بن ضبیعہ
شہر بن باذام
شہر یار
شیخ طوسی
(ص)
صاف بن صیاد
صاعی ، جسن بن محمد قرشی
صخر بن لوذان
صعب بن عطیہ
صفوان بن صفوان
صفی الدین ( عبد المومن صفی الدین )
صلصل
(ض)
ضرار بن ازور
ط
طاہر ابو ہالہ
طبری
طبرانی
طلحہ
طلحہ بن اعلم
طلحہ بن عبد الرحمن
طلحہ بن عبد اللہ
طلیحہ اسدی
(ع )
عاص بن تمام
عاصم بن عمرو تمیمی
عاصم بن قیس
عامر بن شہر
عامر شعبی
عبد الرحمن بن ابی بکر
عبد الرحمن بن عوف
عبد الرحمن منذہ
عبد اللہ زبیر
عبد اللہ سبا
عبد اللہ القیس سحار
عبد اللہ بن سعد
عبد اللہ صفوان
عبد اللہ بن عمر
عبد اللہ بن معتم
عبد اللہ بن مغیرہ عبدی
عبد اللہ حذف
عبد اللہ منذر حلاحل
عبد المومن ، صفی الدین
عبید بن صخر بن لو ذان
عتاب بن اسید
عتاب بن فلان
عتبة بن غزوان
عتبہ بن فرقد سلمی
عثمان ( خلیفہ )
عثمان بن ابی العاص
عثمان بن سوید
عثمان بن مظعون
عدی بن حاتم
عروہ طائی
عسکری
عصمة بن ابیر
عفیف بن منذر
عقیل بن ابیطالب
عکاشہ بن ثور
علاء حضرمی
علی ابن ابی طالب علیہ السلام
عمار بن یاسر
عمر بن خطاب ، ابو حفص ( خلیفہ )
عمر و بن حزم
عمر و بن شمر
عمر و عاص
عوف بن بلاذری
عوف بن علاء جشمی
عیسی بن یونس
عیینة بن حصن فزاری
(غ )
غالب وائلی
غرور بن سوید
ف
فرزدق
فیروز آبادی
فروزان
فیروزادیلمی
فیو مان
(ق)
قطبة بن مالک
قعقاع بن عمرو
قیس بن عاصم
قیس بن مکشوح
قیصر
(ک )
کراز نکری
کسریٰ
کلاعی
کلیب بن حلحال
کلیب بن وائل
ل
لقمان ( حکیم )
لوط بن یحیٰ ( ابو مخنف )
(م)
مالک اشتر
مالک بن اود
مالک بن زید مناة
مالک بن عوف
مالک بن نویرہ
مالک تمیمی
مامقانی
مثنی بن لاحق
مجا شع بن مسعود
محمد ( رسول ا للہصلىاللهعليهوآلهوسلم )
محمد بن کعب
محمد بن عبد اللہ نویرہ
محمد بن سعید دحدوح
مدائنی
مذعور بن عدی
مرة مالک
مرزبانی
مستنیر بن یزید
مسروق عکی
مسعودی
مسلم
مسیلمۂ کذاب
مطیع بن ایاس
معاذ بن حبل
معاویہ
مغیرہ بن شعبہ
مقترب
مقریزی
مکنف
منذر بن ساوی
منذر بن نعمان
منظور بن سیان
مہاجر بن ابی امیہ
مہران
مہلب بن عقبہ اسدی
میر خواند
میناس
(ن)
نافع بن اسود
نجیرمی
نسطاس
نصر بن مزاحم
نعمان بن عدی
نعمان بن مقرن
نعمان بن منذر
نعیم بن مقرن
نوفل بن عبد مناف
(و)
وائل بن دائود
واقدی
وثیمہ
ورقاء بن عبد الرحمن
وکیع بن مالک
ویکتور ہوگو
(ھ)
ہالہ ابوہا
ہذیل
ہراکلیوس
ہرکول
ہرم بن حیان
ہرمز
ہرمزان
ہند ابو ہالہ
ہند بن ہند
ہیثمی
(ی)
یاسر ( عمار کے والد )
یاقوت حموی
یربوع بن مالک
یزد گرد
یزید بن اسیدغسانی
یزید بن رومان
یعقوبی
یعلی بن امیہ
اس کتاب میں ذکر ہوئی امتوں ،قوموں ،قبیلوں گروہوں اور مختلف ادیان کے پیرئووں کی فہرست
(۱)
ابناء
اخابث ( ناپاک )
اذد
اسد
اسلام
اسلامی
اسید
اشعری
اصحاب و صحابہ
انصار
اوس
ایاد
ایرانی
(۲)
بکر بن وائل
بطون
بنی امیہ
بنو بجیر
بنو بیاضہ
بنو تغلب
بنو تنوخ
بنو ثقیف
بنو جذیمہ
بنو حارث
بنو حنظلہ
بنو حنیفہ
بنو خزاعہ
بنو ذبیان
بنو ربیعہ
بنو سعد
بنو سلم
بنو ضبہ
بنو عبد الدار قصی
بنو عیس
بنو عدی
بنو عدویہ
بنو عک
بنو عم
بنو عمر و ابن تمیم
بنو غنم
بنو مالک
بنو معاویہ بن کندہ
بنو ناجیہ
بنو نزار
بنو ہاشم
بنو ہجیم
بنو ہلال
بنو یربوع
بہدی
(ت)
تابعین
تغلب
تمیم
(خ)
خزاعہ
خزرج
خضم
(ر)
رباب
ربیعہ
رومی
(ز )
زندقہ وزندیقی
(س)
ساسانی
سبائیان
(ش)
شیعیان
(ض)
ضبہ
(ط)
طی
(ع)
عبد القیس
عدنان
عک
عوف
عیسائی
(ف)
فزارہ
(ق)
قحطان و قحطانی
قریش
قیس
(م )
مازن
مجوس
مسلمان
مشرکین
مضر و مضری
معد ،معدبن عدنان
مہاجرین
(ن )
نمر
(ھ )
ہمدان
ہوازن
(ی )
یمانی
کتاب میں ذکر ہوئے مصنفوں اور مولفوں کے نام
(الف )
آمدی
ابن ابی بکر
ابن ابی حاتم رازی
ابن ابی الحدید معتزلی
ابن اثیر
ابن اسحاق
ابن اعثم
ابن بدران
ابن جوزی
ابن حبیب
ابن حجر
ابن حزم
ابن خلدون
ابن خلکان
ابن درید
ابن سعد
ابن سیدہ
ابن شاہین
ابن عبد البر
ابن عبدربہ
ابن عساکر
ابن فتحون
ابن قتیبہ
ابن کثیر
ابن کلبی
ابن ماکولا
ابن مقفع
ابن مندہ
ابن منظور
ابن ہشام
ابو زکریا
ابوالفرج اصفہانی
ابو مخنف
ابو موسیٰ
ابو نعیم
احمد بن حنبل
(۲)
بخاری
بغومی
بلاذری
(ت)
ترمذی
تولستوی
(ج)
جرجی زیدان
(ح)
حمیری
(خ)
خطیب بغدادی
(د)
دار قطنی
(ذ)
ذہبی
(ر)
رازی
رشاد دار غوث
(ز )
زبیدی
(س)
سمعانی
سیف بن عمر تمیمی
(ش)
شرف الدین عبد الحسین
شیخ طوسی
(ط)
طبری
طبرانی
(ع )
عبد الرحمن مندہ
عبد المومن صفی الدین
(ف)
فیروزآبادی
(م)
مامقانی
مدائنی
مرزبانی
مسعودی
مقریزی
میر خواند
(ن)
نجیر می
نصر بن مزاحم
(و )
واقدی
ویکتورہوگو
(ھ)
ہیثمی
(ی)
یاقوت حموی
یعقوبی
جغرابیائی مقامات کی فہرست
(۱)
آندلس
ابرق ربذہ
ابو قباد
ابلہ
اجنادین
اربک
استخر
اصفہان
اطد
اعلاب
افریدون
الیس
امغیشیا
اہواز
ایران
(۲)
بحرین
برجان
برگان
بسطام
بشر
بصرہ
بصری
بطاح
بعوضہ
بغداد
بیت المقدس
بیروت
بیسان
بین النہرین
(پ)
پارس
(ت)
تکریت
تہران
تیسفون
(ث)
ثنی
(ج)
جزیرہ
جعرانہ
جلولا
جندی شاپور
جواثا
(ح)
حجاز
حضر موت
حلب
حلوان
حمص
حیرہ
(خ)
خامر
خراسان
خریبہ
خوزستان
(د)
داروم
دارین
دجلہ
دجیل
دشت میثان
دلوث
دمشق
دورقستان
دہنائ
(ر)
رامہرمز
ربذہ
رزیق
رصافہ
روم
رہا
رے
(ز)
زارہ
زمیل
(س)
سلوکیہ
سوریا
سوق اہواز
(ش)
شام
شوش
شوشتر
(ص)
صفین
صنعائ
(ط)
طائف
طبرستان
طیرہان
(ع)
عراق
(ف)
فرات
فرات با ذقلی
(ق)
قادسیہ
قاہرہ
قنسرین
قومس
(ک)
کارون
کوثی
کوفہ
(گ)
گرگان
گیلان
(ل)
لبنان
(م)
مأرب
مدائن
مدینہ
مذار
مرسیہ
مرو
مسجد اقصیٰ
مسجد الحرام
مقر
مکہ
مناذر
موصل
میشان
(ن)
نباج
نجران
نعمان
نہاوند
نہر تیری
نہروان
نینوا
(و)
واسط
ورکائ
ویہ ارد شیر ( بہر سیر )
(ھ)
ہرمز گرد
ہمدان
(ی)
یر موک
یمامہ
یمن
کتاب کے منابع ،مدارک اور مآخذ کی فہرست
(۱)
اخبار طوال
استیعاب
اسد الغابہ
اسماء الصحابہ
استقاق
اصابہ
اغانی
اکمال
امتاع الا سمائ
انساب ابن کلبی
انساب الاشراف
انساب سمعانی
(۲)
بینوایان
(ت)
تاج العروس
تاریخ اسلام
تاریخ اصفہان
تاریخ ابن عساکر
تاریخ ایران بعد از اسلام
تاریخ بخاری
تاریخ خلیفہ بن خیاط
تاریخ دمشق
تاریخ طبری
تاریخ المستخرج من کتب الناس
تجرید
تذکرہ الحفاظ
التدییل
تقریب
التمہید والبیان
تنقیح المقال
تہذیب
(ج)
جرح وتعدیل رازی
جمہرۂ انساب (ابن حزم)
جمہرۂ نسب قریش
جنگ وصلح
جوامع السیرہ
(خ)
خطط (مقریزی)
(د)
درالسحابہ
(ر)
الروض المعطار
(س)
سنن ابن ماجہ
سنن ترمذی
سنن سجستانی (ابوداؤد)
سیرۂ ابن ہشام
(ش)
شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید )
(ص)
صحیح بخاری
صحیح ترمذی
صحیح مسلم
صفین (ابن مزاحم )
(ط)
طبقات (ابن خیاط )
طبقات(ابن سعد)
(ع)
عبداللہ بن سبا
عقد الفرید
علل (احمد بن حنبل)
عیون السیرہ
(ف)
فتح الباری
فتوح (سیف بن عمر تمیمی )
فتوح البلدان
فوائد
(ق)
قاموس
(ل )
لباب
لباب اللباب
لسان العرب
(م)
مجمع الزوائد
محبر
مختلف ومؤتلف
مرآت العقول
مراصدالاطلاع
مروج الذہب
مسند ابو عوانہ
مسند احمد
مسند طیالسی
المشترک
المعارف(ابن قتیبہ)
معجم البلدان
معجم الشعرائ
معجم الشیوخ
معجم الصحابہ
معرفة الصحابہ (ابونعیم )
مغنی فی الضعفاء
مقامات حریری
المؤتلف
موضوعات
موطاء مالک
(ن)
النبلاء
نہج البلاغہ
(و)
وفیات الاعیان
(ھ )
ہزار ویک شب
کتاب میں مذکوراہم وقائع اور روئیداد کی فہرست
سقیفہ بنی ساعدہ
ارتداد کی جنگیں
فتوحات اور کشور کشائی
اخابث کی جنگیں
جنگ احد
صلح حدیبیہ
بنی جذیمہ کا واقعہ
قادسیہ کی جنگ
جلولا ء کی جنگ
اغواث کا دن
صفین کی جنگ
یمامہ کی جنگ
تمیم کا مرتد ہونا
جنگ جمل
نہروان کی جنگ
عام الفیل
صور اسرافیل
جنگ بدر
فہرست
حرف اول ۴
تمہید : ۷
ایک ذمہ دار دانشورکے خطوط: ۸
پہلا خط: ۹
دوسرا خط : ۱۰
ایک جامع خلاصہ ۱۲
کتاب کی شکل و صورت ۱۲
کتاب کے مطالب ۱۳
زندیقیوں کا مسئلہ ۱۴
جذبات کو بھڑکانا ۱۵
علم ولغت کے مصادر میں سیف کا رول ۱۷
خلاصہ: ۱۸
مقدمۂ مؤلف ۱۹
پہلا حصہ: بحث کی بنیادیں ۲۱
گزشتہ بحثوں پر ایک سرسری نظر ۲۲
گزشتہ بحث کے اسناد ۲۴
دوسرا حصہ: ۲۵
جعلی صحابی کو کیسے پہچانا جائے؟ ۲۵
ایک مختصر تمہید ۲۶
سیف کی سوانح حیات اور اس کے زمانے کا ایک جائزہ ۲۸
اسناد جعل کرنا ۲۹
وہ مؤلفین، جنھوں نے سیف کے خیالی اداکاروں کو درج کیا ہے ۳۰
جعلی صحابی کی پہچان ۳۱
ایک تمیمی گھرانا ۳۱
قعقاع کے بارے میں سیف کی روایتوں کے اسناد ۳۲
عاصم کے بارے میں سیف کی روایتوں کے اسناد کی تحقیق ۳۳
اسود اور اس کے بیٹے کے بارے میں سیف کی روایات کے اسناد ۳۳
جعلی اورحقیقی صحابی میں فرق ! ۳۸
دھمکی اور دباؤ ۴۱
گزشتہ کاخلاصہ ۴۱
سیف کے جعل کردہ چند اصحاب کے نام ۴۵
تیسرا حصہ : ۴۷
خاندان مالک تمیمی سے چند اصحاب ۴۷
سیف کی نظر میں اسود کا خاندان ۴۸
اسود خالد کے ساتھ عراق میں ۴۸
امغیشیا کی جنگ ۴۹
اسود ،'' الثنی'' اور ''زمیل '' کی جنگوں میں ۵۰
سیف کی روایات کی تحقیق ۵۲
تحقیق کا نتیجہ ۵۲
سیف کی روایتوں کا ماحصل ۵۴
اسود بن قطبہ، سرزمین شام میں ۵۵
جستجو ۵۶
سیف کے افسانہ کا نتیجہ ۵۸
ابو مفزر ،عراق اور ایران میں ۵۸
سیف کی روایتوں کا دوسروں سے موازنہ ۶۲
سند کی تحقیق ۶۳
دو روایتوں کا موازنہ ۶۳
سیف کا کارنامہ ۶۴
ابو مفزر اسود بن قطبہ کی سرگرمیوں کے چند نمونے ۶۴
یہ پنجگانہ موارد اور دوسروں کی روایتیں ۶۵
اسود بن قطبہ کے افسانہ کی تحقیق: ۶۶
چوتھا جعلی صحابی ابو مفزر تمیمی ۶۷
نسخہ برداری میں مزید غلطیاں ۶۹
اسناد کی تحقیق ۶۹
بحث کا خلاصہ ۷۰
اس افسانہ کو نقل کرنے والے علما ۷۱
سیف کا پانچواں جعلی صحابی نافع بن اسود تمیمی ۷۴
سیف کی زبانی اسود کا تعارف ۷۴
دلاوریاں ۷۴
شاعر نافع ،ایران میں ۸۲
لفظ ''گرگان'' اور ''رے'' کے سلسلہ میں حموی کی دلیل ۸۴
سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ ۸۵
موازنہ کا نتیجہ ۸۶
برجان برگان! ۸۷
رزیق ۸۷
ابوبجید ، کتاب ''صفین''میں ۸۸
روایت کی تحقیق ۹۴
بحث کا خلاصہ ۹۵
نافع کے افسانہ کا سر چشمہ ۹۶
نافع کے بارے میں سیف کے افسانوں کے نتائج ۹۷
چوتھا حصہ : قبیلہ تمیم کے چند اصحاب ۱۰۰
چھٹا جعلی صحابی عفیف بن منذر تمیمی ۱۰۱
عفیف اور قبائل تمیم کے ارتداد کا موضوع ۱۰۱
زمین سے پانی کا ابلنا ۱۰۲
اسلام کے سپاہیوں کا پانی پر چلنا! ۱۰۶
بحث کا خلاصہ ۱۱۰
سیف کی روایتوں کا دوسروں سے موازنہ ۱۱۱
سیف کی روایتوں کا دوسروں سے موازنہ ۱۱۹
اسناد کی تحقیق ۱۲۱
عفیف کے افسانے کا نتیجہ ۱۲۲
سیف کے افسانوں کی اشاعت کرنے والے: ۱۲۳
ساتواں جعلی صحابی زیاد بن حنظلہ تمیمی ۱۲۴
زیاد ،رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں ۱۲۵
زیاد ،ابوبکر کے زمانہ میں ۱۲۶
سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ ۱۲۸
بحث وتحقیق کا نتیجہ ۱۲۹
سیف کے افسانوں کا نتیجہ ۱۲۹
شام کی فتوحات میں زیاد بن حنظلہ کے اشعار ۱۳۰
سیف کی روایات کا ماحصل ۱۳۶
زیاد بن حنظلہ ،حاکم کوفہ ۱۳۶
زیاد بن حنظلہ ،امام علی علیہ السلام کی خدمت میں ۱۳۸
زیاد بن حنظلہ اور نقلِ روایت ۱۴۰
افسانہ کا ماحصل ۱۴۳
خلاصہ ۱۴۳
ان افسانوں کا سر چشمہ ۱۴۴
افسانہ کی تحقیق ۱۴۵
آٹھواں جعلی صحابی حرملہ بن مریطہ تمیمی ۱۴۶
شجر ۂ نسب اور خیالی مقامات ۱۴۶
حرملہ ،سیف کی روایتوں میں ۱۴۶
حرملہ بن مریطہ،ایران پر حملہ کے وقت ۱۵۱
دربار خلیفہ میں حاضری ،اور اہواز کا زوال ۱۵۵
بحث کا خلاصہ ۱۶۰
ایک ''امین ''گورنر!! ۱۶۵
بحث و تحقیق کا نتیجہ ۱۶۸
سیف کے افسانوی شعرا ۱۷۲
حرملہ کے بارے میں سیف کے افادات ۱۷۶
نواں جعلی صحابی حرملہ بن سلمی تمیمی ۱۷۷
ابن حجر کی غلطی کا نتیجہ ۱۷۷
دسواں جعلی صحابی ربیع بن مطربن ثلج تمیمی ۱۸۱
صحابی ، شاعر اور رجز خوان ۱۸۱
ربیع کے باپ اور دادا کے نام میں غلطی ۱۸۴
ربیع بن مطرف تمیمی ۱۸۴
ربیع بن مطربن بلخ ۱۸۵
ربیع بن مطر بن ثلج(۱) ۱۸۵
اس افسانہ کا ماحصل ۱۸۶
افسانہ کے اسناد کی تحقیق ۱۸۷
ربیع کے افسانہ کو نقل کرنے والے علما ۱۸۷
گیارہواں جعلی صحابی ربعی بن افکل تمیمی ۱۸۸
لفظ ''انطاق''اور حموی کی غلط فہمی ۱۹۱
ربعی کے نسب میں غلطی ۱۹۲
سیف کی روایتوں کا تاریخ کے حقائق سے موازنہ ۱۹۳
اس افسانہ کا ماحصل ۱۹۴
سیف کے اسناد کی تحقیق ۱۹۵
اس افسانہ کو نقل کرنے والے علما: ۱۹۵
بارہواں جعلی صحابی اُطّ بن ابی اُطّ تمیمی ۱۹۶
اُطّ ، دور قستان کا حاکم ۱۹۶
ابن حجر کی غلط فہمی ۱۹۸
اس افسانہ کا ماحصل ۱۹۹
افسانہ کے اسناد کی پڑتال ۱۹۹
اُطّ کا افسانہ نقل کرنے والے علماء ۲۰۰
پانچواں حصہ خاندان تمیم سے ۲۰۱
رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے جعلی کارندے و صحابی رسول خدا کے چھ کارندے : ۲۰۱
رسول خد صلىاللهعليهوآلهوسلم ا کے چھ جعلی کارندے ۲۰۲
چار روایتیں ۲۰۲
پہلی روایت ۲۰۲
دوسری روایت ۲۰۵
تیسری روایت ۲۰۵
چوتھی روایت ۲۰۶
١٣۔ سعیر بن خفاف ۲۱۰
١٤۔عوف بن علاء جشمی ۲۱۰
١٥۔اوس بن جذیمہ ۲۱۱
١٦۔سہل بن منجاب ۲۱۱
اس مطلب پر ایک تحقیقی نظر: ۲۱۲
١٧۔ وکیع بن مالک ۲۱۳
١٨۔ حصین بن نیار حنظلی ۲۱۴
اسناد کی تحقیق ۲۱۶
تاریخی حقائق ۲۱۷
مالک نویرہ کی داستان ۲۱۹
خالد پر عمر کا غضب ناک ہونا ۲۲۰
دو نر و مادہ پیغمبروں کی حقیقت ۲۲۳
گزشتہ بحث کا خلاصہ اور موازنہ کا نتیجہ ۲۲۶
سجاح کے افسانہ کا نتیجہ ۲۳۰
اس افسانہ کو نقل کرنے والے علما ۲۳۲
انیسواں جعلی صحابی زر بن عبد اللہ الفقیمی ۲۳۳
دو مہاجر صحابی ۲۳۳
زرّ کا نام و نسب ۲۳۳
ایک مختصر موازنہ ۲۳۵
جندی شاپور کی صلح کاافسانہ ۲۳۵
جندی شاپور کی داستان کے حقائق ۲۳۸
ان دو کی روایتوں کا مختصر موازنہ ۲۳۹
زر ،فوجی کمانڈر کی حیثیت سے ۲۴۰
زر کی داستان کا خلاصہ ۲۴۱
زرّ اور زرین ۲۴۲
بحث و تحقیق کا نتیجہ ۲۴۴
زرّ کا افسانہ نقل کرنے والے علماء ۲۴۶
افسانہ زر کا ماحصل ۲۴۷
بیسواں جعلی صحابی اسود بن ربیعہ حنظلی ۲۴۸
ایک مختصر اور جامع حدیث ۲۴۸
گزشتہ بحث پر ایک نظر ۲۵۱
فتح شوش کا افسانہ ۲۵۱
موازنہ اور تحقیق کا نتیجہ ۲۵۳
اسود بن ربیعہ کا رول ۲۵۶
جندی شاپور کی جنگ ۲۵۶
صفین کی جنگ میں ۲۵۶
شیعوں کی کتب رجال میں تین جعلی اصحاب ۲۵۷
گزشتہ بحث پر ایک سرسری نظر ۲۵۸
''زر'' و ''اسود'' کے افسانہ کا سرچشمہ ۲۵۹
ان افسانو ں کا نتیجہ ۲۵۹
اسود بن ربیعہ یا اسود بن عبس ۲۶۰
حدیث کے اسناد کی تحقیق ۲۶۱
چھٹا حصہ ۲۶۲
خاندان تمیم سے رسول خد ا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے منہ بولے بیٹے ۲۶۲
اکیسواں جعلی صحابی حارث بن ابی ہالہ تمیمی ۲۶۳
حارث خدیجہ کا بیٹا ۲۶۳
سیف کی نظر میں اسلام کا پہلا شہید ۲۶۴
حدیث کا موازنہ اور قدر و قیمت ۲۶۷
حارث کے افسانے کا نتیجہ ۲۶۹
حارث کے افسانہ کی تحقیق ۲۷۰
بائیسواں جعلی صحابی زبیر بن ابی ہالہ ۲۷۱
حضرت خدیجہ کادوسرابیٹا ۲۷۱
پہلی حدیث ۲۷۱
دوسری حدیث ۲۷۵
بحث کا خلاصہ ۲۷۷
افسانہ ٔ زبیر کے مآخذ کی جانچ پڑتال ۲۷۸
داستان کا نتیجہ ۲۷۹
راویوں کا سلسلہ ۲۷۹
منابع و مصادر ۲۸۱
تیئیسواں جعلی صحابی طاہر بن ابی ہالہ تمیمی ۲۸۲
طاہر ، گور نر کے عہدے پر ۲۸۲
طاہر کی داستان پر بحث و تحقیق ۲۸۴
طاہر کے بارے میں سیف کی احادیث ۲۸۵
مختصر تحقیق اور موازنہ ۲۹۱
داستان کے مآخذ کی پڑتال ۲۹۲
گزشتہ بحث کا ایک خلاصہ ۲۹۳
سیف کی روایتوں کے مطالب ۲۹۴
طاہر کی داستان کے نتائج ۲۹۶
افسانہ ٔطاہر کی اشاعت کا سرچشمہ ۲۹۷
۱) ۔ سیف کے افسانوں کے راوی : ۲۹۷
۲)۔ طاہر ابو ہالہ کے افسانہ کو سیف سے نقل کرنے والے علما: ۲۹۷
فہرستیں ۲۹۹
مآخذ و مدارک ۲۹۹
اس کتاب میں ذکر ہوئی شخصیتوں کے نام ۳۱۳
اس کتاب میں ذکر ہوئی امتوں ،قوموں ،قبیلوں گروہوں اور مختلف ادیان کے پیرئووں کی فہرست ۳۳۲
کتاب میں ذکر ہوئے مصنفوں اور مولفوں کے نام ۳۳۸
جغرابیائی مقامات کی فہرست ۳۴۴
کتاب کے منابع ،مدارک اور مآخذ کی فہرست ۳۵۳
کتاب میں مذکوراہم وقائع اور روئیداد کی فہرست ۳۶۰