یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے
پہلی جلد
علامہ سید مرتضیٰ عسکری
مترجم:سید قلبی حسین رضوی
خطوط اور مقدمے
کتاب عبدا للہ بن سبا کی علمی قدر و قیمت
ایک شیعہ دانشور محترم جناب شیخ محمد جواد مغنیہ کا نظریہ
الازہر یونیورسٹی ، مصر کے مجلہ کا جواب
مباحث پر ایک نظر
سلسلہ مباحث کی پیدائش
کتاب عبد اللہ بن سبا کی علمی قدرو قیمت
مصر کی الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر جناب ڈاکٹر حامد حفنی داؤد کا خط
کتاب عبدالله بن سبا ، آخر میں دوسرے ایڈیشن کے عنوان سے مصر میں دوسری بار شائع ہوئی ہے،اس کتاب نے اہل سنت ممالک میں گہرا اثر ڈالا ہے اور مصر کی یونیورسٹیوں خاص کر الازہر یونیورسٹی کے دانشوروں اور اساتذہ کی توجہ کا سبب بنی ہے اور مصر کی یونیورسٹیوں میں غیر معمولی اثر ڈالا ہے ،مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کی طرف سے مؤلف کو اس کتاب کو پسند کرنے کے سلسلہ میں کئی خطوط ملے ہیں ، ان میں سے ایک جناب ڈاکٹر حامدکا خط ہے ، وہ مصر کے ایک نامور دانشور ہیں ، جو کئی قابل قدر تحقیقی تالیفات کے مالک ہیں ۔
چونکہ یہ خط انصاف و عدالت کا ایک نمونہ اور تعصب اورہٹ دھرمی کی سرحدوں کو توڑنے والا ایک عنوانہے اس لئے ہم اسے ترجمہ کرکے شائع کرتے ہیں(۱)
____________________
۱۔ نشریہ سالانہ مکتب تشیع ۴/۳۰۲۔
خط کا مضمون
تاریخ اسلام کی تیرہ صدیاں اختتام کو پہنچی ہیں ان تیرہ صدیوں کے دوران ہمارے دانشوروں کے ایک گروہ نے حتی الامکان شیعوں کے خلاف آواز اٹھائیہے اور حقائق کو اپنی نفسانی خواہشات سے مخلوط کیا ہے اس ناپسندیدہ روش کی وجہ سے اسلامی فرقوں کے د رمیان گہرے اختلافات پیدا ہوئے ہیں ، نتیجہ کے طورپر شیعہ دانشوروں کے فکر و اندیشہ کے گوہر کو حقیر سمجھا گیا ہے اسی روش کی بنا پر علمی دنیا کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔
شیعہ دانشوروں کے افکار سے علم محروم رہا ہے کیونکہ دشمنوں نے شیعوں کے پا ک و صاف دامن کو داغدار بنا کر انھیں ایک توہمات و خرافات کے حامل گروہ کے طور پر پہچنوایا ہے ، بے شک ہم شیعوں کے صاف و شفاف علمی چشمہ زلال سے ایک گھونٹ پی سکتے تھے نیزاس مذہب کے سرمایہ سے فائدہ اٹھا سکتے تھے ، لیکن افسوس کہ ہمارے گزشتہ دانشوروں نے تعصب سے کام لیااور عقل کو ھوا و ہوس پر ترجیح نہیں دی ، اے کاش کہ وہ لوگ عقل کی پیروی کرتے اور جذبات کے کھلونے نہ بن تے !! جو کوئی تعصب کے عینک کو اتارکر فقہی مباحث کےلئے اقدام کرے اور فقہ مذاہب چہارگانہ پر تحقیق کرے ، وہ شیعہ فقہ سے بھی استفادہ کرنے پر مجبور ہے اور بے شک جب فقہ اہل سنت پرتحقیق کرے تو اس وقت شیعہ فقہ کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے اور اس سے آگاہ ہونا چاہئے ۔
ہم کب تک خواب غفلت میں رہیں گے ؟! کیا فقہ شیعہ کے پرچم دار ،ا مام جعفر صادق علیہ السلام(۱) سنی مذہب کے دو امامو ں کے استاد نہیں تھے؟ یہ دو امام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس مکتب میں زانوئے ادب تہہ کیا ہے ۔
ابو حنیفہ ، نعمان بن ثابت(۲) کہتے ہیں :
”لولاالسنتان لهلک النعمان “
اگر امام صادق علیہ السلام کے درس میں دو سال شرکت نہ کی ہوتی تو بے شک میں ہلاک ہوجاتا، اوردین سے منحرف ہوتا۔
اس کی مراد وہی دو سال ہیں جس میں انہوں نے حضرت امام صادق علیہ السلام کے علم کے میٹھے اور زلالی چشمہ سے استفادہ کیا ہے ۔
اور یہ مالک بن انس ہیں جو واضح طور پر اعتراف کرتے ہیں :
”ما رایت افقه من جعفر بن محمد “
میں نے جعفر بن محمد سے فقیہ تر کسی کو نہیں د یکھا ہے(۳)
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ علم کے بارے میں صرف دور سے کچھ سننے والوں نے اپنے آپ کو دانشور سمجھ کر اپنے قلم سے تحقیق کی بنیادوں کو اکھاڑ کر حق و حقیقت کو اپنی نفسانی خواہشات پر قربان
____________________
۱۔ وفات ۱۴۸ ھ
۲۔ وفات ۱۵۰ھ
۳۔ وفات ۱۷۹ ھ
کیا ہے ، نتیجہ کے طور پر گلستان علم کے دروازے ان پر بند ہوگئے اور اس طرح وہ شمع معرفت کے نور سے محروم ہوگئے ہیں ، اس مذموم روش نے فتنہ کی آگ کو بھڑکانے کے علاوہ مسلمانوں میں ، دن بدن اختلافات کو بڑھا وا دیا ہے ۔
افسوس کہ ہمارے استاد ” احمد امین “(۱) بھی انہیں افراد میں سے تھے ، جنہوں نے معرفت کے نور سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور ظلمت کے پردوں کے پیچھے زندگی بسر کرتے رہے ، یہ وہ کرنیں ہیں جو تشیع کے سورج سے چمکی ہیں اور جہالت کی تاریک رات کو نور میں تبدیل کرکے اسلام کے عظیم تمدن کو اس وقت وجود بخشا ، جبکہ دوسرے لوگ بہت پیچھے تھے۔
تاریخ نے اس ناپاک رویہ کی بنا پر ، احمد امین اور ان جیسے تمام اساتذہ اور دانشوروں کے دامن پر عظیم داغ لگادیا ہے، جنہوں نے آنکھیں بند کرکے تعصب کی وادی میں قدم رکھا ہے ، یہ دانشور وں اور محققین کا طریقہ کار نہیں ہے کہ ایک جگہ بیٹھے رہیں اور جمود کی بیڑی کو اپنی فکر کے پاؤں سے نہ اتاریں اور بے جا پر تعصب سے کام لے کر آنکھیں بند کرکے کسی مذہب کی پیروی کریں !!
ان کی فکرو قلم سے بہت ساری غلطیاں اور لغزشیں سرزد ہوئی ہیں اور انہیں الجھن اور بد حواسی سے دوچار کیا ہے ، شاید مذکورہ داستان اس کی ایک مثال ہوسکتی ہے ۔
انہوں نے جھوٹ بول کر بعض مطالب کو شیعوں سے نسبت دیکران کے دامن کو داغدار بنادیا
____________________
۱۔ ” فصل “ پیدائش افسانہ د ور راویان آن “ شمارہ ہفتم ، کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں پر احمد امین کی باتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا ہے جس کا سبب شیعوں کے ساتھ اس کی دشمنی اور کینہ ہے ۔
ہے کہ ہم نے ان میں سے بعض کی طرف اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے ،(۱) انہوں نے تصور کیا ہے کہ جتنے بھی خرافات اور جعلی چیزیں اسلام کی تاریخ میں موجود ہیں ، سب کی سب شیعہ علما کی گڑھی ہوئی ہیں اور انہوں نے اپنے خود ساختہ گمان سے شیعوں پر حملہ کیا اور ان کو برا بھلا کہا ہے۔
جلیل القدر محقق ”جناب مرتضیٰ عسکری “ نے اپنی کتاب ” عبدا للہ بن سبا “ میں کافی دلائل سے مکمل طور پر ثابت کیا ہے کہ ” عبدا للہ بن سبا “ ایک خیالی اور جعلی موجود ہے ۔
تاریخ نویسوں نے جو حکایتیں بیان کی ہیں اور ان کی بناء پر اسے (عبدا للہ بن سبا) مذہب شیعہ کا مروج(۲) بیان کیا ہے البتہ یہ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، مؤرخین نے ان گڑھی ہوئی داستانوں کو اس لئے مرتب کیا ہے تا کہ فریب کاری کے جال کو پھیلا کر شیعوں پر حملے کرکے بے جا ان کے خلاف تہمت و افتراء پردازی کریں ۔
ہم عصر دانشور ،جناب مرتضیٰ عسکری نے اس کتاب میں اپنی فکر و اندیشہ کے سہارے تاریخ کے سمندر میں غوطہ لگا کر ، بہت سی کتابوں کا مطالعہ فرمایا ہے اور انتہائی تلاش و جستجو کے بعد اس سمندر سے کافی مقدارمیں موتی لے کر ساحل تک آئے ہیں ۔
انہوں نے زیر بحث حقائق کو ثابت کرنے کےلئے نزدیک ترین راستہ طے کیا ہے ، شیعوں کے
مخالفوں سے بحث کے دوران ان کے ہی بیانات کو مآخذ قرار دیکر ان کی باتوں کو باطل ثابت کرتے ہیں ۔
____________________
۱۔ڈاکٹر حامد حفنی داؤد کی کتا ب” مع احمد امین “ کے مقدمہ کی طرف رجوع کیا جائے ۔
۲۔ خود غرض مورخین نے اسے شیعہ مذہب کا بانی و مروج خیال کیاہے۔
تاریخ اسلام کے آغاز سے عصر حاضر تک ” سیف بن عمر“ کی روایتوں نے مؤرخین کو الجھا رکھا ہے جو عام طور پر قابل اعتماد ہے، اس کتاب میں ان روایتوں کے بارے میں ایک گراں بہا تحقیق کی گئی ہے کہ قارئین بڑی آسانی سے انھیں سمجھ سکتے ہیں ۔
خدا کی حکمت اسی میں ہے کہ بعض محققین مردانہ وار قلم ہاتھ میں اٹھا کر حقائق سے پردہ اٹھائیں ، اور اس راستہ میں دوسروں کی سرزنش اور ملامت کی پروانہ کریں ، مصنف محترم پہلی شخصیت ہیں جس نے اپنی گہری تحقیقات کے نتیجہ میں اہل سنت محققین کو اس امر پر مجبور کیا ہے کہ وہ طبری کی کتاب ” تاریخ الامم و الملوک “ کے بارے میں تجدید نظر کریں ، نیز انھیں اس بات پر مجبور کیا ہے کہ اس کتاب اورتاریخ کی دوسری بنیادی کتابوں کے بارے میں از سر نو دقت سے غور کرتے ہوئے اور خوب و بد کو ایک دوسرے سے جدا کریں ،مزید ان تاریخی حوادث کے بارے میں بھی نئے سرے سے غور کریں ، جنہیں وہ نازل شدہ وحی کے مانند صحیح اور نا قابل تغییر سمجھتے تھے !!
محترم مصنف نے کافی ، واضح اور روشن شواہد کی مدد سے ان تاریخی وقائع سے ابہام کے پردے کو ہٹا دیا ہے اور حقیقت کو اس کے متوالوں کےلئے آشکار کیا ہے حتی کہ بعض حقائق انتہائی بھیانک اور حیرت انگیز دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ایک عمر کے عادات و رسومات چند صدیوں کی اعتقادی میراث کے مخالف ہیں ، لیکن حق کی پیروی کرنالازم و واجب ہے ہر چند کہ یہ امر دشور ہو ” الحق احق ان یتبع“۔
مذکورہ مطالب سے آگاہی چاہتے ہیں تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں او رتاریخ کے اختلافی حوادث جیسے ، اسامہ کی لشکر کشی ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور سقیفہ کی داستان (جس پر مؤلف نے تنقیدی تجربہ کیا ہے) کا دقت کے ساتھ مطالعہ کریں ۔
جس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم موت کا شیرین جام نوش فرمارہے تھے، اسامہ کے لشکر سے بعض افراد حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے مدینہ لوٹے اور ریاست و خلافت کی امید سے جہاد سے منہ موڑ لیا ، مؤلف نے ان افراد کو پہچنوایا ہے ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر مرگ پر جب وصیت لکھنے کا حکم دیدیا، کچھ لوگوں نے اس حکم پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالی اور اسے ہذیان سے تعبیر کیا (گویا انہوں نے گمان کیا کہ پیغمبر ہذیان کہہ رہے ہیں)کیونکہ وہ اس امر سے خائف تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وصیت میں علی علیہ السلام کی خلافت کی خبر دیں گے اور ان آخری لمحات میں بھی اسے اپنے وصی کے طور پر تعارف کرائیں گے ۔
مؤلف اس حادثہ کی حقیقت و کیفیت کو بھی آشکار کرتے ہیں عمر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے انکار کرنے کا مقصد کیا تھا ؟ کیوں وہ ان افراد کو موت کی دھمکی دیتے تھے جو یہ کہتے تھے کہ پیغمبرا سلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے رحلت کی ہے ؟جس وقت امام علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچیرے بھائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس اور چند بوڑھے اور سن رسیدہ اصحاب کی مددسے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدن نازنین کوغسل دینے میں مشغول تھے ، تو اس وقت کس غرض سے عمر اور ابو عبیدہ نے انتہائی عجلت کے ساتھ اپنے آپ کو سقیفہ کے اجتماع میں پہنچادیا اور لوگوں سے ابوبکر کے حق میں بیعت لے لی ؟!
بے شک ، اگر تھوڑا سا انتظار کرتے تا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سپرد لحد کرکے اور علی علیہ السلام بھی اس اجتماع میں حاضر ہوتے تو علی علیہ السلام خلافت کے مستحق قرار پاتے اور بنی ہاشم ان کے علاوہ کسی اور کو امام المسلمین کے طور پر قبول نہیں کرتے !
مؤلف نے مذکورہ تین مباحث میں صحیح کو غلط سے اور برے کو بھلے سے جدا کرکے ان مسلم حقائق تک رسائی حاصل کی ہے اور ان کی اس تحقیق کے نتیجہ میں فریب کاروں کےلئے مکرو فریب کے دروازے بند ہوگئے ہیں ۔
کتاب کے دوسرے مباحث بھی مذکورہ بالا تین مباحث کی طرح ، دقت کے ساتھ حقائق کو ایسے آشکار کرتے ہیں کہ بہت جلد ہی تاریخ اسلام کے اندر گہرے اثرات رونما ہوں گے ۔
میں اس مقالہ کو ختم کرنے سے پہلے چاہتا ہوں کہ درج ذیل تین سوالات کا جواب دیدوں :
۱ ۔ کیا پیغمبر خدا کا صحابی غلطی کرسکتا ہے اورلغزش سے دوچار ہوسکتا ہے ؟
۲ ۔ کیا اس کے کام اور کردار پر تنقیدی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے ؟
۳ ۔ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی کو منافق یا کافر کہا جاسکتا ہے ؟
سوال نمبر ایک اور دو کا میں مثبت جواب دیتا ہوں ، لیکن تیسرے سوال کا جواب منفی ہے ۔ اس لئے نہیں کہ میں تعصب سے کام لیتا ہوں اور علم کے اصول کے خلاف کہتا ہوں ، بلکہ ایک ایسا استدلال رکھتا ہوں کہ عقل اس کو قبول کرتی ہے اور منطق اسکی تائید کرتی ہے کیونکہ کفر و نفاق کا تعلق قلب و دل سے ہے اور وہاں تک خدا کے سوا کسی کی رسائی نہیں ہے ، علمی تجربہ وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ہے ، صرف خداوند عالم ہے جو انسان کے اندرونی اسرار سے واقف ہے اور پوشیدہ چیزوں کامکمل طور پر علم رکھتا ہے(۱)
مذکورہ روش ، وہی جدید روش ہے ، جس کا واضح مشاہدہ میری تمام تالیفات میں کیا جاسکتا ہے۔
مجھے اس بات پر انتہائی مسرت ہے کہ علم کے لحاظ سے اس عظیم کتاب اور اس کے عالی قدر مصنف استاد علامہ محقق جناب مرتضی عسکری کے تئیں انتہائی احترام و محبت کا قائل ہوں ، اسی طرح جناب مرتضیٰ رضوی کشمیری کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کو پوری ظرافت اور دیدہ زیب صورت میں شائع کیا ہے ، علامہ نے اس فریضہ کو انجام دے کر اسلام کی ایک عظیم خدمت کی ہے اور اس ذمہ داری کو انجام دے کر اسلام کے تاریخی حقائق کو زندہ کرنے کےلئے ایک عظیم اثر چھوڑا ہے ۔
قاہرہ اول جمادی الاول ۱۳۸۱ ھء مطابق ۱۲ ،اکتوبر ۱۹۶۱ ئئ
ڈاکٹر حامد حفنی داؤد
____________________
۱۔ڈاکٹر حامد نے اس خط کو نصف کتاب کے شائع ہونے کے پیش نظر مصر میں لکھا ہے ۔
ایک محترم شیعہ دانشور شیخ محمد جواد مغنیہ کا نظریہ
سنی دانشور محترم جناب ڈاکٹر حامد کے نظریہ سے آگاہ ہونے کے بعد مناسب ہے یہاں پر اس کتاب کے بارے میں ایک شیعہ دانشور علامہ نابغہ جناب شیخ محمد جواد مغنیہ جبل عاملی کے نظریہ سے بھی آگاہ ہوجائیں ، علامہ موصوف لبنان میں مروج مذہب تشیع ہیں ۔
موصوف کی گراں بہا تالیفات میں من جملہ ” تفسیر قرآن مجید “ ” معالم الفلسفة الاسلامیہ“، ”الشیعہ و الحاکمون “ ” اصول الاثبات فی الفقہ الجعفری“ اور دسیوں دوسری تالیفات سنجیدہ فکر اور ان کے علمی بلند مقام کو آشکار کرتی ہیں ، ذیل میں مجلہ ” العرفان “(۱) میں شائع ہوئے ان کے مقالہ کا ترجمہ ہے :
مذہب شیعہ کے خلاف لکھنے کے علاوہ دنیا کی تمام چیزوں میں دگرگونی اور تغیرات پیدا ہوئے ہیں شیعوں پر تہمت و افتراء کے علاوہ ہر آغاز کا خاتمہ ہے شیعوں کے خلاف جاری کئے جانے والے احکام کے علاوہ ہر حکم کی ایک دلیل و علت ہے آخر کیوں ؟
کیا شیعہ شورشی اور فتنہ گر ہیں اور لوگوں کے سکون و اطمینان کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں ؟
____________________
۱۔ نمبر ۳/ سال ۱۳۸۱ ھ صفحہ ۲۳۰۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ :
سیف بن عمر تمیمی(۱) نامی ایک شخص نے گزشتہ دو سری صدی کے دوران دو کتابیں لکھی ہیں ، اس کی پہلی کتاب ” الفتوح و الردّة“ اور دوسری کتاب ” الجمل و مسیر عائشة و علیّ “ ہے ان دونوں کتابوں میں د رج ذیل مطالب کی ملاوٹ کی گئی ہے :
۱ ۔ ایسے حوادث و اتفاقات کی تخلیق کرنا ، جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
۲ ۔ رونما ہوئے حقیقی حوادث و واقعات میں تحریف کرکے مثبت کو منفی اور منفی کو مثبت دکھانا ۔
اس بے لگام اور جھوٹے شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلئے چند من گھڑت اصحاب جعل کئے جن کے سعیر ، ہزہاز، اط ، حمیضہ ، وغیرہ نام رکھے ہیں ۔
اس نے تابعین اور غیر تابعین کے کچھ اشخاص جعلکئے ہیں اور ان کی زبانی اپنی جعلی احادیث نقل کی ہیں ۔
اس کی انہیں تخلیقات میں سے ایک سورما ہے جس کی شخصیت کو اس نے جعلکیا ہے اور اس کا فرضی نام بھی معین کیا ہے ، اور چند داستانوں کو گڑھ کر اس سے نسبت دی ہے یہ افسانوی سورما ”عبد اللہ بن سبا“ ہے جس کسی نے بھی شیعوں پر تہمتیں لگائی ہیں اور ان کے بارے میں جہل یا نفاق کے سبب افترا پردازی کی ہے ، ان سب نے اسی پر اعتماد کیا اور اس کی باتوں پر تکیہ کیا ہے۔
____________________
۱۔وفات دوسری صدی ہجری ۔
”سیف“ کے بعد مؤرخین کی ایک جماعت نے فریب اور دھوکہ سے بھری ان دو کتابوں کو سند بنا کر کسی قسم کے تامل و تدبر کے بغیر دروغ پرداز اور چالباز سیف کے نظریات اور اندیشہ کو نقل کیا ہے ، اس طرح اس کے مذموم تفکر سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
”طبری“ پہلا شخص تھا جو” سیف “کے دام فریب میں پھنس گیا تھا اس کے بعد ابن اثیر ، ابن عساکر اور ابن کثیر اور دوسرے لوگ” طبری“ سے آنکھیں بند کرکے روایت نقل کرنے کے سبب اس گڑھے میں گر گئے ہیں ۔
اس طرح جھوٹے ”سیف“ کی تخلیقات کی تاریخی کتابوں اور منابع میں بلاواسطہ طور پر ملاوٹ ہوئی ہے لیکن ان کی جڑ اور بنیاد، وہی سیف کی دو کتابیں ” الفتوح “ اور ” الجمل “ ہیں ۔
علامہ سید مرتضی عسکری کی کتاب ” عبد اللہ بن سبا“ مذکورہ حقائق کو صحیح دلائل کی بنا پر آشکار کرتی ہے اور قارئین کو صاف اور واضح راہنمائی کرکے حقیقت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔
انہوں نے اس کتاب کی تالیف میں انتہائی دقت سے کام لیا ہے اور موصوف کی تمام تر سعی و تلاش اس امر پر متمرکز رہی ہے کہ حق و حقیقت کے علاوہ کوئی چیز کاغذ پر نہ لکھی جائے ، قارئین کرام جس قدر بھی مفکر اور دانشور ہوں ، موصوف کے حاصل کئے ہوئے نتائج سے نہ تو انکار کرسکتے ہیں اورہی نہ شک و شبہ ، کیونکہ اس کتاب کے بہت سے دقیق مباحث کی بنیاد بدیہی قضایا پر مبنی ہے اور بدیہیات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے ۔
میں نے مختلف افراد سے بارہا بحث کی ہے ، اور ان کے اعتراضات اور شبہات کا جواب دیا ہے ، لیکن اس گفتگو میں میں نے شیخ مفید ، سید مرتضی ، اور علامہ حلی سے آگے قدم نہیں بڑھایا ہے ، میری روش صرف یہ تھی کہ میں ان بزرگوں کے طرز بیان کو بدل دیتاتھا اور مخاطب کے لئے مطالب کو آشکار اور واضح تر بیان کرتا تھا ، کیونکہ کوئی تازہ اعتراض نہیں تھا کہ میں اس کا تازہ اور نیا جواب دیتا بلکہ اعتراض وہی تھا جو پچھلے لوگوں نے کر رکھاتھا اور اس کا جواب سن چکے تھے ، چونکہ یہ لوگ بھی گزشتہ لوگوں کی طرح اعتراض کرتے ہیں لہذا مجبور ہیں وہی جواب سنیں ،میں اپنے علمائے سلف کی باتوں کی تکرار کرتا تھا ، کیونکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ بے خبر، معترضین علماء کی باتوں پر اعتراض کرتے ہیں ، لہذا ضروری ہے کہ ان کی ہی باتوں سے آگاہ ہوجائیں ۔
بے شک میں علمائے تشیع کی پیروی کرتے ہوئے ” عبدا للہ بن سبا“ کے وجود کا معترف تھا ، لیکن اس کی رفتار کو حقیر اور شرم آور سمجھتا اور اس کی باتوں کا انکار کرتا تھا ۔
علامہ عالیقدر جناب سید مرتضیٰ عسکری نے اس عمارت کی بنیاد ہی اکھاڑ کرکے رکھدی اور اپنی گہری تحقیقات سے ثابت کردیا کہ ” عبد اللہ بن سبا “ کی حقیقت ایک افسانہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ! اور یہی وہ حقیقت ہے جو اس کتاب میں بے نقاب ہوئی ہے ، اگر میں یہ کہوں کہ عربی میں یہ تنہا کتاب ہے ، جس میں تاریخ کی علمی بنیادوں پر تحقیق کرکے اس پر غور کیا گیا ہے تو یہ ہرگز مبالغہ نہیں ہے ، اور میرا یہ کہنا بھی ہر گز بیجا نہیں ہوگا کہ اس دانشور مصنف نے دین و علم اور خاص طور پر شیعوں اورمذہب تشیع کی ایک ایسے زمانے میں بے مثال اور عظیم خدمت کی ہے کہ جب ان پر تہمتوں ، افتراء پردازیوں اور بہتان تراشیوں کی بھر مار ہورہی ہے ، موصوف نے اسلام کی ایک عظیم اور درخشان خدمت کی ہے ، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان رخنہ ڈال کر ان کے اتحاد و یکجہتی کو درہم برہم کرکے انھیں کمزوراوربے بس کردیا ہے ۔
ہم نے فرمانرواؤں اور ظالم حکام کی طرف سے بد ترین عذاب اور مشکلات برداشت کی ہیں تا کہ اسلام کی یکجہتی کا تحفظ کرکے دشمنی سے پرہیز کریں ، لیکن وہ روز بروز اپنی دروغ بیانی میں تشویق ہوتے رہے ہیں اور ان کی پہلی اور آخری سند ” ابن سبا“ کا افسانہ اور ” ابن السوداء “ کا خرافہ تھا کہ افسانہ ساز ”سیف “ نے انھیں ، خدا اوراپنے ضمیر کے سامنے کسی ذمہ داری کا احساس کئے بغیر جعلکیا ہے ۔ لیکن آج ” عبدا للہ ابن سبا “ نام کی کتاب لکھی جانے کے بعد یہ کاسہ لیس اور چاپلوس لوگ کیا جواب دیں گے ؟!
آخر میں میری تجویز ہے کہ یہ کتاب دیدہ زیب طباعت کے ساتھ دوبارہ شائع کی جائے اور عالم اسلام کے تمام شہروں میں نصف قیمت پر بیچی جائے تا کہ عام مسلمان اسے خرید کر اس کے عالی مطالب سے استفادہ کرسکیں ۔
نجف اشرف کے دانشوروں اور مراجع عظام کو چاہئے مذکورہ مقصد کی جانب توجہ کرتے ہوئے رقومات شرعیہ سے مدد کریں یا خیّر افراد کی اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں ۔
میری تجویز ہے کہ یہ حضرات تاکید کے ساتھ حکم فرمائیں تا کہ یہ کتاب دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر سستے داموں میں دنیا کے لوگوں تک پہنچ جائے ، یہ دین اسلام کےلئے ایک عظیم خدمت ہوگی۔
لبنان ۔ شیخ محمد جواد مغنیہ
الازہر یونیورسٹی مصر کے مجلہ ” جامع الازھر “ میں شائع شدہ اعتراضات کا جواب
مجلہ ” جامع الازھر“ مصر میں کتاب ”عبدا للہ بن سبا “ کے بارے میں دو مقالے لکھے گئے ہیں(۱) اہم ترین مطلب جوان دو تنقیدی مقالوں میں ملاحظہ کے قابلہے عبارت ہے :
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور ان کے باہمی اختلافات ، چودہ صدی پرانی بات ہے اور وہ سب اپنے مالک حقیقی سے جاملے لہذا چاہئے کہ ان مسائل سے صرف نظر کیا جائے(۲)
اس بات کے جواب میں ہم کہتے ہیں :
اولاً : ہم سیف کی روایتوں کی تحقیق کی فکر میں تھے ، جس موضوع پر اس نے روایتیں نقل کی تھیں ، ہم نے مجبور ہو کر ان ہی موضوعات پر بحث و تحقیق کی ہے ، چونکہ کتاب ” عبدا للہ بن سبا“ میں عبد اللہ بن سبا کے افسانہ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کے باہمی اختلافات کے بارے میں سیف ابن عمر کی نقل کی گئی روایتوں پر بحث کی گئی ہے ، لہذا ہم مجبور ہوئے کہ ہر موضوع کے
____________________
۱۔ پہلا مقالہ کتاب کی نجف اشرف میں طبع شدہ پہلی اشاعت پر ایک تنقید ہے ، اور یہ مقالہ مجلہ کی جلد ۳۳ ج۱۰، ۱۳۸۰ ئھ ” باب الکتب “ کے صفحہ۱۱۵۰ ۔۱۱۵۱ میں شائع ہوا ہے ۔ دوسرا مقالہ اسی کتاب کے مصر میں طبع شدہ نسخہ پر ایک تنقید ہے اور یہ مقالہ مجلہ کی جلد ۳۲ /ج ۶/ ۱۳۸۱ ء ھ کے صفحہ۷۶۰ ۔۷۶۱ میں شائع ہوا ہے۔
۲۔ یہ جملہ پہلے مقالہ کے آخر پر لکھا گیا ہے اور باقی تمام مطالب اسی جملہ کی تفسیر اور تشریح میں لکھے گئے ہیں ۔
بارے میں بحث کو جاری رکھتے ہوئے تجزیہ و تحقیق کریں ، جس طرح میں نے اپنی کتاب ” خمسون و ماة صحابی مختلق“ ( ۱۵۰ جعلی اصحاب) میں اصحاب کے فتوحات اور صدر اسلام کی جنگوں کو اپنا موضوع قرار دیگر بحث و تحقیق کی ہے ۔
سیف کی روایتوں پر تحقیق نے ہمیں اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ ایسی بحثوں میں داخل ہوجائیں جنھیں بہت سے دانشوروں نے پردے میں رکھا ہے ، لہذا ان موضوعات پر بحث و تحقیق نے انھیں برہم اور رنجیدہ کیا ہے ، البتہ ہم بھی ان کی طرح ایسے وقائع اور روداد کے رونما ہونے سے خوشحال نہیں ہیں اور ان سے پردہ اٹھانے اور ان پر غور و فکر کرنے سے ہمارا رنج و غم بھڑک اٹھتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ خداوند عالم نے پیغمبر خدا کے اصحاب کو ملک و فرشتہ خلق نہیں کیا ہے کہ جبلت انسانی سے عاری ہوں بلکہ وہ دوسرے افراد کی طرح انسانی جبلت میں ان کے شریک ہیں ، اور ایمان اور اسلام میں استقامت کے مراتب میں بھی ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ، اس حد تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے بعض پر حد جاری کی ہے (کوڑے لگائے ہیں) اور ان میں سے بعض کے بارے میں ” آیات افک “ نازل ہوئی ہیں جن میں ان کی اس بات پر ملامت کی گئی ہے کہ انہوں نے پیغمبر خدا کی بیوی کی جانب نازیبانسبت دی تھی ، اور ان میں سے بعض کے بارے میں نفاق کی آیات نازل ہوئی ہیں ۔
ان تمام مطالب کے باوجود ہم نہیں سمجھتے کہ پیغمبر خدا کے اصحاب کو ان اختلافات اور تحولات کے ساتھ کیسے چھوڑدیں جبکہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکام اور عقائد کو ہم تک پہنچانے کے واسطہ ہیں کیا اس طرح صرف پیغمبر کو درک کرنے کی بنا پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عزت و احترام کرنا بحث و تحقیق کےلئے رکاوٹ اور دینداری کے نام پر علم ودانش کے دروازہ کو بند کرنے کے مترادف نہیں ہے ؟ چونکہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے صدیوں سے اپنے اوپر اجتہاد کا دروازہ بند کررکھتا ہے ، لہذا تحقیق و علم کا دروازہ بھی ان پر بند ہوگیا ہے ۔
خدارا ! ہم نے اس مطلب کو قبول نہیں کیا ہے اور اسکی تائید نہیں کرتے ہیں بلکہ دین و اسلام کے نام پر اور اس پر عمل کرنے کیلئے اسلام کی راہ میں بحث و تحقیق کےلئے قدم اٹھاتے ہیں ۔
ثانیاً : کاش کہ ہم یہ جانتے کہ قدیم و جدید دانشور جو پیغمبر خدا کے اصحاب کی عزت و احترام میں جو غیرت و حمیت دکھاتے ہیں ، کیا اس میں پیغمبر خدا کے تمام اصحاب شامل ہیں خواہ اس کے سزاوار ہوں یا نہ ، خواہ وہ عیش پرست ہوں یا زاہد و پرہیزگار ؟ کیا یہ احترام عام طور پر اس لئے ہے کہ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کادیدار کیا ہے ؟ یا ان کےلئے مخصوص ہے جوسرمایہ دار و قدرتمندتھے اور حکومت تک ان کی رسائی تھی ؟ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ احترام شعوری یا لا شعوری طور پر صرف ان افراد سے مخصوص ہوکے رہ گیا جو حکومت اور ایوان حکومت سے وابستہ و مربوط ہیں ۔
جو کچھ ایک دوررس اور نکتہ شناس محقق کےلئے قابل اہمیت ہے وہ دوسرا مطلب ہے کیونکہ اگر تاریخ طبری میں ۳۰ ء ھ کے روئدادوں اور حوادث پر غور کیا جائے تو دیکھا جاتا ہے کہ اس نے یوں لکھا ہے :
اس سال ، یعنی ۳۰ ئھ میں جو کچھ ابوذر اور معاویہ کے درمیان پیش آیا ، اور سر انجام ابوذر کے شام سے مدینہ جلا وطن کئے جانے پر تمام ہوا ، اس سلسلے میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں کہ جنکو میں نقل کرنا پسندنہیں کرتا ہوں ، لیکن اس سلسلہ میں معاویہ کیلئے عذر پیش کرنے والوں نے ایک داستان نقل کی ہے ، اس داستان میں کہا گیا ہے:
شعیب نے اسے سیف سے نقل کیا ہے
اس کے بعد طبری نے ابو ذر اور معاویہ کے بارے میں نقل کی گئی داستان کے سلسلے میں سیف کی باقی روایت کو اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے ۔
اگر ہم اس سلسلے میں تاریخ ابن اثیر کی طرف رجوع کریں گے تو دیکھتے ہیں کہ وہ کہتا ہے :
اس سال ( ۳۰ ھء) ابوذر کی داستان اور معاویہ کے توسط سے اسے شام سے مدینہ جلاوطن کرنے کا مسئلہ پیش آیا، اس رفتار کی علت کے بارے میں بہت سے مطالب لکھے گئے ہیں ، من جملہ یہ کہ : معاویہ نے انھیں گالیاں بکیں اور موت کی دھمکی دی ، شام سے مدینہ تک انھیں ایک بے کجاوہ اونٹ پر سوار کرکےنہایت ہی بیدردی سے ایک ناگفتہ بہ حالت میں مدینہ کی طرف جلاوطن کردیا ، مناسب نہیں ہے اسے یہاں بیان کیا جائے میں اسے نقل کرناپسند نہیں کرتا ہوں ، لیکن جنہوں نے اس سلسلے میں عذر پیش کیا ہے، یو ں کہا ہے :
اس بنا پر طبری نے یہاں پر ان بہت سی روایتوں کو درج نہیں کیا ہے جن میں معاویہ اور ابوذر کی روئداد بیان ہوئی ہے اور ان کو بیان کرنا پسند نہیں کرتا تھا، پھر بھی اس نے ان روایتوں کو بالکل ہی درج کرنے سے چشم پوشی نہیں کی ہے ۔ بلکہ سیف کی ان تمام روایتوں میں سے ایسی روایت کا انتخاب کیا ہے کہ معاویہ کا عذر پیش کرنے والوں کےلئے سند کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے اس کے کام کی توجیہ کے طورپر پیش کرتے ہیں ، جبکہ اس روایت میں پیغمبر اسلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بزرگوار صحابی ” ابو ذر“ کی حد سے زیادہ توہین کی گئی ہے ۔ اس کی دینداری پر طعنہ زنی کی گئی ہے ، اسے بیوقوف اور احمق کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس پرناروا تہمتیں لگائی گئی ہیں ۔
کیونکہ اس روایت میں معاویہ کو حق بجانب ٹھہرایا گیا ہے اور اس کے عذر کو درست قرار دیاگیا ہے ، اور اس طرح مؤرخین کا یہ قائد ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس تہی دست صحابی کی شخصیت اور احترام سے چشم پوشی کرتاہے اوران کی عظمت کو معاویہ جیسے حاکم اور ثروتمند شخص کے حرمت کے تحفظ میں قربان کرتاہے ، یہی کام ابن اثیر، ابن خلدون اور دوسروں نے بھی انجام دیا ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ، بنیادی طور پر اسی سبب سے تاریخ طبری نے رواج پیدا کیا ہے اور دوسروں کی نسبت زیادہ شہرت پائی ہے ، اور اس لئے سیف (بے دینی کا ملزم ٹھہرائے جانے کے باوجود) کی روایتوں کو اس قدر اشاعت ملی ہے اور اسی لئے مشہور ہوئی ہیں(۱) ۔
اس بنا پر ایسے دانشوروں نے صرف ایسے صحابیوں کے احترام کے تحفظ کےلئے اقدام کیا ہے جو صاحبِ قدرت و حکومت تھے ، اور” معاویہ بن ابو سفیان “ جیسے شخص کی اس لئے عزت کرتے ہیں کہ وہ صاحب حکومت و اقتدار تھا ، جبکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اور اس کے باپ کو ” المؤلفة قلوبھم “(۲) میں شمار فرمایا ہے اور اس کی نفرین کرتے ہوئے فرمایا:
خداوند عالم اس کے شکم کو کبھی سیر نہ کرے “(۳) اسی طرح ” عبدا للہ بن سعد بن ابی سرح “(۴) جو ابتداء میں مسلمان ہوا تھا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتبوں میں شمار ہوتا تھا، لیکن ایک مدت کے بعد مرتد ہوگیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن مجید پر تہمت لگائی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کا خون بہانا مباح قرار فرمایا تھا،ایسے شخص کو ان خصوصیات کے باوجود مصر کا گورنر ہونے کے ناطے اس کا نام تاریخ میں درج کرکے اس کا احترام کیا گیا ہے ۔
اس طرح خلیفہ عثمان کے بھائی ولید ، جس کے بارے میں آیہ نبا نازل ہوئی ہے :
<یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اِذا جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَیَّنُوا اَنْ تُصِیْبُوا قَوْماً
____________________
۱۔ کتاب کے فصل ” پیدائش افسانہ “ کی طرف رجوع کیا جائے ۔
۲۔ تمام سیرت لکھنے والوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح حنین کے بعد معاویہ اور اس کے باپ کو ” المؤلفة قلوبھم “ میں شمار فرمایا ہے ، اس لئے انھیں کچھ چیزیں دیدی ہیں ۔
۳۔ صحیح مسلم کے اس باب کی طرف رجوع کیا جائے کہ ”پیغمبر خدا نے جن پر لعنت کی ہے “
۴۔ اس کے حالات پر اگلے صفحات میں روشنی ڈالی جائے گی۔
بِجِهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ >(۱)
لیکن کوفہ کا حاکم ہونے کی وجہ سے اس کا احترام کیا گیا ہے ۔
یا ایک اور شخص ،” مروان حکم “(۲) جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے باپ کے ساتھ طائف جلا وطن کیا تھا ، بعد میں ایک حاکم واقع ہونے کی وجہ سے عزت وا حترام کا مستحق بن جاتا ہے اور تاریخ میں اس کا نام عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔
قریش کے بزرگوں اور حکمراں ، فرماں روا اور امراء طبقے کے ایسے لوگوں کےلئے ضروری ہے کہ ان کی عزت و احترام محفوظ رہے اورہم ان کی شخصیت کی حرمت کے محافظ بنیں ، لیکن اس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متقی و پرہیزگار تہی دست صحابی ” ابو ذر غفاری“ یا باتقویٰ اور خدا ترس صحابی ” سمیہ “ نامی کنیز کے بیٹے ”عمار یاسر “ یا ” عبدا لرحمان بن عدیس بلوی “ نامی نیک و پارسا صحابی جو اصحاب بیعت شجرہ میں سے تھے اور ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی :
لَقَد رَضِیَ اللّٰه عَنِ المُؤمِنِینَ اِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَافِی قُلُوبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِینَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحاً قَرِیباً >(۳)
یا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے صحابی جیسے ، ” صوحان عبدی “ کے بیٹے زید اور ”صعصعہ“ اور ان جیسے دسیوں صحابی اور تابعین جو ریاست و حکومت کے عہدہ دار نہ تھے اور قریش کے سرداروں میں سے بھی نہ تھے ، انھیں اہمیت نہ دی جائے بلکہ ان کی ملامت اور طعنہ زنی کی جائے اور یمن کے صنعا سے ایک یہودی کو خلق کرکے اس خیالی اور جعلی شخص کو فرضی طور پر ان مقدس اشخاص میں قرار دیگر صاحبان قدرت اور حکومت سے ان کو ٹکرایا جائے اور
____________________
۱۔ اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ، ایسا نہ ہو کہ ایسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ کہ جس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے ( حجرات /۶۰)
۲۔ اسی کتاب کی فصل ” پیدائش افسانہ شیبہ “ اور دیگر فصلو ں میں اس کے حالات کے بارے میں دی گئی تشریح کی طرف رجوع کیا جائے۔
۳۔ یقینا خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا ، جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے پھر اس نے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو ان کے دلو ں میں تھا تو ان پر سکون نازل کردیا اور انھی ں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی ( فتح / ۱۸)
اس طرح سیف کی جعلی روایتیں شہرت پاکر رائج ہوجاتی ہیں اور ان کے بارے میں کسی قسم کی چھان بین اور تحقیق نہیں ہوتی ہے ۔
اس قسم کی داستانوں اور افسانوں (جنھیں جعل کرنے والوں نے صاحبان قدرت و حکومت کے دفاع اور ان کے مخالفوں کی سرکوبی کےلئے گڑھ لیا ہے) کی اشاعت ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رائج ہوگئی ہیں ۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض افسانے اس حد تک مسلم تاریخی حقائق میں تبدیل ہوگئے ہیں کہ کوئی شک و شبہہ باقی نہیں رہا ہے اور بعض دانشورحضرات اس کے تحفظ کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں ۔
جبکہ یہ اس حالت میں ہے کہ جسے انہوں نے دین کا نام دیا ہے وہ حکمراں طبقے اور ان سے مربوط افراد کی عزت و احترام کے تحفظ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
لیکن اصحاب و تابعین سے مربوط وہ لوگ جو مجبور ہوکر قدرت و حکومت سے دور رہ کر کمزور واقع ہوئے ہیں ، ان دانشوروں کی نظروں میں قابل اہمیت و موردتوجہ قرار نہیں پائے ہیں ، کیونکہ انہوں نے صاحبان قدرت و دولت کی پیروی نہیں کی ہے بلکہان کے موافق نہیں تھے ۔
یہاں پر میں ایک بار پھر خداوند عالم کو شاہد قرار دیکر کہتا ہوں کہ جس چیز نے مجھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کی زندگی کے حالات کے بارے میں مطالعہ و تحقیق کرنے کی ترغیب دی، وہ یہ ہے کہ مجھے بچپنے ہی سے اسلام ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوران کے اصحاب کے متعلق جاننے و پہچاننے کی دلچسپی تھی اور میں نے اپنی اکثر زندگی اسی راہ میں گزاری ہے ، تب جاکر اس زمانے کے وقائع اور روئدادوں کو پہچاننے اور ان کی طرف بڑھنے کی راہ کو آسان کرنے کیلئے اپنی تحقیقات کے نتیجہ کو شائع کیا ہے اور اس امید میں بیٹھا ہوں کہ محققین اس کام کو آگے بڑھائیں گے اور اس چھان بین کو دقیق اور مضبوط تر صورت میں انجام دیں گے، میں اس کتاب کے قارئین کو اطمینان دلاتا ہوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کے تئیں میری محبت اور وفاداری ان سے کم نہیں ہے جو اس سلسلے میں تظاہر کرتے ہیں ، البتہ اس سلسلہ میں اصحاب کے وہ افراد جن کا تاریخ میں اسلام کی نسبت نفاق اور دو رخی ثابت ہوچکی ہے ، اس کے علاوہ میں احترام اور ان کی پرستش میں فرق کا قائل ہوں ، کیونکہ میں مشاہدہ کررہا ہوں کہ ان دانشوروں نے اصحاب کی عزت و احترام کو تقدیس و ستائش کی اس حد تک آگے بڑھایا ہے کہ ان میں سے بعض افراد اپنے شائستہ اسلاف کی (خدا کی پنا ہو) غیر شعوری طور پر پرستش کرنے لگے ہیں ، خداوند ہمیں ، ان کو اور تمام مسلمانوں کو اس غلطی سے نجات دے ۔
بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ جس کسی نے بھی پیغمبر خدا کو دیکھا ہے اور اس دیدار کے دوران اگر ایک لمحہ(۱) کےلئے بھی مسلمان ہوگیا ہے ، وہ صحابی ہے اور ان کے اعتقاد کے مطابق صحابی فرشتہ جیسا ہے جس کی فطرت میں خواہشات اور غریزے کا دخل نہیں ہوتا ، لہذا وہ جب اس کے برعکس کچھ سنتے ہیں تو برہم ہوجاتے ہیں اور ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتے ہیں اور اس طرز تفکر کی وجہ سے یہ لوگ کافی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں فی الحال ان پر بحث کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔
آخر کلام میں امید رکھتا ہوں کہ باریک بین اور تیز فہم حضرات ، اس کتاب کی پہلی طباعت کے مقدمہ میں چھپے ہوئے میرے اس جملہ کو پڑھ لیں :
” جو لوگ تاریخ میں لکھی گئی چیزوں کو بوڑھی عورتوں کے خرافات اور بیہودگیوں کی نسبت تعصب کے مانند اعتقاد رکھتے ہیں ، وہ اس کتاب کو نہ پڑھیں “
اس کے علاوہ بھی چندتنقید یں ہوئی ہیں ، مثلاً اعتراض کیا گیا ہے کہ کیوں اس کتاب کا نام ” عبدا للہ بن سبا“ رکھا گیا ہے جبکہ اس میں ”عبدا للہ بن سبا “ کی بہ نسبت دوسری داستانیں زیادہ ہیں ؟
اس سوال کا ہم نے اس کتاب کی پہلی طباعت کے مقدمہ میں جواب دیدیا ہے اور اس کے علاوہ کتاب کے سرورق پر واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ کتاب ” عبدا للہ بن سبا “ اور دیگر تاریخی داستانوں پر مشتمل ہے مزید ہم نے پہلی طباعت کے مقدمہ میں کہا ہے :
____________________
۱۔ کتاب الاصابہ، ( ۱/۱۰) الفصل الاول ” فی تعریف الصحابی “ کی طرف رجوع کیا جائے ۔
” قارئین کرام جلدی ہی سمجھ لیں گے کہ یہ کتاب صرف عبد اللہ بن سبا اور اس کی داستان سے مربوط نہیں ہے بلکہ بحث کا دامن اس سے وسیع تر ہے “
ہم نہیں سمجھتے کہ اس کے باوجود تنقید کرنے والوں کےلئے یہ مطلب کیونکر پوشیدہ رہ گیا ؟!
ضمناً ہم نے کتاب کے آخر میں مصر کے معاصر دانشور جناب ڈاکٹر احسان عباس کی عالمانہ تنقید اور ان کے سوالات درج کرنے کے بعد ان کا جواب لکھا ہے ۔
و مَا توفیقی الا بالله علیه توکلت و الیه انیب
اس تحریر کو میں نے ذی الحجة ۱۳۸۷ ھ ء عید قربان کے دن منی کے خیمون میں مکمل کیا ہے خداوند عالم مسلمانوں کےلئے ایسی عیدیں باربار لائے اور وہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے احکام الہی کو انجام دینے میں تلاش و جستجو کریں تا کہ خداوندعالم ان کی حالت کو بدل دے ۔
اِن َّ اللهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقُومٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (۱)
صدق الله العلیّ العظیم
سید مرتضی عسکری
____________________
۱۔ خدا کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرے رعد/ ۱۱
مباحث پر ایک نظر
کتاب کی دوسری طباعت پر مصنف کا مقدمہ
میں نے حدیث اور تاریخ اسلام کی چھان بین اور تحقیق کے دوران حاصل شدہ نتیجہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے اور فیصلہ کرچکا ہوں کہ ہر حصے میں اپنی تحقیق کے نتائج کو براہ راست شائع کروں ، یہ چار حصے حسب ذیل ہیں :
اول : حدیث و تاریخ پر اثر ڈالنے والے تین بنیادی اسباب کی تحقیق۔
الف۔پوجا اور پرستش کی حد تک بزرگوں کی ستائش کا اثر
ب۔وقت کے حکام کا حدیث اور تاریخ پر اثر
ج۔حدیث اور تاریخ پر مذہبی تعصب کا اثر
اس بحث میں مذکورہ تین مؤثر کی وجہ سے حدیث اور تاریخ میں پیدا شدہ تحریف اور تبدیلیوں پر چھان بین ہوئی ہے لیکن آج تک اسے نشر کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی ہے۔
دوم : ام المؤمنین عائشہ کی احادیث
یہ بحث دو حصوں میں تقسیم ہوئی ہے ، اس کا پہلا حصہ حضرت عائشہ کی حالات زندگی سے متعلق ہے، جو عربی زبان میں ۳۱۴ صفحات پرمشتمل ۱۳۸۰ ء ھ میں تھران میں شائع ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ ام المؤمنین کی احادیث کے تجزیہ و تحلیل پر مشتمل ہے یہ حصہ ابھی تک شائع نہیں ہوا ہے ۔
سوم : صحابہ کی احادیث
اس حصہ میں بعض اصحاب کی احادیث ، جن میں ابو ہریرہ کی احادیث اہم تھیں ، جمع کی گئی ہیں اور میں اس کو شائع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ، لیکن جب میں نے آیت اللہ سید عبدا لحسین شرف الدین کی کتاب ” ابو ہریرہ“ دیکھی تو اسے اس سلسلے میں کافی سمجھ کر اپنی کتاب کو شائع کرنے سےمنصرف ہوگیا۔
چہارم : سیف کی احادیث:
اس حصہ میں سیف بن عمیر کی روایتوں کی چھان بین کی گئی ہے جن میں اس نے ۱۱ ھء سے ۳۷ ھ ء تک کے تاریخی وقائع نقل کئے ہیں ۔
سیف نے پہلے سقیفہ ، پھر مرتدوں سے جنگ اور اس کے بعد خلفائے ثلاثہ کے دوران مسلمانوں کی فتوحات کے بارے میں لکھا ہے اور آخر میں اسلامی شہروں میں حضرت عثمان کی حکومت اور بنی امیہ کے خلاف بغاوتوں کو عثمان کے قتل تک کے واقعات کی وضاحت کی ہے پھر امیر المؤمنین کی بیعت اور جنگ جمل کی بات کی ہے ، اور ان وقائع میں بنی امیہ کی بدکرداریوں کی پردہ پوشی کرنے کےلئے عبد الله بن سبا اور سبائیوں کا افسانہ گڑھ لیا ہے ، اس طرح ان تمام وقائع کو بنی امیہ اور قریش کے تمام اشراف کے حق میں خاتمہ بخشتا ہے ۔
میں نے اس حصہ میں سیف کے چند افسانوں کو تاریخ کی ترتیب سے درج کرکے ” احادیث سیف“ کے عنوان سے طباعت کےلئے آمادہ کیا ،مرحوم شیخ راضی آل یاسین کو میر ی تصنیف کے بارے میں اطلاع ملی اور انہوں نے فرمایا کہ : سیف بن عمیر ناشناختہ ہے لہذا ” احادیث سیف “ کا عنوان جذابیت نہیں رکھتا ہے ، چونکہ سیف کا سب سے بڑا افسانہ ” عبد اللہ بن سبا “ اور سبائی ہے ، لہذا بہتر ہے اس کتاب کا نام ”’ عبدا للہ بن سبا “ رکھا جائے ، اس لئے اس کتاب کا نام بدل کر ” عبدا للہ ابن سبا “ رکھا اور اسے طباعت کے لئے پیش کیا ۔
اس کتاب کی طباعت کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ سیف کے افسانوں کے بہت سے سورما پیغمبر خدا کے اصحاب کے طور پر پیش کئے گئے ہیں لہذا اس کتاب کی پہلی جلد کے آخر میں اس کے بارے میں اشارہ کرنے کے بعد اس سلسلے میں اصحاب پیغمبر کے بارے میں حالات درج کئے گئے منابع اور کتابوں کی تحقیق کی، اور مطالعہ کرنے لگا اس تحقیق کے نتیجہ میں ” ایک سو پچاس جعلی اصحاب “ کے عنوان سے ایک الگ کتاب تالیف کی اور طباعت کے حوالے کی ۔ لہذا سیف کی احادیث کے بارے میں بحث تین حصوں میں انجام پائی :
۱ ۔ عبدا للہ بن سبا اور چند دیگر افسانے ۔
۲ ۔ عبدا لله بن سبا اورسبائیوں کا افسانہ۔
۳ ۔ ایک سو پچاس جعلی اصحاب ۔
پہلے حصہ میں سیف کی پندرہ قسم کی روایتوں کی حیات پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عثمان کی خلافت تک ان کے واقع ہونے کے سالوں کی ترتیب سے چھان بین کی گئی ہے ۔ یہ حصہ کتاب ” عبدا للہ بن سبا “ کی پہلی جلد پر مشتمل ہے ، جس میں درج ذیل دو موضوعات پر بحث کی گئی ہے:
۱ ۔ اسامہ کا لشکر
۲ ۔ سقیفہ اور ابو بکر کی بیعت
اس کتاب کی دوسری جلد میں مندرجہ ذیل موضوعات پر بحث کی گئی ہے ۔
۳ ۔ اسلام میں ارتداد ۔
۴ ۔ مالک بن نویرہ کی داستان۔
۵ ۔ علاء حضرمی کی داستان۔
۶ ۔ حواب کی سرزمین اور وہاں کے کتے۔
۷ ۔ نسلِ زیاد کی اصلاح۔
۸ ۔ مغیرہ بن شعبہ کے زنا کی داستان ۔
۹ ۔ ابو محجن کی شراب نوشی ۔
۱۰ ۔ سیف کے ایام ۔
۱۱ ۔ شوریٰ اور عثمان کی بیعت ۔
۱۲ ۔ ہرمزان کے بیٹے قماذبان کی داستان۔
۱۳ ۔ تاریخ کے سالوں میں سیف کی دخل اندازی۔
۱۴ ۔ سیف کے افسانوی شہر
۱۵ ۔ خاتمہ
کتاب کی اس جلد کو عربی متن کے ساتھ مطابقت کرنے کے بعد اس میں روایتوں کے مآخذ کی چھان بین اور جعلی اصحاب کو مشخص کرنے کے سلسلے میں چند اہم حصوں کا اضافہ کرکے طباعت کےلئے پیش کیا گیا ۔ خدائے تعالی سے استدعا ہے کہ ہمیں اس کتاب کی دوسری جلد اور کتاب ” ۱۵۰ جعلی اصحاب“ کو طبع کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
سید مرتضی عسکری
تہران جمعہ ۱۴/ ۴/ ۱۳۸۶ ھ
آغاز بحث
پہلی طباعت کا مقدمہ
میں ۱۳۶۹ ھء میں حدیث و تاریخ کے بارے میں چند موضوعات کا انتخاب کرکے ان پر تحقیق و مطالعہ کررہا تھا، منابع و مآخذ کا مطالعہ کرنے کے دوران میں نے حدیث اور تاریخ کی قدیمی ، مشہور اور معتبر ترین کتابوں میں موجود بعض روایتوں کے صحیح ہونے میں شک کیا، اس کے بعد میں نے شک وشبہہ پیدا کرنے والی راویتوں کو جمع کرکے انھیں دوسری روایتوں سے موازنہ کیا اس موازنہ نے مجھے ایک ایسی حقیقت کی راہنمائی کی جو فراموشی کی سپرد ہوچکی تھی اور تاریخ کے صفحات میں گم ہو کر زمانے کے حوادث کی شکار ہوچکی تھی ۔
جب اس قسم کی روایتوں کی تعداد قابل توجہ حد تک بڑھ کر ایک مستقل کتاب کی شکل اختیار کرگئی تو میں نے اخلاقی طور پر اس ذمہ داری کا احساس کیا کہ اس ناشناختہ حقیقت کے چہرہ سے پردہ اٹھاؤں ۔
اس کے بعد میں نے اس سلسلے میں لکھی گئی یادداشتوں کو چند فصلوں میں تقسیم کیا اور انھیں ”احادیث سیف “ کا نام دیا، میرے اس کام سے ” کتاب صلح حسن “ کے مؤلف جناب شیخ راضی یاسین طاب ثراہ آگاہ ہوئے اور انہوں نے مجھے اس بحث کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی فرمائی اور یہ تجویز پیش کی کہ اس کتاب کا نام ” عبد اللہ بن سبا “ رکھوں ، اور میں نے بھی ان کی تجویز سے اتفاق کیا۔
میری تحقیق کا یہ کام سات سال تک یوں ہی پڑا رہا اور اس دوران گنے چنے چند دانشوروں کے علاوہ اس سلسلے میں کوئی اورآگاہ نہ ہو ا، جس چیز نے مجھے اس مدت کے دوران اس کتاب کی طباعت سے روکا ، وہ یہ تھا کہ میں اس امر سے ڈرتا تھا کہ بعض مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے ، کیونکہ احادیث اور روایات کا یہ مجموعہ ان واقعات کے بارے میں تھا جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ۳۷ ھ ء تک گزرے ہیں ،اس مدت کے بارے میں لکھی گئی تاریخ، عام مسلمانوں کےلئے امر واقعی کے طور پر ثبت ہوچکی تھی اور ان کے اعتقادات کے مطابق اس میں کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں تھی عام لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ اس زمانے کے بارے میں لکھی گئی تاریخ ان کے دینی عقائد کا جزہے اور پسماندگان کو کسی قسم کے چون، چرا کے بغیر اسے قبول کرنا چاہئے ۔
یہ مباحث ، تاریخ کی بہت سی ایسی بنیادوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیتے ہیں ، جنھیں تاریخ دانوں نے بنیاد قرار دیگر ناقابل تغیر سمجھا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ مباحث اسلام کی بہت سی تاریخی داستانو ں کو غلط ثابت کرتے ہیں اور بہت سے قابل اعتماد منابع و مآخذکے ضعیف ہونے کا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں ۔(۱)
قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں گے کہ یہ بحث ” عبد اللہ بن سبا“ اور اس کے افسانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دامن کافی وسیع اور عمیق تر ہے ۔
____________________
۱۔اس لئے ” پیرزال “ کے مانند تاریخ میں لکھے گئے خرافات و توہمات پر ایمان و اعتقاد رکھنے والے حضرات کو یہ کتاب پڑھنی چاہئے ۔
اس سبب اور چندد یگر اسباب کی بنا پر اس کتاب کو شائع کرنے کے سلسلے میں میرے دل میں خوف پیدا ہوا تھا ، لیکن جب میں نے اس موضوع کے ایک حصہ کو تاریخ پر تحقیقاتی کام انجام دینے والے دو عالیمقام دانشوروں کی تحریروں میں پایا تو میرے حوصلے بڑھ گئے اور میں نے ان مباحث کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں نے ان مباحث میں قدیمی ترین تاریخی منابع و مآخذسے استفادہ کیا ہے اور پانچویں صدی کے بعد والے کسی شخص سے کوئی بات نقل نہیں کی ہے مگر یہ کہ پانچویں صدی کے بعد نقل کی گئی کسی بات کی بنیاد متقدمین سے مربوط ہو اور صرف اس کی شرح و تفصیل اس کے بعد والوں کسی نے کی ہو۔
ولله الحمد و منہ التوفیق
بغداد ۱۵ رمضان ۱۳۷۵ ھ
مرتضی عسکری
پہلا حصہ : عبدا للہ بن سبا کا افسانہ
افسانہ کی پیدائش
افسانہ کے روایوں کا سلسلہ
سیف بن عمر ۔ عبد الله بن سبا کے افسانہ کو گڑھنے والا۔
عبد الله بن سبا کے افسانہ کی پیدائش
”هٰذه هی اسطورة ابن سَبا بإیجاز “
یہ افسانہ عبد الله بن سبا اور اس کی پیدائش کا خلاصہ ہے۔
ایک ہزار سال سے زائد عرصہ پہلے مؤرخین نے ” ابن سبا“ کے بارے میں قلم فرسائی کرکے اس سے اور سبائیوں (اس کے ماننے والوں) سے حیرت انگیز اور بڑے بڑے کارنامے منسوب کئے ہیں ۔ لہذا دیکھنا چاہئے کہ
یہ ابن سبا کون ہے ؟ اور
سبائی کون ہیں ؟
ابن سبا نے کونسے دعوے کئے ہیں اور کیا کارنامے انجام دئے ہیں ؟
مؤرخین نے جو کچھ ” ابن سبا “ کے بارے میں لکھا ہے ، اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے
صنعا ، یمن کے ایک یہودی نے عثمان کے زمانے میں بظاہر اسلام قبول کیا ، لیکن خفیہطور پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف و افتراق پھیلانے میں مصروف تھا اور مسلمانوں کے مختلف بڑے شہروں جیسے ، شام ،کوفہ ، بصرہ اور مصر کا سفر کرکے مسلمانوں کے اجتماعات میں شرکت کرتا تھا اور لوگوں میں اس امر کی تبلیغ کرتا تھا کہ پیغمبر اسلام کےلئے بھی حضرت عیسی کی طرح رجعت مخصوص ہے اور دیگر پیغمبروں کی طرح حضرت محمد مصطفی کےلئے بھی ایک وصی ہے اور وہ حضرت علی علیہ السلام ہیں وہ خاتم الاوصیاء ہیں جیسے کہ حضرت محمد خاتم الانبیاء ہیں ۔ عثمان نے اس وصی کے حق کو غصب کرکے اس پر ظلم کیا ہے ، لہذا شورش اور بغاوت کرکے اس حق کو چھین لینا چاہئے ۔
مؤرخیں نے اس داستان کے ہیرو کا نام ” عبد الله بن سبا “ اور اس کا لقب ” ابن امة السوداء “ (سیاہ کنیز کا بیٹا)رکھا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسی عبد الله بن سبا نے اپنے مبلغین کو اسلامی ممالک کے مختلف شہروں میں بھیج کر انھیں حکم دیا تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بہانے، وقت کے حاکموں کو کمزور بنادیں ، نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت اس کی گرویدہ بن گئی اور انہوں نے اس کے پروگرام پر عمل کیا ،حتی ابوذر، عمار بن یاسر اور عبدا لرحمان بن عدیس جیسے پیغمبر کے بزرگ صحابی اور مالک اشتر جیسے بزرگ تابعین اور مسلمانوں کے دیگر سرداروں کو بھی ان میں شمار کیا ہے ۔
کہتے ہیں کہ سبائی جہاں کہیں بھی ہوتے تھے ، اپنے قائد کے پروگرام کو آگے بڑھانے کی غرض سے لوگوں کو علاقہ کے گورنروں کے خلاف بغاوت پر اکساتے تھے او روقت کے حکام کے خلاف بیانات اور اعلانیہ لکھ کر مختلف شہروں میں بھیجتے تھے ۔ اس تبلیغات کے نتیجہ میں لوگوں کی ایک جماعت مشتعل ہوکر مدینہ ک طرف بڑھی اور عثمان کو ان کے گھر میں محاصرہ کرکے انھیں قتل کر ڈالا ۔ کہ سب کام سبائیوں کی قیادت میں اور انھیں کے ہاتھوں سے انجام پاتے تھے ۔
اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے علی علیہ السلام کی بیعت کی اور عائشہ، عثمان کی خونخواہی کیلئے طلحہ و زیبر کے ہمراہ، راہی بصرہ ہوئی تو شہر بصرہ کے باہر علی علیہ السلام اور عائشہ کی سپاہ کے سرداروں ، طلحہ و زبیر کے درمیان گفت و شنید ہوئی ۔ سبائی جان گئے کہ اگر ان میں مفاہمت ہوجائے تو قتل عثمان کے اصلی مجرم ، جو سبائی تھے ، ننگے ہوکر گرفتار ہوجائیں گے ۔ اس لئے انہوں نے راتوں رات یہ فیصلہ کیا کہ ہر حیلہ و سازش سے جنگ کی آگ کوبھڑکا دیں ۔
اس فیصلہ کے تحت خفیہ طور پر ان کاہی ایک گروہ علی علیہ السلام کے لشکر میں اور ایک گروہ طلحہ و زبیر کے لشکر میں گھس گیا ۔ جب دونوں لشکر صلح کی امید میں سوئے ہوئے تھے تو ، علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوئے گروہ نے مقابل کے لشکر پر تیر اندازی کی اور دوسرے لشکر میں موجود گروہ نے علی علیہ السلام کے لشکر پر تیر اندازی کی ۔ نتیجہ کے طور پر دونوں فوجوں میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی اور بے اعتمادی پید اہوگئی جس کے نتیجہ میں جنگ بھڑک اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ اس بنا پر بصرہ کی جنگ ، جو جنگ جمل سے معروف ہے چھڑ گئی ورنہ دونوں لشکروں کے سپہ سالاروں میں سے کوئی ایک بھی اس جنگ کےلئے آمادہ نہ تھا اور وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس جنگ کا اصلی عامل کون تھا۔
اس افسانہ ساز نے داستان کو یہیں پر ختم کیا ہے اور سبائیوں کی سرنوشت کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے ۔
یہ تھا ” سبائیوں “ کے افسانہ کا ایک خلاصہ ، اب ہم اس کی بنیاد پر بحث کرنے سے پہلے مناسب سمجھتے ہیں کہ ” سبائیوں “ میں شمار کئے گئے بزرگوں میں سے بعض کے بارے میں جانکاری حاصل کریں
۱ ۔ ابوذر
۲ ۔ عمار بن یاسر
۳ ۔ عبد الرحمان بن عدیس
۴ ۔ صعصعہ بن صوحان
۵ ۔ محمد بن ابی حذیفہ
۶ ۔ محمد بن ابی بکر ، خلیفہ اول کے بیٹے ۔
۷ ۔ مالک اشتر
۱ابوذر
ان کا نام جندب بن جنادہ غفاری تھا ، وہ اسلام لانے میں سبقت حاصل کرنے والے پہلے چار افراد میں چوتھے شخص تھے ، وہ جاہلیت کے زمانے میں بھی خدا پرست تھے اور بت پرستی کو ترک کرچکے تھے ، جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو مکہ مکرمہ میں بیت الله الحرام کے اندر اپنے اسلام کا اظہار کیا اس لئے قریش کے بعض سرداروں نے انھیں پکڑ کر اس قدر ان کی پٹائی کی کہ وہ لہو لہان ہوکر زمین پر بیہوش گر پڑے، وہ اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلے گئے ، ہوش میں آنے کے بعد وہ پیغمبر خدا کے حکم سے واپس اپنے قبیلہ میں چلے گئے اور بدر و احد کے غزوات کے اختتام تک وہیں مقیم رہے ۔
اس کے بعد مدینہ آئے او رآنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد انھیں شام بھیجا گیا ، لیکن عثمان کے زمانے میں معاویہ نے ان کے بارے میں خلیفہ کے یہاں شکایت کی اور عثمان نے انھیں مکہ و مدینہ کے درمیان ”ربذہ “ نام کی ایک جگہ پر جلا وطن کردیاا ور آپ ۳۲ ھ میں وہیں پر وفات پاگئے ۔
ابوذر کی مدح و ستائش میں رسول خد ا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت سی احادیث موجود ہیں من جملہ آپ نے فرمایا:
”مَا اظلّت الخضراء و لا اقلّت الغبراء علی ذی لهجة اصدق من ابی ذر “
آسمان اور زمین نے ابوذر جیسے راستگو شخص کو نہیں دیکھا ہے(۱)
____________________
۱۔ ابو ذر کی تشریح ، طبقات ابن سعد، ج ۴ ص ا۱۶ ۔ ۱۷۱، مسند احمد، ج ۲/ ۱۶۳و ۱۷۵، ۲۶۳، ج۵/ ۱۴۷ و ۱۵۵، ۱۵۹، ۱۶۵، ۱۶۶، ۱۷۲، ۱۷۴، ۳۵۱، ۳۵۶، و ج ۶/ ۴۴۲، اور صحیح بخاری و صحیح ترمذی اور صحیح مسلم کتاب مناقب میں ملاحظہ ہو۔
۲ عمار بن یاسر
ان کی کنیت ابو یقظان تھی اور قبیلہ بنی ثعلبہ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی والدہ کا نام سمیہ تھا ، ان کا بنی مخزوم کے ساتھ معاہدہ تھا۔
عمار اور ان کے والدین اسلام کے سابقین میں سے تھے ، وہ ساتویں شخص تھے جس نے اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ، عمار کے والد اور والدہ نے اسلام قبول کرنے کے جرم میں قریش کی طرف سے دی گئےں جسمانی اذیتوں کا تاب نہ لا کر جان دیدی ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے عمار کی ستائش میں کئی صحیح احادیث روایت ہوئی ہیں ، من جملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
عمار کی سرشت ایمان سے لبریز ہے(۱) ۔
انہوں نے جنگِ جمل اور صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی رکاب میں شرکت کی ہے اور جمعرات ۹ صفر ۳۷ ھ کو ۹۳ سال کی عمر میں شہید ہوئے ہیں ۔(۲)
____________________
۱۔”ان عماراً ملیء ایماناً الی مشاشه “
۲۔ ملاحظہ ہو : مروج الذہب ، مسعودی، ج /۲۱ ۔ ۲۲، طبعی و ابن اثیر میں حوادث سال ۳۶ ۔ ۳۷ ھ ، انساب الاشراف بلاذری، ج۵ ، ص ۴۸ ۔ ۸۸ ، طبقات ابن سعد، ج ۳، ق ۱ ، ۱۶۶۔ ۱۸۹، مسند احمد، ج ۱/ ۹۹ و ۱۲۳، ۱۲۵، ۱۳۰، ۱۳۷، ۲۰۴، اور ج ۲/ ۱۶۱ ، ۱۶۳، ۲۰۶، و ج ۳/ ۵،۲۲، ۲۸ ۔
۳ محمد بن ابی حذیفہ
ان کی کنیت ابو القاسم تھی ۔ وہ عتبہ بن ربیعہ عبشمی کے فرزند تھے، ان کی والدہ سہلہ بنت عمرو عامریہ تھیں ، محمد بن ابی حذیفہ ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں حبشہ میں پیدا ہوئے ہیں ، ان کے باپ ابو حذیفہ یمامہ میں شہید ہو ئے تو عثمان نے اسے اپنے پاس رکھ کر اس کی تربیت کی ابن ابی حذیفہ کے بالغ ہونے اور عثمان کے خلافت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد اس نے عثمان سے مصر چلے جانے کی اجازت چاہی ۔ عثمان نے بھی اجازت دیدی ، جب مصر پہنچے تو دوسروں سے زیادہ لوگوں کو عثمان کے خلاف اکسانے پر معروف ہوئے ، جب ۳۵ ھ میں عبدالله بن ابی سرح اپنی جگہ پر عقبہ بن عامرکو جانشین قرار دے کر مدینہ چلا گیا تو محمد بن ابی حذیفہ نے اس کے خلاف بغاوت کی اور عقبہ بن عامر کو مصر سے نکال باہر کیا اس طرح مصر کے لوگوں نے محمد بن ابی حذیفہ کی بیعت کی اور عبد الله بن ابی سرح کو مصر سے واپس آنے نہ دیا ، اس کے بعد محمد بن ابی حذیفہ نے عبد الرحمان بن عدیس کو چھ سو سپاہیوں کی قیادت میں عثمان سے لڑنے کیلئے مدینہ روانہ کیا ، جب حضرت علی علیہ السلام خلیفہ ہوئے تو آپ نے محمد بن ابی حذیفہ کو مصر کی حکمرانی پر بدستور برقرار رکھا ، وہ اس وقت تک مصر کے حاکم رہے جب معاویہ صفین کی طرف جاتے ہوئے محمد بن ابی حذیفہ کی طرف بڑھا، محمد مصر سے باہر آئے اور معاویہ کو ” قسطاط “ میں داخل ہونے سے روکا، آخر کا ر نوبت صلح پر پہنچی اور طے یہ پایا کہ محمد بن ابی حذیفہ تیس افراد من جملہ عبد الرحمان بن عدیس کے ہمراہ مصر سے خارج ہوجائیں او رمعاویہ کی طرف سے انھیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، لیکن ان کے مصر سے خارج ہونے کے بعد معاویہ نے انھیں مکر و فریب سے گرفتار کرکے دمشق کے زندان میں مقید کر ڈالاکچھ مدت کے بعد معاویہ کے غلام ” رشدین“ نے محمد بن ابی حذیفہ کو قتل کر ڈالا ،
محمد بن ابی حذیفہ ان افراد میں سے ایک تھے جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےصحابی ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا(۱)
۴ عبد الرحمان بن عدیس بلوی
وہ صاحب بیعت شجرہ تھے ۔ مصر کی فتح میں شریک تھے اور وہاں پر ایک زمین کو آبادکرکے اس کے مالک بن گئے تھے ، مصر سے عثمان کے خلاف لڑنے کیلئے روانہ ہوئے لشکر کی سرپرستی اور کمانڈری ان کے ذمہ تھی، معاویہ نے محمد بن ابی حذیفہ سے صلح کا عہد و پیمان باندھنے کے بعد مکرو فریب سے عبد الرحمان بن عدیس کو پکڑ کر فلسطین کے ایک جیل میں ڈالدیا، ۳۶ ھ میں اس نے جیل سے فرار کیا لیکن اس کو دوبارہ پکڑ کر قتل کردیاگیا(۲)
۵ محمد بن ابی بکر
ان کی والدہ کا نام اسماء تھا اور وہ عمیس خثعمیہ کی بیٹی تھی ، جعفر ابن ابیطالب کی شہادت کے بعد ان کی بیوی اسماء نے ابو بکر سے شادی کی تھی اور حجة الودادع میں مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ
____________________
۱۔ اصابہ ، حرف میں ق ۱/ ج۳/ ۵۴، اسد الغابہ، ج ۴/ ص ۳۱۵، الاستیعاب ،ج ۳/ ۳۲۱۔۳۲۲۔
۲۔ اصابہ، ج ۴/ ۱۷۱ ق ۱، حرف عین ، استیعاب حرف عین کی طرف مراجعہ کری ں ۔
پیدا ہوئے پھر ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی آغوش تربیت میں پروان چڑھے، اور جنگ جمل میں آنحضرت کے ہمرکاب رہے اور پیادہ لشکر کی کمانڈری بھی کی۔
حضرت علی علیہ السلام کی حمایت میں تلوار چلائی اور اس جنگ میں پیدل فوج کی کمانڈر تھے ۔ انہوں نے جنگ صفین میں بھی شرکت کی ہے اور اس جنگ کے بعد امیر المؤمنین کی طرف سے مصر کے گورنر مقرر ہوئے اور ۱۵ رمضان المبارک ۳۷ ھ کو مصر پہنچ گئے ،معاویہ نے ۳۸ ھ کو عمرو عاص کی سرکردگی میں مصر پر فوج کشی کی ، عمرو عاص نے مصر پر قبضہ جمانے کے بعد محمد بن ابو بکر کو گرفتار کرکے اسے قتل کر ڈالا پھران کی لاش کو ایک مردار خچر کی کھالمیں ڈال کر نذر آتش کیا(۱)
۶ صعصعہ بن سوہان عبدی
انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا ہے ، وہ فصیح تقریر کرنے والا ایک شخص تھا انہوں نے جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی حمایت میں معاویہ سے جنگ کی ہے ، جب معاویہ نے کوفہ پر تسلط جمایا تو صعصعہ کو بحرین جلا وطن کردیااور انہوں نے وہیں پر وفات پائی(۲)
____________________
۱۔ تاریخ طبری ، سال ۳۷۔۳۸ ھ کے واقعات کے ذیل میں ، اصابہ، ج ۳/۴۵۱ق، حرف میم ، استیعاب ،ج ۳/ ۳۲۸ و ۳۲۹ ملاحظہ ہو
۲۔ اصابہ، ج۳/ ۱۹۲ حرف ص ، استیعاب، ج۲/ ۱۸۹۔
۷ مالک اشتر
انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو درک کیا ہے ، تابعین کے ثقات میں شمار ہوتے
تھے ، مالک اشتر اپنے قبیلے کے سردار تھے ، چونکہ یرموک کی جنگ میں ان کی آنکھ زخمی ہوگئی تھی اس لئے انہیں ” اشتر“ لقب ملا تھا ،انہوں نے جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے رکاب میں آپ کے دشمنوں سے جنگ لڑی اور نمایاں کامیابی حاصل کی ، ۳۸ ھ میں حضرت علی علیہ السلام نے انھیں مصر کا گورنر مقرر کیا ور وہ مصر کی طرف بڑھ گیے ، جب وہ قلزم (بحر احمر) پہنچے تو معاویہ کی ایک سازش کے تحت انھیں زہر دیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ وفات پاگئے(۱) یہ تھا صدر اسلام کے بزرگ مسلمانوں کے ایک گروہ کے حالات کا خلاصہ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مؤرخین کی ایک جماعت نے انھیں ایک نامعلوم یہودی کی پیروی کرنے کی تہمت لگائی ہے ؟!!!
اب جب کہ ہمیں معلوم ہوا کہ عبد الله بن سبا کا افسانہ کیاہے ، تو اب مناسب ہے اس افسانہ کے سر چشمہ اور آغاز کی تلاش کریں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس کو کس نے گڑھ لیا ہے اور اس کے راوی کون ہیں ۔
____________________
۱۔ استیعاب ، ابی بکر کے ترجمہ کے ذیل میں ج ۳/ ۳۲۷، اصابہ ج ۳/ ۴۶۹، اور
افسانہ عبدا للہ بن سبا کے راوی
”اکثر من عشرة قرون و المؤرّخون یکتبوں هذه القصة “
دس صدیو ں سے زیادہ عرصہ سے مورخین اس افسانہ کو صحیح تاریخ کے طورپر لکھتے چلے آئے ہیں ۔
” مولف“
بارہ صدیاں گزر گئیں کہ مؤرخین ” عبدا للہ بن سبا “ کے افسانہ کو لکھتے چلے آ رہے ہیں ۔ جتنا بھی وقت گزرتا جارہاہے ، اس افسانہ کو زیادہ سے زیادہ شہرت ملتی جارہی ہے ، یہاں تک کہ آج بہت کم ایسے قلم کار دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے اصحاب کے بارے میں قلم فرسائی کی ہو اور اپنی تحریرات میں ا س افسانہ کو لکھنا بھول گئے ہوں ! بے شک گزشتہ اور موجودہ قلم کاروں میں یہ فرق ہے کہ قدیمی مؤلفین نے اس افسانہ کو حدیث اور روایت کے روپ میں لکھا ہے اور اس افسانہ کو اپنی گڑھی ہوئی روایتوں کی صورت میں بیان کیا ہے جبکہ معاصر مؤلفین نے اس کو علمی اور تحقیقاتی رنگ سے مزین کیا ہے ۔
اس لحاظ سے اگر ہم اس موضوع کی علمی تحقیق کرنا چائیں تو ہم مجبور ہیں پہلے اس افسانہ کے سرچشمہ اور اس کے راویوں کی زندگی کے بارے میں ابتداء سے عصر حاضر تک چھان بین کریں تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ کن لوگوں اور کن منابع کی بنا پر اس داستان کی روایت کی گئی ہے اس کے بعد اصلی داستان پر بحث کرکے اپنا نظریہ پیش کریں ۔
مسلمان تاریخ نویسوں کی نظر میں عبدالله بن سبا کی داستان
۱ سید رشید رضا(۱)
متاخرین میں سے سید رشید رضا نے یوں کہاہے :
” چوتھے خلیفہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے نام پر شیعیت ، امت محمدی میں دینی اور سیاسی اختلاف کا آغاز تھا ، پہلا شخص جس نے تشیع کے اصول گڑھے ہیں ، وہ عبد الله بن سبا نامی ایک یہودی تھا جس نے مکر و فریب کی بنا پر اسلام کا اظہار کیا تھا ۔ وہ لوگوں کو علی علیہ السلام کے بارے میں غلو کرنے کی دعوت دیتا تھا تا کہ اس طرح امت میں اختلاف اور تفرقہ پھیلا کر اسے تباہ و برباد کرے(۲)
سید رشید رضا اس داستان کو اپنی کتاب کے چھٹے صفحہ تک جاری رکھتے ہوئے اس پر اپنا خاطر خواہ حاشیہ لگایا ہے ، جب ہم اس سے اس خیالی داستان کے ثبوت اور مصادر کے بارے میں پوچھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ داستان کو نقل کرنے کے بعد یوں لکھاہے :
” اگر کوئی تاریخ ابن اثیر کی تیسری جلد کے صفحہ ۹۵ ۔ ۱۰۳ پر جنگ جمل کے واقعہ کی
____________________
۱۔ متولد ۱۳۶۵ھ
۲۔ سید رشید رضا کی الشیعہ و السنة ،ص ۶۔۴۔
خبر کا مطالعہ کرے تو اسے بخوبی معلوم ہوگا کہ ” سبائیوں “ نے کس حد تک اختلاف اندازی کی ہے اور نہایت ذہانت اور چالاکی سے اپنی مہارت کا اظہار کیا ہے اور صلح کی راہ میں کتنی روکاوٹیں ڈالی ہیں ، اس بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ سید رشید رضا نے اس داستان کو ” تاریخ ابن اثیر “ پر بھروسہ کرکے نقل کیا ہے ۔
۲ ابو الفدء
ابو الفداء جس نے ۷۳۲ ھ میں وفات پائی ہے ، ” المختصر “ نامی اپنی تاریخ میں چند دوسری غیر صحیح داستانوں کے ساتھ ضمیمہ کرکے اپنی کتاب کے دیباچہ میں اس داستان کے ایک حصہ کو یوں لکھا ہے :
” میں نے اس کتاب کو شیخ عز الدین علی معروف بہ ابن اثیر جزری کی تالیف ’ ’ تاریخ کامل “ سے لیا ہے اور ابن اثیر کے مطالب کو خلاصہ کے طورپرمیں نے اپنی اِس کتاب میں درج کیا ہے “
۳ ابن اثیر
ابن اثیر وفات ۶۳۰ ھ ئنے اس داستان کو ۳۰ ۔ ۳۶ ء کے حوادث کے ضمن میں مکمل طور پر نقل کیا ہے، لیکن اس بات کی طرف کسی قسم کا اشارہ نہیں کیا ہے کہ اس نے اس داستان کو کس مآخذ سے نقل کیا ہے ، صرف کتاب کے دیباجہ میں(۱)
____________________
۱۔ صفحہ ۵ ،طبع مصر ۱۳۴۸ھ ۔
جس کا پورا نام ” الکامل فی التاریخ “ ذکر کیا ہے لکھا ہے :
” میں نے اس کتاب کے مطالب کو ابتداء میں امام ابو جعفر محمد طبری کی تالیف ” تاریخ الامم و الملوک “ سے نقل کیا ہے ، کیونکہ وہ تنہا کتاب ہے جو عام لوگوں کی نظروں میں قابل اعتماد ہے اور اگر کبھی کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو اس اختلاف کو دور کرنے کیلئے اس کتاب کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ، لہذا میں نے بھی اس کتاب کی روایتوں کو کسی دخل و تصرف کے بغیر من و عن نقل کیا ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اس نے اکثر واقعات کے بارے میں متعد روایتیں ذکر کی ہیں لیکن میں نے ان تمام روایتوں کے مطالب کو جمع کرکے ایک جگہ بیان کیا ہے ، نتیجہ کے طور پر جو کچھ اس نے ایک واقعہ کے بارے میں نقل کیا ہے اور اسے مختلف مآخذ کے حوالہ سے بیان کیا ہے ، میں نے اُسے ایک روایت کی شکلمیں ذکر کیا ہے “
یہاں تک کہ کہتا ہے :
” لیکن اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اختلافات کے بارے میں جو کچھ تھا اسے میں نے مذکورہ تاریخ سے من و عن نقل کرکے درج کیا ہے اور اس میں کسی قسم کا تصرف نہیں کیا ہے ، صرف مطالب کی وضاحت کی ہے یا اشخاص کے نام ذکر کئے ہیں اور یا خلاصہ کے طور پر ان کی تشریح اس طرح کی ہے کہ کسی صحابی کی بے احترامی نہ ہو“
اس لحاظ سے ابن اثیر، (جس سے ابو الفداء اور سید رشید رضا نے نقل کیا ہے)نے اس داستان کو تاریخ طبری سے نقل کیا ہے چونکہ یہ داستانیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کے درمیان رونما ہوئے حوادث کی تفصیلات سے مربوط جعل کی گئی ہیں ، لہذ اابن اثیر کے کہنے کے مطابق اس نے طبری کے نقل کردہ مطالب پر کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے ۔
۴ ابن کثیر
ابن کثیر ---(وفات ۷۷۴ ھ)نے بھی اس داستان کو اپنی تاریخ ” البدایة و النہایة “ کی ساتویں جلد میں طبری سے نقل کیا ہے اور اس کتاب کے صفحہ ۱۶۷ میں لکھاہے :
سیف بن عمر نے کہا ہے کہ عثمان کے خلافمختلف پارٹیوں کی بغاوت کا سبب یہ تھا کہ ” عبدا للہ بن سبا “ نامی ایک شخص نے ظاہری طور پر اسلام لانے کے بعد مصر میں جاکر خود کچھ عقائد اور تعلیمات گڑھ کر وہاں کے لوگوں میں ان عقائد کو پھیلای“
اس کے بعد عبداللہ بن سبا نے مربوط داستانوں کو تمام خصوصیات کے ساتھ اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۴۶ تک نقل کرتا ہے اور اس کے بعد لکھتا ہے :
” یہ اس کا ایک خلاصہ ہے جو کچھ ابو جعفر بن جریر طبری نے نقل کیا ہے “۔
اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بھی مذکورہ داستان کو ” تاریخ طبری “ سے نقل کیا ہے ۔
۵ ابن خلدون
عبد الرحمان بن محمد بن خلدون نے بھی ” المبتداء و الخبر “ نامی اپنی تاریخ میں ابن اثیر اور ابن کثیر کے ہی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے عبداللہ بن سبا کی داستان کو قتل عثمان اور جنگ جمل کے واقعہ میں ذکر کیا ہے پھر اسی کتاب کی جلد(۲) صفحہ ۴۲۵ میں جنگ جمل کا واقعہ درج کرنے کے بعد لکھا ہے :
یہ ہے جنگ جمل کا واقعہ جسے میں نے خلاصہ کے طور پر ابو جعفر طبری کی کتاب سے نقل کیا ہے، طبری اس لحاظ سے قابل اعتماد ہے کہ وہ باوثوق ہے اور اس کی کتاب ، ابن قتیبہ اور دوسرے مؤرخین کے یہاں موجود مطالب کی نسبت صحیح و سالم ہے “
اور صفحہ نمبر ۴۵۷ پر لکھاہے :
میں نے جو کچھ اس کتاب میں اسلامی خلافت کے موضوع، مرتدوں کے بارے میں فتوحات ، جنگوں اور اس کے بعد مسلمانوں کے اتحاد و اجتماع (امام حسن اور معاویہ کے درمیان صلح) کے بارے میں درج کیا ہے ، وہ سب امام ابو جعفر طبری کی عظیم تاریخ سے خلاصہ کے طور پر نقل کیا ہے ، چونکہ یہ تاریخ دیگر تواریخ کی نسبت قابل اعتمادہے اور ا سمیں ا یسے مطالب درج کرنے سے پرہیز کیا گیا ہے جو اس امت کے بزرگوں ، اصحاب اور تابعین کی بے احترامی کا سبب بنیں “
۶ فرید وجدی
فرید وجدی نے بھی اپنے” دائرة المعارف “ میں لغت ” عثم “ ، جنگ جمل اور حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے حالات بیان کرنے کے ضمن میں ان داستانوں میں سے بعض کا ذکر کیا ہے اور اسی کتاب کے صفحہ ۱۶۰ ، ۱۶۸ ، اور ۱۶۹ میں اشارہ کیا ہے کہ اس کا مآخذ ” تاریخ طبری “ ہے ۔
۷ بستانی
بستانی(وفات ۱۳۰۰ ھ)نے عبدا لله ابن سبا کی داستان کو ”تاریخ ابن کثیر “ سے نقل کرکے اپنے دائرة المعارف میں مادہ ” عبد اللہ “ کے تحت ذکر کیا ہے اور ” خطط مقریزی “(۱) کے بیان کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے اپنی بات تمام کی ہے ۔
۸ احمد امین
عصر حاضر کے مصنفین ، جوتاریخی حوادث کو تجزیہ و تحلیل کے طریقے سے لکھنا چاہتے ہیں اور ہر حادثہ کے سرچشمہ پر نظر رکھتے ہیں ، ان میں سے ایک احمد امین مصری ہیں ۔جنھوں نے ” فجر الاسلام “ نامی اپنی کتاب میں ایرانیوں اور اسلام پر ان کے اثر انداز ہونے کے بارے میں بحث کرتے ہوئے اس کے صفحہ نمبر ۱۰۹ سے ۱۱۱ تک ” مسلمانون پر زرتشت عقائد و افکار کے اثرات “ کے باب میں ” مزدک “ کے
____________________
۱۔ یہ احمد بن علی مقریزی وفات ۸۴۸ ھ ہے
بارے میں بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے میں ان کی بات کا خلاصہ حسب ذیل ہے(۱) ” مزدک کی اہم دعوت اس کا اشتراکی نظام مقصد تھا ، مزدک کہتا تھا
” لوگ مساوی طور پر دنیا میں آئے ہیں اور انھیں مساوی زندگی بسر کرنی چاہئے ، اہم ترین چیز جس میں لوگوں کو مساوات کا لحاظ رکھنا چاہئے ، دولت اور عورت ہے ، کیونکہ یہی دو چیزیں لوگوں کے درمیان دشمنی اور جنگ کا سبب بنتی ہیں ، لہذا لوگوں کو ان دو چیزوں میں ایک دوسرے کا شریک ہونا چاہئے تا کہ دشمنی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے “
وہ دولتمندوں کی دولت کو محتاجوں اور فقیروں میں تقسیم کرنا واجب جانتا تھا ، لہذا حاجتمندوں نے فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کے اس اعتقاد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی حمایت کی اور اس طرح وہ اس قدر قوی ہوگیا کہ کوئی اس کی مخالفت کی جرات نہیں کرسکتا تھا ، لوگوں کے گھروں پر حملہ کرکے ان کے مال و ناموس کو لوٹ لیتا تھا ، اس طرح ایسے حالات رونما ہوئے کہ نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچان سکتا تھا اور نہ بیٹا باپ کو جانتا تھا اور نہ کسی کی دولت باقی رہی تھی “
اس کے بعد احمد امین لکھتے ہیں کہ یہ دین اسلام کے پھیلنے کے زمانے اور بنی امیہ کی خلافت کے آخری ایام تک ایران کے بعض دیہاتی باشندوں میں موجود تھا ۔
اس مطلب کو بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
____________________
۱۔ احمد امین سے پہلے رشید رضا نے اپنی کتاب ” الشیعہ و السنة “ میں یہی بات کہی ہے ۔
” ہم مالی امور کے سلسلے میں ا بوذر کے نظریہ اور مزدک کے نظریہ میں شباہت پاتے ہیں ، کیونکہ طبری کہتا ہے ابوذر نے شام میں انقلاب کرکے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ ” اے دولتمندو حاجتمندوں کی مدد و یاری کرو“ اور یہ کہتا تھا : <اَلَّذِینَ یکنزون الذهب و الفضة و لا ینفقونها فی سبیل الله فبشّرهم بعذابٍ الیم >(۱)
اس نعرہ کو اس قدر دہرایا کہ تنگدستوں نے اسے اپنا منشور قرارد یا اور مساوات کو ثروتمندوں پر واجب سمجھنے لگے ، یہاں تک کہ دولتمندوں نے تنگ آکر شکایت کی اور معاویہ نے اس ڈر سے کہ کہیں ابوذر شام کے لوگوں کو اس کے خلاف بغاوت پر نہ اکسائےں ، اسے عثمان کے پاس مدینہ بھیج دیا۔
عثمان نے ابو ذر سے پوچھا : کیوں لوگ تیری زبان درازی پر تجھ سے شکایت کرتے ہیں ؟ ابوذر نے جواب میں کہا : دولتمند سزاوار نہیں ہیں کہ وہ اپنے مال کو جمع کریں !
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال اور دولت کے بارے میں ابوذر کا طرز تفکر مزدک کے نظریہ سے بہت نزدیک تھا یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابوذر نے نظریہ کہاں سے سیکھا تھا؟
ہم اس سوال کے جواب کو طبری کی تحریر میں پاتے ہیں جب وہ یہ کہتا ہے : ابن سوداء عبداللہ بن سبا نے ابوذر سے ملاقات کرکے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے ، البتہ عبداللہ بن سبا ابود رداء اور عبادہ بن صامت(۲) کے پاس بھی گیا تھا لیکن وہ اس کے فریب میں نہیں آئے تھے ، حتی عبادة بن
____________________
۱۔ مال و دولت کو جمع کرکے راہ خدا میں خرچ نہ کرنے والو ں کو خبردار کرو کہ ان کی پیشانی اور پہلو کو داغ کرنے کیلئے اوزار آمادہ ہے ۔
۲۔یہ دونو ں پیغمبر خدا کے اصحاب ہیں ، اس کتاب کے آخر میں ان کے حالات پر روشنی ڈالی جائے گی۔
صامت نے ابن سوداء کے گریبان پکڑ کر اسے معاویہ کے پاس لے گیا اور معاویہ سے کہا: خدا کی قسم یہ وہ شخص ہے جس نے ابوذر کو تیرے خلاف اکسایا ہے(۱)
اس کے بعد احمد امین بیان کو اس طرح جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں :
ہم جانتے ہیں کہ عبداللہ بن سبا صنعاء کا رہنے و الا ایک یہودی شخص تھا ، اس نے عثمان کے زمانے میں ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا تا کہ اسلام کو نابود کردے ، اس لئے اس نے مختلف شہروں میں اپنے گمراہ کن اور مضر افکار کو پھیلادیا جن کے بارے میں بعد میں ہم اشارہ کریں گے۔
چونکہ ابن سبا نے حجاز ، بصرہ ، کوفہ ، شام اور مصر جیسے بہت سے شہروں کا سفر کیا تھا ا س لئے اس کا قوی امکان ہے کہ اس نے اس طرز تفکر کو عراق یا یمن کے مزدکیوں سے حاصل کیا ہوگا اور ابوذر نے اس سے حسن نیت رکھنے کی بنا پر اس نظریہ کو قبول کیا ہوگا“
اور حاشیہ میں لکھا ہے :
____________________
۱” تاریخ طبری کا حصہ پنجم ملاحظہ ہو “
وہ اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۱۲ میں اس طرح نتیجہ اخذ کرتے ہیں :
” مزدک و مانی وہ سرچشمہ تھے جن سے رافضیوں -(شیعوں) نے اپنے عقائد اخذ کئے ہیں ، انہوں نے علی علیہ السلام اور آل علی علیہ السلام کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ اپنے ایرانی اسلام کے اس عقیدہ سے لیا ہے جو وہ ساسانی بادشاہوں کے بارے میں رکھتے تھے ، کیونکہ وہ پادشاہوں کی پادشاہی کو ایک قسم کا خدائی حق جانتے تھے ۔
احمد امین نے وعدہ کیا تھا کہ ” مختلف شہروں میں ان گمراہ کن اور مضر عقیدوں و و افکار کو پھیلنے کے بارے میں بعد میں اشارہ کریں گے “ وہ اس وعدہ کو پورار کرتے ہوئے اپنی کتاب کے صفحہ ۲۵۴ پر اسلامی فرقوں کے بارے میں بحث کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ہیں :
عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں بعض گروہ مخفی طور پر جگہ جگہ پھیل گئے اور لوگوں کو عثمان کا تختہ الٹنے، اس کی جگہ پر دوسروں کو بٹھانے کی ترغیب دلانے لگے ۔
ان فرقوں میں سے بعض فرقے علی علیہ السلام کے حق میں پروپگنڈہ کرتے تھے ، ان کے سرغنوں میں سب سے مشہور شخص عبداللہ بن سبا تھا ، جو یمن کا ایک یہودی تھا اور اس نے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا اور بصرہ ، شام و مصر کے شہروں کا دورہ کرتا تھا اور لوگوں سے کہتا تھا : ہر پیغمبر کا ایک وصی تھا اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصی، علی علیہ السلام ہیں اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت پر عمل نہ کرے اور ا س کے وصی کے خلاف بغاوت کرے ؟ ابن سبا ان معروف افراد میں سے تھا جس نے لوگوں کو عثمان کے خلاف بغاوت پر اکسایا “
اس کے بعد صفحہ ۲۵۵ پر لکھتے ہیں :
” یہ اس تاریخ کا خلاصہ ہے جس کو نقل کرنے پر میں مجبور تھا ، کیونکہ مسلمانوں کے سب سے بڑے تین فرقے اسی کی بناء پر وجود میں آئے ہیں جو عبارت ہیں ، شیعہ اور “
اپنی کتاب کے ۲۶۶ ۔ ۲۷۸ پر شیعوں سے مربوط فصل میں ایسے مطالب کو واضح تر صورت میں بیان کیا ہے ۔ وہ صفحہ ۲۷۰ پر رقم طراز ہیں :
رجعت کے عقیدہ کو ابن سبا نے مذہب یہود سے لیا ہے کیونکہ وہ لوگ اس امر کے معقتد ہیں کہ الیاس پیغمبر نے آسمان کی طرف عروج کیا ہے اور وہ واپس آئیں گے اس عقیدہ نے شیعوں کو ائمہ کے غائب ہونے او رمھدی منتظر کے اعتقاد رکھنے پر مجبور کیا ہے(۱) اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۷۶ پر مذکورہ مقدمات کا حسب ذیل نتیجہ اخذ کرتے ہیں :’ ’ حقیقت میں تشیع ایسے لوگوں کی پناہ گاہ تھی جو اسلام کے ساتھ دشمنی اور کینہ رکھنے کی بناء پر اسے نابود کرنا چاہتے تھے ۔ جو بھی گروہ اپنے اسلام یعنی یہودی ، عیسائی اور زردشتی دین کو اسلام میں داخل کرنا چاہتا تھا ، اس نے اہل بیت پیغمبر کی دوستی
____________________
۱۔ مؤلف نے مصری عالم شیخ محمود ابوریہ کے نام لکھے گئے اپنے خط میں مھدی موعود (عج) کے بارے میں شیعو ں کے عقیدہ کے سلسلہ میں کچھ دلائل لکھے ہیں ، اس خط کا ایک حصہ مذکورہ عالم کی کتاب ” اضواء علی السنة المحمدیہ “ میں درج ہوا ہے ، طبع صور لبنا ں ۱۳۸۳ ھ ء ملاحظہ ہو۔
کو وسیلہ قرار دیا اور اس آڑ میں جو بھی چاہا انجام دیا ، شیعوں نے رجعت کے عقیدہ کو یہودیوں سے سیکھا ہے(۱)
اور صفحہ ۲۷۷ پریوں تحریک کرتے ہیں :
ولھاوزن کا عقیدہ یہ ہے کہ تشیع ایرانیوں کے دین کی بہ نسبت ،دین یہود سے زیادہ متاثر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ تشیع کا بانی عبداللہ بن سبا نامی ایک یہودی شخص تھا ۔“
احمد امین کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ شیعوں نے رجعت اور امامت کے عقیدہ کو عبدا للہ بن سبا سے لیاہے اور ائمہ کی عصمت اور غیبت مھدی (عج) کے عقیدہ کا سرچشمہ بھی یہی ہے اور ابوذر نے جو اشتراک کی تبلیغ کی ہے یہ تبلیغات اور تعلیمات بھی عبداللہ بن سبا سے سیکھی ہے اور ابن سبا نے بھی رجعت کے عقیدہ کو دین یہود سے لیا ہے اور اشتراکی نظریہ کو مزدک کے دین سے اخذ کیا ہے اور عبدا لله بن سبا نے یہ کام علی علیہ السلام کے حق کے مطالبہ کی آڑ میں انجام دیا ہے اور اس طرح اسلام میں شیعہ عقیدہ کو ایجاد کیا ہے ، اس طرح یہاں سے نتیجہ نکلتا ہے کہ حب اہل بیت دشمنان اسلام کے لئے وسیلہ قرار پایا ہے اور شیعیت کے روپ میں یہود وغیرہ کی تعلیمات اسلام میں داخل ہوئی ہیں !!!
احمد امین کے ان تمام مفروضوں کا منبع اور دلیل ابن سبا کے افسانے ہیں اور مآخذ تاریخ طبری ہے اس نے صرف ایک جگہ پر ولھاوزن سے نقل کیا ہے ، ہم ثابت کریں گے کہ ولھاوزن نے بھی طبری
____________________
۱۔ کتاب ” فجر اسلام “ اور ” تاریخ الاسلام السیاسی “ دنیا کی یونیورسٹیوں میں تاریخی مآخذمیں جانی جاتی ہیں یہ شیعہ تاریخ یونیورسٹیوں میں یوں پڑھا ئی جاتی ہے تو کیاصحیح تاریخ سمجھانے کا کوئی وسیلہ موجود ہے ؟
سے نقل کیا ہے ۔
اگر چہ احمد امین نے اس افسانہ کو علمی تجزیہ و تحلیل کے طریقے پر پیش کیا ہے ، لیکن اس میں ذرہ برابر شک و شبہہ نہیں کہ شیعوں کے بارے میں ان کے بغض و کینہ نے انھیں ان مفروضوں کے سلسلہ میں کوسوں دور پھینک دیا ہے نہ کہ علمی ا ور تحقیقی روش نے
۹ حسن ابراہیم
معاصر کے مصنفین میں سے ایک اور شخص جس نے ان داستانوں کو تجزیہ و تحلیل کے ساتھ پیش کیا ہے وہ مصر کی یونیورسٹی کے شعبہ تار یخ اسلام کے استادپروفیسر ڈاکٹر حسن ابراہیم ہیں ، انھوں نے ” تاریخ الاسلام السیاسی “ نامی اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۳۴۷ پر خلافت عثمان کے آخری ایام میں مسلمانوں کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے یوں لکھا ہے :
” یہ ماحول مکمل طور پر عبد اللہ بن سبا اور اس کے پیرکاروں ،اور اس کے اثر ات قبول کر نے والوں کا تھا، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک دیرینہ صحابی ، ابوذر غفاری (جو تقوی اورپرہیزگاری میں مشہور تھے اور خود ائمہ حدیث کی عظیم شخصیتوں میں شمار ہوتے تھے)نے فتنہ کی آگ کو بھڑکادیا ، اس نے صنعا کے رہنے والے ایک شخص عبد اللہ بن سبا کے کئے گئے زبردست پروپگنڈے کے اثر میں آکر عثمان اور اس کے شام میں مقرر کردہ گورنر معاویہ کی سیاست کی مخالفت کی ، عبد اللہ بن سبا ایک یہودی تھا جس نے اسلام قبول کرکے مختلف شہروں کا دورہ کیا اس نے اپنے دورے کو حجاز سے شروعکیا اور کوفہ ، شام اور مصر تک چھان ڈالا “
اس نے اس صفحہ کے حاشیہ پر تاریخ طبری(۱) کو اپنا مآخذ قرار دیا ہے اور کتاب کے صفحہ نمبر ۳۴۹ پر یوں لکھا ہے :
” عبداللہ بن سبا سب سے پہلا شخص ہے جس نے عثمان کے خلاف عوام میں نفرت پھیلائی اور عثمان کا تختہ الٹنے کی راہ ہموار کی “
کتاب کے حاشیہ پر تاریخ طبری کے صفحات کی طرف چار بار اشارہ کرتا ہے کہ اس خبر کو میں نے اس سے نقل کیا ہے اور اسی طرح داستان کو ص ۳۵۲ تک جاری رکھتا ہے اور بارہ دفعہ اس داستان کے تنہا مآخذ تاریخ طبری کے صفحات کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کے باوجود کہ جنگِ جمل کے بارے میں طبری کی نقل کردہ بات کو بیان کرنے سے گریز کرتا ہے ، جبکہ ابن سبا دونوں داستانوں میں موجود ہے، اور دونوں قصے ایک ہی داستان پر مشتمل ہیں اور داستان گڑھنے والا بھی ایک ہی شخص ہے!!!
۱۰ ابن بدران
ابن بدران (وفات ۳۴۶ ھ ء) نے تاریخ ابن عساکر کا خلاصہ لکھا ہے اور اس کا نام ” تہذیب ابن عساکر “ رکھاہے اس نے اپنی اس کتاب میں اکثر روایتوں کو راوی کا نام لئے بغیر نقل کیا ہے ۔ اس
____________________
۱۔ طبری طبع یورپ حصہ اول صف ۲۸۵۹
نے ابن سبا کے افسانے کے بعض حصوں کو نقل کیا ہے اس نے بعض جگہوں پر اس کے راوی سیف بن عرم کا نام لیا ہے اور بعض جگہوں پر راوی کا ذکر کئے بغیر افسانہ نقل کیا ہے اور بعض مواقع پر سیف کی روایتوں کو تاریخ طبری سے نقل کیا ہے چنانچہ اس سے زیادہ ا بن ابیہ کے حالات بیان کرتے ہوئے سیف کی روایتوں کو اس کی کتاب سے نقل کیا ہے(۱)
لہذا معلوم ہوتا ہے کہ سبائیوں کی داستان نقل کرنے میں اسلام کے مؤرخین کا مآخذ و مدرک ” تاریخ طبری “ تھا۔
۱۱ سعید افغانی
سعید افغانی نے ” عائشہ و السیاسة “ نامی اپنی کتاب میں ابن سبا کے افسانہ سے کچھ حصے، ” عثمان کااحتجاج “ ابن سبا مرموز اور خطرناک ہیرو ، سازش و دسیسہ کاری پر نظر “‘ کے عنوا ن کے تحت بیان کیا ہے ، اس نے اپنی کتاب کے دوسرے حصوں میں ان افسانوں کے چند اقتباسات درج کئے ہیں ۔
اس کا مآخذ ، پہلے درجہ پر تاریخ طبری ، دوسرے درجہ پر تاریخ ابن عساکر اور اس کی تہذیب اور تیسرے درجہ پر تمہید ابن ابی بکر(۱) ہے ، وہ اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۵ پر طبری کے او پر اکثر اعتماد کرنے کا سبب یوں بیان کرتا ہے :۔
میں نے بیشتر اعتماد تاریخ طبری پر کیا ہے ، کیونکہ یہ کتاب دوسرے تمام مصادر سے حقیقت کے نزدیک تر اور اس کا مصنف دوسروں سے امین تر اور اس کے بعد آنے والے ہر با اعتبارر مؤرخ نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔
میں نے اس کے الفاط میں کسی قسم کے رد و بدل کے بغیر اپنی کتاب میں درج کرنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے ۔
____________________
۱۔ ص ۴۳ اور ۴۵ پر تاریخ ابن عساکر ، صفحہ ۴۲ ، ۴۹، ۵۲ اور ۱۸۷ پر تہذیب ابن عساکر سے اور صفحہ ۳۴ اور ۳۵ میں تمہید سے استفادہ کیا ہے ۔
غیر مسلم مؤرخین کی نظر میں عبدللہ بن سبا کی داستانیں
۱ فان فلوٹن
وہ ایک مستشرق ہے وہ اپنی کتاب ”السیاسة العربیة و الشیعة و الاسرائیلیات فی عهد بنی امیة “ ترجمہ ڈاکٹر حسن ابراہیم و محمد زکی ابراہیم طبع اول ، مصر ۱۹۳۴ ءء کے صفحہ ۷۹ پر شیعہ فرقہ کے بارے میں نقل کرتے ہوئے، یوں لکھتا ہے :
” امام ،سبائی ، عبداللہ بن سبا کے پیرو ، ہیں نیز ان افراد میں ہیں جو عثمان کے پورے دو ر خلافت میں علی علیہ السلام کو خلافت کےلئے سزاوار جانتے تھے “
اس نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۸۰ کے حاشیہ پر تاریخ طبری کو اپنے مآخذ و مدرک کے طور پر پیش کیا ہے ۔
۲ نکلسن
نکلسن اپنی کتا ب” تاریخ الادب العربیّ“ طبع کمبریج کے صفحہ نمبر ۲۱۵ پر لکھتا ہے :
” عبدا للہ بن سبا ،سبائیوں کے گروہ کا بانی ہے ، وہ یمن کے شہر صنعا کا باشندہ تھا ،کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی تھا اور عثمان کے زمانے میں اسلام لایا تھا اور ایک سیاح مبلغ تھا ، مؤرخین اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : وہ ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر میں رہا کرتا تھا تا کہ مسلمانوں کو گمراہ کرکے ان میں اختلاف پیدا کرے ، سب سے پہلے وہ حجاز میں نمودار ہوا اس کے بعد بصرہ اور کوفہ اس کے بعد شام اور آخر کار مصر پہنچا ، وہ لوگوں کو رجعت کے اعتقاد کی دعوت دیتا تھا ، ابن سبا کہتا تھا : بے شک تعجب کا مقام ہے کہ کوئی شخص حضرت عیسیٰ کے پھر سے اس دنیا میں آنے کا معتقد ہو لیکن حضرت محمد کی رجعت کے بارے میں اعتقاد نہ رکھتا ہو جبکہ قرآن مجید نے اس کا واضح طور پر ذکر کیا ہے اس کے علاوہ ہزاروں پیغمبر آئے اور ان میں سے ہر ایک کا ایک وصی و جانشین تھا ، محمد کا بھی ایک وصی ہے جو علی علیہ السلام ہے ، چونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری پیغمبر اور خاتم الانبیاء ہیں اس لئے علی علیہ السلام بھی آخری وصی اور ان کے جانشین ہیں “
اس نے بھی اپنا مآخذ کو تاریخ طبری کو قرار دیکر مذکورہ بیانات کے حاشیہ میں اس کی وضاحت کی ہے ۔
۳ اسلامی دائرة المعارف لکھنے والے مستشرقین
ہو تسمن ، ولاینسنگ ، اورنلڈ ، برونسال ، ھیونک ، شادہ ، پاسیہ ، ہارٹمان اور کیب جیسے مشرق شناس استادوں کے ایک گروہ کے تصنیف کردہ اسلامی دائرة المعارف میں یہ داستان حسب ذیل درج ہوئی ہے :(۱)
____________________
۱۔ اسلامی دائرة المعارف ج۱/ ۲۹ طبع لندن
” اگر ہم صرف طبری اورمقریزی کی بات پر اکتفا کریں تو ہمیں کہنا چاہئے کہ جن چیزوں کی طرف عبد اللہ بن سبا دعوت دیتا تھا ، ان میں رجعت محمد بھی تھی وہ کہتا تھا : ہر پیغمبر کا ایک جانشین ہے اور علی علیہ السلام محمد کے جانشین ہیں ۔ لہذا ہر مؤمن کا فرض ہے کہ اپنے کردار و گفتار سے علی علیہ السلام کے حق کی حمایت کرے “ کہا جاتا ہے کہ عبد اللہ نے اس طرز تفکر کی تبلیغ کےلئے بعض افراد کو معین کیا تھا اور خود بھی ان میں شامل تھا، وہ شوال ۱۵ ھ مطابق اپریل ۶۵۶ ءء میں مصر سے مدینہ کی طرف روانہ ہو “
ہم نے یہاں پر وہ مطلب درج کیا جسے مذکورہ دائرة المعارف نے طبری سے نقل کیا ہے چونکہ یہ حوادث مقریزی سے ۸۰۰ سال قبل رونما ہوئے ہیں ، اس لئے اس طولانی فاصلہ زمان کے پیش نظر اور اس کے علاوہ مقریزی نے مآخذکا ذکر بھی نہیں کیا ہے یا جس کتاب سے نقل کیاہے اس کا نام بھی نہیں لیا ہے اسلئے مقریزی کے نقل پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے جبکہ طبری اس داستان کی سند کو اس کے راوی تک پہنچاتا ہے اور وہ خود بھی مقریزی سے تقریباً پانچ سو سال پہلے گذراہے، اس حالت میں یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم مقریزی کی تحریر کو تاریخ طبری کے برابر قرار دیں اس کے باوجود ہم کتاب کے آخر میں مقریزی کی روایت پر بحث کریں گے ۔
۴ڈوایت ، ایم، ڈونالڈسن
ڈوایت ، ایم ، ڈونالڈسن ، ‘” عقیدہ الشیعہ “ نامی اپنی کتاب کے صفحہ ۵۸ پر یوں رقمطراز ہے:
” قدیم روایتین ہمیں اس امر کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ علی علیہ السلام جس خلافت کا دعویٰ کرتے تھے اس کی ان کے حامیوں اور شیعوں کی نظر میں صرف سیاسی اہمیت نہیں تھی بلکہ وہ اسے ایک الہی حق سمجھتے تھے اور ان عقائد و افکار کے پھیلانے میں تاریخ اسلام کے ایک مرموز شخص کی ریشہ دوانیوں کا اہم رول تھا ۔ کیونکہ عثمان کی خلافت کے دوران عبداللہ بن سبا نامی ایک شخص پیدا ہوا جس نے وسیع تعلیمات کو پھیلانے کا اقدام کیا ، اس نے ان عقائد کو پھیلانے کیلئے اسلامی ممالک کے شہروں کا ایک طولا نی دورہ کیا ، طبری کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اسلام کو نابود کرنا تھ“
جیسا کہ کتاب کے صفحہ نمبر ۵۹ کے حاشیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ” عقیدہ الشیعہ “ نامی کتاب کے مصنف نے اس داستان کو براہ راست طبری سے نقل نہیں کیا ہے بلکہ اس نقل میں اس نے دو کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے :
۱ ۔ گذشتہ اشارہ کئے گئے مستشرقین کے دائرة المعارف کا مادہ ” عبداللہ “
۲ ۔ نیکلسن کی تالیف کردہ کتاب ” تاریخ الادب العربی “ ص ۳۱۵ ۔
جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ہے کہ مذکورہ دونوں کتابوں میں جو کچھ عبداللہ بن سبا کے بارے میں لکھا گیا ہے وہ تاریخ طبری سے نقل کیا گیا ہے ۔
۵ ولھاوزن
ولھاوزں اپنی کتاب ”الدولة العربیة و سقوطها “ کے صفحہ نمبر ۵۶ اور ۵۷ پر لکھتا ہے :
” سبائیوں نے اسلام میں تبدیلی ایجاد کی ، قرآن مجید کے بر عکس اعتقاد رکھتے تھے کہ روح خدا نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم میں حلول کیا ہے اور ان کی وفات کے بعد اس روح نے علی علیہ السلام اور آل علی علیہ السلام میں حلول کیا ہے ان کی نظر میں علی علیہ السلام ، ابو بکر اور عمر کے ہم پلہ خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ ان دونوں کو علی علیہ السلام کا حق غصب کرنے والے جانتے تھے اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس مقدس روح نے علی علیہ السلام کے اندر حلول کیاہے “
اس کے بعد لکھتا ہے :
” کہا جاتا ہے کہ سبائی عبداللہ بن سبا سے منسوب تھے وہ یمن کا رہنے والا ایک یہودی تھا “
ولھاوزن نے یہاں پر اپنے مآخذ کا ذکر نہیں کیا ہے ، لیکن اپنی کتاب کے ۳۹۶ سے ۳۹۹ تک مطلب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے اپنے مآخذ کا بھی ذکر کیا ہے اور لکھتا ہے :
” سیف کہتا ہے : سبائی پہلے ہی دن سے شر پسند اور بد نّیت تھے ، انہوں نے عثمان کوقتل کرکے مسلمانوں کے اندر افراتفری اور جنگ کے شعلے بھڑکادیئے ان میں اکثر لوگ موالی اور غیر عرب تھے ۔
سبائی عبد اللہ بن سبا کی پیروی کرتے ہوئے اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رجعت کریں گے اور آپ اپنے اہل بیت کے بدن میں حلول کرتے ہیں چونکہ علی علیہ السلام کی اولاد جو پیغمبر کی بیٹی فاطمہ سے تھی ، نے اسلام اورعربی نسل سے منہ نہیں موڑا اور سبائیوں کو مسترد کردیا اسلئے وہ علی علیہ السلام کے دوسرے بیٹے محمد بن حنفیہ سے منسلک ہوگئے ۔
محمد کی وفات کے بعد ان کا بیٹا ابو ہاشم ---جو اپنے باپ کی طرح بے قدر تھا ---ان کا امام بنا ، ابو ہاشم نے اپنے بعد محمد بن علی عباسی کو اپنا وصی اور جانشین مقرر کیا اور یہاں سے خلافت بنی عباس میں منتقل ہوگئی ۔ سیف کی روایت کے مطابق بنی عباس کا خروج سبائیوں کے خروج کے مانند تھا ، دونوں گروہوں کی دعوت کا مرکز شہر کوفہ تھا ور ان کے پیرو ایرانی تھے اور دونوں گروہوں نے عرب مسلمانوں کے خلاف خروج کیا تھا “
یہ ان مطالب کا خلاصہ تھا جنہیں ولھاوزن نے سیف سے نقل کرتے ہوئے وضاحت کے ساتھ دوبار اس کے نام کی تکرار کی ہے ، کتاب کے مقدمہ میں جہاں پر وہ سیف کی ستائش کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سیف کی روایتوں کو طبری سے نقل کیا ہے ۔
اس بناء پر ولھاوزن کا مآخذ بھی تاریخ طبری ہے اور طبری کے ہی واسطہ سے اس نے اس افسانہ کو نقل کیا ہے ۔
جیسا کہ معلوم ہوا ، ا بن سبا کا افسانہ عجیب شہرت کاحامل ہوا جیسا کہ مشاہدہ ہورہا ہے، کہ جنہوں نے بھی اس افسانہ کو نقل کیا ہے ان سب کی روایتیں بلاواسطہ یا ایک یا اس سے زیادہ واسطوں سے طبری پر ختم ہوتی ہیں ۔
وہ لوگ جنہوں نے عبد اللہ بن سباکی داستان کو ،مآخذ کا اشارہ کئے بغیر نقل کیا ہے ۔
مؤرخین اور مصنفین کا ایک ایسا گروہ بھی ہے جنہوں نے نہ اپنی روایت کے مآخذ کو لکھا ہے اور نہ اس کتاب کا ذکر کیا ہے جس سے انہوں نے روایت نقل کی ہے ، لیکن اس کے باوجود جہاں بھی اجمالی طور پر ان کی کتابوں کے مصادر کا ذکر آتا ہے ، طبری ایسی کتابیں نظر آتی ہیں جن میں طبری سے روایت نقل کی گئی ہے ، جیسے :
۱ میر خواند:
اس نے عبداللہ بن سبا کی داستان کو اپنی کتاب ” روضة الصفا“ میں درج کیا ہے ، لیکن اس کی سند اور مآخذ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ لیکن تحقیق و مطابقت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کیا ہے ۔
۲ غیاث الدین
غیاث الدین فرزند میرخواند (وفات ۹۴۰ ھ) نے اپنی کتاب ” حبیب السیر “ میں عبداللہ بن سبا کی داستان اپنے باپ کی کتاب ” روضة الصفا“ سے نقل کیا ہے لیکن اس کی سند و مآخذ کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے ۔
عبداللہ بن سبا کی داستان کے اسناد
جیسا کہ ذکر ہوا ، تاریخ طبری قدیمی ترین کتاب ہے جس میں عبداللہ بن سبا کی داستانیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور ساتھ ہی اس داستان کے راوی کو بھی معین و مشخص کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد لکھی جانے والی تمام کتابوں میں ، ابن سبا کی داستان اور سبائیوں کے افسانہ کو طبری سے نقل کیا گیا ہے ۔
۱ ابن سباکی داستانوں کےلئے طبری کی سند
اب دیکھنا چاہئے کہ طبری نے اس داستان کو کہاں سے نقل کیاہے ااور اس کی سند کیا ہے ؟
ابو جعفر محمد جریر طبری آملی (وفات ۳۱۰ ھ) نے سبائیوں کی داستان کو اپنی کتاب ” تاریخ الامم و الملوک “ میں صرف سیف بن عمر تمیمی کوفی سے نقل کیا ہے ، وہ ۳۰ ھ کے حوادث سے مربوط حصہ میں اس طرح لکھتا ہے :
” اسی سال ، یعنی ۳۰ ھ میں ابوذر کی معاویہ کے ساتھ داستان اور معاویہ کا ابوذر کو شام سے مدینہ بھیجنے کا واقعہ پیش آیا، اس سلسلے میں بہت سے واقعات نقل کئے گئے ہیں ، انھیں بیان کرنے کا دل تو نہیں چاہتا، لیکن ان معاملات میں معاویہ کیلئے عذر پیش کرنے والوں نے اس موضوع پر اس کی داستان نقل کی ہے کہ ” سری بن یحییٰ“ نے اس داستان کو میرے لئے لکھا ہے اور اس تحریر میں یوں کہتا ہے :
” شعیب بن ابراہیم نے سیف بن عمر سے روایت کی ہے جب ابن سودا شام پہنچا تو اس نے ابوذر سے ملاقات کی اور کہا؛ اے ابوذر ! کیا یہ دیکھ رہے ہو کہ معاویہ کیا کررہا ہے ؟ “
اس کے بعد طبری ” ابن سبا“ کی داستان کو صرف سیف سے نقل کرتا ہے اور ابوذر کے حالات کی تفصیلات کو مندرجہ ذیل جملہ کے ذریعہ خاتمہ بخشتا ہے :
دوسروں نے ابوذر کی جلا وطنی کی علت کے بارے میں بہت سی چیزیں لکھی ہیں کہ جی نہیں چاہتا انھیں بیان کروں “
جب ۳۰ ۔ ۳۶ ھ کے حوادث لکھنے پر پہنچتا ہے توعثمان کے قتل اور جنگ جمل کے ضمن میں سبائیوں کی داستان کو سیف سے نقل کرتا ہے ، سیف کے علاوہ کسی اور سند کا ذکر نہیں کرتا
طبری نے اپنی تاریخ میں سیف کی روایتوں کو مندرجہ ذیل دو سندوں میں سے کسی ایک سے نقل کیا ہے :
۱ ۔ عبید اللہ بن سعد زہری نے اپنے چچا یعقوب بن ابراہیم سے اور اس نے سیف سے جن روایتوں کو طبری نے اس سند سے سیف سے نقل کیا ہے ، وہ ایسی روایتیں ہیں جنہیں اس نے خود عبید اللہ سے سنی ہیں اور انھیں کلمہ ” حدثنی“ یا ” حدثنا “ (یعنی” میرے لئے “ یا ہمارے لئے روایت کی ہے)سے بیان کیا ہے :
۲ ۔ سری بن یحییٰ نے شعیب ابن ابراہیم سے اور اس نے سیف سے ۔
طبری نے اس سند میں سیف کی حدیثوں کو سیف کی دو کتابوں ” الفتوح “ او ر” الجمل “ سے مندرجہ ذیل کلمات میں سے کسی ایک کے ذریعہ سرّی بن یحییٰ سے نقل کیا ہے :
۱ ۔کَتَب الیَّ ۔ یعنی سرّی بن یحییٰ نے مجھے لکھا ۔
۲ ۔ حدثنی ، یعنی سرّی بن یحییٰ نے میرے لئے روایت کی ہے۔
۳ ۔فی کتابه الیّ (۱) یعنی سرّی بن یحییٰ نے جو خط مجھے لکھا ہے ،اس میں روایت کی ہے ۔
۲ ابن سبا کی داستانوں کیلئے ابن عساکر دمشقی کی سند
طبری کے بعد ابن عساکر (وفات ۵۷۱ ھ) نے عبدا للہ بن سبا کی داستانوں کو اپنی اسی ۸۰ جلد پر مشتمل تاریخ یعنی ” تاریخ مدینہ دمشق “ میں طلحہ ، عبداللہ بن سبا اور دوسروں کے حالات کے ضمن میں اپنی پسند سے سیف سے نقل کیا ہے ۔ سیف کی روایتوں کے مطابق عبداللہ بن سبا کے افسانہ اور دوسری داستانوں کو نقل کرنے کے بارے میں ابن عساکر ،کی سند یوں ہے :
ابن عساکر نے ابو القاسم سمرقندی سے اس نے ابو الحسین نقور سے ،اس نے ابو طاہر مخلص سے
اس نے ابو بکر سیف سے ، اس نے سرّی بن یحییٰ اس نے شعیب سے اور اس نے سیف سے(۲)
____________________
۱۔ اس کلمہ سے صرف ایک دفعہ روایت کی ہے ، ملاحظہ ہو ج۱/ ص ۲۰۵۵ طبع یورپ، )
۲۔اخبرنا ابو القاسم السمرقندی عن ابی الحسین النقور عن ابی طاهر االمخلص عن ابی بکر بن سیف، عن السری بن یحیی عن شعیب بن ابراهیم ، عن سیف بن عمر ،
اس طرح ابن عساکر، کی سند چار واسطوں سے ” سری بن یحییٰ“ تک پہنچتی ہے اور ”سرّی بن یحیی “ طبری کے اسنا کا ایک منبع ہے جس کے بارے میں ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے۔
۳ ابن ابی بکر
محمد بن یحییٰ بن محمد اشعری مالکی -(وفات ۷۴۱ ھ) مشہور بہ ابی بکر “ نے عبد اللہ بن سبا اور سبائیوں کے افسانہ کو اپنی کتاب ”التمهید و البیان فی مقتل عثمان بن عفان “ میں سیف بن عمر کی کتاب ” الفتوح “ اور تاریخ ابن اثیرسے نقل کیا ہے ۔
اس بناء پر ابن ابو بکر نے سبااور سبائیوں کے بارے میں سیف کے افسانوں کو کبھی سیف کی کتاب سے بلاواسطہ اور کبھیتاریخ ابن اثیر سے نقل کیا ے اس طرح معلوم ہوا کہ ابن اثیر نے بھی طبری سے اور طبری نے سیفسے نقل کیا ہے۔
یہاں تک سبائیوں کے بارے میں سیف کے افسانو ں کے مندرجہ ذیل تین اسنا دمعلو م ہوئے:
۱ ۔ طبری (وفات ۳۱۰ ھ) کی سند۔
۲ ۔ ابن عساکر (وفات ۵۷۱ ھ) کی سند ۔
۳ ۔ ابن ابی بکر (وفات ۴۸۱ ھ) کی سند۔
بعض مؤرخین اور مصنفوں نے مذکورہ اسناد میں سے کسی سے اور بعض نے دو سے اور سعید افغانی جیسے افراد نے تینوں اسناد سے استفادہ کیا ہے ۔
۴ ذھبی(۱)
ابو عبد اللہ محمد بن احمد عثمان ذہبی(وفات ۷۴۸ ھ) نے اپنی کتاب ” تاریخ الاسلام “(۲) میں عبداللہ بن سبا سے مربوط بعض افسانوں کو نقل کیا ہے ، اس نے ابتداء میں سیف سے ایسی دو روایتیں نقل کی ہیں جو تاریخ طبری میں ذکر نہیں ہوئی ہیں ۔(۳)
با وجودیکہ وہ روایتیں افسانہ کو مکمل طور پر بیان کرتی ہے اور اس کے بعد اس نے اپنی کتاب کے ص ۱۲۴ ۔ ۱۲۸ طبری نے مفصل طور پر بیاں کئے گئے مطالب کو خلاصہ کے طور پر ذکر کیا ہے ۔
مذکورہ کتاب کے مقدمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیف بن عمر کی کتاب ”الفتوح“ کے بعض نسخے ذہبی کے زمانے (آٹھویں صدی ہجری) تک موجوتھے اور اس کا ایک نسخہ ذہبی کے پاس موجود تھا وہ بھی کتاب ” التمہید “ کے مصنف ابن ابی بکر کی طرح اس سے بلاواسطہ روایتیں نقل کرتا تھامن جملہ وہ روایتیں ہیں کہ اس نے سیف سے نقل کی ہیں جو تاریخ طبری میں موجود نہیں ہیں ۔
یہاں تک بیان کئے گئے مطالب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان علماء اورمؤرخین نے عبدا للہ بن سبا کے افسانہ کو بلا استثناء سیف بن عمر سے نقل کیا ہے، ان میں سے چار افراد یعنی طبری ، ابن عساکر ، ابن ابی بکر اور ذہبی نے اس افسانہ کو بلا واسطہ سیف سے نقل کیا ہے اور باقی لوگوں نے اسے بالواسطہ نقل کیا ہے ۔
عبداللہ بن سبا کے افسانہ کو گڑھنے والا سیف بن عمر
و هو:کذّاب متروک الحدیث اتّهم بالزندقة
ابن سباکے افسانہ کوگڑھنے والا جھوٹا ہے اور اس پر زندیقی ہونے کا الزام ہے ، اس کی روایتیں ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے قابل ہیں
____________________
۱۔اس موضوع کو مؤلف نے فارسی ترجمہ میں اضافہ کیا ہے۔
۲۔ ج ۲ ص ۱۲ ۔ ۱۲۸۔
۳۔ ذھبی ان دو روایتو ں کو نقل کرتے ہوئے ۱۲۲ ۔ ۱۲۳ پر یو ں لکھتا ہے ؛ و قال سیف بن عمر عن عطیة عن یزید الفقعسی قال: لما خرج ابن السوداء اس کے بعد صفحہ ۱۲۳۔۱۲۴ دوسری روایت میں یو ں بیان کرتا ہےو قال سیف عن مبشر و سهل ابن یوسف عن محمد بن سعد بن ابی وقاص قال: قدم عمار بن یاسر مصر
علمائے رجال
جیسا کہ ہم نے بیان کیاکہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزررہا ہے کہ سبائیوں کے افسانے علما اور دانشوروں کے زبان زد ہیں ان افسانوں کا سرچشمہ سیف بن عمر نامی ایک شخص ہے ،تمام روات ان قصوں کو اس سے نقل کرتے ہیں ، اب مناسب ہے کہ سیف کے بارے میں تحقیق کی جائے اور حقیقت تک پہنچنے کے بعد اس کی روایتوں کی بھی چھان بین کی جائے تا کہ معلوم ہوسکے کہ وہ کس قدر حقیقت سے دور تھا اور اس کی کیا قدر ہے ۔
سیف بن عمر کون ہے ؟
سیف بن عمر قبیلہ ” اسید “ سے ہے جو تمیم نامی ایک بڑے خاندان کی شاخ تھا ، اس لحاظ سے اسے ” اسید تمیمی“ کہا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے ” تمیمی برجمی “ بھی کہتے ہیں ، برجمی ،ا براہیم سے منسوب ہے کہ خاندان تمیم کے چند قبیلوں کا نام تھا ، جنہوں نے آپس میں مل کر عہد و پیمان کیا تھا ،
وہ شہر کوفہ کا رہنے والا تھا لیکن اس سے پہلے وہ بغداد میں رہائش پذیر تھا ، اس نے ہارون الرشید کی خلافت کے دوران ۱۷۰ ھ ء کے بعد وفات پائی ہے ۔
سیف کی روایتیں
اس زمانہ کے مؤرخین کی یہ عادت تھی کہ وہ تاریخی حوادث کو سال کے ساتھ نقل کرتے تھے ، اس لئے سیف نے بھی اپنے جعل کئے گئے افسانوں کو صحیح تاریخ کی صورت میں پیش کرنے کیلئے اور انھیں صداقت کا رنگ دینےکیلئے کئی حصوں میں تقسیم کیا ہے اور اس نے ہر حصہ کیلئے علیحدہ سند گڑھ لی ہے اور اس طریقے سے اس نے مندرجہ ذیل دو کتابیں تالیف کی ہیں :
۱ ۔ الفتوح الکبیر و الردة :: اس کتاب میں اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے قریب زمانہ سے عثمان کی خلافت کے زمانہ تک گفتگو کی ہے ، اسی کتاب میں ابو بکر کی خلافت کی مخالفت کرنے اور اس کی خلافت کو نہ ماننے والے مسلمانوں سے ابو بکر کی جنگ کو’ ’ مرتدوں سے جنگ “ کا نام دیا ہے ، اس نے اس کتاب میں لکھے گئے تمام حوادث کو افسانوی روپ دیا ہے اور ا ن میں مبالغہ آمیزی اور غلو سے کام لیا ہے ۔
۲ ۔ جمل اور عائشہ اور علی علیہ السلام کی راہ :اس کتاب میں عثمان کے خلاف بغاوت اس کے قتل ہونے اور ”جنگ جمل “ کے بارے میں گفتگو کی ہے ، کتاب کی روایتوں کی چھان بین کے بعد واضح ہوتا ہے کہ یہ کتاب صرف بنی امیہ کے وفاع میں لکھی گئی ہے ۔
سیف نے ان دو کتابوں کے علاوہ دوسری روایتیں بھی گڑھ لی ہیں جو دسیوں کتابوں میں درج ہوکر آج تک تاریخ اسلام کے سب سے بڑے مآخذ میں شمار ہوتیہیں ۔
طبری نے سیف کی روایتوں کو اپنی تاریخ کی کتاب ” تاریخ الامم و الملوک“ میں ۱۱ ھ ء سے ۳۷ ھ ء کے تاریخی حوادث کے ضمن میں نقل کیا ہے ۔
اس کے بعد ابن عساکر نے بھی اپنی اسی ۸۰ جلدوں پر مشتمل تاریخ میں دمشق سے گزرنے والے اشخاص کے ضمن میں ان میں سے بعض روایتوں کو نقل کیا ہے ۔
اصحاب پیغمبر پر خصوصی شرحیں لکھنے والے علماء ، یعنی :
۱ ۔ ابن عبد البر وفات ۴۳۶ ھ ، نے کتاب ” استیعاب “ میں ،
۲ ۔ ابن اثیر ، وفات ۶۳۰ ء ھ نے کتاب ” اسد الغابہ “ میں ۔
۳ ۔ذھبی وفات ۷۴۸ ھ نے کتاب” التجرید “ میں ۔
۴ ۔ ابن حجر ، وفات ۸۵۲ نے کتاب ” الاصابہ “ میں سیف کے افسانو ں کے بعض ہیروں کو اصحاب پیغمبر کے صف میں لا کھڑا کیا ہے اور ان کی زندگی کے حالات کی تفصیلات لکھی ہیں ان کتابوں کی تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان ہیروں میں سے تقریباً ایک سو پچاس کا کہیں وجود ہی نہیں تھا بلکہ ” صرف سیف بن عمر“تمیمی کے ذہن کی تخلیق ہیں “(۱)
____________________
۱۔ مصنف نے اپنی کتاب ” ایک سو پچاس جعلی اصحاب “ میں ان کی معرفی کی ہے ۔
لیکن یہ علماء سیف کے افسانوں میں ان کے ناموں کو دیکھتے ہیں لہذاانھیں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فہرست میں قرارد یا ہے لہذا ان کی زندگی کے حالات کی وضاحت لکھنے کیلئے بھی ہاتھ پاؤں ماراہے اور اس طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعداد کو بڑھادیا ہے(۱) اسلامی شہروں کی جغرافیہ لکھنے والے جیسے یاقوت حموی (وفات ۶۲۶ ھ) نے اپنی کتاب ” معجم البلدان “ میں اور صفی الدین نے ” مراصد الاطلاع “ میں سیف کی روایتوں سے استفادہ کرکے بعض ایسی جگہوں کی شرحیں لکھی ہیں جو صرف سیف کے افسانوں میں موجود ہیں :
اس طرح سیف بن عمر نے صرف عبد اللہ بن سبا کے افسانہ کو ہی ایجاد کرکے تاریخ اسلام میں ایک ہی ہیرو جعل نہیں کیا ہے بلکہ سینکڑوں دوسرے افسانے اور تاریخی بہادر ہیں جو اس کی فکر کی تخلیق ہیں اور ان کا کہیں وجود نہیں ملتا۔
ان افسانوں کو حدیث تفسیر ، تاریخ ، جغرافیہ ، ادبیات اور انساب کی سینکڑوں کتابوں میں درج کیا گیا ہے ، سیف کی روایتوں کی قدرو منزلت معلوم کرنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے علمائے رجال کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تا کہ یہ دیکھ لیں کہ انہوں نے سیف کی روایتوں کے قوی ، ضعیف ، صحیح ، اورمؤثق ہونے کے بارے میں کیا کہا ہے اس کے بعد انشاء اللہ اس کی روایتوں کی چھان بین کریں گے ۔
____________________
۱۔ مثال کے طور پر سیف نے اپنے افسانوں میں مذکورہ بہادروں کو سپہ سالاروں کے طور پر معرفی کیا ہے اور یہی دلیل بن گئی ہے کہ وہ بہادر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب تھے کیونکہ خود سیف کے بقول رسم یہ تھی کہ سپہ سالار اور کمانڈر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انتخاب ہوتے تھے ۔
سیف علم رجال کی کتابوں میں :
۱ ۔ یحییٰ بن معین (وفات ۲۳۳ ھ) نے اس کے بارے میں کہا ہے :
” اس کی حدیث ضعیف اور کمزور ہے(۱)
۲ ۔ نسائی ،صاحب صحیح (متوفی ۳۰۳) نے کہا ہے :
” ضعیف ہے ، اس کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے ، وہ نہ مورد اعتماد ہے اور نہ امین “(۲)
۳ ۔ ابو داؤد (وفات ۲۷۵ ھ) نے کہا ہے :
” بے ارزش ہے اور انتہائی دروغگو ہے “(۳)
۴ ۔ ابن حماد عقیلی (وفات ۳۲۳ ھ) نے اس کے بارے میں کہا ہے :
” اس کی روایتوں پر اعتماد نہیں کیا جاتا ہے اس کی بہت سی روایتوں میں سے ایک پر بھی اعتبار نہیں کرنا چاہئے “(۴)
۵ ۔ ابن ابی حاتم (وفات ۳۲۷ ھ) نے کہا ہے :
” چونکہ وہ صحیح احادیث کو خراب کرتا تھا لہذالوگ اس کی احادیث پر اعتبار نہیں کرتے تھے ، اس
____________________
۱ٌ۔ کتاب الضعفاء ج ۲/ ص ۲۴۵ ، تہذیب التہذیب ج ۴/ ۳۹۵ رقم ۵۰۶ ، الضعفاء الکبیر ج ۲/ ۱۷۵ رقم ۶۹۴، )
۲۔ الضعفاء و المتروکین ص ۵۱ ، رقم ۲۶۵ ۔
۳۔ تہذیب التہذیب ج ۴/ ص ۲۹۵ ، رقم ۵۰۶۔
۴۔الجرح و التعدیل ج ۷ ص ۱۳۶ ، رقم ۷۶۲ ، ،تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۹۵ ۔
کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے “(۱)
۶ ۔ ابن سکن (وفات ۲۵۳ ھ ء) نے کہا ہے : ” ضعیف ہے “
۷ ۔ ابن حبان (وفات ۳۵۴ ھ) نے کہا ہے :
” اپنی جعل کی گئی حدیثوں کو کسی مؤثق شخص کی زبانی نقل کرتا تھا مزید کہتا ہے ” سیف پر زندیقی ہونے کا الزام ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ حدیث گڑھ کر انھیں مؤثق افراد سے نسبت دیتا تھا(۲)
۸ ۔ دار قطنی (وفات ۳۸۵ ھ) نے کہا ہے :
” ضعیف ہے اور اس کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے “(۴)
۹ ۔ حاکم (وفات ۴۰۵ ھ) نے کہا ہے :
” اس کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے ، اس پر زندیقی ہونے کا الزام ہے(۴)
۱۰ ۔ابن عدی (وفات ۳۶۵ ھ)نے اس کے بار ے میں کہا ہے :
” اس کی بعض احادیث انتہائی مشہور ہیں لیکن میری نظر میں اس کی تمام احادیث ناقابل اعتبار ہیں اسی وجہ سے اس کی احادیث پر بھروسہ نہیں کیا جاتا ہے ۔
____________________
۱۔ المجروحین ج ۱/ ص ۳۴۵ ، تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۹۶
۲۔ تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۹۶،
۳۔ تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۹۶
۴۔ تہذیب التہذیب ج ۴ ص۲۹۵ اور ۵۰۶
۱۱ ۔ صاحب قاموس ، فیروز آبادی (وفات ۸۱۷ ھ) فرماتے ہیں :
” ضعیف ہے “
۱۲ ۔ محمد بن احمد ذہبی (وفات ۷۴۸ ھ) نے اس کے بارے میں کہا ہے :
” تمام دانشوروں اور علمائے اسلام کا اس امر پر اجماع اور اتفاق ہے کہ وہ ضعیف تھا اور اس کی حدیث متروک ہے “(۱)
۱۳ ۔ ابن حجر (وفات ۸۵۲ ھ) نے کہا ہے :
” ضعیف ہے “(۲)
ایک اور کتاب میں کہتا ہے :
” اگرچہ تاریخ کے بارے میں اس کی نقل کی گئی روایتیں بہت زیادہ اور اہم ہیں ، لیکن چونکہ وہ ضعیف ہے ، لہذا اس کی حدیث کو ترک کیاگیا ہے “(۳)
۱۴ ۔ سیوطی (وفات ۹۱۱ ھ) نے کہا ہے :
” انتہائی ضعیف ہے “
____________________
۱۔ المغنی فی الضعفاء ج ۱ ،ص ۲۹۲، رقم ۲۷۱۶،
۲۔ تہذیب التہذیب ج ۴ ،ص ۲۹۵ ، ۲۹۶ ، رقم ۵۰۶۔
۳۔ تقریب التہذیب ج ۱ ص ۳۴۴ ، رقم ۶۳۳۔
۱۵ ۔ صفی الدین (وفات ۹۲۳ ھ) نے کہا ہے :
” اسے ضعیف شمار کیا گیا ہے “(۱)
یہ تھا سیف کے بارے میں علم رجال کے دانشوروں اور علماء کا نظریہ اب ہمیں سیف کی روایتوں کی چھان بین کرنا چاہئے تاکہ روایتوں کو جعل کرنے میں اس کی روش معلوم ہوسکے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی روایتوں کی قدر و قیمت کابھی اندازہ ہوسکے ۔
ہم ابن سبا کے افسانہ کی تحقیق سے پہلے نمونہ کے طورے پر سیف کی چند روایتوں کو نقل کرکے ان کی چھان بین کرتے ہیں اس کے بعد انشاء اللہ ابن سبا کے افسانہ کی چھان بین کریں گے ۔
____________________
۱۔ خلاصة التہذیب ص ۱۳۶۔
سیف کی زندگی کے حالات کے منابع
عبد اللهبن سبا کے افسانہ کو تخلیق کرنے والے سیف بن عمر کی زندگی کے حالات کے بارے میں مندرجہ ذیل کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے:
۱ ۔ فہرست ابن ندیم
۲ ۔الجرح و التعدیل : ابی ابی حاتم رازی: ج ۷ ، ص ۱۳۶ ۔
۳ ۔ الاستیعاب : ابن عبدالبر ، ج ۴ ، ۲۵۲ ۔
۴ ۔ الضعفاء الکبیر ، : عقیلی ، ج ۲ ص ۱۷۵ ۔
۵ ۔ المغنی فی الضعفاء : ذھبی ،ج ۱/ ص ۲۹۲
۶ ۔ میزان الاعتدال : ذھبی ، ج ۲/ ۲۵۵ ۔
۷ ۔ تہذیب التہذیب : ابن حجر عسقلانی ، ج ۴/ ص ۲۹۶
۸ ۔ کتاب الضعفاء و المتروکین: نسائی ، ص ۵۱
۹ ۔الاصابة : ابن حجر عسقلانی ، ج ۴ ص ۱۷۵ ۔
۱۰ ۔ تقریب التہذیب : ابن حجر ، ج ۱ ص ۳۴۴ ،
۱۱ ۔ خلاصة التہذیب : صفی الدین ص ۱۲۶ ،
۱۲ ۔ کتاب المجروحیں : ابن حبّان، ج ۱ ص ۳۴۵ ۔
۱۳ ۔ کشف الظنون : حاجی خلیفہ ، ج ۱ ص ۱۲۴
۱۴ ۔ ھدا یة العارفین : اسماعیل پاشا، ج ۱ ص ۴۱۳
۱۵ ۔ الغدیر:سید عبدالحسین امینی، ج ۵ ص ۱۳۳ ۔
۱۶ ۔ الاعلام :زرکلی، ج ۳ ص ۱۵۰ ۔
دوسرا حصہ : سیف کی روایت میں سقیفہ کی داستان
سپاہ اسامہ
احادیث میں سقیفہ کی داستان
داستان سقیفہ کی بنیاد ڈالی جارہی ہے
پیغمبر کی رحلت
پیغمبر کی تدفین سے پہلے خلافت کے امیدوار
سقیفہ میں حضرت ابو بکر کی بیعت
حضرت ابو بکر کی عمومی بیعت اور پیغمبر کی تدفین
حضرت ابو بکر کی بیعت کے مخالف
فاطمہ کے گھر میں پناہ لینے والے
حضرت ابوبکر کی بیعت کے ساتھ علی کی مخالفت
بیعت ابوبکر کے بارے میں بزرگ اصحاب کے فیصلے
حضرت ابوبکر کی حکومت کے خلاف ابو سفیان کی بغاوت
سیف کی روایتوں کی چھان بین یا نتیجہ گیری
سپاہ اسامہ
”قد اعطی السّلطة رغبتها و النّاس رغبتهم“
سیف نے ان داستانوں میں تحریف کرکے لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے علاوہ قدرتمندوں کی خواہشات کو بھی پورا کیاہے ۔
مؤلف
سیف کی روایت میں سپاہ اسامہ
طبری نے اپنی تاریخ کی ج ۳/ ۲۱۲ ،پر ۱۱ ھ ء کے وقائع اور حوادث بیان کرتے ہوئے اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق کی ج ۱ ص ۴۲۷ میں لشکر اسامہ کے بارے میں درج کیا ہے اس روایت میں سیف کہتا ہے :
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل اہل مدینہ اور اس کے اطراف کے باشندوں پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا تھا ، اور عمر ابن خطاب بھی اس لشکر میں شامل تھا ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لشکر کے سپہ سالار کے طور پر اسامہ بن زید کو مقرر فرمایا تھا ، ابھی یہ لشکر مدینہ کے خندق سے نہیں گزرا تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی ۔
اسامہ نے لشکر کے آگے بڑھنے سے روکا اور عمر سے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ کے پاس جا کر ان سے رخصت حاصل کروتا کہ میں لوگوں کو لوٹا دوں “
مزید کہتا ہے :
” اس لشکر میں موجود انصار نے عمر کے ذریعہ ابو بکر کو پیغام بھیجا کہ اسامہ کی جگہ پر کسی اور کو لشکر کا امیر مقرر کریں ، عمر نے جب انصار کے اس پیغام کو پہنچا دیا تو ابو بکر ناراض ہوئے اور عمر کی داڑھی کو پکڑ کر کہا: اے ابن خطاب ! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے اور تیرے مرنے پر روئے ! اسامہ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لشکر کا سردار مقرر فرمایا ہے ، تم مجھے حکم د یتے ہو کہ میں اس سے یہ منصب چھین لوں اور کسی دوسرے کو اس کی جگہ پر معین کردوں ؟
اسکے بعد کہتا ہے :
” ابو بکر نے اس لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور انھیں رخصت کیا اور رخصت کے وقت یہ دعا پڑھی : خدا کے نام لیکر روانہ ہوجائیے ، خدا تمہیں قتل و طاعون سے نابود ہونے سے بچائے “
یہ تھی لشکر اسامہ کے بارے میں سیف کی روایت۔
سپاہ اسامہ سیف کے علاوہ دوسری روایتوں میں
دوسرے راویوں نے لشکر اسامہ کے بارے میں یوں بیان کیا ہے :
” رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۱۱ ھء میں سوموار کے دن جبکہ ماہ صفر کے چار دن باقی بچے تھے ، رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیدیا ، دوسرے دن اسامہ بن زید کو بلایا اور فرمایا:
سپہ سالار لشکر کی حیثیت سے اس جگہ کی طرف روانہ ہوجاؤ جہاں پر تیرا باپ شہید ہوا ہے لہذا جاؤ اور ان پر ٹوٹ پڑو۔
بدھ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سردرداور بخار کا اثر ہوا اور جمعرات کی صبح کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے جنگ کے پرچم کو اسامہ کے ہاتھ میں دیدیا ، اسامہ پرچم کو ہاتھ میں لینے کے بعد مدینہ سے نکل گئے اور مدینہ سے ایک فرسخ کی دوری پر ” جرف “ کے مقام پر پڑاو ڈال کر کیمپ لگا دیا ۔
عام طور پر مہاجر و انصار کے سرداروں کو اس جنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی ، ابو بکر ، عمر ، ابو عبیدہ جراح ، سعد و قاص اور سعید بن زید کے علاوہ چند دوسرے لوگ ان میں شامل تھے ، کچھ لوگوں نے اعتراض کے طور پر کہا : ” کیوں اس بچہ کو ایک ایسے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا جاتا ہے جو صف اول کے مہاجرین پر مشتمل ہے !؟
یہ باتیں سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سخت برہم ہوگئے ، آپ کے سر پر ایک رومال بندھا ہواتھا اور شانوں پر ایک تولیہ رکھا تھا(۱) ، آپ اسی حالت میں گھر سے باہر تشریف لائے اور منبر پر جاکر کر فرمایا :
”یہ کیا باتیں ہیں جو اسامہ کی سپہ سالاری کے بارے میں سننے میں آتی ہیں بے شک
آپ وہی لوگ ہیں جو اس سے پہلے اس کے باپ کی سپہ سالاری کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، جبکہ بخدا اسکا باپ ایک لائق کمانڈر تھا اور اس کا بیٹا بھی اس کی لیاقت و شائستگی رکھتا ہے اس کے بعد آپ منبر سے نیچے تشریف لائے ، اسامہ کے ساتھ جانے والے مسلمانوں نے پیغمبر خدا کو الوداع کہدیا اور ” جرف “ کے فوجی کیمپ کی طرف روانہ ہوگئے ۔
پیغمبر خدا کا مرض شدت پکڑتا گیا اس حد تک کہ آپ بیماری کی شدت کی وجہ سے بے ہوش پڑے ہوئے تھے ، اسامہ آپ کے نزدیک آئے اور جھک کر آپ کے بوسے لئے ، پیغمبر خدا میں بات کرنے کی طاقت نہیں تھی ، اسامہ لوٹے اور سوموار کو دوبارہ پیغمبر خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس دن پیغمبر کی حالت بہتر تھی اور آپ نے اسامہ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
” خوش بختی اورمبارک کے ساتھ روانہ ہوجاؤ“ ، اسامہ نے پیغمبر خدا سے رخصت حاصل کی الوداع کہا اوراپنے فوجی کیمپ کی طرف آگئے اور فوج کو روانہ ہونے کا
____________________
۱۔ ان دنوں رسم یہ تھی کہ مریضوں کو ردا اور عمامہ کے بجائے ان کے سر پر ایک رومال باندھا جاتا تھا اور شانوں پر ایک تولیا رکھا جاتا تھاا ور یہ اس وقت ہوتا تھا جب بیمار کا سر عمامہ پہننے اور شانے پر ردا ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔
حکم دیدیا، لیکن جب اپنے گھوڑے پر سوار ہورہے تھے ، اسی اثناء میں اسکی ماں کی طرف سے ایک قاصد آیا اور خبر دیدی کہ پیغمبر احتضار کی حالت میں ہیں ، لہذا اسامہ، عمر ، ابو عبیدہ اور چند دیگر افراد کے ہمراہ واپس لوٹا ، پیغمبر خدا نے بھی اسی دن وفات پائی(۱)
یہ تھی اسامہ کے لشکر کی حالت پیغمبر کی زندگی کے آخری لمحات تک کی ایک اجمالی تشریح۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد والے حالات کے بارے میں ابن عساکر نے اپنی کتاب کے ج ۱/ ۴۳۳ میں یوں روایت کی ہے :
”جب خلافت کےلئے بیعت لینے کا کام تمام ہوا اور لوگوں نے اطمینان کی سانس لی ، تو ابو بکر نے اسامہ سے کہا :” اس جگہ کی طرف چلے جاؤ جہاں جانے کا تمہیں پیغمبر خدا نے حکم دیا ہے “ مہاجرین اور انصارسے بعض لوگوں نے ابو بکر کو یہ تجویز پیش کی کہ اس لشکر کو روانہ کرنے میں تاخیر کریں لیکن ابو بکر نے ان کی یہ تجویز منظور نہیں کی ۔ ۴۳۸ پر ایک اور روایت میں کہتا ہے ۔
ابو بکر نے لشکر کو روانہ کیا ور اسے رخصت کرتے ہوئے اسامہ سے مخاطب ہوکر کہا :
”میں نے خود سنا ہے کہ پیغمبر خدا ضروری ہدایات تجھے دے رہے تھے ان ہی ہدایات پر عمل کرنا میں تجھے کوئی اور حکم نہیں دیتا ہوں “
____________________
۱۔ اسی روایت کو ابن سعد نے طبقات ج ۴/ ۱۹۰، میں ابن سید نے ” عیون الاثر ، ج ۲/ ۸۱ میں نقل کیا ہے اور دوسرو ں نے بھی صراحت کے ساتھ کہ ابو بکر اور عمر اسامہ کے لشکر میں شامل تھے ان میں بلاذری نے انساب الاشراف ج ۱/ ۴۷۴ ، یعقوبی نے اپنی تاریخ ۲/ ۷۲ میں ، ابن بدران نے تہذیب ج۲/ ۷۴ میں ، ابن اثیر نے اپنی تاریخ کی ج۲/ ۱۲۰ میں ، ملا متقی نے کنز العمال ج ۵/ ۳۱۲ اور منتخب کنز ج ۴/ ۱۸۰ میں ، ابن سعد نے بھی طبقات ج ۴/ ۶ میں اور مراغی نے ” تلخیص معالم دار الہجرہ ص ۹۰ میں درج کیا ہے
تطبیق و موازنہ کا نتیجہ
۱ ۔ سیف اپنی روایت میں کہتا ہے :
ابھی اسامہ کے لشکر کا آخری حصہ مدینہ کے خندق سے نہیں گزرا تھا کہ پیغمبر نے رحلت فرمائی ، اس جملہ کو سیف نے ایک خاص مقصد کے پیش نظر گڑھ لیا ہے ، اس طرح وہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ پیغمبر کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنے میں ایسے آمادہ تھے کہ آپ حکم روانگی کے بعد بلا تاخیر روانہ ہوئے اور ابھی لشکر کا آخری حصہ مدینہ کے خندق سے نہ گزرا تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی اس طرح وہ اس سے پہلے اور بعد والی مخالفتوں اور نافرمانیوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے ! جبکہ دوسری روایتوں میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی اور اسامہ کے فوجیوں نے ” جرف“ میں کیمپ لگایا تھا اور چند روزتک مدینہ میں رفت و آمد کرتے رہے ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حالت ٹھیک ہونے پر اسامہ کے لشکر کے روانہ ہونے کے بارے میں سوال فرماتے تھے ، جب آپ کو معلوم ہوتا تھا کہ بعض افراد آپ کے حکم پر عملی جامہ پہنانے میں ٹال مٹول کررہے ہیں اور آپ کے حکم کے اجراء میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو آپ سخت برہم ہوتے تھے اور مکرر فرماتے تھے :
” لشکر اسامہ کو روانہ کرو ! لشکر اسامہ کو بھیجدو ! “
لیکن سیف نے اس حقیقت کے بر خلاف تخریب کاروں کو بری کرنے کیلئے مذکورہ جملہ کا اضافہ کیا ہے ۔
۲ ۔ سیف کہتا ہے :
” اسامہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کی خبر سنتے ہی عمر کو خلیفہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو بکر کے پاس بھیج دیا اور ان سے اجازت چاہی تا کہ واپس لوٹیں “ سیف نے اس جملہ کو بھی اپنے خاص مقاصد کے پیش نظر گڑھ لیا ہے ، جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ دوسری روایتوں میں آیا ہے : ” جو خبر اسامہ کو پہنچی وہ پیغمبر کے احتضار کی خبر تھی اور اسامہ عمر اور ابو عبیدہ کے ہمراہ یا بعض روایتوں میں ہے ابو بکر و عمر کے ہمراہ مدینہ واپس لوٹے ۔ پیغمبر کی رحلت کے بعد ابو بکر مدینہآئے اور سقیفہ میں ان کی بیعت انجام پائی جو مسجد النبی میں اختتام کو پہنچی اور جب ابو بکر پیغمبر کے خلیفہ کے عنوان سے پہچانے گئے تو لشکر اسامہ کے سلسلہ میں مداخلت کی ، لیکن سیف اپنے شاطرانہ بیان سے یہ کہنا چاہتاہے کہ ابو بکر کی خلافت کا مسئلہ پیغمبر کے زمانے سے چلا آرہا تھا !!۔
۳ ۔ سیف روایت کرتا ہے : ” انصار نے ابو بکر سے درخواست کی کہ اسامہ سے سپہ سالاری کا عہدہ چھین کر اس کی جگہ کسی اور کو معین کیا جائے “ جبکہ دوسری روایتوں میں خاص کر تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۴۳۸ پر واضح طور پر آیا ہے کہ یہ درخواست پیغمبر خدا سے ہوئی ہے اور درخواست کرنے والے مہاجرین میں سے صف اول کے کچھ لوگ تھے نہ انصار، لیکن چونکہ سیف کی ہم عصر حکومت مہاجرین کے ہاتھوں میں تھی ، لہذا س نے وقت کی حکومت کو راضی رکھنے کیلئے مہاجرین کا کام انصار کے سر پر تھونپ دیا ہے ۔
۴ ۔ سیف کہتا ہے کہ ابو بکر نے اسامہ اور اس کے لشکر کو دس احکام جاری کئے ، جبکہ دوسری روایتوں کے مطابق ضروری احکام پیغمبر خدا نے دئے تھے ، حتی ان روایتوں میں آیا ہے ابو بکر نے کہا: میں نے سنا ہے کہ پیغمبر خدا نے تمھیں ضروری ہدایات دئے ہیں ، ان ہی ہدایات پر عمل کرنا میں ان کے علاوہ کوئی اور حکم نہیں دوں گا ۔
۵ ۔ اپنی روایات کے اختتا م پر سیف کہتا ہے :
” عمر جو پیغام انصار کی طر ف سے ابو بکر کے پاس لائے تھے ، اس کے سبب ابو بکر نے عمر کی داڑھی پکڑ کر ان کی نفرین کی “ ، جبکہ ایسا واقع ہونا بعید لگتا ہے ، کیونکہ دوسری روایتوں میں اس سلسلے میں کوئی ذکر نہیں ہے ، اور دوسری طرف سے ”و ما علی الرسول الاّ البلاغ “ بھی ہے ۔
اگر چہ ہم نے اس سے پہلے دیکھا کہ سیف نے اپنی جعل کی گئی روایتوں میں حکومت وقت اور اس کے ہم عصر لوگوں کی خوشنودی اور رضا مندی کے تحفظ کی کوشش کی ہے لیکن یہ آخری جملہ کس لئے گڑھ لیا ہے ؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور علت ہوسکتی ہے کہ علم رجال کے علماء کے بقول وہ زندیق تھا ، اور تاریخ اسلام کا مذاق اڑانا چاہتا تھا ؟ ہمیں تو اس کے علاوہ کوئی اور سبب نظر نہیں آتا ہے !!
سیف نے کچھ ایسی روایتیں جعل کی ہیں جن کی بالکل کوئی بنیاد نہیں ہے ، سیف کے افسانے خود اس سے مربوط ہیں ان افسانوں میں ایسے ہیرو اور پہلوان نظر آتے ہیں کہ زمانے کی مامتا نے انھیں ابھی جنم ہی نہیں دیا ہے،لیکن سیف کی روایتوں کے منتشر ہونے کے بعد وہ ہیرو، اسلام کی عظیم شخصیتوں میں شمار ہوئے ہیں ، انشاء اللہ ہم اس کتاب کے اگلے صفحات میں ان سورماؤں کی معرفی کرادیں گے ۔
سپاہ اسامہ میں موجود نامور اصحاب
اس بحث کے اختتام پر مناسب ہے کہ سپاہ اسامہ میں موجود چند اصحاب رسول کی زندگی کے بارے میں خلاصہ کے طور پر کچھ بیان کیا جائے ۔
اول و دوم : ابو بکر و عمر یہ پہلے اور دوسرے خلیفہ ہیں جو محتاج تعارف نہیں ہیں اس لئے ان کے حالات کی تشریح کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
سوم : ابو عبیدہ جراح(۱) ان کے حالت کے بارے میں یوں کہا گیا ہے :
____________________
۱۔ ملاحظہ ہو الاستعیاب ج۳/ ۲۔۴ اور اسد الغابہ ج ۳/ ۸۴ ۔ ۸۶ اور اصابہ ج ۲/ ۳۴۵۔
” ابو عبیدہ ان کی کنیت تھی اور ان کا نام عامر ابن عبد اللہ بن جراح قرشی تھا ۔ ان کی ماں امیمہ بنت غنم بن جابر تھیں ۔ وہ اسلام کے صف اول کے اشخاص میں سے تھے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دوبار ہجرت کی ہے ۔ ابو بکر نے انھیں ایک لشکر کا سردار مقررر کرکے شام بھیجدیا ۔ انھوں نے ۱۸ ئھ میں ”عمواس“ نامی مشہور طاعون کے سبب وفات پائی، اور موجودہ اردن میں ایک جگہ پر انکو سپرد خاک کیا گیا۔
چہارم : سعد ’ ’ وقاص“(۱) ان کی کنیت ابو اسحاق تھی اوران کے باپ کا نام مالک تھا،وہ قریش کے قبیلہ زہرہ سے تعلق رکھتے تھے ، کہا جاتا ہے کہ وہ ساتوین افراد تھے جنھوں نے اسلام قبول کیا نیز انھوں نے بدر اور دوسرے غزوات میں شرکت کی ہے ، وہ اسلام میں پہلے وہ شخص ہیں جس نے سب سے پہلے دشمن کی طرف تیر پھینکا، وہ عراق کے سرکردہ فاتحین میں سے تھے اور عمر نے انھیں کوفہ کا گورنر مقرر کیا تھا ، عمر ابن خطاب نے ابو لؤ لؤ کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد سعد و قاص کو خلافت کی چھ رکنی شوریٰ کا ممبر معین کیا ۔
سعد نے عثمان کے قتل ہونے کے بعد لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کی اور معاویہ کی خلافت کے زمانے میں مدینہ سے باہر ” عقیق“ نامی ایک جگہ پر رہائش پذیر تھے اور وہیں پر وفات پائی ، ان کے جنازہ کو مدینہ لے جا کر بقیع میں دفن کیا گیا ۔
پنجم: سعید بن زید(۲) : سعید قریش کے قبیلہ عدی سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عمر ابن خطاب
____________________
۱۔ ملاحظہ ہو استیعاب ،ج ۲/ ص۱۸۔ ۲۵ اور اسد الغابہ ،ج ۲/ ۲۶۰ و اصابہ ،ج ۲/ ۳۰۔ ۳۶
۲۔ اسکے حالات زندگی کے سلسلے میں اسد الغابہ ج ۲/ ۳۰۸ اور اصابہ و استیعاب کا مطالعہ کیا جائے ۔
کا چچیرے بھائی تھے۔ عمر نے سعید کی بہن عاتکہ سے اور سعید نے عمر کی بہن فاطمہ سے شادی کی تھی ۔
عمر کی بہن فاطمہ اور عمر کے چچیرے بھائی سعید نے عمر سے پہلے اسلام قبول کیا، جب عمر کو اس کی اطلاع ملی تو ان کے گھر جا کر اپنی بہن کے چہرے پر ایسا تھپڑ مارا کہ ان کے رخسار سے خون جاری ہوگئے ، لیکن اس کے فوراً بعد بہن کی اس حالت پر رحم کھا کر خود بھی مسلمان ہوگئے !!! سعید نے ۵۰ ئھ یا ۵۱ ھء میں وفات پائی اورمدینہ میں انھیں سپرد خاک کیا گیا۔
ششم ۔ اسامہ(۱) : اسامہ کے باپ زید بن حارثہ کلبی ، پیغمبر خدا کا آزاد کردہ غلام اور ان کی ماں ام ایمن حضرت کی آزاد کردہ کنیز اور ان کی خادمہ تھیں ، اسامہ اسلام کے ابتدائی دنوں میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے معاویہ کی خلافت کے دوران وفات پائی تھی ۔
سپاہ اسامہ روانہ کرنے میں پیغمبر خدا کا مقصد
جس کام کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں انجام دیا ، وہ حیرت انگیز تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اصحاب میں سے بعض افراد اور بزرگوں کو انتہائی اصرار کے ساتھ مدینہ سے نکال کر شام اور سوریہ کی سرحد تک روانہ کرکے اسلامی مرکز سے دور بھیجنا چاہتے تھے۔ اس غرض سے ان کو مجبور کیا تھا کہ اسامہ کی کمانڈری میں رہیں ، یعنی ایک ایسے شخص کی کمانڈری میں جس کے ماں باپ دونوں غلام تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انھیں آزاد کیا تھا۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں مذکورہ افراد کو اسامہ کی سرکردگی میں مدینہ(جو اس زمانے میں اسلام کا دار الخلافہ تھا)سے دور بھیجنا چاہتے تھے اور اس نازک وقت پر علی علیہ السلام کو اپنے سرہانے رکھنا چاہتے تھے ؟!!!
سیف کی احادیث میں سقیفہ کی داستان
”الا و ان لی شیطاناً یعترینی فاذا اتانی فاجتنبونی “
ہوشیار رہو ! میرا ایک شیطان ہے جو بعض اوقات مجھ پر مسلط ہوتا ہے اور اگر تم لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا تو اس وقت مجھ سے دوری اختیار کرنا تا کہ میری طرف سے تمہارے مال و جان کو کوئی نقصان نہ پہنچے
ابو بکر
سیف نے سقیفہ کی داستان کو سات روایتوں میں نقل کیا ہے ہم اس فصل میں پہلے اس کی ان روایتوں کو نقل کریں گے اور اس کے بعد ان کے اسناد کی تحقیق کریں گے ، اگلی فصلوں میں دوسرے راویوں کی روایتوں سے ان کی تطبیق و موازنہ کرکے چھان بین کریں گے اور آخر میں سیف کی روایتوں کے مآخذ اور ان کے مضمون کے بارے میں تحقیق کا نتیجہ علم دوست حضرات کی خدمت میں پیش کریں گے ۔
سیف کی روایتیں
پہلی روایت :
ابن حجر نے قعقاع بن عمر و کی زندگی کے حالات کو سیف سے نقل کرتے ہوئے یوں بیان کیا ہے کہ قعقاع نے کہا ہے :
” میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے وقت وہاں پر حاضر تھا ، جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک شخص نے مسجد میں داخل ہوکر کہا ؛ انصار متفقہ طور پر سعد بن عبادہ کو جانشینی اور خلافت کے عہدہ پر منتخب کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کو توڑنا چاہتے ہیں ۔ مہاجرین اس خبرکو سننے کے بعد وحشت میں پڑگئے(۱)
دوسری روایت :
طبری نے ۱۱ ھ ء میں سیف سے نقل کیا ہے کہ راوی نے سعید بن زید سے پوچھا : کیا تم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے وقت حاضر تھے ؟
اس نے کہا ؛ جی ہاں !
ابو بکر کی بیعت کس دن کی گئی؟
اس نے جواب میں کہا اسی دن جس روز رسول خد ا نے رحلت فرمائی ، کیونکہ لوگ نہیں چاہتے تھے نصف دن بھی اجتماعی نظم و انتظام کے بغیر گزاریں ۔
کیا کسی نے ابو بکر کی بیعت سے اختلاف کیا ؟
____________________
۱۔ اصابہ : ۲/ ۲۴۰ ، الجرح و التعدیل رازی ج ۳/ حصہ ۲/ ۱۳۶۔
نہیں ، صرف ان لوگوں نے مخالفت کی جو مرتد ہوئے تھے یامرتد ہونے کے نزدیک تھے توانھیں خدا نے انصار کے ہاتھوں نجات بخشی تھی ۔
کیا مہاجرین میں سے کسی نے بیعت سے سرپیچی کی ؟
نہیں ، تمام مہاجرین نے کسی کی تجویز کے بغیر یکے بعدد یگرے بیعت کی۔
تیسری روایت :
طبری نے بھی سعد بن عبادہ کیلئے بیعت لینے کی انصار کی کوشش اور ان کی ابو بکر سے مخالفت کے بارے میں یوں روایت کی ہے :
کہ(۱) ” سیف نے اپنے مآخذ سے سہل اور ابی عثمان سے اور اس نے ضحاک بن خلیفہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : ” جب حباب بن منذر(۲) نے کھڑے ہوکر تلوار ہاتھ میں لی اور کہا:
اناجذیلها المحکک و عذیقها المرجب ، ان ابو شبل فی عرینة الاسد “(۳)
____________________
۱۔ طبری ج ۳/ ۲۱۰
۲۔ حباب بن منذر پیغمبر خدا کے اصحاب میں سے تھے ان کی زندگی کے حالات بعد میں بیان کئے جائی ں گے۔
۳۔ یہ تین جملے عربی ضرب المثل ہیں اور ان کے معنی یہ ہیں ؛ میں اس لکڑی کے مانند ہو ں جسے اونٹو ں کے سونے کی جگہ پر رکھا جاتا ہے تا کہ کھجلی آنے پر وہ اپنے بدن کو اس کے ساتھ رگڑ لی ں ( یہ اس بات کی طرف کنایہ ہے کہ مشکل کے وقت میری رائے کی طرف پناہ لی ں ) اور میں اس قوی درخت کے مانند ہو ں کہ مشکلات میں میرے سائے میں پناہ لیتے ہیں اور حوادث کے طوفان مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچاتے ۔ میں کچھار میں شیر کے بچو ں کے باپ کے مانند ہو ں ۔
عمر نے تلوار ہاتھ میں لی اورسعد بن عبادہ کی طرف حملہ کیا ، دوسرے لوگ بھی سعد بن عبادہ پر حملہ آور ہوئے اور پے در پے ابو بکر کی بیعت کی ، انصار کا یہ کام ایام جاہلیت کی سی ایک غلطی تھی جس کا ابو بکر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔
جس وقت سعد بن عبادہ پایمال ہوا ، ایک شخص نے کہا ؛ کیا تم لوگوں نے سعد بن عبادہ کو قتل کر ڈالا ؟ عمرنے جواب میں کہا : خدا اسے مار ڈالے ، وہ ایک منافق شخص ہے ! اس کے بعد عمر نے حباب کی تلوار کو ایک پتھر پر مار کر اسے توڑدیا “
چوتھی روایت :
اس کے بعد طبری نے مندرجہ ذیل روایت کو نقل کیا ہے ۱ سیف نے جابر سے روایت کی ہے کہ : ” سعد بن عبادہ “نے اس دن ابو بکر سے کہا :
اے مہاجرین کی جماعت ! تم لوگوں نے میری حکمرانی پر رشک کیا ہے ! اور اے ابو بکر ! کیا تم نے میرے خاندان کی حمایت میں ہمیں بیعت کرنے پر مجبور کیا ہے ؟ ابو بکر اور ان کے حامیوں نے جواب میں کہا : اگر ہم تیری دلی چاہت کے خلاف ملت سے جدا ہونے پر تجھے مجبور کرتے اور تم مسلمان کے اجتماع سے اپنے رابطہ کو برقرار رکھتے ، تو تم یہ کام کرسکتے ، لیکن ہم نے تجھے اجتماع سے پیوست ہونے پر مجبور کیا ، معلوم ہے کہ اس رسالت کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ، اگر اطاعت کرنے سے منہ موڑ لو گے اور معاشرے میں تفرقہ ایجاد کرو گے تم ہم تیرا سر قلم کریں گے ۔
پانچویں روایت :
طبری ابو بکر اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی بیعت کے بارے میں بھی سیف سے اس طرح نقل کرتا ہے کہ علی گھر میں تھے کہ خبر ملی کہ ابوبکر نے بیعت کیلئے نشست کی ہے چونکہ وہ ابو بکر کی بیعت کرنے میں تاخیر کرنانہیں چاہتے تھے، اس لئے صرف ایک کرتا پہن کر قبا و شلوار کے بغیر پوری عجلت کے ساتھ باہرآئے اور ابو بکر کے پاس دوڑے اور ان کی بیعت کی ، اس کے بعد کسی کو بھیج دیا تاکہ ان کی قبا لے آئے پھر قبا کو پہننے کے بعد ابو بکر کے پاس بیٹھ گئے ۔
چھٹی حدیث:
اس کے علاوہ طبری نے سیف سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے دوسرے دن ابو بکر نے دو خطبے نسبتاً طولانی بیان کئے جن میں دوسری تمام چیزوں کی نسبت موت ، دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کے بارے میں بات کی ۔
انشا ء اللہ ہم ان خطبوں کو کتاب کے آخر میں (روایتوں کی چھان بین کے باب میں) نقل کرکے اس پر تحقیق کریں گے ، ان دو خطبوں میں جو چیز قابل توجہ ہے وہ یہ جملہ ہے کہ ابوبکر نے کہا ہے :
الا و إنّ لی شیطاناً یعترینی فاذا اتانی فاجتنبونی لا اوثر فی اشعارکم و ابشارکم ۔
ہوشیا رہو ! میرا ایک شیطان ہے جو کبھی کبھار مجھ پر مسلط ہوتا ہے اگر وہ شیطان میرے نزدیک آیا تو تم لوگ مجھ سے دوری اختیار کرنا تا کہ میں اپنے مفاد میں تمہارے مال و جان پر دست درازی نہ کروں “
ساتویں حدیث:
طبری(۱) نے مبشرین فضیل سے اس نے جبیر سے اس نے اپنے باپ صخر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محافظ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:
پیغمبر خدا کی وفات کے وقت خالد بن سعید عاصی یمن میں تھا۔ وہ ایک مہینہ بعد مدینہ کی طرف آیا ۔ اورایک زیبا قبا پہنے عمر اور حضرت علی علیہ السلام کے سامنے حاضر ہوا ، جب عمر نے اسے ایک زیبا قبا میں ملبوس پایا تو اپنے حامیوں سے مخاطب ہوکر بلند آواز میں بولے: خالد کی زیب تن کی ہوئی قبا کو پھاڑ ڈالو! اس نے ریشمی قبا پہنی ہے جبکہ یہ جنگ کا زمانہ نہیں ہے بلکہ صلح کا زمانہ ہے(۲) عمر کے حامیوں نے ان کے حکم سے خالد کی زیبا قبا کو پھاڑ ڈالا ۔
خالد نے غصے کی حالت میں حضرت علی علیہ السلام کی طرف مخاطب ہوکر کہا اے ابو الحسن ! اے عبد مناف کے فرزند ! کیا خلافت کو کھونے کے بعد مغلوب ہوچکے ہو؟ حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں کہا : تم اسے غالب و مغلوب دیکھتے ہو یا خلافت کو !؟(۳)
____________________
۱۔ طبری ج ۲/ ۵۸۶۔
۲۔ اسلام میں مردو ں کیلئے جنگ کے موقع پرریشمی لباس پہنناجائز ہے اور صلح میں حرام ہے ۔
۳۔قال : قال یا ابا الحسن یا بنی عبد مناف اغُلِبتم علیها ؟ فقال علی ا مغالبة تری ام خلافة ؟!
خالد نے کہا : اے عبد منا ف کے بیٹو ! ” تمہارے سوا کوئی اور خلافت کا سزاوار نہیں ہے ؟ “ عمر نے خالدسے مخاطب ہوکر کہا ؛ خدا تیرے منہ کو توڑ ڈالے ! تم نے ایسی بات کہی ہے جو جھوٹوں کیلئے ہمیشہ سند بن جائے گی او راس کو نقل کرنے والا اپنے لئے نقصان کے سوا کچھ نہیں پائے گا ! اس کے بعد عمر نے خالد کی باتوں کی رپورٹ ابو بکر کو پیش کی ۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد جب ابو بکر مرتدوں سے جنگ کرنے کیلئے ایک لشکر کو منظم کررہے تھے تو خالد کے ہاتھ بھی ایک پرچم دینے کی ٹھان لی ، عمر نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا :
خالد ایک ناتوان اور کمزور شخص ہے اور اس نے ایک ایسا جھوٹ بولا ہے کہ جب تک اسکے اس جھوٹ کو نقل کرنے والا دنیا میں موجود ہو اور لوگ اس کے گرد جمع ہوجائیں اس شخص سے ہرگز مدد طلب نہیں کرنی چاہئے، ابو بکر نے مرتدوں سے جنگ کرنے کے بجائے خالد کو رومیوں سے جنگ کرنے کیلئے بھیجا اور اسے فوج کے ڈپٹی کمانڈر کی حیثیت سے تیماء روانہ کیا اس طرح عمر کی باتوں کے ایک حصہ پر عمل کیا اور ایک حصہ کو مسترد کردیا ۔
سیف کی روایتوں کا مآخذ
علم حدیث کے دانشور اور علماء جب کسی روایت کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو وہ دو چیزوں کو مد نظر رکھتے ہیں :
اول : روایت کا مآخذ، یعنی روایت کرنے والا کن خصوصیات کا مالک ہے اور اس نے روایت کو کن اشخاص سے نقل کیا ہے ۔
دوم : روایت کا متن ، یعنی روایت میں بیان ہوئے مطالب کی چھان بین کرنا اس لحاظ سے سقیفہ کے بارے میں سیف کی روایتوں کو متن و مآخذ کے لحاظ سے چھان بین کرنا چاہئے تا کہ ان کی علمی قدر و منزلت اور اعتبار کی حیثیت معلوم ہوسکے اب ہم سیف سے نقل کی گئی روایتوں کے مآخذکی چھان بین کرتے ہیں ۔
سیف کی سب سے پہلی روایت جسے ہم نے نقل کیاوہ کتاب ” الاصابہ “ سے ہے ، جسے سیف نے قعقاع بن عمرو تمیمی سے نقل کیا ہے ، قعقاع ایک ایسا سورما ہے جو سیف کے خیالات کی تخلیق ہے اسی قسم کے کسی شخص کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے، لیکن بعض علماء نے تحقیق کئے بغیر صرف سیف کی روایت پر بھروسہ کرکے قعقاع کے نام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کی فہرست میں درج کرکے سیف کی روایتوں سے اس کی زندگی کے مفصل حالات قلم بندکردیئے ہیں سینکڑوں کتابوں میں اس کے اشعار ، بہادریوں ، جنگوں ، جنگی منصوبوں ، لشکر کشیوں اور اجتماعی کارکردگی کے بارے میں قلم فرسائی کی ہے ، ان افسانوں کا سرچشمہ صرف اور صرف سیف کی روایتیں ہیں ۔ ہم نے اس موضوع اور سیف کے اس قسم کے افسانوی بہادروں کے بارے میں اپنی کتاب ”خمسون و ماة صحابی مختلق “ میں تفصیلات بیان کی ہیں(۱)
____________________
-۱۔ اس کتاب کا ترجمہ اردو زبان ” ۱۵۰ جعلی اصحاب “ کے عنوان اسی مترجم کے قلم سے ہوا ہے ۔
سیف نے تیسری روایت کو سہل سے نقل کیا ہے اور اسے یوسف بن سلمی انصاری کا بیٹا بتایا ہے ہم نے جس کتاب میں اس کے بارے میں لکھا ہے وہاں یہ ثابت کیا ہے کہ حقیقت میں اس نام کا کوئی راوی ہی وجود نہیں رکھتا تھا اور یہ بھی سیف کے خیالات کی تخلیق ہے ۔
چوتھی روایت سیف نے مبشر سے نقل کی ہے ، یہ نام بھی صرف سیف کی روایتوں میں درج ہے اس کا کہیں اور سراغ نہیں ملتا ، علم حدیث کے علماء نے اس کے بارے میں کہا ہے :
” سیف اس سے روایت کرتا ہے لیکن اسے کوئی نہیں جانتا “(۱)
آخری روایت کو سیف نے صخر نامی ایک شخص سے نقل کیا ہے ، سیف نے اس کا پیغمبر خدا کے خصوصی محافظ کے عنوان سے تعارف کرایا ہے ، جبکہ علم رجال کی کتابوں اور پیغمبر خدا کے اصحاب کی زندگی کے حالات میں اس قسم کے کسی شخص کا ذکر تک نہیں ہے اور پیغمبر خدا کا کوئی محافظ اس نام کا نہیں تھا ۔
اس کے مآخذ میں اور بھی مجہول راوی ہیں کہ اس خلاصہ میں ان کا ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔
یہ تھیں سیف کی روایتیں مآخذاور قدر ومنزلت کے لحاظ سے، اب ہم ان روایات کے متن کے بارے میں قارئین کو جانکاری دیں گے ۔
____________________
۱۔ ملاحظہ ہو لسان المیزان ج۵/ ۱۳
سیف کی روایتوں کے مآخذ
سیف کی روایتوں میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اسے روایت گڑھنے میں خاص مہارت تھی ۔ کیونکہ وہ روایتوں کے ایک حصہ میں حقائق کی تحریف کرتا ہے اور حوادث کے دوسرے حصہ کو ایسے نقل کرتا ہے کہ پڑھنے والا غیر شعوری طور پر مطلب کو واقعیت کے خلاف سمجھتا ہے اس مطلب کی وضاحت کیلئے سیف کی روایت گڑھنے کی مہارت کے سلسلے میں یہاں پر ہم ایک نمونہ پیش کرتے ہیں : قعقاع سے نقل کی گئی سیف کی روایت میں (جسے اسی کتاب میں پہلی روایت کے طور پر درج کیا گیا ہے) آیا ہے :
’ ’ پیغمبر خدا کی رحلت کے دن ظہر کی نماز کے بعد یہ خبر ملی کہ انصار سعد بن عبادہ کی بیعت کرکے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کئے گئے عہد و پیمان کو توڑنا چاہتے ہیں “
پڑھنے والا اس روایت سے یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں نے خلافت کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی عہد وپیمان باندھاتھا ، جسے انصار توڑنا چاہتے تھے۔
اس کے علاوہ لشکر اسامہ کے بارے میں دوسری روایت میں (جسے ہم نے اس سے پہلے بیان کیا) تاریخ طبری اور تاریخ ابن عساکر سے نقل کرکے سیف بیان کرتا ہے :
”جب پیغمبر خدا کی رحلت کی خبر فوجی کیمپ میں پہنچی ، تو اسامہ نے عمر کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ ابو بکر کے پاس بھیجا “
اس روایت سے اس امر کا استنباط ہوتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ لوگوں کا عہد و پیمان ابو بکر کی خلافت کے بارے میں تھا ۔
سیف نے سقیفہ کہ داستان نقل کرنے میں مذکورہ چابک دستی اور مہارت سے کافی استفادہ کیا ہے ۔
سقیفہ کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس میں حقیقت اپنی اصلی راہ سے مکمل طور پر منحرف ہوئی ہے ، سیف نہیں چاہتا تھا اس تاریخی امانت میں خیانت کئے بغیر اسے دوسرں تک پہنچادے، سقیفہ کے بارے میں نقل کی گئی اس کی تمام روایتیں خلاف واقع اور حقیقت سے دور ہیں ، سقیفہ اور ابو بکر کی بیعت کے بارے میں حقیقت قضیہ جاننے سے سیف کے جھوٹ کا پول کھلنے کے علاوہ سقیفہ کے بارے میں معاویہ کے زمانے تک کے تاریخی حقائق کھل کر سامنے آتے ہیں ۔
لہذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے سقیفہ کے واقعہ کو مکمل طور پر اور استناد کے ساتھ علمائے اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود مورد اعتماد روایتوں سے نقل کر کے پیش کریں اور اس کے بعد اس سلسلے میں سیف کی نقل کی گئی روایتوں کی چھان بین کریں ۔
داستان سقیفہ کی داغ بیل
هلم اکتب لکم کتاباً لن تضلّوا بعده ابداً
آؤ ! میں تمہارے لئے ایک ایساوصیت نامہ لکھدوں گا ، جس کے ہوتے ہوئے تم لوگ ہرگز گمراہ نہیں ہوگے
پیغمبر اکرم
ان النبیّ غلبه الوجع و عندکم کتاب الله
پیغمبر خدا بخار اور بیماری کے سبب بولتے ہیں ، تمہیں کتاب ِ خدا کے ہوتے ہوئے ان کی تحریر کی ضرورت نہیں ہے ۔
عمر ، خلیفہ دوم
وہ فرمان جس کی اطاعت نہیں ہوئی
سقیفہ کے واقعہ کی پیغمبر خدا کی رحلت سے پہلے داغ بیل ڈالی گئی تھی ، چنانچہ ہم نے گزشتہ فصل میں دیکھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ کوشش اور تلاش تھی کہ اسلام کے دار الخلافہ مدینہ کو سرکردہ مہاجر اور انصار سے خالی کریں اسی لئے انھیں شام کی سرحدوں پر جاکر جہاد کرنے کی ذمہ داری دیدی تھی ، صرف علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنے سراہنے رہنے کی اجازت دی تھی ، لیکن ان لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کی اطاعت نہیں کی اورا س حکم کی تعمیل کرنے میں لیت و لعل اور لاپرواہی سے کام لیا اور اسی دوران پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحلت فرماکر اپنے مالک حقیقی سے جاملے ، اس رونما شدہ واقعہ کے دوران ایک ایسا اہم حادثہ پیش آیا ، جس نے تاریخ کی راہ کو مکمل طور پر موڑ کے رکھ دیا ۔
وصیت نامہ ، جو لکھا نہ جاسکا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زندگی کے آخری لمحات قریب سے قریب تر ہوتے جارہے تھے ، مدینہ منورہ کی فضا میں اضطراب اور وحشت کے بادل منڈلارہے تھے ، ہر ایک یہ محسوس کررہا تھا کہ عالم ِ بشریت جلدی ہی اپنے عظیم الشان قائد سے محروم ہونے والی ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے تربیتی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بستر علالت پر ہی آخر ی خاکہ کھینچ رہے تھے ۔ آپ نے فیصلہ کیا کہ کسی تاخیر کے بغیر اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنی کئی برسوں کی زحمتوں اور خدمات کو ضائع ہونے نہ دیں ، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہی افراد جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مرضی کے خلاف مدینہ سے باہر نہ نکلے تھے ، حالات کا جائزہ لے رہے تھے تا کہ پہلیفرصت میں اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنائیں ۔
لہذا انہوں نے اس امر کی اجازت نہیں دی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری پروگرام بشریت کی راہنمائی کیلئے ایک تحریر ی سند کے طور پر باقی رہے ۔
عمر ابن خطاب بذات خود کہتے ہیں :
”ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور خواتین پردے کے پیچھے بیٹھی تھیں کہ رسول خد ا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات خوشبو والے پانی سے غسل دینا اور میرے لئے ایک کاغذ اور قلم لاؤ تا کہ تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھدوں کہ اس کے بعد تم لوگ ہرگز گمراہ نہ ہو گے “
خواتین نے کہا: جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے ہیں اس چیز کو حاضر کرو “(۱)
مقریزی لکھتا ہے :
” اس بات کو جحش کی بیٹی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی زینب اور اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی دوسری عورتوں نے کہا : ” عمر“ کہتے ہیں : ” میں نے کہا چپ رہو ، تم وہی عورتیں ہو ، جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوتے ہیں تو اپنی آنکھوں پر زور دیکر روتی ہو اور جب آپ دوبارہ صحت یاب ہوجاتے ہیں تو ان کی گردن پکڑ کران سے نفقہ مانگنی ہو ! رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
” یہ عورتیں تم سے بہتر ہیں “
ابن سعد نے طبقات(۲) میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ ا س نے کہا :
____________________
۱۔ ملاحظہ ہو طبقات ابن سعد ج۲/ ۳۷ او نہایة الارب ج ۱۸ ۳۷۵ ، و کنزل العمال ج ۳/ ۱۳۸ و ج ۴/ ۵۲ اور مختصر کنز ج۳ ۔
۲۔ ج ۲ صفحہ۲۴۲ ۔
” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت کاغذ طلب کیا تا کہ اپنی امت کیلئے ایک ایسی تحریر لکھ ڈالیں کہ اس کے بعد نہ آپ کی امت گمراہ ہوگی اور نہ کوئی اسے گمراہ کرسکے گا ، اس مجلس میں حاضر لوگوں نے ایسا ہنگامہ مچایا کہ پیغمبر اسلام نے اپنا فیصلہ ترک کردیا ۔
اس کے علاوہ مسند احمد(۱) میں ابن عباس سے روایت کی گئی ہے : جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت نزدیک آئی تو، آپ نے فرمایا :
”میرے لئے ایک بھیڑ کا کندھا لاؤ(۲) میں تم لوگوں کیلئے ایک تحریر لکھ دوں گا تا کہ میرے بعد تمہارے درمیان حتی دو افراد میں بھی آپس میں اختلاف پیدا نہ ہوسکے“
ابن عباس کہتے ہیں :
” ایک جماعت نے شور و ھنگامہ شروع کردیا تو ایک عورت نے ان سے مخاطب ہوکر کہا: ”افسوس ہو تم لوگوں پر !پیغمبر وصیت کرنا چاہتے ہیں “
ابن عباس اپنی ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں(۳) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس
____________________
۱۔ ج ۱ ص ۲۹۳ ۔
۲۔ اس زمانہ میں کاغذ نہ ہونے کی وجہ سے تحریرات چمڑے ، حیوانو ں کی ہڈیو ں اور لکڑی جیسی چیزو ں پر لکھے جاتے تھے ۔
۳۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ۲۴۴۔
بیماری کے دوران (جس کے سبب آپ وفات پاگئے)فرمایا:
” میرے لئے دوات اور ایک کاغذلاؤ تا کہ تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے ؟“
عمر نے کہا: روم کے باقی رہ گئے فلاں اور فلاں شہروں کو جب تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح نہیں کرلیں گے اس وقت تک اس دنیا سے نہیں جائیں گے ، اور اگر آپ نے وفات پائی تو ہم آپ کے انتظار میں اسی طرح رہیں گے جس طرح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے انتظار میں منتظر رہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی زینب نے اس کے جواب میں کہا: کیا نہیں سنتے ہو پیغمبر تمہیں وصیت کرنا چاہتے ہیں ؟! اس کے بعد انہوں نے ہنگامہ اور شور و شرا با کیا ، لہذا پیغمبر نے فرمایا: یہاں سے اٹھ جاؤ ، ” جب وہ اٹھ کر چلنے لگے تو آپ نے وفات پائی “۔
ان روایتوں اور اس کے بعد آنے والی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ضعیف حالت کے باوجود کئی بار حکم دیا تھا کہ ان کےلئے کاغذ و دوات لائی جائے، لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر کے پاس بیٹھے ہوئے افراد نے مجلس میں کھلبلی اور ہنگامہ مچا کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے فیصلہ سے دست بردار ہونے پر مجبور کردیا ، آنے والی بحثوں میں جن روایتوں کو ہم نقل کریں گے ، ان سے معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور میں کس طرح کے ناشائستہ باتیں کی گئیں جن کے سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وصیت نامہ لکھنے سے صرف نظر کریں ۔
صحیح بخاری(۱) اور دوسری کتابوں میں روایت نقل ہوئی ہے کہ ابن عباس نے کہا :
”جمعرات کا دن کیسا دن تھا ، ؟! اس کے بعد اس قدرر وئے کہ ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسؤں نے کنکریو ں کو تر کردیا اس کے بعد بولے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی شدید بیماری کے عالم میں فرمایا: میرے لئے ایک کاغذ لاؤ تا کہ تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد ہر گز گمراہ نہ ہو گے “
مجلس میں موجود افراد میں جنگ و جدل برپا ہوگیا ، جبکہ کسی بھی پیغمبر کے حضور اختلاف و جدال کرنا جائز نہیں ہے ، کچھ لوگوں نے کہا : پیغمبر ہذیان بک رہے ہیں !!
پیغمبر نے فرمایا:
”مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو ! میری حالت اس سے بہتر ہے جو تم میرے بارے میں کہتے ہو ؟(۲)
ابن عباس نے ایک دوسری روایت میں اس بات کے راوی کاتعارف کرایا ہے ، صحیح بخاری میں
____________________
۱۔حدیث کا لفظ صحیح بخاری میں سے ہے ،کتاب جہاد باب جوائز وفد ج ۲/ ۱۲۰ ، ملاحظہ ہو ج ۲/ ۱۱۲ باب اخراج یہود از جزیرة العرب کتاب جزیہ اور صحےح مسلم ج ۵/ ۷۵ باب ترکہ وصیت اور مسند احمد تحقی احمد شاکر حدیث نمبر ۱۹۳۵ اور طبقات ابن سعد ۲/ ۲۴۴ ، اور طبری ج ۴ /۱۹۳ ان کی حدیث کے لفظ میں یہ ہے :ما شانہ اھجر فذھبوا یُعیدون علیہ فقال:دعونی )
۲۔ بلاذری کی انساب الاشراف ج ۱/ ۵۶۲ ، ملاحظہ ہو اور طبقات ابن سعد ج ۲/ ۲۴۲ اور صحیح مسلم ج ۵/ ۷۶ اور ان لفظ ان رسول اللہ لیَھجُر تحریر ہوا ہے ۔
اس سے نقل کرکے بیان ہوا ہے(۱)
” جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت نزدیک آگئی ، کچھ لوگ ، جن میں عمر ابن خطاب بھی شامل تھے ، پیغمبر خدا کے گھر میں جمع ہوئے تو، پیغمبر نے فرمایا: جلدی کرو تا کہ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے “
عمر ابن خطاب نے حاضرین سے کہا : بیماری نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حواس خمسہ پر غلبہ کیا ہے ، قرآن تمہارے پاس ہے اور خدا کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے ! “
اس گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا، بعض لوگوں نے عمر کی ہاں میں ہاں ملائی ، جب بیہودہ گفتگو حد سے بڑھ گئی اور اختلاف کا دامن پھیلنے لگا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رنجیدہ ہوکر فرمایا:
”میرے نزدیک سے اٹھ جاؤ، کیونکہ میرے سامنے جدال و اختلاف کرنا جائز نہیں ہے“۔
مسند احمد کی روایت اور طبقات میں یوں آیا ہے :
” جب بیہودہ کلام حد سے بڑھ گیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رنجیدہ خاطر ہوئے اور فرمایا:
”میرے پاس سے اٹھ جاؤ !“
اس حدیث کا راوی کہتا ہے کہ: ابن عباس مکرر کہتے تھے: ” بد بختی اور مصیبت ہم پر اس وقت
____________________
۱۔ یہ لفظ صحیح بخاری میں ہے ملاحظہ ہو ج ۱/ ۲۲ ، باب کتابة العلم ، کتاب علم سے اس لفظ کے نزدیک ہے ، مسند احمد تحقیق احمد شاکر حدیث نمبر ۲۹۹۲ ، طبقات ج۲/ ۲۴۴
نازل ہوئی جب اختلاف اور یاوہ گوئی کے سبب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس تحریر کو نہ لکھ سکے “(۱) وہ صحابی ، جس نے پیغمبر خدا پر ہذیان بکنے کی تہمت لگائی ۔
ان تمام روایتوں میں عمر ابن خطاب کے علاوہ کسی اور کا نام نہیں لیا گیا ہے ، یہ عمر تھےجنھوں نے پیغمبر کی بیویوں کے یہ کہنے : ” جو پیغمبر چاہتے ہیں اسے حاضر کیجئے “ کے جواب میں کہا: ”انکن صواحبة “ ۲ اور اس رائج ضرب المثل کے ذریعہ ان کی سرزنش کرکے اس توہین آمیزلہجہ میں پیغمبر کی بیویوں کی بے احترامی کی ۔
یہ عمر تھے جس نے یہ کہا کہ : اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرجائیں تو روم کے شہروں کو کون فتح کرے گا؟
یہ عمر تھے جس نے جب احساس کیا کہ مجلس میں حاضرین کی اکثریت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مرضی کی حامی ہے اور قریب ہے مسلمانوں کے ہاتھ پیغمبر کی ایک ایسی تحریر آئے جس سے
____________________
۱۔ یہ صحیح بخاری کی عبارت کتاب اعتصام بہ کتاب و سنة کے باب کراھیة الخلاف ، ج ۴/ ۱۸۰ اور کتاب مرض کے باب قول المریض قوموا اعنی ج ۴/ ۵ اور ج ۳/ ۶۲ باب مرض النبی کتاب مغازی اور صحیح مسلم ج ۵/ ۷۶ کتاب کے آخری باب ” وصیة “ میں اور مسند احمد تحقیق احمد شاکر حدیث نمبر ۳۱۱۱ اور تاریخ ابن کثیر ج ۵/ ۲۲۷ ۔ ۲۲۸ اور تیسیر الوصول ج ۴/ ۱۹۴ اور تاریخ ذہبی ج ۱/ ۳۳۱۱ اور تاریخ خمیس ج ۱/ ۱۸۲ اور البدة و تاریخ ج ۵ / ۹۵ اور تاریخ ابن محنہ تاریخ کامل کے حاشیہ پر ۱۰۸ ، تاریخ ابو الفداء ج ۱/ ۱۵۱ میں آیا ہے :فقالَ : قُوموا عنی لا ینبغي عِندَ نبيّ تَنازُع ، فقالوا : إنَّ رسول الله لیهجُر فذهبو ا یعیدون علیه ، فقال : دعونی ما انا فیه خیرٌ مما تدعونی إِلیه ۔
۲۔ صدر اسلام میں اگر کسی عورت کو ڈانٹا جاتا تھا تو اسے ان عورتو ں سے تشبیہ دیتے تھے جو حضرت یوسف سے محبت کرتی تھی ں اور اسے زندان بھیجدیا جاتا تھا ، ایسی عورت کو کہتے تھے : إِنّکَن صُویحباتة تشبیہا لہا بصویحبات یوسف۔
عمر اور اس کے حامیوں کے منصوبے نقش بر آب ہوجائیں گے تو اس نے کہا : پیغمبر پر بیماری کا دباؤ پڑا ہے اور وہ نہیں جانتے ہیں کہ کیا بول رہے ہیں ، تمہارے پاس قرآن ہے اور وہی کافی ہے!
عمر نے ہی کہا تھا : ” یہ شخص ہذیان بک رہاہے اور اس نے اس نامناسب جملہ کو کہہ کر اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا ، کیونکہ عمر کے اس جملہ اور ان کا پیغمبر اکرم کی طرف ہذیان کی نسبت دینے نے دوسرے کے ذہنوں پر بھی اثر ڈالا تھا ، لہذا اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکمل اصرار کے طور پر کوئی وصیت بھی لکھ ڈالتے تو اس کی کوئی قدر و منزلت ہی باقی نہ رہتی اور اس کے مخالف کہتے کہ یہ وصیت اس حالت میں لکھی گئی ہے جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے حواس خمسہ کھو بیٹھے تھے ۔ لہذا اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جاتی ، یہ نازک نکتہ ابن عباس کی ایک روایت میں مورد توجہ قرار پایا ہے ، وہ کہتے ہیں :
” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضورمیں موجود افراد میں سے ایک شخص نے کہا:” پیغمبر خدا ہذیان بک رہے ہیں “
اس کے بعد جب مجلس میں حالات معمول کے مطابق ہوئے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا : کیا آپ جس چیز کو چاہتے تھے اسے آپ کیلئے لائیں ؟ پیغمبر نے فرمایا:
اب اس کا فائدہ کیا ہے ؟! یعنی یہ بات کہنے کے بعد اس تحریر کا کوئی فائدہ نہیں ہے ‘(۱)
جی ہاں ! ہنگامہ برپا کرکے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ایک وصیت نامہ لکھنے نہیں دیا گیا اس طرح قبل اس کے کہ ایک اور فرصت ہاتھ آتی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وصیت نامہ کو تحریر فرماتے تا کہ لوگ ہمیشہ کیلئے گمراہی سے نجات پاتے ، آپ نے رحلت فرمائی ۔
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ۲۴۴
وضاحت طلبی
اس بحث کے آخر میں مناسب ہے کہ عمر سے ایک سوال کیا جائے وہ یہ ہے کہ جہاں پرآپ نے یہ جرات اور جسارت کی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہذیان بکنے کی تہمت لگائی! کیا وجہ ہے کہآپ نے یہی الزام ابو بکر کو نہیں دیا جب کہ انھوں نے بیہوشی کے عالم میں وصیت نامہ لکھا ؟
طبری لکھتا ہے : ابو بکر نے عثمان کو اپنی بیماری کی حالت میں اپنے سرہانے بلایا اورکہا: لکھو ”بسم الله الرحمن الرحیم “ یہ ابو بکر بن ابی قحافہ کی طرف سے مسلمانوں کے نام ایک وصیت ہے اما بعد “
راوی کہتا ہے ؛
اس کے بعد بیہوش ہوگئے اور کوئی بات نہ کرسکے (لہذا عثمان نے ابو بکر کی بیہوشی) کے عالم میں لکھا ، ” اما بعد ، میں نے اپنے فیصلہ کے مطابق عمر ابن خطاب کو تم لوگوں پر اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا ہے ، جان لو کہ میں نے تمہارے متعلق خیر خواہی میں کسی قسم کی لا پروائی نہیں برتی ہے “
جب عثمان تحریر لکھنے سے فارغ ہوئے تو ابو بکر ہوش میں آئے اور عثمان سے کہا : ذرا پڑھو دیکھتا ہوں کہ تم نے کیا لکھا ، عثمان نے جو کچھ لکھا تھا ابو بکر کو پڑھ کر سنا دیا۔
ابو بکر نے کہا : ” الله اکبر ! میرے خیال میں تم ڈر گئے کہ اگر میں اس بیہوشی کے عالم میں مرجاؤں تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا “
اس نے جواب میں کہا : جی ہاں ۔
ابو بکر نے کہا : ” خدا تجھے اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے خیر پہنچائے اور اس طرح عثمان کی تحریر کی تائید کی ۔
کیا عمر نے اس تحریر کے بارے میں کوئی رد عمل ظاہر کیا ؟
طبری کہتا ہے :
” عمر بیٹھ گئے جبکہ لوگ ان کے پاس بیٹھے تھے ، عمر کے ہاتھ میں درخت خرما کی ایک ٹہنی تھی ۔ ابو بکر کے آزاد کردہ غلام شدید ابو بکر کی اس تحریر کو ہاتھ میں لئے ہوئے تھے، جس میں عمر کی جانشینی کافرمان لکھا گیا تھا، عمر نے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا:
اے لوگوں سن لو !اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ کے حکم کی اطاعت کرو ؟ خلیفہ تمہیں کہتا ہے ؛ ’ ’ میں نے تمہاری خیر خواہی میں کسی قسم کی لاپروائی نہیں کی ہے “(۱)
تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ عمر حالت بیماری میں رسول خد ا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تحریر کو قبول نہ کرتے ہوئے کہتے ہیں حسبنا کتاب اللہ لیکن ابو بکر کے اس حالت میں لکھی گئی تحریر کی تائید کرتے ہیں !! دیکھئے فرق کہا سے کہاں تک ہے ! بے شک ابن عباس کو حق تھا کہ رونما ہوئے اس حادثہ پر اتنے آنسو بہائیں کہ کنکریاں تر ہوجائیں ۔
____________________
۱۔ تاریخ طبری ج ۴/ ۵۱ ۔
پیغمبر خدا کی وفات
ترکوا رسول الله کما هو و اسرعوا الی السقیفة
انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کو زمین پر چھوڑ کر خلیفہ منتخب کرنے کیلئے خود سقیفہ کی طرف دوڑ پڑے ۔
مؤرخین
رسول خدا کی رحلت اورحضرت عمر کا اس سے انکار
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوموار کی ظہر کو اس دنیا سے رحلت فرمائی ، اس وقت عمر مدینہ میں(۱) تھے اور ابوبکر ” سنح“ میں اپنے ذاتی گھر ۲ پر تھے ۔
عائشہ کہتی ہیں : ” عمر اور مغیرة بن شعبہ اجازت حاصل کرنے کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کمرے میں داخل ہوئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر ڈالے گئے کپڑے کو اٹھا کرکنارے رکھدیا ، عمرنے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھااور چیخ کر کہا ” آہ ! رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! انتہائی بیہوشی کے عالم میں پڑے ہیں ! “ اس کے بعد اٹھے اور
____________________
۱۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ص ۳۳۳۱۔ ۳۳۴ اور تاریخ طبری ج ۲/ ص ۲۴۲ )
۲۔ ابو بکر کا گھر سنح میں تھا ، سنح مدینہ کے مشرق میں ا یک میل کے فاصلہ پر واقع تھا ، انصار کے بنی حارب بھی وہیں سکونت کرتے تھے ۔کمرہ سے باہر چلے گئے ۔
کمرے سے باہر آتے ہوئے مغیرہ نے حضرت عمر کی طرف مخاطب ہوکر کہا : ” اے عمر ! خدا کی قسم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دنیا سے رحلت فرمائی ہے “
عمر نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو ! رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرگز مرے نہیں ہیں ، لیکن تم ایک فتنہ گر ہو اس لئے ایسا کہتے ہو! رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی نہیں مریں گے جب تک کہ منافقین کو نابود نہ کرکے رکھدیں(۱) عمر نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت کا ذکر کرتا تھا اسے قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہتے تھے :
” لوگوں میں سے بعض منافقین گمان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دنیا سے رحلت فرمائی ہے ، جبکہ ایسا نہیں ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں مرے ہیں بلکہ موسی بن عمران کی طرح جو چالیس دن تک لوگوں سے غائب ہوکر پھر واپس لوٹے تھے اور لوگوں نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ وہ مرگئے ہیں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اپنے خدا کے ہاں چلے گئے ہیں اور خدا کی قسم وہ واپس لوٹیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر رکھدوں گا جو یہ کہتے ہیں کہ آپ وفات کرگئے ہیں(۲)
____________________
۱۔ یہ عبارت ابن سعد کی طبقات ج ۲/ق ۲/ ۱۵۴ سے نقل کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ متقی کنزل العمال ج ۴/ ۵۰ ، ذہبی نے اپنی تاریخ میں ج ۱/ ۳۷ ، ذینی دحلان نے حاسیة الحلیہ ج ۳/ ۳۸۹ میں ، نہایة الارب ج ۱۸ ، ۳۹۹، مسند احمد ج ۶/ ۲۱۹ میں اس کو درج کیا ہے ۔
۲۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۹۵ ، طبری ج ۲/ ۴۴۲ ، ابن کثیر البدایہ و النہایة ج ۵ ۲۴۴ ، تاریخ الخمیس ج ۲/ ۱۸۵ اور تیسیر الوصول ج ۲/ ۴۱ ۔
اس کے بعد بولے : جو بھی یہ کہے کہ آپ نے وفات پائی ہے ، میں اس تلوار سے اس کا سر قلم کرکے رکھدونگا(۱) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمان کی طرف گئے ہیں(۲) اس وقت ابن ام مکتوم(۳) نے مسجد النبی میں حضرت عمر کےلئے اس آیت کی تلاوت کی :
” اور محمد تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں ۔ کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پیرؤں پلٹ جاؤ گے جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا خدا تو عنقریب شکر گزاروں کو ان کی جزا دے گ(۴)
پیغمبر خدا کے چچا عباس نے بھی کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قطعی طور پر فوت ہو چکے ہیں اور میں نے ان کے چہرے پروہی علائم و آثار مشاہدہ کئے ہیں جو فرزند عبد المطلب کے چہروں پر موت کے وقت نمودار ہوتے ہیں “(۵)
____________________
۱۔ تاریخ ابو الفداء ج۱ ۱۶۴ ، تاریخ ابن شحنہ کے حاشیہ الکامل ۱۱۲ ، سیرہ زینی دحلان ، ج ۳/ ۳۹۰ میں لکھا گیا ہے کہ حضرت عمر نے کہا : ” جو بھی یہ کہے کہ محمدمرگئے ہیں میں اسپر تلوار چلاؤں گا “ اور اس کتاب کے صفحہ ۳۸۷ میں لکھتا ہے کہ : عمر ابن خطاب نے اپنی تلوار کو باہر کھینچ لیا اور جوبھی یہ کہتا تھا محمد فوت ہوئے ہیں اسے دھمکی دیتے تھے ، اور صفحہ ۳۸۸ میں یوں آیا ہے : عمر نے تلوار کے دستہ کو ہاتھ میں پکڑلیا اورکہا: میں کسی کی زبان سے یہ نہ سنوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرگئے ہیں ورنہ اس تلوارسے اس پر وار کرونگا ۔
۲۔ جملہ ” آسمان پر چلا گیا ہے “ تاریخ ابو الفداء ج ۱/ ۱۶۴ سے نقل کیا گیا ہے
۳۔ابن ام مکتوم کا نام عمر بن قیس تھا وہ اصحاب پیغمبر میں سے تھے، اس کی زندگی کے حالات اس کتاب کے آخر میں بیان کئے گئے ہیں ۔
۴۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ق ۵۷ ، کنز العمال ج ۴/ ۵۳ حدیث مبر ۱۹۰۲ اور تاریخ ابن کثیر ج ۵/ ۲۴۳ ملاحظہ ہو نص آیت <و ما محمّد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل> آل عمران / ۱۴۴
۵۔ ملاحظہ ہو تمہید بلاقلانی ص ۱۹۲ ۔۱۹۳
لیکن عمر اپنے کام سے باز نہ آئے ، عباس ابن عبد المطلب نے لوگوں سے پوچھا ، ” کیا تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی موت کے بارے میں کچھ فرمایا ہے ؟ اگر اس سلسلے میں کوئی حدیث سنی ہو تو ہمارے لئے بیان کرو “
سب نے کہا : ”نہیں “ عباس نے عمر سے پوچھا ، ” کیا تم نے اس سلسلے میں پیغمبر خدا سے کچھ سنا ہے ؟
عمر نے کہا: ” نہیں “
اس وقت عباس نے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا: اے لوگوا ! آگاہ رہو کہ ایک شخص نے بھی گواہی نہیں دی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی موت کے بارے میں اس سے کچھ فرمایا ہو(۱) خدائے وحدہ لا شریک کی قسم کھا کرکہتا ہوں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موت کاجام نوش کیاہے لیکن عمر بدستور گرجتے ہوئے دھمکیاں دیتے رہے ۔
عباس نے اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا: بے شک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیگر لوگوں کی طرح حوادث و آفات کا شکار ہو سکتے ہیں اور آپ وفات پاچکے ہیں لہذا ان کے بدن کو تاخیر کے بغیر سپرد خاک کرو کیا خداوند عالمنے تم لوگوں کو ایک بار موت سے دوچار کرتا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوبار؟ آپ خدا کے یہاں اس سے زیادہ محترم ہیں کہ خدا انھیں دوبار موت کا شربت
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ق ۲/ ۵۷ ، تاریخ ابن کثیر ج۵/ ۲۴۳، سیرہ حلبیہ ج ۳/ ۳۹۰ ۔ ۳۹۱ اور کنزل العمال ج ۴/ ۵۳ حدیث نمبر ۱۰۹۲،
پلائے ۔ اگر تیری بات صحیح ہو تو ، پھر بھی خدا کیلئے یہ امرمشکل نہیں ہے کہ آپ کے بدن سے مٹی ہٹا کر آپ کو مٹی کے نیچے سے باہر لائے، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تب تک رحلت نہیں کی ہے جب تک آپ نے لوگوں کےلئے سعادت و نجات کی راہ ھموار نہ کردی(۱) لیکن عمر اپنی بات کو اس قدر دہراتے رہے کہ اس کے ہونٹوں پر جھاگ پھیل گئی(۲)
اس کے بعد سالم بن عبید(۳) ابو بکرکو آگاہ کرنے کیلئے سنخ کی طرف روانہ ہوئے(۴) ا ور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کی خبر انھیں پہنچا دی(۵) ابو بکر مدینہ آئے اور دیکھا کہ عمر کھڑے ہوکر لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں(۶) اور کہتے ہیں : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں آپ نہیں مرے ہیں ! وہ پھر آئیں گے تا کہ ان لوگوں کے ہاتھ کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ آپ مرگئے ہیں ، آپ ایسے لوگوں کے سر قلم کریں گے ،اور انھیں دار پر چڑھادیں گے(۷) عمر نے جب دیکھا کہ ابو بکر آرہے ہیں تو خاموش ہوکر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے(۸)
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ق ۲/ ۵۳ ، کنزل العمال ج ۴/ ۵۳ حدیث نمبر ۱۰۹۰ اور حاشیہ الحلبیہ ج ۳/ ۳۹ ،میں طہران سے خلاصہ کے طور پر ، تاریخ الخمیس ج ۲/ ۱۸۵ ، و ص ۱۹۲ خلاصہ کے طور پر
۲۔ طبقات ابن سعد ج۲ ق ۲ / ۵۳ ، کنزل العمال ج ۴/ ۵۳ ، تاریخ خمیس ج ۲/ ۱۸۵، السیرة الحلبیة ج ۳/ ۳۹۲۔
۳۔ بعض نے کہا ہے : عائشہ نے کسی کو بھیجا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے ان کو باخبر کیا،
۴۔ سالم اصحاب اور مسجد النبی میں اہل صفہ میں سے تھا
۵۔تاریخ ابن کثیر ج ۵ ۲۴۲ اور حاشیة الحلبیہ از زینی خلدون ج ۳/ ۳۹۰ ۔ ۳۹۱
۶۔ طبری ج۲/ ۴۴۳ ، ابن کثیر ج ۵/ ۳۱۹، و ابن ابی الحدید ، ج ۱/ ۶۰۔
۷ ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے دن آپ کی موت پر شک کرنا عمر ابن خطاب کی خصوصیات میں سے ہے ، کیونکہ مؤرخین نے ان کے علاوہ کسی اور کا نام نہیں لیا ہے جس نے وفات پیغمبر پر شک کیا ہو۔
۸۔ کنز العمال ج ۴/ ۵۳ حدیث نمبر ۱۰۹۲۔
ابو بکر نے خداوند عالم کی حمد و ثنا کی اور کہا:
خدا کی عبادت کرنے والے جان لیں کہ خدا ہمیشہ زند ہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا ، جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوجا کرتے ہیں وہ جان لیں کہ محمد رحلت کر گئے ہیں ، اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کی :<و ما محمّد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل >(۱)
(وہی آیت جس کی ان سے پہلے ابن ام مکتوم نے عمر کیلئے تلاوت کی تھی) ، عمر نے سوال کیا : جو تم نے پڑھا ، کیا وہ قرآن کی آیت ہے ؟!
ابو بکر نے جواب میں کہا : جی ہاں(۲)
عمر نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت کے بارے میں اپنی رائے کو نہ مغیرہ کی باتوں سے ، نہ عمر ابن قیس کی قرآنی آیت کی تلاوت سے اور ان کے واضح طور پر رسول اللہ کی موت کی خبر دینے سے اور نہ پیغمبر خدا کے چچا عباس کی وضاحت طلبی اور استدلال سے اور نہ کسی دوسرے کے استدلال سے بدلا : ان سب کا کوئی احترام نہ کیا اور نہ ان کی باتوں کی قدر کی ، جب ابو بکر آکر بولے تو انھیں اطمینان ہوا اور خامو ش ہوئے ، بعد میں وہ خود اس قضیہ کے بارے میں حسب ذیل نقل کرتے تھے ۔
” خدا کی قسم ! جوں ہی میں نے سناکہ ابو بکر اسی آیت کی تلاوت کررہے ہیں تو میرے گھٹنے اس قدر سست پڑے کہ میں زمین پر گر گیا اور پھر سے اٹھنے کی ہمت نہ
____________________
۱۔طبقات ابن سعد ج ۲/ ق۲ ۵۴ ، تاریخ طبری ج ۲/ ۴۴۴ تاریخ ابن کثیر ج ۵/ ۲۱۹ ، اور سیرہ حلبیہ ج ۳/ ۳۹۲
۲۔ عمر کا یہ سوال کہ کیایہ کتاب خدا ہے اور ابو بکر کا جواب طبقات ابن سعد سے نقل کیا گیا ہے۔
پڑی اور مجھے یقین ہوا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات کرگئے ہیں ۔(۱) وفات پیغمبر سے عمر کیوں انکار کرتے تھے ؟
کیا عمر حقیقت میں پیغمبر خدا کے ساتھ محبت کی شدت اور لگاؤ کی وجہ سے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھو دینے کے سبب غم و اندوہ کے مارے تلوار کھینچ کر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت کی تائید کرنے والے مسلمانوں کو دھمکاتے تھے ؟
کیا بعض مؤرخین کا یہ لکھنا درست اور صحیح ہے کہ عمر اس دن دیوانے ہوگئے تھے(۲) لیکن ایسا نہیں تھا ، ہم جانتے ہیں کہ مطلب اس کے علاوہ کچھ اور ہی تھا ، ہمارے خیال میں ابن ابی الحدید نے حقیقت کو درک کرکے بیان کیا ہے :
” عمر نے جب سمجھ لیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحلت کرگئے ہیں تو وہ اس امر پر ڈر گئے کہ امامت کے مسئلہ پر شورش اور بغاوت رونما ہوجائے گی اور انصار یا دیگر لوگ حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ، لہذا انہوں نے اس میں مصلحت سمجھی لوگوں کو بہر صورت اور ہر ممکن طریقے سے خامو ش اور مطمئن کردیں ۔ اس سلسلے میں جو کچھ انھوں نے کہا لوگوں کو شک و شبہ میں ڈالدیا ، اس کا مقصد ابو بکر کے آنے تک کا احترام اور اس کا دین اور حکومت کا تحفظ تھا(۳)
____________________
۱۔سیرہ ابن ہشام ۴/ ۳۳۴ ،و ۲۳۵ ، تاریخ طبری ج ۲/ ۴۴۲، ۴۴۴ ، ابن کثیر ج ۵/ ۲۴۲ ، ابن اثیر ، ج / ۱۹ ، ابن ابی الحدید ج ۱/ ۱۲۸ ، صفری الصفوھ ج ۱/ ۹۹/ خلاصہ کے طور پر کنزل العمال ج ۴/ ۴۵ حدیث نمبر ۱۰۵۳۔
۲۔ سیرہ حلبیہ ج ۳/ ۳۶۲ اور حاشیہ سیرہ ج ۳/ ۳۱۹۔
۳۔ شرح ابن ابی الحدید ج ۱/ ۱۲۹۔
ہماری نظر میں ا بن ابی الحدید کا یہ کہنا کہ عمر امامت کے عہدہ پر انصار یا دوسروں کے غلبہ سے سے ڈر تے تھے ، صحیح ہے ، کیونکہ دوسروں کے زمرہ میں حضرت علی علیہ السلام تھے اور عمرکو خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خلافت کا قرعہ فال حضرت علی علیہ السلام کے نام کھل جائےکیونکہ اس زمانے میں خلافت کے امیدوار تین افرد سے زیادہ نہیں تھے ۔
پہلے علی ابن ابیطالب علیہ السلام تھے کہ تمام بنی ہاشم ان کے طرفدار اور حامی تھے اور ابو سفیان بھی ان کا نام لیتا تھا اور زبیر ان کے حق میں تبلیغ کرتے تھے اور اسی طرح خالد بن سعید اموی ، براء ابن عازب انصاری ، سلمان ، ابو ذر ، مقداد اوردیگر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب کے سب علی علیہ السلام کی حمایت کرتے تھے(۱)
دوسرا سعد ابن عبادہ انصاری تھے جو انصارکے قبیلہ خزرج کا امیدوار تھے،
تیسرے ابو بکر تھے جس کی حمایت عمر ، ابو عبیدہ ، مغیرہ بن شعبہ اور عبد الرحمان بن عوف ،(۲) کرتے تھے ۔
لیکن سعد بن عبادہ خلافت کی کرسی تک نہیں پہنچ سکتے تھے ، کیونکہ ا نصار میں سے قبیلہ اوس اس کا مخالف تھا اور مہاجر میں سے بھی کوئی ان کی بیعت کرنے کو آمادہ نہیں تھا۔ لہذا اگر ابو بکر کے حامی گروہ علی علیہ السلام کے خلاف بلا تاخیر بغاوت نہ کرتے ، اورپیغمبر کی تجہیز و تکفین سے پہلے ہی قدم نہ اٹھاتے تو خلافت کا کام علی علیہ السلام کے حق میں تمام ہو چکا ہوتا ، اگر علی علیہ السلام کو اس امر کی مہلت دی جاتی کہ پیغمبر خدا کی تجہیز و تکفین کے کام کو اختتام تک پہنچا کر اس مجمع میں حاضر ہوتے تو مہاجرین ، انصار اور تمام بنی ہاشم اور آل عبد مناف کے بعض افراد جو خلافت کو علی علیہ السلام کا مسلم حق جانتے تھے (کے ہوتے ہوئے ہرگز ابو بکر اپنے مقصد واور دیرینہ تمنا کو نہیں پہنچتے) حقیقت میں انہیں حالات کے پیش نظر عمر کے دل میں وہ خوف و اضطراب پیدا ہوا تھا اور اس طرح کی اشتعال انگیزی کررہے تھے ، علماء اور دانشور بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ عمر کی تمام کوششیں اور کارکردگیاں اسی کا پیش خیمہ تھیں ، خواہ رسول اللہ کی وفات کے بعد کہ آپ کی موت کا انکار کرنا خواہ رسول اللہ کی زندگی کے آخری لمحات میں جب آپ وصیت لکھنا چاہتے تھے قلم و اور دوات دینے سے منع کرنا ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت اور آنحضرت کی مفارقت کا غم اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنازہ بغیر غسل و کفن مصیبت زدہ خاندان رسالت میں چھوڑ کر ابو بکر کیلئے بیعت لینے سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف دوڑیں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انصار کے ساتھ جنگ و جدال کریں ؟!
سقیفہ کی جانب
جب عمر و ابو بکر کو یہ خبر ملی کہ انصار سقیفہ میں جمع ہوئے ہیں -(اور یہ خبر ان کو اس وقت ملی جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنازہ آپ کے گھر پر تھا اور تجہیز و تکفین کا کام ابھی اختتام کو نہیں پہنچا تھا)(۱)
____________________
۱۔ سیرہ ابن ہشام، ج ۴/ ۳۳۶ ، ریاض النضرہ ،ج ۱ ۱۶۳ ، تاریخ الخمیس ،ج ۱/ ۱۸۶ ، السقیفہ تالیف ابو بکر جوہری اور ابن ابی الحدید،ج ۶/ ۱)
عمر نے ابو بکر سے کہا : آجاؤ! ذرا اپنے بھائی (انصار) کے پاس چلے جاتے ہیں اور دیکھ لیں کہ وہ کیا کررہے ہیں ۔
طبری کی روایت میں آیا کہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام نہایت انہماک اور لگن کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کی تجہیز و تکفین میں لگے ہوئے تھے کہ یہ دونوں بڑی سرعت سے انصارکی طرف چلے گئے ، راستے میں ابو عبیدہ جراح کو دیکھا اور تینوں ایک ساتھ ہو گئے(۱)
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی حالت میں رکھ کر دروازے کو ان پر بند کرکے(۲) سقیفہ کی طرف دوڑ پڑے(۳)
انصار کا گروہ خلافت کے موضوع پر مشورت اور گفتگو کرنے کیلئے پہلے ہی سقیفہ میں جمع ہوا تھا،مہاجرین کے چند افراد بھی ان سے جا ملے ، اس طرح پیغمبر کے رشتہ داروں اور اعزہ کے علاوہ کوئی آپ کی تجہیز و تکفین کےلئے باقی نہ بچا تھا ، صرف یہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری لی تھی(۴)
____________________
۱۔ تاریخ طبری ج ۲/ ۴۵۶ اور الریاض النضرة نے بھی ان تین افرادکے باہم سقیفہ جانے کا ذکر کیا ہے ۔
۲۔ یہ جملہ ” دروازہ کو ان پر بند کردیا “ البداء و التاریخ ج ۵/ ۱۶۵ میں ہے اور سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۳۳۶ میں یو ں آیا ہے : ”و قد اغلق دونه الباب اهله “ تاریخ الخمیس ج ۱/ ۱۸۶ اور الریاض النضرة ج ۱/ ۱۶۳ میں بھی ایسا ہی آیا ہے
۳۔ جملہ : سقیفہ کی طرف دوڑ پڑے “ کو البداء و التاریخ سے نقل کیا گیا ہے ۔
۴۔ مسند احمد ج ۴/ ۱۰۴ ۔ ۱۰۵ تفصیل سے مسند ابن عباس میں نقل کیا ہے اور ابن کثی ج ۵/ ۲۶۰ اور صفوة الصفوة ج ۱/ ۵ ، تاریخ الخمیس ج ۱/ ۱۸۹ ، طبری ج ۲/ ۴۵۱ ، اور ابن شحنہ نے حاشیہ کامل کے ص ۱۰۰ خلاصہ کے طور پر ، ابو الفداء ج ۱/ ۱۵۲ ، اسد الغابہ ج ۱/ ۳۲ میں الفاظ میں تھوڑاکچھ اختلاف کے ساتھ، العقد الفرید ج ۳/ ۶۱ ، تاریخ الذھبی ج ۱/ ۳۲۱ ، طبقات ابن سعد ج ۲/ ق۲/ ۷۰ ، تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۹۴ ، البداء و التاریخ ج ۵/ ۶۸، التبیہ و الاشراف مسعودی ص ۲۲۴ او ر نہایةا لارب ج ۱۸ / ۳۸۹ ۔ ۳۹۱۔ ان تمام مؤرخین نے صراحت سے کہا ہے کہ صرف خاندان رسالت نے تجہیز و تکفین کا کام انجام دیا ، جوعبارت انھو ں نے نقل کی ہے وہ عبارت مسند ابن احمد سے لی گئی ہے ۔
ابو ذویب ھذلی(۵) ۔۔ جو اس دن مدینہ پہنچا تھا ۔۔۔ کہتا ہے :
’ ’ جس وقت میں مدینہ پہنچا ، میں نے شہر کو نالہ وزاری کی اس حالت میں دیکھا جب لوگ حج کیلئے احرام باندھتے ہیں ، میں نے پوچھا، کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : پیغمبر رحلت فرماگئے ہیں ، میں مسجد کی طرف دوڑا لیکن مسجد کو خالی پایا اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کی طرف دوڑا ، لیکن وہاں پر دروازہ کو بند پایا ، میں نے سنا کہ اصحاب رسول نے جنازہ کو خاندان ِ رسالت میں تنہا چھوڑا ہے، میں نے سوال کیا ؛ لوگ کہاں ہیں ؟ جواب دیا گیا : وہ سقیفہ میں انصار کے پاس چلے گئے ہیں(۶)
جی ہاں : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کا کام انجام دینے کیلئے خاندانِ رسالت کے علاوہ کوئی اور نہ رہا تھا ، یہ لوگ یہ ہیں : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ، عباس بن عبد المطلب ، علی ابن ابیطالب علیہ السلام ، فضل بن عباس ، اسامہ بن حارثہ اور اس کا غلام صالح، علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم کے جسم سے کرتا اتارا، جسم نازنین کو اپنے سینے سے لگا لیا ، عباس ، فضل اور قشم بدن کے کروٹ بدلنے میں علی علیہ السلام کی مدد کرتے تھے ، اسامہ اور صالح پانی ڈالتے تھے اور علی علیہ السلام پیغمبر کے بدن مبارک کو غسل دیتے تھے ، اوس بن خولی انصاری بھی ان کے پاس آیا لیکن کوئی کام انجام نہیں دیا ۔
۵ ۔ ابو ذویب بادیہ میں رہتا تھا جب اس نے سناکہ پیغمبر بیمار ہوئے ہیں تو مدینہ آیا ، اس کی زندگی کے حالت آئندہ بیان ہوں گے ۔
____________________
۶۔ سقیفہ کے بارے میں ابو ذوب کا بیان کتاب استیعاب ج ۲/ ص ۲۴ او اسد الغابہ ج ۵/ ۱۸۸ س نقل کیا ہے ، اوراصابہ میں ج ۴/ ۳۸۸ میں بھی ذکر آیا ہے ۔
پیغمبر خدا کی تدفین سے پہلے خلافت کے امیدوار
یاعلیّ امدد یدک ابایعک یبایعک الناس
اے علی ! اپنا ہاٹھ بڑھائیے تا کہ میں آپ کیبیعت کروں اور سب لوگ تیری بیعت کریں ۔
پیغمبر اکرم کے چچا ، عباس
فابیٰ ان یمد یده للبیعة و الرسول مسجیٰ بین ایدیهم
علی علیہ السلام نے اس حالت میں بیعت قبول کرنے سے انکار کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنازہ ان کے سامنے زمین پر پڑا ہو
مؤرخین
خلافت کا پہلا امیدوار
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار اور اصحاب، رسول اللہ کی تجہیز و تکفین کو اختتام تک پہنچانے سے پہلے ہی خلافت کیلئے بیعت لینے کی تلاش میں لگ گئے، یہ تین گروہ تھے اور ہر گروہ اپنے سردار کو خلافت کیلئے امیدوار کے عنوان سے پیش کرتا تھا ۔ پہلے امیدوار علی ابیطالب علیہ السلام تھے۔
ابن سعد روایت کرتے ہیں کہ عباس نے علی علیہ السلام سے کہا:
” اپنے ہاتھ کو بڑھائیے میں بیعت کروں گا تاکہ اور لوگ بھی آپ کی بیعت کریں “(۱)
مسعودی کی روایت میں یوں آیا ہے :
” اے میرے چچیرے بھائی : آئیے میں آپ کی بیعت کروں گا تا کہ دو آدمی بھی آپ کی بیعت کی مخالفتنہ کر سکیں “(۲)
ذہبی اور دوسروں کی روایت میں یوں آیا ہے :
اپنے باتھ آگے بڑھائیے میں آپ کی بیعت کروں گا اور لوگ کہیں گے کہ پیغمبر کے چچا نے پیغمبر کے چچیرے بھائی کی بیعت کی ہے اس وقت آپ کے خاندان کے سب لوگ آپ کی بیعت کریں گے اور بیعت کا کام ایسے انجام پائے گا اور کوئی اس میں رخنہ نہیں ڈال سکے گا ۔(۳)
جوہری کی روایت میں آیا ہے کہ بعد میں عباس ،علی علیہ السلام کی سرزنش کرتے ہوئے کہتے تھے:
” جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفات پائی تو ابو سفیان بن حرب اسی وقت ہمارے پاس آیا اور کہا ہم آپ کی بیعت کرناچاہتے تھے ۔ میں نے تجھ سے کہا
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ۳۸
۲۔ مسعودی کی مروج الذہب ج ۲/ ۲۰۰، تاریخ ذہبی ج ۱/ ۳۲۹ ، ضحی الاسلام ج ۳/ ۲۹۱ اور الامامة و السیاسة ابن قتیبہ ج ۱/ ۴۔
۳۔تاریخ السلام ج ۱/ ۳۲۹
اپنے ہاتھ کو بڑھاؤ تا کہ میں تیری بیعت کروں اور یہ شیخ (قبیلہ کا سرداد) بھی بیعت کرے گا ۔ یقینا اگر ہم دو آدمی آپ کی بیعت کرلیں گے تو عبد مناف کی اولاد میں سے ایک آدمی بھی مخالفت نہیں کرے گا اور جب بنی عبد مناف آپ کی بیعت کرلیں گے تو قریش سے کوئی مخالفت نہیں کرے گا اور جب قریش آپ کی بیعت کرلیں گے تو عربوں میں سے ایک شخص بھی آپ کی مخالفت نہیں کرے گا۔
تو آپ نے جواب میں کہا: ہم اس وقت رسول الله کے جنازہ کی تجہیز میں مصروف ہیں “(۱)
طبری کی روایت میں یوں آیا ہے :
” میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد چاہا تھا کہ آپ اس کام میں عجلت کریں لیکن آپ نے اس سے پرہیز کیا “‘(۲)
عباس اور ابو سفیان کے علاوہ اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے چند دیگر افراد بھی علی علیہ السلام کے حق میں کام کرتے تھے اور اس کی بیعت کے حامی تھے لیکن علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کی تجہیز کے سبب خلافت کی فکر کو ذھن سے نکال دیا تھا اور وہ راضی نہیں ہوئے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنازہ گھر میں چھوڑ کر خود اپنی بیعت کے پیچھے پڑیں ، اسی وجہ سے عباس بعد میں ان کی ملامت کرتے تھے کہ کیوں انہوں نے اپنے لئے بیعت لینے سے انکار کیا، حقیقت میں نہ عباس کا نظریہ صحیح تھا اور نہ انکی سرزنش بجا تھی ! کیونکہ
____________________
۱۔ جوہری کی روایت کو ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ج ۱/ ۱۳۱ میں کتاب سقیفہ سے نقل کیا ہے اور ۵۴ پر بھی خلاصہ کے طور پر درج کیا ہے اور ج ۹ میں خطبہ و من کلام لہ خاطب بہ اھل البصرہ کی شرح میں اور ج ۱۱ میں بھی نقل کیا ہے ۔
۲۔ طبری ج ۳/ ۲۹۴ ، العقد الفرید ج ۳/ ۷
اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچیرے بھائی کو ولایت پر معین فرمایا تھا(چنانچہ بعض مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے) تو بیعت کرنے یا نہ کرنے سے علی علیہ السلام کے حق میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔
اگر مسلمان پیغمبر کی مرضی کو پورا کرنا چاہتے تو آپ پر ھذیان بکنے کی تہمت نہیں لگاتے فرض کریں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت اور پیرؤں کے اس کام میں لا پروائی اور غفلت کی ہے(جیسا کہ مسلمانوں کے ایک گروہ کا یہی عقیدہ ہے) تو عباس کو یہ حق نہیں تھا کہ اس تدبیر سے انتخاب کے حق کو دوسروں سے چھین لیں ۔ بہر حال اگر علی اس دن اپنے چچا کی نصیحت کو مانتے ، تو ابو بکر کی بیعت کو غلط کہنے(۱) والے علی علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی اظہار نظر کرتے،اس وقت مخالفین ایک ایسی جنگ کی آگ کو بھڑکاتے جو برسوں تک نہ بجھ پاجاتی، کیونکہ وہ ایسے افراد تھے جو ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ نبوت و خلافت دونوں کا افتخار بنی ہاشم کو ملے۔
ابن عباس نے روایت کی ہے :
” حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا ؛ کیا آپ جانتے ہیں کہ محمد؟ کے بعد کس چیز نے لوگوں کو آپ سے دور کیا ، میں نے جواب میں کہا؛ اگر نہیں جانتا ہوں تو امیر المؤمنین مجھے آگاہ کریں گے ، کہا؛ وہ نہیں چاہتے تھے کہ نبوت اور خلافت آپ میں جمع ہوجائے اور اس پر فخر و مباہات کریں “(۲)
ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے سینوں میں کس حد تک کینہ کی آگ تھی کہ (غدیر اور
____________________
۱۔ہم ابو بکر کی بیعت کے بارے میں عمر کے نظریہ کو بعد میں لکھی ں گے جس میں عمر نے ابو بکر کی بیعت کو لغزش سے تعبیر کیا ہے )
۲۔ اس روایت کے باقی حصہ کو طبری سے اس وقت بیان کری ں گے جب ابو بکر کی بیعت کے بارے میں ابن عباس کا نظریہ پیش کری ں گے ۔
دوسری جگہوں پر) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اقرار اور یاددہانی بھی اس آگ کو بجھا نہ سکی بلکہ اس کو کچھ اور ہی ہوا دے دی، اس لحاظ سے علی علیہ السلام اپنے امور اپنے چچا عباس سے دور اندیش تر اور آپ کی نظر عمیق تر تھی ، اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام ہرگز حاضر نہ تھے کہ ان کی بیعت گھر میں مخفیانہ طور پر کی جائے اور لوگوں کو اس کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کی فرصت مل جائے جیساکہ آپ نے عثما ن کے قتل ہونے کے بعد بھی ایسی بیعت سے انکار کیا تھا ۱
ان سب چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ، کیا علی علیہ السلام(جو پیغمبر خدا کی نظروں میں برگزیدہ ترین شخصیت تھے) کےلئے سزاورار تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت گزشتہ فداکاریوں اور عشق و محبت کے باوجو دآپ کے جنازہ کو دوسروں کی طرح بے غسل و کفن چھوڑ کر اپنی بیعت لینے کیلئے دوڑپریں ؟!! علی علیہ السلام کے پاک ضمیر اور پیغمبر کے عشق و محبت سے لبریز دل سے کبھی اس چیز کی امید نہیں رکھنی چاہئے ۔
خلافت کا دوسرا امیدوار
انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوکر کہا : ہم اس کام کی باگ وڈور کو محمد کے بعد سعد بن عبادہ کے ہاتھ سونپتے ہیں اور سعد کو بیمار حالت میں سقیفہ لے آئے
سعد نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد دین اسلام کی نصرتمیں انصار کی پیش قدمی اور اسلام میں ان کی برتری کی طرف اشارہ کیا، اس کے علاوہ انصار کے بارے میں پیغمبر خدا اور آپ کے اصحاب کا احترام ان کے جہاد میں حصہ لینے اور عربوں کو صحیح راستے پر لانے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان سے راضی حالت میں دنیا سے رخصت ہونے تک بیان کیا ، اس کے بعدکہا :
اس کا راہ حل آپ لوگوں کو تلاش کرنا چاہئے نہ دوسروں کو، سب نے ایک زبان ہوکر جواب دیا : آپ کے خیال کی ہم تائید کرتے ہیں او رآپ کی بات صحیح ہے ، ہم آپ کی رائے کی ہرگز مخالفت نہیں کریں گے اور ان امور کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں دیدیں گے ، اس کے بعد گفتگو اور کچھ مذاکرات ہوئے۔
گفتگو کے آخر میں انہوں نے پوچھا : اگر قریش کے مہاجرین نے اسے قبول نہیں کیا اس خیال میں کہ ہم مہاجر ، رسول خدا کے اصحاب اور ان کے دوست اور رشتہ دار ہیں لہذا ان کے بعد اس امر میں اختلاف مناسب نہیں ہے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
بعض لوگوں نے کہا: اگر ایسا اعتراض ہو تو ہم جواب میں لکھیں گے : ایک امیر آپ میں سے اور ایک امیر ہم میں سے چنا جائے۔
سعد بن عبادہ نے کہا: یہ بذات خود ہماری پہلی شکست ہوگی(۱)
تیسرا امیدوار ، یا کامیاب امیدوار
سقیفہ میں انصار کے جمع ہونے اور ان کی گفتگو کی خبر ابو بکر اور عمر کو پہنچی ، تو دونوں ابو عبیدہ جراح
____________________
۱۔ تاریخ طبری ج ۳/ ۴۵ میں ضمن حوادث ۱۱ھ ء ، تاریخ ابن اثیر ج ۲/ ۲۲۲، الامامة و السیاسةابنفتیبة ج ۱/ ۵، جوہری سقیفہ میں ابن ابی الحدید سے روایت کرکے ج ۶ میں شرح خطبہ و عن کلام لہ فی معنی الانصار ہیں ۔
کہ ہمراہ بغیر کسی تاخیر کے سقیفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
انصار کے بنی عجلان طائفہ سے اسید بن حضیر(۱) ، عویم بن ساعدہ ،عاصم بن عدی، مغیرہ بن شعبہ و عبد الرحمان بن عوف بھی ان سے جا ملے ۔
ان لوگوں نے خصوصی طور پر اس دن ابو بکر کی بیعت کیلئے انتہائی تگ و دو کی اور قابل ذکر خدمات انجام دئے، لہذا دونوں ہی خلیفہ ابوبکر اور عمر ہر وقت ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا خیال رکھتے تھے ۔
ابو بکر انصار میں سے کسی ایک کو بھی اسید بن حضیر پر ترجیح نہیں دیتے تھے اور عمر اسے اپنا بھائی کہتے تھے اور اس کے مرنے کے بعدیہ کہتے تھے کہ وہ میرا حق شناس تھا۔
عویم جب مرگیا تو عمرنے اس کی قبر پر بیٹھ کر کہا: روئے زمین پر کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس صاحب قبر سے بہتر ہوں “
ابو عبیدہ کو مشرقی روم کے پادشاہ سے لڑنے کیلئے بھیجا گیا نیز اسے لشکر کا کمانڈ ڑمقرر کیا گیا ۔ عمر نے جس وقت اپنا خلیفہ اور جانشین معین کررہے تھے تو اس کی موت پر افسوس کررہے تھے کیونکہ اسے اپنے بعد مسلمانوں کا خلیفہ بنانا چاہتے تھے لیکن وہ تو عمواس نامی طاعون ہی میں فوت کرچکا تھا ۔
دوسرے خلیفہ نے مغیرہ بن شعبہ کیلئے کافی تگ و دو کی تھی نیز اس پر زنا کی حد جاری نہیں ہونے دیا۔
____________________
۱۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۳۳۵
اور ا س کا نام ہمیشہ گورنروں کی فہرست میں ہوا کرتا تھا عمر نے عبد الرحمان بن عوف کا احترام کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور اپنے مرنے کے بعد تعیین خلافت کی کنجی اس کے حوالہ کردی۔
یہ وہ بزرگ شخصتیں تھیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کو آپ کے خاندان والوں میں چھوڑ کو خود سقیفہ کی طرف دوڑپڑیں اور انصار سے حکومت اور فرمانروائی کے مسئلہ پر بر سر پیکار ہوگئے اورحضرت ابو بکر کے طرفدار ہوکر اس کی بیعت کی، اس طرح سے ابو بکر نے خلافت کی گیند میدان خلافت میں دوسرے امیدواروں سے چھین لی۔
آیند ہ فصول میں انشا ء اللہ اسکی تفصیلات آئیگی
سقیفہ میں ابو بکر کی بیعت
لا نبایع الا علیاً
ہم علی علیہ السلام کے سوا اورکسی کی بیعت نہیں کریں گے
انصار کا ایک گروہ
سقیفہ میں خلافت پر ہنگامہ
ہم کہہ چکے ہیں کہ رسول خدا کے اکابر اصحاب آپ کے جنازہ کو چھوڑ کر سقیفہ میں چلے گئے تا کہ آپ کا کسی کوجانشین معین کریں اور اس سلسلے میں ہر گروہ نے اپنی رای کا ظہار کیا اور ہر کوئی کسی نہ کسی کو امید وار کی حیثیت سے خلفہ نامزد کرتا اور اس کی حمایت کا اعلان کرتا تھا بات کچھ اتنی آگے بڑھی کہ نزاع اور کشمکش کی حد تک پہنچ گئی، ان میں سے کچھ لوگ ابو بکر کی حمایت کرتے تھے کہ جن میں سرفہرست عمرتھے وہ لوگوں کو ابو بکر کی بیعت کرنے کیلئے ترغیب دلاتے اور اس کے مخالفوں کو دھمکیاں دیتے تھے ۔ اس وقت ابو بکرنے کھڑے ہوکر عمر کو خاموش کرایا ۔ خدا کی حمد و ثنا بجا لائے اور مہاجرین کے افتخارات اور کارگردیوں کو بیان کرنے کے بعد کہا؛ لوگو ! مہاجرین وہ افراد ہیں جنہوں نے روئے زمین پر سب سے پہلے خد اکی پرستش کی ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے ہیں وہ پیغمبر کے دوست اور اعزّہ ہیں ۔ وہ پیغمبر کے بعد خلافت کیلئے سزاوار تر ہیں اور افضل ہیں ۔ اس سلسلے میں ظالم کے سوا کوئی ان کی مخالفت اور ان سے جھگڑا نہیں کرے گا ۔
اس کے بعد ابو بکر نے انصار کی فضیلت بھی بیان کی اور اپنی بات یوں جاری رکھی :
مہاجرین : جو اسلام میں سبقت حاصل کرنے کا افتخار رکھتے ہیں ۔۔ ہمارے پاس آپ کے مقام و منزلت کے برابر کوئی نہیں ہے ، لہذا اس حساب سے ہم امیر ہیں اور آپ وزیر
حباب بن منذور اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا: ” اے انصار ! حکومت کی باگ ڈور کو مضبوطی سے پکڑ لو تا کہ دوسرے آپ کی حکومت کے ماتحت زندگی گزاریں اور کسی کو آپ کی مخالفت کی جرات نہ ہو ۔ ایسا نہ ہو کہ آپس میں ا ختلاف پیدا ہو ورنہ دشمن اس سے فائدہ اٹھا کر آپ کی رائے کو بے کار کردے گا اور آپ لوگوں کی شکست قطعی ہوجائے گی ۔ یہ لوگ اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکیں گے جو تم نے سنا ہم اپنے لئے ایک امیر کا انتخاب کریں گے اور وہ بھی اپنے لئے ایک امیر کا انتخاب کر لیں ۔
عمر نے کہا : ایک خط پر دو پادشاہ حکومت نہیں کرسکتے ،خدا کی قسم عرب ہر گز اس پر راضی نہیں ہوں گے کہ تم لوگ ان پر حکومت کرو جب کہ ان کا پیغمبر آپ لوگوں میں سے نہیں ہے ، لیکن عربوں کیلئے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ حکومت ان کے ہاتھ میں ہے جن میں سے پیغمبر بھی ہیں ۔
ہم اپنے اس دعویٰ کے بارے میں ایک واضح دلیل اور روشن مآخذ کے مالک ہیں ۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پادشاہی اور اس کی حکومت کی وراثت کے بارے میں ہم سے کون مقابلہ کرسکتا ہے ؟ چونکہ ہم ان کے دوست اور قبیلہ والے ہیں(۱)
مگر یہ کہ اپنے آپ کو کسی باطل راستہ پر لگادے یا خود کو کسی گناہ میں آلودہ کیا ہو، خود کو ہلاکت کے بھنور میں ڈال دیاہو ۔
حباب بن منذر دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بولا : اے انصار ! رک جاؤ اور اس شخص اور اس کے دوستوں کی باتوں پر کان نہ دھرو، یہ تم لوگوں کا حق تلف کریں گے اور اس کام میں آپ کو نقصان پہنچائیں گے ، لہذا اگر انہوں نے آپ لوگوں کی تجویز کی مخالفت کی تو انھیں اس شہر سے جلا وطن کردو اور حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ہاتھوں میں لے لو خدا کی قسم اس کام کیلئے مستحق ترین افراد تم لوگ ہو ، یہ وہ افراد ہیں جو ہرگز حاضر نہ تھے اس دین کو قبول کریں انہوں نے تمہاری تلواروں کے خوف سے ہتھیار ڈالے ہیں ۔
میں تمہارے درمیان ا س لکڑی کے مانند ہوں جو اونٹوں کے اصطبل میں رکھی جاتی ہے تاکہ کھجلی آنے پر اونٹ اپنے بدن کو اس کے ساتھ رگڑ لیں (یہ اس بات کی طرف کنایہ ہے کہ مشکل اوقات میں میرے مشورہ کا سہارا لیں) اور ا س مضبوط درخت کے مانند ہوں کہ طوفان ِ کے حوادث
____________________
۱۔ جب علی علیہ السلام نے اس استدلال کو سنا تو فرمایا: انہون نے نبوت کے درخت سے استدالال کیا ہے جبکہ اس درخت کے میوہ کو بھول گئے ( احتجوا بالشجرة و اضاعوا الثمرة ) مہاجرین اس بناپر خلافت کو اپنا حق جانتے تھے کہ وہ قریش میں سے ہیں اور پیغمبر کے رشتہ دار ہیں پیغمبر کے رشتہ دار نہیں تھے اس لئے ان کو خلافت کا حقدار نہیں سمجھتے تھے ، علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے فرمایا: آپ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار ہونے کے ناطے اپنے آپ کو خلافت کا حقدار سمجھتے ہیں تو پھر کیوں ان لوگوں کو بھلائے بیٹھے ہو جو اس درخت کے میوے اورپیغمبر کے رشتہ دار ہیں ۔
حوادث میں لوگ اس کے نیچے پناہ لیتے ہیں ۔ بڑے بڑے کاموں کے بارے میں مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور میری طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، خدا کی قسم اگر چاہتے ہو تو ہم جنگ کے شعلوں کو پھر سے بھڑکادیتے۔ خدا کی قسم جو بھی ہماری تجویز کی مخالفت کرے گا میں اپنی تلوار سے اس کی ناک کاٹ کر اسے ذلیل خوار کردوں گا ۔
عمر نے کہا؛ پھر توخدا تجھے موت دے !
اس نے جواب میں کہا: خدا تجھے موت دے “ عمر نے اسے پکڑ کر اس کے پشت پر ایک لات ماری اور اس کے منہ کو مٹی سے بھر دیا(۱)
اس کے بعد ابو عبیدہ نے جھلّاتے ہوئے بولنا شروع کیا: اے انصار کی جماعت! ” تم پیغمبر خدا کے سب سے پہلے یار اور حامی تھے ، اس وقت تم لوگ تبدیلی لانے والوں میں پہل نہ کرو!
اس اثناء میں ، بشیر بن سعد خزرجی ، (نعمان بن بشیر کا باپ جو خزرج کے سرداروں میں شمار ہوتا تھا سعد بن عبادہ اور اسکے درمیان دیرینہ حسادت(۲) بھی تھی) اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا : اے انصار کی جماعت !
خدا کی قسم اگر چہ ہم مشرکین سے جہاد کرنے اور ترویج دین میں طولانی سابقہ رکھنے
____________________
۱۔ جملہ ” اسے پکڑ کر“ جوہری کی سقیفہ کی روایت میں ہے ، ملاحظہ ہو شرح ابن ابی الحدد ج ۶/ ۲۹۱
۲۔- جملہ سابقہ حسادت “ تا آکر ، کو جوہیر نے کتاب سقیفہ میں نقل کیا ہے ملاحظہ ہو شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶، و من کلام لہ فی منی الانصار “ کی تشریح میں )
میں صاحب فضیلت ہیں ، لیکن خدا کی خوشنودی ، پیغمبر خد اکی فرمانبرداری اور اپنے لئے مشکلات برداشت کرنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتے تھے ، لہذا شائستہ نہیں ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے غرور کے ساتھ پیش آئیں ہمارا مقصد دنیوی آبرو حاصل کرنا نہیں تھا اور یہ خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو ہمیں عطا ہوئی ہے ، محمد قریش کے خاندان سے ہیں اور آپ کے رشتہ دار آپ کے وارث اس کے زیادہ حقدار ہیں ، میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں خداوند اہر گز ہمیں اس کام میں ان سے لڑتے ہوئے نہیں دیکھے گا ، تم لوگ بھی خداسے پنا ہ مانگو اور ان سے مخالفت اور جنگ نہ کرو۔
ابو بکر نے کہا : عمر او رابو عبیدہ یہاں پر حاضر ہیں ان میں سے جس کی بھی چاہو ، بیعت کرو۔
عمر اور ابو عبیدہ نے ایک زبان ہوکر کہا: خدا کی قسم آپ کے ہوتے ہوئے ہم ہرگز ایسا اقدام نہیں کریں گے(۱)
عبد الرحمان بن عوف نے اپنی جگہ سے اٹھ کر یوں کہا : اے انصار کی جماعت ! اگر چہ اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ آپ لوگوں کی بہت فضیلت ہے ، لیکن اس کے باوجود اس امر سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے کہ آپ لوگوں میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرا ورعلی علیہ السلام، کے مانند لوگ نہیں پائے جاتے۔
____________________
۱۔ ہم نے اختصار کی وجہ سے اس گفتگو کا باقی حصہ اور اس پر اپنی تفسیر لکھنے سے اجتناب کیا ہے ۔
منذر بن ارقم اٹھا اور ر اس کے جواب میں یوں بولا :ہم مذکورہ اشخاص کے فضل سے انکار نہیں کرتے خاص کر اگر ان تین اشخاص میں سے کوئی ایک فرد حکومت کی باگ ڈور سنبھالےتو ایک فرد بھی اس کی مخالفت نہیں کرے گا اس کا مقصود علی ابن ابیطالب علیہ السلام تھا(۱)
اس وقت تمام انصار یا ان میں سے ایک جماعت نے بلند آواز میں کہا : ہم علی علیہ السلام کے سوا کسی اور کی بیعت نہیں کریں گے ۔
طبری اور ابن اثیر نے نقل کیا ہے :(۲) جب عمر نے ابوبکر کی بیعت کی تو اس وقت انصار نے کہا: ہم علی علیہ السلام کے سوا کسی اور کی بیعت نہیں کریں گے ۔
زبیر بن بکار کہتا ہے :(۳)
جب انصار کو خلافت نہ ملی تو انہوں نے کہاکہ : ہم علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہیں کریں گے۔
حضرت ابو بکر کی بیعت میں ایک عجیب سیاست
عمراس داستان کو نقل کرتے اس طرح کہتے ہیں : ” اس قدر شور مچا مجھے ڈر لگنے لگا کہ کہیں
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۱۰۳ ، :
و ان فیهم رجلاً لو طلب هذا الامر لم ینازعه فیه احد، یعنی علیّ ابن ابیطالب علیه السلام )
۲۔ طبری ج ۲/۴۴۳، اور ابن اثیر ج ۲/ ۲۲۰،
۳۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ میں کتاب موفقیات سے یہ روایت نقل کی گئی ہے اور ج ۲/ ۱۲۲ میں بھی اس روایت کو نقل کیا ہے )
اختلاف پیدا نہ ہو ، میں نے ابو بکر سے کہا: اپنے ہاتھ کو آگے بڑھائیے تا کہ آپ کی بیعت کروں(۱)
ایک دوسری روایت میں عمر سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا:
” ہم ڈر گئے کہ اگر اس اجتماع میں بیعت نہ لی جاگئی تو لوگ منتشر ہوجائیں گے، اور ان سے بیعت لینے کا موقع ہاتھ نہیں آئے گا اور کسی اور کی بیعت ہو جائے گی اور اس وقت ہم مجبور ہوجائیں گے کہ اپنی مرضی کے خلاف کسی اور کی بیعت کریں یا اس کی مخالفت کریں اور ایک دوسرا فتنہ پیدا ہوجائے ۔
عمر اور ابو عبیدہ بیعت کرنے کے ارادہ سے ابو بکرنے آگے بڑھے لیکن اس پہلے کہ ان کے ہاتھ ابوبکر کے ہاتھ تک پہنچ جائےں بشیر بن سعد نے ان پر سبقت لے لی اور آگے بڑھ کر ابو بکر کی بیعت کرلی۔
حباب بن منذر نے چلا کر کہا؛ اے بشیر بن سعد ! اے بد بخت ! تم نے قطع رحم کیا ، تم نہیں دیکھ سکے کہ تیر اچچیرا بھائی حاکم مقرر ہو ؟
بشیر نے کہا : ” خدا کی قسم ہر گز ایسا نہیں ہے ، لیکن میں نہیں چاہتا کہ ایک ایسی جماعت سے بر سر پیکار ہوجاؤں جن کیلئے خداوند عالم نے ایک حق قرار دیا ہے “
قبیلہ اوس کے بعض بزرگوں نے جن میں اسیر بن حضیر بھی شامل تھا جب بشیر کو ابو بکر کی
____________________
۱۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۲۳۶ اور تمام موخین جنہوں نے بیعة ابی بکر کانت فلتة کی روایت کو نقل کیاہے اس جملہ کو روایت کیا ہے ، اس کے علاوہ تاریخ ابن اثیر ج ۵ / ۲۴۶ ہم ڈر گئے کہ دوسرا فتنہ نقل کیا ہے ۔
بیعت کرتے دیکھا اور قریش کی دعوت کو سنا خزرج والوں کی ان باتوں کے بھی شاہد تھے جو سعد بن عبادہ کو منتخب کرناچاہتے تھے انھوں ، نے کہا: خدا کی قسم ! اگر چہ قبیلہ خزرج والے اس کام کی باگ ڈور ایک بار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیں اور آج اس حساس موقع پر وہ کامیاب ہوجائیں تو ہمیشہ کیلئے وہ اس فضیلت کے مالک بن جائیں گے اور ہرگز تم لوگوں کو یہ فضیلت نصیب نہ ہوگی ، لہذا جتنا جلد ممکن ہوسکے اٹھ کر ابو بکر کی بیعت کرو ۔
ابو بکر جوہری نے کتاب سقیفہ میں نقل کیا ہے : ” جب قبیلہ اوس نے قبیلہ خزرج کے ایک سردار کو ابو بکر کی بیعت کرتے دیکھا تو اسید بن حضیر جو قبیلہ خزرج کا ایک سردار تھا نے سعد بن عبادہ کی کامیابی کو روکنے کیلئے فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کر ابو بکر کی بیعت کی(۱) خزرج کے کام میں اوس کی کارشکنی اور رخنہ اندازی کے بعد لوگ جوق در جوق اٹھے اور ہر طرف سے آگے بڑھ کر ابو بکر کی بیعت کرنے لگے اور کہا جاتا ہے کہ ایک ایسا ہجوم ہوا کہ قریب تھا سعد بن عبادہ پیروں تلے دب جائے۔
تاریخ یعقوبی میں یوں آیا ہے:
” لوگ ابو بکرکی بیعت کرنے کیلئے سعد اور اس کےلئے بچھے فرش پر اس طرح دوڑے کہ قریب تھا وہ کچل جائے جو لوگ سعد کے اطراف اور حوالی موالی میں شمار ہوتے تھے چلائے احتیاط سے کام لو ورنہ سعد دب جائےں گے۔
____________________
۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶/میں و من کلام لہ فی معنی الانصار ملاحظہ ہو۔
عمر نے جواب میں کہا ؛ اسے ماڑ ڈالو خدا اسے مار ڈالے ، اس کے بعد سعد کے سرہانے پر کھڑے ہو کر کہا ؛ تجھے اس طرح پامال کرنا چاہتا ہوں کہ تیرے بدن کے اعضا چور چور ہوجائیں ۔ یہا ں پر قیس بن سعد آگے بڑھے اور عمر کی داڑھی پکڑ کر کہا:
خدا کی قسم اگر سعد کے سرسے ایک بال بھی کم ہوجائے تو تیرے دانتوں میں سے ایک دانت بھی سالم نہ بچے گا ۔
ابو بکر نے فریاد بلند کی : اے عمر !خاموش رہنا اس نازک موقع پر امن و سکون کی اشد ضرورت ہے(۱)
عمر ،سعد کو اپنے حال پر چھوڑ کر واپس لوٹے ۔ اس وقت سعد نے عمر سے مخاطب ہوکر کہا: خدا کی قسم ! اگر میں اٹھ سکتا تو مدینہ کی گلی کوچوں اور اس کے اطراف میں میرا ایسا نعرہ سنتے کہتم اورتمہارے دوست ڈر کے مارے بل میں چھپ جاتے خدا کی قسم تجھے ایک ایسے گروہ کے پاس بھیج دیتا کہ تم ان کے فرمانبردار ہوتے نہ فرمان روا، اس کے بعد اپنے حامیوں کی طرف مخاطب ہوکر بولا : مجھے یہاں سے باہر لے چلو پھر ان لوگوں نے اسے اپنے کاندھوں پر اٹھا کر گھر پہنچا دیا“(۲)
ابو بکر جوہری کہتا ہے :
” عمر اس دن یعنی ابوبکر کی بیعت کے دن کمر کس کر ابو بکر کے آگے پیچھےہورہے تھے اور نعرہ
____________________
۱۔ یہا ں پر اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دو خلیفو ں نے کس طرح سیاست میں ا یک دوسرے کی مدد کی ۔
۲۔ تاریخ طبری ج ۲/ ۴۵۵، ۴۵۹، تاریخ یعقوبی ج / ص ۱۲۳ ۔
لگا رہےتھے: سنو!لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرلی ہے
لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرنے کے بعد اسی حالت میں اسے مسجد میں لے آئے تا کہ اور لوگ بھی ان کی بیعت کریں ، علی علیہ السلام اور عباس (جو ابھی رسو خدا کے بدن کو غسل دینے سے فارغ نہیں ہوئے تھے)نے مسجد النبی سے تکبیر کی آواز سنی ، علی علیہ السلام نے پوچھا :
یہ شور و غل کیسا ہے ؟
عباس نے کہا: آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا ہے ! اس کے بعد علی سے مخاطب ہوکر کہا : میں نے آپ کو کیا کہاتھا(۱)
سقیفہ کی بیعت کا اختتام
تاریخ یعقوبی میں آیا ہے :
” جب لوگوں نے سقیفہ میں ابوبکر کی بیعت کی ، براء بن عازب نے اضطراب و گھبراہٹ کے عالممیں بنی ہاشم کے دروازہ کھٹکھٹایا اور فریاد بلند کی : اے گروہ بنی ہاشم ، آگاہ ہوجاؤ ! لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرلی ہے ۔
بنی ہاشم ایک دوسرے کی طرف تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہتے تھے : مسلمان تو ہماری ، یعنی ہم محمد کے نزدیک ترین رشتہ داروں کی عدم موجودگی میں کوئی کام انجام نہیں دیتے تھے ؟!
عباس نے کہا : کعبہ کے رب کی قسم ! انہوں نے ایسا کام انجام دیا ہے جسے انجام نہ دینا چاہئے تھا فعلوھا و ربّ الکعبة ، مہاجر و انصار سب کو یقین تھا کہ خلافت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گی یعقوبی براء بن عازب سے نقل کرتے ہیں :
” عباس نے بنی ہاشم سے مخاطب ہوکر کہا: تمہیں ہمیشہ کیلئے حقیر بنادیا گیا ہے ، جان لوکہ میں نے تم سے کہا تھا ، لیکن تم لوگوں نے میری نافرمانی کی “
اس طرح ابو بکر کی خصوصی بیعت سقیفہ میں اختتام کو پہنچی۔
ابو بکر کی عام بیعت اور پیغمبر اکرم کی تدفین
قد ولیتکم و لست بخیرکم
لوگو! میں تمہارا امیر منتخب ہوا ہوں جبکہ میں تم لوگوں سے بہتر نہیں ہوں !
ابو بکر
و ان ابابکر و عمر لم یشهدا دفن النبیّ
ابو بکر اور عمرپیغمبر کی تدفین میں شریک نہیں ہوئے ۔
مؤرخین
ابو بکرمنبر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر
ہم نے گزشتہ فصلوں میں کہا کہ جنگ و جدال کے بعدآخرکار ابو بکر خلافت کے مسئلہمیں دوسروں پر بازی لے گئے اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ گئے نیزباقی لوگوں نے بھی قدرتی طور پر ان کی پیروی کی ، اس طرح سقیفہ میں ابو بکر کی عام بیعت انجام پائی لیکن اس کے باوجود اس کی کامیابی قطعی صورت اختیار نہ کرسکی اور اس بیعت کو عوامی سطح پر باقاعدہ صورت میں قبول نہیں کیا گیا ۔
اس سلسلہ میں طبری کہتا ہے :
” قبیلہ اسلم مدینہ آیا ، جیسے کہ مدینہ کی گلیاں ان کیلئے تنگ ہوچکی تھیں اور انہوں نے ابو بکر کی بیعت کی ۔ عمر مکرر کہتے تھے : جوں ہی میں نے قبیلہ اسلم کو دیکھامجھے یقین ہوگیاکہ ہم کامیاب ہیں(۱) لیکن قبیلہ اسلم کے مدینہ آنے کا سبب شیخ مفید نے اپنی کتاب ” الجمل“ میں یوں لکھا ہے :
” وہ اجناس اور کرانہ خریدنے کیلئے مدینہ آئے تھے کہ انہیں کہا گیا : آئیے ہماری مدد کیجئے تا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ کیلئے بیعت لے لیں اس کے بعد ہم تمہیں اجناس دیں گے ، یہی وجہ ہے کہ قبیلہ اسلم نے لالچ میں آکر ابوبکر کی مدد کی “۔
جب سقیفہ میں ابو بکر کی بیعت کا کام اختتام کو پہنچا تو ، ان کی بیعت کرنے والوں نے جلوس کی صورت میں خوشیاں مناتے اور چلاتے ہوئے انھیں مسجد النبی لے چلے !
ابو بکر منبر رسول اللہ پر چڑھے اور لوگ رات گئے تک ان کی بیعت کرتے رہے اور کسی کو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین کی فکر نہیں تھی(۲)
ابو بکر دوسرے دن بھی مسجد النبی میں آئے اور منبر پر گئے تا کہ لوگوں سے بیعت لے لیں ۔
____________________
۱۔ طبری ج ۲ ( ص ۴۵۸ ) ابن اثیر ج ۲/ ۲۲۴ اور زبیر بکار کی روایت میں شرح ابن ابی الحدید ج ۶/ ۲۸۷میں آیا ہے ” ابو بکر کو قبیلہ اسلم کی بیعت سے تقویت ملی “)
۲۔ الریاض النضرة ج ۱/ ۱۶۲ اور تاریخ الخمیس ج ۱/ ۱۸۷ ملاحظہ ہو۔
قبل اس کے کہ ابو بکر اپنی بات کو شروع کریں عمراٹھے اور حمد و ثنائے خدا کے بعد بولے :
کل کی میری بات نہ قرآن سے تھی اور نہ پیغمبر کی کسی حدیث سے لیکن میں خیال کرتا تھا کہ پیغمبر چھ لوگوں کے امور کی خود تدبیر کریں گے اور اس دنیا سے رخصت ہونے والے آخری فرد ہوں گے ، بہر حال پیغمبر نے آپ کے درمیان قرآن کو چھوڑا ہے ، لہذا اگر آپ لوگ اس کا سہارا لیں گے تویہ آپ کو ا س راستے پر راہنمائی کرے گا جس پر تمہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے جارہے تھے ، اب آپکے امور کی باگ ،ڈور بھی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں آئی ہے جو تم لوگوں میں سے بہترین صحابی پیغمبر اور آنحضرت کے یارِ غار ہیں ، اٹھوا!اور ان کی بیعت کرو“
اس طرح سقیفہ میں بیعت انجام پانے کے بعد ابو بکر کی عام بیعت بھی انجام پائی ۔
بخاری کہتا ہے :
اس سے پہلے سقیفہ بنی ساعدہ میں ایک گروہ نے بیعت کی تھی ، لیکن ابوبکر کی عام بیعت منبر پر انجام پائی(۱)
انس بن مالک نے روایت کی ہے :
” میں نے سناکہ اس روز عمرمکرر ابو بکر کو منبر پر جانے کیلئے کہتے تھے اور اس نے اپنی بات کو اس قدر دہرایا اور زور دیا کہ آخر کارابوبکر منبر پر جاپہونچے اور سب لوگوں نے ان کی بیعت کی ۔
____________________
۱۔ صحیح بخاری ،ج ۴/ ۶۵۔
اس کے بعد ابو بکر نے حمدو ثنائے باری تعالی کی: اے لوگو! آپ کی حکمرانی کی باگ ڈور میرے ہاتھ سونپ دی گئی ہے جبکہ میں تم لوگوں میں شائستہ ترین فرد نہیں ہوں پس اگر میں صحیح اور نیک کردار ثابت ہوا تو میری اطاعت کرنا اور اگر میں نے بد کرداری اور بد سلوکی کی تو تم لوگ مجھے سیدھے راستہ پر ہدایت کرنا
یہاں تک کہا:
” جب تک میں خدا ور رسول خدا کی اطاعت کروں ، تم لوگ میری اطاعت کرنا اور اگر میں نے خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو میری اطاعت نہ کرنا ۔
چونکہ نماز کو وقت قریب تھا اس لئے کہا:
”خدا تمہیں بخش دے ، اٹھوا ! تا کہ ہم ایک ساتھ نماز پڑھیں “(۱)
بیعت کے بعد
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوموار کی صبح کو رحلت فرمائی او رلوگ آپ کے جنازہ کو
____________________
۱۔ ملاحظہ ہو : سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۳۴۰ ، طبری ج ۳/ ۲۰۳ ، عیون الاخبار ابن قتیبہ ۲/ ۲۳۴، الریاض النضرةج ۱/ ۱۶۷ ، تاریخ ابن کثیر ج ۵/ ۲۴۸، تاریخ الخلفاء سیوطی ص ۴۷ ، کنزل العمال ج ۳/ ۱۲۹ ، حدیث نمبر ۲۲۵۴ ، سیرہ حلبیہ ج ۳/ ۳۹۷ اور تاریخ یعقوبی ج / ۱۲۷ ، شرح نہج البلاغہ کی ج ۱ ۱۳۴ ، روایت کے مطابق اورصفوة الصفوی ج ۱/ ۹۸ نے بھی نقل کیا ہے کہ صرف ابو بکر کے سقیفہ کے خطبہ کو ذکر کرنے والوں میں جوہری ہے ۔
دفن کرنے کے بجائے دوسرے کام میں مشغول ہوئے(۱)
حقیقت میں لوگوں نے سوموار سے منگل کے عصر تک تین کام انجام دئیے اول : سقیفہ میں رونما ہوئے مظاہرے اور تقریریں انجام دیں ، دوم ۔ ابو بکر سے پہلی بیعت اور سوم ۔ مسجد النبی میں اس کی عام بیعت ، عمر کی تقریر اور ابو بکر کی لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنا۔
مؤرخین کہتے ہیں ؛ جب ابو بکر کی بیعت کا کام اختتام کوپہنچا ، تو منگل کی شب کو لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کی طرف بڑھے(۲) گھر میں داخل ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نماز پڑھی ،(۳)
اس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر امام جماعت کے بغیر نماز پڑھی گئی اور مسلمان گروہ گروہ گھر میں داخل ہوکر آپ پر نماز پڑھتے تھے(۴)
پیغمبر خدا کی تدفین اور اس میں شریک افراد
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدن مبارک کو جنہوں نے غسل دیا انہوں نے ہی اسے دفن بھی کیا (عباس، علی علیہ السلام ، فضل و پیغمبر کا غلام صالح) ، لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدن مبارک کو آپ
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد ج ۲/ ق ۲/ ص ۷۸ طبع لندن۔
۲۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۲۴۳ ، طبری ج ۲/ ۴۶۲، کامل ابن اثیر ج ۲/ ۲۲۵ ، ابن کثیر ج ۵/ ۲۴۸، سیرہ حلبیہ ج ۲ ۲۶۲ و ۲۹۴ موخر الذکر مآخذمیں بیعت کا کام تمام نہ ہونے کی صورت میں تجہیز رسول اللہ کیلئے آنے کی تاریخ معین نہیں کی گئی ہے ۔
۳۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۳۴۳۔
۴۔۔طبقات ابن سعد ج۲/ ۷۰ ، کامل ابن اثیر ج ۲/ ۱۱ھء کے وقائع کے ضمن میں ، نہایة الارب ج ۱۸ ۳۹۲ ۔ ۳۹۳ )
کے خاندان والوں کو سپردکرکے خلیفہ کا انتخاب کرنے کیلئے سقیفہ چلے گئے(۱) اس کے علاوہ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین چار افراد(۲) کے توسط سے انجام پائی، حضرت علی علیہ السلام ، فضل ،قثم ، عباس کے بیٹے اور پیغمبر کا غلام شقرین ، اس کے علاوہ کہتے ہیں : اسامہ بھی تھے، غسل و تکفین اور دیگر کام بھی انہوں نے ہی انجام دئے ہیں(۳) اور ابو بکر و عمر پیغمبر کی تدفیں کے وقت حاضر نہیں تھے(۴) عائشہ نے روایت کی ہے ؛ ہم رسول اللہ کی تدفین کے بارے میں بدھ کی نصف شب تک آگاہ نہ ہوئے ، جب بیلچوں کی آواز ہمارے کانوں تک پہنچی !(۵)
ایک اور روایت میں عائشہ نہ کہا ہے : ” ہم بیلچوں کی آوا ز سننے تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین کے وقت سے آگاہ نہیں ہوئے تھے(۶)
مزید روایت کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ داروں کے علاوہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا اور انصار کے ایک قبیلہ نے زمین پر بیلچوں کی آواز اس وقت سنی جب وہ اپنے
____________________
۱۔ ، طبقات ابن سعد ج۲/ ق۲/۷۰ اور البدء و التاریخ میں اس معنی کے قریب مطالب نقل ہوئے ہیں ۔
۲۔ کنز ل العمال ج ۴/ ۵۴ و ۶۰ ۔
۳۔ العقد الفرید ج ۳// ۶ اور ذہبی نے بھی اپنی تاریخ میں اس معنی کے قریب نقل کیا ہے ۔
۴۔ کنز العمال ج ۳/ ۱۴۰ ۔
۵۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴ ۳۴۲ ، طبری ج ۲/ ۴۵۲، ۴۵۵، ابن کثیر ج ۵/ ۲۷۰، اور اسد الغابہ ج ۱/ ۳۴ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات زندگی میں کہا گیا ہے دوسری روایتو ں میں آیا ہے کہ بیلچہ کی آواز کا سننا منگل کی شب کو پیش آیا ہے جیسا کہ طبقات ج ۲/ ۱ ۲/ ۷۸ اور تاریخ الخمیس ج ۱/ ۱۴۱ میں آیا ہے ،ذھبی نے بھی اپنی تاریخ ج ۱/ ۳۲۷ میں ایسا ہی کہا ہے ، لیکن صحیح یہ ہے یہ بدھ کی شب کو سننے میں آیا ہے ، مسند احمد ج ۶/۶۲ میں کہا گیاہے : بدھ کی رات کے آخری حصہ میں تھا ۔
۶۔ مسند احمد ج ۶/ ۲۴۲ ، ۲۷۴۔
گھروں میں سوئے ہوئے تھے بعد میں بنی غنم کے بزرگ کہتے تھے ، ہم نے بیلچوں کی آواز آخر شب میں سنی(۱)
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد ،ج ۲/ ق۲/ٰ ۷۸
حضرت ابو بکر کی بیعت کے مخالفین
عباس ! نحن نرید ان نجعل لک سهماً من هذا الامر
عباس ! چونکہ آپ پیغمبر کے چچا ہیں ، اگر ہمارا ساتھ دیں گے تو خلافت میں سے آپ کا بھی ایک حصہ معین کریں گے ۔
ابوبکر کی پارٹی
فان کان حقا للمؤمنین فلیس لک ان تحکم فیه !
اگر خلافت مومنوں کا حق ہے ، تو تم لوگ اس میں سے مجھے کوئی حصہ دینے کا حق نہیں رکھتے ہو اور اگر وہ ہمارا حق ہے تو اسے پورا ہمیں دینا چاہئے نہ اس کاایک حصہ
پیغمبر کے چچا عباس
ہم نے گزشتہ فصلو ں میں کہا ہے کہ سقیفہ میں خلافت کے موضوع پر شور و غوغا اور بڑی کشمکس پیدا ہوگئی تھی اور مسلمان کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور ہر گروہ ایک امیدوارکو خلافت کیلئے پیش کرتا تھا ، کچھ لوگ سعد بن عبادہ انصاری کو کچھ لوگ ابو بکرکو اور تیسرا گروہ علی علیہ السلام (جو سقیفہ میں موجود نہیں تھے بلکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے) کی حمایت کرتا تھا ، ان میں ابو بکر کی پارٹی کا میاب ہوئی اور سعد بن عبادہ کی پارٹی مکمل طور پر شکست کھاگئی لیکن حضرت علی علیہ السلام کے طرفدار کامیاب گروہ کےساتھ ابھی بھی نبرد آزمااور حکومت وقت کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کرتے تھے اور کوشش میں تھے کہ انصار کی رای کو اپنے امیدوار کے حق میں حاصل کریں ۔
یعقوبی لکھتا ہے :
” مہاجرین اور انصار میں سے کچھ افراد نے ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا اورحضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی طرف اپنے رجحان کا اظہار کیا ان میں عباس بن عبدا لمطلب ، فضل بن عباس، زبیر بن عوام ، خالد بن سعید ، مقداد بن عمرو، سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، عمار یاسر ، براء بن عازب اور ابی بن کعب تھے(۱) و(۲)
اور ابو بکر جوہری کی کتاب ”سقیفہ“ اس طرح مذکور ہے :
” انہوں نے رات میں ا یک انجمن تشکیل دے کر فیصلہ کیا کہ اس کام کے سلسلے میں مہاجرین اور انصار سے دوبارہ صلاح و مشورہ کیاجائے ۔ اس انجمن کے اراکین مذکورہ ناموں کے علاوہ عبادة ابن صامت ، ابو الھیثم بن تیھان اور حذیفہ تھے(۳)
____________________
۱۔ مذکورہ صحابی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بزرگ اصحاب میں سے تھے ، کتاب کے آخر پران کی زندگی کے حالات درج کئے جائیں گے ۔
۲۔ تاریخ یعقوبی ج۲/ ۱۲۴
۳۔ ابو بکر جوہری کی کتاب سقیفہ کی روایت شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج ۲/ ۴۴ اور اس کی تفصیل تحقیق ابو الفضل ابراہیم ج ۲/ ۵ میں ملاحظہ ہو۔
اس واقعہ کے بعد ابو بکر نے عمر ، ابو عبیدہ اور مغیرة بن شعبہ کو اپنے پاس بلایا اور ان سے پوچھا کہ اس سلسلہ میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ تینوں افراد نے متفقہ طور پر کہا: آپ کو عباس بن عبد المطلب سے مفصل ملاقات کرنی چاہئے اور خلافت کے ایک حصہ کو ان سے مخصوص رکھنا چاہئے تا کہ وہ خود اور ان کے فرزند اس سے استفادہ کریں ، اگر عباس راضی ہوئے تو علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی طرف سے بے فکر ہو جاؤگے اور عباس کا آپ کی جانب میلان علی علیہ السلام کے ضرر میں آپ کے ہاتھ میں ایک حجت ہوگی(۱)
ابو بکر نے اس مشورہ کو پسند کیا ور راتوں رات عمر ، ابو عبیدہ جراح اور مغیرہ کے ہمراہ عباس کے گھر گئے ۔
ابو بکر نے خداوندعالم کا حمد و ثنا بجالانے کے بعد کہا: بے شک خداوند عالم نے محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا ہے تا کہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دے ان پر منت رکھیں ، ان کی سرپرستی کو سنبھالیں اور اپنی عمر شریف کو ان کے درمیان اس وقت گزاریں جب انھیں اپنی طرف بلائےں ۔ جو ان کیلئے محفوظ رکھا تھا وہ انھیں عطا فرمایا : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت کے وقت لوگوں کے کام کو ان پر ہی چھوڑدیا تا کہ جو کچھ وہ اپنے لئے مصلحت جانیں اخلاص کے ساتھ اسے اختیار کریں ، انہوں نے مجھے اپنے اوپر حکمراں اور اپنے کاموں پر نگہبان قرار دیا ،اور میں نے بھی اسے قبول کیا اور خداکی مدد سے مجھے اس
____________________
۱۔ جوہری کی سقیفہ کی روایت ہے کہ مشورہ صرف مغیرہ بن شعبہ نے دیا اور یہ حقیقت کے نزدیک ہے کہ یہ جماعت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے دو شب بعد عباس کے پاس گئی ۔
کا خوف نہیں ہے کہ اس کام کو نبھانے میں مجھ میں کمزوری یا پریشانی و وحشت نہیں ہے میں اپنی کامیابی کو خدا کی عنایت جانتا ہوں اور اسکی پناہ چاہتا ہوں اور اس کی طرف لوٹنے والاہوں ۔
مجھے مسلسل رپورٹ مل رہی ہے کہ بعض افراد عام لوگوں کے نظریات کے خلاف اظہار نظر کرکے تنقید کرتے ہیں اور مجھ پر آپ کے اعتماد کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں ۔ یہ لوگ صرف آپ کی اجتماعی حیثیت اورآبرو کی آڑ میں یہ نیا کام انجام دے رہے ہیں ، لہذا آپ یا لوگوں کا ساتھ دیجئے یاان کو اس کج فکری سے منع کیجئے،اس وقت ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ خلافت میں آپ کیلئے بھی ایک حصہ کے قائل ہوجائیں تا کہ آپ خود اور آپ کے فرزند اس سے استفادہ کریں ، کیونکہ آپ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا ہیں ، لوگوں نے آپ کی اور آپ کے دوستی کی حیثیت کو جانتے ہوئے بھی آپ کو یہ نظر انداز کر دیا ہے اے بنی ہاشم ! مطمئن رہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سے اور تم سے ہیں نہ کہ صرف تم سے مخصوص ہیں ۔
عمرنے اس بیان میں اضافہ کرتے ہوئے کہا؛ یہ خیال نہ کیا جائے کہ ہمارا آپ لوگوں کے پاس آناہماری کمزوری اور آپسی تعاون کیلئے ہے، نہیں ! ایسا نہیں ہے بلکہ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ مسلمانون کے اتفاق کئے گئے کام کے بارے میں آپ کی طرف سے مخالفت کی آواز سنی جائے کیونکہ اس کا نقصان آ پ اور ان لوگوں کو پہنچے گا ۔ لہذا آپ اپنے کام میں صحیح طور پر فکر کریں !
عباس نے خداوند عالم کی حمد و ثناکے بعد یوں جواب دیا: خداوند عالمآپ کے کہنے کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کیا ہے اور اپنے حامیوں اور مومنین کا مددگار اور آپ کے وجود کی برکت سے اس امت پر احسان کیا ۔
آخرکارآپ کو اپنے پاس بلالیا اور آپ کے لئے جو مناسب تھا وہی انجام دیا ور مسلمانوں کے کام کو ان پر چھوڑدیا تا کہ حق کی طرف ہدایت پائیں اور اپنے لئے اسے انتخاب کریں نہ یہ کہ حق سے منہ موڑ کر دوسری طرف جائیں(۱)
اگر تم نے اس حق کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام پر حاصل کیا ہے تو یہ ہمارا حق ہے اور تم نے غصب کیا ہے اور اگرپیغمبر کے پیرو ہونے کی حیثیت سے اس مقام و منزلت تک پہنچے ہو تو ہم بھی ان کے پیرو ہیں لیکن تمہارے کام میں ہم نے آگے بڑھ کر مداخلت نہیں کی ہے اور یہ جان لو کہ ہم معترض ہیں ، اگرمؤمنین کی وجہ سے تم پر خلافت واجب ہوئی ہے اور اس کے سزاوار ہوئے ہو تو ، چونکہ ہم بھی مومنین میں سے ہیں اور ہم اس پر راضی نہیں ہیں اس لئے یہ حق تم پر واجب و ثابت نہیں ہوگا ۔ یہ کیسا تناقض ہے کہ ایک طرف یہ کہتے ہو کہ مجھ پر اعتراض کرتے ہو اور دوسری طرف سے دعویٰ کرتے ہو تمہیں لوگوں نے منتخب کیا ہے اور رای دی ہے ؟ ایک طرف سے اپنے آپ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خلیفہ جانتے ہو اور دوسری طرف سے کہتے ہو کہ پیغمبر نے لوگوں کے کام کو انہی پر چھوڑدیا ہے تا کہ کسی ایک کو اپنے لئے منتخب کرلیں ، کیا انہوں نے تجھے منتخب کیا ہے ؟ لیکنجویہ کہتے ہو کہ خلافت میں ایک حصہ ہمارے لئے مخصوص ہے تمہاری جانب سے ، لہذایہ جو چیز تم مجھے دے رہے ہو اگر مؤمنین کا حق ہے تو اس کا اختیارتم نہیں رکھتے ہو(۱) اور اگریہ حق ہمار اہے تو پورا حق ہمیں دینا چاہئے ہم اپنے اس حق سے ایک حصہ لیکر باقی تمہیں سونپتے پر راضی نہیں ہیں ، تمہیں جاننا چاہئے کہ رسول خد ا ایسے ایک درخت کے مانند ہے جس کی ٹہنیاں ہم ہیں اور تم اس کے سایہ میں بیٹھنے والے ہو۔
گفتگو یہاں تک نا کام رہی اور ابو بکر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عباس کے گھر سے باہر آگئے۔
پیغمبر کے چچاعباس اور چند افراد کا ہم نے اس فصل میں ذکر کیا ہے، ان کے علاوہ اور بھی نیک خو ، نامور اور اکابر اصحاب نے ابو بکر کی بیعت سے انکار کیا ہے اور صراحت کے ساتھ اس پر اعتراض کیا ہے حتی کہ اظہار مخالفت کیلئے ہڑتال کی اور پیغمبر کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کے گھر میں دھرنا دیا، اس سلسلے میں تفصیلات اگلی فصل میں یبان کی جائیگی
____________________
۱۔ جوہری کی کتاب سقیفہ اور الامامة و السیاسة میں اس طرح آیا ہے : ” اگر یہ تمہارا حق ہے تو ہم اس کے محتاج نہیں ہے ۔
حضرت فاطمہ زہر ا (س) کے گھر پر دھرنا دینے والے
یابن الخطاب اجئت لتحرق دارنا
اے عمر ! کیا ہمارے گھر کو آگ لگانے کیلئے آئے ہو
پیغمبر اکرم کی اکلوتی بیٹی
نعم، اتدخلوا فی ما دخلت فیه الامة
جی ہاں ! مگر یہ کہ ابو بکر کی حکومت کی اطاعت کروگے۔
خلیفہ دوم عمر
جیسا کہ گذشتہ فصل میں بیان کیا گیا کہ اصحاب کی ایک جماعت ابو بکر کی بیعت سے انکار کرکے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی طالب ہوئی ،ان میں سے کچھ لوگوں نے ابو بکر کی خلافت کے خلاف اعتراض کے طور پر ہڑتال کی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت زہرا کے گھر میں جمع ہو کر دھرنا دیکر بیٹھ گئے اور اس طرح نئی تشکیل شدہ حکومت کے خلاف اپنی مخالفت کا عملی اظہار کیا۔
عمر ابن خطاب اس واقعہ کے بارے میں یوں کہتے ہیں :
” جب خداوند عالم نے اپنے پیغمبر کو اس دنیا سے اٹھا لیا، تو ہمیں یہ رپورٹ ملی کہ علی علیہ السلام ، زبیر اور دوسرے چندا فراد ہم سے منہ پھیر کر فاطمہ(س) کے گھر پر جمع ہوئے ہیں “(۱)
مورخین نے حضرت فاطمہ(س) کے گھر پر پناہ لینے والے افراد کو حضرت علی علیہ السلام اور زبیر کے علاوہ بیان کیا ہے من جملہ چند افراد کے اسماء درج ذیل ہیں :
۱ ۔ عباس بن عبد المطلب
۲ ۔ عتبہ بن ابی لہب
۳ ۔ سلمان فارسی ،
۴ ۔ ابو ذر غفاری
۵ ۔ عمار یاسر،
۶ ۔ مقداد بن اسود
۷ ۔ براء بن عازب
۸ ۔ ابی بن کعب
____________________
۱۔ مسندا حمد ج ۱/ ۵۵ ، طبری ، ج ۲/ ۴۶۶، ابن اثیر ج ۲/ ۲۲۱ ، ابن کثیر ج ۵/ ۲۴۶،صفوہ ج ۱/ ۹۷، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱/ ۱۲۳، تاریخ سیوطی ابو بکر کی بیعت میں ص ۴۵ ، سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۳۳، اور تیسیر الوصول، ج ۲/ ۴۱)
۹ ۔ سعد بن ابی وقاص
۱۰ ۔ طلحہ بن عبید اللہ
اس کے علاوہ بنی ہاشم اور بعض مہاجرین و انصار سے کچھ افراد(۱) ” الفصول المھمہ“ میں مذکورہ دس افرد کے علاوہ چند دیگر افرادکا نام بھی لیا گیا ہے ۔
ابو بکر کی خلافت سے حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے حامیوں کی مخالفت اور حضرت فاطمہ زہرا کے گھر میں ان کے دھرنادینے کی اصل روداد تاریخ ، سیر و سیاحت اور علم رجال کی کتابوں میں تواتر کی حد تک نقل ہوئی ہے ۔
حقیقت میں چونکہ مؤرخین اس واقعہ سے مربوط مطالب اور ابو بکر کی کامیاب پارٹی اور حضرت فاطمہ زہراء کے گھر میں د ھرنا دینے والے افراد کی روداد کو بیان کرنانہیں چاہتے تھے اس لئے ان کو نقل کرنے سے پرہیز کیا گیاہے ، لیکن بعض روئدادوں کو مجبوراً یا نا دانشتہ طور پر لکھ ڈالا ہے ، یہ واقعات ایسے ہیں جسے بلاذری نے اس طرح نقل کیا ہے:
____________________
۱۔ جن مصادر کا اس سے قبل ذکر ہوا ان کے علاوہ کچھ اور مصادر ہیں جن میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کچھ لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا ، اور حضرت فاطمہ زہرا کے گھر میں د ھرنادیا ، ان مصادر میں سے بعض نے چند افراد کا نام لیا ہے جنہوں نے علی علیہ السلام کی بیعت کرنے کیلئے حضرت فاطمہ زہرا کے گھر میں اجتماع کیا تھا یہ مصادر عبارت ہیں :
الف الریاض النضر ة ج ۱/ ۱۶۷ ،
ب۔ تاریخ خمیس ج۱/ ۱۸۸
ج ۔ العقد الفرید ج ۳/ ۶۴، تاریخ ابو الفداء ج ۱/ ۱۵۶ ، ابن شحنة تاریخ کامل ۱۱۲
و۔ ابو بکر جوہری بنا بہ روایت ابن ابی الحدید ج۳/ ۱۳۰۔ ۱۳۴،
ھ۔ سیرہ حلبیہ ج ۳/ ۳۹۷۔
” جب حضرت علی علیہ السلام نے ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا تو ابو بکرنے عمر کو حکم دیا کہ حضرت علی (علیہ السلام) ہر صورت میں اپنے ساتھ لے آؤ ۔ جب عمر علی علیہ السلام کے پاس پہنچے تو ان دونوں کے درمیان ایک گفتگو ہوئی ۔
حضرت علی علیہ السلام نے عمرسے کہا: خلافت کے پستانوں سے ایسا دودھ کھینچتے ہو کہ اس کا نصف اپنے لئے رکھنا چاہتے ہو ، خدا کی قسم ! یہ جو ش و ولولہ جو آج ابو بکر کی خلافت کیلئے دیکھا رہے ہو ، یہ صرف اس لئے ہے کہ کل وہ تجھے دیگرلوگوں پر ترجیح دیں ۔
اور ابو بکرنے اپنے مرض الموت کے دوران کہا؛ میں صرف تین کاموں کے علاوہ جو اس دنیا میں انجام دیا ہے کسی کام پر فکر مند اور غمگین نہیں ہوں ، کاش یہ کام مجھ سے انجام نہ پائے ہوتے یہاں تک کہا:اور وہ تین امور درج ذیل ہیں :
کاش ، حضرت زہر ا کے گھر کے دوازے کو نہ کھولا ہوتا اور اسے اپنے حال پر ہی چھوڑ دیا ہوتا اگر چہ وہ دروازہ ہمارے ساتھ جنگ کرنے کیلئے بند ہوا تھا(۱)
____________________
۱۔ طبری ، ج ۲/ ۱۹ میں وفات ابو بکر کے سلسلے میں ، مروج الذہب مسعودی ج ۱/ ۴۱۴ ، العقد الفرید ج ۳ ۹میں ابو بکرکی طرف سے عمر کو خلافت کیلئے منصوب کرنے کے سلسلے میں ، کنز ل العمال ج ۳/ ۳۵ ، منتخب کنزل ج ۲ / ۱۷۱ ، الامامة و السیاسة ج ۱/ ۱۸۱ ، کامل مبرد بنا بہ روایت ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۳۰۔ ۱۳۱ ، ابا عبید کتاب الاموال ص ۱۳۱، پر ابو بکرکے قول کو یو ں نقل کیا ہے :اما الثلاثة التی فعلتها فوددتُ انی لم اکن کذا و کذا لخلقه ذکرها قال ابو عبید لا ارید ذکرها ، ابو عبیدہ کہتا ہے ابو بکر نے کہالیکن میں اس کا ذکر کرنا نہیں چاہتا ہو ں !ابو بکر جوہری ابن ابی الحدید کی روایت کے مطابق ج ۹/ ۲۹۳ ، لسان المیزان ج ۴/ ۱۸۹، اور تاریخ ابن عساکر میں ابو بکر کے حالا ت کی تفصیل میں مرآة الزمان سبط ابن جوزی بھی ملاحظہ ہو
اس کے علاوہ تایخ یعقوبی میں اس طرح لکھا گیا ہے :
اے کاش رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ کے گھر کی میں نے تلاشتی نہ لی ہوتی ! اور اس گھر میں موجود مردوں پر حملہ نہ کیا ہوتا گر چہ دروازہ کا بند رہنا جنگ پر تمام ہوتا(۱)
مؤرخین نے حضرت زہراء (س)کے گھر میں داخل ہونے کی ماموریت رکھنے والوں کے نام حسب ذیل درج کئے ہیں
۱ ۔ عمر ابن خطاب
۲ ۔ خالد بن ولید
۳ ۔ عبدا لرحمان بن عوف
۴ ۔ ثابت بن شماس
۵ ۔ زیاد بن لبید
۶ ۔ محمد بن مسلمہ
۷ ۔ سلمة بن سالم بن وقش
۸ ۔ سلمة بن اسلم
۹ ۔ اسید بن حضیر
۱۰ ۔ زید بن ثابت(۲)
رہا ، حضرت فاطمہ زہراء (س) کے گھر پر حملہ کی کیفیت اور حملہ آوروں اور دھرنا دینے والوں کے درمیان رونما ہونے والی روداد کے بارے میں تو یوں لکھا گیا ہے ۔
” مہاجرین میں سے چند افراد من جملہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام اور زبیر لوگوں کی طرف سے ابو بکر کی بیعت کرنے پر ناراض ہوئے اور اسلحہ لے کر فاطمہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے(۳)
____________________
۱۔۔ تاریخ یعقوبی ج ۲ / ۱۰۵
۲۔ طبری ج ۳/ ۱۹۸ ۔ ۱۹۹ ، ابو بکر جوہری بناء بہ روایت ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۳۰،۱۳۴ ، و ج / ۲۹۵ ، اورج ۱۷ میں قاضی القضاة کے دوسرے جواب میں ۔ اس حصہ کے حالات کی تفصیل آگے بیان کردی جائے ۔
۳۔ الریاض النضرة ،ج ۱/ ۱۶۷، ابو بکر جوہری بنا بر روایت ابن ابی الحدید، ج ۱/ ۱۳۲ ، ج ۶/ ۲۹۳، تاریخ الخمیس ،ج ۱/ ۱۸۸
ابو بکر کو رپورٹ دی گئی کہ مہاجر و انصار کی ایک جماعت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ کے گھر میں علی بن ابیطالب علیہ السلام کے ساتھ جمع ہوئی ہے(۱) اور اس کے علاوہ انھیں رپورٹ دی گئی کہ اس اجتماع کا مقصد علی علیہ السلام سے بیعت لینا ہے(۲)
ابو بکر نے عمر بن خطاب کو حکم دیا کہ وہاں جاکر ان لوگوں کو فاطمہ کے گھر سے باہر نکال دو اور یہ بھی کہا :’ اگر انہوں نے مقابلہ کیا اور باہر آنے سے انکار کیا تو ان سے جنگ کرنا “ عمر آگ کے ایک شعلے کو ہاتھ میں لئے ہوئے فاطمہ کے گھر کو نذر آتش کرنے کی غرض سے ان کی طرف روانہ ہوئے فاطمہ(س) نے جب اس حالت کو دیکھا تو فرمایا: اے ابن خطاب ! کیا پیغمبر کی بیٹی کے گھر کو جلانے کیلئے آئے ہو ؟ عمر نے جواب میں کہا : جی ہاں ! مگر یہ کہ امت کے ساتھ ہماہنگ ہوکر بیعت کرو(۳)
الامامة و السیاسة کی روایت میں یوں آیا ہے :
” جب وہ لوگ علی علیہ السلام کے گھر میں جمع ہوئے تھے ، عمر نے وہاں پہنچ کر آوازدی ، لیکن انہوں نے اس کی کوئی پروا نہیں کی اور گھر سے باہر نہ نکلے ، عمر نے لکڑی طلب کی اور کہا: اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے ، باہر آجاؤ !
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۱۰۵۔
۲۔ ابن شحنہ، ۱۲۲ حاشیہ کامل ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۳۴۔
۳۔ العقد الفرید ج ۳/ ۶۴ ، ابو الفداء ج ۱/ ۱۵۶۔
ورنہ اس گھر کو اس کے اندر موجود افراد کے ساتھ آگ لگادوں گا۔
عمر سے کہا گیا : اے ابو الحفص، اس گھر میں فاطمہ ہیں ۔
عمر نے جواب دیا : ہونے دو !(۱)
انساب الاشراف میں یہ حادثہ یوں لکھا گیا ہے :
” ابو بکر نے علی علیہ السلام سے بیعت لینے کیلئے کچھ افراد کو ان کے یہاں بھیجا ، لیکن علی علیہ السلام نے بیعت نہیں کی، تو عمر آگ کے ایک شعلہ ہاتھ میں لئے ہوئے ان کے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔
حضرت فاطمہ نے ان سے کہا: اے ابن خطاب ! کیا تم ہی ہو جو میرے گھر کو آگ لگانا چاہتے ہو؟
عمر نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ کام تیرے باپ کی لائی ہوئی چیز کو مستحکم کرے گا۔(۲)
جوہری نے اپنی کتاب ” السقیفہ “ میں یوں لکھا ہے ؛
” عمر چندمسلمانوں کے ہمراہ علی علیہ السلام کے گھر کی طرف روانہ ہوئے تا کہ اس گھر کو اس کے مکینوں کے ساتھ نذر آتش کردیں(۳)
اور مشہور مؤرخ ابن شحنہ کی عبارت حسب ذیل ہے :
تا کہ گھر اور اس میں جو کوئی بھی ہے ، اسے نذر آتش کردے(۴)
____________________
۱۔ الامامة و السیاسة ج ۱/ ص ۱۲ ، الریاض النضرة ج ۱/ ۱۶۷، ابو بکر جوہری بنابر روایت ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۳۲ و ج ۶، ۲ اور تاریخ الخمیس ج ۱/ ۱۷۸۔
۱۔ انساب الاشراف ج ۱/ ۵۸۶۔
۲۔ ابو بکر جوہری بنابہ روایت ابن ابی الحدیدد ج ۲/ ۱۳۴ ۔
۳۔ اسکی تاریخ ے ص ۱۱۲ پر تاریخ کامل کے حاشیہ پر ۔
کنز العمال میں آیا ہے کہ عمر نے فاطمہ سے کہا:
” با وجود اس کے کہ میں جانتا ہوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تجھ سے زیادہ کسی اور سے محبت نہیں کرتے تھے لیکن یہ حقیقت مجھے ہرگز اپنے اس ارادے سے منہ موڑ نے کا سبب نہیں بنے گی کہ یہ چندافراد جو تیرے گھرمیں جمع ہوئے ہیں ان کے ہمراہ تیرے گھر کو آگ لگادینے کا حکم دیدوں !! “(۱)
جب عبد اللہ بن زبیر، بنی ہاشم سے جنگ کررہا تھا ، انھیں ایک پہاڑ کے درہ میں محاصرہ کرکے حکم دیاکہ لکڑی لاکرانھیں آگ میں جلا دیا جائے اس کا بھائی عروة بن زبیر اپنے بھائی کے اس کام کی توجیہ کرتے ہوئے کہتا تھا : میرے بھائی نے یہ کام دھمکی اور ڈرانے کیلئے کیا تھا ، جیساکہ اس سے پہلے بھی ایسے کام کی مثال ملتی ہے، جب گذشتہزمانے میں بنی ہاشم نے بیعت نہیں کی تھی تو لکڑی لائی گئی تا کہ انھیں آگ لگا دی جائے(۲)
گذشتہ سے اس کا مقصود سقیفہ کا دن تھا کہ بنی ہاشم نے ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا تھا ۔
مصر کا ایک عظیم شاعر حافظ ابراہیم نے بھی اس روداد کی یاد میں حسب ذیل اشعار کہے ہیں :
و قولة لعلیّ قالها عمر
اکرم بسا معها اعظم بملقیها
حرقت دارک لا ابقی علیک بها
ان لم تبایع و بنت المصطفی فیها
ما کان غیر اُبی حفض یفوه بها
امام فارس عدنان و حامیها
____________________
۱۔ کنز العمال ج ۳/ ۱۴۰
۲۔مروج الذہب ج ۲/ ۱۰۰، ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۸۱ طبع ایران ، میں اس روئداد کی وہا ں پر یاد دہانی کرتا ہے جہا ں پر امیر کی فرمائش ما زال الزبیر منا حتی نشا ابنہ کی تشریح کرتا ہے ۔
” عمر نے ، حضرت علی علیہ السلام سے کہا: اگر بیعت نہ کرو گے تیرے گھر کو ایسے آگ لگا دونگا کہ اس کے اندرموجود افراد میں سے ایک شخص بھی زندہ بچ نہیں سکتا جبکہ اس گھر میں موجود افراد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی بھی تھیں ۔ یہ بات ابوحفض (عمر) کے سوا کسی اور کے منہ سے، عدنا ن کے پیشوا اور ان کے حامی حضرت علی علیہ السلام کے حضور میں نہیں نکلی اس کے علاوہ ایسی بات کرنے کی کسی میں جرات بھی نہ تھی۔
یعقوبی کہتا ہے :
” ایک جماعت کے ہمراہ آئے اور گھر پر دھاوابول دیا یہاں تک کہتا ہے :
علی علیہ السلام کی تلوار ٹوٹ گئی اور لوگ گھر میں داخل ہوگئے(۱)
طبری لکھتا ہے: عمر بن خطاب بھی علی، علیہ السلام گے گھر آئے ، طلحہ، زیبر اور مہاجرین میں سے کچھ لوگ گھر میں موجود تھے ، زبیر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے گھر سے باہر آئے ور عمر پر حملہ کیا ، اس حالت میں اس کے پاؤں لڑ کھڑا گئے اور تلوار ہاتھ سے گر گئی، عمر کے حامیوں نے ان کو اپنے قبضہ میں لے لیا(۲)
اس کے بعد علی علیہ السلام کو گرفتار کرکے ابو بکر کے پاس لے گئے اور ان کے درمیان ایک گفتگور انجام پائی ، ا س کی تفصیل آئندہ فصل میں آئے گی۔
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ج ۲، ۱۰۵
۲۔ طبری ج ۳/ ۱۹۸ و ۱۹۹ ،الریاض النضرة ، محب الدین طبری ، ص ۱۶۷
ابو بکر کی بیعت سے علی کی مخالفت
یا ابا بکر ما اسرع ما اغرتم علی اهل بیت رسول الله
اے ابو بکر : کتنی عجلت کے ساتھ تم نے خاندان پیغمبر پر دھا وابول دیا ؟!
پیغمبر اکرم کی اکلوتی بیٹی ، فاطمہ
و الله لا اکلم عمر حتی القیٰ الله !!
خدا کی قسم ! میں عمر سے مرتے دم تک کلام نہیں کروں گی !!
پیغمبر اکرم کی بیٹی ، فاطمہ(س)
علی کو خلافت کی کچہری تک کھینچ لیا جاتا ہے
ہم نے گزشتہ فصل میں کہا کہ اصحاب میں کچھ نیک افراد نے ابو بکر کی خلافت پر اعتراض کرتے ہوئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یاد گار حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کے گھر پر دھرنا دیا تو ابو بکر کی پارٹی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیھا کے گھر پر دھا وابول دیا اور دھرنا دینے والوں کو ڈرانے دھمکانے کیلئے اس گھر کے دروازہ پر آگ لے کر آگئے تاکہ سب کو اس آگ میں جلادیں ، بہر حال علی علیہ السلام کو گرفتار کیا گیا ، گرفتار کرنے کے بعد علی علیہ السلام کو ابو بکر کے پاس لا کر ان سے کہا گیا کہ :
بیعت کرو !
علی علیہ السلام نے جواب میں کہا:
میں اس کام کیلئے تم لوگوں سے مستحق تر ہوں ، میں ہرگز تم لوگوں کی بیعت نہیں کروں گا ، حق یہ ہے کہ تمہیں میری بیعت کرنی چاہیے، تم لوگوں نے اس کام کی باگ ڈور انصار سے لے لی ہے محض اس بنا پر کہ تم لوگ رسول اللہ کے رشتہ دار ہو اور انہوں نے بھی اس بنا پر حکومت کی باگ ڈور تم لوگوں کے حوالے کردی تو، میں بھی یہی دلیل و برہان آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ، اگر خداسے ڈرتے ہو تو انصاف کی راہ پرچلو اور جس طرح انصار نے پیغمبر کے رشتہ دار ہونے کے ناطے تمہیں اقتدار سونپا ،تم بھی اسی ناطے سے اس کی باگ ڈور میرے حوالے کردو، ورنہ یاد رہے کہ تم لوگ ظالم ہو۔
عمر نے کہا: ہم آپ کو، بیعت لئے بغیر نہیں چھوڑیں گے ، علی علیہ السلام نے عمر کے جواب میں کہا اے عمر ! تم اپنے لئے راہ ہموارکررہے ہو ، آج اس کے حق میں کام کررہے ہو تا کہ کل وہ یہ امور تمہیں سونپ دے ، خداکی قسم میں تیری بات کو ہرگز نہیں مانوں کا اور ابو بکر کی اطاعت نہیں کروں گا ،
ابو بکر نے کہا اگر رضا مندی سے میری بیعت نہیں کرو گے تو میں آپ سے جبر وا کراہ کے ذریعہ بیعت نہیں لوں گا ۔
ابو عبیدہ نے علی علیہ السلام سے مخاطب ہوکر کہا؛ اے ابو الحسن !آپ نوجوان ہیں اور یہ لوگ قریش کے بزرگ ہیں جتنا انہیں مہارت اور تجربہ ہے آپ کو نہیں ہے ، میرا اعتقاد یہ ہے کہ ابو بکر اس کام کیلئے آپ سے بیشتر قدرت کے حامل ہیں اور وہ اس کام کو بہتر صورت میں نبھا سکتے ہیں کیونکہ وہ اس میدان کے کھلاڑی ہیں ۔ کام انہیں کو سونپ کر فی الحال اس پر راضی ہوجائیے ، اگر آپ زندہ رہے اور معمر ہوئے تو فضیلت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرابت کی بناء پر ااور اسلام اور راہ خدا میں جہادکرنے میں سبقت کی وجہ سے آپ اس کام کیلئے زیادہ لائق و سزاوار ہوں گے ۔
علی علیہ السلام نے جواب دیا:
اے گروہ مہاجر ! پرہیز کرو ، اور خد اسے ڈرو ،اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فرمانروائی کو ان کے گھر سے باہر نہ لے جاؤ اوراپنے گھروں کو اس قدرت و منصب کا مرکز قرار مت دو پیغمبر کے گھرانے سے ان کے حق اور انکی اجتماعی حیثیت کو نہ چھینو ! خدا کی قسم اے مہاجرین ! ہم اہل بیت رسول جب تک قرآن پڑھنے والے ، دین خدا میں فقیہ ، سنت رسول اللہ کے عالم اور اجتماعی حالات کے ہمدرد، رہیں گے ان امور کیلئے آپ لوگوں سے زیادہ سزاوار ہیں ، خد اکی قسم جو چاہو گے ہمارے خاندان میں موجود ہے اپنے ہوائے نفس کی پیروی اور اطاعت نہ کر و، ورنہ اس طرح حقیقت کی راہ سے زیادہ سے زیادہ دور ہوجاؤ گے “
بشیر بن سعد نے کہا:
” اے علی(علیہ السلام) ! اگر انصار نے ابو بکر سے بیعت کرنے سے پہلے آپ کی یہ بات سنی ہوتی تو دو آدمی بھی آپ کے بارے میں اختلاف نہ کرتے ، لیکن کیا کیا جائے کہ کام تمام ہوچکاہے اور لوگوں نے بیعت کرلی ہے “
لہذا علی علیہ السلام اپنے نظریہ پر بدستورقائم رہے اور ابوبکر کی بیعت کئے بغیر اپنے گھر لوٹ آئے۔
حضرت فاطمہ زہرا کے مبارزے
ابن ابی الحدید نے” شرح نہج البلاغہ “ میں ابو بکر جوہری سے نقل کرکے روایت کی ہے :
جب فاطمہ نے دیکھا کہ ان دو اشخاص (علی علیہ السلام و زبیر) کے ساتھ کونسا سلوک کیا گیا ہے، تو اپنے گھر کے دروازہ پر کھڑی ہوکر فرمایا: ” اے ابو بکر ! تم نے کتنیجلدی رسول کے خاندان سے مکر کیا ، خدا کی قسم مرتے دم تک میں عمر سے بات نہیں کروں گی “(۱)
ایک دوسری روایت کے مطابق فاطمہ زہراء زار و قطار روتے ہوئے گھر سے باہر آئیں اور لوگوں کو ایک کنارے پیچھے کی طرف ہٹادیا ۔
یعقوبی کہتا ہے ؛ فاطمہ باہر آئیں اور کہا:
”خدا کی قسم ! میرے گھر سے باہر چلے جاؤ ورنہ میں سر برہنہ ہوکر بالوں کو بکھیر کر بارگاہ الہی میں فریاد بلند کروں گی “ اس وقت لوگ ان کے گھر سے باہر آئے اور جو
لوگ گھر میں تھے وہ بھی وہاں سے باہر آگئے “(۲)
____________________
۱۔ ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۳۴ ، ج ۶ / ۲۸۶۔
۲۔ تاریخ یعقوبی ، ج ۲/۵۰
اس کے علاوہ ابراہیم نظام(۱) بھی کہتا ہے :
” بیعت کے دن عمر نے فاطمہ کے شکم اور پہلو پر ایسی ضرب لگائی کہ محسن ساقط ہوگئے ، اور اس طرح نعرے لگاتے تھے کہ : اس گھر کو اس کے مکینوں کے سمیت آگ لگادوں گا ! جبکہ اس گھر میں علی علیہ السلام ، حسن اور حسین کے علاوہ کوئی اور نہ تھا ‘(۲)
مسعودی کہتا ہے:” جس دن عام لوگوں کی طرف سے ابو بکر کی سقیفہ میں بیعت ہورہی تھی تو منگل کے دن تجدید بیعت کی گئی، حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر سے کہا: تم نے ہمارا کام خراب کردیا اور اس کام میں ہمارے ساتھ کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا اور ہمارے کسی حق کی رعایت نہیں کی !!“
ابو بکر نے جواب میں کہا: جی ہاں ! لیکن کیا کروں میں نے فتنہ اور بغاوت کے برپا ہونے سے ڈر گیا(۳)
یعقوبی مزید کہتا ہے :
” کچھ لوگ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے پاس آئے اور ان سے بیعت کا مطالبہ کیا، علی علیہ السلام نے ان سے کہا : ” کل صبح تم سب لوگ اپنے سر منڈوا کر میرے پاس آنا “
لیکن دوسرے دن ان میں سے صرف تین ا شخاص آئے(۴)
خلاصہ یہ کہ اس واقعہ کے بعد علی علیہ السلام ، فاطمہ سلام علیھا کو ایک گدھے پر سوار کرکے رات کو انصار کے دروازوں پر لے جا کر ان سے مدد طلب کرتے تھے ، فاطمہ(س) زھرابھی ان سے مدد طلب
____________________
۱۔ نظام کا نام ابراہیم بن سیار تھا، اس کی زندگی کے حالات آئندہ بیان کئے جائیں گے۔
۲۔ شہرستانی م ملل و نحل کے گیارھو ں سوال میں ، ملل و نحل طبع ایران ج ۱/ ۲۶ و طبعی لیدن ۰ ۴۔
۳۔ مروج الذہب ج ۱ ۴۱۴ ، الامامة و السیاسة ج ۱/ ۱۲ ۔ ۱۴ ۔
۴۔ تاریخ یعقوبی ج۲/ ۱۰۵ ، ابن ابی الحدید ج ۲ / ۴۔
کرتی تھیں ۔ وہ جواب میں کہتے تھے : اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی ! ہماری بیعت اس شخص کے ساتھ تمام ہوچکی ہے ۔ اگر آپ کے چچیرے بھائی ابو بکر سے پہلے ہم سے بیعت کا مطالبہ کرتے، ہم ہرگز کسی دوسرے کو ان کے برابر قرارنہیں د یتے، اور ان کے علاوہ کسی اور کوقبول نہیں کرتے ، علی علیہ السلام جواب دیتے تھے :
” تعجب کی بات ہے تم لوگ مجھ سے یہ توقع رکھتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کو تجہیز و تکفین کے بغیر، گھر میں چھوڑ کر، پیغمبر خدا سے بھی حکومت کے بارے میں ، جنگ و جدال میں مشغول ہوجاؤں ؟!
فاطمہ بھی کہتی تھیں :
” ابو الحسن نے وہ کام انجام دیا، جس کے وہ سزاوار تھے اور اس طرح انہوں نے اپنا فریضہ نبھایا اور ان لوگوں نے بھی ایک ایسا کام انجام دیا جس کے بارے میں خداوند عالم ان سے پوچھ تاچھ کرے گا “(۱)
معاویہ نے بھی علی علیہ السلام کو اپنے ایک خط میں اسی روداد کے بارے میں اشارہ کیا ہے ۔ جسے ہم نے یعقوبی سے نقل کیا جس پر وہ یوں کہتا ہے :
جیسا کہ کل ہی ابو بکر کی بیعت کے دن تم اپنے گھر کی پردہ نشین کو گدھے پر سوار کرکے اپنے دو بیٹوں حسن و حسین کے ہاتھ پکڑ کر آگئے اہل بدر اور اسلام میں سبقت لینے
____________________
۱۔ ابو بکر جوہری اپنی کتاب سقیفہ میں بہ روایت ابن ابی الحدید ج ۶/ ۲۸ و الامامة و السیاسة ج ۱/ ۱۲۔
والوں کے گھروں کے دروازوں پر جا کر ان سے اپنے لئے بیعت چاہتے تھے ، اپنی بیوی کے ہمراہ ان کے پاس چلے گئے اور اپنے دو بیٹوں کو لیکر ان سے التماس کیا اور ان سے اپنے لئے مدد طلب کی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یار ابو بکر سے منہ موڑ لیں ، لیکن چار یا پانچ اشخاص کے علاوہ کسی اور نے تمہارے مطالبے کا جواب نہیں دیا ، اپنی جان کی قسم ! اگر حق تیرے ساتھ ہوتا تو وہ تیرا مثبت جواب دیتے لیکن تم ایک باطل دعویٰ کررہے تھے اور ایک غیر معمولی مطلب بیان کرتے تھے اور ایک ایسی چیز کا مطالبہ کرتے تھے جس کے تم حقدار نہ تھے ۔
میں جس قدر بھی فراموش کار ہوں گا ، لیکن جو بات تم نے ابو سفیان کو کہی اسے ہرگزبھلایا نہیں جاسکتا جب وہ تمہیں اشتعال دلا رہے تھے ، تم نے اس سے کہا : اگر چالیس مستحکم ارادے والے آدمی میرا ساتھ دیتے تو میں ا نقلاب بر پا کرکے ان لوگوں سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا !(۱)
جنگ صفین میں جب معاویہ کے لشکر کے افراد نے علی علیہ السلام کے لشکر کو پانی استعمال کرنے سے روکا ، تو عمر و عاص نے معاویہ کو اپنی گفتگو کے ضمن میں اس بات کی طرف یاددہانی کرائی اور کہا : ہم دونوں نے سنا ہے کہ علی علیہ السلام کہتے تھے کاش چالیس آدمی میرا ساتھ دیتے اور اس کے بعدکچھ کہ،“ اور عمرو کا مقصود حضرت فاطمہ زہرا کے گھر کی تلاشی لینے کے دن امیرالمؤمنین کی
____________________
۱ ۔ابن ابی الحدید ج ۲ /۶۷ اور کتاب صفین ص ۱۸۲
فرمائشات کی طرف اشارہ تھا ۔
مبارزات کا خاتمہ اورعلی کی بیعت
ابن اثیر اسد الغابہ میں ابوبکرکے حالات کے ضمن میں لکھتے ہیں :
” صحیح بات یہ ہے کہ بیعت کی مخالفت کرنے والوں نے چھ ماہ بعد بیعت کی “(۱)
تاریخ یعقوبی میں آیا ہے :
” علی علیہ السلام نے چھ ماہ بعد بیعت کی “(۲)
ابن عبدا لبر ، استیعاب میں اور مسعودی التنبیہ و الاشراف میں یوں لکھتے ہیں :
” علی علیہ السلام نے فاطمہ علیہا السلام کی وفات کے بعد ابو بکر کی بیعت کی “(۳)
ابن قتیبہ نے ” الامامة و السیاسة “ میں لکھا ہے :
” علی علیہ السلام نے فاطمہ علیہا السلام کی وفات کے بعد بیعت کی ، اور یہ پیغمبر کی وفات سے ۷۵ روز کا فاصلہ تھا اس واقعہ کی تفصیل کو زہری نے نقل کیا ہے اور پیغمبر خدا کی میراث کے موضوع کے بارے میں ا بو بکر اور فاطمہ کے درمیان واقع ہونے والی روداد ام المؤمنین عائشہ سے نقل کی ہے کہ عائشہ نے کہا ہے: فاطمہ نے ابو بکر سے
____________________
۱۔ اسد الغابہ ج ۳/ ۲۲۲۔
۲۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ج ۱۰۵۔
۳۔ الاستیعاب ج ۲/ ص ۴۴۴ ، التنبیہ و الاشراف ص ۲۵۰۔
منہ موڑ لیا اور ان کے ساتھ بات نہیں کی اور علی علیہ السلام نے فاطمہ علیہا السلام کے بدن کو ابو بکر کی اطلاع کئے بغیر رات کے سناٹے میں دفن کردیا۔ جب تک فاطمہ زندہ تھیں لوگ علی علیہ السلام کا احترام کرتے تھے اور جب فاطمہ اس دنیا سے رحلت کرگئیں تو لوگوں نے علی علیہ السلام سے منہ موڑ لیا ، فاطمہ پیغمبر خداکے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور اس کے بعد وفات کرگئیں ۔
راوی کہتا ہے : ایک شخص نے زہری سے پوچھا کیا ان چھ ماہ کے دوران علی نے بیعت نہیں کی؟! زہری نے جواب میں کہا: نہ انھوں نے اور نہ بنی ہاشم میں سے کسی نے مگر یہ کہ جب علی علیہ السلام نے بیعت کی(۱)
تیسیر الوصول میں آیا ہے کہ زہری نے کہا؛ خدا کی قسم نہیں ! اور علی علیہ السلام کی بیعت کرنے تک بنی ہاشم میں سے کسی ایک نے بیعت نہیں کی(۲)
اور کہا گیا ہے : جب علی علیہ السلام نے دیکھا کہ لوگوں نے ان سے منہ موڑ لیا ہے تو ابو بکر کے ساتھ صلح کرلی الخ(۳)
____________________
۱۔ الامامة و السیاسة ج ۱/ص ۱۳۔
۲۔ تیسیر الوصول ج ۲/ ص ۴۶۔
۳۔ ہم نے اس حدیث کو خلاصہ کے طور پر مندرج ذیل کتابو ں سے نقل کیا ہے :
طبری ج ۳/ ۲۰۲ ، صحیح بخاری ج ۳/ ۳۸، ( باب غزوہ خابر ) کتاب مغازی اور صحیح مسلم سے باب قول رسول الله و نحن لا نورّث ما ترکناہ صدقہ ج ۱ ۷۴ ، ج ۳ ۱۵۳، ابن کثیر ج ۶، ۲۸۵ ۔ ۲۸۶، العقد الفرید ج ۳/ ۶۴ ، ابن اثیر خلاصہ کے طور پر ج ۲/ ۲۲۴ میں نقل کیا ہے ، گنجی کفایةالطالب ص ۲۲۵ ۔ ۲۲۶ ، ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۲۲ ، مسعودی ج ۲/ ۴۱۴ مروج الذہب سے نقل کرکے صواعق ج ۱/ ۱۲ ، تاریخ الخمیس ج۱/ ۱۹۳ ، ابو الفداء ج ۱/ ۱۵۶ و البداء و التاریخ ج ۵/ ۶۶ )
بلاذری نے انساب الاشراف میں یوں نقل کیا ہے :
’ جب عربوں نے دین سے منہ موڑ لیا تو وہ مرتد ہوگئے ، عثمان ،علی علیہ السلام کے پاس گئے اور کہا اے میرے چچازاد بھائی : جب تک آپ بیعت نہیں کریں گے کوئی بھی ان دشمنوں سے لڑنے کیلئے نہیں جائے گا اور مسلسل اس موضوع پر گفتگو کرتے تھے اور آخر کارانھیں ابو بکر کے پاس لے گئے “
یہاں تک کہتے ہیں :
علی علیہ السلام نے ان کی بیعت کی اور مسلمان خوشحال ہوئے اور جنگ کیلئے آمادہ ہوگئے اور گروہ گروہ سپاہیوں کو روانہ کیا گیا(۱)
حقیقت میں علی علیہ السلام نے ایک طرف سے فاطمہ کو کھویا تھا اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی ،ناگفتہ بہ حالات اور ان کی بے توجہی کا مشاہدہ کررہے تھے اور اب تو وہ فرصت بھی ہاتھ سے چلی گئی تھی جس کی وجہ سے لوگ رونما ہونے والے حالات سے بے توجہ تھے، اس لئے انہوں نے مجبور ہوکر ابو بکر سے صلح کی لیکن ان دنوں کی تلخیوں کو کبھی نہیں بھولے حتی اپنی خلافت کے دوران بھی ان حوادث کی تلخی کو نہیں بھولے اور مسلسل ان کے بارے میں شکوہ شکایت کرتے رہے ، وہ اپنے معروف خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ہیں :
____________________
۱۔ انساب الاشراف، ج ۱/ ص ۸۷۔
میرے لئے ایہ امر عقل کے مطابق اس ذمہ داری کی بنا پر جو مجھ پر تھی واضح تھاکہ صبر و شکیبائی کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے لہذا میں نے صبر وتحمل سے کام لیا ، لیکن یہ حالت میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے کہ میرے آنکھوں میں تنکا اور میرے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہو ، میں اپنی آنکھوں سے ناقابل انکار حق کو لوٹتے دیکھ رہا تھا۔
اس کے بعد فرمایا:
” انتہائی تعجب کی بات ہے کہ ابو بکر اپنی زندگی میں لوگوں سے درخواست کرتے تھے کہ ان کی بیعت کو توڑ دیں لیکن اپنی موت سے چند دن پہلے خلافت کا عہد وپیمان عمر کیلئے مستحکم کرگئے افسوس ان دو لٹیروں نے خلافت کو، دودھ بھرے دو پستانوں کے مانند آپس میں تقسیم کرلیا(۱)
ابو بکر سے بیعت کی قدر و قیمت
کہتے ہیں ایک چور اور ڈاکو کی ماں نے بستر مرگ پر اپنے بیٹے سے مطالبہ کیا کہ اس کیلئے حلال مال سے کفن آمادہ کرے ، کیونکہ بیٹے کا جو بھی مال تھا وہ حرام تھا ، ڈاکو حلال مال کی تلاش میں گھر سے باہر نکلا اور ایک چوراہے پر گھات لگا کر بیٹھ گیا ۔ اتفاق سے سفید عمامہ پہنے ایک بزرگ وہاں سے گزرے راہزن نے چابک دستی سے شیخ کے سر سے عمامہ کو اتارلیا اور ا ن کی پٹائی شروع کی تا کہ وہ یہ کہیں کہ :”حلال ہے “
____________________
۱۔ نہج البلاغہ و شرح ابن ابی الحدید ج ۲/ ۵۰ ، ابن جوزی نے اپنے تذکرہ کے باب ششم ، کتاب ما ھو نہج البلاغہ تالیف علامہ شہرستانی خطبہ ملاحظہ ہو۔
شیخ نے درد سے کراہتے ہوے ڈر کے مارے کہا؛ ’ حلال ہے “ ! ڈاکو نے ان کی مزیدپٹای کی اورکہا: بلند آواز میں کہوتا کہ میری بیمار ماں بھی اسے سن لے ! شیخ نے بلندا آواز میں فریاد بلند کی : ”’حلال ہے ! حلال ہے “
کیا جس بیعت کا نام ”لوگوں کا انتخاب “ رکھا گیا تھا اس کے علاوہ کچھ اورتھی ؟
کیا کہنا اس آزاد انتخاب او رمشروع بیعت کا ، جس کو سقیفہ میں جو تم پردباؤاور ڈرا دھمکا کے حاصل کیا گیا پھرجسے مدینہ کی گلی کوچوں میں قبیلہ اسلم جیسے صحرا نشین قبائل کو لالچ دیکر مکمل کیا گیا اور آخر میں پیغمبر خدا کی بیٹی حضرت زہراء کے گھر کے دروازے پر آگ کے شعلے لے جا کر اختتام کو پہنچایا گیا !
ابو بکر کی بیعت کے بارے میں بزرگ اصحاب کے فیصلے
واعجباً لقریش ود فعهم هذ الامر عن اهل بیت نبیّهم
تعجب کی بات ہے قریش نے خلافت کی باگ ڈور کو اہل بیت رسول سے چھین لیا !
مقداد ، پیغمبر اسلام کے نامور صحابی
لو بایعوا علیّاً لاکلوا من فوقهم و من تحت ارجلهم
مسلمان اگر علی علیہ السلام کی بیعت کرتے تو لافانی سعادت و سیادت کو پاتے اور زمین و آسمان کی برکتیں ان پر نازل ہوتیں ۔
سلمان محمدی
۱ فضل بن عباس
بنی ہاشم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدن مبارک کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے کہ خبر پہنچی کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں ابو بکر کےلئے بیعت لی جارہی ہے ۔
اس خبر کو سننے کے بعد بنی ہاشم کے رد عمل اور پالیسی کے بارے میں یعقوبی نے یوں لکھا ہے(۱)
جب گھر سے باہر آئے تو فضل بن عباس اٹھے اور یوں بولے :
اے قریش کی جماعت ! دھوکہ دہی اور پردہ پوشی سے تم خلافت کے مالک نہیں بن سکتے ، خلافت کے مستحق ہم ہیں نہ کہ تم لوگ ، ہم اور ہمارے سردار علی علیہ السلام خلافت کےلئے آپ لوگوں سے سزاوار تر ہیں ۔
۲ عتبہ بن ابی لہب
عتبہ بن ابی لہب نے جب ابوبکر کی بیعت کی روداد سنی تو اس نے اعتراص کے طور پر یہ اشعار کہے:
ما کنت احسب هذ الامر منصرفا
عن هاشم ثم منها عن ابی الحسن
عن اول الناس ایماناً و سابقة
اعلم الناس بالقرآن و السنن
و آخر الناس عهداً بالنبیّ و من
جبرئیل عون له فی الغسل و الکفن
من فیه ما فیهم لا یمترون به
و لیس فی القوم ما فیه من حسن
ترجمہ:
” میں ہر گز یہ تصور نہیں کرتا تھا کہ خلافت کی باگ ڈور کو بنی ہاشم خاص کر ابو الحسن سے چھین لیاجائیگا ، کیونکہ ا بو الحسن وہی ہیں جو سب سے پہلے ایمان لائے اور اسلام میں ا ن کے جیسا اچھا سابقہ کسی اور
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۱۰۳ روایة اھم وفقیات، شرح نہج البلاغہ ج ۶/ ۲۸۷ میں قضیہ کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ۔
کو حاصل نہیں ہے وہ تمام لوگوں سے علوم قرآن و سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بار ے میں دانا تر ہیں او روہ تنہا شخص ہیں جو پیغمبر کی زندگی کے آخری لمحات تک آنحضرت کے ساتھ رہے حتی آپ کی تجہیز و تکفیں کو بھی انہوں نے جبرئیل کی مدد سے انجام دیا ، وہ دوسروں کے تمام نیک صفات اور روحانی فضائل کے اکیلے ہی مالکہیں لیکن دوسرے لوگ ان کے معنوی کمالات اور روحانی و اخلاقی خوبیوں سے محروم ہیں “
حضرت علی علیہ السلام نے کسی کو اس کے پاس بھیجا اور بات کو آگے بڑھانے سے روکا اور فرمایا ” ہم دین کی سلامتی کو تمام چیزوں سے عزیز رکھتے ہیں “(۱)
۳ عبد اللہ بن عباس(۲)
ابن عباس کہتے ہیں :
ابوبکر کی بیعت کے بارے میں عمر نے مجھ سے کہا؛اے ابن عباس ! کیا یہ جانتے ہو کہ کونسی چیز اس امر کا سبب بنی کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد، لوگوں نے آپ لوگوں کی بیعت نہیں کی ؟ چونکہ میں اس کا جواب دینا نہیں چاہتا تھا ، ا سلئے میں نے کہا : اگر میں متوجہ نہیں ہوں تو امیرالمؤمنین مجھے آگاہ فرمائیں ۔
عمر نے کہا؛ وہ اس بات پر آمادہ نہ تھے کہ نبوت اور خلافت ایک ہی جگہ جمع ہوجائے اور ہر قسم کی عظمت و افتخار تمہارے خاندان کاطرہ امتیاز ہو، اس لئے قریش نے خلافت کو اپنے لئے منتخب کیا اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
____________________
۱۔ شرح ابن ابی الحدید طبع مصر ج ۶ / ۸ ، ابن حجر نے اصابہ/ ۲۶۳ میں عباس بن عتبہ کے حالات کو تفصیل کے صمن میں نمبر ۴۵۰۸ ، ابو الفداء نے اپنے تاریخ ی ج ۱/ ۱۶۴ میں ان اشعاع کو پیغمبر کے چچا اور بھائی فضل بن عتبہ بن ابی اللھب سے نسبت دی ہے لیکن ایسا لگتا ہے یہ نسبت صحیح نہیں ہوگی ۔
میں نے کہا؛ اے امیر المؤمنین ! اگر جازت دیں اور مجھ سے ناراض نہ ہوں تو میں بھی کچھ کہوں ،اس کے بعد کہا: کہو اے ابن عباس!(۱)
میں نے کہا:
یہ جو آپ نے کہا کہ قریش خلافت کیلئے منتخب ہوئے وہ اس کے مستحق تھے اور اس میں کامیاب ہوئے اس سلسلہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر قریش اسی چیز پر منتخب ہوتے جو خدا نے ان کیلئے اختیار کیا تھا اگر اسے اپناتے تو نہ ان کا حق ضائع ہوتا اور نہ کوئی ان پر رشک کرتا، لیکنجو آپ نے کہا کہ وہ پسند نہیں کرتے تھے کہ نبو ت اور خلافت دونوں ہم میں جمع ہوجائے ، پس جان لو خداوند عالم قرآن مجید میں ایک جماعت کو اس صفت سے معرفی کرتا ہے اور فرماتا ہے :< ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللهفاحبط اعمالھم >“
” چونکہ انہوں نے پیغمبر پر بھیجے گئے دستورات کو پسند نہیں کیا ، اس لئے خداوند عالم نے ان کے کردار کو قبول نہ کرتے ہوئے باطل کر ڈالا“
____________________
۱۔ عبداللہ پیغمبر کے چچا عباس کے بیٹے تھے، اس وجہ سے ابن عباس کہتے تھے ابن عباس اور عمر کے درمیان اس گفتگو کو طبری نے ج ۳ میں سیرت عمر کے موضوع کے تحت لایا ہے اور ابن ابی الحدید نے ”لله بلاد فلان “ کی تشریح میں ج ۲/ ص ۴۹ اورص۵۱ طبع ایران احمد بن ابی طاہر سے سند کے ذکر کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس گفتگو میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ جس چیز نے عمر کو اس بات پر مجبور کیا تا کہ پیغمبر کی وصیت لکھنے میں رکاوٹ ڈالے یہ تھی وہ بخوبی جانتے تھے کہ وصیت علی علیہ السلام کے حق میں لکھی جائے گی ۔
عمر نے کہا: افسوس ! اے ابن عباس تمہارے بارے میں کچھ ایسی رپورٹیں مجھے ملی ہیں جن پر یقین نہیں آرہاتھا لیکن اب دیکھ رہا ہو ں کہ وہ رپوٹیں صحیح تھیں ۔
میں نے کہا: کونسی رپورٹ آپ کو ملی ہے ؟ اگر میں نے حق کہا ہوگا تو اس سے میر ی حیثیت آپ کے سامنے متزلزل نہیں ہونی چاہئے اور اگر جھوٹ ہے تو مجھ جیسے پر حق بنتا ہے کہ جھوٹ کی تہمت اور باطل سے دور ہوجاؤں ۔
عمر نے جواب دیا : رپورٹ ملی ہے کہ آپ نے کہا ہے کہ بنی ہاشم پر ظلم و ستم اور ان سے حسد کی وجہ سے خلافت چھین لی گئی ہے ۔
میں نے کہا: یہ جو کہتے ہو کہ میں نے کہا ہے کہ ظلم کیا گیا ہے یہ ہر عالم ا ور جاہلپر واضح ہے لیکن یہ جو کہتے ہو کہ رشک و حسد سے کام لیا گیا ہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ،ا بلیس نے آدم پر رشک کیا اور ہم بھی آدم کے وہی فرزند ہیں جن سے رشک کیا گیا ہے ۔
۴ سلمان فارسی :
ابو بکر جوہری نے روایت کی ہے سلمان ، زبیر اور انصار، پیغمبر کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کرناچاہتے تھے جب ابو بکر نے لوگوں سے بیعت لے لی تو سلمان نے کہا: تھوڑی سی خیر و نیکی کو حاصل کرکے خیر و برکت کے معدن و منبع سے محرم ہوگئے“
اس دن (سلمان) کہتے تھے : ایک معمر انسان کو منتخب کرکے اپنے پیغمبر کے خاندان کو چھوڑدیا ہے ، اگر خلافت کو پیغمبر کے خاندان میں رہنے دیتے تو دو آدمی بھی آپس میں ا ختلاف نہیں کرتے اور لوگ اس درخت کے میوؤں سے بیشتر مستفید ہوتے(۱)
انساب الاشراف میں آیا ہے :
سلمان نے اپنی مادری زبان میں کہا: ” گرداز و ناگرداز“ تم لوگوں نے کیا لیکن کچھ نہیں کیا ، یعنی اگر خلافت کو غصب نہ کرتے تو بہتر تھا اور جو کام تم لوگوں نے انجام دیا وہ صحیح نہیں تھا ،بلکہ مزید اس میں اضافہ کیا، اگر مسلمان علی علیہ السلام کی بیعت کرتے تو خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہر طرف سے ان پر نازل ہوتیں اور وہ ہر طرح کی سعادت و سیادت سے مالا مال ہوتےلو بایعوا علیاً لاکلوا من فوقهم و من تحت ارجلهم
۵ ام مسطح :
ابو بکر جوہری نے مزید کہا ہے :
جب ابو بکر کی بیعت سے علی علیہ السلام کے انکار کی گفتگو پر چہ میگوئیاں ہونے لگیں تو ابو بکر و عمر نے علی علیہ السلام کے بارے میں شدید رد عمل کا اظہار کیا ، ام مسطح بن اثاثہ نے اپنے گھر سے باہر نکل کر پیغمبر خدا کی قبر کے پاس آکر یہ اشعار پڑھے :
قد کان بعدک انباء و هنبتة
لو کنت شاهدها لم تکثر الخطب
انا فقدناک فقد الارض و ابلها
و اختلّ قومک فاشهدهم و لا تغب
____________________
۱۔ ابو بکر جوہری ، سقیفہ بر وایت ابن ابی الحدید ج ۲/ ۱۳ ، ج ۶/ ۱۷۔
اے پیغمبر ! آپ کے بعد چہ میگوئیاں اور اہم حواد ث رونما ہوئے اگر آپ زندہ ہوتے تو ہرگز اس قدر پریشانیاں پیدا نہیں ہوتیں ، ایسے حوادث رونما ہوئے جیسے زمین باران سے محروم ہوجائے اور نمی اور طراوٹ نہ ملنے کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ہم آپ سے محروم ہوگئے اور لوگوں کے کام کا شتہ ٹوٹ گیا ، اے پیغمبر ! اس بات پر گواہ رہئے گا!“(۱)
۶ ابوذر
رسول اللہ نے جب رحلت فرمائی تو اس وقت ابوذر مدینہ میں موجود نہ تھے جب وہ مدینہ پہنچے تو اس وقت ابو بکر نے حکومت کی باگ ڈورسنبھالی تھی ، انھوں نے اس سلسلے میں کہا: تم لوگوں نے تھوڑی سی چیز کو حاصل کرکے اسی پر اکتفا کیا اور پیغمبر کے خاندان کوکھودیا اگر اس کا م کو اہل بیت رسول کے سپرد کرتے تو دو آدمی بھی آپ کے نقصان میں آپ سے مخالفت نہ کرتے ۔ ۲
۷ مقداد بن عمرو
یعقوبی نے عثمان کی بیعت کی، روداد بیان کرتے ہوئے، راوی سے روایت کی ہے :
’ مسجد النبی سے ایک دن میرا گزر ہو ا، میں نے ایک شخص کو دوز انو بیٹھے اس قدر حسرت بھری آہ بھرتے ہوئے دیکھا کہ گویا تمام عالم اس کی ملکیت تھی اور وہ
____________________
۱۔ ام مسطح بن اثاثہ کا نام سلمی بنت ابو رہم ہے ، اس کی بات کو ابو بکر جوہری نے سقیفہ میں بنا بہ روایت ابن ابی الحدید ۲/ ۱۳۱ ۔ ۱۳۲ و ج ۶/ ۱۷ ذکر کیا ہے ۔
۲۔ ابو بکر جوہری نے کتاب سقیفہ میں ابن ابی الحدید شرح ، نہج البلاغہ ج ۶/ ص ۵ طبع مصر سے نقل کیا ہے ، تاریخ یعقوبی میں ابوذر کی تنقید کرتے ہوئے نقل کیا گیا ہے ۔
اسے کھو بیٹھا تھا اور کہہ رہا تھا ’ قریش کا کردار کس قدر تعجب آور ہے کہ مستحق سے کام چھین لیا گیا“ ۔
۸ بنی نجار کی ایک عورت
ابو بکر جوہری کہتے ہیں :
” جب ابو بکر کی بیعت کا کام مستحکم ہوگیا ، تو انہوں نے بیت المال سے ایک حصہ مہاجر و انصار کی عورتوں کیلئے معین کیا اور بنی عدی بن نجار کی ایک عورت کا حصہ زید بن ثابت کے ہاتھ سپرد کیا تا کہ اسے پہنچا دے، زید اس عورت کے پاس آئے اور اس کے حصہ کو اسے پیش کیا، عورت نے پوچھا ، یہ کیا ہے ؟
زید نے کہا؛ بیت المال کے ایک حصہ میں سے ہے جسے ابو بکر نے عورتوں میں تقسیم کیا ہے ۔ اس نے کہا؛ کیا تم میرے دین کو رشوت دیکر خریدنا چاہتے ہو ؟
خدا کی قسم ! ان سے کوئی چیز نہیں لوں گی اور یہ حصہ ابو بکرکو واپس دیدو(۱)
____________________
۱۔ ابو بکر جوہری کتاب سقیفہ میں ابن ابی الحدید کی شرح ج ۲ / ۱۳۳ طبع مصر میں ، طبقات ج ۲/ ۱۲۹ میں بھی اس داستان کو تقریباً اس مضمون سے نقل کیا گیا ہے ۔
۹ معاویہ کا نظریہ
معاویہ نے محمد بن ابو بکر کے نام لکھے گئے اپنے ایک خط میں یوں کہا ہے :
ہم اور تیرے باپ فرزند ابو طالب کی فضیلت اور برتری سے واقف تھے اور اپنے اوپر ان کے حق کو ضروری سمجھتے تھے ، جب خداوند عالم نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جو کچھ اس کے پاس تھا اس پر عمل کیا اور ان سے کئے گئے عہد و پیمان کو پوراکیا اور اس کی دعوت کو واضح کرکے حجت کو تمام کیا اور اس کی روح کو قبض کرے اپنی طرف بلایا تو تمہارے باپ اور عمر پہلے اشخاص تھے جنہوں نے علی (علیہ السلام) کے حق کو غصب کیا اور ان کے ساتھ مخالفت کی ۔ ان دو آدمیوں نے پہلے سے مرتب کئے گئے منصوبہ کے تحت آپس میں ملی بھگت کرکے علی علیہ السلام سے اپنی بیعت کا مطالبہ کیا حضرت، علی (علیہ السلام) نے جب اجتناب اور انکار کیا تو انہوں نے نا مناسب اقدامات کئے اور ان کے خلاف خطرناک منصوبے مرتب کئے ، یہاں تک کہ علی علیہ السلام نے مجبور ہوکر ان کی بیعت کی اور ہتھیار ڈالدئے ، لیکن پھر بھی یہ دو شخص ہرگز انھیں اپنے کام میں شریک قرار نہیں دیتے تھے نیزانھیں آگاہ نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ خداوند عالم نے ان دونوں کی روح قبض کرلی، اس بنا پر آج جس راہ پر ہم گامزن ہیں ، اگر وہ صحیح اورحقیقت پر مبنی ہے تو اس کی بنیاد تمہارے باپ نے ڈالی ہے اور ہم اس کے شریک ہیں اور اگر تیرے باپ ایسا نہ کرتے، تو ہم ہرگز فرزند ابو طالب کی مخالفت نہیں کرتے اور خلافت کی باگ ڈورانھیں سونپ دیتے ، لیکن تیرے باپ نے ہم سے پہلے ان کے بارے میں یہی کام انجام دیا اور ہم نے بھی تیرے باپ کے ہی مانند ان سے برتاؤ کیا ، اب تم
یا اپنے باپ کی عیب جوئی کرویا ہمیں سرزنش اور ملامت کرنا چھوڑدو ، خداوند عالم توبہ کرنے والوں پر درود بھیجے(۱)
۱۰ خالد بن سعیداموی
خالد بن سعید بن عاص ان افراد میں سے تھا جنہوں نے مسلمان ہونے میں سبقت حاصل کی تھی ، وہ تیسرا یا چوتھا یا پانچواں شخص تھا جس نے اسلام قبول کیا ہے ابن قتیبہ ’ ’ المعارف “ کے صفحہ نمبر ۱۲۸ پر لکھتا ہے : ” خالد ابو بکرسے پہلے اسلام لایا تھا “
خالد ان افراد میں سے تھا جنہوں نے حبشہ ہجرت کی تھی اسلام کے مضبوط اور مستحکم ہونے کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس کے دو بھائیوں ابان و عمرو کے ہمراہ قبیلہ ’ ’ مذحج“ سے زکات وصول کرنے پر مامور فرمایا تھا ، اس کے بعد وہ یمن کے شہر صنعا میں آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا مامور مقرر ہوا ، جب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی تو خالد اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ ماموریت کی جگہ سے مدینہ کی طرف واپس آیا ۔ ابو بکر نے ان سے پوچھا تم لوگ کیوں اپنی ماموریت کی جگہ کو چھوڑ کر آئے ہو ؟ اس کے علاوہ حکمرانی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منتخب کردہ افراد سے سزاوار تر کوئی نہیں ہے ، اپنی جگہ جاکر اپنا فریضہ انجام دینے میں مشغول ہوجاؤ ، انہوں نے جواب میں کہا؛ ہم عبدا للہ کے بیٹے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی اور کی نوکری کرنا نہیں چاہتے(۲)
____________________
۱۔ مروج الذہب مسعودی ج ۲/ ۶۰ ، نصر بن مزاحم کی صفین ص ۱۳۵ طبع قاہرہ ۱۳۶۵ ئھ اور شرح ابن ابی الحدید ، نہج البلاغہ ج ۲/ ۶۵ ، اس نے بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے اور ج ۱/ ۲۸۴ ۹۔
۲۔ استیعاب ج ۱/۳۹۸، اصابہ ج ۱/ ۴۰۶ ، اسدا لغابہ ج ۲/ ۹۲ ، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج ۶/ ۱۳ ۔
خالد اور اس کے بھائیوں نے ابوبکر کی بیعت کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا ۔ خالد نے بنی ہاشم سے کہا ؛ آپ خاندان بنی ہاشم قد آور درخت کے مانند ہیں اور ہم بھی آپ کے تابعدار ہیں(۱)
خالد نے دو ماہ تک ابو بکر کی بیعت نہیں کی اور کہتا تھا ، ہمیں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے صنعا کا مامور مقرر فرمایا اور اپنی وفات تک ہمیں معزول نہیں کیا ۔
خالد نے ایک دن علی ابن ابیطالب اور عثمان سے ملاقات کی اور انھیں کہا: اے عبد مناف کے فرزندو ! آپ نے اپنے کام سے ہاتھ کھینچ لیا تا کہ دوسرا اس پر قابض ہوجائے ۔ ابو بکر نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں کی ، لیکن عمر نے اسے اپنے دل میں رکھا(۲)
اس کے بعد خالد نے علی علیہ السلام کے پاس آکر ان سے کہا آگے بڑھئے ! میں آپ کی بیعت کرتا ہوں ، خدا کی قسم لوگوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانشینی کیلئے آپ سے سزاوار تر کوئی نہیں ہے ۳ لیکن جب بنی ہاشم نے ابو بکر کی بیعت کی تو خالد نے بھی ان کی بیعت ۴ کا کام مکمل ہونے کے بعد جب ابو بکر لشکر اسلام کو شام کی جانب روانہ کررہے تھے ، سب سے پہلے جسے لشکر کی ایک چوتھائی کی کمانڈ سونپی گئی وہ خالد بن سعید تھا ، لیکن عمر اس کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ کیا ایسے شخص کو سپہ سالار بنا رہے ہیں کہ جس نے جونہ کرنا تھا کیا اور جو نہیں کہنا تھا کہہ دیا ؟ اور عمر نے اپنی مخالفت جاری رکھی اور
____________________
۱۔ استیعاب ۱/ ۲۹۸ ، اصابہ ۱/ ۴۰۶ ، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج ۶/ ۱۳
۲۔ اسد الغابہ ج ۲/ ۹۲ ، ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ ج ۲/ ۱۳۵
۳۔ طبری ج ۲/ ۵۸۶ ، تہذیب التہذیب ابن عساکر ج ۵/ ۴۸ ، انساب الاشراف ج۱/ ۵۸۸،
۴۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۱۰۵
خاموش نہیں بیٹھے جب تک خالد کو اس عہدے سے معزول نہیں کرلیا پھرسپہ سالاری کا حکم یزید بن ابی سفیان کے نام جاری کیا گیا(۱) خالد کو اپنے معزول ہونے پر کوئی پروا نہ تھی کیونکہ وہ مقام و منزلت کا پابند نہ تھا اس لئے وہ لشکر اسلام کے ہمراہ شام کی طرف روانہ ہواا ور ۲۸ جمادی الاول ۱۳ ئھ کو اس جنگ میں شہید ہوا۔
۱۱ سعد بن عبادہ انصاری
وہ قبیلہ خزرج کا سردار تھا وہ بیعت عقبہ میں حاضر تھا اور اس نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے تمام غزوات میں شرکت کی ہے اس کے غزوہ بدر میں حاضر ہونے کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف نظر ہے ۔
سعد ایک رحم دل او ر سخی شخص تھا ، فتح مکہ کے دن انصار کا علمبردار تھا چونکہ اس نے اس جنگ میں یہ نعرہ بلندکیا ” آج جنگ کا دن ہے ، جس دن عورتیں اسیر کی جائیں گی، اس کی مرادقریش کی عورتیں تھیں “ اس لئے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پرچم کو اس کے ہاتھ سے چھین کر اس کے بیٹے قیس کے ہاتھ میں دیدیا ،(۲) سعد بن عبادہ کے بارے میں اسلام کے مؤرخین لکھتے ہیں(۳)
” سقیفہ میں جب ابو بکر کے حامی سعد شدید مخالفت سے دوچار ہوئے تو انہوں نے اس میں مصلحت سمجھی کہ چند روز سعد سے چھیڑچھاڑ نہ کی جائے جب بیعت کا کام انجام
____________________
۱۔ طبری ج ۲/ ۵۸۶، تہذیب ابن عساکر ج ۵/ ۴۸، انساب الاشراف ج ۱/ ۵۸۸ ۔
۲۔ ملاحظہ ہو اس کا ترجمہ استیعاب ج ۲/ ۳۲ میں اور اصابہ ج ۲/ ۲۷۔
۳۔ طبری ج ۲/ ۴۵۹ ، ابن اثیر ج ۲/ ۲۴۴ ، روایت کو ” فاترکوہ تک “ نقل کیا ہے ، کنز العمال ج ۳/ ۱۳۴ ، حدیث نمبر ۲۲۹۶ ، الامامة و السیاسة ج ۱/ ۱۰ ، سیرہ حلبی نے ج ۴/ ۳۹۷، میں اضافہ کیا ہے کہ سعد ان میں سے کسی سے بھی مل کر سلام نہیں کرتا تھا، لا یسلم علی من بقی منهم “۔
پایا تو کسی شخص کو اس کے پاس بھیج کر اانھیں پیغام دیدیا کہ آکر بیعت کریں ، دوسروں حتی تیرے قبیلہ والوں نے بھی بیعت کی ہے ، سعد نے جواب میں کہا؛ خدا کی قسم جب تک میرے ترکش میں تیر موجود ہے اور تمہیں نشانہ بنا سکتا ہوں اور اپنے نیزے کی نوک کو تمہارے خون سے رنگین کرسکتا ہوں ، اور جب تک میرے بازؤں میں تلوار چلانے کی طاقت موجود ہے ، تم لوگوں سے لڑتارہوں گا ،اور اپنے خاندان کے ان افراد کی مدد سے جو ابھی تک میری اطاعت میں ہیں تم لوگوں سے جب تک ممکن ہوسکے گانبرد آزمائی کرونگا اور تمہاری بیعت نہیں کروں گا اور خدا کی قسم ! اگر جن و انس تمہاری مدد کو آجائیں تو بھی میں تم لوگوں کی ہرگز بیعت نہیں کروں گا جب تک خدا کے پاس اپنی شکایت نہ کرلوں اور تم لوگوں کے ساتھ عدل الٰہی کے حضور اپنا حساب نہ چکالوں ۔
جب یہ باتیں ابو بکر تک پہنچیں تو عمر نے کہا؛ اسے نہ چھوڑو جب تک کہ بیعت نہ کرے، لیکن بشیر بن سعد نے اپنانظریہ پیش کرتے ہوئے کہا : میرے خیال میں اس قضیہ کاپیچھا کرنے میں مصلحت نہیں ہے ، کیونکہ سعد کی مخالفت ہٹ دھرمی پر مبنی ہے جو آگاہی، میں سعد کے اخلاق کے بارے میں رکھتا ہوں ، ا س سے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ قتل ہونے تک ڈٹا رہے گا اور دوسری طرف سعد
کا قتل ہونا بھی کوئی آسان کا م نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک فرد نہیں ہے کہ اس کے قتل کئے جانے سے مخالفتوں کو ختم کیا جاسکے ، وہ ایک بڑی آبادی والے قبیلہ کا سردار ہے اور ابھی تک اس کا معنوی اثر و نفوذ اس کے خاندان میں موجود ہے ، جب تک اس کے فرزندوں ، رشتہ داروں اور قبیلہ کے کچھ افراد کو قتل نہ کیاجائے اس پر ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ہے ، اس لئے مصلحت اسی میں ہے کہ اسے اپنے حال پر چھوڑدیا جائے اس طرح وہ ایک آدمی سے زیادہ نہیں ہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے ۔
بشیر بن سعد کی تجویز منظور ہوئی اور سعد بن عبادہ کو اس کے حال پر چھوڑدیا گیا وہ بھی ان کی جماعت اور دیگر اجتماعات میں حاضر نہیں ہوتا تھا نیز حج کے موقع پر بھی ان کی اطاعت نہیں کرتا تھا اور ابو بکر کے دنیاسے چلے جانے اور عمر کی خلافت کے دور تک اسی حالت میں تھا(۱) اپنی خلافت کے دوران ایک دن عمر نے سعد کو مدینہ کی ایک گلی میں دیکھا اور اسے کہا: خبر دار ، اے سعد !
سعد نے جواب میں کہا: خبردار اے عمر !
عمر نے پوچھا : کیا تم نے چہ می گوئیاں کی تھیں !
سعد نے کہا :جی ہاں : میں ہی تھا ، اس وقت حکومت کی باگ ڈور تیرے ہاتھ میں آئی ہے ، لیکن خدا کی قسم ہمارے نزدیک ابو بکر کی محبوبیت تجھ سے زیادہ تھی اور میں ذاتی طورپر پسند نہیں کرتا ہوں تمہارے نزدیک رہوں ۔
عمر نے کہا: جو کوئی کسی کی ہمسائیگی سے متنفر ہوتا ہے وہ اپنی سکونت تبدیل کرتا ہے ۔
سعد نے کہا؛ میں تیری ہمسائیگی سے زیادہ خوشحال نہیں ہوں ، یہ کام کرکے میں دم لوں گا اور تم
____________________
۱۔ الریاض النضرة ج ۱/ ۱۶۸ اس سے قبل نقل کئے گئے مصادر کے ساتھ ۔
سے بہترہمسائے کے نزدیک جاؤں گا۔
اس ملاقات کے بعد زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ سعد شام چلا گیا ۱ بلاذری نے اس قضیہ کے بارے میں یوں نقل کیا ہے(۲)
” عمر نے ایک شخص کو شام بھیجا اور اسے حکم دیا کہ جس طرح ممکن ہو سکے سعد کو لالچ دلاؤشاید وہ بیعت کرلے اور اگر اس نے بیعت نہیں کی تو خدا سے مدد کی درخواست کرکے اسے مامور کے عنوان سے روانہ کرو اوراس شخص نے حوران کے مقام پر ایک باغ میں سعد سے ملاقات کی اور اسے عمر سے بیعت کرنے کی ترغیب دیدی۔
سعد نے کہا: میں قریش کے کسی شخص کی ہرگز بیعت نہیں کروں گا۔
قاصد نے کہا؛ اگر بیعت نہ کرو گے تو میں تجھے قتل کر ڈالوں گا
سعد نے کہا : کیا میرے ساتھ جنگ کرنے کی صورت میں بھی ؟
اس نے کہا: کیا تم اس چیز سے دور رہنا چاہتے ہو جس پر ملت نے اتفاق کیا ہے ؟!
سعد نے جواب دیا : اگر تمہارا مقصود بیعت ہے ، تو جی ہاں ،
یہاں پر مامور نے حکم کے مطابق سعد کی طرف ایک تیر پھینکا اور اسے قتل کر ڈالا ، مسعودی
____________________
۱۔ طبقات ابن سعد، ج ۳/ ق۲/ ۱۴۵ ، تہذیب ابن عساکر ،ج ۶/ ۹ میں ترجمہ سعد کی تشریح میں ، کنز العمال ،ج ۳/ ۱۳۴ حدیث نمبر ۲۲۹۶ ، سیرہ حلبی ،ج ۳/ ۳۹۷)
۲۔ العقد الفرید ،ج ۳/ ۶۴ ، اور بلاذری نے اس عبارت کے قریب انساب الاشراف ،ج ۱/ ۵۱۸ میں آیا ہے ۔
کہتا ہے(۱)
” سعد بن عبادہ نے بیعت نہیں کی اور مدینہ سے شام چلا گیا اور ۱۵ ھء کو وہیں پر قتل ہوا“
ابن عبدربہ کی روایت میں آیا ہے :
” سعد بن عبادہ پر ایک تیر مارا گیا اور تیر اس کے بدن پر لگ گیا اور اسی سے وہ مرگیا ، اسکے مرنے کے بعد پریوں نے اس پر گریہ کرتے ہوئے اس کے سوگ میں شعر پڑھا :
وقتلنا سید الخزرج سعد بن عباده و رمیناه بسهمین فلم تُخطیٴ فؤاده (۲)
ابن سعد نے طبقات میں اس کی موت کے باے میں لکھا ہے(۳)
سعد ایک خندق میں پیشاب کرنے کیلئے بیٹھا تھا کہ اس پر حملہ کیا گیا اور اسی حالت میں اس نے جان دیدی اس کے جسد کو اسی حالت میں پایا گیا ہے اس کے بدن کی کھال کا رنگ سبز ہوچکا تھا“
ابن اثیر نے اسد الغابہ میں لکھا ہے :(۴)
سعد نے نہ تو ابو بکرکی بیعت کی اور نہ عمر کی ، وہ شام چلا گیا اور شہر حوران میں سکونت اختیار کرلی، ۱۵ ء میں اس نے وفات پائی ، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس کے گھر کے نزدیک سڑک کے کنارے اس حالت میں دیکھا گیا تواسکے جسم کا رنگ سبز ہوچکا تھا ، اس کی موت کے بارے
____________________
۱۔ مروج الذہب، ج ۱/ ۴۱۲ و ج ۲ ۱۹۴ ،
۲۔ العقد الفرید ،ج ۳/ ۶۴۔
۳۔ طبقات ابن سعد، ج ۳/ ق ۲/ ۱۴۵ ، ابن قتیبہ نے المعارف ۱۱۳ پر ۔
۴۔ معلوم ہوتا ہے سعد کی طرف پھینکا گیا تیر زہر آلود تھا۔
میں کسی کو پتا نہ چلا جب تک ایک نامرئی شخص کی آواز کنویں میں سنی گئی اور لوگ اس سے آگاہ ہوئے(۱)
عبد الفتاح نے کتاب الامام علی بن ابیطالب “ میں لکھا ہے :
بعض احمق لوگ کہتے ہیں کہ سعد جنوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے ، لیکن جو حقیقت حال سے آگاہ ہے یا گمان کیا جاتا ہے کہ آگاہ ہوگا ، کہتا ہے : ” سعد کو خالد بن ولید اور اس کے ایک دوست، جو اس کا شریک کا ر تھا ، نے رات کو گھات لگا کر اسے قتل کر ڈالا اور اس کے بدن کو ایک کنویں میں سرکے بل لٹکا کر رکھدیا ، اس سے پوچھا گیا کہ جنوں کی جوآواز ہم نے سنی وہ کیا تھی ؟ جواب دیا گیا وہ آواز خالد کے ہمکار کی تھی ، اس نے اس لئے ایساکیاتاکہ وہ لوگوں کو بتائیں اس پر یقین کریں اوراس بات کو دھرائیں ۔(۲)
بلاذری نے روایت کی ہے کہ عمر نے خالد اور محمد بن مسلمہ کو مامور کیا تا کہ سعد کو قتل کر ڈالیں اور انہوں نے اپنی ماموریت کو بجالا کر، دو تیروں سے سعد کو قتل کر ڈالا اور اس کی زندگی کا خاتمہ کیا ، اس روداد کو نقل کرنے کے بعد انصار میں سے ایک شخص کے درج ذیل دو شعر ذکر گئے ہیں جو سعد کے سوگ میں کہے گئے ہیں :
____________________
۱۔ سعد کی تشریح اسد الغابہ اور استیعاب ج ۲ ۳۷ میں
۲۔ الامام علی ابن ابیطالب ج ۱/ ۷۳۔
یقولوں سعداً شقت الجن بطنه
الا ربما حققت فعلک بالقدر
و ما ذنب سعد بعدان بال قائماً
و لکن سعداً لم یبایِع ابابکر
ترجمہ : کہتے ہیں کہ جنوں نے سعد کے شکم کو پھاڑ ڈالا آگاہ ہوجاؤ، بسااوقات لوگ اپنا کام دھوکے سے انجام دیتے ہین سعد کا گناہ یہ نہ تھا کہ اس نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا تھا بلکہ اس کا گناہ یہ تھاکہ اس نے ابوبکرکی بیعت نہیں کی تھی ۔
حقیقت میں اس طرح سعد کی زندگی کا خاتمہ کیا گیا ، لیکن یہ تاریخی حادثہ مؤرخین کیلئے ناپسند تھا ان میں سے ایک جماعت نے اس قضیہ کو ذکر ہی نہیں کیا ہے(۱)
اور ایک جماعت نے غیر واضح طور پر لکھا ہے کہ سعد بن عبادہ کو جنوں نے قتل کیا ہے(۲)
لیکن افسوس ہے کہ اس تاریخی راز کو ہمارے لئے واضح نہیں کیا گیا آخر سعد بن عبادہ کی جنوں کے ساتھ کونسی دشمنی اور عداوت تھی اور جنوں نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب میں سے صرف سعد کے دل کو اپنے تیروں کا نشانہ کیوں قرار دیا ؟ ہماری نظر میں اگر اس داستان میں یہ اضافہ
____________________
۱۔ جیسے طبری ، ابن اثیر اور ابن کثیر نے اپنی تاریخو ں میں ۔
۲۔ جیسے ریاض الدین طبری نے ریاض النضرہ میں ” ابن عبد البر نے استیعاب میں اور مندرجہ ذیل مآخذ نے سعد کی بیعت سے انکار کو ذکرکیا ہے :
۱۔ ابن سعد نے طبقات میں ، ۲۔ ابن قتیبہ نے الامامة و السیاسہ میں ،۳ ۔ ابن جریر نے اپنی تاریخ میں ، ۵۔ ابو بکر جوہری نے ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ کی روایت میں ، ۔ مسعودی نے مروج الذہب میں ، ۷۔ ابن عبد البر نے الاستیعاب میں ،۸۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں ، ۹۔ابن اثیر نے اسد الغآبہ میں ،۹۔محب الدین طبری نے ریاض النضرہ میں ، ۱۰۔ ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ میں ،۱۱۔ تاریخ الخمیس ، ۱۲، علی بن برہان الدین نےالسیرة الحلبیہ میں ، ۱۳ ابو بکر جوہری نے السقیفہاور ۱۴۔ بلاذری نے انساب الاشراف میں ۔
کرتے کہ ”چونکہ سعد نے بیعت سے انکار کیا تھا اور سعد کا یہ عمل صالح جنوں کیلئے ناپسند تھا ، اس لئے انہوں نے اس کے قلب پر، دو تیر ما کر اسے ہلاک کردیا “
تو ان کی یہ جعلی داستاں بہتر اور مکمل تر ہوتی !!
۱۲ عمر کا نظریہ
اس سے قبل ہم نے ابو بکر سے عمر کی بیعت کی روداد بیان کی ہے ، لیکن اس سلسلے میں انہوں نے اپنا عقیدہ اس طرح بیان کیا ہے :
” بے شک میرے کانوں تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک شخص نے کہا ہے کہ خدا کی قسم جب عمر بن خطاب مرجائے گا تو میں فلاں کی بیعت کروں گا ، کوئی اس عمل کو صحیح قانونی تصور نہ کرے ،کیونکہ ابو بکر کی بیعت ایک لغزش اور خطا تھی جو انجام پائی اور گزر گئی، حقیقت میں ایساہی تھا ، لیکن خداوند عالم نے لوگوں کو اس خطا کے شر سے نجات دیدی(۱)
۱۳ ابو سفیان
ابو سفیان بھی ان لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ابو بکرکی حکومت کی شدیدمخالفت کی اور صراحت کے ساتھ اعتراض کیا اور اپنی مخالفت کو قول و فعل کے ذریعہ اعلان کیا اس روداد کی تفصیل اگلی فصل میں بیان ہوگی۔
____________________
۱۔ طبری ، ابن اثیر اور ابن کثیر میں قصہ سقیفہ ملاحظہ ہو،۔
حضرت ابوبکر کی حکومت کے خلاف ابو سفیان کی بغاوت
ولیس لها الا ابالحسن علیّ
” ابو الحسن علی کے علاوہ کوئی خلافت کا مستحق نہیں ہے “
ابو سفیان
ابو سفیان کا نام صخر بن حر ب بن امیة بن عبد الشمس بن عبد مناف تھا، اس نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے اس وقت تک جنگ کی جب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے مکہ کو فتح کرکے قریش کو واضح شکست دیدی ، اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا عباس کی شفاعت پر ابو سفیان کو معاف کرکے اس کا احترام کیا اور اپنی وفا ت سے پہلے اسے کسی ماموریت پر بھیجا ۔ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے وقت ابو سفیان مدینہ میں موجود نہیں تھا(۱) وہ سفر سے واپس آرہا تھا راستے میں مدینہ سے آنے والے ایک شخص سے ملاقات ہوگئی تو اس سے پوچھا : کیا محمد نے وفات پائی ہے ؟
____________________
۱۔ استیعاب ج ۲/ ۱۸۱ ، اصابہ ج۲/ ۱۷۲ ، اور اس سفر سے واپس آنے کی تفصیلات کو العقد الفرید ج۳ /۶۲ اور ابو بکر جوہری بہ روایت ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ۲/۱۳۰ سے نقل کیا ہے ۔
اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ۔
اس نے پوچھا : ان کا جانشین کون بنا؟
اس نے کہا: ابو بکر
ابو سفیان نے پوچھا: علی علیہ السلام و عباس ، ان دو مظلوموں نے کیا رد عمل دکھایا؟
کہا : وہ خانہ نشین ہوگئے ۔
ابو سفیان نے کہا: خدا کی قسم ! اگر میں ان کیلئے زندہ رہا تو انھیں عروج تک پہنچادوں گا، اور کہا: معاشرے کے ماحول میں ایک گرد و غبار کو دیکھ رہا ہوں ،کہ خون کی بارش کے علاوہ کوئی چیز اسے دور نہیں کرسکتی ، اس لئے جب مدینہ میں داخل ہوا تو مدینہ کی گلیوں میں قدم بڑھاتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا تھا:
بنی هاشم لا تطمعوا الناس فیکم
و لا سیّما تیم بن مرّة اوعدی
فما الامر إلا فیکم و الیکم
و لیس لها إلا ابوحسن علیّ
ترجمہ :
” اے ہاشم کی بیٹو! لالچ سے لوگوں پر حکومت کرنے کی راہ کو بند کرو، خاص کر دو قبیلوں تیم بن مرہ و عدی پر (تیم قبیلہ ابو بکر اور عدی قبیلہ عمر تھا) یہ حکومت ھمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور آخرکار تمہاری طرف لوٹنی چاہیے اور علی کے علاوہ کوئی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کا سزاوار نہیں ہے ۔
یعقوبی نے ان دو اشعار کے علاوہ مندرجہ ذیل دو شعر کا بھی اضافہ کیا ہے :
ابا حسن فاشدد بها کف حازم فانک بالامر الذی یرتجی ملی
و ان امرء اً یرمی قصّی وراء ه عزیز الحمی و الناس من غالب قصیّ(۱)
طبری کی روایت کے مطابق ابو سفیان آگے بڑھتے ہوئے کہتا تھا :
خدا کی قسم ! فضا میں ایک گرد و غبار کو دیکھ رہا ہوں کہ خون کے علاوہ کوئی چیز اسے زائل نہیں کرسکتی ۔ اے عبد مناف کے فرزندو! ابو بکر کا آپ کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟!
یہ دو مظلوم اور خوار ہوئے علی اور عباس کہاں ہیں ؟ ! اس کے بعد کہا: اے ابو الحسن اپنے ہاتھ کو آگے بڑھاؤ تا کہ میں تیری بیعت کروں ، علی نے پرہیز کیا اور اسے قبول نہیں کیا تو ابو سفیان نے درج ذیل عاجزان اشعار پڑھے
ان الهوان حمار الاهل یعرفه
و الجُرّ ینکره و الرسلة الاجُدُ
و لا یُقیمُ علی ضیم یراد به
الا الاذلاّن عیر الحیّ و الوتد
هذا علی الخسف معکوس برمته
و ذا یشج فلا یبکی له احداً(۲)
ترجمہ :
پالتو گدھا تن بہ خواری دیتا ہے نہ آزاد اور طاقتور !، پستی و خواری کے مقابلہ میں کوئی چیز طاقت و بردباری نہیں رکھتی ، بجز دو چیزوں کے کہ بالاخر دونوں چیزیں ننگ و عارہیں ، ایک خیمہ کی میخ کہ ہمیشہ
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ج ۲/ ۱۰۵ ، موفقیات میں روئیداد کو مصفل تر نقل کیا گیا ہے ، ملاحظہ ہو شرح نہج البلاغہ ج ۶/ ۷۔
۲۔ ابو بکر جوہری کی سقیفہ میں بیا ں کی گئی روایت بھی تقریباً اسی معنی میں ہے ۔ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج۲/ ۱۳۰ ، طبع مصر۔
اسکے سر پر ہتھوڑا مارا جاتا ہے اور قبیلہ کے اونٹ جو مسلسل عذاب میں ہوتے ہیں اور کوئی ان کی حالت پر رحم نہیں کھاتا
” اے آل عبد مناف“! کا نعرہ ان دنوں ابو سفیان کے امویوں کے زبان زد تھا اور معاشرے کی فضا اس نعرے سے گونج رہی تھی کہ تاریخ میں تغیر پیدا کریں لیکن ابو سفیان کی بیعت کو قبول کرنے سے علی علیہ السلام کے انکار نے اسے ناکام بنا دیا ۔
ابو سفیان کی یہ حمایت اور علی علیہ السلام کا انکار بہت تعجب آور ہے !!!!
ابو سفیان وہ شخص تھا جس نے حتی الامکان پوری طاقت کے ساتھ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور مجبور ہوکر اسلام قبول کرنے تک مقابلہ اور جنگ سے پرہیز نہیں کیا ، آج کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ دشمن اور چچا زاد بھائی کیلئے اس طرح کی قربانی دے رہا ہے ؟ کیا ابو سفیان واقعی طور پر علی علیہ السلام کا یار و مدد گار تھا ؟ یا یہ کہ اس کا مقصد اور غرض فتنہ و شورش ایجاد کرنا تھا ؟
اس سے بھی دلچسپ تر علی علیہ السلام کا کام ہے ، علی علیہ السلام جو چھ ماہ تک ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کرتے رہے ، او رمہاجر و انصار کو اپنے گھر دعوت کرتے اور ان سے مدد طلب کرتے تھے حتیٰ اپنے اور اپنے گھر والوں کے جلدئے جانے کی دھمکی سے دوچارہوئے آخر اس میں کیا راز تھا کہ قریش کے دو بزرگ ہستیوں عباس اور ابو سفیان کی طرف سے بیعت کرنے کی پیشکش کو ٹھکرادیا !! اور بیگانوں سے بیعت کی درخواست کی ؟! یہ انتہائی دلچسپ اور تعجب آور بات ہے !
لیکن یہ تعجب اور حیرت کا مقام اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب ہم دونوں (علی اور ابوسفیان) کے مقاصد کی چانچ پڑتال کریں ۔
اولاً ، ابو سفیان ، رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم اور لوگوں میں آپ کی حیثیت کو صرف مادی اور دنیوی نگاہ سے دیکھتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ یہ جو سرداری رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو ملی ہے یہ وہی سرداری ہے جسے آپ کے اسلاف نے ابو سفیان سے لے لی تھی ،اس بناپر ابوسفیان پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسی موروثی سرداری کے سبب جنگ کررہا تھا اور اس دوران جس چیز کو وہ حساب میں نہیں لاتا تھا ، وہ دین مقدس الٰہی تھا ۔ ابو سفیان رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے دین کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کامیابی اور اپنی موروثی سرداری کو کھو جانے کا ایک اصلی اور بنیادی سبب جانتا تھا اسی وجہ سے جس دن رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا ، ابو سفیان ، جس نے تازہ اسلام قبول کیا تھا اسکی شان و شوکت اور اسلامی فوج کا جاہ و جلال دیکھ کر عباس سے مخاطب ہوکر کہا: ” اے ابو الفضل ! خدا کی قسم تیرے بھتیجے نے آج ایک طاقتور بادشاھت کی باگ ڈور ہاتھ میں لے لی ہے ’‘ عباس نے اسے جواب دیا : اے ابو سفیاں ! یہ جو دیکھتے ہو ، وہ نبوت ہے نہ کہ بادشاھت ، ابو سفیان نے کہا: ایسا ہی ہوگا(۱)
اس قسم کا شخص ، جو اپنی قوم کا سردار تھا اور شکست کھا کر سردار ی کو کھو بیٹھا تھا ، اور اب یہ سرداری اس کے چچیرے بھائیوں کو مل رہی تھی ، اس بات پر راضی نہ تھا کہ یہ سرداری اس کے چچیرے بھائیوں سے بھی چھین کر بیگانوں کو دیدی جائے۔
اس مطلب کو سمجھنے کیلئے ہمیں قبل از اسلام جاہلیت میں قبیلوں کے درمیان مکمل طور پر حکم فرما خاندانی تعصبات کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے ، اس جاہلانہ تعصب کو جڑ سے اکھاڑنے کے بارے میں اسلام کی عظیم جدو جہد سو فیصد کامیاب نہیں ہوئی تھی، برادری اور دوستی کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششیں مکمل نتیجہ تک نہیں پہنچی تھیں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی تمام تر تلاش و کوششوں کے باوجود بھی تعصب کی آگ کے شعلے کم و بیش وقفے کے بعد بھڑکتے تھے ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی کے حالات کا مطالعہ اور تحقیق کرنے سے یہ مطلب مکمل طورپر واضح ہوجاتا ہے یہ تعصب عبد مناف کی اولاد میں تھا ۔۔۔جس کے ہاتھ میں قریش کی سرداری تھی --۔۔۔دوسروں سے کم تر نہ تھا۔
____________________
۱۔ سیرہ ابن ہشام ج ۴/ ۲۳
ابن ہشام نے عبا س سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کی شب عباس پیغمبر اسلام کے خچر پر سوار ہوکر باہر آئے اور تجسس کرنے لگے تا کہ کسی کا سراغ لگائیں اور اس کے ذریعہ قریش کو پیغام بھیجیں کہ وہ جلدی ہی اسلام کے سپاہیوں کے حملہ سے دوچار ہوں گے ، اس لئے مصلحت یہی ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور آکر امان چاہیں ، عباس نے راستے میں ابو سفیان کو دیکھا جو مکہ سے باہرآیا تھا تا کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں کوئی خبر حاصل کرے ۔ عباس نے ابو سفیان سے کہا: اچھا ہو اکہ میں نے تجھے دیکھ لیا ، خدا کی قسم اگر اسلام کے سپاہی تجھے پاجائیں گے تو تیرا سر قلم کرے کردیں گے اس کے بعد ابوسفیان کو اپنے ساتھ خچر پر سوارکرکے رسول خد ا کے حضور لے جانے کیلئے آگے بڑھا تا کہ اس کیلئے امان حاصل کرے ، اسلام کے سپاہیوں نے رات کے اندھیرے میں ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر آگ جلا دی تھی تا کہ اس سے ایک تو قریش خوفزدہ ہوجائیں اور اس کے علاوہ اس آگ کی روشنی دشمن کے احتمالی خطرہ کو رفع کرسکے ۔ مسلمان، عباس کو ان کے پاس سے گزرتے دیکھ کر ایک دوسرے سے کہتے تھے ، یہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے چچا ہیں جو رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے مرکب پر سوار ہوئے ہیں(۱)
عباس ، عمر کے نزدیک سے گزرے، جب عمر کی نظر ابوسفیان پر پڑی تو اس نے فریاد بلند کی : اے دشمن خدا! خدا کا شکر ہے جس نے تجھے بغیر اس کے کہ ہم تعرض کا کوئی عہد وپیمان تجھ سے باندھیں ہمارے جال میں پھنسا دیا اس کے بعد تیزی کے ساتھ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی طرف روانہ ہو ئے تا کہ آپ کو ابو سفیان کی گرفتاری کی خبر دےں اور ان سے قتل کرنے کی اجازت حاصل کرےں ۔
عباس نے جب یہ حالت دیکھی تو خچر کو چابک لگاکے عمر سے آگے بڑھ گئے۔
عباس کہتے ہیں : میں خچر سے جلدی نیچے اترا اور رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے حضور پہنچا، بلافاصلہ عمر بھی اسی دم آپہو بچے اور کہا: یا رسول اللہ ! یہ ابوسفیان ہے کہ کسی قید و شرط کے بغیر پکڑا گیا ہے ، اجازت د یجئے تا کہ اس کا سر قلم کروں ، میں نے کہا: اے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم میں نے ابو سفیان کو پناہ دیدی ہے اور وہ میری پناہ میں ہے ؛ لہذا میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، چونکہ عمر اپنے کام میں اصرار کررہے تھے، اس لئے میں نے اس سے مخاطب ہوکر کہا؛
____________________
۱۔ پیغمبر اسلام کے چچا کی شخصیت اور ابوسفیان کا عباس کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرکب پر سوار ہونا اسلام کے سپاہیو ں کے نزدیک ابو سفیان کیلئے ایک قسم کا امان نامہ تھا ور ابوسفیان کی توہین میں رکاوٹ بنا تھا )
خاموش ہوجاؤ اے عمر ! خدا کی قسم اگر ابو سفیان قبیلہ عدی بن کعب کا ایک فرد ہوتا(۱) تو اس کے بارے میں تم اس قدر زبان درازی نہ کرتے ، لیکن چونکہ جانتے ہو کہ وہ بنی عبد مناف(۲) سے تعلق رکھتا ہے اس لئے یہ گستاخی کررہے ہو(۳)
اس زمانے کے لوگوں کے خاندانی تعصب کا اندازہ لگانے کیلئے یہی ایک مثال کافی ہے ، بالکل واضح ہے کہ عباس اور عمر کو مشتعل کرنے کا تنہا سبب یہی خاندانی تعصب تھا اور کچھ نہیں ، یہی سبب تھا جس نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ابو سفیان کو تحت تاثیر قرار دیا اور چلا کر کہتا رہا: اے آل عبد مناف ! ابو بکر کو آپ کے کام (یعنی سرداری) سے کیا تعلق ہے ؟!!(۴)
اور بعض اوقات کہتا تھا : ہمیں ابو فصیل کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ !(۵)
یہ کام (یعنی خلافت) عبد مناف کی اولاد سے متعلق ہے(۶)
یہ مطلب کہ سرداری قبیلہ عبد مناف سے متعلق ہے ، اس روز خاندان قریش کے تمام افراد کیلئے واضح تھا ۔ لہذا مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ جب ابو بکر کے باپ ابو قحافہ نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی رحلت
____________________
۱۔ عدی بن کعب عمر کا قبیلہ ہے ۔
۲۔ بنی امیہ اور بنی ہاشم دونو ں خاندان عبد مناف سے تھے۔
۳۔ ابن ہشام ج ۴/ ۲۱ سے خلاصہ کے طور پر نقل ہوا ہے ۔
۴۔ طبری ج ۲/ ۴۴۹۔
۵۔ ” ابو فصیل “ ابو بکر کی طرف کنایہ ہے کہ عربی زبان میں بکر کا ایک معنی جوان اونٹ ہے اس کے دوسری معنی بھی ہیں ”فصیل “ اونٹ کے اس بچے یا بچھڑے کو کہتے ہیں جو ما ں سے جدا ہوا ہو ابو سفیان نے اس مناسبت سے ابو بکر کو ” ابو فصیل“ کہا ہے
۶۔ طبری ج ۲/ ۴۴۹۔
کی خبر سنی تو سوال کیا : آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد حکومت کی باگ ڈور کو کس نے سنبھالا ؟ خبردینے والے نے کہا؛ تیرے بیٹے ابو بکر نے ۔
اس نے سوال کیا ؛ کیا عبد مناف کی اولاد اس کی حکمرانی پر راضی تھی ؟
مخبر نے کہا : جی ہاں !
ابو قحافہ نے کہا جو چیز خداوند متعا ل کسی کو عطا کرے ، کوئی بھی چیزاس میں رکاوٹ نہیں بن سکتی(۱)
لہذا ابو سفیان ، یعنی وہی شخص جو کل اپنے چچیرے بھائی ، رسول سے جنگ و مقابلہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا تھا ، علی علیہ السلام کے حق میں نعرے لگا کر کہتا تھا : خدا کی قسم اگر موت مجھے فرصت دیدے تو عباس و علی کو عروج تک پہنچادوں گا(۲) اس کی اس بات کا سرچشمہ خاندانی تعصب تھا اور خاندانی فخر و مباہات کے علاوہ ہرگز کوئی اور مقصد نہیں رکھتا تھا!
معروف عربی ضرب المثل ہے ٖ: ” انا علیّ اخی ، و انا و اخی علی بن عمی و انا و اخی و بن عمی علی الغریب “ یعنی ، میں اپنے بھائی سے دشمنی کرتا ہوں لیکن چچیرے بھائی کے خلاف اپنے بھائی کی حمایت کرتا ہوں اور اگر لڑنے والا اجنبی ہو تو اپنے بھائی اور چچیرے بھائی سے اتفاق و یکجہتی کرکے اجنبی کے خلاف لڑتا ہوں ، کیونکہ اجنبی کے حملہ کے وقت تمام خاندان والوں کو متحد ہوکر دفاع کرنا چاہئے ۔
____________________
۱۔ انساب الاشراف بلاذری ج ۱/ ۵۸۹، شرح نہج البلاغہ ج ۱/ ۵۲ ، عبارت دوسرے مآخذ سے نقل کی گئی ہے ۔
۲۔ العقد الفرید ج۳/ ۶۰۔
اس لحاظ سے ضروری تھا کہ اس روز ابو سفیان اپنے چچا زاد بھائی علی علیہ السلام کے حق میں ابو بکر کے خلاف دفاع کرے ، کیونکہ ابو سفیان اور علی علیہ السلام دونوں عبد مناف کی اولاد تھے ، لیکن اس کے مقابلہ میں ابوبکر اجنبی تھا۔
اس لئے اس دن ابو سفیان نعرہ بلند کررہا تھا ، یا آل عبد مناف! حق تھا ابو سفیان کا یہ نعرہ تاریخ کے رخ کو بدل کے رکھدے ، کیونکہ قریش کی سرداری ہمیشہ خاندان عبد مناف کے ہاتھوں میں رہی تھی، قبیلہ عبد مناف کے دو خاندانوں (بنی ہاشم و بنی امیہ) کے درمیان سرداری پر ہمیشہ سے کشمکش ہونے کے باوجود ، اس وقت ان کے خاندان کے ہاتھ سے سرداری اور افتخار کے چلے جانے کا خطرہ تھا، ا س لئے عبد مناف کی اولاد سے منشعب(۱) تمام قبیلے ایک صف میں قرار پاتے تھے اگر ان قبیلوں کے بے شمار افراد اپنے چچیرے بھائیوں کے ھمراہ(جو قبائل قصی سے تھے)متحد ہوتے ، تو ایک ایسی طاقتور پارٹی تشکیل پاتی اور ابو سفیان کو یہ کہنے کا حق تھا کہ : جس شخص کی حمایت قبیلہ قصی (اس میں قبیلہ عبد مناف ہے) کرتا ہو ، وہ بے شک طاقتور اور کامیاب ہے ۔
اور یہ شخص وہی علی ابن ابیطالب تھے ، ابو بکر جیسے شخص کے مقابلہ میں جو قبیلہ تیم بن مرة سے تعلق رکھتے تھے کہ جو کبھی مقابلہ نہیں کرسکتا تھا ، کیونکہ جیساکہ ابو سفیان نے قبیلہ تیم کو قریش کے ایک چھوٹے اور کمزور قبیلہ کے طور پر معرفی کرائی ہے نہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور نہ ان میں قابل توجہ کوئی
____________________
۱۔ قبیلہ ہاشم ، نوفل ، مطلب و عبد شمس سے کہ صرف عبد شمس قبائل عبلات سے تھا اور ربیعہ ، عبد العزی ، جیبہ اور امیہ و بھی مختلف خاندانوں میں منشعب ہوا تھا انہیں میں ایک ابو سفیان کے باپ حرب کا گھرانہ ہے۔
شخصیت تھی ویسا ہی قبیلہ عدی بھی تھا جس سے عمر تعلق رکھتے تھے ۔
ان دو خاندانوں میں سے ایک بھی قریش کے شریف اور بزرگ قبیلہ قصی سے نہیں تھا ، قبیلہ قصی سے عبد مناف تھے ، یہی قبیلہ علی علیہ السلام کی طرفداری اور حمایت کرتا تھا نہ ابو بکر کی ۔
اسی بنا پر ابوسفیان کی بغاوت خصوصاً بعض اوقات پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کا بھی اس کاساتھ دینا اور اس کی حمایت کرنا، ایسی موثر کاروائی تھی کہ تمام سازشوں کو ناکام بنا کررکھدیتی اور اس زمانے میں مختلف گروہوں کے درمیان جنگ و پیکار کا سرچشمہ خاندانی تعصب تھا اور اس خاندانی تعصب سے اجتناب ممکن بھی نہیں تھا۔
اس زمانے کے تمام تاریخی حوادث تعصب کے محور کے گرد چکر لگاتے ہیں ، صرف علی اس طریقہ کار کے مخالف تھے اور اسی وجہ سے بہ ظاہر ناکام رہے ۔
اصولی طور پر رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد خاندانی تعصب اپنے عروج پر پہنچا تھا ، انصار کا سقیفہ میں جمع ہونا اور سعد کی بیعت کرنے کا اقدام صرف تعصب کی بنیاد پر تھا ورنہ وہ خود جانتے تھے کہ مہاجرین میں ایسے افراد موجود ہیں جو سعد سے بہت زیادہ فاضل تر اور پرہیزگار تھے ، اسی طرح ان کی ابو بکر کے ساتھ بیعت کرنے میں خاندانی تعصب کے علاوہ اور کوئی بنیاد نہیں تھی وہ اس طرح چاہتے تھے کہ سرداری خاندان خزرج میں نہ چلی جائے ،کیونکہ ان دو قبیلوں اوس و خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں مسلسل خونین جنگیں رونماہوتی رہی تھیں ۔
سقیفہ میں ابو بکر عمر کی تقریر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی کے افراد کس حد تک خاندانی تعصب اورجذبات کے زیر اثر تھے اور کس حد تک ان جذبات اور خاندانی تعصب سے انہوں نے اپنی پارٹی کے مفاد میں فائدہ اٹھایا ۔
ابو سفیان بھی انہی جذبات سے متاثر ہوا تھا اور علی علیہ السلام کے حق میں اس طاقت سے فائدہ اٹھانے میں اپنے مخالفوں کے مقابلہ میں کمزور نہیں تھا وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح تعصب کے پنچے میں پھنس گیا تھا صرف علی علیہ السلام کی ذات تھی جس کا طرزتفکر ان چیزوں سے الگ تھا کہ حکومت کی باگ ڈور کو تعصب کی طاقت سے حاصل کریں چونکہ آپ برسوں تک پیغمبر اسلام کے شانہ بہ شانہ خاندانی اور قومی تعصبات کو نابود کرنے کیلئے مسلسل جہاد کرچکے تھے
اگر علی علیہ السلام اپنے لئے حق حاکمیت کا مطالبہ کرتے تھے ، تووہ اسلئے تھا کہ ایک ایسی حکومت قائم کریں جس کی بنیاد قرآن اور دین کے حکم کے علاوہ کسی اور چیز پر نہ ہو ، علی علیہ السلام چاہتے تھے ، سلمان ، ابوذر اور عمار جیسے صحابی ان کی حمایت کریں تاکہ ان کی حمایت میں عقیدہ الہی کے سوا کوئی اور بنیاد اور سبب نہ ہو، نہ ابو سفیان جیسوں کی حمایت جس کی حمایت کا سبب دنیاوی امور اور خاندانی تعصب کے علاوہ کوئی اور چیز نہ تھی “
ہماری گفتگو کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر چہ ابو سفیان حضرت علی علیہ السلام کی نسبت اظہار تعصب کرنے میں دینی محرک نہیں رکھتا تھا لیکن پھر بھی خاندانی تعصب کے اثر میں حقیقی معنوں میں علی علیہ السلام کا حامی تھا ، لیکن تاریخ کے ظالم ہاتھوں نے جب دیکھا کہ ابو سفیان نے ابو بکر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا تو اس انقلاب کی حیثیت کو داغدار کرنے کیلئے ، تاریخ کے صفحات میں لکھ دیا کہ ابو سفیان ایک مہم جو اور شورش برپا کرنے والا شخص تھا ور اس بغاوت سے اس کا مقصد صرف فتنہ برپا کرکے معاشرے کے امن و سلامتی کو درہم برہم کرنا تھا ! اس کے علاوہ یہی تاریخی ظلم ان تمام افراد کے بارے میں روا رکھا گیا ہے جنہوں نے ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا ، انھیں بلوائی شورشی اور مرتد کہا گیا ہے اس تہمت کو ابوسفیان کے بارے میں حقیقت سے زیادہ قریب کیلئے اس روایت کو حضرت علی علیہ السلام کی زبانی جعل کیا گیا ہے کہ جب ابو سفیان نے علی علیہ السلام سے کہاکہ : ”کیوں یہ کام قبیلہ قریش کے کم تر اور سب سے چھوٹے خاندان کو سونپا جائے ؟ خدا کی قسم اگر اجازت دو تو مدینہ کو سواروں اورپیادہ سے بھردونگا ، تو علی علیہ السلام نے ابو سفیان کے جواب میں فرمایا: ” اے ابو سفیان ! تم نے ایک طولانی عمر اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں گزاری ہے لیکن دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے ہو ، ہم نے اس کام کیلئے ابوبکر کو شائستہ اور لائق پایا ہے ۔!!“(۱)
اس روایت کی جانچ پڑتال میں بھی ہم اس روایت کی سند پر اعتراض کرتے ہیں ، کیوں کہ اس کا راوی دسیوں سال اس واقعہ کے بعدگذراہے ان روایتوں میں سے بعض کا راوی ابو عوانہ ہے کہ جو حدیث گڑھنے میں مشہور تھا اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے :
کان عثمانیاً یضع الاخبار (۲)
____________________
۱۔ طبری ج ۳/ ۲۰۲۔
۲۔ ابو عوانہ کے حالات ” لسان المیزان “ ج ۴/ ۳۸۴، الحضارة الاسلامیہ ادم متز ج ۱/ ۸۳ ، ابو عوانہ ۵۸ئھ میں فوت ہوا ۔ دوسری روایت کا راوی ” مرة “ ہے کہ اس کے بارے میں کہا گیا ہے : اس نے ابو بکر و عمر کو نہیں دیکھا ہے ، تہذیب التہذیب ج ۱۰/ ۸۹۔
اس کے علاوہ متن روایت کے بارے میں بھی ہمار ااعتراض ہے کہ اگر یہ روایت صحیح ہے تو معلوم نہیں ابو سفیان نے حضرت علی علیہ السلام کے جواب میں کیوں نہ کہا؛ اگر ابو بکر اس مقام کیلئے سزاوار ہے تو کیوں خود اس کی بیعت نہیں کرتے ہو؟(۱)
علی نے ہر گز نہیں فرمایا ہے کہ ”ہم نے اس کو اس کام کیلئے لائق پایا ‘ بلکہ آپ نے فرمایا ہے : اگر فولادی عزم والے چالیس آدمی ہماری نصرت کرتے تو ہم مقابلہ اور مبارزہ کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے(۲)
اس بات میں ابو سفیان کی طرف کنایہ ہے کہ یعنی تم و یسے مرد نہیں ہو جیسا میں چاہتا ہوں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے معاویہ کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں ابو سفیان کی حمایت کے بارے میں یوں ذکر فرمایا ہے :
تیرا باپ ہمارے حق کو تجھ سے بہتر سمجھتا تھا ، اگر تم اسی قدر کہ تیرا باپ ہمارے حق کو جانتا تھا ، جانتے ، ، تو معلوم ہوتا کہ عقل و فکر کی پختگی کے مالک ہو(۳)
ابو سفیان جب حضرت علی علیہ السلام سے ناامید ہوا ، دوسری طرف سے حکام وقت بھی اسکی مخالفت سے ڈرتے تھے ، لہذاحضرت عمر ابوبکر کے پاس جاکر بولے: اس گھٹیا آدمی کے شر سے محفوط نہیں رہا جاسکتا ، رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم بھی ہمیشہ اس کی اس لئے دلجوئی فرماتے تھے ، جتنا بھی صدقہ اور بیت المال اس کے پاس ہے اسے بخش دو تا کہ خاموش رہے ۔
____________________
۱۔ گزشتہ فصل کے عنوان ” ابو بکر کی بیعت کے بارے مں حضرت علی علیہ السلام کی پالیسی“ ملاحظہ ہو۔
۲۔ گزشتہ فصل کے عنوان ” ابو بکر بیعت کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کی پالیسی“ ملاحظہ ہو۔ اس کے علاوہ معاویہ کاحضرت علی علیہ السلام کے نام خط ملاحظہ ہو ۔
۳۔ کتاب صفین نصر بن مزاہم ۴۹ ، العقد الفرید ج ۳/ ۱۳ ، شرح ابن ابی الحدید ج ۲/ ۲۲۱۔
ابو بکر نے ایسا ہی کیاتو ابو سفیان نے راضی ہوکر ابو بکر کی بیعت کرلی(۱)
طبری کی روایت سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ ابو سفیان نے اس وقت تک ابو بکر کی بیعت نہیں کی جب تک اس نے اپنے بیٹے یزید بن ابو سفیان کو شام بھیجے جانے والے لشکر کی کمانڈری کا حکم حاصل نہیں کرلیا(۲)
اس سے پتا چلتا ہے کہ ابو سفیان حضرت علی علیہ السلام کی حمایت کرنے میں کس قدر دینی و الٰہی پہلوؤں کی رعایت کرتا تھا اور کس حد تک دنیوی اور مادی منافع کے پیچھے تھا !!
____________________
۱۔ العقد الفرید ۳/ ۶۲۔
۲۔ طبری ج ۲/ ۴۴۹۔
سقیفہ کی داستان کے بارے میں سیف کی روایتوں کی چھان،بین
تتابع المهاجروں علی بیعته من غیر ان یدعوهم
مہاجرین کی جماعت کے افرا یکے بعد دیگرے ابو بکر کی بیعت کرتے تھے ، بغیر اس کے کہ ان سے کوئی بیعت کرنے کی دعوت کرتا
سیف
و ان جمیع بنی هاشم و جمعاً من المهاجرین تخلّفوا عن بیعة ابی بکر
تما بنی ہاشم اور مہاجرین کی ایک پارٹی نے ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا
مورخین
کتاب کی فصلوں کے درمیان ربط
ہم نے اس کتاب کی پہلی فصل میں سپاہ اسامہ کے بارے میں سیف کی روایتوں کی بررسی کی ، کتاب کی دوسری فصل سے سقیفہ کی داستان کو شروع کیا اور اس فصل میں سقیفہ کی داستان کے بارے میں سیف کی سات روایتیں نقل کیں ، بعد والی فصلوں میں ہم نے دوسرے مؤرخین کی روایتوں پر روشنی ڈالی ، اس فصل میں سیف کی سات روایتوں کو دوسرے تاریخ نویسوں کی روایتوں سے تطبیق اور موازنہ کیا اور اس تحقیق اور بررسی کے نتیجہ کا اعلان کرتے ہوئے کتاب کے اس حصہ کو اختتام تک پہنچایاہے ۔ اس کے بعد کتاب کے دوسرے حصوں میں سیف کی دوسری روایتوں پر بحث کی ہے ۔
سیف کی روایتیں
سقیفہ کی داستان کے بارے میں سیف کی سات روایتوں کو اس کتاب کی پہلی فصل میں قارئین کرام نے مطالعہ فرمایا؛ یہاں پر ہم یاددہانی کے طور پر ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے تاریخ نویسوں کی روایتوں سے ان کا موازنہ اور تطبیق کرکے ان کی قدر وقیمت کا اندازہ لگائیں گے :
اول: سیف نے قعقاع بن عمرو کے ساتھ انصار کی مخالفت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے کہا؛ میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کو درک کیا ہے ، پس جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھ لی ، ایک شخص آیا اور مسجد میں کھڑے ہوکر مہاجرین کو خبر دی کہ انصار سعد کو منتخب کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں اور اس طرح چاہتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کو توڑدیں ، اس خبر نے مہاجرین کو وحشت میں ڈالدیا ۔
دوم : سیف نے ایک روایت میں ، جسے اس نے سوال و جواب ک صور ت میں پیش کیا ہے کہتا ہے : کسی ایک نے بھی ابو بکر کی بیعت سے مخالفت نہیں کی مگر ان لوگوں نے جو مرتدہوگئے تھے اور دین اسلام سے منحرف ہوگئے تھے ، یا تقریباً مرتد ہوگئے تھے تمام مہاجرین نے انھیں دعوت دے کر یکے بعد دیگرے بیعت کی ۔
سوم : مزید روایت کی ہے کہ حباب بن منذر نے تلوار کھینچ لی اور عمر نے اس کے ہاتھ پر ایسی چوٹ لگائی کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اس کے بعد انصار بیمار اور صاحب فراش سعد کے بدن پر سے چھلانگ لگا کر یکے بعد دیگرے بیعت کرتے رہے ، اور انصار کی یہ مخالفت عصر جاہلیت کی لغزشوں کے مانند ایک خطا تھی ، ابو بکر نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔
چہارم : اس نے روایت نقل کی ہے کہ سعد نے ابو بکر سے کہا: تم کومہاجرین اور میری قوم (انصار) نے مجھے بیعت کرنے پر مجبور کیا۔
ابو بکر نے جواب میں کہا: اگر ہم تجھے معاشرے کو چھوڑنے پر مجبور کرتے اور تم ہماری مرضی کے خلاف معاشرے سے جا ملتے تو کوئی بات تھی ، لیکن ہم نے تجھے معاشرے سے ملنے پر مجبور کیا ہے ، اب واپس لوٹ نہیں سکتے ہو، اگر نافرمانی کرو گے یا معاشرے میں تفرقہ اندازی کرو گے تو ہم تیرا سر قلم کردیں گے ۔
پنجم : علی ابن ابیطالب کی بیعت کے بارے میں کہتا ہے :
حضرت علی علیہ السلام گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خبر دی گئی کہ ابو بکر بیعت لینے کیلئے بیٹھے ہیں ، حضرت علی عباوشلوار کے بغیر صرف ایک کرتا پہنے ہوئے حیران و پریشان حالت میں گھر سے باہر نکل آئے تا کہ ابو بکر کی بیعت کرنے میں تاخیر نہ ہوجائے ، اور دوڑتے ہوئے ابو بکرکی بیعت کی اس کے بعد کسی کو بھیج دیا تا کہ ان کا لباس لائے۔
ششم : سیف نے نسبتاً طولانی دو خطبوں کو ابو بکر سے منسوب کیا ہے کہ لوگوں کی طرف سے بیعت کئے جانے کے بعد انہوں نے یہ خطبہ دیئے ہیں ، اور سیف کہتا ہے کہ ابو بکر نے ان خطبوں میں موت ، دنیا کے فانی ہونے اور قیامت کے بارے میں بیان کیا ہے ۔
ہفتم : اور خالد بن سعید اموی کی، حضرت ابو بکر کی بیعت سے مخالفت کے بارے میں روایت کی ہے خالد بن سعید نے امن و آشتی صلح و صفا کے زمانے میں حریر کا لباس پہنے ہوئے تھے عمر نے حکم دیا کہ ان کے جسم سے اس لباس کو پھاڑ کر اتاردیا جائے یہی وجہ تھی کہ خالد نے حضرت علی سے کہا اے عبد مناف کے بیٹو! کیا تم لوگوں نے شکست کھا ئی ہے اور مغلوب ہوچکے ہو ! حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں کہا؛ کیا تم اسے جنگ جانتے ہو یا خلافت ؟! عمر نے خالد سے کہا؛ خدا تیرے منہ کو توڑ دے تم نے ایک ایسی بات زبان پر جاری کی ہے جو جھوٹ بولنے والوں کیلئے ہمیشہ کیلئے سند کے طور پر باقی رہے گی
مذکورہ سات روایتوں کے اس مجموعہ سے مندرجہ ذیل خاص اور بنیادی نکات قابل تحقیق ہیں ؛
۱ ۔ یہ کہ حضرت علی علیہ السلام نے پہلے ہی دن عجلت کے ساتھ ابو بکر کے پا س جاکر ان کی بیعت کی
۲ ۔ یہ کہ سعد بن عبادہ انصاری نے پہلے ہی دن بیعت کی ۔
۳ ۔ یہ کہ ابو بکر کی خلافت ، رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ایک عہد و پیمان تھا۔
۴ ۔ یہ کہ حباب بن منذر انصاری نے سقفیہ میں تلوار کھینچی ہے
۵ ۔ یہ کہ ابو بکر نے بیعت کے بعددو طولانی خطبے جاری کئے ہیں ۔
۶ ۔ یہ کہ سقیفہ میں رونما ہونے والی روداد کے بارے میں خالد بن سعید قبیلوں کے درمیان مقابلہ اور مبارزہ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس تعبیر پر علی اور عمر کی طرف سے مورد اعتراض قرار پاتے ہیں ۔
۷ ۔ یہ کہ مرتدوں کے علاوہ کسی ایک نے بھی ابو بکر کی بیعت سے انکار و مخالفت نہیں کی ۔
اب ہم بحث کے اس حصہ میں مذکورہ نکات کی بالترتیب چھان بین کرتے ہیں ۔
تطبیق اور بررسی
جب ہم سیف کی روایتوں کو صحیح اور متواتر روایتوں ، جن میں سے بعض کو ہم نے اس سے قبل والی روایتوں کے پہلو میں قرار دیکر ان میں موازنہ کرتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ سیف خلاف واقع حدیث جعل کرنے میں حددرجہ حریص اور لالچی تھا ۔
اول : سیف اپنی روایتوں میں اصحاب اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ داروں خاص کر بنی ہاشم اور مہاجرین کے امیدوار حضرت علی علیہ السلام اور انصار کے نمائندہ سعد کا نام لیتاہے اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ ان دو افراد نے پہلے ہی دن ابو بکر کی بیعت کی، جبکہ دوسرے مؤرخین کی روایتوں (جن کو ہم نے گزشتہ فصلوں میں نقل کیا ہے) سے واضح اور مکمل طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کھلم کھلا اپنے لئے خلافت کا مطالبہ کرتے تھے اور بنی ہاشم کے تمام افراد اور مہاجرین کے بھی کچھ لوگوں نے ان کے حق میں ابو بکر کی بیعت کرنے سے انکارکیا ، اور یہ سب حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کرنا چاہتے تھے ، کہا گیا ہے کہ جب تک پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام زندہ تھیں ، حضرت علی علیہ السلام اور بنی ہاشم میں سے کسی ایک نے بھی ابو بکر کی بیعت نہیں کی ! لیکن سیف کہتا ہے :
” حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے ہی دن عجلت کے ساتھ بلکہ اسی لمحہ میں ابو بکر کی بیعت کی !‘ جبکہ حضرت علی علیہ السلام اس دن رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے اور بنی ہاشم کے دیگر افراد ایک لمحہ کیلئے بھی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ سے جدا نہیں ہوئے اور دوسروں کی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے محروم نہیں رہے ۔
لیکن سیف کہتا ہے : ” علی جلد بازی کی شدت کی وجہ سے عبا و شلوار کے بغیر دوڑتے ہوئے گھر
سے باہر آئے اور ابو بکر کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر ان کی بیعت کی اور اس کے بعدان کے پاس بیٹھے“
اگرسیف کا یہ کہنا صحیح ہے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازہ کا کیا حال ہوا ؟! تجہیز و تکفین کے کام کو کس نے انجام دیا ؟! سیف یہ کہنا بھول گیا ہے
دوم : سعد نے عمر کی خلافت تک بیعت نہیں کی اور اپنے گھر اور گھر والوں سے دور شام کی سرزمین میں دو، پریوں نے تیر مار کر اسے ہلاک کیا ، اس کی جلاوطنی اور عالم تنہائی میں قتل ہونے کی علت صرف اور صرف سند جرم اس کا بیعت سے انکار کرنا تھا ۔
سوم : اس نے قعقاع بن عمرو سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا؛ میں رسول اللہ کی رحلت کے دن مسجد میں تھا ، نماز کے بعد ایک شخص آیا او رمہاجرین کو خبر دی کہ انصار جمع ہوئے ہیں اور رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے عہد و پیمان کے خلاف سعدکی بیعت کرنا چاہتے ہیں !
جیسا کہ پہلے اشارہ ہوا کہ سیف روایت جعل کرنے میں خاص تجربہ اورمہارت رکھتا تھا ، مثلاً اس روایت میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ایک عہد و پیمان کا نام لیا ہے اور لشکر اسامہ کی روایت کو نقل کرتا ہے تا کہ اس عہد و پیمان سے مربوط شخص معلوم ہوجائے ، جہاں پر کہتا ہے : جوں ہی اسامہ کو رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کی خبر ملی ، اپنا سفر موقوف کرکے عمر کو خلیفہ رسول خدا ابو بکر کے پاس بھیجا
ان دو روایتوں کو پڑھنے والا پہلی روایت سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ خلافت کے بارے میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی عہد و پیمان تھا اور انصار اس کی خلاف ورزی کرناچاہتے تھے دوسری روایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ عہد و پیمان ابو بکر کے بارے میں تھا سیف کہتا ہے جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کی خبر اسامہ کو ملی تو وہ اس جگہ رک گیا اور عمر کو رسول خدا کے پاس بھیجا ۔
ایک دوسری روایت میں وہ خود بھی اس نظریہ کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے : تمام مہاجرین نے بغیر ا سکے کہ کوئی انھیں د عوت دیے یکے بعد دیگرے بیعت کی، لیکن ہم تحقیق اور بررسی کے بعد دیکھتے ہیں کہ اس روایت کا راوی قعقاع بن عمرو در حقیقت خار ج میں وجود ہی نہیں رکھتا ہے اور سیف کے افسانوں کا جعلی ہیروہے ، ہم نے اس مطلب کو اپنی کتا ب” ایک سو پچاس جعلی اصحاب “ میں واضح طور پر بیان کیا ہے ۔
چہارم: سیف کہتا ہے کہ حباب بن منذر انصاری نے سعد بن عبادہ کی بیعت کیلئے تلوار کھینچ لی ، جبکہ حقیقت میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی زبیر بن عوام نے علی کے حق میں بیعت لینے کیلئے تلوار کھینچ لی تھی ، لیکن چونکہ زبیر اور علی مہاجروں میں سے تھے اسلئے سیف کہنا چاہتاتھا کہ مہاجرین میں سے کسی ایک نے بھی ابو بکر کی مخالفت نہیں کی صرف انصار تھے جنہوں نے مخالفت کی، لہذا اس نے زبیر کے کام کو حباب سے منسوب کیا ہے ! اور یہ کہ اسکا کام بھی سعد انصاری کی حمایت میں تھا نہ حضرت علی قریشی کی حمایت میں ۔
پنجم : عمر نے ابو بکر سے بیعت کے بارے میں کہا تھا : ابو بکر سے بیعت کرنازمانہ جاہلیت کی لغزشوں جیسی ایک لغزش اور خطا تھی ۱ سیف نے عمر کے بیان پر پردہ پوشی کرنے کیلئے ابو بکر کی بیعت سے انصار کی مخالفت کو ” فلتہ“ یا لغزش سے تعبیر کیا ہے تھاکہ پڑھنے والا خیال کرے کہ عمر کی مراد ”فلتہ “ سے وہی لغزش تھی !!
ششم : سیف نے نسبتاً طولانی دو خطبوں کو ابو بکر سے منسوب کیاہے کہ لوگوں کی بیعت کرنے کے بعد ابوبکر نے ان دو خطبوں کو جاری کیا ہے ، اگر ان دو خطبوں پر دقت اور جانچ پڑتال کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیف کی یہ روایت بھی اس کی دیگر روایتوں کے مانند جعلی ہے کیونکہ اس کے باوجود کہ ان دو خطبوں کا مواد اغلب موعظہ او رموت ، دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کے عذاب کی یاد دہانی پرمبنی ہے ، خلفاء ثلاثہ کے خطبوں کی یہ روش نہیں ہوتی تھی یہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی ابن ابیطالب سے مخصوص روش تھی ،اور علی کے بعد مسلمانوں میں یہ معمول رہا ہے ، سیف کے لکھے گئے اشعار و رزم نامہ نسبتاً فصیح اور دلچسپ ہوا کرتے ہیں ، البتہ اس کے بر عکس یہ دو خطبے انتہائی بے مزہ اور سست انشاء پر مشتمل ہیں ، گویا سیف وعظ و نصیحت اور ثواب و عقاب کے بارے میں عقائد سے لئے گئے الہام کے تحت مناسب مہارت نہیں رکھتا تھا ، اس کی جھوٹ گڑھنے والی زبان اس حصہ کوبخوبی جعل کرنے میں ناکام رہی ہے اس کے علاوہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابو بکر کے زمانے
____________________
۱۔ انھا کانت فلتة کفلتات الجاھلیة ۔
میں بنیادی طور پر طولانی خطبوں کا رواج نہیں تھا اور غالباً خطبے چھوٹے اور قابل سماعت ہوتے تھے ، طولانی خطبوں کا رواج عمر کے زمانے سے شروع ہوا ہے علی کی خلافت کے دوران اپنے عروج کو پہنچا۔
اس کے علاوہ حکومت کے عہدہ دار عام طور پر اپنے پہلے خطبہ میں اپنی حکومت کے پروگرام اور منصوبوں کا اعلان کرتے ہیں ، یہ نکتہ ابو بکر کے حقیقی اور مختصر خطبوں میں مکمل طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے جن کے بارے میں دوسرے مؤرخین نے روایت کی ہے ، ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جو بات زیادہ دلچسپ اور قابل توجہ ہے وہ سیف کا وہ جملہ ہے کہ جسے اس نے ان دو خطبوں میں ابو بکر سے منسوب کیا ہے کہ ابو بکر نے کہا:
الا وان لی شیطاناً یعترینی فاذا اتانی فاجتنبونی و لا اوثر فی اشعارکم و ابشارکم (۱)
معلوم نہیں اس جملہ کو ابو بکر سے منسوب کرنے میں اس کا کیا مقصد تھا ؟ کیا اس نے یہ محسوس کیا تھا کہ اس زمانے کے لوگ ابو بکر سے بھی وعظ و نصیحت اور ترک دنیا کے موضوع پر پیغمبر اورعلی بن ابیطالب کے جیسے خطبے سننا پسند کرتے ہیں ؟ اگر ایسا تھا ، تو ، وہ کیوں متوجہ نہیں ہوا کہ چارو ناچار ابو بکر کے اس بیان کی شدید ملامت و مذمت کی ہے ! اور اس صورت میں خلیفہ مسلمین کا اعتراف ہرگز
____________________
۱۔اس جملہ کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔
مناسب نہیں ہے، اور خلیفہ پر شیطان کا غلبہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں کا ان سے پرہیز کرنا ،صحیح معنی و مفہوم نہیں رکھتا ، یہ جملہ بھی خلیفہ کے توسط لشکر اسامہ(۱) کو الوداع کرتے وقت پڑھی گئی دعا کے مانند مسلمانوں میں خلیفہ کیلئے بدگمانی اور نفرت پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ سیف اس سے زیادہ چالاک تھا کہ ان جوانب کی طرف متوجہ نہ ہوتا بلکہ ہمارے عقیدہ کے مطابق سیف نے اپنے الحاد اور اسلام سے دشمنی کے باعث(جیسا کہ علمائے رجال نے بھی اسے زندیق کہا ہے)(۲) چاہا ہے کہ کچھ مضحکہ خیزاوھام اور کام کو تاریخ اسلام میں داخل کرے تا کہ اس طرح اسلام کی با عظمت عمارت کو متزلزل کرکے رکھدے آئندہ بحثوں میں نقل کی جانے والی روایتوں پر دقت کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجائے گی ۔
ہفتم : سیف خالد بن سعید اموی کی ابو بکرکی بیعت سے مخالفت کے بارے میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محافظ صخر سے نقل کی گئی روایتوں میں کہتا ہے: خالد جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے وقت یمن میں تھا ، پیغمبر کی وفات کے ایک ماہ بعد مدینہ آیا جبکہ وہ ریشمی لباس زیب تن کئے ہوئے تھا اور عمر کے حکم سے اس کے لباس کو پھاڑ ڈالا گیا چونکہ جنگ کی حالت کے علاوہ مردوں کیلئے ریشمی لباس پہننا جائز نہیں ہے ۔
روایت کے اس حصہ سے سیف کا مقصد بیعت ابو بکر سے خالد کی مخالفت کو انتقامی
____________________
۱۔ فضل ” لشکر اسامہ “ ملاحظہ ہو
۲۔ فصل ” سیف کتب رجال میں “ ملاحظہ ہو
رنگ دینا ہے تا کہ اسے اس توہین آمیز واقعہ کے ذریعہ مستند بنادے ، اس کے بعد کہتا ہے خالد نے حضرت علی سے کہا؛ اے ابو الحسن ! افسوس ہے عبد مناف کی اولاد پر ! آپ لوگوں نے مقابلہ میں شکست کھائی ہے ! یعنی کس طرح قبیلہ تیم، قبیلہ عبد مناف کے مقابلہ میں کامیاب ہوگیا ؟!
حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا : یہ قبیلوں کی جنگ نہیں تھی ، بلکہ امر خلافت ہے اور خلافت کا موضوع خاندانی مقابلہ اور تعصب سے جدا ہے ! لیکن خالد نے تکرار کرتے ہوئے دوبارہ کہا: اے عبد مناف کی اولاد ! خلافت کیلئے آپ لوگوں سے سزاوار تر کوئی نہیں ہے “ اور اس طرح دوبارہ مقصد کو خاندانی مقابلہ کے طورپر پیش کیا ۔
یہاں پر عمر نے خالد سے کہا؛ خدا تیرے منہ کو توڑدے تم نے ایک ایسی بات کہی جو جھوٹ بولنے والوں کیلئے ہمیشہ سند کے طور پر باقی رہے گی
جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ سقیفہ کی فعالیتوں کی بنیاد خاندانی تعصب پر تھی ۱ لیکن سیف اس روایت کے آخری حصہ کو جعل کرکے کہنا چاہتا ہے کہ یہ صرف خالد تھا جو ایسا سوچتا تھا ورنہ مہاجرین و انصار کا دامن ان چیزوں سے پاک و پاکیزہ تھا کہ خلافت کے موضوع پر خاندانی تعصب دکھائیں ، لہذا حضرت علی علیہ السلام نے اس روایت میں خالد کی بات پر اعتراض کیاا ور عمر بھی برہم ہوئے اور خالد کو برا بھلا کہا، اس طرح سیف چاہتا ہے ابو بکر کی بیعت کے بعد خاندانی تعصب کی بنا پر کہے گئے تمام مطالب کو (جو تاریخ میں ثبت ہوئے ہیں) عمر سے منسوب کی گئی پیشن گوئی کے ذریعہ ختم کردے۔
اس سے اہم تر یہ کہ سیف یہ دکھانا چاہتا تھا کہ بنیادی طور پر اس امر میں حضرت علی علیہ السلام ابوبکر اور عمر کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں تھا ، تا کہ اگر کسی اختلاف کے بارے میں گفتگو ہوتی تو لوگ سمجھتے کہ اس کی بنیاد خالد کی بات تھی اور عمر نے اس کی پیشین گوئی کی تھی اور خبر دیدی تھی کہ یہ بات مستقبل میں جھوٹ بولنے والوں کیلئے ایک سند بن جائے گی ، لہذا جو بھی ان کے درمیان اختلاف کی بات کرے گا وہ جھوٹا ہوگا (توجہ کیجئے)
ساتھ میں یہ بات بھی ہم فراموش نہ کریں کہ سیف نے اس روایت کو پیغمبر کے محافط صخر سے نقل کیا ہے جبکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس نام کاکوئی محافظ نہیں تھا اور مذکورہ محافظ جعلی اصحاب میں سے ایک ہے ۔
ہشتم : سب سے اہم جملہ جو سیف کی جعلی روایتوں میں پایا جاتا ہے ، یہ ہے کہ وہ کہتا ہے ؛ کسی نے بھی ابو بکر کی بیعت سے انکار نہیں کیا ، مگر یہ کہ مرتد ہوگیا ہو یعنی دین اسلام سے خارج ہوگیا ہو ، یا مرتد کے قریب پہونچ گیا ہو!
سیف نے اس روایت کو گڑھ کر ابو بکر کی بیعت نہ کرنے والے مؤمنوں اور مسلمانوں کے ناموں کو تاریخ کے صفحات سے پاک کرناچاہا ہے لہذا انھیں مرتد اور بے دین بتایا گیاہے تا کہ اس عمل سے یہ ظاہر ہو کہ اگر کوئی مطالعہ کرنے والا تاریخ کے متون میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے صحابیوں کے ایک گروہ کو دیکھئے کہ ا نھوں نے ابو بکر کی بیعت سے مخالفت کی ہے ، تو فوراً اس جملہ کے استناد پر انھیں حکم کفر و ارتداد دیکر مرتدوں کی فہرست میں قرار دے !
اب دیکھنا چاہئے کہ جو شخصیتیں سیف کے ارتدادی تہمت کے زمرہ میں آئی ہیں کون ہیں اور کیا سیف کی تہمت کا عنوان ان پر صادق آتا ہے ؟!
ابو بکر کی بیعت سے اختلاف کرنےو الے اشخاص حسب ذیل ہیں :
۱ ۔ علی بن ابیطالب علیہ السلام
۲ ۔ رسول اللہ کی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا
۳ ۔ زیبر بن عوام ، یپغمبر کے پھوپھی زاد بھائی ۔
۴ ۔ عباس ، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا۔
۵ ۔ سعد وقاص، فاتح عراق
۶ ۔ طلحہ بن عبید اللہ
۷ ۔ مقداد بن اسود ۔
۸ ۔ ابوذر غفاری ۔
۹ ۔ سلمان فارسی
۱۰ ۔ عمار یاسر
۱۱ ۔ براء بن عازب انصاری
۱۲ ۔ ابی بن کعب انصاری
۱۳ ۔ فضل بن عباس، پیغمبر کے چچیرے بھائی
۱۴ ۔ ابو سفیان بن حرب اموی ۔
۱۵ ۔ خالد بن سعید اموی ۔
۱۶ ۔ ابان بن سعید اموی ۔
۱۷ ۔ سعد بن عبادہ انصاری
۱۸ ۔مالک بن نویرہ
یہ اٹھارہ شخصیتیں وہ ہیں ، جنہوں نے تاریخ کے مطابق ابو بکر کی بیعت سے مخالفت کی ، ان کے علاوہ بنی ہاشم کے تمام افراد کے بارے میں بھی مؤرخین نے صراحت سے کہا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء کی زندگی میں انہوں نے ابو بکر کی بیعت نہیں کی ۔
کیا اسلام کی ایسی شخصیتوں کو سیف کے کہنے کے مطابق (نعوذ باللہ) مرتد کہا جاسکتا ہے ؟!
اصحاب رسول میں سے یہ افراد سب کے سب مدینہ میں موجود تھے ،لیکن مدینہ سے باہر رہنے والے جن افراد نے ابو بکر کی بیعت سے مخالفت کی ، ان میں سے بعض افراد ابو بکر کی مخالفت کی راہ میں قتل کئے گئے ، جیسے : مالک بن نویرہ و غیرہ جن کو سیف نے صراحتاً مرتد قرار دیا ہے اور ان کے ساتھ ابو بکر کی جنگ کو مرتدوں سے جنگ کا نام دیا ہے اور ان جنگوں کو بھی حقیقت کے برعکس دکھایا ہے ، انشاء اللہ ہم خدا کے مدد سے آنے والی جلد میں ان میں سے بعض کی تحقیق کریں گے ۔
آغاز کی طرف بازگشت
آخر میں ہم ابتدائی بات کی طرف لوٹتے ہیں ، ہماری نظر میں ان صفحات کی گنجائش کے مطابق سیف کی حقیقت واضح ہوگئی ہم نے دیکھا کہ سیف نے کس طرح تاریخ اسلام کو اپنے خائن ہاتھوں کا کھلونا بنایا ہے اور اپنے مضحکہ خیز افسانوں کو مسلمانوں ،غیر مسلمانوں او رمستشرقین میں رائج کردیا ہے او راس کے افسانوں کے سورما حضرات، اصحاب اور اسلام کی شخصیات کے طور پر معرفی ہوئے ہیں ۔
کیا ابھی بھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ہم خود غرضوں کو چھوڑ کر ، اسلام کے دامن کو جھوٹ اور حقیقت سے عاری روایتوں کوپاک کریں اور بحث و تحقیق کے ذریعہ پیغمبر اسلام ، آپ کے خاندان اور اصحاب کی زندگی کو حقیقت کے روپ میں پیش کریں ، اور نتیجہ کے طور پر حقیقی اسلام کو موجودہ اور آئندہ نسل کیلئے متعارف کرائیں ؟
یا ہمارا مزاج ان مضحکہ خیز افسانوں کا عادی بن گیا ہے کہ اسلام کے دفاع کے نام پر ان افسانوں اور افسانہ سازوں کا دفاع کرکے اسلامی حقائق کو منتشر کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ایجاد کرتے ہیں ؟
تیسرا حصہ :
سیف کی روایتوں میں ارتداد اور مرتد
اسلام میں ارتداد۔
ابوبکر کے دوران ارتداد۔
سیف کے علاوہ روایت میں ، داستان مالک بن نویرہ۔
متن وسند کے لحاظ سے داستان مالک کی تحقیق
سیف کی روایتوں کی چھان بین ۔
علاء حضرمی کی داستان ۔
حواب کی داستان۔
اسلام میں ارتداد
فتکشف ما فی الصدور و تجلّت النفس العربیة
پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بعض لوگوں کے اندرونی عقدے کھل گئے نیز ان کی عربی خو، بو کی فطرت اور خاندانی تعصب آشکار ہوئے۔
تاریخ سیاسی اسلام
ارتداد کے معنی
عربی لغت میں ارتداد ” بازگشت“ کے معنی میں ہے ، قرآن مجید میں آیہ <فَلّما إنْ جَاءَ البَشیر القیه علی وجهه فارتدّ بَصیراً >(۱) بھی اس معنی میں آئی ہے اور کلمہ ” رد “ بھی قرآن کریم میں ” دین سے منہ پھیرنے “ اور مسلمانوں کی اسلام سے روگردانی کے معنی میں آیا ہے ، چنانچہ اس آیت میں آیا ہے : <یا ایُّها الّذینَ آمنوا اِن تُطیعوا فریقاً مِنْ الَّذینَ اوتوا الکِتابَ یَرُدّوکُم بعد إیمانکم کافِرینَ >(۲)
____________________
۱۔ یوسف ،۹۷۔
۲۔ آل عمران، ۹۹۔
اور ” ارتداد“ یعنی دین سے منہ موڑ لیا ، چنانچہ آیہ کریمہ <یا ایها الذین آمنوا من یرتدّ منکم عن دینه فسوف یا تی الله بقوم یحبّهم و یحبّونه اذلة علی المؤمنین اعزة علی الکافرین >(۱) میں اور آیت <ولایزالوں یقاتلونکم حتی یردّوکم عن دینکم ان استطاعوا و من یَرتَدِد منکم عن دینه فیمت وهو کافر اولئک حبطت اعمالهم >(۲) میں لیکن ارتداد کا استعمال اسلام میں بازگشت کے معنی میں اس قدر مشہور ہوا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اورمعنی ذہن میں نہیں آتا ۔
پیغمبر کے زمانے میں مرتد
بعض مسلمان ، پیغمبر کے زمانے ہی میں مرتد ہوگئے ، جیسے : عبد اللهبن سعد بن ابی سرح ، اس نے اسلام قبول کرکے مدینہ ہجرت کی اور پیغمبر اسلام کا کاتب بن گیا ، اور اس کے بعد مرتد ہوگیااور قریش کی طر ف مکہ لوٹاوہ قریش سے کہتا تھا کہ میں وحی لکھنے والوں میں سے ایک تھااور محمد کو جس طرف چاہتا موڑدیتا تھا ، وہ مجھ سے کہتے تھے کہ ” عزیز حکیم “ لکھو، میں کہتا تھا یا علیم حکیم ؟! وہ فرماتے تھے : جی ہاں ، دونوں مناسب ہیں ۔
جب فتح مکہ کا دن آیاتو رسول الله نے عبد اللہ کو قتل کرنا حلال کردیا اور حکم فرمایا جو کوئی عبد اللہ کو جس حالت میں بھی پائے ، حتی وہ کعبہ کے پردے کا دامن بھی پکڑے ہو توبھی اسے قتل کرڈالے عبد اللہ نے اپنے رضاعی بھائی عثمان کے پاس پنا ہ لی ، عثمان نے اسے اپنے گھر میں چھپا ئے رکھا ، اور
____________________
۱۔ المائدہ /۵۴
۲۔ البقرہ/۲۱۷
اسکے بعد رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے حضور لاکر امان حاصل کی(۱)
دیگر مرتدین میں ایک عبدا للہ جحش ہے جو پہلے ام حبیبہ کا شوہر تھا اور اپنی بیوی سمیت اسلام قبول کیا عبداللہ نے حبشہ میں دین مسیحیت اختیار کیا اور اسی حالت میں انتقال کرگیا اور ایک مرتد عبد ا للہ بن خطل تھا وہ اس حالت میں قتل کیا گیا کہ کعبہ کا پردہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا(۲) ،یہ تھے پیغمبر کے زمانے میں ارتداد کا معنی ، یہ وہ لوگ تھے کہ اسلام کی نظرمیں مرتد ہوچکے تھے اب دیکھنا یہ ہے کہ ابو بکر کے زمانے میں ارتداد کے کیا معنی تھے اور وہ کن لوگوں کو مرتد جانتے تھے ۔
ابو بکر کے زمانے میں ارتداد
رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کی دلسوز خبر جنگل کی آگ کے مانند تمام جزیرہ عرب میں پھیل گئی ، اس زمانے میں جزیرہ میں ساکن عرب دو حصوں میں تقسیم ہوتے تھے :
۱ ۔ وہ جنہوں نے اسلام قبول کیاتھا ۔
۲ ۔ وہ جو ابھی اپنے پہلے دین پر باقی تھے ۔
وہ لوگ جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا انھوں نے، رسول اللہ کی رحلت کے بعد زیادہ قوت اور قدرت حاصل کی اورکھلم کھلا مبارزہ او رمقابلہ کرنے پر اتر آئے ۔
____________________
۱۔ عثمان نے عبد اللہ کو ۲۵ ھء میں مصر کا حاکم مقرر کیا اور وہ ۳۴ ھء تک اس منصب پر قائم رہا اور ۳۴ ھء میں سائب بن ہشام عامری کو اپنا جانشین مقرر کرکے عثمان کی ملاقات کیلئے مصر سے روانہ ہو ااس موقع پر محمد بن ابی حذیفہ نے اس کے خلاف بغاوت کی اور سائب کو اقتدار سے برطرف کیا او خود حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ۔ عبد اللہ بن سعد جب واپس آیا تو محمد بن ابی حذیفہ نے اس سے مصر میں داخل ہونے سے روکا پھر وہ نواحی شام میں واقع عسقلان گیا اور وہیں سکونت اختیار کی یہاں تک کہ ۳۶ھء میں عثمان قتل کئے گئے اور وہ تا ۵۷ھء یا ۵۸ھء میں وہیں پر وفات پاگیا ( استعاب ج ۲/ ۳۶۷۔ ۳۷۰)
۲۔ الاصابہ، ج ۲ص ۳۰۹،۳۱۰ ۔
لیکن تمام مسلمان ، انتظار کی حالت میں مدینہ کی طرف چشم براہ تھے اور ہر راہی سے تازہ خبر
پوچھتے تھے کہ اسی اثنا میں خبر آئی کہ اسلام کے دار الخلافہ مدینہ میں رسول اللہ کی رحلت اور فقدان کی وجہ سے ہلچل مچ گئی ہے ، ابو بکر کی بیعت کی خبر مسلسل انھیں پہنچ رہی تھی اورفطری طور پر اس دن کے حوادث کا دامن اس سے وسیعتر تھا جو آج صدیاں گزرنے کے بعد ہم تک پہنچا ہے ۔
خبر پہنچی کہ اصحاب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم بیعت کے مسئلہ پر ہاتھاپائی کرکے ایک دوسرے کی جان لینے کے پیچھے پڑے ہیں ؟ اور دوسری طرف سے سنتے تھے کہ بنی ہاشم (خاندان پیغمبر) متفقہ طور پر بیعت کرنے سے انکار کرتے ہیں ! اورقبیلہ خزرج کے سردار سعد نے بھی بیعت کرنے سے انکار کیا ہے اور
اس قسم کی گوناگوں خبروں کے پھیلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض مسلمان قبائل نے فیصلہ کیا کہ ایسی بیعت سے پرہیز کریں اور حکومت وقت کو اسلامی مالیات (زکات) ادا کرنے سے اجتناب کریں ،نہ اسلئے کہ اصولاً زکوٰة ادا کرنے کیلئے حاضر نہ تھے اور بعض اسلامی قوانین جسیے زکوٰة اور نماز کی مخالفت کرتے تھے (جیسا کہ ان پر اس چیز کی تہمت لگائی گئی) بلکہ اس اےسا تھاکہ وہ وقت کی حکومت پر اعتماد نہیں رکھتے تھے او رحاضر نہیں تھے ابو بکر کے سامنے سر تسلیم خم کریں ، البتہ حکومت کے ان مخالفین کی اس قدر حیثیت اور اہمیت نہیں تھی، جتنی مدینہ میں موجود مخالفین کی تھی ، لہذا حکومت نے ایک خونین کاروائی کرکے ان سب کو قتل کرڈالا اور ابو بکر کا کوئی مخالف باقی نہ رہا ، اس کے بعد باقی مشرکین کی سرکوبی کی کاروائی شروع ہوئی جو پیغمبری کا دعویٰ کرتے تھے اور رسول الله کے زمانے میں جزیرة العرب کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے نتیجہ کے طور پر ان کابھی قلع قمع کیا گیا ، مخالفین کی سرکوبی سے فارغ ہونے کے بعد حکومت نے فتوحات کیلئے اقدام کئے او رلشکر کشی شروع ہوئی ، اسلام کے مؤرخین نے ان تمام جنگوں کو (جو وفات رسول اللہ کے بعد ابو بکر کے سپاہیوں اور جزیر ة کے اعراب کے درمیان رونما ہوئیں)جنگ ”زردہ “ نام دیا ہے کیونکہ مدینہ سے باہر ابو بکر کے مخالفین کو ”مرتد “ کہا جاتا تھا ۔
ابو بکر کی مخالفت ارتداد نہیں ہے
ڈاکٹر حسن ابراہیم اپنی کتاب ” تاریخ الاسلام السیاسی “ میں اسی نظریہ کی تائید کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں : ” جب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی اور آپ کی موت کی تصدیق ہوگئی تولوگوں کی ایک جماعت، دین کے اصول(جو رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے باقی بچے تھے) کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑگئی اور بعض لوگ اس لحاظ سے خائف تھے کہ ایسا نہ ہو کہ قریش یا کوئی دوسرا قبیلہ حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ہاتھ میں لے لے،اور اس سے متعلق ایک مطلق العنان اور خاندانی حکومت میں تبدیل کردے، اسلئے وہ اسلامی حکومت کی حالت اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے ۔ کیوں کہ وہ مشاہدہ کررہے تھے کہ جو پیغمبر، خداوند عالم کے عظیم سفیر کی حیثیت رکھتے تھے اور انھیں حق پر مبنی امرو نہی کی تبلیغ کرنے کے ساتھ ساتھ عصمت کی نعمت سے بہرہ مند اور خطا و لغزشوں سے بھی محفوط تھے ان سے رخصت ہوچکے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ مختلف قبائل کے درمیان مساوات کے قانون کو نافذ کرنے والا ، لوگوں اور قبائل کےساتھ مساوی سلوک کرنے والا ایسا شخص ہوناچاہئے جس میں پیغمبر کے وہی عالی صفات موجود ہوں ۔
ان حالات کے پیش نظر یہ احتمال تھا کہ اس پیغمبر کا جانشین اپنے ذاتی اور خاندانی مطالبات کو مسلمانوں اور معاشرے کی مصلحتوں پر مقدم قرار دیگا ، کیونکہ یہ امر بعید نہیں تھا کہ خلافت کے عہدہ دار خلیفہ وقت کے خاندان کی اجتماعی حیثیت کو بیشتر اہمیت دیکر اسے تقویت بخشیں گے اور دوسرے خاندان اور قبائل کو کچل کے رکھ دیں گے، جس کے نیتجہ میں سماجی انصاف اپنا توازن اور تعادل کھو بیٹھے گا۔
یہ احتمال اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ ہم نے دیکھا کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے دوران عرب قبائل اور خاندانوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے اور حالات پر تسلط جمالینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی ایک دوڑ لگانی شروع کردی تھی، تا کہ ہر ایک اس مقابلہ میں کامیاب ہوجائے اور دوسرے کو نیچا دکھا کر میدان سے خارج کرکے صرف اپنے آپ کو اس مقابلہ کا فاتح قرار دے، یہاں پر انکے پوشید راز طشت از بام ہوئے اور ان کی دیرینہ عرب قومی فطری اور مزاج کھل کر سامنے آگئے انصار ، قریش اور مہاجرین سے خائف تھے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ اس کام میں وہ سبقت حاصل کریں اور انصار کو اس میں دخل دینے کی اجازت نہ دیں ، قریش اور مھاجرین بھی اپنی جگہ پر وحشت و اضطراب سے دوچار تھے اور قبیلہ اوس و خزرج بھی ایک دوسرے سے خوفزد ہ تھے(۱)
یہ تھی مدینہ کی سیاسی حالت ، دوسری طرف سے مکہ کی حالت بھی اسی سیاسی ہلچل کی وجہ سے مدینہ سے کم نہ تھی ، کیونکہ مکہ میں موجود قریش کے قبائل میں بھی یہی رقابت موجود تھی ، لہذا جب بیعت کا کام ابو بکر کے حق میں ختم ہوا تو بنی ہاشم ابو بکر سے سخت برہم ہوئے اسی لئے کئی مہینوں تک ان کی بیعت کرنے سے اجتناب کیا اور ابو سفیاں بن حرب نے زبردست تک و دو کی تا کہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے جذبات کو ابو بکر کے خلاف مشتعل کرے ، جس نے خلافت کو ،بنی عبد مناف سے چھین لیا تھا ۔
مہاجرین و انصار خود رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے کسی قسم کی قرابت رکھتے تھے یا اسلام لانے میں سبقت حاصل کرچکے تھے یا دین خدا کی نصرت کی تھی اور اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرچکے تھے ان فضائل کے پیش نظر افتخار اور ناز کرتے ہوئے خلافت کے امیدوار تھے ، لیکن عربوں کے دوسرے قبیلے جو اسلام میں نہ ایسا سابقہ رکھتے تھے اور نہ ان کی رسول خدا سے کوئی رشتہ داری تھی ، اگر چہ خلافت کی لالچ اور امید نہیں رکھتے تھے ، لیکن جب وہ اس امر کا مشاہدہ کرتے تھے کہ مہاجر و انصاراس کام پر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ہیں اور مہاجر، انصار سے کہتے ہیں : سپہ سالار ہم میں سے ہو اور وزراء کی کابینہ آپ میں سے چنی جائے(۲) اور انصار اس تجویز کو مسترد کرکے کہتے تھے : ” نہیں ،
____________________
۱۔ سقیفہ کی روداد اس سے پہلے بیان ہوئی ہے ملاحظہ ہو ۔
۲۔منا الامراء و منکم الوزراء ۔
بلکہ سپہ سالاری ہم دونوں گروہ سے منتخب ہونا چاہئے “(۱)
ان حالت کے پیش نظر، وہ مکمل طور پر نامید اور مایوس ہوئے اور اپنے آرمانوں کو برباد ہوتے
دیکھا ۔ لہذا انہوں نے مخالفت کا پرچم بلندکیا اور ان میں سے بھی بہت لوگوں نے ابو بکر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور ان کو زکات اداکرنے سے پرہیز کیا
سیف نے اپنی روایتوں میں اس عمل کو ارتداد اور ایسے لوگوں کو مرتد کہا ہے اور ایسا دکھایا ہے کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعداکثر عرب قبائل ارتدادکاشکار ہوگئے تھے ۔
بعض مستشرقین(۲) نے بھی اسی پر استناد کرکے پیغمبر کی وفات کے بعد بعض عرب قبائل ، مرتد ہوکر دین سے منحرف ہوگئے کے پیش نظر معتقد ہوئے ہیں کہ ” اسلام تلوار اور نیزہ کی نوک پر پھیلا ہے اور تنہا عامل جس نے عربوں کو یہ دین قبول کرنے پر مجبور کیا تھا تلوار کا خوف تھا “
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابو بکر کی حکومت کے دوران کسی قسم کا ارتداد نہیں تھا ، جن لوگوں کے ساتھ ابو بکر ارتداد کے نام پر جنگ کررہے تھے ، یہ نہ مرتد تھے اور نہ اسلام سے منحرف ہوئے تھے ، بلکہ ان میں سے کچھ لوگ تو آغاز ہی سے مسلمان نہیں تھے اور کچھ دوسرے لوگوں نے صرف ابو بکر کو زکات ادا کرنے سے انکار کیا تھا ۔ ان دونوں گروہوں کو غلطی یا اشتباہ سے مرتد کہا گیا ہے آئندہ فصل میں اس روداد کی تفصیل اور وضاحت بیان کی جائے گی ۔
____________________
۱۔ بل منا امیر و منکم امیر ۔
۲۔ جیسے ” فون فولٹن “ جرمنی کا معروف مستشرق۔
سیف کی روایتوں میں ارتداد
لیقاتلّنکم حتی تکنوه ابا الفحل
وہ تم لوگوں سے اس قدر جنگ کریں گے کہ ابو بکر کو بڑے اونٹ کا باپ کہیں گے نہ چھوٹے اونٹ کا باپ ۔
قبیلہ طی حضرت ابو بکر کی جنگ کا باعث
ہم نے گزشتہ فصل میں کہا کہ لوگوں کی ایک جماعت نے ابو بکر کی حکومت کی مخالفت کی اور ابوبکر نے ان سے جنگ کی اور ان کے مال کو غنیمت کے طور پر ضبط کیا اور ان کے مردوں کو اسیر بنایا ان لوگوں کو تاریخ میں مرتد اور ان کے عمل کو ارتداد کہا گیا ہے لیکن تاریخ میں تحقیق اور مسئلہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہ مرتد تھے اور نہ ان کا عمل ارتداد تھا اور نہ انکے ساتھ ابو بکر کی جنگ اسلام سے ارتداد کے مرتکب ہونے کا سبب تھی ،کیونکہ کلمہ ارتداد دوسرے معنی رکھتا ہے اور یہ ان لوگوں سے جو وقت کی حکومت کے مخالف تھے سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
ڈاکٹر حسن ابراہیم اپنی ” تاریخ سیاسی “ میں کہتے ہیں :
” جن لوگوں سے حضرت ابوبکر نے جنگ کی ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں تھا اور ابو بکر سے ان کی مخالفت اسلام سے ارتداد کا عنوان نہیں رکھتی تھی ، بلکہ اس کا باعثکچھ اور تھا ، اس وضاحت کے ساتھ کہ وہ لوگ دو گروہ میں منقسم تھے ۔
اول : وہ گروہ جس نے زکات ادا کرنے سے انکار کیا تھا ، اس گمان سے کہ زکات ایک ایساٹیکس ہے جو ذاتی طور پر رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو دیا جانا چاہئے ، چونکہ پیغمبر نے رحلت فرمائی تھی اس لئے خلیفہ وقت کو زکوٰة ادا کرنے سے وہ مستثنیٰ ہیں(۱) مسلمانوں کے اس گروہ سے جنگ کرنے پر عمر، ابوبکر سے اعتراض کرتے تھے اور ابو بکر اس کے جواب میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی بعض فرمائشات سے استناد کرکے کہتے تھے ، میں لوگوں سے جنگ کرنے پر مامور ہوا تا کہ وہ توحید کا اقرار کریں ، لہذا جس نے کلمہ توحید کو زبان پر جاری کیا اس کا مال و جان میر ی طرف سے محفوظ ہے، مگر یہ کہ کسی حق کے سبب ہو تو اس کا جواب خدا کے ساتھ ہے
امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا اله الا الله فمن قالها فقد عصم منی ماله و نفسه الا بحقّه و حسابه علی الله “
دوم : وہ گروہ جو در حقیقت مسلمان نہیں تھے
ڈاکٹر ابراہیم حسن اس کے بعد کہتا ہے:
____________________
۱۔ ڈاکٹر ابراہیم حسن کا یہ نظریہ ہماری نظر میں صحیح اور کافی نہیں ہے ، ایسا ہرگز نہیں تھا کہ مسلمان زکات کے معنی کو نہیں سمجھ رہے تھے ، بلکہ مطلب وہی ہے جسے خود ڈاکٹر صاحب اور دوسروں نے کہا ہے کہ یہ لوگ ابوبکر کو پیغمبر کے خلیفہ کے عنوان سے قبول نہیں کرتے تھے اس لئے انہیں زکوٰة دینے سے انکار کررہے تھے۔
” لیکن اسلام(۱) نے مرتدوں کیلئے جو سزا مقرر کی ہے اور اسے سزائے موت کا حکم دیا ہے ایک سیاسی حکم تھا جسے حکومت وقت نے اس کیلئے مد نظر رکھا تھا اور اس حکومت کی دلچسپی اس حکم کو جاری کرنا تھی بجائے اس کے کہ انھیں اسلام لانے کی ترغیب دے۔
جبکہ دین اسلام نے خاص طور پر مرتدین کی نسبت انتہائی احتیاط کو مد نظر رکھا ہے اور ہر گز شبہہ کے استناد پر انھیں مؤاخذہ نہیں کیا ہے اور صرف تہمت کی بناء پر ارتداد کا حکم جاری نہیں کرتا ، بلکہ تین دن تک مرتد کو فرصت دی جاتی ہے اور ان تین دنوں کے دوران علماء اور فقہائے اسلام مرتد کی طرف سے دین اسلام پر کئے گئے اعتراضات پر مناقشہ کرکے کوشش کرتے ہیں تا کہ اس شبہہ کو دور کریں اورجس کی وجہ سے اسلام کے صحیح ہونے میں انھیں شک و شبہہ پیدا ہوا ہے بر طرف کردیں <لیهلک من هلک عن بینة و یَحیَیٰ من حَیَّ عن بیّنة >(۲) ، یہاں پر ہم قارئین کی اطلاع کیلئے اس موضوع پر مذہبی پیشواؤں کے بیانات کا ایک حصہ نقل کرتے ہیں :
ابو حنیفہ کہتے ہیں :
” جب کوئی مسلمان مرد مرتد ہوجائے ، اسے اسلام کی دعوت دینی چاہئے اور تین دن مہلت دینی چاہئے ، کیونکہ ظاہراً ایسا ہے کہ اس کے دل میں ایک شبہہ پید اہوا جس کی وجہ سے ہم پر فرض بنتا ہے کہ اس کے اس شبہہ کو دور کریں
____________________
۱۔ یہاں پر ڈاکٹرصاحب کا ” اسلام “ سے مقصود اسلام کا خلیفہ ہے کیونکہ بعد والی عبارت میں وہ اس کی ضاحت کرتے ہیں ۔
۲۔الانفال/۴۲
یا خود اس کیلئے فکر و اندیشہ کی ضرورت ہے تا کہ اس پر حقیقت آشکار ہوجائے اور یہ کام مہلت دئےے بغیر ممکن نہیں ہے پس اگر مرتد مہلت کی درخواست کرے ، تو امام پر لازم ہے کہ اس کو مہلت دے اور شرع اسلام میں جس مدت کے دوران ایک موضوع پر غور و فکر کیا جا سکے ، تین روز معین کئے گئے ہیں ، کیونکہ معاملات کے موضوع میں معاملہ توڑنے کے اختیار کے بارے میں معاملہ کی شرط اور اشیاء کو دیکھنے کیلئے تین روز مہلت دی گئی ہے ، اس لئے مرتد کو بھی تین دن کی مہلت دی جانی چاہئے(۱) بعض مالکی فقہاء یوں کہتے ہیں : مرتد ، خواہ غلام ہو یا آزاد ، خواہ عورت ہو یا مرد ، واجب ہے تین دن اور تین رات کی اسے توبہ کرنے کی مہلت دی جائے ، ان تین دن کی ابتداء اس دن سے شروع ہوتی ہے جس دن سے ارتداد ثابت ہوا ہے، نہ اس روز سے کہ جس روز کافر ہوا ہے ، البتہ ان تین دنوں کے دوران اسے بھوکا اور پیاسا نہیں رکھنا چاہئے ، بلکہ اپنے ہی مال سے اسے کھانا پینا فراہم کرنا چاہئے ، نیزاسے جسمانی اذیت نہیں دی جا نی چاہئے اگر چہ وہ توبہ بھی نہ کرے(۲)
امام شافعی کہتے ہیں :
” مرتد ، خواہ مرد ہو یا غیر مرد واجب ہے ، اسے توبہ کرائیں ، کیونکہ وہ اسلام کی خاطر محترم تھا ،
____________________
۱۔ کتاب مبسوط ، تالیف شمس الدین سرخسی طبع قاہرہ ۱۳۲۴ ئھ کے حاشیہ میں تین دن مقرر کئے گئے ہیں ج ۱۰ / ۹۸ ۔ ۱۰۰۔
۲۔ باب گروہ اور اس کے احکام ، شرع کبیر تالیف در دیر طبع بولاق ۱۲۱۹ ھء ج ۴ ص ۲۷۰ حاشیہ دسوقی ج ۱۴ ص ۲۶۷۔
شائد وہ جس شبہہ سے دوچار ہوا ہے کہ ممکن ہے یہ شبہہ دور ہوجائے ، بعض نے کہا ہے : تین دن کی مہلت دی جاتی ہے(۱)
امام احمد حنبل کہتے ہیں : جو بھی اسلام سے مرتد ہوجائے ، مرد ہو یا عورت وہ سن بلوغ کو پہنچا ہو اور دیوانہ نہ ہو، تین دن تک اسے اسلام کی دعوت دینی چاہئے(۲)
ان فتاویٰ کے علاوہ اصولاًسزاوار نہیں ہے کہ ایک مسلماں کو کافر کہا جائے جس کے گفتار یا کردار سے کافر ہونے یا نہ ہونے کا دونوں احتمال پایا جاتا ہومگر یہ کہ وہی مسلمان اس گفتار و کردار کو کفر کا سبب جانیں اور علمائے اسلام نے وضاحت کی ہے کہ اگر ایک مسلمان مرد کے گفتار میں ۹۹ فیصد کفر کا احتمال اور ایک فیصد ایمان کا احتمال ہوتوایسے مسلمان کے خلاف کفر کا حکم نہیں دیا جاسکتا ہے(۳)
تاریخ لکھنے والے کیا کہتے ہیں ؟
تاریخ کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ جن افراد نے ابو بکر سے جنگ کی وہ اسلام کو قبول کرتے تھے اور نماز پڑھتے تھے ، توحید و نبوت کی شہادت دیتے تھے ، ان کی مخالفت صرف ابوبکر کی حکومت کو قبول کرنے اور ان کو زکوٰة ادا کرنے میں تھی ، ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں یوں لکھا ہے :
”ابن ماجہ “ کے علاوہ تمام اہل حدیث نے اپنی کتابوں میں ابو ہریرہ سے روایت کی
____________________
۱۔ باب ” ردہ“ حاشیہ ، بجری ، شرح نہج البلاغہ ، طبع بولاق ۱۳۰۹ئھ۔
۲۔ کشف القناع علی متن الاقناع، طبع قاہرہ ۱۳۱۹ ھء ج ۴/ ص ۱۰۰ ۔ ۱۰۵ ۔
۳۔ باب مرتد حاشیہ رد المختار علی الدر المختار ، تالیف ابن عابدین، طبع مصر۔
ہے کہ عمر ابن خطاب نے ابو بکر سے کہا؛ لوگوں کے ساتھ کس لئے جنگ کررہے ہو ؟ جب کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے ؛ میں مامور ہوں تا کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں کہ خدا کی وحدانیت اور میری (محمد) رسالت کی شہادت دیدیں ، اورجوں ہی یہ دو شہادتین کہیں گے تو ان کے مال و جان میری طرف سے محفوظ ہیں پھر ان کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا مگر یہ کہ حق ہو۔
ابو بکر نے کہا:خدا کی قسم ! جو زکوٰة رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو ادا کرتے تھے ، اگرمجھے ادا نہ کریں گے اگر چہ وہ ایک اونٹ یا اس اونٹ کا بندھن ہی کیوں نہ ہو، ضرور ان کے ساتھ لڑوں گا ، کیونکہ زکوٰة مال کا حق ہے خدا کی قسم نماز اور زکوٰة کے درمیان فرق کرنے والوں کی ساتھ میں حتمی طور پر لڑوں گا
عمر کہتے ہیں میں نے جب دیکھا کہ خدا نے ابو بکر کے سینہ کو جنگ کیلئے آمادہ کیا ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ حق پر ہیں(۱)
تاریخ طبری میں آیا ہے :
’ ’ کچھ عرب گروہ مرتد ہوئے تھے ، ابو بکر کے پاس آئے ، وہ نما زکا اقرار
____________________
۱۔ البدایہ و النہایہ ج ۶/ ۳۱۱ ،و ان عمر بن الخطاب قال لابی بکر :لم تقاتل الناس و قد قال رسول الله امرت ان اقاتل الناس حتی یشهدو ان لا اله الا الله و ان محمدً رسول الله فاذا قالوها عصموا منی دمائهم و اموالهم الا بحقّها فقال ابو بکر: و الله لو منعونی عناقا و فی روایة عقالاً کانوا یؤدونه الی رسول الله(ص) لا قاتلنّهم علی منعها ان الزکاة حق المال و الله لاقاتلن من فرق بیں الصلاة و الزکاه قال عمر: فما هوالا ان رایت الله قد شرح صدر ابی بکر للقتال فعرفت انه الحق (ص ۲۴۰)
کرتے تھے ، لیکن زکوٰة ادا کرنے سے پرہیز کرتے تھے ، ابو بکر نے اس کام کو قبول
نہیں کیا اور انھیں واپس بھیجدیا “(۱)
ابن کثیر نے البدایہ و النھایہ کی چھٹی جلد کے ۳۱۱ صفحہ پر کہتے ہیں :
”عربوں کا گروہ مدینہ آیا جبکہ نماز کا اقرار کرتے تھے لیکن زکات دینے سے پرہیز کرتے تھے ان میں ایسے اشخاص بھی تھے جو ابو بکر کو زکات ادا کرنے سے پرہیز کرتے تھے “
ان میں سے ایک نے یہ شعر کہے :
اطعنا رسول الله ما کان بیننا
فواعجبا ما بال ملک ابی بکر
ایورثنا بکراً اذا مات بعده
و تلک لعمر اله قاصمة الظهر(۲)
ترجمہ
جب تک رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان تھے ، ہم ان کی فرمانبردار تھے ، تعجب کی بات ہے ! ابوبکر کو حکمرانی سے کیا ربط ہے ؟ کیا مرنے کے بعد اپنے بیٹے بکر کو جانشین قرار دےں گے ؟ خدا کی قسم یہ واقعہ کمر شکن تھا۔
طبری نے سیف سے اور اس نے ابو مخنف سے روایت کی ہے :
” قبیلہ طی کے سوار ، بنی اسد اور فزارہ کے سواروں سے (خالد کے ان پر حملہ کرنے سے پہلے
____________________
۱۔ تاریخ طبری ج ۲/۴۷۴و قد جائته و فود العرب مرتدین یقرّون بالصلاة و یمنعون الزکاة فلم یقبل ذلک منهم و ردّهم ۔
۲۔ البدایة و النھایة ، ج ۶ ص ۳۱۱۔
ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوکرجنگ کئے بغیر ایک دوسرے کو گالیاں بکتے تھے ، اسد اور فزارہ کہتے تھے : نہیں ، خدا کی قسم ہم ہرگز ابو الفصیل کی بیعت نہیں کریں گے سوار ان، اُن کے جواب میں کہتے تھے: ہم شہادت دیتے ہیں کہ ابو بکر آپ لوگوں سے اس قدر جنگ کرے گا کہ آپ اسے ابو الفحل اکبر کہیں گے(۱)
مذکورہ مقدمہ سے اہل بحث و تحقیق کیلئے واضح ہوگیا کہ جس چیز کو ابو بکر کے زمانے میں ارتداد کہتے تھے وہ در حقیقت اسلام سے اردتاد نہ تھا بلکہ صرف ابو بکر سے مخالفت تھی ، لیکن چونکہ ابو بکر کی بیعت کے مخالفین عرب قبائل اور صحرا نشین تھے اور جنگ میں شکست کھا کر قدرت پر قبضہ نہ کرسکے تھے اور دوسری طرف سے مسلسل کئی برسوں تک حکومت ابو بکر و عمر اور ان کے دوستوں ، خاندان اور حامیوں کے ہاتھ میں ر ہی ، اور وہ روایتیں جو مبارزات کے روداد اور سیاسی حالات کی تشریح کرتی ہیں ، انہیں با نفوذ اور فاتح افراد کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں ، لہذا ہم پرلازم ا ورواجب ہے کہ شکست خوردہ فرنٹ کے بارے میں نقل کئے گئے مطالب کے صحیح ہونے کے بارے میں دقیق تحقیق اور جانچ پڑتال کریں ، یہ تھا ابو بکر کے دوران حکومت میں مرتدوں کے واقعہ کے بارے میں ایک خلاصہ ۔
سیف کیا کہتا ہے ؟
طبری نے سیف بن عمر سے نقل کیا ہے :
____________________
۱۔ ” بکر و بکرہ “ کا عربی لغت میں ایک معنی اونٹ کا بچہ ہے اور ” فصیل “بھی اونٹ کے بچہ کو کہتے ہیں لہذا ابو بکر کو ” ابو الفصیل “ کہا گیا ہے ، یعنی اونٹ کے بچہ کا باپ لہذا ابوبکر کو اس نام کیساتھ یادکرنا تو ھین کے عنوان سے تھا ۔
” جب ابو بکر کی بیعت کی گئی ، عرب عام طور پر یا ہر قبیلہ کے کچھ لوگ مرتد ہوگئے(۱)
اس کے علاوہ ایک اور جگہ پر سیف کے حوالہ سے نقل کرتا ہے :
” کفر نے زمیں پر اپنا دامن پھیلا یا تھا اور لوگ دین سے روگردانی کرتے تھے اور قریش و ثقیف کے علاوہ ہر قبیلہ میں سے یا تمام افراد یا کچھ مخصوص افراد مرتد ہوگئے تھے(۲)
سیف نے ارتداد کے سلسلے میں رونما ہونے والی جنگوں کی توصیف میں افسانوی اور خیالی داستانیں گڑھ لی ہیں جو تاریخ طبری میں پراکندہ حالت میں پائی جاتی ہیں ،سچ تو یہ ہے کہ سیف افسانے گڑھنے میں ” عنترہ بن شداد “ کے افسانے گڑھنے والوں اور ان کے مانند افسانہ نویسوں کا استاد تھا اور اس کی خیال بافی کا دامن ان لوگوں سے وسیع تر تھا ، کیونکہ سیف کے افسانوں کے ہیرو کیلئے خشک بیابانوں او ریگستانوں میں پانی کے چشمے جاری ہوتے ہیں وہ دریا کے پانی پر چلتے ہیں ، حیوانات ان سے گفتگو کرتے ہیں ، اور فرشتے ان کی خبر گیری کرتے ہیں ،اور اسی طرح کے مطالب جو دوسرے افسانوں میں نہیں پائے جاتے ہیں ،اس کے علاوہ سیف کے افسانے، ایک اور خصوصیت کے بھی حامل تھے اور وہ یہ کہ اس کے افسانے با نفوذ شخصیتوں اور وقت کے حکام کی ستائش میں ہوا کرتے تھے اور اس نے ایسے لوگوں کی رفتار و گفتار کے دفاع میں (جو عام لوگوں کی نظروں میں مورد تنقید قرار پاتے تھے)زیادہ سے زیادہ روایتیں جعل کی ہیں ،نمونہ کے طور پر کافی ہے کہ ہم ابو بکر
____________________
۱۔ تاریخ طبری ج ۶/ ۲۶۱ :لمّا بویع ابو بکرارتدت العرب اما عاما و اما خاصة فی کل قبیلة ۔
۲۔ تاریخ طبری ج ۶/ ۴۷۰ ،کفرت الارض و تصرّمت و ارتدّت من کل قبیلة عامّة او خاصة الا قریشاً و ثقیفاً
کی مرتدوں سے جنگ کے بارے میں سیف کی گڑھی چند داستانوں کو نقل کریں تا کہ اس کی کتاب ” الفتوح و الردة “ میں اس کی داستان سرائی و افسانہ سازی کا طریقہ کار اور رویہ معلوم ہوسکے طبری نے اپنی تاریخ کبیر میں اسی کتاب سے بہت کچھ نقل کیا ہے ۔
معتبر روایتوں میں مالک بن نویرہ کی داستان
ان خالدا قتل مسلماً و تزوج امراته فی یومها
خالد نے ایک مسلمان کو قتل کیااور اسی دن اسکی بیوی سے شادی کرلی!!
عمر بن خطاب
مالک بن نویرہ قبیلہ یربوع تمیمی نامی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ، ان کی کنیت ابو حنظلہ تھی اور لقب جفول تھا۔
مرزبانی کہتا ہے :
” وہ ایک عالی رتبہ شاعر تھے اور قبیلہ یربوع کے جنگجو مردوں میں ایک نامور شہسوار تھے ، وہ عصر جاہلیت میں اپنے قبیلہ کے اعلی طبقہ کے افراد میں شمار ہوتے تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انھیں اپنے قبیلہ کا ٹیکس جمع کرنے پر مامور فرمایا ، پیغمبر کی وفات کے بعد انھوں نے جمع کیا ہوا ٹیکس حکومت وقت کو دینے سے انکار کیا اور اپنے رشتہ داروں کے درمیان تقسیم کردیا اوراس سلسلہ میں فرمایا:
فقلت خذوا اموالکم غیر خائف
و لا ناظر فیما یجییءُ من الغد
فان قام بالدین المحوّف قائم (۱)
اطعنا و قلنا الدین دین محمّد
ترجمہ :
میں نے کہا: مستقبل کے بارے میں خوف و پروا کئے بغیر اپنے مال کو واپس لے لو ، کیونکہ اس مال کو تم لوگوں نے دین کے خاطر ادا کیا ہے ، لہذا اگر کسی نے دوبارہ قیام کیا تو ہم اس کی اطاعت کرکے کہیں گے کہ دین، دین محمد ہے ۔
طبری نے اپنی سند سے عبد الرحمان بن ابو بکر سے نقل کیا ہے :
” جب خالد سرزمین بطاح(۲) پہنچا تو ضرار بن ازور(۳)
____________________
۱۔ شرح ابن ابی الحدید میں (فان قام بالامر المجدد قائم )ہے ، یعنی اگر کسی نے قیام کیا اور دوبارہ دین کی ذمہ داری لی، سید مرتضی کی طرف سے قاضی القضاة کو دئے گئے ساتویں جواب میں ہے۔
۲۔ بطاح قبیلہ اسدبن خزیمہ کے اطراف میں ایک پانی ہے( معجم البلدان )
۳۔ ضراربن ازور مرداس بن حبیب بن عمیربن کثیر بن شیبان اسدی اور کہا گیا ہے کہ ازور کا نام مالک تھا اور وہ بن اوس بن خزیمہ بن ربیعہ بن مالک بن ثعلبہ بن دودان بن اسد ہے اس کی کنیت ابوازور اسد ہے وہ ایک دلیر شہسوار تھا اور جنگ اجنادین میں قتل ہواکہا گیا ہے کہ یمامہ میں قتل ہوا ہے اور بعض نے کہا ہے زمان حکومت عمر میں فوت ہوا ۔ الاستیعاب ج ۲/ ص ۲۰۳ ۔ ۲۰۴ اور الاصابہ کی ج۲/ ۲۰۰ ۔ ۲۰۱ میں لکھتا ہے : خالد نے ضرار کو کچھ لوگو ں کے ہمراہ جنگ کیلئے بھیجا ، خالد کے مامورین نے بنی اسد کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا اور ایک خوبصورت عورت کو گرفتار کیا ضرار نے لشکر سے مطالبہ کیا کہ اس عورت کو اس کے حوالہ کری ں انہو ں نے قبول کرکے اسے اس کے حوالہ کردیا،ضرار نے اس سے ہمبستری کی اور اسکے بعد پشیمان ہوا ، روداد کو خالد کے پاس پہنچا دیا گیا ، خالد نے کہا : کوئی مشکل نہیں ہے میں نے اسے تم پر حلال کیا ، ضرار نے قبول نہ کرتے ہوئے کہا، اس روداد کو عمر کی خدمت میں پہچانا چاہئے ، خالد نے تشریح لکھی اور عمر نے جواب میں لکھا کہ اسے سنگسار کرو ۔ جس وقت عمر کا خط پہنچا تو اس وقت ضرار فوت ہوچکا تھا خالد جب قضیہ سے آگاہ ہوا تو اس نے کہا: خدا نہیں چاہتا تھا کہ ضرار ذلیل و خوار ہوجائے ، نیز اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ضرار ان لوگو ں میں سے تھا جنہو ں نے ابو جندب کے ساتھ شراب پی لی تھی ،جب ابو عبیدہ نے عمر کو اس کی خبر دی تو انہو ں نے جواب میں لکھا کہ اس کی تحقیق کر اؤگر لوگو ں نے کہا کہ شراب حلال ہے تو انہیں قتل کر ڈالو ورنہ ان پر حد جاری کرنا، انہو ں نے پوچھ تاچھ پر اعتراف کیا کہ خمر حرام ہے۔
کو لشکر کی ایک ٹولی کے ہمراہ بھیجا ابو قتادہ ۱ بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے قبیلہ مالک پر شب خون مارا، بعد میں ابو قتادہ کہتا تھا: جب ہماری فوج نے رات میں ان کا محاصرہ کرلیاتو قبیلہ مالک وحشت میں پڑ کر جنگی اسلحہ لے کر آمادہ ہوگئے
ابو قتادہ نے کہا: ہم نے کہا : ہم مسلمان ہیں ۔
انہوں نے کہا: ہم بھی مسلمان ہیں ۔
لشکر کے سپہ سالار نے کہا؛ پھر کیوں جنگی اسلحہ لئے ہوئے ہو؟
انہوں نے کہا؛ تم لوگ کیوں مسلح ہو؟
ہم نے کہا: اگر تم لوگ سچ کہتے ہو کہ مسلمان ہو تو اسلحہ کو زمین پر رکھدو۔
ابو قتادہ نے کہا: انہوں نے اسلحہ کو زمین پر رکھدیا ، پھر ہم نے نماز پڑھی اور انہوں نے بھی نماز پڑھی ۔
ابن ابی الحدید اپنی شرح میں اس کے بعد کہتا ہے :
” جوں ہی انہوں نے اسلحہ کو زمین پر رکھدیا تو ان سب کو اسیر بنا کر رسیوں سے باندھ کر خالد ۱ کے پاس لے آئے “
کنزل العمال(۲) اور تاریخ یعقوبی(۳) میں اس داستان کو یوں نقل کیا گیا ہے :
____________________
۱۔فلما وضعو السلاح ربُطوا اساری فاتوا بهم خالدا
۲۔ کنز ل العمال ، ج ۳/ ۱۳۲ ۔
۳۔ تاریخ یعقوبی، ج ۲/ ۱۱۰۔
مالک بن نویرہ ، گفتگو کیلئے خالد کے پاس آئے ان کی بیوی بھی انکے پیچھے آئی ، جب خالد کی نظر اس عورت پڑی تو وہ اس پر فریفتہ ہوگیا اور مالک سے مخاطب ہوکر کہا : خدا کی قسم تم پھر سے اپنے قبیلہ کی طرف واپس نہیں جاسکتے ہو ، میں تجھے قتل کر ڈالوں گا۔
کنزل العمال کی تیسری جلد ۱۳۶ پر کہتے ہیں :
” خالد بن ولید نے دعویٰ کیا کہ مالک بن نویرہ مرتد ہوگیا ہے اس دعویٰ میں اس کی دلیل اور استناد ایک بات تھی کہ اظہار کرتا تھا کہ جو بات مالک سے اس کے کان تک پہنچی ہے ، مالک نے اس خبر کو جھٹلا دیا اور کہا: میں بدستور مسلمان ہوں اور میں نے اپنے دین میں کوئی تبدیل نہیں کی ہے ، نیز ابو قتادہ اور عبد اللہ بن عمر نے بھی اس کی صداقت پر شہادت دی ، اتنے میں خالد نے مالک کو آگے کھینچ کر ضرار بن ازور کو حکم دیا کہ مالک کا سر قلم کردے ، اس کے بعد خالد نے مالک کی بیوی(جس کا نام ام تمیم تھا) کو اپنے قبضہ میں لے کر اس کے ساتھ زنا کیا ۔(۱)
تا ریخ ابو الفداء(۲) اور وفیات الاعیان میں آیا ہے : عبد اللہ بن عمر اور قتادہ انصاری دونوں اس مجلس میں حاضر تھے اور انہوں نے مالک کے بارے میں خالد سے گفتگو کی، لیکن خالد نے ان کی بات کو قبول نہیں کیا ، مالک نے کہا: خالد !تم مجھے ابو بکر کے پاس بھیجدو تا کہ وہ خود میرے بارے میں فیصلہ کریں ، خالد نے جواب میں کہا: خدا مجھے معاف نہ کرے اگر میں تجھے معاف کردوں گا اس کے بعد ضرار بن ازور سے مخاطب ہوکر کہا: مالک کا سر قلم کردو !
____________________
۱۔ کنز العمال ،ج ۳/ ۱۳۲
۲۔ تاریخ ابو الفداء ، ص ۱۵۸ ۔
مالک نے اپنی بیوی پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی اور خالد سے مخاطب ہوکر کہا؛ اس عورت نے مجھے قتل کروایا ہے وہ عورت انتہائی خوبصورت تھی ، خالد نے کہا : بلکہ خدا نے تجھے قتل کیا ہے چونکہ اسلام سے تم نے منہ پھیر لیا ہے !
مالک نے کہا: میں مسلمان ہوں اور اسلام پر پابند ہوں ۔
خالد نے کہا: ضرار اس کا سر قلم کردو اور اس نے بھی اس کا سر تن سے جدا کردیا(۱)
اور ابن حجر، ”الاصابہ“ (ج ۳/ ص ۳۳۷) میں ثابت بن قاسم سے نقل کرتا ہے کہ اس نے اپنی کتاب الدلائل میں لکھا ہے :
” خالد کی نگاہ مالک کی بیوی پر پڑی، وہ اپنے وقت کی خوبصورت ترین عورت تھی ، مالک نے اپنی بیوی سے کہا: تم نے مجھے قتل کیا(۲) اس کا مقصود یہ تھا میں تیرے سبب جلد ہی قتل کیا جاؤں گا(۳)
اور اصابہ میں زبیر بن بکار سے اس نے ابن شہاب سے نقل کیا ہے :
مالک بن نویرہ کو جس وقت قتل کیا گیا(۴) اسکے سرپر گنجان زلف تھی ، خالد نے حکم دیا کہ مالک کے سر کو دیگ کا پایہ قرار دیں تو ایسا ہی کیا گیا اور اس سے پہلے کہ آگ ان کے بالوں سے گزر کر ان
____________________
۱۔ یہ تاریخ ابن شحنہ ص ۱۶۶ کا مل ج ۷ کے حاشیہ سے نقل کیا گیا ہے ۔
۲۔ الاصابہ ج ۳/ ۳۳۷۔
۳۔ان خالد رآی امرة مالک و کانت فائقه فی الجمال فقال مالک : بعد ذلک لامر ته قتلیتنی یعنی ساقتل من اجلک
۴۔ان مالک بن نویره کان کثیر شعر الراس فلما قتل امر خالد براسه فنصب اثفیة لقدر فنضج ما فیها قبل ان یخلص النارالی شئون راسه ۔
کی کھال تک پہنچے دیگ میں موجود کھانا پک چکا تھا(۱)
خالد نے مالک کی بیوی ام تمیم(منہال کی بیٹی)سے اسی رات زنا کیا ۔
ابو نمیر سعدی اس سلسلہ میں کہتا ہے :
الا قُلْ لحیّ اوطاوا بالسنابک
تطاول هذا اللّیل من بعد مالک
قضیٰ خالد بغیاً علیه دعرسه
و کان له فیها هوی قبل ذلک
فامضی هواه خالد غیر عاطف
عناں الهویٰ عنها ولا متمالک
فاصبح ذا اهل و اصبح مالک
الی غیر اهل هالکاً فی الهوالک(۲)
ترجمہ :
خبردار ! اس گروہ سے کہدو جنہوں نے گھوڑے دوڑائے ہیں ، مالک کے بعد ہماری تاریک رات ختم ہونے والی نہیں ہے ، خالد جو اس سے پہلے مالک کی بیوی پر فریفتہ ہوچکا تھا ، اس نے مالک کو اس عورت کیلئے بزدلانہ طور پر قتل کیا اور اپنے دل کی تمنا پوری کی اور اپنے سر کش نفس کو لگام نہ لگا سکا جس صبح کو مالک اپنی بیوی سے جدا ہوکر عدم کی طرف روانہ ہو ئے، خالد ان کی بیوی پر تصرف کرچکا تھا ۔
ابن حجر الاصابہ میں کہتا ہے :
جب خالد نے مالک کو قتل کیا تو منہال کی نظر مالک کے بے سر بدن پر پڑی تو اپنی زنبیل سے
____________________
۱۔ طبری ،ج ۲/ ۵۰۳ ، الاصابہ ،ج ۳/ ۳۳۷ ، ابن اثیر ،جنگ بطاح ، ابن کثیر ،ج ۶ / ۳۲۱ ، ابی الفداء ،۱۵۸ و ابن ابی الحدید، ج ۱۷۔
۲۔ یعقوبی، ج۲/ ۱۱۰۔
ایک پیراہن نکال کر مالک کو اس سے کفن کیا(۱)
یہ تھا مالک کا خاتمہ، اب دیکھنا چاہئے کہ حکومت وقت نے اپنے اس سردار خالد کے ساتھ اس عمل کی سز اکے طورپر کیا برتاؤ کیا ؟
تاریخ یعقوبی میں آیا ہے :
ابوقتادہ نے اپنے آپ کو ابو بکر کے پاس پہنچا دیا اور تمام واقعہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی اور کہا؛ خدا کی قسم اب میں خالد کے پرچم تلے اس کی کمانڈری میں کسی جگہ نہیں جاؤں گا کیوں کہ اس نے مالک کو مسلمان ہونے کے باوجود قتل کر ڈالا ہے ۔
تاریخ طبری میں ا بن ابی بکر سے نقل کیا گیا ہے :
من جملہ جن لوگوں نے مالک کے مسلمان ہونے پر شہادت دی، قتادہ تھا ، اس نے اپنے خدا سے عہد کیا کہ وہ خالد کی کمانڈ ری میں کسی محاذ جنگ پر شرکت نہیں کرے گا(۲)
اور تاریخ یعقوبی میں ہے کہ ” عمر بن خطاب نے ابو بکر سے کہا : اے رسول اللہ کے جانشین ! یہ سچ ہے کہ خالد نے ایک مسلمان مرد کو قتل کیا ہے اور اسی دن اس کی بیوی سے ناجائز تعلقات قائم کئے ابو بکر نے خالد کو خط لکھا اور اسے اپنے پاس بلایا ، خالد نے کہا: اے جانشین رسول ! میں نے مالک کوقتل کرنے میں اپنی نظر میں ایک تاویل کی ہے اور اس میں صحیح راستہ اختیار کیا لیکن خطا بھی سرزد ہوگئی ہے“
____________________
۱۔ اصابہ ۳/ ۴۸۷
۲۔فلحق ابو قتاده بابی بکر فاخبره الخبر و حلف ان لا یسیرتحت لواء خالد لانه قتل مالکا مسلماً ۔
یعقوبی نے کہاہے :
” متمم بن نویرہ(۱) ( اس زمانہ کے شاعر تھے)نے اپنے بھائی کی سوگ میں بہت سے شعرکہے ہیں اور نوحہ بھی پڑھا ہے وہ مدینہ میں ابو بکر کے پاس گئے، فجر کی نما زکو ابو بکر کی امامت میں پڑھی ، جوں ہی ابو بکرنماز سے فارغ ہوئے ،متمم اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی کمان سے ٹیک لگا کر مندجہ ذیل اشعار پڑھے :
نعم القتیل اذ الریاح تناوحت
خلف البیوت قتلت یابن الازور
ادعوته بالله ثم غدرته
لو هو دعاک بذمة لم یغدر
ترجمہ
اے فرزند ازور ! جب نسیم صبح ہمارے گھر کے درو و دیوار پر چل رہی تھی ، تم نے کتنے نیک مرد کا قتل کیا ! خدا کے نام پر اسے بلایا اور اسے امان دیا ، اس کے بعد مجرمانہ طورپر اسے قتل کر ڈالا ، جب کہ اگر مالک تم سے کوئی عہد کرتا تو وہ اپنے عہدو وپیمان پر وفادار رہتا اور کسی قسم کی فریب کاری و حیلہ سے کام نہیں لیتا “
تاریخ ابو الفداء میں لکھا گیا ہے کہ جب یہ خبر ابو بکر و عمر کو پہنچی تو عمر نے ابو بکر سے کہا :
” مسلم الثبوت ہے کہ خالد نے زنا کیا ہے ، اسے سنگسار کیاجانا چاہئے ! ابو بکر نے کہا: میں اسے سنگسار نہیں کروں گا کیونکہ اس نے اپنے لئے ایک فریضہ کو تشخیص دیا ہے اور
____________________
۱۔ اس کی کنیت ابو ادھم یا ابو نھیک یا ابر اہیم تھی ، وہ نویرہ کا بیٹا ہے، اس کا نسب اسکے بھائی کے حالات میں ہم نے بیان کیا ہے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا ، اس نے اپنے بھائی مالک کے سوگ میں اچھے مرثیہ کہے ہیں الاصابہ ج ۲/ ۳۴۰ ، استیعا ج ۲/ ۴۸۸۔
گویا فریضہ کی تشخیص میں خطا ہوئی ہے ؟!!
عمر نے کہا : وہ قاتل ہے اور اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے اس کے خلاف قصاص کا حکم دینا چاہئے ۔
ابو بکر نے کہا : میں اس کوہرگز قتل نہیں کروں گا ، جیسا کہ میں نے کہا کہ اس سے ایک فریضہ کی تشخیص میں خطا ہوئی ہے !
عمر نے کہا: پس کم از کم اسے معزول کرو!
ابوبکر نے کہا: میں ہرگز اس تلوار کو دوبارہ نیام میں نہیں رکھوں گا جسے اس نے اسلام کیلئے کھینچا ہے ۔
اور طبری کی روایت میں نقل ہے:
مالک کو قتل کرنے میں خالد کا عذر یہ تھا کہ جب مالک میرے پاس آئے ، تو انھوں نے گفتگوکے دوران کہا: میں گماں نہیں کرتا ہوں کہ آپ کے حاکم نے ایساویساکہنے کے علاوہ کچھ اور کہا ہوگا !
خالد نے کہا : مگر تم اسے اپنا حاکم نہیں جانتے ہو کہ کہتے ہو تمہاراحاکم ؟ پھرمالک کو آگے کھینچ کر اس کا سر تن سے جدا کیا اور اس کے دوستوں کا سر بھی قلم کردیا ۔
جب مالک اور اس کے دوستوں کے قتل کی خبر عمرکو پہنچی تو انھوں نے ابو بکر سے کافی گفتگو کی اور کہا:
____________________
۱۔ما اخال صاحبکم الا وقد کان یقول کذ ا و کذا ۔
اس دشمن خدا نے ایک مسلمان پر متجاوزانہ دست درازی کرکے اسے قتل کر ڈالا ہے اور اس کے فورا ًبعد حیوان کی طرح اس کی بیوی کی عصمت دری کی ہے(۱)
خالد سفر سے لوٹ کر مسجد میں چلا گیا ، ایک چغہ زیب تن کیا ہوا تھا جس پر لوہے کا زنگ لگا ہوا تھا اور ایک عمامہ سر پر باندھے ہوا تھا کہ اس پر اسلامی لشکر کی علامت کے طور پر چند تیر نسب کئے ہوئے تھے جب مسجد میں داخل ہوا توعمرغضبناک ہوکر اپنی جگہ سے اٹھے اور تیروں کو اس کے عمامہ سے کھینچ کر انھیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دیا اور اس کے بعد خالد کی سرزنش کرتے ہوئے بولے : تم نے یہ مکاری اور ریا کاری سے ایک مسلمان کو قتل کر ڈالا ہے اور اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ ایک حیوان کی طرح اس کی بیوی پر جھپٹ پڑے ، خدا کی قسم میں تجھے سنگسار کرونگا اور تم اس سز اکے مستحق ہو !
خالد خاموش بیٹھا تھا ، کیونکہ وہ گمان کرتا تھا کہ عمرکی طرح ابو بکر بھی اسے مجرم جانتے ہوں گے اس نے عمر کو کوئی جواب نہیں دیا بلکہ ابو بکرکے پاس جاکر اپنی رپورٹ پیش کی اور اپنے کئے ہوئے پر عذرخواہی کی ، ابو بکر نے خلاف توقع اس کے عذر کو قبول کرلیا، راوی کہتا ہے : جوں ہی خالد نے ابو بکرکی رضامندی حاصل کی وہ وہاں سے رخصت ہو کے مسجد کی طر ف چلا گیا عمر ابھی تک مسجد میں بیٹھے تھے خالد سے خطاب کرتے ہوئے گرج کر بولے:
خبردار اے ام شملہ کے بیٹے ! اس وقت اگر مجھے کچھ کہنا چاہتے ہو تو آگے بڑھ کرکہو عمر نے
____________________
۱۔عدو الله ، عدا علی امرء مسلم فقتله ، ثم زنا علی امراته ۔
اپنی فراست سے جان لیاکہ ابو بکر خالد سے راضی ہوگئے ہیں اس لئے خالد سے کچھ کہے بغیر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے!!
یہ تھاصحیح اور معتبر روایتوں میں خالد او رمالک بن نویرہ کی داستان کا خلاصہ ، جسے تمام مؤرخین نے اسی طرح نقل کیا ہے ۔ لیکن سیف کی روایتوں میں یہ داستان دوسری طرح میں نقل ہوئی ہے کہ جسکو آنے والی فصل میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔
سیف کی روایت میں مالک بن نویرہ کا ارتداد
فان اقرّوا بالزکاة فاقبلوا منهم وان ابو فلا شیء الا الغارة
اگر انہوں نے زکات ادا کی توا ن کا قصور معاف کیا جائے گا اور اگر اس سے پرہیز کریں گے تو ان کی سزا بربادی اور غارت گری کے سوا کچھ نہیں ہے
سیف کی روایت کے مطابق ، ابو بکر کافرمان
سیف کی روایتیں
قارئین کرام نے مالک بن نویرہ کی داستان کے بارے میں مؤرخین کی روایتوں کا گذشتہ فصل میں مطالعہ کیا ، اب ہم اس فصل میں سیف کی روایتوں کو نقل کرتے ہیں تاکہ بعد والی فصل میں روایتوں کے ان دو مجموعہ کا آپس میں موازنہ کریں ۔
سیف ، مالک بن نویرہ کی داستان کو سات روایتوں میں تشریح کرتا ہے اور انھیں مرتد بتاتا ہے،مالک بن نویر ہ کی داستان اور ان کے ارتداد کے بارے میں سیف کی سات روایتیں حسب ذیل ہیں :
۱ ۔ طبری ، جس جگہ بنی تمیم و سجاح کی روایت نقل کرتے ہیں(۱) وہاں پر کہتے ہیں :
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گماشتے اور مامورین، قبیلہ بنی تمیم میں زکات جمع کرنے میں مشغول تھے، پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد زکات وصول کرنے والے مامورین میں شدید اختلاف ہوگیا اور وہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے، ان میں سے کچھ لوگوں نے وصول کی گئی زکات کو ابو بکر کے حوالہ کیاور چند دیگر افراد اسے ابو بکر کے حوالے کرنے کے سلسلے میں شک میں پڑگئے اور انہوں نے زکات ادا کرنے سے پرہیز کیا تا کہ ان کی تکلیف واضح ہوجائے ، مالک بن نویرہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جو ابو بکر کو زکات ادا کرنے کے سلسلے میں شک میں پڑے ہوئے تھے ، اس لئے وہ زکات کو ابو بکرکے ہاتھ دینے سے پرہیز کرتے تھے تا کہ یہ دیکھ لےں کہ مسئلہ کہاں تک پہنچتا ہے ، اسی دوران جب سرزمین بنی تمیم میں یہ اختلاف اور دو گانگی پیدا ہوئی تھی اور وہاں کے باشندے اس اختلاف میں سرگرم تھے تو رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد پیغمبر ی کا دعویٰ کرنے والا سجاح نامی شخص اچانک پیدا ہوا تا کہ ابو بکر پر حملہ کرکے اس سے جنگ کرے۔
سجاح نے مالک بن نویرہ کو ایک خط لکھا ، مالک نے بھی اس کی تجویز مان لی اور وکیع اور سجاح نے مل کر ایک سہ رکنی انجمن تشکیل دی ، اس انجمن میں ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے ، اتحاد و یکجہتی قائم کرنے اور دوسروں سے مل کر جنگ کرنے کا عہد و پیمان باندھا ۔
۲ ۔ اہل بحرین کے ارتداد اور علاء حضرمی کے ان کی طرف بھیجنے کی داستان کے ذیل میں کہتے ہیں :
____________________
۱۔ تاریخ طبری ۲/ ۴۹۵۔
جب علاء بن حضرمی ان کی طرف روانہ ہوا تو یمامہ کا مقابلہ ہوا جس کے نتیجہ میں ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا اور آپس میں جنگ اور مساوات کی ٹھان لی کچھ لوگ علاء سے ملحق ہوگئے راوی کے بقول کہ مالک اور اس کے ساتھی بطاح نامی جگہ پر تھے وہ ہم سے جنگ اورمقابلہ کر رہے تھے اور ہم ان سے نبرد آزما ہوئے(۱)
۳ ۔ اور مزید اس داستان کے بارے میں کہتا ہے :
جب سجاح جزیزہ واپس لوٹا ، مالک بن نویرہ پشیمان ہوچکے تھے اور اپنے کرتوت سے باخبر امور میں حیران و پریشان تھے ، لیکن وکیع و سماعہ ، جنہوں نے زکات ادا کرنے سے پرہیز کیا تھا ، سیاہ کارناموں کو باقی رکھتے ہوئے نہایت اطمینان کے ساتھ خالد کے استقبال کیلئے دوڑے اور اسے زکات ادا کی ۔
اس کے بعد بنی حنظلہ کی سرزمین پر مالک بن نویرہ اور بطاح میں اس کے اردگرد جمع ہوئے لوگوں کے علاوہ کوئی ناخوشگوار چیز باقی نہیں رہی تھی وہ بدستور پریشان تھے بعض اوقات نیک رفتار اور کبھی بد کردار بن جاتا تھا ۔
۴ ۔ اس کے بعد یوں روایت کرتا ہے :
” خالد قبیلہ اسد اور عطفان کے علاقوں کو مرتدوں سے پاک کرنے کے بعد بطاح کی طرف روانہ ہوا جہاں پر مالک بن نویرہ اپنے کام میں مشکوک تھے، انصار خالد کے بطاح کی طرف روانہ ہونے کے بارے میں تشویش میں پڑے لہذا اس کا ساتھ دینے سے پرہیز کیا اور کہا کہ :
____________________
۱و کان مالک فی البطاح و معه جنوده یساجلنا و نساجله ۔
خلیفہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر ہمیں بزاخہ کہ کی جنگ سے فراغت حاصل ہوجائے تو ہم اس وقت تک وہیں پر رکے رہیں جب تک کہ خلیفہ کا خط نہ ملے خالد نے کہا : کمانڈر میں ہوں اور مجھے حکم دیتے ہو اب جبکہ مالک بن نویرہ ہمارے مقابلے میں ہے میں اس کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں اور تم میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ آنے پر مجبور نہیں کروں گا ، اتنا کہہ کر روانہ ہوا خالد کے روانہ ہونے کے بعدانصار پشیمان ہوئے اور اسکے پیچھے روانہ ہوئے اور اس سے جا ملے اس کے بعد خالد بطاح پہنچا اور وہاں پر کسی کو نہیں پایا ۔
یہاں تک جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سیف کی چار روایتوں کا خلاصہ تھا اور اب مالک کی داستان کے ضمن میں باقی داستان ملاحظہ ہو۔
۵ ۔ طبری سیف کی ایک دوسری روایت کے مطابق یوں کہتا ہے :
” خالد بن ولید جب بطاح پہنچا تو اس نے وہاں پر کسی کو نہیں پایا اور دیکھا کہ مالک نے اپنے کام میں تردیدکی وجہ سے اپنے قبیلہ والوں کو متفرق ہونے کا حکم دے چکے ہیں اور انہیں ایک جگہ جمع ہونے کے بارے میں سختی سے منع کرچکے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں : اے بنی یربوع کے افراد ! تم لوگ جانتے ہو کہ جب بزرگ اور سپہ سالار ہمیں دین کی دعوت دیتے تھے ،تو ہم ان کے حکم کی نافرمانی کرنے کے علاوہ، ان کے خلاف پروپگنڈا کرتے تھے تا کہ دوسرے جلدی ان کی تبلیغ سے متاثر نہ ہوں ، لیکن اس مقابلہ میں ہم نے شکست کھائی، ہے میں آپ لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ خلافت کے بارے میں میرے مطالعہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ، خلافت کا کام لوگوں کی تدبیر کے بغیر آگے بڑھا ہے ، اس بنا پر ایسانہ ہو کہ تم ان لوگوں کو کہ جنکو زمانے نے ان کی مرادوں تک پہونچادیا ہے، ان سے دشمنی کرو، اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اور چون و چرا کئے بغیر اس کام میں مداخلت نہ کرو، اس تقریر کے بعد لوگ متفرق ہوگئے اور مالک بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔
جب خالد بطاح پہنچا تو اپنے لوگوں کو اسلامی تبلیغات کیلئے علاقہ کے اطراف میں بھیج کر حکم دیا کہ جو بھی ان کی دعوت کو قبول نہ کرے اسے گرفتار کرکے اس کے پاس لے آئیں ، اور اگر کسی نے آنے سے انکار کیا توا سے قتل کر ڈالیں یہ انہیں منجملہ احکام میں سے تھا جو ابو بکر نے خالد کو دیاتھا ،کہ : جہاں پر بھی پڑاؤ ڈالنا اذان و اقامت کہنا، اگر اس علاقہ کے لوگوں نے بھی تمہارے ھمراہ اذان و اقامت کہا تو ان کے ساتھ تعارض نہ کرنا اور اگر ایسانہ کیا تو اس کے علاوہ تمہارا اور کوئی فرض نہیں ہے کہ ان پر اچانک حملہ کرنے کا اختیار رکھتے ہو ، جس طرح ممکن ہو سکے انھیں قتل کر ڈالو ، حتی آگ لگاؤ یا کسی اور طریقے سے اگر انہوں نے اسلام کی دعوت قبول کرلی تو ان سے پوچھ تاچھ کرو اور اگر پوچھ تاچھ کے دوران انہوں نے زکوٰة ادا کرنے کا اعتراف کیا تو ان کے اسلام کو قبول کرلو اور اگر اس کا اعتراف نہ کیا نہ اس کی سز الوٹ ما رکر نے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
ماموریت پر گئے خالد کے سپاہی واپس آئے اور مالک بن نویرہ کو ان کے قبیلہ کے افرا داور چچیرے بھائیوں کے ہمراہ پکڑ کر خالد کے پاس لئے آئے ، سپاہیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا بعضوں ، من جملہ ابو قتادہ نے گواہی دی کہ مالک اور اس کے ساتھیوں نے اذان و اقامت کہکرکر نماز ادا کی ہے جب یہ اختلاف رونما ہوا تو خالد نے حکم دیا کہ مالک اور اسکے ساتھیوں کو زندان میں ڈال دیا جائے ، اتفاقاً اس رات اس قدر شدید سردی تھی کہ کوئی بھی اس سردی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ، رات کے گزرنے کے ساتھ ساتھ سردی بھی زور پکڑ تی جارہی تھی ، خالد نے حکم دیا کہ اپنے اسیروں کو گرم رکھو ، یہ حکم جملہ ” ادفئو اسراکم “ کے ذریعہ ابلاغ ہو ا، کہ یہ لغت میں گرم رکھنے اورقتل کرنے کے دو کنایوں کی صورت میں استعمال ہوتا ہے ، دوسروں کی لغت میں ”دفہ“ جو لفظ ادفئہ سے شباہت رکھتا ہے قتل کے معنی میں ھے ، لوگوں نے جب مذکورہ جملہ سن لیا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ خالد نے ان کے قتل کرنے کا حکم جاری کیا ہے ، لہذ اانہوں نے اسیروں کو قتل کر ڈالا ۔ مالک کا قاتل ضرار بن ازور تھا ، جب چیخ پکار کی آواز خالد کے کانوں تک پہنچی تو وہ اپنے گھر سے باہر نکل آیا اور دیکھاکہ کام تمام ہوچکا ہے اس نے کہا: جب خداوند عالم کسی کام کا اردہ کرتا ہے تو وہ انجام پاتا ہے(۱)
اس کام کے اختتام پر ، خالد کے حامیوں کے درمیان مقتولین کے بارے میں گفتگو ہوئی اور
اختلاف پیدا ہوا ، ابو قتادہ نے خالد سے مخاطب ہوکر کہا یہ تمہارا کام تھا، خالد نے اسے ایک دھمکی دی،
____________________
۱۔ اذا اراد الله امرا اصابہ۔
ابو قتادہ برہم ہوکر غضب کی حالت میں روانہ ہوکر ابو بکر کے پاس آئے ، لیکن ابو بکر ابو قتادہ پر غضبناک ہوئے پھر عمر واسطہ بنے ، لیکن ابو بکر اس سے راضی نہ ہوئے مگر یہ کہ وہ دوبارہ لوٹ کے خالد کے پاس جائے، لہذاواپس چلے گئے اور خالد کے ساتھ مدینہ آگئے ۔ خالد نے ام تمیم بنت منہال (مالک کی بیوی) سے شادی کرلی ، لیکن عدہ تمام ہونے تک اس سے ہمبستری نہیں کی(۱)
عمر نے ابو بکر سے کہا کہ خالد کی تلوار میں سر کشی و طغیانی ہے بالفرض اگر ہرجگہ ایسا نہ ہو ،لیکن مالک کے بارے میں تو ایساہی ہے لہذا اس سے مالک کا قصاص لیناچاہئے اس سلسلہ میں عمر اصرار کررہے تھے لیکن ابو بکرنے اپنے کارندوں اور مامورین میں سے کسی سے بھی قصاص نہیں لیا ،اور ان سے کہا؛ چھوڑو عمر ! خالد اپنی نظر میں ایک تاویل کرنے میں خطا کر گیا ہے اس کے بارے میں اپنی زبان کنٹرول میں رکھو نیزاس موضوع پر اس کے بعد بات مت کرناابو بکر نے مالک کا خون بہا ادا کردیا اور خالد کے نام ایک خط لکھا ، اسے اپنے پا س بلایا ، اس نے ابو بکر کے حضور میں آکر تمام واقعہ بیان کیا ابو بکرنے خالد کے عذر کو منظور کیا اور عربوں کی نظر میں معیوب سمجھی جانے والی شادی کے سلسلے میں اس کی سرزنش کی !
۶ ۔ سیف ایک اور حدیث میں کہتا ہے :
” خالد کے بعض سپاہیوں نے شہادت دی کہ ہم نے اذان و اقامت کہہ کر نماز پڑھی ہے مالک نے بھی ایساہی کیا لیکن کچھ دیگر سپاہیوں نے شہادت دی کہ ایسا نہیں ہوا ہے لہذا اسے قتل کردیا گیا “
____________________
۱۔ جنگ میں ازدواج کرنا عربوں کیلئے اچھا نہیں تھا بلکہ قابل ملامت اور سرزنش کا مقام ہوتا تھا ۔
۷ ۔ سیف نے اپنی آخری روایت میں یوں کہا ہے ” مالک کے سر پر گھنے بال تھے جب سپاہیوں نے مقتولین کے سروں کو دیگ کے پایہ کے طور پر استعمال کیا تو مالک کے سر کے علاوہ کوئی سر ایسانہ بچا کہ اس کی کھال تک آگ نہ پہنچی ہو دیگ میں موجود کھانا پک کر کھانے کیلئے آمادہ ہوچکا تھا لیکن مالک کا سر گھنے بال کی وجہ سے ابھی تک جلا نہیں تھا ۔
متمم نے اس کے بارے میں کچھ اشعار کہے ہیں ، ان میں مالک کے دھنسے ہوئے پیٹ کی تعریفیں کی ہیں ، جو جنگی سورماؤں کے افتخارات میں شمار ہوتا تھا، عمر نے اس سے پہلے دیکھا تھا کہ مالک کس طرح پیغمبر اسلام کے حضورمیں حاضر ہوئے تھے لہذا نھوں نے کہا؛ مگر ایسا ہی تھا اے متمم ! اس نے جواب میں کہا؛ میری نظر میں ایسا ہی تھا ۔
جو کچھ ہم نے سیف کی روایتوں میں پایا ، اس کا یہ ایک خلاصہ تھا ،انشاء اللہ آئندہ فصل میں متن اور سند کے لحاظ سے تحقیق کریں گے۔
مالک کی داستان کے بارے میں سیف کی روایتوں کی چھان بین
و بکل ذلک اثبت ارتداد مالک بن نویره
سیف من گڑھت روایتوں سے مالک کے ارتداد کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے
مؤلف
انا علی الاسلام لا غیّرت ولا بدّلت
میں اپنے اسلام پر ثابت و پائیدار ہوں نہ میں نے دین میں تغیر پیدا کیا ہے اور نہ تبدیلی کی ہے۔
مالک بن نویرہ
گزشتہ فصلوں کا ربط
ہم نے گزشتہ دو فصلوں میں مالک بن نویرہ کی داستان کے بارے میں سیف کی روایتوں اور دیگر مؤرخین کی روایتیں درج کی ہیں ، اب ہم اس فصل میں اس جگہ پر سیف کی روایتوں کو دیگر مؤرخین کی روایتوں سے تطبیق اور موازنہ کرکے تحقیق کریں گے پھر متن اور سند کے لحاظ سے ان کی جانچ پڑتال کریں گے ۔
جب ہم سیف کی رواتیوں کی اسناد کی تحقیق کرتے ہیں اور ان کے متن کو دوسروں کی روایتوں سے ملاتے اور موازنہ کرتے ہیں تو اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ سیف کی روایتیں متن اور سند کے لحاظ سے بے بنیاد اور ناقابل اعتبار ہیں ، یہاں پر ہم پہلے سیف کی روایتوں کی سند کی چھان بین کریں گے اور پھر ان کے متن پربحث کریں گے ۔
سند کے لحاظ سے سیف کی روایتوں کی قدر وقیمت
سیف نے روایت نمبر ۱ ،( ۲ و ۳ کو صعب بن عطیہ سے نقل کیا ہے اور کہتا ہے : صعب نے بھی اپنے باپ عطیہ بن بلا ل سے روایت کی ہے اور اپنی پانچویں اور ساتویں روایت کو عثمان بن سوید بن مثعبہ سے نقل کیا ہے ۔
عطیہ اورصعب ---باپ، بیٹے --- اور عثمان بن سوید کی آشنائی کےلئے ہم نے علم حدیث اور سند شناس دانشوروں کی رجال کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو ہمیں عطیہ و صعب کے بارے میں کہیں کوئی اثر نہ ملا لیکن، عثمان بن سوید ، اگرچہ تاریخ میں سوید بن مثعبہ یا سوید بن شعبہ کا نام ملتا ہے لیکن اس کیلئے عثمان نامی کوئی فرزند ذکر نہیں ہوا ہے اہل فن کی نظر میں واضح اور مسلم قاعدے کے مطابق ان راویوں کو سیف کے ذہن کی تخلیق جاننا چاہئے اور اس مطلب کی وضاحت کے سلسلے میں ہم کہتے ہیں :
سیف نے بہت سے لوگوں کیلئے بیٹے جعل کئے ہیں چنانچہ حواب کے کتوں کی داستان میں ام قرفہ کیلئے ”ام زمل“ نامی ایک بیٹی تخلیق کی ہے اور ہرمزان کیلئے قماذبان نامی ایک بیٹا جعل کیا ہے چانچہ یہ بحث آئے گی ، ” جعلی اصحاب “ کی بحث میں ہم دیکھیں گے کہ ایک سو پچاس سے زائد راوی و اصحاب اس کی کے ذہنی تخلیق کانتیجہ ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے اور ان کا کسی کتاب میں نام و نشان تک نہیں ملتا ، لہذ اہم ناچارہیں کہ عثمان بن سوید کو بھی سیف کے ذہن کی تخلیق سمجھیں ۔
راویوں کے طبقات
یہاں پر ممکن ہے سوال کیا جائے کہ : کس وجہ سے سیف نے جن راویوں سے روایتیں نقل کی ہے ان کانام و نشان کتابوں میں نہیں ملتا اور وہ سیف کے خیالات کی تخلیق ہیں ؟
اس سوال کے جواب کو واضح کرنے کیلئے ہم کہتے ہیں :
علم حدیث کے علماء نے حدیث کے راویوں کی طبقہ بندی کی ہے:
طبقہ اول میں : و ہ لوگ ہیں جو رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ہم عصر تھے اور بلا واسطہ آپ سے روایت نقل کرتے ہیں اس گروہ کو اصحاب یا صحابہ کہتے ہیں ۔
طبقہ دوم : وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو درک نہیں کیا ہے لیکن آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب سے ملاقات کی ہے اور ان سے روایت کرتے ہیں انھیں تابعین کہتے ہیں اور تابعین میں سے جنہوں نے دس اصحاب یا دس سے زیادہ اصحاب سے روایت کی ہو انھیں ” بزرگان تابعین “ کہتے ہیں :
تیسرا طبقہ : یہ تابعین کے وہ افراد ہیں جنہوں نے بعض اصحاب سے حدیث روایت کی ہو اور اس گروہ کا زمانہ ولیداموی کی خلافت کے اختتام ۱۲۶ ئھ پر ختم ہوتا ہے ۔
چوتھا طبقہ : یہ تابعین کا آخری گروہ اور ان کے ہمعصر راوی ہیں او راس طبقہ نے غالباً طبقہ اول کے تابعین سے روایت کی ہے اور ان میں سے بعض نے بھی بعض اصحاب کو درک کیا ہے اس طبقہ کا زمانہ، بنی امیہ کی خلافت کے اختتام ۱۳۲ ھء پر ختم ہوتا ہے ۔
پانچواں طبقہ :یہ وہ راوی ہیں جو طبقہ چہارم کے بعد تھے اور ان کا زمانہ منصور عباسی کی خلافت کے اختتام تک تھا ۔
چھٹا طبقہ : یہ وہ راوی ہیں جن کا زمانہ مامون کی خلافت کے اختتام تک ختم ہوتا ہے(۱) اور یہ طبقہ بندی چودہ طبقہ تک پہنچتی ہے بعض علماء نے دوسرے طریقے سے طبقہ بندی کی ہے جن راویوں نے ہجرت کے پہلے دس برسوں کے دوران وفات پائی ہے انکو پہلے طبقہ سے جانا جاتا ہے اورجنہوں نے دوسرے دس سال میں وفات پائی ہے انھیں دوسرا طبقہ اور اسی طریقہ سے طبقات کے سلسلہ کو آگے بڑھایا جاتا ہے چونکہ دینی علم پہلی صدی ہجری کے اوائل میں قرائت قرآن اور روایت حدیث تک منحصرتھا اوراس کے بعد صرف روایت حدیث اہم ترین دینی علم حساب ہوتا تھا ، لہذا صحاب و تابعین اور ان کے بعد جنہوں نے حدیث روایت کی ہے انھیں عالم کہا جاتاہے جس سے روایت کی گئی
____________________
۱۔ تذکرہ حفاظ کے چار جلد ، طبع حیدر آباد کو طرف رجوع کیا جائے ۔
ہے اسے شیخ کہا جاتا ہے ہر شیخ (جو روایت کا استاد تھا) کو معین کیا گیا ہے جس کے چند شاگرد تھے اور ہر شاگرد نے راوی کی تعیین کی ہے جنہوں نے چند شیوخ سے اخذ کیا ہے ان کے اساتید کون ہیں ؟ پھر اس وقت کس طرح ہر ایک کے تفصیلی حالات بیان کرتے ہیں کہ کس شہر میں زندگی گزار رہے تھے با تقویٰ اور پرہیزگار تھے یا یوں ہی ضعیف عقیدہ ،شیعہ تھے یا سنی ، خارجی تھے یاغالی مرجئی تھے یا قدری ، معتزلی تھے یااشعری ، خلق قرآن کے قائل تھے یا اس کے قدیم ہونے کے ، حاکم وقت کے درباسے دور تھے یا درباری تھے ، قوی حافظہکے مالک تھے یا ضعیف حافظہ والے ، سچ بولنے والے تھا یا جھوٹ بولنے والے ، آخر عمر تک اس کی عقل کام کرتی تھی یا آخری عمر میں ضعیف العقل ہوگئے تھے ، حدیث نقل کرنے میں کسی دوسرے کے ساتھ شریک تھے یا تنہا روایت کرتے تھے حتی راویوں کی جمع کی گئی حدیثوں کے نمبر تک بھی معین کئے گئے ہیں ۔
بعض طبقات اپنے شاگرد کے نام پر روایت نقل کرنے کی اجازت نامے جاری کرتے تھے اور شاگرد (راوی) کو سر ٹیفکیٹ دیتے تھے او خود ان روائی اجازوں کو کو علماء نے دسیوں جلد کتابوں میں ضبط کیا ہے اور اس کے علاوہ دسیوں کوائف حدیث کے راویوں کے بارے میں لکھے گئے ہیں علم حدیث کی اتنی اہمیت تھی کہ اسے دیکھنے کیلئے ایک شہر سے دوسرے شہر میں جاتے تھے ، جیسے کہ آج کل علم حاصل کرنے کیلئے ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرتے ہیں خراسان سے مدینہ ، یمن سے مصر اور ری سے بغداد جاتے تھے ،نیز نیشابور ، کوفہ ، بصرہ ، بلخ اور سمرقند وغیر ہ جاتے تھے ۔
راویوں کے حالات میں تالیف کی گئی کتابیں چند حصوں میں تقسیم کی گئی ہیں ، اکثر کتابوں میں راویوں کے نام او رمؤلف کا زمانہ الف ،با ء کی ترتیب سے لکھا گیا ہے اور ان کے حالات کی تشریح بھی لکھی گئی ہے جیسے : ”تاریخ کبیر “، ”وسیط بخاری“ صاحب صحیح بخاری، ”جرح و تعدیل “رازی ، تہذیب بن مزی ، میزان الاعتدال ذہبی ، تہذیب التہذیب ، لسان المیزان ، ابن حجر عسقلانی کی تقریب التہذیب ۔
بعض کتابیں سال کی ترتیب سے لکھی گئی ہیں ، یعنی ہر ایک راوی کی زندگی کے حالات اس کی وفات کے سال میں لکھے گئے ہیں ، جیسے :” التہذیب“ ابن حجر عسقلانی ، ”العبر“ تالیف ذہبی ، ”شذرات الذہب“ تالیف ابن عمار ،” الرفیات“ تالیف صلاح الدین صفری ،” تکملة الرفیات“ منذری ، اور بعض تاریخ کی کتابوں سے بھی راوی کے سال وفات میں اس کے حالات کی تشریح لکھی ہے ، جیسے : ”ابن اثیر“ ،” ابن کثیر“ ، ذہبی نے ”تاریخ اسلام کبیر“ میں ، ابن سعد نے طبقات میں ہر شہر کے راویوں کی طبقہ بندی کی ہے ، جیسے : مکہ ، مدینہ ، بصرہ ، کوفہ ، ری ، بغداد ، یمن اور شام کے راوی ، جن علماء نے شہروں کیلئے مخصوص تاریخ لکھی ہے انہوں نے ان شہروں میں رہنے والے راویوں یا ان شہروں سے گزرنے والے راویوں کے حالات کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے ، جیسے : ابن عساکر کی ”تاریخ دمشق“ ، خطیب بغدادی کی ”تاریخ بغداد“ ، ابو نعیم اصفہانی کی ”تاریخ اصفہان“ حموی نے معجم البلدان میں شرح بلاد کے ضمن میں ا ن شہروں سے منسوب راویوں کو بھی لکھا ہے ۔
بعض روات کسی شہر کی طرف منسوب ہوئے یا لقب سے مشہور تھے ، جیسے : اصفہان ،طبری ، عکلی ، عمری ،برجمی و بعض دانشوروں نے ایسے راویوں کے حالات زندگی پر کتابیں لکھی ہیں ، جیسے : سمعانی نے ”انساب“ میں اور ابن اثیر نے” لباب الانساب“ میں اس نسبت کا ذکر کیا ہے اور جو بھی راوی اس نسبت سے مشہو تھے اس کو لکھا ہے، جب کبھی راویوں کے نام میں کوئی غلطی ہوجاتی تھی تو اس غلطی کو دور کرنے کیلئے کتابیں لکھی جاتی تھی ، جیسے : المختلف و المؤتلف اور المشتبہ و الاکمال ۔
خلاصہ یہ کہ، جیسا کہ ہم نے کہا کہ علم حدیث ، ایک اہم ترین علم او رمسلمانوں کی دلچسپی کا علم تھا ۔ اس سلسلے میں تمام کوشش و تلاش کی گئی ہے کہ سند شناسی کے لحاظ سے کوئی تاریک نقطہ باقی نہ رہے ۔ اس کے پیش نظر اگر ہم نے دیکھا کہ ، سیف نے اپنی روایتوں کو اپنی دو کتابوں ” فتوح “ اور ” جمل“میں جمع کیا ہے اور کسی سبب سے -- جسے ہم نے مناسب جگہ پر بیان کیا ہے--- ان دوکتابوں کو اس نے بنی امیہ کے زمانے میں لکھا ہے اس زمانے تک حدیث کے راوی گنے چنے تھے اور اس کے علاوہ سند شناسی کی کسی کتاب میں سیف کے راویوں کا نام و نشان نہیں پایا جاتا ہے ، خاص طور پر جو تجربہ ہم سیف کے احادیث گڑھنے کے بارے میں رکھتے ہی ، ہمارے لئے مسلم طور پر ثابت ہوگا کہ وہ راوی صرف اور صرف سیف کے خیال کے پیداوار ہیں اور کچھ نہیں ۔
قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ ہم سیف کی روایتوں کی سند کی پڑتال اور تحقیق میں صرف اس زاویے کی طرف توجہ مبذول کراتے کہ اس حدیث کا فلان راوی وجود و خلقت کے بنیادی اصول کے تحت سیف کے خیال کی پیدائش ہے اور اسی زاویہ پر اکتفا کرتے ہیں ، لیکن دوسرے زاویئے جو حدیث شناسی کے فن کے لحاظ سے روایت کی سند کی بناوٹ میں ہماری نظر میں قابل اعتراض ہیں جیسے : فلاں راوی کے بارے میں روایت کی سند میں باجود اس کے اس کا نام تاریخ میں ذکر ہوا ہے اور حقیقت میں راویوں میں سے ایک ہے ، لیکن سیف کا اس سے روایت کرنا محل اشکال ہے جیسے اس داستان کی پانچویں روایت ہم اس قسم کے اشکالات کو نظر انداز کریں گے ۔
فی الجملہ چونکہ رجال کی کتابوں میں عطیہ ، صعب او رعثمان بن سوید کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ، اس لئے ہم مجبور ہیں کہ انہیں سیف کے ذہن کی پیداوار شمار کریں ، اور یہ کام علمائے حدیث کے راویوں کی نظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور اسے ناقابل بخشش گناہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ سیف کی نظر میں ا یک انتہائی سہل و آسان کام ہے جی ہاں ! اس سادگی اور آسانی کے ساتھ کہتا ہے کہ : صعب بن عطیہ نے اپنے باپ عطیہ بن بلال سے میرے لئے روایت کی ہے ؟! اور ان چند جملوں کے ذریعہ اس نے بیٹے ، باپ اور جد پر مشتمل ایک گھرانے کو خلق کیا ہے تا کہ اپنی روایتوں کیلئے سند جعل کرسکے یہ تھی سیف کی روایتوں کی سند اور ملاحظہ ہو ان کا متن اور صحیح روایتوں سے ان کا موازنہ :
متن کے لحاظ سے سیف کی روایتوں کی قدر وقیمت
جب ہم سیف کی روایتوں کے متن کا دوسروں کی روایتوں سے تطبیق اورموازنہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سیف بن عمر نے ان روایتوں کے ایک حصہ کو مکمل طور پر جعل کیا ہے اور ان کے ایک حصہ میں اپنی مرضی کے مطابق تحریف کرکے ان میں کچھ مطالب کا اضافہ کردیا ہے ، تاکہ اس طرح، خالد بن ولید پر کئے گئے اعتراض اورتنقید کا دفاع کرسکے اور اس نظریہ کی حمایت کیلئے پہلے اہل بحرین بنی تمیم اور سجاح کی روایتوں کو نقل کرنے کے ضمن میں راہ ہموارکی ۔ اوروہاں پر مالک کے شک و شبہہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے مقابلے میں ثابت قدم مسلمانوں کے ایک گروہ کو جعل کیا ہے اور انہیں مالک کے طرفداروں سے مجادلہ اور نبرد آزمائی کرتے دکھایا ہے اور ابو بکرکوثابت قدم مسلمانوں پرحملہ کی غرض سے نبوت کے مدعی سجاح سے مالک کی موافقت جعل کی ہے ، سجاح کی واپسی کے بعد مالک کو حیران و پریشان دکھایا ہے جبکہ مؤرخین میں سے کسی ایک نے نہیں کہا ہے کہ مالک نے ضرار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے وقت اپنے ارد گرد کچھ لوگوں کو جمع کیا تھا اور اپنے ساتھ ایک فوج تیار کر رکھی تھی ، جیساکہ سیف نے کہا ہے ، سیف اپنی رسوائی سے بچنے کیلئے چارہ جوئی کے طورپر اپنی چوتھی روایت میں ا س زاویہ کو اپنے خیال میں اس وضاحت کے ساتھ تصحیح کرتا ہے کہ مالک نے اپنے حامیوں کو حکم دیا کہ متفرق ہوجائیں او رمالک کا یہ کام اس لحاظ سے نہیں تھا کہ اس نے اپنی کارکردگی سے پشیمان ہوکر توبہ کیا ہو بلکہ اس خوف و دہشت کی وجہ سے تھا جو اس پر طاری ہوا تھا ۔
آخر کاران باتوں نے رفتہ رفتہ مالک کے ارتداد کو ثابت کیااس نے مالک کے ارتداد کو نہ صرف ان روایتوں سے ثابت کیا ہے بلکہ دوسری روایتوں میں بھی جس میں خالد کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے مالک کے ارتداد کو ثابت کیا ہے اور یہ کام اس غرض سے انجام دیا ہے تاکہ کوئی اس امرکی طرف متوجہ نہ ہوجائے کہ مالک پر لگائی گئی تہمت در حقیقت خالد یا کسی اور کے دفاع میں ہے اور گر یہ ثابت ہوجائے کہ مالک کا قاتل خالد ہے تو عام فیصلہ خالد کے حق میں د یا جائے کہ اس نے ایسے شک کرنے والے مرتد شخص کو قتل کیا ہے ۔
اس کے بعد اس نے خالد کی سپاہ میں موجود انصار اور خالد کے درمیان فرضی اختلافات درست کئے ہیں تاکہ خالد کا گناہ ابو بکر کی گردن پر نہ پڑے اور تاریخ پڑھنے والا خالد کے اس عمل کو ابو بکر سے نسبت نہ دے، سیف کی گڑھی ہوئی روایت میں انصار نے ابو بکر کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابو بکر نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا ہے ، اور خالد پر یہ الزام نہ لگا سکے کہ وہ اس جرم کر مرتکب ہوا ہے چونکہ خالد نے واضح کیا ہے کہ اسے پے در پے فرمان ملتے تھے تا کہ تنقید و اعتراض صدا بصحرا ہوجائے ۔
پھر راہ ہموار کرنے کے بعد سیف کہتا ہے : خالد نے اپنے سپاہیوں کو اسلام کی تبلیغ کرنے کیلئے مختلف علاقوں میں بھیجا اور حکم دیا کہ جو بھی ان کی دعوت کو قبول نہ کرے ، اسے گرفتار کریں ، ابو بکر سے نقل کی گئی ایک سفارش کے تحت اس سے کہیں زیادہ اور سخت تر سزا کا قائل ہو اہے مزید کہتا ہے کہ مالک کے سپاہیوں کو دھوکہ دے کر خالد کے پاس لایا گیا جبکہ وہ خود بھی مالک کے باب میں اختلاف رکھتے تھے اس کے بعد خالد حکم دیتا ہے کہ مالک اور اس کے ساتھیوں کو جاڑے کی سرد رات میں جیل میں ڈالدیں اور انھیں گرم رکھنے کا انتظام کریں ، فوجیوں نے اس گمان سے کہ خالد کنایہ میں بات کرتا ہے زندانیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ، ان سب کو قتل کر ڈالا جب چیخ و پکار اور گریہ و زاری کی آوازیں خالد کے کانو تک پہنچیں تو وہ باہر آیا لیکن دیکھا کہ کام تمام ہوچکا ہے اور فوجی ،قیدیوں کا قتل عام کرکے فارغ ہوچکے ہیں پھر اس کے بعد کہتا ہے : خالد نے عدہ تمام ہونے کے بعد مالک کی بیوی سے ہمبستری کی ، تنہا اعتراض جو خالد کیلئے باقی رہتا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے جنگ کی حالت میں شادی کی ہے جو عربوں میں قبیح فعل شمار ہوتا ہے ، اسی طرح اس نے ابو قتادہ خالد اور عمر کے درمیان گزرے واقعات کو تحریف کے ساتھ پیش کیا ہے۔
جی ہاں ! اس کے خیال میں مالک کو غلطی سے قتل کیا گیا ہے اور اس کا سبب یہ تھا کہ خالد کے سپاہیوں نے خیال کیا تھا کہ خالد نے ان کے ساتھ کنایہ میں بات کی ہے ، ہم تویہ نہ سمجھ سکے کہ اس خیال کا سرچشمہ کیا تھا ؟ باوجودیکہ خود خالد قبیلہ قریش اور بنی مخزوم سے تعلق رکھتا تھا اور ضرار بن ازور (قاتل) قبیلہ بنی اسد و بنی ثعلبہ سے تھا ، بالفرض اگر یہ قتل غلطی کے سبب بھی انجام پایا تھا ، تو مقتولین کے قلم کئے گئے سروں کو کیوں کھاناپکانے والی دیگوں کے پایہ کے طور پر استعمال کیا گیا ؟ یہ اور اس کے علاوہ دیگر نکات(جن کی طرف ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں ہے) ایسے مطالب ہیں جنہیں صرف سیف نے نقل کیا ہے اور ا سکے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے ، لیکن کیاکیا جائے کہ طبری جیسے مؤرخ پیدا ہوتے ہیں اور اس کی باتوں کو اپنی تاریخ میں درج کردیتے ہیں اور دوسرے بھی مانند ابن اثیر ، ابن کثیر،میر خوان جیسے لوگ اپنی تاریخ کی کتابوں میں طبری سے نقل کرتے ہیں ا ور اسی طرح ابن حجر بھی اپنی کتاب الاصابہ میں ا نھیں درج کرتے ہیں ، نتیجہ کے طور پر سیف کی گڑھی ہوئی روایتیں ابن حجر بھی اپنی کتاب الاصابہ میں انھیں درج کرتا ہے نتیجہ کے طور پر سیف کی گڑھی ہوئی روایتیں تاریخ اسلام اور رجال کی کتابوں میں شائع ہوجاتی ہیں اور حقیقت واقعہ آئندہ نسلوں سے پوشیدہ رہ جاتاہے مگر یہ کہ کوئی (سیف کے علاوہ) دوسروں کی لکھی گئی تاریخ او ر تشریح کا سنجیدہ گی سے مطالعہ کرکے چھان بین کرے تا کہ اس پر حقیقت امر واضح اور روشن ہوجائے اور جان لے کہ سیف کے کہنے کے علاوہ دیگر مصادر نے بھی (جیسا کہ اس سے پہلے کہا گیا)خالد کا مالک کے قتل کا حکم دینا نقل کیا ہے ، جیسے : فتوح البلدان بلاذری(۱) ، تاریخ ابن عساکر(۲) تاریخ الخمیس ج ۲/ ص ۳۳۳ ، نہایة ابن اثیر ج ۳/ ۲۵۷ ، صواعق المحرقہ ص ۲۱ ، تاج العروس زبیدی ج ۸/ ص ۷۵ وغیرہ ،
یہ تھی ” ردہ “ کی جنگوں میں سے ایک جنگ کی داستان و علی ھذہ فقس ما سواھا اور اسی پر باقی کو قیاس کیجئے۔
____________________
۱۔ صفحہ ۱۰۵ ۔
۲۔ ج ۵/ ۱۰۵ ، ۱۱۲۔
علاء حضرمی کی داستان اور بحرین کے لوگوں کا ارتداد
واقتتلو ا قتالا شدیداً فما ترکوا بها مخبراً
” علاء کے سپاہیوں نے دارین کے لوگوں سے ایسی جنگ کی اور ان پر تلوار چلائی کہ حتی ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہیں بچا “
سیف
علاء حضرمی ، عبدالله بن عماد بن اکبر بن ربیعہ بن مالک بن عویف حضرمی کا بیٹا ہے اس کا باپ مکہ کا باشندہ تھاا ور حرب بن امیہ کا ہم پیمان تھا، علاء کو رسول خدا نے بحرین کا گورنر مقرر رفرمایا تھا ، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ابو بکر نے بھی اسے اسی عہدہ پر برقرار رکھا اور عمرکے زمانے میں بھی اسی عہدہ پر برقرار تھا یہاں تک کہ ۱۴ ھء یا ۲۱ ھء میں اس دنیا سے چلا گیا(۱)
سیف کی روایتوں میں علاء کی داستان
طبری نے سیف سے اور اس نے منجاب بن راشد(۲) سے نقل کیا کہ ابو بکر نے علاء حضرمی کو حکم
____________________
۱۔ الاستیعاب ج ۳/ ص ۱۴۶ ۱۴۸۰ ، الاصابہ ۴۹۱۔
۲۔ اغلب گمان یہ ہے کہ منجاب بن راشد سیف کی خیالی پیداوار ہے ہم مناسب جگہ پر کہیں گے کہ سیف نے اس قسم کے اصحاب بہت جعل کئے ہیں ۔
دیا کہ بحرین کے مرتدلوگوں سے جنگ کریں یہاں تک کہتا ہے :
” ہمیں دہنا(۱) کے راستہ سے روانہ کیا، جوں ہی ہم اس بیابان کے بیچ میں پہنچ گئے اور خداوند عالم نے اپنی آیات میں سے ایک آیت کو ہمیں دکھانا چاہا ، علاء مرکب سے نیچے اترا اورلوگوں کو بھی حکم دیاکہ اپنے اپنے مرکبوں سے نیچے اتریں ، جب ہم سب نے وہاں پر پڑاؤ ڈالا تو ہمارے اونٹوں نے اندھیری رات میں اچانک فرارکیا اور ہمارا پورا مال و منال اس ریگستاں میں ایسے نابود ہوا کہ پڑاؤ ڈالتے وقت نہ ہمارے اونٹ کہیں تھے اور نہ زاد راہ کا نام و نشان موجود تھا ، کیوں کہ ہمارے اونٹ سب کچھ لے کر ریگستان میں غائب ہوچکے تھے ہم نے کسی مصیبت زدہ گروہ کو اس حالت میں نہیں دیکھا تھا جو اس رات ہم پرگزری ، ہم اس حد تک مصیبت میں گرفتارہوئے تھے کہ اپنی زندگی سے بھی مایوس ہوچکے تھے اور ہم میں سے ہر ایک ، ایک دوسرے کو وصیت کرتا تھا ، اسی اثناء میں علاء کے منادی نے آواز بلند کرکے سپاہیوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا اعلان کیا ہم سب علاء کے اردگرد جمع ہوئے ، اس نے ہم سے مخاطب ہوکر کہا ؛ تم لوگوں میں یہ کیا حالت پیداہوئی ہے ؟
لوگوں نے جواب میں کہا : کیا یہ ملامت کا موقع ہے ؟ اگر ہم اس موجودہ صور ت حا ل میں ر ات گزاریں گے تو کل سورج روشن ہونے سے پہلے ہی ہمارا نام و نشان باقی نہیں رہے گا ۔
علاء نے کہا: اے لوگو ! نہ ڈرو کیا تم مسلمان نہیں ہو، ؟ کیا تم خدا کی راہ میں قدم نہیں اٹھا رہے ہو !
____________________
۱۔ دہنا بنی تمیم کے قبیلہ کی زمینوں میں سے ہے جس میں ر یت کے سات پہاڑ تشکیل پائے ہیں ،معجم البلدان ج۴/ ۱۱۵
کیا تم خدا کے یاور نہیں ہو ؟
انہوں نے کہا کیوں نہیں !
اس نے کہا: پھرمیں تمہیں نوید دے رہا ہوں ، خدا کی قسم کھاتا ہو ں کہ خداوند عالم ہرگز تمہارے جیسی حیثیت کے مالک فرد کو ذلیل و خوار نہیں کرے گا جب صبح نمودار ہوئی منادی نے نماز کیلئے اعلان کیا اور علاء نے نماز ہمارے ساتھ پڑھی ہم میں سے بعض نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور بعض دیگر ابتدائے شب ہی سے با وضو تھے علاء نے جب نماز سے فراغت حاصل کی تو دو زانو بیٹھ گیا لوگ بھی دو زانو بیٹھ گئے ، اس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور لوگوں نے بھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ، اس دوران سورج کی گرمی کی وجہ سے دور سے پانی کی لہریں نظر آنے لگیں ، علاء نے جماعت کے صف کی طرف رخ کرکے کہا؛ کوئی جاکر دیکھ لے یہ کیا ہے تو ایک شخص جاکر واپس آیا ، اس نے کہا: یہ ایک سراب کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، علاء نے پھر سے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ، ایک او رسراب نمودار ہوا جو بالکل پہلے کی طرح تھا ، اس کے بعد پھر سے پانی کی لہریں دکھائی دینی لگیں ، اس دفعہ ہمارا راہنما واپس آکر بولا ” پانی ہے “
پھرعلاء اٹھا اور لوگ بھی اٹھے ہم سب پانی کی طرف روانہ ہوئے اورپانی تک پہنچ گئے ہم نے پانی پی لیا ور اور ہاتھ منھ دھویا،ابھی سورج بلند نہ ہوا تھا کہ ہم نے دیکھا ہمارے اونٹ ہر طرف سے ہماری طرف ہانکے جارہے ہیں ، جب وہ ہمارے پاس پہنچے تو ہمارے سامنے جھک کر بیٹھ گئے اورہر ایک نے اپنے اونٹ کو پکڑلیا ، ان کے مال کا ایک ذرہ بھی کم نہیں ہوا تھا ہم نے اپنے مرکبوں کو پانی پلایا او خود بھی سیراب ہوئے اور ہم وہاں سے روانہ ہوگئے ابوہریرہ میرے ساتھ تھا ، جب ہم اس جگہ سے آگے بڑھے اور وہ جگہ نظروں سے اوجھل ہوئی ، تو ابو ہریرہ نے مجھے کہا: کیا پانی کی جگہ کو پہچان سکتے ہو؟ میں نے جواب میں کہا: تمام لوگوں سے بہتر میں اس سرزمین کے بارے میں آشنا ہوں اس نے کہا : میرے ساتھ آؤ تا کہ مجھے اس پانی کے کنارے پہنچادو ،ہم دونوں ایک ساتھ آکر اس جگہ پہنچے ، لیکن ہم نے انتہائی تعجب کے ساتھ مشاہدہ کیا کہ نہ وہ تالاب موجود تھا اور نہ پانی کا کہیں نام و نشان باقی تھا میں نے اس سے کہا: خدا کی قسم اگر میں تالاب کو یہاں غائب نہ پاتا تو کہتا : یہ وہی جگہ ہے ، دلچسپ کی بات یہ ہے کہ میں نے اس سے پہلے بھی یہاں پر پانی نہیں دیکھا تھا ، ہم اس گفتگو میں لگے تھے کہ ابو ہریرہ کی نگاہ اس کے اپنے لوٹے پر پڑی جو پانی سے بھرا تھا ، اس نے کہا : اے ابو سہم خد اکی قسم یہ وہی جگہ ہے اور میں ا سی لوٹے کیلئے واپس آیا ہوں اور تجھے بھی اسی لوٹے کیلئے اپنے ساتھ لے آیا ہوں میں نے اس میں پانی تالاب کے کنارے رکھا تھا تا کہ واپس آکر دیکھو لوں کہ پانی کا کوئی اتا پتہ ہے کہ نہیں اس صحرا میں پانی کا نمودار ہونا ایک معجزہ تھا ، اب مجھے معلوم ہوا کہ یہ معجزہ تھا ، لہذا بوہریرہ نے خداکا شکر ادا کرکے ہمراہ روانہ ہوگیا۔
اس کے بعد سیف بحریں کے مرتدلوگوں سے علاء کی جنگ کی داستان نقل کرتا ہے اور اس سلسلے میں کہتا ہے : علاء کی فوج نے اس رات میں (جب سب مست تھے) فتح پائی یہاں تک اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۵۲۶ پرلکھتا ہے جب علاء نے اس طرف سے خاطر جمع ہوکر سکون حاصل کیا تب اس نے لوگوں کو شہر ” دارین “ کی طرف روانہ ہونے کی دعوت دی اور ان کو جمع کرکے ایک خطبہ دیااوربولا : خداوند عالم نے شیاطین اور جنگ سے فرار کرنے والوں کو اس شہر میں جمع کیا ہے ، اس نے اپنی آیات صحرا میں تمہارے لئے دکھلائی ہیں ، تا کہ تم لوگوں کیلئے عبرت اور اطمینان کا سبب بنو ،لہذا اٹھو! اوراپنے دشمن کی طرف رخ کرکے سمندر میں کود پڑو کہ خداوند عالم نے تمہارے دشمن کو ایک جگہ جمع کردیاہے ۔
فوجیوں نے کہا : خدا کی قسم صحرائے ”دھنا“ کی داستان کے بعد مرتے دم تک ہم کسی بھی خطرناک واقعہ کے رونما ہونے سے خائف نہیں ہوں گے ۔
علاء اپنے مرکب پر سوار ہوا ور اس کے فوجی بھی سوار ہوئے اور سمندر کے ساحل پر پہنچے ، علاء اور اس کے سپاہی یہ دعاپڑھ رہے تھے : یا ارحم الراحمین یا کریم یا حلیم یا احد یا صمد یا حی یا محیِی الموتی یا حی یا قیوم لا الہ الا انت یا ربنا اس کے بعد خدا کا نام لے کر سمندر میں کود پڑے ان کے قدموں تلے سمندر کا پانی نرم زمین کے مانند تھا پانی صرف اونٹوں کے سموں کے اوپر والے حصہ تک پہنچتا تھا دریا سے شہردارین تک سمندر میں کشتیوں کے ذریعہ ایک دن رات کا فاصلہ تھا۔ ” دارین “ پہنچ کر وہ دشمن کی فوج سے نبرد آزما ہوئے ، گھمسان کی جنگ ہوئی ، دشمن پر انہو ں نے ایسی تلوارچلائی کہ ان میں سے ایک نفر بھی زندہ نہ بچا، جو ان کی کوئی خبر لاتا ان کے بال بچوں کو اسیرکیا گیا اور ان کا مال لوٹ لیا گیا، اس قدر دولت ہاتھ آئی کہ ہرسوار کو چھ ہزار اور ہر پیادہ کو دو ہزار کا حصہ ملا پھر وہ اسی روز اس طرح واپس چلے گئے جس طرح آئے تھے ، عفیف بن منذر نے اس واقعہ کے متعلق یوں کہا:
الم تر انَّ اللّه ذلّل بحره
و انزل بالکفار احدی االجلائل
دعونا الذی شقّ الرمال فجائنا
باعجب من فَلْقِ البحار الاوائل
ترجمہ :
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خداوند عالم نے کس طرح سمندر کی پر خروش اور سرکش لہروں کو رام کیا اور کفار کے سر پر ایک بڑی بلاء و مصیبت ڈال دی ؟ ہم نے ایک ایسے خدا سے التجا کی جس نے ریگستان کی ریت کو توڑدیا (اور ہمارے لئے پانی جاری کیا) اس نے بھی ہماری دعا قبول کی اور ایسا کام کیا کہ گزشتہ زمانوں میں (دوران فرعون) سمندر کو چیرنے سے عجیب تر تھا۔
اسکے بعد طبری کہتا ہے :
” جب علاء بحرین واپس آیا تو اس قت اس سرزمین میں اسلام پائدار و مستحکم ہوگیا تھا اہل اسلام عزیز اور اہل شرک ذلیل ہوگئے مسلمانوں کے ہمسفر ایک راہب نے اسلام قبول کیا تو اس سے سوال کیا گیا کہ تیرے اسلام قبول کرنے کا کیا سبب ہوا ؟ اس نے جواب میں کہا؛ میں نے تین چیزوں کا مشاہدہ کیا اور ڈر گیا کہ اگر ان کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ایمان نہ لاؤں ، تو خداوند عالم مجھے ایک حیوان کی صورت میں مسخ کردے گا۔
۱ ۔ ریگستان میں جاری ہونے والا پانی
۲ ۔ سمندر کی طوفانی لہروں کا راستہ میں تبدیل ہونا۔
۳ ۔ ہنگام سحر لشکر اسلام سے جو دعا میں نے سنی ۔
سوال کیا گیا : وہ دعا کیا تھی ؟
اس نے کہا:
اللّٰهم انت الرحمن الرحیم ، لا اله غیرک ، و البدیع لیس قبلک شیء و الدائم غیر الغافل ، والحی لا یموت ، و خالق ما یری ، و ما لا یری و کل یوم انت فی شان و علمت اللُّهم کل شیء بغیر تعلّم ،
پھرمجھے معلو ہوا کہ ملائکہ ان لوگوں کیلئے مامور کئے گئے ہیں کیونکہ وہ حق کی راہ پر چلتے ہیں ، بعد میں رسول خدا کے اصحاب نے اس راہب سے مذکورہ واقعہ سنا۔
علاء نے حضرت ابو بکر کو لکھا : اما بعد ، خداوند عالم نے ریگستان کو ہمارے لئے ایک ایسے چشمے میں تبدیل کردیا ہے جس کی انتہا نظر نہیں آتی تھی : اس طرح ہمارے مشکل اور غم و اندوہ میں گرفتار ہونے کے بعد اپنی قدرت کی ایک آیت اور عبرت کے اسباب ہمیں دکھا یا ، تا کہ ہم خدا کا شکر بجالائیں ، لہذاآپ بھی ہمارے لئے دعا کیجئے اور خدا سے درخواست کیجئے کہ اپنے لشکر اور ا سکے دین کی یاری کرنے والوں کی مدد فرمائے۔
جب حضرت ابو بکر کو یہ خط ملا تو انھوں نے خدا کا شکر اداکیااور دعا کرتے ہوئے کہا: ہر وقت جزیرة العرب کے بیابانو ں کے بارے میں بات چھڑتی تھی ، عرب کہتے تھے لقمان سے پوچھا گیا : کیا ”دہنا “ کے ریگستانوں میں کنواں کھودیں ؟ لقمان نے منع کیا اوراجازت نہیں دی کہ وہاں پر کھدائی کی جائے ،کیونکہ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ اس سرزمین میں پانی اتنی گہرائی میں ہے کہ کوئی بھی رسّی، اس تک نہیں پہنچ سکتی اور اس سرزمین سے ہرگز کوئی چشمہ ابل نہیں سکتاایسی صورتحال میں اس سرزمین پر پانی کا وجود خدا کی عظیم نشانی ہے اس سے قبل کسی بھی امت میں ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے ، الٰہی ! وجود محمد کے اثرا ت و برکات کو ہم سے نہ چھین لینا“(۱)
اس افسانہ کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ(۲) میں سیف سے تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے اور ابو الفرج نے بھی ”الاغانی“ میں اسی روایت کو طبری سے نقل کرکے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے بے شک ان تمام دانشوروں اورعلماء نے اس افسانہ کو سیف سے نقل کیا ہے ۔
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں علاء کی داستان
ہم نے علاء کی داستان کے بارے میں سیف کی روایت کو پڑھا ، لیکن سیف کے علاوہ دوسرے ۱ س بارے میں کچھ اور روایت نقل کرتے ہیں جو سیف کی روایت سے سازگار نہیں ہے ، مثال کے طورپر بلاذری فتوح البلدان میں لکھتے ہیں : ” خلافت عمر بن خطاب کے زمانے میں ” زارہ“ اور ”دارین “ کے لوگوں سے جنگ کرنے کیلئے علاء روانہ ہوا ، لیکن ” زارہ “ کے لوگ جنگ کیلئے آمادہ نہیں
____________________
۱۔ تاریخ طبری ،م ج ۲ / ۵۲۲۔ ۵۲۸ ۔
۲۔ تاریخ ابن کثیر ،ج ۶/ ۳۲۸ ، و ۳۲۹ ۔
ہوئے اور صلح کے دروازے سے داخل ہوکر علاء سے صلح کا عہد پیمان باندھ کر جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیااور صلح کی شرط یہ تھی کہ شہر کی دولت کا ایک تہائی نیز وہاں پرموجود سونے چاندی کا ایک تہائی علاء کو دیا جائے اور شہر سے باہر موجود اموال کا نصف اس کو دیا جائے ، اخنس بن عامری علاء کے پاس آیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے بارے میں آپ سے صلح کی ہے لیکن ” دارین “ میں موجود اپنے خاندان کے بارے میں کوئی صلح نہیں کی ہے،”کرازالنکری “ نامی ایک شخص نے علاء کو پانی کے درمیان سے گزرنے والے ایک خشکی کے راستے ” دارین “ تک پہنچانے میں راہنمائی کی ۔ علا ء مسلمانوں کے ایک گروہ کے ہمراہ اسی راستہ سے روانہ ہوا، اہل ” دارین “ جو بالکل بے خبر تھے، نے اچانک مسلمانوں کے ” اللہ اکبر “ کا نعرہ سن کر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، وہ تین جانب سے حملہ کا نشانہ بنے ، ان کے جنگجو اسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ان کے اہل و عیال کو اسیر بنایا گیا “
سیف کی روایت کا متن اور دیگر تاریخ نویسوں کے متن سے اس کی تطبیق :
قارئین کرام نے یہاں تک علاء کی داستان اور بحرین کے باشندوں کے ارتداد کے بارے میں سیف اور غیر سیف کی روایت کو ملاحظہ فرمایا، اب ہم روایتوں کے ان دو سلسلوں --جو مضمون کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں --کی تطبیق اورموازنہ کرتے ہیں اور سیف کی رو ایت کے متن کی ساخت کے لحاظ سے باطل ہونے کو واضح اور روشن کریں گے ۔
سیف نے ابو بکر کے لشکر کیلئے ان جنگوں میں (جنہیں جنگ ” ردّہ“ کہا جاتا تھا) خشک بیابان میں پانی کا تالاب جعل کیا ہے ، البتہ ان کے اونٹوں کے رم کرکے فرار کرنے کے بعد اور مطلب کی مکمل طور پر تائید کرنے کیلئے کہا ہے کہ ابوہریرہ اپنے ساتھی کے ہمراہ دوبارہ اس جگہ کی طرف لوٹے اور تالاب کے کنارے رکھے ہوئے اپنے لوٹے کو اس صورت میں موجود پایا، لیکن تالاب کا کہیں کوئی نام و نشان نہ تھا، اور اس کے علاوہ کہا ہے کہ لقمان نے (ان تمام خداداد حکمت کے باوجود) بیابان میں کنواں کھودنے کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ اس کنوے کے عمق تک پہنچنے والی رسی موجود نہیں تھی اس کے بعد ان کیلئے ایک اور معجزہ گڑھ لیا ہے کہ اس کے کہنے کے مطابق اس سے پہلے کسی نے ایسا معجزہ نہیں دیکھا یا، اگر چہ موسی ابن عمران نے دریا کو چیر ڈالا ، لیکن (موسی ید بیضا کے ذریعہ) پانی کے اوپر سے نہ چل سکے ، اس مطلب کی تائید میں عفیف بن منذر کے دو شعر بھی نقل کرتا ہے اور ان کے ہمسفر راہب کے اسلام قبول کرنے کو اپنی صداقت ثابت کرنے کیلئے ایک دوسری تائیدپیش کرتا ہے اس بیچارہ نے ان معجزوں کو دیکھ کر اور ملائکہ کی دعا کو سن کر اسے خدا کی طرف سے ابوبکر کے لشکر کی تائید سمجھ کر اسلئے اسلام قبول کیاتا کہ مسخ نہ ہوجائے اور اپنی بات کی آخری تائید کے طور پر اس خط کو پیش کرتا ہے جسیے ابو بکر کے نام لکھا تھا اور ان سے دعا کی درخواست کی تھی توابو بکر نے بھی اس کے التماس کو منظور کرکے منبر پر جاکر اس کیلئے دعا کی تھی۔
سیف ایسے افسانہ کو جعل کرتا ہے اور طبری ، حموی ، ابن اثیر ، ابن کثیر اور دوسرے مؤرخیں اور علمائے حدیث اس کی روایت کے استناد کی بناء پراس افسانہ کو اپنی کتابوں میں نقل کرتے ہیں اور نتیجہ کے طورپر یہ افسانے تاریخ اسلام کے جزو قرارپاتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے علاوہ صرف اتنیہے کہ لشکر اسلام دارین کی طرف جارہا تھا کہ ان کے راستے میں ا یک دریا ملا، جس میں عبورکرنے کا راستہ بھی موجود تھا اور یہ راستہ ابوبکر کے لشکر کیلئے مخصوص نہیں تھا بلکہ ہر ایک راہی اس طرف سے دریا کو عبورکرسکتا تھا ، لہذا ” کزازنکری “ پہلے سے اس راستہ کے بارے میں علم رکھتا تھا اور اس نے ابو بکر کے لشکر کی راہنمائی کی تھی اور انھیں پانی سے عبور کرادیا تھا ، ان تمام باتوں کے علاوہ،جنگ ابو بکر کے زمانے میں واقع نہیں ہوئی ہے (جیساکہ سیف نے کہاہے) بلکہ یہ جنگ عمر کے زمانے میں واقع ہوئی ہے ان تمام مطالب کو صرف سیف نے نقل کیا ہے اور یہ اسکی خصوصیات میں سے ہے ۔
چنانچہ وہ جنگ کی کیفیت نقل کرنے میں بھی منفرد ہے، کہتا ہے : ” انہوں نے ایک شدید جنگ لڑی ، حتی کہ ان میں سے ایک نفر بھی زندہ باقی نہ بچا تا کہ ان کی کوئی خبر لے کر آتا ۔(۱)
سیف کی روایتوں کی سند
جعلی او رمن گڑھت تھی سیف کی روایتوں کا متن ملاحظہ فرمایا،لیکن اس روایت کے سند کے لحاظ سے باطل اور کمزور ہونے کے سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس روایت کو صعب بن عطیہ سے نقل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس روایت کو اس نے اپنے باپ عطیہ بن بلال سے میرے لئے نقل کیا ہے اور ہم نے مالک بن نویرہ کی داستان میں ثابت کردیا کہ یہ باپ ،بیٹے اور جد سیف کے خیالات
____________________
۱۔ اس افسانوی راہب کی جعلی دعا کو ابن طاووس نے کتاب ” مہج الدعوات “ میں تاریخ ابن اثیر سے نقل کرکے اپنی کتاب کی دعاؤ ں میں شامل کیا ہے ۔
کی پیداوار ہیں ا ور ہرگز ایسے افراد اور کارندوں کادنیا میں وجود ہی نہیں تھا ، یہ ہے سیف کی روایت کے متن اور اس کی سندکا عالم!
یہ سیف کی ” مرتدین “ کی داستانوں کی دوسری داستان تھی جسے ہم نے اس فصل میں بیان کیا اور اگلی فصل میں تیسری داستان ملاحظہ فرمائیں ۔
ام زمل کا ارتداد اور حواب کی داستاں
وَضَع سیّف هذه الاسطورة دِفاعاً عن عائشةَ
سیف نے اس داستان کو عائشہ کے دفاع کیلئے جعل کیا ہے ۔
مؤلف
سیف کی روایت کے مطابق داستا ن حواب
طبری نے حواب(۱) کی داستان کو ہوازن کے ارتداد کے حصہ میں یوں بیان کیا ہے :
ام زمل(۲) مالک بن حذیفہ بن بدر کی بیٹی تھی وہ ام قرفہ کے دنوں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں اسیر ہوئی اور عائشہ کے حصہ کے طور پر اسے دی گئی اور عائشہ نے اسے آزاد کردیا ۔ لیکن وہ بدستور عائشہ کی لونڈی کی حیثیت سے رہی اور آخر میں اپنے خاندان کی طرف لوٹی ، ایک دن رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم ا س کے پاس تشریف لئے گئے اور فرمایا: ’ ’ تم میں سے ایک ،حواب کے کتوں(۳) کے
____________________
۱۔حواب بصرہ کے راستہ پر ایک منزل گاہ ہے ۔
۲۔ لسان المیزان ،ج ۳/ ۹۲۲ ۔
۳۔ إنَّ احدکنَّ تسنبح کلاب الحّواب۔
بھونکنے کا سبب ہو گی اور یہ کامسلمی سے انجام پایا ، جبکہ وہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعداپنے اُن رشتہ داروں کو خونخواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے جو زمانہ رسول میں قتل کردیئے گئے تھے، اٹھی اور ظفر اور حواب کے درمیان گشت لگارہی تھی تا کہ ان قبیلوں میں سے ایک لشکر کو اپنے گرد جمع کرے ، جب یہ خبر خالد کو پہنچی وہ اس عورت کی طرف روانہ ہوا جس نے اپنے گرد ایک لشکر کو جمع کیا تھا ، خالد اس عورت کے پاس آیا اور ان کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی یہ عورت اس وقت اونٹ پر سوار تھی کچھ سواروں نے اس کے اونٹ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اونٹ کو پئے کرکے اس عورت کو بھی قتل کر ڈالا ۔
حموی نے بھی اس روایت کو سیف سے نقل کرتے ہوئے لغت حواب کے ذیل میں اپنی کتاب معجم البلدان میں ذکر کیا ہے اور ابن حجر نے ”الاصابہ“(۱) میں خلاصہ کے طور پر نقل کیا ہے لیکن روایت کی سند کو ذکر نہیں کیا ہے ۔
سیف کی روایت کی سند
اس روایت کو سیف نے سہل و ابو ایوب سے روایت کیا ہے ۔
سہل ، سیف کی روایتوں کی سند میں ، سہل بن یوسف سلمی ہے کہ اس کا نام سیف کی روایت کی سند نمبر ۲۶ میں تاریخ طبری میں آیا ہے ابن حجر(۲) نے لسان المیزان میں کہا ہے کہ دونوں باپ بیٹے معروف نہیں ہیں ، اس کے علاوہ ابن عبدا لبر سے نقل کیا ہے ، نہ وہ معروف ہے اور نہ اس کا باپ اور
____________________
۱۔ ج ۲/ ۳۲۵ ۔
۲۔ لسان المیزان، ج۲/ ۱۵۰۔
سیف نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
رہا سوال ، ابو یعقوب کا جو سیف کی روایتوں میں سند کے طور پر ذکر ہوا ہے ، اس کا نام سعید بن عبید ہے بعض راوی اس نام کے تھے لیکن ان میں سے کسی ایک کی کنیت ابو یعقوب نہیں تھی ۔
ذہبی نے راویوں میں سے ایک شخص کے بارے میں جس کا نام سعید بن عبید کہا ہے : یہ غیر معروف ہے یہ تھا روایت کی سند کے بارے میں ا ب ملاحظہ فرمائیے اس کے متن کے بارے میں :
سیف کی روایت کے متن کی قدر و قیمت
سیف نے یہاں پر دو حقیقی داستانوں کو آپس میں ملاکر اس میں چند جھوٹ کا بھی اضافہ کیا ہے داستان کی اصلی حقیقت جیسے کہ ابن سعدو ابن ھشام نے روایت کی ہے وہ یوں ہے :
پیغمبر اسلام نے ۶ ئھ کو رمضان کے مہینہ میں زیدبن حارثہ کی سرکردگی میں ایک لشکر قبیلہ فزارہ سے جنگ کرنے کیلئے بھیجا، اس جنگ کاسبب یہ تھا کہ اس سے پہلے زید ایک کاروان کے ہمراہ اصحاب پیغمبر سے تجارتی مال لے کر شام رفت آمد کرتے تھے ۔ جب وہ مدینہ سے سات منزل کی دوری پر وادی القری پہنچے ، قبیلہ فزارہ نے ان پر حملہ کیا اور ان کے تجارتی مال کو لوٹ کر لے گئے اور زید اس واقعہ میں سخت زخمی ہوئے اور میدان جنگ میں زمین پر گرپڑے ، صحت یاب ہونے کے بعد مدینہ میں رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم حضورمیں پہونچے اور روداد کو حضرت کی خدمت میں بیان کیا ، یہی وجہ تھی کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسامہ کی سرکردگی میں ایک لشکر کو ان سے جنگ کرنے کیلئے روانہ کیاا اور داستان ام قرفہ پیش آئی ۔
یعقوبی ، زید کے بھیجے جانے کے سلسلے میں یوں لکھتا ہے :
قبیلہ فزارہ کے سردارکی بیوی ام قرفہ نے پیش قدمی کرکے ایک لشکر کو جس میں اس کے چالیس بیٹے بھی شامل تھے ، پیغمبر سے جنگ کرنے کیلئے روانہ کئے زید نے اس کے ساتھ ایک سخت جنگ لڑی ، ان کے تمام جنگجوؤں کو قتل کر ڈالا اور ان کی عورتوں کو اسیر بنایا، اس جنگ میں ام قرفہ کا خاندان پورا کا پورا نابود ہوگیا ۔ اس میں سے صرف دو شخص زندہ بچے : ام قرفہ اور جاریہ نام کی ایک بیٹی یہ دونوں اسیر ہوئیں اس کے بعد ام قرفہ خالد کے حکم سے قتل کی گئی اور جاریہ کو پیغمبر نے اپنے ماموں کو بخش دیا اور اس سے عبدالرحما ن نامی ایک فرزند پیدا ہوا۔
یہ داستان تاریخ میں ” داستان ام قرفہ “ کے نام سے مشہور ہے اور یہ تمام واقعات پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں رونما ہوئے ہیں ۔
دوم حواب کے کتوں کی داستان ہے
حواب بصرہ کے راستے میں ایک منزل ہے حدیث کی کتابوں میں ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر نے اپنی بیویوں سے مخاطب ہوکر فرمایا : تم میں سے کون ہے ؟ جوپشم سے پُراونٹ پر سوار ہوکر وہاں تک جائے گی جہاں پر حواب کے کتے اس پر بھونکیں گے ، اور بہت سے لوگ اس کے دائیں بائیں قتل کئے جائیں گے(۱) لیکن وہ جان سے مار ڈالنے کی دھمکی کے باوجود نجات پائے گی(۲)
یہ حدیث ام سلمہ سے یوں روایت کی گئی ہے :
” رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے بعض امہات مؤمنین(اپنی بیویوں) کے باہر نکلنے کے بارے میں یاددہانی کی ، عائشہ نے اس پر مذاق اڑایا، حضرت نے اس سے مخاطب ہوکر فرمایا : اے حمیرا ! :خبر دار، کہیں ان میں سے تم ہی نہ ہو، اے حمیرا : گویا میں دیکھ رہاہوں کہ حواب کے کتے تم پر بھونک رہے ہیں ، اس وقت تم علی بن ابیطالب سے جنگ کروگی جبکہ تم ظالم ہوگی ۳
اس کے بعد علی علیہ السلام کی طرف رخ کرکے فرمایا: اگر عائشہ کے امور تمہارے ذمہ ہوئے تو اس کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آنا(۴)
____________________
۱۔ابن کثیر ،ج ۶/ ۱۲۱
۲ سیوطی نے خصائص، ج ۲/ ص ۱۳۷ ، ابن عبدالبر نے عائشہ کی تشریح میں استعیاب میں یہ روایت نقل کی گئی ہے اس کے بعد کہا گیا ہے : یہ روایت نبو ت کی نشانیو ں مے ں سے ہے۔
۳۔ سیوطی نے خصائص، ج ۲/ ۱۳۷ ، ابن عبد البر نے عائشہ کی تشریح میں استیعاب میں یہ روایت نقل کی گئی ہے ۔ اس کے بعد کہا گیا ہے : یہ روایت نبوت کی نشانیو ں میں سے ہے ۔
۴۔ ابن عبدربہ ، عقد الفرید، ج ۳/ ۱۱۸، سیرہ حلبیہ، ج ۳/ ۳۲۰ ۔ ۳۲۱ ۔
غیر سیف کی روایت میں حواب کی داستان
یہ تھی وہ حدیث جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیشنگوئی کے طور پر روایت کی گئی ہے اور مؤرخین کے نقل کے مطابق اصل داستان یوں ہے :
عرنی(عائشہ کے اونٹ کے مالک) نے کہا : میں ایک اونٹ پر سوار تھااور راستے پر چل رہا تھا کہ اچانک ایک سوار سامنے آکر بولا : اے اونٹ کے مالک ! کیا اپنے اونٹ کو بیچو گے ؟
میں نے کہا: ہاں
اس نے کہا: کتنے میں ؟
ہزار درہم میں ۔
کیا تم دیوانہ ہوگئے ہو ؟ کیا اونٹ ہزار درہم میں فروخت کیا جاتا ہے ؟
جی ہاں ! میراا ونٹ ہے
کس لحاظ سے یہ بات کہہ رہے ہو ؟
اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے اس اونٹ پر سوار ہوکر کسی کا پیچھا نہیں کیا مگر یہ کہ اس تک پہنچا اور جس کسی نے میرا پیچھا کیا ، اگر میں اس اونٹ پر سوار تھا تو پیچھا کرنے والا مجھ تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔ اگر میں یہ بتادوں کہ اس اونٹ کو کس کیلئے خریدنا چاہتا ہوں تو تم میرے ساتھ اس سے اچھا معاملہ کرو گے ۔
کس کیلئے چاہتے ہو؟
تیری ماں کیلئے !
میں تو اپنی ماں کو اپنے گھر میں چھوڑ کے آیا ہوں وہ صاحب فراش ہے اور حرکت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
میں اس اونٹ کو ام المؤمنین عائشہ کیلئے چاہتا ہوں ۔
اگر ایسا ہے تو اونٹ کو میں بلا قیمت تجھے دیتا ہوں ۔
نہیں ، میرے ساتھ میرے گھر آؤ تا کہ ایک اونٹ اور کچھ رقم تجھے دیدوں ۔
وہ کہتا ہے میں وہاں چلا گیا اس نے مجھے ایک بچہ دار اونٹی دی جو عائشہ کی تھی اور اس کے علاوہ چار سو یا چھ سو درہم دئیے، اس کے بعد کہا : کیا راستہ جانتے ہو ؟
میں نے کہا: ہاں ، دوسروں سے بہتر
اس نے کہا: لہذا ہمارے ساتھ آجاؤ۔
میں ان کے ہمراہ چلا ہم جس بیابان اور دریا سے گزرتے تھے وہ مجھ سے سوال کرتے تھے یہاں کونسی جگہ ہے ؟یہاں تک ہم حواب کے پانی سے گزرے ، وہاں کے کتوں نے بھونکنا شروع کیا
سوال کیا؛ یہ کونساپانی ؟
میں نے کہا: حواب کا پانی
کہتا ہے کہ : عائشہ نے بلند آواز میں ایک فریاد بلند کی ، اس کے بعد اونٹ پر ہاتھ مارا اور اونٹ کو بٹھا دیا اور کہا: خدا کی قسم ! میں وہی ہوں جس کیلئے حواب کے کتون نے بھونکا ، مجھے واپس لے چلو (تین مرتبہ جملہ کی تکرار کی) عائشہ نے اونٹ کوبٹھا دیا اور لوگوں نے بھی اپنے اونٹوں کو اسکے اطراف میں بٹھادیا ، وہ سب اسی حالت میں تھے اور عائشہ دوسرے دن آگے بڑھنے سے انکار کرتی رہیں ۔
کہتا ہے : عائشہ کا بھانجا ، ابن زبیر عائشہ کے پاس آیا اور کہا: جلدی کرنا جلدی کرنا خدا کی قسم علی ابن ابیطالب آپ کے نزیک پہنچ رہے ہیں ، وہاں سے روانہ ہونے کے بعد اس نے ہمیں برا بھلا کہ تا آخر روایت(۱)
مسند احمد میں یوں لکھا گیا ہے کہ اس موقع پر زبیر نے کہا: کیا واپس جانا چاہتی ہو ؟ شاید خداوند عالم تیرے واسطے لوگوں کے درمیان صلح کرائے(۲)
ابن کثیرکہتا ہے :با وجو اس کے کہ اس روایت میں صحیح ہونے کے وہ شرائط موجود ہیں جنکے شیخین قائل ہیں ، لیکن پھر بھی شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا ہے ۳
طبری نے نےززہری سے نقل کیا ہے کہ عائشہ نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور کہا:
یہ پانی کونسا پانی ہے ؟
کہا گیا: حواب
____________________
۱۔ ابن کثیر، ج ۶/ ۱۳۶ خوارزمی نے مناقب میں بھی جنگ جمل کے باب میں ، المستدرک ،ج۳/ ص ۱۱۴ ، الاصابہ،۶۳۔
۲۔ مسند احمد ، ج ۶/ ص ۹۷۔
۳۔ البدایة و النہایة ، ج ۷ ص ۲۳۰۔
اس نے کہا: <انا لله و انا الیه راجعون >یقینا میں وہی ہوں سچ یہ ہے کہ میں نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے جبکہ آپ کی سب بیویاں آپ کے نزدیک موجود تھیں اور آپ نے فرمایا تھا : کاش مجھے معلوم ہوتاکہ تم میں سے کس پر حواب کے کتے بھونکیں گے !
عائشہ وہاں سے واپس جانا چاہتی تھیں لیکن عبداللهبن زبیر اس کے پاس آئے اور تا آخر(۱)
ابن کثیر(۲) اور ابو الفداء(۳) کی روایت میں یوں آیا ہے : عائشہ نے کفِ افسوس ملتے ہوئے کہا:
”میں وہی عورت ہوں “
اسی روایت میں ہے کہ ابن زبیر نے عائشہ سے کہا: جس نے بھی یہ کہا ہے کہ یہ حواب کا پانی ہے ، اس نے یقینا جھوٹ بولا ہے ۔
مسعودی نے مروج الذہب میں روایت کی ہے کہ ابن زبیر نے کہا: خداکی قسم یہ حواب نہیں ہے اور جس نے تجھے ایساکہا ہے اس نے خطا کی ہے ۔ طلحہ (جومجمع کی انتہائی نقطہ پر تھے)نے بھی اپنے آپ کو عائشہ کے پاس پہنچادیا اور قسم کھا کر کہا کہ یہ حواب نہیں ہے ، اس کے علاوہ ان میں سے پچاس افراد نے بھی ان دونوں کی پیروی میں اس طرح شہادت دی ، یہ پہلی جھوٹی قسم تھی جو اسلام میں کھائی گئی۔
____________________
۱۔ تاریخ طبری ج ۳/ ص ۴۸۵۔
۲۔تاریخ ابن کثیر ، ج ۷/ ۲۳۰۔
۳۔ تاریخ ابو الفداء ص ۱۷۳۔
تاریخ یعقوبی میں لکھا گیا ہے کہ عائشہ نے کہا؛ مجھے واپس بھیجدو یہ وہی پانی ہے کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا : ہوشیار رہنا !ایسانہ ہو کہ جس عورت پر حواب کے کتے بھونکیں گے تم ہو ، چالیس آدمی عائشہ کے پاس لائے گئے اور انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ یہ پانی ، حواب کا پانی نہیں(۱)
الامامة و السیاسة اور مناقب خوارزمی میں جنگِ جمل کی ذکر میں یوں آیا ہے : جب حواب کے کتوں نے عائشہ پر بھونکنا شروع کیا تو اس نے محمد بن طلحہ سے سوال کیا ؛ یہ کونسا پانی ہے ؟ یہاں تک کہ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا قول نقل کیا کہ آنحضرت نے فرمایا: اے حمیرا! ایسا نہ ہو کہ وہ عورت تم ہو ؟! محمد بن طلحہ نے عائشہ سے کہا: خداآپ کو معاف کرے، آگے بڑھیئے اور ایسا کہنے سے پرہیز کیجئے۔ عبدالله بن زبیر بھی عائشہ کے پاس گئے اور خد اکی قسم کھاکر کہا : آپ شب کی ابتداء میں سے گزری ہیں ۔ اور عربوں میں سے جھوٹے گواہ لاکر اسی چیز کی شہادت بھی دلائی گئی ، کہا جاتا ہے کہ یہ پہلی جھوٹی شہادت تھی جو اسلام میں دی گئی(۲)
مذکورہ مؤرخین کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اس روایت کو رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے ، جیسے : ابن اثیر نے کتاب ” النہایة“ میں ، حموی نے ” معجم البلدان “ میں ، دونوں نے لغت ” حواب “ میں ، زمخشری نے لغت ” دیب“میں کتاب الفائق سے ، ابن الطقطقہ نے الفخری ۷۸
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ،ج ۲/ ۱۱۷۔
۲۔ الامامة و السیاسة، ج ۱/ ۵۶۔
، طبع مصر میں ،زبیدی نے لغت ” خاب“ ج ۱/ ص ۱۹۵ اور لغت ” دبب“ ج: ۲۴۴ میں ، مسند احمد ج ۶/ ۵۲ ۔ ۹۷ ، تاریخ اعثم مص ۱۶۸ ۔ ۱۶۹ ، سمعانی نے انساب میں ” حوینی “ کی تشریہ میں ، سیرہ حلبیہ، ج ۳/ ص ۳۲۰ ، ۳۲۱ او رمنتخب کنز ،ج ۵/ ۴۴۴ ۔ ۴۴۵۔
چھان بین اور موازنہ کانتیجہ
سیر ، حدیث اور تاریخ کی تمام کتابوں میں متفقہ طور پر لکھا گیا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ تنہا خاتون ہیں جس پر حواب کے کتوں نے بھونکا ، چونکہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پہلے خبر دی تھی اور اس خبر کو نبوت کی علامتوں میں سے ایک علامت سمجھا گیا ہے ۔
ان میں صرف سیف ہے جس نے اپنے افسانوں کے پیاسوں کیلئے اس تاریخی حقیقت کو بدلنا چاہا ہے ، لہذا اس نے ”ام زمل“ نامی ایک عورت کو گڑھکر اس واقعہ کو ان کے سر تھونپا ہے ، لیکن خوش قسمتی سے چونکہ طبری نے اس قضیہ میں صرف اسی کی روایت کو نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا ہے ، بلکہ عرنی (اونٹ کے مالک) اور زہری کی روایت کو بھی جمل اور کتوں کے بھونکنے کی داستان میں نقل کیا ہے ، لہذ اطبری سے نقل کرنے والے تاریخ نویسوں اور تاریخ طبری پڑھنے والوں کیلئے حقیقت قضیہ پوشیدہ نہیں ہے ، یہ بعض تاریخی حقائق کے برعکس ہے جنکے بارے میں طبری نے سیف کے علاوہ کسی اور کی روایت کو نقل نہیں کیا ہے ۔
ہم نے یہاں تک ابو بکر کے زمانے کے مرتد لوگوں کے بارے میں اس کے کثیرافسانوں میں چند نمونے پیش کئے ان کے دوسرے حصہ کو ہم اس کتاب کی دوسری جلد اوراپنی کتاب ” ایک سو پچاس جعلی اصحاب“ کیلئے رکھتے ہیں اس کتاب کے اگلے حصہ میں ہم طاقتور بدکرداروں کے حق میں سیف کا دفاع کے عنوان سے سیف کے چند دوسرے افسانوں پر بحث کریں گے۔
چوتھا حصہ :طاقتور بدکرداروں کے حق میں سیف کا دفاع
زیاد کو ابوسفیان سے جوڑنے کی داستان
نالائق مغیرة بن شعبہ کی داستان
شراب خوار ابو محجن کی داستان
شوریٰ اور عثمان کی بیعت کی داستان
ہرمزان کے بیٹے قماذبان کی داستان
ابو سفیان سے زیاد کا رشتہ جوڑنے کی داستان
الولد للفراش و للعاهرالحجر !
بیٹا باپ کا ہے اور زنا کار سنگسار ہونے کا حقدار ہے
!
رسول اللہ
ایک شرمناک اور ناشناس رشتہ
زیاد جس کی کنیت ابو مغیرہ تھی اس کی ماں کا نام سمیہ تھا، ابو المغیرہ (زیاد) کی ماں ” سمیہ “ ایک ایرانی دیہاتی کنیز تھی ، مذکورہ دیہاتی بیمار ہوگیا تو حرث بن کلدہ نامی ایک ثقفی طبیب کو اپنے علاج کیلئے بلایا ، حرث کے علاج کرنے پر بیمار صحت یاب ہوا ، اس نے اس خدمت کے عوض میں اپنی کنیز سمیہ کو اپنے معالج، طبیب کو پیش کیا، سمیہ کے اس طبیب کے ذریعہ نفیع و نافع نامی دو بیٹے پیداہوئے ، اس کے بعد حرث نے سمیہ کو اپنے عبید نامی رومی غلام کے عقد میں قرار دیا ، اس دوران ابوسفیان کا گزر طائف سے ہوا ، اس نے ناجائز کاموں کے ایک دلال ابو مریم سلولی سے درخواست کی کہ اپنا منہ کالا کرنے کیلئے ایک عورت فراہم کرے، اس نے سمیہ کو ابو سفیان کی آغوش میں قرار دیا ، سمیہ حاملہ ہوئی اور عبید کی قانونی بیوی ہوتے ہوئے ۱ ھء میں زیاد کو جنم دیا ، جب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے طائف کو اپنے محاصرہ میں لیا تو نفیع طائف سے فرار کرکے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے حضور پہنچا اور رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اسے آزاد کیااور اس کی کنیت ” ابوبکر “ رکھی ، اس طرح اسے موالی الرسول (رسول کا آزاد کیا ہوا) خطاب کرتے تھے اور نافع کو ابن الحرث (حرث کا بیٹا) اور زیاد کو ابن عبید (عبید کا بیٹا) کہتے تھے ، جب معاویہ نے زیاد کو اپنے رشتہ سے جوڑا تو اسکے بعد زیاد کو زیاد بن ابی سفیان کہنے لگے۔
یہ سلسلہ بنی امیہ کی حکومت کے زوال تک جاری رہا ، لیکن بنی امیہ کی حکومت کے زوال کے بعد زیاد کو بے پاب ہونے کے سبب زیاد بن ابیہ (باپ کا بیٹا) کہتے تھے یا اسے اپنی ماں سے نسبت دیکر زیاد بن سمیہ کہتے تھے(۱)
زیاد کے ابوسفیان سے رشتہ جوڑنے کی داستان اور یہ کہ معاویہ نے زیاد کواپنے بھائی کا عنوان دیکر ابو سفیان سے نسبت دی ہے ، متواتر نقل ہوا ہے اور مسلمانوں کے زبان زد عام و خاص تھا ، اس کام کیلئے معاویہ کی سرزنش کی جاتی تھی اور اس پر تنقید کی جاتی تھی۔
زیاد کا شجرہ نسب ، سیف کی روایت میں :
سیف نے یہا ں پر بھی ہمت باندھی ہے تاکہ معاویہ سے اس تنقید کا ازالہ کرکے زیاد کے دامن سے اس شرمناک داغ کو چھڑا دے ، لہذا طبری نے جس روایت میں ۲۳ ھء کے حوادث نقل کئے
____________________
۱۔ تاریخ کامل ابن اثیر ،حوادث ۴۴ھء کے ضمن میں ، الاستیعاب ،ج ۱/ ۵۴۸ ۔ ۵۵۵ الاصابة ،ج ۱ ص ۵۶۳۔
ہیں ، سیف اس روایت میں طائفہ عنزہ کے ایک مرد کی شکایت بیان کرتا ہے کہ اس نے ابو موسی(۱) کے خلاف عمر کے پاس شکایت پہنچادی ۔ کہتا ہے کہ مرد عنزی نے عمر سے کہا ؛ اس نے ایک کام اپنے کاتب زیاد بن ابو سفیان کو سونپا(۲)
اس روایت میں سیف کی چابک دستی کا مقصد یہ ہے کہ وہ کہنا چاہتا ہے کہ زیاد ، قبل از زمان معاویہ یعنی معاویہ کا زیاد کو اپنے نسب میں شامل کرنے سے قبل بھی زیاد بن ابوسفیان کے نام سے مشہور معروف تھا ؟! کیونکہ اس مرد عنزی نے عمر کے پاس ابوموسیٰ کی شکایت کی تھی اور عمر کے حضور میں کہا تھا : ” زیاد بن ابی سفیان “ اور عمر نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اس کے بعد بڑی چالاکی اور مہارت سے --(جو سیف کی خصوصیت تھی -- کہ کوئی متوجہ نہ ہوسکے) ---- زیا دکے عبید کے ساتھ منسوب ہونے کا اسی روایت میں علاج کیا ہے اور کہا ہے : عمر نے زیاد کو گرفتار کیا اور اس سے پوچھ گچھ کے دورران پوچھا : پہلا تحفہ جو تجھے ملا اسکو تم نے کیسے خرچ کیا ؟ زیاد نے جواب میں کہا: ” پہلے اپنی ماں کو خرید کر
____________________
۱۔( ابو موسی اشعری کا نام عبدالله بن قیس ہے اس کے نسب کے بارے میں اختلاف ہے ، جب وہ مکہ آیا تو اس نے سعید بنی عاص سے پیمان باندھا اس کے بعد مکہ میں اسلام قبول کیا ، عمر نے مغیرہ کو معزول کرنے کے بعد اسے بصرہ کی گورنری سونپ دی اور وہ اس عہدہ پر خلافت عثمان تک باقی رہا ، عثمان نے اسے معزول کردیا ، کوفہ کے لوگو ں نے عثمان سے درخواست کی کہ ابو موسی کو ان کا حاکم مقرر کردے اس نے بھی کوفہ والو ں کی درخواست کے مطاق ابو موسی کو کوفہ کاگورنر مقرر کردیا ، تا کہ ابو موسی لوگو ں کو علی علیہ السلام کی حمایت کرنے سے روکتا رہے ، لہذا علی نے اسے معزول کیا اسکے بعد عراق کے لوگو ں کی درخوا ست پر صفین کے قضیہ میں اسے حَکَم کے طور پر منتخب کیا وہ (ابو موسی اشعری) عمر و عاص کی فریب کاری سے دھوکہ کھانے کے بعد مکہ چلا گیا او رآخر عمر تک وہیں پر ساکن رہا یہا ں تک ۴۲ ھء ھ یا ۴۴ ھء یا ۵۰ ئھ یا ۵۳ ھء میں ( روایتو ں میں اختلاف کے ساتھ ) فوت ہوا، استیعاب، ج ۴/ ۱۷۳۔ ۱۷۴ ، الاصابہ، ابو موسی کی تشریح میں ۔
۲۔ و فوّض الی زیاد بن ابی سُفیان ۔
آزاد کرایا پھر اپنے سوتیلے بھائی عبید کو خرید کر اسے بھی آزاد کرایا، سیف نے ایسی چالاکی سے معاویہ کے بارے میں عام مسلمانوں کی اس بات پر تنقید کا ازالہ کیاہے کہ اس نے کیوں زیاد کو اپنے رشتہ سے جوڑا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زیاد ابوسفیان کا بیٹاتھا اور روایت کو بھی عمر کے زمانے سے نقل کیا ہے تا کہ یہ لوگوں کے دلوں میں بہتر صورت میں جگہ پیدا کرلے اور کسی قسم کا شک و شبہہ باقی نہ رہے ۔
اب ہم سیف کی روایت کا دوسروں کی روایتوں سے موازنہ کرنے سے پہلے سیف کی روایت کی سند کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔
سیف کی روایت کی سند
اس روایت کی سند میں محمد ، طلحہ اور مہلب کا نام آیا ہے ، سیف کی روایت کی سند میں محمد سے مراد، محمد بن عبدا لله بن سواد بن نویرہ ہے۔
تاریخ طبری میں سیف کی تقریباً ۲۱۶ روایتیں اس راوی سے نقل کی گئی ہیں ہم نے کسی اور کتاب میں کثرت سے روایت کرنے والے اس راوی کا نام و نشان نہیں پایا ، صرف اکمال میں کہا ہے، سیف نے اس سے روایت کی ہے اس جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ صاحب اکمال نے بھی اس راوی کا نام صرف سیف کی روایتوں کی سند میں پایا ہے ۔
اور طلحہ کا نام سیف کی روایتوں کی سند میں دو افراد میں مشترک ہے ، ایک ابو سفیان ، طلحہ بن عبدالرحمان ہے کہ ہم نے اس نام کو رجال اور سند شناسی کی کتابوں میں نہیں پایا ، دوسرا طلحہ بن الاعلم حنفی ہے جو شہر ری کے اطراف میں واقع جیان نامی گاؤں کا باشندہ تھا ا ور معلوم نہیں ہے کہ سیف کا ُمنظور نظر ان دو میں سے کون ہے ؟!
اور مہلب سیف کی روایتوں کی سند میں ، مہلب بن عقبہ اسد ی ہے ، تاریخ طبری میں سیف نے اس سے ۶۷ حدیثیں روایت کی ہیں سیف کے اس راوی کا بھی رجال اور سند شناسی کی کتابوں میں کوئی سراغ نہیں ملتا، یہ رہا سیف کی اس روایت کا متن اوراس کی سند کی بحث ۔
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں زیاد کا نسب
دینوری نے ” الاخبار الطوال “ نامی اپنی کتاب میں اسی روداد کی روایت کرتا ہے :
” ابو موسی نے زیاد بن عبید (جو ثقیف کا غلام تھا) کے بارے میں پوری دقت کی اور اس کی عقل و ادب کو پسند کیا اور اسے کاتب کی حیثیت سے اپنا ملازم قرار دیا ،اور ایک مدت تک اس کے
ساتھ رہا ، وہ اس سے پہلے مغیرہ کے ساتھ تعاون کررہا تھا(۱)
ابن عبدالبر ، استعیاب میں ” زیاد “ کی تشریح میں لکھتا ہے :
”معاویہ سے ملحق ہونے سے پہلے اسے زیاد بن عبید ثقفی کہتے تھے “ اس کے علاوہ روایت کی ہے کہ راوی نے کہا:
” زیاد نے اپنے باپ عبید کو ایک ہزار دینار میں خرید کر آزاد کیا ، ہم اسکے اس خدادوست عمل پر رشک کرتے ہیں “(۲)
اور ایک دوسری جگہ پر کہتا ہے؛
” زیاد نے عمر کے سامنے ایک تقریر کی جو سامعین کی نظر میں بے مثال تھی “ عمرو عاص نے کہا : خداکی قسم اگر یہ جوان خاندان قریش میں سے ہو تا توعربوں کی اچھی راہنمائی کرتا اور انھیں ہانکتا ، ابوسفیان نے کہا: خداکی قسم میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جس نے اپنانطفہ اس کی ماں کے رحم میں داخل کیا ہے ۔ علی ابن ابیطالب نے کہا: وہ کون ہے اے ابوسفیان ؟ اس نے جواب میں کہا؛ میں خود ہوں ، علی علیہ السلام نے کہا؛ اے ابوسفیان !مبالغہ نہ کرنا! ابو سفیاں نے کہا : خدا کی قسم اے علی ! اگر اس مجلس میں موجود اپنے ایک دشمن سے نہ ڈرتا تو حقائق سے پردہ اٹھاتا تا کہ سب پر عیان ہوجائے کہ وہ (زیاد) یوں ہی اس قدرت بیان کا مالک نہیں ہے ۔
____________________
۱۔ اخبار الطوال ، ص ۱۴۔
۲۔ الاستیعاب ، ج۱/ ۵۴۸۔
اما و الله لولا خوف شخصٍ
یرانی یا علیُّ من الاعادی
لاظهر امره صخر بن حرب
ولم یکن المقالة عن زیاد(۱)
زیاد کے معاویہ کے نسب سے پیوند کی داستان کے بارے میں مندجہ ذیل مؤرخیں نے روایت کی ہے :
” ابن اثیر ۴۴ ئھ کے حوادث بیان کرنے کے ضمن میں ، ابن عبدالبر نے استعیاب میں زیاد کی تشریح میں ، یعقوبی نے اپنی تاریخ کی جلد ۲/ ۱۹۵ میں ، مسعودی نے مروج الذہب ج ۲/ ۵۴ میں ، سیوطی نے اپنی تاریخ میں ۴۱ ئھ کے حوادث کے ضمن میں ، ابن کثیر نے ج ۸/ ۲۸ میں ، ابو الفداء نے ص ۱۹۴ میں ، طبری نے اپنی تاریخ کی ج ۴/ ۲۵۹ میں ۴۴ ھء کے حوادث کے ضمن میں اشارہ کے طورپر ، اور ۱۶۰ ئھ کے حوادث کے ضمن میں ص ۳۳۴ و ۳۳۵ میں ، صحیح مسلم ج ۱/۷/۵ ، اسد الغابہ و الاصابہ میں ”زیاد “ کی سوانح حیات میں ، ابن عساکر نے ج ۵/ ۴۰۹ ۔ ۴۲۱ میں اور تاریخ و تشریح کی دوسری کتابوں میں موجود ہیں جن کے نام اختصار کے پیش نظر ذکر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔
تحقیق و جستجو کا نتیجہ
مؤرخین اور علم الانساب کے ماھرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زیاد ، عبید رومی کے ہاں سمیہ نامی ایک بد کردار عورت سے پیدا ہوا ہے ، سب نے کہا ہے کہ ابوسفیان طائف گیا اور وہاں پر ابو مریم
____________________
۱۔ الاستیعاب ،ج ۱/ ص ۵۴۹۔
سلولی سے ایک فاحشہ سے منہ کالا کرنے کی درخواست کی اور یہ کہ وہ کس طرح سمیہ سے وصال کرنے میں کامیاب ہوا اور جو بات (ابوسفیان) نے مجلس عمر میں مخفیانہ کہی اور عمر کے ڈر سے کھلم کھلا نہ کہہ سکا ہم نے اس کی تفصیلات بیان کرنے سے پرہیز کیا ہے، مزید کہا گیا ہے کہ زیاد کو عبید سے نسبت دی جاتی تھی یہاں تک معاویہ نے اسے اپنے نسب سے ملاد یا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کس طرح یہ کام بنی امیہ کی طرف سے مورد انکار و اعتراض واقع ہوا ۔
اس سلسلہ میں چند اشعار بھی کہے گئے ہیں اور فقہاء نے معاویہ کے بارے میں جو تنقید کی ہے کہ معاویہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے خلاف عمل کیا ہے، کہ حضرت نے فرمایا : الولد للفراش و اللعاھر الحجر ، یہ سب چیزیں مفصل داستانیں ہیں اور ان کا بیان طولانی ہوگا تمام مؤرخین نے لکھا ہے زیاد کی بنی امیہ کے زمانے میں ابو سفیان سے نسبت دی گئی اور حکومت بنی امیہ کے زوال کے بعد کبھی کبھی اس کے باپ ” عبید “ اور بعض اوقات اسکی اپنی ماں ” سمیہ “ سے اس کی نسبت دی جاتی تھی ۔
اس دوران سیف بن عمر پیدا ہوا اور وہ اس خیال میں پڑا کہ ایک روایت میں دخل اندازی کرکے اس تمام شور و غوغا کو خاتمہ دیدے اور اس روایت میں اس نے ایک شکایت کرنے والے کو عمر کے پاس بھیجا اور اس کی زبان سے اس شخص کو زیاد بن ابوسفیان کہا گیا ہے وہی عمر ، جس کے ڈر سے ابوسفیان نے اظہار حقیقت کی جرات نہ کی تھی اور روایت کے آخر میں کہا ، زیاد نے عبید کو اپنی ربیبہ (بیوی کا بیٹا) معرفی کیا ، جب کہ خود زیاد نے معاویہ کے اسے، اپنے سے ملحق کرنے کے بعد شام میں ایک تقریر کے دوران کہا:” عبید میرے لئے ایک نیک باپ تھا اور میں اس کا شکر گزار ہوں “ چنانچہ اسے یعقوبی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے(۱)
حقیقت یہ ہے کہ سیف نے افسانہ سازی میں نہایت مہارت اور تجربہ کا مظاہرہ کیا ہے ۔
____________________
۱۔ تاریخ یعقوبی ، ج۲/ ۱۹۵۔
مغیرہ بن شعبہ کے زنا کی داستان
ترکت الدین والاسلام لما بدت لک غدوة ذات النصیف
مغیرہ ! تم وہی ہو ، جب ایک عورت کو اپنے سامنے دیکھا ، تو اپنے دل و دین کو ہاتھ سے گنوادیا
حسان بن ثابت
سیف کی روایت میں مغیرہ کے زنا کی داستان
طبری نے ۱۷ ئھ کے حوادث کو بیان کرتے ہوئے سیف سے مغیرہ کے زنا کی ایک داستان نقل کیا ہے ، جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
” بعض لوگوں کے مغیرہ کے زنا کرنے پر شہادت دینے کی وجہ یہ تھی کہ مغیرہ اور ابو بکرة(۱)
____________________
۱۔ ابوبکرہ ، اس کا نام نفیع بن مروح حبشی ہے ، کہا گیا ہے اس کے باپ کا نام حارث بن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمة بن عبد العزیز ب ں عوف بن قیس ہے اور وہ قبیلہ ثقیف سے ہے ابی بکرہ کی ما ں کا نام سمیہ تھا وہ ایک کنیز تھی ، وہ حارث کے غلامو ں میں سے تھا ،جب پیغمبر نے طائف کو محاصرہ کیا ابوبکرة طائف سے نکل کر رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، رسول خدانے اسے آزاد کیا اور اسے ابوبکرة کی کنیت عطاکی وہ پیغمبر کے آزاد کئے ہوئے افراد میں سے تھا اور بصرہ میں سکونت کرتا تھا ، جنگ جمل میں شرکت کرنے سے پرہیز کی اور ۵۱ ئھ میں فوت ہوا۔
کے دمیان رنجش تھی ، نیز بصرہ میں مغیرہ اور ابی بکرة کا کمرہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھا ہر ایک کے کمرے کی کھڑکی ایک دوسرے کے مقابلے میں تھی ایک دن کچھ لوگ ابی بکرة کے گھر میں بیٹھے گفتگو میں مشغول تھے ، اچانک ہوا چلی اور کمرہ کی کھڑکیاں کھل گئیں ، ابو بکرہ اپنی جگہ سے اٹھا تا کہ کھڑکی کو بند کرے اتفاق سے ہوا نے مغیرہ کے گھر کی کھڑکیاں بھی کھول دی تھیں ابو بکرہ کی نظر مغیرہ پر پڑی کہ وہ ایک عورت کے دو پاؤں کے درمیان تھا ، چندافراد جو اس کے پاس تھے ، اس نے ان سے کہا : اٹھئے اور دیکھئے ، اس کے بعد کہا : گواہ رہنا ، انہوں نے کہا : یہ عورت کون ہے ؟ ابوبکرہ نے کہا: یہ ام جمیل ہے (یہ ایک خادمہ تھی جو مغیرہ اور تمام امراء و اشراف کے یہاں رفت و آمد کرتی تھی) انہوں نے کہا؛ ہم نے اس کے بدن کا نچلاحصہ دیکھا لیکن اس کا چہرہ پہچان نہیں سکے (انما راینا اعجازاً و لاندری ما الوجه ) جب عورت اپنی جگہ سے اٹھی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ زانی کو معین کریں (ثم انهم صمموا حین قامت )
اس کے بعد گواہی کی کیفیت کے بارے میں کہتا ہے کہ مغیرہ نے عمر سے کہا؛ اس کام کے بارے میں غلاموں سے پوچھنا کہ مجھے کس حالت میں دیکھا کیا میں ان کی طرف رخ کئے ہوئے تھا یاپشت ؟ اور عورت کو کس حالت میں دیکھا اور کیا اسے پہچان لیا ؟ اگر ہمیں سامنے سے دیکھا تو میں اسے بغیر دروازہ اور کھڑکی کے گھر میں کیسے اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا سکتا ؟
اور اگر ہمیں پیچھے سے دیکھا ہے تو کس شرعی جواز سے میرے گھر میں نگاہ ڈالی جہاں میں اپنے عیال کے ساتھ تھا ؟ خدا کی قسم ! میں ا پنی بیوی سے ہمبستر ہوا تھا او رمیری بیوی ام جمیل سے شباہت رکھتی ہے ۔
اس کے بعد کہتا ہے کہ ابوبکرہ(۱) و نافع نے کہا کہ ہم دونوں نے مغیرہ اور اس عورت کو پیچھے سے دیکھا ہے اور شبل(۲) نے کہا کہ انھیں سامنے سے دیکھا ہے اور زیاد نے ان کی جیسی شہادت نہیں دی لہذا عمر نے حکم دیا کہ ان تینوں گواہوں پر حد شرعی کے برابر کوڑے مارے جائیں اور مغیر ہ سے مخاطب ہوکر کہا؛ خدا کی قسم ! اگر تیرے بارے میں گواہی مکمل ہوتی تو یقینا تجھے سنگسار کرتا،(۳) یہ تھی اس داستان میں سیف کی روایت ۔
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں مغیرہ کے زنا کی داستان
بلاذری نے فتوح البلدان، ص ۳۵۲ ، میں ماوردی نے کتاب الاحکام، ص ۲۸۰ میں ، یعقوبی نے اپنی تاریخ ، ج ۲/ ۱۲۴ میں اور طبری و ابن اثیر، نے ۱۷ ھ ئکے حوادث کے ضمن میں اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے :
____________________
۱۔ نافع بن حرث بن کلدہ ثقفی کی ماں سمیہ ، حرث کی کنیز تھی اور حرث نے اعتراف کیا ہے کہ نافع اس کا بیٹا ہے وہ بصرہ کا رہنے والا تھا اور پہلا شخص تھاجو بصرہ میں اونٹ پالا تھا۔ عمرابن خطاب نے بصرہ کی زمینوں میں سے دس جریب زمین اسکی جاگیر قرار دی تھی ، استیعاب ج ۳/ ۵۱۲ ، اصابہ، ج۳/ ۵۱۴۔
۲۔ سبل بن معبد بن حارث بن عمرو بن علی بن اسلم بن احمسں بجلی احمسی ہے اس بات پر اختلاف ہے کہ اس نے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو درک کیا ہے یا نہیں اور اصحاب میں شمار ہوتا ہے یا نہیں ، یا یہ کہ اس نے آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو درک نہیں کیا ہے اور تابعین میں سے ہے اصابہ ،ج ۲/ ۱۵۹۔
۳۔ تاریخ طبری ،ج ۳/ ۱۷۰ و ۱۷۱ ۔
مغیرہ بن ہلال کی ام جمیل بنت افقم بن محجن بن ابی عمرو بن شعبہ نامی ایک عورت کے پاس رفت و آمد تھی اس عورت کا شوہر قبیلہ ثقیف سے تھا اور اس کا نام حجاج بن عتیک تھا (یہاں تک بلاذری کی عبارت ہے) اب داستان کی تفصیل ابی الفرج کی اغانی سے نقل کی جاتی ہے:
مغیرہ بن شعبہ بصرہ کا گورنر تھا ، قبیلہ ثقیف کی رقطاء نامی عورت کے ساتھ اس کے ناجائز تعلقات تھے اور چوری چھپے اس عورت کے گھر رفت و آمد کرتاتھا ، اس عوت کا شوہر قبیلہ ثقیف سے تھا اور اس کا نام حجاج بن عتیک تھا ایک دن ابوبکرة ، مغیرسے ملا اوراس سے پوچھا : کہا ں جارہے ہو؟ اس نے کہا؛ میں فلان قبیلہ کو دیکھنے جارہا ہو ں ابو بکرہ نے مغیرہ کا دامن پکڑ کر کہاکہ گورنر کیلئے سزاوار ہے کہ دوسرے اس کی ملاقات کیلئے آئیں نہ یہ کہ وہ خود جائے مغیرہ کی عادت تھی کہ دن میں گورنر ہاوس سے باہر آتا تھا ، ابوبکرہ اسے دیکھتا تھا اور پوچھتا تھا ، گورنر صاحب کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ وہ جواب میں کہتا تھا : کوئی کام ہے ، ابوبکر ةپوچھتا تھا: کیا کام ہے ؟ گورنر سے لوگوں کو ملنے آنا چاہئے ، نہ گورنر کسی سے ملنے کیلئے جائے
مؤرخین نے کہا ہے : جس عورت کے پاس مغیرہ جاتاتھا ، وہ ابوبکرة کی ہمسایہ تھی کہتے ہیں : ایک دن ابوبکرة اپنے دو بھائیوں نافع و زیاد اور شبل بن معبد نامی ایک اورشخص کے ساتھ اپنے کمرہ میں بیٹھا تھا اسی دوران ہوا کی وجہ سے اس کے مد مقابل ہمسایہ کا دروازہ کھل گیا ان لوگوں کی نظر اس ہمسایہ کے کمرہ پر پڑی اچانک دیکھا کہ مغیرہ اس عورت کے ساتھ اپنا منہ کالا کرنے میں مشغول ہے ابوبکرةنے کہا ؛ یہ ایک مصیبت ہے جس سے دوچار ہوئے ہو اور ایک تکلیف تمہاری گردنوں پر پڑی ہے ، لہذا پوری دقت کے
ساتھ دیکھ لو ، سبھی نے دقت سے دیکھا جہاں تک یقین کیا ابوبکرة گھر سے باہر نکلااور بیٹھ گیا یہاں تک مغیرہ گھر سے نکلا ، ابوبکرة نے مغیرہ سے کہا ؛ تیرا راز فاش ہوگیا(۱)
اب تمہیں معزول ہوناچاہیے مغیرہ چلا گیا اور پھر ظہر کی نماز پڑھانے کیلئے آیا ابوبکرة نے اسے نماز پڑھانے سے منع کیا اور کہا : جو کچھ تم نے کیا ہے اس کے پیش نظراب تمہیں ہمارا امام جماعت نہیں ہونا چاہئے لوگوں نے کہا: اسے نماز پڑھنے دو ، وہ گورنر ہے ، لیکن تمہیں ساری روداد کو عمرکے پاس لکھنا چاہئے اس کے بعد اس نے ایساہی کیااور عمرکی طرف سے جواب آیا : کہ سب حاضر ہوجائیں ، مغیرہ جانے کیلئے تیار ہوا اس نے عقیلہ نام کی ایک عرب نسل کنیز ایک خادم کے ہمراہ ابو موسی کیلئے بھیجی یہ کنیز تربیت یافتہ تھیں اور یمامہ کے اسیروں میں سے تھی اور خاندان بنی حنیفہ سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا وطن طائف تھا ، مغیرہ عمر کے حضورپہنچا عمر نے عدالتی کاروائی کیلئے جلسہ بلایا اور مغیرہ کوشاہد کے ساتھ طلب کیا ، ابوبکرة آگے بڑھا ، عمر نے ابو بکرة سے کہا؛ کیا تم نے مغیرہ کواس عورت کی دونوں رانوں کے درمیان دیکھا ؟ اس نے جواب میں کہا: ہاں والله گویا ابھی ابھی اس عورت کی رانوں پر پڑے چھالوں
____________________
۱۔ مغیرہ کے زنا کی داستان کو ابن جریر، ابن اثیر اور ابو الفداء نے ۱۷ ئھ کے وقائع کے ضمن میں نقل کیا ہے ۔
کے نشان دیکھ رہاہوں ، مغیرہ نے کہا؛ عجب ! کیا اتنی دقت سے دیکھا ہے ؟ ابو بکرہ نے کہا: میں نے اس کام میں کوتاہی نہیں کی ہے جس میں خداوند تجھے رسوا کرے عمر نے کہا: خدا کی قسم میں اس پر اکتفا نہیں کروں گا جب تک کہ گواہی نہیں دو گے کہ تم نے مغیرہ کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اس عورت کے اندر ایسے ڈال رہا تھا جیسے سرمہ دانی کے اندر سلائی ڈالی جاتی ہے اس نے کہا جی ہاں ، یہی گواہی دیتا ہوں عمر نے کہا: جاؤ مغیرہ ایک چوتھائی کھو بیٹھے ہو۔
ابو الفرج کہتا ہے : بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بات کہنے والے علی علیہ السلام تھے ، اس کے بعد عمر نے نافع کو طلب کیا اور کہا : تم کس چیز کی شہادت دیتے ہو؟ نافع نے کہا : اس کیفیت کی شہادت دیتا ہوں جس کی ابو بکرة نے شہادت دی ہے ، عمر نے کہا: نہیں ، جب تک اس طرح گواہی نہیں دو گے کہ تم نے دیکھا کہ مغیرہ اس عورت کے اندر اس طرح ڈالے ہوائے تھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی ڈالی جاتی ہے ، اس نے جواب میں کہا: جی ہاں اس کے اندر آخر تک ڈالے تھا ، عمر نے کہا : جاؤ مغیرہ نصف تم میں سے گیا ، اس کے بعد تیسرے شاہد شبل بن معبد کو طلب کیا ، شبل نے کہا: میں بھی اپنے دو دوستوں کے مانند شہادت دوں گا، عمر نے کہا: جاؤ مغیرہ تین چوتھائی کھو بیٹے ہو ؟
راوی کہتا ہے : جب عدالتی کاروائی یہاں تک پہنچی تو ، مغیرہ مہاجرین کے پاس جاکر اس قدر رویا کہ وہ بھی رو پڑے اور امہات المؤمنین کے پاس جا کر بھی ایسا ہی کیا حتی کہ انہوں نے بھی گریہ کیا ۔
راوی نے کہا: زیاد اس مجلس میں حاضر نہ تھا عمر نے کہا یہ تین گواہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور اہل مدینہ میں سے کوئی ان کے پاس نہ بیٹھے ، اور زیاد کے آنے کا منتظر تھا ، جب زیاد آپہنچا او رمسجد میں بیٹھا مہاجر و انصار کے بزرگ اس کے اردگرد جمع ہوئے ، مغیرہ کہتاہے اس دوران میں نے ایک مطلب آمادہ کیا تھا تا کہ کہوں ، لیکن جوں ہی عمر کی نظر زیاد پر پڑی اور دیکھا کہ وہ آرہا ہے تو اس نے کہا؛ میں ایک ایسے مرد کو دیکھ رہا ہوں کہ خداوند عالم ہرگز اس کی زبان سے مہاجرین میں سے کسی کو ذلیل و خوار نہیں کرے گا(۱) ابو الفداء(۲) کی روایت میں آیا ہے کہ عمر نے زیاد سے کہا: میں ایک ایسے مرد کو دیکھ رہاں ہوں کہ امید کرتا ہوں خداوند عالم اس کے ذریعہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو ذلیل نہیں کرے گا ۔
اغانی کی روایت میں ابی عثمان نہدی(۳) سے نقل کیا گیا ہے : جب پہلے گواہ نے اپنی شہادت کو عمر کے سامنے بیان کیا ، عمر کا رنگ پھیکا پڑگیا، اس کے بعد دوسرا شاہد آیا اور اس نے بھی شہادت دی، دوسرے کی گواہی پر عمر کے قیافہ میں شکست کے آثار نمودار ہوگئے، اس کے بعد تیسرا آیا اور اس نے جب شہادت دی تو عمر کی حالت ایسی بنی جیسے اس کے چہرے پر راکھ پھینک دی گئی ہو۔
____________________
۱۔ ابن خلکان ج ۸/ ۲۰۶ کتاب وفیات الاعیان ، ” یزید بن مفرغ“ کی تشریح میں اور یہ جملہ جو عمر نے زیاد سے کہا؛ میں ایک مرد کو دیکھ رہا ہوں کہ امید رکھتا ہوں خداوند عالم اس کے ذریعہ اصحاب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا یعقوبی نے اپنی تاریخ ج ۲/ص ۱۲۴ میں نقل کیا ہے ، کنزل العمال ج ۳/ ۸۸ حدیث ۱۲۶۸۲ او رمنتخب کنز ، ج ۲/ ۴۱۳ میں یوں آیا ہے کہ عمر نے کہا: میں ایک چالاک جوان کو دیکھ رہاہوں کہ انشاء اللہ حق کے علاوہ کسی اور چیزکیلئے گواہی نہیں دے گا ۔
۲۔ تاریخ ابو الفداء ،ج ۱/ ۱۷۱۔
۳۔ ابو عثمان عبد الرحمان بن رمل بن عمرو بن عدی بن وھب بن ربیعہ بن سعد بن کعب بن خزیمہ بن کعب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں اسلام لایا اور جنگ قادسیہ اور دوسری جنگو ں میں شرکت کی اور ۱۰۰ ئھ میں ۱۳۰ سال سے زیادہ عمر میں وفات پاگیا۔
جب زیاد آیا (ایک جوان جو ہاتھ ہلا ہلا کر ناز سے چل رہا تھا) عمر نے اسکی طرف سر اٹھا کر کہا؛ کیا خبر لائے ہو ئے فضلہ عقاب (ابو عثمان نہدی نے اس موقع پر عمر کے قیافہ کی حالت کو ایسی خوفناک بتایا ہے کہ جس کے بارے میں عبد الکریم بن رشید کہناہے : نزدیک تھا میں ابوعثمان کی فریاد اور دھمکی سے غش کرگر جاؤں) لہذا مغیرہ نے کہا: اے زیاد! خدا کیلئے تجھے یاد دہانی کراتا ہوں اور تجھے قیامت کے میدان کی یاد،دلاتا ہوں کہ خدا ، کتاب خدااور رسول خدا(صلی الله علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المؤمنین نے میرے خون کی حفاظت کی ہے ، مگر یہ کہ تم تجاوز کرکے ایسا کچھ بیان دیدو کہ جس کو تم نے نہیں دیکھا ہے ، پھرزیاد نے کہا: یا امیر المؤمنین ! لیکن حقیقت مطلب میرے پاس اس صورت میں نہیں ، جس صورت میں د وسروں کے پاس ہے ،میں نے ایک ناشائستہ مجلس کا نظارہ کیا ، اور تیز تیز سانس لینے کی آواز سن رہا تھا، میں نے مغیرہ کو دیکھا کہ وہ اس عورت پر سوار تھا ، پھرعمر نے کہا: کیا تم نے دیکھا کہ مغیرہ سرمہ دانی میں سلائی کے مانند اندر اور باہر کرتا تھا ؟
اس نے کہا: نہیں ۔
ابو الفرج کہتا ہے : بہت سے راویوں نے روایت کی ہے کہ زیاد نے کہا: میں نے دیکھا کہ مغیرہ نے عورت کی دونون ٹانگیں بلند کی تھیں اور میں نے اس کے خصیہ بھی دیکھے کہ عورت کی دونوں رانوں کے درمیان آگے پیچھے حرکت کررہے تھے(۱)
اس نے کہا: نہیں
____________________
۱۔ ابو عثمان عبد الرحمان بن رمل بن عمرو بن عدی بن وھب بن ربیعہ بن سعد بن کعب بن خزیمہ بن کعب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں اسلام لایا اور جنگ قادسیہ اور دوسری جنگوں میں شرکت کی اور ۱۰۰ ئھ میں ۱۳۰ سال سے زیادہ کی عمر میں فوت ہوا۔
عمر نے کہا: اللہ اکبر ، مغیرہ اٹھوا! اور ان تین افراد پر کوڑے مار و، مغیرہ آگے بڑھا اور ابوبکرة پر اسّی کوڑے مارے اور دوسروں پر بھی تازیانے لگائے بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ خود مغیرہ نے ان پر کوڑے نہیں مارے ، عمر کو زیاد کا بیان پسند آیا اور مغیرہ کی سزا معاف کی !
مستدرک میں حاکم کی روایت میں اور ذہبی کی تلخیص میں یوں آیا ہے کہ جب مغیرہ نے نجات پائی ، تو عمر نے تکبیر بلند کی اور خوشحال ہوا اور تمام گواہوں پر تازیانے لگائے ، صرف زیاد پر تازیانہ نہیں لگائے(۱) اور فتوح البلدان میں ہے کہ شبل نے کہا: کیا سچائی کے شاہدوں پر تازینے ماررہے ہو ؟ اور حد الٰہی کو حذف کررہے ہو ؟ جب ابو بکرة نے کوڑ ے کھالئے تو کہا: شہادت دیتا ہوں کہ مغیرہ نے زنا کیا ہے ، عمر نے کہا: اس پر دوبارہ کوڑے لگاؤ،حضرت علی علیہ السلام نے کہا؛ اگر ابوبکر ة کی اس بات کو شہادت شمار کرکے حد جاری کرو گے تو میں بھی تیرے دوست کو سنگسار کروں گا،اور کنزل العمال اور منتخب کنزمیں اور یعقوبی نے اپنی تاریخ میں حضرت علی علیہ السلام کے نقطہ نظر کے بار ے میں تقریباً یہی مضمون نقل کیا ہے ۔
الاغانی اور شرح ابن ابی الحدید میں کہا گیا ہے : ابوبکرہ نے تازیانے کھانے کے بعد کہا: شہادت دیتا ہوں کہ مغیرہ نے ایسا ویسا کیا ہے ، عمر نے اس کو مارنا چاہا ،حضرت علی علیہ السلام نے عمر سے کہا؛ اگر اسے دوبارہ تازیانہ لگاناچاہتے ہو تو اپنے دوست کو سنگسار کرو اور عمر کو اس کے فیصلہ سے روکا ۔
____________________
۱۔ مستدرک حاکم، ج۳/ ۴۴۸) میں نے سخت رگڑ کی آواز سنی اور سانس پھولنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی ، پس عمر نے کہا: کیا تم نے دیکھا کہ سرمہ دانی کی سلائی کے مانند اندر باہر کررہا تھا ؟
ابو الفرج کہتا ہے :حضرت علی علیہ السلام کا مقصود یہ تھاکہ اگر حد جاری کرکے عمر ابو بکرة کو دوبارہ کوڑامارناچاہیں تو اس کی شہادت دوگنی شمار ہوگی اور اس صورت میں مغیرہ کو سنگسار ہوناچاہیے ۔
اس کے بعد کہتا ہے : عمر نے ابو بکرة کو اس کی دی گئی شہادت کے بارے میں توبہ کرنے کی تجویز پیش کی۔
ابوبکرہ نے کہا: کیا یہ تجویز اس لئے پیش کرتے ہو کہ اگر اسکے بعد گواہ بنا تو قبول کروگے ؟
اس نے کہا: ہاں ،
کہا: اب میں زندگی بھر دو آدمی کے بارے میں گواہی نہیں دوں گا۔
کہتا ہے : جب حد کو جاری کیا گیا مغیرہ نے کہا: اللہ اکبر ! شکر اس خدا کا جس نے تجھے ذلیل و خوار کیا ۔
عمر نے کہا: خاموش رہ ، خدا اس جگہ کو خوار کرے جس جگہ انھوں نے تجھے دیکھا ہے
کہتا ہے : ابوبکرہ اپنی بات پر ڈٹا رہا اور بارہا کہتا تھا؛ خدا کی قسم اس عورت کی رانوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔
لہذا ن دوسرے دو آدمیوں کو توبہ کرایا گیا اور ا س کے بعد ان کی شہادت قابل قبول ہوئی ۔ لیکن ابوبکرة کو جب کسی شہادت کیلئے دعوت کرتے تھے تو وہ کہتا تھا :
کسی دوسرے کو بلائیے کیونکہ زیاد نے میری شہادت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔
ابن عبد البر نے ابی ابو بکرہ کی تشریح میں کہا ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر پر باقی تھا لیکن دوسرے دو آدمیوں نے توبہ کرلی تھی۔
اغانی اور شرح نہج البلاغہ میں شعبی سے روایت نقل کی گئی ہے کہ ا س نے کہا: مغیرہ کی طرف رقطاء نامی جس عورت سے ناجائز تعلقات کی نسبت دی گئی تھی اس عورت کے پاس مغیرہ کی کوفہ پر حکومت کے دوران رفت و آمد تھی اور وہ اس کی ضروریات کو پورا کرتا تھا ۔
ابو الفرج کہتا ہے کہ اس قضیہ کے بعد ، ایک سال عمر حج پر گئے، اتفاق سے رقطاء کو موسم حج کے دوران دیکھا اور مغیرہ بھی وہاں پر تھا ، عمر نے مغیرہ سے مخاطب ہوکر کہا؛ کیا اس عورت کو پہچانتے ہو؟
اس نے کہا: جی ہاں ، یہ ام کلثوم بنت علی علیہ السلام ہے ۔
عمر نے اس سے کہا؛ افسوس ہو تم پر ، میرے سامنے بھی تجاھل عارفانہ سے کام لیتے ہو ؟ خدا کی قسم مجھے گمان نہیں ہے کہ ابوبکرةنے تیر بارے میں جھوٹ کہا ہوگا میں جب بھی تجھے دیکھتا ہوں ڈرتا ہوں کہ کہیں آسمان سے مجھ پر پتھرنہ برس پڑے۔
حسان بن ثابت نے مغیرہ کی ہجو کرتے ہوئے اس قضیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
لو ان اللؤوم ینسب کان عبداً
قبیح الوجه اعور من ثقیف
ترکت الدیں و الاسلام لما
بدت لک غدوة ذات النصیف
و راجعت الصبا و ذکرت لهواً
مع القینات فی العمر اللطیف
ترجمہ :
اگر پست فطرت اور کمینہ کو ڈھوٹدھو ایک منحوس بد صورت قبیلہ ثقیف کا ،کانا (جسکی ایک آنکھ خراب ہو) غلام ہوگا ۔
(مقصود مغیرہ ہے جو قبیلہ ثقیف سے تھا ور ایک آنکھ سے کانا تھا) ایک صبح کو جب ایک مقنہ پوش عورت نے تجھے اپنا جلوہ دکھایا تو ایک دم تم نے اپنے دین او راسلام کو کھودیا اور جوانی کے زمانہ کی طرف پلٹ گئے اور بہارِ جوانی میں کنیزوں کے ساتھ شہوت رانی کی یادوں کو تازہ کرنے لگے۔
بلاذری نے فتوح البلدان ص ۲۸۸ پر روایت کی ہے کہ خلیفہ عمر بن خطاب نے جب اس واقعہ کے بعد دوبارہ کوفہ کا گورنر مقرر کرنا چاہا تو اس سے کہا: اگر فرمان روائی کا حکم تیرے نام جاری ہوجائے ، تو کیا پھر بھی اسی چیز کی طرف پلٹ جاؤ گے جس کی تجھ پر تہمت لگی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں
ان تمام افراد میں جنہوں نے مغیرہ کے زنا کی طرف اشارہ کیاہے ، حموی بھی ہے جس نے معجم البلدان کی دوسری جلد کے صفحہ ۱۷۹ پر ذکرکیا ہے(۱)
____________________
۱۔ ج ۲/ ۱۷۹
چھان بین کا نتیجہ
سند کے لحاظ سے :
روایت کی سند میں محمد ، طلحہ اور مہلب کے نام آئے ہیں ، ” نسلِ زیاد کی اصلاح “ کے موضوع پر سیف کی روایت کی تحقیق کے دوران ان دو تین راویوں کی چھان بین ہوئی ہے۔
متن کے لحاظ سے :
سیف نے ایسا کہاہے ابو بکرة ، اس کے دو بھائی اور شبل مغیرہ کے گھر کے مد مقابل واقع کمرے میں بیٹھے تھے کہ ہوا چلی اور دونوں گھروں کی کھڑکیاں کھل گئیں اور انہوں نے مغیرہ کو دیکھا کہ اپنے گھر میں ایک عورت سے مباشرمیں مصروف ہے اور یہ عورت ام جمیل نامی ایک خادمہ تھی جو مغیرہ کی خدمت گزاری کرتی تھی ، انہوں نے صرف دو سر دیکھے اور چہرے نہیں دیکھے، جب اٹھے تو فیصلہ کیا ، مغیرہ نے عمر کو تجویز پیش کی کہ ا ن سے پوچھو کہ انہوں نے اسے کس حالت میں دیکھا ہے سامنے سے یا پیچھے سے اور کس کی اجازت سے اس کے گھر میں نگاہ کی ہے جبکہ دوسرے راویوں نے صراحت سے بیان کیا ہے کہ مغیرہ چوری چھپے ام جمیل کے گھر جاتا تھا نہ یہ کہ وہ عورت اسی کے گھر آئی تھی ، انہوں نے مغیرہ کو ام جمیل کے گھر میں اپنا منہ کالا کرتے دیکھا تھا اور کسی نے نہیں کہا ہے کہ ام جمیل مغیرہ کی خادمہ تھی مغیرہ گواہوں سے پو چھتاتھا اور وہ مختلف جواب دیتے تھے اس کے علاوہ دوسرے مطالب بھی کہے گئے ہیں لیکن چونکہ سیف مغیرہ کا دفاع کرنا چاہتا تھا اس لئے ان ساری باتوں کو جھوٹ ثابت کیا ہے اور طبری نے بھی انھیں ا پنی تاریخ میں ثبت کیا ہے اور کچھ لوگوں نے تاریخ طبری سے نقل کیا ہے اور یہ داستان مشہور اور زبان زد عام و خاص ہے۔
ابو محجن کی شراب خواری کی داستان
ان کانوا شربوها مستحلّین لها ان یقتلوا و ان کانو شربوها وهم یؤمنون انها حرام ان یحدّوا
اگر انہوں نے شراب کوحلال جان کر پیا ہے تو ان کا قتل واجب ہے اور اگر حرام جان کر پیا ہے تو ان پر حد جاری کی جائے گی
علی علیہ السلام
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ابو محجن کی داستان
ابو محجن ثقفی ، حبیب بن عمر بن ثقفی کا بیٹا ہے ، جب قبیلہ ثقیف نے اسلام قبول کیا تو وہ بھی مسلمان ہوا ، وہ شاعر اور ایک دلاور مرد تھا، دوران جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں بہادر شمار ہوتاتھا ، وہ ہمیشہ شراب پیتا تھا ، خلیفہ عمر ابن خطاب نے اس پر شراب نوشی کے جرم میں سات یا آٹھ بار حد جاری کی تھی ۔
ابوا لفرج اصفہانی، ”الاغانی“ میں کہتا ہے :
ابو محجن کو شراب پینے والوں کے ایک گروہ کے ساتھ عمر ابن خطاب کے پاس لایا گیا ،
عمر نے اس سے کہا: کیا تم نے شراب پی ہے جبکہ خدا اور اسکے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے ؟ اس نے جواب میں کہا؛ نہ خدا نے اسے حرام کیاہے اور نہ ہی اس کے رسول نے(۱) کیونکہ خداوند عالم فرماتا ہے :
<لَیسَ علیٰ الّذین آمنوا و عَمِلوٰ الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا و آمنوا و عملوا الصالحات >(۲)
یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کیلئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جو کچھ کھا، پی چکے ہیں جب کہ وہ متقی بن گئے اور ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے“
عمر نے اپنے طرفداروں کی طرف رخ کرکے کہا؛ ان کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ہر ایک نے کچھ نہ کچھ کہا، تو عمر نے ایک شخص کو علی (ع) کے پاس بھیجا، اور اس سلسلہ میں آپ سے مشورہ کیا، علی علیہ السلام نے کہا اگر تمہاری مرادیہ ہیکہ اس آیت کے بارے میں یہ لوگ کہتے ہیں ، انکو مردار،خون اور سؤر کے گوشت کو بھی حلال قرار دینا چاہئے جب انہوں نے یہ جواب آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے سنا اسلئے خاموش ہوگئے ، اس کے بعد عمرنے، علی علیہ السلام سے مخاطب ہوکر کہا: آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: میرا نظر یہ یہ ہے کہ اگر شراب کو حلال جان کر پیاہے تو اسے قتل کیا جاناچاہئے اور اگر اسے حرام جان کر پیا ہے تو ان پر حد جاری کرنی چاہئے عمر نے ایک جماعت سے پوچھا تو انہوں نے کہا: خدا کی قسم ہم اس کے حرام ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہہ نہیں
____________________
۱۔ ماحرم اللہ و لارسولہ
۲۔ سورہ مائدہ/آیت ۹۳
رکھتے تھے اور جو کچھ ہم نے کہاوہ شرعی قانون سے فرار کےلئے تھا تا کہ ہم پر تازینے نہ لگیں ، عمر نے ان میں سے ایک ایک پر حد جاری کی اور ہر ایک ان میں سے حد کھانے کے بعد باہر چلا جاتا تھا ، یہاں تک ابو محجن کی باری آگئی جب اس پر کوڑے پڑے تو ا سنے درج ذیل اشعار پڑھے(۱)
الم تر اں الدهر یعثر بالفتی
و لا یستطیع المرء صرف المقادر
صبرت فلم اجزع و لم اک کائعاً
لحادث دهر فی الحکومة جائر
و انّی لذو صبر و قد مات اخوتی
و لست عن الصهباء یوماً بصابر
رماها امیر المؤمنین بحتفها
فخلانّها یبکون حول المعاصر
ترجمہ
” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمانہ، جوان مرد کو لغزش سے دوچار کرتا ہے اور انسان تقدیر کو بدل نہیں سکتا ، میں نے بردباری سے کام لیا ور بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا اور زمانہ کے حوادث ، جو ہمیشہ حکومت کے ظلم سے رونما ہوتے ہیں سے نہیں ڈرا،میں باوجود اس کے کہ اپنے بھائیوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں لیکن ان کی جدائی کی مصیبت میں صبر کادامن نہیں چھوڑا ہے لیکن شراب سے جدائی کا تحمل یاایک دن کیلئے میرے لئے ناقابل برداشت ہے امیر المؤمنین نے اسے نابود کردیا اورشراب کے دلداد ہ شراب کی مشین کے گرد آنکھوں سے شوق کے آنسو بہارہے ہیں “
____________________
۱۔ سیف نے اس داستان میں بھی تحریف کی ہے اور اشعار کو بھی دوسرے کی طرف نسبت دی ہے۔ طبری، وقائع، ۱۸ ج ۴ ص ۲۲۲۔
عمر نے جب ابو محجن کا کلام سنا، تو کہا جو کچھ تیرے دل میں تھا کہ جس سے ہم بے خبر تھے تم نے آشکار کردیا ، مجھے تیر ی سزا کو یقینا شدید کرنی چاہئے تھی، چونکہ تم مئے نوشی پر اصرار کرتے ہو ، علی علیہ السلام نے فرمایا: تم ایسا حق نہیں رکھتے ہو اورجائز نہیں ہے کہ ایک شخص کو زبان پر جاری کرنے کے جرم میں سزادو جبکہ وہ جرم کا مرتکب نہیں ہو ا چونکہ کہ خداوند عالم شاعروں کے بارے میں فرماتاہے:
<إنَّهم یَقولوَن ما لا یفعلون >(۱)
وہ جو کام نہیں کرتے ہیں کہتے ہیں ۔
عمر نے کہا : خداوند عالم نے ان میں سے ایک جماعت کو مستثنی قرار دیا ہے اور فرمایا <الاالذین آمنوا و عملوا الصالحات > ۲ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے) علی علیہ السلام نے فرمایا : کیاتم ان شراب خواروں کو مؤمنین سے صالح تر جانتے ہو؟ یا یہ کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” بندہ ایمان کی حالت میں شراب نہیں پیتا ہے “(۳)
اور الاصابہ میں ہے کہ ابو محجن عمر کے پاس گیا ، عمر نے گمان کیا کہ ابو محجن نے شراب پی ہے ، حکم دیاکہ اس کے منہ کو سونگھا جائے ، ابو محجن نے کہا: تیرا کام وہی تجسس ہے جسے منع کیا گیاہے ، پس عمر نے اسے چھوڑدیا ۔
طبری نے ۱۴ ھ کے وقائع بیان کرتے ہوئے روایت کی ہے : اسی سال عمر نے اپنے بیٹے اور
____________________
۱۔ سورہ الشعراء/آیت ۲۲۶۔
۲۔ سورہ الشعراء/آیت ۲۲۷۔
۳۔ الاغانی ، ج ۱۹، ص ۱۴۳ ۔
اس کے دوستوں کو ابو محجن کے ہمراہ شراب پینے کے جرم میں حد جاری کی(۱) اور ابن کثیر نے کہا ہے : اس سال ابو محجن ثقفی پر مئے نوشی کے جرم میں سات بار حد جاری کی گئی(۲)
عقد الفرید میں باب ” اعیان و اشراف “ میں جن پر حد جاری کی گئی ہے اور اسی وجہ سے مشہور بھی ہوئے ہیں کے بارے میں کہاہے ؛ من جملہ ان میں ابو محجن ثقفی تھا اور وہ شراب پینے کا انتہائی شوقین تھا، سعد بن ابی وقاص نے اس سبب سے چند بار اس پر حد جاری کی تھی ۔
اس کے علاوہ الاصابہ اور الاغانی میں آیاہے کہ ابو محجن ” شموس“ نامی ایک عورت پر فریفتہ ہوگیا تھا ، اس سے ملنے کیلئے اس نے ہر بہانہ سے کام لیا لیکن کامیاب نہ ہوا ، آخر کار ایک معمار کا شاگرد بن گیا جو اس عورت کے ایک ہمسایہ کی دیوار تعمیر کررہا تھا اور اس طرح اس گھر کی کھڑکی سے اپنی محبوبہ کو دیکھنے میں کامیاب ہوا اور ا س سلسلہ میں یہ اشعار کہے:
و لقد نظرت الی الشموس و دونها
حرج من الرحمن غیر قلیل
قد کنت احسبنی کا غنی واجد
و رد المدینة عن زراعة فول
ترجمہ
” میں نے شموس کے چہرہ پر ٹکٹکی لگائی، جبکہ میں خداکی نہی سے آگاہ تھا ، جب میں مدینہ میں آیا تو ا سکے جمال پر نظر ڈالے ہوئے تھا، خود کو ایک دولتمند کسان تصور کرتا تھا کہ جسے باقلہ اور مٹرکی کھیتی
____________________
۱۔ تاریخ طبری ،ج ۴/ ۱۵۲۔
۲۔ البدایة و النہایة، ج ۷/ ۴۸۔
کرنے کی ا حتیاج نہیں(۱)
اس عورت کے شوہر نے عمر کے پاس اس کی شکایت کی ، عمر نے ابو محجن کو ”حضوضی“(۲) نامی جگہ پر جلا وطن کیا اور ابن جھراء نصری نامی ایک شخص کو ایک دوسرے آدمی کے ساتھ اس کے ہمراہ بھیجا ، اور حکم دیدیا کہ ابومحجن کو تلوار اپنے ساتھ اٹھانے کی اجازت نہ دیں ۔
ابو محجن نے تلوار کو ایک تھیلی میں اوراس کے غلاف کو ایک دوسری تھیلی میں رکھا جس میں آٹا تھا ، جب ساحل کے نزدیک پہنچا ، ابو محجن نے ایک بھیڑ خرید کر ابن جہراء سے کہا؛ آؤذرا کھانا کھاتے ہیں ، اور خود تیزی کے ساتھ اٹھ کر تھیلی کے پاس گیا ، اور اسی بہانے تلوار کو تھیلی سے نکال کر ہاتھ میں لے لی ، ابن جہراء نے جب ابو محجن کو تلوار ہاتھ میں لئے دیکھا، تو باہرنکل کر بھاگ گیا یہاں تک اونٹ پر سوار ہوکر واپس عمر کے پاس آگیا اوراسےساری رپورٹ پیش کی۔
الاصابہ اور استیعاب میں یوں بیان ہوا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ابو محجن سعد بن وقاص کے پاس گیا ، اتفاقاً یہ زمانہ ایران سے جنگ یعنی جنگ قادسیہ کا تھا ، محمد بن سعد ابن ابی وقاص سے روایت کی گئی ہے کہ اس نے کہا: جنگ قادسیہ میں ا بو محجن کو سعد کے پاس لایا گیا جبکہ وہ شراب پی کرمست تھا ، سعد نے حکم دیا کہ اسے زنجیر میں باندھا جائے ، اس دن سعد بدن پر ایک زخم لگ جانے کی وجہ سے میدان میں نہیں آیا اور خالد بن عرفطہ کو سوار فوجیوں کا کمانڈر مقرر کیا اور اپنے لئے ایک ایسی
____________________
۱۔ الاغانی ج ۱۹/ ۱۳۸۔
۲۔حصوصی ایک پہاڑ کا نام ہے جو جزیرہ میں واقع ہے یہ جاہلیت کے زمانے میں عربو ں کیلے جلا وطنی کی جگہ تھی ۔
جگہ منتخب کرلی جہاں سے لشکر گاہ پر نظر رکھ سکے ۔ جب دو فوجیں آمنے سامنے آئیں تو ابو محجن نے کہا:
کفیٰ حزناً ان تَردِی الخیل بالقنا
و اترک مشدوداً علیّ وثاقیاً
ترجمہ: اس سے بڑھ کر کیا مصیبت ہوسکتی ہے کہ سوار نیزوں کو ہاتھ میں لئے رفت وآمد کررہے ہیں او ر میرے ہاتھ پاؤں زنجیر میں باندھ کر ایک جگہ رکھ دیا ہے ۔
اس کے بعد سعد کی بیوی خصفہ سے مخاطب ہوکر بولا : افسوس ہو تم پر ! مجھے آزاد کرو ۔ میں تم لوگوں سے عہد و پیمان باندھتا ہوں کہ اگر میدان جنگ سے زندہ لوٹا تو اپنے آپ کو خود زنجیر میں باندھ لوں گا اور اگر قتل ہوا تو تم لوگ میرے ہاتھ سے نجات پاؤگے ، اس عورت نے ابو محجن کے پاؤں کی زنجیر کھول دی وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور (بلقا نامی) سعد کے گھوڑے پر سوار ہوکر ہاتھ میں ایک نیزہ لئے ہوئے روانہ ہوا جس طرف بھی حملہ کرتا تھا دشمن کو شکست دیتا تھا لوگ کہتے تھے : یہ نصرت کا فرشتہ آیا ہے تاکہ اسلام کی مدد کرے ۔
سعد خودبھی ان حملوں کا مشاہدہ کررہا تھااور کہتا تھا : اس گھوڑے کی اچھل کود میرے گھوڑے (بلقاء) کی جیسی ہے لیکن نیزہ مارنا ابو محجن کی نیزہ بازی جیسی ہے البتہ وہ زنجیروں میں باندھا ہوا ہے جب دشمں نے شکست کھائی تو ابو محجن واپس آیا اور اپنے پیروں میں دوبارہ زنجیر باند ھ لی ، خصفہ کی بیٹے نے اس قضیہ کو سعد تک پہونچایا تو سعد نے کہا: خدا کی قسم میں آج ایسے مرد پر حد جاری نہیں کروں گا کہ خداوند عالم نے اس کے ہاتھوں مسلمانوں کو ایسی نعمت عطا کی ہے ، اس کے بعد ابو محجن کو آزاد کردیا گیا ، ابو محجن نے کہا: جن دنوں مجھ پر حد جاری کی جاتی تھی میں شراب پیتا تھا ، اور خود کو حد کے ذریعہ پاک کرتا تھا، لیکن تم نے مجھ سے حد اٹھالی ، توخدا کی قسم میں ہرگز شراب نہیں پیئووں گا۔
سیف کی روایت میں ابومحجن کی داستان
یہ تھی محمد بن سعد کی روایت کے مطابق ابو محجن کے بارے میں قادسیہ کی داستان ، لیکن طبری کی نقل کی گئی روایت کے مطابق سیف یوں کہتا ہے :
سعد نے شورش برپا کرنے والی ایک جماعت کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالدیا اور کہا: خدا کی قسم اگر دشمن کے مقابلے میں نہ ہوتے تو تم لوگوں کو دوسروں کیلئے عبرت کا سبب بناتا، ابو محجن بھی زندانیوں میں شامل تھا ۔
ایک دوسری جگہ پر ا س سے نقل کیا گیا ہے : سعد کی بیوی کے ہاتھوں آزاد ہونے کے بعد ابو محجن قادسیہ کے دن جنگ کرکے پھر سی زندان لوٹا اور خود کو زنجیر میں باندھ لیاسلمی نے ابو محجن سے کہا: اے ابو محجن ! اس مرد نے تجھے کس جرم میں جیل میں ڈالدیا ہے ؟ اس نے جوا ب میں کہا: خدا کی قسم مجھے ایام جاہلیت کے دوران حرام چیز کے کھانے یا پینے کے جرم میں جیل میں ڈالدیا گیا ہے چونکہ میں ایک شاعر ہوں اور شعر کہتا ہوں اور گاہے ان اشعار کو پڑھتا ہوں اس لئے لوگ بر ابھلا کہتے ہیں اور اسی لئے سعد نے مجھے زندان میں ڈالدیا ہے یہاں تک کہتا ہے : سلمی نے اپنے شوہر سعد سے واقعہ بیان کیا ۔ سعد نے اسے بلا کر آزاد کردیا اور کہا: جاؤ ، اس کے بعد سے جب تک کہ کوئی عملی صورت نہ ہو تجھ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کروں گا ، ابومحجن نے کہا؛ اب جب کہ ایسا ہے تو میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اپنی زبان کو کبھی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ کسی بد کلامی کیلئے کھلے۔
ابوالفرج نے ابی محجن کی تشریح میں اغانی سے اور سیف کی اسی روایت کو طبری سے نقل کیا ہے-۔
ابن حجر الاصابہ میں کہتا ہے : ابن فتحون نے ابن عبد البر کی اس بات پر تنقید کی ہے کہ ابو محجن کے بارے میں کہتا ” وہ ہمیشہ شراب میں غرق رہتا تھا “ اور کہا ہے کہ یہی بیان حد جاری کرنے کیلئے کافی تھا اس سے بیشتر سزاوار نہ تھا کہ اسکے بارے میں کوئی اور بات کہتا اور بہتر یہ تھا کہ اس کے بارے میں سیف کی روایت کو نقل کرتے اس کے بعد اس نے خود ہی سیف کی روایت کو جسے ہم نے نقل کیا ہے ، نقل کیا اس کے بعد اصابہ کا مؤلف کہتا ہے : سیف ضعیف ہے اور جس روایت کو ہم نے نقل کیا ہے زیادہ معتبر اور مشہور ہے(۱)
ابن فتحون کی نظرمیں جو بھی روایت کرے کہ سعد نے ابو محجن کی حد کو اٹھالیا ، صحیح نہیں ہے اور کہا ہے سعد کے بارے میں کبھی ایسا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے ا س کے بعد کہتا ہے :لیکن سعد کا یہ عمل بہتر توجیہ کا حامل ہے ، مگراس توجیہ کو پیش نہیں کیا ہے ، شاید اس کا مقصود یہ ہو ، چونکہ سعد نے کہا ہے ”ابو محجن کو شراب نوشی کے بارے میں تا زیانے نہیں لگاؤں گا “ کوئی شرط مد نظر رکھی تھی اور وہ یہ کہ اگر
____________________
۱۔ الاصابہ ج ۴/ ۱۵۷۔
ثابت ہوجائے کہ اس نے شراب پی لی ہے لیکن خداوند عالم نے ابو محجن کو توفیق عطا کی کہ اس نے مخلصانہ طور پر توبہ کی اور پھرکبھی شراب نہیں پی
مسعودی نے مروج الذہب(۱) میں سیف کی روایت کو سند کے بغیر نقل کیا ہے ہماری نظر میں اسے تاریخ طبری سے نقل کیا گیا ہے کیوں کہ مسعودی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں جہاں پر مؤرخین کی تفصیلات بیان کرتا ہے اور تاریخ کے معتبر مصادر کا نام لیتا ہے طبری کی ،کافی تجلیل کرتا ہے ، جبکہ وہاں پر نہ سیف کا نام لیا ہے اور نہ اس کی تالیفات کا ذکر کیا ہے یہ تھا سیف کی روایت کا متن اور جنہوں نے اسے نقل کیا ہے۔
سیف کی روایت کی سند کی چھان بین
روایت کی سند میں محمد ،طلحہ ، زیاد، اور ابن محراق کے نام اور اس نے قبیلہ طی کے ایک مرد کے ہمراہ آیا ہے ۔
” زیاد کی نسل کی اصلاح “ کے باب میں سیف کے دوراوی یعنی محمد و طلحہ کی تحقیق کی ہے لیکن زیاد سیف کی روایتوں کی سند میں زیاد، زیاد بن سرجس احمری ہے اور اس جعلی راوی کا سیف کے دوسرے راویوں کے مانند علم رجال اور سند شناسی کی کسی اور کتابوں میں کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا
ہے باوجودیکہ سند نمبر ۵۳ میں ذکر کی گئی روایت سیف کی کچھ روایتیں طبری میں درج ہیں لیکن ،
____________________
۱۔مروج الذھب ج ۲/ ۴۲۲۔ ۴۲۴۔
ابن محراق ، نہ وہ خود معلوم ہے اور نہ اس کا بیٹا اورنہ ہی ” قبیلہ طی کا وہ مرد ، کہ جس سے یہ گمنام باپ کا بیٹا روایت کرتا ہے ۔
متن روایت سیف کی چھان بین:
جو کچھ ہم نے لکھا اس سے معلوم ہوا کہ سیف کی روایت اور محمد بن سعد کی روایت میں کس حد تک فرق ہے ، ابومحجن سعد کی بیوی سے کہتا ہے : اگر میں قتل ہوا تو تم لو گ مجھ سے مطمئن ہوجاؤ گے اور یہ خود اس کی دلیل ہے کہ سعد کی بیوی اس امر سے مطلع تھی کہ اس کا شوہر ابو محجن سے کتنا رنجیدہ خاطر تھا ، اس کے علاوہ ابو محجن کا دائم الخمر ہونا، شراب نوشی کے جرم میں چند بار تازیانہ کھانا، شموس نامی انصار یہ عورت کے گھرمیں بری نظر سے جھانکنا اور اسکے بعد ” خضوضی“ کے لئے جلا وطن ہونا ، مامور محافط کو قتل کرنے کا قصد کرنا قادسیہ میں اس کا لشکر سے ملنا اور قادسیہ کے کیمپ میں مست ہونے کی وجہ سے زندانی ہونا ، یہ سب واقعات ایسی چیزیں نہیں تھیں جو اس زمانے میں کسی سے پوشیدہ ہوں چہ جائے کہ ، سپہ سالار ابو محجن سے پوچھے کہ تجھے کس لئے جیل میں ڈالدیا گیا ہے ؟ جبکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ سعد کا بیٹا اپنی روایت میں صراحت سے کہتا ہے کہ جب قادسیہ کے دن آیا ، ابو محجن کو میرے والد سعد کے پاس لایا گیا جبکہ وہ پی کر مست تھے، لہذا حکم دیاکہ اسے زنجیروں سے جکڑ دیا جائے محمد بن سعد اپنی روایت کے آخر میں کہتا ہے کہ سعد نے کہا: نہیں ، خدا کی قسم ! میں آج ایسے مرد پر حد جاری نہیں کروں گا جس کے ہاتھوں خدا نے مسلمانون کوایسی نعمت عطا کی ہے اور ابو محجن نے خود یوں کہا ہے : جب تک مجھ پر حد جاری ہوتی تھی وہ میرے گناہوں سے تطہیر کا سبب ہوتا تھا ، میں شراب پیتا تھا لیکن اب جبکہ آپ نے مجھ سے حدا ٹھالی ہے لہذا خدا کی قسم اب میں دوبارہ ہرگز شراب نہیں پیئوں گا ۔
لیکن سیف نے اس گفتگو کو ابومحجن اور سعد کی بیوی کے درمیان گڑھ کر اسے اپنی روایت کا حصہ قرار دیا ہے تاکہ سعد کا دفاع کرے کہ اس نے کیوں خدا کے معین کئے گئے حد کو معطل کیاہے اور اس کے علاوہ ابو محجن کا بھی دفاع کرے کہ کیوں دائم الخمر تھا ، پھر اپنی جعلی داستان کو مکمل کرکے سعد کی زبانی نقل کرتا ہے : میں تجھے تیرے کلام پر پوچھ تاچھ نہیں کروں گا جب تک کہ ان پر عمل نہ کرو اس کے علاوہ ابو محجن کی زبانی ایک جھوٹ گڑھ لیا ہے کہ اس نے کہا: خد اکی قسم میں بھی اپنی زبان کو برے کلام سے ناپاک نہیں کروں گا اس جھوٹی روایت کے ذریعہ سیف ابو محجن سے جو کچھ تواتر کےساتھ نقل ہوا ہے اس کا مست رہناتازیانے کھانااور بدکرداریوں سے انکار کیا جاناہے اور ابن فتحون جیسے لوگ(جو اگر تاریخ کے حقیقی واقعات ان کی چاہت کے بر خلاف ہوں توسننے کیلئے تیار نہیں ہیں)نے بھی اس جھوٹ کی اشاعت کی ہے اور مسعودی جیسے قابل اعتماد تاریخ نویس نے بھی اس سلسلے میں تغافل کیاہے ور طبری پر کئے جانے والے اعتماد کی بنا پر اس جھوٹ کو اپنی قیمتی تاریخ مروج الذہب میں درج کیا ہے البتہ مسعودی جیسی کچھ بزرگ شخصیتیں بھی لغزش و خطا سے محفوط نہیں ہیں ،لیکن ان تمام حالات کے باوجود دوسری مشہور کتابوں نے اس تاریخی واقعہ کے بارے میں صحیح روایتوں کو تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے لہذا سیف اور اس کے حامی کامیاب نہیں ہوئے ہیں کہ اس حقیقت پر پردہ ڈال کر اسے بر عکس دکھائیں ۔
شوریٰ اورحضرت عثمان کی بیعت کی داستان
بایع و الا ضربت عنقک
یا علی ! عثمان کی بیعت کرو ، ورنہ (عمر کی وصیت کے مطابق) میں تمہارا سر قلم کردوں گا۔
عبد الرحمن بن عوف
سیف کی روایت کے مطابق شوریٰ اور حضرت عثمان کی بیعت
طبری نے ۲۳ ھء کے حوادث بیان کرتے ہوئے سیف سے روایت کی ہے کہ عمر نے کہا: ”میں جانتا ہوں کہ لوگ ان دو مرد (علی و عثمان) کے برابر کسی کو نہیں جانتے ہیں ، چونکہ یہ دوافراد ایسے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم ان کے اورجبرئیل کے درمیان ہمراز تھے ، آپ جبرئیل سے پیغام لیتے تھے اور ان دو کو املاء فرماتے تھے(۱) اور مزید ۲۴ ھء کے حوادث بیان کرتے ہوئے سیف سے روایت کرتا ہے کہ : ماہ محرم کی تیسری تاریخ کو اہل شوریٰ نے متفقہ طور پر عثمان کے حق میں رای دی اور یہ نماز عصرکا وقت تھا ، مؤذن صہیب نے اذان دی لوگ اذان و اقامت کے درمیان جمع ہوئے،عثمان باہر آئے اور نماز کی امامت کی، مزید روایت کی ہے کہ اس نے کہا جب اہل شوریٰ نے عثمان کے حق
____________________
۱۔ تاریخ طبری، ج۳/ ۲۹۲۔
میں رای دی تو۔عثمان اس حالت میں باہر آئے کہ دوسرے تمام لوگوں سے غمگین تر نظر آرہے تھے، اس کے بعد رسول خد ا کے منبر پرجا کر ایک خطبہ پڑھا ، خداوند عالم کی حمد و ثناکی اور پیغمبر پر درود بھیجا ، اس کے بعد کہا:
” تم لوگ ایک ایسے گھر میں ہو جس کی بنیادیں انتہائی کمزور ہیں اورا پنی باقی بچی عمریں کاٹ رہے ہو ، جتناممکن ہوسکے موت سے پہلے نیک کام انجام دو صبح یا شام کو موت تمہیں پالے گی دنیا کو غرور نے اپنے جال میں پھنسایا ہے ، لہذا دنیا کی زندگی تمہیں مغرور نہ کرے اور شیطان تمہیں فریب نہ دے ، اپنے اسلاف سے عبرت حاصل کرو اس کے بعد تلاش کرو اور غفلت میں نہ رہو، فراموش نہیں کئے جاؤ گے،کہاں گئے اس دنیا کے بیٹے اور بھائی ، وہ جو کھیت میں ہل چلا کر اسے آباد کرتے تھے اور سالہا سال تک اس سے فائدہ اٹھاتے تھے ؟! کیا اس دنیا نے انھیں دور نہیں پھینکا دنیا کے بارے میں تمہارا مقصد وہی ہونا چاہئے کہ جیسے خداوند عالم نے اسے مقصد قرار دیا ہے اور آخرت کے طالب رہو کہ خداوند عالم نے اس دنیا کیلئے ایک ضرب المثل بیان فرمائی ہے اور جو احسن ہے اسے معین فرمایا ہے ، خدائے عزو جل نے فرمایا ہے: < واَضرِب لَھُمْ مَثَلَ الْحَیوةِ الدُّنیَا کَمَاءٍ وانْزَلْنٰہ من السَّماءِ > تقریر کے اختتام پر لوگوں نے اس کی طرف بڑھ کی بیعت کی ۔
____________________
۱۔کھف/۴۵
یہ تھی شوریٰ ،نیز عثمان کی بیعت اور ان کی پہلی تقریر کے بارے میں سیف کی روایت !!
عمر کا نامزد کیا گیا خلیفہ
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص شوریٰ اور عمر کے جانشین مقر رکرنے کی کیفیت پر تحقیق و غور و خوض کرے گا وہ اس بات کو با آسانی سمجھ لیگا کہ عمر بہت پہلے ہی سے اپنی جانشینی کے بارے میں منصوبہ بندی کرچکے تھے اور عثمان کی خلافت کیلئے ماحول کو سازگار بنا چکے تھے اس طرح شوریٰ کی روداد ایک بہانہ سے زیادہ نہ تھی ۔
ابن ہشام عبدالرحمان بن عوف سے نقل کرتا ہے کہ ایک شخص نے منیٰ میں عمر سے کہا: اے امیر المؤمنین ! فلان شخص کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا کی قسم ابوبکر کی بیعت کا مسئلہ ایک بغیر سوچے سمجھے عمل کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور اسی صورت میں انجام پایاہےِ کہتے ہیں کہ عمر یہ بات سن کر غضبناک ہوگئے اور کہا: میں انشاء اللہ آج رات کو ہی اس کام کے بارے میں ا قدام کروں گا اور ان لوگوں کیلئے خطرہ کا اعلان کروں گا جو ناحق اور غاصبانہ طورپر کام کی باگ ڈور کو لوگوں سے چھین لینا چاہتے ہیں ۔
عبدالرحمان کہتا ہے : میں نے کہا:یا امیر المؤمنین ! آپ ایسا نہ کریں کیونکہ سارے کم فہم اور تخریب کار لوگ موسم حج میں ا یک جگہ پر اکٹھا ہوئے ہیں اس بات کی مہلت دیجئے تا کہ اسلامی دار الخلافہ مدینہ پہنچ جائےں ، وہاں پر آپ کی بات سننے والے صرف دانشورلوگ ہوں گے جو بھی کہناچاہتے ہیں مدینہ میں اطمینان کامل کے ساتھ کہہ سکتے ہیں اور دانشور آپ کی بات کو قبول کریں گے اور اس پر عمل کریں گے ۔ عبد الرحمان کہتاہے : عمر نے کہا: خدا کی قسم انشا ء الله لوگوں کے درمیان اپنی پہلی تقریر کے دوران اس کام کا اقدام کروں گا ۔
اس کے بعد کہتا ہے: عمر مدینہ پہچنے کے بعد پہلے جمعہ کو منبر پرگیا اور ایک خطبہ پڑھا اور اس میں کہا؛ مجھے رپورٹ ملی ہے کہ فلاں نے کہاہے کہ خدا کی قسم اگر عمر بن خطاب مرجائے تو قطعا فلاں کی بیعت کروں گا ۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کلام کہ ابوبکر کی بیعت بلا سوچے سمجھے اور بدون تدبیر انجام پائی ہے “،کسی کو فریب دے ، کیونکہ وہ بیعت اگرچہ ایسی نہیں تھی ، لیکن خداوند عالم نے ہمیں اس کے شر سے نجات دی ہے اور اس کے علاوہ اس نکتہ کی طرف توجہ رکھئے کہ اس وقت ابوبکر کے مانند کوئی اور آپ کے درمیان موجود نہیں تھاکہ جس پر سب اس پراتفاق کرکے اس کی اطاعت کریں ، اس لئے جو کوئی مسلمانوں سے صلاح و مشورہ کئے بغیر کسی کی بیعت کرے گا توایسی بیعت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی اور طرفین قتل کئے جائیں گے(۱)
ہم اس کتاب کے پہلے حصہ میں جہاں پر ” فاطمہ زہراء(س) کے گھر میں دھرنادینا “ اور ۱۳۶ ( صفحہ پر) پر عمر کے نقطہ نظر اور ان کی رای کے عنوان سے اس کی وضاحت کی ہے وہاں پر اس روایت کی باقی اسناد بھی ذکر کی ہیں ۔
____________________
۱۔ سیرہ ابن ھشام ،ج ۴/ ۳۳۷۔
ابن ابی الحدید نے جاحظ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتا ہے : جس شخص نے یہ کہا تھا کہ اگر عمر مرجائے تو میں فلاں کی بیعت کروں گا وہ عمار بن یاسر تھے کہ اس نے کہا تھا ؛ اگر عمر مرجائے تو علی علیہ السلام کی بیعت کروں گا ، عمر کا یہی کلام سبب بنا کہ عمر نے اشتعال میں آکر وہ تقریر کی ۱ ایک اور حدیث شناس نے کہا ہے کہ عمر کے مرنے کے بعد جس کی بیعت کی جائے وہ طلحہ بن عبد اللہ تھا ۔
جس کی بیعت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، اسے پہچاننا ہمار ی نظر میں اہم نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ خلیفہ نے اپنی تقریر میں خلافت کے کام میں ” ُمشورت “ کابیان کیاہے جبکہ اس کی مثال نہیں ملتی کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اپنا جانشین مقرر کرنے کے سلسلے میں کہیں مشورت یا شوریٰ کا ذکر کیا ہو ، دوسری طرف سے ابوبکر کی بیعت اچانک اور بلا غور و فکر اور تدبیر انجام پائی جیساکہ ہم نے عمر کی زبانی سنا ۔
اور اسی طرح خود عمر کی بھی ابوبکر کے نامزدکرنے سے بیعت کی گئی ، نہ مجلس شوریٰ کی روسے اور نہ ہی مسلمانوں کے مشورت سے ، اس لئے یہ (عمر) پہلا شخص تھا جس نے جانشین مقرر کرنے کیلئے بذریعہ شوریٰ منصوبہ بنایا تھا، عمر نے اس خطبہ میں واضح طورپر اظہار کیا ہے کہ مغیرة بن شعبہ کے غلام فیروز کے ہاتھوں زخمی ہونے سے پہلے شوریٰ کی فکر میں تھا لیکن یہ کہ وہ اپنی جانشینی کے امید وار کومقرر کرچکا تھا یا یہ کام صرف شوریٰ پر چھوڑا تھا آئندہ نقل کی جانے والی روایتوں سے معلوم ہوگا۔
محب الدین طبری ۲ نے ریاض النضرہ کی دوسری جلد کے صفحہ ۷۴۰ پرعبد اللہ بن عمر سے نقل
____________________
۱۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۳/ ۱۲۳۔
۲۔الریاض النضرة ،ج ۲/ ص ۷۴۔
کرتے ہوئے کہا ہے ؛ جب عمر زخمی ہوئے، تو میں نے کہا:اے امیر المؤمنین ! کیااچھاہوتا اگرآپ اپنی کوشش و تلاش سے کسی کو ان لوگوں کی فرمانروائی کیلئے مقرر فرماتے ؟ اس نے کہا : مجھے بٹھائیے ! عبد اللہ نے کہا: جوں ہی اس نے کہا” مجھے بٹھائیے “ تو میں اس قدر ڈر گیااور آرزو کی کہ مدینہ کے برابر اس سے دوری اختیار کیاکروں اس کے بعد کہا؛ قسم اس خداکی جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے میں قطعی طور فرمانروائی کو واپس اسی شخص کے ہاتھ میں دیدوں گا جس نے پہلی بار اسے مجھے دیا تھا
رہا سوال اس کاکہ جس نے پہلی بار عمر کو خلافت دی ، وہ عثمان تھا چنانچہ طبری نے اپنی سند سے واقدی کے حوالے سے کہاہے کہ : ابوبکر نے عثمان کو حکومت میں لے جا کر کہا؛ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم ، یہ ایک عہد نامہ ہے جسے ابوبکر بن ابی قحافہ نے مسلمانوں کیلئے لکھا ہے اما بعد کہتے ہیں کہ جوں ہی انھوں نے اما بعدکہا، ان کی حالت بگڑگئی اور بے ہوش ہوگئے ا ور مطلب کو جاری نہ رکھ سکے اس کے بعدعثمان نے خود لکھا: اما بعد،میں نے عمر کو آپ لوگوں کیلئے نامزد کیاہے اور میں آپ کے درمیان اس سے بہتر کسی اور کو نہیں جانتا ہوں اسکے بعد ابوبکر ہوش میں آئے اور پوچھا : کیالکھا تم نے؟ مجھے پڑھ کر سناؤ، عثمان نے تحریر کو ابوبکر کیلئے پڑھا ، ابوبکر نے کہا؛ اللہ اکبر ، میری نظر میں خدا تجھے اسلام سے نیک انعام عطا کرے ، اور ابوبکر باقی وصیت نامہ کو، جہاں تک عثمان نے لکھاتھااقرار کرکے تائید کی۔ روایت کا متن حسب ذیل ہے :
دعا ابوبکر عثمان خالیا فقال له اکتب :
بسم الله الرحمن الرحیم
هذا ما عهد ابوبکر بن ابی قحافه الی المسلمین ، اما بعد، قال ، ثم اغمی علیه ، فذهب عنه ، فکتب عثمان : اما بعد فانی قد استخلفت علیکم عمر بن الخطاب و لم آلکم خیراً منه ثم افاق ابوبکر فقال : إِقرا علیَّ ، فقرا علیه فکبر ابوبکر ، و قال : اراک خفت ان یختلف الناس ان افتلتت نفسی فی غشیتی؟ قال نعم، قال : جزاک الله خیراً عن الاسلام و اقرّها ابوبکر من هذ االموضع(۱)
خود عمر نے بھی ایک دوسری جگہ پر صراحت سے کہا ہے کہ عثمان کو اپنی جانشینی کیلئے مد نظر رکھا تھا خیثمہ بن سلمان اپنی کتاب ” فضائل الصحابہ “ میں حذیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا؛ کسی نے موقف میں عمر سے پوچھا: آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا ؟ اس نے کہا: عثمان بن عفان:(۲)
قیل لعمر و هو بالموقف مَن الخلیفة بعدک ؟ قال : عثمان بن عفان ۔
متقی ھندی نے نے کنزل العمال(۳) روایت میں کہا ہے کہ عمر نے یہ جواب مدینہ میں ان لوگو ں کو دیا جنہوں نے ان سے سوال کیا تھا:آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا۔
____________________
۱۔ تاریخ طبری ،ج ۲/ ۶۱۸ ۔
۲۔ الریاض النضرة ،ج ۲/ ۱۲قیل لعمر و هو بالموقف ، من خلیفتک بعدک ؟ قال : عثمان بن عفان ۔
۳۔ کنزل العمال، ج ۳/ ص۱۵۸
سیف کے علاوہ کی گئی روایت میں شوریٰ کی داستان
بلاذری نے انساب الاشراف ۱ میں اور ابن سعد نے طبقات ۲ میں روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک جمعہ کو خطبہ پڑھا اور پیغمبر اور ابوبکر کا ذکر کیا پھر کہا؛ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغا مجھے چونچ ماررہا تھا ، میرے خیال میں اسکی تعبیر اسکے سوا کچھ نہیں ہے کہ میری موت نزدیک ہے اور دوسری طرف سے کچھ لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے بعد والے خلیفہ کو نامزد کروں ، البتہ خداوند عالم اپنے د ین ، اپنے خلیفہ اوراپنے اس ہدف کو ضائع ہونے نہیں دے گا جس کیلئے پیغمبر کو بھیجا تھا۔ اگر جلدی میر ی موت آگئی تو خلافت شش رکنی شوریٰ میں سے کسی ایک کو ملے گی جسے شوریٰ والے رائے دیں گے اور یہ چھ افراد وہی ہیں جن سے رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم رحلت کے وقت راضی تھے ، میں جانتا ہوں کہ اس کام کے بارے میں مجھ پر اعتراض کیا جائے گا ، لیکن تم لوگوں کو توجہ کرنا چاہئے کہ اعتراض کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہیں میں نے زبردستی اسلام کے دائرے میں داخل کیاہے اگر انہوں نے ایسا اعتراض کیا تو وہ دشمن اسلام ہیں ۔
ابن عبدالبر ۳ دوو سندوں کے ساتھ روایت کرتا ہے کہ جب عمر ابن خطاب زخمی ہوئے تو ان سے کہا گیا : یا امیر المؤمنین ! کیا اچھا ہوتا اگراپنے بعد خلیفہ کومقرر کردیتے تو انھوں نے کہا: اگر میں تمہیں اپنے حال پر چھوڑدوں اور یہ کام تمہارے سپرد کردوں تو؟ اس لئے کہ جو مجھ سے بہتر تھاا س
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵ ص ۱۵۔ ۱۶۔
۲۔ طبقات ابن سعد ق ۱، ج ۳/ ۲۴۳۔
۳۔العقد الفرید ، ج۳/ ۷۳
نے ایسا ہی کیا ہے اور اگرآپ لوگوں کیلئے خلیفہ نامزد کروں تو بھی مجھ سے بہتر تھا اس نے بھی ایسا ہی کیاہے اگر اس وقت ابو عبیدہ جراح زندہ ہوتے تو میں یقینا انھیں اپنا جانشین بنا دیتا اور اگر خداوند عالم مجھ سے اس سلسلہ میں پوچھتا تو میں کہتا کہ میں نے تیرے پیغمبر سے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے: ابو عبیدہ اس امت کاامین ہے۔
اور اگر ابوحذیفہ کا آزادکردہ غلام ، سالم زندہ ہوتاتو اسے اپنا جانشین قرار دیتا اور خدا کے اعتراض کے جواب میں کہتا کہ میں نے تیرے پیغمبر سے سنا ہے کہ فرماتے تھے : بے شک سالم خداکو ایسا دوست رکھتا تھا کہ اگر خدا سے خوف بھی نہ رکھتا تو بھی گناہ نہیں کرتا ،کہا گیا: کیوں عبداللہ کو اپنا جانشین نہیں بناتے وہ، جبکہ دیانت و فضل اور اسلام میں پیش قدم ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیت مسلم ہے ۔ کہا: خطّاب کے بیٹوں کیلئے ا تنا ہی کافی ہے کہ ان میں سے صرف ایک شخص امت محمد کے بارے میں حساب دے، میں کتنا خوشحال ہوں کہ اس محاسبہ سے سالم نکل آیا نہ نفع کمایا اور نہ نقصان ، پھر ان سے سوال ہوا ،کہ کاش کسی کو معین کرتے ؟ کہا : جو بات میں نے کہی اسکے کیلئے آمادہ کیا ہے کہ آپ لوگوں کی فرمان روائی کیلئے کسی کو معین کروں گا اور امید رکھتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کو راہ حق کی طرف راہنمائی کرے گا ، یہ کلمات کہتے ہوئے علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا: لیکن میں نے مصلحت اس میں سمجھ کہ اپنی زندگی میں نیزمرنے کے بعد بھی اس کام کی ذمہ داری اپنے سرنہ لوں(۱)
____________________
۱۔العقد الفرید، ج ۳/ ۷۳۔
بلاذری نے عمرو بن میھون سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا؛ میں عمر کے زخمی ہونے کا شاہد تھا ، اس کے بعد ایک مفصل حدیث ذکر کی اس کے بعد کہا؛ عمر نے کہا، علی علیہ السلام ، عثمان ، طلحہ و زیبر ، عبد الرحمان بن عوف اور سعد بن ابی وقاص کو میرے پاس بلالاؤ ان چھ افراد میں سے علی علیہ السلام اور عثمان کے علاوہ کسی اور سے بات نہیں کی ، علی علیہ السلام سے کہا؛ یا علی ! شاید یہ لوگ آپ کے بارے میں معلومات کرنا اور پہچاننا چاھتے ہیں کہ آپ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار ہیں اور آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے داماد ہونے کا شرف بھی رکھتے ہیں اور خداوند عالم ٰ نے آپ کو فقہ و دانش میں ایک بلند مقام عطا کیا ہے اگر آپ نے اس کام کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی تو تقویٰ کو ہاتھ سے جانے نہ دینا ، اس کے بعد عثمان کو بلاکر اس سے کہا؛ اے عثمان ! شاید یہ لوگ تیرے حق کو جان لیں کہ آپ پیغمبر کے داماد تھے اوربہت سن رسیدہیں ، اگر حکومت تیرے ہاتھوں میں آئی تو خدا سے ڈرنا اور ابو معیط کے خاندان (عثمان کے رشتہ دار) کو ملت کی گردن پر سوار نہ کرنا اسکے بعد کہا: صہیب کو میرے پاس بلاؤ ، جب وہ حاضر ہواتو ا سے یوں حکم دیا : تین دن تک لوگوں کی امامت کی مسئولیت تیرے ذمہ ہے اور ان چند افرادکو کسی گھر میں بیٹھ کر شوریٰ کو تشکیل دینا چاہے ، اگر متفقہ طور پر انہوں نے اپنے میں سے کسی ایک کو معین کرلیا، تو جو بھی اس کی مخالفت کرے اس کا سر قلم کردینا جب یہ لوگ عمر سے رخصت ہوکر چلے گئے توعمر نے کہا: اگر خلافت کے کام کو ’ ’ اجلح“ (وہ مرد جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال کم ہوں مقصود علی تھا) کے ہاتھ سونپیں گے تو وہ لوگوں کی احسن طریقہ ےسے رہبری کرے گا اور منزل مقصود تک پہنچائے گا(۱)
____________________
۱۔ انساب الاشراف، ج ۵ان ولّو ها الاجلع لسلک بهم الطریق ۔
ابن عمر نے کہا: یا امیر المؤمنین کیا آپ کیلئے خودمعین کرنے میں کوئی مشکل ہے ؟ کہا: میں نہیں چاہتا ہوں زندہ یا مردہ اس کے زیر بار رہوں طبقات(۱)
ابن سعد میں بھی تقریباً اس قسم کی روایت ہے ۔
الریاض النضرہ میں بھی عمرو بن میمون نے جو کچھ عمر سے علی کے بارے میں نقل کیا ہے اس کے بعد آیا ہے : صاحب صحیح ، نسائی نے یہ روایت نقل کی ہے اورا س میں اضافہ کیا ہے : کیا اچھے لوگ ہوں گے اگر خلافت کی باگ ڈور کو کشادہ پیشانی والے شخص کو سونپتے تو وہ اس وقت دیکھیں گے کہ کس طرح وہ انھیں حق پر چلنے پر مجبور کرے گا اگر چہ وہ ہمیشہ تلوار لئے ہوئے ہوگا :للّه درّهم ان ولّوها الاصلع کیف یحملهم علی الحق و ان کان السیف علی عنقه ۔
میں نے کہا: اگر اس کے بارے میں ا س قسم کی لیاقت کا تجربہ رکھتے ہں تو خلافت کو اس کے حوالہ کیوں نہیں کرتے ؟
اس نے کہا؛ اگر میں مرگیا اور یہ کام لوگوں پر چھوڑکے چلا گیا تو مجھ سے پہلے کسی نے ایسا کیا ہے جو مجھ سے افضل تھا(۲)
بلاذری نے انساب الاشراف میں اپنی سند سے واقدی سے نقل کیا ہے کہ عمر اپنی جانشینی کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اُن سے کہاگیا کہ کیوں عثمان کے بارے میں کچھ نہیں کہتے ہو؟
____________________
۱۔الریاض النضرة، ج ۲/ ص ۷۲۔
۲۔ الریاض النضرة،ج ۲/ ص ۷۲۔
اس نے کہا: اگر میں ایساکروں تو عثمان، ابو معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردن پر سوار کردے گا ۔
کہا گیا : زبیر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
اس نے کہا: وہ راضی حالت میں مؤمن صفت ہے او رغضب کی حالت میں کافر۔
کہا گیا : طلحہ ؟
اس نے کہا: اس کی ناک آسمان تک لمبی ہے اور اس کا مقعد پانی میں ہے
کہا گیا : سعد؟
اس نے کہا؛: وہ ایک لشکر کی سرکردگی کا سزاوارہے مگر دسویں حصہ کی فرمانروای اس کیلئے زیادہ ہے ۔
کہا گیا : عبد الرحمان ؟
اس نے کہا: اگر وہ اپنے اہل و عیال کوادارہ کرسکے تو کافی ہے ۔
ابن میمون سے روایت ہے کہ عمر نے شوریٰ کو چھ افرد پرچھوڑدیا اور کہا عبید اللہ بن عمر بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہے لیکن وہ امیدوار بننے کا حق نہیں رکھتا ہے(۱)
بلاذری نے کتاب انساب الاشراف، ج ۵/ ص ۱۸ میں ابو مخنف سے روایت کی ہے: عمر بن خطاب جب زخمی ہوئے تو اس نے عبد للہ بن جدعان کے آزاد کردہ غلام صہیب کو حکم دیا تا کہ مہاجر و انصار کے بزرگوں کو عمر کے پاس بلالائے جب وہ سب اس کے پاس جمع ہوئے توعمرنے ان سے کہا:
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵ ص ۱۷۔
میں نے اپ لوگوں کا کام مہاجرین کی ایک چھ رکنی شوریٰ کے سپرد کردیا ہے وہ ہجرت میں سبقت رکھتے ہیں اور رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم اپنی رحلت کے وقت ان سے راضی تھے ، میں نے ان سے کہا ہے کہ اس شوریٰ میں سے کسی ایک کو اپنے پیشوا کے طور پر منتخب کریں اس کے بعد عمر نے ان میں کچھ افراد کا نام لیا اس کے بعد ابو طلحہ زید بن سہل خزرجی کو حکم دیا تا کہ انصار میں سے پچاس افرادکو منتخب کرکے اپنے ساتھ رکھے ، اور کہا: جب میں وفات پاؤں تو شوریٰ کے چھ افرد کو مجبور کرنا تا کہ جتنا ممکن ہوسکے جلدی اپنے میں سے ایک کو امت کی رہبری کیلئے چن لیں اور شوریٰ کا جلسہ تین دن سے زیادہ طولانی نہیں ہونا چاہئے اور صہیب کو حکم دیا کہ نماز جماعت کی امامت خود سنبھالے تا کہ شوریٰ خلافت کا مسئلہ حل کرے ۔
جس وقت عمر یہ احکام جاری کررہے تھے ، طلحہ بن عبد اللہ ” سراہ“ میں اپنے کھیت میں تھا اور مدینہ میں موجود نہ تھا ۔
لہذا عمر نے کہا: ا گر طلحہ ان تیں دنوں کے جلسہ کے دوران آگیا تو بہتر ورنہ اس کا انتظار نہ کرنااور کام کو آگے بڑھانا۔ جس پر بھی اتفاق ہواس کی بیعت کرنا جو بھی اس کی مخالفت کرے اس کا سر تن سے جدا کرنا۔
راوی کہتا ہے کہ ایک قاصد کو طلحہ کے پاس بھیجاگیا تا کہ فوری طور پر اپنے آپ کو مدینہ پہنچادے لیکن وہ اس وقت مدینہ پہنچا جب عمر اس دنیا سے جاچکے تھے اور لوگوں نے عثمان کی بیعت کرلی تھی اورطلحہ اپنے گھر میں بیٹھا رہااور بولا :
کیا مجھ جیسے پر رائے تھونپی جاسکتی ہے ؟
لہذا عثمان طلحہ کے پاس آئے ، طلحہ نے ان سے کہا؛ اگر میں شوریٰ کی رائے قبول نہ کروں تو کیا تم خلافت کو واپس کردوگے(۱)
اس نے کہا: جی ہاں
طلحہ نے کہا: لہذا میں دستخط کرتا ہوں ، اس طرح اس نے عثمان کی بیعت کی(۲) عبد اللہ بن سعد بی ابن سرح کہتا ہے : جب تک طلحہ نے یہ کام انجام نہیں دیا تھا میں اس تشویش میں تھا کہ ایسانہ ہو کہ بیعت ٹوٹ جائے اور یہ اسی لئے تھی کہ عثمان طلحہ کو ہمیشہ ا حترام کی نظر سے دیکھتے تھےتا وقتیکہ انھیں اپنے گھر میں محاصرہ کیا گیا اور اس دن طلحہ دوسروں سے زیادہ عثمان کی دشمنی کا مظاہرہ کررہاتھا ۔
بلاذری انساب الاشراف میں روایت کرتے ہوئے کہتا ہے : عمر نے حکم دیا کہ اقلیت کو اکثریت کے تابع رہنا چاہئے اور جو کوئی بھی تم لوگوں کی مخالفت کرے اس کا سر قلم کردو ۳ ابو مخنف سے روایت کی گئی ہے کہ عمر نے شوری کے ارکان کو حکم دیا کہ تین دن تک اپنے کام میں مشورہ کریں اگر دو افراد نے ایک کے حق میں اور دوسرے دو افراد نے دوسرے کے حق میں رائے دیدی تو شوریٰ کی رائے گیری دوبارہ انجام دی جائے اگر چارافراد نے کسی ایک کے حق میں رائے دی اور ایک نے
____________________
۱۔انساب الاشراف ،ج ۵ والعقدا لفرید ج ۳/ ۷۳۔
۲۔العقدا لفرید ، ج ۳/ ۲۰۔
۳۔ انساب الاشراف ،ج ۵ ،ص ۸لیتبع الاقل الاکثر فمن خالفکم فاضربوا عنقه ۔
رائے مخالف دی تو چار افراد کی رائے کے تابع ہونا چاہئے اور اگر ووٹ دو ،دو یا تین تین کرکے تقسیم ہوجائےں تو اس طرف کو ترجیح دی جانی چاہئے جس میں عبدا لرحمان بن عوف شامل ہو ، کیونکہ اس کی دیانت اور رائے زیادہ مورد اعتماد ہے جو اسے مسلمانوں کے لئے اختیار کرے وہ امین ہے(۱) عقد الفرید میں بھی تقریباً یہی مضمون آیا ہے(۱)
ابن سعد نے ایک دوسری روایت میں ذکر کیاہے کہ عمر نے کہا؛ اگر آراء دو اورتین میں تقسیم ہوئے تو اس طرف عبدالرحمان بن عوف ہو اسکی اطاعت کریں ، اس کے فرمان پر کان دھرنا اور حکم کا انتظار کرنا(۲)
بلاذری نے روایت کی ہے کہ عمر نے کہا؛ لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر کی بیعت ہاتھ سے چلی جائے گی لیکن خداوند عالم نے اس شر سے بچالیا عمر کی بیعت مشورہ کے بغیر انجام پائی لیکن اس کے بعد بیعت کا کام شوریٰ کو سونپا گیا اگرچار افراد نے ایک طرف رائے دی تو دیگر دو افراد کو ان کی پیروی کرنا چاہئے اور اگر ووٹ تین اور تین میں مساوی تقسیم ہوئے تو عبدالرحمان بن عوف کی رائے کے تابع رہنالہذا س کے حکم کی اطاعت کرنا اگر عبدا لرحمان بن عوف نے اپنا ایک ہاتھ بعنوان بیعت کسی
ایک کے ہاتھ میں د یدیا تو اپ کو اسکے تابع رہنا چاہئے(۳)
متقی ہندی نے روایت کی ہے کہ عمر نے کہا؛ اگر عبدالرحمان بن عوف نے اپنا ایک ہاتھ کسی کے
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵/ ۱۸۔
۲۔العقد الفرید ،ج ۳/ ۷۴۔
۳۔ طبقا ت ابن سعد ،ق ۱ ج ۳ ص ۴۳۔
ہاتھ میں بیعت کے عنوان سے دیدیا تو تم بھی بیعت کرو(۱)
اور اسلم سے روایت کی گئی ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا جس کی عبدالرحمان بیعت کرے تم بھی اس کی بیعت کرو اورجو بیعت سے انکار کرے اس کا سر قلم کردو(۲)
ان تمام روایتوں سے معلوم ہوتا کہ خلیفہ نے انتخاب کے کام کو فقط عبد الرحمان بن عوف کے ہاتھ میں سونپا تھا اور چھ رکنی شوریٰ صرف کام کو مستحکم کرنے کیلئے تھی اور دوسروں کو عمرکے ولی عہد کی خواہ ناخواہ بیعت کرنی چاہئے اور یہ منصوبہ علی علیہ السلام کے نقطہ نظر سے بھی پوشیدہ نہیں تھا ، کیونکہ بلاذری روایت کرتا ہے کہ علی نے جب عمر کی بات کو ان لوگوں کی حمایت میں سنا جن کے ساتھ عبدا لرحمان بن عوف ہو تو اپنے چچا عباس سے اس حکم کی شکایت کرتے ہوئے کہا: خدا کی قسم کام ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ۔
عباس نے کہا: میرے بھتیجے ! یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی ؟
علی علیہ السلام نے کہا؛ اس لئے کہ سعد اپنے چچیرے بھائی عبدالرحمان کی مخالفت نہیں کرے گا اور عبدالرحمان عثمان کا دوست اور اس کا داماد ہے اس صورت میں ا ن میں سے کوئی ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرے گا ، بالفرض اگر طلحہ و زبیر مجھے اپنااپنا اووٹ دیدیں چونکہ عبدالرحمان دیگر تین افرد کے ساتھ ہوگا اس طرح طلحہ و زبیر کی موافقت مجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی(۳)
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵ ص ۱۵۔
۲۔ کنز ل العمال ،ج ۳/ ۱۶۰۔
۳۔ کنز العمال ،ج ۳/ ص ۱۶۰ بایعولمن بایع عبدالرحمن بن عوف فمن ابی فاضربوا عنقہ ۔
ابن کلبی نسابہ نے کہاہے : عبدا لرحمان بن عوف ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط کا شوہر ہے اور ام کلثوم کی ماں ” اروی “ ”گیرز “ کی بیٹی ہے اور عثمان کی ماں ہے لہذا علی علیہ السلام نے فرمایا: عبدالرحمان عثمان کا داماد ہے،اور عقدالفرید میں بھی تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل ہوئی ہے(۱)
بلاذری نے ابو مخنف سے روایت کی ہے : علی کو اس بات کا ڈر تھاکہ عبدالرحمان ، عثمان اور سعد آپس میں متفق ہیں ۔ لہذا حسن و حسین کو ہمراہ لیکر سعد کے پاس گئے اور ا س سے کہا؛ اے ابو اسحق! میرا تجھ سے یہ مطالبہ ہے کہ اپنے چچیرے بھائی کو چھوڑ کر میری حمایت کرویا مجھے اس پر ترجیح دیکر میری بیعت کرو اور اسے چھوڑدو اور میں تجھ سے امید رکھتا ہوں کہ اگر عبدالرحمان نے چاہا کہ تجھے عثمان کو رائے دینے والوں میں تیسری فردقرار دے تو تم منظور نہ کرنا، کیونکہ رشتہ کے لحاظ سے میں عثمان کی نسبت تیرے نزدیک ہوں ، علی علیہ السلام نے سعد کو اپنے اور اس کے درمیان خاندانی رشتہ ، حسن و حسین کے ساتھ رشتہ ، رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی والدہ ، آمنہ ، جو بنی زہرہ قبیلہ سعد سے تھی کے رشتہ کا واسطہ دیکر قسم دیا ۔
سعد نے کہا؛ جو آپ نے فرمایا اس پر میں عمل کروں گے(۲) ۔
جب سعد عبدالرحمان کے پاس آیا تو عبدلرحمن نے سعد سے کہا؛ آؤ تا کہ شوریٰ تشکیل دیں گے ۔
____________________
۱۔انساب الاشراف ،ج ۵ ص ۱۹۔
۲۔العقد الفرید ،ج ۳/ ص ۷۴۔
سعد نے کہا: اگر مجھ سے چاہتے ہو کہ میں تیرے حق میں ووٹ دوں اور عثمان کو نہ دوں تب تومیں مؤافق ہوں ، لیکن اگر چاہتے ہو کہ کام عثمان کے ہاتھ میں د یدیا جائے تو ، علی علیہ السلام اس سے سزاوا تر ہیں او رمیں انھیں عثمان سے لائق تر جانتا ہوں ۔
راوی کہتا ہے ؛ ابو طلحہ ان کے نزدیک آیا اور انھیں مجبور کیا کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے شوریٰ کاکام نپٹالو۔
عبد الرحمان نے کہا: اے جماعت ! عجیب بات ہے کہ میں مشاہدہ کرتاہوں تم لوگ اس کام کے بارے میں لالچ دکھارہے ہو لیکن کام کو یقینی بنانے میں تاخیر کررہے ہو ! خدا تمہیں بخش دے لگتا ہے جیسا کہ تم میں سے ہر ایک کے سر میں خلیفہ بننے کا خیال موجود ہے ؟
ابو طلحہ اس صورتِ حال کو دیکھ کر روپڑااور کہا: ان کے بارے میں میرا گمان اور تصور یہ تھاکہ اس لالچ کے برخلاف مشاہدہ ہو خاص کر میں ڈرتاتھا کہ کوئی بھی ایک دوسرے کے دباؤمیں نہ آکر مسئلہ کو ایک دوسرے کے سر تھونپیں گے، پھر بلاذری مدائنی سے روایت کرتا ہے عمر نے اپنے بیٹے کو شوریٰ میں شامل کیا اس شرط پر کہ اسے ووٹ دینے کا حق ہوگا امیدوار بننے کا نہیں ۔
ابو الحسن مدائنی کہتا ہے ؛ ابن عمر نے اس شرط پر شوریٰ میں شرکت نہیں کی(۱)
ابی مخنف سے روایت کرتا ہے جب عمر کو دفن کیا گیا اور صہیب بن سنان نے اسکی نماز جنازہ
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵ ص ۲۱۔
پڑھی اوراصحاب شوریٰ نے اس رات جلسہ منعقد کرنے سے پرہیز کیا ور جب صبح ہوئی تو ابو طلحہ نے انھیں بحث و تمحیص کیلئے بیت المال کے مقام پر جمع کیا ۔
راوی کہتا ہے: جب عبدالرحمان نے دیکھا کہ ہر ایک سرگوشی کرنے میں لگا ہے اور ہر ایک اس بات کی کوشش میں لگا ہے کہ دوسرے کو خلافت کے عہدے سے محروم کردے ، اس نے ان سے مخاطب ہوکر کہا؛ حضرات ! میں ا ور سعد آپ چار افراد کے حق میں کنارہ کشی کرتے ہیں لیکن اس شرط پر کہ تم چار افراد میں سے ایک کو میں منتخب کروں ، مذاکرات کافی طولانی ہوئے ہیں لوگ منتظر ہیں کہ انتخاب کا نتیجہ اعلان ہوجائے تا کہ اپنے خلیفہ اور امام کو پہچان لیں نیز قصبوں کے باشندے بھی اسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ واپس اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں سب نے اسکی اس تجویز سے اتفاق کیا صرف علی علیہ السلام نے موافقت نہیں کی اور کہا جب تک نہ دیکھوں
اسی اثناء میں ابو طلحہ آیا ، عبدالرحمان نے اپنی تجویز اس کے سامنے پیش کی اور اضافہ کیا کہ علی کے علاوہ اس پر سب متفق ہیں ۔
ابو طلحہ نے علی سے مخاطب ہوکرکہا : اے ابوالحسن تم جانتے ہو کہ ابو محمد عبد الرحمان تمہارے اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مورد اعتماد ہے تم کیوں اس کی مخالفت کرتے ہو۔
اسکے بعد علی علیہ السلام نے عبدالرحمان بن عوف کو قسم دلائی کہ اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کرے،بلکہ حق کو مقدم قرار دے کر لوگوں کے فائدے کی کوشش کرے اور اپنے رشتہ داروں کی طرفداری نہ کرے ، عبدالرحمان نے بھی قسم کھائی ۔
اس کے بعد علی علیہ السلام نے کہا: انتخاب کرو، کامیاب رہو گے ! یہ قضیہ بیت المال کی جگہ پر انجام پایا ، کہا گیا ہے کہ روداد مسور بن مخزمہ کے گھر پر واقع ہوئی اس کے بعد عبد الرحمان نے ان میں سے ہر ایک کو بڑی بڑی اور شدید قسمیں دلائیں اور ان سے عہد و پیمان لیا کہ جس کسی کی بھی وہ بیعت کرے دوسرے لوگ مخالفت نہیں کریں گے اور جو بھی مخالفت کرنا چاہے دوسرے لوگ عبد الرحمان کی حمایت کریں گے ، اسی صورت میں سب نے حلف لیا ، اس کے بعد عبد الرحمان نے علی علیہ السلام کے ہاتھ کو پکڑ کر ان سے کہا: اپنے خدا سے عہدو پیمان کریں کہ اگر میں نے آپ کی بیعت کی تو آپ اولاد ابی طالب کو لوگوں کی گردن پر سوارنہیں کریں گے اور رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پر کمی بیشی کے بغیر عمل کرو گے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے۔
علی علیہ السلام نے کہا: میں ہرگز خدا سے ایسا عہد وپیمان نہیں کروں گا جسے نہ خود انجام دے سکوں اور نہ کوئی اور کون اس دعویٰ کا حق رکھتا ہے کہ وہ سیرت رسول خدا پر عمل کرے گا؟ لیکن جس چیز کا میں عہدکرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جہاں تک میری سعی و کوشش کے دائرے میں ہو اور امکانات مجھے اجازت دیں اور اپنے فریضہ کو تشخیص دوں گا ، سیرت رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے مطابق انجام دوں گا۔
عبد الرحمان نے جب یہ جواب سناتو علی علیہ السلام کا ہاتھ چھوڑدیا اور اس کے بعد عثمان کی حلف برداری کا کام انجام پایا اور اس سے عہد و پیمان لے لیاکہ بنی امیہ کو لوگوں کی گردن پر سوار نہ کرے اور رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم ، ابو بکر اور عمر کی سیرت پر چلے اور کسی قسم کی مخالفت نہ کرے، عثمان نے بھی انھیں شرائط پر قسم کھالی علی علیہ السلام نے کہا: ابو عبدالله (عثمان) ! جو تم چاہتے تھے وہ تجھے دیدیا گیا ، اپنا حال بہتر جانتے ہو ، اس کے بعد عبدالرحمان دوبارہ پلٹ گیا اور علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر عثمان کو دی گئی قسم کی طرح علی علیہ السلام سے پھر پیشکش کی یعنی رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم ، ابو بکر اور عمر کی سیرت کی مخالفت نہ کریں گے ۔
علی علیہ السلام نے کہا: میں ا پنے اجتہاد پر عمل کرنے کا عہدکرتا ہوں ۔
عثمان کہتا تھا : جی ہاں اس عہد و پیمان پر میں عمل کروں گا جس طرح شدید ترین عہد وپیمان کو خداوند عالم نے اپنے انبیاء سے لیا اور عہد کرتا ہوں کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم ، ابو بکر اور عمر کی سیرت سے کسی قسم کی مخالفت نہیں کروں گا اوراسکے انجام دینے میں کوتاہی نہیں کروں گا۔
اس کے بعد عبدالرحمان نے عثمان کی بیعت کرکے اس کے ساتھ ہاتھ ملایا ، شوری کے ارکان نے بھی بیعت کی ، علی علیہ السلام جو اس وقت تک کھڑے تھے ، بیٹھ گئے ، عبد الرحمان نے علی علیہ السلام سے کہا: بیعت کرو ورنہ سر تن سے جدا کردوں گا ، عبدالرحمان نے جس وقت یہ بات علی علیہ السلام سے کہی ، عبد الرحمان کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں تلوار نہیں تھی ، بعض لوگوں نے کہا علی علیہ السلام غضبناک حالت میں مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور اصحاب شوریٰ علی علیہ السلام کے پیچھے چلے اور ان کے نزدیک پہنچ کر کہا: بیعت کرو، ورنہ ہم تیرے ساتھ لڑیں گے ، علی علیہ السلام ان کے ساتھ پلٹے اور عثمان کی بیعت کی(۱)
بلاذری نے واقدی سے روایت کی اور کہا: جب انہوں نے عثمان کی بیعت کی تو عثمان باہر آیا تا کہ لوگوں سے مخاطب ہوکر تقریر کرے ، اس کے بعد خدا کی حمد و ثنا کی اور بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: اے لوگو ! کسی بھی مرکب پر سوار ہونے میں ابتداء میں مشکل ہوتی ہے اس کے بعد ہمارے سامنے انتہائی مشکل دن ہیں ، اگر میں زندہ رہا تو آپ لوگوں کیلئے ایک تقریر کروں گا ، میں آج تک خطیب نہیں تھا ، اور خدا مجھے تقریر کرنا سکھادے گا ۲
ابن عبدربہ کہتا ہے : عثماں من جملہ ان افراد میں سے تھا جو تقریر کرتے وقت اضطراب اور غلطی کا شکار ہوتے تھے یہ عثمان تھا جس نے کہا: اے لوگوں) تا آخر حدیث۔ ۳
البیان و التبیین “ میں ہے کہ عثمان منبر پرگئے اورخطاء و غلطی سے دوچارہوئے تو کہا : اے لوگو! بے شک ابو بکر اور عمر یہاں کیلئے خطبہ آمادہ کرتے تھے تا آخر حدیث۔
ابو مخنف سے روایت ہے ، جب عثمان منبر پرگئے ، کہا؛ اے لوگو ! یہ وہ جگہ ہے جس کیلئے میں نے خطبہ آمادہ نہیں کیا ہے اورتقریر نہیں کی ہے ، انشاء اللہ جلدی ہی واپس آکر تقریر کروں گا۔
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵/ ص ۲۱ کے بعد ۔
۲۔ انساب الاشراف ،ج ۵ ۲۴ان عثمان لما بویع خرج الی الناس فخطب فحمد الله و اثنی علیه ثم قال : ایها الناس ان اول مرکب صعب و ان بعد الیوم ایاماً و إن اعش تاتکم الخطبة علی وجهها فما کنا خطباء و سیُعلّمنا الله
۳۔ عقد الفرید ،ج ۲/ ۴۱۰۔
مزید روایت کی گئی ہے کہ عثمان منبر پرگئے اور اس کے بعد کہا: اے لوگو! مجھے تقریر کرنے کا تجربہ
نہیں ہے ، اگر زندہ رہا تو انشاء اللہ ایک اچھی تقریر سنو گے ، جو مطلب مجھے اس وقت کہنا چاہئے یہ ہے کہ تقدیر الہی کے مطابق عبید اللہ بن عمر نے ہرمزان کو قتل کر ڈالا ہے اور ہرمزان ایک مسلمان ہے اور
اس کا کوئی وارث نہیں ہے مگر یہ کہ تمام مسلمان اس کے وارث ہیں میں جو تمہارا امام اورپیشوا ہوں میں نے اسے بخش دیا ، کیا تم لوگ بھی بخشتے ہو ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔
علی علیہ السلام نے کہا: اس گناہگار سے قصاص لینا چاہئے کیونکہ اس نے ایک بڑا ظلم کیا ہے اور ایک مسلمان کا بے گناہ قتل کیا ہے اس کے بعد عبدا للہ کی طرف رخ کرے کہا: اے فاسق! اگر کسی دن میرے ہاتھ تجھ تک پہنچے تو تجھے ہرمزان کے قتل کے جرم میں قتل کر ڈالوں گا(۱) اور اسی کتاب میں روایت کرتا ہے کہ عثمان نے تقریر کی اور کہا: ابو بکر و عمر جب بھی تقریر کرنا چاہتے تھے ، پہلے ، اسے تیار کرتے تھے ، ہمارے لئے بھی خدا ٹھیک کرتا ہے(۱)
ابن سعد نے اس خطبہ کو اپنی ” طبقات “ میں عثمان کی تشریح میں بیان کیا ہے ۔
سیف کی روایت کی جانچ پڑتال اور بحث کا نتیجہ
جن روایتوں کو ہم نے ذکر کیا اور ان کے علاوہ شورای کی داستان کے بارے میں دوسری روایتوں کو آپس میں ملا کر طبری نے ان میں سے بعض کو اس قدر خلاصہ کرکے نقل کیا ہے کہ اس سے
____________________
۱۔ البیان و التبین، ج ۲ ص ۲۵۰۔
مفہوم میں خلل واقع ہوتا ہے اس نے ان سے ایک ہی طرز پر نقل کیا ہے اورعثمان کے خطبہ میں صرف سیف کی روایت پر اکتفاء کیا ہے(۱)
ہم نے خاص طورپر شوری کی داستان سے متعلق روایات کی ایک جھلک کو بیان کیا مقصد یہ تھا کہ صحیح روایتوں اور سیف کی اس موضوع پر نقل کی گئی روایتوں کے درمیان ایک موازنہ ہوجائے ہم اصل موضوع میں داخل ہوکر شوری کی رودا کو تجزیہ و تحلیل کرکے مؤرخین کے بیانات اور اس سلسلے میں لکھی گئی کتابوں کے بارے میں مناقشہ میں پڑنا نہیں چاہتے اور انشاء اللهاس موضوع پر آئندہ سقیفہ کے قضیہ اورشوریٰ کے عنوان سے بحث و تحقیق کریں گے ۔
سیف نے مذکورہ موارد کے علاوہ سینکڑوں روایتیں جعل اور تحریف کی ہیں ان میں تاریخی حوادث کو تحریف کرکے اور بانفوذ افراد، سپہ سالاروں اور وقت کے اعلیٰ طبقہ کے افرادکا دفاع کرتے ہوئے اپنی جعلی احادیث پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
لہذا بعض نامور مؤرخین، من جملہ طبری نے اس قسم کی روایتوں کو منتشر کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے ، یہاں تک طبری نے ۱۱ ھء سے ۳۷ ھء تک کے حوادث کو انہیں روایتوں سے نقل کیا ہے جو بھی تاریخ طبری کے اس حصہ کی طرف رجوع کرے گا اسے معلوم ہوگا کہ اس مدت کے دوران جعل و تحریف کا کام کس قدر وحشت و خطرناک حد تک پہونچ گیا تھا۔
____________________
۱۔ انساب الاشراف ،ج ۵/ ۲۵۔
ہرمزان کے بیٹے قما زبان کا افسانہ
اتعفواإذ عَفَوت بغیرِحقٍّ
فَمالک بالذی تحکی یدان
اے عثمان!کیا تم نے ہر مزان کے قاتل کو عفو کیا ہے؟
تمہیں تو اس قسم کی عفووبخشش کا حق ہی نہیں تھا۔
زیادبن عبید
سیف کی روایت
طبری نے سیف سے روایت کی ہے:
صبح کو جب عمر زخمی ہوگئے تو، عبدالرحمان بن ابی بکر نے کہا: گزشتہ رات کو میں نے ابولو لو کو دیکھا کہ جفینہ اور ہر مزان سے سرگوشیاں کررہا تھا،میرا ان سے ملنا اس بات کا سبب بنا کہ وہ خوفزدہ ہوکر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے، اس دوران ایک دودھار کے خنجر، جس کا دستہ بیچ میں تھا، ان کے ہاتھ سے زمین پر گرگیا ،ذرادیکھنا کہ عمر کس ہتھیار سے قتل کئے گے ہیں ؟ اہل مسجد متفرق ہوئے، بنی تمیم سے ایک شخص قضیہ کی تحقیق کے لئے نکلا، ابولولو کا گریبان پکڑلیا جو عمر کو زخمی کرنے کے بعد واپس آرہا تھا، اوراسے قتل کرکے واپس آیا۔
وہ اسی خنجر کو لے کر آیا، جس کی عبدالرحمان نے توصیف کی تھی، جب خبر عبداللہ بن عمر تک پہنچی تو اس نے عمر کی وفات تک کسی قسم کا ردعمل نہیں دکھایا، البتہ جوں ہی عمر اس دنیا سے چلے گئے، عبداللہ بن عمر نے اپنی تلوار اٹھائی اور ہرمزان کے پاس جاکر اسے قتل کرڈالا، جب تلوار ہر مزان کے فرق پر پہنچی تو اس نے لاالہ الااللہ کہا،ہر مزان کو قتل کرنے کے بعد عبد اللہ بن عمر روانہ ہوا اور جفینہ جو ایک عیسائی تھا ،کے نزدیک پہنچا اور اسے بھی تلوار سے قتل کرڈالا
یہ خبر صہیب (عارضی حاکم) کو پہنچی ۔ اس نے عمروبن عاص کو مامور کیا تاکہ جاکر عبداللہ کے ہاتھ سے تلوار چھین لے۔ عمروبن عاص متعدد بار عبداللہ کے پاس گیا اور اس سے کہا میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوجائیں تلوار مجھے دیدو یہاں تک عبداللہ بن عمر نے اپنی تلوار عمروبن عاص کے حوالہ کردی اسی اثناء میں سعداپنی جگہ سے اٹھا اور عبداللہ کے بال پکڑ کر صہیب کے پاس لے آیا۔
دوسری روایت میں کہتا ہے: قماذبان سے سنا کہ اپنے باپ کے قتل کئے جانے کی داستان بیان کرتا تھا اور کہتا تھا: مدینہ میں مقیم ایرانی ایک دوسرے کے پاس رفت وآمد کرتے تھے، فیروز میرے باپ کے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں ایک دودھار خنجر تھا، میرے باپ نے خنجر کو اس سے لے لیا۔اور کہا: اس خنجر سے غربت زدہ شہریوں پر کیا کرنا چاہتے ہو؟۔
____________________
۱۔پہلی روایت کو طبری نے ۲۳ھء کے حوادث کے آخری حصہ میں ج ۵/۳۲ میں اور دوسری روایت کو ۲۴ ھء کے حوادث کے اوائل میں ج۵/۴۳ میں ذکر کیا ہے ۔
فیروز نے جواب میں کہا: - ”ابس بہ“ اس خنجر سے پھاڑ ڈالوں گا۔
اس ملاقات کو ایک شخص نے دیکھا، جب عمر زخمی ہوئے تو اس شخص نے کہا: میں نے دیکھا کہ اس خنجر کو ہر مزان نے فیروز کے ہاتھ میں دیدیا،اس کے بعد عبداللہ آیا اور ہر مزان کو قتل کرڈالا۔ اس کے بعد جب عثمان خلیفہ بن گئے مجھے بلایا اور عبداللہ کو میرے سپرد کیا اور کہا: میرے فرزند! یہ تیرے باپ کا قاتل ہے اور تم اپنے باپ کے خون کا مطالبہ کرنے میں ہم سے سزاوار تر ہو، جاؤ اور اسے قتل کرڈالو، اس دن روئے زمین کے سب لوگ اس بات پر متفق تھے کہ میں اپنے باپ کے قاتل عبداللہ کو قصاص کے طور پر قتل کرڈالوں ، مگر چونکہ مجھ سے عفو کا مطالبہ کررہے تھے میں نے ان سے کہا: کیا عبیداللہ کو قتل کرنے کا اختیار میرے ہاتھ میں ہے؟
انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ اور عبیداللہ کو برا بھلا کہا اور گالیاں دیں ۔
میں نے کہا: کیا تم لوگ اختیار رکھتے ہو کہ میں قصاص نہ لوں ؟ انہوں نے کہا:نہیں ، عبیداللہ کو برابھلاکہا۔
میں نے بھی خدا کی رضااور ان کی خوشنودی کے لئے عبیداللہ کو آزاد کیا، لوگوں نے مجھے زمین پر سے اٹھالیا اور خدا کی قسم مجھے گھر پہنچنے تک لوگوں نے اپنے ہاتھوں پر اٹھارکھا تھا۔
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت:
طبری نے مسوربن محرمہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:
عبیداللہ بن عمر، جفینہ، ہرمزان اور ابولولو کی بیٹی کو قتل کرنے کے بعد کہتا تھا، خدا کی قسم ! جو افراد میرے باپ کے قتل میں شریک تھے ان میں سے ان کو قطعی طور پر قتل کرڈالوں گااور اس بات سے مہاجرین وانصار کی طرف کنا یہ اشارہ کرتا تھا۔
سعد اٹھااور تلوار عبیداللہ کے ہاتھ سے چھین لی اور اس کے سرکے بالوں کو ایسے پکڑ کر کھینچا کہ اس نے گھٹنے ٹیک دئے اس کے بعد اپنے گھر میں قیدیبنادیا، یہاں تک عثمان نے اسے وہاں سے باہر لاکر مھاجروانصار کے بعض افراد سے کہا: اس شخص کے بارے میں ،کہ جس نے اپنی من مانی سے اسلام کی راہ میں خون بہایا ہے، اپنی رائے بیان کرو۔
علی علیہ السلام نے کہا: میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔
بعض مھاجرین نے کہا: عمر کل قتل ہوئے اور بیٹا آج قتل ہوجائے؟
عمروبن عاص نے کہا: یاامیرالمومنین! خدا نے تجھ پر عنایت کی ہے یہ بہائے گئے خون تیری خلافت میں واقع نہیں ہورہے ہیں ۔
شوریٰ کے قضیہ کے بارے میں بلاذری کی جو روایت یہاں بیان ہوئی اس میں عثمان نے کہا: قضائے الٰہی سے عبیداللہ نے ہر مزان کو قتل کرڈالا ہے اور ہر مزان ایک مسلمان ہے اور اس کا کوئی وارث نہیں ہے اور تمام مسلمان اس کے وارث ہیں اور میں نےتم لوگوں کاامام اور پیشوا ہونے کی حیثیت سے اسے بخش دیا، کیا تم لوگ بھی اسے عفو کرتے ہو؟انہوں نے کہا : جی ہاں ۔
علی علیہ السلام نے کہا: اس فاسق کا قصاص کرنا چاہئے کیونکہاس نے ایک بڑاجرم انجام دیا ہے اور ایک بے گناہ مسلمان کا قتل کیا ہے، اور عبیداللہ کی طرف رخ کرکے کہا: اے فاسق ! اگر میرے ہاتھ کبھی تجھ تک پہنچتے تو ہر مزان کے قتل کے جرم میں تجھے قطعاً قتل کرڈالتا۔
طبری باقی روایت میں کہتا ہے:عثمان نے کہا: میں مسلمانوں پر ولایت رکھتا ہوں ، ہرمزان کے خون کے لئے دیہ مقرر کرچکاہوں اور اس دیہ کو میں خود ایک شخص کی دولتسے بیت المال کو اداکروں گا، زیادبن عبید انصاری جب بھی عبیداللہ بن عمر کو دیکھتا تھا، کہتا تھا:
الا یا عبیدَالله مَالک مهرب
ولاملجا من ابن اروی ولاخفر
اصبتَ دماً والله فیّ بغیرحلّه
حراماً وقَتْلُ الهرمزان له خطر
ترجمہ:
خبردار ! اے عبیداللہ عثمان سے راہ فرار نہیں ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ ! خدا کی قسم ، تو نے ناحق خون بہایا ہے اور ہر مزان کو قتل کرکے ایک خطرناک اقدام کیا ہے۔
عبیداللہ، زیاد بن عبید کی شکایت کو عثمان کے پاس لے گیا اور اس کے شعر کے بارے میں شکوہ کیا۔عثمان نے زیاد کو بلایا اور ایسا کرنے سے منع کیا، زیدنے درج ذیل اشعارعثمان کے بارے میں کہے:
ابا عمرو عبیدالله رهن
فلا تشکک بقتل الهرمزان
فانّک إن غفرت الجرم عنه
و اسباب الخطا فرسارهان
اتعفو إذْ عفوت بغیر حقٍّ
فما لک بالّذي یحکي یدان
ترجمہ:
اے ابو عمرو! اس میں شک نہ کرنا کہ عبیداللہ ہر مزان کو قتل کرنے والے گروہ میں ہے اگر اسے اس جرم میں بخش دوگے تو غلطی کے مرتکب ہوگے(کیونکہ یہ بخشش ان دو گھوڑوں کے مانند ہے جو میدان مقابلہ میں ایک دوسرے کے مقابلہ ہوتے ہیں)اگر اس گناہ کو بخش دوگے یہ بے موقع بخشش ہے اور تمہیں یہ حق نہیں ہے“۔
سند کے لحاظ سے سیف کی روایت کی تحقیقات:
سیف نے اس داستان میں ہر مزان کے لئے قماذبان نامی ایک بیٹا جعل کیا ہے اور اس سے نقل کرتا ہے، لیکن سیف کے علاوہ کسی اور نے ہر مزان کے لئے قماذبان نامی کوئی بیٹا نقل نہیں کیا ہے تاکہ راوی روایت کرتا، حتیٰ عثمان بھی اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ لاوارث تھا، لہذا اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو عثمان ایسی بات نہیں کرتا اور وہ ہرمزان کا وارث ہوتا، اس سے پتا چلتا ہے کہ قماذبان کا کہیں وجود ہی نہیں تھا اور یہ سیف کے جعلی راویوں اور سورماؤں میں سے ایک ہے، حقیقت میں اس روایت کے معتبر ہونے کے بارے میں اتناہی کافی ہے ان افسانوں کا راوی قماذبان نامی موھوم شخص ہے ۔
متن کے لحاظ سے سیف کی روایت کی چھان بین:
اس سلسلہ میں سیف کی روایت دوسرے مورخین کی روایتوں سے چند جہات سے تناقض رکھتی ہے :
۱ ۔سیف کی روایت میں آیا ہے کہ عمرو ابن عاص نے التماس و درخواست اور انتہائی اصرار سے صہیب کی تلوار کو عبیداللہ ابن عمر کے ہاتھ سے لیا اور ایک ساتھ صہیب کے پاس آئے، لیکن ہم دوسرے راویوں کی روایتوں میں یوں پڑھتے ہیں کہ سعدبن ابی وقاص نے تلوار کو عبیداللہ سے چھین لیا نہ عمروابن عاص نے،اور وہ بھی زبردستی نہ التماس کرکے، سعد نے عبیداللہ کے سرکے بال کو پکڑکر اسے زمین پر گرادیا اور پھر گھسیٹتے ہوئے اپنے گھر لے جاکر اسےقیدکردیا۔
۲ ۔ دیگر سیف کے علاوہ تمام روایتوں میں آیا ہے کہ عثمان نے کہا: ہر مزان ایک لا وارث مسلمان تھا، اس بناء پر اس کے وارث عام مسلمان ہوں گے۔ میں مسلمانوں کا نمائندہ اور پیشوا ہوں ، اس کے قاتل عبیداللہ بن عمر کو قانونی سزا سے معاف کرتا ہوں ، اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرمزان کا کوئی فرزند و وارث نہیں تھا، لیکن سیف نے ہرمزان کے لئے قماذبان نامی ایک بیٹا جعلکیا ہے۔ اس کے بعد عثمان کی طرف سے بری کرنے کے سلسلے میں کہتا ہے کہ عثمان نے ہر مزان کے قاتل عبیداللہ کو گرفتار کرکے اس کے بیٹے قماذبان کے حوالہ کردیا تاکہ وہ اپنے باپ کے قصاص کے طور پر عبیداللہ کو قتل کردے، لیکن قماذبان نے اپنے باپ کا خون بخشتے ہوئے معاف کردیا۔
۳ ۔مورخین کی تحقیق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عبیداللہ نے ہر مزان کو بے گناہ قتل کیا ہے، اور مسلمانوں کی ایک جماعت نے اس سلسلہ میں اس پر اعتراض کیا اور اسے قصاص اور سزادینے کا مطالبا کیا، یہاں تک سعد بن وقاص نے اسے اپنے گھر میں قیدی بنایا،لیکن سیف اسے بے گناہ ثابت کرتے ہوئے اس کے بری ہونے کے سلسلے میں خود سیف کے ہرمزان کے لئے جعلکئے گئے بیٹے قماذبان سے یوں نقل کرتا ہے کہ اس نے کہا: جس خنجر سے عمر قتل ہوئے تھے، وہ میرے باپ اور ابولو لو کے پاس تھا، کسی نے اسے ان کے ہاتھ میں دیکھا اورپہچان لیا۔
اس کے بعد سیف اس بات کی وضاحت اور تائیدمیں ایک اور روایت کوجعل کرتا ہے اور اس میں اسی جعلی بیٹے کی زبان سے کہلواتا ہے: عمر کے قتل کئے جانے کی رات کو عبدالرحمان بن ابوبکر نے میرے باپ اور ابولولو کو ایک جگہ سرگوشیاں کرتے ہوئے دیکھا،جب انہوں نے عبدالرحمان کو دیکھا تو ڈرکے مارے بھاگ گئے اور ان کے ہاتھ سے ایک خنجر زمین پر گرگیا جس پر وہ علامتیں اور آثار تھے کہجس سے عمر قتل کئے گے تھے۔ عبدالرحمان نے اسے اٹھالیا اور اسے عبیداللہ ابن عمر کے پاس بھیجا اور عبیداللہ نے اسے اپنے پاس محفوظ رکھا یہاں تک عمر اس دنیا سے رحلت کرگئے۔ عبیداللہ نے اس تلوار کو اٹھالیا جس سے اس کے باپ قتلکئے گئے تھے اٹھائے رکھا اور ان تمام لوگوں کو قتل کرڈالا۔
سیف ان روایتوں کو گڑھ کر عثمان کو بری کرنا چاہتا ہے کہ اس نے ہر مزان کے قاتل کو عفو نہیں کیا ہے بلکہ اسے پکڑ کر ان کے وارث اور صاحب خون کے حوالہ کیا ہے اور اس کے ساتھ عبیداللہ کو بھی بری کرنا چاہتا ہے کہ وہ بے گناہ ہر مزان کوقتل کرنے میں حق بجانب تھے، کیونکہ بقول سیف ہر مزان عبیداللہ کے باپ کاقاتل تھا۔ لہذا نہ عثمان تنقید وملامت کے سزاوار ہیں اور نہ عبیداللہ، جی ہاں ، وہ ہر صورت میں پاک وبری ہونا چاہیے، کیونکہ وہ خاندان” مضر“ کے سرداروں اور بزرگوں میں سے ہےکہ سیف ان کے دفاع میں زبرست کوششکرتا ہے اور ان کے مقام و منزلت کو بڑھاوا دیتا ہے اور ضمناً ، سیف نے اس داستان کو گڑھنے میں فرصت سے فائدہ اٹھا کر اپنے خاندان بنی تمیم کو ایک افتخار بھی بخشا ہے اور عمر کے قاتل ابو لولو کو بنی تمیم کا ایک فرد معرفی کیا ہے۔
یہ تھے سیف کے اپنے ، پیغمبر، ابوبکر، عمر، اور عثمان کے زمانہ سے مربوط افسانوں اور جعلی داستانوں کے چند نمونے۔
سیف نے ان روایتوں اور جھوٹی داستانوں کو گڑھ کر نہ صرف تاریخ اسلام کو جھوٹ سے مالامال کیا بلکہ تاریخی واقعات میں تحریف کرکے حق کو مجہول بنادیا ہے اور اسلامی تاریخ و تمدن پر سپاہ دھبہ لگا کر چھوڑ گیا ہے۔
پانچواں حصہ تاریخ کے صفحات پر سیف کی روایتوں کے بدنما داغ
سیف کے جعلی اشخاص اور سورما
سیف کے خودساختہ اور خیالی ایام
سیف کے خیالی شہر
تاریخی حوادث رونماہونے کے وقت سیف کی اداکاریاں ۔
سیف کے خیالی اشخاص اور جعلی سورما
یختلق سیف الاساطیر ویختلق اشخاصاً اسطوریین
سیف کا کام یہ ہے کہ افسانے گھڑ ے اور اپنے افسانوں کے لئے خیالی اداکارجعل کرے۔
مولف
تاریخ اسلام پر سیف کی روایتوں کے بُرے اثرات:
ہم نے گزشتہ حصوں میں حقیقت کے متلاشیوں کے لئے پیغمبر کے زمانے سے عثمان کے دورتک سیف کی جھوٹی روایتوں کے چند نمونے پیش کئے، اب ہم کتاب کے اس حصہ میں سیف کی روایتوں کے برُے اثرات اور ناقابل تلافی نقصانات پر بحث کریں گے اور اس کی خیانت کی وجہ سے تاریخ اسلام اور اسلامی ثقافت پر لگےبدنماداغ کو بیان کریں گے۔
سیف کی جھوٹی روایتوں کے نتیجہ میں خیالی اشخاص، افسانوی راوی اور سورما، ایام، وقائع، اور جعلی شہروں کا ایک سلسلہ وجود میں آیا ہے، دوسری طرف سیف ان جعلی روایتوں سے تاریخی واقعات اور حوادث کو تحریف کرکے نیز الٹ پلٹ کے رکھدیا ہے، تاکہ اس طرح مسلمانوں کے لئے حقیقت کو پوشیدہ اور مجہول جلوہ دے،افسوس ہے کہ ان تمام راویوں ، خیالی سورماؤں ، افسانوی واقعات، جھوٹے ایام، فرضی شہروں اور سیف کی تاریخ میں ایجاد کردہ تحریفوں کو مسلمانوں کی معتبر اور اول درجے کی کتابوں اور علم وثقافت میں جگہ ملی ہے اور وسیع پیمانے میں منتشر ہورہے ہیں ، کیونکہ واقعات لکھنے والوں اور اسلامی جغرافیہ تالیف کرنے والوں نے سیف کے تمام اکاذیب اور جعلیات کو مسلم اور واقعی صورت میں اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، اس کے جعلی اشخاص، راویوں ، ایام ، شہروں اور خیالی اماکن کو حقیقی راویوں ، ایام اور شہروں کی فہرست میں قراردیا گیاہے اورجن جعلی تاریخوں کو اس نے واقعات کے لئے قبل ازوقت معین کیا ہے انہیں اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔
یہ تھے سیف کی جعلی روایتوں اور افسانوں کے برے اثرات کا ایک خلاصہ جن کے بارے میں کتاب کے اس حصہ میں بحث ہوگی۔
سیف کی روایتوں کا بد ترین اثر:
شاید تاریخ اسلام کے صفحات پر سیف کی داستانوں کے پڑے بد ترین اثرات میں اس کی تاریخ کے سورماؤں کے نام ہیں کہ سیف نے اپنی داستانوں میں اہم کام ان سے منسوب کئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جعلی سورما، تاریخ اسلام کے واقعی شخصیتوں میں شمار ہونے لگے ہیں اور اس طرح سیف کی داستانیں تاریخی حقائق کا ایک سلسلہ شمار ہونے لگےں ،حتیٰ تاریخ کو تجزیہ وتحلیل کی نگاہ سے دیکھنے والے مورخین اور دانشور وں نے بھی ان داستانوں پر اعتماد کیا ہے اور اکثرنے ان ناموں کو رسول خدا کے اصحاب کی تشریح میں ذکر کیاہے من جملہ ابن عبدالبرنے اپنی کتاب ”الاستبعاب فی اسماء الاصحاب“میں ، ابن اثیر نے اپنی کتاب ”اسداالغامہ فی معرفتہ الصحابہ“میں ، ذھبی نے اپنی کتاب ”تجرید اسماء الاصحاب“میں ، ابن حجرنے اپنی کتاب”الاصابہ فی تمیزالصحابہ“میں ، ابن عساکر کرنے اپنی کتاب”تاریخ مدینہ دمشق“ میں شام میں داخل ہونے والوں کے ضمن میں اور اسی طرح دوسرے مورخین نے اپنی تصیفات میں جبکہ ان ناموں کے اشخاص حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ہیں اور ان کے نام بھی صرف سیف کی داستانوں میں پائے جاتے ہیں اور وہ دوسرے افسانوی ہیرؤں کے مانند ہیں کہ افسانہ کے ختم ہونے پر اس کے ہیروکانام بھی نابود ہوتا ہے،جس نے سب سے پہلے ان تمام ناموں کو اصحاب رسول خدا کی فہرست میں درج کیا ہے اور اس وقت اس کی کتاب ہماری پہنچ اور دسترس میں ہے، وہ ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبربن عاصم نمری قرطبی مالکی(وفات ۴۶۳ ئھ)ہے، اس نے اپنی کتاب ”الاستیعاب“میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے:
”یہ ہے جو کچھ ہمیں اصحاب رسول خدا کے بارے میں اسم وکنیت کی صورت میں ملاہے، خواہ مرد ہو یا عورت ، وہ اشخاص جنہوں نے روایت کی ہے یا ان سے روایت کی گئی ہے، یا اس کا نام کسی حکایت کے ضمن میں لیا گیا ہے جو اس امرپر دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص مسلمان ،ماں باپ سے پیداہوا ہے اور رسول خدا کےمحضر میں تھا یا باہر سے آیا اور آنحضرت کی زیارت سے مستفید ہوا یا حضرت کی خدمت میں زکوٰة ارسال کی ہے، اور بعض احادیث ہمارے لئے ان افراد سے روایت کی گئی ہیں جنہوں نے رسول خدا کو درک کیا ہے حتی ایسے لوگ بھی ہیں جن کا نسب و کنیت اور نام شناختہ شدہ نہیں ہے ،(۱) خواہ مرد ہوں یا عورت ان کے اسماء مجہول ہیں مگر یہ کہ فلاں کی دادی یا پھوپھی کے عنوان سے ہو اور جو کچھ اس طرح کا مجھ تک پہنچا ہے ہم سب کچھ بیان کر چکے ہیں ۔
بہت سے اشخاص ایسے ہیں جن کا نام سیف کی داستانوں میں لیا گیا ہے جبکہ نہ ان کا نسب معلوم ہے اور نہ کنیت ، اس کے علاوہ بعض مواقع پر جب کسی کے نام پر افسانہ گڑھتا ہے، ایک واضح نسب معین کرکے کہتا ہے: فلان فلانی یا فلاں کا بھائی ، اس صورت میں علم الانساب کے ماہرین اور شرح لکھنے والوں کے لئے زیادہ پریشانی اور حیرانی کا سبب ہوتا ہے۔
بعض اوقات کسی حقیقی شخص کا نام تبدیل کرتا ہے اور اس طرح سے دانشوروں اور علماء کے لئے حیرانی کا سبب بن جاتا ہے ، لیکن سیف کی نظر میں یہ سب مشکلات آسان و قابل حل ہیں ، کیونکہ جب کوئی افسانہ گڑھنا چاہتا ہے، تو وہ مسلم طور پر ایسی رکاوٹوں کے بارے میں کسی تامل اور تردید کے بغیر اپنا کام انجام دیتا ہے ، میں نے سیف کی روایتوں سے استخراج کئے گئے اصحاب کے ناموں کے سلسلے میں تحقیق کرنے کے لئے سیکڑوں کتابوں ، شرحوں ، حدیث ، تاریخ اور ادیبات کی کتابوں کی طرف رجوع کیا ہے، سیف کے جعل کئے گئے سورماؤں میں ایک سوبچاس افراد کے ناموں کو پیدا کیا کہ ان کے حالات کے بارے میں ایک سو بچاس جعلی اصحاب کے عنوان سے ایک الگ کتاب تالیف کی
____________________
۱۔الاستیعا ب ،ج ۴ ص ۴۸۳
ہے ، میں نے اس کتاب میں سیف کے افسانوں کے سورماؤں میں سے عبداللہ بن سبا کے ایک سورما کو مشتی از خروارے کے طور پر پیش کیا ہے ۔
یہ تھاسیف کے جعلی اشخاص اور اس کے افسانوں کے ہیرں کے بارے میں ہماری بات کا خلاصہ جسے ہم نے اس فصل میں بیان کیا ہے اور اگلی فصلوں میں آپ سیف کے جعلی ایام، شہروں اور تاریخی واقعات کو نقل کرنے میں اس کے انحرافات کو پڑھیں گے۔
سیف کے خود ساختہ اور خیالی ایام
إنَّ سیفاً قد تفرّد فی سرد هذه القصص
سیف ان ایام وحوادث کو نقل کرنے میں منفرد ہے۔
ایام کے معنی:
عربی لغت میں لفظ ”ایام“مشہور اور کثیر الاستعمال ہے، ایام یوم کی جمع ہے اور تاریخ کے اہم واقعات کو بھی یوم کہتے ہیں اگرچہ اس تاریخی واقعہ کازمانہ ایک دن سے زیادہ بھی ہو، جیسے یوم الجمل، یوم صفّین، یوم سقیفہ اور یوم صلح الحدبیہ، دوران جاہلیت یا اسلام میں یا جاہلیت واسلام میں ان ایام کے واقعات کی تشریح میں کتابوں کو ایک سلسلہ سے تالیف کیا گیا ہے، سیف اس باب میں بھی پیچھے نہیں رہا ہے اور اس نے خود ایام جعل کرکے تاریخ کی کتابوں میں درج کردیاہے، ہم یہاں پر ایسے ایام میں سے چھ دنوں کو نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں :
یوم الاباقر(گائے کا دن)
طبری نے سیف سے روایت کی ہے:
”سعدبن ابی وقاص نے ایرانیوں سے جنگ میں عذیب الھجانات“نامی ایک پانی کے کنارے پر پڑاؤ ڈالا“،اس کے بعد اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے باقی روایت کو یوں بیان کرتا ہے:”سعد نے اس جگہ پر اپنے قیام کے دوران عاصم بن عمرو کو حکم دیا تاکہ فرات کے نیچے کی طرف جائے، عاصم روانہ ہوا اور میسان تکپہنچا۔ یہاں پر چاہا ایک گائے یا بھیڑ فراہم کرے، لیکن پیدانہ کرسکا، کیونکہ سب نے ڈرکے مارے کھیتوں میں پناہ لی تھی، یہاں تک عاصم بن عمرو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مرغزاروں (چراگاہ)میں تلاش وجستجو کرنے نکلا۔ گشت لگانے کے دوران عاصم کو ایک کچھا رکے کنارے ایک شخص ملا، اس سے سوال کیا ،تاکہ وہ اسے گائے یا گوسفندوں کی جگہ کی طرف راہنمائی کرے، اس مرد نے قسم کھاکر کہا:مجھے اس قسم کی کسی جگہ کا علم نہیں ہے، جبکہ وہ خود ایک گلہ کا چرواہا تھا جیسے اس نے اسی کھاڑی میں چھپاکے رکھاتھا۔ اسی اثناء میں ایک گائے نے مرغزار سے آواز بلند کرکے کہا:
”کَذب واللّٰه وهانحن اولاء “ خدا کی قسم یہ شخص جھوٹ بولتا ہے، ہم یہاں پر موجود ہیں ،عاصم کچھا رمیں داخل ہوا اور جتنی بھی گائے وہاں پر موجود تھیں ،انہیں اپنے آگے آگے ہانکتے ہوئے لشکر گاہ کی طرف لے آیا، سعد نے ان کو اپنے درمیان تقسیم کیا اور کچھ دن آرام وآسائش میں گزارے، یہ خبر حجاج کے زمانے میں اس تک پہنچی اس نے اس روز اس قضیہ کے شاہد چند افراد من جملہ نذیربن عبد شمس اور زاہر کو بلایا اور ان سے رودادپوچھی۔ انہوں نے کہا:جی ہاں ،ہم نے سنا اور دیکھا بلکہ ہم نے خود اُن گائے کو اپنے آگے آگے ہانکتے ہوئے لشکرگاہ تاک لائے۔ حجاج نے کہا:تم لوگ جھوٹ بولتے ہو!(۱)
انہوں نے کہا:تمہیں یہ کہنے کا حق ہے۔ اگر تم اس دن ہماری جگہ پر ہوتے، اور آج ہمارے لئے اُس روداد کو نقل کرتے تو ہم بھی باورنہیں کرتے۔
اس نے کہا :صحیح کہتے ہو، اب ذرایہ تباؤ کہ لوگ اس واقعہ کے بارے میں کیا کہتے تھے؟
انہوں نے کہا:لوگ یوں سمجھتے تھے کہ یہ آیات الٰہی میں سے ایک آیت ہے جو لوگوں کو خدا کی خوشنودی اور رضامندی اور دشمن پر فتح وکامرانی کی نوید دیتی ہے۔
حجاج نے کہا:خدا کی قسم!ایسا اتفاق کبھی پیش نہیں آتا مگر یہ کہ وہ جماعت نیک تھی یہاں تک کہتا ہے اس دن کو گائے کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
روایت کی سند کی تحقیق:
”یوم الاباقر“نامی افسانہ کی سند میں عبداللہ بن مسلم عکلی اور کرب بن ابی کرب عکلی کانام آیا ہے ہم نے ان دو،راویوں کا سیف کے راویوں کی طرح علم رجال کی کتابوں میں بھی نام ونشان نہیں پایا۔ لہذا حق ہے کہ ا ن دو راویوں کو بھی سیف کے جعلی راوی میں شمار کریں ۔(۲)
____________________
۱۔عاصم، سیف کے افسانوں کا سوماہے۔
۲۔تاریخ طبری ج۳ ۱۲-۱۵ وان ھذالیوم یوم الاباقر۔
یہ تھی سیف کی روایت کی سند لیکن اصل داستان یوم الاباقر کے بارے میں ہم نے کسی کو نہیں پایا جس نے اس دن کا ذکر کیا ہو، لیکن بلاذری فتوح البلدان میں یوں کہتا ہے:
اگر سعد کا لشکر کبھی آزوقہ کا محتاج ہوتا،تو وہ چند سواروں کو حکم دیتا تھا کہ فرات کے نیچے کی طرف جاکر لوٹ کر آزوقہ لے آئیں اس کے علاوہ حضرت عمر ان کے لئے مدینہ سے گائے اور گوسفند بھیجتے تھے ۱ ۔
دوسرے لوگوں نے جو کچھ اس بارے میں کہا ہے بس یہی ہے، لیکن سیف نے اپنی روایت کی سند جعل کرنے کیلئے ، عاصم نام کے سورما کو اس افسانہ کے گڑھنے کیلئے اور گائے کی سعد کے لشکر کے ساتھ گفتگو کا افسانہ رچنےکے بعد ڈر گیا کہ کہیں اس کی تائید نہ ہوجائے، لہذا دوسرے جھوٹ سے اسے مستحکم اور مضبوط بنادیا رچنے وہ یہ کہ حجاج نے اس قضیہ کے بارے میں تحقیق کی ہے، ایک جماعت نے شہادت دی ہے، پھر بھی اسے مستحکم بنانے کیلئے ایک تیسرا جھوٹ گڑھ لیا ہے وہ یہ کہ:اس دن کو یوم الاباقر نام رکھا گیا۔ یہ سب قضیہ و داستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لئے ہے تاکہ کوئی اس کی روایت پر شک نہ کرے، اور ہم ہمیشہ اس بات کی تاکید اور تکرار کرتے رہے ہیں کہ سیف اس قسم کی توہماتی داستانیں گڑھنے میں منفرد ہے، اور یہ تاکید و تکرار اس لئے کرتے ہیں تاکہ اس افسانہ ساز، کی حقیقت تمام لوگوں پر کھل جائے۔
۲۳ اور ۴-ارماث ، اغواث اور عماس کا دن:
سرزمین قادسیہ، یعنی موجودہ کوفہ کے نزدیک لشکر اسلام اور یزد گرد کی فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑگئی، سیف نے اس جنگ کی روداد کو افسانوی انداز میں اپنی روایتوں میں ذکر یوں کیا ہے، من جملہ اس جنگ کے پہلے دن کو ارماث دوسرے دن کو اغواث اور تیسرے دن کو عماس نام دیا ہے، اپنےجعل کئے گئے ان تین دنوں کے دوران خود سیف نے اپنے خاندان بنی تمیم سے تعلق رکھنے والے، قعقاع اور عاصم نامی دوہیرو کو شجاعت وبہادری کے حیرت انگیز کارنامے کیلئے گڑھ لئے ہیں ۔
سیف نے ان افسانوں کو گڑھنے کے بعد انہیں تاریخی روایت کی صورت دیدی ہے حتیٰ اپنی روایت کے راویوں کو بھی خلق کرکے حدثنی فلان عن فلان کہا ہے، طبری جیسے مورخین نے اپنی تاریخ میں اس افسانہ کو سیف سے نقل کیا ہے اس طرح حموی نے بھی لغت ارماث، اغواث اور عماس کومعجم البلدان میں اس سے اقتباس کیا ہے۔
دوسرے تاریخ نویسوں جیسے ابن اثیر اور ابن کثیر نے طبری سے نقلکیا ہے، مشہورادیب ابن عبدون نے افسانہ اغواث کو اپنے قصیدہ میں ذکر کیا ہے اور ابن بدران نے اپنے ایک قصیدہ میں سیف کی جعلی روایتوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، قلشقندی (وفات ۸۲۱ ھ)نے انہیں تاریخ اسلام کے ایام کی حیثیت سے ذکر کیا ہے،ہم نے ان تین دنوں کے بارے میں سیف کی جعلی روایتوں کو قعقاع اور عاصم کے حالات پر روشنی ڈال کر ایک سو پچاس جعلی اصحاب نامی اپنی کتاب میں مفصل چھان بین کی ہے، یہاں پر ہم صرف ان روایتوں کی سند کی تحقیق کریں گے۔(۱)
____________________
۱۔طبری ج ۲/۱۱۲-۱۱۶،ابن عبدون طبع لیڈن ۱۴-۱۴۶۔نہایت الارب قلشقندی تحقیق علی خاقانی طبع عراق ۴۲۰-کتاب الاکمال تالیف ابن ماکولا،طبع حیدرآباد ج ا /۵۶۰ لغت نویرہ میں ۔
اسنادروایت کی چھان بین:
چھ روایتوں میں محمد ، طلحہ اور زیادنام کثرت سے آیا ہے اور ایک روایت میں ابن محراق قبیلہ طی کے ایک شخص سے اور ایک روایت میں غصن بن قاسم قبیلہ کنانہ کے ایک شخص سے ۔
محمدوطلحہ کے بارے میں زیاد کے نسل کی اصلاح کے باب میں اور ابن محراق اور قبیلہ طیکے شخص کے بارے میں ابو محجن کی شراب نوشی کے باب میں ہم نے تحقیقکی ہے، لیکن غصن بن قاسم کا نام طبری کی روایت کی سند نمبر ۱۳ میں آیا ہے، یہاں پر ہم اس سوال کا حق رکھتے ہیں کہ کنانہ نام کا مجہولشخص کون ہے؟
۵ یوم الجراثیم یا خشکی کا دن:
طبری نے، ایرانیوں سے جنگ میں ، سعد کے لشکر کے دریائے دجلہ سے عبور کرکے مدائن جانے کے سلسلے میں سیف سے پندرہ روایتیں نقل کی ہیں اور سیف کے کہنے کے مطابق اس دن کا نام یوم الجراثیم رکھا ہے، ہم ان روایتوں کے ایک حصہ کو یہاں پر نقل کرتے ہیں :
ایک روایت میں کہتا ہے:مسلمان فوج کے کمانڈر سعدوقاص، جب قادسیہ کی جنگ جوکوفہ کے نزدیک واقع ہوئی جنگ میں فتحیاب ہونے کے بعد مدائن کی طرف روانہ ہوئے۔ جب دجلہ کے نزدیک پہنچاتو دریا کا پانی کافی او نچاتھا،اس لئے کچھ دیر متحیررہا، اس کے بعد ایک تقریر کی اور کہا:آپ کے دشمن نے اس دریا میں پناہ لے لی ہے، اگر وہ چاہیں گے تو کشتیوں کے ذریعہ آپ پر حملہ کر سکتے ہیں ۔ اور آپ کی ان تک کسی قسم کی رسائی نہیں ہے، مین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دریامیں کود کر عبور کیا جائے۔ اس کے فوجیوں نے اس کی تائید کرکے حوصلہ افزائی کی۔
سعد نے کہا:سپاہیوں میں سے ایک دلاور مرد کی ضرورت ہے جو ایک گروہ کی سرپرستی میں دریا کو عبور کرے اور دجلہ کے دوسرے ساحل کو دشمن سے چھین لے تاکہ سپاہی پر امن طریقے سے دریا کو عبور کرسکیں ، سپاہیوں میں سے عاصم نامی ایک دلیرمرد نے یہ ذمہ داری لی اور ساٹھ سواروں کے ہمراہ پانی میں کود پڑا اور خشکی وپانی میں ایرانیوں کے ساتھ ایک گھمسان کی جنگ لڑی اور ان پر فتح پاکر دجلہ کے دوسرے کنارے پر قبضہ کرلیا، اس کے بعد پورا لشکر پانی میں کود پڑا اور اس طرح دریا کو عبور کیا۔
ایک اور روایت میں کہتا ہے :سعد کے سپاہی دریا کی طوفانی لہروں پر سوار ہوئے جبکہ دریائے دجلہ طلاطم کی حالت میں تھا، سوار ایک دوسرے کے شانہ بشانہ تیرتے ہوئے آپس میں ایسے محو گفتگو تھے جیسے ایک ہموار زمین پر چل رہے تھے۔(۱)
ایک اور حدیث میں کہتا ہے:جب بھی کوئی گھوڑا تھک جاتا تھا تو اس کے سموں کے نیچے زمین کا ایک ٹکڑا اوپر آتا تھا اور گھوڑا اس پر کھڑا ہوکر ایسے تھکاوٹ نکالتا تھا، جیسے وہ خشک زمین پر کھڑا ہو،اس قسم کا عجیب اور حیرت انگیز واقعہ فتح مدائن کے دن رونما نہیں ہوا جو یوم الماء کے دن رونما ہوا، اس دن کو یوم الجراثیم کہتے تھے، (جراثیم یعنی مٹی کے ٹیلے)
____________________
۱۔تاریخ طبری، ج ۲/ ۱۱۹-۱۲۴۔
سیف نے ان دوروایتوں کو دوسری روایتوں کے ذریعہ محکم اور مضبوط بنادیا ہے، اس میں کہتا ہے:کہا گیا ہے کہ دجلہ کو عبور کرنے کے دن کو اس لئے یوم الجراثیم کہتے تھے کہ اس دن اگر کوئی تھک جاتا تھا تو اس کے پیروں کے نیچے تھوڑی سی زمین (جرثومہ)اوپر آتی تھی تاکہ وہ اس پرتھکاوٹ دور کرے، دوسری روایت میں کہتا ہے:راوی نے کہا ہم دریائے دجلہ کے پانی میں کود پڑے جبکہ دریا پانی سے لبرینر تھا ۔ جب ہم دریا کے گہرے حصہ میں پہنچے ، جو بھی سوار وہاں پر کھڑا ہوتا ، پانی گھوڑے کی زین تک نہیں پہنچتا تھا۔
ایک دوسری روایت میں کہتا ہے:پورا لشکر صحیح وسالم دریا سے گزرا، حرف قبیلہ بارق کا غرقدہ نامی ایک شخص سرخ گھوڑے کی پیچھے سے پانی میں سر نگوں ہوا۔
راوی کہتا ہے:گویا ابھی بھی گھوڑے کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنی دم جھاڑ کر پانی نکال رہا ہے جبکہ غرق ہوا شخص پانی کے اوپر آیا تھا۔ اس حالت میں قعقاع نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے بچا لیا۔ غرق ہونے والا شخص ایک دلیر آدمی تھا اور قعقاع کی ماں اس کے قبیلہ سے تھی۔ اس نے قعقاع سے مخاطب ہوکر کہا:دوسروں کی بہنیں ۔قبیلہ کی دوسری عورتیں ، تجھ جیسے کو جنم نہیں دے سکی ہیں(۱) ۔
یہ تھا یوم الجراثیم کے بارے میں سیف کی بعض روایتوں کا متن۔
____________________
۱۔ان روایتوں میں سے بعض کو ابو نعیم نے دلائل النبوہ نامی اپنی کتاب میں سیف سے نقل کرکے ان پر اعتماد کیا ہے اور انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی گواہی شمار کیا ہے۔
روایتوں کی سند کی چھان بین:
ان روایتوں کی سند میں محمد، طلحہ، مہلب ، نضر ، ابن رفیل اور ایک ناشناس شخص کا نام آیا ہے، ہم نے محمدوطلحہ کے بارے میں زیاد کی نسل کی اصلاح کے عنوان کے تحت تحقیقکی ہے۔
اما مہلب ، تو سیف کی روایتوں میں مہلب بن عقبہ اسدی ہے، کہ تاریخ طبری میں سیف کی ۶۷ روایتیں اس سے نقل ہوئی ہیں(۱) ۔
ابن رفیل نے سیف کی روایتوں کو اکثر اپنے باپ رفیل سے نقل کیا ہے۔ ہم نے ان راویوں میں سے کسی ایک کا نام سند شناسی کی کتابوں میں نہیں پایا اور سیف کی روایتوں میں ناشناس اشخاص کی حالت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتیں :
یہ تھی سیف کی حدیث کی سندا ور اس کے متن کا حال یوم الجراثیم کے دن ،لیکن دوسرے حموی اپنی کتاب معجم البلدان میں کوفہ کی تشریح کے دوران سعد کے قادسیہ کے بعد مدائن جانے کے بارے میں لکھتے ہوئے یوں کہتا ہے:گاؤں والوں نے مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کی اور انہیں محاذ جنگ کے ضعیف علاقوں کی طرف راہنمائی کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو کچھ تحفے دیکر ان کی ضرورتوں کو پورا کیا،
____________________
۱۔اعجز الاخوات ان یلدن مِثلک یا قعقاع،دلائل النبوہ ج ۲ میں ۲۰۸ طبع حیدرآباد۔
اس کے بعد سعد نے یزدگرد کی طرف جانے کا ارادہ کرکے مدائن کی طرف روانہ ہوا اور خالدبن عرفطہ۔ جو بنی زہر ہ قبیلہ اسد کا ہم پیمان تھا ۔ کو پہلے روانہ کیا، لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا، یہاں تک خالد نے چھت دار یعنی آبادی والے علاقہ کو فتح کیا لیکن اس کو فتح کرنے کے باوجود دریا کو عبور کرنے کا کوئی راستہ نہ پایا، دیہاتیوں نے انہیں قریہ صیادین کے نزدیک شہر کے نچلے حصے میں واقعہ مخاضہ کی طرف راہنمائی کی، سعد کے سوار اس طرف چلے گئے اور اسی جگہ سے دریا کو عبور کیا(۱) ۔
بلاذری اپنی کتاب فتوح البلدان میں اس مطلب کے بعد کہتا ہے:ایرانیوں نے مسلمانوں پر تیراندازی کی اور قبیلہ طی کے سلیل بن یزید بن مالک سنبسی نامی ایک شخص کے علاوہ سب صحیح وسالم بچے اور کوئی ہلاک نہیں ہوا۔(۲)
تحقیق اور موازنہ کا نتیجہ:
سیف اس افسانہ میں کہتا ہے:پہلے عاصم نے دشمن کو شکست دی اور عبور کا راستہ نکالا اس کے بعد سپاہی پانی میں کود پڑے اور جب بھی کوئی گھوڑا تھک جاتا تھا، فوراً زمین کا ایک ٹکڑا دریا کی تہہ سے اٹھ کر اس کے سموں کے نیچے لگ جاتا تھا، ایک دوسری روایت میں کہتا ہے:اس دن کو اس لئے یوم الجراثیم کہتے ہیں کہ اس دن کوئی تھکتا نہیں تھا، اگر کوئی تھکتا تو فوراً زمین کا ایک ٹکڑا (جرثومہ)اس کے پیروں تلے اوپر آجاتا تھا تاکہ وہ اس پر تھکاوٹ دور کرے، اپنی آخری روایت میں کہتا ہے:غرقہ کے علاوہ سب صحیح
____________________
۱۔مخاضہ : پانی کی اس جگہ کو کہتے جہاں سے پیادہ اور سوار گزرسکیں ،
۲۔معجم البلدان، ج۷ ۲۹۶۔
وسالم گزرے ، قعقاع کی ماں اس کے قبیلہ سے تھی، غرقہ غرق ہوا، لیکن قعقاع نے اسے پکڑ کر صحیح وسالم باہر کھینچ لایا، اس نے کہا:اے قعقاع عورتیں تجھ جیسے کو جنم دینے سے عاجز ہیں ۔ اس نے روایت کو مضبوط کرنے کے لئے راوی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا:گویا میں اس وقت اس کے گھوڑے کو دیکھ رہا ہوں کہ اپنے جسم سے پانی جھاڑ رہا ہے۔(۱)
ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ قعقاع کی والدہ کے رشتہ دار کے لئے کیوں زمین اوپر نہیں آئی تاکہ وہ غرق ہونے سے بچ جائے ، شاید یہ اس لئے تھا کہ سیف اپنے افسانہ کے سورما، قعقاع کے لئے ایک فضیلت گڑھ لے۔سیف کے افسانوں میں عاصم وقعقاع قبیلہ تمیم کے دو دلیر اور بہادربھائی میں جنہوں نے پیغمبر کو درک کیا ہے۔ ان کی تفصیل ایک سوپچاس جعلی اصحاب نامی کتاب کی پہلی جلد میں آچکی ہے۔
جب ہم سیف کی ان روایتوں کو دوسروں (حموی اور بلاذری)کی روایتوں سے مواز نہ کرتے ہیں ، کہ انہوں نے کہا ہے:دیہاتیوں نے مسلمانوں کی راہنمائی کی اور انہیں عبور کا راستہ دکھا یا تاکہ اس راستہ سے پانی سے گزرجائیں ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ سیف نے تاریخ حوادث میں کافیحد تک جھوٹ ملادیا ہے۔
۶یوم النحیب:
یہ دن بھی ان ایام میں سے ہے کہ سیف نے تاریخ اور اسلام کے وقائع میں جعل کئے ہیں ۔
____________________
۱۔فتوح البلدان ،ص ۲۷۲۔
اس کی تفصیل حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں ۔
طبری نے ۳۶ ئھ کے حوادث میں سیف سے ، اس نے ابن الشہید سے اور اس نے ابن ابی ملیکہ سے وہ وروایت کرتا ہے کہ طلحہ وزبیر باہر نکلے اور چکر لگانے لگے پھر اس وقت عائشہ باہر آگئی اور اس کے پیچھے پیغمبر اسلام کی دوسری بیویاں بھی باہر آگئیں ، یہاں تک یہ لوگ ذات عرق پہنچ گئے۔
اسلام کے لئے اس سے بدتر مصیبت کا دن کوئی دن نہیں تھا، اس دن کا نام یوم النحیب رکھا گیا(۱) ۔
عائشہ نے عبدالرحمان بن عتاب(۲) کو حکم دیا تاکہ وہ لوگوں کی امامت کرے تو اس نے بھی نماز کی ذمہ داری سنبھالی، اس کو امام جماعت کے طور پر معین کرنے کا کام ایک منصفانہ کا م تھا۔
ایک دوسری روایت میں سیف نے نقل کیا ہے کہ :عبدالرحمان راستے میں اور بصرہ میں لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، یہاں تک کہ قتل ہوا۔
سیف نے ان روایتوں کو طلحہ ، زبیر اور عائشہ کے جنگ جمل کے لئے مکہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہونے کی خبر کی رپورٹ کے طور پر نقل کیا ہے کہ مجموعاً تین داستانوں کو بیان کیا ہے:
۱ ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹیوں کے عائشہ کو ذات عرق تک رخصت کرنے کی خبر:
ہم نے اس خبر کے بارے میں کوئی مآخذ نہیں پایا، صرف ام سلمہ سے ایک روایت نقل کی گئی
____________________
۱۔ذات عرق ، بخد اور نہامہ کے درمیان سرحد ہے۔ یہاں سے عراق حج کا احرام باندھتے ہیں ۔
۲۔تاریخ طبری ج ۳۱۴، تاریخ ابن کثیر ۷۷ ، ۲۳۰
ہے یا اس سلسلے میں اس کا عائشہ کے نام لکھا گیا خط ہے۔ اور ام سلمہ کے عائشہ کے نام لکھے گئے خط کا متن یوں ہے:
جب عائشہ نے جنگ جمل کے لئے مکہ سے نکل کر بصرہ کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا تو ام سلمیٰ نے یوں کہا:
اے عائشہ!تم رسول خدا اور امت کے درمیان ایک دہلیز کی حیثیت رکھتی ہو تیرا پردہ حریم پیغمبر پر لٹکا ہوا ہے۔ قرآن مجید نے تیرے دامن کو سمیٹا ہے تم اسے نہ پھیلاؤ خداوند عالم نے تجھے گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا ہے، تم اپنے آپ کو صحرااوربیابان میں کھینچ کرنہ لاؤ۔ خدا اس امت کو اس منحوس کام کی انجام دھی سے بچائے:(۱)
رسول خدا تیری حیثیت کو جانتے تھے، اگر وہ چاہتے تو تجھے کوئی ذمہ داری (یعنی عثمان کی خون خواہی کے بارے میں)سونپتے، بلکہ اس کے برخلاف تجھے سیر وسیاحت اور شہروں میں پیش قدمی کرنے سے منع فرمایا ہے!اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر سے سراٹھا کر تجھے اس حالت میں دیکھیں کہ تم نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ سے کھینچ لیا ہے اور سرعت کے ساتھ گھومتی پھرتی ہوئی ایک بیابان سے دوسرے میں گزرتی ہوئی دور دراز علاقوں تک پہنچ گئی ہو، تو تم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا جوا ب دوگی؟
بہرحال تم کوخدا کے حضور میں اور اسی کی طرف پلٹنا ہے، رسول خدا کے حضورمیں پیش کی جاؤ
____________________
۱۔عبدالرحمان بن عتاب بن سید بن ابی العیص بن عبدشمس جنگ جمل میں عائشہ کے لشکر میں قتل ہوا،تاریخ طبری ج ۱ ۳۲۳و ۳۱۴۔
گی۔ اگر مجھے اس حالت میں بہشت برین میں داخل ہونے کو کہاجائے جب کہ میں نے رسول خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی ہو اور خدا کی طرف سے مجھ پر مقرر کئے گئے احکام نیزآنحضرت کے پردہ حرمت کو تارتار کیا ہوتو مجھے شرم آئے گی، اے عائشہ! تم اپنے آپ پر کنٹرول کرو اور پردہ سے باہر نہ نکلو، اپنے گھر کی چوکھٹ کو اپنی آرام گاہ قرار دو تاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشنودی اور رضا کے ساتھ ان سے ملاقات کرو۔
ایک اور روایت میں اس جملہ کے بعد اضافہ ہوا ہے:
اگر میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو میں نے رسول خدا سے سنا ہے، تو تم سانپ کے ڈسے ہوئے کی طرح تڑپوگی۔ والسلام
عائشہ نے جواب دیا:اے ام سلمہ! تیرے پندونصائح کو قبول کرتی ہوں اور ان کی قدر وقیمت جانتی ہوں لیکن بات ویسی نہیں ہے جیسے کہ تم کہتی ہو میرے لئے بہتر موقع فراہم ہوا ہے تاکہ ایک دوسرے کے جان کے پیاسے دوگروہوں کے درمیان صلح کراؤں ۔
۲سرزمین ذات عرق میں اجتماع کی خبر:
ایک دوسری روایت میں جسے طبری نے سیف کے علاوہ ایک دوسرے راوی سے بھی نقل کیا ہے یوں آیا ہے:
سعد بن عاص نے مروان بن حکم اور اس کے دوستوں سے ذات عرق میں ملاقات کی اور کہا:کہاں جارہے ہو، جنہوں نے عثمان کا خون بہایا ہے انہیں قتل کرڈالو اور اپنے گھر کی طرف چلے جاؤ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو(۱)
جواب دیا گیا:ہم جارہے ہیں تاکہ شاید عثمان کے تمام قاتلوں کو ایک ہی جگہ پر قتل کرسکیں ۔
اس کے بعد طلحہ وزبیر کو مخفیانہ طور پر دیکھا اور انہیں کہا:
اگر تم لوگ کامیاب ہوئے تو حکومت کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں دوگے؟
انہوں نے جواب دیا:ہم دوآدمیوں میں سے جس کسی کوبھی لوگ منتخب کرلیں ۔
____________________
۱۔بلاغات النساء ،۸ ح ا ۲۹۰،العقد الفرید ج۳ ۶۹---،شرح ابن ابی الحدید، ج۲ ۷۱، تاریخ یعقوبی ج۲/ ۱۸۔
سعد بن عاص بن امیہ، اس کی ماں ام کلثوم بنت عمرو مریہ تھی، حضرت علی نے جنگ بدر کے دن اس کے باپ کو قتل کیا تھا، سعید قریش کے بزرگوں میں سے تھا یہ ان لوگوں میں سے ایک تھا جس نے عثمان کے لئے قرآن مجید لکھا تھا، عثمان نے اسے ولید کے بعد کوفہ کا حاکم مقرر کیا، عثمان کی وفات کے بعد اس نے جنگوں سے کنارہ کشی کی۔ معاویہ نے اپنی حکومت کے دوران مروان کو معزول کرنے کے بعد اسے مدینہ کا حاکم معین کیا۔ کچھ مدت کے بعد اسے معزول کرکے پھر مروان کو مدینہ کا حاکم مقرر کردیا۔ تاکہ اس کے ذریعہ ان دو کے درمیان دشمنی ایجاد کرے(اسدالغابہ ۲/۳۰۹)
اس روایت میں سعید اموی نے تمام خاندان بنی امیہ کے اس لشکر میں موجود تمام افراد کو مخاطب قرار دیکر ان سے طلحہ وزبیر و عائشہ کو قتل کرنے کا مطالبہ کیاکیونکہ انہوں نے جو عثمان کی خونخواہی کے لئے قدم اٹھایا ہے، دراصل وہ اس کے ذمہ دار تھے اور وہ خون ان کے پاس تھا (وہی عثمان کے قتل میں شریک تھے)
پھر اپنے گروہ کی طرف پلٹے ۔ بنی امیہ نے جواب دیا کہ وہ عثمان کے تمام قاتلوں کو ایک ہی جگہ قتل کر ڈالنا چاہتے ہیں اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ جائیں اور شاید اس جماعت کے ذریعہ محمد بن ابی بکر بک اور قتل عثمان میں ملوث دوسرے لوگوں کو قتل کرڈالیں ۔
اس نے کہا :نہیں ، تمہیں یہ کام عثمان کی اولاد کے ہاتھ میں دینا چاہئے،کیونکہ تم لوگوں نے عوام کو عثمان کی خون خواہی کے نام پر اکسایا ہے۔
انہوں نے کہا:کیا ہم مہاجرین کے بزرگوں کو چھوڑ کرخلافت ان کی اولاد کے حوالہ کریں گے؟(یعنی خلافت کو اپنے سے۔ جوکہ مھاجر کے بزرگ ہیں ،دورکرکے عثمان کی اولاد کو سو نپیں گے؟)اس نے کہا:ہم مناسب نہیں سمجھتے ہیں کہ حکومت کو عبد مناف کی اولاد سے باہر لانے کی کوشش کریں ،(یعنی مناسب نہیں ہے کہ ہم یہ کو شش کریں کہ خلافت حضرت علی کے ہاتھ سے لے لیں ، جبکہ علی آل عبد مناف و ہمارے چچیرے بھائی ہیں ، بنوامیہ اور بنوہاشم آپس میں چچیرے بھائی تھے)
اس کے بعد وہاں سے عبداللہ بن خالدبن سعید(جوخود بھی بنی امیہ سے تھا) کے ہمراہ واپس آیا،مغیرہ بن شعبہ(جو ثقیف میں سے تھا) نے کہا:سعید کا نظریہ صحیح ہے:جو بھی قبیلہ ثقیف سے یہاں آیا ہے، واپس چلاجائے۔ اس گروہ نے بھی جنگ سے منہ موڑا اور واپس چلاگیا۔ لیکن دوسرے اپنے راستے پر آگے بڑھتے رہے۔ جنگ کے لئے جانے والوں میں عثمان کے بیٹے ابان اور ولید جیسے اشخاص بھی
موجود تھے۔ وہ وہاں سے روانہ ہوکر دور پہنچے اور راستہ میں ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا کہ کس شخص کو سرپرست بنایا جائے تاآخر روایت عائشہ کے حکم سے مرتے دم تک عبدالرحمان بن عتاب کا راستے میں اور بصرہ میں امامت کے فرائض انجام دینا۔
یہ خبر سیف کے علاوہ دوسروں کے یہاں یوں ذکر ہوئی ہے:جس وقت کاروان مکہ سے باہر
____________________
۱۔عبداللہ بن خالدبن اسید بن ابی العیص بن امیہ، زیادنے اسے فارس کا حاکم مقرر کیا اور مرتے وقت اسے کوفہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور معاویہ نے اسے اسی عہدہ پر برقرار رکھا(اسد الغابہ ۳۰/۱۴۹)
آیا، مروان نے نماز کے لئے اذان کہیپھر طلحہ وزبیر کے پاس جاکر ان سے پوچھا،تم میں سے کس کو میں امیر کی حیثیت سے سلام کروں گا اور نماز کی اذان کس کے لئے کہوں ؟
عبداللہ بن زبیر نے کہا:ابو عبداللہ کے لئے۔ یہ زبیر کی کنیت تھی۔
محمد بن طلحہ نے کہا:ابو محمد کے لئے، یہ طلحہ کی کنیت تھی۔
عائشہ نے مروان کو پیغام بھیج دیا اور کہا:تمہیں کیا ہوگیا؟کیا ہمارے کام میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہو؟بہر صورت میرا بھانجا عبداللہ بن زبیر پیش نماز ہوناچاہئے۔(۱)
ان میں سے بعض افراد نے کہا:خدا کی قسم اگر ہم کامیاب ہوئے تو فتنہ برپا ہوگا، کیونکہ نہ طلحہ زبیر کی سرداری قبول کرنے کیلئے آمادہ ہے اورنہ زبیر طلحہ کی ۔
بصرہ پہنچنے تک راستہ میں یہ اختلاف موجود تھا، یعقوبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ انہوں نے بصرہ میں بیت المال کو لوٹ لیا اور جو کچھ وہاں تھا اسے لے گئے اور جب نماز کا وقت پہنچا تو طلحہ وزبیر کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ان میں سے ہر ایک دوسرے کو محراب سے کھینچ رہا تھا تاکہ وہ پیش نماز نہ بنے ، لوگوں نے فریاد بلند کی:الصلاة الصلاة اے یاران محمد!عائشہ نے کہا:ایک دن محمد بن طلحہ امام جماعت ہوگا اور دوسرے دن عبداللہ بن زبیر۔
ابن سعد نے طبقات میں یوں کہا ہے:ابن زبیر آگے بڑھاتاکہ امامت کرے لیکن محمد بن طلحہ نے اسے پیچھے ڈھکیل کر خود امام بننا چاہا، عبداللہ بن زبیر نے بھی ویسا ہی کیا، آخر کار پہلی بار امام
____________________
۱۔تاریخ طبری، ج ا / ۳۱۳و۳۱۴۔
جماعت کو معین کرنے کے لئے قرعہ کشی کی گئی اور قرعہ میں محمد بن طلحہ کا نام نکلا وہ آگے بڑھا اور یہ آیة پڑھی:<سَالَ سائِلٌ بِعذابٍ واقع >، یعنی ایک سوال کرنے والے نے عذاب کے بارے میں سوال کیا، عجب !کیسا منحوس فال تھا؟
کتاب الاغالی میں یوں آیا ہے:ایک شاعر نے اس سلسلہ میں یہ اشعار کہے ہیں :
تَباری الغِلامان إذْ صلّیا
وشحّ علی الملک شیخاهما
و مالی و طلحه و ابن الزبیر
وهذا بذي الجذع مولاهما
فامّهما الیوم غرتّهما
وَ یعلی بن منیة دلاهما
ترجمہ:
نماز کے وقت فرزندان ایک دوسرے کو پیچھے ڈھکیل رہے ہیں اور بوڑھے لوگ بادشاہی پر نزاع کررہے ہیں اور اسے للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ہمیں طلحہ اور زبیر کے بیٹے سے کیا کام ہے جبکہ بیابان کے کنارے ان کا رہبر کھڑا ہے،آج ان کی ماں ، یعنی عائشہ نے انہیں فریب دیا ہے اور منیہ کے بیٹے یعلی نے انہیں فریفتہبنالیاہے(۱)
یہ تھے وہ مطالب جن کے بارے میں سیف کی روایت کے متن میں واقع کے خلاف ذکر ہوا ہے اس کے علاوہ اب اس کی حدیث کی سند کے بارے میں چھان بین کریں تا کہ اس کا صحیح اندازہ ہوسکے۔
____________________
ا۔ان دونوں کی ماں سے مراد عائشہ ہے، یعلی بن امیہ نے انہیں دھو کہ دیاتھا۔ یعلی کی ماں کا نام منیسہ بنت غزوان تھا اور اس کا باپ میتہ بن عبدہ تھا اور وہ قبیلہ بنی تمیم سے تھا اور بنی امیہ کا ہم پیمان تھا وہ عثمان کے زمانے میں یمن کا گورنر تھا اور اس کے بعد عثمان کے قتل ہونے پر مکہ آگیا اور جنگ جمل میں شرکت کی۔ (الاغانی ج۱۱/ص۱۱۹-۱۲۱)
روایت سیف کی سند کی تحقیقات:
سیف نے روزنحیب ، کی روایت کو ابن الشہید سے نقل کیا ہے، ابن الشہید کا باپ ، جو اس روایت کاراوی ہے کون ہے؟اور اس کے بیٹے کا نام کیا ہے جو اس روایت کا راوی ہے؟اور ان دو افراد کو پہچاننے کا راستہ کیا ہے جن کے بارے میں جناب سیف نے خیال آرائی کی ہے؟
اس لحاظ سے اور اسی گمنامی کے سبب ہم نے اس شخص کا نام ونشان سیف کی روایت کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا، اس لئے ہم اس شخص کو سیف کے خیالی راویوں میں سے ایک فرد جان کراسے جعلی راویوں کی فہرست میں قرار دیتے ہیں ۔
بصرہ میں عبدالرحمان کی پیش نمازی کی روایت کو سیف نے محمد بن قیس سے نقل کیا ہے اور یہ شخص بھی سیف کے جعلی راویوں میں سے ایک ہے۔
تحقیق اور موازنہ کا نتیجہ:
سیف نے ایک چھوٹی سی روایت کے ذریعہ خاندان قریش پر کئے جانے والے تین اعتراضات کا سد باب کرنا چاہاہے، جو عبارت ہیں ۔
۱ ۔ عائشہ کے بصرہ کی طرف روانگی کے وقت ام سلمہ کی طرف سرزنش کی روایت۔
اس سرزنش اور اشکال کو سیف نے مندرجہ ذیل جملہ نقل کرکے تدارک کیا ہے:”پیغمبر کی بیویوں نے عائشہ کو ذات عرق تک رخصت کیا“اور اس مطلب کا اضافہ کیا ہے کہ پیغمبر کی بیویوں نے متفقہ طور پر عائشہ کا احترام کیا جبکہ یہ مطلب ام سلمہ کی سرزنش کرنے کے ساتھ سازگار نہیں ہے، لہذا سیف اسے تغیر دیتا ہے اور اسے ایک دوسری صورت میں پیش کرتا ہے جو اس کے نظریہ کی تائید کرتا ہے۔
۲ ۔ ذات عرق میں سعید اموی کی بنی امیہ سے گفتگو، اور یہ کہ اس نے ان سے مطالبہ کیا کہ قاتلان عثمان ، یعنی وہی جنہوں نے عثمان کی خونخواہی کا علم بلند کیا تھا،کو قتل کریں اور اس کی طلحہ اور زبیر سے گفتگو کی رود اد کہ عثمان کے بیٹوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں اور ان دونوں نے اسکی مواقفت نہیں کی ، لہذا سعید آگے بڑھنے سے منکر ہوگیااور واپس چلاگیا اور اس کے ساتھ مغیرہ اور ثقیف کے کچھ اور لوگ واپس چلے گئے۔
اس روداد کو سیف نے درج ذیل جملہ کو نقل کرکے نابود کردیا ہے:اس دن سے پُر مصیبت کوئی اور دن دیکھا نہیں گیا، یہاں تک اس دن کو یوم الحیب نام رکھا گیا ہے، جبکہ ذات عرق میں رونماشدہ روداد وہی تھی جسے ہم نے نقل کیا، اس طرح جناب سیف نے بزرگان قریش اور خاندان مضر سے تعلق رکھنے والے اصحاب کی لغزشوں کی توجیہ کرکے ان پر پردہ پوشی کی ہے اور اس روایت کو نقل کرکے ان کی غلطیوں کو چھپادیا ہے۔
۳ ۔ راستہ اور بصرہ میں پیش نمازی کے مسئلہ پر اختلاف کی داستان اور عائشہ کا اپنے بھانجے اور اپنے چچیرے بھائی محمد بن طلحہ کو اس کام پر معین کرنا تاکہ اختلافات کو دور کرسکے،سیف نے اس خبر کی بھی مندرجہ ذیل جملہ نقل کرکے تصحیح کی ہے:
ام المومنین عائشہ نے عبدالرحمان بن عتاب کو پیش نمازی کے لئے معین کردیااور وہ بھی راستے میں اور بصرہ پہنچنے پر قتل ہونے تک لوگوں کی امامت کرتا رہا، سیف نے ان تمام تخریب کاریوں اور جاہ طلبیوں کو ایک چھوٹی سی روایت جعل کرکے دقیق جملوں کے ذریعہ محو کیا ہے پھر ایک اور روایت کے ذریعہ اس کی تائید کی ہے۔
سیف یوم الحیب کی داستان کے نقل کرنے میں (ذات عرق میں گریہ کے دن)منفرد ہے، اور طبری نے اس سے نقل کیا ہے اور ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں تاریخ طبری سے نقل کیا ہے، اس طرح سیف اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے اور جس اضطراب اور تشویش کو تاریخ اسلام میں پیدا کرنا چاہتا تھااسے شرمندہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
بحث کا خاتمہ:
ہم نے اس سے پہلے بھی دیکھا کہ سیف نے کس طرح جعلی ایام خلق کئے ہیں اور مسلمانوں اوراعراب میں دوران جاہلیت اور اسلام کے مانند مشہور ایامجعل کئے ہیں ، اور ہمیں معلوم ہوا کہ اس نے حقیقی روداد وں کو الٹادکھانے کی کتنی کوشش کی ہے تاکہ اسلامی معاشرے میں تشویش ایجاد کرکے ان کے عقائد اور افکار کو توہمات اور مذاق میں تبدیل کردے۔
اس کے جعلی ایام اسی حد تک محدود نہیں ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا بلکہ ہم نے اس لئے اتنے پر ہی اکتفا کیا ہے تاکہ تاریخ اسلام میں اس قسم کی تحریفات کے نقش پا اور آثار کو پہچان سکیں اور اس کے بعد سیف کے اس قسم کے جعل کے بارے میں مزید نمونے پیش کریں گے(۱)
____________________
۱۔جیسے حتیان کے دن (مچھلیوں کے دن)سیف کہتا ہے:یہ دن اس لئے اس نام سے مشہور ہوا ہے کہ سعد بن ابی وقاص کے سپاہیوں نے قادسیہ میں تین سو خچر گائے اور ماہی غنیمت کے طور پر حاصل کئے (طبری ۱۵/۲۲۴۴)
سیف کے خیالی شہر
نَثرالحمويّ کتاب سیف فی کتابه معجم البلدان
حموی نے سیف کی کتاب کو (اس کے خیالی شہروں کی وجہ سے)اپنی کتاب معجم البلدان میں درج کیا ہے۔ اور دوسروں نے بھی اس کی پیروی کی ہے۔
(موئف)
معجم البلدان اور دوسرے جغرافیہ دانوں کا اہم مآخذ:
محققین کے لئے یہ امر پوشیدہ نہیں ہے کہ یاقوت حموی نادر و نایاب قضیے اور اشعار نقل کرنے میں عجیب دلچسپی رکھتا ہے، جس قدر اس نے اس طرح کے قضیے واشعار کو شہروں کی تشریح میں درج کیا ہے دوسری کتابوں میں ویسے نہیں ملتا۔ گویا یاقوت حموی نے اپنے اس تصور کو سیف کی داستانوں میں پایا ہے لہذا اس نے اسی طرح سیف کے مطالب کو اپنی کتاب معجم البلدان میں پیش کردیاہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے ایسی جگہوں کی تشریح کی ہے کہ جو سیف کے افسانوں کے دائرہ سے باہر نہیں ہیں ۔ جس طرح اس نے ”جبار“ ،” جعرانہ“،” شرجہ“ و”صہید“ کے بارے میں تشریح کی ہے، اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیف کی کتاب کا ابن خاضبہ کے ہاتھ لکھا ہوا ایک نسخہ اس کے پاس موجود تھا۔
ظاہر اًاس کتاب کے حاشیہ میں ابوبکر بن سیف کے بارے میں ایک تحقیقات لکھی گئی ہے،ابن خاضبہ ، وہی ابوبکر محمد بن احمد بن عبدالباقی بغدادی حافظ(۱) ہے کہ ابو بکر خطیب اور دوسروں سے روایت کرتا ہے، اس نے ماہ ربیع الاول ۴۸۹ ئھ میں وفات پائی ہے(۲) اور ابوبکر بن سیف یا ابوبکر بن احمد بن سیف جصینی ہے کہ سمعانی وحموی نے مادہ جصینی میں انساب ومعجم البلدان میں اس کی تشریح کی ہے، یا ابو بکر احمد بن عبداللہ بن سیف بن سعدسبحستانی ہے کہ اس کانام ابن عساکر کی روایتوں کے اسناد میں آتا ہے اور خاص کر ابن عساکر نے سیف سے جو بھی روایت نقل کی ہے، اس کی سند میں اس کا نام لیا گیا ہے۔ اور ابن ندیم نے اپنی کتاب الفہرست میں اس کی تشریح کی ہے۔
حموی نے جن روایتوں کو نقل کیا ہے، انہیں تاریخ طبری میں بھی پایا جاتا ہے،اور بعض اوقات حموی ایسی چیزوں کو نقل کرتا ہے کہ طبری نے انہیں نقل نہیں کیا ہے، چنانچہ طبری نے بھی بعض روایتیں نقل کی ہیں ، جن کو حموی نے نقل نہیں کیا ہے، ان دو بزرگواروں نے اس چشمہ سے جو بھی اپنے ذائقہ کے مطابق شریں پایا ہے اس سے استفادہ کیا ہے، اور فرق صرف یہ ہے کہ طبری سیف کی روایتوں کو پے در پے نقل کرتا ہے جو وہ سیف کی مجموعی داستان کو تشکیل دیتی ہیں اور عمومی طور پر جوسیف نے مآخذ اپنی داستانوں کے لئے جعل کئے ہیں ان سب کو نقل کرتا ہے۔
____________________
۱۔حافظ اس شخص کو کہتے ہیں ، جس نے ایک لاکھ احادیث حفظ کی ہوں ۔
۲۔تاریخ کامل طبع لیڈن۱۰/۱۷۸ورشذرات، ۲۸۹ئھ کے حوادث میں ، لسان المیزان ج۶/۵۷اورج۶/۴۷۹
لیکن حموی سیف کی داستانوں کے اشعار اور عجیب وغریب مطالب میں سے جو کچھ ہے انہیں چن کر نقل کرتا ہے اور بعض اوقات چن لئے گئے مطالب کو سیف کی طرف نسبت دئے بغیر اور سند کا ذکر کئے بغیر نقل کرتا ہے۔
سیف کے خیالی شہروں کے چند نمونے:
جیسا کہ ہم نے کہا حموی نے اپنی کتاب معجم البلدان میں جو بعض شہروں اور زمینوں کے ماخذ ذکر کئے ہیں ، وہ سیف کی روایتیں ہیں ، ہم یہاں پر سیف کے ان خیالی شہروں اور اماکن کے نمونے شاہد کے طور پر پیش کرتے ہیں جنہیں حموی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے:
۱دلوث:
حموی اس کلمہ کی تشریح میں کہتا ہے:سیف قبیلہ عبد قیس کے صحارنامی ایک شخص سے نقل کرتا ہے:ہر مزان کی جنگ کے دنوں جو اہواز کے اطراف میں واقع ہوئی ، یہ علاقہ دلوث و دجیل کے درمیان واقع ہے، میں ھرم بن حیان کے پاس گیا اور اس کے لئے خرمے کی چند زنبیلیں ساتھ لے گیا۔ (قدمت علی ھدم بن حیان)تاآخر
اور طبری اسی داستان کو اپنی سند اور سیف سے ۱۳ ئھ کے حوادث میں جملہ ” بجلال من تمر“ تک نقل کرتا ہے ۔ اس کے بعد جو کچھ حموی نے نقل کیا ہے، طبری نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ سیف کی روایتوں کو نقل کرنے میں حموی کا مآخذ تاریخ طبری نہیں تھا، بلکہ اس کے پاس خود سیف کی کتاب موجود تھی اور وہ اس سے نقل کرتا تھا۔
۲طاووس:
حموی نے جوروایتیں سیف سے نقل کی ہیں ، ان میں طاوؤس کی تشریح کی ہے۔ اور کہتا ہے:طاووس فارس کے اطراف میں ایک جگہ کا نام ہے، سیف نے کہا ہے:علاء بن حضرمی نے سمندر کے راستے ایک فوج وہاں بھیجی اور یہ کام عمر کی اجازت کے بغیر انجام پایا۔
یاقوت حموی نے اس پوری داستان کو، جسے طبری نے اپنی سند سے ۱۷ ء کے حوادث میں سیف سے نقل کیا ہے ، اس پر خلید بن منذر کا ایک شعر بھی اضافہ کیا ہے، لیکن طبری نے اس شعر کو نقل نہیں کیا ہے۔
۳و ۴، جعرانہ ونعمان:
یاقوت حموی نے جعرانہ اورنعمان جو حجاز میں واقع ہیں ، سیف کے کہنے پر استناد کر کے ان دونوں جگہوں کو عراق کی سرزمین شمار کیا ہے اور یہاں پر خاص کر سیف کا نام لیا ہے۔
اس طرح حموی نے سیف کی داستانوں میں نام لئے گئے دس سے زیادہ شہروں اور محلوں کی تشریح کی ہے یا ان کی تشریح کو سیف کی داستانوں سے استخراج کرکے سیف کا نام ذکر کیا ہے، جیسے حمقتین،لیکن وہ جگہیں جن کی اصل یا تشریح کو سیف کی داستانوں سے نقل کیا گیا ہے اور اس میں سیف کا نام نہیں لیا گیا ہے، بہت ہیں ، جیسے:
۵قردودہ:
یاقوت حموی قردود کی تشریح میں یوں کہتا ہے:جب طلحہ نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تووہ شمیراء میں داخل ہوا، تمامہ بن اوس بن لام طائی نے کسی کو اس کے پاس یہ پیغام لے کر بھیجا کہ قبیلہ جذیلہ کے پانچ سوافراد میرے ساتھ ہیں اگر آپ کے لئے کوئی مشکل پیش آئی تو ہم قردودہ اور آنسر میں ریگستان کے نزدیک ہوں گے۔
طبری نے اسی روایت کو اپنی سند سے ۱۱ ھ ئمیں اہل غطفان کے ارتداد کے سلسلہ میں سیف سے نقل کیا ہے۔ اور یہی روایت حموی کی مورداعتماد قرار پائی ہے اور اس نے قردودہ کی تشریح کی ہے۔
ابن جحر نے بھی اسی روایت پر اعتماد کیا ہے، جہاں پر اس نے رسول اللہ کے صحابہ کی تشریح کے ضمن میں ثمامہ کی تشریح کی ہے جبکہ ہم نے ثمامہ اور قردودہ کے بارے میں سیف کے علاوہ کہیں کوئی نشان نہیں پائی
۶نہراط:
چونکہ حموی نے سیف کی بعض روایتوں کو سیف کا نام لئے بغیر اپنی کتاب میں درج کیا ہے، لہذا بعض اوقات قارئین شک وشبہہ میں پڑکر خیال کرتے ہیں کہ تشریح کی عبارت خود حموی کی ہے۔ مثال کے طور پر نہراط کی تشریح میں کہتا ہے جب خالد بن ولید نے حیرہ اور اس کے اطراف میں تسلط جمایااور اپنے کارندوں کو اس کے اطراف میں بھیجا من جملہ قبیلہ بنی تمیم کے ابواط کے فرزند ”اط“ نامی ایک شخص کو دور قستان بھیجا، جب وہ اس جگہ پر پہنچا ، تو اس نے ایک ندی کے کنارے پر پڑاؤ ڈالا، لہذا وہ ندی آج تک اس کے نام پر نہراط کے عنوان سے مشہور ہے۔
طبری نے اسی روایت کو ۱۲ ئھ کے حوادث کے ضمن میں حیرہ کے اخبار کے بعد یوں نقل کیا ہے:خالد بن ولید نے اپنے افراد اور کارندوں کو بھیجا، یہاں تک کہتا ہے:اور اط ابن ابو اط کو ”بروز مستان“ بھیجا، اس نے ایک ندی کے کنارے پر ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور اس جگہ کا نام بعد میں اسی کے نام سے مشہور ہوا اور آج تک ”نہراط“ کے نام سے مشہور ہے۔” اط“ قبیلہ سعد بن زید بن مناة سے تعلق رکھتا تھا۔
ابنحجر نے الاصابہ میں اسی روایت پر اعتماد کرکے اط بن اط کی تشریح میں لکھتا ہے: اط بن ابواط قبیلہ سعد بن بکر کا ایک فرد ہے کہ ابو بکر کے زمانہ میں خالد بن ولید کا دوست تھا اور خالد نے اسے ٹیکس جمع کرنے کے لئے اسی علاقہ میں ڈیوٹی دی تھی۔ اسی لئے وہاں پر موجود ایک ندی اسی کے نام سے مشہور ہوئی ہے۔
۷،۸ ،اور ۹ارماث، اغواث اور عماس:
حموی نے ان تین جگہوں کے نام کو سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب معجم البلدان میں ذکر کیا ہے، طبری نے بھی جنگ قادسیہ کی داستان کی تفصیل کو اپنی سند سے سیف سے نقل کیا ہے کہ ہم نے ایام سیف نامی فصل میں اسے بیان کیا۔
۱۰ ثنی:
طبری نے داستان ” ثنی“ کو اپنی سند سے سیف سے نقل کرکے ۱۲ ھء کے حوادث کے ضمن میں اپنی کتاب کی ج ، ۱/ ص ۲۰۲۶ اور ص ۲۰۳۰ میں نقل کیا ہے ۔
۱۱ ثنیہ رکاب:
اس کو بھی طبری نے اسی طریقہ سے ج ، ۱/ ص ۲۰۲۶ ۔ ۲۰۲۰ میں ۱۲ ھ ء کے حوادث کے ضمن میں نقل کیا ہے ۔
۱۲ قدیس:
طبری نے مذکورہ طریقے سے جنگ قادسیہ کے بیان میں اسے ج ، ۱/ ۲۲۳۰ و ۲۲۳۳ و ۲۲۴۳ ، ۲۲۵ ، ۲۲۸۸ ، ۲۲۹۴ ، ۲۳۲۶ و ۲۳۲۸ میں نقل کیا ہے ۔
۱۳ مقر:
اس کو بھی طبری نے ۱۲ ھء کے حوادث میں ج ، ۱/ ۲۰۳۷ و ۲۰۳۸ میں نقل کیا ہے۔
۱۴ وایہ خرد:
سیف کے خیالی اماکن میں ” وایہ خرد “ بھی ہے کہ طبری نے ج ، ۴ ص ۲۴۲ طبع اول مصر میں خلاصہ کے طور پر نقل کیا ہے ۔
۱۵ ولجہ:
سیف کے خیالی اماکن میں ” ولجہ “بھی ہے یہ سرزمین کسکر میں واقع ہے اور طبری نے اسے ۲۱ ھء جنگ نہاوند میں بیان کیا ہے ۔ ج، ۱/ ۲۶۱۸ و ۲۶۲۵ ۔
۱۶ ھوافی:
سیف کے خیالی اماکن میں سے ایک ’ ’ ھوافی“ ہے اسے بھی طبری نے ۱۳ ئھ کے حوادث میں ج ، ۱/ ۲۱۶۹ میں نقل کیا ہے ۔
جغرافیہ کی کتابیں اور سیف کے خیالی شہر
یہ، اور ان جیسے بہت سے شہر اور اماکن کو حموی نے سیف کی داستانوں پر اعتماد کرکے اپنی کتاب ” معجم البلدان“ میں نقل کیا ہے جبکہ شہروں کے بارے میں لکھی گئی دوسری کتابوں میں سیف کی روایتوں پر اعتماد نہیں کیا گیا ہے اور ان شہروں اور اماکن کے نام تک نہیں لئے گئے ہیں ، جیسے مندرجہ ذیل کتابیں :
۱ ۔ ”صفہ جزیرة العرب“ تالیف ابو محمد حسن بن احمد بن یعقوب بن یوسف بن داؤد معروف بہ ابن حائک (وفات ۳۳۴ ئھ)
۲ ۔ فتوح البلدان ۔ تالیف بلاذری
۳ ۔ مختصر البلدان ، تالیف ابو بکر احمد بن محمد ہمدانی معروف بہ ابن الفقیہ جو تیسری صدی ہجری کے اواخر کے دانشوروں میں شمار ہوتے تھے ۔
۴ ۔ الآثار الباقیة عن القرون الخالیة : تالیف ابو ریحان محمد بن احمد بیرونی خوارزمی وفات ۴۴۰ ئھ ،
۵ ۔ معجم مااستعجم تالیف ابی عبدا للہ بن عبدا لعزیز بن مصعب بکری وزیر ، وفات ۴۷۸ ئھ
۶ ۔ تقویم البلدان : تالیف اسماعیل صاحب حماة ، وفات ۴۳۲ ئھ
اس کے علاوہ متاخرین میں سے دو شخصیتوں نے حموی پر اعتماد نہیں کیا ہے اور ان شہروں کی اپنی کتابوں میں تشریح نہیں کی ہے ۔
۱ ۔ مستشرق لسٹرنج نے اپنی کتاب ” بلدان الخلافة الشرقیہ “ میں
۲ ۔ عمر رضا کحالہ نے اپنی کتاب ” جغرافیای شبہ جزیرہ عربستان “
تاریخی حوادث واقع ہونے کے زمانے میں سیف کی اداکاریاں
إِنّما حَرَّفَ سیف الوقائع التاریخیة ایضاً
سیف نے وقائع کی تحریف پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ ان وقائع کی تاریخ میں بھی تحریف کی ہے ۔
مولف
سیف نے جو تحریفات انجام دی ہیں ، اس میں صرف تاریخی حوادث میں تبدیلی لانے پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے ، بلکہ وقائع تاریخی کے سال معین کرنے میں بھی انہیں خلافِ حقیقت بیان کیاہے ان میں فتح ” ابلہ “ ۱ ہے کہ طبری نے سیف سے روایت کی ہے :
ابو بکر نے خالد کو ایک لشکر کے ساتھ ماموریت پر عراق بھیجا ، اس نے ابلہ میں دشمن پر حملہ کیا دشمن اور مشرکین کی فوج نے لشکر اسلام سے پہلے پانی کے ساحل پر کیمپ لگایا تھا اور خالد کے سپاہیوں کو
۱ ۔ ابلہ ایک شہر کا نام ہے ۔ یہ شہر دریائے دجلہ کے کنارے پر بصرہ کے نزدیک جہاں پر ایک خلیج کا کونہ شہر بصرہ میں داخل ہوتا ہے ابلہ شہر بصرہ سے قدیمی تر ہے کیونکہ بصرہ عمر ابن خطاب کے زمانے میں قصبہ بنا جبکہ انہی دنوں ابلہ قصبہ تھا کہ یہاں پر کسری کی فوجی چھاونی تھی اور وہاں پر فوجی کمانڈر رہتا تھا (معجم البلدان)
پانی استعمال کرنے میں روکاوٹ ڈالی تھی، جب جنگ چھڑ گئی تو خداوند عالم نے ایک ابر کو بھیجا جس نے اسلام کے لشکر کے پیچھے بارش برسانا شروع کیا یہاں تک کہتا ہے : خالد نے اسلام کی فتحیابی کی نوید باقیماندہ جنگی غنائم اور ہاتھی کے ہمراہ مدینہ بھیج دیا ، ہاتھی کو مدینہ کی گلی کوچوں میں پھرایا جاتا تھا تا کہ لوگ اسے دیکھیں ، ضعیف العقل عورتیں کہتی تھیں : یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کیا یہ خدا کی مخلوق ہے؟ ٰاور خیال کرتی تھیں کہ یہ بناوٹی ہے(۱)
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ابو جعفر کہتا ہے : جو ہم نے داستان ابلہ اور اس کی فتح کے بارے میں کہا ہے وہ تاریخ دانوں اور صحیح روایتیں بیان کرنے والوں کے بر خلاف ہے بلکہ فتح ابلہ عمر کے زمانے میں ۱۴ ھء میں عتبہ بن غزوان کی کمانڈ ری میں ا نجام پایا ہے ۔
جیسا کہ اس داستان میں ملاحظہ ہوتا ہے کہ سیف نے سال وقوع ، کمانڈر کے نام اورخلیفہ وقت کے نام کو بھی تبدیل کیا ہے اور اس کے علاوہ ایسے مطالب کہے ہیں کہ اس کے سوا کسی اور نے انھیں نقل نہیں کیا ہے ۔
سیف کی تحریفات میں ا یک ،شہر بصرہ کی بنیاد رکھنے کی تاریخ ہے طبری نے اس سلسلہ میں کہاہے : مدائنی کے کہنے کے مطابق عمر ابن خطاب نے عتبہ بن غزوان کو ۱۴ ھ ء میں بصرہ کی طرف روانہ کیاہے لیکن سیف نے ایسا گمان کیا ہے کہ شہر بصرہ ۱۶ ئھ میں وجود میں آیا ہے(۲)
____________________
۱۔ تاریخ طبری ،ج ۲/ ۵۵۶۔
۲۔ تاریخ طبری ، ج ۲/ ۸۹۔
اس روداد کو ابن کثیر نے نقل کیا ہے اور وہیں پر اشارہ کیا ہے کہ اس قضیہ کے وقوع کا سال بیان کرنے میں سیف کا دوسروں کے ساتھ اختلاف ہے(۱)
سیف کی تحریفات میں یرموک(۲) کا واقعہ بھی ہے ابن کثیر اپنی تاریخ میں لکھتا ہے : یرموک کا واقعہ ماہ رجب ۱۵ ھء میں واقع ہوا ہے چنانچہ یہ تاریخ کے علماء : لیث بن سعد ، ابن لھیعہ ، ابو معشر ، ولید بن مسلم ، یزید بن عبیدہ ، خلیفہ بن خیاط ، ابن کلبی ، محمد بن عائذ، ابن عساکر اور شیخ ابو عبدا للہ ذہبی حافظ کا عقیدہ ہے لیکن سیف بن عمر اور ابو جعفر جریر کا عقیدہ یہ ہے کہ یرموک کا واقعہ ۱۳ ھ ء میں رونما ہوا ہے اور ہم نے یہاں پر اس واقعہ کی تاریخ ۱۳ ھء معین کی ہے تا کہ طبری کی پیروی ہوجائے(۳)
اسی اختلاف کو دوسری جگہ پر ۱۳ ھ ء کے حوادث میں لکھا ہے اور کہا ہے : ابن عساکر کہتا ہے : جو صحیح ہے وہ یہی ہے(۴)
لیکن جو سیف نے کہا ہے کہ یہ واقعہ فتح دمشق سے پہلے ۱۳ ھ ء میں رونما ہوا ہے، کسی نے سیف کی اس بات پر اعتبار نہیں کیا ہے ۔
ابن عساکر کی تاریخ میں اس کی عبارت یوں ہے :
____________________
۱۔ تاریخ ابن اثیر ،ج ۷، ص ۵۷ و ۴۸ ۔
۲۔ یرموک شام کی طرف ایک بیابان ہے ، (معجم البلدان )
۳۔ تاریخ ابن کثیر ، ج ۷ ص ۶۱ ۔
۴۔ تاریخ ابن اثیر ، ج ۷ ص ۲۔
ذکر سیف بن عمر إنها کانت سنة ۱۳ هء قبل دمشق و لم یتابعه احد علیٰ ما قاله (۱)
من جملہ واقعہ فحل کی تاریخ(۲) ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں کہاہے : واقعہ فحل کو مؤرخین کی ایک بڑی جماعت نے فتح دمشق سے پہلے لکھا ہے لیکن طبری نے اسے فتح دمشق کے بعد لکھا ہے اور اس بات میں سیف بن عمر کی پیروی کی ہے(۳)
بلاذری نے فتو ح البلدان میں کہاہے : واقعہ فحل اردن ، خلافت عمر کے پانچ ماہ گزرنے کے بعد اس وقت رونما ہوا ہے جب کہ ماہ ذیقعدہ کے دودن باقی بچے تھے(۴)
سیف کی تحریفات میں ایک ” ہرقل “ کے شام سے روانہ ہونے کی خبر ہے ، طبری نے اپنی تاریخ کی ج ۳ ص ۹۹ میں لکھا ہے : اس کے بعد ہرقل “ قسطنطینہ کی طرف روانہ ہو ، ہرقل کے قسطنطینہ کی طرف روانہ ہونے کی تاریخ میں ا ختلاف ہے ، ابن اسحاق نے کہا ہے یہ ۱۵ ھء میں تھا اور سیف نے کہا ہے کہ ۱۶ ھء میں تھا(۵) اور ان ہی اختلافات کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے(۶) اور بلاذری نے بھی ابن اسحاق کے نظریہ کو فتح البلدان میں ذکر کیا ہے(۷)
____________________
۱۔ تاریخ ابن عساکر ج، ۱/ ۱۵۹۔
۲۔ فحل شام میں ایک جگہ کا نام ہے جہا ں پر مسلمانو ں اور رومیو ں کے درمیان مڈ بھیڑ ہوئی تھی ۔
۳۔ تاریخ ابن کثیر ، ج۷ ص ۴۵۔
۴۔ فتوح البلدان، ۱۲۱ ۔
۵۔ تاریخ طبری، ج ۳ ص ۹۹۔
۶۔ تاریخ ابن اکثیر ،ج ۷ ص ۵۳۔
۷۔ فتوح البلدان ،ص ۱۴۳۔
من جملہ تحریفات میں ایک فتح بیت المقدس ہے ، طبری نے اپنی تاریخ میں بیت المقدس کی فتح کی کیفیت کو سیف سے نقل کیا ہے اور عمر اور بیت المقدس کے باشندوں کے درمیان واقع ہوئی صلح کی عبارت کو لکھا ہے اس میں ذکر کرتا ہے کہ صلح نامہ کے آخر میں یوں آیا ہے : و کتب و حضر سنة ۱۵(۱)
ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی ج، ۸ ص ۵۷ میں سیف کی روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے : سیف بن عمر نے یوں کہا ہے جبکہ دوسرے مؤرخین و دانشوروں کا عقیدہ یہہے کہ بیت المقدس ۱۶ ھء میں فتح ہو ا ہے(۲) اس کے بعد مؤرخین کی ان روایتوں کو بیان کیا ہے جن سے سیف کی معین کردہ تاریخ سے اختلاف معلوم ہوتا ہے اور بلاذری نے اپنے طریقہ پر روایت کی ہے کہ یہ واقعہ ۱۶ ۔ ۱۷ میں رونما ہو ا ہے ، من جملہ وہ فتوحات ہیں جو الجزیزہ میں رونما ہوئی ہیں(۳)
طبری نے اپنی تاریخ میں کہاہے: اور بقول سیف الجزیزہ ۱۷ ھء میں فتح ہوا ۔
لیکن ابن اسحاق کہتا ہے کہا الجزیرہ ۱۹ ھء میں فتح ہوا اور اسی اختلاف کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں ا ور حموی نے معجم البلدان میں ذکر کیا ہے ، بلاذری نے فتوح البلدان میں ابن اسحاق کی روایت کی تائید کی ہے(۴) اور فتح جزیرہ کو ۱۹ ھء میں اور اس کے بعد جاناہے ۔
من جملہ اس میں عمو اس کا طاعون ہے ، طبری کہتا ہے حقیقت میں عمو اس میں طاعون پھیلنے کی خبر اور یہ کہ یہ کس سال میں واقع ہوا ، اس میں اختلاف ہے ۔
____________________
۱۔ تاریخ طبری، ج ۳/ ۱۰۳۔
۲۔تاریخ ابن کثیر ، ج ۸ ص ۵۷۔
۳۔ فتوح البلدان ، ص ۱۳۵ ۔ ۱۴۶۔
۴۔ فتوح البلدان ، ص ۱۷۶ ۔ ۱۸۴۔
ابن اسحاق کہتا ہے : اس کے بعد ۱۸ ھء میں پہنچا کہ اسی سال عمواس میں طاعون پھیلا تھا(۱) اس کے بعد اس قول کے قائل افراد کی روایتوں کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے : لیکن سیف : نے دعویٰ کیا ہے کہ عمواس کا طاعون ۱۷ ھء میں پھیلا تھا۔
ابن کثیر نے اس روایت کو تفصیل سے نقل کیا ہے اور سیف کی غلطی کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہتا ہے : محمد ابن اسحق، ابو معشر اور دوسرے متعدد افراد نے سیف سے اختلاف کیا ہے اور کہاہے کہ یہ واقعہ ۱۸ ھ ء میں پیش آیا تھا(۲)
بلاذری نے بھی فتوح البلدان میں روایت کی ہے عمواس کا طاعون ۱۸ ھء میں پھیلاتھا(۳)
دوسری تحریفات میں مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان واقع ہوئی نبردا آزمائی ہے ، طبری کہتا ہے : سیف نے کہا ہے کہ یہ ۱۵ ھء میں واقع ہوئی ہے اور ابن اسحق و اقدی نے کہا ہے کہ ۱۶ ھ ء میں واقع ہوئی ہے اور ابن کثیر نے اسی اختلاف کو اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے(۴)
اس کی دوسری تحریفات میں خراسان کی جنگ ہے طبری(۵)
نے سیف سے نقل کیا ہے کہ خراسان کی جنگ ۱۸ ھء میں واقع ہوئی ہے اور دوسروں نے کہا ہے کہ یہ
____________________
۱۔ تاریخ طبری ،ج ۳/ ۱۶۱۔
۲۔ تاریخ طبری ،ج ۳ ص ۱۶۳۔
۳۔ فتوح البلدان، ص ۱۲۶۔
۴۔ تاریخ ابن کثیر ،ج ۷ ص ۶۰۔
۵۔ تاریخ طبری ، ج ۳ ص ۲۴۴ اور۔تاریخ ابن کثیر ،ج ۷ ص ۱۲۶
جنگ ۲۲ ھء میں واقع ہوئی ہے ۔
طبرستان کی جنگ کے بارے میں بھی سیف نے تحریف کی ہے واقدی ، ابو معشر اور مدائنی نے روایت کی ہے کہ اس جنگ کو سعد بن عاص نے ۳۰ ھء میں لڑا ہے اور وہ پہلا آدمی ہے جس نے طبرستان کی جنگ شروع کی ہے لیکن سیف کہتا ہے : ۳۰ ھء سے پہلے سوید بن مقرن نے قضیہ کو صلح کرکے خاتمہ دے دیا اس سلسلہ میں تاریخ طبری(۱) اور ابن کثیر(۲) اور بلاذری(۳) کی فتوح البلدان کی طرف رجوع کیا جائے ۔
یہ تھا تاریخ کی سالوں اور دسیوں دوسرے واقعات کے بارے سیف کی اداکاریوں کا ایک خلاصہ کہ سیف نے وقائع اسلام کی تاریخوں کے بارے میں حقیقت کے برخلاف بیان کیا ہے۔
____________________
۱۔ تاریخ طبری ،ج ۳ ص ۳۲۳ ۔
۲۔ تاریخ ابن کثیر ،ج ۷ ص ۱۵۴ ۔
۳۔ فتوح البلدان ،ج ۷ ص ۳۴۲ا۔
خاتمہ:گزشتہ مباحث اور نتیجہ پر ایک نظر
سیف کی جھوٹی روایتوں کے پھیلنے کے اسباب ۔
فہرست اور مطالب کا خلاصہ۔
اس کتاب میں ذکرکئے گئے بعض اصحاب پیغمبر کی زندگی کے حالات۔
سیف کی جھوٹی رواتیوں کے پھیلنے کے اسباب
قَد وجَدوا فی احادیث سیف ما رغبوا
جو کچھ حکومتوں کے طرفدار اورمستشرقین چاہتے تھے اسے انہوں نے سیف کی رواتیوں میں پالیا ہے
مؤلف
سیف کی روایتیں ، طاقتوروں اور ان کے حامیوں کے فائدے میں ہیں
فتوح اور ارتداد کے بارے میں سیف کی روایتوں پر تحقیق کرنے سے حیرت انگیز حد تک اس امر کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں جتنی بھی صحیح روایتیں موجود ہیں ، انھیں ترک کرکے ان سے استفادہ نہیں کیا گیا ہے ۔ اور اس کا راز یہ ہے کہ سیف نے ان روایتوں کو ایسے لوگوں کی خوشنودی کیلئے جعل کیا ہے جو تاریخ کو غیر حقیقی روپ میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔
اس قسم کے تمام افرادکی آرزوئیں سیف کی روایتوں میں پوری ہوتی ہیں یہی سبب ہے کہ سیف کی جھوٹی روایتوں کو دوسرے با اعتبار مؤرخیں کی صحیح اور اصلی روایتوں پر ترجیح دی گئی ہے اور ان کی تشہیر اور پھیلاؤ میں زیادہ کوشش کی گئی ہے ۔
حقیقت میں سیف کی روایتوں کے طرفداروں اور حامیوں نے اس کی روایتوں میں اپنے مقاصد پالئے ہیں کیونکہ وہ ایک طرف دیکھتے ہیں کہ ان روایتوں میں مسلمانوں کے فرمانرواؤں اور سرداروں کیلئے فرشتوں کے اوصاف اور بے مثال و غیر معمولی بہادریاں اور کرامتیں بیان کی گئی ہیں جیسے : بیابان کی ریت کا پانی میں تبدیل ہوناسمندر کے پانی کا اسلام کے سپاہیوں کیلئے ریت میں تبدیل ہونا اور گائے کا اپنی مخفی گاہ کے بارے میں خبر دینے کیلئے گفتگو کرن تا آخر
دوسری طرف سے انہوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ صدر اسلام کے فرمانرواؤں اور شخصیتوں کے ناشائستہ اور ناپسند اعمال کے ارتکاب کی سیف نے اپنی روایتوں میں عذر خواہی کی ہے اور اس سلسلے میں ان پر اعتراض و تنقید کرنے والوں کے حملوں کو روکا ہے ۔ جیسے:
وہ دیکھتے ہیں کہ سیف کی روایتوں میں آیا ہے کہ علی ابن ابیطالب نے اسی پہلے دن جب دوسروں نے ابوبکر کی بیعت کی ، انتہائی جلد بازی میں ابوبکر کی بیعت کیلئے پیش قدمی کی ہے !! نہ یہ کہ بیعت کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد تک تاخیر میں ڈالا ہے ۔
وہ دیکھتے ہیں کہ سیف کہتا ہے کہ : سعد بن عبادہ نے جبرو اکراہ کی حالت میں بیعت کی ہے !! نہ یہ کہ وہ بیعت کئے بغیر اپنی جلاوطنی کی جگہ ”حوران “ میں بیعت نہ کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا ہے۔
وہ دیکھتے ہیں کہ بقول سیف بیعت کے سلسلہ میں جو حالت خالد بن سعید کیلئے پیس آئی ، وہ علی علیہ السلام کی تائید کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس لئے تھی کہ عمر نے اس کے ریشمی لباس کو پھاڑ ڈالا تھا !!
وہ دیکھتے ہیں کہ عرب قبائل کے اتنے لوگوں کا قتل عام اور ان کے سروں پر کھانا پکانے کی دیگ کے پایہ قرار دینا ور ان کی عورتوں کی اسیری اس لئے نہیں تھی کہ انہوں نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا تھا بلکہ یہ سب ان لوگوں کے مرتد ہوکر خدا کے دین سے منحرف ہونے کے جرم میں تھا !!
وہ دیکھتے ہیں کہ اونٹ پر سوار وہ عورت ، جس کے بارے میں پیغمبر خدا نے پیشنگوئی فرمائی تھی ، ام المؤمنین عائشہ نہیں ہیں بلکہ ام زمیل نامی دوسری عورت ہے ۔
وہ دیکھتے ہیں کہ سیف کی روایت نے ام جمیل کے گھر میں مغیرہ بن شعبہ کے چہرے پر ایسا پردہ کھینچا ہے تا کہ کوئی اسے ام جمیل پر سوار ہوکر زنا میں مشغول نہ ہو پائے بلکہ ان لوگوں کی بات پر یقین کرے جنہوں نے یہ شہادت دی ہے کہ مغیرہ کو انہوں نے اپنے گھر میں ایک عورت پر سوار دیکھا ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ عورت کون تھی ؟، شاید خود مغیرہ کی اپنی بیوی ہو !! اصولی طور پر مغیرہ کیلئے اس طرح کا کیس درست کرنااس لئے تھا کہ مغیرہ اور اس کے گواہوں میں پہلے سے ھماھنگی تھی ۔
وہ دیکھتے ہیں کہ سیف کی روایتوں میں ابو محجن ثقفی شراب نوشی کے جرم میں زندان نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ ایک شعر کے جرم میں جیل گیا ہے جو اس نے شراب کے سلسلہ میں کہا تھا ! تا آخر
سیف کی روایتیں مستشرقین کے فائدے میں(۱)
شاید بعض مستشرقین بھی اس لحاظ سے سیف کی روایتوں کے طرفدار بنے ہیں کہ جو کچھ وہ
____________________
۱۔ کتاب عبدا للہ بن سبا ،ج۲ کی پہلی فصل ملاحظہ ہو ۔
اسلام کے فوجیوں کے بارے میں بے رحمانہ قتل عام اور قساوت قلب جیسی چیزیں سننا چاہتے تھے انھیں سیف کی روایتوں میں مشاہدہ کیاہے کیونکہ مستشرقین نے دیکھا کہ سیف کی روایتوں میں ذکر ہوا ہے کہ خالد نے بعض جنگوں میں تین دن اور تین رات تک اسیروں کے سر قلم کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ہے اور ہرگزرنے والے کو پکڑ کر اس کا سر تن سے جدا کرتا تھا اگر چہ وہ مخالف بھی نہ ہو، یہ سب قتل عام او ر انسانیت سوزرفتار صرف اس لئے انجام دیتا تھا کہ خالد نے قسم کھائی تھی کہ ان کے خون کی ندی جاری کرے !!!
مستشرقین نے دیکھا ہے کہ سیف کی روایتوں میں اکثر جنگوں میں مقتولین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی اس کے علاوہ ایک اور چیز جو سیف نے دکھائی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کے سپاہیوں کو ہلاکو کی طرح بے رحم اور درندہ خصلت دکھایا ہے اور اس طرح اسلامی جنگیں بشریت کو نابودکرنے کیلئے انجام پائی ہیں !!
مستشرقین نے سیف کی روایتوں میں دیکھا ہے کہ پیغمبر خدا کی رحلت کے بعد حرمین (مکہ و مدینہ) سے باہر رہنے والے مسلمان، عام طور پر مرتد ہوکر دین سے خارج ہوئے ہیں اور انھیں تلوار کی نوک پر پھر سے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے اور نتیجہ کے طور پر اسلام غنڈہ گردی اور تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے ۔
مستشرقین نے سیف کی روایتوں میں دیکھا ہے کہ عبدا للهبن سبا نامی ایک یہودی نے یہ طاقت پیدا کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان ایک ایسی سازش کرے جس کے نتیجہ میں اصحاب رسول خدا اور آپ کے ماننے والوں کو گمراہ کرسکے اور یہودی ایسے مطالب مسلمانوں کے ذہنوں میں ڈالتے رہتے ہیں جو ان کے عقائد کا حصہ نہیں تھے اور اس طرح مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دے اور سب کو خلیفہ کے قتل پر اکسائے اور سب مسلمان واقعات کے بارے میں ایک غیر معروف شخص کے اثر میں قرار پاتے ہیں و
شائد مستشرقین نے ان اوصاف کے ساتھ مسلمانوں کے چہرہ کو سیف کی روایات کے آئینہ میں دیکھا ہے کہ اس قدر اس کے گیت گارہے ہیں اور اپنے تاریخی تجزیہ و تحلیل کی بنیاد صرف سیف کی روایتوں کو قرار دیا ہے اور دوسری صحیح روایتوں کا ذکر تک نہیں کیا ہے
بحث کا نتیجہ
ہم ” فتوح“ اور ” ارتداد“ کے بارے میں سیف کی روایتوں کی مکمل تحقیق کے دوران اس حقیقت کو پاتے ہیں کہ اس شخص کی روایتیں صدر اسلام سے بحث کرنے والی معتبر اور مستند تاریخی اورعلمی کتابوں کی نسبت گہرے اور قابل توجہ اثرات رکھتی ہیں اور اس کے علاوہ سیف کی روایتوں اور دوسروں کی روایتوں کے درمیان تطبیق اور موازنہ کے دوران ہم علم رجال کے دانشوروں کی اس حقیقت کی تائید کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ سیف جھوٹا اور جھوٹ گڑھنے والا تھا ۰
لیکن، سیف کے زندیق ہونے کے بارے میں جس کا دانشوروں نے سیف پر الزام لگایا ہے ہم نے خدا کی مدد سے کتاب ” ۱۵۰ جعلی اصحاب “ میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے ۔
کتاب کے مطالب کی فہرست اور خلاصہ
ہم نے کتاب کے مقدمہ میں ” مباحث پر ایک نظر “ کے عنوان سے کہا ہے کہ ہم نے حدیث و تاریخ میں مسلسل وسیع و عمیق مطالعہ کیا ہے اور ان مطالعات کے دوران اس حقیقت کو پایا ہے کہ اسلامی علوم اور ثقافت اور مآخذمیں صحیح اسلامی احادیث اور حقیقی تاریخی واقعات کے نام پر موجود تین قسم کی روایتوں کی جانچ پڑتال انتہائی لازم و ضروری ہے اور صحیح اسلام کو پہچاننے میں یہ کام انتہائی مؤثر و واضح کنندہ ہے روایتوں کے یہ تین دستے ، جن کی تحقیقضروری ہے حسب ذیل ہیں :
۱ ۔ ام المؤمنین عائشہ کی روایتیں ۔
۲ ۔ پیغمبر خدا کے بعض اصحاب کی روایتیں ۔
۳ ۔ سیف بن عمر کی روایتیں
ہم خدا کی مدد سے مذکورہ تین قسم کی روایتوں اور دوسری روایتوں کو اپنی تالیفات کے سلسلہ میں ” حدیث و تاریخ “ کی چھان بین کے عنوان سے تحقیق کرنا چاہتے ہیں ہم نے سیف کی روایتوں کے ایک حصہ کی اسی کتاب میں جانچ پڑتال کی ہے ، اس کی باقی بچی روایتوں کو بھی انشاء اللہ اس کتاب کی جلد دوم و سوم میں بحث و تحقیق کریں گے ، اس فصل میں ہم گزشتہ بحث و تحقیق کا خلاصہ بیان کریں گے ۔
۱ ۔ عبدا للہ بن سبا کے افسانہ کی پیدائش
ایک ہزار سال سے یہ افسانہ مؤلفین اور مؤرخین کی زبان پر جاری ہے
مؤرخین کہتے ہیں :
اس مشن کو چلانے والا ، عبد اللہ بن سبا نامی ایک یہودی تھا اس نے عثمان کے زمانہ میں ظاھری اسلام قبول کیاتا کہ اپنے فتنہ انگیز منصوبوں کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان رخنہ اندازی کرے۔
کہتے ہیں :
یہ شخص دو موضوع کا پروپیگنڈا کرتا تھا ۔
۱ ۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد رجعت ۔
۲ ۔ یہ کہ ہر ایک پیغمبر کا کوئی نہ کوئی وصی اور جانشین تھا ، پیغمبر آخر الزمان کے وصی و جانشین علی ہیں اور عثمان ان کا حق غصب کرنے والے ہیں ۔
لہذا عثمان کے خلاف بغاوت کی جانی چاہئے تا کہ حق حقدار کے حوالے کیا جاسکے ۔
کہتے ہیں : عثمان کے خلاف بغاوت اسی پروپگنڈہ کے نتیجہ میں ہوئی تھی بغاوت کرنے والوں میں اصحاب اور تابعین کا ایک گروہ تھا کہتے ہیں کہ وہ عبدا للہ بن سبا کے گرویدہ تھے انھی سبائیہ کہتے تھے ۔
کہتے ہیں :
بصرہ سے باہر واقع ہونے والی جنگ جمل میں سبائی فتنہ پر پا کرنے کی غرض سے رات کی تاریکی میں دو لشکروں میں گھس گئے پو پھٹتے ہی کمانڈروں کی لاعلمی میں دونوں طرف سے تیر اندازی شروع ہوگئی اور اس طرح اچانک جنگ کے شعلوں کو بھڑکادیا ، لہذا ان تمام فتنوں کا سرچشمہ یہی یہودی ہے ۔
اس کے علاوہ اسی شخص نے مسلمانوں میں رجعت اور علی علیہ السلام کی جانشینی کا عقیدہ پھیلایا ہے !!
۲ عبدا للہ بن سبا کے افسانہ کے راوی
مؤرخین اورمصنفین معاصر اور غیر معاصر نے اس افسانہ کو سیف بن عمر نامی ایک شخص سے نقل کیا ہے ، درج ذیل اشخاص ،ان میں مشہور ترین افرادمیں سے ہیں ۔
۱ ۔ ابن اثیر
۲ ۔ ابن کثیر
۳ ۔ ابن خلدون
مذکورہ تین اشخاص نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں عبد اللہ بن سبا کے افسانوں کو طبری سے نقل کیا ہے ۔
۴ ۔ فرید وجدی نے ” دائرة المعارف “ میں ۔
۵ ۔ احمد امین نے ” فجر الاسلام “میں ۔
۶ ۔ حسن ابراہیم نے ” تاریخ سیاسی اسلام “ میں ۔
۷ ۔ میر خواند نے ” روضة الصفا “ میں ۔
مستشرقین
۸ ۔ فان فلوٹن نے ” تاریخ شیعہ “ میں ۔
۹ ۔ نیکلسن نے ” تاریخ ادبیات عرب “ میں ۔
۱۰ ۔ ولھاوزن نے ’ الدولة العربیة و سقوطھا “ میں ۔
۱۱ ۔ انسائیکلوپیڈیا کے مصنفین ” دائرة المعارف اسلامی “ میں ۔
۱۲ ۔ دوایت ۔ ایم ۔ ڈونالڈسن نے ” عقیدة الشیعہ “ میں ۔
تمام مذکورہ اشخاص نے اس افسانہ کو طبری سے بلا واسطہ نقل کیا ہے ۔
۱۳ ۔ غیاث الدین نے اس افسانہ کو ” حبیب السیر “ میں روضة الصفا سے نقل کیا ہے ۔
۱۴ ۔ ابو الفداء نے اپنی تاریخ میں ۔
۱۵ ۔ رشید رضا نے ” السنة و الشیعہ “ میں ۔
مذکورہ دونوں افراد نے ابن اثیر سے نقل کیا ہے ۔
یہاں تک مذکورہ دانشوروں نے ابن سبا کے افسانوں کو بلاواسطہ یا ایک واسطہ سے طبری سے نقل کیا ہے، طبری نے یہ افسانہ کہاں سے ذکر کیا ہے ؟
۱۶ ۔ طبری نے اپنی تاریخ میں اس افسانہ کو تفصیل کے ساتھ ” سیف بن عمر تمیمی “ سے روایت کیا ہے ۔
۱۷ ۔ذہبی نے ” تاریخ اسلام “ میں اس افسانہ کو ” سیف بن عمر “ کی کتاب سے ذکر کیا ہے اور طبری سے بھی روایت کیا ہے ۔
۱۸ ۔ ابن ابی بکر نے ” التمہید “ میں اس افسانہ کو ” سیف “ کے علاوہ ابن اثیر سے بھی نقل کیا ہے۔
۱۹ ۔ ابن عساکر نے ” تاریخ دمشق “ میں ” سیف بن عمر ّ“ سے روایت کیا ہے ۔
۲۰ ۔ ابن بداران نے تاریخ ابن عساکر کو خلاصہ کرکے اسے ” تہذیب تاریخ دمشق “ نام رکھا ہے اور جو کچھ تہذیب میں ذکر کیا ہے اسے ابن عساکر سے نقل کیا ہے۔
۲۱ ۔ سعید افغانی نے ” عائشہ و السیاسة “ میں طبری ، ابن عساکر ابن بدران اور ابن ابی بکر سے نقل کیا ہے ۔
اس تحقیق کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزرہا ہے کہ تمام دانشور اور مؤرخین اس افسانہ کو سیف بن عمر سے نقل کررہے ہیں لہذا سیف بن عمر کی شخصیت کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری ہے ۔
اس بنا پر تاریخ اسلام کی تصنیف میں سیف کی روایتوں کا انتہائی اہم اثر رہا ہے اور مناسب ہے کہ ان روایتوں کو جعل کرنےو الے (سیف بن عمر) کو اچھی طرح پہچان لیں تا کہ اسکی روایتوں کی قدر وقیمت معلوم ہوسکے ۔
۳ عبد اللہ بن سبا کے افسانہ کوخلق کرنے والا سیف بن عمر کی زندگی کے حالات :
علم رجال کے علماء نے تیسری صدی ہجری سے دسویں صدی ہجری تک سیف بن عمر کی زندگی کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سیف بن عمر دوسروں کی روایتوں میں دخل و تصرف کرکے حدیث جعل کرتا تھا اور وہ زندیق تھا !!
اس نے ۱۷۰ ھء کے بعد وفات کی ہے اور یادگار کے طور پر درج ذیل اپنی دو کتابیں چھوڑی ہیں :
۱ ۔ کتاب ” الفتوح و الردة “ کہ اس سے پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد عثمان کی خلافت تک کے واقعات پر بحث کی گئی ہے ۔
۲ ۔ کتاب ” الجَمل و مَسیر عليّ و عائشة “ کہ اس میں عثمان کے قتل اور جنگ جمل پر بحث و گفتگو کی گئی ہے ۔
یہی دو کتابیں ان دانشوروں وغیرہ کےلئے مآخذ بن گئی ہیں ۔
ہم نے اس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ سیف نے بعض تاریخی حوادث اور اسلامی فتوحات کے بر خلاف واقع، بیان کیا ہے اور بعض کو افسانہ کے طور پر مضحکہ خیر انداز میں نقل کیاہے ۔ اس نے بہت سے افسانوی سورماؤں کو ایسے خلق کیا ہے جو بعد میں اسلامی شخصیات اور اصحاب پیغمبر کی
فہرست میں قرار پائے ہیں بعض دانشوروں ، جیسے ابن عبد البر نے ” الاستیعاب “ میں ، ابن اثیر نے ” اسد الغابہ “ میں اور ابن حجر نے ”الاصابہ “ میں سیف کی روایتوں پر استناد کرکے سیف کے افسانوی سورماؤں کے حالات پر اصحاب پیغمبر کی حیثیت سے روشنی ڈالی ہے ۔
اس کے علاوہ جغرافیہ شناسی کی کتابوں کے مؤلفین جیسے ” معجم البلدان “ اور ” الروض المعطار “ کے مصنفین نے سیف کی روایتوں سے استناد کرکے ایسے شہروں اور اماکن کانام لے کر ان کی تفصیلات لکھی ہیں کہ سیف کی روایتوں کے علاوہ انھیں کہیں نہیں پایا جاتا ہے اور حقیقت میں ا ن کا کہیں وجود ہی نہیں ہے ۔
۴ اسامہ کا لشکر
سیف نے لشکر اسامہ کے بارے میں روایت کی ہے :
” پیغمبر خدا نے اپنی رحلت سے پہلے روم سے جنگ لڑنے کیلئے ایک لشکر کو آمادہ کیا تھا اور اسامہ کو اس لشکر کی کمانڈری سونپی تھی ، لشکر کے روانہ ہونے کے بعد ابھی اس کی آخری فرد مدینہ کی خندق سے نہ گزری تھی کہ پیغمبر خدا نے رحلت فرمائی ۔
اسامہ وہیں پر رک گئے اور عمر کو رسول خدا کے خلیفہ ابوبکر کے پاس بھیجا اور ان سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کی انصار نے بھی اس سے مطالبہ کیا کہ کمانڈری کو اسامہ سے چھین لیں اور کسی اور کو سونپیں جب عمر نے مذکورہ پیغام کو ابوبکر کے یہاں پہنچایا ابوبکر نے اٹھ کر عمر کی داڑھی پکڑی اور کہا : تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے ! اسامہ کو پیغبمر نے سپہ سالار معین فرمایا ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ میں ا س سے یہ عہدہ چھین لوں ؟ اس کے بعد ابو بکر آئے اور لشکر کو روانہ کیا اورانھیں رخصت کرتے ہوئے کہا : چلے جاؤ تا کہ خداوند عالم تمہیں قتل و طاعون کے ذریعہ نابود نہ کرے “
ہم نے جو معتبر روایتیں اس سلسلے میں سیف کے علاوہ دوسروں سے نقل کی ہیں ۱ ان کی جانچ پڑتال کرنے سے واضح ہو اکہ سیف نے تاریخ کو کس حد تک حقیقت کے برخلاف دکھایا ہے اور اس روایت میں کس قدر جھوٹ اور غیر واقعی مطالب موجود ہیں ۔
۵ سیف کی روایتوں میں سقیفہ کی داستان
سقیفہ کی روداد نقل کرنے کے سلسلے میں سیف بن عمر سے سات روایتیں نقل ہوئی ہیں ، ان میں یوں کہتا ہے :
” پیغمبر اسلام کی وفات کے د ن ، تمام مہاجرین نے کسی دعوت کے بغیر ابوبکر کی بیعت کی ! اور کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ، مگر وہ جو مرتد ہوئے تھے ۔ حضرت علی علیہ السلام گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خبر ملی کہ ابو بکر بیعت لینے کیلئے اٹھے ہیں پس جب انہوں نے یہ سنا، صرف ایک کرتاپہن کر گھرسے روانہ ہوئے اور مسجد کی طرف دوڑپڑے اور ابوبکر کی بیعت کی ۔ اس کے بعد ان کا لباس لایا گیا ،تب وہ لباس پہن کر ابوبکر کے پاس بیٹھ گئے۔
مزید روایت کی ہے :
ابوبکر نے اپنے خطبہ میں کہا: ہوشیار رہنا ! میرا ایک شیطان ہے جو میرے حواس خمسہ میں ا ور میرے رگ وریشہ میں تصرف کرتا ہےخبر دار رہنا، اگر ایسا ہو تو مجھ سے اجتناب کرنا ، ایسا نہ ہو کہ میں تمہارے پیراہن اور بدن سے اپنے حق میں استفادہ کروں ۔
ان روایتوں کے علاوہ دوسری روایتیں بھی حقیقت کے خلاف نقل کی ہیں ۔
ہم نے چوں کہ اس سلسلہ میں سیف کی روایتوں کی اسناد کی چھان بین کی ہے اس سے معلوم ہوجاتاہے ان سات روایتوں میں سے چار روایتوں کو سیف نے اپنے چار افسانوں کے سورماؤں سے نقل کیا ہے اور ان چار سورماؤں کے نام سیف کی روایتوں کے علاوہ ہم کہیں نہیں پاتے ۔
ہم نے اس سات روایتوں کے متن کی جانچ پڑتال کیلئے ناچار ہوکر اہل سنت کی کتابوں سے معتبر روایتیں نقل کی ہیں ، اور اس طرح سیف کی روایتوں میں بہت زیادہ جھوٹ کی موجودگی کو ثابت کردیا ہے ۔
۶ سقیفہ کی داستان صحیح روایتوں میں :
ان روایتوں میں ملتا ہے کہ پیغمبر خدا کو زندگی کے آخری لمحات میں عمر نے یہ موقع فراہم ہونے نہ دیا کہ آپ ایک وصیت نامہ لکھیں ! اس نے پیغبمر کی رحلت کے بعد تلوار کھیچ لی اور کہتا تھا : پیغمبر نے وفات نہیں کی ہے ! اور جو بھی یہ کہے گا کہ آپ نے وفات کی ہے ، اس کا سر قلم کردوں گا ! اس نے ان الفاظ کی اس قدر تکرار کی کہ یہاں تک کہ ابوبکر آگئے اور اس وقت عمر نے اچانک خاموشی اختیاری کی جبکہ اہل بیت پیغمبر رسول خداکے بدن کو غسل دینے میں مشغول تھے ، انصار سقیفہ میں جمع ہوئے تھے تاکہ سعد بن عبادہ کی بیعت کریں ، یہ خبر جب ابوبکر اور عمر کو پہنچی تووہ ابو عبیدہ اور چند دوسرے افراد کے ہمراہ سقیفہ کی طرف روانہ ہوگئے اور انصار کے ساتھ جنگ و جدل کیا ، نتیجہ کے طور پر ابوبکر کے حامی گروہ نے فتح پائی اور ابوبکر کی بیعت کی گئی ، اس کے بعد اسے مسجد النبی لے آئے اور لوگوں سے اس کیلئے بیعت لی، اس پوری مدت کے دوران پیغمبر خدا کا جنازہ آپ کے گھر میں پڑا رہا اورآنحضرت کے اہل بیت اور انصار میں سے ایک شخص کے علاوہ کوئی وہاں پر موجود نہ تھا سقیفہ اور مسجد النبی میں بیعت کا کام مکمل کرنے کے بعد یہ لوگ پیغمبر خدا کے جنازہ پر نماز پڑھنے کیلئے حاضر ہوئے ۔ آنحضرت کا جنازہ سوموار سے منگل کی شب تک اپنے گھر میں پڑا رہا اور منگل کی نصف شب کو اہل بیت نے آپ کی تجہیز و تکفین کا کام انجام دیا ۔
علی علیہ السلام، اہل بیت پیغمبر ، اصحاب میں سے ایک جماعت اور تمام بنی ہاشم نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی اور انہوں نے پیغمبر کی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر میں د ھرنا دیا، عمر چند لوگوں کے ہمراہ آئے تا کہ دھرنادینے والوں کو لے جاکر ابوبکر کی بیعت کرائےں ۔ لیکن علی علیہ السلام اور بنی ہاشم نے چھ مہینہ تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی ، مگر پیغمبر خدا کی بیٹی کی رحلت کے بعد اس کتاب میں یہ تمام روداد تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ، ان وقائع کو بیان کرنے کے بعد ہم نے بعض اصحاب جیسے ابن عباس، ابوذر ، مقداد، ابو سفیان ، معاویہ ، اور عمربن خطاب کے نقطہ نظر پیش کئے ہیں اور اس کے علاوہ سعد بن عبادہ کی زندگی کے آخری ایام کے حالات کا ایک خلاصہ بھی بیان کیا ہے اس کے بعد پھر سے سقیفہ کے بارے میں سیف کی روایتوں کا دوسروں کی صحیح روایتوں سے موازنہ کیا ہے اور نتیجہ کے طور پر سیف کی روایتوں کے حقیقت کے خلاف اور جھوٹے مواقع کو واضح کردیا ہے۔
سیف کی روایتوں کی چھان بین
اس تحقیق اور جانچ پڑتال کے بعد سیف کی روایتوں میں موجود جھوٹ کا پول کھل گیا اور مکمل طور پر واضح ہوگیا کہ کہ ” سیف بن عمر “ اصحاب کی زندگی کے بارے میں ، وقت کے حکام کی خواہش اور اس زمانے کے لوگوں کے جذبات کے مطابق جو چیز کسی بھی کتاب میں نہ لکھی گئی تھی ، کو مختلف صورتوں میں نقل کرکے اپنی روایتوں کیلئے اسناد جعل کرتا تھا اس کام کے نتیجہ میں اس نے اپنے اصل مقصد یعنی تاریخ اسلام کو مضحکہ خیز اور برعکس دکھانے کی ضمانت فراہم کی ہے اور آج صدیاں گزرنے کے بعد بھی سیف کے افسانے تاریخ اسلام کے نام پر زبان زد ہیں ۔
کیا ابھی بھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ہم اس جھوٹ (سیف اور اس کی جیسی روایتوں) کی جڑ کو تاریخ اسلام سے اکھاڑ کر پھینک دیں ؟ اور تحقیق و مجاہدت کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او رآپ کے خاندان کے خوبصورت چہرہ سے جھوٹ کے پردوں کو اٹھالیں ، تا کہ اسلام کا حقیقی روپ اپنے جمال و جلال کے ساتھ نمایاں ہوجائے ؟ یا یہ کہ ابھی بھی ان مضحکہ خیز افسانوں کے ساتھ دلچسپی دکھا کراسلام کے دفاع پر ان افسانوی اور انکے خالق کا دفاع کرکے ،اسلام کے حقائق کو پھیلانے کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ ایجاد کریں ؟!!
ہم نے خداوند عالم کی مدد سے اس کتاب کی پہلی جلد میں حقائق اسلام کو پہچاننے کی راہ میں ایجاد کی گئی بڑی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے ۔
انشا ء اللہ دوسری جلد میں بھی اسی راستے پر آگے بڑھتے ہوئے اس کے پہلے حصہ میں سیف کی ان روایتوں پر بحث و تحقیق کریں گے جن کے ذریعہ اسلام کو تلوار اور خون کا دین بتایا گیا ہے۔
ہم اس حصہ میں سیف کی ان فرضی اورخیالی جنگوں کی بحث و تحقیق کریں گے جنھیں اس نے تایخ اسلام میں شامل کیا ہے یہ جنگیں ابوبکر کی خلافت کے دوران ” مرتدین کی جنگ “ کے نام سے مشہور ہوئیں جیسے : ابرق الربذہ کی جنگ ، زی القصہ پر لشکر کشی ، قبیلہ طی کا ارتداد اور ان سے جنگ ، ارتداد اور جنگ ام زمل ، مہرہ کے باشندوں کا ارتداد ، عمان کے باشندوں کا ارتداد ،اہل یمن کے ساتھ مرتدین کی پہلی جنگ ، ارتداد اور جنگ اخابث اور یمن میں مرتدین کی دوسری جنگ۔
تاریخ اسلام میں چند دوسری جنگیں بھی ’ فتوح اسلامی “ کے نام پر درج کی گئی ہیں کہ ان کی بھی کوئی اصلیت یا بنیاد نہیں تھی ، جیسے : جنگِ سلاسل یا فتح ابلہ ، واقعہ مذار، فتح ولجہ ، فتح الیس ، فتح امغیشیا ، فتح فرات باذقلی ، جنگ حصید، جنگ مصیخ، جنگ مثنی ، جنگ زمیل اورجنگ فراض
سیف ان افسانوی جنگوں کو تاریخ اسلام میں نشر کرکے اسلام کو خون اور تلوار کا دین بتادینے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ بحث و تحقیق کے بعد واضح ہوتا ہے کہ یہ سب داستانین جھوٹی اور افسانہ کے علاوہ کچھ نہیں تھی ۔
کتاب کے دوسرے حصہ میں ، سیف کی چند ایسی روایتوں کی تحقیقات کی جائے گی جو اسلام کے عقائد کی توہمات کے ساتھ ملاوٹ کا سبب بنیں ہیں جیسے:
خالد بن ولید پرزہرکے اثر نہ کرنے کی مہمل داستان ،عمر بن خطاب کے بارے میں پیغمبر کی بشارتیں اور پیشنگوئیاں ، مسلمانوں کے نعروں کی آواز سے شہر حمص کی فتح
اس کتاب میں مذکوربعض اصحاب پیغمبر کی زندگی کے حالات
اس کتاب میں مذکور اصحاب کے اسماء :
الف: ۱ ۔ا بی بن کعب
۲ ۔ ابو الدرداء (عویمر)
۳ ۔ اسید بن حضیر
۴ ۔ ابن ام مکتوم (عمر ابن قیس)
۵ ۔ ابو ذؤیب
۶ ۔ ام مسطح
۷ ۔ اوس بن خولی
ب: ۸ ۔ براء بن عاذب
ث: ۹ ۔ ثابت بن قیس
ح: ۱۰ ۔ حباب بن منذر
خ: ۱۱ ۔ خالد بن ولید
ز: ۱۲ ۔ زبیر بن عوام
۱۳ ۔ زیاد بن لبید
۱۴ ۔ زید بن ثابت
س: ۱۵ ۔ سالم بن عبید
۱۶ ۔ سلمان محمدی
۱۷ ۔ سلمة بن سلامة
ص: ۱۸ ۔ صالح
ط: ۱۹ ۔ طلحة بن عبید اللہ
ع: ۲۰ ۔ ابو الولید عبادة بن صامت
۲۱ ۔ عبد الرحمان بن عوف
۲۲ ۔ عبدا للہ بن عباس
۲۳ ۔ عمرو بن قیس
۲۴ ۔ عویم بن ساعدہ
ف: ۲۵ ۔ فضل بن عباس
ق: ۲۶ ۔ قشم بن عباس
م: ۲۷ ۔محمد بن مسلمہ
۲۸ ۔ مغیرة بن شعبہ
۲۹ ۔ مقداد بن اسود
مذکورہ اصحاب کی زندگی کے حالات (حرف اول کی ترتیب سے)
۱ابی ابن کعب
ابی بن کعب قبیلہ خزرج اور انصار میں سے تھا اس نے عقبہ دوم میں شرکت کی ہے وہیں پر پیغمبر خدا کی بیعت کی ہے اس نے غزوہ بدر اور دوسرے غزوات میں شرکت کی ہے پیغمبرخدا کی خدمت میں آپ کے کاتبوں اور نامہ نویسوں میں شامل تھا اور خلافت عثمان کے آخری ایام میں وفات پائی ہے(۱)
۲ ابو الدرداء
اس کا نام عویمر تھا ، اس کے حالات حرفِ ” ع“ میں بیان کئے جائیں گے ۔
۳ اسید بن حضیر
یہ ان انصار میں سے ہے جو بیعت عقبہ دوم میں حاضر تھا اور اس نے پیغمبر کے تمام غزوات میں شرکت کی ہے اورجنگ احد میں اس نے استقامت کا مظاہرہ کیا ہے سقیفہ میں ابو بکر کی حمایت کرنے کے سبب ابوبکر، انصار میں سے کسی ایک کو اس پر مقدم نہیں جانتے تھے ، ۲۰ ھء یا ۲۱ ھء میں فوت ہوا ہے عمر ان کے جنازہ میں پیش پیش تھے(۲)
۴ ابو ذویب
اس کا نام خویلد تھا ، وہ ایک شاعر تھا جو پیغمبر کے زمانے میں مسلمان ہوا ، لیکن رسول خدا کا
____________________
۱۔ استیعاب ،ج ۱/ ۲۷ ۔۳۰ ، اصابہ ج ۱/ ص ۲۰۔ ۳۰ ۔ ۲۔استیعاب ،ج ۱/ ۳۱، اصابہ ج ۱/ ص ۶۴۔
دیدار نہ کرسکا جب اس نے سناکہ پیغمبر خدا بیمار ہوئے ہیں مدینہ کی طرف روانہ ہو ا، ابوبکر کی بیعت میں حاضر تھا ، پھر صحرا کی طرف چلا گیا کہا جاتا ہے کہ وہ رومیوں سے جنگ کے دوران سرزمین روم میں شہید ہوگیا(۱)
۵ ام مسطح
ام مسطح بن اثاثہ کا نام سلمی تھا ، وہ ابو رہم بن مطلب بن عبد مناف کی بیٹی ہے ا س کی ماں ریطہ بنت صخر تمیمی ہے ، وہ ابوبکر کی خالہ زاد بہن تھی(۲)
۶ اوس بن خولی
اوس بن خولی ، قبیلہ خزرج اور انصار میں سے تھا ، غزوہ بدر اور اسکے بعد والے غزوات میں شرکت کی ہے عثمان کے زمانے میں مدینہ میں فوت ہوا ہے ۳
۷ براء بن عازب
براء بن عازب انصاری کی کنیت ابو عمر تھی وہ قبیلہ اوس میں سے تھا ، اور ان لوگوں میں سے تھا کہ جنکو رسول خدا نے جنگ بدر میں عمر کم ہونے کی وجہ سے جہاد کی اجازت نہیں دی تھی اور انھیں لوٹا دیاتھا اس کے بعد چار غزوات میں رسول خدا کے ساتھ شرکت کی اورجنگ جمل ، صفین اور نہروان میں علی علیہ السلام کے ہمراہ تھا ، آخر میں ساکن کوفہ ہوا اورمصعب بن زبیر کی حکومت کے دوران کوفہ
____________________
۱۔ استیعاب، ج ۲/ ۶۴۶ ، اصابہ ،ج۴/ ص ۳۸۸ میں ایجاز مخلی ذکر ہوا ہے اسد الغابہ ،ج ۵/ ۱۸۸ ،اس کی زندگی کے حالات تفصیل کے ساتھ کتاب اغانی طبع دار الکتب ، مصر ج ۶/ ۲۴۶ ۔ ۲۷۹ میں درج ہوئے ہیں
۲۔ استیعاب ،ج ۳/ ۴۷۰ ، اصابہ، ج ۴/ ص ۴۷۲ ۳۔ استیعاب ،ج ۱/ ۴۸، اصابہ ج ۱/ ص ۱۴۵ و ص ۹۵
میں اس دنیا سے چلا گیا(۱)
۸ ثابت بن قیس انصاری
ثابت بن قیس شماس خزرجی انصاری، قبیلہ اوس میں سے تھا ، اس نے غزوہ احد اور اس کے بعد والے غزوات میں شرکت کی ہے جنگ یمامہ میں خالد کی کمانڈ ری میں قتل ہوا(۲)
۹ حباب بن منذر
وہ قبیلہ انصارمیں سے تھا ، اس نے غزوہ بدر اورپیغمبر اسلام کے دوسرے غزوات میں شرکت کی ہے ، عمر کی خلافت کے د وران فوت ہوا ہے(۳)
۱۰ خالد بن ولید
خالد بن ولید کی کنیت ابو سلیمان تھی وہ قریش کے قبیلہ مخزوم سے تھا اس کی ماں لبابہ خزان ہلالیہ کی بیٹی اور پیغمبر کی بیوی میمونہ کی بہن تھی ، دوران جاہلیت سواروں کی سرداری اس کے ذمّہ تھی ، صلح حدیبیہ کے بعد اس نے مدینہ مہاجرت کی اور فتح مکہ میں حاضر تھا ، ابوبکر کی خلافت کے دوران قشون اسلامی کا کمانڈر مقرر ہوا اور اسے سیف اللہ کہتے تھے حمص یا مدینہ میں ۲۱ ھء یا ۲۲ ھء میں فوت ہوا ہے(۴)
۱۱ زبیر بن عوام
زبیر بن عوام قرشی اسدی ،اس کی ماں پیغمبر کی پھوپھی صفیہ تھی ، کہتے ہیں : زبیرنے ۱۲ سال یا
____________________
۱۔ استیعاب ،ج ۱/ ۷۴، اصابہ ،ج ۱/ ص ۱۹۹، اسد الغابہ، ج ۱/ ۲۲۹۔
۲۔ استیعاب ،ج ۱/ ۳۶۴ اصابہ، ج ۱/ ص ۲ ۳۰ ۔
۳۔ استیعاب ،ج ۱/ ۳۵۳ ، اصابہ ،ج ۱/ ص ۲ ۳۰ اسد الغابہ، ج۱/ ۳۶۴ ۔ ۴۔ استیعاب ،ج ۱/ ۴۰۵ ، اسد الغابہ، ج ۲/ ص ۹۳۔
۸ سال کی عمر میں مکہ میں اسلام قبول کیاوہ ان افراد میں سے تھے جو عثمان کے مخالف تھے ، جوں ہی عثمان قتل ہوئے ، اس نے علی علیہ السلا م کی بیعت کرنے میں پیش قدمی کی ، بیعت کرنے کے بعد عثمان کی خونخواہی کیلئے بصرہ چلا گیا جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ء ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام نے زبیر کو طلب کیا اور اس سے کہا؛ کیا رسول خدا کی فرمائش تجھے یاد ہے کہآنحضرت نے فرمایا: اگر علی سے جنگ کردگے تو تم ظالم قرار پاؤگے ؟
زبیر نے یہ سن کر جنگ سے منہ موڑلیا اور واپس لوٹا عمرو بن جزموز تمیمی اس کے پیچھے چلا گیا اور اسے فوراً قتل کر ڈالا یہ واقعہ ۳۶ ھء میں پیش آیا اور زبیر کی عمر اس وقت ۶۶ سال یا ۶۷ سال تھی(۱)
۱۲ زیاد بن لبید
وہ قبیلہ بنی بیاضہ سے تعلق رکھتا ہے نیز مہاجرین و انصار دونوں میں شمار ہوتا تھا جب پیغمبر مکہ میں تھے زیاد بن لبید آپ کے حضور آکر آپ کے ساتھ رہتا تھا ، یہاں تک آنحضرت نے مدینہ ہجرت فرمائی اس نے بیعت عقبہ ، غزوہ بدر اور اس کے بعد والے غزوات میں شرکت کی ، خلافت معاویہ کے آغاز میں فوت ہوا ہے(۲)
۱۳ زید بن ثابت انصاری
وہ قبیلہ بنی نجار کا ایک انصار تھا ، بدر کے دن رسول خدا نے اسے کم عمرہونے کی وجہ سے لشکر
____________________
۱۔ طبری و ابن اثیر حوادث ۳۶ھء ملاحظہ ہو ، طبقات ابن سعد، ج ۳/ ق ۱/۷۷ ، اصابہ ج ۳/ ق ۱/۷ حرف ”ز“ صواعق المحرقہ ، باب ہشتم کے آخر پر خلافت علی علیہ السلام کے بیان میں کنزل العمال جمل کے ذکر میں کتاب فتن و العقد الفرید، ج ۳/ ۹۲ ، ۹۶ ، ۹۸ ۔ ۱۰۹ جنگ جمل کی ذکر میں ، مسند احمد حنبل، ج ۱/ ۱۱۶۵ ، اور شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱/ ۵۷ ۔۵۸ )
۲۔ استیعاب ،ج ۱/ ۵۴۵، اصابہ، ج ۱/ ص ۵۴۰
میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی لیکن اس نے بعد والی جنگوں میں شرکت کی ، عمرو عثمان جب کبھی مدینہ سے باہر چلے جاتے تھے تو زید بن ثابت کو اپنا جانشین مقرر کرتے تھے وہ عثمان کے نڈرطرفداروں میں سے تھا اور علی علیہ السلام کی کسی بھی جنگ میں شرکت نہیں کی اس کی وفات کا سال معلوم نہیں ہے
۱۴ سالم بن عبید اللہ شجعی
وہ اہل صفہ میں سے تھا ، اپنی آخری عمر میں کوفہ میں رہائش کرتا تھا(۱)
۱۵ سلمان فارسی
ان کی کنیت ابو عبیدا للہ تھی، وہ اصفہان یا رام ہرمز کا باشندہ تھے ، مشہور ہے کہ انھوں نے ایک طولانی عمر کی ہے اورانھیں حضرت عیسی کے بعض اولیا ء سے ملاقات کی توفیق حاصل ہوئی ہے ایک واقعہ میں اسیر ہوئے اور انھیں مدینہ میں ایک یہودی عورت کے ہاتھوں فروخت کیا گیا ، سلمان نے اس عورت کی ملکیت میں خود کو خرید کر آزاد کیا اور شرائط پورے ہونے پر مکمل طور پر آزاد ہوئے غزوہ خندق اور اس کے بعد واقع ہوئے دوسرے غزوات میں شرکت کی ۔ عمر کے زمانے میں مدائن کے گورنر مقرر ہوئے اور انھوں نے عمر کی خلافت کے اواخر یا عثمان کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں وفات پائی(۲)
۱۶ سلمة بن سلامہ
اس کی کنیت ابو عوف تھی اور قبیلہ عبدا لاشہل کے انصار میں سے تھا اس کی ماں کا نام سلمی تھا اور وہ انصار میں سے تھی ، وہ سلمة بن خالد کی بیٹی تھی ، سلمة بن سلامہ نے بدر اور پیغمبر کے دیگر غزوات
____________________
۱۔ استیعاب، ج ۳/ ۷۰، اصابہ، ج ۲/ ص ۵ ،اسد الغابہ، ج ۲/ ۲۴۷
۱۔ استیعاب ،ج ۲/ ۳ ۵۔۵۹، اصابہ، ج ۲/ ص ۶۰ ، اسد الغابہ، ج ۳/ ۳۳۶۔
میں شرکت کی ہے ۔ ۱۴ ھء میں ”جسر“ ابی عبید واقعہ میں قتل ہوا
۱۷ صالح
وہ پیغمبر کا آزاد کیا ہوا غلام تھا اس کا نام شقران تھا ، اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے(۱)
۱۸ طلحہ بن عبید اللہ
ابو محمد طلحہ بن عبید اللہ قرشی تیمی ، خلیفہ اول ابوبکر کا چچیرا بھائی تھا ، اس کی ماں صعبہ بنت خضرمی اہل یمن تھی ، طلحہ نے غزوہ احد میں شرکت کی اور اسی جنگ میں اس کی انگلی زخمی ہوکر مفلوج ہوئی،رسول خدا نے اسے زبیر کا بھائی قرار دیا تھا ، وہ ان افراد میں سے تھا جنہوں نے عثمان کے خلاف شدید بغاوت کی تھی جب عثمان قتل کردیئے گئے تو حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کرنے میں پیش قدمی کی ، لیکن بیعت کے بعد عثمان کی خون خواہی کے عنوان سے بصرہ روانہ ہوا، روز جمل مروان بن حکم نے اسے دیکھ کر کہا: ” اس کے بعد ہم خون خواہی کیلئے نہیں اٹھیں گے ، پھر بعد میں ایک تیر پھینک کر اسے ہلاک کیا “(۲)
۱۹ عبادة بن صامت
اس کا نام ابو الولید عبادة بن صامت انصاری تھا اس کی ماں کا نام قرة العین تھا اور وہ عبادة بن فضلة العجلان کی بیٹی تھی ۔ عبادہ اپنے قبیلہ کا سردار تھا ، اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے اور اس کے
____________________
۱۔ استیعاب، ج ۲/ ۸۳، اصابہ ج ۲/ ص ۶۱ ، اسد الغابہ، ج ۲/ ۳۲۸
۲۔ طبقات ابن سعد ،ج ۳/ ق۱/ ۱۵۶ و ۱۸۹ ، استیعاب و اسد الغابہ، ج ۳/ ۵۹ ، اصابہ، ج ۳/ ۳۹۳ ق ۱/ از حرف ” ط“ مسعودی مروج الذہب، ج ۲/ ۱۱ ، و تہذیب ابن عساکر، ج ۷/ ۸۴ ، تاریخ ابن کثیر ،ج ۷/ ۲۴۷ و انساب الاشراف بلاذری ، ج ۵/ ۴۴۔ ۹۰ و الریاض النضرہ، ج ۲/ ۲۵۵ ،، عقد الفرید ، ج ۳/ ۹۲ ، ۹۶، ۹۸، ۱۰۹۔
علاوہ رسول خدا کی تمام جنگوں میں شرکت کی ہے ۔ عمر نے اسے فلسطین بھیجا تا کہ وہاں کے باشندوں کو قرآن مجید اور دینی مسائل سکھائے ۔
معاویہ کے ساتھ عبادہ کی داستانیں ہیں بعض امور میں وہ معاویہ پر اعتراض کرتا تھا اوربعض مسائل میں معاویہ اس کے مشورہ پر عمل کرتا تھا ، ۳۴ ھء میں ” رملہ “ کے مقام پر فوت ہوا ہے بعض نے کہا ہے کہ وہ ۴۵ ھء تک زندہ تھا(۱)
۲۰ عبدا لرحمان بن عوف
اس کا نام عبد الرحمان بن عوف قرشی زہری تھا ، اس کی ماں کا نام شفا تھا اور وہ عوف بن عبد بن حرث بن زہرہ کی بیٹی تھی، وہ عام الفیل کے دس سال بعد پیدا ہوا ہے دوران جاہلیت میں اس کا نام عبد عمرو یا عبد الکعبہ تھا ، رسول خدا نے اس کا نام عبدالرحمان رکھا ، ابتداء میں اس نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اس کے بعد مدینہ ہجرت کی ، اس نے غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں شرکت کی وہ ان چھ افراد میں سے ایک ہے جنہیں عمر نے شورائے خلافت کے طور پر انتخاب کیا تھا ، ۳۱ ھء یا ۳۲ ھء میں مدینہ میں فوت ہوا اور اسے بقیع میں دفن کیا گیا ۔(۲)
۲۱ عبدا للہ ابن عباس
وہ ابن عباس کے نام سے مشہور تھے ان کی کنیت ابو العباس تھی ، ان کے باپ پیغمبر خدا کے چچا
____________________
۱۔ استیعاب ،ج ۳/ ۱۰۶، اصابہ، ج ۴/ ص۲۸ ، ق ا/ از حرف ” ع“ ، طبقات ابن سعد ، ج ۳/ ق ۲/ ۹۴ مسند احمد، ج ۵/ ۳۲۹ اسد الغابہ، ج ۲/ ۳۳۶۔
۲۔استیعاب ،ج ۲/ ۳۹۵ ۔ ۳۹۰ ، اسد الغابہ ،ج ۳/ ۳۱۳ ، ۲۱۷ ، اصابہ، ج ۲/ ۴۰۸ ، ۴۱۰ ،
عباس ابن عبدالمطلب تھے ، ابن عباس ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے اور جنگ جمل ، صفین ، اور نہروان میں حضرت علی علیہ السلام کی سمیں حمایت میں شرکت کی ہے ، حضرت علی علیہ السلام نے انھیں بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔
حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے آخری ایام میں انھوں نے عہدہ سے کنارہ کشی کی ، عبدا للہ بن زبیر کی خلافت کیلئے بیعت کے دنوں وہ مکہ میں تھے، ابن زبیر نے انھیں جلا وطن کرکے طائف بھیج دیا اور ۶۸ میں وہیں پر وفات پائی(۱)
۲۲ عمروبن قیس
یہ وہی ابن مکتوم مؤذن ہے اس کی ماں کا نام عاتکہ تھا وہ عبدا للہ بن عنتکہ بن عائذمخزومی کی بیٹی ہے ، وہ مہاجرین کے طبقہ اول سے تعلق رکھتا ہے ، یہاں تک رسول خدا نے مدینہ سے باہر جاتے وقت تیرہ بار اسے اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے کہتے ہیں سورہ ” اعمی“ میں لفظ ” اعمی “ سے مراد یہی ابن مکتوم ہے اس نے جنگ قادسیہ میں شرکت کی ہے اور وہیں پر شہید ہوا، بعض نے کہا ہے کہ جنگ قادسیہ کے بعد مدینہ میں اس دنیا سے چلا گیا(۲)
۲۳ عویمر
اس کا نام ابو الدرداء یا عامر ہے ، اس کے باپ کا نام ثعلبہ یا عبدا للہ یا زید یا عامر بن قیس بن امیةبن عامر بن عدی بن کعب بن خزرج انصاری تھا عویمر بدر کے دن اسلام لایا ہے معاویہ نے
____________________
۱۔ استیعاب، ج ۲/ ۴۹۴ ۔ ۴۹۵ ، اسد الغابہ، ج ۴/ ۱۲۷ ، اصابہ، ج ۲/ ۵۱۶ ،۔
۲۔ استیعاب ،ج ۲/ ۴۹۴ ۔ ۴۹۵ ، اسد الغابہ ،ج ۴/ ۱۲۷ ، اصابہ، ج ۲/ ۵۱۶ ،
اسے خلافت عمر کے دوران دمشق کا قاضی مقرر کیا تھا ، وہ ۳۲ ھء میں فوت ہوا ہے(۱)
۲۴ عویم بن ساعدہ
وہ ایک انصاری ہے اور قبیلہ اوس سے تعلق رکھتا ہے اس نے بیعت عقبہ ، جنگ بدر اور دوسری جنگوں میں شرکت کی ہے ، عمر کی خلافت کے دوران اس نے وفات پائی ہے، عمر نے اس کی قبر پر بیٹھ کر کہا: روئے زمین پر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ میں اس قبر کے صاحب سے بہتر ہوں(۲)
۲۵ فضل بن عباس
اس کی ماں کا نام لبابہ صغری تھا وہ حرث بن حزن ہلالیہ کی بیٹی تھی ، فضل بن عباس اپنے بھائیوں سے بڑا تھا اور ان افراد میں سے تھا جنہوں نے غزوہ حنین میں شرکت کی ہے اور ثابت قدم رہے ہیں ۔ وہ خلافت ابوبکر یا عمر کے دوران اس دنیا سے چلا گیا ہے(۳)
۲۶ قثم بن عباس
قثم بن عباس ، قیافہ کے لحاظ پیغمبر خدا سے شباہت رکھتا تھا ، حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے مکہ کا حاکم مقرر ہوا اور حضرت کی شہادت تک اسی عہدہ پر قائم تھا، معاویہ کے زمانے میں سمرقند میں شہید ہوا(۴)
____________________
۱۔ استیعاب ،ج ۳/ ۱۷۰ ، اسد الغابہ ،ج ۴/ ۱۵۹ ، اصابہ، ج ۵/ ق۱/۴۶ ۔
۲۔ استیعاب، ج ۳/ ۱۷۰ ، اسد الغابہ، ج ۴/ ۱۵۸ ، اصابہ ،ج ۵/ ق۱/۴۵ ۔
۳۔ استیعاب ،ج ۳/ ۲۰۲ ، اسد الغابہ ،ج ۴/ ۱۸۴ ، اصابہ، ج ۵/ ۴۶ ۔
۴۔ استیعاب ،ج ۲/ ۲۶۲،، اسد الغابہ، ج ۴/ ۱۹۷ ، اصابہ، ج ۳/ ۲۱۸ )
۲۷ محمد بن مسلمہ
وہ قبیلہ اوس کا ایک انصاری تھا اس نے غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں شرکت کی ہے وہ ان افراد میں سے تھا جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت نہیں کی ہے ۔ ۴۳ ھ ء یا ۴۶ ھء میں فوت ہوا ہے(۱)
۲۸ مغیرة بن شعبہ
مغیرہ بن شعبہ ثقفی کی ماں خاندان نصر بن معاویہ سے تھی ، مغیرہ نے غزوہ خندق کے سال اسلام قبول کیا اور مدینہ آیا ، صلح حدیبیہ میں شرکت کی رسول خدا نے اسے قبیلہ ثقیف کے بتوں کو توڑنے کیلئے ابو سفیان کے ہمراہ طائف روانہ کیا تھا اس نے جنگ یرموک میں شرکت کی ہے اور وہیں پر اس کی آنکھ زخمی ہوئی ۔
خلافت عمر کے زمانے میں اس کی طرف سے بصر کا حاکم مقرر ہوا ، جب کچھ لوگوں نے عمر کے پاس شہادت دی کہ مغیرہ مرتکب زنا ہوا ہے تو اسے بصرہ کی حکمرانی سے معزول کیا گیا ، اس کے بعد اسے کوفہ کا حاکم معین کردیا گیا معاویہ کے زمانہ میں دوبارہ کوفہ کا حاکم مقرر ہوا ۵۰ ھ تک اسی منصب پر برقرار تھا کہ فوت ہوگیا کہتے ہیں اس کی تین سو اور ایک قول کے مطابق ایک ہزار بیویاں تھیں(۲)
____________________
۱۔ استیعاب ،ج ۳/ ۲۱۶ ، اسد الغابہ، ج ۴/ ۲۳۰ ، اصابہ، ج ۳/۳۶۳۔
۲۔ استیعاب ،ج ۳/ ۴۵۳ ، اسد الغابہ، ج ۴/ ۴۰۹، اصابہ ،ج ۳/ ۴۳۳۔ ۴۳۴۔
۲۹ مقداد بن اسود
وہ قبیلہ کندہ سے ہیں اور عمرو بن ثعلبہ بہرانی کے فرزندہیں کہتے ہیں کہ اپنے قبیلہ میں ان پر قتل کا الزام لگ گیا اور قبیلہ کندہ کی طرف مہاجرت کی اور اس قبیلہ کے ساتھ عہد و پیمان باندھا زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ انکے اور قبیلہ کندہ کے ایک شخص کے درمیان اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوا مقداد نے کندی کی ٹانگوں پر ایک تلوار مار کر مکہ کی طرف فرار کر گئے اور اسود بن عبد یغوث زہری سے دوستی کا عہد و پیمان باندھا، اسود نے انھیں منہ بولا بیٹا بنالیا، اسی لئے انھیں مقداد بن اسود کہتے ہیں مقداد اسلام کے اعتبار سے سابقین میں سے تھے انھوں نے پہلے حبشہ ہجرت کی اس کے بعد مدینہ ہجرت کی ۔
جب مدینہ میں آیة نازل ہوئی کہ ہر ایک کو اس کے باپ سے پکارا جائے تو مقداد کو بھی مقداد بن عمر پکارنے لگے ، رسول خدا نے فرمایا: خداوند عالم نے مجھے اپنے اصحاب میں سے چار افراد کی دوستی کا حکم فرمایا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ وہ (خدا) انھیں دوست رکھتا ہے
آپ سے سوال کیا گیا : وہ چار افراد کون ہیں ؟
آپ نے فرمایا: علی علیہ السلام، مقداد ، سلمان اور ابوذر ، مقداد نے ۳۳ ھء میں وفات کی اور انھیں بقیع میں دفن کیا گیا ۔(۱)
____________________
۱۔ استیعاب، ج ۳/ ۴۵۳ ، اسد الغابہ، ج ۴/ ۴۰۹، اصابہ، ج ۳/ ۴۳۳، ۴۳۴۔
فہرست
خطوط اور مقدمے ۴
کتاب عبد اللہ بن سبا کی علمی قدرو قیمت ۵
مصر کی الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر جناب ڈاکٹر حامد حفنی داؤد کا خط ۵
خط کا مضمون ۶
ایک محترم شیعہ دانشور شیخ محمد جواد مغنیہ کا نظریہ ۱۳
الازہر یونیورسٹی مصر کے مجلہ ” جامع الازھر “ میں شائع شدہ اعتراضات کا جواب ۱۷
مباحث پر ایک نظر ۲۶
کتاب کی دوسری طباعت پر مصنف کا مقدمہ ۲۶
اول : حدیث و تاریخ پر اثر ڈالنے والے تین بنیادی اسباب کی تحقیق۔ ۲۶
دوم : ام المؤمنین عائشہ کی احادیث ۲۶
سوم : صحابہ کی احادیث ۲۶
چہارم : سیف کی احادیث: ۲۶
آغاز بحث ۲۹
پہلی طباعت کا مقدمہ ۲۹
پہلا حصہ : عبدا للہ بن سبا کا افسانہ ۳۲
افسانہ کی پیدائش ۳۲
افسانہ کے روایوں کا سلسلہ ۳۲
عبد الله بن سبا کے افسانہ کی پیدائش ۳۲
۱ابوذر ۳۵
۲ عمار بن یاسر ۳۶
۳ محمد بن ابی حذیفہ ۳۷
۴ عبد الرحمان بن عدیس بلوی ۳۸
۵ محمد بن ابی بکر ۳۸
۶ صعصعہ بن سوہان عبدی ۳۹
۷ مالک اشتر ۴۰
مسلمان تاریخ نویسوں کی نظر میں عبدالله بن سبا کی داستان ۴۲
۱ سید رشید رضا(۱) ۴۲
۲ ابو الفدء ۴۳
۳ ابن اثیر ۴۳
۴ ابن کثیر ۴۴
۵ ابن خلدون ۴۵
۶ فرید وجدی ۴۶
۷ بستانی ۴۶
۸ احمد امین ۴۶
۹ حسن ابراہیم ۵۲
۱۰ ابن بدران ۵۳
۱۱ سعید افغانی ۵۴
غیر مسلم مؤرخین کی نظر میں عبدللہ بن سبا کی داستانیں ۵۵
۱ فان فلوٹن ۵۵
۲ نکلسن ۵۵
۳ اسلامی دائرة المعارف لکھنے والے مستشرقین ۵۶
۴ڈوایت ، ایم، ڈونالڈسن ۵۷
۵ ولھاوزن ۵۸
۱ میر خواند: ۶۰
۲ غیاث الدین ۶۰
عبداللہ بن سبا کی داستان کے اسناد ۶۰
۱ ابن سباکی داستانوں کےلئے طبری کی سند ۶۱
۲ ابن سبا کی داستانوں کیلئے ابن عساکر دمشقی کی سند ۶۲
۳ ابن ابی بکر ۶۳
۴ ذھبی(۱) ۶۴
عبداللہ بن سبا کے افسانہ کو گڑھنے والا سیف بن عمر ۶۴
علمائے رجال ۶۵
سیف بن عمر کون ہے ؟ ۶۵
سیف کی روایتیں ۶۵
سیف علم رجال کی کتابوں میں : ۶۸
سیف کی زندگی کے حالات کے منابع ۷۲
دوسرا حصہ : سیف کی روایت میں سقیفہ کی داستان ۷۳
سپاہ اسامہ ۷۴
سیف کی روایت میں سپاہ اسامہ ۷۴
سپاہ اسامہ سیف کے علاوہ دوسری روایتوں میں ۷۵
تطبیق و موازنہ کا نتیجہ ۷۸
سپاہ اسامہ میں موجود نامور اصحاب ۸۰
سپاہ اسامہ روانہ کرنے میں پیغمبر خدا کا مقصد ۸۲
سیف کی احادیث میں سقیفہ کی داستان ۸۳
سیف کی روایتیں ۸۴
پہلی روایت : ۸۴
دوسری روایت : ۸۴
تیسری روایت : ۸۵
چوتھی روایت : ۸۶
پانچویں روایت : ۸۶
چھٹی حدیث: ۸۷
ساتویں حدیث: ۸۸
سیف کی روایتوں کا مآخذ ۹۰
سیف کی روایتوں کے مآخذ ۹۲
داستان سقیفہ کی داغ بیل ۹۳
وہ فرمان جس کی اطاعت نہیں ہوئی ۹۳
وصیت نامہ ، جو لکھا نہ جاسکا ۹۳
وضاحت طلبی ۱۰۱
پیغمبر خدا کی وفات ۱۰۳
رسول خدا کی رحلت اورحضرت عمر کا اس سے انکار ۱۰۳
سقیفہ کی جانب ۱۱۱
پیغمبر خدا کی تدفین سے پہلے خلافت کے امیدوار ۱۱۴
خلافت کا پہلا امیدوار ۱۱۴
خلافت کا دوسرا امیدوار ۱۱۸
تیسرا امیدوار ، یا کامیاب امیدوار ۱۱۹
سقیفہ میں ابو بکر کی بیعت ۱۲۲
سقیفہ میں خلافت پر ہنگامہ ۱۲۲
حضرت ابو بکر کی بیعت میں ایک عجیب سیاست ۱۲۶
سقیفہ کی بیعت کا اختتام ۱۳۰
ابو بکر کی عام بیعت اور پیغمبر اکرم کی تدفین ۱۳۱
ابو بکرمنبر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ۱۳۲
بیعت کے بعد ۱۳۴
پیغمبر خدا کی تدفین اور اس میں شریک افراد ۱۳۵
حضرت ابو بکر کی بیعت کے مخالفین ۱۳۸
حضرت فاطمہ زہر ا (س) کے گھر پر دھرنا دینے والے ۱۴۳
ابو بکر کی بیعت سے علی کی مخالفت ۱۵۲
علی کو خلافت کی کچہری تک کھینچ لیا جاتا ہے ۱۵۳
حضرت فاطمہ زہرا کے مبارزے ۱۵۵
مبارزات کا خاتمہ اورعلی کی بیعت ۱۵۹
ابو بکر سے بیعت کی قدر و قیمت ۱۶۲
ابو بکر کی بیعت کے بارے میں بزرگ اصحاب کے فیصلے ۱۶۴
۱ فضل بن عباس ۱۶۵
۲ عتبہ بن ابی لہب ۱۶۵
۳ عبد اللہ بن عباس(۲) ۱۶۶
۴ سلمان فارسی : ۱۶۸
۵ ام مسطح : ۱۶۹
۶ ابوذر ۱۷۰
۷ مقداد بن عمرو ۱۷۰
۸ بنی نجار کی ایک عورت ۱۷۱
۹ معاویہ کا نظریہ ۱۷۲
۱۰ خالد بن سعیداموی ۱۷۳
۱۱ سعد بن عبادہ انصاری ۱۷۵
۱۲ عمر کا نظریہ ۱۸۲
۱۳ ابو سفیان ۱۸۲
حضرت ابوبکر کی حکومت کے خلاف ابو سفیان کی بغاوت ۱۸۳
سقیفہ کی داستان کے بارے میں سیف کی روایتوں کی چھان،بین ۱۹۶
کتاب کی فصلوں کے درمیان ربط ۱۹۶
سیف کی روایتیں ۱۹۶
تطبیق اور بررسی ۱۹۹
آغاز کی طرف بازگشت ۲۰۷
تیسرا حصہ : ۲۰۸
سیف کی روایتوں میں ارتداد اور مرتد ۲۰۸
اسلام میں ارتداد ۲۰۹
ارتداد کے معنی ۲۰۹
پیغمبر کے زمانے میں مرتد ۲۱۰
ابو بکر کے زمانے میں ارتداد ۲۱۱
ابو بکر کی مخالفت ارتداد نہیں ہے ۲۱۳
سیف کی روایتوں میں ارتداد ۲۱۶
قبیلہ طی حضرت ابو بکر کی جنگ کا باعث ۲۱۶
معتبر روایتوں میں مالک بن نویرہ کی داستان ۲۲۶
سیف کی روایت میں مالک بن نویرہ کا ارتداد ۲۳۷
سیف کی روایتیں ۲۳۸
مالک کی داستان کے بارے میں سیف کی روایتوں کی چھان بین ۲۴۴
گزشتہ فصلوں کا ربط ۲۴۵
سند کے لحاظ سے سیف کی روایتوں کی قدر وقیمت ۲۴۵
راویوں کے طبقات ۲۴۶
متن کے لحاظ سے سیف کی روایتوں کی قدر وقیمت ۲۵۱
علاء حضرمی کی داستان اور بحرین کے لوگوں کا ارتداد ۲۵۴
سیف کی روایتوں میں علاء کی داستان ۲۵۴
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں علاء کی داستان ۲۵۹
سیف کی روایت کا متن اور دیگر تاریخ نویسوں کے متن سے اس کی تطبیق : ۲۶۰
سیف کی روایتوں کی سند ۲۶۲
ام زمل کا ارتداد اور حواب کی داستاں ۲۶۴
سیف کی روایت کے مطابق داستا ن حواب ۲۶۵
سیف کی روایت کی سند ۲۶۶
سیف کی روایت کے متن کی قدر و قیمت ۲۶۷
دوم حواب کے کتوں کی داستان ہے ۲۶۹
غیر سیف کی روایت میں حواب کی داستان ۲۷۰
چھان بین اور موازنہ کانتیجہ ۲۷۵
چوتھا حصہ :طاقتور بدکرداروں کے حق میں سیف کا دفاع ۲۷۶
ابو سفیان سے زیاد کا رشتہ جوڑنے کی داستان ۲۷۷
ایک شرمناک اور ناشناس رشتہ ۲۷۷
زیاد کا شجرہ نسب ، سیف کی روایت میں : ۲۷۸
سیف کی روایت کی سند ۲۸۰
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں زیاد کا نسب ۲۸۱
تحقیق و جستجو کا نتیجہ ۲۸۲
مغیرہ بن شعبہ کے زنا کی داستان ۲۸۴
سیف کی روایت میں مغیرہ کے زنا کی داستان ۲۸۴
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں مغیرہ کے زنا کی داستان ۲۸۶
چھان بین کا نتیجہ ۲۹۶
سند کے لحاظ سے : ۲۹۶
متن کے لحاظ سے : ۲۹۶
ابو محجن کی شراب خواری کی داستان ۲۹۷
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ابو محجن کی داستان ۲۹۷
سیف کی روایت میں ابومحجن کی داستان ۳۰۴
سیف کی روایت کی سند کی چھان بین ۳۰۶
متن روایت سیف کی چھان بین: ۳۰۷
شوریٰ اورحضرت عثمان کی بیعت کی داستان ۳۰۹
سیف کی روایت کے مطابق شوریٰ اور حضرت عثمان کی بیعت ۳۰۹
عمر کا نامزد کیا گیا خلیفہ ۳۱۱
سیف کے علاوہ کی گئی روایت میں شوریٰ کی داستان ۳۱۶
سیف کی روایت کی جانچ پڑتال اور بحث کا نتیجہ ۳۳۰
ہرمزان کے بیٹے قما زبان کا افسانہ ۳۳۲
سیف کی روایت ۳۳۲
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت: ۳۳۴
سند کے لحاظ سے سیف کی روایت کی تحقیقات: ۳۳۷
متن کے لحاظ سے سیف کی روایت کی چھان بین: ۳۳۷
پانچواں حصہ تاریخ کے صفحات پر سیف کی روایتوں کے بدنما داغ ۳۳۹
سیف کے خیالی اشخاص اور جعلی سورما ۳۴۰
تاریخ اسلام پر سیف کی روایتوں کے بُرے اثرات: ۳۴۰
سیف کی روایتوں کا بد ترین اثر: ۳۴۲
سیف کے خود ساختہ اور خیالی ایام ۳۴۵
ایام کے معنی: ۳۴۵
یوم الاباقر(گائے کا دن) ۳۴۵
روایت کی سند کی تحقیق: ۳۴۶
۲۳ اور ۴-ارماث ، اغواث اور عماس کا دن: ۳۴۷
اسنادروایت کی چھان بین: ۳۴۹
۵ یوم الجراثیم یا خشکی کا دن: ۳۴۹
روایتوں کی سند کی چھان بین: ۳۵۲
سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتیں : ۳۵۲
تحقیق اور موازنہ کا نتیجہ: ۳۵۳
۶یوم النحیب: ۳۵۴
۲سرزمین ذات عرق میں اجتماع کی خبر: ۳۵۷
روایت سیف کی سند کی تحقیقات: ۳۶۲
تحقیق اور موازنہ کا نتیجہ: ۳۶۲
بحث کا خاتمہ: ۳۶۴
سیف کے خیالی شہر ۳۶۵
معجم البلدان اور دوسرے جغرافیہ دانوں کا اہم مآخذ: ۳۶۵
سیف کے خیالی شہروں کے چند نمونے: ۳۶۷
۱دلوث: ۳۶۷
۲طاووس: ۳۶۸
۳و ۴، جعرانہ ونعمان: ۳۶۸
۵قردودہ: ۳۶۸
۶نہراط: ۳۶۹
۷،۸ ،اور ۹ارماث، اغواث اور عماس: ۳۷۰
۱۰ ثنی: ۳۷۰
۱۱ ثنیہ رکاب: ۳۷۰
۱۲ قدیس: ۳۷۰
۱۳ مقر: ۳۷۰
۱۴ وایہ خرد: ۳۷۱
۱۵ ولجہ: ۳۷۱
۱۶ ھوافی: ۳۷۱
جغرافیہ کی کتابیں اور سیف کے خیالی شہر ۳۷۱
تاریخی حوادث واقع ہونے کے زمانے میں سیف کی اداکاریاں ۳۷۳
خاتمہ:گزشتہ مباحث اور نتیجہ پر ایک نظر ۳۸۰
سیف کی جھوٹی رواتیوں کے پھیلنے کے اسباب ۳۸۱
سیف کی روایتیں ، طاقتوروں اور ان کے حامیوں کے فائدے میں ہیں ۳۸۲
سیف کی روایتیں مستشرقین کے فائدے میں(۱) ۳۸۳
بحث کا نتیجہ ۳۸۵
کتاب کے مطالب کی فہرست اور خلاصہ ۳۸۶
۲ عبدا للہ بن سبا کے افسانہ کے راوی ۳۸۷
مستشرقین ۳۸۸
۳ عبد اللہ بن سبا کے افسانہ کوخلق کرنے والا سیف بن عمر کی زندگی کے حالات : ۳۹۰
۴ اسامہ کا لشکر ۳۹۱
۵ سیف کی روایتوں میں سقیفہ کی داستان ۳۹۲
۶ سقیفہ کی داستان صحیح روایتوں میں : ۳۹۳
سیف کی روایتوں کی چھان بین ۳۹۴
۱ابی ابن کعب ۳۹۸
۲ ابو الدرداء ۳۹۸
۳ اسید بن حضیر ۳۹۸
۴ ابو ذویب ۳۹۸
۵ ام مسطح ۳۹۹
۶ اوس بن خولی ۳۹۹
۷ براء بن عازب ۳۹۹
۸ ثابت بن قیس انصاری ۴۰۰
۹ حباب بن منذر ۴۰۰
۱۰ خالد بن ولید ۴۰۰
۱۱ زبیر بن عوام ۴۰۰
۱۲ زیاد بن لبید ۴۰۱
۱۳ زید بن ثابت انصاری ۴۰۱
۱۴ سالم بن عبید اللہ شجعی ۴۰۲
۱۵ سلمان فارسی ۴۰۲
۱۶ سلمة بن سلامہ ۴۰۲
۱۷ صالح ۴۰۳
۱۸ طلحہ بن عبید اللہ ۴۰۳
۱۹ عبادة بن صامت ۴۰۳
۲۰ عبدا لرحمان بن عوف ۴۰۴
۲۱ عبدا للہ ابن عباس ۴۰۴
۲۲ عمروبن قیس ۴۰۵
۲۳ عویمر ۴۰۵
۲۴ عویم بن ساعدہ ۴۰۶
۲۵ فضل بن عباس ۴۰۶
۲۶ قثم بن عباس ۴۰۶
۲۷ محمد بن مسلمہ ۴۰۷
۲۸ مغیرة بن شعبہ ۴۰۷
۲۹ مقداد بن اسود ۴۰۸