چار یار

مؤلف: عبد الکریم مشتاق
اسلامی شخصیتیں


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : چار ۴ یار

مؤلفہ: عبد الکریم مشتاق

ای بک کپوزنگ :حافظی

نیٹ ورک: شبکہ امامین حسنین علیھما السلام


معنون

میں بندہ حقیر ،شرمندہ وعاجز پر تقصیر اپنی یہ ادنی خدمت یاران رسول حضرت علی علیہ السلام ،ابو ذر غفاری ،مقداد،اور مولی رسول سلمان الفارسی رضی اللہ عنھم کے اسماء مبارکہ سے معنون کرتا ہوں اور ان حقیقی چار یاروں کے وسیلے سے بارگاہ رب العالمین میں ملتجی ہوں کہ وہ تمام مسلمانوں میں سچی محبت ،یقین محکم ۔باہمی ۔اتحاد اور قرآنی نظم وضبط پیداکرے (آمین)

احقر العباد

عبد الکریم مشتاق


بسم الله الرحمان الرحیم ۔

اللہ سبحانہ تعالی نے قرآن مجید میں تمام اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ "یا ایھا الّذین آمنوا لا تتو لّوا قوما غضب اللہ علیھم ۔۔الخ" اے ایما ن والو جن لوگوں پر خدا نے غضب ڈھایا ہے ان سے محبت مت رکھو ۔(سورہ الممتحنہ پارہ نمبر ۲۸ آیت ۱۳)

ہم شیعہ اثنا عشریہ پر یہ یہ عرصہ دراز سے الزام بے بنیاد عائد کیا جارہا ہے کہ شیعہ صحابہ کو براجانتے ہیں، معاذاللہ ان کو گالیاں دیتے ہیں ،حالانکہ آج تک مخالفین اپنے اس دعوی کو ثابت نہ کرسکے کیونکہ بحمد اللہ وبعونہ ہم تمام نیک وعدل پسند وفقاء رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہ صرف عقیدۃ بزرگ مانتے ہیں بلکہ ان کو ہدایت کا نشان تسلیم کرتے ہیں ۔البتہ ہم ان حضرات سے سے محبت نہیں رکھتے جو مغضوب خدا قرار پائے اور ہمارا یہ مختار قرآن حکیم کی نص جلی کی متابعت میں ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیت وافی ہدایت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے ۔

ہمارا مذہب یہ ہے کہ صحابی کے دومعانی ہیں یعنی ایک تعریف عام کہ جو کوئی بھی صحبت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں پہنچا وہ صحابی ہے اور دوسری تعریف خاص ہے کہ جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور حالت ایمان میں دنیا سے رخصت ہوا ۔


اسی مؤخر الذکر تعریف کو ملحوظ رکھتے ہوئے اہل تشیع اصحاب رسول (رض) کو محترم و معظم تسلیم کرتے ہیں ۔قرآن مجید میں ان ہی رفقاء (رض) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعریف ایمان اور مدح اعمال صالحہ بیان ہوئی ہیں ۔ اسی طرح اور الذکر اشخاص کی مذمت (نفاق و کفر و ارتداد و‏‏غیرہ کی وجہ سے ) کلام پاک میں مذکو ر ہے ۔ اسی طرح کتب احادث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں "باب الفتن" میں ایسے ہی اصحاب کا تذکرہ موجود ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے زاری فرمائیں گے ۔

ایسے مقدوحانہ اور ممدوحانہ اقتباسات کی قرآن و احادیث میں موجود گی بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں مومن و منافق ہر دو طرح کے اشخاص تھے پس "کل" کو برا جاننے والا مذہب امامیہ کی رو سے ملّت اسلامیہ سے ہی باہر ہے کیونکہ وہ منکر قرآن ہے ۔اسی طرح "کل" سے محبت کرنے والا اور تمام کو "عدول" سمجھنے والا مخالف قرآن اور منکر حکم خدا ہے ۔جیسا کہ اوپر نقل کردہ آیت سے صاف ظاہر ہے ۔

پس توفیق الہیہ کے طفیل شیعوں نے بتمسک ثقلین اچھے اور برے میں تمیز کرلی اور پوری احتیاط سے ان لوگوں سے محبت نہ کی جو ازروئے قرآن مغضوب قرار پاتے ہیں ۔ اہل شیعہ نے اس اصول کی پابندی کی کہ جن لوگوں سے ثقل دوم (اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) نے بے زاری اختیار کی انکی طرف نگاہ محبت نہ اٹھائی ۔ ہم نے جانچ پڑتال کا یہ معیار اختیار کیا کہ جس نے اہل بیت رسول(ع) سے محبت رکھی ہم نے اسے مو من کامل وفرد متقی مانا اور اجس جس نے ثقل دوم


سے عداوت رکھی ہم بھی اس سے نفرت کرتے ہیں ۔

اہل سنت والجماعتہ کے قطب العالم حضرت مولوی رشید احمد گنگو ہی نے ہمارے خلاف ایک کتاب "ھدایۃ الشیعۃ" نامی تحریر فرمائی اس کتاب میں حضرت صاحب رقم کرتے ہیں کہ "لاریب اہل سنت صحابی اس کو کہتے ہیں کہ با ا سلام خدمت سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور با ایمان انتقال کیا اور مرتد ہوکر مرنے والے کو صحابی نہیں کہتے "(ھدایۃ الشیعۃص ۲۲)

پس یہی عقیدہ شیعوں کا ہے پھر اختلاف کیسا؟

اسی کتاب میں گنگوہی صاحب آگے جاکر لکھتے ہیں کہ "بعض منافق بھی صحابہ میں ملے ہوئے تھے ۔ہر چند ان کے نفاق کی خبر صحابہ کو تھی مگر ظاہر پر تھا اور انجام کا رسب ممیّز ہوگئے تھے کسی کا حال مخفی نہ رہا تھا"(ھدایۃ الشیعۃ ص ۵۷)۔

اب خود فیصلہ کر لیا جائے کہ ایسے منافقین لائق تعظیم ہوسکتے ہیں یا نہیں ۔حالانکہ دائرہ اصحاب میں داخل تھے ۔اگر یہ لوگ کسی عزّت کے مستحق نہ تھے تو پھر "سب کے احترام" کی پابندی کیونکر مستحسن قرار پائے گی۔؟

مجھے یہ لکھتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے مخالفین نے ہمارے خلاف کس قدر بے ہودہ اور من گھڑت پرو پیگنڈا کر رکھا ہے کہ شیعہ اصحاب کو نہیں مانتے ، لوگ بلا تحقیق یہ تہمت ہم پر باندھتے ہیں اور ہماری صفائی پر کان دھرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔اگر ہماری معروضات سماعت فرمائی جائیں تو بڑی آسانی سے ان وجوہات سے آگاہی ہوسکتی


ہے جو اس نزاع کا باعث ہیں ۔معمولی سا غور وفکر حق وباطل کی تمیز کرنے میں کافی ہوسکتا ہے ۔

یاد رکھیں ! ہادی عالمین ، رسول ثقلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت حمیدہ کو دو وسیلوں کے سپرد کیا ہے ۔اول ۔کتاب اللہ(قرآن)اور ۔دوم۔ عترت نبی (اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )۔جیسا کہ حدیث ثقلین کی تائید میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں تحریر کیا ہے ۔پس اسی کے تحت شیعہ ہر اس ہستی کا احترام کرتے ہیں جو ان فرمودہ رسول ثقلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ ہو ۔اور جس نے ان کوچھوڑا اسے شیعوں نے بھی چھوڑ دیا ۔اب جب کبھی یہ سوال آجائے کہ فلاں بزرگ کو شیعہ واجب التعظیم نہیں سمجھتے تو سمجھ لیجئے کہ فریق مخالف ہی کی قوی شہادت کی بنا پر اسی فرد پر یہ الزام ہے کہ اس نے حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے تمسک بالثقلین کا حکم نہیں مانا ۔ یا تو وہ مخدومہ کونین ،خاتو ن جنت ،سید طاہرہ سلام اللہ علیھا کی ناراضگی کا باعث ہوا اور مغضوبین کے زمرے میں آگیا کیونکہ بخاری شریف میں ہے کہ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا "فاطمہ (س) میرے جگر کا ٹکڑا ہے ،جس نے اسے غضبناکیا اس نے مجھے غضبناک کر لیا اور جس نے مجھے غضبناک کیا اس نے خدا کو غضبناک کیا "

یا پھر کسی نے صرف ایک ہی ثقل کتاب اللہ کو کافی کہکر دوسرے ثقل سے عداوت کرکے نافرمانی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ۔ کوئی ثقل اوّل کو نذر آتش کرکے توہین ثقلین کا مرتکب ہوا اور کچھ ایسے نڈر ہوئے کہ اہل بیت (ع) سے رزم آرائی کر کے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لڑائی مول لی ۔ المختصر


بلاوجہ وجواز محکم ہو کسی سے عداوت نہیں رکھتے ۔

خدا بہتر جانتا ہے کہ شر پسند لوگ ہم پر بلا وجہ اتہام طرازی کرتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی عزت نہیں کرتے حالانکہ ہم ان کی ذوات بابرکات کے واسطے سے اپنی دعائیں بارگاہ سامع الدعوات میں عرض کرتے ہیں چنانچہ سیّد الساجدین ،امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات جو صحیفہ کاملہ میں منقول ہیں اس بات کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ ہم صحابہ (رض) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیدائی اور حبدار ہیں ۔ان کے مراتب جلیلہ کے معترف اور فضائل ومناقب کے معتقد ہیں ۔عبارت مندرجہ ذیل کی نقل کے بعد ہم پر اصحاب دشمنی کے بہتان کی قلعی سب پر کھل جاتی ہے چنانچہ ارشاد معصوم (ع) ہے کہ

"خداوندا ! رحمت نازل فرما اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنھوں نے حق صحبت نہایت خوبی سے ادا کیا ۔جنھوں نے ہر طرح کے مصائب اور تکالیف کو ان کی اعانت میں گوارہ کیا ۔ جنہوں نے ان کی رسالت تسلیم کرنے میں جلدی فرمائی۔اور جن ان کی دعوت کی اجابت میں سبقت کی ۔جب ان کو رسول خدا نے اپنی رسالت کی حجتیں بتائیں تو انھوں نے بلا توقف قبول کیا ۔ان کی نبوت کے اظہار میں اپنے آباؤ اولاد کو قتل کیا ۔ جب ان لوگوں نے دامن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھاما تو ان کے کنبے وخاندان کے افراد نے ان سے قطع تعلق کرلیا اور جب وہ پیغمبر کی قربت


میں آئے تو ان کے رشتہ داروں نے ان سے ناطے توڑلئے۔پس خدایا ! مت بھول تو ان باتوں کو جو اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تیرے لئے چھوڑا اور راضی کردینا تو ان کو اپنی رضا مندی سے اس لئے کہ انھوں نے خلقت خدا کو تیری طرف جمع کردیا اور تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ دعوت دین اسلام کا حق ادا کردیا ۔ الہی ! وہ شکر کرنے کے لائق ہیں کہ انھوں نے اپنی قوم اور خانوادے اپنے گھر ووطن کو تیری خاطر چھوڑا ،اپنے عیش و آرام کو ترک کرکے ضیق معاش کو تیرے لئے اختیار کیا اور خداوندا! ان کے تابعین کوجزائے خیر دے ۔جو دعا کیا کرتے ہیں کہ پروردگار ہماری مغفرت کر اور ہمارےف ان بھایئوں کی جو ہم میں سے ایمان میں سبقت لے گئے ہیں وہ تابعین ایسے ہیں کہ ان اصحاب (رض) کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔اور ان کے نشانات کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی ہدایت کی اقتدا کرتے ہیں جن کو کوئی شک ان کی نصرت میں نہیں آتا جن کے دل میں کوئی شبہ ان کے آثار کی پیروی میں نہیں آتا ،کیسے تابعین جو معاون ومدد گار اصحاب (رض) کے ہیں ۔جو ان کی ہدایت کے مطابق رہتے ہیں ۔اور ان کے موافق ہدایت پاتے ہیں ۔اور جو اصحاب (رض) سے اتفاق رکھتے ہیں اور جو کچھ اصحاب نے انھیں پہنچایا اس میں ان پر کچھ تہمت نہیں کرتے ۔خدایا رحمت نازل کر ان اصحاب (رض) کی اتباع کرنے والوں پر آج کے دن جس دن میں ہم (موجود) ہیں تا قیامت او ران کی ازواج واولاد پر۔(آمین)

ان مراتب وفضائل کے ہوتے ہوئے اگر کوئی ہم پر نفرین صحابہ کی تہمت باندھے تو اس کا سبب عداوت بے معنی نہیں تو اور کیا ہے ؟


بارالہا!تجھے معلوم ہے کہ ہم اس الزام سے بھری ہیں۔ لہذا ہم یہ معاملہ تیری جانب لوٹاتے ہیں اور تجھے تیرے محبوب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منظور نظر اصحاب کاواسطہ دیتے ہیں کہ حق وباطل کا فیصلہ فرما ۔

"انّا من المجرمین منتقمین"

ہمارے مخالفین نے یہاں تک زبان درازی کی ہے کہ شیعہ تما اصحاب کو مرتد سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کے بعد اصحاب رسول کا درجہ تمام امت سے بلند ہے لیکن ہم صحابی کہتے ہی اس فرد کا مل کو ہیں جو اظہر اقوال کی بنا پر حالت ایمان میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے دائرہ صحبت میں تشریف لایا اور مومن ہی فوت ہوا ۔ مطلب ہمارے مختار کا صاف ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں رسو ل اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مقبول سے ملاقات کے بعد عہد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا بعد عہدرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایمان کی حالت میں فوت ہوا وہ صحابی کہلانے کا حق ہی اسی مرد ناجی کو ہے ۔ اس کے برعکس جس کسی کا خاتمہ بالخیر نہ ہوگا وہ شرف صحابیت کی دنیوی واخروی مراعات سے محروم ہوگا ۔ویسے تو کتب فریقین میں صحابہ کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار نفوس تک مرقوم ہوئی ہے لیکن ان میں مدارج کے لحاظ سے یقینا مراتب کا فرق ہے ۔

علامہ ابن قتیبہ کی تحقیق کے مطابق مندرجہ ذیل سترہ اصحاب النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امتیاز حاصل ہے ۔

۱:- حضرت سلمان فارسی ۔۲:- حضرت ابو ذر ‏‏غفاری ۔۳:- حضرت مقداد بن اسود ۔۴:- حضرت عمار یاسر ۔۵:- حضرت خالد بن معید ۔۶


:- حضرت بریدہ اسلمی ۔۷:- حضرت ابی بن کعب ۔۸:- حضرت خذیفہ بن ثابت ۔۹:- حضرت سہل بن حنیف ۔

۱۰:-حضرت عثمان بن حنیف ۔۱۱:- حضرت ابو ایوب انصاری۔۱۲:- حضرت حذیفہ بن یمان ۔۱۳:-حضرت سعد بن یمان۔۱۴:- حضرت قیس بن سعد ۔۱۵:- حضرت عباس بن عبد المطلب ۔۱۶:- حضرت عبداللہ بن عباس ۔۱۷:- حضرت ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنھم ۔

حجۃ الا سلام علامہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء اعلی اللہ مقامہ نس اس سلسلے میں تین سو نفوس کا حوالہ دیا ہے ۔

علامہ نوری نے حضرت سلمان فارسی،ابوذر، مقداد، عمار ، ابو سا مانی ، حذیفہ اور ابو عمرہ کو ممتاز صحابہ میں شمار کیا ہے ۔ امام اہلسنت علامہ ابو حاتم سجستانی بصری بغدادی اپنی کتاب " الزینت " میں لکھتے ہیں کہ عہد رسول میں جو لفظ سب سے پہلے متداول اور مشہور ہوا وہ "شیعہ " ہے اور یہ لفظ (شیعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چار صحابہ حضرات سلمان ، ابوذر،مقداد اور عمار یاسر رضی اللہ عنھم کا طرہ امتیاز بن گیا تھا (روح القرآن ص ۶۶)۔

اس تصریح سےثابت ہوا کہ زمان رسول میں صحابہ کرام کا ایا گروہ ایسا موجود تھا جو خود کو شیعہ کہلواتے تھے ۔پس لقب شیعہ قدامت تاریخ کے لحاظ سے مقدم ٹھہر ا اور شیعوں کا وجود دور رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ثابت ہوگیا ۔

الغرض ہم اپنے دین و مذہب میں کسی شک وشبہ میں مبتلا نہیں ہیں نہ ہی ہم صحابہ رسول کے مراتب میں فرق و تمیز کرنے


میں ارشاد خداوندی کے مخالف ہیں۔ حلقہ اصحاب میں جو صحابہ عظام رضوا ن اللہ علیھم صداقت شعار اور حق پرست تھے ہم ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ جو صحابہ متمسک بالثقلین تھے اور صفات حسنہ سے متصف تھے انھیں محبوب ودوست رکھتے ہیں البتہ ہماری پر خاموش ان دوست نما اصحاب سے ہے جنھوں نے خدا ورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خیانت کی ہم ایسے لوگوں کی پیروی کرنا دین حق سے غداری سمجبھتے ہیں ۔پس ہم ظالم نام نہاد صحابہ پر اعتماد نہیں کرتے نہ ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں کہ انھوں نے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ دشمنی کی ۔

جب مخالفین مذہب اہل بیت ہمارے مسلک میں کوئی اور خامی تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر وہ ایسی جھوٹی تہمتیں باندھنے میں اپنا بچاؤ دیکھتے ہیں اور اس قسم کی رقیق باتیں ہم سے منسوب کرتے ہیں جن کا تصور بھی صحیح الدماغ شخص نہیں کرسکتا چنانچہ ایسا ہی اوچھا ہتیھیار ہمارے خلاف یہ استعمال کیا جاتا رہا ہے کہ شیعہ تمام صحابہ کو کافر قرار دیتے ہیں اور یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو گالیاں بکتے ہیں ۔

ہم نے ا س مسئلہ پر اس کتاب میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور مدلّل و شرین مباحثوں سے اپنے موقف کو پیش خدمت کیا ہے نیز عالی مرتبت اصحاب رسول میں سے چار جلیل القدر صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے انشا اللہ مخالفین یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ شیعوں پر یہ بے ہودہ الزام کہ وہ صحا بہ کے منکر ہیں اور تمام صحابیوں کو معاذاللہ کا فر سمجھتے ہیں قطعا غلط اور


سراسر بہتان ہے ۔ یہ بات محض تعصّب وفرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ ہے ۔ذوق سلیم رکھنے والے قارئین پر اس حقیقت کا انکشاف ہو جائے گا کہ مخالفین نے یہ چال کس ہو شیاری سے چلی اور اس کا پس منظر کیا تھا ۔

آغاز کتاب سے قبل ہو اپنے مسلمان بھائیوں سے دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ راہ خدا کسی بات کو زبان سے ادا کرنے سے پہلے اس پر سوچ بچار کرلیا کریں ۔اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا کریں ۔ اسلاف کی کور کورانہ تقلید اور غلط قیاسات کبھی ہدایت کے معاون نہیں ہو تے ہیں لہذا باہمی اتحاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی پر الزام دینے سے پہلے اس کی مکمل چھان بین کر لیا کریں نیز سازشی جالوں او ر مستورہ ریشہ دوانیوں سے خبردار رہا کریں کیوں کہ اسی طریقہ سے امت میں اتحاد و یک جہتی اور باہمی اخوت برقرار رہ سکتی ہے جو اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے او ر ہماری ملت اب مزید کسی انتشار وفساد کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے ۔ اب جذبات کے ساتھ ساتھ اصلاحات کی بھی ضرورت ہے اور قوم کی ترقی و استقلال کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب مؤعظہ حسنہ کی تعلیم اسلام پر عمل کریں اور لا اکراہ فی الدین کے قرآنی حکم کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ شکریہ

ملتجی

عبد الکریم مشتاق

*****


چار یار رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

" عن ابن بریدة عن ابیه قال "قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ان الله امرنی یحب اربعة و اخبر نی انه یحبهم قیل یا رسول الله اسمعهم لنا قال علی منهم ،یقول ذالک ثلا ثة و ابوذر و المقداد و سلمان و امرنی احبهم و اخبرنی انه یحبهم "

(جامع ترمذی جلد دوم ص ۵۷۴ مطبوعہ :نو لکشور پریس لکھنؤ)

"حضرت ابن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اللہ تعالی نے مجھے چار شخصوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ میں (اللہ) بھی ان( چاروں ) کو دوست رکھتا ہوں ۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کے نام ہم کو بتا ئیں (رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے) فرمایا ،"علی ان میں سے ہے "۔اور آپ نے یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا اور حضرت ابوذر (غفاری) حضرت مقداد (بن اسود)اور حضرت سلمان( فارسی) اور حضور نے مجھے (روای کو) ان کی محبت کو حکم دیا ہے ۔اور خبر دی ہے کہ میں بھی(حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) ان کو اپنا یار رکھتا ہوں "

حدیث منقولہ بالا میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چار یاروں کا تعارف اس جامع انداز میں کروایا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی فضیلت نہیں ہوسکتی جو کسی غیر معصوم ہستی کو نصیب ہو سکے کہ اللہ تعالی نے ان چاربزرگواروں کی محبت کا حکم صادر فرمایا ہے اور ان کو اپنا دوست قرار دیا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی تاکید فرمائی ہے کہ وہ ان کو اپنا یار بنا ئے رکھے ۔


مقام افسوس ہے کہ ایسے عظیم مرتبت اصحاب رسول کے فضائل و مناقب کو اتنے پردوں میں ڈھانپا جا چکا ہے کہ عام مسلمان ان یا ران خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اسماء مبارکہ سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ ان کے کمالات و اعزازات کا اخفاء نہایت گھناؤ نی محلاتی سازش کے تحت ضروری ہوا اور ایسے ایسے بندوبست کئے گئے کہ ان نجوم ہدایت کی روشنی ماند پڑ جائے مگر باوجود لاکھ حیلہ جوئی کے مخالفین کی تمام تدابیر الٹی ہو گئیں اور ان جلیل القدر اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشانات کی پیروی کے بغیر راہ ہدایت نصیب نہ ہو سکی ۔ ہم مسرور ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں تو فیق عطا فرما ئی کہ یاران خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی درگا ہوں میں نذرا نہ عقیدت پیش کرسکیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ان مقتدر نفوس کی تعریف و توصیف ہم جیسے ناقص بندوں بس کی بات نہیں ہے جبکہ ان گرامی قدر حضرات کی مدح سرائی خداوند قدوس نے اپنے کلام پلاک میں فرمائی اور رسول مقدس نے ان کے تقدس کی قصیدہ خوانی اپنی احادیث پاک کے ذریعے فرمائی ۔ ائمہ طاہرین نے اپنی زبان مطہر سے ان متبرک ہستیوں سے محبت وعقیدت رکھنے کی تائید کی ۔تاہم حصول ثواب کی خاطر ہم ان برگزیدہ محبوبان خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت کے جذبات کا اظہار کرنے میں دلی مسرت اور قلبی فرحت محسوس کر رہے ہیں ۔اور یقین واثق رکھتے ہیں کہ ہماری یہ ادنی سی خدمت مقبول ہوگی ۔

قبل اس کے ہم یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مناقب نقل کریں ضروری خیال کرتے ہیں کہ چند مقدمات پیش کریں جن میں ان مسائل کا تصفیہ ہوجائے کہ کیا وجہ ہے کہ ایسی بلند پایہ ہستیوں کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جس کا یہ استحقاق محفوظ رکھتے ہیں اور ان کے غیروں کو ان پر


فوقیت کیوں دی جانے لگی ہے ۔ اس بات کا سبب کیا تھا کہ زمانہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ان اصحاب باوفا کو جو مقامات عالیہ نصیب تھے بعد میں ان کی قدر نہ کی گئی ۔ امت حمیدہ کے ان درخشیدہ ستاروں کی روشنی کے مدھم پڑجانے کا باعث کیا ہوا ۔ اور کیوں بے جرم وخطا ان یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بے اعتنائی کا سلوک کیا گیا چونکہ اس قسم کے سوالات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اس لئے ان پر حسب استطا عت گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

مقدمہ:-

اگر ہم تاریخ عالم کا مطالعہ باریک بینی سے کریں تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تمام عظیم الشان مدبّر ین سلطنت کی سیاست کے دو مشترکہ اصول اساسی تھے ۔ جو ان کامیابی کے راز تھے پہلا یہ کہ " اپنے مقاصد کے حصول کی خا طر ہر ایک امر ما سوا کی طرف سے مطلقا بے تو جہی اختیار کرکے اس کو قطعا نظر انداز کردینا ۔"

مذہب اور محبت دوبڑی طاقتیں ہیں لیکن ان فرماں رواؤں نے ان طاقتوں کو بھی مفلوج بنا کر اپنا سکہ جمایا ۔ دوسرا کہ " اپنے ارادہ اور دلی راز کو اس طرح خفیہ رکھنا ، کہ عوام الناس کو اس کی بھنک بھی نہ لگ ۔اگر ایمانداررانہ رائے قائم کی جائے تو میرے خیال میں کمال سلطنت اسلامیہ کے پہلے بادشاہوں ہوں خصوصا حضرت عمر بن خطاب کو اس ہنر میں حاصل ہو ا دنیا کے کسی بھی حکمران کو نصیب نہ ہو سکا ۔حتی کہ آج کے مغربی سیاستدان بھی اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتے ۔ جب ہم فاروق اعظم اہل سنتہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ساری عمر اس مقصد کے حاصل کرنے میں گزاردی ۔مرتے مرگئے مگر سوائے چند مقرب افراد کے انھوں نے عوام الناس پر اپنا مقصد ظاہر نہ ہونے دیا ۔ یہ بلا شبہ دینون سیاست اور طرز جہاں بانی کا آخری درجہ کمال ہے حضرت عمر کو جن لوگوں سے سیاسی اختلاف


بھی ہوتا تھا آپ ظاہری طور پر ان سے خبر خیر خواہی کا دم بھرتے تھے ۔مثلا حضرت علی علیہ السلام سے ان کو مسئلہ خلافت میں اتفاق نہ تھا پھر بھی وہ ان کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے آپ کی اس عاقلانہ سیاست کا پتہ اس واقعہ سے چلتا ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت عمر کو حضرت علی علیہ السلام کی عزت وتوقیر کرتے دیکھ کر پوچھ لیا کہ آپ (عمر) جتنی تعظیم و تکریم علی ابن ابی طالب علیھما السلام کی کرتے ہیں اور کسی کی نہیں کرتے ؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ کیوں نہ کروں کیوں کہ وہ تو میرا بھی مو لا ہے ۔اور تمام مومنین و مومنات کا مولا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب ن ےکس خوبی ہے یہ تاثر پیش کردیا کہ غدیر خم والی جو روایت لوگوں میں چل رہی ہے وہ کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں فقط اتنا ہے کہ علی مولا ہے ۔اور مولا کے معنی حاکم نہیں ۔حاکم میں ہوں ،مولا علی ہے ۔

لاکھ جتن کرلو ۔ہزاروں کتابیں لکھ ڈالو مگر وہ اثر نہ ہوگا جو جناب ابن خطاب کے اس ایک جملہ سے ہوگیا

۔اگر حضرت عمر اس پر علمی کرنا شروع کرتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ اب تخت پر قابض ہو کر الٹی سیدھی تاویلوں پر اتر آئے ہیں ۔مگر ان کے اس طرز عمل اور اس کی تشریح سے لوگوں کے دلوں پر بہت اثر ہوا ان کو معلوم ہو ا کہ ایک آدمی مولا وآقا بھی ہو سکتا ہے ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو عمر جو علی علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ایک لمحے کے لئے بھی علی علیہ السلام کی موجودگی میں مسند حکومت پر نہ بیٹھتے ۔اس ظاہری تعظیم و تکریم کی ایک اور سیاسی وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ابھی وہ وقت نہ آیا تھا کہ ہر وقت و ہر طرح علی علیہ السلا م کی توہین ہو سکے ۔دعوی فدک کے باعث عوام میں ہیجان پیدا ہوگیا تھا لہذا سیاسی تدبر ایسے حالات میں دو تقاضے کرتا تھا یا تو قیر فریق مخالف کا کا م کردیا جائے یا پھر اظاہری وضعداری حسن وخوبی سے


جاری رکھی جائے ۔کیونکہ اگر زیادہ تنگ کیا جاتا تو نتیجہ "تنگ آمد بہ جنگ آمد" کا احتمال تھا پھر حضرت علی علیہ السلام صاحب رسوخ بھی تو تھے لہذا حضرت علی علیہ السلام کی لوگوں میں عزت ووقعت کا لحاظ رکھنا ضروری تھا مگر جس خوبصورت سیا سی انداز سے آئندہ چشم پو شی کی گئی وہ سیاستدانوں سے داد تحسین حاصل کئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔اصحاب ثلاثہ کی سیاست ایک ہی تھی ایک کی کمی دوسرا پوری کردیتا تھا ۔اور اس بحث کا محل اس کتاب میں موجود نہیں ہے ،ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ محض حصول استحکام اقتدار کے لئے یہ تدبیر بروئے کا لائی گئ کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی اقدار کو پامال کیا جائے ۔عوام الناس کے دلوں سے ان کی محبت اورعقیدت ختم کردی جائے اس کوشش میں علاوہ دیگر ترکیب کے ایک یہ بڑی موثر وکارگر تدبیر آزمائی گئی کہ وہ قرآنی آیات جو حضرات اہل بیت علیھم السلام اور شیعیان اہل بیت کے حق میں نازل ہوئیں ان کی من گھڑت تاویلیں اور خود ساختہ تفاسیر مرتب کی گئیں اور بڑے محتاط طریقہ سے ان کا اجرا کیا گیا ۔فضائل ومناقب کی احادیث کی اشاعت کو ممنوع قرار دیا گیا اور بارگاہ رسالت سے عطا شدہ القابات کو غیر مستحق افراد کے حق میں غصب کرلیا گیا ۔صاحبان اقتدار کی شان میں جھوٹی احادیث وضع کی گئیں اور ان کی نشر واشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اس تدبیر سے یہ فائدہ ہو ا کہ لوگ حقیقی بزرگوں کی معرفت سے بے بہرہ رہے اور بادشاہوں یا ان کے حواریوں کے گن گانے لگے اور مخالفین حکومت مورد عتاب شاہی قرار پائے ان کو اس قدر گم نام بنادیا گیا کہ آج لوگوں کی بعض ممتاز اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ناموں سے بھی واقفیت نہیں ہے ۔


اخفائے فضائل

مقدمہ دوم:-

قرن اول میں کسی صحابی کے فضائل کا انحصار دوباتوں پر ہوتا تھا ۔اول ارشادات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جن میں فضائل کا ذکر ہو اور دوم خود صحابی کے سوانح حیات ۔

بر سر اقتدار طبقہ کی کوشش یہی رہی کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اصحاب کے متعلق ان دونوں امور کو لوگوں کی یاد سے محو کردیا جائے سوانح حیات کے لئے تو آسان ترکیب تھی کہ ان کا ذکر ہی عام طور پر نہ کیا جائے اور لوگوں کو جاہ ہشم اور مال وزر کی جانب متوجہ رکھا جائے اور جو جو واقعات و صفات و اعزازات زیادہ فضل وفخر کے قابل تھے ان صفات میں حقیقی متصف لوگوں کے برخلاف اپنے من پسند لوگوں کا ظاہر کیا جائے ۔ہم خیال صحابہ کو دربار حکومت میں ترجیح دی جائے ۔ مثلا حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت وبہادری کے چرچے عام تھے یہ شہرت حکومت کی نظر میں کھٹکی اس صفت کے مقابلہ میں نئے ہیرو پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔لہذا ید اللہ و اسداللہ کی بجائے سیف اللہ تیار کرنی پڑی جرنیل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کسی جنگ میں شریک نہ کیا تاکہ ان کی صفت کرّاری وغیرفرّاری لوگوں کے سامنے نہ آئے ۔ اسی طرح دوسرا امر احادیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دربارہ فضائل ہے لہذا ان کی روک تھام کا مکمل بندوبست کیاگیا اس طرح کہ جبرا حکومت کی طاقت کے خوف سے اور باری انعامات کے لالچ سے لوگوں کو ایسی احادیث بیان کرنے سے روکا گیا جن میں مخالفین حکومت کے فضائل کا تذکرہ تھا ۔بلکہ ملکی قانون کے مطابق ایسی احادیث رسول کی


نشرواشاعت کو جرم قرار دیا گیا آج کی زبان میں پریس آرڈر ینیس سختی سے نافذ کیاگیا ۔حکومت کی یہ پابندی صرف احادیث فضائل ومناقب ہی کے لئے نہ تھی بلکہ اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے رفقاء کے سوانح وواقعات فضائل کاذکر کرنا بھی ممنوع تھا ۔اسی طرح ان احادیث فضائل کے مقابلہ میں ارکان حکومت اور ہم خیال صحابہ کے حق میں لاتعداد فرضی حدیثیں وضع کی گئیں اور اس وضعیت کی حوصلہ افزائی حکومت نے انعامات و اکرامات کی بارش کرنے کی حرص ولالچ دے دے کر ان کی خوب اشاعت کروائی۔

یہ سب کچھ اس وقت کی حکومت کادور اندیشانہ سیاسی کارنامہ تھا۔ حضرت عمر جن سے بڑا سیاستدان کوئی پیدا ہی نہیں ہوسکا یہ حکمت عملی ان ہی کی مر ہون منت تھی ۔ آپ نے اس سیاسی اصول کی ابتدا کی ۔ان کے بعد آنے والوں نے ان کے مقصد کو سمجھا اور اپنی کرسی اقتدار کو اس ہی مقصد کا محتاج پایا ۔لہذا ان ہی اصول وقواعد کی اپنے اپنے زمانہ وعہد کے مطابق تشکیل کرکے حضرت عمر کے نقش قدم پر چلنے کو اپنا فخر بلکہ باعث حیات سمجھا ۔آج بھی جب کبھی کسی حکومت کو اپنے مخالفین کی زبانیں بند کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ ذرائع ابلاغ عامہ پر کنٹرول کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔

صدر اول کی اسلامی حکومت ۔عہد بنوامیہ اور زمانہ بنی عباس کا نصب العین ایک ہی تھا ۔ان کے اقتدار کا مدار ایک مشترکہ اصول پر تھا ۔حضرت ابو بکر کا مقابلہ حضرت علی علیہ السلام سے تھا ۔ اور حضرت عمر کے متعلق بھی حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عبداللہ ابن عمر نے کہا تھا کہ اگر تیرا باپ نہ ہوتا تو کوئی بھی میری مخالفت نہ کرتا ۔اسی طرح


حضرت عثمان بن عفان اور معاویہ بن سفیان کامقابلہ بھی حضرت علی علیہ السلام سے تھا ۔لہذا مخالفت علی علیہ السلام ان ساری حکومتوں کا جزو مشترک ہوا ۔یہی حال عباسیوں کا رہا ۔صرف حالات کے تقاضے بدلتے رہے مثلا حضرت عمر مجبور تھے اپنے گردوپیش کے حالات وواقعات کی وجہ سے لہذا انھوں نے حضرت علی علیہ السلام کو ٹھکانے لگانے کی تجویز مجلس شوری کی پیچیدہ کاروائیوں کا سے خفیہ انداز میں بنائی لیکن جب (بقول محمود عباسی حضرت عمر کا پیروکار) یزید بن معاویہ تخت پر بیٹھا تو اس وقت حالات بہت بدک چکے تھے وہ علانیہ نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کردینے کا حکم دے سکتا تھا ۔

یہی حالت احادیث کی تھی زمانہ معاویہ بن ابو سفیان میں لوگوں حالیں بدل چکی تھی اور عادتیں بھی تبدیل ہوگئی تھیں وہ مطلق العنان حاکم کی طرح یہ پورے ملک میں دے سکتا تھا کہ آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے شیعوں کے فضائل کی احادیث بیان نہ کی جائیں منبروں پر ان کو برا بھلا کہا جائے اصحاب ثلاثہ کے حق میں احادیث وضع کی جائیں لیکن حضرت عمر اس قسم کی دیدہ دلیری نہیں کرسکتے تھے ۔ ان کے زمانے کے حالات کے پیش نظر یہی سیاسی حکمت عملی تھی کہ بنیادی اصول وضع کردیا جائے چنانچہ اس ہی اصول کی بناء پر معاویہ نے اپنا حکم صادر کیا کیونکہ سیرت شیخین یہ تھی کہ حکومت کو چاہیئے کہ احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبضہ کرلے اور محض ان احادیث کی اشاعت کی اجازت دے جو حکومت کے حق میں مضر نہ ہوں اپنی مخالف احادیث کی ہر ممکن طریقے سے روکے بالکل اسی طرح جیسے آج کے زمانہ میں اخبار پر سنسر شب عائد کردی جادتی ہے ۔یا


حکومت پریس کنڑول کی تدبیریں سوچتی ہے اور ٹرسٹ بنا کر اپنی من پسند خبروں کوچھاپنے کی اجازت دیتی ہے ۔

بعد از رسول مسلمان حکمرانوں کا احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا اور ان سے متعلق کس قسم کے احکامات جاری تھے یہ مشہور علامہ اہل سنتہ محمد الخضری کی زبانی سنئے جو انھوں نے اپنی کتاب "تاریخ التشریعی الاسلامی" میں ثبت فرمایا ہے ۔

"حافظ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ"میں مراسیل ابن ابی ملکیہ سے یہ روایت کی ہے کہ :رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق نے ان لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم لوگ رسو ل اللہ صلعم سے ایسی حدیثیں روایت کرتے ہو جن میں تم لوگوں میں اختلاف ہوتا ہے ۔ اور تمھارے بعد جو لوگ ہوں گے ان میں اس سے بھی زیادہ اختلاف ہوگا ۔تم رسول اللہ صلعم سے کوئی حدیث روایت نہ کرو ۔ جو شخص تم سے سوال کرے اس سے کہو کہ ہمارے اور تمھارے درمیان خدا کی کتاب ہے اس کے حلال کئے ہوئے کو حلال اور اس کے حرام کئے ہوئے کو حرام سمجھو "

(تاریخ فقہ اسلامی مولوی عبدالسلام ندوی مطبع معارف دار المصنفین سلسلہ نمبر۳۰-۱۶۱)

حافظ ذہبی کابیان ہے کہ شعبہ و‏‏غیرہ نے بیان سے اور بیان نے شعبی سے او ر شعبی نے قرظہ بن کعب سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے جب ہم کو عراق کی طرف روانہ کیا تو ہمارے ساتھ خود بھی چلے اور فرمایا تم کو عراق کی طرف روانہ کیا ہمارے ساتھ خود بھی چلے اور فرمایا تم کو معلوم ہے کہ میں کیوں تمھاری مشایعت کرتا ہوں ؟لوگوں نے کہا ہاں ہماری عزت افزائی کے لئے بولے اس کے ساتھ یہ بھی بات ہے کہ تم ایسی آبادی کے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو شہد کی مکھیوں کی


طرح گنگنا گنگنا کر قرآن پڑھتے ہیں تو احادیث کی روایت کرکے ان کی تلاوت قرآن میں روکاوٹ نہ پیدا کرنا صرف قرآن مجید پر بس کرو اور رسول اللہ سے روایت کم کرو ۔ اور اس میں بھی تمھارا شریک ہوں چنانچہ جب قرطہ آئے تو لوگوں نے رویت حدیث کی خواہش کی انھوں نے جواب دیا کہ ہم کو حضرت عمر نے اس کی ممانعت کی ہے "

)کتاب مذکورہ اردو ترجمہ تاریخ التشریع السلامی ص ۱۶۲)

ذرا داد دیجیئے کہ اس قدر دور اندیش سیاسی پالیسی ہے دو رو نزدیک کے علاقوں مسلمان پھیل رہے ہیں لشکر اسلامی آگے بڑھ رہے ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ حزب مخالف کے فضائل کی احادیث لوگوں میں پھیل جائیں اور لوگوں کو ان پر غور وفکر کرنے کا موقعہ حاصل ہوجائے حضرت عمر نے تین حضرات یعنی ابن مسعود، ابودرداءاور ابو مسعود انصاری کو محض اس وجہ سے قید کردیا تھا کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ حدیثیں بیان کردیں(فقہ اسلامی ص۱۶۲)۔

اب آگے سنئے ۔

"ابن علیہ نے رجائن ابی سلمہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت امیر معاویہ کہا کرتے تھے کہ تم لوگ بھی حدیث کے ساتھ وہی طرز عمل اختیار کرو جو حضرت عمر کے زمانے میں جاری تھا کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت حدیث کرنے کے متعلق لوگوں کو دھمکیاں دی تھیں ۔(کتاب مذکورہ ۱۶۳)

اور سماعت فرمائیے کہ ۔

"حضرت عمر ابن الخطا ب نے احادیث کو لکھوانا اور اس


بارے میں اصحاب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مشورہ کیا تو عام صحابہ نے اس کا مشورہ دیا لیکن وہ ایک مہینہ تک خود متیقن طور پر اس معاملہ میں استخارہ کرتے رہے اس کے بعد ایک دن انھوں نے یقینی رائے قائم کرلی اور فرمایا کہ میں نے جیسا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے تم سے تحریر احادیث کاذکر کیا تھا پھر میں نے غور کیا تو معلوم کہ تم سے پہلے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں نس کتاب اللہ کے ساتھ اور کتابیں لکھیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان ہی کتابوں میں مشغول ہوگئے اور کتاب اللہ چھوڑ دیا ( کتاب مذکورہ ۱۶۳ ابن سعد نے اپنی طبقات میں بھی ایسی ہی روایت لکھی ہے )

ان منقولہ بالا عبارات سے ثابت ہو ا کہ احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے متعلق جو حضرت عمر کا رویہ تھا اس کو معاویہ نے پسند کیا اور اسی پر عمل کیا ۔ مولوی شبلی نعمانی کے مطابق حضرت ابو بکر نے پہلے احادیث جمع کرنے کا کام کیا او رتقریبا پانچو احادیث اکھٹی کرلیں مگر بعد میں وہ بھی حضرت عمر کے ہم خیال ہوگئے اور ان حدیثوں کو آگ میں جلا یا ۔الفاروق حصہ دوم )۔پس اب ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ معاویہ نے جم فضائل علی علیہ السلام و اہل بیت اطہار کی احادیث کو مٹانے اور حضرات ثلاثہ کے حق میں حدیثیں وضع کرانے کا رویہ اختیار کیا تھا وہ در اصل حضرت عمر ہی کی پیروی تھی ۔

یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ حضرات شیخین کا مقصد محض یہ


تھا کہ لوگ غلط سلط حدیثیں شائع نہ کریں نیز یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف فضائل اہل بیت(ع) اور شیعیان اہلبیت کی جو خبیرں تھیں ان کو بیان کرنے سے روکا اور پھر حضرت عمر کا گذشتہ امتوں کے حالات سے عبرت آموز نتیجہ نکالنا ہر طرح معقول ہے لہذا بہتر ہے کہ ان اعتراض پر بھی مختصرا گفتگو کرلی جائے ۔ چنانچہ وکلاء عمر نے کہا ہے کہ

خوف غلطی:-

حضرت عمر نے احادیث کی اشاعت کو اس لئے روکا کہ خوف تھا کہ لوگ جھوٹی احادیث نہ مشہور کردیں جبکہ ہم اس عذر کے تحت حضرت عمر کو طرز عمل دیکھتے ہیں تو یہ خدشہ ان کے ذہن کی سوچ اور عمل و کردار کے مطابق قرار نہیں پاتا ہے میں سب سے پہلے تو یہ کہتا ہوں کہ سارے صحابی عادل تھے تو پھر حضرت عمر نے ثقایت اصحاب پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ایسا کیوں سوچ لیا ۔ یا حضرت عمر کی نظر میں حلقہ اصحاب میں بعض لوگ نا قابل اعتبار تھے یا پھر حدیث نجوم کو بعد میں وضع کیا گیا ہے ۔ بہر صورت یہ بات غور طلب ہے کہ اگر محض غلطی کا خوف تھا تو اس کا علاج بڑی آسانی سے کیا جاسکتا تھا کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کو زیادہ عرصہ نہیں بیتا تھا ۔تمام صحابہ موجود تھے جنھوں نے خود اپنے کانوں سے ارشاد ات رسول سنے تھے اور اپنے ذہن میں محفوظ کرلئے تھے حضرت عمر کسی بھی مقتدر صحابی کی سربراہی میں ایک مخصوص جماعت صحابہ کے سپرد یہ کام کردیتے جو صحیح احادیث رسول جمع کرنے کی ذمہ داری ہو تی ۔جو کام انتقال رسول کے ڈیڑھ سو سال بعد شروع ہوا اسی وقت شروع ہو جاتا اور آیندہ کے تمام جھگڑے وہیں پر ختم ہو جاتے ۔


آخر قرآن شریف بھی تو لوگوں کے سینوں ہی سے نکال کر جمع کیا گیا تھا ۔ اسی وجہ سے تدوین حدیث کا کام بھی بڑی عمدگی سے ہو سکتا تھا جبکہ تمام امت کا اجماع بھی اس بات پر تھا جیسا کہ آپ نے اوپر والے بیان میں ملاحظہ فرمایا ہے کہ اصحاب احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جمع کرنے کے حق میں تھے مگر حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف ہوئی خود اس مسئلہ میں حضرت عمر نے اجماع امت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ایک مہینے کے استخاروں پر عمل کیا ۔ اور نہایت ضروری امر شریعت میں اپنی اکیلی رائے کو مسلط کرکے جمہوریت کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ۔

ترک حدیث اخفائے فضائل مخالفین کے لئے نہ تھا :-

کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر کا یہ طرز عمل اہل بیت اور ان کے متبعین کے فضائل و مناقب کو چھپانے کے لئے نہ تھا بلکہ ہر طرح کے حدیثوں سے ان کا برتاؤ یکسان تھا ۔

لیکن جب ہم تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہ قیاس بے بنیاد ثابت ہو تا ہے کیونکہ حضرت عمر دیگر احادیث کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے بلکہ مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن شریف میں کسی تنازعہ کا جواب نہ پاتے تھے تو لوگوں سے احادیث رسول پوچھا کرتے تھے جب حضرت عمر کا آخری وقت قریب ہوا تو آب کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا خیال ہو ا ۔ معاذ بن جبل ، خالد بن ولید ،ابو عبیدہ بن جراح اور سالم غلام کے فضائل حضور کی احادیث سے مستبنظ کرتے تھے کہ فلان کو "امین امت" فلاں کو سیف اللہ اور فلاں کو عالم آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا تھا ۔حضرت علی علیہ السلام کے ومتعلق جو


احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھی وہ یک دم فراموش کردی تھیں گویا ان کا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے ان کو چھپا نے میں بہتر مصلحت سمجھتے تھے ۔مولوی عبد السلام ندوی نے ایک بڑی پر معنی بات نقل کی ہے کہ خوارج کا ذکر کرتے ہوئے مولوں صاحب لکھتے ہیں کہ "یہ لوگ (خوارج )صرف قرآن کے ظاہری معنی لیتے تھے اور حدیثوں میں صرف ان ہی آحادیث کو قبول کرتے جن کی روایت ان لوگوں نے کی تھی جن کو یہ لوگ دوست رکھتے تھے ۔چنانچہ ان کی قابل اعتماد حدیثیں صرف وہ تھیں جنکی روایت شیخین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے دور خلافت میں کی گئی تھی" ۔

(تاریخ فقہ اسلامی ص ۲۳۹)

خوارج حضرت علی علیہ السلام کے تو سخت دشمن تھے ۔فضائل علی علیہ السلام کی احادیث تو ان کے لئے قابل اعتماد ہو نہیں سکتی تھیں اور ان کے لئے وہی حدیثیں قابل اعتبار تھیں جو دور ابو بکر و عمر میں تھیں پس خوارج کے اس طرز عمل سے ثابت ہوگیا کہ حضرت ابو بکر وعمر کے زمانہ حکومت میں حضرت علی اور ان کے دوستوں کے فضائل کی احادیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی اس نقش قدم پر معاویہ چلا بہر حال لگے ہاتھوں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ زمانہ شیخین میں حدیث کے روایت کرنے والے خارجیوں کے دوست تھے ۔اور مثل خوارج حضرت علی علیہ السلام کے مخالف تھے ۔

گزشتہ امتوں کی غلط مثال :-

حضرت عمر کا یہ عذر کہ امم سابق کی طرح مسلمان بھی کتاب خدا کو چھوڑ کر دوسری لکھی ہوئی کتابون کی طرف رجوع کریں گے نہ ہی تاریخ سے ثابت ہے اور


نہ ہی مذہبی روایات سے ۔ قرآن مجید سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف کی تھی مگر کسی ایسی کتاب کا ذکر نہیں ملتا ہے جو انھوں نے لکھی ہو ۔ اور توریت ، زبور ، اور انجیل کے مقابلہ میں رکھ کر اس کی طرف رجوع کی ہو ۔ اور پھر زمانہ اصحاب میں تو یہ عذر بالکل بے معنی ہے کہ ارشادات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عین مطابق قرآن ہیں ۔ اس کے معارض نہیں پھر احادیث کی طرف رجوع کرنا قرآن مجید سے اعراض کرنے کے مترادف کیسے ہو سکتا ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ انکار حدیث کو حضرت عمر فقہ کی رو سے غلط نہ سمجھتے تھے انھیں اس بات کا ضرور احساس تھا کہ ہم محتاج سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں یہی وجہ ہے کہ جب آخری وقت آپ نے شوری کمیٹی تشکیل دی تو سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کرنے کی شرط کو نظر انداز نہ کرسکے ۔ مگر اس کو سیرت شیخین سے مشروط کردیا اصل میں یہ انکار ایک خاص سیاسی مقصد کی خاطر تھا لیکن کچھ ہی عرصہ میں تدوین حدیث میں مشغول ہوگئے اور انھیں حضرت عمر کی غلطی کا احساس ہوگیا ۔مداحان حضرت عمر بھی دبی زبان میں ان کی غلطی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے جیسے مولوی عبد السلام ندوی رقمطرز ہیں ۔

"اگر چہ اس دور میں حدیثوں کی بھی بکثرت روایت کی جاتی تھی اور تابعین کا ایک گروہ صرف اسی کام میں لگا ہو ا تھا تا ہم وہ اب تک کسی مجموعہ کی صورت میں مدون نہیں ہوئی تھیں لیکن چونکہ تمام لوگ یہ سمجھتے تھے کہ قرآن مجید کی وضاحت کرکے حدیثیں فقہ کی ---کرتی ہیں اور عام مسلمانوں میں کوئی اس رائے کا مخالف نہ تھا اس لئے عقلا یہ حالت دیر تک قائم نہ رہ سکتی تھی چنانچہ


دوسری صدی ہجری کے آغاز میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کمی کو محسوس کیا اور اپنے عامل مدینہ حضرت ابو بکر بن محمد بن حزم لکھا کہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کی جو حدیثیں ملیں ان کو لکھیں کیونکہ مجھ کو علم اور علماء کے فنا ہوجانے کا خوف ہے "(تاریخ فقہ اسلامی ص ۲۱۴)

لہذا احادیث پر بہت سی کتابیں مرتب کر لی گئیں ۔حنفی فقہ کا تو یہ جزو اعظم ہے ۔ صحاح ستہ مشہور ہیں ۔اس بات سے فقط یہی نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ ہر مسلمان مع حضرت عمر یہ سمجھتا تھا کہ احادیث دین کے لئے بہت ضروری ہیں ۔ ان کے بغیر فقہ نا مکمل رہتی ہے ۔مخالفین حدیث کا منشاء محض یہ تھا کہ حضرت علی و اہلبیت اطہار علیھم السلام اور ان کے دوستوں کے فضائل کی حدیثوں کو پردہ اخفاء میں رکھا جائے ۔ اسی بات پر عمل ان کے مقلدین نے بھی کیا اور ایسی احادیث فضائل ومناقب کو جس قدر ممکن ہو سکتا تھا چھپایا گیا جبکہ باقی احادیث کی اشاعت سے تعرض نہ کیا گیا حضرت عمر نے جو بات مخصوص اشاروں میں کہی تھی معاویہ نے کھلم کھلا اس کا اظہار کردیا ۔ اور حکم جاری کیا کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کے بارے میں حدیثیں بیان نہ کی جائیں اور حضرات ثلاثہ کے حق میں احادیث وضع کی جائیں ۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ کے قریب یہ جراءت نہ ہوسکتی تھی اور اگر فضائل ثلاثہ کی مروجہ احادیث کا وجود زمانہ رسالت میں ہوتا تو بوقت سقیفہ یا شوری ان فضائل کا اظہار ضرور کیا جاتا ۔ ان دونوں اہم مواقع پر ایسی حدیثوں کا بیان نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ احادیث اس وقت


وضع نہ ہوئی تھیں۔اب ہم چند شواہد اس کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ حضرت علی اور ان کے حامی افراد کے نام کو مٹانے کے لئے کیسی مذموم کوشش کی گئی ان حضرات کی توصیف وتعریف میں وارد احادیث کو کیسے ضائع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور کس طرح حضرات ابوبکر ،عمر ،عثمان اور ان کے ہم خیال لوگوں کے حق میں جعلی احادیث سازی کا کام شروع ہوا ۔

احادیث فضائل علی علیہ السلام اور شیعیان علی کی تضییع اور توصیف حضرات ثلاثہ کی وضعیت :

سنی معتزلی علامہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں جو واقعات نقل کئے ہیں ان سے یہ بات مکمل طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے رفقاء کی شان میں بیان کردہ احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اشاعت پر کڑی پابندی لگادی گئی اور اس کے برعکس اصحاب ثلاثہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کی شان میں من گھڑت حدیثوں کی خوب مشہوری کی گئی ۔

"ابو الحسن علی بن محمد ابی سیف المدائنی نے کتاب الاحادیث میں روایت کی ہے کہ معاویہ نے مضمون واحد کے حکم نامے امام حسن علیہ السلام کے بعد اپنے تمام عمّال کے پاس بھیجے جن میں اس نے تحریر کیا کہ میں بری الذمہ ہوں ۔لہذا ہر طبقہ و سرزمین میں ہر منبر پر خطیب کھڑے ہوگئے جو حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کرتے تھے ان سے تبّراء چاہتے تھے اور اہل بیت علیھم السلام کی مذمت کرتے تھے اس مصیبت میں سب سے


زیادہ اہل کوفہ گرفتار تھے کیونکہ وہاں شیعیان علی بہت تھے لہذا معاویہ نے کوفہ پر زیاد بن سمیّہ کو حاکم مقرر کردیا اور بصرہ بھی اس کے ساتھ ملا دیا وہ شیعوں کو جہاں بھی وہ ہوتے تھے نکال لاتا تھا وہ ان سے واقف تھا کیونکہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں ان کے ساتھ تھا لہذا ایک پتھر وکنکر کے نیچے سے شیعوں کو تلاش کرکے اس نے قتل کیا ۔دھمکیاں دیں ۔ان کے ہاتھ پیر کاٹے ۔آنکھیں نکال ڈالیں ۔درختوں کی شاخوں میں سولی پر لٹکا دیا اور بہتوں کو عراق سے جلاوطن کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عراق میں کوئی بھی شیعہ جس سے وہ واقف تھا نہ رہا ۔اور معاویہ نے کل اطراف میں اپنے عاملوں کو لکھا کہ کسی شیعہ علی و اہلبیت کی گواہی جائز نہ رکھو ۔اور اپنے عاملوں کو لکھا کہ عثمان کے پیروکاروں ،دوست داروں اور اہل واولاد پر مہربانی کرو۔ جو عثمان کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہیں ان کی جائے نشست اپنے قریب قرار دو اور ان لوگوں کو اپنا ہم نشین بناؤ ان کی بزرگی کرو اور ان کی بیان کردہ روایات و احادیث مجھے لکھو ۔ اور بیان کرنے والے کا نام اور اس کے باپ کا نام قبیلے کا نام لکھو ۔پس عمال نے ایسا ہی عمل کیا یہاں تک کہ عثمان کے فضائل و مناقب کی ان لوگوں نے کثرت کردی کیونکہ معاویہ ان لوگوں کو صلہ بھیجتا تھا باغات و زمینیں اور عمدہ لباس وغیرہ اور ان حدیثوں کو شایع کرتا تھا سارے عرب میں ۔اور عثمان کے دوستوں کے پاس بھیجتا تھا ۔پھر ہر شہر میں اس کی کثرت ہوئی اور لوگ دنیا اور وجاہت دنیا کی طرف مائل ہوگئے ۔پس معاویہ کے عمّال


میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جھوٹی احادیث لاوے مگر یہ کہ ہر ایک عثمان کے حق میں فضیلت ومنقبت کی جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کا نام معاویہ لکھ لیتا تھا اور اس کو مقرب بنالیتا تھا اس کی سفارش قبول کرلیتا تھا ۔پس اس طرح ایک زمانہ گزر گیا ۔پھر معاویہ نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ بتحقیق حضرت عثمان کے حق میں حدیثیں بہت کثرت سے ہوگئی ہیں اور ہر شہر اور ہر طرف اور ہر گوشہ میں پھیل گئی ہیں لہذا جس وقت میرا یہ خط تمھیں ملے تم لوگوں کو فورا مخصوص صحابہ اور خلفائے اولین کے فضائل بیان کرنے پر مائل کرو۔اور اگرتم کوئی حدیث ابو تراب کے حق میں سنو تو ویسی ہی او راس کے مثل ونظیر دوسری حدیث"الصحابہ" کے حق میں بنا کر مجھے دو ۔پس بلاشبہ یہ امر مجھے بہت محبوب تر ہے اور میری آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والا ہے اور ابوتراب اور اس کے شیعوں کی دلیل کو توڑنے والا ہے ۔اور ان لوگوں (شیعوں )کو فضائل عثمان سخت تر معلوم ہوں گے ۔ معاویہ کے یہ خطوط لوگوں کو پڑھ کر سنائے گئے ۔پس مخصوص صحابہ کی تعریف میں بہت ساری جھوٹی حدیثیں گھڑ کر بیان کی گئیں جن کی کوئی حقیقت نہ تھی اور لوگوں نے ا س قسم کی خبریں بیان کرنے میں کوشش کی یہاں تک کہ یہ جعلی احادیث منبروں پر مشتہر کی گئیں اور یہ موضوعہ حدیثیں مدرسوں کے استادوں کی دی گئیں اور انھوں نے اپنے شاگردوں ،طالب علموں اور لڑکوں کو سکھا یا اور تعلیم دی جس طرح قرآن سیکھتے ہیں ۔یہاں تک کہ معلموں نے اپنے گھروں کی عورتوں ،بچیوں اور ملازموں کو بھی سکھایا


بس اسی حال میں لوگوں نے بسر کی پھر معاویہ نے ایک ہی مضمون کا پروانہ اپنے گورنروں کو سب شہروں میں با ایں مضمون لکھا کہ تم لوگ جس شخص کی نسبت گواہی سے ثابت ہو کہ وہ شخص علی واہلبیت کو دوست رکھتا ہے بس اس کا نام دفتر سے مٹا دو اوراس کا رزق بند کردو جو اس کو ملتا ہے وہ روک لو۔ اس حکم کی تائید میں پروانہ ثانی میں لکھا کہ جس شخص کے اوپر محب علی واہلبیت کا اتہام تمھارے نزدیک ثابت ہو جائے تو اس پر اس کے گھر کو گرادو اور اس قوم سے محبت کرنے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو۔زیادہ تر یہ بلا عراق خصوصا کوفہ میں تھی تاکہ اینکہ اگر کوئی شخص شیعہ علی اس شخص کے پاس آتا تھا جس پر وہ بھروسہ کرتا تھا تو وہ داخل خانہ ہوتا اور اپنا راز اس سے کہتا تھا اور اس کے خادم وغلام سے ڈرتا تھا اور اس سے بھی کوئی بات نہ کرتا تھا جب تک کہ سخت قسم کا اور پکا حلف اس سے رازپوشیدہ رکھنے کا نہ لیتا تھا ۔پس بہت سی خود ساختہ احادیث حق صحابہ میں ظاہر ہوئیں اور بہت سی بہتان پھیلانے والی احادیث برخلاف حضرت علی علیہ السلام شائع ہوئیں اور اس ہی روش پر سب فقہا قاضی اور حکام چلے سب سے زیادہ اس روش پر چلنے والے قاریان ،ریا کنندگان مستضعفین تھے جو اظہار خشوع خضوع وعبادت کرتے تھے پھر وہ جھوٹی حدیثیں بناتھے تاکہ ان کے سبب سے اپنے والیان ملک کے نزدیک بہرہ مند ہوں اور پاس بیٹھنے کاقرب حاصل کریں۔اور بسبب تقرب کے مال و جائیداد ومکانات ان کو حاصل ہوں ۔یہاں تک کہ یہ خبریں اور احادیث ان دین داروں کے ہاتھ میں منتقل ہوئیں جو جھوٹ کو حلال نہیں جانتے تھے اور سچاگمان کرکے


قبول کرتے تھے اور اگر وہ جانتے کہ یہ احادیث جھوٹی ہیں تو ان کوروایت نہ کرتے اور نہ اس راہ پر چلتے پس یہ امر اسی طرح پر رہا ۔یہاں تک کہ امام حسن ابن علی نے وفات پائی پھر یہ فساد وبلا اور زیادہ ہوئے یہاں تک کہ کوئی شخص اس قسم کا باقی نہیں رہا مگر یہ کہ ڈرتا تھا اپنے قتل سے یا جلاوطن ہونے سے (اس کے بعد زمانہ عبد الملک وحجاج بن یوسف میں زیادہ ہوگئی)اور تحقیق روایت کی اپنی تاریخ میں ابن عرفہ نفطویہ نے جو بہت بڑے محدثین میں سے ہیں وہ خبر جو اس خبر کی تصدیق کرتی ہے کہا ابن عرفہ نے کہ بہت احادیث موضوعہ فضائل صحابہ وخلفائے ثلاثہ میں بنائی گئی ہیں زمانہ بنوامیہ تاکہ ان کے ذریعے نزدیکی وتقرب حاصل کیا جائے کیونکہ بنوامیہ گمان کرتے تھے کہ وہ ان احادیث موضوعہ کے ذریعے سے بنوہاشم کی ناک مروڑرہے ہیں ۔

(شرح نہج البلاغہ علامہ ابن ابی الحدید معتزلی ج ۳ ص۱۵ -۱۶ تشریح خطبہ "ان فی ابدی الناس حقا وباطلا

اس کے بعد مزید کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے ۔یہ ایک معجزہ خداوندی ہے کہ ایسے حالات وواقعات کے باوجود فضائل علویہ اور منقبت شیعیان علی کتب مخالفین میں موجود ہیں ۔بیشک اللہ قدرت کا ملہ رکھتا ہے کہ اس نے موسی کو فرعون ہی کی گود میں پروان چڑھا دیا تھا اور خدا کے نور کو پھونکوں سے بجھایا نہیں جا سکتا ہے ۔

غرضیکہ بہت اچھی طرح ثابت ہوگیا کہ جماعت اہل حکومت


نے فضائل صحابہ وخلفائے اولین کی تائید میں کثرت سے جھوٹی حدیثیں وضع کیں اور کرائیں اور اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی کہ فضائل علی واہلبیت علیھم السلام و شیعیان شائع ومشہور نہ ہوں ان ہی اصول کو مد نظر رکھ کر تدوین و تالیف کتب احادیث کے زمانہ تک معاویہ اور اس سے قبل کی موضوعہ احادیث کے زمانہ تک معاویہ اور اس سے قبل کی موضوعہ احادیث کے زما امتداد زمانہ کے باعث لوگوں کی نظروں میں صحیح معلوم ہونے لگی تھیں کیونکہ جھوٹ کا مسلسل تکرار بعض اوقات سچ سمجھا جاتا ہے ۔

حقوق و فضائل اہلبیت کے چھپانے کی حکومتی کوششیں آپ نے ملاحظہ کرلیں اور یہ ضرورت بر سر اقتدار جماعت کو صرف اس لئے پیش آئی کہ عدم استخلاف کے عقیدہ کی ضرورت حکومت کو اپنے قیام وحیات کے لئے درکار ک تھی ۔لہذا اس غلط اعتقاد کی اشاعت نہ صرف عمدا اور قصدا کی کی گئی بلکہ طاقت وجبر اور ظلم وتعدی سے اسے رواج دیا گیا یہاں تک کہ یہ عقیدہ لوگوں کے تن من میں رچ گیا اور آئندہ نسلوں نے اسی عقیدے ہی کی تعلیم پائی ۔جس کے نتیجے میں ایک خام خیال ان کے مذہب میں داخل ہوگیا اور یہی نہیں کہ اب وہ اسے غلطی سمجھنا پسند نہیں کرتے بلکہ اس کے سچا ہونے پر ان کا ایسا ہی ایمان ہے جیسا قرآن پر ۔لیکن باوجود ان سب باتوں کے پھر بھی ذکر علی وفضائل حیدر کرار زندہ وپائندہ ہیں ۔اور ان کے مخالفین کی زبانوں پر بغیر ان کی مرضی و ارادہ کے وقتا فوقتا جاری ہو کر رہتے ہیں کیونکہ خداوند تعالی نے وعدہ فرمایا ہے کہ

( انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون )

*****


موضوع احادیث فضائل برائے مغالطہ

مقدمہ سوم:-

کسی سازش یا انقلاب ،کسی معرکہ یا کشمکش کسی اتفاق یا ترکیب کے سہارے بر سراقتدار آجانے والے حکمران عموما سب سے پہلے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ کر اپنی حکومت کو مستحکم ومستقل بنائیں ۔

اوران لوگوں کی طرف سے عوام کے قلوب کو پھیر دیں جو ان کی نظر میں ان سے حکومت کے زیادہ حقدار اور اہل ہوتے ہیں یا ان افراد کے اثر و رسوخ سے ان کی حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا ہو نشہ اقتدار کی مستی میں ان حکمرانوں کاجی تو یہی چاہتا ہے کہ ایسے افراد کو نیست ونابود کردیں لیکن اگر واقعات وحالات اس طرح کے ہوں کہ ان کا قلع قمع یا جلا وطنی ان کے استحکام اقتدار کے لئے مضرت رساں ہو تو وہ ایسا قدم اٹھا نے سے گریز کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ایسی صورت میں وہ یہ سیاسی چال چلتے ہیں کہ ان حقداروں اور دعویداران حکومت کے حقوق وفضائل اور اہلیت وقابلیت کو کم کرکے دکھاتے یا ممکن ہو تو بالکل چھپا تے اور اپنے منہ میاں مٹھو بنکر خود کے ترانے بجاتے ہیں اپنی تعریف کے بل باندھتے ہیں اور اپنے کارناموں کے قلابے آسمان سے ملاتے رہتے ہیں ۔اپنی تیس مار خانی کے قصیدے گھڑکر لوگوں میں بڑی ہوشیاری سے پھیلا تے ہیں ۔ذرایع ابلاغ عامہ کے بل بوتے پر اپنے قصّے و کہانیاں جی بھر کر مشہور کراتے ہیں اور


یہ ایسی چالاکی ہے کہ سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی ثابت رہتی ہے ۔

جماعت سقیفہ کی کامیابی بڑی شاندار تھی کہ ایک ایسے مستحق فرد کو نظر انداز کرکے حکومت پر قبضہ جمایا گیا تھا جس کی اسلامی خدمات کے کارہائے نمایاں عوامی نظروں میں گھوم رہے تھے اس کی محبت وقرابت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر ایک پر واضح تھی اس کی شجاعت لوگوں میں ضرب المثل بن چکی تھی ۔اس کی سخاوت نے حاتم کا نام زیر کرلیا تھا اس کے علم وحکمت کے ڈنکے ہر کان میں بج رہے تھے اس کے زہد وتقوی نے لوگوں کو مبہوت کر رکھا تھا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وہ خطبے جن میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے فضائل وحقوق کا اظہار فرمایا تھا لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ تھے خم غدیر کا منظر نگاہوں میں سمایا ہوا تھا ۔ایسی صورت حالات تھی کہ اگر جناب امیر علیہ السلام کو اللہ تعالی نے صبر کامل کی قوت عطا نہ فرمائی ہوتی اور ان کے دل میں اسلام کی محبت بدرجہ اولی نہ ہوتی جیسی کہ محبت خود بانی اسلام کے دل میں تھی تو ارکین حکومت سقیفہ کے لئے اپنا تخت و تاج قائم رکھنا سخت دشوار ہوجاتا اور مدینہ میں خون کی نہریں جاری ہوجاتیں لیکن اہلیان حکومت نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے اوپر قیاس کرکے ایسی تدابیر اور پیش بندیاں اختیار کیں جن کے باعث ان کے زعم میں جو علی علیہ السلام کی طرف سے ان کو خوف تھا وہ اگر بالکل دور نہ ہو تو بہت حد تک کم ضرور ہو جائے چنانچہ فضائل علویہ کی احادیث میں رکاوٹ پیدا کرنا بھی ایسی ہی اہم سیاسی تدبیر تھی جب حکومت نے روایت حدیث پر پابندی عائد کی اور


احادیث پر اپنا قبضہ و اختیار جماکے رکھا پھر وضعیت احادیث اس قدر تی اور آسان نتیجہ تھا یہ طریقہ ایک طرف سہل تھا دوسری جانب بہت مؤثر و کارگر تھا کیونکہ اگر لوگوں کو یقین ہوجائے کہ ان بزرگواروں کے بھی اتنے ہی فضائل جناب رسول خدا نے ان بزرگواروں کے بھی اتنے ہی فضائل جناب رسول خدا نے بیان فرمائے ہیں تو پھر وہ ان کے قبضہ حکومت کو حق بجانب سمجھنے لگیں گے اور اس تدبیر میں سہولت یہ تھی کہ چند آدمیوں پر نظر عنایت کرکے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کر لینا کوئی بڑی بات نہ تھی ۔چنانچہ معاویہ بن ابو سفیان نے جس خوبی سے یہ کام سرانجام دیا اس کا حال ہم گزشتہ مقدمہ میں لکھ چکے ہیں ۔اب ہم بطور مثال چند شواہد پیش خدمت کرتے ہیں اور چند موضوعہ احادیث نقل کرتے ہیں ۔ان پر جرح کرکے اثبات وضعیت لکھتے ہیں ۔

کسوٹی:-

کسی حدیث کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے تین گر ایسے ہیں جن کی کسوٹی پر ہر حدیث کو پرکھا جا سکتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔

(ا):- فضلیت کی حدیث موافق قرآن ہے یا نہیں ۔

(ب):- ممدوح کے سوانح حیات اور واقعات سے حدیث کی مطابقت ہوتی ہے یا نہیں ۔

(ج):- حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے فورا بعد چند ایسے مواقع اگر آئے جو اس حدیث کے بیان کے مناسب محل ومتقاضی تھے تو کیا اس حدیث کو ان موقعوں پر پیش کیا گیا کہ نہیں ۔

اگر کوئی حدیث خلاف قرآن ہے تو یقینا وہ جھوٹی ہے ۔اسی طرح قابل غور امر ہے کہ حدیث کا ممدوح اس قابل و اہل بھی تھا کہ نہیں جو اس کے حق میں بیان ہوا ہے ۔تعریف و توصیف اسی وقت زمرہ مدح میں شمار ہوگی جب ممدوح کے سوانح حیات


کردار ،چال چلن وطرز زندگی کے مطابق ہو ورنہ ہجو ہوگی مثلا کسی کمزور و لاغر اور بزدل شخص کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ رستم زماں تھا تو یقینا یہ تعریف نہیں بلکہ ہجو ٹھہرے گی ۔حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے فضائل وکمالات و علو مرتبت کے متعلق جس قدر احادیث ہیں وہ محض ایک امر واقعہ کو بیان کرتی ہیں ۔آپ کے چال چلن ۔سوانح حیات فضائل روحانی وصفات جسمانی کے عین مطابق ہیں۔ اگر حدیث میں ہے کہ آپ (ع) کا اور جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کانو ر تخلیق نورتخلیق ارض وسما سے قبل خلق کیاگیا اور وہ نور ایک ہی تھا جو عرش الہی کے سامنے ہزاروں سال کی تخلیق آدم سے پہلے مشغول عبادت الہی تھا تو اس کی تردید آپ کے سوانح حیات ہے ہرگز نہ ہوسکے گی بلکہ مزید تقویت بخشی ہوگی کیونکہ فضائل میں آپ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوش بدوش تھے اور اس دنیا میں آکر بھی دونوں نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہ کیا ۔

ایک حدیث وضع کی گئی ہے کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معاذاللہ فرمایا کہ "میں اور ابوبکر دوگھوڑوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔(یعنی نبوت کے پائے کو چھونے کے لئے )میں ان سے آگے بڑھ گیا تو ان کو میری پیروی کرنی پڑی اوراگر وہ آگے بڑھ جاتے تو میں ان کی پیروی کرتا ۔

اس موضوعہ حدیث سے بعض جہلاء نے استدلال کیا ہے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نبوت مل گئی اور ابو بکر کو خلافت حصہ میں آئی ۔اسی طرح یہ بھی حدیث ہے کہ ابو بکر و عمر کا نور تخلیق آدم سے پہلے مصروف عبادت تھا تو جب ان کو زمین پر چالیس بتوں کے آگے سجدہ ریز


دیکھیں گے تو کیا ایسی احادیث پر اعتبار کریں گے ؟۔

اب اگر حضرت علی علیہ السلام کے حق میں انکی روز خندق کی ایک ضربت کو ثقلین کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا تویہ عین امر واقعہ ہے کہ اس ضرب سے اسلام بچ گیا ۔اگر اسلام ہی نہ ہوتا تو عبادت کون کرتا اسی طرح اگر علی علیہ السلام باب مدینۃ العلم ہوئے تو آپ نے ہمیشہ "سلونی "(پوچھ لوجوپوکچھ بھی پوچھنا چاہو۔) کہا ہر مسئلہ حل فرمایا ۔لیکن یار لوگوں نے شہر کی دیواریں اور چھت تک بنا لیں مگر لوگوں نے دیکھ لیا کہ دیوار نے شگافتہ انداز میں اقرار کر لیا کہ اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا ۔ اس سے بڑا کوئی قاضی نہیں ہے ۔

الغرض جو احادیث آج کل فضیلت میں حضرات ثلاثہ کی پیش کی جاتی ہیں اگر وہ فی الحقیقت ارشادات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے ۔تو پھر سقیفہ بنی ساعدہ میں ان فضائل کا اظہار کیوں نہ کیا گیا ۔صرف رفاقت غار اور امامت نماز پر اکتفا ہوا ۔اسی طرح نامزدگی عمر اور انتخاب شوری کے اوقات پر بھی ایسے فضائل پر سے پردہ نہ اٹھا یا گیا جب کہ حضرت علی علیہ السلام نے ہر موقع احتجاج پر احادیث پیغمبر سے استدلال فرمایا ۔بہر حال چند نمونے ملاحظہ کریں اور لطف اٹھائیں ۔

جھوٹ نمبر۱:-

"خلفاء اربعہ (حضرات ابو بکر ،عمر، عثمان ،علی ) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم حضرت آدمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلقت سے پہلے نوری حالت میں موجود تھے اور ان میں سے ہر ایک خاص صفت کے ساتھ موصوف تھا ۔اور ان کو برا کہنے سے


بچا جائے ۔محمد بن ادریس الشافعی اپنی سند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ میں (رسول خدا) ابو بکر، عمر ،عثمان اور علی ا للہ کے عرش کی داہنی طرف نور کی شکل میں حضرت آدم کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل سے تھے ۔جب حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل سے تھے ۔جب آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تو ہمیں ان کی صلب میں رکھدیا گیا اور ہم اسی طرح اصلاب طاہرہ میں منتقل ہوتے رہے ۔یہاں تک کہ اللہ نے مجھے صلب عبداللہ میں ،ابو بکر کو صلب ابی قحافہ میں ،عمر کو صلب خطاب میں عثمان کو صلب عفان میں اور علی کو صلب ابو طالب میں منتقل فرمادیا پھر ان کو میر ا صحابی مقرر کیا ،ابو بکر کو صدیق ،عمر کو فاروق ،عثمان کو ذوالنورین اور علی کو وصی قرار دیا ۔

پس جس نے میرے اصحاب کو شب وشتم کیا اس نے مجھے گالی دی جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو برا کہا اور جس نے خدا کو بر ا کہا اس کو خداوند نار جہنم میں منہ کے بل ڈالے گا ۔

(ریاض النضرہ اما محب الدین طبری جزء نمبر ۱ باب نمبر ۴ ص ۳۰)

اس نام نہاد حدیث کے حرف حرف پر مصنوعیت کی مہر لگی ہوئی ہے ۔صاف ظاہر ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے حق میں جو حدیث نور مشہور ہے اس کا جواب تراشا گیا ہے حضرت علی علیہ السلام کے لئے حدیث نو ر اس لئے قابل قبول ہے کہ آپ کو مخالفین بھی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی غیر خداکو سجدہ نہ کیا ۔مگر دیگر بزرگوں کے ا جام پر یہ خلعت فٹ نہیں ہوتا اس لئے کہ

ا:-عرش الہی کے سامنے ہزاروں برس طاہر ومطہر رہنے سے اتنی بھی صلاحیت پیدا نہ ہوسکی کہ دنیا میں آکر اصنام


پرستی سے محفوظ رہتے ۔بس یہ ساری عبادت وطہارت اس چالیس سالہ بت پرستی سے بے فائدہ ٹھہرتی ہے ۔

ب:-حضرت آدم سے ایک ہزار سال پہلے پیدا ہونے سے تمام انبیا ء پر امتیاز وفوقیت وفضیلت لازم آتی ہے ۔ کوئی امت محمد یہ میں ایسا نہ ہوگا جو اس امر کا قائل ہو کہ اصحاب ثلاثہ انبیاء سے افضل تھے ۔ نہ ہی ان کے سوانح حیات اس بات کی شہادت فراہم کرتے ہیں۔

ج:- اصحاب ثلاثہ کے والد وآباؤ اجداد متفقہ طور پر کافر تھے پھر اصلاب طاہرہ کے کیا معنی ہوئے ؟اور ارحام کے تو کیا کہنے ہیں ۔چپ بھلی ہے ۔

د:- یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں ہے ۔

ر:- علمائے اہل سنۃ و الجماعۃ کی بڑی جماعت نے اس حدیث کو جھوٹی و موضوع قراردیا ہے ۔

مولوی سیف اللہ یانی پتی "سیف مسلول "میں اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "ایں حدیث ہرچند ضیعف است" حافظ ابو نعیم تاج المحدثین نے" امالی" میں تسلیم کیا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے ۔ علامہ ذہبی نے "میزان الاعتدال "میں اعتراف کیا ہے کہ یہ جھوٹ ہے ۔ حافظ علامہ جلا ل الدین سیوطی نے بھی اس قسم کی احادیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے ۔ چنانچہ سیوطی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کا راوی المنجی میرے نزدیک ایک آفت ہے ۔بلا ہے ۔ جھوٹ بولتا ہے ۔

جھوٹ نمبر ۲:-

حضرت علی علیہ السلام کی شان میں حدیث منزلت مشہور


ومعروف ہے یہ حدیث کئی موقعوں پر دہرائی گئی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک جھوٹی حدیث بنائی گئی ۔

"جناب ابن عباس سے مرفوعا مروی ہے کہ اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو بناتا مگر مجھے تو خدا نے دوست بنا لیا ہے ۔

ابو بکر وعمر مجھ سے وہی منزلت رکھتے ہیں جو ہارون کو حضرت موسی کے ساتھ تھی ۔

اولا تو اس حدیث کا بے جوڑ پن ملاحظہ ہو ذکر تو خلت ودوستی کا تھا ۔حضرت موسی کی اور حضرت ہارون کی منزلت کا تذکرہ کیوں؟ پھر دو ہارون کیسے ؟ ایک موسی علیہ السلام کے لئے تو صرف ایک ہی ہارون تھے ۔ یہاں دو کی کیا ضرورت پیش آگئی ۔شاید اس لئے کہ جن صاحب نے یہ حدیث بنائی وہ دونوں کی منزلت قائم رکھنا چاہتے تھے ۔اس حدیث نامحمود کے ایک راوی قزعہ بن سوید ہیں ان کی نسبت علامہ ذہبی کہتے ہیں ۔

"امام بخاری کہتے ہیں کہ قزعہ بن سوید قوی نہیں ہے امام احمد کہتے ہیں کہ اس حدیثیں مضطرب ہوتی ہیں اور ابو حاتم کہتے ہیں کہ وہ اس کی حدیثوں سے استدلال نہیں کرسکتے ۔امام نسائی نے کہا ہے کہ وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی نے بھی یہی کہا ہے ۔ اس نے یہ غلط حدیث ابن ابی ملکیہ سے مرفوعا ابن عباس سے بیان کی ہے (میزان الاعتدال جلد دوم صفحہ ۳۴۷) ۔یہی حدیث ایک اور طریقہ سے بیان ہوئی ہے جس کے ایک راوی عمار بن ہارون ہیں ان کے بارے میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں "موسی نے کہا کہ


(عمار)ابن ہارون کی حدیث کو لوگوں نے چھوڑدیا ہے اور ابن عدی نے کہا ہے عام (بازاری) آدمی ہے جو بیان کرتا ہے غلط ہوتا ہے اور یہ حدیثوں کی چوری کیا کرتا تھا "(میزان الاعتدال جلد ۷ صفحہ ۳۲۰)-

سو ملاحظہ کیاآپ نے کیسے چورلوگوں کی یہ روایات ہیں ۔المختصر لاتعداد ایسی حدیثیں وضع کی گئیں کہ کمالات اہل بیت علیھم السلام پر قبضہ ہو جائے مگر اللہ خیر الماکرین ہے لہذا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ نظر آجاتا ہے ۔مشہور سنی امام ابو فرج ابن الجوزی نے اپنی کتاب "الموضوعات" میں ان احادیث کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا ہے ۔

"میں نے کثیر تعداد میں احادیث ترک کردی ہیں جو حضرت ابو بکر کی شان میں بیان کی جاتی ہیں کچھ تو ان میں ایسی ہیں جو ظاہری معنی تو رکھتی ہیں لیکن ان کی صحت ثابت نہیں لیکن بہت سی تو ایسی ہیں جو بالکل بے معنی و لغو اور بے ہودہ ہیں ۔ میں لوگوں کو کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ" حضور نے فرمایا کوئی شی خدا نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی لیکن یہ کہ پھر میں نے اس کو سینہ ابو بکر میں ڈالدیا اور جب مجھے جنت کا شوق ہوتا ہے تو ابو بکر کی سفید داڑھی کو چومتا لیتا ہوں اور یہ کہ میں اور ابو بکر دوگھوڑوں کی طرح دوڑ رہے تھے میں ان سے آگے بڑھ گیا تو ان کو میری اتباع کرنی پڑی اور اگر وہ آگے بڑھ جاتے تو میں ان کی پیروی کرتا ۔ یہ تمام حدیثیں جھوٹی ہیں اور قطعا موضوعہ(جعلی) ہیں اور ایسی احادیث کے جاری کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ۔"


ملا علی قاری نے اپنے رسالہ موضوعات کبیر میں ابن قسیم سے نقلا لکھا ہے کہ

"جہلا ئے اہل سنۃ نے جو احادیث فضائل ابو بکر میں وضع کی ہیں۔ ان سے چند یہ ہیں ۔

۱:-"خدا وند تعالی روز قیامت اور لوگوں کے لئے عام طور سے اور ابو بکر کے لئے خاص طور سے تجلی کرے گا "۔

۲:-"کوئی علم کی شے خداوند تعالی نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی لیکن یہ کہ میں نے پھر اس کو سینہ ابو بکر میں ڈالدیا ۔"

۳:- یا "جب حضور کو جنّت کا شوق ہوتا تھا حضرت ابو بکر کی سفید داڑھی چومتے تھے ۔"

۴:- "میں اور ابو بکر دوگھوڑوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔"

۵:- یا "جب خدا نے ارواح میں انتخاب کیا ۔۔۔۔"

۶:- اسی طرح عمر کا یہ قول کہ" جب رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر آپس میں باتیں کرتے تھے تو میں زنگی کی طرح مبہوت بیٹھا رہتا تھا "۔

۷:- "اگر میں عمر کے فضائل عمر نوح تک بیان کروں تو ختم نہ کرسکوں گا ۔"

۸:-اسی طرح "عمر تو ایک نیکی ہے ابوبکر کی نیکیوں میں سے "۔

۹:- یا پھر یہ کہ " ابو بکر تم سے کثرت صوم وصلواۃ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس چیز کی وجہ سے تم پر سبقت لے گیا جو اس کے سینہ میں ہے " یہ سب جھوٹی ہیں " ۔

اگر ہم مصنوعی احادیث جمع کرنے لگ جائیں تو اس کے لئے ایک دفتر درکار ہوگا ۔چند نمونے پیش خدمت کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جو اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچانے کے لئے کافی ہیں کہ حکام وقت کو خوش کرنے اور ان کے احکام استحکام حکومت کے لئے استحقاق خلافت ثابت کرنے کی خاطر لوگوں نے بے حساب احادیث وضع کیں اور اس کارکردگی کے لئے کو انعامات وصلے فراخدلی


سے دیئے گئے اور ہر طرح سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔اب جب خود علماء اہل سنت ہی ان احادیث کو موضوع اور کذب قرار دیتے ہیں تو پھر ہم مزید نکتہ چینی کس لئے کریں ۔

احادیث کو وضع کرنے کے لئے اور ان پر سچائی کا ملمع چڑھانے کے لئے اصول موضوعہ وعلوم متعارفہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی لہذا ایک جامع وحادی فارمولا اختیار کیاگيا اور اپنی عادت وضرورت کے مطابق حسب رواج دوستور وہ بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے سر منڈھا گیا وہ آئندہ مقدمہ میں ملاحظہ فرمائیں ۔


حدیث نجوم

مقدمہ چہارم:-

حدیث مشہور ہے کہ ۔"اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم اصحابی لکم رحمۃ" یعنی میرے اصحاب مثل ستاروں کے ہیں ۔ان میں سے جس کسی کی پیروی کروگے ۔ہدایت پاؤ گے میرے اصحاب کا اختلاف تمھارے لئے رحمت ہے ۔"

اس حدیث کو وضع کرکے دوکام نکالنے کی کوشش کی گئی ۔ ایک تو یہ کہ دیگر بناوٹی حدیثوں کے لئے ایک خود ساختہ کلیّہ بن گیا ۔

دوسرے یہ کہ حدیث ثقلین ،حدیث مدینۃ العلم اور دیگر احادیث جو حضرات اہل بیت علیھم السلام اور شیعیان آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمودات ہیں ان کے مدّ مقابل ایک ایسی وضعی حدیث


بن گئی جو ہر وقت کام آسکتی ہے لیکن حق کی شان یہ ہے کہ کوئلوں میں ہیرا بن کرچمکتا ہے چنانچہ اس خود ساختہ حدیث کو خود جماعت اہل حکومت کے علماء محدثین نے موضوع قرار دیا ہے ۔اس کی جرح وقدح کی ہے ۔ اور مضبوط دلائل سے اس کو مردود اور وضعی ثابت کیا ہے ۔

امام اہلسنت ابن تیمیہ نے اس حدیث کے متعلق اپنی رائے اس طرح لکھی ہے ۔

"پس آنحضرت صلعم کا قول کہ میرے اصحاب مثل ستاروں کے ہیں جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔ یہ حدیث ضعیف ہے جس کو ائمہ حدیث نے ضعیف ثابت کیا ہے ۔ چنانچہ البزار کہتے ہیں کہ یہ حدیث جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہے ۔ اور وہ احادیث کی کتب معتبرہ میں نہیں پائی جاتی ۔(منہاج السنۃ)۔

اس حدیث کے جعلی ہونے کے بارے میں میں اگر ہم علمائے اہل سنت کی آراء کو نقل کریں تو اس کے لئے ایک جداگانہ کتاب کی ضرورت ہے ۔لیکن چونکہ یہ حدیث سرمایہ وآثاثہ مذہب سنیہ ہے اس لئے اس بارے میں مرفوع القلمی بھی بلا جواز اختصار ہوگا ۔لہذا ہو درمیانی راہ نکالتے ہوئے ان علماء اور کتابوں کے نام نقل کردیتے ہیں جو ہمارے شواہد ہیں ۔

۱:- اما م حنبل الشیبانی :-

کتاب" التقریر و البتحیر" مؤلفہ ابن امیرالحجاج الحلبی ۔ "صبح صادق " تصنیف ملا نظام الدین سہالوی ۔"فواتح الرحموت " شرح مسلم الثبوت تصنیف مولوی عبدالعلی بحر العلوم۔

۲:- ابو ابراہیم اسماعیل بن یحیی المزنی:-

کتاب"جامع بیان العلم "


تصنیف ابی یوسف بن عبداللہ المزنی

۳:- ابو بکر احمد بن عمر بن عبد الخالق بزار:-

کتاب " جامع بیان العلم"تصنیف ابی یوسف ۔رسالہ "ابطال رائے وقیاس "تصنیف ابن حزم ۔"منہاج السنۃ " ابن تیمیہ ۔"تفسیر بحر محیط" ابی جہاں۔"اعلام الموقعین" ۔"ابن القیم تخریج" احادیث منہاج ابو الفضل عراقی ۔شرح ملا علی قاری بر شفائی قاضی عیاض ۔وغیرہ۔

۴:- ابو احمد عبداللہ بن محمد الجرجانی المعروف ابن عدی:-

کتاب" الکامل و ذکر حدیث نجوم" وترجمہ جعفر بن عبد الواحد" ۔"ترجمہ حمزہ ابی حمزہ" ۔

۵:- ابو الحسن علی بن عمر دارقطنی:-

کتاب " غرائب مالک اثیر " "لسان المیزان" ابن حجر عسقلانی و"تخریج احادیث "کشاف ابن حجر عسقلانی

۶:- ابو محمد علی بن محمد بن احمد بن حزم :-

رسالہ" ابطال رائے وقیاس "۔"تفسیر بحر محیط ذکر حدیث نجوم" تصنیف میاں غرناطی۔ تفسیر النہر الماء ابو حبان ۔تفسیر دار اللقیط ذکر حدیث النجوم"تصنیف تا ج الدین ابو محمد احمد بن عبدالقادر بن احمد مکتوم ۔"تخریج احادیث منہاج "زین الدین عراقی ۔کتاب"تلخیص الغبیر ابن حجر عسقلانی "۔مرقاۃ " از ملا علی قاری ۔نسیم الریاض علامہ خفا جی وغیرہ ۔

۷:- ابو بکر احمد بن الحسین بن علی البیہقی :-

کتاب" الدخل ،"تخریج احادیث منہاج بیضاوی "تصنیف زین الدین عراقی ۔

۸:- ابو عمر یوسف بن عبد اللہ المعروف ابن عبد البر:-

کتاب "جامع بیان العلم"

۹:- ابو القاسم علی بن الحسن ہبۃ اللہ المعروف ابن عساکر:-

فیض القدیر منادی۔

۱۰:- عمر بن الحسن بن علی الکلبی المعروف ابن دحیہ :-

تعلیق تخریج احادیث منہاج بیضاوی " تصنیف زین الدین عراقی۔


۱۱:- احمد بن الحلیم ابن تیمیہ :-

منہاج السنۃ ۔

۱۲:- ابو جہان محمد بن یوسف اند لسی :-

تفسیر بحر محیط ، تفسیر النہر الما من البہر۔

۱۳:- تاج الدین ابو محمد احمد بن عبد القادر بن احمد بن مکتوم :-

۱۴:- محمد بن ابو بکر بن قیم الجوزیہ :-

کتاب اعلام الموقعین در مقام روبرو مقلدین

۱۵:- زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی :-

کتاب "تخریج احادیث منہاج بیضاوی ۔تعلیق کتاب التخریج احادیث المنہاج ۔

۱۶:- احمد بن علی بن حجر عسقلانی:

کتاب تلخیص الکبیر فی تخریج الرافعی الکبیر" ،کتاب تخریج احادیث مختصر ابن الحاجب ۔لسان المیزان در ترجمہ جمیل بن یزید۔

۱۷:- کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام :-

کتاب التقریر والتجیر درمبحث اجماع ۔

۱۸:- محمد بن محمد الحلبی المعروف ابن امیر الحاج :-

کتاب التقریر والتجیر در مبحث اجماع۔

۱۹:- احمد بن ابراہیم الحلبی :-

شرح شفاء۔

۲۰:- شمس الدین محمد بن عبد الرحمان البخاوی :-

مقاصد حسنہ۔

۲۱:- کمال الدین محمد بن ابو بکر بن علی بن مسعود بن رضوان المعروف ابن ابی شریف :-

فیض القدیر منادی۔

۲۲:- جلا الدین عبد الرحمان بن ابی بکر السیوطی:-

کتاب اتمام الدرایہ

القراء النعایہ ۔جامع ضغیر۔جمع الجوامع ۔


۲۳:- ملا علی متقی :-

کنز العمال ، منتخب کنزل العمال ، مرقاۃ شرح مشکواۃ ، شرح شفاء۔

۲۴:- عبد الرؤف بن تاج العارفین المنادی :-

فیض القدیر۔شرح جامع صغیر۔

۲۵:- شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر الحنفاجی:-

نسیم الریاض ۔شرح شفائی قاضی عیاض

۲۶:- علامہ محمد معین بن محمد امین :-

دراسات اللبیب ۔

۲۷:- قاضی محب اللہ بہاری :-

مسلم الثبوت۔

۲۸:- ملا نظام الدین سہالوی:-

صبح صادق شرح منار ۔

۲۹:- عبد العلی :-

فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ،درمبحث اجماع شیخین ۔

۳۰:-قاضی محمد ابن علی بن الشوکانی :-

ارشاد الغمول الی تحقیق الحق من علم الاصول القول المفید فی اولۃہ الاجتہاد والتقلید ۔

۳۱:- عبد الرحمان بن علی بن محمد البکری المعروف ابن الجوزی :-

کتاب العلل المتناہیۃ ۔

۳۲:- ولی اللہ ابن حبیب اللہ :-

شرح مسلم الثبوت ۔

۳۳:- مولوی نواب صدیق حسن خاں :-

حصول المامول من علم الاصول ۔

اگر چہ ان حوالجات کے بعد مزید کسی تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تاہم مزید تشفی کے لئے چند عبارات نقل کرتے ہیں ۔چنا نچہ علامہ نظام الدین سہالوی حدیث نجوم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "ابن حزم اپنے رسالۃ الکبری میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث


جھوٹی ،بناوٹی اور باطل ہے ۔اوراحمد بن حنبل اور بزار نے بھی یہی کہا ہے" (صبح صادق شرح منار)

علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب العلل المتناہیۃ میں لکھا ہے کہ "نعیم بن حماد کہتا ہے کہ بیان کیا اس سے عبد الرحیم بن زید نے اپنے باپ سے اور اس کے باپ نے سعید بن مسیب سے اور اس نے عمر بن الخطاب سے کہ فرمایا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہ میں درگاہ رب العزت میں اختلاف کی نسبت سوال کیا ،جو میرے بعد میرے اصحاب میں ہوگا پس خداوند تعالی نے وحی بھیجی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے اصحاب میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ۔کوئی چکمدار ہے کوئی کم ،پس جس شخص نے تیرے اصحاب کے اختلاف میں سے کوئی بھی امر پکڑ لیا وہ ہدایت پر ہے ۔مؤلف کہتا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔نعیم مجروح ہے ۔اور یحیی بن معین نے کہا ہے کہ عبدالرحیم کذاب یعنی جھوٹا ہے :۔

امام ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث نجوم پر اچھی تنقید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ باطل جھوٹی اور بناوٹی حدیث ہے ۔

"حدیثاصحابی کالنجوم فبایهم اقتدیتم اهتدیتم "کو دار قطنی نے مؤلف میں روایت سلام بن سلیم عن الحرث بن عضین عن الاعمش عن ابی سفیان عن جابر سے بیان کیا ہے یہ حدیث مرفوع ہے اور سلام ضعیف ہے اس حدیث کو دارقطنی نے غرائب مالک میں بھی جمیل بن یزید عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جابر کے طریق سے بیان کیا ہے ۔

دارقطنی نے کہا ہے کہ یہ حدیث مالک سے ثابت نہیں ہے ۔مالک کے


علاوہ سب رواوی مجہول ہیں اور اس حدیث کو عبد بن حمید نے اور دار قطنی نے فضائل میں حدیث حمزہ الجزری عن نافع عن ابن عمر سے بیان کیا ہے اور حمزہ حدیثیں وضع کیاکرتا تھا اس حدیث کو قضا عی نے مسند الشہاب میں حدیث ابو ہرہ سے روایت کیا ہے اور اس میں جعفر بن عبدالواحد ہاشمی ہے اور علماء حدیث نے اس کی تکذیب کی ہے ۔ اور ابن ظاہر نے اس حدیث کو بطریق بشر بن حسین عن زبیر بن عدی عن انس بیان کیا ہے ۔اور بشر بھی جھوٹ اور وضع حدیث کے ساتھ متہم ہے ۔اور بیہقی نے مدخل میں اس حدیث کو روایت جو ئیبر عن الضحاک عن ابن عباس سے بیان کیا ہے اور جوئیبر متروک ہے ۔جوئیبر کی روایت بطریق دیگر عن جواب بن عبیداللہ ہے وہ مرفوع ہے اور حدیث مرسل ہے ۔ بیہقی کہتا ہے کہ اس کا متن تو مشہور ہے مگر اس کی تمام اسانید ضعیف ہیں اور بیہقی نے مدخل میں حضرت عمر سے ہی اس حدیث کو ان الفاظ سے بیان کیا ہے ۔"سالت ربی فیھا الخ"اس کے اسناد میں عبدالرحیم بن زید العمی ہےاور وہ متروک ہے "۔

(تخریج احادیث کشاف)

علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس موضوع حدیث کے ہر ایک طریقہ اور سند پر گفتگو کرکے اس کو باطل او رجھوٹا ثابت کیا ہے ۔مگر راویوں کی جرح وقدح میں اختصار نویسی سے کام لیا ہے ۔ تاہم دیگر علمائے نے اس حدیث کے ہر راوی پر جرح کرکے اس کو جھوٹا ثابت کیا ہے مزید تشفی کے لئے علامہ ذہبی کی کتاب "میزان الاعتدال " ملاحظہ فرمائیں۔


پس اس حدیث کی حقیقت معلوم ہوگئی کہ اس کا ہر راوی مجروح و مقدوح ہے کوئی قابل اعتبار نہیں ،سب ضعیف ہیں ۔ یہی وجہ ہے خود علمائے اہل سنت کی بھاری اکثریت نے اسے با طل ثابت کیا ہے لہذا بدیہی امر ہے یہ حدیث ثقلین وحدیث سفینہ وغیرہ کے مد مقابل گھڑی گئی ہے اور اس بات کا اعتراف بھی خود علمائے اہل سنّت نے بزبان خود کیا ہے ۔

مشہور سنّی عالم محمد معین حدیث نجوم اور ایسی ہی دوسری احادیث کو حدیث ثقلین وغیرہ کے مقابلہ میں بایں الفاظ رد کرتے ہیں "اگر تو کہے کہ یہ حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ میرے بعد اصحاب مثل ستاروں کے ہیں ان میں سے جن کی پیروی کروگے ہدیت پاجاؤگے ۔نیز یہ کہ میر ے بعد ابو بکر وعمر کی پیروی کرو ۔اور یہ کہ تمھیں چاہیئے میری اور میرے خلفاء راشد بن کی سنت کی پیروی کرو۔(وغیرہ) اور بس ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اہل بیت کے علاوہ دوسروں کی پیروی بھی جا ‏ئز ہے تو ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑی ہوئی ہیں کیونکہ لفظ "اہتدیتم"سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ بزرگوار کبھی خطاء نہیں کرسکتے جو کہ واقعۃ غلط ہے "۔(دراسات اللبیب)

پس ملا معین کی اس وضاحت کے بعد مزیدکسی بحث کی گنجائش نہیں رہ جاتی تا ہم اس حدیث پر عقلی بحث بھی کرتے ہیں تاکہ نقل کی تائید عقل سے بھی ہوجائے اس حدیث کا تجزیہ کرنے پر دوکلیے بر آمد ہوتے ہیں ۔اول یہ کہ صحابہ کا آپس کا اختلاف


امت کے لئے رحمت اور دوم یہ کہ کسی ایک بھی صحابی کی پیروی ہدایت کے لئے کافی ہے ۔اس ضمن کی پہلی عقلی دلیل یہ ہے جو اس کو باطل ٹھہراتی ہے کہ تضاد وتفریق علامت حق ہرگز نہیں ہوسکتی ہے ۔ حق ہمیشہ ایک ہی ہوگا ۔اختلاف اتحاد کو شکستہ کرتا ہے ۔قرآن میں جگہ جگہ تفریق کی مذمت پائی جاتی ہے ۔کسی حالت میں اختلاف رحمت ثابت نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ زحمت بنا رہا ۔پس ایسا گمراہ کن نظریہ تابع وحی نہیں ہوسکتا ہے ۔اور نہ ہی یہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد ہے کہ خلاف قرآن ہے ۔دوسری دلیل یہ ہے کہ پیروی کے قابل صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو کبھی غلط حکم نہ دے خود محفوظ عن الخطا ہو۔عالم قرآن ہو ۔عامل شرع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہو۔ جبکہ صحابہ کا معصوم ہونا کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا اور ان کے اختلافات سے کتابیں بھر پور ہیں ۔پس عقلی لحاظ سے بھی حدیث نجوم قابل رد وترک ہے ۔

الغرض یہ حدیث اور ایسی ہی کئی احادیث واہی ولغو وفضول وضع کی گئیں اور جتنا بھی ان احادیث کی گہرائیوں میں جایا جائے عقائد متزلزل ہونے لگتے ہیں اور دشمنان اسلام کے اعتراضات سامنے آجاتے ہیں ۔ان واضعین احادیث کے مقصد محض دو ہی تھے ایک یہ کہ اہل بیت اور شیعیان اہل بیت (ع) کے مقابلہ میں حکام اور ان کے حواریوں کے فضائل وضع کئے جائیں تاکہ وہ اہل منصب قرار پاسکیں دوسرے یہ کہ حضرت علی (ع) اور ان کے دوستوں کی شان میں تنقیص ہوجائے تاکہ ان کے جائز حقوق لوگوں کے سامنے نہ آسکیں اوران پر پردے پڑجائیں ۔جیسا کہ جعفراسکافی نے لکھا ہے کہ


"بتحقیق معاویہ نے ایک جماعت صحابہ میں سے اور ایک جماعت تابعین میں سے اس غرض کے لئے قائم کررکھتی تھی کہ وہ حضرت علی (ع) کے متعلق قبیح روایات واحادیث وضع کریں اور وہ روایات ایسی ہوں کہ جن سے حضرت علی (ع) پر طعن وار د ہوسکے اور ان سے لوگ بے زاری کرنے لگیں اور ان لوگوں کے واسطے اس خدمت حدیث سازی کے عوض میں وظیفے مقرر کردیئے تھے پس ان لوگوں نے ایسی احادیث وروایات ایجاد کیں جن سے معاویہ بہت خوش ہوا کہ اس کی طبیعت کے موافق ہوئیں ۔اس جماعت حدیث ساز میں صحابہ میں سے حضرت ابوہرہ ، عمر وبن العاص ،مغیرہ بن شعبہ تھے اور تابعین میں عروۃ بن الزبیر تھا۔ زہری نے عروہ سے ایک حدیث بیان کی ہے کہ کہا عروہ نے مجھ سے ۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بیٹھی تھی کہ اتنے میں عباس وعلی (ع) آئے ۔جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اے عائشہ یہ دونوں (علی وعباس) (معاذاللہ حاکم بد ہن) مرتد ہوکر مریں گے "

(شرح نہج البلاغہ ج ۴ ص ۳۵۸ علامہ ابن ابی الحدید معتزلی)

دیکھا آپ نے حکومت کے کارخانہ حدیث سازی نے کیسی کیسی مصنوعات پیش کی ہیں ۔ایسے میں حضرات اہل بیت (ع) اور ان کے رفقاء کے فضائل کا اخفاء اور ان کی کسر شان میں روایات کا اجراء حکومت کی پشت پناہی میں ہوتا رہا ۔ آج بھی کتب میں ایسی روایات کا طومار ملتا ہے جو اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جھوٹ منسوب کرنے میں کوئی دقیقہ فروشت نہ کیا جبکہ آنحضرت اس فتنہ وضع احادیث سے امت کو اپنی حیات


طیبہ ہی میں آگاہ فرما چکے تھے ۔جناب رسالت پناہ نے فرمایا ۔

"اے لوگو! خدا سے ڈرو جیسا کہ کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرتے دم تک مسلمان رہو ۔اور جان لو کہ خدا وند تعالی ہر شے پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔خبرداررہو! فورا میرے بعد ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو میرے اوپر جھوٹ بولیں گے اور میری نسبت جھوٹی حدیثیں لوگوں میں بیان کریں گے ۔اور وہ قبول کرلی جائیں گی ۔میں پناہ مانگتا ہوں خدا کی طرف ۔اس بات سے کہ میں خدا کی طرف سے حق کے علاوہ کچھ اور کہوں یا تم کو ایسی بات کا حکم دوں جس کا خدا نے حکم نہیں دیا یا خدا کے علاوہ اور کی طرف تم کا بلاؤں ،عنقریب یہ ظالم لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کا حشر کیا ہوتا ہے ۔پس عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ایسا کب واقع ہوگا تاکہ ہم ان لوگوں کو پہچان لیں اور ان سے پر ہیز کریں ۔آپ نے فرمایا کہ یہ جماعت اپنے ظاہری (اقرار وقبول) اسلام لانے کے دن ہی سے اپنی تیاری میں مشغول ہے لیکن خفیہ اور تم پر وہ فورا ہی ظاہر ہوجائیں گے جب میری سانس یہاں تک پہنچے گی آنحضرت نے اپنے حلقوم مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔عبادہ بن صامت نے کہا کہ جب ایسا ہو تو ہم کیا کریں اورکس طرف پناہ ڈھونڈ یں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ میری عترت میں سے سابقین (یعنی علی علیہ السلام ) کی طرف اور ان کی اطاعت کرو اوران کے قول کو تسلیم کرو۔ وہ میری نبوت کے آخذ ین ہیں وہ تم کو بدی سے بچائیں گے خیر ونیکی کی طرف لے جائیں گے وہ اہل حق ہیں ۔معاون صدق ہیں وہ تم میں کتاب وسنت کو زندہ رکھیں گے ۔الحاد وبدعت سے محفوظ کریں گے ۔اہل باطل کا قلع قمع کریں گے اور جاہلوں کی طرف رخ نہ کرینگے "


(توضیح الدلائل علی ترجیح الفضائل علامہ سید شہاب الدین )

ہادی عالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی ابھی حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت میں چند گھڑیاں باقی تھیں جو واقعہ قرطاس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بہتان ہذیان عائد کردیا گیا ۔

علی ہذا القیاس حدیث نجوم کہتی ہے کہ ہر صحابی ہدایت کا سرچشمہ ہے لیکن صحیحین میں جب ہم کتاب الفتن وکتاب الخواص میں مندرجہ احادیث پر نظر دو ڑاتے ہیں تو معاملہ اس کے برعکس ملتا ہے ان کثیر تعداد منقولہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے فورا بعد فتنے سراٹھائیں گے ۔جن میں صحابہ کی بڑی جماعت راہ ضلالت اختیار کرے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر آنحضرت موجود ہوں گے ۔صحابہ کو حوض کے پاس سے اونٹوں کی طرح ہنکا کر لے جایا جائےگا ۔حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرمائیں گے کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں حکم ہوگا کہ آپ کو معلوم نہیں ؟ کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں اس پر سرور دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرمائیں گے کہ دفع دور کرو ان کو میرے پاس سے ۔ اگر ہر صحابی عادل اور ہادی ہے تو پھر حوض کوثر سے ذلت کے ساتھ ہنکایا جانا کیا معنی رکھتا ہے ۔اختصار ملحوظ ہے ورنہ ان روایات کو نقل کردیا جاتا تا ہم قارئین صحیح بخاری ،صحیح مسلم وغیرہ میں کتاب الفتن اور کتاب الحوض مطالعہ کرکے اس حقیقت سے آشکا ر ہوسکتے ہیں ۔

پس حدیث نجوم نہ ہی عقلا قابل قبول ہے اور نہ ہی نقلا صحیح ثابت ہوتی ہے یہ حدیث معارض قرآن بھی ہے اور اورخلاف سنت بھی اسی لئے علماءنے بڑی شد و مد سے اس کی تردید کی ہے ۔


صحابی کی تعریف اور صحابہ میں باہمی فرق

عبوری معروضات کے بعد ہم نفس مضمون کی طرف لوٹتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ایمان والوں کے لئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت ایسی بیش بہا نعمت ہے جسکی قدر وقیمت کا اندازہ لگانا ہم خاطی انسانوں کی استطاعت سے باہر ہے لیکن ایسے صحبت یافتہ لوگوں کی بد قسمتی پر تمام کائنات اظہار تعجب وافسوس کرنے پر مجبور ہے کہ صحبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شرف مقدر بننے کی بجائے بد نصیبی کا بخت ثابت ہوا۔وہ افراد جو نبی رحمتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صحبت پانے کے باوجود دولت ایمان سے محروم رہے یقینا یہ اعزاز ونعمت ان بد قسمتوں کے لئے بے کار وغیر مفید رہا ۔چنانچہ تاریخ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں ہے کہ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صحبت سے سرفراز ہونے کی بجائے وہ لوگ اسلام سے مرتد ہوکر سرنگوں وپست قرار پاگئے ۔ان ہی صحابیوں میں سے بعض کو جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دھتکار دیا۔ خطرناک ومجرمانہ ذہنیت کے افراد کو قتل کروادیا اور کئی ایسے ہوئے جو نشانہ بد عا ئے رحمت للعالمین قرارپائے ۔بعض حلقہ بگوش غداری میں اس قدر آگے نکل گئے کہ انھوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور پیغام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف علا نیہ محاذ آرائی کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ۔ ایسے لوگوں کی تعداد بھی نمایاں ہے جنھوں نے ارتداد کو خفیہ رکھا اور صحبت میں رہتے ہوئے منافق رہے ۔چنانچہ یہ جماعت اسلام کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوئی ۔علماء نے اس جماعت منافقین کو تین گروہوں


میں تقسیم کیا ہے ۔ اول ایسے لوگ جن کے نفاق کا علم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ مخلص اصحاب کو بھی تھا ۔دوسرے اس قسم کے لوگ تھے جن کو صرف اللہ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی جانتے تھے اور ان میں سے کچھ کا پتہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چند معتمد ساتھیوں کا بتایا بھی تھا جیسے کہ حضرت حذیفہ بن الیمان کو "صاحب السرّ" کہا جاتا ہے دیگر صحابہ کو معلوم تھا کہ حضرت حذیفہ کو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منافقین کے نام بتا دیئے ہیں ۔چنانچہ حضرت عمر بھی اکثر ان سے یہ راز اگلوانے کی کوشش کرتے رہے ۔راقم الحقیر کو عقیدے کے لحاظ سے یہاں اختلاف ہے مگر نقلا تحریر ہے کہ تیسرا گروہ وہ تھا جس کا علم غالبا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی نہ تھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس لاعلمی کا انحصار علماءنے ان احادیث کو بنایا ہے جن میں صحابہ کے دوزخ میں جانے کا بیان ہے اور وہ اس انداز سے مروی ہیں جس سے اندازہ قائم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ایسے کٹر منافق تھے جن کے نفاق کو رسول علیم بھی نہ پہچان سکے یا پھر وہ لوگ تھے جو بعد وفات پیغمبر مرتد ہوئے یا پھر حیات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ان کی منافقت محتاطا خفیہ تھی مگر بعد از رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علانیہ منافقت پر ظاہر ہوگئے چنانچہ صحیح بخاری کی کتاب الحوض والی روایات میں جو تعجب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واظہار لاعلمی والا بیان ہے اس سے استدلال کرکے متقد مین نےیہ نظریہ قائم کیا ہے ۔حالانکہ شیعی عقیدہ ایسا نہیں ہے لیکن یہاں اس بحث سے گریز ہی کرنا ہے کہ اختصار اور پابندی موضوع ملحوظ ہیں بہر حال یہ نتیجہ اظہر من الشمس ہے کہ کسی کا صحابی ہونا اس امر کے لئے دلیل نہیں ہوسکتا ہے کہ اعمال وافعال سے چشم پو شی کرکے اور اس کے کردار واقعی کو نظر انداز کرکے اسے محض صحبت یافتہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہونے


کی بنا پر قابل ولائق پیروی سمجھ لیا جائے اس کے برعکس اگر وہ صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مومن کامل، مرد صالح اور بندہ متقی ہے اور اس کے اعمال وخدمات اسے عزت واحترام کا مستحق ٹھہراتے ہیں تو پھر شرف صحابیت رسول کی قدر منزلت اپنے معراج پر ہوگی ۔پس اگر اعمال اسلامی نقطہ نظر سے مذموم ہوں گے تو صحابی ہونے کے باوجود ہم اس پر نکتہ چینی کرنے کے حقدار ہیں ۔ مگر اس بارے میں احتیاط و اعتدال کا لحاظ ہر قدم پر ضروری ہے ۔واضح ہو کہ صحابی کے مذموم فعل کا اثر محض اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم پر پڑتا ہے ۔اگر صرف اس کی ذات تک محدود ہوتا تو پھر یہ کہا جا سکتا تھا کہ معاملہ اللہ کے اور اس کے درمیان ہے ہمیں زبان بند رکھنی چاہیئے لیکن جب اس کا اثر براہ راست پورے نظام ومعاشرے پر پڑتا ہو تو ۔ایسی قطع نظری اور خاموشی ہر لحاظ سے مضرت رساں ہوگی لہذا صحابہ کو تنقید سے بالا خیال کرنا در اصل حقائق سے چشم پو شی کرنا ہے ۔اہل اسلام میں صحابی کی تعریف میں چنداں اختلاف ہے عام اعتبار سے تو صحابی ہر اس شخص کو کہا جاسکتا ہے جسے مجلس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں شرکت کا موقعہ حاصل ہوا یا صحبت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شرف ملا اس میں مدت کے کم زیادہ ہونے کی قید نہیں لیکن اصطلاح میں صحابی کی تعریف مختلف ہے ۔ شروع میں یہی خیال تھا کہ جیسے شرف صحبت نصیب ہوگیا وہ قابل عزت ہے اور اس ابتدائی دور میں یہ احساس طبعی تھا کیونکہ ابتدائی دور کے صحابہ میں زیادہ تر اس کے مسحق حضرات ہی تھے لیکن بعد میں تجربہ ہوا کہ کچھ صحابی مرتد ہوکر دوبارہ کفار سے جاملے لہذا صحابی


کی تعریف میں یہ شرط بھی ضروری قرار پائی کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہونا لازمی ہے اس کے بعد کچھ لوگوں نے اس تعریف کو مزید مشروط کیا ہے کہ بالغ لوگ جو صحبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا درجہ تابعی کے مطابق ہے پھر طبقہ محدثین نے صرف ان صحابیوں کو قبول کیا جو کسی حدیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے راوی ہوئے لیکن امام بخاری اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے ہر اس مسلمان کو صحابی تسلیم کیا ہے جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک بار دیکھ لیا ۔الغرض مندرجہ بالا تعریفوں میں سے کسی ایک پر بھی علمائے اہل سنتہ کا اتفاق نہ ہو سکا اور کافی بحث وتمحیض کس بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام صحابہ بلا استثنا روایت کے معاملہ میں"عادل" ہیں ۔حالانکہ یہ مانتے ہیں کہ صحابہ میں بعض فسق وفجور کا ارتکاب کرتے تھے ان سے چوری ،زنا ،کذب وغیرہ جیسے کبائر کا صدور ہوا مگر روایت قول رسول میں ان سے غلط بیانی نہ ہوتی تھی اس عقیدے کی تائید قرآن وحدیث سے تومستند نہیں ہوسکتی البتہ بزعم علمائے اہل سنتہ والجماعۃ تجربات وتحقیقات شاہد ہیں کہ صحابہ خواہ کیسے ہی گنہگار ہوں مگر رسول خدا(ض) سے روایت کرنے میں انھوں نے کبھی جھوٹ نہ باندھا ۔چنانچہ ابن انباری کہتے ہیں کہ "یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ میں گناہوں سے عصمت پائی جاتی ہے اور ان سے گناہوں کاارتکاب ممکن نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کی راویتوں کو اسباب عدالت کی بحث اور ثقاہت کی تحقیق کے بغیر قبول کرلینا چاہیئے مگر یہ کہ ان سے ایسا امر سرزد ہو جو روایات


میں قادح ہو اور ایسا ثابت نہیں ہے "

علامہ انباری کہ یہ رائے ہم خیال لوگوں کے لئے تو کچھ وزن رکھتی ہو یا نہ ہو ہم کسی آزاد وغیر جانبدار شخص کے لئے عقیدت کے علاوہ اس میں کوئی کشش وجاذبیت ہرگز نہیں ہے ۔ بہر کیف صحابی کی تعریف میں اختلاف ہونے کے باعث ان کی تعداد اور مدارج میں بہت فرق پیدا ہوگیا ہے ۔ امام شافعی کے مطابق حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصال کے وقت ساٹھ ہزار اصحاب تھے جن میں تیس ہزار خالص مدینہ میں تھے ابوزرعہ کے قول سے صرف صحابی ایک لاکھ تک ہوتے ہیں بعض نے سوالاکھ تک تعداد بتائی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام اصحاب کے حالات کا علم نہ ہوسکا لہذا ان کے کردار وچال وچلن کے بارے میں کوئی حتمی وعام فیصلہ کرنا امرمحال ہے ۔جو تمام صحابیوں کی شخصیت پر فردا فردا حاوی ہو۔ لہذا جب ہم افراد پر بحث کریں گے تو یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ ان کی زندگی تقوی کے معیار پر کتنا درجہ رکھتی ہے ۔صحابہ میں فضیلت کے لحاظ سے مدارج کا فرق قرآن مجید سے ثابت ہے کہ سورہ حدید میں اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے جن لوگوں نے اللہ کے لئے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنھوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا یا جہاد کیا ۔ازروئے قرآن حلقہ اصحاب کی خاص تقسیم یہ قرار پائی کہ فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ نے اتفاق وقتال کیا ان سے افضل ہیں جو فتح مکہ کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور انھوں نے راہ خدا میں خرچ کیا اور جانی قربانی پیش کی ۔ ان صحابہ کی فضیلت قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ انھوں نے اس دور میں


اسلام کا ساتھ دیا جب سخت امتحان وآزمائشوں سے گذرنا پڑتا تھا ۔جب گھڑیاں اسلام پر اتنی کڑی تھیں کہ تاریخ عالم میں ان کی نظیر نہیں ملتی چنانچہ ان کا قرآنی نقشہ اس طرح کہ "ان کو جھنجھوڑ اگیا یہاں تک رسول اور اس کے ساتھ صاحبان ایمان چلا اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ۔خبردار! کہ اللہ کی مدد قریب ہے ۔

اسلام کی مکی زندگی کاخیال آتے ہی حساس لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔دل لرزاں ہوتا ہے ۔کہ ان مردان حق پرست نے کس بے جگری اور صبر واستقامت کے ساتھ محض خوشنودی خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاطر جان جوکھوں میں ڈالی ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو لوہے کی زرہ پہنا کر گرم ریت پر ڈال دیا جاتا تھا اور دشمنان دین پہاڑوں کے تپتے ہوئے پتھروں پر حضرت کو گھسیٹتے تھے لیکن آپ کی زبان حقیقت بیان سے ہردم احد احد ہی آتا تھا ۔ اسی طرح حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور جناب یاسر رضی اللہ عنہ کو کفار انگاروں پر لٹاتے تھے ۔ ابو فکیہ کو گرم ریت پر گھسیٹ کر اذیت دیتے تھے مگر یہ عاشقان خداو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر مصیبت کو عزم واستقلال سے برداشت کرتے ۔حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت سمیہ کو اس ظالمانہ طریقہ سے ستایا کہ یہ مصائب جھیلتے ہوئے آپ کو اسلام کی پہلی شہیدہ کا اعزاز نصیب ہوا ۔اور ابوجہل نے برچھا مار کران کو سوئےرضوان الجنتہ روانہ کیا اسی طرح اور بھی متعدد نفوس مقدسہ تھے جنھوں نے ایثار کی تاریخ کو اپنے کارہائے نمایاں سے زینت بخشی ۔لیکن زمانہ کی طوطا چشمی یہ ہے کہ ان محسنین اسلام کا آج تذکرہ بھی


نہیں کیا جاتا ہے ۔اور ان لوگوں کے صبح وشام ترانے گائے جاتے ہیں جن کا کبھی بال بھی بیگانہ ہوا۔زمانہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تقسیم مال غنیمت کے وقت کے علاوہ کسی آڑے وقت کام نہ آئے اور جب حضور کا وصال ہوگیا تو اقتدار کا انتقال ان کے نام ہوا اس وقت بھی لوگوں نے تاج و تخت والوں ہی کو سلام کیا اور آج بھی کرسی سلام ہے ۔

لیکن ہم نے جن چار حضرات بابر کات کا تذکرہ اس کتاب میں کرنا ہے ان کا تعلق صحابہ کے اس طبقہ سے ہے جو اسلام کے اولین محسنوں کا ہے ۔ انھوں نے اسلام کی محبت میں نہ ہی اپنے رشتہ داروں کی پرواہ کی نہ ہی قبائلی تعلقات کو نظر میں لائے نہ ہی اسلام کی دولت ان کی آنکھوں میں گھومی اور نہ ہی حکومت کا خیال ان کے دل میں کبھی آیا۔ انھوں نے اپنے تن ،من،دھن ،اولاد ،خویش واقارب ،گھرباراور ہرشے کو صرف اورصرف دین کے لئے قربان کردیا دراصل کلام پاک میں جتنی آیات میں صحابہ رضوان اللہ علیھم کی تعریف ،مدح وتوصیف ہے ۔وہ سب کے سب اسی دور کے مسلمان تھے جو امتحانوں سے گزرے یا پھر بحیثیت مجموعی اس سماج کی تعریف ہے جو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بنایا تھا اور صحابہ اس پر نیک نیتی اور خلوص دل سے چلتے تھے ۔کوئی ایک آیت بھی قرآن میں ایسی موجود نہیں ہے کہ سب کے سب صحابہ فردافردا قابل تعریف تھے یا یہ کہ ان کی مذمت کرنا یا ان پر تنقید کرنا گناہ ہے اگر ہر صحابی کی مذمت کی ممانعت ہوتی تو بڑے بڑے جلیل القدر بعض دیگر صحابہ کی مذمت نہ کرتے


قرآنی آیات کے علاوہ احادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بھی صحابہ کے فضائل کی موید روایات ہیں ۔لیکن ان میں بھی کوئی صحیح حدیث ایسی ثابت نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہر صحابی بلا لحاظ زہد وتقوی قابل احترام ہو۔ اہل سنت و صحابہ حضرات عموما ایک حدیث اکثر اپنے موقف کے حق میں پیش کرتے رہتے ہیں جس سے انفرادی مداح کاشبہ ہوتا ہے لیکن معمولی ساغور کرلینے پر اس شبہ کا ازالہ ہوسکتا ہے حدیث یہ ہے

"حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اصحاب کو برابھلا مت کہو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگوں میں سے اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے اصحاب میں سے کسی کے مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہوگا "(صحیح ترمذی کتاب المناقب )

اس حدیث کے الفاظ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ رسول حاضر وموجود صحابہ کو پہلے دور کے صحابہ پر سب وشتم کرنے سے روک رہے تھے ۔حدیث میں خطابیہ عبارت "تم لوگوں میں سے " بعد کے دور کے صحابہ موجود کی طرف اشارہ ہے ۔اور "میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو" میں غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے وہ اصحاب جن سے خطاب تھا اس کے مکمل مصداق نہ تھے بلکہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کےاصحاب ابتدائی دور کے تھے جن کی مٹھی بھر خیرات کوہ احد کے وزن کی مقدار سے افضل تھی ۔

٭٭٭


اول یار رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیھما السلام

علامہ اہل سنت ابن عبد البر لکھتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل اور قاضی اسماعیل بن اسحاق اور امام احمد بن علی بن شعیب النساکی اور بو علی نیشاپوری کہتے ہیں کہ جس قدر جید سندوں کے ساتھ احادیث حضرت علی ابن ابی طالب کے حق میں مروی ہیں ویسے کسی ایک بھی صحابی کے حق میں نہیں ہوئیں

(استیعاب فی معرفتہ الاصحاب بذیل علی ابن ابی طالب)

اس کے علاوہ اگر جناب امیر علیہ السلام کی خصوصیات کو دیکھا جائے اور آپ کے امور کثرت ثواب کے اسباب پر غور کیا جائے تو جناب امیرالمومنین کے علاوہ بعد از رسول کوئی شخص افضل الناس یعنی خیرالبشر نظر نہیں آتا ۔لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ کثرت ثواب کی وجہ سے افضل ہونا محض امر باطنی ہے تو اس کا ازالہ یوں ہوتا ہے کہ مولا علی کے" الاجمع بمزایا الفضل و الخلال الحمیدۃ "کی طرف نگاہ اٹھتے ہی یہ خیال رفع ہوجاتا ہے اور آپ سرکار کی افضلیت کا آفتاب یقین کی آنکھوں میں چمکتا نظر آتا ہے ۔کیونکہ فضیلت کی ہر قسم کے اعتبار سے جناب امیر افضل ترین دکھائی دیتے ہیں فضلیت نفسانی ،فضیلت جسمانی اور فضیلت خارجی غرضیکہ ہر طرح خلعت فضیلت صرف حضرت علی علیہ السلام ہی کو زیب دیتا ہے ۔ اور ان کے غیر کے لئے پورا نظر نہیں آتا ہے علاوہ دیگر خصوصیت کے


زبان وحی بیان سے حضرت علی علیہ السلام کے ذکر عبادت ہونا ثابت ہے اسی طرح آنجناب کے دیدار کا عبادت ہونا وارد ہے نیز سرکار امیر علیہ السلام کی محبت کا عبادت ہونا ایسے فضائل ہیں کہ کسی دوسرے فرد کو اس میں حصّہ نہ مل سکا ۔اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کے حق میں وارد شدہ حدیثوں کے بارے میں محدثین کی رائے ہے کہ جناب امیر علیہ السلام ک مثل کسی نے اکتساب فضل نہیں کیا ۔آپ کے فضائل ومناقب کا لاتحصی ہونا فریقین میں مسلمہ ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ

"مجاہد کا قول ہے کہ حضرت ابن عباس سے ایک شخص نے کہا سبحان اللہ علی کے فضائل کس قدر زیادہ ہیں میرا خیال ہے کہ تین ہزار ہوں گے ۔حضرت ابن عباس نے جوابا فرمایا کہ تین ہزار کیا شے ہے تیس ہزار ہوں گے پھر ابن عباس کہنے لگے اگر دنیا کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر سیا ہی ہوجائیں اور انسان لکھنے والے ہوں جنات حساب کرنے والے ہوں تب بھی علی علیہ السلام کے فضائل کا احصی نہیں کرسکیں گے "

(ارجح المطالب بحوالہ سبط ابن جوزی ص ۱۲۳)

اسی طرح خوارزمی ، محمد بن یوسف کنجی شافعی حافظ ہمدانی جیسے جیّد علمائے اہل سنت نے حضرت علی بن حسین زین العابدین علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپ اپنے والد مکرم سید الشہدا علیہ السلام اور اپنے جد امجد سید الاولیا علیہ السلام سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بھائی علی کے فضائل اس قدر ہیں جن کی کثرت کاشمار نہیں ہوسکتا ہے پس جو شخص اس کے فضائل میں سے کسی ایک فضیلت کو تسلیم کرکے اقراری ہوکر لکھے اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا اور جب کوئی شخص اس (علی) کے فضائل میں سے کسی ایک فضیلت کو لکھتا ہے جب تک وہ لکھتا رہتا ہے فرشتے اس کے گناہوں کے لئے خدا سے مغفرت مانگتے رہتے ہیں اور جو شخص اس (علی) کے فضائل میں سے کسی ایک فضیلت کو سنتا ہے تو خداوند تعالی اس کے گناہ جو کہ ان سے اپنے کانوں کے ذریعہ سے نا جائز کلام سننے کے لئے ہیں بخش دیتا ہے ۔


اور جو شخص اس(علی) کے فضائل میں سے کسی ایک فضیلت کی طرف نگاہ کرتا ہے تو رب غفار اس کے وہ گناہ جو کہ اس نے اپنی آنکھوں سے بذریعہ ناجائز نگاہ کرنے کے کئے ہیں بخش دیتا ہے پھر سرکار دوعالم نے ارشاد فرمایا کہ علی ابن ابیطالب کی طرف دیکھنا عبادت ہے اس (علی) کا ذکر بندگی ہے ۔ خدائے تعالی کسی شخص کا ایمان قبول نہیں کرتا مگر علی کی ولایت اور اس کے دشمنوں سے برائت ہونے کے وجہ سے (ارجح المطالب ص ۱۲۴)۔

ملا علی متقی حسام الدین نے "کنزل العمال" میں اور دیلمی نے" فردوس الاخبار" میں حضرت عایشہ سے روایت لکھی ہے کہ "ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رصی اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے میں (عائشہ) نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے تمام بھائیوں میں سے بہتر علی ہیں اور تمام چچوں سے بہتر حمزہ ہیں اور علی کا ذکر عبادت ہے

(ارجح المطالب ص ۱۲۱)


"امام طبرانی نے تخریج کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ،کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی شخص نے علی کی مثل فضل کا اکتساب نہیں کیا ۔وہ(علی) اپنے دوست کو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے اور برائی سے پھیرتا ہے

(ارجح المطالب ص ۱۲۳)

شہادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے بعد حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام نے منبر پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا ۔جیسے امام احمد ،امام نسائی وغیرہ نے نقل کیا ہے ۔ امام طبرانی نے معجم الکبیر میں اور امام طبری نے اپنی تاریخ میں بھی یہ خطبہ لکھا ہے جس میں سبط اکبر علیہ السلام نے لوگوں سے فرمایا کہ "اے لوگو! تم سے آج ایک ایسا مرد جدا ہوگیا ہے (یعنی علی)کہ پہلے لوگ اس(علی) سے کسی بات میں بڑے ہوے نہیں تھے اور پچھلے ان تک نہیں پہنچ سکیں گے "

(ارجح المطالب ص ۱۲۳)

پس ایسے یار رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فضائل ومناقب بیان کرنا انسانی بساط سے باہر ہے محض حصول ثواب اور زاد راہ آخرت کی خاطر ہم سرکار امام المتقین سید الاوصیا ء ،یعسوب الدین حضرت علی علیہ السلام کی چند خصوصیات نقل کرتے ہیں جو کسی غیر کو حاصل نہیں ۔

۱:- علامہ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ لکھا ہے کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ جناب علی کی اٹھارہ منقبتیں ایسی ہیں جو امت کے کسی فرد کو بھی حاصل نہیں ۔

۲:- حافظ ابو نعیم نے حلیۃ المتقین میں حضرت ابن عباس


سے لکھا ہے کہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب امیر علیہ السلام سے ایسے پوشیدہ عہد فرمائے جو ان کے سوا کسی دوسرے شخص سے نہیں کئے۔

۳:- صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ ، سے مروی ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی کو پانچ باتیں ایسی عطا ہوئی ہیں کہ میرے نزدیک وہ دنیا و مافیھا سے بہت محبوب ہیں ۔

۱:-قیامت کے دن وہ (علی) میرا تکیہ ہوگا جب تک کہ میں (رسول) حساب سے فارغ ہوجاؤں۔

۲:- لواء الحمد اس(علی) کے ہاتھ میں ہوگا ۔حضرت آدم اور اولاد آدم اس جھنڈے تلے ہوں گے ۔

۳:- وہ میرے حوض(کوثر) کے اوپر کھڑا ہوگا جس کو میری امّت میں پہچانے گا اسے سیراب کرے گا۔

۴:_ میری وفات کے بعد میرا پردہ دار ہوگا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کرے گا ۔

۵:- مجھے اس کی نسبت یہ خوف نہیں ہے کہ وہ پارسا ہونے کے بعد زنا کا مرتکب ہو۔ اور ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہو ۔

(مسند امام احمد بن حنبل بحوالہ ارجح المطالب ص ۸۵۴)

۴:- حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی چار خصلتیں ایسی ہیں کہ کسی ایک کی بھی نہیں ۔

ا:- وہ (علی) تمام عربی وعجمی لوگوں سے پہلے ہیں جنھوں نے آنحضرت کے ساتھ نماز ادا فرمائی ۔


ب:-وہ(علی) ایسی ہستی ہیں کہ حضور کے تمام جہادوں میں آنحضرت کا علم انھیں (علی) کے ہاتھ میں رہا ہے ۔

ج:- وہ(علی) ایسے ہیں کہ اس روز (احد کے دن) حضور کے پاس سے لوگ بھاگ گئے مگر آپ(علی) حضور کے ساتھ صبر کئے ہوئے احد کے مقام میں ڈٹے رہے ۔

د:-آپ (علی) ہی وہ ہیں جنھوں نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا اور لحد میں اتارا ۔(ارجح المطالب ص ۸۵۳)

ابو سعید الخدری نے" شرف النبوۃ "میں ،دیلمی نے فردوس الاخبار میں اور مسند امام رضا علیہ السلام میں لکھا ہے کہ

"ابو الحمراء رضی اللہ عنہ ، سے روایت ہے کہ رسالت مآب صلّی اللہ علیہ وآلہ نے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ تجھے تین ایسی باتیں دی گئی ہیں کہ کسی ایک کو بھی نہیں دی گئیں حتی کہ مجھے (رسول خدا( ص) کو) بھی نہیں دی گئیں ۔

۱:- تجھے مجھ (رسول) جیسا خسر دیا گیا اور مجھے مجھ جیسا خسر نہیں دیا گیا ۔

۲:- تجھے میری بیٹی جیسی صدیقہ زوجہ ملی اور مجھے ویسی بیوی نہیں ملی

۳:-حسن اور حسین علیھما السلام جیسے بیٹے تیری پشت سے تجھے دیئے گئے ہیں میری پشت سے مجھے ویسے نہیں دیئے گئے

مگر تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔

(نوٹ ) یہ حدیث پیغمبر مسئلہ تعداد بنات رسول میں حکم فیصل کا درجہ رکھتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و


آلہ وسلم سوائے جناب امیر علیہ السلام کے کسی دوسرے شخص کے خسر نہ تھے ۔

یحیی بن عوف اور عمروبن میمون سے مروی ہے کہ میں ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نو آدمی آئے ۔اور ابن عباس سے کہنے لگے تمھارا جی چاہے تو ہمارے ساتھ چلو یا پھر ان لوگوں سے الگ تنہائی میں بات سن لو۔ان دنوں ابن عباس تندرست تھے ان کی آنکھیں نہیں گئی تھیں انھوں نے کہا میں تمھارے ساتھ چلتا ہوں بعد اس کے ان کے ساتھ جاکر کچھ علیحدہ باتیں کیں ۔ میں (راوی) نہیں جانتا کہ ان لوگوں نے کیا کہا ۔جب ابن عباس پلٹ آئے تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے جھاڑتے ہیں اور اف و تف ان لوگوں پر کرتے ہیں اور (ابن عباس کہنے لگے یہ لوگ ایسے شخص کے پیچھے پڑے ہیں کہ جن کو اللہ تعالی نے دس (خصوصی ) باتیں دی ہیں (مگر یہ لوگ) اور ایسے شخص کو برا کہتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو اللہ کو اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اور رسول اس کو دوست رکھتے ہیں اللہ اس کو رسوا نہیں کرے گا ۔پس لوگوں نے اس کی طرف (یعنی جھنڈے (علم)کی طرف )جھانکا ۔حضور نے فرمایا ۔علی کہاں ہے ؟ عرض کیا گیا کہ وہ (علی) چکی پیس رہے ہیں ۔اور کوئی شخص ان سے پیشتر چکی نہیں پیستا تھا ۔پس آنحضرت نے ان(علی) کو بلوایا اور ان کی آنکھوں میں آشوب تھا کہ وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے


تھے حضور نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگا یا اور تین مرتبہ علم کو جنبش دے کر علی علیہ السلام کو دے دیا پس انھوں نے خیبر کو فتح کیا اور صفیہ بنت حی بن اخطب کو لے آئے ۔

اور ایک مرتبہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ،کو سورہ توبہ دے کر بھیجا اور بعد اس کے علی کو ان کے پیچھے روانہ کیا پس انھوں نے وہ سورت ابو بکر سے لے لی اور آنحضرت نے فرمایا اس سورت کو نہیں کوئی لے جا سکتا مگر اس شخص کے سوا جو میرے اہل بیت میں سے ہو ۔اور وہ مجھ سے ہو اور میں اس سے ہوں ۔اور ایک مرتبہ حضرت نے حسنین اور علی اور فاطمہ علیھم السلام کو بلا ان کے اوپر چادر اڑاھادی اور فرمایا خداوندا یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص ہیں ۔تو ان سے نجاست دور رکھ اور ان کو پاک رکھ جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے ۔اور حضرت علی علیہ السلام ،حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کے بعد سب سے پہلے اسلام لائے ۔اور ہجرت کی رات کو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا لباس زیب تن فرما کر بستر رسول پر سورہے ۔ اور کفار یہ جانتے رہے کہ یہ (علی)رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہے ہیں ۔بعد ازاں ابوبکر رضی اللہ عنہ ،آئے اور حضور کو پکار ا جناب امیر علیہ السلام نے جواب دیا کہ رسول خدا بیر میمون کی طرف تشریف لے گئے ہیں تم بھی ان کے پیچھے چلے جاؤ ۔پس وہ حضرت کے ساتھ غار میں دا خل ہوگئے اور مشرکین حضرت علی علیہ السلام کو صبح تک پتھر مارتے رہے اور آنحضرت جب غزوہ تبوک میں لشکر لے چلے علی علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں بھی رکاب سعادت میں چلوں آپ نے فرمایا نہیں ۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ تم راضی


نہیں ہو کہ میری طرف سے تم ایسے مرتبے پر رہو جس مرتبہ پر ہارون موسی کی طرف سے تھے ۔فقط اتنا فرق ہے کہ تم نبی نہیں ہو ۔پھر ارشاد فرمایا تم سب مومنین میں میرے بعد میرے خلیفہ ہو ۔اور حضور کے حکم سے علی کے دروازہ کے سوا مسجد کے سب دروازے بند کرادئیے گئے اور علی بحالت جنب مسجد میں داخل ہوتے تھے وہی ان کا راستہ تھا اس کے سوا ان کا دوسرا راستہ نہیں تھا اور فرمایا حضرت نے جس کا میں ولی ہوں اس کا علی ولی ہے ۔

(اخرجه احمد و النسائی و ابن جریر الطبری و ابو یعلی و الحاکم و الخوارزمی و ابن عساکر و ابن ابی یو سف الکنجی فی کفایت المطالب و محب الطبری فی الریاض النفرة النفرة وجلال الدین السیوطی فی الجمع الجوامع بحواله ارجح المطالب ص ۸۵۱ مولوی عبید الله بسمل )

حضرت مظہر العجائب علیہ السلام کی تو صیف کہاں اور مجھ گنہگار کی استطاعت بیان کہاں ۔زمین وآسمان سے بھی زیادہ فرق ہے صرف اظہار عقیدت ہوسکتا ہے ۔وہ بھی ادھورا ۔اگر حسن عقیدت سے قطع نظر کرکے تھوڑی دیر کے لئے بنظر انصاف دیکھا جائے تو یہ رائے قائم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آسکتی ہے کہ جس جلیل الشان یارنبی کا تذکرہ ہم کر رہے ہیں وہ صرف مذہبی پیشوا ہی نہیں بلکہ سلطنت کے تاریخی آسمان کا آفتاب ہے ۔دنیا میں جتنے بھی مشاہیر گزرے ہیں اور جس کی سوانح عمر یاں آب زر سے لکھی گئی ہیں ان میں سے سرکار امیر المومنین علیہ السلام ایسے فرد الافراد ہیں کہ ہر طبقہ کے مشاہیر میں سرآمد نظر آتے ہیں ۔


مجمع سلاطین میں آب جلال الہی کا تا ج سر پر سجائے العلی سلطانا نصیرا ہیں ۔میدان کار زار میں آج تک نعرہ حیدری کی آواز گونجتی ہے ۔منبر کو آپ کی خطابت وفصاحت وبلاغت پر ناز ہے ،علم وفضل کی بھیک آپ کے دروازے ہی سے ملتی ہے ،ایسے سراپا علم ،حکمت وعلیم ہیں کہ انبیا ئے بنی اسرائیل کی شریعت کے رموز کو یونانی فلسفہ کے ساتھ بنی اسماعیل کی زبان میں بیان فرماتے ہیں ۔ہرساعت ان کی درسگاہ میں "سلونی سلونی "کی دعوت عام جاری ہے ۔مسند فقر پر آپ ایک منکسر المزاج فقیر ہیں اور چار بالشت امارت پر آپ ذی شوکت امیر ہیں ۔عدالت میں آپ نے نوشیروان کو بھلا دیا ۔شجاعت میں رستم کے نام کو زیر فرمایا ۔سخاوت میں حاتم کو شرمندہ کردیا ۔شہامت میں اپنا لوہا منوایا الغرض ایسے صفات میں متضادہ کابشر ابو البشر کی اولاد میں کوئی پیدا نہ ہو سکا ۔ان ہی کی صفات متضادہ اور متقابلہ سے دنگ رہ کر نصیریہ نے آپ کو خدا مان لیا ۔صوفیا ء نے خدا جانے کیاجان لیا مگر یہ حق ہے

ذات حیدر کو کوئی کیا جانے

یا نبی جانے یا خدا جانے

گنہگار وعاجز میں ایسی استطاعت کہاں او ر احقر کی بساط کیا کہ مولائے کائنات ،فخر موجودات ،استاد جبرئیل ،حاکم میکائیل مولائے اسرافیل ،ولی عزرائیل ،امام الملائکہ ،اسدا للہ ،حجۃ اللہ ،صفوۃ اللہ ،سیف اللہ ، وجہ اللہ، امیر المومنین


امام المتقین ،سید الصادقین ،قائد الغر المحجلین ،یعسوب الدین ، صدیق الاکبر ،فاروق الاعظم ، خیر الوصیین ، شیخ الانصار و المهاجرین ،صالح المومنین ،قاتل الناکثین ، والقاسطین والمارقین ،غالب کل غالب ،ابو الریحانتین ،نفس الرسول ،زوج البتول ،منار الایمان ،کل ایمان ،قسیم النار والجنه ،مشکل کشا ،کاسر اصنام الکعبه ، مظهر العجائب والغرائب ،سیدنا ،مولانا ، حبیبنا ، وحبیب ربنا و رسولنا، ابو الحسن حضرت علی ابن ابی طالب علیه الصلواة والسلام کی توصیف بیان کرسکوں ۔جبکہ یہ کام فرشتوں سے بھی پو را نہ ہوا کہ ہر ساعت مباہات میں مصروف ہیں ۔کہاں مولا کے مناقب کا سمندر جہاں بڑے بڑے مشاق تیراک ہاتھ پیر مارتے نظر آتے ہیں مجھ جیسے اناڑی کی کیا مجال ہوسکتی ہے بس یہ مولا ہی کی توفیق ہے کہ ا س کی محبّت میں مست ہوں اور آپ ہی سے اپنے گناہوں کی شفاعت کا امید وارہوں ۔ نگاہ کرم کا مشتاق ہوں ۔میری لغزشیں یہ بھی اجازت نہیں دیتی ہیں کہ رب العزت کی جناب میں عفو تقصیرات کی التجا کروں مگر وصی رحمۃ للعالمین کی رحمت سے ہرگز مایوس نہیں ہوں ۔

کیونکہ یہ وہ در ہے جہاں دربدر کے ٹھکرائے ہوئے کو پناہ ملتی ہے اصل درپر کبھی کوئی گداگر نامراد واپس نہیں ہوا ہے ۔انسان تو رہے ایک طرف یہ درفرشتوں کا بھی آزمایا ہوا ہے ۔پس اے صاحب درحیدر !آپ ہی کے گھر سے ملی ہوئی بھیک کے یہ چند موتی آپ کی بارگاہ میں پیش کررہا ہوں ۔صدیق امت حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ،سلمان آل محمد رضی اللہ عنہ


مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ،کے صدقہ میں میرا یہ نذرانہ قبول فرمائیں ۔یہی شرف میرے گناہوں کی شفاعت کے لئے سفارش ہے

مسرّت ہے شاہ نجف کی غلامی

زہے کا مرانی ،زہے شادمانی

ملے مجھ کو بھی مثل سلمان وبوذر

وہی خواجہ تاشی وہی نیک نامی

وہ بے خوف وغم کیوں نہ ہو ،بن گئے ہوں

حقیقت میں شیر خدا جس کے حامی

پہنچ کر درشاہ مرداں پہ اکثر

خصوصی شرف پاگئے ہم سے عامی

(حسرت موہانی)

ہم فاروق اعظم اہل سنت حضرات عمر بن خطاب کے اس قول پر اپنے اس بیان کو ختم کرتے ہیں کہ حضرت عمر باوجود ہزاروں اختلافات کے فرمایا کرتے تھے

"اب یہ نا ممکن ہے کہ کوئی ماں علی جیسا مولود پیدا کرسکے "(مناقب خوارزمی)

٭٭٭٭٭


دوم یار نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوذر الصدیق رضی اللہ عنہ

حضرت ابوذر غفاری رحمت اللہ علیہ اسلام کی ایسی عظیم شخصیت ہیں جنھوں نے اسلام نظریات کی ہر قدم پر جان جوکھوں میں ڈال کرحفاظت ونصرت فرمائی ۔آپ دین حق کے نڈر سپائی ،بے باک مبلغ ،عزم واستقلال کے پیکر مظلوم صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے۔ آپ کبھی لذت غم وشدائد کو عارضی خوشیوں کے ہاتھوں فروخت نہ فرمایا ۔آپ کے حوصلہ منداور جراءت افزاء جذبات ایمانی بڑی بڑی آزمائش میں غالب نظر آتے ہیں ۔اس میں شک نہیں اس حق گو اور صدیق امت ہستی کو اشاعت حق کی بھاری قیمت اداکرنی پڑی لیکن ایک لمحہ کے لئے بھی یہ سرفروش اسلام باطل کے سامنے سرنگوں نہ ہوا ہر طرح کی مصیبت کو ہنسی خوشی قبول کیا لیکن سچ کو آنچ نہ آنے دی ،عشق دین الہی کی مستی میں جابرسلطان سے ٹکراجانے والے اس بہادرصحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوجس طرح اس کی زندگی میں نشانہ ظلم وجور بنا گیا بعد ازوقت بھی ان سے بغض وکینہ کے تیز ہتھیاروں سے انتقام لینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی ۔قصیدہ خوانان حکومت نے آپ کے تاریخ وجود کے نقش ونگار کو محض حکمرانوں کی محبت وعقیدت میں دھندلاکر نے کی تمام کوششیں صرف کیں کبھی اس بزرگ عظیم کو اس کے آقا ومولا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


کی طرح مجذوب ومجنون کہا گیا ،کبھی عذر پیری تراش کر اس کامل ہستی کے ادراک وفہم مصطفی پر رکیک حملے کئے گئے اور ستم بالائے ستم یہ کہ آج کے زمانے میں اہل قلم نے ان کو اشتراکیت کا بانی قرار دینا شروع کردیا ہے ،مارکسی نظریہ کا خالق سمجھا جانے لگا ہے ،مسلمانوں کی اس فرزند اسلام سے چشم پوشی یقینا اہل درد کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے کہ اہل علم وقلم احباب نے اس بطل جلیل زعیم عظیم یا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علیم سے یہ غیر منصفانہ صرف نظر کیوں روا رکھا ۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ راقم ناتواں کو یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے کہ اس مومن کامل،عاشق آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،محبوب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اورحبیب رب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،نجم ہدایت یار نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں اپنے عقیدت مند جذبات کا اظہار پیش کروں ۔میں کوشش کروں گا کہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کے خصوصی حالات پر مختصر مگر سیر حاصل روشنی ڈالوں کہ آپ کی علمی حیثیت اسلامی ،اقتصادی نظریہ ،فضائل ومناقب اور حالات مصائب سے عبوری واقفیت ہوجائے نیز اس شبہ و الزام کا بھی ازالہ ہو جائے کہ جناب ابوذر رضی اللہ عنہ اشتراکیت یا کمیونزم جیسے لغو نظریات کے خالق تھے ۔حالانکہ آپ خالص توحید پرست ،کٹر مومن اور حقیقی عاشق رسول واہلبیت رسول علیھم السلام تھے ۔ ان کے جسم مبارک کے ایک ایک قطرہ خون میں محبت اہل بیت (ع) رچی بسی تھی ان کے رگ وپے میں مؤدت والفت کا خون دوڑ رہا تھا وہ ثقلین رسول کے نظریہ پر ایمان رکھتے تھے اور انھیں کے نقش قدم پر دوڑتے تھے ۔حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مطیع وپیروکار تھے اور ان ہی کے سکھائے ہوئے نظریات کا پرچار کیا کرتے تھے ۔اور یہی وجہ


تھی جس کی پاداش میں انھیں سکھ کی سانس لینا نصیب نہ ہوسکا محبت دین کے جنون حقیقی میں انھوں نے سرمایہ دارانہ نظام سے ٹکرلی اور انتہائی بے جگری سے مقابلہ کیا ۔ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے اور جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کا واشگاف اعلان فرما کر جہاد الکبیر فرماتے رہے ۔اصولوں پر کسی سودا بازی پر امادہ نہ ہوئے اور صداقت کی راہ میں کھڑی ہوئی ہر دیوار سے ٹکراگئے ۔آپ نے استبدادی قوتوں کا مردانہ وار مقابلہ فرمایا ۔

اور آئین وفا کی ہر شق کے پابند رہے ۔حتی کہ آج ابوذر کی صداقت دہریوں اور بے دینوں نے بھی تسلیم کرلی ۔اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے کہ

گماں آباد ہستی میں یقین مرد مسلمان کا ----- بیاں باں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی

مٹایا قیصر وکسری کے استبداد کو جس نے ----- وہ کیا تھا‏؟ زور حیدر ،صدق بوذر فقر سلمانی

نام ونسب وحلیہ:-

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ میرا اصلی نام جندب بن جنادہ ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میر ا نام عبداللہ رکھا ہے اور یہی نام مجھے پسند ہے چونکہ آپ کے فرزند اکبر کا نام" ذر" تھا لہذا جناب کی کنیت "ابوذر" تھی ۔ذر کے لغوی معنی خوشبو اور طلوع وظہور کے ہیں ۔

آپ جنادہ بن قیس ابن صغیر بن حزام بن غفاری کے چشم وچراغ تھے آپ کی والدہ محترمہ رملہ بنت ورفیعہ غفاریہ تھیں ۔آپ عربی النسل اور قبیلہ غفار سے تھے اسی لئے آپ کے نام کے ساتھ "غفاری" لکھا جاتا ہے ۔آپ گندمی رنگت کے طویل القد انسان تھے ،نحیف الجسم تھے ۔آپ کا چہرہ روشن تھا اور کنپٹیاں دھنسی ہوئی


تھیں کمر خمیدہ ہوگئی تھیں ۔

عہد جاہلیت کے مختصر حالات :-

حضرت ابوذر غفاری رحمۃ اللہ علیہ کے قبل از اسلام کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ وہ دین اسلام سے نابلد تھے تاہم توفیق الہی نے اس وقت بھی انھیں وحدانیت کے نور سے منور کر رکھا تھا اس پرشرک زمانے میں بھی آپ توحید خداوندی کا تصور اپنے روشن قلب میں رکھتے تھے ۔انھوں نے خود اپنے ایک بھتیجا پر اس بات کا انکشاف فرمایا کہ ملاقات رسول سے تین برس پہلے انھوں نے خدا کی نماز ادا فرمائی اور بت پرستی سے اکثر اجتناب برتا ۔اس کی دجہ خود امام صادق علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جناب ابوذر اکثر تفکر خالق میں رہاکرتے تھے اور ان کی عبادت کی بنیاد تفکر خداوندی پر تھی ابن سعد نے اپنی طبقات میں اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ بات نقل کی ہے چنانچہ مولوی شبلی نعمانی اپنی سیرت النبی میں تحریر کرتے ہیں کہ ابوذر بت پرستی ترک کرچکے تھے ۔اور غیر معین طریقے سے جس طرح ان کے ذہن میں آتا تھا خدا کا نام لیتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے جب حضور کا چرچا سنا تو اپنے بھائی کو آپ کی خدمت میں صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لئے روانہ کیا جو آنحضرت کی خدمت میں آیا اور قرآن شریف کی کچھ سورتیں سنکر واپس جاکر ابو ذر سے کہا کہ میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جسے لوگ مرتد کہتے ہیں وہ مکارم اخلاق سکھا تا ہے اور جو کلام وہ سنا تا ہے وہ شعر وشاعری نہیں بلکہ کچھ اور ہی چیز ہے تمھارا طریقہ اس سے بہت ملتا جلتا ہے ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سخت قحط پڑا قبیلہ غفار کے گمان میں


یہ خشک سالی ان کے بت معبودوں کی ناراضگی کے باعث تھی چنانچہ سرداران قوم نے فیصلہ کیا کہ بتوں کو راضی کیا جائے ۔انھوں نے "منات " بت کو منانے کے لئے طرح طرح کی قربانیاں دی اور خوب انکساری سے گڑاگڑا کر دعائیں مانگیں مگر ایک قطرہ بارش بھی نہ ٹپکا ۔حضرت ابوذر کے بھائی انیس ان کو بھی زبردستی منات کی پو جا کے لئے لے آئے تھے اور ان کی بے رغبتی دیکھکر بار بار ان کو بتوں کی توصیف سناتے اور ان سے خوف زدہ کرتے مگر آپ سنی ان سنی کرئے رہتے ان ہی قصہ کہانیوں میں کچھ ایسے قصے بھی آئے کہ لوگوں نے بتوں کی گستاخیاں کیں مگر ان کا بال تک بیکا نہ ہوا ۔حضرت ابوذر اپنے تفکرات میں کھوئے ہوئے یہ سب باتیں سنتے رہے حتی کہ لوگوں کو نیند آگئی مگر ابوذر بیدار رہے ۔اور سوچنے لگے کہ "منات" آخر ایک پتھر کا صنم ہی تو ہے ۔ جو نہ ہی ہدایت دے سکتا ہے اور نہ ہی گمراہ کرسکتا ہے ۔آپ چپکے سے اٹھے اور منات کو ایک پتھر مار ا۔منات ٹس سے مس نہ ہوا ۔پس ابوذر نے من میں کہا ۔"تو عاجز ہے قادر نہیں ،مخلوق ہے خالق نہیں ،نہ تجھ میں طاقت ہے نہ قوت تو ہرگز لائق عبادت نہیں ہوسکتا ۔بے شک میری قوم کھلی گمراہی میں ہے کہ تجھ پر قربانیاں چڑھاتے ہیں اور جانور ذبح کرتے ہیں "اسی تصورمیں آپ سوگئے ۔جب صبح طلوع ہوئی تو منات کے پجاری پھر اس کے گرد طواف کرنے کے لئے جمع ہوئے مگر ابوذر عجیب کیفیت میں اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر آسمان کی بلندی کی طرف عالم تصور میں ڈوب گئے ۔اور اجرام فلکی کی تخلیق میں غور فکر و تامل میں غرق رہے ۔ حتی کہ اطمینان قلب حدیقین تک آپہونچا ۔لوگ طواف کر کراکے


روانہ ہوگئے اور جناب ابوذر کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ۔قافلہ چلتا رہا ۔ابوذر دریائے فکر میں غوطہ زن رہے ۔پہاڑوں کو دیکھتے تو خالق کی صناعی پر غور فرماتے ،زمین کی وسعت ،آسمان کی بلندی ،خلقت انسانیہ ،چاند ،سورج اور تارے آخر کوئی تو ان سب کا بنانے والا اور انتظام کرنے والا ہے ۔ اسی سوچ وبچار میں گھر آپہنچے تو سیدھے لیٹ گئے دل ہی دل میں کہا " بے شک آسمان کا پیدا کرنے والا آسمان سے بڑا ہے اور انسان کا خالق انسان سے بڑا ہے اس دنیا کو بنانے والا یقینا بہت ہی بڑا ہے وہی عبادت کے لائق ہے منات نہیں ، نہ لات وعزی ،نہ اساف ونائلہ اور سعد بلکہ صرف اسی کی ذات عبادت کے قابل ہے وہی خالق بدیع مصور وقادر ہے اور یہ بت محض پتھر ہیں جن میں نہ قدرت ہے نہ طاقت ۔پس اسی حالت یقین میں آپ سجدہ ریز ہوئے دل کو تسلی محسوس ہوئی اوراسی کیفیت میں آپ محوخواب ہوگئے ۔جب صبح اٹھے تو خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے ۔اسی حالت میں حضرت کے بھائی انیس آئے تو ابوذر کو مؤدت انداز میں کھڑا پایا ۔ دریافت کیا کہ کیا ہورہا ہے جوابا فرمایا کہ اللہ کے لئے نماز پڑھ رہا ہوں ۔ انیس حیران ہوکر پوچھا کون اللہ؟۔نماز تو صرف منات یا نہم کے لئے ہے ۔آپ نے فرمایا میں کسی بت کی نماز نہیں پڑھتا بلکہ میں نے ایسے معبود کی معرفت پائی ہے جو تمھارے خداوؤں جیسا نہیں وہ عظیم ہے قادر مطلق ہے ۔عقل اس کو پانے سے قاصر ہے بس وہ ایک حقیقی طاقت ہے جسکی میں تعظیم کرتا ہوں انیس نے دریافت کیا اے میرے بھائی کیا ایسے خدا کی پرستش کرتا ہے جسے نہ تو


دیکھ سکتا ہے نہ پاسکتا ہے ۔یہ عجیب حرکت ہے کہ تو اپنے سامنے کھڑے معبودوں کو چھوڑ رہا ہے جنھیں تو جب چاہے دیکھ لے اور جب مرضی پالے ۔جناب ابوذر نے فرمایا ۔اگر چہ میں اپنے معبود کو پا نہ سکا تاہم میں نے اس کی قدرت کی نشانیاں مشاہدہ کرلی ہے ۔یہ پتھر کے معبود تو گنگے ،بہرے اوراندھے ہیں نہ ان کو نفع پر اختیار ہے نہ نقصان پر۔انیس نے کہا کیا تو ہمارا اور اپنے اجداد کا مذاق اڑا رہا ہے ؟ جناب ابوذر نے جواب دیا کہ اے انیس ! میری کیاخطا ہے ! اگر میرے اسلاف غلطی پر تھے ، تمھارا دین مکڑی کے جالے کی تا ر سے بھی کمزور ہے ۔ذرا سوچ کر کہو کہ ہم میں سے جب کوئی سفر کرتا ہے اور قیام کرتا ہے تو دوچار پتھر جمع کرتا ہے جو پتھر اچھا لگتا ہے اس کو خدا بنالیتا ہے اور باقی سے چھو لھا بنا لیتا ہے ۔ذرا ہوش سے جواب دو کہ یہ پتھر کیسے معبود ہوسکتے ہیں ہمیں بھلا لگا تو عبادت کے لائق ہوگیا اگر بھائے نہیں تو آگ کے حوالے ۔یہ بڑی عجیب وغریب بات ہے ۔ انیس نے کہا کہ ہم تو بحالت سفر اس لئے کرتے ہیں کہ ہم کعبہ پر بھی ایسا ہی کرتے ہیں چنا ہو اپتھر کوئی اپنی ذات کی بنا پر تو نہیں پوجا جاتا بلکہ اساف ونائلہ (بت) کے قائم مقام کرکے پوجا جاتا ہے جوکعبہ میں رکھے گئے ہیں ۔جناب ابوذر جوش میں آئے اور فرمایا کہ اساف اور نائلہ دو زانی تھے کیا تم زانی کی عبادت کو پسند کرتے ہو ۔قصہ یوں ہے کہ اساف نائلہ پر عاشق تھا دونوں بغرض حج کعبہ آئے اور لوگوں کو غافل پاکر وہاں زنا کیا اسی وقت مسخ ہوکر پتھر بن گئے ۔اور بعد میں لوگوں نے ان کو پوجنا شروع کردیا انیس کو یہ بات ناگوار ہوئی اور کہا کہ تو پھر ان نشانیوں کے بارے میں تو کیا کہتا ہے


جو ان سے ظاہر ہوئیں ۔ابوذر نے فرمایا ان سے تو کچھ بھی ظاہر وصادر نہ ہوسکا اور نہ ہوسکتا ہے ۔کیونکہ ان میں تو کچھ طاقت ہی نہیں ہے ابھی کا ہم منات کو منانے کے لئے گئے کہ وہ بارش برسائے اتنی منتیں سماجتیں کی گئیں مگر ایک بوند پانی بھی نہ بر سا ۔پس انیس نے کھسیا نہ ہو کر کہا کہ چپ رہ تو ہمارے دل میں شک ڈالنے لگا ہے مجھے خدشہ ہے کہ کہیں میں بھی تیرے عقیدے کی طرف مائل نہ ہوجاؤں ۔حضرت ابوذر نے تبسم فرمایا کہ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم بھی ان بتوں سے تنگ آکر خالق ارض وسما کی طرف مائل ہوجاؤ ۔انیس نے کہا کہ کیا دین چھوڑنا اتنا آسان ہے کہ جتنا پرانا لباس اتارا دینا ؟ابوذر نے فرمایا ہاں انیس جبکہ یہ دین پھٹے پرانے کپڑے کی مانند ہے تو یہ بات ہمارے لئے یقینا آسان ہے ۔ اسی اثنا ء مین ان کی والدہ تشریف لاتی ہیں اور بچوں کو کہتی ہیں کہ ہم اس قحط سالی سے سخت تنگ آگئے ہیں لہذا تمھارے ماموں کے گھر چلتے ہیں حتی کہ "اللہ تعالی"حالت بدل دے چنانچہ یہ سفر پر روانہ ہوئے اور حسب عادت حضرت ابوذر اپنے خیالات میں مصروف غور رہے ۔چند روز انھوں نے اپنے ماموں کے گھر گزارے مگر ایک شرارت کے تحت ان کو مجبور ا یہ گھر چھوڑنا پڑا کیونکہ کسی بد بخت نے ان کے ماموں کو ورغلادیا کہ اس کا بھانجہ انیس اپنی ممانی پر فریفتہ ہے ۔حضرت ابوذر نے مقام "بطن مرو" میں رہائش اختیارفرمائی اور ایک روز بکریاں چرا رہے تھے کہ اچانک ایک بھیڑیا نمودار ہوا اور اس نے آپ کی داہنی طرف حملہ کردیا ۔جناب ابوذر نے اپنے عصا سے اسے بھگایا اور غصہ میں فرمایا "میں تجھ سے زیادہ خبیث برا بھیڑیا آج تک نہیں دیکھا "۔بااعجاز خداوندی بھیڑئیے کو قوت


گویائی ملی ۔اور اس نے کہا " خدا کی قسم مجھ سے کہیں زیادہ بدتر "اہل مکہ "ہیں کہ خداوند نے ان کی طرف ایک نبی مبعوث فرمایا ہے اور وہ لوگ اس کو دروغ گو کہتے ہیں اور اس کے حق میں ناحق کلمات نا سزا استعمال کرتے ہیں " یہ آواز سنتے ہی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے دل میں جستجو ئے حق کا جذبہ اور فروغ پاگیا چنانچہ بلا تاخیر انھوں نے اپنے بھائی انیس کو نبی مبعوث کے حالات معلوم کرنے کے لئے روانہ کردیا جب انیس واپس آئے تو جناب ابوذر نے بڑے اشتیاق سے رودراد دریافت فرمائی ۔انیس نے کہا ۔

"میں ایک ایسے شخص سے مل کر آیا ہوں جو یہ کہتا ہے کہ اللہ ایک ہے ۔اے بھائی اللہ نے تیرے مسلک کے لئے اسے بھیجا ہے ۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ، ساحر اور کاہن ہے مگر وہ ہرگز شاعر نہیں کیوں کہ میں شعر ک تمام قسموں سے واقف ہوں ۔میں نے اس کی باتوں شاعری پر چانچا تو معلوم کیا کہ اس کا کلام شعر نہیں ہے نہ ہی وہ جادوگر ہے کیونکہ میں نے جادوگر کو بھی دیکھا ہے نہ ہی وہ کاہن ہے کہ میں بہت سے کاہنوں سے مل چکا ہوں اس کی باتیں کاہنوں جیسی نہیں ہیں۔وہ عجیب عجیب باتیں کہتا ہے ۔بخدا اس کا کلام بہت شیرین تھا مگر مجھے اس کے سوا کچھ نہیں رہا جو بتا چکا ہوں البتہ میں نے کعبہ کے قریب نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ اس کی ایک جانب ایک خوبصورت نوجوان جو ابھی بالغ نہیں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا ہے لوگ کہتے ہیں کہ اس کا چچیرا بھائی علی ابن ابی طالب ہے ۔اور اس کے پیچھے ایک جلیل القدر عورت کھڑی نماز پڑھ رہی ہے لوگوں


نے اس معظمہ کےبارے میں مجھے بتایا وہ اس کی زوجہ خدیجہ ہے "

قبول اسلام:-

یہ اصول سن کر جناب ابوذر بے تاب ہوگئے اور فرمایا مجھے تمھاری گفتگو سے تشفی نہیں ہوئی میں خود اس کی خدمت میں حاظر ہوکر اس کی باتیں سنوں گا اس نے خبر دار کیا کہ آپ ضرور تشریف لے جائیں مگر اس کے خاندا والوں سے ہوشیار رہیں ۔چنانچہ حضرت ابوذر مکہ آئے اور مسجد الحرام کے قریب پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈ نے لگے مگر نہ ہی آپ کا کوئی تذکرہ سنا اور نہ ہی ملاقات کرسکے ۔رات چھپانے لگی اچانک حضرت علی علیہ السلام طواف کے لئے آئے اور حضرت ابوذر کے قریب سے گزرے جو وہاں اجنبی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے مسافر سمجھ کر جناب امیر علیہ السلام آپ کو اپنے گھر لےآئے ۔اور انتظام شب بسری فرمایا ۔صبح ہوتے ہی حضرت ابوذر نے پھر مسجد کا رخ کیا اور رسول کریم کو تلاش کرنے لگے مگر سارے دن کی جستجو کے باوجود زیارت رسول نصیب نہ ہوئی رات کو پھر حضرت علی علیہ السلام سے ملامات ہوئی ۔ آپ نے تعجب سے مقصد دریافت فرمایا ۔جناب ابوذر جھجکے مگر حضرت امیر نے یہ یقین دلایا کہ وہ بلاخوف اظہار کریں ان کے راز کی حفاظت کی جائے گی ۔جناب ابوذر نے کہا " مجھے معلوم ہوا ہے یہاں ایک نبی مبعوث ہوا ہے میں نے اپنے بھائی کو ان کی خدمت میں روانہ کیا مگر اس کی باتوں سے میری تسلی نہیں ہوئی لہذا میں خود ان سے ملاقات کرنے کو بے تاب ہوں۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا۔

"آپ ہدایت پاگئے ۔میں ان کی طرف جارہا ہوں ۔میرے پیچھے آئیے جہاں میں داخل ہوں وہاں آپ بھی داخل ہوجائیں اگر میں کوئی خطرہ محسوس کروں گا تو دیوار کے پا س کھڑا ہوکر اپنا جوتا درست کرنا شروع


کردوں گا اور اگر ایسا کروں تو آپ واپس چلے آئیں " چنانچہ اس طرح حضرت امیر علیہ السلام کی معیت میں یہ عاشق رسولاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے عزم بے پایاں میں کامیاب ہوا ۔ نورمجسم کے چہرہ انور کی ایک مقدس جھلکی نے بے خود کردیا اور شرف قدم بوسی حاصل کیا ۔بس دانہ تسبیح میں پرولیا گیا ۔ سرکار ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضروری امور کی تلقین فرمائی اور کلمہ شہادت پڑھنے کا حکم دیا ۔

حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ الفت سے مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ

"سنو ! زمانہ اسلام کا خاص دشمن ہے تم بہت محتاط رہنا تم اپنے وطن واپس چلے جاؤ اور جب تک میری نبوت زور پکڑے وہیں رہو ۔جاؤ تمھارے وطن پہنچنے سے قبل تمھارا ماموں انتقال کرچکا ہوگا اورچونکہ وہ بے اولاد ہے لہذا تم اس کی جائیداد مال کے وارث ہوگئے چنانچہ آپ حسب حکم وہاں سے واپس آئے اور اپنے ماموں کی جائیداد کے مالک ہوئے آپ نے ہجرت مدینہ تک وہیں قیام فرمایا اور ہجرت کے بعد مدینہ روانہ ہوئے ۔علماء نے لکھا ہے کہ حضور نے حضرت ابوذر کو ایمان پوشیدہ رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی یعنی تقیہ کی تعلیم دی تھی تاکہ دشمنوں کے مصائب وآلام سے محفوظ رہیں ۔لیکن عشق ومشک چھپنے والی چیزیں نہیں حضرت ابوذر نورایمان کو چھپا نہ سکے ۔جذبات ایمانیہ کا غلبہ ہوا ۔ اور حضور کی خدمت اقدس سے رخصت ہو کر مسجد کی طرف آئے اور قریش کے ایک گروہ کے سامنے چلا کر کہنے لگے "اے قریش سنو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں "


یہ سنتے ہی قریش کے تن بدن میں آگ لگ گئ ۔بد حواس ہو کر انھوں نے جناب ابوذر کو گھیرے میں لے لیا اور اس قدر زدو کوب کیا کہ جناب ابوذر غش کھاگئے قریب تھا کہ آپ کی روح پرواز کرجاتی مگر اچانک حضرت عباس بن عبدالمطلب آئے اور وہ حضرت ابوذر کے اوپر لیٹ گئے ۔اور ان درندہ صفت لوگوں کو کہا کہ تمھیں کیا ہوگیا ہے یہ آدمی قبیلہ غفار کا ہے جس سے تم تجارت کرتے ہو اگر اس کچھ ہوا تو تمھیں لینے کے دینے پڑجائیں گے ۔یہ بات سن کر کفار حضرت ابوذر کے پاس سے ہٹ گئے آپ زخموں سے چور چور ہوگئے تھے ۔بڑی مشکل سے چاہ زم زم تک پہنچے اور اپنے جسم کو خون سے پاک کیا ۔پانی نوش فرمایا اور پھر بارگاہ رسالت مآب میں تشریف لائے ۔حضور نے آپ کی یہ حالت دیکھی تو سخت رنجیدہ ہوئے ۔پھر فرمایا "اے میرے صحابی ابوذر تم نے کچھ کھایا پیا ہے ؟ ابوذر نے جواب دیا سرکار آب زم زم پی کر سکون حاصل کرلیا ہے ۔حضور نے فرمایا "بے شک یہ سکون بخشنے والا ہے " اس کے بعد آنحضرت نے ابوذر کو تسلی دی اور انھیں کھانا کھلایا ۔

عشاقان حقیقی کے نزدیک حق کی راہوں میں سہی جانے والی مصبیتوں کاذائقہ ہی بہت لذیذ معلوم ہوتا ہے ۔اگر چہ جناب ابوذر ایک مرتبہ ایسے شدید مصائب کا مزا چکھ چکے تھے لیکن ان کے جذبہ ایمانی نے یہ گوارہ نہ فرمایا کہ خاموشی سے اپنے وطن کو واپس چلے جائیں ۔آپ کے عشق صادق اور ایمان کامل نے یہ مطالبہ کیا کہ نا ہنجاز قریش پر یہ واضح کردیا جائے کہ انسانی شعور شرک وبت پرستی کے اوہام کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے چنانچہ آپ اسی مضروب


حالت میں دوبارہ مسجد کی طرف پلٹے ۔اور پھر وہی کلمات حق بآواز بلند دہرائے اب کی بار قریش آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے شور مچایا کہ اس شخص کو قتل کردو ۔آپ پر ہر طرف سے حملہ کردیا گیا اور اس بے دردی سے مارا کہ قریب المرگ ہوگئے اس مرتبہ پھر عباس بن عبد المطلب نے آپ کی جان بچائی ۔حضرت ابوذر کی ان جراءت مندانہ تقریر نے قریش کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اسلام کی روشن کرنیں اب صفحہ ہستی پر پھیلنا شروع ہوگئی ہیں اور وہ دن دور نہیں کہ پتھر کے خداؤں کی شان وشوکت خاک میں مل جائے گی ۔

اب پھر حضرت ابوذر نے آب زم زم سے اپنا جسم پاک کیا اور خدمت رسول میں حاضر ہوئے چنانچہ حضور نے آپ کی حالت زار ملاحظہ فرما کر حکم دیا کہ " اے ابوذر اب تمھمیں میر ایہ امر ہے کہ تم فورا اپنے وطن واپس چلے جاؤ تمھارے پہنچنے سے پہلے تمہارا ماموں فوت ہوچکا ہوگا چونکہ تمھارے سوا اس کا اور کوئی وارث نہیں ہے لہذا اس کی جائیداد کے بھی تم مالک و وارث ہوگئے تم جاؤ اور مال حاصل کرنے بعد اسے تبلیغ اسلام پر صرف کرو ۔میں عنقریب یثرب کی طرف ہجرت کرکے چلا جاؤں گا ۔تم اس وقت تک وہیں اپنا کام کرنا جب تک میں ہجرت نہ کرلوں ۔حضرت ابوذر نے سرتسلیم جھکا کر عرض کیا کہ حضور میں عنقریب یہاں سے چلا جاؤں گا اور اسلام کی تبلیغ کرتا رہوں گا ۔

ابوذر کی تبلیغی خدمات:-

ایمان سے مالا مال ہوکر یہ یار پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے وطن واپس آگیا ۔دنیوی دولت نے بھی قدم چومے اور ترویج اسلام میں پوری سعی سعید شروع کردی ۔ سب سے پہلے اپنے بھائی انیس کو حلقہ


بگوش اسلام کیا اور دونوں بھائی اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جنھوں نے بلا حیل وحجت کلمہ شہادت بڑھ لیا ۔ ماں او ربھائی کے ایمان لانے سے حضرت ابوذر کی حوصلہ افزائی ہوئی لہذا اہل قبیلہ کو راہ راست پر لانے کی تراکیب پر غور شروع کردیا اسی سوچ وبچار میں ایک روز حضرت ابوذر اپنے گھر سے نکل پڑے اور اپنی ماں وبھائی کے ساتھ کچھ دور جاکر اپنے حلقہ قبیلہ میں ایک جگہ خیمہ زن ہوئے جب رات ہوگئی تو اہل قبیلہ اپنے اپنے خیموں میں مختلف تذکرے کرنے لگے حضرت ابوذر نے جو کان لگایا تو کچھ لوگوں کو اپنے بارے میں گفتگو کرتے سنا ۔وہ کہہ رہے تھے قبیلہ کا مرد بہادر اب نظر نہیں آتا نہ کبھی بتوں کے پاس دکھائی دیا ہے اور نہ کسی سے میل جول ہے کسی نے کہا ابوذر کا میلان اللہ کی طرف ہے وہ آج کامکہ میں نبوت کے دعویدار شخص سے ملنے گیا ہوا ہے ۔ایک شخص نے کہا نہیں وہ مکہ سے واپس آگیا ہے اور یہاں قریب ہی اس نے خیمہ لگایا ہے چنانچہ اس بات پران لوگوں نے مشورہ کیا کہ ابوذر کے پاس جاکر معلوم کریں کہ وہ اہل قبیلہ سے کھچے کھچے کیوں رہتے ہیں ۔چنانچہ وہ ابوذر کے خیمہ کے پاس آئے اور آپ نے ملاقات کی ۔ان میں سے ایک نوجوان نے دریافت کیاکہ اے ابوذر آپ آخر ہم سے اس قدر دور دور کیوں رہتے ہیں ۔ آپ نے کہا ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے میرے دل میں تمھاری گہری محبت ہے میں تو راہ ہدایت کی تلاش میں سرگرداں رہا اور اب کامیاب ہواہوں کہ مقصود حاصل ہوگیا ۔اب میں بتوں کے بجائے اپنے تمام افعال اور جملہ امور میں خدائے تعالی کی جانب بڑھتا ہوں اور اسی


ذات کی طرف رجوع کرتا ہوں جو ایسا واحد ہے کہ اس کا ہرگز کوئی شریک نہیں ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اس خدا ئے واحد کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے ہمارہ اورتمھارا پروردگار ہے میں تم کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ اس کار خیر اور فکر عمل میں میرے شریک ہوجاؤ اور میری طرح وحدانیت کی شہادت دو۔

یہ تقریر سن کر ان لوگوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔انھوں نے بتوں سے منسوب معجزات وکرامات کی جھوٹی کہانیاں دھرانا شروع کردیں ۔آپ نے محبت وخلوص سے ان کو بتوں کی بے بسی وعاجزی پر عقلی دلائل پیش کئے اور فرمایا کہ میں کمال تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ کہ پتھر کے اصنام کو مٹی میں ملا کر خدا ئے واحد کے سامنے سرتسلیم خم کرنا فطرت کا تقاضا اور انسانیت کا فروغ ہے ۔لیکن آپ کا یہ وعظ حسنہ مؤثر ثابت نہ ہوسکا ۔اور ان لوگوں نے کہا ہم اس خطرہ سے اپنے سردار قبیلہ کوآگاہ کرتے ہیں یہ کہ ابوذر اس مکی نبی کے جھانسے میں آگیا ہے جو ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتاہے یہ سنکر حضرت ابوذر نے فرمایا ۔کہ میں نے حق بات کہہ دی ہے آگے تمھاری مرضی ہے جو جی میں آئے کرلو۔ مگر اتنا ضرور سن لو کہ وہ شخص جو مکہ میں نبوت کا مدعی ہے وہ حقیقت میں نبی ہے اس کو سارے عالم کے لئے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔وہ خالق حقیقی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے بلا شبہ اس کایہ کہنا درست ہے کہ یہ آسمان وزمین ۔چاند ۔سورج ۔سیارے وستارے ۔دن ورات ۔خنکی وگرمی تمام اس ہی ذات واحد کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں اور یہ تمام کی تمام


قدرت خدائے ذوالجلال کی ذات کے لئے دلیل واضح ہے ۔نبی برحق خود تراشیدہ بتوں کے خلاف ہے اور اس کی یہ مخالفت اس لئے بجا ہے بے حس ۔آندھے ۔لاچار ومجبور ہیں پس ان لوگوں نے حضرت ابوذر کی یہ غیر متوقع باتیں سن کر کہا کہ تمھاری باتیں ہماری عقلوں میں نہیں آسکتی ہیں تم ہمارے آبائی معبودوں کی توہین کرتے ہو۔ہمارے آباؤ اجداد کی عقلوں کو ناقص وذلیل خیال کرتے ہو ۔ہم سردار قبیلہ کے پاس یہ سب کچھ پہنچائیں گے ۔یہ سنکر حضرت ابوذر کا چہرہ غصّہ سے متغیر ہوگیا مگر آپ خاموش رہے ۔اور کہا کہ سردار قبیلہ سمجھدار آدمی ہے اور وہ میری باتیں سنکر ان پر ضرور غور کرےگا ۔چنانچہ جلتے بھنتے یہ نوجوان راتوں رات "خفاف" سردار قبیلہ کے پاس گئے ۔اور سارا ماجرا بیان کیا ۔ خفاف نے ان نوجوانوں کو تسلی دی کہ اس معاملہ کو مجھ پر رہنے دو تم لوگ اب آرام کرو ۔میں خود اس پر غور کرتا ہوں نوجوان تو سونے کو چل دئیے مگر خفاف کی نیند ساتھ اڑالے گئۓ ۔ وہ ساری رات ابوذر کے بارے میں سوچتا رہا ۔ابوذر کی باتیں اس کے دل کو لگتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں ۔اسی سوچ وبچار میں اس کی عقل نے اس کی رہبری کی اور دل میں کہنے لگا کہ بے شک ابو ذر راہ حق پر ہیں کیوں کہ حکیم عرب نے ان کی تائید کی ہے ۔اور مجھے یقین ہے کہ حکیم عرب قیس بن ساعدہ غلط نہیں سمجھے گا ۔ اور خطا پر ایمان نہ لائے گا ۔ بے شک اس عالم نے کے لئے کسی نہ کسی مصلح کا ہونا ضروری ہے اور ایک ایسی صلاحیت سے محروم ہیں ،اے ابوذر کے خدا ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں ہدایت کا راستہ دکھا کر گمراہی سے


نکال لے ان ہی خیالات میں خفاف نے رات گزاردی ۔صبح ہوئی تو سارے قبیلہ میں یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ابوذر کا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔ کس نے نیا دین قبول کرلیا ہے ۔ اون ہمارے خداؤں کو برابھلا کہتا ہے ۔لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو قبیلہ کیا کہ ان کو قبیلہ سے خارج کردیا جائے مگر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ابوذر اپنے قبیلہ کے شجاع ترین آدمی تھے ۔لہذا طے پایا کہ معاملہ بزرگان قبیلہ کے سامنے بغرض غور پیش کیا جائے ۔چنانچہ کچھ عمر رسیدہ لوگوں کو بھڑکا کر سردار قبیلہ کے پاس بھیجا گیا کہ ابوذر کی سرگرمیوں کا سد باب ہو۔اشراف قبیلہ نے سردار سے کہا کہ ہمارے خیال میں ابوذر پاگل ہوگیا ہے اور مکے کے نئے نبی نے اس پر جادوچلا دیا ہے ۔ خفاف نے ٹھنڈے دل سے ان بزرگوں کی باتیں سنیں اور کہا کہ میرے رفیقو ! کسی پر الزام لگانا اچھا نہیں ہے میں نے تمھاری باتیں سن لی ہیں ۔ ابوذر معمولی آدمی نہیں بلکہ وہ قبیلہ کی بلند شخصیت ہے ۔میں انھیں بلاکر ان سے باتیں کرتا ہوں تاکہ صحیح نتیجہ اخذ کرسکوں ۔چنانچہ حضرت ابوذر کو بلایا گیاآپ نے اشراف قبیلہ کی موجودگی میں خفاف کے سامنے انتہائی مدلل تقریر فرمائی جس کے اثر میں خفاف مسلمان ہوگئے ،سردار قبیلہ کے مسلمان ہوتے ہی سارے قبیلہ کی کایا پلٹ گئی اور اکثریت نے کلمہ پڑھ لیا ۔جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کی سعی جمیلہ وبلیغہ سے قبیلہ غفاری کی غالب اکثریت مسلمان ہوگئی اور نعرہ تکبیر کی آوازوں سے ساری فضا گونج اٹھی۔

جناب ابوذر قبیلہ غفاری میں اسلام کی شمع روشن کرنے کے بعد عسقان کی طرف متوجہ ہوئے کیونکہ یہ جگہ قریش کی گزرگاہ تھی اور آپ


ابھی قریشیوں کے لگائے ہوئے زخموں کو بھول نہ سکے تھے لہذا وہ عموما قریش کی گھات میں رہتے تھے اور جو قریشی گروہ ادھر سے گذرتا آپ اسلام کو پیش کرتے یہاں تک کہ بہت سے قریشی آپ کے دست حق پرست پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ادھر مدینہ کے دوبڑے قبیلے اوس وخزرج اسلام لے آئے ۔حضرت ابوذر کو زیارت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تشنگی اکثر محسوس ہوتی تھی او رآپ گن گن کردن گزاررہے تھے کہ کب ہجرت کاوقت آئے اور میں مدینہ جاکر قدم بوسی کروں ۔جب مدینہ میں اسلام کی روشنی کی خبر معلوم ہوئی تو آمادہ سفر ہوئے راستہ میں رافع بن مالک الزرمی سے ملاقات ہوئی اور ان سے اسلام و بانی اسلام کے حالات پر تبادلہ خیالات کیا ۔الغرض حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما ہوئے ۔جب قبیلہ غفاریہ کو یہ خبر ملی تو بہت مسرور ہوئے ۔حضرت ابوذر انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے پر شادماں تھے آپ کی نگاہیں راہوں میں بچھی ہوئی تھیں ۔جب موج سعادت کو محسوس کرکے قلب مشتاق کو اطمینان نصیب ہوا ۔اچانک ایک اونٹ کوآتے دیکھا ۔اہل قبیلہ جناب ابوذر پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے بلند آواز میں پکارا "واللہ وہ رسول اللہ تشریف لےآئے " بڑی تیزی سے حضرت ابوذر آگے ہوئے اور دوڑ کر اونٹنی کی مہار تھا م لی ۔ قبیلہ غفارکے مردوں عورتوں اور بچوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی نعرہ تکبیر سے فضا گونج اٹھی جضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے ناقہ سے اترے اور تلاوت قرآن فرما کر وعظ حسنہ فرمایا ۔لوگ حضور کی بیعت کے لئے بڑھے جبکہ جناب ابوذر بڑے فخر یہ انداز میں تبسم بہ لب ایستادہ رہے ۔اہل قبیلہ نے حضور سے عرض کہ ہمیں آپ کے


شاگرد ابوذر نے گمراہی سے نکالا ہے ۔ آنحضرت یہ پرتپاک استقبال ملاحظہ کرکے خوشی سے پھولے نہ سمائے اورہاتھ بلند فرماکر دعا فرمائی کہ اللہ تعالی قبیلہ غفار کو بخشے ۔اس کے قبیلہ اسلم کے لوگ آئے۔چنانچہ حضور نے ان کے حق میں بھی سلامتی کی دعا فرمائی حضور یہاں مختصر قیام کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے اورابوذر وہاں رک گئے جنگ بدر ،احد اور خندق جیسی عظیم لڑائیاں گزر گئیں ۔ایک روز آپ مسجد میں مشغول عبادت تھے کہ ایک شخص کو ایک آیت کی تلاوت کرتے سنا جس میں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب تھی اس سے اسقدر متاثر ہوئے کہ فورا مدینہ منورہ روانہ ہوکر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا ۔ساری رات آپ مسجد نبوی میں بسر کرتے ۔سارادن لوگوں سے ملتے جلتے ۔طعام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کرتے ۔حفظ حدیث پر پوری توجہ فرماتے اور زہد وتقوی سے اپنی مادی زندگی کو مالا مال فرماتے ۔آب وہوا کی تبدیلی کے باعث آپ کی طبیعت ناساز ہوئی ۔حضور نے عیادت فرمائی اور ہدایت کی کہ اس مقام پر بیرون مدینہ رہائش کرو جہاں مویشی چرتے ہیں اور صرف دودھ پیو ۔ حکم رسالت مآب کی تعمیل کی اور آپ تھوڑے دنوں بعد روبصحت ہوگئے صحتیابی کے بعد فریضہ زوجیت اداکیا ۔مگر وہاں غسل کے لئے پانی میسر نہ آیا ابھی تیمم نازل نہ ہوا تھا ادھر نماز کی فکر لگی ہوئی تھی اسی کشمکش میں ناقہ پر بیٹھ کرمدینہ آئے جوں ہی حضور کی نگاہ جناب ابوذر پر بڑی آنحضرت نے اس سے پہلے کہ ابوذر کچھ کہیں خود ہی فرمایا کہ ابوذر گھراؤ نہیں ۔ابھی تمھارے غسل کا انتظام ہوجاتا ہے ۔چنانچہ ایک کنیز پانی لائی اور آپ نے غسل کیا۔بعض مفسر ین نے یہ خیال کیا ہے


کہ یہ واقعہ آیت تیمم کا سبب بنا اور حضور نے ابوذر کو یہ طریقہ تیمم تعلیم فرمایا ۔

حضرت ابوذر کو عبادت کا بہت شوق تھا سارادن اور رات مسجد میں مشغول عبادت رہتے تھے ۔ان کا شیوہ زندگی صرف یہ تھا کہ اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی اور محمد وآل محمد علیہم السلام سے محبت ۔آپ کچھ تنہا پسند بھی تھے ۔ایک صحابی نے دریافت کیا کہ ابوذر تم زیادہ خاموش کیوں رہتے ہو اور تنہائی تمھمیں کیوں پسند ہے تو آپ نے جواب دیا کہ برے ساتھی سے تنہائی بہتر ہے ۔حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ابوذر زبردست عابد تھے ۔آپ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اسلام لانے میں چوتھے شخص تھے جو قبول اسلام سے قبل ہی برائیوں سے کنارہ کش تھے ۔ دلیری میں ان کا انفرادی مقام تھا اور حق بات کہنے سے ہرگز کسی خطرہ کی پرواہ نہ کرتے تھے تحصیل علم کا بہت شوق تھا اکثر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مختلف قسم کے سوالات دریافت فرماتے رہتے تھے طبیعت مشقت پسند تھی او رذہن محققانہ پایا تھا ۔ علماء کا قول ہے کہ فلسفہ فناو بقا پر آپ نے سب سے پہلا وعظ کیا تھا۔

محبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مثالی واقعہ:-

سنہ ۹ ھ میں جنگ تبوک کے موقع پر حضرت ابوذر بھی لشکر اسلام کے ساتھ روانہ ہوئے چونکہ آپ کا اونٹ لاغر تھا لہذا وہ قافلہ سے بہت پیچھے رہ گیاتھا ۔آپ نے بہت کوشش کی کہ قافلہ کو جاپہنچے مگر تین دن کی مسافت سے بھی زیادہ فرق تھا چنانچہ شوق جہاد میں آپ ناقہ سے نیچے اتر آئے سارا ساماں اپنی پشت پر لاد کر پیدل سفر شروع کیا شدید گرمی کا موسم اور پیاس کی شدت کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے آپ


پا پیا دہ عالم تشنگی میں مصروف سفر رہے کہ پیاس نے بے حال کیا ادھر ادھر پانی کی تلاش کی بڑی مشکل سے ایک گڑھا ملا جس میں بارش کا پانی جمع تھا جیسے ہی پانی کا چلو منہ کے قریب لائے نبی کریم کاخیال آیا دل میں سوچا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پہلے پانی نہیں پینا چاہیئے ۔بس ایک لوٹا بھرا اور پھر سفر شروع کردیا ۔جیسے ہی آپ تبوک کی سرحد پر پہنچے تو مسلمانوں کی نگاہ آپ پرپڑی مگر آپ کو پہچان نہ سکے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ایک پریشان حال مسافر کی آمد کی خبر دی ۔حضور نے اطلاع پاتے ہی فرمایا کہ وہ میرا ابوذر ہے ۔بھاگ کرجاؤ وہ پیاسے ہیں ان کے لئے پانی لے جاؤ ۔اصحاب مشکیزہ آب لے کر پہنچے اور ابوذر کو سیراب کیا اور حضور کے پاس لے آئے ۔آپ نے مزاج پرسی فرمائی اور پوچھا اے ابوذر تمھارے پاس پانی تو ہے پھر تو پیاسا کیوں رہا ؟ ابوذر نے عرض کیا یا رسول اللہ پانی تو ہے مگر میں اسے پی نہیں سکتا تھا کیوں کہ یہ پانی میں نے راستہ میں ایک پتھر کے دامن میں پالیا تھا جو بہت ٹھنڈا تھا ۔لیکن میرے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ اسے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے خود پی لوں ۔میں یہ آب خنک آپ کے لئے لایا ہوں ۔جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نوش فرمائیں گے تب میں اس کو منہ لگاؤں گا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنکر ارشاد فرمایا "اے ابوذر !خدا تم پر رحم کرے گا ۔تم تنہا زندگی کروگے ۔تنہا دنیا سے اٹھو گے ۔تنہا مبعوث ہوگے ۔تنہا جنت میں داخل ہوگے اور اہل عراق کا ایک گروہ تمھارے سبب سے سعادت حاصل کرے گا ۔یعنی وہ تمھیں غسل دے گا ۔کفن پہنائے گا اور تم پر نماز پڑے گا"۔


اس واقعہ سے جہاں جناب ابوذر رضی اللہ عنہ کی بے مثال محبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پتہ چلتا ہے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب ابوذر(رض) کو آیندہ کے احوال سے باخبر کردیاتھا۔

بشارت جنت:-

حضرت ابوذر(رض) کا شمار ان اصحاب مبشرہ میں ہے جنکو اس دنیا میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت دے دی ۔مروی ہے کہ ایک دن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسجد قبا میں تشریف فرماتھے اور آپ کےگرد بہت سے اصحاب حلقہ باندھے بیٹھے تھے ۔آپ نے فرمایا کہ جو شخص سب سے پہلے اس مسجد کے دروازہ سے داخل مسجد ہوگا وہ اہل بہشت سے ہوگا ۔یہ سنکر چند اصحاب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے تاکہ داخل مسجد ہونے میں سبقت کریں ۔ اصحاب کے اس عمل پر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ اب بہت سے لوگ داخل ہونے میں ایک دوسرے پر سبقت کریں گے اور مسجد میں داخل ہوں گے ان میں سے جو کوئی مجھے "ماہ ذر" کے ختم ہوجانے سے مطلع کرے وہ اہل بہشت سے ہوگا ۔تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ داخل مسجد ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ یہ بتاؤ یہ مہینہ رومی مہینوں میں سے کونسا ہے ۔ان لوگوں میں حضرت ابوذر بھی تھے جو تنہا باہر سے آنے والوں میں صحیح آنے والے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس سوال پر تمام لوگ لاجواب رہے لیکن حضرت ابوذر نے کہا کہ مولا ماہ آذر (چیت)ختم ہوچکا ہے ۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے لیکن میں یہ ظاہر کرنے کے لئے تم سے سوال کیا ہے کہ لوگ سمجھ لیں کہ تم اہل بہشت سے ہو ۔


ابے ابوذر(رض) تم کو میرے اہل بیت علیھم السلام کی دوستی میں حرم سے نکا لا جائے گا ۔تم عالم غربت میں زندگی بسر کروگے اور عالم تنہائی میں دنیا سے اٹھوگے تمہاری تجہیز وتکفین کی وجہ اہل عراق کا ایک گروہ سعادت حاصل کرے گا اور اہل بہشت میں میرے ہمراہ ہوگا ۔

محافظ شیر:-

تفسیر امام حسن العسکری علیہ السلام میں ہے کہ حضرت ابوذر (رض) خاصان خدا اور مقرّبین اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تھے ایک دن خدمت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے پاس ساٹھ گوسفند ہیں جن کی مجھے حفاظت کرنی پڑی ہے مگر میرادل یہ گوارہ نہیں کرتا کہ میرے یہ لمحات صحبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خالی رہیں ۔حضور نے فرمایا ابوذر تم واپس اپنے مقام پر جاکر ان گوسفندوں کا بندوبست کرو۔حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ملتے ہی واپس آئے ۔ایک روز مشغول نماز تھے کہ ایک بھیڑیا آگیا دل میں سوچا کہ نماز تمام کرلوں یا اپنے جانوروں کی حفاظت کروں خیال میں فیصلہ کیا ک گوسفند جاتے ہیں تو جاتے رہیں نماز تو پوری کرلو ۔مگر ساتھ ہی شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ اگر بھیڑئیے نے سارے جانور ہلاک کردئیے تو پھر کیا بنے گا مگر فورا ہی جذبہ ایمان بولا کہ خداکی توحید ،محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور علی علیہ السلام کی ولایت جیسی دولت جس کے پاس ہو اس کو اور کیاچاہیئے ۔ گوسفند جاتے ہیں تو جاتے رہیں ۔ نماز کیوں جائے ۔لہذا صمیم قلبی سے نماز میں مشغول رہے ،بھیڑیا آیا اور اس نے پہلا حملہ کیا کہ ایک بچہ لے چلا ۔ابھی وہ چند قدم ہی گیا ہوگا کہ ایک شیر نمودار ہوا اور اس نے بھیڑئیے کو ہلاک کردیا اور گوسفند کے بچے کو اس سے چھین کر گلہ میں پہنچادیا ۔ ت=پھرامر ربی سےگویا ہوا ۔

"ابے ابوذر(رض) !تم اپنی نماز میں مشغول رہو ۔حق تعالی نے مجھے


تمھارے گوسفندوں پر مؤکل کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ جب تک تم نماز سے فارغ نہ ہوجاؤ میں تمہارے گوسفندوں کی حفاظت کرتا رہوں "۔

پس جناب ابوذر(رض) نے کمال آداب وشرائط سے نماز قائم کی جب نماز سے فراغت پائی تو شیر حضرت ابوذر(رض) کے قریب آیا اور اس نے پیغام دیا کہ اے ابوذر (رض) بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوکر اطلاع کردو کہ اللہ نے ان کے صحابی کے لئے اس کے گوسفندوں کی حفاظت پر شیر کو مقرر کردیا ہے ۔جناب ابوذر خدمت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آئے اور یہ واقعہ سنایا حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ سنکر ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر(رض) تم بالکل سچ کہتے ہو ۔میں (محمد)صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،علی علیہ السلام،فاطمہ سلام اللہ علیہا ، حسن اور حسین علیھما السلام تمھاری تصدیق کرتے ہیں اس کے بعد ابوذر (رض) واپس ہوئے ۔

اس واقعہ کے بعد کچھ کج عقیدہ اور ناقص الایمان لوگوں کو اعتبار نہ آیا آپس میں چہ مے گوئیاں شروع کردیں کچھ نے امتحان کی ٹھان لی ۔ایک دن چپکے سے اس جگہ آپہنچے جہاں ابوذر(رض) اپنے جانوروں کو چرا رہے تھے چنانچہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ نماز کے وقت شیر ان گوسفندوں کی حفاظت کرتا تھا اور اگر کوئی جانور گلہ سے جدا ہوتا تو وہ شیر اسے اندر داخل کرلیتا جب حضرت ابوذر(رض) نماز ختم کرچکے تو شیر نے مخاطب ہوکر کہا کہ اپنے جانور پورے کرلو میں نے ان کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کی ہے ۔اس کے بعد وہ شیر ان چھپے ہوئے منافقوں سے متوجہ ہو کر بولا ۔

"اے گروہ منافقین! کیاتم اس امر سے انکار کرتے ہو کہ خدا نے مجھے اس شخص کے گوسفندوں کے لئے مؤکل فرمایا ہے جو حضرت


محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل علیھم السلام کا دوست ہے اور تقرب خداوندی کے لئے ان ہی بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈتا ہے میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس نے محمد اور آل محمد علیھم السلام کو گرامی کیا ہے کہ خداوند قدیر نے مجھے ابوذر کا تابع فرمان اور مطیع قرار دیا ہے ۔خبرداررہو اگر ابوذر(رض) اس وقت مجھے حکم دیں کہ میں تم سب کو ہلاک کردوں تو میں بالتحقیق تم لوگوں کو بلا تاخیر پھاڑ کھاؤں "

یہ منظر دیکھ کر ان لوگوں کی جان حلق میں اٹک گئی مگر شیر غائب ہوگیا اور یہ اپنا سامنہ لے کر واپس ہوئے جب پھر ابوذر (رض) بارگاہ رسول میں حاضر ہوئے تو سرکار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

"اے ابوذر (رض)! تم نے اپنے خالق کی اطاعت کے سبب یہ شرف حاصل کرلیا ہے کہ جنگل کے جانور تک تمھارے مطیع کردئیے گئے ہیں ۔ بے شک تم نے اپنے خالق کی اطاعت کے سبب یہ شرف حاصل کرلیا ہے کہ جنگل کے جانور تک تمھارے مطیع کردئیے گئے ہیں ۔بے شک تم ان بندوں میں بڑا مقام رکھتے ہو جن کی تعریف قرآن مجید میں نماز کے قائم رکھنے کے متعلق کی گئی ہے "۔(حیات القلوب )

اسلامی اخلاق وعادات:-

عقل کو اسلام سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے ۔حضرت ابوذر چونکہ مردعاقل تھے لہذا ان کی غیر اسلامی زندگی میں بھی اسلام کی مخالفت نظر نہیں آئی جب وہ پرچم اسلام تلے آگئے تو ایسا معلوم ہوا کہ ما لا کا ایک کھویا ہو ا موتی دوبارہ زینت بننے کے لئے مل گیا ۔تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابو ذر(رض) اسلام لانے کے بعد نکھرتے چلے گئے ہیں ۔ پاکیزگی نفس ،خالص عقیدت،مخلص ایمان ،یقین محکم اور حسن وکمال سیرت کاجو مظاہرہ اس صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے مطالعہ سے ہوتا ہے وہ ممتاز حیثیت رکھتا ہے آپ کی سیرت بابصیرت ہرطبقہ کے لئے مشعل راہ ہے ظہور اسلام کےبعد


انھوں نے لوگوں کو مواعظ ونصائح سے سیراب فرمایا ۔اخوت ومحبت اور حقیقی مساوات کا سبق سکھایا ۔اطاعت خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اولی الامر کا راستہ واضح فرمایا ۔اور عقل سلیم کے فلسفہ کو مبرہن طریقوں سے پیش کیا ۔ زہد کا یہ عالم تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

شبیہ عیسی (ع):-

"ابو ذر (رض) میری امت میں حضرت عیسی علیہ السلام کی زہد میں مثال ہیں " اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ "جو چاہے کہ عیسی علیہ السلام کو زہد وتواضع کو دیکھتے تو وہ ابوذر (رض) کی طرف نگاہ کرے"(ابوذر غفاری ص ۵۷)۔

حضرت ابوذر (رض)فرمایا کرتے تھے کہ دنیا سے سخت بیزار ہوں اور دوٹکڑے روٹی اوردو ٹکڑے کپڑا کے علاوہ کچھ نہیں جانتا روٹی کے ٹکڑے صبح وشام کھانے کے لئے اور کپڑے کے ٹکڑے گردن اور کمر پر باندھنے کے لئے یہ بات آپ (رض) کے زہد کی منزل روشناس کراتی ہے ۔

مورخین اور محدثین کو اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ حضرت ابوذر علم کے عظیم مدارج پر فائز تھے ۔آپ فرماتے ہیں کہ رسول علیمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میرا سینہ علم سےبھرا ہے ۔آپ کہتے ہیں کہ اگر آسمان میں کوئی فرشتہ بھی حرکت کرتا تھا تو اس کے متعلق حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کچھ معلومات حاصل کرلیتا تھا ۔

سید مناظر گیلانی لکھتے ہیں "حیدر کرار علیہ السلام ،افضی الصحابہ وباب العلم کی اس شہادت کو پڑو اور خود غور کرو کہ اگر انھوں نے ایسا فرمایا تو کیا غلط فرمایا ۔فرماتے ہیں ابوذر(رض) سخت حریص اور لالچی تھے ۔لا لچی دین کی پیروی


کرنے میں اور اس کی باتوں پر عمل کرنے میں اور حریص علم حاصل کرنے میں تھے ۔بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے ۔پھر انھیں کبھی جواب دیا گیا اور کبھی نہیں اس پر بھی ان کا پیمانہ بھر حتی کہ لبریز ہوگیا"

مولا علی باب مدینۃ العلم کی یہ گواہی حضرت ابوذر(رض) کے تبحر علمی کے لئے بہت کافی ہے اور جناب ابوذر(رض) کبھی کبھار جوش میں آکر کہہ جایا کرتے تھے جیسا کہ ابن سعد نے طبقات میں لکھا ۔

"ہم رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اس وقت بچھڑے ہیں کہ فضاء آسمانی میں بازوہلا کراڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں رہ گیا تھا کہ ہمیں اس کے متعلق کوئی خاص بات معلوم نہ ہوئی ہو۔"

حضرت ابوذر(رض)اول درجہ کے محدث تھے فصاحت وبلاغت پر دسترس کامل رکھتے تھے متقی مسلمان کا صحیح نمونہ تھے ۔اسی لیئے لوگوں کے قبلہ بن گئے تھے ۔ایک روز مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور احادیث نبوی کی تعلیم دے تھے کہ ایک شخص نے کہا "کاش ! میں نبی کی زیارت کرتا "ابوذر(رض) نے فرمایا حدیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے کہ میری امت میں سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور کہیں گے کاش! ہم رسول اللہ کو دیکھتے چاہے ان کی اولاد اور مال چھن جائے ۔"

حضرت ابوذر اخلاق کے اعلی منازل ومدارج پر فائز تھے ۔ آپ پر صحبت پیغمبر کا نمایاں رنگ چڑھ چکا تھا اسوہ حسنہ کا جلوہ نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے کردار میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس پر انگشت اعتراض اٹھائی جا سکے ۔آپ کی پوری


زندگی اخلاق کی بے نظریر مثال ہے ۔حضرت ابوذر تعلیم اخلاق کے مبلغ تھے اور فرماتے تھے کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سلسلہ میں سات باتوں کی ہدایت فرمائی ہے ۔

۱:-فقراء ومساکین کو دوست رکھنا اور انھیں اپنے قریب رکھنے کی کوشش کرنا ۔

۲:- اپنے حالات کو سنوارنے کے لئے اپنے سے کم حیثیت کے لوگوں پر نظر رکھنا اور اپنے سے بڑی حیثیت کے لوگوں کی طرف توجہ نہ کرنا ۔

۳:-کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا اور قناعت کو اپنا شعار قراردینا ۔

۴:- صلہ رحم کرنا یعنی اپنے اقرباء کے ساتھ پوری ہمدری کرنا ۔اور ان کے آڑے وقت ان کے کام آنا ۔

۵:- حق بات کہنے میں کوئی باک نہ کرنا چاہئیے ساری دنیا دشمن ہوجائے ۔

۶:- خدا کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا ۔

۷:- ہمیشہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کاورد کرتے رہنا ۔(مسند احمد بن حنبل)

حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضور نے میرے سینہ پر ہاتھ مارکر فرمایا ۔

"اے ابوذر !تد بیر سے بہتر کوئی عقل(سائنس ) نہیں اور اپنے نفس پر قابو پانے سے بہتر کوئی پرہیز گاری نہیں اور حسن اخلاق سے بہتر دنیا میں کوئی حسن نہیں "

جب ہم حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کی حیات پاک کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے آپ اکثر مساکین وفقراء کو سینے سے لگائے رہتے تھے ۔آپ ان خوش نصیب صحابہ رسول میں سے تھے جن کے رگ وریشہ میں بوئے اسوہ


حسنہ سمائی ہوئی تھی ۔آپ فرمایا کرتے تھے مجھےمیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حکم ہے کہ جو تم کھاتے ہو وہی اپنے غلاموں اوراپنی لونڈیوں کو کھلاؤ ۔اور جو خود پہنو وہی ان کو بھی پہناؤ ۔چنانچہ آپ (رض) نے اس حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کےتعمیل میں کوئی کوتاہی نہ برتی ۔ایک مرتبہ کاذکر ہے آپ اپنے دولت کدہ سے باہر تشریف لائے راستہ میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس نے دیکھا کہ جس طرح کالباس حضرت ابوذر(رض) نے زیب تن فرمایا ہے وہی لباس ان کے غلام نے بھی پہن رکھا ہے وہ شخص معترض ہوا۔ آقا وغلام کا ایک لباس ہے آپ نے جواب دیا کہ مجھے میرے مرشد ونبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہی امر ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خلاف حکم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود کچھ پہنوں اور اپنے غلام کو کچھ اور پہناؤں ۔

آپ کا طرز بود وباش اور ظاہری وضع قظع بالکل سادہ تھی لباس وپوشاک میں زرق برق ملبوسات پسند نہ کرتے تھے ۔طہارت کا خیال ضرور فرمایا کرتے تھے مگر قطعا پوشاک کی پرواہ نہ کرتے تھے اکثر بال الجھے رہا کرتے تھے ۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ احباب نے زبر دستی نہلا دھلا کر گنگھی وغیرہ کی آ پ کا بستر ایک معمولی چٹائی تھا ۔ الغرض آپ کی زندگی کا معیار رہن سہن بالکل ایک عام شریف النفس انسان کی طرح تھا ۔

حضرت ابوذر (رض) باوجودیکہ سادہ طرز زندگی پر عامل تھے مگر وہ رہبانیت کے قائل ہرگز نہ تھے ۔آپ نے سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی میں شادی بھی فرمائی آپ نے تمام حقوق زوجیت کا لحاظ کما حقہ رکھا ۔آپ کی زوجہ کا رنگ سیاہی مائل تھا اور لوگ کبھی کبھار یہ طعنہ بھی دیتے تھے مگر آپ (رض) نے اسی بیوی کو اپنا ملکہ خانہ قرار دیا ۔آپ اپنی بیوی کا


کافی خیال رکھتے تھے ۔اسی طرح مہمان نوازی اور تواضع داری حضرت ابوذر کی نمایاں صفات تھیں ۔

صدق ابوذر:-

جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور سچائی وہ صفت اعلی ہے جس پر بڑی سے بڑی شخصیت بھی ثابت نہیں رہی لیکن جناب ابوذر رحمۃ اللہ علیہ کے لئے خصوصی صفت کے واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نص فرمائی ۔چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صادق نے صدق ابوذر کی ضمانت یوں ارشاد فرمائی ۔

"سایہ آسمان تلے اور زمین کے فرش کے اوپر ابوذر سے زیادہ سچ بولنے والا کوئی نہیں "(ازالۃ الخفاء جلد ۱ ص ۲۸۲ شاہ ولی اللہ دہلوی)

حضرت ابوذر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معتمد اصحاب میں تھے چنانچہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غزوہ ذات الرقاع میں آپ کو مدینہ منورہ میں قائم مقام فرمایا ۔اسی طرح حضرت ابوذر (رض) کو ردیف النبی (کسی سواوی پر پیچھے بیٹھنا اور آگے سے کمر تھام کر بیٹھنا۔) ہونے کا بھی شرف اکثر مرتبہ نصیب ہوا ۔اسی طرح حضرت ابوذر (رض) پر حضور کا پورا پورا اعتماد تھا کہ کئی راز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوذر (رض) کو بتا دئیے تھے ۔حضرت ابوذر ان خوش قسمت اصحاب میں ہیں جن کو دفن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں شرکت کا شرف حاصل ہوا ۔

رحلت پیغمبر کےبعد حضرت ابوذر (رض) کبھی حکومتی محلوں کو وقعت نہ دی بلکہ ہمیشہ خانہ مرکز ہدایت ومعدن نبوت اہل بیت اطہار کا طوف کرتے رہے ۔اسی ناکردہ گناہ کی سزا میں عموما ضیق یافتہ رہتے ۔


جب سقیفہ کی سازش کاظہور ہوا اور مسلمانوں میں دھینگا مشتی چلی تو اس شیر دل بزرگ نے مسجد النبی میں ایک دلیرانہ تقریر فرمائی ۔

"اے گروہ قریش ! تم کس غفلت میں پڑے ہو؟ تم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قرابت کی یکسر نظر انداز کردیا ۔خدا کی قسم عرب کی ایک جماعت مرتد ہوگئی ہے اور دین میں شکوک کے رخنے ڈالنے دیئے ہیں ۔ سنو! امر خلافت اہل بیت کا حق ہے ۔یہ جھگڑا فساد اچھا نہیں ہے ۔تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔اہل کو نا اہل قرار دیتے ہو اور نا اہل کو سرپر اٹھاتے ہو۔ خدا کی قسم تم سب کو معلوم ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بار بار فرمایا ہے کہ خلافت وامارت میرے بعد علی (ع) کے لئے پھر حسن اور حسین علیھما السلام پھرمیری پاک اولاد اس کی مالک ہوگی ۔تم نے قول رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او رخدا کے حکم کو نظر انداز کردیا تم اس عہد اور حکم کو بھول گئے جو تم پر عائد کیاگیا تھا تم نے فانی دنیا کی اطاعت کرلی اور آخرت کو فروخت کردیا جو باقی رہنے والی ہے اور جس میں جوان بوڑھے نہ ہونگے اور جس کی نعمتیں زائل نہ ہوں گی جس کے رہنے والوں پر رنج وغم طاری نہ ہوگا ۔جس کے مکینوں پر ملک الموت کا زور نہ ہوگا ۔ ایسی قیمتی چیز کو تم نے فانی دنیا کے عوض بیچ دیا یہ تو تم لوگوں نے ایسا ہی کیا جس طرح پہلی امتوں نے کیا ۔انھوں نے یہ کیا تھا کہ جب ان کا نبی انتقال کر گیا تو انھوں نے بیعت توڑ دی اور رجعت قہقری کرگئے ۔انھوں نے معاہدے ختم کردیئے اور احکام بدل دیئے ۔اور دین کو مسخ کردیا ۔ تم نے ان سے فسادات کا پورا ثبوت دیا ۔اے گروہ قریش ! تم بہت جلد اپنی کرتوت کا بدلا


پاؤگے اور تمھیں اپنی بدکاری کا نتیجہ مل جائے گا ۔وہ چیز تمھارے سامنے آجائے گی جو تم نے اپنے کردار بھیج دی ہے ۔خبر دارہو! جو بھی ہوگا درست ہوگا کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا "(ابوذر الغفاری ص۱۱۳)

یہ تقریر اس موقعہ پر کی گئی ہے جب حکومت کی تلوار سروں پر لٹک رہی تھی اور لوگوں کی زبانیں بند کرادی گئی تھیں ایسے خطرناک حالات میں صدیق امت حضرت ابوذر غفاری کا یہ عظیم الشان خطبہ ان کی بے مثال جراءت وحق گوئی کاآئینہ دار ہے ۔حضرت ابوذر کے مقدّر کا ستارہ اس قدر روشن تھا کہ خاندان ر سول میں ان کی ہراہم موقعہ پر ضرورت محسوس کی جاتی تھی چنانچہ جب سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا وصال ہوا تو غسل سے فراغت پانے کے بعد حضرت امیر علیہ السلام نے امام حسن کو حضرت ابوذرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بلا نے بھیجا چنانچہ آپ تشریف لائے اور صدیقہ العالمین کی نماز جنازہ میں اس صدیق امت نے شرکت کا شرف پایا ۔حضرت ابوذر کے لئے طبعا یہ مشکل تھا کہ حق گوئی سے زبان بند رکھیں چنانچہ وہ دور حضرت ابوبکر میں اکثر آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں تقریر فرماتے رہتے اور روضہ اقدس کی مجاورت میں رہتے باوجود یکہ ان کی سرگرمیاں حکومت وقت کو گوارہ نہ تھیں مگر انھوں نے مصلحت کے تحت اپنا رویہ بزم رکھا البتہ خفیہ طور آپ کو مجنون ومجذوب مشہور کرنے کی کوشش کی تاکہ لوگ ان کی باتوں کو وقعت نہ دیں ۔ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی حیات طیّبہ میں حضرت ابوذر کوایک نصیحت فرمادی تھی جس کی صحیح


مصلحت اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں کہ "جب کوہ سلع تک شہر کی آبادی بڑھ جائے تو اے ابوذر تم شام کی طرف چلے جانا "۔

چنانچہ جب حضرت عمر کے زمانہ میں فتوحات کا اضافہ ہوا تو اس حکم رسول کی تعمیل میں حضرت ابوذر نے شام کی طرف کوچ فرمایا اور دس سال کا عرصہ مدینہ سے باہر گزار ا۔جب حضرت عثمان حاکم ہوئے تو پھر آپ واپس مدینہ آگئے ۔حضرت عثمان کے دور حکومت میں بنی امیہ نے قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا جناب ابوذر کو حکومت کی اس دھاندلی سے اختلاف ہوا ۔لہذا انھوں نے حکومت کی اس پالیسی پر کڑی نکتہ چینی کی پس حضرت عثمان نے ان پر سخت پابندیاں عائد کردیں ۔لیکن ان پابندیوں سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوئے لہذا فیصلہ کیاگیا کہ آپ کو جلا وطن کردیا جائے پس ان کو زبر دستی شام بھیج دیاگیا ۔شام میں آکر حضرت ابوذر (رض)کو معاویہ سے واسطہ پڑا ۔یعنی آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا ۔ابوذر کے وعظ معاویہ کے لئے دردسربن گئے ۔لہذا اس نے ابوذر (رض)کو قتل کی دہمکی دی ۔جب جناب ابوذر کویہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا ۔

"امیّہ کی اولاد مجھے فقر و قتل کی دہمکی دیتی ہے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ فقیری مجھے تونگری سے زیادہ مر‏غوب ہے اور زمین کے اندر ہونا مجھے زمین کے باہر ہونے سے زیادہ پسند ہے ۔نہ میں قتل کی دہمکی سے مرعوب ہوتا ہوں اور نہ مرنے سے ڈرتا ہوں "۔

(ابوذر الغفاری ص ۱۲۲)

چنانچہ حضرت ابوذر حقیقی اسلامی نظام اقتصادیات کاپرچار


کرتے رہے ۔معاویہ نے عاجز آکر حضرت ابوذر (رض) کو خریدنے کی کوشش کی اور تین سودینار سرخ کی ایک تھیلی ایک ملازم کے ہاتھ روانہ کی مگر حضرت نے اسے ٹھکرادیا ۔حضرت ابوذر (رض) کے پاس دوہی موضوع سخن تھے ۔اسلام کی معاشی پالیسی ۔اور مؤدہ آل محمد علیھم السلام ۔چنانچہ ان ہی دومضامین پر آپ مسلسل لوگوں میں تبلیغ کرتے رہے ۔جس کے نتیجہ میں ہر طرف سے ابوذر کو مصائب نے گھیر ڈال دیا ۔معاویہ کی حکومت کے ہاتھوں بڑی اذیتیں برداشت کرنا پڑیں ۔مگر انھوں نے تمام آلام کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا آپ کے پائے استقلال میں ہرگز لغزش نہ آئی اس پر حکومت نے اپنے متشددانہ رویہ میں زیادتی کرنا شروع کردی ۔اور اعلان عام کروا دیا کہ ابوذر کی مجلس میں کوئی شخص شرکت نہ کرے ۔لیکن لوگ پھر بھی آپ کی صحبت کا شرف پانے آتے حضرت منع فرماتے اس خیال سے کہ کہیں یہ بیچارے حکومت سے مستوجب سزانہ ہوں ۔مگر لوگ آپ کی تقریر یں جوش وشوق سے سنتے ۔معاویہ نے حضرت عثمان کو شکایت ک اور حضرت ابوذر (رض) کو قید کرلیا ۔چنانچہ حضرت عثمان نے انھیں واپس مدینہ بلا لیا او رمعاویہ کویہ خط لکھا ۔

"تیرا خط ملا ۔ابوذر کی بابت جو کچھ لکھا ہے معلوم ہوا۔اجس وقت تیرے پاس یہ حکم پہنچے اسی وقت ابوذر کو ایک بد رفتار اونٹ پر سوار کراکے اور کسی درشت مزاج رہبر کو اس کے ساتھ روانہ کرو جو رات دن اونٹ کو بھگا تا لائے کہ ابوذر (رض) پر ایسی نیند غلبہ کرے جس سے وہ میرا اور تیرادونوں کا ذکر کرنا بھول جائے اسے مدینہ بھیج دے "۔(ابوذر الغفاری ص۲۶۵)


حضرت عثمان کا خط ملتے ہی معاویہ نے حضرت ابوذر (رض)کو بلا یا اور ان کو گھر تک بھی جانے کی اجازت نہ دی اور تن تنہا پانچ حبشی بد خو اور درشت مزاج غلاموں کے ہمراہ ایک بد رفتار اونٹ کی ننگی پشت پر سوار کرکے روانہ کردیا جناب ابوذر اس وقت ضعیف العمر تھے ۔اور کافی کمزور تھے یہ تکلیف ان کے لئۓ اذیت ناک ثابت ہوئی اس سفر کے دوران آپ کی رانوں کا گوشت چھل چھل کر جدا ہوگیا اس سفر کی صعوبتیں بھی حضرت ابوذر کو حق گوئی سے باز نہ رکھ سکیں چنانچہ آپ راستہ میں جہاں بھی موقعہ ہاتھ لگتا حکومت کی غلط پالیسیوں پر اپنے خیالات کا اظہار فرماتے رہے ۔بیرون شہر دیر مران کے مقام پر لوگوں کا اجتماع ہوا جو آپ کو الوداع کہنے آئے یہاں بعد از نماز باجماعت آپ نے ایک معرکۃ الآراء خطبہ ارشاد فرمایا ۔

خطبہ دیرمران:-

"ایھاالناس"!تم کو ایسی چیز کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارے لئے نافع ہو بعد اس کے فرمایا کہ خداوند عالم کا شکر ادا کرو سبھوں نے کہا الحمدللہ پھر آپ نے خدا وحدانیت اور حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی گواہی دی اور سبھوں نے ان کی موافقت کی پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت میں زندہ ہونا اور بہشت ودوزخ ہے ۔اور جوکچھ حضرت رسول خدا حق تعالی کی طرف سے لائے قرار دیتا ہوں سبھوں نے کہا تم نے جو کچھ کہا اس کے ہم لوگ گواہ ہیں ۔اس کے بعد فرمایا تم میں سے بھی جو کوئی اس اعتقاد پر دنیا سے اٹھے گا اس کو خدا کی رحمت اور کرامت کی بشارت دی


جائے گی ۔بشرطیکہ گناہگاروں کا معین اور ظالموں کے اعمال کا موید اور ستم گاروں کا یار ومددگار نہ ہوگا ۔اے گروہ مردم ! اپنے نماز روزہ کے ساتھ محض خدا کے لئےغضب وغصہ کرنے کوبھی شامل کرو جبکہ دیکھو کہ زمین پر لوگ خدا کی معصیت کرتے ہیں اور ان چیزوں کے سبب اپنے پیشواؤں کو راضی نہ رکھو جو کہ غضب خدا باعث ہوتے ہیں اور اگر وہ لوگ دین خدا میں ایسی چیزیں ظاہر کریں جن کی حقیقت تم لوگ نہ جانتے ہو تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ ۔اور ان کے عیبوں کو بیان کرو ۔اگر چہ وہ(ظالم)لوگ تم پر عذاب کریں اور اپنی بارگاہ سے نکال دیں او اپنی عطا سے محروم رکھیں اور تم کو شہروں سے خارج کردیں اور اپنی عطا سے محروم رکھیں اور تم کو شہروں سے خارج کردیں تاکہ حق تعالی تم سے راضی اور خوشنود ہو ۔بہ تحقیق کہ حق تعالی سب سے زیادہ جلیل وبلند مرتبہ ہے اور یہ امر سزاوار نہیں کہ مخلوقات کی رضا مندی کے لئے کوئی شخص اس کو غضب میں لائے خدا مجھے اور تمھیں بخش دے۔ اب میں تم کو خدا کے سپرد کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تم پر خدا کا سلام اور اس کی رحمت ہو"(حیات القلوب)

اس خطبہ کا حاظرین پر یہ اثر ہوا کہ لوگوں نے جوش وخروش میں کہا کہ اے ابوذر ! اے مصاحب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حق تعالی آپ کو بھی سلامت رکھے اور آپ پر بھی رحمت نازل کرے ۔کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہم آپ کو پھر اپنے شہر لے چلیں اور آپ کے دشمنوں کے مقابلے میں آپ کی حمایت کریں ۔جناب ابوذر نے ان کو تلقین صبر


فرمائی اور ارشاد کیا کہ اللہ تم پر رحمت کرے اب واپس جاؤ میں تم سے زیادہ بلاؤں میں کرنے والا ہوں تم لوگ ہرگز فکر مندنہ ہونا اور اپنے درمیان اختلاف نہ کرنا ۔

المختص حضرت ابوذر (رض)سفر کی اذیت سے مجروح ،تھکن سے چوربال حال پریشان مدینہ پہنچے اور دربارحکومت میں حاکم وقت حضرت عثمان بن عفان کے روبرو پیش کردیئے گئے ۔حضرت عثمان نے صحابیت کے تمام اعزازات ومراعات کو یک قلم نظر انداز کرتے ہوئے حضرت ابوذر(رض) پر نگاہ غضب اٹھاتے ہوئے آپ کو سخت برا بھلا کہا یہ منظر طبقات ابن سعد سے ملاحظہ فرمائیے ۔

حضرت عثمان :- تو ہی وہ ہے جس نے ایسی حرکات کی ہیں۔

جناب ابوذر(رض):-میں نے تو کچھ نہیں کیا مگر یہ کہ تمھیں نصیحت کی تم نے اس نصیحت کا بر ا مانا اور مجھے اپنے سے دور کردیا ۔پھر میں نے معاویہ کو نصیحت کی اس نے بھی برا مانا اور مجھے نکال دیا۔

عثمان:- تو جھوٹا ہے تیرے دل میں فتنہ کود رہا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ اہل شام میرے خلاف برانگیختہ ہوجائیں ۔

ابوذر(رض):-اے عثمان ! اگر تو سنت کا اتباع کرے تو تجھے کوئی بھی کچھ نہ کہہ سکے گا ۔

عثمان:- تجھے اس سے کیا واسطہ میں اتباع کروں یا نہ کروں (اس کے بعد نازیبا جملہ ہے )

ابوذر(رض):- (حضرت ابوذر غضبناک ہوکر بد دعا دیتے ہیں )خدا کی قسم تو مجھ پر اس کے سوا اور کوئی الزام عائد نہیں کرسکتا کہ


بھلائیوں کا حکم کرتا ہوں اور برائیوں سے روکنے کا پرچار کرتا ہوں ۔

عثمان:- (یہ سن کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں )اے اہل دربار مجھے مشورہ دو کہ میں اس بڈھے جھوٹے کے ساتھ کیا سلوک کروں ۔اس کو کوڑے لگاؤں یا قید کردوں یا اس کا کام تمام کردوں یا پھر وطن بدر کردوں ۔(اس پر جماعت مسلمین میں اختلاف واشتغال رونما ہوا ۔یہ سنکر حضرت علی علیہ السلام جو اس وقت موجود تھے بولے )

حضرت علی علیہ السلام :-اے عثمان! میں تمھیں مومن آل فرعون کی طرح یہ رائے دیتا ہوں تم ابوذر کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ اگر یہ (معاذاللہ) جھوٹا ہے تو جھوٹ کا نتیجہ خود پائے گا اور اگر یہ سچا ہے تو اس کا بار تمھاری گردن پر ہوگا ۔خدا اس کی ہدایت نہیں کرتا جو اسراف کرے اور جھوٹا ہو۔

(صاحب طبقات لکھتے ہیں کہ یہ سنکر خلیفہ عثمان اور حضرت علی میں گرما گرمی ہوئی اور بحث میں تلخی وشدت پیدا ہوئی جس کاذکر میں نہیں کرنا چاہتا ۔)

اللہ فقیر ،عثمان غنی :-

بہر حال حضرت علی علیہ السلام کی کوششوں سے حضرت ابوذر (رض) دربار عثمان سے باہر آئے اقتدا کے نشہ میں حاکم کی مدہوشی کا یہ عالم تھا کہ اس کو رسول صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول مبنی بر صدق بھی یاد نہ رہا تھا کہ حضور نے جناب ابوذر (رض) کے لئے ضمانت دی تھی کہ "نیلے آسمان کے نیچے اور روئے زمین کے اوپر ابوذر سے زیادہ سچا کوئی نہیں پیدا ہوگا ۔مگر ابوذر نے بھی مقام غدیر پر مے ولایت کے خم کے خم نوش کر رکھے تھے جس کی مستی کم ہی نہ ہوتی ہے ۔


جوں جوں تشدد کیا جاتا تھا آپ کا نشہ بڑھتا جاتا تھا اور ان کو مصائب جھیلنے میں سرور محسوس ہوتا تھا چنانچہ ایوان حکومت سے باہر آتے ہی گلی گلی علی علی شروع ہوا ۔مدینہ میں ابھی سرمایہ دارانہ ذہینیت ابتدائی مراحل میں پروان چڑھ رہی تھی لہذا محبت اہل بیت علیھم السلام کی عنوان پر تبلیغی سرگرمیاں زور شور سے شروع کردیں اگر کوئی سیٹھ سامنے آگیا تو اس کو بھی ہاتھ آیاشکار سمجھ کر اسلامی اقتصادی نظام کی تشریحات تعلیم کئے بغیر نہ چھوڑا ۔کوچہ وبازار میں آپ اکثر مشغول تبلیغ رہتے ۔ایک روز حضرت عثمان نے مسجد میں بلوالیا اور پوچھ لیا کہ مجھے تمھاری شکایت ملی ہے کہ تم کہتے ہو کہ عثمان کہتا ہے کہ " خدا فقیر ہے اور میں (عثمان)غنی ہوں "حضرت ابوذر نے جواب دیا کہ میں نے یہ کسی سے نہیں کہا لوگوں نے میری چغلی کھائی ہے ۔حضرت عثمان نے کہاکہ تم اب بڈھے ہوگئے ہو اور تمھارا دماغ کام نہیں کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا میرا دماغ کام کرے یا نہ کرے مگر یہ بات مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

"جب ابو العاص کی اولاد یں تیس تک پہنچ جائیں گی تو وہ خدا کے مال کو اپنی دولت واقبال کا ذریعہ ٹھہرائیں گے ۔خدا کے بندوں کو اپنے خدمتگاروں اور نوکر قرار دیں گے خدا کے دین میں خیانت کریں گے ۔اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو ان سے آزادی بخشے گا"۔

حضرت ابوذر (رض) کا یہ کہنا بادشاہ وقت کو ناگوار گزرا ۔انھوں نے لوگوں سے پوچھا مگر حاضرین نے لاعلمی کا اظہار کردیا چنانچہ حضرت علی علیہ السلام کو بلوایا گیا چنانچہ انھوں نے فرمایا کہ میں ابوذر کی تکذیب نہیں کرسکتا


کیوں کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے کہ ابوذر سے زیادہ سچا اس زمین پر کوئی نہیں ہے یہ سنکر لوگوں نے کہا ابوذر سچ کہتے ہیں ۔اس واقعہ کے چند روز بعد عثمان نے حضرت ابوذر کو مدینہ سے نکالنے پر غور کرنا شروع کردیا ۔

دولت کی غلط تقسیم اور طبقاتی طبع آزمائی کے جو مناظر دور عثمانیہ میں نظر آتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں ہے تاریخ کے اورراق حضرت عثمان کی کنبہ پروریوں اور ناجائز کرم گستریوں سے بھر پور ہیں لیکن وہ حقائق ہمیں اس کتاب میں نہیں کرنا ہے ہمیں صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ حضرت عثمان نے قومی خزانہ کا منہ اس طرح کھول دیا تھا کہ مسلمانوں میں ایک خاص طبقہ امراء کا پیدا ہوگیا تھا اور ان میں حرص مال اس نہج تک آپہنچی تھی کہ حلال وحرام میں امتیاز ختم ہوتی نظر آرہی تھی ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے حضرات کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ اکثر یت کو نان شبینہ کے لئے محتاج پائیں اور خواص کو مال وجواہر میں کھیلتا دیکھیں ۔لہذا اس جماعت مردان حق نے صدائے احتجاج بلند کی اور جناب ابوذر (رض) اس سلسلے میں پیش پیش رہے ۔ابو ذر جب مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کو دیکھتے تو ان کے پاس صرف جو کی سوکھی روٹی نظر آتی لیکن جب مصاحبان حکومت کی بودوباش اور ذخیرہ اندوزی ملاحظہ کرتے تو یہ صورت حال برداشت نہ کرسکتے تھے ۔چنانچہ آپ جمع دولت اور سرمایہ داری کے مخالف تھے ۔ غرباء فقراء نوازی ،محتاج یتیم ومسکین ومجبور وقہور کی ہمدردی واعانت کے کٹر حامی تھے ۔ان ہی خیالات کے باعث عہد حاضر کے بعض افراد نے انھیں کمیونسٹ اوراشتراکی کہنا شروع کردیا حالانکہ حضرت ابو ذر کے پاکیزہ اسلامی اقتصادی نظریہ کو اشتراکیت سے کوئی


واسطہ نہیں ہے ۔اور یہ مفصل بحث ہم نے اپنی کتاب "صرف ایک راستہ "کے باب معاشیات واقتصادیات میں ہدیہ قار‏ئین کردی ہے ۔ حضرت ابو ذر کا موقف محض یہ تھا اسلامی حکومت کے دائرہ حدود میں ایسا ہرگز نہ ہو کہ امراء حد سے بڑھ جائیں اور غرباء حد سے گر جائیں ۔آپ کا منشاء صرف یہ تھا کہ اسلام اس انداز میں سطح عالم پر ابھرے کہ امراء اور غرباء دونوں میں توازن وعدل قائم رہے ۔معاشرہ پر ہرایک متوازن طبقہ چھایا رہا ہے ۔یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوذر دولت کو چند ہاتھوں سے لے کر زیادہ ہاتھوں میں گردش کناں دیکھنے کے متمنی تھے ۔آپ کو احساس تھا کہ فراوانی دولت اور شدت غربت دونوں گناہوں کی محرک ہوتی ہیں ۔ ایک طرف دولت اسلامیہ منظور نظر لوگوں ،عزیزوں اور اقرباء کو بے دریغ لٹائی جارہی تھی تو دوسری طرف بیت المال کا دروازہ غریبوں ،یتیموں اور مستحقوں کے لئے بالکل بند کردیا گیا تھا ۔خلیفہ کے رشتہ دار جاگیر یں اور محلات بنانے میں مصروف مگر غریب بھوکوں مررہے تھے اس معاشی بحران ہی کے دوران حضرت عثمان نے قرآن جلوادئے یہ جلتی پر تیل ثابت ہوا ۔لہذا یہ بے حرمتی بھی لوگوں کو ناگوار ہوئی ۔چنانچہ حضرت ابوذر کو ایک اور موضوع احتجاج حاصل ہوا چونکہ انھیں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پہلے ہی آگاہ دیا تھا کہ "اے ابوذر (رض) تجھے کوئی قتل نہ کرسکے گا "لہذا انھیں ہلاکت کا خوف نہ ہوتا تھا چنانچہ وہ نڈر ہوکر حکومت پر نکتہ چینی کرتے تھے ادھر تبلیغ ابوذر میں شدت ہوئی تو ادھر حکومت نے ان کا منہ بند کرنے کے طریقے دریافت کرنے شروع کردئیے پہلے مردان کی رائے کے مطابق آپ کو مال وزر کے ذریعہ خاموش کرنا چاہا لیکن جب رقم پیش ہوئی تو آپ نے ٹھکراتے ہوئے فرمایا۔


"جاؤ واپس لے جاؤ مجھے اس کی حالت میں قطعی ضرورت نہیں ہے جبکہ غریب مسلمانوں کو نظر انداز کردیاگیا ہے میرے لئے تھوڑی گندم کافی ہے ۔میرا گزر اوقات ہورہا ہے ۔خلیفہ سے جاکر کہہ دینا کہ میں علی علیہ السلام اور اہلبیت علیہم السلام کی ولایت میں بالکل غنی ہوں ۔میرا دل غنی ہے ۔میری روح غنی ہے ۔میری جان غنی ہے ۔ تمھاری دولت کی ہمیں ضرورت نہیں "۔(حیات القلوب)

جب یہ تراکیب کارآمد نہ ہوئی تو سرکاری فرمان جاری ہوا کہ ابوذر سے ترک موالات کی جائے ۔حکم حاکم مرگ مفاجات اس شاہی حکم سے لوگوں نے آپ کے پاس آنا جانا ترک کردیا ۔مگر ابوذر چلتے پھر تے اپنا وعظ جاری رکھتے رہے ۔کچھ درباری چہچہوں نے خلیفہ کے کان بھرے لہذا حضرت عثمان نے ان کوجلا وطن کرکے ربذہ بھیج دیا ۔مروان کو حکم دیا کہ اسے ننگی پشت کے اونٹ پر سوار کرکے ربذہ پہنچانے اور اعلان کیا کہ اس کی مشایعت کے لئے کوئی شخص نہ جاوے بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ضرب شدید سے اذیت بھی پہنچائی ۔بہر حال سزائے موت کے ہم پلہ کالے پانی کی سزا اس صدیق امت صحابی کو خلیفہ مسلمین نے محض حق گوئی کے پاداش میں دی ۔

حضرت عثمان کے حکم اخراج ابوذر پر اگرچہ اصحاب میں سخت اضطراب تھا مگر جلتی آگ میں کودنا کسی کسی کا حوصلہ ہوتا ہے ۔حضرت ابوذر جب مدینہ سے نکالے گئے تو حکم عثمان کے خلاف حضرات علی،حسن،حسین،علیھم السلام ،عمار،ابن عباس،ابن جعفر اورمقداد رضی اللہ تعالی عنھم اپنے گھروں سے باہر آئے ۔اورجب حضرت ابوذر کو ننگے اونٹ پرمراوان بٹھانے لگا تو حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے مروان کو ٹوکا۔ حس پروہ حضرت عثمان کے پاس شکایت لے کرگیا ۔


کئی مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی خود جناب ابوذر کو ربذہ کے جنگل تک چھوڑنے تشریف لےگئے ۔حضرت ابوذر کو کسمپرسی کی حالت میں ربذہ کے جنگل میں قید تنہائی کی سزا بھگتنی پڑی ۔اس حال میں کہ وہاں کوئی آبادی نہ تھی ۔اور دوردور تک انسان نظر نہ آئے تھے ۔ سوائے کسی مسافر کے اس مقام پر کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں آپ پناہ لے لیتے ۔بس ایک درخت تھا جس کے نیچے آپ رہتے تھے ۔جب معاویہ کویہ جلاوطنی کی خبر ملی تو اس نے حضرت ابوذر کی بیوی وغیرہ کو ربذہ بھیج دیا ۔اسی عالم بے بسی میں آپ کے فرزند ذر کا انتقال ہوا اورتھوڑے عرصہ بعد رفیقہ حیات بھی چل نسیں پھرآپ خود علیل ہوئے ۔ایک دختر کے علاوہ کوئی پرسان حال نہ تھا ۔جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو فضائل آل محمد کے علاوہ اور کوئی وصیت نہ کی اپنی بیٹی کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خبر سے آگاہ کیا جو آپ نے اپنی حیات میں دربارہ دفن ارشاد فرمائی تھی چنانچہ بمطابق پیشگوئی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت مالک اشتر رضی اللہ عنہ یہ سعادت حاصل کی ۔اور جناب ابوذر کو چار ہزار درہم کا کفن پہنایا ۔بعض روایات میں ہے کہ لشکر کے ہرآدمی نے تھوڑا تھوڑا کفن کے لئے کپڑا دیا۔ مرقوم ہے کہ نماز جنازہ عبداللہ بن مسعود نے پڑھی ۔!!!!

توزہد جہاں کا قبلہ ہے اےقلب ابوذرغفاری

واللہ کہ تیرا فقررہا دینائے حکومت پر بھاری

تو ہے وہ خطیب عرفانی دل دہل گئے جس کے خطبوں سے

صحرائے عرب کی ریتی میں گل کھل گئے جس کے خطبوں سے

(احسان امروہوی)

٭٭٭٭٭


سوم یا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ

ہمارے ہاں بسند معتبر یہ روایت ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خوشا حال اس کا مجھے دیکھے اور مجھ پر ایمان لا ئے یہی ارشاد سات مرتبہ فرمایا ۔امام حعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارہ اصحاب ایسے تھے ۔مدینہ کے آٹھ ہزار ،مکہ کے دوہزار اور دوہزار آزاد کنندہ لوگ کہ ان میں کوئی قدری المذھب نہ تھا ۔جو خداوند کے جبر کا قائل ہو۔ اور نہ ہی ان میں کوئی مرجی تھا جویہ کہتا ہوکہ ہرشخص کا ایمان ایک ہی قسم (درجہ) کا ہے اور نہ کوئی حروری تھا جو امیر المومنین علیہ السلام کو ناسزا کہتا ہو اور نہ کوئی معتزلی تھا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ خدا کو بندوں کے اعمال میں کوئی عمل دخل نہیں اور یہ حضرات اللہ کے دین کے بارے میں اپنی طرف سے (قیاس سے )کوئی بات نہ کہتے تھے ۔یہ اصحاب دن رات گریہ زاری کرتے تھے اور بارگاہ ربّانی میں دعا کرتے تھے کہ خداوند تعالی ہماری روحوں کو قبض کرلے اس سے پہلے کہ ہمارے کان شہادت سبط رسول امام حسین علیہ السلام کی خبر سنیں۔

سید الاولیاء امام المتقین قائد ثقل دوم امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں میں تم کو تمھارے رسول کے اصحاب کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کو گالی مت دو ۔برا نہ کہو ۔اور یاد رکھو تمھارے پیغمبر کے اصحاب وہ اشخاص


ہیں جنھوں نے وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد نہ ہی کوئی بدعت کی اور نہ ہی کسی بدعت کرنے والے کی اعانت فرمائی یا اس کو پناہ دی بے شک میرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے اپنے ایسے اصحاب کے بارے میں سفارش (محبت ) فرمائی ہے ۔

اس وقت میری حیرت کی انتہا ہوجاتی ہے جب ہمارے مخالفین میں یہ گالی دیتے ہیں کہ ہم صحابہ کی تعظیم نہیں کرتے ہیں جب ہماری کتابوں میں اصحاب رسول کے ابواب فضائل ومناقب کو اگر یکجا کیا جائے یہ ایک دفتر بن جاتا ہے ۔ ہمارے نزدیک اصحاب رسول کا مرتبہ ایسا ہے کہ اللہ نے ان ہی پاک بازوں اور راست روش ہستیوں کی خیرات اس زمین کو قائم کیا ۔ اور ان ہی کے خدمات جلیلہ کے طفیل اہل زمین کو روزی ملتی ہے ۔ان کے ہی کسب ہائے کمال اور کردار ہائے پرجمال کی بدولت باراں رحمت برستی ہے ۔ان ہی متقی ومومن اصحاب رسول کے کارہائے فضیلہ کے انعام وصدقہ میں ہم خاطی لوگوں کی مدد ہوتی ہے ۔اور یہ بات محض لفاظی نہیں بلکہ ارشاد مولائے کائنات سے مصدّقہ ہے ۔حضرت امیر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ ۔

سات وسیلے :-

"زمین سات اشخاص کے واسطے پیدا کی گئی ہے جن کے سبب سے اہل زمین روزی پاتے ہیں اور ان ہی کی برکت سے بارش ہوتی ہے انہی کی برکت سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ۔اور وہ ابوذر، سلمان ، مقداد،عمار ،حذیفہ ،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنھم ہیں اس کے بعد حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا میں (علی) ان کا امام اور پیشوا ہوں ۔اور یہی وہ لوگ


ہیں جو فاطمہ زھراء کی میت پر نماز کے لئے حاضر تھے (حیات القلوب:- علامہ مجلسی مؤلف حیات القلوب کے نزدیک حضرت عبدا للہ بن مسعود کا معاملہ مشتبہ ہے ۔تاہم ابن مسعود کا راجح ہونا تسلیم شدہ امر ہے )

ہم شیعیان اہل بیت کو اس بات پر فخر وناز ہے کہ ہم نے کرسی اقتدار کو کبھی جھک کر سلام نہیں کیا ہے بلکہ ہم نے ہمیشہ ان مردان مومنین کی راہوں میں اپنی آنکھیں بچھائیں ہیں جو دنیا کی نظروں میں فقیر وحقیر دکھائی دیتے تھے لیکن ہماری نگاہوں نے پہچان لیا کہ یہ وہ ہستیاں ہیں کہ جن کی نگاہ ایمان کو تقدیر پر تبدیل کردینے کی قدرت حاصل ہے ۔اغیار نے تاج وتخت اور حکومت سب کچھ سمجھ لیا اور لاٹھی کی بھینس بن گئے مگر ہم نے ان سے لولگائی جن کو ظاہرا اور باطنا ہر طرح سے درجہ بدرجہ اقتدار و اختیار منجانب خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حاصل تھا ۔ایسے ہی عظیم المرتبت حضرات میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ کو امتیازی مقام وافتخاری درجہ حاصل ہے ۔

مثیل میکائیل :-

اللہ اللہ ! سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس یار جانثار کا تعارف اس انداز میں کراتے ہیں ۔

ارشاد فرماتے ہیں کہ

"جبریل خداوند کی جانب سے مجھے (رسول اللہ کو)خبر دے رہے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سلمان اور مقداد آپس میں بھائی بھائی ہیں جو تمھاری محبت اور تمھارے بھائی ،وصی اور تمھارے برگزیدہ علی علیہ السلام کی مؤدت میں خالص ہیں ۔اور یہ دونوں حضرات تمھارے حلقہ اصحاب میں جبرئیل ومیکائیل کے مانند


ہیں ۔جیسے وہ ملائکہ میں ہیں (جو مرتبہ ودرجہ فرشتوں میں ان کو حاصل ہے )سلمان اور مقداد رضی اللہ عنھما اس کے دشمن ہیں جو ان میں کسی کا دشمن ہے (جبرئیل ومکائیل کا) اور اس کے دوست ہیں جو ان سے دوستی رکھتا ہو اور محمد وعلی علیھما ا لصلواۃ والسلام کو دوست رکھتا ہو ۔ اور( یہ دونوں )اس کے بھی دشمن ہیں جو محمد و علی علیھما الصلواۃ والسلام کو دشمن رکھتا ہو ۔ اگر اہل زمین سلمان اور مقداد کو دوست رکھیں محض اس لئے کہ وہ محمد وعلی علیھما الصلواۃ والسلام کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے دوستوں کو دوست اور ان کے دشمنوں کو دشمن رکھتے ہیں جس طرح کہ ان کو آسمانوں کے حجابات اور عرش وکرسی کے فرشتے رکھتے ہیں تو یقینا خدا ان میں سے کسی پر کسی طرح کا عذاب نہ کرتا ۔(تفسیر امام حسن عسکری سورہ بقرہ ص۹۷-۹۸ بحوالہ حیات القلوب)

ارشاد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مطابق میکائل صحابی رسول حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت کے لئے یہ اعزاز بھی ایک خصوصی تمغہ خدمت ہے کہ آپ کو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ۔چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ،سے مروی ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام رسالت مآب کے غسل وکفن سے فارغ ہوئے اور مجھے (سلمان کو) ابوذر ، مقدادرضی اللہ عنہ ،فاطمہ ،حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا ۔خود (علی)آگے کھڑے ہوئے اور ہم نے حضرات امیر کے پیچھے صف باندھی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز پڑھی (اسی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ اسی حجرے میں موجود تھیں مگر جبرئیل نے ان کی آنکھوں کو( دست غیب سے) نند رکھا تھا وہ ہم کو نہ دیکھ سکیں ۔

جنت کا اشتیاق:-

کتب فریقین میں معمولی فرق کے ساتھ یہ حدیث مرقوم ہے اور شہرت کی حامل ہے کہ حضور نے فرمایا کہ جنت چار اشخاص


کی مشتاق ہے ۔ہر فریق نے ان چار حضرات میں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ ،کو شامل کیا ہے چنانچہ سید ابن طاؤؤس نے بطریق مخالفین ایک روایت بیان کی ہے کہ ۔

انس بن مالک سے میروی ہے کہ ایک روز رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت میری امت میں سے چار شخصیوں کی مشتاق ہے ۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا رعب مانع ہوا کہ میں (انس ) حضرت سے دریافت کروں کہ وہ کون لوگ ہیں ۔میں حضرت ابوبکر کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ آپ(ابوبکر)حضرت سے دریافت کیجئے ۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں ان چاروں اشخاص میں اگر نہ ہوا تو بنی تمیم مجھ کو سرزنش کریں گے ۔یہ سن کر میں حضرت عمر کے پاس گیا ان سے کہا کہ میں ان چار اشخاص میں اگر نہ ہوا تو بنی عدی مجھ کو طعنہ دیں گے ۔پھر میں (انس) حضرت عثمان کے پاس گیا اور ان (عثمان) سے خواہش کی کہ وہ دریافت کریں ۔انھوں نے بھی کہا کہ اگر میں ان میں سے نہ ہوا تو بنی امیہ مجھ کو ملامت کریں گے ۔آخر میں حضرت علی کی خدمت میں گیا ۔حضرت باغ میں پانی دے رہے تھے ۔میں نے کہا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے کہ بہشت چار اشخاص کی مشتاق ہے میں (انس) آپ سے التماس کرتا ہوں کہ حضرت سے دریافت فرمائیے کہ وہ کون لوگ ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ان سے پوچھوں گا ۔ میں (علی)اگر ان چار شخصوں میں ہوا تو خدا کا شکر کروں گا اور اگر ان میں میرا شمار نہ ہوا تو خدا سے سوال کروں گا کہ مجھے ان میں سے قراردے ۔اور میں ان(چاروں)کو دوست رکھوں گا ۔غرض حضرت علی علیہ السلام روانہ ہوئے اور میں (انس) بھی ان کے ساتھ چلا ۔جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم


کا سراقدس دحیہ کلبی کی گود میں ہے جب دحیہ کلبی نے امیر المؤمنین کو دیکھا ۔تعظیم کے لئے اٹھے اور ان کو سلام کیا اور کہا لو اپنے پسر عم کے سر کو اے امیر المومنین کہ تم مجھ سے زیادہ سزاوار ہو ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور اپنا سر علی علیہ السلام کی گود میں دیکھا تو فرمایا اے علی علیہ السلام شاید تم کسی حاجت کے لئے آئے ہو ۔انھوں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ جب میں یہاں آیاتو دیکھا کہ آپ کا سر مبارک دحیہ کلبی کی گود میں تھا ۔ تو وہ اٹھے اور مجھے سلام کرکے بولے کہ اپنے پسر عم کے سر کو گود میں لوحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ تم نے پہچانا کہ وہ کون تھے ۔؟عرض کی دحیہ کلبی تھے حضرت نے فرمایا کہ وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جنہوں نے تم کو امیر المومنین کہا جناب امیر نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ انس(بن مالک )نے مجھے بتا یا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ بہشت میری امت میں سے چار شخصوں کی مشتاق ہے لہذا فرمائیے کہ وہ کون کون ہیں ۔

حضرت نے جناب امیر علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا کہ تم (علی)ان میں سے پہلے ہو ۔جناب امیر نے عرض کی میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ اور وہ تین اشخاص کون ہیں ؟حضرت نے فرمایا وہ مقداد،سلمان اور ابوذر رضی اللہ ہیں ۔

محفوظ عن الشک :-

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ حضرات مقداد ،سلمان ،اور ابوذر رضی اللہ عنھم تینوں ایسے اصحاب تھے جن کے دلوں میں مطلق شک داخل نہ ہوا ۔محرر حقیر کہتا ہے کہ سراپا یقین تھے ۔


حور مقدودۃ:-

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد گھر سے نکلا تو راستہ میں امیر المومنین علیہ السلام سے ملا قات ہوئی جناب امیر نے فرمایا جاؤ جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کے پاس ان کو بہشت سے کچھ تحفہ آیا ہے اور وہ تم کو بھی اس میں سے کچھ عطا کرنے کی خواہش رکھتی ہیں یہ سنکر میں ان مخدومہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔شاہزادی نے فرمایا ۔کل میں اسی مقام پر بیٹھی ہوئی تھی ۔دروازہ بند تھا میں غمگین ومحزون تھی اور سوچ رہی تھی کہ ہم وحی الہی سے محروم ہوگئے ۔اور ہمارے گھر میں فرشتوں کی آمد ورفت بند ہوگئی اچانک دروازہ کھلا اور تین لڑکیاں اندر داخل ہوئیں کہ ان سے زیادہ حسین وجمیل اور نازک ورعنائی میں بہتر اور خشبودار کبھی کسی نے نہ یکھا ہوگا ۔ان کو دیکھا تو میں اٹھ کھڑی ہوئی اور پوچھا تم اہل مکّہ سے ہو یا مدینہ کی رہنے والی ہو ۔وہ بولیں ۔اے بنت رسول (س)ہم اہل زمین سے نہیں ہیں ۔ہم آپ کی زیارت کے لئے بے حد مشتاق تھیں ۔ان میں سے بڑی جو مجھے معلوم ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ تمھارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا" مقدودۃ"

میں نے پوچھا کس سبب سے یہ نام رکھا گیا ؟ اس نے کہا اس لئے کہ مقداد بن اسود کے لئے خلق کی گئی ہوں "(حیات القلوب)

مجھے افسوس ہے کہ اہل قلم مسلمانوں کے قلم کی نبیس( Nibs ) اسی لوہے سے تیار ہوتی رہیں جس سے بے گناہ خون سے آلودہ تلوار یں بنی تھیں اسی لئے ان لوگوں کے حالات ومناقب کو


ہمیشہ قلم انداز کیا گیا جن کو ارباب حکومت اپنے مخالفین تصور کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ زمانہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اعزاز یافتہ اور محفل نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معتمد مصاحب کی اقدار رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھ بند ہوتے ہی پامال ہونا شروع ہوگئیں اور زنانہ کی ریت یا رسم دنیا کے مطابق لوگوں نے ارباب سلطنت کے ترانے بڑھی دھوم سے گائے اور اصحاب اخیار سے خیرہ چشمی برتی ۔باوجود ان اندوہناک حالات اور اوپر آشوب اوقات کے یہ قدرت کا احسان ہے کہ پھر بھی کوئلوں کی کانوں سے وافر مقدار میں جواہر دستیاب ہوجائے ہیں جن کی آب وتاب ایک ہدایت کی روشنی میں اضافہ کرتی ہے تو دوسری طرف گمراہی کی انکھیں چند یادیتی ہے ۔حضرت مقداد کا امتیازی مقام اوران کی منفرد شخصیت کا انداز ہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر میں ان کو شرکت کا اعزاز حاصل تھا اور طبقات ابن سعد کے مطابق آپ وہ واحد مجاہد تھے جو لشکر اسلام میں گھوڑا سوار تھے ۔چنانچہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ ۔

"مقداد بن عمر و سے مروی ہے کہ یوم بدر میرے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام "سجہ"تھا علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ یوم بدر میں سوائے مقداد بن عمر و کے ہم میں سے کوئی سوار نہ تھا ۔(طبقات ابن سعد حصہ سوم ص ۳۱۵)

صاحب طبقات تحریر کرتے ہیں کہ "قاسم بن عبد الرحمان سے مروی ہے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے جس شخص کو اس کے


گھوڑے نے دوڑایا وہ مقداد بن الاسود ہیں "(طبقات ابن سعد حصہ سوم ۳۱۵)

لیکن افسوس ہے کہ اول معرکہ حق وباطل میں اول گھوڑا دوڑانے والے اس مجاہد کے کارہائے نمایاں کی کتاب "ذہبیہ" کو بعد کے جارح لشکر وں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی دھول سے اس قدر ڈھانپ گیا ہے کہ آج حق وباطل کی شناخت میں مٹی کی نہیں ایک سدراہ دیوار بن کر نمودار ہوچکی ہیں اور محققین کے لئے اس کو عبور کرنا جان جوکھوں کی مہم بن گیا ہے تاہم ہمت مرداں مدد ے خدا ۔اگر نیک نیتی سے کوشش کی جائے تو بفضل خدا یہ ریت کی دیوار یں صرف ایک نعرہ حیدری کی پھونک سے اڑجاتی ہیں اور تمام حقائق شفاف آئنہ کی مانند سامنے آجاتے ہیں ۔

مختصر حالات:-

حضرت مقداد کے فضائل بیان کرنے کے لئے عمر خضر بھی کافی نہ ہوگی علماء کی رائے یہ ہے کہ صحابہ میں ان کے بلند مرتبہ کے برابر سلمان اور ابوذر کے بعد کوئی نہیں ہے ۔محمد بن سعد کی تحقیق کے مطابق ان کی کنیت ابو سعید تھی اور شجرہ یہ تھا۔

ابن تغلبہ بن مالک بن ربیعہ بن ثمامہ بن مطرفہ بن عمرو بن سعد ابن دہیر لوئی بن ثعلبہ بن مالک بن الشرید ابی اہون بن فائش ابن دریم بن القیس بن اہود بن بہراء بن عمرو بن الحاف بن قضاعۃ کنیت ابو سعید تھی۔ زمانہ جاہلیت میں اسود بن یغوث الزہری سے معاہدہ حلف کیا ۔انھوں نے ان کو متبنی بنا لیا اور انھیں


مقداد بن الاسود کہا جاتا تھا جب قرآن نازل ہوا کہ "ادعوھم لاباءھم" (لوگوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارو)تو مقداد بن عمروکہا جانے لگا ۔

ابن اثیر نے لکھا ہے کہ وہ مرد بن ثعلبہ بن مطرودہن عمرو کندی کے بیٹے تھے بعض نے کہا ہے وہ قبیلہ قصاعہ سے تھے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ حضرت کے رہنے والے تھے ۔ چونکہ ان کے والد قبیلہ کندہ سے ہم سوگند ہوگئے تھے اسی لئے اس قبیلہ سے منسوب ہوگئے تھے ۔علامہ ابن عبدالبر کے مطابق آپ اسود بن یغوث زہری کے غلام تھے اور چونکہ اسود نے ان کو فرزندی میں لے لیا اس وجہ سف مقداد کو ان کی طرف منسوب کردیا گیا ۔

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سابق الا سلام اصحاب میں سے تھے اور انکا اسلام قدیم تھا ۔ وہ اسلام کے بہت جری اور نڈر مجاہد تھے ۔ابو سفیان نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت مقداد وہ خوش بخت اللہ کے سپاہی تھے کہ جسے ان کے گھوڑے نے سب سے پہلے راہ خدا میں درڑایا ۔(طبقات ابن سعد)

عبد اللہ سے مروی ہے کہ میں (راوی)مقداد کے مشہد میں موجود تھا ۔البتہ مجھے ان کا ساتھی ہونا اس سے زیادہ پسند ہے کہ جس سے ہٹایا گیا وہ مشرکین بدر پر بد دعا کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ہم لوگ آپ سے وہ بات نہ کہیں گے جو قوم موسی نے موسی علیہ السلام سے کہی ک آپ کا رب اور آپ جائیۓ اور آپ دونوں قتال کیجئے ہم لوگ یہیں بیٹھے ہیں ۔ہم لوگ آپ کے داہنے اوربائیں آگے اور پیچھے


جنگ کریں گے ۔میں (راوی)نے دیکھا کہ نبی کا چہرہ اس بات سے روشن ہوگیا اور اس بات نے آپ کو مسرور کردیا ۔یہ اظہار حضرت مقداد کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی کیفیت بیان کرنے کے لئے کافی ہے ۔آپ غزوات بدر۔احد وخندق اور تمام مشاہد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حاضر ہوئے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان خاص اصحاب میں سے تھے جو تیر انداز تھے آپ تیر اندازی میں مشہور اور امہارت یافتہ تھے ۔ رسول کریم کی قربت خاص حاصل تھی یہاں تک کہ حضور نے ضابطہ بنت زبیر عبد المطلب سے آپ کا نکاح کردیا تھا (طبقات ابن سعد)

ابن بابویہ نے بسند معتبر امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل آنحضرت پر نازل ہوئے ۔اور کہا یا رسول اللہ آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہتا ہے اور فرمایا ہے کہ باکرہ لڑکیاں درخت پر پھلوں کی مانند ہیں ۔جب درختوں پر پھل تیار ہوجاتے ہیں تو ان کا علاج سوائے توڑ کر استعمال کرنے کے کوئی نہیں ۔اگر ان کو استعمال نہ کروگے تو ہوا ان کو خراب کردے گی ۔اور سورج بے کار کردے گی اسیطرح کنواری لڑکیاں جب بالغ ہوجاتی ہیں تو ان کا علاج شوہر کے سوا کچھ نہیں اگر ایسا نہ ہوتو فتنہ وفساد سے ان کا محفوظ رہنا ممکن نہیں ۔ یہ سنکر آنحضرت منبر پر تشریف لےگئے ۔اور لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا اور ان کو آگاہ کیا اس سے جو کچھ خدا نے ان کو حکم دیا تھا تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ہم اپنی لڑکیوں کو کس کے ساتھ


تزویج کریں ۔فرمایا ان کے کفو اور برابر والے لوگوں کے ساتھ پوچھا ان کے کفو کون لوگ ہیں ۔ حضور نے فرمایا مومنین آپس میں ایک دوسرے کے کفو اور ہمسر ہیں ۔ یہ فرما کر منبر سے نیچے تشریف لائے اور ضباعۃ کو مقداد ابن اسود کے ساتھ تزویج فرمایا کہ میں نے اپنے چچا کی بیٹی کو مقداد سے اس لئے تزویج کردیا کہ نکاح پست ہو یعنی لوگ کفو کے بارے میں حسب ونسب کا خیال نہ کریں بلکہ ہر مومن کو رشتہ دے لے کریں ۔

ابن سعد نے کریمہ بنت مقداد سےا ن کا حلیہ مبارک یوں بیان کیا ہے کہ وہ گندم گوں ،لانبے ،فراخ شکم ،سرمیں بہت بال تھے ۔داڑھی کو زرد رنگتے جو خوبصورت تی نہ بڑی نہ چھوٹی ۔بڑی بڑی آنکھیں ۔پیوستہ آبرو، ناک کا بانسہ بھرا ہوا اور نتھنے تنگ تھے ۔

حضرت کلینی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن حضرت عثمان نے جناب مقداد سے کہا کہ میری (عثمان کی) مذمت اور علی کی مدح سے باز آجاؤ ۔ورنہ تم کو تمہارے پہلے آقا کے پاس واپس بھیج دوں گا ۔جب حضرت مقداد کی وفات کاوقت آیا تو انھوں نے حضرت عمار یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ عثمان کو کہہ دو کہ میں اپنے پہلے آقا کی طرف واپس جارہاہوں یعنی عالمین کے پروردگار جل شانہ کی جانب ۔


وجہ عتاب حکومت :-

حضرت مقداد مورد عتاب حکومت کیوں رہے ۔ اس کا جواب مندرجہ ذیل روایت سے حاصل ہوجاتا ہے کہ شیخ طوسی فرماتے ہیں ۔

"جب لوگوں نے عثمان بن عفان سے بیعت کی حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن الرحمان بن عوف (خلیفہ گر عثمان) سے کہا خدا کی قسم آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت (علیھم السلام) پر حضرت کے بعد جو کچھ ہوا اس کی نظیر کہیں نہیں مل پاتی ۔عبد الرحمان نے بے رخی سے کہا کہ تم کو ان کاموں سے کیاواسطہ ؟ مقداد نے جواب دیا کہ میں خدا کی قسم ان کو (اہلیت کو) دوست رکھتے تھے اور خدا کی قسم مجھے ان کے حالات دیکھ کر ایسا صدمہ ہوتا ہے جس کا اظہار ممکن نہیں کیو نکہ قریش کو کے سبب لوگوں پر شرافت وعزت حاصل ہوئی ۔پھر سب نے ملکر یہ سازش کی کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بادشاہی ان کے قبضے سے لے لیں عبد الرحمان نے بپھر کر کہا وائے ہو تم پر واللہ میں نے یہ کوشش تو تم ہی لوگوں کی خاطر کی ہے اور نہیں پسند کیا کہ خلافت علی کے قبضے میں جائے ۔

حضرت مقداد نے فرمایا خدا کی قسم تو نے اس شخص کو چھوڑ دیا جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اور عدالت کے ساتھ ان میں حکم جاری فرماتا ہے ۔اللہ کی قسم اگر مجھے مددگار میسر ہوں تو میں یقینا قریش سے اسی طرح جنگ کرتا جس طرح بدر واحد کے روز جنگ کی تھی ۔عبد الرحمان نے آگ بگولہ ہوکر کہا تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے اے مقداد اس بات کو ترک کر کہ لوگ تم سے نہ سنیں ورنہ فتنہ وفساد برپا ہوگا ۔خدا کی قسم میں خوف زدہ ہوں کہ تیری باتوں سے


لوگوں میں اختلاف اور فساد پیدا ہوجائے گا ۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس مجلس سے اٹھے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا اے مقداد میں تمھارے مددگار وں میں سے ہوں ۔ مقداد نے جواب دیا کہ خدا تم پر رحمت نازل کرے ۔جس امر کا میں ارادہ رکھتا ہوں وہ دویا تین شخصوں سے پورا نہ ہوگا اس کے بعد راوی حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی اور اپنی گفتگو بیان کی ۔جسے سنکر مولائے عالمین نے ان کے لئے دعائے خیر کی ۔

اس روایت سے وہ وجوہات ازخود منکشف ہوجاتی ہیں جو حضرت مقداد اور حکومت کے درمیان باعث کشمکش رہیں ۔

الف قران :-

حضرت صادق آل محمد علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ "مقداد بن اسود کا مرتبہ قرآن مین الف کے مرتبہ کے مانند ہے کہ دوسرا حرف اس سے نہیں ملتا ۔اسی طرح کمال میں کوئی دوسرا مقداد کے کمال سے ملحق نہیں ہوتا ۔

خصوصی امتیاز:-

حلقہ اصحاب النبی میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ شیخ کشی نے بسند معتبر روایت کی ہے کہ صحابہ میں کوئی ایسا صاحب نہ تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی حرکت نامناسب نہ کی ہو سوائے مقداد بن اسود کے کیوں کہ ان کادل حق کی طرفداری میں مثل آہنی ٹکڑوں کے تھا ۔پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ یار باوقار


ستر یا اسی برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا ۔ مدینے سے تین میل دور الحرف میں وفات پائی اور لوگوں نے گردنوں پر لاد کر مدینہ منورہ پہنچایا ۔جنت البقیع میں مدفون ہوئے وجہ وفات میں اختلاف ہے ۔ابی فائد کی روایت کے مطابق روغن انجیر پینے سے وفات پائی ۔ بعض کا گمان ہے کہ حکومت نے خفیہ طور پر زہر سے ہلاک کرنے کی کو ‎ شش کی ۔جب وفات مقداد کی خبر حضرت عثمان کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اظہار افسوس کیا اور حضرت مقداد کی تعریفیں کرنے لگے ۔اس پر زبیر بن عوام سے نہ رہا گیا اور یہ شعر کہا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ

"میں تم کو اس حالت میں پاؤں گا کہ مرنے پر میرے محاسن بیان کروگے حالانکہ جیتے جی مجھے توشہ تک نہ دیا "(طبقات ابن سعد حصہ سوم ص ۳۱۷)

بدل دے بدل دے خیال زبوں کو

مٹادے مٹادے ملال دروں کو

دکھادے دکھادے بہار سکوں کو

الٹ دے الٹ دے نظام جنوں کو

ہے مقداد تو رھبر انقلابی

ہر اک دور کامحور انقلابی

(احسان امروہوی)

٭٭٭٭٭


چہارم یار نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لقمان امت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ

اس کرہ ارض خداوندی کی تاریخ میں ہزروں نامور اشخاص کے نام وحالات ملتے ہیں جو اپنی اپنی بجاکر خالی ہاتھوں خاک میں مل گئے ۔عالم فانی میں جہاں وحشی ،درندہ صفت ،خونخوار اور سفاک لوگوں نے اپنے کردار سے لقب اشر ف المخلوقات کو شرمندہ کیا وہاں سینکڑوں ایسی ہیستیاں بھی گزریں جنھوں نے کردار انسان کو اس قدر بلند کیا کہ لفظ اشرف المخلوقات خود شرما گیا اسمیں شک نہیں کہ اسلام خدا کاپسندیدہ دین ہے او تا قیام قیامت انسان کی معاشرتی حیات کے لئے کافی ہے لیکن زمانہ کے تغیر و تبدل نے اس دین بھی رخنہ اندازی پیدا کردی ۔رسول اکرم نے دین حقیقی کے دووارث مقرر کردیئے ،ایک کتاب الہی اور دوسرےاہل بیت رسول(علیھم السلام)۔ان دونوں سے تمسک رکھنا ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ رہنے کا علاج تجویز فرمایا ۔جن لوگوں نے راہ فلاح پہچان لی اور دین اسلام کو دل سے قبول کیا وہ بموجب ہدایت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،قرآن واہل بیت (ع)سے متمسک رہتے لیکن جو لوگ کسی طمع یا غرض سے کلمہ اسلام پڑھنے پر مجبور ہوئے انھوں نے اہل بیت (ع) کادامن چھوڑ دیا کیوں کہ وہ اپنی دانست میں حکومت ونبوت ایک گھر میں پھیلتی پھولتی برداشت نہ کرسکے وہ لوگ جو اسلام کو حق سمجھ کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے انھوں نے صحبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تعلیم الہامی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو اسلامی کردار کے سانچے میں ڈھالنے کا حق ادا کردیا ۔انھوں نے


اپنی زندگیوں کو ہمیشہ تابع اسلام رکھا اور ہر طرح کی ملامت و خوف کو نظر انداز کرتے ہوئے پیکر تسلیم ورضا بنے رہے یہی وہ خوش قسمت اور سرخرو طبقہ تھا جو محافظ لقب بنی آدم "اشرف المخلوقات "کا مصداق قرار پایا ان کا چال چلن آج بھی دنیا کو مکمل درس دے رہا ہے اور اہل باطل کے لئے عبرت آموز سبق ہے ۔ دیگر اقوام کی طرح اسلام کے ساتھ بھی یہ المیہ عظیم پیش آیا کہ سلاطین نے اپنی اغراض ذاتی اور بقا ئے سلطنت کے لئے ان اشراف کائنات بزرگوں کے حالات زندگی کو منظر عام پر نہ آنے دیا مؤرخین نے خوف حکومت اور حرص مال ومنصب میں ان نامور اور کامران ہستیوں کے کارناموں کو پوشیدہ کیا اور اپنے حاکموں یا ان کے بہی خواہوں کے حالات کو بے بنیاد فضائل اور جھوٹے مناقب کے ساتھ خوب بڑھا چڑھا کر درج کرلیا اور یہ کہانی ہم مقدمات میں پہلے ہی سنا چکے ہیں ۔ہم جب تاریخ بینی کرتے ہیں تو سخت تعجب ہوتا ہے ایسے بزرگان اسلام کے حالات جن کو پڑھ کر اصلاح نفس اور تسکین قلب حاصل ہوتے ہیں ۔ اور جو کردار کے اعلی مدارج پر فائز تھے لوگ ان کے ناموں سے بھی آشنا نہیں ہیں اورجن لوگوں کے فضائل کی تشہیر کی جاتی ہے ان کے سوانح حیات ان فضائل کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں جو ان سے منسوب ہیں یہ مسئلہ نازک تو ضرور ہے مگر بہت اہم ہے لہذا مجھے بار بار اس کے تکرار کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس نا انصافی پر مبنی تدبیر نے آئندہ نسل کی فکر پر گہرا اثر ڈالا ہے اور اس کا نتجہ اس قدر مضر سامنے آیا ہے کہ حق وباطل آپس میں


اس طرح خلط ملط ہوگئے ہیں کہ شناخت کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے ملاحظہ کریں کہ اسلام امن وسلامتی کادین ہے لیکن تاریخ نویسی ہمیں بتائی ہے کہ اسلام تلوارزنی ۔فتوحات ارضی اور لشکرکشی کانام ہے ۔

الغرض ان مظلوم حضرات کی خطا صرف یہی تھی کہ انھوں نے سنّت رسول اور آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا رہنما قرار دیا وہ اپنے اصول پر چٹان کی طرح رہے اپنے کردار کو اسقدر بلند رکھا کہ ان کا ہرغیر ان سے پست نظر آتا تھا اگر آج کی نسل کے سامنے ان بااصول باضمیر اور باکمال مسلمانوں کے وہ عظیم کارنامے پیش کئے جائیں تو دنیا لادینی رجحان کی طرف کبھی راغب نہ ہو ۔ان لائق پیروی اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ کو ممتاز مقام حاصل ہے ۔وہ افضل ترین صحابہ میں سے تھے ۔کہ ان کو خود حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خصوصی نسبت ہوئی اور آپ کو سلمان محمدی کہا جاتا ہے ۔

ابتدائی حالات:-

حضرت سلمان فارسی کا نسبی تعلق اصفہان کے آب کے خاندان سے تھام ۔قدیم نام میں اختلاف ہے لیکن ان میں دونام زیادہ مشہور ہیں ۔"مابہ "اور "روزبہ"اسلامی نام سلمان تجویز ہوا ۔رسول کریم نے "سلمان الخیر"کا لقب عطا فرمایا ۔ اس کے علاوہ طیّب ۔طاہر لقمان الحکمت کے القابات حضور اکرم نے عنایت فرمائے ۔ابو عبد اللہ کنیت تھی ۔سلسلہ نسب یہ ہے ۔روزبہ (سلمان)بن بود خیشاں بن مو رسلان بن بہود ان بن فیروزبن سہرک ۔آپ کا تعلق ایران


کی اس شاہی نسل سے تھا جس کا مورث اعلی منوچہر ہے لیکن حضرت سلمان نے اس بات کو اپنے لئے باعث فخر نہ سمجھا ۔نسبی کرید کو پسند نہ فرماتے تھے ۔ایک مرتبہ کسی نے ان کے نسب سے متعلق سوال کیا تو جواب دیا کہ میں مسلمان فرزند اسلام ہوں ۔میں ایک غلام تھا اللہ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ آزاد کرایا میں بے حیثییت شخص تھا اللہ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ عزت بخشی۔میں ایک فقیر تھا خدا نے مجھے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ غنی کردیا اور یہی میرا حسب نسب ہے ۔صاحب طبقات کے بیان کے مطابق ابن عباس کی روایت ہے کہ حضرت سلمان نے خود پتہ دیا کہ وہ اصفہان کے گاؤں "حئ " کے رہنے والے تھے ۔آپ کے والد ایک زمیندار تھے اور اپنے فرزند سے بہت محبت رکھتے تھے اور ان کو جدا نہ کرتے تھے ان کو گھر میں اس طرح قید رکھا تھا جس طرح لڑکی کو قید کیا جاتا ہے ۔آپ کے والدین مجوس پر تھے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ سلمان بالغ ہونے سے قبل اپنے دین کی معرفت حاصل کرے لیکن سلمان کی طبیعت فطرتا مشاہدات قدرت پر غور وفکر کرنے پر مائل تھی اور دین مجوس کے نقائص اکثر ان کے دماغ میں تجسس پیدا کرتے تھے گھر اپنے والد کے احترام میں زبان بند رکھتے تھے ایک دن بوذ خشان اپنے ایک مکان کی بنیاد مرمت کرنے کی غرض سے گھر سے باہر گئے اور سلمان کو اپنی جگہ کھیتوں کے کا م پر روانہ کیا ۔راستے میں آپ کو ایک گرجا دکھائی دیا جہاں لوگ عبادت کررہے تھے اور توحید خداوندی اور رسالت عیسی علیہ السلام علیہ السلام کا ورد کررہے تھے ۔عیسا ئیوں کی یہ عبادت ان کو پسند آئی تحقیق


کاشوق ہوا عیسائیوں سے مذہبی معلومات کی ۔روایت میں ہے کہ وہ عیسا ئی صحیح دین پر تھے ۔ وہ توحید خداوندی رسالت عیسی علیہ السلام کے اقرار کے ساتھ یہ بھی شہادت دیتے تھے کہ تحقیق محمد اللہ کے حبیب ہیں ۔ مسلمان کے خدا ،عیسی علیہ السلام او رمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی سارے جہاں کا خالق وپروردگار ہے ۔اور عیسی بن مریم علیھما السلام اللہ کے برگزیدہ رسول ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ رسول مبشر ہے جو رسالت ونبوت کو ختم کرے گا ۔حضرت سلمان پر ان باتوں کا اثر ہوا اور تین دن متواتر معلومات میں اضافہ کیا ادھر ان کے والد ان کو تلاش کرتے تھے ۔سلمان پر جو نظر پڑی تو پکڑ لیا اور پوچھا کہ کہاں تھے ؟ آپ نے صاف صاف بتا دیا ۔ باپ نے بھانپ لیا کہ لڑکا اپنے آبائی دین سے باغی ہے ۔لہذا تھوڑا تشدد کیا اور انھیں بیڑیاں پہنا کر قید کرلیا ۔مگر تلاش حق کا جذبہ مضبوط ہوگیا ۔بود خشان کا خیال تھا یہ سختی بیٹے کو نئے عقیدے سے دستبردار کردے گی لیکن انھوں نے آزمایا کہ اذیت کی زیادتی ان کے عقیدے کو مزید سخت کررہی ہے لہذا آپ پر اور تشدد کیاجانے لگا ۔حتی کہ کوڑے تک لگائے گئے اپنے والد کے اس ظالمانہ رویہ سے عاجز آگئے ۔آدھی رات کو انھوں نے اپنے خدا واحد کی بارگاہ میں م اپنی حالت زار خضوع وخشوع سے عرض کی اور دعا مانگی کہ "اے خداوند! میرے دل کو شرک وبت پرستی کی کدورت سے پاک رکھ ۔میں تجھے تیرے حبیب کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے اس حبس سے رہا کر ۔ اپنے حبیب تک پہنچادے " خلوص دل سے دعا فرمائی تھی مستجاب ہوئی ۔ایک غیبی ندا آئی کہ روزبہ اٹھ


اور قید خانہ سے نکل جا۔ آپ نے تعمیل کی اور اسی گرجا میں آئے ۔ایک عمر رسیدہ راہب چرچ سے باہر آیا اور اس نے خود ہی پوچھا کہ کیا تم ہی روزبہ ہو ؟آپ نے اثبات میں جواب دیا اور وہ بزرگ ان کو گرجا کے اندر لےگئے ۔اگر چہ سلمان دین مجوس کو شروع ہی سے ناقص سمجھتے تھے مگر ڈانوا ڈول تھے ۔اب عیسائیت کی پناہ میں انھیں کچھ قرار محسوس ہوا۔ آپ دن رات عیسائی علماء کی خدمت کرتے اور زہد وتقوی کی تعلیم دل لگا کرحاصل کرتے ۔آپ نے جس بزرگ کو روحانی سرپرست پسند کیا تھا وہ بھی ان کو بہت قریب رکھتے تھے ۔ان کی ذہانت وخدمت کے باعث جب اس کاآخری وقت آیا تو اس نے اپنے شاگرد رشید حضرت سلمان کو بلاکر کہا کہ موت برحق ہے اب میرا انتقال قریب ہے ۔حضرت سلمان نے عاجزانہ عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا لائحہ عمل کی تعلیم فرما جائیں جو مستقبل میں میری رہبری کے لئے مشعل راہ ہو ۔اس بزرگ نے نصیحت کی کہ تم میری ایک لوح لے کر انطاکیہ چلے جاؤ وہاں ایک راہب ہے وہ عموما شہر سے باہر رہتا ہے اس کو تلاش کرو اسے یہ لوح دے دینا اور اس کی خدمت میں میرا سلام پہنچا کر اس کے حلقہ ارادت میں شامل ہوجانا ۔اور جو وہ تمھیں حکم دیے اس کی تعمیل کرنا ۔اس نصیحت کے بعد راہب کی روح پرواز کرگئی اور سلمان انطاکیہ روانہ ہوگئے ۔

جب سلمان انطاکیہ پہنچے تو انھوں نے تلاش کیا کہ شہر کے باہر ایک "دیر" ہے اس کے دروازے پر ایک بوڑھا بیٹھا ہے شکل ولباس سے راہب دکھائی دیتا ہے ۔سلمان نے قریب ہو کر باآواز بلند فرمایا "لا الہ الا اللہ عیسی روح اللہ ومحمد حبیب اللہ"یا یہ کہا


"اشهد ان لا اله الا الله و ان عیسی روح الله و ان محمد حبیب الله " جب راہب نے سنا تو چونک کر دریافت کیا کہ تم کون ہو ۔سلمان نے نزدیک جک کر لوح اس راہب کے سپرد کردی۔لوح لینے پر راہب نے ان کو اپنے پاس ٹھہرالیا ۔ یہ بزرگ راہب تارک الدنیا اور عبادت گزار بندہ خدا تھا ۔دن رات عبادت الہی یمں مشغول رہتا تھا لہذا سلمان کو اس سے محبت ہوگئی ۔اور وہ ان کی خدمت کرنے لگے ۔ اور ساتھ ساتھ علمی و روحانی پیاس بھی بجھاتے رہے ۔سلمان اس بزرگ سے علمی اور عملی استفادہ حاصل کرنے کا کوئی موقعہ بھی ضائع نہ جانے دیتے تھے یہاں تک کہ اس راہب کا وقت آخر قریب ہوا۔اور اس نے سلمان کو نصیحت کی اب اس جگہ عیسائی کوئی نہیں رہا ہے تم یہ لوح لیکر سکندریہ کے راہب کے پاچلے جانا اور اس کی خدمت میں مشغول ہوجانا ۔چنانچہ اس راہب کی وفات کے بعد حضرت سلمان سکندریہ آئے اور اس راہب کی خدمت میں کافی عرصہ گزارا ۔مورخین کے بیان کے مطابق اسی طرح راہب در راہب حضرت سلمان جاتے رہے اور لوح منتقل ہوتی رہی ۔یہاں تک کہ آخری راہب تک پہنچے ۔اوراس کے آخری وقت پر اس سے التجا کی میں بہت دروازوں پر جاچکا ہوں اب تو آپ مجھے کسی ایسے کے ہاں روانہ کریں جس کے بعد کسی او رکی حاجت نہ ہو ۔راہیب نے کہا بس اب میری نظر میں کوئی ایسا شخص باقی نہیں ہے جس کے پاس تمھیں روانہ کروں ۔لہذا تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ محمد بن عبد اللہ بن


عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کا وقت قریب ہے وہ ریگستان میں ظہور کرے گا اور کھجوروں والی زمین کی ہجرت کرےگا یہ وہ ہی آخری رسول ہے جس کی خبر وبشارت بنی اسرائیل کے نبیوں نے دی ہے ۔اور اس کاذکر کتابوں میں موجود ہے اس کی علامتیں یہ ہیں کہ جو ہدیہ کو قبول کرے گا اور صدقہ کو رد کردے گا ۔ اس کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی تم اس کی خدمت میں حاضر ہوکریہ لوح اسے پیش کردینا ۔

چنانچہ اس راہب کی وفات کے بعد حضرت سلمان اس نبی مبشر کی تلاش میں ریگستانوں کی خاک چھانتے رہے ۔یہاں تک کہ فقر وفاقے کی نوبت آگئی کہ تنگ آکر کچھ آدمیوں کے ایک مجمع میں اعلان کیا کہ جو شخص بھی میرے اخراجات کو برداشت کرے گا میں اس کی غلامی قبول کرلوں گا ۔ مدینہ میں ایک متمول زمیندار اس بات پر آمادہ ہوگیا مگر اس نے شرط عائد کی میں تمھیں مدینہ لے جاؤں گا اور تم وہاں میرے غلام بنکر میری خدمت کروگے عشق رسول کے سامنے یہ سود ا سلمان کوسستا نظر آیا ۔فورا آمادہ ہوگئے ۔جب دوران سفر لوگوں کو سلمان کے عقیدے اور مقصد سفر کی معلومات ہوئیں تو انھوں نے ان کا تمسخر اڑایا اور تکالیف پہنچا ئیں ۔مگر آتش عشق بجھنے کی بجائے بھڑکتی رہی ۔

سلمان مدینہ پہنچ گئے لیکن انھیں اپنے آقا کی خدمت سے اتنی فرصت وفراغت میسر نہ آسکی وہ خود اس رسول کا پتہ چلا تے ۔ایک دن وہ باغ میں کوئی خدمت انجام دے رہے تھے کہ


کچھ لوگ باغ کے چشمے کے قریب آکر بیٹھ گئے چونکہ سلمان طبعا مہمان نواز اور تواضع کش تھے لہذا ایک تھا ل میں کچھ کھجوریں لیکر ان کے پاس پہنچے اور عیسائی طریقہ پر سلام کیا اور دعوت طعام کی خواہش فرمائی ۔ انھوں نے سلمان کی دعوت کو قبول کیا اور کھانا شروع کیا مگر ان میں سے ایک صاحب نے ان خرموں کو ہاتھ نہ لگایا ۔سلمان نے وجہ دریافت کی تو جواب پایا کہ "صدقہ مجھ پر اور میرے اہلبیت پر حرام ہے " سلمان نے پوچھا تم کون ہو " جواب دیا میں اللہ کا رسول ہوں " یہ سنکر سلمان واپس ہوئے اور خرمہ کا ایک دوسرا طبق لے کرآئے اور رسول کی خدمت میں ہدیہ کیا ۔آپ نے اس میں تناول فرمایا ۔سلمان کی دلی مراد پوری ہوئی۔پروانہ وار شمع رسالت کا طواف کرتے رہے ۔اور پشت مبارک پر ثبت مہر نبوت کی زیارت کاشرف پاتے ہی قدموں میں گرگئے اور فرمایا " اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد انک رسول اللہ " میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اس کے بعد حضرت سلمان نے راہب کی دی ہوئی لوح رسول خدا کے سپرد کردی ۔حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سلمان کے آقا کے پاس تشریف لےگئے ۔اور سلمان کو خرید کر آزاد کردیا ۔اور ارشاد فرمایا کہ تم "سلمان الخیر "ہو۔

حضرت سلمان کے ابتدا ئی حالات کو کئی طریقوں اور اختلافات سےبیان کیا گیا ہے تاہم ہمارے لئے سرکار خاتم النبین صادق وامین رسول کی زبان وحی بیان کا یہ ارشاد کافی ہے کہ حضور نے فرمایا ۔

"سلمان مجوسی نہیں تھے بلکہ وہ شرک کا اظہار کرتے تھے اور ایمان کو دل میں پوشیدہ کھے ہوئے تھے "


حضور کی یہ شہادت سلمان کے ابتدائی حالات ایمان کی بحث کو ختم کردینے کے لئے کافی ہے ۔

روایات امامیہ سےیہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حضرت سلمان فارسی کو حضرت عیسی علیہ السلام کے "وصی" ہونے کا روحانی اعزاز حاصل تھا ۔شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت سلمان نے اپنے گھر کی چھت میں ایک تحریر لٹکی ہوئی دیکھی اپنی والدہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم بھی جب گھر واپس آئے تو اسے ایسے ہی لٹکا پایا ہے ۔تم اس کو مت چھونا ورنہ تمھارے والد تمھیں سزادیں گے ۔حضرت سلمان اس وقت خاموش ہورہے مگر رات کو جب تمام گھر والے سوگئے تو آپ نے اٹھ کر اس کامطالعہ فرمالیا لکھاتھا کہ ۔

"بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔

یہ اللہ کاعہد ہے ۔آدم سے کہ وہ ان کے صلب سے ایک نبی خلق کرے گا جس کا نام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوگا وہ اخلاقی بلندیوں کو حاصل کرنے کا حکم دےگا ۔ اور اصنام کی پر ستش سے منع کرے گا ۔ اے روزبہ ! تم عیسی ابن مریم کے وصی ہو اس لئے ایمان لاؤ اور مجوسیت سے دور رہو ۔اور اس سے بے زاری کا اعلان کرو۔"

اما م جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ عیسی او محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان پانچسو سال کا عرصہ ہے جس میں ڈھائی سو سال ایسے ہیں جن میں نہ تو کوئی نبی تھا اور نہ ظاہری عالم ۔راوی نے عرض کیا پھر لوگ کس دین پر تھے ؟ فرمایا وہ دین عیسوی پر تھے ۔ پوچھا وہ لوگ کیا تھے ؟ فرمایا وہ مومن تھے پھر ارشاد کیا کہ زمین اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک اس میں عالم موجود نہ ہو ۔ شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ جو لوگ حجت خدا کی تلاش میں جگہ بجگہ منتقل ہوتے رہے ان میں سلمان بھی ہیں ۔وہ ایک عالم سے دوسرے عالم اور ایک فقیہ سے دوسرے فقیہ تک پہنچے


رہے اور اسرار واخبار میں تدبر کرتے رہے اور حضور کے ظہور کے منتظر رہے ۔ پھر لکھا ہے کہ جناب سلمان حضرت عیسی کے وصی کے وصی تھے اسی طرح ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ سلمان حضرت عیسی کے آخری چند اوصیاء میں سے تھے ۔ اس کے ثبوت میں ملا حسین نوری طبرسی نے ایک دلیل پیش کی ہے جو قابل غور ہے ، سلمان کی وفات کے بعد سید الاوصیاء امیر المومنین علیہ السلام نے انھیں غسل دیا حالانکہ بظاہر سلمان مدائن میں تھے اور جناب امیر مدینہ میں تھے کرامت کے ذریعہ اتنی دور تشریف لے جانے کی غالبا وجہ یہی تھی کہ وصی کو نبی یا وصی غسل دے سکتا ہے ۔پھر لوح کا مختلف وسائل کے ذریعے آنحضرت تک پہنچا نا بھی اس بات کا امکانی ثبوت ہے ۔

بہر حال قبل از اسلام کے حالات سے سلمان کو ایک مسلم دینی حیثیت ضرور حاصل تھی اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے ان کو ایک طرف شدائد ومصائب کا مقابلہ کرنا پڑا تو دوسری طرف سنگین دشوار یوں سے دوچار ہوئے ۔یہ تمام آلام اور ناگواریاں انتہائی صبر وتحمل سے برداشت کرنا حضرت سلمان کے جذبہ حب دین ومعرفت الہی کے ذوق اور شوق زیارت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاآئنہ دار ہے ۔حقیقی دین عیسوی سے وابستہ علماء کی صحبت او رفیض ربّانی نے یوں تو حضرت سلمان کو سونا بنا دیا تھا مگر جب آپ کو کائنات کے سب سے بڑے ہادی رحمۃ العالمین کا سایہ رحمت وشفقت نصیب ہوا تو آپ پارس ہوگئے ۔سرور کائنات کی صحبت کا رنگ ایسا پکڑا کہ صحابی سے "منّا اهلبیت " قرار پائے ۔آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر قول وعمل کو اپنی زندگی کا جزو لا ینفک بنائے رکھا ۔سلمان کا منشور زندگی صرف سنت رسول کی پیروی ۔آل رسول (ع) کی محبت واتباع اور کتاب الہی کی مطابقت تھی ۔ اسی وجہ سے


جو فضائل ان کو نصیب ہوئے کسی دوسرے صحابی کو حاصل نہ ہوسکے ۔حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں سلمان کے بارے میں کیا کہوں وہ ہماری طینت سے خلق ہوئے ہیں جس کی روح ہماری روح سے ہم آہنگ ہے ۔خداوند تعالی نے سلمان کو علوم اول وآخر اور ظاہر وباطن سے سرفراز کیا ہے ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سلمان مجلس رسول مقبولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں حاضر تھے کہ اچانک ایک عربی آیا ۔ اس نے حضرت سلمان کا ہاتھے پکڑا اور انھیں اٹھا کر ان کی جگہ پر بیٹھ گیا آنحضرت یہ منظر دیکھکر اتنے آزردہ خاطر ہوئے کہ چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا اور پیشانی اقدس پر قطرات عرق نمودار ہوئے اور اس حالت میں ارشاد فرمایا کہ" تم اس شخص کو مجھ سے دور کررہے ہو جسے خدا دوست رکھتا ہے تم اس شخص کو مجھ سے دور کررہے ہو جسے میں دوست رکھتا ہوں تو اس شخص کو مجھ سے دور کر رہے ہو جس کی منزلت یہ کہ جب بھی جبرئیل مجھ پر نازل ہوتا ہے تو خدا کا سلام اس کے لئے لاتا ہے ۔یقینا سلمان مجھ سے ہے ۔خبردار! تم سلمان کے بارے میں غلط خیال نہ قائم کرو ۔خدا نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سلمان کو لوگوں کی اموات اور بلاوؤں اور ان کے نسب ناموں کا علم دے دوں ۔اور انھیں ان چیزوں سے آگاہ کردوں جو حق وباطل کو جدا کرنے والی ہیں "۔

وہ عرب (ممکن ہے کہ وہ صحابی حضرت عمر ہو) صحابی جس نے حضرت سلمان کو اپنے زعم میں سمجھ کر اٹھایا تھا ۔ارشاد ات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سنکر گھبراگیا اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )میں یہ گمان بھی نہ کرسکتا تھا کہ سلمان ان مراتب جلیلہ پر فائز ہے ۔


کیا وہ مجوسی نہیں جو بعد میں مسلمان ہوا ۔ حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " میں تو خدا کی نظر میں سلمان کے درجے کوبیان کررہا ہوں اور تم خیال کررہے ہوکہ وہ مجوسی تھا ۔وہ (ہرگز ) مجوسی نہ تھا ۔ صرف اس کا اظہار کرتا تھا (تقیہ میں تھا)اور ایمان اس کے دل میں پوشیدہ تھا "

علمی مقام:-

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک دن حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا میں نے ایک روز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سلمان کے بارے میں سوال کیا حضور نے فرمایا ۔

"سلمان دریائے علم میں کوئی اس کی تھاہ تک نہیں پہنچ سکتا اس کو اول وآخر کے علم سے مخصوص کیا گیا ہے خدا اسے دشمن رکھے جو سلمان کو دشمن رکھتا ہے اور خدا اس کو دوست رکھے جو سلمان کو دوست رکھتا ہے "

اما م محمد باقر علیہ السلام نے فضیل بن یسار سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ سلمان اوّل وآخر علم کو جانتے تھے اس سے کیا مطلب ہے ؟۔فضیل نے جواب دیا یعنی وہ علم بنی اسرائیل اور علم رسالت مآب سے آگاہ ہوگئۓ تھے ۔ امام معصوم نے فرمایا نہیں یہ مطلب نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ علم پیغمبر اور امیر المومنین اور آنحضرت اور امیر المومینین کے عجیب وغریب امور سے آگاہ تھے ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام س ے مروی ہے سلمان نے علم اوّل اور علم آخر معلوم کیا اور وہ دریا علم تھے کہ جن کا علم ختم ہونے والا نہ تھا اور وہ ہم اہل بیت سے ہیں ۔ان کا علم اس درجہ پر پہنچا ہوا تھا کہ ایک روز ان کا گزر ایک شخص کی طرف ہوا جو ایک مجمع میں کھڑا تھا ۔سلمان نے اس شخص سے کہا اے بندہ خدا !پروردگار


عالم سے توبہ کر اس فعل سے جو کل رات تو نے اپنے مکان میں کیا ہے یہ کہکر سلمان چلے گئے ۔لوگوں نے اس شخص کو ابھارنا چاہا کہ سلمان نے تم پر ایک بدی کی تہمت باندھی ہے اور تونے بھی اس کی تردید نہ کی اس نے جواب دیا کہ سلمان نے مجھے اس امر سے آگاہ کیا ہے جس کو میرے اور خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔(علمائے کے نزدیک یہ شخص اول خلیفہ اہلسنت حضرت ابو صدیق تھے )۔

روایت ہے کہ جب سلمان ایک اونٹ کو دیکھتے (جس کو لوگ عسکر کہتے تھے اور حضرت عائشہ جمل کے دن اس پر سوار ہوکر تازیانہ مارتی تھیں )تو اس اونٹ سے اظہار نفرت کرتے تھے لوگوں نے "سلمان " سے کہا کہ اس جانور سے آپ کو کیا پرخاش ہے ۔آپ نے جواب دیا یہ جانور نہیں بلکہ عسکر پسر کنعان جنی ہے ۔ جس نے یہ صورت اختیار کی ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ۔پھر اس اورنٹ کے مالک اعرابی س کہا کہ تیرا یہ اونٹ یہاں بے قدر ہے ۔اس جو "حواب" کی سرحد پر لے جا ۔اگر وہاں لے جائے گا تو جو قیمت چاہے گا مل جائے گی ۔امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ لشکر عائشہ نے اس اونٹ کو سات سو درہم میں خرید کیا ۔جبکہ وہ لوگ حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کے لئے جارہے تھے ۔یہ واقعہ بھی حضرت سلمان کے علمی کی تائید کرتا ہے کہ جنگ جمل سے برسوں قبل اس کی اطلاع کردی ۔

امیر المومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ سلمان فارسی حکیم لقمان کے مانند ہیں ۔

ابن بابویہ نے بسند معتبر امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک روز جناب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں کون ہے جو تمام سال روزہ رکھتا ہے ۔سلمان


نے کہا میں ہوں ۔حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھرمایا تم میں کون ہے جو ہمیشہ شب بیدار رہے ؟۔ سلمان نے عرض کی میں ہوں ۔پھر حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا تم میں کون ہے جوہر روز ایک قرآن ختم کرتا ہے ۔سلمان نے کہا میں ہوں ۔یہ سنکر حضرت عمر بن خطاب کو غصہ آیا اور بولے یہ شخص فارس کا رہنے والا یہ چاہتا ہے کہ ہم قریشیوں پر فخر کرے ۔ یہ جھوٹ بولتاہے اکثر دنوں کو روزہ سے نہیں تھا ۔اکثر راتوں کو سویا کرتا ہے ۔اور اکثر دن اس نے تلاوت نہیں کی ۔ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا وہ لقمان حکیم کے مانند ومثل ہے ۔تم اس سے پوچھو وہ جواب دیں گے ۔ حضرت عمر نے پوچھا تو حضرت سلمان نے جواب دیک کہ تمام سال روزہ کے بارے میں یہ ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہوں ۔اور خدا فرماتا ہے کہ جو شخص ایک نیکی کرتا ہے تو اس کو دس گنا ثواب دیتا ہوں ۔اس لئے یہ تمام سال کے روزوں کے برابر ہوا ۔باوجود اس کے ماہ شعبان میں بھی روزے رکھتا ہوں ۔اور ماہ مبارک رمضان سے ملا دیتا ہوں ۔اور ہر رات شب بیداری کے یہ معنی ہیں کہ ہر رات با وضو سوتا ہوں ۔اور میں نے حضور سے سنا ہے کہ جو شخص باوضو سوتا ہے ایسا ہے کہ تمام رات عبادت میں بسر کی اور ہر روز ختم قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ ہرروز میں تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ لیتا ہوں اور میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امیر المومنین (ع) سے فرمایا کہ اے علی تمھاری مثال میری امت میں "قل ھو اللہ احد " کی مثال ہے جس نے سورہ قل ھو اللہ ایک مرتبہ پڑھا ایسا ہے کہ اس نے ثلث (ایک تہائی )قرآن کی تلاوت کی جس نے دومر تبہ پڑھا تو اس نے دوتہائی کی تلاوت کی اور جس نے تین مرتبہ پڑھا تو ایسا ہے کہ اس نے قرآن ختم کرلیا ہے اور اے علی (ع) جو شخص تم کو زبان سے دوست رکھتا ہے اس کو


ثلث(ایک تہائی)ایمان حاصل ہوتا ہے ۔اورجو شخص زبان اور دل سے تمھیں دوست رکھتا ہے اس کو دو ثلث ایمان مل گیا ۔اور جو شخص زبان ودل سے تم کو دوست رکھتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے تمھاری مدد کرتا ہے تو تمام ایمان اس کو حاصل ہوگیا ۔اے علی اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ۔اگر تم اہل زمین بھی اسی طرح دوست رکھتے جس طرح اہل اسمان دوست رکھتے ہیں تو خدا کسی قسم جہنم میں عذاب نہ کرتا ۔یہ سنکر حضرت عمر خاموش ہوگئے جیسے ان کے منہ میں خاک بھر گئی ہو۔

حضرت یعقوب کلینی نے امام جعفر صادق سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سلمان اور ابوذر کے درمیان صیغہ اخوت پڑھا تھا اور ابوذر پر یہ شرط عائد کی تھی وہ کبھی سلمان کی مخالفت نہ کریں گے اس لئے کہ سلمان کو ان علوم میں دسترس حاصل ہے جن کا ابوذر کو علم نہیں ۔

روایت ہے کہا ایک روز حضرت ابوذر اپنے بھائی حضرت سلمان کےگھر آئے ۔سلمان کا پیالہ شوربہ اور چربی سے بھر ہوا تھا دوران گفتگو یہ پیالہ الٹا ہوگیا مگر اس میں سے کچھ نہ گرا ۔سلمان نے اسے سیدھا کیا اور پھر مصروف گفتگو ہوئے ۔ابوذر کو یہ دیکھکر حیرت ہوئی اچانک پیالہ پھر اوندھا ہوا ۔لیکن پھر شوربا وغیرہ نہ گرا۔ اس سے ابوذر کا تعجب دہشت میں تبدیل ہوگیا ۔وہان سے اٹھے اور غور کرنے لگے کہ اچانک وہاں امیر المومنین علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ جناب امیر (علیہ السلام ) نے ابوذر سے پوچھا کہ تم سلمان کے ہاں سے واپس کیوں آگئے اور گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟ ابوذر نے ماجرا بیان کیا حضرت امیر (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا "اے ابوذر ! اگر سلمان تم کو وہ امور


بتادیں جو وہ جانتے ہیں تو یقینا تم کہوگے کہ سلمان کےقاتل پر خدا رحمت نہ کرے ۔اے ابوذر بے شک سلمان زمین میں خدا کی درگاہ ہیں جو ان کو پہچانے وہ مومن ہے ۔جو ان سے انکار کرے وہ کافر ہے بے شک سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں ۔

شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جناب امیر حضرت سلمان کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا کہ اے سلمان اپنے مصاحب کے ساتھ مدارات کرو اور ان کے سامنے وہ امور ظاہر نہ کرو جس کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے "

حضرت امام باقر سے روایت ہے کہ علی علیہ السلام محدث تھے اور سلمان محدث یعنی ملائکہ دونوں حضرات سے باتیں کرتے تھے ۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ سلمان کا محدث ہونا یہ کہ ان کے امام ان سے حدیث بیان کرتے اور اپنے اسرار ان کو تعلیم کرتے تھے نہ یہ کہ براہ راست خدا کی جانب سے ان کو کلام پہنچتا تھا ۔ کیوں کہ حجت خدا کے علاوہ کسی دوسرے کو خدا کی جانب سے کوئی بات نہیں پہنچتی ۔علامہ مجلسی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں کہ یہاں جس امر سے نفی کی گئی ہے ممکن ہے وہ خداکا بے واسطہ ملک کلام کرنا ہو اور فرشتے جناب سلمان سے گفتگو کرتے تھے ۔

چنانچہ ایک مقام پر حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت سلمان کے محدث ہونے کا مطلب یہ کہ ایک فرشتہ ان کے کان میں باتیں کرتا تھا دوسری جگہ ہے کہ ایک بڑا فرشتہ ان سے باتیں کرتا تھا ۔ ایک شخص نے تعجب سے دریافت کیا کہ جب سلمان ایسے تھے تو پھر امیر المومنین علیہ السلام کیسے رہے ہونگے ۔حضرت نے جواب دیا اپنے کام سے سروکار رکھو اور ایسی باتوں سے غرض مت رکھو (یعنی کرید نہ کرو)ایک موقعہ


پر فرمایا کہ ایک فرشتہ ان کے دل میں ایسا اور ویسا نقش کرتا تھا ۔ایک حدیث میں ہے ک سلمان متمو سمین میں سے تھے کہ لوگوں کے احوال فراست سے معلوم کرلیا کرتے تھے ۔ایک حدیث معتبر میں ہے کہ امام صادق نے ارشاد فرمایا کہ سلمان اسم اعظم جانتے تھے ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علی علیہ السلام کے سامنے تقیہ کا ذکر آیا ۔جناب امیر نےفرمایا اگر ابوذر سلمان کے دل میں جوکچھ جان لیتے تو یقینا ان کو قتل کردیتے ۔حالانکہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا ۔پھر دیگر تمام لوگوں کے بارے میں کیا گمان کرتے ہو۔

یہ حدیث بھی جناب سلمان کے بلند مرتبہ عملی کی تائید میں ہے کہ جناب ابوذر پر جناب سلمان کی علمی فوقیت ثابت کرتی ہے کہ حضرت ابوذر ان علوم واسرار الہی کے متحمل نہیں ہوسکتے جو کہ سلمان پر منکشف تھے ۔

شیخ طوسی نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت سلمان کے اصحاب میں سے ایک صاحب بیمار ہوئے چند روز تک اس سے ملا قات نہ ہوئی تو اس کا حال دریافت کیا کہ وہ کہاں ہے ۔لوگوں نے بتایاوہ بیمار ہے ۔سلمان نے فرمایا چلو اس کی عیادت کریں ۔غرض لوگ ان کے ہمراہ چلے اور اس شخص کے گھر پر پہنچے ۔اس وقت وہ عالم جان کنی میں تھا ۔جناب سلمان رحمۃ اللہ علیہ نے ملک الموت سے خطاب کیا کہ خدا کے دوست کے ساتھ نرمی اور مہربانی کرو ملک الموت نے جواب دیا جسے تمام حاضرین نے سنا کہ اے ابو عبداللہ


میں تمام مومنین کے ساتھ نرمی کرتا ہوں اور اگر کسی کے سامنے اس طرح آؤں گا کہ وہ مجھے دیکھے تو بے شک وہ تم ہوگے ۔

ایک روز سلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں داخل ہوئے ۔صحابہ نے ان کی تعظیم فرمائی اور ان کو اپنے اوپر مقدم کرکے صدر مجلس میں ان کے حق کو بلند کیا او ران کی پیروی وتعظیم کی ۔برائے اختصاص جو ان کو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آل سے تھا ۔ جگہ دی پھر حضرت عمر آئے اور دیکھا کہ وہ صدر مجلس میں بٹھائے گئے ہیں ۔یہ دیکھ کر وہ بولے یہ عجمی کون ہے ؟ جو عربوں کے درمیان صدر مجلس میں بیٹھاہے یہ سنکر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشریف لے گۓ ۔اور خطبہ ارشاد فرمایا کہ حضرت آدم کے زمانہ سے اس وقت تک کہ تما آدمی کنگھی کے دندانوں کف مثل برابر ہیں کوئی فضلیت نہیں ہے عربی کو عجمی پر ،نہ کسی سرخ وسفید کو کسی سیاہ پر مگر تقوی او رپرہیزگاری کے سبب سے ۔

سلمان ایک دریا ہے جو ختم نہیں ہوتا اور ایک خزانہ ہے جو تما م نہیں ہوتا ۔سلمان ہم اہلبیت سے ہیں سلمان حکمت عطاکرتے ہیں اور حق کی دلیلیں ظاہر کرتے ہیں ۔

استیعاب میں معرفۃ الاصحاب میں ہے کہ حضور نے فرمایا " اگر دین ثریا میں ہوتا تو سلمان یقینا وہاں تک پہنچ کر اسے حاصل کرلیتا"

جہاد:-

حضرت سلمان فارسی رحمۃ اللہ علیہ کی قبل از اسلام زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی طبیعت روحانیت ۔زہد عبادت اور معرفت کی طرف مائل رہی ۔ اور جنگ وجدل یا سپاہ گری سے ان کا کسی طرح سےبھی کوئی تعلق نہ رہا انھوں نے کسی جنگ یا


لڑائی میں شرکت نہ کی بلکہ گھر س ے نکل کر عبادت خانوں میں گوشہ نشین یا تارک الدنیا بنکر اپنی روح کو مفرح ومنور کرنے کی کوشش میں مصروف رہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے پر چم تلے آتے ہی وہ ایک ممتاز مجاہد اور کہنہ مشق سپاہی ثابت ہوتے ہیں ۔ آپ کی اسلامی زندگی میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلمان نے نہ صرف جہادوں میں شرکت ہی کی بلکہ بعض موقعوں پر ان کو سپہ سالار مقرر کیا گیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو خاص علم وتفضل کی بدولت فنون حرب اور علم معرکہ آرائی سے بخوبی واقفیت اور کامل دسترس حاصل تھی بدر واحد کی لڑائیوں میں سلمان شریک نہ ہوئے ۔مگر سنہ ۵ ھجری میں جنگ خندق میں آپ کو بڑی نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ۔ حضرت سلمان پہلی مرتبہ جنگ میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے ۔اس جنگ میں پورا عرب مسلمانوں کے مقابلہ میں آیا تھا اور شہر مدینہ کا محاصرہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہا تھا ۔ شہر کی نہ ہی کوئی شہرپناہ تھی اور نہ ہی فصیل ۔لشکر کی تعداد بھی قلیل تھی جبکہ دشمن کی فوج کے غول سرپر منڈلا رہے تھے مسلمانوں کی نبض ڈوبی ہوئی تھیں اور کافر متکبر انہ آواز یں کس رہے تھے حضور کو حضرت سلمان نے مشورہ دیا کہ ایرانی طرز کی ایک خندق کھودلی جائے اسے قبول کر لیاگیا اور بمطابق وحی حضور نے خندق کھودنے کا حکم زیر نگرانی حضرت سلمان صادر فرمایا ۔اس خندق کا کھودنا کفار کے ارادوں کو دفن کرنے کی تعبیر ثابت ہوا ۔جب انھوں نے یہ نئی چیز دیکھی تو ششدر رہ گئے ۔عمرہ بن عبدود جیسے بہادر جس کا نام سنکر حضرت عمر جیسے بہادر کا دل ڈوب جاتا تھا ۔خندق کے کنارے ڈھاریں


مارتا اور دیگر پہلوان باتیں بنارہے تھے کہ مسلمانوں نس یہ ایسا حیلہ کیا ہے کہ ہم عرب اس سے قطعی ناواقف ہیں انھوں نے بائیس روز سرتوڑ کوشش کی کہ کسی طرح مدینہ تک پہنچ سیکیں لیکن ایک نہ چلی آخر تنگ آکرطعن وتشیع پر اتر آئے حضور کو گستاخانہ طریقوں سے مبارزہ طلبی کی ۔آخر حضرت علی علیہ السلام نے عمروبن عبدود کو واصل جہنم کیا اور یہ فوج کثیر دم دبا کر طائف کی طرف بھگ گئی ۔جنگ فتح ہوئی ‏غزوہ خندق کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ شریک نہ ہوئے ۔پیران سالی کے باوجود آپ نس ہرلڑائی یمں داد شجاعت دی ۔

جب جنگ احزاب کے موقعہ پر خندق کھودی جارہی تھی تو مسلمان مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کام کر رہے تھے ۔خود سرورکائینات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دست مبارک سے کھدائی کا کام کررہے تھے آپ کا جسم مبارک مٹی سےاٹا ہوا تھا اور آپ کی زبان وحی بیان پر رجز جاری تھا سلمان ضعیف العمری کے باوجود تنومند اور قوی الجثہ تھے ۔ انصارو مہاجرین دونوں ان کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند تھے مہاجر کہتے تھے کہ سلمان ہم میں سے ہے ۔جب اس بات کا چرچا حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہونچا تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سلمان کا ہاتھ تھام کر فرمایا "سلمان منا اھل البیت " سلمان ہم اہلبیت میں سے ہیں ۔ اس موقعہ کے بعد متعدد بار یہ جملہ ارشاد فرمایا ۔

اہل سنۃ کے جلیل القدر امام محی الدین ابن عربی نے اس حدیث سے حضرت سلمان کی عصمت وطہارت پر استلال کیا ہے اور کہتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ایک بندہ خاص ومخلص تھے اس لئے اللہ نے ان کے اہل بیت کی ایسی تطہیر کی جو تطہیر کا حق تھا ۔ اور ان سے رجس


اور ہرعیب کودوررکھا اور رجس عربی زبان میں گندگی کو کہا جاتا ہے پھر آیت تطہیر "انما یرید اللہ لیذھب ۔۔الخ" کے بعد کہا کہ جس شخص کو بھی اہلبیت کی طرف نسبت دی جائے گی ۔اس کا مظہر ہونا ضروری ہے اس کے بعد تحریر کیا کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سلمان کو اہلبیت میں شامل کرنا انکی طہارت ۔خدائی حفاظت اور عصمت کی گواہی دیتا ہے ۔"

علامہ مجلسی نے بصائر الدرجات سے فضل بن عیسی کی ایک روایت حیات القلوب میں نقل کیا ہے کہ فضل کہتے ہیں ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔میرے والد بزرگوار نے عرض کی کیا ہے صحیح ہے جناب رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہر کہ سلمان ہم اہلبیت میں سے ہیں ۔ امام نے فرمایا ہاں ۔میرے والد نے پوچھا کیا وہ عبد المطلب کی اولاد میں سے ہیں ؟ حضرت نے جواب دیا وہ اہلبیت میں سے ہیں ۔میرے والد نے عرض کیا کہ کیا وہ ابوطالب (علیہ السلام )کی اولاد میں ہیں ؟ حضرت نے فرمایا کہ وہ ہم اہلبیت میں سے ہیں ۔میرے پدر بزرگوار نے کہا کہ میں سرکار کا مطلب نہیں سمجھ سکا ۔ حضرت صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ایسا نہیں ہے ۔جیسا کہ تم نے سمجھا ہے ۔بے شک خدا نے ہماری طینت علیین سے خلق فرمائی اور ہمارے شیعوں کی طینت اس سے ایک درجہ پست خلق فرمائی لہذا وہ ہم میں سے ہیں اور ہمارے دشمنوں کی طینت سجین سے خلق فرمائی اور ان کے دوستوں کی طینت ان سے ایک درجہ پست خلق کی لہذا وہ لوگ ان سے ہیں اور سلمان حضرت لقمان سے بہتر ہیں ۔

اسلامی نقطہ نظر سے جب قتال ناگزیر ہوتو اہل کتاب سے لڑائی کرنے سے قبل دعوت اسلام دی جاتی ہے اگر وہ مسلمان ہونا


پسند نہ کریں تو ان سے جزیہ طلب کیا جاتا ہے اور اگر وہ انکار کرکے آمادہ جنگ ہوجائیں تو تلوار ہاتھ میں لینا پڑتا ہے ۔چنانچہ چنگ خیبر کے موقعہ پر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو یہی ہدایت کی تھی کہ ہم پہلے انھیں خدا کی توحید اور اور میری رسالت کی دعوت دینا بصورت انکار مطالبہ جزیہ کرنا اور اگر وہ پھر بھی لڑائی پر مصر رہیں تو ان سے جنگ کرنا ۔چنانچہ حضرت سلمان ان جنگی اخلاق سے بخوبی واقف تھے ۔ لہذا ہمیشہ اس پرعامل رہے ۔ چنانچہ ایک موقعہ پر وہ ایک لشکر کے امیر مقرر کئے گئے اور ان کو فارس کے ایک قلعہ کو فتح کرنے کی مہم پر مامور کیا گیا ۔جب آپ اپنی سپاہ کے ساتھ قلعہ کے نزدیک گئے تو تامل فرمایا ۔لوگوں نے پوچھا کیا آپ اس قلعہ پر حملہ نہیں کریں گے فرمایا نہیں جس طرح رسول خدا پہلے دعوت اسلام دیتے تھے اسی طرح میں بھی ان کو دعوت دوں گا پھر سلمان ان کے پاس تشریف لےگئے اور کہا کہ میں بھی تمھاری طرح فارس کا باشندہ ہوں تم دیکھ سکتے ہو کہ عرب میری اطاعت کر رہے ہیں اگر تم دل سے اسلام لےآؤ گے تو میری طرح تمھیں بھی عزت نصیب ہوگی اور اگر تم ہمارا دین قبول نہ کروگے تو میری طرح تمھیں بھی عزت نصیب ہوگی اور اگر تم ہمارا دین قبول نہ کروگے تو ہم تم پر کوئی زبردستی نہیں کریں گے صرف تم سے جزطلب کریں گے ۔اور اگر پھر بھی تم بر سر جنگ نظر آؤگے تو پھر میرے لئۓ جنگ ضروری ہوگی ۔اہل قلعہ نے جواب دیا کہ نہ ہی ہم تمھارا دین قبو ل کریں گے اور نہ ہی کوئی جزیہ دینا منظور کریں گے بلکہ تمھارا مقابلہ کریں گے ۔ اس پر لشکر سلمان نے حملہ کرنے کا اذن طلب کیا مگر آپ نے جواب دیا نہیں ابھی رک جاؤ ۔ان کو غور کرنے کا موقعہ دو ۔ آپ نے تین روز انتظار کیا اور پھرچوتھے دن حملے کا حکم دیا ۔اور قلعہ فتح کیا ۔


اس واقعہ سے حضرت سلمان کی عظمت کا ر زار واضح ہوتی ہے ۔کسی بھی شعبہ حیات میں دیکھا جائے حضرت سلمان کی حیات پاک کا مقصد ومنشور صرف یہی نظر آتا ہے کہ سنت رسول کی حفاظت رہے آپ شب وروز رسول وآل رسول (علیھم السلام) کی صحبت علمی وعملی سے مستفید رہنے پر مستعد رہے ،علم کے حصول کے ساتھ ساتھ عمل میں کمال حاصل کیا یہی تو وہ متوازن حقیقت تھی جس کے باعث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بے انتہا محبت اور نظر کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ فرمایا اور آپ کو اپنے اہلبیت میں شامل کرلیا ۔

حضرت سلمان کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ انھیں حضرت خاتون جنت سلام اللہ علیہا کے دروازے کی دربانی کاشرف بھی حاصل ہے آپ کو "حاجب علی "ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔

تاریخی واقعات سے اجمالا اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلمان نے حیات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غزوات میں بھر پور حصہ لیا اور بہادری کے کارنامے انجام دئیے لیکن جنگ خندق کے علاوہ اور کسی جنگ میں ان کے کارناموں کی تفصیل نہیں ملتی ۔اسی طرح بعد وفات رسول کی جنگوں میں ان کو سپہ سالار کی حیثیت سے منتخت کیاگیا ۔مثلا جنگ قادسیہ ، مدائن ،جلولا،اور حملات فارس میں ان کی کارکردگیاں ان کو ایک ماہر جنگجو افسر ثابت کرتی ہیں ۔

سادگی وقناعت :-

باوجودیکہ وہ اعلی مناصب پر فائز رہے مگر سادہ زندگی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔اپنے اسی سادہ رہن سہن پر قائم رہے ۔امیر لشکر ہونے کے باوجود آپ کی ظاہری وضع قطع ایک معمولی سپاہی سے بھی کمتر نظر آتی تھی ۔ ابن عساکر لکھتے ہیں کہ حضرت


سلمان فاتح کی حیثیت سے مدائن کے پل سے گزرے ان کے ساتھ ایک شخص بنی کندہ کا تھا ۔آپ ایک بے زین گدھے پر سوار تھے چونکہ سردار فوج تھے اس لئے لوگوں نے کہا کہ پر چم ہمیں دے دیجئے ۔جواب دیا میں پر چم اٹھا نے کا زیادہ حقدار ہوں ۔اسی طرح آگے بڑگئے جب مدائن سے کوفہ جانے لگے تو لوگوں نے دیکھا کہ بلازین خچر پر سوار ہیں اور جھنڈا ہاتھ میں تھامے ایک فرد بنی کندہ کے ساتھ چلے جارہے ہیں ۔حلیۃ الاولیاء میں حافظ ابو نعیم نے تحریر کیا ہے کہ ایک لڑائی میں حضرت سلمان سردار فوج تھے جب فوج چلی تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک گدھے پر سوار ہیں اور جسم پر ایک لباس ہے اور ان کی ٹانگیں تھر تھرارہی ہیں ۔

ایسے سادگی کے واقعات کی موجودگی کے باوجود وہ انتظامی امور کی نگہداشت میں کمال مہارت رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بد انتظامی کی کوئی کیفیت ان کی قیادت میں نظر سے نہیں گزرتی ہے ۔ شہر مدائن ایک زمانے میں کسروی سلطنت کادار الحکومت تھا اسے سعد بن ابی وقاص نے فتح کیا ۔سلمان بھی ایک فوجی دستے کےقائد کی کی حیثیت سے اس لشکر میں تھے جب مسلمانوں نےمدائن کو فتح کیا تو سعد نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ شہر میں داخل ہونے کے لئے نہر دجلہ کو عبور کریں اور کہا اگر مسلمان اپنی صفات پر باقی ہیں تو خدا ضرور عبور کرنے میں مدد کریگا حضرت سلمان کو جوش آگیا ۔اور فرمایا اسلام ابھی تازہ ہے اور دریا بھی مسلمانوں کی اسی طرح اطاعت کرگا جس طرح اہل زمین نے کی ہے لیکن خدا کی قسم لوگ دین اسلام سے اسی طرح گروہ گروہ خارج ہوں گے جس طرح فوج درفوج داخل ہوئے ہیں ۔یہ سمجھ لو


کہ آج کے دن ہماری فوج کا کوئی آدمی پانی میں ہلاک نہ ہوگا ۔سلمان کی اطلاع کے مطابق پوری فوج سواریوں پر دجلہ عبور کرگئی اور کوئی بھی غرق نہ ہوا ۔

ایک مرتبہ حضرت سلمان نے اپنے بھائی حضرت ابوذر کی ضیافت کی جب وہ آئے تو دوروٹیاں جو کی ان کے سامنے لاکر رکھدیں ۔ابوذر نے ان روٹیوں کو ہاتھ میں لے کر بغور دیکھنا شروع کیا ۔سلمان نے پو چھا کیا دیکھ رہے ہو ۔انھوں نے روٹیوں کو ناپسند کرنے کا اظہار کیا ۔سلمان کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات نمایاں ہوئے ۔فرمایا تمھیں ایسی بات کہنے کی جراءت کیسے ہوئی ۔خدا کی قسم اس روٹی کے تیار ہونے میں اس پانی سے کام لیا گیا جو زیر عرش ملائکہ کی عملداری میں رہتا ہے ۔اس روٹی کے تیار کرنے میں زمین کی لکڑی ،لوہا، آگ ،جانور ۔اور نمک کا بھی حصہ ہے اور ان چیزوں کا بھی جنھیں میں شمار نہیں کرسکتا ۔اور اے ابوذر ! جن باتوں کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ان سے وہ باتیں زیادہ ہیں جن کا میں ذکر نہیں کرسکا ہوں ۔ پھر کیسے اس ایک نعمت کا شکر ادا ہو سکتا ہے ۔ابوذر ان باتوں سے متاثر ہوئے اور ندامت محسوس کی اور خدا سے توبہ ومعذرت طلب فرمائی ۔

اسی طرح ایک دن ابوذر سلمان کے گھر آئے انھوں نے چند روٹی کے سوکھے ٹکڑے سامنے رکھے ۔ابوذر نے کہا کتنی اچھی روٹی ہے اگر نمک ساتھ ہو تو خوب رہے ۔ سلمان باہر گئے اور لوٹا رہن کرکے نمک لاکر رکھ دیا ۔ابوذر نمک چھڑک کر تناول فرمانے لگے اور کہا حمد ہے اس اللہ کی جس نے صفت قناعت بخشی ۔سلمان نے فرمایا اگر تم میں قناعت کا جوہر ہوتا تو مجھے لوٹا گروی نہ کرنا پڑتا ۔


حضرت سلمان باوجود یکہ گور نر تک کے منصب تک فائز ہوئے مگر انھوں نے کوئی اپنا باقاعدہ گھر نہ بنایا ۔ ابن سعد نے انس نے روایت کی ہے کہ سلمان فارسی جہاں جہاں گھومتا تھا اس سے سایہ حاصل کرتے تھے ان کا کوئی گھر نہ تھا ۔ایک شخص نے پوچھا آپ اپنا گھر کیوں نہیں بنا تے جس سے گرمیوں میں سایہ اور سردیوں میں سکون حاصل ہو۔ فرمایا اچھا ۔جب اس شخص نے پشت پھیری تو اسے پکارا اور پوچھا تم اسے کیونکر بناؤگے ۔اس نے کہا ایسے بناؤنگا کہ اگر آپ کھڑے ہوں تو سرمیں لگے اور لیٹیں تو پاؤں میں لگے ۔سلمان نے کہا ہاں ۔

نعمان بن حمید سے مروی ہے کہ میں اپنے مامں کے ہمراہ مدائن گیا ۔ وہ بوریا بن رہے تھے ۔میں نے انھیں کہتے سنا کہ ایک درہم کھجور کے پتے خرید تا ہوں اسے بنتا ہوں اور تین درہم میں فروخت کرتا ہوں ۔ایک درہم اسی میں لگا دیتا ہوں اور ایک درہم عیال پر خرچ کرتا ہوں ۔ایک درہم خیرات کردیتا ہوں اگر عمر بن خطاب پابندی نہ لگاتا تو اس سے باز نہ آتا ۔

ابی قلابہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سلمان کے پاس آیا اس وقت وہ آٹا گوند رہے تھے ۔عرض کی خادم کہاں ہے ۔فرمایا ہم نے اسے ایک کام پر روانہ کیا ہے اور پھر ہم نے نا پسند ایا کہ اس سے دوکام لیں پھر اس شخص سے کسی کا سلام پہنچایا ۔پوچھا تم کب سےآئے ہو ۔کہا تین دن سے فرمایا دیکھو اگر تم (آج) سلام نہ پہنچاتے تو یہ امانت میں خیانت ہوتی ۔

حضرت سلمان کی روزمرہ کی گفتگو میں آیات قرآنی کا کثرت سے


حوالہ ملتا ہے اور عموما آپ حلقہ احباب میں تفسیر قرآن بیان کرتے تھے ۔اورجب لوگوں کی عدم توجہ کی شکایت کیا کرتے تھے علماء نے ان کو ممتاز فقیہ تسلیم کیا ہے ۔ابن عساکر نے روایت نقل کی ہے کہ حضور سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ ہم آپ کے بعد کس سے علم حاصل کریں ۔آنحضرت نے فرمایا "علی (علیہ السلام )اور سلمان(رضی اللہ عنہ) سے " ۔اسی طرح علم حدیث میں ان کو بخاری اور مسلم نے مدوّن شمار کیا ہے ۔

اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں کہ میں عہد علوی میں سلمان کے پاس مدائن گیا ۔اکثر وبیشتر ان سے ملاقات رہتی تھی جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو مجھ سے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے مجھے بتایا تھا کہ جب میری موت کا وقت قریب ہوگا تو مردہ مجھ سے باتیں کرےگا ۔میں نے کہا میں آپ کاحکم ماننے کے لئے تیار ہوں ۔فرمایا ایک تختہ منگوا کرے مجھے لوگوں کے کندھوں پر لے چلو جب قبرستان پہنچے تو زمین پر بیٹھ گئے اور بلند آواز سے کہا ۔سلام ہو تم پر اے لوگو جو فنا کے راستے پر جاکر خاک میں پوشیدہ ہوئے ہو سلام ہو تم پر اے لوگو جو اپنے اعمال کے نتیجے تک پہنچ گئے ہو۔ اور صور اسرافیل کا انتظار کر رہے ہو اسی طرح چند مرتبہ سلام کیا ۔فرمایا کہ میں سلمان فارسی آزاد کردہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں ۔ انھوں نے مجھے خبر دی تھی کہ جب میری موت کا وقت قریب آئےگا تو تم میں سے کوئی شخص مجھ سے بات کرے گا۔

اصبغ بیان کرتے ہیں کہ اسی وقت ایک آواز بلند ہوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ تم نے اپنے آپ کو دنیا میں مشغول کررکھا ہے ۔اے سلمان تمھاری باتیں سن رہا ہوں جو پوچھنا


چاہتے ہو پوچھ لو۔ اس موقع پر سلمان نے بہت سی باتیں دریافت فرمائیں ۔آخر میں سلمان نے پوچھا کہ سب سے زیادہ مفید عبادت کونسی ہے جواب ملا کہ میں نے تین چیزوں سے زیادہ مفید عبادت نہیں پائی ۔ پہلی سرد راتوں میں نماز پڑھنا ۔دوسرے گرم دنوں مں روزے رکھنا ۔تیسرے اس طرح صدقہ دینا کہ دوسر ہاتھ کو خبر نہ ہو۔یہ سننے کے بعد سلمان نے سرکو آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا اے وہ ذات خداوندی جس کے قبضہ ملکیت میں ہرچیز ہے اور ہر شے اسی کی طرف پلٹ جانے والی ہے ۔اس کے بعد چند کلمات اداکئے ۔اور کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا کہ مجھے قبلہ رخ لٹا دو ۔ انھیں لٹا دیا گیا اور روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔

ذازان کہتے ہیں کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیاتو میں نے پوچھا کہ آپ کو غسل کون دےگا ۔فرمایا وہ شخص جس نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو غسل دیا تھا ۔ میں نے کہا آپ مدائن میں ہیں ۔ اور وہ یہاں سے بہت دور ہے ۔انھوں نے جواب دیا کہ جب میں مرجاؤں گا تو تم ایک آواز سنوگے ۔راوی کا بیان ہے کہ جب آپ کا انتقال ہو تو میں نے ایک آواز سنی مڑ کر دیکھا تو امیر المومنین علی ابن طالب علیہ السلام تھے ۔جناب امیر المومنین ۔آپ نے چادر کو ہٹا کر سلمان کے چہرے پر نظر ڈالی ۔میں نے دیکھا کہ سلمان کے ہونٹوں پر تبسم تھا ۔علی علیہ السلام کی آنکھیں پر نم تھیں ۔جناب امیر علیہ السلام دعا فرما رہے تھے کہ اے سلمان تم پر رحمت ہو ۔ اے سلمان ! جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم


سے ملنا تو سب کچھ بتا دینا ،جو امت نے میرے ساتھ برتاؤ کیا ہے تجہیز وتکفین سے فارغ ہو کر نماز جنازہ پڑھی دو آدمی اور ان کے ساتھ تھے جو نماز پڑھ رہے تھے ۔پوچھا یہ حضرات کو ن ہیں فرمایا ایک حضرت خضر اور دوسرے جعفر طیار (رض) اور کے ساتھ ملائکہ کی صفین تھیں ۔

حضرت سلمان کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے ڈھائی سو سال ساڑھے تین سو سال ۔چارسو سال اور بعض کے نزدیک انھوں نے حضرت عیسی کا زمانہ بھی دیکھا تھا ۔بہر حال اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے ۔آپ کی اولاد تین لڑکے اور تین لڑکیاں بیان ہوئی ہیں ۔ عبداللہ اور محمد دونوں فرزندوں سے نسل سلمانی پھلی پھولی ہے ۔آپ نے قبل از اسلام کوئی شادی نہ کی ۔بعد میں دو شادیاں کیں ایک عربی اور ایک عجمی ۔عربی زوجہ کا انتقال ہوگیا اور عجمی بیوی ان کے بعد تک زندہ رہیں ۔

شیخ طوسی نے بسند معتبر روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت صادق کی خدمت میں عرض کی کہ ہم آپ سے سلمان فارسی کا بہت ذکر سنا کرتے ہیں امام نے فرمایا سلمان فارسی مت کہو بلکہ سلمان محمدی کہو ۔کیا تو جا نتا ہے کہ کس سبب سے ہم ان کو بہت یاد کرتے ہیں ؟ راوی نے کہا نہیں ۔حضرت نے فرمایا تین خصلتوں کے سبب اول یہ کہ انھوں نے اپنی خواہش پر جناب امیر کی خواہش کو ترجیح دی اور اختیار کیا ۔دوسرے یہ کہ فقیروں کو دوست رکھتے تھے اور ان کو مال دراروں اور صاحبان عزت وشرف پر ترجیح دیتے تھے ۔تیسرے یہ کہ علم اور علماء کو دوست رکھتے تھے بے شک


سلمان خدا کے شائستہ بندہ تھے اور ہر باطل سے کترا کر حق کی طرف مائل ہوتے تھے اور مسلمان حقیقی تھے اور کسی طرح کا شرک اختیار نہ کیا تھا ۔

حضرت سلمان اور یہودی جماعت کا امتحان :-

علامہ مجلسی(رح) نے حیات القلوب میں تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام سے ذکر کیا ہے کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا گزر ایک دن یہودیوں کی ایک جماعت کی طرف ہوا ۔ان لوگوں نے آپ سے خواہش کی کہ ان کے پاس تشریف رکھیں ۔ اور جو کچھ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے ان سے بیان کریں ۔ جناب سلمان ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان کے اسلام لانے کے انتہائی لالچ میں کہا کہ میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! کیا ایسا نہیں ہے کہ ایک گروہ کو تم سے بڑی حاجتیں ہوتی ہیں اور تم ان کی حاجتیں پوری نہیں کرتے ہو مگر اس وقت جبکہ وہ اس سے سفارش کراتے ہیں جو خلق میں تم کو زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔ جب وہ ان کو ان کی شان ومنزلت کے سبب تمھارے نزدیک اپنا شفیع قرار دیتے ہیں ۔ تو تم ان کی حاجتیں برلاتے ہو ۔ اسی طرح سمجھ لو کہ میرے نزدیک میری مخلوق میں سب سے زیادہ ذی قدر وذی مرتبہ اور ان میں سب سے افضل وبر تر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے بھائی علی (ع) اور ائمہ (ع)جو ان کے بعد ہونے والے ہیں جو خلق کے وسیلہ اور ذریعہ میری بارگاہ میں ہیں لہذا جس شخص کو کوئی حاجت درپیش ہو جو مخلوق میں سب سے زیادہ نیک پاک اور گناہوں سے معصوم ہیں ۔شفیع ووسیلہ قراردے تاکہ میں اس کی حاجتیں برلاؤں ۔اس شخص سے بہتر طریقہ سے


جس کو کوئی اس کے محبوب ترین شخص کے شفیع قرار دینے سے بر لا تا ہے یہ سنکر ان یہودیوں نے بطور مذاق کہا کہ پھر کیوں خدا سے ان کو وسیلہ قراردیتے کر سوال نہیں کرتے اور ان کے حق سے توسل اختیار کرکے دعا نہیں کرتے تاکہ خدا ان کے طفیل میں آپ کو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ بے نیاز کردے ۔سلمان نے فرمایا کہ میں نے ان کو وسلہ اور ذریعہ اور شفیع قرار دیکر خدا سے اس چیز کا سوال کیا جو دنیا کے تمام ملک سے زیادہ عظیم اور نافع تر ہے ۔ کہ خدا مجھے ان کی عظمت وبزرگی اور مدح وثنا بیان کرنے کے لئے زبان عطا فرمائے ۔اور ایسا دل کرامت فرمائے جو اس کی نعمتوں پر شکر کرنے والا ہو اور عظیم مصیبتوں پر صبر کرنے والا ہو ۔ تو خدا نے میری دعا قبول فرمائی اور جو کچھ میں نے طلب کیا تھا مجھے عطا فرمایا اور وہ تمام دنیا کی بادشاہی اور جو کچھ دنیا میں نعمتیں ہیں ان سے لاکھوں درجہ بہتر وبرتر ہے ۔ تو یہودیوں نے آپ کا مذاق اڑایا۔ اور کہا اے سلمان تم نے مرتبہ عظیم و بلند کا دعوی کیا ہے ۔ اب ہم مجبور ہیں کہ تمھارا امتحان کریں کہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو یا نہیں ۔ لہذا پہلا امتحان تو یہ ہے کہ ہم اپنے تازیانوں سے تم کو مارتے ہیں تم اپنے خدا سے دعا کرو کہ ہمارے ہاتھ تم سے روک دے ۔سلمان نے دعا کی پر وردگار ا مجھ کو ہر بلا پر صبر کرنے والا قرار دے ۔وہ بار بار یہ دعا کرتے تھے ۔ اور وہ ملعون یہودی آپ کو تازیانے لگاتے تھے یہاں تک کہ تھک گئے ۔ اور رنجیدہ ہوئے اور سلمان اس دعا کے علاوہ اور کچھ نہ کہتے تھے ۔ جب وہ تھک کر رکے تو کہنے لگے ہم کو گمان نہ تھا کہ کسی کے بدن میں روح باقی رہتی اس شدید عذاب کے سبب جو ہم نے تم پر وارد کیا ہے ۔تم نے خدا سے


یہ دعا کیوں نہیں کی کہ ہم کو تمھاری ایذا رسانی سے روک دیتا ۔ سلمان نے فرمایا کہ یہ دعا صبر کے خلاف تھی ۔بلکہ میں نے قبول ومنظور کیا اور اس مہلت پر راضی ہوا جو خدا نے تم کو دے رکھی ہے ۔اور میں نے دعا کی خدا سے کہ مجھے اس بلا پر صبر عطا فرمائیے ۔چنانچہ ان یہودیوں نے تھوڑی دیر کے لئے آرام کیا ۔پھر اٹھے اور کہا اس مرتبہ تم کو اتنا ماریں گے کہ کہ تمھاری جان نکل جائے ۔یامحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت سے انکار کرو ۔جب سلمان نے فرمایا ہرگز ایسا نہ کروں گا ۔بے شک خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمایا کہ "وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں ۔اور یقینا تمھاری اذیت رسانی پر میر ا صبر کرنا اس لئے ہے کہ میں اس جماعت میں داخل ہوجاؤں جن کی خلاق عالم نے اس آیہ میں مدح کی ہے اور یہ صبر میرے لئے سہل اور آسان ہے ۔پھر ظالموں نے سلمان کو مارنا شروع کیا ،اور مارتے مارتے تھک گئے تو چھوڑ کر بیٹھے اور بولے کہ اے سلمان ! اگر پیش خدا تمھاری کوئی قدر ہوتی اس ایمان کے سبب سے جو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لائے ہو تو یقینا وہ تمھاری دعا مستجاب کرتا اور ہم کو تم سے باز رکھتا ۔سلمان نے فرمایا تم لوگ کیسے جاہل ہو ۔خدا میری دعا کیسے قبول کرتا ۔کیا میرے لئے اس کے خلاف کرتا جو کچھ میں نے اس سے طلب کیا ہے ۔ میں نے اس سے صبر طلب کیا ہے ۔اس نےمیری دعا قبول فرمائی ۔اور مجھے صبر کرامت فرمایا اگر اس سے طلب کرتا کہ تم کو مجھ سے باز رکھے اور تم کو باز نہ رکھتا تو میری دعا کے خلاف ہوتا ۔جیسا کہ تم گمان کرتے ہو۔پھر تیسری بار وہ ملاعین اٹھے اور تازیانہ کھینچ کر جناب سلمان کو مارنے لگے ۔آپ اس سے زیادہ نہیں کہتے تھے کہ خداوندا مجھے ان بلاؤں پر صبر عطافرما جو مجھ پر


تیرے برگزیدہ اور محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں نازل ہورہی ہیں ۔ تو ان کافروں نے کہا اے سلمان! تم پر وائے ہو۔کیا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمھیں تقیہ کے لئے اجازت نہیں دی ہے کہ اپنے دشمنوں سے کفر کی باتیں کہہ دو ۔ہم تم کو مجبور کررہے ہیں ۔سلمان نے کہا خدا نے مجھے اس امر میں تقیہ کی اجازت دی ہے لیکن واجب نہیں قرار دیا ہے ۔بلکہ جائز کیا ہے کہ میں وہ بات کہہ دوں جس پر تم مجھے مجبور کرتے ہو ۔اور تمھاری ایذا رسانی اور تکلیف دینے پر صبر کروں تویہ اس سے بہتر ہے ۔میں اس کے سوا کچھ پسند نہیں کرتا غرض پھر اشقیاء اٹھے اور ان کو بے شمار تازیانے مارے کہ حضرت کے جسم مبارک سے خون جاری ہوگیا ۔اور مذاق کے طور پر کہتے تھے کہ خدا سے کہتے ہو کہ ہم تمھاری آزار رسانی سے باز رکھے اور وہ بھی نہیں کہتے جو ہم تم سے چاہتے ہیں لہذا ہم پر نفرین کرو کہ خدا ہم کو ہلاک کرے ۔اگر تم اپنے اس دعوی میں سچے ہو کہ خدا وند عالم تمھاری دعا کو رد نہیں کرتا اگر محمد وآل محمد (علیھم السلام) کے توسل سے کرو ۔جناب سلمان نے فرمایا میں کراہت رکھتا ہوں اس سے کہ خدا سے تمھاری ہلاکت کی دعا کروں تو اس کے خلاف ہوگا ۔ یہ سنکر ان کافروں نے کہا کہ اگر اس سے دڑتے ہو تو اس طرح دعا کرو کہ خدا وندا ہلاک کر اس کو جس کے بارے میں تو جانتا ہے کہ وہ بغاوت اور سرکشی پا باقی رہے گا ۔ اگر اس طرح دعا کروگے تو اس بات کا خوف نہ رہے گا جس کا تم کو خیال ہے ۔اسی اثنا ء میں اس مکان کی دیوار شق ہوئی جس میں کہ وہ لوگ تھے اور جناب سلمان نے حضرت رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا آپ فرما رہے تھے اے سلمان ان ظالموں کی ہلاکت کی دعا کرو ۔کیونکہ ان میں کوئی


ایسا نہیں ہے جو ایمان لائے اور نیکی وہدایت حاصل کرے جیسطرح حضرت نوح نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی جبکہ سمجھ لیا تھا کہ ان کی قوم ایمان نہ لائے گی ۔سوائے ان کے جو ایمان لاچکے ہیں ۔ یہ امر پاکر سلمان نے فرمایا ۔اے یہود یو! تم کس طرح ہلاک ہونا چاہتے ہو۔ بتاؤ تو اسی امر کے لئے خدا سے دعا کروں ۔ وہ بد نصیب بو لے کہ یہ دعا کرو کہ خداوند ان میں سے ہر شخص کے تازیانے کوایک سانپ کی شکل میں بدل دے جو اپنا سراٹھا ئے اور اپنے اپنے مالک کی ہڈیاں چبا ڈالے ۔جناب سلمان نے اسی طرح دعا کی تو ہر ایک کا تازیانہ سانپ بن گیا جن میں سے ہر ایک کے دو دو سرتھے ایک سر اپنے مالک کا سر اور دوسرے سے اس کا داہنا ہاتھ پکڑا جسمیں وہ تازیانہ لئے ہوئے تھا ۔اور تمام ہڈیاں چور چور کر ڈالیں اور چبا کر کھالیا اسی وقت جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی مجلس میں جہاں کہ تشریف فرما تھے فرمایا کہ اے مسلمانو !خداوند عالم نے تمھارے ساتھی سلمان کی اس وقت بیس منافقوں اور یہودیوں کے مقابلے میں مدد کی اور ان کے تازیانوں کو سانپ بنادیا ۔جنہوں نے ان کو چورچور کر کے کھالیا لہذا چلو ان سانپوں کو دیکھیں جن کو خدا نے سلمان کی مدد کے لئے تعینات فرمایا ہے ۔غرض جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے اصحاب اٹھے اور اس مکان کی طرف چلے ۔اس وقت اس میں پاس پڑوس والے منافقین و یہودی ان کافروں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنکر جمع ہوگئے تھے جبکہ ان کو سانپ کا ٹ رہے تھے ۔ جب ان لوگوں نے یہ حال دیکھا تو خوف زدہ ہوکر دور ہٹ گئے تھے ۔ جب آنحضرت وہاں تشریف لائے تو وہ سب


سانپ اس گھر سے نکل کرمدینہ کی گلی میں آگئے جو بہت تنگ تھی خداوند عالم نے اس کو گنا کشادہ کردیا ۔حضرت کو دیکھ کر ان سانپوں نے ندا کی " السلام علیک یا سید الاولین و الآخرین " پھر جناب امیر علیہ السلام پر سلام کیا اور کہا "السلام علیک یا علی یا سید الوصیّین" پھر آپ کی ذریت طاہرہ پر سلام کیا اور کہا "السلام علی ذریتک الطیبین الطاہرین جعلو علی الخلائق قوامین" یعنی سلام ہو آپ کی اولاد پر جو پاک ومعصوم ہیں جن کو خدانے امو خلق کے ساتھ قیام کرنے والا قرار دیا ہے ۔یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم ان منافقوں کے تازیانے ہیں ۔خدا نے ہم کو اس مومن سلمان کی دعا سے سانپ بنا دیا ہے ۔جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمام تعریفیں خدا کے لئے سزاوار ہیں کہ جس نے میری امت میں اس کو قرار دیا جو صبر کرنے والا اور بد دعا نہ کرنے والا اور نہ نفرین کرنے والا مثل حضرت نوح کے ہے پھر ان سانپوں نے آواز دی کہ یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کافروں پر ہمارا غضب و غصہ شدید ہوچکا ہے ۔آپ کا اور آپ کے وصی کا حکم خدا کے ملکوں میں جاری ہے ۔ہماری گزارش ہے کہ آپ خداوند عالم سے دعا فرماویں کہ ہم کو جہنم کے ان سانپوں میں سے قرار دے دے جن کو ان ملاعین پر مسلط فرمائے گا ۔ تاکہ ہم ان پر جہنم میں بھی عذاب کرنے والے ہوں جس طرح ان کو دنیا میں ہم نے نیست ونابود کردیا جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمھاری تمنا تھی خدا نے منظور فرمائی ۔لہذا جہنم کے سب سے نیچے طبقوں میں چلے جاؤ اور ان کافروں کی ہڈیاں جو تمھارے پیٹ میں ہیں اگل دو ۔تاکہ ان کی


ذلت وخواری کا ذکر زمانہ میں زیادہ ہو اس سبب سے لو گ ان کو دفن کردیں تاکہ مومنین جو ان کی قبروں کی طرف سے گزریں تو عبرت حاصل کریں اور کہیں کہ یہ ملعو نوں کی اولاد یں ہیں جو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوست اور مومنین میں برگزیدہ سلمان محمدی کی بد عا سے غضب الہی میں گرفتار ہوئے یہ سنکر ان سانپوں نے جو کچھ ان کے پیٹ میں ان کی ہڈیاں تھیں اگل دین اور ان کا فروں کے اعزاء و اقربا نے آکر ان کو دفن کیا اور بہت سےکافروں نے یہ معجزہ دیکھ کر اسلام قبول کیا اور بہت سے کافروں اور منافقوں پر شقاوت غالب ہوئی اور کہنے لگے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے ۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب سلمان سے فرمایا کہ اے ابو عبد اللہ تم میرے مومن بھائیوں میں خاص ہو اور مقرب فرشتوں کے دلوں کے محبوب ہو بے شک تم آسمانوں ،خدا کے حجابوں ،عرش وکرسی ۔اور جو کچھ عرش کے درمیان تحت السری تک ہے ان کے نزدیک فضیلت وکرامت میں مشہور ومعروف ہو ۔ تم ایک آفتاب ہو جو طالع ہوئے ہو ۔اور ایک دن ہوجس پر گرد وغبار اور ہوا کی تیرگی نہیں اور اس آیہ کریمہ میں تمھاری مدح کی گئی ہے ۔"الذین یومنون بالغیب" پس فرمان رسول کے بعد راقم عاجز وقاصر ہے کہ کچھ لکھ سکے ۔

حامل سر خفی ،عارف قرآن کریم

اس پہ روشن ہے رموز صحف ابراہیم

تابش نورخدا ،روشنی ء شمع قدیم

نائب عیسی مریم ،شرف شان کلیم


عزم وکردار سے آفاق میں سلمان بنا

تھا جو نباض جہاں وقت کا لقمان بنا

(احسان امر وہوی)

اس میں کچھ شک نہیں کہ سخت گناہگارہوں میں مگر اتنا ضرور ایمان رکھتا ہوں کہ میرا اللہ غفارہے ۔ اس لئے کفران نعمت کی جسارت کرکے میں اپنی گناہوں کی گھڑی کو مزید وزنی بنا نا چاہتا ہوں لہذا بارگاہ قدوس میں سر بسجود نہایت عجز وانکساری کے ساتھ ہدیہ تشکر بجالاتا ہوں کہ وہ ذات والی صفات عاصی وخطاکار کا بھی شکرانہ قبول کرنے والی ہے ۔میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ اسی کی توفیق ونظر کرم کا نتیجہ ہے ۔اس نے مجھ جیسے جاہل کو یہ ہمت عطا فرمائی کہ میں ۔اس کے دوستوں اور اس کے رسول کے چار یاروں کی خدمات میں اپنی عقیدت مندانہ معروضات پیش کرنے کا شرف حاصل کرسکا ۔بے شک حق یہ ہے کہ ان حضرات بابرکات کی صفت وتوصیف اور مدح ومنقبت کا حق ادا کرنا میری استطاعت اور غیر علمی قابلیت سے باہر ہے ۔ لیکن جو کچھ بھی ہوسکا وہ محض ایک فیض کی بدولت ہو اگر اس میں تائید خاصان نہ ہوتی تو شاید یہ موقع ہی میسر نہ آتا ۔میں نے ان مظلوم روحانی بادشاہوں کے حالات کی نشرو اشاعت کی کوشش کی ہےجن کے سنہرے کارناموں کو سطوت شاہی اور مادی اقتدار کے داؤ پرلگایا جاچکا ہے ۔ان کے کارہائے نمایاں اور اعزازات کو غیر مستحق افراد کو سونپنے کی سوچی سمجھی تدبیر آج تک بروئے کار ہے ۔یہ امر یقینا میرے لئے باعث مسرت ہے کہ میں


نے حقدار کو اس کا حق اداکرنے کی آواز بلند کی ہے اور غاصب کے ظلم کا اظہار عام کیا ۔ اب اگر کوئی جماعت مخلصین اس سلسلہ میں دست تعاون بڑھا ئے تو یقینا اسلامی تاریخ کے پوشیدہ خزانے تلاش کئے جاسکتے ہیں ۔ یہ صحابہ یادیگر یار ان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو خدمت رسول میں آنے کے بعد راہ مستقیم پر پامردی سے ثابت قدم رہے اور تمسک بالثقلین کی ہدایت رسول پر تا دم آخر قائم رہے اپنے غیروں کے سامنے کندن کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں ۔جس طرح ان کی حیات میں دنیا والوں کے مظالم ان کے پایہ استقلال کو جنبش نہ دے سکے اسی طرح ان کی مادی زندگی کے بعد بھی زمانے کے ظلم وستم او مکار سیاست ان کے کردار وایمان کے بلند سر کو خمیدہ نہ کرسکے ۔ان کے کمالات کو جس قدر چھپایا گیا وہ سی قدرر کرامات کی صورت میں ابھرتے چلے گئے ۔ان کے اوصاف جتنا پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی وہ اتنا ہی ظاہر ہوئے ۔ان کے ذکر پر جتنی پابندیاں عائد کی گئی ان کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔کیونکہ یہ دنیا جس بات کو چھپا نا چاہتی تھی خدا کو اسے ظاہر کرنا مقصود ہے ۔

اب ہم عالم اسلام سے مؤدبانہ التماس کرتے ہیں کہ وہ جماعت اصحاب رسول میں کوئی ایک بھی فرد ایسا پیش کریں جس کا ایمانی درجہ ،روحانی مقام ،اخلاقی کردار اور انسانی مرتبہ ان اصحاب رسول رضی اللہ عنھم کے ہم پلہ ہو ۔کیا یہ اعجاز خداوندی نہیں ہے کہ حکومت واقتدار کے بل بوتے پر ان کے فضائل پر لاکھوں پردے ان کے نور ایمان کی ایک شعاع سے راکھ ہوگئے اور زمانہ


ان کے نور ایقانی سے روشن ومنور ہوگیا ۔ان یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ خصوصی انفرادیت ہے کہ انھوں نے فلسفہ حیات کے ہرگوشے پر غلبہ حاصل کیا اور فلسفہ اسلام کے ساتھ انھیں یوں سنواردیا کہ آج ان کا ایک ایک قدم مشعل راہ بن گیا ہے ۔جو اصحاب معصوم نہ تھے انھوں نے اپنے نفس امارہ سے ایسا جہاد کیا کہ عصمت کے مظہر نظر آنے لگے ۔اسلامی کتابیں ،سلاطین کے قصائد سے بھری ہوئی ہیں ۔ ہزاروں میل کی فتوحات کو ہم نے اپنا سرمایہ تاریخ سمجھ رکھا ہے اور محل وقصور ہماری نظر میں نشانات ہدایت ہیں ۔ مگر یہ سب سننے میں بھلا ضرورلگتا ہے ۔پڑھنے میں بھی مزا دیتا ہے لیکن غور کرنے پر سخت تلخی کا سبب بنتا ہے ۔کیونکہ ! اگر کبھی ہمارے بادشاہوں کی تلوار تیز تھی توجب آب تلوار گئی تو ساتھ آبرو بھی لیتی گئی ۔اگر دھار تیز تھی تو کند بھی ہوئی اور ایسی ہوئی کہ آج تک دھار لگ نہ سکی ۔اسلام فوج کشی اور ملک گیر کا ضابطہ نہیں ۔بلکہ یہ نظام حیات ہے ۔یہ زندگی بخش ہے ۔زندہ رہنا سکھا تا ہے ۔اس میں امن وسلامتی کی ضمانت ہے ۔ ایک قطرہ خون ناجائز بھی برداشت نہیں کرتا ہے ۔ پس اسلام کو زندگی کا پیغام بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے پس اسلام کو زندگی کا پیغام بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیجئے نہ کہ اس کو موت کی تلوار کہلوائیے ۔اور اگر اسلام سلامتی ہے تو پھر سوائے متمسک بالثقلین یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اور کوئی اس کا نمونہ اور نظیر نہیں نظر آئے گا جس کی پیروی حقیقی اسلام کی اتباع ہو ۔

والسلام

عبد الکریم مشتاق

٭٭٭٭٭


فہرست

معنون ۴

چار یار رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۱۵

مقدمہ:- ۱۷

اخفائے فضائل ۲۰

مقدمہ دوم:- ۲۰

خوف غلطی:- ۲۶

ترک حدیث اخفائے فضائل مخالفین کے لئے نہ تھا :- ۲۷

گزشتہ امتوں کی غلط مثال :- ۲۸

احادیث فضائل علی علیہ السلام اور شیعیان علی کی تضییع اور توصیف حضرات ثلاثہ کی وضعیت : ۳۱

موضوع احادیث فضائل برائے مغالطہ ۳۷

مقدمہ سوم:- ۳۷

کسوٹی:- ۳۹

جھوٹ نمبر۱:- ۴۱

جھوٹ نمبر ۲:- ۴۳

حدیث نجوم ۴۸

مقدمہ چہارم:- ۴۸

صحابی کی تعریف اور صحابہ میں باہمی فرق ۶۰

اول یار رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیھما السلام ۶۸

دوم یار نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوذر الصدیق رضی اللہ عنہ ۸۰


نام ونسب وحلیہ:- ۸۲

عہد جاہلیت کے مختصر حالات :- ۸۳

قبول اسلام:- ۸۹

ابوذر کی تبلیغی خدمات:- ۹۲

محبت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مثالی واقعہ:- ۹۹

بشارت جنت:- ۱۰۱

محافظ شیر:- ۱۰۲

اسلامی اخلاق وعادات:- ۱۰۴

شبیہ عیسی (ع):- ۱۰۵

صدق ابوذر:- ۱۰۹

خطبہ دیرمران:- ۱۱۴

اللہ فقیر ،عثمان غنی :- ۱۱۷

سوم یا نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ۱۲۳

سات وسیلے :- ۱۲۴

مثیل میکائیل :- ۱۲۵

جنت کا اشتیاق:- ۱۲۶

محفوظ عن الشک :- ۱۲۸

حور مقدودۃ:- ۱۲۹

مختصر حالات:- ۱۳۱

وجہ عتاب حکومت :- ۱۳۵


الف قران :- ۱۳۶

خصوصی امتیاز:- ۱۳۶

چہارم یار نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لقمان امت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ۱۳۸

ابتدائی حالات:- ۱۴۰

علمی مقام:- ۱۵۰

جہاد:- ۱۵۶

سادگی وقناعت :- ۱۶۱

حضرت سلمان اور یہودی جماعت کا امتحان :- ۱۶۸


چار یار

چار  یار

مؤلف: عبد الکریم مشتاق
زمرہ جات: اسلامی شخصیتیں
صفحے: 180