ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 4

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
متن تاریخ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: ایک سو پچاس جعلی اصحاب( جلدچہارم )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ


قال رسول اﷲ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں :(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں ''۔

____________________

( صحیح مسلم: ١٢٢٧، سنن دارمی: ٤٣٢٢، مسند احمد: ج٣، ١٤، ١٧، ٢٦، ٥٩. ٣٦٦٤ و ٣٧١. ١٨٢٥، اور ١٨٩، مستدرک حاکم: ١٠٩٣، ١٤٨، ٥٣٣. وغیرہ)


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھی، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علامہ سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب ''ایک سو پچاس جعلی اصحاب'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


کتاب ١٥٠ جعلی اصحاب کے سلسلہ میں دل کو ہلا دینے والی ایک تاریخی بحث

زیر نظر مقالہ ، دانشمند محترم جناب ''ہادی علوی'' کا اس کتاب کے سلسلہ میں تجزیہ ہے ، جو ٢٦ اگست ١٩٦٨ ء کو بغداد کے ایک روزنامہ ''تاخی'' اور مجلہ '' رسالة الاسلام '' کے شمار ٩ اور ١٠ میں جمادی الاول ١٣٨٨ ھ کو شائع ہوا ہے۔ جسے ہم نے اس کتاب کے مقدمہ کے طور پر درج کرنا بجا اور مناسب سمجھا ہے۔

تاریخ ، ایک وسیع کھیت کے مانند ہے ، جس پر ہر قسم کے بیج بوئے جاسکتے ہیں دیگر چیزوں کے مقابلہ میں اس پر زیادہ قسم کے بیج بوئے جاسکے ہیں ۔ دیگر چیزوں کے مقابلہ میں اس پر زیادہ قلم فرسائی کی جاسکتی ہے ۔

شاید تاریخ لکھنے والوں کی اس لئے کثرت ہے کہ اس پر قلم اٹھا نا آسان ہے ۔ یا اس علم کے تحت تاریخی رودادوں اور مو ضوعات کی اہمیت یا ہمارے زمانے میں یا مستقبل میں اس کے اثرات کی اہمیت اس کی کثرت و فراوانی کا باعث بنی ہے ۔

بہر حال تاریخ ، سادہ و آسان نہیں ہے ۔ لیکن اس وقت آسان بن جاتی ہے کہ جب لکھنے والا اس حالت میں ہو کہ اس سے داستان گڑھ لے اور اس داستان کے ذریعہ آرام طلب اور اپنے آپ سے بے خبر لوگوں کو سردیوں کی طوفانی راتوں میں اپنی میٹھی زبان سے گرم کر کے انہیں عیش و طرب میں مشغول کرے ۔

اگر ہم تاریخ پر علمی نقطۂ نظر سے نگاہ ڈالیں اور اس کے سنجیدہ مسائل کو سمجھنے کے لئے عاقلانہ کوشش کریں ، تو محسوس کریں گے کہ تاریخ اتنی آسان وسادہ نہیں ہے جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ مگر اسی مقدار تک کہ ہم آسانی کے ساتھ اس میں تحقیق کریں اور اس کے منابع و مآخذکو پیدا کر کے ضروری تلاش و جستجوں کرکے نتیجہ تک پہنچیں ۔ یہ تین چیز یعنی تحقیق ، بحث اور نتیجہ حاصل کرنا ۔ ہر علم کی بنیاد ہے اور ان چیزوں کو حاصل کرنااغلب محنت و تکلیف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

واضح ہے کہ تاریخی تحقیق کی قدروقیمت ، اس سلسلے میں انجام دی جانے والی تلاش و جستجوپر منحصر ہے ۔ لیکن یہ تلاش و کوشش بے لوث اور اخلاص پر مبنی ہونی چاہئے اور مورد بحث موضوع بھی مشخص اور یکساں طرز پر ہونا چاہئے ۔


ان واضع روشن اور سادہ حقائق کے پیش نظر ہم آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں ۔کہ کتاب ''١٥٠ جعلی اصحاب ''قابل احترام کتابوں میں سے ایک ہے ۔ کیونکہ اس کتاب میں زیر بحث موضوعات کے انتخاب میں جس دقت ا ور باریک بینی کا خیال رکھا گیا ہے وہ طولانی اور عمیق کوششوں کا مظہر ہے ۔ اس میں انتہائی صبر و شکیبائی سے کام لیا گیاہے اور یہی تمام علمی بحث و تحقیق کا مقصد ہے۔

اس کے با وجود کہ اس کتاب نے اپنے اصلی مقصد کو صیغہ راز میں رکھا ہے ۔ ،لیکن اس کا موضوعبحث، تحقیق کرنے والے تمام لوگوں خواہ عرب ہوں یامستشرقین کے لئے ایک گراں قیمت و مستند علمی مآخذ و منبع ہے۔

اس کتاب کے مصنف جناب ''سید مرتضیٰ عسکری ''بغداد کے معروف علماء میں سے ہیں ۔ موصوف نے جو بحث اس کتاب میں شروع کی ہے ، حقیقت میں ان کی اس بحث کا سلسلہ ہے جو انہوں نے اپنی دوسری کتاب "عبداﷲ بن سبا"میں ذکر کیا ہے۔

مولف نے ان دو کتابوں میں "سیف بن عمر"نامی ایک مورّخ کا نام لیا ہے جس نے بنی امیّہ اور بنی عباس کی حکومت کو درک کیا ہے ۔ اس زمانے میں جب عالم اسلام میں کتابیں لکھنے کا رواج تھا،اس مورّخ نے بھی اسلام کی فتوحات اور لشکر کشیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

اگرچہ سیف کی کتاب "فتوح" مفقود ہوگئی ہے اور اس وقت موجود نہیں ہے ۔لیکن اس میں لکھی گئی روایتیں اور تاریخی وقائع و روداد پوری کی پوری ان مشہور ،معروف اور معتبر منابع میں درج ہیں ،جنہوں نے سیف کی بات پر اعتبار کیا ہے اوران میں سب سے پیش قدم ''تاریخ طبری'' ہے۔

جناب عسکری نے اس بحث و تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ سیف بن عمر، ایک جھو ٹ بولنے والا اور جھوٹ گڑھنے والا مورّخ تھا اور اس نے حوادث اور رودادوں کو اپنی خیالی دنیا میں خلق کیا ہے اور انھیں صحیح اور معقول دکھانے کے لئے ایک سلسلہ وار اغراض و مقاصد سے استفادہ کیا ہے جن کا اصل موضوع جس کی بناء پر اس قسم کی روداد تحریر کی گئی ہیں سے کوئی ربط نظر نہیں آتاہے ۔ ان علل و عوامل میں سے بعض حسب ذیل ہیں ۔


١۔اموی حکام کی مصلحتوں کا تحفظ :

سیف نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی حکومت کے دامن میں گزار اہے۔ اس کی داستانوں اور اس کی روایتوں میں بنی امیہ کی طرفداری اور ان کی مصلحتوں کا تحفظ واضع طور پر دکھائی دیتا ہے۔

٢۔قبیلۂ تمیم کے منافع کی رعایت :

سیف نے اس سلسلہ میں تعصب کا کمال دکھایاہے۔

اس نے اس تعصب کو سیف نے قبیلۂ تمیم کے نامدار اور معروف سرداروں اور بہادروں کی اسلام کی فتوحات میں دلاور یوں اور شجاعتوں کے کارناموں کی تشریح کرتے ہوئے منعکس کیا ہے۔

جناب عسکری کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب داستانیں سیف کے افسانے اور اس کے خیال کی تخلیق ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

٣۔ اسلام کی تاریخ میں شبہہ ایجاد کرکے اس میں رخنہ ڈالنا :

مؤلف محترم نے اسے سیف کی زند یقیت کا نتیجہجانا ہے ۔

سیف نے اپنی داستانوں میں بہت سے چہروں کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے طور پر خلق کیا ہے ۔ جنا ب عسکری کے شمار کے مطابق اس کے جعلی صحابیوں کی تعداد ١٥٠ تک پہنچی ہے ۔

اس کے علاوہ سیف نے اپنی داستانوں کے لئے راویوں کے طور پر بعض چہرے ، اماکن اور بہت سی جغرافیائی جگہیں خلق کی ہیں ۔ ان کا ، نہ صرف جغرافیہ کے نقشہ میں کوئی سراغ نہیں ملتا ہے بلکہ سرے سے گیتی پر ان کا وجود نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے بے شمار حوادث ،روداد اور وقائع بھی خلق کئے ہیں ۔

دانشمند محترم کی اس کتاب میں سیف بن عمر کے ٣٩ جعلی اصحاب اور خیالی پہلو انوں کے بارے میں مفصل بحث ، تحقیق و تجزیہ کیا گیا ہے۔ جناب عسکری کا پکا اعتقاد ہے کہ اس قسم کی وقائع میں ایسے چہروں کا ہرگز وجود نہیں تھا۔


جناب عسکری کی یہ تحقیق درج ذیل نکات پر مشتمل ہے :

١۔سیف بن عمر اس قسم کی روایتوں کا تنہا مصدر و ماخذ ہے طبری نے ان روایتوں کو اس سے نقل کیا ہے اور اس کے بعد ابن "ابن " اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلد وں نے ان ہی روایتوں کو طبری سے نقل کر کے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

طبری کے علاوہ چند گنے چنے مؤرخین کے پاس بھی سیف کی کتاب "فتوح "کے نسخے موجود تھے اور انہوں نے ان سے روایتیں کی ہیں ۔

لیکن جن مصادر میں سیف کی روایتوں پر اعتنا نہیں کیا گیا ہے اور ان سے مطلب نقل نہیں کیا گیا ہے ، ان میں اس کی یہ داستانیں ،دلاوریاں اور جعلی سورما وغیرہ دکھائی نہیں دیتے ۔ ان میں سیرت پر لکھی گئی کتابوں کے علاوہ بلا ذری کی تالیفات میں سیف کی داستانیں ،اس کے خلق کئے گئے پہلوان اور وقائع دکھائی نہیں دیتے ، بلکہ ان میں اس کی تحریف شدہ ، روایتیں ، وقائع اور تاریخی رودادیں دوسری صورت میں درج ہوئی ہیں ، جو سیف کی روایتوں کے بالکل مختلف ہیں ۔

طبری نے بھی تاریخی واقعات نقل کرنے میں صرف سیف کی روایتوں پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اس نے دوسرے منابع سے ایسی روایتیں ، بھی نقل کی ہیں جو سیف کی روایتوں سے تناقض اور اختلاف رکھتی ہیں ۔

٢۔سیف نے اپنی روایتوں میں جن مآخذ کا سہارا لیا ہے ، وہ بذات خود اس کی روایتوں کے جعلی ہونے کی دلیل ہے ، کیونکہ جناب عسکری نے سیف کے راویوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں سے اکثر کا نام علم رجال کی کتابوں میں موجود نہیں ہے، یہی امران کے یقین کا سبب بنا ہے کہ اس قسم کے راوی سیف کے خیالات کی مخلوق ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ہیں ۔


٣۔ سیف کی اکثر جنگیں اور فتوحات ، تو ہمات اور خلاف معمول روداد وں پر مشتمل ہیں ۔ جیسے بعض جنگوں میں حیوانوں کا خاندان تمیم کے بعض سپہ سالاروں کے ساتھ فصیح عربی میں گفتگو کرنا ! واضح ہے کہ اس قسم کے مطالب علم ومنطق کی کسوٹی پر نہیں اترتے ، خواہ انہیں سیف نے کہا ہو یا کسی اور نے(۱)

ہم دیکھتے ہیں کہ سیف تعجب انگریز مطالب کو پیش کرتا ہے اور انہیں بڑی مہارت کے ساتھ آپس میں جوڑ تا ہے اور خلاف توقع نتیجہ حاصل کرتا ہے ۔ مثلاً ایک مضبو ط اور مستحکم قلعہ جو مسلسل دو سال تک

مسلمانوں کے کئی حملے اس کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تھے ، کسی فوجی حکمت عملی کے ذریعہ تسخیر کئے بغیر سیف نے دکھایا ہے کہ وہ قلعہ ایک دم اور مختصر وقت میں مسلمانوں کے ہاتھوں ایسے تسخیر ہوا کہ تمام لوگ ،حتی مسلمان سپاہی بھی حیرت اور تعجب میں پڑ گئے۔

یا یہ کہ سیف کہتا ہے ، ایک فوج میدان کا رزار کے فاتحوں کے مقابلے میں آخری لمحہ تک پائداری اور استقامت سے لڑی ۔ اپنے دشمن کے حملوں کو شجاعت کے ساتھ پسپا کیا ۔ اپنے مورچوں کا

____________________

١۔انبیائے کرام کے معجزات اس سے مستثنی ہیں ۔


پوری طاقت کے ساتھ دفاع کیا۔ اور ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے، لیکن ، اچانک اسلام کے سپاہیوں کے ایک فوری حملے کے مقابلہ میں تاب نہ لاکر اپنی پائداری کو ہاتھ سے کھو بیٹھتی ہے اور اس کا شیرازہ بکھر جاتاہے !!

سیف کے نقطہ نظر کے مطابق جنگوں اور فتوحات میں مسلمانوں نے جو اکثر کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اسی قسم کے اتفاقات اور معجزات کی مرہوں منت ہیں ، جو جنگ کے دوران یا اس سے قبل واقع ہوئے تھے !

حوادث اور وقائع کے بارے میں اس قسم کے بیانات تاریخ لکھنے والوں کے لئے سیف کے جھوٹ اور جعلی روایتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور ہر قسم کے تعصب سے بالا تر علم ومنطق کے ذریعہ سیف کو اپنیسرزنش کا نشانہ بناتے ہیں ۔

یہاں پر استاد عسکری کے لئے یہ امر ممکن بن جاتا ہے وہ زیر بحث موضوع کے بارے میں منابع و مصادر میں ضروری جانچ پڑتال اور تلاش و کوششوں کے بعد اس خطرناک تاریخ نویس پر آخری اور کاری ضرب لگائیں اور پوری مہارت اور حکمت عملی کے ساتھحیرت انگزیزطور سے سیف کی جعلی روایتوں کو دوسرے منابع سے جدا کر کے اسلامی تاریخ کے منابع کو اس دروغ گو سے آزاد کرانے میں کامیا ب ہو جائیں ۔

یہاں پر ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ، یہ کیسے ممکن ہو سکا ہے کہ سیف کے یہ کارنامے گزشتہ مورخین کے لئے پوشیدہ رہے ہوں ؟


ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ: ایسا نہیں تھا کہ اس کام کے بارے میں گزشتہ مؤرخین بے خبر ہوں !خود طبری نے، جس نے دوسرے تاریخ نویسوں کی نسبت سیف کی کتاب پر زیادہ اعتماد کیاہے ،پوری طرح اس کی روایتوں ،جیسے " واقدی یا اپنے اسناد کے ذریعہ سیف کی روایتوں کی تردید کی ہے ۔ دوسرے مؤرخین اور سیرت لکھنے والوں نے بھی سیف کی کسی روایت کو نقل نہیں کیا ہے ، جیسے :

بلاذری ،جو اسلامی فتوحات کے بارے میں مطلق طور پر سب سے بڑا مؤرخ سمجھا جاتا ہے اور اسی طرح یعقوبی، مسعودی اور دیگر لوگوں نے بھی سیف کی روایتوں کو کہیں سے بھی نقل کر کے اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا ہے ۔

راوی شناس اور علم درایت کے ماہر بھی سیف کی ان کارستانیوں سے بے خبر نہیں رہے ہیں ۔ ان میں سے بعض نے واضح طور سے اس پر حملے کر کے اسے جھوٹ بولنے اور احادیث گڑھنے کا ملزم ٹھہرایا ہے۔

لیکن ان لوگوں کے لئے بھی اس حد تک تاریخی اہمیت اور احترام کے ، مالک ہونے کے باوجود اس کام کو اس طرح انجام تک پہنچانا ممکن نہیں تھا ، جس طرح جناب عسکری نے اسے انجام تک پہنچایا ہے ۔

مقالہ کے آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مؤلف محترم نے اصطلاح " افسانہ " (اسطورہ)کو پوری کتاب میں کافی جگہوں پر استعمال کیا ہے اور سیف کی بے بنیاد روایتوں کے لئے اس اصطلاح کا استعمال کیا ہے جبکہ میری نظر میں اس قسم کے مطلب کے لئے ایسی اصطلاح کا استعمال کرنے میں خاص توجہ اور کافی دقت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ" افسانہ "ایسالفظ ہے جو آج کی دنیا کی علمی بحثوں میں گزشتہ زمانے کی بڑی جنگوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے ، کیوں کہ ان جنگوں کے واقع ہونے اوران کی سنسنی خیز رودادوں


میں پریوں اور خدائوں کا براہ راست دخل ہوتا تھا ، جیسے بابلیوں اور یونا نیوں کے افسانے ، جنھیں انگریزی میں " متھ" (۱)کہاجاتا ہے ۔

ایک دوسری اصطلاح بھی انگیریزی میں "لبجنڈ " (۲) نام کی موجود ہے جو غیر عادی اور نا قابل یقین رودادوں کے لئے مخصوص ہے ۔ البتہ ایسی داستانوں میں پریوں اور خداوئں کی مداخلت کی بات

نہیں ہے ۔ اس قسم کی داستانوں کے نمونے " قدیسیں " اور اولیا ء وغیرہکی معجزاتی داستانوں میں پائے جاتے ہیں ، اور عرب محققین ابھی تک اس اصطلاح کے نعم البدل کے بارے میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے ہیں ۔ لیکن میں ترجیح دیتا ہوں کہ اس سلسلہ میں بجائے افسانہ "خرافہ"کی اصطلاح سے استفادہ کیا جائے تاکہ ان دو لفظوں کے اصلی معنیٰ ،جیسے کہ انگریز زبان میں اس کے لئے مشخص ہوئے ہیں محفوظ رہیں ۔

جب ہم سیف بن عمر کی تخلیقوں کو دیکھتے ہیں تو پاتیہیں کہ ان میں بڑی داستانوں اور خداوئں اور پریوں کی جنگوں کا رنگ و روپ نہیں پایا جاتا ہے،بلکہ یہ داستانیں بھاری اور آرام صورت میں ایک منظم تاریخی راستہ پر آگے بڈھتی نظر آتی ہیں اور اس لحاظ سے اس کی کتاب "فتوح" اسلوب اور روش کے مطابق تاریخ کی دوسری کتابوں سے مختلف نہیں ہے۔ اس لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ اس کی روایتوں کو "افسانہ "کہا جائے کیونکہ جو حوادث اور بے شمار غیر معمولی واقعات سیف کی روایتوں میں ذکر ہوئے ہیں وہ ''افسانہ'' اور متھ خرافہ"یا انگریزی میں "لجنڈ( Legend ) "کے مفہوم سے نزدیک تر ہے۔

____________________

١۔ Myth

٢۔ Legend


دوسری جانب سیف کی تمام روایات اور اخبار ، معجزات اور غیر عادی کارناموں پر مشمل نہیں ہیں ، بلکہ اس کے دوسرے جھوٹ بھی ایسی چیزوں پر مشتمل نہیں ہیں ۔

قدیم زمانے کے لوگوں نے بھی جھوٹی خبر کے لئے متعدد نام رکھے ہیں یہ نام کثرت استعمال کی وجہ سے اصطلاح کی صورت اختیار کر گئے ہیں ، جیسے : موضوع ومنحول یعنی ''جعلی اور بے بنیاد ''۔ لیکن میں اپنے آپ میں یہ صلاحیت محسوس نہیں کرتا کہ یہاں پر کسی خاص لفظ کو اس کی جگہ پر تجویز کروں البتہ اس مختصر فرصت میں جو کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ایسے مباحث میں اصطلاحات استعمال کر نے میں کافی دقت اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ استاد محترم و ارجمندجناب سید مرتضیٰ عسکری ، خاص اور مناسب الفاظ کو اپنے علمی مباحث میں استعمال کرنے کے سلسلے میں دوسروں سے دانا اور آگاہ تر ہیں ۔

____________________

نوٹ : اس مقالہ کے بعض مطالب کے سلسلے میں مؤلف کا جواب اور نقطۂ نظر اسی کتاب کے آخر میں ملا حظ فرمائیں ۔


اصحاب کو پہچاننے کا ایک طریقہ

سپہ سالاری

کتاب کے اس حصہ میں ہم سیف کے ایسے جعلی اصحاب کے حالات پر روشنی ڈالیں گے جنہیں مکتبِ خلفاء کے علماء نے صرف اس بناء پر کہ سیف نے اسلام کی فتوحات میں سردار اور سپہ سالار کی حیثیت سے ان کا نام لیا ہے ، انہیں پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب قرار دیکر ان کے حالات پر روشنی ڈالی ہے اور انہیں اس عنوان سے درج کیاہے ۔

ابن "ابن " حجر اپنی کتاب " اصابہ " کے مقدمہ میں " صحابی کی تعریف" میں یوں لکھتے ہیں :

جو کچھ ہمیں صحابی کی پہچان کے سلسلے میں اپنے اسلاف سے مختصر اور یہاں وہاں سے ہاتھ آیا ہے ، اگر چہ وہ یقینی اور واضح نص نہیں ہے ، پھر بھی وہ مطلب ہے جسے " ابن "ابن " ابی شیبہ "(۱) نے ایک ناقابل اعتراض مآ خد سے نقل کر کے اپنی کتاب

____________________

١۔ ابوبکر ، عبداﷲ بن محمد بن ابراہیم بن عثمان بن ابی شیبہ کوفی عبنسی (وفات ٢٣٥ھ)ہے ۔ انکی تصنیفات میں سے صرف تین حصے حیدر آباد دکن میں شائع ہوئے ہیں ۔


''مصنف'' میں یوں درج ہے : صدر اسلام کے جنگوں میں رسم یہ تھی کہ صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار کے طور پر منتخب نہیں کرتے تھے۔

یہ عالم ابن حجر اپنی کتاب کے دوسرے حصہ میں '' صحابی کو پہچاننے کا ایک راستہ'' کے عنوان کے تحت لکھتا ہے :

ایک قاعدہ موجود ہے جس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کا صحابی ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہ قاعدہ تین علا متوں پر مشتمل ہے۔ ان تین علامتوں میں سے کسی ایک کی موجودگی کسی فرد میں موجود گی اس امر کے لئے کافی ہے کہ اس شخص پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی ہونے کا حکم لگایا جائے۔

ان میں پہلی علامت یہ ہے جسے ابن "ابن " ابی شیبہ نے ایک ناقابل اعتراض منبع سے نقل کر کے اپنی کتاب میں لکھاہے :

صدراسلام کے جنگوں میں رسم یہ تھی کہ صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار کے طور پر منتخب نہیں کیا جاتا تھا۔

اس کے بعد ابن "ابن " حجر اپنی بات کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں :

اگر کوئی شخص اسلام کی جنگجوں اور فتوحات کی رودادوں اور روایتوں کی تحقیق اور جستجو کرے تو اسے اس قسم کے اصحاب کی بڑی تعداد ملے گی جن کا ہم نے اپنی کتاب کے ابتدائی حصہ میں ذکر کیا ہے ۔ (ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ہم نے ابن "ابن " حجر کی اس روایت کے بارے تحقیق اور جستجو کرنے کا اراد کیا جسے اس نے ابن ابی شیبہ سے نقل کیا ہے اور ابن حجر اور اس کے ہم فکروں نے اس روایت کو صحابی کی پہچان کے لئے قطعی دلیل قرار دیکر اصحاب کے حالت پر تشریح و تفسیریں لکھی ہیں ، لیکن اس راستہ میں تمام تلاش و کوششوں کے باوجود اس روایت کے مصدر و مآخذکے طور پر سیف کے علاوہ کسی کو نہیں پایا ۔ اسی طرح تاریخ طبری اور تاریخ ابن عسا کرنے بھی یہی مطلب لکھا ہے ۔ یہ علماء سیف سے نقل کر کے لکھتے ہیں :


١۔ جنگوں میں افسر اور سپہ سالارا صحاب میں سے منتخب ہوتے تھے ، مگر یہ کہ ان میں سے کوئی موجود نہ ہوتا ۔

٢ ۔طبری ایک اور روایت کے مطابق سیف سے نقل کرتا ہے :

''عمر بن محمد ''نے ''شعبی'' سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

انہی دنوں ، جب خلیفہ ابوبکر نے ''خالد بن ولید و عیاض بن غنم '' کو ماموریت پر عراق بھیجا تھاتو انھیں لکھا تھا :

جن لوگوں نے مرتدوں سے جنگ کی اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اسلام پر باقی رہے، ان کی ایک فوج تشکیل دو۔اس فوج میں اور تمہارے ہمراہ کسی بھی مرتد کو جنگ میں شرکت نے کاتب تک حق نہیں ہے جب تک میرا حکم پہنچے۔

اس کے بعد شعبی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

ابوبکر کی خلا فت کے زمانہ میں کسی مرتد نے جنگجوں میں شرکت نہیں کی ۔

٣۔مزید طبری سیف سے نقل کر کے اسی مأخذکے مطابق لکھتا ہے:

خلیفہ ابوبکر جب تک زندہ تھے ، کسی بھی جنگ میں مرتدوں سے مدد طلب نہیں کی ۔ لیکن خلیفہ عمر ان سے مدد لیتے تھے ، مگر ، انھیں کبھی سپہ سالار نہیں بناتے تھے ، مگر ایک مختصر تعداد کو یہ عہدہ سونپا ہے جن کی تعداد دس افراد یا اس سے کم تر تھی ۔ وہ صحابی کو سپہ سالا ر کے عہدہ پر انتخاب کرنے میں کبھی غفلت نہیں کرتے تھے ۔


٤۔ اس نے ایک اور روایت میں سیف سے نقل کر کے لکھا ہے :

سب کہتے ہیں کہ ابو بکر نے ارتداد کے جنگوں ،عراق پر لشکر کشی اور ایرانیوں سے جنگ میں مرتدوں کے گروہ سے مدد طلب نہیں کی ہے۔ وہ مرتدوں سے سپاہی کی حیثیت سے تو کام لیتے تھے لیکن ان میں سے کسی ایک کو امیر یا سپہ سالارمنتخب نہیں کرتے تھے ۔ سیف نے اس مطلب کو متعدد روایتوں میں بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی زبردست کوشش کی ہے کہ ابوبکر اور عمر کی خلافت کے زمانہ میں اسلام کے سپاہیوں کی کمانڈ ہمیشہ صحابی کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور صحابی کے علاوہ کسی کو یہ عہدہ نہیں سونپا جاتاتھا ۔ لیکن یہ تمام حالات سیف کی مذکورہ روایتوں کے باوجود خلیفہ عمر کی طرف سے ''اِمرؤ القیس'' کی ''قضاعہ'' (۱)کے مسلمان پر حکومت جس نے اس سے پہلے ایک رکعت نماز بھی نہیں پڑھی تھی کے ساتھ واضع تناقص رکھتے ہیں ۔ درج ذیل داستان ملا حظہ فرمائیے:

ابوالفرج اصفہانی اپنی کتاب ''اغانی '' میں یوں لکھتے ہیں :

''اِمرؤ القیس '' نے عمر کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا ۔اور اس سے پہلے کہ اس

____________________

١۔ قضاعہ '' حیدان ، بہراء ، بلی اور جہینہ '' وغیرہ قبائل پر مشمل ایک بڑے قبائل کا مجموعہ ہے ۔ ابن "ابن " حزم نے اپنی کتاب انساب (٤٤٠۔۔٤٦٠) میں اس کی تشریح کی ہے ۔ اس کا مرکز پہلے ''شجر'' اس کے بعد ''نجران ''اور اس کے بعد شام میں تھا ۔ اس قبیلہ کی سرزمینوں کی حدود وسیع تھیں اور یہ شام ، عراق اور حجاز تک پہلی ہوئی تھی ۔ معجم القبائل العربیہ۔ لفظ قضاعہ (٢/٩٥٧) ملاحظہ ہو


نے ایک رکعت نماز پڑھی ہو اس کو خلیفہنے حکومت و ولایت پر منصوب کیا۔

اصفہانی نے داستان کی تفصیل کو مذکورہ خبر کے بعد 'عوف بن خارجہ مّری'' سے نقل کر کے اپنی کتاب اغانی میں یوں لکھا ہے:

عمر ابن "ابن " خطاب کی خلافت کے دوران ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا تھا ۔کہ ایک شخص داخل ہوا ، اس کے سر کے دونوں طرف تھوڑے سے بال دکھائی دیتے تھے ۔اس کے پیر ٹیڑھے تھے، پاؤں کے انگلیا ں ایک دوسرے کے اوپر اور ایڑیاں اس کے شانوں کے موازی تھیں ۔

وہ لوگوں کو دھکا دیتے ہوئے اور ان کے سروں پر سے گزر کر آگے بڑھ رہا تھا اور اس طرح اس نے اپنے آپ کو عمر کے روبروپہنچا دیا اور خلافت کی رسم کے مطابق آداب بجالائے:

عمر نے اس سے پوچھا :

تم کون ہو؟

اس شخص نے جواب دیا:

میں ایک عیسائی ہوں اور میرا نام ''امرئو القیس بن عدی کلبی'' ہے۔

عمر نے اسے پہچان لیا ،اور اس سے پوچھا ۔

اچھا ! کیا چاہتے ہو؟

امرئو القیس نے جواب دیا:

مسلمان ہونا چاہتا ہوں ۔

عمر نے اسے اسلام کی تعلیم دی اور اس نے قبول کیا ۔ اسی اثنا ء میں خلیفہ نے حکم دیاکہ ایک نیزہ لایا جا ئے ، اس کے بعد اس پر ایک پر چم نصب کر کے ''امرؤالقیس ''کے ہاتھ میں دیدیا اور اسے شام کے علاقہ قضایئہ کے مسلمانوں پر حاکم مقر ر کر دیا۔


''امرئوالقیس '' پرچم مضبوطی سے ہاتھ میں لئے ہوئے اس حالت میں خلیفہ سے رخصت ہوا کہ پرچم اس کے سر پر لہرا رہا تھا ....(داستان آخر تک '' اغانی ''میں )

''علقمہ بن علاثۂ کلبی '' کی ارتداد کے بعد حکومت کی داستان بھی سیف کی روایتوں سے تناقض رکھتی ہے ۔ یہ روایت اصفہانی کی ''اغانی'' اور ابن "ابن " حجر کی ''اصابہ '' میں اس کے حالات کی تشریح کے ضمن میں درج ہوئی ہے جو حسب ذیل ہے :

علقمہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں اسلام لایا اور اسے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا تھا ۔ لیکن اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ابوبکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کے دوران اسلام سے منہ موڑ لیا اور مرتد ہوگیا ۔ ابوبکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجبور ہو کر ، اس کے پیچھے خالدبن ولید کو بھیج دیا ۔ جب علقمہ اس موضوع سے باخبر ہوا تو چھپ گیا ۔ کہتے ہیں کہ بعد میں علقمہ معافی مانگ کر خلیفہ کی خدمت میں پہنچا اور دوبارسلام لایا۔

ابن "ابن " حجر نے علقمہ کے بارے میں اپنی کتاب ''اصابہ '' میں مندرجہ ذیل مطالب بھی درج کئے ہیں ؛

عمر نے اپنی حکومت کے دوران علقمہ پر شراب پینے کے جرم میں حد شرعی جاری کی۔ علقمہ اس کی وجہ سے خفا ہو کر مرتد ہوگیا اور روم کی طرف چلا گیا اس نے روم بادشاہ کے پاس جاکر اپنا تعارف کرایا۔ پادشاہ نے اس کا استقبال کیا اور اس کی پہچان کے سلسلے میں اس سے سوال کیا ۔

کیا تم ''عامر بن طفیل '' کے چچیرے بھائی ہو ؟

پادشاہ کے اس طرح سوال کرنے سے علقمہ کی شخصیت مجروح ہوئی ، اس لئے وہ خفا ہو کرغصہ کی حالت میں بولا:

ایسا لگتا ہے کہ آپ مجھے عامر کی نسبت کے علاوہ کسی اور طریقہ سے نہیں پہچانتے؟ اس کے بعد اٹھ کے باہر نکلا اور مدینہ واپس لوٹ کر دوبارہ اسلام لایا۔ لیکن علقمہ کے عمر کی طرف سے حکومت حاصل کرنے کی داستان ابن "ابن " حجر کی '' اصابہ '' اور ابو الفرج اصفہانی کی ''اغانی'' میں درج ہوئی ہے ۔ ہم یہاں پر اسے ''اغانی '' سے نقل کرتے ہیں ؛ علقمہ اسلام سے منہ موڑنے کے بعد ایک مدت تک مدینہ ے دوری اور دربدری تحمل کرنے کے بعد سرانجام دوبارہ مدینہ واپس آیا اور لوگوں کی نظروں سے چھپ کیراہی مسجد ہوا اور ایک کونے میں مخفی ہوگیا ۔


رات کے وقت عمر مسجد میں داخل ہوئے،لیکن علقمہ نے اندھیرے کی وجہ سے صحیح طور پر انھیں نہیں پہچاناکہ یہ داخل ہونے والا کون تھا ۔ عمر کی خالد بن ولید جو علقمہ کا دوست تھا سے شباہت کی وجہ سے علقمہ نے گمان کیا مسجد میں داخل ہونے والا خالد بن ولید ہے ۔ لہذا اس کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہوئے پوچھا:

بالاخر اس نےتمہیں کام سے برطرف کر دیا ؟

گویا عمر نے علقمہ کو پہچان لیا تھا اور اس کی غلط فہمی سے آگاہ ہو چکا تھا ، لہذا اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے چالاکی کے ساتھ خالد کے انداز میں جواب دیا۔

ہاں ! ایسا ہی ہے !

علقمہ نے متاثر انداز میں کہا!

معلوم ہے ، یہ نظر بد اور حسد کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، تمہارے ساتھ یہ ظلمحسد کے وجہ سے ہوا ہے !

عمر نے فرصت کوغنیمت سمجھ کر عیّارانہ انداز میں علقمہ سے پوچھا :

کیا تم مدد کر و گے تاکہ عمر سے اپناا نتقا م لے لوں ؟

علقمہ نے بلافاصلہ جواب دیا۔

خدا کی پناہ ، عمر ہم پر فرمانبرداری و اطاعت کا حق رکھتے ہیں ، ہمیں حق نہیں ہے ان کے خلاف کوئی کام کریں اور ان کے مخالفت کریں !

سرانجام عمر ، یا علقمہ کے خیال میں خالد ۔ اٹھ کر مسجد سے چلے گئے ۔

دوسرے دن عمر لوگوں سے ملاقات کرنے کے لئے آمادہ ہوئے اسی اثنا ء میں خالد علقمہ کے ہمراہ داخل ہوا اور دونو ں ایک ساتھ ایک جگہ پر بیٹھ گئے ۔


تھوڑی دیر کے بعد ایک مناسب فرصت پر عمر نے علقمہ کی طرف رخ کر کے سوال کیا:

اچھا علقمہ ! کیا تم نے وہ باتیں خالد سے کیں ؟

علقمہ ، عمر کا سوال سنکر الجھن میں پڑگیا ، چند لمحہ خاموشی کے بعد اسے کل رات کی وہ ساری باتیں یاد آئیں جو اس نے خالد سے کی تھیں ۔ لہذا فوری طور پر خالد سے مخاطب ہو کر بلند آواز میں پوچھا :

ابو سلیمان ! کیا تو نے اس سے کوئی بات کہی ہے ؟

خالد نے جواب دیا :

وائے ہو ہم تم پر ، خدا کی قسم اس ملاقات سے پہلے میں نے اس کو دیکھا تک نہیں ہے ۔ اس وقت خالد نے فراست سے مطلب کو سمجھ لیا اور بولا:

ایساتو نہیں ہے تو نے ان کو خلیفہ کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے پہلے کہیں دیکھا ہواور غلط فہمی سے میری جگہ پر انھیں لے لیا ہوگا؟

علقمہ نے جواب دیا۔

ہاں خدا کی قسم ، صحیح ہے میں نے تیرے بجائے انھیں دیکھا تھا۔

اس کے بعد خلیفہ سے مخاطب ہو کر بولا :

اے امیرالمؤمنین !آپ نے توخیر و خوبی کے علاوہ کوئی چیز مجھ سے نہیں سنی ہے ، کیا ایسا نہیں ہے ؟

عمر نے جواب دیا : صحیح ہے ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ ''حوران '' ١کی گورنری تمہیں دیدوں ؟

علقمہ نے جواب دیا :

جی ہاں

اس کے بعد عمر نے ''حوران '' کی حکومت کا فران علقمہ کے ہاتھ میں دیدیا اور وہ زندگی کے آخری دن تک اس حکومت پر پرقرار رہا اور وہیں پر وفات پائی ۔''حطیئہ'' نے اس کے سوگ میں یوں کہا ہے:.....( آخر تک )

ابن حجر نے اس داستان کے ضمنمیں یوں اضافہ کیا ہے:

عمر ''حوران ''کی حکومت کا فرما ن علقمہ کے ہاتھ میں دینے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہو کر بولے:

اگر میرے پاس اس قسم کے باوفا اشخاص ہوتے ، تو وہ میرے لئے تمام دنیا کی دولت سے قمیتی تھے


بحث کا نتیجہ :

ہم نے مشاہدہ کیا کہ مکتب خلفاء کے پیرو علماء نے '' ابن "ابن " ابی شیبہ ''سے نقل کیا ہے کہ اس نے ''ایک قابل اعتبار منبع و مصدر '' سے روایت کی ہے کہ ''اسلاف کی رسم یہ تھی کہ جنگوں میں صحابی کے علاوہ کسی کو سپہ سالار نہیں بنایا جاتا تھا.''

ان علماء نے اس قسم کی روایت کے مصدر کے بارے میں ''صحیح ''یا '' حسن'' کی اصطلاحات سے استفادہ نہیں کیا ہے بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ'' ایک ایسے منبع سے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہے''۔ اور اس طرح اس مآخذ کی قدر وقیمت اور اعتبار کو کافی حد تک گھٹا کے رکھدیا ہے۔

ہم نے سیف بن عمر کو بھی یہ کہتے ہوئے پایا:

فوج کے سپہ سالار سب صحابی تھے ۔

ابو بکر جنگوں میں مرتد وں سے مدد حاصل نہیں کرتے تھے اور حکم دیدیا تھا کہ ان سے مدد طلب نہ کریں ۔ اس لئے ان جنگوں میں کسی مرتدنے شرکت نہیں کی ہے !

عمر مرتدوں کو سپاہ کے طور پر قبول کرتے تھے ، لیکن ان میں سے انگشت شمار افراد کے علاوہ ، جن کی تعداد مشکل سے دس افراد تک پہنچی تھی ، کسی کو سپہ سالار نہیں بنایا خود آپ صحابی کو فوج کا سپہ سالار بنانے سے کبھی غفلت نہیں کرتے تھے۔

یہ وہ مطالب تھے جنہیں مکتب خلفاء کے دانشمندوں نے اصحاب کی شناخت اور پہچان کے طور پر ذکر کیا ہے۔

لیکن ہم نے ان سب ادعاو'ں کے باوجود دیکھا کہ خلیفۂ عمر نے اس کے برخلاف'' علقمہ'' کو جو مرتدہوگیاتھا ، ''حوران '' کے حاکم کے طور پر منصوب کیا جبکہ شامی امراء اور حکام اس زمانے میں فوج کی کمانڈ بھی سنبھالتے تھے ، اس مفہوم میں کہ شام کاحاکم اور گورنر وہاں کی فوج پر ، فلسطین کا حاکم وہاں کی فوج پر اور قنسرین کا فرمان روا علاقہ قنسرین کی فوج کا کمانڈر بھی تھا ۔

خلاصہ یہ کہ ہر علاقہ کا حاکم و فرماں روا صلح کے زمانے میں مطلق حاکم اور جنگ کے زمانے میں افسر اور سپہ سالار بھی ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ خلیفۂ دوم نے ایک نو مسلم عیسائی کے ہاتھوں میں حکمرانی کا پرچماس وقت دیدیا جب کہ اسلام لانے کے بعد اس نے ابھی تک ایک نماز بھی نہیں پڑھی تھی ، جبکہ اس زمانے کے رسم کے مطابق ایسا پرچم ایسے شخص کو دیا جاتا تھا جو ایک قبیلہ کو جنگ میں شرکت کرنے کے لئے آمادہ کرتا تھا۔کیونکہ ان دنوں فوج منظمکرنے کا کام قبیلوں کی بنیاد پر ہوا کرتا تھا اور یہ رسم جنگ صفین اور ، حادثۂ کربلا بلکہ اس کے بعد بھی رائج تھی ۔


اس بنا پر خلیفۂ عمر نے ''امرئو القیس کلبی '' کو جو قبیلہ کلب سے تھا اور قضاء نام کے ایک بڑے قبیلہ کا ایک جزتھا ، تمام قبائل قضاعہ پر حاکم مقرر کیا اور اس طرح سپاہ قضاعہ کی سپہ سالاری بھی اسے سونپ دی تا کہ وہ ان کی مدد سے رومیوں کے ساتھ جنگ میں شرکت کر ے اور اسلام کی طرف سے کفر و الحاد سے جنگ کرے !

اس حساب سے مکتب خلفاء کے علماء نے صحابی کی پہچان کے لئے جو قاعدہ وضع کیاہے وہ باطل اور بے بنیاد ہے ۔ کیونکہ اس کا مآ خذ بھی ضعیف ہے اور جو کچھ کہا گیا ہے تاریخی واقعات اور روداد سے بھی فرق بھی رکھتا ہے۔

اس کے باوجود انہی علماء نے اس خیالی اور جھو ٹے قاعدہ کی خوش فہمی پر دسیوں بلکہ سینکڑوں جعلی چہروں کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قرار دے کر ان کے حالات لکھے ہیں ۔

ہم آنے والی بحث میں سیف کے چند ایسے جعلی اصحاب کے حالات پر روشنی ڈالیں گے جن کو اس نے خاص طور پر سپہ سالار کے عہدوں پر فائز کیا ہے اور مختلف و متعدد روایتوں کے ذریعہ ان کے نام پر اخبار جعل کئے ہیں تاکہ اس طرح اپنے جھوٹ کو علما ء کی نظروں سے چھپا سکے اور اس کے علاوہ اسلام کی احادیث کر شہبہ میں ڈال کر ہمارے مصادر و مآخذ کو ہے اعتبار اور مجروح کر دے۔

سیف کے اس خطرناک مقصد کے بارے میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ بعض علماء نے سیف کی اس سلسلے میں قرار واقعی مدد کی ہے اور اس طرح اس کو اپنے مقاصد تک پہنچے کی خوش فہمی کو اس پر اور اس کی احادیث پر اعتماد کر کے شرمندہ تعبیر کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس کے اسلام کے خلاف ظلم و خیانت پر مبنی کئے گئے افسانوی اصحاب و سورمائوں کو اسلام کے مصادر و مآ خذ میں قرار دے کر انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں ثبت کیا ہے۔ کیا پتا ہے شاید سیف نے اپنی اتنی کامیابیوں کو خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گ


مصادر و مآ خذ

صحابی کی پہچان کے سلسلہ میں '' ابن ابی شیبہ '' کی روایت کے بارے میں ابن حجر کا بیان :

١۔'' ابن "ابن " حجر ''کی کتاب '' اصابہ '' (١/١٣) اور (١/١٦)

ابن ابی "ابن " شیبہ کی روایت کے بارے میں خبری منابع و مآخذ :

١ ۔ تاریخ طبری ١٣ ھ کے حوادث کے ضمن میں (١/٢١٥١)

٢۔ تاریخ ابن "ابن " عساکر (١/٥١٤)

مرتدوں کے ساتھ عمر و ابو بکر کی روش پر سیف کی روایت :

١۔ تاریخ طبری (١/٢٠٢٠تا٢٠٢١)اور (١/٢٤٥٧ تا٢٤٥٨)اور (١/٢٢٢٥)

''امرئو القیس'' کی حکوت کی داستان:

١۔ابوافرج اصفہائی کی ''اغانی '' طبع ساسی (٤ا/١٥٧۔١٥٨)

٢۔ابن حزم کی ''جمھرہ '' (ص٤٥٧) بطور خلاصہ

''علقمہ بن علاثہ ، کلبی ''کی داستان :

١۔ابن حجر کی ''اصابہ'' (٢/٤٩٦۔۔٤٩٨)

٢۔اصفہانی کی ''اغانی'' (١٥/٥٦)

علقمہ و عامر کے اختلاف کی داستان:

١۔ ''اغانی '' (١٥/٥٠تا٥٥)

٢۔ ابن حزم کی ''جمھرہ'' (ص٢٨٤)

قضاعہ کا نسب:

ابن حزم کی '' جمہرہ انساب '' (٤٤٠۔٤٦٢)


ا س کتاب میں درج سیف کے جعلی اصحاب کی فہرست

ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد سے تیسری جلد تک سیف کے ٥٣ جعلی اصحاب کا تعارف کرایا

اب اس جلد میں اس کے مزید چالیس جعلی اصحاب کا حسب ذیل تعارف کراتے ہیں ۔

پہلا حصہ :

عراق کی جنگوں میں سیف خلق کردہ افسراور سپہ سالار: (١)

٥٤۔بشر بن عبداﷲ

٥٥۔ مالک بن ربیعہ تیمی

٥٦۔مزھاز بن عمر و عجلی

٥٧۔حمیضہ بن نعمان بارقی

٥٨۔جابر اسدی

٥٩۔عثمان بن ربیعہ ثقفی

٦٠۔سواد بن مالک تمیمی

دوسرا حصہ:

عراق کی جنگوں میں افسر اور سپہ سالار (٢)

٦١۔ عمرو بن وبرہ

٦٢۔حمّال بن مالک بن حماّل

٦٣۔ ربّیل بن عمروبن عبدری

٦٤۔ طلیحہ بن بلال قرشی

٦٥۔ خلید بن منذربن ساوی عبدی

٦٦۔حارث بن یزید عامری (دوسرا!)


تیسرا حصہ :

مختلف قبائل سے چند اصحاب

٦٧۔ عبداﷲ بن حفص قرشی

٦٨ ۔ ابوحبیش عامر کلابی

٦٩۔ حارث بن مرّہ جہنی

چو تھا حصہ:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم عصر ہونے کے سبب بنے اصحاب

٧٠ ۔ قرقرہ یا قرفہبن زاہر تیمی

٧١۔ نائل بن جعشم

٧٢۔ سعد بن عمیلہ فزاری

٧٣ ۔ قریب بن ظفر

٧٤ ۔ عامر بن عبدالا سد

پانچواں حصہ:

ارتداد کی جنگوں کے افسر اور سپہ سالار

٧٥ ۔ عبدالرحمان ابوالعاص

٧٦۔ عبیدة بن سعد

٧٧ ۔ خصفہ تیمی

٧٨۔ یزید بن قینان

٧٩۔صیحان بن صو حان

٨٠ ۔عباد ناجی

٨١۔شخریت


چھٹا حصہ :

ابو بکر کی خدمت میں پہنچنے کے سبب بننے والے اصحاب

٨٢۔ شریک فزاری

٨٣۔ مسور بن عمرو

٨٤۔معاویہ عذری

٨٥۔ذو یناق و شہر ذو یناف

٨٦۔معاویۂ ثقفی

ساتواں حصہ:

ابوبکر کی جنگوں میں شرکت کرنے کے سبب بننے والے اصحاب

٨٧۔ سیف بن نعمان لخمی

٨٨۔ ثمامہ بن اوس بن ثابت

٨٩۔مہلہل بن یزید ۔

٩٠۔ غزال ھمدانی

٩١۔معاویہ بن انس

٩٢۔جراد بن مالک نویرہ

٩٣۔عبد بن غوث حمیری ، جو ابوبکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سپاہ کی مدد کرنے کے سبب بعنوان صحابی پہچانا گیا ہے :


پہلا حصہ

عراق جنگوں میں سعد وقاص کے ہمراہ جنگی افسر اور سپہ سالار (١)

٥٤۔ بشر بن عبداﷲ

٥٥۔ مالک بن ربعیہ تیمی ( تیم رباب)

٥٦۔ہزھاز بن عمرو عجلی

٥٧۔ حمیضہ بن نعمان بارقی

٥٨۔ جابر اسدی

٥٩۔عثمان بن ربیعۂ تقفی

٦٠۔ سواد بن مالک تمیمی


٥٤ واں جعلی صحابی بُشر بن عبداﷲ

ابن "ابن " حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایاگیا ہے :

بشربن عبداﷲ :سیف نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں لکھا ہے کہ خلیفہ عمر بن خطاب نے ١٤ھ کو اسے '' سعد وقاص'' کے ہمراہ بھیجا۔

سعد نے اس ماموریت کے دوران ''بشر '' کو'' قیس'' کے ایک ہزار جنگجوؤں کی سرپرستی پر منتخب کیا ہے ۔

طبری نے بھی انہی مطالب کو اپنی ''تاریخ '' میں درج کیا ہے ۔ اور ابن ابی "ابن " شبیہ نے اپنے مصادر سے روایت کی ہے کہ قدما میں رسم تھی کہ جنگجوؤں میں صحابی کے علاوہ کسی کو سپہ سالار کے طور پر منتخب نہیں کیا جا تا تھا (ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن حجر نے حرف ''ز'' کو اپنی بات کے اختتام پر اس لئے کیا کر تا ہے تاکہ یہ بتائے کہ اس نے اس صحابی کے نام کو دوسرے تذکرہ نویسوں پر استدر اک کر کے اسے اضافہ کیا ہے ۔

بُشر کے بارے میں ابن "ابن " حجر کے مطالب تاریخ طبری میں یوں ذکر ہوئے ہیں :

... اور'' قیس عیلان '' کے ایک ہزار جنگجو اس سعد وقاص کے ہمراہ عراق کی طرف روانہ ہوئے اور ان کی کمانڈ بُشر بن عبداﷲھلالی، کر رہا تھا۔

یہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ طبری نے ''بشر'' کو ''ہلالی '' کے عنوان سے پہچنوایا ہے اور یہ تعارف اس کی طرف سے نہیں ہے بلکہ سیف کی طرف سے ہے ۔ اس بنا پر سیف نے اپنی اس خیالی تخلیق کو قبیلۂ ''ہلال بن عامر صعصعة بن..... عیلان بن مضر''سے خلق کیا ہے ۔

اس داستان کے راوی:

سیف نے ''بشر بن عبداﷲ ''کے افسانہ میں درج ذیل ناموں کو راویوں کے طور پر ذکر کیاہے۔

١۔''محمد و مستینر'' کہ دونوں اس کے خیالی راوی ہیں ۔

٢۔''طلحہ و حنش'' دونوں افراد مجہول اور نامعلوم ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ سیف نے ان سے کن کو مراد لیا ہے !


اس افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما:

درج ذیل علماء نے افسانہ ''بشر ''کی اشاعت میں سیف کی نمایا ں مدد کی ہے:

١۔امام المورخین ،محمد بن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں سیف کے نام کے ساتھ ۔

٢۔ ابن "ابن " اثیر نے اپنی تاریخ میں طبری سے نقل کرکے ۔

٣۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں تاریخ طبری سے نقل کر کے ۔

٤۔ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں ، سیف کی کتاب ''فتوح ''اور تاریخ طبری سے نقل کرکے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ابن "ابن " حجر نے ''بشر '' کو اس لئے اپنی کتاب کے پہلے حصہ میں ذکر کیا ہے کہ سیف کے کہنے کے مطابق قدمانے ''بشر '' کو مدینہ کو ترک کر کے قادسیہ کی جنگ میں شرکت کرنے کیلئے عراق کی طرف روانہ ہوتے وقت ''قیس عیلان ''کے ایک ہزار جنگجوؤں کی کمانڈ سونپی تھی۔

اس کے علاوہ ابن "ابن " حجر نے ''ابن ابی شیبہ'' کی بات پر اعتماد اور توجہ بھی کی ہے ۔ جہا ں اس نے ایک مجہول ماخذسے یہ کہتے ہوئے کہ ''اس (ماخذ)پر کوئی اعتراض نہیں ہے '' بیان کیا ہے کہ قدیم جنگوں میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار کے عنوان سے منتحب نہیں کر تے تھے !!

اورہم نے یہ بھی دیکھا کہ یہ روایت تاریخی حقائق اورموجودہ ما خذ و مصادر سے کتنا تناقص رکھتی ہے !!

اس کے علاوہ ''بشر''کی ''عبدالقیس''کے ایک ہزار جنگجوؤں کی سپہ سالاری کی روایت صرف سیف کی زبانی نقل ہوئی ہے اور کسی دوسرے مصدر و منبع میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے۔

سرانجام ہم نے بنیادی طور پر اس صحابی بشر بن عبدا للہ ہلالی اور اس داستان کے راویوں کو سیف بن عمر تمیمی افسانہ ساز کے علاوہ کسی اور منبع خبریمیں نہیں پایا !


ان مقدماتی باتوں کے مدنظر معلوم ہوا کہ داستان ''بشر بن عبداﷲ''کا ''موضوع ،وجود ،اخبار اور راوی '' سب سرا پا جھوٹ اور جعلی تھے ، یہ ایک افسانہ ہے جسے سیف نے گڈھ لیا ہے ۔تاکہ علماء کو اسلام کے اصلی راستہ سے منحرف کرے ۔ ستم ظریفی ہے کہ'' محمدبن جریرطبری اور ابن حجر'' جیسے نامور علماء نے اس افسانہ اور سیف کے دیگر افسانوں کو اپنی معتبر و گراں قدر کتابوں میں درج کر کے سیف کے منحوس مقاصد کی خدمت اور اسلام کے ساتھ....

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر چہ ابن "ابن " حجر نے اس خبر کے مصدر (قدما کی رسم یہ تھی کہ جنگوں میں صحابی کے علاوہ ....)کو ابن ابی شیبہ پہنچایا ہے ۔ لیکن یہ نہیں کہا ہے کہ انہوں نے روایت کو ''ابن ابی شیبہ ''کی کس کتاب سے نقل کیا ہے !

ہم بعد میں یہ بھی دیکھیں گے کہ ابن "ابن " حجر اپنے دیگر اصحاب کا تعارف کراتے وقت صرف '' ابن ابی شیبہ '' کی مذکورہ روایت کو نقل کرنے پرہی اکتفا کی ہے اور اس کے مصدر کا بھی نام نہیں لیتا ہے ۔

مصادر و مآ خذ

بشر بن عبداﷲ ،کے حالات:

١۔ ابن "ابن " حجر کی '' اصابہ '' (١/١٥٧) حصہ اول حرف ''ب '' حالات کی تشریح٦٦٥- سعد وقاص کی عراق کی طرف عزمیت اور بشر کی سپہ سالاری:

١۔ تاریخ طبری ١٧ ھ کی روداد (١/ ٢٢١٩)

٢۔ تاریخ ابن "ابن " اثیر (٢/٣٤٧)

٣۔ تاریخ ابن "ابن " خلدون (١/٣١٦)

سیف کے جعلی صحابی کا شجرہ نسب:

١۔ ''اللباب'' (٣/٢٩٦)

٢۔ ابن "ابن " حزم کی ''جمھرہ'' (٢٦٩۔٢٧٣)


٥٥ واں جعلی صحابی مالک بن ربیعہ

ابن "ابن " حجر کی کتاب ''اصابہ ''میں یہ صحابی یوں پہچنوایا گیا ہے :

مالک بن ربیعہ بنی تیم ربا ب ١سے تعلق رکھتاتھا ۔ وہ سعد بن ابی وقاص کا ایک کرنیل تھا ، جس نے خلافت عمر کے اوائل میں اس کے ساتھ عراق کی طرف عزیمت کی تھی ۔

قادسیہ کی جنگ کے سپہ سالار اعظم سعد وقاص نے مالک بن ربیعہ کو اپنی سپاہ کے ایک دستہ کی کمانڈ سونپی تھی ۔

ابو جعفر محمدبن جریر طبری نے بھی مالک بن ربیعہ کے بارے میں ان ہی مطلب کو درج کیا ہے اورہم اسے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ قدما کی یہ رسمتھی کہ وہ جنگ میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار معین نہیں کرتے تھے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

مالک بن ربیعہ کے بارے میں ابن "ابن " حجر کی تشریح کے تین حصے ہیں ، پہلا حصہ شجرہ ٔنسب پر مشتمل ہے ۔ہم

____________________

١۔ ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں '' بنی تیم مرة رباب '' آیا ہے ،ہم نے انساب عرب میں اس قسم کے نسب کو نہیں پایا ہے یہ وہی ''بنی تیم رباب ''ہونا چاہئے ، جس کا ہم نے متن میں ذکر کیاہے ۔


حسب ذیل اس پر بحث کرتے ہیں ۔

١ ۔ عراق کی ''جنگ ِ قادسیہ میں سعد بن ابی وقاص کی طرف سے قبیلۂ تیم رباب کے ''مالک بن ربیعہ''کو ایک فوجی دستہ کے سپہ سالار کے عنوان سے انتصاب کی روایت صرف تاریخ طبری میں وہ بھی سیف بن عمر تمیمی سے نقل کر کے درج کی گئی ہے کہیں اورنہیں ہے!!

٢۔ اس انتصاب اور اس سے مربوط دیگر و قائع کے بارے میں طبری نے صراحت کے ساتھ سیف کانام لے کر اپنی کتاب کے چھ صفحات پر مفصل روشنی ڈالی ہے ۔ شاید خبر کا طولانی ہونا سبب بن گیا ہوکہ علامہ ابن "ابن " حجر کی نظر اس روایت کے اصلی منبع یعنی سیف بن عمر پر نہ پڑی ہو اور اس طرح اس نے مالک بن ربیعہ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے صراحت کے ساتھ ''تاریخ طبری ''کو اس کا منبع بیان کیاہے۔

قادسیہ کی جنگ میں فوج کے ایک دستہ کے لئے''مالک بن ربیعہ کے سپہ سالار بننے کے سلسلہ میں جس نکتہ سے استفادہ کیا گیا ہے ، اور جسے تاریخ طبری نے درج کیاہے ، حسب ِ ذیل ہے؛

سیف نے ''طلحہ '' سے اس نے '' کیسان صنبیہ کی بیٹی '' سے اور اس نے قا دسیہ کی جنگ کے ایک اسیر سے روایت کی ہے ....(یہاں تک کہ وہ کہتاہے:)

اسی طرح اسلامی فوجی کے سپہ سالار اعظم سعد وقاص نے '' مالک بن ربیعہ تیمی تیم رباب وائلی'' کو''مساور بن نعمان تیمی ربیعی '' کے ہمراہ ایک اور فوجی دستہ کے کمانڈر کے طور پر منتخب کیا۔

ان دو کمانڈرو ں نے اپنے ماتحت افراد کے ساتھ علاقہ''قیوم '' پر حملہ کیا۔ قبائل '' تغلب ونمر'' کے اونٹ ہنکالے گئے، اور اس علاقہ کے لوگوں کا قتل عام کیا اور فاتحانہ طور پر صبح سویرے سعد کی خدمت میں حاضر ہوگئے (طبری کی بات کا خاتمہ )

٣۔ ہم نے ابن "ابن " حجر کی بیان کردہ روایت کہ '' قدما صحابی کے علاوہ کسی دوسرے کو سپہ سالار ی کے عہدہ پرمنتخب نہیں کرتے تھے ''پر پہلے ہی مفصل بحث کی ہے ۔


اور ہمیں یاد ہے کہ ابن حجر نے مذکورہ خبر کو ''بشر بن عبداﷲ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ''ابن ابی شیبہ '' سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔

اور ہم یہ بھی نہیں بھولے ہیں کہ ابن "ابن " حجر نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں تاکید کی ہے کہ کتاب ''اصابہ '' کو تین حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے پہلے حصہ کو سپہ سالار ی کے عہدہ فائز اصحاب کے لئے مخصوص کرنے کا سبب وہی '' ابن ابی شیبہ '' کی روایت تھی ۔

٤۔اب رہا ، سیف کے اس جعلی صحابی کا نسب ،ابن حجر نے اپنی کتاب اصابہ میں اسے ''تیمی اور بنی تیم مرّہ رباب ''کے نام سے پہچنوایا ہے اور ہم نے کہا ہے کہ یہ نسب ظاہراً غلط ہے ، اور صحیح ''تیم رباب '' ہے ''مرة '' نہیں ہے ۔

قبائل '' بنی منات '' کے ایک مجموعہ کو ''رباب'' کہاجاتاہے۔ انہوں نے اپنے چچیرے بھائیوں ''یعنی بنی سعد منات ''کے خلاف قبیلۂ ''ضبّہ ''کے ساتھ پیمان باندھا تھا ۔ انہوں نے اس پیمان کے عقد کے وقت یکجہتی کے طور پر اپنے ہاتھوں کو ''رُب ''سے پرایک برتن میں ڈبویاتھا۔

اوراسی مناسبت سے ''تیم بن عبد منات ''کے فرزندوں نے ''تیم رباب ''کی شہرت پائی ہے۔

لیکن یہ کہ تاریخ طبری میں مالک بن ربیعہ کی نسبت ''بنی تیم رباب وائلی ''سے دی گئی ہے ہم نہ سمجھ سکے کہ ''وائلی ''سے سیف کی مراد کیا تھی۔ اگر وائلی سے مراد ''عوف بن عبد منات ادّ ''کے نواسہ ''وائل بن قیس '' کی طرف نسبت ہے جو'' تیم رباب'' کے رشتہ دار تھے تو وہ ایک دوسرے کے چچیرے بھائی ہیں ۔

اگر ''وائلی ''سے سیف کا مقصد قبائل سیاء سے جذام کے نواسہ ''وائل بن مالک '' سے قرابت داری ہو تو یہ قبیلہ ''تیم رباب '' قبائل عدنان میں سے ہے اور یہ آپس میں جمع نہیں ہوسکتے اور نسب کے لحاظ سے آپس میں کافی اختلاف و فاصلہ رکھتے ہیں ۔

ہم نہیں جانتے کہ سیف اس مسئلہ اور ان دو نسب کی دوری سے آگاہ تھا یا اپنے شیوہ کے مطابق اس نے عمداً ''بنی تیم رباب وائلی ''لکھا ہے اور اس کا مقصد دانشمندوں کو حقا ئق سے گمراہ اور شبہ سے دو چار کرنا اور تحقیق سے سلسلے میں اختلاف ایجاد کرنا تھا؟


یایہ کہ خوش فہمی کے عالم میں یہ قبول کریں کہ سیف میں کسی قسم کا چھل کپٹ نہیں تھا بلکہ وہ ایک غلط فہمی سے دوچار ہوا ہے ، تو یہ بعید نظر آتا ہے کیونکہ سیف کی تحریروں سے صاف ظاہر ہے کہ وہ انساب عرب کے بارے وسیع علم رکھتا تھا۔

تیسری صورت یہ ہے کہ انساب عرب کے بارے میں سیف دوسرے صاحب تالیف نسب شناسوں کی نسبت کافی اطلاعات رکھتاتھا اور وہ ایسے قبیلوں کو بھی جانتاتھا کہ دوسرے ان سے لا علم تھے اسلئے اس نے اپنے مالک بن ربیعہ کو ایسے ہی قبیلوں سے نسبت دی ہے !!

بہرحال بعید نہیں ہے کہ ابن "ابن " حجر نے سیف کے مالک بن ربیعہ کے نسب میں اس نقص کو پاکر مالک بن ربیعہ کے حالات پر شرح لکھتے وقت اس کا شجرہ نسب لکھنے سے پرہیز کیا ہے۔

افسانہ مالک کے مآخذ کی پڑتال

سیف نے اپنے مالک بن ربیعہ کی قادسیہ کی جنگ میں فوجیوں کے ایک دستہ کی سپہ سالار ی کی خبر کو بقول :

طلحہ نے کیسان ضبیہ کی بیٹی سے '' اس نے جنگ قادسیہ کے ایک اسیر سے نقل کیا ہے!! اور نہ ہم جانتے ہیں اور نہ کوئی دوسرا ستارہ شناس کہ سیف کا یہ طلحہ کون ہے !

کیسان ضبیّہ کی بیٹی کا کیا نام تھا اور خود کیسان ضبیہ کون ہے ؟!

بالآخر قادسیہ کی جنگ کے اس بدقسمت اسیر کا نام کیاتھا؟!

ہم نے بیکار اپنا قمیتی وقت صرف کر کے مختلف کتابوں ، روائی مناطع اور اسلامی مصادر ومآ خذ میں جستجوں کی تاکہ شائد کیسان ضبیہ کی بیٹی کا کہیں سراغ ملے۔ لیکن ہماری یہ ساری تلاش بے نتیجہ ثابت ہوئی ۔


گذشتہ بحث کا خلاصہ اور نتیجہ :

ہم نے دیکھا کہ سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے سعد وقاص کے حکم سے ''مالک بن ربیعہ ''اور ''مساور '' کی ایک فوجی دستے کی سپہ سالاری ، اور ان کے علاقہ ''قیوم '' پر حملہ کرنے کی روایت بیانں کی ہے ۔

اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ سیف نے ''مالک بن ربیعہ ''کے لئے ایک حیرت انگیز شجرہ نسب گھڑلیا ہے اور اسے کسی پروا کے بغیر اپنی کتا ب میں میں درج کیاہے ، نامعلوم اور مجہول راویوں کو کسی لحاظ کے بغیر سند اور مأخذکے طور پر پہچنوایا ہے!

اور آخر ہم میں نے محترم عالم ابن "ابن " حجر کو دیکھا کہ اس نے سیف کے افسانہ کے دو خیالی اشخاص مالک و مساور کورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مسلح اور حقیقی اصحاب کے طور پر پہچنوا کر ان کے حالات کی شرح لکھی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سیف کے افسانہ میں ''مالک اور مساور '' کے ''فیوم '' نامی ایک جگہ پر چڑھائی کا ذکر آیا ہے ۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ''فیوم'' کہاں پر واقع ہے ۔

جہاں تک معلوم ہے ''فیوم '' مصر میں ایک معروف جگہ ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ سیف اس سے پورے طور پر مطلع تھا اور لہذا اس نے اسی کی ہم نام جگہ کو عراق میں خلق کیا ہے!

یہ اسلامی جغرافیہ شناس اور محترم عالم یاقوت حموی ہے جس نے سیف کی باتوں پر اعتماد کر کے اس کے ''فیوم '' کو اپنی کتاب ''معجم البلدان'' میں خصوصی طور پر جگہ معین کر کے لکھاہے :

''فیوم '' دوجگہوں کانام ہے ۔ ایک مصر میں ہے اور دوسری عراق میں شہر ''ھیت ''کے نزدیک۔

اس کے بعد یاقوت حموی نے اپنی کتاب میں مصر کے ''فیوم '' کے بارے میں تین صفحوں پر مفصل تشریح کی ہے ۔آخر میں چونکہ عراق کی ''فیوم '' نامی جگہ کے بارے میں کچھ تھا ہی نہیں جسے وہ لکھتا ،اس لئے صرف اتنا لکھنے پر اکتفاکرتاہے:

یہ فیوم عراق میں شہر ''ھیت '' کے نزدیک ہے ۔


ایسا لگتا ہے حموی کے شہر ''ھیت '' کو انتخاب کرنے کا سبب یہ تھا کہ سیف کے افسانہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ''فیوم '' نامی جگہ قادسیہ کے اطراف میں واقع تھی ۔چونکہ ھیت قادسیہ کے نزدیک ہے ۔لہذا یاقوت حموی نے بھی اندھا دھند ایک اندازہ سے کہہ دیا کہ ''فیوم ''عراق کے شہر ھیت کے نزدیک واقع ہے ۔ جبکہ یہ خبر بنیادی طور پر جھوٹ اور من گڑھت ہے اور ''فیوم '' نامی یہ جگہ بھی سیف کے دوسرے مطالب کی طرح اس کے خیالات کی تخلیق ہے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتی ہے ۔

یاقوت نے اس غلط فہمی کو اپنی دوسری کتاب '' المشترک ''جو ہم نام مقامات کے لئیمخصوص ہے میں تکرار کرتے ہوئے لکھاہے :

''فیوم '' دو جگہوں کا نام ہے ''

اس کے بعد جو کچھ اس سلسلے میں اپنی ''معجم'' میں درج کیا ہے اسے یہاں پر''المشترک''میں بھی ذکر کرتا ہے۔

یہاں پر یہ گمان تقویت پاتا ہے شاید سیف بن عمر نے اپنے افسانہ کے خیالی اداکار مالک بن ربیعہ تیمی کے نام کو بھی ''مالک بن ربیعہ ،ابو اسید ساعدی انصاری ''یا '' ابن "ابن " وھب قرشی '' یا ان کے علاوہ کسی اور کے نام سے لیا ہوگا تاکہ علماء و محققین کو گمراہ کرکے حیران و پریشان کر ے کیونکہ اصحاب میں اسی ہم نامی کے مسئلہ نے کتنے محققین اور علماء کو پریشان اور تشویش سے دو چار کر کے گمراہی اور غلطی کا مرتکب بنایا ہے۔

مصادر و مآخذ

مالک بن ربیعہ کے حالات:

١۔ابن حجر کی ''اصابہ '' (٣/٣٢٤) پہلا حصہ

٢۔ تاریخ طبری (ا/٢٢٤٤۔٢٢٤٥) قادسیہ کے وقائع کے ضمن میں ۔

''رباب ''کے نسب کے بارے میں :

١۔''جمہرہ انساب العرب '' ابن "ابن " حزم (١٩٨)

٢۔ لباب الانساب'' لفظ ''رباب '' (١٢٠)

٣۔ ''عجالہ ھمدانی'' لفظ ''وائلی '' (١٢٠) اور جذامی (٣٨)


مالک بن ربیعہ انصاری کے حالات :

١۔ابن حجر ''اصابہ '' (٣/٣٢٤)

٢۔ابن سعد کی'' طبقات'' (٥/٢٠٠)

٣۔''صفین '' نصر مزاحم (٥٠٦)

٤۔ تقریب التہذیب

٥۔عقدالفرائد

٦۔مسند احمد حنبل


٥٦واں جعلی صحابی ہزہاز بن عمرو

ابن "ابن " حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں ہزہاز کی زندگی کے حالات پر یوں روشنی ڈالی گئی ہے:

ہزہاز بن عمروعجلی:

طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ جب '' ابو عبیدہ ثقفی '' پیدل اور سوار فوجوں کے دستوں کو سعد وقاص کی نصرت کے لئے عراق بھیجنے کے لئے منظم کر رہا تھا ، تو اس نے عمر کے حکم سے دو دستوں میں سے ایک کی کمانڈ''ہزہاز'' کے ذمہ سونپی ۔ ''ہزہاز ''نے قادسیہ کی جنگ کے ''اغواث ''نامی دوسرے دن میدان کارزار میں قدم رکھا اور سعد کی سپاہ کی مدد کی ۔

ابن "ابن " فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب استعیاب سے استدراک کیاہے ۔

اس سے پہلے بھی ہم نے کہا ہے کہ قدماجنگجوں میں صحابی کے علاوہ کسی کو سپہ سالار منتخب نہیں نہیں کرتے تھے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

جو کچھ بیان ہوا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن "ابن " حجرنے ہزہاز کے بارے میں تاریخ طبری کو اپنی روایت کا ماخذ قرار دیا ہے ۔ ہم بھی اس کی تلاش کریں گے کہ طبری نے اس روایت کو کہاں سے نقل کیا ہے اور اپنی اس روایت کے مصدر کے طور پر کسی کا یا کن اشخاص کا نام لیا ہے ۔

طبری نے پوری کی پوری روایت اور وہ روایت کی تفصیل جس کے سلسلے میں ابن "ابن " حجر قادسیہ کی جنگ کے ضمن میں اشارہ سیف سے نقل کر کے اپنی کتاب کے تین صفحوں میں درج کیاہے اورہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اس روایت کے منبع کے طور پر صراحت کے ساتھ سیف کا نام لیاہے۔

اس لحاظ سے ایسا لگتا ہے کہ طبری کی روایت کا طولانی ہونا اس امرکا سبب بنا ہے کہ روایت کا مصدر جو سیف پر تمام ہوتاہے علاّمہ ابن "ابن " حجر کی نظروں سے پوشیدہ رہا۔ اس لئے انہوں نے داستان کو طبری سے نقل کیا ہے اور اس کے اصلی راوی یعنی سیف کا کہیں نام نہیں لیا ہے ۔


داستان ہزہاز کے راوی :

سیف نے اپنے مآ خذ کے طور پر ''محمد ''کانام لیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ''محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ '' ہے اور اس کے بارے میں ہم نے کہا ہے کہ پہلے وہ سیف کے خیالات کا پروردہ ہے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتا ہے ۔

سیف کی نظر میں ہزہاز کا نسب :

سیف نے اپنے جعلی صحابی کا نسب وعجلی منتخب کیا ہے اور یہ عدنان کے ایک قبیلہ سے صعب بن علی بن بکروائل کے نواسہ عجل بن لجیم'' سے ایک نسبت ہے۔

لیکن جس داستان کی طرف ابن حجری نے اشارہ کیاہے ، ہم نے اسے '' قعقاع بن عمرو تمیمی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ''تاریخ طبری ''سے نقل کر کے اسی کتاب کی پہلی جلد میں مفصل طور پر درج کیا ہے اور اس کی تکرار کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں ۔

یہ قابل ذکر ہے کہ اسی طبری نے خلیفہ عمر کے حاکم کے مطابق سپہ سالاراعظم سعد وقاص کے قادسیہ کی جنگ میں ''ابو عبیدہ'' کی طرف سے کمک رسانی کے موضوع کو ابن "ابن " اسحاق سے نقل کر کے تفصیل سے لکھاہے ۔ لیکن اس میں کسی صورت میں قعقاع اور اس کے کارناموں کا ذکر نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ''ہزہاز '' اور اس کے ماتحت فوج اور اس کے قادسیہ کی جنگ کے دوسرے دن دس دس افرا د کے گروہوں میں شرکت کا کہیں سراغ نہیں ملتا!

بحث و تحقیق کا نتیجہ:

اس جانچ پڑتال سے یہ نتیجہ حاصل ہوتاہے کہ سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے ''ہزہاز عجلی ''کی خبر اور قادسیہ کی جنگ میں دو فوجی دستوں میں سے ایک پر اس کی کمانڈکی روایت کی ہے اور طبری نے اسے اپنی تاریخ میں سیف سے نقل کر کے درج کیاہے ۔

ابن "ابن " حجر نے بھی تاریخ طبری میں ذکر ہوئی اس خبر پر اعتماد کرتے ہوئے اور اس بات پر کہ ''جنگوں میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار منتخب نہیں کرتے تھے '' ''ہزاز '' کو صحابی تصور کر کے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں مخصوص جگہ معین کرتے ہوئے اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔


ہم نے ''فوج کے سپہ سالار ''کے عنوان کے تحت اسی کتاب کے مقدمہ میں اس روایت کے مصدر پر اور یہ کہ مذکورہ خبر تاریخی حقائق اور رود ادوں سے کس حدتک مطابقت رکھتی ہے ، تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

ابن حجر نے کہا ہے کہ ''ابن فتحون '' نے '' ہزہاز '' کو ابن "ابن " عبدالبر کی '' استیعاب '' پر اضافہ کر کے اس سے استددراک کیا ہے ۔

کیا معلوم شاید ''ابن ابی شیبہ '' کی روایت اور صحابی کی شناخت کے لئے جعل کئے گئے قاعدہ نے ابن "ابن " فتحون کو فریب دیکر اسے اسی قاعدہ کے تحت سیف کے ہزہاز کو صحابی پہچاننے پر مجبور کیاہو!!

مصادر و مآ خذ

ہزہاز بن عمرو کے حالات :

١۔ابن حجر کی ''اصابہ '' (٣/٥٧٠)حصہ اول ،شرح حال نمبر : ٨٩٥٩

ہزہاز کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔تاریخ طبری (١/٢٣٠٥)قادسیہ کی جنگ کے وقائع نیز ابن "ابن " اسحاق سے اس کی روایت۔ (١/٢٣٤٩۔٢٣٥٠)

عجلی کا شجرہ نسب :

١۔''لباب الانساب '' (٢/١٢٤)

٢۔ابن حزم کی ''جمھرۂ انساب '' (٣٠٩)اور(٣١٢۔٣١٣)

٥٧واں جعلی صحابی حمیضتہ بن نعمان بارقی

ابن "ابن " حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا تعارف یوں کرایاہے:


حمیضتہ بن نعمان بن حمیضئہ بارقی:

سیف نے روایت کی ہے کہ خلیفہ عمر نے اسے ''سراة'' کے باشندوں پر ممور کیا، اور ان کی کمانڈ بھی اسے سونپی ہے ۔ اس کے بعد ١٤ ھ کے اوائل میں اسے سعد وقاص کے ہمراہ عراق کی مموریت پر بھیجا ۔ طبری نے بھی حمیضہ کے بارے میں ان ہی مطالب کو اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔اس سے پہلے ہم نے کہا ہے کہ قدما جنگجوں میں صحابی کے علاوہ کسی کو سپہ سالاری کے عہدے پر فائز نہیں کرتے تھے ۔ (ز)(ابن "ابن " حجر کی بات کاخاتمہ ) "(ابن حجر کی بات کاخاتمہ )"

لیکن طبری ،قادسیہ کی جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سیف بن عمر تمیمی سے نقل کر کے لکھتاہے :

جس وقت سپہ سالار اعظم سعد وقاص مدینہ سے عراق کی طر ف لشکر کشی کرنے کی تیاریاں کر رہاتھا تو اس کے ماتحت قبائل ''بارق، المع اور غامد'' کے سات سو جنگجوؤں اور'' سراة'' کے باشندوں سے دیگر افراد نے کوچ کیا ، ان کی کمانڈر حمیضتہ بن نعمان بارقی کر رہا تھا!

حمیضہ کا نسب :

سیف نے حمیضتہ کو قبیلۂ''بارق ''سے خلق کیا ہے ،اور اس کے ماتحت سپاہیوں کو قبائل ''بارق ، المع اور غامد''سے خلق کیاہے کہ وہ سب خاندان ''خزاعۂ ازد قحطانی '' سے تعلق رکھتے تھے ۔''سراة'' میں زندگی بسر کرنے والے ''ازدی '' اپنی سکونت کے علاقوں کے اعتبار سے چا ر حصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں :

١۔''ازدشنوء ' ' یہ یمن میں ایک علاقہ تھاَ۔

٢۔''ازدسراة'' ، تنہامہ '' اور ''یمن '' کے درمیان کے پہاڑی علاقوں کو کہاجاتا تھا جو سرزمین عرفات سے صنعاتک پھیلے تھے اور سراة ثقیف ، سراة فہم ، سراة عدوان اور سراة ازد'' پر مشتمل تھے۔

٣۔ ازدغسّان

٤۔ ازد عمان


لہذا سیف بن عمر نے حمیضہ اور اس کے ساتھیوں کو ''خزاعہ'' سے خلق کیا کہ ان کی رہائش گاہ مکہ کے اطراف میں واقع تھی۔

بعثت سے پہلے ''خزاعہ'' کے قبائل اور '' بنی کنانہ عدنانی'' کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا عہد و پیمان باندھا گیا تھا ، لیکن جب قریش رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخالفت پر اتر آئے تو ''خزاعہ'' نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کا اعلان کرکے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ پیمان باندھا۔

ہم دوبارہ اپنے موصنوع پر آکر حمیضہ کی روایت پر اپنی بحث کو جاری رکھتے ہیں ۔ طبری نے سیف سے نقل کر کے قادسیہ کی جنگ سے پہلے اسلا م کے سپاہیوں کے مقدماتی حملوں کے بارے میں اس طرح لکھا ہے ۔

سواد تمیمی اور حمیضہ بارقی میں سے ہر ایک نے ایک سو سپا ہیوں کی کمانڈ میں ایرانی فوجوں پر حملہ کیااور دشمن کے قلب میں نفوذکر کے کثیر مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا ۔

اس واقعہ کی خبر ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف ''رستم فرخ زاد''کو پہنچی تو اس نے چند چابک سوارو ں کو حملہ آور وں کی گوشمالی اور غارت کئے گئے مال و منال کو واپس لینے کے لے ان کے پیچھے روانہ کیا ۔

دوسری طرف مسلمانوں کے ایرانیوں پر اچانک حملے کی خبر سعد وقاص کو پہنچی ، جس نے پہلے ہی یہ کاروائی کرنے سے منع کیا تھا ، اس نے مجبور ہوکر ''عاصم بن عمر تیممی ''اور ''جابر اسدی '' کو ان کی مدد کے لئے روانہ کیا اور ان کی روانگی کے وقت عاصم سے مخاطب ہو کر کہا:

اگر دشمن سے لڑنے کا فیصلہ کیا تو کمانڈر تم ہو ۔

اس دوران ایرانی فوجیوں نے بین ا لنہرین میں مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کا محاصرہ کر لیا تاکہ غارت کیا ہوا مال واپس لے لیں ۔سواد نے جب ناگفتہ بہ حالات کا مشاہدہ کیا تو حمیضہ سے مخاطب ہو کر بو لا:


اختیا ر تیرے ہاتھ میں ہے ۔ یاتم ایرانیوں سے لڑتے ہوئے انہیں مشغول رکھو تاکہ میں جنگی غنائم کو میدان کا رزار سے باہرلے جاؤں یا یہ کہ میں ان سے جنگ کروں اور تم اس مال و منال کو صحیح و سالم منزل مقصود تک پہنچاو ۔ حمیضہ نے جواب دیا :

تم رہو اور ان کومشغول تاکہ میں مال کو محفوظ جگہ تک پہنچادوں ۔ سواد نے موافقت کر کے ایرانیوں سے جنگ شروع کی اور انہیں مشغول رکھااور حمیضہ نے غنائم کو میدان سے باہر نکال لے گیا ۔ راستے میں اس نے عاصم کے سواروں کو دیکھایہ گمان کرتے ہوئے کہ ایرانی سوار ہیں ، ہٹ کر راستہ بدل دیا تا کہ ان سے جھڑپ نہ ہوجائے ۔ لیکن جلدی ہی انہوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ، لہذا حمیضہ نے اطمینان کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور عاصم بھی سواد کی مدد کیلئے آگیبڑھ گیا۔

اس دوران ایرانیوں نے '' سواد'' سے جنگ کرتے ہوئے اپنا کچھ مال اور ان کامال اپنے قبضہ میں لے لیا لیکن عاصم کے میدان کارزار میں داخل ہونے پر رفو پر رفوچکر ہوگئے اور اپنا سب مال وہیں پر چھوڈ دیا جو ''سواد'' کے ہاتھ آگیا ! عاصم ،جابر اور سواد ، صحیح وسالم اور فاتحانہ طور پربہت سے جنگی غنائم لے کر سعد کی خدمت میں پہنچے۔

طبری نے ایک دوسری روایت میں سیف سے نقل کر کے قادسیہ کی جنگ کے وقائع کے بارے میں یوں خبردی ہے :

اس جنگ میں قبیلہ ، جعفی ، قحطانی اور یمانی ایرانی فوجیوں کے ایک زرہ پوش دستے پر حملہ آور ہوئے۔ جعفی تیز تلواروں کو لئے ہوئے ان پر ٹوٹ پڑے ،لیکن انتہائی تعجب سے مشاہدہ کیا کہ ان کی تلوار یں ان پر کارگر ثابت نہیں ہوئیں ۔ لہذا شکست کھاکر واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے ۔ حمیضہ نے جب اس بے محل عقب نشینی کامشاہدہ کیا تو بلند آواز میں ان سے مخاطب ہو کر بولا :

تمہیں کیا ہو گیا ؟! جعفیوں نے جواب دیا :

ہمارا اسلحہ ان پر کا ر گر ثابت نہیں ہورہا ہے !حمیضہ نے کہا ؛

یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ اسی جگہ پر ٹھہرو تاکہ تمہیں دکھادوں اس کے بعد پاس سے گزرتے ہوئے ایک ایرانی سپاہی پر حملہ آور ہوا اور نیزہ سے اس کی کمر توڑ کر اعلان کیا:

دیکھا یہ تم لوگوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے علاوہ کسی اور چیز کے لئے یہاں نہیں آئے ہیں ۔؟!

جعفیوں نے حمیضہ کے اعلان کو سننے کے بعد بلند ہتمی کا احساس کرتے ہوئے ایک تیز حملہ کیا اور دشمن کو تہس نہس کرکے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا!!


حمیضہ کے افسانہ میں سیف کے راوی :

سیف نے درج ذیل افراد کا اپنی روایتوں کے راویوں کے طور پر تعارف کرایا ہے :

١۔''محمد '' کہ یہ وہی ''محمد بن عبداﷲبن سواد نویرہ '' ہے ،جسے خود اس نے خلق کیا ہے۔

٢۔''محمد بن جریری عبدی'' یہ بھی سیف کا جعلی راوی ہے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتاہے ۔

٣۔''عابس جعفی ''اور اس کے باپ

٤۔''ابو عابس جعفی '' کانام لیاہے کہ دونوں باپ بیٹے اس کے جعل کردہ ہیں :اور ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس نے '' ابو عابس ''کا کیانام رکھاہے :

حمیضہ کے افسانہ کا خلاصہ اوراس کی پڑتال:

سیف نے اپنے افسانوی سورماحمیضہ کو عدنانیوں کے ہم پیمان کے طورپر خلق کیا ہے اور اس کی شجاعت و دلاوریوں کا ذکر کیا ہے اور بزدل یمانیوں کی رسوائی اورجنگی ناتوانی کہ انہوں نے نام نہادپیمان میں بھی شرکت نہیں کی تھی کا مذاق اُ ڑاتاہے ۔

لیکن اس کے باوجود جب اسی پہلوان حمیضہ کو سواد تمیمی کے مقابلے میں قراردیتا ہے ، تواس وقت تمیمی سردار کی شخصیت ،بزرگی اور دلاوری کو اس سے بلند تردکھاتا ہے ۔ کیونکہ یہ ''سوادتمیمی ''ہے جو بزگواری کے ساتھ جنگ میں شرکت کرنے یا غنائم جنگی کو لے جانے کا اختیارحمیضہ کو دیتا ہے ،یہ بذات خود سیف کے ہم قبیلہ سواد تمیمی کی شرافت ،بزرگواری اور شجاعت کی علامت ہے نہ کہ کوئی اور چیز!

سیف اس داستان کی منصوبہ بندی کے بعد ایک بار پھر حمیضہ کے تانباک چہرے ،سر بلند ی اور جنگی غنائم کو ایرانیوں کی دسترس سے دور کرنے اور اس کی ہم رزموں کی شجاعت کو نمایاں کر کے اس کی شخصیت واعتبار کو بڑھا وادیتاہے۔


سر انجام تمام سر بلند یاں اور افتخارات قبیلہ تمیم یعنی سیف بن عمر کے قبیلہ کی طرف پلٹ کر آتیہیں ۔ کیونکہ تمام مشکلات کو حل کرنے والے اور مصیبت میں پھنسے لوگوں کو آزاد کرنے والے سردار اور پہلوان تمیم کابے مثال دلاور''عاصم بن عمرو'' اور اس کا ساتھی ''جابر اسدی ''ہیں جو حمیضہ اور اس کے ساتھیوں کو آزاد کرنے کے لئے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور میدان کو دشمن کے وجود سے پاک کرتے ہیں ۔ جی ہاں یہ عاصم بن عمرو ہے کہ صرف اس کا نام سن کے ہی دشمن فر ا ر کو قر ا ر پر تر جیح د یتا ہے۔آ خر کا ریہی مطا لب تھے جنھو ں نے ا بن حجر کو ا س با ت پر مجبو ر کیا ہے کہ سیف کی با تو ں پر اعتماد کر کے اپنی کتا ب ''اصا بہ'' میں ''حمیضہ''اور سیف کے دیگر خیا لی مخلو قا ت کو مخصو ص جگہ د ے اور انھیں ر سو ل خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دو سرے حقیقی ا صحا ب کی فہر ست میں قرار دیکر ان کے حا لا ت پر ر و شنی ڈا لے۔

جو کچھہ ہم نے یہاں تک بیان کیا وہ '' حمیضہ ''کی بیرونی جنگوں میں سر گرمیوں سے مربوط تھا۔جبکہ طبری نے سیف سے نقل کر کے کچھ داخلی سرگرمیوں جیسے مرتد ہونے اور ارتداد کی بغاوت شروع کرنے کوبھی حمیضہ سے نسبت دی ہے۔طبری اس سلسلہ میں اور یمانیوں کے ارتداد کی خبر کے ضمن میں لکھتا ہے :

خلیفہ ابوبکر نے اپنے کارندوں اورگماشتوں کو پیغام اور ایلچی بھیج کر مرتدوں سے جنگ کرنے کامصمم ارادہ کیا۔ من جملہ ''طائف کے گورنر ''عثمان بن ابی العاص'' کو لکھا کہ اپنی مأموریت کے علاقہ میں اسلام پر ثابت قدم و پائدار رہنے والوں کی مدد کر کے علاقہ کے مرتدوں کو کچل دے۔طائف کے گورنر نے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے طائف کے لوگوں میں سے ایک گروہ کو ''عثمان بن ابی ربیعہ ''کی کمانڈمیں مأموریت دی کہ''حمیضہ بن نعمان '' کی سرکر دی گی میں قبائل ''ازد ،بجلیہ اور خثعم ''کے مرتدوں کے اجتماع کی وجہ سے برپاشدہ بغاوت کوکچل دیں ۔

عثمان بن ابی ربیعہ نے ''شنوء ''پر حملہ کیا اور مرتدوں سے نبردآزما ہوا ،مرتدوں نے مقابلہ کی ہمت نہ کرتے ہوئے شکست کھاکر پسپائی اختیار کرتے ہوئے فرار کیااور حمیضہ کو تن تنہا اپنی قسمت پر چھوڈ دیا ۔

حمیضہ نے اپنے آپ کو مشکل سے میدان کارزاسے دورکیا اور بے یار و مدد گار پہاڑوں اور صحراوں کی طرف بھاگ گیا۔

عثمان بن ربیعہ ''نے اس فتحیابی کواپنے اشعار میں یوں بیان کیاہے :


ہم نے مرتدوں کے گروہ کو تتر بتر کر کے ان کی سرزمین کو تباہ وبرباد کردیا۔یہ ان کے مکرو فریب کا انجام ہے۔

قبیلہ بارق برقی بہت اچھل رہا تھا لیکن ''جب ہمارے مقابلے میں آیا تو بے پانی کے بادل کے ماننداور اپنی عظمت و شان و شوکت کھو بیٹھا۔

سیف نے اس شعر کے دوسرے مصرع میں '' بارق ''اور ''حمیضہ بارقی''کی طرف واضع اشارہ کیا ہے ۔

حمیضہ بارقی اور اس کے برے انجام کے بارے میں سیف کی اس داستان ،اور ابو بکر کے ذریعہ نقل کی گئی اس روایت میں کہ اس نے کبھی مرتدسے مدد طلب نہیں کی ہے ، یایہ کہ عمر نے ان میں سے دس افراد سے زیادہ کو سپہ سالاری کا عہدہ نہیں سونپا ہے نیز اس کی دوسری روایت کہ خلیفہ عمر نے حمیضہ کو سات سو جنگجوؤں کی سپہ سالاری سونپ کر قادسیہ کی جنگ میں مأ موریت دی تھی، سے سخت اختلاف رکھتی ہے !

کیا سیف نے یہ نہیں کہاہے کہ ابوبکر نے اپنی زندگی میں کسی بھی مرتد سے مدد طلب نہیں کی ہے ؟!،

کیا اس نے خود یہ بات نہیں کہی ہے کہ عمر اگرچہ ان سے مدد لیتے تھے لیکن ہر گز ان کو سپہ سالاری کا عہدہ نہیں سونپتے تھے مگر چند گنے چنے افراد کو جن کی تعداد دس تک نہیں پہنچی ہے ؟

اگر یہ مطالب سچ اور حقیقت ہیں تو خلیفہ ٔ مسلمین عمر نے کیسے مرتد اور خدااور اس کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین سے منحرف ''حمیضہ ''کو سات سو سپاہیوں کا سپہ سالار منصوب کیا اور وہ بھی ایک معروف جنگ یعنی قادسیہ کی جنگ میں ؟!!

ابن ماکولانے کوشش کی ہے کہ ان دونوں متناقض روایتوں کو سیف کی زبانی اپنی کتاب ''اکمال '' میں ایک جگہ پر درج کرے ۔وہ لکھتا ہے:

حمیضہ بارقی مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام کی آغوش میں آیا وہ قادسیہ کی جنگ میں فوج کے ایک حصہ کا سپہ سالار تھا۔

اس حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حجر نے حمیضہ کے ارتداد کی خبر کو ایک خاص مقصد کے پیش نظر اپنی کتاب''اصابہ ''میں درج نہیں کیاہے بلکہ عمداً اس سے چشم پوشی کی ہے ۔کیونکہ اسے یقین تھاکہ اصحاب کو پہنچاننے کے اس کے قاعدے اس بات کا سخت ٹکراؤ ہے اوراس صورت میں اس کے لے ایسے چہرے کو رسو ل خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحا ب کے ز مر ہ میں قرا ر دینے کی کو ئی گنجا لش با قی نہیں ر ہتی۔


٥٨ واں جعلی صحابی جابراسدی

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ'' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایاہے :

جابر اسدی :سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح ''میں اس کا نام لے کر لکھا ہے کہ قادسیہ کی جنگ کے سپہ سالار اعظم ''سعد وقاص '' نے فوج کے ایک دستہ کی سپہ سالاری کا عہدہ ''جابراسدی ''کو سونپا تھا۔

ہم نے اس سے پہلے کہاہے کہ قدماکی رسم یہ تھی کہ وہ صحابی کے علاوہ اور کسی کو سپہ سالاری کے عہدے پر منصوب نہیں کرتے تھے ۔(ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ابن حجر نے ''حمیضہ '' و''جابر'' کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ان سے مربوط اس روایت کو اس نے سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اور اس پر تأکید کی ہے ۔طبری نے بھی ان دو صحابیوں کے بارے میں انہیں مطالب کو درج کیا ہے ۔جب ہم نے ''تاریخ طبری '' کامطالعہ کیا تو متوجہ ہوئے کہ طبری نے بھی ان افسانوں کو سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اور ''قادسیہ ''کی جنگ میں ''عاصم بن عمرو''کے ساتھ جابر کا نام بھی لیا ہے !اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابن ججر نے ''حمیضہ و جابر ''کے حا لات پر روشنی ڈالتے ہوئے ''ابن ابی شیبہ '' کی اس روایت کہ ''قدما کی رسمتھی کہ....'' پر استناد کر کے یہ نتیجہ لیا ہے کہ ''حمیضہ و جابر ''چونکہ جنگ میں سپہ سالاررہ چکے ہیں لہذا صحابی تھے !!

وہ اس امر سے غافل تھا کہ یہ روایت بھی سیف کی جھوٹی اور بے بنیاد روایتوں سے لی گئی ہے، جبکہ سیف کا حال معلوم ہے !

بہر حال ابن حجر نے سیف کے ہر ایک جعلی صحابی و چہرے کو اپنی کتاب ''اصابہ ''میں ایک خاص نمبر کے تحت ثبت کیا ہے ، توجہ فرمایئے:

١۔ صحابی نمبر :١٨٤٨''حمیضہ بارقی ''علامت رمز(ز)

٢۔ صحابی نمبر :١٠٤٠''جابر اسدی ''علامت رمز(ز)


جی ہاں ،ابن حجر نے تنہاابن ابی شیبہ کی روایت پر استنادکر کے سیف کے دو جعلی چہروں کو صحابی قبول کیاہے اور مذکورہ نمبروں کے ساتھ اپنی معتبر کتاب '' اصابہ ''میں ان کے حالات پر روشنی ڈالی ہے۔ ہم نے بھی اس حیرت انگیز روایت کے حقا ئق نیز مسلّم تاریخی رودادوں کے ساتھ مخالفت کی کیفیت کو اپنی جگہ پر بیان کیاہے ۔

مکتبِ خلفاء کے پیرو علماء نے اسی روایت کو مستند قراردے کر سیف کے خیالی اور افسانوں دلاوروں کو اصحاب کے طورپر قبول کر کے انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں درج کیا ہے اور ان کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔ کیونکہ سیف نے کہا ہے کہ قدما نے انھیں سپہ سالار کے عہدے پر منتخب کیا ہے !!

ان علماء نے بعض اصحاب کے حالات کی تشریح میں مذکورہ قاعدہ کی طرف اشارہ کر کے اس سے استناد کیاہے اور بعض دوسروں کے حالاتمیں اس روایت سے چشم پوش کر کے سادگی کے ساتھ گزر گئے ہیں اور ان کی طرف اشارہ کرنے پرہیز کیا ہے۔

٥٩واں جعلی صحابی عثمان بن ربیعۂ ثقفی

ابن حجر نے اس صحابی کے بارے میں یوں لکھا ہے :

عثمان بن ربیعہ ثقفی:

سیف نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا ذکر کرکے لکھا ہے کہ ''عثمان بن ابی العاص '' طائف کے گورنر نے عثمان بن ربیعہ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ابو بکر کی خلافت کے زمانے میں مأموریت دی کہ ''شنوء '' میں جمع ہوئے ''ازد''کے مرتدوں کو کچل دے ۔

عثمان نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ان پر حملہ کیااور انھیں بری طرح شکست دیدی ۔اس فتح پر اس نے یہ اشعارکہے ہیں :

ان کے اجتماع کو ہم نے تتر بتر کیا اور ان کی سرزمین کو نابود کردیا اور یہ ان کے مکروفریب کا برُا انجام تھا۔

وہ برق جو قبیلۂ بارق سے چمکی تھی جب ہمارے مقابلہ میں آئی تو بے پانی کے بادلوں کی طرح اس نے اپنا چہرہ افق میں چھپا لیا اور اپنی چمک کھو بیٹھی۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)


توجہ فرمایا کہ ابن حجر نے عثمان بن ربیعہ کو صحابی ثابت کرنے کے لئے بیان کی گئی اس روایت میں حمیضہ کا کوئی ذکر نہیں کیاہے ، جبکہ سیف کی روایتوں کے مطابق وہ اس جنگ میں مرتد وں کا سرکردہ تھا!ہم نے اس موصنوع کی علت کو حمیضہ کے حالات کے آخر بیان کیا ہے ،وہاں ملاحظہ فرمائیے ۔

اس صحابی کا نسب

اس سے پہلے ہم نے کہا کہ طبری نے سیف سے روایت کی ہے کہ طائف کے گورنر عثمان بن ابی العاص نے عثمان بن ربیعہ کو شنوء کی بغاوت کچلے پر مأ مور کیا۔۔۔(تاآخر)

چونکہ ''طائف''ثقفیوں '' کی رہائش گاہ تھی ، اس لئے ابن حجر نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ عثمان ربیعہ ''ثقفی '' ہونا چاہئے ۔

اس کے پیش نظر کہ سیف نے اس سلسلہ میں صراحت سے کچھ نہیں کہا ہے اور جس روایت سے اس عالم نے عثمان کے حالات کے بارے میں استفادہ و استناد کیا ہے ، اس میں اس قسم کی نسبت کا کہیں ذکر نہیں ہے !لیکن اس کے باوجود ابن حجر نے سیف کے جعلی صحابی کو ''ثقفی '' کہا ہے اور ''عثمان بن ربیعہ ثقفی '' کے عنوان سے اس کا تعارف کرایا ہے !!

عثمان بن ربیعہ کے افسانہ میں سیف کے راوی:

سیف نے عثمان بن ربیعہ کی داستان میں صرف ''سہل '' کو راوی کے عنوان سے پہچنوایا ہے کہ اسے ''سہل بن یوسف انصاری سلمی'' کہتے ہیں ، اورپہلے بھی ہم نے کہا ہے کہ یہ سہل بھی اس کے جعلی راویوں میں سے ہے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتا ۔!

بحث کا نتیجہ :

ان تین چہروں :''حمیضہ بارقی'' ، ''جابر اسدی '' اور ''عثمان بن ربیعہ '' کے بارے میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے نتیجہ حاصل ہوتاہے کہ :

٤۔اور وہ تنہا شخص ہے جس نے مذکورہ قبائل پر اس قسم کے جھوٹ اور ارتداد کی تہمت لگائی ہے اور ان کی شکست اور ان کے سرغنہ حمیضہ کے فرار کی خبردی ہے !


حمیضۂ بارقی کے بارے میں :

١۔ سیف تنہا شخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ میں حمیضہ نام کے کسی شخص کے سات سو ''ازدی''سپاہیوں کے سپہ سالار ہونے کا ذکر کیا ہے ۔

٢۔ وہ تنہا شخص ہے جس نے حمیضہ بارقی اور قادسیہ کی جنگ میں اس کے کارناموں کی داستان گڑھی ہے ۔

٣۔وہ تنہا شخص ہے جس نے '' حمیضہ ''کی سر کرد گی میں '' شنوء '' نام کی جگہ پر قبائل ''ازد، بجیلہ اور خثعم '' کے مرتدوں کے اجتماع کی خبردی ہے ۔

٤۔اور وہ تنہا شخص ہے جس نے مذکورہ قبائل پر اس قسم کے جھوٹ اور ارتداد کی تہمت لگائی ہے اور ان کی شکست اور ان کے سرغنہ حمیضہ کے فرار کی خبردی ہے !

جابر اسدی کے بارے میں :

١۔سیف تنہا شخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ میں فوج کے ایک دستہ پر جابر اسدی کی سپہ سالاری کی بات کہی ہے ۔

٢۔ وہ تنہا شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ سعد وقاص نے '' عاصم بن عمرو اور جابر اسدی کی سرکر دگی میں ایک فوج کو قادسیہ کی جنگ سے پہلے ایرانیوں سے لڑنے والے اپنے ایک گشتی دستے کی نجات کے لئے روانہ کیا ہے ۔

عثمان بن ربیعہ کے بارے میں :

١۔ سیف وہ تنہا شخص ہے جس نے عثمان بن ربیعہ کی داستان بیان کی ہے ۔ ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ کیا اس نے سرے سے اس نام و داستان کو یوں ہی کسی مقدمہ کے بغیر گڑھ لیا ہے یا یہ کہ اس کے نام کو '' ربیعہ بن عثمان ،صحابی قرشی جمحی''جو حبشہ کے مھاجروں میں سے تھا ،کے نام کے مستعار لیاہے ، یا کسی اور نام سے۔

٢۔اور وہ تنہا شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ طائف کے گورنر ''عثمان بن ابی العاص '' نے عثمان بن ربیعہ کو ''شنوء '' کے مرتدوں کی بغاوت کی سر کو بی کے لئے طائف سے روانہ کیا ہے ۔


جس کے نتیجہ میں اس نے ان کے اجتماع کو تتر بتر کرکے ان کے سر غنہ کو بھگا دیا تھا ۔

اور ہم نے دیکھا کہ ان سب باتوں کو سیف بن عمر نے اپنی پانچ جعلی راویوں کی زبانی کہلوایا ہے جو ہر گز وجود نہیں رکھتے۔

بالآخر امام المؤرخین محمد بن جریر طبری نے سیف بن عمر تمیمی سے نقل کر کے ان تمام افسانوں کو اپنی تاریخ کبیر میں درج کیا ہے اور اس کے بعد دوسرے تاریخ نویسوں جیسے ابن اثیر اور ابن خلدون نے بھی انھیں تاریخ طبری سے نقل کر کے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

اس کے علاوہ ابن حجر کے کہنے پر ابن فتحون نے سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے جابر اسدی کو صحابی تصور کیا ہے اور اس کے نام کو ابن عبدابر کی کتاب ''استیصاب ''میں دریافت کیا ہے۔

سر انجام ابن حجر نے سیف کی تمام روایتوں پر اعتماد کر کے '' حمیضہ بارقی ''،''جابر اسدی '' اور ''عثمان ربیعہ ''کو صحابی جانا ہے اور انہی روایتوں سے استناد کر کے انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قرار دیا ہے۔

اس طرح سیف بن عمر تمیمی جیسے ایک معروف شخص جس پر زندیقی ہونے کا الزام تھا

کی روایتوں کی معتبر اسلامی منابع اور مصادر میں وسیع اشاعت ہوئی ہے اور گزشتہ بارہ صدیوں سے اس عیارِ زمانہ کے افسانوں ، تحریفات اور دخل و تصرف نے علماء و محققین کو اپنی طرف مشغول کر کے انھیں تاریخی حقائق کے بارے میں حیران و گمراہ رکھا ہے ۔ ہمیں معلوم نہیں کیا علماو محققین ایسی حالات میں ان آ لود گیوں سے اسلامی مصادر و مآخذ کو پاک کرنے کیلئے موافقت کریں گے یا حسب سابق ان کے عادی ہو کر کے خو ش فہمی کی بنا پر کسی قیمت پر انھیں چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں ہوں گے؟!

مصادر و مآ خذ

حمیضہ کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔ ''تاریخ طبری '' (١/٢٢١٨،٢٢٥٨۔٢٢٥٩،٢٣٣٤)

٢۔''تاریخ ابن اثیر '' (٢/٢٨٦،٣٤٧،٣٥٥)

٣۔تاریخ ابن خلدون (٢/٣١٦)

٤۔ ابن حجرکی ''اصابہ '' (١/٣٥٧)حصہ اول ترجمہ نمبر:١٨٤٨

٥۔ابن ماکولا کی 'اکمال' (٢/٥٣٦)


قبائل خزاعہ کا نسب اور ان کے عہدوپیمان:

١۔ابن حزم کی ''جمھرہ انساب '' (٣٧٧)و(٤٧٣)

٢۔حموی کی ''معجم البلدان'' (١/٣٩،٥٧)

''سراة'' کی تشریح:

١۔یاقوت حموی کی '' معجم البدان '' (٣/٦٥)

جابراسدی کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔ابن حجر کی ''اصابہ '' (١/٢١٧)حصہ اول تر جمہ نمبر :١٠٤٠

٢۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٥٨)

٣۔''تاریخ ابن اثیر'' (٢/٢٥٦)طبع یورپ

عثمان بن ربیعہ کے حالات:

١۔ابن حجر کی ''اصابہ '' (٢/٤٥٢)حصہ اول ترجمہ نبر:٥٤٣٩

٢۔''تاریخ طبری '' (١/١٩٨٥)

ربیعہ بن عثمان قرشی کے حالات:

١۔'' طبقات ابن سعد'' (٤/١٤٩)حصہ اول

٢۔''سیرةابن ہشام'' (٣/٤١٦)

جمحی کا نسب:

١۔''اللباب ''(١/٢٣٦)

٢۔ابن سعد نے ''طبقات'' (٥/٣٦٦)میں ''محمد بن عثمان مخزوی'' نام کے ایک محدث کا ذکر کیا ہے اور اسے طبقۂ پنجم میں شمار کیا ہے ۔


ساٹھواں جعلی صحابی سواد بن مالک تمیمی

صحابی کو پہچاننے کے لئے سپہ سالاری کے قاعدہ پر علماء کی طرف سے اعتماد کئے جانے کا ایک اور نمونہ لیکن اس پر صراحت نہیں کی گئی ہے ،سواد بن مالک تمیمی نامی صحابی ہے ۔ جسے سیف بن عمرتمیمی نے خلق کیا ہے ۔ ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے:

سواد بن مالک تمیمی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں لکھا ہے کہ سعد بن وقاص نے جنگ کے لئے اس کے ساتھ باہر آئے ہوئے فوج کے پہلے دستہ کی کمانڈ ''سُواد بن مالک''تمیمی کوسونپی ۔

قادسیہ کی جنگ میں سعد نے اسے ایک بار پھر اپنے ہر اول دستے کا سپہ سالار بنایا ۔ اور اس نے قادسیہ کے محاصرہ کے دوران دشمن کی رسد کے ٹھکانہ پر اچانک اور تیزحملہ کر کے تین سومویشیوں کو غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیا اور انھیں اسلامی فوج کے کیمپ میں پہنچاکر سپا ہیوں میں تقسیم کر دیا (ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس داستان کی تفصیل ''تاریخ طبری '' میں سیف کی زبانی یوں آئی ہے :

جب سعد وقاص نے ''شراف'' میں پڑائو ڈالا تو خلیفہ عمر کی طرف سے اسے ایک خط ملا ۔ اس خط میں اسے یہ حکم ملا تھا کہ اپنی فوج کے مختلف دستوں کے سپہ سالار معین کرے اور ذمہ دار یوں کو ان میں تقسیم کردے ۔

سعد نے خلیفہ کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے اسلام کے تجربہ کار اور باسابقہ افراد میں سے ہر ایک کے ہاتھوں میں سپہ سالاری کا پر چم دیا اور سپا ہیوں کو دس دس افراد کی ٹولیوں میں تقسیم کیا اور ہر ٹولی کی کمانڈ اور ذمہ داری اس فرد کے ہاتھ میں دیدی جس نے اسلام کی راہ میں نمایا ں خدمات انجام دئے تھے ۔(یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

اور سواد بن مالک تمیمی کو ایک ہر اول دستے کی کمانڈ دی ۔

طبری نے ایک اور روایت میں سیف سے نقل کر کے لکھا ہے :

سواد بن مالک تمیمی نے بندر فراض کی بلند یوں سے حملہ کر کے خچر، گدھے اور گائے پر مشتمل تین سو موشیوں کو اپنے قبضہ میں کر لیا اور اُن پر مچھلی لاد کے اپنی لشکرگاہ کی طرف لے آیا۔


اس اچانک اور ماہرانہ تصرف کے نتیجہ میں ایرانی فوج کے ایک سردار ''آ زاد مردابن آزاد بہ'' نے اس کا پیچھا کیا اور بڑی تیزی سے اپنے آپ کو سواد کے نزدیک پہنچا دیا ۔ سواد نے اپنے سوار افراد کی مدد سے آزاد مرد کا مقابلہ کیا اور '' سیلحین '' کے پل پر اس سے نبردآزما ہوا،اور تب تک جنگ کو جاری رکھاکہ اسے یقین ہوگیا کہ مذکورہ مال غنیمت صحیح و سالم مقصد تک پہنچ گیا ہے تواس کے بعد وہ فوراً پر پیچھے ہٹا اور پو پھٹتے ہی سعد کے پاس کیمپ میں پہنچ کر وقائع کے بارے میں سپہ سالار اعظم اور دیگر مسلمانوں کو رپورٹ پیش کی ۔

سعد کے حکم پر تمام غنائم کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم اور اس کا پانچواں حصہ انعام کے طور پر سواد اور اس کے ساتھیوں کو بخش دیا گیا ۔ اس دن کو ''مچھلیوں کا دن''کے نام سے یاد کیا گیا!

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپاہی گوشت کے لئے تڑپ رہے تھے ۔ کیونکہوہ گوشت کے علاوہ باقی اشیا ء جیسے گندم ، جو،خرما اود یگر دالیں وغیرہ کا فی مقدار میں بلکہ طولانی مدت کے لئے اپنے ساتھ لائے تھے ۔ یہ ناگہانی اور گشتی حملے صرف گوشت کو حاصل کر نے کیلئے انجام پاتے تھے ۔اسی لئے جس دن کافی مقدار میں گوشت حاصل کرتے تھے اس دن کو اس قسم کے گوشت کا نام دیتے تھے ، جیسے ''روزگائو '' ''روزماہی''!!

طبری نے ایک دوسری روایت میں سیف سے نقل کر کے ابن مالک اور حمیضہ کی کمانڈ میں ان کے ایک سو ساتھیوں کے اچانک حملہ اور غارت گری کی تشریح کی ہے کہ ہم نے اس کی تفصیل حمیضہ بارقی کی داستان میں بیان کی ہے ۔

طبری ان تمام وقائع کو بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے :

سرانجام سعد وقاص نے سواد بن مالک تمیمی کو قادسیہ کی جنگ میں اپنے ہر اول دستے کے کمانڈر کے طور پر منتخب کیا ہے ۔(طبری کی بات کا خاتمہ)

سیف تاریخ اسلام میں ''روز ماہیا ن '' (مچھلیوں کا دن )ثبت کرتاہے ، تاکہ تمیمی سورما سواد بن مالک کے لئے فخر و مباہات کا دن ہو کہ جس کی سخاوت کے دسترخوان پر گائے مچھلی اور دیگر حیوانوں کے گوشت سے بھوکے سپاہیوں کے پیٹ بھر جاتے ہیں اور ان کے اشتہا کی آ گ بجھ جاتی ہے ۔

اسی طرح ''روزگائے '' کو تمیم کے پہلوان عاصم بن عمرو کے لئے مجدوا فتخار کے دن کے طور پر


ثبت کرتے ہوئے کہتا ہے :

ایک دن عاصم نے اپنے ماتحت سپاہیوں کے ہمراہ گائے اور گوسفند کی تلاش میں دشمن کے علاقہ پر حملہ کیا۔ لیکن ان کے اس حملہ سے پہلے علاقہ کے کسانوں اور گلہ بانوں نے مویشوں کو بچانے کیلئے انھیں کچھار میں چھپا رکھا تھا عاصم نے کچھار کے پاس محافظ کے طور پربیٹھے ایک چوپان سے گائے و گو سفند کے بارے میں سوال کیا ،لیکن اس شخص نے قسم کھا کر کہا کہ ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتا ہے ، اچانک کچھار سے ایک گائے فریاد بلند کر کے فصیح عربی میں بول اٹھی:

خدا کی قسم یہ شخص جھوٹ بولتا ہے ، ہم یہاں پر موجود ہیں !!

عاصم ، گائے کی گفتگوں سننے کے بعد کچھا ر میں داخل ہوا اور گائے کے گلہ کوہانکتے ہوئے اپنے کیمپ کی طرف لے گیا اور سپا ہیوں کو فصیح عربی میں گفتگوں کرنے والی گائے کے گوشت کی نعمت سے مالامال کردیا!

ہم اپنی کتاب ''عبداﷲبن سبا '' کی پہلی جلد میں درج کئے گئے سیف کے دوسرے خیالی ایام میں '' روزماہیان '' (مچھلیوں کے دن )کا اضافہ کرتے ہیں ۔اور سواد بن مالک کو بھی خاندان تمیم سے خلق کئے گئے دوسرے اصحاب میں شمار کرتے ہیں ۔

افسانہ سواد میں سیف کے راوی

سیف بن عمرنے سواد بن مالک کے افسانہ کو مندرجہ ذیل راویوں کی زبانی نقل کیا ہے :

١۔ محمد بن عبداﷲبن سواد نویرہ

٢۔ زیاد بن سرجس احمری

دونوں اس کے جعلی راوی ہیں اور سیف نے ان کا نام مختصر کر کے ''محمد وزیاد'' کہا ہے۔


اس بحث و تحقیق کا نتیجہ

سواد بن مالک تمیمی اور اس کے افسانہ کے بارے میں بحث و تحقیق سے یہ مطالب حاصل ہوتے ہیں :

سیف تنہا شخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ میں سعد وقاص کے حکم سے سواد بن مالک تمیمی کے فوج کے ہرادل دستہ کی سپہ سالاری پر منصوب ہونے کی خبردی ہے ۔

وہ تنہا شخص ہے جس نے ''روز ماہیان '' (مچھلیوں کے دن) کو تمیم کے سواد بن مالک کے نام پر ثبت کیا ہے ۔

اور آ خر کار ایسا لگتا ہے کہ سیف نے سواد بن مالک اوراس کے افسانہ کو جعل کیا ہے اور اس کا نام ''سوادبن مالک داری '' ١صحابی کے نام پر قرار دیا ہے !

١۔ابن حجر نے ''سواد بن مالک داری ''کی شرح حال میں لکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا نام بدل کر ''عبدالرحمان '' کر دیا تھا ۔

افسانہ سواد کو نقل کر نے والی علما:

١۔طبری نے سواد بن مالک کے افسانہ کو بلاواسط سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے۔

٢۔ ابن اثیر نے اسے طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں لکھا ہے ۔

٣۔ابن خلدو ن نے افسانۂ سواد کو تاریخ طبری سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کیاہے۔

٤۔ ابن حجر سیف کی روایت پر اعتماد کر کے صحابی کی شناخت کے لئے ابن ابی شیبہ کی روایت سپہ سالاری صحابیت کی پہچان پر استناد کرتے ہوئے اس کی صراحت کئے بغیر ،سواد بن مالک کو صحابی مانا ہے اس کے حالات پر اپنی کتاب ''اصابہ ''میں روشنی ڈالی ہے۔


مصادر و مآخذ

سواد بن مالک تمیمی کے حالات :

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' (٢/٩٦) نمبر:٣٥٨٦

٢۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٢٣۔٢٢٢٥)

سواد بن مالک کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٢٣ ۔ ٢٢٢٥، ٢٢٣٩ ۔ ٢٢٤٤)،و (١/٢٢٥٨ ۔ ٢٢٥٩)، (١/٢٢٦٦)

٢۔تاریخ ابن اثیر (٢/٣٤٩) ،(٢/٣٥٤۔٣٥٥)

٣۔تاریخ ابن خلدون (٢/٣١٧،٣١٩)

سواد بن مالک داری کے حالات:

٤۔ ابن حجر کی ''اصا بہ '' (٢/٩٦) نمبر: ٣٥٨٥


دوسرا حصہ

عراق کی جنگوں میں سعد وقاص کے ہمراہ جنگی افسر اور سپہ سالار( ٢)

r ٦١۔عمروبن وبرہ

٦٢۔حمّال بن مالک بن حمّال اسدی

٦٣۔ربّیل بن عمروبن ربیعہ

٦٤۔طلیحہ بن بلال قرشی عبدری

٦٥۔خلید بن منذر بن ساوی عبدی

٦٦۔حارث بن یزید عامری

اکسٹھواں جعلی صحابی عمرو بن وبرہ

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں لکھا ہے :

سیف بن عمر نے کتاب ''فتوح '' میں اور طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''عمروبن وبرہ '' ١٤ئ میں قبائل قضاعہ پر حکومت کرتا تھا ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن حجر کی تاریخ طبری میں اشارہ کی گئی اصل داستان کی وضاحت کرنے سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ نسب شناس علماء کا ''قضاعہ ''کے نسب پر اختلاف نظر ہے کہ وہ '' بنی عدنان '' سے ہیں یا بنی ''حمیر سبائی '' سے ؟!

لیکن، ابن حجر نے اوپر جس داستان کی طرف اشارہ کیا ہے '' تا ریخ طبری'' میں اس کی اصل اور پوری داستان کو سیف سے نقل کر کے یوں بیان کیا گیاہے :

خلیفہ عمر نے سعد وقاص کے مدینہ سے روانہ ہونے کے بعد دوہزار جنگجو اس کی مدد کے لئے ببھیجے۔

سعد نے موسم سرما کی ابتداء میں ''زرود '' میں پڑاؤ ڈالا۔اس کے سپاہیوں نے ''بنی تمیم اور بنی اسد '' کی سرزمینوں اوراس علاقہ کے ساحل پر اپنیخیمے نصب کئے۔سعد بدستور ''زرود''میں منتظر تھا تاکہ خلیفہ کا فرمان اسے پہنچے اور اس کے سپاہیوں کی تعداد بھی بڑھ جائے ۔ اس مدت کے دوران سعد نے ''بنی تمیم اور بنی رباب '' سے چار ہزار جنگجو اپنی فوج میں شامل کر لئے ۔ ان میں سے تین ہزار ''تمیمی '' اور ایک ہزار فوجی ''ربّی''تھے ۔


اس نے ''بنی اسد '' کے بھی تین ہزار سپا ہی بھر تی کئے اور سبوں کو حکم دیا کہ اپنی رہائش گاہوں کے نزدیک پہاڑیوں اور میدانوں کے درمیان کیمپ لگائیں اور بدستور اپنی جنگی تیاری کو'' سعد''اور ''مثنی بن حارثہ'' کے کیمپ کے درمیان جاری رکھیں ۔

''مثنی بن حارثہ ''بھی قبیلہ ''ربیعی''سے آٹھ ہزار سپاہی اپنے ساتھ لایا تھا ، ان میں سے چھ ہزارسپاہی ''طائفہ بکربن وائل '' سے تھے اور باقی دوہزار ''ربیعہ '' کے دوسرے قبائل سے تھے ۔

مثنی نے ان میں سے چار ہزار نفر کو خالد کی روانگی کے بعد انتخاب کیا تھا اور باقی چار ہزار نفر '' جسر ''کے میدان کارزارسے ہی اس کے ساتھ تھے ۔

ان کے علاوہ جو یمانی سعد وقاص کی کمانڈ میں جمع ہوئے تھے ان میں سے دوہزار نفر قبیلہ ''بجلیہ''سے اور دوہزار نفر ''قضاعہ''و ''طی ''سے تھے جن کی کمانڈ مندرج ذیل اشخاص کے ذمہ تھی :

١۔ قبیلۂ طی کے افراد کا سپہ سالار ''عدی بن حاتم '' تھا ۔

٢۔ قبیلۂ قضاعہ کے افراد کا سپہ سالار ''عمر وبن وبرہ '' تھا۔

٣۔ قبیلۂ بجلیہ کے افراد کا سپہ سالار '' جریر بن عبد اﷲ'' تھا ۔

لشکر کی موجودہ صورت حال میں ، سعد وقاص ''زرود ''میں اس انتظار میں تھا کہ مثنی اس کی خدمت میں پہنچ جائے اور مثنی اس امید میں تھا کہ سعد اس کے پاس آئے گا۔ اتفاقاً مثنی جنگ جسر میں لگے زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگیا ۔ مرنے سے پہلے اس نے ''بشیربنحضامیہ'کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔

اس اثناء میں عراق کے معروف افراد کا ایک گروہ بشیر کی خدمت میں پہنچا۔ اور عراق سے بعض نمائندے جیسے ''فرات بن حیان عجلی اور عتیبہ '' جو عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور خلیفہ نے انھیں واپس بھیج دیا تھا ، وہ سب سعد کی خدمت میں پہنچے تھے ۔ (طبری کی بات کا خاتمہ )


افسانہ ٔ عمرو کے اسناد کی پڑتال :

عمروکے بارے میں سیف کی روایت کے درج ذیل خیالی و جعلی راوی نظر آتے ہیں ۔

١۔محمد یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ۔

٢۔زیاد ، یازیادبن سر جس احمری ۔

کہ سیف نے اپنی روایتوں میں ان کا نام اختصار کے ساتھ ''محمد و زیاد'' ذکر کیا ہے :۔

اس بحث کا نتیجہ:

چونکہ سیف کی روایت کے متن میں آیاتھا کہ ''قضاعہ کی کمانڈ عمرو بن وبرہ کے ذمہ ہے '' لہذا حجر نے سیف کی روایت کے اسی حصہ پر اکتفاکر کے عمرو کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنی کتاب ''اصابہ ''میں ثبت کیا ہے ۔

لیکن چونکہ اس صحابی کے نام کو سیف کی اس روایت کے علاوہ کسی دوسری روایت میں نہیں دیکھا ہے ، اس لئے صرف اسی قدر کہتا ہے :

سیف نے بن عمر نے ''فتوح ''میں اور طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ١٤ ھ میں عمروبن وبرہ قبائل قضاعہ پر حاکم تھا۔

ابن حجر نے سیف کی اسی روایت کے سہارے اور صحابی کی پہچان کے لئے وضع کئے گئے نام نہاد قاعدہ پر اعتماد کر کے سیف جعل کردہ ''ابن وبرہ ''کے سپہ سالار ہونے کو و معیار قرار دے کر اسے صحابی جاناہے ۔ اگر چہ اس سلسلے میں اس نام نہاد قاعدے کا کہیں ذکر نہیں کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

عمرو بن وبرہ کے حالات:

١۔ ابن حجر کی ''اصابہ '' (٣/١١٩) تیسرا حصہ نمبر : ٦٥٢٠

''روز ماہیان ''( مچھلیوں کے دن ) کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔ ''تاریخ طبری'' (١/٢٢٢١۔٢٢٢٢)


قبائل قضاعہ کا نسب :

١۔ ابن حزم کی جمھرہ انساب (٤٤٠)

باسٹھ واں جعلی صحابی حمّال بن مالک بن حمّال

ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا تعارف یوں ہوا ہے :

حمّال بن مالک بن حمّال :

سیف نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں لکھاہے کہ سعد وقاص نے عراق کی طرف عزیمت کرتے وقت ''حمال بن مالک بن حمال ''کو اپنی پیدل فوج کا سپہ سالار مقرر کیا ۔ (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن ماکو لانے بھی حماّل کے تعارف کے سلسلے میں لکھا ہے :

''حَمَل بن مالک بن جنادہ '':

سیف بن عمر نے لکھا ہے کہ اس صحابی نے قادسیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے اور خلافت ِ عمر کے دوران ''نہاوند ''کی جنگ میں بھی شرکت کی ہے اور اسی جنگ میں مارا گیا ۔

یہاں پر ''حَمَل بن مالک جنادہ ''نام غلط ہے بلکہ صحیح وہی ''حماّل بن ،مالک حماّل'' ہے ۔ اس پر بعد میں بحث کریں گے ۔

اس کے علاوہ طبری اور ابن حجر میں سے کسی ایک نے حمّال کے نہاوند کی جنگ میں شرکت کرنے اور وہاں پر مارے جانے کی خبر سیف سے نقل کر کے نہیں لکھی ہے !

ابن ماکولا نے باب''حمّال '' میں لکھاہے:

حمال بن مالک اسدی ،مسعود بن مالک اسدی کا بھائی ہے کہ دونوں نے سعد وقاص کے ساتھ قادسیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے ۔


لیکن تاریخ طبری میں سیف سے نقل کر کے ''مسعود بن مالک '' کانام یوں آیاہے :

مسعود بن مالک اسدی اور عاصم بن عمروتمیمی نے جنگجوؤں کے ایک گروہ نے شجاعتوں اور دلاوریوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔

جبکہ ہم جانتے ہیں کہ سیف بن عمر نے ''لیلتہ الھریر''کا نام اپنی ''عماس''کی شب یاآخری شب کے لئے رکھا ہے اور اس قسم کا نام تاریخ میں کہیں ذکر نہیں ہوا ہے !

اس کے علاوہ قابل ذکر ہے کہ سیف نے اسے حدیث کو نضر سے اس نے ابن رفیل سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے حمید بن ابی شجار سے نقل کیا ہے کہ یہ سب سیف کے خیالی راوی ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

تاریخ طبری میں سیف بن عمر سے نقل کر کے حمال بن مالک کا تعارف یوں کیا گیا ہے :

سعد وقاص ''شراف ''میں تھا کہ اسے خلیفہ عمر کی طرف سے ایک خط ملا جس میں اسے فوج کے مختلف دستوں کے لئے سپہ سالار معین کرنے کا حکم تھا۔ سعد نے خلیفہ عمر کا حکم بجالاتے ہوئے اپنی پیدل فوج کی کمانڈ حماّل بن مالک اسدی کو سونپی ہے۔


ترسٹھ واں جعلی صحابی ر بیل بن عمروبن ربیعہ

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کیا ہے :

ربیال بن عمرو:

سیف نے کتاب ''فتوح ''میں اس کا نام لیاہے اور اس کے نمایاں کارناموں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔

'' طبرانی'' نے بھی لکھا ہے کہ وہ قادسیہ کی جنگ میں سعد وقاص کے سپہ سالاروں میں سے تھا ۔

ہم نے بھی اس سے پہلے کہا ہے کہ قدماء کی رسم یہ تھی کہ وہ جنگوں میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالاری کا عہدہ نہیں سونپتے تھے (ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

جیسا کہ بعد میں پتا چلے گا کہ ''ربیال '' نام غلط تھا اور صحیح وہی '' ربیل''ہے ۔اسی طرح ''طبرانی'' بھی صحیح نہیں ہے بلکہ ''طبری ''صحیح ہے کہ ابن حجر نے صحابیوں کے حالات پر روشنی ڈالنے میں اس سے قول نقل کیا ہے ۔

سیف نے ایک دوسری روایت میں جسے اس نے خلیفہ عثمان کے دفاع میں بیان کیاا ہے۔

ربّیل کے بارے میں یوں ذکر کیا ہے ۔

عثمان نے اپنی خلافت زمانے میں انعام کے طور پر چند زمینیں ''زبیر ،خباّب ،عمار یاسر ، ابن ہباّر اور ابن مسعود '' کو بخشیں ۔ اگر عثمان نے اس بذل و بخشش میں کوئی گناہ کیاہو تو ان زمینوں کو لینے والوں کا گناہ عثمان سے زیادہ ہے ، کیونکہ ہم دین کے قوانین اوراحکام ان سے حاصل کرتے ہیں ۔

عمر نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں کچھ زمینیں ''طلحہ ،جریربن عبداﷲاور ربّیل بن عمرو''۔وہی لوگ جن سے ہم اپنا دین حاصل کرتے ہیں ۔کو بخش دیں اور''ابو مفزر'' کو دارالفیل بخش دیا۔ یہ بخششیں انفال اور خمس و بخشائش خداوندی کے کوٹے سے انجام پائی ہیں !!


حمال و ربّیل کا افسانہ

گزشتہ بحث کے علاوہ ،ذیل میں بیان ہونے والی سیف کی روایات میں مشاہدہ کریں گے کہ ان دوپہلوانوں کا نام ایک ساتھ آیا ہے اور ان میں سے ایک دوسرے کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے ۔اب ہم قارئین کرام کو سیف کے بیان کردہ قادسیہ کے وقائع کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں جس میں اس نے اپنے ان دو جعلی اسدی صحابیوں کا ذکرکیاہے۔

طبری قادسیہ کی جنگ کے سلسلے میں سیف سے نقل کر کے لکھتاہے :

جب فوج کے دستے جنگ کے لئے آمادہ ہو رہے تھے توایرانی ہاتھی سواروں نے مسلمانوں کی منظم صفوں پر اچانک حملہ کیا اور ان کے فوجی دستوں کو تتربتر کر کے رکھدیا ،گھوڑے وحشت زدہ ادھر اُدھر بھاگ گئے اور اپنے سواروں کو بیابانوں میں کھینچ لے گئے ،قریب تھا کہ قبیلۂ بجلیہ کے افراد ہاتھیوں کے سموں کے نیچے مسمار ہوکے رہ جایئں ۔ان کے سوار گھوڑوں کے رم کرنے کی وجہ سے ہر طرف فرار کر چکے تھے ۔صرف پیدل فوج ؛تھی جو مردانہ وار میدان میں ڈٹی ہوئی تھی۔

اس وحشتناک عالم میں سپہ سالار اعظم سعد وقاص نے قبیلہ بنی اسد کو پیغام بھیجا کہ قبیلہ بجیلہ کے افراد اور ان کے ساتھیوں کی مدد کو پہنچیں ۔کمانڈر انچیف کے حکم کی تعمیل میں '' طلیحہ بن خولید اسدی ،حمال بن مالک اسدی اور ربّیل بن عمرواسدی '' نے اپنے فوجی دستوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے پوری طاقت کے ساتھ حملہ آور فوج کی پیش قدمی کو روکا اورایک گھمسان کی جنگ کے بعد ہاتھیوں ،ہاتھی بانوں اور ہاتھی سواروں جو ہر ہاتھی کے ساتھ بیس افراد پر مشتمل تھے ،کو عقب نشینی پر مجبور کیا۔

ایرانیوں نے جب یہ دیکھا کہ بنی اسد کے دلاوروں کے توسط سے ان کے ہاتھیوں پر کیا گزری ،تو انہوں نے اجتماعی طور پر ان کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ حملہ کیا اور قبیلہ اسدکے افراد پر چاروں طرف سے تیروں کی بارش کر دی۔ یہاں پر سعد وقاص نے عاصم بن عمرو تمیمی کو حکم دیا کہ بنی اسد کی مدد و یاری کر کے انھیں اس مصیبت سے نجات دے۔ کیونکہ یہ عاصم بن عمرو تمیمی تھا جوجنگ کے پہلے دن یعنی ''روز ارماث'' کو تمام لوگوں اور جنگجوؤں کے لئے پناہ گاہ تھا!

سیف ایک دوسری روایت میں جنگ کے دوسرے دن ،جسے ''روز اغواث '' کہا جاتاتھا کے وقائع کے بارے میں یوں ذکر کرتا ہے :


''اغواث کے دن خلیفہ عمر کی طرف سے ایک قاصد قادسیہ میں انعام کے طور پر چار تلواریں اور چار گھوڑے لے کر سعد وقاص کی خدمت میں پہنچا تاکہ ان چیزوں کو ان بہادروں اور دلاوروں میں تقسیم کریں جنہوں نے جنگ میں شجاعت اور دلاویوں کا نمایاں مظاہرہ کیا ہے اور قادسیہ کی جنگ میں قابل دید جاں نثار یاں دکھائی ہیں ۔

سعد وقاص نے خلیفہ کے حکم پر عمل کرنے کا حکم دیدیا۔''حمال بن مالک والبی ''،''ربیل بن عمرووالبی'' اور ''طلیحہ بن خولید بن فقعسی '' جو تینوں قبیلۂ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور ''عاصم بن عمرو تمیمی '' کہ ان میں سے ہر ایک فوج کے ایک حصہ کا سپہ سالار تھا،جمع ہوئے۔سعد وقاص نے ان میں سے ہر ایک کو عمر کی طرف سے تحفے کے طور پر ایک ایک تلوار دی۔

انعامات کی اس تقسیم میں تین اسدی پہلوانوں نے خلیفہ عمر کی بھیجی ہوئی تلواروں کا تین چوتھا ئی حصہ حاصل کیا ۔ ربیل بن عمرونے اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درج ذیل اشعار کہے ہیں :

سب جانتے ہیں کہ اگر تیز دھاروالی تلواریں ہاتھ آئیں تو ہم اُن کو حاصل کرنے میں دوسرے تمام لوگوں سے سزا وار تر ہیں ۔میرے سوار شام سے ،''ارماث'' کے دن کے آخر تک عام عرب قبائل پر دشمن کے حملوں کو مسلسل روکتے رہے۔

دوسرے سواروں اور جنگجوئو ں نے ایسے فرائض کو دوسری شبوں میں انجام دیا۔

سیف نے ایک اور روایت میں ''عماس '' کے دن کے بارے میں یوں حکایت کی ہے :

''عماس '' کے دن دوبارہ ہاتھیوں کا حملہ شروع ہوا اور انہوں نے ارماث کے دن کی طرح اسلام کے سپاہیوں کی صفوف کو توڑ تے ہوئے ان کے شیرازہ کو بکھیرکے رکھدیااور ان کے سردار وں کو بھگا دیا ۔

سعد وقاص نے جب یہ حالت دیکھی ، تو اس نے ایک تازہ مسلمان ایرانی سپاہی۔جو رستم فرخ زاد کی فوج سے بھاگ کر اسلام کی پناہ میں آیا تھا۔سے پوچھا :

ہاتھی کا نازک نقطہ کہاں ہے اور یہ حیوان کس طرح موت کے گھاٹ اتاراجاسکتاہے ؟اس نے جواب دیا:

ہاتھی کی آنکھیں اور اس کی سونڈ اس کا نازک نقطہ شمار ہوتا ہے ،اگر اس کی ان دو چیزوں کو بیکار کر دیا جائے تو وہ کچھ نہیں کر سکتا ۔!


لہذا سعد وقاص نے کسی کو''قعقاع بن عمروتمیمی اور عاصم بن عمرو'' دو تمیمی پہلوان بھائیوں کے پاس بھیجااوران سے کہاکہ ہاتھیوں آگے آگے بڑھنے والے سفید ہاتھی کا کام تمام کرکے مسلمانوں کو اس کے شرسے نجات دلائیں ،کیونکہ وہ ہاتھی سب ہاتھیوں سے آگے بڑھ کرمسلمان فوجیوں پر حملہ کررہا تھا اور دوسرے ہاتھی اس کی پیروی کررہے تھے ۔

اسی طرح سعدوقاص نے ایک دوسرے فرمان کے ضمن میں ''حمال بن مالک اسدی'' اور ''ربیل بن عمرواسدی'' کو حکم دیاکہ وہ ''اجرب '' نامی ہاتھی کا کام تمام کریں اور مسلمانوں کو اس کے شر سے نجات دیں کہ یہ ہاتھی بھی ہاتھیوں کے ایک دوسرے دستہ کو اپنے پیچھے لئے ہوئے ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔

سپہ سالار اعظم کے حکم کو بجالانے کے لئے دو تممیی بھائی اور پہلوان قعقاع اور عاصم میں سے ہر ایک ،ایک مضبوط لیکن نرم اور تابدار نیزہ لئے ہوئے سفید ہاتھی کی طرف بڑھے ۔حماّل اور ربیل نے بھی ایساہی کیا۔

قعقاع اور عاصم سفید ہاتھی کے نزدیک پہنچے اور ایک مناسب فرصت میں دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ پوری قوت اور طاقت سے اپنے نیزوں کو سفید ہاتھی کی آ نکھوں میں گھونپ دیا اور اس کی دونوں آنکھوں کو حلقوں سے باہر نکال لیا۔ہاتھی اس زخم کی تاب نہ لاکر دُم کے بل زمین پر ڈھیر ہوگیا اور اپنے ہاتھی بان کو زمین پر دے مارا ور اپنی سونڈ لٹکا دی ،قعقا ع نے فرصت غنیمت دیکھی اور اچھل کر تلوار کی ایک کاری ضرب سے اس کی سونڈ جدا کر کے رکھدی ۔ اس کے بعد ہاتھی اپنا توازن کو کھوکر پہلو کی طرف زمین پر گرگیا۔ اس دوران قعقاع اور عاصم نے اس کے تمام سواروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

دوسری طرف حماّل بن مالک نے ربیل بن عمرو سے کہا:

انتخاب تمہارے ہاتھ میں ہے ،یاتم ہاتھی کی سونڈ کو کاٹو اور میں اس کی آنکھیں اندھی کردوں یا تم اس کی آنکھوں کو نشانہ بناؤ اورمیں اس کی سونڈ کاٹ دوں !

ربّیل نے ہاتھی کی سونڈ کو جدا کرنے کی ذمہ داری لے لی اور حمّال نے اس کی آنکھوں کو نشانہ بنا کر ایک تیز حرکت سے اپنے نیزہ کو ''اجرب''نامی ہاتھی کی آنکھوں میں گھونپ دیا۔ہاتھی اس زخم کے نتیجہ میں مڑ کر دُم کے بل زمین پر گرنے کے بعد اپنی اگلی دو ٹانگوں کے سہارے پھر سے اٹھا ، اس بار ربیل نے فرصت نہ دیتے ہوئے اپنی تلوار سے اس کی سونڈ کاٹ کر رکھدی ۔ ہاتھی بان جب ربّیل اور فیل کی سونڈ پر اس کی ضرب سے متوجہ ہوا تو اس نے تبر سے ربیل کے چہرہ پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔

سیف ایک دوسری روایت میں اس موضوع کے بارے میں کہتاہے :


حمّال اور ربّیل نے سپہ سالار اعظم کی طرف سے ماموریت حاصل کرنے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوکر پو چھا:

اے لوگوں !کون سی موت اس ہاتھی کے لئے دردناک تر ہے ؟جواب دیاگیا:

اس پر سختی کرو اور زخمی کر دو!

اس کے بعد جب یہ دو اسدی پہلوان ہاتھی کے سامنے پہنچے ،اپنے گھوڑوں کی لگام کھینچ لی تاکہ گھوڑوں نے اپنی ٹانگیں بلند کیں ،اس کے بعد ان میں سے ایک نے بڑی مہارت سے اپنے نیزے کو ہاتھی کی آنکھو میں گھونپدیا جس کے سبب ہاتھی پیچھے سے زمین پر گرگیا ،ربیل نے بھی بڑی تیزی سے اس کی سونڈ کو کاٹ کر رکھدیا۔اس پر ہاتھی بان نے تبر سے ربیل پر حملہ کیا اور ربیل کے چہرے پر ایک شدید ضرب لگائی لیکن وہ اس حملہ سے زندہ بچ نکلا۔

سیف نے ایک اور روایت میں کہا ہے :

جنگ کے دن دوہاتھی باقی ہاتھیوں کی رہبری کرر ہے تھے ۔ہاتھی بانوں نے ان دوہاتھیوں کا رخ مسلمان فوج کے قلب کی طرف کر دیا ۔۔(یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

سفید ہاتھی دونوں فوجوں کے درمیان حیران اور پریشان حا لت میں کھڑا تھااور سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کس طرف جائے۔اگر اسلام کے سپاہیوں کی طرف بڑھتا تو تلوار ں اور نیزوں کا سامنا ہوتا اور اگر سپاہ کفر کی طرف واپس جاتا تو اسے برچھیوں اور سیخوں سے واپس مڑنے پر مجبور کرتے ۔

اس کے بعد کہتاہے :

''ابیض ''و ''اجرب'' نامی دوہاتھیوں نے سوروں کی جیسی ایک ڈراؤنی آواز بلند کی۔ اس وقت ''اجرب ''نامی ہاتھی جس کی آنکھ نکال لی گئی تھی واپس لوٹا اور ایرانیوں کیصفوف کو درہم برہم کرتے ہوئے دریائے عقیق کے دھارے کی طرف بھاگا ۔اس وقت دوسرے ہاتھی جو اس کی پیروی کرتے تھے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔' 'اجرب'' نامی ہاتھی نے اپنے آپ کو ''عقیق ''نامی دریا میں ڈالدیا اور دوسرے ہاتھی بھی اس کے پیچھے مدائن کی طرف بھاگ گئے اور راستے میں جسے پایا اسے نابود کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے اس طرح بہت سے لوگو ں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

طبری نے بھی ١٦ئ کے حوادث کے ضمن میں اسلام کے سپاہیوں کے دریائے دجلہ سے گزر کر مدائن کی طرف بڑھنے کے بارے میں سیف سے نقل کر کے لکھاہے :


جب سعد وقاص نے عاصم بن عمرو کے ''اھوال'' نامی خصوصی فوجی دستے کو ایرانیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے دیکھا جو دریا کے کنارے اور پانی میں نبرد آزماتھے تو اسے ان کا یہ کارنامہ عظیم نظر آیا،لہذا تحسین کے طور پر انھیں ''خرسائ''نامی فوجی دستہ سے تشبیہ دیدی ۔یہ مخصوص فوجی دستہ قعقاع بن عمرو کا تھا اور اس میں ''حمال بن مالک اسدی ''اور ''ربیل بن عمرواسدی ''موجود تھے ۔

حّمال وربیل کے افسانہ میں سیف کے راویوں کی پڑتال :

مذکورہ روایات میں سیف نے درج ذیل ناموں کو راویکے طور پر پہچنوایاہے :

١۔محمد، یامحمد بن عبداﷲبن سواد نویرہ کو چار مرتبہ ۔

٢۔زیاد،یا زیاد بن سرجس احمری کو تین مرتبہ۔

٣۔ مہلب،یامہلب بن عقبۂ اسدی کو ایک مرتبہ ۔

ان راویوں سیسے ہم کئی مرتبہ آشنا ہو چکے ہیں اور ہم نے کہا ہے کہ یہ سیف کے جعلی راوی ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ہیں ۔

٤۔راویوں کے طور پر چند دیگر مجہول نام بھی ذکر ہوئے ہیں کہ ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ سیف بن عمر نے انھیں کون سے افراد تصور کیا ہے تاکہ ان کے وجود یا عدم وجود کے سلسلے میں بحث و تحقیق کرتے ۔


اس جانچ پڑتال کا نتیجہ

جو کچھ ہم نے کہا ، اس سے یہ حاصل ہوتا:

سیف تنہا شخص ہے ، جس نے ''حمال بن مالک اسدی '' کے قادسیہ کی جنگ میں سعد وقاص کی پیدل فوج کے سپہ سالارہونے کی خبردی ہے :

سیف تنہا شخص ہے جس نے خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوانوں ''قعقاع و عاصم '' فرزندانِ عمرو کے ہاتھوں ''ابیض ''نامی ہاتھی کے مارے جانے اور ''اجرب '' نامی ہاتھی کے ''حمال و ربیل ''جیسے اسدی دلاوروں کے ہاتھوں اندھا ہونے کی بات کہی ہے ۔

سیف تنہاشخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ میں نمایا ں شجاعت اور دلاوری کا مظاہرہ کرنے والے سپاہیوں اور معروف شخصیات کے لئے خلیفہ عمر کی طرف سے انعام کے طور پر چار تلواریں اورچار گھوڑے بھیجنے کی روایت سازی کی ہے ۔

اور سیف ہی و ہ تنہا شخص ہے جس نے قادسیہ کی جنگ میں ''ارماث'' ،''اغواث'' اور ''عماس'' نامی دنوں کی روایت کی ہے ۔ہم نے ان تین جعلی دنوں کے بارے میں اس کتاب کی پہلی جلد میں تفصیل سے بحث کی ہے ۔

بالاخر سیف تنہا شخص ہے جس نے ''عاصم بن عمرو '' کے فوجی دستے ''اھوال '' اور ''قعقاع'' کے فوجی دستے ''فرساء '' کے وجود کا ذکر کیا ہے ۔

یہ اس کا طریقہ کار ہے کہ ہر ممکن صورت میں حتیٰ جعل ،جھوٹ اور افسانے گڑھ کے عام طور پر قبیلۂ عدنان اور خاص طور پر اپنے خاندان تمیم کے افراد کے لئے عظمت و افتخارات کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اپنے دشمنوں یعنی یمانی اور قحطانیوں کو نیچادکھا نے کی کوشش کر تا ہے !

ذرا توجہ فرما یئے کہ وہ مذکورہ بالا افسانہ میں ''ارماث '' کا دن خلق کر کے کس طرح قبیلہ تمیم کے لئے افتخار ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔وہ کہتا ہے :

نزدیک تھا کہ ایرانی بجلیوں قحطانیوں کو نابود کر ڈالیں کہ سعد وقاص نے ان کی داد رسی کی اور اسدی عدنانی ''حمال و ربیل 'کو ان کی نجات کے لئے ھیج دیا اور انھیں قطعی مرگ سے نجات دلائی ۔


ایرانیوں نے اس بار انتقام لینے کی غرض سے اپنے تمام غضب ونفرت سے کام لیتے ہوئے بنی اسد عدنانیوں پر تیروں کی بارش کر دی۔ یہاں پر بھی سپہ سالار اعظم سعد وقاص نے عاصم بن عمروتمیمی کو مأموریت دی کہ اسدیوں کو بچالے اور وہی تھا جس نے اپنی شجاعت کے جو ہردکھاکر اسدیوں کو موت کے پنجے سے بچالیا اور ایرانیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ سرانجام تمیمیوں کاافتخار ہے کہ عاصم بن عمرو تمیمی جنگ کے اس غوغا، تلواروں کی جھنکار ، تیروں اور برچھیوں کی بارش اور دلاوروں کی رجز خوانیوں کے دوران سر بلند ی کے ساتھ بے پنا ہوں کی یاری اور مدد کے لئے دوڑتاہے اور دشمنوں کے خونین پنجوں سے انھیں نجات دلاتاہے ۔کیا معلوم کہ سیف نے ''اغواث '' و ''عماس '' کے دنوں کو بھی اسی مقصد کے پیش نظر خلق کیا ہو!! وہ کہتا ہے :

اسی دن عدنانی شہسوار وں اور دلاوروں نے ایرانی جنگی ہاتھیوں کے مسلمان سپاہیوں پرحملے کو روکا ،اس فرق کے ساتھ کہ بنی اسد عدنانی پہلوانوں نے ''اجرب''نامی ہاتھی کی صرف ایک آنکھ کو اندھا بنایا جبکہ تمیمی پہلوانوں قعقا ع اور عاصم نے ''ابیض '' نامی ہاتھی کی دونوں آنکھیں حلقہ سے باہر نکال لیں ۔اس طرح سیف کا قبیلہ ''تمیم ''دوسرے عدنانی قبیلوں کی نسبت صاحب فضیلت اور خصوصی برتری کا مالک بن جاتا ہے ۔

کیا ایسا نہیں ہے کہ عاصم وقعقاع تمیمی کی کمانڈ میں ''اہوال ''اور ''خرساء '' نام کے عدنانی فوجی دستے اسلامی فوج کے پہلے دستے تھے جنہوں نے گھوڑوں پر سوار ہو کر دریائے دجلہ کو ایسی حالت میں عبور کیا جب وہ دشمنوں سے پانی میں لڑرہے تھے اور وہی سب سے پہلے مدائن میں داخل ہوئے ہیں ؟!

اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ آخری جگہ جہا ں پر سیف ''ربیل بن عمرو'' کا نام لیتا ہے ،وہ عدنانی و مضری خلیفہ عثمان کے دفاع کے سلسلے میں خلق کی گئی اس کی روایت ہے ۔کہتاہے :


عثمان نے بعض زمینیں ''خباب بن ارت'' ،'' عماریا سر''اور'' عبداﷲ بن مسعود ''۔۔جو پاک ونیک اور کمزور و غریب صحابی شمار ہوتے تھے۔۔کوبخش دیں ۔سیف کی یہی بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے ، کیونکہ عثمان نے نہ صرف کوئی زمین یاکھیت ان کو نہیں دیا بلکہ اس کے بر عکس ''عمار یاسر، ابن مسعود اور ''ابوذر ''کی تنخواہ اور وظیفہ بھی کاٹ کر حکم دیا تھا کہ انھیں کوئی چیز نہ دی جائے ! (۱)

خلیفہ عثمان کی سخاوتیں اور بذل و بخش اور ز مینوں کی واگزاری بنی امیہّ اور قریش کے سرمایہ داروں تک ہی محدود تھی اور دوسرے لوگ اس سخاوت کے دستر خوان سے محروم تھے ۔(۲)

مختصر یہ کہ سیف نے اس افسانہ میں عمروتمیمی کے دو بیٹوں قعقا ع و عاصم اور ابومفرز تمیمی،جن کے حالات پر اپنی جگہ پر روشنی ڈالی گئی ہے کے علاوہ ''حمال و ربیل ''نامی دووالبی

____________________

١۔نقش عائشہ در تاریخ اسلام (١/١٦٠۔١٦٧)و(١/١٩٢۔٢٠٣)

٢۔''انساب الاشراف''بلاذری(٥/٢٥۔٨١)


اسدی صحابیوں کا ذکر کیا ہے اور ہر ایک کے لئے ایک افسانہ گڑھ لیاہے اور اس افسانہ کی اپنے خلق کئے گئے راویوں اورمجہول افراد سے روایت کرائی ہے ۔

اسی طر ح اپنی اور روایتوں میں بعض معروف و مشہور افراد کو بھی کھینچ لایا ہے ۔اور اپنے جھوٹ کو ان کے سر تھوپتا ہے ۔ہم نے اس کی اس قسم کی مہارتوں کے کافی نمونے دیکھے ہیں اور اپنی جگہ ان پر بحث کی ہے ۔

حماّل اور ربیل کا افسانہ ثبت کرنے والے علما:

١۔طبری نے حمالّ و ربیل کا افسانہ براہ راست سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

٢۔ابن اثیر نے ان افسانوں کو طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیاہے ۔

٣۔ابن کثیر نے طبری سے نقل کر کے خلاصہ کے طور اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

٤۔ابن خلدون نے بھی اسے طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

٥۔ابن حجر نے برسوں گزرنے کے بعد سیف کی روایتوں اور تاریخ طبری پر اعتماد کر کے

''حمال اور ربیل کو صحابی جانا ہے، اور ربیل کو ''ربیال''کہاہے جبکہ ہم نے کہا ہے کہ صیحح ربّیل ہے ۔

قابل ذکر بات ہے کہ ابن حجر نے ربیل کے حالات کی تشریح کے آخر میں لکھا ہے کہ :

''ہم نے کئی بار کہاہے کہ قدماکی رسم یہ تھی کہ وہ صحابی کے علاوہ کسی اورکو سپہ سالار کا عہدہ نہیں سونپتے تھے ۔''

ہم بھی یہیں پرکہتے ہیں کہ ہم نے بھی بارہا کہا ہے کہ اس کا یہ قاعدہ بالکل غلط اور بے اعتبار ہے اور ہم نے اس مطلب کو اسی کتاب کی ابتداء میں بحث کر کے ثابت کیا ہے ۔

یہ بھی کہہ دیں کہ سیف کے جن چند خیالی دجعلی صحابیوں کے نام اس کتاب کے اگلے صفحات میں آئیں گے وہ بھی اس قاعدے کی بناء پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے اصحاب کی فہرست میں قرارپائے ہیں ۔


مصادر و مآخذ

حمّال بن مالک اسدی کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (١/٣٥١)پہلا حصہ، ترجمہ نمبر:١٨١٦

٢۔''اکمال '' ابن ماکولا (٢/١٢٣)،(٢/٥٤٤)

٣۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٩٨)

رِبّیل بن عمرو اسدی کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (١/٥٠٨)پہلا حصہ ترجمہ ٧.٢٧

مسعود بن مالک اسدی کے حالات

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٣٢٩)

والب اسدی کا نسب:

١۔''جمہرة الانساب'' ابن حزم (١٩٤)

٢۔لباب الانساب (٣/٢٦٠)

حمّال اور رِبیل اسدی کے بارے میں سیف کی روایات :

١۔تاریخ طبری (١/٢٢٩٨)،(١/٢٣٠٨)،(١/٢٣٢٤۔٢٣٢٦،٢٣٧٦،٢٤٣٦)

٢۔''تاریخ ابن اثیر''(٢/٣٧٢۔٣٧٣)،(٢/٣٤٩،٣٦٥،٣٧١)

٣۔''تاریخ ابن خلدون '' (٢/٣٢٤)

٤۔تاریخ ابن کثیر (٧/٤٣) خلاصہ کے طور پر۔


چونسٹھ واں جعلی صحابی طلیحہ عبدری

ابن حجر نے کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کایوں تعارف کرایا ہے :

طلیحہ بن بلال قرشی عبدری :

ابن جریر طبری نے لکھا ہے کہ ''طلیحہ'' ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کی کمانڈ میں ''جلولا''کی جنگ میں سپاہ اسلام کے زرہ پوشوں اور سواروں کے سپہ سالار کی حثیت سے منتخب ہواہے ۔

ہم نے اس سے پہلے بارہاکہا ہے کہ جنگجوں میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار منتخب نہیں کیاجاتا تھا۔

''ابن فتحون ''نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب ''استعیاب '' میں دریافت کیا ہے ۔(ز)

عبدری کا نسب:

عبدری ،عبدالعار بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر کی طرفنسبت ہے اور قریش فہرکے فرزندوں میں سے ہے اس قبیلہ کے علاوہ قریش کا وجودنہیں ہے ۔

لیکن ''جلولا ''کی جنگ کی خبر ،جس کی طرف ابن حجر نے ''تاریخ طبری سے نقل کرکے اشارہ کیا ہے حسب ذیل ہے :

طبری نے ١٦ ھ کے حوادث کے ضمن جلولاکی جنگ کے بارے میں سیف سے نقل کر کے دوروایتیں درج کی ہیں ۔ان میں سے ایک میں کہتا ہے :

سعد وقاص نے خلیفۂ ،عمر کے حکم سے ''ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص '' کو بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ جلولاکی مموریت دی ۔ہاشم نے اپنی سپاہ کے میسرہ کی کمانڈ ''عمروبن مالک بن عتبہ''کوسونپی ۔

سیف دوسری روایت میں کہتاہے :

سعد بن ابی وقاص نے عمروبن مالک بن عتبہ کو جلولا کی ماموریت دی اور ۔۔(یہاں تک کہ کہتاہے :)

اس جنگ کے قریب سواروں کے زرہ پوش دستے کی کمانڈ قبائل بنی عبدالدار کے ایک شخص ''طلیحہ بن ملان ،کے ذمہ تھی ۔


داستان طلیحہ کے راویوں کی پڑتال:

دوسری خبر میں جہاں پر سیف نے طلیحہ بن ملان کا نام لیاہے ،اس میں اپنے راوی کے طور پر ''عبیدااﷲبن مُحَفّزِ'' بتایا ہے کہ اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ۔اور اس نام کاکوئی حقیقت میں وجود نہیں رکھتا ہے اور سیف کے ایک جعلی راوی نے سیف کے دوسرے خیالی راوی سے روایت کی ہے ۔!

بحث کا نتیجہ:

ا بن حجر نے تا ر یخ طبری میں سیف سے نقل کی گئی روایت کے تنہا نقطہ پر ا عتما د کر کے مذ کورہ طلیحہ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ا صحاب میں شمار کیا ہے۔

ا بن حجر کی نظر میں اس کے حا لا ت کی تشریح میں یہ نقطہ قابل تو جہ رہا ہے کہ طلیحہ جلو لا کی جنگ میں سواروں کے فوجی د ستے کا سپہ سا لار رہا ہے۔

ساتھ ہی اس کی تو جہ خا ص طو ر پر اس نام نہاد قاعدہ پر متمر کز رہی ہے اور وہ ہر روا یت کے آ خر میں اس کی تکرار کر تا ہے کہ:

میں نے بارہا کہا ہے کہ جنگو ں میں صحا بی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالا ر ا نتخا ب نہیں کیا جا تا تھا۔

اس و قت یہ بھی کہتا ہے :

اس صحا بی کو ابن فتحو ن نے بھی دریافت کیا ہے (ز)

ا بن حجر کی اس آ خر ی بات سے یہ نتیجہ حا صل ہو تا ہے کہ ا بن فتحو ن نے علامہ ابن حجر سے پہلے ابن عبد ا لبر کی ''استیعاب '' کے ضمیمہ میں طلیحہ کو صحابی شمار کیا ہے ۔

یہاں تک ہم نے اس حصہ میں سیف کے ایسے جعلی اصحاب کا تعارف کرایا ، جن کو علماء نے اس استناد پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداکے اصحاب قبول کیاہے کہ سیف نے اپنے افسانوں میں انھیں سپہ سالاری کا عہدہ سونپاہے ۔ انہوں نے بعض مواقع پر صحابی کی شناخت کے لئے وضع کئے گئے قاعدہ کی صراحت کی ہے اور بعض مواقع پر انھیں فراموش کر کے صرف اس کے نتیجہ پر اکتفا کی ہے۔

یہ علمااگر کبھی کسی چہرہ کو صحابی کے عنوان سے تعارف کرانے کے دوران کسی ایسی روایت یا خبر سے روبرو ہوتے جو ان کے وضع کئے گئے قاعدہ سے تناقص و ٹکراؤ رکھتی ہو تو ایک ایسی راہ کا انتخاب کر کے فرار کرتے تھے تاکہ ٹکراؤ کے مسلہ کو مذکورہ قاعدہ سے دورکریں ۔اب ہم آگے جن صحابیوں کے حالات پر روشنی ڈالیں گے وہ اسی قسم کے نمونے ہیں ۔


مصادر و مآخذ

طلیحۂ عبدری کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٢/٢٢٦)

ہاشم بن عتبہ کی سپہ سالاری کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٤٥٦)

طلیحہ بن بلال کی سپہ سالاری :

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٤٦١)

بنی عبدالدار کا نسب :

١۔''اللباب'' (٢/١١٢)

٢۔''جمہرہ ٔانساب '' ابن حزم (١٢۔١٣)

قریش کا نسب:

١۔''نسب قریش '' زبیر بن بکار (٢٥٠۔٢٥٦)


٦٥واں جعلی صحابی خلید بن منذربن سا وی عبدی

ابن حجر کی ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کیا گیا ہے :

خلیدبن منذربن ساوی عبدی:

طبری نے لکھا ہے کہ علاء حضرمی نے ١٧ھمیں ''خلیف بن منذر'' کو ایک فوجی دستہ کی کمانڈ سونپ کر سمندر ی راستے سے ایران کی طرف روانہ کیا ۔ خلید کا باپ ''منذر بن ساوی '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ہی اس دنیا سے چلاگیا تھا۔

ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ہے کہ قدماجنگوں میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالارنہیں بناتے تھے ۔یہی ا مراس بات کی دلیل ہے کہ خلیدرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں شرف یاب ہوا ہے ،اورخدابہتر جانتا ہے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

سیف کے اس صحابی کا نسب:

منذر بن ساوی ،اخنس تمیمی داری عبدی اسبذی کا نواسہ ہے ۔

لیکن ''عبدی '' '' عبداﷲبن دارم '' سے نسبت ہے ۔ یہ غلط ہے اگر یہ گمان کیا جائے کہ یہ نسبت''عبدالقیس'' تک پہنچتی ہے ۔

اور،''اسبذی ''جیسے کہ ابن حزم کی '' جمہرہ '' اور بلا ذری کی ''فتوح البلدان میں لکھاگیا ہے کہ ''اسبذی'' ،''ہجر '' میں ایک قصبہ تھا ۔

بلاذری لکھتاہے :

''اسبذی '' بحرین میں کچھ لوگ تھے جو گھوڑے کی پوجا کرتے تھے ۔''

اور خود بحر ین کے بارے میں لکھتاہے :

٨ھمیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''علاء بن عبداﷲ''حضرمی ''کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دے اور قبول نہ کرنے کی صورت میں ان پر جزیہ مقرر کرے ۔اس کے علاوہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''منذر بن ساوی '' اور ''ہجر''کے سرحد بان ''سیبخت ''کے نام خط مرقوم فرمایا اور انھیں اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے کی دعوت دی۔ منذر اور سپخت اسلام لائے اور ان کے ہمراہ اس علاقہ کے تمام عرب زبان اور بعض غیر عرب بھی مسلمان ہو گئے' لیکن آتش پرست زمیندار یہودی اور عیسائی اسلام نہیں لائے اور انہوں نے جزیہ کی بناء پر علاء حضرمی سے صلح کی اور علاء نے اس سلسلے میں اپنے اور ان کے درمیان ایک عہد نامہ لکھا۔


پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد منذر فوت ہوگیا۔ (بلاذری کی بات کا خاتمہ)

''منذربن ساوی '' کی داستان کی حقیقت یہی تھی جو ہم نے اوپر ذکر کی ۔لیکن سیف بن عمر اسی منذرکے لئے ایک بیٹا خلق کرتا ہے اور اس کا نام ''خلید بن کاس '' کے نام پر ، ''خلید''رکھتاہے ۔''خلید بن کاس کو امیرالمومنین علی نے خراسان کے حاکم کے طور پر منصوب فرمایا تھا۔سیف اپنے اس خلید کا اپنی روایتوں میں ''خلید بن منذربن ساوی ''کے عنوان سے تعارف کراتاہے۔!!

ابن حجرنے اس تعارف کے تشریح کرتے ہوئے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں خلید کے لئے ''عبدی''کا بھی اضافہ کیا ہے کیونکہ منذربن ساوی کو ''عبدی 'سے نسبت دی گئی ہے ۔

خلید کا افسانہ:

طبری نے ١٧ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کر کے لکھاہے :

علاء بن حضرمی جو بحرین پر حکومت کرتاتھا ،سعد بن ابی وقاص سے رقابت رکھتا تھا اور اپنے آپ کو اس سے کم تر نہیں سمجھتا تھا ۔لہذا سے جب سعد بن وقاص کو قادسیہ کی جنگ میں فتح نصیب ہوئی اور جو جنگی غنائم اسے حاصل ہوئے تھے وہ ارتداد کی جنگوں میں علاء کے ذریعہ حاصل کئے گئے غنائم سے کافی زیادہ تھے اس لحاظ سیسعد کا نام زبان زد عام ہو چکا توعلاء کے ذہن میں حسادت کی وجہ سے یہ خیال آیاکہ ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں ایسا کارنامہ دکھائے جس سے شہرت حاصل کر سکے۔ علاء نے اپنی اس فکر کے تحت لوگوں کو سمندری راستے سے ایرانیوں پر حملہ کرنے کی دعوت دیدی ۔لوگوں نے بھی اس کی تجویز کو قبول کیا اور اس کے پرچم تلے جمع ہوگئے ۔

علاء نے جمع ہوئے سپاہیوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا فوج کے ایک حصہ پر ''جارود بن معلی '' دوسرے حصہ پر ''سوار بن ھماّم'' اور تیسرے حصہ پر ''خلید بن ساوی ''کو سپہ سالار مقرر کیا اور یہ حکم دیا کہ کمانڈ ر انچیف ''خلید '' ہوگا۔ اس کے بعد خلافت اور خود خلیفہ سے اجازت حاصل کئے بغیر اور خلیفہ عمر کی فرمانبرداری یا نافرمانی کے انجام کی فکر کئے بغیر خود سرانہ سمندر ی راستے سے ایرانیوں پر حملہ کیا۔


عمر ، خودایرانیوں پر اس راستے سے حملہ کرنے سے آگاہ تھے ،لیکن رسول اﷲاور خلیفہ اول ابوبکر کی سنت کی پیروی کے پیش نظر اور بے جا خود خواہی اور غرور کے خوف سے ایسے حملہ کو جائز نہیں جانتے تھے اور سپاہ سالار وں کو پہلے سے ہی ایسے حملہ سے پرہیز کرنے کاحکم دے چکے تھے ۔

بالآخر علاء کے سپاہیوں نے سمندر سے گزر کر ''استخر فارس '' نام کے مقام سے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا ۔ ''ھیر بد '' نامی اس علاقہ کے سرحد بان نے ایک تدبیر سوچی کہ اسلامی سپاہیوں اور ان کی کشتیوں کے درمیان ایسی رکاوٹ پیدا کرے کہ ان کا اپنی کشتیوں تک پہنچنا ناممکن بن جائے ۔اس تدبیر کے پیش نظر اگر علاء کے سپاہی فاتح نہ ہوتے تو انھیں قطعی طور پر موت یا اسارت میں سے ایک کا سامنا کر نا پڑتا !

'' خلید حالات کو بھانپ چکا تھا ،اس لئے اٹھ کر اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر بولا:

اما بعد ، خدائے تعالیٰ جب کسی امر کو مقرر فرماتاہے تو کام اس طرح ایک دوسرے کے پیچھے مرتب ہوتے ہیں تاکہ منشائے الٰہی پورا ہو جائے ۔

تمہارے دشمنوں نے جو کچھ تمہارے بارے میں انجام دیا ہے وہ اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتے ہیں ۔انہیں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ تم سے جنگ و مبارزہ طلب کریں ،اورتم لوگوں نے بھی اسی مقصد کے پیش نظر اتنا لمبا سفر کیا ہے ۔

اب سر زمینوں اور کشتیوں پر قبضہ کرنا تمہاری فتحابی پرمنحصر ہے ،صبر و شکیبائی اور نماز ادا کرکے بارگاہ خداوند ی میں خضنوع و خشوع کرو کہ یہ کام خوف خدا رکھنے والوں کے علاوہ دوسروں کے لئے مشکل ہے ۔

لوگوں نے خلید کی باتوں کی تائید کی اور ہر کام کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا اس کے بعد انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی ۔خلید نے انھیں ایرانیوں سے لڑنے کے لئے للکارااور ''طائووس''کے مقا م پر جنگ چھڑ گئی۔ مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔


''سوار بن ھمام '' نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچ لی اورحسب ذیل رجز خوانی کی :

اے آل عبدقیس ! جبکہ اس وقت سب ساتھی اس ناہموار زمین پر جمع ہوئے ہیں تم پہلوان !دلاوروں سے لڑنے کے لئے اٹھو!

یہ سب اہل رزم اورمردان ِ جنگ ہیں اور تیز تلوار وں کو چلانے کے فن سے اچھی طرح آگاہ ہیں اوران سے پورا پورا استفادہ کرتے ہیں اس کے بعد اس نے اس قدر جنگ کی کہ آخر کار قتل ہوگیا۔

اس کے بعد ''جارود'' نے میدان میں آکر یوں رجز خوانی کی:

اگر کوئی آسان چیز میرے دسترس میں ہوتی تو اسے راستے سے ہٹا دیتا یا اگر گندہ اور کھڑا پانی ہوتا تو اسے میں زلال اورجاری پانی میں تبدیل کردیتا ۔لیکن کیا کروں یہ فوج کا ایک سمندر ہے جو ہماری طرف موجیں مارتا ہوا آرہا ہے۔

اس کے بعد اس نے جنگ کی اور قتل ہوگیا۔

اس دن ''عبداﷲسوار '' اور منذر جارود نے انتہائی اضطراب و بے چینی کے باوجود بہت ہاتھ پائوں مارے لیکن آخر جنگ کرتے ہوئے قتل ہوئے ۔

اس وقت ''خلید نے میدان کا راز میں قدم رکھا اور خود ستائی کے رجز پڑھتے ہوئے بولا:

اے تمیمیو !سب گھوڑوں سے نیچے اُترائو ،اور دشمن سے پیدل جنگ کرو.

اس کے بعد سب اپنے گھوڑوں سے اتر کر جان ہتھیلی پر لے کر دشمن کے ساتھ پیدل جنگ میں مشغول ہوئے اور اس قدر ان کو قتل کیا جن کا کوئی حساب نہیں تھا.

اس کے بعد بصرہ کی طرف واپس لوٹے ۔لیکن دیکھا کہ ان کی کشتیوں کو غرق کر دیا گیا ہے اور ان کے لئے دریا کے راستے واپس لوٹنا ناممکن بنادیا گیا ہے !

اس حالت معلوم ہوا کہ ''شہرک ''کے مقام پر بھی دشمن نے راستہ بند کر دیا ہے اس طرح وہ سمندر کے علاوہ دیگر تین اطراف سے بھی مکمل طور پر محاصرہ میں پھنس گئے ہیں ۔ آخر کار وہ تمام سر گرمیوں سے ہاتھ کھینچ کر انتظار میں بیٹھے !


دوسری جانب علاء حضرمی کی سمندری راستے سے ایرانیوں پر لشکر کشی کی خبر خلیفہ عمر کو پہنچی اورجو کچھ مسلمانوں پر گزری تھی وہ سب ان پرالہام ہوا ۔خلیفہ نے علاء کو غصہ کی حالات میں ایک خط لکھا جس میں اسے سخت سر زنش تھی اور اس کے بعد اسے برطرف کردیا!

عمر نے اس قدر تنبیہ پر اکتفانہ کی بلکہ اس کے غرور کو توڑ کے رکھدیا اور اس شانوں پر ایک طاقت فرسابار ڈالدیا ،یعنی حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت ''سعد وقاص '' کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے ماتحت فریضہ انجام دے !!

علاء نے مجبور ہو کر خلیفہ کے حکم کی تعمیل کی اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کوفہ عزمیت کر کے سعد کی خدمت میں پہنچ گیا

اس کے بعد عمر نے مسلمانوں کو ایرانیوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے چارہ جوئی کی اور ''عتبہ بن غزوان ''کو ایک خط میں یوں لکھا :

علاء حضرمی نے خود سرانہ طور پر مسلمانوں کے لشکر کو ایران لے جاکر انھیں ایرانیوں کے چنگل میں پھنسادیا ہے ۔چونکہ علاء نے اس کام میں ہماری نافرمانی کی ہے ،اس لئے خدا بھی اس سے ناراض ہے ۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ علاء کے گناہوں کا نتیجہ اسلام کے سپاہیوں کو بھگتنا نہ پڑے ۔لہذا اس سے قبل کہ وہ اس سے زیادہ بدحال ہوں ان کی مدد کے لئے اپنے لوگوں کو آمادہ کرؤ اور فوراً خود ان کے پاس پہنچو۔

عتبہ نے لوگوں کو خلیفہ کے خط سے آگاہ کیا اور انھیں محاصرہ میں پھنسے اسلام کے سپاہیوں کی مدد کے لئے آمادہ کیا ۔لوگوں نے بھی اپنی رضامندی اور آمادگی کا اعلان کیا اوراس کی لشکر گاہ میں جمع ہو گئے ۔

ا س کے بعد عتبہ نے ،''عاصم بن عمرو تمیمی ''،''احنف بن قیس تمیمی ''اور''ابوسبرہ '' کے علاوہ ان جیسے چند دیگر دلاوروں کا انتخاب کیا اور بارہ ہزار سپاہیوں کو ان کی کمانڈ میں دیا ۔ ان سب کے کمانڈر انچیف کا عہدہ ''ابوسبرہ ''کوسونپ کر محاصرہ میں پھنسے مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجدیا ۔

مسلمانوں کی فوج نے ساحل پر اترنے کے بعد بے درنگ خود کو ''خلید'' اور اس کے ساتھیوں تک پہنچایا اور ایرانیوں سے زبردست لڑائی چھیڑ دی اور اس کے باوجود کہ ابھی ایرانیوں کی کمک ان تک پہنچ رہی تھی انہوں نے مشرکوں کے کشتوں کے پشتے لگا دئیے۔ سر انجام خدا وند عالم نے انھیں فتح و کامیابی عطا کی اور سارے ایرانی موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔


مسلمانوں نے اس فتح و کامیابی کے نتیجہ میں اپنے کھوئے ہوئے مال کے علاوہ کا فی مقدار میں غنائم جنگی پر بھی قبضہ کیا اور فاتحانہ طور پر صحیح و سالم بصرہ لوٹے کیونکہ عتبہ نے انہیں تاکید کی تھی ایرانیوں کا کام تمام کرنے کے بعد وہاں پر مت ٹھہرنا بلکہ فوراً واپس آجانا۔ (طبری بات کا خاتمہ)

خلید کے افسانہ کے راویوں کی پڑتال :

سیف نے اپنی اس روایت کے راویوں کے طور پر مندرجہ ذیل نام لئے ہیں :

١۔محمد ،یامحمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٢۔مہلب ،یا مہلب بن عقبہ اسدی ۔

ہم نے گزشتہ بحثوں میں کہاہے کہ محمد ومھلب دونوں سیف کے خیالی راوی تھے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ہیں سیف سے نقل کر کے طبری نے جو کچھ بیان کیا ہے حموی نے سیف سے نقل کرنے کے علاوہ کچھ اضافات اور اشعار بھی درج کئے ہیں ، ملاحظ فرمایئے :

حموی نے اپنی کتاب ''معجم البلدان '' میں لفظ طائووس '' کے سلسلے میں طبری سے نقل کر کے لکھاہے :

سیف بن عمر سے روایت ہے کہ علاء خضرمی نے خلافت اورخود حضرت عمر سے اجازت لئے بغیر ایک فوج کو سمندر ی راستے سے ایران کی طرف بھیجدیا ۔عمر علاء کے اس نامناسب کا م کی وجہ سے اس پر ناراض ہو اور اسے اپنے عہدے سے برطرف کر دیا۔ علاء ، برطرف ہونے کے بعد سعد وقاص کے پاس کوفہ گیا ،جس نے اس کی مدد کی تھی۔اور سرانجام ''ذی قار'' کے مقام پر فوت ہوگیا ۔خلید بن منذر نے جنگ ''طائووس'' کے بارے میں یوں کہا ہے :

ہم جس شب میں پادشاہوں کے تاج چھین کے لائے تھے ، ہمارے گھوڑوں نے شہر '' شہرک'' کی بلندیوں اور ناہموار زمین پر قبضہ کرلیا۔

ہمارے شہسوار ایرانیوں کو گروہ گروہ پہاڑوں کی بلندیوں سے ایسے نیچے گرا دیتے تھے کہ دیکھنے والا بادل کے ٹکڑوں کو گرتے دیکھتا تھا۔

خداوند عالم! ہمارے گروہ میں سے ان لوگوں کو اپنی رحمت سے محروم نہ کرے جنہوں نے دشمن کے خون سے اپنے نیزوں کو رنگین کیا تھا۔


بحث و تحقیق کا نتیجہ

سیف نے جو اول سے آخر تک یہ جنگ اور اس میں مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان لڑائی اور جنگ کی تفصیلات لکھی ہیں سب کی سب اس کی خود ساختہ داستان ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

سیف نے علاء حضرمی یمانی قحطانی صحابی کے سعد و قاص عدنان مضری صحابی کے ساتھ حسد کی داستان کو گڑھا ہے اور ان کیلئے جھوٹ کے پلندے بناکر تہمت لگائی ہے۔ سیف نے علاء کی لام بندی کو جعل کرکے ان کیلئے فرضی کمانڈر معین کئے ہیں ۔ سیف نے اسلام کے سپاہیوں کا عمر منع کرنے کے باوجود سمندر سے عبور کرکے ایرانیوں پر حملہ کرنے کی داستان اپنے ذہن سے گڑھ لی ہے ، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیف نے '' طاؤوس'' کے میدان جنگ اور وہاں پر اسلام کے دلاوروں کے قتل ہونے کا قصہ اپنے ذھن سے گڑھ لیا ہے اور یہ سراسر جھوٹ ہے۔

سیف نے سپہ سالاروں کے نام پر خود رزمیہ اشعار اور رجز خوانیاں جعل کرکے ان کے نام پر درج کئے ہیں !

سیف نے عمر کے الہام کا موضوع ، ایران کی سرزمین پر مسلمانوں کے حالات اور ان کی شکست کے بارے میں الہام کے ذریعہ حضرت عمر کا مطلع ہونا ، خود گڑھ لیا ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے!

سیف کی یہ داستان کہ عمر نے علاء کی تنبیہ کرکے اسے اپنے عہدے سے اس لئے برطرف کیا ہے کہ اس نے یہ کام نافرمانی کی بناء پر کیا تھا اور خلیفہ کے حکم سے اس کا سعد و قاص کے تحت جانا سب سیف کا گڑھا ہوا ہے اور حقیقت سے دور ہے۔

عتبہ بن غزوان '' کی ایرانیوں کے ہاتھوں محاصرہ شدہ مسلمانوں کو نجات دلانے کیلئے عمر کی طرف سے مموریت اور بارہ ہزار سپاہیوں کو ایران بھیجنا سیف کا گڑھا ہوا افسانہ اور سراسر جھوٹ ہے ۔

سیف نے ایک ایسی رزم گاہ خلق کی ہے جہاں پر عتبہ کے سپاہیوں نے ایرانیوں سے جنگ کی ہے ، حقیقت میں اس میدان کارزار کا کہیں وجود نہیں ہے۔

سیف نے '' طاؤوس'' نامی ایک جگہ کو خلق کیا ہے اور اسے اسلام کے دلیرمردوں کا میدان کارزار قرار دیا ہے اور بالاخر اس نے چند راویوں کو خلق کرکے خلید کے افسانے اور جنگی وقائع ان کی زبان سے بیان کئے ہیں ۔

جی ہاں ، ان سب چیزوں اور ان کے علاوہ اور بھی افسانوں کو سیف نے خلق کیا ہے اور ان کی تخلیق میں سیف کا کوئی شریک نہیں تھا۔


افسانہ خلید سے سیف کے نتائج :

اب ہم دیکھتے ہیں خلید کے افسانہ میں سیف کا ان سب باتوں کو گڑھنے کا کیا مقصد تھا اور اس نے اس سے کیا حاصل کیاہے :

١۔سیف نے اس افسانہ میں علاء حضرمی ،یمانی قحطانی صحابی پر سعد وقاص عدنانی مضری کے ساتھ مکر ،ریا،حسدو رقبت کے علاوہ خلیفہ عمر کے حکم کی نافرمانی کی تہمت لگائی ہے اور اس طرح ارتداداور دوسری جنگوں میں اس کی تمام خدمات اور زحمتوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

٢۔ سیف بن عمر تمیمی نے ''خلید ''نامی ایک دوسرے افسانوی سورما کو خلق کر کے اپنے خاندان تمیم کو چار چاند لگانے کی ایک اور کوشش کی ہے ۔ کیونکہ اس کے قبیلہ کا نام اس افسانہ میں واضح ہے ۔

٣۔سیف نے تاریخ اسلام کو اپنی قدرو قیمت اور اعتبار سے گرادیا ہے ، اس کے نے بہت سی جنگوں کو مسلمانوں سے نسبت دی ہے اور ان کے ہاتھوں خون کی ہولیا ں کھیلنے کے ساتھ ،ایک اور جنگ کا اس میں اضافہ کیا ہے اور اس میں بھی بے حد وحساب کشتیوں کے پشتے لگا کر اسے مسلمانوں کے نام پر درج کیا ہے۔ اس طرح اپنے رندیقی ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے ۔

٤۔ان واقعات اور دیگر ایسے ہی وقائع کو تاریخ اسلام میں ایسے داخل کیا ہے کہ اکثر محققین تاریخی حقائق کے روبرو حیرت اور گمراہی سے دوچار ہوتے ہیں ۔

خلید کا افسانہ نقل کر نے والے علما:

١۔ امام المورخین ،محمد بن جریر طبری ،جس نے افسانہ خلید کو بلاواسطہ سیف سے نقل کیا ہے ۔

٢۔ابن اثیر ، جس نے خلید کے افسانہ کو طبری سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔

٣۔ابن کثیر ،جس نے داستان خلید کو طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

٤۔ابن خلدون ، جس نے خلید کی داستان کو طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے۔

٥۔حموی ،جس نے سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے خلید کے افسانہ کو سیف سے نقل کر کے لفظ ''طاوئو س '' کے سلسلے میں ''معجمم البلدان ''میں درج کیا ہے ۔


٦۔حمیری نے بھی لفظ ''طاوئوس ''کے سلسلے میں اسی داستان کو اپنی کتاب ''روض المعطار'' میں نقل کیا ہے ۔

٧۔عبدالمؤمن نے بھی حموی سے نقل کر کے اس داستان کو اپنی کتاب '' مراصد الاطلاع ''میں درج کیا ہے

٨۔سرانجام ابن حجر نے بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے ،خلید کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی جان کر اپنی کتاب ''اصابہ کے حصۂ اول میں نمبر ٢٢٨٥کے تحت اس کے حالات درج کئے ہیں !

وہ مشکل جسے ابن حجر نے حل کیا ہے !!

چونکہ ''منذر بن ساوی عبدی '' اہل ِ بحرین تھا اور وہیں پر زندگی بسر کر تا تھا اور وہیں پر فوت ہواہے ، اس لئے جس ''خلید '' کو سیف بن عمر نے اس کے بیٹے کے طور پر خلق کیا ہے اور علاء کی سپاہ کے کمانڈر کی حیثیت سے بحرین میں اسے ماموریت دی ہے ،وہ بھی بحرینی ہونا چاہیئے ،لیکن یہ خلید کے صحابی ہونے کی نفی کرتا ہے ، کیونکہ صحابی کو کم از مدینہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچ کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت سے شرف یاب ہونا چاہئے ۔ اب چونکہ خلید بن منذر بحرین میں پیدا ہوا ہے اور وہیں پر رہایش پذیر تھا کہ علاء حضری نے اسے ایرانیوں کے ساتھ جنگ پر بھیجدیا ہے ، اس لئے ابن حجر اس مشکل کوحل کرنے کی فکر میں پڑتا ہے اور خلید کا تعارف کرانے اوراس کے حالات بیان کرنے کے بعد علاء کی سپاہ میں اس کے سپہ سالار کے طور پر منتخب ہونے کے سلسلے میں لکھتاہے :

ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ قدماء کی رسم یہ تھی کہ وہ جنگوں میں صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار کے عہدہ پر منتخب نہیں کرتے تھے ۔خلید کی سپہ سالاری اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قطعاًمدینہ گیا ہوگا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت سے شرف یاب ہوا ہوگا۔اور خدا بہتر جانتا ہے ۔

موضوع اس طرح ہے کہ علامہ ابن حجر سیف کی اس روایت سے کہ خلید بن منذر ''طاوئوس''کی جنگ میں سپہ سالارتھا یہنتیجہ حاصل کرتا ہے کہ صحابی کی شناخت کے لئے جو قاعدہ وضع کیا گیا ہے یعنی ''قدماء صحابی کے علاوہ کسی کو سپہ سالار منتخب نہیں کرتے تھے '' ،اس کے تحت خلید بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا صحابی ہونا چاہئے ۔


لیکن خلید بحرینی کی مدینہ منورہ میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مصاحبت اس کی بحرین میں سکونت کے ساتھ سخت ٹکراؤ رکھتی ہے ، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک وقت میں زمین کے ایک دوسرے سے دور دو نقطوں پر وجود رکھتا ہو ۔لیکن سیف نے کہا ہے کہ خلید سپہ سالار تھا اور ِ صحابی کے علاوہ کوئی اور سپہ سالار نہیں بن سکتاتھا !

لہذا علامہ ابن حجر اس کی چارہ جوئی کرتے ہیں تاکہ اس واضع اور آشکا ر تناقص کو دور کریں اور سرانجام اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خلید نے بحرین سے مدینہ سفر کیا ہوگا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت سے شرف یا ب ہوا ہو گا اوراس کے بعد واپس بحرین آیا ہوگا ۔ چونکہ وہا ں پر تھا اسلئے علاء حضرمی کے حکم سے سپہ سالاری کی ذمہ داری کو قبول کیا ہے ۔اس لئے لکھتاہے :

فدلّ علی انّ للخلید وفادة

یعنی سپہ سالار ی کے عہدہ پر فائز ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ خلید مدینہ گیا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی خدمت میں پہنچا ہے ۔

علامہ ابن حجر کی اس تحقیق سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مکتبِ خلفاء کے علماء اپنی تا لیفات میں کس قدر استدلالی اور منطقی تھے !!

گزشتہ حصہ میں ہم نے سیف کے جعلی اصحاب کے ایک گروہ کا تعارف کرایا ،جن میں علماء نے سیف کی روایت پر بھروسہ کرتے ہوئے کہ وہ سپہ سالارتھے ، انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے طور پر شمار کیا ہے ۔اب ہم خدا کی مدد سے سیف کے جعلی اصحاب کے ایک اور گروہ کا تعارف کراتے ہیں جنھیں اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں قراردیا ہے ۔


مصاررو مآخذ

خلید ابن منذر ساوی کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (١/٤٥٠) حصہ اول نمبر: ٢٢٨٥اور منذر کے حالات (٣/ ٤٩٣)

منذر بن ساوی کا نسب:

١۔''جمھر ہ انساب '' ابن حزم (٢٣٢)

٢۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٩٥۔١٠١) کہ اس میں اسپذیوں کی گھوڑے کی پرشش بھی بیان ہوئی ہے ۔

خلید بن منذر کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٥٤٥۔٢٥٤٨)

٢۔''تاریخ ابن اثیر'' باب غزو فارس من البحر اومن البحرین (٢/٤١٩۔٤٢١)

٣۔ ''تاریخ ابن کثیر '' (٧/٨٣۔٨٥)

٤۔ ''تاریخ ابن خلدون '' (٢/٣٤٠۔٣٤١)

''طائووس'' کی تشریح :

١۔''معجم البلدان '' حموی۔ طبع یورپ (٣/٤٩٤)

٢۔''مراصدالاطلاع'' ، لفظ ''طائووس''

٣۔ ''روض المعطار''، لفظ (طاؤوس)


والی خرسان ''خلید بن کاس '' کی روایت :

١ ۔ کتاب ''صفین'' نصر مزاحم (١٥)

٢۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٥٣۔١٥٤)

٦٦واں جعلی صحابی حارث بن یزید

مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے والا:

مؤرخین نے لکھا ہے کہ ''حارث بن یزید عامری قرشی '' (بنی لو ء ی بن عامرسے )وہ شخص تھا جو مکہ میں مسلمانوں کو جسمانوں کو جسمانی اذیتیں پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتاتھا ۔

بلا ذری اپنی کتاب ''النساب الا شر اف '' میں لکھتا ہے :

حارث بن یزید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے سخت دشمنوں میں سے تھا ، اس نے مکہ میں ''عیاش بن ابی ربیعہ ''، جو مسلمان ہوگیا تھا،کو زنجیرو ں میں جکڑ کر جسمانی اذیت پہنچانے میں اس قدر بے رحمی وبر بریت کا مظاہرہ کیا تھاکہ ''عیاش نے قسم کھائی تھی کہ اگر کسی دن اس پر قابو پا سکا تو اسے مارڈالے گا،

ایک زمانہ کے بعد مشرکین کی اذیت و آزار اور جسمانی اذیتوں سے تنگ آکر اصحاب نے ہجرت کرنے کافیصلہ کیا اور مشرکین سے چھپ کے چند اشخاص کے گرو ہوں کی صورت میں راہی مدینہ ہوئے۔

جب مکہ ،مسلمانوں سے خالی ہوا ، حارث اپنے کر توت پشیمان ہوکر مسلمان ہوا اور دوسرے مسلمانوں کی طرح مدینہ روانہ ہوا جبکہ کسی کو اس کے مسلمان ہونے کی خبر تک نہیں تھی ۔


تازہ مسلمان حارث جنگِ''احد ''کے بعد مسلسل دن رات پیدل چلنے اور بیابانوں سے گزرنے کے بعد ''حرّہ'' یا ''بقیع''کے نزدیک پہنچا تھا کہ ''عیاش بن ربیعہ''سے اس کا آمنا سامناہو گیا!

جوں ہی عیاش کی نظر حارث پر پڑی ، اس نے اس گمان سے کہ وہ ابھی کفرو شرک پر باقی ہے ، فوراً تلوار کھینچ کراس سے پہلے حارث کچھ کہے اس کا کام تمام کر دیا!

عیاش کے ہاتھوں حارث کے قتل ہونے کے بعد مندرجہ ذیل آیہ شریفہ نازل ہوئی اور اس نے غلطی سے انجام دئے گئے کام کے بارے میں عیاش کے مریضہ کو واضح کر دیا :

( وَماَکاَنَ لِمُؤمِنٍ اَن یَّقتُلَ مُؤمِنًا اِلاَّ خَطَ ً ومَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطًَ فَتَحرِیرُ رَقَبَةٍ مُومِنَةٍ وَّدِیَة مُسَلَّمَة اِلیٰ َهلِهِ،ِلَّا اَن یَّصَّدَّقُوْا ) (۱)

اس آیہ شریفہ کے نازل ہونے کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عیاش سے مخاطب ہو کر فرمایا: اٹھو! اور خدا کی راہ میں ایک غلام آزاد کرو۔

____________________

١۔سورہ نسائ/٩٢،اور کسی مؤمن کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی مؤمن کو قتل کردے مگر غلطی سے اور جو غلطی سے قتل کر دے اسے چاہئے کہ ایک غلام آزاد کرے ا ور مقتول کے وارثوں کو دیت دے مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں


حارث بن یزید عامری قرشی کی پوری داستان یہی تھی ۔

لیکن سیف نے اپنے افسانوں میں ایک اورشخص کو اس حارث کے ہم نام خلق کر کے ''ھیت '' کی جنگ میں مسلمانوں کے سپہ سالار کے عنوان سے اس کا تعارف کرایا ہے اور کچھ کارنامے بھی اس سے منسوب کئے ہیں

ابن حجر نے بھی سیف کی روایت پر اعتماد کر کے اس کے حارث کو صحابی جانا ہے اور اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔ وہ اپنی کتاب ''اصابہ ''میں لکھتاہے :

حارث بن یزید عامری دیگر:

سیف بن عمر نے اس کا نام لیا ہے اور لکھاہے کہ خلیفہ عمر نے ایک خط کے ذریعہ ''سعد وقاص'' کو حکم دیا کہ ''وہیب کے پوتے عمر و بن مالک بن عتبہ '' کو ایک ہر اول دستے کی سرپرستی سونپ کر ''ھیت '' کی طرف روانہ کرے تاکہ اس شہر کو اپنے محاصر ہ میں لے لے ۔

عمرونے خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ''ھیت ''کا محاصرہ کیا ۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد ہی ''حارث بن یزید عامری '' کو آدھی فوج کی کمانڈ سونپ کر باقی سپاہیوں کے ہمراہ خود قر قیسیا پر حملہ کیا ....(داستان کے آخر تک)

اس کے بعد ابن حجر اپنے کلام کوجاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

اس سے پہلے ہم نے کہا ہے کہ قدما کی رسم یہ تھی کہ وہ صحابی کے علاوہ کسی اور کوسپہ سالار کے عہدہ پر فائز نہیں کرتے تھے ۔اس صحابی کو ابن فتحون نے بھی ابن عبدالبر کی کتاب ''استیعاب'' سے دریافت کیاہے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

مذکورہ داستان کو طبری نے فتح ''جزیرہ ''کے موضوع کے تحت سیف بن عمر سے تفصیل کے ساتھ نقل کر کے یوں بیان کیا ہے :

رجب ١٦ھ میں سعد وقاص نے خلیفہ عمر کے حکم سے '' نوفل بن عمر مناف ''کے پوتے ''عمر بن مالک بن عتبہ '' کو سپہ سالارمنتخب کیا اور اسے پورے '' جزیرہ '' کا مأ مور مقرر کیا اور سپاہ کے اگلے دستہ کی کمانڈ ''حارث بن یزید عامری '' کو سونپی ۔

''عمر بن مالک نے ''ھیت ''کی طرف حرکت کی ۔لیکن ''ھیت ''کے باشندوں نے قبل ازوقت مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کر لیا تھا اور مورچے سنبھال لئے تھے ۔


جب عمر نے یہ حالت دیکھی تو اس نے ''حارث ''کو اپنی جگہ پر کمانڈ ر مقرر کر کے حکم دیا کہ ''ھیت''کو اپنے محاصرہ میں لے لے اورخود آدھی فوج لے کر ''قر قیسیا '' پر حملہ کر کے بجلی کی طرح وہاں کے ساکنوں ٹوٹ پڑا اور ان پر اتنا دبائو ڈالا کہ انہوں نے مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دیے اور جزیہ دینے پر آمادہ ہوگئے۔

عمر نے اس فتحیابی کے بعد حارث کو سارا ماجرا خط میں لکھا اور حکم دیا کہ اگر ''ھیتیوں '' نے جزیہ دینا قبول کیا تو جنگ سے ہاتھ کھینچ لینا اور اگر ایسا نہ کیا تو ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ۔ان کے قلعہ کے گرد ایسی خندق کھودنا کہ اس سے نکلنے کا راستہ تمہارے روبرو ہو ۔

عمر کے اس صریح اور فیصلہ کن حکم کے نتیجہ میں ''ھیت ''کے باشندے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے اور جزیہ دینا قبول کر لیا اور حارث نے بھی ان سے ہاتھ کھینچ لیا اور خود عمر کے پاس پہنچ گیا۔

افسانہ حارث کے راویوں کی پڑتال :

سیف نے ''حارث بن یزید عامری '' کے افسانہ میں درج ذیل افراد کو بعنوان راوی پیش کیا ہے:

١۔ محمد ، یامحمد بن عبداﷲبن سواد نویرہ

٢۔مہلب ، یا ممہلب بن عقبہ اسدی ، یہ دونوں سیف کے جعلی راوی ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

٣۔ بعض نامعلوم اور مجہول افراد ، کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ان سب سے سیف کی مراد کون سے لوگ ہیں ۔ ہم نے اس قسم کے نامعلوم راوی سیف کی روایتوں اور گزشتہ بحثوں میں بہت زیادہ پائے ہیں ۔


فتح جزیرہ کی داستان کی حقیقت :

بلاذری نے اپنی کتاب '' فتوح البلدان '' میں لکھا ہے :

١٨ھمیں طاعون '' عمواس '' کے سبب ''ابوعبیدہ '' کی وفات کے بعد عمر بن خطاب نے ایک فرمان کے تحت ''قنسرین'' '، '' حمص'' اور جزیرہ '' کے حکمران کے طور پر ''عیاض بن غنم '' کو منصوب کیا۔

عیاض نے اسی سال ١٥ شعبان کو ''جزیرہ'' پر لشکر کشی کی اور وہاں کے شہروں کو یکے بعد دیگرے صلح و مفاہمت سے فتح کیا ، لیکن ان کی زمینوں کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے لیا۔

اس کے بعد بلاذری لکھتا ہے :

عیاض نے حبیب بن مسلمہ فہری کو ''قرقیسیا'' کو فتح کرنے پر مأمور کیا ۔ حبیب نے اس جگہ کو صلح کے ذریعہ معاہدہ کر کے فتح کیا ۔

اس کے بعد بات کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :

اور ''عمیر بن سعد بن عبید '' کو'' رأس العین ''فتح کرنے پر مأمور کیا کیونکہ اپنی فتوحات کے دوران وہ اس جگہ کو فتح نہ کر سکا تھا ۔ عمیر نے رأس العین کو فتح کیا اور دریائے '' خابور ''کے ساحل کی طرف بڑ ھا اور بدستور پیش قدمی کرتارہایہاں تک کہ قرقیسیا پہنچ گیا ۔چونکہ قرقیسیاکے باشندوں نے حبیب کے ساتھ پہلا عہد و پیمان توڑ دیا تھا ، اس لئے عمیر کے ساتھ پھرسے اسی عہدو پیمان پر پابند ہونے کا عہد کیا اور اس کے حکم کی اطاعت کی ۔

عمیر کو جب قرقیسیا کے معاملات سے اطمینان حاصل ہوا تو اس نے فرات کے اطراف میں واقع قلعو ں کی طرف رخ کیا اور یکے بعد دیگر ے قلعوں کو فتح کر کے قرقیسیا کے پیمان کے مطابق ان سیمعاہدہ کیا ۔


اس کے بعد عمیر نے ''ھیت '' پر چڑھائی کا قصد کیا لیکن راستے میں متوجہ ہوا کہ ''عمار یا سر ،جو خلیفہ عمر کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے، نے ''سعد بن حرام انصاری '' کی سرکردگی میں ایک فوج کو ''انبار''کے بالائی علاقوں کے باشندوں سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔ اس علاقہ اور وہاں کے قلعوں کے باشندے امان چاہتے ہوئے سعد بن حرام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سعد نے انھیں ان کی خواہش کے مطابق امان دیدی ۔لیکن ''ھیت''کے باشندوں کو کنیسوں کا نصف مال وصول کرنے کی بنیا د پر مستثنیٰ قرار دیا ۔

بعض نے کہا ہے کہ سعد بن حرام نے ''مد لاج بن عمرو سلمی '' کو ''ھیت '' کے لئے مامور کیا ہے اور اسی نے اس جگہ کو فتح کیا ہے ۔(بلاذری کی بات کا خاتمہ )

یا قوت حموی نے لفظ ''ھیت '' اور ''قر قیسیا'' کے بارے میں لکھا ہے :

''ھیت''بغداد کے نزدیک دریا ئے فرات کے کنارہ پر ایک شہر ہے ۔ ''قرقیسیا'' دریائے ''خابور '' اور ''فرات'' کے ڈیلٹا پر واقع ایک شہر ہے ۔

یہ شہر ایک مثلث کے درمیان واقع ہے اور تین جانب سے پانی میں گھرا ہوا ہے :

اس کے بعد حمووی مزید کہتا ہے :

جب ''عیا ض بن غنم '' نے ١٩ھ میں ''جزیرہ '' کو فتح کیا تو ''حبیب بن مسلمئہ فہری '' کو قرقیسیا کی فتح پر مأ مور کیا حبیب نے مذکورہ شہر کو ''رقہ '' کے باشندوں سے کئے گئے پیمان کی بنیاد پر فتح کیا (.....آخر تک )

البتہ یاقوت حموئی نے ان مطالب سے پہلے سیف کی جعلی روایتوں کے کچھ حصّے بھی اس سلسلے میں نقل کئے ہیں ۔


بحث و تحقیق کا نتیجہ

سیف نے ''ھیت '' اور ''قرقیسیا'' کے شہروں کی فتح کو ١٦ھ بتایا ہے جبکہ دوسروں نے اسے ١٩ھ ذکر کیا ہے ۔

سیف لکھتا ہے کہ ''جزیرہ '' کی جنگ میں سپہ سالار اعظم سعد وقاص تھا اور اس نے ''عمر بن مالک '' یا ''عمرو بن مالک '' کو سپہ سالار اور '' حارث بن یزید عامری ' کو فوج کے ہر اول دستہ کاکمانڈر منتخب کیا ہے ۔ عمر بن مالک نے قرقیسیا اورحارث بن یزید نے شہر ھیت کو فتح کیا ہے ۔

جبکہ دوسرے لکھتے ہے کہ '' جزیرہ '' کی فتوحات میں سپہ سالار اعظم عیاض بن غنم تھا اور اسی نے ''حبیب بن مسلمہ فہری '' کو قرقیسیا کی فتح کے لئے مأمور کیا تھا ۔اس نے وہاں کے باشندوں کے ساتھ معاہدہ کیا لیکن بعد میں انہوں نے پیان شکنی کی تھی ۔اور ''عمیربن سعد'' پھر سے ان کے ساتھ نبرد آزما ہوا اور اسی گزشتہ معاہدہ کو پھر سے لاگو کیا ہے ۔

اور یہ کہ خلیفہ عمر کے زمانے میں کوفہ کے گورنر ''عمار یاسر '' نے ''سعدبن حزام کو '' انبار '' و ''ھیت'' اور ان کے اطراف میں موجود قلعوں کو فتح کرنے پر مأمور کیا ہے اور اسی نے وہاں کے قلعوں کے باشندوں سے معاہدہ کیا ہے ،لیکن ''ھیت '' کے باشندوں کو کنیسوں کے اموال کا نصف حصہ اداکرنے کی بنیاد پر مستثنیٰ قراردیا ہے ۔ یایہ کہ چند علاقے عمیر بن سعد کے حکم سے ''مدلاج بن عمرو'' کے ہاتھوں فتح ہوئے ہیں ۔

نتیجہ کیا ہوگا؟

یہ کہ ''ھیت '' کی فتح سیف کے جعل کردہ ''حارث بن یزید''کے نام پر اور قرقیسیا کی فتح ''عمر و بن مالک ''کے نام پر سیف کی کتاب '' فتوح ''میں ثبت ہوئی ہے اور ان سب کو طبری نے اپنی معتبر اور گراں قدر کتاب تاریخ کببرمیں نقل کیا ہے اور ابن اثیر نے بھی طبری کے مطالب کو اپنی کتاب میں ثبت کیا ہے ۔

یا قوت حموی نے بھی سیف کے جھوٹ کے بعض حصوں اور اس کے خیالی پہلوانوں کی دلاوریوں کو اپنی کتاب معجم البلدان میں درج کر کے سیف کی خدمت کی ہے ۔


آخر میں ، علامہ ابن حجر سیف کی باتوں سے متثر ہوکہ''حارث عامری '' کو ''حارث بن یزید عامری دیگر'' کے عنوان سے،اور سیف کی طرف سے اسے عطا کئے گئے سپہ سالاری کے عہدہ کو سند بناتے ہوئے''ابن ابی شیبہ'' کی روایت کہ ''قدما صرف صحابی کو سپہ سالار منتخب کرتے تھے ۔'' کی بناء پر اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی قرار دیاہے اور اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔

ابن اثیر نے بھی سیف کی جعلی روایت کو ایک بار ''تاریخ ابن عسا کر '' سے نقل کرکے ''عمر بن مالک بن عتبہ '' کے حالات میں اور دوسری بار ''عمر بن مالک بن عقبہ ،کے حالات میں لکھا ہے ۔ اس کے بعد آخر میں احتیاط سے لکھتا ہے:

''عمربن مالک بن عتبہ '' نے دمشق کی جنگ میں شرکت کی ہے اور ''جزیرہ '' پر قبضہ کرنے کے دوران فوج کی کمانڈ اس کے ہاتھ میں تھی اس کے باوجود اس قسم کا کوئی شخص پہچانا نہیں گیا ہے

ابن اثیرنے یہی مطالب دونوں کے حالات کی تشریح کے آخر میں ذکر کئے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ سیف کے خلق کئے گئے دوچہرے حقیقت میں ایک ہی شخص ہے اور عمر کے جد کے نام میں تحریف کی گئی ہے اور دونوں خبروں کا سر چشمہ بھی سیف عمر اور اس کی کتاب ''فتوح ''ہے ۔

بہر حال ، ہم پورے اطمینان اور قاطعیت کہتے ہیں کہ ''حارث بن یزید عامری دیگر'' سیف کی تخلیق ہے اور اس نے اس کے نام کو ''حارث قرشی '' سے لے لیا ہے جو غلطی سے عیاش کے ہاتھوں قتل ہوا ہے ۔ ہم قطعی طور سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ '' عمر بن مالک '' اس کی تخلیق ہے ، اگر چہ سیف صحابی اورتاریخ کے حقیقی چہروں کے ہم نام جعلی افراد خلق کر نے میں یدطوئی رکھتا ہے ، جیسا کہ :

''حزیمہ بن ثابت '' '' غیرذ و شہادتین '' کو ''حزیمہ بن ثابت ذو شہادتین '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

اور ''سماک بن خرشہ ''، انصاری غیر ابودجانہ کو '' مسماک بن خرشہ انصاری ابودجانہ''کے ہم نام جعل کیا ہے ۔


حارث کے افسانہ کو نقل کرنے والے علما:

١۔ طبری نے اپنی تاریخ میں بلاواسطہ سیف بن عمر سے نقل کیا ہے ۔

٢۔ ابن عساکرنے اپنی تاریخ میں ، سیف بن عمر سے نقل کر کے درج کیا ہے ۔

٣۔ ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں کتاب '' فتوح ''سے نقل کر کے درج کیا ہے ۔

٤۔ ابن فتحون نے '' استیعا ب کے ضمیمہ میں کتاب ''فتوح '' سے نقل کر کے درج کیا ہے ۔

٥۔ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں تاریخ طبری سے نقل کر کے درج کیاہے ۔

٦۔ ابن اثیر نے کتاب ''اسدالغابہ ''میں ابن عساکر سے نقل کر کے

' 'عمر بن مالک ''کے حالات کی تشریح میں بیان کیا ہے ۔

یہاں پر سیف کے ان جعلی اصحاب کا حصہ اختتام کو پہنچا ہے ،جنھیں اس نے عراق کی جنگ میں سعد وقاص کے ہمراہ افسراور سپہ سالار کے عنوان سے خلق کیا ہے ۔ اگلی بحث میں ہم سیف کے ان جعلی اصحاب پر روشنی ڈالیں گے جنہوں نے افسر اور سپہ سالار کی حیثیت سے ارتداد کی جنگوں میں شرکت کی ہے ۔ یہ مقدمہ و مؤخر ( یعنی اصولاً تاریخی وقائع کی ترتیب کے مطابق ارتداد کی جنگوں کو باہر کی جنگوں اور فتوحات سے پہلے لانا چاہئے تھا،اس لئے پیش آیا ہے کہ مکتب خلفاء کے پیرو علماء نے ،جیساکہ ہم نے کتاب کی ابتداء میں ذکر کیا ہے ، دوسرے حصوں کی نسبت اس حصہ سے زیادہ استفادہ کیا ہے ۔

بہرحال ہم خدائے تعالےٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اس مشکل علمی بحث کو آگے بڑھانے اور تکمیل میں مدد فرمائے۔

مصادر و مآخذ

حارث بن یزید عامری قرشی کی داستان:

١۔''استیعاب '' ابن عبدالبر (١/١١٦) نمبر : ٤٧٢

٢۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (١/٣٥٣)

٣۔''اصابہ '' ابن حجر (١/٢٩٥)


حارث بن یزید عامری کا افسانہ :

١۔ ''تاریخ طبری '' (١/٢٤٧٩)

٢۔''تاریخ ابن اثیر'' (٤/٨١۔٨٢)

٣۔ ''اصابہ '' ابن حجر (١/٢٩٥)

''ھیت'' اور ''قرقیسیا'' کی فتح ،حقیقی فاتحوں کے ہاتھوں :

١۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٢٠٥،٢٠٧۔٢٠٩،٢١٢)

٢۔ ''معجم البلدان '' حموی لفظ '' ھیت ''

عمر بن مالک بن عقبہ کے حالات :

١۔''اسدالعابہ'' ابن اثیر (٤/٨١۔٨٢)

عمر بن مالک بن عتبہ کے حالات:

١۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٤/٨١)

٢۔''اصابہ '' ابن حجر (٢/٥١٤)

عیاش بن ابی ربیعہ کے حالات:

١۔''استیعاب'' ابن عبدالبر ( ٢/٤٩٥) نمبر :٢٠٦٧

عمر بن عتبہ بن نوفل کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/٨٢)

بنی زہرہ کانسب:

١۔''جمہرہ انساب '' ابن حزم (١٢٨۔١٣٥)

٢۔''نسب قریش '' (٢٦١۔٢٦٥)

ہم نے ان دو مصادر میں عمر بن مالک بن عتبہ یا عقبہ نام کا کوئی شخص نہیں پایا۔


تیسرا حصہّ:

مختلف قبائل سے چند اصحاب

٦٧۔ عبداﷲبن حفص قرشی۔

٦٨۔ ابو حبیش عامری کلابی ۔

٦٩۔حارث بن مرہ جہنی۔


٦٧ واں جعلی صحابی عبداﷲبن حفص قرشی

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے :

عبداﷲ بن حفص بن غانم قرشی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب اورطبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم عبداﷲ بن حفص کے ہاتھ میں تھا اور وہ اسی جنگ میں قتل ہوا ہے(ز)

ابن حجر کی مورد استتناد روایت '' تاریخ طبری '' میں سیف بن عمر سے( مبشرین فضیل اور سالم بن عبداﷲ) سے یوں نقل ہوئی ہے :

''یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم پہلے ''عبداﷲ بن حفص بن غانم '' کے ہاتھ میں تھا جو قتل ہو گیا اس کے بعد یہ پرچم ابوحذیفہ کے آ زاد کئے گئے غلام ''سالم ''کے ہاتھ میں دیدیا گیا ۔

انہی مطالب کو ابن اثیر نے طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے ۔ ان کے علاوہ کسی اور مصدر میں عبداﷲ حفص کا نام دکھا ئی نہیں دیتا ہے:

حقیقت کیا ہے؟

بلا ذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان '' میں ،ذہبی نے ''تاریخ اسلام '' میں اورابن کثیر نے اپنی ''تاریخ ''میں لکھا ہے کہ ''یمامہ ''کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم ابو حذیفہ کے آزاد کئے ہوئے غلام ''سالم '' کے ہاتھ میں تھا ۔ مزید کسی اورکے نام کا ذکر تک نہیں کیاہے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی ایسے مصدر میں جس نے سیف روایت نقل نہ کی ہو عبداﷲ حفص کانام اور یمامہ کی جنگ میں اس کی شرکت کا اشارہ تک نہیں ملتا ہے ۔


لیکن ابن حجر نے ''تاریخ طبری ''اور سیف کی کتاب ''فتوح '' کی طرف رجوع کر کے ''عبداﷲ حفص '' کے وجود پر یقین کر کے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تصور کیا ہے اور اس کے حالات کی اپنی کتاب ''اصابہ ''کے پہلے حصہ میں تشریح کی ہے ۔

علامہ ابن حجر نے مجبوری کے عالم میں اپنے اس تصور کے بارے میں اس دلیل پر تکیہ کیا ہے کہ ان دو بزرگواروں یعنی ''طبری ''اور سیف نے کہا ہے کہ '' یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پر چم ''عبداﷲ حفص ''کے ہاتھوں میں تھا۔

چونکہ ''عبداﷲ اور دوسرے مہاجرین ''قرشی ''تھے ، اس لئے اس نے ایسا سمجھا ہے کہ قرشیوں کہ رسم یہ تھی کہ جنگوں میں اپنے پرچم کو قرشی کے علاوہ کسی اورکے ہاتھ میں نہیں دیتے تھے !

ابن حجر نے عبداﷲ کے حالات بیان کرتے ہوئے آخر میں علامت (ز) لکھی ہے تاکہ اس کا اشارہ کرے کہ اس صحابی کے حالات پر روشنی ڈالنے میں اس نے دوسرے مصنفین کے مقابلے میں اصحاب کے حالات بیان کرنے میں اضافہ کیاہے !

عبداﷲحفص کے افسانہ کے راوی :

سیف نے اس افسانہ کے راوی کے طور پر ''مبشربن فضیل '' کا نام لیاہے ،اور طبری نے سیف کی پندرہ روایات اس راوی سے نقل کی ہیں ۔

ابن حجر اپنی دوسری کتاب ''لسان المیزان ''، جو راویوں کی پہنچان سے مخصوص ہے ،میں لکھتا ہے :

مبشربن فضیل سیف بن عمر کے فستائخ میں اوراس کی روایت کا ماخذ ہے ۔

لیکن علامہ ابن حجرکے نقطہ نظر کے بر خلاف ہم یہ کہتے ہیں کہ ''مبشربن فضیل ''اس قدر گمنام و مجہول نہیں ہے بلکہ وہ سیف کے خیالی اور فرضی راویوں کی ایک طولانی صف میں کھڑا اس انتظار میں ہے کہ سیف کس افسانے کو اس کی زبان سے جاری کر تا ہے !!


عبداﷲ کے افسانہ کانتیجہ:

١۔سیف نے اس افسانہ میں ایک قرشی و مہاجر صحابی کو خلق کیا ہے تاکہ مہاجرین کے پرچم کو یمامہ کی جنگ میں اس کے ہاتھ میں تھمائے اور وہ اسی جنگ میں قتل ہوکر تمیمیوں کے افتخارات کی تعداد کو بھی بڑھادے ۔

٢۔ سیف نے عبداﷲ حفص کو اکیلے ہی خلق کیا ہے تاکہ طبری اس سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کرے ۔ سرانجام ابن حجر نے ''عبداﷲحفص '' نامی ایک قرشی صحابی کو پانے میں سیف کی کتاب ''فتوح '' اور ''تاریخ طبری '' کو اپنے لئے ایک معتبر اور قابل اعتماد راہنما قرار دیا ہے، اور اپنے اس مطلب کے آخر پر علامت (ز) لکھ کر مشخص کرتا ہے کہ اس نے اس صحابی کے حالات دوسرے تذکرہ نویسوں پراضافہ کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

عبداﷲ حفص کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/٢٨٢) حصہ اول نمبر : ٤٦٣٠

٢۔ ''تاریخ طبری '' (١/١٩٤٥)

٣۔ تاریخ ابن اثیر( ٢/٢٧٦)

جنگ '' یمامہ '' میں مہاجرین کاحقیقی پر چمدار:

١۔''فتوح البلدان'' بلاذری

٢۔''تاریخ اسلام'' ذہبی

٣۔تاریخ ابن کثیر (٦/٣٢٦)


مبشر بن فضیل کے حالات:

١۔ ''لسان المیزان'' ابن حجر(٥/١٣)

٦٨واں جعلی صحابی ابو حبیش

اس صحابی کے بارے میں ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں یوں آیا ہے :

ابوحبیش بن ذی ا للّحیہ عامری کلابی :

سیف نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ خالدبن ولید جب عراق میں داخل ہونے کے بعد معروف صحابیوں کو مختلف علاقوں کے حکمران کے طورپر منتخب کر رہا تھا ، تو اس نے ابو حبیش کو ''ہوازن'' کے لئے مأمور کیااوروہاں کی حکومت اسے سونپی ۔

ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی ''استئعئیاب '' سے دریافت کیاہے ۔

ابو حبیش کا نسب

سیف نے اس صحابی کو قبائل مضر کے بنی عامر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر'' سے خلق کیا ہے

ابن حزم نے اس طائفہ کے نسب کو اپنی کتاب ''جمھرہ انساب '' میں درج کیا ہے ۔لیکن اس میں سیف کے اس دلاور صحابی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا!

لیکن ''ذولحیہ کلابی '' کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کانا م ''شُریح بن عامر '' تھا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کانام ''ضحاک بن قیس '' تھا ۔ اس سے روایت نقل کی گئی ہے کہ اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا:


کیا انجام دئے گئے کام کو دوبارہ شروع کریں ؟رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

ہر شخص ایک کام کے لئے خلق ہوا ہے!

بغوی نے کہا ہے :

میں اس حدیث کے علاوہ اس سے کسی اورچیز کے بارے میں مطلع نہیں ہوں !

علماء نے صرف اسی ایک روایت پر اعتماد کر کے ''ذولحیہ ''کو بھی صحابی جان کر اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے

ہم نہیں جانتے ہیں کہ '' ذو لحیہ '' کی انکشاف کی گئی یہ حدیث ۔جس پر استناد کر کے اس کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔کس قدر صحیح اورقابل اعتبار ہے !! لیکن بالفرض اس حدیث کے صحیح ہونے اور ''ذولحیہ ''نام کے کسی شخص کے حقیقی طور پر موجود ہونے کی صورت میں بھی کیا سیف اس حدیث اوراس نام کے کسی شخص سے روبرو ہوا ہے اور ابوحبیش کو اس سے جوڑا ہے؟ یہ ایسا مسئلہ ہے اور ابھی تک معلوم نہ ہو سکا ۔(۱)

____________________

١۔ ''ذولحیہ '' نام کے شخص کے صحیح اور موجود ہونے کے بارے میں بحث و تحقیق کرنے کے لئے دسیوں مصادر پر اسلام میں چھان بین کرنیکی ضرورت ہے جو اسوقت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے ۔


ابو حبیش کی حدیث پر ایک بحث:

ہم نے ''تاریخ طبری '' میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو اس پر دلالت کرتی ہو کہ خالد بن ولید نے ابوحبیش نامی کسی شخص کو ''ہوازان '' کی مأموریت سونپی ہو ۔لیکن جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل کر کے ذکر کیا ہے کہ:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دوسرے ایلچیوں کے ضمن میں '' نعیم بن مسعود اشجعی''کو ''ابن ذولحیہ ''اور ''ابن مشیمصۂ جُبیری '' کے پاس بھیجا اورانھیں پیغمبری کے مدعی''اسودعنسی'' سے جنگ کر کے اسے کچل دینے کی ترغیب دی ہے ۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ ''ابن ذولحیہ '' وہی زیربحث '' ابو حبیش ہے یا یہ کہ سیف نے اس نام کے دوشخص خلق کئے ہیں ۔

اور یہ بھی معلوم نہیں کہ سیف نے ابوحبیش کے نام کو '' ابو حبیش بن مطلّب قرشی ''سے لیا ہے یا نہیں ۔بلاذری نے جو ''انساب الاشراف'' میں کہا ہے اس کے مطابق اسی ابو حبیش بن مطّلب کے بیٹے ''سائب '' نے ابو سفیان کی بیٹی ''جویریہّ '' سے شادی کی ہے ۔ یایہ کہ یوں ہی سیف کے ذہن میں ایسا نام آیا ہے اور اس نے اسے اپنے جعلی صحابی کے لئے منتخب کیا ہے ۔

لیکن یہ واضح ہے کہ ''جبیش بن دلجہ قینی '' جس کا نام تاریخ طبری اور تاریخ یعقوبی میں آیا ہے سیف کے جعلی ''ابو حبیش عامری کلابی ''سے جدا ہے ۔کیونکہ دیگر بہت سے اختلافات اختلاف پہلا ''بنی قضاعہ ''سے ہے اور دوسرا (جعلی )''عامری کلابی '' ہے ۔

مصادرو مآخذ

ذولحیہُ کلابی کے حالات:

١۔''اصابٔہ'' ابن حجر (١/٤٧٥)

٢۔''استیعاب ابن '' عبدالبر ''اصابہ '' کے حاشیہ پر ( ١/٤٧٦) کہ اسے بصرہ کا باشندہ جاناہے ۔

٣۔''تاریخ بخاری'' (١/٢٦٥) ۔حصہ اول نمبر : ٩٠٩

٤۔''تقریب التہذیب '' ( ١/٢٣٨) ۔ اس میں آیا ہے کہ ''ابو داؤد ''نے اس کی حدیث کو ''قدر ''میں درج کیا ہے ۔

٥۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٢/١٤٤)


ذولحیہ کا نسب:

١۔''جمہرۂ انساب'' ابن حزم (٢٨٢)

٢۔''تاریخ طبری'' (ا/١٧٩٩)

٣۔''اصابہ '' ابن حجر (٤/٣٦) نمبر:٢١٢

٤۔''انساب الاشراف'' بلاذری (١/٤٤٠)

حبیش بن دلجہ ٔ قینی کے حالات:

١۔تاریخ طبری (٢/٥٧٨ و ٥٧٩ و ٦٤٢)

٢۔ تاریخ یعقوبی طبع ''دارصادر'' (٢٥١۔ ٢٥٢)

ذولحیہ کلابی'شریح بن عامر یا ضحاک بن قیس کے حالات:

١۔''تہذیب التہذیب'' (٣/٢٢٣) شرح حال : ٤٢٦

٢۔حدیث ذولحیہ تاریخ بخاری میں ذکر ہوئی ہے ۔


٦٩واں جعلی صحابی حارث بن مرّہ

ابن حجر نے اس صحابی کا یوں تعارف کرایاہے :

حارث بن مرّہ جہنی:

سیف بن عمرنے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور کہاہے کہ خالد بن ولید ابوبکرکی خلافت کے زمانے میں جب خلیفہ کے حکم سے عراق پر لشکر کسی کی تیاری کر رہا تھا ، ''تو اس نے حارث بن مرّ، جو ایک دلاور صحابی شمار ہوتا تھا ، کو اپنی فوج کے قضاعیان کے دستے کی سپہ سالاری سونپی ۔

سیف نے '' ارطاة بن ابی ارطاة نخعی '' سے اس نے ''حارث بن مرہ'' سے اور اس نے ''ابو مسعود ''سے بھی ایک روایت نقل ہے ۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اس صحابی کا نسب :

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو ''جہنی '' مشہور کیا ہے اور یہ قبائل قضا عہ کے '' جہنیہ ''

سے ایک نسبت ہے ۔

ابن حزم نے اپنی کتاب ''انساب ''میں ''جہنیہ ''نام کے بعض اہم شخصیات کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔ لیکن سیف کے اس دلاور اور بلند مرتبہ صحابی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ۔

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو قضا عہ میں ایک بلند مقام دلانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے ہیں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث کی بھی اس سے نسبت دی ہے کہ ہم نے ایسے مطالب صرف ابن حجر کی ''اصابہ ''میں دیکھے ۔


''حارث بن مرہ ''کی روایت ان روایتوں میں سے ہے کہ طبری نے اسے سیف کی کتاب سے اپنی کتاب میں درج کرنے سے پرہیز کیا ہے، اور سیف کی روایت کا مصدر و مأ خذ معلوم نہیں ہے کہ ہم اس کی تحقیق کرتے ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیف نے اپنے افسانوی صحابی کانام یا ''حارث بن مرة عبدی''سے لیا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اسے صفین کی جنگ میں اپنی پیدل فوج کے میسرہکے دستے کاکمانڈر مقرر فرمایا تھا اور وہ ٤٦ھ میں سرزمین ''قیقان ''میں قتل ہوا ہے، اور یا یہ کہ ''حارث بن مرہ فقعسی '' سے لیاہے کہ امام علیہ السلام نے اسے خبر لانے کے لئے خوارجکے درمیان بھیجا تھا اور خوارج نے اسے قتل کر ڈ الا(۱)

پہلی صورت میں عبدی ربیعة بن نزارکے عبدالقیس'' سے ایک نسبت ہے ۔

اور دوسری صورت میں فقعسی' اسد بن خزیمہ کے پوتے (فقعس بن دودان) کی طرف نسبت ہے۔

لیکن سیف نے اپنے صحابی کو قبائل قفعاعہ کے (جہینہ) سے جعل کیا ہے اور اسے ان لوگوں پر حاکم بنایا ہے۔ پس یہ حارث نہ عبدی ہے نہ فقعسی بلکہ صرف سیف کی خیالی مخلوق ہے اور اس کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔

____________________

١) طبری نے اپنی تاریخ (١/٣٣٧٥) اور مسعودی نے ''مروج الذھب '' (٢/٤٠٤) میں لکھا ہے : خوارج کے ہاتھوں ماراجانے والا حارث ،عبدی ہے ،فقعسی نہیں ہے ۔ دونوں سے زبردست غلطی ہوئی ہے ۔کیونکہ خوارج کے ہاتھوں ماراجانے والافقعسی تھا ۔


مصادر و مأخذ

حارث بن مرۂ جہنی کے حالات :

١۔ ''اصابۂ بن حجر (١/٢٩٠)

خاندان جہینہ کانسب :

١۔ ''جمہرۂ انساب '' ابن حزم (٤٤٤۔٤٤٥)

حارث بن مرہ عبدی کی داستان اور صفین کی جنگ میں اس کی شرکت :

١۔ کتاب ''صفین '' نصرمزاحم (٢٠٥)

٢۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٧١)

٣۔ ''تاریخ '' خلیفہ بن خیاّط (ا/ا١٣) کہ اس کے ہندوستان کی جنگ میں شرکت کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔

٤۔ ''معجم البلدان '' حموی لفظ ''قیقان '' (٥٣١ )

٥۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٢٠٧)

حارث بن مرۂ فقعسی کی داستان :

١۔ ''اخبار الطوال '' دینوری (٢٠٧)


چوتھا حصہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم عصر ہونے کے سبب اصحاب

اس گروہ میں سیف کے خیالی کردار حسب ذیل ہیں :

٧٠۔قر قرہ یا قرفتہ بن زاہر تیممی وائلی

٧١۔ نائل بن جعشم ،ابو نباتہ تیمی اعرجی

٧٢۔ سعد بن عمیلہ فزاری

٧٣۔ قریب بن ظفر عبدی

٧٤۔ عامر بن عبدالاسد ، یا عبدالاسود


سترواں جعلی صحابی قرقرہ یا قرفتہ بن زاہر

اصحاب کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالنے والی کتابوں میں ہمیں ایسے چہرے بھی ملتے ہیں ، جنھیں مصنف نے صرف اس سبب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے صحابیوں میں شامل کیا ہے کہ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمعصر تھے ۔ ان کے بارے میں ''لہ اِدراکُ'' کی قید لگا کر ان کے حالات لکھے گئے ہیں !

کتاب کے اس حصہ میں ہم سیف کے اس قسم کے جعلی اصحاب کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور نمونہ کے طور پر ایسے چند اصحاب کا تعارف کرتے ہیں

مذکورہ صحابی کے حالات کی تشریح میں ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں یوں لکھا ہے :

وہ ان اشخاص میں سے ہے جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیا ہے ۔

سیف بن عمر اور طبری نے اسے من جملہ ان افراد میں شمار کیا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے اسے ''رستم فرخ زاد ''کی خواہش کے مطابق ا س سے مذاکرہ کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔

ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب ''استیعاب ''سے درک کیا ہے۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں اس صحابی کو ''تیمی پہنچوایاہے ،جبکہ سیف کی روایت کے مطابق ''تاریخ طبری ''میں ''تیمی وائلی '' اور طبری کے بعض نسخوں میں ''وابلی '' لکھا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب قبائل میں بہت سے ایسے خاندان اور گروہ پائے جاتے ہیں جنھیں ''تیمی ''اور ''وائلی ''شہرت حاصل ہے ،البتہ ہم نہ سمجھ سکے کہ سیف نے اپنے اس صحابی کو ان میں سے کس قبیلہ سے خلق کیا ہے ۔

اگر سیف نے ''قر قرہ '' کو قبیلہ ''والبی'' سے بھی خلق کیا ہوگا تووہ بھی ''بنی اسد کے والبہ بن حارث ''کی اولاد ہیں ۔ اس صورت میں یہ احتمال ممکن ہے کہ لفظ تیمی اس کی کتاب کے نسخہ برداروں کے ذریعہ غلطی سے لکھ دیا گیا ہے۔


سعد وقاص کی مجلس ِ مشاورت:

طبری نے قادسیہ کی جنگ کے وقائع اور اتفاقات کے ضمن میں لکھا ہے :

سعد وقاص نے مندرجہ ذیل افراد کو جو سب زیرک اور دانا عرب تھے کو سپہ سالار اعظم کے خیمہ میں جمع ہونے کا حکم دیا :

١۔ مغیرة بن شعبہ

٢۔بسر ابن ابی رُھم

٣۔ عرفجتہ بن ہر ثمہ

٤۔حذیفتہ بن محصن

٥۔ربعی بن عامر

٦۔قرفتہ بن زاہر تیمی وائلی

٧۔مذعور بن عدی عَجَلی

٨۔مضارب بن یزید عجلی

٩۔معبد بن مرّہ عجلی ۔

جب سب لوگ کمانڈر انچیف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سعد نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو ان ایرانیوں کے پاس بھیجوں ۔تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟

سب نے جواب دیا :

ہم صرف آپ کے حکم کی اطاعت کریں گے اور اس سے آگے نہیں بڑھیں گے ۔ اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جس میں آپ کا واضح حکم موجود نہ ہوتواس صورت میں جس چیز کو شائستہ ترین تشخیص دیں گے ،اسی پر عمل کریں گے ۔سیف کہتا ہے اس دوران ربعی نے اپنا نقطئہ نظر یوں بیان کیا :

اگر ہم اجتماعی طور پر ان کے پاس جائیں گے تو وہ خیال کریں گے کہ ہم نے انھیں قابل قدر اور معززجانا ہے ۔لہذا یہ ہے کہ ہر بار ہم میں صرف ایک شخص ان کے پاس جائے اورکوئی دوسرا اس کے ساتھ نہ ہو۔


سعد نے اس نظر یہ کو قبول کیا اور ربعی کو پہلے قاصد کے عنوان سے منتخب کیا۔

سپہ سالار اعظم کے حکم کی تعمیل ،میں سعد کے پہلے سفیر کے عنوان سے ر بعی نے ''رستم فر خ زاد'' کے خیمہ کا رخ کیا اور ....(یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

جب رستم کمانڈر انچیف کے خیمہ میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا ، تو ربعی نے سوار حالت میں اپنے گھوڑے کو کمانڈر انچیف کے خیمہ میں بچھے ہوئے قالینوں پر دوڑایا اور کچھ چلنے کے بعد دو پشتی کو اٹھا کرگھوڑے کی لگام کو مضبوطی کے ساتھ ان سے باندھا۔

اس کے بعد نیزے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے اور اس کی نوک کو فرش اور تکیوں چبھوتے ہوئے اور ان میں سوراخ کرتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔

اس طرح چلتے ہوئے کوئی قالین یا تکیہ ربعی کے نیز کی نوک کی ضرب سے نہ بچ سکا جو کچھ راستے میں آتا اسے پھاڑتے اور سوراخ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوا ایرانیوں کے کمانڈر انچیف رستم کے تخت کے نزدیک پہنچا ۔ وہاں پر محافظوں نے مزاحمت کی تو وہ بھی وہیں پر زمین پر بیٹھ گیا اور نیزہ کو زور سے فرش پر مار کے نصب کیا اور...... (یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

دو سر ے دن ایرانیوں نے سعد کو پیغا م بھیجا کہ اسی کل والے شخض کو ان کے پا س بھیجے۔لیکن سعد نے اس بار حز یفہ بن محصن کو بھیجا۔حذ یفہ کے خیمہ میں جا تے وقت موبمو ربعی کی ر فتار کی تکرار کی۔ تیسرے دن ایرانیوں نے سعد سے کہا کہ کسی اور کو بھیجے۔ اس بار سعد نے ''مغیرة بن شعبہ '' کو بھیجا ۔۔۔(داستان کے آخرتک)!

بے شک طبری نے بڑی تکلیف اٹھا کر سیف کے حق میں انتہا ئی عقیدت دکھائی ہے اورسیف کی دوروایتوں میں ذکر ہوئی اس سراپا مضحکہ اور مذاق پر مبنی داستان کو اپنی کتاب ۔تاریخ کبیر کے آٹھ صفحوں پر درج کیا ہے ! جبکہ اس افسانہ سے پہلے اسی موضوع کی ایک دوسری نقل کر کے اپنی کتاب کے دو صفحوں کو زینت بخشی ہے !!


سفیروں کی داستان کے راویوں کی پڑتال :

سیف نے اپنی داستان کے راویوں کے طور پر مندرذیل ناموں کا ذکر کیاہے :

١۔نضر نے رفیل سے یعنی سیف کے ایک جعلی راوی نے سیف کے ہی دوسرے جعلی راوی سے !

٢۔ محمد ،یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٣۔زیاد یازیاد بن سرجس احمری ۔اس سے پہلے ہم نے بارہا کہاہے کہ یہ سیف کی خیالی راوی ہیں

٤۔ چند دوسرے نامعلوم اور بے نام افراد

سفیروں کی حقیقی داستان:

ابن اسحاق اور طبری نے بھی اپنی تاریخ میں سعد وقاص کے رستم فرخ زاد کے پاس سفیر بھیجنے کی روایت کو یوں بیان کیا ہے :

جب رستم نے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ مسلمانوں کے مقابلے میں پہنچ کر خیمے لگادئے ' توسعدوقاص کو ایک پیغام بھیجا اور اس سے تقاضا کیا کہ کسی تجربہ کار اوردانا شخص کو اس کے پاس بھیجے تاکہ وہ اس سے گفتگو کرے ۔رستم کے درخواست کے جواب میں ''مغیرة بن شعبہ ''کا انتخاب کیا گیا اور اسے رستم سے ملاقات کرنے پر مأ مور کیا گیا....

داستان کے آخر تک جو مفصل ہے ، اس میں کہیں اس بیہودہ رفتار کا ذکر نہیں ہے ۔

یہ داستان تقریباً اسی مضمون میں بلاذری کی ''فتوح البلدان''اور دینوری کی ''اخبار الطوال''

میں بھی درج ہوئی ہے ۔


بحث کا نتیجہ:

سیف تنہا شخص ہے جس نے نو ہوشیار اور عقلمندعربوں کے ساتھ سعدوقاص کے مشاورتی جلسہ جن میں اس نے اپنے قرقرة یا قرفئہ کو بھی شامل کیا تھا ،کی روایت نقل کی ہے ۔

وہ تنہا شخص ہے جس نے ان مشیروں میں سے تین اشخاص کی رستم سے گفتگو کا ذکر کیا ہے ، جن میں سے ایک کو ''مغیرة بن شعبہ '' شمار کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سعد کے سفیروں پر بیہودہ اور غیر عاقلانہ رفتار کی تہمت لگاتا ہے ! سیف تنہا شخص ہے جس نے اس داستان کو آب و تاب کے ساتھ بیان کر کے ایسے راویوں کے ذریعہاسکی تشریح کی ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ اورسرانجام طبری جیسے تاریخ لکھنے والے علماء نے اسے من وعن اپنی معتبر و گراں قدر تاریخ کی کتاب میں سیف سے نقل کر کے درج کیا ہے ۔

جب ابن حجر کی باری آتی ہے تو وہ بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے اس کے'' قر قرہ'' کورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیتا ہے ۔

اور عبارت ''لہ ادراکُ'' کی قید لگا کر اس کا صحابی ہونا ثابت کرتا ہے اور اپنے کلام کے آخر میں حرف ''ز''درج کر کے اعلان کر تا ہے کہ اس صحابی کے حالات کی تشریح کر کے اس نے دوسرے تذکرہ نگاروں پر اضافہ کیاہے ۔

دوسری طرف سے یعقوبی (۱) ابن کثیر اور ابن خلدون جیسے علماء نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کرکے خلا صہ کے طور پر اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

____________________

١۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یعقوبی نے اس داستان کا خلاصہ بلاواسطہ سیف بن عمر کی کتاب ''فتوح سے نقل کیا ہو۔


مصادر و مآ خذ

قر قرہ بن زاہر کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٢٥٧) نمبر: ٧٢٨٤

''والبی ''کا نسب:

١۔جمہرہ''انساب'' ابن حزم (١٩٤)

٢۔''نہایتہ الارب'' قلقشندی (٤٠٣)

سعد وقاص کے سفیروں کے بارے میں سیف کی روایت:

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٦٩۔٢٢٧٧)

٢۔''تاریخ ابن اثیر''(٢/٣٥٧۔٣٦٠)

٣۔''تاریخ ابن کثیر '' (٧/٣٩۔٤٠)

٤۔''تاریخ ابن خلدون'' (٣٢١٢۔٣٢٢)

٥۔''تاریخ یعقوبی '' (٢/١٤٤)

حقیقی داستان اور ''مغیرة بن شعبہ '' کاسعد کے سفیر کی حیثیت سے جانا :

١۔''تاریخ طبری '' ( ١/٢٣٥١)

٢۔''فتوح البلدان '' بلاذری (٣٥١)

٣۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٢٠)


٧١واں جعلی صحابی ابوُنُبا تہ نائل

یہ صحابی ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' کے اس حصہ میں درج میں کیا گیا ہے جو ''مخضرمین '' سے مخصوص ہے ۔

مخضرمین '' ان اصحاب کو کہا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا آدھا حصہ عصر جاہلیت میں دوسرا آدھا حصہ عصرِ رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوراسلام کے دامن میں گزاراہو۔

ابن حجر نے اس صحابی کو یوں پہچنوایا ہے :

ابو نباتہ نائل اعرجی :

کتاب ''فتوح'' میں سیف کے کہنے کے مطابق اس صحابی نے عصرِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درک کیا ہے اور عراق کی جنگ میں براہ راست شرکت کی ہے ۔

نائل نے ایرانی پہلوان شہر یار کے ساتھ دست بدست لڑائی میں اس پر غلبہ پایا اوراسے موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس کا قیمتی لباس اور دست بند غنیمت کے طور پر لے لئے۔

نائل پہلا عربی شہسوار ہے جس نے ہاتھ میں دست بند پہنا ہے !

(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس تشریح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیف بن عمر نے اپنے اس صحابی کو ''اعرجی ''خلق کیا ہے ۔

کہ یہ ،''اعرج ،حارث بن کعب بن سعد بن زید مناةبن تمیم '' سے نسبت ہے ۔

لہذا معلوم ہوا کہ یہ دلیرسوار ، شہر یا ر کو مارنے والا عرب ،ایرانی دلاوروں کے لباس اور قیمتی دست بند کوغنیمت میں لینے والا سردار اور شجاع تمیمی اورسیف کا ہم قبیلہ ہے !


ابو نباتہ کی شہر یار سے زورآزمائی کی داستان :

طبری نے ١١ھ کی روداد کے ضمن میں ''بابل ،کوثی '' کی جنگ کی حسب ذیل داستان کو سیف بن عمر سے نقل کرکے یوں بیان کیا ہے :

''زہرة بن حویہّ'' جو سپاہ اسلام کے ہر اورل دستہ کاسپہ سالار تھا ، وہ کوثی ، کے اطراف میں شہریار نامی ''باب''کے ایک زمیندار جس کی حکومت کامرکزکوثی تھا اور اس کی کثیر فوج سے روبرو ہوا۔

دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے نبردآزما ئی کے لئے آمادہ ہوئیں ۔شہر یارنے میدان کار زار میں قدم رکھ کر رجزخوانی کر مبارزہ طلبی کی اور پکار کر کہا :

کیاتم میں ایساکوئی مرد ، سوار اور جنگجوں نہیں ہے جو میرے مقابلہ میں آئے تاکہ میں اسے دوسروں کے لئے عبرت کا نمونہ بنا دو ں !!

زہرہ نے اس کے جواب میں فریاد بلند کرتے ہوئے کہا:

میں خود چاہتا تھا کہ تیرے مقا بلے میں آئوں ،لیکن جب تیری باتوں کو سنا ،تو تیرے ساتھ جنگ کو حقیر سمجھ کر کسی دوسرے کو تیرے مقابلے میں بھیجتا ہوں ۔

اگر تو نے اس کیساتھ مقابلہ کی جرأت پیداکی تو خداکی مرضی سے تیرے کفر و گمراہی کی وجہ سے وہ تجھے نابود کرکے رکھدے گا اور اگر اس کے چنگل سے فرار کرنے میں کامیاب ہوا تو اپنے ایک معمولی اور سادہ شخص کے مقابل سیبھاگا ہے، یہ کہنے کے بعد حکم دیا تاکہ ''ابو نباتہ ، نائل بن جعشم اعرجی''جو بنی تمیم کا ایک دلاور تھا شہر یارسے لڑنے کے لئے آگے بڑھے۔

دونوں پہلوان اپنے ہاتھوں میں نیزے لے کر ایک دوسرے ثابت قدمی کے ساتھ نبردآزمائی کرنے لگے ۔


جوں ہی شہر یارنے اپنے حریف کی طاقت کا اندازہ کیا ،نیزہ پھینک کراپنے آپ کو اس کے ساتھ زور آزمائی کے لئے آمادہ کیا ۔ نائل نے بھی اپنے نیزہ کو دور پھینک دیا اور شہر یار سے دست و گریبان ہونے کیلئے تیار ہو گیا۔ اس کے بعد دونوں نے نیام سے تلواریں کھینچ لیں اور باری باری ایک دوسرے پر وار کرنے لگے ۔لیکن سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو مجبور ہو کر تلواریں پھینک کر تیزی سے ایک دوسرے کے گریبان کو پکڑ لیا اور زور ے ایک دوسرے کو کھینچ لیا دونوں گھوڑوں سے گر پڑے ۔ ایک کشمکش کے بعد شہر یارنے اپنے حریف کو زمین سے بلند کیا اور ایسے زمین پر دے مارا جیسے اس کے سر پر ایک عمارت گر گئی ہو۔اس کے بعد اسے مضبوطی سے اپنے دوپیروں کے درمیان کس کرکمرسے خنجر کونکال کر اس کے سینے پر مارنیوالا ہی تھا کہ اتفاقاّ اس کا انگوٹھا نائل کے منہ میں چلا گیا۔ اس نے بلافاصلہ اسے اپنے دانتوں کے درمیا ن زور سے پکڑ کر کاٹ لیا ۔اس طرح شہر یارکے انگوٹھے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ درد کے مارے بے ہوش جو گیا ۔نائل نے فرصت غنیمت سمجھ کر فوراً سے اپنے سینے سے گرا کر اس کے سینے پر سوارہوگیااور اسی خنجر کو اس کے ہاتھ سے چھینلیا اور اس کے بدن سے زرہ کو ہٹا کر اس کے سینہ اور پہلو پر پے درپے ضرب لگا ئی اوراسے موت کے گھاٹ اتاردیا!

نائل فاتحانہ طورپر اپنے مقتول کے سینہ سے بلند ہوا ۔ اس کے خون میں لت پت لباس اور اس کا دست بند بھی کھینچ کر نکال لیا۔اس کے بعد اپنے گھوڑے کی لگام کو پکڈ کر اپنے کیمپ کی طرف چلا۔!

شہریار کے سپاہیوں نے جب اپنے سپہسالار اور سردار کو قتل ہوئے دیکھا تو مقابلہ کی طاقت نہ لاکر مختلف شہروں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے ۔

''زہرہ '' کسی مزاحمت کے بغیر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ'' کوثی '' (۱) میں داخل ہوا اور وہاں پر تب تک ٹھہرارہا جب تک سعد وقاص پہنچ گیا۔

''کوثی ''میں داخل ہونے کے بعد سعد نے نائل سے ملاقات کی اورجب ،ماجراسے مطلع ہوا تو اس کہا :

نائل !میں تم سے چاہتا ہوں کہ شہریارکا دست بنداور لباس زیب تن کرکے اس کے گھوڑے پر سوار ہو،یہ سب چیز یں تم کو مبارک ہو !

نائل اٹھا ۔ سپہ سالار اعظم کا حکم بجالانے کے لئے باہر چلاگیا ۔اس کے بعد جو سعد نے حکم دیاتھااس پر عمل کیا ۔ پھر دوبارہ سعد کی خدمت میں حاضر ہوا۔

سعد نے دیکھنے کے بعد حکم دیاکہ دست بند اتار لے اور اس سے صرف جنگ کے دوران استفادہ کر ے ۔

____________________

١۔''کوثی ''عراق میں ''بابل ''کی سرزمینوں کا ایک حصہ ہے ۔


نائل پہلا عراقی مسلمان مرد ہے جس نے دست بند پہنا ہے ۔(طبری کی بات کا خاتمہ)

افسانۂ نائل کے راوی:

سیف نے نائل کے افسانہ اور شہر یار سے اس کی نبردآزمائی کے بارے میں دواشخاص کو راوی کے عنوان سے پیش کیاہے کہ دونوں اس کے ذہن کی مخلوق اورجعلی ہیں ۔ یہ حسب ذیل ہیں :

١۔نضر بن سری

٢۔ابن رفیل(۱)

حقیقی داستان:

دینوری نے اپنی کتاب ''اخبار الطوال ''میں قادسیہ کی جنگ میں ایرانیوں کی شکست کے بعد لکھا ہے :

شکست کے نتیجہ میں ایرانیوں نے ''دیر کعب ''تک عقب نشینی کی اور وہاں پر پڑاؤ ڈالا۔ ساسانیوں کے آخر ی پادشاہ یزدگرد کے حکم سے ''نخارجان '' ان کی مدد کے لئے آیا تھا ، دیر کعب میں ان سے ملا۔اس نے فراریوں کو روک کر پھر سے انھیں منظم کیا۔''نخارجان ''نے فوج کی تشکیل نو کر کے ان کو مختلف گروہوں اور

____________________

١۔ ہم نے '' رفیل'' نام کو بلاذری کی کتاب '' فتوح البلدان'' میں دیکھا ہے ۔ لیکن اس کا سراغ پیدا نہ کرسکے کہ کسی نے ابن رفیل نامی اس کے بیٹے کا بھی ذکر کیا ہو۔ جیسا کہ سیف نے کہا ہے۔


دستوں میں تقسیم کردیا ، اور موقع و محل کو مشخص کر کے دو بارہ مسلمانوں سے نبردآزما ہونے کے لئے آمادہ کیا ۔ اسی اثنا ء میں مسلمان سپاہی بھی آپہنچے اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوئیں ۔

''نخارجان '' ایرانی فوج میں سے پہلا پہلوان تھا جس نے میدان کا زار میں قدم رکھ کر فریاد بلند کی :

مرد! مرد!

اس طرح مسلمان فوج سے اپنے لئے ہم پلہ جواں طلب کیا ۔

''نخار جان '' کے جواب میں ''مخنف بن سلیم ازدی ،کے بھائی '' زہیربن سلیم''نے میدان کار زار کی طرف رخ کیا اور اس کے مقابلہ میں آ کھڑا ہوا ۔

نخار جان ایک ہٹا کٹا تنومند پہلوان تھا اور ''زہیر '' اس کے بر خلاف دبلا پتلا لیکن قومی اندام تھا۔

جوں ہی ''نخار جان'' کی نظر اپنے حریف پر پڑی اور اس کا اپنے سے مواز نہ کیا تو اچانک اپنے گھوڑے سے اچھل کر اپنے آپ کوزہیر پر گرادیا ۔دونوں زمین پر گرگئے اور ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے زور آزمائی کرنے لگے ۔لیکن سر انجام نخار جان زہیر پر غلبہ کر کے اس کے سینے پر سوار ہوگیا ۔

وہ خنجر کو ہاتھ میں لئے اس کے سر کو تن سے جدا کرنا چاہتاتھا کہ

اسی کشمکش میں ''نخارجان '' کا انگوٹھا زہیر کے منہ میں چلا گیا ۔زہیر نے بھی اسے زور سے کاٹ لیا ۔نخارجان درد سے ناتواں ہوکر طاقت کھو بیٹھا ۔زہیر نے اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے اس کو پٹک دیا اور اس کے سینے پر سوار ہوا اور زرہ کو ہٹا کر اس کا پیٹ چاک کر کے اسے موت کے گھاٹ اتاردیا۔

'نخارجان'' کاگھوڑا جو تربیت یافتہ تھا دور سے اس ماجراکا مشاہدہ کر رہا تھا۔زہیرنے اپنے مقتول کا لباس تمیمی زرہ اور دست بند کو لے کر اس کے گھوڑے پر سوار ہو کر سعد وقاص کی خدمت میں پہنچا۔سعد نے ان تمام غنائم کو اسے بخش دیا اور حکم دیا کہ اسے زیب تن کرے ۔زہیرحکم کی تعمیل کرتے ہوئے نخارجان کی زرہ کو زیب تن کرکے ، اس کی رزمی ٹوپی کو سر پر رکھ کر ، اس کی قبا کو دوش پر رکھ کر اور اس کے دست بند کو ہاتھ میں پہن سعد وقاص کی خدمت میں حاضر ہوا۔

زہیر پہلا عرب مرد ہے جس نے ہاتھ میں دست بند پہنا ہے ۔


بحث و تحقیق کا نتیجہ:

سیف نے اصل روایت کو تحریف کر کے جنگجو ؤ ں کے نام بھی حسب ذیل بدل دئے ہیں :

١۔''باب'' کے بڑے زمیندار شہریار کو ''کوثی '' میں ایرانی سردار نخارجان کی جگہ پر بٹھا دیا ہے۔

٢۔ حریف کے قا تل اور مقتول کے اموال لینے والے کو اپنے جعلی صحابی بنی تمیم کے ایک دلاور ''ابونباتہ'' کے طور پر پہنچوایا ہے اور اسے حقیقی جنگجو زہیر ین سلیم ازدی جو سبائی اور شیعیان علی سے تھا کی جگہ پر بھٹا دیاہے ۔

سیف نے ابو نباتہ کو عد نانی .خاص کر اپنے قبیلہ تمیم سے خلق کیا ہے ۔ تاکہ حریف ایرانی جنگجو کے جنگی غنائم کو اپنے خاندان کے لئے مخصوص کرے جس طرح قعقا ع تمیمی کو خلق کیا تھا کہ بادشاہوں کے جنگی ساز و سامان کو اپنے لئے مخصوص کرے ١۔

سیف نے ابو نباتہ کو پہلا عرب سوار ظاہر کیا ہے جس نے عراق میں دستہ دست بند پہنا ہے ۔ جس طرح اپنے حرملہ اور سلما ے تمیمی کو پہلے جنگ جوؤں کے طور پر تعارف کرایا ہے کہ جنہوں نے سب سے پہلے ایران کی سرز مین پر قدم رکھا ہے ۔٢ اور ہم نے اس سے پہلے دیکھا ہے کہ سیف نے کتنے اس قسم کے پہلے مقام خلق کر کے انھیں اپنے خاندان تمیم کے جعلی افراد سے مخصوص کیا ہے ۔

سیف نے اپنے باطنی اور قبیلگی تعصبات کی بناپر جنگوں میں فتحیا بیوں اور غنائم جنگی حاصل کرنے کے افتخارات کو یمانی قحطانی افراد سے سلب کر کے انھیں عدنانی مضری افراد کے نام درج کیا ہے۔جیسے اس نے اس قسم کی رفتار ''عمار یا سر٣،اور ابو موسیٰ اشعری'' یمانی قحطانی سے روا رکھی تھی ٤

سیف ابو نباتہ کے افسانہ کو اپنے خیالی و مخلوق راویوں سے روایت کرتا ہے ۔ اس کے بعد طبری بھی اس سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کرتا ہے ۔

____________________

١۔اس کتاب کی پہلی جلد (١/٢٠٠۔٢٠٢)ملاحظ ہو۔

٢۔.............دوسری جلد(٢/٢٣٨۔۔٢٤٠) ملاحظ ہو

٣۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری میں جو فتوح عمار یا سر کے بارے میں آیا ہے اور اس قسم کے فتوحات جو سیف کی روایتوں کے مطابق تاریخ طبری میں آئے ہیں ، ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

٤۔ ''حرملہ بن مربط اور زربن عبداﷲ '' کے حالات اس کتاب کی ج ٢ میں ملاحظہ ہو۔


سرانجام اسی افسانہ کو ابن اثیر،ابن کثیر اور ابن خلدون طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخوں میں خلاصہ کے طورپر درج کرتے ہیں ۔

جب سیف ''زہیر ''کے مبارزہ کی داستان میں سیائیوں و قحطانیوں کے بارے میں منقبت دیکھتا ہے تو آرام سے نہیں بیٹھتا اور بہرصورت اسے اس سے چھین کر بڑی مہارت کے ساتھ قبیلہ تمیم سے جعل کئے گئے اپنے پہلوان کے نام درج کر تا ہے ۔

اس دوران ''ابن حجر '' جیسا علامٔہ اس قسم کے فخر و مبات کے سزاوار تنہا اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوجانتا ہے اور اس کے پیش نظر سیف کی مخلوق ابو نباتہ تمیمی سیف کی روایت کے مطابق جو سپہ سالار نہ تھا تاکہ صحابی کے خاص قاعدہ کے تحت اسے بھی صحابی بناتا ،لہذا اسے اس عبارت ''لہ ادارک ''کی قید سے یعنی اس نے عصر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو درک کیاہے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیتا ہے اور اس کیلئے الگ سے شرح حال لکھتا ہے ۔ وہ اپنی کتاب کے ایک حصہ میں ''تیسراحصہ ، مخضرمین ''کے عنوان سے یعنی وہ اصحاب جنہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کو درک کیا ہے کو صحابی شمار کرتا ہے اس قاعدہ کے تحت وہ سیف کے جعل کردہ ''ابو نباتہ نائل '' کو صحابی شمار کرتا ہے اور اس پر شرح حال لکھتا ہے ، تاکہ اس طرح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصحاب کے تعداد کو بڑھا سکے ۔

مصادر و مآخذ

ابو نباتہ نائل تمیمی کے حالات :

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/٥٥٠) نمبر : ٨٨٤٦

حارث کانسب ،لفظ ''اعرج '' کے تحت :

١۔ ''جمہرہ ٔ انساب '' ابن حزم (٢١٦)

٢۔ ''معجم قبائل عرب '' (١/٣٤)


شہر یار کے ساتھ نائل کے لڑنے کی داستان :

١۔ ''تاریخ طبری '' (١/٢٤٢٢۔ ٢٤٢٤)

٢۔''تاریخ ابن اثیر '' (٢/٣٩٤)

٣۔ ''تاریخ ابن کثیر '' (٧/٦٠)

٤۔''تاریخ ابن خلدون '' (٢/٣٢٩)

زہیر بن سلیم اور نخارجان کی لڑائی سے متعلق روایات

١۔''اخبار الطوال '' دینوری (١٢٣)

٢۔''فتوح البدان '' بلاذری ( ٣٦٦)


٧٢واں جعلی صحابی سعد بن عمیلہ

ابن حجر کی ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف ہوا ہے :

سعد بن عملیہ فزاری :

اس نے عصر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درک کیا ہے ۔سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں لکھا ہے کہ سعد وقاص نے سعد بن عمیلہ کو اپنے نمائند ہ کے طور پر خلیفہ ٔ عمر کے پاس بھیجا تھا تاکہ قادسیہ کی فتح کی نوید کو ان خدمت میں پہنچا دے (ز) (ابن حجر کی بات کاخاتمہ )

سیف نے جو نسب اپنے اس جعلی صحابی کے لئے منتخب کیا ہے وہ ''فزاری '' ہے جو حقیقت میں ''فزارةبن ذبیان بن بغیص بن قیس عیلان عدنانی '' کی طرف نسبت ہے ۔

ابن حجر نے اس کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے سیف کی کتاب ''فتوح '' کی قید لگاتے ہوئے سعد بن عملیہ کے سعد وقا ص کی طرف سے نمائندہ کے طور پر عمر کی خدمت میں پہنچنے کے بارے میں خبردی ہے ۔ اس مطلب کو طبری نے سیف بن عمر سے نقل کر کے ، لیکن مزید تفصیل کے ساتھ اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔ وہ کہتاہے :

جب قادسیہ کی جنگ ختم ہوئی تو سعد وقاص نے اس عظیم فتح کی نوید خلیفہ عمر کو لکھی ساتھ ہی مقتولین اور مجر و حین کے نام بھی اپنے علم کی حدتک اس میں لکھ دئے ۔خط کو سعد بن عملیہ فرازی کے ہاتھ دیکر خلیفہ کی خدمت میں مدینہ بھیجدیا ۔


سعد کی روایت کے راویوں پر تحقیق :

سیف نے'' سعد عمیلہ ''کی داستان کو مندرجہ ذیل تین راویوں سے مستحکم کیا ہے تاکہ قارئین یہ تصور کریں سعد کی خبرتین روایتوں میں آئی ہے :

١۔نضر بن سری نے رفیل بن میسورسے

٢۔ محمد ،یا محمد بن عبداﷲ بن سواد

٣۔ مہلب یا مہلب بن عقبۂ اسدی ۔

٤۔ چند دیگربے نام افراد۔

ہم اپنی گزشتہ بحثوں میں بارہا ان ناموں سے روبرو ہوئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ سیف کے حبل کردہ تھے اور حقیقت میں وجودنہیں رکھتے ہیں ، اس صورت میں بے نام افراد کا حال معلوم ہی ہے کیا ہوگا !!

داستان کا نتیجہ :

سیف ، اس عدنانی مضری صحابی کو خلق کرکے خوشخبری کا پیغام لے کر مضری خلیفہ ٔ وقت عمر کی خدمت میں بھیجتا ہے تاکہ مسلمانوں کی عظیم اورفیصلہ کن جنگ میں سعد وقاص مضری کی سپہ سالاری میں حاصل کی گئی فتح و کامیابی کی نوید ان کو پہنچادے اور یہ افتخارات صرف مضری قبیلہ کے افراد کے درمیا ن ردبدل ہوجائیں ۔

اس دروان ابن حجر جیسا علامہ ٔ آگے بڑھتا ہے تاکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس صحابی کو اس عظیم نعمت کے کسب کرنے سے محروم نہ رکھے بلکہ قادسیہ کی جنگ کی فتح و کامیابی کی بشارت دینے والے کی حیثیت بھی اس میں بڑھادے۔لیکن جو شرائط اور قواعد انہوں نے ابن ابیشیبہ کی روایت کی بنیاد پر ( کہ جس کے راوی بھی نامعلوم و مجہول ہیں اور ان کی اس کو کوئی پر وا نہیں ہے ) وضع کئے ہیں ، اس صحابی پر صادق نہیں آتے ،اور سیف نے بھی نہیں کہا ہے یہ سعد عمیلہ کسی سپہ سالاری کے عہدہ پر فائز تھا ، تاکہ اس کی بنیا د پر اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں میں شامل کیا جاتا !


اس بناپر ابن حجر اس مسئلہ کا علاج تلاش کرنے کی فکر میں لگتا ہے تاکہ اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی بنائے۔لہذا سیف کی اس روایت اور''لہ ادراک'' کی قید کا سہارا لے کر مسئلہ کو حل کرتا ہے اور سعد عمیلہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اﷲ کے ان صحابیوں میں قرار پاتا ہے جس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیا ہے ۔

ابن حجر اس صحابی کی تشریح کے آخر میں حرف (ز) لکھ کر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس صحابی کو اس نے پہچانوایا ہے اور اس کے حالات دیگر تذکرہ نویسوں کو معلوم نہیں ہیں ۔

مصادر ومآخذ

سعد بن عمیلہ فزاری کے حالات :

١۔''اصابہ '' ابن حجر ( ٢/١١٠) حصہ سوم نمبر ٣٦٧٣

سعد بن عمیلہ کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ ''طبری '' (١/٢٣٣٩۔٢٣٤٠) ،(٢٣٦٦)

''فزارہ'' کا نسب :

''جمہرہ انساب '' ابن حزم ( ٢٥٥۔٢٥٩)

٧٣واں جعلی صحابی قریب بن ظفر عبدی

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے :

قریب بن ظفر :

وہ من جملہ ان افراد میں سے ہے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا زمانہ درک کیا ہے اس نے ''نہاوند'' کی جنگ میں سعد وقاص کا پیغام خلیفہ ٔ عمر کو پہنچایا تھا۔


جب '' قریب ''خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا تعارف کیا تو خلیفہ نے اس کے اور اس کے باپ کے نام کو فالِ نیک شمار کیا اور کہا:

ظفر قریب = فتح نزدیک ہے ۔

اس کے بعد ''نعمان بن مقرن '' کی سپہ سالاری کا حکم جاری کیا ۔

یہ داستان ٢١ھمیں واقع ہوئی ہے (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ابن حجر نے اس تشریح میں نہ ''قریب '' کے نسب کا ذکر کیا ہے اور نہ اس روایت کے راویوں کانام لیاہے ۔لیکن طبری نے اپنی تاریخ میں سیف کی دو روایتوں کے مطابق نہاوند کے واقعہ اور ٢١ھ کے حوارت کیضمن میں ان دونوں موضوعات کو واضح کیا ہے(۱) ۔ وہ پہلی روایت میں لکھتاہے :

جس وقت سعد وقاص کوفہ میں گورنر کے عہدہ پر فائزہ تھا ، ایران کی تازہ دم فوج ''نہاوند '' میں عربوں سے نبردآزمائی کے لئے جمع ہو رہی تھی ۔سعد نے اس موضوع کو ایک خط کے ذریعہ خلیفہ کی خدمت میں پہنچادیا اور اس کے ضمن میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں کوفیوں کی شرکت کی درخواست بھی خلیفہ تک پہنچادی ۔

اس خط کے روانہ کرنے کے بعد ، چونکہ کوفیوں نے خلیفہ کی خدمت میں سعد وقاص کی شکایت کی تھی ،اس لئے سعد مجبور ہو کر عبداللہ بن عتبان کوکوفہ میں اپناجانشین مقرر کر کے خلیفہ کے دیدار کے لئے راہی مدینہ ہوا ۔

سعد نے ایرانیوں کے ''نہاوند ''میں اجتماع کی رپورٹ پہلے ہی ''قریب بن ظفرعبدی ''کے ہاتھ خلیفہ کی خدمت میں بھیج دی تھی ۔

جب ''قریب '' خلیفہ عمر کی خدمت میں حاضر ہوا تو عمر نے اس پوچھا :

تمہارا نام کیا ہے ؟

اس نے جواب دیا:

قریب۔

____________________

١۔طبر ی نے ٢١ھ کے وقا ئع اور روداد کو اپنی کتاب میں ثبت کرتے وقت سیف کی مذکورہ دوروایتوں کو ،جو وقائع نہاوند کی حکایت کرتی ہیں ، درج کیا ہے ، ایسا نہیں ہے کہ سیف نے تاریخ وقوع کو ٢١ھ جانا ہے بلکہ سیف نے اپنی روایتوں میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ نہاوند کی جنگ ١٨ھ میں واقع ہوئی ہے


تمہارے باپ کا کیانام ہے ؟ ''قریب نے جواب دیا :

ظفر ،عمر نے اس کے اور اس کے باپ کے نام کو فال نیک قرار دیکر کہا:

انشاء اﷲ (ظفر قریب) فتح و کامیابی نزدیک ہے

طبری دوسری روایت میں خلیفہ کی طرف سے ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں ''نُعمان مقرن'' کے سپہ سالار مقرر کئے جانے کے حکم کی بات کرنے کے بعد سیف سے نقل کرکے لکھتا ہے :

''قریب '' نعمان مقرن کی خدمت میں پہنچا اور خلیفہ کا اس مضمون کا ایک خط اس کے ہاتھ میں دیا :

عرب فوج اورعصر جاہلیت کے نامور شخدلیر تیرے اختیار میں ہیں ۔ ان سے ان لوگوں سے کمتر استفادہ کرو جو جنگ اور اس کے فنون کے بارہ زیادہ معلومات نہیں رکھتے' اور نہ یتیموں کے جنگ میں ان کی رائے اور عقل سے فائدہ اٹھاؤ۔

''طلیحہ بن خویلد '' اور عمر وبن معدی کرب '' سے جو چاہوپوچھ لو لیکن ہر گز انہیں کوئی کام نہ سونپنا !

سیف کہتا ہے کہ نہاوند کی فتح ، کوفہ پر ''عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان'' کی حکومت کے زمانہ میں واقع ہوئی ہے۔

افسانۂ قریب کے اسناد کی پڑتال :

سیف نے اپنے ''قریب بن ظفر '' کے افسانہ کو ایسے راویوں کی زبانی نقل کیا ہے جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتے تھے ،ہم نے ان کے جعلی ہونے کی بارہا تاکید کی ہے ۔یہ راوی حسب ذیل ہیں :

١۔ محمد ، یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٢۔ مہلب ،یا مہلب بن عقبہ اسلامی ۔

٣۔ حمزہ ،یا حمزہ بن علی بن محتفنر ۔

٤۔ چند دوسرے مجہول افراد ، جیسے ''عمرو '' معلوم نہیں ہے سیف نے اس سے کو ن سا شخص خیا ل کیا ہے ۔ کیا اسے '' ریاّ ن '' کا بیٹا جعل کیا ہے یا فرزند ''تمام '' یہ دونوں بھی اس کے جعلی راوی ہیں اوراس کے دیگر راویوں کی طرح وجود نہیں رکھتے ہیں ؟!


واقعہ نہاوند کی حقیقی داستان

واقعہ''نہاوند ''کو دیگر مورخین نے دوسری صورت میں درج کیاہے ، کہ اس میں ''قریب بن ظفر '' ''عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان''کی جانشینی اورسیف کے دوسرے جھوٹ کا کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا ۔ یہ لوگ ، من جملہ بلاذری اپنی کتاب ''فتوح البلدان ''اور دینوری اپنی کتاب '' اخبار الطوال''میں لکھتے ہیں :

''عماریاسر'' نے جو اس زمانہ میں کوفہ کے حاکم تھے ، نہاوند میں ایرانیوں کے اجتماع کی خبر خلیفہ عمر کی خدمت میں پہنچائی...(آخر داستان تک )

اسی طرح ''خلیفہ بن خیاط '' ، بلاذری '' اور دینوری '' نے لکھا ہے کہ ''نعمان بن مقرن '' کی سپہ سالاری کا حکم خلیفہ نے ''سائب بن اقرع '' کے ذریعہ اس تک پہنچایا ہے ۔

اس بناء پر ان علماء کی باتوں سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ نہاوند کی فتح کوفہ پر ''عمار یاسر '' کی حکومت کے زمانہ میں ،کوفیو ں کی شکایت پر سعدوقاص کی معزولی کے بعد واقع ہوئی ہے ، نہ کہ عتبان کے نواسہ عبداﷲ کے زمانہ میں ۔

خلیفہ عمر کے فرمان کا حامل بھی '' سائب بن اقرع ''تھانہ کہ ''قریب بن ظفر''

بحث و تحقیق کا نتیجہ

''تاریخ طبری ''میں درج ہوئی سیف بن عمر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو '' عبدی ''نام سے یاد کیاہے ، کہ یہ ''قبائل عدنان بنی ربیعہ بن نزار سے عبدالقیس بن افصی'' سے نسبت ہے ۔

سیف نے نہاوند کی جنگ واقع ہونے کی تاریخ میں تحریف کر کے اسے ١٨ھ میں واقع ہونا لکھا ہے جبکہ ابن اسحاق اور دوسروں کی راویت کے مطابق یہ جنگ ٢١ ھ میں واقع ہوئی ہے !

سیف نے نہاوند کی جنگ کے دوران کوفہ کے حاکم بالتریب سعد وقاص اور عتبان کے پوتہ عبداﷲ بتلایا ہے اور اور انھیں عمار یا سر سبائی قحطان کی جگہ پر بٹھا دیا ہے ۔


'' سائب بن اقرع ''خلیفہ کی طرف سے ''نعمان بن مقرن '' کی سپہ سالاری کافرمان لانے والا قاصد اورمامور تھا ،لیکن سیف نے اپنی پسند کے مطابق اس کی جگہ پر اپنے ایک خیالی شخص ''قریب بن ظفر '' کو رکھاہے ۔تاریخ میں اس وسیع دخل و تصرف کے بعد سیف ان سب واقعات کی ایسے راویوں سے روایت کرتا ہے جوحقیقت میں وجودنہیں رکھتے تھے !!

اور ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزراتھا کہ'' طبری '' جیسا عالم اور نامورمورخ سیف کے ان تمام جھوٹ اور افسانوں کو اس سے نقل کر کے اس کے نام کے ذکر سے اپنی تاریخ کبیر میں درج کر تا ہے !

سرانجام طبری کے بعد دوسرے علماء جیسے ، ابن اثیر،ابن کثیر اور میرخواند طبری کے نقش قدم پر چل کر طبری کے مطالب کو اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کرتے ہیں البتہ اس فرق کے ساتھ کہ ابن اثیر نے خلیفہ کے ایلچی کا نام ذکر نہیں کیا ہے ،اور میر خواند وابن اثیر نے اس افسا نہ کو نقل کرنے میں اختصار سے کام لیا ہے اور جب ابن حجر کی باری آتی ہے تو گویا یہ عالم یہ چاہتا ہے کہ خلیفۂ مسلمین کے قاصد ہونے کا امتیازبھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے لئے محفوظ رکھے ۔ اس لحاظ سے ''قریب بن ظفر '' کو اصحاب کی فہرست میں قرار دیتا ہے ۔ اور احتیاط کے طور پر کہ اس سلسلے میں جھوٹ نہ کہا ہو ، اس کے حالات کی تشریح میں اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں ''لہ ادراکُ'' کا عنوان ثبت کرتا ہے اور اس طرح اس کے صحابی ہونے کی دلیل پیش کرتا ہے ۔

مصادر و مآخذ

قریب بن ظفر کے حالات :

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/٢٥٧) نمبر : ٧٢٨٦

٢۔''تاریخ ابن کثیر'' (٧/١٠٧)

٣۔''تاریخ ابن اثیر '' ٣/٥۔١٠) طبع یورپ

٤۔ ''رو ضتہ الصفا'' میر خواند (٢/٦٩٣)


کوفہ پر عماریا سرکی حکومت اور نہاوند کی جنگ:

١۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٣٧١)

٢۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط (١/١٢٠)

٣۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٣٤۔١٣٥)

عبدی کا نسب :

١۔''جمہرہ انساب'' ابن حزم (٢٩٥)

٢۔''لباب الانساب'' (٢/١١٣)

جنگ نہاوند کی حقیقی تاریخ :

١۔ ''تاریخ طبری '' (١/٢٥٩٦)

٢۔تاریخ ابن کثیر ( ٧/١٠٥) کہ اس میں تاکید کی گئی ہے کہ سیف نے نہاوند کی جنگ کی تاریخ وقوع ١٧ھ بتائی ہے ،جبکہ ایسالگتا ہے کہ ابن کثیر یہاں پر غلطی کا شکار ہوا ہے ۔


٧٤واں جعلی صحابی عامر بن عبدالا سد

ابن حجر نے اپنی کتاب'' اصابہ '' میں اس صحابی کے حالات کی یوں تشریح کی ہے :

عامر بن عبدالاسد:

اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیاہے

طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''علاء حضرمی '' نے ایک خط کے ذریعہ اسے حکم دیا کہ مرتدوں کو کچلنے ، ان سے جنگ کرنے اور ان کے بارے میں اطلاعات کسب کرنے میں کوئی دقییقہ اٹھا نہ رکھے ۔ انہی مطالب کو ابن فتحون نے ذکر کیا ہے ۔ لیکن اس صحابی کے نسب کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے

لیکن میری نظر میں اگر یہ عامر ''ام مسلمہ'' کے پہلے شوہر ''ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی ''کا بھائی ہوگا، تو وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں میں سے ہے ۔(ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

عامر بن عبدالاسد کانام سیف کی دو روایتوں کے تحت ''تاریخ طبری '' میں آیا ہے۔پہلی روایت میں طبری کہتا ہے :

١١ھ میں ''بحرین '' میں ارتداد کی جنگوں کے ضمن میں ''حطم'' اور اس ساتھیوں کے ارتداد کے بارے میں کچھ سیف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ

اور علاء حضرمی کی ان کے ساتھ نبردآزمائی اور ان پر غلبہ پانے کے بعد کے حالات کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے یوں بیان کرتا ہے :

اکثر فراری '' دارین '' کی طرف بھاگ گئے اور کشتیوں میں سوار ہوا کر اپنی جان بچائی اور باقی لوگ بھی اپنے شہروں کی طرف چلے گئے ۔ علاء نے بھی ایک خط کے ذریعہ'' بکر بن وائل '' جیسے ثابت قسم مسلمانوں کو اور ایک پیغام کے ذریعہ ''عتیبہ بن نہاس اور عامر بن عبدالاسود ''کو حکم دیا کہ مرتدوں پر ہر طرف سے راستہ بند کردیں اور اپنے فرایض پر عمل کریں


اس کے بعد طبری سیف کی روایت کو یوں جاری رکھتا ہے :

انہوں نے بھی راہیں بند کیں اوران کی ہر قسم کی سر گرمیوں کے لئے رکاوٹ بنے ۔نتیجہ کے طور پر ان میں سے بعض لوگوں نے معافی مانگی اور اپنی گزشتہ کارکردگیوں پر پیشمانی کا اظہار کیا ، ان کی معافی قبول کی گئی اور وہ امن سے رہنے لگے ۔بعض لوگوں نے ان کی تجویز کو رد کر کے توبہ کرنے سے اجتناب کیا اور''دارین ''کی طرف بھاگ گئے ۔(داستان کے آخر تک )

ابن حجر نے ''عامر بن عبدالاسد '' کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت سیف کی اس روایت کو مدنظر رکھا ہے ۔کہ لکھتا ہے ۔

علاء حضرمی نے ایک خط کے ذریعہ اسے حکم دیا ۔۔۔ (سیف کی روایت کے آخر تک)

سیف کی دوسری روایت جس میں ''عامر ''کا نام لیا گیا ہے ، تاریخ طبری میں ١٧ھ کے وقائع کے ضمن میں ''تستر ''میں ''ھرمزان '' کی جنگ کے موضوع کے تحت وہ ہے کہ کہتا ہے :

سیف نے لکھا ہے کہ ''بصرہ '' کے دلاوروں اور پہلوانوں کے ایک گروہ نے ایرانیوں کے ساتھ دست بدست لڑائی میں ہر ایک نے ایرانی سپاہیوں کے سو افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے ۔

اس کے بعد سیف کہتا ہے:

کو فیوں میں بھی بعض دلاور و پہلوان موجود تھے جنہوں نے نما یا ں کارنامے انجام دئے ہیں ،جیسے ''حبیب بن قرّة '' ، '' ربعی بن عامر '' اور عامر بن عبدالاسد (۱)'' کہ یہ رئیسوں اور سرداروں اور فرماں روا کے ہم پلہ تھا ۔۔۔۔ (تاآخر روایت )

سیف نے ''عامر '' کے بارے میں اپنی روایت میں درج ذیل ناموں کو راوی اورمآخذکے طور پر پہنچوایا ہے :

١۔ ''صعب بن عطیہ بن بلال ' یہ تینوں یعنی باپ بیٹا اورپوتہ سیف کی مخلوق اور جعلی ہیں ۔

٢۔ محمد و ملہب یا محمد بن عبداﷲ بن سواد اور مہلب بن عقبہ اسلامی ، کہ یہ دونوں بھی اس کے جعلی راویوں میں سے ہیں ۔

____________________

١۔تاریخ طبری کے بعض نسخوں میں ''عبد الاسود'' آیا ہے۔


سیف نے عامر کے باپ کا کیا نام رکھا ہے ؟

ہم نے دیکھا ہے کہ ایک جگہ پر عامر کے باپ کا نام ''عبدالاسد '' آیا ہے اور دوسری جگہ پر عبدالاسود ۔ قابل ذکر ہے کہ عامر کے باپ کا نام سیف کی دوسری روایت میں ''تاریخ طبری '' کے بعض نسخوں میں '' عبدالاسود آیا ہے اور دیگر جگہوں پر عبدالاسد ثبت ہو ا ہے اور بعید نہیں ہے کہ یہ نام پہلی روایت میں بھی۔ ابن حجر واین فتحون کے پاس موجود تاریخ طبری کے نسخوں میں ''عبدالاسد'' ہوگا کہ ابن حجر نے اسے ''عامر بن عبدالاسد '' پہچنوایا ہے ۔

ام سلمہ کا دیور :

اور ، یہ کہ ابن حجر عامر کے حالات کے آخر پر لکھتا ہے :

اگر یہ شخص ام سلمہ کے پہلے شوہر ابو سلمتہ بن عبدالاسد مخزورمی '' کا بھائی ہوگا تو وہ صحابی تھا ۔

نسب شناسو ں نے ''ابو سلمہ'' کے لئے '' عامر '' نام کا کوئی بھائی پیش نہیں کیا ہے ۔انہوں نے عبدالاسد کے لئے درج ذیل تین بیٹوں کا نام لیاہے :

عبدالاسد کے بیٹووں میں سے ایک '' ابوسلمہ'' ہے کہ اس کا نام عبداﷲ تھا اور وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے '' ام المؤمینین ام سلمہ'' کا شوہر تھا ۔

دوسرا ''اسود بن عبدالاسد '' ہے ، یہ مسخرہ کرنے والوں میں سے تھا اوررسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے دین کا مذاق اڑاتا تھا اور جنگ بدر میں کفر کی حالت میں قتل ہوا ہے ۔

اور تیسرے کا نام ''سفیان بن عبداالاسد تھا ''

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ''عبدالاسد '' کے بیٹوں میں ''عامر '' نام کا کوئی بیٹا نہیں تھا کہ ابن حجر اسے صحابی بنائے ۔

دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ علامہ ابن حجر ''عامر '' کا تعارف کراتے ہوئے ''لہ ادارک'' کی عبارت سے استفادہ کرتے ہیں ، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اس شخص نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیا ہے ۔ اور اس طرح اسے تیسرے درجہ کے صحابیوں میں قرار دیکر اس کے حالات پر اپنی کتاب کے اس حصہ میں روشنی ڈالی ہے ۔


یہا ں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ دوسری روایت کے مطابق سیف نے اپنی مخلوق ''عامر '' کو ''عراق' کی جنگوں اور تستر میں '' ھر مزان '' کی جنگ میں سعد وقاص کے ہمراہ شرکت کرتے دکھا یا ہے ۔ حق یہ تھا کہ ہم بھی اسے (عراق کی جنگجوں میں سپہ سالار کے عنوان سے ) سیف کے جعلی صحابیوں کی فہرست میں قرار دیتے ۔

لیکن ایسا نہ کرنے میں ہمارا مقصد یہ تھا کہ مکتب خلفاء کے علماکے ''لہ ادراکُ'' کی عبارت سے ان کے مقصد کو مکمل طور پر مشخص کردیں ۔

مصادر و مآخذ

عامر بن عبدالاسد کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/٨٦) حصہ سوم نمبر: ٦٢٨٧

عامر کے بارے میں سیف کی روایتیں :

١۔ ''تاریخ طبری '' ( ١/١٩٧١) ، (١/٢٥٥٤)

عبدالاسد مخزوری کا نسب:

انساب '' ابن حزم (١٤٤)


پانچواں حصہ :

ارتداد کی جنگوں کے افسراور سپہ سالار

٧٥۔عبدالرحمان بن ابی العاص ثقفی

٧٦۔ عبیدة بن سعد

٧٧۔ خصفہ تیمی

٧٨۔یزید بن قینا ن ، نبی مالک بن سعد تمیمی سے

٧٩۔ صیحان بن صو حان

٨٠۔ عباد ناجی

٨١۔ شخریت

٧٥واں جعلی صحابی عبدالرحمان ابی العاص

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے:

عبدالرحمان بن ابی العاص ثقفی :

عبدالرحمان بن ابی العاص ثقفی ، عثمان بن ابی العاص ثقفی کا بھائی ہے عثمان بن ابی العاص پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے '' طائف '' کا حاکم رہا ہے ۔

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح'' اور ارتداد کی جنگوں میں اس کا نام لیا ہے ، اورسیف نے ''طلحہ بن اعلم '' سے، اس نے ''عکرمہ '' سے روایت کر کے لکھا ہے کہ خلیفہ ابوبکر نے ایک خط کے ذریعہ مکہ کے حاکم ''عتّاب بن اسید '' کو حکم دیا کہ وہاں کے باشندوں کے ایک گروہ کو مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ کرے۔

ابو بکر نے اس سے پہلے ''طائف ''کے حاکم عثمان بن ابی العاص کو ایسا ہی ایک فرمان جاری کیا تھا ۔


خلیفہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ''عتاب'' نے اپنے بھائی خالد کی سر پرستی میں مکہ کے پانچ سو جنگجو آمادہ کئے ۔ اور عثمان نے بھی طائف کے باشندوں کے ایک گروہ کا انتخاب کر کے اپنے بھائی عبدالرحمان کی سرپرستی میں آمادہ کیا ۔

طبری نے بھی اپنے منبع سے سیف بن عمر سے نقل کر کے لکھا ہے کہ جب ''مہاجر بن ابی امیہ '' ''یمن ''کے باشندوں پر مشتمل اپنے سپاہیوں کے ہمراہ خلیفہ ابوبکر کی طرف سے مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے گزررہا تھا تو ''خالد بن اسید ابن ابی العاص '' اپنے افراد سمیت اس سے ملحق ہوا اور طائف سے عبور کرتے وقت '' عبدالرحمان بن ابی العاص '' بھی اپنے سپاہیوں کے ساتھ اس کے ساتھ ملحق ہوگیا ۔

ابن فتحون نے بھی اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب'' استعیاب ''سے دریافتکیاہے ۔

اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ قدماکی یہ رسم تھی کہ وہ جنگوں میں صحابی کے علاوہ ''قریش یا ثقیف '' کے ان لوگوں کے علاوہ جنھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حجتہ الودعاع میں شرکت کی تھی اور اس کے بعد مکہ یا طائف میں ساکن ہوئے تھے ،کسی کو سپہ سالار کے عہدہ پر منتخب نہیں کرتے تھے ۔(ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )


علامہ ابن حجر نے اس تشریح میں سیف کی دو روایتوں پر اعتماد کیا ہے ۔ ایک کو بلاواسط سیف سے نقل کیاہے اور دوسری کو تاریخ طبری سے نقل کیا ہے ۔جوکچھ بیان ہوا ہے اس کی بنا پر طبری نے بھی اس روایت کو سیف سے نقل کر کے ١١ھ کے حوارث کے ضمن میں ''طاہر ابو ہالہ ''(۱)کی روایت میں لکھا ہے اورابن خلدون نے بھی اس کو خلاصہ کے طور پر طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیاہے ۔

افسانہ عبدالرحمان اور سیف کے راوی:

عبدالرحمان ابی العاص کے بارے میں سیف کے راوی جو ''تاریخ طبری'' میں درج ہوئے ہیں حسب ذیل ہیں :

مستنیر بن یزید نے عروہ بن عزیہ ّ سے نقل کیا ہے ۔

یہ دونوں سیف کے جعلی راوی ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

افسانہ کی پڑ تال :

سیف نے اس روایت میں عثمان ابی العاص ثقفی کے لئے ایک بھائی خلق کر کے اس کا نام ''عبدالرحمان ابی العاص ''رکھا ہے ، جس طرح ' کعب بن مالک انصاری '' کے لئے سہل(۲) بن مالک نامی ایک بھائی ''حذیفہ فزاری ''کے لئے ''ام قرفہ ''(۳)نامی ایک بیٹی اور ام الموء منین خدیجہ کے لئے ''طاہر ابوہالہ '' نامی بیٹا خلق کیا ہے ۔ اوراپنے جعلی صحابیوں کے لئے اس طرح کی تخلیقات سیف بن عمر کی خصو صیات میں سے ہے ۔

اس کے علاوہ ابن حزم نے اپنی کتاب ''جمہرہ '' میں ابوالعاص ثقفی کے چھ بیٹے بتائے اور ان سب کا نام لیاہے ۔لیکن نام کامیں عبدالرحمان نام کا کو ئی بیٹا نظر نہیں آتا ۔

____________________

١۔''طاہر ابوہالہ ''۔اسی کتاب (٢/٢٥٣۔٢٦٥) میں ملاحظ ہو

٢)۔سہل بن مالک انصاری کے حالات اس کتاب کی تیسری جلد( ٢٧٧۔٢٨٧)

٣۔١٥٠جعلی اصحاب (٢/٢٩٤۔٣٠٧)


اس کے باوجود سیف بن عمر نے عبدالرحمان کو خلق کیا ہے اور اسے ایک ایسے خاندان میں قرار دیا ہے کہ اس کی اپنی روایت کے مطابق اس کے بھائی عثمان ابوالعاص نے اسے سپہ سالار کے عہدہ پر منتخب کیا ہے۔ علامہ ابن حجر نے اسی عبدالرحمان کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے پہلے گروہ میں قرار دیا ہے اور اس کے صحابی ہونے کی دلیل کے طو رپر ''ہم نے بارہا کہا ہے کہ قدماکی رسم یہ تھی ....'' کی تکرار کر کے ثابت کر تا ہے ۔ہم نے بھی بارہا کہا ہے کہ اس کا کہ دعویٰ بے بنیاد اور باطل ہے اور ہم اسے ثابت بھی کر چکے ہیں ۔

اور یہ جو ابن حجر کہتا ہے :

'' اور یا وہ جو قریش یا ثقیف مکہ اور طائف میں رہ گئے '' (تاآخر )انشاء اﷲہم آیندہ اس پر بحث کریں گے ۔

مصادر و مآخذ

عبدالرحمان ابوالعاص کے حالات:

١۔''اصابہ''ابن حجر (٢/٣٩٧) پہلاحصہ ۔ نمبر: ٥١٤٧

٢۔''تاریخ طبری '' (١/١٩٩٨)

عثمان ابو العاص کا نسب:

١۔''جمہرۂ انساب '' ابن حزم (٢٤٥)

طاہر ابو ہالہ کے حالات:

١۔ ''ایک سوپچاس جعلی صحابی '' (٢/٢٥٣۔٢٦٦)


سہل بن مالک کے حالات :

١۔ ایک سو پچاس جعلی صحابی (٣/٢٧٧۔٢٨٧)

ام قرفہ کے حالات:

ایک سو پچاس جعلیصحابی (٣/٢٩٤۔٣٠٧)

٧٦واں جعلی صحابی عبیدہ بن سعد

اس صحابی کے بارے میں ابن حجر کی ''اصابہ '' میں یوں آیاہے :

عبیدہ بن سعد :

طبری نے کہا ہے کہ ابوبکر صدیق نے حکم دیا تھا کہ ''عبید بن سعد '' مرتدوں کی جنگ میں مہاجربن ابی امیہ کی مدد کرے ۔ اس کے بعد ابوبکر نے اسے ''کندہ '' اور ''سکاسک ''کاحاکم منصوب کیا ۔ (ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

عبیدہ بن سعد کی خبر کو طبری نے سیف کی دو روایتوں سے نقل کر کے ١١ ھ کے حوادث کے ضمن میں اپنی تاریخ میں درج کیا ۔ پہلی روایت میں لکھتا ہے :

ابو بکر نے ایک خط کے ذ ریعہ مہاجربن ابی امیہ ۔ جو صنعا میں تھا ۔ کو حکم دیا کہ ''حضرموت'' کی طرف روانہ ہوجائے اور یہ بھی حکم دیا کہ ''عبیدہ بن سعد '' بھی اس کی اس مہم میں مدد کرے ۔ طبری نے دوسری روایت میں لکھا ہے :

ان دنوں ''حضر موت '' پر دوشخص حاکم تھے ، ان میں سے ایک ''عبیدہ بن سعد '' تھا جو '' سکا سک '' اور ''سکون '' پر حکمرانی کرتا تھا ............(تاآخر روایت )


سکاسک اورسکون کانسب اوران کی رہائش گاہ :

''سکاسک ''اور'' سکون '' دوقبیلہ ہیں ۔ان کا نسب ، نبی کہلان بن سبا ٔ سے اشرس بن کندہ کے بیٹوں ''سکاسک '' اور ''سکون ''تک پہنچتا ہے ۔ قبیلہ سکا سک ''یمن'' کے آخری کنارے پر سکونت اختیار کی۔ ان کی سکونت کا علاقہ بھی اسی نام سے مشہور تھا ۔

قبیلہ'' سکون'' دوحصوں میں تقسیم ہوا تھا ۔ ان میں سے ایک حصہ ''حضرموت '' میں اور دوسرا حصہ '' دومتہ الجندل '' شام کی راہ پر سکونت کرتا تھا ۔

افسانہ ٔ عبیدہ کے راوی کی پڑتال :

سیف نے اپنی روایتوں میں سے ایک کے راوی کے طور پر سہل بن یوسف '' کا نام لیاہے اوراسے ''سہل انصاری '' کا پوتہ بتایا ہے ، اور یہ اس کے جعلی راویوں میں سے ایک ہے ۔

تاریخی حقائق :

خلیفہ بن خیاط نے خلیفہ ٔ ابوبکر کے تمام گماشتوں اور کا رگزاروں کو اپنی کتاب ''تاریخ کے ایک خاص حصہ میں ''ابو بکر کے کارگزار ''کے عنوان سے حسب ذیل درج کیا ہے :

ابو بکر کی وفات تک بحرین پر ''علاء حضرمی '' حکومت کرتا تھا ۔ابوبکر نے ''عکرمۂ ابو جہل '' کو ماموریت دی کہ ''عمان'' کے مرتد لوگوں کو سر کوب کرے ۔ ان پر فتح پانے کے بعدوہ خلیفہ کی طرف سے '' یمن'' کا حکم مقرر ہوا

''عمان ''کی حکومت ''حذ یفہ قلعانی '' کو سونپی کہ وہ ابوبکر کی زندگی کے آخری دنوں تک اس عہدہ پر باقی تھا ۔

''مہاجر بن ابی امیہ مخزوی'' اور ''زیادبن لبید انصاری '' کو ''یمن '' کی مأموریت دی ۔ اس ترتیب سے کہ زیاد اور نجیل کے باشندوں کے درمیان مشکلات پیدا ہونے کے بعد '' صنعا''، کی حکومت مھاجرکو سونپی ،اور زیا د کو ساحل اور بناد رکا حاکم مقرر کیا

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ''عتاب بن اسید '' کو مکہ پر اور عثمان بن ابی العاص کو طائف پر حاکم منصوب کیا ۔ عتاب اور ابوبکر نے ایک ہی دن رحلتکی ہے ۔


اس کے بعد ابن خیا ط لکھتا ہے :

ہم نے اس سے پہلے شام کے بارے میں ، عراق میں خالد کی داستان ، حکام کے نام ،جنگوں میں ابوبکر کی طرف سے منصوب سپہ سالارو ں اور فوجی معاہدوں کے بارے میں ذکر کیا ہے ۔

ابوبکر نے ١٢ھ میں فریضہ حج ادا کیا ہوا اور اپنی جگہ پر ''قتادہ بن نعمان ظفری ''انصاری کو مدینہ میں اپناجا نشین مقرر کیا ۔اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ ان کا جانشین ''ابن امّ مکتوم '' تھا ۔

خلیفہ بن خیا ط نے ایک فصل میں اس سے پہلے لکھا ہے :

جب ابوبکر نے مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے ''ذی القصہ '' کی طرف عزیمت کی تو اپنی جگہ پر مدینہ میں ''سنان ضمری '' کوجانشین مقرر کیا ۔ اور یہ بھیکہا گیاہے ''اُسامہ بن زید '' کو مدینہ کی گزر گا ہوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی تھی ۔

بحث کا نتیجہ :

ہم نے دیکھا کہ خلیفہ بن خیاط نے خلیفہ اول ابوبکر کی خلافت کے دوران خلیفہ کے تمام کارگزاروں اور گماشتوں کافرداً فرداً نام لیا ہے اور ان کی ماموریت کی جگہ اور ، تاریخ مأموریت کے بارے میں مفصل لکھا ہے لیکن ان میں ''عبیدہ بن سعد ''نام کا کوئی شخص دکھا ئی نہیں دیتا ہے !

لیکن ،سیف نے اس خیالی چہرہ کو اپنی گڑھی ہوئی دوروایتوں سے ذکر کیا ہے اور اسے اپنی کتاب ''فتوح '' میں درج کیا ہے اورطبری نے اسے ایک قطعی مصدر جان کر اپنی معتبر تاریخ میں درج کیاہے ۔

ابن حجر نے بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے ''عبیدہ ''کو اپنی کتا ب ''اصابہ '' کے حصہ اول میں رسول اﷲ کے ان اصحاب کی فہرست میں قرار دیا ہے جو سپہ سالار ہونے کی وجہ سے صحابی شمار کئے گئے ہیں ۔ اور اس کے حالات بھی لکھے ہیں ۔


مصادر و مآخذ

عبیدہ بن سعد حالات :

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٢/٤٤٢)حصہ اول نمبر:٥٣٨١

عبیدہ کے بارے میں سیف کی روایتں :

١۔''تاریخ طبری ''(١/٢٠٠١)و(١/٢٠١٣)

ابوبکر کے گماشتوں اور کارگزاروں کے نام:

١۔''تاریخ خلیفہ بن خیا ط ''(١/١٩١)

سکاسک اور سکون کا نسب:

١۔''جمہرہ انساب '' ابن حزم (٣٢٩۔٣٣٢)

٢۔''اشتقاق''ابن درید لفظ ''سکاسک ''اور سکون''

٣۔''تاج العروس'' لفظ''سکاسک ''

٤۔''معجم البلدان '' حموی لفظ ''سکاسک '' و ''دومة الجندل ''


٧٧واں جعلی صحابی خصفۂ تیمی

یہ صحابی ' ابن حجر کی ''اصابہ '' میں یوں پہنچوایا گیا ہے :

خصفہ تیمی:

طبری نے روایت کی ہے کہ خصفہ تیمی کو علاء حضرمی نے ارتداد کی جنگوں میں اپنی فوج کے ایک حصہ کا کمانڈر مقرر کیا ہے ۔

ہم نے بھی بارہا کہا ہے کہ قدما کی رسم یہ تھی کہ جنگو ں میں صحابیوں کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالاری کے عہدہ پرفائزنہیں کرتے تھے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ابن حجر نے اسی استدلال کی بنا ء پر ''خصفہ '' کو بعنوان صحابی قبول کیا ہے ، بجائے اس کے کہ اصل خبر پر کوئی تحقیق کرے ۔

لیکن اس خبر کی اصلیت کے بارے میں ہم نے گزشتہ صفحات میں ''عامر بن عبدالاسد ''کے حالات کے ضمن میں سیف کی روایت میں پڑھا ہے کہ علاء حضرمی نے عامر اور دوسرے لوگوں کو ایک پیغام کے ذریعہ حکم دیا تھا کی مرتدوں کی نقل و حرکت میں رکا وٹ بنیں ۔

طبری سیف سے نقل کر کے اس داستان کے ضمن میں لکھتا ہے :

علاء نے ''خصفۂ تیمی'' اور ''مثنی بن حارث شیبانی '' کے نام ایک جیسے پیغام بھیجے ۔ وہ بھی مرتدو ں کے راستے میں گھات لگاکر بیٹھے اور ان کی ہر قسم کی فعالیت کو معطل کر کے رکھدیا ۔

داستان کا سرچشمہ :

ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ سیف بن عمر نے اس داستان کو اول سے آخر تک خود جعل کیا ہے ۔ اور اسے ''سہل بن یوسف بن سہل ''جیسے راویوں کی زبانی جاری کیا ہے کہ دونوں باپ بیٹے سیف کے جعلی اصحاب میں سے ہیں ۔ ہم نے بارہا ان کے جعلی و خیالی ہونے کا تذکردیا ہے ۔


لیکن درج ذیل علماء نے''خصفہ ''کے افسانہ کو نقل کرنے کا براہ راست اقدام کیاہے :

١۔طبری نے اسے بلاواسطہ سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

٢۔ ابن اثیر نے اسے طبری سے نقل کیاہے

٣۔ ابن حجر نے سیف کی روایت پر اعتماد کر کے اس کے اسی ایک مختصر جملہ میں ، جس میں خصفہ کا نام آیا ہے ، سے استفادہ کرتے ہوئے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پہلے درجے کے صحابیوں میں قرار دیا ہے ۔ اور اس کے حالات پر حرف''خ'' کے تحت شرح لکھی ہے اور آخرمیں اپنے مشہور قاعدہ کی بھی قید لگادی ہے ۔

ایک اور جعلی صحابی :

ابن حجر نے ''خصفہ ٔ تیمی ''کے حالات پر روشنی ڈالنے سے پہلے ایک مجہول راوی سے ایک دوسری روایت پر استناد کر کے خصفہ یا ابن خصفہ یا خصیفہ نام کے ایک دوسرے شخص کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے عنوان سے درج کیا ہے ۔

ابن اثیر نے بھی ایسا ہی کر تے ہوئے اسی مجہول راوی پر اعتماد کر کے ان ناموں کو رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے زمرہ میں قرار دیا ہے !

ان دوعلماء نے ایک بار ایک مجہول راوی کے کہنے پر اعتماد کر کے '' خصفہ '' یا ''ابن خصفہ '' یا خصیفہ نام کے صحابیوں کو پہچنوایا ہے اور دوسری بار جھوٹے ورزندیقی سیف کی روایتسے استناد کر کے خصفہ تیمی کو صحابی جان کر اس کے حالات لکھے ہیں !

جی ہا ں !یہی وجہ ہے کہ مکتب خلفاء کے پیروؤں کے درمیا ن جعلی اصحاب کی تعداد فرواں پائی جاتی ہے ۔


مصادر و مآخذ

خصفہ تمیی کے حالات :

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر ( ١/٤٢٨) حصہ اول نمبر: ٢٦٦٩

خصفہ تمیی کے بارے میں سیف کی روایت:

١؛تاریخ طبری (١/١٩٧)

خصفہ یا ابن خصفہ کے حالات:

١۔''اسدالغابہ'' ابن اثیر (٢/١٩٧)

٢۔''تجرید'' ذہبی (١/١٧١)

٣۔''اصابہ ابن حجر (١/٤٢٧۔٤٢٨) نمبر: ٢٢٦٨

٧٨واں جعلی صحابی یزید بن قینان

اس صحابی کے حالات ہم ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں یوں پڑھتے ہیں :

یزید بن قینان:بنی مالک بن سعد سے۔

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح ''اور طبری نے اپنی تاریخ میں اس کانام لیا ہے اور لکھا ہے کہ ''عکرمہ بن ابی جہل '' نے اسے چند ساتھیوں کے ہمراہ ارتداد کی جنگوں میں شریک کیا ہے اور قبائل ''کندہ '' کے مرتددں کی سرکو بی کے لئے مأموریت دی ہے

اس صحابی کو ابن فتحون نے ابن عبدالبر کی کتاب ''استعیاب '' سے دریافت کیا ہے۔خدا بہتر جانتا ہے .(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )


نسب:

سیف کے اس جعلی صحابی کے باپ کا نام ''تاریخ طبری '' میں ایک جگہ پر ''قناّن '' اور ایک دوسرے نسخہ میں ''فتیان ''درج ہوا ہے ۔

لیکن سعد کا نام جواس کے سلسلہ ٔ نسب میں نظر آتا ہے اور بنی مالک اس سے پیدا ہوئے ہیں وہ''ابن زید مناةبن تمیم ''تھا ۔

یزید قینان کی داستان تاریخ طبری میں :

طبری ١١ھ کے حوادث کے ضمن میں ''اخبار ارتداد حضرموت '' اور ''جنگ نجیر'' والے حصہ میں سیف بن عمر سے نقل کر کے لکھتا ہے :

عکرمہ نے اپنے جنگجو سواروں کو ''قبائل کندہ '' میں منتشر کیا اور انھیں حکم دیا کہ انھیں کچل کے رکھدیں ۔ اس مہم میں ماموریت پانے والے سرداروں میں بنی مالک بن سعد سے'' یزید بن قنان ' ' بھی تھا

عکرمہ کے سواروں کے اس حملہ کے نتیجہ میں ''بقری '' اور بنی ھند'' سے ''برہوت'' تک کے تمام باشندے قتل عام ہوئے ۔(طبری کی بات کا خاتمہ )

سیف کی روایت میں ''نجیر ''کی جنگ کی بات کہی گئی ہے اور یہ حضر مو ت کے نزدیک ایک قلعہ تھا ، جہا ں پر اشعت بن قیس کی سرپرستی میں کندی افراد ابوبکر کے سپاہیوں کے محاصرہ میں آگئے تھے۔

جب محاصرہ روز بروز سخت ہوتا گیا تو اشعت نے بڑی بے غیرتی سے اپنے رشتہ داروں میں سے سترافراد کے لئے امان حاصل کی، اس کے بعد اپنے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں کسی قسم کی پروا کئے بغیرحکم دیا کہ قلعہ کے دروازے خلیفہ کے سپاہیوں کے لئے کھول دیں !

ابو بکر کے سپاہیوں نے قلعہ کے اندر یورش کی اور اشعث اور امان یافتہ اشخاص کے علاوہ اس کے باقی تمام باوفا ساتھیوں جن کی تعداد سات سو امراء اور کند کے عوامی سپاہیوں پر مشتمل تھی قتل عام کئے گئے ! ان کی لاشوں کو بے گور و کفن زمین پر پڑا رکھا گیا ،ان کی عورتوں کو اسیر بنا یا گیا اور ان کے مال و منال کو لوٹ لیا گیا !!


سیف کی اس روایت میں جن مقامات کا نام آیا ہے ، وہ حسب ذیل ہیں :

١۔برہوت، یہ یمن میں ایک بیابان کانام ہے ۔

٢۔ بقران ، یمن کے اطراف میں ایک علاقہ کو کہاجاتا ہے .لیکن ہم نے ''بقری '' نام کی کوئی جگہ جغرافیہ کی کتابوں میں کہیں نہیں پائی ۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ ''بقری '' کو خلق کرنے میں سیف کا مقصد کیا تھا ؟!

یزید قینان کی روایت کی پڑتال :

سیف تنہا شخص ہے جس نے یزید قینان کی داستان کو ''سہل ''اور اس کے باپ''یوسف '' کی زبانی نقل کیا ہے ۔ اس جھوٹے نے روایت کو اپنے جعلی راویوں کی زبان پرجاری کیا ہے۔

بحث کا نتیجہ:

سیف تنہا شخص ہے جس نے عکرمہ بن ابی جہل کی طرف سے ''یزید بن قینان'' کو سیف کے بقول مرتد لوگوں کی سرکوبی اور انھیں قتل کرنے کے حکم کی روایت کی ہے

سیف تنہا شخص ہے جس نے اس لشکر کشی میں ''بقری بنی ھند تا برہوت '' کے باشندوں کے قتل عام کی بات کہی ہے ۔واضح ہے کہ اس قسم کے جھوٹ کو کہنے میں اس کا مقصد خاندان تمیم کی شجاعتوں اور دلاوریوں کو چار چاند لگاکر ان کی شہرت کرنا ہے ۔

دوسری جانب سیف ارتداد کی جنگوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان جنگوں کے بارے میں سنسنی خیز اور رونگٹے کھڑے کردینے والی خبروں کو گڑھ کے پیش کرنے میں یہ مقصد رکھتا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو سکے یہ ثابت کرے کہ اسلام نے عرب قبائل کے دلوں میں کوئی خاص نفوذ نہیں کیا تھا ۔ اس لئے جوں ہی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رحلت فرمائی ، وہ آسانی کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دین سے منہ موڈکر پھرسے جاہلیت اور بت پرستی کی طرف پلٹ گئے ۔اور یہ خلیفہ ابوبکر تھے جنہوں نے تلوار کے ذریعہ اسلام کو دوبارہ استحکام بخشا ہے !


تاریخ اسلام پر سیف کے روا رکھے گئے ان خوفنا ک جرائم کے بعد طبری جیسے بزرگ عالم کی باری میں آتی ہے اور وہ اس عیار' جس پر جھوٹ بولنے اور زندیقی ہونے کا الزام بھی ہے، کے افسانوں کو اپنی گراں قدر اورمعتبر کتاب میں درج کرتا ہے۔

کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک اور عالم ابن فتحون آکر سیف کی روایتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ''یزید بن قینان '' کو ابن عبدالبر کی کتاب ''استعیا ب '' سے دریافت کرتا ہے !

اورسرانجام ابن حجر سیف کے خیالات کی مخلوق''یزید بن قینا ن '' کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی فہرست میں قرار دیتا ہے اور اس کے حالات لکھ کر اپنی کتا ب ''اصابہ ' میں درج کرتا ہے ۔

مصادر و مآخذ

یزید بن قینان کے حالات :

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/٦٣٥) تیسرا حصہ نمبر:٩٤١٢

یزید بن قینان کی داستان کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٠٠١۔٢٠٠٧)

اشعث بن قیس کی داستان اور '' کندہ '' کا ارتداد:

١۔''فتوح'' ابن اعثم (١/٥٦۔٨٧)

٢۔''فتوح البلدان '' بلاذری (١٢٠۔١٢٤)

٣۔''عبداﷲبن سبائ''(٢/٢٨٧۔٣٠٤)

٤۔''معجم البلدان'' حموی لفظ ''نجیر '' (٤/٧٦٢۔٧٦٤) اور لفظ ''حضر موت'' (٢/٢٨٤۔٢٨٧)

سیف کے اجعل کردہ مقامات کی تشریح:

١۔''معجم البلدان '' حموی لفظ ''بقرہ '' (١/٦٩٩)

لفظ ''برہوت '' (١/٥٩٨)


٧٩واں جعلی صحابی صیحان بن صوحان

اس صحابی کے تعارف میں ابن حجر یوں لکھتا ہے :

صیحان بن صوحان عبدی :

سیف بن عمر نے اس کا نام لیا ہے اوراس کے ارتداد کی جنگوں میں شرکت کی خبر دی ہے ۔ ماجرا کی تفصیل حسب ذیل ہے:

اسی وقت جبکہ عمان میں '' لقیط بن مالک ازدی '' پیغمبر ی کا دعویٰ کر رہا تھا،ابوبکر کے حکم سے ''عکرمہ بن ابوجہل '' عرفجہ ، جبیر اور عبید ''اس سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوئے ،لیکن مشرکین کی فوج کی کثرت کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ قریب تھا ''لقیط '' خلیفہ کے سپاہیوں پر غلبہ پاجا ئے اورانہیں نابود کر کے رکھدے ۔ اسی اثنا ء میں ''حارث بن راشد '' اور ''صیحان بن صوحان عبدی '' کی سرکردگی میں قبائل بنی ناجیہ ابوعبدالقیس کے سپاہی ان کی مدد کے لئے آپہنچے ۔ ان کے آنے سے مسلمان فوج بڑھ گئی اور لقیط کے ساتھی شکست کھاگئے ۔ بالآخر لقیط اپنے دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ اس جنگ میں ماراگیا (ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اس صحابی کا نسب :

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو ''عبدی '' کہا ہے ۔ اور یہ قبائل عدنان سے ''عبدالقیس بن افصیٰ'' کی طرف نسبت ہے لیکن طبری نے اپنی تاریخ میں سیف بن عمر سے نقل کرکے اس نسب کو ''سیحان بن صو حان '' (حرف سین) کے لئے درج کیا ہے !

ابن ماکو لا کی کتاب ''اکمال '' میں بھی سیف بن عمر سے نقل کر کے لقیط سے جنگ میں بجائے ''حارث بن راشد'' اور ''صیحان بن صوحان''بالترتیب '' خریت بن راشد'' اور '' سیحان بن صوحان '' درج کیا گیا ہے ابن ماکو لا لکھتاہے :

اور ''خریت بن راشد''اور ''سیحان بن صوحان '' لقیط بن مالک ازدی کے خلاف جنگ میں بنی ناجیہ اورعبدالقیس کے سپاہیوں کے سپہ سالار تھے ۔ ابن حجر نے اپنی کتاب''اصابہ '' میں حرف ''سین '' کے تحت ''سیحان بن صوحان '' کے حالات پر الگ سے روشنی ڈالی ہے ۔ گمان کیا جاتا ہے کہ ابن حجر کے پاس کتاب سیف یا تاریخ طبری کے موجود نسخوں نے اسے غلطی سے دوچار کیا ہے تاکہ اپنی کتاب ''اصابہ '' میں ایک دوسرے صحابی کو ''سیحان بن صوحان '' کے نام سے درج کرئے۔


جبکہ نسب شناسوں ، جیسے ابن درید نے اپنی کتاب ''اشتقاق '' میں ، ابن خیاط نے طبقات''میں اثیر نے کتاب ''اللباب'' میں صوحان کے تین بیٹے بنام ''زید '' صعصعہ اور سیحان صراحت سے درج کئیہیں ۔ چوتھا بیٹا بنام صیحا ن بن صوحان خلق کیا گیا ہے اور ابن حجر نے اسے بھی صوحان سے منسوب کر دیا ہے ۔ احتمال یہ ہے کہ مغالطہ ''تاریخ طبری کے اس نسخہ کی کتابت کی غلطی کی وجہ سے انجام پایا ہے جو ابن حجر کے پاس موجود تھا نتیجہ میں اس عالمنے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جعلی صحابیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیاہے ۔

٨٠واں جعلی صحابی عبادناجی

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے :

عبادناجی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب میں اس کا نام ذکر کیا ہے.

عباد ان افراد میں سے ہے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کازمانہ درک کیا ہے .اور ابوبکرکے زمانہ کی بعض فتوحات میں شرکت کی ہے ۔ز

نسب :

ایسا لگتا ہے کہ سیف نے لفظ ''ناجی'' سے قبائل عدنان کے '' بنی سامة بن لوی '' کے منسوبین مراد لئے ہیں یہ وہ خاندان ہے جسے سیف نے اپنے افسانہ میں ''خر ّیت بن راشد'' کے ہمراہ ''دبا'' کی جنگ میں شریک کیا ہے !

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہالینڈکا مشہور دانشمند و مستشرق''ایم ۔جے ۔ڈی گویجی ''(۱)

____________________

١) M.J.Degoeje مشہور ہالینڈی مستشرق ۔ اس کے جملہ آثار میں سے ''تاریخ طبری ''اور اس کی فہرست ہے کہ ''مکتبة الجغرافیین فی العرب''کی طرف سے ١٨٠١ ء لیڈن میں طبع ہوئی ہے اور ہم نے اپنے مباحث کے دوران اس کی طرف رجوع کیا ہے۔


سیف کے'' عباد ناجی'' کاتعارف کرانے میں مغالطہ سے دوچار ہوا ہے ، جہاں وہ ''تاریخ طبری ''کی اپنی فہرست میں لکھتاہے :

گویایہ شخص''عباد بن منصور'' ہے ، کیونکہ عباد بن منصورناجی ایک محدث تھا ،جو ١٢٩ھ سے ١٤٥ھ تک بصرہ کے قاضی کے عہدہ پر فائز تھا اور ١٥٢ھ میں فوت ہوا ہے ۔

''ڈی گویجی'' کی یہ بات سیف کی روایت سے مغایرت رکھتی ہے ، کیونکہ اس ''عباد ناجی '' کو سیف نے ١١ھ میں ''خریت بن راشد '' کے ہمراہ''دبا''کی جنگ اور قتل عام میں شرکت کرتے دکھایا ہے ، اور اسی سبب سے ابن حجر نے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ١١ھ سے ١٥٢ھ تک ایک لمبا زمانی فاصلہ ہے

ابن حجر نے ''عباد ناجی '' کو اس اعتقاد پر کہ اس نے بقول سیف جنگ ''دبا'' میں شرکت کی ہے ، ''لہ ادراکُ''کی عبارت سے استفادہ کرکے اس کا بعنوان صحابی تعارف کرایا ہے ، اگر چہ سیف نے اس جنگ میں اس کو کوئی عہدہ نہیں سونپا ہے بلکہ صرف اُن اشعار پر اکتفا کی ہے ، جو اس نے اس کی زبان پر جاری کئے ہیں (۱)

____________________

ا۔ یہ اشعار ان تین صحابیوں کے بارے میں ایک جامع بحث میں بیان کئے جائیں گے۔


٨١واں جعلی صحابی شحریب

اس صحابی کے بارہ میں ابن حجر نے یوں لکھا ہے :

شحریب ، بنی نجرات سے ایک شخص:

وہ من جملہ ان افراد میں سے ہے جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیا ہے ۔

سیف بن عمر نے سہل بن یوسف سے اس نے ابوبکر صدیق کے پوتے قاسم بن محمد سے روایت کی ہے '' شحریب '' نے ''عکرمہ بن ابی جہل ''کے ہمراہ یمن کے مرتدوں کے خلاف جنگ میں شرکت کی ہے ۔ عکرمہ نے اس فتح کی نوید اورغنائم کا پانچواں حصہ شجریب کے ہمراہ ابو بکر کی خدمت میں مدینہ بھیجا ہے ۔(ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس صحابی کا نسب:

ابن حجر کی ''اصابہ '' میں شحریب کو ''بنی بخرات'' کے ایک شخص کے طور پر درج کیا گیا ہے،جبکہ طبری نے سیف کی روایت کے مطابق اپنی تاریخ میں ''شخریت'' ''بنی شخرات'' سے ایک شخص کے طور پر ذکر کیا ہے ! ہمارے خیال میں یہ مغالطہ ''تاریخ طبری ''کی نسخہ برداری کرتے وقت کتابت کی غلطی سے وجود میں آیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر بقول ِسیف ''تاریخ طبری '' ، شحریب '' سپہ سالاری کے عہدہ پر فائز تھا (۱)،لیکن چونکہ لشکر اسلام سے ملحق ہونے سے پہلے اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہو گیاتھا ، لہذا سے ابن حجر نے خصو صی حکم ''لہ ادراک''جاری کر کے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے زمرہ میں قرار دیا ہے ۔

____________________

١۔اس کی داستان '' ان تین اصحاب کے بارے میں ایک جامع بحث'' میں آئے گی۔


ان تین اصحاب کے بارے میں ایک جامع بحث

صیحان ،عبادناجی اورشحریب

طبری نے ''عمان ، مہرہ اور یمن '' کے باشندوں کے ارتداد کے بارے میں سیف سے نقل کرکے ایک مفصل شرح لکھی ہے ۔ ہم اس کا خلاصہ ذیل میں قاریئن کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :

لقیط بن مالک عمان میں مرتد ہوا ۔ دوسرے جھوٹے پیغمبر ی کا دعوی کر نے والوں کی طرح اس نے بھی پیغمبر ی کا دعویٰ کیا اور ''دبا'' کی طرف چلاگیا۔ وہا ں پر تبلیغ کرنے لگا اورچند پیرو بھی بنالئے ۔

ابو بکر نے اس کے فتنہ کو کچلنے کے لئے عکرمہ ابوجہل '' کو عرفجہ اور حذیفہ کے ہمراہ ایک سپاہ کی معیت میں ''دبا '' کی طرف روانہ کیا ۔ اسلام کے سپاہیوں اورلقیط کے حامیوں کے درمیان ایک شدید جنگ چھڑگئی ، اور نزدیک تھا کہ لقیط اور اس کے سپاہی کا میاب ہوجائیں کہ ''خریت بن راشد'' کی کمانڈ میں ''بنی ناجیہ ''اور سیحان بن صوحان ، کی کمانڈ میں ''عبدالقیس''کے قبیلہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے مدد پہنچی اور عکرمہ اور اس کے ساتھیوں کی ہمت افزائی ہوئی ،نتیجہ کے طور پر لقیط اور اسکی سپاہ شکست کھاکرنا بود ہوگئی ۔

اس جنگ میں مشرکین کے دس ہزار افراد قتل ہوگئے۔اسلام کے سپاہیوں نے فراریوں کا پیچھا کیا اور سب موت کے گھاٹ اتاردیا ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیربنالیا اور ان کے مال ومنال کو غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیا !

اس فتح و کامیابی میں غلاموں کاپانچواں حصہ جو ابو بکر کی خدمت میں مدینہ بھیجا گیا ان کی تعداد آٹھ سو افرادتھی ! عباد ناجی نے اس فتح پر درج ذیل اشعار کہے ہیں :

اپنی جان کی قسم '' لقیط بن مالک '' کا چہرہ ایسا برااور بدصورت ہو چکا تھا کہ اس نے لومڑی کے چہرہ کو بھی سیاہ کر رکھا تھا۔

وہ خود کو اور اپنے ساتھیوں کو ابوبکر کے برابر جانتا تھا لہذا خلیج میں مہلک اور خطرناک امواج سے ٹکرایا۔


جس راہ کو لقیط نے انتحاب کیا تھا نہ اس کی عقل نے اسے اس سے پیچھے ہٹا یا اور نہ اپنے حریف کو شکست دے سکا۔

سرانجام ہمارے سواروں نے ان کے اونٹ بار سمیت کھینچ لائے۔ نئی سطر سے اس کے بعد طبری کہتا ہے:

عکرمہ وہا ں سے ''مہرہ'' کی طرف روانہ ہوا۔ وہا ں کے مشرکین دوگرو ہوں میں تقسیم ہوگئے تھے ہر گروہ کا سردار اپنے کو مطلق سردارجانتا تھا ۔ بنی شخرات کے شخریت نامی ایک شخص کے گرد لوگوں کی ایک جماعت جمع ہوئی تھی ۔ دوسرا کہ ''مہرہ ''کے تمام باشنددے جس کے زیر فرمان تھے بنی محارب سے ''مصبح '' نامی ایک شخص تھا ۔

عکرمہ نے جب دوسرداروں کے حاکمیت کے مسلئہ پر آپسی اختلاف کا مشاہدہ کیا اور شخریت کے ساتھیوں کی تعداد کمدیکھی تو ۔ اسے پھر سے اسلام کی طرف پلٹنے کی دعوت دی اوراس دلجوئی کی ۔ شخریت نے یہ دعوت قبول کی اور اسلام لے آیا ۔سیف کہتا ہے کہ مشرکین کے سپاہیوں نے ''جبروت ''و نضدون '[ کے درمیان صحرا ۔ جو مہرہ کے بیامان ہیں کو پر کر رکھا تھا ۔

عکرمہ جب شخریت کی طرف سے بے فکر ہواتو اس نے ''مصبح'' کو بھی پیغام بیھجا اور اسے بھی پھر سے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔ لیکن مصبح اپنے حامیوں کی کثرت کی وجہ سے مغرور ہو کر تسلیم نہیں ہوا بلکہ شخریت کے جدا ہونے پر بھی سخت برہم ہوا۔

جب عکرمہ مصبح کی طرف سے مایوس ہوا ، تو اس نے شخریت کیہمراہ اس کی طرف قدم بڑھایا ۔ کچھ تعاقب و فرار کے بعد نجد کے مقام پر دونوں سپاہ ایک دوسرے سے روبرو ہوئے اور ''دبا'' سے بھی سخت جنگ چھڑ گئی.

سر انجام خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح وکامیابی عطا کی اور مشرکین کو بری شکست کاسامنا کرنا پڑا۔مصبح مارا گیا اس کے ساتھی بھاگ گئے ۔مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں تہ تیغ کر کے انہیں قتل و مجروح کیا اور ان کے مال و منال کو غنیمت میں لے لیا ۔

غنائم جنگی میں اور چیزوں کے علاوہ ان کی دو ہزار بخیب اور آزاد عورتوں کو بھی اسیر کیا !!


عکرمہ نے جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کو مشخص کر کے ''شخریت ''کے ہاتھ ابوبکر کی خدمت میں بھیجدیا ۔ اس کے بعد اس علاقہ کے مسلئہ کو خاتمہ دینے کے لئے حکم دیاکہ '' نجد، ریاضہ الروضہ 'ساحل ، جزائر ،مرّ ،لبّان ، جیروت ، ظہور، صبرات ، ینعب اورذات الخیم '' کے باشندوے ایک جگہ جمع ہوجائیں ۔ جب وہ لوگ جمع ہوئے تو انہوں نے ایک بار پھر اسلام قبول کر کے عکرمہ کے ساتھ عہدو پیمان باندھا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ۔

علجوم محاربی نے مندرجہ ذیل اشعار میں اس شکست کے بارے میں یوں کہا ہے :

خدا ئے تعا لےٰ نے شخریت اور ''ھیثم و قرضم ''کے قبائل ۔جو ہمارے خلاف اٹھے تھے ۔ کو سزادیدی۔

ظالموں اور بدکاروں کی پاداش ،کیونکہ انہوں نے پیمان کو توڑا ہمارے ساتھ تعلقات کو اپنے لئے خوار سمجھا ۔

اے عکرمہ ! اگر میرے خاندان کے کارنامے اور ان کی مدد تیرے ہمراہ نہ ہوتی تو تجھ پرفرار کا راستہ زمین و آسمان میں بند ہوجاتا ۔

ہم اس جنگ میں ایسے تھے جیسے ایک ہاتھ نے دوسرے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑرکھا ہو ! اس لئے ہمیں رنج و محنت کا سامنا کر نا پڑا۔

اس داستان میں سیف کے راویوں کی پڑتال :

اس داستان میں سیف کے راوی حسب ذیل ہیں :

١۔سہل بن یوسف انصاری سلمی :

٢:غصن بن قاسم

ہم نے مذکورہ دوراویوں کے بارے میں بارہا کہا ہے کہ وہ حقیقت میں وجود نہیں رکھتے بلکہ جعلی راوی ہیں


حقیقت ماجرا:

بلاذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان ''میں لکھا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد قبیلۂ ''ازد '' نے اسلام سے منہ موڑا اور مرتد ہوگیا ۔ اس کی رہبری ''لقیط بن مالک ذوالتاّج'' کے ہاتھ میں تھی ۔ یہ لوگ ''دبا'' کیطرف بڑھے ۔ ابوبکر نے قبیلۂ ازد سے ''حذیفہ بن محصن بارقی'' اور ''عکرمہ بن ابی جہل مخرومی'' کو ایک گروہ کے ہمراہ ان کی سرکوبی کے لئے مامو کیا ۔

حذیفہ اوراس کے ساتھیوں نے ''دبا '' میں لقیط اور اس ساتھیوں سے جنگ کی،لقیط مارا گیا اور ''دبا'' کے باشنددوں کاایک گروہ اسیر ہوا ، انھیں ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا گیا ، اس طرح یہ ماجر ا ختم ہوا اور قبیلۂ ''ازد '' دوبارہ اسلام لے آیا۔

بلاذری اضافہ کرکے لکھتا ہے :

''مہرہ بن حیدان بن عمرو قضا عہ '' کے کچھ گھرانے آپس میں جمع ہوئے ، عکرمہ ان کی طرف بڑھا لیکن ان سے جنگ نہیں کی ،کیو نکہ انہوں نے اپنے مال کی زکا ت خلیفہ کو ادا کر دی اور جان بچالی۔

ابن عثم نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں لکھا ہے :

عکرمہ نے اس جنگ میں ''دبا'' کے ایک سوافراد کو قتل کر ڈالا تب وہ ہتھیا ر ڈال کر تسلیم ہوئے ۔ اس کے بعد ان کے سرداروں کے سرتن سے جدا کئے اور باقی بچے تین سو جنگی اور چار سو عورتوں اور بچوں کو اسیر بنا کر ابوبکر کے پاس مدینہ بھیج دیا۔

ابوبکر نے حکم دیا کہ مردوں کے سرتن سے جدا کئے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو فروخت کیا جائے ۔ لیکن عمر نے شفاعت کی اور کہا یہ مسلمان ہیں اور قسم کھاتے ہیں کہ ہم نے کبھی اسلام منہ نہیں موڑ ا تھا ۔ یہاں پر ابوبکر نے اپنا فیصلہ بدل دیا کہ ان کے مال و منال پر قبضہ کر کے انہیں زندان بھیجدیا جائے ۔ یہ ابوبکر کے زمانے میں قیدی بنے رہے ۔ عمر نے خلافت ہاتھ میں لینے کے بعد انھیں آزاد کیا۔


جانچ پڑتال کا نتیجہ :

سیف کہتا ہے کہ مسلمانوں نے ''دبا''کی جنگ میں مشرکین کے دس ہزار افراد قتل کردئے اور اسراء کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ صرف ان کا پانچوں حصہ آٹھ سو افراد پر مشتمل ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیحا گیا !!

جب کہ دوسروں نے مقتولین واسرا حتیٰ ان کے سردار جن کے سرتن فتح کے بعد سے جدا کر کے قتل کیا گیا سب کی تعداد کل ملاکر آٹھ سو افراد بتائی ہے ۔

سیف کہتا ہے کہ ''مہرہ'' کی جنگ میں مشرکین دو گرو ہوں میں تقسیم ہو کر ریاست کے مسٔلہ پر ایک دوسرے سے جھگڑ پڑے تھے ۔ ان میں سے ایک بنام شخریت مسلمانوں سے جاملا اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کی بیخ کنی کی اور ''دبا'' سے شدید تر جنگ ان کے ساتھ ہوئی۔ عکرمہ نے ان کے سردار کو قتل کیا اور باقی لوگوں کو خاک و خون میں غلطان کیا اور دل خواہ حدتک ان کو قتل ومجروح کر کے رکھدیا ۔ نیز دو ہزار نجیب اور آزاد عورتوں کو جنگی غنائم کے ساتھ ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیجدیا ۔ اس فتح کے بعد اس علاقہ کے لوگوں نے اسلام کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور دوبارہ اسلام کے دائرہ میں آئے جبکہ دوسروں نے کہا ہے کہ :

جون ہی عکرمہ اور اس کے ساتھی ''مھرہ '' کے نزدیک پہنچے وہا ں کے باشندوں نے زکات و مالیا ت دینے کا عہد کیا اور جنگ کی مصیبت سے اپنے آپ کو نجات دیدی ۔

جھوٹااور زندیقی سیف تن تنہا ان افسانوں کو جعل کر تا ہے تاکہ خون کے دریا بہا کر ، جانی تلفات کو حد سے زیا د ہ دکھا کر ، انسانوں کی بے احترامی کر کے صدر اسلام کے مسلمانوں کو بے رحم اور قسی القلب دکھا ئے اور اسلام اور مسلمانوں کو اس طرح پیش کرتا ہے جس کی وہ تمنا اور آرزو رکھتا ہے ۔

افسوس اس بات پر ہے کہ طبری جیسا عالم سیف کے ان تمام جھوٹ کے پلندوں کو اس کی اصلیت و حقیقیت کو جانتے ہوئے بھی اپنی تاریخ میں نقل کرتا ہے !!


اور جب ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون جیسے علماء کی باری آتی ہے تو وہ بھی ان مطالب کو طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ کی کتابوں میں منعکس کرتے ہیں ۔

یاقوت حموی نے بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے اس کے خیا لی مقامات جیسے ،جیروت ، ریاضتہ الروضہ ، ذات الخیم ، صبرات' ظہور ، لبان ،المر ، ینصب اور ان جیسی دیگر جگہوں کو اپنی کتاب ''معجم البلدان'' میں درج کر کے ان پر شرحیں لکھی ہیں ۔

سرانجام علامہ ابن حجر سیف کے افسانوں کے اداکاروں کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیتا ہے ۔اور''لہ ادراکُ''کا حکم جاری کرکے ان کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالتا ہے ۔اور اپنی بات کے خاتمہ پر حرف ''ز'' لکھ کر اعلا ن کر تا ہے کہ اس نے اس صحابی کا انکشاف کیاہے اور اس کے حالات پر شرح لکھکر دوسرے تذکرہ نویسوں پر اضافہ کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

صیحان بن صوحان کے بارے میں :

١۔''اصابہ ابن حجر (٢/١٩٣) دوسرا حصہ نمبر:٤٤٣١

عباد ناجی کے بارے میں :

١۔''اصابہ ''ابن حجر (٣/٨٧) تیسرا حصہ نمبر : ٦٢٩٨)

شحریب کے بارے میں :

''اصابہ'' ابن حجر (٢/١٦٠) نمبر: ٣٩٦٢

خریت بن راشد کے بارے میں :

١۔''اکمال '' ابن ماکولا (٢/٤٣٢)


سیحان بن صو حان کے بارے میں :

١۔''اصابہ '' ابن حجر ( ٢/١٠٢) نمبر: ٣٦٣٠

تین صحابیوں کے بارے میں سیف کی روایتیں :

١۔''تاریخ طبری'' (١/١٩٧٩)

جنگ ''دبا' کے حقا ئق :

١۔''تاریخ اعثم '' (١/٧٤)

٢۔''فتوح البلدان'' بلاذری (٩٢۔٩٣) عمان کی خبر میں

عباد بن منصور ناجی کے بارے میں :

١۔''فہرست تاریخ طبری '' (٣٠٩)

٢۔''تاریخ طبری '' (٢/١٩٨٤)و(٢/٢٠١٧)و(٣/١١و٧٥و٨١و٨٤و٩١و٣١٩)

کہ جہاں بصرہ میں اس کے منصب قضاوت کے بارے میں گفتگو آئی ہے۔

٣۔خلاصہ تذھیب الکمال '' (١٥٨) اس کی تاریخ و فات بھی ذکر کی گئی ہے۔

٤۔''جرح و تعدیل '' (١/٨٦) تیسرا حصہ


صوحان کے بیٹوں کے نام :

١۔''جمہرۂ انساب '' ابن حزم (٢٩٧) لفظ ''بنی عجل''

٢۔''اللباب '' ابن اثیر (٢/٦٢)

٣۔''تاریخ خلیفہ بن خیاط'' (١/١٧٢)

٤۔''طبقات''ابن خیاط (١/٣٢٧)سیف کی روایتوں میں ذکر ہوئے

سیف کی روایتوں میں مذکور اس داستان کے مقامات کی تفصیلات :

١۔''معجم البلدان'' حموی لفظ:

خیم (٢/٥١٠)

ریاضتہ الروضتہ (٢/٨٨١)

جیروت (٢/١٧٥)

صبرات (٣/٣٦٦)

ظہور (٣/٥٨٢)

اللبّان (٤/٣٤٥)

المر (٤/٤٩٥)

ینعب (٤/١٠٤١)


چھٹا حصّہ:

ابو بکر کی مصاحبت کے سبب بننے والے اصحاب

یہ لوگ اس لئے اصحاب ہیں کہ :

٨٢۔شریک فزاری :نمائندہ کے طور پر ابوبکر کی خدمت پہنچا ہے ۔

٨٣۔ مسور بن عمرو: ابوبکر کے خط میں گواہ رہا ہے ۔

٨٤۔ معاویئہ عذری :. ابو بکر نے اس کے نام خط لکھا ہے

٨٥۔ ذویناق،و شہرذویناق: ابوبکر نے اس کو خط لکھا ہے ۔

٨٦۔معاویۂ ثقفی : ابو بکر کی سپاہ کا ایک افسر رہا ہے ۔


٨٢واں جعلی صحابی شریک فزاری

ابن حجرکی ''اصابہ ''میں یہ صحابی یوں پہچنوایا گیا ہے :

شریک فزاری :

سیف بن عمر نے اس کانام لیا ہے اور کہا ہے ، جب خالدین ولید طلیحہ کی جنگ سے فارغ ہوا ، تو اسی زمانہ میں شریک فزاری نما ٰئندہ کی حیثیت سے ابوبکر کی خدمت میں پہنچا ہے ۔ ہم نے اس کی اس ملاقات کی داستان ''خارجہ بن حصن '' کے حالات میں بیان کی ہے ۔(ز)( ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس صحابی کے لئے سیف کا خلق کیا ہوا نسب :

سیف نے شریف کو ''فزاری ''سے نسبت دی ہے اور یہ ''فزارةبن ذبیا ن بن بغیض بن ۔۔۔نزاربن معدبن عدنان'' سے نسبت ہے

فزاریوں کا شجرہ ٔ نسب ابن حزم کی کتاب ''جمہرۂ انساب''میں بطور کا مل آیاہے لیکن اس میں شریک '' نام کا کوئی شخص کہیں پر دکھائی نہیں دیتا ۔

شریک کی داستان :

ابن حجر نے شریک کے بارے میں جو روایت نقل کی ہے ، اس کے اشارہ کے پیش نظر نہ اس کی کتاب میں کسی اور جگہ اس کا ذکر ہے اور نہ کسی اور کتاب میں یہ روایت ملتی ہے اور یہ عالم ''خارجہ بن حصن '' کے حالات میں لکھتا ہے کہ جب خالدبن ولید '' بنی اسد '' کی جنگ سے فارغ ہوا ، تو''خارجہ'' ایک دوسرے گروہ کے ہمراہ نمایندگی کی حیثیت سے ابوبکر کی خدمت میں پہنچا ۔ اس خبر میں شریک کا کہیں نام و نشان نہیں آیا ہے !

اسی طرح طبری نے بھی ''شریک '' کے بارے میں سیف کی روایت کو درج نہیں کیا ہے ۔ یہ صرف ابن حجر ہے جس نے سیف کی روایت پر اعتماد کر کے اس کے''شریک فزاری ''کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کی حیثیت سے تعارف کرایا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس عالم نے اپنی کتاب کی جلد اول میں کسی اور ''شریک ''کا '' شریک غیر منسوب '' کے نام سے ذکر کیا ہے اور اس کے حالت پر روشنی ڈالی ہے۔

اس طرح علامہ ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں ''شریک '' کے نام سے دو ہم نام صحابیوں کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ، کہ ان میں سے ایک سیف کا خیالی اور جعلی صحابی ہے جس کا کہیں وجود نہیں ہے ۔!!


مصادر و مآخذ

شریک فزاری کے حالات :

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/١٦٢) تیسرا حصہ نمبر :٣٩٧٧

شریک غیر منسوب کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر ( ٢/١٤٩)

٢۔تاریخ بخاری (٢/٢٣٨) دوسرا حصہ

خارجہ بن حصن کے حالات:

١۔ ''اصابہ ''بن حجر (ا/٣٩٩)

فزارہ کا نسب:

''جمہرۂ انساب'' ابن حزم (٢٥٥۔٢٥٩)

٨٣واں جعلی صحابی مسور بن عمرو

ابن حجر نے اس صحابی کا تعارف یوں کرایا ہے :

مسوربن عمرو:

سیف بن عمر نے طلحہ بن اعلم سے اور اس نے عکرمہ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد جو عہد نامہ ابو بکر صدیقنے ''نجران '' کے باشندوں کے ساتھ طے کیا ، اس پر یہ صحابی بطور گواہ تھا ۔


ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب ''استیصاب'' سے دریافت کیا ہے۔ (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

مذکورہ روایت کو طبری نے سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں ''اخابثِ عک'' کی داستان میں تفصیل کے ساتھ یوں درج کیا ہے :

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کی خبر ''نجران '' کے باشندوں کو ملی ،توانہوں نے ایک وفد منتخب کر کے نمائندہ کے طور پر ابوبکرکے پاس بھیجا تاکہ خلیفہ کے ساتھ تجدید عہد کریں ۔ ''نجران'' کے باشندوں میں ''بنی افعی '' کے چالیس ہزار جنگجوتھے وہ ''بنی حارث''سے پہلے وہاں ساکن ہوئے تھے ۔

اس گروہ کے افراد ابوبکر کی خدمت میں پہنچے ، اوراپنے مطالبات بیان کئے ۔ابوبکر نے ان کے مطالبات منظور کئے اور یوں لکھا :

بسم اﷲالر حمن الر ّحیم

یہ پیمان بندہ ٔ خدا ابو بکر ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین کی طرف سے نجران کے باشندوں کے لئے ہے۔ وہ نجران کے باشندوں کواپنی اور اپنے لشکر کی پناہ میں قرار دیتا ہے اور جس چیز کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بارے میں اپنے ذمہ لیا تھا ، سب کی تائید کر تاہے ، مگر وہ چیز جس کے بارے میں خود حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدائے عزوجل کے حکم سے ان کی سرزمینوں میں اور دوسری عرب سرزمینوں میں اس سے عدول کیاہوکیونکہ ایک علاقہ میں دو قوانین راہلج نہ ہو سکتے ۔

اس بنا پر نجران کے باشندے اپنی جان ، قومیت ،تمام اموال و متعلقات ، جنگجوؤں ، حاضر و غائب ، پادریوں ، وراہبوں ،خرید و فروش جس صورت میں انجام پائے ، اورجو کچھ کم و زیادجو اختیار میں رکھتے ہیں سب کو اپنی پناہ میں لیتا ہے اور امان میں ہونے اعلان کرتاہے ۔ انہوں نے جو کچھ اپنے ذمہ لیا ہے اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں ، کہ اگر اسے اداکیا ، تو ان سے ،مواخذہ بھی نہیں ہوگا اور نہ ان سے ان کے مال کا دسواں حصہ ضبط کیا جائے گا اور نہ پادری تبدیل ہوگا اور نہ کوئی راہب۔ ابوبکر ان تمام چیزوں کو نجران کے باشندوں کے لئے قبول کرتا ہے جنھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے لئے رسما ً قبول فرمایا ہے ، اور جو اس پیمان نامہ میں ذکرہوا ہے اور محمدرسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوردوسرے مسلمانوں نے قبول کیاہے ان تمام چیزوں کو قبول کرتا ہے ۔ ضروری راہنما ئیوں اورنظم وانتظام چلا نے میں ان کے حق کو اور ان دیگر حقوق کو قبول کرتاہے ۔


مندجہ بالا مطالب موادتایئد ہیں ۔ دستخط مسوربن عمر و و عمرو غلام ابو بکر نئی سطر سے جیسا کہ ہم نے کہا ، طبری نے اس پیمان نامہ کو درج کیا ہے لیکن اس کی سند کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ اس کے بر عکس ابن حجر نے ابوبکر کے پیمان نامہ کی سند کا ذکر کیا ہے لیکن اصل خط کو ثبت نہیں کیا ہے۔

ابن فتحون نے بھی سیف کی اس روایت پر اعتماد کر کے ابن عبدالبر کی کتاب ''استیعاب ''کے ضمیمہ میں ''مسور'' کے وجود پر باور کر کے اس کے حالات لکھے ہیں

جیسا کہ گزرا ، ابن حجر نے بھی سیف کی اسی روایت پر اعتماد کر کے ''مسور'' کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے زمرہ میں قراردیا ہے اور اس کی دلیل یہ تھی کہ سیف کے کہنے کے مطابق ''مسور''نے ابوبکر کے نجران کے باشندوں کے ساتھ کئے گئے عہدنامہ پر گواہی اور تایئد کی ہے ۔

ابن حجر نے اس صحابی کو اپنی کتاب کے پہلے حصہ میں درج کیا ہے ، چونکہ سیف نے اپنے جعل کئے گئے اس صحابی کا نسب مشخص نہیں کیا ہے ، اسلئے ابن حجر نے بھی اس حد سے نہ گزر کر اس کے لئے کوئی نسب درج نہیں کیا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ ١٢٦ ھ میں سیف کا ہم عصر ، ''مسوربن عمربن عباد'' نامی ایک شخص بصرہ میں زندگی بسرکر تا تھا اور اس قدر مشہور ومعروف شخص تھا کہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں اسے درج کیاہے ۔ اس شخص کا دادا یعنی ''عباد بن حصین حبطی''اپنے زمانہ کا ایک ناموار شہسوار تھا ۔ وہ بصرہ میں ''عبداﷲ زبیر '' کی حکومت کے دوران پلیس کا افسرتھا ۔ ایران کا '' آبادان''اسی کے نام پر رکھاگیا ہے ۔

اب یہ معلوم نہیں ہے کہ سیف نے اسی ''مسوربن عمروبن عباد ''کا نام اپنے جعلی صحابی کے لئے منتخب کیا ہے اور اسے عاریت لیا ہے تاکہ ابوبکر کے عہدنامہ میں اسے شاہد قرار دے یا یوں ہی ایک نام اس کے ذہن میں آیا ہے اور اس نے اپنی خیالی مخلوق پر وہ نام رکھ لیا ہے!!


مصادر و مآخذ

مسور بن عمرو کے حالات :

١۔ ''اصابہ ''ابن حجر (٣/٣٩٩) حصہ اول نمبر: ٧٩٩٤

٢۔تاریخ طبری (١/١٩٨٨)کہ سیف کی روایت اور ابوبکر کا خط درج کیا ہے ۔

مسور بن عمروبن عباد کے حالات :

١۔''تاریخ ابن اثیر'' (٥/٢٤٣)

عباد بن حصین کے حالات:

١۔''معارف '' ابن قتیبہ (١٨٢)

٢۔''محبر'' (٢٢٢،٤٤٤)

٣۔''عیوان الاخبار'' ابن قتیبہ (١٢٨)

٤۔''معجم البلدان'' حموی لفظ ''عبادان''

٥۔''فتوح البلدان'' بلا ذری (٤٥٣)

مسور بن عمروعباد کا نسب:

''جمہرہ ٔ انساب'' ابن حزم (٢٠٧)


٨٤ واں جعلی صحابی معاویہ عذری

ابن حجر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

معاویہ عذری :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابوبکر نے ایک خط میں اسے حکم دیا ہے کہ دین سے منحرف لوگوں اور مرتدوں سے لڑنے میں کسی قسم کی کسر باقی نہ رکھے۔ اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ قدما صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالاری کے عہدہ پر منتخب نہیں کرتے تھے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اس صحابی کے لئے سیف نے کیا نسب لکھا :

تاریخ طبری اور ''اصابہ '' میں سیف کی روایت کے مطابق اس صحابی کا نسب''عذری'' ہے۔ شہرت کی بنا پر یہ نسبت ''قضاعہ '' کے ایک قبیلہ ''عذرةبن سعد ھذیم ''تک پہنچتا ہے اور سیف کی مراد بھی یہی نسب تھا کیونکہ وہ سعد بن حذیم کے ارتداد کی بات کرتا ہے ۔

لیکن تاریخ ابن عساکر میں یہ نسب ''عدوی'' ذکر ہوا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ غلط ہے ۔


معاویہ عذری کی داستان :

جس روایت کو ابن حجر نے معاویہ ٔ عذری ''کے تعارف میں درج کیا ہے اور ابن عساکر اور طبری نے اسی کو اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ، ہم نے اس کو ''پینتالیسویں جعلی صحابی '' ''عمروبن حکم قضاعی ''(۱) کے حالات میں بیان کیا ہے۔

سیف کی اس روایت میں آیا تھا:

قبیلہ ٔ سعد ھذیم معاویہ اور اس کے ہم فکروں کا ایک گروہ مر تد ہوگیا۔ ان کے ارتداد کے نتیجہ میں ابوبکر نے ایک خط کے ذریعہ امام حسین کی بیٹی سکینہ کے جدماوری ، ''امرالقیس بن فلان '' اور ''عمروبن حکم '' کو حکم دیا کہ ''زمیل''سے نبردآزما ہونے کے لئے آمادہ ہو جایئں اور اسی قسم کا ایک دوسرا خط مغاویۂ عذری '' کے نام بھیجا۔

اور جب ''اسامہ بن زید ''واپس لوٹ کر ''قبائل قضاعہ ''میں پہنچا تو ابوبکر کے حکم کے مطابق ۔۔ (داستان کے آخر تک )

ابن حجر نے سیف کے اس مختصر جملہ یعنی:معاویہ عذری کو بھی ایسا ہی ایک خط لکھا ہے، پر تکیہ کر کے اس پر لباسِ وجود زیب تن کیا ہے اور طرح اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے پہلے دستہ میں شامل کرنے بعد اس کے حالات لکھے ہیں !!

یہ عالم اس تنہانام کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے عنوان سے پہچنوانے کے سلسلے میں یوں

____________________

١) ١٥٠ صحابی ساختگی (٣/١٩٥۔١٩٨)


استدلال کرتا ہے کہ ''ہم نے بارہا کہا ہے کہ قدمانے۔۔۔۔تاآخر)

جبکہ ہم نے اس روایت کے صیحح نہ ہونے کے سلسلہ میں حقائق اور تاریخی روداوں سے اس کا موازنہ کر کے اسی کتاب کی ابتداء میں مفصل بحث کی ہے اور اب اس کی تکرار ضروری نہیں سمجھتے ہیں ۔

مصادر و مآخذ

معاویہ عذری کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٤١٧) حصہ اول نمبر : ٨٠٨٧

سعد ھذیم کے ارتداد کے بارے میں سیف کی روایت:

١۔''تاریخ طبری '' (١/١٨٧٢)

٢۔''تاریخ ابن عساکر '' (١/٤٣٢)

بنی عذرہ کا نسب

١۔''اللبا ب'' (٢/١٢٩)

٨٥واں جعلی صحابی ایک جعلی صحابی کے دو چہرے

شہر ذویناف (ذویناق)

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں لفظ''ذیناق'' کے تحت لکھاہے :

اس صحابی کے حالات کی تشریح لفظ ''شہر'' کے تحت کی جائے گی(ز)

اس کے بعد لفظ'' شہر ْ'' کے تحت لکھتا ہے :

''شہر ذویناق'' یمن کا ایک علاقائی فرماں رواتھا ۔ طبری نے اس کانام ایک روایت کے تحت اپنی کتاب میں یوں درج کیاہے :

ابوبکر نے ''عمیر ذومران ، سعید ذی رود اور شہر ذی یناق '' کو ایک خط کے ضمن میں حکم دیا کہ ''فیروز'' کی اطاعت کریں اورمرتدوں کے ایک ساتھ جنگ میں اس کے احکام پر عمل کریں ۔(ز)


ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اب ہم دیکھتے ہیں کہ طبری کی روایت کی داستان کیا تھی ۔

طبری نے اپنی تاریخ میں '' یمانیوں کا دوسرا ارتداد'' کے عنوان سے اور ١١ھ کی روداد کے تحت سیف بن عمر سے نقل کر کے لکھا ہے :

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کی خبر یمن کے لوگوں کو پہنچی تو ''قیس بن عبدیغوث مکشوح '' نے سرکشی کرکے ''فیروز، داذویہ ا ورجشیش''کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔

ابوبکر نے ، ''عمرذی مران ، سعید ذی زود، سمیفع ذی کلاع، حوشب ذی ظلیم اور شہر ذی یناف '' کے نام لکھے گئے ایک خط میں اٹھیں اسلام سے متمسک ہونے ، خدا کی اطاعت کرنے اور لوگوں کی خدمت کرنے کی دعوت دی اور وعدہ کیاکہ ان کی مدد کیلئے ایک سپاہ کو بھی بھیجیں گے۔

اس خط کا متن یوں ہے :

ابوبکر ،جانشین رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ''عمیر بن افلح ذی مران ، سعید بن عاقب ذی زود ، سمیفع ناکورذیکلاع ، حوشب ذی ظلیم اورشہری ذی یناف '' کے نام۔

امابعد، ایرانیوں کی مدد کے لئے جلدی کرو اور ان کے دشمنوں سے لڑو اور انھیں اپنی پناہ میں لے لو ، ''فیروز''کی اطاعت کرو اس کی خدمت کرنے کی کوشش کرووہ میری طرف سے اس علاقہ کا حکمراں ہے

ابوبکر نے اس خط کو ان سرداروں کے نام اس حالت میں لکھا کہ اس زمانہ میں وہ علاقہ''فیروز، دازویہ ،جشیش اورقیس '' کی باہمی حکمرانی میں تھا ۔ اس کے باوجود ابوبکرنے اس خط کے ذریعہ یمن کی حکومت کاحاکم فیروزکو منصوب کیا اور اس کے اس نئے عہدہ کا یمن کے سرداروں کو اعلان کیا ۔

جب یہ خبر ''قیس کوپہنچی توسخت بر ہم ہوا اور انتقام پر ُاتر آیا ۔ لہذا اس نے ذی کلاع کے نام ایک خط میں لکھا کہ ایرانی خانہ بدوش اور آوارہ لوگ ہیں اورآپ کی سرزمیوں میں سردار بن بیٹھے ہیں اور اگر انھیں فرصت دی جائے تو ہمیشہ آپ لوگوں پر سرداری کرتے رہیں گے۔ میرے خیال میں عقلمندی یہی ہے کہ ہم ان کے سرداروں کو قتل کر ڈالیں اور باقی لوگوں کو اپنے وطن سے نکال باہر کریں


ذی کلاع اور دیگر سرداروں نے اگر چہ قیس کے خط پر کوئی اعتنا نہ کیا لیکن فیروز اور دوسرے ایرانیوں کو بھی اپنے حال پر چھوڑ دیااوران کی کوئی مدد نہیں کی.

قیس نے اکیلے ہی ایرانی سرداروں کو قتل کرکے باقی سب لوگوں کو یمن کی سرزمین سے بھگانے پر کمر کس لی سرانجام اس مقصد کو پانے کے لئے فرصت کی تلاش میں تھا. بالاخراس نے پیغمبری کے مدعی ''اسود عنسی '' جوکچھ مدت پہلے قتل کیا گیا تھا اور اس کے حامی یمن کے شہروں میں پراکندہ ہوگئے تھے ' ان کو اپنے مقصد کے لئے مناسب جانا۔لہذا اس نے مخفی طور سے ان کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور انھیں اپنے گرد جمع کیا .وہ بھی ایک پناہ کی تلاش میں تھے ، قیس کی دعوت قبول کرکے اس کی مدد کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ اس مخفیا نہ رابطہ سے کوئی آگاہ نہ ہوا۔

زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یمن کے شہر صنعا میں یہ افواہ پھیلی کہ اسودعنسی کے حامی شہر پر قبضہ کرنے کے لئے آرہے ہیں اس موقع پرقیس ریاکار نہ طور پر فوراً فیروزاور دازویہ '' کے پاس پہنچا اور خوف و وحشت کے عالم میں موجودہ حالات پران سے صلاح و مشورہ کرنے لگا تاکہ وہ شک نہ کریں کہ اس قضیہ میں اس کا اپنا ہاتھ ہے ۔ اس قدر ریا کاری اور مکاری سے پیش آیا کہ انہوں نے اس کی باتوں پر یقین کر لیااوراس کی رانمہایوئں سے مطمئن ہوگئے ۔

حکومت کا تختہ الٹنے میں قیس کی فریب کاریا ں :

دوسرے دن قیس نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور ''فیروز''داذویہ اور جشیش کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی ۔

داذویہ نے اپنے دو دوستوں سے پہلے قیس کے گھر میں قدم رکھا اور قیس نے بھی فرصت کو غنیمت سمجھ کر بے رحمی کے ساتھ اس کو

فوراً قتل کر ڈالا اور اس طرح اپنی راہ میں موجود رکاوٹوں میں سے ایک کو ہٹا نے میں کامیاب ہوا

زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ ''فیروز ''بھی آپہنچا ۔ جوں ہی قیس کے گھر کے قریب پہنچا اس نے دو عورتوں کوجن کے مکانوں کی چھتیں ایک دوسرے کے روبرو تھیں یہ کہتے ہوئے سنا :

بیچارہ فیروز!وہ بھی اپنے دوست ''داذویہ'' کے مانند قتل کیا جائے گا!


فیروز یہ باتیں سنکر ہل کے رہ گیا اور فوراً پر وہا ں سے ہٹ گیا ۔

اسی حالت میں جشیش بھی آپہنچا اور رودا د سے مطلع ہوا اوردونوں جلدی سے وہا ں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔

قیس کے محافظوں اور حامیوں کو فیرز اور اس کے ساتھی کے فرار کے بارے میں ذرا دیر سے خبر ملی ۔ انہوں نے ان کا پیچھا کیا

لیکن فیروز اور جشیش بڑی تیزی کے ساتھہ ان سے دور ہو کر ''خولاں '' کے پہاڑ کی طرف بھاگ گئے تھے ،جہاں پر فیروز کے ماموں اور اس کے رشتہ دار رہتے تھے ، انہوں نے ان کے ہاں پناہ لے لی ۔قیس کے سپا ہی بھی مجبور ہو کر واپس لوٹے اور ماجر ا قیس سے بیان کیا ۔

قیس نے کسی مزاحمت کے بغیر صنعا پرحملہ کیا اور اسے بڑی آسانی کے ساتھ فتح کیا اور اس کے اطراف کے علاقوں پر بھی

قبضہ جما لیا ۔اسی اثنا ء میں ''اسودعنسی'' کے سوار بھی مشہرصنعا میں داخل ہوگئے اور قیس کی ہمت افزائی کی

اس دوران یمن کے لوگوں کی ایک جماعت فیروز کے گرد جمع ہوگئی ۔ اور اس نے بھی ان حالات کے بارہ میں خلیفہ ابو بکر کو رپورٹ بھیجی۔ عام لوگ بھی جن کے سرداروں کے نام ابوبکر نے''فیروز''کی اطاعت کے سلسلے میں خط لکھا تھا ، قیس کے گرد جمع ہوگئے ، لیکن ان کے سرداروں نے اس ماجرا کے سلسلے میں گوشہ نشینی اختیار کی ۔

قیس نے ایرانیوں کی نابودی کا بگل بجادیا اور انھیں تین حصوں میں تقسیم کردیا ۔ ایک وہ گروہ تھا جنہوں نے تسلیم ہوکر اس کی اطاعت اختیار کر لی تھی ،انھیں قیس نے ان کے رشتہ داروں کے ہمراہ پناہ دیدی ۔ اور فیروزکی وفا داری پر باقی رہنے والے لوگوں کو دوگروہوں میں

تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو عدن بھیجدیا تاکہ وہا ں سے سمندری راستہ سے ایران چلے جائیں ۔ دوسرے گروہ کو براہ راست خشکی کے راستے ایران بھیجدیا اور ان سے کہا کہ اپنے وطن واپس چلے جاؤ۔ دونوں گروہوں کے ساتھ اپنے مامور بھی رکھے۔ (فیروز ) کے بیوی بچوں کو اس گروہ کے ہمراہ بھیجا جنھیں زمینی راستہ سے ایران بھیجدیا گیا تھا اور داذویہ کے رشتہ دار سمندری راستے سے بھیجدئے گئے تھے ۔


فیروز کی قیس سے جنگ:

جب فیروذ،قیس کے اس کام سے آگاہ ہوا تو اس نے قیس سے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا اوراس منصوبہ پر عمل کرنے کی غرض سے ''

''بنی عقیل بن ربیعہ بن عامر صعصعہ'' کے پاس ایک قاصد بھیجا اوراس سے مدد طلب کی ، انہوں نے اس کی درخواست منظورکی اور اس کی مدد کے لئے آگئے ۔

ایک اور قاصد کو ''عک '' بھیجا اور عکیوں سے بھی مدد طلب کی ۔ بنی عقیل کے سپاہی جو فیروز کی مدد کے لئے آئے تھے ، ''معاویہ''نامی حلفاء کا ایک شخص ان کا سپہ سالار تھا ۔راستے میں اس گروہ کی اس قافلے سے مڈبھیڑ ہوئی جسے قیس کے کچھ سوار اسیروں کے طور پر ایران لے جارئے تھے ۔ ایک شدید جنگ میں قیس کے تمام سوار مارے گئے اور اسیروں کے خاندان آزاد کرالئے گئے ۔

عکیوں کے سپاہیوں کی بھی راستے میں دوسرے گروہ سے مڈبھیڑ ہوئی اور ان کے درمیان بھی ایک گھمسان کی جنگ کے بعد تمام سپاہی مارے گئے اور ایرانی اسراء آزاد کرالئے گئے ۔

اس فتح و کامرانی کے بعد عقیلی اور عکی جنگجو فیروز کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔فیروز بھی ان کی اور دوسرے یمینوں کی مدد سے جو اس سے ملحق ہوئے تھے، قیس سے جنگ کرنے کے لئے باہر نکلا اور شہر صنعاکے باہر قیس کے سپاہیوں سے نبرد آزما ہوا ۔ ان دو فوجیو ں کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ۔ یہ جنگ سرانجام قیس اور اس کے ساتھیوں کی برُی شکست پر تمام ہوئی ۔ اس جنگ میں قیس اور اس کے چند رشتہ دار بڑی مشکل سے زند ہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔

عمر وبن معدی کرب نے ''قیس '' کی سرزنش میں یہ اشعار کہے ہیں :

تم نے صیحح وفاداری نہیں کی بلکہ اس کے برعکس مکروفریب سے کا م لیا ۔ اس دوران ایک تجربہ کار اور سختیاں برداشت کئے ہوئے شخص کے علاوہ کوئی یہ مشکلات برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس حملے سے قیس کیسے افتخار کا تاج اپنے سر پر رکھ سکتا ہے جبکہ اس کا وہی حقدارہے جو اس کاسزاوارہو۔


قیس نے عمروکے طنزاور سرزنش کے جواب میں اشعار کہے :

میں نے اپنی قوم کے ساتھ بے وفائی اور ظلم نہیں کیا ہے ۔

میں نے ان ظالموں کے خلاف ایک جرأتمندفوج تشکیل دی جنہوں نے قبائل ''عمروومرثد'' پر حملہ کیا تھا ۔

میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں ایک دلیر اورشجاع اور باعزت پہلوان تھا ۔

داذویہ تمہارے لئے فخرو مباہا ت کا سبب نہیں ہے ، وہ ایسا ہے جس نے اس کے ہاں پناہ لی اس کو دشمن کے حوالے کیا ہے ۔

اور فیروز تو اس نے کل تم پر ظلم کیاہے اور تمہارے مال ومنال کو لوٹ چکا ہے اور تمہارے خاندان کو نابود کر چکا ہے ،لیکن آج

اس نے ناتواں اور ذلیل و خوار ہو کر تمہارے ہاں پناہ لے لی ہے !!

طبری اس داستان کے ضمن میں سیف سے نقل کر کے لکھتا ہے :

ابوبکر نے قیس کی گوشمالی اوراسود عنسی کے فراری سپاہیو ں کا پیچھا کرنے کے لئے ''مھاجر بن ابی امیہ ''کا انتخاب کیا ۔ مھاجر بن ابی امیہ ان

سب کو قتل عام کر کے فاتحانہ طور پر صنعا میں داخل ہوا اور قیس کو قیدی بناکرابوبکر کی خدمت میں بھیجدیا ۔ ابوبکر کی نگاہ جب قیس

پر پڑی ، تو انہوں نے پوچھا :

قیس !کیاتم نے خدا کے بندں سے جنگ کی ہے اور انھیں قتل کیا ہے ؟

اور مومنوں و مسلمانو ں کے بجائے دین سے مخرف مرتدوں و کافروں سے دوستی کرکے مدد طلب کی ہے؟

ابوبکر نے فیصلہ کیا کہ اگر داذویہ کے قتل میں قیس کی شرکت ثابت ہوجائے تو اسے قصاص کے طور پر سزائے موت دے گا

لیکن قیس نے پوری طاقت کے ساتھ اس قسم کے بے رحمانہ قتل کے الزام سے انکار کر دیا۔ سرانجام کافی دلائل وثبوت مہیانہ ہونے ٍکی وجہ سے ابوبکر نے قیس کو معاف کردیا اور نتیجہ کے طور پر وہ بھی صیحح وسالم اپنے گھر اورخاندان میں واپس چلاگیا۔(طبری کی بات کا خاتمہ )


اس افسانہ کے راویوں کی تحقیق:

سیف نے اس روایت میں درج ذیل نام بعنوان راوی ذکر کئے ہیں :

١۔ مستینر بن یزید

٢۔عروة بن غزیہ دثینی ۔ ان دو کا نام سند کے طور پر روایت میں دوبار ذکر کیا گیا ہے ۔

٣۔ سہل بن یوسف ۔ روایت میں اس کا ایک بارنام آیا ہے ۔ ہم نے اس سے پہلے بارہا کہا ہے کہ سیف کے یہ تینوں راوی جعلی ہیں اور ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے ۔

اصل حقیقت:

قیس کی داستان اور اس پر داذو یہ کے قتل کے الزام کے بارے میں بلاذری کی کتاب فتوح البلدان ۔ جس میں سیف ابن عمر سے روایت نقل نہیں کی گئی ہے، میں یوں لکھا ہے :

قیس کو ''داذویہ '' کو قتل کرنے کا ملزم ٹھہر یا گیا ۔ یہ خبر اور یہ کہ وہ ایرانیوں کو صنعاسے نکال باہر کرنا چاہتا ہے اس کی خبر بھی، ابوبکر کو پہنچی۔ ابوبکر اس خبر کو سن کر سخت برہم ہوئے ، اور صنعا میں مامور اپنے کاگزار ''مہاجر بن ابی امیہ'کو لکھا کہ قیس کوفوراً گرفتار کر کے مدینہ بیھجدے ۔

قیس کے مدینہ میں خلیفہ کی خدمت میں پہنچنے کے بعد ابوبکر نے منبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس اسے پچاس بارقسم دی کہ '' اس نے داذویہ کو قتل نہیں کیا ہے ۔''

قیس نے خلیفہ کے حکم مطابق قسم کھائی ، ابوبکر نے بھی اسے چھوڑ دیا اور اس کو دیگر سپاہیوں کے ہمراہ رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے شام کے محا ذکی طرف روانہ کر دیا ۔


تاریخی حقائق اور سیف کا افسانہ:

داستان کی حقیقت یہ تھی کہ قیس پر ''داوذیہ'' کو قتل کرنے اور ایرانیوں کو صنعا سے نکال باہر کرنے کی تدبیر کا الزام تھا۔ اس لئے ابوبکر نے اپنے کارگزار کو حکم دیا تھا کہ صنعا میں داخل ہونے کے بعد قیس کو گرفتار کر کے اس کے پاس مدینہ بھیجدے ۔ قیس نے بھی مدینہ پہنچ کر خلیفہ کے پاس قسم کھائی کہ داذویہ کے قتل میں اس کا دخل نہیں تھا ۔ اورخلیفہ نے اسے جنگ کے لئے شام بھیجدیا۔ قیس کی پوری روایت یہی تھی اور بس!

لیکن، سیف اپنی تخلیق توانائی سے استفادہ کرتے ہوئے اس مختصر اور جھوٹی داستان کے شاخ وبرگ نکال کراسے ایک طویل افسانہ میں تبدیل کر دیتا ہے اور اسے ارتداد کے دوسرے افسانوں کے ساتھ بڑی آب و تاب کے ساتھ '' یمنیوں کے دوسرے ارتداد'' کے عنوان سے اپنی کتاب میں درج کرتا ہے ۔

وہ اپنے افسانہ میں سب سے پہلے قیس کو ابوبکر کے فیروز کو یمن پر حاکم منصوب کرنے کے حکم کے نتیجہ میں فیروز،جشیش اور داذویہ کے خلاف اکساتا ہے اور اس کے بعد منظر کشی کرکے داذویہ کو قتل کراتا ہے ، اس کے بعد اسود عنسی کی تتر بتر ہوئی سپاہ کو اس کے گرد جمع کرکے صنعااور اس کے اطراف کے تمام علاقوں پر قابض کراتا ہے ، اس کے بعد ایرانیوں کے خاندان کو اس کے ذریعہ دوگر و ہوں میں تقسیم کر اکے ایک حصہ کو آبی راستہ سے اور دوسرے گروہ کو خشکی کے راستہ سے ان کے اپنے وطن ایران روانہ کراتا ہے ۔ آخر کار عرب قبائل فیروز کی مدد کے لئے آتے ہیں اور خلیفہ کی طرف سے بھیجے گئے سپاہیوں کی ہمت افزائی اور ''مھاجر بن ابی امیہ '' کے ذریعہ قیس کی حکومت کا شیرازہ بکھیر کے رکھدیتا ہے اور قیس کو گرفتا ر کر کے دست بستہ خلیفہ ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیجتا ہے۔

سیف کے اس افسانہ نے امام المورخین طبری کی تاریخ کبیر کے دس صفحوں میں جگہ لی ہے

سیف نے اس افسانہ میں چھہ راوی پیش کئے ہیں اور ہر ایک کو دوسرے پر ناظر و موید قرار دیتا ہے کہ اس میں حقیقی راویوں کے ساتھ ساتھ اس کے جعلی اور خیالی راوی بھی نظر آتے ہیں ۔

سیف نے اس افسانہ کا نام'' یمانیوں کا دوسرا ارتداد '' رکھا ہے اور طبری نے بھی اسے اسی عنوان سے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے.


طبری کے بعد اس کے مکتب کے شاگردوں جیسے ابن اکثیر اور ابن خلدون میں سے ہر ایک نے اپنی باری پر اس افسانہ کو اس سے نقل کر کے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ یہیں سے یہ موصنوع ارتداد کی دوسرے روایتوں ، اور اسی نام سے دوسری خونیں جنگوں اور بے رحمانہ قتل عاموں نے اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں میں ایک زندہ دلیل دیدی ہے تاکہ وہ اس ذریعہ ادعا کر یں کہ اسلام تلوار کی ضرب اور زور زبردستی سے قائم ہو ا ہے نہ کہ کسی اور چیز سے ! عجیب بات یہ ہے کہ ابن حجر جیسے صحابی شناس علامہ نے سیف کی اس روایت کاپورا پورا فائدہ اٹھا کر ،اس سے ''ذویناق''اور شہر ''نامی دو اصحاب انکشاف کئے ہر ایک کے لئے الگ سے اپنی کتا ب ''اصابہ'' میں شرح لکھی اور ان کے آخر میں حرف(ز) لکھا ہے تاکہ سب جان لیں کہ ان کا صرف ابن حجر نے انکشاف کیا ہے نہ کہ کسی اورنے !

اس عالمنے ''ذویناق''کو اصحاب کے پہلے طبقہ میں رکھا ہے ، لیکن اس کی داستان کو ''شہر '' کی داستان کے حوالہ کیا ہے ۔

''شہر '' کی داستان اور اس کے حالات کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں درج کیا ہے اور اس کی روایت کو طبری سے نقل کیاہے اور ہم نے دیکھا کہ طبری نے خود اس داستان کو سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اور اس کانام بھی ''شہر ذونیاف '' رکھا ہے نہ ''ذونیاق''۔!

٨٦واں جعلی صحابی معاویہ ثقفی

ابن حجر نے اس صحابی کے حالات کے سلسلہ میں ''یمانیوں کا دوسرا ارتداد'' نامی سیف کی روایت سے استفادہ کر کے یوں لکھا ہے :


معاویہ ثقفی احلاف سے :

طبری نے لکھا ہے کہ خلافت ابوبکر کی ابتداء میں '' معاویہ ثقفی'' بنی عقیل کے جنگجوؤں کے ایک گروہ کی سرپرستی میں ''فیروزدیلمی '' کی مدد کے لئے گیا تھا اور اس نے یمینوں کے مرتدوں کے چنگل سے اس کے رشتہ داروں کو نجات دلائی ہے ۔

سیف بن عمر نے بھی ان ہی مطالب کو درج کرکے اضافہ کیا ہے کہ معاویہ ثقفی''کی رہبری میں عقیلیوں نے فیروز دیلمی کے رشتہ داروں کو ''اسودعنسی کے مارے جانے سے پہلے ''قیس بن عبدلغیوث'' کی قید سے نجات دلائی ہے ۔ اس کے بعد ابن حجر مزید لکھتا ہے :

اس صحابی کا نسب ''عقیلی '' تھا ، گو یاوہ ''بنی عقیل ثقیف ''سے تھا ۔ ہم نے اس سے پہلے بھی یاددہا نی کی ہے کہ ۔ قریشوں اور ثقیفیوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ابوبکر کے زمانے میں یا ان ہی دنوں میں جنگوں میں شرکت کی تھی ، چونکہ وہ حجتہ الوداع میں حاضر تھے اس لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی شمار ہوتے ہیں !(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ابن حجر نے اپنی کتاب کی اسی جلد میں چند صفحات کے بعد ''معاویہ عقیلی ''نام کے ایک اورصحابی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان ہی مذکورہ مطالب کو حسب ذیل لکھا ہے :

معاویہ ٔ عقیلی :

وہ ان افراد میں سے ہے کہ جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ دیکھاہے ۔ سیف بن عمر نے اپنی کتاب''فتوح'' میں اس کا نام لیا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے ''فیروزویلمی کے خاندان اور دوسرے ایراینوں کو قیس کی قید سے نجات دلائی ہے اس ماجرا کی تفصیل یوں ہے :

جب ''قیس بن مکشوح '' نے صنعا پر قبضہ کیا اور ایرانی عورتوں اور بچوں کو پکڑ کر یمن سے بالکل باہر کیا تو فیروز نے ان کی نجات کے لئے بنی عقیل سے مدد طلب کی اور اس کے نتیجہ میں عقیلوں نے ''معاویہ '' کی سرپرستی میں اس کی مدد کی اور راستے میں قیس کے سواروں کو پکڑ کر ان سے ایک جنگ لڑنے کے بعد انھیں باگھنے پر مجبور کیا۔ اس طرح ایرانی عورتوں اور بچوں کو ان سے آزاد کر انے میں کامیاب ہوئے۔ فیروز نے بھی چند اشعار کے ذریعہ ''معاویہ '' اور عقیلیوں کی قدر دانی کی ہے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ابن حجر ''معاویہ ثقفی '' اور ''معاویہ عقیلی'' نام کے دو صحابیوں کو تنہا سیف کی روایت سے انکشاف کرکے مغالطہ کا شکار ہوا ہے ۔ اس نے ایک بار اس تنہا ''معاویہ کو ثقفی جان کر اس کے حالات پر روشنی ڈالی اور اسے طبقہ اول کے صحابیوں میں شمار کیا ہے اور دوسری دفعہ بھی اسی کو '' عقیلی'' کہکر صحابیوں کے تیسرے طبقہ میں شمار ہے ۔


اس کی ایک دوسری فاش غلطیی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے :

اس صحابی کا نسب ''عقیلی '' ہے اور گویا ''بنی عقیل ثقیف''سے ہے !

ابن حجر اس لئے اس کوو ہم کا شکار ہو ا ہے کہ سیف بن عمر نے کہا ہے کہ:

فیروزنے ''بنی عقیل بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ '' کو ایک قاصد بھیجا اور اس سے مدد طلب کی ۔ عقیلی ، حلفاء سے ''معاویہ نام کے ایک شخص کی سرپرستی میں اس کی مدد کے لئے آگے ئ۔۔۔۔۔۔۔(تاآخر)

جبکہ ''عقیل بن ربیعہ بن عامر '' کی عقیلی اولاد معا ویہ بن بکربن ھوازن'' کی اولاد میں سے ہیں ، کہ انھیں ''عقیل '' کہتے تھے اور وہ بحرین میں زندگی بسر کرتے تھے ۔ لیکن''ثقیف '' ''منبہ بن بکر بن ہو زان'' کی اولاد تھے اور طائف میں رہتے تھے ۔

اس لحاظ سے سیف کا معاویہ عقیلی '' ثقفی '' نہیں ہوسکتا ہے تاکہ ابن حجر اوراس کے ہمفکروں کے تصور کی بنیاد پر اس معاویہ کو صحابیوں کی فہرست میں قرار دیا جاسکے ۔

اور اس معاویہ ٔ ثقفی کو غلطی سے ''معاویہ ثقفی بصری '' خیال نہیں کیا جانا چاہئے ۔کیونکہ ''معاویہ بصری بن عبدالکریم بن عبدالرحمان'' ، ثقیف کا اور ابوبکرہ کا آزاد کردہ ، ''ضال'' نام سے معروف ہے ١٨٠ھ میں وفات پائی ہے ۔

اور یہ جو ابن حجر کہتا ہے ، ''قریش وثقیف'' سے جن لوگوں نے ابوبکر کے زمانہ کی جنگوں میں شرکت کی ہے ،وہ اصحاب میں شمار ہوتے ہیں ، انشاء اﷲآیندہ ا س پر بحث و تحقیق کریں گے ،

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہاس عالم نے ،سیف کی اسی روایت کے پیش نظر ''سعید عافر'' کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار کرتے ہوئے اس کے بارے میں کہا ہے :

سعید بن عافر:

یہ ان پانچ افراد میں سے ہے جنھیں ابوبکر نے خط لکھ کر ''فیروز ویلمی ''کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے ۔۔۔(تاآخر کلام ابن حجر)

ہم اس سعید بن عافر کو ان افراد میں سے شمار کرتے ہیں کہ سیف نے جن کیلئے صحابیت کو گڑھ لیا ہے۔ انشاء اﷲ ہم اس کتاب کے اگلے صفحات میں اس سعید اور اس جیسے دوسرے اشخاص کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالیں گے ۔


افسانہ ''شہرو معاویہ'' سے سیف کانتیجہ :

سیف نے ''قیس ''کے صنعا میں ابوبکرکے منصوب حاکم کے خلاف شورش کے افسانہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے مندرجہ ذیل دوصحابی جعل کئے ہیں ۔

١۔شہر ذویناف،یا (ذویناق)

٢۔معاویہ ٔثقفی

ان کو جعل کرنے کے علاوہ سیف بن عمر نے درج ذیل حقیقی اشخاص:

٣:معاویۂ عقیلی ۔

٤۔سعید بن عافر اور ان جیسے دیگر اشخاص کو ،جن کے حالات پر ہم بعد میں روشنی ڈالیں گے،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی شمار کیا ہے ۔

اس کے علاوہ سیف نے ایسی روایت گڑھ کر اپنے قبیلہ کے دیر ینہ دشمنوں یعنی یمانی اور قحطانیوں پردوبار مرتد ہونے اور دین اسلام سے مخرف ہونے کی تہمت لگا کر ان کی سرزنش اور ملامت کی ہے ۔

سیف کے ان ہی جھوٹ کے پلندوں کی وجہ سے ، یہ اتہامات اسلام کے معتبر منابع ومصادر میں حقیقی اور تاریخی مآخذ کے طور پر درج کئے گئے ہیں تاکہ یمانی وقحطانیوں کے لئے رسوائی کے علاوہ خود اسلام کے پپیکر پر ایک کاری ضرب واقع ہو ! کیونکہ سیف نے ارتداد کی جنگوں کے تعجب انگریزافسانوں کو خلق کرکے ، لشکر کشیوں اور ہزارہا بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر یہ دکھلایا ہے کہ اسلام زورزبردستی ، تلوار کی ضرب ، خون کی ہولی کھیل کر اور خوف ودہشت کے ذریعہ پھیلا ہے نہ کہ کسی اور چیز سے ۔افسوس ہے کہ اس کے افسانوں کو اسلام کی معتبر تاریخ کی کتابوں میں جگہ ملنے کی وجہ سے اس کے مقاصد پورے ہوئے ہیں ۔!

مصادر و مآخذ

ذویناف کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (١/٤٧٧) حصہ اول نمبر:٢٤٨٣


شہر کے حالات:

١۔اصابہ ابن حجر (٢/١٦٣) حصہ سوم نمبر:٢٩٨٧

معاویہ ثقفی کے حالات:

١۔اصابہ ابن حجر (٣/٤١٧) حصہ اول نمبر:٨٠٨٦

معاویہ عقیلی کے حالات:

''اصابہ''ابن حجر ٣/٤٧٣) حصہ سوم نمبر:٨٤٨٣

افسانہ شہر ، معاویہ ، اور قیس کے بارے میں سیف کی روایات:

١۔''تاریخ طبری '' (١/١٩٨٩۔١٩٩٩)

٢۔''تاریخ ابن اثیر'' (٢/٢٨٧۔٢٨٩)

٣۔تاریخ ابن کثیر (٦/٣٣١)

٤۔''تاریخ ابن خلدون'' (٢/٢٧٤۔٢٧٨)

داستان قیس کے بارے میں تاریخی حقائق:

١۔''فتوح بلدان'' بلاذری (١٢٧)

معاویہ بن عبدالکریم کے حالات:

١۔''جرم و تعدیل'' (٤/٣٨١) حصہ اول نمبر: ١٧٤٩

٢۔''تاریخ بخاری '' (٤/٣٣٧) حصہ اول نمبر: ١٤٥١

٣۔''تذھیب الکمال'' (٣٢٦)


ساتواں حصہّ:

حضرت ابوبکر کی جنگوں میں شرکت کرنے کے سبب بننے والا اصحاب

٨٧۔سیف بن نعمان لخمی

٨٨۔ ثمامہ بن اوس طائی

٨٩۔مہلہل بن زید طائی

٩٠۔غزال ھمدانی

٩١۔معاویہ بن آنَس سلمی

٩٢۔جرادبن مالک تمیمی

٩٣۔عبد بن غوث حمیری


حضرت ابو بکر کی سپاہ کو مدد پہنچانے کے سبب بننے والے اصحاب۔

٧٩واں جعلی صحابی سیف بن نعمان

اس صحابی کو ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں یوں پہچنوایا ہے :

سیف بن نعمان لخمی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں لکھا ہے کہ ''سیف بن نعمان '' نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے اوائل میں ''اسامہ بن زید'' کیساتھ ''بنی جُذام'' کی جنگ میں شرکت کی ہے اور اس کے کچھ اشعار بھی درج کئے ہیں (ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس صحابی کا نسب :

سیف بن عمرنے اس صحابی کو ''لخمی '' خلق کیا ہے کہ یہ '' بنی زید بن کہلان کے ابن سبأ کے مالک بن عدّی '' کے '' لخم ''سے نسبت ہے ۔ لخم و جذام دو قبیلے تھے اور یمن میں زندگی بسر کرتے تھے۔

سیف بن نعمان اور بنی جذام کی جنگ:

اسامہ بن زید کی جُذام سے جنگ کی خبر ١١ھکے حوارث کے ضمن میں تاریخ طبری میں آئی ہے لیکن اس میں سیف بن عمر کے خلق کئے گئے اور منظور نظر سیف بن نعمان کا کہن نام و نشان نہیں ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حجر نے اس صحابی کے حالات کو بلا واسطہ سیف بن عمر کی کتاب ''فتوح '' سے نقل کیا ہے اور طبری نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔


اس کے علاوہ سیف بن نعمان کا نام ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' کے علاوہ اسلامی منابع و مصادر کی کسی اور کتاب میں نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس لئے قاعدہ کے مطابق ہم نے اس سیف بن نعمان لخمی کو سیف بن عمر کے جعلی اصحاب میں شمار کیا ہے ۔ ابن حجر نے سیف بن نعمان لخمی کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں قرار دیا ہے کیونکہ سیف بن عمر نے کہا ہے کہ اس نے ابو بکر کی خلافت کے اوائل میں جذامیوں کی جنگ میں شرکت کی ہے !

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیف کا ''سیف بن نعمان لخمی'' '' سیف بن نعمانی'' سے الگ ہے کہ بخاری نے اپنی تاریخ میں اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے اور جس سیف کا بخاری نے نام لیا ہے وہ ''تابعین '' کے شاگردوں میں سے تھا نہ یہ کہ خود صحابی ہوتا ۔

مصادر و مآخذ.

سیف بن نعمان لخمی کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٢/١١٨) تیسرا حصہ نمبر:٣٧٢٦

خاندان لخمی کا نسب:

١'۔'اللباب'' (٣/٦٨)

اسامہ بن زید کی جذا میوں سے جنگ:

١۔تاریخ طبری (١/١٨٧٢)

سیف بن نعمان ، شاگرد و پیرو تابعین کے حالات:

١۔تاریخ بخاری (٢/١٧٢) دوسرا حصہ نمبر:٢٣٧٠


٨٨واں جعلی صحابی ثمامہ بن اوس

ابن حجر اس صحابی کے تعارف میں یوں لکھتاہے :

ثمامہ بن اوس بن ثابت بن لام طائی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب''فتوح'' میں اس کا ذکرکیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے دوران جب '' ضرار بن ازور'' طلیحہ'' سے نبرو ازما تھا ، ثمامہ بن اوس'' نے اسے یعنی ضرار کو حسب ذیل مضمون کا ایک پیغام بھیجا ہے :

میرے ساتھہ'' جلدیلہ'' کے پانچ سو جنگجو ہیں ۔۔۔۔۔(تاآخرداستان)

اس مو ضوع سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس نے جاہلیت کا زمانہ دیکھا ہے ۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

مذکورہ داستان کہ جس کے بارے میں ابن حجر نے صرف ایک اشارہ کیا ہے ، طبری نے ١١ ھ کی روداد کے ضمن میں '' طلیحہ سے ملحق ہونے کے بارے میں غطفان کی باقی خبر کو'' کے عنوان سے کہ جب وہ طلیحہ سے ملحقہ ہوئے ہیں ''عمارة بن فلان اسدی '' کے ذریعہ سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں حسب ذیل درج کیا ہے :

جب طلیحہ اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہو ا ، تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''ضرار بن ازور '[ کو مأ مور کیا کہ بنی اسد '' میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارگزاروں سے رابط قائم کرکے انھیں طلیحہ کی بغاوت کو سر کو ب کرنے کے لئے آمادہ کرے ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اشارہ پر طلیحہ سے جنگ کرنے کے لئے ایک سپاہ آمادہ ہوئی اور مسلمانوں نے ''واردات'' کے مرتدوں اور ''سمیرا'' مشرکوں کو سر کوب کرنے کے لئے مور چے سنبھالے۔ دوسری طرف ذوالخمار بن عوف جذمی '' اور اس کے ساتھی بھی ''طلیحہ '' کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے ۔

اسی اثنا ء میں '' ثمامہ بن اوس بن لام طائی '[ نے اس کے لئے پیغام بھیجا کہ:

میرے ساتھ ''جدیلہ '' کے پانچ سو جنگجو ہیں ، اگر کوئی مہم پیش آئے اور تمہارے لئے کام مشکل ہو تو ہم ''قردودہ یا النسر '' کی بلندیوں کے نذدیک مورچے سنبھالے ہوئے ہیں اور ہر لمحہ تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں ۔

ہم اس بحث پر دوبارہ روشنی ڈالیں گے ۔


٨٩واں جعلی صحابی مہلہل بن زید

ابن حجر نے اس صحابی کا یوں تعارف کر ایا ہے :

مہلہل بن زید الخیل طائی :

''طی '' کی طرف سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے نمایندوں میں اس صحابی کا نام دکھائی نہیں دیتا ہے .، بہر حال سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور لکھا ہے کہ جب ''ضرار بن ازور'' پیغمبری کے مدعی ''طلیحہ '' سے لڑ رہا تھا ، ''مہلہل بن زید صا ئی '' نے اس کے لئے پیغام بھیجا ہے کہ اگر طلیحہ سے جنگ میں مشکل سے دو چار ہوئے تو ہمیں اطلاع دینا ہم ، عرب جنگجوؤ ں کے ہمراہ ''اکناف ''،'' قید'' کے کنارے پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں ، اور تمہاری مدد کے لئے حاضر ہیں ۔

یہ مطلب اس بات کی دلیل ہے کہ اس صحابی' مہلہل بن یزیدنے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ دیکھا ہے ،کیونکہ ''طلیحہ '' کی داستان ابوبکر کے زمانہ میں پیش آئی ہے اور اس کا باپ یزید الخیل بھی معروف صحابی ہے ۔ (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

مہلہل بن زید کا نام سیف کی ایک دوسری روایت میں ٢٢ھ کے حوارث کے ضمن میں ''تاریخ طبری '' میں آیا ہے ۔ طبری نے اس روایت میں سیف سے نقل کر کے لکھا ہے :

''نعیم بن مقر ن '' نے علاقہ ''دستبی'' کے نظم و انتظا م کوفہ کے سردار وں ''عصمتہ ابن عبداﷲضبّی'' اور ''مہلہل بن زید طائی '' میں تقسیم کیا اور ۔۔۔ (یہاں تک کہ کہتاہے :)

یہ لوگ ( یعنی عصمتہ ابن عبداﷲ اور مہلہل ) پہلے حاکم تھے جو علاقہ دستبی سے ''دیلمیوں '' سے جنگ کے لئے اٹھے ہیں ۔

یہ بات قابل بیان ہے کہ ''اسدالغابہ '' تجرید '' اور اصابہ '' میں '' مسلمہ البضی '' کی روایت کی بناپر ایک اور ''مہلہل '' کے حالات کی تشریح ملتی ہے کہ ابن حجر نے اس کی پہچان کے سلسلے میں لکھا ہے :

اس صحابی کو پہچنوانے کے سدمہ میں ایک ایسے راوی کانام ملتا ہے جو سخت مجہول اور نامعلوم ہے !

اس لحاظ سے ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے عنوان سے دو مہلہل دکھائی دیتے ہیں جو حسب ذیل ہیں :

١۔ مہلہل طائی ، کہ ابن حجر نے اس کے حالات کی تفصیل سیف بن عمر سے نقل کی ہے ۔

٢۔مہلہل مجہول النسب : اس کے حالات کی تشریح ایک مہجول اور نا معلوم راوی سے نقل کی گئی ہے ۔


ثمامہ و مہلہل کے بارے میں ایک مجموعی بحث

ہم دوبارہ اصل داستان کی طرف پلٹتے ہیں :

طبری نے ١١ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف بن عمر سے نقل کرکے لکھا ہے کہ جب طلیحہ مرتد ہوا اور اس نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ، تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ضراربن ازور '' کو حکم دیا کہ قبائل بنی اسد میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارگزاروں اورگماشتوں سے رابطہ برقرار کرکے انھیں طلیحہ کی بغاوت کو کچلنے کے لئے آمادہ کرے ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے مسلمان آمادہ ہو کر طلیحہ سے لڑنے کے لئے باہر نکلے اور انہوں نے ''واردات'' کے مقام پر اور مشرکوں نے ''سمیرا'' کے مقام پر مورچے سنبھالے ۔ ''ذوالخمار بن عوف جذمی '' نے طلیحہ کے مقابلے میں اپنی سپاہ کو لا کھڑا کیا تھا۔

اسی اثنا ء میں '' ثمامہ بن اوس بن لام طائی '' نے ذوالخمار '' کو پیغام بھیجاکہ میں ''جدیلہ '' کے پانچ سو جنگجؤ ئی کے ہمراہ '' قردودہ یا انسر'' کی بلندیوں کے پاس مورچے سنبھالے ہوئے ہوں ، اگر طلیحہ سے جنگ میں کوئی مشکل پیش آئی تو ہم تمہاری مدد کے لئے آمادہ ہیں

مہلہل بن زید نے بھی ذو الخمار کو پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ قبیلہ ٔ طے '' غوثی '' کے جنگجو ہیں اور ہم نے ''فید '' کے اطراف میں مورچے سنبھالے ہیں ۔ اگر طلیحہ کے ساتھ تمہیں جنگ میں کوئی مشکل پیش آئی تو ہم مدد کے لئے آمادہ ہیں ۔

سیف نے یہاں پر خصوصی تاکید کی ہے کہ طی کے جنگجو ''ذوالخمار بن عوف '' کے گرد جمع ہو کر اس کے حکم کی اطاعت کررہے تھے ۔


''ثمامہ اور مہلہل '' کے اسناد:

اس سے پہلے کہ ہم سیف کی روایت اور اس کی روایت کو سمجھنے میں ابن حجر کے مغالطہ کے بارے میں بحث کریں ، مناسب ہے کہ پہلے یہ دیکھیں کہ سیف نے اپنے افسانہ کو کن راویوں کی زبان سے جاری کیا ہے اوریہ افسانہ کس طرح اسلامی منابع و مصادر میں درج ہو اہے

سیف نے اپنی روایت کو ''طلحہ بن اعلم اور حبیب بن ربیعہ اسدی سے اور عمارة بن فلانی اسلامی '' سے روایت کی ہے کہ ان میں ''حبیب وعمارہ '' اس کے جعلی راوی ہیں ۔

معتبر منابع میں سیف کا افسانہ:

سیف کی یہی جعلی روایت مندرجہ ذیل جغرافیا کی کتابوں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے حالات پر مشتمل کتابوں میں نظر آتی ہے۔

عالم اسلام کا عفلیم جغرافیہ دان یاقوت حموی اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں لفظ '' اکناف '' کے سلسلے میں لکھتاہے :

''اکناف'':

جب طلیحہ بن خویلد نے پیغمبری کا دعویٰ کیا اور ''سمیرا'' میں پڑاؤ ڈالا۔ مہلہل بن زید طائی نے اس کے لئے پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ ''غوث '' کے دلیراور جنگجوہیں ، اگر کوئی مسٔلہ پیش آیا اور کسی قسم ضرورت محسوس کی ، تو ہم نے ''اکناف '' میں ''فید''کے نزدیک مورچے سنبھالے ہیں ۔

حموی نے بھی لفظ ''سمیراء '' کے سلسلہ میں سیف کی اسی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے اور مہلہل کے طلیحہ کو مدد کرنے کی روایت کی ہے ۔


اس کے علاوہ وہ لفظ ''قردودہ '' کے بارے میں لکھتا ہے :

جب طلیحہ بن خولید نے پیغمبری کا ادعا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔( یہاں تک کہتا ہے :)

ثمامہ بن اوس نے پیغام بھیجا کہ میرے ہمراہ جدیلہ کے پانچ سو دلاور جنگجو ہیں اگر تجھہ پر کوئی مشکل گزری اور ہماری مدد کی ضرورت کا احساس کیا تو ہم '' قر دودہ'' میں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں اس طرح حموی جیسا دانشمند اور محقق اپنی گراں قدر کتاب میں دوجگہ پر لکھتاہے کہ مہلہل نے طلیحہ کو پیغام بھیجا اور اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے مدد کرنے کا اعلان کیا ہے

جبکہ ہم نے دیکھا کہ ابن حجر ثمامہ اور مہلہل کے حالات کی تشریح میں لکھتا ہے کہ ان دوصحابیوں نے ''ضر ار بن ازور ''کے لئے پیغام بھیجا ہے اور طلیحہ سے اس کی جنگ میں مدد کرنے کی پیشکش کی ہے ، جبکہ ان دونوں عالموں نے مغالطہ کیا ہے ، کیونکہ :

تاریخ طبری میں موجود سیف کی روایت میں بالترتیب ''طلیحہ ، ضرار اور ذوالخمار '' کے نام آئے ہیں ۔ اور عبارت ''وَاَرسَلَ اِلَیہِ''جہاں پر سیف کہتا ہے :''واقبل ذوالخمار بن عوف جذمی حتی نذل بازاء طلیحہ و ارسل الیہ۔۔' میں ( اس کی ) ضمیر داستان کے آخری شخص ذوالخمارکی طرف پلٹتی ہے ۔ یعنی ثمامہ و مہلہل نے ''ذوالخمار '' کے لئے پیغام بھیجا ہے اور اپنی طرف سے مدد کی پیشکش کی ہے نہ کہ ضرار یا طلیحہ کے لئے اس کے علاوہ سیف نے افراد ''صیٰ '' کی طرف سے ذوالخمار کو مدد کرنے کی آمادگی کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ '' طی'' کے جنگجو ''ذوالخمار'' کے گرد جمع ہو کر اس کے حکم کی اطاعت کرنے پر آمادہ تھے ۔

یہ اتفاق اس لحاظ سے پیش آیا تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں قبائل '' بنی اسد ، غطفان اور طی'' کے درمیا ن یکجہی اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کرنے کا ایک معاہدہ طے پا یا تھا ۔ لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت سے پہلے ایک زمانہ میں قبائل بنی اسد اور غطفان طیٰ کے خلاف متحد ہوئے اور ''جدیلہ و غوث '' کے قبیلوں کو ان کے وطن و گھر سے نکال باہر کرکے آوارہ کردیا تھا ۔

قبیلہ عُوف کے افراد نے اس پیمان شکنی سے چشم پوشی کرتے ہوئے غطفان سے جدا ہو کر '' جدیلہ و غوث '' کے قبیلوں کو چلے جانے سے روکا اور ان کے ساتھ دوبارہ عہدو پیمان باندھا اور عملاً افراد ''طی'' سے اپنی مدد کا مظاہرہ کیا ۔بنی طی نے بھی وہا ں سے چلے جانے سے اجتناب کیا اور بدستور اپنی جگہ پر باقی رہے ۔۔۔۔(تا آخر)۔

ہم یہاں پر دیکھتے ہیں سیف نے قبائلی تعصب کے پیش نظر ایسا دکھایا ہے کہ '' جدیلہ '' کے افراد ''ثمامہ بن اوس کے ساتھ اور ''غوثی '' کے دلاورں نے مہلہل بن ''زید کی کمانڈ میں ذوالخمار '' کی مدد کے لئے قبائل طی کو اپنے ساتھ لے کر اپنی آمادگی کا اعلان کیا تھا ، نہ کہ ضرار بن ازور کی مدد کرنے کے لئے جس کی ابن حجر نے صراحت کی ہے ۔


خلاصہ :

سیف تنہا شخص ہے جس نے یہ روایت بیان کی ہے اور ابن حجر نے اس کے ایک حصہ پر اعتماد کر کے ''ثمامہ اور مہلہل '' کے حالات لکھا کر انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں شمار کیا ہے ۔

یہ دانشمند ثمامہ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اخذ کرتا ہے کہ اس صحابی نے جاہلیت کا زمانہ دیکھا ہے ۔ اور مہلہل کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس صحابی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ دیکھا ہے اور اس حکم کو وہاں سے جاری کرتا ہے کہ ''طلیحہ بن خولید کی داستان ابوبکر کے زمانہ میں پیش آئی ہے ''

اور مہلہل کے حالات کی تشریح کی ابتداء میں کہتاہے :

اس کا نام طی کے نمایندوں میں نہیں پایا جاتا ہے ۔

ان نمائندوں سے ابن حجر کی مراد قبیلہ طی کے منتخب شدہ وہ پندرہ افراد ہیں جو ١٠ھ میں ''زید الخیل اور ''قبیصہ '' کی سرپرستی میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تھے ، اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زید کا ''زیدالخیر''نام رکھا تھا جو قبیلہ میں واپس آنے کے بعد فوت ہوگیا ۔ ابن حجر نے اسی نسبت سے مہلہل کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :

اس کا باپ زیدالخیل ایک معروف صحابی ہے ۔

زیدالخیل طائی کے بیٹے :

ابن حزم نے اپنی کتاب ''انساب '' میں زید کے بیٹوں کا ذکر یوں کیا ہے:

زیدالخیرکے بیٹے حسب ذیل تھے :


مکنف ، عروہ ، حنظلہ اور حریث

ابن کلبی نے بھی زید کے بیٹوں کا ایک ایک کرکے نام لیا ہے ۔ لیکن ان دو مصادر ۔ انساب ابن حزم و ابن کلبی ۔ اور دیگر معتبر مصادرمیں ''مہلہل بن زید الخیل طائی '' نام کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملتا اور اسی طرح قبیلہ ء طیمیں ''ثمانہ بن اوس طائی ' ' نام کا کوئی شخص موجود نہیں ہے

اب رہی، ابو الفرج اصفہانی کی بات جسے وہ اپنی کتاب ''اغانی ''میں در ج کرکے کہتا ہے :

زید کے تین بیٹے تھے ، یہ شب شاعر تھے ، ان کے نام عروہ ، حریث اور مہلہل تھے لیکن لوگ زید کے دوفرزندوں ''عروہ اور حریث '' کے علاوہ اس کے کسی اور بیٹے کے بارہ میں یقین نہیں رکھتے ہیں ۔

معلوم ہو تا ہے کہ ابوالفرج نے اس مطلب کوذکر کرتے وقت سیف کی روایت کو مدنظر رکھا ہے۔

مصادر ومآخذ

٭تمامہ بن اوس طائی کے حالات:

١۔''اصابہ ''ابن حجر (١/٢٠٧) تیسرا حصہ نمبر: ٩٧٨

٭مہلہل بن زید طائی کے حالات:

١۔اصابہ ابن حجر (٣/٤٧٨۔٤٧٩) نمبر:٨٤٧٣

٭مہلہل مجہول النسب کے حالات:

١۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٤/٤٢٥)

٢۔''تجرید'' ذہبی (٢/٩٩)

٣۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٤٤٧)


٭طلیحہ ،ثمامہ اور مہلہل کی داستان کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ طبری '' (١/١٨٩١۔١٨٩٣)،(١/٢١٤٩۔٢٦٥٠)

٭ذید الخیل کا نسب :

١۔''جمہرہ انساب '' ابن حزم (٤٠٣)

٢۔''تلخیص جمہرہ ابن کلبی ''

(٢٦٠) نسخہ فوٹوکاپی کتابخانہ آیتہ اللہ نجفی مرعشی قسم۔

٭طی کے بارے میں ایک تشریح :

١۔تلخیص جمہرہ ابن کلبی (٢٦٠)

٢۔''اغانی '' ابو الفرج افہانی طبع ساسی (١٦/٤٧)

٭طی کے نمایندوں کی داستان :

١۔''تاریخ ابن خلدون'' (٢/٢٥٩)

''اکناف، انسر ،سمیرا اور قردودہ '' کی تشریح:

١۔ ''معجم البلدان '' یا قوت حموی


٩٠واں جعلی صحابی غزال ہمدانی

ابن حجر نے اس صحابی کو یوں پہچنوایا ہے :

غزال ھمدانی :

سیف بن عمر نے اس سے ایک شعر نقل کیا ہے کہ جس میں غزال نے ''اسودعنسی '' کی ہجو کی ہے اوراس کے قاتل کی ستائش کی ہے ۔حسب ذیل ہے :

افسوس !کہ ہماری اور ہمارے مردوں کی یہ قسمت نہ تھی کہ ہمارے ہاتھوں وہ ۔ اسود ۔ موت کے گھاٹ اتاراجاتا اور نابود ہوتا !(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

سیف نے اس کے لئے جس نسب کو منتخب کیا ہے وہ ھمدانی ہے کہ یہ ''ھمدان بن مالک ''سے ایک نسبت ہے ۔ جو قبائل قحطان سے بنی زید بن کہلون کا پوتا تھا ۔

غزال ھمدانی کی داستان روایت :

ابن حجر نے جو روایت سیف سے نقل کر کے غزال ھمدانی کے بارے میں درج کی ہے ، اسے طبری نے اپنی تاریخ میں درج نہیں کیا ہے ۔ لیکن اس کے بجائے ١٧ھ کو حوادث کے ضمن میں ایک دوسری روایت سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کی ہے اور اس میں کہتا ہے :

حلیفہ عمر ابن خطاب نے اس سال ایرانیوں سے جنگی تیاریوں کے ضمن میں مختلف پر چموں کو معروف جنگی افراد کے نام سے وابستہ کیا اور انھیں ابن ام غزال کے ہاتھ ان کے لئے بھیجدیا ۔

اور ٢١ ھ کے حوارث کے ضمن میں ''یزد گرد کے خراسان کی طرف فرار'' کے عنوان سے سیف سے نقل کر کے لکھتا ہے :

احنف بن قیس جب یزد گرد سو مّ ، آخری ساسانی پادشاہ کا پیچھا کرتے ہوئے مروا نشاہ جہا ں '' میں داخل ہوا ، تو کوفہ کی طرف سے ایک فوج چار نامور عرب افسروں کی سرکرد گی میں کہ ان میں سے ایک ''ابن ام غزال ھمدانی '' بھی تھا ، اس کی مدد کے لئے پہنچی۔


افسانہ غزال میں سیف کے اسناد:

طبری کے مطابق سیف نے مندرجہ ذیل ناموں کو راوی کے طور پرپیش کیا ہے :

١۔محمد ، یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٢۔ مہلب یا مہلب بن عقبہ اسدی ۔ اور اس سے پہلے ہم نے کہا ہے کہ یہ دونوں راوی سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں اور خارج میں وجود نہیں رکھتے

بحث کا نتیجہ :

غزال ہمدانی کے بارے میں سیف کی روایتوں پر بحث و تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابن حجر نے سیف بن عمر کی روایتوں پر اعتماد کیا ہے ۔ یہ جو اس نے کہا ہے کہ غزال نے ایک شعر کہا ہے اور اس میں ''اسود عنسی '' کی ہجو کی ہے اور اس کے قاتل کی ستائش کی ہے ، اس سے اس نے یہ تصور کیا ہے کہ سیف کے غزال ہمدانی نے حضرت ابوبکر کے زمانہ کی ارتداد کی جنگو ں کو دیکھا ہو گا ، لہذا یہ صحابی ہے ! اس لحاظ سے اس نے اس صحابی کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں قرار دیا ہے ۔

واضح ہے کہ اگر اس عالم نے سیف کی روایت پر تا ریخ طبری '' میں دقت کی ہوتی تو دیکھ لیتا کہ یہی صحابی خلیفہ عمر کی طرف سے سرداری اور سپہ سالاری کے پر چم لے کر جاتا ہے ، تو بے شک اسے اپنی کتاب کے پہلے حصے میں جگہ دیتا اور صحابیوں کے سرداروں کے زمرے میں قرار دیتا ! اور معروف قاعدہ '' قدماء کی رسم یہ تھی ۔۔۔۔۔'' اس پر لاگو کرکے اس کے حالات مفصل طور پر لکھتا !!

مصادر و ما خذ

٭ غزال ھمدانی کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/١٨٩) حصہ سوم نمبر: ٦٩٣٥


٭غزال ھمدانی کے بارے میں سیف کی روایت

١۔'' تاریخ طبری '' (١/٢٥٦٩۔٢٦٨٣)

٭قبائل ھمدان کا نسب

١۔ '' جمہرہ انساب'' ابن حزم (٣٩٢۔٣٩٥)

٩١واں جعلی صحابی معاویہ بن انس

ابن حجر اس صحابی کے تعارف میں لکھتا ہے :

معاویہ بن انس سلمی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں اس کا نام لیا ہے ۔ اور اس نے سہل بن یوسف سے ، اس نے قاسم بن محمد سے نقل کرکے لکھا ہے کہ معاویہ بن انس ان افراد میں سے تھا جس نے پیغمبر خُداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیا ت میں پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے اسود عنسی سے جنگ کی ہے ۔

(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس صحابی کا نسب :

ابن حجر نے اپنی کتاب میں اسے '' سلمی '' معرفی کیا ہے ، اور یہ نام بعض قبائل ''عدنان وقحطان '' سے منسوب ہے ۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سیف نے اپنے اس صحابی کو ان میں سے کس قبیلہ سے پیدا کیا ہے ۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخ طبری '' میں ''معاویہ ابن انس '' کا نام نسب کے ذکر کے بغیر آیا ہے ۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ ابن حجر نے اس نسب کو براہ راست سیف کی کتاب سے نقل کیا ہے ۔


معاویہ انس کی روایت اور داستان :

جو کچھ ابن حجر نے ''معاویہ انس'' کے حالات اس کے تعارف میں سیف کی کتاب فتوح سے نقل کیا ہے ، طبری نے اس کو اپنی تاریخ میں درج نہیں کیا ہے ، بلکہ اس نے ١١ھ کے حوارث کے ضمن میں سیف سے نقل کرکیے ایک روایت میں یمن کے مرتدوں کا ذکر نے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے '' مکہ ، طائف ، عک ، اشعر یین اور صنعاء میں موجود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارگزاروں جن میں بعض جعلی اصحاب بھی نظر آتے ہیں ۔ کا نام لینے کے بعد لکھا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات کے زمانہ میں اسود صنعا میں داخل ہوا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چند سفیروں کو بھیج کر اور چند سفیروں کو خطوط لکھ کر اسودکامحاصرہ کرایااور سر انجام اسود قتل کیا گیا اور علاقہ میں امن وامان بر قرار ہوا ۔

اس کے بعد طبری سیف سے نقل کرکے اس داستان کو یوں لکھتا ہے :

اسود کے قتل ہونے کے بعد اس کے سپاہی '' نجران '' اور '' صنعا '' کے درمیان آشفتہ حال اور دربدر ہوئے، نہ کسی کو پناہ گاہ پاتے تھے اور نہ کوئی انھیں پناہ دیتا تھا اور نہ کوئی ان کی حمایت کرنے پر حاضر تھا ۔ تا وقتیکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کی خبر اس علاقہ میں پہنچی تو یمن اور اس کے شہر بغاوتوں اور اضطراب سے دوچار ہوئے ۔ اس اثناء میں عمروبن معدی کرب سرزمین ''قروة بن مسیک '' میں اور معا ویہ بن انس اسود عنسی کے فرار یوں کے درمیان رفت و آمد میں مشغول تھے ،ابوبکر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کرتے ہوئے سفراء کو ا روانہ کرنے اور خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ یمن مرتدوں کے خلاف کاروائی کرے اور یہاں تک کہ اسامہ بن زید واپس لوٹا اور۔۔۔۔۔۔(تاآخر داستان)

افسانہ ٔ معاویہ میں سیف کے اسناد:

'' تاریخ طبری '' اور ابن حجر کی ''اصابہ '' میں معاویہ کے حالات کی تشریح میں سیف کی کتاب ''فتوح '' سے ''سہل بن یوسف '' اس داستان کا راوی ہے ۔ سیف نے اس کو سلمی اور انصار کہا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بارہا کہا ہے کہ اس قسم کاراوی حقیقت میں وجود نہیں رکھتا ہے اور یہ سیف بن عمر کی خیالی تخلیق ہے ۔


افسانہ ٔ معاویہ سے سیف کا مقصد :

سیف نے اسود کے قتل ہونے کے بعد اپنے افسانوں میں یمانیوں پر دو بار مرتد اور اسلام سے منحرف ہونے کی تہمت لگائی ہے ۔ سیف کی نظر میں ان کاپہلا ارتداد وہی تھا جس پر بحث ہوئی ان کے دوسرے ارتداد کا ذکر شہر ''ذویناف '' یا ''ذویناق '' کی روایت کے سلسلہ میں گزرا ہے ۔

سیف نے ان دو ارتدادوں کے سلسلہ میں یمانیوں پر جھوٹی تہمت لگائی ہے ، اس طرح اس نے ، ماہروں ، فوجیوں ، افسروں کو نصب کرنے ، ضروری احتیاط برتنے،بر وقت اقدامات اور نرم رویہ اپنانے، جنگی میدانوں میں حکمت عملی اور سرکوبی وغیرہ جیسے کارنامے بیان کرکے رجزخوانیاں کی ہیں ۔سیف تنہا شخص ہے جس نے یمانیوں کے دوبار مرتد ہونے کی روایت کی ہے ، اور اس سلسلہ میں تمام روایتوں اور افسانوں کو گڑھ لیا ہے ۔ وہ اسلام اور اس کی تاریخ کے خلاف انجام دئے گئے اپنے اس ظلم میں اچھی طرح جانتا تھا کہ کہاں پر کس طرح ضرب لگائے !

وہ اس طرح کے حوارث کی تشریح میں واقعی اورجعلی اصحاب دونوں کی ستائش کرتا ہے اور ان کے بارہ میں ایسی باتیں کہنا اور علما ء اورمورخوں کو ان کی شجاعت وجواں مردی ، دلیری ، کارناموں ، حکمت عملی اور ان کی دور اندیشی کے مقابلہ میں اس حد تک تعجب میں ڈالتا ہے کہ وہ ان اصحاب کے مناقب و اوصاف سے چشم پوشی نہیں کر سکتے ۔لہذا وہ مجبور ہو کر اس کے ان افسانوں کو اپنی کتابوں میں بعض تفصیل سے اور بعض خلاصہ اور اشارہ کے طور پر درج کرتے ہیں ۔

اس قسم کے علماء میں امام المورخین طبری ہراول دستے کی حیثیت رکھتا ہے سیف کی تمام روایتوں کو نقل کرکے اس نے پورے حوصلہ اور فراغت سے اپنی کتاب میں درج کرتا ہے ۔

طبری کے بعد ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون نے بھی جو کچھہ طبری نے سیف سے نقل کیا ہے ، انہوں نے اس سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیاہے !


اس ترتیب سے ارتداد کی جنگجوں سے مربوط روایتیں ، خاص کروہ جنگیں جو اصل'' میں وجود میں ہی نہیں آئی ہیں ، سیف بن عمر کی زبان سے نقل ہو کر !اسلام کی معتبر اور گرانقدر کتابوں کے متون میں درج ہو کر زبان زد خاص وعام ہوئی ہیں ۔ ان علماء کے سیف سے اس قسم کے مخلصانہ تعاون کے نتیجہ میں ، سیف اپنی مرضی کے مطابق اسلام کو پہنچوانے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے ۔ کیونکہ سیف کی باتوں سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام تلوار کی ضرب اور بے گناہوں کے خون کی ہولی کھیلنے سے مستحکم ہو کر پھیلا ہے نہ یہ کہ اس نے اپنے پیرؤ ں کے دلوں میں اثر کر کے استحکام حاصل کیا ہے !! اور یہ وہ بہترین حربہ ہے جو سیف نے اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ دیا ہے تاکہ وہ اسے دلیل کے طور پر پیش کریں اور اس سے دین اسلام پر کاری ضرب لگائیں ۔ کیا سیف اس کے علاوہ کوئی اور زچیز چاہتا تھا؟

ابن حجر نے بھی ان ہی مطالب سے متاثر ہو کر اور سیف کی اس قسم کی روایتوں کی طرف رجوع کر کے اس کے جعلی اصحاب کے حالات پر اپنی کتاب ''اصابہ '' میں روشنی ڈالی ہے ، اس ''طرح معاویہ بن انس '' کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے اپنی کتاب کے پہلے حصہ کے صحابیوں میں درج کیا ہے ۔

مصادر و ما خذ

٭معاویہ بن انس کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٣/٤١٠)حصہ اول نمبر: ٨٠٦٠

٭یمانیو ں کے ارتداد کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔'' تاریخ طبری'' (١/١٩٨٢۔١٩٨٤)

٢۔ ''تاریخ ابن اثیر '' (٢/٢٨٦۔٢٨٧)

٣۔''تاریخ ابن کثیر'' (٦/٣٣١)

٤۔''تاریخ ابن خلدون'' (٢/٢٧٤)


٭سلمیوں کا نسب:

١۔ ''اللباب'' (٥٥٣۔٥٥٤)

٩٢واں جعلی صحابی جراد بن مالک

ابن حجر اس صحابی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے :

جراد بن مالک نویرہ :

سیف بن عمر نے اپنی کتا ب ''فتوح '' میں اس کانام لے کر لکھا ہے کہ وہ اپنے باپ مالک نویرہ کے ساتھ قتل ہوا ہے ۔ اس کے چچا '' متمم '' نے چند غمناک اشعار میں اس کا سو گ منایا ہے ۔

ہم انشاء اﷲ جلدی ہی حرف ''م'' کی وضاحت میں اس کے حالات اور مالک نویرہ کے قتل ہونے کی داستان پر روشنی ڈالیں گے ۔(ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

سیف کے اس صحابی کا نسب :

سیف نے ''جراد'' کو خلق کر کے اسے ''مالک نویرہ تمیمی ''یر بوعی سے جوڑ دیا ہے جیسے اس نے ''ام قرفہ صغری'' کو خلق کرکے اسے ''مالک بن حذیفہ فزاری اسے نسبت دے دی ہے ۔ یا جس طرح ''سہل بن مالک انصاری '' کو خلق کر کے اسے '' کعب بن مالک انصاری '' خزر جی سے نسبت دے دی ہے ، یا یہ کہ خلید کو خلق کرکے ''منذر بن ساوی عیدی'' تمیمی سے جوڑ دیا ہے یا اسی طرح اس کے دوسرے صحابہ وغیرہ صحابہ وغیرہ۔!!


روایت کے استاد:

ابن حجر نے جراد بن مالک نویرہ '' کے بارے میں سیف کی روایت کے ماخذ کا ذکر نہیں کیا ہے تاکہ ہم اس پر بحث کرتے ۔ لیکن مالک نویرہ کے قتل ہونے کی روایت کو ہم نے کتاب '' عبداﷲابن سبا ' کی پہلی جلد میں درج کیا ہے اور اسی کتاب کی دوسری جلد میں بھی اس واقعہ کے بارے میں بیشتر مطالب کی طرف اشارہ کر چکے ہیں (١)

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جن منابع میں مالک نویرہ کے قتل کئے جانے کی روایت موجود ہے ، ان میں اس کے ''جراد '' نامی بیٹے کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے ، جس کے بارے میں سیف کہتا ہے کہ اپنے باپ کے ساتھ ماراگیا ہے ۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ طبری اور دوسرے علماء کے درمیان، جنہوں نے اپنی کتابوں میں سیف کی روایتوں کو نقل کرنے میں پہل کی ہے ، ان میں سے ابن حجر کے علاوہ کسی عالمنے اس قسم کی روایت کو سیف بن عمر سے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا ہے ۔

افسانہ کا نتیجہ:

ابن حجر نے سیف کی اس روایت پر اعتماد کرکے' کہ جراد کو ارتداد کی جنگوں میں اپنے باپ مالک نویرہ کے ساتھ قتل کیاگیا ہے ، اس کے لئے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں مخصوص جگہ معین کی ہے اور اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے عنوان سے ذکر کیا ہے ۔

____________________

١۔عبداﷲابن سباء تالیف مؤ لف محترم (١/١٥٠۔١٥٣)و (٢/٣٠٦۔٣٠٧)


جلیل القدر عالم ''سید شرف الدین عاملی '' نے بھی ابن حجر کی روایت پر اعتماد کرکے مغالطہ کا شکار ہو کر '' جراد بن مالک نویرہ '' کو من جملہ اصحاب جانتے ہوئے اسے شیعہ اور پیرو امیرالمؤ ممنین علی بن ابیطالب جانا ہے ۔

اس دانشمند نے اس نتیجہ کو اس لئے اخذ کیا ہے کہ ابن حجر نے کہا ہے کہ جراد کو اپنے باپ مالک نویرہ کے ہمراہ قتل کیا گیا ہے ۔چونکہ مالک نویرہ کا قتل خلافت ابوبکر سے مخالفت اور امیرالمؤمنین حضرت علی کی خلافت کی حمایت کی وجہ سے انجام پایا تھا ، اس لئے ناگزیر طور پر اس کا بیٹا جراد من جملہ اصحاب وشعۂ امام تھا ۔ علامہ سید شرف الوبن کی بات ان کی گراں قدر کتاب ''فصول المھمہ '' کے حصہّ دوّم میں حرف ''ج کے تحت بعینہ یوں لکھی ہے :

''جراد بن مالک بن نویرہ تمیمی ، جو ''بطاح '' کی جنگ میں اپنے باپ کے ساتھ قتل کیا گیا ہے ،اوراس کے چچا '' متمم''نے اس کا سوگ منایا ہے '' سید شرف الدین نے نہ صرف یہاں پر اپنی روایت کے مصدر کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے کہیں پر بھی اصحاب شیعہ و پیروان امیرالمؤمنین کے تعارف میں اپنی روایت کے مصدر و مآخذ کو مشخص نہیں کیاہے ۔ اور اپنی بات کے آغاز میں اس سلسلے میں کہتے ہیں :

جو کچھ نادان اور بیوقوف لوگ شیعوں کے بارے میں لکہتے ہیں یاتصور کرتے ہیں اس کاربط شیعوں سے کہا ں ہے؟انہوں نے ۔جیسا کہ ''استیصاب ''''اسد الغابہ'' اور ''اصابہ'' جیسی کتابوں میں آیا ہے' مکتب امیر المومنین کی پیروی کرتے ہوئے ایسے بزرگ اصحاب کی اقتداء کی ہے کہ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اور اپنے مدارک کی تکمیل کے لئے ہم بعض ایسے ا صحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام نقل کرتے ہیں جو امیر المومنین کے شبہ بھی شمار ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد شبہ شرف الدین حروف تہجی کی بنیاد پر ایسے اصحاب کے نام ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے جراد کے حالات حرف (ج) میں ذکر کئے ہیں ۔

یہ عالم صرف (ط) کے ذیل میں ''طاھر ابو ھالہ تمیمی'' کو بھی جو سیف ابن عمر کا جعلی کردہ ہے شیعان علی میں تصور کیا ہے' سیف کے خیالی (جعلی جو شیعان امیر المومنین شمار ہوتے ہیں ان کی تعداد صرف ان دو (جرادو ظاہر) پر تمام نہیں ہوتی جنہیں عالم بذرگوارسعید شرف الفین نے کتاب ''فصول المھمہ'' میں آکر کیا ہے۔


شیخ طوسیٰ علی اللہ مقامہ نے اپنی کتاب ''رجال'' میں قعقاع بن عمرو تمیمی'' کو بھی امام کے شعبوں میں جانا ہے۔

ان کی پیروی میں علماے رجال نے ہمارے زمانہ تک سیف کی ان خیالی مخلوقات اسی طرح پہچانا ہے۔ ''مامقانی'' نے بھی سیف کے ''زیاد بن حنظلہ تمیمی''کو اپنی کتاب ''تنقیح المقالی'' ،میں شیعہ علی کے طور پر درج کیا ہے پس نافع بن اسود تمیی '' بھی سزا وار تر ہے کہ شیعہ علی شمار کیا جائے ،کیونکہ سیف بن عمر نے اسے صفین کی جنگ میں اہم کردار سونپا ہے اور اس کی زبانی ایک زیباشعر بھی کہا ہے۔

اس قسم کے اصحاب کو جیسا کہ ہم نے اپنی جگہ پر ان کے بارے میں وضاحت کی ہے ، خدا نے ابھی تک خلق نہیں کیا ہے کہ پیرو امیرالمومنین ہوں یانہ ہوں بلکہ یہ سب زندیقی سیف بن عمر کے خیالات کی مخلوق ہیں کہ اس نے انھیں اپنے خاندان تمیم سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے طور پر خلق کیا ہے ۔ اور ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزررہا ہے کہ اس نے عالم اسلام کے علماء و دانشمندوں کواپنے جعل کئے گئے افسانوں میں مشغول و حیران کررکھاہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ حیرت اور پریشانی کب تک جاری رہے گی! کیا علما اور دانشور حضرات اس بات کی اجازت دیں گے کہ ہم سیف کے اس قسم کے جعلی اصحاب کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی فہرست سے نکال باہر کریں ؟ یا پھر وہ اسی بات پر قائم رہنا چاہتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں ایسے صحابیوں میں ایسے اصحاب کا اضافہ ہوتارہے جن کو ابھی خدا نے پیداہی نہیں کیا ہے اور یہ تاریخ و رجالی کتابوں میں بدستور درج ہوتے رہیں ؟!

مصادر و مآخذ

جراد بن مالک نویرہ کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (١/٢٦٠٠) تیسرا حصہ حرف ''ج''

٢۔ ''فضول الحھمہ '' سید شرف الدین ۔ طبح نجف ١٣٧٥ ھ مقصد دوم حصہ دوم (١٧٧ ۔١٧٨)


قعقاع بن عمرو کے حالات:

١۔'' اصابہ ابن حجر '' (٣/٢٣٠) نمبر: ٧١٢٩

٢۔تاریخ طبری (١/٣١٥٦) و ( ١/٣٠٠٩۔٣٠١٣)و (٣٠٨٨)و(٣١٤٩)و(٣١٥٠)

٣۔''تاریخ ابن اثیر '' (٣/١٧٠۔٢٧١)

٤۔''تاریخ ابن کثیر'' (٧/١٦٧)

ٍٍٍ ٥۔''تاریخ ابن خلدون' (٢/٤٢٥)

٦۔١٥٠صحابی ساختگی (١/١٢٩۔٢٧٠)

ٍٍ طاہر ابو ہالہ کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٢/٢١٤)

٢۔١٥٠ صحابی ساختگی (٢/٢٥٣۔٢٦٦)

زیاد بن حنظلہ کے حالات:

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٦٣٥و٢٩٠٣و٢٣٩٥و٢٤١٠)

٢۔''١٥٠صحابی ساختگی '' (٢/١١٣۔١٣٤)

نافع بن اسود کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٥٥٠) تیسرا حصہ نمبر:٨٨٥٠

٢۔١٥٠صحابی ساختگی (٢/٧٧۔٩٦)


٩٣واں جعلی صحابی عبدبن غوث حمیری

عراق میں سپاہ ِحضرت ابوبکر کو مدد کر نے کے سبب بننے والا صحابی :

ابن حجر نے اپنی کتاب''اصابہ '' میں اس صحابی کایوں تعارف کرایا ہے :

عبد بن غوث حمیری :

سیف بن عمر نے لکھا ہے کہ جب ''عیاض بن غنم '' عراق میں ایرانیوں سے نبردآزما تھا ، اس نے سپاہ کی کمی کے بارے میں خلیفہ سے شکایت کی اور اس سے مدد طلب کی ۔ حضرت ابو بکر نے ''عبد بن غوث ''حمیری کو اس کی مدد کیلئے بھیجا (ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اس صحابی کا نسب :

سیف کے اس جعلی صحابی کے باپ کے بارے میں تاریخ طبری کے بعض نسخوں میں ''غوث '' اور بعض دوسرے نسخوں میں '' یغوث '' اور اکثر نسخوں میں ''عوف '' لکھا ہے لیکن تاریخ ابن خلدون میں ''عوف '' لکھا گیا ہے !!

اور ''حمیری ' یشجب قحطان کے پوتے ''حمیربن سبا ء '' سے نسبت ہے یہ یمن کے اصلی قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا ۔


انوکھا جھوٹ:

طبری نے ١٢ھ کے حوارث اور روداد کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں لکھا ہے :

جب خالدبن ولید '' یمامہ '' کی جنگ سے فارغ ہوا ، تو حضرت ابوبکر نے اسے یوں لکھا :

خدائے تعا لےٰ نے فتح تجھے نصیب کی ، اب عراق کی طرف روانہ ہو ، تاکہ وہاں پر ''عیاض سے ملاقات کرو۔

اس کے بعد ایک الگ خط میں ''عیاض بن غنم '' کو ۔جو ''نباج'' اور ''حجاز '' کے درمیان مقیم تھا یوں حکم دیا :

اسی طرح آگے بڑھتے رہو یہاں تک کہ ''مصیخ '' پہنچ جاؤ۔ اور وہاں اس علاقہ کی بلندیوں سے ''عراق''پر حملہ کرو اور اس علاقہ میں اپنی پیشروی کو اس قدر جاری رکھوکہ خالدبن ولید کے پاس پہنچ جاؤ ۔ وہا ں پر مستقر ہونے کے بعد اپنے سپاہیوں میں سے جو بھی مائل ہوا سے اپنے وطن جانے کی اجازت دینا ۔ ان کو ہر گز زبردستی فوجی چھاؤنی میں روکے نہ رکھنا ۔

جب ابوبکر کا خط خالد اور عیاض کو پہنچا ، انہوں نے خلیفہ کا حکم اپنے سپاہیوں تک پہنچا دیا ۔ مدینہ باشند ے اور اس کے اطراف کے لوگ ان دوپہلوانوں سے دوری اختیا ر کرکے فوجی چھاونی سے چلے گئے۔ اس لئے انہوں نے مجبور ہو کر ابوبکرسے مدد چاہی۔ ان کی مدد کی درخواست کے جواب میں خلیفہ نے ''قعقاع بن عمرو تمیمی '' کو خالد کی مدد کے لئے اورعبد بن غوث حمیری '' کو ''عیاض بن غنم ' کی مدد کے لئے بھیجا و۔۔۔۔۔۔۔(تاآخر داستان)

سیف تنہا شخص ہے جس نے خلیفہ ابوبکر کے حکم سے ''عیاض بن غنم '' کی عراق کی طرف عزیمت کی روایت کی ہے اور اس کے اور دوسرے عرب سردار خالد بن ولید کے بارے میں داستانیں گڑھیہیں ۔

طبری پہلا عالم ہے جس نے ان افسانوں کو سیف بن عمر نے نقل کرکے اپنی تاریخ کی معتبر کتاب میں درج کیا ہے

ابن اثیر اور ابن خلدوں نے بھی انہیں افسانوں کو'' تاریخ طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں عراق کے اخبار کے عنوان سے درج کیا ہے ۔


تاریخی حقائق :

سیف نے اپنے افسانہ میں لکھا ہے کہ خلیفہ ابو بکرکے حکم سے ''عیاض بن غنم '' عراق کی طرف روانہ ہوا ۔ اس فوری حکم کے نتیجہ میں اس کے سپاہیوں کی تعداد گھٹ گئی اور وہ مدد طلب کرنے پر مجبور ہوا ۔ خلیفہ نے عبدبن غوث حمیری کواس کی مدد کے لئے بھیجا اور قعقاع بن عمرو تمیمی کو خالدبن ولید کی مدد کے لئے بھیجا۔

ان تمام مطالب کو طبری نے سیف سے نقل کیاہے ۔جیسا کہ ہم نے کہا کہ ابن اثیر اور ابن خلدون نے بھی ان ہی مطالب کو ''تاریخ طبری '' سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ جنھوں نے سیف کی روایتیں نقل نہیں کی ہیں اور اس کی بات پر اعتماد نہیں کیاہے جیسے ''خلیفہ بن خیاط'' نے اپنی تاریخ میں اور بلا ذری نے ''فتوح البلدان '' میں لکھا ہے :

عیاض بن غنم ''ابوعبیدہ جراح'' کے ساتھ شام کے محاذ پر سرگرم عمل تھا اورکفر کے سپاہیوں سے لڑرہا تھا ۔

شام کے سپہ سالارابو عبیدہ نے مرتے وقت عیاض کو اپنا جانشین مقرر کیا اور خلیفہ عمر نے بھی اس انتخاب کی تائد و تصویب کی اور کچھ مدت کے بعد ''جزیرہ '' کی حکومت بھی اسے سونپ دی ۔

عیا ض آخر عمر تک وہاں پر موجود تھا ، اورجزیرہ سے باہر نہیں نکلا۔ اس علاقہ میں چند دیگر جنگوں کے دوران فتحیا بیاں حاصل کرنے کے بعد ٢٠ ھ میں وفات کر گیا ۔

اس حساب سے ، عیاض بن غنم کسی صورت میں ان دنوں عراق کی جنگو ں میں حاضر نہیں ہوسکا ہے۔ بلکہ سیف نے اکیلے اس افسانہ کو خلق کیا ہے اور اس کے لئے ''عبد بن عوف '' یا ''غوث حمیری '' کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی عنوان سے خلق کیا ہے ۔

ابن حجر نے بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے اس کے ''عبید بن عوف''کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تیسرے طبقہ کے صحا بیوں میں شمار کیا ہے اور اس کے حالات لکھے ہیں ۔

اس کے علاوہ سیف نے ''مصیخ'' نامی ایک جگہ کو بھی خلق کیا ہے تاکہ جغرافیہ کے علماء یا قوت حموی اس قسم کے مکان کے وجود کا اپنی کتاب''معجم البلدان '' میں ذکر کریں ۔ عبدالمومن نے بھی اپنی کتاب ''مرصدالاطلاع'' میں یاقوت حموی کی بات کو نقل کیا ہے ۔


اس طرح سیف بن عمر جیسے جھوٹے اور زندیقی شخص کا یہ حیرت انگیز جھوٹ اور افسانہ عالم اسلام کے علمی اور تاریخی مصادر ومنابع میں پھیل گیا ہے اور اایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر رہا ہے کہ علماء و دانشوروں کو اپنی طرف مشغول کرکے حیرت و تعجب سے دوچار کئے ہوئیہے ۔

مصادر و مآخذ

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/١٠٠)تیسرا حصہ نمبر :٦٣٩٠

حمیریوں کا نسب

''جمہرہ انساب'' ابن حزم (٤٣٢۔٤٣٩)

٢۔''اللباب'' (٣٢٢)

عیاض کے بارے میں سیف کی روایت

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٠٢٠۔٢٠٢١)

٢۔''تاریخ ابن اثیر '' (٢/٢٩٤)

٣۔''تاریخ ابن خلدون'' (٢/٢٩٥)

عیاض بن غنم کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/٥٠)


عیاض کی جنگوں کی داستان :

١۔ ''تاریخ خلیفہ بن خیاط'' (١١٠،١٢٠،١٣٠)

٢۔''فتوح البلدان'' بلاذری ۔فلسطین،قنسرین،جزیرہ ، ملطیہ اور موصل کے بارے میں ۔

اُنہی د نوں ، جب اس کتاب کی پہلی جلد پہلی بار طبع ہو کر علم و دانش کی دنیا میں منظر عام پر آئی ، لکھنے والوں کے قلم ، اور دانشوروں کے نظریات، اخبارو مجلات اورحتی بعض اسلامی ممالک کے ذرایع ابلاغ حرکت میں آگئے اور اس سلسلہ میں بحث اور اظہا ر نظر کرنے لگے ۔ لیکن علمی بحث و تحقیق میں مصروف ہونے اور دیگر مسائل روز کی وجہ سے یہ فرصت پیدا نہ ہو سکی کہ ان کی تنقید و تحقیق کر کے ان کا جواب دینے بیٹھوں ۔ چونکہ ان سب میں جناب ہادی علوی '' کا مقالہ ۔جو اسی کتاب کے ابتداء میں درج ہو ا ہے ' اہمیت کا حامل ہے ، لہذا مناسب سمجھا کہ اس کے بعض مطالب اور نظریات پر قدرے بحث و تحقیق کی جائے۔


اسلام کا کوئی روحانی باپ نہیں ہے!

١۔جناب علوی صاحب نے اپنے مقالہ میں لکھا ہے :

'' اس کتاب کے مؤ لف جناب عسکری بغدادکے علماء میں سے ہیں '' ۔

ہم ان کے جواب میں کہتے ہیں :

اسلام میں کوئی روحانی ، ان معنی و مفہوم میں جن میں کل عالم عیسائیت میں رائج ہے وجود نہیں رکھتا ہے بلکہ اس قسم کے اشخاص کو '' علماے اسلام '' کہتے ہیں ، تاکہ یہ لفظ ان کے معارف و علوم اسلام کے تخصص کو ظاہر کرے ، اور اس تعریف کامصداق ہو.

٢۔ وہ فرماتے ہیں کہ:

باوجود اس کے کہ یہ کتاب ، پشت پردہ ایک خاص نامحسوس مقصداپنے دامن میں اور پنہان رکھتی ہے لیکن اس کا موصنوع خود اس کے مقصد کا گو یا ترین ثبوت ہے ۔۔۔

میں یہ نہ سمجھ سکا کہ مصنف محترم کا مقصد کیا ہے ؟کیا اس کتاب کا موضوع میرے مقصد ، جو دین اسلام کی خدمت ہے ، سے منا فات رکھتا ہے ؟ جبکہ خود انہوں نے فرمایا ہے کہ فلاں شخص (یعنی میں ) عالم دین ہوں !یا کچھ اور چیزجو ہے میرے لئے پوشیدہ ہے ؟

جو چیز میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ حقیر نے اپنی زندگی کے چالیس برس معارف اسلامی کی تحقیق میں گزارے ہیں ، اپنے مطالعات کے نتیجہ و خلاصہ کو نوٹ کر کے ان میں سے بعض کو ،سیری در تاریخ و حدیث ''(تاریخ و حدیث پر ایک نظر) کے عنوان س طبع کیاہے ۔ اور اس کی اشاعت کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ میں دکھا دوں کہ تاریخ اسلامی اور سنتّ و حدیث کے مصادر و منابع میں عمد اً یا سہواً کچھ تحریفات اور تغیرات انجام پائے ہیں جو اس امر کا سبب بنے ہیں کہ صیحح اور سچے ّ اسلام ۔جسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام لے آئے ہیں ۔ کو پہچاننے میں ، ان تحریفات کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں

اس کے علاوہ کتابوں کے اس سلسلہ کو شائع کرنے میں حقیر کا مقصد یہ بھی تھا کہ ''اصول دین کالج '' کو دنیاوالوں کے سامنے پہنچواؤں اور یہی مقصد کتاب کی ابتداء میں صراحت سے بیان ہوا ہے


الفاظ اور مفاہیم :

٣۔ انہوں نے سیف کی غلط ، مردود اور جھوٹی روایتوں اور اس کی گڑھی ہوئی داستانوں کے لئے ہمارے لفظ ''افسانہ'' = اسطو رہ ) کو استعمال کرنے کے سلسلہ میں اظہار نظر کرتے ہوئے خصوصاً تاکید فرمائی ہے کہ ایسے مواقع پر ایسے الفاظ سے استفادہ کرتے وقت احتیاط و کافی دقت کرنی چاہئے

ہم جواب میں کہتے ہیں :

جعلی اخبار اور داستانوں کے نام رکھنے کے سلسلہ میں یا کسی نکرہ وصف کے الفاظ جیسے : '' مخولہ ، موضوعہ ، مکذوبہ ،ضعیف ، جعلی ، جھوٹ ''یا ان جیسے دوسرے الفاظ سے استفادہ کریں کہ ان میں سے کوئی بھی ان جیسی داستانوں کی حقیقت بیان نہیں کرتا ہے اور ان کے معنی و مفہوم کو نہیں پہنچاتا ہے ۔ یا یہ کہ ان کے لئے ایسے خاص نام اور اصطلاحات کا انتخاب کریں جو ان داستانوں کے معنی و حقیقت کو پہنچا سکیں ، جیسے : '' مَثَل،خُرافہ،اُسطورہ ، خرافی بات ، افسانہ''

اس سے پہلے کہ ہم سیف کی داستانوں کے لئے اس قسم کے نام یا اصطلاحات سے استفادہ کریں ، ہمیں چاہئے کہ ان کے معنی و مفہوم کے سلسلہ میں لغت کی کتابوں کا مطالعہ کرکے ان پر بحث و تحقیق کریں ۔


١۔مَثَل:

مَثَل، کسی چیز کے بارے میں وہ بات ہے جو مفہوم کے لحاظ سے کسی دوسری چیز کے قریب یا شبیہ ہو اور یہی نذدیکی و شباہت سبب بن جائے کہ ایک دوسرے کی تعریف کرے مثال کے طور پر جب کہا جاتا ہے :

کنواں کھودنے والاہمیشہ کنویں کی تہ میں ہوتا ہے ۔ حقیقت میں یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ '' جو دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی فکر میں ہوتے ہیں وہ خود اپنے جال میں پھنس جاتے ہیں '' ، انسان ہوش میں رہیتاکہ دوسرں کی اذیت کا سبب نہ بنے۔ اسی بنیاد پر خدائے تعالیٰ نے قران مجید میں مثالیں پیش کی ہیں اوراور ان کے بارے میں فرمایا ہے :

( و َ تلِک الامثالُ نَضربُهاَلِلناس لَعَلّهُم یَتَفَکَروُن ) (۱)(حشر/٢١)

یا یہ کہ ایک دوسری آیت کے آخر میں اسی سلسلہ میں فرماتا ہے:

۔۔۔۔۔۔( وَماَ یعقلُهاَ اِلاالعا لمون ) .(۲)(عنکبوت/٤٣)

قرآن مجید میں بیان ہوئی مثالوں کی تعداد اکتا لیس ہے ، من جملہ فرماتا ہے ۔

____________________

١) اور ہم ان مثالوں کو انسانوں کے لئے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ شائدوہ کچھ غور و فکر کر سکیں ۔

٢) ۔۔۔۔۔۔۔لیکن انھیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے ۔


( مَثَلُ الَّذِینَ یُنفِقُونَ اَموَالَهُم فیِ سَبِیل اللّٰهِ کَمَثَلِ حَبَّة اَنبَتَت سَبعَ سَنابِلَ،فی کُلِّ سنبلَة مة حَبَّة وَاللّه یُضَاعِفُ لِمَن یَشَائُ وَ اللّٰهُ وَاسعُْْْ عَلِیمُ ) (بقرہ / ٢٦١) (۱)

یا جہا ں پر فرماتا ہے :

( مَثَّلُ الَّذِینَ ا تَّخَذُ وامِن دُونِِِِ اللّٰهِ اَولِیاء کَمَثََلِ العَنکبوت اتخذَ بَیتاً وَ اِنَّ اَوهَنَ البیوتِ لبیت العنکبوت ) (۲) (عنکبوت/٤١)

یا یہ کہ فرماتا ہے :

( وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً للذین اَمَنُوا اِِمِرَةَ فِرعَونَ اِذ قاَلَت رَبِّ ابنِ لیِ عِندَکَ بَیتاً فی الجَنة وَ نَجّنی مِن فر عو ن وَ عمله وَ نجنی مِنَ ا لقَومِ الظالِمین ) (۳)(تحریم/١١)

خدا ئے تعالےٰ نے ان تین مواقع پر مطلب کی وضاحت کے لئے ''جمادات ، حیوانات اور انسان '' کی مثال پیش کی ہے

____________________

١) جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سو دانے ہوں اور خدا جس کے لئے چاہتا ہے اضافہ بھی کر دیتا ہے کہ وہ صاحب و سعت بھی ہے اور علیم و دانا بھی ۔

٢) اور جن لوگوں نے خدا کو چھوڑکر دوسرے سرپرست بنالئے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے کہ اس نے گھر تو بنالیا لیکن سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہو تا ہے ۔

٣) اورخدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے اس نے دعا کی کہ پرورگار میرے لئے جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطاکردے ۔


٢۔ خرافہ:

خرافہ، باطل اور بہیودہ کلام کے معنی میں آیا ہے کہ سننے والے کو مجذوب کرنے کے ساتھ ساتھ تعجب میں ڈالتا ہے ۔ اس کے وجود میں آنے کی داستان یوں بیان کی گئی ہے ۔

قبیلہ ء بنی '' عذرہ یا جہینہ '' کے ایک شخص کانام ''خرافہ '' تھا ۔ جنات اسے اغوا کرکے لے گئے اور ایک مدت تک اپنے پاس رکھا !! خرافہ جنوں کے قبضہ سے آزاد ہونے اور اپنے گھر انے میں واپس آنے کے بعد ، جنات کے پاس گذاری مدت کے بارے میں تعجب خیز اور حیرت ناک چیزیں کہتا تھا اور لوگ بھی اس کی داستانو ں کی تکرار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ '' یہ داستانیں خرافہ ہیں !!'' اور یہی مطلب رفتہ رفتہ معروف ہوا کہ ہر بے بنیاد اور تعجب خیز داستان جو رات کی سرگرمیوں کے لئے بیان کی جاتی تھی ، خرافہ کہلانے لگی ۔

٣۔اسطورہ :

اسطورہ یا افسانہ ان باتوں کو کہتے ہیں جو باطل ، بہیودہ ، جھوٹ ، درہم برہم اور نامرتب ہوں لیکن ظاہر میں صیحح اور سچ دکھائی دیں اور دل کش لگیں ۔

لفظ ''استورہ'' قران مجید میں سات موقع پر لفظ ''اولین '' کا نصاف بن کر آیا ہے ، من جملہ فرماتا ہے :

( یقول الذینَ کَفَرُوا اِن هٰذا اِلاّ اَساَطیرُ الا وَّلیِنَ ) (١) (انعام/٢٥)

اس بنا پر مذکورہ الفاظ کے معنیٰ و مفہوم خلاصہ کے طور پر حسب ذیل ہوں گے :

مَثَل : یہ لفظ ایسی جگہ پر استعمال ہو تا ہے جہاں پر کسی مطلب کی وضاحت یا انتباہ مقصود ہو۔

''خرافہ '': ایسی بے بنیاد باتوں کو کہا جاتا ہے ، جو دلچسپ ہوں ۔ اور '' حدیث خزافہ 'وہ عجیب اور حیرت انگیز اور دلچسپ داستانیں ہیں جو شب باشی کی محفلوں کے لئے گڑھ لی جاتی ہیں ۔

''اسطورہ و ''افسانہ'' وہ مطلب اور جھوٹی اور بے بنیاد داستانیں ہیں ، جنھیں کہنے والا چالاکی ، مہارت اور چرب زبانی سے آراستہ کرکے سچ اور صحیح بنا دیتاہے ۔ ہم نے کہا کہ یہ لفظ قرآن مجید میں سات مواقع پر لفظ ''اولین'' پر اضافہ ہواہے ۔


اس بنا ء پر مناسب ہے کہ ہم ''کلیلہ دمنہ'' کی داستانوں کو جو بیشتر لوگوں کی ہدائت رہنمائی ، انتباہ اور عبرت کے لئے مرتب کی گئی ہیں ۔ اَمثال کہیں ۔

''الف لیلوی'' داستانوں کو' کہ کہنے اور سننے والا یا گانے والا اس کے مو صنوعات کے صیحح نہ ہونے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں اور جو شب باشی کے لئے تنظیم کی گئی ہیں ۔ خرافہ کہیں ۔

''اسود متنبی'' اور فرشتہ ء شیطان کی داستانوں کو جن کا کہنے والا سیف ان کے صیحح ہونے کا تظاہر کرتا ہے ، لیکن سننے اور پڑھنے والے ان کے غلط ہونے پر یقین رکھتے ہیں 'خرافہ داستانیں جانییں ۔اسطورہ یا افسانہ کو حیرت انگیز داستانوں میں شمار کریں جو مطلب کی وضاحت میں ہیں اور نہ انھیں شب باشیوں کے لئے مرتب کی گئی ہیں اور نہ ان میں سیف جن وپری کی بات کرتا ہے ۔ بلکہ یہ ایسے مطالب ہیں جو حقیقت اور سچ سے کوسو ں دور ہیں ، افسانہ ساز اس کے مناظر کو فصاحت اور زیبابیا نی سے دلچسپ اور جذاب بنا کر ایسی آب و تاب اور سنجید گی کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ گویا بالکل مسلم اور ناقابل انکار حقائق لگتے ہیں !

سیف کی داستا نوں کا کیا نام رکھیں ؟

یہاں پر جب ہم سیف کی داستانوں پر ۔گذشتہ بحث کے پیش نظر نگاہ ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں افسانہ کے علاوہ ان کے لئے کسی اور نام کو منتخب نہیں کرسکتے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور نام ان کے لئے مناسب نظر نہیں آتا ہے۔ چونکہ سیف نے ایسی بات نہیں کہی ہے جو مثال کے موضوع کو واضح کرے یا دلیل و رہنما ہو اور نہ انھیں شب باشی کی سرگرمی کے لئے خلق کیا ہے اور نہ جن و پری کی بات کرتا ہے، اگر چہ وہ کبھی کبھار اپنی بات کی تائید کے لئے جنات و پریوں کو بھی کھینچ لایا ہے اور ان کی زبان سے دلچسپ باتیں کہلوائی ہیں !


بلکہ اس کی داستانیں اس سے بدتر ہیں ، کیونکہ یہ ایسے مطالب پر مشتمل ہیں جو سچ اور حقا ئق سے کوسوں دور ہیں اور سیف نے اپنی شیرین بیانی سے ان سنسنی خیز مناظر کو مجسم کر کے تعجب خیز حدتک گڑھ کرتا ریخ اسلام کے مسلم اور یقینی حقائق کے روپ میں پیش کر دیا ہے !!

اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے لغت نویسوں نے بھی ایسی داستانوں کو ان خصوصیات کے پیش نظر ''اساطیر '' و افسانہ کہا ہے ، خاص کر جب ہم لغتِ عرب پر اعتماد کرتے ہیں جو ہمارے زیر بحث علوم و معارف اسلامی کے مربوط الفاظ اور اصطلاحات سے مالاما ل ہے ، نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر ۔۔

حقیقت میں اگر ہم دوسروں کے تخصص کے سلسلے میں مطالعہ کررہے ہوں ، تو ہم ناچار ہوں گے کہ ان کی اصطلاحات کو حتی الامکان عربی میں اپنے ان الفاظ میں تبدیل کریں جو مکمل طور پر وہی معنی رکھتے ہوں ، اور یہ تب ہے جب ہم مثال کے طور پر بابل اور یونان کے خداؤں کی داستانوں کے مطالعہ کا ارادہ رکھتے ہوں !

بہر حال اگر ہم ناقد محترم کی پیروی کرتے ہوئے ، امت اسلامیہ سے مربوط علوم و معارف کے بارے میں دوسروں کے الفاظ اور اصطلاحات پر بھی اعتماد رکریں تو بھی معلوم ہو جائے گا کہ لفظ ''افسانہ '' سیف کی داستانوں کے لئے مناسب ترین نام ہے کیا ایسا نہیں کہا جاتا ہے کہ : دوسروں نے افسانہ کانام ان بڑی اور حیرت انگیز رودادوں کے لئے رکھاہے جن کے وجود میں آنے میں خداؤں ۔ پریوں اورعالم بالا کے موجودات کا ہاتھ تھا ؟

سیف کی داستانوں کی بھی بالکل یہی حالت ہے کہ ہم اپنے مطالب کے حسن ختام کے طور پر چند،نمونے نقل کرتے ہیں :


سیف کی داستانوں کے چند نمونے:

سیف اپنی داستانوں میں بڑی اورحیرت انگیز رودادوں کی بات کرتاہے جو اس کے خیال کے مطابق اسلام کے ابتدا ئی ایام میں اسلام کے سپاہیوں اور دوسری قوموں کے درمیان یا خوداصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان وجود میں آئی ہیں ، اور غالباً یہ داستانیں معجزہ اور حیرت انگیز اتفاقات پر مشتمل ہیں ، بالکل اس طرح جیسے بابل اور یونان کے خداؤں کے قصوں میں آیا ہے !

١۔'' قادسیہ'' کی جنگ کی داستان پر توجہ فرمائیے کہ بقول سیف ابن رفیل اپنے باپ سے نقل کرتے ہوئے بیان کرتا ہے :

ایرانی فوج کاسپہ سالار اعظم ، رستم فرخ زاد اس دیر میں سوگیا ۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ اترا اور سیدھے ایرانیوں کے کیمپ میں داخل ہو ااور کسی تاخیر کے بغیر تمام جنگی سازو سامان کو اپنے قبضہ میں لے کر اس پر مہر لگادی تاکہ انہیں بیکار بنادے ۔۔۔

سیف کسی تاخیر کے بغیر ایک دوسری روایت میں کہتاہے :

جب رستم نے نجف کی بلندیوں پر مستقرہو کر اپنے جنگی مورچوں کو مضبوط کیا تو پھر اسی فرشتہ کو خواب میں دیکھا !

اب کی بار دیکھا کہ یہ فرشتہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ آسمان سے اترا اور ایرانیوں کے کیمپ میں داخل ہونے کے بعد ان کے تمام فوجی ساز و سامام پر قبضہ کرکے ان پر مہر لگادی تاکہ انھیں بیکار کردے ، ا س کے بعد انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی ان سب سازو سامان کو عمر کے حوالے کردیا سیف اسی داستان کوجاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

جب ''رفیل'' نے اس موضوع ۔۔۔خدا ، اس کے پیغمبرا اور فرشتوں کی ، جنگ کے امور میں اور اسلام کے سپاہیوں کی تائید میں ، براہ راست مداخلت ۔۔۔ کا مشاہدہ کیا تو وہ اسلام کا گرویدہ ہو گیا اور اسی سبب سے مسلمان بنا۔

٢۔ سیف فتح '' بہر سیر = ویہ ارد شر '' کی داستان میں مدعی ہوتا ہے کہ عالم بالا کے فرشتوں نے '' ابو مفزر تمیمی '' کی زبان پر ایسا اثر ڈالا کہ جس کے نتیجہ میں اس نے ایران کے پادشاہ کے پیغام کا جواب اس کے قاصد کو فارسی میں یوں دیا:


جب تک ہم '' افریدون' کا شہد اور '' کوثی'' کے چکوترے نہ کھائیں ہمارے درمیان دوستی قائم نہیں ہوسکتی ہے !!

'' ابو مفزر تمیمی'' نے یہ گفتگو روان اور خالص فارسی میں زبان پر جاری کی بغیر اس کے کہ خود بھی سمجھ سکے کہ کیا بول رہا ہے ! یا اسلام کے سپاہیوں میں سے ایک شخص بھی نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا بول رہا تھا !!

جب ایران کے پادشاہ کو '' ابو مفزر'' کے جواب کے بارے میں معلوم ہو کہ اس نے فارسی میں جواب دیا تھا تو بولا افسوس ہے مجھ پر ! فرشتے ان کی زبان پر بات رکھتے ہیں تا کہ وہ ہمیں ہماری اپنی زبان میں جواب دیں !!

٢۔ سیف '' جلولا '' کی جنگ کے بعد ''یزدگرد'' کے فرار کی داستان میں لکھتا ہے :

'' جلولا'' میں ایرانیوں کی شکست کے بعد '' یزدگرد'' رے کی طرف بھاگ گیا اور پورے راستہ میں محمل سے باہر قدم نہ رکھا بلکہ وہیں پر سوتا بھی تھا ۔ پادشاہ کا محمل لے جانے والا اونٹ ایک لمحہ بھی راستہ میں کہیں نہیں رکتا تھا ! اور دربار کے نوکر بھی کہیں پر آرام نہیں کرتے تھے حتی راستہ میں ایک جگہ پر دریا سے عبور کرنے پر مجبور ہوئے۔

محافظوں نے اس احتمال سے پادشاہ کو نیند سے بیدار کیا کہ کہیں دریا کو عبور کرتے وقت پانی محمل میں داخل ہو کر پادشاہ کو تکلیف نہ پہنچائے

١۔ اس نے بیدار کئے جانے پر سخت بر ہم ہوتے ہوئے ان سے مخاطب ہوکر کہا:

کیا نا مناسب کام تم لوگوں نے انجام دیا ! خدا کی قسم اگر مجھے اپنے حال پر چھوڑدیتے ، تو مجھے معلوم ہوجاتا کہ اس امت ۔۔ اسلام ۔۔ کی کتنی مدت باقی بچی ہے !!

میں خواب میں دیکھ رہا تھا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ خدا کے حضور پہنچا ہوں اور خدا نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا: میں نے تیری حکومت اور تیری امت کی شہرت کو ایک سو سال قرار دیا ہے !


محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا سے کہا :

مزید بڑھادے۔

خدا نے نے کہا

اچھا ایک سو دس سال

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر سے کہا :

میرے واسطے اور بڑھادے

خدا نے کہا :

کوئی مشکل نہیں ، ایک سو بیس سال !

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پریشان اور ناراضگی کے عالم میں جواب دیا :

تو ہی جانے!!

یہیں پر تھا کہ تم لوگوں نے مجھے بیدار کیا اور مجھے فرصت نہ دی کہ اس گفتگو کو آخر تک سن سکتا کیونکہ اگر تم نے مجھے اپنے حال پر چھوڑدیا ہوتا تو سر انجام مجھے پتا چل جاتا کہ اس امت کی کتنی عمر ہے !!

لفظ '' افسانہ ''سیف کی داستانوں کیلئے مناسب ہے

سیف کی اغلب داستانوں کی یہی حالت ہے ۔

وہ بعض اوقات اپنی داستانوں کے سورماؤں کو فرشتوں اور پریوں کے روپ میں پیش کرتا ہے اور ایسادکھائی دیتا ہے کہ عالم بالا کے ہدایت کار مسلسل اس کے ساتھ رابطہ برقرار دکئے ہوئے ہیں اور تمام مواقع پر اس کے مشیر و راہنما ہیں !

سیف اپنی تمام تخلیقات اور افسانوں میں صدر اسلام کی چند عادی اور غیر معروف شخصیتوں کے مقام و منزلت کو اس قدر بلند کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوا ہے کہ دنیا کے لوگ خاص کر مسلمان انھیں فوق بشر بلکہ عالم بالا کے فرشتے سمجھ لیں !!

میں نے مدتوں سیف کی روایتوں اور اس کے اخبار کے مطالعہ و تحقیق کے بعد اسلامی مآخذ اور تاریخ میں ان کے پھیلاؤ کی وسعت کو اور مسلمانون کے افکار و عقائد پر ان کے مسلسل اثرات کو اچھی طرح محسوس کیاہے ۔


اس لحاظ سے اور گزشتہ بحث کے پیش نظر میں نے '' افسانہ '' سے مناسب تر کوئی لفظ ، سیف کی داستانوں کیلئے پیدا نہیں کیا خاص کر جب وہ خلافت '' عثمان '' سے لے کر ''جمل '' کی جنگ تک اصحاب کی آپسی لڑائی جھگڑوں کی داستان سرائی کرتا ہے'یا جب اصحاب اور دوسرے اقوام کے درمیان کشمکش کو بیان کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ سب '' بابل اور یونان '' کے خداؤں کے جئسے افسانے ہیں ۔

البتہ اس کی وہ داستانیں ، جنھیں میں نے کتا ب'' عبد اللہ بن سبا '' کی دوسری جلد میں '' خرافی افسانوں '' کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے ، مستثنیٰ ہیں ۔

مذکورہ کتاب کا وہ حصہ سیف کی ان داستانوں پر مشتمل ہے جنھیں اس نے اسود '' متنبی کذاب'' اور جنوں کی خیالی مخلوق'' شیطان شاہ '' کے بارے میں ہیں ۔

اگر چہ اسود کی داستانوں کو ایسی خیالی مخلوق کے پیش نظر '' خرافی روایات'' کہہ سکتے ہیں ، لیکن میں نے ایسی داستانوں کے اس مجموعہ کو اس لحاظ سے '' خرافائی افسانے '' نام رکھا ہے کہ ان میں '' جنات'' اور '' پریوں '' اور حیرت انگیز کام دوسری داستانوں وکی نسبت زیادہ دکھائے گئے ہیں ۔

آخر میں اپنے ناقد محترم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مخلصانہ عقیدہ کی بناپر چند نکات کا طرف ہماری توجہ مبذول کرائی جنہیں وہ خطا یا غلطی سمجھتے تھے۔


فہرست اعلام

الف :

آزاد بہ ابن کلبی

آزاد مرد ابن ماکولا

آیة ا.. نجفی مرعشی ابن مسعود

ابن ابی شیبہ ابن ھباّر

ابن ابی العوجا ابن ھشام

ابن اثیر ابو اسید ساعدی

ابن اسحاق ابو بکر (خلیفہ)

ابن اعثم ابو حبیش ، ذولحیۂ عامری

ابن ام غزال ابو حبیش مطلب قرشی

ابن ام مکتوم ابو حذیفہ

ابن حجر ابو داؤد

ابن حزم ابو سبرہ

ابن خلدون ابو سلمہ بن عبد الاسد

ابن خیاط ابو عابس جعفی

ابن درید ابو العاص ثقفی

ابن رفیل ابو عبیدہ جراح

ابن سعد ابو الفرج اصفہانی

ابن عبدالبر ابو مسعود

ابن عساکر ابو مفزر

ابن فتحون ابو موسیٰ اشعری


ابن قتیبہ دینوری ابو نباتہ '' نائل''

ابن خثیر امام حسین

ام ۔ ژ۔ دخویہ احنف بن قیس

اسد بن خزیمہ اسامة بن زید

ارطاة بن ا بی ارطاة اسود بن عبد الاسد

اسود عنسی اشرس بن کندہ

اشعث بن قیس ام سلمہ

ام قرفہ امرؤ القیس بن عدی کلبی

امرؤ القیس بن فلان اھل بیت علیہم السلام

ب

بخاری بسر بن ابی اھم

بشر بن عبد اللہ بشیر بن خصاصیہ

بغوی بکر بن وائل

بلاذری

پ

پیغمبر خدا

ث

ثمامہ بن اوس


ج

جابر اسدی جارود بن معلی

جبیر جراد بن مالک

ْجشیش ْجویریہ

جناب بن ارت

ح

حارث بن راشد حارث بن کعب بن سعد

حارث بن مرہ جہنی حارب بن مرہ عبدی

حارث بن مرہ فقعسی حارث بن یزید عامری (دیگر)

حارث بن یزید عامری قرشی حبیب بن ربیعہ

حبیب بن قرہ حبیب بن مسلمہ فہری

حبیش بن دُلجہ قینی حذیفہ بن محص

حذیفہ فزاری حذیفہ قلعانی

حرملہ بن مریطہ حریث بن زید

حطیۂ حمزہ بن علی محضر

حمل بن مالک جنادہ حمیری

حوثب بن ظلیم حمیر بن سبأ

حمیضہ بن نعمان بارقی حموی

حنظلہ بن زید حوثب بن ظلیم

حمید بن ابی نجار


خ

خارجہ بن حصن خالد بن اسید

خالد بن ولید

خدیجہ ( ام المؤمنین) خریت بن راشد

خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین خزیمہ بن ثابت غیر ذو الشہادتین

خصفہ تیمی خلید بن کاس

خلید بن منذر خلیفہ بن خیاط

د

دینوری

ذ

ذو الخمار بن عوف ذولحیہ کلابی

ذویناق ذہبی

ر

ربیع بن عامر ربیال بن عمرو

ربیعہ بن عثمان ربیعہ بن نزار

رفیل بن میسور ربیل بن عمرو

رستم فرخ زاد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم


ز

زبیر بن بکار زبیر بن عوام

زبیر بن عبدا للہ زہرہ بن خویہ

زہیر بن سلیم زیاد بن حنظلہ

زیاد بن سرجس زیاد بن لبید

زیدبن کھلان زید الخیر

زید مناة تمیم زید الخیل

س

سیحان بن صوحان سیف بن عمر

سیف بن نعمان لخمی سائب بن ابو حبیش

سید شرف الدین سائب افرع

سالم بن عبدا للہ سامہ بن لوی

سعد بن حرام انصاری سعد عمیلہ

سعد وقاص سعد بن عافر

سفیان بن عبد الاسد سعید ذی زور

سکینہ دختر امام حسین سلیمان

سماک بن سماک بن غیر

سمیفع ذی کلائ سنان ی زمری

سواد بن مالک سواد بن مالک داری

سواد بن ھمام سہل بن یوسف انصاری

سہل بن مالک


ش

شہریب شخریت

شریح بن عامر شریک غیر منصوب

شریک فزاری شعبی

شہر زونیاق شہرک

شہریار شیخ طوسی

ص

صعب بن عطیہ صیحان بن صوحان

ض

ضحاک بن قیس ضرار بن ازور

ط

طاہر بن ابی ہالہ طبری

طبرانی طلحہ بن اعلم

طلحہ بن عبدا للہ طلیحہ بن بلال

طلیحہ بن خویلد اسدی طلیحہ بن فلان


ع

عبدا للہ بن زیبر عبداللہ بن سبائ

عبدا للہ بن سوار عبداللہ بن عبدا ﷲ

عبد اﷲ بن مسعود عبیدہ بن سعد

عقاب بن اسید عابس جعفی

عتبہ بن غزوان عاصم بن عمرو

عتیبہ بن نہاض عامر بن طفیل

عتیبہ عامر بن عبد الاسد

عثمان بن ابی العاص عامر بن عبدا لاسود

عثمان (خلیفہ) عائشہ ام المؤمنین

عثمان بن ربیعہ عباد بن حصین

عجل بن لجیم عباد بن منصور

عدی بن حاتم عباد ناجی

عرفجہ بن حرثمہ عبد بن عو

عذرہ بن سعد ھزیم عبدا بن غوث حمیری

عروہ بن زید عبدا لدار بن قصی

عروہ بن غزیہ عبدا لرحمان ابی العاص

عصمت بن عبدا للہ عبدا لقیس بن اقضا

عکرمہ بن ابی جہل


عبد الکریم بن عبدا لرحممان علاء حضرمی

عبد المؤمن علجوم مہاربی

عبدا للہ بن خفص علقمہ بن علاء کلبی

عبدا للہ بن دارم عبداللہ بن زبیر

علی امیر المؤمنین عمار یاسر

عماربن فلان اسدی عمر بن خطاب

عمر بن عتبہ بن نوفل عمر بن مالک عتبہ

عمرو بن معدیکرب عمر بن مالک عقبہ

عمرو بن حکم قضاعی عمرو بن وبرہ

عمرو بن محمد عمیر ذو مران

عوف بن خارجہ عوب بن عبدمنات

عوف بن ربیعہ عیاض بن غنم

غ

غزال ھمدانی غصن بن قاسم

ف

فرات بن حیان فرعون

فزارہ بن دبیان فقعس بن دودان

فیروز دیلمی


ق

قاسم بن محمد قتادہ بن نعمان

قرقرہ...یس (قرفدّین زاھر) عمروبن مالک عتبہ

قروہ بن مسیک قعقاع بن عمرو

قلقشندی قیس بن عبدیغوث

ک

کعب بن مالک انصاری کلاب بن مرہ

کلیسان بن ضبیہ

ل

لقیط بن مالک ازدی لوئیّ بن غالب

م

مالک بن حذیفہ مالک بن ربیعہ

متمم بن نویرہ مبشر بن فضیل

متمم بن حارثہ معاویہ بن بکر ھوزان

معاویہ بن عبدالکریم محمد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

معاویہ عذری محمد بن جریر طبری

معبد بن مرہ محمد بن حریر عبدی

مغیرہ بن شعبہ محمد بن عثمان


مالک بن عدی مالک بن نویرہ

مالک بن وہب مامقانی

مکنف بن زید مندربن جارود

محمد بن عبد اللہ بن سواد منذر بن ساوی

مخنف بن سلیم منبہ بن بکر ھوزان

مدلاج بن عمرو سلمی مہاجر بن ابی امیہ

مذعور بن عدی مھرة بن حیدان

مرتضی عسکری مہلب بن عقبہ اسدی

مساور بن نعمان مہلہل بن یزید

مستنیر بن یزید میرخوان

مسعود بن مالک مسعودی

ن

نافع بن اسود نائل بن جعشم ''ابو نباتہ''

مسلمہ الضبی مسور بن عمرو

مسور بن عمرو عباد مشیمصہ جبیری

مصبّح نعمان بن مقرن

مضارب بن یزید معاویہ ثقفی

معاویہ معاویہ بن انس

معاویہ بن ثقفی بصری معاویہ عقیلی


ن

نخّرجان نصر مزاحم

نضر بن سری نعیم بن مسعود اشجعی

نعمیم بن مقرن نوفل بن عبدمناف

و

وائل بن قیس وائل بن مالک

واقدی والب اسدی

والبتہ بن حارث

ھ

ہادی علوی ہاشم بن عتبہ

ہرمزان ہزہاز بن عمرو

ہلال بن عامر ھمدان بن مالک

ہیربد

ی

یاقوت حموی یزدگرد ساسانی

یزید بن قینان یعقوبی


امتوں اور ملتوں کی فہرست

الف

ازد ازدسراة

ازدعمان ازدغسان

بنو رباب بنو عامر

بنو عبد الدار شنوئ

بنور عدنان اصحاب

اسلام انصار

ایرانیان

ب

بنو عذرہ بنو عقیل

بنو کنانہ بنو کہلان

بنو لخم بابلی

بنو لوئی بارق

بنو مالک بن سعد بجیلہ

بنو مھارب بکر بن وائل

بنو ناجیہ بنو اسد

بنو نجرات بنو افعیٰ

بنو امیہ بنوتیم رباب

بنو جذام بنو حارث

بنو حمیر


پ

پارسیان

ت

تابعین تغلب

تمیم

ث

ثقیف

ج

جاہلیت جمیند

خ

خاورشناسان خزاعہ

خوارج خثعم

د

دلیمیان


ر

ربیعہ رومیان

ز

زندقہ

س

ساسانی سعد ھزیم

سکاسک سکون

ش

شیعہ

ص

صحابی

ط

طی

ع

عباسی عبدا لقیس

عدنان عرب


غ

غاید غطنان

ف

فزارہ

ق

قریش قحطانی

قضاعہ قیس عیلان

ک

کلب کندہ

م

مستشرقین مجوس

مخضرمین مسلمان

مسیحی مشرکین

مضر مکتب اہل بیت

مکتب خلفائ مہاجرین

ن

نَمِر


ھ

ھمدان ھوازن

ی

یمانی یونانی

یہودی

علماء اور مصنفوں کے ناموں کی فہرست

الف

ابو الفرج اصفہانی احمد بن حنبل

آیت اللہ نجفی مرعشی ام ، ژ'د خویہ

ابن ابی شیبہ ابن اثیر

ابن اسحاق ابن اعثم

ابن جریر ابن حجر

ابن حزم ابن خلدون

ابن خیاط ابن درید

ابن عبد البر ابن عساکر

ابن فتحون ابن کثیر

ابن کلبی

ابن ماکولا ابن ہشام

ابو داؤد


ب

بخاری بغوی

بلاذری

حموی

حمیری

د

دینوری

ذ

ذہبی

ز

زبیر بن بکار

س

سیف بن عمر

ش

شیخ طوسی

ط

طبرانی


ع

عبد المؤمن

ق

قلقشندی

م

مامقانی محمد بن جریر

مرتضی عسکری مسعودی

میرخواند

ن

نصر مزاحم

و

واقدی

ی

یاقوت حموی یعقوبی


جغرافیائی مقامات کی فہرست

الف

آبادان اروپا

استخر فارس اسبذ

آفریدون اکناف

انبار ایران

ح

حبشہ حجاز

حرہ حضرموت

حمص حوران

حیدر آباد

ب

برہوت بصرہ

بحرین بغداد

بقیع بر سیر

بین النہرین بابل

ت

تستر تہران


ج

جزیرہ

خ

خابور خراسان

د

دارین دبا

دجلہ دستبی

دمشق دومة الجندل

دیلم

ذ

ذیقار ذی قصہ

ر

راس العین رقہ

رے روم

ز

زرور


س

سباء سرات

سمیراء سلحین

ش

شام شراف

شنوئ

ص

صنعائ

ط

طائف طاؤوس

ع

عبادان عدن

عک عمّان

غ

غشان


ف

فارس فرات

فراض فلسطین

فیوم

ق

قرقیسیا قنصرین

قیقان

ک

کربلا کوثی

کوفہ

ل

لیدن

م

مدائن مدینہ

مروان شاہ جہان مصر

مصیخ مکہ

ملطیہ موصل

مہرہ


ن

نجران نجیر

نجف نہاوند

و

واردات ویہ اردشیر

ھ

ہجر ہالینڈ

ہندوستان ہیت

ی

یمن یونان

یورپ


منابع و مصادر کی فہرست

الف

اخبار الطوال استیعاب

اسد الغابہ اشتقاق

اصابہ اکمال

انساب الاشراف

ت

تاج العروس تاریخ ابن اثیر

تاریخ ابن الخلدون تاریخ ابن کثیر

تاریخ ابن عساکر تاریخ اسلامی ذہبی

تاریخ اعثم تاریخ بخاری

تاریخ خلیفہ بن خیاط تاریخ طبری

تاریخ یعقوبی تجرید

تہذیب التہذیب تقریب التہذیب

تلخیص جمہرہ ابن کلبی تنقیح المقال

تہذیب الکمال

ج

جرح و تعدیل جمہرہ انساب


خ

خلاصة تہذیب الکمال

ر

رجال شیخ طوری رواة مختلقون

روض المعطار روضة الصفا

س

سیرۂ ابن ہشام

ص

صفین نصر مزاحم

ط

طبقات ابن خیاط طبقات ابن سعد

ع

عبالہ ھمدانی عقد الفرید

عیون الاخبار


ف

فتوح ابن اعثم فتوح البلدان

فتوح سیف بن عمر فصول المہمہ

فہرست تاریخ طبری

ن

نسب قریش نقش عائشہ در تاریخ اسلام

نہایت الارب

ھ

ہزار و یک شب

ق

قرآن

ک

کلیلہ و دمنہ

ل

لباب الانساب اللباب

لسان المیزان


م

معجم قبائل العرب مقدمہ مرآة العقول

محبر مراصد الاطلاع

مروج الذہب مسند احمدبن حنبل

مشترک مصنف ابن ابی شیبہ

معارف معجم البلدان''یاقوت حمیری''


تاریخی وقائع کی فہرست

الف سیف کے خلق کردہ دن

ارتداد حطم روز ارماث

ارتداد قبیلۂ یمانی روز اغواث

ب روز عماس

بعثت روز گاؤ

ج روز ماہی

جنگ احد لیلة الھریر قادسیہ

جنگ بدر

جنگ جلولا

جنگ جمل

جنگ دبا

جنگ صفین

جنگ قادسیہ

جنگ نہاوند

جنگ یمامہ

جنگہای ارتداد


ح

حجة الوداع

ط

طاعون عمواس

و

واقعہ کربلا


فہرست

حرف اول ۵

کتاب ١٥٠ جعلی اصحاب کے سلسلہ میں دل کو ہلا دینے والی ایک تاریخی بحث ۸

١۔اموی حکام کی مصلحتوں کا تحفظ : ۱۰

٢۔قبیلۂ تمیم کے منافع کی رعایت : ۱۰

٣۔ اسلام کی تاریخ میں شبہہ ایجاد کرکے اس میں رخنہ ڈالنا : ۱۰

اصحاب کو پہچاننے کا ایک طریقہ ۱۷

سپہ سالاری ۱۷

بحث کا نتیجہ : ۲۵

مصادر و مآ خذ ۲۷

ابن ابی "ابن " شیبہ کی روایت کے بارے میں خبری منابع و مآخذ : ۲۷

مرتدوں کے ساتھ عمر و ابو بکر کی روش پر سیف کی روایت : ۲۷

''امرئو القیس'' کی حکوت کی داستان: ۲۷

''علقمہ بن علاثہ ، کلبی ''کی داستان : ۲۷

علقمہ و عامر کے اختلاف کی داستان: ۲۷

قضاعہ کا نسب: ۲۷

ا س کتاب میں درج سیف کے جعلی اصحاب کی فہرست ۲۸

پہلا حصہ ۳۱

عراق جنگوں میں سعد وقاص کے ہمراہ جنگی افسر اور سپہ سالار (١) ۳۱

٥٤ واں جعلی صحابی بُشر بن عبداﷲ ۳۲


اس داستان کے راوی: ۳۲

اس افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما: ۳۳

مصادر و مآ خذ ۳۴

بشر بن عبداﷲ ،کے حالات: ۳۴

سیف کے جعلی صحابی کا شجرہ نسب: ۳۴

٥٥ واں جعلی صحابی مالک بن ربیعہ ۳۵

افسانہ مالک کے مآخذ کی پڑتال ۳۸

گذشتہ بحث کا خلاصہ اور نتیجہ : ۳۹

''فیوم '' دو جگہوں کا نام ہے '' ۴۰

مصادر و مآخذ ۴۰

''رباب ''کے نسب کے بارے میں : ۴۰

مالک بن ربیعہ انصاری کے حالات : ۴۱

٥٦واں جعلی صحابی ہزہاز بن عمرو ۴۲

ہزہاز بن عمروعجلی: ۴۲

داستان ہزہاز کے راوی : ۴۳

سیف کی نظر میں ہزہاز کا نسب : ۴۳

بحث و تحقیق کا نتیجہ: ۴۳

مصادر و مآ خذ ۴۴

ہزہاز کے بارے میں سیف کی روایت : ۴۴

عجلی کا شجرہ نسب : ۴۴


٥٧واں جعلی صحابی حمیضتہ بن نعمان بارقی ۴۴

حمیضتہ بن نعمان بن حمیضئہ بارقی: ۴۵

حمیضہ کا نسب : ۴۵

حمیضہ کے افسانہ میں سیف کے راوی : ۴۸

حمیضہ کے افسانہ کا خلاصہ اوراس کی پڑتال: ۴۸

٥٨ واں جعلی صحابی جابراسدی ۵۱

٥٩واں جعلی صحابی عثمان بن ربیعۂ ثقفی ۵۲

عثمان بن ربیعہ ثقفی: ۵۲

اس صحابی کا نسب ۵۳

عثمان بن ربیعہ کے افسانہ میں سیف کے راوی: ۵۳

بحث کا نتیجہ : ۵۳

حمیضۂ بارقی کے بارے میں : ۵۴

جابر اسدی کے بارے میں : ۵۴

عثمان بن ربیعہ کے بارے میں : ۵۴

مصادر و مآ خذ ۵۵

قبائل خزاعہ کا نسب اور ان کے عہدوپیمان: ۵۶

جابراسدی کے بارے میں سیف کی روایت : ۵۶

عثمان بن ربیعہ کے حالات: ۵۶

ربیعہ بن عثمان قرشی کے حالات: ۵۶

جمحی کا نسب: ۵۶


ساٹھواں جعلی صحابی سواد بن مالک تمیمی ۵۷

سواد بن مالک تمیمی : ۵۷

افسانہ سواد میں سیف کے راوی ۵۹

اس بحث و تحقیق کا نتیجہ ۶۰

افسانہ سواد کو نقل کر نے والی علما: ۶۰

مصادر و مآخذ ۶۱

سواد بن مالک کے بارے میں سیف کی روایت : ۶۱

سواد بن مالک داری کے حالات: ۶۱

دوسرا حصہ ۶۲

عراق کی جنگوں میں سعد وقاص کے ہمراہ جنگی افسر اور سپہ سالار( ٢) ۶۲

افسانہ ٔ عمرو کے اسناد کی پڑتال : ۶۴

اس بحث کا نتیجہ: ۶۴

مصادر و مآخذ ۶۴

عمرو بن وبرہ کے حالات: ۶۴

قبائل قضاعہ کا نسب : ۶۵

باسٹھ واں جعلی صحابی حمّال بن مالک بن حمّال ۶۵

حمّال بن مالک بن حمّال : ۶۵

''حَمَل بن مالک بن جنادہ '': ۶۵

ترسٹھ واں جعلی صحابی ر بیل بن عمروبن ربیعہ ۶۷

ربیال بن عمرو: ۶۷


حمال و ربّیل کا افسانہ ۶۸

اس جانچ پڑتال کا نتیجہ ۷۳

جو کچھ ہم نے کہا ، اس سے یہ حاصل ہوتا: ۷۳

حماّل اور ربیل کا افسانہ ثبت کرنے والے علما: ۷۶

مصادر و مآخذ ۷۷

حمّال بن مالک اسدی کے حالات: ۷۷

رِبّیل بن عمرو اسدی کے حالات: ۷۷

مسعود بن مالک اسدی کے حالات ۷۷

والب اسدی کا نسب: ۷۷

حمّال اور رِبیل اسدی کے بارے میں سیف کی روایات : ۷۷

چونسٹھ واں جعلی صحابی طلیحہ عبدری ۷۸

طلیحہ بن بلال قرشی عبدری : ۷۸

عبدری کا نسب: ۷۸

داستان طلیحہ کے راویوں کی پڑتال: ۷۹

بحث کا نتیجہ: ۷۹

مصادر و مآخذ ۸۰

طلیحۂ عبدری کے حالات: ۸۰

ہاشم بن عتبہ کی سپہ سالاری کے بارے میں سیف کی روایت : ۸۰

طلیحہ بن بلال کی سپہ سالاری : ۸۰

بنی عبدالدار کا نسب : ۸۰


قریش کا نسب: ۸۰

٦٥واں جعلی صحابی خلید بن منذربن سا وی عبدی ۸۱

خلیدبن منذربن ساوی عبدی: ۸۱

سیف کے اس صحابی کا نسب: ۸۱

خلید کا افسانہ: ۸۲

خلید کے افسانہ کے راویوں کی پڑتال : ۸۶

بحث و تحقیق کا نتیجہ ۸۷

افسانہ خلید سے سیف کے نتائج : ۸۸

خلید کا افسانہ نقل کر نے والے علما: ۸۸

مصاررو مآخذ ۹۱

منذر بن ساوی کا نسب: ۹۱

خلید بن منذر کے بارے میں سیف کی روایت : ۹۱

''طائووس'' کی تشریح : ۹۱

والی خرسان ''خلید بن کاس '' کی روایت : ۹۲

٦٦واں جعلی صحابی حارث بن یزید ۹۲

مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے والا: ۹۲

حارث بن یزید عامری دیگر: ۹۴

افسانہ حارث کے راویوں کی پڑتال : ۹۵

فتح جزیرہ کی داستان کی حقیقت : ۹۶

بحث و تحقیق کا نتیجہ ۹۸


نتیجہ کیا ہوگا؟ ۹۸

حارث کے افسانہ کو نقل کرنے والے علما: ۱۰۰

مصادر و مآخذ ۱۰۰

حارث بن یزید عامری کا افسانہ : ۱۰۱

''ھیت'' اور ''قرقیسیا'' کی فتح ،حقیقی فاتحوں کے ہاتھوں : ۱۰۱

عمر بن مالک بن عقبہ کے حالات : ۱۰۱

عمر بن مالک بن عتبہ کے حالات: ۱۰۱

عیاش بن ابی ربیعہ کے حالات: ۱۰۱

عمر بن عتبہ بن نوفل کے حالات: ۱۰۱

بنی زہرہ کانسب: ۱۰۱

تیسرا حصہّ: ۱۰۲

مختلف قبائل سے چند اصحاب ۱۰۲

٦٧ واں جعلی صحابی عبداﷲبن حفص قرشی ۱۰۳

عبداﷲ بن حفص بن غانم قرشی : ۱۰۳

حقیقت کیا ہے؟ ۱۰۳

عبداﷲحفص کے افسانہ کے راوی : ۱۰۴

عبداﷲ کے افسانہ کانتیجہ: ۱۰۵

مصادر و مآخذ ۱۰۵

عبداﷲ حفص کے حالات: ۱۰۵

جنگ '' یمامہ '' میں مہاجرین کاحقیقی پر چمدار: ۱۰۵


مبشر بن فضیل کے حالات: ۱۰۶

٦٨واں جعلی صحابی ابو حبیش ۱۰۶

ابوحبیش بن ذی ا للّحیہ عامری کلابی : ۱۰۶

ابو حبیش کا نسب ۱۰۶

ابو حبیش کی حدیث پر ایک بحث: ۱۰۸

مصادرو مآخذ ۱۰۸

ذولحیہُ کلابی کے حالات: ۱۰۸

ذولحیہ کا نسب: ۱۰۹

حبیش بن دلجہ ٔ قینی کے حالات: ۱۰۹

ذولحیہ کلابی'شریح بن عامر یا ضحاک بن قیس کے حالات: ۱۰۹

٦٩واں جعلی صحابی حارث بن مرّہ ۱۱۰

حارث بن مرّہ جہنی: ۱۱۰

اس صحابی کا نسب : ۱۱۰

مصادر و مأخذ ۱۱۲

خاندان جہینہ کانسب : ۱۱۲

حارث بن مرہ عبدی کی داستان اور صفین کی جنگ میں اس کی شرکت : ۱۱۲

چوتھا حصہ : ۱۱۳

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم عصر ہونے کے سبب اصحاب ۱۱۳

سترواں جعلی صحابی قرقرہ یا قرفتہ بن زاہر ۱۱۴

سعد وقاص کی مجلس ِ مشاورت: ۱۱۵


سفیروں کی داستان کے راویوں کی پڑتال : ۱۱۷

سفیروں کی حقیقی داستان: ۱۱۷

بحث کا نتیجہ: ۱۱۸

مصادر و مآ خذ ۱۱۹

قر قرہ بن زاہر کے حالات: ۱۱۹

''والبی ''کا نسب: ۱۱۹

سعد وقاص کے سفیروں کے بارے میں سیف کی روایت: ۱۱۹

حقیقی داستان اور ''مغیرة بن شعبہ '' کاسعد کے سفیر کی حیثیت سے جانا : ۱۱۹

٧١واں جعلی صحابی ابوُنُبا تہ نائل ۱۲۰

ابو نباتہ نائل اعرجی : ۱۲۰

ابو نباتہ کی شہر یار سے زورآزمائی کی داستان : ۱۲۱

افسانۂ نائل کے راوی: ۱۲۳

حقیقی داستان: ۱۲۳

بحث و تحقیق کا نتیجہ: ۱۲۵

مصادر و مآخذ ۱۲۶

شہر یار کے ساتھ نائل کے لڑنے کی داستان : ۱۲۷

زہیر بن سلیم اور نخارجان کی لڑائی سے متعلق روایات ۱۲۷

٧٢واں جعلی صحابی سعد بن عمیلہ ۱۲۸

سعد بن عملیہ فزاری : ۱۲۸

سعد کی روایت کے راویوں پر تحقیق : ۱۲۹


داستان کا نتیجہ : ۱۲۹

مصادر ومآخذ ۱۳۰

سعد بن عمیلہ فزاری کے حالات : ۱۳۰

سعد بن عمیلہ کے بارے میں سیف کی روایت : ۱۳۰

''فزارہ'' کا نسب : ۱۳۰

٧٣واں جعلی صحابی قریب بن ظفر عبدی ۱۳۰

قریب بن ظفر : ۱۳۰

افسانۂ قریب کے اسناد کی پڑتال : ۱۳۲

واقعہ نہاوند کی حقیقی داستان ۱۳۳

بحث و تحقیق کا نتیجہ ۱۳۳

مصادر و مآخذ ۱۳۴

قریب بن ظفر کے حالات : ۱۳۴

کوفہ پر عماریا سرکی حکومت اور نہاوند کی جنگ: ۱۳۵

عبدی کا نسب : ۱۳۵

جنگ نہاوند کی حقیقی تاریخ : ۱۳۵

٧٤واں جعلی صحابی عامر بن عبدالا سد ۱۳۶

عامر بن عبدالاسد: ۱۳۶

سیف نے عامر کے باپ کا کیا نام رکھا ہے ؟ ۱۳۸

ام سلمہ کا دیور : ۱۳۸

مصادر و مآخذ ۱۳۹


عامر بن عبدالاسد کے حالات: ۱۳۹

عامر کے بارے میں سیف کی روایتیں : ۱۳۹

عبدالاسد مخزوری کا نسب: ۱۳۹

پانچواں حصہ : ۱۴۰

ارتداد کی جنگوں کے افسراور سپہ سالار ۱۴۰

٧٥واں جعلی صحابی عبدالرحمان ابی العاص ۱۴۰

عبدالرحمان بن ابی العاص ثقفی : ۱۴۰

افسانہ عبدالرحمان اور سیف کے راوی: ۱۴۲

افسانہ کی پڑ تال : ۱۴۲

مصادر و مآخذ ۱۴۳

عبدالرحمان ابوالعاص کے حالات: ۱۴۳

عثمان ابو العاص کا نسب: ۱۴۳

طاہر ابو ہالہ کے حالات: ۱۴۳

سہل بن مالک کے حالات : ۱۴۴

ام قرفہ کے حالات: ۱۴۴

٧٦واں جعلی صحابی عبیدہ بن سعد ۱۴۴

عبیدہ بن سعد : ۱۴۴

سکاسک اورسکون کانسب اوران کی رہائش گاہ : ۱۴۵

افسانہ ٔ عبیدہ کے راوی کی پڑتال : ۱۴۵

تاریخی حقائق : ۱۴۵


بحث کا نتیجہ : ۱۴۶

مصادر و مآخذ ۱۴۷

عبیدہ بن سعد حالات : ۱۴۷

عبیدہ کے بارے میں سیف کی روایتں : ۱۴۷

ابوبکر کے گماشتوں اور کارگزاروں کے نام: ۱۴۷

سکاسک اور سکون کا نسب: ۱۴۷

٧٧واں جعلی صحابی خصفۂ تیمی ۱۴۸

خصفہ تیمی: ۱۴۸

داستان کا سرچشمہ : ۱۴۸

ایک اور جعلی صحابی : ۱۴۹

مصادر و مآخذ ۱۵۰

خصفہ تمیی کے حالات : ۱۵۰

خصفہ تمیی کے بارے میں سیف کی روایت: ۱۵۰

خصفہ یا ابن خصفہ کے حالات: ۱۵۰

٧٨واں جعلی صحابی یزید بن قینان ۱۵۰

یزید بن قینان:بنی مالک بن سعد سے۔ ۱۵۰

نسب: ۱۵۱

یزید قینان کی داستان تاریخ طبری میں : ۱۵۱

یزید قینان کی روایت کی پڑتال : ۱۵۲

بحث کا نتیجہ: ۱۵۲


مصادر و مآخذ ۱۵۳

یزید بن قینان کے حالات : ۱۵۳

یزید بن قینان کی داستان کے بارے میں سیف کی روایت : ۱۵۳

اشعث بن قیس کی داستان اور '' کندہ '' کا ارتداد: ۱۵۳

سیف کے اجعل کردہ مقامات کی تشریح: ۱۵۳

٧٩واں جعلی صحابی صیحان بن صوحان ۱۵۴

صیحان بن صوحان عبدی : ۱۵۴

اس صحابی کا نسب : ۱۵۴

٨٠واں جعلی صحابی عبادناجی ۱۵۵

عبادناجی : ۱۵۵

نسب : ۱۵۵

٨١واں جعلی صحابی شحریب ۱۵۷

شحریب ، بنی نجرات سے ایک شخص: ۱۵۷

اس صحابی کا نسب: ۱۵۷

ان تین اصحاب کے بارے میں ایک جامع بحث ۱۵۸

صیحان ،عبادناجی اورشحریب ۱۵۸

اس داستان میں سیف کے راویوں کی پڑتال : ۱۶۰

حقیقت ماجرا: ۱۶۱

جانچ پڑتال کا نتیجہ : ۱۶۲

مصادر و مآخذ ۱۶۳


عباد ناجی کے بارے میں : ۱۶۳

شحریب کے بارے میں : ۱۶۳

خریت بن راشد کے بارے میں : ۱۶۳

سیحان بن صو حان کے بارے میں : ۱۶۴

تین صحابیوں کے بارے میں سیف کی روایتیں : ۱۶۴

جنگ ''دبا' کے حقا ئق : ۱۶۴

عباد بن منصور ناجی کے بارے میں : ۱۶۴

صوحان کے بیٹوں کے نام : ۱۶۵

سیف کی روایتوں میں مذکور اس داستان کے مقامات کی تفصیلات : ۱۶۵

چھٹا حصّہ: ۱۶۶

ابو بکر کی مصاحبت کے سبب بننے والے اصحاب ۱۶۶

٨٢واں جعلی صحابی شریک فزاری ۱۶۷

شریک فزاری : ۱۶۷

اس صحابی کے لئے سیف کا خلق کیا ہوا نسب : ۱۶۷

شریک کی داستان : ۱۶۷

مصادر و مآخذ ۱۶۸

شریک فزاری کے حالات : ۱۶۸

شریک غیر منسوب کے حالات: ۱۶۸

خارجہ بن حصن کے حالات: ۱۶۸

فزارہ کا نسب: ۱۶۸


٨٣واں جعلی صحابی مسور بن عمرو ۱۶۸

مسوربن عمرو: ۱۶۸

مصادر و مآخذ ۱۷۱

مسور بن عمرو کے حالات : ۱۷۱

مسور بن عمروبن عباد کے حالات : ۱۷۱

عباد بن حصین کے حالات: ۱۷۱

مسور بن عمروعباد کا نسب: ۱۷۱

٨٤ واں جعلی صحابی معاویہ عذری ۱۷۲

معاویہ عذری : ۱۷۲

اس صحابی کے لئے سیف نے کیا نسب لکھا : ۱۷۲

معاویہ عذری کی داستان : ۱۷۳

مصادر و مآخذ ۱۷۴

معاویہ عذری کے حالات: ۱۷۴

سعد ھذیم کے ارتداد کے بارے میں سیف کی روایت: ۱۷۴

بنی عذرہ کا نسب ۱۷۴

٨٥واں جعلی صحابی ایک جعلی صحابی کے دو چہرے ۱۷۴

شہر ذویناف (ذویناق) ۱۷۴

فیروز کی قیس سے جنگ: ۱۷۸

اس افسانہ کے راویوں کی تحقیق: ۱۸۰

اصل حقیقت: ۱۸۰


تاریخی حقائق اور سیف کا افسانہ: ۱۸۱

٨٦واں جعلی صحابی معاویہ ثقفی ۱۸۲

معاویہ ثقفی احلاف سے : ۱۸۳

معاویہ ٔ عقیلی : ۱۸۳

سعید بن عافر: ۱۸۴

افسانہ ''شہرو معاویہ'' سے سیف کانتیجہ : ۱۸۵

مصادر و مآخذ ۱۸۵

ذویناف کے حالات: ۱۸۵

شہر کے حالات: ۱۸۶

معاویہ ثقفی کے حالات: ۱۸۶

معاویہ عقیلی کے حالات: ۱۸۶

افسانہ شہر ، معاویہ ، اور قیس کے بارے میں سیف کی روایات: ۱۸۶

داستان قیس کے بارے میں تاریخی حقائق: ۱۸۶

معاویہ بن عبدالکریم کے حالات: ۱۸۶

ساتواں حصہّ: ۱۸۷

حضرت ابوبکر کی جنگوں میں شرکت کرنے کے سبب بننے والا اصحاب ۱۸۷

حضرت ابو بکر کی سپاہ کو مدد پہنچانے کے سبب بننے والے اصحاب۔ ۱۸۸

٧٩واں جعلی صحابی سیف بن نعمان ۱۸۸

سیف بن نعمان لخمی : ۱۸۸

اس صحابی کا نسب : ۱۸۸


سیف بن نعمان اور بنی جذام کی جنگ: ۱۸۸

مصادر و مآخذ ۱۸۹

سیف بن نعمان لخمی کے حالات: ۱۸۹

خاندان لخمی کا نسب: ۱۸۹

اسامہ بن زید کی جذا میوں سے جنگ: ۱۸۹

سیف بن نعمان ، شاگرد و پیرو تابعین کے حالات: ۱۸۹

٨٨واں جعلی صحابی ثمامہ بن اوس ۱۹۰

ثمامہ بن اوس بن ثابت بن لام طائی : ۱۹۰

٨٩واں جعلی صحابی مہلہل بن زید ۱۹۱

مہلہل بن زید الخیل طائی : ۱۹۱

ثمامہ و مہلہل کے بارے میں ایک مجموعی بحث ۱۹۲

''ثمامہ اور مہلہل '' کے اسناد: ۱۹۳

معتبر منابع میں سیف کا افسانہ: ۱۹۳

''اکناف'': ۱۹۳

خلاصہ : ۱۹۵

مکنف ، عروہ ، حنظلہ اور حریث ۱۹۶

مصادر ومآخذ ۱۹۶

٭تمامہ بن اوس طائی کے حالات: ۱۹۶

٭مہلہل بن زید طائی کے حالات: ۱۹۶

٭مہلہل مجہول النسب کے حالات: ۱۹۶


٭طلیحہ ،ثمامہ اور مہلہل کی داستان کے بارے میں سیف کی روایت : ۱۹۷

٭ذید الخیل کا نسب : ۱۹۷

٭طی کے بارے میں ایک تشریح : ۱۹۷

٭طی کے نمایندوں کی داستان : ۱۹۷

٩٠واں جعلی صحابی غزال ہمدانی ۱۹۸

غزال ھمدانی : ۱۹۸

غزال ھمدانی کی داستان روایت : ۱۹۸

افسانہ غزال میں سیف کے اسناد: ۱۹۹

بحث کا نتیجہ : ۱۹۹

مصادر و ما خذ ۱۹۹

٭غزال ھمدانی کے بارے میں سیف کی روایت ۲۰۰

٭قبائل ھمدان کا نسب ۲۰۰

٩١واں جعلی صحابی معاویہ بن انس ۲۰۰

معاویہ بن انس سلمی : ۲۰۰

اس صحابی کا نسب : ۲۰۰

معاویہ انس کی روایت اور داستان : ۲۰۱

افسانہ ٔ معاویہ میں سیف کے اسناد: ۲۰۱

افسانہ ٔ معاویہ سے سیف کا مقصد : ۲۰۲

مصادر و ما خذ ۲۰۳

٭معاویہ بن انس کے حالات: ۲۰۳


٭یمانیو ں کے ارتداد کے بارے میں سیف کی روایت : ۲۰۳

٭سلمیوں کا نسب: ۲۰۴

٩٢واں جعلی صحابی جراد بن مالک ۲۰۴

جراد بن مالک نویرہ : ۲۰۴

سیف کے اس صحابی کا نسب : ۲۰۴

روایت کے استاد: ۲۰۵

افسانہ کا نتیجہ: ۲۰۵

مصادر و مآخذ ۲۰۷

جراد بن مالک نویرہ کے حالات: ۲۰۷

قعقاع بن عمرو کے حالات: ۲۰۸

ٍٍ طاہر ابو ہالہ کے حالات: ۲۰۸

زیاد بن حنظلہ کے حالات: ۲۰۸

نافع بن اسود کے حالات: ۲۰۸

٩٣واں جعلی صحابی عبدبن غوث حمیری ۲۰۹

عبد بن غوث حمیری : ۲۰۹

اس صحابی کا نسب : ۲۰۹

انوکھا جھوٹ: ۲۱۰

تاریخی حقائق : ۲۱۱

مصادر و مآخذ ۲۱۲

عیاض کے بارے میں سیف کی روایت ۲۱۲


عیاض بن غنم کے حالات: ۲۱۲

عیاض کی جنگوں کی داستان : ۲۱۳

الفاظ اور مفاہیم : ۲۱۵

١۔مَثَل: ۲۱۶

٢۔ خرافہ: ۲۱۸

٣۔اسطورہ : ۲۱۸

سیف کی داستا نوں کا کیا نام رکھیں ؟ ۲۱۹

سیف کی داستانوں کے چند نمونے: ۲۲۱

لفظ '' افسانہ ''سیف کی داستانوں کیلئے مناسب ہے ۲۲۳

فہرست اعلام ۲۲۵

امتوں اور ملتوں کی فہرست ۲۳۶

جغرافیائی مقامات کی فہرست ۲۴۳

منابع و مصادر کی فہرست ۲۴۸

تاریخی وقائع کی فہرست ۲۵۲


ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ٤

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 273