اسلامى تہذيب و ثقافت

مؤلف: ڈاكٹر على اكبر ولايتي
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام كتاب: اسلامى تہذيب و ثقافت

مؤلف: ڈاكٹر على اكبر ولايتي

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: انتشارات نور مطاف

اشاعت: دوم

تاريخ اشاعت: رجب المرجب ۱۴۲۸ ھ_ق


مقدمہ:

جو كچھ آپ كے سامنے ہے وہ اسلامى سرزمينوں ميں جنم لينے والى تہذيب و تمدن كى دقيق تحقيق اور منصفانہ جائزہ ہے، فاضل مصنف نے اسلامى تہذيب و ثقافت كے معرض وجود ميں آنے، اسكى نشو و نما كے اسباب اور پھر اسكے جمود كى وجوہات كى ايك مكمل تصوير پيش كرنے كى قابل تحسين كوشش كى ہے_

ابتدائي ابواب ميں اسلام كى آمد ، قلوب كى فتح اور پھر مسلمانوں كا نہايت جد و جہد سے اپنى تہذيب و ثقافت كو اسلامى رنگ ميں ڈھالنے كو بہت خوبصورت انداز ميں منقش كيا گيا ہے اور يہ بھى بيان كيا گيا ہے كہ كس طرح اسلامى تعليمات كو دل وجان سے قبول كرنے كى وجہ سے وہ نہايت قليل مدت ميں علم و ترقى كى بلندترين چوٹيوں كو مسخر كرتے ہوئے ترقى وپيشرفت كے ميدان كے فاتح اور ہراول دستہ بن گئے_

اس كے بعد كے ابواب مسلمانوں كى عزت و عظمت كے زوال كے اسباب و وجوہات كو بيان كرتے ہيں اور بتاتے ہيں كہ كس طرح مغربى طاقتوں نے مشرق خصوصاً مسلمانوں كى مادى اور روحانى دولت كو لوٹ كر اور انہيں بيرونى جنگوں اور داخلى خودساختہ تنازعات ميں الجھا كر اپنے ليے عليحدہ جائے امن و سكون بنالى ہے اور مسلمانوں كو ان شيطانى ہتھكنڈوں سے صنعت اور ٹيكنالوجى كے دائرے سے باہر نكالتے ہوئے خود ان علمى ميدانوں كے حاكم بن بيٹھے ہيں ،البتہ اس كے ساتھ ساتھ انہوں نے نئے سے نئے آلات كے ذريعے اپنى روال پذير اور مضر ثقافت كو دوسرے ممالك ميں برآمد كرديا ہے_


مسلمانوں كى اپنے اصلى مقام كو حاصل كرنے كے ليے دوبارہ بيداري، مغرب كى حقيقى تہذيب مسلمان دانشوروں كى زبانى مغرب كے انحطاط اور انكى آسمانى و فطرى اقدار اور روحانيت سے دورى كا تجزيہ، اور ساتھ ہى انہى دانشوروں اور دوسرے مجددين كى طرف سے مغربى ثقافت كے نفوذ كے خطرات سے متنبہ كرنا، جيسے موضوعات كتاب كے آخرى حصے كو تشكيل ديتے ہيں _

مؤلف نے اس گراں بہا تحقيق ميں اپنى استعداد اور صلاحيتوں كا كھل كر اظہار كيا ہے اور سال باسال سے كيے جانے والے اپنے كتابى اور ميدانى مطالعات كے علاوہ دنيا كى مختلف اقوام ، علمي، ثقافتى اور سياسى شخصيتوں كے ساتھ گزارے گئے لمحات اور تجربات كو نہايت خوبصورت انداز ميں زيور تحرير سے آراستہ كيا ہے_ جس پر ہم انكے ليے خداوند متعال سے اجر اور توفيقات كے طالب ہيں _

مؤسسہ معارف اسلامى جس كے نامہ اعمال ميں علوم اسلامى مثلاً فقہ، تفسير، كلام، تاريخ، سيرت ،اخلاق اور معاشرتى علوم كى بھر پور اشاعت و تبليغ جيسے كارہائے نماياں درج ہيں خداوند متعال كا بے حد شكر گزار ہے كہ اس نے اس قيمتى اور مفيد كتاب كے ترجمے كى سعادت اس علمى مؤسسے كو بخشي_

اميد ہے كہ اس كتاب كى طباعت اور اجراء اسلامى ممالك اور مسلمانوں كى سربلندى كى راہ ميں ايك بہت بڑا قدم شمار ہوگا يہاں ہم ضرورى سمجھتے ہيں كہ محترم مترجم على اصغر سيفى اور محترم مصحح سيد عون نقوى كى بے لوث اور مخلصانہ كاوشوں كا شكريہ ادا كريں ، خداوند متعال سے ان كى مزيد كا ميابيوں كے ليے دعا گو ہيں _

معارف اسلام پبلشرز


تمہيد

عرصہ دراز سے ايك ايرانى مسلمان ہونے كے ناطے اسلام اور ايران كے تہذيبى اور ثقافتى تشخص كا تعين ہر وقت ميرا مقصد جستجو رہا ہے، اسى ليے جہاں كہيں امكان ہوتا كہ مجھے ميرى گم شدہ منزل كا سراغ مل جائے گا ميں بڑے شوق كے ساتھ وہاں بڑھتا كوئي تقرير ہوتى تو اسے سنتا اور كوئي كتاب يامقالہ ہوتا تو مطالعہ كرتا اور حقيقى كى بات جو ميں بتدريج سمجھا يہ تھى كہ ہمارى امت و قوم اور اسكى تہذيب و تمدن پر غيروں كى بدنيتى اور ہمارى سستى كے باعث بہت بڑا ظلم ہوا ہے_

ايك طرف اغيار نے مسلمانوں كى تمام خوبيوں كو ماننے سے انكار كيا اور دوسرى طرف مسلمانوں نے اپنے علمى اور ثقافتى سرمايہ كے اندراج ، ريكارڈ اور منظر عام پر لانے ميں غفلت كا مظاہرہ كيا اور اسكا نتيجہ اس غلط عالمى سوچ كى صورت ميں نكلا كہ جو خود مسلمانوں اور ايرانيوں كے ذہنوں ميں بھى سرايت كرگئي كہ يہ مغربى اقوام عالم خلقت ميں ايك منفرد نوعيت كى حامل ہيں كہ جو غير معمولى ذہن اور صلاحيتوں سے مالامال ہيں ، جبكہ مسلمان اور ديگر اقوام ان نعمتوں سے محروم ہيں ;قديم يونانى دور سے روم اور يورپى نشا ةثانيہ كے دورتك يہى مغربى اقوام ہميشہ ترقى يافتہ اور موجد ہيں جبكہ مشرقى اقوام اور مسلمان ہميشہ سے انكے مقلد اور انكى ايجادات كے صارف رہے ہيں _

دو صديوں سے ليكر اب تك اس قسم كے نظر يے كا وسيع پيمانے پرپروپيگنڈا ہوا كہ جسكا عملى نتيجہ يہ سامنے آيا كہ گويا ہم لوگ (علمى ميدان ميں ) فضول كوشش نہ كريں اور نچلے درجہ كے انسان كى حيثيت سے اسے اپنى قسمت كا لكھا ہوا سمجھ كر تمام سياسى اور ثقافتى نتائج كے ساتھ قبول كرليں اس طرح معلوم ہوا كہ مغربى استعمار كى


شيطانى مكارى اور ہم سب كى غفلت آہستہ آہستہ لوگوں ميں اس قسم كے نظريات پيدا ہونے كا باعث بنى جنہيں ثانوى صفات كا عنوان دينا چاہيے اور وہ (نظريات) يہ ہيں كہ '' ہم فضول كوشش نہ كر ليں '' ہم اس لائق نہيں ہيں كہ علم و دانش كے بلند و بالا درجات كى تمنا كريں بلك اسى حد تك قانع رہيں كہ جو ازل سے ہمارى قسمت ميں لكھا جاچكاہے_

كسى بھى ذمہ دار درد دل ركھنے والے كے ليے اس سے بڑھ كہ جانسوز غم نہ ہوگا كہ اسكى نظرياتى اور قومى حيثيت كو اسطرح پامال كيا جائے ، درست اسى زمانہ سے جب اسلامى اور مشرقى سرزمين اہل مغرب كى فوجى اور ثقافتى يلغار كا مركز بنى اس قسم كے نظريات كى نشر و اشاعت اور لوگوں كے ذہنوں ميں انہيں راسخ كرنے كا آغاز ہوا جو كہ اپنى جگہ استعماريت كا واضح نمونہ تھا، تو كچھ عظيم لوگ اٹھ كھڑے ہوئے جنہوں نے اہل مشرق اور مسلمانوں كى بيدارى كا نعرہ لگايا اور فرنگيوں كے متكبرانہ عزائم كے مقابلے ميں اسلامى بيدارى كا نقارہ بجايا_

اسلامى بيدارى كى لہريں دو سو سال سے اب تك روز بروز بلند اور وسيع تر ہو رہى ہيں ، عالم اسلام ميں اس تاريخى تحريك كا اہم ترين كا رنامہ بتدريج خود اعتمادى كے احساسات كے پلٹنے كى صورت ميں سامنے آيا ،آج ترقى يافتہ آڈيو ، ويڈيو اور اليكڑونك پروپيگنڈے كے باوجود اہل مغرب كا اپنى بڑائي اور برترى پر مبنى قديم دعوى مسلمان اور مشرقى اقوام پر بہت كم اثر چھوڑرہا ہے،اور آج فراعين زمانہ كے جادو كى قلعى كھل گئي ہے ليكن ان سے بے زارى كى يہ حالت علمى كم، سياسى زيادہ ہے اور يہ اسى طرح ہے جسطرح استعمار نے سياسى نفوذ كے بعد اقتصادى استحصال كے ليے ثقافتى و علمى غلبہ حاصل كيا(يعنى مغرب كے خلاف سياسى بيدارى ثقافتى اور علمى بيدارى پر منتج ہوگي)_

اسى ليے سياسى اور ثقافتى لحاظ سے بيدارى پيدا كرنے والے صف اول كے رہنماؤں نے جو ماحول فراہم كيا ہے اس سے فائدہ اٹھا نے اور ساتھ ساتھ علم و دانش ميں خود اعتمادى اور استقلال كو پلٹانے كيلئے


جواسباب مہيا كرنا ضرورى تھے ان ہى مقاصد تك پہنچنے كيليے بعض شخصيات نے قابل قدر كوشش كيں ، ليكن اس ميدان ميں اگر غور و فكر كريں تو معلوم ہو گا كہ ابھى راہ كے آغاز ميں ہيں اورمنزل مقصود تك پہنچے ميں كافى فاصلہ پڑا ہے اگر چہ بلا شبہ حركت كا آغاز ہوچكا ہے_

ہم نے بھى كوشش كى كہ اپنى بساط كے مطابق قدم اٹھائيں ہميں اميد ہے كہ كاميابى سے ہمكنار ہونگے ، چار جلد كتاب ''پويايى فرہنگ و تمدن اسلام و ايران'' جوكہ اب تك نشر ہوچكى ہے وہ انہى اہداف كے پيش نظر ايك كوشش ہے اور يہ كتاب '' اسلامى تہذيب و تمدن كى تاريخ '' اس چار جلد كتاب كى اہم مباحث كا خلاصہ ہے كہ جو يونيورسٹيوں كى نصابى ضروريات كے مطابق مرتب كى گئي ہے_

اسلامى تاريخ كے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے كہ اسلامى تہذيب و تمدن كا سفر معين اور دقيق مراحل كا حامل ہے جو واضح اور قابل درك منطقى بنياد پر تشكيل پايا ہے جو شايد اسى فلسفہ تاريخ كا نمونہ ہے كہ ''تاريخ اپنے كو دہراتى ہے ''اور اگر ہم اسكا گراف بنائيں تو ہميں چند صديوں اور چند ہزاريوں ميں ملتے جلتے بلكہ ايك دوسرے كے عين مطابق نكات حاصل ہونگے ان مراحل كے اصلى عناوين يہ ہيں :

مرحلہ اول : زمانہ دعوت يا اسلامى تاريخ و تمدن كا آغاز

مرحلہ دوم: يثرب ميں اسلامى حكومت كے تشكيل كا زمانہ اور تمدن اسلامى كى علامتى بنياد قائم ہونا

مرحلہ سوم: جزيرة العرب اور اس دور كى تہذيب يافتہ دنيا ميں اسلام كى وسيع پيمانے پر نشر و اشاعت كا زمانہ كہ جس ميں بين النہريں ، ايران، روم، مصر ،حبشہ ، ہند، ماورا النہر، چين ، شمالى آفريقا اور آخر كار جنوبى يورپ شامل ہيں _

مرحلہ چہارم : نئي اسلامى تہذيب و تمدن كا دنيا كى قديم ترين تہذيبوں كے قريب ہونا اور ان سے آگاہى كى كوشش اور ان ثقافتوں كواسلامى تہذيب ميں ترجمہ ،لائبريريوں اور مدارس كى تاسيس كے ذريعے منتقل كرنا اور انكے دانشمند مفكر اذہان كو اسلام كے علمى و تعليمى مراكز كى طرف مائل كرنا_


مرحلہ پنجم: اسلامى تمدن كے پھلنے پھولنے كا زمانہ_

مرحلہ ششم: اسلام كى عميق ثقافت اور عرفانى ادبيات كى بہاركازمانہ

مرحلہ ہفتم: آرٹ اور معمارى كا زمانہ

مرحلہ ہشتم: اسلامى تمدن كے زوال كا زمانہ يا وہ زمانہ كہ جب عيسائيوں اورمنگولوں نے انتہائي شقاوت اور بے رحمى سے عالم اسلام پر حملے كرتے ہوئے اسلامى كلچرميں مايوسى كى روح پھونك دى اور شہروں كو تباہ و برباد كرتے ہوئے اسلامى تمدن كى بنيادوں كو ہلاديا_

مرحلہ نہم: عالم اسلام كا دوبارہ اپنے پاؤں پر كھڑے ہونا_

مرحلہ دہم: استعمار كا حملہ اورزوال كے دوسرے دور كا آغاز يا مسلمانوں كے كلچر ميں تبديليوں كا زمانہ ، يہ ايسا حملہ تھا كہ جو عالم اسلام كے حساس مراكز پر برقى جھٹكے كى مانند اثر انداز ہوا اس يلغار كے ديگر اثرات سے قطع نظر اس سے ايسى حياتى لہريں پيدا ہوئيں كہ جو اسلام كى جغرافيايى كى حدود ميں مسلسل تاريخى تحريكوں كے وجود ميں آنے كا باعث بنيں كہ جسے ہم اسلامى بيدارى سے تعبير كرتے ہيں اسلامى بيدارى يا يہ كہ اسلام كى طرف لوٹنے كى دعوت (اس مرحلہ كے تحت چند ديگر مراحل مورد بحث ہيں )_

مرحلہ ۱: اسلامى بيداري

يہ كہ كس زاويے سے اس واقعہ پر نگاہ ڈاليں يقيناہمارے تجزيہ و تحليل ميں ( دوسروں كى نسبت ) فرق پايا جائے گااسى ليے اہل فكر حضرات نے مسلمانوں كے اس بيدار ہونے كے واقعہ كو گوناگون عناوين سے ياد كيا ہے ، انكى نوع فہم كو مندرجہ ذيل اصطلاحات كى صورت ميں معنون كيا جاسكتاہے:

اصلاح پسندي، سلفى گرى ، اپنى حقيقت كى طرف لوٹنا ، خرافات سے جنگ، جديديت ،استعمار سے مقابلہ ، اتحاد بين مسلمين اور اسلامى بيداري_

اسلامى بيدارى كى اصطلاح كا انتخاب اور ايك اہم باب اس بحث سے مختص كرنے كى وجہ يہ ہے كہ يہ كلمہ


انتہائي جامعيت كا حامل ہونے كے ساتھ ساتھ ديگر ابواب كے ساتھ بھى مناسبت ركھتا ہے ،ايك اور نكتہ كہ جو اسطرح نام ركھنے كى نسبت كافى اہم محسوس ہو رہا ہے وہ يہ كہ شايد سب كيلئے واضح ہو چكا ہو كہ پہلے دور يعنى منگولوں كے حملہ سے پہلے اور موجود ہ دور ميں اسلامى تہذيب و تمدن كے تمام گوناگون مراحل ميں يكسانيت موجود ہے گويا اسلامى تہذيب و تمدن كے سفر كے تمام پيچ و خم كو دھرايا جارہا ہو اور يہ صورت حال فلسفہ تاريخ كے اس مقولے كو ياد دلاتى ہے كہ '' تاريخ صرف واقعات اور حادثات تكرار كا نام ہے'' يا يہ كہيں گے كہ وجود اسلام ميں تجديد حيات اور ترقى كرنے كى استعداد اور خصوصيت قدرتاً موجود ہے اس دعوى پر گواہ عصر حاضر ميں اسلام كى صورت حال ہے اپنے اور غير سب تجزيہ نگاروں كا يہى كہنا ہے كہ اسلام دنيا كى تمام اقوام كيلئے پركشش ترين دين ہے اسكى ترقى كى سرعت دنيا كے ديگر مذاہب سے قابل موازنہ نہيں ہے، اسى بات سے يہ نتيجہ ليا جا سكتا ہے كہ يہ دين اب بھى زندہ ہے اور ديگر زندہ موجودات كى مانند اپنے اندر پاكيزگى اور تلخيص كا عمل، بوسيدہ عناصر كى اصلاح اور تعمير كا عمل ،فاسد اور مفسد مواد خارج كرنے ، اجنبى موذى اور مضر عناصر كے حملہ كے مقابلے ميں دفاع كرنے ، ترقى اور نشو ونما كرنے اور استعداد اور صلاحيتوں كو عمل ميں لانے كى قدرت ركھتا ہے_

اسلامى بيدارى كا آغاز خود اصل اسلام كى مانند لوگوں كو دعوت دينے سے شروع ہوا ،امير عبدالقادر، سيد جمال الدين اسد آبادى ، شيخ محمد عبدہ، سيداحمد خان، شيخ فضل اللہ نورى ، عبدالرحمان كواكبي، شيخ شامل ، رشيد رضا، علامہ اقبال لاہوري، سيد حسن مدرس، حسن البنائ، سيد قطب، ابو الاعلامودودي، سيد محسن امين جبل عاملي اور آخر كا امام خمينى سب نے لوگوں كو پلٹنے اور احياء اسلام كى دعوت دى اور لوگوں نے اس دعوت كو قبول كيا، اسلامى اقوام سے گرو ہ درگروہ لوگوں نے دوبارہ اسلام كے ساتھ بيعت كى ، خواص كى اس دعوت اور عوام كى قبوليت كا نتيجہ تمام عالم اسلام ميں دين اور دينى اقدار كو زندہ كرنے كى ايك وسيع تحريك كو جنم دينے كى صورت ميں نكلا_


عصر حاضر كى تاريخ اور موجودہ زمانہ كے واقعات كا تجزيہ كريں تو مكمل طور پر يہ حقيقت ہم پر آشكار ہوتى ہے كہ كوئي ايسا اسلامى ملك نہيں ہے كہ جہاں اسلامى بيدارى يا اسلام كى طرف پلٹنے كى تحريك كى علامات نہ ہوں يہ حقيقت اسلامى نشا ة ثانيہ كى پہلے مرحلہ ميں واضح كاميابى كى حكايت كر رہى ہے ، اس مرحلہ كى اہميت اتنى زيادہ ہے كہ آج اسلامى سرزمينوں پر بھو كى نگاہيں ركھے ہوئے قديم استعمار كے وارث '' انسانى حقوق كى حمايت '' اور '' صلح ،امن اورجمہوريت كے دفاع'' كى چادر اوڑھے '' تہذيبوں كے ٹكراؤ'' كا راگ الاپتے ہوئے اسكى نابودى پر كمر باندھ چكے ہيں اور سوويت يونين كے ٹوٹنے كے بعد اپنى تمام تر فوجى طاقت كے ساتھ مسلمانوں كے مقابلے ميں صف آرا ہو چكے ہيں _

مرحلہ ۲: اسلامى حكومت كى تشكيل

پہلى تقسيم كے مطابق زمانہ دعوت (اسلام كى طرف لوٹنا) كے بعد دوسرا مرحلہ اسلامى حكومت كى تشكيل ہے، شيعہ اور سنى دونوں مكاتب فكر ميں ايك اسلامى حكومت كى تشكيل كے حوالے سے نظرياتى اور عملى ميدانوں ميں شدت سے كوشش شروع ہوئي، اہل سنت كى دنيا ميں عنوان خلافت كو مختلف دانشور حضرات نے اسلامى حكومت كى تشكيل كيلئے محور قرار ديتے ہوئے لوگوں كو اسى عنوان كى طرف لوٹنے كى دعوت دي، رشيد رضا جو كہ سلفى فكر كے اساسى ستونوں ميں سے شمار ہوئے ہيں انہوں نے خلافت كے موضوع كو انتہائي مضبوط انداز ميں پيش كيا اس حوالے سے انكى عملى تجويز يہ تھى :عالم اسلام ميں شہر موصل كو مركز قرار ديتے ہوئے اور امام ہادى يعنى يمن كے زيدى امام (رشيد رضا كے ہم عصر ) كى خليفةالمسلمين كے عنوان سے بيعت كرتے ہوئے بين الاقوامى اسلامى حكومت تشكيل دى جائے_

شيعہ دنيا ميں آيت اللہ نائينى نے عصر جديد ميں اسلامى حكومت كى تشكيل كو نظرى شكل دى اور اسے ايك كتاب '' تنبيہ الامة و تنزيہ الملة'' كى صورت ميں نشر كيا، اور امام خمينى نے ولايت فقيہ كے موضوع كو پيش كرتے ہوئے آج كے دور كے تقاضوں كے عين مطابق اسلامى حكومت كے ماڈل كو سامنے لائے_


اس مرحلہ كا دوسرا حصہ اسلامى حكومت كى تشكيل ہے ، شمالى نائجيريا ميں عثمان دان فوديو نے انيسويں صدى عيسوى كے آغاز ميں اسلامى حكومت قائم كى جو ايك صدى تك قائم رہي، مكتب اہل سنت ميں اسكے علاوہ بھى كامياب اور نيم كامياب اقدام ہوئے ، سوڈان ميں اخوان المسلمين گروہ كے حسن ترابى اسلامى حكومت كى تشكيل كا نظريہ دينے والے مفكر كى حيثيت سے ابھرے اور حسن عمرالبشير كے تعاون سے جعفر نميرى كى سيكولر حكومت كا تختہ الٹ ديا اور اس ملك ميں شريعت كے اجراكا نعرہ بلند كرتے ہوئے اسلامى حكومت قائم كى ، تركى ميں نجم الدين اربكان نے اسلامى حكومت كے ہدف كى خاطر قومى رفاہ پارٹى قائم كى اگر چہ اس ہدف كا صريحا (فوجى جرنيلوں كے ڈرسے) اعلان نہيں كيا ، اس پارٹى نے بہت كوشش كرتے ہوئے اور كئي بار اپنى روش اور طريقہ كار ميں تبديلى لاتے ہوئے بالآخرہ ميڈم تانسو چيلركے ساتھ اتحاد قائم كركے ايك مخلوط حكومت كو تشكيل ديا كہ اس حكومت كے واضح ترين ثمرات خواتين كا پردہ بر قرار كرنا، اداروں ميں نماز جماعت كا قيام اور امام وخطيب كى درسگاہوں كو وسعت دينے كى صورت ميں سانے آئے_

الجزائر ميں عباس مدنى كى قيادت ميں '' نجات اسلامى جماعت'' حكومت اسلامى كى تشكيل كے اہداف كے پيش نظر قائم ہوئي اور بہت سرعت سے پھيل گئي ، اسطرح كہ الجزائر كے تمام شہروں كے بلدياتى انتخابات ميں سب سے زيادہ ووٹ حاصل كيے_

عالم تشيع ميں بيسويں صدى عيسوى كے آغاز ميں آيت اللہ سيد عبدالحسين لارى نے ايران كے جنوب ميں ولايت فقيہ كى بنيادپر اسلامى حكومت تشكيل دى _

ميرزا كوچك خان جنگلى كے ذريعہ ' ' حزب اتحاد اسلام'' كے تحت گيلان كى حكومت كو بھى شايد حكومت اسلامى كى تشكيل كے حوالے سے نامكمل نمونہ شمار كيا جاسكتاہے_

اسى طرح پاكستان ميں ضياء الحق كے زمانے ميں پارليمنٹ ميں شريعت بل كى منظورى كيلئے كيے گئے اقدام كے تحت پاكستان كا نام '' اسلامى جمہور يہ پاكستان '' كى صورت ميں تبديل كيا گيا اسے ايك اسلامى


حكومت كے قيام كيلئے كى گئي بعض كوششوں كى حدتك شماركياجاسكتاہے_

آخر ميں اسلامى جمہوريہ ايران كى حكومت كے قيام كو زمانہ حاضر ميں اسلامى حكومت كا بہترين اور واضح ماڈل قرار دياجا سكتا ہے_

مرحلہ ۳: اسلام كى نشر و اشاعت

تيسرامرحلہ جو كہ پہلى صدى ہجرى سے ہى شروع ہوا اور اس نے بہت تيزى سے پيش رفت كى ، اسى طرح عصر حاضر ميں اسلام كى تجديد حيات كے حوالے سے بھى يہى تيز رفتار پيش رفت سامنے آئي،آخرى عشروں ميں امريكہ يورپ اور افريقہ ميں اسلام كى سرعت كے ساتھ نشر و اشاعت كو '' اسلام كے عصر حاضر كے تقاضوں كے مطابق پھيلاؤ كا واضح ترين نمونہ شمار كيا جاسكتاہے''_

مرحلہ ۴: اسلامى تہذيب و تمدن كى تجديد

مسلمانوں كى بيدارى اور اٹھان كے سايہ ميں اسلامى تہذيب و تمدن بھى تجديد كے مراحل سے گزر رہاہے اسلامى ثقافت كے احياء اور تجديد سے فراعين عصر كے فريب آميز سحر كى قلعى كھل گئي ہے ،آج درآمد شدہ مغربى اقدار نہ صرف اہل علم و دانش بلكہ كئي ملين مسلمان عوام كے سامنے اپنا رنگ و روپ كھوچكى ہيں اور اسلامى تہذيب كے علمدار مغربى ثقافت كے حامى مفكرين كے سامنے مردانہ وار كھڑے ہوكر اور زرخيز اسلامى ثقافت اور اعتقادات پر تكيہ كرتے ہوئے ايك عظيم ثقافت كى تشكيل كا سبب بنے ہيں ، شاہكار قيمتى تاليفات مثلاً ''بيسويں صدى كى جہالت ''(محمد قطب)، ''اسلامى قلمرو ميں زمانہ مستقبل ''(سيد قطب) ''ہمارا فلسفہ اور ہمارا اقتصاد ''(آيت اللہ سيد محمد باقر صدر) ''ماذا خسر العالم بالانحطاط المسلمين ''(ابوالحسن ندوي) ''اصول فلسفہ و روش رئاليزم ''(علامہ طباطبائي اور آيت اللہ مطہري) يہ سب اسلامى كلچر كى تشكيل اور تجديد كيلئے عالم اسلام كے اہل علم و دانش كى نظرياتى كوششوں كے نمونے ہيں ،بسا اوقات بعض اسلامى اقوام كى ترقى يافتہ


ٹيكنالوجى كے حصول كے ليے كى گئي كوششيں مغربى استعمار كو وحشت ميں ڈال ديتى ہيں اور يہ چيز تمدن اسلامى كے دوبارہ طلوع كى حكايت كر رہى ہے_

تہذيب و تمدن كے اتار چڑھاؤ پر مشتمل تاريخى سفر كے مطالعہ سے يہ نتيجہ ليا جا سكتا ہے كہ ايك دفعہ پھر وہ زمانہ زيادہ دور نہيں كہ ہم مسلمانوں اور اسلامى تہذيب و تمدن كے عروج اور عظمت كا دوبارہ مشاہدہ كريں گے ان شاء اللہ_

ضرورى سمجھتاہوں كہ ان تمام احباب كا شكريہ ادا كروں كہ جنہوں نے اس كتاب كى تاليف كے مختلف مراحل ميں تعاون فرمايا اور اسى طرح اس حوالے سے ديگر خدمات انجام دينے والے تمام حضرات كا تہہ دل سے شكر گزار ہوں اورخداوند كريم كى بارگاہ سے سب كيلئے زيادہ سے زيادہ تو فيقات كا طالب ہوں ،مجھے اميد ہے كہ صاحب نظر حضرات ، اساتيد اور اس مضمون كے طلباء اس كتاب ميں كو ئي كمى بيشى دور كرنے اور كسى غلطى كى درستگى كے حوالے سے ہمارى مدد فرمائيں گے_و من اللہ التوفيق و عليہ التكلان

على اكبر ولايتي

خزان ۱۳۸۳ ہجرى شمسى (ايرانى تقويم كے مطابق)


پہلا باب:

كلى مباحث


۱_ علمى بنياد اور تاريخى سرچشمے

تقريبا سنہ ۶۱۰عيسوى ميں پيغمبر اسلام (ص) كى دعوت كے ساتھ سرزمين مكہ ميں دين اسلام ظہور پذير ہوا، دين اسلام كى تاريخى شناخت كو اس زمانہ سے دومر حلوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے:۱_ دعوت كا مرحلہ،۲_ پيغمبر اسلامى (ع) كى يثرب كى طرف ہجرت اور اسلامى حكومت كى تشكيل كا مرحلہ ، اسلامى حكومت كى تشكيل كے بعد اسلام ايك وسيع نشر و اشاعت كے دور ميں داخل ہوا_

اسلام كا اس زمانے كى ديگر تہذيبوں يعنى ايران، روم اور مصر كا ہمسايہ بننے سے ان تہذيبوں سے روابط كے اسباب فراہم ہوے ،پيغمبر اسلام (ص) نے صلح حديبيہ كے بعد (جسكى وجہ سے جزيرہ عرب ميں اسلام كى حاكميت مستحكم ہوئي) ہمسايہ ممالك كے حكام كو خطوط بھيج كر مسلمانوں كے ان سے روابط كے اسباب فراہم كيے، يہ صورت حال پيغمبر اكرم (ص) كے بعد خلفاء راشدين كے دور ، بنى اميہ اور بنى عباس كے دور ميں بھى بحال رہى ،بنى عباس كے دوركے وسط ميں اسلام تين براعظموں ايشياء ، آفريقا اور يورپ تك پھيل گيا، اس دورانيہ ميں دين اسلام كى جغرافيائي حدود مشرق ميں آج كے چين كى سرحد تك ، مغرب ميں آج كے مراكش تك كہ جو اس زمانے كے مغربى افريقا كى آخرى آبادى تھى ،شمال ميں تمام ماوراء النہر كا علاقہ اور جنوبى سائبريا، ايشيا صغير كا وسيع حصہ، بحيرہ روم كا تمام مشرقى ساحل اور پيرنيز pyrenees كى پہاڑ ياں جو كہ اسپين اور فرانس ميں حد فاصل ہيں اور جنوب ميں مجمع الجزائر يعنى جنوبى شرقى ايشيا، جزيرہ جافنا جو كہ سرى لنكا ميں ہے اورصحراے افريقا كے جنوب تك پھيلى گئي تھيں _

اس وسيع و عريض سرزمين ميں جو گوناگون اقوام اور زبانوں كى حامل تھى اسلام كے پھيلنے سے لوگوں كے


در ميان الفت اور وحدت پيدا ہوگئي جبكہ اسلام كے ظہور سے پہلے انكى زندگى كے روز و شب لا حاصل جنگ و جدال ميں گزرتے تھے_(۱) دين اسلام نے اسلامى تمدن اورديگر گذشتہ تہذيبوں اور ثقافتوں ميں آراء وافكار كے تبادلہ كے حوالے سے اسباب فراہم كيے، اسكے بعد والے مرحلہ ميں قرآن مجيد كو محور قرار ديتے ہوئے اوران علاقوں ميں اسلام سے پہلے كے علوم سے بہترين فائدہ اٹھاتے ہوئے '' علوم اسلامي'' وجود ميں لائے گئے، اس كام كا آغاز دوسرى صدى ہجرى كے آخر ميں شروع ہوا اور اسكا عروج چھٹى صدى ميں تھا،'' ادب '' كا غنچہ چوتھى صدى ميں كھلا اور پانچويں ،چھٹى اور ساتويں ہجرى ميں اپنے عروج پر پہنچ گيا_

'' عرفان'' نظرى اور عملى كاپھول چو تھى سے چھٹى صدى تك كھلا اور نويں صدى تك اسكى خوشبو جارى رہي، ''آرٹ'' كو پانچويں اور چھٹى صدى ميں رونق ملى اور اس نے دسويں اور گيا رھويں صدى تك اپنا عروج كا زمانہ گزارا(۱) دسويں صدى كے آخر اور گيا رھويں صدى كے اوائل ميں اسلامى تہذيب و تمدن كى بلندى اورعظمت متزلزل ہوگئي او ر يہ تمدن زوال پذير ہونے لگا، يہ انحطام اور تنزلى داخلى اور خارجى دونوں اسباب كى بناء پر تھى ، اكثريت كى رائے كے مطابق ممكن تھا اس تنزلى كى بناء پر اسلامى تہذيب كى بنياديں ختم ہوجاتيں اور بالاخر اسلامى معاشروں ميں دين كا رنگ پھيكا پڑجاتا، ليكن اسلامى بيدارى كى تحريك سے معلوم ہوا كہ يہ انحطاط و تنزلى كا زمانہ اسلامى تہذيب و تمدن كے سفر ميں ايك عارضى وقفہ تھا_

اسلامى بيدارى كہ جو يورپ كے نئے نظريات كے مقابلے ميں اسلامى مفكرين كے اضطراب كا نتيجہ تھى در اصل سيد جمال الدين افغانى ، شيخ محمد عبدہ، عبدالرحمان كواكبى اور بہت سى ديگر شخصيات كے نظريات اور دعوت اسلامى كى بناء پر وجود ميں آئي ، قرآنى مفاہيم كى حفاظت اور پاسدارى كى طرف دوبارہ دعوت سے ايك ننے عصر دعوت كا آغاز ہوا ، اس دورانيہ كے بعد ہم اسلامى حكومت كى تشكيل كيلئے بہت سى تحريكوں كا سامنا كرتے ہيں كہ سب كا ہدف كمال مطلق تك رسائي يعنى مدينہ ميں زمانہ پيغمبر (ص) كے كامل نمونے تك پہنچنا تھا_

____________________

۱) اس حوالے سے مزيد معلومات كيلئے رجوع فرمائيں : دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج ۸، ذيل '' اسلام''_

۲) تاريخ تمدن اسلام مؤلف جرجى زيدان ، ترجمہ على جواہر كلام چاپ امير كبير ، تہران ، ص ۱۵۰ _ ۱۰۰ و ص ۵۵۹_ ۵۵۱_


بالآخريہ تحريكيں دوسرے اسباب كى معيت ميں ايران ميں امام خمينى كى قيادت ميں اسلامى حكومت كى تشكيل كا باعث بنيں ،ليكن يہ تحريك صرف ايك مسلم ملك يعنى ايران تك محدود نہيں رہى بلكہ ہم ديگر اسلامى ممالك ميں بھى اسلامى تحريكوں كے ظہور كا مشاہدہ كر رہے ہيں كہ جو اسلامى اقدار كا احياء اور شريعت محمدي(ص) كے اجراء جيسے مقاصد كو پيش نظر ركھتى ہيں _

تعريفيں

اسلامى تہذيب و تمدن پر بحث كے ليے ضرورى ہے كہ اس موضوع كے اہم مفاہيم كى تعريف كريں ، ان مفاہيم ميں سب سے اہم '' تمدن '' ہے_

سيموئل ہينٹنگٹن كى نظر ميں تمدن سے مراد اعلى سطح كى ثقافتى گروہ بندى اور ثقافتى تشخص كا وسيع ترين درجہ ہے_(۱) ہنرى لوكس تمدن كو باہمى پيوستہ كاايك ايسا مظہر سمجھتاہے جو اجتماعي، اقتصادي، سياسى مسائل حتى آرٹ اور ادب كو بھى سموئے ہوئے ہے_(۲)

ديگر مغربى دانشور حضرات لفظ تمدن كو اجتماعى تغيركے معين مراحل كى وضاحت كيلئے استعمال كرتے ہيں ، جبكہ اسكے مقابلے ميں تمدن كو دانشور طبقہ يعنى معاشرے كا وہ ممتاز طبقہ جو كہ ذھانت، فطانت اور جدت كى خصوصيات كا حامل ہوتاہے معاشرے كى تدريجى ترقى اور تغيرات كے سايہ ميں غير معمولى دريافت سمجھتاہے_(۲)

الفرڈويبركى تعريف بھى ويل ڈيورنٹ كے مشابہہ ہے ، ويبر تمدن كو علم و ٹيكنالوجى كا ثمر سمجھتاہے، ڈيورنٹ كے خيال ميں جب كوئي عمومى ثقافت ترقى كے كسى درجہ تك پہنچتى ہے تو زراعت كى فكر پيدا ہوتى ہے ،يہ نظريہ بھى وبر كى رائے كى مانند تمدن كے لغوى معنى سے ليا گيا ہے كہ تمدن سے مراد شہرنشينى يعنى شہرى زندگى ہے_

____________________

۱) ساموئل ھانتينگتون '' نظريہ برخورد تمدنہا'' ترجمہ مجتبى اميري، تہران، ص ۴۷_

۲) ہنرى لوكاس'' تاريخ تمدن '' ترجمہ عبدالحسين آذرنگ ،تہران ، ج ۱ ، ص ۷ و ۱۶_

۳)منير البعلبكى '' موسوعة المورد'' ، ج ۳، ۲۸_


زراعت كى طرف توجہ كے بعد تجارتى مبادلات اور شہروں كے باہمى تعلقات سے لوگوں كى شعورى سطح بلند ہوتى ہے، اسى بناء پران ميں اخلاقى خوبياں اور نيك خصلتيں پيدا ہوتى ہيں جو بھى پسنديدہ اخلاق اور حسن معاشرت كا حامل ہو اسے مہذب سمجھا جاتا ہے_

مشرقى دانشور حضرات نے بھى اہل مغرب كى مانند لفظ تمدن كى خاص تعريف اور مفہوم پيش كيا ہے :

ابن خلدون كے مطابق انسان كا اجتماعى ہونا تمدن ہے ،ايك اور دانشور كے نزديك ان تمام اخلاقى اور مادى اسباب كے مجموعہ كو تمدن كہتے ہيں كہ جو معاشرے كو موقع فراہم كرتا ہے كہ وہ اپنے تمام افراد ميں ہر فرد سے زندگى كے تمام مراحل ميں بچپن سے بڑھاپے تك كمال و رشد تك پہنچتے ميں ضرورى تعاون كرے_(۱)

مجموعى طور پر اس بنيادى مفہوم كى يوں تعريف كى جاسكتى ہے كہ تہذيب يا تمدن ، ثقافت كى ترقى و پيش رفت اور اجتماعى نظم كى قبوليت كا نتيجہ ہے يعنى صحرانشينى كے مرحلہ سے نكلنا اور اجتماعى امور كے منظم ہونے كى شاہراہ پرقدم ركھنا_

ايك اور مفہوم كہ جسكى يہاں تعريف ضرورى ہے '' ثقافت ''كا مفہوم ہے ، كلچر يا ثقافت اقوام كى ان تمام روايات ، عقائد ، آداب اور انفرادى ياخاندانى رہن سہن كے مجموعہ كا نام ہے كہ جسكى پابندى سے وہ ديگر اقوام اور قبائل سے منفرد ہو جاتے ہيں ،دوسرے الفاظ ميں ثقافت كسى شخص يا گروہ كے خاص عقائد كے مجموعہ كا نام ہے چونكہ عقايد عام طور پر ذہنى ہوتے ہيں لہذا ثقافت بھى عينى اور خارجى پہلو كى حامل نہيں ہے_

تہذيب كا ثقافت سے ربط

تہذيب اور ثقافت كے آپس ميں تعلق كے باوجود يہ ايك دوسرے كيلئے لازم و مُلزوم نہيں ہيں كيونكہ ممكن ہے كہ كسى ثقافت كى بلندى كے باعث كوئي معاشرہ مہذب اور شہريت كا حامل ہوجائے اسى طرح ممكن ہے

____________________

۱) ويل دورانت ، تاريخ تمدن ، مشرق زمين ، گہوارہ تمدن ،تہران ، ج ۱ ، ص ۵_


ايك معاشرہ ايك دوسرے تمدن كى پيروى ميں ترقى كرتے ہوئے ايسے تمدن كى صورت حال ميں سامنے آئے جو كہ اصلى تمدن (جس كى پيروى كى تھي) سے مختلف ہو ہو، دوسرى طرف يہ نكتہ بھى اہم ہے كہ تمدن اور شہريت كے بغير بھى ايك معاشرہ ثقافت كا حامل ہو سكتا ہے، آسٹريليا اور افريقہ كے اصلى باشندے كسى تمدن كے حامل نہ تھے ليكن عقائد و آداب اور رسوم كے مجموعہ كى شكل ميں مقامى ثقافت ركھتے تھے ،لہذا انسانى گروہ اگر چہ ابتدائي شكل ميں كيوں نہ ہوں اپنى خاص ثقافت كے حامل ہيں (۱)

تہذيبوں كى پيدايش اور ترقى ميں مؤثر اسباب

تہذيبوں كى پيدايش اور ترقى ميں متعدد اسباب كا كردار ہے :ايك سبب امن اور سكون كا ہونا ہے ، يعنى اضطراب اور پريشانيوں كا كم ہونا ہے ، دوسرا سبب جو كہ در حقيقت ہر تہذيب كى اصلى روح ہے قومى غرور اور يكجہتى ہے يا ابن خلدون كى تعبير كے مطابق عصبيت وقوميت ہے_

اسكے بعد والا سبب اصول تعاون اور امداد ہے تا كہ ہم فكر گروہ تعاون اور اخلاقيات كى بنياد پر تمدن كى اساس قائم كريں ، ان اسباب كے ساتھ ساتھ '' اخلاق'' سے غافل نہيں ہونا چاہيے نيزتحمل ، بردبارى اور صبر اسى طرح وحدت و اتفاق اور دين كو قائم ركھنا سب تمدن سازى كے ديگر اسباب ميں شمار ہوتے ہيں _

ان سات بنيادى اجزا كے ساتھ ساتھ دو ديگر اسباب كا ذكر بھى ہونا چاہيے :

۱) مناسب فلاح و بہبود_۲) اقتصادى و معاشرتى دباؤ_

پہلا سبب كسى بھى معاشرہ ميں ايك تمدن كى بنياد بن سكتا ہے اور اسكو پانے سے (تمدن كى تشكيل كيلئے )تمام ضرورى توانائياں اور معاشرے ميں پائي جانے والى صلاحيتيں واضح ہو جاتى ہيں _اور دوسرے سبب كى خصوصيت يہ ہے كہ وہ معاشرہ كى ضرورتوں كو عياں كر ديتا ہے اور افراد كو ايك محور كے گرد جمع كر ديتا ہے، اسطرح سے تمدن كى پيدايش يا اسكى ترقى و پيش رفت كے حالات فراہم ہو جاتے ہيں _(۲)

____________________

۱) محمد تقى جعفري، فرہنگ پيرو، فرہنگ پيشرو ، تہران ، ص ۱۱۷۳_

۲) ابولاكوست ، جہان بينى ابن خلدون ، ترجمہ مظفر مہدى ، تہران ، ص ۳۸ _ ۳۳_


تہذيبوں كے انحطاط اور زوال كے اسباب

بعض اہل نظر كا عقيدہ ہے كہ ہر تمدن اپنى پورى زندگى ميں كچھ مراحل طے كرتا ہے: ڈيورينٹ كى رائے كے مطابق ہر تمدن كے لوگ كچھ مدت كے بعد اپنے عقلى پيش رفت كى بناء پر توحيد اور مبدا ء معنوى كى پرستش كى بجائے علم و عقل كى ستايش ميں مشغول ہو جاتے ہيں ، اسكے بعد اقدار اور علم ميں جنگ شروع ہو جاتى ہے ، معاشرے كى قوت محركہ بتدريج ختم ہوجاتى ہے اور اسكے بعد اس تہذيب كا دور انحطاط و زوال شروع ہوجاتا ہے_

ابن خلدون كى نظر ميں ہر تمدن تين مراحل كو طے كرتا ہےں : جنگ اور مقابلہ كا ابتدائي مرحلہ ، خود غرضى اور استبداد كا مرحلہ اور آخر كار رياكارى اور فساد كا مرحلہ جوكہ تمدن كا اختتام شمار ہوتاہے ، دور حاضر كے الجزائرى دانشور مالك بن بنى بھى اسى اساس پر اسلامى تمدن كے تين مراحل روح ، عقل اور غريزہ كو سمجھتے ہيں انكا عقيدہ ہے كہ: اسلامى تمدن ميں آٹھويں صدى ہجرى كے بعد سے خواہشات نفسانى كا روح پر غلبے كا مرحلہ شروع ہوا اور اسلامى تمدن ترقى كے مرحلہ سے دور ہوگيا_(۱)

اسكے علاوہ اور بھى اسباب كو تہذيبوں كے زوال كے حوالے سے ذكر كيا گيا ہے مثلا معاشرہ ميں وحدت اور نظم كا فقدان ، بيرونى دشمنوں كا حملہ ، معاشرتى طبقات كى ساخت ميں انتشار تصنع اور بناوٹ كا پيدا ہونا اور تاجرانہ رويہ اور مزاج وغيرہ_

اخلاق ، ثقافت، تہذيب اور قانون

ہر معاشرے ميں اخلاق ، ثقافت ، تہذيب اور قانون ميں سے ہر ايك مفہوم كى پيش رفت و ترقى دوسرے مفہوم كى پيش رفت كے برابر ہے جبكہ ہر ايك كا انحطاط خواہ ناخواہ دوسرے كى تباہى و بربادى كى علامت ہے_

____________________

۱) دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۴، ذيل بن بنى مالك ( محمد على مہتدي)_


جب اخلاق ترقى كرتا ہے اور لوگ اخلاقى اصولوں كا خيال ركھيں تو اعتماد كى فضا تعلقات وروابط كى پيش رفت كے اسباب فراہم كرتى ہے ، اور اس فضا كاپھيلاؤ معاشرہ كى ثقافت كو نماياں كرتا ہے ، اسى طرح ہر معاشرہ اپنے اجتماعى نظام كے اندر پانے جائے والى مفاہمت كى تقويت اور اسے محفوظ كرنے كيلئے قوانين كا محتاج ہے، لوگوں كا ان چار اسباب كے بارے ميں رويہ معاشرے كى ترقى و پيش رفت يا زوال و انحطاط كا باعث بنتاہے، جس طرح لوگوں كا ان چار اسباب كو قبول كرنا اور توجہ دينا معاشرے كى خوشبختى اور سعادت كا باعث ہے اسى طرح ان سے دورى اور منہ پھيرنا فساد، تباہى ، فحشاء اور آخر ميں معاشرے كى بربادى كا باعث ہے_

۲) عصر دعوت سے فتوحات كے زمانہ تك اسلامى اور ثقافتى تاريخ كا خلاصہ

مورخين عرب كى تاريخ كو تين ادوار ميں تقسيم كرتے ہيں :

۱) سبا اور حمير كا دور جو بہت ہى قديم زمانے ميں شروع اور پھر ختم ہو جاتا ہے_

۲) دوسرا دور جاہليت كہ چھٹى صدى عيسوى سے شروع ہوتا ہے اور اسلام كے ظہور پر ختم ہو جاتا ہے_

۳) اسلامى دور يعنى صدر اسلام سے اب تك_

تاريخ اور آثار قديمہ پر مبنى شواہد كے مطابق جزيرہ عرب ميں بہت سے مكاتب فكراور ثقافتى وتاريخى نظريات موجود تھے، حضرت ابراہيم (ع) نے اسى تمدن ميں اپنى دعوت كا آغاز كيا تھا ، بين النہرين اور شمال ميں آل غسان اور آل منذر اور جنوب ميں نجران و يمن كے لوگ عيسائي تھے، بازار جيسے مثلا ''بازار عكاظ ''شعرا اور اديبوں كے جمع ہونے كى جگہ تھے كہ جو عربى ثقافت كے اہم ترين ركن يعنى شاعرى كا محل ظہور تھے ،جس قبيلہ ميں كوئي زبردست اور بڑا شاعر ظاہر ہوتا اسكے افراد دوسروں پر فخر برترى كا اظہار كيا كرتے تھے_(۱)

معاشرتى اور اجتماعى حوالے سے سياسى اور حكومتى عہدے لياقت اور طاقت كى بنياد پر نہيں بلكہ اپنى رسوم و

____________________

۱) سيد جعفر شہيدي، تاريخ تحليلى اسلام، تہران ۱۳۶۶، ص ۱۵ _ ۱۴_


روايات اور وراثت كى بناء پر تقسيم ہوتے تھے، اسى ليے درخشان صلاحيتيں كو اپنے ظہور كاموقع نہيں ملتا تھا_ مكہ كے لوگ كعبہ كے وجود اور اسكى ہمسايگى كى بركت سے اور زمانہ جاہليت كے رسوم و رواج سے ما خوذ خاص روابط كى بناپر آرام و سكون كى زندگى گزاررہے تھے، مشترك دفاع ميں شركت كيا كرتے تھے_

اسى كے ساتھ ساتھ مكہ اور يثرب كے درميان واضح فرق اور امتياز نظر آتاہے ، مكہ كے لوگ تاجر اور دورانديش تھے جبكہ يثرب والے زراعت پيشہ اور سخت محنت كش شمار ہوتے تھے_

اس قسم كى فضاء ميں تقريبا ۶۱۰ عيسوى ميں پيغمبر اسلام(ص) نے مكہ ميں اپنى دعوت كا آغاز كيا، اس دعوت كے نتيجے ميں مسلمانوں كا ايك گروہ مكہ ميں وجودميں آيا كہ جو اہل مكہ كى بدسلوكى اور رقابت كا شكارہوگيا_

بعثت كے گيا رھويں سال مدينہ كے ساكن قبيلہ خزرج كا ايك گروہ كہ جو حج كيلئے مكہ آئے تھے انہوں نے عقبہ ميں پڑاؤ كے دوران پيغمبر (ص) سے ملاقات كى اس ملاقات ميں پيغمبر اكرم(ص) نے انہيں اپنى اور اپنے دين كى شناخت كروائي اور ان لوگوں نے قبول كيا، اسكے ايك سال بعد قبيلہ خزرج كے بارہ مردوں اور ايك عورت نے اسى جگہ پيغمبر اكرم(ص) كى بيعت كى كہ اسلامى تاريخ ميں اسے پہلى بيعت عقبہ كہ نام سے ياد كيا جاتا ہے ، پيغمبر اكرم(ص) نے اسى بيعت كى بناء پر مصعب بن عمير كو پہلے داعى اسلام كے طور پر مدينہ ميں بھيجا تا كہ وہ مدينہ والوں كو قرآن ، اسلامى تعليمات اور نماز كے آداب سكھائيں چونكہ معلوم ہوچكا تھا كہ مدينہ اسلام اور مسلمانوں كيلئے مناسب پناہ گاہ ثابت ہوگى ، تو پيغمبر اكرم(ص) نے بعثت كے چودھويں سال بارہ ربيع الاول كو اپنى تاريخى ہجرت كي_

اسكے بعد پيغمبراكرم(ص) كے اصحاب دو گروہ ميں تقسيم ہوگئے : مہاجرين كہ جو مكہ سے آئے تھے ، او رانصار يعنى مدينہ كے ساكن كہ جنہوں نے اسى شہر ميں پيغمبر اكرم(ص) كا استقبال كيا_(۱)

پيغمبر اكرم(ص) نے مدينہ ميں اسلامى معاشرے كى عمارت كو تين اہم بنيادوں پر قائم كيا يعنى مسجد بنائي گئي ،

____________________

۱) دائرة المعارف بزرگ اسلامى و مجمع اڈريس_


مہاجرين اور انصار ميں عقد اخوت قائم ہوا اور مسلمانوں اور غير مسلم قبائل ميں با ہمى تعاون كا معاہدہ طے پايا، يعنى حقيقت ميں اسلامى سياسى معاشرہ بھى مدينہ كى طرف ہجرت كے بعد تشكيل پايا، مدينہ كى اسلامى حكومت ايك حكومت كيلئے ضرورى تمام لوازمات يعنى زمينى جگہ ، آبادى ، حاكميت اور دفترى اور انتظامى نظام كى حامل تھي_

اس اسلامى معاشرہ ميں ايك خصوصيت اوربھى تھى كہ جو اس زمانہ تك انسانى تاريخ ميں پہلے كہيں موجود نہ تھى وہ يہ كہ معاشرہ كى تشكيل كے اہم ركن يعنى قانون كى حاكميت تھى ، يعنى معاشرہ كے تمام افراد كيلئے بغير كسى امتياز كے ايك جيسا قانونى نظام قائم تھا_

ان اقدامات كے ذريعے پيغمبر اكرم (ص) نے اپنى منشاء كے مطابق مدينہ ميں بتدريج سياسى اور ادارہ جاتى نظام قائم كرديا، دينى عقايد كے گوہر سے استفادہ كرتے ہوئے اور انكے تحفظ اور انكى نشر و اشاعت _جو كہ آپكا معاشرہ ميں اصلى ہدف تھا_كى وجہ سے معاشرہ كى سياسى اور انتظامى حالت مستحكم ہوگئي، اسى طرح پيغمبر اكرم(ص) كى دس سالہ حكمرانى ميں تقريبا اسّى چھوٹى بڑى جنگيں بھى مدينہ ميں انجام پائيں ، كہ پيغمبر اكرم(ص) يا بذات خود ان ميں شريك ہوتے تھے اور لشكر كى كمانڈ كرتے تھے يا خود مدينہ ميں تشريف فرما رہتے اور كسى ايك صحابى كو لشكر كے سپہ سالار كے طور پر روانہ كرتے ،ان جنگوں نے اسلام كى تازہ تشكيل شدہ حكومت كى سياسى اور فوجى حيثيت كو مضبوط كرنے ميں بہت بنيادى كردار ادا كيا_

پيغمبر اكرم(ص) نے مختلف قبائل مثلا يہودى اور عيسائي قبائل كے ساتھ معاہدے كيے ،پيغمبر(ص) نے ان معاہدوں ميں ايك موزون اور كامياب حكمت كے ساتھ مدينہ كى نئي حكومت كے تحفظ اور ثبات كى ضمانت فراہم كى ، اسكے علاوہ ہمسايہ ممالك مثلا ايران ، روم ، مصر ، يمن اور حبشہ كے بادشاہوں اور حكام كى طرف خط بھيجے، مورخين كى نگاہوں ميں يہ خطوط پيغمبر اكرم (ص) خارجہ پاليسى كا كچھ حصہ شمار ہوتے ہيں _

ان اقدامات اور ديگر بے شمار شواہد كى بناء پريہ كہا جاسكتا ہے كہ ہجرت كے ابتدائي ايام ميں ہى اسلامى تمدن كى تشكيل كے مختلف پہلو ظاہر ہوچكے تھے اوريہ بات نازل شدہ آيات كے لہجے كے تغير سے بخوبى معلوم ہوتى ہے كہ دعوت اسلام كے ابتدائي ايام كے برعكس مدينہ ميں الہى آيات بيشتر احكام و حدود كے پہلوكى حامل ہيں اور ان ميں قوانين شريعت اور معاشرتى احكامات كى گفتگو ہوئي ہے _


اس كے بعد پيغمبر اكرم(ص) نے ادارہ جاتى اور محكمانہ نظام كے ابتدائي مراحل كى تشكيل كيلئے كوشش كى ، اپنے ليے معاونين كا انتخاب كيا اور ہر ايك كو ايك ذمہ دارى سپردكى ، اگلے مرحلے ميں اسلامى حاكميت كے پھيلاؤ كے ليے كاركنوں كا تقرر كيا ان ميں سے بعض زكوة اور صدقات كى وصولى ميں مشغول ہوئے اور دوسرے گروہ كو معاشرتى امور كو منظم كرنے كى ذمہ دارى سوپنى ،اس دور ميں جو دس سال تك چلا جو آيات الہى نازل ہوئيں ان ميں اسلامى حاكميت كے اركان كو مستحكم كرنے كى تاكيد ہوئي ،انہى سالوں ميں كچھ اور اقدام بھى ہوئے جن ميں غور و فكر كرنے سے پيغمبر اكرم (ص) كى اصلى ذمہ دارى اور انكے اندرونى ميلانات كى حقيقى تصوير سامنے آتى ہے_

گيارہ ہجرى كو پيغمبر اكرم (ص) كى وفات عظمى كے بعد انكى جانشينى والے مسئلہ ميں اختلاف پيدا ہوا ، بالاخرہ سقيفہ بنى ساعدہ كے ماجرا كے نتيجہ ميں حضرت ابوبكر كى بيعت انجام پائي ، ابوبكر نے بہت زيادہ كوشش اور ان لوگوں سے دو سال تك جنگ و جدال كرنے كے بعد كہ جو خليفہ كى حاكميت اور ايك مركزى حكومت كو قبول نہيں كرتے تھے_ بالاخرہ سارے جزيرہ عرب كو اپنى حكومت كے تحت لے ليا، اسكے بعد مذہب اسلام كى نشر و اشاعت كے حوالے سے شام اور عراق كى طرف لشكر بھيجے ،ابوبكر نے تير ھويں ہجرى ميں انتقال كيا ليكن اپنى وفات سے قبل حضرت عمر بن خطاب كو خليفہ نامزد كر ديا تھا _

حضرت عمر كى خلافت كا آغاز مصر ، ايران اور شام ميں فتوحات كے زمانہ ميں ہوا جس زمانہ ميں عرب اسلام كے زير سايہ طاقتور ہو رہے تھے اسى زمانہ ميں روم اور ايران كى حكومتيں با ہمى طويل اور لا حاصل جنگوں كے بعد كمزور اور ناتواں ہو چكى تھيں ، ان ممالك كے لوگوں كى اپنى حكومتوں سے بيزارى لشكر اسلام كے استقبال كا باعث بنى _

آدھى صدى سے كمتر عرصہ ميں ہى ، اسلام ايران اور افريقہ كے غالب دين كے طور پر ابھرا مسلمانوں كى ان ممالك كے لوگوں كے عقائد اور آداب سے آشنائي نے مدينہ كى اجتماعى فضا كو بھى متغير كرديا تھا، دوسرى طرف سے مفتوحہ سرزمينوں كا نظم سنبھالنے كى وجہ سے مسلمانوں كو گوناگوں معلومات اور تجربات حاصل ہوئے ، يہى دور تھا كہ آہستہ آہستہ حكومت كے تمام سياسى ستونوں كو منظم كرنے كيلئے دفاتر اور محكمے وجود ميں آئے_


دوسرا باب:

اسلامى تمدن كى تشكيل كا پس منظر


۱ اسلام ميں علم و دانش كا مقام

جو كچھ آيات اورروايات ميں علم و دانش اور معرفت كى فضيلت كے حوالے سے ذكر ہوا ہے اگر اسے بغير كسى تفسير اور تشريح كے جمع كريں تو بڑى كتابوں كى شكل ميں سامنے آئيگا، اگر اس حد تك اسلام كے اولياء علم اور تعليم پر تاكيد نہ فرماتے ہوتے تو كبھى بھى اسلامى تمدن عظمت كے اس بلند مقام پر فائز نہ ہوتا_

خود كلمہ '' علم '' اپنے مشتقات كے علاوہ تقريبا اسّى بار قرآن مجيد ميں مختلف موارد ميں استعمال ہوا ہے ،كلمہ ''عقل'' اگر چہ قرآن مجيد ميں نہيں آيا ليكن '' اولى الالباب'' كى تركيب كہ جسكا معنى صاحبان عقل ہے قرآن ميں موجود ہے ، اسى طرح '' حكمت ، برہان ، فكر ، فقہ و غيرہ جيسے كلمات كئي بار قرآن مجيد ميں استعمال ہوئے ہيں ، اللہ تعالى نے مومنين كو اس حوالے سے كہ وہ اندھى تقليد كى بناء پر اس پر ايمان لائيں نہى فرمائي ہے ، حتى كہ ايك آيت ميں (روم ۶۵) علم اور ايمان كا اكھٹا ذكر كيا ہے _

مزيد يہ كہ صرف ان كلمات پر اكتفاء نہيں ہوا بلكہ تعليم و تربيت كے حوالے سے بہت سى آيات قرآن ميں موجود ہيں ، مثلا آل عمران كى آيت ۱۹۰، انعام آيت ۹۷، يونس كى آيت ۵ يہاں تك كہ وہ آيات كہ جو گذشتہ لوگوں كے قصے بيان كرتى ہيں اور ان واقعات كو بيان كرنے سے انكا ہدف عبرت دلانا ہے ان ميں بھى تاريخى موضوعات ، تاريخ نويسى پر حوصلہ افزائي ، آثار تاريخى كا مشاہدہ اور حقائق بينى جيسے احساسات كو واضح اور آشكار طور پر درك كيا جاسكتا ہے_(سورہ انعام ۱۱)

پيغمبر اكرم(ص) اور ائمہ اطہار عليہم السلام سے منقول احاديث اور اقوال ميں بھى عظمت علم اور فضيلت علماء كے حوالے سے بہت كچھ ذكر ہوا ہے، پيغمبر اسلام (ص) كى يہ تاكيد كہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر حصول علم واجب اور


فرض ہے يا يہ كہ ايك گھنٹے كى فكر ايك سالہ عبادت سے بہتر ہے ، يہ سب اسلام ميں تعليم و تعلم كے حوالے سے تاكيد كى مثاليں ہيں _

آئمہ عليہم السلام كى حيات مباركہ كے ادوار ميں بالخصوص امام جعفر صادق (ع) كا سنہرى دور كہ جب علم و تعليم عروج پر تھى آب اپنے اصحاب كو علم كے حصول پر شوق دلاتے تھے ،يہ كہ قيامت كے دن دانشوروں كے قلم شہداء كے خون پر بھارى پڑ جائيں گے اس قسم كى رغبت اور شوق دلانے كى مثالوں ميں سے ہے، البتہ اس نكتہ پر توجہ ركھنى چاہيے كہ حصول علم كى اسلام ميں كچھ شرائط ہيں : اسلام علم اور اخلاق ميں كسى فاصلے كا قائل نہيں ہے بلكہ ان دونوں كے با ہم پيوستہ رہنے پر تاكيد كرتا ہے، اسلام ميں اہل علم و دانش ذمہ دار فرد ہے اور اخلاق سے بے بہرہ استاد سوائے گمراہى كے كوئي اور راہنمايى نہيں كرتا ، يہ موضوع بذات خود اسلام كے امتيازات ميں سے ہے كہ وہ تعليم و تربيت كے حوالے سے ايك عليحدہ اور خاص مكتب كا مقام ركھتا ہے_(۱)

اسلامى تہذيب و تمدن ميں تاريخ كتابت پر ايك نظر

تاريخ كے مختلف اوراق سے جو معلومات حاصل ہوئي ميں وہ يہ كہ زمانہ جاہليت ميں اہل عرب اگر چہ لكھنے كے فن سے مطلع تھے ليكن ان كى صحرائي زندگى ايسى نہ تھى كہ فن كتابت انكے لئے ضرورى ہو،اس دور ميں زبانى ياد كرنے اور حفظ كرنے كے كلچر كا غلبہ تھا، جزيرہ عرب كے بعضى مناطق مثلا حجاز سے ايك لكھا ہوا پتھر ملا ہے كہ جو اس منطقہ كے قديم زمانے سے تعلق ركھتا ہے ماہرين اس نتيجہ پرپہنچے ہيں كہ اس علاقے ميں پہلے خط نبطى كى ايك قسم رائج تھي_

قرآن مجيد ميں كتابت كے حوالے سے خاص الفاظ كا موجود ہونا بتاتاہے كہ ظہور اسلام كے زمانہ ميں اہل عرب كتابت كى مختلف اقسام كا كچھ علم ركھتے تھے، ان الفاظ ميں سے ايك لفظ '' كتاب'' ہے اگر چہ يہ

____________________

۱) محمد رضا حكيمى ، اور ديگران '' الحياة'' تہران ، ج ۱_


واضح نہيں ہے كہ اس سے مقصود وہ چيز ہے كہ جسے ہم كتاب كہتے ہيں ، بہرحال كسى لكھى ہوئي اور مكتوب چيز كااشارہ دے رہاہے، اسى طرح لفظ صحيفہ جمع كى صورت ميں يعنى '' صحف'' قرآن ميں ذكر ہوا ہے ، يہاں يقينا مراد مكتوب اورلكھى ہوئي چيز ہے، با وجود اس كے كہ اہل عرب حفظ اور زبانى ياد كرنے پر بہت زيادہ رغبت ركھتے تھے قرآں مجيد كا كتابت پر تاكيد و اصرار بہت دلچسپ اور اہم ہے اور اس بات پر اشارہ ہے كہ مسلمان ان اولين ايام ميں ہى جانتے تھے كہ كتاب آسمانى كى آيات ميں كوئي لفظ تبديل نہيں ہونا چاہيے_(۱)

جلد اورر چمڑا ان چيزوں ميں سے ايك تھى كہ جس پر قرآن لكھا جاتا تھا اس زمانہ ميں اہم مسائل تحرير كرنے كے ليے جلد يا چمڑااستعمال كرنے كى وجہ اسكى پائيدارى تھى ليكن اسكا حصول امير لوگوں كيلئے بھى دشوار تھا، اسى لئے اہل عرب كچھ اور مناسب چيزوں كو كتابت كيلئے استعمال كرتے تھے ، مثلا كھجور كے درخت كى خشك كى ہوئي چھال يا اسكى كوئي خشك شاخ ،مسلمانوں كى اردگرد كى تہذيبوں سے آشنائي انكى كتابت كے وسائل سے آگاہى ميں بھى بہت اثرات كى حامل تھى ،مسلمان، مصر وشام كى سرزمينوں كو فتح كرنے كے بعد قرطاس يا پيپورس سے آشنا ہوئے ، اسكے بعد انہيں كتابت كيلئے ديگر چيزوں پر ترجيح ديتے تھے ليكن پيپورس (كاغذ كى طرح ايك چيز) بھى انكے لئے بہت مہنگا ثابت ہوا_

لہذا تحرير كے ليے مناسب انتخاب '' كاغذ'' تھا مسلمان شروع ميں ماوراالنہر كے علاقے فتح كرنے كے زمانے ميں كاغذ سے آشنا ہوئے تھے، سمرقند كہ جہاں بہت سے چينى كاغذ سازى كى صنعت ميں مشغول تھے وہاں سے يہ صنعت ديگر اسلامى سرزمينوں ميں منتقل ہوئي ، كاغذكے خام مال كو مختلف مقدار ميں استعمال كرنے كى وجہ سے پہلى صدى ہجرى ميں مختلف انواع اقسام كے كاغذ تيار ہوئے تھے، يہ كاغذ اپنى نوعيت ، استحكام ، ضخامت ، چمك اور رنگ ميں ايك دوسرے سے مختلف ہوتے تھے_

اس سے معلوم ہوتاہے كہ مسلمانوں نے چينى لوگوں سے كاغذ سازى كى روش كو سيكھنے پر اكتفاء نہيں كيا بلكہ اس صنعت كو ترقى دى اور كمال تك پہنچايا ، بتدريج تمام اسلامى شہروں اور سرزمينوں ميں مثلا عراق ، مصر ،

____________________

۱) يحيى وہب الجبورى ، الخط و الكتابة فى الحضارة العربيہ ، بيروت ، ص ۲۴۹ كے بعد تك_


ايران اور اندلس ميں كاغذ سازى شروع ہوگئي ، دوسرى صدى ہجرى كے اختتام ميں ہارون الرشيد كے علم دوست وزير فضل بن يحيى برمكى كى كوششوں سے كاغذ سازى كى صنعت بغداد ميں شروع ہوئي اور اس صنعت نے بہت سرعت كے ساتھ كھال اور چمڑا كى جگہ لے لي_

يانچويں صدى ہجرى ميں يہ صنعت عراق سے شام كى طرف منتقل ہوئي اور وہاں اس نے حيران كن انقلاب بپا كرديا، اسطرح ناصر خسرو اپنے سفرنامہ ميں لبنان كے شہر طرابلس كے حوالے سے لكھتا ہے كہ اس شہر ميں سمرقندى اور اق كى طرح خوبصورت اوراق تيار ہوتے تھے اور ان سے كيفيت ميں بہتر ہوتے تھے، گويا اس طرح مسلمانوں نے ثقافتى روابط كے اہم ذرائع ميں سے ايك يعنى كاغذ كى ترقى اور پھيلاؤ ميں اہم كردار ادا كيا ، يہ صنعت مصر اور اندلس كے ذريعے يورپ منتقل ہوئي اور سب سے پہلا كاغذ سازى كا كارخانہ اٹلى ميں تقريبا تيرھويں صدى عيسوى ميں تعمير ہوا اور اس نے كام شروع كيا_(۱)

۲_ علوم كا منتقل ہونا اور اہل علم و دانش كى دنيائے اسلام ميں شموليت

عالم اسلام ميں علوم عقلى كى پيدائشے كا اصلى منبع يونان اور اسكى علمى محفل تھى ، اگر چہ اكثر علوم بالواسطہ يونانى زبان سے سريانى اور لاتينى زبان ميں ترجمہ كى شكل ميں مسلمانوں كے پاس پہنچے ليكن ان علوم كا ايك حصہ اسكندريہ (مصر ميں ) اور وہاں كے علمى مركز سے يعنى مدرسہ اسكندريہ كے ذريعے مسلمانوں كے پاس پہنچا(۲) وہ علوم جو مسلمانوں نے يونانيوں سے حاصل كيے يہ ہيں : رياضى ، نجوم، طب اور علوم طبيعى _

اسلامى دانشوروں كى تاليفات بتاتى ہيں كہ كس حد تك مسلمانوں نے بقراط ، جالينوس ، افلاطون ، فيثاغوريث اور ارسطو كى كتابوں سے فائدہ اٹھايا، ايك اہم نكتہ يہ ہے كہ پہلے پہل مسلمان ان علوم سے يوناني

____________________

۱) دايرة المعارف فارسي، غلام حسين مصاحب، ج۲ ص ۲۱۴۴_

۲) سيد حسن تقى زادہ ، تاريخ علوم در اسلام ، تہران ۱۳۷۹ شمسى ص ۳۱،۳۰_


كتابوں كے ترجمہ كے كى بجائے ان اطباء كے ذريعے آگاہ ہوئے كہ جو مسلمانوں كى فتح كے زمانہ ميں ان يونانى سرزمينوں ميں رہتے تھے، دمشق كو مركز خلافت كے طور پر انتخاب كرنا باعث بنا كہ يونانى دانشوروں سے رابطہ كئي گناآسان ہوگيا ، كچھ علوم ہندوستان سے عالم اسلام ميں وارد ہوئے ، عباسى دور كے اوائل ميں يہ علمى رابط برقرار ہوا ، علوم طب ، نجوم وغيرہ ميں ہندى كتابوں سے ترجمہ كيا گيا، اسى طرح چند ہندى ماہرين كہ جن ميں ايك صف اول كا ستارہ شناس بھى تھا خليفہ عباسى منصور كے پاس آئے ، تو منصور نے اس ستارہ شناس سے چاہا كہ ان علوم كا كچھ حصہ اسكے دربار كے علماء كو سكھائے ، اسطرح ہندى علوم وسيع پيمانے پر علوم اسلامى كى محفلوں ميں وارد ہوئے_

دنيا كا ايك اور علمى مركز كہ جہاں سے مختلف علوم اسلامى تمدن ميں داخل ہوئے وہ ايران بالخصوص ايران كا شہر گُندى شاپور(شوستر شہر اور دزفول شہر كے درميان) تھا، گُندى شاپور ميں خسرو انوشيروان كى حكومت كے زمانے سے مدرسہ اور ايك ہسپتال تعمير ہوا تھا كہ جہاں مختلف ممالك سے طبيب اور ماہرين مشغول تھے_ گندى شاپور كى ترقى كى ايك وجہ نسطوريوں كا وہاں آنا تھا، جب نسطوريوں كو مدرسہ ادسا ء سے نكالا گيا تو وہ ايران كى طرف آئے اور گندى شاپور شہر ميں مقيم ہوئے ، وہ يونانى كتابوں كا سريانى ترجمہ بھى اپنے ساتھ لائے تھے ، اشراقى (ايك فلسفى مكتب ) حكماء كہ جو اہل يونان تھے '' ايتھنز '' سے انہيں در بدر كيا گيا تو وہ بھى يہاں آكرفلسفہ كى تعليم ميں مشغول ہوگئے اور انوشيروان كے حكم سے انہوں نے افلاطون اور ارسطو كى بعض كتابوں كا پھلوى زبان (قديم فارسي) ميں ترجمہ كيا_

مسلمانوں كے ہاتھوں ايران كى فتح كے بعد ان كتابوں كا فارسى سے عربى زبان ميں ترجمہ ايك قدرتى امر تھا، عباسى خلافت كے زمانے ميں كچھ كتابوں كا پھلوى سے عربى ميں ترجمہ كيا گيا بعد ميں يہ كتابيں اسلامى نجوم كے علم كى تكميل كے حوالے سے اہم ترين منبع شمار ہوتى ہيں _

علوم طبيعى كے ميدان ميں ايك اہم ترين علم '' علم الادوية''تھا جو يونان سے اسلامى دنيا ميں داخل ہوا، ايشياى كوچك كے ايك ماہر و دانشور ديسقوريدس كى كتاب '' حشائشے يا الھيولى فى الطب '' كى نام سے عربى


ميں ترجمہ ہوئي ،يہ كتاب يونانيوں كے نزديك بہت اہميت كى حامل تھى اور عربوں كے ہاتھوں بہت دقيق انداز سے ترجمہ اور تحقيق ہوئي ، اس قسم كى قديم اور معيارى كتب كے ذريعے مسلمان علم الادويہ اور طبى مفردات ميں ممتاز مقام كے حامل ہوگئے_(۱)

۳_ترجمے كى تحريك:

فتوحات كے عروج كا زمانہ گزرنے كے بعد جب اسلامى حكومت مستحكم ہوگئي اور مسلمان اسلام كے بنيادى علوم كى تدوين سے كچھ حد تك فراغت پاگئے ، بعض عباسى خلفاء كے اہتمام اور حوصلہ افزا سياست كے زير سايہ اور بيت المال كى بے پناہ دولت سے استفادہ كرنے كے باعث اسلامى معاشرہ آہستہ آہستہ ان علوم اور صنعتوں كى طرف متوجہ ہوگيا كہ جو غير مسلم تہذيبوں ميں موجود تھے، اس توجہ كا اصلى سرچشمہ قرآن اور بہت سى احاديث تھيں جو مومنين كو علم و فن كے كسب كرنے پر ترغيب دلاتى تھيں _

دہ چيز جو سب سے زيادہ اس تحريك كے اسباب كو فراہم كرنے كا باعث تھى وہ مسلمانوں كى فتوحات بالخصوص مسلمانوں كا ساسانيوں كى سارى مملكت پر تسلط اور مشرقى روم كے كچھ مناطق پر قبضہ تھا ، ان ميں سے ہر سرزمين ايك قديم تہذيب كى حامل تھي، اس سے بڑھ كر يہ كہ ايك ہزار سال قبل يہاں اسكندر اعظم نے لشكر كشى كى تھى ، جس كى بناء پر ان ميں كچھ حد تك يونانيوں كا مزاج رسوخ كرگيا تھا_

مسلمان فاتحين نے اپنے زير تسلط سرزمينوں سے ايك متحدمملكت تشكيل دى _ دوسرى تہذيبوں كے ساتھ ساتھ يونانيوں كے ساتھ مبادلہ اور ثقافتى تفاہم كا ہر طرح سے ايك نيا تجربہ كيا ،تو بہت ہى كم مدت ميں عالم اسلام كے حكام، دانشوروں اور اہل دانش كا اشتياق اور كام اسقدر بڑھ گيا كہ بعد ميں اس دور كانام ''تحريك ترجمہ ''كا دور پڑگيا ، اگر چہ اس تحريك كا آغاز بنى اميہ كے دور سے ہواليكن اس تحريك كے اصلى اثرات بنى عباس كے دور ميں حاصل ہوئے_

____________________

۱) آلدوميہ لى ، علوم اسلامى و نقش آن در تحولات علمى جہان _ ترجمہ محمد رضا قدس رضوى ، ص ۹ _ ۷۷_


بنى اميہ كے دور ميں اكثر ترجمے اداروں ، محكموں ، سياست اور تجارت سے مربوط تھے انہيں جديد حكام اور غير عرب زبان لوگوں كے درميان رابط كى ضرورت كى بناء پر ترجمہ كيا گيا تھا، يہانتك كہ اگر كوئي ايسا متن كہ جسے علمى كہا جاسكے ترجمہ ہو ا تو وہ بھى فوجى يا محكمانہ ضرورتوں كى بناء پر تھا، ترجمے كى با قاعدہ تحريك جس نے بہت سے تاريخي، اجتماعى اور علمى آثار چھوڑے ،اولين عباسى خلفا كے دور سے شروع ہوئي _

يہ علمى تحريك دو صديوں سے زيادہ جارى رہى ،بالخصوص دوسرے خليفہ منصور عباسى كى حكومت كے زمانہ ميں غير مسلم اقوام كے علوم كے ترجمہ كے حوالے سے اہم اقدامات دو روشوں يعنى تحت اللفظى اور با محاورہ صورت ميں انجام پائے، اس زمانہ ميں پہلے ترجمے فارسى سے عربى ميں ہوئے ، ان كتابوں كے بيشتر مترجمين نو مسلم زرتشتى تھے، چند ادبى كتابوں مثلا كليلہ اور دمنہ كا ترجمہ ايرانى مصنف عبداللہ بن مقفع (متوفاى ۱۴۱ قمري) كے ہاتھوں انجام پايا، بعد والے ادوار ميں اسلامى مترجمين ترجمہ كے فنون ميں بہت زيادہ مہارت پيدا كرگئے اس فن ميں اپنے تجربات كى بناء پر انہوں نے سريانى اور يونانى زبانوں سے عربى ميں ترجمہ كيا_

اس دور ميں نسطورى مذہب كے حاذق حكيم اور شيخ المترجمين كے نام سے مشہورحنين بن اسحاق جو يونانى ، سريانى ، عربى او پہلوى زبانوں پر تسلط ركھتے تھے پہلے مترجم تھے جنہوں نے ايك گروہ تشكيل ديا اور ترجمہ كے كام كو منظم كيا ،ان كے فن ترجمہ كے شاگردوں ميں سے انكے فرزند اسحاق اور بھانجے حبيش بن اعسم تھے، حنين بھى ديگر مترجمين كے ترجموں كو اصل كتابوں سے مطابقت ديتے ہوئے اصلاح كيا كرتے تھے_

عباسى خلافت كے دور ميں ترجمہ كى اس تحريك كو چند ادوار ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے كہ ان تمام ادوار ميں خليفہ كے ميلان ياديگر عوامل كى بناء پر تراجم كى تعداد اور موضوعات ميں فرق پڑا ،ان ادوار كو خاص طور پانچويں عباسى خليفہ ہارون الرشيد (حكومت ۱۹۳ _ ۱۷۰) كے دور سے يوں ترتيب ديا جا سكتا ہے:

(الف) ہارون الرشيد كا دور:

اس دور ميں توجہ كا مركزسائنس كى كتابوں كا ترجمہ تھا ، يحيى بن خالد برمكى جو كہ ہارون كے وزير تھے انہوں نے لائق مترجمين كو اكٹھا كرنے كے ليے بہت زيادہ كوشش كى ، ہارون كے


زمانہ ميں جو شہر جو مسلمانوں كے قبضہ ميں آتے تھے انكے كتابخانے كامل طور پر بغداد ميں منتقل ہوتے تھے، يونانى علوم كے پہلے آثار اور تاليفات مثلا اقليدس اور مجسطى كى اصول ہندسہ پر لكھى ہوئي كتابيں ،بطلميوس كى تصانيف اور ہندوستانى زبان سے طب كے بارے ميں تصنيفات كا عربى ميں ترجمہ اس دور ميں انجام پايا_

ب) مامون كا دور ( حكومت ۲۱۸ _ ۱۹۸قمرى ) :

ہارون الرشيد كے بعدكچھ عرصے ميں مامون مقام خلافت پر پہنچ گيا ،جس زمانہ ميں حكومت اسكے ہاتھوں آئي اس زمانہ ميں آيات قرآن سے مختلف فہم و تعبير كى بناء پر علم كلام كى مباحث عروج پر تھيں اوراس دور ميں بالخصوص بہت سى فلسفى تصنيفات عربى ميں ترجمہ ہوئيں _

ج) مامون كے بعد كا دور:

مامون كے بعد متوكل عباسى (حكومت ۲۴۷ _ ۲۳۲قمري) كے دور ميں ترجمہ كا كام اسى طرح چلتا رہا، مثلا حنين بن اسحاق اسى طرح متوكل كے دور ميں بھى ترجمہ كے كام ميں مشغول رہے ، ليكن حكومت اسلامى كے مركز كا معتصم (حكومت ۲۳۷ _ ۲۱۸قمري) كے دور ميں بغداد سے سامرا منتقل ہونا مختلف تصانيف كے ترجمہ كى كيفيت ميں تبديلياں لايا، اس تبديلى كى اہم ترين وجہ '' بيت الحكمة'' جو كہ ايك اہم ترين علمى ادارہ تھا اسكى عظمت و اہميت كا كم ہونا تھا_

د) تحريك ترجمہ كا اختتام:

بغداد ميں ترجمہ كى تحريك دو سو سال تك بہت زيادہ كام كرنے كے بعد بتدريج زوال پذير ہوگئي اور آخر كار نئے عيسوى ہزارہ كے آغاز ميں اپنے اختتام تك پہنچ گئي، البتہ يہاں تحريك ترجمہ كے ختم ہونے كا يہ مطلب نہيں ہے كہ لوگوں كى توجہ ترجمہ شدہ علوم كى طرف كم ہوگئي يا يونانى زبان سے ترجمہ كرنے والے ماہرين كم ہوگئے تھے بلكہ اس تحريك كے اختتام كى اصلى وجہ ان زبانوں ميں نئے موضوعات كا موجود نہ ہونا تھا ،دوسرے الفاظ ميں يہ تحريك اپنى اجتماعى مركزيت كھو بيٹھى تھى ، جديد مضامين كا پيش نہ ہونا سے مراد يہ نہيں ہے كہ ديگر غير دينى يونانى كتب ترجمہ كيلئے موجود نہ تھى بلكہ اس سے مراديہ ہے كہ ايسى يونانى كتب جو اس تحريك كے بانى حضرا ت، علماء اور دانشور طبقہ كى توجہ اور ضرورت سے متعلق ہوں موجود نہ تھيں ،


كيونكہ بيشتر علوم و فنون ميں بہت عرصہ پہلے سے اصلى متون اور تصنيفات تشكيل پا چكى تھيں كہ جو ان ترجمہ شدہ كتب كى سطح سے كہيں بلند علمى سطح كى حامل تھيں ،اس تحريك كے بانى اور حامى گذشتہ دور كى نسبت اب ترجمہ كے كام كى طرف توجہ يا اسكى پشت پناہى كرنے كى بجائے خود عربى زبان ميں اصلى مضامين وموضوعات كو پيش كر رہے تھے_

۴_ اسلامى تمدن ميں علمى مراكز

اسلام كے نئے تشكيل شدہ نظام كے استحكام اور اسلامى معاشرے كے اندرونى رشد و كمال سے بتدريج تعليمى مراكز وجود ميں آگئے جنہوں نے علوم و فنون كى پيدائشے اور وسعت ميں اہم كردار ادا كيا، پہلا تعليمى ادارہ كہ جو اس عنوان سے وجود ميں آيا اسكا نام بيت الحكمة تھا يہ بغداد ميں تعمير ہوا اور حكومتى خزانہ يا بيت المال كى رقم سے چلتا تھا_

يہ دانشوروں ،محققين اورخصوصاًايسے لائق مترجمين كے اجتماع كا مركز تھا كہ جو يونان كى علمى و فلسفى كتب كو عربى ميں ترجمہ كيا كرتے تھے، بيت الحكمة كہ جو مسلمانوں كا بغداد ميں پہلا كتابخانہ تھا اسكى بنياد ہارون الرشيد نے ڈالى ، اس سے پہلے منصور عباسى كہ جسكے زمانہ ميں ترجمہ كے كام كا آغاز ہوا تھا اس نے حكم ديا تھا كہ ديگر زبانوں سے كتب كو عربى ميں ترجمہ كيا جائے بعد ميں يہى كتب بيت الحكمة كى اساس قرار پائيں _

مامون كے زمانہ ميں بيت الحكمة كو وسيع كيا گيا، اس نے كتابوں سے لدے ہوئے سو اونٹ بغداد منگوائے اور بظاہر يہ كتب اس قرار داد كے تحت مسلمانوں كودى گئيں جو مامون اور روم كے بادشاہ مشل دوم كے در ميان طے پائي، نيز مامون نے ۳لاكھ دينار ترجمہ كے كام پر خرچ كيے، اس دور ميں بيت الحكمة كے علاوہ ديگر علمى ادارے بھى موجود تھے ان اداروں ميں سے ايك ''دار العلوم'' تھا يہ ايك عمومى لا ئبريرى كى شكل ميں تھا، اسى طرح مصر ميں ايك تعليمى مركز دار العلم فاطميون تھا، يہ ادارہ الحاكم با مراللہ جو كہ مصر ميں فاطمى خليفہ تھے انكے حكم سے ۳۹۵ ہجرى قمرى قاہرہ ميں تعمير ہوا، اس ادارہ ميں تقريبا دس لاكھ كتب موجود تھيں ،موصل كا


دار العلم جعفر بن محمد ہمدان موصلى نے تعمير كيا يہ وہ پہلا علمى مركز تھا كہجسميں تمام علوم سے كتابيں جمع كى گئي تھيں موجودہ لبنان كے ايك شہر طرابلس ميں پانچويں صدى ہجرى كے آخر ميں ايك دارالعلم سوا لاكھ جلد كتابوں كے ساتھ موجود تھا_(۱)

اسلامى دور كے ديگربہت اہم مشہورعلمى مراكز نظاميہ مدارس تھے، پانچويں صدى كے آخرى پچاس سالوں ميں خواجہ نظام الملك نے بغداد ، نيشابور ، اور ديگر شہروں ميں مدارس كى تعمير كر كے نظاميہ نام كے مدارس كے سلسلے كى بنياد ركھى ، بغداد كا نظاميہ جو كہ ۴۵۹ قمرى ميں تاسيس ہوا اسميں ابواسحاق شيرازى تدريس كيا كرتے تھے، انكے بعد اس مدرسہ ميں تدريس كى سب سے بڑى كرسى امام محمد غزالى كو نصيب ہوئي ، اسكے بعد عالم اسلام ميں مدارس كا جال بچھ گيا ،سلجوقيوں كى مملكت ميں جو مدارس اور علمى مراكز خواجہ كے حكم سے تعمير ہوئے تو وہ خواجہ نظام الملك كى طرف منسوب ہونے كى وجہ سے نظاميہ كے عنوان سے مشہور ہوئے _

بغداد كے نظاميہ كے علاوہ اور مدارس نظاميہ بھى قابل ذكر ہيں مثلا نيشابور كا نظاميہ خواجہ نظام الملك اور ديگر سلجوقى بادشاہوں كى نيشابور شہر كى طرف خصوصى توجہ كے باعث تاسيس ہوا ،مشہور افراد مثلا امام موفق نيشابورى ، حكيم عمر خيام، حسن صباح ، امام محمد غزالى اور انكے بھائي امام احمد اور امام محمد نيشابورى نے اس مدرسے ميں تربيت پائي ،نيشابور كا يہ نظاميہ مدرسين اورمشہور فقہاء كى تعداد جو كہ وہاں تعليم ديتے تھے ،كے باعث بغداد كے نظاميہ كے بعد دوسرا مقام ركھتا تھا، اسى طرح اصفہان اور بلخ كے مدارس نظاميہ بھى نامور اساتذہ كے حامل تھے_

مجموعى طور پر كہا جاسكتا ہے كہ عالم اسلام ميں علمى و تعليمى مراكزمتعدد اور متنوع تھے، ان مراكز ميں سے وسيع اور غالب ترين علمى مراكز مساجد تھيں كہ جو سارے عالم اسلام ميں پھيلى ہوئي تھيں ،مساجد مسلمانوں كے دينى اجتماع كے سب سے پہلے مراكز ميں شمار ہوتى تھيں _

____________________

۱)على رفيعى علامہ دشتى ، درآمدى بر دايرة المعارف ،كتابخانہ ہاى جہان ، قم ، ص ۴۳ _ ۴۲_


حتى كہ مدارس كى عمارتيں بھى مساجد كے نقشہ كے مطابق ہوتى تھيں ايسى معروف مساجد جو اپنى تاسيس كے آغاز ميں يا كچھ عرصہ بعد ان ميں لائبريرياں بھى تشكيل پائيں ، عالم اسلام كے اہم شہروں ميں بہت زيادہ تھيں مثلا مسجد جامع بصرہ ، مسجد جامع فسطاط ، مسجدجامع كبير قيروان ، مسجد جامع اموى دمشق، مسجد جامع زيتونہ جو كہ تيونس ميں ہے، مسجد جامع قرويين فاس اور مسجد جامع الخصيب اصفہان(۱) _

عالم اسلام كے ہسپتال كہ جنہيں '' مارستان'' بھى كہا جاتا تھامريضوں كے علاج كے ساتھ ساتھ اطباء كى تحقيق اور مطالعہ كے مراكز بھى شمار ہوتے تھے، اور ان ميں صرف اسى علم پر لائبريرياں بھى تھيں ،مثلا مارستان فسطاط ، مارستان الكبير منصورى قاہرہ ، مارستان نورى بغداد ، رى كا ہسپتال

اسى طرح علمى مراكز ميں سے رصد خانے ( علم ہيئت كے مراكز) بھى تھے ،عالم اسلام ميں بہت بڑے متعدد رصد خانے تعمير ہوئے جن كا شمار دنيا كے سب سے بڑے اور اہم ترين رصد خانوں ميں ہوتا تھا،كہ جن ميں علم رياضى اور نجوم كى جديد ترين تحقيقات ہوتى تھيں ،رصد خانوں ميں اسلامى دانشوروں كے بہت سے انكشافات اور تحقيقات صديوں بعد بھى يورپ ميں تجزيہ و تحليل كا مركز قرار پائے ،ان رصد خانوں ميں اہميت كے لحاظ سے مثلا مراغہ اور سمرقندكے رصد خانوں كا نام ليا جاسكتا ہے_

ان تمام اسلامى تعليمى اداروں ميں دو علمى مركز بہت زيادہ اہميت كے حامل ميں ان دو ميں ايك ''ربع رشيدي'' ہے كہ بہت سے علماء كى آمد و رفت كا مقام تھا كہ جو وہاں علمى كاموں ميں مصروف تھے ،دوسرا ''شنب غازاني''كہ جو ايل خانوں كے دور ميں تعمير ہوا كہ جس ميں مختلف ا فراد كے درميان متعدد علمى معلومات كا تبادلہ ہوا كرتا تھا_

____________________

۱) منور جمال رشيد ، قديم اسلامى مدارس، لاہور ، ص ۱۳۸ _ ۱۱۴_


تيسرا باب:

اسلامى تمدن ميں علوم كى پيش رفت


علوم كى درجہ بندي:

كلى طور پر ديكھا جائے تو اسلامى دانشوروں كى آغاز ميں عالم طبيعت بالخصوص انسان كے حوالے سے علم طب ميں انہى حدود كے اندر نگاہ تھى كہ جو يونانى علماء نے متعين كى تھيں اسى طرح علم فلكيات كے حوالے سے وہى بطلميوس كا زمين كو مركز قرار دينے والا نظريہ ركھتے تھے، ليكن اسلامى دانشوروں كى تحقيق و مطالعہ نے انہيں ان نظريات سے مختلف حقائق سے آشنا كيا، لہذا طب، علم فلكيات ، رياضى ، فزكس كے حوالے سے عالم اسلام ميں ايسے نكات اور قواعد سامنے آئے كہ جنكے بارے ميں كہا جاسكتا ہے كہ وہ كسى بھى طرح سے يونان سے نہيں ليے گئے بلكہ وہ اساسا اسلامى مفكرين كى كاوشوں كا نتيجہ ہيں ، اس حوالے سے مزيد تجزيہ و تحليل كيلئے ضرورى ہے كہ سب سے پہلے ہم اسلامى تمدن ميں علوم كى درجہ بندى پر نگاہ ڈاليں ،يو ں ان تمام علوم كى اقسام ميں اسلامى دانشوروں اور انكى تحقيقات سے آشنا ہونے كے ساتھ ساتھ ان حقيقى نكات اور مسائل كا تجزيہ كريں كہ جو يونانى علوم كى حدود اور معيار سے ہٹ كر سامنے آئے _

اسلام ميں علوم كى درجہ بندى كے حوالے سے مختلف روشيں موجود ہيں اوريہ روشيں عام طور پر اپنے بانيوں كى اپنے ارد گرد كے جہان پر انكى خاص نگاہ سے وجود ميں آتى رہيں ، پہلى درجہ بندى ميں علوم كود و اقسام نظرى اور عملى ميں تقسيم كيا گيا ، البتہ يہاں ابھى ان علوم عملى كى كيفيت اور انجام كے طريقہ كار كو مد نظر نہيں ركھا گيا، علوم نظرى كہ جنہيں حكمت نظرى سے بھى تعبير كيا گياہے ان ميں اصول شناخت و معرفت زير بحث ہيں اور بحث كا موضوع وجود اور اسكا مادے سے تعلق كى حالت ہے ،يہ علوم پھر تين اقسام ميں تقسيم ہوئے ہيں علم الہى (علم اعلي) وہ امور جو مادہ سے جدا ہيں ،علم حساب و رياضى (علم اوسط) ان علوم كى بحث مكمل طور پر ذہنى اور مادہ


سے ہٹ كرہے اور علم طبيعى (علم ادني) جو مادہ كے بارے ميں بحث كرتا ہے خواہ وہ ذہنى صورت ميں ہو ں يا ذہن سے باہر كى دنيا ميں _

اسى طرح علوم عملى بھى تين اقسام ميں تقسيم ہوتے ہيں :

''علم اخلاق ''كہ جو انسان كى انفرادى و ذاتى زندگى سے مربوط ہے ،علم'' تدبير منزل'' كہ جوگھرانے سے متعلق ہے اور علم سياست كہ جو معاشرہ كے مسائل سے متعلق ہے ،يہ درجہ بندى يونانى فلسفہ بالخصوص ارسطو كے فلسفہ كے زير اثر تشكيل پائي_

دوسرى درجہ بندى علوم كے اپنے حقيقى ہدف كے ساتھ بلاواسطہ تعلق كى بنا پر ہے يعنى ان مختلف علوم سے ايك معين ہدف تك پہنچے كيلئے فائدہ اٹھا يا جا تا ہے ، مثلا حكمت نظرى يا شرعى علوم ميں شناخت و معرفت كومركزيت حاصل ہے جبكہ ديگر علوم مثلا صرف ونحو(گرائمر كے قواعد) ان كو سمجھنے ميں مدد ديتے ہيں _

تيسرى درجہ بندى ميں علوم دو قسموں اسلامى اور غير اسلامى ميں تقسيم ہوتے ہيں ، علوم اسلامى وہ علوم ہيں كہ جنكا سرچشمہ مكمل طور پر مسلمانوں كى فكر و نظر ہے ، جبكہ علوم غير اسلامى وہ علوم ميں كہ جنكے اصول ديگر تہذيبوں ں سے اسلام ميں پہنچے اور مسلمانوں نے اپنى تحقيقات ميں انہيں وسعت دى اور مختلف شاخوں ميں تقسيم كيا_

چوتھى درجہ بندى ميں علوم دو قسموں شرعى اور غير شرعى ميں تقسيم ہوتے ہيں علوم شرعى سے مراد وہ چيزيں ہيں كہ جو پيغمبر اكرم(ص) اور ائمہ اطہار سے ہم تك پہنچيں كہ جن ميں اصول و فروع دين مقدمات اورمتممات دين شامل ہيں جبكہ علوم غير شرعى سے مراد فقط علوم عقلى ہيں مثلا رياضيات و غيرہ _

پانچويں درجہ بندى ميں علوم دو قسموں عقلى اور نقلى (منقول )ميں تقسيم ہوتے ہيں يہاں علوم عقلى سے مراد حكمت ، كلام اور فلسفہ و غيرہ ہے جبكہ علوم نقلى سے مراد شرعى اور وہ معلومات كہ جو مختلف علوم مثلا علم فلكيات اور طب و غيرہ سے حكايت ہوئي ہيں _


وہ اسلامى دانشور حضرات كہ جنہوں نے علوم كى درجہ بندى كے موضوع پر تحقيق كى ان ميں دو افراد كى رائے بہت اہميت كى حامل ہے ، ابونصر فارابى (متوفي۳۲۹ قمري)اور محمد بن يوسف خوارزمى (متوفى ۳۸۷ قمري)

جناب فارابى وہ پہلے اسلامى دانشور ہيں جنہوں نے علوم كى درجہ بندى پر خصوصى توجہ كى انہوں نے اپنے خاص فلسفى ذوق كے ساتھ اپنى اہم كتاب '' احصاء العلوم'' ميں علوم كى درجہ بندى كو كلى طور پر'' آگاہي'' يا انكى اپنى تعبير ميں '' معرفت ''كو انہوں نے پانچ ابواب ميں تقسيم كيا ہے : علم زبان ، منطق ، رياضيات ، علوم طبيعى و الہى اور حكمت عملى يااخلاق ، فارابى نے علوم طبيعى اور الہى كو چوتھے باب ميں اس ليے پيش كيا كيونكہ دونوں علم طبيعى موجودات كے بارے ميں گفتگو كرتے ہيں فقط اس فرق كے ساتھ كہ ايك ميں موجودات وجود مطلق يا واجب الوجود كے ساتھ متصل ہوتے ہيں جبكہ دوسرے ميں خود ''واجب الوجود'' مورد توجہ قرار پاتاہے_

اگر چہ جناب خوارزمى نے فارابى كى مانند علوم كو منطقى اور فلسفى نظم كے ساتھ مرتب نہيں كيا ليكن ہر علم كے دوسرے علوم كى نسبت موضوع اور ہدف كى بنياد پر فرق كو مد نظر ركھا ہے ، خوارزمى كى نگاہ ميں بعض علوم بذات خودہدف ہيں جبكہ بعض ديگر علوم مقصدتك پہنچے كا وسيلہ ہيں لہذا پہلے والے علوم ديگر علوم كى نسبت برترى كا مقام ركھتے ہيں انہوں نے اپنى كتاب'' مفاتيح العلوم' ' ميں علوم كى ايك جديد درجہ بندى پيش كرنے كى كوشش كى يعنى علوم كو دو اقسام ميں تقسيم كيا پہلى قسم '' علوم شرعى '' اور دوسرى قسم اغيار كے علوم يا علوم عجمى ہيں ،انہوں نے اپنى كتاب كے پہلے حصہ ميں ان علوم اسلامى كے بارے ميں بحث كى كہ جنہوں نے اسلامى تہذيب و تمدن كى حدود ميں جنم ليا اور ارتقاء پايا جبكہ دوسرے حصہ ميں ان مختلف علوم پر بحث كى كہ جنہوں نے ايران ، يونان يا ہند ميں جنم ليا اور مسلمانوں نے انكى پيش رفت اور ارتقاء ميں موثر كردار كيا(۱)

____________________

۱) بواوسل '' دائرة المعارفہاى فارسى '' تہران ، ص ۴۰ ، ۲۰_


الف) غير اسلامى علوم:

۱) رياضيات:

ترجمہ كى تحريك كے دور ميں يونانى رياضى دانوں كى بہت سى كتابوں كو عربى ميں ترجمہ كيا گيا اوربہت جلد ہى اسلامى رياضى دانوں نے يونانى رياضى دانوں كى سطح علمى پرسبقت حاصل كرلى ،انكى كتابوں كى بہت سى شروحات لكھى گئيں اور انہوں نے علوم رياضى كو بہت وسعت بخشى اس دور ميں رياضى كى اہم ترين يونانى كتاب كہ جسكا عربى ميں ترجمہ ہوا اور اس كى بہت سى شروحات لكھى گئيں اقليدس كى كتاب ''اصول'' تھي، ليكن مسلمان رياضى دانوں كا اہم ترين كردار علم رياضى كے فقط ارتقاء ميں ہى نہ تھا بلكہ يہ كردار مشرق و مغرب يعنى يونان و ہند كى رياضيات كے بہترين امتزاج يعنى اسلامى رياضيات كى شكل ميں سامنے آيا اور بنى نوع انسان كيلئے اسلامى رياضيات ايك قيمتى ترين دريافت كى حيثيت ركھنے لگى _

يہ اسلامى رياضيات كا ہى كارنامہ تھا كہ اس نے ہندسى رياضيات كى معلومات كو جس ميں اہم ترين يعنى اعشارى عدد نويسى كى روش كو رياضى كے ديگر يونانى قواعد كے ساتھ مخلوط كر كے ايك وحدانى شكل وصورت ميں ممكن كرتے ہوئے اہل مغرب كے سامنے پيش كيا، اگر چہ يونانى رياضيات اپنى چند ديگر شاخوں ميں مثلا مثلثات اوركروى علوم ( spherical Seiences ) ميں كافى ترقى كر چكى تھيں ليكن ايك سادہ عددنويسى كى روش نہ ہونے كى بناء پر يونان ميں علم اعداد ترقى نہ كرسكا تھا_

كلى طور پر اسلامى رياضى دانوں كے علم رياضى كى مختلف اقسام ميں ثمرات كو يوں بيان كيا جا سكتا ہے: اعشارى نظام كى تكميل كے ذريعہ ہندى عدد نويسى كے نظام كى اصلاح مثلاً اعشارى كسور كى اختراع ،اعداد كى تھيورى ميں جديد مفاہيم لانا،علم الجبرا كى ايجاد، علم مثلثات اور علوم كروي( spherical Sciences ) ميں اہم اور جديد انكشافات كرنا، درجہ ۲ اور ۳ كے عددى معادلات اور مسائل كا جواب پانے كيلئے مختلف روشوں كى تخليق_


مسلمان ، مسلم رياضى دان رياضى دان محمد بن موسى خوارزمى كى كتاب'' الجمع و التفريق بالحساب الہند'' كے ذريعے ہند كى عددنويسى كى روش سے آشنا ہوئے ،خوارزمى كى يہ كتاب عالم اسلام ميں علم حساب پر لكھى جانے والى كتابوں ميں سے قديم ترين كتاب ہے اب صرف اسكا لاطينى زبان ميں ترجمہ باقى رہ گيا ہے ،خوارزمى كى اہميت كو اس لحاظ سے بھى جانچا جا سكتا ہے كہ يہ حساب كى پہلى كتاب ہے كہ جو عربى سے لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئي ، آج كے اہل مغرب رياضيات اور كمپيوٹر كے حوالے سے اشياء كے حساب و كتاب ميں معين روش بتانے كے ليے خوارزمى كا نام تحريف شدہ شكل ميں يعنى '' لاگر تھم ( legarithms )'' كى صورت ميں ان پر اطلاق كرتے ہيں _

جناب خوارزمى نے علم الجبرا كو وجود ميں لانے ميں اہم كردار ادا كيا ، اگرچہ اسلامى دانشوروں سے پہلے يونان ميں علم الجبرا موجودتھا اور يونانى دانشورمثلا فيثاغورث ، ارشميدس اور ڈائفنٹس اپنى كتب ميں مسائل الجبرا كے حل كے قريب پہنچ چكے تھے مگر مسلمان علماء اور دانشور حضرات اپنى منطقى روش اور يونانى رياضى دانوں كى تنقيدى اصلاح كے سبب اس علم كے بانيوں ميں شمار ہوئے لہذا ، اسلامى دانشور حضرات كے نزديك علم الجبرا علم حساب كے فارمولوں كا دائرہ كار اعداد تك بڑھانے اور اعداد كى جگہ حروف كے استعمال كے ذريعے اعداد كے مابين تعلقات كى تحقيق شمار ہوتاہے ، بعض مقداروں كو متوازن كركے مجہول مقادير كو معلوم كرنا اور پھر انكو حل كرنا علم الجبرا كى اہم ترين دريافت شمار ہوتى ہے_

بلا شبہ علم الجبرا كى پہلى اور اسلامى دانشوروں كى اہم ترين كتاب ''الجبر والمقابلہ'' جسے جناب محمد بن موسى خوارزمى نے تحرير كيا ، اس نام سے معنون كرنا بلا سبب نہيں ہے كيونكہ اس نام ميں علم الجبرا پر چھائي ہوئي كيفيت پنہا ن ہے يہاں '' جبر'' سے مراد ايك مسئلہ اور سوال كو منفى جملے كى صورت ميں استعمال كرنااور'' مقابلہ'' يعنى سوالات كو حل كرنے كيلئے مثبت جملات كو استعمال كرناہے ، اسلامى دانشوروں نے الجبراكو ايك علم كى شكل دى اور اسے ايك علم كى صورت ميں اور ايك علمى روش كے لحاظ سے مورد تحقيق قرار ديا ، مسلمان رياضى دانوں كا يہ


گروہ كہ جسكا جناب خوارزمى سے آغاز ہوا تھا، خيام ، ماہانى ، ابوكامل شجاع بن اسلم ، ابوالوفاى بوزجانى ، خجندي، ابوسہل كوہى و غيرہ ، كى كوششوں اور فعاليت سے اس كا م كو آگے بڑھا تا رہا_

الجبرا كے قواعد اور سوالات كى درجہ بندى بالخصوص درجہ اول ، دوم اور سوم كے كى مساواتوں كى تنظيم اسلامى دانشوروں كا علم الجبرا كو منظم كرنے اور اسے سائنس كا نام عطا كرنے ميں اہم قدم تھا، بالخصوص جناب خيام كہ جنہوں نے تيسرے درجہ كى مساواتوں كو حل كرنے ميں اہم كردار ادا كيا اور چونكہ اس حوالے سے پہلى بار انہوں يہ قدم اٹھا يا لہذا انكا كام كافى مركز توجہ قرار پايا، اسى طرح اسلامى رياضى دان وہ پہلے افراد ہيں كہ جنہوں نے الجبرا كو جيوميٹرى ميں داخل كيا اور الجبرا كى مساواتوں كے ذريعے جيوميٹرى كے مسائل كو حل كيا اس علم كى آشنائي اور تشريح كے حوالے سے اسلامى رياضيات كے مغرب ميں گہرے اثرات ہيں اور سب سے اہم يہ كہ الجبرا ( algebra ) كا لفظ مغرب ميں پايا جاتاہے جو كہ عربى كے كلمہ كى لاطينى شكل ہے(۱)

خوارزمى كے كچھ عرصہ كے بعد ابوالحسن احمد بن ابراہيم اقليدسى جو كہ دمشق كے رياضى دان تھے وہ اپنى ہندسى رياضيات ( geometric math ) كے حوالے سے كتاب '' الفصول فى الحساب الہندسي'' ميں اعشارى نظام كو وجود ميں لائے، علم اعداد كى دنيا ميں ايك اور بہت اہم قدم عالم اسلام ميں پہلى دفعہ ابوالوفا بوزجانى نے اپنى بہت اہم كتاب '' كتاب فى مايحتاج اليہ الكتاب و العمال'' كے دوسرے حصہ ميں منفى اعداد كو وضع كرتے ہوئے اٹھايا،انہوں نے اس قسم كے كلمات كو '' دين '' كے نام سے استعمال كيا_

علم رياضى كے ديگر ابواب مثلا مثلثات اور ہندسہ ( geometry ) و غيرہ ميں بھى اسلامى دانشوروں نے انتہائي قيمتى آراء يادگار كے طور پر چھوڑيں ، ان ابواب ميں اسلامى دانشوروں نے مثلثات پر يونانى سليقہ سے بڑھ كہ جديد حقائق كو دريافت كيا كہ ان ميں سے كچھ انكشافات خواجہ نصير الدين طوسى كى كتاب'' شكل القطاع'' ميں موجود ہيں ، اس كتاب ميں جناب طوسى نے اپنى ذہانت سے علم مثلثات كے دونوں حصوں كے تقابل سے صحيح فائدہ اٹھايا ہے _

____________________

۱) ابوالقاسم قربانى ، زندگينامہ رياضيدانان دورہ اسلامى ، تہران ، ص ۲۴۶ ، ۲۳۸_


علم مثلثات كے دونوں حصوں ميں سے ايك تومثلثاتى جدولوں كا زاويوں كى تبديلى اور ہندسى اشكال كے سائز ميں كردار سے اور دوسرا ان مفروضوں ہے جو كہ يونانى مثلثات سے ہے ماخوذ تھے، ان ہندسى اشكال shapes geometrical كى وضاحت كے حوالے سے خواجہ نے '' شكل القطاع'' ميں اپنے پيش رو رياضى دانوں كى كوششوں اور كام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندسى اشكال ميں زاويوں كے با ہمى روابط پر قوانين كى دقيق وضاحت كرتے ہوئے، ان مثلثات كے جدولوں كو ترقى دي_

مثلثات كى پيش رفت كا بہترين نمونہ ، بالخصوص علوم كروى spherical Seiences ميں جنكے بارے ميں خواجہ نصير نے بھى اپنى كتاب'' شكل القطاع'' كا كچھ حصہ خاص كياہے، سہ بعدى جيوميٹرى كے اوصاف كو دوبعدى جيوميٹرى ميں تبديل كرنے ميں نظرآتاہے اور يہ كام بالخصوص مختلف اقسام كے اصطرلاب asterlabe كے بنانے ميں بہت اہميت كا حامل ہے_(۱)

رياضياتى اسلامى تاريخ (دوسرى صدى ہجرى سے اب تك)نے بہت سے رياضى دانوں كو كائنات كى علمى تاريخ كو ہديہ ميں ديے ہيں ان افراد كے ناموں كى ايك بڑى فہرست پيش كى جاسكتى ہے مثلاً:

احمد بن عبداللہ مروزى جنكا لقب '' حبش حاسب ''تھا صاحب كتاب فى معرفة الكرة و العمل ، ابوالعباس فضل بن حاتم نيريزى معروف كتاب'' شرح اصول اقليدس '' كے مضف ، موسى بن شاكر ان تين بھائيوں ميں سے ايك كہ جو '' بنو موسى '' كے نام سے مشہور ہيں كتاب'' معرفہ مساحة الاشكال البسيطة والكروية كے مصنف ، ابوالحسن ثابت بن قوة حرانى كہ جنكى رياضيات ميں بہت سى تاليفات ہيں مثلا كتاب ''فى الاعداد المتحابة''، ابوالفتح محمدبن قاسم اصفہانى كى كتاب ''تلخيص المخروطات ، ابوجعفر محمد بن حسين صاغانى خراسانى صاحب تفسير'' صدر المقالہ العاشرة من كتاب اقليدس''، ابوسعيد احمد بن محمد بن عبدالجليل سجزى صاحب كتاب فى مساحة الاكر بالاكر ، ابوالحسن على بن احمد نسوى صاحب كتاب '' الاشباع فى شرح الشكل القطاع،

____________________

۱) زندگينامہ رياضيدانان دورہ اسلامى ، ص ۵۰۸ ، ۴۸۶_


ابوحاتم مظفر بن اسماعيل اسفزارى صاحب كتاب اختصار فى اصول اقليدس ، غياث الدين جمشيد كاشانى بہت بڑے محقق اور بہت سى تصنيفات كے مالك مثلا مفتاح الحساب و رسالہ محيطيہ ، علاء الدين على بن محمد سمرقندى كہ جو ملا على قوشجى كے نام سے مشہور تھے رسالہ محمديہ كے مصنف ہيں اور بہت سے افراد ہيں كہ جنكا نام اختصار كے پيش نظر ذكرنہيں كيا گيا_

۲) نجوم

اسلامى علم نجوم كے حوالے سے اسلامى دانشوروں كى معلومات كا آغاز يونانى علم نجوم كى كتب كے ترجمہ بالخصوص بطليموس كى تاليفات كے ترجمہ سے ہوا، اسكى تاليفات كى شروحات لكھنے سے يہ معلومات بڑھتى رہيں پھر اسكے نظريات پر تنقيد شروع ہوئي اور آخر كار اسكے نظريے اور رائے كے خلاف كئي نظريات پيش ہوئے_ ان اسلامى دانشوروں كے يہ نظريات بعد ميں پيش كوپرينك كے نظريات كى شكل ميں شہرت پاگئے كيونكہ اس پولينڈ كے دانشور كوپرينك كى بطليموس كى تھيورى پر تنقيد سے كئي صديوں قبل يہ تمام اعتراضات اسلامى دانشور پيش كرچكے تھے_

اسلامى نجوم ميں ابتدائي اہم ترين معلومات چاہے نظرى ہوں يا رصد گاہوں كے ذريعہ حاصل شدہ بطليموس كى كتاب '' مجسطى ''كے ترجمہ سے حاصل ہوئيں عالم اسلام ميں اس كتاب كے كم از كم تين تراجم اور متعدد شروحات سے ہم واقف ہيں كتاب مجسطى كا عالم اسلام ميں مطالعہ ايسے مكتب كو وجود ميں لانے كا باعث بنا كہ جسكا كام ستاروں كا جائزہ لينے كيلئے رصد گاہوں ميں فعاليت كرنا اور علم نجوم كے مخصوص جدول (فلكياتى جنتري) كہ جنہيں عربى ميں ''زيج'' كہا جاتاہے تيار كرنا تھا، عالم اسلام ميں دوسرى صدى سے بارہويں صدى ہجرى تك لكھى جانے والى فلكياتى جنتريوں كى تعداد ۲۲۰ تك ہے، علم نجوم كے ان تمام اسلامى ماہرين نے ان جنتريوں ميں كوشش كى ہے كہ دقيق انداز سے ستاروں كى خصوصيات اور انكے متعلقہ حقائق كو دريافت كريں ان كى كوششوں كى بدولت فلكى اجرام كے متعلق دقيق و عميق معلومات سامنے آئيں ،ان ميں ايك اہم


ترين فعاليت شمسى سال كى مدت كو معين كرنا تھا _

شمسى سال كى مدت كے تعين كے ليے اسلامى ماہرين فلكيات كے بہت زيادہ فلكياتى مشاہدات كے باعث ''كبيسہ'' يعنى سال كے آخرى ماہ ميں ايك دن كے اضافے سے متعلق مختلف محققانہ طريقے اور روشيں سامنے آئيں ، جو كہ عالم اسلامى ميں بنائي جانے والى انواع و اقسام كى تقاويم اور جنتريوں ميں استعمال كے ليے تجويز كى گئيں _

اسلامى ماہرين كے فلكياتى تقاويم كى تيارى كے ليے مسلسل فلكياتى مشاہدات كى بدولت '' تقديم اعتدالين'' كے مفہوم تك رسائي ممكن ہوئي تقديم اعتدالين يعنى كئي سالوں ميں زمين كى محورى حركت كى بدولت ہر سال دائرة البروج كے طول ميں ۵۰ سيكنڈ قوسى كا اضافہ ، اسلامى ماہرين فلكيات نے بتدريج اپنے مشاہدات كے دوران ستاروں كے دائرة البروج كى خصوصيات كے بارے ميں اپنى حاصل كردہ معلومات اور بطليموس كى فراہم كردہ معلومات ميں فرق كو محسوس كرليا اور تقريبا سبھى نے اپنى اپنى فلكياتى تقويم ميں تقديم اعتدالين كے فرق كو تحرير كيا ہے ، ان سے سے ايك اہم ترين كوشش جابر بن عبداللہ بتّانى نے انجام دى انہوں نے تقديم اعتدالين كى مقدار۲/۵۰ سكينڈ قوسى تك دريافت كى _(۱)

بطليموس كى زمين كو محور او ر مركز عالم قرار دينے والى تھيورى كہ جسے اسلامى ماہرين فلكيات كى پہلى نسل نے بھى قبول كيا تھا اسكى اساس يہ ہے كہ زمين جہان كے مركز ميں ہے اور سورج و چاند اور ديگر چارسيارے زمين كے گرد دائروں ميں چكر لگارہے ہيں ليكن اس تھيورى كے مطابق زمين كے نزديك دو سيارے يعنى عطارد اور زہرہ قدماء كے مشاہدات فلكى كے مطابق سورج سے كچھ معين مراتب دور ہوچكے ہيں اور ۳۶۰ درجہ كا راستہ '' دايرة البروج'' كے خطوط پر طے نہيں كرتے ، بطليموس كى زمين كو مركز قرار دينے والى تھيورى كے مطابق يہ دونوں سيارے ان خاص خطوط پر رواں ہيں كہ جو سورج كے مركز سے خارج ہوكر ان سياروں كے مركز كو اپني

____________________

۱) كرلو آلفونسو ناليف، تاريخ نجو م اسلامي، ترجمہ احمد آرام، تہران ۱۳۴۹ ص ۲۲۰_۲۰۰_


لپيٹ ميں لے ليتے ہيں اور سورج كے ساتھ زمين كے گرد حركت كرتے ہيں ، اس روش سے بظاہر يہ ہوا كہ آسمان ميں ان دو سياروں كى حركت نظام شمسى كے حقائق سے مطابقت كر جائے ليكن اسلامى ماہرين فلكيات كے دقيق مشاہدات نے اس تھيورى ميں شك و ترديد كا بيچ بوديا ، ان مشاہدات فلكى كا اہم ترين ثمرہ ابن سينا كى ''مجسطي'' پر شرح ہے_

ساتويں صدى ہجرى ميں خواجہ نصيرالدين طوسى نے كتاب ''مجسطي'' پر نئے سرے سے تجزيرو تحليل ميں ذكر كياہے كہ :ابن سينا نے تحرير كيا ہے كہ ''سيارہ زہرہ سورج كى سطح پر تل كى مانند ديكھا گيا ہے'' ابن سينا كى اس تحرير نے بطليموس كے زمين كو مركز قرار ديے نظريہ ميں بہت زيادہ شكوك و شبہات پيدا كيے، كيونكہ اس نظريہ كے مطابق زہرہ سيارے كا سورج كى سطح پر ديكھا جانا يعنى گويا اسكا سورج كى سطح سے عبور كا ممكن نہ ہونا ہے، يہيں سے خواجہ نصيرالدين طوسى نے بعنوان شارح كتاب مجسطى بطليموس كے زمين كو مركز قرار دينے والے نظريہ پر بہت اہم اعتراضات كيے، انكى نگاہ ميں گويا بطليموس كى نظر كے مطابق ستاروں كازمين كے گرد گھومنا حقائق سے مطابقت نہيں ركھتا تھا جب جناب طوسى عالم اسلام كے مشرقى علاقے ميں ان شبہات كا اظہار كر رہے تھے تو اسى زمانہ ميں جناب بطروحى اشبيلى اندلس كے مسلمان ماہر فلكيات ، عالم اسلام كے مغربى علاقے يعنى ہسپانيہ كى اسلامى مملكت ميں ايسے ہى اعتراضات اور ترديد كا اظہار فرما رہے تھے _

اس كے علاوہ ديگر بہت سے اسے موارد ہيں كہ جن ميں ہم ديكھتے ہيں كہ اسلامى ماہرين فلكيات نے بطليموس كے نظريات پر ترديد اور شك و شبہہ كا اظہار كيا _

فلكيات اور فزكس كے مشہور اسلامى د انشور جناب ابن ہيثم نے اپنى كتاب '' الشكوك على بطليموس'' ميں بطليموس كى زمين كے گرد سيارات كى حركت كو ثابت كرنے كى رياضياتى روش اور اسكے ان حركات كى وضاحت كيلئے بنائے گئے پيچيدہ سيسٹم پر حقائق كو ديكھتے ہوئے تفصيلى اعتراضات اور تنقيد كى ہے_

ابوريحان بيرونى نے كتاب قانون مسعودى ميں '' مجسطي'' كے پيش كردہ فلكى قواعد اور قوانين پر تتفيد كى ،


اور بطروحى اشبيلى نے سرے سے زمين كے گرد سيارات كى گردش كے نظم و ترتيب كے حوالے سے بطليموس كى رائے كى مخالفت كى _ زمين كو مركز قرار دينے والے نظريہ بطليموس پر تنقيدات اور اعتراضات خواجہ نصير كے زمانہ ميں عروج پر پہنچ گئے ، جناب طوسى نے اپنى شہرہ آفاق كتاب'' التذكرة فى الہيئة '' ميں بطليموس كى رائے پر دقيق انداز سے اپنے اساسى ترين اعتراضات بيان كيے ہيں _

يہ اعتراضات زمين كے گرد سيارات كى گردش كى ترتيب كے علاوہ سيارات كى گردش كى رياضياتى كيفيت كے اثبات كے طريقے پر بھى كيے گئے ہيں ،جناب طوسى بطليموس كے زمين كو مركز قرار دينے والے نظريہ كى بناء پر سيارات كى حركت كے بارے ميں ديے جانے دلائل كى كمزورى سے آگاہ تھے، لہذا انہوں نے تہہ در تہہ كرات كى صورت ميں سياروں كى حركت كے مختلف ماڈلز پيش كر كے كہ جو علم نجوم كى تاريخ ميں '' جفت طوسي'' كے نام سے معروف ہوئے ، بطليموس كى رائے پر قوى ترين اعتراضات اٹھائے ، طوسى كے كچھ مدت بعد ابن شاطر نے بھى طوسى كى مانند بطليموس كے نظريہ ميں سيارات كى رياضياتى حركت كو ثابت كرنے كے طريقہ پر تنقيد كى ، انكے بعد مويد الدين عرضى دمشقى نے بھى بطليموس پر نقادانہ نگاہ ڈالي_

آج تقريباً ثابت ہوچكا ہے كہ كپلر اور كوپرنيك كہ جنہوں نے علم فلكيات كے اہم ترين انكشاف يعنى سورج كو نظام شمسى كا محور قرار دينے كے نظريہ كى بنياد ركھى وہ اسلامى دانشوروں كى آراء بالخصوص خواجہ نصير كے نظريات سے بہت زيادہ متاثرتھے، يہ چند افراد كہ جنكا نام ليا گيا ہے ان كے علاوہ بھى اسلامى علم فلكيات نے بہت سے ماہرين عالم بشريت كو عطا كيے ہيں ، مثلا محمدبن موسى خوارزمى كہ جنكى تاليف زيج السند ہے ، بنو صباح تين ماہرين فلكيات كہ جنكا نام ابراہيم ، محمد اور حسن ہے انہوں نے كتاب'' رسالة فى عمل الساعات المبسوطة بالہندسة فى ايّ اقليم اردت'' تحرير كى ، ابن يونس كہ جو'' زيج كبير حاكمى ''كے مصنف ہيں الغ بيگ كہ جو مشہور دانشور اور سياست دان تھے اور كتاب زيج الغ بيگ كے مصنف ہيں اور نظام الدين عبدالعلى بيرجندى كہ جو فاضل بير جندى كے عنوان سے معروف ہيں اور كتاب ابعاد و اجرام كے مصنف ہيں _


۳_ فزكس اور ميكانيات:

ميكانيات كا علم مسلمانوں كے ہاں '' علم الحيل'' كہلاتا تھا '' علم حيل'' قديم علماء كے نزديك آلات كا علم ہے اور ان تمام آلات كا تعارف كرواتا ہے جو كہ جو مختلف كام انجام ديتے ہيں اگر چہ بعض نظريات جو كہ علم الحيل سے متعلقہ كتب ميں ملتے ہيں ان كى جڑيں مشرق بعيد (چين جاپان و غيرہ ) اور ايران كے خطے ميں پائي جاتى ہيں _

يہ بات قطعى طور پر كہى جاسكتى ہے كہ اسلامى انجي نرنگ مشرق وسطي( عرب ممالك ، ايران، و افغانستان ...) اور بحيرہ روم كے خطے كے نقش قدم پر رواں دواں تھى ، مصرى اور روميوں نے ميكانيات ميں بہت ترقى كى تھى ليكن اس حوالے سے يونانى لوگوں كا كردار سب سے زيادہ تھا ، بغداد ميں بنى عباس كے بڑے خلفاء كے دور ميں بہت سى يونانى اور كچھ سريانى كتب كا عربى ميں ترجمہ ہوا تھاكہ جن ميں فيلون بيزانسى (بوزنطى ) كى كتاب پيونميٹك، ہرون اسكندرانى كى كتاب مكينكس اور پانى والى گھڑيوں كے بارے ميں ارشميدس كے رسالے كا نام ليا جاسكتا ہے _

مسلمان انجينئروں كى استعداد و لياقت كا تجزيہ كرنا سادہ كام نہيں ہے، مسطحہ ہندسہ plane geometry ميں آلات كو بنانے اور انكى تنصيب كے ليے ، حساب اور پيمائشے ميں مہارت ضرورى تھي، اگر چہ آلات كو جوڑنے اور انكى تنصيب كے ليے كوئي منظم معيار موجود نہيں تھا، مگر اسكے باوجود مسلمان انجينرز كا جديد آلات ( جيسے خودكار مجسمہ اور مكينكل فوارہ) كو بنانے ميں كاميابى كى وجہ يہ تھى كہ وہ ان آلات كو بنانے كے ليے statics كے علم سے استفادہ كرتے تھے اور اسى وجہ سے مطلوبہ پارٹس كو كاٹ بھى سكتے تھے اور انكى ڈھلائي كے بعد انكى تنصيب بھى كرليتے تھے(۱)

عالم اسلام كے سب سے پہلے انجنيرحضرات تين بھائي بنام احمد، محمد اور حسن كہ جو موسى بن شاكر كے

____________________

۱) ڈونالڈر ہيل، ملينك انجيڑنگ مسلمانوں كے درميان ص ۵،۴_


بيٹے تھے اور بنو موسى كے عنوان سے مشہور تھے ،بنو موسى كى كتاب الحيل سب سے پہلى تدوين شدہ كتاب تھى كہ جو عالم اسلام ميں مكينك كے حوالے سے جانى پہچانى تھى ، اس كتاب ميں سوكے قريب مشينوں كى تفصيل بيان ہوئي ہے كہ جن ميں سے اكثر خودكار سيسٹم اور سيال مكينكى خواص كے ساتھ كام كرتى تھيں ، ان مشينوں ميں مختلف انواع كے خودكار فوارے ، پانى والى گھڑياں ، مختلف انواع كے پانى كو اوپرلانے وا لے وسائل، كنويں كے رہٹ اور خودكار لوٹے و غيرہ شامل ہيں ، ان تين بھائيوں كى تحقيقات كے حوالے سے قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ ان لوگوں نے يورپ سے پانچ سو سال پہلے اور فنى علوم كى تاريخ ميں پہلى بار crank shaft پہيے كے دھرے (كا وہ پرزہ جو اسكو عمودى اور دورى دونوں حركتيں دے سكتاہے) كو استعمال كيا(۱)

دوسرے مشہور اسلامى انجنيئركہ جو ميكانيات ميں شہرہ آفاق تھے جناب ''جزرى ''تھے وہ چھٹى صدى ہجرى كے دوسرے اواخر يا ساتويں صدى كے آغاز ميں شہر'' آمد'' جسے آج كل '' ديار بكر'' كہا جاتاہے، ميں رہا كرتے تھے انكى ميكانيات كے بارے ميں مشہور كتاب كا نام ''كتاب فى معرفة الحيل الہندسية يا الجامع بين العلم و العمل النافع فى ضاعة الحيل'' ہے كہ جسے انہوں نے دياربكر كے امير كى درخواست پر لكھا، جزرى كى كتاب علم و عمل كا مجموعہ ہے يعنى يہ كتاب نظرى ہونے كے ساتھ ساتھ عملى ہونے كے ناطے سے بھى پہچانى جاتى ہے _

جناب جزرى '' رئيس الاعمال'' يعنى انجنيرؤں كے سر براہ كے مقام پر بھى فائز تھے اوررسم فنى ( مختلف اشياء كے قطعات اور تصاوير كے ذريعے رياضياتى قواعد كى روشنى ميں خوبصورتى اور آرائشے كا فن ) كے ہنر ميں مہارت ركھتے تھے اسى طرح وہ اپنے ذہن ميں آنے والے تمام موضوعات كى تشريح اور آسان يا پيچيدہ ہر قسم كے آلات كى توصيف كرنے ميں استاد تھے، انكى كتاب مكينيكل اورہائيڈرولك ( Hydroallque ) وسائل و آلات كے حوالے سے قرون وسطى كى بہترين تاليف ہے ،اس ميں انہوں نے واقعا علم و عمل كے مابين نظرى مباحث اور عملى طريقوں كو بيان كيا ہے يہ كتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے :

____________________

۱) دانشنامہ جہان اسلام ،ج ۴ ذيل بنى موسي_


(۱) آبى اور شمعى گھڑياں

(۲) تفريحى آلات

(۳) ہاتھ پاؤں دھونے اور وضو كرنے كے وسائل

(۴) دائمى چلنے والے فوارے

(۵) پانى كو اوپر كى طرف كھينچے والى مشينيں

(۶) ديگر مختلف اقسام كے وسائل اور آلات جو روزمرہ كے معمولى كاموں ميں استعمال ہوتے ہيں ،اس كتاب كى قدرو قيمت صرف اس ميں بيان شدہ مختلف روشوں اور طريقوں كى اہميت كے پيش نظر نہيں ہے بلكہ ہر آلے كى ايجاد كا طريقہ تمام تفصيلات كے ساتھ اور ايك ماہر شخص كى زبان سے بيان ہوا ہے(۱)

ابوالفتح عبدالرحمان خازى ايك اور اسلامى ماہر ميكانيات اور طبيعيات ہيں وہ شہر ''مرو ''ميں پيدا ہوئے سلجوقى حكمرانوں كے اداروں ميں امور علمى ميں مشغول تھے، انكى مشہورترين تاليف'' ميزان الحكمة '' ( ۵۱۵ ہجرى قمرى ميں لكھى گئي) ہے كہ جو علم الحيل كى اہم ترين كتابوں ميں سے ہے ہايڈورلك ، ہايڈروسٹيٹك بالخصوص مركز ثقل كے بارے ميں انكے نظريات، اجسام كا توازن اور مخصوص كثافت پيمائي (كسى چيز كے گاڑھے پن كى پيمائشے) اوپر اٹھانے كے آلات ، ترازو، وقت كى پيما ئشے كے آلات ، چيزوں كے بنانے اور ان سے بہتر استفادہ كرنے كے تمام فنون ميں انكى آراء و نظريات انكى مكانيات ميں بے پناہ مہارت و استعداد كو ظاہر كرتے ہيں _

اس حوالے سے ديگر دانشوروں ميں سے ابن ہيثم بصري، جيانى قرطبى اور ابوريحان بيرونى كا نام ليا جاسكتا ہے كہ ابوريحان كى پانچ مواد اور معدنيات كى مخصوص كثافت سمجھنے كيلئے تحقيقات اس قدر بيسويں صدى كے قواعد و معيار كے قريب ہے كہ سب حيرت زدہ رہ گئے ہيں _

جب بھى ہم اسلامى انجنيروں كى اختراعات پر ايك محققانہ نگاہ ڈاليں توكھيل، شعبدہ بازى اور پانى كو اوپر لانے والے انواع و اقسام كے آلات كے علاوہ علم حيل كے ميدان ميں مسلمانوں كا اہم ترين كارنامہ يورپ والوں كو بارود اور آتشى اسلحہ سے آشنا كرواناہے، آتشى اسلحہ كے استعمال كا ذكر چھٹى صدى ہجرى ميں خصوصاً

____________________

۱) ابوالعز جزرى ، الجامع بين العلم و العمل ، النافع فى ضاعة الحيل، ترجمہ محمد جواد ناطق ،ص ۴۳،۴۱_


شہروں كے محاصرہ كے دوران ملتاہے، ابن خلدون نے كتاب '' العبر'' ميں آتشى اسلحہ كى مختلف اقسام كے استعمال اور وہ بھى تو پوں اور ابتدائي دستى توپوں يا بندوقوں كے استعمال كى حد تك نہيں بلكہ افريقا كے مسلمان بادشاہوں كے دور ميں مختلف انواع كى پھينكنے والى مشينوں كا بھى ذكر كيا ہے_

اس قسم كے مشينوں كے حوالے سے بعض اسلامى دانشوروں كى تحقيقى آراء مثلاً ، شہاب الدين بن فضل اللہ العمرى ، ابن ارنبخاء اور حسن الرماح كى تاليفات ہميں آتشى اسلحہ كى عجيب و غريب دنيا سے آشنا كرواتى ہيں(۱)

۴ ) طب

علم طب ان سب سے پہلے علوم ميں سے ہے كہ جو مسلمانوں ميں رائج ہوئے اس علم كى اہميت اس حد تك تھى كہ ابدان كے علم كو اديان كے علم كے ہم پلہ شمار كيا جاتا تھا، اسلامى تمدن ميں طبى علوم كے تجزيہ و تحليل ميں ايك اہم نكتہ علم طب كا بہت جلد علاقائي رنگ اختيار كرنا ہے ، اسميں شك نہيں كہ ميڈيكل اور طب كے حوالے سے كلى حيثيت كى نظرى معلومات مسلمانوں تك يونانى تاليفات كے ترجمہ بالخصوص بقراط اور جالينوس كى تاليفات كے ترجمہ سے پہنچيں ، ليكن بہت سے ايسے مسائل كہ جنكا مسلمان اطباء كو اپنے مريضوں كے حوالے سے سامنا كرنا پڑتا تھا وہ اسلامى مناطق اور انكى خاص آب و ہوا سے متعلق تھے كہ ان مسائل كا ذكر يونانى كتابوں ميں موجود نہيں تھا اور يہ واضح سى بات ہے كہ گذشتہ لوگوں كى كتابوں ميں انكے ذكر كى عدم موجودگى كى بنا پر اسلامى اطباء ہاتھ پر ہاتھ ركھ كر نہيں بيٹھ سكتے تھے، لہذا ان مسائل كے حوالے سے نئي آراء اور روشيں سامنے آئيں _

رازى كى كتاب ''الحاوي'' ميں جن بيماريوں كا تجزيہ كيا گيا ہے ان بيماريوں كى تعداد كى نسبت كہيں زيادہ ہے كہ جنكا تذكرہ جالينوس اور بقراط اور ديگر يونانى دانشوروں كى تاليفات ميں موجود ہے اسلامى طبى تاريخ ميں ايك اور اہم اور برجستہ سنگ ميل ابن سينا كى كتاب ''قانون ''ہے_

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام ج ۱ بارود كے ذيل ميں _


اہل مغرب كى تمام طبى تاريخ ميں اسطرح طب كے تمام موضوعات پر مشتمل جامع اور انسائيكلوپيڈيا طرز كى كتاب ابھى تك وجود ميں نہيں آئي تھى بلادليل نہيں ہے كہ كتاب قانون لاطينى زبان ميں ترجمہ كے بعد بہت ہى سرعت سے اہل غرب كے دانشوروں اور ڈاكٹروں كى مورد توجہ قرار پائي اور انكے ميڈيكل كالجوں ميں ايك درسى مضمون كے عنوان سے تدريس ہونے لگي_(۱)

ليكن اسلامى طب ميں ترقى اور نئي اختراعات صرف يہيں نہيں رك گئيں اسلامى طب ميں اہم ترين نتائج اسوقت سامنے آئے كہ جب كچھ اسلامى اطباء نے جالينوس كے آراء اور اپنے تجربات كے نتائج ميں اختلاف كا مشاہدہ كرنے كے بعد اسے بيان كيا لہذا اسلامى دانشوروں ميں سب سے پہلے ابونصر فارابى نے جالينوس پر تنقيد كي، انہوں نے اپنے رسالہ بہ عنوان ''الرد على الجالينوس فيما نقض على ارسطا طالين لاعضاء الانسان'' ميں كلى طور پر انسانى بدن كے اعضاء كى تشكيل و ترتيب كے حوالے سے جالينوس اور ارسطو كى آراء ميں موازنہ كيا اور اپنى رائے كو ارسطو كے حق ميں ديا ، احتمال ہے كہ فارابى كى يہ طرز فكر ان تمام اعتراضات كا سرچشمہ بنى كہ جنہيں انكے بعد بوعلى سينا نے جالينوس پر تنقيد كرتے ہوئے پيش كيے _

اسى طرح جناب رازى كہ جو طب ميں عظيم مقام كے حامل تھے اور طب ميں جامع نظر ركھتے ہوئے صاحب رائے تھے انہوں نے بھى طب ميں جالينوس كے نظريات پر اہم تنقيد كى ہے ،رازى كے جالينوس كى آراء پر اہم ترين اعتراضات ديكھنے ، سننے اور نورانى سايوں اور لہروں كا جسم سے آنكھ تك پہنچے كے حوالے سے سامنے آئے جناب رازى ديكھنے كے عمل كو جالينوس كى رائے كے بالكل برعكس سمجھتے تھے كہ نورانى سايے آنكھ تك پہنچتے ہيں نہ يہ كہ آنكھ سے نور پھوٹتاہے جيسا كہ جالينوس نے كہا اسى تنقيد و اعتراض كے سلسلے ميں بو على سينا نے جالينوس كى طبى آراء كو واضح طور پر مہمل اور بے معنى كہا _

ليكن جالينوس كى طبى آراء پر سب سے اہم اعتراضات كہ جو مشہور ہونے كہ ساتھ ساتھ اسلامى طب ميں قابل فخر مقام ركھتے ہيں وہ ابن نفيس دمشقى نے چھٹى صدى ہجرى ميں پيش كيے جناب ابن نفيس اہل تجربہ اور


صاحب نظر تھے اور اسلامى طب ميں ايك عظيم ترين انكشاف كا باعث بنے اسى ليے گذشتہ صديوں ميں انہيں اسلامى مصنفين كے درميان جالينوس عرب (اسلامي)كا لقب ملاكر جو مختلف جگہوں پر رازى كو بھى ديا گيا ہے ، انہوں نے اپنى دو كتابوں(۱) ''شرح تشريح قانون ''كہ جوكہ كتاب قانون كے پہلے سے تيسرے باب كى كى شرح كے عنوان سے لكھى گئي(۲) شرح قانون كہ جو قانون ميں پيش كيے گئے تمام موضوعات كى شرح ہے ان دو كتابوں ميں اپنے اہم ترين انكشاف يا دريافت :بہ عنوان ''گردش ريوى خون '' Pupmonary blood circupation كى تشريح كى ہے، انيسوں صدى ميں آكرجديد سائنس ابن نفيس كى اس اہم دريافت سے آشنا ہوئي ، جالينوس كى رائے كے مطابق خون كى گردش كى صورت يہ ہے كہ خون شريان كے ذريعے دل كى دائيں حصے ميں داخل ہوتاہے اور دل كى دائيں اور بائيں سائيڈوں كے درميان پائے جانے والے سوراخوں سے خون دل كے بائيں حصے ميں داخل ہوكر پھر بدن ميں گردش كرتاہے ليكن ابن نفيس نے يہ لكھاكر خون دل كے دائيں حصے سے اور وريدكے ذريعے پھيپھڑوں ميں جاتاہے كہ اور جب وہ پھيپھڑوں ميں ہوا كے ساتھ مخلوط ہوتاہے پھر ايك اور وريدكے ذريعے دل كے بائيں حصے ميں جاتاہے اور وہاں سے پورے بدن ميں پہنچتاہے، بلا شبہ ابن نفيس نے يہ معلومات انسانى بدن كى چيرپھاڑ كے بعد سے حاصل كيں ،قبل اسكے كہ اٹلى كے طبيب '' ميگل سروٹو'' اسى بات كى وضاحت كرتے وہ تين صدياں قبل ہى سب كچھ روشن كرچكے تھے لہذا ضرورى ہے كہ اس انكشاف كو سروٹوسے منسوب كرنے ميں شك و ترديد كى جائے _

سروٹونے اسلامى طب كى تاليفات كے لاطينى زبان ميں ترجمہ كے ذريعے ابن نفيس كى آراء سے آگاہى حاصل كى يا پہلے سے اس كشف سے بے خبر خود وہ اس راز تك پہنچے اس حوالے سے دنيا كى طبى تاريخ ميں بہت سى مباحث ہوئيں ابن نفيس، فارابي، ابن سينا اور چند ديگر اسلامى دانشوروں كے نظريات كو اكٹھا كرنے سے معلوم ہوتاہے كہ اسلامى طب ، طب كے غير جالينوسى ماڈل كو بنانے ميں بہت سنجيدہ تھى(۱)

____________________

۱)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۴ ابن نفيس كے ذيل ميں _


طب سے وابستہ علوم كى اقسام ميں بنيادى اور تخليقى ترين تحقيقات آنكھ كى طبى حيثيت كے متعلق ہے آنكھ كے مسلمان اطباء نے آنكھ كى بيماريوں اور انكے علاج كے حوالے سے يونانى ڈاكٹروں اور آنكھ كے يونانى طبيبوں كى آراء ميں اضافے كےساتھ ساتھ خود بھى بہت سى بيماريوں كى تشخيص اور انكے علاج كى مختلف صورتيں پيش كيں ، آنكھ كے مختلف اقسام كے آپريشن، موتيا نكالنا يا آنكھ كے قرينہ ميں اكھٹا ہونے والا اضافى پانى نكالنا اسى طرح آنكھ كيلئے مختلف قسم كى نباتاتى ، معدنياتى اور حيواناتى ادويات و غيرہ انہى تخليقات كا حصہ ہيں _

آنكھ كے علاج كے حوالے سے تمام مسلمان اطباء ميں دو افراد كا كردار سب سے زيادہ اور واضح ہے ان ميں سے ايك حنين بن اسحاق كہ جو كتاب '' العشر مقالات فى العين'' كے مصنف ہيں اور دوسرے على بن عيسى جو كتاب '' تذكرة الكحالين '' كے مصنف ہيں _

ان دونوں ميں سے ہر ايك كتاب آنكھ كے علاج ميں بہت سى اختراعات اور جدت كا باعث بنى اور ان كتابوں كے مصنفين آنكھ كے علاج كے سب سے پہلے مسلمان اطباء ميں سے كہلائے ،اس بات كو مان لينا چاہيئے كہ اسلامى دنيا ميں آنكھ كے علاج رائج ہونے كے سات صديوں كے بعد يورپ اس قابل ہوا كہ آنكھ كے مسلمان اطباء كى تمام اختراعات كو كراس كرسكے_

جڑى بوٹيوں كى تشخيص اور نباتاتى ادويات كے ميدان ميں بھى كم و بيشى يہى كيفيت ہے كہ يونان كى اس حوالے سے اہم ترين كتاب كہ جو جڑى بوٹيوں كے اسلامى ماہرين كے ہاتھوں پہنچى وہ كتاب ''الحشائشے'' تھى كہ جيسے وسطى ايشاء كے ايك مصنف ڈيوسكوريڈس نے پہلے صدى عيسوى ميں تحرير كيا يہ كتاب حنين بن اسحاق اور تحريك ترجمہ كے كچھ دوسرے مترجمين كے قلم سے عربى ميں ترجمہ ہوئي اس سارى كتاب ميں تقريبا پانچ سو جڑى بوٹيوں كے ادوياتى خواص بيان ہوئے تھے، حالانكہ رازى كى كتاب '' الحاوي'' ميں نباتاتى دوائيوں كے باب ميں تقريباًسات سوكے قريب جڑى بوٹيوں ادوياتى خواص بيان ہوئے ہيں يہ تعداد ايك اور اہم ترين طبى كتاب كہ جو اسلامى اطباء كى دواشناسى كا واضح ثبوت ہے ،يعنى ابن بيطار كى كتاب '' الجامع لمفردات


الادوية والاغذية'' ميں يہ تعداد چودہ سو تك جا پہنچى ہے، گويا ڈپو سكوريڈس كى كتاب سے تين گنا زيادہ جڑى بوٹيوں كااسميں تذكرہ ہوا ، جڑى بوٹيوں كى تعداد كے حوالے سےبے مثال ترقى اور سرعت كيساتھ تحقيق بتاتى ہے كہ اطباء اور اسلامى ماہرين نباتات بجائے اسكے كہ وہ ڈپوسكو ريدس كى پيروى تك محدود رہتے بذات خود نئي دريافتوں اور نباتات كے ادوياتى خواص كو جاننے ميں مصروف عمل تھے(۱)

۵_ كيميا

كيميا كا مقولہ علم، فن اور جادو پر اطلاق ہوتا تھا كہ بتدريج كميسٹرى پر اطلاق ہونے لگا كيميا كا موضوع ايك روحانى قوت كے جسے غالباً '' حجر الفلاسفہ'' كا نام ديا گيا ہے كى موجودگى ميں مواد كو تبديل كرنے سے متعلق تھا، كيميا ان پنہان علوم كى ايك قسم ہے كہ جنہيں اصطلاحاً ''كلُّہ سر ''كہا جاتاہے يہ اصطلاح پانچ علوم كے پہلے حروف سے بنائي گئي ہے وہ پانچ پنہانى علوم يہ ہيں كيميا ، ليميا، ہيميا، سيميا، ريميا _

كيميا ميں اس مادہ كے بارے ميں گفتگو كى جاتى تھى كہجسے استعمال كرنے سے معمولى دھاتيں جيسے لوہا و پيتل و غيرہ كا سونا چاندى ميں تبديل ہوجانا ممكن ہوجاتاہے، اس مادہ كو كيميا گر '' اكسير '' كہتے تھے، اسلامى علم كيميا ميں جو ظہور اسلام كے بعد پہلى صدى ہجرى ميں بہت سرعت سے پيدا ہوا اور آج روايتى طور طريقے كا حامل ہے ان بارہ صديوں ميں بہت سى كتابيں اس حوالے سے تاليف ہوئي ہيں كہ جن ميں اس ہنر پر بحث ہوتى رہى ہے ان ميں سے سب سے اہم ترين مجموعہ جابر بن حيان سے متعلق ہے كہ جو نہ صرف يہ كہ عالم اسلام بلكہ مغربى دنيا ميں بھى علم كيميا كے سب سے بڑے عالم شمار ہوتے ميں انكى ہى وجہ سے مسلمانوں ميں علم كيميا توہماتى ہنر سے تجرباتى سائنس كى صورت ميں سامنے آيا _

جناب جابر خالص مايعات مثلا پانى ، شيرہ ،گھى اور خون و غيرہ كى تقطير(۱) كيا كرتے تھے اور وہ يہ سمجھتے تھے

____________________

۱)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۴ ابن نفيس كے ذيل ميں _


كہ ہر بارجب بھى پانى كى تقطير كريں تو سابقہ خالص مادہ پر تازہ مادے كا اضافہ ہوجاتاہے يہانتك كہ يہ عمل تقطير سات سو بارتك جاپہنچے، انكى نظر ميں سونے كو حرارت دينے اور عمل تقطير كے ايك ہزار مراحل سے گزارنے كے بعد اكسير تك پہنچا جاسكتاتھا_

جناب جابر سے منسوب كتابوں كى تعداد اسقدر زيادہ ہے كہ ان ميں بعض كى انكى طرف نسبت مشكوك ہے بعض اہل مغرب كے دانشوروں اور محققين كے نزديك ايسى كتابيں اسماعيلى فرقہ كے پيروكاروں نے چوتھى صدى ہجرى ميں تاليف كيں _

جابر كے بعد مشہور اسلامى كيمياگر بلاشبہ محمد بن زكريا رازى ہيں جناب رازى علم طب سيكھنے سے قبل كيمياگر تھے منقول ہے كہ حد سے زيادہ كميكل تجربات كى بناء پر انكى نظر كمزور ہوگئي تھى اسى ليے مايوس ہوكر انہوں نے كيمياگرى چھوڑ دى ، جناب رازى اپنے آپ كو جابر كے شاگرد شمار كرتے تھے انہوں نے اپنى بيشتر كتب جو كيميا كے حوالے سے تحرير كيں انكے نام بھى جابر كى كتب كى مانند ركھے ہوئے تھے ، ليكن جابر كا علم كيميا فطرت كو بعنوان كتاب تكوين جانتے ہوئے اسكى باطنى تفسير و تاويل پر مبنى تھا كہ يہ چيز شيعہ اور صوفى مذہب ميں عقيدے كا ايك ركن ہے _

جابر كے نزديك ہر علم بالخصوص كيميا كے تمام اشياء كے باطنى معنى كى تاويل كى روش كا استعمال اسكى ظاہرى نمود سے بھى ربط ركھتاہے اور اسكے رمزى و باطنى پہلو سے بھى مربوط ہے ، رازى نے روحانى تاويل كا انكار كرتے ہوئے كيميا كے رمزى پہلو سے چشم پوشى كى اور اسے كميسٹرى كى صورت ميں پيش كيا ، رازى كى كيميا ميں اہم ترين كتاب '' سرّ الاسرار'' اصل ميں ايك كيمسٹرى كى كتاب ہے كہ جو كيميا كى اصطلاحات كے ساتھ بيان ہوئي ہے(۲) اس كتاب ميں كيمسٹرى كے طريقہ كار اور تجربات كا ذكر ہوا ہے كہ

____________________

۱)كيميا بمعنى سونا بنانے كا علم اور كميسٹرى بمعنى اشياء كے اجزا اور انكى بناوٹ كا علم _

۲)تقطير ايك كيميائي عمل ہے كہ جسميں حرارت كے ذريعے قطرہ قطرہ نكالا جاتاہے_


جسے خود رازى نے انجام ديا ہے ان كو كيميكل كى جديد صورتوں مثلا تقطير،تكليس (ہوا كے ساتھ گرم كرنے كا عمل ( calcination ) تبلور (كسى مايع يا گيس ميں شيشہ بنانے كا عمل ( crystalization )كے مطابق سمجھا جاسكتاہے رازى نے اس كتاب اور اپنى ديگر كتب ميں بہت سے آلات مثلا قرع ( Retort ) بڑے پيٹ والا شيشے كا ظرف تقطير جيسے اعمال كے ليے(۱) ، انبيق (مايعات كى تقطير اور عرق نكالنے كا آلہ يا ظرف)(۲) ديگ اور تيل سے چلنے والے چراغ كے بارے ميں تشريح كى ان ميں سے بعض چيز يں ابھى تك استعمال ہورہى ہيں _

چوتھى صدى ہجرى ميں بوعلى سينا اور فارابى نے اكسيرات اور كيميا سے مربوط بعض موضوعات پر لكھا، ليكن ان دونوں ميں سے كسى نے كيميا كے حوالے سے جدا كوئي رسالہ يا كتاب نہيں لكھى ، اس دور اور اسكے بعد كے ادوار ميں ديگر كيمياگران ميں سے جناب ابوالحكيم محمد بن عبدالمالك صالحى خوارزمى كہ جنكى كتاب كا نام '' رسالہ عين الصنعة و عون الصناع'' ہے انكے بعد ابوالقاسم عراقى كہ جو ساتويں صدى ہجرى ميں موجود تھے انہوں نے كتاب '' المكتب فى زراعة الذہب '' كو تحرير كيا اسى طرح ساتويں صدى ہجرى اور آٹھويں صدى ہجرى كے آغاز كے كيميا دان جناب عبداللہ بن على كاشانى بھى معروف ہيں _

اسلامى ادوار ميں آسمان كيميا پر آخرى درخشندہ ستارہ جناب عز الدين جلد كى ہيں كہ انكى تاليفات انكے زمانہ اور بعد ميں درسى مضمون اور معلومات كا منبع شمار ہوتى تھيں كتاب '' المصباح فى اسرار علم المفتاح اور البدر المنيرفى اسرار الاكسير '' انكے كيميا كے حوالے سے كتابوں كے چند نمونے ہيں(۳)

____________________

۱)كسى چيز كو ۹۵۰ درجہ پر حرارت دينا _

۲)كوٹ كوٹ كر زرہ زرہ كرنے والا آلہ_

۳)عرق نكالنے والا آلہ_

۴)سيد حسين نصر، علم و تمدن در اسلام ،ترجمہ احمد آرام ، ج۲ ص ۲۳۴ تہران ،على اصغر حلبى ،تاريخ تمدن اسلام ،ج ۱، ص ۲۱۳ ، ۳۲۳، ۲۳۳_


۶_ فلسفہ :

عالم اسلام ميں ابويوسف يعقوب بن اسحاق كندى (۲۶۰ ، ۱۸۵ ق ) سب سے پہلے فلسفى مسلمان شمار ہوتے ہيں وہ پہلے فرد تھے كہ جنہوں نے سائنس و فلسفہ ميں مطالعہ او رتحقيق شروع كى ، اسى ليے انہيں ''فيلسوف العرب'' كا نام ديا گيا ، دوسرى اور تيسرى صدى ہجرى ميں كوفہ علوم عقلى كى تعليم و تحقيق كا مركز تھا كندى نے ايسى فضا ميں علم فلسفہ پڑھا، يونانى اور سريانى زبان سيكھى اور بہت سى اہم كتابوں كا عربى ميں ترجمہ كيا _ كندى كى كتابيں كہ جنكى تعداد ۲۷۰ تك شمار كى گئي ہے سات اقسام ميں تقسيم ہوتى ہيں جن ميں سے فلسفہ ، منطق ، رياضى ، فلكيات ، موسيقى ، نجوم اور ہندسہ ہيں كندى پہلا شخص تھا كہ جن نے دين اور فلسفہ ميں مصالحت پيدا كى اور فارابى ، ابوعلى سينا اور ابن رشد كيلئے راستہ ہموار كيا انہوں نے ايك طرف سے اپنے پہلے نظريہ كے مطابق منطقيوں كى روش كو طے كيا اور دين كو فلسفہ كى حد تك تنزل ديا اور دوسرے نظريہ ميں دين كو ايك الہى علم جانتے ہوئے فلسفہ كى حد سے بڑھا ديا گويا كہ يہ علم پيغمبرانہ طاقت سے ہى پہچانا جا سكتا تھا،اسطرح دين كى فلسفى تفسير كرتے ہوئے دين كى فلسفہ سے صلح كروائي(۱)

عالم اسلام ميں قرون اولى كے دوسرے عظيم فلسفى محمد بن ذكريا رازى ہيں كہ ابن نديم كى تاليف كے مطابق وہ فلسفہ اور سائنس كو اچھى طرح جانتے تھے انكى تاليفات ۴۷ تك شمار كى گئي ہيں كہ آج كم از كم انكے چھ فلسفى مقالے باقى رہ گئے ہيں جناب رازى اگرچہ فلسفہ ميں مرتب نظام نہيں ركھتے تھے ليكن اپنے دور كى صورت حال كو ديكھتے ہوئے عالم بشريت كى نظرياتى تاريخ ميں ايك مضبوط ترين اسلامى دانشور اور مفكر جانے گئے، وہ عقل كى اصالت كے قائل تھے ، او ر عقلى قوت پر بے پناہ اعتماد ركھتے تھے اور اللہ تعالى كى طرف حركت ميں ايمان ركھتے تھے ، ليكن اصالت عقل كا شدت سے پرچار كرنے ، نظر و قياس كے پيروكاروں اور تجميع دين و فلسفہ كے معتقدين پر شديد حملے كرنے كے سبب ،بعض ايرانى فلسفى اصول اور اارسطو سے پہلے والے فلاسفہ

____________________

۱) ذبيح اللہ صفا، تاريخ علوم عقلى در تمدن اسلامى تا اواسط سدہ پنجم ج ۱ ، ص ۵،۱۶۲_


بالخصوص ذيمقراطيس كے نظريات پر توجہ كرنے كے باعث اور بعض خاص عقايد كى بناء پر علماء اسلام كا ايك بہت بڑا گروہ انكا شديد مخالف ہوا بعض نے انہيں صرف ايك طبى شخص جانا اور انہيں فلسفى ابحاث ميں داخل ہونے كا حق نہ ديا بہت سے اسلامى محققين اور دانشوروں نے انہيں ملحد ، نادان ، غافل اور جاہل جيسے خطاب ديے اور بہت سے ديگر اسلامى مفكرين مثلا ابونصر فارابى ، ابن حزم اندلسى ، ابن رضوان ، ناصر خسرو اور فخرالدين رازى نے انكى كتابوں پر تنقيد لكھي(۱)

رازى كے بعد افلاطون اور ارسطو كے فلسفہ كى تائيد اور ان دونوں كى آراء كو آپس ميں قريب لانے ، جديد افلاطونى حضرات كى پيروى كرنے اور حكمت كے قواعد كو اسلام ميں مطابقت دينے ميں عظيم مقام ركھنے والے جناب ابونصر فارابى ہيں كہ جنہيں ''معلم ثانى '' كا لقب صحيح طور پر ملا(۲)

فارابى كا فلسفہ پچھلى تحقيقات سے مختلف تھا اس ليے كہ انہوں نے گذشتہ فلاسفہ كى آراء كے مطالعہ كرتے ہوئے انہيں انكے اس خاص كلچر پرمبنى ماحول ( جسميں وہ زندگى گزار رہے تھے ) كے تناظر ميں ديكھا ہے ،انكا يہ ايمان تھا كہ فلسفہ بنيادى طور پر ايك مفہوم واحد ہے كہ جسكا مقصد حقيقت كى جستجو ہے اسى ليے انكى نظر ميں فلسفى حقيقت اور دينى حقيقت آپس ميں ہماہنگى اور مطابقت ركھتى ہيں لہذا ان دونوں كى تركيب سے ايك نئے فلسفہ كو وجود ميں لايا جائے_

اس دور كے ديگرعظيم فلسفى جناب ابن مسكويہ ہيں كہ حداقل ان سے اس موضوع ميں چودہ رسالے باقى رہ گئے ہيں ، ابن مسكويہ نے اپنے ايك اہم ترين رسالہ بنام '' الفوز الاصغر'' ميں انسان كى خلقت كے حوالے سے اپنا ايك جديد نظريہ پيش كيا اس نظريہ ميں انہوں نے يہ ثابت كرنے كى كوشش كى كہ يہ خلقت عدم سے حقيقت ميں آئي ہے اور صورتيں بتدريج تبديل ہوجاتى ہيں ليكن مادہ اصلى شكل ميں باقى رہتا ہے پہلى صورت

____________________

۱) محمد بن زكريا رازى ، سيرت فلسفى ترجمہ عباس اقبال_

۲)ابن خلكان ، وفيات الاعيان ، قاہرہ ، ۱۲۷۵ ،ج ۲، ص۱۱۴_۱۱۲_


مكمل طور پر ختم ہوجاتى ہے جبكہ بعد والى صورتيں عدم سے وجود ميں تبديل ہوتى رہتى ہيں لہذا تمام مخلوقات عدم سے تخليق ہوئي ہيں انسان كے حوالے سے انكا عقيدہ ہے كہ انسان كى خلقت اور كمال تك پہچنے كا سفر چار مراحل '' جمادى ، نباتى ، حيوانى اور انسانى '' پر مشتمل ہے اور انسان ميں روح كے نام كى ايك چيز ہے كہ جو حاضر ، غائب ، محسوس اور معقول امور كودرك كرتى ہے نيز پيچيدہ مادى امور كو بھى درك كر سكتى ہے_(۱)

اسى دور ميں بو على سينا بھى ايك عظيم ترين فلسفى كے عنوان سے موجود ہيں كہ جو ايك اہم شخصيت ہونے كے ساتھ ساتھ محكم اور درخشندہ فلسفى نظام كے بھى حامل ہيں انكى اہم اور برجستہ خصوصيت كہ جس كى بناء پر نہ صرف عالم اسلام بلكہ اہل مغرب كے قرون وسطى ميں يگانہ شخصيت بن كر ابھرے يہ تھى كہ فلسفہ كے بعض بنيادى مفاہيم كى دليل كے ساتھ خاص ايسى تعريف پيش كى جو صرف انكى ذات كے ساتھ خاص تھي، بو على سينا نے شناخت ، نبوت ، خدا ، جہان ، انسان اور حيات ، نفس كا بدن سے رابط اور انكى مانند ہر ايك نظريات كے حوالے سے تفصيلى اور جداگانہ معلومات فراہم كيں _

انكے يہ نظريات قرون وسطى كے ادوار ميں شدت كے ساتھ مشرق اور مغرب ميں چھاگئے اور يورپ كے اہم سكولوں اور يونيورسيٹوں ميں پڑھائے جانے لگے انہوں نے ايك لحاظ سے دو دنياؤں يعنى عقلى اور دينى پر كہ جو يونان كے فلسفہ اور مذہب اسلام كو تشكيل ديتے تھے پر تكيہ كيا، عقلى لحاظ سے انہوں نے وحى كى ضرورت اور لازمى ہونے كو دليل سے ثابت كيا كہ عقلى اور روحى بصيرت ايك بلندترين عنايت ہے كہ جو پيغمبر (ص) كو عطا ہوئي ہے اور پيغمبر (ص) كى روح اسقدر قوى اور قدرت كى مالك ہوتى ہے كہ عقلى مفاہيم كو زندہ اور متحرك صورتوں ميں لے آتى ہے جسے ايمان كے طور پرلوگوں كے سامنے پيش كيا جاتا ہے_

چوتھى صدى ہجرى كے دوران ايك مخفى گروپ نے فلسفى ، دينى اور اجتماعى اہداف كے پيش نظر '' اخوان الصفا'' تنظيم تشكيل دى ، اس گروہ كے بڑے اور معروف لوگوں ميں '' زيد بن رفاعہ، ابوالعلاء معري، ابن

____________________

۱) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۶ ، ذيل ابو على مسكويہ_


راوندى اور ابو حيّان توحيدى كا نام ليا جاسكتا ہے '' اخوان الصفا'' ايسے اہل فكر حضرات كا گروہ تھا كہ جو افلاطون ،فيثاغورث اسكے پيروكار وں تصوف كے معتقدين ، مشائي فلسفيوں كے عرفانى افكار اور شيعہ اصولوں پر عقيدہ ركھتے تھے ، يہ گروہ چار دستوں مبتدي، صالح دانا بھائي ، فاضل كريم بھائي اور حكماء ميں تقسيم تھے كوئي بھى ممبران مراحل كو طے كر سكتا تھا انكى محفليں اور ليكچرز مكمل طور پر مخفى تھے اورانكے رسالے مصنف كے نام كے بغير بلكہ ''اخوان الصفا'' كے كلى نام كے ساتھ شائع ہوتے تھے _

اخوان الصفا نے مجموعى طور پر ۵۱ رسالے لكھے، انكى نگاہ ميں الہى علوم پانچ مندرجہ ذيل اقسام ميں تقسيم ہوتے ہيں (۱) اللہ تعالى كى معرفت اور اسكى صفات (۲)علم روحانيت (۳) علم نفسانيات (۴)علم معاد يا قيامت شناسي(۵)علم سياسيات اور يہ (سياسيات كا علم )بذات خود پانچ دستوں سياست نبوى ، سياست ملوكى ، سياست عامہ ، سياست خاصہ اور سياست ذات ميں تقسيم ہوتا ہے(۱)

اس دور كے بعد ہم اسى طرح متعدد فلاسفہ كے عالم اسلام ميں ظہور اور ارتقاء كا مشاہدہ كرتے ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك نے اپنا خاص نظريہ دنيا ميں پيش كيا يہاں ہم بعض شہرہ آفاق افراد كا اختصار سے تعارف كرواتے ہيں :

ابوحامد محمد غزالى طوسى كہ جنكى اہم ترين كتاب '' احياء علوم الدين '' كو جو عربى زبان ميں لكھى گئي ہے اور اسميں فلاسفہ كى ديگر آراء كے مقابل دينى عقائد كا دفاع كيا گيا ہے يہ كتاب چار اقسام عبادات ، عادات ،مھلكات( ہلاك كرنے والى اشياء )اور منجيات (نجات دينے والى اشيائ) ميں تقسيم ہوئي ہے_

عمر خيام ان لوگوں ميں سے تھے كہ جو يونانى علوم كى تحصيل ميں بہت سر گرم تھے خيام كے افكار '' اخوان الصفائ'' كے نظريات كے قريب اور انكا طرز بيان بھى انہى كى مانند ہے خيام ايسے خدا كے وجود پر عقيدہ ركھتے تھے كہ جو مطلق خير ہے اور اس سے عقاب اور عذاب صادر نہيں ہوتا_

____________________

۱) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج ۷ ، ذيل '' اخوان الصفا'' _


اسى طرح ابن باجہ ، ابن ميمون قرطبى ، ابن طفيل اور ابن رشد مكتب ہسپانيہ ( اندلس )سے تعلق ركھنے والے بڑے فلاسفہ ميں سے ہيں(۱)

جس دور ميں ہسپانيہ ميں يہ فلاسفہ پيدا ہوئے اور ترقى كر رہے تھے اسى دور ميں ايران ميں بھى بہت سے افراد كے عروج كا مشاہدہ كرتے ہيں كہ ان ميں سے ايك شہاب الدين سہروردى ہيں كہ جو شيخ اشراق كے نام سے مشہور ہوئے انہوں نے فارسى اور عربى ميں مختلف كتابيں تصنيف كيں سہروردى كى اہم ترين تاليفات ميں سے حكمة الاشراق ، التلويحات اور ہياكل النور عربى زبان ميں جبكہ پر تو نامہ اور عقل سرخ فارسى زبان ميں ہيں _

انكے علاوہ فخر الدين رازى كہ جو تقريبا سہروردى كے معاصر تھے انكا نام بھى ليناچاہيے،فخرالدين رازى ان فلاسفہ كے گروہ ميں سے ہيں كہ جو آسان نويسى ميں بہت ماہر تھے انہيں حكمت اور كلام ميں بہت مہارت حاصل تھى اسے انہوں نے اپنے شاعرانہ ذوق سے ملا ديا انكا دليل دينے كا انداز بھى مضبوط اور روان تھا_

اس باب ميں وہ جو بطور فلسفى ، دانشور ، سياست دان اور مفكر كے بہت زيادہ توجہ كے مستحق ہيں وہ جناب خواجہ نصير الدين طوسى ہيں كہ جو ايران كى انتہائي سخت سياسى اور اجتماعى صورت حال ميں يعنى جب منگولوں نے حملہ كيا ظہور پذير ہوئے ، جناب طوسى مكمل طور پر فلسفہ ميں بو على سينا كے پيروكار تھے ليكن اپنى خاص نظر و آراء بھى ركھتے تھے_(۲)

طوسى كے بعد اہم ترين فلسفى ميرداماد استر آبادى ہيں كہ جو تقريباً صفوى دور ميں تھے انكى مشہور تصنيفات ميں سے ايك '' القبسات '' ہے كہ جس ميں انہوں جہان كے حدوث اور قديمى ہونے كے حوالے سے بحث كى اور اسكے ضمن ميں انہوں نے معقولات مجرد كے جہان كو حادث دہرى ( زمانى ) گردا نا ہے_

____________________

۱) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج ۳ ذيل ابن رشد_

۲) محمد تقى مدرس رضوى ، احوال و آثار خواجہ نصير الدين طوسى ، ۷۱_۴۰


اس دور ميں دوسرے مشہور فلسفى ميرفندرسكى ہيں انكى ظاہرى بود و باش سادہ اور درويشوں كے ہم محفل تھے ميرفندرسكى كے افكار و نظريات بو على سينا اور فلسفہ مشاء كے كلمات اور آراء كى حدود كے اندر ہيں ميرفندرسكى نے ان تمام موارد ميں كہ جہاں فلسفہ مشاء اور سہروردى كے حاميوں ميں اختلاف نظر تھا وہاں فلسفہ مشاء كا دفاع كيا ، ميرفندرسكى گذشتہ ادوار كے تمام اسلامى فلاسفہ ميں تنہا وہ شخصيت ہيں كہ جو زبان سنسكريت كو جانتے تھے اسى ليے انہوں نے ہند كے فلاسفہ كى ايك اہم ترين فلسفى او ر نظرياتى كتاب يعنى '' مہا بہارات'' كى شرح لكھي_

گيارھويں صدى ہجرى ميں ميرفندرسكى كے فورا بعد ملا صدراى شيرازى كہ جو صدر المتا لہين كے نام سے معروف ہوئے پيدا ہوئے وہ اس صدى كے بالخصوص اشراق كے حوالے سے سب سے بڑے فلسفى ہيں ملا صدرا نے اپنى تعليم كے آغاز سے نظريات كے پختہ ہونے كے زمانہ تك تين :مراحل شاگردى كادور، عبادت اور گوشہ نشينى كا زمانہ اور تاليف اور افكار و آراء بيان كرنے كا دورانيہ گزارے ، ملا صدرا كى اہم ترين فلسفى تاليفات ميں سے الاسفار الاربعہ اور المبداء و المعاد ہيں _

عالم اسلام ميں فلسفہ كے تجزيہ و تحليل كے حوالے سے ايك اہم ترين پہلو اس علم كا مختلف زمانوں ميں تحرك، زندگى او ر بقا ہے، جيسا كہ ملاحظہ ہوا كہ صدرا اسلام بالخصوص كندى كے زمانہ زندگى سے ملاصدرا كے دور تك اسلامى فكرى تحرّك عروج كے مدارج طے كرتا رہا اور كبھى بھى كوئي دور ايك بڑے فلسفى سے خالى نہ تھا يہ ارتقاء ملاصدرا كے بعد بھى جارى رہا ملاصدرا نے اپنى آراء ايك عظيم اور مكمل فلسفى تحريك '' مكتب فلسفى تہران '' كى صورت ميں يادگار كے طور پر چھوڑيں انكے بعد يہ مكتب زنديہ خاندان كے دور اور قاجار حكومت كے دور ميں جارى رہا اور اس مكتب نے بڑى تعداد ميں عظيم فلاسفہ يادگار كے طور پر چھوڑے مكتب فلسفى تہران اب بھى جارى ہے_(۱)

____________________

۱) اكبر دانا سرشت ، سہروردى و ملا صدرا_


۷) منطق

مسلمان اوائل سے ہى اپنى خاص منطق ركھتے تھے يہ منطقى روش واضح طور پر علم كلام او ر اصولى فقہ ميں ديكھى جا سكتى ہے اس قسم كى منطق ميں اگرچہ مسلمان ارسطو كى منطق سے الہام ليتے تھے ليكن بہت ہى كم اس سے متاثر ہوتے تھے، بطور خاص علم اصول الفقہ فقہاء كى منطق شمار ہوتا آيا ہے كہ جو مكمل طور پر مسلمانوں سے ہى تشكيل پايا، اور اہل كلام حضرات بھى پانچويں صدى تك ارسطو كى منطق سے كم ہى مدد ليتے تھے بلكہ اپنى خاص منطقى روش ركھتے تھے _

عالم اسلام ميں پہلى بار ايرانى دانشور ابن مقفع نے مقولات ، عبارات اور قياس كے عربى ترجمہ ميں سبقت كى اور ديگر مترجمين نے بھى منطقى رسائل كا ترجمہ كيا اس حوالے سے كندى ، فارابى ، ابن سينا ، بھمنياربن مرزبان اور حكيم لوكرى نے كوشش كيں ، ليكن بو على سينا نے كتاب شفا ميں اگرچہ منطق ارسطو كے نصاب كو اصلى حالت ميں رہنے ديا اور مكمل طور پر اسكى شرح لكھى ليكن اپنى ديگر كتابوں ميں اس منطقى روش ( ارسطو كى روش) ميں بہت زيادہ كمى بيشى كى ، انہوں نے كتاب منطق المشرقين كے ديباچہ ميں يہ تاكيد كے ساتھ بتايا كہ وہ اسى طرح مشائين كى روش پر وفادار رہے ہيں _

خواہ نصير الدين طوسى نے بھى منطق ميں بہت تحقيق كى اور متعدد كتابيں كہ جن ميں سے اساس الاقتباس،شرح منطق اشارات ، تعديل المعيار اور التجريد فى المنطق تحرير كيں ، وہ منطق كو علم كے ساتھ ساتھ وسيلہ بھى سمجھتے تھے ان كے خيال ميں منظق ايك ايسا علم ہے جو معنى اور انكى كيفيت كى شناخت كے ساتھ ديگر علوم كى فہم و ادراك كى كليد بھى ہے_

ابن تيميہ ( متوفى ۶۶۱) بھى اسلام كے بڑے منطقيوں ميں سے ہيں انكى اس حوالے سے اہم ترين كتابوں ميں سے كتاب الرد على المنطقيين اور نقض المنطق ہيں _

ابن تيميہ كے بعد ارسطو كى منطق كے بڑے ناقد ابن خلدون ہيں انہوں نے اپنى اہم كتاب '' العبرو ديوان المبتداء والخبر'' كے مختلف ابواب ميں منطق كے حوالے سے گفتگو كى انہوں نے تاريخى نگاہ سے منطق


كا تجزيہ كيا اور واضح كيا كہ كيسے اس علم نے جنم ليا اور عالم اسلام ميں كس طرح داخل ہوا ، انہوں نے مختصر سے انداز ميں ماہيت منطق كى تعريف كى اسكے بعد اسكے مبادى اور اساس پر بحث كى _

گيارھويں صدى ہجرى ميں صدرالدين شيرازى ( ملا صدرا) كے ظہور كے ساتھ اسلامى تمدن ميں فكرى اور عقلى فعاليت اپنے عروج كو پہنچ گئي تھى ملا صدرا نے اپنى كتاب الاسفار كى مقدماتى فصول ميں مشائيوں كى پيروى ميں علوم كى تقسيم بندى اور منطق كے حوالے سے بھى گفتگو كى انكى روش منطق بہت زيادہ ابن سينا كى روش منطق سے مشابہت ركھتى ہے(۱)

تاريخ اور تاريخ نگاري

زمانہ جاہليت ميں عرب كى ثقافت حفظ پر قائم تھى اور اسى طريقے سے ايك نسل سے دوسرى نسل ميں منتقل ہو رہى تھى ظہور اسلام سے پہلے اور قران كى گذشتہ اقوام كى داستانوں سے عبرت لينے كى تعليمات تك _ زمانہ جاہليت كے عرب لوگ وقت كے تسلسل كو ايك تہذيبى مفہوم كے طور پر نہيں سمجھتے تھے _ ليكن سب سے اہم چيز جس نے مسلمانوں كو تا ريخ نگارى اور تاريخ سے عبرت لينے كى طرف ترغيب دلائي وہ قران و حديث كى تعليمات تھيں لہذا عربوں ميں تاريخ اور تاريخ نگارى كا علم ظہور اسلام كے اوائل ميں ہى وجود ميں آيا_ مسلمان اپنے تاريخى مطالعات ميں قران و حديث سے متاثر ہوتے ہوئے سب سے پہلے پيغمبر اكرم (ص) كى سيرت اور جنگوں كى طرف متوجہ ہوئے اسكے بعد تاريخ نگارى كے ديگر موضوعات كى طرف بڑھے_ سب سے پہلے مسلمان مورخين ميں '' ابو مخنف'' ( متوفى ۱۷۵ م ) كا نام ليا جاسكتا ہے وہ كسى ايك موضوع پر مبنى متعدد تواريخ كے مصنف تھے جنكے كچھ حصوں كاذكر تاريخ طبرى ميں موجود ہے_ ابن اسحاق ( متوفى ۱۵۰ ق) بھى وہ پہلى شخصيت ہيں كہ جنہوں نے سيرہ نبوى پر كتاب لكھي_(۲)

____________________

۱) محمد خوانسارى ، قوانين مطنق صورى ( مختلف جگہ سے) ابو نصر فارابى ، احصاء العلوم ، ص ۵۳ _دانش پوہ ، محمد تقى ، '' از منطق ارسطو روش شناسى نوين '' مجلہ جلوہ ،س ۱، ش۱، ص ۲۴_

۲) عبدالجليل ، تاريخ ادبيات عرب ، ترجمہ آذر تاش آذر نوش ، ص ۱۵۳_


اس كتاب كے كچھ حصے تاريخ طبرى ميں نقل ہوئے ہيں اگرچہ يہ كتاب بذات خود ہمارے ہاتھ تك نہيں پہنچى ليكن يہ مكمل طور پر سيرہ ابن ہشام ميں آچكى ہے، واقدى ( متوفى ۲۰۹ قمري) نے پيغمبر اكرم(ص) كى جنگوں كے حوالے سے مشہور كتاب '' المغازى '' لكھي_ واقدى كے شاگر د ابن سعد نے بھى پيغمبراكرم (ص) ، صحابہ اور تابعين كى زندگى كے حالات پر كتاب '' الطبقات'' لكھى ، تيسرى صدى ہجرى ميں بلاذرى ( متوفى ۲۷۹ قمري) نے دو قيمتى تاريخى كتابيں '' فتوح البلدان '' اور '' انساب الاشراف'' اپنے بعد يادگار چھوڑيں _ اس صدى كے دوسرے نصف حصہ ميں اس دور كے اسلام كے بہت بڑے مورخ طبرى نے عظيم كتاب '' تاريخ الامم و الرسل و الملوك'' تصنيف كى _

پانچويں صدى ہجرى ميں چند بڑے مورخ گزرے ہيں _ كتاب تجارب الامم كے مصنف ابن مسكويہ ، سلاطين غزنوى كے ليے لكھى جانے والى كتاب تاريخ يمينى كے مصنف عتبى ، تاريخ بغداد كے مصنف خطيب بغدادى _ چھٹى صدى ہجرى ميں حالات زندگى پر لكھى جانے والى كتاب '' الاعتبار '' كے مصنف اسامہ بن منقذ (متوفي۵۸۴ قمرى )اور سلجوقيوں كى تاريخ پر لكھى جانے والى كتاب '' نصرة الفترہ'' كے مصنف عماد الدين اصفہانى (متوفى ۵۸۹ قمرى ) اس دور كے بڑے مورخ شمار ہوتے تھے_

ساتويں صدى ہجرى ميں ہم بہت بڑے مورخين كا سامنا كرر ہے ہيں ابن اثير جو كہ عرب زبان مورخين ميں سب سے مشہور ہيں اور انہوں نے كتاب '' الكامل فى التاريخ'' اور ''اسد الغابة'' تحرير كيں _ اس صدى كے دوسرے برے مورخين ابن خلكان ہيں كہ جنہوں نے اہم رسالہ ''وفيات الاعيان ''تحرير كيا كہ جو شخصيات كے تذكرہ اور تاريخ ادب پر فہرست كى روش پرہے_

آٹھويں صدى ہجرى ميں ابن ابى زرع ( متوفى ۷۲۷قمرى )نے مغرب كى تاريخ كے حوالے سے اپنى اہم كتاب '' روض القرطاس'' اور ابوالفداء نے كتاب'' المختصر فى اخبار البشر'' تحرير كى نويں صدى ہجرى ميں تقى الدين فاسى نے تاريخ مكہ تحرير كى اسى صدى ميں مقريزى نے مصر كى تاريخ اور جغرافيہ پر اپنى اہم ترين


كتاب'' الخطط والآثار'' تحرير كى _ گيارہويں صدى ہجرى ميں مقرّى نے ہسپانيہ كى تاريخ پر كتاب'' نفح الطيب'' لكھى _(۱)

عربى زبان ميں تاريخ نگارى كے ادوار كى مانند فارسى زبان ميں بھى تاريخ نگارى نے اسى طرح سفر كيا اور مراحل ارتقاء طے كيے _ عربى زبان كے مورخين كى مانند ايرانى مؤلفين نے بھى بہت سے ادوار ميں تاريخى كتب تحرير كيں يا عربى سے فارسى ميں ترجمہ كيں _ فارسى زبان ميں قديمى ترين عمومى تاريخى كتابوں ميں سے جو باقى رہ گئي ہيں ان ميں سے تاريخ بلعمى كہ جو ابوعلى بلعمى نے ۳۵۲قمرى ميں تحرير كى _

اسكے بعد كتاب'' زين الاخبار گرديزي'' ( پانچويں صدى كے پہلے نصف حصہ كى تأليف) كا نام بھى ليا جاسكتا ہے ليكن ايران ميں فارسى زبان كى تاريخ نگارى كا سب سے اہم ترين دور منگولوں كا دور يعنى ساتويں صدى كے بعد كا ہے_ اس دور ميں ہم فارسى تاريخى كتاب نويسى ميں انقلابى اٹھان كا مشاہدہ كرتے ہيں اس دور كى اہم ترين تاريخى كتابيں '' تاريخ جہانگشاى جوينى '' ہے كہ جو عطاملك جوينى كى تحرير ہے ، عثمان بن محمد جو زجانى كى تصنيف طبقات ناصرى جو ۶۵۸ ق ميں تاليف ہوئي، عبداللہ بن عمر بيضاوى كى نظام التواريخ ، رشيد الدين فضل اللہ ہمدانى كى جامع التواريخ ، فخر الدين داؤد بناكتى كى تاريخ بناكتى ، حمداللہ مستوفى كى تاريخ گزيدہ، شرف الدين عبداللہ وصاف شيرازى كى تجزية الادصار يا تاريخ وصاف اور محمد بن على شبانكارہ كى مجمع الانساب ہيں _ فارسى زبان ميں تاريخ نگارى كى عظمت و بلندى تيمورى اور تركمانى ادوار ميں بھى جارى رہى ، ان ادوار كى يادگار كتب ميں سے حافظ ابرو كى مجمع التواريخ السلطانيہ'' ، شرف الدين على يزدى كى ظفرنامہ ، مير خواند كى روضة الصفا اور خواند مير كى تاريخ حبيب السير كا نام ليا جاسكتا ہے_(۲)

تركمانى دور كے بعد صفوى حكومت قائم ہونے كے ساتھ ہى فارسى زبان ميں تاريخ نگارى ميں اہم انقلاب

____________________

۱) دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۶ ذيل تاريخ و تاريخ نگار ى _

۲)دانشامہ جہان اسلام ، ج ۶ ذيل تاريخ و تاريخ نگارى _


پيدا ہوا يہ انقلاب شيعى نظريات كى اساس پر تاريخ نگارى كى جديد شكل تھا_ اس طرز كى اہم ترين تاريخى كتابوں ميں سے ابن بزاز كى تحرير صفوة الصفا ، اسكند بيك منشى تركمان كى '' تاريخ عالم آراى عباسي'' يحيى بن عبداللطيف قزوينى كى ''لب التواريخ ''اور قاضى احمد غفارى كى ''تاريخ جہان آرا ''قابل ذكر ہيں _

اس دور كے مورخين كى ايك بڑى تعدا دصفوى بادشاہوں كى حكومت كى تاريخ كو تاريخ نگارى كا بنيادى موضوع قرار ديے ہوئے تھى _ اس حوالے سے بہت سى كتابيں تاليف ہوئيں ان ميں سے بوداق منشى قزوينى كى ''جواہر الاخبار ''قابل تذكرہ ہے _

افشاريہ اور زنديہ سلسلہ حكومت كے ادوار ميں صفوى تاريخ نگارى شيعى رحجان كے ساتھ جارى رہى اس دوران كے اہم ترين مورخين ميں سے نادر شاہ كے مخصوص منشى ميرزا مہدى خان استر آبادى تھے كہ جنہوں نے بہت سے تاريخى آثار چھوڑے ان ميں سے ''درّہ نادرہ'' اور'' جہانگشاى نادري'' قابل ذكر ہيں _ زنديہ سلسلہ حكومت كے دور ميں بھى ہم ''محمل التواريخ ''كے مصنف ابوالحسن گلستانہ ''روزنامہ ميرزا محمد كلانتر ''كے مصنف ميرزا محمد كلانتر اور ''تاريخ گيتى گشا ''كے مصنف ميرزا صادق موسوى اصفہانى جسے مورخين سے آشنا ہوتے ہيں _

قاجاريہ سلسلہ حكومت كے دور ميں فارسى زبان ميں ايرانى تاريخ نويسى ايك اہم تبديلى سے دوچار ہوئي جسكى بناپر اس دور كى تاريخ نگارى كودو اقسام ميں تقسيم كرنا چاہيے : ايرانيوں كى جديد علوم سے آشنائي سے پہلے او ر اسكے بعد ، قارجايہ حكومت كے پہلے دور ميں تاريخ نگارى صفويہ اور زنديہ ادوار كى مانند اسى سبك و سياق اور ادبى نثر پر جارى رہى جبكہ دوسرے دور ميں ايرانيوں كى يورپ كى جديد تاريخ نگارى روش سے آشنائي كے بعد تاريخ نگارى كا آغاز ہوا ، ايران كى روس سے شكست اور اس شكست كے اسباب اور ايرانيوں كا يورپى زبانوں سے ترجمہ كے كام كى طرف توجہ قاجار يہ دور ميں تاريخ نگارى كے دوسرے مرحلہ كا آغاز ہے _

قاجاريہ دور كے پہلے مرحلہ ميں تاريخ نگارى كے اہم آثار ميں سے ميرزا فضل اللہ خاورى شيرازى كى


تاريخ محمدى اور تاريخ ذوالقرنين، عبدالرزاق مفتون دنبلى كى ''مآثر سلطاني''، عضدالدولہ سلطان احمد ميرزا كى ''تاريخ عضدى ''، اور محمد تقى سپہر كى ''ناسخ التواريخ ''كا نام ليا جاسكتا ہے ،قاجاريہ كے دوسرے دور ميں يورپ كى زبانوں سے ترجمہ كى بناء پر يورپ كى تاريخ كے متعلق چند كتابوں ميں سے ايڈورڈگيبن كى كتاب'' تاريخ انحطاط و زوال امپراتورى روم'' كہ جو فارسى ميں ترجمہ ہوئي اسى طرح سرجان ملكم كى كتاب'' تاريخ ايران'' كہ جوانگريزى ميں تصنيف ہوئي اور بعد ميں فارسى ميں ترجمہ ہوئي_(۱)

يہ تاريخ نگارى كے متعلق كچھ نكات تھے كہ جنكى طرف ہم نے اشارہ كيا ، اسلامى ادوار ميں تاريخ نگارى كے حوالے سے ايك اور قابل توجہ بحث يہ ہے كہ مورخين نے تاريخ نگارى كى مقبوليت كى بناء پر كتب كى تصنيف و تاليف ميں مختلف اقسام كے سبك و سياق كى پيروى كى اسى ليے ہم انكے تاريخى آثار كو چند اقسام ميں تقسيم كر سكتے ہيں جوكہ مندرجہ ذيل ہيں :

الف) روائي تاريخ نويسي: يہ مختلف موضوعات مثلا حديث ، قصہ ، مقتل ، سيرت اور جنگوں كے احوال ميں تقسيم ہوتى ہے _

ب) وقايع نويسى : واقعات اور رودادوں كوتاريخى نظم كے ساتھ تسلسل كى شكل ميں ايك جگہ پيش كرنا _

ج) ذيل نويسى اور مختصر نويسي: گذشتہ لوگوں كى تاريخى كتب پر ذيل و حاشيہ اور تكميلى نوٹ لكھنا_

د)عمومى تاريخ نويسي: تقويم اور سالوں كى ترتيب كے ساتھ اسلامى ممالك كے واقعات كو قومى و جغرافيائي عناصر كى مداخلت كے بغير لكھنا _

ہ) انساب كى روسے تاريخ نويسي: انساب كے سلسلہ اور شجرہ نسب كى آشنائي كے ساتھ تاريخى حوادث كا ذكر اور انكا ايسے قبائل اور طوائف سے ربط بيان كرنا جن كا پس منظر زمانہ جاہليت سے جا ملتا ہے _

و) طبقات كے اعتبار سے تاريخ نويسي: يہ تاريخ نگارى ميں اسلامى مورخين كى قديم ترين روش ہے

____________________

۱) دانشنامہ جہان اسلام ج ۶ ذيل تاريخ و تاريخ نگارى _


طبقات كے نام كى تاريخى كتب ميں ہر زمانہ ياہر نسل كى ديني، علمى اور سياسى شخصيات كے حالات زندگى زمانى ترتيب كے ساتھ ہر ايك طبقہ كو ديگر طبقات اور ادوار سے جدا كرتے ہوئے لكھے جاتے ہيں _

ز) سرگذشت نامے: يہ روش بہت سى تاريخى كتب ميں پائي جاتى ہے يعنى خلفاء ، حاكموں اور علماء كے حالات زندگى كے بارے ميں كتب تحرير كرنا ، تاريخ نويسى كى يہ روش پيغمبر اكرم (ص) كے حوالے سے تحرير شدہ سيرتوں كے زير اثر وجود ميں آئي _

ح) صدى نامہ : تاريخ نويسى كى يہ روش ساتويں صدى سے رائج ہوئي اس روش ميں ايك معين صدى كى شخصيات كى سرگذشت الف ب كى ترتيب سے لائي جاتى ہے _

ط) مقامى تاريخ نويسى :سال بہ سال تاريخ نويسى كى روش كے مطابق ايك منطقہ ، سرزمين يا شہر كے تاريخى حالات و واقعات كا ذكر _

ى ) خاندانى تاريخ نويسي: خلفا اور سلاطين كے دور فرمانروائي كى بنياد پر لكھى جانے والى كتب اور رسالات اس قسم كى تاريخ نويسى ميں جو كہ قبل از اسلام كے ايرانى لكھاريوں كے اسلوب كا اقتباس ہے بادشاہوں كى تاريخ كو مرتب كيا جاتا ہے_

درج بالا ہر ايك قسم كے تحت مختلف كتب اور رسالے فارسى اور عربى ميں تدوين كئے گئے ہيں كہ جنہيں مفصل تاريخى ما خذاور كتابيات ميں تلاش كيا جاسكتا ہے_(۱)

۹ ) جغرافيا

مسلمانوں نے علم جغرافيہ ميں بھى ديگر قديم علوم مثلا رياضي، طب اور نجوم كى مانند گذشتہ تہذيبوں خصوصاً يونان، ايران اور ہند كا سہارا ليا انہوں نے ان تہذيبوں كے آثار كا مطالعہ اور ترجمہ كرتے ہوئے ان علوم كو وسعت بخشي_ ايران ، مصر اور سندھ كى فتح سے مسلمانوں كو موقع ملا كہ ان تين تہذيبوں كے لوگوں كى علمى و

____________________

۱) رسول جعفريان ، منابع تاريخ اسلام ، قم ص ۵۱ ، فرانتس روزنتال ، تاريخ و تاريخ نگارى در اسلام ، ترجمہ اسداللہ آزاد ص ۸۴، ۸۱ ، عبدالعزيز دورى ، بحث فى نشان علم التاريخ عندالعرب ص ۸۶ _ ۸۱_


ثقافتى ترقى سے ابتدائي معلومات حاصل كريں _ ہندى جغرافيہ كے حوالے سے مسلمانوں كے پاس اہم ترين منبع كتاب '' سوريا سدھانتہ'' تھى كہ جو منصور عباسى كے دور خلافت ميں سنسكرت سے عربى ميں ترجمہ ہوئي _ يونان سے جغرافيہ اور نجوم كى معلومات بھى بطليموس اور ديگر يونانى دانشوروں كے آثار كے ترجمہ سے مسلمانوں ميں منتقل ہوئيں بطليموس كى جغرافيہ كے بارے ميں كتاب عباسى دور ميں چند بار ترجمہ ہوئي ليكن آج جو كچھ ہمارے پاس اس كتاب كے حوالے سے ہے وہ محمد بن موسى خوارزمى كا اس كتاب سے اقتباس ہے كہ جو مسلمانوں كى اپنى معلومات سے مخلوط ہوگيا ہے(۱)

اسلامى تہذيب ميں علم جغرافيہ كا آغاز منصور عباسى كى خلافت كے زمانہ ميں ہو ا اور بالخصوص مامون كى خلافت كے زمانہ ميں اس علم كى طرف سركارى توجہ بڑھى مامون كى خلافت كے زمانہ ميں جغرافيہ نے بہت ترقى كى _ كرہ زمين كى قوس سے ايك درجہ كى پيمائشے ، نجومى جدول اور مختلف جغرافيائي نقشہ جات كا تيار ہونا و غيرہ اس ترقى كے ثمرات تھے_

تيسرى صدى ہجرى سے قبل جغرافيہ كے حوالے سے جداگانہ تصنيفات موجود نہ تھيں بلكہ كہيں كہيں ہميں اس زمانے كى كچھ جغرافيائي معلومات منتشر صورت ميں ملتى ہيں ليكن تيسرى صدى ہجرى اسلامى تہذيب ميں علم جغرافيہ ميں اختراعات اور ترقى كا زمانہ ہے كيونكہ اس صدى ميں ايك طرف بطليموس كے آثار سے آشنائي حاصل ہوئي اور اسكے بعد ايسے تراجم ظاہر ہوئے كہ جنكى بناء پر سائينٹيفك جغرافيہ كا آغاز ہوا دوسرى طرف توصيفى جغرافيہ كى تشريح كيلئے گوناگون نمونہ جات بنائے گئے اور اسى صدى كے آخر ميں كئي جغرافيائي كتب تحرير ہوئيں اور مختلف قسم كے سفرنامے دائرہ تحرير ميں آئے_

چوتھى صدى ہجرى ميں اسلامى جغرافيہ ميں مختلف مكتب پيدا ہونے سے جو'' مسالك و ممالك '' كوخاص اہميت ديتے تھے اور اسلامى اطلس يعنى جغرافيائي اشكال كے بہترين نمونوں سے بہت نزديكى تعلق ركھتے تھے

____________________

۱)فرانتس تشنر و مقبول احمد ، تاريخچہ جغرافيا در تمدن اسلامي، ترجمہ محمد حسن گنجى و عبدالحسين آذرنگ ص ۱۰ و ۹_


جغرافيہ كى تاليفات اپنے عروج كو چھونے لگيں(۱) _

اسلامى تمدن ميں علم جغرافيہ كے تاريخى اتار چڑھاؤ كو مختلف ادوار ميں تقسيم كيا جاسكتاہے:

پہلا دور (تيسرى اور چوتھى صدي)

اس دور ميں علم جغرافيہ عروج كى طرف قدم بڑھا رہا تھا اس دور كى جغرافيائي تاليفات كو دومكتبوں ميں تقسيم كيا جاتاہے كہ ان دونوں كے ذيل ميں بھى اقسام ہيں : ايسے متون كہ جومجموعاً كائنات كے بارے ميں تحرير ہوئے ہيں ليكن اسلامى خلافت كى بعنوان مركز عالم اسلام زيادہ تفصيلات بتائي گئيں ہيں _

وہ تحريريں جو واضح طور پر ابو زيد بلخى كے نظريات سے متاثر ہيں اور فقط اسلامى سرزمينوں كى روداد بيان كررہى ہيں اور اسلامى مملكت كے ہر گوشے يا رياست كو جدا سلطنت سمجھا گيا ہے اور سوائے سرحدى علاقوں كے بہت كم غير مسلم سرزمينوں كے بارے ميں بحث كى گئي ہے_(۲)

دوسرا دور (پانچويں صدي)

يہ اسلامى جغرافيہ كے عروج كى صدى ہے اس دور ميں مسلمانوں كا علم جغرافيہ خواہ انہوں نے يونانيوں اور ديگر تہذيبوں سے اقتباس كيا ہو خواہ انہوں نے يہ معلومات تحقيق، مشاہدہ اور سياحت كے ذريعے حاصل كى ہوں ترقى كى بلندترين سطح كو چھورہا تھا_

تيسرا دور(چھٹى صدى سے دسويں صدى تك )

يہ اسلامى جغرافيائي معلومات كى پيوستگى اور ترتيب دينے كا زمانہ ہے _ اس دور ميں ادريسى جيسے حضرات كے سوا متقدمين كى كتب كے مقابلہ ميں كوئي خاص ترقى نہيں ہوئي اور جغرافيہ كے موضوع پر علمى اور ناقدانہ

____________________

۱)سيد حسين نصر، علم و تمدن در اسلام، ترجمہ احمد آرام، ص۸۸، تشنر و احمد ، تاريخچہ جغرافيا در تمدن اسلامى ص ۱۲_

۲)ايگناتى يوليا نويچ كراچكو منكى ، تاريخ نوشتہ ہاى جغرافيائي در جہان اسلامى ترجمہ ابوالقاسم پايندہ ص ۷،۶_


مزاج اور معلومات كے درست اور مستند ہونے كے بارے ميں حساسيت _ جو كہ متقدمين كى اہم خصوصيات تھيں _ ان خصوصيات نے اپنى جگہ تلخيص اور گذشتہ لوگوں كے روائي اور نظرى اقوال كو نقل كرنے كو دے دي(۱) _

چوتھا دور (گيارہويں سے تيرہويں صدى تك)

اس دور ميں ہم مشاہدہ كرتے ہيں كہ اسلامى جغرافيہ ميں جديد تحقيقات شاذو نادر ہيں كلى طور پر اس دور كا نام ''زمانہ جمود '' ركھا جاسكتاہے ليكن اس دور كے آخر ميں اسلامى جغرافيہ ميں اہم واقعہ رونما ہوا وہ يہ كہ مسلمان يورپى جغرافيہ سے آشناہوئے انكى يہ آشنائي مغربى جغرافيايى آثار كے ترجمہ كے ذريعے عمل ميں آئي(۲)

پہلے دور كے مصنفين يعنى تيسرى اور چوتھى صدى كے جغرافيہ دانوں ميں سے ''ابن خردادبہ'' كى طرف اشارہ كيا جاسكتاہے كہ جنہوں نے جغرافيہ اورديگر علوم ميں دس عناوين سے زيادہ كتب تاليف كيں المسالك و الممالك انكى جغرافيہ كى تاليفات ميں سے ايك ہے اس گروہ كے ديگر نمايندے '' البلدان'' كے مولف يعقوبى اور اخبار البلدان كے مصنف ابن فقيہ ہمدانى ہيں اس گروہ كے مشہورركن جو كہ چوتھى صدى كے مشہورترين جغرافيہ دان شمار ہوئے ہيں وہ ابوالحسن على بن حسين بن على مسعودى ہيں ، جناب مسعودى جغرافيہ كو علم تاريخ كا جزو سمجھتے تھے_ اسى ليے انہوں نے اپنى جغرافيہ كے حوالے سے معلومات كو اپنى تاريخ ميں اہم كتاب ''مروج الذہب و معادن الجوہر ''ميں تحرير كيا_

اسى طرح اس دور كے ديگر قابل ذكر جغرافيہ دانوں ميں سے كتاب'' المسالك و الممالك كے مصنف اصطخري'' ، كتاب '' صورة الارض يا المسالك والممالك'' كے مصنف ابن حوقل اور '' كتاب احسن التقاسيم فى معرفة الاقاليم'' كے مصنف مقدسى ہيں _

____________________

۱) تشنر و احمد ، پيشين ص ۴۸ ، ۳۸_

۲) آندرہ ميكل اور انكے معاون حائرى لوران، اسلام و تمدن اسلامي، ترجمہ حسن فروغى ص ۴۸۲، ۴۸۱_


دوسرے دور يعنى پانچويں صدى ميں بڑے اور عظيم جغرافيہ دانوں كے ظہور كا ہم مشاہدہ كرتے ہيں كہ ان ميں سے اہم ترين ابوريحان بيرونى ہيں جناب بيرونى علم جغرافيہ كى ايك انتہائي فنى اور پيچيدہ ترين شاخ يعنى رياضياتى جغرافيہ كے مؤسس ہيں اس حوالے سے انكى كتاب كا نام '' تحديد نہايات الاماكن'' ہے علاوہ ازيں علم جغرافيا ميں البيرونى كے ہم عصر اور ہم رتبہ دانشور ابوعبداللہ بن عبدالعزيز بكرى قرطبى ہيں جو ہسپانيہ كے دانشور تھے انكى جغرافيہ كے حوالے سے كتاب كا نام '' معجم ما استعجم من اسماء البلاد والمواضع'' ہے_

تيسرے دور يعنى چھٹى سے دسويں صدى تك جس كا نام ہم نے اسلامى جغرافيہ ميں ''زمانہ تلفيق ''ركھا ہے كى كتب كو بطور كلى آٹھ اقسام ميں تقسيم كيا جاسكتاہے : ۱_ كائنات كى توصيف ۲_( cosmology ) علم كائنات كے متون ۳_ جغرافيائي تہذيبيں ۴_ زيارت ناموں كى كتب ۵_ سفرنامے ۶_ جہاز رانى سے متعلق متون ۷_ فلكياتى آثار ۸_ مقامى جغرافيا ئي متون(۱)

ان بہت سے آثار ميں سے كچھ جو مندرجہ بالا اقسام كے حوالے سے تاليف ہوئي مندرجہ ذيل ہيں : محمد بن احمد فرقى كى كائنات كى توصيف كے حوالے سے كتاب'' منتھى الادراك فى تقسيم الافلاك''، ياقوت حموى كى تہذيبوں كے حوالے سے ''معجم البلدان '' سفرناموں كے حوالے سے ''رحلہ ابن جير ''اور اس دور ميں اہم ترين جغرافيہ دان ابن بطوطہ ہيں كہ جو مشہور سفرنامہ كے مصنف ہيں يہ كتاب انكے مختلف اسلامى سرزمينوں ميں ۲۵ سالہ سفر كا ثمرہ ہے_

اس دور كے آخر تك مقامى جغرافيہ پر عربى اور فارسى ميں بہت سى كتابيں لكھى گئيں كہ ان ميں فارسى كتب ميں سے ابن بلخى كى فارس نامہ ، حمد اللہ مستوفى كى ''نزھة القلوب''، محمد بن نجيب بكران كى ''جہان نامہ''، عبدالرزاق سمرقندى كى ''مطلع السعد'' اور امين احمد رازى كي'' ہفت اقليم ''قابل ذكر ہيں _

____________________

۱)تشنر و احمد، سابقہ ماخذ_


ادب:

الف) عربى ادب

اسلام كى پيش رفت كے آغاز سے ہى عربى ادب خصوصاً شاعرى خاص توجہ كا مركز بن گئي اسلامى فتوحات عربى اشعار ميں اپنا جلوہ دكھانے لگيں اور عبداللہ بن رواحہ، كعب بن مالك، حسان بن ثابت و غيرہ جيسے برجستہ شعرا كے آنے سے آہستہ آہستہ قرآنى كلمات اور مضامين بھى عربى شاعرى ميں سمونے لگے حسان بن ثابت نے پيغمبر اكرم(ص) اور ان كے صحابہ كى دس سال تك مدح و ستائشے ميں قصايد كہے اورانہوں نے رسول اكرم(ص) كى وفات پر مرثيہ سرائي بھى كي_

قرآن مجيد كے بعد اولين اسلامى منثور آثار احاديث نبوى (ص) ہيں جن كى نثر روان اور سادہ ہے،خطبات ميں ''حجة الوداع'' سے امير المؤمنين (ع) كے گہر بار اقوال تك مسجع و مقفع اور خوبصورت لفاظى سے بھر پور نثر ملتى ہے_ خطوط اور عہدنامے و غيرہ جن ميں سياسى اور اجتماعى موضوعات پائے جاتے ہيں كو دينى متون كى حيثيت حاصل ہے _پہلى صدى ہجرى ميں عربى نثر مذكورہ موضوعات تك ہى محدود رہى ہے_

كميت ( ۱۲۶_ ۶۰ قمري) كے عموماً شيعى اور خاص طور پر اشعار ہاشميات ايك پايدار مكتب كى شكل ميں آگئے اور روز بروز روحانى رنگ ان پر بڑھنے لگا _ اسكے اہم ترين دينى اشعار چار قصيدے ہيں كہ جو ہاشميات كے نام سے شہرت پاگئے _(۱)

زمانہ كے گذرنے كے ساتھ ساتھ عربى ادبيات نے زيادہ سے زيادہ اسلامى تہذيب كو اپنے اندر جذب كيا اسطرح كہ بہت كم ہى كوئي خطبہ يا تحرير مل سكے گى كہ جسكا آغاز قرانى مناجات اور پيامبر اكرم (ص) كى مدح سے نہ ہو اسى طرح اخلاقى اقدار كے متعلق زمانہ جاہليت كے بہت سے كلمات نے بتدريج اپنے مفاہيم بدل لئے اور كلمات مثلا شجاعت، وفا، صداقت، صبر اور سخاوت و غيرہ قيمتى اور معنوى كلمات ميں تبديل ہوگئے_(۲)

____________________

۱) زكى مبارك، الملائح النبوية فى الادب العربى ص ۲۳_۶_

۲) توشى ہيكو ايزدتسو ، ساختمان معناى مفاہمى اخلاقي، دينى در قرآن ، ترجمہ فريدون بدرہ اى ص ۵۰ كے بعد _


بنى اميہ كے زمانہ ميں سياسى وجوبات كى بناء پر شعر اور شاعرى توجہ كا مركز قرار پائي انہوں نے كوشش كى كہ اشعاركے ذريعے لوگوں كو اپنى طرف جذب كريں يابزعم خويش انعام اور صلہ دے كر لوگوں كى زبان تنقيد بند كريں _ لہذا اس دور ميں شاعرى حاكموں كى توجہ كا مركز بنى اس سے انكا ہدف اپنے مخالف اور رقيبوں (اہل بيت پيغمبر(ص) ) سے مقابلہ كرناتھا بنى اميہ اچھى طرح جانتے تھے كہ لوگ خلافت كو اہل بيت كا حق سمجھتے ہيں اور انہيں غاصب شمار كرتے ہيں اسى ليے كہ اموى حكمرانوں كى شعرا حضرات كے سامنے بہت زيادہ مال و دولت لٹا نے كے باوجود يہ لوگ اكثر و بيشتر حق ہى بيان كرتے تھے _(۱)

اموى دور كے برجستہ شاعروں ميں سے فرزدق ، اخطلى اور جرير قابل ذكر ہيں ، عباسيوں كے خلافت پر قابض ہونے سے شاعروں كوكچھ معمولى سى آزادى حاصل ہوئي تو شيعہ شعراء اپنے عقائد و نظريات اہل بيت كى مدح كے ساتھ بيان كرنے لگے ان افراد ميں سے سعيد حميرى اور دعبل كا نام قابل ذكر ہے اسى طرح عباسى مشہور شاعر ابوالعتاہيہ تھے _

دينى اشعار كا موضوع كہ جسے شريف رضى نے عروج پر پہنچايا مھيار ديلمى كے ذريعے جارى رہا _ مہيار ديلمى ايك زرتشتى شخص تھے انہوں نے اسلام قبول كيا اور كوشش كى كہ ايرانى قوميت كى طرف اپنے واضح رحجانات كو اہل بيت كى دوستى كے ساتھ مخلوط كرے كلى طورپر ہم كہيں گے كہ عربى اشعار اگرچہ اسلامى ادوار ميں مختلف نشيب و فراز ميں گزرتے رہے اور برجستہ شعراء كى تربيت ہوئي ليكن يہ گمان نہيں كرنا چاہے كہ ان تمام اشعار كے مضامين فقط دينى تھے بلكہ عربى شعراء نے مختلف ميدانوں ميں طبع آزمائي كى جيسے ابونواس نے طربيہ شاعرى ميں ، ابوالعتاہيہ نے زہدد و حكمت، بشار بن بردنے ہجو اور بحترى نے مدح سرائي ميں اشعار كہے_

اسى طرح نثر بھى شعر كى مانند مختلف ادوار سے گزرى بعض ادوار ميں گوناگون وجوہات كى بناء پر عظيم مصنفين نے پرورش پائي جبكہ بعض ديگرادوار ميں ايسى ترقى ديكھنے ميں نہ آئي_

عرب كے مصنفين ميں ابن مقفح ( متوفى ۱۴۲ قمري) ادبيات عرب كا درخشان ترين چہرہ ہيں يہانتك كہ انہيں نثر تازى (عربي)كا خالق كہا جانے لگا اگر چہ انكے آثار ياكم از كم موجود آثار فقط وہى كتابيں ہيں كہ جو پہلوى زبان سے ترجمہ ہوئيں _(۲)

____________________

۱) جرحى زيدان ، تاريخ تمدن اسلام ، ترجمہ على جواہر كلام ، ص ۵۱۵_۵۱۴_

۲) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج۴ ذيل ابن مقفع_


عربى ادب ميں ديگر اہم اور معروف شخصيات ميں سے ابن قتيبہ دينورى ( متوفى ۳۲۲ قمرى ) ابوعثمان عمروبن بحر جاحظ( متوفى ۲۵۵ قمري) ابوالعباس محمد بن يزيد مبرد( متوفي۲۸۵قمري) قدامة بن جعفر (متوفى ۳۳۷ قمري) ، ابوالفرج اصفہانى ( متوفى ۳۶۲ قمرى ) اور ابومنصور ثعالبى ( متوفى ۴۲۹ قمري) قابل ذكر ہيں _ ادب عربى كادرخشان اور پر رونق زمانہ ضياء الدين ابوالفتح ابن اثير جو كہ كتاب'' المثل السائر فى ادب الكاتب و الشاعر'' كے مصنف ہيں كے نام پر ختم ہوا كيونكہ انكے بعد طويل زمانہ تك عربى ادب كى تاريخ ميں درخشان چہرہ شخصيت ظاہر نہ ہوئي اس جمود كے دور ميں بيشتر ادبى آثار گذشتہ لوگوں كے آثار كى شرح، حاشيہ، تلخيص يا تكرار كى حد تك تھے عربى ادب اوركلچر ميں يہ جمود كا دور منگولوں كے قبضہ كے بعد شروع ہوا اورعثمانيوں كے دور حكومت ميں يہ جمود اپنى آخرى حدوں كو چھونے لگا كيونكہ تركوں كى سلطنت اور خلافت كے زمانہ ميں عربى زبان اور ادب كى ترويج اور قدر كرنے والا كوئي نہ رہا _

ب) فارسى ادب :

۱) فارسى شعر

چوتھى صدى ہجرى كى ابتداء سے پانچويں صدى ہجرى كے نصف دور تك كا زمانہ فارسى ادب كے ظہور اور عروج كا زمانہ ہے _ اس دور ميں اشعار كے رواج اور روزبروز بڑھتى مقبوليت كى بنيادى وجہ سلاطين كى جانب سے شعراء اور مصنفين كى بہت زيادہ حوصلہ افزائي كرنا تھا _

سامانى سلاطين بالخصوص پارسى ميں نثر اور نظم كا بہت اہتمام كيا كرتے تھے اور فارسى شعر كو عزت و تكريم كى نگاہ سے ديكھتے تھے_ انكے ذريعے پارسى نظم ونثر كى ترويج كى ايك وجہ يہ تھى كہ ايرانى لوگ اپنے جداگانہ ادب كے بارے ميں سوچيں اور اپنے دارالحكومت بخارا كى بغداد يعنى مركز خلافت كے مد مقابل عظمت كى طرف متوجہ ہوں _ بخارا جو كہ چوتھى صدى ہجرى ميں ايرانى ادب كا مركز تھا كے علاوہ اور بھى مراكز پانچويں صدى


ہجرى كے پہلے نصف دوران تك فارسى ادب كى ترقى كيلئے موجود تھے مثلاً زرنج سيستان، غزنين، نيشابور ، رى اور سمرقند(۱)

چوتھى صدى كے آخر تك درى فارسى كے اشعار فقط خراسان اور فرارود(ماوراء النہر ) كے شاعروں تك محدود تھى كيونكہ فارسى انكى مادرى زبان شمار ہوتى تھي_ چھٹى صدى كے آخر ميں اصفہان بھى فارسى ادب كا ايك بڑامركز بنا_ اور شعرا اور ادبى خطباء كے مراكز فرارود(ماوراء النہر) اور سندھ سے ليكر ايران كے مغربى اور جنوبى علاقوں تك پھيلے ہوئے تھے چھٹى صدى كے وسط اور خصوصاً اسكے اواخر تك فارسى شعر كے اسلوب ميں ايك بڑا انقلاب پيدا ہوا جسكى بنيادى وجہ فارسى شعر كا ايران كے مشرق سے عراق عجم(موجودہ اراك)، آذربايجان اور فارس كے شعراء كى طرف منتقل ہونا تھا_اس تبديلى كى اساسى وجہ فكرى و نظرياتى اسلوب اور عقائد كى بنياد پر بعض تغييرات تھے_

ساتويں اور آٹھويں صدى كے اشعار ميں بتدريج قصيدہ ختم ہوگيا اور اسكى جگہ عاشقانہ اور عارفانہ لطيف غزلوں نے لے لى اس دور ميں اشعار كا سبك چھٹى صدى كے دوسرے حصہ كے دور كا اسلوب تھا كہ جسے آجكل سبك عراقى كا نام ديا گيا ہے كيونكہ ان دو صديوں ميں اشعار كا مركز ايران كے مركزى اور جنوبى مناطق تھے _

نويں صدى ہجرى ميں سياسى اور اجتماعى صورت حال كے متزلزل ہونے اور علم و ادب كے بازاروں كے ماند پڑنے اور شاعر پسند امراء اورحاكموں كے كم ہونے كى بنا پر فارسى شعر كى مقبوليت ختم ہوگئي اور بعض تيمورى سلاطين اور شاہزادوں مثلا بايسنقر ميرزا جيسے اہل سخن كى حوصلہ افزائي بھى كفايت نہ كرسكى _

صفويوں كے دور اور انكے بعد كى صديوں ميں ہندوستان ميں فارسى زبان كى ترقى نسبتاً زيادہ زور وشور سے تھي_ ہندوستان ميں مغليہ ادوار ميں مسلمان بادشاہ فارسى زبان كى طرف كافى توجہ اوردلچسپى كا ثبوت ديتے تھے اسى ليے بہت سے ايرانى لوگ بھى اس سرزمين كى طرف ہجرت كر گئے تھے بہت سے شاعر اس سرزمين پر ظاہر ہوئے اور زبان فارسى كو وہاں عظيم مقام حاصل ہوا اسى ليئے وہاں ايك جديد اسلوب تخليق ہوا كہ جسے سبك ہندى يا بہتر الفاظ ميں سبك اصفہانى كہاگيا _

____________________

۱) اس دور كے فارسى اشعار كى مزيد خصوصيات جاننے كيلئے رجوع كريں : ذبيح اللہ صفا، تاريخ ادبيات در ايران ، ج ۲ ص ۲۰۰_۱۹۰_


بارھويں صدى كے دوسرے نصف دور سے چودھويں صدى كے دوسرے نصف دور تك ايران پر افشاريہ، زنديہ اور قاجاريہ خاندانوں نے حكومت كى اس دور ميں فارسى شاعرى نے اس دور كے شعراء بالخصوص اصفہان كى ادبى انجمن كے ممبروں كى صفويہ دور كے شعراء كى روش سے ناراضگى كى بناء پر جنم ليا اس گروہ كا يہ نظريہ تھا كہ '' كليم كاشاني'' اور صائب تبريزى جيسے شاعر فصاحت سے دور ہوگئے ہيں لہذا اس نئي تحريك كے پيروكاروں نے كہ جو پہلے اصفہان پھر شيراز اور تہران ميں تشكيل پائي يہ نظريہ اختيار كيا كہ خراسان اور عراق ميں پانچويں صدى سے آٹھويں صدى ہجرى تك كے عظيم اساتذہ كى روش پر شعر كہنے چاہيے اسى ليے اس دور كے شعراء كى شاعرى كے دور كو '' دورہ بازگشت '' ( واپسى كا زمانہ ) كا نام ديا گيا _(۱)

۲) فارسى نثر

تيسرى صدى ہجرى ميں فارسى شعر كے ساتھ ساتھ فارسى نثر نے بھى مختلف وجوہات كى بناء پر ظہور كيا اور چوتھى صدى ميں عروج تك جاپہنچى اسكى مقبوليت كى پہلى وجہ وہ رونق تھى جو ايرانيوں كى اجتماعى اور قومى يكجہتى كے زير سايہ آزادى كے حصول كى وجہ سے پيدا ہوئي اور ادبى آزادى پر منتج ہوئي _ دوسرى اہم وجہ عربى ادب كے مد مقابل ايرانيوں كااپنے ادب كى ضرورت كا احساس تھا اوريہ كہ اسلام كى ابتدائي صديوں ميں وہ لوگ جو ايران ميں عربى زبان سے آشنا ہوئے بہت كم تھے جبكہ ايرانيوں كى فارسى كتب كى ضرورت زيادہ تھى اسى طرح اس دور كے بعض بزرگان مثلا جيحانى اور بلعمى خاندانوں نے مختلف موضوعات ميں (فارسي) كتابوں كى تاليف و تحرير اور عربى و ديگر زبانوں سے ترجمہ كے حوالے سے مصنفين كى بہت حوصلہ افزائي كى _

پانچويں اور چھٹى صدى ہجرى ميں ہى فارسى نثرنے مناسب انداز سے كمال كے مراحل طے كيے اس دورميں بہت سے بزرگ مولفين نے مختلف موضوعا ت ميں معروف آثار چھوڑے تاريخ ، سياست معاشرت ، ادب ، حكمت، طب، طبيعيات، رياضيات ، نجوم ، فقہ ، تفسير، كلام ، جغرافيہ، حالات زندگى اور بالخصوص تصوف جيسے موضوعات پر مختلف كتابيں لكھى گئيں _

اور فارسى زبان بھى پختہ ہونے كے ساتھ ساتھ جاذب و روان ہوگئي_ ليكن ۶۱۶ قمرى ميں چنگيز خان منگول

____________________

۱)سابقہ حوالہ خلاصہ ج ۱،۲_


كے حملہ سے تمام معاشرتى ، عملى ، ادبى اور علمى امور حتى كہ فارسى زبان بھى انحطاط كا شكار ہوگئي_ ايرانيوں كى ساتويں صدى ہجرى ميں اپنى ثقافت كى حفاظت كيلئے سعى و كوشش كرنے كے باوجود آٹھويں صدى كے بعد اس جمود كے آثار واضح ہوگئے (۱)

اگر چہ صفويہ دور ميں بھى فارسى نثر جارى رہى ليكن ادبى معيار كے پيش نظرمناسب حالت ميں نہ تھى _ دوسرے الفاظ ميں اگر چہ اس دور ميں گوناگوں موضوعات ميں كتابيں تحرير ہوئيں ليكن چونكہ لغوي، ادبى اور بلاغت كے ميزان و معياركا خيال نہ ركھا گيالہذا فارسى نثر ميں اس دور كو ممتاز دور نہيں كيا جاسكتا _مجموعى طور پر ہم كہہ سكتے ہيں كہ صفوى دور كى نثر تيمورى دور كى نثر سے بھى كہيں پست اور حقير ہے حتى كہ نثر مصنوع كے شعبہ ميں تيمورى دور كے دربارى كاركنوں كى '' نثر مصنوع''كے بھى قريب نہيں ہے اس دور ميں جس فارسى نثر كا ہند ميں رواج تھا وہ بھى اسى قسم كى تھى _

افشاريہ ، زنديہ اور قاجاريہ دور ميں فارسى نثر بتدريج پستى سے بلندى كى طرف سفر كرنے لگى قاجارى دور ميں گذشتہ لوگوں كى مانند كچھ حد تك مناسب روش اختيار كر گئي شعر كى مانند نثر ميں بھى گذشتہ مصنفين كى فصاحت و بلاغت معيار اور نمونہ تھى ليكن اس حوالے سے زيادہ تر چھٹى اور ساتويں صدى كے مولفين اور مصنفين كى روش كى تقليد ہوتى رہى _

ج) تركى ادب:

تركى ادب كا شروع سے ہى واضح طور پر دينى امور كى طرف رجحان ہے قديم تركى ادب كا ايك اہم حصہ كہ جو مركزى ايشيا سے تعلق ركھتا ہے دو بڑے دين '' مانوي'' اور ''بدھ مت'' كى تحريرات پر مشتمل ہے اور بہت سے دينى مفاہيم اورتعليمات كا حامل ہے _ ابتدائي چارصديوں ميں جبكہ دين اسلام مغرب سے مشرق كى طرف بڑھ ريا تھا ترك لوگ اسلام سے آشناہوئے اسطرح ترك اقوام كى تہذيب ميں مفاہيم اسلام كے نفوذ كا راستہ كھل گيا_ ايك تقابلى اور عمومى نظرے كے مطابق ہميں ماننا پڑے گا كہ مركزى ايشيا يعنى اناطولى ، قفقاز اور ولگا ميں تركى اشعار مختلف پہلوؤں سے فارسى اور عربى ادب سے بہت متاثر ہوئے_ اور آلٹائي اور

____________________

۱) ملك الشعراء بہار ، سبك شناسى ، ح ۱ ص ۹۰_۳۵_


مشرقى و مغربى سابئير يا جو اسلامى تہذيب سے دور رہ گئے تھے اور آلٹا اقوام كى مقامى ثقافت ميں مدغم تھے وہاں بھى اس شاعرى نے اپنى شكل اور قالب كو قائم ركھا ہے_

پانچويں اور چھٹى صدى ہجرى ميں قراخانيان كے تركستان كے مغرب ميں '' سيرد ريا ''اور'' آمودريا'' كے مناطق پر مكمل تسلط كے ساتھ ساتھ تركى اسلامى ادب نے جنم ليا _ نويں سے گيارہويں صدى ہجرى تك تركستان كے مشرق ميں اغوز ان سالار كے درميان واضح طور پر ايك محدود سا ادبى ماحول بنا اور ان كے بہت سے آثار ميں سے بعض كتابيں كہ جو '' عبادت'' اور قصہ قربان '' نام ركھتى تھيں مكمل طور پر دينى مفاہيم سے متاثر تھيں _

آخرى صديوں ميں مختلف زبانوں يعنى تركى ، آذربايجانى ، عثمانى اور تركمنى سے تعلق ركھنے والے شعراء اور نثر نويس حضرات جو اسلامى كلچر ميں سے زيادہ تر صوفيت اور عرفان سے متاثر تھے اسلامى اقوام كے مشترك ادب ميں ان كى درجہ بندى اسى حوالے سے كى جاتى ہے_ تركى ادب ميں عظيم شعراء ميں سے امير على شيرنوائي ( متوفى ۹۰۶ قمري) نجاتى ( متوفى ۹۱۵ قمري) باقى (متوفى ۱۰۰۹ قمري) فضولى (متوفى ۹۶۴ قمري) اور شيخ غالب (متوفى ۱۲۱۳) قابل ذكر ہيں _

ب ) اسلامى علوم

۱) قرائت :

قرائت كا علم اسلامى علوم ميں قديم ترين علم ہے كہ جسكے بانى پيامبر اكرم(ص) ہيں انكے بعد على بن ابى طاب (ع) ، عبداللہ بن مسعود اور پھر آئمہ اطہار كا اس علم كى تدوين ميں اہم كردار ہے پہلى صدى ہجرى ميں پہلا شخص كہ جس نے قرآن كى رائج الحان كے ساتھ قرائت كى اسكا نام عبيداللہ بن ابى بكر ثقفى تھا_

پيغمبر اكرم(ص) سے اصحاب كى قرآن كريم كے بعض الفاظ اور انكے حروف كى ادائيگى كے حوالے سے مختلف ذرائع سے روايات نقل ہونے كى بناء پر قرائت ميں اختلاف پيدا ہوگيا اور پھر يہ اختلاف قاريوں كے ذريعہ نقل ہوا اور جارى رہا _ اسلامى فتوحات كے دوران اسلامى ممالك كے ہر شہر كے مسلمانوں نے مشہور قاريوں ميں سے كسى ايك قارى كى قرائت كو اختيار كيا كہ جسكے نتيجہ ميں پچاس طرح كى قرائتيں كہ جن ميں سب سے زيادہ مشہور '' قراء سبعہ'' (سات قرائتيں )ظہور پذير ہوئيں(۱)

____________________

۱)بہاء الدين خرمشاہى ، دانشنامہ قرآن و قرآن پوہى ج ۱ ص ۷۴۲_۱۷۴_


پہلے شخص جنہوں نے تمام قرائتوں كو ايك كتاب ميں جمع كيا ابوعبيد قاسم بن سلام (متوفى ۲۲۴ قمري) تھے كہ انہوں نے تمام قرائتوں كو ان سات قرائتوں سميت پچيس قرائتوں ميں خلاصہ كيا انكے بعد احمد بن جبير كوفى نے پانچ قرائتوں كے بارے كتاب تحرير كى كہ اس كام كيلئے انہوں نے تمام مشہور شہروں ميں سے ايك قارى كو انتخاب كيا _ انكے بعد قاضى اسماعيل بن اسحاق مكى (متوفى ۲۸۲ قمري) نے ايك كتاب ميں بيس علمائے قرائت سے جن ميں يہ سات معروف قارى بھى تھے قرائتيں جمع كيں _ انكے بعد محمد بن جرير طبرى ( متوفى ۳۱۰ قمري) نے ايك كتاب '' الجامع'' تاليف كى اور بيس سے زيادہ قرائتيں اسميں ذكركيں _

سات معروف قارى كہ جو '' قراء سبعہ '' كے عنوان سے معروف تھے وہ مندرجہ ذيل ہيں نافع بن عبدالرحمان (متوفى ۱۶۹ قمري) عبداللہ بن كثير (متوفى ۱۲۰ قمري) ابو عمرو بن العلاء ( متوفى ۱۵۴ قمري) عبداللہ بن عامر ( متوفى ۱۱۵ قمري) عاصم بن ابى بخود ( متوفى ۱۲۹ قمري) حمزہ بن حبيب (متوفى ۱۵۴ قمري) اور كسائي ابوالحسن على بن حمزہ ( متوفى ۱۹۸ قمري)_

چوتھى صدى ہجرى كے اوائل ميں قرائت قرآن كے حوالے سے ايسا گروہ ظاہر ہوا كہ جو شاذ و نادراقوال كو بيان كرنے لگے اور يہ كمياب اقوال اختلاف قرائت كا سبب بنے ليكن عباسى خلفاء كا ان كے بارے ميں سخت اقدام باعث بنا كہ يہ اختلاف قرائت مستقل نہ رہ سكا اور سات قاريوں كى قرائت پر اعتماد مستحكم ہوگيا_

پانچويں صدى ہجرى ميں قرائت قرآن كے علم نے اپنى اہميت كو قائم ركھا اسطرح كہ تمام اسلامى ممالك ميں يعنى اندلس سے ماوراء النہر تك بزرگ علماء قرائت قرآن كى تحقيق ميں مشغول تھے اور اس سلسلے ميں بہت سى كتابيں تحرير كى گئيں اندلس ميں مثلا ابو عمرو عثمان بن سعيد دانى (متوفى ۴۴۴ قمري) اور ابو محمد قاسم بن فيرة بن خلف شاطبى اندلسى (متوفى ۵۹۰ قمري) نے قرائت كے حوالے سے متعدد كتابيں تحرير كيں _

چھٹى صدى ہجرى ميں ايران ميں قرائت كے بزرگ عالم ابوالفضل محمد بن طيفور سجاوندى غزنوى ظاہرہوئے انكى كتاب كا نام '' كتاب الموجز و عين المعانى فى تفسير سبع المثاني'' ہے(۱)

____________________

۱)بہاء الدين خرمشاہى ،سابقہ حوالہ ، ص ۱۱۹۰_


مجموعى طور پر علم قرائت نے چوتھى صدى سے چھٹى صدى تك ترقى كى كيونكہ ايسے قارى پيدا ہونے سے كہ

جنہوں قرآن كى قرائت ميں كمياب اقوال نقل كيے تھے كہ يہ چيز باعث بنى كہ علم قرائت قرآن ميں جديد مباحث سامنے آئيں اور اسكى مزيد شاخيں وجود ميں آئيں _ دوسرى طرف اسلامى تہذيب كى روز بروز وسعت سے قرائت كا علم اندلس اور جديد اسلامى سرزمينوں كے مدارس تك پھيل گيا ليكن ساتويں ، آٹھويں اور نويں صدى ہجرى ميں علم قرائت نے چھٹى صدى كى مانند ارتقاء كے مراحل طے نہيں كيے _ہم اس دور ميں دو بڑے قاريوں كو جانتے ہيں ايك منتخب الدين بن ابى الغزالى يوسف ہمدانى (متوفى ۶۴۳ قمري) اور دوسرے شمس الدين ابوالخير محمد بن محمد بن يوسف جزرى (متوفى ۸۳۳ قمري) ہيں _

جناب جزرى ايسے زمانے ميں ظاہر ہوئے كہ جب يہ علم زوال كى طرف رواں تھا انہوں نے قرائت كى منسوخ كتب كے تعارف كے ساتھ ساتھ انكے مواد كو اپنى دو كتابوں '' النشر اور غاية النہاية'' ميں قرائت كے موضوعات كو ايك جديد اسلوب كے ساتھ پيش كيا اور يہ دو كتابيں حقيقت ميں علم قرائت كا ايك انسائيكلوپيڈيا ہيں كہ جنكى بدولت آج تك اس علم كى نشر و اشاعت جارى ہے وہ خصوصيات جنہوں نے ان دو كتابوں قرائت كا '' دائرة المعارف'' بنايا وہ پچھلى كتب ميں نہيں ديكھى گئيں _

دسويں سے بارھويں صدى تك ايران مين دين و سياست كے ہم قدم ہونے اور صفوى خاندان كے حاكم ہونے كے ساتھ ہى اسلامى علوم ميں جديد باب كھل گيا اور علم قرائت بھى اس جديد فضا سے بہرہ مند ہوا اور ترقى كى راہ ميں اس علم نے نئے اور مثبت قدم اٹھائے اگر چہ اين تين صديوں ميں علم قرائت كے حوالے سے جو كتب تاليف ہوئيں وہ گذشتہ كتب كى مانند قدر و قيمت كى حامل نہ تھيں _ اس دور كى بعض كتابيں مندرجہ ذيل ہيں _ الكشف عن القراآت السبع كہ جو قاضى سعيد قمى (متوفى ۱۱۳ قمري) كى تاليف ہے _ تحفة القراء كہ جو ملا مصطفى قارى تبريزى كى فارسى ميں تحرير ہے اور رسالہ تجويد كہ جو محمد بن محسن بن سميع قارى كى فارسى ميں تاليف ہے ان آخرى صديوں ميں بھى قرائت لغات قرآن كى تشريح اور كشف آيات كے حوالے سے بہت سے كتابيں وجود ميں آئيں(۱)

____________________

۱)عند الحليم بن محمد الہادى قابة، القراة القرانية، تاريخہا ، ثبوتہا، حجتيہا و احكامہا ص ۷۳_۷۰ ، ۷۵ _ ۷۴_


۲ _ تفسير

تفسير كى تدوين كا مرحلہ بنى اميہ كى حكمرانى كے آخرى اور بنى عباس كى حكومت كے ابتدائي زمانہ ميں حديث كى تدوين كے ساتھ ہى شروع ہوا كيونكہ سب سے پہلے روايات ہى قرآن كريم كى تفسير تھيں بعد ميں علماء كرام اور بزرگان اسلامى كى كوششوں سے تفسيرى روايات كو احاديث كے عمومى مجموعہ سے جدا كركے مستقل طور پر تدوين كيا گيا بہت سے اہل سنت اورشيعہ حضرات كى نظر ميں سب سے پہلے تفسير كو تدوين كرنے والے سعيد بن جبير ہيں وہ عبداللہ بن عباس كے شاگرد ہونے كے ساتھ ساتھ تابعين ميں سے بڑے اديب شمار ہوتے تھے اور شيعہ ہونے اور حضرت على (ع) كے ساتھ وفا دارى كے جرم ميں حجاج بن يوسف (ع) كے ہاتھوں شہيد ہوئے _

اگر ہم تحقيق اور دقت كے ساتھ اس سوال كا جواب دينا چاہيں كہ اسلام ميں سب سے پہلے مفسر قرآن كون تھے تو بلا شبہ حضرت محمد (ص) اور على بن ابى طالب (ع) كا نام ہى ہمارے سامنے جلوہ گر ہوگا حضرت على (ع) كى تفسير كوحقيقت ميں قرآن كريم كى تفسير عقلى كا آغاز جاننا چاہيے تفسير عقلى سے مراد قرآنى آيات كى وضاحت اور تفسير فكرى اور عقلى روش پر كرنا اور يہ روش در حقيقت وہى راستہ ہے كہ جسكى طرف كتاب خدا مؤمنين كى راہنمائي كرتى ہے_ قرآن كى تفسير كا يہ مكتب امام محمد باقر (ع) اور انكے فرند امام جعفر صادق (ع) كے دور ميں اپنے عروج كو پہنچا _ تفسير عقلى كہ جو تقريبا دوسرى صدى سے شروع ہوئي چھٹى صدى ميں اپنے كمال كى آخرى حدوں كو چھور ہى تھي_

عباسى دور ميں مختلف بلكہ متضاد كلامى مكاتب كى طرز فكر پر يہ تفسيرى مباحث عام ہوگئيں مسلمان دانشوروں كا ايك گروہ اپنے علمى تخصص اور مذہب كى اساس پر قرآن كريم كى تفسير ميں مشغول ہوا مثلا علم نحو كے علماء ادب اورعلوم بلاغت كى رو سے آيات قرآن كى تفسير اور وضاحت ميں مشغول ہوئے اور علوم عقلى كے ماہرين قرآن مجيد كى فلسفى قواعد اور قوانين اور اسلامى حكماء اور فلاسفہ كى آراء كى روشنى ميں تفسير كرنے لگے(۱)

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۷ ، ذيل تفسير_


جسكے نتيجہ ميں متعدد قسم كى روشيں اور مكاتب تفسيرى وجود ميں آئے ہم ان ميں چند اہم ترين روشوں كى وضاحت كرتے ہيں :

۱) تفسير قرآن بہ قرآن : يعنى قرآن كريم كى بعض آيات كى وضاحت اور تفسير كيلئے دوسرى بعض آيات سے مدد لينا(۱)

۲)تفسير موضوعي: اس تفسيرى روش ميں مفسر ايك موضوع اور مسئلہ كى وضاحت كيلئے اس موضوع كے متعلق تمام آيات ايك جگہ ترتيب اور باہمى ربط كے ساتھ پيش كرتاہے_

۳)تفسير اجتہادى : آيات كى تفسير و تشريح كيلئے آيات كے معانى سے منطق ، اصول اور اجتہادى روشوں كى بناء پر بہرہ مند ہونا_

۴)تفسير تطبيقي: مفسر كوشش كرتاہے كہ قرآن كے كلى احكام اور تعليمات كو عہد حاضر كے انسان كى زندگى پر مطابقت دے_

۵ ) تفسير عصري: مفسر تفسير كے حوالے سے گذشتہ علماء كى آراء كا تجزيہ كرتاہے اور گذشتہ مفسرين كے ناقابل دفاع نظريات كو ترك كرديتاہے(۲)

۶)تفسير تاريخي: مفسر قرآن كے تاريخى واقعات بالخصوص انبياء (ع) كے قصوں كى وضاحت كرتاہے اور ان ميں عبرت آموز نكات كو نكال كر تشريح كرتاہے_

۷) تفسير فلسفي: مفسر اسلامى فلسفہ كى معلومات سے قرآنى آيات كے معانى اور اہداف كو درك كرنے كيلئے مدد ليتاہے_

____________________

۱)بہاء الدين خرمشاہى ، سابقہ حوالہ ص ۶۵۲ _ ۶۳۴_

۲)شادى نفيسى ، عقل گرائي در تفاسير قرن چہاردہم_


۸)تفسير ادبي:مفسر قرآن كے معانى كو كشف كرنے اور صحيح معنوں ميں درك كرنے كيلئے ادبى علوم سے بہرہ مند ہوتاہے_

۹)تفسير نقلى يا ماثور: مفسر پيغمبر (ص) اور آئمہ معصومين (ع) كے اقوال اور احاديث كى رو سے آيات كى تفسير كرتاہے_

۱۰)تفسير ہدايتى و تربيتي: قرآنى آيات سے اخلاق اور تربيت كے حوالے سے نكات كو پيش كرنا اور ان آيات الہى سے قرآنى دعوت كے مضمون كى تہہ تك پہچنا_

۱۱)تفسير فقہي: عبادات ، معاملات، حدود اور تصرف كے حوالے سے قرآن كے عملى احكام كا تجزيہ كرنا اور اس نظر سے قرآنى آيات كى تشريح كرنا_

۱۲_ تفسير كلامى : مفسر قرآنى آيات كى مدد سے اپنے عقائد اور مذہب كا دفاع كرتاہے اور اس حوالے سے آيات كے شبہات كو دور كرتاہے_

۱۳_ تفسير رمزي: مفسر واضح كرتاہے كہ قرآنى آيات رمز اور اشارہ ہيں لہذا ان آيات كے الفاظ كے معانى اور اسرار تك پہنچنے كيلئے مروجہ ادبى و معانى قواعد سے بڑھ كر ان كے علاوہ ديگر روشوں سے حقائق تك پہنچنے كى كوشش كرتا ہے_

۱۴ _ تفسير عرفاني: مفسر كى نظر ميں قرآن صرف ظاہرى اور لفظى پيغام كى حد تك بيان نہيں كررہا بلكہ ان آيات كے باطن ميں عرفانى تعليمات اور سير و سلوك كے اسرار بھى پنہان ہيں كہ جو كشف و شہود كى روش سے ظاہر ہونگے(۱)

ہم ان چودہ اقسام كى تفاسير كو تاريخى نگاہ سے ديكھتے ہوئے اہم ترين تفاسير كا تعارف كرديتے ہيں :

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام، سابقہ حوالہ_


تيسرى صدى ہجرى كے پہلے نصف زمانہ ميں بخارى نے اپنى كتاب صحيح كا كچھ حصہ گذشتہ تفاسير كے تجزيہ و تحليل كے حوالے سے خاص كيا _ ''جامع البيان فى تفسير القرآن ''محمد بن جرير طبرى كى تيسرى صدى كى مشہور تفاسير ميں سے شمار ہوتى ہے چوتھى صدى ہجرى ميں محمد بن ابراہيم بن جعفر نعمانى كى تفسير نعمانى قابل توجہ ہے پانچويں صدى ہجرى ميں تفسير التبيان فى تفسير القرآن جو كہ محمد بن حسن طوسى كى تاليف ہے جو سب سے پہلى شيعى تفسير شمار ہوتى ہے اور عقلى اور اجتہادى روش كے ساتھ دائرہ تحرير ميں آئي _ اسى صدى ميں عتيق بن محمد سور آبادى نيشابورى كى تفسير سور ابادى يا تفسير التفاسير بھى وجود ميں آئي_

چھٹى صدى ہجرى ميں شيخ طبرسى كى مجمع البيان فى تفسير القرآن '' تاليف ہوئي انہوں نے اس تفسير كے علاوہ اور دو تفاسير '' الكافى الشافي'' اور '' جوامع الجامع'' بھى تحرير كيں _ اسى صدى ميں ابوالفتوح رازى كى روض الجنان فى تفسير القرآن'' بھى تاليف ہوئي_

ساتويں صدى ميں ابو عبداللہ محمد بن محمد انصارى خزرجى قرطبى كى تفسير '' الجامع لاحكام القرآن'' لكھى گئي آپ معروف مذہب مالكى كے علماء ميں سے تھے آٹھويں صدى ميں عبداللہ بن عمر بن محمد نے '' انوار التنزيل و اسرار التاويل '' تحرير كى _ دسويں صدى ہجرى ميں جلال الدين سيوطى نے '' الدر المنثور فى تفسير الماثور'' تاليف كى اور گيارہويں صدى ميں ملا محسن فيض كاشانى نے تفسير صافى تحرير كي_

تفسير كى تدوين كے آغاز سے چودھويں صدى تك تفسيرى آثار كے تاليف ميں اسلوب كے لحاظ سے واضح تبديلى مشاہدہ ميں نہيں آتى ليكن چودھويں صدى ميں تفسير الميزان كے مصنف جناب محمد حسين طباطبائي كے ذريعے تفسيرى اسلوب ميں انقلاب پيدا ہوا اس كتاب كا گذشتہ تفاسير پر امتياز يہ ہے كہ گذشتہ تفاسير ميں روش يہ تھى كہ كسى آيت كے دو يا تين معانى بيان ہوتے اور مختلف احتمالات نقل ہوتے ليكن آخر ميں حقيقى قول واضح اور روشن نہ ہوتا جبكہ تفسير الميزان جو كہ قرآن كى تفسيرقرآن سے كى تفسيرى روش پر لكھى گئي اسميں ديگر آيات كى مدد سے ايك آيت كے مختلف معانى ميں سے ايك معنى كو ترجيح دى گئي ہے _ عہد حاضر ميں تفسير


الميزان تمام شيعہ تفاسير ميں سے اہم ترين اور جامع ترين تفسير ہونے كے ساتھ اماميہ كے ہاں مطلقاً اس صدى كى مشہور ترين تفسير بھى ہے(۱)

۳_ حديث

اسلامى فرقوں ميں شروع سے ہى حديث كى تدوين كے بارے ميں اختلاف نظر موجود تھا جبكہ شيعوں نے اسى زمانہ ميں حديث كى اہميت كو درك كرتے ہوئے كتابت كے ذريعے اس تاريخى ورثہ كو محفوظ كرنے كے ليے قدم اٹھايا _ جبكہ اہل سنت دوسرى صدى كے دوسرے نصف حصہ تك احاديث كا كوئي تدوين شدہ مجموعہ نہيں ركھتے تھے كيونكہ دوسرے خليفہ نے كتابت حديث سے منع كرديا تھا(۲)

سب سے پہلى كتاب حديث حضرت على بن ابيطالب نے تدوين كى كہ جو در حقيقت پيغمبر اكرم(ص) نے املا كروائي تھى _ بعض محققين كى تحقيق كے مطابق يہ كتاب امام باقر (ع) كے پاس موجود تھى اور آپ(ع) نے يہ '' حكم بن عتيبہ '' كو دكھائي تھى(۳) شيخ مفيد ، محقق حلى اور شہيد اول كے بقول امير المؤمنين (ع) كے دور سے امام حسن عسكرى (ع) كے زمانہ تك يعنى تيسرى صدى كے دوسرے نصف حصہ تك شيعوں نے حديث ميں چار سوكتب (اصول اربعہ مائة) تحرير كيں _

چوتھى صدى ہجرى سے شيعہ علماء نے حديث ميں چار اہم ترين كتب كى تدوين اور تاليف سے علم حديث كے ارتقا ميں انتہائي عظيم اور يادگار قدم اٹھايا جناب محمد بن يعقوب كلينى (متوفى ۳۲۹ قمري) نے '' الكافي'' تاليف كى _ محمد بن على بن بابويہ قمى جو كہ شيخ صدوق كے نام سے معروف ہيں انہوں نے كتاب '' من لا يحضرہ الفقيہ'' تحرير كى _ اور پانچويں صدى ہجرى ميں محمد بن حسن طوسى (متوفى ۴۶۰ قمري) نے دو كتابيں ''تہذيب

____________________

۱)سابقہ حوالہ _

۲)على بن حسام الدين متقى ، كنز العمال فى سنن الاقوال والافعال، بيروت ج۱ ص۱۷۴_

۳)سيد حسن صدر ، تاسيس الشيعة الكرام ، لفنون الالسلام ص ۲۷۹_


اور استبصار '' تاليف كيں _

چھٹى صدى سے گيارہويں صدى تك علم حديث تقريبا جمود كا شكار رہا اسى ليے اس طويل دور ميں كچھ زيادہ احاديث كى تدوين شدہ كتب كا ہم مشاہدہ نہيں كرتے ليكن صفوى حكومت كے قيام سے دوبارہ اس علم كى طرف توجہ بڑھ گئي _ اس دور ميں ملا محسن فيض كاشانى نے ''الوافي'' محمد بن حسن حر عاملى نے '' وسائل الشيعہ'' اور علامہ مجلسى نے بحار الانوار كو تحرير كيا اور چودھويں صدى ميں بھى سيد حسين طباطبائي بروجردى نے ايك اہم كتب جامع الاحاديث الشيعہ فى احكام الشريعہ كو تاليف كيا_

دوسرى صدى سے چودھويں صدى تك علماء اہلسنت نے بھى علم حديث كے حوالے سے بہت سى كتابيں تاليف كيں كہ جن ميں سب سے زيادہ مشہور مندرجہ ديل ہيں : صحيح بخارى ، صحيح مسلم سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد، سنن نسائي اور جامع ترمذى كہ يہ كتب '' صحاح ستہ''كے عنوان سے معروف ہيں يہ سب كتب تيسرى صدى ہجرى ميں تحرير و تاليف ہوئيں اسى طرح اہل سنت كے ديگر حديثى آثار ميں سے '' جامع الاساتيد تاليف ابو الفرج ابن جوزى (متوفى ۵۹۷ قمري) اور كتاب المنتقى فى اخبار مصطفى تاليف ابن تيميہ (متوفى ۶۵۲ قمري) قابل ذكر ہيں(۱)

۴ _ فقہ

الف) شيعہ فقہ :

مكتب شيعہ كا فقہى نظام گوناگوں ادوار سے گزرا، يہاں ہم اختصار سے ان ادوار اور ہر دو ر كے مشہورترين فقہا كا تعارف كرواتے ہيں :

۱_ آئمہ (ع) كا دور:اس دور ميں احكام شرع، فقہ اور اجتہاد كا اصلى محور آئمہ (ع) تھےانكا كا ايك اہم ترين كام امور شرعى ميں فكر اور استدلال كرنے كيلئے ميدان ہموار كرنا ہے اسى ليے بہت سے مقامات پر انہوں نے

____________________

۱)كاظم مدير شانہ چى ، علم الحديث ، مشہد ص ۶۸ ، ۷۰ اور قيس آل قيس الايرانيون و الادب العربى ج۲ _


واضح طور پر اپنى ذمہ دارى اصول اور كلى قواعد بيان كرنا قرار دى اور ان قواعد كى مدد سے فرعى اور جزئي احكام نكالنے كى ذمہ دارى دوسرے لوگوں كے كندھوں پر چھوڑى(۱)

آئمہ كے پيروكاروں اور اصحاب ميں علمى اور بالخصوص كلامى مسائل ميں مختلف رجحانات ميں متكلمين ، محدثين كے رجحانات، عصمت يا علم غيب كا انكار يا اثبات اور امام كے علم كے حوالے سے مباحث اس دور كى خصوصيات ميں سے ہيں ، آئمہ كے بہت سے رفقاء جو ان كے نہايت قابل بھروسہ اصحاب ميں سے تھے متضاد عقائد ركھتے تھے(۲)

۲_ فقہ كى تدوين كا آغاز: اس دور ميں شيعہ مكتب كے پيروكاروں ميں فقہى حوالے سے تين بنيادى رجحانات ديكھنے ميں آتے ہيں : اہل حديث كا فكرى ميلان، كہ جو شدت كے ساتھ اجتہاد كے مخالف تھے اور فقہى احكام كو احاديث اور انكے نقل كرنے ميں محدود كرتے تھے مثلا جناب كلينى اور ابن بابويہ قمى(۳)

فقہ ميں اجتہاد كى طرف ميلان كہ اس گروہ كى رہبرى دو بزرگ علماء جناب ابن ابى عقيل عمانى(۴) اور جناب ابن جنيد اسكافى(۵) كررہے تھے ان دونوں كے فقہى نظريات ميں اساسى اختلاف(۶) كے باوجود

____________________

۱)محمد حسن حر عاملى ، وسائل الشيعہ قم ، آل البيت ج ۱۸ ص ۴۱_

۲)اس قسم كے فكرى اور نظرياتى اختلاف كى تشريح شيعہ رجالى كتب ميں موجود ہے مثلا محمد كشى كى ايك كتاب معرفة الرجال ، جو حسن مصطفوى كى كوشش سے نشر ہوئي ص ۸۰، ۲۷۹ ، ۴۸۳ ، ۴۸۸ ، ۹_۴۹۸، ۵۰۶_

۳)محدثين كے اس گروہ كى فقہ محض احاديث كے مجموعہ كى شكل ميں ہوتى تھا كہ جنہيں موضوع كے اعتبار سے ترتيب ديا جاتا تھا كبھى تو انكے مجموعے ميں احاديث كى سند بھى حذف كردى جاتى تھى مثلا جناب كلينى كى '' الكافى فى الفروع'' _

۴)انكى كتاب '' المستمسك حبل آل الرسول'' كہ جو چوتھى اور پانچويں صدى ميں مشہورترين فقہى منبع اور مرجع تھى رجوع كيجئے '' آقا بزرگ طہرانى _ الذريعہ'' ج ۱۹ ص ۶۹_

۵)جناب ابو على محمد بن احمد بن جنيہ الكاتب الاسكافى چوتھى صدى كے وسطى زمانہ كے عالم تھے انكى دو كتابوں كے نام '' تھذيب الشيعہ لاحكام الشريعہ اور والاحمدى فى الفقہ المحمدى '' ہيں _

۶)ابن عقيل متكلمين كى مانند خبر واحد كو حجت نہيں سمجھتے تھے _ جبكہ ابن جنيد اصحاب الحديث كى مانند ان احاديث كى حجيت كے قائل تھے رجوع كيجئے '' سيد حسين مدرسى طباطبائي ، مقدمہ اى بر فقہ شيعہ ، مترجم ص ۲ ۴۱ _


ان دو بزرگوں كے فقہ پر عميق اثرات مرتب ہوئے _ تيسرا علمى رجحان متكلمين كى فقہ كى شكل ميں ہے جناب شيخ مفيد اس گروہ كى ممتاز شخصيات ميں سے ہيں(۱)

۳ _ تلفيق (آپس ميں ملانے ) كا دور: شيخ الطانفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسى(۲) نے فقہ ميں اہل حديث اور متكلمين كے رجحانات كو تلفيق كيا اور كوشش كى فقہ كے عقل سے مربوط پہلوؤں كو محفوظ ركھتے ہوئے احاديث كى حجيت ثابت كريں انہوں نے اپنے وسيع آثار و كتابوں كے ساتھ شيعہ فقہ ميں بہت سے نئے افق روشن كئے_ شيخ الطائفہ كى اہم فقہى آراء كا كے ان كے آثار ميں مطالعہ كيا جاسكتاہے (۱) النہاية فى مجرد الفقہ و الفتاوى (۲) المبسوط (۳) الاستبصار (۴) تہذيب الاحكام_ فقہ تفريعى اور فقہ تطبيقى كى تقسيم انكے ہى كارناموں ميں سے ہے _ يہ فقہى مكتب تين صديوں تك شيعہ دنيا پر حكمرانى كرتا رہا شيخ طوسى كے علاوہ اس دور كى اہم ترين شخصيات جناب قطب الدين راوندى(۳) اور ابن شہر آشوب ہيں(۴)

۴_مكتب تلفيقى پرتنقيد كا دور: شيخ طوسى كے سوسال بعد فقہاء كے ايك گروہ نے كوشش كى كہ متكلمين كے فقہى مكتب كو زندہ كيا جائے اس ليے انہوں شيخ طوسى كے مكتب تلفيق پر تنقيد كى اس دور كى مركزى شخصيت ابن ادريس حلى(۵) ہيں _

۵_مكتب تلفيق كى اصلاح اورارتقا كا دور: شيخ طوسى كى فقہ بے پناہ جدت كے باوجود نظم، ترتيب اور اصلاح كى محتاج تھى بالخصوص انكے مكتب كے ناقدين نے بہت زيادہ ان پر اعتراضات كيے تھے ،اسى بناء پر

____________________

۱) انہوں بہت شدت كے ساتھ ابن جنيد كى فقہى روش كا مقابلہ كيا رجوع كيجئے مثلا '' مفيد ، المسائل الصاغانيہ والمسائل السروية''_

۲)رجوع كيجئے محمد بن حسن طوسى '' الخلاف'' تہران _

۳)فقہ القرآن كى تصنيف كے علاوہ نہاية پر چند شروح بھى تحرير كيں _

۴)متشابہہ القرآن و مختلفہ كے مصنف _

۵)ابن ادريس كے حوالے سے رجوع كيجئے '' دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۲ ذيل ابن ادريس '' ص ۷۱۸_


محقق حلى(۱) اور انكے عظيم شاگرد علامہ حلى(۲) نے اس حوالے سے وسيع پيمانے پر كوشش كيں _ ان دو بزرگوں كے فقہى آثار سے آج تك فقہى محققين بہرہ مند ہوتے ہيں سچى بات يہ ہے كہ اگر ان دو بلند مرتبہ فقہى شخصيات كى كوششيں نہ ہوتيں تو مكتب تلفيق گذشتہ دور ( مكتب تلفيق پر تنفيد كا دور ) ميں ہى فراموشى كے غبار كى نذر ہوجاتا _

۶_ شہيد اول كا دور: شہيد اول(۳) نے فقہى تفكر كو مرحلہ كمال تك پہچانے كيلئے كوشش كى اور فقہ شيعہ كيلئے ايسے اساسى اصول و قواعد تلاش كيے كہ جنكى بناء پر شيعہ فقہ نے اہل سنت كے فقہى مكاتب كى مدد كے بغير اپنى مستقل حيثيت كو تشكيل ديا _ اسى خصوصيت كى بناء پر انكے آثار اور تصنيفات گذشتہ فقہاء كے آثار سے ممتاز ہوئے انكے بعدكے علماء ڈيڑھ صدى سے زيادہ عرصہ تك ان كے پيروكار رہے_ اور اپنى فعاليت انكے آثار پر شرح تحرير كرنے تك محدود ركھى تھي_ اس مكتب كے معروف ترين فقيہ شہيد ثانى(۴) ہيں _

۷_ صفوى دور كى فقہ : يہ دور جو دسويں صدى سے بارھويں صدى تك جارى رہا اسميں تين رجحان سامنے آئے:

الف) محقق ثانى كى فقہ : محقق ثانى(۵) كى اہم فعاليت دو نكتوں ميں خلاصہ ہوتى ہے: فقہ كے قوى دلائل كومزيد مستحكم اور پائدار بنانا اور فقہ ميں حكومتى مسائل كى طرف توجہ مثلا فقيہ كے اختيارات كى حدود نماز جمعہ اور خراج كے متعلقہ مسائل و غيرہ ، محقق ثانى كے اپنے بعد والے فقہاء پر اثرات مكمل طور پر واضح ہيں _

____________________

۱)محسن امين حبل عاملى سابقہ ما خذج ۴ ص ۸۹_

۲)سابقہ ما خذج ۵ ص ص ۳۹۶ _

۳)سابقہ ما خذج ۱۰ ص ۵۹_

۴) سابقہ ماخذ ، ج۷، ص ۱۴۳_

۵) عباس قمى ، ہدية الاحباب ، تہران، ص ۲۵۴_

۶) احمد بن محمد اردبيلي، زبدة البيان، مقدمہ_


۲) مقدس اردبيلى كى فقہ : مقدس اردبيلى(۶) نے اگر چہ فقہ ميں كوئي اساسى تبديل نہيں كى ليكن وہ دوسروں سے قطع نظر مخصوص روش كے حامل تھے انكى تحقيقات كى اہم خصوصيت يہ تھى كہ وہ گذشتہ فقہاء كے نظريات و آراء سے قطع نظر فقط اپنى اجتہادى روش اور اپنى نظر پر اعتماد كرتے تھے علمى مباحث ميں انكى شجاعت اور جدت باعث بنى كہ انكے بعد چند فقہاء نے انكى روش كو اختيار كيا _

ج)اخباريوں كى فقہ : اخباريوں كى تحريك كہ جو پانچويں صدى كے آغاز ميں متكلمين كى علمى كوششوں سے تقريباً ختم ہوچكى تھى گيارھويں صدى ميں محمد امين استر آبادى كے ذريعے دوبارہ زندگى ہوگئي(۱) اگر چہ اخبارى فقہاء نے چند دہائيوں تك ايران و عراق كے فقہى اور علمى مراكز پر قبضہ جماليا ليكن اس روش كے حامل مشہور فقہاء كى تعداد زياہ نہيں ہے_

۸ _ اصول كى اساس پر اجتہاد كى تجديد حيات : وحيد بہبہانى(۲) جو كہ بارھويں صدى ہجرى ميں فقہ كے نابغہ شمار ہوتے ہيں انہوں نے اپنى وسيع علمى تحقيقات سے اخباريوں كے اساسى قواعد سے مقابلہ كرتے ہوئے دوبارہ عقلى روش پر اجتہاد كو زندہ كيا _ انہوں نے فقہ، اصول فقہ كى اصلاح اور دقيق علمى تحقيقات كےساتھ كوشش كى كہ شيعہ فقہ كو ايك ترقى يافتہ ، پائدار ، منظم ،قانونى اور فقہى مكتب كى شكل ميں لے آئيں(۳) جناب وحيد كى اس كوشش اور فعاليت سے بڑھ كر انكى كاميابى يہ تھى كہ انہوں نے عظيم المنزلت فقہاء كى تربيت كى كہ جنہوں نے فقہى و اصولى اساس پر قيمتى آثار عرصہ وجود ميں لاكر انكى كوششوں اور ثمرات كو عظيم استحكام بخشا_

____________________

۱)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۱۰ ذيل امين استر آبادي_

۲) محمد باقر بن محمد اكمل كہ انكے آثار ميں سے ہے '' الفوائد الحايرية، شرح مفاتيح الشرائع_

۳)سيد حسين مدرسى طباطبائي ، سابقہ ما خذص ۶۰_


ان ميں سے مشہورترين فقہاء مندرجہ ذيل ہيں :بحر العلوم(۱) شيخ جعفر كاشف الغطاء(۲) ، ملااحمد نراقي(۳) اور حسن ابن جعفر كاشف الغطاء(۴)

۹_ شيخ انصارى كا دور: شيخ مرتضى انصارى(۵) تيرھويں صدى كے سب سے بڑے نابغہ اور فقہ و اصول الفقہ ميں دقيق روشوں كو ايجاد كرنے والے تھے انكے دقيق و عميق روشوں نے فقہ ميں انقلاب بر پا كرديا _ انكے آثار ميں موجود فقہى مجموعہ ايسا دقيق و ظريف ہے كہ كلى طورپر ناسخ ماسبق ( گذشتہ فقہا كے استنباط كو منسوخ كرتا) ہے (-۶) انكا فقہى مكتب انكے زمانہ سے آج تك علمى اور فقہى مراكز پر غالب ہے كہ آج تك بڑى شخصيتوں كے پيدا ہونے كے باوجود انكے مكتب ميں بنيادى تبديلى نہ آسكى _ اس دور كے اہم ترين فقہاء مندرجہ ذيل ہيں :

ميرزاى شيرازى(۷) محمد كاظم خراسانى(۸)

____________________

۱)محمد مہدى بن مرتضى طباطبائي (متوفى ۱۲۱۲ قمري) صاحب تصنيف، المصابيح والدورة النجفية_

۲)كتاب '' كشف الغطاء عن مبھمات الشريعة الغراء كے مصنف انكى زندگى كے حوالے سے رجوع كيجئے '' محسن امين جبل عاملى ، سابقہ ما خذج ۴ ص ۹۹_

۳) كتاب '' مستند الشيعة ومناہج الاحكام'' كے مصنف انكى زندگى كے حوالے سے رجوع كيجئے : محسن امين جبل عاملي، سابقہ ماخذ ، ج۲، ص ۱۸۳_

۴)كتاب انوار الفقاھة كے مصنف رجوع كيجئے '' : محسن امين جبل عاملى ، سابقہ ما خذج ۳ ص ۳۵ ''_

۵)بہت سے فقہى آثار كے مصنف مثلا متاجر ، طہارة ، صلاة ، خمس اور بہت فقہى قواعد ، انكے بارے ميں رجوع كيجئے: محسن امين جبل عاملى ، سابقہ ما خذج ۱۰ ص ۱۱۷_

۶)سيد حسين مدرسى طباطبائي ، سابقہ ما خذص ۶۱_

۷)انكے درس فقہ كى تفصيل حسين بن اسماعيل رضوى كے واسطہ سے بنام '' القواعد الحسنية'' موجود ہے ، رجوع كريں ، آقا بزرگ طہرانى ،الذريعہ ج ۱۷ ص ۱۸۲_

۸)كتب '' تكملة التبصرة ، اللمعات النيرہ ، كتاب القضاء ( انكے دروس كى تفصيل انكے فرزند محمد المعروف آقا زادہ كے ذريعے معلوم ہوئي ) حاشيہ المكاسب كے مصنف ، جہاں بھى شيخ انصارى نے كوئي نظر دى ہے وہاں انہوں نے ان كى تنقيد كى ہے رجوع كيجئے محسن امين ، جبل عاملي، اصلى سابقہ ما خذج ۹ ص ۵_


سيد محمد كاظم يزدى(۱) ، محمد حسين نائينى(۲) ، عبدالكريم حائرى يزدي(۳) سيد ابوالحسن اصفہانى(۴) سيد حسين طباطبائي بروجردى(۵) سيد محسن حكيم(۶) سيد ابوالقاسم موسوى خوئي(۷) اور امام خمينى(۸)

اين تمام بزرگوں نے دسيوں بلكہ سينكڑوں شاگردوں كى تربيت كى كہ پھر ان ميں سے ہر ايك نے موجود ہ دور ميں فقہ و فقاہت كے حوزہ ميں اہم خدمات انجام ديں ليكن قابل ذكر نكتہ يہ ہے كہ اگر چہ علماء و فقہاء كے نزديك مشہورنظريہ يہى ہے كہ مكتب شيعہ ميں باب اجتہاد كھلا ہوا ہے ليكن بہت كم ديكھا گياہے كہ يہ باب معاشرہ اور اسپر حاكم نظام پر باضابطہ صورت ميں كھلا ہو ورنہ بے ضابطہ صورت ميں اس كا كھلا ہونا قابل انكار نہيں ہے_

____________________

۱)مشہور كتاب '' العروة الوثقي'' كے مصنف رجوع كيجئے ، محسن امين جبل عاملى ، سابقہ ما خذج ۱۰ ص ۹۴۳_

۲)انكے آثار ميں سے '' قاعدہ لا ضرر اوررسالة فى اللباس الشكوك ہيں '' نيز انكے نماز كے متعلق فقہى درس كى تفصيل انكے د و برجستہ شاگردوں ميں محمد تقى آملى اور محمد على كاظمينى كے ذريعہ جبكہ انكے مكاسب كے حوالے انكے درس كى تفصيل محمد تقى آملى اور موسى خوانسارى كے ذريعے نشر ہوئي_

۳)انكے آثار ميں سے الصلاةہے نيز انكے نكاح كے حوالے سے فقہى درس كى تفصيل محمود آشتيانى كے ذريعے نشر ہوئي_

۴)مشہور كتاب ''وسيلةالنجاة'' كے مصنف ہيں امام خمينى كى كتاب تحرير الوسيلہ اسى كتاب پر نظر ثانى اور امام كى اپنى آراء كے مطابق تكميل ہے _

۵)انكے تمام آثار انكے فقہى دروس ہيں جو ہم تك پہنچے نہاية التقرير محمد موحدى لنكرانى كى ہمت سے ، البدر الزاہر فى صلاةالجمعة و المسافر حسين على منتظرى كے ذريعے اور زبدة المقال فى خمس النبى و الال عباس ابوترابى كى ہمت كے ساتھ نشر ہوئي_

۶)عروة الوثقى پر سب سے پہلى استدلالى شرح بنام مستمسك العروة الوثقى نيز نہج الفقاھة اور دليل الناسك كے مصنف ہيں _

۷)ان:كے درسوں كى مختلف افراد كے ذريعے تفصيل ہم تك پہنچى ہے '' التنقيح فى شرح العروة الوثقى '' على غروى تبريز ى كى كوشش كےساتھ ، دروس فى فقہ الشيعة مہدى خلخالى كى ہمت سے الدر الغوالى فى فروع العلم الاجمالى رضا لطفى كى كوشش كے ساتھ مستند العروة الوثقى مرتضى البروجردى كى كوشش كے ساتھ مصباح الفقاھة محمد على توحيد كى كوشش سے اور محاضرات فى الفقہ الجعفرى سيد على شاہرودى كى كوشش سے نشر ہوئيں _

۸)متعدد فقہى آثار كے مصنف ہيں مثلا كتاب الطہارة كہ جو تين جلدوں ميں ہے كتاب البيع كہ جو پانچ جلدوں ميں ہے المكاسب المحرمة جو كہ دو جلدوں ميں ہے _ تحرير الوسيلة دو جلد ہيں رسالة فى قاعدہ لا ضرر، رسالة فى التقية اوركتاب الخلل فى الصلاة_


عہد حاضر كے معروف اصوليوں اور فقہاء ميں سے اور صاحب مكتب كہ جنہيں ايسا پہلا شيعى عالم كہا جاسكتاہو جنہوں نے علم اور اجتہاد كى قديم روايتى روش سے بہرہ مند ہوتے ہوئے بنيادى حقوق كے مفاہيم كے تعارف اورانہيں انكے صحيح مقام پر لانے كى كوشش كرنے كے ساتھ ساتھ'' فقہ حكومت ''پر بھى بحث كى ہو وہ مرحوم ميرزا محمد حسين نائينى ہيں انكى آرا ء ميں ''وجوب مقدمہ واجب ''كے نظريہ كے تحت مشروطيت كے قيام كو واجب قرار دينا ، علاوہ ازيں ايك اور فتوى ميں ٹيكس لينے والے يعنى حكومت كو ٹيكس دينے والے يعنى عوام كے مد مقابل جواب دہ ہونا شامل ہے_(۱)

عہد حاضر كے ديگر فقہاء ميں سے كہ جنہوں قديم روش كے مطابق فقہ كى حدود ميں رہتے ہوئے فقہ حكومت پر بہت زيادہ توجہ دى وہ امام خمينى ہيں انہوں نے اپنى كتاب '' ولايت فقيہ '' يا ''حكومت اسلامى ''ميں ولايت فقيہ كے نظريہ كو عظمت اور ترقى دى اور آخركار اس نظريہ كو عملى طور پر اجراء كيا _

اسى طرح ديگر مجتہدين ہيں ہے كہ جنہوں نے روايتى فقہ (قديمى روش اور قواعد پرمشتمل) كى حدود ميں رہتے ہوئے ''فقہ حكومت ''كو موضوع بحث بنايا شہيد سيد محمد باقر الصدر تھے كہ انكى حكومت سے متعلقہ مسائل ميں فقہ كے حوالے سے تخليقى اجتہادى آراء قابل توجہ ہيں(۲)

اسى بحث كے حوالے سے استاد شہيد مرتضى مطہرى جيسے بزرگان كى فعاليت سے غافل نہيں ہونا چاہيے كہ انہوں نے اسى روايتى روش اجتہاد كى روشنى ميں اپنے ہم عصروں سے بڑھ كر معاشرتى مسائل كى پيچيدگيوں اور الجھنوں كو حل كرنے كے طريقے بيان كيے اسى حوالے ان كا نظريہ تھا كہ كوئي شخص بھى اس وقت تك مقام اجتہاد پر فائز نہيں ہوسكتا جب تك وہ يہ اچھى طرح نہ جان لے كہ اسلام كى كائنات ، انسان ، معاشرے ، تاريخ

____________________

۱)مزيد معلومات كيلئے رجوع كريں ، ميرزا حسين نائني، تنبيہ الامة و تنزيہ الملة ، جعفر عبد الرزاق ، الدستور والبرلمان فى الفكر السياسى الشيعى ص ۴۸ ، ۴۷ _

۲)مزيد معلومات كيلئے رجوع كريں ، سيد محمد باقر الصدور الاسلام يقود الحياة_


، اقتصاد ، سياست اور كے بارے ميں كيانظر ہے(۱)

ايسے فقہاء ميں مرحوم شيخ محمد مہدى شمس الدين بھى قابل ذكر ہيں كہ جنہوں نے اجمالى طور پر فقہ حكومت پر قابل توجہ بحث كى اور اس حوالے سے اپنى آراء ديں(۲)

ب) اہل سنت كى فقہ اور تغير و تبدل كے ادوار:

اہل سنت كى فقہ اور اسميں تبديلى كے چھ مراحل ہيں :

۱)پيغمبر (ص) كا زمانہ: شرعى نصوص تك براہ راست رسائي (اسلام كے آغاز سے گيارہ ہجرى تك )

۲)صحابہ كا دور: چونكہ براہ راست پيغمبر اكرم(ص) سے رابطہ رہا تھا لہذا آسانى سے ان سے قول نقل كيا كرتے تھے (گيارھويں ہجرى سے چاليسويں ہجرى تك)

۳)تابعين كا دور: انكا ايك واسطہ كے ذريعے پيغمبر اكرم(ص) سے رابطہ تھا لہذا ان سے قول نقل كيا كرتے تھے (چاليسويں ہجرى سے پہلى صدى كے تمام ہونے تك)

۴)چار اماموں كا دور يا فقہى مذاہب كى تشكيل كا دور( دوسرى صدى سے چوتھى صدى تك) _

۵)چار آئمہ كى تقليد كا دور (تيسرى صدى سے چودھويں صدى تك)

۶)جديد فقہى اورقانونى بيدارى اور اجتہادات كے دروازے كے كھلنے كادور(۳)

دراصل اہل سنت كى فقہ چار آئمہ كے ظہور اور فقہى مذاہب كى تشكيل سے مرحلہ كمال تك جاپہنچى اور گذشتہ ادوار اس دور كو وجود ميں لانے كا سبب بنے لہذا ان مذاہب كى تشكيل كيلئے راستہ ہموار ہوگيا _ تيسرے خليفہ

____________________

۱)رجوع كيجئے انكى كتابيں : نہضت ہاى صد سالہ اخير ، انتشارات صدرا ص ۷۵ _۷۱ دہ گفتار ، انتشارات صدرا ۱۲۰ _۱۲۱ ، تعليم و تربيت در اسلام ، انتشارات صدرا ص ۲۴ ، اسلام اور مقتضيات زمان ص ۲۳۲_

۲)انكى اس حوالے سے دو كتابيں مندرجہ ذيل ہيں نظام الحكم والادارة فى الاسلام، اور فى الاجتماع السياسى الاسلامى ، دار الثقافة للطباعة والنشر قم_

۳)محمد خضرى بيك ، تاريخ الشريع الاسلامى ، بنارس ص ۵_


كے دور ہيں قرآن كريم كى جمع آورى ، دوسرى صدى سے احاديث كى جمع آورى كا آغاز، گوناگوں عقائد اور نظريات كا ظہور، مسلمانوں كى ديگر تہذيبوں سے آشنا ہونا كلام كے مكاتب كا وجود ميں آنا، حكومت كى توسيع اور اسكے اثرات اورقانون كى ضرورت ميں اضافہ و غيرہ يہ سب ان فقہى مذاہب كو وجود ميں لانے كا سبب بنيں(۱)

اہل سنت كے سب سے پہلے فقہى مكتب كو ابوحنيفہ (۱۵۰ _۸۰ قمري) نے تشكيل ديا(۲) يہ مكتب كہ جو بعد ميں حنفى كے عنوان سے مشہورہوا ، حكومت كے اسے سركارى طور پر قبول كرنے اور حنفى قاضيوں كے تمام اسلامى مناطق ميں بھيجنے سے يہ مكتب بہت سرعت كے ساتھ پھيلا(۳) عباسى خلفاء ، مھدى ، ہادى اور ہارون الرشيد نے قضاوت كے متعلق امور قاضى ابو يوسف كے سپرد كيے كہ جو ابوحنيفہ كے شاگرد اور حوارى تھے تو يہ شخص فقط ان لوگوں كو بہ عنوان قاضى كسى جگہ پر بھيجتا تھا جو حنفى فقہ كو قبول كرتے اور اسے لوگوں ميں پھيلاتے ، اسى ليے حنفى فقہ سب سے پہلے عراق، پھر مصر ، ماوراء النہر ، ايشائے كوچك اور ہند يہاں تك كہ چين تك پھيل گئي(۴)

مكتب ابوحنيفہ كے شاگرد اور تربيت يافتہ لوگوں نے حنفى فقہ كو وسعت دى ليكن بلا شبہ اس حوالے سے قاضى ابويوسف(۵) اور محمد بن حسن شيبانى(۶) كا سب سے زيادہ كردار ہے خود ابوحنيفہ كے علاوہ اس مكتب كے سب پروردہ لوگ در اصل فقہ حنفى كے فقط مروج اور شارح تھے اور انہوں نے ابوحنيفہ كے فقہى نظريات كے مد مقابل كوئي جدت لانے كى كوشش نہ كى _

اہل سنت كا دوسرا فقہى مذہب مالك بن انس(۷) (۱۷۹ _ ۹۳ قمري) كے ذريعے تشكيل پايا اور فقہ مالكي

____________________

۱)ابوالفضل عزتى ،پيدائشے و گسترش و ادوار حقوق اسلامى ، ص ۵۱_

۲)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۵ ذيل ''ابوحنيفہ'' ص ۳۷۹_

۳)بوجينا غيانہ ، تاريخ الدولة الاسلامية و تشريعہا ، بيروت ص ۱۷۳ ، قيس آل قيس ، الايرانيون و الادب العربي، تہران ج ۵ ص ۴_

۴)قيس آل قيس ، سابقہ ما خذص ۵_۴_

۵)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۶ ، ذيل ابويوسف_

۶)بوجينا غيانة، سابقہ ما خذص ۱۶۶_

۷)محمد ابوزھرة ، مالك ، حياتہ و عصرہ ، آرا وہ وفقھہ، قاہرة_


كے عنوان سے معروف ہوا _ وہ ابوحنيفہ كى آراء بالخصوص احكام شرعى كى تشخيص كے سلسلے ميں ابوحنيفہ كے فقہى قياس اور نظريات كے مد مقابل اپنے مخصوص نظريات ركھتے تھے انہوں نے سعى كى كہ فقہى روش پر حديث كى كتاب لكھ كر اپنى آراء پيش كريں اس كتاب ميں جس كا نام مؤطا ہے مالك سب سے پہلے حديث نقل كرتے ہيں پھر مدينہ كے فقہاء كا فتوى ذكر كرتے ہيں اسكے بعد اپنى فقہى نظر پيش كرتے ہيں انكا نظريہ يہ تھا كہ احكام شرعى كيلئے روايات جيسى مستند دليل كے ہوتے ہوئے قياس يا اپنى رائے كى طرف نہيں آنا چاہيے_ مالكى مذہب بتدريج شمالى آفريقا ، مصر اور اندلس ميں رواج پاگيا(۱)

اہل سنت كے تيسرے فقہى مكتب كو ابوعبداللہ محمد بن ادريس شافعى(۲) (۲۰۴ _ ۱۵۰ قمرى ) نے تشكيل ديا وہ چونكہ دونوں حنفى اور مالكى مذاہب كے بارے ميں معلومات ركھتے تھے اسى ليے انہوں نے كوشش كہ ان دو مذاہب ميں اساسى امتزاج پيدا كيا جائے اور اس امتزاج اور وحدت پر جديد فقہ كو تشكيل ديا جائے(۳) ليكن اسكے ساتھ ساتھ انہوں نے حنفى مكتب كے استحسان اور مالكى مكتب كى استصلاح كى بھى مخالفت كي_ انہوں نے اپنى فقہى آراء كے اساسى قواعد كو اصول الفقہ كے متعلق ايك رسالہ ميں تحرير كيا _ مصر ميں صلاح الدين ايوبى كے ذريعے فقہ شافى رائج ہوئي(۴) اور اس فقہ كے عراق اور مكہ ميں بھى حامى موجودہيں(۵)

اہل سنت كا چوتھا فقہى مكتب احمد بن حنبل(۶) (۲۴۱ _ ۱۶۴ قمري) كى طرف منسوب ہے جو فقہ حنبلى كے عنوان سے مشہور ہے _ احمد بن حنبل علماء حديث كے بڑے مفكرين ميں سے شمار ہوتے ہيں انہوں نے شافعى

____________________

۱)كاظم مدير شانہ چى ، علم الحديث، مشہد ص ۳۶_

۲)محمد ابوزہرہ ، امام شافعى حياتہ و عصرہ و آرا و فقہہ ، قاہرہ_

۳) ج م عبدالجليل ، تاريخ ادبيات عرب، ترجمہ آذر تاش آذرنوش ، تہران ص ۱۷۵_

۴)قيس آل متين ، سابقہ ما خذ ، ج ۵ ص ۵_

۵) بوجينا غيانة ، سابقہ ما خذص ۱۷۴_

۶)ذائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۶ ، ذيل احمد بن حنبل_


كے ہاں درس پڑھا(۱) تيس ہزار احاديث پر مشتمل حديث كى مسند لكھ كر دوسروں كو اپنى طرف متوجہ كرليا(۲) انكى فقہ كى بنياديں كتاب ، سنت ، صحابہ كے فتاوى ، قياس، استحسان ، مصالح او رذرايع سے تشكيل پائيں انكے مذہب كے سب سے زيادہ پيروكار حجاز ميں ہيں(۳)

فقہ حنبلى كے حوالے سے ايك نكتہ يہ ہے كہ چونكہ احمد بن حنبل آراء او رنظريات كے مكتوب شكل ميں جمع كرنے كے مخالف تھے اسى ليے انكے شاگردوں اور بعد ميں آنے والے حنبلى مسلك افراد كى آراء ميں جو احمد بن حنبل سے نقل كى گئي ہيں خاص فرق حتى كہ تضاد بھى نظر آتا ہے اور كبھى تو كسى ايك مسئلہ ہيں انكا نام ليكر نقل ہونے والے متضاد اقوال چار يا پانچ كى تعداد تك بھى ہيں(۴)

اہل سنت كے ان چار اماموں كے بعد سنى فقہ نے اپنى جدت اور تحرك كو كھوديا_ چوتھى صدى سے تيرھويں صدى تك ان آئمہ كے آثار پرصرف حاشيہ يا انكى شرح و تفسير كى حد تك كام ہوا ان مذاہب كے فقہاء نے انكى آراء كے ساتھ تقريبا كوئي نئے نكتے كا اضافہ نہ كيا اسى ليے اہل سنت كى فقہ ميں اجتہاد ان چار اشخاص كى تقليد ميں تبديل ہوكر رہ گيا اگر چہ ان چار آئمہ ميں اجتہاد كو منحصر كرنے پر كوئي بھى عقلى اور نقلى دليل موجود نہ تھى ليكن بتدريج اور حاكموں كے سياسى مقاصد اور كاموں كى بناء پر اس مسئلہ ميں اجماع كى كيفيت پيدا ہوگى كہ اب اسكے خلاف آواز بلند كرنا آسان كام نہ تھا(۵) ليكن تيرھويں صدى ہجرى سے عالم اسلام ميں واضح تبديلياں پيدا ہوئيں _ عصرى تقاضوں ، زندگى اور معاشرتى روابط ميں گہرى اور وسيع تبديليوں كے پيش نظر اہل سنت كے بعض فقہاء فقط ان چار آئمہ كى تقليد ميں منحصر ہونے كے مسئلہ ميں شك و ترديد كا شكار ہوگئے_

____________________

۱)وحينا غيانة ، سابقہ ما خذص ۱۷۷ _

۲)كاظم مدير شانہ چي، سابقہ ما خذص ۵۵_

۳)دائرة المعارف بزرگ اسلامي، سابقہ ما خذ_

۴)رجوع كريں ، ابن حبيرہ الافصاح عن معافى الصحاح، حلب ج ۱ ص ۵۴_

۵) ابوالفضل عزتى ، سابقہ ما خذص ۸۳ _ ۷۱ _


بتدريج اہل سنت كے فقہاء يہ بات سمجھ گئے كہ ان آئمہ كى تقليد پر كوئي عقلى و نقلى حكم اور معتبر دليل موجود نہيں ہے وہ بھى ان چار فقہاء كى مانند شرعى مسائل ميں اجتہاد كرسكتے ہيں اس حوالے سے مصر كے عظيم مفتى شيخ محمود شلتوت نے شيعہ فقہاء كى آراء پر توجہ كرتے ہوئے شيعہ فقہا كى آرا كى پيروى كے جواز كا اعلان كر كے ايك اہم ترين قدم اٹھايا _ (يہ بات قابل ذكر ہے كہ ان مندرجہ بالا چارمسالك كے علاوہ ديگر مسلك اور مكاتب بھى دائرہ وجود ميں آئے جن ميں سے بعض مسالك مثلا زيديہ اور اسماعيليہ شيعہ مسالك ميں شمارہوتے ہيں اور اپنى فقہ اور پيروكاروں كے ساتھ عہد حاضر ميں موجود ہيں اور بعض مسالك جو كسى سے وابستہ نہيں ہيں مثلا اباضى مسلك كہ جو خوارج كے مسلك ميں سے ابھى تك اپنا وجود برقرار ركھے ہوئے ہے(۱) يا ديگر مسالك مثلا مسلك اوزاعى (متوفى ۱۵۰ قمري) اور مسلك سفيان ثورى (متوفى ۱۶۱ قمري) اور مسلك داود بن على ظاہرى (متوفى ۲۷۰ قمري) كہ يہ سب سنى مسالك ميں سے شمار ہوتے ہيں ليكن بہت كم پيروكاروں كى بناء پر زيادہ عرصہ تك نہ چل سكے(۲)

ليكن ان تمام مسالك ميں ايك معمولى ساموازنہ كرتے ہوئے ہم ديكھتے ہيں كہ زيدى مسلك بہت زيادہ پيروكاروں اور بے شمار علما، محدثين ، معروف فقہاء اور مؤلفين كى بناء ايك ممتاز مقام كا حامل ہے اس مذہب كى بعض كتب مندرج ذيل ہيں :

زيد بن على بن الحسين (ع) سے منسوب '' المجموع''(۳) يحيى بن حسين (۹۸_ ۲۴۵قمري) كى جامع الاحكام فى الحلال و الحرام احمد بن يحيى المرتضى (۸۴۰ _ ۷۷۵قمري) كى البحر الزخار، ابراہيم بن محمد كى الروض فى الحامل شرح الكافل حسن بن احمد (متوفى ۱۰۴۸) كى ضوء النہار فى شرح الازہار اور محمد بن على الشوكانى (متوفى ۱۲۲۱)

____________________

۱)رجوع كيجئے : موسوعة الفقہ الاسلامى ج ۱ ص ۳۲ ، صبحى الصالح ، انظم الاسلامية ، نشا تہا و تطورہا ص ۲۰۷ ، صبحى رجب محمصانى ، فلسفة التشريع فى الاسلام ج ۵ ص ۶۹ _۷۰_

۲)عبدالكريم زيدان، المدخل لدراسة الشريعة الاسلامية ، بيروت ج ۱۱ ص ۱۴۸_

۳) سابقہ ما خذ_


كى الدرر البھية والسيل الجرار و نيل الاوطار(۱) (زيدى مذہب سے كافى عرصہ كے بعد ہم داود بن على الظاہرى سے منسوب ظاہرى مذہب كا نام لے سكتے ہيں كيونكہ اسكے پيروكار بہت ہى كم تھے اور آج تقريباً موجود نہيں ہيں اس مذہب كى بنيادى فقہى كتا ب'' المحلى '' ہے كہ جسے ابن حزم ظاہرى نے تحرير كيا اس مذہب كے استحكام اور بقاء كا باعث تھى اسى شخص كى خدمات جانى گئيں(۲)

۵_ اصول

اسلامى علوم ميں وہ علم كہ جو اصلى منابع اور مصادر سے اسلامى احكام اور قوانين كے استنباط كيلئے تدوين ہوا علم اصول ہے يہ علم وجود ميں آنے كے بعد سے اب تك نو مراحل سے گزرا:_

۱)وجود ميں آنے كا دور: اس دور ميں اس علم كى تدوين اور اسكے مقدمات بيان كرنے كيلئے سب سے پہلى كوششيں ہوئيں _ شيعہ محققين كى رائے كے مطابق اس علم كے خالق امام باقر (ع) اور امام صادق (عليہما السلام ) ہيں _ اگر چہ عصر حاضر كے كچھ محققين كا خيال ہے كہ اصلى قواعد كا سادہ انداز ميں استعمال صدر اسلام سے ہى رائج تھا(۳)

۲) تصنيف كے دور كا آغاز: اس دور ميں علم اصول جس كا ذكر فقہى مسائل كے درميان ہوتا تھا جداگانہ شكل ميں سامنے آيا_ ميرے خيال ميں علم اصول كى سب سے پہلى تصنيف جناب حشام بن حكم كى ہے كہ جواماميہ متكلمين كے سربراہ شمار ہوتے ہيں انہوں نے كتاب '' الفاظ و مباحثہا'' تحرير كى(۴)

____________________

۱) موسوعة الفقہ الاسلام ، سابقہ ما خذ، الحليمي، الروض النضير ، مقدمہ ، دائرة المعارف بزرگ اسلام ج ۲ ص ۵۹ _۱۶۴ ، على بن عبدالكريم شرف الدين ، الزيدية نظريہ و تطبيق ، العصر الحديث ج ۲ ص ۱_۳ اور اسكے بعد ، فواد سزگين ، تاريخ التراث العربى ج ۱ ، جزء ۳ عربى ، ص ۳۵۳_

۲)مصطفى الزلمى ، اسباب اختلاف الفقہاء فى احكام الشريعة ص ۵۶_

۳)حسن شفايي، ملاك اصول استنباط، ص ۹ ، حسن ہادى الصدر، تاسيس الشيعہ لعلوم الاسلام بغداد ، ابولاقاسم گرجى ، مقالات حقوقى ،ج۲ ص ۱۱۷، ۱۱۳_

۴) ابوالقاسم گرجي، سابقہ ما خذص ۱۱۹ _ ۱۱۸_


۳)علم اصول كے علم كلام كے ساتھ ملاپ كا دور: يہ دور جو كہ زيادہ تر اہل سنت كے حوالے سے ہے ، اہل سنت كے متكلمين بالخصوص معتزلہ علم اصول ميں داخل ہوئے اور اسے اسكے اصلى راہ '' فرعى و فقہى احكام كے استنباط'' سے ہٹا ديا_ اس دور ميں اہل سنت كے مولفين ميں سے ''كتاب آراء اصولى ابوعلي'' كے مصنف محمد بن عبدالوہاب بن سلام جبائي ( متوفى ۳۰۳ قمرى )كتاب التحصيل كے مصنف ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر تميمى اسفراينى (متوفى ۴۲۹ قمري) اور كتاب '' المستصفى ''كے مصنف ابوحامد غزالى (متوفى ۵۰۵ قمرى ) قابل ذكر ہيں _

۴)علم اصول كے كمال اور دوبارہ جدا ہونے كا دور : يہ دور جو كہ مكتب شيعہ كے حوالے سے ہے علم اصول بتدريج پختگى كى منازل طے كر گيا اور كافى حد تك علم كلام كے مسائل سے جدا ہوگيااس دور كے اہم ترين آثار كے جنہوں نے علم اصول كو ترقى كى انتہائي بلنديوں تك پہنچا ديا وہ ابن ابى عقيل ، شيخ مفيد اور شيخ طوسى كى تصنيفات و تاليفات ہيں _

۵)استنباط كے جمود اور علم اصول ميں ٹھہراؤ كا دور: شيخ طوسى كے علمى نبوغ اور عظمت كى بناء پر تقريباً ايك صدى تك مختلف علوم بالخصوص اصول فقہ ميں انكى آرا، اور نظريات بغير كسى علمى تنقيد كے باقى رہے اور اس دور كے مولفين كى كتب پر انكے آثار كى تقليد كى چھاپ باقى رہى _ مثلا سديد الدين حمصى رازى كى كتاب مصادر اور حمزہ بن عبدالعزيز المعروف سلار كى كتاب '' التقريب'' ميں يہ تقليد ديكھى جاسكتى ہے مجموعى طور پر اس دور كے تمام فقہى استنباط اور نتائج شدت كے ساتھ شيخ طوسى كى آراء سے متاثر تھے_

۶) تجديد حيات كى تحريك: اس دور كى خصوصيات ميں سے يہ ہيں كہ ايك طرف روح اجتہاد دوبارہ زندہ ہوئي اور دوسرى طرف گذشتہ بزرگان دين كى كتب كى شرح ، حاشيہ اور تلخيص كى گئي اور فن منطق كے بعض مسائل علم اصول ميں داخل ہوئے اس دور كے علما اور بزرگ محققين ميں سے محمد بن ادريس حلى (متوفى ۵۹۸ قمرى )محقق حلى ، علامہ حلي، فاضل مقداد اور شيخ بہائي قابل ذكر ہيں(۱)

____________________

۱)سابقہ ما خذ ص ۱۲۱ ، ۱۳۰ ، ۱۳۵_


۷)علم اصول ميں ضعف كا دور : تشيع كى علمى محافل اور حوزات ميں اخبارى مكتب فكر كى طرف ميلان بڑھنے سے علم اصول كى گذشتہ ادوار كى مانند رونق ختم ہوگئي اس دور ميں اخباريوں اور اصوليوں ميں شديد نزاع رہا، اس دور كى اخبارى مكتب فكر ميں اہم ترين تاليف '' كتاب فوائد المدنيہ'' ہے كہ جو محمد امين استر آبادى (متوفى ۱۰۳۳) نے تاليف كي_

۸)علم اصول كا جديدد ور: جناب وحيد بہبہانى كے علمى حوزات ميں ظاہر ہونے سے علم اصول بتدريج دوبارہ ترقى كے زينوں كى طرف بڑھنے لگا، آپ اور آپكے شاگردوں نے اپنى حيرت انگيز صلاحيتوں سے مالامال علمى طاقت سے اخبارى مكتب فكروالوں كے تمام شبہات اور تہمتوں كا جواب ديا اور يہ ثابت كرنے كيلئے بہت زيادہ كوشش كى كہ فقہى مسائل تك پہنچنے كيلئے ہم سب فقط اصولى قواعد كے محتاج ہيں اس دور ميں علامہ وحيد بہبہانى كے علاوہ عظيم علمى شخصيات ميں سے سيد مہدى بحر العلوم (متوفى ۱۲۱۲ قمري) كاشف الغطاء (متوفى ۱۲۲۷قمري) اور سيد على طباطبائي (متوفى ۱۲۲۱ قمري) قابل ذكر ہيں(۱)

۹)عصر حاضر : يہ دور جو كہ حقيقت ميں علم اصول كى معراج كا دور شمار ہوتاہے شيخ مرتضى انصارى (متوفى ۱۲۸) كے ظہور سے شروع ہوا اور انكے بعد انكے شاگردوں كى كوششوں سے جارى رہا _ واقعى بات تو يہى ہے كہ اس دور ميں علم اصول كى ترقى كاگذشتہ ادوار ميں كسى دور سے موازنہ نہيں كياجاسكتا اس دور ميں علم اصول ميں تحقيقات كيفيت اور كميت كے اعتبار سے وسيع ہونے كے ساتھ ساتھ انتہائي عميق بھى ہيں(۲)

۶_ كلام

اسلامى تمدن كے زير سايہ علم كلام كى پيدائشے كى كچھ وجوہات تھيں ان ميں سے ايك مسلمانوں كا غير مسلم اقوام مثلا ايرانيوں ، روميوں اورمصريوں سے تعلقات تھے ان روابط اور تعلقات كى بناء پر عقائد و نظريات

____________________

۱)سابقہ ما خذ ص ۱۳۸_

۲)مرتضى مطہري، آشنائي با علوم اسلامى ، بخش اصول فقہ ص ۲۶۳_


ميں اختلاف آشكار ہوا _ مسلمانوں نے دين اسلام كے دفاع كيلئے نئي فكرى اور استدلالى روشوں كو سيكھا_ اسى طرح اس علم كے وجود ميں آنے كى دوسرى وجہ ايسى اقوام كا اسلام قبول كرنا قرار پائي كہ جو اپنے مذاہب ميں اللہ تعالى كى صفات، توحيد ، قضا و قدر اور جزا و سزا و غيرہ كے مسائل ميں مخصوص عقائد و نظريات كے حامل تھے_ اسى بناء پہ نئے مسلمان لوگ اسى كوشش ميں رہتے تھے كہ اپنے سابقہ دينى عقائد كو دين اسلام كے سانچے ميں ڈھال كر پيش كريں اسى ليے مسلمانوں نے بھر پور كوشش كى كہ عقلى دلائل سے بہرہ مند ہوكر اسلام كے بنياد ى عقايد كو مستحكم اور پائيدار بنائيں(۱)

علم كلام اپنے آغاز ميں فقط عقائدى مسائل بالخصوص توحيد و غيرہ پر بحث كرتا تھا اور جو شخص عقائد كے امور ميں دليل سے بات كرتا اسے متكلم كہا جاتاتھا اور خود دينى عقائد اور اصول ميں بحث اور جدل كرنے كو علم كلام كا نام دياگيا _ اسلام كے بڑے متكلمين ميں سے جنہوں نے كلامى نظريات اور مسالك كى تشكيل ميں اہم كردار ادا كيا حسن بصرى (۱۱۰ _ ۲۱ قمري) كى طرف اشارہ كيا جاسكتاہے كہ جو گناہوں كے حوالے سے بہت سخت موقف ركھتے تھے _ انكا عقيدہ تھا كہ تمام افعال فقط انسانى مرضى كى بناء پر انجام پاتے ہيں

دوسرى صدى ہجرى ہيں ابو محرز جھم بن صفوان نے مسلك جھميہ كو تشكيل ديا _ اس مسلك كے ماننے والوں كا نظريہ يہ ہے كہ اللہ تعالى كى شناخت كيلئے فقط ايمان كافى ہے ديگر عبادات سے اس كا كوئي ربط نہيں ہے اور كوئي بھى اللہ تعالى كے ارادے كے سوا فعل انجام نہيں ديتا_ پس انسان اپنے افعال ميں مجبور ہے(۲)

تيسرى صدى ہجرى ميں ابو سہل بشر بن معتمر ہلالى كوفى بغدادى (متوفى ۲۱۰قمري) نے مسلك بشرية كو تشكيل ديا _ اسكا نظريہ يہ تھا كہ اللہ تعالى قادر ہے اور اس نے اپنے بندوں كو اپنے كام كرنے پر قادر كيا ہے ليكن يہ مناسب نہ سمجھا كہ حيات، موت اور قدرت جيسے امور بھى انسانوں كے سپرد كرے(۳)

____________________

۱) علامہ شبلى نعماني، تاريخ علم كلام، ترجمہ داعى گيلاني، ص ۸_

۲)خير الدين زركلى ، الاعلام ، ج ۲ ص ۲۲۶_

۳) محمد شہرستاني، الملل و النحل، محمد جواد شكور كى سعى سے ، ج۱، ص ۷۲_


چوتھى صدى ميں ہم چند مشہور و معروف متكلمين كا عرصہ وجود ميں ظہور كا مشاہدہ كرتے ہيں ان ميں سے ايك شيخ مفيد ہيں انكى تقريباً دو سو كے قريب تاليفات تھيں كہ جن ميں سے اكثر مختلف كلامى مسالك كے عقائد كى رد پر لكھى گئيں _ اسى صدى كے دوسرے مشہور متكلم شيخ الطايفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسى ہيں وہ سب سے پہلے شخص تھے كہ جنہوں نے نجف كو شيعہ مكتب كے علمى اور دينى مركز ميں تبديل كيا انكى كلام ميں مشہور كتابوں كے نام مندرجہ ذيل ہيں :الشافي، الاقتصادالہادى الى الرشاد اورتمھيد الاصول_

پانچويں صدى ميں مشہور متكلم ابوحامد محمد غزالى پيدا ہوئے_ غزالى كا عقيدہ تھا كہ متكلمين نے اس زمانہ ميں دين كى نصرت كيلئے قيام كيا كہ جب دينى فرقوں ميں اختلاف بڑھ گيا تھا اور لوگوں كے دلوں ميں ايمان متزلزل ہوچكا تھا انہوں نے عقلى اور منطقى دلائل كے ساتھ شبہات پيدا كرنے كا راستہ بند كرديا تھا نيز انكا عقيدہ تھا كہ عوام كو علم كلام سے دور كرنا چاہيے كہ اگر ان ميں سے كوئي ''يد'' ، '' فوق'' اور عرش پر استوار'' كا معنى پوچھيں تو بھى انہيں نہ بتائيں خواہ انہيں تازيانے مارنا پڑيں(۱) جس طرح كہ خليفہ دوم حضرت عمرہر اس شخص سے ايسا سلوك كيا كرتے تھے كہ جو تشابہ آيات كے بارے ميں سوال كرتا پانچويں صدى كے ايك اور معروف متكلم ابوالفتح محمد بن عبدالكريم بن احمد شہرستانى ہيں انكى علم كلام ميں معتبرترين كتاب كا نام نہاية الاقدام فى علم الكلام ہے جو علم كلام كے بيس قواعد اور اس علم كے مسائل كى فروع پر تشريح كى حامل ہے(۲)

چھٹى صدى ہجرى كے مشہورترين متكلم امام فخر رازى ياامام المشككين ہيں وہ علم اصول و كلام ميں مكتب اشعرى پر اور فروع دين ميں شافعى مسلك پر تھے انكے بيشتر اعتراضات اورتشكيكات فلسفي، كلامى اور علمى مسائل ميں تھے_ وہ اسلامى عقايد كى تشريح اشعرى مكتب كے اصولوں كى بناء پر كيا كرتے تھے اور فقہ اہل سنت پر عمل پيرا تھے_

____________________

۱)ابوحامد محمد غزالي، المنقد من اللال والمفصح عن الاحوال، محمدحابر كى كوشش سے _ دہر، عبدالكريم گيلانى حاشيہ الانسان الكامل ، قاہرہ_

۲)ابراہيم مذكور، فى الفلسفة الاسلامية، قاہرہ_


ساتويں صدى ہجرى كے عظيم ترين متكلم خواجہ نصير الدين طوسى ہيں چونكہ خواجہ شيعہ ہونے كے ساتھ ساتھ منگولوں كے بادشاہ ہلاكوخان كى نگاہ ميں اہم مقام كے حامل تھے لہذا اہل سنت كے بہت سے علماء ان سے حسد كيا كرتے تھے اور انہيں سب و شتم كيا كرتے تھے انكى علم كلام ميں اہم ترين كتاب '' تجريد الاعتقاد'' ہے(۱)

ساتويں صدى ميں ابن تيميہ پيدا ہوئے وہ قرآنى علوم، حديث، فقہ، كلام ، فلسفہ اور ہندسہ ميں مہارت ركھتے تھے، وہ مسلمانوں كى سنت كا دفاع كيا كرتے تھے كہ جسكى وجہ سے اہل سنت كے ديگر مسالك كے بہت سے پيروكاروں نے انكى مخالفت كى _ اگر چہ انكا حنبلى مسلك سے تعلق تھا ليكن اس مسلك كے اصول كو اجتہاد كے ذريعہ قبول كرتے تھے اور بدعات كى مخالفت كرتے تھے اور اولياء خدا سے تمسك كرنے اور انبياء كى قبور كى زيارت پر تنقيد كيا كرتے تھے _ علماء اسلام كے ايك گروہ نے انكى مذمت كى جبكہ ايك گروہ نے انكى تعريف كي(۲)

ان تمام گذشتہ صديوں ميں علماء اسلام ميں سے فقط علامہ حلى ہيں كہ جنہيں آيت اللہ كے لقب سے نوازا گيا آپ ساتويں صدى ميں پيدا ہوئے، آپكى چار سو سے زيادہ تاليفات ہيں انہوں نے اپنى علم كلام كے بارے ميں تاليفات ميں سياست كى بحث بھى كي_ وہ سياست كوعين دين سمجھتے تھے انكى علم كلام كى مباحث ميں شيعہ سياسى افكار جلوہ گر ہيں _ انكى علم كلام ميں اہم ترين كتا ب الباب الحادى عشر ہے اسكے ابواب ميں مذہب شيعہ كے مختلف كلامى موضوعات مثلا نبوت، عصمت پيغمبر(ص) كا ضرورى ہونا، پيغمبر (ص) كى افضليت ، پيغمبر(ص) كا نقص سے دور ہونا، امامت ، امام كا معصوم ہونا اور حضرت على (ع) كى امامت كے حوالے سے بحث اور تجزيہ و تحليل كياگيا ہے_(۳)

____________________

۱)ميان محمد شريف، تاريخ فلسفہ در اسلام تہران_

۲)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۳ ، ذيل ابن تيميہ_

۳)خوانسارى ، روضات الجنات، لقرآن ص ۴۲۱ _۴۱۹_


۷_ تصوف، عرفان اورفتوت

تصوف كا لغت ميں معنى '' صوفى بننا'' ہے ، بظاہر سب سے قديمى كتاب كہ جسميں كلمہ صوفى اور صوفيہ استعمال ہوا وہ جاحظ (متوفى ۲۵۵ قمرى ) كى البيان و التبين ہے(۱) ابن خلدون نے اپنے مقدمہ ميں تصوف كو صحابہ ، تابعين اور انكے بزرگان كى روش كے طور پر ذكر كيا(۲) بعض نے لفظ صوفى كو صفا سے ليا كہ جسكا معنى روشنى اور پاكيزگى ہے اور صفوت سے مرادمنتخب ہے ليكن شہرت يہى ہے كہ صوفى صوف سے ليا گيا ہے كہ جسكا معنى پشم ہے اور صوفى يعنى پشم پوش (پشم پہننے والا)(۳)

عرفان كو يورپى زبانوں ميں '' مَيسٹك'' Mystics(۴) كا نام ديا گيا ہے كہ جو يونانى لفظ ميسٹيكوس( Mistikos ) سے ليا گياتھا(۵) اور اسكا مفہوم و معنى ايك مرموز ، پنہان اور مخفى امر ہے_

اور اصطلاح ميں ايسے خاص دينى پہلو پر دلالت كرتاہے كہ جس ميں كسى انسانى فرد كا كائنات كے رب كے ساتھ بلاواسطہ رابطہ اور اتصال پيدا ہونا ممكن ہے اور يہ علم انسان كو خالق كائنات كےساتھ كشف و شہود اور باطنى تجربات كے ذريعے متصل كرتا ہے دوسرے الفاظ ميں عرفان سے مراد وہ روش اور طريقہ كہ جو نظرياتى طورپر علم حضورى كہلاتاہے اور عملى حوالے سے عبادت، كوشش اور زہد و رياضت سے لولگانے كو كہتے ہيں(۶)

دوسرى صدى ہجرى ميں وہ خاص لوگ كہ جو دينى مسائل كى طرف بہت زيادہ توجہ ديتے تھے زاہد، عابد اورمتصوف كہلاتے تھے_ اس دور ميں ہميشہ ميں عبادت ميں مصروف ہونا ، اللہ تعالى كے ليے ترك دنيا،

____________________

۱)عمرو بن بحر حاحظ، البيان و التبين چاپ حسن سندولى قاہرہ ، ج۱ ص ۲۸۳_

۲)ابن خلدون، مقدمہ ، ج۱ ص ۶۱۱_

۳)منصور بن اردشير عبادي، مناقب الصوفيہ ص ۳، ۳۱_

۴) mystic

۵) mistikos

۶)نورالدين كيائي ناد، سير عرفان در اسلام، ص ۷_۶۵_


دنياوى لذتوں سے دورى اختيار كرنا ، زہد اور ہر وہ چيز كہ جسے لوگ برا سمجھتے ہيں مثلا ثروت جمع كرنے اور جاہ طلبى و غيرہ سے پرہيز كرنا تصوف كہلا تا تھا(۱)

جاحظ اور ابن جوزى نے تقريباً ابتدا كے صوفيوں ميں سے چاليس افر اد كا تعارف كرواياہے جن ميں ابوذر، حذيفہ بن يمان، خباب بن ارث و بلال حبشي، سلمان فارسي، عمار ياسر ، مقداد اور ديگر وہ لوگ كہ جو عبادت اور زہد ميں معروف تھے انكا ذكر ہوا، اسى طرح وہ اشخاص كہ جو صدر اسلام كے شيعوں ميں سے شمار ہوتے ہيں(۲)

تيسرى صدى كے وسط سے صوفى حضرات گروہى اعتبار سے بتدريج منظم ہوگئے_ انكا اہم ترين گروہ بغداد ميں تھا_معروف صوفى مثلا ابوسعيد خرّاز (متوفى ۲۷۷ قمري) جنيد بغدادى (متوفى ۲۹۸قمري) اور ابوبكر شبلى (متوفى ۳۳۴ قمرى ) وہاں زندگى گذارتے تھے(۳) كلامى اوراعتقاد كے اعتبار سے صوفيوں ميں پائے جانے والے مختلف نظريات انكے فكرى اور باطنى مكتبوں اور فرقوں ميں اختلاف كا باعث تھے _ مثلا خواجہ عبداللہ انصارى اور ابوسعيد ابو الخير آپس ميں اختلاف رائے ركھتے تھے(۴)

تيسرى صدى ہجرى سے دوسرے علاقوں كے صوفيوں كا مركز سے رابطہ اور نظم بڑھ گيا يہانتك كہ بغداد ميں - ۳۰۹ قمرى ميں حلاج قتل ہوا _ يہ چيز باعث بنى كہ بغداد بتدريج صوفيوں كا محور اور مركزنہ رہا_ اسى صدى كے وسط سے ہى بغداد كے بڑے صوفى حضرات نے تاليف كا آغاز كيا اس دور كى اہم ترين كتابيں مندرجہ ذيل ہيں : خرگوشى نيشابورى (متوفى ۴۰۶ قمري) كى تہذيب الاسرار، ابوبكر كلا بازى كى

____________________

۱)عبداللہ بن محمد ارضاري، طبقات الصوفيہ ج ۱۲ ، ص ۵ _۱۹۴_

۲)رينولد'' نيكلسون'' پيدائشے و سير تصوف ترجمہ محمد باقر معين، ص ۱۴_۱۱، مانرى كورين ، تاريخ فلسفہ اسلامى ، ترجمہ جواد طباطبائي ص ۷۳_۲۶۵_

۳)ابوبكر محمد بن ابراہيم كلاباذي، التعرف لمذہب اہل التصوف ، دمشق ص ۳۰ _ ۲۸_

۴)احمد جامى ، مقامات شيخ الاسلام حضرت خواجہ عبداللہ انصارى طروى ، چاپ فكرى سلجوقى تہران ص ۳۴_ ۳۱_


تصنيف ''التعرف لمذھب اہل التصوف ''اور ابونصر سراج طوسى كى تاليف'' كتاب اللمع فى التصوف'' چوتھى صدى ميں اور اس كے بعد بھى تاليف كى يہ روايت جارى رہي_ كتاب ''التعرف كلا بازى ''كو ابواسماعيل مستملى نے فارسى زبان ميں ترجمہ كيا_ ابو حامد غزالى (متوفى ۵۰۵ قمري) نے كتاب ''كيمياى سعادت ''كو عربى زبان ميں تحرير كيا اسى طرح شہاب الدين عمر سہروردى نے ساتويں صدى ہجرى ميں تصوف كے حوالے عربى ميں كتاب'' عوارف المعارف ''تاليف كى _

چوتھى صدى كے دوسرے نصف حصہ سے صوفيوں كى تاريخ خاص اہميت كى حامل ہے ابو عبدالرحمان سلمى نيشابورى نے كتاب طبقات الصوفيہ ميں ۱۰۳ معروف صوفيوں كا پہلى بار اپنى كتاب ميں تعارف كروايا نيز انكى كچھ باتوں كو بھى ذكر كيا_ اسى كتاب طبقات الصوفيہ كى مانند ابونعيم اصفہانى نے بھى كتاب حلية الاولياء تاليف كى جو ''طبقات الصوفيہ ''كا تقريباً چربہ تھى(۱)

چھٹى صدى ہجرى كے بعد سے صوفيوں ميں گوناگوں سلسلے تشكيل پائے ہر سلسلے كا نام اس طريقت كے بانى كے نام پر ہوتا مثلا سلسلہ سہرورديہ ، شہاب الدين عمر سہروردى كے ساتھ منسوب ہے اور سلسلہ مولويہ مولانا جلال الدين بلخى كے ساتھ منسوب ہے ان سلسلوں كو مختلف واسطوں كے ساتھ صدر اسلام اور حضرت رسول اكرم(ص) سے ملايا جاتا تھا كہ اس قسم كى نسبت مستحكم دليل و بنياد سے خالى ہوتى ہے(۲)

مجموعى طور پر پانچويں ، چھٹى اور ساتويں صدى ہجرى ميں شيعہ اور سنى ميں اختلاف نظر ، سنى مذاہب بالخصوص حنفيوں اور شافعيوں ميں مذہبى مجادلے ، فقہاء اور فلاسفہ ميں نظرياتى اختلاف اور مختلف جنگيں مثلا منگولوں كے حملے باعث بنے كہ تصوف لوگوں كيلئے بہت زيادہ پر كشش بن جائے، اس دور ميں بزرگ ، صوفى ظاہر ہوئے مثلا ابوالحسن فرقاني، ابوسعيد ابو الخير(۳) بابا طاہر عريان، ابوالقاسم قشيري، حجت الاسلام

____________________

۱)نصر اللہ پور جوادي، ابو منصور اصفہانى كى سير السلف و نصحات الانس كے حوالے سے معلومات ، معارف دورہ ۱۴ ش ۳ _

۲)احمد بن عبداللہ ابونعيم اصفہاني، سابقہ ماخذج ۱۰ ص ۳ _۴۲۰_

۳)فريش ماير، ابوسعيد ابو الخير ، حقيقت و افسانہ، ترجمہ مہر آفاق بايبوردي_


غزالى(۱) ابونعيم اصفہانى(۲) ، احمد غزالى ، عين القضات ہمدانى(۳) احمد جامى(۴) عبدالقادر گيلاني، سہروردى(۵) ، نجم الدين كبري، فريد الدين عطار نيشابورى(۶) شمس تبريزي، جلال الدين مولوي(۷) اور بالخصوص محى الدين ابن عربي_

پانچويں اور چھٹى صدى ميں تصوف ادب ميں سرايت كرگيا _اكثرشعراء حضرات عرفان اور تصوف كى طرف مائل ہوگئے مثلا مولوى نے عرفانى اشعار كو معراج پر پہنچا ديا_ اس سے بڑھ كر غزالى اور سہروردى كى مانند افراد كے ظاہر ہونے سے تصوف كا فلسفى پہلو بھى ترقى كرگيا_ اس پہلو اور نظريہ كے سربراہ محى الدين ابن عربى ہيں انكے معروف ترين آثار'' فتوحات مكيہ اورفصوص الحكم ہيں انہوں نے تصوف ، عرفان اور حكمت اشراق كو اپنى كتب ميں استدلالى اور برہانى روش كے ساتھ پيش كيا اور وہ اسلام ميں وحدت وجود كے مكتب كے حقيقى بانى بھى ہيں(۸)

چھٹى صدى ہجرى ميں عين القضات ہمدانى (متوفى ۵۲۵ قمري) جو ايك عظيم عارف اورفقيہ تھے ، پيدا ہوئے انہوں نے اپنے اوپر لگائے ہوئے الزامات كے مقابلے ميں اللہ تعالى پراپنے ايمان اورنبوت و آخرت پر ايمان كا مناسب انداز سے دفاع كيا ليكن ان پر كفر اور زندقہ كى تہمت لگاتے ہوئے انہيں تينتيس

____________________

۱)محمد بن محمد غزالي، احياء علوم الدين ، بيروت_

۲)احمد بن عبداللہ ابونعيم اصفہاني، سابقہ ما خذ_

۳)عبداللہ بن محمد عين القضاة ، دفاعيات عين القضاة ہمداني، ترجمہ رسالہ شكورى الغريب ، ترجمہ و حاشيہ قاسم انصاري، تہران_

۴) عبدالرحمان بن احمد جامي،نفحات الانس، محمود عابدى كى كوشش كے ساتھ _تہران_

۵)يحيى بن جبش سہروردى ، مجموعہ مصنفات شيخ اشراق ، كوربن كى كوشش كے ساتھ، تہران ، محمد بن مسعود قطب الدين شيرازى شرح كلمة الاشراق سہروردى عبداللہ نورانى و مہدى محقق كى كوشش كے ساتھ تہران_

۶)محمد بن ابراہيم عطا، تذكرة الاولياء ،محمد استعلامى كى كوشش كے ساتھ ، تہران_

۷)جلال الدين محمد بن محمد مولوى ، مثنوى معنوي، تصحيح و ترجمہ رينو الاولين ينكلسون، تہران_

۸)رينو اور نيكلسون، سابقہ ما خذص ۴ _ ۳۲_


۳۳ سال كى عمر ميں قتل كرديا گيا يہ واقعہ حسين بن منصور حلاج كے قتل كے بعد اسلامى تصوف كى تاريخ ميں انتہائي جانگداز واقعہ شمار ہوتاہے(۱)

اسى صدى ميں اس قسم كے خشك تعصب كا ايك اور مظاہرہ ايران كے مشہور فلسفى شہاب الدين سہروردى كے قتل كى شكل ميں سامنے آيا وہ ۵۴۹ قمرى ميں سہرورد زنجان ميں پيدا ہوئے اور ۵۸۷ قمرى ميں صلاح الدين ايوبى كے حكم اور حلب شہر كے متعصب لوگوں كے بھڑكانے پر اٹھتيس سال كى عمر ميں قتل ہوئے ساتويں صدى ہجرى ميں سہروردى كا مكتب تشكيل پايا اسى صدى ميں تصوف وجد اور حال كے مرحلہ سے '' قال'' كے مرحلہ تك پہنچا اور علمى فلسفى صورت ميں سامنے آنے لگا(۲)

آٹھويں صدى ميں سہروردى ، ابن عربى اور ابن فارض كا عرفانى مكتب شہرت پانے لگا اور تصوف اور عرفان آپس مخلوط ہوگئے_ عرفانى علوم اور خانقاہوں كى راہ و رسم كو ايك جگہ پڑھايا جانے لگا اسى صدى ميں ايران كے عظيم ترين عارف اور سخن سرا حافظ شيرازى پيدا ہوئے اسى طرح شيخ صفى الدين اردبيلى (۷۳۵ _ ۶۵۰ قمري) ، ابوالوفاء (متوفى ۸۳۵ قمري) زين الدين ابوبكر تايبادى (متوفى ۷۹۱) اور زين الدين ابوبكر محمود خوافى (متوفى ۸۳۸ قمري) كہ جو ايران كے آٹھويں صدى اور نويں صدى كے آغاز ميں بزرگ عرفا ميں شمار ہوتے تھے ظاہر ہوئے يہ سب سہرورديہ طريقت كے پيروكار اور شيخ نور الدين عبدالرحمان قريشى مصرى كے مريد تھے _ اس دور كے اور اسكے كچھ عرصہ بعد كے بڑے عرفاء ميں سے جامع الاسرار كے مصنف سيد حيدر آملي، علاء الدين سمنانى ( ۷۳۶ _۶۵۹ قمري) گلشن راز كے مصنف شيخ محمود شبسترى (متوفى ۷۲۰ قمري) نعمت اللہى سلسلہ كے بانى شاہ نعمت اللہ ماہانى كرمانى المعروف شاہ نعمت اللہ ولى اور مختلف كتب اور عرفانى نظموں كے خالق نور الدين عبدالرحمان جامى (متوفى ۹۱۲ قمري) قابل ذكر ہيں تصوف نے در حققت آٹھويں صدى ہجرى ميں اپنے كمال كے تمام مراحل طے كرليے تھے كيونكہ اس تاريخ كے بعد يہ زوال كاشكار ہوا(۳)

____________________

۱)زين الدين كيائي ناد ، سابقہ ما خذص ۴۲ _۱۳۱_

۲)قمر گيلانى ، فى التصوف الاسلامي، مفہومہ و نظورہ و اعلامہ ، بيروت_

۳)زين الدين كيانى ناد ، سابقہ ما خذص ۲ ، ۲۳۱_


صفوى دورميں تصوف ايك نئے مرحلہ ميں داخل ہوا گذشتہ قرون ميں صوفى راہنماؤں كى ذمہ دارى يہ تھى كہ اپنے مريدوں كى راہنمائي اور تہذيب نفس كريں اسى ليے وہ دنيا كى كوئي پرواہ نہ كرتے تھے اور حق تك وصل اور كمال انسانى ميں سعادت حاصل كرنے كى كوشش ميں رہتے تھے_ نويں صدى ہجرى ميں صوفى مشايخ ميں سے ايك شيخ يعنى شيخ جنيد جو كہ شاہ اسماعيل كے جد تھے انہوں نے طاقت و قدرت اپنے ہاتھوں ميں لينے كيلئے صوفى گروہ اور اپنے مريدوں كو تيار كيا اور اسى ہدف كے پيش نظر صوفيوں كو كفار سے جہاد كيلئے مجبور كيا اور اپنے آپ كو سلطان جنيد كہلايا اس تاريخ كے بعد صوفى لوگ جنگى لباس ميں آگئے_

شاہ اسماعيل كے ابتدائي زمانہ حكومت ميں اسكے مريد اور پيروكار ايك مدت تك اسے صوفى كہتے رہے پھر صوفى اور قزلباش كا عنوان ايك دوسرے كيلئے لازم و ملزم ہوگيا _ شاہ تہماسب كے زمانہ ميں شيعوں اور قديم صوفى مريدوں كى اولاد كا ايك گروہ ديار بكر اور ايشيا ئے كوچك كے كچھ علاقوں سے ايران ميں داخل ہوا اور صوفى گروہ ميں شامل ہوگئے شاہ تہماسب كى وفات كے وقت قزوين ميں صوفيوں كى تعداد دس ہزار تك پہنچ گئي صوفى لوگ قزلباشوں كے ديگر گروہوں كى نسبت بادشاہ كے زيادہ قريب ہوتے تھے صوفيوں كے ہرگروہ كے سربراہ كو خليفہ كا نام ديا جاتا تھا اور تمام صوفيوں كے سربراہ كوخليفةالخلفاء كہا جاتا تھا(۱)

شاہ عباس نے صوفيوں كو نظرانداز كرديا اوروہ تمام اہم امور جو انكے ہاتھوں ميں تھے ان سے لے ليے_ جو كچھ بھى صفويہ دور ميں صوفيوں كے حوالے سے لكھا گيا وہ فقط شيخ صفى الدين اور انكے جانشينوں كے پيروكاروں كے بارے ميں ہے صفوى حكومت كے وسطى زمانہ سے علماء شريعت كى قوت بڑھنے لگى اور اسى نسبت كے ساتھ صوفى لوگ زوال كا شكار ہونے لگے اور انكى مخالفت بڑھنے لگى يہانتك كہ انكے حوالے سے مرتد كافراور زنديق ہونے كى باتيں ہونے لگيں ، قاجارى دورميں اگر چہ صوفيوں كے كام كچھ زيادہ لوگوں كى توجہ كا مركز قرار نہ پائے ليكن حكومت كے استحكام سے معمولى آسايش حاصل ہونے كے ساتھ ساتھ حملہ اور

____________________

۱)نور الدين مدرسى چہاردہي، سلسلہ ہاى صوفيہ ايران ، تہران_


اذيت سے محفوظ ہوگئے ليكن خانقاہيں پھر منظم اور پرجوش نہ رہيں (۱)

فتوت، عربى زبان ميں ايسى صفت ہے كہ جو كلمہ '' فتي'' سے مشتق ہوئي ہے اور اس شخص كى صفت ہے كہ جس نے جوانى اور شباب ميں قدم ركھا ہويہ كتاب منتھى الارب ميں جوانمردى اور عوامى كے معنى ميں ذكر ہوئي ہے زمانہ جاہليت ميں يہ كلمہ دو مجازى معانى '' شجاعت اور سخاوت'' ميں استعمال ہوا كلمہ فتوت كے مشتقات قرآن مجيد كى سورتوں كہف،يوسف، نساء اورنور ميں ذكر ہوئے ہيں كہ دو يا تين مقامات سے ہٹ كر باقى تمام جگہوں پر جوانمرد يا جوانمردى كے علاوہ معانى ميں انكى تفسير ذكر ہوئي ہے(۲) جنگ احد ميں پيغمبر اكرم نے حضرت على (ع) كو كفار سے دليرى كے ساتھ جنگ كرنے كى بناپر فتى كا لقب ديا اور فرمايا : لا فتى الا علي_(۳) اموى دور ميں فتوت كے معنى ميں وسعت پيدا ہوئي اور مردانگى اور مروت كے مختلف موضوعات اس كے معنى ميں داخل ہوئے ليكن اسكا اساسى ركن ايثار كہلايا كہ جو صوفيانہ فتوت كى سب سے پہلى خصوصيت تھى _

صدر اسلام ميں زاہدين اور سچے مسلمان جہاد اور راہ اسلام ميں جنگ كى مانند اس چيز كواپنى ذمہ دارى سمجھتے تھے _ اس دور كے بعد صوفى حضرات خانقاہوں ميں بسيرا كرنے لگے اور جہاد اصغر سے جہاد اكبر يعنى نفس سے جنگ كى تعليم ميں مشغول ہوئے اسى ليے فتوت كہ جو شجاعت اور كرامت كے مترادف تھا اخلاق حسنہ اور ايثار كے معنى ميں تبديل ہوگيا اور صاحب فتوت كى تين علامات قرار پائيں : (۱_) ايسى وفا كہ جسميں بد عہدى نہ ہو (۲_) بغير توقع كے تعريف كرنا (۳_) بغير مانگے دينا_(۴)

فتوت كى بھى تصوف كى مانند كوئي جامع تعريف موجود نہيں ہے_(۵)

____________________

۱)زين الدين كيانى ناد، سابقہ ما خذص ۲۳۲_

۲)يوسف ۳۰ ، ۳۶ ، ۶۱، ۶۲ ، كہف ۱۰ ، ۱۳، ۵۹ ، ۶۱ ، نساء ۲۹ ، نور ۳۳ ، نيز رجوع كريں محمد جعفر محجوب '' مقدمہ فتوت نامہ سلطانى ، نوشتہ مولانا حسين واعظ كاشفى سبزوارى ص ۹_۷_

۳)سابقہ ما خذمقدمہ ص ۹ _

۴)سابقہ ما خذص ۱۱ _ ۹_

۵) سابقہ ماخذ، ص ۱۱


فتوت كے حوالے سے ابن عمار حنبلى بغدادى جو اس موضوع پر قديمى ترين كتاب '' كتاب الفتوة'' كے مصنف ہيں اس ميں لكھتے ہيں كہ سنت ميں فتوت كے حوالے سے احاديث بيان ہوئيں ہيں كہ جن ميں سے بہترين احاديث امام جعفر صادق (ع) سے نقل ہوئيں جو انہوں نے اپنے والد اورجد مبارك سے روايت كى ہيں كہ رسول اكرم(ص) نے فرمايا: كہ ميرى امت كے جوانمردوں كى دس علامات ہيں : سچائي ، تعہد سے وفا، امانت ادا كرنا ، كذب سے پرہيز، يتيم پر سخاوت ، سائل كى مدد كرنا ، جو مال پہنچے اللہ كى راہ ميں دينا، بہت زيادہ احسان كرنا، مہمان بلانا اور ان سب سے بڑھ كر حيا ركھنا(۱)

مختلف كتابوں سے تصوف اور فتوت كے حوالے سے بہت سى تعريفيں ملتى ہيں كہ ان كتابوں ميں سے اہم ترين كتابيں '' الفتوة الصوفية اور طبقات الصوفيہ'' مصنف ابو عبدالرحمان سلمى نيشابورى اور سالہ قشيريہ كہ جسكے مصنف ابوالقاسم قشيرى ہيں _(۲)

مسلم بات يہ ہے كہ ان تمام كتب كے مطالعہ سے يہ استنباط ہوتاہے كہ فتوت شروع ميں تصوف كے مسالك ميں سے ايك مسلك كے طور جانا گيا ، عام طورپر يہ جوانمرد لوگ اپنے ''سراويل يا كسوت'' نامى لباس يا حليے كے حامل تھے جس كا عملى سرچشمہ حضرت على كى سيرت اوركردار كو جانتے تھے(۳)

تيسرى صدى كے بعد فتوت صوفيوں كى مذہبى و دينى كتابوں كے علاوہ فتوت ناموں ، عوامى داستانوں ، اشعار اور فارسى ادب كى صورت ميں شاعروں اور اہل سخن و كلام كى تعريف و ستائشے كا محور قرار پايا(۴)

____________________

۱)ابن عمار حنبلى بغدادي، الفتة ص ۲۳۳_ ۱۳۲ صالح بن جناح ، كتاب الادب و المروة ، ترجمہ و تصحيح سيد محمد دامادى ، پوہشگاہ علوم انسانى و مطالعات فرہنگى تہران ص ۸_

۲)فتوت نامہ سلطنى ، سابقہ ما خذص ۱۲ مقدمہ _

۳)محمد جعفر محجوب ، سابقہ ما خذص ۱۳ _ ۱۲_

۴)فتوت نامہ سلطانى ص ۱۳ تا ۱۵ ، على اكبر دہخدا ، امثال و حكم ج ۲_


فتوت كے حوالے سے قديمى اور معتبر مصادر ميں سے عنصر المعانى كيكاووس بن اسكندر بن قابوس كى كتاب قابو سنامہ ہے كہ جس كے آخرى باب (چواليسواں باب ) ميں جوانمرد ہونے كيلئے قانون كاذكر ہے _ قابوسنامہ كى تفضيلات سے يہ معلوم ہوتاہے كہ اس زمانہ ميں اور اس سے قبل فتوت معاشرہ كے تمام طبقات ميں عملى اور اخلاقى احكام كى شكل ميں رائج تھا ہر كوئي اپنے كاموں ميں جوانمرد ہو اور فتوت كے قوانين كى پابندى كرتا تھا_

دوسرى صدى سے فتوت كا مكتب عياري(۱) كے ساتھ مخلوط ہوا اور اسكے خاص آداب اور رسوم تشكيل پائيں اسى ليے پہلوان لوگ ، ورزش كرنےوالے ، طاقتور لوگ، سپاہى اورعيار لوگ اپنے آپ كو جوانمرد كہنے لگے اور دوسرى طرف سے پيشہ ور اورسوداگر و تاجر لوگ اپنى جوانمردى كيلئے مخصوص آداب اور رسوم ركھنے لگے صوفى اور خانقاہ نشين لوگ بھى اپنے مكتب ميں جوانمردى كى رسوم و آداب كا خيال ركھنے لگے اور جو اس راہ ميں دوسروں سے بڑھ كر كوشش كرتا وہ فتوت ميں برتر سمجھا جاتا تھا(۲)

بلا شبہ فتوت كى گروہى صورت ميں فعاليت ايران كے علاوہ ديگر تمام اسلامى علاقوں مثلا شام اور مصر و غيرہ ميں بھى موجود تھى _ اس سے بڑھ كر تمام صليبى جنگوں كے دوران بيت المقدس سے شواليہ نام كے سواروں كا گروہ فرانس اور ديگر يورپى ممالك ميں ان مسلمانوں جوانمردوں ، سواروں كى تقليد كرتے ہوئے يورپ ميں داخل ہوئے كہ جو كرد، لر، فارس، ترك اور عرب قوميتوں سے مخلوط تھے_ بعض مورخين كا عقيدہ ہے كہ يورپ ميں اخلاقى بالخصوص فرانس ميں اخلاقى تربيت اور اصلاح شواليوں كے ان ممالك ميں جانے سے ہوئي كہ انہوں نے ان ممالك ميں جوانمردى ، اصيل زادگى ( ذات كے حوالے سے نجيب ) اور شجاعت كے قانون كو رائج كيا(۳)

____________________

۱) عيارى (پہلوانى كى طرح) قديم زمانے ميں ٹريننگ اور رياضت كى بعض انواع ميں سے ايك تھى جو دوسرى صدى ہجرى كے اواخر سے اسلامى معاشرے ميں پائي جاتى ہے_ عيار اپنى زندگى ميں كچھ خاص طريقوں اور اصولوں كے پابند ہوتے تھے_ بعد ميں عيارى تصوف سے مخلوط ہوگئي_(مصحح)

۲)فتوت نامہ سلطانى ، ص ۱۷ ، ۱۸ ، مقدمہ_

۳) ہانرى كربن ، سابقہ ما خذص ۱۱۹_


ملك الشعرا بہار نے سيستان كى تاريخ پر حاشيہ ميں لكھا عرب لوگ اپنے جنگجو ، زيرك اور ہوشيار اشخاص كہ جو ہنگاموں ،شورشوں يا جنگوں ميں شجاعت اور ذھانت دكھاتے انہيں عيار كا نام ديتے تھے _ بنى عباس كے دور ميں خراسان اور بغداد ميں عيار لوگ تعداد ميں بڑھ گئے تھے_ سيستان اور نيشابور ميں خاصہ (بادشاہوں يا امراء كے اصحاب و مقربين) اور يعقوب ليث صفار اس طايفہ كے سرداروں ميں سے تھے ہر شہر ميں عياروں كے سر براہ ہوتے تھے كہ جنہيں وہ ''سرہنگ ''كہا كرتے تھے اور كبھى تو ايك شہر ميں كئي سرہنگ اور چند ہزار عيار موجود ہوتے تھے(۱)

غزنوى اور سلجوى ادوار ميں عيار لوگ شہرى معاشرے كا ايك مخصوص طبقہ ہوتے تھے كہ يہ لوگ شہروں ميں عام لوگوں كى مانند يا مشرقى مصادر كى اصطلاح ميں ''اوباش'' كى صورت ميں ہوتے تھے يہ لوگ كفار كے ساتھ جہاد كيلئے مسلح گروہ تشكيل ديتے تھے جنہيں عيار كہا جاتا تھا(۲)

عباسى خليفہ '' الناصر لدين اللہ كا جوانمردوں كے گروہ ميں شامل ہونا اور فتوت كى ''سراويل ''پہننا چھٹى صدى ہجرى كے آخرى سالوں ميں ايك بڑا واقعہ تھا كہ جو فتوت كى تاريخ كے بہت بڑے واقعات ميں شمار ہوتا تھا_ چونكہ وہ جوانمردى كے مكتب كا اسلامى معاشرے ميں نفوذسے باخبر ہوچكا تھا اس ليے اس نے اسے عباسى حكومت كے ستونوں كو مستحكم كرنے كے ليے بہت مفيد جانا تا كہ اس كے ذريعے عباسى حكومت كو زوال سے بچالے اور عباسى حكومت كى عہد رفتہ كى شان و شوكت كودوبارہ زندہ كرے(۳) ۶۵۶ قمرى ميں منگولوں كے حاكم ہلاكو خان كے بغداد پر قابض ہونے اور بغداد ميں عباسى حكومت كے ختم ہونے كے ساتھ فتوت كى فعاليت ميں جمود پيدا ہوگيا چند سال كے بعد حكومت مماليك (سفيد فام غلام جو گردونواح كے مختلف علاقوں پر فرمانروائي كرتے تھے) كى حمايت كے ساتھ مصر ميں برائے نام عباسى خلافت ظاہر ہوئي كہ جن كے ساتھ

____________________

۱)تاريخ سيستان ص ۶_ ۱۷۵_

۲)مجلہ دانشكدہ ادبيات تہران ، س ۴ ، ش ۲ دى ۱۳۲۵ ص ۸۲_

۳)كاظم كاظمينى ، عياران ص ۱۴_ ۱۳ ، حائرى كوربن ، آئين جوانمردى ص ۱۸۰ ، ۱۷۵_


فتوت بھى ظاہر ہوئے اور انكا مكتب مصر اور شام ميں رائج ہونے لگا اور يہ رواج بعد كے ادوار ميں بھى جارى رہا ليكن عراق ميں عباسى حكومت كے خاتمہ سے يہ مكتب زوال پذير ہوگيا اگر چہ اسكى جڑيں باقى رہيں(۱)

ناصر نے فتوت ناصرى كے طريقہ كو سلجوقيان كى رومى مملكت ميں رواج ديا _ عثمانيوں نے بھى طاقت اور حكومت تك پہنچے كيلئے ''اَخي'' اور اناطولى كے اہل فتوت كو پل كے طور پر استعمال كيا_

اہل فتوت كے ''اخيوں ''كا شيخ صفى الدين اردبيلى كے گرد موجود ہونا اور شاہ اسماعيل صفوى كا اپنے تركى اشعار كے ديوان ميں اپنے مددگاروں اور تابعين كيلئے عنوان ''اخى ''كا استعمال فتيان، قزلباشوں اور شيعوں كے درميان رابطے سے بڑھ كر ان لوگوں كے حكومتى انتظامى امور ميں ناقابل انكار سياسى اور معاشرتى كردار كو ظاہر كرتاہے _ خصوصاً يہ كہ وہ كسوت (صوفيا كا خاص لباس ) پوش اور پاكيزہ صوفيوں يعنى شاہ كے فدائيوں ميں سے شمار ہوتے تھے(۲)

ايرانى خاندانوں كے ايران پر حكومت كے دوران عيار لوگ كشتى كرنے والے پہلوانوں كے بھيس ميں سلاطين كے دربار ميں موجود ہوتے تھے يافوج ميں جنگجو كى صورت ميں اپنے وطن كى خدمت ميں مشغول تھے_ اور جب غير ايران پر قابض ہوئے تو يہ عيارى شكل و شمائل ميں انكے ساتھ جہاد كرتے جيسا كہ منگولوں كے تسلط كے آخرى دور ميں عياروں كى جماعت نے عبد الرزاق بن خواجہ شہاب الدين بيہقى كى سربراہى ميں قيام كيا اور سربداران كى تحريك كو وجودميں لائے_ يہ لوگ اپنے آپ كو شيعوں اور حضرت على (ع) كے جانثاروں ميں شمار كرتے تھے اور فتيان كے مكتب پر عياروں كى ماند عمل پيرا ہوكر لڑتے تھے_

مشہور ہے كہ چنگيز خان نے كسى كو سلسلہ كبرويہ كے چھٹى اور ساتويں صدى كے مشہور عارف اور بزرگ صوفى شيخ نجم الدين كبرى كے پاس (اس پيغام كے ساتھ) بھيجا كہ : '' ميں نے حكم دياہے كہ خوارزم ميں قتل

____________________

۱)جواد مصطفي، مقدمة الفتوة ، تاليف ، ابن عمار حنفى بغدادي، ہانرى كوربن، سابقہ ما خذص ۱۸۳_

۲)عباس اقبال آشتياني،فتوت و خلافت عباسي، محلہ شرق، دورہ يكم ، ش خرداد ۱۳۱۰ ص ۱۰۵ ،۱۰۱_

۳)صالح بن جناح، كتاب الاب والمروة ص ۹ _ ۷۹_


عام كيا جائے آپ وہاں سے باہر آجائيں تا كہ قتل نہ ہوں ، تو شيخ نے جواب ديا ''ميں خوشحالى كے اسى سالوں ميں خوارزميوں كے ساتھ تھا اور سخت حالات ميں ان سے دور ہونا بے مروتى ہے ''وہ ۶۱۸ قمرى ميں خوارزم ميں شہيد ہوئے اپنے زمانہ كے بڑے عياروں اور صوفيوں ميں سے تھے اور انكا منگولوں كے ساتھ مقابلہ بہت معروف ہوا(۱)

ساتويں سے نويں صدى تك چنگيز اور تيمور كى اولاد ايران پر قابض تھى تو عيارى كى عربوں كے تسلط كے دور كى مانند شہرت اور طاقت تھى ہر جگہ عياروں كى غير ايرانى حاكموں كے ساتھ جنگ كا تذكرہ تھا(۲)

بلا شبہ ايران ميں اسلامى تصوف كے رواج كے بعد ورزش اور پہلوانى بھى تصوف كے ساتھ مخلوط ہوگئي چونكہ اكھاڑوں كى صوفيوں كى خانقاہوں سے بہت زيادہ مشابہت ہے لہذا اہل ورزش كے بہت سے آداب اور القاب بھى صوفى مسلك لوگوں كے آداب و سلوك كى مانند ہيں مثلا صوفيوں كے رقص سماع ميں ''قول'' نامى اشعار پڑھا جانا يااكھاڑوں ميں كشتى كرنا اور اپنے گرد گھومنا كہ اس وقت ''گل كشتى ''يا ''گل چراغ '' اشعار پڑھے جاتے ہيں پٹھے يا شاگرد كا اپنے استاد پہلوان سے اور پير و مريد كا باہمى تعلق اكھاڑوں ميں اخوت كى بناء پر رائج ہے اسى طرح ساتويں صدى اور آٹھويں صدى ميں پہلوانوں كا ايك گروہ جو كہ اپنے زمانہ ميں بزرگ عرفاء اور صوفيوں ميں سے تھے اور ان ميں سب سے بڑے ''پوريا ولى ''ہيں بقول كسى كے اكھاڑوں كى خاك كو چومنا انہى كى سنت چلى آرہى ہے(۳)

پہلوان محمود خوارزمى المعروف پوريا ولى ايران كے مشہورترين پہلوان ہونے كے ساتھ ساتھ بڑے شاعر اور پاكيزہ قلب والے عارف بھى تھے امكان ہے كہ وہ ۶۵۳ قمرى ميں گنج خوارزم ميں پيدا ہوئے پوريا

____________________

۱)حمد اللہ مستوفي، تاريخ گزيدہ ص ۷۸۹ _

۲)كاظم كاظميني، سابقہ ما خذص ۱۴، ۱۳_

۳)پرتو بيضائي كاشاني، تاثير آيين جوانمردى در ورزش ہاى باستانى ، تاريخ ورزش باستانى ايران (زورخانہ) تہران ص ۳۵۲_۱۴۲_


نے ۷۰۳ قمرى ميں كنز الحقائق مثنوى لكھى كہ جو اپنى جگہ بے نظير ہے _

يقينى بات يہى ہے كہ ساتويں صدى كے دوسرے نصف سے عباسى حكومت كے ختم ہونے كے ساتھ ہى فتوت بھى ايك سياسى اور معاشرتى انجمن كى حالت سے باہر آگئي اور يہ مسلك ايك پيشہ ورانہ مكتب كى شكل ميں ظاہر ہوا(۱) بہت سے بزرگان اسلام كہ جنہوں نے تصوف ميں فارسى اور عربى نظم و نثر كے حوالے سے كتابيں لكھيں انہوں نے فتوت ميں نثر لكھنے كےساتھ نظم بھى كہى كہ غالباً ان كتابوں كو '' فتوت نامہ'' كہا جاتا تھا_ آٹھويں صدى كے بعد بالخصوص عصر حاضر تك جوانمردى اورفتوت كى رسم تصوف كے ساتھ ساتھ سرزمين ايران ميں رائج تھى اور عوامى طبقات ميں باہمى روابط كو باقى ركھنے كے ساتھ انكے ظالموں اور اغيار كے مدمقابل قيام ميں اہم ترين ذريعہ رہى(۲) _

____________________

۱) ہانرى كوربن، سابقہ حوالہ ، باب دوم ، محمد جعفر محبوب ، سيرى در تاريخ فتوت ، ص ۱۸۴_

۲) عباس اقبال آشتيانى ، سابقہ ما خذحوالہ ص ۳۵۲ _ ۳۲۹_


چوتھا باب:

اسلامى تہذيب ميں انتظامي اور اجتماعى ادارے


۱) ديوان

يہ واضح سى بات ہے كہ فتوحات كے دور كے بعد وسيع و عريض اسلامى سرزمين ايك وسيع ، پيچيدہ دقيق اور نگہبان دفترى نظام كى محتاج تھى _ يہ ادارتى نظام انتہائي توجہ كےساتھ اس سرزمين كى درآمدت كو كنٹرول كرتا اور انكا دقيق حساب و كتاب كرتا بالخصوص وہ جو بيت المال سے ہميشہ اپنا خرچ ليتے ان ميں دقت كےساتھ مال تقسيم كرتا_ اسى طرح اسلامى سرزمين كے گردو نواح ميں جو فوجى دستے بھيجے جاتے انكى نگرانى كرتا اوروہ سپاہى جو اسلامى سرزمين كى سرحدوں پر نگہبانى كى ڈيوٹى دے رہے ہيں انكى ضروريات اور خرچ كو مخصوص وقفوں كے ساتھ بھيجتا اسى طرح كہ اسلامى سرزمينوں كے اندر بھى لوگوں كى زندگى پر نظارت كى جاتى _ شعبہ عدليہ لوگوں كے مسائل اور جھگڑے نمٹاتا اسى طرح دسيوں ديگر ذمہ دارياں تھيں كہ جنہيں يہ اسلامى سلطنت كے شعبہ جات نمٹاتے_

دوسرى طرف سے اسلامى مملكت كے اس پيچيدہ نظام كى تشكيل كيلئے مضبوط بنياد كى ضرورت تھى كہ معلوم ہونا چاہيے كہ اس تمام سرزمين كى كل درآمد (اگر چہ اندازہ كے طور پر ہى )كتنى ہے اور يہ مقدار كس قدر زمين سے كس قسم كے ٹيكس كے ساتھ اور كس وقت اكٹھى كى جاسكتى ہے _اسى طرح رقم اور سكّے كہ جو اس سرزمين ميں رائج تھے اسطرح بنائے جائيں كہ اس مملكت كى تمام وسيع حدود ميں لوگ ان سے فائدہ اٹھاسكيں _ راستے تلاش كرنے كے بعد بنائے جاتے اور پل تعمير كيے جاتے تا كہ خلافت كے مركز سے جو احكامات صادر ہوں وہ سرعت كےساتھ اپنے مقصد تك پہنچيں _

فتوحات كے دور كے بعد اسلامى سرزمينوں پر جب كسى حد تك امن و سكون كى فضا چھائي تو خلفاء نے ادارى نظام اور شعبہ جات كى تشكيل كيلئے قدم اٹھائے اسطرح كے بہت سے كام دوسرے خليفہ نے بالخصوص حضرت على (ع) كى راہنمايى ميں انجام ديے_ ان ميں سے كچھ مندرجہ ذيل ہيں :

۱_ اسلامى سرزمين كو حكومتى اور سياسى طور پر چھوٹے چھوٹے ٹكڑوں ميں تقسيم كرنا اور ہر ايك كيلئے گورنر


كا انتخاب كرنا

۲_اسلامى سرزمين كى پيمائشے بالخصوص زرخيز علاقوں كى سالانہ درآمد كا اندازہ لگانے كيلئے پيمائشے اورتخمينہ۳_ زراعتى زمينوں سے بہرہ مند ہونے كيلئے جديد جنترى بنانا ۴_ پيمانوں كى پيمايش ، وزن حجم اور فاصلے كى اكائيوں كو يكسان كرنا ۵_ سكوں كو يكسان بنانا ،مالى منفعت كے حامل سرٹيفكيٹس كو رائج كرنا اور اس قبيل كے ديگر كام(۱)

فتوحات كے بعد كے سالوں ميں اسلامى ممالك ميں بڑے بڑے شہر عرصہ وجود ميں آئے يہ شہر يا تو انہى شہروں كا پھيلاؤ تھا كہ جو اسلام سے پہلے موجود تھے يا مكمل طور پر اسلام كے بعد تشكيل پائے_ بڑے بڑے شہروں ميں لوگ مجبور تھے كہ ان قوانين كے تحت زندگى گزاريں كہ جو اس دور كى حكومت بناتى تا كہ سب لوگ آرام و سكون سے زندگى گزار سكيں كوئي كسى كے حق پر تجاوز نہ كرسكے_ بہر حال ان بڑے شہروں كے وجود ميں آنے سے ديوانات اور مختلف محكمہ جات كى ضرورت اسلامى تمدن ميں ناگزير تھي_

ديوان خراج يا استيفائ:

اسلام ميں جو سب سے پہلا اور اہم ترين ديوان تشكيل پايا اسكا نام ديوان خراج يا ديوان استيفاء تھا_ اس ديوان كى ذمہ دارى يہ تھى كہ وہ اسلامى سرزمينوں كے ايك بڑے حصے كى مالى امور ميں سرپرستى كرے _ اس ديوان ميں اسلامى سرزمينوں كے اموال و متاع كى فہرست بنا ئي جاتى تھى اس ديوان كے كاموں كى تفضيل يہ ہے كہ : ان سرزمينوں سے خراج اكھٹا كرنے كا طريقہ ، پھر انہيں مركز خلافت كے حوالے كرنا ، انكا مسلمانوں كے درميان تقسيم كا طريقہ اور خراج وصول كرنے كيلئے مسلمانوں ميں عہدوں كى درجہ بندى و غيرہ _

جوں جوں اسلامى سرزمين وسعت پاتى گئي اور ساتھ ساتھ مسلمان بھى ديگر اقتصادى روشوں اور طريقہ كاروں سے آشنا ہوتے گئے مثلا زمين سے بہرہ مند ہونے كى مختلف روشيں و غيرہ تو ديوان خراج كى ذمہ داريوں اور سرپرستى كادائرہ بھى بڑھنے اور پيچيدہ ہونے لگا ايك دورانيے ( term )ميں اسلامى سلطنت كي

____________________

۱)اس حوالے سے ديگر اقدامات كو جاننے كيلئے رجوع فرمائيں : محمد بن واضح يعقوبى ، تاريخ يعقوبى ، ترجمہ ، عبدالمحمد آيتى ، تہران ج ۲،ص ۵۴ _۴۰_


درآمدات كاحساب و كتاب ، مال و متاع كو اكھٹا كرنا اور انہيں ترتيب دينا پھر انكے خرچ پر نگراني، ملك كى ممتاز شخصيات بالخصوص سلاطين اور حكام كے اموال كى فہرست بنانا اور ملك كے مختلف علاقوں ميں ماليات كو جمع كرنے كيلئے لوگوں كو بھيجنا و غيرہ يہ سب ديوان خراج كى ذمہ دارياں شمار ہوتى تھي_

يہ ديوان خراج يا استيفاء ايران سے ليكر ہسپانيہ تك اسلامى سرزمينوں كے مختلف حصوں ميں موجود ہوتے تھے اس ديوان كے سرپرست كا نام مستوفى ، مستوفى خاصہ يا مستوفى الممالك ہوتا تھا_ ايران ميں بارہويں صدى تك يعنى ايرانيوں كے جديد مغربى كلچر سے آشنائي ہونے اور اہل مغرب كى تقليد ميں ملك كے نظام كو تبديل كرنے تك يہ ادارہ موجود تھا اور اپنا كام كررہا تھا(۱)

ديوان بريد(ڈاك اور خبر رسانى كا نظام):

معلوم يہ ہوتاہے مسلمانوں نے ديوان بريد كے نظام كو ايرانيوں يا روميوں سے سيكھا ہوگا،اسلامى دور ميں اس ديوان كى ذمہ دارياں بہت زيادہ اور اہم شمار ہوتى تھيں اس ديوان كى ذمہ داريوں ميں سے بعض مثلاخبريں پہچانا، حكومتى احكام منتقل كرنا اور اسلامى سرزمينوں كے گرد و نواح كى اطلاعات مركز خلافت تك پہچانا و غيرہ تھيں _

وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ اس ديوان كى ذمہ دارياں بڑھتى گئيں يہاں تك كہ يہ ديوان اسلامى سرزمينوں ميں امن و امان قائم ركھنے كيلئے ايك اہم شعبہ كى شكل اختيار كرگيا_ چونكہ ان سرزمينوں كے گرد و نواح كے حادثات اور واقعات سے باخبر ہونا انتہائي اہم موضوع تھا اسى ليے وقت گذرنے كے ساتھ مختلف علاقوں سے جاسوسى كى ذمہ دارى بھى اس ديوان كے سپرد كى گئي _ اسى ليے يہ ديوان اسلامى سلطنت كے اہم ستونوں ميں شمار ہونے لگا كہ جنكا كام مملكت اسلامى كى نگہبانى تھا_ اس ديوان كا سربراہ خلافت كى بقاء كے ضامن چار اركان ميں سے ايك ركن شمار ہونے لگا _

اسلامى خلافت نے خبروں كے نظام ميں سرعت پيدا كرنے كيلئے اور دوردراز علاقوں كى اطلاعات اور

____________________

۱)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۸ ، ذيل ، استيفاء ( سيد على آل داؤد)_


واقعات سے جلد آگاہ ہونے كيلئے وسيع پيمانے پر راستوں اور كاروانسراؤں كا جال بچھايا _ كہ ان تمام كاروانسراؤں ميں كچھ برق رفتار ، آمادہ اور تيار گھوڑے موجود ہوتے تھے كہ جيسے ہى دور كے سفر سے كوئي ڈاكيا پہنچتا فوراً اسكا تھكا ماندہ گھوڑا تازہ دم گھوڑے سے تبديل ہوتا اور قاصد بغير وقفے كے اپنا سفر جارى ركھتا_ يہ ڈاكيے عام انسان كى نسبت زيادہ تحمل و مشقت كے ساتھ بغير كسى آرام اور وقفہ كے سفر جارى ركھتے تھے (۱)

ديوان انشاء :

يہ ديوان اسلامى مملكت كى مختلف سرزمينوں ميں '' ديوان رسائل '' اور ديوان ترسل'' كے نام سے بھى معنون كيا جاتاتھا اس كى اہم ترين ذمہ دارى حكومتى خطوط بالخصوص خليفہ كے فرامين كو ترتيب دينا اور انہيں عالم اسلام كے تمام نقاط تك بھيجنا تھى _ليكن وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ اس ادارہ كى ذمہ دارياں بھى بڑھتى چلى گئيں _ تاريخى اعتبار سے ايسا معلوم ہوتاہے كہ يہ وہ پہلا ديوان ہے كہ جو صدر اسلام ميں خود پيامبر اكرم(ص) كى حيات ميں تشكيل پايا تھا _آنحضرت(ص) كا عرب سرزمينوں كے ہمسايہ اور بڑى بڑى تہذيبوں كے حامل ممالك كے حاكموں اور بڑى شخصيات كو خط لكھنے كيلئے ايك شعبہ بنانا اس قسم كے ديوان كيلئے ايك نمونہ تھا اور ساتھ ہى ان لوگوں كيلئے دليل اور تاييد تھى جو اس شعبہ كو اسلام كا سب سے پہلا ديوان جانتے ہيں(۲)

ديوان جيش:

يہ ديوان كے جسے ''ديوان جند'' كا بھى نام ديا گيا دوسرے خليفہ كے دور ميں تشكيل پايا_ اس ديوان كا اپنى تشكيل كے ابتدائي ايام ميں كام يہ تھا كہ وہ افراد جو كہ صدر اسلام كى جنگوں ميں شركت كيا كرتے تھے انكى فہرست تيار كرنا تا كہ درست ريكارڈ ہونے كى صورت ميں مسلمانوں كے بيت المال كوچيك كرتے ہوئے ہر ايك كے حصہ كى مقدار واضح كى جائے _ اس فہرست كے تيار ہونے كے دوران لوگوں كا پيغمبر اكرم (ص) سے قرب كو معيار بنايا جاتا تھا وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ اس ديوان كى ذمہ دارياں بھى بڑھ گئيں مثلا مسلمانوں

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام ج ۳ ذيل بريد (بہمن سركاراتى ، نوراللہ كسايى و ناديا برگ نيسي) _

۲)قلقشندى ، صحيح الاعشى فى صناعة الانشاء ج۱ ، ص ۹۲_


كے لشكر كے حوالے سے امور كى سرپرستى ، جنگجو لوگوں كى تعداد معين ہونا ، شہيد اور زخمى ہونے والے حضرات كى فہرست بننا، اور ہر جنگجو كو اسكا حصہ يا تنخواہ ادا كرنا و غيرہ اس ديوان كى ذمہ داريوں ميں سے شمار ہوتى تھيں _ اس ديوان كے سرپرست كو '' ناظر الجيش'' كہا جاتا تھا_

ديوان بيت المال:

يہ ديوان شروع ميں ايك خاص جگہ كو كہا جاتا تھا كہ جس ميں جز يہ اور خراج و غيرہ سے منتقل ہونے والے مال كو ركھا جاتا تھا تاكہ مسلمانوں ميں تقسيم كيا جائے حضرت عمر كى خلافت كے دوران مسجد النبى كا كچھ حصہ بيت المال كى حفاظت كيلئے انتخاب ہوا اور لوگ اسكى حفاظت كيلئے مقرر كيے گئے وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ يہ شعبہ اسلامى حكومت كے مالى شعبوں ميں سے ايك اہم ترين شعبہ كى حيثيت اختيار كرگيا _ اور خاص افراد اسكى سرپرستى كيلئے مقرر ہوتے تھے بيت المال كى درآمد اور مصارف معين ہوتے تھے مثلا ايك كلى تقسيم كے مطابق اسكى درآمد تين اقسام في، غنيمت اور صدقہ ميں تقسيم ہوتى تھى _ لوگوں كى ضروريات پورى كرنا اور انكى سطح زندگى كو بڑھانا و غيرہ اسكے مصارف شمار ہوتے تھے بعد كے ادوار ميں بيت المال اسلام كے مجاہدين كى تنخواہوں كو ادا كرنا انكے كيلئے اسلحہ مہيا كرنا ، مسلمان فقراء كى ضروريات پورى كرنا اور مسلمان اسيروں كو آزاد كروانا و غيرہ كا كام كرتا تھا(۱)

واضح سى بات ہے كہ ان چند ديوان يا دفاتر كےساتھ تمام اسلامى سرزمينوں كے نظام كو چلانا ممكن نہ تھا _ لہذا ان اہم ديوان يا دفاتر كے علاوہ چھوٹے كاموں كيلئے ان تمام سرزمينوں ميں متعدد اقسام كے ديوا ن موجود تھے كہ ان ميں سے چند مندرجہ ذيل ہيں :

ديوان نفقات:

اس ديوان كے ذمے حكومتى ملازموں ا ور اپنے ماتحت چھوٹے ديوانات كے مالى معاملات اور اخراجات كو نمٹاناتھا_

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۴ '' ذيل '' بيت المال (محمد كاظم رحمان ستايش)_


ديوان اقطاع :

وہ زرخيز زرعى زمينيں جو كہ مركز خلافت سے زراعت كيلئے لوگوں كے سپرد كى جاتى تھيں انكى آمدنى كا حساب و كتاب اور ان پر نگرانى اس ديوان كے ذمہ تھى _

ديوان عرض:

يہ ديوان سپاہيوں كے امور كے متعلق تھا اسميں انكے ناموں كى فہرستيں تيار ہوتى تھى تا كہ بوقت ضرورت انكے بارے ميں معلوم كياجاسكے_

ديوان العمائر يا ديوا ن الابنية المعمورة:

اس ديوان كى ذمہ دارى يہ تھى كہ عمارتوں كى عمر كے حوالے سے تحقيق كرے اور انہيں تعمير كروائے اسى طرح شہرى عمارتوں كى ہميشہ ديكھ بھال كرتا رہے_

ديوان مظالم :

يہ ديوان بھى اپنے مقام پر اسلامى سرزمينوں كے اہم دواوين ميں شمار ہوتا تھا اسكا كام لوگوں كى شكايا ت اور درخواستوں كے مطابق انہيں انصاف مہيا كرنا تھا بالفا ظ ديگر آج كے عدالتى اداروں كى مانند يہ كا م كرتا تھا اس ديوا ن كے منتظم كو قاضى كہا جاتا تھا اور سب سے بڑے عہدے پر فائز شخص قاضى القضات كہلا تا تھا_

۲ ) خراج

خراج ہميشہ سے اسلامى سرزمينوں ميں اسلامى خلافت كيلئے مالى درآمد كا ايك اہم ترين منبع شمار ہوتا تھا _ چونكہ بہت سے جديد شہر تشكيل پاچكے تھے، اسلامى سرزمين كى سرحدوں كى حفاظت امن و امان كے ليے ضرورى ہوچكى تھى سپاہيوں كى اجرت اور اسلامى خلافت كے ديگر اخراجات نے حكومت كو نظام چلانے كيلئے مالى درآمد كے منابع كى نئي نئي صورتوں سامنے لانے پر مجبور كرديا تھا_

فتوحات كے دور سے قبل جزيرہ عرب ميں حكومت كيلئے جنوبى علاقوں اور يمن كى زراعت سے ہٹ كر اہم ترين مالى درامد اور ثروت كا منبع تجارت اور تجارتى كاروانوں سے ٹيكس وصول كرنے كى صورت ميں تھا قدرتى


سى بات تھى كہ اسلامى سرزمينوں كے اخراجات اب فقط تجارتوں قافلوں اور كاروانوں كے ٹيكس سے پورے نہيں ہورہے تھے اسى ليے مسلمان خلفاء نے ثروت جمع كرنے كے ليے مختلف روشوں كو جانچا اور ان سب ميں اہم ترين خراج مقرر كرنا تھا_ معلوم يہ ہوتاہے كہ صدر اسلام كے مسلمانوں نے خراج جمع كرنے كى روش اور زراعتى زمينوں سے ٹيكس وصول كرنا ايرانيوں سے سيكھا ہوگا كيونكہ ہميں ايران ميں اسلام كے آنے سے قبل خراج كے حوالے سے معلومات ملتى ہيں بہر حال ايران كے فتح ہونے سے قبل جزيرہ عرب ميں زرعى زمينوں اور باغوں سے ٹيكس مثلا فدك كى زمينوں سے ٹيكس و غيرہ مقاسمہ(۱) كى صورت ميں تھا نہ كہ خراج كى شكل ميں _ دوسرى طرف اہم ترين مسئلہ يہ تھاكہ كس طرح ايران اور ديگر علاقوں كى مفتوحہ زمينوں سے خراج وصول كيا جائے اور ان زمينوں سے ٹيكس وصول كرنے كى شرعى نوعيت كيا ہے ؟ صدر اسلام كے بعض فقہاء كى نظر كے مطابق كہ جن زمينوں كو مسلمانوں نے جنگ كے ذريعے فتح كيا تھا وہ غنيمت شمار ہوتى تھيں لہذا ضرورى تھا انكو لشكر والوں كے درميان تقسيم كرديا جاتا ليكن يہ چيز بذات خود بہت سى مشكلات كا باعث تھى ايك يہ ہے كہ اس طرح يہ زرخيز زمينيں بہت چھوٹے حصوں ميں تقسيم ہوجاتيں اور اس سے آمدن كى شرح گر جاتى دوسرا يہ كہ مفتوح ممالك ميں موجود مسلمان سپاہى زمين كے مسائل اور كاشت كارى كيلئے ضرورى تجربہ بھى نہ ركھتے تھے اور اگر يہ كام كرنے پر بھى قادر ہوتے تو اس وجہ سے فوجى امور نمٹانے اور اسلامى لشكر كى ہمراہى سے محروم ہوجاتے تھے_

اسى وجہ سے مركز خلافت ميں متعدد نشستيں ہوئيں اور آخر كار يہ طے ہوا كہ مفتوحہ ممالك كى سرزمينيں انہى لوگوں كے اختيار ميں دى جائيں جو پہلے سے ان پر كام كرتے تھے اسكے عوض ميں ان سے سالانہ ايك معين مقدار ميں مبلغ بہ عنوان زرعى ٹيكس يا خراج وصول كيا جائے لہذا ہر دس ہزار مربع ميٹر كے عوض معين خراج طے كيا گيا _ البتہ يہاں بذات خود پہلے زمينوں كے زرخيز ہونے نہ ہونے ، آب ہوا كے مناسب ہونے يانہ ہونے اور جو فصليں ان ميں كاشت ہوئي تھيں انكے حوالے سے ايك تقسيم كى گئي تھي(۱)

ليكن وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ خراج اكھٹا كرنے كے طريقہ كار ميں نقائص پيدا ہوئے ان ميں سے

____________________

۱) مقاسمہ : محصولات كے ايك حصے كو متعين كرنے كے بعد اس پر ٹيكس مقرر كرنا(مصحح)_

۲) ابويوسف ، كتاب الخراج جو كہ موسوعة الخراج ميں مذكور ہے بيروت ص ۴۱، ۲۰_


ايك مستقل خراج جمع كرنے كا وقت تھا ، اكثر و بيشتر ايسا ہوتا تھا كہ قمرى جنترى كى بناء پر خراج وصول كرنے كا وقت فصلوں كى كٹائي و غيرہ سے پہلے آجاتا تھا اس بات نے كسانوں كو كافى شكايت ميں ڈال ديا اس مشكل كو دوركرنے كيلئے اسلامى خلافت نے خراج كى جمع آورى كيلئے ايسا نظام بناياكہ اسكى رو سے فقط كٹائي كے موقع پرخراج ديا جاتا تھا(۱)

وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ خراج جمع كرنے كى صورت پہلے وقتوں كى سادہ شكل و صورت كھو بيٹھى بلكہ بہت سے پيچيدہ نظاموں كى طرف حركت كرنے لگى چوتھى صدى ہجرى كے بعد ہم ٹيكس اور مالى امور كے بہت سے نظاموں كامشاہدہ كرتے ہيں كہ جنكى بناء يہ آہستہ آہستہ خراج كا ٹيكس ملا نظام توجہ كھوبيٹھا ان نظاموں ميں مثلا نظام اقطاع اور سيور غال كا نام ليا جاسكتاہے كہ جو منگولوں كے تسلط كے بعد اسلامى سرزمينوں ميں بہت شدت سے اجراء ہوئے(۲)

۳)حسبہ(احتساب كا نظام)

معلوم يہ ہوتا ہے مسلمانوں نے معاشرہ ميں لوگوں كے كاموں بالخصوص بازار ميں مختلف تجارتى اجناس كے حامل لوگوں پر نگرانى كيلئے جو نظام وضع كيااس حوالے سے اپنے ہمسايوں بالخصوص مشرقى روم سے سيكھاہوگا_

البتہ اس بات كو تسليم كرنا چاہيے كہ وہ امور جو مسلمان دوسروں سے نہيں سيكھ سكتے تھے وہاں فقہى امور اور دينى تحقيقات نے اس جديد نظام كو ايجاد كرنے ميں مدد دى _ اسى طرح محتسب كے عہدہ پر فائز ہونے يعنى امور كو اجرا ء كرنے كے نظام پر آنے كيلئے خاص شرائط وضع ہوئيں البتہ ان شرائط كى تشريح كيلئے شيعہ و سنى علماء ميں عميق و دقيق مباحث بھى ہوئيں مجموعى طور پر ان شرائط كو تين اقسام ميں تقسيم كيا جاسكتاہے :۱_ عادل ہونا ۲_ درجہ اجتہاد پر فائز ہونا ۳_ مرد ہونا(۳)

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام ج ۷ ذيل تقويم ( فريد قاسملو)_

۲)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۹ ذيل '' اقطاع'' (سيد صادق سجادي)_

۳) محمد حسين ساكت، نہاد داورى در اسلام، مشہد، ص ۲۱ بہ بعد_


علمى نگاہ اور معاشرہ ميں محتسب كى ذمہ داريوں كى اہميت كے پيش نظر ان ذمہ داريوں كو بطور كلى درج ذيل اقسام ميں تقسيم كرسكتے ہيں : (۱) بازار اور پيشہ ورانہ كاموں پرنگرانى (۲) معاشرہ كے عمومى رويوں پر نگرانى (۳) قيمتوں اورناپ تول پر نگرانى (۴) لوگوں كى عبادتوں كے طور طريقہ پر نگرانى (۵) راستوں اور عمارتوں پر نگرانى (۶) محدود قضاوت كے متعلقہ مسائل مثلا كم فروشى اور خريد و فروخت ميں مكر وفريب پر نگرانى (۷) مختلف ديگر ذمہ دارياں(۱)

ايك نگرانى كرنے والے شعبہ كى حيثيت سے حسبہ كا مسئلہ انتہائي نازك اور حساس تھا حسبہ كى لوگوں كے درميان اہميت اور لوگوں كے امور ميں اسكا نگرانى كرنے والے ادارے كے عنوان سے كام بتاتاہے كہ يہ فقط نگرانى كرنے والا ادارہ تھا ليكن اسلامى قوانين كااجراء اسكے اختيار ميں نہ تھا محتسب فقط نگرانى كرتا تھا ايسا نہيں تھا كہ وہ كسى مجرم كو سزا دے بلكہ يہ كام عدالتى اور فوجدارى اداروں مثلا ادارہ قضاوت مظالم، شرطہ اور نقابت كے ذمہ تھے اور يہ ادارے اپنے اختيارات كى حدود ميں رہتے ہوئے كام كرتے اور مجرموں كو انكے اعمال كى سزا ديتے(۲)

تاريخى اعتبار سے ہم قرون اوليہ ميں عالم اسلام كے تمام بڑے شہروں اور سرزمينوں ميں اس ادارے كے قيام كا مشاہدہ كرتے ہيں ايسے افراد جو حسبہ كى ذمہ دارى ادا كرتے تھے وہ محتسب يا ولى حسبہ كہلاتے تھے_ ايران ميں چھٹى صدى ہجرى كے بعد سے محتسب كا تقرر سلطان يا حاكم كى ايك اہم ترين ذمہ دارى شمار ہوتى تھى _ وزراء اور كاتبين ايسے افراد كے انتخاب كے حوالے سے سلطان كو مشورہ ديا كرتے تھے_ مصر ، خلافت عثمانيہ ، اندلس اور ہندستان (مغليہ دور ميں ) ميں بھى ادارہ حسبہ اور محتسب موجود تھے ، مصر ميں فاطمى خلفا كے دور ميں محتسبين كے اختيارات بہت وسيع تھے يہانتك كہ وہ فاطمى سلطان كے امور كى نگرانى كرنے كا اختيار

____________________

۱)سيف اللہ صرامى ، حسبہ يك نہاد حكومتى ، قم ص ۱۰ سے بعد_

۲)محتسب كى ذمہ داريوں كے حوالے سے بيشتر معلومات كيلئے رجوع فرمائيں : محمد بن احمد قريشي، آئين شہرداري، چاپ و ترجمہ جعفر شعار، تہران، مقدمہ ص ۵_۴ متن ص ۱۰ كے بعد_


ھى ركھتے تھے_ عثمانى دور ميں حسبہ ادارہ خاصے دقيق اور پيچيدہ سسٹم كا حامل تھا اس منصب پر فائز افراد محتسب يا احتساب آغاسى كہلاتے تھے _عثمانيہ دور ميں محتسب كى ايك ذمہ دارى احتساب كے ساتھ ساتھ ٹيكس وصول كرنا بھى تھا _

ہند ميں مغليہ دور سے حسبہ اور ديگر نگرانى والے اداروں كا قيام عمل ميں آيا تو اس سرزمين كے مسلمان حاكم كى ان اداروں كے امور كى رعايت كرنے يا نہ كرنے سے يہ ادارے كبھى قوت اور كبھى ضعف كا شكار رہتے كبھى تو محتسب كى شان اسقدر بڑھتى كہ سلطان بذات خود محتسب كے امور انجام ديتا اور كبھى يہ امور عدم توجہ كى بناء پر گوشہ گمنامى كى نذر ہوجاتے _ ليكن يہ نگرانى كرنے والے ادارے، ہميشہ ہندوستان كے مسلمانوں كى حكومت ميں موجود رہے ان سرزمينوں كے علاوہ شمالى افريقا، الجزاير، تونس اور مغرب ميں بھى نگرانى كرنے والے اداروں اور ادارہ حسبہ كے موجود ہونے كى معلومات ملتى ہيں _

حسبہ كے حوالے سے مختلف فقہى اور اصولى مباحث مسلمان فقہاء ميں خاص ادب كے پيدا ہونے كا باعث بنيں _ اس ادب ميں وہ تمام كتابيں اورآثار شامل ہيں كہ جو حسبہ كے بارے ميں لكھے گئے اور ان ميں حسبہ كے فقہى اور اصولى بحث انجام پائي ان آثار كو دو اقسام ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے : ايك قسم ايسے آثار كى ہے كہ جن ميں عمومى طور پر اسلامى سرزمينوں ميں مختلف امور كے نظاموں پر بحث ہوئي اور ساتھ كچھ حصہ حسبہ كے حوالے سے بھى خاص كيا گيا جبكہ دوسرى قسم ايسى كتابوں پر مشتمل ہے كہ جو فقط حسبہ كے حوالے سے لكھى گئيں _ پہلى قسم كى كتابوں ميں سے ''ماوردي'' كى تاليف ''احكام السلطاية'' اور غزالى كى تاليف احياء علوم الدين قابل ذكر ہيں اور دوسرى قسم كى كتابوں ميں عبدالرحمان شيزرى كى كتاب محاكم القربة فى احكام الحسبة اور ابن تيميہ كى كتاب الحسبة فى الاسلام كا نام ليا جاسكتاہے(۱)

____________________

۱)دراسات فى الحسبة والمحتسب عند العرب ، بغاد، كتاب كى مختلف جگہوں سے اقتباس_


پانچواں باب :

اسلامى تہذيب و تمدن ميں فن و ہنر


۱_ فن معمارى ، مصورى ، خطاطى اور ظروف سازى كى صنعتيں

واضح سى بات ہے كہ دنيائے عالم كى اقوام اور ملتيں فنون سے آشنائي اور اس سے بہرہ مند ہونے كے حوالے تقدم اور تاخر كا رتبہ ركھتى ہيں ايرانى اور رومى لوگ ظہور اسلام سے صديوں قبل فنون سے آشنا ہوچكے تھے اسى ليے ظہور اسلام كے دور ميں يہ دونوں قوميں ان فنون ميں چند صديوں پر محيط تاريخى ميراث كى حامل تھيں _

جزيرہ عرب ميں اسلام سے قبل مختلف فنون كے حوالے سے كوئي خاص كام نہ ہوا تھا سوائے عربى خط كے يہ خط بذات خود بہت سى فنى خوبصورتيوں كو اپنے دامن ميں سميٹنے كيلئے تيار تھا اور تيسرى صدى سے نويں صدى تك يہ ان سب محاسن كامرقع بن گياتھا_(۱)

عربوں ميں بہت زيادہ اہميت كا حامل فن ،شعر اور قصيدہ گوئي كا فن تھا كہ اسلامى فتوحات نے ايكدم ان خيمہ نشين لوگوں پر ايرانيوں كے با شكوہ محلات اور يونانيوں اور روميوں كے معابد اور كليساؤں كے دروازے كھول ديے، اسى ليے آج ايرانى ، يونانى ، مصرى اور شامى فنون كا امتزاج اسلامى حكومت كے پرچم تلے مختلف طريقوں اور روشوں كى صورت ميں جلوہ افروز ہے جسے اسلامى آرٹ كہتے ہيں _(۲)

پہلى صدى ہجرى كے اختتام سے اسلامى حكمرانوں نے مفتوحہ سرزمينوں ميں عظيم الشان مساجد اور محلات

____________________

۱)ہارسٹ ولادى مير جانسن، تاريخ ہنر ، ترجمہ پرويز مرزبان ، تہران ، علمى فرہنگى ، ۱۳۵۹، ص ۲_۱۹۱_

۲) كريسٹين پرايس ،تاريخ ہنر اسلامى ، ترجمہ مسعود رجب نيا ، تہران ، علمى و فرہنگى ، ۱۳۶۴، ص ۹_


كى تعمير كا كام شروع كيا اور كوشش كى كہ قبل از اسلام كى عمارتوں سے بڑھ كر عظيم الشان اور باشكوہ آثار تخليق ہوں _ ليكن دوسرى صدى ہجرى كے آغاز سے اسلامى آرٹ ميں آہستہ آہستہ معين روايت وجود ميں آئي اور ارتقائي مراحل طے كرنے لگى ماہرين نے ايسى عمارتيں جو مرمت كى محتاج تھيں ان سے قومى اورملى خصوصيات اخذ كيں اور سب كو اسلامى فنون لطيفہ سے ہم آہنگ كيا_

اسلامى معمارى تين صورتوں يعنى مساجد ، مدارس اور مقبرے يا متبرك مقامات ميں ظاہرہوئي _ دمشق كى جامع مسجد جو كے وليد كے زمانے ميں ( ۸۷ سے ۹۶ ہجري)جيوپيٹر ( روم كے خداوں كا خدا) كے معبدكى جگہ تعمير كى گئي اسلام كے قديم ترين آثار ميں شما رہوتى ہے_(۱)

اسلامى دور كے اوائل كى ايك اور عمارت حشام بن عبدالملك ( حكومت۱۲۵ _ ۱۰۵ قمرى ) كا محل ہے كہ جو (مشتى ) ( يعنى موسم سرما كى سرائے) كہلاتا تھا _ يہ اريحا كے نزديك ميدانى علاقوں ميں تعمير ہوا اس باشكوہ محل ميں ساسانى دور كے آرٹ مثلاً پروں والے شير اور ديگر افسانوى جانوروں كا دھاتى چيزوں اوركپڑوں پر نقش ہونا ايرانى آرٹ كى واضح علامات تھيں _ عالم اسلام ميں اسلامى فنون كى زيبائيوں كا ايك اورمرقع ہسپانيہ ميں قرطبہ كى جامع مسجد ہے بلند ميناروں اور متعدد ستونوں والى يہ خوبصورت مسجد اگرچہ آج كليسا ميں تبديل ہوگئي ہے ليكن اب بھى عيسائي پاكيزگى پر اسلامى تقدس حاوى نظر آتا ہے_

قرطبہ كے نزديك عبدالرحمان سوم كيلئے تيرہ سالوں ميں ايك محل تيار ہوا كہ جو مدينة الزہرا كہلايا اگرچہ آج وہ و يرانى كا شكار ہے ليكن اسكے كچھ حصوں كى دوبارہ تعمير اور مرمت كا كام ہو رہا ہے قاہرہ بھى اسلامى فنون كى تجلى كا ايك اورمركز تھا _ البتہ دريا ئے نيل كے كنارے پر مصر كا پرانا دار الحكومت فسطاط اسى طرح مصر كى صنعتى تجارت كا مركز تھا_ مصر كے اسلامى فنون كى گفتگو فسطاط كے '' سوق القناديل'' (چراغوں كے بازار ) كے تذكرہ كے بغير نا مكمل ہے_

____________________

۱)ہارسٹ ولادى ميرجانسن_سابقہ حوالہ_


اس دور كے عالم اسلام ميں سوق القناديل فنى اور صنعتى اشياء كى خريد و فروش كے مراكز ميں سے ايك تھا_ فسطاط اور قاہرہ ميں سبز شفاف شيشے كے ظروف درخشان زمرد _ چمكدارسفيد شيشہ اور دمشق كے تانبے كے لمبے گلدانوں نے اسماعيلى داعى كى آنكھوں كو خيرہ كيا ہوا تھا_ اسى طرح ہاتھ سے بنے ہوئے كپڑوں _ لہريے داراطلسى كپڑے _ ريشمى اور سوتى كپڑے اور ان پر موتيوں كے خوبصورت كام نے ناصر خسرو كى حيرت كو دو چند كرديا تھا_(۱)

بالاخرہ سلجوقى تركوں نے حملہ كيا كہ جو ۴۶۴ قمرى ميں فلسطين تك پہنچ گئے تھے انہوں مصريوں كو فلسطين سے نكالا اور بيت المقدس پر قابض ہوگئے يہ خبر باعث بنى كہ صليبى اقوام دوبارہ بيت المقدس پر تسلط پانے كيلئے اسلامى سرزمينوں پر حملے كرنے لگے اور ان جنگوں كے نتيجے ميں اہل مشرق كى تہذيب اور فنون كے بہت سى عجائب سے يہ لوگ آشنا ہوئے(۲)

بيت المقدس كے جسميں ۶۹ قمرى ميں عبدالملك بن مروان نے مسجد اقصى كے شمالى حصہ ميں ايك باشكوہ گنبد تيار كروايا تھا ( جسے قبہ الصخرة كا نام ديا گيا) كہ جو حضرت عيسى كے مزار والے كليسا كے گنبد كے برابر تھا اس گنبد نے حملہ آور صليبيوں كو حيرت زدہ كرديا تھا_ صليبيوں كا وہ گروہ جو جنگ كے بعد اپنى سرزمينوں كى طرف لوٹايہ اسلامى فنون كا ايك خزانہ بھى ساتھ لے گيا _ اور ہنر و فنون كے آثاريورپى اہل فن اور صنعت كاروں كيلئے الہام بخش ثابت ہوئے(۳)

صلاح الدين ايوبى نے چھٹى صدى ہجرى كے آخر ميں صليبيوں كے ساتھ جنگ شروع كى اور بيت المقدس كو آزاد كروايا اسكے زمانہ ميں مسجد اقصى كى آرائشے و زيبائشے ميں اضافہ ہوا حلب ميں كاريگرى كا ايك

____________________

۱) ناصر خسرو قبادياني، سفرنامہ ، محمد دبيرستانى كى سعى سے، تہران ۱۳۷۳ ص ۸_۷۶_

۲) كريستين پرايس ، سابقہ حوالہ ، ص ۵،۴۴_

۳) سابقہ حوالہ ص ۵۰ ، ۴۸


نمونہ بيرى كى لكڑى سے بنا ہوا منبر لايا گيا اور مسجد ميں ايك اور محراب بنايا گيا اور گنبد كا زريں غلاف از سر نو بنايا گيا_

ان تمام چيزوں كے ساتھ جب بھى اسلامى ہنر و فن كى بات ہوتى ہے ، ايران اور ايرانى لوگوں كا ان فنون كى ترقى ميں خصوصى كردار سامنے آتا ہے چوتھى صدى ہجرى سے ليكر دسويں صدى ہجرى تك كہ جب صفوى صوفيوں نے اپنے قيام كا آغاز كيا ان اداوار ميں ايران عالم اسلام ميں فن اور فن كى تخليق كا گہوارہ تھا، حقيقى بات تو يہ ہے كہ ايران ، بين النہرين ، بر صغير اور قفقاز ميں سلجوقى حكومت كى تشكيل ايرانيوں كے دوبارہ فن و ہنر كى طرف لوٹنے ميں اہم موڑ ثابت ہوئي_(۱)

معمارى ميں سب سى پہلى عمارت جو ايرانى معماروں كے ہاتھوں چوتھى صدى كے آغاز ميں تيار ہوئي وہ بخارا ميں شاہ اسماعيل سامانى كى آرامگاہ كى عمارت تھى ، كہ جو ديگر باشكوہ مقابر كے تيار ہونے كيلئے نمونہ قرار پائي، مساجد اور مدارس كے اطراف ميں مقبروں كى عمارتيں اسلامى معمارى كى تيسرى قسم شمار ہوتى ہيں انكا ۳۹۰ قمرى سے ليكر نويں صدى ہجرى كے آخر تك رواج تھا، ايسى عمارتيں شروع ميں اكثر سادہ ہوتى تھيں مثلا گنبد قابوس ميں قابوس وشمگير كى آرامگاہ ( ۳۹۷ ہجرى قمرى )، بعد ميں اس كے بيرونى حصوں كى آرائشے كى گئي آہستہ آہستہ ايسى ارامگاہ ہيں بننے لگيں كہ جو كاشى كارى سے مزين ہوتى تھيں ايسى آرامگاہوں كا زيادہ تر تعلق تيمورى ادوار سے ہے جيسا كہ ہرات كے نزديك خواجہ عبداللہ انصارى كا مزار جو ۸۳۲ قمرى ميں تعمير ہوا_

مساجد كى تعمير كے حوالے سے ايرانى مسلمانوں نے ابتداء ميں عرب سرزمين كے رواج كے مطابق ستون والى مساجد كى روش كو اپنايا _ ليكن كچھ عرصہ گزرنے كے بعد پتھروں كى جگہ پر اينٹوں كے ستون بنانے لگے كہ جن ميں انواع و اقسام كے قوس دار طاقچوں كو ايجاد كيا _ كہ جو اينٹ سے ہى تيار ہوتے تھے مساجد كى تعمير

____________________

۱)سابقہ حوالہ ص ۷۰_ ۵۶_


كے حوالے سے ايرانيوں كى خاص روش ميں ايوان اور بالكونى كا رواج ايرانى گھروں سے آيا ، يہ رواج گھروں سے مساجد اور مساجد سے پانچويں صدى كے دوسرے نصف ميں طلباء كے ليئے تيار ہونے والے حكومتى مدارس ميں پہنچا_ ايران كے سلجوقيوں نے اصفہان كو اپنا دار الحكومت قرار ديا جو مدتوں قبل صنعت و ہنر كا مركز تھا_ اب بھى اصفہان ميں سلجوقيوں كى جامع مسجد موجود ہے _ اگرچہ اس زمانہ كے بادشاہوں كے محل اور اسكے سامنے ايك بڑے ميدان كے حوالے سے كچھ نہيں بچا_

اصفہان كى جامع مسجد يا وہ مسجد كہ جو زوار ہ ميں ۵۳۰ قمرى تعمير ہوئي ابھى بھى اپنى جگہ موجود ہے يہ يقيناً تاريخ كى وہ پہلى مسجد ہے كہ جسميں چار ايوانوں والى معمارى استعمال ہوئي ہے_

سلجوقى دور ميں عمارتوں كى تزيين ميں اينٹ كا استعمال بنيادى اہميت كا حامل ہوتا تھا اسى دور ميں آہستہ آہستہ حاشيے اور اندرونى حصوں كى چينى كى ٹائلوں سے تزيين ہونے لگي(۱) سلجوقى دور كے بعد سے چار ايوان اور گنبد والے نماز خانہ كا نقشہ تمام مساجد كى تعمير ميں استعمال ہونے لگا_

گچ يا جپسم سے تزيين پانچويں صدى كے اواخر ميں را ئج ہوئي جو كبھى وہى انيٹوں والے ڈيزائن كا ہى تكرارہوتا تھااور كبھى نباتا تى اور اسليمى(۲) نقوش بنائے جاتے كہ جنكى بلڈنگ كى اصلى شكل سے ہم آہنگى نہيں ہوتى تھى معرق كاشى كارى ۴۹۴ ق كے نزديك كے سالوں ظاہر ہويى ابتداء ميں يہ صرف فيروزى اور نيلے رنگ كى حد تك محدود تھى ليكن بعد ميں اسميں سرمئي ، سفيد ، سياہ ، سرخ اور زرد رنگ كا اضافہ ہوا_

سلجوقى دور كا ہنر صرف مساجد كى تعمير اور ان ميں كاشى كارى كى حد تك محدود نہ تھا _ مٹى كے خوبصورت ظروف كا بننا بھى اس دور كا ايك اورہنر شمار ہوتا تھا_ ان ميں شاہكار ترين نمونے سلجوقى دور ميں چھٹى صدى ہجرى تك رى اور كاشان ميں تيار ہوتے تھے(۳)

____________________

۱)حسين زدرشيدى ، نقش آجر و كاشى در نماى مدارس ، تہران ، محمود ماہر النقش ، طرح و احداء نقش در كاشيكارى ايران دورہ اسلامى ، تہران_

۲) اسليمى : يہ ايرانى سبك كا ايك جز تھا كہ جسميں مختلف ٹيڑھے خطوط بنائے جاتے ہيں كہ جو كاشى كارى ،گچ يا جپسم سے كام ، قالين كے ڈيزائن بنانے ميں مختلف رنگوں سے استعمال ہوتا ہے يہ چھوٹى سى ٹہنى اور پھولوں كى مانند ہوتا ہے_

۳)كريستين پرايس ، سابقہ حوالہ، ص ۶۳ _


ان ميں سونے كے پانى اور ديگر رنگوں سے مزين كاسے كوزے اور گلدان يا سياہ ، فيروزى اور ہلكے نيلے رنگ كى تہہ چڑھے ظروف اس دوركے نمونوں ميں سے شمار ہوتے تھے_ ان ميں بعض كو تو سات رنگوں سے سجاياجاتا تھا_

منگولوں كے حملے كہ دوران ايران كے دستى فنون آہستہ آہستہ زوال كے شكار ہوگئے_ ليكن اسكے باوجود تيمورى دور كے دھاتى شاہكار اور صفوى دور كے فولادى آثار جوہم تك پہنچے ہيں بالخصوص جالى دار ظروف اپنى جگہ بے نظير ہيں اسى دور ميں ايران ميں ايك اور نفيس اور خوبصورت فن شروع ہواجوكہ خطى نسخہ جات كو سونے ، چاندى اور جواہر سے ڈيزائن كرنا تھا وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ يہ فن مقبول ہونے لگا_ صدر اسلام ميں قرآن نويسى كے نتيجے ميں ہى فن خطاطى تخليق ہوا ہوگا بہت سے عظيم خطاط ايرانى تھے_ خطاطى كى مختلف اقسام ميں دوخاص روشوں يعنى نستعليق اور شكستہ كے موجد بھى ايرانى تھے_

چھٹى صدى ہجرى ميں كہ جب سلطان علاء الدين كيقباد نے ايشيا ئے كوچك ميں اپنى حكومت قائم كى اور چونكہ وہ خود بھى خطاط ، مصور اور بڑھئي تھا اس ليے اس نے اپنے دارالحكومت قونيہ كو فنكاروں اور دانشوروں كا مركز بناديا_ حقيقت ميں كہہ سكتے ہيں كہ پانچويں ہجرى ميں اگر چہ ايشيائے صغير كى ترك حكومت خراسان اور عراق كے سلجوقيوں سے جدا ہوگئي تھى ليكن انكا فن اور معمارى اسى طرح ايرانى فن اور معمارى سے وابستہ تھا منگولوں كے ايران پر حملہ كے دوران بغير اسكے كہ انہوں نے چاہا ہو يا جانا ہو ايرانى ہنرمند افراد كوايشيائے صغير كى طرف فرار ہونے پر مجبور كرديااسى ليے يہ حملہ اس فن كى روايت كا اس سرزمين كى طرف منتقل ہونے كا باعث بنا _

عالم اسلام كى وسعت اور اسميں متعدد اور مختلف حكومتوں كے ہونے سے يہ فائدہ ہوا كہ جب بھى كسى حادثہ كے نتيجہ ميں عالم اسلام كے كسى ايك حصہ ميں ہنر اور فن كو زوال حاصل ہوا تو دوسرى كسى جگہ پر انہى فنون

____________________

۱) مورست ولد مار جنسن ، سابقہ حوالہ ص ۳_۲۰۲_


نے ترقى بھى كى جب ايران منگولوں كے وحشيانہ حملوں كى زد ميں تھا اسى زمانہ ميں مصر كے سلطان بيبرس آرٹسٹ حضرات اور جنگجووں كى حمايت كر رہے تھے _ ايك قلعہ ميں ايك بلند ٹيلے پر سلطان بيرس كے حكم پر حصار نما د،يوار نماپناہ گاہ بنائي گى اسميں قديم اہرام جيزہ كے پتھر استعمال كيے گئے _ اسى زمانہ ميں شيشہ گر حلب اور دمشق ميں موجودتھے كہ جنكے شاہكاروں كوعيسائي لوگ پسند كرتے تھے اور خريدتے تھے _ يہ شيشہ گر لوگ اپنے ظروف كو سونے كے پانى اور براق زرد، سرخ اور سبز رنگ كے پانى سے آراستہ كرتے تھے _

اسلامى جلد سازى كا ہنر جسميں ہندسى ( Geomatrical )اشكال كو كتابوں كى چرمى جلدوں پر استعمال كيا جاتا تھا كى كشش نے مصر اور شمالى افريقہ كے ہنرمندوں كو اپنى طرف كھينچا اور يہ بالكل وہى زمانہ تھا كہ قلمى نسخہ جات ميں سے كوفى خط رخصت ہو رہا تھا اور اسكى جگہ خط نسخ لے رہا تھا كہ جسميں كوفى خط كى نسبت لچك زيادہ تھى(۱)

ساتويں ايل خان غازان خان (۷۰۳_ ۶۹۴ قمرى ) نے اپنے دار الحكومت تبريز كو علم و دانش اور اسلامى فنون كے مركز ميں تبديل كرديا تھا _ وہ با قاعدہ طور پر مسلمان ہوچكا تھا اس نے تبريز كے جنوب ميں ايك نيا شہر بسايا اور وہاں دينى مدارس ، كتابخانہ ، ہسپتال اور ايك محل تعمير كروايا اسكے وزير رشيد الدين فضل اللہ ہمدانى جو كہ خود بھى اپنے زمانہ كے اديبوں ميں سے تھے انہوں نے تبريز كے مشرقى حصہ ميں ربع رشيدى كے نام سے ايك كمپليكس بنوايا جو بہت سے ثقافتى مراكز اور طالب علموں ، مصوروں ، خطاطوں اور نسخوں كو سونے اور رنگوں كے پانى مزين كرنے والوں كے ليے تربيت گاہوں پر مشتمل تھا _ خود انہوں نے كتاب'' جامع التواريخ '' تاليف كى كہ آج اسكے كچھ حصے مولف كے زمانہ كى تصاوير كے ساتھ موجود ہيں _

ايران كى قديم ترين پينٹنگ وہ تصاوير ہيں كہ جو كتاب منافع الحيوان كيلئے بنائي گئيں اور يہ كتاب ۴۹۹ قمرى ميں منگول بادشاہ كے حكم پر مراغہ ميں دوبارہ لكھى گئي _ اس كتاب كى پينٹنگ اور شاہنامہ فردوسى كے ايك نفيس نسخے جس كى نقل (۷۲۰ ھ ق) ميں تيار كى گئي كى تصاوير ميں چينى فن كى اسلامى ايران كى مصورى پر تاثير واضح طور پر محسوس كى جاسكتى ہے_

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۶۹_


مصورى كى مانند مٹى كے برتن بنانے كا ايرانى فن بھى چينى فن سے متاثر تھا،يہ برتن بنانے والے بجائے اسكے كہ اسى سلجوقى روش كو آگے بڑھاتے انہوں نے مختلف (جديد)اور آزاد روشوں كو اختيار كرليا_ ان برتنوں اور ديواروں كى كاشى كارى ميں سياہ ، خاكسترى ، فيروزى ، ارغوانى اور نيلے رنگ ہلكے اور رقيق انداز بہت دلفريب اور بھلے معلوم ہوتے تھے _

ايلخانى (منگول)دور ميں ايرانى اور اسلامى اديبوں كى منگولوں كى اولاد ميں تمدن كى روح پھونكنے كى كوششيں ابھى ثمر آور ہوئيں ہى تھيں كہ يہ حكومت اندرونى مخالفتوں اور بغاوتوں كا شكار ہوگئي اور ختم ہوگئي انكے بعد تيمور لنگ ايران پر قابض ہوگيا اسكے وحشيانہ حملوں كى زد سے كوئي بھى سرزمين ايران ، ہند ، شام ، مصر اور ايشيا ئے صغير محفوظ نہيں رہى ليكن تيمور كے بيٹے اور اسكے پوتے اور نواسے بالخصوص شاہرخ ، بايسنقر، الغ بيگ، سلطان حسين ، بايقرا اور تيمور كى اولاد كا وہ سلسلہ كہ جو ہندوستان كے عظيم مغل بادشاہ كہلائے انہوں نے مختلف فنى ميدانوں ميں بہت سے فنى نمونے ايجاد كرنے كے اسباب مہيا كيے_

پندرہويں صدى عيسوى كے آخر ميں اندلس مسلمان كے ہاتھوں سے نكل گيا اسلامى حكومت كا وہ چھوٹاسا مركز اپنى زندگى كے آخرى سالوں ميں بہت ہى خوبصورت فنون سے آراستہ تھا _ اس دور كى ايك باشكوہ عمارت قصر الحمرا ، ( سرخ محل) تھى جب بنى نصر كے پہلے امير محمد بن احمد نے ۶۳۴ قمرى اور ۱۲۳۶ عيسوى ميں غرناطہ كو فتح كيا تو اس نے اپنا محل ايك بلند پہاڑ پر ايك چٹان پر بنايا اسكے بعد اسكى نسل كے ہر بادشاہ نے اس محل ميں كچھ نہ كچھ اضافہ كيا_

اسى سلسلہ كے ايك بادشاہ محمد پنجم نے چھٹى صدى ہجرى ميں الحمراء كو انتہائي خوبصورت صورت ميں آراستہ كيا كہ جو ابھى تك موجود ہے تقريبا اسى زمانہ ميں كہ جب الحمراء محل تعمير ہو رہا تھا قاہرہ ميں مدرسہ سلطان حسين تعمير ہوا البتہ دونوں كى معمارى ميں بڑا فرق تھا_ مدرسہ سلطان حسين كى وہ سمت جو قبلہ كى طرف تھى سلطان كے مقبرہ سے متصل تھى _ يہ عمارت مكعب شكل ميں تھى اور اسكا گنبد بيزانس كے گنبدوں سے مشابہہ تھا_


مسلمانوں كے خوبصورت محلات نے ہسپانيہ كے عيسائي معماروں كو حيران كن انداز سے متاثر كيا _ عيسائي بادشاہ ہسپانيہ كو فتح كرنے كے بعد مسلمان صنعت گروں كو اسلامى طرز پر كام كرنے كا كہتے تھے چونكہ انہيں مسلمانوں كے صحن والے گھروں سے انس ہوگيا تھا اس ليے وہ يہ طرز و روش امريكا بھى لے گئے _ تيمورى دور ميں جيسا كہ ذكر ہوا لوٹ مار اور قتل و غارت كے باوجود تيمور نے ہنر و فن ميں ترقى كا راستہ اختيار كيا تيمور كے بيٹے شاہرخ نے دارالحكومت كو سمرقند سے ہرات كى طرف منتقل كيا _ اور اپنے باپ كے ہاتھوں سے ہونے والى ويرانيوں كو دوبارہ آباديوں ميں تبديل كيا _

شاہرخ كى ملكہ گوہر شاد نے امام رضا (ع) كے روضہ كے قريب اپنے نام سے ايك مسجد بنائي _ شاہرخ اور اسكے بعد والے بادشاہوں كے دور ميں مشہد اور اصفہان كى رنگين چمكدار كاشى والى ٹائيلوں كا استعمال اپنے عروج كو پہنچا عمارتوں ميں رنگين چمكدار كاشى والى ٹائيلوں كا استعمال اپنے عروج كو پہنچا _ اسى طرح تيمورى دوربالخصوص شاہرخ اور بايسنقر كے دورنفيس قلمى كتابوں كے تيار ہونے كا زرين زمانہ تھا _ اس دور جيسا جلد سازى ، خطاطى ، پينٹنگ اور پينٹنگ كا ہنر كسى اور دورميں نہيں ملتا ( ۱)

مصوّرين نے تصويروں كے بنانے ميں خاص روش ايجاد كى جو ''مكتب ہرات ''كہلائي _ ہرات كى پينٹنگ كا اسلوب اور شيوہ بغداد اور شيراز كے فن مصورى سے كافى حد تك مختلف تھا اور ايلخانى دور كے چينى ہنر سے متاثر تھا مكتب ہرات شاہرخ كے بعد بھى جارى رہا _ شاہرخ كا بيٹا بايسنقر ميرزا جو كہ ہنر پسند اور آرام پسند طبيعت كا مالك بادشاہ تھا اس نے ايران كے بہترين چاليس مصوروں كو ہرات ميں جمع كيا تا كہ وہ اسكے كتابخانہ كے قلمى نسخوں كيلئے تصاوير تيار كريں اسكى دلچسپى كى بنا پر اس دور ميں جو مشہورترين كام ہوا وہ بايسنقر معروف شاہنامہ تھا كہ جسكى پينٹنگ كا كام ۸۳۳ ميں مكمل ہوا _ تركمانى بادشاہ '' قراقوينلو اور آق قوينلو '' كے دور ميں شيراز كے اہل فن حضرات نے ايك نيا طريقہ دريافت كيا كہ جو'' تركمان'' كے عنوان سے معروف ہوا_

____________________

۱) كريستين ، پرايس، سابقہ حوالہ، ص ۱۲۹_


نويں صدى كے وسط ميں ايك بچے نے اس جہان ميں آنكھيں كھوليں كہ جسے بہزاد كا نام ملا يہ بچہ بڑا ہو كہ ہرات ميں سلطان حسين كے دربار ميں مصورى كے كام ميں مشغول ہوا تھوڑى ہى مدت كے بعد اسكا نام ايرانى فن مصورى ميں امر ہوگيا كمال الدين بھزاد نے ايك نيا شيوہ ايجاد كيا كہ اس ميں وہ روزانہ كى حقيقى زندگى كى جزئيات بيان كرتا تھا _ اس طرز كى بہترين اور بولتى ہوئي پينٹنگ طہماسپ صفوى كے دور حكومت ميں تبريز ، قزوين اور مشہد ميں تيار ہوئيں ان تصوير وں ميں جذاب رنگوں كے استعمال كے ساتھ ايرانى لوگوں كى روزانہ كى زندگى كو پيش كيا جاتا تھا _(۱)

ايشيا ئے صغير ميں عثمانى تركوں كى مملكت بھى اسلامى فنون كے آشكار ہونے كى ايك اور نظير تھى '' اياصوفيہ'' كہ جو شروع ميں كليسا تھا پھر مسجد بنا اسكے اثرات انكے دل و جان ميں اسقدر تھے كہ نويں صدى كے اختتام اور اسكے بعد تك اسكى معمارى كے اثرات قسطنطنيہ شہر يا ديگر عثمانى حكومت كے علاتوں ميں باقى اور واضح تھے ان ميں سب سے بڑا اور عظيم معمارى كا شاہكار مسجد سلطان احمد اول ہے جو سن ۱۶۰۹ عيسوى سے ۱۶۱۶ عيسوى تك تعمير ہوئي _ اسى طرح اسلامى معمارى كا ايك اور نمونہ مسجد سليمانيہ ہے كہ جو سلطان سليمان قانونى كے حكم پر ''سنان پاشا ''كى معمارى اور نقشہ سازى كے مطابق كے ساتھ تيار ہوئي _ سنان پاشا كہ جس نے ۹۶۸ قمرى ميں مسجد سليمانيہ ميں كام ختم كيا ايك اور مسجد بنام رستم پاشا كو بھى تعمير كيا _ وہ محل كہ جسكى تعمير كا آغاز سلطان محمد فاتح نے شروع كيا تھاسليمان قانونى كے دور ميں ايك چھوٹے سے شہر كى شكل اختيار كر گيا تھا جسكے چار بڑے صحن اور چند دروازے تھے _

يہ مسلم سى بات ہے كہ مشرق قريب بالخصوص ايران ميں پانچ قرن قبل مسيح قالين سازى كى صنعت رائج تھى _ سائبيريا كے جنوب ميں ''پا زير يك'' نام كى جگہ پر پانچ قرن قبل چھوٹا سا پشمى قالين معجزانہ طريقہ سے ہمارے ليے برف ميں محفوظ رہا _ يہ قالين جس جگہ سے ملا وہ جگہ '' قالى پا زير يك '' كے عنوان سے مشہور ہوگئي

____________________

۱) فورست دلدمار جنسن ، سابقہ حوالہ ، ص ۳۱۲_


ان سب چيزوں كے باوجود ساتويں صدى سے ايك جيسى روش كے ساتھ بہت زيادہ تعداد ميں قالين تيار ہونے كا كام رائج تھا _ ايسے قالينوں كا ايك مكمل سيٹ قونيہ اور ديگر شہروں ميں سلجوقيوں كى بڑى مساجد سے ملاہے _ ايران ميں قالين باف افراد نے خطى نسخوں كو سونے كے پانى سے آراستہ كرنے كى روش كى مانند كام كيا قالينوں كے وسط اور حاشيوں پر مختلف انواع كے جذاب رنگ استعمال كيے _ صفوى دور ميں نفيس ترين ايرانى قالين مساجد ، معابد اور متبرك مقامات كو ہديہ كيے جا تے تھے كہ ان ميں سے ايك ابھى تك باقى ہے يہ قالين شيخ صفى كى آرامگاہ كيلئے تيار ہوا تھا اس قالين كا نقشہ مقصود كاشانى نے تيار كيا تھا كہ يہ ۹۶۶ قمرى ميں مكمل ہوا تھا اور اب يہ لندن كے ميوزيم ميں موجود ہے _

صفوى دور كے قالين بيشتر پشم سے تيار ہوتے تھے _ ليكن شاہ عباس كبير كے دور ميں كبھى ريشمى اور كبھى توسونے وچاندى كى تاروں سے قاليں تيار ہوتے تھے_ قفقاز والوں نے بعض ايرانى قالين بطور قرض ليے اور انہيں اس روش كے ساتھ كہ جن ميں گل بوٹے اور جانور و غيرہ تھے تيار كيا _ صفوى دور كے ريشمى اور سونے كى تاروں سے تيار كپڑے ابھى يورپ والوں كے پاس موجود ہيں اس قسم كے كپڑوں پر ڈيزائن زيادہ تر پھول اور كبھى تو جانوروں اور آدميوں كى صورت كے ساتھ بنائے جاتے تھے_

صفوى بادشاہوں ميں شاہ عباس كبير سب سے ممتاز شخصيت كا مالك تھا وہ ہنر و فن كا دلدادہ اور ہنر پروردہ شخصيت كا حامل تھا در اصل اصفہان كى رونق اور شہرت اسى كے مرہون منت ہے_قديم اصفہان كے مغربى جنوبى علاقہ يعنى نئے اصفہان ميں چوك ، ميدان ، مساجد ، محلات ، بازار اور بہت سے باغ كہ جو اس نے بنوائے ان كى بدولت اصفہان نصف جہا ن بنا _

شاہ عباس كے زمانے ميں شہرى اور عمومى تعميرات كيلئے علاقے كا نقشہ تيار ہوا ايك بہت بڑا ميدان يا چوك اس نے بنايا كہ جسے ميدان نقش جہان كا نام ديا گيا _پھر اسكے تمام چاركونوں كے درميان ايك بڑى عمارت بنائي گى ان عمارتوں كا عمومى نقشہ چار ايوانوں پر مشتمل ايك عمارت كا تھا كہ جو ايرانى معمارى ميں قديم


ادوار سے ربط ركھتا تھا _ يہ چار بہترين عمارتيں يہ تھيں : مسجد شاہ ، مسجد شيخ لطف اللہ ، قيصريہ كے بازار كا دروازہ اور عالى قاپو كى عمارت _(۱)

شہر كے درميان ميدان شاہ پانچ سوميٹر سے زيادہ رقبہ پر مشتمل تھا بازار بھى تھا اورساتھ ساتھ چوگان بازى اور تير اندازى كے ميدان كا كام بھى ديتا تھا ميدان كے تمام اطراف كو ايك دو طبقہ عمارت نے گھيرے ميں ليا ہواتھا نچلے طبقہ ميں دھات كارى اور كندہ كارى والوں كى دوكانيں تھيں كہ جہاں وہ لوگ اپنى فنى ايجادات ميں مصروف تھے_

اس ميدان كے مشرقى حصے ميں مشہور اور خوبصورت مسجد يعنى مسجد شيخ لطف اللہ تعمير ہوئي تھى _ (۱۰۱۲ قمرى ، ۱۶۰۳ عيسوى ) البتہ مسجد شاہ اصفہان مسجد شيخ لطف اللہ سے بڑى ہے اور اسميں ايك قابل ديد اور باشكوہ صحن ہے _ ميدان شاہ كے مغربى جانب چھ طبقات پر مشتمل عالى قاپو كا محل تھا كہ اسكے چوتھے طبقہ ميں بہت سے ستونوں والا ايك ايوان ہے جہاں بادشاہ بيٹھ كہ كھيليں اور جشن ديكھا كرتا تھا _ شاہ عباس نے شہر كے مركز ميں ايك كھلى اور وسيع سڑك بنوائي كر جسكا نام چارباغ ہے كہ جسكے كناروں پر درخت چنار كى چندقطاريں لگوائيں اس سڑك كا اختتام سى و سہ پل يا پل اللہ ورديخان پر ہوتا ہے _

شايد جانسن كى بات درست ہے كہ اس نے گيارہويں صدى كے اوائل يعنى ستريں صدى عيسوى كے ابتدائي پچاس سال كو معمارى كى دنيا ميں اسلامى عروج اور ترقى كا آخرى مرحلہ قرار ديا ہے كيونكہ اس دور ميں عالم اسلام كے تين مقامات پرفن كے تين شاہكار وجود ميں آئے :ايران ميں ميدان شاہ اصفہان ، ہندوستان ميں تاج محل يا ارجمند بانو بيگم كى آرامگاہ اور عثمانى مملكت ميں مسجد سلطان احمد اول _(۲)

____________________

۱) ہورست و لدمار جنسن ، سابقہ حوالہ ، ص ۲۰۰

۲)سابقہ حوالہ، ص ۲۰۲_


اصفہان ميں شاہ عباس كے دور ميں ايك يا دو مصوروں كى تصاوير اور پينٹنگ بہت زيادہ رائج تھيں اور لوگوں ميں مقبول تھيں وہ آقا رضا اور پھر رضا عباسى تھے جو اس فنى روش كے سردار مانے جاتے تھے اس فنى اسلوب ميں معروفترين ہنرمند رضا عباسى تھااسكا شاہ عباس كے دربار سے تعلق تھا اسكى تمام پينٹنگز اس دور كے تمام ہنرمندوں كيلئے نمونہ عمل كا درجہ اختيار كر گئي تھيں _ گيا رھويں صدى كے پہلے چوتھائي حصہ ميں ايك اور نامى گرامى مصور معين مصور تھے كہ جنكى افسانوں اور تاريخ كے حوالے سے پينٹنگز شہرہ آفاق تھيں _

ہندوستان ميں تيمور لنگ كا نواسہ بابر ميرزا كى ہنر سے دلچسپى كے باعث مكتب ہرات كے بعض فنى آثار خصوصاً بہزادكے تمام فن پاروں كو جمع كيا گيا ، بابر كا بيٹا ہمايوں كہ جس نے فن و ہنر سے عشق اپنے والد سے وراثت ميں ليا تھا ايران ميں ايك سال كے قيام كے بعد ہنرمندوں كا ايك گروہ بھى ہندوستان ساتھ لے گيا اس سے ايرانى كلچر اور ہنر دوبارہ ہندوستان پر چھانے لگا مصورى ميں ہندوستان كے مغليہ آرٹ كى روش ايرانى اور ہندوستانى مصورى كى آميزش كا ثمرہ تھى _ ہند ميں مغليہ آرٹ كے بانى مير سيد على تبريزى اور عبدالصمد شيرازى تھے_ امير حمزہ كى داستان كو تصويروں ميں لانے كے بہت بڑے كام پر مير سيد على اور پچاس ديگر ہندوستانى ہنرمندوں نے كام كيا اور يہ كام ہمايوں كے بيٹے اكبر بادشاہ كے زمانے ميں ختم ہوا _(۱)

اكبر كہ جو مغليہ سلسلہ كا سب سے بڑا بادشاہ تھا معمارى سے بہت زيادہ دلچسپى ركھتا تھا اس نے آگرہ اور فتح پور سيكرى ميں بہت سے گنبد اور قبّے اور محلات تعمير كروائے فتح پور كى بڑى مسجد ايرانى اور ہندوستانى آرٹ كا ملاپ تھى _ اس نے ۱۰۱۴ قمرى ميں انتقال كيا اور اسكا بيٹا جھانگير تخت حكومت پر رونق افروز ہوا وہ مصورى اور افسانوى پيٹنگ كا دلدادہ تھا _ اسى ليے ہندوستان ميں فن مصورى كى مقبوليت جارى رہى _ ۱۰۳۸ ميں جھانگير كا بيٹا شہاب الدين المعروف شاہ جہان بادشاہ بنا تو اس دور تك فن مصورى بہت ترقى كر چكا تھا وہ اس كے ساتھ ساتھ معمارى ميں بھى كافى دلچسپى ركھتا تھا اس نے اپنى ملكہ ارجمند بانو بيگم كى ابدى آرامگاہ كے

____________________

۱) ذبيح اللہ صفا ، سابقہ حوالہ، ص ۱۳_ ۴۱_


عنوان سے خوبصورت اور عظيم الشان'' تاج محل '' بنانے كا حكم صادر كيا اس تاريخى عمارت كا فن معمارى تيمور كے دور كى ايرانى معمارى سے متاثر تھا _ يہ آرامگاہ اگر چہ شاہ جہاں نے اپنى ملكہ كيلئے تيار كروائي تھى ليكن وہ خود بھى ساتھ ہى دفن ہے _

ايران ميں صفوى عہد كا آخرى زمانہ اور ہندوستان ميں مغليہ دور كا آخرى زمانہ دونوں ہى اندرونى اختلافات اور جنگوں سے دوچار تھے ليكن اسكے باوجود دونوں حكومتيں سانس لے رہيں تھيں كہ نادرشاہ افشار نے دونوں بادشاہتوں كو ختم كرديا _ اسى زمانہ ميں عثمانى بادشاہت كافى حد تك اطمينان و آسايش سے بہرہ مند تھى اور سلطان احمد جشن و سرور كا دلدادہ تھا _ اسى ليے اس دور كے فنكاروں كى افسانوى تصاوير اور پينٹنگز مثلا لونى(۱) ابھى بھى موجود ميں اور انكى تعداد سو سے بھى زيادہ ہے ۱۷۲۷ عيسوى يا ۱۱۴۰ قمرى ميں استانبول ميں چھاپ خانے كى صنعت آنے سے قلمى نسخوں اور كتابوں كو دربارہ لكھنے اور انكى تصويريں بنانے كا دور شروع ہوا _ سلطان احمد سوم كے آخرى دور سے عثمانى سلطنت كى معمارى يورپى معمارى سے متاثر ہوئي اور ديگر اسلامى فنون مصورى ، مٹى كے برتن بنانا اور اينٹوں پر نقش و نگار دسويں صدى ہجرى كى رونق كھو چكے تھے ،البتہ قيمتى پتھروں كو تراشنے ، كپڑوں پر كڑھائي اور زرى كا كام سترھويں صدى كے وسط تك چلتا رہا_

قاجارى دور ميں صفوى دور كے فنون كو باقى ركھنے كى كوششيں ہوئيں مگر كامياب نہ ہو سكےں كيونكہ بہت سے فنون زوال كا شكار ہوگئے تھے ليكن خوشنويسى كا ہنر تينوں اقسام نستعليق ، شكستہ نستعليق اور نسخ ميں اپنى بلندى كو چھونے لگا _ اسى طرح پھول اور پرندوں كے حوالے سے مصورى كے فن خصوصاً لاكى كے آثار نے بہت ترقى كى اور اسى دور ميں كتاب سے ہٹ كر فن مصورى نے ايك ايرانى مكتب كى شكل اختيار كى _(۲)

____________________

۱) Levni

۲) مرصع رنگين ، منتخبى از آثار نفيس خوشنويسان بزرگ ايران تا نيمہ قرن چہاردہم ،تہران ، ج ۱، نگارستان خط ، مجموعہ آثار ميرزا غلامرضا اصفہانى ، احمد سھيل خوانسارى كى كوشش_


۲_ علم موسيقي

عباسى خلافت كے دور ميں اور اس زمانہ ميں كہ جب تحريك ترجمہ اپنے عروج پر تھى _ ايران ، ہندوستان اور يونان سے موسيقى كى كتب ترجمہ ہوئيں _ عباسى خلفاء نے بھى علم موسيقى كى ترويج اور وسعت ميں بھر پور سعى كى _ يہاں ہم عباسى دور كے موسيقيدانوں كے آثار اوراختراعات كا مختصر سا ذكر كرتے ہيں :

ابراہيم بن ماہان موصلى (۱۸۸ _ ۱۲۵ قمرى ) اسكا والد ماہان ،ارجان يا ارگان فارس كا دہقان تھا فارس سے ہجرت كرتاہوا كوفہ پہنچا وہاں ايك ايرانى خاندان ميں شادى كى _ ابراہيم نے موسيقى كا فن ايرانى موسقيدانوں ''جو انويہ ''سے سيكھا اور حيرت انگيز ترقى كى كہ اسكى شہرت عباسى خليفہ مہدى كى دربار تك پہنچى عباس خليفہ مہدى اور اسكے بيٹے ہارون الرشيد كى دعوت سے ابراہيم نے دربار ميں خاص مقام و منزلت پائي _ بغداد اور دربار خلفاء كے اكثر گلوكار ، موسيقار، بالخصوص فن موسيقى كے بزرگ دانشور حضرات مثلا اسحاق موصلى اسى كے تربيت يافتہ شاگرد تھے _(۱)

اسحاق موصلي، ابراہيم موصلى كا بيٹا تھا كہ جو تقريباً ۱۵۰ قمرى ميں رى ميں پيدا ہوا اس نے علم موسيقى كے اصول و قواعد اپنے والد اور ماموں منصور زلزل كے ہاں سيكھے اور اپنے دور ميں علم موسيقى ميں بے نظير مقام حاصل كيا اسكے موسيقى ميں مكتوب آثار مثلا الاغانى و الكبير ، النغم ، الايقاع اغانى معبد اور كتاب الرقص اب موجود نہيں ہيں يہ ہارون الرشيد ، مامون ، معتصم اور واثق عباسى كے دور ميں رہا اور ۲۳۵ ميں اسكا انتقال ہوا _

ابوالحسن على بن نافع ، اسكا لقب زرياب تھا وہ بصرى كے عنوان سے معروف تھا اور نسب كے اعتبار سے ايرانى اور اسحاق موصلى كے شاگردوں ميں سے تھا _ اس نے ايرانى موسيقى كے آلہ'' بربط'' ميں جدت پيدا كي_ بربط كے چارتاروں ميں ايك اور تار كا اضافہ كيا اور بربط كو بنانے كيلئے عقاب كے ناخن اور شير كے بچے كى انتڑيوں كو استعمال كيا كہ اس سے بربط كى آواز زيادہ جاذب ہوگئي زرياب نے اپنے مكتب ميں فن موسيقى كے

____________________

۱) ابوالفرج اصفہانى ، الاغانى ، قاہرہ ، ج ۵ ، ص ۲۰۸، ص ۲۳۰_


حوالے سے نئے اصول و قواعد بنائے_ اور اسى كا شيوہ اہل مغرب ميں بھى مقبول ہوا بالخصوص اسپين كے مكتب موسيقى كى ايك روش زرياب كى تخليق تھى كہ جو سرزمين مغرب ميں منتقل ہوئي_(۱)

منصور زلزل عباسى دور ميں ايك ايرانى موسيقى دان تھا كہ جو بربط بجانے ميں استاد اور بے نظير گلوكار تھا _ ابونصرفارابى (۳۳۹ _ ۲۵۹ يا ۲۶۰ قمرى ) ايران كا عظيم الشان فلسفى ، رياضى دان اور موسيقيدان تھا _ فارابى نے موسيقى ميں قيمتى ترين كتابيں تاليف كيں ، اسكى موسيقى كے حوالے سے كتابيں مندرجہ زيل ہيں : المدخل الى صناعة الموسيقي، كلام فى الموسيقا، احصاء الايقاع ، كتاب فى النقرة مضافا الى الايقاع اور مقالات كے عنوان سے رسالہ ان ميں سے بعض كتابيں ختم ہو چكى ہيں _ موسيقى كے حوالے سے فارابى كى اہم ترين كتاب احصاء العلوم و الموسيقى الكبير ہے اسى وجہ سے قرون وسطى ميں فارابى كو موسيقى ميں سب سے بڑا مصنف جانا جاتا ہے _ فارابى نے موسيقى كے دو معروف پردوں '' وسطاى زلزل اور وسطاى فرس ميں دقيق مطالعہ كيا اور انكے فاصلوں كو بيان كيا _(۲)

ابوعلى سينا (۴۲۸ _ ۳۷۰ قمرى ) طب ، فلسفہ ، منطق ميں عظيم تاليفات كے ساتھ ساتھ فن موسيقى ميں انتہائي اہم تاليفات كے حامل ہيں انہوں نے كتاب شفا ميں فن موسيقى كيلئے ايك باب خاص كيا بوعلى سينا پہلے شخص ہيں كہ اسلام ميں موسيقى كے بارے ميں انكى فارسى ميں كتاب ابھى تك موجود ہے يہ وہى كتاب النجاة ہے جسكا انكے شاگرد ابوعبيدہ جو زجانى نے ترجمہ كيا اور اسكا نام ''دانشنامہ علايى ''ركھا_(۳)

____________________

۱) H.G. Farmer A historY of Arabian Music to the Xth Century London p .

۲) احصاء العلوم ، فصل موسيقى ، ہنرى جورج فارمو، سابقہ حوالہ، ص ۱۴۴، مہدى يركشلى ، موسيقى ، ايوانشہر، كميسيون ملى يونسكو در ايران نيز Encyclopaedia of Islam. New Edition S v Musiki Byo. Wright

۳)مہدى بركشلى ، سابقہ حوالہ، دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ذيل ابن سينا ، موسيقى ، تقى بينش ، ہنرى جارج فارمر، تاريخ موسيقى خاور زمين ، ترجمہ بہزاد باشى ، تہران ، ص ۳۶۸_


صفى الدين عبدالمومن ارموى (۶۱۹ _ ۶۱۳ قمرى ) ساتويں صدى ہجرى ميں ايرانى موسيقى كا درخشاں ستارہ تھا ، انكى دو معتبر كتابيں '' الادوار'' اور '' رسالہ الشرفيہ '' كے مطالعہ سے يہ حقيقت آشكار ہوتى ہے كہ فارابى كے بعد وہ سب سے بڑا اور اہم ترين شخص ہے جنہوں نے فن موسيقى كے قواعد ميں تحقيق كى ہے _ اسكى كتاب ''الادوار ''ميں فارسى اور عربى كے قديم ترين راگ موجود ہيں _

عبدالقادر غيبى مراتمى (۸۳۸ قمرى ) تيمورى دور (تيمور اور شاہرخ كے دربار) ميں نظرى علم موسيقى كا اہم ترين عالم شمار ہوتا ہے اسكى سب سے بڑى كتاب ''جامع الالحان ''ہے دوسرى كتاب ''مقاصد الالحان ''جو جامع الالحان كى نسبت چھوٹى ہے ، شرح الادوار بھى مراغى كى تاليف ہے كہ ابھى بھى موجود ہے _ اسى طرح مراغى كى كتاب كنزالالحان انتہائي قيمتى كتاب تھى كہ جو فن موسيقى سے آشنا لوگوں كيلئے بہت اہميت كى حامل تھى اور اس كے نغموں پر مشتمل تھى ليكن اب موجود نہيں ہے اسكا بيٹا اور پوتا بھى موسيقيدان تھے اسكے بيٹے كا نام عبدالعزيز تھا جس نے ''نقاوة الادوار'' اور پوتے نے ''مقاصد الادوار'' كتابيں لكھيں _

نويں صدى ہجرى كے بعد ايران ميں كوئي بڑا موسيقيدان ظاہر نہيں ہوا كبھى كبھى كوئي شخصيت سامنے آتى رہى ليكن كسى نے جدت پيدا نہيں كى _ ايرانى موسيقى كے ترك موسيقى اور عرب ممالك حتى كہ مشرق بعيد كے ممالك كى موسيقى ميں اثرات واضح ہيں اور موسيقى كى فارسى اصطلاحات ان مناطق كى زبان اور تہذيب ميں واضح اور آشكار ہيں _(۱)

____________________

۱)ہنرى جارج فارمر، مجلہ روزگار نو ، ش ۱، ۱۹۴۲_


چھٹا باب :

اسلامى تہذيب كےمغربي تہذيب پر اثرات


دنيا كى موجودہ تہذيب پورى تاريخ ميں تمام اقوام كى كوششوں كا نتيجہ ہے اگر چہ موجودہ تہذيب ديگر اقوام كى تہذيبوں سے خصوصيات كے اعتبار سے مختلف ہے ليكن يہ حقيقت ميں گذشتہ تہذيبوں كا مركب ہے _ واضح سى بات ہے كہ اس جديد تہذيب كے وجود ميں آنے اور وسعت پانے ميں اسلام كا كردار ديگر تہذيبوں سے كم نہيں ہے _ ميرے خيال ميں گوناگوں تہذيبوں كى تركيب اور اقوام عالم ميں نظرياتى تبادلہ اس جديد تہذيب كے وجود ميں آنے اور وسعت پانے ميں بہت زيادہ كردار ركھتا ہے _ اور اسلام بھى اس امتزاج كے اسباب مہيا كرنے ميں متاثر كن اور اساسى كردار ركھتا ہے _ اس باب ميں اس موضوع پر گفتگو ہوگى كہ مختلف تہذيبوں كے امتزاج اور ان ميں فكرى ، ثقافتى اور علوم كے تبادلہ اور انكو مغرب ميں منتقل كرنے ميں اسلام كا كردار كيسا تھا ؟

اسلام سے مغرب ميں علم اور تہذيب كا نقل و انتقال تين راہوں سے انجام پايا :

۱) مسلمانوں كااسپين ، اٹلى ،سسلى اور صليبى جنگوں ميں عيسائيوں كے ساتھ ميل جول اور انكا عالم اسلام كے مختلف مناطق ميں اسلامى تہذيب اور كلچر سے آشنا ہونے اور عالم اسلام كى باہر كى دنيا سے سرحدوں كے ذريعے_

۲) پانچويں صدى سے ساتويں صدى ہجرى تك عربى كتب كا يورپى زبانوں ميں ترجمہ _

۳) ان عربى كتب كى تدريس اور ان سے فائدہ اٹھانا كہ جنہيں مسلمان دانشوروں نے علمى مراكز ميں تحرير يا ترجمہ كيا تھا_

مغرب والوں كا اسلامى تہذيب و تمدن سے آشنائي كا ايك اہم ترين مركز اسپين تھا _ اسپين كے عيسائيوں


پر اسلامى نظريات كى چھاپ انكے عيسائي رہبروں پر اسلامى نظريات كے اثرات سے ديكھى جا سكتى ہے _ جيسا كہ كہاگيا ہے كہ ٹولڈو(طليطلہ ) شہر كے پادرى ايلى پنڈس نے اسلامى عقائد سے متاثر ہوتے ہوئے حضرت عيسى كى الوہيت كا انكار كيا اور كہا كہ وہ بشر اور خدا كے منہ بولے بيٹے تھے دوسرى طرف اس زمانہ ميں اسپين كے لوگ عربى لباس پہنتے تھے اور اسلامى و عربى آداب كاخيال ركھتے تھے كہا جاتا ہے كہ غرناطہ (گرايناڈا) شہر كى دو لاكھ مسلمان آبادى ميں سے فقط پانچ سو عرب تھے باقى سب خود اسپين كے لوگ تھے _(۱)

اسلامى آثار كا يورپى زبانوں ميں ترجمہ : مجموعى طور پر عربى زبان سے يورپى زبانوں ميں ترجمہ كے رواج كو عيسائي مملكت كے اندرونى اوربيرونى دو قسم كے اسباب ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے _

صليبى جنگوں ميں عيسائيوں كا مسلمانوں كى تہذيب سے آشنا ہونا اور مسلمانوں كى علمى ميراث اور كتابوں كے ايك مجموعہ كا سامنا كرنے كو بيرونى سبب شمار كيا جا سكتا ہے،عيسائيوں ميں اہم ترين اندرونى سبب يہ ہے كہ عيسائي دانشور حضرات كو معلوم نہ تھا كہ يونانى علماء بالخصوص ارسطو ، سقراط، بطلميوس اور جالينوس كے علمى آثار كے مقابلے ميں كيا كريں ، بہت سارے دلائل اس بات كى طرف اشارہ كرتے ہيں كہ عيسائي علماء اور فلاسفہ ان يونانى آثار كے اصلى متون سے استفادہ كرنے پر قادر نہيں تھے ، چونكہ يونانى معيارى زبان اور ان آثار كى كتابت كے مابين بارہ صديوں كے فاصلے كے باعث عيسائيوں كے بہترين زبان شناس اور مترجمين بھى ان متون كے ادراك سے عاجز تھے ، اور ساتھ بہت سے يونانى كلاسيكى آثار ختم ہوچكے تھے اور ان تك پہنچنے كيلئے عربى زبان سے ترجمہ كے علاوہ كوئي اور راستہ نہ بچا تھا اسى ليے عربى آثار سے لاطينى ميں ترجمہ كى تحريك شروع ہوئي_

يہ تحريك دو بڑے ادوار ميں تقسيم ہوتى ہے:پہلا دورہ ويٹيكن كے پاپ سيلوسٹر دوم ( ۱۰۰۳ _ ۹۹۸عيسوي) كے اس عہدے پر پہنچنے سے شروع ہوا اور اسپين كے مقامى حاكموں ميں سے آلفونسوى دہم كى حكومت كے

____________________

۱)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج ۱۰ ، ذيل انڈلس_


زمانہ ميں ختم ہوا _ اور دوسرا دور اين آلفونسو (۱۲۸۴ _ ۱۲۵۳ عيسوى ) كے زمانہ سے شروع ہوا _ دونوں ادوار ميں اہم فرق يہ ہے كہ پہلے دور ميں عربى آثار سے عمومى طور پر لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوتا تھا جبكہ دوسرے دور ميں زيادہ تر عربى زبان سے اسپينى اور رومى زبان ميں ترجمہ ہوتا تھا اس دور ميں وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ بہت سے مترجم افراد سامنے آئے كہ جنكى تعداد كا ۱۵۰ تك تخمينہ لگايا گيا ہے _(۱)

ان افراد ميں بعض افراد كى اس حوالے سے خدمات پر يوں نگاہ ڈالى جا سكتى ہے :

افريقى گروہ ميں كينسٹينٹن كے ذريعے وسيع پيمانہ پر آثار كا ترجمہ ہوا اسكے ترجمہ شدہ آثار ميں طب كے حوالے سے جالينوس كے آثار اور فلسفہ ميں ارسطو كے آثار قابل ذكر ہيں _ ہوگوسينٹالايى نے ارسطو ، يعقوب بن اسحاق كندى ، ابومعشر بلخى اور ديگر افراد كے آثار كا ترجمہ كيا ، يوہيس ہيسپايسنر نے ارسطو ، بتّانى ، فارابى ، فرغانى ، قبيسي، محمد بن موسى خوارزمى ، يعقوب بن اسحاق كندى اور ابو معشر بلخى كے كثير آثار كاترجمہ كيا اسكا اہم ترين كام بوعلى سينا كے آثار كو لاطينى زبان ميں ترجمہ كرنا ہے مايكل اسكاٹ نے بھى بہت سے ترجمے كيے بالخصوص اسكا اہم كام ارسطو كے تمام آثار كا ترجمہ كرنا ہے _ پلاٹوى ٹيولياى نے بھى مختلف علمى ميدانوں مثلا نجوم ، رياضى ، ہندسہ ، اور فلسفہ ميں بہت سے آثار كا لاطينى زبان ميں ترجمہ كيا _(۲)

عربى سے لاطينى زبان ميں ترجمہ كى تحريك ''گراردوى كرموناي'' كا مقام انتہائي كى اہميت كا حامل ہے اس نے لاطينى زبان ميں ستر كے قريب آثار كا ترجمہ كيا ان ميں بہت سے علمى موضوعات مثلا طب ، فلسفہ ، نجوم ، اخلاق ، سياست و غيرہ شامل ہيں ، طب كے حوالے سے اسكے قلم سے ترجمہ شدہ جالينوس اور سقراط كے آثار اور اسكے ساتھ مسلمان شارحين كے آثار كا ترجمہ يونانى طب كا ايك مكمل مجموعہ كہلاتا ہے _

۱_ عقلى علوم ، اسلامى فلسفہ اور الہى علوم كے مغربى تہذيب پر اثرات

بارہويں صدى عيسوى كے ابتدائي سالوں ميں گونڈيسالومى اور خواں شقوبى نے بوعلى سينا ، فارابى اور غزالي

____________________

۱)دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۷ ، ذيل ترجمہ ، نہضت (سيد احمد قاسمى )_

۲)سابقہ حوالہ، ج ۵ ، ذيل پلاوى تيولياى ، فريد قاسملو_


كے آثار كا ترجمہ كيا ، اہل مغرب ان ترجمہ شدہ كتابوں كے ذريعے ارسطو كے نظريات و عقائد سے آشنا ہوئے ، حقيقى بات يہى ہے كہ اہل مغرب ارسطو كے بارے معلومات حاصل كرنے ميں مسلمانوں كے احسان مند ہيں اور اسميں كوئي شك و شبہہ نہيں ہے كہ يورپ والے مسلمانوں كے نظريات سے آگاہ ہونے كے بعد فلسفہ كے عاشق ہوئے اور ارسطو كے آثار كا مطالعہ كرنے لگے_

ارسطو اور ابن رشد كى تعليمات آپس ميں مخلوط ہو چكى تھيں اس كى روش اور نظريات وسيع پيما نہ پر يہوديوں ميں پھيل چكے تھے_ اسى طرح يہ نظريات عيسائيوں ميں بہت گہرائي تك اس طرح سرايت كر رہے تھے كہ كليسا والے پريشان ہونے لگے يہاں تك كہ سن تھامس نے عربى زبان كے مترجميں پر تنقيد كى اور ارسطو اور اسكى كتابوں كے عرب شارحين كے عقائد و افكار ميں فرق پر زور ديا ابن رشد كے علاوہ بو على سيناكى آراء و افكار كا بھى سرزمين مغرب ميں بہت زيادہ استقبال ہوا_

بوعلى سينا كے جو افكار مغرب ميں منتقل ہوئے ان ميں سے ايك معقولات كا موضوع تھايعنى وہ چيزيں جو عقل كے ذريعے قابل درك ہيں بوعلى سينا كا ايك نظريہ يہ بھى تھا كہ ہر موجود كى اساس تجزيہ كے قابل نہيں ہے اور موجودات ميں كثرت و اختلاف كى بنياد بذات خود مادہ ہے _

سرزمين مغرب كے بعض دانشور مثلا راجر بيكن كا يہ عقيدہ تھا كہ ارسطو كے فلسفہ كے اثرات مغرب ميں زيادہ نہيں تھے خواہ اسكى وجہ اسكى كتابوں اور رسالوں كا كم ہونا ہو خواہ اسكى كتابوں اور رسالوں كا آسانى سے درك نہ ہونا ہو يہاں تك كہ پيغمبر اسلام (ص) كے بعد اسلام كے بڑے فلاسفہ مثلا بوعلى سينا اور ابن رشد نے ارسطو كے فلسفہ كو سمجھا اور موضوع بحث قرار ديا اگر چہ اس دور ميں بوئيٹس نے ارسطو كے بعض آثار كو ترجمہ كرديا تھا فقط مانيكل اسكاٹ كے دور ميں كہ جب اس نے ارسطو كى طبيعت اور حكمت كے بارے ميں بعض كتابوں كا عربى سے لاطينى ميں ترجمہ كيا تو اس دور ميں مغرب ميں ارسطو كے فلسفہ كو پسند كيا گيا(۱) _

____________________

۱)دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج ۳ ذيل'' ابن رشد'' ( شرف الدين خراسانى اُ جَ ع ذيل'' ابن سينا''_


۶۴۸ قمرى ہجرى ميں عيسائي مبلغين كے حكم پر ٹولڈو شہر ميں مشرقى علوم سے آشنائي كيلئے پہلا ادارہ قائم ہوا، اس ادارہ ميں عربى زبان ، عيسائي اور يہودى دينى علوم كى تعليم دى جاتى تھى تا كہ مسلمانوں ميں تبليغ كيلئے افراد تيار كيے جائيں اس ادارہ كا سب سے بہترين طالب علم ريمنڈ مارٹن تھا ،اسكا يورپ ميں مسلمان مصنفين كے بارے ميں معلومات كے حوالے سے كوئي ثانى نہ تھا وہ نہ صرف يہ كہ قرآنى آيات اور اسلامى احاديث سے آگاہى ركھتا تھا بلكہ فارابى سے ليكر ابن رشد تك علم الہى اور اسلامى فلسفہ كے تمام علماء سے نكات بھى جانتا تھا ريمونڈ مارٹين نے غزالى كى مشہور كتاب تھافت الفلاسفہ پر بھى تحقيق كى اور اس كتاب كے بعض حصوں كو اپنى كتاب ''پوگو فيڈي'' ميں نقل كيا غزالى كے افكار و عقائد جب سے يورپى دانشوروں كے ہاں منتقل ہوئے اسى وقت سے عيسائي اہل فكر كيلئے بہت اہميت كے حامل ہيں اور اب بھى ان كے ليے مفيد ہيں _

فلسفہ ميں اسلام كى ديگر عظيم شخصيات ميں سے كہ جو يورپ ميں مشہور ہوئيں جناب ابن رشد تھےاٹلى ميں انكے افكار و نظريات تقريباً سولھويں صدى عيسوى تك چھائے رہے،ان كے عقائد عيسائيوں ميں بہت سى مباحث كا باعث قرار پائے_ مغرب ميں ابن رشد كے فلسفہ كى پيروى كہ جسے اصطلاحى طور پريوروازم كانام ديا گيا جديد علوم كے ظہور تك يورپ ميں فلسفہ كى بقا كے اسباب ميں سے ايك سبب تھا(۱) _

يہ مسلمہ بات ہے كہ اس علم الہى كے حوالے سے مسلمانوں كى خدمات بے حد اہميت كى حامل ہيں اور وہ لوگ جو اسلامى دانشوروں كو جدت و بنياد سے محروم كہتے ہيں يقيناً انہوں نے ابن رشد اور غزالى كے آثار كا مطالعہ نہيں كيا ٹوماز ايكوئنس كى مشہور كتاب ''سوما''اسى كوتاہ فكرى پر ايك دليل ہے_

چارصديوں سے زيادہ مدت تك يورپ كے تمام تعليمى اور ثقافتى مراكز پر اسلامى تہذيب و تمدن كے اثرات چھائے رہے _ جب يورپ ميں اسلامى افكار كى برترى كا دور ختم ہو ا پھر بھى مشرق و مغرب ميں ثقافتى رابطہ باقى رہا اور يہ رابط و تعلق تيرھويں صدى عيسوى ميں اپنے عروج كو پہنچا ، اگر ہم اس دور كے باقى ماندہ

____________________

۱) سابقہ حوالہ ج ۲_


آثار كا تجزيہ كريں تو ديكھيں گے كہ اسلامى تسلط ہميشہ جارى رہا اور يہ اسلامى برترى قرون وسطى كے ادوار ميں اس سے كہيں زيادہ تھى كہ جس كا تذكرہ آج كيا جاتا ہے_

۲_ اسلامى طب كے مغربى تہذيب پراثرات

اسلامى طب نے مغربى طب پر مختلف انداز سے اثرات ڈالے ان ميں سے ايك اسلامى طبيبوں كے بہت سے آثار كا لاطينى زبان ميں ترجمہ ہونا تھا، ان اطباء ميں سے ايك اہم ترين طبيب محمد بن زكريا رازى ہيں كہ جنكے بہت سے آثار لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئے اور ہر كتاب باربار شايع ہوئي بہت سے مغربى مورخين اور دانشوروں كا يہ نظريہ ہے كہ رازى كى كتاب '' الجدرى و الحصبة'' ( پھوڑے اور خسرہ) انكى سب سے بڑى تاليف ہے يہ كتاب ۱۴۹۸عيسوى ميں پہلى بار ترجمہ ہو كر شايع ہوئي اس كے علاوہ يہ كتاب چاليس بار يورپ ميں شايع ہوئي معلوم يہ ہوتا ہے كہ اسلامى تہذيب ميں اسلامى طبى كتابوں ميں سے اس كتاب كے ترجموں اور چھپنے كى تعداد ديگر كتب سے بہت زيادہ ہے _

رازى كى ايك اور كتاب'' الحصى المتولدہ فى الكلى و المثانہ ۱۸۹۶ عيسوى ميں پيرس ميں شايع ہوئي _

۱۲۷۹ عيسوى ميں چارلس اول كے دور ميں رازى كى كتاب الحاوى فرح بن سالم نامى ايك يہودى طبيب كے ذريعے لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئي اور ۱۵۴۲ عيسوى ميں پانچ بار شايع ہوئي _ يہ كتاب يورپ ميں علم طب كے نصاب كى اہم ترين كتاب شمار ہوتى تھى _

دوسرے طبيب كہ جنہوں نے مغربى طب كو متاثر كيا جناب بو على سينا ہيں انكى كتاب قانون بہت سالوں تك مغرب كى اہم ترين طبى كتاب شمار ہوتى رہى پندرھويں صدى عيسوى كے آخر ميں اس كتاب كى سولہ بار يورپ ميں اشاعت كى گئي جو پندر ہ بار لاطينى زبان اور ايك بار عبرى زبان ميں تھى _ اس كتاب كى لاطينى اور عربى زبان ميں لكھى گئي تفاسيربے شمار ہيں يہ كتاب سترويں صدى عيسوى كے دوسرے نصف حصے تك كئي بار شايع ہوئي اور ايك طويل مدت تك ايك نصابى كتاب شمار ہوئي رہى شايد علم طب ميں آج تك اسكى مانند كوئي كتاب اسقدر رائج نہ رہى ہو_


اس كے علاوہ اور كئي پہلوں سے اسلامى علم طب نے مغربى طب كو متاثر كيا_ ميرے خيال ميں يورپ ميں ہسپتالوں كا وجود ميں آنا شرقى اور اسلامى ہسپتالوں سے متاثر ہونے كى بناء پر تھا_ علاوہ ازيں يورپى طبيب جس چيزميں مسلمانوں كے احسان مند ميں وہ مختلف بيماريوں كے طريقہ علاج تھا يہ تو ہم جانتے ہيں كہ يورپى طبيبوں نے بہت سى بيماريوں مثلا خسرہ ، ٹائيفائڈاور طاعون كا علاج اور اسى طرح بہت سے طبى آپريشنوں كے طريقہ كار كو مسلمانوں سے سيكھا جسكى مثال يہ ہے كہ مسلمان طبيب زھراوى قرطبى كا طبى رسالہ يورپ ميں آج علم جراحت كى اساس كے طور پر جانا گيا ہے _(۱)

۳_ اسلامى رياضيات كے مغربى تہذيب پر اثرات

مغرب ميں علم رياضى كى ترقى كے حوالے سے اسلامى رياضى دانوں كے اثرات بہت زيادہ ہيں يورپى لوگ مسلمانوں كے ذريعے دہائي نظام كى عدد نويسى اور ہندى اعداد كى شكل سے آشنا ہوئے جو آج بھى مورد توجہ ہے _ يہ اثرات خاص طور پر كتاب '' المختصر فى الجبر و المقابلہ'' كے ترجمہ كے ذريعے پڑے _ يہ كتاب بار بار لاطينى زبان ميں '' لبيبر الگوريسمي'' ( يعنى خوارزمى كى كتاب) كے نام سے ترجہ ہوئي اسى كتاب كے لاطينى ترجمہ سے كلمہ '' algorism '' كا معنى حساب كرنا اور حساب كرنے كى روش ليا گيا _

قرون وسطى كے ادوار ميں يہ كتاب يورپ ميں شہرہ آفاق تھي_ اور سولھويں صدى عيسوى ميں فرانسيسى رياضى دان فرانسويت كے زمانہ تك يورپى رياضى دانوں كے مطالعات كى بنياد چلى آئي _ خوارزمى كى ايك اور اہم ترين كتاب كہ جسكا نام '' حساب ھند'' ہے ،خود اصل كتاب تو اب باقى نہيں رہى ليكن چودھويں صدى عيسوى ميں اسكا لاطينى زبان ميں ہونے والا ترجمہ موجود ہے _ اسلامى ماخذات ميں يہ كتاب '' الجمع و التفريق بحساب الہندسہ'' كے نام سے پہچانى جاتى ہے _

____________________

۱) فؤاڈ سزگين : تاريخ نگارشہا ى عربى ، ج ۳ ترجمہ اشاعت از خانہ كتاب ، مقدمہ ، ص ۳۰ كے بعد_


خوارزمى كے علاوہ ديگر اسلامى دانشوروں كے كى كتابيں بھى اسى دور ميں اور بعد كے ادوار ميں لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئيں(۱) مثلا خيام ، خواجہ نصير الدين طوسى اور فارابى كى علم رياضى ميں كتابيں لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئيں _

آخرى مسلمان رياضى دان كہ جنگے قرون وسطى بعد كے ادوار ميں آثار كا لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوا جناب بہاء الدين عادلى تھے كہ جو شيخ بہائي كے نام سے مشہورترين ہيں انكى كتاب '' خلاصة الحساب انگلش ، فرانسيسي، اور جرمنى زبان ميں ترجمہ ہوئي رياضى كے پرعملى پہلو مثلاًچند حصوں پر مشتمل منظم و غير منظم اشكال الجبرا كى مساواتوں كے متعدد عددى اور ہندسى راہ حل ، p عدد( n ) كے دقيق ميزان تك پہچنا اور متعدد اضلاع پر مشتمل چيزوں كى حدود اور مساحت كى نمائشے كيلئے مختلف روشيں و غيرہ اس مسلمان رياضى دان كے محنتوں كا ثمرہ تھا كر جو مغرب ميں منتقل ہوا(۲)

۴_ اسلامى علم فلكيات كے مغربى تہذيب پر اثرات

اسلامى ماہرين فلكيات كى معلومات و تحقيقات ميں انكى بہت سى اختراعات بھى شامل ہيں مثلا مختلف انداز كى جنتريوں كا بنانا اور ستاروں كے حوالہ سے مختلف معلومات اسى طرح سياروں كى حركت كے بارے ميں جديدنظريات يہ سب اسلامى نجوم كے اہم ثمرات تھے كہ جو سرزمين مغرب ميں منتقل ہوئے_

آج تو مكمل طور پر واضح ہو چكا ہے كہ مغربى ماہرين فلكيات مثلا نيوٹن ، كپلر اور كوپرينك اسلامى علم نجوم سے آشنا تھے اور اسلامى ماہرين فلكيات كى تحقيقات اور ثمرات سے بہت زيادہ بہرہ مند تھے قرون وسطى كے ادوار ميں سب سے پہلے اسلامى ماہر فلكيات كہ جو مغرب ميں بہت زيادہ مشہور ہوے احمد بن كثير فرغانى تھے انكى كتاب '' جوامع علم نجوم'' گوارڈوى كرموناى اور يوھنيس ھسپالنسز كے ذريعے يورپ ميں ترجمہ ہوئي اور يہ

____________________

۱) گوسٹالو بون _ ص ۵۶۷_

۲) سيد حسين نصر، علم و تمدن در اسلام ، ترجمہ احمد آرام ، تہران ۱۳۵۹ ، ج ۲ ص ۱۳۷_۱۳۸_


كتاب يورپ ميں آٹھ صديوں تك مورد استفادہ رہى ايك اور اسلامى دانشور كہ جنكے نظريات مغرب ميں توجہ كا مركز قرار پائے پانچويں صدى ہجرى كے زرقالى اندلسى ہيں انكى علم نجوم ميں مشہور كتاب'' زيج طليطلي'' لاطينى زبان كے ماھرين فلكيات كى مركز توجہ قرار پائي_

جب مسلمانوں نے اپنى حكومت كے تحت تمام اسلامى ممالك ميں رصد خانے قائم كے اور ستاروں كے حوالے سے ابتدائي معلومات حاصل كيں تو اسلامى ماھيرين فلكيات كا نام پورى دنيا معروف ہوا دور و نزديك سے علم كے تشنہ انكى طرف رجوع كرنے لگے مغرب كے بادشاہ نہ صرف يہ كہ اندلس كے مسلمان علماء كى طرف رجوع كرتے تھے بلكہ اپنى علمى مشكلات كے حل كيلئے اپنے نمايندے مشرق كے اسلامى ممالك ميں بھيجتے تھے تا كہ علم نجوم كے حوالے سے مشكلات حل كرسكيں اور مسلمانوں كے بنائے ہوئے بہت سے نجومى آلات مثلا اصطرلاب ، نجومى كرے (گلوب)اور گھڑياں و غيرہ سرزميں مغرب ميں منتقل ہوئيں _

اسطرح مغرب ميں بھى ستارہ شناسى كا علم ترقى كرنے لگا تقريباًيہ بات يقينى ہے كہ اوقات كے تعين كيلئے پنڈولم كے استعمال كا طريقہ كار مسلمانوں سے اسپين كے راستے مغربى سرزمينوں ميں منتقل ہوا اوريہ مسلم ہے كہ يہى وسيلہ بہت سى ديگر علمى ايجادا ت كى اساس بنا، حقيقت ميں كہا جا سكتا ہے كہ مغرب ميں ستارہ شنا سى كے علم ميں ترقى اسلامى ستارہ شناسى كى بناء پر ہوئي اور يہ اسپين كے اس يہودى كے ذريعے ہو ا كہ جس نے ۱۱۰۶ عيسوى ميں عيسائيت كو قبول كيا اور پڈرو آلفونسو كے نام سے معروف ہوا _ آج اسكى تاليفات ميں سے بہت كم بچا ہے ليكن اس نے اپنے بعد كے ستارہ شناس لوگوں بالخصوص فرانس اورانگلنيڈ كے ماھرين فلكيات كو بہت متاثر كيا_رابرٹ گروسٹسٹ كہ جو ايك مدت تك آكسفورڈ يونيورسٹى كے پرنسپل بھى رہے اور اس مادى جہاں كے بارے ميں رياضياتى نظم كے قائل تھے ان كى علمى ترقى كااصلى سبب اسلامى كى زندہ روايت سے براہ راست تعلق اور عربى سے لاطينى زبان ميں علمى آثار كا ترجمہ تھا_(۱)

____________________

۱) جرجى زيدان ،سابقہ حوالہ ، ص ۲۹۴ _۲۸۸ ، سيد حسين نصر ، سابقہ حوالہ ، ص ۱۶۲_۱۶۱ گوسٹالو لوبون ،سابقہ حوالہ، ص ۵۸۶_


۵_ اسلامى جغرافيہ كے مغربى تہذيب پر اثرات

مسلمانوں كے مغرب كے جغرافيہ ميں اثرات اور وہاں اس علم كى ترقى ميں انكے كردار پر مطالعہ اور تحقيق كوئي آسان كام نہيں ہے كيونكہ يہ واضح نہيں ہے كہ مسلمانوں كى جغرافيہ كے حوالے سے معلومات كس حد تك مطالعاتى اور كس حد تك تجرباتى مشاہدات اور سير و سفر كى بناء پر تھيں _

اگرچہ تيسرى صدى ہجرى سے چھٹى صدى ہجرى تك اس حوالے سے بہت سى كتابيں عربى زبان ميں لكھى گئيں ليكن ان سب كو درست اوربے عيب نہيں سمجھا سكتا دوسرى طرف تاجروں اور جہاز رانوں كے مختلف سير و سفر كے تجربات اور مشاہدات انتہائي اہميت كے حامل ہيں جغرافيہ كے موضوع پر لكھنے دالے مؤلفين يقينا ايسے لوگوں سے خوب بہرہ مند ہوتے تھے كيونكہ يہى تاجراور دريانورد لوگ ہى تھى كہ جنہوں نے اسلام كے قرون وسطى كے يورپ سے تعلقات قائم كيے اور اسلامى تہذيب كو يور پ ميں منتقل كيا _

جغرافيہ كے حوالے سے مختلف سفرنامے ، جغرافيائي كتابيں اور زمين كے حدود اربعہ كى تشريحات ،مختلف انواع كے جغرافيائي نقشہ جات اورفلكيات كى راہنما كتابيں يہ سب مغربى جہاز رانوں اور جغرافيہ دانوں كے زير استعمال تھيں _

اسلامى ماہرين فلكيات كے جغرافيائي آثار ديگر جغرافيائي كتب سے بڑھ كر قرون وسطى كے يورپ ميں مقبول و معروف تھے اور ان ميں سے بعض يورپى زبانوں ميں ترجمہ بھى ہوئے_ سب سے پہلى جگہ جہاں جغرافيہ كے عيسائي اساتذہ نے اسلامى جغرافيہ كى تعليم لى وہ اسپين كا شہر ٹولڈ تھا اور انہوں سے سب سے پہلى چيز زميں كا گول ہونا سمجھا كيونكہ اس كو سمجھے بغير بر اعظم امريكا كا دريافت ہونا ممكن نہ تھا_

اسلامى ماہرين فلكيات علم جغرافيہ كو زيادہ تر جغرافيائي طول و عرض كے تعين كے ليے مطالعہ ميں لاتے تھے اور بطلميوس كى سات تقسيمات كے مطابق ربع مسكون(۱) كو سامنے لاتے تھے_ اسى قسم كى تقسيمات ۱۵۰۱

____________________

۱)زمين كا وہ چوتھائي سطحى حصہ جو خشك ہے اور انسانوں اور حيوانات سے آباد ہے_


سے ۱۵۰۴ عيسوى تك پرتگا ليوں كے دريائي نقشوں ميں مرتب و منظم كى گئي تھيں ان ہى تقسيمات كے بعض نقشہ جات كوحتى كہ اٹھارہويں صدى كے اواخر ميں بھى يورپى جغرافيائي نقشہ جات ميں ديكھا جا سكتا ہے_

مسلمان جہاز رانوں كاجغرافيہ ميں اہم ترين اقدامات ميں سے ايك قطب نما كو استعمال ميں لانا تھا _ اگر چہ يہ چينيوں كى ايجاد تھى _ ليكن يہ معلوم نہيں تھا كہ وہ لوگ آيا اسے كشتى رانى ميں استعمال كرتے تھے يا نہ؟ كيونكہ وہ كبھى بھى ساحل سے دور نہيں ہوئے تھے_ ليكن مسلمانوں كى صورت حال مختلف تھى جب يورپى لوگ چين كے وجود سے بے خبر تھے تو اس دور ميں يمسلمانوں كے اس ملك كے ساتھ تجارتى تعلقات تھے لہذا قوى امكان يہى ہے كہ مسلمانوں نے يورپى لوگوں كو اس قطب نماسے آگاہ كيا ہو_ چونكہ يورپى لوگ تيرھويں صدى سے پہلے تك قطب نما استعمال نہيں كرتے تھے جبكہ اسلام كے عظيم مورخ اور جغرافيہ دان ادريسى نے بارھوين صدى كے وسط ميں قطب نما كے بارے ميں گفتگو كى ، مسلمانوں ميں اس كے استعمال كو بيان كيا اور وہ اسكا يورپ ميں منتقل ہونا مسلمانوں كے ذريعے سمجھتے ہيں _

دوسرى طرف سے واسكو ڈے گاما كے دريائي راستوں كے ذريعے مشرقى سرزمينوں تك پہنچے سے كئي صدياں قبل مسلمان ان سرزمينوں سے آگاہ تھے يہ شخص بھى مسلمان ملاح احمد بن ماجد كے ذريعے ( Goodhope" (۲،۱ " كے راس ( Promontry ) سے ايشيا كے ساحل تك پہنچا حقيقى بات يہ ہے كہ ماركوپولو سے پانچ سو سال پہلے ہند اور چين كى طرف ملاح راستہ ايك مسلمان ملاح سليمان سيرافى كے ذريعے معلوم ہو چكا تھا(۳) _

____________________

۱) جنوبى افريقا كا معروف را س جس كے بارے ميں كہا جاتاہے كہ واسكو ڈے گا مانے اسے ۱۴۹۷ ميں دريافت كيا (مصحح)

۲) را س يا Promontry ، خشكى كا وہ تكون اور ابھرا ہوا حصہ جو سمندر ميں دور تك چلا گيا ہو ( مصحح)_

۳)م،م شريف ، منابع فرہنگ اسلامى ، ترجمہ سيد جليل خليليان ، تہران ، ج ۲ ص ۸۴، شہريار رامہرمزى ، عجائب الہند ، ترجمہ محمد ملك زادہ ، تہران، احمد فرامرزى ، تاريخ جغرافى در دورہ اسلامى ، مجلہ تقدم ، ش ۱ ص ۵۳۸_


۶_ اسلامى ہنر و فن كا يورپ ميں نفوذ

مسلمانوں نے مختلف علوم و دانش ميں علمى ترقى اور اختراعات كے ساتھ ساتھ فنون لطيفہ ميں بھى اپنےخاص ذوق و سليقہ كے ذريعے بھى اپنى دھاك بٹھائي _ اسلامى تعليمات سے الہام ليتے ہوئے ہنر و فن اور صنعت كو وسعت دينے لگے آئي ايچ كرسٹى اس بارے ميں كہتے ہيں كہ '' يورپ والے ايك ہزار سال سے زيادہ مدت تك تعجب كے ساتھ اسلامى دنيا كے ہنر و فن كى زيبائيوں كا مشاہدہ كرتے رہے اور وہ ان چيزوں كو غير معمولى سمجھتے تھے(۱) _

فنون لطيفہ كى يہ نئي اصطلاح ان مصنوعات كيلئے تھيں جو روح انسان كو وسعت بخشتى ہيں _ اسلام سے قبل بھى مہذب اقوام كم و بيش فنون لطيفہ كى حامل تھيں البتہ مسلمانوں كى ان فنون لطيفہ ميں استعداد ديگر اقوام كى نسبت زيادہ تھى _ كچھ مغربى دانشوروں كا خيال ہے كہ فن مصورى ميں اسلام نے بعض موانع كى وجہ سے زيادہ ترقى نہيں كى جبكہ يہ نظريہ تمام مسلمانوں پر صادق نہيں آتا كيونكہ مسلمان بالخصوص ايرانيوں نے اس فن ميں اہم ارتقائي مراحل طے كيے(۲)

مسلمہ بات يہ ہے كہ اسلامى ہنر و فن ان سرزمينوں سے تعلق ركھتا ہے كہ جہاں مذہب اسلام كا نور پھيلا ہوا تھا(۳) اسلام كى ترقى اور مسلمانوں كے ديگر اقوام سے روابط نے بلا وجہ كے مذہبى تعصبات كو ختم كرديا تھامسلمان مختلف فنون مثلا معمارى ، انجينيرنگ، سنگتراشى ، لكڑى پر كندہ كارى اور خطاطى ميں بہت بڑے استاد تھے ليكن اچھے مجسمہ ساز ، اور مصور نہ تھے يا ان فنون ميں ماہرين كم تھے(۴)

____________________

۱) توماس واكر آرنولد والفرد گيوم، اسلام ميراث ، ترجمہ مصطفى علم ، تہران ، انتشارات مہر ۱۳۲۵، ص ۶۸_

۲) جرجى زيدان ، تاريخ تمدن اسلام ، ترجمہ على جواہر كلام ، تہران ، امير كبير ، ۱۳۳۳ ، ج ۳ ص ۹_۲۹۸_

۳) ارنست كونل ، ہنر اسلامى ، ترجمہ ہوشنگ طاہرى ، تہران ، انتشارات توماس ، ۱۲۵۵، ص ۱۲_۱۱_

۴) كريتيس پرايس ، تاريخ ہنر اسلامى ، ترجمہ مسعود ، رجب نيا، تہران ۱۲۴۷بنگاہ ترجمہ و نشر كتاب ، ص ۹_۸_


فن خطاطى نے مسلمانوں ميں بہت ترقى كى اسى حوالے سے يورپى كاريگر اسلامى عربى خطوط سے آشنا تو ہوئے ليكن انہيں پڑھ نہيں سكتے تھے مگر ان كے مشابہہ لكھتے تھے_ دوسرى طرف سے مقدس مقامات كى زيارت ، يورپى لوگوں كا اسلامى علوم كے حصول ميں دلچسپى اور تجارتى حوالے سے انكا اشتياق و غيرہ انہيں اسلامى سرزمينوں كى طرف كھينچ لا يا لہذا جب وہ واپس پلٹے تو اپنے ساتھ اسلامى علوم و فنون كو بھى يورپى سرزمينوں تك لے گئے(۱)

ايك چيز جسے يہ يورپى طالب علم اسلامى مدارس سے اپنے ساتھ يورپ لے گئے وہ '' اصطرلاب'' تھا كہ آكسفورديونيورسٹى ميں آج بھى ايك قديمى ترين اصطرلاب موجود ہے كہ جسے ۹۸۴ عيسوى ميں اصفہان كے اصطرلاب ساز ابراہيم كے بيٹوں نے بنايا تھا(۲)

اسلام كے ابتدائي دور كى دھاتى مصنوعات ميں سے قرطبہ كے ايك جرونا(۳) نامى كليسا ميں ايك ڈبہ ہے كہ جو لكڑى سے تيار ہو اہے اور اسكے اوپر چاندى كا ورق چڑھا يا گيا ہے كہ جس پر شاخوں اور پتوں كا ڈيزائن ہے يہ ڈبہ اموى حكومت ( ۷۶_۹۶۱ عيسوي) كے دور سے تعلق ركھتا ہے_(۴) اسلام كے ابتدا ئي دور سے سونے اور چاندى كى كوئي چيز باقى نہيں رہى البتہ امراء كے استعمال ميں رہنے والے پيتل ، تابنے اوركانسى سے بنائے گئے ظروف كے بارے ميں تحقيق كى جا سكتى ہے(۵)

اسلامى كاريگروں نے برتنوں كے جديد اور خوبصورت ڈايزائنز كے علاوہ ان كى خوبصورتى كے ليے ان پر طلائي نقش و نگارى ميں بہت كام كيا ، بارھويں صدى كے وسط ميں دھاتى چيزوں پر سونے كا كام عروج پر

____________________

۱)توماس واكر آرنولد و آلفرد گيوم ، سابقہ حوالہ، ص ۳۵_

۲) سابقہ حوالہ ص ۷_۳۶_

۳) gerona _

۴)سابقہ حوالہ ص ۳۸_

۵)سابقہ حوالہ، ارنست كوتل ، سابقہ حوالہ ، ص ۷۰_۶۸_


پہنچا(۱) منگولوں كے عراق كے شہروں پر حملے نے اس علاقہ سے كاريگروں كو نكلنے پر مجبور كرديا اور يہ صنعت مصر ميں قدم جمانے لگي_(۲)

دوسرى چيزوں ميں سے مٹى كے كوزے اور طشت ملتے ہيں جو تيرھويں اور چودہويں صدى عيسوى كے دور سے متعلق ہيں كہ ان ميں سے بعض نمونے ويكٹوريا اورالبرٹ كے ميوزيم ميں موجود ہيں كہ ان نمونوں ميں سے تو بعض اسقدر اعلى اور خوبصورتى سے تيار ہوئے ہيں كہ دنيا ميں كسى جگہ بھى انكى مثال موجود نہيں ہے_ ليكن چودھويں صدى عيسوى كے آخر ميں دھاتى چيزوں پر طلا كارى كى صنعت زوال كا شكار ہوگئي _(۳)

پندرھويں صدى عيسوى ميں اٹلى كے لوگوں نے مشرق سے تجارتى روابط كى بناء پر اپنے شہروں وينس اور وروناميں ان صنعتوں كى تقليد كرنا شروع كى _ اسى طرح شہر ونيس ميں رہائشے پذيرايك ايرانى كاريگر گروہ نے خوبصورت دھاتى اشياء تيار كرنا شروع كيں _

قرون وسطى ميں اسلامى كاريگروں كے ہاتھوں دھاتى ظروف پر سونے چاندى كا كام يورپى لوگوں كى مينا كارى كى مانند تھا بس فرق يہ تھا كہ يورپى لوگ سونے چاندى سے تزيين كرنے كى بجائے مختلف رنگوں كے شيشوں سے نقوش تيار كرتے تھے_(۴) اگر چہ مسلمانوں نے ان ظريف صنعتوں كے بعض ڈيزائنوں كو دوسرى جگہوں سے ليا ليكن اپنے ذوق اور سليقہ كى بناء پر ان ميں تبديلى كرتے ہوئے انكو جديد ڈايزائنوں ميں پيش كيا _

____________________

۱) توماس واكر آرنولڈ و آلفرڈ گيوم ، سابقہ حوالہ ، ص ۳۸ ، گوسٹاولولوں ، تاريخ تمدن اسلام و عرب ، ترجمہ سيد ہاشم حسين ، تہران ، انتشارات كتابفروشى اسلاميہ ، ۱۳۴۷ شمسى ص ۱_۶۴۰_

۲) درشت كونل ،سابقہ حوالہ ، ص ۵_۹۴_

۳) گوسٹاولوبوں ، سابقہ حوالہ ، ص ۴۱_ ۶۳۹ ، ٹوماس واكر آرنولڈ وآلفرد گيوم ،سابقہ حوالہ ص ۴۲_

۴) سابقہ حوالہ ص ۳_۴۲ ، ارنست كوئل ،سابقہ حوالہ ، ص ۹_۶۸


مسلمان چمكدار اور مينا كارى شدہ كوزے بنانے ميں بہت مہارت ركھتے تھے _ چوتھى صدى كے دور سے متعلق كچھ كوزے مشرق قريب ، شمالى افريقا اور اسپين ميں دريافت ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ صنعت كس حد تك پھيلى ہوئي تھي_ شہر'' رے'' اسى صنعت كے بڑے مراكز ميں سے شمار ہوتا تھا اس خوبصورت ہنر كے بہت سے نمونہ جات وہاں سے دريافت ہوئے ہيں جو پيرس كے ليور عجائب گھر ميں ركھے ہوئے ہيں(۱)

يورپى كاريگروں نے پھولوں كى تصوير كشى جو اس دور ميں مغرب ميں موجود نہيں تھى ميں ايرانيوں كى تقليد كي_ شامات اور مملكت عثمانيہ سے جو ظروف ان تك پہنچے انہوں نے انہيں اپنے كام كيلئے نمونہ قرار ديا(۲) شيشہ سازى كى صنعت اور اس پر آرائشے اور مينا كارى كا كام يہ سب مسلمانوں كے ذريعے يورپ ميں منتقل ہوا(۳)

ايران ، سوريہ اور مصر پر عربوں كے حملہ سے پہلے ان علاقوں ميں كپڑا بننے كى صنعت كا دور دورا تھا اور مشرقى روم كے ہمسايہ ميں ايسے مراكز تھے كہ جہاں مختلف نقش و نگار اور تصاوير والا ريشمى كپڑا تيار ہوتا تھا پھر اس صنعت كے بڑے بڑے مراكز ظہور پذير ہوئے اور اس صنعت سے متعلق اصطلاحات اور مخصوص الفاظ يورپى زبانوں ميں منتقل ہوئے_

مصر ميں مسلمانوں كے سب سے پہلے دار الحكومت فسطاط كا تيار شدہ كپڑا كہ جو انگلستان ميں ليجايا جاتا تھا اسے فاستونى كہا جا تا تھا_ اسى طرح وہ كپڑا كہ جسے آج دمسك (دمسہ) يا دمياطى كا نام ديا جاتا ہے كہ اس زمانہ كے سب سے بڑے تجارتى مركز دمشق سے درآمد كيا جاتا تھا مسلمانوں كے ہاں تيارہ شدہ كپڑے كو اٹلى كے تاجر دمشق سے خريدتے تھے _ غرناطہ كے كپڑے يورپ ميں گرناڈين كے نام سے مشہور تھے، ہاتھ

____________________

۱)سابقہ حوالہ ص ۴۷، كريشين ارايس ، سابقہ حوالہ، ص ۳_۴۲_

۲) شامات سوريا، اردن، فلسطين اور مصر كے مناطق كو اس زمانے ميں شامات كہا جاتا تھا(مصحح)_

۳) ارنست كوئل ، سابقہ حوالہ، ص ۷_۲۶ توماس واكر آرنولڈ وآلفرد گيوم ، سابقہ حوالہ، ص ۵۱_۵۰_

۴) سابقہ حوالہ ص ۵۲_


سے بناہوا ايرانى ريشمى كپڑا بھى يورپ ميں بہت مقبول تھا(۱) _

يورپ كے درباروں كى بڑى تقريبات ميں خواتين ايران كے بنے ہوئے ابريشمى كپڑے زيب تن كيے شركت كيا كرتى تھيں بغداد اور ايران سے بننے ہوئے ريشمى كپڑوں كے ٹكڑے آج بھى برلن ،ليوور اور ليون كے ميوزيمز ميں موجود ہيں كہ جو دسويں صدى عيسوى كے آخر ميں بُنے گئے تھے مشرق سے تيارہ شدہ كپڑوں كى ہر روز مغرب ميں مانگ بڑھ رہى تھى جزيرہ سسلى ميں قصر پالرمو ميں مسلمانوں نے ريشمى كپڑے تيار كرنے كا كارخانہ لگايا جہاں سے مدتوں تك نفيس كپڑے يورپ كے ديگر مناطق ميں برآمد ہوتے رہے(۲)

اسى دوران مغربى اور مشرقى ايشياء كے فنون كا تبادلہ ہوتا رہا ،چين ميں مسلمانوں كا ايسا گروہ سامنے آيا كہ جو عربى زبان ميں گفتگو كرتے تھے انكے فنون پورى اسلامى دنيا ميں مشہور تھے مشرقى اور اسلامى فنون كا يورپ پر اس قدر غلبہ تھا كہ ماہرين فن بھى مشرق اور مغربى فن پاروں كى تشخيص اور فرق كرنے ميں لاچار تھے_(۳)

اسلامى فنون كے شاھكاروں ميں سے ايك قالين تھا كہ جو زندگى كے لوازمات ميں شمار ہوتاتھا_ سولھويں صدى عيسوى ميں ايرانى قالين باف افراد كى مہارت اتنے عروج كو پہنچ چكى تھى _ كہ ان سے پہلے اور ان كے بعد آج بھى اُس دور كے قالينوں كى نظير نہيں ملتى اُس زمانہ كے شاہكار قالينوں ميں سے ايك ويكٹوريا اورالبرٹ ميوزيم ميں موجودہے جوشہر اردبيل ميں شيخ صفى الدين اردبيلى كے مقبرہ سے ليا گيا تھا(۴)

مسلمانوں كے ديگر فنون لطيفہ ميں سے ہاتھى دانت كى خوبصورت چيزوں كے بعض نمونے(۵)

____________________

۱) گوستاوبولوں ، گذشتہ مدرك ، ص ۶۳۸ ، ارنست كوتل ، سابقہ حوالہ، ص ۹۱_۱۹۰_

۲) سابقہ حوالہ، ٹوماس واكر آرنولڈ و آلفرڈ گيوم ، سابقہ حوالہ، ص ۵۵۶_

۳) سابقہ حوالہ ص ۸_۵۷ ، كريستين پرايس ،سابقہ حوالہ، ص ۶_۱۵۸_

۴) ارنست كونل ،سابقہ حوالہ ص ۱۹۲، ۲۰۹،۲۷۸، ۸_۲۸۴ ، ٹوماس واكر آرنولڈ و آلفرد گيوم ، سابقہ حوالہ ،ص ۶۰_

۵) محمد مددپور ، تجليات حكمت معنوى در ہنر اسلامى ،تہران ، اميركبير ، ۱۳۷۴، ص ۲۴۰_


لندن ، پيرس اور ديگر جگہوں پر موجود ہيں اگر چہ ان چيزوں كى ظاہرى شكل و صورت مشابہہ ہے ليكن ان پر بنے ابھرے ہوئے زيادہ تر نقوش مختلف ہيں _(۱)

مٹى اورپتھر كے برتنوں پر نقش و نگار ايك بہترين اسلامى ہنر تھا كہ پہاڑى دُركا بنا ہوا ايك ظرف آج بھى سينٹ مارك وينس ميوزيم وينس ميں موجود ہے اور اسكى تاريخى اہميت كى وجہ يہ ہے كہ اس پر دوسرے فاطمى خليفہ كا نام '' عزيز'' لكھا ہوا ہے(۲) فنون ميں سے مسلمانوں كا ايك اور فن جو مغرب ميں منتقل ہوا اورجس نے يورپى لوگوں كو مسحور كيا وہ قيمتى دھاتوں اور پتھروں كى تراش كارى كا فن تھا_(۳)

يہ تسليم شدہ بات ہے كہ كتابوں كو چھاپنے اور جلدى بندى كرنے كى بنياد ڈالنے والے قرون وسطى كے مسلمان تھے_ اگر چہ چھاپنے كى صنعت پندرھويں صدى ميں يورپيوں كے ذريعے مكمل ہوئي ليكن زمانہ قديم ميں سنگى چاپ بہت مقبول تھى _ يورپ ميں كاغذ سازى كا سب سے پہلا كارخانہ مسلمانوں كے ذريعے سسلى اور اسپين ميں لگايا گيا پھر اٹلى ميں يہ كام آگے بڑھا _

پندرھويں صدى ميں جب كتاب چھاپنے كا كام وسيع ہوا تو اس كام ميں كاغذ كو بنيادى حيثيت حاصل ہوگئي تھى _(۴) سولھويں صدى كے آغاز ميں يورپى ماہرين فنون نے مسلمانوں كے فنون لطيفہ سے نئے ڈيزائن تخليق كيے ان ڈيزائنز سے سے معلوم ہوتا ہے كہ انہوں كسقدر زيادہ اسلامى فن پاروں كى تقليد كى(۵) يورپى لوگوں نے آغاز اسلام كے دور سے ہى اسلامى ہنر كى خاص خصوصيات كا مشاہدہ كيا اور اس خاص ذوق و سليقہ كو سمجھنے كے ليے رغبت و اشتياق كا اظہار كيا_

سترويں صدى ميں يورپ ميں جلد كے كاغذ ، حاشيہ اور كتاب كى جلد كے كونوں كا صيقل ( چمكدار پن)

____________________

۱) ٹوماس واكر آرنولد و آلفرد گيوم، سابقہ حوالہ، ص ۴_۶۳_

۲) سابقہ حوالہ ص ۶۴_

۳) گوستاولوبوں ، سابقہ حوالہ ، ص ۳۸۵، ۱۵_۴۳، ۶۳۹_

۴) ٹوماس واكر آرنولڈو آلفرڈ گيوم ، سابقہ حوالہ ص ۶۵_

۵) سابقہ حوالہ ص ۷۰_۶۸_


ہونا اور اسكى رنگوں سے بھر پورڈيزائن معروف ہوئے تھے وہ براہ راست اسلامى اور مشرقى فن پاروں سے ليے گئے تھے_

اقوام اسلامى كے فن مصور ى كے مغربى فن مصور ى پر اثرات

بعض اقوال كى بناء پر مسلمانوں كے نزديك انسان اور زندہ موجودات كى تصوير بنانا مكروہ شمار ہوتى ہے _ ليكن اسلامى تہذيب كے باقى ماندہ آثار سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ مسئلہ وقت گزرنے كے ساتھ اپنى اہميت كھوبيٹھا_ آرنلڈ كے نظريہ كے مطابق اسلام كے ابتدائي دور ميں مشرقى مصورى نے مغربى فن مصورى ميں زيادہ اثرات نہيں ڈالے بلكہ يہ اثرات اس وقت نماياں ہوئے جب مسلمانوں كا بحيرہ روم كے خطہ پر قبضہ ہواتھا(۱)

صليبى جنگوں كے زمانہ ميں كہ مسلمانوں اور عيسائيوں ميں جنگى تعلق قائم ہوجانے كے باعث بہت سى خوبصورت اشيا، مصنوعات اور فن پارے جو مسلمانوں كے ذوق اور سليقہ كى عكاسى كرتے تھے يورپ ميں منتقل ہوئے يورپ كے شہروينس ، جينوا ، اور پيزا اس قسم كى اشياء كے سب سے بڑے تجارتى مراكز تھے بلا شبہہ يہ خوبصورت چيزيں اپنے جاذب نقش و نگار كے بدولت سرزمين مغرب كى فن مصور ى كو متاثر كرتى تھيں _

وہ چيزيں كہ جنكى مغرب كے مصوربہت تعريف اور تقليد كيا كرتے تھے قالينوں اور كپڑوں پر گوناگوں تصاوير تھيں جنكا اس زمانہ ميں رواج تھا(۲)

ايك مشہور ترين اسلامى جام كہ جس پر انسانى صورت بنائي گئي ہے ليور كے ميوزيم ميں موجود ہے اس

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۲_۷۱_

۲ ) گوستاو لوبوں ، سابقہ حوالہ، ص ۷_۶۳۴_


جام كا نام '' جام سن لوئي'' معروف ہے جس سے ايك طويل مدت تك فرانس ميں بچوں كو غسل تعميد ديا جا تا رہا تھا(۱)

بارہويں صدى عيسوى كے بعد ڈيو سكوريڈس اور جالينوس كى تاليفات كے ساتھ ساتھ كتاب كليلہ و دمنہ اور مقامات حريرى ميں افسانوى حيوانات كى تصويريں اس انداز ميں بنائي گئي ہيں كہ ان كى رنگ آميزى مغربى مصورى كہ ہم پلہ نظر آتى ہے بلكہ بعض اوقات تو اس سے بھى بڑھ گئيں تھيں يہ نسخہ جات اور افسانوى تصاوير قرون وسطى كى اسلامى تہذيب كى تاريخ كے حوالے سے بے حداہميت كى حامل ہيں(۲)

اسلامى موسيقى كے مغربى موسيقى ميں اثرات

دسويں صدى عيسوى كے ختم ہونے سے پہلے تك اسلامى اور مغربى موسيقى ميں كوئي زيادہ فرق نہ تھا جس دور ميں مشرقى اور يورپى موسيقى ميں اختلاف بہت كم تھا دونوں مكتب فيثاغورس كے مقياس پر چلتے تھے اور يونانى اور شام كے اسلوب كو استعمال كرتے تھے_

مسلمہ امر يہ ہے كہ ظہور اسلام سے قبل عربوں كى موسيقى ايران اور مشرقى روم كى موسيقى كے زير اثر تھى اور دونوں فيثاغورس كے مقياس كو استعمال ميں لاتے تھے بعد ميں موسيقى كے اوزان ميں تبديلى پيدا ہوگئي ليكن اسحاق موصلى نے فيثاغورس كے طريقہ كا ر كو دوبارہ رائج كرديا _(۳)

مسلمان موسيقى دانوں نے موسيقى كے جديد آلات ايجاد كرنے اور جديد راگ تيار كرنے كے ساتھ ساتھ علم موسيقى ميں بہت سى كتابيں بھى تاليف كيں _(۴)

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۷_۶۳۶_

۲) ارنست كونل ،سابقہ حوالہ ص ۸_۸۷_

۳) ج ، فارس، موسيقى ، ترجمہ مصطفى علم ،تہران ، انتشارات مہر ۱۳۲۵، ص ۶_۱۳۵_

۴) جرجى زيدان ،سابقہ حوالہ ، ج ۳، ص ۳۰۱ _ ۲۹۹_


اس دور ميں مندرجہ ذيل موسيقى كے اہم آلات رائج تھے: عود ، رباب ، قانون ، بانسرى ، دف اور طبل يہ آلات چھوٹى تقريبات ميں استعمال ہوتے تھے ليكن فوجى بينڈ يا بڑے پروگراموں ميں شہنائي ، باجا ، جھانجھ اور ڈھول و غيرہ استعمال ہوتے تھے كہا جاتا ہے كہ اسلامى اقوام كا يہ نظريہ تھا كہ بيماريوں كے علاج ميں بھى موسيقى اثر ركھتى ہے حتى كہ بعض حيوانات بھى موسيقى كے راگوں سے متاثر ہوتے ہيں جبكہ عرفا كا عقيدہ تھا كہ روح پر سے موسيقى كى روحانى تاثير ايك ازلى(۱) امر ہے اور موسيقى كو سننے كے دوران دوبارہ كلام حق سنتے ہيں _(۲)

ايرانى اور عرب لوگ موسيقى كے آلات كو ايجاد كرنے اور انہيں پا يہ تكميل تك پہنچانے والے لوگ ہيں جسطرح كہ فارابى علم موسيقى كے ايك مولف اور رباب اور قانون كو ايجادكرنے والے تھے_ تيسرى صدى ہجرى كے آغاز ميں مسلمانوں نے بانسرى كو ايجادكيا _ البياض اور ابو المجدنے پانچويں صدى ہجرى ميں ارغنون(ايك قسم كا باجا) بنايا صفى الدين عبد الموسى ارموى نے چار كونوں والا سنتور اختراع كيا محمد بن احمد خوارزمى نے بھى اسى دور ميں '' مفاتيح العلوم' ' نامى ايك كتاب تاليف كى جس ميں موسيقى كے بعض مسائل كو حل كيا _ فارابى كے بعد ابن سينا اور حسن بن ھيثم موسيقى ميں معروف شخصيات تھيں ، ان نكات كو ديكھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے كہ چھٹى صدى ہجرى علم موسيقى كے بہت سے مؤلفين كا دور شمار ہوتى ہے _(۳)

جو كچھ مسلمانوں نے موسيقى كى دنيا كو ديا انتہائي اہم اور گرانقدر ہے اسلامى موسيقى ايشيا ميں ہندوستان تك پھيل گئي ليكن ہندوستان كى نسبت اسكے يورپ ميں اثرات زيادہ ہےں قرون وسطى ميں مسلمانوں كے قلم سے موسيقى ميں بہت سے كتابيں تاليف ہوئيں اور ان ميں سے بعض لاطينى زبان ميں ترجمہ ہوئيں _ ليكن اب ہمارے پاس اس حوالے سے اہم مصادر موجود نہيں ہيں _ اب صرف فارابى كى كتابوں كا لاطينى ترجمہ كہ جو يوھانس ھيسپالنسز كے ذريعے ترجمہ ہوئيں اور ابن رشد كى كتاب كا لاطينى ترجمہ كر جومائيكل اسكاٹ كے

____________________

۱) ازلى امر سے مراد يہ ہے كہ ارواح اس دنيا ميں آنے سے پہلے مذكورہ امر كا تجربہ كرچكى ہيں (مصحح)

۲) محد مدد پور ، سابقہ حوالہ، ص ۱۶۲_

۳) سابقہ حوالہ ، ص ۶۲ _ ۱۵۹ ، توماس واكر آرنولڈ وآلفرڈ گيوم ، سابقہ حوالہ ص ۴۲ _۱۳۹_جرجى زيدان، سابقہ حوالہ ص ۳۰۱_


ذريعے انجام پايا موجود ہيں _

راجر بيكن نے موسيقى كے حوالے سے اپنى كتاب ميں بعض مقامات پر بطلميوس اور اقليدس كے ساتھ فارابى كا نام ذكر كيا ہے اور ابن سينا كا بھى نام ليا ہے _ گروم مراوى نے اپنى كتاب ''ميوزيكا'' كى ايك فصل فارابى پر لكھي_ موسيقى كى دنيا ميں مسلمانوں كى سب سے بڑى پيش كش موسيقى ''موزون'' تھى جسكى ابتدا ميں كندى نے كچھ توصيف كى پھر فرانكو اور اسكے شاگردوں نے اسلامى موسيقى كے اوزان اور طريقہ كار كو استعمال كيا _ اسپين والے تيسرى صدى ہجرى مں اسلامى موسيقى كے اوزان اور راگوں كو استعمال كيا كرتے تھے_ مسلمانوں نے موسيقى كے سب سے زيادہ آلات اور وسائل يورپ ميں منتقل كيے_(۱)

اسلامى معمارى كے يورپى معمارى پر اثرات اور نقوش

بلا شبہ مسلمانوں نے يورپ كے مختلف فنوں بالخصوص فن معمارى كو متاثر كيا _ اگر چہ بہت سے مولفين يورپ ميں محرابى كمروں كو مسلمان كى تقليد سمجھتے ہيں اور انكے نظريہ كے مطابق دسويں صدى ہجرى ميں مصر ، سسلى اور اٹلى ميں اس قسم كے كمرے بنائے گئے ليكن يہ بات اتنى بھى درست نہيں ہے كہ ہم محرابى شكل كى معمارى كو مكمل طور پر مسلمانوں كا مرہون منت سمجھ ليں _(۲)

كچھ لوگوں كا خيال ہے كہ اسلامى معمارى كے اصول غير مسلم اقوام سے لئے گئے ہيں بعض ديگر كے مطابق مغربى معمارى رومى معمارى كى جديد صورت ہے جبكہ بعض تمام چيزوں كو ايران اور آرمينياكى طرف نسبت ديتے ہيں كہ اس نظريہ پر بحث قابل توجہ ہے كيونكہ ارمنستان ، ايران ، عراق اور ماوراء النہر ميں معمارى كے حوالے سے جو كام ہوا ہے اس نے مغربى معمارى كے رومى معمارى سے تعلق كو مشكوك بنا ديا ہے_(۳)

____________________

۱) توماس واكر آرنولڈ و آلفرڈ گيوم ، سابقہ حوالہ، ص ۷_۱۴۳_

۲) گوستاو لوبوں ،سابقہ حوالہ ، ص ۱۲_۷۱۰ ، ارنست كوئل ، سابقہ حوالہ، ص ۱۶ ، ۹۶_

۳) مارتين س ، بريگز ، معمارى اور ساختمان ، در ميراث اسلام ، ص ۸_۲۰۷_


مسلم بات يہ ہے كہ سوريہ كے علاقے، آرمينياكا كچھ حصہ ، شمالى افريقا كا آباد علاقہ اور مصر ان سرزمينوں كا حصہ تھے كہ جنہيں مسلمانوں نے رومى بادشاہت سے جدا كيا تھا اسكے علاوہ اسپين جو كہ ويزگوٹز كے ہاتھوں ميں تھا مسلمانوں كے قبضہ ميں آگيا_(۱) مسلمانوں كو ان سررمينوں كى فتح كے دوران بہت زيادہ عمارتوں اور زبردست انجينيرزاور معماروں كا سامنا كرناپڑا كر جنكى معمارى كا طريقہ رومى معمارى سے مختلف تھا_ بعض محققين كے مطابق ان انجنيئروں اور معماروں نے بہت سے فنون بيزانسى معماروں كو سكھائے_

بعض محققين كے فتوحات كے آغاز ميں عربوں كى معمارى سے آشنائي نہ ہونے كے نظريہ كے باوجود قابل اہميت نكتہ يہ ہے كہ اسلامى معمارى ان تمام صديوں ميں اگر چہ ديگر مختلف اقوام كے فن معمارى سے مستفيد ہوتى رہى ليكن ايسى خصوصيات كى حامل ہے كہ جس كى بناء پريہ دنيا كے تمام ديگر معمارى كے اساليب اور فنون سے ممتاز ہے_

مسلمانوں نے شروع ميں مساجد اور محلات بنائے_ مدينہ كى سب سے قديمى مسجد كہ جو رسول اكرم(ص) كے زمانہ يعنى ۶۲۲ عيسوى ميں بنائي گئي ، مسجد كوفہ ۶۲۹ عيسوى ميں بنائي گئي اور ۸۴۲ عيسوى ميں فسطاط (قاہرہ) ميں مسجد بنائي گئي يہ سب مسلمانوں كے ہاتھوں بنى ہوئے مساجد كے چند نمونے ہيں _(۲)

ساتويں صدى كے آخرى سالوں ميں ۶۳۹عيسوى ميں مسلمانوں كے ہاتھوں بيت المقدس كى فتح كے بعد مسجد حضرت عمر كے نزديك قبة الصخرة كے نام سے ايك عظيم الشا ن عمارت بنائي گى قبة الصخرہ كے بعد مسلمانوں كى اہم تعميرات ميں سے دمشق كى سب سے بڑى مسجد ہے جو آٹھويں صدى كے ابتدائي سالوں ميں بنائي گئي البتہ يہاں امكان ہے كہ اس مسجد كى عمارت شام ميں عيسائيوں كے كليساؤں سے كچھ مشابہت

____________________

۱) ويزگوٹ ان مغربى گوٹوں (جرمنى كى ايك قوم)ميں سے تھے كہ جو ۴۱۰ عيسوى ميں اٹلى كے بادشاہ آلاديك كے زمانہ ميں وہاں سے پھولوں كى سرزمين(فرانس) چلے گئے اور پيرنہ پہاڑيوں كے دونوں طرف يعنى فرانس اور اسپين ميں آباد ہوگئے_

۲) محمد مددپور ،سابقہ حوالہ ، ص ۲۵۰_۲۴۹


ركھتى ہو اس مسجددمشق كے مينار سب سے پہلے مينار ہيں جنكے ذريعے لوگوں كو نماز كى طرف دعوت دى جاتى تھي_(۱)

اسپين ميں قرطبہ كى مسجد اسلام كى سب سے بڑى مسجد ہے جسكى بنياديں ۷۸۶ عيسوى ميں ركھيں گئيں اس مسجد كے بارہ حصے ہيں اور ہر حصہ ميں رومى ڈيزائن كے بيس ستون ہيں(۲) سامرا كى مسجد بھى اسلام كے تاريخى آثار ميں سے ہے كہ جسكے صحن ميں گہرائي تك ايك محراب ہے اور اسكے گرد چند ايوان ہيں _(۳) قاہرہ ميں مسجد ابن طولون بھى ان مساجد ميں سے ہے كہ جن ميں بين النہرين كى قديمى مساجد جيسى خصوصيات ہيں _(۴)

نويں سے بارھويں صدى عيسوى كے دوران مسلمانوں كے ہاتھوں بہت سى مساجد اور فوجى قلعے تيار ہوئے جنكے ڈيزائن صليبى جنگوں ميں عيسائيوں نے مسلمانوں سے سيكھے اسى طرح يورپ والوں نے ''ميچيكوليشن''(۵) نامى كنگرے بنانے كا طريقہ بھى مسلمانوں سے سيكھا چودھويں صدى عيسوى ميں فرانس اورانگلستان ميں محلات اور قلعے بنانے كے دوران اس قسم كے كنگروں نے دوسرى صورت اختيار كر لى _

اسپين ميں تيرھويں صدى عيسوى كے بعد اسلامى معمارى كا شاہكار قصر الحمرائ''الكازار''(القصر) ہے اشبيليہ ميں المرابطين نامى محل كے كھنڈرات اور طليطلہ ميں عيسائيوں اور يہوديوں كے قديمى معابد كو ديكھ معلوم ہوتا ہے كہ كسطرح مراكش كى طرف سے مغربى معمارى كا طرز تعميراسپين ميں پھيلا_(۶)

____________________

۱) ارنست كونل ، سابقہ حوالہ ،ص ۱۷_۱۱۴ ، محمد مددپور ، سابقہ حوالہ، ص ۷_۲۵۶_

۲) سابقہ حوالہ ص ۴_۳۶۳_

۳) ٹوماس داكر آرنولڈ و آلفرڈ گيوم ، سابقہ حوالہ، ص ۲۱۷_

۴) محمد مدد پور ،سابقہ حوالہ، ص ۶_۲۶۵_

۵) Machicolation ، ديوار پر كنگرے كا نام ہے جسميں مختلف سوراخ ركھے جاتے تھے كہ جن سے مختلف وسايل كے ساتھ دشمنوں سے جنگ كى جائي تھي_

۶) سابقہ حوالہ ص ۲۲۱ _ ۲۲۰ ، ارنسٹ كوئل ، سابقہ حوالہ، ص ۶۷ و ۷۴_۱۶۵_


قرون وسطى ميں مساجد كى عمارتوں كے ڈيزائن اور اسلوب معمارى نے واضح ترقى كى اور مختلف صورتوں ميں سامنے آيا سارا سن طرز كے اسلامى ، گنبدوں نے يورپ كے نشا ة ثانيہ كے دور كے گنبدوں كو متاثر نہيں كيا ليكن مسلمانوں كے ميناروں كى روش معمارى اٹلى ميں چودھويں اور پندرھويں صدى عيسوى ميں رائج تھي_

جسطرح اسلامى معمارى نے ترقى كى اسى طرح گول ، نوك دار ، آدھى دائرہ كے اور دو مركز ركھنے والے ہلال اورايك اور ہلال جسے ''ايرانى ''كہتے تھے بھى رائج ہوئے اسى طرح ايسى كھڑ كيوں كا رواج ہوا جو مختلف رنگوں كے شيشوں سے مزين تھيں حالانكہ اس زمانہ ميں يورپ ميں رنگوں والے شيشوں كا رواج نہ تھا اسلام سے قبل آرمينيااور سوريہ كى پتھروں سے بنى ہوئي عمارتوں اور ايرانى اينٹوں والى معمارى كے قرون وسطى كے يورپ ميں اثرات سے ہٹ كر نوك دار ہلال بنانا مسلمانوں كى ہى ايجاد تھى _

بلا شبہ ايك تو مسلمانوں كے صليبى جنگوں ميں تعلقات اور دوسراقرون وسطى كے دوستانہ روابط اسلامى معمارى كو سرزمين مغرب ميں پھيلانے كے باعث بنے _(۱) ڈالور كى كتاب ''پيرس كى تاريخ '' ميں ملتا ہے كہ '' پيرس كے نٹرڈام كليسا كو بنانے كيلئے اسلامى معماروں كے ايك گروہ كى خدمات لى گئي_(۲) اسپين ميں اسلامى حكومت كے دوران اكثر عمارتوں ميں اسلامى فنون كو عيسائي فنون پر برترى حاصل تھى مثلا مشہور محل سقوبيہ جو گيارھويں صدى عيسوى ميں الفانس ششم كے حكم سے بنايا گيا تھا_(۳)

موسيولونر ميں لكھتا ہے كہ '' فرانس كے بہت سے كليساؤں ميں مسلمانوں كى معمارى كے اثرات واضح محسوس ہوتے ہيں ''(۴) اسى طرح اسلامى فن معمارى كے ايك ماہر موسيو پريس كا يہ نظريہ ہے كہ '' يورپ ميں سولھويں صدى كے آخر تك خوبصورت ميناروں كا جو رواج تھا ان كے ڈيزائن مسلمانوں سے ليے گئے تھے''_(۵)

____________________

۱) سابقہ حوالہ، ص ۸_۴۷ ، ٹوماس واكر آرنولڈ و آلفرد گيوم ،سابقہ حوالہ، ص ۳_۲۲۲_

۲) سابقہ حوالہ ص ۵_۲۲۴ ، ارنست كونل ، سابقہ حوالہ ، ص ۴۷، ۶۵_

۳) گوسٹاو لوپوں ، سابقہ حوالہ، ص ۷۱۴_

۴) كريستين پرايس ، سابقہ حوالہ، ص ۱۱۷_

۵) گوسٹاؤ لولون ، سابقہ حوالہ ، ص ۷۱۴_


ساتواں باب:

اسلامى تہذيب كے جمود كے اندرونى اور بيرونى اسباب


الف : بيرونى اسباب

۱_ صليبى جنگيں

بلا شبہ صليبى جنگوں كے برپاہونے كا ايك مضبوط ترين سبب دينى اور مذہبى انگيزہ تھا اور اس بات كو مسلمان اورعيسائي لوگ دونوں قبول كرتے ہيں البتہ ان جنگوں كے بر پا ہونے كے ديگر اسباب بھى بيان ہوئے مثلا عيسائي معاشروں ميں پادريوں كے اثر و رسوخ كا بڑھنا، ايشيا ء صغير ميں سلجوقى تركوں كو پيش قدمى سے روكنا ، قسطنطنيہ كا مسلمانوں كے ہاتھوں سے نكل جانا ، عيسائيوں كا بالكان كے علاقہ ميں داخل ہونا ، عيسائيوں ميں شواليہ(۱) سپاہيوں ميں اپنى شجاعت دكھانے اور يروشلم كى بادشاہت پر قبضہ كرنے كيلئے جوش و خروش پيدا ہونا اور ان سب سے اہم يورپى ممالك كى معاشرتى اور سياسى صورت حال(۲) _

يورپ كى معاشرتى اور سياسى صورت حال كا تجزيہ كريں تو معلوم ہوگا كہ دنيا كے اس حصہ ميں بادشاہتوں كا ايك درخشان تريں دور فرانس كے بادشاہ چارلمين كا زمانہ (۸۰۰ عيسوي) تھا ٹھيك اسى كے زمانہ ميں مسلمانوں كى پيش قدمى اپنے عروج كو پہنچ چكى تھى اور وہ عيسائيوں كيلئے بہت بڑا رقيب شمار ہوتے تھے_ كچھ عرصہ گزرنے كے بعد چارل مين كے جانشين بادشاہوں كى نالائقى ، برے اقتصادى حالات ، تہذيب كا فقدان اور انسانى آبادى ميں كمى كے باعث يہ بادشاہت علاقے كے جاگير داروں ميں تقسيم ہوگئي ، ہر كوئي

____________________

۱) شواليہ: قرون وسطى كے عيسائي گھڑ سوار سپاہى (مصحح)_

۲) رنہ گروسہ ، تاريخ جنگہاى صليب ، ترجہ ولى اختر شادان ، تہران ص ۹،۱_


اپنے اپنے علاقہ ميں تمام تر اختيارات كے ساتھ حكمرانى كرتا تھا اگر چہ نئے بادشاہ سے وفادارى كا حلف اسكى تاجيوشى كى تقريب ميں اٹھاياجاتا تھا ليكن يہ سب كچھ فقط برائے نام تھا فوج بھى ان گھڑ سواروں پر مشتمل ہوتى تھى جن كى باگ ڈور بادشاہ اور ان جاگير داروں كے ہاتھ ميں تھي_

دسويں صدى عيسوى سے مغربى يورپ بالخصوص فرانس ميں اقتصادى اور صنعتى ترقى كے ساتھ ساتھ آبادى ميں بھى اضافہ ہونے لگا انہى حالات كے ساتھ ساتھ مصر بھى ہندوستان اور يورپ كے مابين پُل كى حيثيت اختيار كر گيا_ مصرى ملاح ''وينس'' اور ''رن'' اور كسى حد تك مارسى جہازرانوں كے توسط سے ہندوستان سے مصالحہ جات اور ديگر اشياء لاتے تھے اور يہ تجارت قرون وسطى ميں يورپ كى سب سے بڑى بندرگاہ يعنى شہر وينس كى ترقى ميں اہم كردار ادا كرتى تھى _(۱)

۲_ منگولوں كى آمد

ساتويں صليبى جنگ(۶۵۲_۶۴۶قمرى /۱۲۵۴_۱۲۴۸عيسوى كے زمانہ ميں منگولوں نے ايشيا كے مشرق سے اسلامى ممالك پرحملہ كرديا اور ايران كے بادشاہ سلطان محمد خوارزم شاہ كو شكست دى اور فرار پر مجبور كرديا حقيقت ميں تيرھويں صدى عيسوى كو''وحشت و خوف كى صدي''كا نام دينا چاہيے كيونكہ اس صدى ميں وحشيوں كا تحرك اور تمدنوں كا زوال ايك ساتھ تھا_

سرزميں شام اس زمانہ ميں ايوبى امراء كے ہاتھوں ميں تھى جس كے ہر منطقہ ميں ايك حاكم حكومت كرتا تھا _ مصر بھى خاندان غلاماں كے قبضہ ميں تھا اور وہ ايوبيوں كے دشمن تھے_ ہلاكو خان نے اس موقع سے فائدہ اٹھايا اور اپنے سپاہوں كو شام كى طرف حركت دى ، ليكن مصرى خاندان غلاماں كے اميرقدوز نے سال ۶۵۸ قمرى ميں منگولوں كو عين جالوت كے علاقے ميں شكست دى _

____________________

۱) سات صليبى جنگوں كے اسلامى تہذيب و تمدن پر اثرات كے بارے ميں مزيد جاننے كيلئے رجوع فرمائيں عبداللہ ناصرى طاہرى ، علل و آثار جنگہاى صليبي، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامى ۱۳۷۳، ص ۴۷_۳۷_


منگولوں كے زمانہ ظہور سے ہى عيسائي انكے حليف بننے كے خواہشمند تھے _ انہوں نے بہت سے سفراء منگول دربار بھيجے تھے _ ايك طرف منگولوں كى مغرب كى طرف تيزى سے حركت نے انہيں منگولوں كى طاقت سے آگاہ كيا دوسرى طرف سے مسلمانوں كى جنگ عين جالوت ميں فتح سے وہ اس انديشہ ميں پڑے كہ خاندان مماليك(غلاماں ) عيسائيوں كيلئے بہت بڑا خطرہ ہيں اسى لئے انہوں نے منگولوں كے ساتھ اتحاد كا ارادہ كيا پايائے اعظم اوربن چہارم نے ہلاكو خان كى طرف خط بھيجا _ اس ميں اس نے ہلا كوخان كے عيسائيوں كے ساتھ طرز عمل كى تعريف كرنے كے ساتھ ساتھ اسے عيسائيت قبول كرنے كى دعوت دى _

ہلاكوخان خط پہچنے سے پہلے ہى ۶۶۳/۱۲۶۴ عيسوى ميں مرگيا اور اسكا بيٹا اباقاخان اسكا جانشين مقرر ہو ا نئے خان نے بادشان بيزانس (قسطنطنيہ)كى بيٹى سے شادى كى ہوئي تھى اور دين مسيحيت قبول كر چكا تھا وہ عين جالوت كى شكست سے سخت رنجيدہ تھا اپنے اسلاف سے بڑھ كرعيسائي دنيا سے روابط كا خواہشمند تھا _ بہت سے سفرا جو منگولوں كے خان سے مغرب كى طرف جاتے تھے عيسائي تھے اور كوشش كررہے تھے كہ عيسائيوں كو يروشليم اور بيت المقدس پر حملہ ميں اپنا حليف بنائيں _

ليكن ابا قاخان كو ۶۸۰ قمرى /۱۲۸۲ ميں حمص كے مقام پر سلطان قلاوون كى طرف سے شديد شكست كا سامنا كرنا پڑا_ جب احمد كلودار نے اسلام قبول كيا اور مسند حكومت پر متمكن ہوا تو مماليك اور منگولوں ميں دوستانہ روابط پيدا ہوئے تو سلطان قلاوون نے موقع سے فائدہ اٹھايا اور اپنى پورى طاقت كو صليبيوں كے خلاف استعمال كيا اسكے بعد اسكے فرزندملك اشرف شرف نے بھى باپ كى روش كو جارى ركھا اور ۰ ۶۹ قمرى ۱۲۹۱ عيسوى ميں صليبوں كے آخرى گروہ كو شام سے نكالا_ منگولوں اور مماليك كے درميان دوستانہ روابط زيادہ عرصہ نہ چل سكے _ نتيجہ يہ ہوا كہ دونوں ميں جنگ ہوئي غازان خان نے مصر اور شام پر قبضہ كيا ليكن مماليك كى فوج نے بالآخرہ منگولوں كو ۷۰۲ /۱۳۰۳ عيسوى ميں ہميشہ كيلئے شام سے نكال ديا _(۱)

____________________

۱) عبداللہ ناصرى طاہر ، سابقہ حوالہ، ص ۹۳ _ ۹۲_


منگولوں كا حملہ اور اسكے نتائج

اسلامى دنيا كو تاريخ ميں اگر چہ اغيار كے حملوں كے تجربات ہوئے ليكن كم كہہ سكتے ہيں كہ ان ميں سے كوئي تجربہ بھى منگولوں كے حملہ كى مانند شديد اور تلخ تھا ہم اس مختصر سے تبصرے ميں كوشش كريں گے كہ اسلامى تہذيب و تمدن كے جمود ميں وحشى منگولوں كے ہولناك طوفانى حملوں كے كرداد كا جائزہ ليں _

اسلامى دنيا پر منگولوں كا حملہ

منگولوں كے قبائل كے مقتدر سر براہ چنگيز خان نے اپنے ماتحت قبايل كى ضروريات پورى كرنے كيلئے ہمسايہ ممالك يعنى چين اور ايران كو غارت كرنے كا پروگرام بنايا _ چين اس زمانہ ميں اختلاف اور تفرقہ كا مركز بناہوا تھا_ اس نے سب سے پہلے اس ملك پر حملہ كى تيار كى _ دوسال تك اسكے چين پر حملات جارى رہے ان دو سالوں ميں اس نے اس نعمات سے مالامال ملك كو تباہ و برباد كرديا _ ان حملات كے بعد ابھى اسكا دنيائے اسلام پر تجاوز كرنے كا ارادہ نہ تھا_ كيونكہ اسے ايران كے بادشاہ سلطان محمد خوارزم شاہ كى قوت و طاقت كے حوالے سے بہت سى خبريں مل رہى تھيں _ اس نے كوشش كى كہ سب سے پہلے اس ملك كے حوالے سے دقيق معلومات حاصل كرے اور ساتھ ساتھ كسى بھى عنوان سے اسے حملہ شروع كرنے كا بہانہ بھى مل جائے _(۱) اسى زمانہ ميں خلافت عباسيہ روز بروز اپنى طاقت كھورہى تھى سلطان محمد خوارزم شاہ خراسان ميں اپنى پے درپے كاميابيوں كے بعد اور ہندوستان سے بغداد تك اور آرال كے دريا سے خليج فارس تك ايك متحدہ حكومت تشكيل ديتے ہوئے اس كا ارادہ تھا كہ عباسى خليفہ كوہٹا كر اپنا من پسند خليفہ لائے اور يہ اقدام سلطان محمد خوارزم شاہ كى بہت بڑى غلطى تھى اسكى بناء عباسى خليفہ مجبور ہوا كہ محمد خوارزم شاہ كى حكومت تباہ كرنے كيلئے چنگيز خان سے مدد مانگے_

____________________

۱) شيرين بيانى ، مغولان و حكومت ايلخانى در ايران ، تہران _ ص ۱۷ _۱۰_


اگر چہ يہ موضوع چنگيزخان كيلئے مناسب بہانہ بن سكتا تھا ليكن ايران پر ۶۱۵ /۱۲۱۸ عيسوى ميں حملہ كى اصلى وجہ منگولوں كا وہ تجارتى قافلہ بنا جو كہ خوارزم شاہ كى مملكت كے مشرقى سرحدى علاقہ ميں شہر اترا ر كے حاكم كے ہاتھوں تباہ و برباد ہوا اور اس قافلہ ميں سوائے ايك شخص كے تمام افراد قتل ہوگئے يہ وہى وقت تھا كہ چنگيز خان نے ايران پر حملے كا حكم صادر كيا _(۱)

منگولوں كى پيش قدمي

منگولوں كا ايك لشكر چنگيز كے بيٹے تولى كى كمانڈ ميں جنوب كى طرف بڑھا جبكہ دوسرے منگول لشكر چنگيزكے بيٹوں اكتاى اور جغتاى كى كمانڈ ميں اترار كى طرف روانہ ہوئے اور خود چنگيز بھى ۶۱۶ قمري/ ۱۲۲۰ عيسوى ميں كاشمر اور بلا ساقوں شہروں سے ہوتا ہوا كہ جو پہلے سے منگولوں كے قبضہ ميں آچكے تھے بخارا كى طرف بڑھا_

سلطان محمد خوارزم شاہ كہ جسے ابھى تك منگولوں كا سامنا نہيں ہوا تھا سمرقند سے بخارا اوربخارا سے سيحون كى طرف لشكر كے ساتھ بڑھا اس دوران اس نے تمام صوبوں سے فوج كو جمع كرنے كا حكم ديا _ منگولوں كے ساتھ جنگ ميں سلطان محمد خوارزم شاہ كى فوج پر ايسى سخت ضرب لگى كہ اگر اسكے شجاع بيٹے جلال الدين كى جانفشانى نہ ہوتى تو ہ خود بھى اس لڑائي ميں مارا جاتا بہر حال شكست نے سلطان محمد كے دل ميں ايسا خوف ڈالا كر وہ مازندران كى طرف فرار ہوا اور وہاں سے كسى جزيرہ ميں پناہ لى اور وہيں غم سے جان دي_(۲)

منگولوں كا پہلا نشانہ شہر اترار تھا كہ وہاں انكا تجارتى قافلہ لوٹا گيا تھا لہذا سب سے پہلے انہوں نے اسى شہر كا محاصرہ كيا پانچ مہينے كى مزاحمت كے بعد شہر والوں نے ہتھيار ڈال ديے حملہ آور منگولوں نے كسى پر رحم نہ كيا سب كو خاك و خون ميں غلطاں كرديا منگولوں نے يہاں سے مملكت ايران كو ويران كرنا شروع كيا اور پھر جو

____________________

۱) عباس اقبال آشتيانى ، تاريخ مغول و اوايل تيمور در ايران ، تہران_

۲) شيرين بيانى ، دين و دولت در ايران عہد مغول ، تہران ص ۱۹_۱۴_


بھى شہر انكے راستے ميں آيا سب شہر والوں كا قتل عام كيا اور پھر اس شہر ميں سوائے خاكستر كے كوئي چيز باقى نہ رہنے ديتے _

انہوں نے سمرقند ، بخارا ، خوارزم ، بلخ ، مرو ، ہرات اور ديگر تمام شہروں اور قصبات كو تباہ و برباد كيا اور بعض ديہاتوں ميں تو پالتو جانوروں پر بھى رحم نہ كيا بالخصوص وہ شہر كہ جہاں كچھ مزاحمت ہوئي وہاں كسى چيز كو نہ چھوڑا گيا _ مثلا جب چنگيز كو دس ماہ تك طالقان كے لوگوں كى مزاحمت كا سامنا كرنا پڑا تو اس نے اپنے بيٹوں (جغتاى ، اوكتاى ، تولي) كو مدد كيلئے بلايا تو ان لوگوں كى مزاحمت اور جغتاى كے قتل ہونے كى سزا كا انتقام ايسے ليا كہ اس شہر ميں كسى كتے اور بلى كو بھى زندہ نہ چھوڑا _(۱)

چنگيز كے جانشين اور عالم اسلام پر حملوں كا تسلسل

۱۰ رمضان ۶۲۴ قمر ى اور ۱۲۲۷ عيسوى ميں چنگيز خان مرگيا اس نے اپنى موت سے قبل مشرقى ممالك كى سلطنت تولى كے حوالے كى اور مغربى ممالك كى پادشاہى اكتاى كو بخشى ۵ ۶۶ قمرى ۱۲۵۳ عيسوى ميں چنگيز كے پوتے ہلاكو خان كو ايشيا كے معاملات كى ذمہ دارى ملى تا كہ ايران كى تمام مقامى حكومتوں كوختم كرتے ہوئے ايك واحد منگولى حكومت كو تشكيل دے _ اس نے فرقہ اسماعيليہ كى ۱۷۰ سالہ حكومت كو بھى ختم كيا اور ايران كے تمام قبايل اور گروہوں كو اپنے مقابل سر تسليم ختم كرنے پر مجبور كيا _

ليكن ہلاكوخان كى سب سے بڑى كاميابى بغداد يعنى اسلامى خلافت كے مركز كو فتح كرنا تھى اس نے بغداد پر چارو ں طرف سے حملہ كرنے كا حكم ديا چھ دن مزاحمت كے بعد ۴ صفر ۶۵۵ يا ۱۲۵۷ عيسوى ميں اہل بغداد نے ہتھيار ڈال ديے كچھ افراد كے علاوہ باقى تمام شہر والوں كو قتل كرديا گيا اسكے بعد ايك ايك كركے عراق كے تمام شہروں پر منگولوں كا قبضہ ہوتا چلا گيا ہلاكوخان بغداد كو فتح كرنے كے بعد آذربايجان كى طرف روانہ ہوا

____________________

۱) ج ، ج ساندوز ، تاريخ فتوحات مغول ، ترجمہ ابوالقاسم حالت ، تہران ، امير كبير ، ج ۲ ص ۱۱۴_


اس نے پہلے مراغہ اور بعدميں تبريز ميں سكونت اختيار كى اسكے بعد عراق مكمل طور پر اور خاص طور پر افسانوى شہر بغداد يعنى اسلامى خلافت كے مركز كى سياسى اہميت ختم ہوگئي اور منگول اپنى حاكميت كے اختتام تك يعنى ۷۳۴ قمرى ۱۳۳۵ عيسوى تك اس سرزمين پر قابض رہے(۱) _

منگولوں كى پيش قدمى كا اختتام او ر ايلخانى حكومت كى تشكيل

ہلاكوخان كى مسلسل يہى كوشش تھى كہ ماوراء النہر ميں دريائے جيحوں سے بحيرہ روم كے مشرق اور مغرب ميں مصر تك اسكى بادشاہت كى حدود پر اسكا تسلط برقرار رہے _ اسى ليے اس نے شام و سوريہ پر حملہ كيا انہى سالوں ميں مصر اور قاہرہ خاندان مماليك (غلاماں )كے ہاتھوں ميں تھا اور وہ دنيائے اسلام كے دفاع كى ذمہ دارى اپنے كندھوں پر محسوس كرتے تھے انہوں نے منگولوں سے كوئي سمجھوتہ نہ كيا اور فلسطين ميں عين جالوت كے مقام پر منگولوں كو سخت شكست فاش سے دوچار كيا اسطرح منگولوں كا ناقابل شكست والا طلسم ہميشہ كيلئے ٹوٹ گيا اسكے بعد شام ميں منگولوں كے ما تحت علاقے انكے ہاتھوں سے نكل گئے اور دوبارہ مصر كے مماليك ان علاقوں پر حكومت كرنے لگے اسكے بعد ديگر جنگى معركوں ميں منگولوں كو شكست ديتے ہوئے انہوں نے دريائے فرات كو اپنے اور منگولوں كے درميان سرحدى پٹى قرار ديا _

جنگى معركوں ميں كئي دفعہ ہارنے كے باوجود ہلاكو خان نے اپنى بادشاہى اور فوجى قوت كو مستحكم كرتے ہوئے '' ايلخان'' كے نام سے اپنى حكومت كا اعلان كيا اسكى حكومت كى حدود شرق ميں دريائے جيحون اور مغرب ميں مصر تك اور شمال ميں قفقاز اور جنوب ميں خليج فارس تك پھيلى ہوئي تھيں _

ہلاكو خان ۶۶۳ قمرى اور ۱۲۶۵ عيسوى ميں ۴۸ سال كى عمر ميں دنيا سے رخصت ہو ا اسكے بعد ۶۵۴ سے ۷۳۶ تك آٹھ ايل خانوں نے حكومت كى _ آخرى ايلخان منگول بادشان جو كہ لا ولد تھا بہت زيادہ عيش و عشرت كى بناء پر ۷۳۶ قمرى اور ۱۳۳۶ عيسوى ميں فوت ہوا اسكے بعد حكومت كے دعويدار اختلافات كا شكار

____________________

۱) رشيد دو ، لى _ شن ، سقوط بغداد، ترجمہ اسداللہ آزداد ، مشہد ، انتشارات آستان قدس رضوى ، ص ۲_ ۱۴۱_


ہوئے جسكى بناء پر ايل خان مختلف ٹكڑوں ميں بٹ گئے _(۱)

منگولوں كے دور ميں اسلامى دنيا كى تہذيبى صورت حال كا جائزہ

دوسو سال پر محيط منگولوں كى حكومت كا دور اسلامى ممالك كى تاريخ ميں ايك انتہائي تكليف وہ دور شمار ہوتا ہے _ كہ اس دور ميں منگولوں كى وحشيانہ حركات كى بناء پر اسلامى تہذيب و تمدن كو ناقابل تلافى نقصانات پہنچے _ منگولوں كى وحشيانہ تباہى سے پہنچنے والا ايك ناقابل تلافى نقصان بغداد پر قبضہ كے وقت كتابخانوں كو تباہ كرنا اور چند ہزار جلد كتاب كو آگ كى نذر كرنا تھا _

ابن خلدون كے بقول منگولوں نے اسقدر زيادہ اور بے شمار كتابوں كو دريائے دجلہ ميں پھينكا كہ ان كتابوں سے دريا ميں گويا ايك پل بن گيا كہ ديہاتوں كے لوگ اور گھوڑ سوار اس پل كے ذريعہ ايك كنارے سے دوسرے كنارے تك جاتے تھے_ بغداد كى تباہى كے ساتھ اسلامى خلافت كا مركز اور دنيائے اسلامى كا سياسى اقتدار بھى ختم ہو گيا اور اسلامى مقدس مقامات مثلا مساجد ، مدارس اور علمى حوزات ويران ہو گئے يا يہ كہ علمى تحقيقات اور ترقى سے محروم ہو گئے_(۲)

ليكن اسى راكھ سے اسلامى تہذيب و تمدن نے دوبارہ جنم ليا اوراس طرح نشو و نماپائي كہ كافر منگول بھى متاثر ہوئے بلكہ اسلامى تہذيب كے عاشق ہو گئے_ اور اسى دور ميں اسلام كے بہت سے عظيم اديب اور دانشور ظاہر ہوئے جن ميں سے ہر ايك نے اپنے مقام پر اسلامى تہذيب و تمدن كے احياء كيلئے بہترين كردار ادا كيا ان عظيم لوگوں ميں مثلا مولوى ، سعدى ، حافظ ، عطا ملك جوينى اور خواجہ نصير الدين طوسى قابل ذكرہيں _ مثلا خواجہ نصير الدين طوسى كے حوالے سے كہا جاتا ہے كہ ہلاكو خان ان سے اس قدر متاثر تھا كہ جو وقت خواجہ معين فرماتے وہ اس وقت سفر پر روانہ ہوتا يا كوئي كام كرتا شايد يہى مسلمان دانشوروں كا دانشمندانہ اور شايستہ طرز عمل تھا كہ اسلامى تہذيب دوبارہ ثمر آور ہوئي اور وہ قوم منگول كہ جس نے اسلام كو تباہ كرنے كيلئے كمر

____________________

۱) شيرين بيانى ، مغولان و حكومت ايلخانى در ايران _ ص ۷۶_

۲) اشپولر ، سابقہ حوالہ ، ص ۴ _۱۷۰_


باندھ ركھى تھى وہ اب اسلام كہ حامى اور مروّج بن چكى تھى اسى زمانہ ميں اسلامى اور ايرانى تہذيب و تمدن چين كى طرف منتقل ہوا اوراد ہر سے چينى علوم بھى سرزميں ايران ميں پھيل گئے بالخصوص چينى ماہرين فلكيات كا ايران ميں گر مجوشى سے استقبال ہوا اور انكے تجربات سے خوب فائدہ اٹھايا گيا _

الغرض ہم كہہ سكتے ہيں كہ منگولوں كے حملہ نے مسلمانوں كى مادى اور معنوى زندگى كو بہت زيادہ حد تك ويران كرديايہاں تك كہ اس دور كا علمى زوال اور معاشرتى سطح پر فقر و نادانى تاريخ كے كسى دور سے قابل موازنہ نہيں ہے _ حقيقى بات يہى ہے كہ اگر وحشى منگول ايران اور تمام اسلامى ممالك پر حملہ آور نہ ہوتے اور يہ سب ضرر و نقصان نہ پہنچتا تو آج اسلامى ممالك بالخصوص ايران كے حالات كچھ اور طرح ہوتے_

۳: سقوط اندلس

بلاشبہ اسلامى تہذيب و تمدن كے تاريخى سفر ميں سقوط اندلس اور دنيا كے اس خطہ ميں مسلمانوں كى حكومت كا زوال ايك تلخ ترين واقعہ ہے_ اندلس كا وہ اسلامى معاشرہ كہ جو آٹھويں صدى سے پندرھويں صدى تك مسلسل علمى ، معمارى ، ثقافتى اور فنى شاہكار كو وجود ميں لاتا رہا آخر كيوں ضعف اور پس ماندگى كا شكار ہو كر تاريخ كا حصہ بن گيا اور دنيا كے سياسى نقشہ سے اس اسلامى تمدن كا وجود مٹ گيا ؟

اندلس مسلمانوں كى فتح سے پہلے

جزيرہ ايبرے كے وہ حصے بحيرہ روم جو انہ كے ساتھ ساتھ اسپين كے جنوب اور پرتگال كے جنوب مشرق ميں موجود ہيں انہيں يا پورے جزيرہ ايبرے كو مسلمانوں نے اندلس كا نام ديا _ '' كلمہ اندلس'' جرمنوں كے ايك قبيلہ واندال كے نام سے ليا گيا تھا كہ جو پانچويں صدى كے آغاز ميں مغربى روم كى بادشاہت كے مختلف حصوں ميں بٹ جانے كے بعد اسپين كے جنوب ميں آباد ہوئے _

ظہور اسلام سے قبل اندلس پرواندالوں اورويزگوٹوں نے حملہ كيا يہ قبائل پير نيز كى پہاڑيوں كو عبور كرنے


كے بعد اندلس ميں داخل ہوئے كئي سالوں كى جنگ اور خونريزى كے بعد واندال قبيلہ مغرب پر جبكہ ويزيگوٹ قبيلہ اندلس پر قابض ہو گيا ويزيگوٹ لوگ آغاز ميں كيتھو لك نہ تھے جبكہ اندلس كے مقامى لوگوں كى اكثريت كيتھولك عيسائيوں پر مشمل تھى _ بہر حال ۵۸۹ عيسوى ميں وہاں بڑى تبديلياں ہوئيں بادشاہ اور ويزيگوٹوں كے روساء مذہب كيتھولك ميں داخل ہوئے _

آٹھويں صدى كے آغاز ميں ويزيگوٹوں كے طبقہ اشراف اوررومى لوگوں كے ثروت مند لوگ آپس ميں گھل مل گئے يوں ايك اميراور ثروت مند لوگوں كا طبقہ تشكيل پايا كہ جنہوں نے تمام تجارتى اور اجتماعى امتيازات خودحاصل كرليے اور باقى لوگوں كو اقتصادى حوالے سے اپنا محتاج بنا ديا جسكى بناء پر عام لوگ ان سے ناراض ہوئے _ ويزگوٹوں كى حكومت كى كمزورى كے اسباب كو چار اقسام ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے ۱_ امراء كے طبقات ميں جانشينى كے معاملہ پر اختلافات ۲_ معاشرے كے ديگر لوگوں كا امراء طبقہ كے امتيازات پر ناراضگى اختيار كرنا اور سپاہيوں كا غير قابل اعتماد ہونا ۳_ عقائد كى جانچ پڑتال اور يہوديوں كا تعاقب اور انہيں گرفتار كركے اذيتيں دينا ۴_ اقتصادى حوالے سے برے حالات(۱)

مسلمانوں كے ہاتھوں اندلس كى فتح

اس زمانہ ميں افريقا اور مغرب كا حاكم موسى بن نصير تھا جب وہ ويزيگوٹوں كى حكومت كے زوال سے مطلع ہوا اسے اندلس كى تسخير كا اشتياق ہوا تو اس نے اپنے غلام طارق بن زياد كو حكم ديا كہ سال ۹۲ قمرى /۷۱۱ عيسوى ميں تنگ دروں كو عبور كرتے ہوئے كہ جنہيں بعد ميں جبل الطارق كا نام ديا گيا ايك ہزار سپاہيوں كے ساتھ اسپين كى سرزمين پر اترے اور اس جگہ كو فتح كرے _ طارق بن زياد نے اسپين ميں داخل ہوتے ہيں ويزيگوٹوں كے بادشاہ كو شكست دى اور اسپين كے مركز تك پيش قدمى كى اور اس نے ايك سال ميں ہى اندلس كو جنوب سے شمال تك فتح كر ليا دوسرى طرف سے موسى بن نصير نے ۹۳ رمضان ميں ايك عظيم سپاہ كے

____________________

۱) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ، ج ۱۰ ، ص ۳۲۳ ، ذيل ، انڈلس_


ساتھ جبل الطارق سے گزتے ہوئے اندلس كے اہم شہروں كو فتح كيا اور طارق سے جاملا _

البتہ بعض مورخين كا خيال ہے كہ ابتداء ميں عرب لوگ انڈلس كى مكمل فتح اور وہاں رہنے كے موڈميں نہ تھے وہ محض كچھ مال غنيمت ليكر واپس افريقا جانے كے خيال ميں تھے ليكن طارق كى غير متوقع وسيع پيمانے پر كاميابى نے انكى سوچ بدل دي_(۱)

اسلامى حكومت كے دور ميں اندلس كى سياسى تاريخ

مسلمانوں كى حكومت كے دوراں اندلس كى سياسى تاريخ مجموعى طور پرتيں ادوار ميں تقسيم ہوتى ہے_

الف) اندلس دمشق كى مركزى اموى حكومت كا ايك حصہ (۱۳۲_۹۸ قمرى / ۷۵۵_۷۱۶ )عيسوي

اس زمانہ ميں دمشق كى خلافت كى سرحدوں ميں اندلس افريقہ كى حكومت (آج كا تيونس)كا ايك حصہ شمار ہوتا تھا انڈلس كے حاكموں كا تقرر افريقہ كے والى كرتے تھے جو قيروان ميں سكونت پذير تھے_ ان سالوں ميں تقريبا بيس افراد اندلس كے حاكم ہوئے كہ ان ميں صرف دو شخص پانچ يا پانچ سے زيادہ سالوں تك حكومت كر سكے اسى زمانہ ميں اندلس كے حكمران مزيد اسلامى فتوحات كے پروگرام ميں رہا كرتے تھے_

ب) اندلس پر اموى حاكموں كا جداگانہ سلسلہ (۴۲۲_ ۱۳۸ قمري) / (۱۰۳۱ _ ۷۵۵عيسوي)

اموى حكام نے تين صديوں تك اندلس پر حكومت كى اس سلسلہ ميں سولہ بادشاہ گذرے سب سے پہلے بادشاہ كا نام عبدالرحمن بن معاويہ بن ہشام تھا( ۱۷۲_۱۳۸ قمرى /۷۸۸_ ۷۵۵عيسوي)اور اس سلسلہ كے آخرى بادشاہ كا نام حسان بن محمد تھا (۴۲۲_ ۴۱۸قمري/۱۰۳۱_۱۵۲۷ عيسوي) اموى حكومت كے دوران

____________________

۱) حسين مونس ، سپيدہ دم انڈلس ، ترجمہ حميد رضا شيخى ، مشہد ، آستان قدس رضوى ، ص ۳۶_۲۵_


اندلس كى شمالى سر حديں كئي بار تبديل ہوئيں جزيرہ ايبرے كے شمال ميں اسلامى حكومت كى حدود بالخصوص شمالى سر حديں كئي بار تبديلى ہوتى رہيں اندلس پر عظمت اور نعمات كى فراوانى كا دور تھا ليكن آہستہ آہستہ اموى حكومتى خاندان ميں اندرونى اختلافات اور ان اختلافات كاعواى سطح تك پھيل جانے سے اندلس كى تاريخ ميں ايك غمگين دور شروع ہوا ور اس خطہ كا عروج ، ثروت اور ترقى اندرونى جنگوں كى نذر ہوگئي_

ج) اندلس ميں جاگير دارانہ دور ۸۹۸_ ۴۲۲ قمري/ ۱۴۹۲_۱۰۳۱عيسوي

امويوں كے زوال كے بعد سرزمين اندلس كا شيرازہ بكھر گيا _ بنى حمود وادى الكبير كے اكثر شہروں اور تقريبا دريائے شنيل تك كے علاقے پر حكومت كرنے لگے اسى زمانہ ميں عرب كے متعدد خاندان اور جاگير داروں كے متعدد سلسلوں نے مختلف شہروں كو اپنے قبضہ ميں لے ليا ۴۷۸ قمري/۱۰۸۵ ميں طليطلہ كے سقوط كے بعد مرابطوں نے تقريبا آدھى صدى تك اندلس پرحكومت كى اس حكومت كى حدود ميں نہ صرف يہ كہ مكمل مراكش اور موريطانيہ تھا بلكہ جنوب ميں دريائے اور رسٹگال تك اور شمال ميں مراكش كے مغربى حصہ تك انكى حكومت تھى اندلس ميں مرابطوں كى حكومت زيادہ عرصہ تك نہ چل سكى بلكہ بربروں كے موحدون نامى ايك اور گروہ نے ۵۴۱ قمرى /۱۱۴۵ عيسوى ميں مرابطوں كے بربرى سلسلہ كو ختم كرديا_ مرابطوں كے زوال كے حوالے سے مختلف اسباب ميں سے ايك يہ تھا كہ اس سلسلہ كے رؤساء ، افسر لوگ اور ديگر بلند پايہ حكام زرق و برق تہذيب اور اخلاقى بدعمليوں ميں غرق ہو چكے تھے_(۱)

موحدوں كے زمانہ ميں اندلس عيسائيوں كے پے درپے حملوں كى زدميں تھا اندلس كے مشرق و مغرب كے علاقے ايك ايك كركے عيسائيوں كے ہاتھوں ميں آگئے يہانتك كہ ساتويں صدى كے وسط ميں اندلس كے شمال ، مغرب اور مشرق كے تمام اسلامى شہروں پر عيسائيوں كا قبضہ ہو گيا اور اندلس كى اس عظيم مملكت ميں صرف جنوبى شہر عزناطہ اور چند چھوٹے شہر مسلمانوں كے پاس رہ گئے موحدوں كى حكومت كے آخرى ايام ميں

____________________

۱)محمد ابراہيم آيتى ، انڈلس يا تاريخ حكومت مسلمين در اروپا ، انتشارات دانشگاہ تہران_


انكے مخالف محمد بن يوسف نصرى كہ جو ابن احمد كے نام سے معروف تھا اس نے سال ۶۳۵ قمري/ ۱۲۳۸ عيسوى ميں غرناطہ كے عليحدہ ہونے كا اعلان كيا عيسائي اندلس كے بڑے شہروں پر قبضہ كے بعد كئي بار ابن احمد كى مملكت پر حملہ آور ہوئے ليكن غرناطہ كے سپاہيوں نے سختى كے ساتھ انكے حملے كو پسپا كرديا بنى احمد با بنى نصر نے ڈھائي صديوں سے زيادہ مدت تك اندلس كے جنوب پر حكومت كى بالاخر ۸۹۸قمري/ ۱۴۹۲ عيسوى ميں اسلامى شہر غرناطہ فرنانڈو پنجم كے ہاتھوں سقوط كر گيا اور بنى نصر كے اخرى امير ابو عبداللہ كے فرار كے ساتھ اندلس مكمل طور پر مسلمانوں كے ہاتھوں سے نكل گيا_(۱)

اندلس كے علمى اور ثقافتى حالات كا جائزہ

انڈلس اپنى جغرافيائي حيثيت كى بنا پر ہميشہ سے عالم اسلام اور مغرب كا مركز توجہ رہاتھا با لفاظ ديگر دنيا كے اس خطہ نے مسلمان حكومت كى بركت سے چند صديوں تك مشرق و مغرب كے درميان رابطہ كے پل كا كردار ادا كيا _ علمى اور ثقافتى پہلوں سے كئي ميدانوں ميں واضح ترقى كى مثلاً اندلس ميں ديگر اسلامى ممالك كے اثرات كى بناء پر علوم قرآنى كے دائرہ ميں علوم حديث اور فقہ ( فقہ مالكي) نے وسعت اختيار كى _

جہاں تك تجرباتى علوم كا تعلق ہے اندرونى اختلافات كى بناء پرحكم دوم كى حكومت(۳۶۶،۳۵۰قمري) كے زمانہ تك واضح ترقى نہ كر سكا البتہ اسكے زمانہ حكومت ميں علم كى مختلف اقسام ميں كافى ترقى ہوئي يہانتك كہ قرطبہ كى لائبريرى ميں تقريباً چار لاكھ تك كتابوں كى تعداد موجود تھى _

علم طب ميں اندلس نے بہت زيادہ ترقى كى اس سرزمين پر بہت سے حاذق اطبا ظاہر ہوئے _ فلسفہ ، كلام شعر اور ادبيات كے حوالے سے بھى اسلامى اور يورپى سرزمينوں كى سرحد پر واقع ہونے كى وجہ سے ثقافتى تبادلہ كے دروازہ كا كام ديتا رہا اور معروف و مشہور شخصيات كى پرورش كى _ ہنر و فنون كے اعتبار سے بھى اندلس

____________________

۱) دايرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۱ ذيل اندلس (عنايت اللہ خاكى ناد)_


نے بہت ترقى كى اس دور كے بعض آثار ہنر و فن ہميشہ اسلامى تہذيب و تمدن كا فخر شمار ہوتے رہے مثلا معمارى كے حوالے سے مسجد قرطبہ ، شہر الزہرا اور مدينة الحمراء كى طرف اشارہ كيا جا سكتا ہے كہ ہر مقام اپنى جگہ پراس دور كے يورپ ميں اسلامى فن معمارى كا عجوبہ شمار ہوتا تھا_

اس طرح ديگر فنون مثلاًخطاطى اور مٹى كے ظروف بنانے كے حوالے سے انتہائي اہميت كے حامل آثار وجود ميں لائے گئے جو آج بھى اندلس ميں اسلامى تمدن كے درخشان دور كى تصوير ہيں _(۱)

عيسائيوں كے ہاتھوں اندلس كے سقوط كے اسباب

اندلس ميں مسلمانوں كے زوال پر مختلف نظريات پيش ہوئے ہيں كہ ان نظريات كو تين اقسام اندرونى اسباب ، بيرونى اسباب اور جيوپوليٹيكل اسباب ميں تقسيم كياجا سكتا ہے:

الف: اندلس ميں مسلمانوں كے زوال ميں موثر اندرونى اسباب

جب بنى اميہ كے زمانہ ميں مسلمانوں نے اندلس كو فتح كيا اس زمانہ ميں اسلامى نظام ميں بہت سى بدعات اورانحرافات پيدا ہو چكے تھے كہ ان ميں چند مندرجہ ذيل ہيں :

۱_ وہ اسلامى حكومت كہ جو اہل سنت كے عقيدہ كے مطابق پيغمبر اكرم (ص) كے بعد لوگوں كى خليفہ سے بيعت پر تشكيل پاتى ہے اب ايك خاندان كى وراثتى اور آمريت پر مبنى حكومت ميں تبديل ہوچكى تھى حاكم بجائے اسكے كہ الہى احكام كا اجراء كرتاصرف اپنى ذاتى خواہشات كى پيروى كرتا تھا _

۲_ مساوات جو كہ اسلامى نظام كا ايك اہم ركن شمار ہوتى تھى ختم ہو چكى تھى حالانكہ قرآن اور سنت پيغمبر (ص) نے فضول برترى كے امتيازات كو باطل قرار ديا تھا اور فضيلت كے معيار كو صرف تقوى اور پرہيزكارى قرار ديا تھا ليكن اموى عربى نسل كو سب سے برتر نسل شمار كرتے تھے اور قريش كو عرب ميں ديگر قبائل پر برتر سمجھتے تھے_

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۳۲۶_


۳_ حكومت كى درآمدت جوكہ لوگوں كے عمومى امور پر صرف ہونى چاہے تھيں حكومت كى آسايش اور عيش و عشرت پر خرج ہورہى تھيں جسكى وجہ سے عام لوگوں ميں حكومت سے ناپسنديدگى كے جذبات بڑھ رہے تھے_

۴_ لوگوں كو گرفتار كرنا، قيد كرنا،تشدد كرنااور قتل عام كرنا بنى اميہ كے حكام كے روزمرّہ كے معمول تھے وہ حكومتى سپاہيوں سے اپنے مخالفين كو تباہ و برباد كرنے كا كام ليتے تھے_

۵_ زندگى كے معمول ميں ، خوراك ، لباس گھر بار ميں دنياوى عيش و عشرت سے وابستگى بنى اميہ كى حكومت ميں رواج پاگئي تھي_

۶_ شراب پينا ،عورتوں سے شعف ، گانے والى كنيزوں كى خريد و فروخت ، اور زمانہ جاہليت والے اشعار پڑھنا بنى اميہ كے زمانہ كے رواج تھے ،يہ غير اسلامى حركات اسلامى فاتحين كے ساتھ مفتوحہ علاقوں ميں بھى سرايت كر گئيں _

ان تمام اسباب كا مجموعہ بتاتا ہے كہ كسطرح بنى اميہ كى حكومت كے ذريعے مسلمانوں كا انحراف اندلس ميں بھى داخل ہو گيا _ اسلامى اقتدار كے ساتھ ساتھ خاندان بنى اميہ كے انحرافات اور بدعات اور بہت سى بلند پايہ اسلامى تعليمات كا مسنح ہونا ،ايك بڑا سبب تھا كہ جو اندلس كے مسلمانوں كو بتدريج كمزور كرنے كى بنيادى وجہ قرار پايا كہ جسكى بناء پر بيرونى اسباب اور دشمنان اسلام كو پيش قدمى كرنے كا كافى موقع ملا _(۱)

ب: سقوط اندلس كے بيرونى اسباب

بہت سى جنگوں ميں مسلمانوں كى مسلسل كاميابى ، يورپ كے وسيع علاقہ كا فتح ہونا اور عيسائيوں كى صليبى جنگوں ميں ناكامى سے يورپ والوں كو سخت خفت كا سامنا كرنا پڑا ،انہوں نے مسلمانوں كو خاص طور پر اندلس سے پيچھے دھكيلنے كيلئے ايك طويل الميعاد منصوبہ بنايا اس پروگرام كے دو مرحلے تھے ۱_ فوجى حملہ اور اسپين كى سرزمين واپس لينا ۲_ ثقافتى يلغار

____________________

۱_ سيد محمد طہطاوى ، غروب آفتاب در انڈلس ، علل انحطاط حكومت مسلمانان در اسپانيا ،تہران ، دار الصادقين ، ص ۱۷_۱۶_


۱_ فوجى حملات اور بتدريج اسپين كى سرزمين واپس لينا: اسپين كى سرزمين كو واپس لينا يا دوبارہ فتح كرنا پاپ اعظم كى طرف سے عيسائيوں كيلئے شرعى ذمہ دارى كے عنوان سے القاء ہوا انہوں نے ابتداء ميں كوشش كى كہ چھوٹے چھوٹے علاقوں كو محفوظ كرليں پھر انہيں وسيع كرنے كى كوششوں ميں مصروف ہوئے جن چيزوں نے عيسائيوں كى پيش قدمى ميں مدد كى ان ميں سے ايك عربوں كى بربروں سے جنگ تھى _

اس زمانہ ميں ايك شخص ''آلفونسوپڈرو ''المعروف آلفونسوى اول ،گاليسيا كے علاقہ ميں حاكم تھا جو ايك تجركار ، فہميدہ اور فعال شخص تھا اس نے اس موقعہ سے بہت فائدہ اٹھايااور اسطرح اپنى مملكت كو وسعت دى كہ اسكے بعد مسلمان اسكى حكومت ختم نہ كرسكے اسى وجہ اسپينى لوگ آلفونسوى اوّل (۷۵۷_ ۷۳۹ عيسوي) كى حكومت كو عيسائي اسپين كى حقيقى ولادت قرار ديتے ہيں _ آلفونسوى نے شمالى اندلس كے عيسائيوں كومسلمانوں كے خلاف بغاوت پرابھارا اور كچھ عرصہ بعد يہ علاقے مسلمانوں كے ہاتھوں سے نكل گئے _ اندلس كى حفاظت كيلئے مسلمانوں كى آخرى اميد غرناطہ ميں بنى احمد يا بنى نصر كى حكومت كا ظہور تھا _سلسلہ بنى نصر كى طويل عرصے تك حكومت بحال رہنے كى دو وجوہات تھيں :ايك يہ كہ غرناطہ كى كوہستانى حيثيت اور دوسرا اسكا افريقا كے نزديك ہونا _ يعنى وہ خطرہ كى صورت ميں شمالى افريقا كے مسلمانوں سے مدد كى درخواست كر سكتے تھے_

بہر حال اندرونى مشكلات اور باشكوہ عمارتوں كے بنانے ميں فضول نمود و نمايش اور اسراف سے كام لينے كى وجہ سے يہ حكومت مالى حوالے سے كمزور ہوگئي اسى طرح تخت و تاج پر قبضہ پانے كيلئے اندرونى اختلافات اور مختلف مفادات باعث بنے كہ فرنانڈودوم كے لشكر نے چند مراحل كے بعد مكمل طور پر غرناط كا محاصر ہ كر ليا _

آخر كار مسلمان سمجھ گئے كہ اب اس شہر كا دفاع ممكن نہيں رہا اور انہوں نے ہتھيار ڈال ديے، بنى نصر كا آخرى سلطان اور اسپين كے آخرى مسلمان بادشاہ ابوعبداللہ كے وہاں سے الوداع كے بعد اس علاقے سے اسلامى پرچم ہميشہ كيلئے اتر گيا_(۱)

____________________

۱)سابقہ حوالہ ص ۱۸_۱۷_


۲_ يورپى عيسائي اور سقوط اندلس كے لئے ثقافتى يلغار كے ذريعے ثقافتى سطح پر اسباب فراہم كرنا:اندلس كے مسلمانوں كے زوال ميں ايك اہم تريں سبب پروپيگنڈا يا دوسرے لفظوں ميں يورپى لوگوں كى اسلام كے خلاف ثقافتى يلغار تھى _ انہوں نے ايك طولانى مدت كے پروگرام كے تحت اسلامى معاشرہ ميں سستى ، لادينيت اور بے پروائي كے بيج بوديے اور مسلمانوں سے سخت انتقام ليا اندلس ميں مسلمانوں كى ابتدائي فتوحات كى ضربات اس قدر سخت تھيں كہ خود پاپ ميدان عمل ميں آگيا اور اس نے اندلس كے مسلمانوں كو تباہ كرنے كيلئے اپنا دينى اثر و رسوخ استعمال كيا اور اس حوالے سے مسلمان سرداروں اور حكام ميں اختلافات سے بھر پور فائدہ اٹھايا _

ايك مسلمان عرب سردار كہ جس نے عيسائيوں كى بہت مدد كى براق بن عمار تھا اس نے عيسائي سرداروں اور كليسا كے عہديداروں كے ساتھ مختلف مباحث اور گفتگو ميں انہيں نصيحت كى كہ مسلمانوں سے براہ راست جنگ كرنے سے پرہيز كريں اور پيمان صلح باندھنے وقت كوشش كريں تا كہ مسلمان معاشرہ اندر سے كھوكھلا ہوجائے اس نے ان سے كہا كہ مسلمانوں كے ساتھ تين چيزوں ميں پيمان صلح باندھيں :دينى تبليغ ميں آزادي، مسلمانوں كو تعليم دينے ميں آزادى اور مسلمانوں كے ساتھ تجارت ميں آزادى _

اسكى نظر كے مطابق پہلى دو چيزوں سے مسلمان لوگ بالخصوص نوجوان ،مسلمان استاد كے حوالے سے اپنى طبيعى احترام كى بنا پر ، يورپى اور عيسائي لوگوں كيلئے ايك طرح كى برترى اور احترام كے قائل ہوجائيں گے اور انہيں مقام كے حوالے سے اپنے سے قوى اور بلند سمھيں گے جسكے نتيجہ ميں مسلمان اپنے عقائد ميں سست اور لاپروا ہوجائيں گے جبكہ تيسرى چيز مسلمانوں ميں خوراك ، پوشاك اور حرام كھانے پينے والى چيزوں كے حوالے سے موثر ہوگى اور انہيں آہستہ آہستہ غير ذمہ دار اور لاپرواہ بنادے گي_

اندلس كے مسلمان حاكموں نے اسى پيمان سے دھوكہ كھايا اور صلح پر راضى ہو گئے _ عيسائيوں كے ساتھ صلح كرنے كے بعد اندلس كے مسلمان اخلاق اور كردار كے حوالے سے فاسد اور تباہ ہوگئے _ عيسائي مبلغين اور


راہبوں نے خوبصورت اور شاندار تفريح گاہيں بنائيں جن ميں وہ عيسائيت كى تبليغ كيا كرتے تھے مسلمانوں كى شخصيات اتوار والے دن ان تفريح گاہوں ميں جاتى تھيں تا كہ سير و تفريح كے علاوہ عيسائي جوان لڑكيوں كے حسن و جمال كا بھى نظارہ كريں _ اسى زمانہ ميں براق بن عمار كى نصيحت كے مطابق يورپ كى شراب اندلس ميں بہت زيادہ مقدار ميں آنے لگى تا كہ مسلمان جوان ديواليہ ہوں جس كا نتيجہ يہ نكلا كہ شراب خورى مسلمان جوانوں ميں رواج پاگئي _ جو بھى شراب سے انكار كرتا اسے قدامت پسند يا متعصب كا خطاب ملتا _

اب مسلمان نوجوان اپنى دينى اور معاشرتى اقدار كى اہميت كے قائل نہ رہے مساجد صرف بوڑھے لوگوں كے ليے مخصوص ہوگئي جبكہ عشرت كدے اور عيش و شراب كے مراكز نوجوانوں سے بھر گئے جو عيسائي لڑكيوں سے لذت لينے كيلئے وہاں جمع ہوتے تھے_ عيش و عشرت اور تجملات پسندى اسقدر بڑھ گئي كہ ان خواہشات كى تكميل حلال كمائي سے ممكن نہ تھى لہذا اداروں ميں فساد ، رشوت اور لوٹ مار عام ہوگئي _ اشياء كى توليد كرنے والے طبقات مثلا كسان ، كاريگر اور صنعت كار لوگ عدم توجہ كا شكار ہوگئے اور ہر روز غريب ہونے كے ساتھ ساتھ موجودحالات سے ناراض بھى تھے _(۱)

اسكے بعد عيسائيوں نے بعض مسلمان سرداروں كى خيانت كے ذريعے شہر والانس پر قبضہ كر ليا اور اس شہر ميں فجيع جرائم كے مرتكب ہوئے، انہوں نے نہ صرف يہ كہ ہزاروں مسلمانوں كو قتل كيا بلكہ مسلمان خواتين كے ناموس كو ان كے شوہروں كى آنكھوں كے سامنے لوٹا_ انہوں نے اس شہر پر اتنى تيزى سے قبضہ كيا كہ ديگر شہروں كے حكام اپنى فوج كو تيار ہى نہ كرسكے_

بہرحال اس طرح عيسائيوں نے اپنے مكارانہ ہتھكنڈوں سے اسلامى معاشرہ كو آلودہ كرتے ہوئے بتدريج اسپين كے ديگر شہروں پر بھى ايك ايك كركے قبضہ كرليا_

____________________

۱)سابقہ حوالہ ص۲۲_۸_


ج: اسلامى اندلس كے سقوط كے سياسى جغرافيائي geopolitical اسباب:

اندلس ميں مسلمانوں كى فتوحات كے حوالے سے جغرافيائي سياسى gepolitical اہم نكتہ يہ ہے كہ جزيرہ ايبري(اندلس) مكمل طور پر فتح نہيں ہوا تھا اور مسلمانوں كے مكمل قبضہ ميں نہيں آيا تھا_ بالخصوص اندلس كا شمالمغربى بڑا علاقہ مسلمانوں كى دستبرد سے محفوظ رہا تھا_ اسى طرح اندلس كے ديگر حصوں ميں ايسے علاقے بھى رہے ہيں جہاں مسلمانوں كا مؤثر قبضہ نہ تھا_ اگرچہ اسپين مكمل طور پر عيسائيوں كے ہاتھوں سے نكل چكا تھا _ مگر عيسائيوں نے اسپين كے شمالى سواحل اور خليج بيسكے( Biscay ) كے قريب پٹى اپنے لئے محفوظ ركھى ہوئي تھى تاكہ كسى دور ميں مسلمانوں كے اندرونى اختلافات اور لا ابالى سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسى جگہ سے جنوبى علاقوں پربتدريج قدم بڑھائيں اور آہستہ آہستہ اسپين كو دوبارہ عيسائيت كے دامن ميں لوٹا ديں _(۱)

نتيجہ بحث

عالم اسلام كى اندرونى تبديليوں كا تجزيہ كريں تو معلوم ہوگا مادى اور غير مادى قدرت و طاقت كے حوالے سے مسلمانوں كا زوال صديوں پہلے شروع ہوچكا تھا _ نظام خلافت ميں ضعف ، منگولوں كے حملے اور ان كے كبھى نہ بھرنے والے گھائو مسلمانوں كے زوال كى سرعت كا باعث بنے، اسى زمانے ميں اہل يورپ عالم اسلام سے تجارت اور صليبى جنگوں كے ذريعے پيدا ہونے والے نزديكى تعلقات كى بدولت اپنى ثقافتى اور علمى تحريك و بيدارى كا آغاز كرچكے تھے _

قابل توجہ بات يہ ہے كہ يورپ كى فكرى اور ثقافتى سطح پر نشاط كا آغاز سال ۱۴۵۳ عيسوى يعنى قسطنطنيہ ميں مشرقى روم كى شكست سے ہوا(۲) حالانكہ مسلمانوں كے زوال كا اہم ترين موڑكچھ عرصہ بعد يعنى ۱۴۹۲ عيسوى ميں اندلس كى آخرى اسلامى حكومت كى شكست پر رونما ہوا البتہ دو صديوں كے گزرنے كے بعد يہ تبديلى مكمل طور پر اور موثر انداز ميں اہل يورپ كے حق ميں انجام پذير ہوئي_

____________________

۱)سابقہ حوالہ ص۲۲_۸_

۲) مونتگمرى وات، اسپانياى اسلامى ، ترجمہ محمد على طالقانى ، تہران ، بنگاہ ترجمہ ونشر كتاب ص ۳۲ _ ۱۰ _


ب:اندرونى اسباب

۱_ استبداد( آمريت)

بشرى تہذيب و تمدن كى تاريخ كے ہر عصر ميں ہم ايسے ادوار كا مشاہدہ كرتے ہيں كہ جنہيں ''آمريت'' كے دور كے عنوان سے ذكر كيا جاتا ہے بعض محققين كى نظرميں آمريت فقط مشرقى سماج كے ساتھ مختص ہے جبكہ ديگر بعض كے رائے كے مطابق تمام بشرى معاشروں اور سماج ميں ايسے مظاہر رہے ہيں _ انپى نظر ميں ہر ملك اپنى تاريخ كے بعض ادوار ميں آمر بادشاہوں كے شكنجہ ميں رہا ہے _

اس گفتگو ميں ہمارے پيش نظر يہ ہے كہ اسلامى تہذيب و تمدن پر آمريت كے اثرات كا تجزيہ كريں اور يہ ديكھيں كہ كيسے اسلامى تہذيب وتمدن كے زوال كے اسباب ميں ايك سبب آمريت بتايا گيا ہے اور يہ كہ خود آمريت يعنى كيا ؟ كيسے پيدا ہوتى ہے ؟ وہ اسلامى معاشرے جو آمريت ميں گرفتار رہے ان كى كيا صفات ہيں ؟

آمريت يا استبداد ( Dictatorship )كى تعريف:

لغت ميں آمريت سے مراد''يكہ و تنہا'' اور ''خود اپنے طور پر ہى كام كرنا '' اور ''اپنى رائے كو مقدم كرنا'' ہے عرب دانشور عبدالرحمان كواكبى كے بقول : ''لغت ميں آمريت سے مراد يہ ہے كہ ايك شخص ايسا كام جو مشورہ سے انجام دينا چاہيے فقط اپنى رائے سے انجام دے ''، كواكبى كى رائے ميں سياسى لحاظ سے آمريت يعنى كسى ملت كے حقوق پر ايك فرد ياگروہ كا بغير كسى مواخذہ كے ڈر كے تسلط پيدا كرناہے _(۱)

اس بناء پر آمريت اپنى رائے اور اپنى پسند كو فوقيت دينے پر مشتمل ايسا نظام ہے كہ جسميں ايك حكومت يا دقت سے ديكھيں تو ايك شخص جو حكومت ميں بعنوان حاكم ہے ،عوام و ملت كے سامنے كوئي عہد اور ذمہ داري

____________________

۱) عبدالرحمان كواكبى ، طبايع الاستبداد، ترجمہ عبدالحسنين قاجار، ترتيب و تدوين صادق سجادى تہران ، ص ۱۶ _


محسوس نہيں كرتا _ يعنى ايسا نظام كہ جسميں حكومت لا قانونيت پر قائم ہے يعنى موجودہ قوانين اس وقت تك نافذ رہيں گے جب تك آمر انہيں اپنے مفاد ميں پائے گا ،اسى لئے آمرانہ نظام ميں قوانين ميں بہترى كيلئے ترميمات بے معنى اور خالى ہوتى ہيں _(۱)

اسلامى ممالك ميں آمريت كا سرچشمہ

يہ كہ آمريت كا سبب و سرچشمہ كيا ہے مختلف نظريات پيش كئے گئے ہيں _ مشرقى اسلامى معاشروں كے اقتصادى پہلو كے تجزيہ و تحليل سے معلوم ہوتا ہے كہ آمريت كا تسلط ان ممالك ميں ميں اتفاقى نہ تھا ان لوگوں كے طريقہ پيداوار ، سماجى معاملات اور ان معاشروں سے بننے والے مختلف شعبہ جات اس كيلئے راہ ہموار كرتے تھے مثلاً ايرانى معاشرہ كے جائزے سے معلوم ہوتا ہے كہ اس معاشرہ ميں لا محدود آمرانہ قوانين تين اسباب كى بناء پر وجود ميں آتے رہے :

۱_ اقتصاد اور آبپاشى كا طريقہ كار:

ايرانى كسانوں كى گذشتہ ادوار سے اب تك اہم مشكلات ميں سے ايك پانى اورآبپاشى كا مسئلہ تھا_ ايران كے بيشتر زرعى علاقے دنيا كے خشك علاقوں ميں سے شمار ہوتے ہيں اور يہى وجہ بہت عرصہ سے ہمارے ملك كے اقتصادى زوال كا سبب بنى ہوئي ہے(۲) _ اسى موضوع كى بناء پر وقت كى طاقتور حكومتوں نے ايك طرف تو بند باندھے اور نہريں جارى كرتے ہوئے زرعى كاموں كو وسعت دى اورديہاتى لوگوں كى مدد كى تاكہ زراعت كى بھارى ذمہ دارى سے بہتر طريقے سے عہدہ براء ہو سكيں دوسرى طرف اس سہولت سے مكمل فايدہ اٹھايا اور اپنى حكومت اور تسلط كو مستحكم اور پائيدار كيا _

____________________

۱) محمد على كا توزيان، استبداد در دموكراسى ونہضت ملي، تہران ص ۱۲_

۲) مرتضى راوندى _ تاريخ اجتماعى ايران _ تہران _ ج ۲ ص ۲۸۸ _


۲ _ عمومى مالكيت

جيسا كہ ذكر ہوچكا ہے كہ پانى كے مسئلہ كى بناء پر مركزى حكومت نے كسانوں كو اپنے تابع كرليا تھا زرعى زمين كى وسعت اور پھر اسكى سيرابى كے ليے پانى كے بہت بڑے منصوبے اور ان رزعى زمينوں كے استعمال كے ليے ان منصوبوں كو چلانا ناقابل اجتناب كام تھا_ اسى طرح آبپاشى كے مصنوعى طريقوں كى انتہائي ضرورت بڑے بڑے اداروں كى تشكيل اور ايك فرد كى مطلق حكومت كو بھى اپنے ہمراہ لے آتي_

آمر حكمران سماج كى نمائندگى ميں ان تمام سرزمينوں كا فرضى مالك اور انكے چلانے كا عہدہ دار ہوتا تھا_ اسكے علاوہ حكومت آبپاشى كے وسيع قومى كے اداروں اور پانى كے تمام منابع كى بھى مالك شمار ہوتى تھى _ اسطرح سے ملك كا وسيع حصہ زمين اور پانى كى صورت ميں يعنى پيداوار كے حقيقى وسائل كى صورت ميں حكومت كى ملكيت تھے_(۱)

۳_بيوركريسى (ديوان سالاري)

عمومى مالكيت نے خصوصى حق ملكيت كو تباہ كرديا_ آفيسرز اور كاركنوں كى صور ت ميں حكام كا ايسا طبقہ ظاہر ہوا كہ جو حاكم مطلق كے ماتحت ان تمام زمينوں اور پانى كے ہر منصوبے كى نگرانى كرتا تھا اور انہيں اپنے زير اختيار ركھتا تھا_اسى شعبہ كے تحت ايك بہت بڑا ادارہ وجود ميں آيا كہ جو پورے ملك ميں پھيلا ہوا تھا _ اسطرح ايران كى تاريخ كے ايك مخصوص مرحلہ ميں زمين، آبيارى اور رفاہ عامہ كے امور كے حوالے سے بيوركريسى آگے بڑھتى چلى گئي اور اقتصادى و اجتماعى بنيادوں پر چھا گئي،اس طرح آمر حاكم تمام حكومتى شعبوں اور فوج ، مختصر يہ كہ بيوركريسى كا حاكم شمار ہوتا تھا اور اسكى طاقت مطلق اورلامحدود تھي_(۲)

____________________

۱)مصطفى وطن خواہ_ موانع تاريخى توسعہ نيافتگى درايران _ ص ۹ _ ۱۳۸

۲) سابقہ حوالہ ص ۱۵۶_


البتہ يہاں واضح كرنا چاہئے كہ يہ آمر بادشاہ اپنے لامحدود اختيارات كى صحيح توجيہ كےلئے آئيڈيالوجى كى مدد ليتے تھے وہ اس تاريخى دور ميں اپنى طاقت كے الہى ہونے كا نظريہ پيش كرتے رہے كہ يہ ايك آسمانى مقدس حكم ہے كہ حكومت انكى نسل ميں منتقل ہوتى رہے اور يہ پرچار كرتے رہے كہ بادشاہ كى خدمت خدا كى خدمت ہے نيز بادشاہ كا حكم بھى خدا كا حكم ہے(۱) _ يقينا اس كام سے انكا مقصود يہ تھا كہ عوام كے دلوں ميں بادشاہ كا مافوق الفطرت رعب و وحشت طارى رہے اور وہ كبھى بھى بادشاہ كے خلاف بغاوت كا خيال بھى ذہن ميں نہ لائيں بلكہ ہميشہ بادشاہ كے تابع اور فرمانبردار رہيں _

آمريت كے نتائج

جيسا كہ پہلے بھى كہا جا چكا ہے كہ ايك آمرانہ سماج ميں تمام مسائل ايك خاص فرد كى پسند اور سليقہ كى بناء پر تشكيل پاتے ہيں شايد كہا جاسكے كہ آمريت كا سب سے معمولى نقصان انفرادى حقوق كا ضائع ہونا ہے _ آمرانہ سماج ميں آمريت كى شكل مخروطى ہوتى ہے يعنى ايك درجہ كے كسى ايك عنصر يا عناصر كے لامحدود و حقوق نچلے درجے كے عناصر كے حقوق سے مطلق بے بہرہ ہونے كے ساتھ جڑے ہوتے ہيں ايك طرف سے حقوق سے كلى محرومى اور دوسرى طرف طاقت و قدرت كى يہ تركيب لوگوں كے اذہان كو تباہى كى طرف ليجاتى ہے اس غلط صورت حال كو برداشت كرنا بالخصوص آزاد ذہنوں كے لئے بہت مشكل ہے _

كيونكہ كسى فرد كى فرديت اس وقت تشكيل پائے گى جب وہ ہميشہ حقوق سے بہرہ مند ہو جبكہ آمرانہ سماج ميں اكثر لوگوں كيلئے حقوق موجود ہى نہيں ہوتے جب تك آمرانہ سماج بنياد سے ہى ختم نہ ہو حقوق ركھنے والا فرض كبھى بھى حقيقت نہيں پاسكتا اور اس صورت حال كا بالآخر نتيجہ حقوق سے مطلق محروميت ہے نہ كہ اكثريت كى طاقت كى قدر اور حفاظت اسى لئے ايسے معاشروں ميں فرديت وجود ميں نہيں آسكتى(۲) _

____________________

۱)فرہنگ رجائي ، تحول انديشہ سياسى در شرق باستان، ص ۸۸_

۲) احمد سيف ، پيش درآمدى بر استبداد سالارى در ايران _ ص ۲۷_


لہذا جب آمريت پر مشتمل مختلف اسباب كے تحت بالفاظ ديگرجب تمام چيزيں ايك آمر حاكم كے ارادہ كے تحت وجود ميں آئيں تو ايسے معاشروں كے سماجى معاملات مثلاً اقتصادى ، معاشرتي، سياسى اور بطور كلى اس معاشرہ كى تہذيبى ترقى كى ہم كيسے توقع كرسكتے ہيں _

ايك سماج كلچر و ثقافت كے حوالے سے اسى وقت ترقى كرسكتا ہے كہ جب ترقى كيلئے ضرورى شرائط اور ماحول ميسر ہو _ پس آمريت زدہ معاشروں كے حوالے سے يہ توقع نہيں كى جاسكتى كہ اس معاشرہ كى تہذيب و ثقافت ترقى كرے اور وسعت اختيار كرے يا اگر كسى مسئلہ ميں كوئي ترقى بھى ہوتى ہو تو اس كے ثمرات كى حفاظت ہوسكے _

اسلامى معاشروں ميں آمريت

دين اسلام كے ظہور سے فكر بشريت ميں ايك عظيم انقلاب پيدا ہوا اس الہى دين كا مقصد انسانوں كو ان تمام قسم كى قيد و بند سے نجات دينا تھا جو طول تاريخ ميں اسكو جكڑے ہوئے تھيں _ اسلام حكومتى معاملات ميں فرد واحد كى رائے كو محور بنانے كا مخالف ہے بلكہ مشورہ كو حكومت كى بنياد قرار ديتا ہے _ رسول اكرم (ص) اكثر مسائل ميں اپنے اصحاب سے مشورہ كيا كرتے تھے اور آنحضرت (ص) كے بعد خلفاء راشدين بھى ايسا رويہ اپناتے تھے كہ لوگ اندرونى رغبت و رضا سے انكى اطاعت كيا كرتے تھے اگر كسى كيلئے كوئي سزا مقرر ہوتى تو وہ اطاعت كرتے اور تعميل كرتے تھے_

ليكن جب بنى اميہ مقام اقتدار پر پہنچے تو بہت سے مسائل تبديل ہوگئے روادارى اور تحمل پر مبنى حكومت كا دور ختم ہوچكا تھا معاويہ كے والى اور حكام كو يہ خوف تھا كہ اگر لوگوں كو آزادى دى گئي تو وہ بغاوت برپا كريں گے لہذا تشدد كى پاليسى شروع ہوئي_ سب سے پہلے معاويہ كا ہى دور تھا كہ جب رسمى طور پر تشدد كا كام شروع ہوا وہ لوگ جو معاويہ كے مخالف سمجھے جاتے تھے اور انہيں گرفتار كركے سزائيں دى جاتى تھيں(۱) _


عباسى خلفاء كے ادوار بھى اسى طرح تھے بلكہ بعض تو اموى دور سے بھى بدتر تھے _ ان ادوار ميں خلفاء اپنے مخالفين كو قتل كرنے سے بھى نہ چوكتے تھے اس قسم كى سياست سے وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ لوگ متنفر ہونے لگے_

آمريت و استبداد كوئي ايسا مظہر نہيں ہے كہ جسے ہم تاريخ كے كسى خاص دور ميں محدود كرديں بلكہ آج بھى بہت سى اقوام آمريت كا شكار ہيں ليكن بعض ادوار تاريخى ميں آمريت ايسى خاص شكل وصورت ميں سامنے آئي كہ مورخين اور دانشوروں كى توجہ كا مركز قرار پائي مثلاً عثمانى بادشاہت كا تجزيہ كريں تو معلوم ہوتا ہے كہ اس بہت بڑى بادشاہت كے سقوط كا ايك اہم سبب عثمانى بادشاہوں كى آمريت اور عوام كى ناراضگى تھا_ اسى طرح ايران كى تاريخ كا تجزيہ و تحليل كريں بالخصوص مشروطيت كے دور كا مطالعہ كريں تو معلوم ہوتاہے كہ لوگوں كا قيام اور انقلاب مشروطيت مكمل طور پر ظلم اور آمريت كو ختم كرنے اور قانون پر مبنى عادل حكومت كى تشكيل كيلئے تھا_

عصر حاضر ميں بھى مشرق وسطى كے تيل كى دولت سے مالا مال بہت سے ممالك آمرانہ نظام و حكومت كے حامل ہيں _ دانشوروں كے نظريہ كے مطابق ان ممالك كى حكومت كا ہم ستون تيل كى دولت سے تشكيل پانے والا اقتصاد اور دوسرا يہ كہ عمومى درآمدات سے بے نيازى ہے گويا كہ تيل نے انہيں عوام سے بے نياز كرديا ہے بہرحال آمريت كى كوئي بھى وجہ ہو اور كسى زمانہ ميں بھى ظاہر ہو يہى كہيں گے كہ يہ تہذيب و تمدن كے زوال كا اہم سبب ہے اوراسلامى تہذيب و تمدن بھى اسى قانون و قاعدہ سے مستثنى نہيں ہے اسلامى تہذيب كى تاريخ بتاتى ہے كہ جس قدر بادشاہوں كى آمريت و استبداد كم ہوا اسى قدر اسلامى تہذيب كى ترقى اور وسعت كيلئے اسباب و امكانات حاصل ہوئے _

۲_ دنيا پرستى ،قدامت پسندى اور حقيقى اسلام سے دوري:

آنحضرت (ص) اسلام كے پيغمبر ہونے كى حيثيت اپنى سيرت طيبہ اور روش زندگى كو ايسے سامنے لائے جو ہر

____________________

۱)_ جرجى زيدان ، تاريخ تمدن اسلام، ترجمہ على جواہر كلام، ص ۷۲۴ _ ۷۲۳_


قسم كے اسراف و نمود و نمايش سے دور تھي_ آپ كى غذا ، رہائشے اور لباس معاشرہ كے معمولى ترين افراد كى مانند سادہ اور چمك دمك سے دور تھا_ آپكى وفات عظمى كے بعد خلفاء راشدين كى سيرت بھى آپ (ص) سے مشابہت ركھتى تھى وہ بھى سعى كرتے تھے كہ اسلام حقيقى اور رسول اكرم (ص) كى سيرت طيبہ كى پيروى ميں مادى نمود و نمايش سے دور رہيں اور تمام مسلمانوں كيلئے نمونہ عمل كى حيثيت سے رہيں جبكہ اموى خلافت كے آغاز سے ہى دنيا پرستى اور تجملات مسلمانوں كے حقيقى اسلام سے دورى كا باعث بنے اسى طرح فكرو نظر اور روشن خيالى كى راہ ميں قدامت پسندى كى ركاوٹ بھى اسلامى تہذيب وتمدن كے زوال كا سبب قرار پائي_

الف: دنيا پرستي

ابن خلدون كا نظريہ تھا كہ حكومتيں انسانى زندگى كى مانند ايك عمر اور اسكے مختلف مراحل جيسے پيدائشے ، رشد و جوانى اور ضعف و بڑھاپا ركھتى ہيں _ انكے خيال كے مطابق حكومتيں پيدائشے سے زوال تك پانچ مراحل سے گزرتى ہيں :

پہلا مرحلہ كہ جسكا نام كاميابى كا مرحلہ ہے فرد حاكم قوم كے اندرونى روابط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار حاصل كرتا ہے يہ قومى روابط ايك طرح سے مختلف امور اور فيصلوں كو اسكى ذات ميں منحصر ہونے سے مانع ہوتے ہيں _دوسرے مرحلہ ميں وہ كوشش كرتا ہے اپنى حاكميت كو مستحكم كرتے ہوئے اقتدار كو اپنى ذات ميں منحصر كرلے_

تيسرے مرحلہ ميں اپنے اقتدار پر بھروسہ ركھتے ہوئے آسودگى اور آسايش كى نعمات سے بہرہ مند ہوتا ہے _ دوسرے الفاظ ميں وہ طاقت واقتدار كے پھل چنتا ہے اس مرحلہ ميں نمود و نمائشے اور آسودگى كا اظہار ہوتا ہے وہ ديگر مشہور حكومتوں كى مانند بے پناہ رقم شہروں كو خوبصورت بنانے اورعوامى عمارات كى تعمير پر لگاتا ہے_ اسى طريقہ كار پر چلتے ہوئے اس كے ماتحت، حوارى اور حكومتى كارندے دونوں ہاتھوں سے مال و ثروت جمع كرتے ہيں اور پر تعيش زندگى اختيار كرتے ہيں پھر اقتصادى ترقى كا زمانہ آتا ہے حاكم طبقہ كى توجہ اور حوصلہ


افزائي كى وجہ سے مصنوعات ، خوبصورت فنون اور علوم ترقى كرتے ہيں اسى دوران آرام وسہولت كا زمانہ آپہنچتا ہے اس زمانہ ميں انسان دنياوى لذتوں اور آسائشے سے بہرہ مند ہوتے ہيں يہاں حكومت كے ارتقا كا پہلا مرحلہ مكمل ہوجاتا ہے_

چوتھے مرحلہ ميں حاكم طبقہ اور رعايا كى مسرتوں كا عروج كا دور ہے يہ لوگ پچھلى نسلوں كى مانند زندگى كى لذتوں سے فائدہ اٹھاتے ہيں ليكن اس امر سے غافل ہيں كہ پچھلى نسل نے ان لذتوں تك پہنچنے كيلئے كتنى جدو جہد كى تھيں وہ اسى خيال ميں رہتے ہيں كہ تعيش اور زرق وبرق سے بھرپور زندگى اور معاشرتى تہذيب كى ديگر سہوليات ہميشہ سے موجود تھيں اور موجود رہيں گى _

تجملات، آسائشے اور خواہشات نفسانى كو پور اكرنا گويا انكے لئے ايك عام سى بات ہوجاتى ہے وہ اس دور ميں گذشتہ لوگوں كى محصولات اور ايجادات پر مكمل طور پر اكتفاء كيئے ہوئے ہوتے ہيں ايسے مصائب اور اسباب جو ممكن ہے كہ انكى كاميابيوں ميں خلل ڈال ديں ، ان كے مقابلے ميں كمزور پڑجا تے ہيں پانچوےں مرحلہ ميں حكومت زوال كى كى راہوں پر قدم ركھتى ہے اس دور ميں فضول خرچى اور اسراف كا آخرى مرحلہ شروع ہوتا ہے_ تن آساني، تجملات، جسمانى ضعف اور اخلاقى تباہى كا حملہ يا اندرونى اضمحلال يا دونوں اسباب كى بناء پر يہ حكومت تباہ ہوجاتى ہے _(۱)

سلسلہ بنى اميہ كا آغاز اورعيش و عشرت كى ابتدائ

اكثر اسلامى فتوحات بنى اميہ كے دور ميں مكمل ہوئيں يہ چيز ايك طرح سے حقيقى اسلام كى صورت بگاڑنے ميں اہم كردار ركھتى ہے كيونكہ اسلام ايسے خاندان اور ان كے وابستہ لوگوں كے ذريعہ ترويج ہورہا تھا كہ جو خود اسلام كے زيادہ معتقد نہ تھے_ بنى اميہ نے دين ميں مختلف بدعتيں ايجاد كيں اور ان بدعات كو دين كے نام سے پھيلايا _ انہوں نے اسلام كے زريں قانون مساوات كو پائوں تلے روندڈالا اور عرب كى عجم پر برترى كے نظريہ كا پروپيگنڈا كيا _

____________________

۱) عبدالرحمان ابن خلدون ، مقدمہ ابن خلدون، ترجمہ محمد پروين گنابادى تہران_


اموى حكمرانوں نے اسلامى حكومت كى بہت سى درآمدات كو اپنى عيش وعشرت اور خوبصورت محلات بنانے پر صرف كيا اسى بناء پر عوامى طبقات ميں ناراضگى كى لہر دوڑى اور يہ چيز اموى حكمرانوں كے سلسلہ كو ختم كرنے كا باعث بني_ انكے بعد بنى عباس نے بھى اسى طرز عمل كو جارى ركھا اور انہيں بھى بنى اميہ كى مانند انجام كا سامنا كرنا پڑا_

خلفاء اورا مراء كى بے پناہ ثروت اور اسكے نتائج

خليفہ اسلامى ممالك كى حكومت ميں مكمل اختيارات كا مالك تھا_ تمام درآمدات سب سے پہلے اس كے ہاتھوں ميں پہنچتى تھيں _ لہذا قدرتى طور پر وہ تمام لوگوں سے زيادہ مال و دولت كا مالك تھا_ خلفاء كے بعد علاقوں كے والى اور امراء بھى بے پناہ دولت كے مالك تھے_ كيونكہ وہ ماليات اور ٹيكس جمع كرتے تھے جتنا چاہتے تھے لوگوں سے چھين ليتے تھے _

يہ ايك طبعى بات ہے كہ انسان جسقدر زيادہ ثروت و دولت كا مالك ہو تو اس كى زندگى كا معيار اتنا ہى وسيع اور بلند ہوتا ہے وہ خوراك، لباس اور نمود و نمايش ميں بہت زيادہ افراط كرتا ہے_ تعيش كى طرف رجحان نے عرب بدووں كو صحرا نشينى والى خصلتوں سے دور كركے يوں شہرى زندگى كى آسائشےوں كا عادى كرديا كہ وہ تعيش اور تفنن ميں روم اور ايران كے بادشاہوں سے بھى سبقت لے گئے _ سب سے پہلے حضرت عمر نے معاويہ كے فاخرہ لباس پر اعتراض كيا اور كہا اے معاويہ تم نے ايران كے بادشاہ كسرى كى مانند لباس پہنا ہے؟(۱) _

بنى اميہ كے خلفاء پھولوں كے نقش ونگار والا ريشمى لباس پسند كرتے تھے جيسا كہ ہشام بن عبدالملك كے نقش و نگار سے بھرے ہوئے بارہ ہزار ريشمى لباس مشہور ہيں _ اسطرح كے نمود و نمايش اور آسائشے پسندى نے مسلمانوں كو رام كرليا تھا اور يہ چيز مسلمانوں پر پڑنے والى مہلك ترين ضرب تھي(سقوط اندلس كا مطالعہ كريں )(۲)

____________________

۱)سابقہ حوالہ_

۲) زين العابدين قرباني، علل پيشرفت اسلام و انحطاط مسلمين _ تہران _ ص ۸۹ _ ۳۸۲ _


ب: قدامت پرستي

اسلامى تہذيب و تمدن كے زوال ميں ايك سبب قدامت پرستى ہے كہ اس سے پہلے كے ہم اسلامى تہذيب پر اس كے اثرات كا مطالعہ كريں سب سے پہلے اسكى دقيق تعريف و تشريح كريں گے _ قدامت پرستى كے مختلف معانى ہيں مثلاً توقف، تبديلى قبول نہ كرنا، جمود اور تہذيب اور حقيقى و بلند اقدار كا ترقى نہ كرنا ہے_

قدامت پسندى فكر و نظر كے ميدانوں ميں وجود پاتى ہے اور اگر كردار و رجحانات سے ظاہرہو تو جمود كہلاتا ہے _ قرآنى مفاہيم ميں بھى (قدامت پسندي) كو معرفت و شناخت كيلئے مانع و ركاوٹ كے عنوان سے ذكر كيا گيا ہے ؟ (ثم قست قلوبكم من بعد ذلك فہى كالحجارة اور اشدّ قسوة ...)(بقرہ ۷۴)

قرآنى نگاہ ميں يہ وہ لوگ ہيں كہ جنہوں نے فكر و تدبر سے دورى اختيار كرلى ہے اور ناقابل ہدايت ہوچكے ہيں پس قدامت پسندى حق كو قبول كرنے اور حقيقى كمال و سعادت تك پہنچنے ميں ركاوٹ ہے اسكے ساتھ ساتھ يہ دينى افكار كى ترقى ميں بھى مانع ہے _

قدامت پسندى كے ہوتے ہوئے حقيقت، معرفت، حكمت، حكومت ، انتظام ، سياست اور معيشت كے ساتھ فكرى اور عملى طور پر پروان نہيں چڑھا جاسكتا _

قدامت پرست لوگ اسلام سے فقط خشك و جمود يافتہ تعليمات ليتے ہيں كہ زمان و مكان كے تقاضوں كے مد مقابل كسى قسم كى لچك، تحقيق اور نمو سے خالى ہيں _ اور كبھى بھى اپنے اسلامى افكار و نظريات اور عمل ميں غلطى اور نظرثانى كے قائل نہيں بلكہ ہميشہ ٹھراؤ اور خواہ مخواہ كے توقف كے شكار ہيں _(۱)

ايك قدامت پرست انسان اپنى فكر و نظر كا ايك مضبوط جال اپنے ارد گرد تن ليتا ہے اور كبھى بھى اپنے افكار اور عقائد كو تبديل كرنے پر تيار نہيں ہوتا_ استاد مطہرى اس مسئلہ كے حوالے سے فرماتے ہيں كہ ''اسلامى دنيا ميں كچھ فكرى تحريكيں سامنے آتى ہيں كہ انكا نام افراط يا جہالت ركھنا چاہئے ان تحريكيوں كے ذريعہ دينى امور اور بے جا دخل ميں افراط سے كام ليا گيا جبكہ ان كے مد مقابل كچھ ايسے فكرى رويے سامنے آئے كہ جو تفريط

____________________

۱) محمد جواد رودگر، تحجر و تجدد از منظر استاد مطہرى كتاب نقد سال ہفتم شمارہ ۲_۳ ص ۵۰_ ۴۹_


اور جمود كے حامل تھے_ ليكن يہ سب گذشتہ دور ميں تھا مسلمانوں كو چاہيے كہ قرانى تعليمات پرعقيدہ ركھيں اور معتدل انداز سے فكرى حركت كرےں _(۱)

استاد مطہري منحرف فكرى تحريكوں كا تجزيہ و تحليل كرتے ہوئے تين ايسے كلى مكاتبكے بارے ميں بتاتے ہيں كہ جو شديد انداز سے جمود فكرى كا شكار تھے اور قدامت پرستى كى تبليغ و ترويج ميں اہم كردار ادا كرتے تھے :

۱)_وہ عناصركہ جنہوں نے سياسى مقاصد كى خاطر ''حسبنا كتاب اللہ'' كا نظريہ پيش كيا _ اور فكرى انحراف پيدا كرنے كے ساتھ ساتھ اہلبيت رسول سے لوگوں كو دور كرنے ميں مؤثر كردار اداكيا_

۲)_ايك اورگروہ نے پہلى تحريك كے مدمقابل ''حسبنا احاديثنا واخبارنا'' كا نعرہ بلند كيا اور قرآن كريم كو مہجور قرار دينے ميں اہم كردار ادا كيا اور لوگوں كو بنيادى اور زندگى بخش معارف و تعليمات سے دور كيا_

۳)_وہ عناصر كہ جنہوں نے تقدس كے رنگ ميں قرانى تعليمات كے ناقابل فہم و درك ہونے كا نظريہ پيش كيا اور ''اين التراب ورب الارباب'' كا نعرہ بلند كيا جسكا نتيجہ فكرى تعطيل كى صورت ميں سامنے آيا اور يہ گروہ ''معطلہ'' كہلايا _(۲)

اگر ہم اسلام كے مختلف سماجى ادوار ميں اسلامى نظريہ اور فكرى وثقافتى تحريكوں كى تاريخ ميں تحقيق كريں تو يہ مشاہدہ كريں گے كہ ان مندرجہ بالا تين كلى تحريكوں كى بناء پر ''اخباريت اور ظاہر پرستى '' اور انكے مد مقابل ''باطنيت اور تاؤيل'' كى شكل ميں حنبليوں اور اسماعيليوں كے دو غلط فكرى نظام سامنے آتے ہيں كہ ان دو فكرى نظاموں اور اخباريت كى تحريك نے اسلامى تہذيب و تمدن كے پيكر پر شديد اور خطرناك ضربيں لگائيں كہ استاد مطہري كے بقول ''اسلام نے اخباريوں اور حديث مسلك لوگوں كے ہاتھوں جو ضرب كھائي وہ كسى اور تحريك سے نہيں كھائي تھي''_(۳)

____________________

۱) مجموعہ آثار ج ۲۱ ص ۱۲۹ _ ۱۲۸_

۲) سابقہ حوالہ ج ۶ ص ۹۰۰ _ ۸۷۸ _

۳) رودگر، سابقہ حوالہ ص ۵۳_ ۲۱۹


ج ) اسلامى دنيا ميں عقل اور عقل دشمن تحريكيں

بہرحال تمام تہذيبوں بالخصوص اسلامى تہذيب و تمدن كا عروج و زوال مختلف فكرى تحريكوں كا مديون منت ہے_ بعض اہل فكر وتحقيق اسلامى افكار و ثقافت كے زوال كا سبب متوكل عباسى (۲۴۷_ ۲۳۲ قمري) كا دور خلافت سمجھتے ہيں اس خليفہ سے پہلے كے خلفاء مكتب معتزلى يعنى عقل گرائي كى طرف رجحان ركھتے تھے اور اہل نظر ، حكماء ، فلاسفہ اور دانشوروں كے حامى سمجھے جاتے تھے ليكن يہ خليفہ مكتب اہل حديث سے وابستہ ہوا ، عقائد معتزلہ كى مخالفت كى اور عقائد وافكار ميں جدل و مناظرہ كو ممنوع كيا_ يہاں تك كہ كوئي بھى علمى مباحث اور مناظرہ كا اہتمام كرتا اسے سزا ديتا تھا_

ان اقدامات كا يہ نتيجہ نكلا كہ احمد بن حنبل كے پرچم تلے اہل حديث كے گروہ نے ترقى كى جو فقط سنت و حديث كى تقليد كرتے تھے اور جو كچھ نقل ہوا صرف اسى كے سامنے سر تسليم خم كرتے تھے اور اپنے مخالفين يعنى اہل عقل و نظر بالخصوص معتزلہ پر كفر كا الزام لگاتے تھے _ يہ تحريك امام محمد غزالى كے ظہور اور انكى مشہور كتاب ''احياء علوم الدين'' كے سامنے آنے سے شديد تر ہوگئي_ صرف تعقل كو ممنوع كرنے اور معتزلہ كو كافر قرار دينے پر اكتفاء نہ كيا گيا بلكہ شيعہ اثنى عشرى جيسے مكاتب پر بھى كفر، رافضيت اور باطنيت كى تہمت لگائي گئي_

اسلامى تفكر ميں جمود پيدا كرنے والے ان اسباب كے ساتھ ساتھ قرن ششم وہفتم ميں تصوف كى وسيع پيمانے پر ترويج كو بھى شامل كياجاسكتا ہے _ بعض محققين كى نظر كے مطابق يہ تصوف علوم عقلى مثلاً فلسفہ اور استدلال كے مدمقابل بہت بڑى مصيبت شمار ہوتا ہے كيونكہ اہل تصوف شريعت اور عقل كے پيروكاروں كے مد مقابل كشف و شہود كو حقائق كے درك كا وسيلہ پيش كرتے تھے، حقيقت تك پہنچنے كيلئے عقل و استدلال كو ناكافى سمجھتے تھے اور كبھى تو عقل كو اللہ تعالى كى معرفت و شناخت كيلئے حجاب كا عنوان ديتے تھے_

مجموعى طور پر مندرجہ بالا اسباب كو اسلامى تفكر و نظريہ كى ترقى ميں اہم موانع سمجھا جاسكتا ہے جب بھى فكر و استدلال كے راستے بند كيے جائيں تو خودبخود قدامت پرستى اور جمود پروان چڑھيں گے اخر ميں ہم اسلامى نظريہ كى تاريخ كا تجزيہ كرتے ہوئے جمود اور قدامت پرستى كوفكر و استدلال ميں توقف سے تعبير كرسكتے ہيں _


آٹھواں باب:

بيدارى عالم اسلام كى نشا ة ثانيہ


۱_ صفوي:

الف) صفويوں كا ظہور:

آيا صفوى خاندان عرب تھے يا تركى يا كردى يا ايرانى _ اس حوالے سے محققين ميں اختلاف نظر ہے _(۱) اس خاندان كے سب سے پہلے فرد شيخ صفى الدين اردبيلى (۷۳۵_ ۶۵۰ قمري) جو كہ ايران كے بزرگ مشائخ اور عرفاء ميں سے تھے _ اپنے مرشد كى جستجو ميں شيخ زاہد گيلانى كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور انكے مقرب قرار پائے پھر انكى وفات كے بعد طريقت زاہد يہ كے رئيس بنے _(۲) شيخ صفى الدين كا مقام معنويت بڑى اہميت كا حامل تھا انہوں نے طريقت كے اس لباس ميں مذہب تشيع كى وسيع پيمانے پر نشر واشاعت كى يوں ان كى ذہانت اور زيركى وجہ سے يہ مسلك ايران ، شام اور برصغير تك وسعت سے پھيلا_(۳)

شيخ صفى كے بعد انكے فرزند صدر الدين انكے جانشين بنے آرامگاہ بننے سے انكے پيروكاروں كى فعاليت بڑھي(۴) ايلخانان كے بعد بتدريج اردبيل كى خانقاہ كے شيوخ سياسى كھيل ميں داخل ہوئے _ اس كے بعد خواجہ على اور ابراہيم مقام خلافت پر پہنچے اسى دوران صفويوں كى تبليغى سرگرمياں جارى رہيں يہاں تك كہ سنہ ۸۵۱ جنيد صفوى طريقت كے رئيس بنے _

____________________

۱) ابن بزاز اردبيلى (درويش توكلى بن اسمعيل بزاز) صفوة الصفا مقدمہ و تصحيح غلامرضا طباطبائي _ تہران ص ۷۰ حسين ابدال زاہدى ، سلسلہ النسب صفويہ ، تہران ، ايرانمہر ۱۱_ ۱۰ _

۲)ابن بزاز_ سابقہ حوالہ فصول ششم ، ہفتم_

۳)راجو سيورى ، ايران عصر صفوى ، ترجمہ كا ميز عزيزى ، تہران ، نشر مركز ص ۸_

۴) ابن بزاز، سابقہ حوالہ ص ۹۸۳، ۸۹۸_


انہوں نے دنياوى اقتدار و طاقت كو ہاتھ ميں لينے كى طرف اپنا ميلان آشكار كيا اور سلطان كا لقب اپنے لئے پسند كيا كہ يہ چيز ان كے دنياوى جذبوں كے صفوى طريقت كے ديگر معنوى پہلوؤں پر غلبہ كى عكاسى كرتى ہے انہوں نے كئي بار اپنے مريدوں كو كفار كے خلاف جہاد پر اكسايا_(۱) حيدر ۸۶۰ قمرى ميں جنيد كے جانشين بنے پھر حيدر كے بعد على اسكا جانشين بنا اس نے اپنے آپ كو بادشاہ كہا(۲) صفويوں كى سياسى سرگرمياں باعث بنيں كہ آق قو نيلو جوكہ صفويوں كے دوست اور ہم پيالہ تھے انكے حوالے سے تشويش كا شكار ہوئے بالآخر على آق قو نيلوؤں كے ہاتھوں قتل ہوا اور اسماعيل جوكہ سات سالہ تھا اہل اختصاص (صفويوں كے خصوصى وفادار و محب لوگ) كے ذريعے گيلان فرار كروا ديا گيا _(۳)

ب) صفوى حكومت كى تشكيل :

سنہ ۹۰۵ قمرى ميں اسماعيل دوبارہ اردبيل ميں پلٹا اور اپنے مريدوں كو منظم كيا _ اس نے سنہ ۹۰۷ قمرى ميں آق نيلووں كى كمزورى سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تبريز شہر پر قبضہ كرليا اور تاجيوشى كى تقريب منعقد كى يہ سب اقدامات اہل اختصاص نے انجام ديے چونكہ اس وقت اسماعيل كى عمر چودہ سال سے زيادہ نہ تھى _(۴) اس نے رسمى طور پر حكومت كا مذہب شيعہ قرار ديا اور اماميہ اثنا عشريہ كى ترويج اور استحكام كے لئے كوششيں كيں(۵) _

كچھ عرصہ بعد اسماعيل نے ايران كے شمالى مشرقى علاقوں كى صورت حال درست كرنے كيلئے ازبكان سے جنگ كى ليكن اہل شمشير (ترك لوگ) اور اہل قلم (دفاتر كے ايرانى لوگ)(۶) ميں اختلافات كے باعث

____________________

۱) نيورى ، ص ۱۶ _ ۱۵_

۲) خوانوير _ جيب السير ، زير نظر محمد دبير ساقى ، تہران ، ص ۴۳۸ _

۳ ) سابقہ حوالہ ص ۴۴۲ _ ۴۴۰_

۴) سابقہ حوالہ ص ۵۱_ ۴۴۶_ حسن بيگ روملو، احسن التواريخ باتصحيح عبدالحسنين نواہي_

۵) جہان گشائي خاقان،ص ۸۰ (تاريخ شاہ اسماعيل) مقدمہ اسلام آباد، مركز تحقيقات فارس ايران در پاكستان ص ۶_۱۴۵_

۶) سيورى ، سابقہ حوالہ ص ۳۱_۳۰_


كے باعث وہ معركہ غجددان ميں كچھ پيش رفت نہ كرسكے اور يہ معركہ ايرانيوں كے ضرر ميں اختتام پذير ہوا_ مغربى محاذ ميں بھى اسماعيل عثمانيہ كى سنى حكومت سے اساسى اختلافات ركھتا تھا _ عثمانى حكومت كسى صورت ميں بھى صفويوں كى شيعہ حكومت كو قبول كرنے كيلئے تيار نہ تھى نيز صفوى كے حاميوں كے آناتولى ميں اقدامات اور خود صفويوں كى عثمانيہ كے امور ميں مداخلت مشہور جنگ چالدران (سنہ ۹۲۰ ميں ) كا باعث بنى كہ جسميں صفويوں كى شكست كے باعث تبريز پر دشمن كا قبضہ ہوا اور شاہ اسماعيل اپنى عمر كے آخرى آيام تك اس شكست سے متاثر اور شرمندہ رہا _

ج) استحكام كا مرحلہ:

سنہ ۹۳۰ قمرى ميں شاہ اسماعيل كى وفات كے بعد تہماسب تخت حكومت پر جلوہ افروز ہوا(۴) اس نے اپنى حكومت كے دوران صفوى اقتدار كى اہليت اور صلاحيت كو ثابت كيا سب سے پہلے امراء اور قزلباشوں كى سركشى اور نافرمانى كو دبايا كہ جو ايرانيوں كے مقابلے ميں زيادہ اختيارات اور طاقت كے طالب تھے اور قزلباشوں اور حكومتى امراء كے درميان ايك خاص نظم قائم كيا كہ جسكى بناء پر اس كا ۵۴ سالہ اقتدار اپنے آخرى ايام تك مستحكم اور باقى رہا _

شاہ تہماسب نے سنہ ۹۳۵ قمرى ميں مرو كے مشہور جنگى معركہ ميں ازبكان كو شكست دى _(۵)

اس نے جنگى چالوں اور توپخانہ كے استعمال سے صفوى حكومت كو آدھى صدى تك متحد اور مستحكم ركھا _ اس كے بعد شاہ اسماعيل دوم كے مختصر دور سلطنت (۹۸۵_ ۹۸۴ قمرى ) اور سلطان محمد خدابندہ كے دور حكومت (۹۹۶_ ۹۸۵ ) ميں قزلباشوں كى مداخلت كى وجہ سے صفوى حكومت كے اندرونى اور بيرونى حالات خراب ہوگئے تھے(۱)

____________________

۱) خورشاہ بن قباد الحسيني، تاريخ ايلچى نظام شاہ ص ۵_ ۸۴_

۲) روملو، احسن التواريخ ص ۲۸۱_ ۲۷۷_

۳) اسكندر بيك منشى ، تاريخ عالم آرامى عباسى ، ص ۳۴۱_


د) زمانہ عروج :

سنہ ۹۹۶ قمرى ميں عباس ميرزا تخت شاہى پر متمكن ہوا اس نے بھى اپنى اصلاحات كا ايسا جلوہ دكھا يا كہ يورپ كے بادشاہوں اور پاپا ے روم نے بھى اپنے سفيروں كو اس كے دربار ميں بھيجا(۱) شاہ عباس نے اپنى حكومت كے ابتدائي ايام ميں قزلباشوں كى مختلف جماعتوں كى گروہ بندى كا مشاہدہ كياوہ سمجھتا تھا كہ اس سے پہلے كہ اسكا اقتدار انكى سازشوں كى نذر ہو انكى سركشى كو ختم كريا جائے _ لہذا اس نے قزلباشوں كى جگہ فوج ميں جارجين، چركس اور آرمينين اقوام كے دستوں كو داخل كيا جسكى بناء پر ايك منظم فوج تشكيل پائي كہ جسے اس نے يورپى فوجى تكنيك بالخصوص چارلى برادران كى فوجى تربيت اور بارودى اسلحہ اور توپخانہ سے آراستہ كيا_ فوج كے ذريعے قزلباشوں كو پر قابوپايا_ امن بحال كيا اور حكومت كى اقتصادى صورت حال كو درست كيا_

شاہ عباس تجارت بالخصوص بيرونى تجارت كو بہت زيادہ اہميت ديتا تھا(۲) اس نے يورپى حكومتوں كے ساتھ تعلقات بڑھائے ، يورپى ممالك ميں اسكے سفيروں كى بڑى تعداد اسكے وسيع اقدامات كى عكاسى كرتى ہے_ ان اقدامات كے ثمرات كى بناء پرجان چارڈن ( فرانسيسى سياح) نے ايران كى سياحت كے بعد كہاتھا كہ اس عظيم بادشاہ كى وفات سے ايران كى رونق اورفلاح و بہبود بھى ختم ہوگئي(۳)

سال ۱۰۳۸ قمرى ميں شاہ كى شاہزادوں كے قتل اور انہيں حرم ميں محبوس كرنے كى سياست كے باعث صفوى دربار ايسے تجربہ كار لوگوں سے محروم ہوگيا جو شاہ عباس كى پاليسوں كوجارى ركھ سكتے تھے_ شاہ عباس كے بعد شاہ صفى نے قدرت كى باگ ڈور سنبھالي، اس كے زمانہ اقتدار ميں ولايات ممالك كو ولايات خاصہ ميں تبديل كرنے كى سياست ( صوبوں كے اختيارات كى تقليل) وسعت اختيار كر گئي اس سياست كو عباس

____________________

۱) نصراللہ فلسفى ، زندگانى شاہ عباس تہران ، انتشارات علمى ج ۴ ص ۵ ص ۱۲۷۱ _ ۱۳۲۵_

۲) سيورى ، سابقہ حوالہ ص ۹۹_

۳) سيوري، درباب صفويان ،تہران ص ۱۶۸_

۴) محمد يوسف والہ قزوينى اصفہاني، ايران در زمان شاہ صفى و شاہ عباس دوم ، تہران انجمن آثار و مفاخر فرہنگي_ ص ۱۵_ ۳۱۳_ ۵۱_ ۳۵_


اول نے درآمدات بڑھانے اور ملك كے دفاعى سسٹم كو مضبوط كرنے كيلئے شروع كيا تھا ،ليكن شاہ صفى كے دور ميں اس سے ملك كے دفاعى شعبہ كو نقصان ہوا اور خاندان امامقلى خان كہ جس نے اس حوالے سے بہت سے خدمات انجام ديں تھيں مكمل طور پر ختم ہوگيا(۱) شاہ عباس دوم جو كہ شاہ صفى كا جانشين تھا وہ بھى ملك كے خراب حالات كو زيادہ بہتر نہ كرسكا اگر چہ اس نے اپنى بادشاہت كى سرحدوں كو ہر قسم كے حملے سے بچائے ركھا اور سال ۱۰۵۸ ميں قندھار كو تيموريوں سے واپس لے ليا_

شاہ سليمان كے اقتدار تك پہنچنے سے صفوى سلسلہ كے زوال كا دور شروع ہوا اس دور ميں علماء كا ملك كے سياسى اور مذہبى امور ميں نفوذ تيزى سے بڑھا ليكن صفوى اقتدار شاہ سلطان حسين كے دور ميں مكمل طور پر ضعف كا شكار ہوا جو كہ ايك كمزور شخصيت كا حامل تھا اور ملك كے امور سے لا پرواہ تھا_ اس زمانہ ميں قندھار كے افغان لوگ جو كہ صفويوں كے تسلط كو پسند نہيں كرتے تھے ايران پر حملہ آور ہوئے اور سنہ ۱۱۳۵ قمرى ميں اصفہان پر قبضہ كركے صفوى سلسلہ كے اقتدار كو ختم كرديا(۲)

خارجہ روابط

صفوى دور حكومت ميں انكے مغرب ميں ہمسائے عثمانى تھے، شمال و مشرق ميں ازبكان اور ان كے مشرق ميں مغل تھے ،صفويوں كے انكے ساتھ روابط بہت سے نشيب وفرازسے گذرے_

الف) ہمسايوں كے ساتھ روابط

صفويوں كے اپنے ہمسايوں كے ساتھ روابط ميں فقط انكا مذہب ( شعيت ) ہى اہم تاثير كا حامل نہ تھا بلكہ بہت سے اسباب اور دلائل ديگر بھى موجود تھے_ ايران كے شمال مشرق ميں ازبكان لوگ اپنے صحرائي مزاج

____________________

۱) ولى قلى بن داود بن قلى شاملي_قصص الخاقاني_ ص ۴۱۲ _۴۰۶_

۲) تاريخ ايران دورہ صفويان _ پوہشى از دانشگاہ كمبريج ترجمہ يعقوب آنہ ص ۱۲۶_۱۲۲_


اور قبائلى نظام كے باعث اكثر ايرانيوں كے ساتھ حالت جنگ ميں ہوتے تھے ليكن يہاں اہم نكتہ يہ ہے كہ صفويوں نے اكثر ان كے ساتھ طاقت كى زبان استعمال كى اور فتح پائي(۱) دونوں حكومتوں ميں مذہبى اختلافات كے علاوہ جنگ وجدال كا اہم سبب دونوں ممالك كے مابين جغرافيائي اور سياسى سرحدوں كا نہ ہونا تھا اس كشمكش كے ساتھ ساتھ دونوں ميں دوستانہ روابط بھى موجود رہے ،بہت سے ايرانى اور ازبكى سفيروں كى رفت وآمد نيز ازبكوں كا حج كے اعمال بجالانے كيلئے ايران سے عبور كرنا صفويوں كے ساتھ دوستانہ روابط كا متقاضى تھا(۲)

صفويوں كے عثمانيوں كے ساتھ روابط بھى صلح وجنگ كا آميزہ تھے ،بہت سى جنگيں اور مختلف صلح نامے سے اس فراز و نشيب كى عكاسى كرتے ہيں _ ايران اور عثمانيوں ميں اہم ترين معركہ جنگ چالدران تھى كہ عثمانيوں كے باغى شاہزادے سلطان مرادكى(۳) شاہ اسماعيل كى طرف سے حمايت اور دونوں حكومتوں كے مذہبى اختلافات كے باعث يہ جنگ پيش آئي_ شاہ تہماسب كے دور ميں سال ۹۶۲ قمرى ميں(۴) صلح آماسيہ كے عہدنامہ سے يہ روابط ايك نئے مرحلہ ميں داخل ہوگئے_ اس صلح نامہ كے تحت كردستان ، بين النہرين اور جارجيا كا كچھ علاقہ عثمانيہ كو حاصل ہوا اس كے مد مقابل آرمينيا، كاخت اور آج كے مشرقى آذربائيجان كا كچھ حصہ ايران كا جزو شمار ہوا _(۵) سرحد متعين ہوگئي اور يہ معاہدہ سلطان محمد خدابندہ كے دور تك باقى رہا_(۶) شاہ عباس كے ابتدائي دور ميں اس نے مجبور ہوكر ايران كے كچھ علاقے عثمانيوں كے حوالے كئے ليكن بعد ميں اس نے عثمانيوں سے واپس لے ليے(۷) شاہ صفى كے زمانہ اقتدار ميں عثمانيوں نے بغداد پر قبضہ

____________________

۱) عباسقلى غفارى ، روابط صفويہ و ازبكان ج ۱_

۲) اسكندر بيگ منشي، سابقہ حوالہ ص ۷۳_ ۷۲_

۳) ھامر پور گشتال ، تاريخ امپراتورى عثمانى ص ۱۹_ ۸۱۶_

۴) خورشاہ _سابقہ حوالہ ص ۸۶_ ۱۸۴ اسكندر پلك منشى ، سابقہ حوالہ ج ۱ ص ۹_۱۲۸_

۵) عبدالرضا ہوشنگ مہدوي، تاريخ روابط خارجى ايران از ابتداى دوران صفويہ تاپايان جنگ دوم جہاني، ص ۳۳_

۶) راجرسيوري، سابقہ حوالہ ص ۷۳_۷۰_

۷) سابقہ حوالہ ص ۶_۸۳ _


كرليا اور بادشاہ نے سال ۱۰۴۹ قمرى ميں عثمانيوں كے ساتھ معاہدہ قصر شيرين طے كيا جس كى روسے بصرہ اور مغربى كردستان كا كچھ حصہ عثمانيوں كو ديا گيا جبكہ مشرقى آذربائيجان، رواندوز، آرمينيا اور جارجيا ايران كو ديے گئے، يہ معاہدہ بہت اہميت كا حامل تھا كہ كيونكہ اس معاہدہ كى روسے متنازعہ علاقوں كا مسئلہ حل ہوا اور ايك صدى تك دونوں حكومتوں ميں صلح برقرار رہى _(۱)

آخرى نكتہ يہ ہے كہ عثمانيوں كے ساتھ ايران كے روابط ميں مختلف عوامل كردار ادا كرتے تھے _ مثلاً مذہب، سياسى عوامل سرحدى علاقوں كے قبائل كى حركات، سرحدوں كا متعين نہ ہونا اور عثمانيوں كى توسيع پسندي_

مغلوں كے ساتھ تعلقات ميں ديگر ہمسايوں كى نسبت بہت كم معاملہ جنگ وجدال تك پہنچا يہاں صرف اہم مسئلہ قندھار كا تھا_مغلول كے ساتھ دوستانہ روابط اكثر صفوى بادشاہوں كے زمانہ ميں رہے ہيں دونوں حكومتوں نے باہمى روابط ميں امن اورصلح قائم ركھنے كو ترجيح دى _(۲)

(ب) يورپى حكومتوں كے ساتھ روابط : سال ۹۱۲ قمرى كے بعد سے خليج فارس ميں پرتگاليوں كے نفوذ كى بناء پر شاہ اسماعيل نے كوئي چارہ نہ ديكھتے ہوئے انكے اقتدار كو قبول كيا اصل ميں وہ عثمانيوں كے خلاف ان سے مدد لينا چاہتا تھا _ پرتگاليوں سے قرار داد ميں يہ درج تھا كہ وہ ايرانى لوگوں كو بارودى اسلحہ كے استعمال كا طريقہ سكھائيں _ شاہ تہماسب كى عثمانيوں كے ساتھ بيس سالہ جنگى دور ميں پرتگاليوں نے كچھ مقدار ميں بندوقيں اور جديد اسلحہ ايرانيوں كو ديا _(۳) اس دور كے بعد عيسائي مبلغين نے دوستانہ روابط برقرار كرنے كى كوششيں شروع كيں _

سال سنہ ۱۰۰۶ قمرى ميں دو انگريز آنتھونى شرلى اور رابرٹ شرلى شاہ عباس كے دربار ميں حاضر ہوئے _

____________________

۱) ہوشنگ مہدوى ، سابقہ حوالہ ص ۵_ ۱۰۴_

۲)رياض السلام ،تاريخ روابط ايران و ہند، ترجمہ محمد باقر آرام و عباسقلى خان ، تہران _

۳) ہوشنگ مہدوي، سابقہ حوالہ ص ۳، ۲۳_


ايك سال كے بعد شاہ عباس نے انتھونى شررلى كو بادشاہ كى طرف سے دوستى كے خطوط كے ساتھ پايائے اعظم اور يورپ كے بادشاہوں مثلاً روم كے بادشاہ رودلف دوم فرانس كے بادشاہ آنري، ملكہ انگلستان اور وينس كے حاكم دوك توسكانى كى طرف بھيجا _ انتھونى كا مشن يہ تھا كہ وہ ان بادشاہوں كى مشتركہ دشمن عثمانيوں كے ساتھ جنگ ميں حمايت حاصل كرے_

پرتگاليوں كے ساتھ انگريزوں كى رقابت كے سلسلہ ميں انتھونى جيكسن ماسكو كى كمپنى كے نمائندے كى حيثيت سے ايران آيا_ وہ ملكہ اليزبتھ كى طرف سے شاہ تھماسب كےلئے بہت سے خطوط لايا كہ جنكا مقصد تجارتى روابط برقرار كرنا تھا_ انگريزايسٹ انڈين كمپنى كے ذريعے سال ۱۰۲۴ قمرى ميں آہستہ آہستہ ايرانى بازاروں ميں داخل ہوئے وہ ايران ميں كپڑا لائے انہوں نے شيراز اور اصفہان ميں تجارت خانے قائم كيے اور شاہ عباس سے بہت سى سہوليات حاصل كيں _ شاہ عباس انگريزوں كى دريائي طاقت كو پرتگاليوں كے خلاف استعمال كرنا چاہتا تھا بالآخر امامقلى كى كوششوں سے انگريزوں ے مدد لى اور ہرمز كو پرتگاليوں كے چنگل سے آزاد كرواليا _(۱)

سال ۱۰۷۴ قمرى ميں ايران كے بعد يورپى حكومتوں كے ساتھ روابط ميں فرانسيسى لوگ ظاہر ہوئے ،كيپشن گروپ ايران ميں فعال ہوئے انہوں نے اصفہان ميں مراكز قائم كيے اور انگريزوں اوراہل ہالينڈ كى مانند انہوں نے بھى دربار سے سہوليات حاصل كيں(۲) ايسٹ انڈيا انگريز كمپنى نے صفوى دور كے اختتام تك ايران ميں اپنے من پسند حقوق بحال ركھے صفويوں كے غير ملكى روابط كے حوالے سے كہا جاسكتا ہے كہ شاہ اسماعيل ، شاہ تھماسب اور شاہ عباس كبير جيسے حاكموں نے اپنے ملك كے استقلال اور دشمنوں كے مد مقابل اس كى حفاظت كيلئے بھر پور كوشش كى اور دو صديوں تك ايك مستحكم اور طاقتور حكومت كے ذريعے اپنے ملك كى سياسى اور قومى سرحدوں كا بھرپور دفاع كيا_

____________________

۱) راجر سيوري، سابقہ حوالہ ص ۱۳_ ۱۰۶_

۲)عبدالحسين نوايي، روابط سياسى و اقتصادى ايران در دورہ صفويہ ،تہران فصل ہشتم_


صفوى دور كى تہذيب و تمدن

مذہب شيعہ كوسركارى قرار دينا اور اسكے نتائج:

جيسا كہ بتايا گياہے كہ شاہ اسماعيل نے سال ۹۰۷ قمرى ميں تبريز ميں ايران كے سركارى مذہب كو شيعہ قرار ديا اور حكم ديا كہ آذربائيجان تك رياستوں كے خطباء ''ائمہ اثنى عشر سلام اللہ عليہم الى يوم الحشر'' كے نام خطبہ پڑھيں(۱) مذہب شيعہ كو سركارى قرار دينے سے صفويوں كيلئے سب سے پہلا مرحلہ شيعى فقہى احكام كا اجراء اور حكومت كے امور كا شيعہ فقہ كے مطابق چلنا تھا_

ايران ميں شيعہ فقہ سے آگاہ افراد كى كمى كے باعث شاہ اسماعيل كو جبل عامل اور بحرين كے شيعہ علماء كا سہارا لينا پڑا اور انہيں ايران كى طرف دعوت دي(۲) شاہ تھماسب كے دور ميں اس پر زيادہ توجہ دى گئي اور بہت سے شيعہ علماء نے ايران كى طرف ہجرت كى _ بعض علمائے دين نے صفوى حكومت كا ساتھ ديا اور انہيں استحكام بخشا جسكے نتيجہ ميں بادشاہوں نے بھى علماء دين اور انكے مقام كو عزت و توقير سے نوازا اور اہم حكومتى مناصب مثلاً صدر ، شيخ الاسلام ، مجتہد ، قاضى اور مفتى وغيرہ كے عہدے علماء كے حوالے كيے_

شاہ عباس كے زمانے ميں اسكا اقتدار اوررعب و دبدبہ مذہبى قوتوں پر حاوى رہا ليكن اس كے بعد علماء كا غلبہ بڑھتا گيا اور صفوى حكومت كے آخرى ايام ميں بالخصوص سليمان اور حسين صفوى بادشاہ كے دور ميں علامہ باقر مجلسى عہد صفوى كے علماء ميں ايك بارسوخ ترين شخصيت بن كر ابھرے اور آپ اصفہان كے شيخ الاسلام تھے _ انہوں نے خود امام زمانہ (ع) كے نائب كى حيثيت سے شاہ سلطان حسين كو اپنا نائب قرار ديا ہوا تھا_

علمائے جبل عامل كا شاگردوں كى تربيت اور صفوى حكومت كو شيعہ عادل بادشاہت كے طور پر تسليم كرنے كا كردار انتہائي اہميت كا حامل تھا_ اس دور ميں علماء نے تعليم ا ور كتب كى تاليف كے ذريعہ مذہب تشيع كى وسيع پيمانوں پر ترويج ميں مدد كى اور شيعہ علوم ومعارف كى ترقى اور وسعت كے اسباب فراہم كيے_(۳)

____________________

۱) خواندمير ، سابقہ حوالہ ج ۴ ص ۴۶۷_

۲) مہدى خوايانى منفرد، مہاجرت علماء شيعہ از جبل عامل بہ ايران _ ص ۱۰۰_

۳) سابقہ حوالہ ص ۱۳_۱۱۰_


ادبيات

تاريخ ادبيات كے محققين صفوى دور ميں شعر وشاعرى كے زوال يا پر رونق ہونے ميں اختلاف نظر ركھتے ہيں _ مآخذ تاريخ كے تجزيہ سے معلوم ہوتا ہے كہ شاہ اسماعيل تركى زبان ميں شعر كہتے تھے اور خطايى تخلص ركھتے تھے(۱) _ شاہ تھماسب كے زمانہ ميں مخصوص سياسى اور مذہبى صورت حال كے پيش نظر شعر زيادہ تر مرثيہ سرائي ، نوحہ خوانى او رآئمہ معصومين (ع) كى مدح ميں تبديل ہوگيا تھا كہ جسكا ايك نمونہ محتشم كاشانى كا مشہور قصيدہ ہے كہ جسے شاہ تھماسب كے تقاضہ پر اس نے كہا تھا _(۲)

شاہ عباس ہميشہ شعراء كى صحبت ميں رہتا تھا _ دورہ صفوى ميں شعر وشاعرى پر ہندى سبك چھايا ہوا تھا اس دور ميں تاريخ نويسى بعض مخالف اقوال كے باوجود ترقى پر گامزن تھى كہ جسكا ايك نمونہ اسكندر بيك منشى ہيں كہ جو عہد صفوى كے عظیم ترين تاريخ نويس شمار ہوتے ہيں _(۳)

مدارس اور علوم

علماء شيعہ كى ايران كى طرف ہجرت اور انكا مختلف شہروں مثلاً شيراز، تبريز ، قزوين ، مشہد ، قم اور اصفہان ميں سكونت پذير ہونا باعث بنا كہ وہ ان شہروں كے مدارس ميں تدريس ميں بھى مشغول ہوگئے _ چارڈن نے اصفہان كے مدارس كى تعداد ۵۷ ذكر كى _(۴)

علمائے دين كى دينى مدارس ميں فعاليت اور صفوى بادشاہوں كے تعاون كے زير سايہ شيعہ مذہب كے علوم نے بہت وسعت اختيار كى مثلاًاسلامى فلسفہ ملا صدارا ، ميرداماد اور انكے شاگردوں جيسے علماء كى وجہ سے بہت

____________________

۱) رسول اسماعيل زادہ، شاہ اسماعيل صفوى ، خطايى ، انتشارات بين الملل الہدي_

۲) اسكندر بيك منشي، سابقہ حوالہ ج ۱ ص ۲۷۷_

۳) راجر سيورى ، سابقہ حوالہ ص ۲۱۳_

۴) حسين سلطان زادہ ، تاريخ مدارس ايران در عہد باستان تا تا سيس دارالفنون ، تہران ص ۵۷ _ ۲۵۶_


زيادہ ترقى كر گيا _ اسى طرح علم طب نے بہت زيادہ اہميت پيدا كي_ حكيم باشي( ايك عہدے كا نام ) كا صفوى دربار ميں عہدہ ايك اہم عہدہ شمار ہوتا تھا اس دور ميں نشے كى چيزوں سے بے ہوش كرتے ہوئے مختلف اقسام كے آپريشن كيے گئے_(۱)

علم طب كے علاوہ علم نجوم بھى مورد توجہ تھا _ بادشاہ لوگ اپنے منصوبوں اور فيصلوں ميں علم نجوم سے فائدہ اٹھاتے تھے_

معماري

صفوى دور كى معمارى نے كيفيت اور كميت كے اعتبار سے ترقى كى _ اصفہان صفوى دور كى معمارى كا شاہكار ہے يہ جملہ ''اصفہان نصف جہان ہے'' اس ترقى كو بيان كر رہا ہے كہ جو شاہ عباس كے دور ميں پيكر حقيقت ميں تبديل ہوئي _ شاہ تھماسب نے دارالحكومت تبريز سے قزوين منتقل كيا اور قزوين ميں جديد عمارتيں بنائيں _ شاہ عباس نے اصفہان ميں اپنے بلند و بالا منصوبوں كو عملى جامہ پہنايا _

اصفہان اور اسكے ارد گرد كے علاقوں كا طبيعى حدود اربعہ شہر كو وسعت دينے كيلئے انتہائي مناسب تھا_ ايسا شہر جس ميں بہت سى سڑكيں محلات ، مساجد و مدارس، بازار، قلعے اور برج و مينارہوں ان سب كے بنانے اور وجود ميں لانے ميں بہاء الدين محمد عاملى (شيخ بہائي) كى مہارت وكوشش بہت اہميت كى حامل ہے _ چہار باغ ، ميدان عظیم نقش جہان، مسجد شيخ لطف اللہ، مسجد شاہ اور عالى قاپو ، اس دور كى معمارى كے اعلى نمونے ہيں _

دوسرا شاہكار چہل ستون ہے كہ جو شاہ عباس اول كے زمانہ ميں بننا شروع ہوا اور شاہ عباس دوم كے دور ميں تكميل ہوا اور سفيروں كے استقبال كى جگہ تھا_ آج بہت سے زينے، حمام، كاروانسرا، مدارس، مساجد اور ديگر متبرك مقامات صفوى دور كى عظيم الشان معمارى كى حكايت كررہے ہيں(۲)

____________________

۱) سيويل الگود _ طب در دورہ صفويہ ، ترجمہ محسن جاويد_ دانشگاہ تہران_

۲) زكى محمد حسن ، ہنر ايران، ترجمہ محمد ابراہيم اقليدى ، صداى معاصرص ۳۷ احمد تاجبخش ، تاريخ صفويہ ، انتشارات نويد شيراز_


كپڑا اور قالين بننے كا كام

صفويوں نے قالين بننے كى صنعت كو ديہاتوں سے بڑھا كر ملكى سطح تك ترقى دى اور ملك كے اقتصاد كا اہم جزو قرار ديا_ قالين بننے كا سب سے پہلا كارخانہ تقريباً شاہ عباس كبير كے زمانہ ميں اصفہان ميں قائم ہوا(۱) صفوى دور كے قالينوں ميں سے قديم ترين نمونہ ''اردبيل'' نام كا مشہور قالين ہے كہ جو لندن كے ويكٹوريا البرٹ ميوزيم ميں موجود ہے اسے سال ۹۴۲ قمرى ميں تيار كيا گيا تھا_

شاہ عباس كے زمانہ ميں قالين تيار كرنے كے حكومتى كارخانوں كى تعداد زيادہ تھى اور آرڈر پر قيمتى قالين تيار كيے جاتے تھے_ مثلاپولينڈ كے بادشاہ سيگسمنڈ سوم نے ايران سے قالين خريد كر اپنى بيٹى كو جہيز ميں ديے _ قالين تيار ہونے كے علاوہ كپڑا بننے كى صنعت نے بھى قابل ذكر ترقى كي_ قيمتى لباس اور محلات كے خوبصورت پردوں نے سياحوں كو مبہوت كرديا تھا_ درخشاں رنگوں كى آميزش ، جدت اور اسليمى وگل دار ڈيزائينوں سے تزيين نے ايرانى ماہرين كو اس قابل بناديا كہ وہ ايسا كپڑا بنائيں جو خوبصورتى اور جدت ميں بے نظير ہو(۲)

كہا يہ جاتا ہے كہ اصفہان كے بازار ميں پچيس ہزار كاريگر كام كرتے تھے اور كپڑا بنانے كى انجمن كا صدر ملك كا ايك طاقتور ترين شخص شمار ہوتا تھا_ ريشم اور ريشم كے كپڑوں كى تجارت اس دور كى ايك اور صنعت تھى كہ جو انتہائي اہميت كى حامل تھى بقول چارڈن:شاہ عباس ريشم بنانے اور برآمد كرنے والا سب سے پہلابادشاہ تھا _ ريشم جارجيا ، خراسان، كرمان بالخصوص گيلان اور مازندران كے علاقوں سے حاصل ہوتا تھا اور سالانہ ۲۲ ہزار عدل(۳) ريشم كى پيداوار يورپ برآمد ہوتى تھى _(۴)

____________________

۱) راجر سيوري،سابقہ حوالہ ص ۳۳ _ ۱۳۲_

۲) سابقہ حوالہ ص ۶ _ ۱۲۵ _

۳) عدل: وزن كا ايك پيمانہ (مصحح)

۴) شاردن ، سياحتنامہ شاردن ، ترجمہ محمد عباسى ، تہران امير كبير ج ۴ ص ۳۷۰ _ ۳۶۹


فوجى اسلحہ

چالدران كى جنگ ميں صفوى فوجى عثمانى فوج كے بارودى اسلحے اور توپخانہ كے مد مقابل زيادہ نہ ٹھہرسكے ، چونكہ اس قسم كے اسلحہ كے استعمال سے واقف نہ ہونے كى وجہ سے ايرانى فوج زيادہ طاقتور نہ تھي_

شاہ عباس كے بادشاہ بننے اور ماڈرن فوج كى تشكيل سے پہلے ايرانى فوج كا ڈھانچہ قزلباشوں كے گروہوں پر مشتمل تھا_ يہ وہ خوفناك جنگى طاقت تھى جنكا عثمانى بھى احترام كرتے تھے_ ليكن چالدران كى جنگ كے بعد فوجى ڈھانچے ميں تبديلى ناگزير تھى _ شاہ تھماسب نے جوانوں كے انتخاب سے پانچ ہزار افراد كى ايك رجمنٹ تشكيل دى كہ جنہيں ''قورچي'' كہا گيا _ اس رجمنٹ سے ايك ماڈرن فوج كى بنياد فراہم ہوئي اور شاہ عباس كبير كيلئے راستہ ہموار ہوا _(۲)

شاہ عباس كبير نے فوج كى ابتدائي بنياد (شا ہسونہا يعنى بادشاہ كے حامي) تشكيل دينے كے ساتھ ايك نئي فوج خاص نظم كے ساتھ تشكيل دى كہ جو مختلف اقوام اور اقليتوں پر مشتمل تھى _ شاہ نے اس كام كے ساتھ ساتھ شرلى برادران سے بہت قيمتى فوجى علوم بھى كسب كيے _ اور پہلى دفعہ ايرانى فوج ميں مختلف دھڑے ، پيادے ، سوار اور توپخانہ وجود ميں آئے _ اسى طرح توپ بنانے اور گولے مارنے كا فن بھى شرلى برادران سے سيكھا گيا _(۳) ليكن قابل افسوس بات يہ ہے كہ شاہ عباس نے ايرانى فوج ميں جس چيز كى بنياد ركھى اس كے جانشينوں نے اس كى طرف توجہ نہ كى جس كے نتيجہ ميں ايرانى فوج روز بروز كمزور ہوتى چلى گئي يہاں تك كہ نادر شاہ كے زمانہ ميں ايرانى فوج ميں دوبارہ قوت پيدا ہوئي_

____________________

۱) خانبابابيانى ، تاريخ نظامى ايران، جنگہاى دورہ صفويہ ص ۵۹_

۲) راجو سيوري، سابقہ حوالہ ص ۱۹۹ _


صفويوں كا دفترى نظام

صفويوں كے حكومتى ڈھانچے ميں بادشاہ تمام امور كا سربراہ ہوتا تھا كہ جو ملك كو اداروں اور شعبوں كے عہديداروں اور منصب داروں كے ذريعہ چلا تا تھا ، ذيل ميں ان عہدوں اور مناصب كى طرف اشارہ كيا جاتا ہے:

ايك عہدہ ''وكيل نفس نفيس ہمايون' ' تھا كہ جو سياسى امور ميں برجستہ كردار ادا كرتا تھا يہ عہدہ سپہ سالاروں ميں سے ہوتا تھا اور ''صدر '' كے عہدہ كيلئے انتخاب ميں بہت زيادہ اثر و رسوخ ركھتا تھا_ چالدران كى جنگ كے بعد اس عہدہ كى اہميت ختم ہوگئي ،اب يہ دين اور دنياوى امور ميں نائب السلطنہ شاہ نہيں رہا تھا بلكہ دفاتر كے شعبہ كے سربراہ كى حيثيت اور صفوى حكومت كے نمائندہ كے حيثيت سے پہچانا جاتا تھا اور صفوى دور كے آخر ميں تو اس عہدہ كانام و نشان ہى نہ رہا _

دوسرا مقام ''اميرالامرائ'' كا تھا_ صفوى دور ميں قزلباش لشكروں كا سپہ سالار اس عہدہ پر فائز ہوتا تھا جو فوجى طاقت ركھنے كے ساتھ ساتھ دفترى امور پر واضح كنٹرول ركھتا تھا_(۱)

صفوى حكومت كے فوجى عہدوں ميں سے ايك عہدہ''قورچى باشي'' تھا كہ جو قبائلى رجمنٹوں كا كمانڈر ہوتا تھا _ شاہ اسماعيل اول كے بعد يہ عہدہ بہت اہميت كا حامل ہوا _ شاہ عباس كے دور ميں جارجين اور چركسوں كى وجہ سے ان فوجى مناصب نے ايك منظم اور مسلح فوج كو وجود بخشا_

شاہ كے بعد كا مقام '' وزير '' كہلاتا تھا كہ جسے''اعتماد الدولہ '' كا لقب ديا جا تا تھا _ ديوان كا سربراہ وزير اعظم ہوتا تھا كہ جسكے ماتحت بہت سے وزير ، منشى اور ديگر حكومتى عہديدار كام كرتے تھے _ ديوانى عہديداروں كا انتخاب وزير كى مہر كے بغير كوئي حيثيت نہ ركھتاتھا _''صدر'' كا عہدہ كہ جسكى ذمہ دارى نظرياتى اور مذہبى وحدت كو وجود ميں لانا تھا، صفوى حكومت كے مسلك مناصب ميں سے اہم منصب تھا_ اگر چہ ''صدر'' مسلك شيعہ

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۷۹_ ۷۰_


كا سربراہ تھا ليكن سياسى نظام كى ہم آہنگى كے بغير فعاليت انجام نہيں ديتا تھا _ وہ ديوان بيگى (عمومى قوانين ميں شاہ كا مكمل اختيارات ركھنے والا نمائندہ) كے ساتھ عدالتى امور كو بھى نمٹا تا تھا _ يہ سب اعلى حكام درالحكومت ميں ہوتے تھے كہ جنكے ماتحت بہت سے عہديدار انكى ذمہ داريوں كو بجالانے ميں ان سے تعاون كيا كرتے تھے_(۱)

صفويوں كا زوال

اس شاہى سلسلہ كے زوال كے بارے ميں مختلف نظريات سامنے آئے ہيں _ صفوى جوكہ ايك شيعہ حكومت تھى تقريباً ۲۲۰ سال تك جارى رہى ، اس مدت ميں صفوى بادشاہوں نے جو بھى سياسى پاليسياں بنائيں وہ ايك طرح اس حكومت كے تدريجى زوال ميں كردار ادا كرتى ہيں _ شاہ عباس كبير كى تجربہ كار شخصيتوں اور شاہزادوں كو ختم كرنے كى سياست اور املاك ممالك كو املاك خاص ميں تبديل كركے بيشتر درآمد كے ذرائع پيدا كرنے كى سياست نے حكومتى ڈھانچے پر بہت برے اثرات ڈالے_ شاہ عباس كى فوج ميں بہت سى خوبيوں اور امتيازات كے باوجود قزلباشوں كى نسبت ديگر قبائل اور اقوام كے سپاہى صفوى حكومت اور ايران سے بہت كم عقيدت ركھتے تھے_

صفويوں كے سقوط كے ديگر اسباب ميں سے عہدوں اور مناصب پر نااہل اور نالائق افراد كا ہونا اور مريدى و مرشدى كا روحانى رابطہ ختم ہونا نيز افغانوں كا اصفہان پر ناگہان اور برق رفتارى سے حملہ تھا كہ اس طولانى مدت ميں ان تمام اسباب نے اكھٹے ہوكر ايرانى حكومت كے ايك اہم سلسلہ كو ختم كرديا_

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۹۷_


عثمانى حكومت

امارت سے بادشاہت تك

عثمانى حكومت كى بنياد آٹھويں صدى ہجرى اور چودہويں صدى عيسوى كے آغاز ميں ركھى گئي _ اس حكومت كا نام عثمان غازى (حكومت ۷۲۴_۶۸۰) سے ليا گيا كہ جو اغوز تركوں كے ايك قبيلہ كا سردار تھا _ يہ ان ترك قبائل كا حصہ تھے جو سن ۴۶۳ ہجرى ذيقعدہ ميں الپ ارسلان سلجوقى كى بيزانس( مشرقى روم) كے بادشاہ رومانس چہارم پر فتح كے بعد موجودہ تركى ميں سلجوقى حكومت قائم ہونے كے ساتھ سلاجقہ روم اور بيز انس كے ما بين سرحدى علاقوں ميں سكونت پذير ہوئے(۱) منگولوں كے رومى سلاجقہ پر تسلط كے بعد جب ايلخانان (منگولوں ) كى گرفت كمزور پڑگئي تھى تو انہوں نے اسى علاقہ ميں سردارى حاصل كرلى تھي_

اگرچہ عثمانى قبائلى امراء كو اناتولى كے ديگر امراء پر كوئي برترى حاصل نہ تھى بلكہ ان كى نسبت كمزور اور حقير محسوس ہوتے تھے(۲) _ ليكن اپنى خاص جغرافيائي حدود اور ديگر عوامل بالخصوص جہاد كيلئے فوج تيار كرنا اور بحيرہ اسود كے كنارے كے ساتھ ساتھ بيز انس كى ديگر سرزمينوں كو اپنے ساتھ ملحق كرنے كى بناء پر يہ مملكت وسعت اختيار كر گئي اور روز بروز يہ اقتدار بڑھتا گيا جسكے نتيجہ ميں يہ ايك قبيلہ سے ايك وسيع حكومت اور بادشاہت تك پہنچ گئے _(۳)

عثمان غازى كى حكومت كے درميانى دور ميں عثمانى حكومت تشكيل پائي _ يہ كاميابى اہل تصوف كے شيوخ، ابدالوں اور با باؤں نيز علماء و فقہاء سے اچھے روابط كى وجہ سے حاصل ہوئي كيونكہ علماء وفقہاء كا مسلمان تركوں ميں روحانى اثر ورسوخ بہت زيادہ تھا _

____________________

۱) ادموند كليفورد ياسورٹ_ سلسلہ ہاى اسلامى ، ترجمہ فريدون بدرہ اى ص ۲۱۰_

۲) چاستا نفورد جى ، شاد، تاريخ امپراتورى عثمانى تركيہ جديد _ ترجمہ محمود رمضان زادہ ص ۳۶ _

۳) ہامر پور گشتال _ تاريخ امپراتورى عثمانى ، ترجمہ ميرزا ازكى على آبادي، تہران ج ۱ ص ۴۳ _


اور اہل فتوت كى تنظيميں كہ جو انتہائي وسعت كے ساتھ تمام شہرى طبقات ميں مؤثر كردار ادا كر رہى تھيں ، انكى خدمات اور كوششوں كا نتيجہ عثمانى حكومت كى صورت ميں سامنے آيا _(۱)

عثمان غازى جو كہ اپنى مدبرانہ سياست اور عثمانى سماج كے تمام طبقات اور مختلف شعبہ جات زندگى كے لوگوں سے اچھے تعلقات اور اپنے مسلمان اور عيسائي ہمسايوں سے اچھے مراسم ركھنے كى بناء پر ترك قبائل كے رہبر كے مقام پر فائز ہوچكا تھا ،اس اپنى مملكت كو وسعت بخش كر اپنے جانشينوں كے لئے مزيد فتوحات كے اسباب فراہم كرديے تھے اور اپنى چھوٹى سى حكومت كى ايسى مضبوط بنياد ركھى تھى كہ جو حكومت كے استحكام اور وسعت كى ضمانت فراہم كرتى تھي_(۲)

اورخان غازى ( ۷۶۱_۷۲۴ق) جو كہ اپنے والد عثمان غازى كے سياسى اور فوجى معاملات ميں انكا داياں بازو تھا اس فتوحات كو جارى ركھنے كے ساتھ ساتھ حكومت كو منظم كركے اسے بادشاہت ميں تبديل كرنے كى كوشش جارى ركھي_ اس نے اہم شہر بروسہ پر قبضہ كرليا كہ جس پر فتح پانے كے حالات چند سالوں سے بن رہے تھے اور اسى شہر كو اپنا دارالحكومت قرار ديا اور عثمانى حكومت كے مستقل ہونے كے اعلان كيلئے اپنے نام سے سكہ جارى كيا اور اس كا نام خطبات ميں پڑھاجانے لگا_ يہ سال ۷۲۶ قمرى تھا(۳) اس ليے بعض مورخين اسے عثمانى حكومت كا پہلا بادشاہ شمار كرتے ہيں(۴)

اس نے اس كے بعد ايشاے كوچك اور ديگر اہم مناطق اور شہروں پر قبضہ كرتے ہوئے بيزانس (روم) كو ايشيا سے باہر دھكيل ديا(۵) _ اس سلطنت كے اندرونى كشمكش ميں بعض رقيبوں كى درخواست پر

____________________

۱) اوزون چارشيعى واسماعيل حقي، تاريخ عثمانى ،ترجمہ ايرج نوبخت تہران ج ۱ ص ۱۲۶ _ ۱۲۵_استانفورد چى ، شاو،سابقہ حوالہ ص ۴۳_

۲) استانفورد چى شاد، سابقہ حوالہ ص ۲۲۳ ، لردكين راس، قرون عثمانى ، ترجمہ پروانہ ستارى ، ص ۲۴ _

۳) مادر _ يورگشتال ، سابقہ حوالہ ص ۸۳ كے بعد سے ، اوزون چارشيلى ص ۱۴۱ _ ۱۲۹ _ ۱۴۷ كے _

۴) Sanderora ، siyasi Tarib ، Ank ، ۱۹۸۹ ، p۳۱

۵) اوزون چارشيلى ،سابقہ حوالہ ص ۱۴۷ _ ۱۴۱ _ استانفوردچى شاو، گذشتہ مدرك ص ۴۵_ ۴۴_


اس كے اندرونى امور ميں دخل ديا اور كچھ مواقع سے بہترين فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنى فوج كو داخل كيا _ بالكان ميں مزيد فتوحات كيلئے اپنے آپ كو تزويرى اہميت كے حامل جزيرے گيلى پولى ( Gallipoli )ميں مستحكم كيا _(۱)

بيزانسى (رومي) طاقت كے تشنہ لوگوں كے لئے اسكى اہميت اسقدر زيادہ تھى كہ اس ملك كے دوبادشاہوں نے اسكے ساتھ اپنى بيٹيوں كى شادى كيلئے ارادے كا اظہار كيا _ ايك اور بادشاہ نے مجبور ہوكر اپنى مملكت ميں اس كى فتوحات كو تسليم كرليا_(۲)

اور خان بيگ حكومت اور فوج كے معاملات كو منظم كرنے ميں بھى فعال تھا اس نے ايك منظم فوج كو تشكيل ديا تھا نيز ''ينى چري'' سپاہيوں كى ابتدائي شكل بھى اسى دور ميں وجود ميں آئي(۳) _ اسكے اپنے والد كى مانند اہل فتوت و تصوف اور علماء سے روابط بہت اچھے تھے ،اہل فتوت ميں سے اسكے كچھ وزير بھى تھے اس نے ابدالان (زاہدوں ) كے لئے خانقاہيں اور دينى علوم كى تدريس كيلئے مدارس بنائے(۴) اس كے بعد سب سے پہلے سياسى روابط جمہورى جنيوا(۵) سے ہوئے كہ جس كى كالونياں بحيرہ روم كے جزائر وسواحل ميں تھيں _ ان روابط كے نتيجہ ميں انكے درميان ايك تجارتى معاہدہ بھى وقوع پذير ہوا_(۶)

اور خان غازى كى وفات كے بعد اس كا بيٹا مراد اول (۷۹۱_ ۷۶۱ق) المعروف خداوندگار اسكا جانشين بنا_ وہ اپنے والدكے زمانہ حيات ميں ''روم ايلى ''ميں جنگ ميں مصروف تھا _ اس نے بھى اپنے والد كى مانند اسى سرزمين ميں فتوحات كا دائرہ بڑھانے كى كوشش جارى ركھي_ ادرنہ (موجودہ تركى كا ايك شہر) كى فتح

____________________

۱) Kramers ، op ، cil- p -۱۹۲-۱۹۳

۲) Gokbilgin ، Tayyib ، otnonin Ta ، vol ۹ ، P -۴۰۲-۴۰۳

۳_ احمد راسم، عثمانى تاريخى ، ج ۱ _ ص ۵۲_۵۱ استانفورد جى شاو،سابقہ حوالہ ص ۴۳ كے بعد ،اوزون چارشيلي،سابقہ حوالہ ص ۱۵۲_ ۱۵۰

۴_ شمس الدين ساى ، قاموس الاعلام، استانبول _ ص ۳۹۴۳ ،حامر ، يورگشتال ،سابقہ حوالہ ص ۱۱۱ _

۵- Genova

۶- kromers ، op c.+ p ۱۹۳


كہ جو اس كے تخت نشينى كے سال انجام پائي برا عظم يورپ ميں عثمانيوں كى حكومت قائم ہونے كے اعتبار سے بہت اہميت كى حامل تھي_

يہ اور بالكان كى تاريخ بلكہ يورپ كى تاريخ ميں اہم مرحلہ شمار ہوتى ہے_(۱) اس بہت بڑے شہر جو كہ بعد ميں عثمانيوں كا درالحكومت بنا ،فتح كے بعد قسطنطنيہ كا خشكى كے راستے سے يورپ سے رابطہ كٹ گيا_(۲) اس طرح در حقيقت مشرقى روم كے دارالحكومت كے محاصرہ كا پہلا قدم اٹھايا گيا تھا_

مراد كے دور ميں بعد والى فتوحات نے جزيرہ يونان كے علاوہ تمام بالكان كو عثمانيوں كے اختيار ميں دے ديا_ كہاجاسكتا ہے كہ ان فتوحات كے ذريعہ پانچ صديوں تك چلنے والى حاكميت كے بيج بوئے گئے _ ايسى حاكميت كے جس نے اس نئے تمدن كو جنم ديا كہ جو تاريخ كے اوراق پر مختلف قومي، دينى اور لسانى عناصركى آميزش سے ظاہر ہوا_(۳) بہرحال ان فتوحات نے دنيائے غرب كو وحشت زدہ كرديا يہاں تك كہ پاپائے روم نے عثمانيوں كو روكنے كيلئے دو صليبى جنگوں كا آغاز كيا_(۴)

لارڈ كيں اس كے تجزيہ كے مطابق مراد اول فوجى اور سياسى قيادت ميں اپنے والد اور دادا سے بڑھ كر تھا اسكى كوششوں سے مغرب مشرق كى گرفت ميں آگيا جيسا كہ يونانيوں اور روميوں كے دور ميں مشرق اہل مغرب كى گرفت ميں تھا ،وہ پہلے تين عثمانى حكمرانوں كے باہمى موازنہ كے بعد اس نتيجہ پر پہنچا كہ عثمان نے اپنے گرد قوم كو جمع كيا ،اس كے بيٹے اور خان نے ايك قوم سے ايك حكومت تشكيل دى جبكہ اس كے پوتے مراد اول نے اس حكومت كو بادشاہت پہچاديا_ مراد كے بھى اپنے والد اور دادا كى مانند اہل فتوت سے بہت اچھے

____________________

۱- Inalcik ، in IA vol /p- ;sevim - yucel ، op ، cit ، vol ، p .۲۶ -۲۷

۲_ احمد راسم ،سابقہ حوالہ ص ۶۳_

۳- sander ، op. cit ، P .۳۱

۴ _ اوزون چارشيلى ، سابقہ حوالہ ، ص ۲۰۰ _ ۱۹۳ _ احمد راسم ،سابقہ حوالہ ج۱ ص ۶۷_۶۵_ ۷۹_ ۷۸_ لارڈكيں ، سابقہ حوالہ ، ص ۵۸_ ۵۷_


روابط تھے يہاں تك كہ اس كے زمانے كے و قف ناموں ميں يہ عبارات موجود ہيں كہ فلان كو فلان جگہ اخى كى حيثيت سے معين كرتاہوں _(۱)

مراد كے بعد سلطان بايزيد اول (۸۰۴_ ۷۹۱ ق) نے روم ايلى ميں فتوحات كا دائرہ بڑھايا اور آناتولى كے چند امراء كو اپنا اطاعت گزار بنايا_ اور قسطنطنيہ كا تين بار محاصرہ كيا اور بيزانس كے بادشاہ كو ايسى قرار داد قبول كرنے پر مجبور كيا كہ جسكے تحت وہ شہر ميں ايك محلہ كہ جس ميں مسجد ہو مسلمانوں كے ساتھ خاص كردے اورعدالتى امور كے ليے ايك اسلامى ادارہ بھى قائم كرے(۲) اس كى فتوحات نے عثمانى مملكت كو فرات سے دانوب تك پھيلاديا تھا،ليكن آناتولى پر تيمور كى يلغار سے فتوحات كا يہ سلسلہ ختم ہوگيا_ انقرہ كى جنگ(۳) (ذى الحجہ ۸۰۴ق) ميں بايزيد كى تيمور سے شكست كھانے سے عثمانى تاريخ كا پہلا دور كہ جسے اسلامى فتوحات كا پہلا دور كہا گياہے ،ا پنے اختتام كو پہنچا_

عثمانى كاميابيوں اور انكے تسلط واقتدار كے اسباب كو دو اقسام ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے :

۱_ بيزانس اور بالكان كى حكومتوں كو كمزور اور عثمانى فتوحات كيلئے راستہ ہموار ہو نے كے اسباب:

۱) مذكورہ حكومتوں ميں اندرونى كشمكش اور ختم نہ ہونے والى باہمى جنگيں اور ملوك الطوايفى كا دور دورہ كہ جسكے نتيجہ ميں مركزى حكومت كا اقتدار كمزور پڑگيا_(۴)

۲) بالكان كے آرتھوڈوكس عيسائيوں كا لاطينى كليسائوں سے نفرت كرنا اور عثمانيوں كے خلاف پادريوں كے صليبى فوج تيار كرنے كے اقدامات كر قبول نہ كرنا_ يہ احساسات اتنے شديد تھے كہ بالكان كے بہت سے عيسائي عثمانيوں كو اپنے ليئے كيتھولك كليسا كے تسلط سے نجات دہندہ سمجھتے تھے_(۵)

____________________

۱- Neset ، Cagatar ، Makaleler velncele meler ، konra ،۱۹۸۳ ، P ۲۹۰

۲)ہامر، يورگشتال ، سابقہ حوالہ ص ۲۰۶ اوزون چارشيلى ،سابقہ حوالہ ص ۳۳۴_

۳- Yinane ، Op. Cit. P ۳۸۶ ، Sevil-Yucel ، Op. Cit P ۶۳ ،۶۸

۴) شاو، سابقہ حوالہ ص ۳۶ _ لارڈكين راس، سابقہ حوالہ ص ۵۵ _

۵) لارڈ كين رس ، سابقہ حوالہ ص ۴۴_ ۵۱_


۳_ٹيكسوں كے بڑھانے كى وجہ سے ديہاتى لوگوں كا حكومتوں سے ناراض ہونا يہ ٹيكس وغيرہ اتنے زيادہ تھے كہ كبھى كبھى يہ لوگ حكومت كے خلاف بغاوت كيا كرتے تھے_(۱)

۲_ عثمانيوں كو مستحكم كرنے والے اسباب : فوجى صلاحيتوں سے مالامال ہونے كے ساتھ ساتھ اس دور ميں عثمانى حكومتوں كو اندرونى اختلافات كا سامنا نہيں كرنا پڑو_ اور مذہبى اور اقتصادى محركات كے ساتھ ساتھ فتوحات كى خاطر دائمى جنگ كے ليے آمادگى بھى اہم اسباب تھے_(۲)

عثمانيوں كو مستحكم كرنے والے بعض ديگر اسباب يہ ہيں كہ مفتوحہ سرزمين پر لچكدار سياست اور پاليسياں روا ركھنا ركھا، مفتوحہ علاقوں كے لوگوں سے مذہبى تعصب سے پاك رويہ ركھنا ، غير مسلم رعايا كو اپنى رسم و رواج كے مطابق رہنے كى اجازت دينا، آرتھوڈوكس كليسا كے ٹيكسوں كو معاف كرنے والے قانون كو برقرار ركھنا(۳) اورگردو نواح كے عيسائي امراء سے دوستانہ روابط ركھنا اور بعض اوقات ان ميں سے كچھ اسلام كى طرف راغب ہوكر مسلمان ہوجاتے تھے، اسى وجہ ان امراء كى بعد والى نسليں مثلاً ميخال اوغلواور اورنوس او غلو عثمانى مملك كے بارسوخ خاندانوں ميں ميں شمار ہونے لگے_(۴)

مفتوحہ سرزمينوں ميں رعايا كى سہولت كے پيش نظر قانون و نظم كى برقرارى ، انكى جان ومال كى حفاظت اور حكومت كا رعايا پر ٹيكسوں ميں كمى كرنا يہ وہ امور تھے جنكى بناء عيسائي رعايا عثمانيوں كو اپنے سابق حاكموں پر ترجےح ديتے تھے_(۵)

____________________

۱) استانفورڈ جى ، شاد ،سابقہ حوالہ ص ۱۰۰

۲) استانفورد جى شاد،سابقہ حوالہ ص ۴۰

۳) لارڈكين راس ، سابقہ حوالہ ص ۲۶_ ۲۴

۴) اوزون چارشيلى ، سابقہ حوالہ ص ۱۳۱ ، ۱۴۱ ، استانفورڈ جى شاو،سابقہ حوالہ ص ۸۵ _ ۸۲ _ ۵۲ لارڈكين راس، سابقہ حوالہ ص ۲۷ _ ۲۴

۵) Sender ، Op.Cit.P.۳۰


تيمور كى يلغار اور بايزيد اول كے بيٹوں كے باہمى كشمكش سے خلاء پيدا ہوا ،اسكے بعد عثمانى تاريخ كا دوسرا دور شروع ہوا كہ جسے عثمانى بادشاہت كى دوبارہ تشكيل اور عثمانى حكومت كے عروج كے دور سے ياد كياجاتا ہے_ سلطان محمد اول كے زمانہ ميں دوبارہ عثمانيوں ميں يكجہتى پيدا ہونے كے بعد مراد دوم نے قسطنطيہ كو ايك مدت تك محاصرہ ميں ركھا_(۱) اور اناتولى كے بہت سے امراء كو اطاعت گزار بنايا _(۲)

سلطان محمد دوم (حكومت ۸۸۶_۸۵۵ / ۱۴۸۱_ ۱۴۵۱ عيسوي) المعروف فاتح تخت نشين ہوا، اسے عثمانى فتوحات كى تاريخ ميں اہم ترين فتح يعنى سنہ ۸۵۷ كا / ۱۴۵۲ عيسوى ميں قسطنطيہ كى فتح اور بيزانس كى بادشاہت كے خاتمہ كى توفيق حاصل ہوئي يہاں تك كہ قرون وسطى كا دور ختم ہوا اور قرون جديد كا دور شروع ہوا_ اس نے قسطنطيہ كو عظیم الشان مساجد اور مدارس كے اسلامى دارالحكومت ميں تبديل كرديا_(۳)

مغرب ميں سربيا ، بوسنيا، ہرزگوينيا اور شمال ميں جزيرہ كريمہ پر قبضہ كرليا_ ليكن شہربلغراد كو فتح كرنے سے ناكام رہا(۴) فاتح نے مشرقى روم كے دارالحكومت كو فتح كرنے اور ديگر فتوحات كے ذريعے مملكت عثمانيہ كو ايك بہت بڑى طاقتور بادشاہت ميں تبديل كيا اور خود ايك عظيم الشان بادشاہ كے روپ ميں دنيا كے سامنے جلوہ گر ہوا_(۵)

وہ تجارت كے پھلنے پھولنے كو بہت اہميت ديتا تھا_ عمومى مصالح كے پيش نظر اس نے مملكت عثمانيہ كے اٹلى سے روابط كو كنٹرول كرتے ہوئے انہيں ايك خاص نظم ميں لايا _ اٹلى كے تاجروں پر كسٹم ٹيكس كى معافى ختم كردي_ اور بعد ميں انكے تجارتى مال پر كسٹم ٹيكس دو فى صد سے پانچ فيصد بڑھاديا اور مملكت عثمانيہ كے شہرى خواہ يوناني، يہودى ، ارمنى اور مسلمانوں كو سہولت دى كہ اٹلى كے تاجروں كى جگہ يہ لوگ تجارت كريں _

____________________

۱) sevim-yucel ، Op.cit ، PP ،۶۹-۹۷

۲)احمد راسم،سابقہ حوالہ ، ص ۵۴_

۳) سابقہ حوالہ ص ۲۰۵_ ۲۰۲، ۲۱۵_ ۲۱۴_

۴) احمدراسم ، سابقہ حوالہ ص ۲۰۵ _ ۲۰۲_ ۲۱۵_۲۱۴_

۵) Kunt ، Metin ، Op.cit ، P ۷۶ ، inalcik ، intarkdunvasi...P ۴۶۴


اس دور ميں بعض شہر مثلاً بروسہ جو كہ ايران اور سعودى عرب كے تجارتى قافلوں كے راستہ ميں آتا تھا ، تجارت كے مركز ميں تبديل ہوگيا بالخصوص يہ شہر ايرانى ريشم كى تجارت كے باعث ريشمى كپڑوں كى صنعت كا بہت بڑا مركز بن گيا _(۱)

سلطان محمد فاتح كا دور تہذيب وتمدن اور علوم كى ترقى اور پھلنے پھولنے كا زمانہ بھى تھا _ وہ خود بھى اعلى سطح كى تعليم حاصل كيے ہوئے تھا اور تركي، فارسي، عربى لاطينى ، يونانى اور عربى زبانوں كو جانتا تھا _(۲) استانبول كو فتح كرنے كے بعد فورى طور پر اس نے اياصوفيہ كليسا كو مسجد ميں تبديل كرنے اوراسكے نزديك ايك مدرسہ بنانے كا فرمان جارى كيا_ اور علاء الدين على قوشجى (متوفى ۸۷۹ قمري) كو وہاں كا سرپرست اور منتظم بنايا_

قوشجى ايك زمانہ ميں سمرقند كے رصدخانہ كا منتظم تھا_ الغ بيگ كے قتل كے بعد اوزدن حسن آق قونيلو كى خدمت ميں پيش ہوا چونكہ وہ مذكورہ بادشاہ اور عثمانى سلطان ميں ايك مصالحت كيلئے فاتح كے دربار ميں حاضر ہوا تھا اس ليے فاتح كى توجہ كا مركز قرار پايا اور اس نے قوشجى كے استنبول ميں اقامت پذير ہونے پر رضايت كا اظہار كيا_ قوشچى نے ثمرقند كے علمى مركز كو مملكت عثمانيہ ميں منقتل كرنے اور مملكت عثمانيہ ميں بہت سے علوم مثلاً رياضى اور نجوم كى ترقى ميں اہم كردار ادا كيا اس نے عربى زبان ميں علم ہيئت كے متعلق ايك رسالہ لكھا اور فاتح كى اوزدن حسن پر فتح كى مناسبت سے اسكانام فتحےہ ركھا_(۳)

فاتح كے حكم پر مسجد فاتح كے گرد ونواح ميں بننے والے مدارس نيز دربارسے وابستہ مدارس اور علمى مراكز علماء دين اور حكومتى عہديداروں كى تربيت كے اہم مراكز بن چكے تھے_(۴)

____________________

۱) Inalcik ، Op.cit ، P ۴۶۵ ، Inalcik ، La ، Vol ،۷ PP ۵۳۳ -۵۳۴

۲_ احمد راسم ، سابقہ حوالہ ص ۲۱۹_

۳_ ابوالقاسم قرباني، زندگى نامہ رياضى دانان دورہ اسلامي_ تہران ص ۳۶۴ _۳۶۰ _

۴) Huseyin ، Yurdaydin ، Dusunceve bilim Tavihi( ۱۳۰۰-۱۶۰۰ ) in Turkiye Tarihi ، ed sim Aksin ، Vd ۲ ، PP. ۱۸۱-۱۸۲


فاتح كے بعد سلطان بايزيد دوم اور اس كے بعد سلطان سليم اول ( ۹۲۶_ ۹۱۸ق) المعروف ياووز (بے رحم) تخت نشين ہوا _ اس نے چالدران كى جنگ ميں شاہ اسماعيل صفوى پر كاميابى كے علاوہ مكمل طور پرا ناتولى پر تسلط، شام اور مصر كو فتح كرنا اور مماليك (غلاموں ) كى حكومت ختم كرتے ہوئے عثمانى مملكت كو دوگنا كرديا_ ''خادم حرمين شرفين'' كا لقب اختيار كيا اور شريف مكہ كى طرف سے اس كے نام كاخطبہ پڑھا گيا اور مصر ميں خاندان عباسى كے آخرى خليفہ ''متوكل على اللہ سوم'' سے خليفہ كا عنوان اپنے ليے اور اپنے عثمانى خاندان كيلئے منتقل كرنے كے ليے پورے عالم اسلام پر حكمرانى كے درپے ہوا(۱) _ انہى فتوحات بالخصوص بحيرہ روم كے مشرقى اور شمال مشرقى تمام سواحل كے عثمانى مملكت سے الحاق نے اس مملكت كى اقتصادى ترقى ميں اہم كردار ادا كيا _(۲)

شاہ سليم بذات خود شاعر تھا فارسى ميں اسكا ديوان آج بھى اس كى يادگار كے طور پر باقى ہے _ وہ علماء اور عرفاء كى محفل ميں بيٹھنا پسند كرتا تھا_ شيخ محى الدين ابن عربى كے ساتھ عقيدت كى بناء پر شام ميں انكى قبرپر ايك مقبرہ بنايا _(۳) اس نے اپنے زمانے كے مشہور علمى وثقافتى مراكز كى لائبريريوں سے نفيس كتابوں كو استنبول منتقل كيا اور علماء ، ہنرمندوں اور تاجروں كو بھى استنبول دعوت دي، اسطرح وہ چاہتا تھا كہ جسطرح وہ اسلامى دنيا كا طاقتورترين سلطان نظر آتا ہے _ اسى طرح اسكا دارالحكومت بھى عالم اسلام كا عظیم الشان شہر بن جائے(۴) _ اگر چہ شاہ سليم نے آٹھ سال سے زيادہ حكومت نہيں كى اسكے باوجود اتنى قليل مدت ميں روم ايلى اور آناتولى كے علاقوں كى ايك مقامى مملكت ايك عالمگير بادشاہت تك ترقى كرگئي _(۵)

____________________

۱) Serafeddinturan ، selim in La ، Vol ۱۰ p ۴۲۷-۴۳۲ sander ، opcit ، p ۳۵

۲) Derin ، op. citP ۴۸۱

۳) محمد امين رياحي، زبان و ادب فارسى در قلمرو عثمانى ،تہران ص ۱۷۸ _ ۱۶۸ الہامہ مفتاح و وہاب ولى ، نگاہى بہ روند نفوذ وگسترش زبان و ادب فارسى در تركيہ ، تہران ص ۲۰۲_۱۹۴

۴) P.۱۱۶ ، Kunt ، op دربارہ ہنرمندان و دانشمندان وشعراى راہى شدہ از ايران بہ استانبول در زمان سلطان سليم _ نصراللہ فلسفى ، جنگ چالدران _ مجلہ دانشكدہ ادبيات، س۱ ،ش ۲ ،ص ۱۱۱ _ فريدون بيك منشات السلاطين _ استانبول ج ۱ ، ص ۴۰۵ _

۵) kunt ، op ، cit ، p-۱۱۹


سليم كے بعد اسكابيٹا سليمان ( ۹۷۴ _ ۹۲۶ قمرى / ۱۵۶۶_ ۱۵۲۰ عيسوي) المعروف قانوني، كبير اور باشكوہ _(۱) تخت نشين ہوا_ اس نے اپنے آباؤ اجداد كى روايت كو جارى ركھا _ اپنے اقتدار كے ابتدائي دور سے ہى مملكت عثمانيہ كو مشرق ومغرب سے برّى و بحرى مناطق ميں وسعت دينا شروع كرديا_ مثلاً اس نے سات مرتبہ ہنگرى پر حملہ كيا_(۲) جنگوں اور حملوں كا يہ دائرہ وہاں سے بڑھا يہاں تك كہ ہنگرى سے آگے بوہم (چيكو سلواكيہ) اور باداريا تك جاپہنچا_(۳) اس نے دوبارہ سن ۱۵۲۹ اور ۱۵۳۲ عيسوى ميں اس اميد پر ہيسبورگ خاندان كے مركز حكومت پر حملہ كيا جو يورپ كے وسيع حصہ پر حاكم تھے_(۴) تا كہ اس پر قبضہ كرسكے يا كم از كم آسٹرياكى فوجى حيثيت كو ايسا تباہ كردے كہ ہنگرى كے معاملات ميں دخل دينے سے باز رہے(۵) _ ليكن مختلف اسباب كى بناء پر اس شہر كو فتح نہ كرسكا(۶) _

سليمان نے كئي بارمسلسل چند سال تك صفوى سلطنت پر بھى حملہ كيا ليكن تہماسب صفوى كى افواج كى طرف سے زمين جلانے والى سياست كى بناء پر سليمان كى آذربائيجان عراق عجم اور عراق عرب پر فوجى كاميابياں زيادہ مستحكم نہ رہ سكيں _ بالآخر ۹۶۲ قمرى / ۱۵۰۵ عيسوى ميں آماسيہ معاہدہ پر دستخط كرتے ہوئے ان جنگى ثمرات كو بھى كھو بيٹھا_(۷)

ليكن عراق اس كے پہلے حملے (سال ۹۴۲ _ ۹۴۰ قمري) _( ۱۵۳۴ _۱۵۳۳عيسوي) ميں شاہ سليمان كے قبضہ ميں آگيا اس فتح كے ساتھ شاہ سليم كے زمانے سے شروع ہونے والى اسلامى خلافت كے تمام

____________________

۱- Magnificent

۲) لردكين راس ، سابقہ حوالہ ص ۲۶۱_

۳)استانفورڈجى ، شاو، سابقہ حوالہ ، ص ۱۷۱_

۴) دايرة المعارف فارسى ، ج ۱ ص ۳۲ _ ۲۵_

۵) استانفورد جى ، شاد،سابقہ حوالہ ص ۱۷۰_

۶) لرد كين راس، سابقہ حوالہ ص ۲۰۵_ ۱۹۸_

۷) رئيس نيا مقدمہ : نصوح مطراق چي، بيان منازل ، تہران ص ۵۳_ ۳۱ _ دايرة المعارف فارسى ج ۱ ص ۲۳۶_

۸- Kramers ، Op Cit ، P ۱۹۵


دارالحكومتوں كو فتح كرنے كى مہم ختم ہوگئي_(۱)

مملكت عثمانيہ كى وسعت مشرق ميں خليج فارس تك پھيل گئي(۲) بلاشبہ باشكوہ سليمان كے دور ميں مملكت عثمانيہ كى سرحديں وسعت كى آخرى حدوں كو چھونے لگيں تھيں _ اسكى وفات كے زمانہ ميں يورپ ميں بن بوڈاپسٹ كى تمام سرزمين جزيرہ عرب كے آخرى كنارے بندگارہ عدن تك اور افريقا ميں مراكش سے ايشيا ميں ايران تك تمام سرزمينيں اسكى مملكت ميں شامل تھيں _(۳)

شاہ سليمان نے اپنى آدھى صدى پر محيط حكومت ميں سوائے زندگى كے آخرى چند سال كے بقيہ زندگى ايك محاذ سے دوسرے محاذ پر جنگ و حملہ ميں گذارى كيونكہ دارالحرب كى طرف مملكت كو وسعت دينا ، اسلامى عقيدہ جہاد كے ضرورى احكام ميں سے تھا_ اسى لئے جب وہ اپنى عمر كے آخرى دور ميں اندرونى مشكلات ومسائل كو حل كرنے اور بڑھاپے كى بناء پر چند سال جہاد نہ كرسكا تو شيخ نوراللہ جو كہ اس زمانہ كے فقہاء ميں سے تھے ، انہوں نے اعلان كيا كہ جو بادشاہ جہاد جيسا فرض اجرا نہيں كررہا ہے اسكا مواخذہ كرنا چاہئے _ بعض محققين اس تنقيد كو اس كے لشكر كشى كے دور كے اختتام كى وجہ سمجھتے ہيں اسى دور ميں وہ وفات پاگيا _(۴)

شاہ سليمان ايك انتھك جنگى كمانڈر ہونے كے ساتھ ساتھ عدل و نظم كے قيام كى خواہش ركھنے والا قانون دان بھى تھا_ اسكى واضح مثال اسكا ''قانون نامہ سليمان'' ہے كہ جو اس كى براہ راست نگرانى ميں شرعى احكام اور گذشتہ قوانين بالخصوص قانون نامہ محمد دوم فاتح كى رعايت كرتے ہوئے اور اس زمانہ كے تقاضوں كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے تدوين كيا گيا _ نيز اس قانون نامہ كو مترتب كرنے كى وجہ يہ تھى كہ طبقہ حاكم اور سلطان كے تابع افراد كے حقوق اور فرائض كى تشخيص كى جائے اور رعايا كے حقوق و مالى مسائل كو حل كياجائے اور حكومتى اداروں كے فرائض كى حدود معين كى جائيں وغيرہ

____________________

۱) kramers ، op.cit ، p ۳۷

۲)_ استانفورد چى ، شاوسابقہ حوالہ ص ۱۷۵_ ۱۷۴_

۳) Sander ، op cit ، P ۳۷

۴) Gokbilgin LA ،۱۱ ، P ۱۵۵


مذكورہ قانون نامہ شيخ الاسلام ابوالسعود آفندى كى راہنمائي اور فتاوى كے ساتھ ساتھ ملا ابراہيم حلبى كى نگرانى ميں تدوين ہوا _ اس قانون نامہ كے وسيع پيمانہ پر اجراء ہونے كى صلاحيت كى بناء پر اسے ''ملتقى الابحر'' يعنى سمندروں كى ملاقات كى جگہ '' كانام ديا گيا _ اور يہ قانون نامہ انيسويں صدى ميں قانون ميں اصلاحات اور تراميم كے دور تك باقى رہا(۱) _ سليمان كو قانونى كا لقب بھى اسى لئے ديا گيا تھا_

شاہ سليمان كا طولانى دور حكومت ہنر و ادب كى رونق كے ادوار ميں سے ايك دور جانا جاتا ہے _ شعراء ، ہنرمند، قانون دان، فلاسفہ ، مورخےن ، دانشور حضرات ، علماء ، اہل ادب اور دربار كے مہمان ان تمام مادى وسائل سے بہرہ مند تھے جو اس نے ان كيلئے فراہم كئے تھے_(۲)

اسكے دور حكومت ميں برگزيدہ علماء كى فہرست ميں عبداللہ شيخ ابراہيم شبسترى اور ظہيرالدين اردبيلى بلاشبہ ايرانى مملكت سے تعلق ركھتے تھے_(۳)

معمارى كے آثار مثلاً سليمانيہ ، مسجد سلطان سليم اور اس كے گردو نواح كے آثار كہ جو شاہ سليمان كے حكم پر سال (۹۹۶_ ۸۹۴ قمري/۱۵۸۸_ ۱۴۸۹ عيسوي) ميں معروف معمارسنان كى نگرانى ميں دائرہ وجود ميں آئے، شاہ سليمان كے دور كے عظيم الشان شاہكار ہيں _ سنان فن معمارى ميں نابغہ روزگار تھا وہ سليمان كے بہت سے حملات ميں شريك تھا اور ۳۵۰ سے زيادہ معمارى كے فن پارے مثلاً بڑى ، چھوٹى مساجد، مدرسہ ، دالقرائ، مقبرہ ، عمارت، محل ، دارالشفاء ، كاروانسرااور حمام و غيرہ اس سے منسوب كيے جاتے ہيں(۴)

____________________

۱) استانفورد جى شاد،سابقہ حوالہ ص ۱۶۲ ، ۱۸۵_ ۱۸۴_ ۲۳۸ _ ۲۳۷ ،ورڈكين راس ،سابقہ حوالہ ص ۲۱۴_ شمس الدين سامى ،سابقہ حوالہ ص ۵۶۸_

۲) الہامہ مفتاح و وحاب لى ،سابقہ حوالہ ص ۲۰۶ _

۳) Gokbilgin ، OP.cit ، P ۱۵۲

۴) Oktay ، Aslanapa ، sinan in la ،۱۰ ، pp - Meydan. Lorousse ، vol.۱۱ ) ۱st ۱۹۸۱ ، pp ،۳۵ : Gokbilgin ، La vol.۱۱ p ،۱۴۹


كہاجاتا ہے كہ شاہ سليم كے دور ميں جتنے ہنرمند لوگ اسكے حكم پر استنبول ميں آئے وہ سب شاہ سليمان كے دور ميں بھى اپنے ہنر وفن كے كرشمے دكھاتے رہے_(۱)

شاہ سليمان كا دور مملكت عثمانيہ كى عظمت كے عروج كا دور تھا ايك نظريے كے مطابق خود شاہ سليمان سياست ميں تمام عثمانى بادشاہوں ميں پہلے نمبر پر ہے(۲) _ ان سب عظمتوں كے ساتھ ساتھ، اسى شاہ كے نصف دور حكومت سے مملكت عثمانيہ كى جڑيں كھوكھلى ہونابھى شروع ہوگئيں يہ صورتحال بعد كى صديوں ميں بھى جارى رہي_(۳)

لارڈ كين راس نے اگر چہ شاہ سليمان كى شخصيت كے مختلف مثبت اور اہم پہلوؤں پر خاص توجہ اور انہيں زور دار انداز ميں بيان كياہے كہ جن كى بدولت اس نے عثمانى حكومت كو ايك خاص نظم ديكر عظمت و قدرت كى معراج پر پہنچايا ليكن وہ اس بات كو نہيں بھولا كہ انہى عظمتوں اور بلنديوں ميں زوال وپستى كے بيج بھى مخفى تھے كيونكہ اس كے بعد جو بھى سلاطين آئے ان ميں نہ كوئي فاتح تھا نہ قانون گذار اور نہ ہى فعال حاكم(۴)

۳_مغل سلاطين

دين اسلام كا ہندوستان ميں داخل ہونا اور پھر اسلامى حكومت كى تشكيل مختلف مراحل پر مشتمل ہے _ قرن اول كى ابتداء سے ہى مسلمان تجار نے مالابار اور گجرات كے ساحلوں ميں سكونت پذير ہندوستانيوں كى مقامى آبادى سے تجارتى تعلقات قائم كيے پھر اسلام كا ايك نئے اور پركشش دين كے عنوان سے ان علاقوں ميں آہستہ آہستہ تعارف ہوا_

____________________

۱) استانفورد جى شاد، سابقہ حوالہ ص ۶۱_

۲) آنستونى بريج، سابقہ حوالہ ص ۲۲_

۳) استانفورد جى شادسابقہ حوالہ ص ۲۹۱_

۴)لارڈكين راس_سابقہ حوالہ ص ۲۶۴_


بعد كے ادوار ميں مسلمان غازيوں كے ان علاقوں پر حملوں سے ہندوستانيوں كى دين اسلام سے آگاہى اور دلچسپى بڑھتى چلى گئي _ مسلمان مجاہدين كے ساتھ عرفا اور صوفيوں كى بہت بڑى تعداد اسلام كى تبليغ و ترويج كيلئے اس سرزمين ميں داخل ہوئي كہ انہوں نے مسلمان مجاہدين سے مختلف انداز سے اپنے مكتب كى بہت وسيع شكل ميں اور عميق انداز ميں ہندوستانيوں ميں ترويج كى _

مسلمانوں كى زيادہ تر فتوحات ہندوستان كے شمالى علاقوں ميں انجام پائيں _ شروع ميں ترك اور افغان سلاطين ان علاقوں ميں داخل ہوئے_ بعد كے ادوار ميں مختلف مسلمان خاندان ہندوستان ميں حكومت كرتے رہے _ مثلاً دكن كے بہمن ، قطب شاہي، تغلق و آخركار مغل مسلمان خاندان ہندوستان كى بلا مقابلہ سياسى اور اقتصادى قوت كى صورت ميں سامنے آيا_ مغليہ خاندان اپنے منظم اور مرتب نظام حكومت كى بناء پورے ہندوستان كو ايك حكومت كے پرچم تلے لے آئے_ بلاشبہ ہندوستان ميں مسلمانوں كى حكومت كا عروج مغليہ خاندان كے اقتدار كے دوران تھا_

سياسى تاريخ

ہند كے مغليہ سلسلہ حكومت يا بابرى حكومت كى بنياد ظہر الدين بابر نے ركھى كہ جسكا نسب تيمور مغل تك پہنچتا تھا_ تيمور چونكہ منگول قوم سے نسبت ركھتا تھا اسى لئے بعض تاريخى ماخذات ميں مغليہ سلسلہ حكومت كو ہندوستان كے منگولوں كے عنوان سے بھى ياد كيا گيا ہے_(۱)

ظہيرالدين ابتدا ميں سمرقند كا حاكم تھا_ اس نے ۹۱۰ ہجرى قمرى ميں شہر كابل پر قبضہ كرليا اس دور ميں اسكے ہمسايوں ميں دو بڑى طاقتيں صفوى اور ازبك تھے ان كى موجودگى ميں وہ ہرگز اپنى مملكت كو مركزى ايشيا يا ايران كى طرف نہيں بڑھا سكتا تھااسى لئے اس نے اپنے حملات اور فتوحات كا مركز مشرقى علاقوں مثلاً ہند اور

____________________

۱) شيخ ابوالفضل مبارك ، اكبرنامہ، غلامرضا طباطبائي مجد كى كوشش سے تہران _ مؤسسہ مطالعات وتحقيقات فرہنگى ص ۱۳۸


كابل كو قرار ديا _ بابر كى ۹۳۶ہجرى قمرى ميں وفات كے بعد اسكا فرزند ہمايوں تخت نشين ہوا ، ہمايوں اپنے طاقتور رقيبوں يعنى اپنے سوتيلے بھائي كامران ميرزا اور شيرشاہ سورى كى طرف سے دبائو ميں تھا ،بالآخر ۹۵۱ ہجرى قمرى ميں شير شاہ سورى سے شكست كھانے كے بعد اس نے شاہ طہماسب صفوى كے دربار ميں پناہ لى _ يہاں تك كہ ۹۶۲ہجرى قمرى ميں ايرانيوں كى مدد سے دوبارہ اپنا تاج و تخت واپس لے ليا _(۱)

ہمايوں كے بعد جلال الدين اكبر تخت نشين ہوا اگر چہ اس كى عمر چودہ سال سے زيادہ نہ تھى ليكن اس نے اپنے ايرانى شيعہ سرپرست بہرام خان كى تدبيروں سے اپنى حكومت كى ابتدائي مشكلات پر قابو پاليا _

اكبر نے اپنے دور حكومت ميں دارالحكومت كو دہلى سے آگرہ كى طرف منتقل كيا _ اس نے اپنے دانا وزير ابوالفضل علامى كى مدد سے اپنے ماتحت علاقوں ميں ايك خاص نظم و قانون جارى كيا_ اكبر بادشاہ كا دور حكومت مغليہ دور كا عروج شمار ہوتا ہے_(۲)

اس نے اپنے رقيبوں كى بہت سى بغاوتوں اور ہندووں كى بغاوت كا قلع قمع كرتے ہوئے اپنى حكومت كو پندرہ صوبوں ميں تقسيم كيا اور بذات خود گورنروں كے كاموں كى نگرانى كرتا تھا_

۱۰۱۴ ہجرى ميں جلال الدين اكبر نے آگرہ ميں انتقال كيا _ اسكے بعد اسكا بيٹا جہانگير تخت نشين ہوا_ جہانگير نے اپنى حكومت كے دوران سكھوں كى سب سے بڑى بغاوت كا خاتمہ كيا_ اس وجہ سے ہندوؤں ميں اسكے حوالے سے كينہ پيدا ہوا_ ہندوؤں نے جہانگير كے رقيبوں كا ساتھ ديا جسكى بناء پر بعض علاقے احمد نگر، دكن وغيرہ مغليہ مملكت سے نكل گئے_ جہانگير نے بھى زندگى كے آخرى سالوں ميں مجبورہوكر كابل ميں سكونت اختيار كي_

۱۰۳۷ قمرى ميں جہانگير كابڑا بيٹا شاہ جہاں تخت نشين ہوا چونكہ اسكى ملكہ نورجہاں ايرانى تھي، اسى ليے بہت

____________________

۱) بايزيد بيات _ تذكرہ ہمايوں واكبر، محمد ہدايت حسن كى تصحيح سے_ تہران، انتشارات اساطير ، ص ۳_

۲) شيخ ابوالفضل مبارك سابقہ حوالہ ص ۲۰۵_


سے ايرانيو ں نے مغليہ دربار ميں جگہ پائي_(۱)

مغليہ سلسلہ كا آخرى قوى ترين بادشاہ اورنگ زيب تھا كہ اس نے اپنے خاص مذہبى رجحان كى بناء پر ايرانيوں سے اچھے روابط نہيں ركھے_ اسكے دور اقتدار كے بعد مغليہ حكومت روز بروز كمزور اور ضعيف ہوتى چلى گئي اور آہستہ آہستہ زوال پذير ہوگئي_

مغلوں كے صفويوں سے روابط

بابر بادشاہ نے كابل ميں حكومت كے دوران شاہ اسماعيل صفوى اور شاہ طہماسب صفوى سے محدود سے روابط شروع كيے اس نے صفويوں سے دوستى كى بناء پر ازبكوں كے مد مقابل اپنى حكومت كو محفوظ ركھا_ ہمايوں كا دور حكومت بہت اہميت كا حامل تھا_ ہمايوں كى ايران ميں اقامت اور ايرانيوں سے آشنائي كى بناء پر دونوں حكومتوں ميں قريبى روابط برقرار ہوئے اور بہت سے ايرانى مغليہ دربار ميں وابستہ ہوئے كہ ان ميں سب سے اہم ہمايوں كا وزير بہرام خان تھا_

جلال الدين اكبر صفويوں كے دوبادشاہوں شاہ طہماسب اور شاہ عباس كا ہم عصر تھا(۲) دونوں حكومتوں كے اچھے روابط ميں اہم مسئلہ قندھار تھا كہ جسے اكبر نے اپنے قبضہ ميں لے ليا تھا يہ شاہ عباس كبير كے ابتدائي دور ميں ہوا كہ جب ايران كے حالات كچھ اچھے نہ تھے_

اكبر كى مانند جہانگير اور شاہ جہاں كے بھى صفويوں كے ساتھ روابط ميں قندھار كا مسئلہ موجود رہا _مجموعى طور پر بابر كے زمانہ سے ليكر بعد تك قندھار دونوں حكومتوں كے مابين ادھر اُدھرمنتقل ہوتا رہا_ ليكن دونوں حكومتوں كے صبر وحوصلہ كى بناء پر اس مسئلہ سے خصومت نہيں بڑھى كيونكہ جب ايك حكومت قندھار پر قابض

____________________

۱) ش، ف ، دولافوز تاريخ ہند، ترجمہ محمد تقى فخرداعي، گيلانى ، تہران كميسيون معارف ص ۱۶۱_

۲) رياض الاسلام ، تاريخ روابط ايران وہند ، اميركبير ص ۲_۲۷۱ _


ہوجاتى تو دوسرى طرف كا عارضى سكوت دونوں حكومتوں كے باہمى ر وابط كا موجب رہا _(۱) دونوں حكومتوں كے تدريجى زوال كے ساتھ ساتھ يہ روابط بھى بے اعتنائي اور سستى كا شكار ہوگئے_

مغلوں كے يورپى حكومتوں سے تعلقات

يورپى لوگ سن ۱۴۹۸ عيسوى ميں واسكوڈ گاما(۲) كے دريائي سفر كے ذريعہ پہلى مرتبہ سرزمين ہند سے واقف ہوئے _ ۱۵۰۰ عيسوى ميں پرتگاليوں نے كالى كوٹ كے ساحلوں پر قدم ركھا_ كچھ عرصہ كے بعد مسلمان تاجرجوكہ پرتگاليوں كے آنے سے ناراض تھے انہوں نے پرتگاليوں كو كو چين(۳) كے علاقے كى طرف دھكيل ديا_ ۱۵۰۹ عيسوى سے ۱۵۱۵ عيسوى تك پرتگاليوں نے گوابندرگاہ پر قبضہ جماتے ہوئے استعمار كا پہلا ستون كھڑا كيا(۴) _

يہ لوگ اكبر بادشاہ كے آخرى دور تك ہندوستان كى بيرونى تجارت كو اپنے كنٹرول ميں ليے ہوئے تھے _ روئي اور ہندوستانى مصالحوں جيسى اجناس يورپى حكومتوں كو درآمد كرتے تھے_ جلال الدين اكبر سال ۱۵۸۰ عيسوى ميں دوپرتگاليوں پادريوں سے ملاقات كے دوران عيسائي دين سے واقف ہوا_(۵)

۱۶۰۰ عيسوى ميں انگريزوں نے سرزمين مشرق سے تجارت ميں زيادہ منافع اور فوائد كے حصول كے پيش نظرايسٹ انڈيا كمپنى كى بنياد ركھى _ ۱۶۰۸ عيسوى ميں اس كمپنى كا پہلا وفد ويليم ہاكنز كى سربراہى ميں دربار جہانگير ميں حاضر ہوا اس ملاقات ميں ہا كنز نے انگلينڈ كے بادشاہ جيمز اول كا خط بادشاہ كى خدمت ميں پيش كيا_(۶)

____________________

۱) عبدالرضا ہوشنگ مہدوي، تاريخ روابط خارجى ايران، امير كبير ص ۹۸_

۲- Vasco du gama

۳- Cochin

۴) احمد مير فندرسكى _ پيدايش وسقوط امپراتورى مستعمراتى پرتغال در ہند_ تہران ص ۲۱_

۵) برايان گاردنر، كمپانى ہند شرقي_ ترجمہ كامل حلمى ومنوچھر ہدايتى ص ۳۱_

۶) احمد محمد الساداتى _ تاريخ المسلمين فى شبہ القارہ الہند و باكستانيہ وحضارتہم ،مكتبہ نہضة الشرق، جامعہ القاہرة، ص ۳۶۵_


جہانگير كى طرف سے انگريزوں كے وفد كا پرتباك استقبال ہوا _ يہاں تك كہ جہانگير نے انگريز سفير كو چارسو فوجى سواروں كى كمانڈ كے عہدہ كى پيش كش كى _ كچھ عرصہ بعد ہاكنز سورت بندرگاہ كى طرف لوٹ گيا_ يوں ايسٹ انڈيا كمپنى كے ذريعہ انگريزوں كا مغلوں سے پہلا رابطہ ہوا _

سن ۱۶۱۲ عيسوى ميں جہانگير كى حكومت ميں انگريز فوج نے ہالينڈ كى فوج كے ہمراہ بحيرہ ہند ميں پرتگاليوں كو سخت شكست دي_ اس شكست سے جہانگير بہت زيادہ خوش تھا _ مسلمان حاجيوں كوہميشہ پرتگاليوں كى طرف سے حملوں اور لوٹ مار كا سامنا تھا_ اس شكست سے مسلمان حاجى كافى حد تك پرتگاليوں كے حملوں سے آسودہ ہوگئے_ اس واقعہ كے بعد انگريز وفد كى درخواست كے پيش نظر جہانگير نے ايسٹ انڈيا كمپنى كو ہندوستان ميں فعاليت كى اجازت دي_ يوں مغلوں نے انگريزوں كے تعاون كے ساتھ پرتگاليوں پر غلبہ پاليا اور انہيں ہندوستان كے ساحلوں سے دور دھكيل ديا _(۱)

شاہجہاں كے دور ميں بھى پرتگاليوں كے ساتھ جنگ اور انگريزوں سے دوستى كى پاليسى جارى رہى _ ۱۶۲۲ عيسوى ميں شاہجہاں نے پرتگاليوں سے نمٹنے كے لئے ہگلى كے علاقوں ميں فوجى دستے بھيجے ان فوجى دستوں نے انگريزوں كے تعاون سے پرتگاليوں كو شكست دى اور انہيں غلام كے طور پر بازاروں ميں بھيجا گيا يہ قدم پرتگاليوں كے اقدامات كے جواب ميں اٹھايا گيا تھا_(۲)

اورنگ زيب كے دور ميں اسكے عقائد كى بناء پر انگريزوں سے نزاع پيدا ہوا اس نے بنگال ميں انگريزوں سے جنگ كى اور اس جنگ كے بعد سورت كى بندرگاہ كو انگريزوں كے قبضہ سے چھڑاليا _ ليكن دريائي راستوں سے حاجيوں كے قافلوں كى حفاظت و مدد كے پيش نظر اس نے انگريزوں سے صلح كى اور سورت كى بندرگاہ ان كے سپرد كى _ اورنگ زيب كے آخرى دور ميں انگريزوں نے چند علاقوں مثلاً مدراس، بمبئي ' كلكتہ ميں بہت سے مراكز قائم كرليے_(۳)

____________________

۱) برايان گاردنر ،سابقہ حوالہ ص ۵۸_

۲) ش، ف ، دولافوز،سابقہ حوالہ ص ۱۵۸_

۳) برايان گاردنر ، سابقہ حوالہ ص ۹۵_


۱۷۰۷ عيسوى ميں اورنگ زيب نے وفات پائي_ اب بحر ہند ميں پرتگاليوں كى جگہ مكمل طور پر انگريزوں نے سنبھال لى _ فرانسيسوں نے ۱۶۴۴ عيسوى ميں كلبرٹ كى مدد سے فرانسيسى ايسٹ انڈيا كمپنى كى بنياد ركھي_ دوسال كے بعد فرانس حكومت نے بيجاپور كے علاقے ميں تجارت خانہ قائم كيا اور ''پونڈوشري'' نام كا ايك شہر بنايا _ نيز انہوں نے سال ۱۶۸۸ عيسوى ميں بنگال اور چندرنگر ميں اپنے تجارتى مراكز قائم كيے_(۱)

مغلوں كا اداراتى اور سياسى نظام

مغليہ نظام حكومت ميں بادشاہ حكومت كے تمام شعبوں پر مكمل تسلط ركھتا تھا اور پورے نظام كا سربراہ تھا _ سلطان كوبيشتر شاہ كے عنوان سے ياد كيا جاتا تھا_ جيسے جيسے بادشاہ كا اقتدار مستحكم ہوتا جاتا اسكى تمام امور ميں دخالت بڑھتى جاتى تھى جيسا كہ جلال الدين اكبر كے دور ميں تھا اس نے حكومت و رعايا كے تمام امور ميں اپنى رائے كو رعايا اور درباريوں پر مسلط كيا _

بادشاہ كے بعد مختلف ديوان تھے كہ ان سب ميں اہم ترين ديوان اعلى تھا جس كا فرض تھا كہ بادشاہ كى آمدنى اور املاك (خالصات) پر نگرانى كرے _ اس ديوان كا سربراہ وكيل (وزير) ہوتا تھا_ اس كے بعد ديوان بخشى تھا كہ جسكا سربراہ مير بخشى ہوتا تھا كہ اس ديوان كى ذمہ دارى پورى مملكت ميں حكومتى امور كاتحفظ تھا_ ''صدر الصدور''كى سربراہى ميں ديوان انصاف سياسى امور ، جرمانوں اور ديگر عدالتى امور ميں فعاليت كرتا تھا_(۲)

اكبر كے دور ميں حكومت كا نظام مكمل صورت ميں سامنے آيا_ اس نے حكومت كو بہت سے صوبہ ميں تقسيم كيا _ ہر صبوبے دار كے ساتھ صدر اور بخشى كا عہدہ بھى موجود ہوتا تھا_ اسى طرح ہر صوبہ چند''سركار' ' (ضلعوں ) ميں تقسيم ہوتا تھا_

____________________

۱) ش، ف ، دولافوز ، سابقہ حوالہ ص ۱۹۳_

۲) Raj ، Kumar ، Surrey ، of Medival India New Delhi ۱۹۹۹ Vol ۱۱ P.۱۵۱


اس دور ميں فوجى عہدے ''منصب'' كے عنوان سے جانے جاتے تھے_ مثلاً منصب پنج ہزاري، سہ ہزارى ، چہار ہزارى ، يہ فوجى عہدے چونكہ بادشاہ كے احكامات مثلاً ٹيكسوں كو وصول كرنا اور جنگ كے لئے افراد مہيا كرنا وعيرہ _ بجالاتے تھے اكثر وبيشتر بادشاہ سے املاك و زمينيں وصول كرتے تھے كہ اس قسم كى املاك كو 'جاگير'' كا عنوان ديا جاتا تھا_ البتہ جاگيروں كا ملنا فوجيوں كے ساتھ خاص نہ تھا بلكہ امراء طبقہ حتى كہ علماء بھى ان سے بہرہ مند تھے_

فارسى ادبيات

جرمنى كى مشہور اسلام شناس اسكالر شيمل كے بقول مغلوں كا دور ہندوستان ميں فارسى ادبيات كے عروج كا دور ہے(۱) كيونكہ شاعروں كى كثرت اور نئے و منفرد موضوعات اور مضامين كى فراوانى اسقدر زيادہ تھى كہ ايرانى فارسى زبان لوگ مغلوں كے دربار سے وابستہ ہوئے تاكہ انكى اس نعمت كے عظیم دسترخوان سے بہرہ مند ہوسكيں _

۹۹۰ قمرى ميں اكبر بادشاہ كے دور حكومت ميں فارسى زبان حكومت كى سركارى زبان قرار پائي_ يہ بادشاہ فارسى ادبيات اور ثقافت كو خاص اہميت ديتا تھا _ آج كى اصطلاح كے مطابق اس نے ايك دارالترجمہ كى بنياد ركھى تاكہ سنسكرت اور ہندى كى قديم كتابوں كا فارسى زبان ميں ترجمہ ہو_ شايد اس دور ميں فارسى اشعار كے مطالب ومضامين ميں جدت اور وسعت كى ايك وجہ شعرا حضرات كا ہندى ادبيات سے آشنائي اور قربت ركھنا ہو(۲)

اس دور ميں معروف شعراء كے بہت سے ديوان سامنے آئے_ ايرانى شاعروں كى ہندوستان كى طرف

____________________

۱) آن مارى شيمل ، ادبيات اسلامى ہند، ترجمہ يعقوب آند، امير كبير ، ۱۳۷۳ ص ۳۸ ، ۳۷_

۲) محمد فتوحي، نقد خيال، نقد ادبى در سبك ہندى ، تہران روزگار ۱۳۷۱ ، ص ۷۳_


ہجرت اور امراء و اشراف طبقہ كى شاعروں كو اہميت دينا باعث بنا كہ اكبر بادشاہ كے دور ميں فيض دكني، غزالى مشہدى اور عرفى شيرازى جيسے شعراء ظاہر ہوئے _ ايرانى شاعروں كى يہ ہجرت جہانگير اور شاہ جہاں كے دور ميں بھى جارى رہى _ جہانگير كے دور ميں طالب آملى (سال ۱۰۳۶ قمرى ) ايك مشہور ترين شاعر تھے كہ جنہيں ملك الشعرائے دربار كا اعزاز حاصل تھا_

اسى طرح صائب تبريزى ( سال ۱۰۸۱ قمري) ہندى سبك ميں ايك مشہور ترين شاعر تھے جو شاہ جہان كے ہاں خصوصى مقام كے حامل تھے، كہ اورنگ زيب كے بادشاہ بننے سے زبان فارسى اور اس كے ساتھ شعراء كى رسمى حمايت كم ہوتى گئي _ ليكن ايك اور مشہور شاعر بيدل دہلوى (۱۰۵۴ _ ۱۱۳۳ قمري) اسى دور ميں ظاہر ہوئے جنكے اشعار فارسى ميں ہندى سبك كے عروج كى حكايت كرتے ہيں _

اسى طرح اس دور كے ديگر شعراء ميں غالب دھلوي_ شيدا فتحپورى اور حزين لاہيجى ہيں _ مغليہ عہد ميں مصنفين اور منشى حضرات نے بہت سى ادبى اور تاريخى كتب كو لباس تحرير پہنايا _ دنيا كى تاريخ ، عمومى تاريخ اور خاص سلسلوں كى تاريخ كے حوالے سے بہت سى كتابيں تاليف و تصنيف ہوئيں اس دور ميں ہندى كتابوں كا فارسى زبان ميں ترجمہ كافى پر رونق تھا_ مثلاً رامائن ، مہا بھارت ( جنگ نامہ ) اور اور اوپانشاد كا سنسكرت سے فارسى زبان ميں ترجمہ اسى دور كے ترجمہ كى مثالوں ميں سے ہے _(۱)

مسلمان عرفا اور انكى ہندوستان ميں خدمات

دينى مبلغين ميں صوفيا اور عرفا كرام نے مسلمان سپاہيوں اور تجار كى صورت ميں فاتحين كے ہمراہ اپنى خاص طريقت و منش كى بناء پر بہت سے ہندوستانيوں كو دائرہ اسلام ميں داخل كيا_

____________________

۱) دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۱ ص ۷۴ _۷۳ ذيل ''بابريان '' ادبيات (منيب الرحمان)_


انہوں نے غزنوى دور كے بعد دور دراز كے علاقوں ميں مثلاً ہندوستان كے شمال ميں ايسا مقام اور حلقہ اثر بناليا تھا كہ وقت كے سلاطين اور امراء بھى انكا احترام كرنے ميں مجبور ہوتے تھے_ مثلاً شيخ بھاء الدين زكريا كے دور ميں شہر ملتان برصغير كے مسلمانوں كا مركز تھا_(۱)

ہندوستان كے عرفان اور تصوف كے حوالے سے ايك قابل غور نكتہ يہ ہے كہ فارسى زبان عرفان وتصوف اكھٹے ہمسفر رہے جس قدر فارسى زبان وسعت اختيار كر گئي عرفان و تصوف نے بھى ترقى كى اور اسى طرح فارسى كے زوال كے ساتھ اس نظريہ كا حال بھى ويسا ہى ہوا، مجموعى طور پر برصغير ميں چار صوفى سلسلے ظاہر ہوئے _ چشتيہ _ سہروورديہ ، قادريہ اور نقشبنديہ_(۲)

ان سلسلوں كے اولياء اور اقطاب كے مقبرے لوگوں ميں احترام كے حامل تھے آج بھى ہر سال عرس كے ايام يعنى انكى وفات كے دن ہزاروں لوگ ان اولياء كے مزاروں پر اكھٹے ہوتے ہيں اور خاص انداز سے مراسم بجالاتے ہيں _ يہ چاروں سلسلے اپنا نسب حضرت على _كى ذات مبارك سے ملاتے ہيں _

سہرورديہ :جيسا كہ نام سے معلوم ہے كہ يہ سلسلہ شيخ شہاب الدين سہروردى سے منسوب ہے _ شيخ بہاء الدين زكريا ملتانى (متوفى ۶۶۶ قمري) كى سعى وكوشش سے برصغير ميں يہ سلسلہ پھيلا بالخصوص بنگالى علاقوں ميں اس سلسلہ كا بہت بڑا حلقہ اثر ہے _ ہندوستان ميں اس سلسلہ كے مشہور اقطاب ميں سے معروف ايرانى شاعر فخرالدين عراقى قابل ذكر ہيں كہ جو شيخ زكريا كے داماد تھے_

قادريہ:اس سلسلہ كے بانى عبدالقادر گيلانى (متوفى ۵۶۱ہجرى قمري) تھے_ ہندوستان ميں ا س سلسلہ كے سب سے پہلے خليفہ صفى الدين صوفى گيلانى تھے اور اس سلسلہ كے سب سے اہم خليفہ آٹھويں خليفہ ابوعبداللہ محمود غوث گيلانى تھے كہ جو (۹۲۳ ہجرى قمرى )ميں ظہيرالدين بابر كے دور ميں شہر لاہور ميں فوت ہوئے_

____________________

۱) عباس رضوى اطہر ، تاريخ تصوف در ہند ،ترجمہ منصور معتمدى ، تہران ۱۳۸۰ _ ج ۱ ص ۱۳۵_

۲) غلامعلى آريا، طريقہ چشتيہ در ہند وپاكستان ، تہران ، زوار ص ۹۱_ ۶۰_


نقشبنديہ :اس سلسلہ كے بانى خواجہ بہاء الدين نقشبند( ۷۹۱_۷۱۸ہجرى قمري) تھے_ ہندوستان ميں بابر كے دور ميں خواجہ محمد باقى عبداللہ (متوفى ۱۰۱۲ قمري) كے ذريعے اس سلسلے كى بنياد ركھى گئي _ اس سلسلہ كے سب سے اہم ترين خليفہ شيخ احمد سرہندى تھے كہ جو ''الف ثاني'' كے لقب سے معروف ہوئے_

چشتيہ: صوفيا كا سب سے قديمى سلسلہ ہے _ اس سلسلہ كى وجہ تسميہ ہندوستان ميں اس سلسلہ كے بانى خواجہ معين الدين كا ہرات كے قريب ايك بستى چشت سے تعلق تھا_ اس سلسلہ كے اہم ترين خلفاء ميں خواجہ حسن بصري، فضيل عياض ، ابراہيم ادھم اور ابوالاسحاق شامى قابل ذكر ہيں _(۱)

خواجہ معين الدين سنہ ۵۳۷ قمرى ميں پيدا ہوئے _ انہوں نے سلسلہ چشتيہ كے مشايخ كے حضور زانوے تلمذتہيہ كيا ، علم و معرفت حاصل كى اور خرقہ خلافت حاصل كرنے كے بعد بغداد ميں نجم الدين كبرى كى زيارت كےلئے تشريف لے گئے _ اصفہان ميں قطب الدين بختيار كاكى سے آشنائي ہوئي اور قطب الدين خواجہ معين الدين كے مريد بن گئے اور خواجہ كے ہمراہ ہندوستان كى طرف سفر كيا اور بعد ميں ہندوستان كے مشہور عرفاء ميں سے قرار پائے_(۲)

خواجہ معين الدين لاہور ميں سكونت پذير ہوئے _ ان كے مشہور خلفاء ميں سے قطب الدين بختيار، حميد الدين ناگوري، شيخ سليم چشتى ، نظام الدين اولياء اورامير خسرو دہلوى قابل ذكر ہيں _

مغليہ حكومت كے ہاں خصوصاً مشايخ كا احترام اور عظمت اسقدر زيادہ تھى كہ اكبر بادشاہ ہر سال خواجہ معين الدين كے مزار كى طرف پيدل جاتا تھا اور اس نے اپنے بيٹے كا نام بھى سليم ركھا كہ جسے بعد ميں جہانگير كا لقب ملا_ اور ہر سال خواجہ كے احترام كے پيش نظر انكے زائرين كو بہت سے تحائف سے نوازتا(۳)

____________________

۱) سابقہ حوالہ ،ص ۷۴_۶۹_

۲) عباس رضوى ،سابقہ حوالہ ،ص ۱۵۲_ ۱۴۱_

۳) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۱۱ ذيل بختيار كاكى _ (غلامعلى آريا)_


خواجہ معين الدين كے مشہور ترين خليفوں ميں سے ايك خواجہ نظام الدين اولياء تھے وہ شہر ''بدايون'' ميں پيدا ہوئے انكے مريد حسن دھلوى كى كوشش سے انكے كلمات كتاب ''فوايد الفوائد'' ميں جمع كيے گئے وہ سال ۶۶۳ قمرى مےں انتقال فرماگئے_ انكے عرس كى تقريبات ميں شركت كرنے كيلئے پورے ہندوستان سے لوگ دہلى ميں جمع ہوتے ہيں(۱) ہندوستان اور اسلام كے ديگر مشہور عارف على بن عثمان ہجويرى ہيں كہ جنہيں داتا گنج بخش (داتا يعنى استاد) كا مشہور لقب ملا_(۲)

ہجويرى كو غزنہ كے گرد نواح ميں ہجوير علاقے كى طرف نسبت دى گئي ہے _ انہوں نے طريقت و عرفان ميں سب سے پہلى فارسى كتاب ''كشف المحجوب'' كو تحرير كيا _ اندازہ يہ ہے كہ آپ سال ۴۵۰ سے ۴۶۵ كے درميان ميں فوت ہوئے ہيں اور لاہور ميں دفن ہوئے_(۳)

اس سلسلہ كى مشہور ترين شخصيت اور عظيم شاعر امير خسرو دہلوى تھے كہ شاعر ہونے كے ساتھ ساتھ ايك كامل عارف بھى تھے_ امير خسرو شعر ميں شہاب الدين محمود بدايونى كے شاگرد تھے_ اور تركى ، فارسى اور ہندى زبان پر عبور ركھتے تھے _ نيز موسيقى ميں بھى استاد تھے _ مثنوى كہنے ميں نظامى كے تابع اور غزل ميں سعدى كے مريد تھے_ وہ حقيقت ميں برصغير كے سب سے بڑے فارسى زبان كے شاعر شمار ہوتے تھے_ انكى تاليفات مندرجہ ذيل ہيں :

۱_ ديوان

۲_ خمسہ كہ جسميں مطلع الانوار ، شيرين و خسرو ، مجنون و ليلى ، آئينہ اسكندرى اور ہشت بہشت شامل ہيں _

۳ _ تاريخى حماسے مثلاً قران السعدين اور مفتاح الفتوح_(۴)

____________________

۱) غلام على آريا،سابقہ حوالہ ،ص ۵۵_

۲) عبدالحسين زرين كوب ، جستجو در تصوف ايران ، امير كبير ،ج ۳ ،ص ۷۱_

۳) على بن عثمان ہجويرى ، كشف المحجوب ، وكوفسكى كى سعى سے_ تہران ج ۲ ص ۱۹_۱۸_

۴) دانشنامہ ادب فارسي، زير نظر حسن انوشہ ، ج ۴،بخش اول ص ۲۷۳ ذيل امير خسرو دہلوي_


ہندوستان كے اسلامى ہنر و فنون

بنيادى طور پر برصغير ميں اسلامى فن پارے وہاں كے مقامى ہنر و فنون سے مختلف تھے _ ليكن مختلف اقسام كے اساليب ميں مقامى ہنر سے ربط پيدا كرليا تھا_جغرافيائي اور قومى اعتبارى سے مشترك ہونا اور وہاں كا خام مواد اور مقامى ہندى اساتذہ كى راہنمائي باعث بنى كہ عالم اسلام ميں مسلمانوں كے ہندوستانى طر ز وسبك كے فن پارے بھى سامنے آئے _ا لبتہ برصغير ميں خالص اسلامى فنون كے بارے ميں گفتگو خاص اہميت كى حامل نہيں ہے_

ان فنون ميں سے ايك معمارى ہے كہ جو مغليہ عہد ميں اپنے عروج كو پہنچى _ معمارى ايك اسلامى ہنر ہونے كے ناطے سے خاص خصوصيات كى حامل ہے اسى بناء پر اسلامى معمارى ايك ہنر ہونے كے ناطے تمام اسلامى مناطق كے فن معمارى سے مشابہت ركھتى ہے_

بنيادى طور پر برصغير چند مختلف مراحل كا حامل ہے:

۱) ابتدائي فاتحين كا دور

۲) غزنويوں سے مغلوں تك كا دور

۳) مغليہ دور

مغليہ حكام ايك نئے سلسلہ حكومت كے ناطے اپنے تعارف اور شہرت كى ضرورت محسوس كرتے تھے _ اور چونكہ وسيع و عريض سرزمينوں پر سكونت پذير گوناگوں تہذيبوں اور عقائد كے لوگوں پر حاكم تھے، اس ليے اپنى خودنمائي كيلئے معمارى كو ايك بہترين ذريعہ سمجھتے تھے_ يہ حكام چاہتے تھے كہ عظيم الشان عمارتيں بناكر لوگوں ميں اپنا مقام ومنزلت اور شہرت كو بڑھائيں _(۱)

____________________

۱) اباكخ، معمارى ہند، ترجمہ حسين سلطان زادہ، تہران ، دفتر پوہشان فرہنگى _ ص ۱۴_ ۱۲_


مصورين كے برعكس اس دور كے معمار بہت كم اپنا نام ذكر كرتے تھے ہم سوائے چند افراد كے اس دور كے ديگر معماروں سے بے خبر ہيں _مجموعى طور پر اس دور كى معمارى كى خصوصيت يہ ہے كہ يہ سب عمارتيں بادشاہوں اور امرا كے حكم سے بنائي جاتى تھيں كہ بعد ميں انكے ارد گرد ديگر حكام كى طرف سے نئي چيزوں كا اضافہ ہوتا رہتا _ اس دور كى طرز معمارى بہت آہستگى سے تبديل ہوئي جيسا كہ مغليہ عہد كى ابتدائي معمارى بے روح تھى كہ جو بعد ميں آہستہ آہستہ دلكش اور زيبا ہوتى چلى گئي _

جلال الدين اكبر كے دور ميں دہلى ميں ہمايوں كا مقبرہ بنايا گيا جسے مغليہ عہد كى معمارى كے ممتاز نمونہ كے عنوان سے مشاہدہ كيا جاسكتا ہے _ يہ عمارت سال ۹۷۰ قمرى سے ۹۷۸ تك كے درميانى عرصہ ميں بنائي گئي_ اس كے معمار سيد محمد اور اس كے والد مير ك سيد غياث نام كے افراد تھے_ مسجد فتح پور سيكرى نيز مغليہ عہد كى ابتدائي معمارى كا ايك اور نمونہ ہے _بعد كے ادوار ميں مثلاً جہانگير اور شاہ جہاں كے زمانہ ميں فن معمارى مستحكم انداز سے مختلف اسا ليب كے ساتھ ترقى كے زينے طے كرتا رہا_ جہانگير كے ايرانى وزير عبدالرحيم خان خانان كے حكم سے مشہور باغ ''شاليمار باغ'' بنايا گيا _ اس وزير كے بارے ميں شہرت تھى كہ اس نے ہندوستان كو ايران بناديا ہے_

فن معمارى كا ايك اور عظیم الشان فن پارہ تاج محل ہے كہ جو شاہ جہان كے زمانہ ميں مغليہ عہد كے فن معمارى كے عروج كى عكاسى كررہا ہے _ شاہ جہان نے يہ تاج محل اپنى ايرانى ملكہ ارجمند بانو بيگم كيلئے تيار كروايا تھا _ اس كے چار مينار اور ايك پيازى شكل كا گنبد ہے اس كے اردگرد خوبصورت باغات ، بازار اور كاروانسرائيں تھيں كہ جنكى درآمد اس مقبرہ كے امور پر خرچ ہوتى تھى ،سب چيزيں بالخصوص خوبصورت و زيبا باغات شايد''جنت ميں باغات'' كے اسلامى نظريہ كى حكايت وعكاسى ہے(۱) تاج محل تيار ہونے ميں بائيس سال لگے بقول ويل ڈيورينٹ صرف اس مقبرے كا موازنہ ويٹى كن كے معروف كليسا سن پيٹرو سے(۲) كيا

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۹۸_

۲) ويل ڈيورينٹ، مشرق زمين (كا حوارہ تمدن) ترجمہ احمد آرام و ديگران ، تہران ج ۱ ص ۶۸۵_


جاسكتاہےمغليہ عہد كى معمارى كے بارے ميں آخرى نكتہ يہ ہے كہ در اصل مغليہ عہد كى معمارى ايرانى ، مركزى ايشيا اورہندوستانى نمونوں كا با مہارت آميزہ ہے كہ جسميں مغليہ عہد كے آخرى دور ميں يورپى اسلوب كى بھى آميزش ہوئي كہ جسكى بناء اس فن معمارى نے عالمى سطح كے مقبول فن پاروں كو تشكيل ديا _

فن مصورى :

معمارى كى طرح فن مصورى بھى ابتداء ميں دو آرٹ ايرانى ( تيموري) اور ہندى كا آميزہ تھا_ نيز عہد مغليہ ميں معمارى كى مانند فن مصورى نے بھى آغاز ميں حكومتى دربار ميں ترقى كى گويا فن مصورى كا آغاز دربار سے ہوا اور مصوروں كے سب سے پہلے حامى حاكم وسلاطين تھے_

تاريخى ماخذات كى رو سے ظہير الدين بابر ايك ہنرمند اور ہنر دوست شخص تھا_ اسكا كائنات كى قدرتى خوبصورتيوں اور شكار كى طرف بہت زيادہ ميلان باعث بنا كہ اس قسم كى پينٹنگ اور تصويروں كى طرف مائل ہو_ بابر كے دور كى فقط ايك پينٹنگ كہ جو برلن كے حكومتى ميوزيم ميں موجود ہے ، اس قسم كے رجحان كى عكاسى كررہى ہے_ نيز وہ بخارا كے آرٹ اور استاد بہزاد كے فن مصورى كے اثرات كى حكايت بھى كر رہى ہے_(۱)

ہمايوں كے دور ميں اس كى چند سالہ ايران ميں اقامت اور اس كے دربار ميں مير سيد على ، عبدالصمد شيرازى اور فرخ بيگ قلماق جيسے ايرانى مصورين كى موجود گى سے درحقيقت مغليہ مصورى اور آرٹ كى بنياد ركھى گئي(۲) _اسى دورميں امير حمزہ كى تصويرى داستان پر كام شروع ہوا كہ جو جلال الدين اكبر كے دور تك جارى رہا _ يہ تصويرى كام بارہ جلدوں اور چار ہزار صفحات كے مجموعہ كى شكل ميں سامنے آيا _ بظاہر يہ صفوى دور كے خمسہ نظامى كى تقليد ميں كيا گيا _

____________________

۱) م، س _ ڈيمانڈ، راہنماى صنايع اسلامى ، ترجمہ عبداللہ فريار،تہران ،ص ۶۹ _

۲) كريتين پرايس ،تاريخ ہنراسلامى ، ترجمہ مسعود رجب نيا _ ص ۱۷۵_ ۱۷۳_


ہم اكبر كے دور ميں دوبارہ عہد مغليہ كے مصورى كے ابتدائي اساليب اور تصويرى موضوعات كو پلٹتا ہوا ديكھتے ہيں ،اكبر نے نئے شہر فتح پور ميں فن مصورى كا حكومتى سكول بنايا كہ جسميں ايرانى اساتذہ كے تحت سو سے زيادہ اہل فن حضرات كام كيا كرتے تھے(۱) _ فن مصورى كے ماہرين كى جب حكومت سے سرپرستى ہوئي تو بتدريج انكى پينٹنگز اور تصويروں كى روش ميں تبديلى رونما ہوئي اور آہستہ آہستہ اس فن كاموضوع مختلف طريقوں اور رنگوں سے امراء اور دربار سے متعلقہ خواتين كى صورتوں كو نقش كرنا ہوگيا تھا_ اكبر كے دور كے مصورين ميں سے بساوان(۲) _ بشن داس(۳) اور عبدالصمد(۴) قابل ذكر ہيں _

جہانگير كے دور ميں بھى يہى روش جارى رہي_ ليكن معمارى كى طرح فن مصورى كا عروج بھى شاہ جہاں كے دور ميں ہوا ، منفرد رنگوں كا استعمال ، ماڈل تيار كرنا اور اصل مناظر كى مانند سايہ بنانے كے كام كا بہت رواج ہوا _ دربار اور حكومتى محافل كى مجلل زندگى كو بہترين شكل و صورت كے ساتھ نماياں كيا گيا جيسا كہ نيويارك كے ''ميڑوپولٹين'' ميوزيم ميں شاہ جہاں كى تمام شاہانہ شكوہ و جلال كے ساتھ تخت طاووس، پر متمكن اور گھوڑے پر سوار تصوير سے مشاہدہ كيا جاسكتا ہے _ مشہور تين مصور ابوالحسن ، ميرہاشم اور محمد نادر ثمرقندى تھے كہ جنہوں نے فن شبيہ نگارى ميں كمال كى حد تك تصوير كشى كى _(۵)

فن مصورى پر بعد كے ادوار ميں بالخصوص اورنگ زيب كے دور ميں زيادہ توجہ نہ دى گئي _ مغليہ عہد كے آخرى دور كى تصويريں دراصل گذشتہ رسم وروش كے مطابق ہيں ان ميں گذشتہ دور كى مانند جدت وانفراديت كا وجود نہيں ہے _ آخر ميں كہا جاسكتا ہے كہ اس دور كے باقى ماندہ آثار كا مشاہدہ بتاتا ہے كہ يہ تصويريں صرف

____________________

۱) م ، س ڈيمانڈ،سابقہ حوالہ ص ۷۱_

۲- Basawan

۳- Bishendas

۴) سابقہ حوالہ ص ۷۲_

۵) تارچند، تاثير اسلام در فرہنگ ہند ، ترجمہ على سپرنيا ، عزالدين عثماني، تہران ص ۳۳۱


ايرانى اور مركزى ايشيا كے اسلوب وآرٹ كا آميزہ نہ تھيں بلكہ پرانى روشوں كى ترقى كے ساتھ ساتھ اہل فن نے ہندوستانى جديد عناصر سے بھى الہام ليا اور ايك نئے اور خاص اسلوب كى بنياد ركھي_ اگرچہ مسلمانوں (ترك وايراني) كى طاقت كے غلبہ كے پيش نظر ہندوستانى عناصر و رواج وسيع پيمانے پر اس آرٹ كو متاثر نہ كرسكے_(۱)

مغليہ سلاطين كے پسنديدہ فنون ميں سے ايك رسم الخط اور خوشنويسى بھى تھا_ حاكموں كے مذہبى عقائد كى بناء پر پسنديدگى و توجہ ہميشہ اونچ نيچ كا شكار رہى _ بابر نے قرآن كو خوبصورت خط ميں لكھا اور كعبہ كو ہديہ كيا_ ہمايوں كے دور ميں ايرانى اساتذہ مثلاً خواجہ احمد مؤتمن قزوينى اور مير قاسم كى وجہ سے نسخ نويسى كا بہت زيادہ رواج ہوا_ شاہ جہان كے دور ميں مير عمار حسينى كے قتل كے بعد اسكے شاگرد آقا عبدالرشيد ، سيد على تبريزى اور خواجہ عبدالباقى نے شاہ جہان كے ہنر پرور دبار سے ''جواہر قلم'' اور ''ياقوت رقم ''جيسے القابات حاصل كيے اور يہ سلسلہ اورنگ زيب كے آخرى دور تك جارى رہا _ وہ اپنے مذہبى عقائد اور رسم الخط اور خوشنويسى كى استعداد كى بناء پر خوشنويس حضرات كا بہت زيادہ حامى تھا اس فن كے عروج كا دور بھى يہى ہے_(۲)

مغليہ دور كے ديگر فنون ميں سے قالين بننے اوركپڑا بننے كافن بھى تھا_ اس دور ميں قالين بنانے كى صنعت بھى مصورى كى مانند ايرانى رنگ و روپ ركھتى تھي_ آگرہ ، فتح پور اورلاہور ميں قالين بننے كے كارخانے موجود تھے كہ جہاں ايرانى شہروں كاشان، اصفہان، كرمان اور سبزوار كے اساتذہ كے ماتحت قالين بننے كا كام كيا جاتا تھا_ ايرانى پھولوں والے قالين يہاں آئڈيل قالين سمجھے جاتے تھے_ ان قالينوں ميں سرخى مائل كليجى اور مالٹاى رنگ كا بہت زيادہ استعمال تھا_جے پور كے مہاراجہ كے قالينوں كا مجموعہ كہ جسے قالى اصفہان ہندى كانام دياگيا تھا اسى طرز كا تھا_

____________________

۱) سوامى آناند ، گومارا، مقدمہ اى بر ہنرمند ، ترجمہ امير حسين ذكر گو ، تہران ، ص ۱۸۳_

۲) على اصغر حكمت ، سرزمين ہند، انشتارات دانشگاہ تہران ، ص ۸_ ۱۲۶_


واشنگٹن كے قومى گيلرى اور مٹروپولٹين كے ميوزيم ميں موجود قالينوں كا مجموعہ شاہ جہاں كے دور كے خاص اسلوب كى عكاسى كر رہا ہے كہ جو ابھى تك يادگار رہ گئے ہيں ،بہرحال فنى طور پر اس فن كا عروج شاہ جہاں كے دور ميں تھا كيونكہ ہندوستانى قالين باف ايرانى اساتذہ سے بھى بہتر اور آگے بڑھ چكے تھے_ اس بات كى تائيد ان قالينوں ميں بہت سى گرہيں ، رنگ كا استعمال اور منفرد و خوبصورت تصاوير كرتى ہيں _(۱)

مغليہ عہد ميں كپڑا بننے كا كام ہندوستانيوں كے اس كام ميں ديرينہ تجربہ كى بناء پر اسى ہندى طرز و اسلوب پر چل رہا تھا_ انواع واقسام كے كپڑے مثلاً ململ ، سوتى اور زرين ريشم كپڑا بننے كے مشہور مراكز مثلاً لاہور ، دكن اور احمد آباد ميں تھے اورخوبصورت ہندى ساڑھياں اور شاليں دنيا كے بہترين ملبوسات تھے كہ جو پورى دنيا ميں بھيجے جاتے تھے_(۲)

____________________

۱) م _ س ، ڈيمانڈ ،سابقہ حوالہ ، ص ۷۵_ ۲۷۴_

۲)سابقہ حوالہ ، ص ۲۵۵_ ۲۵۴_


نواں باب:

اسلامى تہذيب و تمدن كے جمود اور زوال كے آخرى اسباب


۱) استعمار قديم و جديد:

استعمار قديم

اسلامى تہذيب و تمدن كے جمود كے بہت سے اسباب وعوامل ميں سے آخرى ''استعمار'' ہے _ اس مختصر سى گفتگو ميں ہمارى كوشش يہى ہے كہ كلمہ استعمار كى مناسب تعريف اور اسكے وجود ميں آنے كے اسباب كا جائزہ ليتے ہوئے اسلامى ممالك كے اسكے تحت آنے كى تاريخ پر بحث كريں اور اسلامى تہذيب وتمدن پر اسكى وجہ سے جواثرات اور نتائج حاصل ہوئے ہيں ، انكاتجزيہ كريں _

استعمار كا مفہوم اور تاريخ

لفظ استعمار كا لغوى معنى آباد كرنا ہے_ ليكن سياسى اصطلاح ميں اس سے مراد كسى گروہ كى دوسرے لوگوں يا كسى اور سرزمين پر حاكميت ہے _ ايك اور تعريف كے مطابق يہ ايك سياسى اور اقتصادى مسئلہ ہے جو سنہ ۱۵۰۰ء سے شروع ہوا ، اسى زمانہ سے بعض يورپى ممالك كے استعمار گر لوگوں نے دنيا ميں وسيع علاقوں كو دريافت كيا ، وہاں سكونت اختيار كى اور وہاں سے فوائد حاصل كيے_ جبكہ بعض اہل نظر كے نزديك استعمار كا مفہوم ان قديم ادوارسے متعلق ہے كہ جب قديم حكومتوں نے كچھ ايسے اقدامات كيے مثلاً مصرى ، يونانى اور پھر رومى حكومتوں نے اپنى سرزمين سے باہر چھاؤنياں يا مراكز قائم كيے كہ جنكا مقصد جنگ ، تجارت اور اپنى تہذيب كا پھلنا پھولنا تھا اور يہ اقدامات استعمار كہلائے_

كيمونسٹوں نے لفظ استعمار كى جگہ اسكے مشابہ لفظ ''امپريالزم '' كو عنوان بحث قرار ديا _ كلمہ امپريالزم در اصل اس حكومتى نظام كو كہا جاتا تھا جس ميں ايك باشكوہ حاكم دور و نزديك كى بہت سارى سرزمينوں پر حكومت


كرے يا بالفاظ ديگر بادشاہت قائم كرے ليكن بعد ميں طاقتور ممالك كى ديگر ممالك پر ہر قسم كى بلا واسطہ يا بالواسطہ حكومت كو امپرياليزم سے تعبير كياجانے لگا_(۱)

جب دنيا كے نقشے پر بعض طاقتور يورپى ممالك مثلاً انگلينڈ ، فرانس ، پرتگال اوراسپين ظاہر ہوئے اسى زمانہ ميں استعمار بھى وجود ميں آيا ، سنہ ۱۴۸۸ ء ميں جنوبى افريقا كے اردگرد نئے دريائي راستے دريافت ہوئے اور سال ۱۴۹۲ ء ميں براعظم امريكا دريافت ہوا تو استعمارى مقاصد اور نئي سرزمينوں كى دريافت كيلئے دريائي سفر شروع ہوئے ،انہوں نے ابتداء ميں تو سونے ، ہاتھى كے دانتوں اور ديگر قيمتى اشياء كى تلاش ميں سفر كيے ليكن آہستہ آہستہ انكے اقتصادى مقاصد بڑھتے گئے _ مثلاً تجارت ، دريافت شدہ سرزمينوں كى خام معدنيات اور زرعى پيداوار كو يورپى سرزمينوں كى طرف منتقل كرنا اور يورپى مصنوعات كو ان سرزمينوں ميں پہنچاناان سب چيزوں نے انكى استعمارى فعاليت كو بڑھايا _

استعمارگر ممالك بہت جلد اس نكتہ كو سمجھ گئے تھے كہ دراز مدت تك فوائد حاصل كرنے كيلئے ضرورى ہے كہ ان مستعمرہ ممالك يا سرزمينوں كى سياست اور حتى كہ كلچر كو بھى كنٹرول كياجائے اور انہوں نے يہ تجربہ بعض سرزمينوں يا اقوام پر كيا _ مثلاً براعظم امريكا، افريقا اور بحرالكاہل كے جزائر كى اقوام اور اصلى ساكنين ان استعمارى مقاصد كى زد ميں آئے وہ لوگ معاشرتى طور پر استعمارى طاقتوں كى ابتدائي يلغار اور حملوں سے ڈھير ہوگئے _ لہذا يہ تجربہ يہاں بہت آسان ثابت ہوا _

ان سرزمينوں ميں ايسے طاقتور مراكز بنائے گئے كہ جو استعمارى طاقتوں كے كنٹرول ميں تھے_ استعمارى طاقتوں نے ان ممالك ميں علاقائي اداروں اور مراكز كے ساتھ ساتھ ايسے مراكز اور ادارے قائم كيے كہ جنہوں نے تجارتي، معاشرتى اور تہذيبى امور و روابط ميں ايسى جدت پيدا كى كہ جو دراصل استعمارى طاقتوں كے مفادات اور ضروريات كو پورا كرنے كيلئے تھى نہ كہ ان سرزمينوں كے ساكنين كيلئے سودمند تھي_(۲)

____________________

۱) ولفگانگ ج ، مومسن ، نظريہ ہائے امپرياليسم ، ترجمہ سالمى ، تہران ، ص ۱۲_۷_

۲) احمد ساعى ، مسائل سياسى _ اقتصادى جہان سوم ، تہران ص ۷، ۴۶_


وہ ممالك جو كچھ حد تك اندرونى طور پر استحكام ركھتے تھے اور استعمارى طاقتيں ان پر مكمل كنٹرول نہيں پاسكتى تھيں ، مثلاً ايران اور چين وغيرہ يہاں انكى سياست يہ تھى كہ ان ممالك ميں اپنے مفادات كے تحفظ كيلئے كچھ تبديلياں لائي جائيں مثلاً انكى اقتصادى صورت حال كو ايسے تبديل كياجائے كہ وہ فقط عالمى منڈيوں كى ضروريات پورى كريں نہ كہ اپنے اندرونى منڈيوں كى ضروريات كو ملحوظ خاطر ركھيں _(۱)

استعمار كے وجود ميں آنے كے اسباب

اہل فكر ونظر نے استعمار كے وجود ميں آنے اورپيشرفت كرنے كے اسباب كے حوالے سے متعدد نظريات پيش كيے ہيں _ اور اس مسئلے كا مختلف زاويوں سے تجزيہ كيا ہے:

اہل نظر كے ايك گروہ نے استعمار كو سياسى پہلو سے تحقيق وتجزيہ كا محور قرار ديا اور بتايا كہ سولہويں صدى اور اس كے بعد كے ادوار ميں يورپ كے بڑے طاقتور ممالك ميں سياسى اور فوجى رقابت استعمار كے وجود ميں آنے اور اس كى وسعت كا باعث قرار پائي_ اس نظريے كا محور حكومتيں اور انكے سياسى مقاصد ہيں اوراس نظرى كے حامى بڑى حكومتوں كى ديگر رقيبوں كے مد مقابل اپنى طاقت اور حيثيت كو بڑھانے كى طلب كو استعمار كے پھلنے پھولنے كا اصلى سبب قرار ديتے ہيں _

جبكہ اہل نظر كے ايك اور گروہ كا نظريہ ہے كہ استعمار كے وجود ميں آنے اورپھلنے پھولنے كا بنيادى سبب يہ ہے كہ طاقتور اقوام اور حكومتيں اپنے قومى جذبات اور سياسى اور فوجى صلاحيتوں كو مستحكم كرنے اور محفوظ ركھنے كيلئے وسيع پيمانے پر سرزمينوں پرقابض ہوتى تھيں اور بڑى بڑى بادشاہتوں كو تشكيل ديتى تھيں _ كچھ اہل نظر كے مطابق استعمار دراصل ايك نسلى امتياز كا نتيجہ ہے _ انكے خيال كے مطابق گورے لوگ (يورپي) ذاتى طور پر ديگر اقوام سے برتر ہيں ، انكے كندھوں پر يہ ذمہ دارى ہے كہ دنيا كى ديگر اقوام كے امور كى اصلاح اور انكو مہذب كرنے كيلئے ان پر حكومت كريں _(۲)

____________________

۱) تيلمان اورس، ماہيت دوست درجہان سوم ، ترجمہ بھروز توانمند ، تہران ،ص ۵۱_۲۰_

۲) دلفگانگ ج ، سوسن ، سابقہ حوالہ ، ص ۱۲_ ۷_ ۹۰۰ _ ۵۹ _


بعض ديگر دانشوروں كے خيال كے مطابق استعمار ايك اقتصادى مسئلہ ہے كہ جو نئے سرمايہ دارى نظام كے پھلنے پھولنے سے سامنے آيا ہے_ انكے نظريہ كے مطابق چونكہ يورپى ممالك كے اپنے وسائل (خريد و فروش كے بازار، خام مال اور سرمايہ كارى كے مواقع) انكى روزبروز بڑھتى ہوئي ضرورتوں كيلئے ناكافى ہوچكے تھے جسكى بناء پر وہ ديگر ممالك كے امور ميں مداخلت كرنے لگے ،نيز انكا نظريہ يہ ہے كہ استعمار در حقيت ايك كوشش ہے جس ميں مغرب كے بڑے ترقى يافتہ ممالك ديگر ممالك ميں سود پر مبنى تجارتى وصنعتى نظام كو پيش كرتے ہيں جس سے انكا مقصد يہ ہوتا ہے كہ اپنے سرمايہ دارى نظام كى روز بروز بڑھتى ہوئي ضروريات كو ان ممالك كے ذرائع اور وسائل سے پورا كريں _ يہ نظريہ ليبرل اقتصاد والے سرمايہ دارى نظام كے اہل نظر اور ماركسزم كے پيروكاروں ميں ديكھا جاسكتا ہے_(۱)

ايشيا ميں استعمار

استعمارى طاقتوں ميں سے ايشيا ميں داخل ہونے والا پہلا گروہ پرتگاليوں كا تھا_ سن ۱۴۹۸ ء ميں پرتگالى جہازران واسكوڈ ے گاما ، بحيرہ ہند كے ذريعے ہندوستان كے شمال مشرقى ساحلوں تك پہنچا اسطرح ايشيا اور يورپ كے روابط ميں ايك نيا دور شروع ہوا _ اس زمانہ ميں ايشيا كے بڑے ممالك مثلاً ايران ، سلطنت عثمانيہ اور چين مختلف علوم ، زراعت اور تجارت ميں ترقى كے پيش نظر ايك بلند سطح كے حامل تھے_

واسكوڈ ے گاما تو تجارتى اہداف كے پيش نظر ان سرزمينوں تك پہنچا تھا ليكن آٹھ سال كے بعد پرتگال كا فوجى سردار ايلبوكرك(۲) جديد سرزمينوں كو فتح كرنے اور پرتگالى سلطنت كى توسيع كيلئے ان علاقوں ميں داخل ہوا _ مجموعى طور پر پرتگالى لوگوں كے تجارتي، سياسى ، فوجى اور مذہبى مقاصد تھے ، ليكن بہرحال وہ دنيا

____________________

۱) سابقہ حوالہ ، ص ۵۵_ ۲۵_

۲- Albauquerque


كے اس منطقہ ميں اپنى حيثيت برقرار ركھنے ميں زيادہ كامياب نہ رہے_ فقط تجارت اس سے متعلقہ مسائل كى حد تك رہے _

يہ نكتہ قابل غور ہونا چاہئے كہ يورپ ميں پرتگالى لوگ ايشيا اور شمالى يورپ كے درميان تجارتى ايجنٹوں كے طور پر كام كرتے تھے_ انہوں نے سولھويں صدى كے آخر تك ہالينڈ كو اپنى تجارتى نظام كے تحت ركھا_ ليكن سترہويں صدى كے اوائل ميں اہل ہالينڈ نے بذات خود ايشيا سے براہ راست تجارت كيلئے كوششيں شروع كيں _اہل ہالينڈ كے بعد انگريز اور پھر فرانسيسى لوگ ايشيا ميں داخل ہوئے_

ايشيا ميں اہل يورپ كے استعمارى روابط دو مرحلوں ميں تقسيم ہوتے ہيں : پہلا دور يا مرحلہ سنہ ۱۴۹۸ ء ميں شروع ہوتا ہے اور ۱۷۵۷ ء ميں ہندوستان پر انگريزوں كى فوجى فتح پر ختم ہوتا ہے _ اس دور ميں اہل يورپ كى يہ كوشش تھى كہ وہ اپنى بحرى اور بارودى اسلحہ كى طاقت كے بل بوتے پر ان سرزمينوں سے تجارتى روابط بڑھائيں اور ان علاقوں كى مرغوب پيداوار مثلاً مصالحوں ، كپڑوں اور آرائشے كے لوازمات تك پہنچيں اسى دور ميں بہت سى تجارتى كمپنياں تشكيل پائيں وہ سب تجارتى سہوليات اور اختيارات كے درپے تھيں ان كمپنيوں ميں سے بعنوان مثال ہالينڈ كى فارلينڈ كمپنى (سال ۵۹۴ ۱ئ) ، ايسٹ انڈيا كمپنى ہالينڈ، ايسٹ انڈيا كمپنى انگلينڈ (سال ۱۶۰۰ ئ) اور فرانسيسى كمپنى كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے_ يہ سب كمپنياں اپنے ممالك كى طرف سے سياسى اور فوجى پشت پناہى كى حامل تھيں _ اور ايشيا كے مختلف علاقوں پر قابض ہونے كيلئے باہمى سخت رقابت كا شكار تھيں _

دوسرا دور سال ۱۷۵۷ ع سے ۱۸۵۸ تك ہے كہ اس دور ميں يورپينز كى اس سرزمين كے امور ميں بالواسطہ مداخلت تھى اور يہ مداخلت بظاہر فوجى صورت ميں نہ تھى مثلا ہندوستان سنہ ۱۷۵۷ء سے ليكر ۱۸۵۸ ء تك ايسٹ انڈيا كمپنى كے تحت تھا اور انگلستان كى حكومت اس كمپنى كى پشت پناہى كرتى تھي_ ليكن اس كے بعد انگلستان كى حكومت نے سرے سے ہى ہندوستان كى حكومت كى باگ دوڑ سنبھال لى اور ہندوستان كى حيثيت برطانيہ كى ايك رياست كى ہوگئي اوروہ اور انگلستان كى پارليمنٹ كے تابع سرزمين كے طورپر جانى گئي _(۱)

____________________

۱) ك ، م پانيكار ، آسيا واستيلاى باخر ، ترجمہ محمد على مہميد ، تہران ،ص ۴۵_ ۱۲_


ايسٹ انڈيا كمپنى اور انگلستان گورنمنٹ كى پاليسى باعث بنى كہ ہندوستان جوكہ خودكپڑے بنانے اور برآمد كرنے والا ملك تھا اب كپڑا درآمد كرنے والا ملك بن گيا اس كى برآمدات صرف روئي تك محدود رہ گئيں _ ايشيا كے جنوب مشرقى اور جنوبى ممالك بھى اس مشكل سے بچ نہ سكے _ اہل ہالينڈ نے انڈونيشيا كو اپنے قبضہ ميں كيا ہوا تھا اور انہوں نے اس سرزمين پر كافى اور چينى كى كاشت كو بڑھايا اور انگريزوں كى ہندوستانى طرز كى اقتصادى تبديلياں يہاں بھى وجود ميں لائے_

فرانسيسى لوگ بھى انڈيا اور چين ميں داخل ہوئے اور انہى كى طرز كى استعمارى سياست كو لاگو كيا اسطرح كہ سن ۱۷۴۷ ء سے ۱۸۵۰ ء تك انڈيا اور چين كے تمام علاقے سوائے تھائي لينڈ كے انكے كنٹرول ميں آگئے_ تھائي لينڈ ميں انہوں نے بالواسطہ مداخلت كى _ اپنے استعمارى مفادات كو پورا كرنے كيلئے انہوں نے اس ملك ميں بہت سے امور ميں سہوليات حاصل كيں مثلاً جہاز راني، تجارتى فعاليت اور كسٹم ڈيوٹى سے چھوٹ جيسے امور ميں رعايتيں حاصل كيں يہاں تك كہ انہوں نے كيپيٹلائزيشن كا حق بھى حاصل كيا_

اسى طرح چين بھى انكے استعمارى حملات كى زد ميں آيا _ كيونكہ اس بہت بڑى آبادى والے ملك نے استعمارى طاقتوں كى ماركيٹ كو اپنى طرف متوجہ كرليا تھا_ مثلاً يورپى لوگوں بالخصوص انگريزوں نے چين ميں افيون (منشيات كى ايك قسم )درآمد كرتے تھے ، چين كى حكومت نے اس تجارت كو محدود كرنے كيلئے اقدامات كئے جس كے نتيجہ ميں سنہ ۱۸۴۲ ء ميں جنگ افيون واقع ہوئي اور چين كو شكست ہوئي اس جنگ كے ايك سال بعد فرانس اور انگلستان نے چين پر مشتركہ حملہ كيا اور اس ملك كو شكست ہوئي اس كے نتيجہ ميں انہوں نے چين كو مجبور كيا كہ وہ انہيں مختلف امور مثلاً جہاز رانى ، كسٹم اور تجارت وغيرہ ميں بہت سے امتيازى حقوق دے_ يوں چين كا اقتصاد بھى استعمارى كنڑول ميں آگيا اور نابود ہوگيا_ جس كى وجہ سے كئي ميلين چينى لوگوں نے روزگار كى تلاش ميں اپنے وطن كو ترك كيا اور يورپى ممالك اور امريكا ميں سخت كام كرنے پر مجبور ہوئے _(۲)

____________________

۱) سابقہ حوالہ ، ص۱۷۱ _ ۱۴۶_

۲) سابقہ حوالہ ، ص ص ۲۴۹ _ ۲۳۱ _ ۱۴۳_ ۱۲۱ _


مشرقى وسطى اور خليج فارس ميں استعمار

اہل يورپ كى يہ كوشش تھى كہ بحرى راستوں سے نئي نئي جگہوں كو دريافت كرتے ہوئے اپنى طاقت اور تسلط كو بڑھائيں _ اور سب سے زيادہ ثروت ومال كے ذخائر كو جمع كريں _ سولہويں صدى كے ابتدائي سالوں ميں پرتگالى لوگ خليج فارس ميں داخل ہوئے اور پرتگالى بحرى سردارايلبو كرك نے سن ۱۵۱۴ ء ميں جزيرہ ہرمز پر قبضہ كرليا _ انہوں نے ۵۱۲ ۱ ء سے گمبرون (بندرعباس ) جو كہ ايك عمدہ تجارتى مركز تھا ، پر بھى قبضہ كيا ہوا تھا_(۱)

انكا تقريباً ايك صدى تك خليج فارس كے علاقوں پر كنٹرول رہا _ يہاں تك كہ صفوى بادشاہ ، شاہ عباس نے انگريزوں سے ايك قرار داد طے كى اور انكى بحرى طاقت كى مدد سے اس قابل ہوا كہ پرتگاليوں كوہميشہ كے ليے خليج فارس سے نكال دے _ ليكن انگريزوں نے اپنے اثر نفوذ كو بڑھانا جارى ركھا جس كى بڑى وجہ خليج فارس كى تزويرى (اسٹرٹيجك) اہميت تھى _ انہوں نے عرب شيوخ سے بھى قرار داد باندھي، ان شيوخ نے انگريزوں كو بعنوان قاضى ، مصالحت كروانے والے اور ثالث مانتے ہوئے يہ عہد كيا كہ درياى قزاقى ، اسلحہ اور غلاموں كى سمگلنگ سے پرہيز كريں گے _

سنہ ۱۸۰۰ عيسوى (فتحعلى شاہ قاجاركے دور ميں ) ايران كى طرف سے انگلستان كو بہت سے تجارتى حقوق ديے گئے ، انہوں نے سال ۱۸۵۶ ء ميں بوشہرميں فوج كو لاكر اس پر قبضہ كرليا ليكن آخر كار ايران كے تمام شہروں كو ترك كرديا _(۲)

مشرق وسطى ميں تيل كے ذخيروں نے دنيا كى ديگر قوتوں مثلاً امريكا اور جرمنى كو دلچسپى لينے پر مجبور كيا_ بيسوى صدى كے اوائل ميں اس علاقے كا تيل انگريزى اور امريكى كمپنيوں ميں تقسيم ہوا _ انگريزوں نے قطر ، كويت ، عراق ، عمان اور ايران كے تيل پر كنٹرول حاصل كرليا جبكہ امريكى نے بھى سعودى عرب اور بحرين

____________________

۱) وادلا، خليج فارس در عصر استعمار، ترجمہ شفيع جوادى ، تہران ،ص ۷۷_ ۳۹_

۲)سابقہ حوالہ _


كے تيل پر اپنا تسلط جماليا_ البتہ يہ بات نہيں بھولنى چاہئے كہ ايران نے اس استعمارى دور ميں سب سے زيادہ ضرراٹھايا كيونكہ ايران كى جغرافيائي حيثيت ايسى تھى كہ بڑى قوتوں كے ميدان جنگ ميں بدل گيا مثلاً انگلستان اور فرانس ، ہندوستان پر قبضہ جمانے كيلئے باہمى رقابت كا شكار تھے يہ جھگڑا ايران تك بڑھتا گيا اور اس ملك كى سياسى اور اقتصادى خود مختارى پر بہت زيادہ ضربيں لگيں _

انيسويں صدى ميں روس اور انگلستان كے مدمقابل ايران كى بار بار عسكرى شكست سے قاجارى حكومت نے اپنے استحكام كو باقى ركھنے كيلئے مجبوراً بہت سے اقتصادى اور تجارتى حقوق ان ممالك كو عطا كيے _ يوں يہ ملك نصف حد تك استعمارى طاقتوں كى زد ميں آگيا _(۱)

ايران كا اپنا اقتصاد بھى روس و انگلينڈ كى طرف سے سيلاب كى طرح وارد ہونے والى اجناس كے مدمقابل تاب نہ لاسكا اور ايران بھى ہندوستان كى مانند خام زراعتى پيداوار مثلاً روئي اور تمباكو كى حدتك رہ گيا _ استعمارى طاقتوں كے بينكوں (انگلينڈ كے شاہى بينك اور روس كے بينك نے) ايران كے مالى معاملات پر كنٹرول كر ليا اور قاجارى بادشاہوں اور سرداروں كو بار بار قرض ديكر ايران كى سياست اوراقتصاد پر روز بروز اپنا قبضہ وكنٹرول بڑھانا شروع كرديا_

انيسويں اور بيسويں صدى كے درميان مشرق وسطى كے تمام ممالك يورپى استعمار گروں كے كنٹرول ميں آگئے _ استعمار گر لوگوں كى كوشش تھى كہ مشرق وسطى كے اقتصاد اور سياست كو مكمل طور پر اپنے قبضہ ميں كرليں اور اسكے علاوہ ان ممالك كى سياسى جغرافيائي سرحدوں كو اپنے مفادات كى روسے خود ترتيب ديں _ ان سرزمينوں كى تقسيم اس انداز سے ہوئي كہ بہت سے قومى ، مذہبى اور سياسى جھگڑوں نے جنم ليا_ مثلاً استعمار نے كردوں كو ايران ، تركي، شام اور عراق ميں تقسيم كرديا_ لبنان ميں بھى مختلف اقوام اور مذاہب پر مشتمل ناہموار تركيب سامنے آئي كہ مختلف مذاہب اور اقوام كے درميان سياسى قوت عدم استحكام كا شكار رہى اور قومى و مذہبي

____________________

۱) فيروز كاظم زادہ ، روس و انگليس در ايران ، ترجمہ منوچھر اميري، تہران ،ص ۲۵_ ۱۵_


جھگڑوں نے جنم ليا_

پورى دنيا سے يہودى لوگوں نے استعمار ى طاقتوں كى پشت پناہى كى وجہ سے فلسطين كى طرف ہجرت كى _ اور ايك يہودى حكومت تشكيل ديكر مشرق وسطى اور دنيا ميں ايك بڑى پيچيدگى كو وجود ميں لائے(۱) _ مجموعى طور پر مشرق وسطى كے ممالك ميں استعمار ى طاقتوں كے اقدامات نے دنيا كے اس خطہ كو فتنوں اور جھگڑوں كا مركز بناديا كہ اب بھى مشرق وسطى كانام سنتے ہى ذہن ميں لڑائي اور ناآرامى كى ايك تصوير نقش ہوجاتى ہے_

مختصر يہ كہ استعمار نے دنيا كے مختلف ممالك ميں داخل ہو كر انكے معاشرتى ، سياسى اور اقتصادى حالات اور كلچر كو بلاواسطہ يا بالواسطہ ايسے متاثر كيا كہ اب بھى ان ممالك ميں استعمار كى موجودگى كے بہت سے اثرات اور نتائج مشاہدہ كيے جاسكتے ہيں ،اسلامى ممالك ان مسائل سے جدا نہ تھے جيسا كہ ہم نے كہا ہے كہ استعمار كى موجودگى سے ان ممالك كے اقتصادى حالات تبديل ہوئے ،قدرتى اور انسانى ذخائر سے ان ممالك كو خالى كيا گيا اور يہ سب ذخائر استعمار ى ممالك ميں درآمد كيے گئے جسكے نتيجے ميں ان ممالك كے اجتماعى ڈھانچے اور طبقات ميں تبديلى واقع ہوئي اور ان سے بڑھ كر ان ممالك كى تہذيب و تمدن پر منفى اثرات پڑے ان سب امور پر نئے استعمار كے عنوان كے تحت بحث كى جائے گي_

استعمار جديد

جيسا كہ اشارہ ہوا ہے كہ استعمار كى پہلى صورت ايسى تھى كہ استعمارى طاقتوں نے اپنے رقيبوں كى قوت و طاقت سے موازنہ كرتے ہوئے اپنے عسكرى تحفظ اور اقتصادى مفادات كو بڑھانے كيلئے يہ اقدامات كيے _ يورپى استعمار نے عسكرى فتوحات يا ہجرت كے ذريعے ديگر ممالك پر قبضہ جماليا اور تجارتى كمپنياں قائم كرتے ہوئے ان ممالك كے اقتصاد كو اپنى تجارتى پالسيوں كے سخت كنٹرول ميں لے آئے_

____________________

۱) احمد ساعى ،سابقہ حوالہ ، ص ۷۳_


سنہ ۱۷۶۳ ء سے ۱۸۷۰ ء تك استعمار كى پيش رفت ميں سستى آگئي كيونكہ اس عرصہ ميں يورپى ممالك اپنے اندرونى مسائل، آزادى پسند انقلابات اور صنعتى انقلابات سے نمٹ رہے تھے_

سنہ ۱۸۷۰ ء سے پہلى جنگ عظیم تك استعمار كى پيشرفت و تحرك بہت وسيع پيمانے پر تھا سارا افريقہ اور مشرق بعيد انكى لپيٹ ميں آگيا ليكن دوسرى جنگ عظیم اور اقوام متحدہ كے وجود ميں آنے كے بعد بالخصوص دو عشروں ۱۹۵۰ اور ۱۹۶۰ ء ميں ہم استعمار كے خلاف (سياسى خودمختارى كے حصول كيلئے)تحريكوں كا مشاہدہ كرتے ہيں _ اس طرح كہ اقوام متحدہ كے ممبر ممالك كى تعداد دوگنى ہوگئي _

ان ممالك نے جنرل اسمبلى ميں اپنى كثير تعداد كے باعث اپنے اقتصادي، سياسى اوراجتماعى مسائل كو اقوام متحدہ كى توجہ كا مركز قرار دلوايا_ ان ممالك پرقديم استعمار كے شديد اثرات كے باعث استعمار سے چھٹكارے كى تحريك نہ صرف يہ كہ انكى مشكلات حل نہ كرسكى بلكہ اس نے ان ممالك كو دو راہے پر لاكھڑا كيا _ يہ ممالك ايك طرف تو ترقى يافتہ ممالك (سابقہ استعمارى ممالك) سے اقتصادى امداد چاہتے ہيں اور دوسرى طرف اپنے اندرونى مسائل ميں كوئي مداخلت بھى پسند نہيں كرتے جبكہ ترقى يافتہ ممالك اب بھى ان ممالك اور بالخصوص انكے بازاروں اور ابتدائي خام پيداوار كے محتاج ہيں اور چاہتے ہيں ان اہداف تك پہنچيں(۱) _

مجموعى طور پر ترقى يافتہ ممالك (سابقہ استعمار ) كے آزاد شدہ ممالك (سابقہ مستعمرہ ممالك ) سے روابط ايسى صورت اختيار كرگئے ہيں كہ اسے جديد استعمار كا نام ديا گياہے _ اس نئي صورت ميں سابقہ استعمار گر ممالك انہيں اپنے ہاتھوں بنائي ہوئي بظاہر خود مختار حكومتوں اور بين الاقوامى كمپنيوں كے قوانين اور روابط كے ذريعے بغير كسى براہ راست سياسى اور عسكرى كنٹرول كى ضرورت كے ، اپنى اغراض اور مفادات كو پہلے سے بہتر صورت ميں پورا كررہے ہيں _

بہت سے اہل نظر كى رائے كے مطابق ترقى يافتہ ممالك (سابقہ استعمار )ملٹى نيشنل كمپنيوں اورعالمى اداروں مثلاً عالمى بينك، آئي ايم ايف اور ورلڈ ٹريڈ آرگنائزيشن WTO كے ذريعے مختلف بين الاقوامي

____________________

۱) جك پلنو وآلٹون روى ،سابقہ حوالہ ، ص ۳۰_


حالات اور روز بروز بڑھتے ہوئے پيچيدہ معاملات اور روابط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسى كوشش ميں ہيں كہ محروم ممالك يا ترقى پذير ممالك پر تسلط جماليں _ لہذا ہم ان تنظيموں اور عالمگيريت كا تجزيہ كرتے ہوئے كوشش كريں گے كہ جديد استعمار اور اسكے دنيا كے ممالك بالخصوص اسلامى ممالك پر اثرات كا تجزيہ كريں _

ملٹى نيشنل ( كثير القومى ) كمپنياں

چند اقوام پر مشتمل كمپنياں بنانے كا نام بنيادى طور پر امريكہ سے شروع ہوا ،ان كمپنيوں كا ہيڈكوارٹر بھى كسى ايك ہى ملك ميں ہے انكے امورآزاد كمپنيوں يا وابستہ كمپنيوں كے ذريعے تمام ممالك ميں انجام پاتے ہيں _ يہ كثير القومى كمپنياں جديد ٹيكنالوجى اور وسيع پيمانے پر پيداوار كى بناء پر ديگر ممالك تك اپنے كام كا دائرہ بڑھانے پر مجبور ہيں _ اس كے بعد كا مرحلہ انہيں ديگر ممالك ميں بيچنے كے ليے اداروں كے قيام كا ہے_ يہيں سے چند اقوام پر مشتمل ہونے كى طرف رجحان بڑھتا ہے اور وہ عام طور پر اپنے كام كا دائرہ كار بڑھاتے ہيں تاكہ اسباب اور شرائط قيمت ميں بچت كرتے ہوئے زيادہ سے زيادہ منافع حاصل كريں يعنى چيز كى پيداوار كو بڑھاكر پيداوار پراٹھنے والے اخراجات كى اوسط مقدار كو كم كرديتے ہيں _

مثلاً كوكا كولا كمپنى ، جنرل اليكٹرك اورويسٹنگ ہاؤس كمپنياں آزاد كمپنيوں سے قرار داد باندھتى ہيں اور منافع كى شرح ميں سے كچھ فيصد وصول كرتے ہوئے انہيں اجازت ديتى ہيں كہ وہ انكى پيداوار يا خدمات كو اصلى كمپى كے نام سے بنائيں اور فروخت كريں _(۱)

بعض اہل نظر كے مطابق يہ كمپنياں اپنے سرمايہ كے ساتھ تيسرى دنيا كى اقتصادى ركاوٹوں كو ختم كرسكتى ہيں اور اپنى فعاليت سے ان ممالك ميں جديد طرز كے صنعتى نظام كو منتقل كرسكتى ہيں _ ان سے رقابت كرتے ہوئے ان تيسرى دنيا كے ممالك كى اندرونى كمپنياں اور ادارے بھى فعال ہوجائيں گے جسكے نتيجہ ميں ثمر آور

____________________

۱) سابقہ حوالہ ، ص ۳۱_


اقتصاديات، منظم بازار اور آسايش فراہم ہونگيں _

جبكہ انكے مد مقابل بہت سے اہل نظر كے مطابق سرمايہ كى وہ مقدار جو ان كمپنيوں كے ذريعہ تيسرى دنيا ميں داخل ہو رہى ہيں اس تعداد سے انتہائي كم ہے كہ جو منافع كى شكل ميں وہ ان ممالك سے نكال رہى ہيں _ يہ كمپنياں مختلف صورتوں ميں ابتدائي معمولى سا سرمايہ لگاتى ہيں مثلاً ميزبان ملك سے حاصل شدہ قرض (كريڈٹ) اور سہوليات سے فائدہ اٹھاتے ہيں پھر اپنے ذيلى اداروں اور كمپنيوں ميں دوبارہ سرمايہ گزارى كرتے ہوئے ڈائريكٹ خالص منافع ان ممالك سے نكال ليتے ہيں _(۱)

ان اہل نظر افراد كے مطابق ان كمپنيوں كا سرمايہ عام طور پر كام كے ان مراحل پر لگتا ہے كہ جنكا ميزبان ملك كے مقامى اقتصاد كى ضروريات سے كوئي ربط نہيں ہوتا _ استعمار كے دور ميں يہ سرمايہ اور يہ كمپنياں عام طور پر معدنيات اور زراعت كے امور كے متعلق ہوتى تھيں اور ميزبان ممالك كے طبيعى ذخائر سے بہرہ مند ہوتى تھيں _ اور آج يہ ميزبان ممالك ميں صنعتى پيداوار كے كام كرتى ہيں يعنى يہ كثير القومى كمپنياں تيسرى دنيا كے ممالك ميں كسى چيز كے فقط پارٹس تيار كرتى ہيں پھر انہيں باہم جوڑنے كيلئے ديگر ذيلى كمپنيوں يا اصلى ملك كى طرف منتقل كرتى ہيں _

اس كے علاوہ ان كمپنيوں كے بلند سطح كى سرمايہ كارى ، جديد ٹيكنالوجى اور پروگرام كے ذريعے فعاليت اس ملك كى اندرونى كمپنيوں سے رقابت كا موقع چھين ليتى ہيں اور انہيں بند كروا ديتى ہيں انہى اہل نظر لوگوں كے مطابق ايسى كثير القومى كمپنياں اقتصادى تسلط كے ساتھ ساتھ اپنے ميزبان ممالك كے سياسى امور ميں بھى دخل اندازى كرتى ہيں تاكہ سياسى صورت حال انكے مفادات كے مطابق ہوجائے اسى طرح ان كمپنيوں كے كام كى وجہ سے ان ممالك ميں معاشرتى يا ثقافتى سطح پر بعض پيچيدگياں پيدا ہوتى ہيں كيونكہ وہ ايسى اقدار اور عادات اپنے ہمراہ لاتى ہيں جو اس ملك كى مقامى تہذيب كے ساتھ سازگار نہيں ہوتي_(۲)

____________________

۱) احمد ساعى ، سابقہ حوالہ ، ص ۱۵۰_ ۱۳۹_

۲)سابقہ حوالہ _


بين الاقوامى مالياتى ادارے

اقوام متحدہ سے وابستہ بعض ادارے كہ جن ميں سے عالمى بينك اور آئي ايم ايف كى طرف اشارہ كياجاسكتا ہے يہ سب دوسرى جنگ عظیم كے بعد بين الاقوامى سطح پر مالى امور كو منظم كرنے اور مالى بحرانوں كو روكنے كيلئے بنائے گئے تھے ،مثلاً ۱۹۳۰ ء كے عشرے كا مالى بحران قابل ذكر ہے كہ جسميں عالمى سطح پر نرخوں كى تبديلى اور رقابت ميں كرنسى كى تقابلى قيمت گھٹنے سے عالمى اقتصاد كو شديد جھٹكے لگے_

اگر چہ يہ ادارے دنيا كے اكثر ممالك سے تعلق ركھتے ہيں ليكن طاقتور اور سابق استعمارى ممالك كا ان اداروں كے بنيادى فيصلوں پر غلبہ مكمل طور پر واضح ہے _ مثلاً آئي _ ايم_ ايف ميں امريكاكا پانچواں حصہ ہے كيونكہ ہر ملك كى رائے كى اہميت اس كے حصہ كى مقدار سے ربط ركھتى ہے _ لہذا امريكا كى رائے كسى فيصلہ ميں بنيادى كردار اد ا كرتى ہے_(۱)

چونكہ ترقى پذير ممالك اپنى مشكلات محض براہ راست غير ملكى سرمايہ كارى اور ان كثير القومى كمپنيوں كى فعاليت كى مدد سے حل نہيں كرسكتے اس لئے وہ ديگر ممالك سے قرضہ كے طالب ہوتے ہيں _

قرضہ حاصل كرنے كے مختلف طريقوں ميں سے ايك طريقہ يہى ہے كہ ان بين الاقوامى مالى اداروں مثلاً آئي _ ايم _ ايف اور عالمى بينك كى مدد حاصل كى جائے_ ليكن اس قسم كے قرضہ جات حاصل كرنے سے ضرورى نہيں ہے كہ قرضہ لينے والے ملك كے اقتصاد پر مثبت اثر پڑے بلكہ اس كے برعكس يہ قرضے مختلف اقتصادى بحرانوں كے موجب بھى بنتے ہيں جيسا كہ ستر كى دھائي ميں تيسرى دنيا كے ممالك كا مقروض ہونے كا بحران ہے_

اسى طرح يہ قرضہ جات كا حصول ان بين الاقوامى اداروں كى پاليسيوں كو قبول كرنے سے مشروط ہے اور يہ پاليسياں ان ترقى يافتہ (سابقہ استعمار ى ) ممالك كے مفادات كو پورا كرتى ہيں _

____________________

۱) جك يلنووآلٹون روى ،سابقہ حوالہ ، ص ۲۱۹_


بعض دانشوروں كى رائے كے مطابق آئي ، ايم ، ايف اور عالمى بينك اپنے تسلط كے تحت ممالك كى اقتصادى ترقى كى يہ تعبير كرتے ہيں كہ يہ ترقى پذير ممالك صنعتى ممالك كيلئے اپنے دروازے كھول ديں _ اسى قسم كى ترقى تك پہنچنے كےلئے ضرورى ہے كہ جہاں تك ممكن ہے قرض لياجائے، كسٹم ٹيكس لينے سے ليكر اشياء اور اجناس پرعوام كے ليے ٹيكس كى معافى جيسى شرائط كہ جو تجارتى معاملات كو بہت ضرر پہنچاتى ہيں سے بچنا چاہيے اور بيرونى سرمايہ كارى كو آسان بنانا چاہيے_

بالفاظ ديگر تيسرى دنيا كيلئے ضرورى ہوتا ہے كہ وہ ترقى يافتہ ممالك كى اقتصادى حالت سے خود كو مطابقت ديں _ا س ترقى كے سفر پر ہميشہ خسارے ميں رہتے ہوئے اپنى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے غير ملكى قرضوں كے حصول كى خاطر آئي ، ايم ، ايف كے اقدامات پر انحصار كريں _ عالمى بينك اور آئي ، ايم ، ايف كے پسنديدہ قوانين اور تدبير جن ممالك ميں جارى ہوتى ہيں وہاں يہ انكى آمدنى كے تناسب ميں بہت زيادہ خلل كا باعث بنتى ہيں _ بہرحال آئي ، ايم ، ايف كے پروگرامز بين الاقوامى اقتصادى معاملات اور مغربى ممالك كے مفادات كيلئے سود مند ثابت ہوتے ہيں بالفاظ ديگرترقى پذير ممالك كو اس وقت مالى تعاون حاصل ہوگا كہ جب وہ آئي ، ايم ، ايف كى شرائط اور سياسى اقتصادى تدابير كو اپنے ہاں جارى كريں گے _(۱)

عالمگير يت(۲) اور اسكے نتائج

ايك اورمسئلہ كہ جسكا آج دنيا تجربہ كر رہى ہے وہ عالمگيريت ہے _خلاصةً يہ بھى كہاجاسكتا ہے كہ عالمگيريت كى ايك تعريف عمل (پراسس) كى صورت ميں اور ايك ''منصوبے '' كى صورت ميں كى جاسكتى ہے_ يعنى بعض اہل نظر كے خيال كے مطابق ذرائع ابلاغ ميں ترقى اور وسعت كى بناء پر انسانى معاملات

____________________

۱) على رضا ثقفى خراسانى ، سير تحولات استعمار در ايران ، مشہد ص ۲۱۲_ ۲۰۶_

۲) Globalization


انتہائي سرعت اور آسانى سے انجام پا رہے ہيں ايسے لگ رہا ہے كہ روز بروز ممالك كى حد بندياں اور سرحديں غير اہم ہو رہى ہيں اور ان ممالك كى حكومتيں غير ملكى ہاتھوں ميں كھيلنے پر مجبور ہيں _

مجموعاً كہاجاسكتا ہے كہ دنيا ايك چھوٹى سى كالونى ميں بدل رہى ہے _ دنيا كے كسى گوشہ ميں ايك معمولى سا مسئلہ فورا سارى دنيا كے مختلف نقاط ميں نشر ہوجا تا اہے اس دنيا ميں ممالك اب مكڑى كے جالے كى طرح باہم متصل اور پيوست ہيں كہ انٹر نيٹ كے چينل نے بھى دنيا كو اس شكل ميں لانے ميں بہت زيادہ تعاون كيا ہے تاكہ پورى دنيا ميں ايك ہى تہذيب تشكيل پاياجائے _(۱)

انكے مد مقابل ديگر اہل نظر لوگوں كے خيال كے مطابق عالمگيريت ايك سازش اور منصوبہ ہے كہ جسے ترقى يافتہ ممالك نے لاگو كيا ہے تاكہ زيادہ سے زيادہ ترقى پذير ممالك يا پس ماندہ ممالك كو لوٹ ليں _انكے نظريہ كے مطابق عالمگيريت فقط تيسرى دنيا كے نقصان ميں ہے _ كيونكہ جب حكومتوں كى حد بندياں اور حكومتوں كا كسٹم كے قوانين اورقيمتوں پر كنٹرول ختم ہوجائے تو ان ممالك كا اقتصاد بھى تباہ ہوجائے گااور وہ ترقى يافتہ ممالك كے احكام وقوانين كے غلام بن كر رہ جائيں گے_

انہى اہل نظر كے ايك اور گروہ كے مطابق عالمگيريت كے منفى اثرات صرف ممالك كى اقتصاديات تك محدود نہيں ہوتے بلكہ ان استعمارى ممالك كى كوشش بھى ہے كہ اپنى تہذيب وكلچر كو ديگر ممالك پر لاگو كريں مثلاً امريكہ ہالى ووڈ كى فلموں كى صورت ميں كوشش كر رہا ہے كہ امريكى كلچر اور طرز زندگى كو عالمى سطح تك پھيلائے اسى لئے بعض عالمگيريت كو امريكى ہونے كے مترادف سمجھتے ہيں _ ڈيموكريسى اور ليبرل اقدار كے پرچم تلے ايك سياسى اور ماڈل حكومتى نظام كى ترويج ايك اور مشكل ہے كہ جو تيسرى دنيا كے ممالك كى خودمختارى كو كمزور كرنے ميں اپنا كردار ادا كر رہى ہے_ مغربى ممالك اس قسم كے نظام حكومت كى ترويج سے اس كوشش ميں ہيں كہ پورى دنيا كے ممالك (بالخصوص مشرق وسطى كے ممالك) كى حكومتوں كو اپنے پسنديدہ طرز حكومت سے

____________________

۱) اس كے بارے ميں زيادہ مطالعہ كيلئے رجوع كريں ، احمد گل محمدى ، جہانى شدن ہويت ، تہران_


مطابقت ديں _ا س مقصد كے پيش نظر وہ ہر قسم كے اقدام سے دريغ نہيں كر رہے ہيں لہذا عالمگيريت كمزور ممالك كى حكومتوں كے حالات اور سسٹم كو روز بروز تيزى سے تباہ كر رہى ہے او ريہ چيز فقط ترقى يافتہ ممالك كےلئے سود مند ہے _(۱)

مجموعى طور پر كہاجاسكتا ہے كہ اگرچہ قديم استعمار كا دور ختم ہوچكا ہے اور تحت تسلط ممالك خودمختار ہوچكے ہيں ليكن جو صورت اب سامنے آرہى ہے وہ قديم استعمار سے كئي درجے زيادہ پيچيدہ اور مستحكم انداز سے اپنا كام كر رہى ہے _ جديد استعمار مختلف زاويوں سے اس كوشش ميں ہے كہ ديگر ممالك پر اپنا نفوذ بڑھا كر ان ممالك سے فكرى اور مادى ثروت كو نكالنے كے راستے بنائے كہ جو گذشتہ ادوار سے كہيں زيادہ خطرناك اور تباہ كن ہے _

۲_مشرق شناسي

عہد حاضر ميں مطالعہ كيلئے ايك اہم سبجيكٹ Subject مشرق شناسى ہے _ اس حوالے سے كام كرنے والے مغربى دانشوروں كا دعوى ہے كہ مشرق كے بارے ميں واقعيت پر مبنى تحقيقات كے ساتھ انہوں نے اہل مشرق كو بہت سے مخفى نكات اور زاويوں سے آگاہ كيا ہے جن سے اہل مشرق بذات خود آگاہ ہونے كى استعداد نہيں ركھتے تھے_ ماركسس بھى سمجھتا تھا كہ اہل مشرق ميں اپنے آپ كو اور اپنى صلاحيتوں كو كھولنے اور نماياں كرنے كى استعداد نہيں ہے _ لہذا اس بارے ميں ان سے تعاون كياجانا چاہئے _

آيا واقعاً يہ موضوع ايك علمى اور حقيقت پر مبنى موضوع ہے جيسا كہ بہت سے مستشرقين كا دعوى بھى ہے يا جيسا كہ مغرب پر تنقيد كرنے والے اہل نقد ونظر كا نظريہ ہے كہ يہ مسئلہ محض طاقت اور طاقت كو دوسروں پر مسلط كرنے كا بہانہ ہے _ يعنى استعمار گر اہل مغرب كى قوت و طاقت اورتسلط كى توجيہ كا ايك وسيلہ ہے_ مشرق صرف يورپ سے متصل ايك ہمسايہ نہيں ہے بلكہ قدرتى دولت سے مالامال يورپ كے سب سے بڑے مستعمرات ميں سے ہے اور يورپ كى تہذيب كا سرچشمہ بھى ہے نيز تہذيب و تمدن ميں يورپ كا رقيب بھي

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۱۱۲_ ۱۰۵_


ہے_ مشرق شناسى كا مضمون بھى اسى موضوع كى ثقافتى اور نظرياتى تعريف كو بيان كرتا ہے _ اس طرح مشرق شناسى گفتگو كا ايك غالب مغربى موضوع ہے كہ جو خاص اداروں ، نصاب ، يا مطالعات اور استعمارى بيوركريسى پر مشتمل ہے(۱)

مشرق شناسى كى معروف ترين تعريف اسكى علمى تعريف ہے _ اس كے مطابق جو بھى اپنى تدريس ، تصنيف اور تحقيق كا موضوع مشرق كو قرار دے خواہ اسكا تعلق نفسيات، معاشرت ، تاريخ ، زبان كسى بھى مضمون سے تعلق ہو وہ مشرق شناس ہے جو كچھ بھى انجام دے يہى مشرق شناسى ہے ليكن يہ كالجوں اور يونيورسٹيوں كا مضمون ، مشرق شناسى كے ايك عام معنى سے بھى وابستہ ہے وہ يہ كہ مشرق شناسى دراصل فكر ونظر كى ايك روش ہے كہ جو مشرق اور مغرب كى وجود شناسى اور علم شناسى كے فرق كى بنياد پر استوار ہے _(۲)

بطور اختصار مشرق شناسى كو بھى مشرق پر قبضہ اور اسے اپنا مستعمرہ بنانے كيلئے مغرب كى ايجاد شدہ ايك روش كے طور پر محور تجزيہ قرار دياجاسكتا ہے چونكہ جب تك مشرق شناسى ايك غالب سياسى موضوع كى مانندمورد تجزيہ قرار نہ پائے گى كبھى بھى اسكى منظم اور مرتب خصوصيات درك نہيں كى جاسكتيں كہ جن كے ذريعے مغرب اور مغربى كلچرنے مشرق كى سياسى ، معاشرتى ، فكرى اور علمى محافل اور ميدانوں سے آگاہى حاصل كى بلكہ اسے تشكيل ديا اور اسے نئے سرے سے ايك ايسا موضوع بنايا جس پر تحقيق كى جاسكتى ہو_(۳)

مشرق شناسى پر مطالعہ كب شروع ہواا س موضوع پر محققين باہم اختلاف نظر ركھتے ہيں _ بعض دانشور حضرات مشرق شناسى كے مطالعات كى تاريخ كو بہت قديم سمجھتے ہيں انكے نظر كے مطابق اسكو شرو ع كرنے والا ہيروڈٹ تھا وہ مشرقى اقوام كے بارے ميں مطالعہ كيا كرتا تھا_(۴)

____________________

۱) ايڈورڈ سعيد ، الاسشراق ، ترجمہ كمال ابواديب ، بيروت ۱۹۸۱ ، ص ۳۷_

۲) سابقہ حوالہ ص ۳۸_

۳) سابقہ حوالہ ص ۳۹_

۴) احمد سمايلو ، فتش،فلسفہ الاستشراق داثر ھا فى الادب العربى المعاصر ، قاہرہ ، ص ۷۱ _۷۰_


جبكہ بعض ديگر كہ جن ميں سے ايڈورڈ سعيد قابل ذكر ہيں جس نے متعلقہ اداروں پر تحقيق كے بعد شرق شناسى كا آغاز ۱۳۱۲ ء ميں وين كے كليسا كى كو نسل كے پروگرام كے تحت پيرس ، آكسفورڈ، اوينين اور سلامانكا كى يونيورسٹيوں ميں عربي، يونانى ، عبرى اور سريانى زبانوں كے ذريعے مشرق شناسى كے مطالعہ پر كام كے شروع ہونے كو قرار ديا _(۱)

بعض ديگر دانشور كلمہ ''مشرق شناسى '' اور اسكے مشتقات كا علمى محافل ميں ظہور كے زمانہ كو اس علم كى تحقيقات كے شروع كا زمانہ سمجھتے ہيں ،كيونكہ انگلستان ميں لفظ ''مستشرق'' سنہ ۱۷۷۹ ء اور فرانس ميں ۱۷۹۹ء ميں رائج ہوا اور ۱۸۳۸ء ميں پہلى بار فرانس كى يونيورسٹى ڈكشنرى ميں مشرق شناسى كا مفہوم ومعنى داخل ہوا_(۲)

ليكن درحقيقت يورپ ميں مشرق شناسى كے بارے ميں مطالعات كے عروج كا دور انيسويں صدى اور بيسويں صدى كے اوائل كا زمانہ ہے _ اگرچہ خود مشرق شناسى كى تاريخ اس سے كہيں طولانى ہے ، مجموعى طور پر مشرق شناسى كے مطالعات كا دومراحل ميں تجزيہ كيا جاسكتا ہے اور ان دو مراحل ميں سے ہر مرحلہ ميں مشرق شناسى ايك خاص صورت ميں سامنے آتى ہے:

۱) _ مشرق شناسى كے موضوعات پر مطالعات كا نقطہ آغاز يورپى كليسا كے ساتھ تعلق ركھتا ہے اور اس موضوع پر مطالعات كا مقصد يہ تھا كہ اسلامى نظريہ اور اسكى برترى سے پيدا ہونے والے خطرات سے عيسائي عقائد كا دفاع كرنا تھا اس لحاظ سے اس دور ميں مشرق شناسى ايك دفاعى صورت ميں تھى اور اپنے اندرونى مسائل پر توجہ ركھے ہوئے تھى اس سے انكا يہ ہدف تھا كہ وہ اسلام اور نظريہ اسلام كا حقيقى چہرہ بگاڑ كر اور اسے غير مناسب اور ناپسنديدہ صورت ميں پيش كريں تاكہ وہ يورپى شخص كو اسلامى عقائد سے دور كرسكيں اور اس دور پر غالب عيسائي عقائد ونظريات كا دفاع كرسكيں _(۳)

____________________

۱) ايڈوڈ سعيد ،سابقہ حوالہ ،ص۸۰_

۲) نصر محمد عارف ،التنمية السياسية المعاصرة ، ہيرندن فير جينسا ، امريكہ ، ص۱۱۵_

۳) نصر محمد عارف ، سابقہ حوالہ ،ص ۱۱۷_


بعض محققين مثلاً فواد زكريا كے بقول مشرق شناسى كے مطالعہ كا يہى ہدف تھا بلكہ اس علم كى مكمل تاريخ ميں يہى ملتا ہے كہ وہ مشرق شناسى كے ذريعے دراصل اپنے تشخص كا دفاع كرنا چاہتے تھے_(۱)

بہرحال كم از كم اس حوالے سے قطعى طور پر يہى كہاجاسكتا ہے كہ پہلے دور ميں مشرق شناسى كے مقصد كو عيسائيت سے وابستہ سمجھتا جاتا تھا اور وہ يہ تھا كہ اس دور ميں يورپى ماحول ومعاشرہ پر حاكم عيسائي تہذيب اور نظريات كا دفاع اور كليسا كے اقتدار كى نگہبانى كى جائے_ بالفاظ ديگر اس قسم كے تجزيے اور تحقيقات يورپى دانشوروں اور وشن خيال حضرات كيلئے كى جاتى تھيں _ وہ بھى ايك معين دور ميں ، ايك معين ہدف و مقصد اور خاص روش سے كہ جسكى غرض پس پردہ پنہاں تھى _

يہاں مقصد يہ نہيں تھا كہ محض حقيقت تك پہنچا جائے اور يہ ايك خالص علمى تحقيق ہو بلكہ يورپى دانشوروں كى آراء اور دانائي كے ثبوت كيلئے ايك مضبوط ڈھال بنائي جائے اور اس ميں انقلاب پيدا كرنے والے آراء و افكار بالخصوص اسلامى آراء كے مد مقابل دفاع كياجائے اور عيسائيت كى مخالفت ميں جانے والا ہر راستہ بند كرديا جائے_(۲)

۲) پہلے مرحلہ ميں مشرق شناسى كے مطالعات كا محور يورپ اور عيسائي دنيا كے اندرونى مسائل تھے _ اس مرحلہ كے بعد ايسے دور كا آغاز ہوا كہ جس ميں مشرق شناسى استعمار سے وابستہ ہوگئي يہاں بيرونى مسائل اور معاملات محور قرار پاگئے اب اس ميں عيسائي نظريات اور رجحانات كے ساتھ ساتھ مشرقى اقوام پر تسلط كا رنگ ڈھنگ بھى پيدا ہوگيا _ اسى دور كے آغاز سے ہى محققين نے اپنے موضوع مطالعہ سرزمينوں كے بارے ميں حقائق پر مبنى دقيق تصوير اپنى حكومتوں كو پيش كى _ تاكہ وہ حكومتيں ان تحقيقات اور تجزيات كى بناء پر ان مشرقى معاشروں اور تہذيب سے ٹكرائيں اور ان پر تسلط پاتے ہوئے انكے زرخيز منابع اور سرچشمے لوٹ ليں _(۳)

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۱۳۱_ فواد زكريا ، نقد الاستشراق وازمة الثقافة العربيہ المعاصرة ، دراسة فى المنہج ، مجلہ فكر للدراسات والابحاث ، ش ۱۰ ، ۱۹۸۶ ، ص ۴۷_ ۳۵_

۲) نصر محمد عارف ،سابقہ حوالہ ،ص ۱۳۱ ، محمود شاكر ، المتنبى رسالة فى الطريق الى ثقافتنا ، قاہرة ، كتاب الھلال ، اكتوبر ، ۱۹۷۸، ص ۹۲_

۳) نصر محمد عارف ،سابقہ حوالہ ص ۱۱۹_


انيسويں صدى كے فرانسيسى ، جرمن اور انگلستانى نظريات كى تاريخ كا تجزيہ كريں تو مغرب كے اقتصادى اور جغرافيائي توسيع پسندى پر مشتمل رجحانات كا آغاز اور معاشرہ شناسى ميں جديد نظريات كے ظہور كے درميان واضح وابستگى نماياں محسوس ہوتى ہے_ اسطرح سماجيات كى جديد شاخيں محض ايسے استعمارى علوم كى صورت ميں سامنے آتى ہيں كہ جو محكوم اور ماتحت اقوام كے مفادات سے قطع نظر محض استعمار ى حكومتوں كى خدمت كرتى ہيں _(۱)

بيسويں صدى ميں بھى مشرق شناسى دو صورتوں كے ذريعے مغرب كے دنيا پر تسلط ميں اپنا كردا ادا كرتى تھى :

الف _ علم ودانش كے حصول اوراسكے پھيلاؤ كے ليے جديد ذرائع اور وسائل سے فائدہ اٹھانا مثلاً اسكول، يونيورسٹياں اور ذرائع ابلاغ وغيرہ _ تاكہ اہل مشرق كے افكار اورعقليت كو نئے سرے سے تيار كياجائے اور انہيں اس انداز سے مغربى تہذيب ميں مخلوط كياجائے تاكہ مشرق والے اپنے آپ كو فكر و تدبير ميں اہل مغرب كى مانند سمجھيں اور انكى اقدار كو اپناليں _

ب)_ بعض مشرق شناس لوگوں كا علمى محدوديت اور تھيورى كى حدود سے نكلنا اور عملى ميدان ميں داخل ہونا تاكہ يورپى حكومتوں كے ديگر ممالك پر تسلط كے اہداف كو عملى جامہ پہنايا جائے_(۲)

اسطرح جديد مطالعات سياسى اہداف كے پيش نظر انجام پائے ہيں اور غير علمى سرگرميوں سے بھى فائدہ اٹھايا گيا ہے اگرچہ اس مشرق شناسى كے بعض نتائج مفيد بھى تھے ، انہوں نے اس ذريعے سے مشرقى سرزمينوں كے بہت زيادہ حد تك اہم حقائق كو دريافت كرليا تھا ليكن ان حقائق كا رخ كبھى بھى خالص علمى مقاصد كے حصول كيلئے نہ رہا _(۳)

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۱۳۲_

۲) احمد ابوزيد ''لااستشراق والمستشرقون'' در مجلہ عالم الكفر،كويت ص ۸۶ _ ۸۵_

۳) محمد محمد امزيان ، منہج البحث الاجتماعى ، بين الوضيعة والمعيارية ،حيرندن ، فير جنيا، امريكہ ص ۱۵۰_


لہذا مشرق شناسى كو مشرق و مغرب كے عمومى تصادم كے تناظر ميں محورتجزيہ قرار دينا چاہئے كيونكہ كہ يہ مشرق شناسى ايسى گفتگو ہے كہ جو اہل مغرب نے مشرقيوں بالخصوص مسلمانوں كو محور قرار ديتے ہوئے شروع كى _(۱)

اسى لئے يہ ايك قدرتى بات ہے كہ اس موضوع پر بعض مشرقى دانشور حصرات تنقيد كريں البتہ انكى سخت تنقيد صرف مغربى مشرق شناس لوگوں كيلئے نہيں ہے بلكہ اس تنقيد كے دائرہ ميں وہ مشرقى لوگ بھى ہيں كہ جو مغرب كى طرف رجحان ركھتے ہيں اور انكے نظريات پر عمل كرنے كيلئے انہيں اپنے مطالعات سے مطابقت ديتے ہيں(۲)

بعض معترضين اور اہل تنقيد نے واضح طور پر كہاہے كہ يہ مشرق شناس اسلام كے بارے ميں بات كرنے كى صلاحيت نہيں ركھتے كيونكہ انكى نظر كے مطابق يہ مشرق شناس ايك علمى تجزيہ كيلئے ضرورى غير جانبدارى كا كوئي بھى معيار نہيں ركھتے _ انكى مسلمانوں كے خلاف صليبى جنگوں ، پيغمبر اسلام (ص) پر تہمتوں ، معنويت اور وحى كے انكار سے بھرى ہوئي تاريخ ، عربى زبان سے ناآگاہى اور مسلمانوں كے مخالف يہوديوں كى حمايت كرنا يہ سب انكى غير جانبدارى كو مشكوك اور مخدوش كررہاہے_(۳)

البتہ ان لوگوں كى مشرق شناسى پر تنقيد ، انكے نقائص اور خاص جہات كى طرف انكى جانبدارى كا اعتراض صرف مشرقى دانشوروں كى حد تك منحصر نہيں رہا بلكہ خود مغربى دانشوروں اور مشرق شناسوں نے بھى يہى راستہ اختيار كيا اور تنقيد كى _

____________________

۱) محمد اركون وآخرون ، الاستشراق بين دعاتہ ومعارضيہ ،ترجمہ ہاشم صالح ، دارالساقى ، بيروت ص ۷_

۲) آركون وآخرون،سابقہ حوالہ ص ۱۸۹_

۳)سابقہ حوالہ ص ۱۹۰_ بانقل از جريدة النور ، ۱۰/۱۰/۱۹۸۴ ، ص ۱۰_


ايونزبريچرڈ كى رائے ہے كہ مشرق شناسى استعمار ى حكومتوں كى خادم رہى ہے ،وہ اس نكتہ كى طرف اشارہ كرتے ہيں كہ اگر استعمار ى حكومتوں كى پاليسى يہ ہے كہ سرداروں اور حكام طبقہ كے ذريعہ اپنے استعمار شدہ علاقوں پر حكومت جارى ركھيں تو اس مقصد كے پيش نظر بہتر يہى تھا كہ ان مشرقى معاشروں ميں انكے سرداروں اور مخصوص فعال افراد سے آگاہ ہوں اور معاشرہ ميں انكى طاقت كى مقدار اور ان اختيارات كو پہچانا جائے كہ جس سے وہ بہرہ مند ہيں كيونكہ اگر ہمارا مقصد يہ ہے كہ ہم ايك سرزمين پر انكے علاقائي قوانين اور رسم و رواج كے مطابق حكومت كريں تو ضرورى ہے كہ پہلے ان قوانين كى نوعيت جاننى چاہئے _(۱)

ميكسم روڈنسن(۲) جو كہ بذات خود مشرق شناسى كے حوالے سے ايك معروف شخصيت ہيں ، وہ اسلامى اصولوں كے بارے ميں ہارٹ مين اور ليون كيٹين كے طرز عمل اور تحرير كى طرف اشارہ كرتے ہيں اور بتاتے ہيں كہ ان دو افراد نے اسلام اور اس كى تاريخ كا تجزيہ كرتے ہوئے محض اقتصادى مسئلہ كو محور قرار ديا ہے اور اسى پر اپنى آراء ديں _ روڈ نسن، ان دونوں كے نظريات پر تنقيد كرتے ہوئے ان نظريات اور آراء كو اس زمانہ ميں موجود اور حالات سے متاثر شدہ قرار ديتے ہيں _ نيز وہ اس بارے ميں ديگر دانشوروں كى تحقيقات ، فعاليت كى طرف اشارہ كرتے ہوئے انكے نتائج كو تباہ كن سے توصيف كرتے ہيں _(۳)

روڈنسن يورپ ميں مشرق شناسوں كے موضوع اور محور پر تنقيد كرتے ہوئے اس نتيجہ پر پہنچتے ہيں كہ انيسويں صدى اور بيسويں صدى كے اوائل ميں كلاسيك مشرق شناسى اس دور كے افكار ونظريات كى پيروى كررہى تھى كہ جو يورپ كے حالات چھائے ہوئے تھے اور انكى اساس مركزى يورپ اورآئيڈيالزم تھا_(۴)

____________________

۱) ايفانزبريتشارد ، الانثروپولو جيا الاجتماعية ، ترجمہ احمد ابوزيد ، قاہرہ ، ص ۱۶۲ با نقل از امزيان ص ۱۴۹_

۲- Maxime Rodinson

۳) ماكسيم روڈنسون ، الدراسات العربية والاسلامية فى اوروبا ، دراكون وديگران، ص ۴۸_

۴) سابقہ حوالہ ص ص ۵۰_ ۴۹_


البتہ روڈنسن ان تمام نقائص كو شمار كرنے كے ساتھ ساتھ يہ نظريہ بھى ركھتے ہيں كہ اس ذريعے سے جو بہت سى معلومات ملى ہيں انكى اہميت كو نظر انداز نہيں كياجاسكتا اور ان بہت سى مفيد معلومات كے ذخيرے كا انكار نہيں كياجاسكتا _ روڈنسن كے بقول آج ہم انكى معلومات كے ذريعے ايسے مطالب تك پہنچ گئے ہيں كہ اس دور كے محققين ان سے بے خبر تھے_(۱)

اسلامى دنيا ميں مشرق شناسى پر تنقيد كے حوالے سے دو بنيادى اوركليدى نكات پائے جاتے ہيں ;

ايك كا تعلق مصرى مصنف انور عبدالملك كے مقالہ ''مشرق شناسى بحران ميں '' سے ہے يہ مقالہ ۱۹۶۳ ء ميں فرانس ميں نشر ہوا اور دوسراايڈورڈ سعيد كى كتاب ''مشرق شناسي'' سے تعلق ركھتا ہے كہ جو ۱۹۸۷ء ميں نشر ہوئي _(۲)

انور عبدالملك كى نگاہ ميں يورپى سياحوں اور عيسائي مبلغين كى اسلام كے بارے ميں آراء جو مشرق شناسى كے اہم ماخذات ميں شمار ہوتى ہيں ،وہ اسلامى عقائد ونظريات كے خلاف ہيں اور سخت كينہ توز، جھوٹى ، جعلى اور تحريف شدہ ہيں _(۳)

انور عبدالملك نے مشرق شناسى كے مطالعات پر اپنى تنقيد ميں انتہائي دقت كے ساتھ اس مسئلہ پر گفتگو كى ہے كہ مشرق شناسوں نے قابل اطمينان حد تك اپنى ہم عصر مشرقى اقوام كے بارے ميں كام نہيں كيا _ عبدالملك كى نگاہ ميں اسكى وجہ مشرق شناسوں كا مشرق كى جديد تاريخ ميں تحقيق سے فرار تھا_ كيونكہ اس دور ميں استعماريت كى بناء پر وہ ہميشہ ان اقوام ميں مغرب اور اہل مغرب سے دشمنى جيسے حقائق كا سامنا كر رہے تھے_(۴)

____________________

۱)سابقہ حوالہ ص ۵_

۲)سابقہ حوالہ ص ۷_ انورعبدالملك ،الاستشراق فى ازمة، الفكر العربى ، ۱۹۸۳_ ش ۳۱ ص ۱۰۶ _ ۷۰، ايڈورڈسعيد ،الاستشراق ، ترجمہ كمال ابوديہب بيروت ،۱۹۸۱_

۳)انور عبدالملك ،سابقہ حوالہ ص ۷۷_۷۶_

۴) سابقہ حوالہ ، مختلف جگہ سے ہے ، محمد اركون وآخرون ، سابقہ حوالہ،ص ۳۶_


بہت زيادہ اہميت كا حامل ايك اور نكتہ يہ ہے كہ اٹھارہويں ، نويں اور بيسويں صدى ميں اكثر مشرق شناس اپنى حكومت كى وزارت خارجہ كے ملازمين كى حيثيت سے استعمار شدہ ، سرزمينوں پر كام كر رہے تھے_ اس حوالے سے فرانس كے معروف مشرق شناس ارنسٹ رينن كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے جو فرانسيسى استعمار كيلئے پروگرام بنانے والوں ميں سے شمار ہوتا تھا_(۱)

مشرق شناسى پر اعتراض وتنقيد كے حوالے سے ان بنيادوں كى طرف اشارہ كياجاسكتا ہے كہ جن پر مشرق شناسى قائم ہوتى ہے ان ستونوں ميں سے چند يہ ہيں _:

۱) يورپى عيسائيت كو ديگر اديان كيلئے ايك معيار سمجھنا اور وہ اسطرح كہ اگر ديگر اديان دين عيسائيت كے اساسى مسائل كے ساتھ ہم آہنگ اور مطابقت نہ ركھتے ہوں تو انہيں رد كرديا جائے گا_ان اديان كى قبوليت كا معيار صرف يہ ہے كہ يہ يورپ ميں رائج عيسائيت كے ساتھ مطابقت كريں _

۲)_ مشرقى معاشروں كا تجزيہ وتحليل ان متضاد معياروں اور نكات كى رو سے كہ جو خود يورپيوں كے تجربات كى بناء پر جمع ہوئے ہيں _

۳)_ نسلى اور قومى تعصب كے ساتھ نگاہ ، يعنى عالم بشر كو دو گروہوں ''ہم '' اور ''دوسرے'' ميں تقسيم كرنا اور دنيا كى اقوام كو بلند اقوام اور حقير اقوام كے معيار سے تقسيم كرنا _

اس ترتيب سے مشرق شناس لوگ يورپيوں كى خصوصيات ميں انہيں تمدن ساز اور صاحبان ايجادات سے ياد كرتے ہيں ،جبكہ سامى اور عرب انكى نگاہ و تحقيق ميں فكر و آراء كے اعتبار سے سطحى ذہن ركھنے والے ہيں _

۴)_ يورپى تجربہ كو عالم بشريت ميں انقلاب كيلئے قابل عمل معيار سمجھنا اور پورى دنيا كى تاريخ كو يورپ كى تاريخ كى اساس اور يورپ كے دريچہ سے ديكھنا_

____________________

۱) احمد سمايلو فتش ،سابقہ حوالہ ص ۱۲۴_


۵) مشرق كے بارے ميں تجزيہ كرتے ہوئے انتہائي سادگى اور متضاد رويے كا مظاہرہ كرنا كہ جو كچھ بھى يورپ كے علاوہ تھا اسے مشرق سے ربط دينا اور يورپ سے مشابہ قرار دينا اور ان خيالات كے گوناگون مجموعات پر مشرق كے نام كا اطلاق كرنا_(۱)

مجموعى طور پر مشرق شناسوں اور استعمار ميں وابستگى اور مشرق شناسوں كے استعمار گر حكومتوں كى خدمت كرنے كو ''ايلن رشين '' كے نظر كے مطابق مندرجہ ذيل صورت ميں واضح كيا جاسكتا ہے _

بعض مشرق شناس مشرقى ممالك اور اقوام كے بارے ميں مطالعہ كرتے ہيں اور انكى ايك تصوير پيش كرتے ہيں پھر اس تصوير كو ديكھتے ہوئے استعمار گر حكومتوں كو راہنمائي اور نصيحت كرتے ہيں تاكہ وہ مشرقى ممالك پر اپنے تسلط اور حكومت كو جارى ركھيں _

عہد حاضر كا مشرق شناس بھى اگر كوشش كرے كہ مشرقى ممالك اور اقوام كے بارے ميں ايك حقيقى تصوير كشى كرے پھر بھى وہ اس قسم كى تصوير كو پيش كركے استعمار ى ممالك كى خدمت كر ے گا _

____________________

۱) نصر محمد عارف ،سابقہ حوالہ ،ص ۱۲۵_۱۲۱_


آج بھى مشرق شناسى ايسا مقام ركھتى ہے كہ اگر محقق مشرق كے بارے ميں فكر كرنا اور تاليف كرنا چاہے تو وہ اس راہ ميں مشكلات كى ديواروں كو عبور نہيں كرسكتا كہ جو مشرق كو سمجھنے ميں ركاوٹ كى صورت ميں ركھ دى گئي ہيں ، بالفاظ ديگر مشرق آج بھى مشرق شناسى كى وجہ سے حقائق كے تشنہ اور غير جانبدار محققين كيلئے ايك آزاد موضوع نہيں بن سكتا ،اسكا مطلب يہ نہيں ہے كہ فقط مشرق شناسى كى شكل ميں يا مشرق شناس وغيرہ مشرق كے بارے ميں تحقيقات ميں مشغول ہيں بلكہ اسكا مطلب يہ ہے كہ مشرق شناسى ايك عمومى اور مجموعى مفادات پر مشتمل ايك گينگ كى صورت ميں سامنے آچكا ہے كہ جب بھى يہ غير معمولى اور عجيب و غريب شے يعنى مشرق كے بارے ميں تجزيہ كيا جائے گا يہ گينگ وہاں حاضر وموجود ہوگا اورا پنے اثرات ڈالے گا_(۱)

صہيونيزم:

لفظ ''صہيونيزم '' باہم مخالف فريقين ميں مختلف اور متضاد معانى او رمفاہيم كے ساتھ استعمال ہوتا ہے_حالانكہ خود صيہونى لوگ اسے ايك مثبت صفت سمجھتے ہيں جو كہ انكے تشخص اور مقاصد كو بيان كرنے كے لئے استعمال كيا جاتا ہے _ جبكہ انكے مخالفين اسے مكمل طور پر ايك منفى صفت سمجھتے ہيں كہ جو انكے منفى تشخص اور مقاصد كو بيان كرنے كے ساتھ ساتھ عالم اسلام پر انكے ظلم وستم سے بھرى ہوئي تاريخ بالخصوص مظلوم ملت فلسطين پر انكے وحشتانك مظالم كى ياد دلاتاہے_(۲)

مقالہ ''يہوديت وصہيونزم''(۳) كا مصنف جوكہ خود بھى متعصب صہيونى ہے لفظ ''صہيونيزم'' كے بارے ميں لكھتا ہے كہ ''ہرٹزل''(۴) نے ۱۸۸۷ ء ميں اپنى كتاب ''حكومت يہود ''كى اشاعت اور ہفت

____________________

۱) ايڈورڈسعيد ،سابقہ حوالہ ص ۳۹_

۲) محمد كريمى ، پشت نقاب صلح ، تہران ص ۷_

۳) Haiko Haumann ، Judasimand Zionism ، The first Zionist Congress in ، ۱۸۹۷ Basel ، ۱۹۹۷ PP ۱۱-۱۲

۴)تھيوڈر ہرٹزل ہنگرى ميں پيدا ہوا بعد ميں وين كى طرف نقل مكانى كى ، كچھ عرصہ بھاگ دوڑ كركے اپنا نام صہيونيزم تحريك كے ايك حقيقى بانى كى حيثيت سے تاريخ كے اوراق پر ثبت كروايا _ اس نے سال ۱۸۹۶ ء ميں كتاب حكومت يہود لكھى كہ جسميں اسكے مخاطب مختلف ممالك كے سربراہ تھے ،اس كتاب ميں اس نے صہيونيزم تحريك كى مكمل تھيورى پيش كى _


روزہ ''دنيا '' كو نشر كرنے كے بعد ) اپنى تمام تر كوشش اور گروہى صلاحيتوں كو بروئے كار لاتے ہوئے اس ہدف كو سامنے ركھا كہ صہيونى گروہوں كى ايك مٹينگ بلائي جائے_ ناثان بربناؤوم(۱) نے اس تحريك كا نام ''صہيونيزم'' ركھا اور ۱۸۹۰ ء ميں اس نے پہلى بار اپنے اخبار ميں ''خود رہائي''(اپنے آپ كو آزاد كرنا) كے عنوان سے اس كلمہ كو استعمال كيا _ليكن ۱۸۹۷ ء ميں سوئيزرلينڈ كے شہر بال ميں صہيونيزم كا پہلا سمينار منعقد ہوا جس ميں صہيونيزم كى يہ تعريف كى گئي كہ اس سے مراد''وہ دعوت ہے كہ جو صہيونيزم فاؤنڈيشن كى طرف سے دى جارہى ہے اور وہ كوششيں مراد ہيں كہ جو اس حوالے سے فاؤنڈيشن كى طرف سے ہورہى ہيں _ اس تعريف كے مطابق صہيونى وہ ہے كہ جو ''بال'' كے سمينار پر عقيدہ ركھے اور اسے قبول كرے_

عبدالوہاب المسيرى نے صہيونيزم كے بارے ميں كتاب ميں صہيونيزم كى وضاحت ميں لكھتے ہيں كہ سولہويں صدى كے اواخر سے ليكر اٹھاريوں صدى كے آغاز تك صہيونيزم عيسائيت پر استوار ايك غير يہودى دينى مكتب اور اٹھاريوں صدى كے اوائل سے ليكر انيسويں صدى كے اوائل تك صہيونيزم ايك غير يہودى تہذيب تھى جو غير دينى ،خيالى اور صاحب اجزا اساس پر مبنى تھي_(۲)

صہيونيزم كى تشريح كے حوالے سے مجموعى طور پر تين نظريات ہيں :

۱_ عالم اسلام كے جغرافيايى اور سياسى قلب ومركز يعنى فلسطين ميں صہيونزم اور اسلام دشمنى كا شگاف ڈالنا حالانكہ فلسطين اسلامى تاريخ كى ابتداء سے اب تك تين براعظموں كے ايشياء ، افريقا اور يورپ كے باہمى ملاپ كے مقام پر ہميشہ اسلامى سرزمينوں سے جغرافيائي اور سياسى طور پر وابستہ رہا ہے _

۲_ دنيا سے عيسائيت و يہوديت كے ما بين تاريخى بحران (كہ جو بہت سے يہوديوں كى قتل وغارت اور نسلى تعصبات ، وغيرہ كے ہمراہ تھا ) كو عالم اسلام ميں منتقل كرنا اور اسے فلسطين ميں اسلام و يہودى بحران ميں

____________________

۱) Nathan Birnbaum ( ۱۹۳۷-۱۹۶۴ ) ۲ ) عبدالوہاب محمد المسيرى ، صہيونزم ، ترجمہ لواء رودبارى ، تہران ،ص ۱۷_۱_


تبديل كرنا ، يہ نقشہ انتہائي زيركى سے دائرہ عمل ميں لايا گيا اور يہ اس اعتبار سے قابل اہميت ہے كہ ايك جملہ ميں اسكى تعبير كريں تو يہ ايك تاريخى سودا ہے كہ جس ميں طے شدہ ايك امر يہ تھا كہ يہوديوں كا حضرت عيسى (ع) كے قتل كے جرم سے برى الذمہ ہونا تھا_

۳_ نسلى تعصبات اور انتہا پسندى ميں پڑے ہوئے يہوديوں كى ديرينہ آروز يعنى فلسطين ميں ايك يہودى حكومت كا قيام دائرہ عمل ميں لانا _(۱)

مغربى استعمار گر طاقتوں نے ايك طرف اپنى جديد ترقى يافتہ ٹيكنالوجى كے بناء پر سارے عالم اسلام پر اپنا تسلط جمايا اور دوسرى طرف سے ثقافتى سطح پر حملوں كے ذريعے مسلمانوں كى روحانى شخصيت كو تبديل ، نظرياتى سطح پر كمزور اور انكے وجود ميں دينى عقائد كى جڑوں كوكمزور كيا اور آخر كار صہيونزم كو وجود ميں لاكر مسلمانوں پر تباہ كن جنگ مسلط كردى كہ جو ممكن ہے سالہا سال كى طولانى مدت تك جارى رہے_ اس جنگ نے آدھى صدى سے زيادہ عرصہ تك جارى رہنے كى وجہ سے مسلمانوں كے عظيم سرمايوں كو نگل ليا ہے_

مجموعى طور پر پاپائے اعظم كے قديم وجديد مخالفين اگر مقام عمل ميں اسكے اورويٹيكن كے پيروكاروں كے ساتھ كسى بات پر اتفاق نظر ركھتے ہيں تووہ صہيونيوں كے ذريعے فلسطين پر قبضہ ہے_ البتہ مشرق، مشرق وسطى اور عرب ممالك كے عيسائي اس كليہ وقاعدہ سے جدا نہيں ہيں _ اسى بناء پر كہا جاسكتا ہے كہ خود دين عيسائيت كہ تجويز يہ نہ تھى بلكہ اس صليبى نظريہ كا بنيادى سبب مغربى صليبى روش ہے كہ جورومى تہذيب سے متاثر ہے _ اور يہى لوگ تھے كہ جنہوں نے قيصر روم كى نيابت ميں گيارہويں سے تيرہويں صدى عيسوى تك دہشتناك جنگيں كيں _ اور يہ نسطورى عيسائي ، فلسطينى اور شامى عيسائي نہيں تھے _

آج اہل مغرب جو كچھ بھى عيسائيت كے عنوان سے پيش كر رہے ہيں وہ قديم روم كى آمرانہ تہذيب ہے جس پرعيسائيت كى قلعى چڑھى ہوئي ہے وہ رومى لوگ جو ايك زمانہ ميں حضرت عيسى (ع) كو صليب پر قتل(۲) اور

____________________

۱) على اكبر ولايتى ، ايران ومسئلہ فلسطين برا ساس اسناد وزارت امور خارجہ(۱۹۳۷_۱۸۹۷ ء _۱۳۱۷_ ۱۳۱۵ قمرى )تہران ، دفتر نشر فرہنگ اسلامى ، ۱۳۷۶، ص ۴_

۲) جيسا كہ قرآن كريم كى تعبير ہے وما قتلوہ وماصلبوہ ولكن شبة لہم (نساء ۱۵۷)


انہيں صليب پر آويزاں كرنے كيلئے صليب كندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے _انہوں نے صليبى جنگوں ميں اسى عظيم المرتبت شخصيت كے قصاص خون كى خاطر اسى صليب كے نشان كے ہمراہ مسلمانوں كے خلاف تلواريں چلائيں _ اور يہ دونوں اقدام ايك ہى سمت ميں تھے وہى مجموعى تاريخ اور مغرب كے مشرق كے مقابل آنے كى سمت ميں ، وہى مشرق جس پروحى كا سورج طلوع ہوتا رہا ہے اور مغرب پر چمكتا رہا ہے _(۱)

مشرق وسطى ميں صہيونيوں كى حكومت درست اس زمانہ ميں تشكيل پائي كہ جب مسلمان حكومتيں ضعف وناتوانى كا شكار تھيں بالخصوص عثمانى بادشاہت كہ جو اٹھارہ ويں صدى سے زوال كى طرف بڑھ رہى تھى ، فلسطين پر قبضہ دراصل عالم اسلام كے پہلو پر خنجر مارنا تھا_ ان علاقوں كے باشندوں كو نكالنے كيلئے تين جنگيں ان پر مسلط كى گئيں كہ جنكى بناء كئي ميلين فلسطينى تباہ و برباد ہوئے اور ان علاقوں پرصہيونيوں كا منحوس سايہ مستحكم ہوگيا_ اردن ، شام اور لبنان كے بعض آباد علاقے بن گوريوں كے وارثوں كے قبضہ ميں آگئے اور فلسطين كے ہمسايوں كے بہت سے علاقے بيت المقدس پر قابض حكومت كے تسلط ميں آگئے _

ا گر مسلمان ان اسلامى سرزمينوں كو آزاد كروانے كى كوشش كريں تو اہل مغرب كے سياست دان اور پروپيگنڈا كرنے والے ادارے ان پر دہشت گردى كى حمايت كا الزام لگاتے ہيں ليكن دير ياسين ، كفر قاسم ، حرم حضرت ابراہيم (ع) ، گھانا وغيرہ ميں قتل عام كرنے والوں كى كبھى مذمت نہيں ہوئي بلكہ وہ جمہوريت اور انسانى حقوق كے حامى كے عنوان سے ہميشہ تعريف كے لائق قرار پائے اور فلسطينيوں كى دلخراش فرياد كو اقوام متحدہ ميں بھى صہيونزم كى حامى طاقتوں كے ويٹو كا سامنا رہا _(۲)

مجموعى طور پر صہيونزم كے اصول ميں فقط ايك مذہب كى ايجاد نہيں ہے بلكہ وہ يہوديوں ميں سے ايك قوم اور ايك مملكت بھى بنانا چاہتے ہيں اور كوشش كر رہے ہيں كہ دنيا كے تمام يہوديوں كو توسيع پسندانہ جنگوں كے

____________________

۱) على اكبر ولايتى ، سابقہ حوالہ ،ص ۷_۵_

۲) امريكى حكومت نے اقوام متحدہ كى تشكيل سے ليكر اب تك سلامتى كونسل كى اسرائيل كے خلاف سے بہت سى قرار داوں كو ويٹو كيا ہے _ رجوع كيجئے على اكبر ولايتى ، سابقہ حوالہ، ص ۷_


بہانے سے سرزمين موعود يعنى عظيم اسرائيل ميں جمع كيا جائے : تھاريڈل ہرٹزل كا ايك دوست اور ڈيوڈٹرچ(۱) ۲۹ اكتوبر ۱۸۹۹ ميں اسے ايك خط ميں لكھتا ہے كہ '' اس سے پہلے كہ بہت زيادہ دير ہوجاے ميں آپ كو نصيحت كرتا ہوں كبھى كبھى '' عظيم فلسطين'' ( عظيم اسرائيل ) كا تذكرہ كرتے رہيں ، شہربال كى كانفرنس كے پروگرام ميں لفظ'' عظيم فلسطين'' ( عظيم اسرائيل) يا لفظ ''فلسطين اور اسكے اردگرد كى سرزمين'' ضرور شامل ہوں و گرنہ يہ سب كچھ بے معنى ہوگا كيونكہ آپ پچيس ہزار كلوميٹر مربع سرزمين پر دس ميلين يہوديوں كو خوش آمديد نہيں كہہ سكتے _(۲)

موشے دايان نے ۱۹۶۷ ميں كہا تھا: اگر تورات ہمارى كتاب ہے اور اگر ہم اپنے آپ كو قوم تورات سمجھتے ہيں تو ضرورى ہے كہ تورات كى سرزمين ،منصفين اور سفيد ريش لوگوں كى سرزمينيں ہمارے پاس ہوں يقينا اس قسم كے اصولوں كے پس پردہ سرحديں مزيد بڑھنے كے قابل ہوجائيں گي_

بن گورين نے ايك اور مقام پر واضح انداز سے كہا:

ہمارا مسئلہ يہ نہيں ہے كہ موجود صورت حال كو برقرار ركھا جائے بلكہ ہمارا فرض ہے كہ

زيادہ سے زيادہ توسيع پسندى كو مد نظر ركھتے ہوئے ايك فعال حكومت تشكيل ديں(۳)

اسى بناء پر صہيونيزم كے قائدين كى نظر ميں يہ ہدف دو عناصر كے فراہم ہونے كى صورت ميں دائرہ وجود ميں آسكتا تھا: ۱)_ امپريالسٹ ممالك بالخصوص آمريكا سے سياسي، اقتصادى اور فوجى امداد كے حصول كا تسلسل ۲)_ تمام عرب اور اسلامى ممالك كے مد مقابل اسرائيل كااپنے مفادات كے ليے قابل ذكر ٹيكنالوجيكل برترى كا حامل ہونا (عربوں كى عددى برترى كے مقابل ميں اسرائيل كى فنى برتري) اور وہ ايك ايسى فوجى اور اقتصادى طاقت كا حامل ہو جو عربوں كو جھكنے پر مجبور كرسكے _ اور انہيں يہ باور كرادے كہ اسرائيل

____________________

۱) David Triestsch

۲) نقل از : اسكار_ ك، آ_ داينيوويچ ، طرح يہوديان قبرس ، نيويارك ، ہرٹزل پبلشر ۱۹۶۲، ص ۱۷ص_

۳) روہ گارودي، پروندہ اسرائيل و صہيونيزم، سياسى ترجمہ نسرين حكمى ، تہران وزارت فرہنگ و ارشاد ايران ، ۱۳۶۹، ص ۱۳۳_


كے ساتھ ہر قسم كى جنگ عربوں كى شكست پر ختم ہوگى(۱)

۱۹۹۵ ميں صہيونى حكومت كا دفاعى بجٹ ۳/۸ ارب ڈالرز تھا اس وقت امريكہ كى فوجى امداد ۸۱ ارب ڈالرز اور اقتصادى امداد۲۱ ارب ڈالرز تھى اس سے معلوم ہوتا ہے كہ ايك حدود اربعہ كے اعتبار سے چھوٹا سا ملك كہ جو ۲۵ ميليں آبادى ( ۸۲ فيصد يہودي) پر مشتمل ہے كسقدر اعلى فوجى استعداد كا حامل ہے _ اس حكومت كى ايٹمى پاور كے حوالے سے بھى اختلاف نظر ہے كہ بعض رپورٹس كے مطابق اسرائيل كے پاس بيس سے دو سو تك كے درميان ايٹم بم موجود ہيں يہ حكومت ۱۹۶۷ سے اين پى ٹى پر دستخط كرنے سے ٹال مٹول كر رہى ہے اور اس نے اپنے ايٹمى رى ايكٹرزكو آج تك بين الاقوامى تحقيقاتى ٹيموں كيلئے نہيں كھولا _(۲)

عربوں ميں فرقہ پرستى اورتعصبات كو ہوا دے كر انہيں تقسيم كرنے كى سازش سے صہيونيزم كو اپنے توسيع پسندى پر مبنى مقاصد پورے كرنے كا موقع ملتا ہے، صہيونزم عالمى استعمار كے آلہ كار كى حيثيت سے كوشش كررہا ہے كہ عالم اسلامى ميں '' تفرقہ ڈالو اور حكومت كرو'' كى سياست كو مد نظر ركھتے ہوئے اسلامى اور عربى تحريكوں كو تباہ كردے_ يہى چيز صہيونى اہل نظر اور مولفين كى تاليفات ميں واضح نظر آتى ہے مثلااورنسٹاين(۳) كہتا ہے كہ :ميرا نظريہ يہ ہے كہ عربوں كے عرب اتحاد نعروں كے برعكس ان ميں تفرقہ اور پھر اس كے كچھ عرصہ بعد ہم قومى اور جغرافيائي گروہوں كے ظہور كا مشاہدہ كريں گے مثلا عيسائي لبنان، عراق كے شمال ميں كردوں كا علاقہ ،دروزيوں كا پہاڑى علاقہ اور مملكت اسرائيل يہ سب آخر كار ہلال خصيب (پر بركت چاند )كے مجموعہ ميں اسرائيل كى قيادت ميں اكھٹے ہوجائيں گے_(۴)

____________________

۱) موسسہ الارض ( صرف فلسطين كے حوالے سے مطالعہ كيلئے)، استراتزى صہيونيزم در منطقہ ،انتشارات بين الملل اسلامى ، ص۲۷۷_ ۲۷۵_

۲) محمد زہير دياب '' سازمان نظامى '' سياست و حكومت ريم صہيونستى ، مركز مطالعات و تحقيقات انديشہ سازان نور ، تہران ، انتشارات مركز اسناد انقلاب اسلامى ، ۱۳۷۷، ص ۲۴۱، ۲۴۴_

۳) Areh ornichtain

۴) موسسة الارض (فلسطين كے بارے ميں مطالعہ كيلئے مخصوص ) سابقہ حوالہ، ص ۱۸۲_ ۱۸۱_


ڈيويڈ كاما جو كہ صہيونى مصنف ہے اپنى كتاب ''كشمكش كيوں ؟ اور كب تك؟ ''ميں لكھتا ہے كہ : مشرق وسطى كى پيچيدگى كے بارے ميں راہ حل كى اساس اس پر ہے كہ اسرائيل كے شرق ميں موجود عربى مملكت كو دو حصول ميں تقسيم كيا جائے: شمال ميں شام اور لبنان اور جنوب ميں عراق ، اردن، سعودى عرب ، فلسطين ( اگر تشكيل پاجائے ) اور ديگر عربى ممالك ان دو حصوں كے درميان ايك وسيع زمينى پٹى بنائي جائے كہ جسميں غير عرب طاقتيں ہوں اور يہ غير عرب ممالك كى مغرب سے مشرق تك كى ترتيب اسرائيل ، دروزى اور كرد وں پرمشتمل ہو اور اسرائيل شام كے جنوب ميں جبل الدروز كو اپنى حدود ميں ليتے ہوئے موجود ہو جبكہ كرد مملكت ايك جدا آشورى رياست كى حيثيت اسكے ساتھ ضم ہوجائے گي_

يہ كرد رياست شام كے مشرق اور عراق كے شمال ميں تشكيل پائے گى كہ يہيں سے لبنان كو بھى امداد فراہم كى جاسكتى ہے كہ جو شام كے عيسائيوں كو ملاتے ہوئے عيسائي اكثريت كى بناء پر عيسائي مملكت ہوگى ،پھر اسرائيل ان ممالك سے قرار داد باندھے گا تا كہ عربوں كے استعمار سے نجات پاليں يوں يہ ممالك عرب ممالك كى حكومتوں كيلئے خطرہ كى تلوار بن جائيں گے _(۱)

فلسطين كى تقسيم كے اس غير منصفانہ پروگرام كے بعد ۱۹۴۸ ميں رسمى طور پر مملكت اسرائيل تشكيل پائي كہ عربوں اور اسرائيل كے درميان دشمنى بڑھنے كى وجہ سے ۱۹۷۳، ۱۹۶۷، ۱۹۵۶، ۱۹۴۸ ميں ان ميں چار جنگيں ہوئيں كہ ۱۹۶۷ كى جنگ كا اہم نتيجہ فلسطين اور اسرائيل كے مسئلہ كا اسلامى مسئلہ بن جانے كى صورت ميں نكلا_ كيونكہ اس جنگ ميں اسرائيل نے اپنے ہمسايہ ممالك (اردن، شام اور مصر) كے بعض سر حدى علاقوں پر قبضہ كرليا_ اس دوركے بعد سے تمام اسلامى ممالك اس مسئلہ ميں اكھٹے ہوئے اس مشتركہ مفاد كے حصول كى خاطر۱۹۷۳ ميں جنگ ہوئي اور ۱۹۷۳ ميں توانا ئي كى بحران كے بناء پر دنيا كے سب سے زيادہ

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۱۹۰، ۱۸۸ نيز ، روكاج ، لبوبا، تروريسم مقدس اسرائيل ، ترجمہ مرتضى اسعدى ، تہران ، كيہان، ۱۳۶۵، ص ۷۶، ۶۸_


توجہ عرب و اسرائيل كے مسئلہ كو حل كرنے كيلئے مبذول ہوگئي اوربہت سى قرار داديں اور مصالحتى كانفرسيں تشكيل پائيں ليكن يہ سب اقدامات اسرائيل كى ہٹ دھرمى اور سركشى كى بناء پر ملت فلسطين كيلئے سودمند ثابت نہ ہوئے ،مثلا ۱۹۶۷ ميں ايگل آلن كا راہ حل ، ۱۹۷۲ ميں شيمون پيرز كا حل، ۱۹۷۸ ميں كمپ ڈيوڈ كى قرارداد، ۱۹۸۱ ميں فہد كى مصالحتى قرار داد _ ۱۹۸۲ ميں ريگن كى مصالحتى قرار داد ، ۱۹۸۹ ميں اسحاق شامير كاراہ حل، ۱۹۹۱ ميں ميڈرڈكى مصالحتى كانفرنس اور اسى طرح ديگر چند قرار داديں سب نا كام ہوئيں _(۱)

اسرائيلى مملكت اپنى خاص ماہيت ( سياسى صہيونيزم) اور تشخص( جنگوں اور غاصبانہ تسلط كاتسلسل) كى بناء ہميشہ توسيع پسندى ميں پڑى ہوئي ہے ہر تجاوز اور لوٹ مار كے بعد ايك اور زندگى كے قابل قدرتى ذرايع سے مالا مال سرزمين پر طمع كى آنكھ گاڑ ليتا ہے لہذا يہ پھيلنے اور بڑھنے والى سرحديں اور قرار داديں كبھى بھى باضابطہ طور پر قابل اعتماد نہيں ہيں _

در حقيقت طاقت كى تكون كہ جو آج اسرائيلى صہيونى سياست كو چلاتى ہے وہ جنگى مجرموں كى تكون ہے _ ان ميں سب سے پہلے بيگن ہے كہ جسے بن گورين نے حقيقى ہٹلر كا لقب ديا ہے ،دوسرا جنرل آريل شيرون جيسے اپنے جلادانہ صفات كى وجہ سے قصاب لبنان كا لقب ملا ہے اور تيسرا اسحاق شامير ہے جسكا ماضى نسل پرستى سے بھر پور ہے _(۲)

مشرق وسطى كے حساس علاقے ميں صہيونى حكومت كى ہوس و طمع باعث بنى كہ اسلامى ممالك اپنا بے پناہ بجٹ اسلحہ اور فوجى مقاصد كيلئے قرار ديں ،عسكرى امور ميں ہر روز بڑھتى ہوتى رقم سے علاقہ ميں باہمى جنگ كا خطرہ بھى بڑھتا ہوا محسوس ہو رہاہے _ صہيونى حكومت كے تباہ كن اسلحہ كے كارخانوں نے اس علاقہ كو بحرانى كيفيت ميں ڈال ديا ہے اسى وجہ سے مشرق وسطى كى بعض حكومتيں دنيا ميں اسلحہ كى سب سے بڑى خريدار شمار

____________________

۱) سيامك كاكالى ، تا ثير طرح نظم نويں جہانى بر صلح اعراب و اسرائيل ، سلسلہ مقالات خاورميانہ شناسى ،مركز پوہشہاى علمى و مطالعات استراتيك خاورميانہ ، فروردين ۱۳۷۵، ص ۲۰_ ۱۴_

۲) روہ گارودى ، سابقہ حوالہ، ص ۱۷۰_ ۱۵۷_


ہوتى ہيں ،مثلا ۱۹۹۵ ميں سعودى عرب نے ۱/۸ ارب ڈالر، مصر نے ۹/۱ ارب ڈالر اور كويت نے ايك ارب ڈالر اسلحہ كے حصول كيلئے خرچ كرتے ہوئے اسلحہ كے خريداروں كى فہرست ميں سب سے پہلے آگئے ،گيارہ ستمبر كے حادثے اور مشرق وسطى ميں اغيار كى فوج كى موجودگى كہ جو دہشت گردى سے مقابلے كے بہانہ كى بناء پر آئي ہے اورماضى قريب ميں صہيونى حكومت كى حركات كى وجہ سے مشرق وسطى كا علاقہ دوبارہ بحران زدہ اور فوجى نقل و حركت كا مركز بن گياہے_(۱)

صہيونى حكومت ذرائع ابلاغ پر تسلط كى اپنى وسيع كوشش ميں يہانتك كامياب ہوگئي ہے كہ اس نے دنيا كى معروف خبرايجنسيوں اور مشہور بين الاقوامى ٹيلى وين چينلوں كو اپنے كنٹرول ميں لے ليا ہے اور يہ چيز اس دور ميں بہت اہم محسوس ہوتى ہے كہ جسے ( communication )(روابط كے دور )سے تعبير كيا گيا ہے اور دنيا ايك چھوٹے سے قصبے كى شكل ميں آگئي ہے ،ذرائع ابلاغ پر تسلط كى بنيادى وجہ لوگوں كے اذہان اور انكے ماحول كو اپنے مقاصد كيلئے ہموار كرنا ہے اور مجموعى طور پر يہ سب كچھ اسلام اور مسلمانوں پر ثقافتى حملے كيلئے انجام پايا ہے(۲) _

ان سب كے باوجود اسلامى بيدارى اسلامى ممالك كى سياسى طاقت كى صورت ميں تشكيل پارہى ہے_

مسلمان اپنے اسلامى تشخص اور كلچر كے سہارے سے اپنے ابدى و تابندہ مشن كو زندہ كرنا چاہتے ہيں ، بہت سى اسلامى تحريكوں كا وجود مثلا حزب اللہ كى انقلابى تحريك ، حماس، اسلامى جہاد اور انتفاضا (صہيونى دشمن كے مقابلے ميں مزاحمت كى تحريك )اور عالم اسلام كى ديگر تحريكيں اسى حقيقت كو روشن كر رہى ہيں ،عالمى كلچر كي

____________________

۱) جہانگير معينى علمداري،'' ملاحظاتى دربارہ طرح نظم امنيتى جديد در خاورميانہ '' فصلنامہ مطالعات خاورميانہ ش ، ش۴، زمستان۱۳۸۰، ص ۶۳، ۶۸، ۶۷ ،نيز رجوع كريں ، بين اسدى ، حادثہ ۱۱سيپتامبر و آثار آن بر موقعيت سياسى خليج فارس ، فصلنامہ مطالعات خاورميانہ ، س ۹، ش ۳ ، پائيز ۱۳۸۱ ص ۵۲ _ ۴۶_

۲) محمد على ابطحى ، '' بررسى ابعاد تہاجم فرہنگى صہيونستى بہ جہان اسلام وعرب'' ، راہبرد ، ش ۵، زمستان ۱۳۷۲ ، ص ۶۰، فواد بن سيد عبدالرحمان رخاعي، نفوذ صہيونيسم بر رسانہ ہاى خبرى و سازمانہاى بين المللى '' ترجمہ حسين سر و قامت ،تہران ،ص ۷۶_ ۷۵_


تشكيل ميں مسلمانوں كى تہذيب اور ماضى واضح ہے اس تمدن كى يورپ، ايشيا اور شمالى افريقا ميں تاريخ اس حد تك مكمل اور وسيع ہے كہ كوئي بھى تہذيب يا ثقافت تاريخ ميں اس حدتك استوار نہيں رہا _ اس ثقافت اور تہذيب پر تكيہ كرنابلا شبہ ايك عظيم سرمايہ ہے كہ جو عالم اسلام ميں دينى اور قومى سطح پر اعتماد كى فضا كو مستحكم كرتا ہے اور اسے صہيونزم كے پست كلچر كے مقالے ميں محفوظ ركھتاہے(۱)

دوسرى طرف سے اسرائيلى حكومت ايك سرگردان اور آوارہ معاشرہ كى حيثت اختيار كرچكى ہے اس معاشرہ ميں عدم استحكام كامركز انكے قومى تشخيص ميں كسى ايك نمونہ پر متفق نہ ہونا ہے ،يہ معاشرہ بے پناہ تضادات كے ساتھ محض اقتصادى سسٹم اور بيرونى سياسى حمايت كے كى بناء پر اپنے وجود كو بحال ركھے ہوئے ہے حالانكہ اندرونى طور پر معاشرہ تزلزل كى كيفيت سے دو چار ہے_ يہودى معاشرے ميں نسل پرستى كى پيچيدہ مشكل اپنى جگہ باقى ہے كہ جسكى بناء يہ قوم واضح طور پر تفريق اور امتيازى سلوك كے مختلف رويوں سے دوچار ہے يہى چيز اسكى بنيادوں كو كمزور كر رہى ہے(۲)

اسلامى ممالك پر اہل مغرب كے استعمار كى بنيادى وجہ وہاں كے لوگوں كے دينى اور نظر ياتى اصول فراہم كرتے ہيں انكے مد مقابل عالم اسلام كو بھى چاہيے كہ وہ اسلام ، اسلامى تہذيب اور اسلامى تشخص كى طرف لوٹ جائے اور صہيونزم كے ساتھ جنگ كو عربى جنگ كى بجائے اسلامى جنگ كے عنوان سے لے اور پھر صہيونزم اور عالمى استعمار كا مقابلہ كرے_(۳)

____________________

۱) محمد على ابطحي، سابقہ حوالہ، ص ۷۲_ ۶۹_

۲) اصغر افتخارى ، ابعاد اجتماعى برنامہ امنيتى اسرائيل، دستور كارى براى قرن بيست و يكم ،فصلنامہ مطالعات س ۴_ ش ۴، پائيز ۱۳۸۲، ص ۸_ ۶ نيز جامعہ شناسى سياسى اسرائيل ، تہران، مركز پوہشہاى علمى و مطالعات استراتيك خاورميانہ، ۱۲۸۰، ص ۱۳۸_ ۱۱۷ _

۳) '' بيانات رہبر معظم انقلاب اسلامى ديدار شركت كنندگان در ھمايش جہان اسلام '' گفت گو ، س ۱۷، ض ۱۷۷، بہمن ۱۳۸۲، ص ۱۸_ ۱۴_


دسواں باب:

اسلامى بيداري


۱) عرب دنيا ميں اسلامى بيدارى :

ايرانيوں كى مانند عرب بھى جب سے يورپى حكومتوں سے آشنا ہوئے تھے كى اسى زمانہ سے اپنى پس ماندگى اور يورپ كى ترقى سے آگاہ ہوگئے تھے _اب تك اس پسماندگى كے خلاء كو پر كرنے كيلئے بہت سے راہ حل سامنے آئے ہيں ان ميں سے ايك اسلام (بحيثيت ايك دين اور تمدن كے ) كى طرف لوٹنا ہے _(۱) اس پسماندگى كى وجوہات كے بارے ميں جو جوابات دے گئے ہيں انہيں ہم چار اقسام ميں تقسيم كريں گے_ البتہ يہاں يہ نكتہ قابل غور ہونا چاہيے كہ يہ تقسيم ان جوابات كے بارے ميں ہے كہ جو اسلامى بيدارى كى بحث ميں عرب دانشوروں كى طرف سے سامنے آئے ہيں _ لہذا ان كا نيشنلزم، سوشلزم اور آئيڈلزم سے كوئي ربط نہيں ہے يہ رحجانات مندرجہ ذيل ہيں : ۱_ عرب تمدن پسند ۲_ مسلمان تمدن پسند ۳_ اسلامى روايت پسندى ۴_ اسلامى اصول پسندي_

مندرجہ بالا تقسيم كى بناء پر پہلے رحجان كے بڑے مفكرين ميں سے طہطاوى اور خيرالدين تيونسي(۲) ہيں دوسرے رحجان كے سب سے بڑے مفكر سيد جمال الدين اسد آبادى اور كچھ حد تك محمد عبدہ ہيں جبكہ تيرى رحجان كے اصلى سخن گو رشيد رضا ہيں اور چوتھے رحجان كے فعال مفكرين ميں سے حسن البنا سيد قطب اور اخوان المسلمين ہيں _

تاريخى لحاظ سے ہم جوں جوں موجودہ زمانہ كے نزديك ہوتے جاتے ہيں اسلامى اصول گرائي كا رحجان

____________________

۱) محمد عمارة '' الاسلام و القوميہ العربيہ و العلمانية '' قضايا عربية السنة ۷ ،۱۹۸۰ العدد ۵ ،ص ۶۹_

۲) بنقل فرہنگ رجايي، انديشہ سياسى معاصر در جہان عرب ،تہران ۱۳۸۱، ص ۱۶۸_


ديگر فكرى رحجانات پر غلبہ پاجاتا ہے اور ديگر فكرى رحجانات كو پس منظر ميں لے جاتاہے_اس رحجان ميں اہل مغرب سے مخالفت كا عنصر بڑھ جاتا ہے اور جنگجويانہ صفات واضح ہونے لگتى ہيں اور يہ رجحان اسلامى ممالك كى حكومتوں سے دورى اختيار كرنے لگتاہے ،اسميں سلفى نظريات مستحكم ہونا شروع ہوجاتے ہيں يہ ايك فكرى تحريك سے بڑھ كر ايك عوامى اور سياسى تحريك ميں تبديل ہوجاتا ہے _ اس قسم كے انقلابات ميں ايك اہم مسئلہ گذشتہ نظريات كى شكست ہے كہ جسكى بناء پر اصول پسند رحجان كى تشكيل ہوتى ہے_

الف) عرب تمدن پسند رحجان: نئے سرے سے اسلامى بيدارى كى لہر مصر ميں طہطاوى اور تيونس ميں خيرالدين پاشا تيونسى كے ذريعے شروع ہوئي _ طہطاوى كے افكار كا محور يہ تھا كہ مسلمان يورپى علوم كو حاصل كيے بغير ترقى نہيں كرسكتے _(۱)

طہطاوى يورپ كا بہت تعريف سے ذكر كرتے ہيں اور انكے سياسى شعبوں كو تحسين كى نگاہ سے ديكھتے ہيں يہ مفكر اصل ميں مغرب كى استعمارى حيثيت كہ جو اسلامى معاشروں كى تنزلى كا باعث قرار پائي اس سے غافل ہيں ،اس سوال كا جواب كہ انكے رحجان كو'' عرب تمدن پسند ''_رحجان كا نام كيوں ديا گيا ؟يہ ہے كہ طہطاوى فقط عربوں كى فكرى ترقى پر مصر ہے_

خيرالدين تيونسي، طہطاوى سے بھى زيادہ آگے بڑھ جاتے ہيں اگر چہ انكے افكار كى اساس وہى يعنى طہطاوى كى مانند تھى _ انكى فكر دو بنيادوں پر استوار تھى پہلى يہ كہ اسلامى فقہ اقتصادى اور ثقافتى سطح پر زندگى كى ترقى اور بہبود كيلئے جارى ہونے والى اصلاحات كو منع نہيں كرتي،دوسرا يہ كہ يورپى تہذيب كى اساس چونكہ زيادہ تر ان چيزوں پرقائم ہے كہ جو ماضى ميں اسلام نے انہيں عطا كيں اس ليے اب يہ مسلمانوں كى ذمہ دارى ہے كہ انہيں لوٹا ئيں _(۲)

____________________

۱) حميد عنايت، سيرى در انديشہ سياسى در اسلام، ترجمہ بہاء الدين خرمشاہي، تہران، خوارزمى ص ۳۴_

۲) حشام شرابي، سابقہ حوالہ ،ص ۵۵_


مجموعى طور پر كہا جاسكتا ہے كہ عرب تمدن پسند رحجان كى مندرجہ ذيل خصوصيات ہيں :(۱)

۱: مغربى تہذيب و تمدن كے اصل ہونے اور اسكى بڑائي كوقبول كيا گيا ہے اور مسلمان يہ توانائي اور استعداد ركھتے ہيں كہ وہ مغربى فنون اور تمدن كو حاصل كرنے ميں كامياب ہوں كيونكہ مغربى علوم وہى اسلامى علوم ہى ہيں _

۲: اس رحجان كے يہ دونوں برجستہ مفكر حكومتى عہدہ دار تھے مغربى تہذيب اور تكنيك كے حصول اور مسلمانوں كى ترقى كو حكومت كى ذمہ دارى شمار كرتے تھے ،اسى ليے انكى تحريك كو لوگوں كى سياسى تحريك شمار نہيں كيا جاسكتا اور نہ ہى عوام انكے سب سے پہلے مخاطب تھے _

۳: انكى روش اور انداز مصلحانہ ہے وہ يورپى اداروں اور شعبہ جات كے تجربوں كى بنياد پر اپنے معاشرے كے سياسى اور معاشرتى اداروں اور شعبہ جات كى اصلاح كرنا چاہتے تھے_

۴: يہ گروہ اسلام اور يورپى تمدن ميں بنيادى طور پر تضاد كے امكان كے بارے ميں غور نہيں كر رہا تھا، كيونكہ وہ اس بات پر يقين ركھتے تھے كہ بنيادى طور پر مغربى تہذيب كا سرچشمہ اسلام ہے اور يہ يورپى علوم وہى گذشتہ ادوار ميں اسلامى علوم كا ترجمہ ہيں ،لہذا انكا مقصد يہ تھا كہ يورپى تہذيب كو اپنے ہاں لانے كيلئے كوئي معيار بنايا جائے انكى نظر كے مطابق فقط غير دينى شعبہ ہائے زندگى كى بہترى كى ہى ضرورت ہے_

۵: يہ لوگ اسلامى امت كى وحدت كے افكار كے حامل نہ تھے انكى نگاہ مكمل طور پر اپنے وطن كى حد تك محدود ہے _ يہاں تك كہ جب بھى عربى وطن كے بارے ميں گفتگو كرتے ہيں تو انكى مراد تمام عرب زبان ممالك نہيں ہيں بلكہ اصل ميں انكامقصود ايك ملك ہے مثلا طہطاوى كى عربى وطن سے مراد مصرہے _

ب) مسلمان تمدن پسند رحجان: اس رحجان اور پہلے رحجان ميں كچھ مشتركہ امور ہيں حقيقت ميں اسلامى بيدارى كى آواز اٹھانے والوں كى دوسرى نسل كو مسلمان تمدن پسند كا نام ديا جاسكتا ہے كہ اس گروہ كى مشہور و

____________________

۱) حسن حنفى ، الاصولية الاسلامية ، قاہرہ، مكتبہ مدبولي، ص ۲۰_


ممتاز شخصيات سيد جمال الدين افغانى اسد آبادى اور شيخ محمد عبدہ ہيں البتہ اس فرق كے ساتھ كہ سيد جمال پہلى نسل كے زيادہ قريب ہيں جبكہ شيخ عبدہ اپنے بعد والى نسل اسلامى روايت پسندوں كے زيادہ قريب ہيں ، سيد جمال كى اصلاحى تحريك كے مختلف پہلو ہيں ليكن انكى اس اصلاحى تحريك كى اصلى روح عالم اسلام ميں ''جديديت '' پيدا كرنا ہے _ سيد جمال كا ہدف يہ ہے كہ عالم اسلام اور مسلمان عصر جديد _ اسكى خصوصيات اور اسكى تشكيل كے بنيادى اسباب سے آشنا ہوں اور ايسے اسباب فراہم كيے جائيں تاكہ مسلمان بھى اس جديد دنيا اور نئي تہذيب ميں كوئي كردار ادا كريں _اور وہ علم و عقل جيسے بنيادى عناصر اور ديگر عناصر مثلا جمہورى سياسى شعبہ جات كى مدد سے اپنى طاقت كو بڑھائيں _

شايد اسى ليے كہا جاسكتا ہے كہ سيد جمال كى توجہ كا بنيادى محور تشخص كا حصول نہ تھا بلكہ يہ تھا كہ كيسے عالم اسلام كو طاقت و توانائي دى جاسكتى ہے ،سيد جمال كے نظريہ كے مطابق مغرب كى جديد اور ماڈرن تہذيب اسلامى اصولوں كى اساس پر سامنے آئي ہے، يہاں سيد جمال عرب تمدن پسند رحجان ركھنے والوں كے برعكس دو بنيادى چيزوں پر تاكيد كرتے ہيں پہلى يہ كہ اقوام كى زندگى ميں دين كا كردار ناگزير ہے ،دوسرا يہ كہ جديد زندگى كے تقاضوں كے مطابق جديد شعبہ ہائے زندگى اور نئي فنى مہارتوں كى ضرورت ہے _(۱)

سيد جمال كے دو اصلى مقاصد يعنى اتحاد بين المسلمين اور مغربى تسلط كے خلاف جنگ انكى فكر كو عرب تمدن پسند رحجان والوں سے مختلف شمار كرتے تھے_ سيد جمال كى نظر ميں عالم اسلام ايك متحد مجموعہ كى شكل ميں ہے_ كہ جسكے اتحاد اور منظم ہونے كى صورت ميں مسلمان يورپى تسلط كے مقابلے ميں دفاع كرسكتے ہيں _ لہذا سيد جمال كى يورپ اور انكے كردار و رفتار پر نگاہ پہلے گروہ كى نسبت بہت زيادہ گہرائي پر مبنى تھي_

____________________

۱) سيد جمال نے عروة الوثقى كے اكثر مقالات اور بعض فارسى مقالات ميں اس مسئلہ پر تاكيد كى ہے بعنوان مثال رجوع كريں _ سيد جمال الدين اسد آبادى ، مجموعہ رسائل و مقالات، با سعى سيد ہادى خسروشاہى ،انتشارات كلبہ شروق ص ۱۳۴_ ۱۳۲_


اگر چہ سيد جمال علم و صنعت ميں يورپ كى ترقى كو قبول كرتے تھے مگر يورپ كے عالم اسلام پر تسلط پر بہت زيادہ حساسيت ركھتے تھے لہذا انہوں نے اپنى صلاحيتوں كا بيشتر حصہ اس تسلط كے خلاف جہاد ميں صرف كيا ،اس جہاد ميں كبھى وہ اسلامى حكومتوں سے مخاطب ہوتے تھے اور كبھى اسلامى اقوام كو خطاب كرتے تھے _ يہى چيزباعث بنى كہ انكى سياسى تحريك لوگوں كى طرف سے ايك عوامى تحريك كى شكل ميں سامنے آئي انكى فعاليت پہلے گروہ كے مصلحانہ افكار سے كہيں زيادہ بڑھ گئي _

يہانتك كہ يہ تحريك ايران ميں انقلابى رنگ اختيار كرگئي_ اور اس نے ناصر الدين شاہ كے آمرانہ نظام كے مقابلے ميں علماء اور عوام كو انقلاب كيلئے ابھارا اورسلطنت عثمانيہ ميں يہ سياسى تحريك عثمانى سلطان كى مخالفت كى شكل ميں سامنے آئي اور شايد ''باب عالي'' كے ہاتھوں اسكى موت كا باعث بھى قرار پائي _

سيد جمال كے جدت پسندانہ افكار كا ايك اور بنيادى نكتہ يہ تھا كہ جس وقت دہ واضح طور يہ مسلمانوں كو اسلامى سرزمينوں پر يورپ كے تسلط كے خلاف ابھار رہے تھے تو ساتھ ساتھ مغرب كى علمى اور صنعتى ثمرات سے سيكھنے اور استعمال ميں لانے پر تاكيد كرتے ہوئے مغرب كى تقليد كو مسترد بھى كر رہے تھے ،اسى ليے وہ اسلامى معاشروں كى موجودہ صورت پر بھى تنقيد كرتے رہے تھے_(۱)

مجموعى طور پر مسلمان تمدن پسند گروہ كے بنيادى محور يہ تھے :۱_ مسلمانوں كى تہذيب كى تشكيل اور انكے اقتدار كى وسعت كيلئے عقل ، علم اور اسلامى توانائي و استعداد كى بنيادى اہميت پر تاكيد ۲_ اسلامى امم ميں اتحاد اور يكجہتى اور يورپى تسلط كے خلاف جہاد ; يہ محور مختلف ادوار ميں تشكيل پائے اور پھر تغير و تبديلى كا شكار بھى ہوئے_

ج ) اسلامى روايت پسند رجحان: اگر مسلمان تمدن پسند رجحان والے اسلامى معاشروں ميں علمى احياء اورجديد افكار كو جذب كرنے اور يورپ كى جديد فنى ايجادات كے استعمال كو اسلامى احياء سے تعبير كرتے تھے تو اسلام روايت پسند رجحان والے بالخصوص انكے برجستہ مفكر رشيد رضا كہ جو سلفى روش كے عالم تھے،

____________________

۱) سابقہ حوالہ ص ۱۲۱_


اسلامى احياء كو '' اسلامى بزرگان'' كى سيرت و روش كى طرف لوٹ جانے سے تعبير كرتے تھے_ كہاجاسكتا ہے كہ اسلامى حكومتوں كى عصر جديد كى علمى و سياسى ترقى كو جذب كرتے ہوئے گذشتہ گروہوں كے افكار كو لباس حقيقت پہنانے ميں ناكامى اور اسكے بجائے نام نہاد '' تہذيب و ترقى '' كے جال ميں پھنسنے نے اسلامى روايت پسند رحجان والے لوگوں كو مغربى ثقافت اور اسلامى تشخص كے پامال ہونے كے خطرات پر بہت زيادہ پريشان كرديا تھا اور يہ اسلامى روايت پسند رجحان ان پريشانيوں كا جواب تھا_

ہراير دكمجيان سيد جمال، عبدہ اور رشيد رضا كو سلفى رحجان كے حوالے سے مورد مطالعہ قرار ديتا ہے(۱) حالانكہ يہ تركيب واضح خطاء ہے كيونكہ اسلامى روايت پسند رحجان يقينا جدت پسند رحجان سے دور ہوكر حتى قدامت پسندى كى طرف مائل ہوجاتاہے_

جدت پسند لوگ عصر جديد كے تقاضوں كو مد نظر ركھتے ہوئے اسلامى مفاہيم كى اصلاح اور ان تقاضوں سے ہم آہنگى كے درپے تھے جبكہ روايتى اسلام پسند سختى سے اسلامى روايات كے پابند تھے اور مغربى تہذيب كى ثقافتى اور سياسى پيشقدمى كے خلاف حساسيت ركھتے تھے_ مجيد خدوّرى بالكل صحيح انداز سے رشيد رضا كو روايت پسند رحجان كى حدود ميں جن كو جديديت كى چمك دمك دى گئي ہے ،محور تجزيہ قرار ديتے ہيں اگر چہ رشيد رضا بظاہر جدت پسند ہيں ليكن اندورنى طور پر انكا روايت پسند رجحان سے تعلق واضح تھا_

رشيد رضا كى سلفى روش نے انہيں احاديث پر توجہ ميں افراط كى حد تك بڑھاديا جس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ روايت پسند رجحان ركھتے تھے جس نے انہيں وسيع النظر نہ ہونے ديا ،اسى ليے وہ سيد جمال كے اتحاد و وحدت پر مبنى نظريا ت سے بھى دور ہوگئے اور انكى شيعہ مسلك كے بارے ميں معاندانہ روش شيعوں كے بارے ميں سلفى دشمنى كى ياد دلاتى ہے_

____________________

۱)ہراير دكمجيان ، جنبش ہاى اسلامى معاصر، ترجمہ حميد احمدي، كيہان ۱۳۷۰ ص ۳۳_


بہرحال رشيد رضا كے روايت پسند سياسى نظريات ميں قانون كى حكومت ،آزادى اوران شرائط پر تاكيد نہ تھى كہ جن پر طہطاوى اور سيد جمال نے اپنے جدت پسندرحجان كى بناپربہت زيادہ زور ديا تھا بلكہ وہ اس اسلامى نظام كو دائرہ عمل ميں لانے كے درپے تھے كہ جو صدر اسلام كے تخيل پسند عناصر پر استوار تھا جو ہر قسم كے دنياوى رحجانات، قومى اور مسلكى تعصب سے پاك تھے ( ۱)

رشيد رضا كے نظريہ كے مطابق مغرب والوں نے ترقى كے مراحل كو طے كرنے كيلئے اسلامى اصولوں پر عمل كيا جبكہ خود مسلمانوں نے ان اصولوں كو چھوڑديا ہے_ اگر چہ رشيد رضا نے اپنے روايت پسند رحجان كى طرف بڑھنے ميں مغرب والوں كو موردبحث قرار نہيں ديا بلكہ انكے افكار كى روش سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ اہل مغرب كى نسبت معاندانہ انداز ركھتے تھے اور ان ميں مسلمان تمدن پسند اور عرب تمدن پسند رحجان والوں كى طرح كى روشن بينى كا فقدان تھا(۲) _

حسن حنفى رشيد رضا كى فعاليت كا خلاصہ يوں بيان كرتے ہيں كہ رشيد رضا نے اصلاح پسند ، جدت پسند اور ترقى طلب افكار ميں ايك عمر گذارنے كے بعد طہطاوي، سيد جمال اور عبدہ جيسے رہنماؤں كى تاثير سے رہائي پاتے ہوئے محمد بن عبدالوہاب كے دامن ميں پناہ لي_ جس نے انہيں ابن قيم جو زيہ اور ابن تيميہ اور پھر احمد بن حنبل تك پہنچايا_ جسكى بناء پر رشيدرضا نے بجائے اسكے كہ جديد دور كے ماڈرن اصولوں كى طرف رحجان اور عصر حاضر كى تبديليوں كے ساتھ مطابقت كى بجائے كے مغرب سے جنگ و يلغار كو ترجيح دى _(۳)

د) اسلامى اصول پسند رحجان:جاك برك جو اسلامى اصول پسند رحجان كے بارے ميں جو تجزيہ و تحليل كرتے ہيں اس ميں وہ بيسويں صدى ميں اسلامى ممالك كى طرف سے سائنسى ترقى كے حامل موجودہ

____________________

۱) مجيد خدورى ، سابقہ حوالہ ،ص ۳۰، ۹_ ۷۸،محمد رشيد رضا، السنة و الشيعة ، قاہرة ، ص ۵۹_۵۴ و ۷۹، حميد عنايت، سابقہ حوالہ ،ص ۹۷_

۲) Albert Hourani ، Arabic Thoagh in the Liberal Ages Oxford University Press ، in ۱۹۶۲ ، p ۲۳۹

۳) حسن الحنفي، سابقہ حوالہ ،ص ۴۲_


زمانے اورتمدن كے تقاضوں كے مطابق مناسب ماڈلز پيش كرنے ميں ناكامى كو انكے شدت پسند ہونے كى وجہ بتاتے ہيں ،وہ اسلامى معاشروں كے اندر اس رجحان كى اہم ترين علت دروازہ اجتہاد كا بند ہونا اور بدعت سے جنگ كے بہانے اصلاحات كى تحريكوں كو كچلنا سمجھتے ہيں(۱)

حقيقت ميں ان شكستوں كے ساتھ ساتھ اصلاحات كو عملى جامہ پہنانے ميں ناكامى نے ايك اندوہناك ٹريجڈى كى شكل ميں عربوں كى روح كو آرزدہ كرديا اور انہيں ايك ہٹ دھرم اور معاندانہ رويے كے حامل طبقے اورشدت پسند سياسى گروہوں كے درميان سرگردان كرديا_

اخوان ا لمسلمين كے بانى حسن البناء اسلامى اصلاح پسند مفكرين كے بارے ميں يوں اظہار خيال كرتے ہيں كہ: جمال الدين افغانى اسد آبادى مسلمانوں كى موجودہ مشكلات كيلئے ايك پكار اور تنبيہ تھے ،شيخ محمد عبدہ فقط ايك معلم اور فلسفى تھے اور رشيد رضا ايك مورخ اور وقايع نگار تھے جبكہ اخوان المسلمين جہاد، تلاش اور كام كا نام ہے نہ كہ محض ايك پيغامبر ہے_(۱)

اخوان المسلمين ايك سياسى اور مذہبى تحريك ہے كہ جو اسلامى معاشروں ميں اساسى تبديلى كى خواہاں ہے_ اخوان المسلمين كا ايك اساسى عقيدہ يہ ہے كہ مسلمانوں كے معاشرتى اور سياسى مسائل كے حل ميں اسلام سے بڑھ كر كوئي اور طاقت موجود نہيں ہے(۳) يہ عقيدہ حقيقت ميں اسلامى اصول پسند رحجان كا محور اور روح ہے_

اگر حسن النباء اخوان المسلمين كے سياسى رہبر تھے تو سيد قطب اور محمد غزالى جيسے افراد اخوان المسلمين كے فكرى پہلوكے برجستہ نمايندے تھے_

____________________

۱) سارا شريعتي، بنياد گرائي و روايتى معقول از چپ اسلامي، روزنامہ ايران شنبہ ۲۶/۵/۸۱، ص ۸_

۲) بہمن آقاى و خسرو صفوي، اخوان المسلمين، تہران، نشر رسام، ۱۳۶۵ ،ص ۲۱_

۳) حميد عنايت ، سابقہ حوالہ ، ص ۱۰۷_


كہنا يہ چاہيے اسلامى بيدارى كى تحريك ميں اوّل سے اب تك تغير و تبدل كے اس دورانيے ميں طہطاوى ، خيرالدين پاشا تيونسي، سيد جمال، محمد عبدہ، رشيد رضا اور سيد قطب بنيادى اور واضح فرق ركھتے ہيں اور ہم جوں جوں آگے بڑھيں تومبارزہ اور جہاد كى خصلت شدت اختيار كرتى ہوئي محسوس ہوتى ہے اور غربى ثقافت سے اقتباس كے رحجان سے جدا ہوجاتى ہے ،سيد قطب كے نظريات اسى اصول پسند اور جہادى رحجان كو بيان كرتے ہيں :

سيد قطب عصر حاضر ميں موجود تمام معاشروں كو جاہليت سے تعبير كرتے ہيں اور يورپى معاشروں كو ماڈرن جاہليت كے عروج سے تعبير كرتے ہيں يہيں سے ا نكے افكار كا گذشتہ اسلام پسند مفكريں كے نظريات سے اساسى فرق سامنے آتا ہے كہ جو يورپ كى برتر ى اور ترقى يافتہ تہذيب كو قبول كرتے تھے_ سيد قطب نے كلمات'' ترقي'' اور ''پسماندگى '' كى از سر نوتعريف كى اور ترقى كيلئے جديد معيار اور ضابطوں سے آگاہ كيا_

سيد قطب اس بات پر تاكيد كرتے تھے كہ ترقى يافتہ معاشرہ و ہ معاشرہ نہيں ہے كہ جو مادى ايجادات ميں سب سے بلند ہو بلكہ وہ معاشرہ ترقى يافتہ ہے كہ جو اخلاقى برترى كو آشكار كرے ،وہ معاشرہ جو علم و فن ميں عروج پر ہے ليكن اخلاقيات ميں پست ہے وہ ايك پسماندہ معاشرہ ہے جبكہ وہ معاشرہ جو كہ اخلاقيات ميں سب سے بلند ہے اگر چہ علم اور مادى ايجادات ميں پيچھے ہے وہ ترقى يافتہ معاشرہ ہے_(۱)

امام خمينى (رہ) كى تحريك اسلامى اصول پسند رحجان كا عروج شمار ہوتى ہے كہ اسلامى جمہوريہ ايران كى تشكيل كى صورت ميں امام كى كاميابى سے متاثر ہو كرپورى دنيا ميں اسلامى تحريكوں نے قوت پكڑلي_ امام خمينى كا تفكراورنظريہ در حقيقت جداگانہ تشخص اور جديديت كا امتزاج تھا جبكہ اسلامى بيدارى كى تحريك كے گذشتہ قائدين مثلا سيد جمال ترقى اور جدت كے در پے تھے اور بعض جداگانہ اسلامى تشخص پر زور ديتے تھے ،امام

____________________

۱) سيد قطب، معالم فى الطريق، دارالمشرق، بيروت ، قاہرہ ، ۱۹۸، ص ۱۱۶، ۱۱۷، ۶۱_ ۶۰ دو رہيافت متفاوت، درجريان بازگشت بہ اسلام در جہان عرب _ ترجمہ دكتر سيد احمد موثقى ، فصلنامہ علوم سياسى ش ۱۲، ص ۲۷۴_


خمينى (رہ) جسطرح كہ جداگانہ اسلامى تشخص كو زندہ كرنے كے در پے تھے جديديت اور ترقى بھى انكى بحث و گفتگو ميں ايك خاص مقام كى حامل تھي_ ايسى ترقى كہ جو اسلامى تشخص كى حد بندى ميں تعريف ہوتى ہو_ امام كا سياسى نظريہ صرف اسلامى قالب اور صورت ميں پيش كيا گيا تھا اسى وجہ سے عالم اسلام ميں اسلام پسند تنظيموں اور تحريكوں ميں امام خمينى نے ايك خاص مقام اور ممتاز حيثيت پائي_(۱)

ايران ميں امام خمينى كى رہبرى ميں اسلامى انقلاب عالم اسلام ميں بہت سى اسلامى تحريكوں كے وجود ميں آنے اور بعض كى تقويت كا باعث بنا_

قوم پرستي، نيشنلزم اور لائيسزم كے زوال سے دنيائے اسلام ميں اسلام پسندوں كو قوت بڑھانے كا موقع ملا_ اسلامى انقلاب اور امام خمينى (رہ) كے افكار نے بھى انہيں بہت متاثر كيا ،عرب دنيا ميں اسلامى بيدارى كى تحريك كے قائدين ميں سيدقطب كے افكار كسى حد تك امام (رہ) كے نظريات كے قريب تھے_ آيت اللہ خمينى (رہ) اور سيدقطب دونوں كى نظر ميں تمام مسائل كا حل اسلام كى فہم اور سمجھ بوجھ ميں تھا_ اور دونوں دنيا كو تقابل كى صورت ميں يعنى ''ہم ''اور ''وہ ''كى صورت ميں ملاحظہ كرتے تھے_ آيت اللہ خميني(رہ) نے اس تقابل كے دونوں كناروں كو ''مستكبر ''اور '' مستضعف'' سے تعبير كيا جبكہ سيد قطب نے انہيں جاہليت اور اسلام سے تعبير كيا_ دونوں نے دنيا كے وہ مقامات جہاں اسلامى نظام حكومت موجود نہيں ہے ( ہم يہاں يہ بھى اضافہ كريں گے كہ وہ جگہ جہاں دينى طور و اطوار رائج نہيں ہے) وہ جاہليت اور استكبار كا مقام ہے_(۲)

امام اور سيد قطب جيسے مفكرين كى نظر ميں اسلام دين بھى ہے اور حكومت بھى ،لہذا مغرب كى اقدار اور رويّے اسلامى اقدار سے ہم آہنگ نہيں ہوسكتے_

____________________

۱) بابى سعيد، ہراس بنيادين، ص ۱۰۵، ۱۰۹ نيز:

JohnL. Esposito ، The Iranian Revolution: Its Global ، Miami: Florida ، International University Press ، pp. ۱۲-۱۳

۲) فرہنگ رجالي، پديدہ جہانى شدن وضعيت بشرى و تمدن اطلاعاتي، ترجمہ عبدالحسين آذرنگ نشر آگاہ ، ۱۳۸۰، ص ۶۹_


۲_ ايران ميں اسلامى بيداري

تاريخ ايران ميں آخرى دوصدياں سياسي، اقتصادي، معاشرتى اور دينى سطح پر مختلف تغيرات اور تبديليوں كى بناپر_اہم ادوار ميں سے شمار ہوتى ہيں يہ دور كہ جسے '' تاريخ معاصر ايران'' كے عنوان سے شہرت حاصل ہوئي ايران ميں قاجاريہ سلسلہ حكومت كے آغاز سے شروع ہوا_

ايسى حالت ميں جبكہ قاجار خاندان مملكت ايران پر پرانے رسم و رواج كے تحت بغير لوگوں كى رائے اور شراكت كے اپنى آخرى قبايلى حكومت كو مستحكم كرنے ميں لگے ہوئے تھے دنيا كے ايك اوركو نے ميں فرانس كا عظيم انقلاب آچكا تھاااور وہ لوگ نئے افكار اور نظام سے لوگوں كو متعارف كروا رہے تھے ،جسكى سب سے اہم خصوصيت سياسى طاقت كى مركزيت ايك فرد كى آمرانہ حكومت كے نظام سے ہٹاتے ہوئے جمہوريت اور ڈيموكريسى كى صورت ميں لانا تھا_

اس حساس دور ميں قاجارى ايك دھائي تك تخت و تاج پر قبضہ كرنے كى كشمكش كے بعد بھى كوئي نيا نظام سامنے نہ لاسكے بلكہ انہوں نے اسى انداز سے اپنى مرضى اور ارادہ كو ان حالات پر مسلط كيا اور حكومتى عہدوں كو اپنے افراد ميں تقسيم كرديا اور حكومت اسى طرح بادشاہى نظام ميں آمرانہ بنيادوں پر جارى رہي_(۱) اقتصادى حوالے سے حكومت سابقہ ادوار كى مانند سب سے بڑى حيثيت كى مالك تھى ،لوگوں كى اقتصادى اور معاشرتى زندگى كى باگ دوڑ حكومت كے پاس تھى اوردر آمدات كے ذخائر ميں بادشاہ لا محدود حقوق كامالك تھا اسى طرح اسكے زير حكومت سرزمين كے افراد كى جان و مال سب عملى طور پر اسكى مرضى اور منشاكے تحت تھے_(۲)

ايران يورپ سے اگر چہ دور تھا جو طاقتور ممالك كى رقابتوں كا مركز تھا ليكن انگريزوں كے ما تحت ہندوستان كى ہمسايگى كى وجہ سے اور يہ كہ ايران ہندوستان پر تسلط كيلئے بہترين تزويرى محل وقوع كا حامل

____________________

۱) ويلم فلور، جستارہايى از تاريخ اجتماعى ايران در عصر قاجار، ترجمہ ابوالقاسم سرى تہران، توس، ج ۲ ، ص ۲۰_

۲) احمد سيف، اقتصاد ايران در قرن نوزدہم ، تہران ، نشر چشمہ ۱۳۷۳، ص ۴۹_


تھا (وہ ہندوستان جودنيا ميں انگلستان كى سياست ، اقتصاد اور طاقت كا سرچشمہ تھا) فتح على شاہ قاجار كے زمانہ سے ايكدم استعمارى ممالك كى توجہ كا مركزبن گيا_ ديگر ممالك سے ايران كے خارجہ تعلقات كے سلسلے ميں نہ چاہتے ہوئے بھى كسى طرح سے روس، فرانس اور انگلستان بھى داخل ہوگئے اورايرانى حكومت اور معاشرتى نظام ميں كمزوريوں كے باعث ان ممالك سے روابط غير متوازن ہوگئے كہ جسكا نتيجہ استعمارى معاہدوں كو مسلط كرنا اور مملكت ايران كے شمال اور مشرق ميں اہم علاقوں كا اس سے جدا ہونے كى صورت ميں نكلا_

بڑى طاقتوں بالخصوص روس اور انگلينڈ كے مقابلے ميں ايران كى شكست سے بتدريج سب سے پہلے مروجہ سياسى نظام اور پھر معاشرتى سطح پر غير رسمى نظام ميں اہم تبديلياں پيدا ہوئيں ،يہ اہم تبديلياں مندرجہ ذيل ہيں :اصلاحات كا حتمى طور پر عسكرى اور صنعتى شعبوں ميں جارى ہونا اور پھر ديگر شعبوں بالخصوص سياسى سطح پر جارى ہونا ،اسى طرح اسلام اور دين كى اساس كى حفاظت كيلئے اسلامى بيدارى كے احساسات كا ظاہر ہونا اور اندرونى آمريت كامقابلہ كيا جانا اور غير ملكى استعمارگروں سے سامنا كى صورت ميں قاعدہ ''نفى سبيل ''كا استعمال ميں لانا ہمارا اس تحرير ميں ہدف يہ ہے كہ تاريخ معاصر ايران ميں اسلامى بيدارى اور اسكے نشيب و فراز كا تجزيہ كيا جائے_

قاجارى حكومت كے اوائل ميں ايرانى معاشرہ ميں مذہبى قوتوں بالخصوص مراجع تقليد كا ہميشہ كيلئے مذہبى قائدين كے عنوان سے سامنے آنے كے اسباب فراہم ہوچكے تھے نيز شيعہ علمى و دينى مراكزميں اہم تبديلى رونما ہوچكى تھى ، يہ تبديلى مجتہدين كى محدثين پر فتح با الفاظ ديگر اجتہادى اور اصولى روش كا حديثى اور اخبارى روش پر غلبہ تھا(۱) اجتہادى مكتب كو زندہ كرنے كے ليے وحيد بہبہانى كى كوششوں كى اہميت يہ تھى كہ انہوں نے ايسے شاگردوں كى تربيت كى كہ جنہوں نے ا سلامى بيدارى كى تحريك ميں اہم كردار ادا كيا_ مثلا كاشف الغطاء ملا مہدى اور ملا احمد نراقي_(۲)

____________________

۱) آقا احمد كرمانشاہي، مرآت الاحوال جہانما، بہ تصحيح و اہتمام على دوانى ، تہران ، مركز اسناد انقلاب اسلامى ، ۱۳۷۵، ص ۱۱۰_

۲) روح اللہ حسنيان ، چہاردہ قرن تلاش شيعہ براى ماندن و توسعہ، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامي، ج دوم ۱۳۸۲، ص ۱۹۵_ ۱۹۴_


متعدد تاليفات اور بنيادى امور جنہيں اسلامى بيدارى اور اصولى مكتب كے فكرى مقدمات كى حيثيت حاصل تھى _ طے كرنے كے بعد عملى مرحلہ شروع ہوا اس زمانہ ميں شيعہ علماء كو '' بيرونى استعمار '' كے عنصر كا سامنا كرنا پڑا_ علماء نے ان بيرونى تسلط پسندوں كے مد مقابل فقہى قانون'' نفى سبيل'' كا سہارا ليتے ہوئے محاذقائم كيا_ اس فقہى قانوں كى اساس يہ قرآنى آيت ہے'' لن يجعل اللہ للكافرين على المومنين سبيلاً''(۱) يہ آيت مسلمانوں پر كفار كے تسلط كى نفى كر رہى ہے_ جديد شيعہ انقلابى نظريہ ميں ايسى تعابيركہ جو آرام و سكون اور تسليم و پسپائي كى طرف دعوت ديتى تھيں انہيں ترك كرديا گيا اور انكى جگہ مبارزانہ اور انقلاب پسند جذبات نے لے لي_(۲)

فتحعلى شاہ قاجار كے زمانہ ميں ايران اور روس كے درميان جنگوں ميں ايران كى شكست كے بعد روس كا ايران كے ايك وسيع علاقہ پر قابض ہونے پر اصول پسند علماء كى طرف رد عمل كا اظہار تاريخ معاصر ايران ميں اصولى علماء كى طرف سے پہلى عملى مد اخلت شمار ہوتى ہے_

علماء نے روس كے ساتھ جنگ كوجہاد كا عنوان ديا_ كہا جاتا ہے كہ ايران و روس كے درميان جنگوں سے قبل بھى جہاد كے افكار ايرانى معاشرہ ميں موجود تھے ايران كے ساتھ دفاعى قرار دادوں كے باوجود انگريزوں اور فرانسيسيوں كا ايران پر روس كے حملے كے دوران ايران كى حمايت نہ كرنا اور روس سے ايران كى شكست كے بعد حكومت قاجاريہ اس نتيجہ پر پہنچى كہ مسلمانوں كى سرزمين سے روسى افواج كو دھكيلنے كے ليے علماء شيعہ كى مدد ليے بغير چارہ نہيں ہے ،ميزرا عيسى فراہانى كہ جسے قائم مقام اول كا لقب دياگيا تھا نے اس مسئلہ ميں فتوى حاصل كرنے كيلئے علماء كى حمايت اور تعاون حاصل كرنے كى ذمہ دارى اپنے كندھوں پر لى ،كچھ مدت كے بعد مقدس مقامات ا ور ايران كے دوسرے شہروں سے بہت سے فتاوى اور جہادى رسالے سامنے آنے لگے جو

____________________

۱) نساء ،آيت ۱۴۱_

۲) يداللہ ہنرى لطيف پور ، فرہنگ سياسى شيعہ و انقلاب اسلامي، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامى ،ج ۲، ص ۱۰۷_


سب روسى كفار كے مقابلے ميں جہاد كے وجوب پر تاكيد كرتے تھے ميرزا عيسى قائم مقام نے ان سب كو جمع كرنے كے بعد ''جہاديہ ''كے عنوان سے انكى اشاعت كي_(۱)

علماء شيعہ كى طرف سے فورى رد عمل بتارہا تھا كہ اصولى مكتب كے علماء كا اسلامى بيدارى كے احساسات كو زندہ كرنے ميں ميلان اور سياست ميں انكى مداخلت ہر روز بڑھ رہى تھى ،كم از كم ايران و روس ميں جنگوں كے دوسرے دور تك فتحعلى شاہ كى مذہبى سياست يعنى علماء حضرات كى حمايت و تعاون كا حصول اور انہيں ايرانى معاشرے ميں كردار اداكرنے كى دعوت اس طبقے (علما) كے معاشرے ميں بھر پور مقام كا باعث بني_(۲)

ايران و روس ميں جنگوں كے پہلے دور ميں مذہبى قوتوں سے زيادہ تعاون حاصل نہيں كيا گيا تھا ليكن يہ بات واضح ہوگئي تھى كہ يہ مذہبى طبقہ مسلمان مملكت كے دفاع ميں اہم موثر كردار ادا كرسكتا ہے_ البتہ فقط علماء كا كردار و عمل مكمل كاميابى كى ضمانت نہيں تھا بلكہ اس طبقہ كى سعى اس وقت نتيجہ خيز تھى كہ جب جنگ كے حوالے سے تمام متعلقہ ادارے اور شعبے اپنى ذمہ داريوں پر درست عمل كرتے _ ايران و روس كى پہلى اور دوسرى جنگ كے درميانى فاصلہ ميں كئي ايسے مسائل پيدا ہوئے كہ جنكى بناء پر اصولى علماء دوبارہ ميدان جنگ ميں روسيوں كے مد مقابل آگئے_

گريبايدوف كا قتل جو كہ بظاہر لوگوں كے مذہبى رد عمل كا نتيجہ تھا اورروس كے زير تسلط سرزمينوں ميں شيعہ و سنى علماء كے زير قيادت اسى قيام كا تسلسل مثلا قاضى ملا محمد كا شيعہ و سنى اتحاد كے نعرے كے ساتھ ۱۲۴۸ قمرى تك قيام اور شيخ شامل داغستانى كا ۱۲۹۲ قمرى تك كا قيام و غيرہ يہ سب در حقيقت وہى اسلامى بيدارى كاہى تسلسل تھا(۳)

____________________

۱) ميرزا عيسى قائم مقام فراہانى ، احكام الجہاد و اسباب الرّشاد ،باسعى غلام حسين زرگرى ناد، تہران، قبعہ ،ص ۶_۷۵_

۲) حامد الگار،دين و دولت در ايران، ترجمہ ابوالقاسم سرّي، تہران، توس، ج ۲ ، ص ۹۷_ ۸۷ _

۳) حسين آباديان ، روايت ايرانى جنگہاى ايران و روس ، تہران ، مركز اسناد و تاريخ ديپلماسى ،ص ۱۱۰_


۱۳۴۳ قمرى ميں ايران وروس كے درميان جنگوں كے اختتام سے ليكر تنباكو كى تحريك تك كے درميانى عرصہ ميں احياء شدہ نظر و فكر اور اسلامى بيدارى كى تحريك بظاہر سست اور ٹھہراؤ كا شكار ہوگئي _ ليكن ان سب كے باوجود ايرانى شيعوں كى اپنى شيعہ تہذيب كے مفاہيم اورتعلميات كے بارے ميں فہم ميں ٹھہراؤ نہ رہا بلكہ وہ روز بروز تغيير و تبديلى محسوس كر رہے تھے_ اسكى سب سے بڑى مثال اصفہان ميں اس زمانہ كے سب سے بڑے عالم سيد محمد باقر شفتى كى روز بروز محمد شاہ كى حكومت سے بڑھتى ہوتى مخالفت تھى انہوں نے زندگى كے آخرى لمحات تك محمد شاہ كى حكومت پر اعتماد نہيں كيا تھا_مركزى حكومت سے يہ ٹكراؤ بتاتا ہے كہ اجتہادى مكتب كسى صورت ميں بھى بادشاہت كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے ليے تيار نہيں ہے_(۱)

اجتہاد ى مكتب كے محور پرشيعہ عقائد كے ارتقا كا سفر بيدارى كى تحريك كى پيشرفت ميں بہت زيادہ اثرات كا حامل تھا_ اگر چہ ايران و ورس كى جنگوں سے ليكر تنباكو كى تحريك تك كے درميانى عرصہ ميں ہم دينى قوتوں ميں ٹھراؤ اور سكون كى كيفيت كا مشاہدہ كرتے ہيں ليكن يہ ظاہرى كيفيت ہے باطن ميں اصلاح طلب اور دينى فكر كے احياء كى يہ تحريك آئندہ اقدامات كيلئے تيارى كے مراحل سے گزرہى تھي_ كيونكہ اس تيارى كے بغير وہ بعد والے مسائل مثلا تنباكو كى تحريك اور مشروطيت پسندى اورديگر مسائل ميں وسيع پيمانے پر سياسى معاشرتى اور مذہبى يعنى تمام جوانب سے تحريك اور جوش و خروش نہيں پيدا كرسكتى تھي_

اس درميانى دور ميں اجتہادى مكتب كے ٹھراؤ اور جمود كى ايك وجہ اندرونى اور بيرونى مخالفين كا رد عمل بھى تھا يہ رد عمل صوفيت ، بابيت، شيخيت اور اخبارى رحجان جيسے باطل اور فاسد مكاتب كى ترويج كى صورت ميں ظاہر ہوا ،ان سب مسائل اور تحريكوں كے پس پردہ استعمار بالخصوص انگريزوں كے خفيہ ہاتھ اپنا كام دكھا رہے تھے نيز اجتہادى مكتب كى ترقى كى راہ ميں ايك اور ركاوٹ لادينى اور الحادى افكار و عقايد كى نشر و اشاعت تھى با بالفاظ ديگر سكولاريزم اور فرى ميسن ( freemason ) كى وسيع پيمانہ پر ترويج تھي_

____________________

۱) انديشہ دينى و جنبش ضد ريم در ايران، تہران ،موسسہ مطالعات تاريخ معاصر ايران ،ص ۴۵_


اس دور ميں دينى قوتوں كى ايك ذمہ دارى '' قاعدہ نفى سبيل'' كى بناء پر استعمار سے جنگ اور فرقہ سازى كا مقابلہ كرنا تھا_ كيونكہ استعمارى پاليسيوں نے شيعوں كے درميان تفرقہ اور انتشارڈالنے كيلے فرقہ سازى كى مہم شروع كردى تھى مثلا صوفى مسلك شيخ احمد احسايى كے شاگرد سيد كاظم رشتى كے ذريعے شيخى فرقہ كا بنانا اور سيد كاظم رشتى كے شاگرد على محمد باب كے ذريعے فرقہ بابيہ كا بنايا جايا اسى استعمارى اہداف كى تكميل تھى _ يہ فرقہ بابيہ وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ دو شاخوں ازليہ ( يحيى صبح ازل كے پيروكاروں ) اور بہائيہ ( ميرزا حسين على بہاء كے پيروكاروں ) ميں تقسيم ہوا روسى استعمار نے ازليہ اور انگلستان كے استعمار نے بہائيہ كى حمايت كى اور ان فرقوں كو اپنے آغوش ميں پرورش دى اور ا نكى نشر و اشاعت كا انتظام كيا_(۱)

اگر چہ حاجى ميرزا آقاسى كى صدارت كے دور ميں صوفيوں كے امور كى طرف جھكاؤ نظر آيااورمحمد شاہ قاجار نے بھى اس پر اپنى رضامندى دكھائي تھى _ ليكن ميرزا تقى خان امير كبير كى صدارت كے دور ميں صوفى و درويش مسلك عناصر كو حكومت و سلطنت سے مربوط محافل اور اداروں سے نكال ديا گيا اور بدعات و خرافات كا قلع قمع كيا گيا_ گوشہ نشينى اور خانقاہوں كى رسم ختم كردى گئي_ نيز مذہبى بانفوذ شخصيات مثلا ميرزا ابوالقاسم جو كہ امام جمعہ تھے ،كى سفارش قبول كرنے سے پرہيز كيا گيا وہ (امير كبير) فقط اس بات پر تاكيد كرتے تھے كہ علماء دين دينى اور شرعى امور ميں قوت و طاقت سے فعاليت انجام ديں اور دين كو كمزور پڑنے كاموقع نہ ديں ليكن اس سياست كے ساتھ ساتھ وہ اس بات كا بھى خيال ركھتے تھے كہ استعمار كى فرقہ سازى اور انہيں نشر و اشاعت دينے والى سياست كى بھى روك تھام كريں ، اس حوالے سے سب سے واضح مثال فتنہ بابيہ كے مقابلے ميں انكا علماء كى حمايت كرنا_ قضاوت كے امور ميں بھى انھوں نے شرعى اور عرفى قوانين كى تركيب اور امتزاج كيلئے اقدامات انجام دے اور اقليتوں كے حقوق اور انكى دينى آزادى كے حوالے سے بھى خاص توجہ كي(۲)

____________________

۱) موسى نجفى و موسى فقيہ حقالي، تاريخ تحولات سياسى ايران، بررسى مؤلفہ ہاى دين ، حاكميت ، مدنيت و تكوين دولت _ ملت در گسترہ ہويت ملى ايران ، تہران، موسسہ مطالعات تاريخ معاصر ايران ،ص ۱۱۹_۱۱۸_

۲) دائرة المعارف بزرگ اسلامى ج ۱۰، ذيل امير كبير ( على اكبر ولايتي) _


مجموعى طور پر اميركبير كى علماء كے كردار كو محدود كرنے والى مذہبى پاليسى نے اسلامى بيدارى كى تحريك كى اعانت كى _ انہوں نے دينى ميدانوں ميں آگاہى اور مختلف امور كے علمى اور عقلانى پہلو كو ترجيح دي، توہمات اور خرافات كا مقابلہ كيا دربارى ملاؤں كى فعاليت كو كم كيا، آئمہ جمعہ ،نظام العلماء و سلطان الذاكرين جيسے القاب والے علماء دين كے اختيارات كو كم كيا ان تمام امور كے ساتھ انہوں نے نادانستہ طور پر بتدريج اسلامى بيدارى كى تحريك كى حمايت كي_جبكہ ميرزا آقا خان نورى كى صدارت كے دور ميں معاملہ الٹ ہوگيا دربارى ملاؤں اور حكومت كى حامى اور باعتماد مذہبى قوتوں كو فعاليت كا زيادہ موقعہ ملا اور بعض علماء كى نظر مساعدت لينے كيلئے حكومتى وظيفہ بھى مقرر كيا گيا_(۱)

ميزرا حسين خان سپہسالار كے دور ميں بھى دينى اداروں كو كمزور كيا گيا اسكى مغرب زدہ اصلاحات اور غير ملكيوں كو امتيازى حيثيت دينا علماء كى مخالفت اور اعتراض كا باعث قرار پايا، سپہسالاركى اصلاحات لانے كى ايك روش يہ تھى كہ ناصر الدين شاہ كو فرنگيوں كے ملك كى طرف سفر كى ترغيب دى جائے تا كہ وہ مغربى ترقى كا مشاہدہ كرے_ چونكہ سپہسالار كى مطلوبہ اصلاحات واضح طور پر مغربى زندگى كے قوانين اور اصولوں كى تقليد پر مبنى تھيں اور بہت سے امور ميں تو يہ اصلاحات اسلامى قوانين اور شريعت كى مخالف بھى تھيں اس ليے دينى حلقے اسكے مخالف ہوگئے_

اس مخالفت كى دوسرى وجہ انگريزوں كو رويٹر كا اختيار عطا كيا جانا تھا_ علماء دين بالخصوص ملا على كنى كى نظر كے مطابق حكومت كى جانب سے اغيار كو رعايتيں اور اختيارات دينے سے انكى ايران ميں زيادہ سے زيادہ مداخلت كا راستہ ہموار ہوجاتا تھا_(۲) ناصر الدين شاہ اور سپہسالار كے فرنگستان سے واپسى سے پہلے يہ اعتراضات سامنے آئے تو انہوں نے بادشاہ سے خط كے ذريعے مطالبہ كيا كہ سپہسالار كو ايران نہ لائے_ يہ

____________________

۱) حامد الگار ، سابقہ حوالہ ،ص ۲۳۶_

۲) حسين آباديان، انديشہ دينى ضد ريم در ايران ، ص ۵۰_ ۴۹_


خطوط بادشاہ كو رشت ميں موصول ہوئے ناصر الدين شاہ نے مجبوراً سپہسالار كو صدارت سے معزول كيا اور گيلان كا حاكم مقرر كيا اور اسكے بغير تہران ميں داخل ہوا(۱) كيونكہ علماء نے بادشاہ كو خبردار كيا تھا كہ سپہسالار كو معزول نہ كرنے كى صورت ميں وہ سب ايران سے چلے جائيں گے_ بادشاہ نے يہ مطالبہ تسليم كرتے ہوئے تہران ميں داخل ہونے كے بعد ملا على كنى كى زيارت كيلئے حاضر ہوا اور مراتب احترام بجالايا تا كہ علماء كى ناراضگى كم ہو ،حاج ملا على كنى كا سپہسالار سے طرز عمل قاجاريہ دور ميں دينى اداروں اور شيعہ علماء كى قاجارى حكومت كے اراكين سے طرز عمل كى تنباكو كى تحريك سے پہلے كى واضح ترين مثال تھى(۲)

سپہسالار كے حوالے سے علماء كے سخت طرز عمل كى ايك وجہ يہ بھى تھى كہ سپہسالار عدليہ كے وزير كے عنوان سے يہ كوشش كر رہا تھا كہ شرعى قاضى و مرجع كے عہدوں پر مجتھدوں كے انتخاب كا اختيار حكومت كے پاس ہو(۳) ملا على كنى كى قيادت ميں دينى قوتوں كے حكومت سے مسلسل ٹكراؤ كى وجہ سے آخر كار ويٹر كى رعايت و اختيار كولغو كرديا گيا_(۴)

حاج ملا على كنى كو اس زمانہ ميں رئيس المجتہدين كا لقب حاصل ہوا تھا وہ ان اقدامات كا مقابلہ كرتے تھے كہ جو دين ، حكومت اور لوگوں كيلئے مضرہوں وہ ايك ماہر دينى سياست دان كى حيثت سے سيكولر اور دين مخالف روشن فكر حضرات كے افكار اور اقدامات پر گہرى نظر ركھتے تھے اور انكا مقابلہ كيا كرتے تھے_ اس زمانہ ميں ايسے روشن خيال لوگوں ميں سے ملكم خان ناظم الدولہ اور فتحعلى خان آخوند زادہ كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے كہ يہ افراد بھى سپہسالار كے مذہبى پاليسى سازوں كى حيثيت سے سيكولر افكار ونظريات پيش كرتے تھے اور اقدامات انجام ديتے تھے_(۵) ميرزا ملكم خان كى بہت زيادہ كوشش تھى كہ ايك مذہبى شخصيت كے خول

____________________

۱) احمد كسروى ، تاريخ مشروطہ ايران، ج ۱، تہران، اميركبير ، ص ۱۰_

۲) محسن بہشتى سرشت، نقش علماء در سياست از مشروطہ تا ا نقراض قاجار، تہران ، پوہشكدہ امام خمينى و انقلاب اسلامي، ص ۸۱_ ۷۷_

۳) صادق زيبا كلام، سنت و مدرنيتہ، ريشہ يابى علل ناكامى اصلاحات و نوسازى سياسى در ايران عصر قاجار ، تہران ، ص ۲۹۴_ ۲۹۳_

۴) موسى نجفى ، تعامل ديانت و سياست در ايران، موسسہ مطالعات تاريخ معاصر ايران ص ۱۰۰_ ۸۹ ،ابراہيم تيمورى ، عصر بى خيرى با تاريخ امتيازات در ايران، تہران، ج جہاد ، ص ۱۱۲_ ۱۰۸_

۵) عبدالہادى حائري، تشيع و مشروطيت در ايران و نقش ايرانيان مقيم عراق، تہران، اميركبير چ دوم، ص ۴۷ _ ۴۰ ، ۲۹ _ ۲۶_


ميں رہتے ہوئے اپنے جدت پر مبنى اہداف كو پيش كرے وہ عقائد اور فكرى بنيادوں كے حوالے سے مغربى مادى مكاتب كامعتقد تھا _ اگر وہ ان كو پنہان ركھتا تھا تو يہ سب مصلحت انديشى كى بناء پر تھا چونكہ اس كے يہ عقائد اور اہداف ظاہر ہونے كى صورت ميں وہ مسلمان معاشرہ سے دھتكار ديا جاتا _

وہ ۱۲۸۹ قمرى ميں تفليس ميں قيام كے دوران اپنى اخوند زادہ كے ساتھ گفتگو ميں دين كو عقل كى نابودى ، نقل كو عقل پر ترجيح دينے اور عقل كے محبوس ہونے كا سبب سمجھتا تھا _ يا اس نے لندن ميں كسى مسئلہ ميں '' ايرانى مدنيت '' كے موضوع پر تقرير كرتے ہوئے واضح كيا ہ وہ اپنے جدت پر مبنى نظريہ اور غربى تہذيب كے اقتباس كو دينى لفافہ ميں ڈال كر پيش كرے گا كيونكہ وہ اسى راہ كو فقط مسلمانوں كى ترقى كى ضمانت سمجھتا تھا كہ مسلمانوں كو فقط يہى بتايا جائے كہ مغربى ترقى كى اساس اسلامى اصولوں كے منبع سے لى گئي ہے اورمسلمان اس مغربى تہذيب ميں ڈھل كر اپنے آپ كو اور جوانكا سرمايہ تھا اسے پھرپاليں گے _(۱)

بعض لوگوں نے ملكم خان كے متضاد اقوال اور كردار كى بناء پر اسے دورو اور منافق سے تعبير كياہے_ اور وہ اسكى موقع پرستى اور خودغرضى جيسى خصلتوں كى مذمت كرتے ہيں _ ميرزا ملكم خان ايران ميں سب سے پہلا فرى ميسن تھا جس نے اس ادارہ كو تشكيل ديا(۲) لا تارى كے اختيارات عطا كرنے والے مسئلہ ميں ملكم خان كى مالى اور سياسى خيانت و رسوائي اپنے عروج كو پہنچى ،اس زمانہ ميں بعض كم فہم لوگ ان تمام دلائل كے باوجود اسكے دعووں كا فريب كھائے ہوئے تھے ليكن حاج ملا على اسكا اصل چہرہ پہچان چكے تھے لہذا انہوں نے ناصر الدين شاہ كو اپنے ايك خط ميں ملكم كے فرى ميسن ہونے اور اس كے عقائد كے خطرات سے آگاہ كرتے ہوئے اسكے وہاں سے نكالے جانے پر زور ديا(۱)

۱۳۰۶ قمرى ميں ناصرالدين شاہ نے فرنگ كى طر ف اپنے تيسرے سفر كے ضمن ميں سگر يٹ اور تمباكو كي

____________________

۱) حجت اللہ اصيل، زندگى و انديشہ اى ميرزا ملكم خان ناظم الدولہ، تہران ، ص ۸۳ _ ۸۲ _

۲) محمد مددپور، سير تفكر معاصر، تجدد و دين زدايى در انديشہ ميرزا ملكم خان ناظم الدولة ، تہران ، ص ۳۷ _ ۳۳_

۳) موسى نجفي، سابقہ ماخذ،ص ۱۰۴ _ ۱۰۰_


صنعت كے اندرونى اور بيرونى معاملات كے حقوق ايك انگريز كمپنى كو عطا كرديے البتہ اس قرار داد پر دستخط ۱۳۰۸ قمرى اور ۱۸۹۰ عيسوى ميں ہوئے _چونكہ اس قرارداد كى رو سے ہزاروں كسانوں ، مزدوروں اور تاجروں كے مفادات اور ايران كا اقتصاد اغيار سے وابستہ ہو گيا تھا اس ليے يہ نقصان دہ ترين قرار دادوں ميں سے شمار ہوتى تھي_ نيز اس قرارداد كے ضمن ميں علماء كے مقام اوركردار كو ملحوظ خاطر نہ ركھا گيا تھا_

ليكن كچھ عرصہ ہى نہ گذرا تھا كہ شيعہ علماء اور تجار نے متحد ہو كر اس قرار داد كى مخالفت ميں قيام كيا_ علماء نے اس ليے قيام كيا كہ انكے تجزيہ كے مطابق يہ قرارداد ايك غير ملك كے اسلامى مملكت كے ايك حصہ پر تسلط اور قبضہ كا وسيلہ تھى اور اس سے دينى اہداف اور اسلامى معاشرہ كا دينى تشخص خطرہ ميں پڑرہاتھا جبكہ تاجروں كى مخالفت كى وجہ انكے اقتصادى مفادات كو بہت بڑا ضرر پہنچ رہا تھا لذا يہ سب مخالفت ميں اٹھ كھڑے ہوئے_ انگريزوں كا ايران ميں ايك بڑى تعداد كے ساتھ داخل ہونا اور انكے افعال و كردار اور اقدامات كا لوگوں كے عقائد و تہذيب كے منافى ہونے كى وجہ سے اس كمپنى كى مخالفت روز بروز بڑھتى گى اور بتدريج علماء كى قيادت ميں ايك بہت بڑے احتجاج كى شكل اختيار كر گئي_(۱)

بيدارى كى اس تحريك ميں علماء شيعہ اور دينى قوتوں كو ايك تاريخى موقعہ ملاتا كہ ثابت كريں كہ وہ لوگوں كو ساتھ ملا كر اندرونى آمريت اور بيرونى استعمار پر غلبہ پا سكتے ميں اور ميرزا شيرازى كے تنباكو كى حرمت پر تاريخى فتوى سے واقعا ايسا ہى ہوا اورعلماء كو دونوں ہى اہداف حاصل ہوگئے ،حكومت نے اس وسيع احتجاجى تحريك كے سامنے پسپائي اختيار كى اور اس قراداد كو ختم كرنے كا اعلان كرديا_ ملا محمدعلى ھيد جى كے رسالہ ''دخانيہ ''كى تحرير كے مطابق ميرزا شيرازى كے حكم كى پہلے نصف روز تك ايك لاكھ كاپيوں كى تقسيم نے ايرانيوں اور غير ملكوں كو حيرت ميں ڈال ديا_ ھيدجى تحرير كرتے ہيں كہ يہاں تك كہ ناصرالدين شاہ كى بيگمات اور نوكروں نے سگريٹ اور تنباكو استعمال كرنا چھوڑديا، كوئي بھى كسى سڑك پر تنباكو استعمال كرتا ہوا يا خريد

____________________

۱) حسين آبادياں ، سابقہ ماخذ، ص ۸۰ _ ۷۱_


و فروخت كرتا ہوا نہيں ديكھا گيا بلكہ مشہور تھا كہ عيسائيوں اور يہوديوں نے بھى اس حرمت شرعى كا خيال ركھا(۱)

اہم نكتہ يہاں يہ ہے كہ علماء اور لوگوں كے باہمى جوش و خروش پر مشتمل اس تحريك كا روح رواں نظريہ يہ تھا كہ موجودہ حكام كى حكومت كے كچھ حد تك جواز كى شرط يہ ہے كہ وہ مملكت ايران كى تمام زمينى سر حدوں اور لوگوں كے دينى عقائد و نظريات كى نگہبان ہو، ا س چيز نے شيعہ سياسى نظريہ كى اساس كو تشكيل دے ديا تھا اور اس نظريہ كے مطابق سلاطين اور بادشاہوں كى حكومت و طاقت اصل ميں غير شرعى اور ناجائز ہے سوائے اس كے كہ وہ نظم و ضبط پر كنٹرول كرے_

دوسرا نكتہ يہ تھا كہ اس دور ميں شيعہ مسلك لوگوں كے اتحاد اور فكرى يكجہتى ميں ايك اہم عنصر كى صورت ميں ابھرا_ اس تحريك سے يقينا ثابت ہو چكا تھا كہ قاجارى بادشاہ اب بھرپور انداز سے حكومت چلانے كى طاقت نہيں ركھتا اور كسى صورت ميں بھى بادشاہ كى حكومت و طاقت ميں عنوان الوہيت موجود نہيں ہے ،آخرى نكتہ يہ ہے كہ اس بڑى آزمائشے كى گھڑيوں ميں لوگوں كو بيدار كرنے سے مراجع اور مجتہدين كى سياسى اہميت ثابت ہوچكى تھى اور اس مسئلہ كے بعد نجف ميں مقيم ايرانى مجتہدين اور مراجع ، مشروطہ كى تحريك كے دوران اور اسكے بعد زيادہ اطمينان كے ساتھ لوگوں كى سياسى قيادت اور رہبرى ميں اپنا سياسى كردار ادا كرتے رہے لہذا يہ تنباكو كى تحريك اس مشروطيت كى تحريك كيلئے ايك پيش خيمہ تھى كہ جو تقريباً پندرہ سال كے بعد وجود ميں آئي(۲) _

شاہ ناصر قاجار كے زمانے ميں ايك اور بيدارى كى تحريك كا ہم مشاہدہ كرتے ہيں اور وہ سيدجمال الدين (افغاني) اسدآبادى كى صورت ميں تھي_ سيدجمال ايران ميں كچھ حد تك اسلامى علوم حاصل كرنے كے بعد نجف كى طرف روانہ ہوئے_ وہاں انكے تعليمى اور ضروريات زندگى كے اخراجات شيخ مرتضى انصارى نے اپنے ذمہ ليے_ سيد جمال نے نجف ميں چار سال تك تعليم حاصل كى(۳) سيد جمال كى سب سے بڑي

____________________

۱) محمد على ھيدجي، رسالہ دخانيہ ،على اكبرولايتى كى سعى سے ، تہران ، ص ۵۳، ۵۲_

۲) حسين آباديان، سابقہ ماخذ، ص ۱۹۲ _ ۱۸۹_

۳) سيدعباس رضوى '' سيدجمال الدين فرزند حوزہ'' سيد جمال، جمال حوزہ ، با سعى مصنفين مجلہ حوزہ قم، دفتر تبليغات اسلامي، ص ۲۲۹ _ ۲۲۵_


آرزو يہ تھى كہ وہ دينى حوزات اور علماء كے ذريعے ايرانى اور ديگر اسلامى معاشروں اور اقوام كو بيدار كريں _ اسى ليے جب وہ كسى شہر يا ملك ميں سفر كے دوران علماء كے استقبال كا محور قرار پاتے توان سے تفصيلى تبادلہ خيال كرتے_(۱)

انكى بيدارى گر تحريك كا اہم ترين نظريہ اسلامى يكجہتى كا نظريہ تھا وہ كوئي شك و ترديد نہيں ركھتے تھے كہ مسلمانوں كے درميان سب سے مستحكم تعلق دينى تعلق ہے(۲) لہذا انكى سب سے اہم فعاليت يہ تھى كہ انہوں نے اسلامى معاشروں اور مسلمانوں كو جداگانہ تشخص بخشا_ انكے نعرے ''اسلام كى طرف پلٹنا'' ،'' قرآن كى طر ف پلٹنا'' يا '' سلف صالح كى سنت كا احياء كرنا'' يہ سب مسلمانوں كو انكے نئے تشخص سے روشناس كروانے كيلئے تھا_ وہ مسلمانوں كى يكجہتى كا محور قرآن كو سمجھتے تھے_ عروة الوثقى ميں لكھتے ميں كہ ميرى آرزو يہ ہے كہ سب مسلمانوں كا سلطان قرآن ہو اور انكى وحدت و يكجہتى كا مركز ايمان ہو_(۳)

سيدجمال تمام مسلمانوں كى يكجہتى كے نظريہ كے ساتھ ساتھ ايران كے حالات اور وہاں بيدارى كى ضرورت پر خاص توجہ ركھتے تھے_ ميرزا شيرازى كى طرف انكا خط، قاجارى حاكموں كى بے دينى اور اغيار كے اقتصادى تسلط كے خطرات كے خلاف انكى تقريروں كا اسلامى بيدارى ميں بہت زيادہ كردار ہے_(۴)

سيدجمال ايك طويل مدت تك مسلمانوں ميں احتجاجى روح پھونكنے كے وجہ سے تحريك مشروطيت ميں بہت سا حصہ ركھتے تھے_ نے اعلانيہ ايران كے صدراعظم اور بادشاہ سے مطالبہ كيا كہ وہ اصلاح، آزادي

____________________

۱) سابقہ ماخذ، ص ۲۴۰ _ ۲۳۵_

۲) غلام حسين زرگرى ناد '' كاوشى در انديشہ ہاى سياسى سيدجمال الدين اسدآبادى ، انديشہ ہا و مبارزات، با سعى غلامحسين زرگرى و رضا رئيس طوسي، تہران، ص ۳۵_

۳) حامد اسگار، سابقہ ماخذ، ص ۲۹۵_

۴) سابقہ ماخذ، ص ۳۰۲_


عدالت اور قانون كو مد نظر ركھيں كہ يہ چيز انكى ايران سے ملك بدرى كا موجب بني_ وہ بہت سے دوسرے حريت پسندوں سے بھى خط و كتابت اور رابطہ ركھتے تھے اور انكى آمريت كے خلاف قيام كرنے پر حوصلہ افزائي كرتے تھے(۱) _

مظفرالدين شاہ قاجار جب بادشاہ بنا( ۱۳۱۳قمري) تو اس وقت تنباكو كى حرمت كے فتوى كے بعد بظاہر حكومت كے علماء سے تعلقات بہتر ہورہے تھے_ ليكن حكومت كى طرف سے بلجيم ناد (ناز)كو ايرانى كسٹم كے ادارہ كا سربراہ مقرر كرنے اور اسكے ايرانى اور غير ملكى تجار كے مابين جانبدارانہ سلوك اور عيسائي تجار كو نوازنے كا عمل ايرانى علما اور تجار كے اعتراض كا باعث قرار پايا_ تہران ميں مجتہد تفرشي، آيت اللہ ميرزا ابوالقاسم طباطبايى اور ديگر شخصيات نے پروگرام بنايا كہ امين السلطان كو بر طرف كيا جائے جو اغيار كو مسلمانوں كے امور پر مسلط كرنے كا سبب تھا بتدريج شيخ فضل اللہ نورى بھى مخالفين كى صفوف ميں داخل ہوگئے_ نجف ميں سكونت پذير ايرانى علماء كے ايك گروہ كہ جن ميں ملا محمد كاظم خراسانى جيسى علمى شخصيات شامل تھيں نے خطوط بھيجتے ہوئے اس مسئلہ پر اپنا اعتراض پيش كيا_(۲) بالاخر ۱۲۲۱ قمرى جمادى الثانى ميں انہوں نے ميرزا على اصغر خان اتابك امين اسلطان كے مرتدہونے كا اعلان كيا(۳) آخر كار بادشاہ كو مجبور ہونا پڑا كہ وہ امين السلطان كو برطرف كرتے ہوئے اسكى جگہ عين الدولہ كو مقرر كرے_

بتدريج علماء دين كى خود بادشاہ مظفر الدين شاہ سے بھى مخالفت شروع ہوگئي اس مخالفت كے بنيادى اسباب غير ممالك سے قرضوں كا حصول، فرنگيوں كے ملك كے پر تعيش سفر، اغيار كا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، ملكى صنعتوں كا زوال اور اس قسم كے ديگر مسائل تھے_(۴)

____________________

۱) مقصود فراستخواہ''سيد جمال الدين و نوانديشى ديني'' ، تاريخ و فرہنگ معاصر، سال پنجم شمارہ ۳،۴_ص ۲۱۲ _ ۲۰۱_

۲) احمد كسروي، سابقہ ماخذ ، ج ۱ ، ص ۳۱_ ۲۹_

۳) ہاشم محيط مافى ، مقدمات مشروطيت ، مجيد تفرشى اور جواد جان خدا كى سعى سے ، تہران ص ۷۴_

۴) عبداللہ مستوفى ، شرح زندگانى من يا تاريخ اجتماعى و ادارى دورہ قاجار ، ج۲، ص ۶۲_۶۱_


ليكن دينى طبقے كى پيدا كردہ بيدارى كى لہريں ان مسائل سے كہيں زيادہ و سعت سے پھيل رہى تھيں اس زمانہ ميں بيدارى كے مراحل واضح طور پر ارتقاء كے مقام كو پار ہے تھے_

مشروطہ كى تحريك ميں بيدارى اور آگاہى كا ايك وسيلہ اس تحريك كى موافقت يا مخالفت ميں شايع ہونے والے جرائد و رسائل تھے_ يہ جرائد و رسائل علماء اور اصولى مكتب سے وابستہ دانشوروں كى سعى سے سامنے آرہے تھے اور انكا بنيادى ہدف يہ تھا كہ لوگ اس تحريك كے تمام پہلوؤں سے آشناہوں او راس تحريك كے اسلامى احكام سے مطابقت اور تضادكو اچھى طرح جان ليں(۱)

اس دور ميں اسلامى بيدارى كى تحريك اور دينى مكتب كيلئے ايك اہم مسئلہ فكرى اورعملى ميدان زندگى ميں مغرب پسندى كى لہركا سامنا تھا_ ايرانيوں كے مغربى دنيا سے مختلف شعبوں مثلا تجارت ، سياحت ،تعليم و غيرہ ميں بڑھتے ہوئے تعلقات اور جديد مغربى كلچر كے حامل انسٹيٹيوٹس كا قائم ہونا اور جديد مغربى شہريت كے ضوابط كا رائج ہونا البتہ يہ ضوابط مغربى شہريت كے ظاہرى اور اور نمايشى پرت سے ليے گئے تھے ،ان سے دينى نظريات كے احياء كى تحريك كو بڑھنے ميں دشوارياں پيش آنا شروع ہو ئيں اور ساتھ ساتھ علماء كى آراء و افكار ميں تناقص و تضاد نے بھى ان دشواريوں كو دو چند كرديا_

محمد على شاہ كى آمريت كے دور ميں نجف ميں سكونت پذيرعلماء جو ايران كے سياسى دباؤ اور گھٹن سے دور تھے، نے ايرانى علماء كى نسبت زيادہ آسانى سے مشروطہ كى تحريك اور حريت پسندى كوجارى ركھاانہوں نے محمد على شاہ كى آمرانہ حكومت كے حتمى خاتمہ اوركافر روسى سپاہيوں كے ايران سے نكلنے پر زور ديا(۱)

نجف كے تين بزرگ علماء (تہراني، خراسانى اور مازندراني) نے اپنے ايك خط ميں عثمانى حكومت سے

____________________

۱) مزيدمعلومات كيلئے رجوع فرمائيں _ غلام حسين زرگرى ناد، رسائل مشروطيت، تہران_حسين آباديان، مبانى نظرى حكومت مشروطہ و مشروعة، تہران ، ص ۲۴۳_۱۳۲_

۲) عبدالہادى حائرى ، سابقہ ماخذ، ص ۱۰۹_


ايران ميں محمد على شاہ كى حكومت كے خاتمہ اور روسيوں كے اخراج كيلئے مدد مانگى اس زمانہ ميں عثمانى حكومت اسلامى وحد ت كے نظريہ كى حامى تھي_ البتہ يہ نكتہ قابل ذكر ہے كہ سنى خليفہ سے مدد مانگنے كى ضرورت اس زمانہ كے تقاضوں اور مشكلات كى بناپر محسوس ہوئي ايران كے اندر بھى محمد على شاہ اور روسى افواج كے خلاف تحريك شروع تھى _نجف كے بزرگ علماء اپنے مقلدين كے ہمراہ ايران كى طرف جہاد كيلئے روانہ ہونے والے تھے_ كہ تحريك مشروطہ كى كاميابى ، اصفہان اور گيلان سے افواج كاتہران ميں داخل ہونا اور محمد على شاہ كے فرار اور روسى سفارت خانہ ميں پناہ لينے سے يہ پروگرام ملتوى ہوگيا_(۱)

ان سالوں ميں علماء كى دوسرى تحريك ۱۳۲۹ اور ۱۳۳۰ كے دوران روس كى طرف سے ايران كو الٹى ميٹم دينے سے پيدا ہونے والے بحران كے رد عمل كے طور پر سامنے آئي_

دوسرے دور كى قومى پارلمينٹ نے اقتصادى امور كى بہترى كيلئے مورگن شاسٹراور ديگر چار امريكى مشيروں كا تقرر كيا_ وہ ايران آئے اور انہوں نے مالى شعبہ كو اپنے كنٹرول ميں لے ليا_ روس اور انگلينڈنے شدت كے ساتھ انكى مخالفت كى روس نے ابتداء ميں تو زبانى كلامى پھر ۷ ذى الحجہ ۱۳۳۹ كو تحريرى طور پر ايران كو الٹى ميٹم ديا كہ شاسٹر كو نكال ديا جائے پھر اسكے بعد فوراً ہى ايران كے بعض شمالى علاقوں پر قبضہ كرليا_ تبريز ميں ثقةالاسلام تبريزى كو پھانسى دي، مشہد ميں امام رضا (ع) كے حرم پر گولہ بارى كى اور لوگوں كو محصور كرليا_

سپيكر پارليمنٹ نے نجف ميں موجود آخوند خراسانى اورديگر علماء كى طرف ٹيلى گراف بھيجتے ہوئے ان سے در خواست كى كہ وہ اسلامى ذمہ دارى كے حوالے سے اقدام كريں اس درخواست كے جواب ميں علماء نجف نے ايران كى خودمختارى كے دفاع كيلئے اقدامات انجام ديے انہوں نے درسى كلاسوں كى تعطيل كرتے ہوئے جہاد كا اعلان كيا اور لوگوں كو كاظمين ميں جمع ہونے كى دعوت دى تا كہ ايران كى طرف روانہ كيا جائے، اسى طرح قبائل كے سرداروں سے بھى مذاكرات ہوئے كہ وہ اپنے مسلح لشكروں سميت روس كے خلاف جہاد

____________________

۱) سابقہ ماخذ ص ۱۱۷_۱۱۰_


ميں شركت كريں اور انہوں نے بھى قبول كيا _ ليكن روانگى سے ايك روز قبل آخوندخراسانى كى وفات سے يہ پروگرام التواء كا شكار ہوگيا _

كچھ مدت كے بعد آيت اللہ عبداللہ مازندرانى كى قيادت ميں يہ پروگرام دوبارہ شروع ہوا تيرہ مجتھدين اور علماء كى منتخب انجمن تشكيل پائي اور اس انجمن كى روحانى صدارت (آخوند خراسانى كے فرزند) آقا ميرزا مہدى آيت اللہ زادہ خراسانى كے كندھوں پر ركھى گئي بہت سے جہادى فتاوى صادر ہوئے اور مجتہدين نے ملت ايران كو متحد ہوكر دشمن سے مقابلہ كرنے پر زور ديا_ اور ايران كے سركارى عہديداروں كو متعدد ٹيلى گراف بھى بھيجے گئے _

علماء كرام اغيار كى يلغاركو ايران كى خود مختارى اور سالميت كيلئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے تھے اس دينى طبقے كى تحريك ميں ميرزا محمد تقى شيرازى ، سيد اسماعيل صدر اور شيخ الشريعہ اصفہانى بھى كاظمين ميں علماء كے اجتماع سے پيوست ہوگئے ،اگر چہ كہ وہ مشروطہ حكومت كے زيادہ حامى نہيں تھے ليكن ايرانى حكومت نے اس مسئلہ كے نتائج كو مد نظر ركھتے ہوئے علماء كى ايران كى طرف جہاد كے عنوان سے روانگى كى مخالفت كى اور اس منتخب انجمن سے تقاضا كيا كہ لوگوں كو انكے شہروں كى طرف لوٹا ديا جائے اور جہاد كا پروگرام ملتوى كرديا جائے علماء بھى كاظمين ميں تين ماہ كے اجتماع كے بعد نجف اور كربلا كى طرف لوٹ گئے اور يہ تحريك بغير كسى عملى نتيجے كے ختم ہوگئي_(۱)

ليكن اس تحريك سے واضح ہوا كہ شيعہ مرجعيت ايك طاقتور سياسى طاقت ميں تبديلى ہوچكى ہے اور قليل مدت ميں عوامى گروہوں كوتيار كرسكتى ہے اوريہ مسئلہ شيعوں كے شعور و آگاہى ميں ترقى كو ظاہر كرتاہے اور بيدارى اور احياء كى تحريكوں كے مابين ان كے نفوذ كوواضح كرتاہے_

احمد شاہ قاجار كے زمانہ حكومت ميں ايرانى معاشرہ كو ايك كمزور حكومت اور بد امنى كے حالات كا سامنا تھا اس غير مناسب صورت حال ميں اصلاحى اور بيدارى كى تحريك بھى جمود كا شكار ہوگئي _ اور يہ تحريك جسكى بناء پر

____________________

۱) حسن نظام الدين زادہ ، ہجوم روس و اقدامات رؤساى دين برائے حفظ ايران، بہ كوشش نصر اللہ صالحى تہران ، ص ۲۴_۳_


آئندہ سالوں ميں رضا خان كى قيادت ميں تشكيل پانے والى آمرانہ حكومت سے بچاجا سكتا تھا ايك مستحكم حكومت كے قيام اور امن و امان كى صورت حال كو درست كرنے كے گرماگرم موضوع كے نيچے دب گئي_(۱)

البتہ اس دور ميں بالخصوص پہلوى حكومت كى تشكيل كے قريب ترين سالوں ميں بہت سى اسلامى رنگ و روپ كى حامل تحريكيں اور گروہ وجود ميں آئے ليكن يہ بھى ايك مركزى مستحكم حكومت اور امن و امان كى ضرورت كے مسئلہ كے پيش نظر ختم ہوگئيں ،ان تحريكوں كے كامياب نہ ہونے كى دوسرى وجہ شيعہ مكتب كے بانفوذ علماء اور دينى مراجع كى ان تحريكوں كو سرپرستى كا حاصل نہ ہونا تھى نيز يہ تحريكيں ايك مخصوص اسلامى فكر كى حامل تھيں كہ جنكى بناء پر دينى مراجع و مراكز انكى حمايت نہيں كرسكتے تھے _

اس كے علاوہ يہ گروہ اور تحريكيں وقت كى قلت كى وجہ سے اپنى تحريك اور اس كے صحيح مقاصد سے آگاہ نہ كرسكيں جسكى وجہ سے يہ زيادہ عرصہ نہ چل سكيں اور غيرملكى استعمار نے بھى انہيں ناتوان كرنے ميں براہ راست كردار ادا كيا كيونكہ بعض تحريكيں مثلا تحريك جنوب غير ملكيوں كى ايران ميں موجودگى اور تجاوز كے خلاف تھي_

ميرزا كوچك خان جنگلى كى قيادت ميں تحريك جنگل ان حالات ميں وجود ميں آئي كہ سرزمين ايران كا گوشہ گوشہ اغيار كے تسلط سے ايران كو آزاد كرنے اور بدامنى كى صورت حال كو ختم كرنے كيلئے انقلابات لانے كيلئے تيار تھا _ ميرزا كوچك خان نے تہران ميں تنظيم اتحاد اسلام سے رابطہ كرنے اور ان سے بحث و مناظرہ كرنے كے بعد اس ہدف كو پانے كيلئے ايك تحريك شروع كى كہ جب كوئي حكومت اپنى مملكت كو اغيار اور دشمنوں كے تسلط سے آزاد نہ كرسكے تو ملت كا فرض ہے كہ اپنے وطن كو نجات دے _

انہوں نے ايران كے شمالى جنگلوں سے قيام كا آغاز كيا اور يہ قيام شوال ۱۳۳۳ قمرى سے ليكر ربيع الثانى ۱۳۴۰ قمرى تك جارى رہا _ انہوں نے اپنى سياسى كاوش كا آغاز مذہبى و روحانى طبقے كى ہمراہى ميں كيا ، انقلاب مشروطہ كے دوران اور انكے بعد كے حالات ميں وہ آمريت كے ساتھ جنگ كرتے رہے_ پہلى جنگ عظيم كے دو ران وہ گيلان كى طرف چلے گئے اور'' انجمن اتحاد اسلام'' كے عنوان سے ايك مخفى تنظيم كو تشكيل

____________________

۱) عليرضا ملايى توانى ، مشروطہ و جمہومرى ، ريشہ ہاى نابسامانى نظم دوكراتيك در ايران، تہران،گسترہ ۱۳۸۱، ص ۱۷۵_ ۱۶۲_


ديا اور بتدريج مجاہدين كو اپنى ساتھ شامل كيا _ چند سال كے مقابلہ و جنگ كے بعد اس تنظيم كو بعض واقعات ميں ہزيمت كا سامنا ہوا بالخصوص سرخ بغاوت كے واقعہ ميں آخر كار وثوق الدولة كى حكومت، انگلستان اور روس كے باہمى مشترك حملہ سے جنگل كى اس تحريك كو شكست ہوئي_(۱)

پہلوى حكومت كى تشكيل كے قر يب ترين دور ميں ديگر اسلامى عناوين كى تحريكوں ميں سے تبريز ميں شيخ محمد خيابانى كا قيام قابل ذكر ہے _ يہ قيام در اصل ۱۹۱۹ عيسوى ميں وثوق الدولة كى حكومت كى انگلستان سے قرار داد كا رد عمل تھا_ البتہ اسى دوران ملك كے ديگر مناطق ميں اور بھى احتجاجى قيام سامنے آئے كہ جو قرار داد كے مخالف تحريكوں كے عنوان سے معروف ہوئے _(۲) اس قرا داد كے مطابق ايران كے عسكرى امور ، اقتصادى امور ، ذرائع ابلاغ كے امور اور ديگر انتظامى امور انگلستان كے كنٹرول ميں آگئے تھے _

شيخ محمد خيابانى ايك شجاع اور اصول پسند عالم تھے جو قاجاريہ دور كے اواخر ميں سامنے آئے اور حريت پسند مجاہد طبقہ سے تعلق ركھتے تھے كہ انہوں نے اس تحريك كے تمام مراحل ميں ظلم و آمريت كے حاميوں سے مقابلہ كيا انہوں نے مندرجہ بالا قرار داد ، آذربائيجان كى حكومت پر عين الدولہ كے تقرر اور ديگر چند مسائل كے رد عمل ميں مركزى حكومت كے خلاف تحريك كو تشكيل ديا اور آذربائيجان كے امور اپنے ہاتھوں ميں لے ليے_ وہ غير ملكى قوتوں كے سخت دشمن اور ايران كے داخلى امور ميں اغيار كى ہر قسم كى مداخلات كے سخت مخالف تھے وہ بھى ميرزا كوچك خان كى مانند اس دھن ميں تھے كہ آذربائيجان سے شروع كريں اورمكمل ايران كو اغيار كے تسلط اور استعمار سے نجات دلائيں _(۳)

____________________

۱) نہضت جنگل بہ روايت اسناد وزارت امورخارجہ ، رقيہ سادات عظيمى كى سعى سے ،تہران، دفتر مطالعات سياسى و بين الملل ، ۱۳۷۷، ص ۱۸_۱۵ ( مقدمہ )_

۲) داريوش رحمانيان، چالش جمہورى وسلطنت در ايران ، زوال قاجار روى كار آمدن رضا شاہ ، تہران، نشر مركز، ۱۳۷۹، ص ۴۲_

۳) على اصغر شميم ، ايران در دورہ سلطنت قاجار، تہران ، علمى ، ج ۲ ص ۶۰۳_ ۵۹۹ ،محمد جواد شيخ الاسلامي، سيماى احمد شاہ قاجار ، ج ۲ ، تہران ، ص ۱۰۸_۹۰_


اعتراضات بڑھنے كى وجہ سے وثوق الدولة نے استعفى دے ديا _ ليكن خيابانى كى تحريك بھى بعد والى حكومت كے ذريعے دبادى گئي اور خيابانى كے قتل ہونے كے ساتھ ہى يہ تحريك ختم ہوگئي _(۱)

اہم نكتہ يہ ہے كہ خيابانى اور جنگلى كى تحريك كو اسلامى بيدارى كے منظر سے محور تجزيہ قرار نہيں ديا جاسكتا كيونكہ انكے اسلامى افكار اور اصول پسند علماء كے نظريات ميں اساسى فرق تھا، اصول پسند علماء كى اہم خصوصيات يہ تھى كہ وہ دين اور سياست كے امتزاج پر يقين ركھتے تھے جبكہ ان تحريكوں ميں دين كے سياست سے جدا ہونے پرزور ديا گيا تھا_ ليكن امور مسلمين پر كفار اور اغيار كے تسلط كى مخالفت ميں يہ باہمى اور مشابہہ نظريات ركھتے تھے_ اور يہ موضوع بعد ميں استعمار كى مخالف تحريكوں اور تنظيموں ميں اہم تاثير كا حامل تھا _

ديگر واقعات ميں سے كہ جن ميں شيعہ علماء نے رد عمل كا اظہار كيا اور محاذ تشكيل ديا اور اُس موضوع كے خلاف آراء اور نظريات كا اظہار كيا _ وہ رضا خان كا جمہوريت پسند پروگرام تھا _ يہ پروگرام سال ۱۳۰۳ شمسى ميں اس وقت سامنے آيا كہ جب سلسلہ قاجار كا نظام حاكميت مكمل طور پر اپنى حيثيت كھو بيٹھا تھا اور ايران كے ہمسايہ ملك تركى ميں جمہورى نظام كا اعلان ہوچكا تھا_ ايران ميں اس پروگرام كے پيش ہونے اور بالخصوص تركى سے متاثر ہونے نے علماء كو تشويش ميں مبتلا كرديا كيونكہ وہ اس اعلان جمہوريت كو اتا ترك كے اسلام مخالف پروگراموں سے مربوط سمجھتے تھے _(۲)

جمہوريت كے مخالفين ميں سے ايك آيت اللہ سيد حسن مدرس تھے كہ جو قومى پارلمنٹ كے ركن بھى تھے _(۳) جناب مدرس حقيقى جمہوريت كے مخالف نہيں تھے يہ بات وہ كئي بار معترضين كے اعتراض اور تنقيد كے

____________________

۱) على اصغر شميم ، سابقہ ماخذ ، ص ۶۰۳_

۲) سلسلہ پہلوى و نيروہاى مذہبى بہ روايت تاريخ كمبريج ،ترجمہ عباس مخبر، تہران، ج۳ ، ص ۲۲_ ۲۱، عليرضا ملايى تواني، سابقہ ماخذ ، ص ۳۳۵_

۳) على دوانى ، استادان آيت اللہ شہيد سيد حسن مدرس، مدرس، تاريخ و سياست ( مجموعہ مقالات ) موسسہ پوہش و مطالعات فرہنگى ، ص ۴۸_۴۴_


جواب ميں كہہ چكے تھے _ وہ كہا كرتے تھے كہ يہ جمہوريت جو ہم پرمسلط كرنا چاہتے ہيں يہ ملت و قوم كى مرضى پر استوار نہيں ہے بلكہ انگريز ہميں اسے قبول كرنے پر مجبور كر رہے ہيں تا كہ وہ اپنے سے وابستہ اور سو فيصد اپنى حامى حكومت كو ايران ميں تشكيل دے سكيں _ اگر ان جمہوريت پسندوں كى طرف سے نامزد شخص ايك ملت پسند اور حريت پسند فرد ہو تو ميں ضرور اسكى ہمراہى كرونگا_(۱)

حقيقت بھى يہى ہے كہ رضا خان كا جمہورى پروگرام كسى بھى طرح سے عوامى حكومت كے نظريہ سے تعلق نہيں ركھتا تھا _ بلكہ اہل فكر و سياست كے ايك گروہ كى ايك كوشش تھى كہ انہى قوانين اور اداراتى نظام كے دائرہ كا ر ميں ہى رہتے ہوئے مصالحانہ انداز سے حكومت كو تبديل كيا جائے تا كہ ايك طاقتور مركزى حكومت تشكيل پاسكے _ گرزتے ہوئے وقت نے انكے جمہورى نظام كے دعوى كو جھوٹا ثابت كرديا _(۲)

جناب مدرس نے رضاخان كے جمہورى پروگرا م كى مخالفت ميں علماء كو ابھار نے ميں بھى كردار ادا كياانہوں نے ايران كى معاصر تاريخ كے اس دورانيہ ميں ايك قوى سياسى مجتہد كے مقام پراپنا كردار كوبنھايا_ علماء نے بھى قم ميں اس پروگرام كى مخالفت ميں احتجاجى مظاہرے تشكيل ديے_ بالاخرہ نوبت يہانتك پہنچى كہ خود رضاخان نے بھى علما ء كے دامن كا سہارا ليا تا كہ اس جمہورى پروگرام پر ہونے والے اعتراضات اور احتجاج كو ختم كيا جاسكے_

رضا خان اپنى حكومت كے پہلے دور ميں يہ چاہتا تھا كہ اپنے زمانہ كے علماء بالخصوص علماء نجف كى مدد سے اپنے مقاصد كو پورا كرے _ وہ اس دورانيہ ميں بظاہر دين كى طرفدارى كے عنوان سے اپنے آپ كو پيش كيا كرتا تھا_(۳)

____________________

۱) حسين مكي، تاريخ بيست سالہ ايران ، تہران، علمى ۱۳۷۴، ص ۴۹۵_

۲) عليرضا ملايى تواني، سابقہ ماخذ ، ص ۳۵۸_ ۳۴۵_

۳) عبدالہادى حائري، سابقہ ماخذ ، ص ۱۹۲_ ۱۸۷_


اس ترتيب سے جمہوريت پسند تحريك مذہبى قوتوں كى واضح مخالفت اور پارلمينٹ كى قليل سى حزب اختلاف كى ثابت قدمى سے شكست سے ہمكنار ہوئي _(۱)

مدرس نے پارلمنٹ كے پانچويں انتخابات كى روش پر بھى اعتراض كيا انہوں نے انتخابات ميں دھاندلى كى بناپررضاخان كى جھوٹى جمہوريت پسندى كو بے نقاب كيا _ مدرس نے كم نظير ثابت قدمى اور مقابلہ كے ساتھ اس شديد دباؤ كے دور ميں اسلامى بيدارى كے چراغ كو سنبھالے ركھا _

پہلوى دور كے پہلے مرحلے ( ۱۳۲۰_ ۱۳۰۴ ) شمسى كواسلامى تہذيب اور دينى اداروں كے ساتھ شديد دشمنى كے دور سے تعبير كيا جاسكتا ہے _ رضا شاہ كى آمريت كومستحكم انداز سے تشكيل دينے والے اسباب ميں سے ايك سبب مشروطيت پسندى كى تحريك سے علماء كا دل اچاٹ ہونا اور رضا شاہ كا اپنى حيثيت كو مستحكم كرنے كے ليے مذہبى مراسم ميں مسلسل شركت كرتے ہوئے دوسروں كو گمراہ كرنا تھا در حقيقت اس حوالے سے اسكے دوغلے پن اور منافقت نے اہم كردار ادا كيا _(۲) ان سب دشواريوں كے باوجود اسلامى بيدارى كى تحريك اسى طرح آگے قدم بڑھاتى رہى _

پہلوى دور ميں ايك اہم واقعہ آيت اللہ شيخ عبدالكريم حائرى كى كوشش سے قم كے حوزہ علميہ كى تشكيل تھي انہوں نے مشروطيت پسندى كى تحريك ميں خود كو غير جانبدار ركھا اور سياسى محاذوں سے دور رہے _ انكى كاوشوں كا عمدہ ترين نتيجہ قم ميں حوزہ علميہ كى تشكيل اور مقامات مقدسہ اور حوزہ علميہ نجف اشرف سے مرجعيت كے مركز كو اس حوزہ ميں منتقل كرنا تھا كہ جسكے ايرانى معاشرہ اور لوگوں پربہت زيادہ اثرات پڑے(۳) كچھ عرصہ بعد ہى اس حوزہ نے كميونسٹ نظريات اور رضا شاہ كے دين مخالف اقدامات كے ساتھ مقابلہ كرنے ميں شہرت پايى اور دينى و شرعى مسائل ميں لوگوں كے سوالات اور ضروريات كو پورا كرنے كا خلا پر كرديا مشروطيت

____________________

۱) عليرضا ملايى تواني، مجلس شوراى ملى و تحليم ديكتا تورى رضا شاہ تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامى ، تہران ، ص ۱۲۹_۱۱۹_

۲) سلسلہ پہلوى و نيروہاى مذہبى بہ روايت تاريخ كمبريج، سابقہ ماخذ، ص ۲۷۹_ ۲۷۸_

۳) حميد بصيرت منش، علماء و ريم رضاشاہ، تہران، موسسہ چاپ و نشر عروج ،ص ۲۳۶ _ ۲۳۵_


كے مسائل اور علما كے انقلاب كے مركز سے دور ہونے كى بنا پر اس قسم كے حوزہ كى تشكيل كو ايك ناگزير امر بنا ديا تھا(۱) حوزہ علميہ قم كى تشكيل اور استحكام ميں آيت اللہ حائرى كى سياسى احتياط بہت تاثير ركھتى تھى _ انہوں نے حوزہ كے استحكام سے قبل سياسى حوالے سے افراط و تفريط ميں پڑنے سے مكمل طور پر پرہيز كيا_

آيت اللہ حائرى دينى اداروں كے جہاد كى ايك تيسرى صورت كو وجود ميں لائے اور وہ يہ تھى كہ مغربى تہذيب كى مہلك اور بڑھتى ہوئي لہروں كے مد مقابل حوزہ كى طرف سے صحيح شيعى تہذيب كے احياء كى تحريك كى بنياد ركھى _

اگر ان سے قبل علماء سياسى اور انقلابى محاذپر استعمار اورآمريت كا مقابلہ كر رہے تھے تو آيت اللہ حائرى نے لائيسزم كے خلاف تيسرى محاذير توجہ كى اور اسے دين كے مقابلے ميں اساسى محاذ شمار كرتے ہوئے اسكا مقابلہ كيا_ البتہ آيت اللہ حائرى كى طرف سے دينى تہذيب كو مستحكم كرنے كى كاوشوں نے آئندہ دور تك دورس اثرات چھوڑے كہ جن كى بناء پر بالآخرہ دينى نظريے نے سيكولرزم پر برترى حاصل كرلى اور اسے شكست دي_(۲)

رضاشاہ كے زمانہ ميں ايك اور روشن فكر اور مجاہد عالم آيت اللہ محمد تقى بافقى تھے_ انہوں نے ۲۹ اسفند ۱۳۰۶ شمسى ميں نوروز كى رسوم كى ادائيگى كے موقعہ پر كہ جب كچھ دربارى بے حجاب خواتين حضرت معصومہ قم كے حرم ميں داخل ہوئيں شديد مخالفت كى جسكى بناء پر انہيں گرفتار كيا گيا اور كچھ عرصہ بعد شہر بدر كرديا گيا_(۳) ان اعتراضات نے لوگوں اور اخبارات ميں رد عمل پيدا كيا_ اور دين مخالف سياست كے مقابلے ميں مجاہد علماء كے جھاد كو زندہ اور فعال ركھا_

____________________

۱) حاج شيخ عبدالكريم حائرى (مؤسس حوزہ علميہ قم،عمادالدين فياضى كى سعى سے، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامي، ص ۶۶ _ ۶۲_ تاريخ شفاہى انقلاب اسلامى (تاريخ حوزہ علميہ قم، ج ۱، غلامرضا كرباسچي، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامي، ص ۲۷ _ ۲۶_

۲) موسى نجفى و موسى فقيہ حقاني، سابقہ ماخذ، ص ۴۲۷ _ ۴۲۴_

۳) دانشنامہ جہان اسلام، ج ۱، ص ۱۳۷۵، '' بافقي'' كے ذيل_ آيت اللہ محمد تقي_


رضا شاہ كى دين مخالف سياسى حركات كے مقابلے ميں ايك اہم رد عمل ۱۳۰۶ شمسى ميں آيت اللہ نوراللہ اصفہانى كى قيادت كى شكل ميں سامنے آيا جناب نوراللہ نے ۱۳۰۶ شمسى ميں علماء ، پيشہ ور حضرات ،انجمنوں ، تاجر حضرات اور مذہبى طبقہ پر مشتمل ايك تنظيم'' اتحاد اسلامى اصفہان'' كى تشكيل دى اس تنظيم كا ہدف پہلوى حكومت كى مذہبي، اقتصادى اور ثقافتى پاليسيوں كا مقابلہ كرنا تھا_(۱)

۱۳۰۶ شمسى كا قيام بظاہر ''نظام وظيفہ ''كے قانون كے خلاف تھا كہ جسكى رو سے دينى طلاب كيلئے نظام وظيفہ كے عنوان سے سول اور ملٹرى سروس(۲) كرنا لازمى تھا_ ليكن حقيقت ميں يہ قيام رضاشاہ كى غيرمذہبى سياست كے خلاف تھا اسى قيام كے سلسلے ميں اصفہان كے علماء اور طلاب نے ۲۱ شہريور ۱۳۰۶ شمسى ميں قم كى طرف ہجرت كى كہ يہ قيام ۴ دى ۱۳۰۶ شمسى (۱۰۵ روز) تك جارى رہا ،آيت اللہ حائرى نے مہاجرين كا استقبال كيا اور انكى خاطر تواضع كرتے ہوئے انكے نظريات اور اہداف كى نشر و اشاعت كے تمام وسائل اور ذرائع فراہم كيے_

دربارنے ابتداء ميں اس مسئلہ كى پروا نہ كى ليكن جب دربار كے وزير تيمور تاش نے مہاجرين سے ملاقات كى اور ان سے گفتگو كي، مشہد، ہمدان، كاشان، شيراز اور ديگر شہروں كے علماء اصفہانى مہاجرين كى صفوف ميں شامل ہوگئے ،پورے ملك سے علماء كى حمايت ميں شاہ كو ٹيلى گراف ملنے شروع ہوئے اور نجف كے علماء سے بھى رابط برقرار ہوا معاملہ يہاں تك پہنچ گيا كہ حكومت قم پر حملے كا پروگرام بنانے لگي(۳)

حكومت نے علماء كے مطالبات كو تسليم كرليا ليكن علماء نے اسكى موافقت كو حكومت كى طرف سے رسمى بل كى تيارى اور پارليمنٹ ميں اسكى منظورى پر موقوف كرديا ،آخر كار مخبر السلطنة ، رئيس الوزرا، اور تيمور تاش مہاجرين

____________________

۱) حميد بصيرت منش، سابقہ ماخذ، َص۲۹۴_

۲) يہ نظام اب بھى دنيا كے بہت سے ممالك ميں رائج ہے جس كے تحت ملك كے ہر شہرى پر لازم ہے كہ وہ شناختى كارڈ لينے اور بعض دوسرے شہرى حقوق سے بہرہ مند ہونے كے ليے ايك يا دو سال گورنمنٹ يا فوج كے كسى بھى شعبے ميں ٹريننگ كے بعد خدمات سر انجام دے_(مصحح)

۳) مرجعيت در عرصہ اجتماع و سياست ، محمد حسين منظور الاجداد كى سعى سے ، تہران ، ص ۲۲۵_ ۳۲۰_


ميں تفرقہ ڈالتے ہوئے اور اپنے وعدہ پر عمل كيے بغير اس قيام كو ختم كرنے ميں كامياب ہوگئے اسى درميان ناگہان آيت اللہ نور اصفہانى كى قم ميں وفات نے بھى اس قيام كے بے نتيجہ اختتام ميں كردار ادا كيا _(۱) اگر چہ بظاہر يہ كاوش بے نتيجہ محسوس ہوتى ہے ليكن مختلف شہروں كے علماء اور طلاب كا قم ميں اجتماع اور انكا باہمى معلومات اور نظريات ميں تبادلہ خيال اور اس احتجاج كى خبروں كى نشر و اشاعت سے مذہبى قوتوں كو يہ اميدملى كہ وہ آئندہ سالوں ميں بھى يہ جہاد جارى ركھ سكتے ہيں ،حقيقت ميں اس قسم كى تحريكيں ايسے ہمت و صبر كے پيدا ہونے كا باعث بنيں جو آئندہ دور ميں بڑے انقلاب كا سبب بنا تھا_

۱۳۰۷ شمسى سے ليكر ۱۳۲۰ شمسى تك كادور مذہبى قوتوں اور انكى فعاليت پر سب سے زيادہ دباؤ اورتنگى كا دور تھا اسى دوران آيت اللہ مدرس كو رضا شاہ كى حكومت كى مسلسل مخالفت كى بناء پر شہر خواف كى طرف شہر بدر كرديا گيااور آخر كار انہيں شہيد كرديا گيا _(۲)

رضا شاہ كى حكومت كا ايك اور اہم واقعہ مسجد گوہر شاد كا قيام تھا، ۱۳۱۴ ميں يہ واقعہ وقوع پذيرہوا _ مشہد كے ايك عالم آيت اللہ حسين قمى يورپى طرز كى سبك ٹوپيوں كے رواج پر اعتراض كيلئے تہران آئے تا كہ رضا شاہ تك اپنى شكايت پہنچائيں ليكن انہيں گرفتار كر كے جيل ميں ڈال ديا گيا ،انكى گرفتارى كے رد عمل ميں مشہد كى مسجد گوہر شاد ميں احتجاجى اجتماع ہوا كہ جو پوليس كے ہاتھوں لوگوں كے قتل عام پر ختم ہوا ،يہ حكومت پہلوى كے ہاتھوں ۱۵ خرداد ۱۳۴۳ تك سب سے بڑا قتل عام ہے _ مشہور واعظ شيخ محمد تقى بہلول افغانستان كى طرف فرار ہوگئے اور آيت اللہ قمى كو عراق كى طرف ملك بدر كرديا گيا ،ديگر علماء اور كچھ مذہبى افراد كو گرفتار كر كے جيل ميں ڈالا گيا يا جلا وطن كرديا گيا(۳)

مجموعى طور پر ايرانى معاشرہ پر رضا شاہ كى حكومت كا غير دينى طرز عمل لوگوں اور حكومت كے درميان فاصلے اور مذہبى قوتوں ميں شدت پسندى كے رحجان كے بڑھنے كا موجب بنااور مذہبى قوتوں كى فعاليت زير زمين

____________________

۱) حاج شيخ عبدالكريم حائرى ، سابقہ ماخذ ، ص ۸۸_ ۸۷_

۲) حميد بصيرت منش، سابقہ ماخذ ، ص ۳۳۵_ ۳۳۳_

۳) سلسلہ پہلوى ونيروہاى مذہبى بہ روايت تاريخ كمبريج ص ۲۸۶_ ۲۸۵ _


چلے جانے سے بعد ميں آتش فشان كى صورت پيدا ہوئي(۱) نتيجہ يہ نكلا كہ ان اسلام مخالف سياسى پاليسيوں نے اپنى مخالف قوت كو عوام ميں پھلنے پھولنے كے اسباب فراہم كيے اور تيسرے عشرے كے انقلابات كا پيش خيمہ ثابت ہوئے _

۲۵ شہريور ۱۳۲۰ ميں رضا شاہ كى آمريت كو شكست ہونے اور اسكے ايران سے نكلنے كے بعديكدم ظلم وآمريت كى زنجير ٹوٹ گى اور ديگر قوتوں كى مانند مذہبى اور دينى تفكر كى احيا گر قو توں نے بھى خود كو رضا شاہ كى حكومت كے دباؤ سے آزاد پايا_ اس بہتر سياسى فضا ميں مذہبى قوتوں نے غير دينى اور زبردستى كى لاگو اقدار كوختم كرنے اور اسلامى دينى افكار كے احياء اورلوگوں كى بيدارى كے محاذ پر كام كرنا شروع كرديا ،اسى دوران حوزہ علميہ قم نے لوگوں كى مذہبى راہنمائي كيلئے حوزہ كے تربيت شدہ اورجديد دينى فكر كے حامل سب سے پہلے گروہ كو معاشرہ ميں بھيجا تا كہ ايك نئي زندگى كا آغاز ہو _

تيسرے عشرہ كے اوائل ميں مذہبى قوتوں كے جہاد كا محور مندرجہ ذيل موضوع تھے: احمد كسروى كے نظريات كا مقابلہ ، خواتين كے حجاب كيلئے بھر پور كوشش ،كميونيزم سے مقابلہ اور بہائيت سے مقابلہ ان ميں سے ہر ايك ہدف كيلئے بہت زيادہ پروپينگنڈا كيا گيا اور بہت سى كتب تاليف اور شايع ہوئيں _ نيز مختلف رسالے بھى لكھے گئے كہ ان تاليفات ميں معروف رسائل حجابيہ اور امام خمينى كى كتاب كشف الاسرار تھى كہ جو حقيقت ميں حكيم زادہ كى تاليف اسرار ہزارسالہ اوراحمد كسروى كى تاليفات كے رد ميں تھي،نيز يہ كتاب ولايت فقيہ كا اجمالى سانظام بھى پيش كرتى تھي_

سنن۱۳۲۷ شمسى سے مسئلہ فلسطين بھى اسلامى بيدارى كى محافل ميں داخل ہوا مذكورہ چاراہداف تك پہنچنے كيلئے اور بے دينى سے مقابلہ كرنے كيلئے تنظيميں ، انجمنيں ، گروہ اورسياسى جماعتيں بھى وجود ميں آئے_(۲)

____________________

۱) دانشنامہ جہان اسلام ، ج ۵ ، پہلوى كے ذيل ميں عصر پہلوى اوّل ،ص ۷_ ۸۴۳_

۲) رسول جعفريان ، جريانہا و سازمانہاى مذہبى _ سياسى ايران ( سالہاى ۱۳۵۷_ ۱۳۲۰) تہران، موسسہ فرہنگى دانش وانديشہ معاصرچ۳، ص ۲۲_۱۸_


اس كاوش اور فعاليت كے ساتھ ساتھ مكتب اجتہاد كے علماء كا دو محاذوں يعنى آمريت اور استعمار كے خلاف جہاد پر بھى كام جارى رہا _ جلاوطن علماء دوبارہ ميدان عمل ميں لوٹ آئے كہ جن ميں آيت اللہ حسين قمى اور سيد ابوالقاسم كاشانى قابل ذكر ہيں دينى اور مذہبى تعليم كے نصاب كى اصلاح كى گئي اور موقوفات كے ادارہ كى حيثيت اور حالت كوتبديل كيا گيا _(۱)

تيسرے عشرہ ميں دينى نظريات كے احياء كى تحريك كا اہم مرحلہ امام خمينى كا ظہور اور انكا مذہبى سياست كے ميدان ميں داخل ہونا تھا _ انہوں نے ۱۳۲۳ شمسى ميں اپنا سب پہلا سياسى مكتوب بيان جارى كيا كہ اس ميں تحرير تھاكہ '' انبياء الہى مكمل طور پر اللہ تعالى كى معرفت ميں غوطہ زن ہوتے ہوئے انسانوں كى معاشرتى اور سياسى حالت كو تبديل كرنے كيلئے قيام كرتے تھے انكے برعكس آج كے مسلمان فقط دنياوى مفادات كيلئے قيام كرتے ہيں كہ جسكا نتيجہ اغيار كى غلامى اورانكے حوارى مثلا رضا شاہ و غيرہ كى حاكميت كى صورت ميں نكلتاہے _(۲)

ہجرى شمسى كے تيسرے اور چوتھے عشرہ ميں اسلامى بيدارى كى اس تحريك كے ساتھ دو اركان كا مزيد اضافہ ہوا اوروہ دينى جرائد اور دينى رجحان كى حامل يونيورسٹى كے طلباء كى تنظيم تھى ،اگر چہ دينى جرائد گذشتہ عشروں ميں بھى دينى فعاليت انجام ديتے تھے ليكن ان دو عشروں ميں كميت اور كيفيت كے اعتبار سے انكى فعاليت ميں واضح طور پر اضافہ ہوا _ اس دور كى دينى تحريروں ميں فعال حضرات كى نئي خصوصيت يہ تھى كہ علماء كے علاوہ ملكى اور غير ملكى اور يونيورسٹيوں كے تعليم يافتہ حضرات بھى دينى موضوعات پر قلمى كا وشيں كر رہے تھے اور جوان نسل كو اسلام سے آشنا كرنے كى سعى ميں مصروف تھے ،مذہبى جرائد كے بعض مقالات جديد علوم كے ذريعے سائنس و دين ميں مطابقت اور دينى مسائل كے جديد علوم كى روشنى ميں اثبات پر كام كر رہے تھے _

____________________

۱)روح اللہ حسينيان، بيست سال تكاپوى اسلام شيعى در ايران ، تہران مركز اسناد انقلاب اسلامى ص ۹۸_ ۹۵_

۲) سلسلہ پہلوى ونيروہاى مذہبى بہ روايت تاريخ كمبريج ،ص ۳۰۴، ۲۰۳_


اس دور كے مذہبى رسائل و جرائد ميں سے خرد ، سالنامہ اور ہفتہ نامہ نور دانش ، آيين اسلام ، پرچم اسلام ، دنياى اسلام ، وظيفہ ، محقق ، تعليمات اسلامى ، ستارہ اسلام ، نداى حق ، حيات مسلمين اور تاريخ اسلام كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے _(۱)

اسلامى بيدارى كى تحريك كا ايك شاہكار دور تيل كوقوميانے كى تحريك كا دور تھا _ يہ تيسرے عشرہ ميں استعمار كے خلاف ايك اہم ترين تحريك شمار ہوتى ہے تيل كو قوميانے كى تحريك كے دوران دو فكرى رحجان قوم پرستى كى تحريك اور مذہبى تحريك متحد ہوگئيں دونوں نے متحد ہو كر لوگوں كے حقوق كے دفاع پر مشتمل اقدامات سے بھر پورنتيجہ ليا_ اس دور ميں قوى تحريك كے قائد محمد مصدق اور مذہبى تحريك كے متفقہ قائد آيت اللہ سيدابوالقاسم كاشانى تھے _

آيت اللہ كاشانى نے سالہا سال سے ايران و عراق ميں انگلستان كے استعمارى تسلط كے خلاف جنگ كى تھى اور اس دور ميں بھى قاعدہ ''نفى سبيل '' كى بناء پر انگلستان كے ايرن پر بالخصوص تيل كى صنعت پر تسلط كے خلاف كوشش كى ،لوگوں ميں انكى مقبوليت اور ايرانى معاشرے كے مذہبى ہونے كى بناء پر وہ قادر ہوئے كہ مذہبى طبقے اور قوم پرست طبقے كے مابين پل كا كردار ادا كرتے ہوئے ان دونوں كو متحد كرديں _(۲)

ان كے اعلانات، تقارير اور فتاوى نے اس عوامى جنگ كو دينى پشت پناہى عطا كى _ انہوں نے تيل كو قوميانے كے شرعى اور عقلى دلائل بيان كيے، اور اس ضمن ميں علماء اور ديگر مذہبى قوتوں كو بھى شامل ہونے كى دعوت دى اور مختلف بين الاقوامى انٹرويوزميں اپنے اور قوم كے نظريات اور دلائل كو بيان كيا(۳) _

آيت اللہ كاشانى نے تيل كو قوميانے كى تحريك ميں اپنے افكار كو عملى جامہ پہنانے كيلئے مجمع مسلمانان مجاہد اور جمعيت فدائييان اسلام كى تنظيموں سے بھى مدد لى _

____________________

۱) رسول جعفريان ، سابقہ مواخذ ، ص ۹۱_۷۴_

۲) فريدون اكبرزادہ ، نقش رہبرى در نہضت مشروطہ ، ملى نفت و انقلاب اسلامى تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامى ،ص ۱۰۳_ ۱۰۰_

۳) حسين گلى بيدي، آيت اللہ كاشانى ونفت ، تہران ، اسلامى ، ۱۳۸۰،ص ۲۲۰_ ۳۵_


'' مجمع'' كا پہلا گروہ جمعيت فداكاران اسلام تھا كہ جو ۱۳۲۲ شمسى ميں تشكيل پايا البتہ جمعيت فدائيان اسلام كى ابتداء بھى اسى جمعيت سے ہوئي تھي، يہ مجمع'' مہر ميہن'' اخبار كے ذريعے اپنے نظريات كى اشاعت كرتا تھا _(۱)

فدائيان اسلام ۱۳۲۰ شمسى كے تبديل ہوتے ہوئے حالات ميں زور و شور سے شريك تھے انكى بنيادى جدوجہدكسروى اور اسكے ہم فكر لوگوں كے افكار كا مقابلہ كرنا تھا _ يہ لوگ تبليغى اور ثقافتى امور ميں كام كرنے كے ساتھ ساتھ عسكريت پربھى ايمان ركھتے تھے انكے خيال كے مطابق مسلمانوں كو اپنے دشمنوں كو قتل كرنے يا قتل ہونے پر خوفزدہ يا پريشان ہونے كى ضرورت نہيں ہے ايسے دشمن لوگ جو اسلامى حقائق كے سامنے سر تسليم خم نہ كريں اور مسلمانوں پر تجاوز كرنے كے عزائم ركھتے ہوں انہيں نابود ہوجانا چاہيے _(۲)

انہوں نے اپنے مقاصد كى تكميل كى خاطر احمد كسروي، عبدالحسين ہير اور حاجى على رزم آرا كو قتل كرديا_ رزمآرا كے قتل نے تيل كى صنعت كو قوميانے اور اس قرار داد كے پارلمينٹ اور سينٹ ميں پاس ہونے ميں سرعت پيدا كى(۳) حقيقت ميں رزم آرا كا قتل تيل كى صنعت كے قوميا نے ميں كاميابى كا آخرى مرحلہ تھا_

ايك اور مقام كہ جہاں شيعہ علماء آمريت اور استعمار كے مد مقابل كامياب ہوئے ۱۳۳۱ شمسى ميں ۳۰ تيركے مہينے كا قيام تھا، ۱۳۳۱ ميں ۲۵ سے ۳۰ تير تك كے درميانى عرصہ ميں مصدق نے استعفى ديا اور محمد رضا پہلوى نے بغير كسى تعطل كے احمد قوام كو انكى جگہ وزير اعظم مقرر كيا تو فوراً آيت اللہ كاشانى ميدان عمل ميں آگئے _ انكى تقارير، اخبارات ميں انٹريوز اور اشتہارات نے ايسا ماحول بناديا كہ سارے ايران سے قوام كى حكومت كے خلاف اعتراضات شروع ہوگئے _ ايك مجتہد كى سياسى بصيرت پر لوگوں كا لبيك كہنا اسلامى بيدارى كى تحريك كے تسلى بخش نتائج اور پورے ايران ميں اسكے اثر و رسوخ كو بيان كرتا ہے _

____________________

۱) روح اللہ حسينيان، سابقہ ماخذ ، ص ۶۶_۶۳_

۲) داود امينى _ جمعيت فدائيان اسلام و نقش آن در تحولات سياسى و اجتماعى ايران ص ۱۱۸_ ۱۲_

۳) سابقہ ماخذ ص ۲۱۳_ ۲۱۲_


آيت اللہ كاشانى نے احمد قوام كے دھمكى آميز اعلان كے رد عمل ميں اپنے ايك اعلان ميں فرمايا: اپنى حكمرانى كے ابتدائي ايام ميں انكا اعلان بخوبى بتا رہا ہے كہ اغيار كسطرح انكے ذريعے يہ عزائم ركھتے ہيں كہ اس مملكت ميں دين ، آزادى اور خود مختارى كو جڑوں سے كاٹ ديا جائے اور دوبارہ مسلمان قوم كى گردن ميں غلامى كا طوق ڈال ديا جائے_ دين كو سياست سے جدا كرنے كى سازش جو سالہا سال سے انگريزوں كے تمام پروگراموں ميں سر فہرست تھى اور اسكى بناء پر انہوں نے مسلمانوں كو اپنے مستقبل اور اپنے دين و دنياوى امور ميں جد وجہدكرنے سے روكا ہوا تھا آج اس جاہ طلب شخص كے پروگرام ميں سرفہرست ہے_ احمد قوام كو يہ جاننا چاہيے كہ وہ سرزمين كہ جہاں مصيبت زدہ لوگوں نے سالہا سال كے رنج و سختى كو تحمل كرنے كے بعد خود كو ايك آمركے تسلط سے نجات دلوائي ہے انہيں آج اپنے عقائد افكار كو آزادانہ بيان كرنے سے نہيں روكنا چاہيے اور نہ انہيں اجتماعى پھانسى سے ڈرانا چاہيے ،ميں واضح انداز سے كہتا ہوں كہ تمام مسلمان بھائيوں پر ضرورى ہے كہ وہ آمادہ ہوجائيں اور استعمارى سياست دانوں پر ثابت كرديں كہ گذشتہ دور كى مانند وہ آج طاقت اور تسلط نہيں پاسكتے_

۲۹ تير ۱۳۳۱ ميں انہوں نے دربار كو ايك پيغام ميں كہا: اعلى حضرت كو بتاديں كہ اگر كل تك ڈاكٹر مصدق كى حكومت كى بحالى كيلئے كوئي قدم نہ اٹھايا گيا تو انقلاب كى اس عظيم موج كو ميں اپنى قيادت ميں دربار كى طرف پھير دوں گا_(۱) اپنے انٹريو ميں اعلان كيا كہ : اگر كوئي ايك انگريز بھى آبادان كے تيل كے پلانٹ كى طرف آيا تو ميں حكم دونگا كہ اس تيل كے پلانٹ كو تمام ساز و سامان كے ساتھ جلاديا جائے اور تباہ كرديا جائے اگر اس سے زيادہ مشكل پيدا ہوئي تو ميں كفن پہن كر قيام كرونگا_(۲)

____________________

۱) حسين گل بيدي، سابقہ ماخذ ، ص ۲۲۷_ ۲۷۴_

۲) روح اللہ حسينيان ، سابقہ ماخذ ، ص ۱۷۶_


بالآخر مذہبى اور قوى تنظيموں كے باہمى اتحاد اور عوام كے احتجاجى مظاہروں كے نتيجہ ميں احمد قوام كو ہٹاديا گيا اور اسكى جگہ دوبارہ مصدق كو منتخب كيا گيا _ ۳۰ تير كا يہ قيام در حقيقت سياسى مسائل ميں شيعہ مرجعيت اور دينى طاقتوں كى طاقت و قوت كے عروج كا دور تھا _

دينى افكار كے احياء كى صورت ميں بيدار كرنے والا ايك اوراقدام آيت اللہ بروجردى كى عالم اسلام ميں شيعہ علماء كو فعال اور تمام علمى اور عملى ميدانوں ميں لانے كى كوشش تھى انہوں نے شروع ميں جوان مبلغين اور حوزہ علميہ قم كے مذہبى دانشوروں كى مختلف ٹيميں دنيا كے مختلف ممالك ميں مسلمانوں اور شيعوں كى دينى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے بھيجيں اور يورپ، امريكہ، افريقہ اور ايشيا ميں شيعہ اسلامك سينٹرز قائم كيے_ اس حوالے سے انكا اہم ترين قدم علامہ شيخ محمد تقى قمى كوقاہرہ كى طرف بھيجنا تھا جب وہ قاہرہ تشريف لے گئے تو اسوقت قاسم غنى وہاں ايرانى سفير تھے وزارت خارجہ كى اسناد كے مطابق ان دونوں نے باہمى كوشش سے علماء اہلسنت كے ساتھ وسيع پيمانے پر تعلقات قائم كيے تا كہ اہل تشيع كے بنيادى قواعد كى تشريح و تفسير كى جائے جسكى بناء پر وہاں بالاخر دارالتقريب مذاہب اسلامى كاادارہ تشكيل پايا_(۱)

جيسا كہ پہلے بھى اشارہ ہوا ہے اسلامى بيدارى كى تحريك كا ايك جديد ركن يونيورسٹى كے طلباء كى اسلام پسند تحريك تھى جو اسى زمانہ ميں وجود ميں آئي اور ثابت قدمى سے فعاليت كر رہى تھى ،يونيورسٹياں جو كہ مختلف افكار ونظريات كے تبادلے كا مركز تھيں وہاں اسلامى نظريات اور دينى تشخص كے دفاع كے نظريات و خيالات بتدريج بڑھ رہے تھے _ اس تحريك كا مقصد اسلام كو غلط عقائد سے پاك كرنا اور اسلام كا تعارف اس دين كے عنوان سے كروانا تھا كہ جو علم ، معاشرتى انصاف ، مساوات اور آزادى كے ساتھ ہم آہنگ ہے اور جہالت ، ظلم ، بے انصافى ، آمريت اور استعمار كا مخالف ہے _

اس تحريك كى تشكيل ميں بڑا حصہ اہل فكر علما اور اسلام پسند اساتذہ كى كاوشوں پر مشتمل تھا مثلا آيت اللہ

____________________

۱) سابقہ ماخذ ص ۳۹۱_ ۳۹۰


طالقاني، استاد محمد تقى شريعتى ، حسين على راشد ،محمد تقى فلسفي، ڈاكٹر محمود شہابى ، ڈاكٹر عطاء اللہ شہاب پور، مہدى بازرگان ، يداللہ سحابى اور ديگر افراد;بعد ميں آنے والے عشروں ميں انكى تعداد بڑھتى چلى گئي_

يونيوسٹى كے طلاب كے ايك گروہ نے ايك تنظيم '' انجمن اسلامى دانشجويان'' قائم كى اور اسلامى بيدارى كى مندرج بالا فعاليت كو مستحكم كيا اور وسعت بخشى _ يہ انجمن ۱۳۲۰ شمسى ميں تشكيل پائي اور بعد ميں آنے والے دو عشروں ميں اس نے كافى ترقى كى _(۱)

چوتھے عشرہ ميں اسلامى بيدارى كے افكار كى ترويج كے مراكز مساجد تھيں ہر ايك مسجد ميں كوئي مذہبى مجاہد تقرير اور تفسير قرآن مجيد كا پروگرام چلا رہا تھا ان سب ميں تہران كى مسجد ہدايت اور اسكے امام آيت اللہ طالقانى كا كردار سب سے برجستہ تھا _ آيت اللہ طالقانى كا پيش نظر ہدف جوانوں اور روشن فكر حضرات ميں سچے اسلام كى ترويج اور كيمونيزم اور مغربى نظريات كے جال سے بچانا تھا _

چوتھے عشرہ ميں بالخصوص ۱۳۳۲ شمسى ۲۸ مرداد ميں امريكہ اور انگلستان كى مشتركہ سازش كى بناء پر بغاوت كے بعد كہ جب دوبارہ بادشاہت كى صورت ميں ايك ڈكٹيڑ حاكم بن چكا اور دوبارہ دينى رسم و رواج كے ساتھ مقابلہ شروع ہوا اوردين كى مخالفت ميں بڑھ چڑھ كر كوشيشں كى جانے لگيں اور ايك طرح كا مذہبى و فكرى خلا سا پيدا ہوچلا تھا كہ آيت اللہ طالقانى نے مذہبى ارتقاء كے قواعد و اصول كو پيش كيا_ انكى تقارير اور تفسير قرآن كى محلفوں ميں مذہبى و سياسى مجاہدين ، دينى طلبا اور يونيورسيٹوں كے طلبا حضرات شركت كيا كرتے تھے(۲) ان اقدامات نے بيدارى كى تحريك كى بقاء ميں اہم كردار ادا كيا_

بتدريج مسجد ہدايت جوان نسل بالخصوص دينى معارف سے بہرہ مند يونيورسٹى كے طلبا اور دانشور طبقہ كا اہم مركز بن گئي_ جيسا كہ آنے والے سالوں اور عشروں ميں مسجد ہدايت كے پروگراموں ميں شريك ہونے

____________________

۱) على رضا كريميان ، جنبش دانشجويى در ايران، تہران مركز اسناد انقلاب اسلامى ص ۱۲۰_ ۱۱۵_

۲) بہرام افراسيابى و سعيد دہقان، طالقانى و انقلاب ، ج ۲ ، تہران، ص ۶۱_ ۵۹_


والے بہت سے حضرات متحرك سياسى اور ثقافتى شخصيات ميں تبديل ہوگئے_ اور اسى مسجد ہدايت كے شاگردوں كا ايك گروہ دين كے احياء اور اسكى حفاظت كى راہ ميں مقام شہادت پر فائز ہوا _ ان ميں معروف ترين چہرے آيت اللہ مرتضى مطہري، محمد على رجائي ، مہدى بازرگان، جلال الدين فارسى اور محمد جواد باہنر تھے _

چونكہ مسجد ہدايت نے دينى معارف كى نشر و اشاعت ميں اہم كردار ادا كيا اس ليے اسے '' دالان دانشگاہ'' (يونيورسٹى كى دھليز) كے عنوان سے ياد كيا گيا كيونكہ جہاں مذہبى محافل كے ساتھ ساتھ اس زمانہ كے روزمرہ كے مسائل كو اسلامى اقدار كے ساتھ مطابقت ديتے ہوئے محور تجزيہ قرار ديا جاتا تھا _(۱)

چوتھے عشرہ ميں پہلوى حكومت نے رضا شاہ كى دين مخالف پاليسى وسيع پيمانے پر دوبارہ اجرا كرنا شروع كردى اور قومى آداب اور اسلامى اقدار كو غلط قرار ديا اور ايرانى آداب ور سوم اوراسلامى ثقافت كى جگہ مغربى كلچر كو رواج ديا _ اسى دوران ۱۳۳۵ شمسى ميں ساواك كى تشكيل نے اس حكومتى پاليسى كى حمايت ميں بہت اہم كردار ادا كيا _

ہجرى شمسى سال كے پانچويں اور چھٹے عشرے ايران كى معاصر تاريخ ميں سياسي، اقتصادى ، معاشرتى دينى فكر كے احياء اور اسلامى بيدارى كى تحريك كے پھلنے پھولنے ميں ايك خاص مقام ركھتے ہيں ان دو عشروں ميں دينى فكر و نظريہ كے احياء كى تحريك نے نئي كروٹ لى اس مرحلہ ميں اس تحريك كے يكتا قائد امام خمينى تھے آپ حقيقتاً نظرى اور عملى ميدانوں ميں گذشتہ مجددبزرگوں سے مختلف اور منفرد كام كر رہے تھے اسى طرح اس دور ميں ديگر سياسى اسلام كے معتقد اور دينى حكومت كى برپائي كے خواہشمند عناصر نے امام خمينى كى قيادت ميں انكى حقيقى تحريك كو مستحكم كيا_

چوتھے عشرہ كے آخرى سالوں ميں بين الاقوامى حالات كے اثرات كى بناء پر ايرانى معاشرہ ميں سياسى گھٹن كى شدت كم ہوئي اور كسى حد تك آزاد سياسى فضا اور محدود آزادى كا ماحول پيدا ہوا _ بين الاقوامى حالات ميں تبديلى كى وجہ امريكہ ميں ڈيموكريٹ پارٹى كى جان ايف كنيڈى كى قيادت ميں كاميابى اور اسكا

____________________

۱ ) لطف اللہ ميثمى ، از نہضت آزادى تا مجاہدين، ج ۱، تہران ، ص ۹۱_ ۸۸_


امريكہ كے زير اثر ممالك ميں سياسى جمود كو ختم كرنے اور سياسى اور معاشرتى سطح پر اصلاحى تبديليوں كو لانے پر زور دينا تھا_

امريكہ كى اس پاليسى كا مقصد ان ممالك ميں سياسى اور معاشرتى بحرانوں كو كنٹرول كرنا اور كميونيزم كو پھلنے پھولنے سے روكنا تھا(۱) ايران ميں ارضى اصلاحات اور سفيد انقلاب كے اصول و قوانين كا اجراء در اصل كنيڈى كى ڈيموكريٹ پارٹى كى منشاء كے مطابق تھا ،پہلوى حكومت نے لاچار ہو كر اسے قبول كيا تھا _

امام خمينى كى قيادت ميں مذہبى قوتوں نے اس پاليسى كى (جو بظاہر اصلاح پسند ليكن عمل ميں امريكہ كى مادى اور غير مادى امداد كے ساتھ ايران كو مغربى طرز كا بنانے كى پاليسى تھى )مخالفت كى ، يہيں سے ايران كى روشنفكر تاريخ كا تيسرا دور شروع ہوا اس تاريخى دورانيہ ميں دينى روشن خيالى اور اسلامى بيدارى كى تحريك تمام ديگر مسائل پر غالب تھي_ اس مرحلہ ميں ايران كى روشن خيال فضا ميں ايك اہم تبديلى پيدا ہوئي كہ اسے '' تو بہ روشفنكرى '' (روشن خيالى كى توبہ) سے تعبير كيا گيا ہے _(۲)

۱۳۴۰ شمسى كى ابتدائي ايام ميں ايك حادثہ كہ جس نے اسلامى بيدارى كے مسئلہ كو تيار كيا آيت اللہ بروجردى كى وفات تھا_ وہ پندرہ سال تك شيعوں كے بلامقابلہ مرجع تھے_ لذا اس حوالے سے ايك بہت بڑا خلاء پيدا ہوا اسى دور ميں ايران اور نجف ميں ايسے مجتہد تھے كہ جو صاحب رسالہ يا مرجعيت كى صلاحيت كے حامل تھے مثلا امام خمينى (رہ) اور آيت اللہ گلپايگانى ، آيت اللہ مرعشى نجفى ،آيت اللہ شريعتمدارى ، آيت اللہ حكيم ، آيت اللہ خوئي ، آيت اللہ شاہرودى ، آيت اللہ شيرازى اور آيت اللہ يثربي اسى گروہ ميں سے تھے(۳) حكومتى كابينہ اس كوشش ميں تھى كہ مركز مرجعيت كو نجف كى طرف منتقل كيا جائے لہذا انہوں نے آيت اللہ بروجردى كى وفات پر تسليت كا پيغام آيت اللہ حكيم كى خدمت ميں بھيجا(۴)

____________________

۱) عباس خلجى ، اصلاحات امريكاى و قيام پانزدہ خرداد، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامى ،ص ۴۵_ ۴۴_

۲) محمد على ذكريابى ، در آمدى بر جامعہ شناسى و روشنفكرى دينى ، تہران _

۳) روح اللہ حسينيان، سہ سال ستيز مرجعيت شيعہ (۱۳۴۳_ ۱۳۴۱)،تہران ،ص ۱۲۶_

۴)محمد حسن رجبي، زندگينامہ سياسى امام خمينى ،ج۱ ،تہران ، مركز اسناد انقلاب اسلامى ص ۲۲۶ ، ۲۲۵_


آيت اللہ بروجردى كى وفات كے بعد اصولى مكتب كے جدت پست علماء كے ايك گروہ اور بعض دينى روشن خيال دانشوروں نے مرجعيت كے موضوع پر غور و خوض كرنے كيلئے نشستيں كيں اور اپنے تجزيہ و تحليل كو ايك مقالہ كى شكل ميں لاكر ۱۳۴۱ شمسى ميں ايك كتاب بنام '' بحثى دربارہ مرجعيت و روحانيت'' كى صورت ميں شايع كيا(۱) اس كتاب كى مباحث ميں دين پر ايك نئي نگاہ اور دينى مسائل ميں اصلاحى نظريات كو بيان كيا گيا تھا ،مثلا دين اسلام كے دامن كو خرافات سے پاك كرنا شيعہ رہبر كا اپنے دور جديد اور ضرورى علوم سے ضرورى طور پر آگاہ ہونا _ مذہبى فعاليت كى پشت پناہى كيلئے جداگانہ اقتصادى اساس فراہم كرنے كى ضرورت پر زور تاكہ وہ حكومت يا عوامل كى طرف دست دراز كرنے سے بے نياز ہو اور گروہى صورت ميں مرجعيت بنام ''شورائے فتوا'' (افتاء كونسل) كى رائے دينا _(۲)

اسلامى بيدارى كى اس نئي لہر ميں امام خمينى (رہ) اور انكے ہم فكر علماء نے يہ كوشش كى كہ سياست كومرجعيت كے محور كى طرف لوٹا ديا جائے _ يونيورسٹى طلباء كى مذہبى تنظيم نے بھى اس مقصد كى تكميل كيلئے مدد كى _ اور اس نظر كى تشريح اور وضاحت كيلئے '' سياست ميں روحانيت كى طرف رحجان'' اور '' ايرانى مسلمان كا اپنى طرف لوٹنا'' جيسى اصطلاحات سے مدد لى ہے(۳) امام خمينى نے اس ہدف كے حصول كيلئے حوزہ علميہ كو مستحكم كيا_(۴)

۱۶ مہر ۱۳۴۱ شمسى ميں حكومتى اراكين ميں قانون '' انجمنہاى ايالتى و ولايتى '' (قومى اور صوبائي انجمنيں ) پاس ہوا كہ جسكى بناء پر منتخب ہونے ا ور منتخب كرنے والوں كى شرائط ميں سے مذہب اسلام كى شرط ختم ہوگئي تھى اور قرآن كى قسم كى بجائے آسمانى كتاب كى قسم كو حلف نامے ميں قرار ديا گيا تھا،يہ قانون پاس ہونے سے

____________________

۳) بحثى دربارہ مرجعيت و روحانيت ( مجموعہ مقالات) ،تہران_

۴) آ_ مراد حامد الگار ، برك و ديگران ،نہضت بيدارگرى در جہان اسلامى ، ترجمہ محمد مہدى جعفرى تہران ص ۱۱۳ _ ۱۳۱_

۳) محمد تقى قزل سفلى '' امام خميني، گفتمان احياء و چالش با گفتمانہاى غالب'' ايدئولوى ،رہبرى و فرايند انقلاب اسلامى مجموعہ مقالات '' ج ۲، تہران، موسسہ چاپ ونشر عروج ص ۲۵۲ _

۴) رسول جعفريان ، سابقہ ماخذ ، ص ۱۳۹_


ايك بہت بحران پيدا ہوا كہ جو بذات آنے والے دور ميں بہت سے بحرانوں اور تغير و تبدل كا باعث بنا_(۱) اس كے بعد امام خمينى نے علماء قم كو دعوت فكر ديتے ہوئے اور انكے ساتھ مشورہ كيلئے نشستوں كا انعقاد كرتے ہونے رسمى طور پر اپنى فعاليت كا آغاز كيا _(۲) امام خمينى كى زير قيادت اس تحريك ميں ايك نيا نكتہ يہ تھا كہ اب تك تمام تر تنقيد كا مركز حكومت تھى جبكہ اس كے بعد تنقيد كا مركز محمد رضا پہلوى تھا(۳) اس مجددانہ فكركے مد مقابل پہلوى حكومت كا مزاحمت كرنا باعث بنا كہ يہ اصلاحى تحريك ايك انقلابى فكر ميں تبديل ہوگئي_(۴)

امام خميني نے مذكورہ قانون پر شرعى اشكالات كرتے ہوئے اسكى مخالفت كا آغاز كيا اور اسكے لغو ہونے كا مطالبہ كيا ،بادشاہ اور وزير اعظم '' علم '' كو ايك ٹيلى گراف ميں قرآن اور اسلامى احكام كى نافرمانى اور مخالفت كى صورت ميں بھيانك نتائج سے آگاہ كيا _(۵)

امام خمينى كى كوشش سے يہ مخالفت پورے ملك ميں پھيل گئي _ امام خمينى كے مقلدين اور شاگردوں نے مختلف طريقوں سے اما م كے بارے ميں خبريں ، معلومات اور انكے پيغامات سارے ملك ميں پھيلا دے_ اور يوں يہ لوگ اپنے شہروں ، حوزہ علميہ قم اور امام خمينى كے درميان ايك پل كى مانند كام كر رہے تھے_(۶)

اسلامى بيدارى كى تحريك كا پہلا مرجلہ ۱۰ آذر ۱۳۴۱ ميں پہلوى حكومت كى پسپائي اورمذكورہ قانون كے لغو كرنے سے كاميابى كے ساتھ طے ہوگيا اس كے بعد كا مرحلہ مراجع اور علماء كا سفيد انقلاب كے چھ اصولوں كے بارے ميں ريفرنڈم كى مخالفت تھا كہ جو چھ بہمن ۱۳۴۱ ميں انجام پايا_ اس مرحلہ ميں اشتہارات لگانے، احتجاجى مظاہرے ، تقارير اور مشورہ كے حوالے سے نشستوں كا اہتمام كيا گيا كہ اس مخالفت كى بناء پراس ريفرنڈم

____________________

۱) عباس جلجي، سابقہ ماخذ ، ص ۱۲۳_

۲) روح اللہ حسينيان، سابقہ ماخذ ، ص ۱۲۷_ ۱۲۶_

۳) رسول جعفريان، سابقہ ماخذ ، ص ۱۴۲_

۴) محمد على زكريايي، سابقہ ماخذ ، ص ۱۱۰_ ۱۰۴_

۵) صحيفہ نور، باسعى سازمان مدارك فرہنگى انقلاب اسلامى ، تہران، ج ۱ ، ص ۴۳_ ۲۷_

۶ ) رحيم روح بخش '' چند شہرى بودن جنبش ہاى معاصر ايران، بررسى قيام ۱۵ خرداد، گفت و گو ،ش ۲۹ ،ص ۳۷_ ۳۶_


ميں بہت كم لوگوں نے شركت كى _(۱)

اسى دوران ايك اہم واقعہ ۲ فروردين ۱۳۴۲ كا واقعہ تھا جسميں پہلوى حكومت نے مدرسہ فيضيہ قم اورمدرسہ طالبيہ تبريز ميں علماء پر حملہ كيا جسكے ضمن ميں كچھ افراد قتل اور كچھ زخمى ہوئے ،يہاں ايك دلچسپ نكتہ يہ ہے كہ پہلوى حكومت نے عوام كو فريب دينے كيلئے اس واقعہ كو اصلاحات ارضى كے مخالف علماء اور اسكے موافق كسانوں كے درميان نزاع قرار ديا_ اور كہا گيا كہ يہ كسان زيارت كے ليے قم آئے تھے اور علماء سے ٹكرا گئے_ ليكن حكومت كا يہ اقدام بھى گذشتہ دين مخالف اقدامات كى مانند برعكس نتائج كا سبب قرار پايا_ پورے ملك ميں حكومت كے خلاف غصہ و نفرت كى لہر چلى _ يہانتك كہ نجف اور كربلا كے حوزات سے رد عمل سامنے آيا اور ايران كى طرف ٹيلى گرافوں اور بيانات كا ايك سيلاب روانہ ہوا(۲) سب سے شديد اللحن اعلان امام خمينى كى طرف سے صادر ہوا انكا يہ اعلان ''شاہ دوستى يعنى غارتگرى ''كے عنوان سے لوگوں ميں مشہور ہوا_(۳)

تحريك كا ايك اور مرحلہ كہ جو تحريك كے آنے والے دور ميں ديگر مراحل ميں بہت زيادہ اہميت اور اثرات كا حامل تھا اور تاريخ معاصر كا بھى ايك مقطع شمار ہوتا ہے ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ كا قيام تھا_

اس سال كے محرم ميں مجاہد علماء نے پہلوى حكومت كى پر تشدد كا روائيوں پر تنقيد كى جسكے نتيجہ ميں پر عزادارى كى محافل ،جہاد اور سياسى فعاليت كے مراكز ميں تبديل ہوگئيں _ اس مرحلہ تحريك ميں عوام كے تين طاقتور اور

موثر طبقات تاجر،يونيورسٹى والے اور علماء نے اپنى وحدت ديكجہتى كا مظاہرہ كيا _ اس مرحلہ تحريك كا عروج امام خمينى كى عاشورا كے دن مدرسہ فيضيہ قم ميں تقرير تھى كہ جس ميں انہوں نے اعلان كيا كہ تحريك كا مقصد بادشا اور اسرائيل سے مقابلہ اور اسلام كو انكے خطرات سے محفوظ ركھنا ہے '' _

____________________

۱) سابقہ ماخذ ،ص ۵۳_

۲) عباس على حميد زنجاني، انقلاب اسلامى ايران ( علل، مسائل و نظام سياسى )، تہران ص ۱۴۶_ ۱۴۲_

۳) صحيفہ نور، ج ۱ ، سابقہ ماخذ ، ص ۷۵_۷۳_


اپنى تقرير كے ايك اور حصے ميں محمد رضا پہلوى كو مخاطب كر كے فرمايا: ميں نہيں چاہتا كہ تيرا انجام تيرے باپ كى مانند ہو ،يہ چاہتے ہيں كہ تجھے يہودى كے عنوان سے پيش كريں تا كہ ميں كہوں كہ تو كافر ہے تا كہ تجھے ايران سے نكال ديں اور تيرا كام تمام كرديں _(۱)

پندرہ خرداد كا قيام در حقيقت علماء كا انتہايى سنجيدگى سے سياسى فعاليت كا مظاہرہ اور سياسى اسلام كو حقيقت ميں سامنے لانے كى كوشش تھا _ تاجر طبقہ بھى عشروں سے قوم پرستانہ نظريات سے منسلك رہنے كے بعد اب مراجع اور علماء كى راہنمائي سے سياسى اسلام پسند نظريات كى طرف رخ چكا تھا اور يہ نيا مرحلہ پانچويں عشرہ ميں اسلامى بيدارى كى تحريك كى خصوصيات ميں سے تھا ،دوسرا قابل توجہ نكتہ ايران كى جغرافيائي سرحدوں كے اندر انتہائي سرعت سے پيغام و معلومات كا پہنچنا اور عوام كے مختلف طبقات كا ان كوششوں ميں شريك ہونا تھا _(۲) اس قيام نے ثابت كيا كہ اسلامى بيدارى كى تحريك ايك طاقتور تحريك كى صورت ميں سامنے آچكى تھي_

آيت اللہ بروجردى كى وفات سے ليكر ۱۵ خرداد كے قيام تك كچھ اور ضمنى لہروں نے بھى اسلامى بيدارى كى اس موج كو مزيد مستحكم كيا كہ ان لہروں كى فعاليت كا مركز بھى مذہبى اور اسلامى تھا _ اس تحريك كے اس حصہ ميں جس ميں دينى علماء نہيں تھے مذہبى اور قوم پسند رحجانوں كے باہمى اختلاط سے دينى روشن خيالى اور دينى احياء كى تحريك وجود ميں آئي_ اگر چہ اس تحريك كے تانے بانے كئي عشرے قبل كى تحريك سے ملتے ہيں _

ايران ميں نہضت آزادى ''تحريك آزدى ''ايك مذہبى و سياسى تنظيم تھى كہ جو ۱۳۴۰ شمسى ميں ارديبہشت (ايرانى مہينہ) كے آخر ميں مہدى بازرگان، يداللہ سحابي، آيت اللہ طالقانى اور ديگر قوم پرست مذہبى لوگوں كى كوششوں سے وجود ميں آئي _ بازرگان نے اس تحريك كى تشكيل كا مقصد '' (ايراني) قوميت اور

____________________

۱) سابقہ ماخذ ،ص ۹۳_۹۱_

۲) رحيم روح بخش ، سابقہ ماخذ، ص ۶۹_ ۶۸_


تحريك كے اصول كو مدنظر ركھتے ہوئے نئي اسلامى بيدارى سے ہم آہنگى برقرار كرنا ''بتايا(۱) جلال الدين فارسى اور محمد على رجائي كا اس تنظيم كا ركن ہونا اور آيت اللہ بہشتي، آيت اللہ مطہرى اور محمد جواد باہنر جيسے افراد كا اس تحريك كے قائدين سے دوستى و رابطہ اس تحريك كے قائدين كے دين اسلام كى طرف ميلان كو بيان كر تا ہے_

نہضت آزادى كے منشور ميں بھى ايرانى قوم كے اساسى حقوق كے احياء كے ساتھ ساتھ اخلاقي، معاشرتى اور سياسى اصولوں كى دين مبين اسلام كى بنياد پر ترويج كى تاكيد ملتى ہے_(۲)

اس تحريك كى فعاليت كے مقابلے ميں پہلوى حكومت كا رد عمل اس تحريك كے قائدين كى گرفتاريوں اور عدالتى كا روائيوں كى صورت ميں سامنے آيا اور يہ عدالتى كا روائياں سياسى جلسوں ميں تبديل ہوگئيں _ دينى طلاب، سياسى كاركن حضرات اور يونيورسٹى كے طلباء ان كا روائيوں كى نشستوں ميں شريك ہوتے تھے اور آيت اللہ طالقانى اور ديگران سے ملاقات اور گفتگو كر تے تھے(۳) در حقيقت يہ عدالتى كاروائياں خود حكومت كے محاكمہ اور حكومت كے طرز عمل كے بارے ميں انكشافات ميں تبديل ہوچكى تھيں كہ مجموعى طور پر اس مسئلے نے اسلامى بيدارى كے مراحل كو سرعت بخشي_(۴)

ان سالوں ميں امام خمينى كى قيادت ميں اسلامى بيدارى كى تحريك كى خصوصيات مندرجہ ذيل ہيں :

دين و سياست كے ملاپ كے نظريہ كو مستحكم كرنا_ پہلوى حكومت كے ساتھ كوئي سمجھو تہ نہ كرنا ،علمى ميدان ميں سياسى اجتہاد كو استحكام دينا اور فكر و عمل ميں ہم آہنگى برقرار كرتے ہوئے آمريت اور استعمار كا مقابلہ كرنا ان ميں سے سب سے اہم دنيا كى جديد آمريت كو نشانہ بنانا تھا ،انہى سالوں ميں ديگر بيدارگر شخصيات ميں سے محمود طالقانى اور مرتضى مطہرى قابل ذكر ہيں كہ جنہوں نے زيادہ تر فكرى ميدانوں ميں

____________________

۱) ۶۰ سال خدمت و مقاومت ( خاطرات مہندس مہدى بازرگان )ج ۱، غلام رضا نجاتى تہران ، موسسہ خدمات فرہنگى رسا، ص ۳۷۴_

۲) اسناد نہضت آزادى ايران، ج۱ ، تہران، ص ۴۴_

۳) عباسى على عميد زنجاني، سابقہ ماخذ، ص ۱۵۰_

۴) محمد حسن رجبى ، سابقہ ماخذ_ ص ۳۴۱ _ ۲۳۹_


فعاليت كي_(۱)

انہى سالوں ميں يونيورسٹى كے طلاب كى مذہبى تنظيم كا بھى اسلامى بيدارى كى تحريك ميں قابل ذكر حصہ ہے _ وہ دانشور اور مجاہد علماء مثلا علامہ طباطبائي، آيت اللہ مطہرى اور آيت اللہ طالقانى سے رابطہ ميں رہتے تھے_''انجمن اسلامى دانشجويان'' كى تنظيم كى صورت ميں طلباء نے دو عشروں تك علمى موضوعات مثلا ماركسزم كے مقابلے ميں دين اسلام كے دفاع كے موضوع پر فعاليت كى اور تمام اقوام اسلام كے اتحاد پر زور ديا انہوں نے امام خمينى كى اسلامى تحريك كے آغاز سے ہى آپ سے رابطہ قائم كيا_ امام خمينى نے ايك سياسى مرجع تقليد كے عنوان سے اس طلباء كى تحريك كيلئے ايك مذہبى برجستہ قائد كے خلاء كو پر كيا(۲)

امام خمينى كى سياسى فعاليت بڑھنے اور بالخصوص ''كيپيٹلائزيشن'' كے بل كے پاس ہونے پر اعتراض كى بناء پر امام خمينى كو پہلے تركى اور پھر نجف اشرف كى طرف جلا وطن كياگيا_جسكى وجہ سے آمرانہ اقدامات اور سياسى گھٹن ميں اضافہ ہوگيا اور سياسى فعاليت مخفى صورت ميں انجام پانے لگي_ اس زمانہ كے وزير اعظم حسن على منصور كے قتل نے بھى اس سياسى گھٹن كو بڑھايا_ لہذا ان سالوں ميں اسلامى تحريك زيادہ ترعسكرى اور نظرياتى صورت ميں سامنے آئي_ مؤتلفہ اسلامي، حزب ملل اسلامى اور مجاہدين خلق كى تنظيم كى فعاليت نئي صورت ميں تشكيل پانے لگى ان ميں حزب ملل اسلامى عالم اسلام پر چھائي ہوئي فكرى فضا سے متاثرہوتے ہوئے اور دينى روشن فكر اور مصلح حضرات كى پيروى ميں بين الاقوامى اسلامى انقلاب كے ذريعے فرقہ و قوم كے تعصب سے قطع نظر ايك وسيع اسلامى حكومت كى تشكيل كى خواہاں تھي_(۳) جبكہ مجاہدين خلق كى تنظيم ۱۳۴۴ سے ۱۳۵۰ تك فوجى اور عسكرى تربيت اور اس حوالے سے نظرى مطالعات ميں مشغول رہي_

____________________

۱) مرتضى مطہرى ،احياء فكر ديني، دہ گفتار ( مجموعہ مقالات) تہران، ج ۵ ، ص ۱۵۱ _ ۱۲۹، احياء تفكر اسلامي، تہران ،ص ۱۴_۷ ، رسول جعفريان، سابقہ ماخذ ،ص ۱۹۷ _ ۱۹۳_

۲) عليرضا كريميان ، سابقہ ماخذ ، ص ۲۱۷ _ ۲۱۴_

۳) اسماعيل حسن زادہ، تاملى در پيدايش و تكوين حزب ملل اسلامي، متين ، س ۲ ، ش ۵،۶ _ ص ۸۲ _ ۶۲_


جسكے نتيجہ ميں سن پچاس كے عشرہ ميں اسلامى بيدارى كى تحريك كے مراحل كچھ زيادہ مؤثر نہ تھے_

۱۳۵۰ سے ليكر ۱۳۵۳ شمسى تك اس تنظيم كے بہت سے قائدين اور بانى حضرات انكى مسلحانہ سرگرميوں كے انكشاف پر گرفتار ہوئے يا پھانسى چڑھ گئے_(۱) يہ تنظيم ۱۳۵۴ شمسى ميں اندرونى خلفشار كا شكار ہوئي اور دو گروہوں اسلامى اور كيميونسٹ ميں بٹ گئي اور پھر يہ اختلاف آپس ميں خونى لڑائيوں تك پہنچ گيا_(۲)

۱۳۵۶ شمسى سے سياسى گھٹن كم ہونا شروع ہوى اور آہستہ آہستہ سياسى قيدى آزاد ہونا شروع ہوئے _ ان سالوں ميں اسلامى گروہوں ميں بعض مجاہدين مثلا محمد جواد باہنر، محمد على رجائي، ہاشمى رفسنجاني، جلال الدين فارسى اور ديگرافراد كے ذريعے علمى فعاليت كہ جس كا سياسى رنگ كم تھا كا آغاز ہوا(۳) كو اپريٹواشاعتى اداروں كى فعاليت كہ جو مذہبى مجاہد طرز كے دانشور حضرات كى قلمى كاوشوں كى اشاعت كرتے تھے ،نے دينى تفكر كو پھيلانے ميں اہم كردار ادا كيا_(۴)

بيدارگراور دينى مصلح شخصيات كے ساتھ ساتھ جلال آل احمد، مہدى بازرگان اور على شريعتى جيسى شخصيات كے نظريات اور آثار نے بھى بتدريج اسلامى بيدارى كے رجحان كو قوت بخشي_ آل احمد نے اپنى دو كتابوں ''غرب زدگى و در خدمت و خيانت روشنفكران'' ميں مغرب پرستى اور روشن فكرى كے مختلف پہلووں كو واضح كيا ،وہ تشيع كو ايرانى تشخص كاجزو لاينفك سمجھتے تھے اور مغربى تسلط كے مقابلے ميں دينى علماء كے كردار پرزور ديتے تھے_(۱)

____________________

۱) غلام رضا نجاتي، تاريخ سياسى بيست سالہ ايران، ج ۱، تہران ، ص ۴۰۷ _ ۳۹۳_

۲) بيانيہ اعلام مواضع ايدئو لويك ،تہران ، سازمان مجاہدين خلق ايران، ۱۳۵۴_

۳) جلال الدين فارسي، زواياى تاريك، تہران، حديث ، ص ۱۳۸_

۴) حسن يوسفى اشكوري، در تكاپوى آزادى ، ج۱، تہران ، ص ۲۳۹ _ ۲۳۸_

۵) مہرزاد ، بروجردي، روشنفكران ايران و غرب، ترجمہ جمشيد شيرازى ، تہران ، ج ۲ ص ۱۲۳ _ ۱۱۸، محمد على زكريايي، سابقہ ماخذ ، ص ۱۹۳_ ۱۸۹_


بازرگان نے بھى وسيع سياسى فعاليت كے ساتھ ساتھ پچاس كے عشرہ سے قلمى نظرياتى محاذپر كام شروع كيا_ ۱۳۴۵ شمسى ميں اپنى اہم ترين كتاب '' بعثت و ايدئولوي'' (بعثت اور آئيڈيالوجي) كو تحرير كيا(۱) اس قسم كى فعاليت ساٹھ كے عشرہ ميں بھى جارى رہي_ ڈاكٹر شريعتى كى خدمات اسلامى تحرك كو يونيورسيٹوں طلبا اور نوجوان نسل ميں پھونكنے اور انہيں مغربى ماركسسى نظريات سے دور ركھنے ميں انتہائي اہميت كى حامل ہيں انہوں نے اپنے نظريے''بازگشت بہ خويشتن''(اپنى طرف لوٹنا)كے ذريعے آل احمد كے مغرب پرستى كے موضوع كو آگے بڑھايا(۲)

پچاس كے عشرہ ميں بالخصوص اسكے دوسرے حصہ ميں عالم اسلام ميں بيدارى كى لہر اور اسلامى اقوام كى خود مختارى كى كوششوں نے بھى ايران ميں اسلامى بيدارى كى تحريك پر اثرات مرتب كيے اس حوالے سے الجزائر كے مجاہد مسلمانوں كى كاميابى اور فلسطين كى تحريك زيادہ موثر رہي_(۳)

اس دور كا اہم ترين واقعہ ۱۳۴۹ شمسى ميں امام خمينى كى طرف سے نجف ميں اسلامى حكومت كى علمى بحث كا '' ولايت فقيہ'' كے عنوان سے آغاز تھا_ انہوں نے ان نشستوں ميں فقہاء كى حكومت، دين و سياست كے ملاپ اور آئيڈيالوجى كے عبادت سے بالاتر ہونے كے اثبات اور وضاحت كو محور سخن قرار ديا ،ان مباحث كے ضمن ميں ايرانى حكومت اور ديگر اسلامى ممالك كے حالات پر بھى تنقيد كى اور اہل نظر حضرات كو ان موضوعات پر مطالعہ اور تحقيق كيلئے دعوت دي_(۵) ان كے افكار پيغام رسانى كے چينل كے ذريعے ايران منتقل ہوئے جو ايرانى مجاہدين ميں نئي رو ح پھونكنے كا باعث بنے_

يورپ اورامريكہ ميں امام خمينى كے افكار كى مقبوليت اور اشاعت ميں ايك سبب وہاں كے ايرانى مسلمان

____________________

۱) سعيد برزين ، زندگينامہ سياسى مہندس مہدى بازرگان ، تہران، ج ۲ ، ص ۱۰۲_ ۲۰۱_

۲) مہرزاد بروجردى ، سابقہ ماخذ ، ص ۱۶۷_

۳) رسول جعفريان، سابقہ ماخذ ص ۲۲۲ _ ۲۲۰ ، فرہدد شيخ فرشي، روشنفكرى دينى و انقلاب اسلامى ، تہران، ص ۳۴۰ _ ۳۳۹

۴) حميد روحاني، نہضت امام خمينى ، ج ۲ ، تہران ، ص ۶۹۵ _ ۶۸۱


طلباء كا كردار تھا كہ جو اسلامى انجمنوں كى صورت ميں فعاليت كر رہے تھے اور نجف سے رابطہ ركھے ہوئے تھے وہاں كى مناسب سياسى فضاء اور ان طلباء كى ذرائع ابلاغ تك رسائي نے انہيں تبليغ اور فعاليت كا زيادہ سے زيادہ موقعہ فراہم كيا ،اس حوالے سے آيت اللہ بہشتى كہ جو جرمنى ميں ہيمبرگ كے اسلامى مركز كے سر براہ تھے انكا ان طلباء سے رابطہ انتہائي اہميت كا حامل تھا سنہ ۱۳۴۵ شمسى ميں يورپ كے مسلمان طلباء نے ايك رسالہ بنام '' اسلام مكتب مبارز'' بھى جارى كيا(۱) ساٹھ كے عشرہ ميں حسينيہ ارشاد ميں ڈاكٹر على شريعتى كى تقارير اور انكى تاليفات كے ممنوع ہونے كى بناء پر يونيورسٹى كے طلباء ميں انكى تاليفات كے مطالعہ كا رجحان بڑھ گيا انكى سماجيات، تاريخ، فلسفہ اور دين كے امتزاج پر مبنى گفتگونے طلباء كے مذہبى ونگ ميں اسلامى بيدارى كے احساس كو مزيد قوت بخشي(۲) _

مطہري، مفتح، محمد تقى جعفرى اور فخرالدين حجازى كى يونيورسيٹوں ميں تقارير اور قلمى آثار نے جہاں حوزہ علميہ اور يونيورسيٹوں كو ہم فكر اور ہمقدم بنانے ميں كردار ادا كيا وہاں اسلامى بيدارى كى تحريك كو علم، ايمان اور جديد دور كى معلومات سے بھى يكساں طور پرمسلح كيا _

۱۳۵۱ شمسى ميں پہلوى حكومت نے سپاہ دين كو تشكيل ديا تا كہ اپنے مخالف علماء كى فعاليت كو كنٹرول كرے_ ليكن اس اقدام كا نتيجہ بھى الٹ نكلا امام خمينى كى قيات ميں علماء نے سختى سے اس اقدام كى مخالفت كى اور حكومت كے خلاف وسيع پيمانے پر مہم چلائي_

۱۳۵۴ شمسى اور ۱۳۵۵ شمسى ميں بے پناہ سياسى گھٹن اور صف اوّل كے بہت سے مجاہدين اور دانشور شخصيات كو قيد و بند ميں ڈالنے كى فضاء سے اسلامى بيدارى كى تحريك كچھ عرصہ كيلئے جمود كا شكار ہوئي اور زيادہ تر يونيورسٹى طلبا كى تحريك كى صورت ميں جارى رہى ،يونيورسٹى كے طلباء نے يونيورسيٹوں ميں بہت سے

____________________

۱) على رضا كريميان ، سابقہ ماخذ، ص ۲۷۳_ ۲۷۱ ، ياران امام بہ روايت اسناد ساواك ( شہيد بہشتي) مركز بررسى اسناد تاريخى وزارت اطلاعات )_ ص ۱۲۷_ ۱۲۳ ، ۷۸، ۷۷، ۶۷ؤ ۳۹، ۳۴ عباس على عميد زنجاني، سابقہ ماخذ، ص ۱۷۳ _ ۱۷۰ ، علمى دوانى ، نہضت روحانيون ايران، ج ۵و ۶ مركز اسناد انقلاب اسلامى ، ص ۲۰۸ _۲۰۷_

۲) شريعتى بہ روايت اسناد ساواك ، ۳ جلد ، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامي_


نماز خانے قائم كيے_ كوہ پيمائي كے پروگرام بنائے ، نماز جماعت كا اہتمام كيا، اور گھروں ميں علمى نشستيں ركھتے ہوئے نظرياتى جنگ اور يونيورسٹى اور معاشرہ ميں فاسد كلچر كے مقابلہ پر مبنى گفتگو اور اسى طرح كے ديگر كام سرانجام ديتے ہوئے انہوں نے اس جمود كے دور كو بعد كے مرحلے كے ساتھ متصل كيا وہ مرحلہ جس ميں انقلاب كى كاميابى كيلئے آخرى جوش و خروش پيدا ہوا تھا _(۱)

ساٹھ كے عشرہ ميں اس معتدل اور اصولى فكرى اور اسلامى سياسى فعاليت كے ساتھ ساتھ كچھ اور گروہ بھى كام كر رہے تھے كہ جو مذہبى طور پر متشددانہ افكار كے مالك تھے ان ميں سے وہ جو علماء كے ساتھ رابطہ ركھے ہوئے تھے ،ميں سے سات كى طرف اشارہ كيا جا سكتا ہے وہ يہ ہيں ''امت واحدہ ، توحيدى صف، فلق، فلاح، منصورين اور موحدين كچھ ايسے گروہ بھى تھے كہ جو دينى رجحان كے حامل ہونے كے با وجود علما سے ہٹ كر كام كر رہے تھے گروہ فرقان اور گروہ آرمان مستضعفين و غيرہ ان ميں سے تھے_(۲)

۵۰ اور ۶۰ كے عشرہ ميں اسلامى بيدارى كى تحريك كو آگے بڑھانے كا ايك اہم ترين ذريعہ علمى حوزات ، دينى مدارس اور مجاہد علماء كا تبليغى پليٹ فارم تھا_ حوزات ميں سب سے اہم اور وسيع ترين حوزہ حوزہ علميہ قم تھا_ اس دور ميں حوزہ علميہ قم سے وابستہ موسسات كہ جو اسى دور ميں تشكيل پائے اور فعاليت كا آغاز كرچكے تھے ان ميں سے مكتب اہل بيت ( تشكيل ۱۳۴۰ شمسى ) جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم ( تشكيل ۱۳۴۲ شمسي)اور موسسہ در راہ حق ( تشكيل ۱۳۴۵) قابل ذكر ہيں _(۳)

دارالتبليغ اسلامى كى تشكيل اور اسكے آثار اور مطبوعات اگرچہ امام خمينى كى تحريك كے ساتھ مكمل طور پر موافق نہ تھے بلكہ كبھى كبھى انكى مخالفت بھى كرتے تھے اور امام خمينى بھى انكى طرز فعاليت اور بعض كاركن حضرات كي

____________________

۱) حميد روحاني، سابقہ ماخذ، ج ۳ _ ص ۱۰۰۴_ ۹۹۸ ، عمادالدين باقي، جنبش دانشجويى ايران از آغاز تا انقلاب اسلامي،تہران، جامعہ ايرانيان، ص ۲۵۳ _ ۲۴۸_

۲) رسول جعفريان ، سابقہ ماخذ، ص ۱۷۹ _ ۱۷۷_

۳) سابقہ ماخذ ۱۳۴ _ ۱۳۱_ على رضا سيد كبارى ، حوزہ ہاى علميہ شيعہ در گستردہ جہان، تہران، اميركبير ، ص ۴۲۰ _ ۴۱۴


تائيد نہيں كرتے تھے اسكے باوجود يہ آگے كى طرف ايك قدم تھا اور دارالتبليغ نے علمى اور مذہبى سطح پر ايسى مسلسل فعاليت كے دوران جو ان طلباء كو علوم انسانى اور دينى ميں جديد تعليمات سے بہرہ مند كيا_ دينى علوم كے مدارس مثلا مدرسہ حقانى ،مدرسہ منتظريہ ، مدرسہ آيت اللہ گلپايگانى اور بعض ديگر مدارس اسى طرح بعض مطبوعات مثلا مكتب اسلام، مكتب تشيع، بعثت ، سالنامہ مكتب جعفري، طلوع اسلام ، مسجد اعظم قم كا رسالہ ''پيك اسلام ''يہ سب مجاہد علماء كى سعى و كاوش تحت چل رہے تھے اور شايع ہو رہے تھے _ اور مجموعى طور پر ان سب كااسلامى بيدارى ميں اہم كردار تھا_(۱)

ديگر شہروں كے علمى حوزات بھى اہم فعاليت كر رہے تھے اس حوالے سے مشہد كا علمى حوزہ مشہور مجاہد علماء مثلا آيت اللہ محمد ہادى ميلاني، آيت اللہ حسن قمي، آيت اللہ على خامنہ اى اسى طرح عبدالكريم ہاشمى ناد اور عباس واعظ طبسى كى موجودگى كى وجہ سے پہلوى حكومت كے خلاف ايك اہم محاذ كى شكل اختيار كر گيا تھا اور دينى تفكر كے احياء ميں موثر كردار ادا كرنے والے مراكز ميں سے ايك اہم مركز شمار ہوتا تھا_(۲)

مبلغين علماء كرام بھى بالخصوص ماہ محرم، صفر اور رمضان المبارك ميں اپنے تبليغى سفر اور پروگراموں كى صورت ميں اسلامى تحريك كى ہمراہى كر رہے تھے اور لوگوں كو جديد سياسى اور مذہبى مسائل سے آگاہ كر رہے تھے_(۳)

ديگر كاوشيں كہ جنہوں نے اس اسلامى بيدارى كى لہر كى اعانت كى مصر كى دينى تنظيم اخوان المسلمين كے قائدين سيد قطب اور انكے بھائي محمد قطب كے بارے ميں بارہ سے زياہ قلمى آثار كا عربى سے فارسى زبان ميں مجاہد دانشور حضرات كے ذريعے ترجمہ كيا جانا تھا_(۴)

۱۳۵۵ شمسى كے اواخر اور بالخصوص ۱۳۵۶ شمسى ميں كچھ حد تك آزاد سياسى فضا كا پيدا ہونا اور سياسي

____________________

۱) رسول جعفريان، سابقہ ماخذ، ص ۱۷۴ _ ۱۵۹_

۲) مزيدمطالعہ كيلئے رجوع كريں : على رضا سيد كبارى ، سابقہ ماخذ، ص ۷۶۹ _ ۳۵۱، غلامرضا جلالي، مشہد در بامداد نہضت امام خمينى ، تہران ، مركز اسناد انقلاب اسلامي، ص ۱۴۲ روح اللہ حسنيان، سہ سال ستيز در بعثت شيعہ، ص ۱۱۳۹_ ۱۳۷_

۳) رسول جعفريان ، سابقہ ماخذ ، ص ۱۵۸ _ ۱۵۶

۴) سابقہ ماخذ، ص ۱۷۹ ، ۱۷۷_


قيديوں كى رہائي نے اسلامى بيدارى كى تحريك كے ليے مناسب حالات پيدا كيئے ،اخبارات و رسائل كے سنسر ميں كمى نے بھى يہ موقع فراہم كيا كہ ذرائع ابلاغ سے بہتر فائدہ اٹھايا جاسكے_ اور حكومت كے سياسى مخالفين بالخصوص مذہبى قوتوں نے اس موقع كو غنيمت جانا تا كہ پہلوى حكومت كو وسيع سطح پر تنقيد كا نشانہ بنايا جائے_ مثلا جب '' كيہان'' اخبار نے يہ سوال اٹھايا كہ '' ايران چہ دردى دارد(ايران كا مسئلہ كيا ہے) تو چاليس ہزار سے زيادہ خطوط اس سوال كے جواب ميں حاصل ہوئے_(۱)

مجموعى طور پر پہلوى حكومت كے زير نگرانى (مجبوراً اختيار كى گئي) معتدل پاليسى كا نتيجہ يہ نكلا كہ اسكے سياسى مخالفين متحد ہوگئے پہلوى حكومت كى بنياديں متزلزل ہوگئيں اور اسلامى بيدارى كى تحريك بھى فكرى اور انفرادى كاوشوں سے بڑھ كر وسيع پيمانے پر اپنى حتمى كاميابى كيلئے قدم اٹھانے لگى اور سياسي، اجتماعى اور ثقافتى سطح پر پہلوى حكومت كو اپنے مطالبات كو تسليم كرنے پر مجبور كرديا_ اسى دوران امام خمينى كے بڑے فرزند سيد مصطفى خمينى كى شہادت (۱۳۵۶ شمسى اول آبان) اور انكے ليے مجالس ترحيم كے پروگراموں كا انعقاد ہوا اور يہ مجالس و محافل پہلوى حكومت پر تنقيد اور امام خمينى اور انكى اسلامى تحريك كى تعريف و تجليل ميں تبديل ہوگئيں _(۲)

ملك كے اندراور باہر مجاہدين كے نيٹ ورك نے اپنے تبليغى اور پيغام رسانى كے گوناگون ذرائع كے توسط سے امام خمينى كى مرجعيت اور رہبرى ميں كاميابى كے حصول تك جہاد كى ہدايت اور تاكيد كي_(۳)

آخرى نكتہ يہ ہے كہ سيد مصطفى خمينى كى شہادت كے بعد جو تحريك شروع ہوئي وہ پھر كنٹرول نہ ہوسكى سياسى اسلام اور دينى قيادت نے اسلامى حكومت كى تشكيل كيلئے اپنا نتيجہ خيز قدم اٹھايا جس كا نتيجہ بہمن ۱۳۵۷ ميں صبر و كاوش كے بہت سے عشروں كے بعد امام خمينى كى رہبرى ميں اسلامى حكومت كى تشكيل كى صورت ميں نكلا_

____________________

۱) چمز بيل، عقاب و شير، ترجمہ مہوش غلامي، ج ۱ ، تہران نشر كوبہ ، ص ۴۵۹_

۲) مہدى بازرگان، انقلاب ايران در دو حكومت ، تہران، نہضت آزادى ، ايران، ج ۵، ص ۲۴_

۳) شہيدى ديگر از روحانيت ، نجف ، انتشارات روحانيوں خارج از كشور ، ص ۱۴۰ ، ۱۲۶_


گيارھواں باب :

مغربى تہذيب پر نقد و نظر


۱_ مغربى مفكرين كى آراء ميں مغربى تہذيب پر تنقيد

انيسويں صدى كے اختتام اور بيسويں صدى كے آغاز ميں ثقافتى ، معاشرتي، سياسى اور اقتصادى روابط كے پيچيدہ ہونے اور اسكے نتيجہ ميں جديد تہذيب كے مراكز اور اداروں كے وجود ميں آنے سے مغربى دانشوروں كى آراء ميں مغربى تہذيب پر منظم تنقيد، اسكى مختلف اقسام اور مستقبل كے بارے ميں بدگمانيوں كاشكار ہونا ايك خاص روايت بن گيا_

پہلى اور دوسرى جنگ عظيم كے آغاز اور اختتام سے منفى نگاہ كى يہ عادت اہل مغرب كے دل و دماغ ميں مضبوط ہوتى چلى گئي فريڈرچ نيٹشا، كارل ماركس اور سگمنڈ فرايڈ جو كہ اس قسم كى نقد كے پرچم دار تھے انہوں نے اپنے خدشات كو علمى طرز ميں ظاہر كيا_ نيٹشانے مغرب كے ناہماہنگ واقعات اور رويوں كو بہت كم ايك واحدمجموعے يا ايك منظم مظہر كے عنوان سے ياد كيا ہے بلكہ وہ اكثر و بيشتر تاريخى ادوار كے اختلاف اور مغرب ميں ناہموار حادثات كا قائل تھا_ نيٹشاكى نظر ميں مغرب كى تاريخ ميں زرين عرصہ محدود اور ايك خاص دور ميں منحصر ہے جبكہ مغرب كى تاريخ كے باقى ادوار انحطاط اور تباہى كے ادوار ہيں _ پانچويں اور چھٹى صدى قبل مسيح، نيٹشا كے خيال ميں مغرب كا زرين دور تھا اسكے خيال كے مطابق يونان كى قديمى تہذيب كے زوال كے ساتھ ہى مغرب كے زوال كا دور شروع ہوگيا_

نيٹشاقديم يونان كے عروج كى وجہ ڈيونيزوسى ( خوش رہنے ) كے احساسات كا اس تہذيب ميں نماياں ہونے كو بتاتا ہے_ وہ ان احساسات كو اصلى يونانى مزاج اور يونانيوں كا زندگى كى رنگينيوں كو ''ہاں '' كہنا سمجھتا ہے ليكن ايپولانى احساسات كے پيدا ہونے كوجو سرور و وجد اور زندگى كے احساسات كے متضاد ہيں سقراط كے افكار سے منسوب كرتا ہے اور مغرب ميں عقلى رحجانات كے آغاز كى مخالفت كرتا ہے _(۱)

____________________

۱)رضا نجفي، نيٹشا و ارزيابى غرب، غرب وغرب شناسى ، تہران ، سروش ص ۴۴


ماركس نے مغرب كى اعداد و شمار ميں گھرى ذہنيت كى مخالفت كى اس نے سب سے پہلے بوروازى ( كا روبارى طبقہ) كى اس قسم كى تعقل كو كام ميں لانے پر تعريف كرتا ہے كيونكہ پيداوار ميں مسلسل تغيرات معاشرتى تعلقات ميں بغير كسى وقفے كے اضطراب لامتناہى تلاطم اور بے يقينى نے سرمايہ دار طبقے كے زمانے كو گذشتہ ديگر ادوار سے منفرد كرديا ہے_

ليكن اس دور كا نقص در حقيقت يہاں ہے كہ تاجر طبقے كى اندرونى زندگى اور مسلسل تغيرات اور تنوع كى يہ استعداد بذات خود اسى طبقہ كوہى محو كرديتى ہے_ ہم اس جدلياتى تغير كا انفرادى زندگى ميں اتنا ہى مشاہدہ كرسكتے ہيں جتنا اقتصادى تغير كا، ايسا نظام جس ميں تمام باہمى روابط كمزور اور عارضى ہوں تو سرمايہ دارانہ زندگى كى خصوصيات يعنى ذاتى مالكيت اور اجرت ، معاملات كى قدر و قيمت اور منافع كيسے اپنى جگہ پر قائم رہ سكتا ہے_

جب لوگوں كى آرزوئيں اور ضروريات سركشى اور نافرمانى كى راہ تلاش كرتى ہوں اور زندگى كے تمام شعبوں ميں مسلسل اور پيہم تغيرات موجود ہوں انہيں كونسى چيز بوروايى (تاجر طبقے) كے طے شدہ حدود كے اندر ركھے؟ جب بھى بوروايى معاشرہ اپنے افراد كو زيادہ حساسيت اور بے چينى سے مشتعل كرتاہے كہ وہ يا ترقى كريں يا موت كو گلے لگاليں تو زيادہ امكان يہى ہے كہ وہ خود اپنے معاشرہ كو ہى روند ڈاليں گے ،جب بھى مشعل لوگ اپنے معاشرے كو اپنے ليے ركاوٹ سمجھتے ہوں اور اسكے خلاف اٹھ كھڑے ہوں تو وہ انتھك انداز ميں سرمايہ دار طبقے كے ہى جھنڈے تلے اس طبقے كے خلاف جنگ كريں گے (يعنى طبقاتى تضاد وجود ميں آئے گا) اس ليے تو سرمايہ دارى يعنى مغربى تہذيب اپنے اندرونى تضاد كى بناء پر زوال كا شكار ہو جائيگى(۱) فرائيڈ نے انسان كے لاشعور كو كشف كركے انسان كے اپنے آپ سے عشق پر ضرب لگائي اس انكشاف نے اس جديد انسان كى وہ صورت مغرب كو دكھائي كہ جو بيسويں صدى تك پنہان رہى تھى _ فرائيڈ كى نگاہ ميں تہذيب نہ صرف انسان كى معاشرتى زندگى كو بلكہ اسكى حياتياتى زندگى كو اور حياتياتى زندگى كے فقط بعض حصوں كو نہيں بلكہ جسمانى زندگى اور اسكے غرائز كے مكمل نظام كو محدود كرديتى ہے ليكن اس قسم كى محدوديت اور جبر

____________________

۱) مارشال برمن، ماركس و مدرنيسم و مدرنيزاسيون ، ترجمہ يوسف اباذري، ارغنون ، ص ۶۸ _ ۶۷_


ترقى اور پيشرفت كى سب سے پہلى شرط ہے_ در حقيقت انسانى نفسانى خواہشات كو مقيد كرنے سے اسكى تہذيب و تمدن كى يكجہتى اور وحدت كى ضمانت فراہم كى جاسكتى ہے_

فرائيڈقانون ''لذت'' كو پيچھے چھوڑتے ہوئے قانون '' حقيقت '' سے پيوستگى كو انسان كے اجتماعى اور تاريخى وجود ميں ايك موڑ سے تعبير كرتا ہے_ دہ بتاتاہے كہ غرائز و نفسانى خواہشات پر ايمان ركھنے والا انسان اپنى خصوصيات مثلا ان خواہشات كا براہ راست پورا ہونا، آسودگى اور لذات كا حاصل ہونا اور كسى روك ٹوك كا نہ ہونا و غيرہ كے بعد ايك حقيقت پسند انسان كى صورت ميں تبديل ہو جاتا ہے جسكى خصوصيات ميں خواہشات كا فورى پورا نہ ہونا، لذات كے حصول سے اجتناب، كام ، پيداوار اور امن و سكون جو روك ٹوك اوردباؤ كے عوض حاصل ہو ،شامل ہيں _

قانون حقيقت كے سامنے آنے سے وہ انسان كہ جو پہلے قانون لذت اور حيوانى غرائز كے تابع تھا اب اپنى معرفت و حقيقت سے آگاہ ايك وجود ميں تبديل ہوجاتاہے اور اپنے آپ كوخارجى حقيقت تلے چھپے اصول و ضوابط كے مطابق ڈھال ليتاہے_ يوں يہ منضبط اور منظم جديد انسان عقل كے كردار اور اس كے دائرہ كاركو وسعت ديتاہے اور يہ سبق ليتاہے كہ حقائق كو آزمانا چاہيے اور موجودات ميں فرق ركھنا چاہيے_(۱) اس نكتہ پر توجہ ركھنى چاہيے كہ فرائيڈكے يہاں انسان سے مراد وہ مغربى انسان ہے جو قديم رواجوں اور جدت كى كشمكش ميں گرفتار ہے_

نيٹشا، ماركس اور فرائيڈكى مغرب كے فلسفي،سماجى اور نفسياتى نظام پر اساسى تنقيد اگرچہ معلومات افزا تھى ليكن دوسرى طرف اس تہذيب كے دردناك حالات اور شكست خوردہ اور بحرانى مقدر كى نشاندہى كررہى تھى ۱۹۱۴ عيسوى ميں پہلى جنگ عظيم كے آغاز سے مغرب ميں سب سے پہلا بڑا بحران پيدا ہوا ايك طرف اس جنگ ميں شريك لوگ انسانى آرزوں كو پاؤں تلے روندتے ہوئے قتل و غارت كا بازار گرم كيے ہوئے تھے دوسرى طرف اكتوبر ۱۹۱۷ميں روس ميں كميونسٹ نظام كى فتح سے مغربى دنيا دو قطبوں ( سرمايہ دار _ كميونسٹ )

____________________

۱) سگمنڈ فرائيڈ ،ناخوشانيديہاى فرہنگ، ترجمہ اميد مہرگان، تہران ، گام نو، ص ۱۲۴ ، ۱۳۳، ۱۳۱_


ميں تبديل ہوچكى تھى _ ہر ايك قطب اپنے خاص انداز سے اپنے مخالف نظريات اور نظام كو ختم كرنے پر تلا ہوا تھا_

شوالڈ اشپنگر (۱۹۳۶_ ۱۸۸۰) كہ جنہوں نے شوپنہار اور نيٹشاسے لى ہوئي فلسفيانہ منفى نظرسے '' ماوراء الطبيعت كے غائب ہونے كى '' خطرے كى گھنٹى بجادى تھى ،نے مغرب كى جديد تہذيب كو خبرار كيا كہ وہ زوال كے دھانے پر آچكے ہيں _انہوں نے اپنے رسالے '' زوال غرب'' ميں اپنے افكار بيان كيے جنہوں نے انكے بعد والى نسلوں كو بہت زيادہ متاثر كيا_(۱)

ماركس ويبر ( ۱۹۲۰ _ ۱۸۴۴) كى عمرانيات ميں كلاسيكل تاليف بنام '' پروٹيسٹينٹ اخلاق اور سرمايہ دارانہ روح ''نے انسان كى معاشرتى زندگى ميں آلى تعقل پر توجہ دلائي، انہوں نے مغربى ماڈرن معاشرہ كى جو خصوصيات شماركى ہيں وہ ايك طرح ماڈرن سرمايہ دارانہ نظام كے تحت آلى تعقل كو مدنظر ركھتے ہوئے ہيں ويبركى نگاہ ميں فقط ايك نظام تعقل وجود ركھتاہے جو صرف مغرب ميں طلوع ہوا ہے اور اس نے سرمايہ دارى نظام كى تشكيل كى ہے يا اسے تشكيل دينے ميں مدد كى ہے اور مغرب كے مستقبل كو متعين كيا ہے ويبر كے اس نظام تعقل كى خصوصيات كا جاننا ضرورى ہے يہ ہيں :

۱ _ تجربات اور علوم كو حد سے زيادہ رياضياتى صورت ميں لانے كا يہ انداز ابتداء ميں سائنسى علوم ميں تھا اور بيسويں صدى ميں اس نے ديگر علوم اور زندگى كى روشوں كو بہت زيادہ متاثر كيا_

۲_ علمى نظام اور زندگى كے ضوابط ميں عقلى تجارب اور عقلى استدلال كى ضرورت پر تاكيد

۳_ مندرجہ بالا دو عناصر كا نتيجہ يہ ہے كہ ايسى صورت ميں ايك خاص نظام تشكيل پاتاہے اور مستحكم ہوتاہے جو دفترى ملازمين پر مشتمل ہوتا كہ جو فقط اپنى مہارت كى بناپر جانچے جاتے ہيں اور پھر يہ نظام مغربى انسان كى سارى زندگى پر محيط ہوجاتاہے(۲)

____________________

۱) كريسٹان دولا كامپالى ، تاريخ فلسفہ در قرن بيستم، ترجمہ باقر پرحام، تہران، ص ۱۳۵_

۲) ہربرٹ ماركوزہ، صنعتى شدن و سرمايہ دارى در آثار ماركس وبر '' ترجمہ حال لاجوردي' ارغنون ، ش ۱۱_ ۱۲ ،ص ۳۳۴ _ ۳۳۱_


ويبر كى نقادانہ روش كو آگے بڑھاتے ہوئے جارج لاكچ( ۱۹۷۱ _ ۱۸۸۵) نے سرمايہ دارانہ نظرى نظام كے بارے ميں ماركس اور ويبر كى آراء كے امتزاج كى كوشش كي_ اس نے جوان ماركس سے كچھ مفاہيم مثلا شيئيت اور '' خودبيگانگى '' ليے اور انہيں ويبر كى سرمايہ دارى كے بارے ميں تجزيات ميں استعمال كيا ليكن فكرى روش ميں ماركس كے مادى قواعد پر كاربند رہا ،لاكچ نے مغرب كى ماڈرن ثقافت پر غور كرتے ہوئے ماڈرنزم كى آئيڈيالوجى كى مخالفت كى چونكہ وہ اسے سرمايہ دارى كى بڑى خصوصيت سمجھتا تھا _

اسكى نظر ميں سرمايہ دارانہ نظام كى نظرى بنياديں جنہيں ويبرنے كشف كيا تھا ،كے مطابق مغربى انسان اندر سے خالى ، اپنى حقيقت سے بيگانہ اور اجناس كى مانند ايك وجود ميں تبديل ہو جاتا ہے ،اس روش سے انسانى اصلى اقدار محو ہوكر اپنى جگہ حساب و كتاب ، رياضي، اور نومولود ماڈرنزم كو دے ديتى ہيں _

اسى بناء پر اس نے بہت سے ماڈرنسٹ مولفين اور ماہرين كى مخالفت كى اور انہيں لغويت پسند، حقيقت دشمن اور مشين ازم كے مداح كہا اور قديم يونانى فن و ثقافت كى تقديس كا دعويدار بن گيا ،مغربى سرمايہ دارى كے بارے ميں لاكچ كا تجزيہ اس حوالے سے قابل ذكرہے كہ اس نے سرمايہ دارى كے دور كى ثقافتى بنيادوں پر بہت زيادہ غور كيا اور ماركسزم كے فقط معاشى محور كو اس ليے نظر انداز كيا تا كہ ثقافتوں اور خالص قديمى نظريات و عقايدكے ماڈرنيزم كے ساتھ منطقى تقابل كو بے بنياد قرار دے سكے اور ويبر كى آلى معقوليت كا تجزيہ كر سكے_(۱)

مارٹن ہائيڈگر( ۱۹۷۶ _ ۱۸۸۹) ٹيكنالوجى كى سرعت سے بڑھتى ہوئي ترقى كو انسانى تفكر كيلئے خطرہ سمجھتا تھا _ حقيقت ميں ہائيڈگراہل مغرب سے يہ چاہتاتھا كہ مغربى لوگ اس دنيا ميں اپنے مشينى وجود كى كى اجنبيت اور تنہائي پر توجہ كريں يا بالفاظ ديگر اس قسم كى فكر ميں محو ہوجائيں _ہائيڈگر كى تمام تاليفات گويا اس كى فكرى نداء كى بازگشت ہيں كہ جو مغرب سے يہ چاہتى ہے كہ اس سے پہلے كہ فكر كرنے كے تمام ذرائع ہميشہ كيلئے كھو بيٹھيں اپنے آپ ميں آجائيں اور توجہ كريں كہ كيا كر رہے ہيں اور كہاں كھڑے ہيں ،اس نے ۱۹۵۵ ميں

____________________

۱) امرى جورج، جورج لوكاچ، ترجمہ عزت اللہ فولادوند، سمر، دفتر ويراستہ، ص ۱۰۰ _ ۸۷_


خبردار كرتے ہوئے يہ نصيحت كى تھى كہ سب اہل مغرب حتى كہ ان كے مفكرين جن كا كام ہى فكر كرناہے زيادہ تر فكرى فقر كے شكار ہيں

اس نے بے فكرى كو ايسا پراسراراور ہوشيار سياح قرار دياجو آج كى دنيا ميں ہر جگہ موجود ہے كيونكہ آج كے دور ميں مغربى لوگ ہر چيز كو تيز ترين اور سريع الزوال سمجھ رہے ہيں صرف اس ليے تا كہ فوراً اسے بھول جائيں _ حقيقت ميں يہ فراموشى فكر نہ كرنے كے مخرب اجزا ميں سے ايك ہے _ انہوں نے ٹيكنالوجى كے تسلط سے آزاد ہونے كے ليے اسكا بدل اس شہودى تفكر يا پُر اسرار تفكر كو بتايا جو سرزمين مشرق كى تہذيب ميں موجود ہے(۱) ہا يڈگر كى فكر ايك طرح كا مغربى افكار ميں دراڑ اور مشرق پر ايك تازہ نگاہ شمار ہوتى ہے_

پہلى جنگ عظيم در اصل مغربى تہذيب كا مسائل اور مشكلات كے مد مقابل نامعقول رويے كا اظہار تھا اسكے نہايت قابل افسوس نتائج نكلے جنہوں نے مغربى تہذيب كو اپنى لپيٹ ميں لے ليا ،منظم تشدد كى ايك ايسى موج جو ايك ايسے نظام كے بطن سے نكلى جو خود كو انسانى نظاموں ميں ترقى يافتہ ترين نظام بتاتاتھا اور اپنے ذرائع كو عقليت سے تعبير كرتا تھا _

ولاديمير لينن( ۱۹۲۴ _ ۱۸۷۰) نے اگرچہ يہ سعى كى كہ مغربى سرمايہ دارى كى جگہ انسانيت كے مطابق كوئي تصور پيش كرے ليكن بعد ميں اسكے اہداف بھى مزدور طبقہ كى خوفناك آمريت كى شكل ميں سامنے آئے ، سرمايہ دارى اور كميونيزم نے نہايت غير منصفانہ انداز سے ايك دوسرے كے خلاف تشدد كو بڑھايا كہ اس كى واضح مثال دوسرى جنگ عظيم ميں فاشزم كى صورت ميں سامنے آئي كہ جوان دو نظاموں كے بطن سے ظاہر ہوا_

۱۹۳۹ ميں دوسرى جنگ عظيم كے آغاز سے ميں مغربى دانشوروں نے زيادہ منفى انداز سے مغربى تہذيب كا تجزيہ كرنا شروع كيا_ اور اسميں مخفى ذہنيت پر تنقيد كي_

____________________

۱) لدل مك ورتر ، گناہ ، تكنولوى مديريت ، دعوت ہيدگر بہ تفكر ، فلسفہ وبحران غرب ، ترجمہ محمد رضاجوزى ، تہران ، ہومس ، ص ۱۶۴_


ميكس ہارك ہايمر( ۱۶۷۳ _ ۱۸۹۵ ) ، تھيوڈر آڈرنو( ۱۹۶۹ _ ۱۹۱۳ ) اور ہربرٹ ماركوزے( ۱۹۷۹ _ ۱۸۹۸ ) كى قيادت ميں فرينكفرٹ كا مكتب ان مفكرين كى پہلى نسل تھى جو مغربى عقليت كى اساس و حقيقت اور اس كى وجہ سے بڑھے ہوئے تشدد وسختى كى مخالفت كرتے تھے_ ہارك ہايمر اور آڈرنونے رسالہ ''منطق شفافيت ...ميں نيشٹا ماركس ،ويبر و غيرہ كى طرف سے آلى عقليت پر ہونے والى تمام تر تنقيد كو مد نظر ركھتے ہوئے يہ كوشش كى كہ اس جديد دور ميں مغربى عقليت كى اصل بنياد كو سترويں اور اٹھارويں صدى ميں تلاش كريں _ انہوں نے اپنے استدلال كو شفافيت كے اس قانون پر قائم كيا كہ روشن خيالى ايك زمانہ ميں مغربى انسان كى زندگى سے قديم خيالى قصوں كے تاثر كو ختم كرنے كا دعوى كرتى تھى ليكن اس دور ميں اس نے عقل كو ہى ايك ديومالائي قصے ميں ڈھال ديا ہے ايك نيا اور جنگ جو خيالى قصہ(۱)

ماركوزے نے ہارك ہايمر اورآڈرنوكے مشن كو آگے بڑھاتے ہوئے كوشش كى كہ ماركسزم اور فرائيڈازم كے امتزاج كى صورت ميں مغربى عقليت پر تنقيد كرے_ انہوں نے رسالہ '' متاع اور تہذيب'' ميں يوں دليل دى ہے كہ جديد مغربى تہذيب نے انسان كى نفسانى طاقت كو اسكى ايك جہت ميں محصور كر ديا ہے اسى ليے مغربى انسان ايك جہت والے موجود ميں تبديل ہوگيا ہے ضرورى ہے كہ يہ ظالمانہ طوق اسكى گردن سے اتارا جائے ماركوزے، نے ماركس اور فرائيڈكے مفاہيم كے امتزاج اور'' اضافى جبر'' كے مفہوم كو استعمال ميں لاتے ہوئے فرائيڈ كے نفسانيات اور حياتيات پر قائم نظريہ كى بنياد كو آڑے ہاتھوں ليا اور ماركسزم كے معاشرتى اور اقتصادى تجزيوں كى بنياد پر تشكيل پانے والے جديد صنعتى معاشرہ پر سخت تنقيد كا اس ميں اضافہ كرديا_

ماركوزے اپنے ايك اور رسالہ '' يك بُعدى انسان'' ميں امريكى كلچر پر تنقيد كي_ وہ دلائل ديتا تھا كہ امريكا ايك ايسى جگہ ہے كہ جہاں ايك طرح كى آرام دہ، پرسكون اور معقول غلامى موجود ہے_ ايسى جگہ ہے كہ جہاں ٹيكنالوجى مكمل فتح پاچكى ہے نيز جہاں فلاحى حكومت اور جنگجو حكومت ايك دوسرے كو چھيڑے بغير اپنا كام

____________________

۱ ) بابك احمدي، خاطرات ظلمت، تہران مركز ۱۳۷۹ _ ص ۱۵۴ _ ۱۵۳_


كر رہى ہيں ،امريكا ميں اقدار ايك جيسى ہوچكى ہيں جس كى وجہ سے وہاں كے شہريوں كے ليے انتخاب موجود نہيں ہے،يہ حالت اس وقت تك برقرار رہے گى جب تك كہ امريكى معاشرہ كے نچلے طبقہ سے ان حالات كے خلاف غصے كى لہر نہ اٹھے اور اس حالت كو تبديل نہ كردے(۱) ماركوزے۱۹۶۰ ميں يہ نظريات پيش كركے عملاً امريكى اور يورپى ناراض طلباء كا پيشوا بن گيا_

جان پل سارٹر(۱۹۸۰ _ ۱۹۰۵ ) ماڈرن مغرب كے دانشوروں كے سلسلہ كى آخرى كڑى ہے جس نے اگزسٹنالزم (وجوديت پسندي) اور ماركسزم كے امتزاج سے كوشش كى كہ مغربى تہذيب پر تنقيد كرے_ وہ اگزسٹنالزم كى انسانى ضمير كى آزادى كى حمايت كرنے كى بناء پرتعريف كرتا تھا اور ماركسزم كو بعنوان فلسفہ انقلاب قبول كرتا تھا_ اسكا ماركسزم كى طرف رجحان زيادہ تر ماركس كى جوانى كى تاليفات كى طرف ہے، اس نے كوشش كى كہ بعض مفاہيم مثلاً شيئيت، ضميت، سامان كى مانند ہونا، خود بيگانگى اور اگزسٹنالزم كے مضامين مثلاً انفرادى آزادى ، ذاتى وجود اور ''ضمير انسان ''كو آپس ميں مخلوط كرے تا كہ مغربى انسان كى بے چارگى اور محروميوں كو بيان كرنے كيلئے نيا فلسفہ تشكيل دے سكے_

اسكى طرف سے الجزاير ميں استعمار كے خلاف تحريكوں كى بے پناہ حمايت اور مئي ۱۹۶۸ ميں فرانس ميں انقلابى طلباء كے اعتراضات اور احتجاج كے ساتھ ہمدردى كا اظہار كرنا بتاتا ہے كہ وہ مغربى تہذيب ميں بڑھتے ہوئے تشدداور نفرت آميز رويوں پر تنقيد سے قلبى لگاؤ ركھتا تھا_ اگرچہ سارتر نے واضح طور پر مغرب كے زوال كے بارے ميں نظريہ نہيں ديا ليكن اسكے دو فلسفى رسالے بنام '' وجود اور عدم وجود'' اور '' منطقى عقل پر تنقيد'' ايسے ہيومنيزم كو بيان كرتے ہيں كہ جوسرمايہ دارى نظام اور قيود سے انفرادى آزادى كى بنياد پر تشكيل پايا ہے يہ خصوصيت اسكى داستانوں اورڈراموں ميں بھى ملاحظہ كى جاسكتى ہے _ سارتر كے انفرادى آزادى كے نظريے نے دوسرى جنگ عظيم كے بعد ۱۹۵۰ كے عشرہ كے آغاز ميں جوانوں كى ايك مكمل نسل كو اپنا فريفتہ كيے ركھا(۲)

____________________

۱)اسٹوارٹ ميرز، ہجرت انديشہ اجتماعي، ترجمہ عزت اللہ فولادوند ، تہران ، طرح نو، ص ۲۱۰، ۲۰۶_

۲)جوڈيٹ باٹلر، ان پل سارتر، ترجمہ خشايار ديہيمى ، تہران ص ۵۲،۴۸_


نظريہ پوسٹ ماڈرنزم در اصل كيميونزم اور سرمايہ دارى كے نظرياتى تصورات كے خلاف رد عمل تھا كہ جس ميں ۱۹۶۰ كے عشرہ كے آخر ميں يورپ اور آمريكا كے طلباء كى شورش كى وجہ سے جوش و خروش پيدا ہوا ،پوسٹ ماڈرنسٹ ايك طرف كميونزم كى اس عنوان سے كہ وہ دنيا كى نجات كى واحد راہ ہے ،كى مخالفت كر رہے تھے اور دوسرى طرف مصرفانہ كلچرّ ( consumerism ) بے پناہ پيداوار ( mass production ) نظريات ميں يكسانيت اور مغربى سرمايہ دارى كى توسيع پسندانہ ذہنيت كو قبول كر رہے تھے_

وہ (پوسٹ ماڈرنسٹ) دونوں نظريات، كميونزم اور سرمايہ دارى كے اختلافات كا آميزہ اور مركب تھے اور دوسرى طرف دونوں ہى نظريات كى بڑائي كومسترد كرتے تھے_ ان كا عقيدہ تھا كہ بڑے نظريات انسانوں كى ذاتى اور اجتماعى زندگى پر نظارت كى بناپر ايك طرح كے اپنے اقتدار اور تسلط كا اظہار كرتے ہيں _

مشل فوكو، جل ڈلاس،اور جان فرانسوا ليوٹار نے فلسفے اور تحليل نفسى كى آميزش كے بعد اس ميكانزم پر سخت تنقيد كى جو مغربى تہذيب انسان كو محدود اور مقيد كرنے كے ليے استعمال كرتى ہے _ فوكو نے جنون اور جنسيت كے تاريخى تجزيہ كى راہ سے نچلے طبقوں پر مغربى تشدد پسندى كا باريك بينانہ نقشہ كھينچاہے_ ڈلاس شيزوفرينيا كا مفہوم تحليل نفسى سے مستعار ليتے ہوئے اسكا سرمايہ دارانہ تہذيب كے ايك حصے كے طور پر جائزہ ليتا ہے ليوتارنے بڑے نظريات كو مسترد كرتے ہوئے كوشش كى كہ بنياد پرستانہ پايسيوں كو اپنائے اور بجائے وسعت اور ہمہ جہتى پر زور دينے كے علاقائي ہونے اور محدوديت پر اكتفا ء كرے تا كہ بہتر نتيجہ اخذكرسكے(۱)

ايرانى اور عرب دانشوروں كى آراء ميں مغربى تہذيب پر تنقيد

سترويں اور اٹھارويں صدى ميں ايك طرف سے دين سے سياست كى جدائي كا نظريہ ( سيكولرزم) اور دوسرى طرف سے استعمار كا ظاہر ہونا ،ان دونوں كے ملاپ سے مغرب كى ايك مكمل تصوير اہل مشرق كے ذہن ميں پيدا ہوئي_ اہل مشرق بالخصوص عالم اسلام نے خودبخود اس تصوير كے مقابلے ميں محاذ كھولا_ كيونكہ

____________________

۱) مايكل پين ، فرہنگ انديشہ انتقادى ،ترجمہ پيام يزدانجو، تہران، ذيل ''فوكو''، ''دلوز''، ''ليوتا''


اہل مغرب كے مشرق والوں كواپنى تہذيب سے وابستہ كرنے كا مقصد انكى تہذيبى اقدار پر حملہ كرنا تھا_ مسلمانوں نے مغرب كے اس سوچے سمجھے حملے كے مقابلے ميں اپنى دينى اور قومى روايات اور وراثت كو زندہ ركھنے پر كمر باندھ لي_ لہذا بيسويں صدى ميں بہت سے دانشوروں نے مغرب كے تسلط كا مقابلہ كرنے كيلئے بيدارى اور اصلاح كى كوششيں كيں _

ہم يہاں اس مقالہ ميں ان ميں سے كچھ اكابرين حضرات كى طرف اشارہ كر يں گے_ ايران ميں پہلوى دور ميں مغربى تہذيب پر تنقيد منظم صورت ميں انجام پائي _ اس حوالے سے پيش پيش تين دانشور يہ ہيں : سيد فخرالدين شادمان، سيد احمد فرديد اور جلال آل احمد_ ان تين شخصيات كو ايران ميں '' مغرب پرستي'' كے موضوع كا معمار اور صاحب نظر سمجھا جاسكتا ہے_

سيد فخرالدين شادمان (۱۳۴۶ _ ۱۲۸۶) كہ جو قديم اور جديددونوں تعليمى نظاموں كے تعليم يافتہ تھے_ انہوں نے ۱۳۲۶ شمسى ميں اپنى اہم ترين كتاب '' تسخير شدن فرنگي'' شايع كي_ اسميں وہ لكھتے ہيں كہ اگرايران مغربى تہذيب كے تسلط سے بچ جائے اور اسكے مقابلے ميں كمزور نہ پڑے تو اسے چاہيے كہ وہ رغبت اور شعور كے ساتھ اس تہذيب كو اپنا رنگ دے دے اور اس تحريك كا ايك ہى وسيلہ زبان فارسى ہے كہ جو تمام ايرانيوں ميں مشترك صورت ميں ہے اور انكے اجداد كى موروثى عقل و دانش كا مظہر بھى ہے(۱) يہ قوم پرستانہ گفتگو زيادہ آگے نہ بڑھ سكى كيونكہ اس نظريہ ميں بنيادى طور پر ايرانيوں كے دينى مزاج كى طرف توجہ نہيں دى گئي تھي_

شادمان كى مانند سيد احمد فرديد (۱۳۷۳ _ ۱۲۹۱ شمسى ) بھى دونوں تعليمى نظاموں قديم اور جديد ميں تعليم يافتہ تھے _ وہ سب سے پہلے ايرانى مفكر تھے كہ جنہوں نے اپنے دور كے مغربى فلسفہ بالخصوص مارٹن ہايڈ گر كى آراء كا دقت سے مطالعہ كيا تھا فرديد نے ہايڈگر سے متاثر ہوتے ہوئے مغربى تہذيب پر فلسفى تنقيد كى _ انكا يہ

نظريہ تھا كہ انسانوں كے تين پہلو علمي، فلسفى اور معنوى ميں اگرچہ پہلے دو پہلو مغرب كى فكرى روايت ميں اہميت كے حامل ہيں ليكن تيسرا پہلو واضح طور پر غائب يا خاموش ہے_ اس ترتيب سے فرديد اس نتيجہ پر پہنچتے

____________________

۱) سيد فخرالدين شادمان، تسخير تمدن فرنگي، آرايش و پيرايش زبان، تہران ،ص ۲۳_


ہيں كہ مغرب كو بھى ايك فلسفے اور ضابطہ حيات كے عنوان سے الوداع كہنا چاہيے ،انكے تجزيہ كے مطابق مغرب كا مقابلہ كرنے كيلئے اسكے فلسفہ كى حقيقت اور جڑ سے آگاہ ہونا چاہيے حقيقت ميں فرديد اپنى شناخت پيدا كرنے كيلئے دوسروں كى شناخت كو ضرورى شرط سمجھتے تھے_(۱)

جلال آل احمد (۴۸ _ ۲_۱۳) كہ جنكا علما گھرانے سے تعلق تھا_انہوں نے مغرب پرستى كى بحث كو معاشرتى اور سياسى افق سے بيان كيا ،۱۳۴۱ شمسى ميں انكى ايك كتاب '' غرب زدگي'' شايع ہوئي بعد ميں چند عشروں تك ايرانى مفكرين كے درميان مقبول رہى ، منتقدى اس كتاب كو سب سے پہلا ايسا مشرقى رسالہ سمجھتے ہيں كہ جس نے مغرب اورمغربى استعمار كے مقابلے ميں مشرق كى صورت حال كو روشن كيا اور اسے عالمى معاشرتى اہميت كا حامل بتايا_(۲)

آل احمد كا يہ نظريہ تھا كہ ايرانى لوگ مشينى زندگى اور مغرب كے حملے كے مقابلے ميں اپنى ثقافتى اور تاريخى شخصيت كو نہيں بچا سكے بلكہ مضمحل اور منتشر ہو چكے ہيں اور صرف مغربى شكل اپنا چكے ہيں _

آل احمد نے پہلى بار مغربى تہذيب كا مقابلہ كرنے كيلئے دينى علماء كى قوت كى طرف اشارہ كيا اور واضح كيا كہ جب بھى دانشورحضرات اور دينى علماء باہمى اتحاد كے ساتھ آگے بڑھيں گے_ تو اس معاشرتى مقابلے ميں مثبت اور متاثر كن نتايج پائيں گے،در اصل وہ زير لب جديدت اور روايت پسندى كے اتحاد كى تجويز دے رہے تھے اور ان دونوں كو اجتماعى و معاشرتى سطح پر مقابلہ كرنے كيلئے مل جل كر كام كرنے كى دعوت دے رہے تھے_(۳)

سب سے پہلے عالم كہ جنہوں نے مغربى آئيڈيالوجى كى جگہ اسلام كو ايك سياسى آئيڈيالوجى كى صورت

____________________

۱) مہرزاد بروجردي، روشنفكرى ايرانى اور غرب، ترجمہ جمشيد شيرازي، تہران، ص ۱۰۸ _ ۱۰۷_

۲) سابقہ ماخذ، ص ۱۱۱ _ ۱۱۰_

۳) جلال آل احمد، غرب زدگي، تہران، ص ۲۸ ، در خدمت و خيانت روشنفكران ، تہران، ج ۲ ، ص ۵۲_


ميں پيش كيا وہ امام خمينى تھے ، امام نے اسلامى روايات اور ثقافت سے آگاہى اور عوامى طبقات كو مغرب اوراسكى تابع حكومت كے مقابلے ميں جہاد كى دعوت ديتے ہوئے آل احمد كے آئيڈيل يعنى اجتماعى جد و جہد كرنے كيلئے علماء اور دانشورحضرات كى ہمراہى كو حقيقت ميں بدل ديا_ انہوں نے سياسى سطح پر عوام كو تيار كرتے ہوئے دوران جديد ميں سب سے پہلے مذہبى انقلاب كى تصوير كھينچى وہ انقلاب كہ جس نے اس كليہ كہ ''انقلاب ترقي دين سے نجات '' كو ختم كرديا اور دوبارہ دين كے پرچم كو لہرا ديا_(۱) ا

صل ميں امام كے انقلابى نظريات كے سائے تلے اسلامى جديديت اور روشن خيالى نے اپنى بنياد تشكيل دي_ اور على شريعتى (۱۳۵۶ _ ۱۳۱۲ شمسى ) جيسے مفكر كو ايرانى معاشرہ كے سپرد كيا_ شريعتى كہ جنہوں نے فرانس ميں سماجيات ميں تعليم حاصل كى تھي_ ايك مذہبى فيملى ميں پيدا ہوئے تھے وہ اسلام پر ايك نئي نگاہ كى تلاش ميں تھے كہ جو مسلمانوں كو مغرب كے مقابلے ميں مسلح كرے_ انہوں نے اپنے حقيقى نظريہ كو '' اپنى طرف لوٹنا'' كے عنوان سے پيش كيا_ شريعتى نے قوم پرست اہل نظر كے رد عمل ميں واضح كيا كہ ايرانيوں كے نزديك اپنى طرف لوٹنے سے مراد اسلام سے قبل كے ايران كى طرف لوٹنا نہيں ہے بلكہ اسكا مطلب اسلامى اصولوں كى طرف لوٹنا ہے_

شريعتى كى نظر ميں مشرق و مغرب ميں مختلف نمونہ ہائے عمل نے مختلف خصوصيات كو وجود بخشا_ مغرب ميں عقلى رجحان، مادى رجحان، حقائق كى طرف رجحان اور منفعت پسندى جبكہ مشرق ميں الہى روحانى ، اجتماعي، عقيدتى اور اخلاقى صفات، اسى ليے مغرب فلسفى نگاہ سے ظاہر اورموجود حقيقت كے تعاقب ميں نكلا جبكہ مشرق اس حقيقت كى تلاش ميں چلا كہ جو ہونى چاہيے تھي_(۲)

اسلامى انقلاب كے بعد تين موضوعات مغرب پرستي( شادمان، فرديد ، آل احمد) ،اسلامى شريعت كا احيائ( امام خمينى ) اوراپنى طرف لوٹنا ( شريعتى ) نے فكرى اعتبار سے ايران ميں اسلامى جمہوريہ كى نئي بپا ہونے

____________________

۱) ہشام جعيط ، بحران فرہنگ اسلامي، ترجمہ سيد غلامرضا تہامي، تہران، ص ۱۵۰_

۲) على شريعتي، از كجا آغاز كنيم؟ ج ۲۰ ، تہران، ص ۲۸۲_


والى حكومت كو قوت بخشي_ اگرچہ عمل كے اعتبار سے دوسرى بحث سياسى اور ثقافتى سطح پر زيادہ تسلط ركھتى تھى اور ايرانى معاشرہ اسكے بيان كيے گئے اصولوں كے مطابق چل رہا تھا_ اسلامى جمہوريہ ايران مغربى تہذيب كى عالم اسلام پر يلغار كے مقابلے ميں قوميت اور شيعہ اسلامى مكتب فكر كے امتزاج سے ايك مضبوط متبادل نظام شمار ہوتا ہے_

انيسويں صدى كے اختتام اور بيسويں صدى كے آغاز ميں عرب مفكرين جو عالم اسلام كا قابل ذكر اور بڑاحصہ شمار ہوتے ہيں انہوں نے مغرب كى ثقافتى اور سياسى سطح پريلغار كے مقابلے ميں رد عمل كا اظہار كيا_ اس رد عمل كو پانج پہلووں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے:

۱ _ قومى ونسلى تفريق: عبدالرحمان كواكبى ( ۱۹۰۲ _ ۱۸۴۸عيسوى ) نے مسلمانوں ميں مغرب مخالف احساسات كى قومى فطرى خصوصيات كى بناء پر تشريح كي_ وہ مغرب والوں كو مادّى زندگى كے قائل، نفسانى خواہشات كے گرويدہ، انتقام جو، مال و دولت پسند اور حريص سمجھتے تھے جبكہ شرق والوں كو اہل ادب و حيا، لطيف روح كے حامل اور محبت آميز رويے والے سمجھتے تھے_(۱)

۲ _ ثقافتى برتري: مغربى زندگى كا طرز عمل مشرقى شيوہ زندگى كى نسبت پست شمار كيا گيا_ ايك عربى مفكر كا نظريہ تھا كہ اہل شرق اہل يورپ كى تقليد چھوڑديں كيونكہ يہ تقليد نہ صرف يہ كہ اہل مشرق كو مالى لحاظ سے مغرب والوں كے تسلط ميں لے آئي ہے بلكہ باعث بنى ہے كہ مغرب والے اپنے سياسى مقاصد حاصل كرسكيں اور مشرق والوں كو ذليل كرسكيں _(۲)

۳ _ مغرب كا تجاوز كرنا: كواكبى كى نظر ميں مغرب والے فطرتاً جارح ہيں اور ديگر اقوام كے مقابلے ميں

____________________

۱) عبدالرحمان كواكبي، طبايع الاستبداد ، ترجمہ عبدالحسين قاجار، ص ۱۰۰_

۲) ہشام شرالى ، روشنفكران عرب و غرب ، ترجمہ عبدالرحمان عالم، ص ۱۱۱_


احساس برترى كا شكار ہيں انكى نظر ميں مغرب ميں امپريالزم (استعماريت) مغربى لوگوں كى فطرى درندہ خو طبيعت كا ظہور ہے_(۱)

۴ _ مغرب كى برى نيت: سياسى اور اقتصادى سطح پر انكى جاہ طلبيوں سے قطع نظر مغرب ايك تسلط پسند تہذيب كے عنوان سے ہراس چيز كو ختم كرنے پر تلى ہوئي ہے كہ جو اس سے رابطے ميں ہو; مغرب نہ صرف يہ كہ لوگوں كو غلام بناتاہے بلكہ انكى زندگى كى بنيادوں كو بھى بوسيدہ كرديتاہے_

۵ _ جھوٹى تہذيب: آيا واقعاً مغرب مہذب ہے؟ مغرب ميں روحانى فقر كى طرف بار بار اشارہ كيا جا چكا ہے_ ايك عرب مفكر كے مطابق آزادى كا وہ نظريہ كہ جسكے بارے ميں اہل مغرب بحث كرتے ہيں وہ اہل مغرب ، اہل مشرق، مسلمانوں ، عيسائيوں ، پروٹيسٹنٹ اور كيھتولك فرقوں كے درميان فرق كا قائل ہے لذا اس قسم كے نظريے كو جھٹلا دينا چاہے اور رد كرنا چاہيے _(۲)

يہ مذكورہ پانج ابعاد حقيقت ميں مغربى تہذيب پر تنقيد ميں پيش پيش عرب مفكرين كے نظريات كا مجموعہ ہيں _ سب سے پہلے عرب مفكر كہ جنہوں نے مغرب كے ثقافتى اور سياسى غلبہ كے رد عمل ميں اسلام كے احياء كيلئے دقيق ضوابط معين كيے_ شيخ محمد عبدہ (۱۹۵ _ ۱۸۴۹) تھے _ عبدہ نے بيدارى كى اس تحريك كو بڑھانے كيلئے چار اہم مراحل معين كيے_ سب سے پہلا مرحلہ مغرب كے مقلدانہ دلائل سے فكر كو آزاد كرنا _ دوسرا مرحلہ دين كى صحيح سمجھ بوجھ جو در اصل صدر اسلام كے دور كے اصولوں كى طرف لوٹنا تھا تيسرا مرحلہ يہ تھا كہ ابتدائي اسلام كے اصولوں كو قرآن و سنت ميں تلاش كيا جائے نہ كہ فرقوں ، اور دينى رہبروں اور علماء كے سلسلے ميں سے ڈھونڈا جائے،چوتھا مرحلہ اسلام كى تفسير كيلئے عقلى معيار بنانا تھا البتہ يہ عقلى رجحان قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہو(۳)

____________________

۱) عبدالرحمان كواكبي، سابقہ ماخذ ، ص ۱۳۵_

۲) ہشام شرابى ، سابقہ ماخذ ، ص ۱۱۳ _ ۱۱۲_

۳) سابقہ ماخذ ص ۴۵ _ ۴۴_


يہ چار مراحل جن كى نظرى بنياد عبدہ نے ركھى اپنے سياسى پہلو ميں مغرب كے خلاف ايك رد عمل ہونے كے ساتھ ساتھ ايك اصلاح پسند تحريك بھى تھى جو اس سعى و كوشش ميں تھى كہ عالم اسلام ميں زوال كى وجہ، مغرب كى برتري، طاقت كى بناء پر روابط اور اتحاد دو يكجہتى كے مفہوم كى عقلى تفسير كى جائے، لہذا يہ ايك سياسى اور معاشرتى آئيڈيالوجى كى صورت ميں ظاہر ہوئي جو مغرب ميں رائج نظريات مثلا سوشلزم، نيشنلزم اور لبرلزم كى نسبت انفراديت ليے ہوئے تھي_

ايك اہم مسئلہ كہ جو مغربى تہذيب كى مشرق سے مطابقت كو مشكل اور دشوار كر رہا تھا يہ تھا كہ مغرب ميں تہذيب بتدريج تشكيل پا ئي تھى اور اس نے ايك خاص انداز ميں اپنے پير جمائے تھے ليكن اس تہذيب كے اثرات بغير كسى تمہيد اور تيارى كے سرعت كے ساتھ مشرق ميں داخل ہوئے تو دينى اور قومى روايات و اقدار كے ساتھ ٹكرا گئے _ جسكے نتيجہ ميں باہمى كشمكش اور ٹكراؤ كے حالات پيدا ہوئے_(۱) يہ ٹكراؤ جوآزادى اور ڈيموكريسى كے نام سے عالم مشرق پر مسلط كيے گئے اور انكا رد عمل جوبيسويں صدى ميں اسلامى اور ملى تحريكوں كى صورت ميں ظاہر ہوا ،يہ تحريكيں جو مغرب كے خلاف تھيں اور آزادى اور جمہوريت كى خواہاں تھيں ليكن وہ آزادى اور جمہوريت جومغربى نہ ہو ،عالم مشرق بالخصوص مسلمان ان مفاہيم كو اپنے روايتى اور ملى نظام ميں ڈھونڈ رہے تھے_

احمد على سعيد ( آدونيس)ايك شاعر اور معاصر عرب مفكر مغربى تہذيب كے بارے ميں كہتے ہيں '' اب يورپ پر يقين نہيں ہے ، اب انكے سياسى نظام اور فلسفوں پر ايمان نہيں رہا ...انكا معاشرتى ڈھانچہ و غيرہ ديمك زدہ ہے _(۲)

____________________

۱) احمد امين ، پيشگامان مسلمان تجدد گرائي در عصر جديد، ترجمہ حسن يوسفى اشكوري_ ص ۳۵۴ _ ۳۵۳_

۲) ہشام شرابى ، سابقہ ماخذ، ص ۱۵۲_


منابع و مآخذ

۱_ باتامور، تام، مكتب فرانكفورت، ترجمہ حسينعلى نوذري، تہران، نشرني

۲ تاملينسون، جان،جہانى شدن و فرہنگ، ترجمہ محسن حكيمي، تہران، دفتر پوہشہاى فرہنگى ۱۳۸۱

۳ سعيد، ادوارد، فرہنگ و امپرياليسم، ترجمہ اكبر افسري، تہران، توس

۴ لش، اسكاتف جامعہ شناسى پست مدرنيسم، ترجمہ حسن چاوشيان، تہران، مركز۱۳۸۳

۵ آباديان، حسين، انديشہ دينى و جنبش ضد ريم در ايران، تہران، مؤسسہ مطالعات تاريخ معاصر ايران، ۱۳۷۶

۶______ ، روايت ايرانى جنگہاى ايران و روس، تہران، مركز اسناد و تاريخ ديپلماسي، ۱۳۸۰

۷ ______، مبانى نظرى حكومت مشروطہ و مشروعہ، تہران ، نشر نى ، ۱۳۷۴

۸ آرنولد، توماس واكرد، وآلفرد گيوم، ميراث اسلام، ترجمہ مصطفى علم، تہران، انتشارات مہر، ۱۳۲۵

۹_ آريا، غلامعلى ، طريقہ چشتيہ در ہند و پاكستان، تہران ، كتابفروشى زوار ، ۱۳۶۵

۱۰_ آند، يعقوب(ترجمہ و تدوين) ، ادبيان نوين تركيہ، تہران ، ۱۳۶۴

۱۱ آقايي، بہمن، و خسرو صفوي، اخوان المسلمين، تہران،نشر رسام، ۱۳۶۵

۱۲ آل احمد، جلال ، غرب زدگى در خدمت و خيانت روشنفكران،تہران ۱۳۷۵

۱۳آلفونسو نالينو، كرلو، تاريخ نجوم اسلامي، ترجمہ احمد آرام، تہران ۱۳۴۹

۱۴ آناند گومارا، سوامي، مقدمہ اى بر ہنر ہند، ترجمہ امير حسين ذكو گو، انتشارات روزنہ، ۱۳۸۳

۱۵_ آيتي، محمد ابراہيم، اندلس يا تاريخ حكومت مسلمين در اروپا، انتشارات دانشگاہ تہران، ۱۳۶۳

۱۶_ ابراہيم تيموري، عصر بى خبرى يا تاريخ امتيازات در ايران، تہران، اقبال، چ۴، ۱۳۶۳

۱۷ابن خلدون، مقدمہ ابن خلدون، ترجمہ محمد پروين گنابادي، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر كتاب ۱۳۳۶

۱۸ ابن خلكان، وفيات الاعيان، قاہرہ، ۱۲۷۵ق


۱۹ابن ہبيرة، الافصاح عن معانى الصحاح، حلب، مكتبة الحلبية، ج۱، ۱۹۴۷

۲۰ ابوزہرہ، محمد ، امام الشافعي:حياتہ و عصرہ، آراوہ و فقہہ ، قاہرہ، دارالفكر العربي، چ۲، ۱۳۶۷ق/۱۹۴۸

۲۱ ____ مالك; حياتہ و عصرہ، آراوہ و فقہہ ، قاہرہ ، دارالفكر العربي، ۱۳۳۱ق

۲۲ ابى يوسف، كتاب الخراج،در; موسوعة الخراج، بيروت ، بى تا

۲۳احمدي، بابك، خاطرات ظلمت، تہران، مركز، ۱۳۷۹

۲۴ احمدى ميانجي، على ، مكاتب الرسول، قم ، ۱۳۶۳

۲۵ اردبيلى ، ابن بزاز( درويش توكلى بن اسماعيل بزاز) صفوة الصفا، مقدمہ و تصحيح غلامرضا طباطبايى مجد، تہران، زرياب

۲۶ اردبيلى ، احمد بن محمد ، زبدة البيان ، مقدمہ

۲۷ اركون، محمد، و آخرون، الاستشراق بين دعاتہ و معارضيہ، ترجمہ ہاشم صالح، دار الساقي، بيروت، ۲۰۰۰

۲۸ استراتى صہيونيسم در منطقہ ، مؤسسہ الارض(ويہ مطالعات فلسطيني) ،ا نتشارات بين الملل اسلامى ، ۱۳۶۳

۲۹ اسد آبادي، سيد جمال الدين ، مجموعہ رسائل و مقالات، بہ كوشش سيد ہادى خسرو شاہى ، انتشارات كلبہ شروق، ۱۳۸۱


۳۰_اسكندر بيك منشي، تاريخ عالم آراى عباسي، تصحيح محمد دبير سياقي،تہران، دنياى كتاب

۳۱ اسماعيل زادہ، رسول، شاہ اسماعيل صفوى خطايي( كليات ديوان، نصيحتنامہ، دہنامہ، قوشمالار)، انتشارات بين المللى الہي، بى تا

۳۲ اسناد نہضت آزادى ايران، تہران، نہضت آزادى ايران، ج۱، ۱۳۶۱

۳۳ اصفہانى ، ابوالفرج، الاغاني، قاہرہ، ج۵

۳۴ اصفہاني، احمد بن عبداللہ ابونعيم، حلية الاولياء و طبقات الاصفيائ، بيروت ۱۹۸۷

۳۵اصيل، حجتاللہ، زندگى و انديشہ ى ميرزا ملكم خان ناظم الدولہ، تہران،نشر ني، ۱۳۷۲

۳۶افتخاري،اصغر،''ابعاد اجتماعى برناہ امنيتى اسرائيل: دستور كارى براى قرن بيست و يكم'' فصلنامہ مطالعات امنيتي، س۴ پاييز ۱۳۸۲

۳۷ افتخاري، اصغر،جامعہ شناسى سياسى اسرائيل، تہران، مركز پوہشہاى علمى و مطالعات استراتيك خاور ميانہ، ۱۳۸۰

۳۸افراسيابي، بہرام،و سعيد دہقان، طالقانى و انقلاب ، تہران، نيلوفرج۲چ۲، ۱۳۶۰

۳۹ اقبال آشتيانى ،عباس، تاريخ مغول و اوايل تيمور در ايران ،تہران، نشر نامك، ۱۳۷۶

۴۰____ ''فتوت و خلافت عباسي'' مجلہ شرق، دورہ يكم، ش ۶ خرداد ۱۳۱۰ ص ۱۰۵_۱۰۱

۴۱ اكبر زادہ فريدون، نقش رہبرى در نہضت مشروطہ ، ملى نفت و انقلاب اسلامى ، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامى ۱۳۸۱

۴۲الحيمي، الروض النضير، مقدمہ


۴۳ الزلمى ، مصطفي، اسباب اختلاف الفقہاء فى احكام الشريعة ، بغداد الدار العربيہ ۱۳۹۶ ق

۴۴ الگار، حامد، دين ودولت در ايران، ترجمہ ابوالقاسم سري، تہران، توس، چ۲ ۱۳۶۹

۴۵ الگود، سيويل، طب در دورہ صفويہ، ترجمہ محسن جاويد، چاپ دانشگاہ تہران ، ۱۳۵۷

۴۶امين، احمد، پيشگامان مسلمان تجدد گرايى در عصر جديد، ترجمہ حسن يوسفى اشكوري،تہران ۱۳۷۶

۴۷ اميني، داود ، جمعيت فدائيان اسلام و نقش آن در تحولات سياسي_ اجتماعى ايران، تہران، مركز اسناد انقلاب اسلامى ، ۱۳۷۷

۴۸ انصاري، حسن، ''امين استر آبادي'' دائرة المعارف بزرگ اسلامي، ج۱۰

۴۹ انصاري، عبداللہ ابن محمدف طبقات الصوفيہ، بہ كوشش محمد سرور مولائي، تہرانف ۱۳۶۲

۵۰ اورس، تيلمان، ماہيت دوست در جہان سوم، ترجمہ بہروز توانمند، تہران، اگاہ، ۱۳۶۲

۵۱ ايزوتسو، توشى ہيكو، ساختمان معنايى مفاہيم اخلاقي_ دينى در قرآن، ترجمہ فريدون بدرہ اى ، تہران ۱۳۶۰

۵۲ باتلر، جوديت ان پل سارتر، ترجمہ خشايار ديہميى ، تہران، كہكشان ۱۳۷۵

۵۳ بازرگان، مہدي، انقلاب ايران در دو حركت، تہران، نہضت آزادى ايرانف چ۵ ، ۱۳۶۳

۵۴ باسورث ، ادموند كليفورد، سلسلہ ہاى اسلامى ، ترجمہ فريدون بدرہ اى ، تہران، مركز بازشناسى اسلام و ايران، ۱۳۸۱

۵۵باقي، عماد الدين ، جنش دانشجويى ايران از آغاز تا انقلاب اسلامي، تہران، جامعہ ايرانيان ۱۳۷۹

۵۶ بحثى دربارہ مرجعيت و روحانيت (مجموعہ مقالات) تہران، شركت سہامى انتشار، ۱۳۴۹

۵۷ براون، ادوارد ، تاريخ ادبيات از آغاز عہد صفويہ تا زمان حاضر، ترجمہ رشيد ياسمي، تہران، انتشارات


فہرست

مقدمہ: ۴

تمہيد ۶

مرحلہ ۱: اسلامى بيداري ۹

مرحلہ ۲: اسلامى حكومت كى تشكيل ۱۱

مرحلہ ۳: اسلام كى نشر و اشاعت ۱۳

مرحلہ ۴: اسلامى تہذيب و تمدن كى تجديد ۱۳

پہلا باب: ۱۵

كلى مباحث ۱۵

۱_ علمى بنياد اور تاريخى سرچشمے ۱۶

تعريفيں ۱۸

تہذيب كا ثقافت سے ربط ۱۹

تہذيبوں كى پيدايش اور ترقى ميں مؤثر اسباب ۲۰

تہذيبوں كے انحطاط اور زوال كے اسباب ۲۱

اخلاق ، ثقافت، تہذيب اور قانون ۲۱

دوسرا باب: ۲۶

اسلامى تمدن كى تشكيل كا پس منظر ۲۶

۱ اسلام ميں علم و دانش كا مقام ۲۷

اسلامى تہذيب و تمدن ميں تاريخ كتابت پر ايك نظر ۲۸

۲_ علوم كا منتقل ہونا اور اہل علم و دانش كى دنيائے اسلام ميں شموليت ۳۰


۳_ترجمے كى تحريك: ۳۲

(الف) ہارون الرشيد كا دور: ۳۳

ب) مامون كا دور ( حكومت ۲۱۸ _ ۱۹۸قمرى ) : ۳۴

ج) مامون كے بعد كا دور: ۳۴

د) تحريك ترجمہ كا اختتام: ۳۴

۴_ اسلامى تمدن ميں علمى مراكز ۳۵

تيسرا باب: ۳۸

اسلامى تمدن ميں علوم كى پيش رفت ۳۸

علوم كى درجہ بندي: ۳۹

الف) غير اسلامى علوم: ۴۲

۱) رياضيات: ۴۲

۲) نجوم ۴۶

۳_ فزكس اور ميكانيات: ۵۰

۴ ) طب ۵۳

۵_ كيميا ۵۷

۶_ فلسفہ : ۶۰

۷) منطق ۶۶

تاريخ اور تاريخ نگاري ۶۷

۹ ) جغرافيا ۷۲

پہلا دور (تيسرى اور چوتھى صدي) ۷۴


دوسرا دور (پانچويں صدي) ۷۴

تيسرا دور(چھٹى صدى سے دسويں صدى تك ) ۷۴

چوتھا دور (گيارہويں سے تيرہويں صدى تك) ۷۵

ادب: ۷۷

الف) عربى ادب ۷۷

ب) فارسى ادب : ۷۹

۱) فارسى شعر ۷۹

۲) فارسى نثر ۸۱

ج) تركى ادب: ۸۲

ب ) اسلامى علوم ۸۳

۱) قرائت : ۸۳

۲ _ تفسير ۸۶

۳_ حديث ۹۰

۴ _ فقہ ۹۱

الف) شيعہ فقہ : ۹۱

ب) اہل سنت كى فقہ اور تغير و تبدل كے ادوار: ۹۹

۵_ اصول ۱۰۴

۶_ كلام ۱۰۶

۷_ تصوف، عرفان اورفتوت ۱۱۰

چوتھا باب: ۱۲۳


اسلامى تہذيب ميں انتظامي اور اجتماعى ادارے ۱۲۳

۱) ديوان ۱۲۴

ديوان خراج يا استيفائ: ۱۲۵

ديوان بريد(ڈاك اور خبر رسانى كا نظام): ۱۲۶

ديوان انشاء : ۱۲۷

ديوان جيش: ۱۲۷

ديوان بيت المال: ۱۲۸

ديوان نفقات: ۱۲۸

ديوان اقطاع : ۱۲۹

ديوان عرض: ۱۲۹

ديوان العمائر يا ديوا ن الابنية المعمورة: ۱۲۹

ديوان مظالم : ۱۲۹

۲ ) خراج ۱۲۹

۳)حسبہ(احتساب كا نظام) ۱۳۱

پانچواں باب : ۱۳۴

اسلامى تہذيب و تمدن ميں فن و ہنر ۱۳۴

۱_ فن معمارى ، مصورى ، خطاطى اور ظروف سازى كى صنعتيں ۱۳۵

۲_ علم موسيقي ۱۴۹

چھٹا باب : ۱۵۲

اسلامى تہذيب كےمغربي تہذيب پر اثرات ۱۵۲


۱_ عقلى علوم ، اسلامى فلسفہ اور الہى علوم كے مغربى تہذيب پر اثرات ۱۵۵

۲_ اسلامى طب كے مغربى تہذيب پراثرات ۱۵۸

۳_ اسلامى رياضيات كے مغربى تہذيب پر اثرات ۱۵۹

۴_ اسلامى علم فلكيات كے مغربى تہذيب پر اثرات ۱۶۰

۵_ اسلامى جغرافيہ كے مغربى تہذيب پر اثرات ۱۶۲

۶_ اسلامى ہنر و فن كا يورپ ميں نفوذ ۱۶۴

اقوام اسلامى كے فن مصور ى كے مغربى فن مصور ى پر اثرات ۱۷۰

اسلامى موسيقى كے مغربى موسيقى ميں اثرات ۱۷۱

اسلامى معمارى كے يورپى معمارى پر اثرات اور نقوش ۱۷۳

ساتواں باب: ۱۷۷

اسلامى تہذيب كے جمود كے اندرونى اور بيرونى اسباب ۱۷۷

الف : بيرونى اسباب ۱۷۸

۱_ صليبى جنگيں ۱۷۸

۲_ منگولوں كى آمد ۱۷۹

منگولوں كا حملہ اور اسكے نتائج ۱۸۱

اسلامى دنيا پر منگولوں كا حملہ ۱۸۱

منگولوں كى پيش قدمي ۱۸۲

چنگيز كے جانشين اور عالم اسلام پر حملوں كا تسلسل ۱۸۳

منگولوں كى پيش قدمى كا اختتام او ر ايلخانى حكومت كى تشكيل ۱۸۴

منگولوں كے دور ميں اسلامى دنيا كى تہذيبى صورت حال كا جائزہ ۱۸۵


۳: سقوط اندلس ۱۸۶

اندلس مسلمانوں كى فتح سے پہلے ۱۸۶

مسلمانوں كے ہاتھوں اندلس كى فتح ۱۸۷

اسلامى حكومت كے دور ميں اندلس كى سياسى تاريخ ۱۸۸

الف) اندلس دمشق كى مركزى اموى حكومت كا ايك حصہ (۱۳۲_۹۸ قمرى / ۷۵۵_۷۱۶ )عيسوي ۱۸۸

ب) اندلس پر اموى حاكموں كا جداگانہ سلسلہ (۴۲۲_ ۱۳۸ قمري) / (۱۰۳۱ _ ۷۵۵عيسوي) ۱۸۸

ج) اندلس ميں جاگير دارانہ دور ۸۹۸_ ۴۲۲ قمري/ ۱۴۹۲_۱۰۳۱عيسوي ۱۸۹

اندلس كے علمى اور ثقافتى حالات كا جائزہ ۱۹۰

عيسائيوں كے ہاتھوں اندلس كے سقوط كے اسباب ۱۹۱

الف: اندلس ميں مسلمانوں كے زوال ميں موثر اندرونى اسباب ۱۹۱

ب: سقوط اندلس كے بيرونى اسباب ۱۹۲

ج: اسلامى اندلس كے سقوط كے سياسى جغرافيائي geopolitical اسباب: ۱۹۶

نتيجہ بحث ۱۹۶

ب:اندرونى اسباب ۱۹۷

۱_ استبداد( آمريت) ۱۹۷

آمريت يا استبداد ( Dictatorship )كى تعريف: ۱۹۷

اسلامى ممالك ميں آمريت كا سرچشمہ ۱۹۸

۱_ اقتصاد اور آبپاشى كا طريقہ كار: ۱۹۸

۲ _ عمومى مالكيت ۱۹۹

۳_بيوركريسى (ديوان سالاري) ۱۹۹


آمريت كے نتائج ۲۰۰

اسلامى معاشروں ميں آمريت ۲۰۱

۲_ دنيا پرستى ،قدامت پسندى اور حقيقى اسلام سے دوري: ۲۰۲

الف: دنيا پرستي ۲۰۳

سلسلہ بنى اميہ كا آغاز اورعيش و عشرت كى ابتدائ ۲۰۴

خلفاء اورا مراء كى بے پناہ ثروت اور اسكے نتائج ۲۰۵

ب: قدامت پرستي ۲۰۶

ج ) اسلامى دنيا ميں عقل اور عقل دشمن تحريكيں ۲۰۸

آٹھواں باب: ۲۰۹

بيدارى عالم اسلام كى نشا ة ثانيہ ۲۰۹

۱_ صفوي: ۲۱۰

الف) صفويوں كا ظہور: ۲۱۰

ب) صفوى حكومت كى تشكيل : ۲۱۱

ج) استحكام كا مرحلہ: ۲۱۲

د) زمانہ عروج : ۲۱۳

خارجہ روابط ۲۱۴

الف) ہمسايوں كے ساتھ روابط ۲۱۴

صفوى دور كى تہذيب و تمدن ۲۱۸

مذہب شيعہ كوسركارى قرار دينا اور اسكے نتائج: ۲۱۸

ادبيات ۲۱۹


مدارس اور علوم ۲۱۹

معماري ۲۲۰

كپڑا اور قالين بننے كا كام ۲۲۱

فوجى اسلحہ ۲۲۲

صفويوں كا دفترى نظام ۲۲۳

صفويوں كا زوال ۲۲۴

عثمانى حكومت ۲۲۵

امارت سے بادشاہت تك ۲۲۵

۳_مغل سلاطين ۲۳۷

سياسى تاريخ ۲۳۸

مغلوں كے صفويوں سے روابط ۲۴۰

مغلوں كے يورپى حكومتوں سے تعلقات ۲۴۱

مغلوں كا اداراتى اور سياسى نظام ۲۴۳

فارسى ادبيات ۲۴۴

مسلمان عرفا اور انكى ہندوستان ميں خدمات ۲۴۵

ہندوستان كے اسلامى ہنر و فنون ۲۴۹

فن مصورى : ۲۵۱

نواں باب: ۲۵۵

اسلامى تہذيب و تمدن كے جمود اور زوال كے آخرى اسباب ۲۵۵

۱) استعمار قديم و جديد: ۲۵۶


استعمار قديم ۲۵۶

استعمار كا مفہوم اور تاريخ ۲۵۶

استعمار كے وجود ميں آنے كے اسباب ۲۵۸

ايشيا ميں استعمار ۲۵۹

مشرقى وسطى اور خليج فارس ميں استعمار ۲۶۲

استعمار جديد ۲۶۴

ملٹى نيشنل ( كثير القومى ) كمپنياں ۲۶۶

بين الاقوامى مالياتى ادارے ۲۶۸

عالمگير يت(۲) اور اسكے نتائج ۲۶۹

۲_مشرق شناسي ۲۷۱

صہيونيزم: ۲۸۱

دسواں باب: ۲۹۱

اسلامى بيداري ۲۹۱

۱) عرب دنيا ميں اسلامى بيدارى : ۲۹۲

۲_ ايران ميں اسلامى بيداري ۳۰۲

گيارھواں باب : ۳۴۷

مغربى تہذيب پر نقد و نظر ۳۴۷

۱_ مغربى مفكرين كى آراء ميں مغربى تہذيب پر تنقيد ۳۴۸

ايرانى اور عرب دانشوروں كى آراء ميں مغربى تہذيب پر تنقيد ۳۵۶

منابع و مآخذ ۳۶۳


اسلامى تہذيب و ثقافت

اسلامى تہذيب و ثقافت

مؤلف: ڈاكٹر على اكبر ولايتي
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 375