اسلام اور سیاست جلد 1

مؤلف: آیة اللہ محمد تقی مصباح یزدی دام ظلہ
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


اسلام اور سیاست جلد( ۱)

حضرت آیۃ اللہ مصباح یزدی مد ظلہ العالی


پہلا جلسہ

اسلامی سیاست کے سلسلے میں چند اہم سوالات

مقدمہ ۱

بے شک ہمارے اسلامی نظام اور انقلاب کے ثمرات میں سے ایک نماز جمعہ بھی ہے جس کے امت اسلامی کے لئے بہت سے فوائد ہیں مثلاً جس کا ایک ضمنی فائدہ مومنین کو ضروری چیزوں سے آگاہ کرنا ہے ، نماز جمعہ کے خطبوں سے قبل یا نماز جمعہ اور نماز عصر کے درمیان تقاریر کا سلسلہ لوگوں کے لئے بہت مفید ہے ، چنانچہ شروع انقلاب سے آج تک مختلف اساتید دانشمندان اور خطباء کے ذریعہ مختلف موضوعات منجملہ اعتقادی ‘تربیتی ‘ اقتصادی‘ وغیرہ جیسے عظیم اور مہم مسائل پرنماز جمعہ پڑھنے والوں کے درمیان یہ گفتگو ہوتی رہی ہے اور ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ بھی دوسرے لوگوں تک یہ آواز پہونچتی رہی ہے۔

ہم نے بھی ”اعتقادی نظام اور ارزش اسلام میں توحید کی اہمیت“ کے موضوع پر تقریریں کیں ہیں ، جو الحمد للہ چھپ کر قارئین کرام تک پہونچ چکی ہیں ، فی الحال بعض احباب اور دوستوں کی فرمایش اور ان کے اصرار پر” اسلام کے سیاسی نظریات “ کے عنوان کے تحت چند جلسہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور امیدوار ہیں کہ خداوند عالم اس سلسلہ میں ہماری مدد فرمائے، او رجو بھی اس کی مرضی ہو اور امت اسلام کے لئے مفید ہو وہ ہمیں الھام کرے ، او ر ہماری زبان پر جاری کرے ، تاکہ شھید پرور اور حزب اللٰھی امت تک ہم اس کو پہونچا سکیں ، ہماری اس بحث کا عنوان بہت وسیع ہے ، اس کے اندر مختلف موضوعات کی بحثیں کی جاسکتی ہیں چاہے وہ عمیق ہوں یا سادی اور رواں ۔

اگرچہ اس سلسلہ میں امام خمینی کی تحریک کے آغاز (یعنی۱۳۴۱ھجری شمشی )سے لے کر آج تک بہت سی گفتگو ہوتی رہی ہے اور مضامین و کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ، اس طرح بہت سی تقاریر بھی ہوتی رہیں ہیں ، لیکن معاشرہ کے متوسط فہم لوگوں کے لئے بہت ہی کم اس طرح کے منظم مطالب بیان کئے گئے ہیں ، بہرحال احباب کا اصرا ر تھا کہ ان مطالب کو اس ترتیب سے بیان کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے استفادہ کرسکیں ،اور مختلف لوگوں کی خصوصا جوان طبقہ کی ضرورت کو پورا کرسکے ، الحمد للہ ہماری قوم تمدن کے لحاظ سے بہت عمدہ ہے ، خصوصاً آخری چند سالوں میں ہمارے معاشرے اور ماحول نے بہت زیادہ ترقی کی ہے ، اور بہت سے دقیق و عمیق مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، بہر حال علمی او ر ادبی زبان ، علمی مراکز (یونیورسٹی اور حوزات علمیہ )سے مخصوص ہے ، اور اگر عوام کے لئے گفتگو کرنا ہو تی ہے تو حتی المقدور علمی اصطلاحات نہیں ہونی چاہیئے تاکہ اکثر لوگ (چونکہ مطالعہ نہیں ہے ) ان ابحاث سے فائدہ اٹھا سکیں ، البتہ اس بات کی توجہ رکھنی چاہیے کہ اسلام کے سیاسی فلسفہ کے تحت جو گفتگو کی جائے گی اتنی مفصل بحث ہے جس کو ۱ ۰۰ جلسوں میں بھی بیان کرنا مشکل کام ہے ، اس وجہ سے ہم اپنے وقت اور جلسات کی محدودیت کی بنا پر کچھ منتخب مسائل کو چھیڑیں گے ، او ر جن مسائل کی زیادہ ضرورہے، اور جن کے سلسلہ میں سوالات اور شبھات کئے جاتے ہیں ،ان کے بارے میں بحث کریں گے۔

یہ توجہ رہے کہ ہمارا موضوع بنام”اسلام کا سیاسی فلسفہ “ تین کلموں سے مرکب ہے جس کے ہر ایک کلمہ کے لئے مفصل بحث درکار ہے اور سیاسی فلسفہ کی متعدداصطلاح ہیں (مثلاًعلم سیاست کا فلسفہ وعلم سیاست کے مقابل میں فلسفہ سیاسی) لیکن فلسفہ سیاسی سے ہماری یھاں مراد حکومت و سیاست کے بارے میں اسلامی نظریات کی توضیح وتفسیر ہے جو خاص اصولوں پر قائم ہے ، اور اسلامی حکومت کے سیاسی افکار بھی انہیں اصولوں کی بنیاد پرقابل وضاحت ہیں ۔

.۲اسلام اور اس کا سیاسی نظریہ

جس وقت ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ اسلام ”سیاست اور حکومت“ کے سلسلہ میں ایک خاص نظریہ رکھتا ہے ، جواسلامی اصول و ضوابط پر مبتنی ہے توسب سے پہلے یہ سوال ہوتاہے کہ کیا دین سیاست و حکومت کے بارے میں کوئی خاص نظریہ رکھتا ہے تاکہ اسلام اس سیاسی نظریہ کو بیان کرے ؟ یہ ایک ایسا مشہور سوال ہے جو صدیوں سے مختلف ممالک اور مختلف معاشرہ میں ہوتا آیا ہے ، ہمارے ملک میں بھی یہ سوال مورد بحث چلا آیا ہے خصوصا مشروطیت کے زمانے سے آج تک اس سوال پر کافی زور دیا گیا ہے ،اور اس سلسلہ میں مختلف طریقوں سے بحث بھی ہوچکی ہے ،البتہ امام خمینی کے بیانات کے پیش نظر اور مرحوم شھید مدرس کے مشہور و معروف جملہ کہ ”ہمارا دین عین سیاست اور ہماری سیاست عین دین ہے“ جس نے ہمارے ذہن میں نقش بنا لیا ہے ، اور یہ مسئلہ ہم لوگوں کے لئے واضح اور روشن ہوچکا ہے، اور ہم اپنے لئے اس سوال کا واضح جواب رکھتے ہیں ، لیکن اسلام کے سیاسی نظریہ اور دین کی سیاست میں دخالت جیسے مسائل پر تحقیق اور بررسی کی ضرورت ہے ۔

مغربی تمدن میں دین کو جامعیت نہیں دی گئی ہے اور اس کو محدود کرکے پیش کیا گیا ہے کہ دین کا تعلق اجتماعی وسیاسی مسائل سے نہیں ہے ، فقط دین کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ ہونا چاہئے اور فرد کا رابطہ خدا سے کیا ہے اس اس چیز کو دین کے اندر مغربی تمدن کے نزدیک بیان کیا جاتا ہے، لھٰذا سیاسی، اجتماعی ، بین الاقوامی، حکومت اور لوگوں کے درمیان روابط اور حکومتوں کے آپسی روابط یہ سب انسان اور خدا کے رابطہ سے جداگانہ چیزیں ہیں ، یعنی ان کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے، لیکن اسلامی نقطہ نگاہ سے دین ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس کے اندر انسان کے فردی مسائل اجتماعی مسائل شامل ہیں اور اس کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ اور انسان کا آپس میں رابطہ اور دیگر سیاسی، اجتماعی اور بین الاقوامی روابط بھی شامل ہیں یعنی دین کے اندر یہ ساری باتیں پائی جاتی ہیں ، کیونکہ اسلام کے اعتبار سے خداوندعالم تمام دنیا پر حاکم ہے لھٰذا سیاست، اقتصاد (معاش) تعلیم وتربیت، مدیریت ارو وہ تمام مسائل جو انسانی زندگی سے متعلق ہیں وہ سب دینی احکام میں شامل ہیں ۔

۳۔اسلامی سیاسی نظریہ کا بنیادی ہونا

اب جبکہ ہم نے قبول کرلیا کہ اسلام حکومت اور سیاست کے سلسلے میں اپنا ایک نظریہ رکھتا ہے ، اور حکومت و سیاست کے بارے میں اسلام کی طرف ایک خاص نظریہ کی نسبت دی جاسکتی ہے ،اس نظریہ کی ماہیت و کیفیت کے بارے میں چند سوال پیدا ہوتے ہیں ۔

کیا اسلام کا سیاسی نظریہ ایک بنیادی نظریہ ہے یا کسی نظریہ کی تقلید ہے ؟یعنی کیا اسلام نے یہ نظریہ اختراع اور ایجاد کیا ہے اور خدا کے نازل شدہ تمام احکام تعبدی کی طرح اس نظریہ کو پیش کیا ہے یا یہ کہ اسلام نے کسی ایک نظریہ کو لے کر اس کی تائید کرکے پیش کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ اسلام نے بہت سے مسائل میں سیرت عقلاء کی تائید کی ہے ، جسے اصطلاحاً اسلام میں ”امضاء روش عقلاء“ کھا جاتا ہے، مثال کے طور پر عام انسان جس طرح کے معاملات کرتے ہیں مثلا خرید وفروخت ،کرایہ ،بیمہ وغیرہ ان کو سیرت عقلائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، کہ لوگوں نے ان کو ایجاد کیا ہے اور شارع مقدس نے ان کی تائید فرمائی ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ا ور سیاست کے سلسلہ میں اسلام کا نظریہ اسی طرح ہے کہ عقلاء نے کچھ حکومت و سیاست کے بارے میں نظریہ قائم کیئے اور ان کو قبول کیا ، اور شارع مقدس نے بھی ان نظریات کی تائید کرنے کے بعد قبول کرلیا ہے؟ یا یہ کہ خود اسلام نے اس سلسلے میں اپنا ایک خاص اور اختراعی نظریہ پیش کیا ہے ؟ اور دنیا کے تمام نظریات کے مقابلے میں ا سلامی حکومت کے بارے میں پیش کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے حکومت اور سیاست کے بارے میں سیاسی و اجتماعی زندگی کے لئے بنیادی و اختراعی اصولوں پر مشتمل ایک مجموعہ پیش کیاہے ، نہ یہ کہ اسلام کے نظریات تقلید ی اور تائیدی ہیں جو حضرات حکومت کے مختلف اشکالات اور سیاسی فلسفہ سے آگاہی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں مختلف نظریات موجود ہیں جن میں سے ایک نظریہ ” تئوکراسی“ (الہی حکومت ) بھی ہے یہ نظریہ عیسوی صدی کے وسط میں یعنی تقریباً ایک ھزار سال پہلے یورپ میں کلیسا (عیسائی کی عبادتگاہ) کی طرف سے پیش کیا گیا مخصوصاً کیتھولک عیسائیوں کے کلیسا کا کہنا یہ تھا کہ ہم لوگ خدا کی طرف سے لوگوں پر حاکم ہیں ، اس کے مقابلہ میں عیسائیوں کا دوسرا فرقہ یہ کھتا ہے تھا کہ حضرت عیسی مسیح (ع) کا دین سیاست سے جدا ہے ، یعنی دین اور سیاست میں کوئی ربط نہیں ہے۔

بہر حال دوسرے فرقے کا اعتقاد یہ تھا کہ پاپ کو حکومت کا حق ہے، اور خدا کی طرف سے کلیسا کو ایسا صاحب اقتدار ہونا چاہئے جو لوگوں پر خدا کی طرف سے حکومت کر سکے ، اور لوگوں کو بھی خدا کے حکم سے پاپ کی اطاعت کرنا چاہئے اس نظریہ کو تئو لوکراسی حکومت نام دیا گیا ۔

جب یہ کھاجاتا ہے کہ اسلام عام لوگوں کی ایجاد شدہ حکومت کے علاوہ اپنے خاص نظریہ کے تحت اسلامی اور الہی حکومت کوپیش کرتاہے تو کیا اس سے یھی تئوکراسی حکومت مراد ہوتی ہے جسے مغرب اور یورپ میں سمجہا جاتاہے اور الٰھی حکومت ان کے تمدن میں اسی معنی میں پہچانی جاتی ہے ؟ اور جس طرح تئوکراسی حکومت میں خدا وند عالم نے حاکم کو وسیع پیمانے پر اختیار ات دیئے ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں پر حکومت کرسکتا ہے اور لوگوں پربھی واجب ہے کہ اس حاکم کی مرضی کے مطابق عمل کریں ؟کیا حکومت الہی و ولایی کے مطابق بھی جس کا ہم دعوی کرتے ہیں اور اسلام کے ولایت فقیہ کے نظریہ کے تحت کیا ولی فقیہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں پر حکومت کا حق رکھتا ہے اور کیا اس کو یہ بھی حق ہے کہ جس طرح وہ چاہے قوانین بنا کر ان کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کرے ، اور لوگوں پر بھی اس کی اطاعت واجب ہے ؟

یہ سوال بہت اہم ہے اور ضروری ہے کہ اس سلسلے میں ایک مناسب بحث اور تحلیل کی ضرورت ہے تاکہ اس سلسلہ میں جو غلط فہمی پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے ۔

مذکورہ سوال کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جس الھی حکومت کے ہم معتقد ہیں اور وہ تئوکراسی حکومت (جو مغرب اور یورپ میں معروف ہے ) زمین تا آسمان فرق رکھتی ہے ، یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ الھی حکومت اسلام کی نظرمیں وہی حکومت ہے کہ جس کے عیسائی خصوصا ًفرقہ کیتھولک خدا اور پاپ بارے میں قائل ہیں ۔

سیاسی صاحب نظرافراد نے حکومت کے نظریات کی کثرت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے :

(۱) ڈکٹیٹری حکومت(شہنشاہی حکومت)

(۲)ڈیموکراٹک (جمہوری حکومت) اگرچہ ان دونوں کی بہت سی قسمیں موجود ہیں لیکن کلی طور پر حکومت کی دو قسمیں ہیں ۔

پہلی قسم ایسی حکومت جس میں حاکم اپنی مرضی سے حکومت کرتا ہے اور خود فرمان جاری کرتا ہے اور مختلف طریقوں سے اپنی حکومت کو چلاتا ہے اور اپنی فوجی طاقت کے ذریعہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا ہے ۔

دوسری قسم ایسی حکومت جس میں لوگوں کی رائے دخالت رکھتی ہے اور لوگ اپنی مرضی سے اپنے حاکم کو چنتے ہیں اور حاکم بھی لوگوں کی خواہشات کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں یعنی ان کی حکومت لوگوں کے ارادے اور ان کی چاہت پر موقوف ہوتی ہے۔

۴۔اسلامی حکومت کی حقیقت اور اس کے ارکان

جن لوگوں نے حکومت کے سلسلہ میں مغربی تقسیم کو قبول کیا ہے اور معتقد ہیں کہ حکومت دو حال سے خالی نہیں ہے حکومت یا ڈکٹیٹری ہے یا ڈیموکراٹک اور جمہوریت ، اب یھاں یہ سوال ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت ڈکٹیٹری حکومت ہے یعنی جو بھی حکومت پر ہو مختار ہے مثلا ًہمارے زمانہ میں ولی فقیہ اپنی طاقت و قدرت اور اسلحہ کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کرتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتا ہے یا اسلامی حکومت کا کوئی نیا اندازھے ؟ یا اسلامی حکومت کی کوئی تیسری شکل ہے کہ نہ ڈکٹیٹری ہے اور نہ جمہوریت ؟

بہر حال حکومت کی دوگانہ تقسیم ایسی ہیں جن کو تمام لوگوں نے قبول کیا ہے لھٰذا اسلامی حکومت مذکورہ تقسیم سے خارج نہیں ہے یا یہ حکومت ڈکٹیٹری ہے یا جمہوری اگر اسلامی حکومت جمہوری ہے تو اسلامی حکومت کو یورپی حکومت میں پائے جانے والے طور طریقے اپنانا چاہئیں ، اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اسلامی حکومت ڈکٹیٹری حکومت ہوگی جو صرف خاص فرد کی مرضی پر تکیہ زن ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں تیسر ے نظریہ کو انتخاب کرنے کی ضرورت نھیں ھے،لھٰذا ضرورت ہے اس چیز کی کہ اس اہم سوال کا جواب دیں اور بیان کریں کہ اسلامی حکومت ڈکٹیٹری ہے یا جمہوری یا کوئی تیسری قسم انہیں سوالوں میں سے ایک سوال یہ بھی ہوتاہے کہ اسلامی حکومت کے مقدمات اور اس کے ارکان کیا ہیں ؟ وہ کون سے ارکان ہیں کہ جن پر حکومت اسلامی کو توجہ رکھنی چاہئے تاکہ واقعی طور پر حکومت اسلامی ہوسکے ؟ جو حضرات ہمارے مذہب اور فقہ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ اگر نماز کے ارکان میں کوئی ایک بھی رکن چھوٹ جائے چاہے عمداًطور پر چھوڑا جائے یا سھواً چھوٹ جائے اس کی نماز باطل ہوجائیگی در حقیقت ارکان نماز سے ہی نماز ہے اسی طرح اسلامی حکومت کے ارکان ہونا چاہئیے کہ اگر وہ ارکان موجود ہوں تو اس حکومت کو اسلامی حکومت کھا جائے گا اوراگر وہ ارکان نہیں ہیں یا اگر ان میں خلل (کمی و زیادتی ) پائی جائے تو اس کو حکومت اسلامی نہیں کھا جائے گا ۔

انہیں ارکان کی اہمیت کے پیش نظر جن پر اسلامی حکومت موقوف ہوتی ہے، ہم ان ارکان سے آگاہ ہونے کی خاطر ان کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں ، کیونکہ جب ہم ان ارکان کو پہچان لیں گے تو اسلامی حکومت کا معیار و ملاک ہمارے ھاتہ میں آجائے گا کہ جس کے ذریعہ سے ہم اسلامی اور غیر اسلامی حکومت کے فرق کو مکمل طریقہ سے پہچان لیں گے اسی وجہ سے اس اہم سوال کا جواب بہت ضروری ہے ۔

۵۔اسلامی حکومت کا ڈھانچہ ، اس کے اختیارات اور وظایف کی وسعت

اس سلسلہ کا ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے حکومتِ اسلامی کی ایک خاص شکل وصورت معین کی ہے؟ جیساکہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ آج کی اس دنیا میں حکومت کے کیا ڈھانچے اور طور طریقے ہیں اور قدیم زمانے میں بھی حکومت کی شکل وصورت ہوتی تھی جو اس وقت نہیں ہے۔

موجودہ حکومتوں کی بعض قسمیں اس طرح ہیں :

۱۔بادشاہی حکومت،مشروطہ ومطلق۔

۲۔ جمہوری حکومت (ریاستی یا پارلیمینٹ کی حکومت)۔

۳۔ الہی حکومت۔

کیا اسلام نے حکومت کی ان شکلوں میں سے کسی ایک کو قبول کیا ہے یا اسلام نے خود ایک خاص شکل معین کی ہے جو مذکورہ شکلوں سے فرق رکھتی ہے یا یہ کہ اسلام نے حکومت کے لئے کو ئی خاص طریقہ کو نہیں اپنایا ، اور فقط حکومت کے لئے چند معیار معین کئے ہیں جن کا ہر طرح کی حکومت میں لحاظ کرنا ضروری ہے؟ مثال کے طور پر اسلام کا حکم ہے کہ حکومت میں عدالت کا لحاظ رکھا جائے لیکن عدالت کا کس طرح لحاظ رکھا جائے؟ کیا عدالت زمان ومکان کے اعتبار سے لحاظ کی جائے؟ چنانچہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں کسی بھی وقت زمان ومکان کے اعتبار سے اس طرح کی عدالت لحاظ کیا جاسکتا اور اسلام نے ایک خاص شکل وصورت کی عدالت برتنے پر اصرار نہیں کیا ہے؟! اور اسلام کی نظر میں حکومت کی مناسب شکل اس کے معیار کی رعایت پر ہے ۔

اور اگر اسلام نے حکومت کے لئے کسی خاص شکل وصورت کا انتخاب کیا ہے تو کیا اسلام کی نظر میں اس حکومت کا ڈھانچہ ایک ثابت اور پائیدار ڈھانچہ ہے ؟ یا یہ کہ اس کا ڈھانچہ غیر پائیدار ہے کہ جس میں اکثر و بیشتر تبدیلی و تغیر ہوسکتی ہے ؟

اس طرح کے سوالات اسلامی حکومت کے ڈھانچے اور شکل وصورت کے بازے میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان کے جوابات بھی دئے جائیں ۔ فلسفہ حکومت کے سلسلے میں ایک دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ اسلامی حاکم اور رئیس چاہے وہ کوئی ایک فرد ہو یا ایک گروہ یا ایک مجلس وانجمن کی شکل میں ہو، یعنی اسلامی حکومت کے اختیارات کیا کیا ہیں ؟ اور اسی طرح حکومت کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں ؟ کیو نکہ گذشتہ زمانے اور عصر حاضر کی حکومتوں میں ذمہ داریوں کے لحاظ سے کافی فرق نظر آتا ہے بعض حکومتیں اختیارات اور وظایف کے لحاظ سے کافی محدود ہوتی ہیں مثلا ًیہ کہ بعض حکومتیں فقط لوگوں کی عام حفاظت کی ذمہ دارہوتی ہیں جو اہم ہوتے ہیں ، اور اکثر کاموں میں خود لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بعض حکومتوں کے اختیارات بہت وسیع ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں اس کے وظایف اور ذمہ داریاں بھی وسیع ہوتی ہیں اس حکومت کی ذمہ داریاں بہت مہم اور خطر ناک ہوتی ہیں کہ جن کے بارے میں اسے جواب دہ ہونا ہوتا ہے اور ان ذمہ داریوں کو تمام لوگوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ لوگوں کو حق ہے کہ وہ حکومت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں مطالبہ کریں ۔

اسی طرح یہ بھی روشن ہونا چاہیے کہ اسلام کے سیاسی فلسفہ کے تحت اسلامی حکومت نے کیا کیا اختیارات و ذمہ داریاں معین کی ہیں اور بلا شبہ یہ اختیارات و ذمہ داریاں مناسب اور متعادل ہونی چاہئیں ، جن مقدمات پر کوئی کام موقوف ہو ان مقدمات کو فراہم نہ کرکے کسی کے سپرد کوئی ذمہ داری کی جائے تو یہ صحیح نہیں ہے ۔

بہر حال اسلامی حکومت کے اختیارات اور اس کی ذمہ داریاں کیاکیا ہیں ؟ اس اہم سوال کے بارے میں ہم گفتگو کریں گے۔

۶۔اسلامی حکومت میں لوگوں کا کردار اور چند دیگر سوالات

آج کے انہیں اہم سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ حکومت اسلامی میں لوگوں کا کردار کیا ہے ؟ لوگوں کے اختیارات اور ان کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں ؟انہیں سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ صدر اسلام میں حضرت رسول خدا ، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسن علیہ السلام کی حکومتوں کی کیاشکل تھیں ؟ اسی طرح بنی امیہ و بنی عباس وغیرہ کی حکومتیں کس حد تک اسلامی تھیں ؟

اور جس وقت ہم اسلامی حکومت کی گفتگو کرتے ہیں تو اس سے مراد مذکورہ حکومتوں سے کون سی حکومت مراد ہوتی ہے؟ اور تاریخ میں اسلامی حکومت کی تشکیل کس طرح ہوتی آئی ہے کہ نتیجةً اسلامی حکومت کی یہ شکل اسلامی انقلاب کے ذریعہ ایران میں بھی وجود میں آئی؟

البتہ مذکورہ سوالات کے ضمن میں دوسرے جزئی سوال بھی ہوتے ہیں منجملہ یہ سوال کہ کیا ہماری یہ حکومت سو فی صد اسلامی حکومت ہے؟ اور کیا اس میں اسلامی حکومت کے تمام معیار و ضوابط موجود ہیں ؟ اور اگر اس میں وہ تمام معیار وضوابط موجود ہیں تو کیا اس حکومت نے ان کی رعایت کی ہے؟ اسی طرح یہ سوال کہ اس حکومت میں کیا کیا نقص ہیں ؟

۷۔ اسلام کے سیاسی نظریہ کو پہچاننے کے طریقے

قبل اس کے کہ ہم مذکورہ سوالات اور شبھات کا جواب دیں اور فلسفہ سیاسی اسلام میں وارد ہوں اس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اس روش وطریقے کو پہلے بیان کردیں جس کو مذکورہ بحث کی تحقیق اور بر رسی میں اپنائیں گے اس بحث کی متدلوژی (طوروطریقہ) کیا ہے ، بہر حال یہ ایک مقدماتی بحث ہے کہ جس کو شروع میں بیان کردینا چاہئے، کیا یہ ہماری بحث کا طریقہ اور عقلی روش ہے؟یعنی کیا ہم عقلی دلیلوں کے ذریعہ اسلام کے نظریات کو بیان کریں گے ؟ یا ہماری روش اور شیوہ بحث تعبدی اور نقلی ہوگا یعنی قرآن وسنت کے تابع ہے؟ گویا اس حکومت کے اصول وضوابط قرآن وروایات سے اخذ کئیے جائیں گے؟

یا یہ کہ اسلامی سیاست ایک تجربہ کی طرح ہے؟ کہ جس کے درست اور غیر درست ہونے کو تجربہ ہی ثابت کرسکتا ہے؟ اس صورت میں ہماری گفتگو کا شیوہ تجربہ ہوگا اور فیصلہ کرنے کا معیار بھی تجربہ ہوگا ۔

بہر حال چونکہ ہماری بحث عقلانی پہلو رکھتی ہے اسی وجہ سے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ عقلی بحث کی کم از کم دو قسمیں ہیں :

(۱) جَدَلی طریقہ ۔

(۲) برہانی اور دلائل کا طریقہ ۔

جس وقت ہم کسی گفتگو کو شروع کرتے ہیں اور عقلی لحاظ سے کسی ایک موضوع کی تحقیق کرتے ہیں تو کبھی ایسے اصول ومقدمات سے بحث کرکے مجھول نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ جن مقدمات اور اصول کوہم اور ہمارا مخالف قبول کرتا ہے اس کے مقابلہ میں وہ برہانی راہ وروش ہے کہ جس میں تمام مقدمات بھی مورد بحث قرار پاتے ہیں گویا بحث خودقضایا اولیہ ویقینیات وبدیھیات سے ہوتی ہے تاکہ ان کے ذریعہ ہمارا استدلال اور برہان یقینی اور قطعی قرار پائے، اور ظاہر ہے اگر ہم اس راستہ کو اختیار کریں تو بحث طولانی ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر اگر ہم برہان کے ذریعہ ثابت کرنا چاہیں کہ حکومت اسلامی میں عدل وانصاف رعایت ہونا چاہئے تو سب سے پہلے ہمیں عدل کے مفہوم اور معنی کو واضح کرنا ہوگا اور اس کے بعد اس سوال کا جواب دیں کہ عدالت کا کس طرح لحاظ رکھا جائے؟ اسی طرح یہ سوال کہ عدالت اور آزادی ایک جگہ جمع ہوسکتی ہیں یا نہیں نیز اسی طرح یہ سوال کہ عدالت کے معیار کو کون معین کرے؟کیا عدالت کے معیار کو خدا وندعالم معین کرے یا عقل؟

مذکورہ سوالات کے حل ہونے کے بعد یہ سوال ہوتاہے کہ اس سلسلہ میں عقل کس حد تک فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے؟ کیا عقل کی قضاوت ایک خاص مقدار میں ہے یا مطلق طور پر اس طرح یہ بحث طول پکڑجاتی ہے یھاں تک کہ اصول اولیہ اور مسائل معرفت شناسی کے بارے میں مورد سوال قرار پاتے ہیں بہرحال ان کو بھی واضح وروشن ہونا چاہئیے، خلاصہ یہ عقل کیا ہے؟ اور اس کی دلالت کس طرح کی ہے؟ عقل کس طرح استدلال کرتی ہے؟ اور عقل کا اعتبار اور اس کا حکم کس حد تک قابل قبول ہے؟ اور ظاہر ہے کہ اگر ہم اس طرح کے مسائل پر تحقیق کریں تو مختلف علوم سے بحث کرنی پڑے گی ، جو ایک طولانی مدت چاہتی ہے جو مفقود ہے۔

بہر حال برہانی بحث کرنا اپنی جگہ مقدس اور محترم ہے لیکن جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی اشارہ کیا کہ برہانی و استدلالی بحث کرنے کے لئے بہت سے علوم کا سھارا لینا پڑتا ہے اور بہت کم افراد ہی ان علوم میں مھارت رکھتے ہیں اور علم کے ماہر انسان اس کے محدود مسائل تک ہی رسائی رکھتے ہیں خلاصہ یہ کہ یہ کام کافی مشکل ہے اور اس طرح کے مسائل کو واقعاً حل کرنے ایک طویل مدت درکار ہے ہم بھی اپنی گفتگو میں اگر اسی برہانی راستہ کو اپنائیں اور الگ الگ مسائل سے بحث کرکے بدیھی اصول اور مبنا تک پہنچیں تو ہمارے پاس وقت بہت کم ہے،لھٰذا اپنی بحث کو منزل مقصود تک نہیں پہچا سکتے، اسی وجہ سے جہاں برہانی بحث سادہ اور غیر پیچیدہ ہے وہاں برہانی اور استدلالی بحث کریں گے اور اس کے علاوہ تمام موارد میں جدلی بحث کریں گے کیونکہ جدلی بحث کا مناسب ترین طریقہ ہے۔

در حقیقت یہ ہدف اور نتیجہ تک پہنچنے کے لئے یہ راستہ درمیانی راستہ ہے ،یعنی یہ راستہ دوسروں کو قانع کرنے کے لئے عام راستہ ہے ، خداوند عالم نے قرآن مجید میں بارہا دشمن کو قانع کرنے کے لئے اور اپنی طرف سے اتمام حجت کے لئے اس کو بیان کیا ہے ، اور ہمیں بھی حکم دیا ہے کہ ہم بھی اس راستہ کو اپنائیں او ردوسروں سے اسی کے ذریعہ بحث اور گفتگوکریں ،ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :

( ا دْعُ إِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهمْ بِالَّتِی هیَ ا حْسَن ) (۱)

”حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دو، اور ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے بحث وجدل کرو۔“

حوالہ

۱ سورہ نحل آیت ۱۲۵


دوسرا جلسہ

اسلام کے سیاسی نظریہ کی بحث کی اہمیت اور ضرورت

ہم نے پہلے جلسہ میں اسلام کے سیاسی نظریہ کے تحت اس سلسلے کے منتخب مسائل کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس سلسلے میں ہم کیا کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں ، آج ہم خداوندعالم کی مدد سے اس سلسلے میں بحث کریں گے کہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی بحث کتنی مہم اور ضروری ہے۔

۱۔ اسلامی انقلاب سے مغرب ومشرق کا برتاؤ

اس بحث کی اہمیت اور ضرورت کو واضح کرنے کے لئے ایک نگاہ اپنے ملک اور اس زمانے کے اسلامی ممالک کی تاریخ پر نظر ڈالیں ،اور جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ دنیا پرست، قدرت طلب، زورگو افراد ہمیشہ تاریخ میں فتنہ وفساد کے باعث بنے ہیں اور جس طرح انسان کی زندگی ماڈرن ہوتی جارہی ہے او رحکومتیں قاعدہ وقانوں اورعلم کی بنیاد پر ترقی کی طرف گامزن ہیں ، فتنہ وفساد کی فعالیت بھی عملی تر اور قواعد وضوابط کے بنیاد پر دقیق تر ہوتی جارہی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی طاقتیں اس نتیجہ پر پہونچ گئی ہیں کہ دنیا کی دو بڑی سُوپر طاقت یعنی مغرب کی ثروتمند طاقت او رمشرق کی مارکسست او رکمیونیسٹ طاقت موجود ہیں اور جنگ کی کامیابی کے بعد دونوں طاقتوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنی قدرت سے دوسرے ممالک کو بھی خوف زدہ کیا جائے تاکہ وہ ان کے مقابلہ میں سر نہ اٹھاسکیں ۔

اور جب بھی کسی نے ان فتنہ گر اور مفسدوں کے مقابلہ میں سراٹھایا ہے ا سکو نیست ونابود کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ان ظالم وستم گروں کا مقابلہ کرنے والے انبیاء اور ان کے پیروکار تھے جو کسی بھی زمانہ میں ستم گروں و ظالموں کے مقابلہ میں تسلیم نہیں ہوئے اسی وجہ سے ظالم و ستمگروں نے انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو اپنا دشمن سمجہا اور ان کے ساتھ دشمن جیسا سلوک کیا ، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد، خصوصاً کلیسا کو جو یورپ میں دینی قدرت کا مظھر تھا میدان سے خارج کرنے بعد یہ گمان کربیٹھے کہ اس وقت دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو ان کے مقابلہ میں آسکے۔

لیکن بیسویں صدی کی آخری تین دھائیوں میں غیر یقینی طور پر ایران کے انقلاب کو دیکھتے ہوئے بہت تعجب ہوا ، شروع میں تو یہ سوجا کہ کہ ایران کا یہ انقلاب ان دوسری انقلابی تحریکوں کی طرح ہے جو کبھی کبھی اسلامی ممالک میں ہوتی چلی آئی تھیں کہ جن کو کلّی طورپر نیست ونابود کردیا گیاتھا، انھوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ ہم اپنے مخصوص تجربات کے ذریعہ اس انقلاب کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینک دیں گے، لیکن جیسے جیسے زمانہ گذرتا گیا انھوں نے دیکھا کہ یہ انقلاب تو دوسری تحریکوں سے بہت نمایاں فرق رکھتا ہے۔

بہر حال اسلامی انقلابِ ایران کے نتیجہ میں اس منطقہ میں ایک بڑی طاقت رونما ہوئی ، انقلاب اسلامی نے مشرق ومغرب پر بھروسہ نہ کیا اور نہ ہی بغاوت جیسی تحریکوں اور فوجی ٹکراؤ کا سھارا لیا ،بلکہ غر ب کو ناکام کرتے ہوئے اسلامی حکومت تشکیل دیدی۔

اسلام دشمن طاقتوں کے پاس دینداری سے مقابلہ کا جو کچھ تجربہ تھا وہ سب انقلاب اسلامی کے نابودی کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کیا مگر کامیاب نہ ہوسکے ، آپ حضرات کے لئے تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم فقط اشارہ کرتے ہوئے گذرتے ہیں ۔

شروع ِ انقلاب میں ملکی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی ، اس امید میں کہ یھاں پر ایسی ایک حکومت تشکیل دی جائے جو مغرب کے لئے کام کرے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ لوگوں کی طاقت وقدرت اس سے کھیں زیادہ ہے کہ یہ گروہوں کو تحریک کرکے انقلاب اسلامی کے لئے کوئی خطرہ ایجاد کریں یھاں تک کہ اپنے مختلف حربے استعمال کیئے منجملہ یہ کہ ایران پر اقصادی پا بند ی لگا ئی عراق کے ذریعہ آٹھ سال تک جنگ تھونپی ان تمام حربوں کے ذریعہ انقلاب اسلامی کو نا کام کرنا چاہتے تھے لیکن خدا کے فضل سے کسی طرح بھی کامیاب نہ ہوسکے۔

۲ ۔ جوانوں کی گمراہی کے لئے مغرب کا ایک ثقافتی حربہ

چونکہ دشمن کسی بھی میدان میں کا میاب نہ ہو سکا تو اس کی امید صرف جوانوں پر آکر رکی کہ ایران کے جوانوں کے لئے فرہنگ (کلچر ) کے لحاظ سے ایک طولانی مدت پروگرام بنا یاجائے ، اور اس پروگرام کے تحت مختلف طریقوں سے ملک میں نفوذ کرنا چاہا (کیونکہ اس سلسلے میں ان کے پاس کافی تجربہ موجود تھا)ان کی کوشش یہ تھی کہ ایک ایسا مرکز بتایاجائے کہ جس کے ذریعہ اپنے افکار ونظریات کو نشر وا شاعت کی جائے اور اس مرکز کے ذریعہ ملت کے مختلف لوگوں تک اپنی تبلیغاتی لھر یں پہونچائی جائیں تاکہ اہستہ اہستہ اپنی مرضی کے مطالق ماحول بنایا جائے ،ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں بھی دوسرے پروگراموں کی طرح انھوں نے اپنے علمی حساب وکتاب کے تحت پروگرام بنا یا۔

چنانچہ جب انھوں نے دیکھا کہ انقلاب کی نسل بڑھاپے کی طرف بڑہ رہی ہے ، اور مستقبل کی نبضوں کو جوانوں کے ھاتھو ں میں دیکھا (وہ جوان کہ جو شاہ کے ظلم وستم سے آگاہ نہیں ہیں اور نہ ہی انقلاب سے پہلے والے ا ور انقلاب کے بعدوالے اسلامی رزمندوں کی جانثار وں سے آگاہ ہیں ، اور صرف وہ اپنی خواہشوں کے پیروں ہیں ان کی مرادیں کبھی مادیات ہوتی ہیں اور کبھی خواہشات ) تو یہ کہ جوان طبقہ جو اس وقت ملت کی اکثریت ہے اس میں کسی طرح سے رسوخ پیدا کیا جائے اور اہستہ اہستہ اپنی مرضی کے مطابق ایسی حکومت بنوائیں حو ان کے نفع کیلئے کام کرے ، اوروہ اسی کشمکش میں تھے کہ پروگرام کو کھاں سے شروع کیا جائے، اور اس جوان نسل کے افکا رو عقائد میں کس طرح نفوذ کیا جائے ، تاکہ ان کی امیدوں کیلئے زمینہ فراہم ہو سکے ،چنانچہ انھوں نے اس سلسلے میں بہت اسٹیڈی کی کہ آخر اس قدر لوگ کیوں حکومت اسلامی کے حامی اور وفادار ہیں یھاں تک کہ تمام مشکلات مالی، مھنگائی، بمباری اور دوسری پریشانیوں کوبھی بر داشت کررہے ہیں پھر بھی حکومت اسلامی کی حمایت سے باز نہیں آتے ،ان تمام چیزوں کو دیکہ کر دشمن اس نتیجہ پر پہونجا کہ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ دین اسلام کے معتقد ہیں ۔

۳۔فرہنگی تین حربے

کیونکہ ایرانی قوم اہل بیت علیہم السلام کے پیروں ہیں اور ائمہ علیہم السلام اور امام حسین علیہ السلام کو اپنے لئے نمونہ عمل بنایا ہے، اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اسلام کے لئے اپنی جان ومال بھی قربان کر سکتے ہیں اور ان کو یہ اعتقاد ان کی ماں نے دودہ میں پلایاہے ،اور جب تک زندہ رہیں گے، یہ عقیدہ ان کہ دلوں میں باقی رہے گا مگر دشمن اس عقیدہ کو کم رنگ کرنا چاہتا ہے ،اور دشمن کی تمنا یہ ہے کہ آئندہ آ نے والی نسل میں اس طرح کا عقیدہ باقی نہ رہے اور اس طرح اسلامی حکومت اور اسکے ذمہ دار افراد سے بد ظن کردیں ، کیونکہ لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ دین اسلام ہمارا حاکم ہے ،اور حکومت کے حقدار علماء اور دیندار افراد ہیں جن کی سرپرست ولی فقیہ ، ہے ،اور جب تک یہ عقیدہ جوانوں کے درمیان موجود ہے اس حکومت اسلامی کو کوئی نقصان نہیں پہونچ سکتا ۔

چنانچہ دشمن نے سوچا کہ اس اعتقاد کو ختم کرنا چاہئے لیکن کس طرح؟ ظاہر ہے کہ یہ افکار روشن فکر طبقہ کے ذریعہ ہی ان تک پہونچائے جاسکتے ہیں ، لھٰذا یونیورسٹی اور ثقافتی مراکز کے درمیان ایک ایسا مرکز قائم کیا جائے جس کے ذریعہ یہ افکار ملت تک پہونچائے جائیں ، اور ایسے افراد کو بروئے کار لایا جائے جو ان کے افکار کو پھیلائے اور حداقل لوگوں کے دلوں میں خصوصاً جوان طبقہ میں شک ووسوسہ پیدا کریں اور اسلامی حکومت، ولایت فقیہ کی نسبت ان کے عقائد کو ڈاماڈول اور کم رنگ کیا جائے، جوانوں میں حکومتِ اسلامی کی نسبت عقیدہ کو کم رنگ کرنا ہی ان کا مطلوب ہے کیونکہ اگر ان کے دلوں میں شک پیدا ہوگیا تو پھر کوئی دوسرا ۱۳/ سالہ نوجوان کمر سے بم باندہ کر ٹینک کے نیچے نہیں جائےگا، یہ کام تو اس وقت ہوسکتا ہے کہ جب آخرت اور حساب وکتاب پر ایمان ہو اور اپنے صحیح راستہ کو جانتا ہو،لیکن اگر شک پیدا ہوجائے تو کافی ہے ایک قدم آگے بڑھائے اور پھر پیچھے ہٹ جائے اور یہ شک وتردید دشمن کے لئے کافی ہے تاکہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے۔

انہیں مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنے زرخرید غلاموں (کہ واقعاً جنھوں نے دھوکہ کھایا) اور اپنے مختلف تجربوں ، او ران لوگوں کے ذریعہ کہ جن کے عقائد واقعاً ضعیف وکمزور ہیں مخفیانہ طور پر ذریعہ اپنے مقاصد کی طرف متوجہ کیا اور درج ذیل چیزوں کے ذریعہ اپنا کام شروع کیا۔

الف:دین کو سیاست سے جدا کرنے کی فکر رائج کرنا

دشمن کا سب سے پہلا کام دین کو سیاست اور حکومت سے جدا کرنے کی فکر کورائج کرنا تھا اس مسئلہ کی تبلیغ کے لئے راستہ بحد کافی ہموار تھا کیونکہ صدیوں سے مغرب اور یورپ میں اس سلسلہ میں کافی کام ہوچکا تھا بہت سی کتابیں لکھی گئیں کافی مقدار میں ریسرچ کی گئی تھیں جس کے نتیجہ میں مغربی ممالک میں یہ فکر رائج ہوچکی تھی کہ دین سیاست سے الگ ہے۔

اپنے اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ایران میں بھی راستہ ہموار کیا کہ کم از کم کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہو کہ دین سیاست سے جدا اور الگ ہے اگرچہ اس کے لئے تھوڑا بہت راستہ پہلے سے ہی ہموار تھا کیونکہ انقلاب سے پہلے بھی اور انقلاب کے بعد بھی بعض وہ لوگ جو حکومت کے کارکنان تھے ایسا عقیدہ رکھتے تھے، ان کا اعتقاد یہ تھا کہ دین اور سیاست میں ایک بہت بڑی دیوار حائل ہے اور اس چیز کے پیش نظر تقریریں بھی ہوئیں ،کتابیں بھی لکھی گئیں ، چنانچہ اسی نظریہ کو مزید تقویت ان چیزوں کے ذریعہ جو مغربی ممالک میں کارگر ہوچکی تھیں اوریہ کوئی مشکل کام نہ تھا،دی گئی۔

پس معلوم یہ ہوا کہ دشمن کی ثقافتی کارکردگی میں سے ایک ، دین کو سیاست سے جدا کرنے کی فکر رائج کرنا ہے، البتہ اس فکر سے تمام لوگ تحت تاثیر قرار نہ پائے کیونکہ جن حضرات نے اس اسلامی حکومت کے لئے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو قربان کیا تھا، مالی قربانی پیش کی ہے ، اور تمام مشکلات کو برداشت کیا ہے، آسانی سے اس فکر سے متاثر نہیں ہونگے، کیونکہ ابھی تک ان کے کانوں میں امام خمینی کی دل نشین آوازیں گونج رہی ہیں ، اور مرحوم مدرس کی یہ آواز کھ” دیانت ماعین سیاست ما است“(ہماری دینداری اور ہماری سیاست ایک ہی ہے) کو اتنی آسانی سے نہیں بھلاسکتے تھے۔

ب: ولایت فقیہ کا انکار

دشمن اور مغرب زدہ روشن فکری کی کارگردی کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ملت میں یہ فکر ایجاد کریں کہ اگرچہ سیاست اور اجتماعی کاموں میں دین دخالت رکھتا ہے اور معاشرہ میں بھی اسلامی احکامات جاری ہونے چاہئے ، اور سیاست میں بھی دینی امور کی طرف توجہ ہونا چاہئے، لیکن اسلامی حکومت کے معنی فقھاء کی حکومت نہیں ہے بلکہ اسلامی پارلیمینٹ میں قوانین کا طے ہونا کافی ہے، بعض قوانین کا دین کے خلاف نہ ہونا اسلامی حکومت کی تشکیل کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں دین کے مطابق قوانین جاری ہوگئے اور بس ، اسلامی حکومت کے معنی اس کے علاوہ کچھ نہیں ہیں ۔

پس دوسرا حصہ دشمن کی سیاست کا یہ تھاکہ اگر تمام لوگوں کو اس بات پر قانع نہ کرسکے کہ دین سیاست سے الگ ہے اور وہ اس بات کے قائل رہے کہ دین اور سیاست باہم ہیں تو ہم کھیں گے کہ دین اور سیاست باہم ہیں لیکن دینی حکومت کا مطلب یہ ہے کہ دینی احکام جاری ہوں ، لیکن ان احکام کامجری (جاری کرنے والا) کون ہے؟اس مسئلہ کا دین سے کوئی ربط نہیں ،بلکہ احکام دینی کو جاری کرنے کے لئے لوگوں نے جس کا انتخاب کرلیا وہی حاکم ہے، پس اسلامی حکومت کا مطلب اسلامی قوانین کا جاری کرنا ہے، نہ کہ حاکم متدین ، مومن اور فقیہ ہو،یعنی دین کی سیاست میں دخالت کو قبول کرتے ہیں لیکن دین احکام کا مجری فقیہ اور مجتھد ہو اس کو قبول نہیں کرتے ، یا یہ کہ حکوت کا سربراہ ولی فقیہ ہو ، غیر قابل قبول ہے۔

اس سلسلہ میں (یعنی ولایت فقیہ کے ذریعہ حکومت نہ ہونے کے سلسہ میں ) بہت کوششیں کیں اور اس وقت بھی ان کی یہ کوشش جاری ہے، مختلف اخباروں ، ماہناموں اور دیگر مختلف طریقوں سے ان مطالب کو منتشر کیا جارہا ہے اور اسی سلسلہ میں یونیورسٹی اور دوسرے مراکز میں میٹیگ کرتے رہتے ہیں تاکہ ابھی تک جو متدین حضرات دین کو سیاست سے جدا نہ ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں ان کے ذہنوں میں یہ فکر ڈالیں کہ اسلامی حکومت قابل قبول ہے لیکن ولایت فقیہ کی ضرورت نہیں ہے۔

اس قسم کا تبلیغی مشن، اسلامی احکامات اور فقھی بنیادوں سے نابلد جوانوں میں موثر ہوسکتا ہے خصوصاً جبکہ اس سلسلے میں ثقافتی وسائل کے ذریعہ بھر پور تبلیغات کی جائے، اور وسیع مالی امکانات کو اس کے لئے خرچ کیا جائے، لیکن پھر بھی ایسے افراد موجود ہیں جن پر ان کی تبلیغات کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اور ولایت فقیہ کو جیسا کہ قانون اساسی میں بھی اسی کو محور قرار دیا گیاہے، اپنی تمام زندگی میں اہمیت دیتے ہیں اور جیسا کہ دنیا بھر میں یہ انقلاب، انقلابِ ولایت فقیھ، اور حکومت، حکومتِ ولایت فقیہ کے نام سے مشہور ہے، اور سبھی ولایت فقیہ کے پابند ہیں ۔

ج۔ ولایت فقیہ کو موردِ اعتراض قرار دینا

ظاہر ہے کہ جو لوگ ولایت فقیہ کے قائل ہیں ان کے درمیان ان لوگوں نے نفوذ کرنے کا دوسرا طریقہ انتخاب کیا وہ اس طرح کہ لوگوں میں اس فکر کو رائج کیا جائے کہ ایران میں موجودہ ولایت فقیہ مخدوش(قابل اعتراض) ہے، اور اس پر تجدید نظر کی جانی چاہئے اور یہ ولایت فقیہ صحیح نہیں ہے کیونکہ ڈیموکراسی(جمہوریت) اور لیبرالیزم کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی، ولایت فقیہ کو اس طرح ہونا چاہئے کہ دور حاضر میں موجودہ ڈیموکراسی سے ہم اہنگ ہو،اور آج کی دنیا میں جو اصول وضوابط مسلم اور قابل قبول ہیں ان سے ولایت فقیہ متفق ہو، پس دشمن کی تیسری فکری سازش جمہوری اسلامی ایران میں ولایت فقیہ کو مخدوش کرناہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ عالمی استکبار اوردشمن ِ اسلام عملی اور فکری تین طریقوں سے اس اسلامی حکومت کو ضعیف کرنا چاہتاہے اور اس سلسلے میں انھوں نے خاص پروگرام بھی بنائے اور آج بھی اس طرح کے پروگرام بناتے رہتے ہیں لیکن ان کی امیدیں آنے والی نسل تھی کہ جس لئے انھوں نے ایک لمبافکری پروگرام بنارکھا تھا۔

اور اس فکری پروگرام کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ دین کو سیاست سے دور ہونے کی فکردے اس امید میں کہ ایک طبقہ اس کو قبول کرے گا۔

دوسرا نظریہ یہ پیش کیا کہ دین سیاست سے جدا نہیں ہے لیکن اسلامی حکومت کا ولایت فقیہ سے کوئی ربط نہیں ہے،یہ نظریہ بھی ایک طبقہ میں قابل قبول ہوسکتا ہے۔

تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ جو لوگ ولایت فقیہ پر ایمان راسخ رکھتے ہیں ان میں یہ نظریہ رائج کریں کہ ولایت فقیہ مورد قبول ہے لیکن ایران میں جو ولایت فقیہ ہے اس کی فعلی صورت کو تبدیل ہونا چاہئے، خلاصہ دشمن ہر ممکن ذریعہ سے کوشش میں ہے کہ جوانوں کے درمیان شک وشبہ پیدا کرے تاکہ اسلامی حکومت کے سلسلے میں ان کا اعتقادضعیف وکمزور ہوجائے، اوراگر ایسا ممکن ہوا توپھر عالمی استکبار کے نفوذ کے لئے راستہ ہموار ہوجائے گا اور اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت میں نفوذ ہوجائےگا۔

جو لوگ ان تینوں نظریات میں سے کسی ایک کا شکار ہوگئے چاہے وہ کسی بھی جگہ ہوں ، کسی بھی مقام ومنزلت پرفائز ہوں گویا انھوں نے عالمی استکبار کی مددا ورنصرت کی اور استکبار کو اپنے اغراض ومقاصد تک پہونچنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

۴۔دشمن کی مذکورہ سازشوں کے مقابلے میں ہمارا وظیفہ

چونکہ دشمن نے مذکورہ سازشوں میں اپنی پوری طاقت صرف کی ہے لھٰذا وہ حضرات جواس حکوت کودل وجان سے چاہتے ہیں (اور الحمد للہ لوگوں کی اکثریت اس حکومت کو دل وجان سے چاہتی ہے اور اس کا نمونہ وہ عظیم مظاہرے ہوتے ہیں جو بعض موقع پر ہوتے رہتے ہیں اور تمام دنیا کو تعجب میں ڈال دیتے ہیں ) ان لوگوں کو ہوشیار رہنا چاہئے کہ دشمن ان تین طریقوں سے انکے درمیان نفوذ نہ کرے، اور ان کوایسی کوشش کرنا چاہئے کہ جس سے لوگوں کا یہ عقیدہ راسخ تر ہوجائے کہ دین سیاست سے جدا نہیں ہے اور انہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ دوسرے ین اگر سیاست سے جدا ہوں تو ہوں ، لیکن اسلام سیاست سے جدا نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ اپنے دلوں میں یہ نظریہ راسخ کرلیں کہ حکومتِ اسلامی کا مطلب فقط یہ نہیں کہ پارلیمینٹ میں اسلامی قوانین بن جائیں یا یہ کہ وہ قوانین اسلام کے مخالف نہ ہوں ، بلکہ اسلامی حکومت کی حقیقت یہ ہے کہ قانوں کو جاری کرنے والے اسلام کے دلسوز اور اسلام کی پہچان رکھنے والے ہوں اور احکام الہی کو جاری کرنے میں اپنی پوری توجہ صرف کریں ، ورنہ اگر قانون کاغذ پر لکھے جائیں اور اس کو جاری کرنے والے ہی ان قوانین کاپاس ولحاظ نہ رکھیں تو اس سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا؟

کیا شاہ کے زمانے کے قوانین اساسی میں ایران کا رسمی مذہب شیعہ نہیں تھا؟ لیکن یہ قوانی کچھ بھی کارگر ثابت نہ ہوئے کیونکہ شاہ کی حکومت کافر اور دشمنوں سے بے حد متا ثر تھی جس کی وجہ سے اسلامی قوانین پرعمل نہیں ہوتا تھا۔

اگر قوانین صرف کاغذ پر لکھے ہوئے ہوں اور ان کا جاری کرنے والا مومن ومتدین اور قدرتمند نہ ہو تواس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، لھٰذا اگر اسلامی پارلیمینٹ میں اسلامی قوانین بنائے جائیں لیکن جو شخص ان قوانین کی نظارت کررہا ہے وہ اسلام کا دلسوز نہ ہو اور اس قدر قدرت نہ رکھتا ہوکہ ان قوانین کو جاری کرسکے، توایسے قوانین کو جاری ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے ، لھٰذا دوسری ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم روز بروز ولایت فقیہ کے اعتقاد کو پختہ ترکریں ، تاکہ ہمارے یقین میں بھی اضافہ ہو اور ہماری نسلوں میں بھی یہ عقیدہ باقی رہے کہ ولایت فقیہ کے بغیر اسلامی حکومت ناممکن ہے۔

ان دومرحلوں کے بعد تیسرے مرحلے کی باری آتی ہے کہ یہ ولایت فقیہ کی موجودہ شکل وصورت جو اس وقت ایران می تقریباً ۲ ۰ سال سے ہے یہ وہی شکل وصورت ہے جس کو اہل بیت علیہم السلام نے بیان کیا ہے یا یہ کہ اس کی شکل وصورت کو عوض ہونا چاہئے؟

یہ تیسرا مرحلہ ایک فرعی مرحلہ ہے کہ جو گذشتہ دومرحلوں کے بعد ہے لھٰذا پہلے ان دومرحلوں پر بحث کرنا ضروری ہے اور انہیں دو مسئلوں کی بنیاد پر ہماری بحث اسلام کے سیاسی نظریہ کے تحت تشکیل پاتی ہے۔

۵۔دشمن کی سازشوں کے مقابلہ میں بہت رینراستوں کا انتخاب

مذکورہ مطالب سے واضح ہوجاتا ہے کہ دشمن نے اپنی تمام تر طاقت اپنی مندرجہ ذیل سازشوں میں صرف کردی:

۱۔دین وسیاست میں جدائی کرنا۔

۲۔اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ میں جدائی کرنا۔

۳۔ایران میں ولایت فقیہ کی کارگردگی میں شک وتردید کا ایجادکرنا۔

لھٰذا طبیعی طورپر ہمارا بھی تین گروہوں سے مقابلہ ہے پہلا گروہ وہ ہے کہ جس نے یہ قبول کرلیا ہے کہ دین سیاست سے جدا ہے یعنی مساجد، امامبارگاہ جدا ہیں اور سیاست وحکومت جدا ہے، لھٰذا ان لوگو ں سے بحث کرنے کے لئے ہمیں ایک خاص راستہ اپنانا پڑے گا۔

دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اسلامی حکومت کو تو قبول کیا ہے لیکن اس کے احکام کے مجری کے سلسلے میں چوں وچراکرتے ہیں ، ان لوگوں سے بحث کرنے کا انداز دوسرا ہونا چاہئے، کیونکہ اگر فرض کریں کہ کوئی خدا ہی کا قائل نہیں ہے تو اس سے بحث اس طرح شروع کی جائے تاکہ خدا کا اثبات ہوسکے اوراس کے بعد نبوت عامہ (تمام انبیاء کی نبوت) اور نبوت خاصہ (حضرت محمد مصطفی کی نبوت) کے بارے میں بحث کی جائے لیکن اگر کوئی خدا اور بعض انبیاء کو قبول کرتا ہو لیکن حضرت محمد مصطفی کی نبوت کا منکر ہو تو اس سے نبوت خاصہ کے سلسلہ میں بحث کی جائے گی۔

بہر حال جو لوگ خداوندعالم کو قبول کرتے ہیں لیکن پیغمبر اکرم کی نبوت کو قبول نہیں کرتے تو آنحضرت کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ پہلے خدا کے اثبات سے بحث شروع کی جائے کیونکہ اس کے لئے یہ طے شدہ ہے کہ کوئی خدا ہے اور اس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کو بھیجا ہے اسی طرح دوسرے مسائل میں بھی مناسب راستہ اپنانا چاہئے اور جس سلسلہ میں ہم بحث کرنا چاہتے ہیں وہ ایسے اصول اور مقدمات پر موقوف ہے کہ بعض لوگ قبول کرتے ہیں اور بعض لوگ ا ن کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتے۔

لھٰذا مذکورہ بحث کے سلسلہ میں ہمیں بھی چند طریقوں سے بحث کرنا ہوگی اور اس کے لئے مختلف روش درکار ہیں یعنی ممکن ہے بعض جگہ فقط عقلی دلیلوں کے ذریعہ اپنا مدعی ثابت کریں اور جس چیز کو انسان کی عقل درک کرتی ہے اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کا سھارا نہ لیں ، ایسی صورت میں عقلی برہانوں کے ذریعہ بحث کو آگے بڑھائیں گے بالکل اسی طرح کہ اگر کوئی خدا کو نہ مانتا ہو اور اس کے سامنے خدا کے وجود کوثابت کرنا ہو تو ایسے موقع پر قرآن اور معصومین علیہم اسلام کی احادیث کے ذریعہ اثبات کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ وہ ابھی خدا کو ہی نہیں مانتا ، توقرآن وحدیث کو کس طرح قبول کرسکتا ہے؟!

اس کو سمجہانے کے لئے فقط عقل سے کام لینا پڑے گا اور اس کو عقلی دلیلوں کے ذریعہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہوگا، اسی طرح جن لوگوں نے اسلامی حکومت کو قبول کیا ہے وہ لوگ ایک قدم آگے ہیں تو ان لوگوں سے بحث کرنے کے لئے ایسا راستہ اپنا ناپڑے گاجو دینی باتیں قبول کرتے ہیں ان کے سامنے وہ دلیلیں بیان کریں جو محتوائے دین کو بیان کریں یعنی ان سے بحث کرنے کے لئے قرآن وحدیث اور تاریخی شواہد کو مدرک قرار دینا ہوگا۔

لیکن اگر حکومت کی کارگردگی کی بحث کی جائے تو تاریخی شواہد ومدارک کو مدنظر رکہ کر بحث کی جائے یھاں پر عقلی نقلی وتعبدی (قرآن وسنت) بحث نہیں ہوگی۔

خلاصہ یہ کہ ہماری بحث بھی مختلف پہلو رکھتی ہے لھٰذا ہماری بحث بھی مختلف طریقوں سے ہوگی، بعض جگہ عقلی طریقہ سے بحث ہوگی اور بعض جگہ قرآن وحدیث کی روشنی میں بحث ہوگی ، اور بعض دوسری جگہ پر تاریخ کا سھارا لیا جائے گا، یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ بعض افراد بحث کے درمیان ہم پر اعتراض نہ کریں کہ یہ بحث عقلی ہے یا شرعی؟ اس وجہ سے پہلے یہ عرض کردینا مناسب سمجہا کہ ہماری بحث کے مختلف طریقے ہوں گے ، بحث کو اس کے مناسب طریقہ سے مورد تحقیق وبررسی قرار دیا جائے گا۔

۶۔دین کی تعریف اور اس کے حدود

یھاں پر ایک دوسرا مہم مسئلہ بھی ہے جس پر مستقل طور پر جدا گانہ بحث ہوسکتی ہے لیکن اس وقت صرف اس کی طرف اشارہ کریں گے:

یھاں پر بحث یہ ہے کہ دین کے حدود کھاں تک ہیں ؟ جس وقت ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ حکومت ودین میں کیا ربط ہے اور دین وسیاست کا جدا کرنا صحیح ہے یا نھیں ۔

تو سب سے پہلے خود دین کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے کہ دین کیا ہے دین کی صحیح تعریف ہمارے پاس ہونا چاہئے تاکہ اس کی بنیاد پر ہم اس کے حدودمعین کرسکیں ، اس سلسلے میں بعض لوگوں نے سعی فرمائی ہے مگر ایک دوسرے عنوان سے ،وہ اس طرح کہ آیاانسان کو دین کی ضرورت ہے یا نھیں ؟ اس چیز کو مورد بحث قرار دیتے ہیں اور اس سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دین کی انسان کی زندگی میں کیا دخالت ہے اس مرحلہ کی تحقیق وبررسی کے بعد ان لوگوں نے اس بحث کو مورد بحث قرار دیا کہ اسلام میں سیاست،دین کا جز ہے یا نھیں ؟ بہر حال ان لوگوں نے اس سلسلہ میں بہت سی بحثیں کی ہیں ، جیسا کہ آپ حضرات بھی ان بحثوں سے کم وبیش واقف ہیں ۔

”مثلاًدین سے ہماری امیدیں “ یعنی دین سے ہماری امیدیں حداقل درجہ پر ہیں یا حد اکثر درجہ پر (یعنی کیا دین انسان کی تمام زندگی کے مسائل کو شامل ہوتا ہے؟یا یہ کہ انسان کی زندگی کے بعض پہلوں کو شامل ہوتا ہے، بقیہ امور میں انسانی زندگی کے اکثر مسائل کو عقل و علم اور لوگوں کی مرضی کے مطابق حل ہوتے ہیں )وہ حضرات جو دین کو حکومت سے الگ گردانتے ہیں جس وقت انھوں نے دین کی تعریف فرمائی تو ایسی تعریف کی جو سیکولریزم کے عقیدہ کے موافق تھی مثلاً دین کی یوں تعریف فرماکی کہ : دین یعنی انسان کا خدا سے معنوی رابطہ یا اس سے ایک قدم اور آگے رکھا اور کھادین وہ چیز ہے کہ جو انسان کی آخرت (اگر آخرت کو قبول کرتا ہو )کی زندگی میں موثر اور کارگر ہو،یعنی دین کا کام یہ ہے کہ انسان کی زندگی کو آخرت سے ہم اہنگ کرے ۔

اور یہ بات واضح ہے کہ اگر دین کی اس طرح تعریف کی جائے تو پھر یہ کہنا بہت آسان ہے کہ دین کاسیاست سے کیا رابطھ؟سیاست کا خدا سے انسانی رابطہ کا کیا دخل؟سیاست تو صرف انسانوں کے درمیان ایک دوسرے سے رابطہ کو بیان کرتی ہے، اور سیاست دین سے الگ ہے، سیاست انسان کی دنیاوی زندگی سے متعلق ہے اور اس کا عالم آخرت سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور اگر دین کے حدود صرف یہ ہوں کہ جہاں انسان کی عقل سمجھنے سے قاصر رہے اور جہاں عقل خود فیصلہ اور قضاوت نہ کرسکتی ہو تو پھر وہاں دین سے کوئی رابطہ نہیں کیونکہ دین کے حدود وہاں تک محدود ہیں کہ جہاں پر عقل کی رسائی اور پہنچ نہ ہو ۔

لھٰذا اگر ہم نے دین کی مذکورہ تعریف کے مطابق اس کے حدود کو محدود کردیااور اس بات کے قائل ہوگئے کہ جن مسائل کو ہماری عقل حل کرسکتی ہے وہاں دین کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور ہم کو دین کی ضرورت وہاں ہے کہ جہاں ہماری عقل مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے سے عاجز ہو، چنانچہ جسیے جیسے زمانہ گزرتا جارہا ہے اور انسان ترقی کررہا ہے دین کی ضرورت کم ہوتی جارہی ہے چونکہ اس بنیاد پر دین کی ضرورت وہاں ہے کہ جہاں عقل ان مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے سے عاجز ہے۔

چونکہ شروع میں انسان علم و تمدن نہیں رکھتا تھا،لھٰذا اس کو دین کی ضرورت بہت زیادہ تھی اور چونکہ انسان خود اپنی عقل سے مسائل کو نہیں سمجھ سکتا تھا لھٰذا اس کو دین کی ضرورت تھی اور اہستہ اہستہ اس کو دین کی ضرورت کم ہوتی گئی،اور اس آخری زمانہ میں انسان کو دین کی ضرورت تقریبا ً نہیں ہے، ھاں بعض ان جزئی مسائل میں ہے جن کو عقل انسان ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہے اور کوئی امید بھی نہیں ہے کہ ان کو جلد ہی حل کرلیا جائے گا، ان مسائل میں ابھی بھی دین کی ضرورت ہے،(افسوس کہ یہ وہ لوگ ہیں جومسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں اورپھر یہ اعتراض ا ور اشکال کرتے ہیں کہ اس وقت چونکہ عقل بشری کامل ہوگئی ہے،لھٰذا اب دین و وحی کے قوانین کی ضرورت نہیں ہے ) بہر حال مذکورہ دین کی تعریف کے مطابق نتیجہ یہ ہوگا کہ سیاست کا دین سے کوئی رابطہ نہیں ہے،اور جب ہم عقلی کوششوں اور عقلی استدلالوں کے ذریعہ تمام سیاسی مسائل کوحل کرسکتے ہیں ، تو پھر دین کیا ضرورت ہے؟

المختصر یہ کہ اب تک جو ہم نے بیان کئے وہ اس سلسلے کے چند اعتراضات اور اشکالات تھے، اوراب ہم اس کا مختصرا ًجواب عرض کرتے ہیں اور شروع ہی گوش گذار کردیں کہ دین کی تعریف کی گئی ہے اور اس کی بنیاد پر دین کو فقط اخروی زندگی سے مربوط اور خدا سے انسانی رابطہ مانتے ہیں ہماری نظرمیں باطل اور بے نیاد ہے، اور یہ نظریہ کہ دین سے سیاسی مسائل کا یعنی انسان کے سیاسی مسائل کا خدا سے کوئی ربط نہیں ،یہ ساری چیزیں انسان اور خدا کے روحانی رابطہ سے جداگانہ ہیں ، یہ بھی بے بنیاد اور بے ہودہ گفتگو ہے اور اس کا حقیقت دین سے کوئی ربط نھیں ، یہ دین کی نامکمل تعریف ہے، بلکہ دین وہ طریقہ ہے جو انسان کو صحیح رفتار وکردار پر گامزن رکھے یعنی اس طرح انسان کو بنادے کہ جس طرح خدا چاہے،یعنی اگر انسان اپنے اعتقاد اور اپنی فردی واجتماعی زندگی میں خدا کی مرضی کے مطابق قدم اٹھائے تو ایسا شخص دیندار ہے اور ا سکے مقابل اگر انسان کا عقیدہ خدا کی مرضی کے مخالف ہو او ران عقائد کو قبول کرے جو خدا کو ناپسند ہیں اور اس کی انفرادی واجتماعی زندگی کے اعمال و رفتار خدا پسندانہ نہ ہوں ، تو اس کا دین بھی ناقص ہوگا،خلاصہ یہ کہ دین تما م مذکورہ چیزوں کو شامل ہے۔

۷۔دینی طریقوں سے دینی معرفت کی ضرورت

اگر ہم دین کی تعریف کرنا چاہیں تو ہمیں دیندار اور دینی بزرگوں کی تعریف دیکھنا ہوگا کہ ان حضرات نے دین کی کس طرح تعریف کی ہے؟ او راگر ہم خود اپنے ذہن سے دین کی تعریف کریں اور من گھڑت تعریف کی بناپر کھیں کہ سیاسی اور اجتماعی مسائل دین سے خارج ہیں یا یہ کہ سیاسی واجتماعی مسائل کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے جیسا کہ دین کی ہم نے تعریف کی ہے نہ جیسا کہ خدا نے دین کو بھیجا ہے ،پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ دین خدا کی معرفت او را سکو سمجھنے کے لئے خود اپنے طور وطریقہ اور اپنی فکر کے مطابق دین کی تعریف نہ کریں بلکہ دین کی معرفت ا ورشناخت کے لئے ضروری ہے کہ دینی منابع ومآخذ کے ذریعہ دین کے بارے میں تحقیق کریں ۔

ھوسکتا ہے کہ کوئی یہ کھے : میں دین کو نہیں مانتا، کیونکہ اسلام کے صحیح ہونے پر جو دلیلیں قائم ہوئی ہیں وہ ضعیف ہیں یا (نعوذ باللہ) یہ کھے کہ ہمارے پاس اسلام کے جھوٹ اور باطل ہونے پر دلیل موجود ہے ، اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے ،تو یہ دعوی منظقی اور صحیح نہیں ہے، البتہ اگر کوئی اسلام کو قبول کرے ، او رپھر وہ کھے کہ جو میں کھتا ہوں وہی دین ہے نہ یہ کہ جو قرآن، پیغمبر اور ائمہ (ع) کھتے ہیں او رجس کے مسلمان معتقد ہیں ، اگر کوئی اسلام کے حق یا نا حق ہونے کے بارے میں بحث کرے چاہے وہ اس کی طرفداری کرے یا اس کی ردّ کرے ، تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اسلام کی معرفت اور پہچان حاصل کرے اور بے شک اسلام کی پہچان کے لئے خدا کے فرمان کی طرف رجوع کرے، جس نے اسلام کو بھیجا ہے ، لھٰذا قرآن کے ذریعہ اسلام کو پہچانا جائے، اس حقیقت کے پیش نظر ہم نے کھا کہ دین کی پہچان، اس کی تعریف اور اس کی فرمانروائی کے دائرے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ دینی منابع، یعنی قرآن وسنت کی طرف رجوع کریں ، نہ یہ کہ اپنی مرضی کے مطابق یا کسی امریکن اوریورپین (کہ جن کی باتیں ہمارے نزدیک غیر معتبر ہیں )کے کھنے کے مطابق دین کی تعریف کریں ۔

لھٰذا اگر کوئی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہے تو اسے چاہئے کہ اس اسلام کے مطابق گفتگو کرے جس کو قرآن، پیغمبر اور ائمہ علیہم السلام نے بیان کیا ہے، او راسی اسلام کی بنیاد پر جس کی اصل قرآن وسنت ہے دین کی تعریف اور اس کے فرمانروائی کے دائرے کو سمجھیں نہ یہ کہ کسی مستشرق (مشرقی زبان دان اور ماہرعلوم) ،مولف اور سیاست مدار کی غرض کے تحت اسلام کی تعریف شدہ تعریف کو اپنائیں یا کسی (یورپی)دائرة المعارف (معلومات عامہ کتاب) کے مطابق اسلام کی تعریف کریں ایسے اسلام سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اسلامِ حقیقی کے طرف رجوع کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ دین کی فرمانروائی کا دائرہ انسان کی عقل وفہم پر ختم نہیں ہوتا بلکہ عقل، اسلامی شناخت کے طریقوں میں سے ایک ہے، اور اگر کوئی عربی زبان سے تھوڑی بھی واقفیت رکھتا ہو (اورقرآن کی تفسیر سے چاہے اجمالی ومختصر تفسیر سے آشنا ہو) جس وقت قرآن کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن نے اجتماعی مسائل کو نہیں چھوڑا اور ان کو بیان کیا ہے، پس کس طرح یہ کھاجاسکتا ہے کہ دین سیاست سے جدا ہے۔

اگر دین کے معنی قرآن کے مطابق کئے جائیں تو دین میں اجتماعی اور سیاسی مسائل شامل ہیں اور اس میں عبادت وذاتی اخلاقیات کے علاوہ قوانین مدنی ،قوانین جزائی (جرائم) اورعالمی قوانین موجود ہیں ، اور گھریلو زندگی ،شادی بیاہ،تربیت اولاد، کاروبار اور تجارت وغیرہ جیسے مسائل کو بیان کیا ہے، پس کون سی چیز ایسی ہے جو دین سے خارج ہے؟ معاملات،تجارت، اور رہن (گروی رکھنا) کے بارے میں قرآن مجید میں بڑی بڑی آیات موجود ہیں ، اگر اسلام کو قرآن کے ذریعہ پہچانے تو پھر کس طرح کوئی کھہ سکتا ہے کہ اسلام کا اجتماعی سے کیا ربط؟

اگر نکاح وطلاق دین کا جز نہ ہوں ، اگر تجارت، رہن خرید وفروخت اور سود دین سے مربوط نہ ہوں ، اسی طرح ولایت کا مسئلہ اور ولی امر کی اطاعت دین کا جز نہ ہوں تو پھر دین میں کیا باقی بچتا ہے؟! او ر آپ کس دین کی باتیں کرتے ہیں ؟ قرآن کریم نے مسلسل ان چیزوں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

اگر کوئی یہ کھے کہ جس دین میں اجتماعی وسیاسی مسائل کو شامل کیا جائے ہم اس دین کو نہیں مانتے! ٹھیک ہے نہ مانئے ، اسلام کو نہ ماننے والوں کی تعداد کوئی کم نہیں ہے ، اس وقت بھی بہت سے لوگ دین کو نہیں مانتے، ہمارا ان سے کوئی جھگڑا نہیں ، لیکن اگر وہ چاہتے ہیں تو آئیں او رہم سے بحث کریں تاکہ اس اسلامِ کامل کو ان کے لئے ثابت کریں او راگر نہیں چاہتے تو جو راستہ چاہیں اپنائیں :

( وَقُلِ الحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُومِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ ) (۱)

”(اے رسول) تم کھدو کہ سچی بات (کلمہ توحید) تمھارے پروردگار کی طرف سے (نازل ہوچکی ہے) بس جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے“

لیکن اگر وہ کھیں کہ ہم اسلام کو قبول کر تے ہیں لیکن پھر اسلام کو ان مسائل پر شامل ہونے کا انکار کرتے ہیں ، او راسلام کے اکثر اجتماعی مسائل پر کیوں اعتراض کرتے ہیں ؟ کیا جو کچھ قرآن وسنت میں موجود ہے اسلام نہیں ہے؟ کہ تم لوگ نہ نماز کو قبول کرتے ہو اور نہ ہی دوسری عبادتوں کو ؟ تمھارا ایمان نہ اسلام کے اجتماعی مسائل پر ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی مسائل پر، نہ تم اسلامی نکاح کو قبول کرتے ہو اور نہ ہی طلاق کو، اور اسی طرح دوسرے احکام کو قبول نہیں کرتے، تو پھر اسلام میں کیا چیز باقی ہے کہ جس اسلام کا تم دم بھرتے ہو وہ کیا ہے؟ یہ باتیں صرف سادہ لوح افراد کے لئے موثر ہوسکتی ہیں لیکن دانشمنداور پڑھے لکھے افراد کے لئے بے مایہ اور فضول ہیں ،بہر حال دین یعنی انسانی زندگی الہی رنگ وڈھنگ کے ساتھ ہونا:

( صِبْغَةُ اللّٰه وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰه صِبْغَةً ) (۲)

”(مسلمانوں سے کھدو کہ) رنگ تو خدا ہی کا رنگ ہے جس میں تم رنگے ہوئےھو“

انسانی زندگی الہی رنگ وڈھنگ میں بھی ہوسکتی ہے اور شیطانی رنگ وڈھنگ میں بھی، لیکن اگر انسانی زندگی الہی رنگ وڈھنگ میں ہو تو پھرواقعاً اسلام کامل ہے ،اگر ہم چاہیں کہ الہی رنگ وڈھنگ اور اس کی مرضی کے بارے میں گفتگو کریں تو پہلے ہمیں دینی منابع کوپہچاننا ضروری ہے اور اسلام کی شناخت کے لئے قرآن، سنت اور عقل کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، اور یھی طریقے اسلام کے تما م عبادی، سیاسی، اجتماعی او رانفرادی مراحل کو شامل ہے۔

اور جیسا کہ ہم نے کھا کہ قرآن پر ایک سرسری نظر کافی ہے تاکہ ہمارے لئے یہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ دین جو قرآن میں موجود ہے او رقرآن دین کا اصل منبع ہے، ممکن نہیں کہ اس اسلام میں سیاسی اور اجتماعی مسائل کو چھوڑ دیا گیا ہو اور قوانین کا مجموعہ سیاسی اور اجتماعی مسائل سے خالی ہو، یھاں تک کہ عبادی مسائل سے بھر پور ہو،اور یہ سلسلہ اسلام سے مرتبط نہیں ہے، کیونکہ وہ اسلام جو قرآن نے بیان کیا ہے ہم اس اسلام کا دفاع کرتے ہیں اور یہ اسلام سیاسی، اجتماعی اور عبادی مسائل کو شامل ہے اور سیاست اسلام کے مہم ارکان اور اس کے فرمانروائی کے اصل دائرے میں سے ہے، اور امریکن اور یورپین رائٹروں کے مطابق اسلام سے ہمارا کوئی ربط نہیں ہے اور اس کو حقیقی اسلام کی حقیقت سے دور اور اجنبی مانتے ہیں ۔

حوالے

۱ سورہ کھف آیت ۲۹

۲ سورہ بقرہ آیت ۱۳۸


تیسرا جلسہ

دین میں سیاست کی اہمیت

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

”اسلام کے سیاسی نظرہ'' کی توضیح کے ضمن میں اسلامی منابع ومآخذ ؛یعنی قرآن ، سنت اورعقل کے تحت ہم نے بیان کیا کہ اسلام نے انسانی زندگی کے اجتماعی وانفرادی مختلف مسائل میں نظریات بیان کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دنیاوی زندگی میں دخالت رکھتا ہے، اور ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ مختلف نظریات رکھنے والوں سے بحث کا طور وطریقہ بھی مختلف ہونا چاہئے ،جو لوگ ہمارے ساتھ بعض عقیدوں میں شریک ہیں ان سے بحث کا طریقہ الگ ہے لیکن جو لوگ ہمارے اعتقادات کے مخالف ہیں ان سے بحث کا طریقہ الگ ہے اور ہم نے یہ بھی عرض کیا کہ مدمقابل کو قانع کرنے کے لئے کبھی برہانی اصولوں کوبنیاد بنایا جاتا ہے او رکبھی جَدَلی طریقہ اپنانا پڑتا ہے اور ہم اس کتاب میں دونوں طریقوں سے استفادہ کریں گے، او رہم نے یہ بھی عرض کیا کہ اسلام سیاست کے بارے میں ایک خاص نظریہ رکھتا ہے اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس نظریہ کو پہچانیں اور اس کو عملی جامہ پہنائیں ، انقلاب اسلامی کے ارکان میں سے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ اسلام سیاسی مسائل میں دخالت رکھتاہے، اسی وجہ سے ہمارا یہ انقلاب ”اسلامی انقلاب“ کے نام سے مشہور ہوا۔

اسی طرح ہم نے گذشتہ بحث میں بیان کیا کہ اسلام کے سیاسی نظریہ اور اس کے سیاسی پہلو سے دفاع کرنے میں ہمارے مقابل دوگروہ ہیں :

پھلا گروہ: ان لوگوں کا ہے کہ جو اسلام کو نہیں مانتے یا یہ کہ کسی بھی دین کو نہیں مانتے ، ان لوگوں کے جواب کے لئے آیات و روایات سے دلیل پیش کرنا بے فائدہ ہے بلکہ ان سے مناظرہ کرنے کے لئے عقلی طریقہ اپنا نا پڑے گا، اور سب سے پہلے اسلام کو ثابت کرنا پڑے گاتاکہ ثابت ہوسکے کہ خدا، دین، پیغمبر اور قیامت ہے، اور یہ مسلم ہے کہ اس گروہ سے(جو دین سے بےگانہ ہے) بحث کرنا صرف اعتقادی بحث ہوگی۔

دوسرا گروہ: ان لوگوں کا ہے کہ جو مسلمان ہیں اور دین کو قبول کرتے ہیں یا اگر اسلام پر اعتقاد نہیں ہے ،مگر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ کھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اسلام، سیاست سے بےگانہ ہے او راسلام کا سیاست سے کوئی ربط نہیں ہے، اس گروہ کے مقابلہ میں ہم کو چاہئے کہ اس اسلام کی تحقیق وبررسی کریں جس کے مسلمان معتقد ہیں او ردیکھیں کہ یہ اسلام سیاسی نظریہ رکھتا ہے یا نھیں ؟ اس گروہ کے مقابلے میں ہمیں صرف عقلی روش سے استفادہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی شناخت کے لئے اسلامی اصولوں پر توجہ کریں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے او راس کے بعد اسلامی منابع؛ یعنی قرآن، سنت او رعقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کریں کہ قرآن،سنت اور سیرت رسول اور ائمہ کی سیرت او ران کے فرمان کے مطابق اسلام کا سیاسی نظریہ کیا ہے یہ کہ اسلام کی سیاسی دخالت پر بزرگان دین کی سییرت موجود ہے یا نھیں ؟

۲۔ سیاست کی تعریف اور اسلام میں تین طاقتوں کی اہمیت

ہم پہلے سیاست کی واضح وروشن تعریف کرتے ہیں تاکہ واضح وروشن ہوجائے کہ قرآن مجید میں سیاست کے بارے میں گفتگو موجود ہے یا نھیں ؟

سیاست یعنی قوم وملت کو ادارہ کرنے کا طور وطریقھ، یامعاشرہ کو اس طرح تنظیم کیا جائے کہ اس کی ترقی اور پیشرفت ہوسکے،اور اس کے تمام مصالح اور ضروریات کو پورا کرسکے، یابہ الفاظ دیگر : سیاست یعنی ملکی نظام چلانے کا قانون۔

البتھسیاست سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ جس کے اثرات منفی ہوں یعنی جس میں فریب کاری، حیلہ بازی اور دوسروں کو دھوکہ دینا پایا جائے۔

سیاست او رملکی نظام کے سلسلے میں ”مانٹسکیو“ کے زمانے سے حاکم گروپ کو تین طاقتوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

۱۔”قوة مقننہ، قانون گذار پاور(پارلیمینٹ)

۲۔ ”قوہ مجریہ“،قانون کو جاری کرنے والی طاقت (صدر یا وزیر اعظم)

۳۔”قوہ قضائیہ “، (عدالت یا کورٹ پاور)

قانون گذر پاور کی ذمہ داری یہ ہے کہ ملت کو ادارہ کرنے، او ران کی مناسب وبہت ر زندگی کے لئے قانون بنائے تاکہ عدل وانصاف برقرار رہے اور معاشرے پر نظام حکومت کرسکے، اور کوئی ایک دوسرے کے حقوق کو پامال نہ کرسکے، پوری قوم ترقی او رکامیابی کی طرف قدم بڑھاتی ہوئی نظرآئے،اور قوہ مجریہ کا وظیفہ یہ ہے کہ پارلیمینٹ میں بنائے گئے قوانین کو نافذ کرے اور یھی گروہ حکومت کی شکل پاتا ہے، قوہ قضائیہ کا کام یہ ہے کہ کلی قوانین کے تحت لوگوں کے درمیان موجودہ اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرے۔

مذکورہ تقسیم بندی کے تحت جو وظائف تینوں طاقتوں کے لئے شمار کئے گئے ہیں ان کے بارے میں قرآن کے نظریات کیا ہیں او رشرعی لحاظ سے ان کی اہمیت کس قدر ہے اور کیااس سلسلے میں قرآن ا ور اسلام نے کچھ خاص قوانین ودستورات بیان کئے ہیں ؟ البتہ توجہ رہے کہ قوانین سے ہماری مراد اجتماعی قوانین ہیں نہ کہ انفرادی احکام وقوانین کہ جو دین میں مسلم ہیں ۔

اجتماعی قوانین میں مدنی (شہری) قوانین، عدالتی قوانین، تجارتی قوانین اور حکومت کا لوگوں سے روابط کے ضوابط نیز بین الاقوامی قوانین شامل ہیں ، اگر ہم صحیح معنوں میں قرآن پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں مذکورہ تمام قوانین مل جائیں گے قرآن مجید میں شہر ی قوانین، نکاح وطلاق کے احکام، تجارت ومعاملات کے قوانین، قرض ورہن او رعدالت کے مسائل (یہ تمام چیزیں اس چیز کی حکایت کرتی ہیں کہ اسلام نے معاشرہ کو ادارہ کرنے کے لئے یہ احکامات پیش کئے ہیں ) کے علاوہ قرآن مجید میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاص حقوق بیان کئے ہیں تاکہ خاص مواقع پر زمان ومکان کے پیش نظر کچھ احکام وضع کریں او رمومنین کو بھی حکم ہوا ہے تاکہ آنحضرت کی اطاعت وپیروی کریں ، ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا کَانَ لِمُومِنٍ وَلاٰمُومِنَةٍ إِذَا قَضٰی اللّٰه وَرَسُوْلُه ا مْراً ا نْ یَکُونَ لَهمُ الْخِیْرَةُ مِنْ ا مْرِهمْ ) (۱)

” اور نہ کسی ایماندار مرد کو یہ مناسب ہے او رنہ کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدا اور اس کے رسول کسی کام کا حکم دیں تو ان کو اپنے اس کام(کے کرنے یا نہ کرنے )کا اختیار ہو“

اس آیہ کریمہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مومنین کو یہ حق نہیں ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی تصمیم وارادہ پر اعتراض کریں ، پس معلوم یہ ہوا کہ خدا کے مسلم قوانین کے علاوہ اسلامی حکومت میں زندگی بسر کرنے والوں کے لئے پیغمبر اسلام کے بنائے ہوئے قوانین بھی لازم الاجراء ہیں ،یعنی رسول اکرم کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ آنحضرت کی نافرمانی کرے، کیونکہ جو شخص آنحضرت کے قوانین کی مخالفت کرے وہ دوحالتوں سے خالی نہیں ہے :

۱۔ یا تو وہ پیغمبر کو خدا کا رسول نہیں مانتا، ایسے شخص سے ہمارا کو ئی مطلب نہیں ہے ، ہم تو اس سے گفتگو کرتے ہیں جو آنحضرت کو خدا کا رسول مانتا ہو اور اس چیز کا بھی قائل ہو کہ آنحضرت کو خدا کی طرف سے قانون بنانے کا حق دیا گیا ہے، اسی وجہ سے خدا نے یہ نہیں فرمایا( وَمَاکَانَ لِکٰافِرٍ وَلاٰ کَافِرَةٍ ) بلکہ خدا وندعالم کا ارشاد تو یہ ہے( وَمَاکَانَ لِمُومِنٍ وَلاٰمُومِنَةٍ ) (۲)

۲۔یا یہ کہ آنحضرت کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہے لیکن رسول اسلام کو اس طرح کا حق ملنے کے بارے میں بحث کرتا ہے؛ ایسے شخص کے لئے ہم قرآن مجید سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ جس طرح اسلامی حکومت میں رہنے والے ہر مومن اور رسول اکرم کی نبوت کا معتقد انسان خدا کے احکامات کو لازم الاطاعة جانتا ہے بالکل اسی طرح سے رسول اسلام کے بنائے ہوئے قوانین کو بھی لازم الاطاعة ماننا ضروری ہے اور تمام مومنین پر آنحضرت کی اطاعت وولایت ثابت شدہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( اَلنَّبِیُّ ا وْلیٰ بِالْمُومِنِیْنَ مِنْ ا نْفُسِهمْ ) (۳)

”نبی تو مومنین سے خود ان کی جانوں سے بھی بڑہ کر حق رکھتے ہیں “

پس قرآن کی نظر سے رسول اسلام کے لئے قانون کا بنانا اور اس کو اجراء کرنے کا حق مسلم الثبوت ہے،، لیکن یھاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا یھی مرتبہ رسول اسلام کے بعد کسی دوسرے کے لئے بھی ثابت ہے یا نہیں ؟ البتہ اس بحث کو کسی دوسر ی جگہ پر کیا جائے گا اس وقت ہماری بحث اسلام کے بارے میں ہے کہ اسلام سیاسی نظریہ رکھتا ہے یا نھیں ؟

۳۔عدالتی احکام قرآن کی نگاہ میں

قضاوت اور عدالتی احکام یعنی خدا کے کلی احکام کو اختلافی اور جھگڑے وغیرہ جیسے مسائل پر منطبق کرنا، اس سلسلے میں خدا وند عالم ارشاد فرمایتا ہے:

( فَلاَ وَرَبُّکَ لاَ یُومِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهمْ لاَیَجِدُوْا فِیْ ا نْفُسِهمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیْماً ) (۴)

” پس (اے رسول) تمھارے پروردگار کی قسم یہ لوگ سچے مومن نہ ہوں گے تاوقتیکہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تم کو اپنا حاکم (نہ) بنائیں پھر (یھی نہیں بلکہ ) جو کچھ تم فیصلہ کرو اس سے کسی طرح دل تنگ بھی نہ ہوں بلکہ خوش خوش ان کو مان لیں “

آیہ مذکورہ میں نہ صرف یہ کہ حضرت رسول اکرم کے لئے قضاوت ثابت ہے بلکہ آنحضرت کی قضاوت وداوری کو قبول کرنا شرط ایمان ہے، چونکہ آیت کے شروع میں قسم کھائی گئی ہے لھٰذا اس مطلب کی مزید تاکید ہوجاتی ہے کہ مومنین کو چاہئے کہ اختلافی مسائل میں آپ کے فیصلے اور حکم کو دل وجان سے قبول کریں ، اور آپ کے دئے ہوئے فیصلہ پر ناراض نہ ہوں ، اور اگر آنحضرت کے فیصلہ پر اعتراض کیا اور ا س کو دل وجان سے قبول نہ کیا تو پھر وہ حقیقی مومن نہیں ہے۔

جی ھاں حقیقی مومن وہ ہے کہ اگر اسلامی حکومت اس کے برخلاف کوئی فیصلہ دے تو اس کو دل وجان سے قبول کرے اگرچہ یہ احتمال بھی ہو کہ اس کا حق ضایع ہوا ہے کیونکہ قاضی گواہوں او ردوسرے شواہد کی وجہ سے ظاہری حکم کرتا ہے جیسا کہ رسول اکرم نے بھی فرمایا:

”انما اقضی بینکم بالبینات والایمان“ (۵)

میں تمھارے درمیان قسم اور دوسرے شواہد کی بناپر قضاوت اور فیصلہ کرتا ہوں ، ممکن ہے کہ کوئی گواہ ظاہراً عادل اور معتبر ہو اور اس کی گواہی قبول ہو؛ اگر اس کی گواہی جھوٹ پر مشتمل ہو یا گواہ سے کوئی بھول چوک یا غلطی واقع ہوئی ہو لیکن اگریہ طے قرارپائے کہ قاضی کے فیصلہ کو قبول نہ کیا جائے اگرچہ خلاف واقع بھی ہو تو پھر بہت سی مشکلات پیدا ہوجائیں گی او راسلامی حکومت نہیں چل پائے گی۔

قرآ ن سے جو نتائج نکلتے ہیں اور قرآن مجید کا جزائی امورجیسے دیت، قصاص اورتعزیرات (سزا دینا) وغیرہ کا بیان اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام سیاست و حکومت میں سب سے بڑی دخالت رکھتا ہے اور حدتو یہ ہے کہ اسلام نے مجرم اور مفسد کے لئے ”حد“ (اسلامی سزا) معین کی ہے اور قاضی کو اس حدتک اجازت دی ہے کہ مفسد اور مجرم پر حد جاری کرے اگرچہ کوئی مخصوص شکایت کرنے والا نہ ہو ، چونکہ ایسی صورت میں گویا حقوق الہی کو پامال کیا گیا ہے (لھٰذا اس کو سزا دی گئی ہے)

بعض مقامات پر تو اسلام نے بہت سنگین اور سخت سزا معین کی ہیں کہ جس کی بناپر بعض لوگوں کے لئے ان کا قبول کرنا مشکل ہوجاتاہے، مثلاً قرآن مجید میں حکم ہوا کہ اگر اسلامی معاشرے میں کسی نے زنا کیا او ر قاضی کے نزدیک چار عادل گواہوں نے گواہی دی اور وہ جرم قاضی کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے تو زانی اور زانیہ میں سے ہر ایک سوسو تازیانے لگائے جائیں ، اور قرآن نے اس سلسلہ میں خصوصی طور پر تاکید کی ہے تاکہ قاضی عواطف ومحبت سے متا ثر نہ ہو، او ران کے ساتھ مھربانی ومحبت سے پیش نہ آئے، ارشاد ہوتا ہے:

( اَلزَّانِیَةُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کَلَّ وَاحِدٍ مِنْهما مِا ئَةَ جَلْدَةٍ وَلاَتاَخُذُکُمْ بِهما رَافَةٌ فِیْدِیْنِ اللّٰه ) (۶)

”زنا کرنے والی عورت او رزنا کرنے والے مرد ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو(سو) کوڑے مارو او راگرتم خدا او ر روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو حکم خدا کے نافذ کرنے میں تم کو ان کے بارے میں کسی طرح کا رحم کا لحاظ نہ ہونے پائے “

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی پر ایسی ”حد“ جاری ہوگئی تو اس کی عزت وآبرو ختم ہوجاتی ہے لیکن معاشرہ اور سماج ان تمام برائیوں سے پاک ہوجاتا ہے۔

چوری کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا ا یْدِیْهما جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نِکَالاً مِنَ اللّٰه وَاللّٰه عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ) (۷)

”چور خواہ مرد ہو یا عورت تم ا ن کے کرتوت کی سزا میں ان کا (داہنا )ھاتہ کاٹ ڈالو،یہ (ان کی سزا) خدا کی طرف سے ہے اور خدا تو بڑا زبردست حکمت والاہے“

پس نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن مجید نے رسول خدا کے لئے مقام قضاوت ، قوم ومعاشرے کی فلاح و بھبودی کے لئے حق قانون گذاری اور حد وسزا دینے کا حق معین فرمایا ہے ، اگر کوئی شخص واقعاًَ انصاف رکھتا ہو اور قرآ ن او رمعصومین (ع) کی معتبر روایت پر ایمان رکھتا ہو اس پر یہ بات واضح وروشن ہوجاتی ہے کہ اسلام سیاسی واجتماعی مسائل میں دخالت رکھتا ہے، لیکن اگر کوئی بغض وعناد کی وجہ سے ان حقائق سے چشم پوشی اور ان کا انکار کرے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چمکتے ہوئے سورج کا منکر ہو۔

۴۔ سلام کا ہمہ گیر ہونا اور اسلامی حاکم کی اہمیت

قرآن مجید نے وسیع سیاسی مسائل ، حکومتی قوانین، قانون گذاری اور اس کو خاص موارد پر منطبق کرنا اور قوانین کے اجراء کرنے کے علاوہ فرعی اور جزئی قوانین کے بارے میں

بھی وضاحت کی ہے مثلاً سال کے مھینوں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ عِدَّةَ الشَّهوْرِ عِنْدَ اللّٰه إِثْنَا عَشَرَ شَهراً فِیْ کِتَابِ اللّٰه یَومَ خَلَقَ السَّمٰواتِ وَالا رْضَ مِنْها ا رْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰالِکَ الدِّیْنُالقَّیِّمُ ) (۸)

”اس میں تو شک ہی نہیں کہ خدا نے جس دن آسمان وزمین کو پیدا کیا(اسی دن سے) خدا کے نزدیک خدا کی کتاب (لوح مخفوظ) میں مھینوں کی گنتی بارہ مھینے ہے ان میں سے چار مھینے (ادب و) حرمت کے ہیں یھی دین سیدھی راہ ہے“

مذکورہ آیت میں سال کے بارہ مھینوں کی تقسیم تکوینی لحاظ سے اور خلقت کے نظام پر منطبق ہیں ، اور اس طرح کے مطالب دین میں ذکر ہونا، دین کے صحیح اور مستحکم ہونے کی نشانی ہے، اسی طرح قرآن مجید میں چاند کو دیکھنے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( یَسْئَلُونَکَ عَنِ الا هلَّةِ قُلْ هیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ) (۹)

”(اے رسول ) تم سے لوگ چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ کیوں گھٹتا بڑھتا ہے) تم کھہ دو کہ اس سے لوگوں کے (دینوی امور اور حج کے اوقات معلوم ہوتے ہیں “

اس وجہ سے اجتماعی وعبادی احکام تکوینی نظام پر منطبق ہوتے ہیں اس کے علاوہ بہت سے حقوقی احکام ماہ رمضان کا آغاز، حج کا زمانہ اور دوسری عبادی احکام چاند دیکھنے پر متوقف ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید دین کو فطرت اور نظام خلقت سے ہم اہنگ اور منطبق بتاتا ہے:

( فَا قِمْ وَجْهکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطَرَةَ اللّٰه الَّتِی فَطَرَ النّٰاسَ عَلَیْها لاَتَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰه ) (۱۰)

”تو(اے رسول) تم باطل سے کترا کے اپنا رخ دین کی طرف کئے رہو، یھی خدا کی بناوٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے خدا کی (درست کی ہوئی )بناوٹ میں (تغیر)تبدل نہیں ہوسکتا“

اور چونکہ الہی قوانین فطرت الہی کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں لھٰذا یہ قوانین مسلم ہیں او ران میں تبدیلی نہیں آسکتی، البتہ یھاں توجہ رکھنی چاہئے کہ اسلام کے بعض احکام وقوانین ایسے ہیں جو کسی خاص زمان ومکان کے لحاظ سے تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن ان مسائل کو طے کرنا یا ان کو معین کرنا حاکم شرع کی ذمہ داری ہے، وہ حاکم شرع کہ جس کی مشروعیت اور طاقت خدا کی طرف سے ہے، قرآن مجید نے اس باعظمت منصب کو رسول اکرم کے لئے مقرر فرمایا ہے اور شیعہ عقائد کے لحاظط سے ائمہ معصومین علیہم السلام کے لئے بھی یہ منصب ہے (جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ) او ران کے بعد یہ مقام ولی فقیہ کے لئے معین ہوا ہے (ولی فقیہ کے بارے میں دوسرے موقع پر تفصیل سے بحث کریں گے،انشاء اللہ)

لھٰذا یہ اعتراض کہ دین کا اجتماعی مسائل سے کوئی مطلب نھیں ، اور یہ کہ دین صرف آخرت سے مربوط ہے ،یعنیانسان کے خداسے رابطہ کا نام ہے یہ اعتراض بالکل ختم ہوجاتا ہے، اور نہ یہ اعتراض دین سے مربوط ہے، البتہ اس دنیا میں کوئی ایسابھی دین ہوسکتا ہے کہ جس پر مذکورہ اعتراض وارد ہوسکتا ہو، لیکن ہماری بحث اس دین سے نہیں ہے ،بلکہ ہماری گفتگو اس دین کے بارے میں ہے جس میں سال کے مھینوں تک کو بیان کردیا گیا ہو جس میں معاملات اور مالی روابط کے بارے میں اس طرح تاکید کی گئی ہو کہ اگر کوئی شخص ایک دوسرے کو قرض دے تو اس کو لکہ لیا جائے یا دو گواہوں کے سامنے قرض دیا جائے،اور اگر لکھنا یا گواہ لینا ممکن نہ ہو تو کوئی چیز گروی رکہ لی جائے، (قرآن مجید میں رہن کے جواز کے بارے میں جو بیان ہوا ہے وہ ایسے ہی مقامات کے لئے کہ اگر کوئی شخص کسی کو قرض دے اور اس سے کوئی نوشتہ یا سند نہ لے سکے تو اس سے کوئی قیمتی چیز بعنوان گروی لے کر اس کو قرض دے دیا جائے)

لھٰذا ہم معتقد ہیں کہ دین اسلام سیاست، حکومت اور لوگوں کی مادی اور معنوی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پروگرام رکھتا ہے۔

ہم نے گذشتہ جلسہ میں دین کی اس تعریف کو جس میں دین کو فقط انسان کے خدا سے رابطہ میں منحصر کیا گیا تھا اس کی ردّ کرتے ہوئے حقیقی دین کی تعریف کی تھی اور ہم نے عرض کیا تھا کہ دین کے صحیح معنی یہ ہیں کہ انسانی زندگی پر الہی جلوہ ہو جو انسان کے تکامل کا راستہ بیان کرے اور اس کو مبدا ومعاد کی طرف متوجہ رکھے پس دین انہیں راستوں کے اختیار کرنے کانام ہے او ربغیر کسی شک وشبہ کے ایسا دین زندگی کے کسی ایک حصہ مثلاً عبادت اور دوسرے عبادی کامو ں میں منحصر نہیں ہوسکتا، بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلووں پرنظر رکھتا ہے کیونکہ انسان کی تخلیق کی وجہ یہ ہے کہ انسان ابدی اور ہمیشگی سعادت کو حاصل کرسکے اسی بناپر اپنی زندگی کے تمام پہلووں کو الہی احکامات سے ہم اہنگ کرے، لھٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ خدا کی براہ راست عبادت اور اصطلاحی عبادت دین کا بعض حصہ ہے اور ہماری زندگی کے دوسرے فکری وعملی پہلو خدا کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے، اور جب ہمارے سارے کام مرضی معبود کے مطابق ہوجائیں گے تو یہ تمام کام بھی عبادت بن جائیں گے اور انسان اس طرح زندگی کے بلند ترین مرتبہ پر پہونچ جائے گا:

( مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ إِلاّٰلِیَعْبُدُوْنَ ) (۱۱)

”او رمیں نے جنوں او رانسانوں کو اسی غرض سے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں “

اس آیت کا مطلب یہ کہ انسان خدا کی عبادت وپرستش کی بناپر کمال کی منزل تک پہونچ سکتا ہے۔

لھٰذا نسان کے تمام اعمال وافعال اسی قاعدے او رقانون کے تحت ہونا چاہئے، یھاں تک کہ اس کا سانس لینا بھی اسی قاعدہ کے تحت ہونا چاہئے اور اگر انسانی زندگی نے الہی رنگ کو اپنا لیا ہے اور اسی سانچہ میں ڈھل گیا، تو وہ انسان واقعاً دیندار ہے او راگر خدا کی عبادت او راس کی پرستش کے دائرے سے خارج ہوگیا تو وہ شخص بے دین او رمرتد ہوجائے گا، وہ لوگ جن کی زندگی کا بعض حصہ خدا کی مرضی کے خلاف ہو اور خدا کی عبادت سے بے خبر رہتے ہیں ، وہ لوگ واقعی دیندار نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ ارتداد کی سرحد پر رہتے ہیں ان لوگوں کا دین ناقص ہے ،کیونکہ دین کے ناقص ہونے کے بھی درجات ہیں لھٰذا ہم کو یہ یقین رکھنا چاہئے کہ جو حضرات واقعاً دیندار ہیں اور زندگی کے تمام پہلووں میں احکامات الہی کی رعایت کرتے ہیں ،پس وہ لوگ جو زندگی کے بعض حصوں میں احکام الہی کی رعایت کرتے ہیں وہ ان کے مرتبہ کے برابر نہیں ہیں ، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ایمان اور دینداری کے بھی بہت سے مراتب اور درجات ہیں او رانسان ان میں ترقی کرسکتا ہے جیسا کہ خدا وندعالم ارشاد فرماتاہے:

( وَالَّذِیْنَ اهتَدُوْا زَادَهمْ هدیً وَآتَاهمْ تَقْوَاهمْ ) (۱۲)

”اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ا ن کو خدا (قرآن کے ذریعہ) مزید ہدایت کرتا ہے او ران کو پرہیزگاری عطا کرتا ہے“

جو لوگ ہدایت پاچکے ہیں خداوندعالم ان کی ہدایت اور تقوے میں اضافہ کرتا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّمَا المُومِنُوْنَ الَّذِیْنَ إذَا ذُکِرَ اللّٰه وَجَلَتْ قُلُوبُهمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهمْ آیَاتُه زَادَتْهمْ إِیْمَاناً ) (۱۳)

”سچے ایماندار تو بس وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو انکے دل ھل جاتے ہیں او رجب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو اور بھی زیادہ کردیتی ہیں “

جی ھاں ایسے بعض حضرات موجود ہیں جن کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور تکامل کی طرف بڑھتے رہتے ہیں تاکہ ایمان کی بلند منزلوں تک پہونچ سکیں او راولیاء الہی میں شمار ہونے لگیں ، ان کے مقابلہ میں وہ لوگ ہیں جو پستی کی طرف جاتے رہتے ہیں اور دینداری میں پیچھے ھٹتے چلے جاتے ہیں او رکبھی کبھی اغیار وبے گانوں کے اعتراضات واشکالات کو سن کر نامناسب ماحول کی طرف بڑہ جاتے ہیں اور جس دین کو ماں باپ یا کسی استاد سے سیکھا تھا اس کو کھوبیٹھتے ہیں ، کیونکہ جن لوگوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ مسائل کو اچھے طریقہ سے سمجھ سکیں اگر وہ اعتراضات واشکالات میں وارد ہوتے ہیں تو منحرف ہوجاتے ہیں ، قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے:

( وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الکِتَابِ ا نْ إذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللّٰه یُکْفَرُبِها وَیُسْتَهزَا بِها فَلاَ تَقْعُدُوا مَعَهمْ حَتّٰی یَخُوضُوا فِی حَدِیْثٍ غَیْرِه إِنَّکُمْ إِذاً مِثْلُهمْ ) (۱۴)

”(مسلمانو!) حالانکہ خدا تم پر اپنی کتاب قرآن میں حکم نازل کرچکاہے کہ جب تم سن لو کہ خدا کی آیتوں کا انکا رکیا جاتا ہے او راس سے مسخرا پن کیا جاتا ہے تو تم ان (کفار) کے ساتھ مت بیٹھو یھاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں غور کرنے لگیں ا ورتم بھی اس وقت ان کے برابر ہوجاؤ گے“

انسان کو چاہیئے کہ پہلے اپنے علم او رعقلی وفکری بنیادوں میں اضافہ کرے اوراعتراضوں کے جوابات او ران کا تجزیہ وتحقیق کرنے کی صلاحیت اپنے اندرپیدا کرے، اس کے بعد کسی کے اعتراضات وشبھات پر کان دھرے، او ردوسرے کے اعتراض کو سن کر خود کو انحرافات کے خطرے میں نہ ڈالے، اسلام یہ نہیں کھتا کہ کسی سے کشتی نہ لڑو، بلکہ اسلام کی نظر تو یہ ہے کہ پہلے کشتی کے فن سے واقف ہوجاؤ بعد میں کشتی لڑو، اور اگر چاہو کہ کسی بھاری پہلوان سے کشتی لڑو تو پہلے اپنے وزن اور پرکٹس میں اضافہ کرو اسی طرح اسلام یہ نہیں کھتا کہ دوسروں کے اعتراضات کو نہ سنو بلکہ اسلام کا کہنا یہ ہے کہ جس قدر اشکالات واعتراضات کی تجزیہ وتحقیق او رتشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتے ہو، وہاں تک اشکالات کو سنو، یعنی پہلے معارف الہی حاصل کرو پھر شبھات کے جوابات دینے کا طریقہ سیکھو اس کے بعددوسروں سے بحث ومناظرہ کرو تاکہ دشمن تم کو شکست نہ دے سکے او راپنے عقائد کو تم پر تحمیل نہ کرسکے۔

۵۔مذکورہ بحث کا خلاصہ

ہماری بحث وگفتگو کا خلاصہ یہ ہوا کہ اسلام، تمام سیاسی پہلووں پر شامل ہوتا ہے لھٰذا ہماری تمام زندگی دین کے مطابق ہونا چاہئے، زندگی کاکوئی بھی گوشہ دین سے خارج نہ ہو؛ چاہے وہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، خاندانی زندگی ہو یا ازدواجی مشترکہ زندگی، ماں باپ سے اولاد کے روابط ہوں یا امت او رامام کا رابطہ، یھاں تک کہ دوسرے مذاہب سے رابطہ کیسا ہونا چاہئے کن افراد سے رابطہ رکھنا صحیح ہے او رکن لوگوں سے رابطہ رکھنا صحیح نہیں ہے، او راگر ہم قرآنِ مجید کی آیات پر ایک نظر ڈالیں (درحالیکہ روایات کی طرف رجوع بھی نہ کریں )

توجو شخص تھوڑا بھی انصاف رکھتا ہو اس کے لئے واضح وروشن ہوجائے گا کہ سیاست اسلام کا متن (اصلی رکن) ہے او رہم بغیر سیاست کے اسلام نہیں رکھتے ، اور کچھ لوگ اسلام کو سیاست سے جدا تصور کریں تو گویا ان کا دین دوسرا ہے اور اس کو اسلام کا نام دے دیا ہے وہ اسلام کہ جس کی اصل قرآن وسنت ہے اس کا سیاست سے جدا ہونا ممکن نہیں ہے۔

حوالے:

(۱) سورہ احزاب آیت ۳۶

(۲) سورہ احزاب آیت ۳۶

(۳) سورہ احزاب آیت ۶

(۴)نساء آیت ۶۵

(۵) وسائل الشیعہ ج۲۷ص۲۳۲

(۶) سورہ نور آیت ۲

(۷) سورہ مائدہ آیت ۳۸

(۸) سورہ توبہ آیت ۳۶

(۹) سورہ بقرہ آیت ۱۸۹

(۱۰ (سورہ روم آیت ۳۰

(۱۱)سورہ الذاریات آیت ۵۶

(۱۲) سورہ محمد آیت ۱۷

(۱۳) سورہ انفال آیت ۲

(۱۴)سورہ نساء آیت ۱۴۰


چوتھا جلسہ

دین میں سیاست کی اہمیت

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

گذشتہ جلسوں میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کا میابی اور اسلامی حکومت کے قیام کے بعد ،اسلام دشمن طاقتیں اپنی پوری جد جھد اور تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہونچیں کہ اس اسلامی حکومت سے مقابلہ کے لئے انقلاب کی بنیادی او رمرکزی چیز کا مطالعہ کیا جائے جو ”ولی فقیھ“ کی ولایت وسرپرستی ہے، او راس کو اپنے پروپیگنڈے کی تیز دھار کا نشانہ بنایا جائے ، چنانچہ آج ہم دیکہ رہے ہیں کہ گذشتہ چند سالوں سے عصر حاضر تک اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ پر دنیا بھر سے مختلف اعتراض ہوتے رہتے ہیں او راس طرح دشمن طاقتوں کے نمائندے ملک میں ولایت فقیہ کے برخلاف تمام تر کوششوں میں مشغول ہیں ، ان تما م باتو ں کے باوجوداگرچہ ہماری قوم و ملت ولایت فقیہ کی حکومت پر بھر پور اعتمادو ایمان رکھتی ہے، او ر اس حکومت کی ہر اعتبار سے حمایت کرتے ہیں لیکن پھر بھی ضروری ہے کہ مذکورہ مسائل کے بارے میں تفصیلی بحث کی جائے تاکہ اس حکومت کی نظری او رفکری بنیادیں عوام اور بالخصوص جوان نسل کے لئے واضح وروشن ہوجائیں ۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس سلسلے میں تین طرح کے اعتراض کئے جاتے ہیں :

پھلا اعتراض:

پھلا اعتراض یہ ہے کہ دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے،اور ایک سیاسی لظام کسی بھی صورت میں دینی نہیں ہو سکتا ، گذشتہ جلسہ میں ہم نے اس اعتراض کا جواب دیا کہ اگرکوئی شخص چاہتا ہے کہ وہ یہ یکھے کہ اسلا م ایک دین اورمذہب ہونے کے عنوان سے کسی سیا ست سے منسلک ہے یا نہیں ؟ تو اس کے جواب کیلئے قر آن مجید کا اور اس میں بیان کئے گئے احکا م وقوانین کا ایک سطحی اور سر سر ی مطالطہ کا فی ہے اور حقیقت میں جوشخص مسلمان ہے اور قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے اور اسی طرح وہ شخص جو مسلمان نہیں ہے ،لیکن اسلام کی شنا خت اور معرفت حاصل کر نا چاہتا ہے تو اس کو قرآن مجید کی طرف رجو ع کرنا چاہئے ،تب اس پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئیگی کہ دین اور سیا ست کا ایک دوسرے سے جداہونا نا ممکن ہے ۔

اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اسلام کی پہچان کا صحیح طریقہ قرآن مجید ہے ،جس طرح اگر ہم چاہیں کہ کسی ایک موضوع کے بارے میں عیسا ئیت کا نظریہ معلوم کریں تو اس کیلئے ہمیں انجیل کا مطا لعہ کرنا پڑے گا ،البتہ ہم نے جو کچھ بیان کیا یہ ان لوگوں کیلئے ہے جو مسائل کو سمجھنے کیلئے صحیح اور منطقی طریقہ اپنا ئیں چاہے بحث وگفتگوہو چاہے مطالعہ تحقیق وبررسی ہو ،صحیح طریقے کا انتخاب کریں ،لیکن دشمن بحث وگفتگو کیلئے صحیح اور منطقی طریقوں سے دوربھاگتا ہے کیونکہ ان کا مقصد صرف مومن لوگوں میں اعتراضات اور شبھا ت پیدا کرنا ہوتا ہے ،تا کہ ان کے ایمان کو نا قص کردیں چو نکہ ان کی بحث وگفتگو منطقی نہیں ہوتی کہ ہم اس کا جواب دیں ،لیکن پھر بھی اپنا وظیفہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اعتراضات اور شبھات کا متطقی جواب دیں ۔

۲۔کیادین سیاست سے جدا ہے؟)مذہبی و غیرمذہبی لوگوں کا نظریہ)

جن لوگوں نے دین کو سیا ست اور حکومت سے ہونے میں غیرمذہبی نظریہ کو انتحاب کیا ہے ،وہ لوگ کھتے ہیں ۔ہم کو قرآ ن سے کوئی مطلب نہیں اور اسلام پر غیرمذہبی نگا ہ سے دیکھتے ہیں ،اس سے پہلے کہ ہم اسلامی منابع وماخذ کی تحقیق وبررسی کریں یا یہ دیکھیں کہ قرآن سیاست سے متعلق کیا کھتا ہے ،یہ سوال کرتے ہیں کہ انسان کو دین کی کیا ضروت ہے ؟اور کن مسائل میں اس کو دین کی راہنمائی کی ضروت ہے ؟

انھوں نے اس مسئلہ سے متعلق اپنے خیا ل خام میں دو نظریہ فرض کیئے ہیں ،پھلافرض یہ ہے کہ انسا ن تمام چیزوں میں اور زندگی کے تمام امور میں دین کی ضروت رکھتاہو ،مثلاًکس طریقہ سے غذا آمادہ کی جائے اور کس طرح سے کھائی جائے ،یا کسی طرح مکان بنایا جائے ،شادی بیاہ کے کیا طریقے ہیں اور حکومت اور جامعہ کی تشکیل کو ایک ہی صف میں رکھا ہے ،اور اس طرح کھتے ہیں ، کیا دین کیلئے ضروری ہے کہ ان تمام مسائل کو حل کرے ،اور انسان کو علمی اور دقیق مسائل کی تحقیق کرنے کی کوئی ضروت نہیں ہے ،اور ہم کو اکثر مسائل میں دین کا منتظر نہیں اپنا چائیے کہ ہر چیز کی وضاحت دین ہی سے طلب کریں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم کوئی لباس بنانا چائیں تو پہلے یہ معلوم کریں اسلام کا نظریہ کیا ہے، اور اگرکھانا کھانا چاہیں تو دیکھیں کہ اسلام نے کن کھا نوں کی اجازت دی ہے ،اور اگر بیمار ہوجائیں اور ڈاکڑکے پاس جانا پڑے تو دیکھیں کہ اسلام نے اس سلسلے میں کیا وصیت کی ہے ؟نیز اس طرح اسلام نے حکومت اور سیاست کے بارے میں کیا نظر یہ پیش کیا ہے ۔

دوسرے فرض یہ ہے کہ دین فقط بعض چیزوں میں دخالت رکھتا ہے اور دین سے ہماری تو قعات حداقل در جہ پر ہونی چاہئے اور یہ بات طبیعی ہے کہ دین ہر اعتبار سے انسان کی ضروریات میں نظر نہیں رکھتا ، بلکہ کوئی بھی دین یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ انسان کی تمام ضروریات پوراکر سکتا ہے ۔

اور جب ہم نے یہ مشاہدہ کرلیا کہ دین ہم کو کھانا بنانا ،علاج کرنا ،ھوائی جہاز اور کشتی بنانا وغیرہ نہیں سکھاتا تو اب ہم کو یہ دیکھنا ہوگا ،وہ مسائل کہ جن کو اپنے سے بیان کیا ہے ان کا دوسرے مسائل سے بھی کیا امتیازھے ،اور اصلا دین نے کس کس میدان میں وارد ہوا ہے ۔

یہ لوگ اپنے خیال خام میں اس نتجہ پر پہونچے کہ ایک دوسری قسم کو لنتخا ب کریں اور وہ یہ ہے کہ دین فقط ان امور میں دنیاوی امور سے کوئی تعلق نھیں ۔

اور دین سے ہماری تو قعات کم سے کم ہونی چاہئے اور ہم کو چائیے کہ جن کے ذریعہ فقط ان چیزوں اور طریقوں کو پہچانیں کہ جن کے ذریعہ آخرت میں کا میابی ،جنت میں جانے، دوزخ سے نجات حاصل کی جاسکے ۔جیسے نماز پڑھنا ،روزہ ،رکھنا،حج کو انجام دینا اوردوسرے عبادی امورکو دین سے حاصل کریں ،

ان لوگوں نے اپنے خیا ل خام میں دین وسیاست کے ربط کو اس طرح حاصل کیا ہے کہ دین سیاست سے جدا ہے اور یہ کھا کہ سیاست کا دین سے کو ئی ربط نہیں ہے اور یہ کہ سیا ست کا دائرہ ونیوی امور میں ہے ،اور دین کا دائرہ آخرت سے مربوط ہے ،نہ دین کو سیا ست میں دخالت کرنا چائیے اور نہ ہی سیاست کو دین میں دخالت کرنی چائیے ،

لھٰذا وہ سیاست کہ جس کا تعلق دنیا اور علم سے ہے ،لھٰذا سیاست کو فقط علم اور انسا نی تر قی میں دخالت کا حق ہے چاہے وہ علم فیر کی ہو یا زیت شنا سی روا شناسی ہو یا جامعہ شناسی طب یا دوسرے علوم میں دین کی کوئی دخالت نہیں ہے،اور دین کی دخالت صرف اخروی امدر میں ہے ۔

ان مسائل کا تا ریچہ چند صدی پہلے مغربی ممالک کی طرف پلٹتا ہے کہ جس وقت کلیسائی پا دریوں اور علم وسیاست کے لوگوں کے درمیان اختلاف اور تضاد پیدا ہوا ،اور آپس میں مدتوں تک اسی سلسلے میں جنگ جدال ہو تی رہی ،اور آخرمیں ان کی یہ جنگ وجدال ایک بے لکھی صلح پر تمام ہوئی ،جس میں یہ طے پایاکہ دین فقط آخرت سے تعلق رکھتا ہے دین بھی انسان کا خدا سے رابطہ ،اور دنیا دی کا موں میں دخالت کرنا اہل سیاست اور اصل علم افراد کے سپرد کیا گیا ۔

یہ تمام نظریات مغربی ممالک کے تھے ،لیکن بعد میں جو لوگ ان کے تحت تاثیر قر ار پائے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے اسلامی ممالک میں بھی اس طرح تقیم ہونا چاہئے مثا ل کے طورپر اس طرح ہونا چاہئے کہ دین کی باگ ڈورفقط دینی علماء کے ھاتھوں میں ہو اور ان کا نام صرف ضروری کا موں میں حق دخالت ہو ،اور دین یا دینی علماء دنیا وی کاموں کو بالکل دخالت نہ کر یں ،لھٰذ ا سیاست کو اہل سیاست حضرات پر چھوڑدیا جائے اور دینی علماء اور فقھاء کو سیاست میں دخالت کا کوئی حق نھیں ،اور اس سلسلے میں بہت سی تقرریں ہوئی ، مقالات لکھے گئے ،اور اپنے اس نظریہ کی تائید کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی تاکہ ہمارے جوانوں کے درمیان اس اعتراض کو رائج کریں اور اس نظر یہ کو تقویت پہونچائیں کہ دین سیاست سے جدا ہیں ۔

افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ بعض پڑھے لکھے افراد نا خواستہ طوران کے نظریہ کے تحت تاثیر قرار پا ئے ،اور اہستہ اہستہ یہ نظریہ لوگوں کے ذہن میں اپنا مقام بناتا جارہا ہے ،کہ دین ،دنیا کے مقابلہ میں ہے یعنی دین انسانی زندگی کے بعض مسائل کو حل کر سکتا ہے اور دنیاوی امور کا دین سے کوئی رابطہ نھیں ،اور جب یہ اعتراضات اور شبھات ہمارے پڑھے لکھے اور مو لفین اور مقر رین حضرات کے ذریعہ بیان ہوتے ہیں تو واقعا ًیہ ہماری ملت اور جامعہ کیلئے ایک بہت بڑاخطرہ ہے ۔

۳ ۔دنیا اور آخرت میں چولی دامن کا رابطہ ہے

حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ ہماری یہ ذندگی دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے دنیا وی ذندگی ،افروی زندگی ،یعنی دنیا میں ہماری زندگی کا ایک حصہ روز پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور موت پر ختم ہوجاتا ہے اس کہ بعد دوسری زندگی عالم برزخ اور عالم قیامت میں شروع ہوتی ہے ،البتہ اس کے علاوہ بھی ایک دوسری زندگی فرض کی جاسکتی ہے اور وہ ہے عالم جنین )لیکن زندگی کی تقسیم کا ملاز مہ یہ نہیں ہے کہ ہماری چال چلن دو حصوں میں تقسیم ہوجائے اور دو نظریوں سے دیکھا جائے ،بہرحال اس وقت ہم دنیا میں ہیں اور اس دنیا میں دن بھر ہم بہت سے امور انجام دیتے رہتے ہیں دین اس وجہ سے آیا ہے تاکہ ہمارے امور کو سلیقہ عطا کرے ، اور اپنے دستوری اور تشریعی نظام کے ذریعہ ہماری رہنماکی کرے ،نہ یہ کہ دینی قوانین صرف مر نے کے بعد کیلئے ہیں ۔

ایسا نہیں ہے کہ ہماری ۵۰ یا ۶۰ سال کی عمر کا بعض حصہ دنیا سے مربوط ہو اور بعض حصہ آخرت سے ، بلکہ ہماری نظرمیں دنیا کی کو ئی بھی چیز ایسی نھیں ھے جو آخرت سے مربوط نہ ہو،بلکہ ہمارے تمام دنیاوی امور ایک طرح سے آخرت سے مربوط ہوسکتے ہیں یعنی دنیاوی امور اس طرح سے انجام پائیں کہ آخرت میں مفید ثابت ہوں ،اور ہو سکتا یھی اعمال ہمارے آخرت کے لئے مضراور نقصان دہ ثابت ہوں ،بہرحال گفتگو یہ ہے کہ ہمارے اعمال وافعال آخرت کیلئے موثر ہیں اور بنیاوی طور پر اسلامی نظریہ بھی یھی ہے کہ آخرت کی زندگی کو اسی دنیا میں سنوارا جاتا ہے :

”الیوم عملٌ ولاحساب وغداً حسابٌ ولا عمل“ (۱)

آج کا دن عمل کرنے کا دن ہے حساب کا نہیں اور روز قیامت حساب کا دن ہے وہاں عمل کی جگہ نہیں ہے۔

”الد نیا مزرعة الا خرة“ (۲)

دنیا آخرت کی کھیتی ہے (جیسا بوؤگے ویسا کا ٹو گے لھٰذا جوکام ہم دنیا میں کر یں گے آخرت میں اسی طرح بدلاملے گا ،اور ایسا نہیں ہے کہ دنیا وی زندگی کا اخردی زندگی سے کو ئی رابطہ نہیں ہے یا ہماری زندگی کا کچھ حصہ دنیاسے اور کچھ حصہ آخرت سے متعلق ہے، یعنیہماری زندگی کے الگ الگ شعبے نہیں ہیں ،بلکہ اس دنیا میں ہمارے کام اس طرح ہونا چاہئےے تاکہ ہمیں آخرت میں سعادت اور کا میابی نصیب ہو مثلاً ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سانس لینا ،دیکھنا، سننا، گفتگو کرنا ،کھانا پینا،میاں بیوں کے تعلقات اور اجتماعی روابط اس طرح ہوں کہ ہماری آخرت سنور جائے ،اور ہو سکتا ہے ہمارے یھی کام آخرت میں مضر اور نقصان دہ ہوں ،یہ بات مسلم ہے کہ کھانا پکانا اور کھانا کھانا دنیا سے مربو ط ہے لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کھانے کا یھی طریقہ جنت میں جانے کا با عث بنے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہما رے لیئے با عث عذاب ہو

( اِنَّ الَّذِیْنَ یَا کُلُونَ ا مْوَالَ الْیَتَامٰی ظُلْماً إِنَّمَا یَاکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَاراً وَسَیَصْلُوْنَ سَعِیْراً ) (۳)

”بے شک جولوگ یتیموں کا مال ناحق چٹ کر جایا کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس انگارے بھرتے ہیں اور عنقریب واصل جھنم ہونگے“

جوشخص اپنے پیٹ کویتیموں کے مال سے بھرتا ہے ا گر چہ وہ ظاہراً کھانا کھاتا ہے او اس سے لذت بھی اٹھاتا ہے لیکن یھی کھانا جو کھارہا ہے اس کے لئے جھنم کا عذاب بن جائے گا ، جس طرح اگر انسان خدا کی عبادت کرنے کے لئے کھانا کھاتا ہے تو ا سکا یھی کھانا آخرت میں ثواب واجر کا باعث ہے اسی طرح اگر انسان خدا کی خوشنودی کے لئے گفتگو کرتا ہے تو جنت میں اس کے لئے ایک درخت لگایا جاتا ہے ۔

حضرت رسول اکرم (ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: جو شخص بھی تسبیحاتاربعہ پڑھے ، خداوندعالم اس کے لئے جنت میں ایک درخت اُگاتا ہے (یہ سننے کے بعد ) بعض لوگوں نے کھا: تب تو ہمارے لئے جنت میں بہت سے درخت موجود ہوں گے، کیونکہ ہم تسبیحات اربعہ کو مکرر پڑھتے رہتے ہیں ،اس موقع پر حضرت رسول اکرم نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان کو جلانے کے لئے وہاں آگ نہ بھیجو۔

لھٰذا اگر ہمارے اعمال وکردار خدا کی خوشنودی کے لئے ہوں تو آخرت کی سعادت وکامیابی کا سبب ہوں گے، اور اگر ہمارے یھی اعمال خدا کی مرضی کے خلاف ہوں تو آخرت میں بدبختی اور عذاب جھنم کے باعث بنتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہماری یہ زندگی دو مستقل حصوں پر مشتمل ہو جس کا ایک حصہ آخرت سے مربوط ہو اور مسجد وعبادتگاہوں میں گذارا جائے او ردوسرا حصہ ہماری دنیا سے مربوط ہو جس کا آخرت سے کوئی سروکار نہ ہو۔

اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ نظریہ (دین کے حدود صرف انفرادی، عبادی مسائل اور عبادتگاہ تک ہوں کہ جس کا ثمرہ آخرت میں ظاہر ہوگا او ردوسرے مسائل دین سے خارج ہیں ) آخری چند صدی کے درمیان بعض مغربی لوگوں میں بعض ادیان کے ماننے والوں کی طرف سے رائج ہوا ہے اور اس نظریہ نے بہت سے لوگوں کے ذہن کو پراکندہ کردیا ہے ، اور نہ صرف یہ کہ اسلام میں یہ مطلب موجود نہیں ہے۔

بلکہ کسی بھی آسمانی برحق دین میں یہ مطلب نھیں پایا جاتا ہے ،ھر برحق دین کا نظریہ یھی ہے کہ انسان کی تخلیق اس وجہ سے ہوئی ہے کہ انسان اپنے لئے سعادت یا شقاوت (بدبختی) کو معین کرے، او رانسان کی ہمیشگی سعادت یا ہمیشگی شقاوت اس دنیاوی زندگی کے زیر سایہ حاصل ہوتی ہے، یعنی اگر انسان کی رفتارو،گفتار الہی قوانین کے تحت ہو تو ہمیشگی سعادت اس کے شامل حال ہوگی، او راگر انسان کے کارنامے خدا کی مرضی کے خلاف ہوں تو ہمیشگی شقاوت وبدبختی اس کے دامن گیر ہوگی۔

وہ لوگ جن کا نظریہ یہ ہے کہ دین سے ہماری توقعات کم سے کم ہونی چاہئے، انھوں نے انسانی رفتاروگفتار کو دو حصوں پر تقسیم کیا ہے جس کا ایک حصہ دین سے متعلق ہے اور اس کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے او ر دوسرا حصہ دنیا سے متعلق ہے وہ دین سے خارح ہے، جیسے سیاسی اور اجتماعی مسائل، البتہ یہ نظریہ صرف ایک مغالطہ او رکج فہمی کا نتیجہ ہے، کیونکہ ان کا خیال یہ ہے کہ اگر دین سے ہماری توقعات حداکثر ہو تو پھر ہمارے تمام امور دین کے مطابق ہونا ضروری ہیں یھاں تک کہ کھانا پینا مکان بنانا وغیرہ وغیرہ ،چونکہ انھوں نے یہ سوچا کہ یہ نظریہ نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی دین ان تمام چیزوں کو پورا کرسکتا ہے، لھٰذا یہ لوگ دین سے کم سے کم توقعات کے قائل ہوگئے۔

ان کی یہ غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی کہ انھوں نے اس مسئلہ کی صرف دوقسم تصور کی جب کہ تیسری قسم بھی موجود ہے اور یھی تیسری قسم صحیح ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم دین سے اتنی توقع نہیں رکھتے کہ تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں بتائے یھاں تک کہ کھانا کھانے ، کپڑے پہننے او رمکان بنانے کا طریقہ بتائے ، کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا، اور یہ اس لئے ہے کہ دین نے بہت سے مسائل کے بیان کو سمجھنے کے لئے دنیاوی علوم پر چھوڑ دیا ہے۔

لیکن پھر بھی یہ مسائل کسی نہ کسی اعتبار سے دین سے متعلق ہوتے ہیں ، اور یہ اس وقت ہوگا جب یہ مسائل خود ارزش مند او رپر اہمیت قرار پائیں ۔

یعنی ان کے اندر وہ پہلو بھی کار فرما ہوں جو دین سے متعلق ہیں مثلاً کھانا کھانا دینی مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر کوئی مررہا ہے ،بھوکا ہے تو اس کو کھانا کھانا واجب ہے، تو اس صورت میں یہ مسئلہ دینی ہوجائے گا۔

۴۔انسان کے دنیاوی اعمال و کردار کی اہمیت

جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری دنیاوی زندگی آخرت کی زندگی سے ایک ربط رکھتی ہے اور ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ انسانی اعمال وکردار اس کے کمال یا پستی کے باعث ہوتے ہیں ، اور ہمارا کردار سعادت اخروی میں موثر ہوسکتا ہے تو پھر ہمارے یہ افعال واعمال پراہمیت اور باارزش ہوجاتے ہیں لھٰذا ہم اب یہ دین کو حق دیتے ہیں کہ وہ ہمارے افعال وکردار کے بارے میں قضاوت کرے یا بہ لفاظ دیگر یہ کھا جائے کہ دین ہمارے حلال وحرام افعال کو بیان کر تا ہو دین ان کو انجام دینے کی کیفیت بیان نہیں کرتا، دین تو یہ کھتا ہے کہ بعض چیزوں کا کھانا حرام او رگناہ ہے ۔

مثلاً خنزیر کا گوشت اور نشیلی چیزوں کاکھانا حرام ہے لیکن شراب کیسے بنائی جاتی ہے خیزیز کیسے پالا جاتا ہے یہ دین کا کام نہیں ہے،البتہ اسلام نے خنزیر کے گوشت کو حرام اس لئے کیا ہے کہ دینی عبادات ومسائل میں یہ مانع ہے او ردینی احکام چاہے واجب ہوں یا حرام یہ سب وجوب وحرمت مثبت او رمنفی اثرات کی بنا پر جعل ہوئے ہیں یعنی احکام کے متعلقات میں انسان کی سعادت او رآخرت پائی جاتی ہے گویا احکام ایجابی وسلبی کے ذریعہ ہمارے افعال وکردار کی اہمیت پتہ چلتی ہے ۔

بہ الفاظ دیگر اس طرح عرض کیا جائے کہ انسان کی ترقی او رتکامل کی راہ ایک نقطہ سے لامتناہی نقطے کی طرف شروع ہوتی ہے اس راہ میں جو چیز ہمارے لئے مفید ہے وہ یہ ہے کہ ہم خدا کی طرف متوجہ ہوں اور انسانی معنویت کی بلندی کا زمینہ ہموار کریں ، درجات کے اعتبار سے چاہے وہ احکام واجب ہوں یا مستحب یا اس کے بعد مباح ، اور جو راہیں انسان کو تنزل او رپستی کی طرف لے جانے والی ہیں اور انسان کو راہ کمال اور خداوندعالم سے دور کرتی ہیں ”حرام“ ہیں اس کے بعد مکروہات ہیں ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دین یہ نہیں کھتا کہ کون سا کھانا کھائیں کس طرح کھانا بنائیں کس طرح مکان بنائیں بلکہ دین اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ مکان غصبی جگہ پر نہ بنایا جائے یا مکان کو اس طرح نہ بنائیں کہ جس سے دوسروں کے گھروں کی بے پردگی ہوتی ہو، دین یہ کھتا ہے کہ حلال پیسہ سے مکان بنائیں سود کے پیسہ سے مکان نہ بنائیں ، درحقیت مکان کی اہمیت او راس کی کیفیت کو بیان کرتا ہے اسی طرح دین یہ کھتا ہے کہ ہمارا کھانا ایسا ہو جس سے ہماری ظاہری اور معنوی رُشد وترقی ہو او روہ غذا ئیں جو حرام ہیں یا ”الکحل“ نشہ آور چیزوں سے پرہیز کریں جو خود ہمارے لئے ضرررساں اورنقصان دہ ہیں ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

( یَا ا یُّها الَّذِیْنَ ءَ امَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالا نْصَابُ وَ الا زْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْه لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ ا نْ یُوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِیْ الخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدُّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰه ) (۴)

”اے ایمان دارو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے تو بس ناپاک (برے) شیطانی کام ہیں تو تم لوگ اس سے بچے رہں تاکہ تم فلاح پاؤ، شیطان کی تو بس یھی تمنا ہے کہ شراب او رجوے کے بدولت تم میں باہم عداوت ودشمنی ڈلوادے اور خدا کی یاد سے باز رکھے“

نتیجہ یہ نکلا کہ دین کی حلال اور حرام کردہ چیزیں انسانی کردار کو بیان کرنے والی ہیں ،یعنی ان کے ذریعہ معلوم ہوجاتا ہے کہ انسانی کردار مثبت پہلو رکھتا ہے یا منفی، اور کیا یہ چیز ہماری سعادت او رکامیابی میں موثر ہیں ؟ اور کیا یہ چیزیں خدا تک پہونچنے کے لئے راہ ہموار کرتی ہیں ؟ یا یہ چیزیں انسان کو بدبختی اور ھلاکت کی وادی میں پہونچادیتی ہیں ؟ خلاصہ یہ کہ دین، دنیاوی کردار کے ماورای اس کردار پر توجہ کرتا ہے کہ جس کے ذریعہ انسان جنتی یا جھنمی ہوتا ہے۔

۵۔انسان کے کردار کی اہمیت کو سمجھنے میں عقلی طاقت کی شعائیں

ہمارے افعال وکردار کی اہمیت ایجاب وسلب کے لحاظ سے (یعنی ہمارے افعال ورفتارو کردار کے لئے ارزش کا اثبات کرنا یا سلب کرنا) کبھی اتنا واضح وروشن ہوتا ہے کہ جس کو عقل بخوبی سمجھ لیتی ہے اور شارع مقدس کی طرف سے تعبدی بیان کی ضرورت نہیں بلکہ عقل خودھی خداوندعالم کے حکم کو مشخص کرلیتی ہے۔

اسی وجہ سے فقھاء کرام مستقلات عقلیہ میں فرماتے ہیں : بعض مسائل میں عقل مستقل طور پر فیصلہ کرلیتی ہے اور افعال واعمال کے حُسن وقبح (اچھائی ،برائی) کو معین کرلیتی ہے اور ہم عقل کے ذریعہ سمجھ لیتے ہیں کہ خداوندعالم کا ارادہ فلاں کام کے انجام دینے یا ترک کرنے سے متعلق ہے، ہم عقل کے ذریعہ یہ پتا لگالیتے ہیں کہ خداوندعالم اس کام سے راضی ہے یا نہیں ، ہم سبھی کی عقل اس بات کو سمجھتی ہے کہ کسی یتیم کا مال کھا نابرا ہے،

اور اس سلسلے میں شارع مقدس کی طرف تعبدی بیان آنا ضروری نہیں ہے ، عقل کی تشخیص کے بعد قرآن وحدیث میں بھی اس بارے میں تعبدی بیان آنایہ حکم عقل کی تاکید کے لئے ہے، لیکن اکثر مقامات پر ہماری عقل ہمارے افعال واعمال ورفتار و کردار کی اہمیت اور پھر ان افعال کی ہماری شقاوت وسعادت میں تاثیر کی مقدار کو درک کرنے سے قاصر ہے ، اس طرح کہ ہم اپنے اعمال کے وجوب وحرمت اور استحباب وکراہت کو عقل کے ذریعہ پہچانیں ، لھٰذا ایسے مقامات پر دین کو دخالت کرنے کا حق ہے چنانچہ اس وقت دین کو ہمارے اعمال وافعال کے انجام دینے کے احکام بیان کرناہوں گے۔

۶۔دین کے حدود

جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے کہ وہ چیزیں جو ہماری ہمیشگی سعادت یا شقاوت میں موثر ہیں صر ف ان مسائل میں منحصر نہیں جو براہ راست خداوندعالم سے مربوط ہیں ، بلکہ دین ، عبادی مسائل کے علاوہ دنیاوی امور میں بھی حق دخالت رکھتا ہے اسی وجہ سے دین نے بعض کھانے پینے والی چیزوں کو حلال یا حرام ہونے کو بھی بیا ن کیا ہے۔

اور جب ہم دینی احکامات کو ملاحظہ کرتے ہیں تو اس نتیجہ پرپہونچتے ہیں کہ دینی حدود انفرادی مسائل میں محدود نہیں ہیں بلکہ اجتماعی مسائل مثلاً گھریلو مسائل، شادی، طلاق اور تجارت وغیرہ جیسے مسائل کو بھی شامل ہیں ، اور ان مسائل کا حلال وحرام ہونا ان کی اہمیت کو بیان کرتا ہے، درحقیقت دین ان امور کی حقیقت کو بیان کرکے ان کی حرکت کی جھت وسمت معین کرا ہے اور نشان دھی کررہا ہے کہ ان کے ذریعہ کس طرح سے خداوند عالم کی سمت انسان حرکت کرسکتا ہے اور کون سے امور شطان کی طرف مایل ہونے کے اسباب فراہم کرتے ہیں ۔

علم بعض چیزوں کے بیان کرنے سے قاصر ہے علم صرف یہ بیان کرتاہے کہ کس چیز کو بنانے کے لئے کن چیزوں کو کس مقدار میں ہونا ضروری ہے اورفیزیکی او ر شیمیائی چیزوں کو بیان کرتا ہے لیکن یہ بیان نہیں کرتا کہ ان چیزوں کو کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ انسان حقیقی اور واقعی کمال اور سعادت تک پہونچ سکے، ایسے مقامات پر دین کو قضاوت او رفیصلہ کرنا ہوتا ہے لھٰذا جس طرح ہمارے اعمال ہماری سعادت وبدبختی میں موثر ہوتے ہیں اسی طرح سیاسی واجتماعی امور میں ہمارے اعمال ہماری سعادت یا بدبختی میں موثر ہوتے ہیں ، صرف یھی نہیں بلکہ اس حصے میں اور زیادہ موثر ہوتے ہیں ۔

اب رہی ہماری اصل گفتگو یعنی ”اجتماعی امور“ کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ معاشرہ اور ملت کا چلانا ہماری سعادت یا بدبختی میں کوئی اثر نہیں رکھتا؟، اوراس معاشرہ کے افراد جس طرح بھی چاہیں معاشرہ کے ادارے کے لئے جس کو چنیں ،مختار ہیں او ران مسائل میں دین کوئی دخالت نہیں رکھتا؟ کون ہے جو نھیں جانتا کہ معاشرہ میں عدالت او رانصاف کی رعایت سے انسان کی سعادت او رکامیابی ہے اور عدالت وانصاف سے کام لینا ایک بہت مہم اور مثبت پہلو رکھتا ہے اس سلسلہ میں اگر کوئی آیت یا حدیث نہ ہوتی تب بھی ہماری عقل اس بات کو سمجھتی ہے کہ عدالت وانصاف کی رعایت کرنے سے انسانی کمال اور سرفرازی میں شایان شان تاثیر رکھتی ہے ،جوحضرات ان مسائل کو سمجھنے کے لئے عقل کو کافی نہیں سمجھتے،وہ قرآن واحادیث کی طرف رجوع کریں ، البتہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ سیاسی واجتماعی امور کے بہت سے مسائل کی اہمیت کو عقل سےسمجھ سکتے ہیں ، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو بھی عقل سمجھیں وہ دین کے دائرے سے خارج ہے۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ جو چیز مرضی خدا کو کشف کرتی ہے اور جو چیز خدا کی حکمت اور اس کے ارادہ کو بیان کرتی ہے اور ہم کو آگاہ کرتی ہے کہ خدا کی مرضی کیا ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اس امر کو کس راستہ کے ذریعہ کشف کریں ،بلکہ مہم یہ ہے کہ ہم خداوندعالم کے ارادہ تشریعی کو کشف کریں ، چاہے یہ کشف قرآن وسنت کے ذریعہ ہو یا عقل کے ذریعھ، کیونکہ یہ تینوں دلیلیں خدا کے احکام او ردینی قوانین کو کشف کرتی ہیں اسی وجہ سے عقل کو احکام الہی کے منابع میں شمار کیا جاتا ہے اور فقھاء کرام نے عقل کو احکام شرعی کے اثبات کرنے والی دلیلوں میں شمار کیا ہے،چنانچہ شرعی مسائل کو ثابت کرنے کے لئے عقل سے بھی تمسک کرتے ہیں ، لھٰذا ایسا نھیں ھے کہ عقل ا ور شرع کے درمیان کوئی حد موجود ہو کہ کچھ چیزیں عقل سے مربوط ہوں اور کچھ چیزیں شرع سے، بلکہ عقل ایسا چراغ ہے کہ جس کی روشنی میں خدا کی مرضی اور اس کے ارادہ کو تلاش کیا جاسکتا ہے،لھٰذا جو چیز اس طرح عقل کے ذریعہ کشف ہوگی وہ دینی ہے ۔

۷۔دین اور حکومت میں رابطہ

جو کچھ ہم نے اجتماعی اورسیاسی امور کے بارے میں دین کی دخالت کے سلسلے میں عرض کیا اس پر توجہ رکھتے ہوئے اور مختلف قسم کی حکومتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جواب تک اس دنیا میں وجود پاچکی ہیں خصوصاً وہ حکومتیں جو اسلام کے نام سے یا اسلامی زمانے میں دوسرے ناموں سے جانی جاتی تھیں ، یہ نہیں کھا جاسکتا کہ اسلام ان کے بارے میں مثبت یا منفی نظریہ نہیں رکھتا؟، اگر ہم معاویہ اور یزید کی فاسد اور ظالم حکومت کا حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی عدالت وانصاف ور حکومت سے مقابلہ کریں تو کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ اسلام ان دونوں حکومتوں کو ایک نگاہ سے دیکھتا ہے اور حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ کی حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے؟

کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ ہر انسان آزاد ہے کہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی حکومت کے طریقہ کار کو اپنائے؟! اور اس میں دین کی کوئی دخالت نہ ہو، اور انسانی کردار اور اس کی سعادت یا بدبختی میں کوئی دخالت نہیں رکھتا، یعنی کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ نہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت انسان کی آخرت میں کوئی تاثیر رکھتی ہے اور نہ ہی معاویہ کا کردار انسان کی آخرت میں کوئی اثر رکھتا ہے؟! کیونکہ حکومت کا طریقہ کار دنیا اور سیاست سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا دین سے کوئی رابطہ نہیں ہے! کیا کوئی عقلمند انسان ان باتوں کو قبول کرسکتا ہے؟ کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ دین کی نظر میں یہ دونوں حکومتیں (حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ کی حکومت) مساوی وبرابر ہیں ؟ اور دین ان میں سے کسی ایک کی مدح یا مذمت نہیں کرتا؟ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی اور حکومتی جیسے مسائل میں دین کی دخالت ضروری ہے، دین کو چاہئے کہ حکومت کے لئے مناسب ڈھانچہ پیش کرے ، دین کو بیان کرنا چاہئے کہ حاکم وقت اپنی حکومت کے آغاز ہی سے کمزور اور غریب لوگوں کی فکر میں رہے نہ کہ اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کے چکر میں لگا رہے؟!

نتیجہ یہ نکلا کہ دین میں بالخصوص دین اسلام میں سیاسی واجتماعی مسائل کی ایک بڑی اہمیت ہے اور ان کو دین کے دائرہ سے خارج نہیں کیا جاسکتا، اور اس بات کا اعتقاد صحیح نہیں کہ ان سیاسی اور اجتماعی مسائل کا انسان کی شقاوت اور سعادت میں نھیں اگرانسان کا آخرت، حساب وکتاب اور ثواب وعذاب پراعتقاد ہے تو کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ معاویہ اور یزید کی حکومت وہ تاثیر نہیں رکھتی! اگرچہ بعض اہل سنت برادران ، معاویہ کے مسئلہ کو ابھی تک حل نہیں کرسکے ہیں ،لیکن تاریخ میں ایسے بہت سے ظالم وجابر افرادگذرے ہیں جنھوں نے تاریخ کے اوراق کو سیاہ کرکے رکھا ہے، کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ ان ظالم وجابر لوگوں کی حکومت، عدالت وانصاف ور افراد کی حکومت کے برابر ہیں ؟ اسی زمانہ کو لے لیجئے جس میں ہم زندگی گذاررہے ہیں ، کیا وہ حکومتیں جو عورتوں اور بچوں کو جن کو ہر مذہب وملت میں بے گناہ مانا جاتا ہے ان کے سروگردن میں جدائی کریں ، ان پر بم گرائیں اور ان کو زندہ درگور کریں ، ان حکومتوں کے برابر ہوسکتی ہیں کہ جن کی تمام تر کوشش کمزور او رمظلوم لوگوں کی نجات کے لئے ہوتی ہیں ؟ کیایہ دونوں حکومتیں جنت میں جاسکتی ہیں ؟ لھٰذا کس طرح سیاسی واجتماعی مسائل کو دین سے خارج مانا جاسکتا ہے؟ اگر یہ طے ہے کہ دین اسلام حلال وحرام ، ثواب وعذاب اور دوسرے دینی مسائل میں اپنی خاص نظر رکھتا ہو توبدرجہ اولیٰ سیاسی واجتماعی مسائل وہ واضح وروشن مسائل ہیں کہ جن میں دین کا نظریہ ضروری ہے۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نظریہ جس میں دینی مسائل کو دنیاوی مسائل سے الگ کیا جاتا ہے او ردینی مسائل کو صرف خدا اورآخرت سے مخصوص کیا جاتا ہے، اور ان کو دنیاوی دائرہ سے خارج مانا جاتا ہے(یعنی انسان کے بعض امور،دانشمندوں اور سیاسی لوگوں پر چھوڑدئے گئے ہیں اور بعض امور، دینی علماء کرام پر چھوڑ دئے گئے ہیں ) یہ نظریہ بالکل غلط اور باطل ہے اور کسی بھی طریقہ سے اسلامی نظریہ سے سازگار اور موافق نہیں ہے، اسلام انسان کیلئے جس زندگی کے بارے میں نظریہ رکھتا ہے اور اسلام جس طرز زندگی کو پیش کرتا ہے اور ہمیں اس کی طرف دعوت دیتا ہے اس (گذشتہ)نظریہ سے ہم اہنگ وموافق نہیں ہے۔

چھوڑئے ان لوگوں کو جو اس طرح کا نظریہ رکھتے ہیں یہ لوگ نہ خدا پر اعتقاد رکھتے ہیں او رنہ ہی قیامت پر، ان کی یہ باتیں صرف اور صرف اس وجہ سے ہوتی ہیں تاکہ علماء دین کو اس میدان سے باہر نکال دیں ، لیکن ہم کو ان کے ذاتی عقیدہ سے کوئی مطلب نہیں ہماری عرض تو صرف یہ ہے کہ دنیاوی مسائل کو دینی مسائل سے جدا کرنے کا نظریہ اور دنیاوی مسائل کو دینی حدود سے خارج کرنے کا نتیجہ اسلام کے انکار کاسبب بنتا ہے او راس کے علاوہ کوئی دوسرا نتیجہ نہیں رکھتا، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ انسان کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہے جو ہماری سعادت یا بدبختی میں موثر نہ ہو، لھٰذا ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ ہماری تمام زندگی میں دین اپنا نظریہ دے سکتا ہے اور اس کی اہمیت کو بیان کرسکتا ہے۔جیسا کہ حضرت رسول اکرم(ص) نے فرمایا ہے:

”مامن شی یقرّبکم الی الجنة ویباعدکم عن النار الاّٰ وقدامرتکم بہ ومامن شی یقربکم من النار ویباعدکم من الجنّة الاّٰ وقدنھیتکم عنہ“(۵)

”نھیں ہے کوئی ایسی چیز کہ جو تمھیں جنت سے قریب کرے اور جھنم سے دور کرے مگر یہ کہ میں نے تم کو اس کے کرنے کا حکم دیا ہے او رنھیں ہے کوئی ایسی چیز کہ جو تمھیں جھنم سے قریب اور جنت سے دور کرے مگر یہ کہ میں نے تم کو اس سے منع کیا ہے“

اسلامی نظریہ کے مطابق سعادت کے معنی جنتی ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں اور بدبختی کے معنی جھنمی ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے:

( فَا مَّا الَّذِیْنَ شَقُوا فَفِی النَّارِ وَا مَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ ) (۶)

” تو جو لوگ بدبخت ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے اور جو لوگ نیک بخت ہیں وہ تو بھشت میں ہوں گے “

۸۔دین کی جامعیت

پیغمبر اکرم کے فرمان کے مطابق ایک دوسرا نظریہ بھی باطل ہوجاتا ہے ، وہ یہ ہے کہاگر کوئی یہ کھے: ٹھیک ہے کہ دین حلال وحرام کو بیان کرسکتا ہے لیکن زندگی کے بعض امور کو خود پیغمبر اکرم نے بیان کردیا ہے اور بعض دوسرے امور کو لوگوں پر چھوڑدیا ہے بعض وہ چیزیں جو آنحضرت کے زمانے سے متعلق تھیں وہ بیان کردیں اور باقی چیزوں کو ہم لوگوں پر چھوڑدیا تاکہ زمان ومکان کے لحاظ سے ہم خود طے کرلیں کہ کون چیزیں حلال ہیں اور کون چیزیں حرام۔

کیونکہ اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے سعادت تک پہونچنے والی تمام چیزوں کو بیان نہیں فرمایا جبکہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی ایسی چیز کہ جس کے ذریعہ تمھاری سعادت کی ضامن ہو مگر یہ کہ میں نے اس کو بیان کردیا، البتہ آنحضرت کے فرمان کے یہ معنی نہیں کہ آپ نے تمام چیزوں کی جزئیات بھی بیان کردیں ، بلکہ آپ نے کلّی چیزوں کو بیان کیا ہے تاکہ آئندہ زمانے میں ائمہ (ع) اور مجتھدین جو ایسی صلاحیت رکھتے ہیں کہ جزئی احکام ،اور حلال وحرام کو کلی عناوین پر منطبق او رمرتب کرکے ان کے احکام کو معلوم کرلیں ، او ران کو عناوین اولیہ یا عناوین ثانویہ یا حکومتی احکام کے عنوان سے لوگوں کے سامنے پیش کریں ، بے شک مصادیق کی تشخیص او رجزئی احکام، انہیں کلی احکام پر منطبق ہیں کہ جو قرآن ،سنت اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں ذکر ہوئے ہیں جن کو اصطلاحاً فتویٰ کھا جاتا ہے۔

حوالہ

((۱)بحارالانوار ج ۳۲ص ۳۵۴

(۲)بحارالانوار ج ۷۰ ص ۲۲۵

(۳)سوہ نساء آیت ۱۰

(۴)سورہ مائدہ آیت ۹۰،۹۱-

(۵)بحارالانوار ج ۷۰ص۹۶

(۶)سورہ ہود آیت ۱۰۶،۱۰۸


پانچواں جلسہ

اسلام میں آزادی(۱)

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر

ہم نے اسلام میں سیاست کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ حکومتی اور سیاسی مسائل، معرف اسلامی کا ایک حصہ ہیں اس سے قبل ہم نے اشارہ کیا کہ بعض لوگوں نے جامعہ میں انحراف اور کج روی پیدا کرنے کے لئے نیز لوگوں کے ذہنوں کو پراکندہ کرنے کے لئے اسلامی حکومت کے سلسلہ میں بہت سے اعتراضات کئیے ہیں جن میں سے ایک شبہ یہ تھا کہ دین کا دائرہ دنیا کے دائیرہ سے جدا ہے اور دین دنیاوی مسائل میں کوئی مداخلت نہیں کرتا اور یہ کہ دنیاوی امور میں دخالت کرنا دین کے شایان شان نہیں ہے دین کا کام صرف ان امور سے وابستہ ہے جو آخرت اور منویات سے مربوط ہیں اور انسان کا خدا سے رابطہ کا نام دین ہے ،خلاصہ یہ کہ دین سے کم سے کم امید رکھیں اس سے پہلے جلسہ میں ہم نے اس اعتراض کاجواب عرض کیا اور ہم نے ”دین سے ہماری امیدیں “کی بحث کے سلسلہ میں اس مغالطہ (کہ دین سے ہماری امیدیں زیادہ ہوں یاکم سے کم )کا جواب مفصل طور پر عرض کیا تھا۔

جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی اور اس سے متعلق دوسری واقفیتوں کے دو رخ ہیں :پھلا رخ یہ ہے کہ سببی اور مسببی علت اور معلول رابط موجود ہے جیسا کہ یہ رابطہ تمام چیزوں میں بھی پایاجاتا ہے ،مثلا کون کون سی چیزیں آپس میں مرکب ہوں تاکہ فلاں شیمیائی چیز وجود میں آسکے ،اور ایک زندہ چیز کن شرائط کے ساتھ رشد و نمو کرتی ہے، یہ انسان جو ایک زندہ چیز ہے کس طرح زندگی کرتا ہے اور کس طرح اپنی صحت و سلامتی کو محفوظ کرتا ہے، اور جب مریض ہوجائے تو کس طرح اپنا علاج کرائے ۔دوسرا رخ یہ ہے کہ اس دنیا کی تمام حقیقوں کا انسان کی روح اور معنوی کمالات سے رابطہ ہے ۔

۲۔علم اور دین کے مخصوص دائرے

الکحل کو کس طرح اور کن چیزوں کے ذریعہ بنایا جاتا ہے اورالکحل کتنے طریقوں کا ہوتا ہے یہ ایک علم ہے اور ایسی چیزوں کی تحقیق اور بررسی کرنا دین کی ذمہ داری نہیں ہے دین کی ذمہ داری یہ ہے کہ بیان کرے کہ الکحل کو پیا جائے یا نھیں ؟ اور اس کا انسان کی روح اور معنوی پہلو کے لئے نقصان دہ ہے یا نہیں دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ دین کی ذمہ داری یہ ہے کہ بیان کرنا ہے کہ الکحل کا استعمال کرنا حلال ہے یا حرام؟ اس طرح دین دوسری چیزوں کے احکام کو بیان کرتا ہے، نہ کہ اس علمی اور تحقیقی پہلو کو بیان کرتا ہے دین ان چیزوں کی ترکیبات سے بحث نہیں کرتا بلکہ وہ توان چیزوں اور انسانی روح اور اس کی صلاح و اچھائی کے رابطہ کو بیان کرتا ہے اور ان کی تحقیق و بررسی کرتا ہے ،کس کارخانہ یا تجارتی گروپ کا منیجر کس طرح صحیح طور پر کام کرسکتا ہے اور کس طرح کے پروگرام بنائے جائیں تاکہ اچھے نتائج برآمد ہوسکیں ان سوالوں کا جواب علم دے سکتا ہے لیکن ان کارخانوں میں کیا چیز بنائی جائے اور کون سی چیز بنانا جائز ہے اور کون سی چیز حرام ہے اور کون سی چیز انسانی روح سے مربوط ہے یہ دین کاکام ہے ۔

۳۔دینی حاکمیت کا آزادی سے ٹکراؤ،ایک شبہ

لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک شبہ جو مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے البتہ یہ شبہ صرف ایک مغالطہ ہے،وہ شبہ یہ ہے کہ اگر دین انسان کے سیاسی اور اجتماعی کاموں میں مداخلت کرے اور لوگوں کو کسی خاص طریقہ کو اپنانے پر زور دے یا کسی کی اطاعت کا حکم دے تو یہ انسان کی آزادی کے خلاف ہے اور انسان چونکہ آزاد اور صاحب اختیار ہے کہ جو چاہے کرے جو چاہے نہ کرے،اور اس کو کسی کام پر مجبور کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے، اور چونکہ دین انسان کے لئے تکلیف معین کرتا ہے، اور اس کو کسی کی اطاعت کا حکم کرتا ہے اطاعت بھی اطاعت مطلق (یعنی چون و چرا)یہ سب کچھ آزادی سے میل نہیں کھاتا۔

۴۔مذکورہ شبہ دینی انداز میں

مذکورہ شبہ کو مختلف شکلوں میں بیان کیا جاتا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ شبہ کرنے والا اپنی دینداری کا ڈنکا بجاتا ہے اور خود کو قرآن کا ماننے والا کھتاہے اور اپنے شبہ کو مومنین اور متدین افراد پر کارگر کرنے کے لئے اس کو قرآنی اور دینی محمل سے سجاتا ہے اور کھتا ہے کہ اسلام، انسان کی آزادی کا خاطر خواہ احترام کرتا ہے اور قرآن کریم دوسروں کے تسلط اور حکومت کی نفی کرتا ہے یھاں تک کہ خود پیغمبر اسلام کسی پر تسلط (حق حکومت) نہیں رکھتے تھے، اور کسی کو مجبور نہیں کیا گیا لھٰذا قرآن کے نظریہ کے مطابق انسان آزاد ہے اور کسی کی اطاعت پر مجبور نہیں ہے ۔

ان تمام شبھات اور مغالطوں کا مقصد، ولایت فقیہ کے اصولوں کو ضعیف اور کمزور کرنا ہے، اسی مقصد کے لئے یہ شبہ ایجاد کیا گیا ہے تاکہ ولایت فقیہ کی اطاعت کو انسانی آزادی کے خلاف قرار دیا جاسکے،اور یہ اسلامی نظریہ کے سراسر مخالف ہے کیونکہ انسان اشرف المخلوقات اور زمین پر خدا کاخلیفہ ہے،ذیل میں ان آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کو شبہ کرنے والوں نے اپنا مدرک بنایا ہے

(۱) خدا وند عالم پیغمبر اکرم سے خطاب فرما رہا ہے :

( فَذَکِّرْإنَّمَاا نْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْهمْ بِمُصَیْطِرْ ) (۱)

”تم تو بس نصیحت کرنے والے ہو، تم کچھ ان پر داروغہ تو ہو نھیں “

اس آیت کے پیش نظر، پیغمبر اسلام سب سے بلند و بالا مقام رکھتے ہیں جب وہ تسلط نہیں رکھتے اور مسلمان آزاد ہیں ان پر پیغمبر کی اطاعت کرنا لازم نہیں ہے اور پیغمبر اکرم کو لوگوں کی زندگی کے بارے میں اظھار خیال کرنے کا حق بالکل نہیں ہے۔

۲۔( وَمَا جَعَلْنَاکَ عَلَیْهمْ حَفِیْظاً وَمَا ا نْتَ عَلَیْهمْ بِوَکِیْلٍ ) (۲)

”اور ہم نے تم کو لوگوں کا نگھبان تو بنایا نہیں ہے اور نہ تم ان کے ذمہ دار ہو“

۳۔(وَمَا عَلَیالرَّسُولِ إلاَّ الْبَلاَغُ ) (۳)

”(ہمارے )رسول پر پیغام پہونچادینے کے سوا (اور)کچھ(فرض) نھیں “

۴۔( إِنَّا هدَیْنَا ه السَّبِیْلَ إمَّا شَاکِراً وَإِمَّا کَفُوْراً ) (۴)

”اور ہم نے (انسان) کو راستہ بھی دکھادیا (اب وہ) خواہ شکر گذار ہو خواہ ناشکرا“

۵۔( وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُومِنُ وَ مَنْ شَاْءَ فَلْیَکْفُرْ ) (۵)

”(اے رسول) تم کھہ دو کہ سچی بات (کلمہ توحید) تمھارے پروردگار کی طرف سے (نازل ہوچکی ہے) بس جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے“

مذکورہ اعتراض کا جواب

اس اعتراض کے جواب میں ہم یہ کھتے ہیں کہ معترض نے جن آیات کے ذریعہ رسول خدا کے تسلط نہ ہونے اور آنحضرت کی اطاعت کو واجت نہ ہونے پر تمسک کیا ہے، ان کے مقابلے میں دوسری ایسی آیات موبھی جود ہیں جو خود معترض کی غلط اور غیر صحیح برداشت کے منافی ہیں ذیل میں ہم ان آیات کو بیان کرتے ہیں :

۱-( ومَا کَانَ لِمُومِنٍ وَلَا مُومِنَةٍ ِاذَا قَضَی اللّٰه وَرَسُولُه اَمْراً اَنْ یَکُوْنَ لَهمُ الخِیَرَةُ مَنْ ا مرِ هِمْ ) (۶)

”اور نہ کسی ایماندار مرد کو یہ مناسب ہے اور نہ کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدا اور اس کے رسول کسی کام کا حکم دیں تو ان کے اپنے اس کام (کے کرنے نہ کرنے) کا اختیار ہو “

مذکورہ آیت واضح طور پر خدا و رسول کی اطاعت کو لازم اور ضروری ہونے کو بیان کررہی ہے کہ مومنین کو رسول خدا کی اطاعت سے سر پیچی کرنے کا کوئی حق نھیں ھے۔

۲( انَّمَا وَلِیُکُمُ اللَّه وَ رَسُولُه وَلَّذِینَ یُقِیمونَ الصَّلاه وَ یُوتُونَ الزَّکاةَ وَهمْ رَاکِعُونَ ) (۷)

”(اے ایماندارو) تمھارے مالک سرپرست تو بس یھی ہیں خدا اور اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں “

۳ )۔( النَِّبیُ ا وْلیٰ بِا لْمَومِنِینَ مِنْ ا نْفُسِهمْ ) (۸)

”نبی تو مومنین سے خود ان کی جانوں سے بھی بڑہ کر حق رکھتے ہیں “

دونوں صورتوں میں لوگوں کے بارے میں پیغمبر اکرم کی رائے خود اپنے بارے میں ان کی رائے پر مقدم ہے اس آیت کے سلسلہ میں تمام مفسرین قرآن اس بات پر متفق ہیں ، لھٰذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ پیغمبر کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم رکھیں اور پیغمبر کی رائے کی مخالفت کرنے کا حق نہیں رکھتے ، البتہ مذکورہ آیت رسول خدا کی اصل ولایت کو بیان کررہی

ھے، اور یہ بیان نہیں کررہی ہے کہ آنحضرت کی ولایت کھاں تک محدود ہے ،اور آنحضرت کی ولایت اور آپ کی رائے کا مقدم ہونا صرف احتمالی امور میں ہے یا اجتماعی امور کے علاوہ مشخص امور کو بھی شامل ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شبہ کرنے والے نے جن آیات سے تمسک کیا کہ رسول اور ان کے جانشینوں کی اطاعت کی نفی کی گئی ہے ان دو طرح کی آیات کے تناقض (ٹکراؤ) کا جواب بھی دے ہوسکتا ہے کہ معترض ان آیات سے بالکل غافل ہو، یا ان آیات کے مطلب کو قبول ہی نہ کرتا ہو لیکن چونکہ ہم قرآن کریم کی آیات میں تناقض اور تعارض کے منکر ہیں لھٰذا ہمیں چاہیے کہ ان آیات کے ظاہری تناقض کو حل کریں اس اہم امر کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان دو طرح کی آیات کو پہلی اور بعد کی آیتوں نیز آیات کے لحن (طرز) اور ان کے مخاطبین کو ملاحظہ کریں تاکہ آیات کے حقیقی مطلب کو سمجھ سکیں ۔

۵۔قرآن پر مختلف توجہ کی دلیل

جس وقت ہم آیات کے پہلے اور دوسرے گروہ پر دقت کرتے ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آیات کا لحن ایک دوسرے سے مختلف ہے:آیات کا پہلا گروہ ان لوگوں کے بارے میں ھے کہ جھنوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا ہے اسی وجہ سے خدا وند عالم ان لوگوں کو حقیقت اسلام کی رہنمائی کرتا ہے اور اپنی اطاعت کے فوائد کو بیان کرتا ہے اور جب اپنے پیغمبر جو خدا کی رحمت و مھربانی کے مظھر ہیں مگر بعض لوگوں کے اسلام کو قبول نہ کرنے اور خدا کی اطاعت سے روگردانی کرنے کی وجہ سے پریشان دیکھتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں یہ لوگ دو زخ کے راستہ کو اپنے لئے ہموار کرتے ہیں ایسے موقع پر خدا وندعالم اپنے رسول کو نگران و پریشان دیکہ کر ان کی دلجوئی کرتا ہے کہ اے میرے حبیب ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے کیوں غمگین ہوتے ہیں اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں ہم نے اسلام کو اس لئے نازل کیا تاکہ لوگ اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے اسے قبول کریں وگرنہ اگر ہم چاہتے تو تمام لوگوں کی ہدایت کردیتے اور اس کی قدرت بھی ہم میں ہے:

( وَلَوْشَاءَ رَبُّکَ لَآ مَنَ فِیْ الا رْضِ کُلُّهمْ جَمِیْعاً ا فَا نْتَ تُکْرِه النَّاْسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُومِنِیْنَ ) ۔(۹)

”(اے پیغمبر) اگر آپ کا پروردگار چاہتا ہے تو جتنے لوگ روئے زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو تاکہ سب کے سب ایماندار ہوجائیں “

خدا وند عالم کا انبیاء کو بھیجنے کا ہدف یہ ہے کہ لوگ حق کو پہچانتے ہوے اپنے لئے سعادت کا راستہ اپنائیں اور اپنے اختیارسے دین حق کو قبول کریں نہ یہ کہ خدا وند عالم ان کو ایمان لانے پر مجبور کرے وہ ایمان جو اکراہ اور اجبار سے حاصل ہو اس کی کوئی قیمت نہیں ہے اور ہمارے پیغام کو پہونچانا تھا لھٰذا آپ ان مشرکین کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے پریشان نہ ہوں ، کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ نے اپنی رسالت کی ذمہ داری پر عمل نہیں کیا، آپ کی رسالت یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو خوف اور اکراہ کے ذریعہ مسلمان کریں ، کیونکہ ہم نے آپ کو کفار پر مسلط نہیں کیا ہے تاکہ طاقت کے زور پر ان کو مسلمان کرسکیں آیات کے پہلے گروہ کے مقابلے میں آیات کا دوسرا گروہ ان لوگوں کے بارے میں ہیں کہ جنھوں نے معرفت و شناخت کے ساتھ اپنے اختیار سے اسلام کو قبول کیا ہے ان آیات میں ان افراد کو پیغام دیا جارہاہے کہ اسلامی احکامات پر عمل کریں اور اس پیغمبر کی اطاعت کریں کہ جس کے بارے میں اعتماد رکھتے ہیں کہ یہ پیغمبر اور اس کے تمام احکامات خدا کی طرف سے ہیں اور اس پیغمبر کی رائے کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور آنحضرت کے فرمان پر حق انتخاب بھی نہیں رکھتے۔

اسلام قبول کرنے سے پہلے انسان کو حق انتخاب ہے لیکن اسلام کو قبول کرنے کے بعد تمام شرعی احکامات کو تسلیم کرنا ہوگا اس بنا پر وہ لوگ جو خدا کے بعض احکام پر ایمان رکھتے ہیں خدا وند عالم ان کی سخت مذمت کرتا ہے :

( اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُونَ باِللَّه وَرُسلِه وَیُرِیدُوْنَ اَنْْ یُفَرِّ قُُُوْا بَیْنَ اللّٰه وَرَسُلِه وَیَقُوْلُوْنَ نُومِنُ بِبَعْضٍ وَ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَ یُرِیْدُوْنَ ا نْ یَتَّخِذُوْا بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیْلاً ا وْلٰئِکَ همُ الْکَافِرُوْنَ حَقّاً ) (۱۰)

”بے شک جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں سے انکار کرتے ہیں اورخدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں او رکھتے ہیں کہ ہم بعض (پیغمبروں ) پر ایمان لائے ہیں اور بعض کا نکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس (کفر و ایمان) کے درمیان ایک دوسری راہ نکالیں یھی لوگ حقیقتاً کافر ہیں “

بعض احکام کو قبول کرنا اور دوسرے احکام قبول نہ کرنا اسی طرح بعض قوانین کو قبول کرنا اور دوسرے قوانین سے سرپیچی کرنا گویا اص دین کا انکار کرناہے، کیونکہ اگر دین کو قبول کرنے کا ملاک و معیار خدا وند عالم کے احکامات ہوں تو احکامات الھی کے حساب سے عمل کیا جائے اور خدا کے احکامات تمام احکام و قوانین کو قبول کرنے کے لئے ہیں یھاں تک کہ اگر دین قبول کرنے کا معیار مصالح اور مفاسد ہوں کہ جن کو خدا جانتا ہے، اور اپنے احکامات میں ان کو ملاحظہ کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا وند عالم تمام مصالح و مفاسد کو جانتا ہے، لھٰذا پھر کیوں بعض احکام کو قبول کیا جائے نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے جو پیغمبر کا بھی معتقد ہو اور آنحضرت کی قضاوت اور ان کے فرمان کو قبول کرے اور دل سے بھی اس پر راضی رہے حتی ناراحتی کا احساس بھی نہ کرے ۔

( فلَاَ وَ رَبِّکَ لَایُومِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْ کَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا ِفیْ ا نْفُسِهمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْ تَسْلِیْماً ) (۱۱)

”پس (اے رسول) تمھارے پروردگار کی قسم یہ لوگ سچے مومن نہ ہوں گے تاوقتیکہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تم کو اپنا حاکم (نہ) بنائیں پھر (یھی نہیں بلکہ) جو کچھ تم فیصلہ کرو اس سے کسی طرح دل تنگ بھی نہ ہوں بلکہ خوش خوش اس کو مان لیں “

حقیقی مومن، رسول خدا کی قضاوت اور فیصلہ کو دل سے قبول کرتاہے اور ناراحتی کا احساس نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو پورا یقین ہے کہ یہ رسول خدا کا بھیجا ہوا ہے ان کا حکم خدا کا حکم ہے یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کھتا

( إِنَّا ا نْزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاْسِ بِمَا ا رَاکَ اللّٰه ) (۱۲)

(اے رسول) ہم نے تم پر برحق کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ جس طرح خدا نے تمھاری ہدایت کی ہے اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو “

اگر کوئی اسلام کو قبول کرنے کے بعد کھے، میں اسلامی احکام میں عمل کرنے سے آزاد ہوں اگر چاہوں عمل کروں اگر چاہوں عمل نہ کروں یہ اس حکومت کی طرح ہے کہ جو ڈیموکراسک اور آزاد ہے وہ لوگ اپنی مرضی سے اس حکومت کے انتخاب میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے ووٹوں کے ذریعہ وزیر اعظم، رئیس جمہور اور ممبر آف پارلیمینٹ کو منتخب کرتے ہیں لیکن جب یھی حکومت کوئی قانون بناتی ہے تو اس پر عمل کرنے سے ؟

اور جب یہ حکومت ٹیکس لگاتی ہے تو کیا کوئی کھہ سکتا ہے کہ میں نہیں دونگا اصل حکومت اور اس کے ووٹ دینے میں آزاد تھے لھٰذا اب بھی آزاد ہیں کہ اس کے قانون پر عمل کریں یا عمل نہ کریں ان باتوں کو کوئی بھی عقلمند قبول نہیں کرسکتا۔

جی ھاں : اسلام کو قبول کرنے میں کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسلام دلی اعتقاد کا نام ہے اور طاقت کے زور پر کسی نے اسلام قبول کرلیا تو اس وقت اس سے کھا جائےگا نماز پڑھو اور اگر کوئی کھے کہ میں نماز نہیں پڑھوں گا یا اگر اس سے کھا جائے کہ زکاة دو لیکن زکاة دینے سے انکار کرے، اےک تو کوئی بھی انسان اس کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ اگر کسی نے اسلام قبول کرلیا تو اس کے تمام احکام کو بھی قبول کرنا پڑے گا یہ نہیں ہوسکتا کہ اسلام تو قبول کرلے لیکن اس کے احکامات کو قبول نہ کرے، اور اپنی مرضی کے مطابق اعمال انجام دے کوئی بھی حکومت اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ انسان اس کو ووٹ دے لیکن عملی میدان میں اس حکومت کے قوانین کو قبول نہ کرے، اجتماعی زندگی میں بنیادی ترین اصل وظائف اور تعھد و پیمان اور وعدہ پر وفا دار نہ ہو تو اجتماعی زندگی بالکل ہی وجود نہیں پاسکتی۔

لھٰذا اگر کوئی یہ کھے کہ میں اسلام کو قبول کرتا ہوں اور پیغمبر پر ایمان رکھتا ہوں لیکن اسلام مے احکامات پر عمل نہیں کرتا اور اس کی حاکمیت اور ولایت کو قبول نہیں کرتا تو ایسے اسلام کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ اسلام اور پیغمبر کو قبول کرنا اور اطاعت و پیروی نہ کرنے میں ظاہری تناقض پوشیدہ ہے۔

ہماری گفتگو سے یہ واضح و روشن ہوچکا ہے کہ اگر کوئی انصاف کی آنکہ سے آیات کو ملاحظہ کرے اور ان کی دلالت، لحن اور ما قبل و مابعد کو غور سے دیکھے تو قرآن کریم میں کوئی تناقض نہیں ملے گا اور مذکورہ شبہ کی اطاعت اور آزادی میں جو تناقض ہے وہ بالکل ختم ہوجائے گا جیسا کہ قرآن مجید نے بھی اسی کو صحیح کھا ہے )

لیکن جن کے دل مریض ہیں وہ قرآن کریم کو صداقت اور انصاف سے نہیں دیکھتے اگریہ لوگ قرآن کا مطالعہ کرتے تو اس وجہ سے کہ اپنی کج فکری اور منحرف نظریات کی دلائل تلاش کریں ، اور اس وجہ سے کہ قرآن کی آیات کے بعض حصوں کو انتحاب کرتے ہیں اور سیاق و سباق (پہلی اور بعد والی آیتوں کو ) نہیں دیکھتے اور قرآن کے مطابق محکمات قرآن کو چھوڑدیتے ہیں اور متشابھات کی پیروی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں :

( فَا مَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا َتشَابَه مِنْه ابْتَغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتَغَاءَ تَاوِیْلِه وَمَا یَعْلَمُ تَا وِیْلَه إلاّٰ اللّٰه وَالرَّاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ ) (۱۳)

”پس جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ انہیں آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہیں تاکہ فساد برپا کریں اور اس خیال سے کہ انہیں اپنے مطلب پر ڈھال لیں حالانکہ خدا او ران لوگوں کے سوا جو علم میں بڑے پایہ پر فائز ہیں ان کا اصلی مطلب کوئی نہیں جانتا“

متشابھات کی پیروی کے علاوہ آیات کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں اور آیت کے ایکجملہ کو اخذ کرتے ہیں اور ماقبل و مابعد کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کو قرآن مجید میں تناقض نظر آتا ہے جیسا کہ مذکورہ شبہ میں ان لوگوں نے آیات کے ما قبل و ما بعد کو چھوڑ تے ہوے اعتراض کیا کہ پیغمبروں کی ولایت آزادی کے مخالف ہے ۔

وہ آیات کہ جن میں رسول اسلام کے تسلط کا انکار کیا گیا ہے وہ کفار کے اسلام قبول کرنے سے پہلے نازل ہوئی تھیں جن میں کھا گیا ہے کہ رسول ان کو طاقت کے زور ں پر اسلام قبول نہ کروائیں یعنی آنحضرت کفار پر تسلط نہیں رکھتے، در حقیقت ان آیات کے مطابق احکام الھی میں عمل کی آزادی اسلام لانے سے پہلے ہے ورنہ تو اسلام قبول کرنے والے ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیغمبر اور دوسرے اسلامی احکام کی پیروی کریں اور اس کا وظیفہ ہے کہ تمام اسلامی احکامات کی رعایت کریں ،اسلامی اور الھی قوانین کی توہین نیز دین کی توہین یا تجاہر بہ فسق (کھلے عام گناہوں کا مرتکب ہونا ) کرنے والوں کا شدت سے مقابلہ کرتی ہے یہ در حقیقت جامعہ پر اسلامی حکام کی ولایت ہی تو ہے کہ جو ان کو موظف کرتی ہے کہ ایمان اور اسلام کے تمام لوازمات پر موید ہیں وہ اسلام ہے جو خود انھوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا ہے ۔

۶۔مذکورہ شبہ غیر مذہبی طریقہ سے

اب تک اس شبہ کے جواب میں بحث کی گئی ہے جو قرآنی اور دینی لھجہ میں تھا، اور یہ شبہ اس شخص کی زبان سے تھا جو خود مسلمان اور دیندار کھلاتا ہے، اور آیات قران کو دلیل بناتا ہوا یہ نتیجہ اخذ کرتا تھا کہ اسلام کو الزام آور فرمان نہیں دینا چاہیے، یعنی اسلام کو لوگوں کی زندگی میں دخالت نہیں کرنا چاہیے کیو نکہ یہ دخالت خود اسلام کی قبول کردہ آزادی کے خلاف ہے۔

اس وقت اس اعتراض کے بارے میں بحث کرتے ہیں کہ جو غیر مذہبی طور پر کیا جاتا ہے، اس اعتراض میں شبہ کرنے والے کی یہ فکر ہے کہ اسلام کے الزام آوراحکام اور اس کی اطاعت و پیروی کو جوہر انسانیت سے نا سازگار اور منافی قرار دے، اگرچہ یہ شبہ چند طریقوں سے کیا گیا ہے، ہم یھاں پر بعض طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

منطق کی اصطلاح میں ”اختیار“ انسان کی فصل اور مقوم ہے اور اسی سے جوہر انسانیت کی وجود پاتا ہے، لھٰذا اگر ہم انسان سے اختیار اور اس کی آزادی کو سلب کرلیں اور اس کو مجبور کریں تو گویا ہم اس سے انسانیت کو سلب کررہے ہیں اور گویا اس کو ایک حیوان کی مانند قرار دے رہے ہیں ،اور اس کی گردن میں لگام ڈال کر ادھر اُدھر کھینچ رہے ہیں ، لھٰذا انسان کی اہمیت اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کو ”حق انتخاب“ دیں ، اور اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین اس کے لئے الزام آور احکام بیان نہ کرے، اور اگر اس کو پیغمبر، ائمہ اور نائبین ائمہ کی اطاعت کے لئے مجبور کرے، تو اس صورت میں انسانیت کااحترام او راس کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے اور گویا ہم اس کو حیوان کی طرح قرار دیکر ادھر اُدھر لے جارہے ہیں ۔

۷۔”ھیوم “کا اعتراضات اور ان کے جوابات

اول: ہم مذکورہ اعتراض کے دو جواب پیش کریں گے اور چونکہ معترض کا اعتراض ہیوم کے اعتراض کی طرح ہے ، ہیوم کا اعتراض یہ ہے کہ عقل نظری ”است ھا“(ھے) کو درک کرتی ہے اور عقل عملی ”باید ھا ونباید ھا“(فلاں چیز ہونی چاہئے اور فلاں چیز نہیں ہونی چاہئے) کو درک کرتی ہے اور چونکہ عقل نظری کا ،عقل عملی سے کوئی ربط نہیں ہے لھٰذا عقل عملی کی درک شدہ چیزووں (بایدھا ونباید ھا) کو عقل نظری کی بنیاد قرار نہیں دی جاسکتی۔

ھیوم کا اعتراض مغربی فلاسفہ کی قابل توجہ قرار پایا اور انھوں نے اس کو بہت سی علمی چیزوں کی بنیاد قرار دیا، جمہوری اسلامی ایران کے انقلاب کے بعد بہت سے مغربی دانشمندوں نے یہ اعتراض کیا کہ ہم ”است ھا“ سے ”باید ھا“کا نتیجہ نہیں نکال سکتے مثلاً اگر کوئی شخص ایک خاص صفت رکھتا ہے تواسکا نتیجہ یہ نہیں لیا جاسکتا ہے کہ اس طرح ہونا چاہئے یا نہ ہونا چاہئے، کیونکہ ”است ھا“ کی درک کرنے والی عقل نظری ہے اور ”باید ھا“ کو درک کرنے والی عقل عملی ہے، جبکہ ان دونوں میں کوئی ربط نہیں ہے۔

ھیوم کے اس اعتراض کو ماننے والے یہ کھتے ہیں : لوگوں کو کسی کام پر مجبور کرنا ان کی انسانیت کے خلاف ہے، لھٰذا دین کو الزام آور احکامات پیش نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ انسان مختار اور آزاد ہے ، پہلے یہ کھتے ہیں کہ انسان مختار ہے لھٰذا اس کو آزاد رہنا چاہئے ، اور اس کو مجبور نہیں کیا جانا چاہئے اس بناپر انسان کے مختار ہونے سے کہ جو ”است ھا“ میں سے ہے اور جس کو عقل نظری درک کرتی ہے ”باید ونباید“ کہ جس کو عقل عملی درک کرتی ہے کا نتیجہ لیتے ہیں اور ان کی بنیاد یھی تناقض ہے کہ جس کو وہ خود قبول کرتے ہیں کہ ”است ھا“ کے ذریع ”باید ھا“کا نتیجہ نکلے۔

البتہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اگر است ھا کسی چیز کی علت تامہ ہو تو اس وقت اس کا نتیجہ باید ھا لیا جاسکتا ہے لیکن یہ نتیجہ ہماری بحث میں نہیں لیا جاسکتا، کیونکہ انسان کا مختار ہونا ، اس کے مکلف ہونے کی علت تامہ نہیں ہے، بلکہ اختیار تکلیف کے لئے راہ ہموار کرتا ہے، اور کسی کام پر تکلیف اور اس پر مجبور کرنا یا کسی کام سے روکنا کسی خاص مصلحت یا مفسدہ کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے ضمن میں کام ہوتا ہی ہے، لھٰذا کسی کام پر مجبور کرنے میں اس کی مصلحت چھپی ہوتی ہے اور کسی کام سے روکنے میں اس کا ضرر اور نقصان پوشیدہ ھتا ہے۔

۸۔دوسرا جواب: آزادی مطلق اور لامحدود نہیں ہے

اگر ہم اس شبہ کو مان بھی لیں اور کھیں کہ چونکہ انسان مختار ہے لھٰذا اس کو کسی کام پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور کوئی بھی حکومت انسان کے لئے الزامی احکام نافذ نہیں کرسکتی کیوں کہ انسان آزاد ہے جس طرح چاہے عمل کرے اور آزادی کا سلب کرنا ہے اور آزادی کا سلب کرنا یا انسانیت کا سلب کرنا لھٰذا کوئی بھی قانون قابل اعتبار نہیں ہے اور جنگلی راج اور عسر و حرج کو قبول کرلیں ۔

لیکن ہم یہ عرض کریں گے کہ کس چیز کے الزام اجبار ہی کے ذریعہ قانون قانون ہوسکتا ہے قانون اس وقت قانون ہوگا کہ جب اپنے ہمراہ الزام و اجبار لیے ہو کوئی بھی محکمہ ہو جب اس کے قوانین اور دستورالعمل کو قبول کرلیا جائے تو اس کو ہر حال میں عمل کرنا ہی ہوگا یہ نہیں ہوسکتا کہ قانون تو قبول کرلے لیکن اگر وہ قانون اس کے نقصان کا باعث ہو تو اس پر عمل نہ کرے اور اپنے نفع نقصان کے بارے میں سوچے اس طرح تو وہ نظام محکمہ چل ہی نہیں پائے گا اور اس محکمہ کا دیوالیہ نکل جائے گا جب تک قانون قانون بنانے والے کی نظر میں مقید ہے سب لوگ اس کی اطاعت کریں یھاں تک کہ اگر اس قانون میں کوئی خامی ہو تو اس کی تلافی کرنا قانون گذار کی ذمہ داری ہے ، اور دوسروں کو قانون میں خامی کا بھانہ بناکراور اس پر عمل کرنے سے فرار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

۹۔حاکمیت اور انسان کے خلیفة اللّٰھی عظمت کے درمیان تعارض ایک شبہ

ایک دوسرا شبہ یہ کھا جاتا ہے کہ انسان قرآن کے مطابق خلیفہ اللہ ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان روئے زمین پر خدا کا جانشین ہے اور خدا کی طرح عمل کرتا ہے جس طرح خدا نے اس دنیا کو خلق فرمایا ہے اس طرح انسان بھی بہت سی چیزوں کو پیدا کرے اور جس طرح خدا وند عالم اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتا ہے تو انسان بھی جس کے اختیار میں زمین ہے وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق عمل کرے۔

اعتراض کا جواب

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ پہلے خلافت الہی کے معنی صحیح طرح سے سمجھ لیے جائیں اور توجہ رہے کہ جس معنی میں حضرت آدم علیہ السلام کو خلیفہ اللہ کھا گیا ہے

خدا وند عالم اس سلسلہ میں ارشاد فرماتا ہے:( وَاِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ اِنِّیْ جَاْعِلٌ فِی الا رْضِ خَلِیْفَةً قَالُوا ا تَجْعُلُ فِیْهامَنْ یُفْسِدُ فِیْها وَیُفْسِکُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحََمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّی ا عْلَمُ مَالَاتَعْلَمُوْنَ ) (۱۴)

”یاد کیجئے اس وقت کو جب آپ کے پروردگار نے ملائکہ سے کھا میں روئے زمین پر جانشین (نمائندہ )بنانے والا ہوں تو اس وقت فرشتوں نے کھا کیا تو ایسے کو خلیفہ اور جانشین بنائے گا جو زمین پر خونریزی و فساد برپا کرے ہم تیری تسبیح و تحلیل کرتے ہیں تب اس وقت خدا وند عالم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے “

یہ مقام تمام اولاد آدم کے لئے نہیں ہے کیوں کہ قرآن بعض اولاد آدم کو شیطان کھتا ہے ارشاد ہوتا ہے :

( وَکَذَالِکَ جَعَلْنَالِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإنْسِ وَالْجِنِّ ) (۱۵)

”اور(اے رسول) جس طرح یہ کفار تمھارے دشمن ہیں اسی طرح (گویا) ہم نے (خود آزمائش کے لئے) شریر آدمیوں اور جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا“اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان ان افراد میں نہیں ہے کہ جس کو ملائکہ سجدہ کرتے اس موقعہ پر خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :

( وَإذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَاءٍ مَسْنُوْنَ فَإِذَا سَوَّیْتَه وَنَفَخْتُ فِیْه مِنْ رُوْحِی فَقَعُوْا لَه سَاجِدِیْنَ ) (۱۶)

”اور (اے رسول وہ وقت یاد کرو) جب تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کھا کہ میں ایک آدمی کو خمیر دی ہوئی مٹی سے جو سوکہ کر کھن کھن لولنے لگے پیدا کرنے والا ہوں تو جس وقت میں اس کو ہر طرح سے درست کرچکوں او راس میں اپنی (طرف سے ) روح پہونک دوں تو سب کے سب اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا“

خلیفة اللہ ہونا بہت سے اہم شرائط رکھتا ہے جن میں سے کچھ شرائط مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔اسماء کا علم

( وَعَلَّمَ آدَمَ الا سْمَاءَ کُلَّها ) (۱۷)

”اور (آدم کی حقیقت ظاہر کرنے کی غرض سے) آدم کو سب چیزوں کے نام سکھادئے“

۲۔اللہ کا خلیفہ روئے زمین پر عدالت و انصاف کو جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو

لھٰذا وہ انسان جس کی عادت قتل و غارت اور خونریزی ہو اور کوئی بھی ظلم کرنے سے نہ گھبراتا ہو وہ خلیفہ اللہ نہیں ہوسکتا (معاذاللہ ) کیا خدا وند عالم ظالم ہے کہ اس کا خلیفہ اور جانشین بھی ظالم ہو ؟اللہ کا خلیفہ وہ ہے جو اپنی فردی اور اجتماعی زندگی میں خدائی حفاظت کا اظھار کرے نہ یہ کہ جو دو پیروں سے انسانی شکل میں چلتا ہو وہ خلیفتہ اللہ ہے لھٰذا وہ افراد جو لوگوں کو گمراہ کرنے اور حکومت اسلامی کو درہم و برہم کرنے میں لگا ہو وہ افراد نہ یہ کہ اشرف المخلوقات نہیں ہیں بلکہ انسانی شکل میں شیطان ہیں جن کو خدا وند عالم حیوانوں سے بھی بدتر کھتاہے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ شَرَّ الدَّوَابُّ عِنْدَ اللّٰه الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ) (۱۸ (

”اس میں شک نہیں کہ زمین پر چلنے والے تمام حیوانات سے بدتر خدا کے نزدیک وہ بھر ے گونگے (کفار) ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے“

معترض کھتا ہے کہ انسان کی عظمت و بزرگی اس کے کردارسے ہے اور جو چیز یں انسان کی آزادی میں مانع ہوں وہ قابل قبول نہیں ہے یہ ایک دھوکہ والانعرہ ہے جو مغرب زمین میں لگایا جاتا ہے اور دوسرے ملکوں میں بھی اسے قبول کیا جاتا ہے جبکہ اس کے لوازمات اور اثرات پر توجہ نہیں کی جاتی اور نعرہ پر پا فشاری کی جاتی ہے بے شک اس نعرہ کے جوابمیں کہ جس میں بہت سے اغراض و مقاصد پوشیدہ ہیں ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے اور انشاء اللہ بعد میں اس سلسلہ میں بحث کی جائے گی لیکن اس وقت ااجمالی طور پر یہ سوال کرتے ہیں کہ انسان کے مطلق طور پر آزاد ہونے کا مقصد کیا ہے اور کسی محدود یت کے قائل نہ ہونے سے آپ کی مراد کیا ہے ؟ کیا آپ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے لئے کوئی بھی قانون ضروری نہیں ہے ؟

اس کو تو کوئی بھی عاقل انسان قبول نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر کام میں آزاد ہے اور جوآزاد ہے وہ کسی کو قتل بھی کرسکتا ہے کسی کی عزت بھی لوٹ سکتا ہے لوگوں میں نا امنی بھی پھیلا سکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے نقصان یا ضرر خود اس نظریہ رکھنے والے کو پہونچ سکتا ہے اور کیا ایسی آزادی رکھنے والوں کے درمیان زندگی بسر کی جاسکتی ہے ؟ لھٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کی آزادی نا محدود نہیں ہے اور اور انسان ایسا آزاد نہیں ہے کہ جو بھی چاہے اسے انجام دے اب جبکہ روشن ہوچکا ہے کہ آزادی محدود اور مشروط ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزادی کے حدود کو کون معین کرے ؟ اور آزادی کی حد کھاں تک ہے ؟

اور اگر طے یہ ہو کہ ہر انسان آزادی کی حد کو معین کرے تو اس کا نتیجہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ ہر انسان اپنی مرضی سے عمل کرے اور یھاں پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جو مطلق آزادی پر ہوتا ہے لھٰذا ضروری ہے کہ آزادی کی حد کو معین کرنے کے لئے ایک قانونی مرجع ہونا چاہئے اس صورت میں اگر کوئی قبول کرتا ہے کہ خدا ہے اور انسان کے لئے نفع و نقصان کو خود اس سے بہت ر جانتاہے اور انسان کی زندگی سے خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے اور وہ تو صرف اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے تو ایسے شخص کے لئے آزادی کی حد کو بیان کرنے کے لئے خدا کے علاوہ دوسرا کون ہوسکتا ہے ؟ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے اعتقادی اور فکری مسائل میں کوئی تناقض نہیں ہے کیونکہ مسلمان اس خدا کو مانتے ہیں کہ جو انسان کے لئیے نفع ونقصان کو خود اس سے بہت ر جانتا ہے اور بہت ر طور پر جانتا ہے کہ انسان کی بھلائی کس چیز میں ہے لھٰذا وہ اس آزادی کی حد کو بیان کرے لیکن اگر کوئی خدا پر ایمان نہ رکھتا ہو یا اگر خدا پر ایمان تو ہو لیکن اس کو آزادی کی حد معین کرنے والا نہ مانے اور یہ کھے کہ انسان خود آزادی کی حد کو معین کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں ھزاروں مصیبتوں میں مبتلا ہوجائے گا کیونکہ تمام انسان ایک نظریہ پر متفق نہیں ہوپائیں گے اور اگر اکثریت نے آزادی کی حد کو معین کیا اور اقلیت نے اس کو قبول نہ کیا وہ کس طرح اپنے حقوق تک پہونچ سکتے ہیں لھٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ اگرچہ آزادی ایک خوبصورت اور دل پذیر لفظ ہے لیکن مطلق اور لا محدود نہیں ہے اور کوئی بھی مطلق آزادی کو قبول نہیں کرسکتا۔

حوالے

(۱)سورہ غاشیہ آیت۲۱، ۲۲

(۲)سورہ انعام آیت ۱۰۷

(۳)سورہ مائدہ آیت ۹۹

(۴)سورہ انسان آیت ۷۶

(۵) سورہ کھف آیت ۲۸

(۶)سورہ احزاب آیت ۳۶

(۷) سورہ مائدہ آیت ۵۵

(۸) سورہ احزاب آیت ۶

(۹)سورہ یونس آیت ۹۹

(۱۰)سورہ نساء آیت ۱۵۰و۱۵۱

(۱۱ (سورہ نساء آیت ۶۵

(۱۲ )سورہ نساء آیت ۱۰۵

(۱۳)سورہ آل عمران آیت ۷

(۱۴)سورہ بقرہ آیت ۳۰

(۵۱) سورہ انعام ؛آیت ۱۱۲

(۱۶)سورہ حجرآیات ۲۹و ۳۰

(۱۷)سورہ بقرہ آیت ۳۱

(۱۸)سورہ انفال آیت ۲۲


چھٹا جلسہ

اسلام میں آزادی(۲)

۱-تاریخ انسان میں تحویل و تحول کی بنا پر ایک شبہ

یہ شبہ انسانی تاریخ، تمدن اور کلچر کے تحول و تبدل نیز اجتماعی نظام میں تغییر و تبدیلی کی بنا پر ہوتا ہے، اور یہ طے شدہ بات ہے کہ انسانی اجتماعی زندگی مختلف مرحلوں سے گذری ہے، اور ایک زمانہ میں ”غلامی“ کا مسئلہ رائج تھا، اور انسانی کی ترقی اسی میں سمجھی جاتی تھی کہ کمزور اور ناتوان لوگ دوسروں کی غلامی کریں ، اور ان کی ہر ممکن خدمتگذاری کرتے رہیں ، ظاہر سی بات ہے کہ اس زمانے میں انسان و خدا جیسا غلام اور آقاکے درمیان ہوتا تھا، کیونکہ اس زمانے میں یہ رائج تھا کہ بعض طاقتور لوگ مولا اور آقا اور بعض کمزور لوگ ان کے بندے اور غلام بن کر رہیں ، اور انسانوں کے درمیاں رابطہ بھی عبد اور آقا کے لحاظ سے سمجہا جاتا تھا، اس بنا پر جس طرح ضعیف اور کمزور لوگ عبد اور بندے اور ذلیل و پست سمجھے جاتے تھے، اس طرح لوگ خدا کے عبد اور بندے سمجھے جاتے تھے، اور خداوند ان کا مولا و آقا، آج جب بندگی اور غلامی کا دور ختم ہو چکا ہے، لھٰذا اس وقت کا قیاس اور معیار اس زمانے میں نہیں لانا چاہئیے-

آج انسان کسی بھی زبردستی کو قبول نہیں کرتا، اور اپنے کو آقا سمجھتا ہے نہ کہ بندھ، لھٰذا ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم بندہ ہیں اور خدا مولا، آج ہم خود کو اللہ کا خلیفہ مانیں ، اور جو خداکا جانشین ہو اس کو بندگی کا احساس کیسا، گویا خداوند عالم سے خدائی ختم ہو چکی ہے اور یہ حضرت اس کی مسند پر بیٹھے ہوئے ہیں ، اور جو چاہیں کریں جس طرح کوئی حاکم کسی کو اپنا قائم مقام بنائے تو وہ اس کے تمام اختیارات کا مالک بن جاتا ہے، اور اس کے کام کے کام ہوتے ہیں اور ان کے درمیان حاکم و فرمانبردار کا رابطہ نہیں ہے، اور قائم مقام کے کاموں کی کوئی باز پرس نہیں ہونا چاہیے-

اس زمانہ میں جبکہ ماڈرن اور جدید تمدن کا دور دورا ہے، اور ہماری زندگی ایک بلند مرتبہ پر پہونچ چکی ہے تو ہم بندگی اور غلامی کی زندگی کے احکام (اطاعت و فرمانبرداری) کو قبول نہیں کر سکتے، اور آقا و مولیٰ کے پیچھے پیچھے گھومتے رہیں ، تکلیف اور اطاعت کا زمانہ پیچھے رہ گیا ہے، اور اگر قرآن میں تکالیف اور دوسرے فرمان موجود ہیں تو وہ غلامی کے زمانے کے ہیں ، کیونکہ جس وقت رسول اکرم مبعوث ہو ئے، غلامی کا زمانہ تھا، اور اسلام کا پہلا دور، خدا ورسول اور لوگوں کے درمیان رابطہ کیلئے مناسب تھا-

کبھی یہ کھا جاتا ہے کہ انسان تکلیف کا طالب نہیں ہے، لیکن حقوق کا طالب ہے اور اس کے ذہن میں کبھی یہ نہیں آتا کہ اس پر کوئی فریضہ اور ذمہ داری ہے، تاکہ ان کو انجام دے سکے، انسان کو چاہئیے کہ وہ خدااور دوسروں سے اپنے حقوق کو حاصل کرے-

خلاصہ یہ کہ جو لوگ پیغمبر، آئمہ اور ان کے جانشینوں کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں یہ چودہ صدی پہلے کسی اجتماعی زندگی کا تھا، جبکہ آج کی اجتماعی زندگی بالکل بدل چکی ہے، اور فرائض اور ذمہ داری کی کوئی بات نہیں کرتا بلکہ انسانی حقوق کی باتیں ہوتی ہیں ، انسان کو یہ سمجہانا ضروری ہے کہ تجھے یہ حق ہے کہ جس طرح بھی چاہے زندگی کرے، تجھے اپنی مرضی کے مطابق کپڑے پہننے کا حق ہے، اور جس طرح بھی چاہے اجتماعی زندگی کو بسر کرےْ-

۲-ہمارا جواب

ہم مذکورہ اعتراض کا جواب ”تکوینی“ اور ”تشریعی“ لحاظ سے پیش کرتے ہیں ، کیونکہ ہمارے سامنے دو مقام ہیں : تکوینی مقام، تشریعی مقام، بعبارت دیگر مقام واقعیت اور ”ھست ھا“(ھے) اور دوسرے مقام تکلیف ”بایدھا“ (ھونا چاہیے) یعنی عالم واقعیات ، اور عالم ارزشھا (قیمت اور اہمیت) (اگرچہ مذکورہ الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں ، البتہ مختلف لوگوں کو سمجہانے کیلئے مختلف الفاظ ہیں ) اب ہمیں یھاں دیکھنا ہے کہ تکوینی لحاظ سے ہماری خدا سے کیا نسبت ہے، کیونکہ اگر کوئی خدا کو مانتا ہی نہ ہو، تو اس کی نظر میں خدا سے کوئی نسبت بے فائدہ ہے-

لیکن اگر کوئی شخص خدا پر اعتقاد رکھتا ہو یا کم سے کم یہ قبول کرتا ہو کہ اس کا پیدا کیا ہوا ہے، اور خدا کی خالقیت کو قبول کرتا ہے (خدا کو ماننے کا یہ سب سے کم درجہ ہے) اور اپنے کو خدا کی مخلوق جانتا ہو، البتہ خدا کی خالقیت پر اعتقاد رکھنے سے انسان موحد (خدا کو ایک مانے والا) نہیں بنتا، لھٰذا خدا کی تکوینی اور تشریعی ربوبیت کا قائل ہونا ضروری ہے، توحید در خالقیت کی بنا پر کسی کا یہ کہنا کہ وہ خدا کا بندہ اور اس کا مملوک نہیں ہے خود اس کے خداوند عالم کی خالقیت کے اعتقاد سے ٹکراتا ہے، توحید کا پہلا قدم اپنے کو خدا کی مخلوق تسلیم کرنا ہے، اور ہمارا وجود خدا کا عطا کردہ ہے، اور یہ وہی عبودیت ہے، عبد یعنی مملوک، دوسری کی ملکیت ہونا، لھٰذا اگر کوئی اپنے کو مسلمان اور خدا کا معتقد کھلاتا ہے ، لیکن اپنے کو خدا کی عبودیت اور مملوکیت نہیں مانتا، گویا اس کی گفتگو میں واضح تناقض ہے، کیونکہ خدا پر اعتقاد ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ ہم خود کو اس کی مخلوق، عبد اور مملوک سمجھیں ، اس وجہ سے تمام مسلمان اپنی بہت رین عبادت نماز میں کھتے ہیں ”اشھد انّ محمدًا عبد ہ و رسولہ" اور یہ بات مسلّم ہے کہ انسان کیلئے سب بہت رین عظمت اور مقام خدا کا بندہ ہونا ہے، اس وجہ سے خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( سُبْحَانَ الَّذِی ا سْریٰ بِعَبْدِه مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْا قْصا- ) (۱)

”وہ خدا (ھر عیب سے) پاک وپاکیزہ ہے جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام (خانہ کعبھ) سے مسجد اقصیٰ(آسمانی مسجد) تک کی سیر کرائی“

جی ھاں ! خدا کی بندگی اور اس کی عبودیت کی اہمیت کے پیش نظر قرآن میں اس خوبصورت لفظ ”عبد“ اور اس کے دوسرے مشتقات کو استعمال کیا گیا ہے، اور انسان کیلئے بہت رین اور بلند درجہ کو ”عبودیت“ شمار کیا گیا ہے:

( یَا ا یَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ اِرْجِعِی اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً فَادْخُلِی فِی عِبَادِی ) (۲)

”اور کچھ لوگوں سے کھے گا) اے اطمنان پانی والی جان اپنے پر وردگار کی طرف پلٹ آتو اس سے خوش ہے وہ تجہ سے راضی ہے تو میرے (خاص بندوں میں شامل ہوجا“

تشریعی لحاظ سے دوسرا جواب

دوسرا جواب تشریعی لحاظ سے یہ ہے کہ انسان کا آزاد ہونا اور قانون ذمہ داری قبول کرنا آپس میں سازگار نہیں ہے کہ جس کا نتیجہ وحشت ، ظلم و بربریت اور عسرد حرج ہے، اور یہ نتیجہ نکالنا کہ انسان آزاد ہے جس طرح چاہے عمل کر سکتا ہے، اگرچہ اس نے اس قانون کو ووٹ دیا ہو لیکن اس پر عمل کرنے سے انکار کرے،ایسا تو جنگل میں بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہاں پر بھی حیوانوں کے عمل کرنے کے لئے خاص قوانین ہوتے ہیں -

لھٰذا جب ہم تمدن اور مدنیت کا دم بھرتے ہیں تو ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ مدنیت کا سب سے پہلا رکن یہ ہے کہ انسان قوانین پر عمل کرنے کا ذمہ دار ہے، اور ذمہ داری اور مسئولیت کو قبول نہ کرنے سے نہ صرف یہ کہ تمدن جدید کا ادعا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اپنے کو وحشی گری کی سب سے نیچی کھائی میں غلطاں پائیں گے-

دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا جائے کہ انسان کی فصل مقوم عقل ہے، اور عقل کا حکم یہ ہے کہ انسان ذمہ داری کو قبول کرے، اور خدا امور کو انجام دینے کا مکلف سمجھے اور بعض چیزوں سے پرہیز کرے، لھٰذا اگر کوئی محلہ اور سڑک پر اپنی مرضی کے مطابق کپڑے پہنے یا لوگوں کے سامنے برہنہ آئے اور جو بھی منہ میں آئے وہ کھتا پھرے، تو اس صورت میں کیا کوئی اس کو عاقل تصور کر سکتا ہے؟ یا اس کو وحشی اور دیوانہ کھا جائے گا؟ اور اگر کوئی اس سے سوال کرے کہ تم ایسے کام کیوں کرتے ہو؟ اب اگر اس کے جواب میں کھے کہ میں چونکہ آزاد ہوں اور آزادی مقوم انسان ہے،لھٰذا میں اپنی مرضی کے مطابق جو چاہوں کروں ، توکیا کوئی انسان اس کی ان باتوں کو قبول کر سکتا ہے؟

لھٰذا چونکہ انسان کی فصل مقوم عقل ہے، اور اس کا عقلی لازمہ یہ ہے کہ انسانی ذمہ داری اور قانون کو قبول کرے، کیونکہ اگر قانون نہ ہو تو مدنیت نہیں ہو سکتی، اور اگر مسئولیت اور ذمہ داری نہ ہو تو انسانیت بھی نہیں آسکتی، انسان کے آزاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان تکویناً انتخاب کی قدرت رکھتا ہے، نہ کہ تشریعاً قانون اور الزام آور اور امکانات کو قبول نہ کرے، اور اپنی اجتماعی زندگی میں کسی حد وحدود کا قائل نہ ہو، پس نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ دین کی ولایت آزادی کے مخالف ہے کیونکہ انسان کی فصل مقوم آزادی ہے جس سے انسان کا خدا کا جانشین ہونا لازم آتا ہے-!

۳-گذشتہ اعتراض، ایک دوسرے لحاظ سے

بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ انسان کی زندگی میں مختلف طریقوں سے ترقی اور پیشرفت ہوتی ہے، اور جیسا کہ انسانی جدید تمدن میں نئے طریقہ کی نظریات اور تفکرات پیدا ہوئے ہیں ،ایسی صورت میں دین کو انسانی حقوق بیان کرنے چاہییں ، نہ یہ کہ دین تکالیف اور الزام آور احکامات بیان کرے،گذشتہ زمانے میں چونکہ غلامی ، بردگی اور ظلم و جور کا زمانہ تھا اور جو بھی ذمہ داری اور مسئولیت ان کو دی جاتی تھی وہ اس کو قبول کرتے تھے، لیکن آج وہ زمانہ نہیں ہے آج ہر انسان اپنے کوآقا سمجھتا ہے، آج انسان ذمہ داری کو قبول نہیں کرتا بلکہ اپنے حقوق لینا چاہتا ہے-

در حقیقت آج کا ماڈرن زمانہ ہمارے اور گذشتہ (غلامی اور بردگی کو قبول کرنے والے) لوگوں میں ایک بہت بڑی دیوار ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ آج ماڈرن انسان نے گذشتہ زمانے کی طرح ذمہ داری کو قبول کرنے کو بند کر دیا ہے، اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے، آج تکالیف اور ذمہ داری کو قبول کرنے کی باتیں کرنا ماضی کی طرف پلٹتا ہے، آج کے اس زمانے نے جس میں حقوق بشر کا نعرہ لگایا جاتا ہے، ڈیموکراسی کی برکت سے انسان کو استشار اور غلامی کی قید و بند سے آزاد کر دیا ہے، آج کا دور وہ دور ہے کہ جس میں جو ادایان تکالیف اور ذمہ داری کی باتیں کرتے ہیں ان کو بالائے طاق رکہ دیا جائے، اور حقوق بشر کا نعرہ لگانے والے دین کو تلاش کیا جاتا ہے-

اعتراض کرنے والے اپنے ہدف اور مقصد تک پہونچنے کیلئے نیز سماج بالخصوص جوانوں کو اپنے طرف جذب کرنے کیلئے ایسی باتیں کرتے ہیں اور مختلف طریقوں کا سھارا لیتے ہیں اور اپنی باتوں کو خوبصورت و دلنشیں انداز اور مختلف طریقوں سے جاشنی لگا کر پیش کرتے ہیں ، لیکن ہم ان بے ڈھنگے سوالوں کا صحیح انداز میں جواب پیش کرتے ہیں -

۴-ہمارا جواب

معترض کا مطلق طور پر یہ کہنا کہ آج کا انسان اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے، تکالیف و ذمہ داری کا مطالبہ نہیں کرتا، یہ بات بیھودہ اور باطل ہے جیسا کہ فلاسفۂ حقوق بھی کھتے ہین! انسان اس وقت کسی چیز کا مستحق نہیں ہوتا جب تک وہ دوسروں کیلئے کوئی کام انجام نہ دےے، مثال کے طورپر اگر شہری حضرات کو صاف و سالم ہوا میں رہنے کا حق ہے تو دوسرے لوگوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ ہوا کو آلودہ اور خراب نہ کریں ، پر دوشن نہ پھیلائیں ، اس طرح اگر کسی کو اپنے مال میں تصرف کا حق ہے تو دوسروں پر ذمہ داری ہے کہ اس کے مال میں دست درازی نہ کریں ، ورنہ اپنے مال سے کوئی بھی بھرہ مند نہیں ہوسکتا، لھٰذا اگر اس کےلئے کوئی حق ثابت ہوتا ہے تو وہ اس کے بدلہ کوئی کام انجام دے، اگر کسی کو یہ حق ہے کہ وہ سماج کی تیار کردہ چیزوں کو استعمال کرے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی کسی طریقہ سے سماج کی خدمت کرے، اور مسئولیت و ذمہ داری کو قبول کرے، اور دوسروں پر بار نہ بنے،لھٰذا حق اور تکلیف ایک دوسرے کے لازم وملزوم ہیں ، لھٰذا یہ کہنا کہ انسان صرف حقوق کا طالب ہو، اور تکالیف کو قبول نہ کرتا ہو،یہ بات قابل قبول نہیں ہے-

توجہ رکھنا چاہیے کہ الٰھی اور غیر الٰھی تمام دانشمندان اور فلاسفۂ حقوق نے کلی طور پر ذمہ داری اور مسئولیت کی نفی نہیں کی ہے، بلکہ تکالیف اور ذمہ داری پر یقین رکھتے ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ معترض کی تکلیف سے مراد الٰھی تکلیف ہے، جس کا نچوڑ یہ ہے کہ خداوند عالم کو ہم پر تکلیف و ذمہ داری نہیں کرنا چاہیے، ورنہ تو ان کی نظر میں حق کے مقابلہ میں تکلیف ہونے سے گریز نا ممکن ہے کیونکہ تکالیف کو تمام عقلا ء اور دانشمندوں نے قبول کیا ہے ہماری بات کی تائید یہ ہے کہ خود انھوں نے صاف صاف کھا ہے کہ عبد اور مولیٰ کے درمیان رابطہ اور مولیٰ کی طرف سے حکم صادر ہونا اور اس کی اطاعت کا ضروری ہونا غلامی اور بردگی کلچر کے مناسب ہے-

۵- خدا کی نافرمانی تاریخ کی نظر میں

صرف آج کا ماڈرن انسان ہی خدا کی اطاعت اور تکالیف سے فرار اختیار نہیں کرتا بلکہ تاریخ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے شیطانی وسوسوں کی خاطر خدا کی نافرمانی اور قانون شکنی کی ہے، یہ کہنا کھ:

انسان حقوق کا طالب ہے تکالیف کا نھیں ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ شروع ہی میں حضرت آدم (ء)کے فرزند قابیل نے خدا کی معصیت کی اور کھلے عام تکالیف اور الٰھی قوانین سے سرپیچی کی، اور قانون شکنی کرتے ہوئے اپنے بھائی ھابیل کو قتل کرڈالا-

( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَا ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَاناً فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهما وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْا خَرِ قَالَ لَا قْتُلَنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰه مِنَ الْمُتَّقِیْنَ - - - - ) (۳)

"(اے رسول) تم ان لوگوں سے آدم کے دو بیٹوں (ھابیل وقابیل) کا سچا واقعہ بیان کردوکہ جب ان ددنوں نے خدا کی بارگاہ میں نذر پیش کی تو ان میں سے ایک (ھابیل) کی (نذر تو) قبول ہوآئی اور دوسرے (قابیل) کی (نذر) نہ قبول ہوئی تو (مارے حسد کے ھابیل سے) کھنے لگا میں تجھے ضرورمار ڈالوں گا، اس نے جو اب دیا کہ (بھائی اس میں اپنا کیا بس ہے) خدا تو صرف پرہیزگاروں کی (نذر) قبول کرتا ہے “

قرآن مجید میں پیغمبروں کے واقعات اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ اکثر لوگوں نے اپنے زمانے کے بنی کو جھٹلایا، اور نہ صرف یہ کہ ان کی بات پر لبیک نہیں کھا بلکہ ان پر تھمت و بہت ان لگاتے تھے اور ان کا مسخرہ کرتے تھے، یھاں تک کہ ان کو قتل بھی کردیتے تھے، یا ان کو شہر بدر کر دیتے تھے اگر کوئی بنی ان کیلئے مفید باتیں بیان کرتا تھا، مثلاً قرآن کے مطابق لوگوں کو کم فروشی سے روکتا تھا،جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

( لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ ا شْیَائَهمْ - - ) (۴)

”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو“ ان کے جواب میں کھتے تھے:

( قَالُوا یَا شُعَیْبُ ا صَلَاتُکَ تَا مُرُکَ اَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ ءَ ابَائُنَا اَوْ اَنْ نَفْعَلَ فِیْ ا مْوَالِنَا مانَشَاءُ - - - - ) (۵)

”وہ لوگ کھنے لگے اے شعیب کیا تمھاری نماز (جسے تم پڑھا کرتے ہو) تمھیں یہ سکھاتی ہے کہ جن (بتوں ) کی پرستش ہمارے دادا کرتے آئے ہیں انہیں ہم چھوڑ بیٹھیں ،یا ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں کر بیٹھیں “

ممکن ہے اس موقع پر کوئی کھے کہ تاریخ میں انبیا و اولیا الھی کے مقابلے کی وجہ بت پرستی، شرک اور شیطان کی پیروی تھی اور ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ انسان کسی بھی معبود کی اطاعت کی طوق اپنی گردن سے نکال دے، اور بتوں اور شیطان کی پیروی بھی نہ کرے، لیکن یہ کہنا بھی اولیا الٰھی کی نظر میں باطل اور مردود ہے،کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وحی الٰھی کے مطابق انسان ایسے راستہ پر پہونچ جاتا ہے کہ یا خدا کی اطاعت کرے یا طاغوت (شیطان) کی اطاعت کرے، اور وہ کسی کی بھی اطاعت نہ کرے اس کے لئے محال، اور اگرکوئی یہ نعرہ لگائے کہ میں کسی کا بندہ اور غلام نہیں ہوں ، در حقیقت ایسا شخص طاغوت اور اپنی ہوائے نفس کا غلام ہوتاہے اس وجہ سے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( اَللَّه وَلِیُّ الَّذِیْنَ ءَ امَنُوا یُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلٰی النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا ا وْلِیَاوهُمُ الطَّاغُوتَ یُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ اِلٰی الظُّلُمَاتِ— ) (۶)

”خدا ان لوگوں کا سرپرست ہے جو ایمان لاچکے کہ انہیں (گمراہی کی) تاریکیوں سے نکال کر (ھدایت کی) روشنی میں لاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے سرپرست شیطان ہیں کہ ان کو (ایمان کی) روشنی سے نکال کر (کفر کی) تارکیوں میں ڈال دیتے ہیں “

دوسری جگہ خداوند عالم ارشاد فرماتاہے:

( ا لَمْ ا عْهدْ اِلَیْکُمْ یَا بَنِی آدَمَ اَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّیْطَانَ اِنَّه لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِیْنٌ ، وَاَنِ اعْبُدُونِی هٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیمٌ-- ) -(۷)

”اے آدم کی اولاد کیا میں نے تمھارے پاس یہ حکم نہیں بھیجا کتھا کہ (خبردار)شیطان کی پرستش نہ کرنا وہ یقینی طور پر تمھارا کھلم کھلا دشمن ہے اور یہ کہ (دیکھو) صرف میری عبادت کرنا یھی (نجات کی) سیدھی راہ ہے “

اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر شیطان کی عبادت چھوڑ ی جائے تو پھر کسی دوسرے کی عبادت اور اطاعت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کو چاہیے کہ خدا کی عبادت کرے، جس طرح کہ کلمہ میں ”لاالٰہ" کے بعد ”الااللہ" ہے-

اس بنا پر جن لوگوں نے وحی پر توجہ کی اور خواب غفلت سے بیدار ہوئے وہ اس نتیجہ پر پہونچے کہ اس خدا کی عبادت کریں جو ان کا خالق اور حقیقی مالک ہے، اور جس کے ھاتہ میں ان کی زندگی، موت، جوانی، پیری،اور صحت و سلامتی ہے،اس کی بندگی باعث افتخار ہے، اس کی تکالیف حکمت و رحمت کے سرچشمہ سے صادر ہوتی ہےں ،اور ان پر عمل کرنا انسان کیلئے کمال اور سعادت کا باعث ہے-

نتیجہ یہ نکلا کہ تکالیف اور مسئولیت کو قبول نہ کرنا حیوانی درندگی صفت اور شیطانی پیروری کی وجہ سے ہے، کہ جو ہمیشہ تاریخ میں موجود ہے اور آج کے ماڈرن زمانے سے ہی مخصوص نہیں ہے، درحقیقت یہ ماڈرن انسان ہے کہ جس نے مدنیت سے کنارہ کشی اختیارکر لی ہے، اور جاہلیت و وحشیگری کے زمانے کی طرف پلٹ گیا ہے، اور گزشتہ زمانہ کی طرف پلٹ رہا ہے، وگرنہ انبیاء کی تربیت شدہ افراد نے حیوانیت اور وحشیگری سے کنارہ کشی کر لی ہے اور لا قانونیت سے نکل کر قانون، تکالیف اور مسئولیت کو قبول کر کے صحیح معنوں میں مدنیت کو قبول کرچکاہے-

لھٰذا بعض لوگ کس طرح یہ کھہ سکتے ہیں کہ ماڈرن زمانہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان کسی بھی ذمہ داری کو قبول نہ کرے! یہ تمدن ہے یا وحشیگری؟ تمدن و محدویت، قانون اور مسئولیت قبول کرنے میں ہے ورنہ وحشیگری سے کوئی فرق نہ ہوگا-

لھٰذا جو لوگ قانون، تکالیف اور مسئولیت کا انکار کرتے ہیں وہ لوگ مدیریت اور وحشیگری کے قدیم زمانے کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں اور یہ طے ہے کہ کوئی شخص اس نظریہ کے تحت، مقدس اور خلیفہ اللہ نہیں ہوسکتا، جس سے وہ ہمارے لئے نمونہ عمل قرار پاسکے، (اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ مدنیت اور قانون کی طرف مائل ہونا جیسا کہ ہمارے سماج میں رواج پیدا کر چکا ہے، اس کا مطلب مدنیت اور قانون مندی کے کمال پر پہونچتاہے تاکہ کسی بھی جگہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے،اور نہ ہی یہ کوئی نیا حادثہ ہوا ہے اورنہ ہی ہمارا سماج انقلاب کے بعد ۱۹ سال تک وحشیگری کا شکار تھا اور آج مدنیت کی طرف مائل ہواہے، بلکہ ہمارا یہ انقلاب مدنیت اور اسلامی تمدن پر استوار ہے، اور انقلاب کے اصل اہداف میں سے ہے کہ تمام مقامات پر الٰھی قوانین کی رعایت کی جائے-)

۶-خدا کی اطاعت اور آزادی

انبیاء علیہم السلام لوگوں کو خداپرستی کی دعوت دیتے تھے اور طاغوت کی پیروی سے روکتے تھے اس سلسلے میں خداوند عالم فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ بَعَثْنَافِی کُلِّ اُمَّةٍ رَسُولًا ا نِ اعْبُدُوا اللَّه وَاجْتَنِبُو الطَّاغُوتَ ) (۸)

”اور ہم نے تو ہر امت میں ایک (نہ ایک) رسول اس بات کے لئے ضرور بھیجا کہ لوگو خدا کی عبادت کرواور بتوں (کی عبادت) سے بچے رہو“

اس چیز کے پیش نظر یہ بات قبول نہیں کی ہے کہ اسلام نے انسان کو اپنے علاوہ یھاں تک کہ خدا کی اطاعت سے بھی منع کردیاہے، اور یہ طے ہے کہ جو مذہب ہم کو خدا کی اطاعت کی دعوت نہ دے وہ باطل ہے اور جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا کہ انبیا علیہم السلام کا مقصد خدا کی مطلق طورپر اطاعت کرنے کی دعوت دیتا ہے، ہماری موت و حیات اسی سے وابستہ ہے

( اِنَّا لِلَّه وَ اِنَّا اِلَیْه رَاجِعُوْنَ- ) (۹)

”ہم تو خدا ہی کے ہیں او رہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں “

ہم خدا کی طرف سے ہیں اور خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے- اب جبکہ ہم نے خداوند عالم کو اپنا مالک حقیقی مان لیاتو پھر کس طرح یہ بات قبول کی جا سکتی ہے کہ خدا کو ہمیں حکم دینے اور فرمان صادر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، کیا مالکیت اس کے علاوہ ہے کہ مالک جس طرح بھی چاہے اپنی چیز میں تعریف کرے؟ لھٰذا یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ کوئی یہ کھے کہ ہم نے اسلام تو قبول کر لیا ہے لیکن ہم خدا کی بندگی کے قید و بند سے آزاد ہیں ، کیونکہ اس طرح کی مطلق آزادی نہ صرف یہ کہ اسلام قبول نہیں کرتا، بلکہ اس کو تو عقل بھی قبول نہیں کرتی-

اسلام آزادی کا نعرہ لگاتا ہے لیکن غیر خدا اور طاغوت کی عبادت و اطاعت سے آزادی و رہائی کا نعرہ لگاتا ہے، خداوند عالم کی اطاعت سے آزادی کا نعرہ نہیں لگاتا، اگرچہ انسان آزاد و مختار پیدا کیا گیا ہے، لیکن تشریعاً و قانوناً خدا کی اطاعت پر مکلف ہے یعنی ہم اپنے ارادہ و اختیار سے خدا کی اطاعت کریں ، اور یہ طے ہے کہ خلقت کے اعتبار سے میں ہر مخلوق پر بندگی اور عبودیت کی مھر لگی ہوئی ہے، تکوینی طور پر کوئی بھی مخلوق خدا کی بندگی کے لیبل سے خالی نہیں ہے اور ہر موجود کی پستی اس کی عین بندگی ہے:

( تُسَبِّحُ لَه السَّمَاوَاتِ السَّبْعُ وَالْا رْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ وَاِنْ مِنْ شَیْ ءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِه وَلٰ-کِنْ لَا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ ) (۱۰)

”ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں (سب ) اس کی تسبیح کرتے ہیں اور (سارے جہان) میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے (حمد وثنا) کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر تم لوگ ان کی تسبیح نہیں سمجھتے“

اس طرح خداوند عالم دوسرے موجودات کی عبادت اور بندگی کے بارے میں فرماتاہے:

( اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّه یُسَبِّحُ لَه مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْا رْضَ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَه وَ تَسْبِیْحَه-- ) (۱۱) -

”(اے شخص ) کیا تو نے اتنابھی نہیں دیکھا کہ جتنی مخلوقات سارے آسمان اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے (غرض سب ) اسی کی طرح تسبیح کیا کرتے ہیں ، سب کے سب اپنی نماز اور اپنی تسبیح کا طریقہ خوب جانتے ہیں “

لیکن چونکہ انسان صاحبِ عقل و خرد ہے، مختار و آزاد خلق کیا گیا ہے، اگرچہ خداوند عالم نے ہدایت و گمراہی کے راستے دکھا دئیے ہیں لیکن اپنے لئے راستہ کے انتخاب میں آزاد ہے جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( اِنَّا هَدَیْنَاه السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِراً وَ اِمَّا کَفُوراً-- ) -(۱۲)

”خواہ شکر گذار ہو خواہ ناشکر ا “

لھٰذا انسان کو اپنے ہدفِ خلقت کو مدنظر رکہ کر اور اس کو سوچ سمجہ کر خدا کی اطاعت و بندگی میں مشغول رہنا چاہئے، اور خداوند عالم کا تشریعی قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ شیطان اور غیر خدا کی اطاعت میں قدم بڑھائے، بلکہ انسان کو خدا کی اطاعت اور الٰھی تکالیف کو انجام دےنا چاہئے ، کیونکہ خداوند عالم نے اسی مقصد کے تحت اس کو پیدا کیا ہے:

( وَمَا خَلَقْتُ الجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ-- ) (۱۳)

”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں “

اور چونکہ خداوند عالم کی عبادت نظام خلقت و ھستی کے ہمنوا ہے اور خداوند عالم کی تکالیف کو انجام دینا اور الٰھی وظیفہ و مسئولیت پر عمل کرنا نیز اس خالق کا شکر ادا کرنا خود ایک مھربانی ہے کہ جو ہم کو حیات و زندگی عطا کرتا ہے اور اس کی عنایت اور لطف و کرم سے ہم کو صحت و سلامتی اور دوسری بہت سی نعمتیں عطا کی گئی ہیں جیسا کہ خداوند عالم حضرت ابراہیم علیہم السلام کی زبانی فرماتا ہے:

( اَلَّذِی خَلَقَنِی فَهُوَ یَهْدِیْنِ، وَالَّذِی هُوَ یُطْعِمُنِی وَیُسْقِیْن، وَاِذَا مَرَضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ، وَالَّذِی یُمِیْتُنِی ثُمَّ یُحْیِیْنِ- ) -(۱۴)

”جس نے مجھے پیدا کیا (وہی میرا دوست ہے) پھر وہی میری ہدایت کرتا اور وہ شخص جو مجھے (کھانا) کھلاتا ہے او رمجھے (پانی) پلاتا ہے اور جب بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا عنایت فرماتا ہے اور وہ شخص جو مجھے ما ڈالے گا اس کے بعد(پھر) مجھے زندہ کرے گا“

کس طرح خدا کی اطاعت سے انکار کیا جا سکتا ہے، اور کیا واقعاً یہ حق وانصاف سے بعید نہیں ہے کہ ہم یہ کھیں کہ اب ماڈرن انسان تکالیف و اطاعت کا تابع نہیں ہے، اور اپنے حقوق کا طالب ہے؟

کیا اسلام اس فلسفہ کو قبول کر سکتا ہے؟ واقعا ً ایسے نظریہ کااسلامی ہونا تو دور کی بات،یہ تو عقل اور انسانیت سے بھی خالی ہے-

حوالہ

(۱)سورہ اسراء آیت۱

(۲)سورہ فجر آیت۲۷،۲۹

(۳)سورہ مائدہ آیت ۲۷

(۴)سورہ ہود آیت ۸۵

(۵)سورہ ہودآیت۸۷

(۶)سورہ بقرہ آیت۲۲۵۷

(۷)سورہ یٰس آیت۶۰،۶۱

(۸)سورہ نحل آیت۳۶

(۹)سورہ بقرہ آیت۱۵۶

(۱۰)سورہ اسراء آیت۴۴

(۱۱)سورہ نورآیت۴۱

(۱۲)سورہ انسان آیت۳

(۱۳)سورہ ذاریات آیت۵۶

(۱۴)سورہ شعراء آیت۷۸-۸۱


ساتواں جلسہ

آزادی کے حدود

۱-اسلام کا سیاسی نظریہ اور آزادی کو محدود کرنے کا شبہ

چونکہ ہمارا اسلامی سماج،اسلامی قوانین اور ان متغیر قوانین پر کہ جو اسلامی دائرے میں وضع کئے جاتے ہیں ، ادارہ ہوتا ہے لھٰذا ہماری حکومت بھی اسلامی قوانین پر ہونی چاہیے اور قانون کو جاری کرنے والے حضرات اسلامی دائرے سے خارج نہیں ہونے چاہیے اور ہم لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اسلامی قوانین پر عمل کریں -

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نظریہ انسان کی آزادی سے ہم آھنگ بھی ہے یا نھیں ؟ انسان اپنی زندگی کے قوانین اور ان کی کیفیت کوطے کرنے میں آزاد ہے، اگر اس سے کھا جائے کہ تمھیں اس دائرے میں چلناہے اور ان قوانین کی رعایت کرنی چاہے توکیا یہ انسان کی اصل آزادی جوانسان کی مسلمہ حقوق میں سے ہے،اس سے منافات تو نہیں رکھتا؟

ہم مندرجہ بالا سوال کو بیان کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں ، اور اس نکتہ سے ہم کو بعد کی گفتگو میں اس سے استفادہ کرنا ہے، اور یہ نکتہ غور طلب ہے: جس وقت عینی اور انضمامی چیزوں سے ہمارا واسطہ ہوتا ہے،تو ان کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہوتا مثال کے طور پر جب ہم طبیعی علوم میں عینی چیز یں جیسے پانی، بجلی، اٹھنا، بیٹھنا، اسی طرح ڈاکٹری امور میں آنکھ، کان، ھاتھ، پیر، معدھ،دل، جگر کا مشاہدہ کرتے ہیں ، تو ان چیزوں کو سمجھنا آسان ہے کیونکہ ہم تمام لوگ سمجھتے ہیں کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں ؟ ھاں بہت کم ایسے مسائل مبہم ہوتے ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے جیسے اگر پانی میں مٹی ملی ہو تو کیا پھر بھی پانی ہے یا نھیں ؟

لیکن عینی او رانضمامی چیزوں کو سمجھنے میں غالباً کوئی خاص مشکل نہیں ہوتی، لیکن اگر ہمارے سامنے انتزاعی اور کسبی چیزیں ہوں (مثلاً فلسفی مفاہیم یا انسانی علوم مثلاً علم نفسیات،جامعہ شناسی، حقوق اور علوم سیاسی وغیرہ جیسی چیزیں ) تو ان کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے،اور کبھی کبھی کسی لفظ کے مختلف معنی ہوتے ہیں اور ایک لفظ کے متعدد معنی ہونے کی وجہ سے ان کو سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے غالباً ایسے الفاظ کے بارے بحث کے بعد بھی انسان کسی یقینی نتیجہ پر نہیں پہونچتا-

مثال کے طورپر ہم سبھی لفظ، فرہنگ(کلچر) سے آشنا ہیں اور یہ لفظ مدارس کی مختلف کلاسوں میں استعمال ہوتا ہے، اسی طرح اشعار، ادبیات اور روز مرہ کی گفتگو میں استعمال ہوتاہے، اس کے بعد بھی اگر کسی سے سوال کیا جائے کہ فرہنگ کے کیا معنی ہیں ؟ تو شاید ھزاروں میں ایک بھی ایسا شخص بھی نہ ملے جو فرہنگ کے معنی کرتے وقت کھے کہ اس لفظ کے ۵ ۰ سے ۵ ۰۰ تک معنی ہیں ! اور یہ مسلم ہے کہ جب اس مشہور اصطلاح میں اتنا ابھام پایا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس ابھام کی وجہ سے بہت سے اجتماعی مسائل بھی تحت تاثیر قرار پائیں گے، اور جب توسعہ فرہنگی (کلچر کی وسعت) کی بات کی جائے گی تو سوال کیا جائے گا توسعہ فرہنگی یعنی چیست؟ اور اس کے مصادیق کیا ہیں ؟ اور کس صورت میں اور کس طرح فرہنگ میں توسعہ ہوتا ہے اور اگر پارلیمنٹ میں توسعہ فرہنگی کیلئے بجٹ پاس کیا جاتا ہے اور اس کو خرچ کرنے کیلئے جگھیں معین کی جاتی ہےں ، ہر وز اتخا نہ میں اس لفظ کے معنی بیان کئے جاتے ہیں اور اس کے خاص موارد مشخص کئے جاتے ہین اور بعض لوگوں کو اس سے غلط فائدہ اٹھانے کا موقعہ مل جاتا ہے-

۲-آزادی کے بارے میں مختلف نظریات

ہم نے جو کچھ انتزاعی اور کسبی الفاظ کے بارے میں عرض کیا کہ جن کے خاص مصادیق بھی نہیں ہیں اور ان کی تعریف و حدو حدود بھی مشکل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی ایک انتزاعی مفہوم ہے جس کے بارے میں ہمیں بحث کرنا ہے، مثلاً اگر کوئی کھے ”آزادی“ تو سننے والے کو اچھا لگتا ہے، اور آزادی کیلئے تمام ہی مذاہب ، ملت خاص احترام کے قائل ہیں ، کیونکہ انسان فطری طور پر آزادی چاہتا ہے، اور بعینہ آزادی کی تلاش میں رہتا ہے-

اگر کسی انسان سے سوال کیا جائے کہ آپ آذاد رہنا پسند کرتے ہیں یا غلام؟ لا محالہ سبھی حضرات جواب دیں گے: آزاد رہنا، اور کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہے گا کہ کسی کا غلام بن کر رہنا پسند نہیں کرےگا، لیکن چونکہ آزادی کے کوئی واضح معنی بیان نہیں ہوتے ہیں ، جس کی بنا پر آزادی کا نعرہ لگانے والے افراد جو دینی اختلافات کا شکار ہوجاتے ہیں کوئی کچھ معنی کرتا ہے تو دوسرا کچھ معنی مراد لیتا ہے، ایک شخص جب آزادی کا مطلب بیان کرتا ہے تو دوسرا کھتا ہے ہماری نظر میں آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے جو آپ نے بیان کیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں جو ہم کرتے ہیں ، اسی طرح دوسرا شخص بھی یھی کھتا ہوا نظر آتا ہے کہ اس بارے میں جو کچھ اب ہماری طرف نسبت دیتے ہیں ، وہ ہماری مراد نہیں ہے-

بلکہ ہماری مراد اس کے علاوہ ہے اگر ہم آزادی کے بارے لکھی ہونی کتابوں ، مضامین اور رسالوں کا مطالعہ کریں خصوصاًوہ کتابیں جو آخری سالوں میں لکھی گئی ہیں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ مولفین اور صاحب نظر حضرات کے دھیان آزادی کا کوئی مشخص و معین معنی نہیں ہے، ایک شخص آزادی کا کچھ معنی کرتا ہے اور اسی کا دفاع بھی کرتا ہے، تو دوسرا شخص اس نظریہ کی تنقید کرتا ہوا ایک دوسرا معنی کرتا ہے، اور ظاہر میں بات ہے کہ اس قدر اختلاف کے باوجود آپس میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا-

لھٰذا تفاہم اور سمجھوتے کیلئے آزادی کی ایک مشترک تعریف کی جانا ضروری ہے، تاکہ بحث کسی نتیجہ پر پہونچ سکے، اگر ہم سے کوئی سوال کرے کہ آزادی اور اسلام میں سازگاری ہے یا نہیں تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ پہلے ہمیں آزادی کو سمجھنا پڑے گا، کہ آزادی کے معنی کیا ہیں ، (اور جیسا کہ مغربی مولفین نے آزادی کے بارے میں حدوداً ۲ ۰۰ تعریف بیان کی ہیں اگرچہ ان میں سے بہت سی تعریفیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ،صرف ایک یا دو الفاظ کی وجہ سے اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن ان مقامات پر یہ تعریفیں ایک دوسرے کے منافی(اپوزٹ) ہیں تو اس طرح کے اختلافی موارد میں کس طرح یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی اسلام سے سازگار ہے یا نھیں ؟

آزادی کی طرح ”ڈیمو کراسی“ (جمہوریت) بھی ہے یہ ایک مغربی اصطلاح ہے جس کے معنی مردم سالاری، حکومت یا لوگوں کی حکومت کئے جاتے ہیں ، لیکن پھر بھی اس کے کوئی خاص اور معین معنی موجود نہیں ہیں ، اس میں یہ معین نہیں ہے کہ ڈیمو کراسی ایک حکومت ہے یا اجتماعی زندگی کا ایک طریقہ ہے؟ کیا اس کا تعلق حکومتی اور سیاسی مسائل سے ہے ؟ معاشرہ شناسی یا مدیریت سے اس کا ربط ہے؟ یہ جامعہ شناسی سے مربوط ہے یا اس کا ربط مدیریت سے ہے، اس سلسلے میں بھی بہت بحثیں ہوچکی ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کردیا جائے کہ ایسے الفاظ کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنا بھی مشکل میں اضافہ کرتا ہے-

اس طرح لفظ ”لیبرالیسم“ بھی ہے کہ جس کا ترجمہ پہلے ”آزادی خواہی“ ہوتاتھا اور آزادی خواہی لفظ آزادی کی وجہ سے بہت جذّاب اور خاص اہمیت کا حامل تھا اور اس بنیاد پر آخری دھائیوں میں شاہ کی پہلوی حکومت ”آزادی خواہ پارٹی“ کا نام اپنائے ہوئے تھی-

لھٰذاچونکہ اس طرح کے انتزاعی مفاہیم اچھی طرح واضح نہیں ہوتے ان سے بحث کرنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ واضح نہ ہونے کی بنا پر مطلب مشکل ہوجاتا ہے،اور قطعی طور پر ان کے معنی کی حد بیان کرنا مشکل ہوتا ہے اس طرح کے الفاظ کی کوئی خاص حد نہیں ہوتی، کبھی ان الفاظ کی حد کم ہوجاتی ہے اور کبھی بڑہ جاتی ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ ان مشکلات کی وجہ سے بحث بھی پیچیدہ ہوجاتی ہے-

لفظِ آزادی کے بارے میں ان مشکلات، ابھامات اور مختلف نظریات (جیسا کہ ۲ ۰۰ سے زائد تعریفیں بیان کی گئی ہیں ) کے پیش ِ نظر اگر ہم اسلامی لحاظ سے آزادی کو سمجھیں اور الگ الگ تعریفوں کو اسلام کے ساتھ مقایسہ کریں تو واقعاً یہ ایک مشکل و پیچیدہ کام ہے، عمومی اور مختلف لوگوں کیلئے اس بحث کو بیان کرنا تو دور کی بات ہے، لھٰذا ضروری ہے کہ بحث کو تطبیقی لحاظ سے آگے بڑھایا جائے اور دیکھیں کہ آزادی کے طرفدار حضرات آزادی سے کون سے معنی مراد لیتے ہیں ؟ اور آزادی سے کیا چاہتے ہیں ،اس وقت دیکھا جائے گا کہ جو وہ لوگ چاہتے ہیں وہ اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک ہے یا نھیں ؟ وہ لوگ جو آزادی چاہتے ہیں اور آزادی کی طرفداری بھی کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ملک میں آزادی نہیں ہے ،آزادی کا کیا مطلب مراد لیتے ہیں ؟ کیا میڈیا آزاد نہیں ہے؟ کیا لوگ انفرادی آزادی نہیں رکھتے؟ یا سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی آزادی نہیں رکھتے؟ آزادی کا نعرہ لگانے والے لوگوں کو کس صورت میں آزاد سمجھتے ہیں ؟

اگر مصادیق کے بارے میں تھوڑی بحث کی جائے تو ایک واضح نتیجہ پر پہونچنا ممکن ہے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا مد مقابل کیا کھتا ہے اور کیا چاہتا ہے، اس صورت میں گفتگو کی روش مبہم نہ رہے اور دوسرے افراد بھی اس سے غلط استفادہ نہ کرسکیں گے-

۳- آزادی، مطلق نہیں ہے،اور آزادی کے دین پر مقدم ہونے کا جواب

معمولاً خود عرض اور دھوکہ باز افراد آزادی جیسی انتزاعی اور مشکل چیزوں سے اپنے اہداف و مقاصد تک پہونچنے کیلئے آزادی جیسے الفاظ سے سوء استفادہ کرتے ہیں ، اور اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کچھ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ان کے کھنے کا مقصد فی کچھ اور ہی ہوتا ہے، مغالطہ آمیزاور دھوکہ دینے والے الفاظ کے ذریعہ لوگوں کو فریب دیتے ہیں ، مثال کے طور پر تقریروں ، مقالوں اور اخباروں میں یہ سوال بیان کیا جاتا ہے کہ دین آزادی پر مقدم ہے یا آزادی دین پر مقدم ہے؟ کیا اصل، آزادی ہے اور دین آزادی کے تابع ہے یا اصل دین ہے اور آزادی اس کے تابع ہے؟

معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ سوال ایک علمی اور دقیق سوال ہے اور یہ سمجھنا واقعاً جذّاب ہے کہ آ زادی اصل ہے یا دین اصل ہے؟ اس کا درک کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے، لیکن جب ہم بحث کرتے ہیں اور کھتے ہیں کہ دین اصل ہے تو جواب دیتے ہیں کہ اگر کوئی آزاد نہ ہو تو کوئی پھر کس طرح دین کا انتخاب کر سکتا ہے؟ لھٰذا انسان کو دین قبول کرنے میں آزاد ہونا چاہئے،، پس نتیجہ یہ ہوا کہ آزادی دین پر مقدم ہے اور جب یہ طے ہوجائے کہ آزادی دین پر مقدم ہے تو پھر یہ نتیجہ بھی آسانی سے نکل آئے گا کہ دین آزادی کو محدود نہیں کر سکتا، کیونکہ آزادی دین سے بالاتر ہے اوردین پر مقدم ہونے کا حق رکھتی ہے-

قارئین کرام جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ یہ مغالطہ آمیز استدلال ظاہراًتو ٹھیک دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اگر کوئی انسان آزاد نہ ہوتو کس طرح دین کو انتخاب کر سکتا ہے، اس لئے انسان کو آزاد ہونا چاہیے، تاکہ اسلام کو دل سے قبول کرسکے، لھٰذا معلوم ہوتا ہے کہ آزادی دین پر مقدم ہے، اور یھی اصل ہے یھی دین کو معتبر بناتی ہے، اور بنیادی طور پر دین کی علت وجودی ہے لھٰذا اپنی پیدا کی ہوئی چیز کے ذریعہ خود ختم یا محدود نہیں ہو سکتی،آخر میں ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہر انسان کا دینی ماحول بالکل آزادی کے ساتھ ہو گا-

بعض دوسرے افراد یہ استدلال کرتے ہیں کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو کسی کا غلام نھیں ھوتا بلکہ آزادھوتاہے، لھٰذا زندگی اس کو میں آزاد ہونا چاہئے-

اس طرح یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ اختیار اور آزاد ارادہ رکھنا ایک بہت اہم چیز ہے، اس بنیاد پر اگر انسان اس دنیا میں آئے اور اس کے ھاتہ پیر مفلوج ہوجائیں اور زبان سے گونگا ہوجائے تو اس کی کیا قیمت ہے؟ انسان کی قدرو قیمت اس وقت ہے جب وہ آزاد ہو جہاں چاہے جائے جو کرنا چاہے اس کو انجام دے سکے، جو چاہے اپنی زبان سے کھے اور چونکہ انسان تکوینی طورپر آزاد خلق ہوا ہے تو پھر قانونی طور پربھی انسان کو آزاد ہونا چاہئیے!

یہ وہی طبیعت گرانہ مغالطہ ہے کہ جس میں ”است“ (ھے) سے ”باید“(ھونا چاہئیے) کا غلط نتیجہ نکالا گیا ہے، اگر ہم چاہیں کہ ان تمام مسائل کو دقیق اور جدی طریقہ سے بحث کریں توہم کو فلسفی اور دقیق بحث کرنے کی ضرورت پیش آئے گی، اور بہت جلدی کسی نتیجہ پر نہیں پہونچ سکتے-

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ اگر ہم آزادی کے بارے میں بحث کریں تو پھر دسیوں تعریفوں سے تحقیق و بررسی کرنی ہوگی، اس وجہ سے مصادیق کے سلسلے میں ہی بحث کرنا مناسب ہے، اورآزادی کا نعرہ لگانے والے افراد سے کھیں کھ: اگر کوئی شخص تمھارے منہ پر ایک زور دار تھپڑ لگا کر کھے میں آزاد ہوں ؟! تو کیایہ صحیح ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ جواب منفی ہوگا اور اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا، اور جواب یہ ملے گا کہ آزادی سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے، کیونکہ یہ تو دوسروں پر ظلم ہے لھٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی اس وقت تک مناسب ہے کہ جب تک دوسرے پر ظلم وزیادتی نہ ہو، یعنی آزادی مطلق نہیں ہے-

اور اگر اس سے یہ کھا جائے کہ کوئی شخص تمھارے خاندان اور عورتوں کے بارے میں جو کچھ چاہے کھے ، وہ تم کو مار تو نہیں رہا ہے بلکہ آپ کی بے حرمتی کررہا ہے اور تمھارے یا تمھارے اہل خانہ کے بارے میں نازیبا الفاظ کھہ رہا ہے، تو کیا یہ صحیح ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی اس بات کی اجازت نہیں دےگا،کیونکہ یہ بھی دوسروں کے حقوق کی پائمالی ہے، اور ناموس کی عزت بھی معاشرے میں محترم ہے، پس معلوم ہوا کہ عزت وناموس پر تجاوز وزیادتی ظاہری چیزوں پر منحصر نہیں ہے-

اور اگر کوئی شخص کسی اخبار میں اس کے خلاف کچھ لکھے اور مقالہ کے ذریعہ اس کی شخصیت اور آبرو کو داغدار کرے، تو اس صورت میں کیا یہ فیزیکی اور ظاہری طور پر اس کی بے حرمتی نہیں ہوئی ہے، یعنی زبان کے ذریعہ اس کی بے عزتی نہیں ہوئی ہے،کیا کوئی اس چیز کی اجازت دے سکتا ہے؟ ہر گز کوئی شخص اس بات کو قبول نہیں کر سکتا، اور اس کام کو بھی دوسروں کے حقوق کی پائمالی اور اپنے لئے بے عزتی جانتا ہے، اور اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص اس کی آبرو ریزی کرے، اور اس کے حقوق کو پائمال کرے، نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی کیلئے اب تک تین قیود و شرط موجود ہیں اور اگر ان شرطوں کی رعایت نہ کی جائے تو دوسروں کے حقوق کی پامالی ہے-

۴- ہر معاشرے کی مقدسات کی رعایت ضروری ہے-

ایک دوسرا نکتہ کہ جس کے بارے میں بحث کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہر معاشرہ کی مقدسات (قابل احترام چیزیں ) الگ الگ ہیں ، اور نسبی ہوتی ہیں مثال کے طور پر بعض معاشروں میں کسی کی بھن یا بیٹی سے آزادانہ رابطہ کرنا معیوب نہیں ہوتا، جیسا کہ یورپی اور امریکائی ممالک ہیں کہ کوئی بھی شخص کسی بھی لڑکی یاعورت سے دوستی کرنا چاہے، تو چاہے اس دوستی کے نتائج کچھ بھی نکلیں کوئی مشکل نہیں ہے-

کیونکہ دونوں کی مرضی سے یہ کام ہو رہا ہے لیکن اگر کوئی شکایت کرے اور کورٹ میں جا کر اس کے خلاف مقدمہ دائر کرے کہ طاقت کے بل بوتے پر مجہ پر ظلم ہوا ہے اور میں راضی نہیں ہوں ، تو عدالت اس کی اس شکایت کو سنتی ہے لیکن صرف مرد وعورت کی دوستی کیونکہ اپنی مرضی سے ہوتی ہے ،لھٰذاکوئی عیب نہیں ہے! لھٰذا اگر کوئی شخص کسی سے کھے میری اور تمھاری بھن کی دوستی ہے اور کل رات فلاں جگہ تھے یورپی فرہنگ و کلچر میں برا نہیں سمجہا جاتا، اور کوئی اس بات پر خوش بھی ہو سکتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں یھی بات بری سمجھی جاتی ہے اور اس کو برا سمجہا جاتا ہے کسی کو ایسی باتیں کھنے کا کوئی حق نہیں ہوتا،ان باتوں سے ایک دوسرا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ہر معاشرے میں کچھ خاص چیزیں ہوتی ہیں کہ جن کو وہ محترم اور مقدس سمجھتا ہے، درحالیکہ یھی چیزیں دوسرے معاشرے میں نہیں پائی جاتیں ، اب یہ دیکھنا ہے کہ ان مقدسات کا معیار کیا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر معاشرے کی مقدسات اس کی ثقافتی اور اجتماعی زندگی کی وجہ سے ہوتی ہیں ، اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ مقدسات معاشرے کی بنیاد، اس ماحول اور ملک کے ثقافتی معیار کی وجہ سے ہوتی ہیں لھٰذا اگر کسی معاشرے میں وہاں کی ثقافت کے وجہ سے کچھ چیزیں مقدس اور قابل احترام ہوں ، تو ان سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور ان کی بے احترامی نہیں ہونا چاہیے، اور کسی بھی معاشرے میں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ جو چاہے کھے،جبکہ اس کو اس طرح کی باتیں کرنا چاہیے جن سے ان مقدسات کی بے احترامی نہ ہوتی ہو-

نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی کیلئے بہت سی قید و شرط ہیں کہ جن کی ہر معاشرہ کے لحاظ سے رعایت کرنا چاہیے اور آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان جو چاہے کھے، اور جس طرح چاہے کرے، ھاں اگر جس ماحول میں وہ زبان کھول رہا ہے ا سمیں اگر اس کو بے احترامی نہیں سمجہا جاتا تو اس کا کہنا صحیح ہے لیکن جس معاشرے میں وہ کھہ رہا ہے اگر وہاں اس کا یہ کہنا اس معاشرے اور مذہب کے مقدسات کی توہین ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں ہے وہ مقدسات کے ہدف کچھ کئے، اور جو چاہے انجام دے اور کوئی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا، اگرچہ ہم نے جو کچھ بیان کیا،مغربی ممالک میں محترم اور با اہمیت نہیں سمجہا جاتا اور ہر انسان اپنی گفتار و کردار میں آزاد ہے،لیکن ہمارے معاشرے میں چونکہ اسلامی حکومت ہے مغربی ممالک سے فرق ہے اور اس طرح کی آزادی نہیں ہے کہ جو چاہے لوگوں کی طرف نسبت دے اس بات کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے فرہنگ و ماحول میں یہ چیزیں با ارزش ہیں اور ہر قوم و ملت کے مقدسات کا احترام کرنا ضروری ہے اور آزادی کے بھانہ ان کی خلاف ورزی کرنا صحیح نہیں ہے-

پس معلوم یہ ہوا کہ آزادی کا دائرہ اتنا وسیع نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں اور اس قدر آزادی کو کوئی بھی عقلمند انسان قبول نہیں کر سکتا، لھٰذا آزادی کے اس طرح معنی بیان کرنے چاہئےے جس سے دوسروں کی توہین اور ان کے حقوق کی پائمالی نہ ہوتی ہو-

لھٰذا جن باتوں سے لوگوں کے مقدسات کی توہین ہوتی ہو ان کا بیان کرنا ممنوع اور ناجائز ہے، اسلامی معاشرہ میں آزادی کا بھانہ بناکرخاص طور سے جان سے زیادہ عزیز اسلامی مقدسات کی توہین کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے-

ہماری قوم و ملت نے ثابت کر دیا ہے کہ اپنے عزیزوں کی لاکھوں جانیں قربان ہوجائیں ، لیکن اسلام باقی رہے، اب اگر مغربی کلچر میں کسی بھی طریقہ سے کسی کی توہین ہو (مثلاً یہ کھا جائے کہ آپ کی ناک بہت لمبی ہے، آپ کا قیافہ برا ہے) اس کو عدالت میں جانے اور مقدمہ دائر کرنے کا حق ہے، اسی طرح اگرہمارے معاشرے میں کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں توہین کرے، وہ بھی اس بارے میں کہ جو ماں ، باپ، بیوی اور اولاد حتی خود اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو، ظاہر ہے کہ لوگوں کو یہ اعتراض کرنے کا حق ہے کہ آزادی کا بھانہ بنا کر ہمارے مقدسات کی توہین کیوں کررہے ہو-

۵-آزادی کے نعرہ میں ناجائز غرض

جو لوگ آزادی کا دم بھرتے ہیں اور آزادی نہ ہونے کا غم مناتے ہیں اور ایران میں آزادی نہ ہونے کا مرثیہ پڑھتے ہیں ! کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ ان میں سے بعض لوگوں نے مغربی ممالک کا سفر کیا ہے یا ان کے بارے میں سنا ہے یا وہاں کی فلموں کو دیکھا ہے،جو لوگ اس طرح کی زندگی چاہتے ہیں ،لیکن ایران میں ان کو اس طرح کی زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں ہے ،اسلامی حکومت کھاں سے قوانین بناتی ہے؟ کیا اسلامی حکومت کے قوانین خدا،رسول اور آئمہ کی مرضی کے مطابق قوانین نھیں ھوتے ہیں ؟ وہ لوگ الٰھی احکام کو قبول نہیں کرتے، ولی فقیہ پر اعتراضوں کی بوچھار کرتے ہیں اور ولی فقیہ کے متعلق کینہ رکھتے ہیں جبکہ ولی فقیہ اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کھتا:

( فَإِنَّهُمْ لاٰ یُکَذِّبُونَکَ وَلٰکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِاٰیَاتِ اللّٰه یَجْحَدُوْنَ ) -(۱)

”یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یھ) ظالم (حقیقتاً) خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں “

کیا مرجع تقلید اور فقیہ اپنی طرف سے کچھ کھتا ہے؟ وہ جو کچھ بھی کھتا ہے قرآن ، احادیث سے اخذ کرتا ہے لیکن دشمن اس چیز کو قبول نہیں کرتا، امریکہ کی معتبر یونیورسٹیوں کی کھلی فضا میں بہت سے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ لڑکے، لڑکیاں ایک دوسرے کے سامنے ایسے ایسے کام کرتے ہیں کہ جن کے بیان کرنے سے شرم آتی ہے،وہاں کے عیاش خانوں میں کیا کیا ہوتاہے؟ تصور کریں اگر وہاں کے عیاش خانوں کی ویڈیو بنائی جائے اور اس کو اس ملت کے جوانوں کو دکھائی جائے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی جوان ایسی فلمیں دیکھئے گا،اور جب صبح اٹھ کر یونیورسٹی جائے گا تو پھر سکون سے نہیں رہ سکے گا، کیونکہ رات میں سویاہی نہیں ہے، اور دوسری طرف اس کی شھوت تحریک ہو جاتی ہے، اور اس کا چین و سکون غائب ہو جاتا ہے، اب اگر ایسا جوان نعرہ لگائے کہ یھاں آزادی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو میں کرنا چاہتا ہوں ،اس کو کرنے نہیں دیا جاتا اسلام کے مقابلہ میں اسی طرح کی آزادی کو لایا جاتاہے-

اور کھا جاتا ہے کہ آزادی مقدم ہے یا اسلام؟ اس آزادی کا مطلب ہی جنسی شھوات کو پورا کرنا ہے، لھٰذا شروع ہی سے یہ کھا جائے کہ آزادی سے ہم یہ چاہتے ہیں ، ہر وہ چیز جو کچھ کفر و الحاد کے ماحول میں ہوتی ہے وہی معاشرے میں بھی جائز ہو جائے تو وہ مطمئن رہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا، کیونکہ لوگوں نے اپنے عزیزوں کی جانیں قربان کی ہیں تاکہ اسلام کارواج ہو، نہ کہ مغربی فساد اور بے ہودگی رائج ہو-

ممکن ہے کہ کوئی یہ کھے کہ ہم واقعاً مسلمان ہیں اور اس حکومت کو ووٹ دیا ہے اور ولایت فقیہ کے معتقد ہیں اور جیسی آزادی مغربی ممالک میں رائج ہے ایسی آزادی نہیں چاہتے، بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہم لکھنا چاہیں اس کو بغیر کسی روک ٹوک کے بے جھجک لکہ سکیں ہم تو آزادی بیان و قلم اور عملی آزادی کے خواہاں ہیں ،ہم کو اپنی بات کھنے کی آزادی ملنا چاہیئے-

یہ بات ظاہراً ٹھیک ہے کیونکہ حقوق بشر کے نشریات میں سے ایک حق جو تمام لوگوں کو ہے یھی آزادی بیان اور میڈیا کی آزادی ہے اور اسی طرح کی آزادی کو ڈیمو کراسی کی ایک اصل مانا گیاہے، لیکن ہم ان سے یہ کھیں گے کہ آپ اپنی رائے کا اظھار کریں کہ ہمارے ملک کے حکمران کیسے ہیں لیکن کیا واقعاً آپ کہنا چاہتے ہیں کہ فلاں شہر کا فلاں قاضی صحیح کام کرتا ہے یا نہیں یا فلاں شہر کاڈی ایم( D-M )ٹھیک کام کرتا ہے یا نھیں یا فلاں ملازم کا کردار صحیح ہے یا نھیں ؟ یا درحقیقت آپ اصل اسلام اور اسلامی مقدسات کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں اور ان تمام چیزوں کی نفی کرنا چاہتے ہیں ؟ یا اسلامی مقدسات کی توہین کرنا چاہتے ہیں ؟

۶- آزاد گفتگو کی حد وحدود

اگر آزادی سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جس کام کا ہوناجائز نہیں ہے اس کے بارے میں لکھنا اور کہنا جائز ہونا چاہئیے، جیسا کہ ہم نے مثال میں عرض کیا تو جب کسی شخص کو آپ کے سلسلے میں کوئی توہین آمیز کلمات کھنے کا کوئی حق نہیں ہے،یعنی وہ اتنی آزادی نہیں رکھتا لیکن جب اسلامی مقدسات کی بات آتی ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ آزادی بیان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو چاہیں لکھیں ہم جو چاہیں کھیں !

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی آپ کے بارے میں توہین آمیز کلمات زبان پر جاری کرے، اور اگر کوئی ایسا کرے تو آپ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور مقدمہ دائر کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ،آپ اجازت نہیں دیتے کہ آپ کے ذاتی مسائل کو اخبار میں دیا جائے تو پھر آپ کو اس ملت کے راز فاش کرنے کا حق کھاں سے حاصل ہوگیا؟ کس طرح آپ کی نظر میں کسی ایک شخص کے راز کو فاش کرنا جائز نہیں ہے، لیکن ایک ملت کے راز کو فاش کرنا جائز ہوگیا! یعنی آپ کی نظر میں جب ایک شخص لاکھوں میں تبدیل ہو جاتا ہے ،توکیا اس کے راز کو فاش کرنا جائز ہے؟! کیا ایک معاشرے کی نسبت اپنے مقالوں میں حدود کی رعایت کرنا ضروری نہیں ہے؟ کیا کچھ بھی لکھا اور کیا جا سکتا ہے، معاشرے کے بھی کچھ حقوق ہیں ،اس کے مقدسات ہیں اور ان کا احترام باقی رہنا چاہیے اور مقدسات کو مجروح نہیں کیا جا سکتا-

جس طرح آپ اپنی توہین کر برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ،اسی طرح آپ اپنی ناموس یا آپ کے گھریلو اسرار کے بارے میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتے، تو پھر آپ کس طرح اجازت دیتے ہیں کہ اس عظیم معاشرے جس نے ھزاروں عزیزوں کو ان مقدسات کی حفاظت کیلئے قربان کردیا ہے اس کی توہین کی اجازت دیتے ہیں ؟!

کیا آپ کی نظر میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، ؟اور آزادی کا بھانہ بنا کر قانون کی طرف سے کوئی حد و حدود نہیں ہونا چاہیے؟ کیا آزادی مطلق ہے؟ اور اگر آزادی مطلق ہو توکسی کے بارے میں کچھ بھی کھنے کا حق حاصل ہونا چاہئےے اور اگر اس ۶ /کروڑ والی ملت کی مقدسات مجروح ہوں اور کوئی تم پر اعتراض کرے تو آپ جواب میں کھیں : اظھار نظر کرنا آزاد ہے! اس سے بڑا مغالطہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے احترام کو مجروح کرنا جائز نہیں ہے لیکن ۶ /کروڑ والی ملت کے مقدسات کو مجروح کرنا جائز ہے، لیکن ایک عرب مسلمانوں کے مقدسات کو مجروح کرنا جائز ہے! یہ کونسی منطق اور فلسفہ ہے؟ اور صرف اس وجہ سے کہ حقوق بشر کے نشریات میں موجود ہے کہ بیان آزاد ہے مقدسات کی توہین کرنا بھی آزاد ہوجائے گا؟! آزادی کا ایک مبہم کلمہ استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص اپنے لحاظ سے اس کی تفسیر کر کے سوء استفادہ کرتا ہے-

۷-الفاظ کے مفہوم اور مصادیق کو روشن کرنے کی ضرورت

ہم یھاں پر یہ مشورہ نھیں دیتے ہیں کہ مبہم اور غیر واضح الفاظ کو استعمال کرنے کے بجائے ان کے مصادیق پر تکیہ کریں اور کھیں کہ یہ کام جائز ہے یا نھیں ؟ مثلاً یہ کھنے کے بجائے کہ اسلام ڈیموکراسی کے موافق ہے یا نھیں ؟ کھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور کون سا عمل انجام دینا چاہتے ہیں ؟ کیا آپ خدا اور اس کے احکام کو نادیدہ کرنا چاہتے ہیں اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا، اگر ڈیموکراسی کے یہ معنی کیے جائیں کہ انسان جس طرح کے قوانین بنانا چاہے بنا سکتا ہے اگرچہ خدا کے قوانین کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں ، توچاہے پوری دنیا زور لگائے ہر گز ہم ایسی ڈیموکراسی کو قبول نہیں کر سکتے -

لیکن اگر ڈیموکراسی کے یہ معنی کئے جائیں کہ لوگ اپنی سرنوشت اور زندگی میں موثر ہیں ،کوئی شخص اپنے زور کے ذریعہ ان پر تحمیل نہیں کر سکتا، افراد بھی اسلامی قوانین اور بنیادوں کے دائرے میں چلیں ، تو اس چیز پر تو شروع انقلاب سے عمل ہو رہا ہے، اور اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ایران کے برابر کسی بھی ملک میں لوگوں کی کا احترام نہیں کیا جاتا،تو شاید دعویٰ بے جا نہ ہوگا، اور شاید کھنے کی وجہ بھی یہ ہے کہ ہمارے پاس اس حد تک ثبوت نہیں ہیں ،لیکن پھر بھی ہمارا نظریہ یہ ہے کہ دنیا میں کھیں بھی اتنی آزادی نہ ہو، لھٰذا لفظ ڈیموکراسی پر بحث و مباحثہ کرناکہ اسلام ڈیموکراسی کا موافق ہے یا مخالف ہے ؟

اس سے بہت ر یہ ہے کہ پہلے اس کے مصادیق کو معین کر لیں ، مثلاً کیا اسلام ہم جنس بازی کے آزاد ہونے کی اجازت دیتاہے ؟ چاہے تمام ہی لوگ ایسا نظریہ رکھتے ہوں ، ظاہر ہے کہ اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتااگر تمام ہی لوگ اس چیز کے موافق ہی کیوں نہ ہوں اور اس بارے میں ووٹ بھی دیں ، لھٰذا اگر ڈیموکراسی اس حد تک بے لگام ہو تو پھر ہم اس کو نہیں مانتے، لیکن اگر ڈیموکراسی سے مراد یہ ہو کہ افراد انتخابی مہم میں آزاد ہیں پارلیمنٹ کے ممبران کو آزادانہ طور پر منتخب کریں ، صدر کا انتخاب آزادانہ طریقہ پر ہو اور ان کو حق ہے کہ ممبران پارلیمنٹ یا دوسرے ذمہ دار افراد کی استیضاح(۱) کرے تو ایسی آزادی ہونا چاہیے کہ الحمد للہ ہمارے یھاں یہ آزادی ہے، اور ہم بھی سو فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں ، لھٰذا اس کے لئے الفاظ کی بحث میں جانے سے بہت ر یہ ہے کہ ان کے مصادیق کے بارے میں بحث کی جائے، کھلے عام کھیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں تاکہ اس کا جواب بھی واضح طور پر دیا جا سکے-

اور اگر الفاظ مبہم اور نا مشخص استعمال کئے جائیں گے تو ان کے جوابات بھی مبہم دئے جائےں گے، درج ذیل الفاظ جیسے آزادی، ڈیموکراسی، لیبرالیسم، جامعہ مدنی، تمدن اور فرہنگ و ثقافت مبہم ہیں کہ جن کی مختلف تفسیریں کی جا سکتی ہیں لھٰذا ان کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا کبھی بھی عقلمندی نہیں ہے، صاف کھیں کیا چاہتے ہیں تاکہ ہم اس کا جواب دیں کہ آیا اسلام سے ہم آھنگ ہے یا نھیں ؟

(۱) یعنی ممبر آف پارلیمنٹ کسی وزیر سے کسی سلسلہ میں توضیح مانگے اور نامطمئن جواب ملنے پر دوبارہ اس کے بارے ووٹنگ ہو اور اگر اس کے بارے میں اعتماد رائے باقی رہے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو ھٹا دیا جاتا ہے-

حوالہ

.۱سورہ انعام آیت ۳۳


آٹھواں جلسہ

حکومت کے ڈھانچے کی وضاحت

۱- عنصری اور مصداقی تعریف کی اہمیت

ہم اس جلسہ میں اسلامی حکومت کے ڈھانچے اور شکل وصورت کے بارے میں بحث کریں گے، یھاں پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ حضرت امام خمینی کا ایک مختصر سا واقعہ بیان کریں :

انقلاب کے ابتدائی دور میں ایک بیرونی رپوٹر نے حضرت امام خمینی سے سوال کیا کہ آپ شاہ کی حکومت کوسرنگوں کرنے کے بعد کون سی حکومت تشکیل دیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ہم حضرت علی علیہ السلام کی طرح حکومت بنائےں گے، ظاہر ہے کہ اس خارجی خبر نگار کے لئے اسلامی حکومت کو سمجھنا مشکل تھا کیونکہ وہ اسلامی ثقافت کو سمجھنے سے قاصر تھا، اس کو سمجہانے میں گھنٹوں درکار تھے؛لیکن حضرت امام خمینی نے اس کو ایک جملہ میں قانع کنندہ جواب دیدیا، کیونکہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کو دشمن او ردوست سبھی جانتے ہیں اور اس کے لئے زیادہ مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت نہیں تھی،اور ساتھ ساتھ ہماری حکومت کی بھی شناخت ہوگئی-

اس قسم کی تعریف ووضاحت ؛ یعنی اس طرح کی سادہ اور مصداقی تعریف عوام الناس کو سمجہانے کے لئے بہت بہت رہے، کیونکہ انتزاعی اور فلسفی چیزیں عوام الناس کو سمجہانے کے لئے مشکل ودشوار ہوتی ہے، کہ جس میں خارجی مصداق سے سروکار ہوتا ہے، لھٰذا خارجی نمونہ پیش کرکے کسی کو سمجہانے میں آسانی ہوتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی یہ سوال کرے کہ بجلی یعنی کیا؟ تو روشن بلب کی طرف اشارہ کرکے یا دوسرے الیکٹرینک سامان کی طرف اشارہ کرکے اس کو سمجہایا جاسکتا ہے، کہ یہ سامان بجلی سے چلتے ہیں تو اس کی سمجہ میں بجلی کا مفہوم آجائے گا-

ظاہر ہے کہ اس طرح کسی چیز کی تعریف کرنا جس میں اس کی ذاتیات اور عوراض اور اس کی اصلی خصوصیت سے اجتناب کیا جاتا ہے، لیکن عملی اور اکیڈمیک اصطلاح میں اگر کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کی ذاتی یا عرضی خصوصیات کو بیان کیا جاتا ہے کہ جن میں سے منطق کی مشہور تعریف ہے کہ جس میں جنس وفصل ذکر کی جاتی ہے، اس طرح کی تعریف میں پہلے ایک عام او روسیع مفہوم کو تصور کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ایک خاص مفہوم کو ذکر کیا جاتا ہے تاکہ دوسری چیزیں اس میں شامل نہ ہو-

کسی چیز کی پہچان او رتعریف کا ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے عناصر کو شمار کیا جاتا ہے؛ یعنی کسی ایک ماہیت کے لوازم اور خصوصیات کی تحقیق کی جاتی ہے اور ان سب کو ملاکر اس چیز کی تعریف قرار دیدی جاتی ہے، اور کوئی بھی شخص اس کی خصوصیات کو دیکہ کر فیصلہ کرلیتا ہے کہ جو چیز بھی وہ خاص خصوصیات رکھتی ہوگی وہی فلاں چیز ہوگی-

۲-اسلام اور تینوں قوتوں کے جداجدا ہونے کا نظریہ

حکومت کے وسیع پیمانے پر تعریف کرنا اور اس کی ان خصوصیات کو بیان کرنا جن کو اسلام نے بیان کیا ہے ، یا سیاست کے بارے میں اسلام کے نظریہ کو ایک جملہ میں اس طرح کھا جاسکتا ہے:کہ سیاست کے بارے میں اسلام کا نظر یہ ہے کہ سیاست اور حکومت کے تمام امور الہی اور وحی سے الھام گرفتہ ہیں ، اوریھی چیز یں حکومت اور نظام اسلامی بن جانے کی ضمانت ہوتی ہےں -

مزید وضاحت اور اسلامی حکومت کو ایک جامع شکل پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ (حکومتی) قوتوں کے جداجدا ہونے کے نظریہ کو بیان کیا جائے کہ جو ”حقوقی فلسفہ" میں بیان ہوتی ہیں ، ان آخری چند صدیوں میں مغربی حقوق داں فلسفی حضرات کے درمیان کافی کشمشک ہوتی آئی ہے کہ (حکومتی) قوتوں کو ایک جگہ ہونا چاہئے یا الگ الگ کہ ہر شخص یا ہر گروہ صرف ایک طاقت کا مالک ہو، اور آخر کار ”رنسانس“کے زمانے کے بعد بالخصوص ”منٹسکیو“ کے زمانے کے بعد(منٹسکیو نے اس سلسلہ میں ایک زخیم کتاب بنام ”روح القوانین“ لکھی کہ جس میں طاقتوں کے جدا ہونے پر بہت زیادہ تاکید او راصرار کیا ہے)، حقوقی فلاسفہ نے اس بات پر اجماع واتفاق کرلیا کہ حکومتی طاقتوں کو جدا جدا ہونا چاہئے اور یہ نظریہ پیش کیا کہ حکومت کی تینوں طاقتیں :

۱-”قوہ مقننہ"(قانون گذار طاقت یعنی پارلیمینٹ)

۲-”قوہ مجریہ “ (یعنی صدر مملکت یا وزیر اعظم اور”قوہ قضائیہ"(عدالتی طاقت) ڈیموکراٹک اور جمہوریت حکومتوں کی اصلی(۱) ستون سمجھے جاتے ہیں ، اور ان تینوں طاقتوں کے لئے الگ الگ دائرہ اور مستقل میدان تصور کیا جاتا ہے، اس طرح کہ ایک طاقت کو دوسری طاقت میں دخالت کرنے کا کوئی حق نھیں ،اور ہر ایک ان میں سے مستقل ہوتی ہیں ، اس نظریہ میں ہر قوت کو الگ الگ کرنے کے بعد اس کی تعریف بھی کی گئی ہے، کہ جن کو ہم یھاں پر مختصر طور پر بیان کرتے ہیں :

الف- قوہ مقننہ:

حکومت کا ایک اہم رکن قوہ مقننہ ہے کیونکہ انسان کی اجتماعی زندگی میں ہر وقت تغیر وتبدیلیاں پائی جاتی ہیں اور ہر زمانہ کے شرائط مختلف ہوتے ہیں لھٰذا ضروری ہے کچھ لوگ ان پر تبادلہ خیال اور غور وفکر کرکے مناسب قانون وضع کرتے ہیں ، اور قوہ مقننہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بنائے گئے قوانین معتبر اور واجب الاجراء ہیں -

ب- قوہ قضائیہ:

قوانین کو معتبر اور رسمی ہونے کے بعد اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کلی قوانین کو خاص موقع ومحل پر مطابقت اور لوگوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو روشن کیا جائے-

(۱) عام اصطلاح میں کبھی کبھی ”حکومت“ تینوں طاقتوں پر استعمال ہوتا ہے ، اور کبھی کبھی حکومت صرف” قوة مجریہ" پر اطلاق ہوتا ہے ، البتہ یہ معنی خاص مواقع پر استعمال ہوتے ہیں اور اکثر اقات حکومت سے مراد وہی عام معنی ہیں جو تینوں طاقتوں پر استعمال ہوتا ہے-

نیز اختلافات اور جھگڑوں کو حل کرنے کے لئے قوہ قضائیہ کا ہونا ضروری ہے، یعنی قانون کے بننے کے بعد شہریوں کے اختلاف کی صورت میں یا گروہوں کے درمیان اختلاف یا عوام الناس اور حکومت کے درمیان اختلاف کو حل کرنے اور لوگوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے لئے اور قوانین کو مذکورہ موقع ومحل پر مطابقت، قضاوت او رفیصلہ کرنے کے لئے قوہ قضائیہ کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ صرف پارلمینٹ میں قوانین پاس ہونے سے مشکل حل نہیں ہوتی، کیونکہ اختلافی صورت میں ہر ایک شخص اپنے کو حق سمجھتا ہے اور اپنے حق میں قانون کی تفسیر کرتا ہے-

ج-قوہ مجریہ:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معاشرہ اپنے اہداف ومقاصد تک پہونے کے لئے قانون کا محتاج ہے، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام عوام الناس تمام قوانین کی رعایت کریں ؛ کیونکہ مختلف وجھوں سے قانون کی مخالفت ہوسکتی ہے،قانون کے لئے ضرورت ہے کہ اس کے جاری ہونے کی ضمانت بھی ہو،اور یہ ضمانت اجرائی قوہ مجریہ کے ذریعہ ممکن ہے ،(کہ جس کے پاس قوانین کو جاری کرنے کے لئے باندازہ کافی وسائل ہوتے ہیں )، لھٰذا قوہ مجریہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرائے اور خلاف ورزی سے روکے، اور اسی طرح قوہ قضائیہ کے احکامات (سزا وکیفر) کو بھی جاری کرے، اور اس سلسلہ میں قوانین کو جاری کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں اور مجرموں کو سزا دینے کے لئے پولیس وغیرہ کا بھی سھارا لیا جاسکتا ہے-

ہم نے مختصر طور پرجمہوریتی نظام میں تینوں طاقتوں کے جدا ہونے کے نظریہ کو بیان کیا،اگرچہ ہم اس سلسلہ میں اسلام کے نظریہ کو بیان کرنے کے درپے نہیں ہیں ، لیکن اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلامی جمہوری ایران کے اساسی اور بنیادی قانون میں ان طاقتوں کو جدا ہونے کے نظریہ کو قبول کیا گیاہے،لیکن یہ تینوں طاقتیں ولایت فقیہ کی زیر نظرہوتی ہیں جس کی وجہ سے نظام اسلامی ہوجاتا ہے، چاہے اسلامی نظام میں تینوں طاقتوں کی مشروعیت اس چیز کی وجہ سے ہے کہ یہ سب کے سب الہی اور اسلامی ڈھانچہ رکھتے ہوں اور ان کا رابطہ خداوندعالم سے ہوں اور ولایت فقیہ کی وجہ سے ہی نظام الہی ہوجاتا ہے اور نظام کی مشروعیت کا ملاک ومعیاربھی یھی ولایت فقیہ ہے-

جس وقت ہم اسلام کے قوانین کی وضع اور ان کو جاری کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ تمام قوانین اور مقررات الہی اور اسلامی ہونا چاہئے، تو ہم اس بات کو مسلم اور طے شدہ مان لیتے ہیں کہ اسلام کا خلاصہ نماز وروزہ او ردوسری عبادتوں میں نہیں ہوتا؛ بلکہ اسلام ایک کامل مجموعہ کا نام ہے کہ جس میں اجتماعی قوانین بھی شامل ہوتے ہیں -

یعنی اجتماعی قوانین کے تمام شعبے اسلام میں شامل ہوتے ہیں ، جیسے مالی مسائل، حقوق مدنی، تجارتی حقوق اور بین الاقوامی حقوق وغیرہ کہ جن کی معاشرہ کو ضرورت ہوتی ہے، لھٰذاہم یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اسلام کے قوانین اجتماعی قوانین ہیں اوراسلام حکومت کو بھی ذمہ دار بناتا ہے کہ اس کے قوانین کو معتبر جانے اور ان کو عملی جامہ پہنائے، اور اگر کوئی حکومت اسلام کے قوانین کو معتبر نہ جانے اور ان کو جاری کرانے کی فکر میں نہ رہے ، تو اسلام کی نظر میں اس حکومت کا کوئی اعتبار ا ور مشروعیت نہیں ہے-

۳- اسلام معاشرہ کو ادارہ نہیں کرسکتا (ایک شبہ)

یھاں پر ایک شبہ یہ ہوتا ہے کہ آج کل انسان کی زندگی ترقی یافتہ دور میں بڑے پیمانے پرنئے نئے قوانین کا نیاز مند ہے اور ان سب کا جواب قرآن کریم یا سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او رکلام ائمہ معصومین علیہم السلام میں نہیں پایا جاتا، آج انسان کو اس طرح کے قوانین کی ضرورت ہے کہ جو صدر اسلام میں بالکل بھی موجود نہیں تھے تو ان کا حکم ہی کھاں سے بیان ہوا ہوگا،مثال کے طور پر فضائی اور ہوائی لائن کے مسائل کو پیش نظر رکھیں کہ کیا کوئی ہوائی جہاز کسی دوسرے ملک کی فضا میں بغیر اس ملک کی اجازت کے گذرسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس طرح کے قوانین قرآن یا حدیث رسول یا کلام ائمہ معصومین علیہم السلام میں نہیں ہیں کیونکہ اس زمانے میں ہوائی جہاز کا تصور ہی نہیں تھا تاکہ یہ مسئلہ پیش آتا کہ ہوائی جہاز دوسرے ملک کی فضا سے گذر سکتا ہے یا نھیں -

اسی طرح ٹرافک اور ڈرائیورنگ کے مسائل ، اس وقت میں بس یاگاڑی کا وجود ہی نہیں تھا کہ اس کے قوانین بیان ہوتے ، اسی طرح دوسرے قوانین کہ جن کی انسان کو اس وقت ضرورت ہے مثلاً دریا اور سواحل کے قوانین، اور اس طرح کے دوسرے قوانین کہ جن کے بارے میں ابھی تک خاص قوانین نہیں بنائے گئے اورضرورت ہے اس بات کی کہ حقوق داں اور قانون گذار حضرات اس سلسلہ میں بڑے غور وفکر سے ان کے لئے قوانین بنائیں -

لھٰذا ان چیزوں کے پیش نظر قرآن اور حدیث میں ذکرکئے گئے قوانین انسان کی ضرورتوں کو پورا نھیں کرسکتے،تو پھر کس طرح یہ کھا جاسکتا ہے کہ معاشرہ میں اسلامی قوانین نافذ ہونا چاہئے جبکہ بعض چیزوں کے بارے میں اسلام کوئی قانون ہی نہیں رکھتا،!

لھٰذا انسان کے لئے ایسے قوانین کی واضح ضرورت ایک طرف،اور اسلام میں ایسے قوانین موجود نہ ہونا دوسری طرف، تو اس موقع پر کیا کیا جائے؟ او رایسے موقع پر ہم کس طرح اسلامی قوانین پر پابند ہوں ؟اب تک جو ذکر ہوا یہ ان لوگوں کا نظریہ تھا جو اسلام کو نہیں مانتے اور یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلامی قوانین معاشرہ کو چلانے کےلئے کافی نہیں ہیں ؛ اور ان کی جگہ بشریت کے بنائے ہوئے قوانین کی طرف رجوع کیا جائے، اعتراض کرنے والوں نے موضوع مشکل اور پیچیدہ کرنے کے لئے اس اعتراض کو مختلف طریقوں سے پیش کیا ہے او رلوگوں نے اپنے مختلف خواہشات کی بنا پر اس سلسلہ میں مختلف بیان دیا ہے-

لیکن ان سب کا ہدف او رمقصد اسلامی حکومت کو کمزور اور متزلزل کرنے کے لئے ہے کہ اسلام معاشر ہ کو ادارہ نہیں کرسکتا، لھٰذا اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کی باتیں کرنا اور ان پر اصرار اور تاکید کرنا بے فائدہ ہے، لھٰذا حکومت کو اسلامی ہونے کے نظریہ کو اپنے ذہن سے نکال دینا چاہئے کیونکہ یہ کام ہونے والا نہیں ہے،افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض اسلامی انقلاب کے طرفدار اور اسلام کے معتقد افراد بھی اس شبہ کے تحت تاثیر واقع ہوتے جارہے ہیں ، لھٰذا ضروری ہے کہ اس اعتراض کا مناسب اور محکم جواب دیا جائے تاکہ اسلام کے قوانین پر پابند رہیں اور جن مسائل میں معاشرہ کی ضرورت کے تحت اسلام میں قوانین کو نہ پائےں تو اس کے راہ حل کو پہچان لیں -

۴-قوانین کی مختلف اقسام اور متغیر قوانین ہونے کی ضرورت

مذکورہ اعتراض کے جواب میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ ”قانون“کے ایک وسیع اور عام معنی ہیں اور ”تکوینی“ قوانین بھی اس میں شامل ہوتے ہیں ؛ مثلاً فیزیک اور شیمی کے قوانین اور قانون لاوازہ ، جاذبہ نیوٹن اور نسبیت انیشٹین، اس طرح کے قوانین (کہ جو تکویناً موجود ہیں اور واقعیت بھی رکھتے ہیں ) دانشمندوں کے ذریعہ کشف ہوتے ہیں اور بنائے جانے والے نہیں ہیں ، اور یہ قوانین ثابت اور طبیعی و واقعی چیزوں سے مربوط ہیں ، اور حقوقی اور سیاسی مسائل سے ان کا کوئی ربط نہیں ہے، اسی طرح عقلی قوانین؛ مثلاً منطقی اور فلسفی قوانین اور میتہ میٹھک کے مسائل سے ہماری بحث نہیں ہے، بلکہ ہماری بحث ان قوانین سے ہے کہ جو قابل وضع ہیں جن کو اصطلاح میں ”اعتباری قوانین“ کھا جاتا ہے، ان قوانین کا اعتبار اور ان کا جاری کرنا اس صورت میں صحیح ہے کہ کوئی معتبر مرکز ان کو وضع کرے، اور قوانین کی تین قسمیں ہیں :

الف- قانون اساسی

قانون اساسی (بنیادی قوانین) ان قوانین کو کھتے ہیں کہ معمولاً ثابت اور ہر ملک کی ثقافت کے اعتبار سے بنائے جاتے ہیں ، یہ قوانین نسبتاً ثابت (غیر قابل تبدیل) ہوتے ہیں اور ایک طولانی مدت تک جاری رہتے ہیں ، یہ روز مرہ والے قوانین نہیں ہوتے او رانہیں کو معاشرہ کو ادارہ کرنے کی اصل سمجہا جاتا ہے،یہ قوانین ثابت ہونے اورپیہم تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے کلّی اور محدود ہوتے ہیں ؛ اسی وجہ سے ہر ملک کے اساسی اور بنیادی قوانین چند اہم اور بنیادی اصولوں کو شامل ہوتے ہیں -

لھٰذا جزئی اور وہ وقتی قوانین کہ جن کی ضرورت بھی زیادہ ہے لیکن زمان ومکان کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں ، ان کو قانون اساسی میں رکھا جائے،اور قانون اساسی میں کلّی قوانین او رثابت قوانین پر ہی اکتفاء کی جائے اور اس میں جزئی قوانین کو بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے، مگر وہ جزئی اور محدود قوانین کہ جو اہم ہیں او ران کا ذکر ہونا ضروری ہو-

ب- پارلیمینٹ کے بنائے گئے قوانین

قوانین کی دوسری قسم وہ ہے کہ جن کو پارلیمینٹ میں بنایا جاتا ہے ، اگرچہ بعض مملکوں میں پارلیمینٹ کے علاوہ ”مجلس سنا“بھی بنائی جاتی ہے یا اس کو کوئی دوسرا عنوان دیدیا جاتا ہے، اور اس کے قوانین بھی پارلیمینٹ کے قوانین کی طرح معتبر مانے جاتے ہیں ،ہمارے ملک میں بھی پارلیمینٹ کے علاوہ ایک ”مجلس شورای نگھبان“ ہوتی ہے کہ جو دوسرے ممالک میں مجلس سنا یا قانون اساسی کورٹ کی طرح ہے جس میں کچھ فقھاء اور حقوق داں حضرات شامل ہیں ، مجلس شورای نگھبان اسلامی پارلیمینٹ کے بنائے گئےقوانین کو قانون اساسی اور قوانین شرعی سے تطبیق کرتے ہیں ، اور اگر وہ قوانین قانون اساسی اور قانون شرعی سے موافق نہ ہوں تو ان کو لوٹا دیتے ہیں تاکہ ان پر نظرثانی کی جاسکے-

ج- انجمنِ حکومت کے بنائے گئے قوانین

ھر ملک میں پارلیمینٹ کے بنائے گئے قوانین کے علاوہ دوسرے مرکزوں کے ذریعہ بھی قوانین بنائے جاتے ہیں اور وہ بھی لازم الاجراء ہوتے ہیں ،جس کا نمونہ انجمن حکومت (ھیئت دولت) کے بناکے ہوئے قوانین ہیں ،قانون اساسی نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ حکومتی انجمن خاص موقعوں پر قانون بنائے، اسی طرح صدر مملکت بھی خاص موقعوں پر اپنے مرضی کے مطابق تصمیم گیری کرے، اور یہ حکومتی انجمن اور صدر مملکت کے بنائے ہوئے قوانین پارلیمینٹ میں نہیں جاتے بلکہ خود ہی قانونی اور لازم الاجراء ہوتے ہیں ،اور اسی طرح وہ قانون دستاویز اور بخش نامے جو کسی وزیر کے ذریعہ بعض اداروں اور دوسرے مرکزوں کو دئے جاتے ہیں ،اور ان کو بھی ایک طرح کا قانون کھا جاتا ہے اور حکومت ان کو بھی جاری کرنے کی ضامن ہوتی ہے،لھٰذا ہمارے ملک اور اسی طرح دوسرے بعض ملکوں میں تین طریقہ کے قانون ہوتے ہیں :

۱-قانون اساسی-

۲-پارلیمینٹ کے بنائے ہوئے قوانین-

۳-حکومتی انجمن یا صدر مملکت کے بنائے ہوئے قانون او راسی طرح ان مرکزوں کے قوانین جن کو قانون نے ہی اجازت دی ہو-

اور ظاہر ہے کہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں کسی بھی زمانہ میں ممکن نہیں ہے کہ تمام قوانین ومقررات کو ایک جگہ اور ایک ہی زمانہ میں بنالیا جائے، چونکہ وضع شدہ قوانین اور اجرائی آئین نامے زمان ومکان کے بدلنے کے لحاظ سے ضرورت ہے کہ قانون تبدیل ہوں یا ان پر تجدید نظر ہو، مثلا پارلیمینٹ آج کوئی قانون بناتا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ کل حالات بدل جائیں اور اس قانون کو بدلنے اور ان میں تجدید نظر کرنے کی ضرورت پیش آجائے، اسی طرح اجرائی مقررات اور قوانین بھی حالات کے لحاظ سے قابل تبدیل ہیں اوران پر نظر ثانی ہوتی رہتی ہے-

اسی طرح جب کوئی حکومت بدلتی ہے تو ایک محدود دائرے میں رہ کر کچھ قوانین کو بدل سکتی ہے، البتہ وہ لوگ جو معاشرہ کی بھبودی چاہتے ہیں ان کی ہمیشہ کوشش یھی ہوتی ہے کہ قوانین کو اس طرح دقت اور غور وفکر کرنے کے بعد بنایا جائے کہ معاشرہ کے لئے بہت مناسب ہوں او راس میں کم سے کم خامیاں ہوں ، ظاہر ہے کہ جب ہم یہ کھتے ہیں کہ قوانین کو اسلامی ہونا چاہئے تو اس سے ہماری مراد یہ نہیں ہوتی کہ تمام قوانین چاہے قانون اساسی ہوں یا پارلیمینٹ کے بنائے ہوئے قوانین، سب کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے-

۵-قوانین کا اسلامی ہونے کا مطلب

قوانین اور مقررات کے اسلامی ہونے اور ان کے معنی کی وضاحت کے بارے میں ، عمومی قوانین کے اوپر نظر کرنا مفید ہے ،نمونہ کے طور پر قوہ مجریہ یا ہیئت حکومت اسی دائرے میں رہ کر قوانین کو بناسکتی ہے کہ جن میں پارلیمینٹ نے اجازت دی ہو، یعنی ان کے دائرہ وسیع نہیں ہے، دوسرے الفاظ یوں عرض کیا جائے کہ ان کے اختیارات کی حد، قانون اساسی اور قانون پارلیمینٹ معین ومحدود کرتے ہیں ، او راجرائی قوانین بھی اسی کے تحت ہونا چاہئے، یعنی یہ قانون ان کلّی احکامات کے مصادیق ہیں کہ جو قانون اساسی اور پارلیمینٹ کے قانون میں پاس ہوچکے ہیں ، لھٰذا یہ قانون پہلے قانون اساسی اور قانون پارلیمینٹ میں بیان ہوتے ہیں ،اس کے بعد ہیئت حکومت یا دوسرے صاحب منصب حضرات خاص موارد میں ان کلیات کے مصادیق کو قانون کی شکل میں تنظیم کرتے ہیں -

خلاصہ یہ کہ یہ قانون صرف ان کے دل خواہ نہیں ہوتے بلکہ قانون اساسی اور قانون پارلیمینٹ کے موافق ہوتے ہیں ،اور پارلیمینٹ کے قانون بھی شورای نگھبان کے تائید شدہ ہونے چاہئے اور اسی صورت میں یہ قانون معتبر ہوتے ہیں اور ان کے جاری ہونے کی ضمانت ہوتی ہے، لھٰذا ان قوانین کا معتبر ہونا اور لازم الاجراء ہونا اس چیز پر موقوف ہے کہ وہ پارلیمینٹ کے قوانین کے موافق ہوں ، اور پارلیمینٹ کے قوانین کے معتبر ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ قانون اساسی کے موافق ہوں ،اور قانون اساسی کے معتبر ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ خداوندعالم کے تشریعی ارادہ کے تابع ہوں ، اس ترتیب کے لحاظ سے یہ قوانین ایک دوسرے کے تابع ہوتے ہیں او ران کے معتبر ہونے میں اس طرح کا لحاظ ضروری ہے کہ یہ تمام قوانین، اسلام اور خداوندعالم کے تشریعی ارادہ پر ختم ہوتے ہوں ؛ نہ یہ کہ تمام قوانین اور مقررات اور آئین نامے اور پارلیمینٹ کے قوانین سب کے سب قرآن مجید اور احادیث شریف میں موجود ہوں -

اگر خدا وندعالم نے پیغمبر اکرم (ص) کو اتنا اختیار عنایت کیا کہ خاص موارد میں خاص قانون بناسکتے ہیں ، اور چونکہ اس قانون میں خداوندعالم کی اجازت اور اس کا ارادہ شامل ہے ،معتبر اور لازم الاجراء ہے، رسول اکرم (ص)کی اطاعت او ران کی پیروی خدا وندعالم کے حکم سے واجب ہے اور اسی حکم خدا کے زیر سایہ پیغمبر اکرم کا بنایا ہوا قانون بھی معتبر ہے، اور ہم مسلمانوں پر ان کی اطاعت او رپیروی واجب ہے؛ ورنہ اگر ہم خدا کے حکم سے صرف نظر کرلیں تو پیغمبر کے دستورات خودبخود واجب نہیں رہ جاتے-

لھٰذا وہ قوانین جو براہ راست خداوندعالم کی طرف سے ہوں اور قرآن مجید میں صاف صاف بیان ہوے ہوں پہلا درجہ رکھتے ہیں اور خود بخود معتبر ہیں ، اس کے بعد خدا کے حکم سے رسول اکرم کے بنائے ہوئے قوانین دوسرے درجہ میں قرار پاتے ہیں ، او رآپ کے بنائے ہوئے قوانین خدا کے حکم کی وجہ سے معتبر ہیں ، اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کے بنائے ہوئے قوانین او راحکامات خدا کے حکم کی وجہ سے معتبر ہیں ؛کیونکہ خدا او رپیغمبر نے ائمہ (ء) کی اطاعت کو واجب کیا ہے -

اب اگر ہم اپنے کو حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے زمانہ میں کسی اسلامی منطقہ میں فرض کریں بے شک آپ کی اطاعت کو اپنے اوپر واجب جانتے،مثلاً آپ مالک اشتر کو اس شہر کا والی بناکر بھیجتے او ریہ فرماتے کہ ان کے احکامات اور دستورات کے اوپر عمل کریں اور ان کی نافرمانی نہ کریں اور جس نے ان کی اطاعت کی میری اطاعت کی ؛ اگرچہ مالک اشتر کے احکامات کا بذات خود کوئی اعتبار نہیں ہے اور وہ بھی دوسروں کی طرح ہوتے، لیکن چونکہ امام کا حکم ہواہے لھٰذا اس صورت میں ان کی طاعت واجب اور ان کے احکامات لازم الاجراء ہیں ، کیونکہ یہ امام معصوم کی طرف سے مقام ولایت پر فائزھیں اور خدا اور پیغمبر کی طرف سے منصوب ہوئے ہیں لھٰذا ان کی اطاعت واجب مانی جاتی ہے، جب کہ امام معصوم کی طرف سے منصوب شدہ والی اور حاکم کے دستور او رفرمان تیسرے درجہ میں حساب ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر اگر اسلامی پارلیمینٹ نے کسی صاحب منصب کو یہ اختیار دیدے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں کوئی دستور العمل بنائے ،اورچونکہ اس کے اس کام کا اختیار دیا گیا ہے لھٰذا اس کے بنائے ہوئے قوانین لازم الاجراء ہیں ،اسی طرح قوانین پارلیمینٹ بھی قانون اساسی کی وجہ سے معتبر ہے اور اس کے بنائے ہوئے قوانین قانون اساسی کی وجہ سے معتبر ہوتے ہیں -

لیکن دوسرے ممالک میں قانون اساسی کا اعتبار لوگوں کے ووٹ اور رائے گیری پر ہوتا ہے، لیکن ہم قانون اساسی کا مقام اس سے بڑہ کر بلند مانتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قانون اساسی کا اعتبار خدا کی اجازت پرمنحصر ہوتا ہو کہ پیغمبر یا امام معصوم یا کوئی شخص مالک اشتر کی طرح اس قانون اساسی کی تائید کرے، اس وجہ سے قانون کا اعتبار خدا ، رسول اور ائمہ علیہم السلام کے کلام کی وجہ سے ہے اور اس کے بعد اس شخص کی وجہ سے ہوتا ہے کہ جو امام معصوم کی طرف سے معین ہو،اور یھی اسلام کا فلسفہ اور تھیوری ہے، امام معصوم (ء) کی غیبت کے زمانہ میں چونکہ ولی فقیہ عمومی اعتبار سے امام علیہ السلام کی طرف سے منصوب ہے تو اس کی ولایت امام معصوم (ء) کی طرف سے تائید شدہ اور معتبر ہے، اور ولی فقیہ کی تائید سے قانون اساسی معتبر ہوتا ہے، اور اس کے علاوہ قانون اساسی بذات خود معتبر نہ ہوگا، اور اس پر سوالیہ نشان باقی ہے کہ اس کا اعتبار کھاں سے ہے اور کس حد تک یہ معتبر ہے، اور کن لوگوں کو حق ہے کہ وہ قانون اساسی کو بدل سکیں ،وہ قومیں جو اقلیت میں ہےں اور انھوں نے قانون اساسی کے بارے میں ووٹ نہیں دیا ہے کس وجہ سے یہ لوگ اس قانون اساسی کی پیروی کریں اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے سوالات، لیکن اگرہمارا نظریہ یہ ہو کہ قانون اس صورت میں معتبر ہوگا جب امام معصوم کی طرف سے معین شدہ شخص اس کی تائید کردے ، تو پھر کسی سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی-

۶-اسلامی حکومت میں قانون گذاری کا مسئلہ

اب تک یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قانون گذاری کے سلسلہ میں اسلامی حکومت کی تھیوری ، یہ ہے کہ قانون کا اعتبار خداوندعالم کی طرف سے ہے اور اس کے بعد جس کو خداوندعالم یہ اجازت دیدے، مثلاً پیغمبر اسلام تو پھر ان کا کلام بھی معتبر ہے اور اسی طرح پیغمبر جس کو منصوب کردیں ہمارے لئے معتبر ہیں جیسے حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کو منصوب فرمایا لھٰذا ان کا کلام ہمارے لئے معتبر ہوا، اور اسی طرح اگر امام معصوم کسی کو عمومی یا خصوصی طور پر منصوب کردیں تو اس کا کلام بھی ہمارے لئے معتبر ہے،وہ فرمان اور احکامات کہ جودرجات عالیہ سے صادر ہوتے ہیں الہی اور اسلامی ہیں کیونکہ خداوندعالم کی طرف سے تائید شدہ ہیں ، البتہ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ اسلامی حکومت میں کبھی کبھی یہ تائید چندواسطوں کے ذریعہ انجام پاتی ہے ، ولی فقیہ کے لئے امام معصوم کی تائید ہوتی ہے اور امام معصوم علیہ السلام کے وارادہ واختیار کی تائید پیغمبر اکرم کی تائید سے ہوتی ہے اور آخر میں پیغمبر اکرم ہیں کہ جن کا اعتبار قرآن کریم کے صاف صاف بیان سے ہوتا ہے، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( یَا ا یُّها الَّذِیْنَ ا طِیْعُوا اللّٰه وَا طِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَ ا وْلِی الا مْرِ مِنْکُمْ ) (۱)

”اے ایماندارو خدا کی اطاعت کرواور رسول کی اور جو تم میں سے اولی الامر ہو ان کی اطاعت کرو“

اسی طرح یہ آیت بھی:

( اَلنَّبِیُّ ا وْلیٰ بِالْمُومِنِیْنَ مِنْ ا نْفُسِهمْ ) (۲)

”نبی تو مومنین سے خود ان کی جانوں سے بھی بڑہ کر حق رکھتے ہیں “

بے شک مذکورہ رابطہ اسلام کے وضع شدہ اصول کے اعتبار سے ان لوگوں کے لئے مکمل طورپر قابل قبول ہے کہ جو خدا، پیغمبر اور امام معصوم کا اعتقاد رکھتے ہوں ، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہم اس مسئلہ کو سادہ زبان میں ان لوگوں کے لئے بیان کریں کہ جو نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ ہی رسول خدا کو،اور امام معصوم کی حقانیت میں شک کرتے ہوں ، ان کے لئے ایک دوسرے طریقہ سے بحث ہونا چاہئے: سب سے پہلے اسلام کے بنیادی اصول کو بیان کریں اور اس کے بعد دوسرے مسائل کے بارے میں بحث کریں جیسے حکومت وسیاست کے مسائل، البتہ ممکن ہے کہ اس بحث کو آزاد طریقہ سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی قانون گذاری بہت ر اور معاشرہ کے لئے مفید تر ہوسکتی ہے یا قانون گذاری کے دوسرے طریقے کہ جو رائج ہیں -

۷-اسلامی حکومت میں قانون کے جاری کرنے والوں کو منصوب کرنا

اسلام کی سیاسی تھیوری میں قانون کو خدا کی طرف سے ہونے کے ساتھ ساتھ ، ولایت کے زیر نظر قوانین اور مقررات اگر خدا، رسول خدا، امام معصوم اور ن کے خاص یا عام جانشینوں کی تائید حاصل ہو تو وہ قوانین معتبر ہوجاتے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ قوانین کا اجراء کرنے والا بھی خدا وندعالم کی طرف سے معین ہو، (البتہ قوہ قضائی بھی قوہ مجریہ سے مربوط ہوتی ہے ، لیکن اس کی خاص اہمیت کی خاطراور اس وجہ سے کہ اختلاف وغیرہ کو حل کرنے کا ایک بہت رین مرکز شمار ہو ،اور قوانین کو جاری کرنے سے پہلے ان کے مصادیق پر منطبق کرے، اس کے لئے مستقل مقام اور خاص شرائط معین کئے گئے ہیں )

جس وقت پیغمبر یا امام معصوم حاضر ہوں تو وہ خود قانون کے جاری کرنے کے ذمہ دار ہیں یا یہ حضرات کسی کو اپنی طرف سے منصوب کریں کہ قانون کو جاری کرنے کا ذمہ دار ہو؛ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے جناب مالک اشتر کومصر کا والی وحاکم منصوب کیاتاکہ وہاں جاکر قوانین کا نفاذ کرے، لیکن امام علیہ السلام کی غیبت میں کہ جب عوام الناس امام تک نہیں پہونچ سکتی،قانون کے نفاذ کی ذمہ داری اس شخص کی ہے کہ جس کو امام نے بطور عام منصوب کیا ہو، اور یہ وہی ولایت فقیہ ہے کہ ہم جس کے بارے میں بعد میں گفتگو کریں گے ،(انشاء اللہ)

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسلام کی سیاسی تھیوری اور اسلام کے حکومتی ڈھانچے میں جس طرح قانون کو خدا کی طرف سے ہونا چاہئے(یعنی قانون یا قرآن مجید میں موجود ہو یا احادیث پیغمبر میں موجود ہو کہ جس کا اعتبار بھی خدا کی طرف سے ہے یا امام معصوم کی طرف سے کہ جن کا اعتبار پیغمبر اکرم کی وجہ سے ہے، یا اس شخص کی طرف سے ہو کہ جس کو خدا یارسول یا امام نے قانون گذاری کی اجازت دی ہو، ) یعنی اسی طرح قانون کا نافذ کرنے والا بھی خدا وندعالم کی طرف منسوب ہو ، اور وہ خداوندعالم کی طرف سے خاص یا عام طور پر معین کیا گیا ہو-

اسی طرح قوہ قضائیہ بھی خداوند عالم کی طرف منسوب ہو یعنی قاضی یا تو براہ راست خدا وندعالم کی طرف سے معین ہو یا غیر مستقیم طور پر معین ہو ،اور اگر قاضی کسی بھی طرح خداوندعالم سے نسبت نہ رکھتا ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے -

قرآن مجید میں حضرت داؤد علیہ السلام کو براہ راست قضاوت کے لئے منسوب کرنے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :

( یَا دَاوُدُ إنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَةً فِیْ الا رْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحِقِّ، ) (۳)

”(ہم نے فرمایا) اے داؤد ہم نے تم کو زمین پر (اپنا)نائب قرار دیا تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹھیک فیصلہ کیا کرو“

پیغمبر اکرم کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا ا رَاکَ اللّٰه، ) (۴)

”جس طرح خدا نے تمھاری ہدایت کی ہے اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو“

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( فلََا وَرَبِّکَ لَایُومِنُونَ حَتیّٰ یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهمْ ) (۵)

”پس (اے رسول) تمھارے پروردگار کی قسم اس وقت تک یہ لوگ سچے مومن نہیں ہوں گے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں تم کو اپنا حاکم (نہ) بنائیں “

نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کی سیاسی تھیوری ،حکومت ،سیاست اور معاشرہ کی مدیریت اورتمام کے تمام امور خداوند عالم کے تشریعی ارادہ پر ختم ہوتے ہوں -

حوالہ

۱ سورہ نساء آیت ۵۹-

.۲ سورہ احزاب آیت۶

.۳ سورہ ص آیت ۲۶

.۴ سورہ نساء آیت ۱۰۵

۵۔ سورہ نساء آیت ۶۵


نواں جلسہ

دینی نظام میں قوانین کامقام

۱-اسلام کے سیاسی نظریہ کے اصول

اس بات کا خیال رہے کہ اسلام کے سیاسی نظریہ اور فلسفہ کی بحث سے متعلق اصول موجود ہیں ،بعض افراد ان سب کو قبول کرتے ہیں اور کچھ لوگ صرف بعض کو قبول کرتے ہیں اور چند ایسے بھی ہیں جو ان میں سے کسی کو قبول نہیں کرتے ہیں ، لیکن اس نظریہ کو ثابت اور بیان کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اصول کوبیان کیا جائے اور اس اعتبار سے کہ ان میں سے کچھ اصول بہت واضح ہیں لھٰذا صرف اس کے اشارہ اور مختصر توضیح پر اکتفا کی جائے گی ،اور واضح بحثوں کے ذکر سے اجتناب کیا جائے گاکیونکہ واضح اور روشن بحثوں کو کسی بھی علم میں بیان نہیں کیا جاتا ،اور زیادہ تر اصولی بحث کی جائے گی تاکہ بحث کے لئے راہ ہموار ہوسکے -

الف-قانون

ہماری بحث کے عناوین اور اصول میں بیان ہوا ہے کہ معاشرہ ،قانون کا محتاج ہے جیساکہ یہ بات بیان کی جاچکی ہے ، اسلام کے سیاسی نظریہ کی دوسری اصل یہ ہے کہ قانون کو خدا کی طرف سے ہو نا چاہیئے اور جیسا کہ یہ بات بھی بیان کی جا چکی ہے کہ اس کا نفاذبھی خداہی کی طرف سے ہونا چاہئے ، قانون الہی سے مراد یہ ہے کہ یا خود خدا نے قانون بنایا ہو اور اس کو قرآن میں نازل کیا ہو یا پیغمبر اکرم اور معصوم (ء)اماموں کو قانون بنانے کی اجازت ملی ہو،تاکہ مختلف حالات میں اسی کے اعتبار سے قانون بنائیں ، اسی بنا پر قانون کی تین قسمیں ہیں :

۱-وہ قانون جس کو خدا نے بنایا ہے اور پیغمبر اور امام (ء)اس کے بنانے میں شریک نہیں ہیں -

۲-وہ قانون جس کو معصوم (ء)نے خدا کی اجازت سے بنایا ہے -

۳-وہ متغیر قوانین جن کو کچھ افراد معصوم (ء)کی اجازت سے بناتے ہیں ، یہ قوانین اسلامی معاشرے کے لئے معتبر قرار دئے گئے ہیں ،اس لئے کہ آخر کا ر ان کی بازگشت حکم خدااور اس کی اجازت کی طرف ہوتی ہے ،اس بنا پر خداوند عالم خود قانون کو بناتاہے اور خدا کے قوانین قرآن میں ذکر ہوئے ہیں لیکن قانون کا نافذکرنے والا خدانہیں ہے قانون کا نافذکرنے والا یسا شخص ہونا چاہیئے جو معاشر ے میں موجودھواور لوگ اس کو دیکھتے ہوں ،وہ لوگوں کو امر و نھی کرے اور قوانین کو نافذکرے ،پھلے مرتبہ میں پیغمبر اور امام معصوم (ء)ھیں اوردوسرے مرتبہ میں وہ افراد ہیں جن کو پیغمبریاامام معصوم (ء)کی طرف سے نفاذِقانون کی اجازت ملی ہو ،اس بناپر کچھ حضرات پیغمبراکرم یاامام معصوم (ء)کے زمانے میں اسلامی علاقوں اور صوبوں کے والی اور کارندہ کے عنوان سے اجرا ء قوانین کے لئے بھیجے جاتے تھے اور غیبت امام (ء)میں اس کام کے ذمہ د ار فقھاء اور مراجع کرام ہیں جوبطور عام نصب ہو ئے ہیں ،اور قوانین کے اجراء کے ذمہ دارہیں -

اب تک جو کچھ بیان ہو ااس حکومت کے کلیات تھے کہ جس کے دو حصہ تھے قانون گذاری اور قوانین کا نفاز، اور جیسا کہ عدالت کا محکمہ در حقیقت اجرائی محکمہ کا ایک جزھے ، انشائا،،،ہم اس کی اہمیت کی خاطر الگ سے بحث کریں گے-

۲-طبعی اور بنائے گئے قوانین کی اہیمت

یہ بات بیان جاچکی ہے کہ ہماری بحث کے اصول اورمسلمات میں سے ایک اصل یہ ہے کہ معاشرہ کیلئے قانون کاہونا ضروری ہے،اور دوسری اصل یہ ہے کہ ہماری نظر میں ایسا قانون معتبر ہے جس کا بنانے والا بلاواسطہ یابالواسطہ خداہو،اس نظریہ کے مقابلہ میں ایسے بھی لوگ ہیں جنھوں نے یہ کھا ہے کہ معاشرہ قانون کا نیازمند نہیں ہے خواہ وہ قانون خدا بنائے، خواہ دوسرے افراد، البتہ اس موجودہ دور میں اس نظریہ کے طرفدار موجود نہیں ہیں ،کیو نکہ جن حالات میں ہم زندگی بسر کرہے ہیں سب قانون کی ضرورت کا احساس کرتے ہیں اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جومعاشرہ کے لئے قانون کی ضرورت کامنکر ہو،اس دور میں یھاں تک کہ ایک مختصر سے دیھات کے رہنے والے بھی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں کہ ایسے قوانین اور دستورات ہونے چاہئیں کہ جنکی وہ پیروی کریں -

لیکن گذشتہ زمانے میں زندگی بسرکرنے کا طر یقہ بہت سا دہ تھا کچھ لوگ اس بات کے قائل تھے کہ ہمیں قوانین بنانے کی ضرورت کوئی ضرورت نھیں ھے ،ان کی نگاہ میں عقل خود بخودفطری قوانین کو پہچان کرایک طرح کے فطری قوانین سے ٓاگاہ ہوجاتی ہے اور پھر اسے اس کی ضرورت نھیں رہتی کہ کوئی قانون بنائے گویا قدیم زمانہ میں فطری حقوق اور فطری قوانین کانظریہ انسانی معاشرہ میں اس شکل میں بیان ہواکہ جب لوگ یہ کھا کرتے تھے کہ کس قانون پر عمل کریں ؟ تو جواب دیا جاتا تھا کہ اپنے اندر نگاہ کر و یا اس دنیا پر نظر ڈالو تاکہ تمھیں پتہ چلے کہ کون سا حکم اور قانون وہاں پر حکم فرما ہے وہی قانون اپنے معاشرے میں نافذہو گا -

جیساکہ آپ نے ملاحظہ فرمایایھاں تک کہ فطری قانون کے نظریہ کی بناپر بھی قانون کی ضرورت ایک مسلم بات ہے اور یقینی طور پر اس طولانی تاریخ میں ایسے مفکرین کا وجود نہیں ملتا جو یہ دعوی ٰکریں کہ انسان کسی طرح کے قانون کا یھاں تک کہ قانون فطری کا بھی محتاج نہیں ہے اور اس سلسلے فلسفی حضرات کے یھاں جو بھی بحث پائی جاتی ہیں وہ اس بنا پر رہی ہیں کہ کیا قوانین عقلی ، فطری اور قوانین الہی سے مراد وہی قوانین ہیں جن کو تمام انسان اپنی عقل سے درک کرتے ہیں اور وہی معاشرے کے لئے کافی ہیں یا خاص طور پرجو قوانین بنائے گئے ہیں اس کے بھی ہم محتاج ہیں ،اور جیسا کہ ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ اگر گذشتہ زمانہ میں فطری قوانین یا عقلی قوانین یا مستقلات عقلیہ اپنی مختلف تفسیروں اور تعبیروں کے ساتھ کہ جن کے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کافی ہیں ،تو بغیر کسی شک وتردیدکے ،ہمارے زمانے کے حالات کے پیش نظریہ فریضہ قابل قبول نہیں ہے ،یھاں تک کہ بیان وتوضیح کے لائق بھی نہیں ہے-

آج ہر فرد اپنے گردو پیش مشاہدہ کرنے سے یہ سمجہ جاتا ہے کہ ہر روز اپنے دقیق اندرونی ،بیرونی اور بین الاقوامی روابط میں سیکڑوں اجتماعی اور بین الاقوامی قوانین کا نیازمند ہے انہیں میں سے ایک معاشرہی اور اندرونی ملک کے قوانین اور دستورات میں ٹریفک اور ٹریفک سے متعلق قوانین ہیں -

یہ حقیقت ہے کہ اگر اس زمانے میں قانون نہ ہوں تو ہر شہر اور علاقہ کے ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کا نظام کیا ہوگا ؟ اگر گاڑیوں کی رفتار ، اور انکے چلنے کی سمت(دائیں سمت چلیں یا بائیں سمت )یا ٹریفک کے دوسرے قوانین نہ بنائے جائیں تو کتنے حادثات رونما ہوں گے؟ دنیا کے کس علاقہ میں ایسا گروہ مل سکتا ہے جو بغیرقانون کے ایک ساتھ ایک جگہ پر زندگی گزارتے ہوں ،اور ان کے درمیان خطرات اور حادثات رونمانہ ہوتے ہوں ،یہ بات صحیح ہے کہ تمام ممالک میں ٹریفک کا قانون ایک جیسا نہیں ہواکرتا ہے مثال کے طور پر کچھ ممالک جیسے انگلینڈ،جاپان وغیرہ میں گاڑیاں بائیں سمت سے چلتی ہیں اور کچھ ممالک میں (جن میں سے ایک ایران بھی ہے)گاڑیاں دائیں سمت چلتی ہیں ، بہر حال قانون بنایا جاتا ہے ،اور انسان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہتا ہے وہ یہ جانتا ہے کہ کس سمت حرکت کرناچائیے،مذکور ہ مثال معاشرہ میں قانون کی ضرورت کا ایک نمونہ ہے، اور بے شک یہ ضرورت دوسرے مسائل از جملہ خاندانی اور بین الاقوامی حقوق میں بھی پڑتی ہے اور اس کا احساس ہو تاہے-

بین الاقوامی قانون بنانے کی ضرورت کا ایک نمونہ د ریائے خزر سے متعلق مسائل ہیں جواب بھی اس کے حاشیہ نشین ممالک کے درمیان اس سے بھرہ مندھونے کے طریقہ میں اختلاف نظر آتا ہے ،فطری طور پر یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ہر شخص جس طرح سے چاہے دریا کے نیچے موجود تیل اور منابع اور دوسری ذخائر سے فائدہ اٹھائے اور تیل ،گیس اور دوسری چیزوں کے نکالنے میں کوئی قانون نہ ہو ،بلکہ ایسے قوانین بنائے جانے چاہئےں جو یہ معین کرےں کہ فلاں ملک کس حد تک دریاء کی گھرائی، موجود ہ ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ،جو مشکلات اس وقت پڑوسی ممالک کے لئے کھڑی ہیں وہ اس وجہ ہے سے ہیں کہ کوئی معین قانون موجود نہیں ہے ،اور سب دریا کے ذخائر کے بارے میں ایک عادلانہ تقسیم کے لئے قوانین اور دستورات کی ضرورت کا احساس کرتے میں لھٰذابشر کی ضرورت کے پیش نظر قوانین و دستورات کی ضرورت پڑ تی ہے،اور جیسا کہ کمیٹیاں اور موافقت نامہ اور دریا اور ساحل سے متعلق قوانین (فضاء،کنویں وغیرہ )چند صدی قبل موجود نہیں تھے ،کیونکہ بشر کو اس کی ضرورت نہیں تھی ، پھر افراد ،گروہوں ،قوموں اور ملکوں کے درمیان ٹکراو اور اختلاف کی وجہ سے اس طرح کے قوانین کی ضرورت محسوس ہوئی-

اس بات کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے کہ قانون ہر شخص اور معاشرہ کے دائرئہ حقوق کو معین کرتاہے ،قرآن مجید اس اصول کی طرف کہ معاشرہی زندگی قانون کی محتاج ہے خاص توجہ دلائی ہے ،البتہ شایانِ ذکر ہے کہ قانون کا وجود عام طور پرسماجی زندگی سے مخصوص ہے بلکہ اگر ایک فرد بھی زندگی گذارنا چاہتا ہے تو وہ کمال تک پہونچنے میں قانون کا محتاج ہے، البتہ فردی زندگی کے لئے اخلاقی قوانین ،کا فی ہو تے ہیں لیکن جس وقت اجتماعی مسائل میں لوگوں کے حقوق میں ٹکراؤپیداہوجاتاہے تو نتیجہ میں اختلافات وجود میں آتے ہیں اورکبھی کبھی دیکھنے میں آتاہے کہ اگر کسی نے حد سے زیادہ نھر کے پانی سے فائدہ اٹھالیاتو آپس میں لڑائی جھگڑے ہوجاتے ہیں ا ور ایسی صورت میں اجتماعی قوانین بنانے کی ضرورت واضح ہوجاتی ہے-

لھٰذا،یہ بات بالکل واضح اور روشن ہے کہ معاشرہ قانون کا محتاج ہے ، اور ہر عقل مند انسان یہ جانتاہے کہ بغیر قانون کے اجتماعی زندگی،انسان کا آرام وسکون اوراس سے بڑہ کر معنوی سعادت خطرے میں پڑجاتی ہے ،جو مثالیں ہم نے عرض کی ہیں ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس طرح کے مقامات کے لئے کافی نہیں ہےں ، اور ہم قوانین کے محتاج ہیں اس لئے کہ عقل ،عدل وانصاف کا حکم دیتی ہے ، لیکن ایسی حکمت عملی اپنانے کے لئے جو عدل وانصاف قائم کرے ایک دوسرے قانون کے محتاج ہیں مثال کے طور پر عقل یہ حکم دیتی ہے کہ دریائے خزرکے ذخائر کو پڑوسی ممالک میں عادلانہ طور پر تقسیم ہونا چاہیئے ، تواس وقت یہ مسئلہ پیش آئے گاکہ عادلانہ تقسیم کسے کھتے ہیں ؟کیا عادلانہ تقسیم اس کو کھتے ہیں کہ جس ملک کا رقبہ زیادہ ہو وہ ذخائر سے زیادہ فائدہ اٹھائے ،یا جس ملک کے پاس دریا کا ساحلی حصہ زیادہ ہو یا ساحل نشین کی تعدادزیادہ ہو وہ دریا سے زیادہ فائدہ اٹھائے -قانون سازکے مرکزکو اس طرح کے سوالات کا جواب دینا چاہیئے ،اسکے علاوہ دوسرے تمام مقامات کے لئے بھی قانون سازکا ہو نا ضروری ہے ،دیکھنایہ ہے کہ قانو ن ساز کون ہو؟

ب -قوانین کا مرضی الہی اوردین کے مطابق ہونا ضروری ہے

اسلام کا دعویٰ ہے کہ قوانین کو خدانے بنایا اور پیغمبر اکرم کے ذریعہ لوگوں پر نازل کیاہے لھٰذا پہلی اصل کو قبول کرنے کے بعد قانون کی ضرورت ہے دوسری اصل یہ ہے کہ دین کو قانون ساز کے مرکز کے عنوان سے قبول کریں ،اس مرحلہ میں اسلامی حکومت میں ایسے لوگوں کا ہونا ممکن ہے جودین کو نہ مانتے ہوں چہ جائیکہ ایک شخص غیر اسلامی حکومت میں دین کو قبول کرتا ہو ،اگر کوئی یہ کھے کہ مجھے خداکے وجود میں شک ہے لھٰذامیں دین اور اس کے قوانین کو قبول نہیں کرتا ہوں تو پہلے مرحلہ میں آپ اس کے لئے یہ نھیں ثابت کرسکتے کہ قانون خداکو بنانا چاہیئے ،اور بنیادی طور پر جو شخص خدا کو نہیں مانتا ہے وہ قانون الہی کو بھی نہیں مانتا ہے ، پہلے فلسفی اور کلامی بحثوں سے خداکے وجود کو ثابت کرنا ہوگا، پھر کلامی اعتبار سے یہ بات ثابت کرنی ہوگی کہ پیغمبراور دین کا بھی وجود ہے -

بعد کے مراحل میں یہ بات بیان کی جائے گی کہ وہ قانون معتبر ہے جس کو خدا نے خود بنایا ہو یا خدا کے کسی وسیلہ کے ذریعہ بناہو ،اس سے پہلے ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ممکن ہے کوئی خدا، دین اور نبوت کو قبول کرتا ہو لیکن وہ اس بات کا معتقد نہ ہو کہ سماجی قانون خداکو بناناچاہیئے ،اس کی نظر میں انسان کو خدا کی حمددوثنا، عبادت اور اس سے رازنیاز کرنا چاہیئے مسجدوں اور عبادتگاہوں میں آمد ورفت رکھنا چاہیئے، لیکن انسان کی سماجی زندگی خداسے متعلق نہیں کہ جس کے لئے خداقانون بنائے ،اس سے قبل کی بحثوں میں ہم نے عرض کیا تھا کہ اس طرح کا نظریہ اسلام کی روسے صحیح نہیں ہے دین اسلام اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ کو ئی یہ کھے کہ اصل دین یعنی قرآن ، احادیث پیغمبراسلام، متواتر روایات اور پیغمبرو ائمہ علیہم السلام کی سیرت کو تسلیم کرتاہو ں لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلام کے سماجی قوانین سے میرا کوئی سرو کار نہیں ہے ؟

۳-دین کی ضروری باتوں کو قبول کرنا لازمی ہے

افکار وعقائد کے مجموعہ میں کچھ ثابت اور یقینی اجزاء ہو تے ہیں جن کو اصطلاح میں -ضروریات کھا جاتا ہے اور جوشخص بھی اس مجموعہ سے واقف ہے چاہے اس کو مانے یا نہ مانے، یہ جانتا ہے کہ وہ مجموعہ ان ثابت اجزاء پر مشتمل ہے دوسرے لفظوں میں ممکن ہے ہر مجموعہ کے سیکڑوں ممبر ہوں ، لیکن اس کا ایک معیار ہو نا چاہئے ،تاکہ وہ دوسرے مجموعوں سے الگ ہو سکے ، اس بنا پر اگر کسی نے دین کو ایک مجموعہ کی حیثیت سے قبول کیاہے تو اسے یہ قبول کر نا ہوگا،کہ یہ مجموعہ مستقل، دائمی اور یقینی ممبر رکھتا ہے تاکہ تمام مجموعہ سے الگ پہچانا جائے ، لیکن افسوس ! کچھ افراد کھتے ہیں کہ ہم اسلام کو قبول کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں تسلیم کرتے کہ اسلام ثابت اصول رکھتاہے اور تمام اشیاء کو مختلف تفسیروں اور مختلف تعبیروں کے قابل جانتا ہے ، وہ لوگ کھتے ہیں کہ ہم اسلام کے مخالف نہیں ہیں لیکن اسلام قبول کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ سب نماز پڑھیں ، وہ نمازکا عقیدہ رکھیں اور بعض افراد پڑھنے کے بھی عادی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جو شخص مسلمان ہے وہ ضرور نماز پڑھے اور نماز کو اسلام کے ثابت ارکان سمجھے !

روزہ کے سلسلے میں اور اسی طرح دوسرے تمام اجتماعی احکام کے بارے میں معتقد ہیں کہ پیغمبر اکرم، ائمہ معصومین علیہم السلام اور تمام مسلمان اس پرعمل کرتے ہیں لیکن یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اسلام کا دار ومدار اسی روزہ ہی پر ہے، اگر یہ نہ ہو ں تو اسلام باقی نہیں رہے گا ، یھاں پر ایک سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اسلام کن بنیادوں پر قائم ہے کہ وہ اگر نہ ہوں تو اسلام باقی نہیں رہے گا ؟کیا آپ یہ تسلیم کر تے ہیں کہ اسلام میں تو حید ایک اصل ہے کہ اگر کو ئی اس کو قبول نہ کرے تو مسلمان نہیں ہے ؟

تو آپ جواب میں کیا کھتے ہیں کہ ہماری فہم کے مطابق اسلام سے یہ مفہوم سمجھنا صحیح ہے ممکن ہے کہ دوسرا شخص اسلام سے ایک دوسرا مفہوم سمجھتا ہو ،لھٰذا ہم یہ کھہ سکتے ہیں کہ اسلام سے صرف ہمارا سمجھنا صحیح ہے ممکن ہے دوسرا شخص اسلام سے یہ سمجھے کہ خداایک ہے یا چند خدا ہیں یا دین اسلام میں خداکا وجود بالکل ہے نہیں ، -اورہم ایسی دلیل پیش نہیں کر تے جو یہ ثابت کرے کہ ہم جو اسلام سمجھے ہیں وہ سب سے زیادہ صحیح ہے ! اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے جو کچھ سمجہا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور کسی کو دوسری تفسیر کرنے کا حق نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ ہم یہ کھہ سکتے ہیں کہ ہماری سمجہ ہماری نظر میں بہت ر ہے تو ایسا دوسرں کے بارے میں بھی صحیح ہے-

بے شک ایسے افراد صرف دھوکہ بازی اور چال بازی کا قصہ رکھتے ہیں ورنہ کسی علم اور علمی مرکزمیں دو مجموعہ کہ جن کے ممبران آپس میں شریک ہیں ان کو ایک دوسرے سے جدانہیں کیا جاسکتا ہے دومجموعوں کو ایک دوسرے سے اس وقت جدا کیا جاسکتا ہے جب ان دونوں کے ممبران مختلف ہوں یا کم سے کم ان میں سے کچھ کے درمیان فرق موجود ہو ورنہ دونوں مجموعے میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکے گا ، ہمیشہ دو قسم کے مجموعہ میں فرق ہونا چاہئے تا کہ ایک مجموعہ کو دوسرے سے جدا کیا جاسکے ،اگران میں سے ایک مجموعہ کے تمام ممبران دوسرے مجموعہ کی جگہ قائم مقام ہوسکتے ہوں ، مثلااس مجموعہ کا (الف) ممبر دوسرے مجموعہ کے (الف) ممبر کی جگہ آئے اور اسی طرح اس مجموعہ کا(ب) کا ممبر دوسرے مجموعہ کے (ب)ممبر کی جگہ آئے تو اس وقت ایک دوسرے کومستقل سمجھنا درست نہ ہوگا -

اگر کوئی مجموعہ دین اسلام کے عنوان سے پہچانا گیا ہو اس میں دوسرے دین کے مقابلہ میں کوئی خوبی ہونا چاہئیے تاکہ اس سے الگ پہچانا جائے ، یعنی اس میں ایسے ثابت اصول ہونے چاہئیں جن پر اسلام استوار ہے اور ایسی صورت میں اگر ایسے اصول جیسے توحید،نبوت، معادیا نمازوعبادت کے اصول کے معتقد ہوں اور اسی کے ساتھ ان سب کو قابل تبدیل سمجھیں اور ان کے بارے میں مختلف تفسیریں بیان کریں تو ہم کسی بھی ثا بت رکن کو ثابت نہیں کرسکتے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ یہ اصول اسلام کی ایک اصل ہے-

لھٰذا اگرہم یہ کھیں کہ اسلام کے نام پر کوئی معین مجموعہ موجود نہیں ہے،توایسی شکل میں ہم کس چیز سے دفاع کریں ؟کس طرح سے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں ، اگر ہم ان کو مسلمان ہونے کا طریقہ نہ بتائیں اور ان سے یہ کھیں کہ اسلام کوجس انداز سے اور جس طرح سے سمجھے ہوویسے ہی اس پر عمل کرواوراسلام سے اپنی فہم وادراک کے مطابق عمل کرو!اگرتم اس نتیجہ پر پہونچے کہ نماز پڑھو، تو نماز پڑھو ،اور اگر تم اس نتیجہ تک پھو نچے کہ نماز نہیں پڑھنا چاہیے تو نماز نہ پڑھو،تم آزاد ہو، اور اپنی فہم کے مطابق عمل کرو! ،تو اسلام سے اسطرح کا ادراک،مسیحیت یا دوسرے مذاہب کے ادراک سے کیا فرق رکھتا ہے؟ پھر کیوں لوگوں کو اسلام کی طرح دعوت دیں !اگر یہ طے ہے کہ ہر شخص اپنے فہم وادراک کے مطابق عمل کرے اور کوئی اصول،اور ثابت کلیہ موجود نہ ہو تو ہم صرف لفظی طور سے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں ،اس فکر کی بنیاد پر پھر یہ فرق باقی نہیں رہ جاتا کہ ہم لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں یا مسیحیت کی طرف یا اصلاًبے دےنی کی طرف دعوت دے رہے ہیں !

۴-اسلام،اصول اور ثابت معرفتیں

کسی شخص کا یہ کہنا دھوکہ بازی اور نفاق ہے کہ میں اسلام کو قبول کرتا ہوں لیکن اسلام سے ایک ثابت مفہوم کو درک نہیں کرتا ، اس کے تمام اصول قابل تبدیل ہیں اور مختلف تفسیریں ہیں ،ایسی صورت میں اسلام سے وہی بات سمجھنا ممکن ہے جو مسیحیت سے سمجھی جاتی ہے تو ان دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور ایک مسلمان اور مسیحی میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا،مثلاہر ایک بلنڈ نگ مستحکم اجزاء سے بنتی ہے جیسے ستون، دیوار اور چھت وغیرہ، اور پھر ایک مدت کے بعد ویرانہ میں تبدیل ہوجاتی ہے یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ بلنڈنگ -کے اجزاء مستحکم نہیں ہیں ،یہ نہیں کھہ سکتے کہ ایک بلنڈنگ میں ستون ،دیوار اور چھت ہےں تو بلنڈنگ ہے اور اگر نہیں ہےں تب بھی بلڈنگ ہے ،اگر زمین ،ھوا اوردریا میں ہو تب بھی بلڈنگ اور اسمیں کسی طرح کی خصوصیت اور مستحکم وثابت اجزا ء موجود نہیں ہوتے ہیں ،اسی طرح اسلام بھی ثابت اور معین اجزاء سے وجود میں آتا ہے اور اگر اسلام میں ثابت اور کلی اصول نہ ہوں تو ہم یہ نہیں کھہ سکتے کہ یہ مجموعہ ہے اور وہ اسی طرح کامجموعہ ہے-

اس بنا پر اگر کوئی اسلام کو قبول کرے تو اسے چاہئے کہ اِس مجموعہ سے ایک حصہ کو ثابت اجزاء کے عنوان سے قبول کرے البتہ ممکن ہے کہ اس مجموعہ کا ایک حصہ مشکوک بھی ہو ،یا ایسا کھلاہوا مجموعہ ہو کہ جس میں کچھ اجزاء کم وزیاد ہو سکتے ہوں ،لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک مجموعہ میں کسی طرح کے ثابت اجزاء نہیں پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک مشخص مجموعہ کے عنوان سے باقی رہے -

اسلام کے بنیادی اور کلی عناصر کو دوست ودشمن سب جانتے ہیں توحید،نبوت اور معاد کے علاوہ اسلام میں دوسرے بھی سیاسی امور ہیں جو سب جانتے ہیں حد ہے کہ منکرین خدابھی اس سے واقف ہیں ،نمونہ کے طور پر نمازاور حج کو اسلام کے اصلی عناصر کا جزء سمجہا جاتاہے دنیاکے تمام افراد یہ جانتے ہیں کہ مسلمان مخصو ص دنوں میں حج کرتے ہیں ،ایسی صورت میں کیا کو ئی یہ کھہ سکتا ہے کہ جس اسلام کو میں نے سمجہا ہے اس میں حج نہیں ہے ، سبھی یہ جانتے ہیں کہ اسلام میں نماز ہے اب اگر کو ئی یہ کھے کہ میں اسلام کو قبول کرتاہوں لیکن اسلام سے جو میں سمجہا ہوں اس کی بنیاد پر نماز ،اسلام میں نہیں ہے تو ایسا شخص یا اسلام کو نہیں سمجہا، یا جھوٹے طریقہ سے اپنے کو مسلمان کھلواتا ہے جبکہ منافق یا دھوکہ بازھے، اور یہ اس لئے کرتا ہے کہ اپنے کو مسلمان بتاکر ایک مسلمان کی خصو صیت سے محروم نہ کرے، اور اسے اسلامی معاشرہ سے نکالانہ جائے، ورنہ نماز،روزہ اور حج اس مجموعہ کے ثابت ارکان میں سے ہیں ، اور مسلماً تمام مسلمانوں کے نزدیک دن کے ضروری مسائل کا جزء ہیں -

اگر کوئی اسلام سے واقف ہوتو کیا وہ یہ کھہ سکتاہے کہ اسلام میں چوری سے روکنے کے لئے سزاکا قانون نھیں ھے جب کہ قرآن نے آیت:

( اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ- ) (۱)

میں اس مسئلہ کی صراحت کی ہے ، اسی طرح دوسرے تمام مقامات پر بھی قرآن کی صریح نص موجود ہے

لھٰذا اسلام کے ضروری احکام ثابت کر دیئے گئے ہیں اور اب ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم پھر سے انہیں سمجھیں اور ایک ایک کو ثابت کریں ، اس بناپر اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام جس کی بنیاد قرآن پر ہے وہ خدا کی جانب سے آیا ہے اور حق ہے تو یہ قبول کر یں کہ جو کچھ بھی قرآن میں ہے وہ حق ہے اور قرآن ایک طرح کے محکم ، قطعی اور ضروری امور پر مشتمل ، البتہ کچھ آیتوں کی مختلف تفسیریں ہونا ممکن ہےں ،لیکن ایک آیت سے صرف دو مختلف تفسیروں کا وجود اس بات کی غمازی نہیں کرتا کہ قرآن سے کسی ثابت اور قطعی امور کا استنباط نہیں ہو سکتااور ہر شخص جو چاہے اس سے درک کرے-

اگر کوئی شخص عربی زبان سے واقف ہے اورقرآن کی طرف مراجعہ کرے تو وہ قرآن سے ایک ایسے مطلب کو درک کرسکتا ہے کہ جو انسان کے مختلف ادراکات سے کوئی ربط نہ رکھتا ہو،اور نہ ہی اس کا گذشتہ افکار و مسلمات سے کوئی رابطہ ہو ، اور نہ ہی ہمارے ان قوانین کے تابع ہو جن کو ہم علوم سے درک کرتے ہیں مثلاًقرآن کی ایک آیةھے جو ہمیں نماز کا حکم دیتی ہے یا ایک ایسی آیت ہے جو چور کے ھاتہ کاٹنے کا حکم دیتی ہے وہ شخص جو کسی زمانے میں عناصرچھار گانہ ، ساتوں آسمان کا معتقد تھاآیت سے وہی سمجہ رہا تھاجو آج” انیشٹن“ کی نسبت کی تھیوری کے بعد سمجہ رہاہے اوراستنباط کر رہا ہے اور یہ نہیں کھاجا سکتا کہ آج انیشٹن کی نسبت کی تھیوری پائی جارہی ہے لھٰذاآیت کے معنی بدل گئے ،ممکن ہے کہ ایسی آیت ہو جس کے کلمات لغات میں تبدیل اور دوسرے علمی مسائل سے مربوط ہوں ،لیکن کچھ مطالب ایسے ہیں جن کا سمجھنا دوسرے مختلف علوم سے مربوط نہیں ہے اور فطری طور سے ان میں تبدیلی کا شبہ بھی نہیں پایاجاتا-

۵-قرآن کریم کے ثابت اور قطعی احکام ومفاہیم

ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ اسلام میں ایک طرح کے ضروری احکام موجود ہیں جو کہ ثابت ہیں خواہ کوئی مسلمان ہو نہ ہو یہ جانتاہے کہ اسلام میں کچھ ضروری مسائل ہیں ،اسی طریقہ سے ایک طرح کے قطعی مفاہیم قرآن سے بھی استنباط ہوتے ہیں چاہے کوئی قرآن کو قبول کرے یانہ کرے ،وہ قرآن سے ان مطالب کو درک کرتاہے اور ان مطالب کا سمجھنا عربی سے واقفیت پر موقوف ہے ، اس کے مسلمان ہونے پرنھیں ، ہماری گفتگوان چیزوں کے بارے میں ہے جو کسی اعتبار سے قابل تغییرنھیں ہیں اور نظریات کے اختلاف اور ادراک کے اختلاف کے باوجود اس کے معنی اور مفہوم اپنی جگہ پر ثابت اور قطعی اور قابل اعتراض ہیں مثلاًجملہ( ا قِیْمُوْا الصَّلاٰةَ- ) (۲)

کے معنی نمازکے واجب ہونے کے ہیں اور جملہ( کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامَ- ) (۳) کے معنی روزہ کے واجب ہونے کے ہیں ،چاہے جیسی علمی تھیوریاں ایجاد ہوں اور اس میں تجدید نظر ہو لیکن قرآن کے فہم و ادراک میں تبدیلی نہیں آئے گی اس کے احکام اپنی جگہ پر مسلم ہیں ، جس وقت ہم دین کی ضروری مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ان کو یقینی ،مستحکم ناقابل تبدیل سمجھتے ہیں کیونکہ ان کو اسلام کے اصلی اور قطعی منابع یعنی قرآن اور احادیث سے حاصل کیاگیا ہے اور جو لوگ ضروریات دین کے منکر ہیں اور لمبی چوڑی باتیں کرتے ہیں کہ اسلام سے مستحکم اور یقینی اصول نہیں سمجہاجاسکتا،تویا تووہ مسئلہ میں شبہ کے شکار اور جاہل ہیں یا تعصب کرتے ہیں اوراسلام پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ،بلکہ مسلمانوں سے کھیلتے ہیں -

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی سیاسی حکمت عملی ثابت اصول اور ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ قانون خداکی طرف سے بنے اور جو لوگ قانون الھی ٰکے منکرہو گئے ہیں در اصل وہ ضروریات دین کے منکرہیں جس طریقہ سے قرآن کریم سے نمازپڑھنے کے وجوب کو سمجہاجاتاہے،زناکار مرد اورزناکار عورت کا حکم سمجہاجاتاہے اور جتنی صراحت کے ساتھ قرآن میں نمازو روزہ کا حکم ثابت ہے اتنی ہی صراحت کے ساتھ پیغمبرکی اطاعت بھی واجب ہے اور شریعت اسلام میں پیغمبر کے مقام کو ”مفترض الطاعة“کے عنوان سے پہچاناگیاہے - خداوندعالم اس بارے میں فرماتاہے:

( یَاا یُّهَا الَّذِیْنَ ءَ امَنُوْا ا طِیْعُوْا اللّٰه وَا طِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَا وْلِی الا مْرِ مِنْکُمْ- ) (۴)

”اے ایماندارو! خدا کی اطاعت کرو اوراس کے رسول کی اور جو تم میں سے اولی الامر ہوں “

اسی طرح ارشاد ہوتاہے:

( وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلَ فَخَذُوْا وَمَانَهاکُمْ عَنْه فَانْتَهوْا ) (۵)

”ھاں جو تم کو رسول دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو“

جب تک مندرجہ بالا آیات کے مطالب کو تسلیم نہ کیا جائے جن میں اسلام کے ضروری احکام بیان ہوئے ہیں ورنہ اس وقت تک اسلام کو تسلیم نہیں کیا جاسکتااورایسی شکل میں انسان کا ان لوگوں میں شمار کیا ہوگاجن کے قول کی خداوندعالم یوں حکایت کررہا ہے :

( وَیَقُوْلُوْنَ نُومِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ- ) (۶)

”اور کھتے ہیں کہ ہم بعض (پیغمبروں ) پر ایمان لائے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں “

اور اسی کے بعد خدا ان کے بارے میں یہ بھی فرماتاہے:

( ا وْلَئِکَ هُمُ الکَافِرُوْنَ حَقّاً- ) (۷)

”یھی لوگ حقیقتاً کافر ہیں “

لھٰذا جو شخص اسلام کا معتقد ہے اس کو ایک سرے سے اس کے تمام قوانین اور احکام کو مانناچاہیئے ،اور یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ اسلام کے تمام ضروری احکام علمی تبدیلیوں کے تابع نھیں ہیں کہ جو علمی نظریات یا نئی علمی تھیوریوں کی وجہ سے ان میں تبدیلی رونما ہوجائے ایسی شکل میں جو نمازسے مربوط آیت کو حق سمجھتا ہے اور چوری سے متعلق آیت کو حق جانتا ہے اگر چہ اسے قرآن میں متشابہ اور محمل آیات ملتی ہیں ، جن کو وہ اسلام کے متغیرقانون کی حیثیت سے پاتاہے ،لیکن یہ یقین رکھتاہے کہ قرآن اور اسلام میں ایسے مستحکم اور یقینی اصول موجود ہیں جو دوسرے تمام متغیراصول سے الگ پہچانے جاتے ہیں -

۶-اسلام مختلف تعبیربیں رکھتا ہے-

(ایک اعتراض اور اس کا جواب)

یہ بات تواضح ہے کہ کچھ آیات سے مختلف طرح کے مطالب سمجھے جاتے ہیں اور مختلف طرح کی تفسیریں بیان کی جاتی ہیں اور اسلام کے کچھ احکام میں اختلاف نظرپایا جاتاہے جواس بات کا باعث نہیں بنتاکہ اسلام کے سارے قوانین مشتبہ اور اختلافی ہیں ،اسلام میں ایسے ھزاروں قطعی احکام موجود ہیں جن کے بارے میں تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق نظرپایا جاتاہے لیکن فرعی اور بہت مختصر احکام میں شیعہ اور سنی حضرات کے درمیان اختلاف پائے جاتے ہیں ، اور فقہ کے ایک عظیم حصہ میں فریقین کے یھاں اختلاف نظر نہیں پایاجاتاہے اسی طرح سے شیعہ فرقے کے کچھ احکام میں فقھا کے درمیان فتوؤں میں اختلاف کا ہو نا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ تمام احکام میں اختلاف پایاجاتاہے،جس طرح ایک مخصوص بیمار کے بارے میں دو ڈاکٹر وں کی تجویز کا الگ الگ ہونا اور دونوں کے نسخوں کا فائدہ بھی ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ علمِ ڈاکٹر ی میں پائیدار اور استوار قوانین نہیں پائے جاتے ہیں -

اسی بناپر اسلام میں ایک طرح کے قطعی اور یقینی احکام موجود ہیں جس میں کسی طرح کا شک وشبہ نھیں پایاجاتاہے ،اور بعض مقامات پر اختلاف نظر کا ہو ناہمیں اس بات کا سبق نہیں دیتا کہ ہم مسلّم احکام نہیں رکھتے اور اس بھانہ سے ہم اسلام سے الگ ہو جائیں ،اس کے باوجود آج جب اسلام کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو قلبی مریض اور قرآن کے ارشادکے مطابق:( اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ- ) (۸)

”پس جن لوگوں کے دل میں کجی ہے“

کھتے ہیں کہ کونسا اسلام ؟وہ اسلام جس کو شیعہ بتاتے ہیں یا وہ اسلام جس کو سنی بتاتے ہیں ؟یا وہ جس کو فقھاء بتاتے ہیں یا وہ جس کو دانشورحضرات بتاتے ہیں ؟اس کے باوجود کہ ہم اعتقادات ،اخلاقیات ، فردی احکام ،سماجی ا حکام،تجارت کے قوانین اور بین الاقوامی قوانین میں ایک طرح سے ثابت حقوق اور ھزاروں متفق علیہ قوانین رکھتے ہیں ، تو پھر کیوں وہ لوگ بجائے اس کے کہ یقینی اور مسلم قوانین کو اپنائیں اختلافات اور افتراقات کو اپنائے ہوئے ہیں ؟اور جب ان سے یہ کھا جاتاہے ہماری یونیورسٹیوں کو اسلامی ہو نا چا ھئے توکیوں روحی بیمار اور کج فکر لوگ پوچھتے ہیں کہ کون اسلام ؟اس کا جواب یہ ہے کہ وہی اسلام جو یہ کھتاہے کہ دوسروں کے حقوق کو پامال نہیں کرنا چاہیئے ،عدالت کو قائم کر نا چاہیئے کیا ان چیزوں میں اختلاف پایا جاتاہے؟

اگر آپ انہیں یقینی اور متفق علیہ قوانین کو جن کے بارے میں فریقین میں اختلاف نہیں ہے یونیورسٹیوں میں اپنائیں تو آپ نھایت خوش ہونگے،یہ فطری بات ہے کہ جب وہ لوگ نہیں چاہتے کہ اسلام کے مطابق عمل کریں تو بھانہ تلاش کرتے ہیں کہ کس نے کھا ہے کہ فقھاء کا اسلام نافذکیا جائے اور روشن فکروں کا اسلام نافذ نہ کیا جائے ؟

۷-اسلام انسان کی تمام ضرورتوں کو پوراکرتاہے

اس بات کو ثابت کرنے کے بعد کہ اسلام میں قوانین اور سماجی احکام موجود ہیں مختلف طرح کے سوالات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں انہیں میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ بات عقلاًممکن ہے کہ انسان کی تمام ضروریات مختلف زمانے میں ایک مجموعہ میں بیان کردی گئی ہوں ؟دوسری بات یہ کہ کیاوہ اسلام جس کا منبع قرآن اور معتبر روایات ہیں اس کے اندر اتنی صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ تما م چیزوں کو ، جس کی انسان کومختلف زمانوں اور صدیوں میں ضرورت پڑتی ہے اپنے اندر رکھتاہو،مذکورہ سوال کے دو حصے ہیں ایک ثبوتی حصہ دوسراثباتی اور دونوں جھتیں یعنی ثبوتی اور ثباتی قابلِ بحث وتحقیق ہیں ،البتہ یہ یقین رکھنا چاہیئے کہ اعتراض قابلِ غور وفکر ہے ،اور آغاز بحث میں اس کا جواب آسانی سے نہیں دیا جاسکتا اور توجیہ نہیں کی جاسکتی ، لیکن ان توضیحات کے مدنظر جو اس سے قبل ہم نے دی ہے اس کا جواب اتنا مشکل اور دشوار نہیں ہے-

الف :سوال کے ثبوتی پہلوکی تحقیق

ثبوتی نقطہ نظرسے اس اعتراض کہ کس طرح سے قوانین کا مجموعہ ،انسان کی زندگی کے تمام مراحل میں اس کی ضرورتوں کا جواب گو ہوسکتا ہے ،اس کا جواب یہ ہے کہ قطعی طورپر انسانوں کے اندر صلاحیت نہیں پائی جاتی کہ وہ انسان کے لئے مختلف صدیوں اور زمانوں قانون کا ایک کامل مجموعہ میں بنائے ،اس لئے کہ اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ بشر اپنی محدود ذہنیت اور ناقص معلومات کے ذریعہ یہ صلاحیت نہیں رکھتاہے کہ وہ انسان زندگی کے تمام گوشوں اور تمام حالات سے بحث کرے اور ہر ایک کے لئے مناسب قانون بنائے-

لیکن اس ذات کےلئے جس نے بشر کو پیدا کیا ہے جو تمام ماکان ومایکون کے حالات سے واقف ہے جس کی نظر ماضی ،حال اور مستقبل پر یکسان ہیں ھزاروں سال قبل وبعد کی اشیاء کو واضح انداز میں دیکھتا ہے اس کے قانون کے مجموعہ کی توضیح اور تشریح ممکن اور میسر ہے، لھٰذایہ نہیں کھا جا سکتا کہ انسان کی اس طولانی تاریخ میں تمام انسانوں کے لئے قوانین کا ایک کامل مجموعہ جو انسان کی زندگی کے تمام مراحل پر مشتمل ہو ممکن نہیں ہے ،اس لئے جو گذشتہ اور آئندہ کی چیزوں کی خبر رکھنے والااور انسانی وجود کے تمام پہلوؤں کی خبر رکھنے والا ہو، وہ اس طرح کے قوانین کو بناسکتا ہے-

ب:-سوال کے اثباتی پہلو

اعتراض کے اثباتی پہلو یعنی جس چیز کو تم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو اور وہ قرآن اور متواترروایات میں بیان ہوئی ہے ،خاص طور سے اگر ہم صرف ان مسلمات اور یقینی قوانین کو اپنائیں ،تو کس طرح ہر زمانہ میں محدود قانون بشر کی تمام ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ہر چیز کے بارے میں خاص قانون پیش کریں جس میں اس جگہ اور اس زمانہ کے تمام شرائط کا لحاظ کیا گیا ہو اور اس وجہ سے کہ قانون کے نیازمند مسائل محدود نہیں ہیں اور اس کی رغبت بے انتھاء ہے اور اس کے مقابلہ میں ہماری ادراک ،فہم ، ذہن اور سمجھنے کی صلاحیت محدود ہے لھٰذا ہم تمام مسائل کو ایک خاص اور معین شکل اور مکمل طریقہ سے حاصل اور معیں نہیں کرسکتے لیکن یہ کھا جاسکتا ہے کہ بے شمار مسائل کے بے شمار دستہ نہیں ہیں ،اِن مسائل میں ہر مجموعہ ایک کلی عنوان رکھتا ہو اور اس عنوان کا ایک خاص حکم ہو ،لھٰذا کلی حکم ثابت اور محدود ہے اور ان کے مصادیق بے شمار ہیں ا ور ان میں تغیّر وتبدّل ہوتا رہتا ہے -

ممکن ہے کہ کسی ایک زمانہ میں کوئی ایک مصداق کسی ایک حکم کو شامل ہور دوسرے زمانہ یادوسرے حالات میں ایک دوسرے عنوان کے تحت قرار پائے اور بدل جائے ،لھٰذا موضوعات میں مختلف اور بے شمار تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں ،لیکن لا محدود اورکلی عناوین ثابت رہتے ہیں ،یہ حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی کے حالات مختلف ہیں اور ہر روز حالات بڑھتے رہتے ہیں ،اور زمانہ کی ترقی اور اجتماعی زندگی کے ساتھ ساتھ نئے مسائل بھی پیداہوتے رہتے ہیں کہ جن کے بارے میں خاص قوانین کی ضرورت ہوتی رہتی ہے ،تاکہ انسانی ضرورت پوری ہو سکے ،البتہ ان متغیر قوانین کو خاص معیار کی ضرورت ہے کہ اگر انسان ان ثابت اور کلی معیار کو پہچان لے اور اس کی اجازت سے کہ جس نے کلی قوانین کو نازل کیا ہے اور لوگوں تک ان قوانین کے کلی معیار کو پھچنواناہے تو پھر کسی بھی خاص مقام کے لئے قانون بناسکتا ہے -

ہماری اس بات کا کہ (قوم و ملت میں اسلام کے قوانین نافذ ہونے چاہئے) مطلب یہ ہے کہ صرف وہی قوانین نہیں ہیں جو براہ راست خدا کی طرف سے نازل ہوتے ہیں بلکہ پیغمبر وامام معصوم (ء)اور وہ حضرات کہ جو ان قوانین کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور ان کے معیار کو بخوبی جانتے ہیں اور کلی قواعد اور تزاحم کی صورت میں کسی ایک کی حجیت کو تشخیص دے سکتے ہیں ان کے مصادیق اور قوانین کلی کی حاکمیت اور اہمیت کو معین کر سکتے ہیں اور بدون شک یہ کام الہی قوانین کی بنیاد پر قائم ہے-

حوالہ

(۱)سورہ مائدہ آیت ۳۸

(۲) سورہ بقرہ آیت ۴۳

(۳)سورہ بقرہ آیت ۱۸۳

(۴)سورہ حشر آیت ۷

(۵)سورہ نساء آیت ۵۹

(۶) سورہ نساءآیت ۱۵۰

(۷) سورہ نساء آیت۱۵۱

(۸) سورہ آل عمران آیت ۷


دسواں جلسہ

قانون کے سلسلہ میں نظریات میں فرق

۱- گذشتہ مطالب پر ایک نظر

حکومت وسیاست سے متعلق اسلامی نظریہ پیش کرنے کے سلسلہ میں ہم نے گذشتہ جلسوں میں یہ عرض کیا تھا کہ اسلام کی رو سے قانون ساز اور قانون کا نافذ کرنے والا خدا کی جانب سے منسوب ہونا چاہئے؛ یعنی قانون کو یا خدا بلاواسطہ بیان کرے جیسا کہ سماجی قوانین سے متعلق آیات اس بات کو بیان کرتی ہیں ، یا ن قوانین کو پیغمبر اسلام یا ائمہ معصومین علیہم السلام کے ارشادات اور آیات قرآن کی تفسیر میں بیان ہوئے ہیں جو کہ سنت کے ذیل میں آتے ہیں ، ان قواین میں سے بعض دائمی ،مستحکم اور ناقابل تبدیل ہیں اور بعض میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، جو زمانہ اور جگہ سے لحاظ سے ہوتے ہیں ، غیبت امام (ء) کے زمانے میں ان کو معین کرنے کا اختیار ان افراد کو دیا گیا ہے کہ جو دینی معلومات، پرہیزگاری اور عدالت اور معاشرہ کی مصلحتوں سے آگاہی کے اعتبار سے امام معصوم علیہ السلام سے بہت قریب ہوتے ہیں - اور نفاذ قانون کے سلسلے میں بھی ہم نے یہ عرض کیا کہ خود خداوندعالم اس کے نفاذ کا ذمہ دارنھیں ہے بلکہ یہ کام اس شخص کے ذریعہ انجام پانا چاہئے جو نفاذ قانون کا ذمہ دار ہو، اور وہ پہلے مرتبہ میں خود پیغمبر اسلام پھر ائمہ معصومین علیہم السلام اورپھر وہ افراد ہیں جو پیغمبر یا امام علیہ السلام کی جانب سے خاص یا عام طور پر معین کئے گئے ہوں -

جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے جلسہ میں عرض کیا کہ مذکورہ نظریہ کی بنیاد ایک طرح کے بنائے ہوئے اصول پر ہے کہ جس میں سے پہلی اصل یہ ہے کہ معاشرہ کو قانون کی ضرورت ہے، اور دوسری اصل یہ ہے کہ قانون کو خدا کی جانب سے ہونا چاہئے، ان دو مرحلوں کے بعد نفاذ قانون کے مرحلوں کو بیان کیا جاتا ہے، جو حضرات ان اصولوں کے قائل ہیں مثلاً مسلمان ہیں یا اسلام کے اصولوں کے معتقد ہیں ان سب کے لئے بحث میں داخلی نظم کا لحاظ کرتے ہوئے اس نظریہ کا ثابت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، لیکن جو افراد اسلام کے اصولوں کے معتقد نہیں ہیں یا جو ان مسائل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ دشمنوں کے اعتراضات کا جواب دے سکیں ان کے لئے ہر ایک اصول کو بہت تفصیل سے بیان ہونا ضروری ہے-

۲-دور حاضر میں قانون سے بحث کرنے کی ضرورت

اس دور میں سیاسی مسائل کے بارے میں مختلف طرح کے نظریات ہمارے سامنے ہیں ،لھٰذا حکومت وسیاست کی فکری بحثوں کے بارے میں اسلام کی روسے زیادہ توجہ ہونا چاہئے تاکہ ہم مخالف نظریوں کے مقابلہ میں اسلامی نظریہ کو مستحکم ویقینی شکل میں پیش کرسکیں ، خاص طور سے اس بات کا لحاظ کریں کہ عالمی استعمار اسلامی حکومت کے نظریہ کو پامال کرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے، اس وقت ہم انقلابی دو رمیں اور ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ نظام ِ حکومت کو ثابت کیا جاچکا ہے، اور اسلام کے نظریات کو پیش کرنے کے لئے علمی اور منطقی وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہئے-

اور اس بات کے پیش نظرکہ ملک کے راہنماؤں کی طرف سے قانون مندی اور نفاذِ قانون کا نعرہ لگایا جاتا ہے ، لھٰذا عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ قانون کے مسئلہ کے اصول، حدوداور اہمیت پر توجہ رکھنی چاہئےے،او ر اس بات سے آگاہ ہوں کہ ہم کیوں ؟ اور کس حد تک قانون کی پیروی کریں ؟ یہ وہ اسباب ہیں جو اس زمانہ میں ،اسلام کے سیاسی اور حکومتی مسائل کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت کو دوگناہ کردیتے ہیں ، لھٰذ ہمیں ایک حد تک ان تمام بحثوں کو علمی اور تحقیقی شکل میں پیش کرنا چاہئے-

۳-قوانین کے حدود کو معین کرنے میں دو مختلف نظریے

آج کا انسانی معاشرہ مختلف طرح کے بے شمار وقوانین سے دوچار ہے، اور اگر ہم ان کتابوں پر نظر ڈالیں جو پچاس ساس قبل ہمارے لئے لکھی گئی ہیں تو ہم یہ سمجہ جائیں گے کہ ان کتابوں کی زخامت میں اضافہ تقریباً قاعدہ عددی کی ارتقائی شکل میں ہے اور جو قوانین اس زمانے میں پائے جاتے تھے ان کی تعداد آج کے قوانین کی تعداد کی نسبت بہت کم ہیں ، پھر خاص طور سے آج کل کے شعبہ جات، آئین ناموں ، دفتری اور قوانین منتظمہ کی تعدا میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، اور معاشرے کو نئے قوانین کی ضرورت کا زیادہ سے زیادہ احساس ہورہا ہے، اور ذمہ دار حضرات بھی ان قوانین کے بنانے اورنافذکرنے میں اپنی پوری کوشش ومحنت لگادے رہے ہیں -

یھاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون کی تعداد میں اضافہ کرنا معاشرہ کے لئے ضروری ہے؟ یہ سوال پہلی نظر میں سادہ اور عمومی معلوم ہوتا اہے اور کوئی خاص سوال معلوم نہیں پڑتا اس لئے کہ یہ بات واضح ہے کہ معاشرہ کو ہر روز جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور یہ معاشرہ جدید قوانین کا بہت زیادہ نیاز مند ہے جو کہ بنائے اورنافذ کئے جانے چاہئےے،، لیکن دنیا کے علمی حلقہ میں یہ سوال اہمیت کے ساتھ ذکرہوتا ہے کہ کیا سماجی قوانین کے بنانے میں صرف ضروری اور کم سے کم پر اکتفاء کی جائے یا معاشرے کے قوانین جامع اور ہمہ گیر ہوں اور عوام کی زندگی کے تمام امور کو شامل ہوں ؟ یہ مسئلہ فلسفہ سیاست اورفلسفہ حقوق کے عملی حلقوں میں اعلیٰ پیمانہ پرمورد بحث واقع ہوتا ہے، اور اس سلسلہ میں دو مختلف اور متضاد نظریہ پائے جاتے ہیں -

ایک گروہ کا اعتقاد یہ ہے کہ عوام الناس کو اپنے امور اور سرگرمیوں میں آزاد ہونا چاہئے اور محکمہ قانون سازی کو چاہئے کہ کم سے کم قانون بنائے اور ضرورت سے زیادہ عوام الناس کی فعالیت اور امور کو محدود نہ کرے، یہ وہی خودمختاری اور آزاد خیالی نظریہ ہے اور اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کا ہر فرد جس طرح بھی چاہے اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے میں آزاد ہو، اور صرف پیش آنے والی ضرورتوں کے وقت کے لئے قانون بنائے، تاکہ لوگوں کی کارکردگی ضرورت کے تحت محدود ہو ، نہ کہ اس سے زیادھ، اور قانون سازی محکمہ اور حکومت کو مسلسل عوام الناس کے امور اور طرزِ زندگی میں دخالت نہیں کرنا چاہئے اور قدم قدم کے لئے قانون نہیں بنانا چاہئے، مذکورہ نظریہ کے مقابلہ میں قانون کے سلسلہ میں تمامیت گرائی (ھر چیز قانونی) کا نظریہ پایا جاتا ہے کہ تمام چیزیں قانونی ہونا چاہئے اور انسان کے تمام امورخواہ وہ سماجی ہوں یا سیاسی اور اقتصادی یا دوسرے امور ،یہ سب کے سب دقیق اور معین قوانین کے تحت ہونے چاہئے، اور حکومت کو بھی ان قوانین کو ہر ممکن طریقہ سے نافذ کرنا چاہئے-

تو معلوم یہ ہوا کہ مذکورہ سوال سادہ اور عوامی نہیں ہے بلکہ ایسا سوال ہے جو قانون کے حدود کے بارے میں دقیق اور مستحکم ہے اور وہ یہ کہ قانون گذاری کا محکمہ کس طرح کے قوانین اور کتنے قوانین او رعوام الناس کی زندگی کے کن حدود تک اثر انداز بنے؟

۴-جمہوری حکومت میں قانون کی ضرورت

بنیادی طور پر یہ سوال قوانین کے حدود سے کے بارے میں ہوتا ہے جو کہ قانون سازی کے فلسفہ کے سلسلہ میں مختلف طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں کہ جن میں قانون گذاری او ران کے معیار کے بارے میں نظریات بیان کئے جاتے ہیں -

اس سلسلہ میں پائے جانے والے نظریات کے درمیان کہ کس کو قانون گذاری کا حق ہے اور اس کے معیار کیا ہےں ، ایک مشہور نظریہ ہے کہ جس کو آج کل کی دنیا میں قبول کیا گیاہے وہ یہ ہے کہ (صرف) وہ لوگ قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں جو عوام الناس کی طرف سے منتخب ہوئے ہوں ، لھٰذا در حقیقت قانون بنانے کا حق خود عوام الناس کو ہے اور وہ خود عوام الناس ہے جو اپنے لئے قوانین بناتی ہے جو نظام سیاسی اس نظریہ کی بناپر وجود میں آتا ہے اس کو ”ڈیموکراسی“یا ”جمہوریت“ کھتے ہیں -

جمہوریت کو قبول کرنے کے بعد اور اس بات کو قبول کرنے کے بعد کہ قانون سازی کا حق عوام الناس کے منتخب ممبران کی ذمہ داری ہے، یھاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ جو بھی اکثریت (یعنی ۵۱ فی صد ) نمائندوں کے موافق ہو وہ قانون معتبر سمجہا جاتا ہے یا قانون سازی کے لئے دوسرے قوانین بھی ہونے چاہئے، اور پہلے سے ایسے قوانین بنائے جائیں جوقانون سازی کے میدان میں ممبران کے دائرہ عمل کو معین کریں ، تو جواب یہ ہے کہ قانون ساز حضرات کے حدود اور حق کو قانون اساسی معین کرتا ہے یعنی قانون اساسی عام قوانین اور وضع شدہ قوانین پر حاکم اور نگراں ہوتا ہے اور قانون سازی کے حدود کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے-

یھاں ایک دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف ممالک میں قانون اساسی مختلف ہوتے ہیں اور کم وبیش اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور کبھی کبھی حکومت کے بدلنے سے قانون اساسی بدل جاتا ہے اور کبھی مجلس ادارات تشکیل پاتی ہے جو قانون اساسی کو مکمل اور اس کے نقائص کو دور کرتی ہے، بہرحال جو تبدیلیاں قانون اساسی میں انجام پاتی ہیں ان کے اعتبار سے کوئی ایسا محکمہ پایا جاتا ہے جو قانون اساسی سے بالاتر ہو اور جو قانون اساسی کے حدود کو معین کرے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قانون اساسی سے بالاتر محکمہ حقوق بشر ہے جس کو کبھی قوانینِ فطری اور حقوق طبیعی سے یاد کیا جاتا ہے کہ جو قانون اساسی پر حاکم ہوتا ہے اور اس کے حدود کو معین کرتا ہے اس لئے کہ مجلس ادارات ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق قانون میں داخل نہیں کرسکتی-

۵- حقوق بشر کے اعتبار کا معیار

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قوانین جو قانون اساسی پر بھی حاکم ہوتا ہے اور قانو ن اساسی کے دائرہ کو محدود ومعین کرتا ہے اور اسکی بناپر قانون اساسی میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اس کو کس نے بنایا ہے؟ اور انسانوں کے حقوق جو کہ حقوق بشر کے اشتھارات میں یا فلسفہ حقوق کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں کس شخص کے ذریعہ معین ہوئے ہیں اور ان کے اعتبار کی وجہ کیا ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ بین الاقوامی عرف میں اس کا اعتبار ان لوگوں کی تائید سے ہوتا ہے جنھوں نے اس اشتھار پر دستخط کئے ہیں اور چونکہ اس اشتھار کو دنیا کی تمام حکومتوں کے دستخط (تائید) حاصل ہوتی ہے لھٰذا یہ معتبر ہوجاتے ہیں -

دوسراسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس نے اس اشتھار پر دستخط نہیں کئے ہیں ان کے لئے یہ قوانین قابل اعتبار ہیں یا نھیں ؟ اور اگر اعتبار نہیں رکھتے تو کوئی یہ حق نہیں رکھتا ہے کہ ان کی مذمت کرے کہ جن لوگوں نے اس اشتھار پر دستخط نہیں کئے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ کھا جائے کہ یہ حقوق بشر کا لحاظ نہیں کرتے ہیں -

دوسرا جواب یہ ہے کہ حقوق بشر کے اشتھارات میں پیش کئے گئے قوانین اور حقوق وضعی قوانین نہیں ہیں کہ جو بنائے جانے کے بعد دوسروں کے دستخط کے ذریعہ قابلِ اعتبار بن جاتے ہیں بلکہ وہ ایسی حقیقی قوانین ہیں جن کو انسان کی عقل معلوم کرتی ہے اورچاہے عوام الناس قبول کرے یا نہ کرے ،وہ قوانین معتبر ہوتے ہیں ، البتہ اس زمانے میں کچھ افراد اس طرح کا نظر رکھتے ہیں اور حقوق بشر کو حقیقی امور اور غیر عادی جانتے ہیں ، قطعی طور پر زیادہ تر حقوق وسیاست کے فلاسفہ اس طرح کا نظریہ نہیں رکھتے بلکہ اس بات کے قائل ہیں ،کہ یہ قوانین کنوانسیون ( Convention ) ،اشتھارات اور اعلانات کا اعتبار حکومتوں کے ممبران کے دستخط سے ہوتا ہے اور چونکہ حکومتوں کے ممبروں نے اس پر دستخط کئے ہیں لھٰذا پوری دنیا میں اعتبار رکھتے ہیں -

آخرکار ایک سوال اور اعتراض جو بڑی آب وتاب کے ساتھ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ضروری ہے کہ تمام حکومتیں ان قوانین کو قبول ہی کریں ؟ اور جن لوگوں نے ان قوانین پر دستخط نہیں کئے ہیں ان پر کس طرح یہ قوانین نافذ ہوسکتے ہیں ؟ بہرحال اس طرح کے سوال واعتراض کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، اور اس اعتبار سے فلسفہ حقوق میں یہ بحث ہوتی ہے کہ قوانین کے اعتبار کا ریشہ اور جڑ کھاں پر ختم ہوتی ہے؟ لیکن ہمارے پاس آسان اور سادہ ساجواب ہے اس لئے کہ ہم دین، اسلام، خدا اور قرآن پر اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ جب ہم یہ کھتے ہیں کہ قوانین حکم خدا کے مطابق ہونے چاہئے ،تو پھر یہ بات ختم ہوجاتی ہے اور کسی سوال کی گنجائش باقی نہیں رہتی-

لیکن جو لوگ اس راہ کو نہیں طے کرتے اور چاہتے ہیں کہ تمام چیزوں کو قرارداد کے ذریعہ بیان کریں ،آخر میں وہ ایک جگہ پہنس جاتے ہیں چونکہ ہر قانون کے اعتبار کی اصل حقوقِ بشر کو سمجھتے ہیں کہ اس کے اعتبار کی دلیل کو بھی تلاش کرنا چاہئے اس کے علاوہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے حقوق بشرکا اشتھار تقریباً ۳ ۰ بند پر کیوں تدوین ہوا ہے اور اس کے بند کیوں کم زیاد نہیں ہیں ؟

یہ وہ اہم سوال ہے جو دنیا کے حقوق کے ماہرین فلاسفہ قبول کرتے ہیں اور ابھی تک ان کی طرف سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا ہے، جو چیز ذکر ہوئی ہے وہ دنیا کے ماہر اور برجستہ دانشوروں کی سطح پر مھارتی اور فنی بحثوں کے دائرہ میں بیان ہوتی ہے اور اگر ہمارا معاشرہ چاہے کہ اپنے عمومی تھذیب وثقافت کو ترقی دے تو اسے چاہئے کہ کم وبیش ان مطالب اور مفاہیم سے آشنا ہو، جس وقت ہم یہ کھتے ہیں کہ ہم قانون پر عمل کرتے ہیں اور قانون کے پیرو ہیں ، تو ہم کو یہ جاننا چاہئے کہ قانونکا اعتبار کھاں سے ہے اورہمیں کیوں اور کس حد تک قانون کا پابند ہونا چاہئے؟

آج کل بہت ساری بحثیں اس سلسلے میں تقریروں ، مجلّوں ا ور اخباروں میں شایع ہوتی رہتی ہے ، اور ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ خصوصاً دنیاوی علوم رکھنے والا طبقہ اور جو لوگ انسانی علوم کے تعلیم یافتہ ہیں اور خاص طور سے جو لوگ فلسفہ حقوق اور فلسفہ سیاست میں صاحب نظر ہیں ان سوالات سے سامنا کرتے ہیں ، لھٰذا ہم اپنے سماج کی تھذیب وثقافت کو بلند کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ اپنے ا مکان بھر ان تحقیقات کے نتیجہ کو آسان اور سلیس انداز میں بیان کریں ، اس لئے کہ اگر ہم ان بحثوں کو دقیق انداز سے اور تفصیل کے ساتھ بیان کریں تو کم سے کم علوم انسانی کے چار قسموں میں یا فلسفہ کی چار قسموں کا سھارا لیں جو اس طرح ہیں : فلسفہ جامعہ شناسی، فلسفہ حقوق ، فلسفہ اخلاق اور فلسفہ سیاست،اور اگر ہم چاہیں کہ اس موضوع پر بحث کریں تو ہمیں دوسرے فلسفوں پر بھی بحث کرنا ہوگی ،یھاں تک کہ معرفت شناسی کہ جو ان تمام فلسفوں کی بنیاد اور اصل ہے اس کے بارے میں بھی بحث کریں ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان علوم کے نتائج اور ان بحثوں کے درمیان جو رابطہ پائے جاتے ہیں ان کی طرف اشارہ کرنا،تعلیم یافتہ طبقہ اور سمجہ دار عوام کے لئے جو کہ انقلاب اور اس کی تھذیب وثقافت کے دامن میں پلے ہیں ،بہت مفید ہے-

۶-حقیقی اور تکوینی قوانین اور انسان کے اختیارات کی اہمیت

یھاں یہ بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ لفظ قانون کی دو مختلف اصطلاح ہیں ،پہلی اصطلاح علوم تجربیات میں علوم دقیق اور حساب مشہور ہے اور قانون سے مراد اس علوم میں اشیاء کے درمیان واقعی رابطہ ہے مثال کے طور پر اشیاء کے درمیان حقیقی قوانین پائے جاتے ہیں کہ پانی کس وقت بخار میں تبدیل ہوتا ہے، اور کتنے درجہ حرارت پر پانی اُبلتا ہے او رکتنی سردی میں برف بن جاتا ہے، اور لوہا کب پگھلتا ہے؟

لھٰذا اس طرح کی باتیں کہ جب پانی کی حرارت صفر درجہ پر پہونچ جاتی ہے تو پانی برف بن جاتا ہے اور جب سو درجہ پہونچ جاتی ہے تو پانی اُبلنے لگتا ہے ،یہ ایسی حقیقت ہے جو طبیعی اشیاء میں پائی جاتی ہے اور انسان کو کوشش کرنا چاہئے کہ ان حقیقتوں اور قوانین کو جو فیزیکس اور دوسرے سائنسی علوم میں موجود ہیں پہنچانے، ظاہر ہے کہ یہ قوانین پائیدار ہیں اور لامتناہی اور بے شمار ہیں ،اورانسان کی علمی ترقی کے ساتھ بہت سارے قوانین معلوم ہونگے، اور ہر علم میں نئے معلومات کے ساتھ سیکڑوں سوال پیدا ہوں گے-

لھٰذا اتنی تعداد میں نئے قانون بھی معلوم ہوں تاکہ ان سوالوں کے جوابات قرار پائیں ، اس بنا پر ہر روز سوالوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور بشر ان سوالوں کے حل کرنے کےلئے زیادہ سے زیادہ قانون معلوم کرنے میں لگا ہوا ہے، دوسرے لفظوں میں ، ہم دنیا کے بے شمار قوانین کے مجموعہ کے حدود میں رہتے ہیں ، عناصر سے مربوط زندہ موجودات اور شیمیائی سے مربوط قوانین اور دوسری چیزیں ہیں جو ابھی تک ہماری عقل سمجھنے سے قاصر ہے-

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم اس دنیا میں بے شمار قوانین کے محدود وتنگ دائرہ میں رہتے ہیں تو پھر ہمارے انتخاب اور اختیار کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ یہ سوال بہت زور وشور کے ساتھ اٹھتا ہے اور اس وجہ سے انسان شناسی کے فلسفہ میں یہ بات ذکر ہے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ کیا وہ سوفی صد مجبور ہے یا مکمل طور پرمختار ہے یا محدود اور مشروط اختیارات رکھتا ہے، اور اگر اس کے اختیارات محدود اور مشروط ہیں تو ان کی حدود کیا ہیں ،اسی طرح دور حاضر میں دنیا کے فلسفی مجلسوں میں قضا وقدر ، جبر وتفویض اور اس طرح کے مسائل بڑی اہمیت کے ساتھ ذکر ہوتے ہیں ، اور ان کے بارے میں حسب سابق بحث جاری ہے، ان کے درمیان میں ایک گروہ فلسفہ وجودی کا نظریہ رکھتا ہے جو اس بات کا معتقد ہے کہ انسان لامحدود آزادی رکھتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق ہر کام کرسکتا ہے-

جیسا کہ" جان پل سارٹر“ کھتا ہے کہ اگر میں ارادہ کرلوں تو جنگ ویٹنام کی جنگ تمام ہوجائے ! یعنی بشر ایسی طاقت کا مالک ہے کہ اگر ایک شخص ارادہ کرلے تو بھڑکتی ہوئی جنگ جس نے لاکھوں انسانوں کو نابود کردیا ہو روک دے، البتہ یہ بات تعجب خیز ہے، لیکن ایسا نظریہ اُس انسان کے لئے جو ارادہ ونامحدود قدرت کا قائل ہے پایا جاتا ہے-

مذکورہ نظریہ کے مقابلہ میں ایک گروہ انسان کی آزادی کو خیال خام جانتا ہے اور معتقد ہے کہ انسان جبری قوانین کے دائرہ میں زندگی بسر کررہا ہے اور خیال کرتا ہے کہ آزاد ہے آخر کارمذہبی تفکر بھی موجود ہے جو ان دونوں نظریات کے درمیان واسطہ ہے اور انسان کے لئے آزادی کا قائل ہے جو مختلف طرح کے قوانین سے محدود ہے، جوکہ دنیا میں پائے جاتے ہیں یعنی اگر ہم ان قوانین کو جو اس کائنات میں موجود ہیں ان کے لئے دائرہ اور حدود تصور کریں ، تو انسانوں کی آزادی، اس کے حدود کے اندر قابلِ اجرا ہے نہ کا اس سے بڑہ کر-

پس اب جب کہ یہ بات واضح وروشن ہوچکی ہے کہ ہم لوگ تکوینی لحاظ سے قوانین کے مجموعہ کے تحت واقع ہیں ، تو یھاں پر یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا ہم ان قوانین کو توڑنے اور ان کی نافرمانی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ، اور کیا ہم طبیعت کو تسخیر کرسکتے ہیں اور اس کے حدود ودائرے کو توڑسکتے ہیں ، اور اس طرح زندگی کریں کہ ہمارے اوپر طبیعی قوانین کی حکومت نہ ہو؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ گذشتہ تصور ایک خیال خام ہے اور سوچا سمجہا نہیں ہے،کیونکہ طبیعت کا تسخیر کرنے کا ملازمہ یہ ہے کہ طبیعت کا کوکئی دوسرا قانون کشف ہو، مثلاً اگر ماہرین ڈاکٹر کسی بیماری پر کنٹرول کرلیتے ہیں یا اس بیماری کو بالکل ختم کردیتے ہیں ، طبیعت کے دوسرے قانون کے کشف کرنے کی وجہ سے اور ان سب سے استفادہ کرتے ہوئے اس طرح کی کامیابی ملی ہے، درحقیقت ہم نے طبیعت کو تسخیر نہیں کیا ہے بلکہ اس سے ایک دوسرا قانون کشف کرکے اس سے کامیابی حاصل کی ہے- پس نتیجہ یہ نکلا کہ تکوینی قوانین کے دائرے سے نکلنا محال ہے، لیکن ہم نے جو نئے تکوینی قوانین کو کشف کرکے اس سے استفادہ کیا ہے یہ وہی قوانین الہی ہیں جن کو خداوندعالم نے طبیعت میں قرار دیا ہے، اور ان سے خارج ہونا گویا انسان کا خدا کی تکوینی عبادت سے خارج ہونا ہے- بلکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ انسان اپنی محدود دائرے میں رہکر تکوینی قوانین کے مجموعہ میں آمد ورفت کرسکتا ہے، اور مختلف علوم کے قوانین اور تکوینی قوانین جو انسان کے دائرہ اختیار میں ہیں ان سے استفادہ کرے اور ایک قانون کے مقابلہ میں دوسرے قانون سے استفادہ کرے، یعنی یہ محدود دائرہ انسانی اختیار کی حدود کو معین کرتا ہے-

۷- الٰھی اور تشریعنی قوانین، انسان کے کمال اور سعادت کی ضامن ہے

انسان جس قدر بھی انتخاب کی قدرت رکھتا ہے تو کیا جس طرح سے چاہے اس طرح انجام دے سکتا ہے، یا اس کے لئے کوئی ایک حد معین ہے؟ اور کیا اس حد میں بھی کچھ خاص قوانین ہیں کہ جن کو انجام دینا ضروری ہو؟ جواب یہ ہے کہ اس حد میں بھی قوانین معین ہیں البتہ یہ قوانین تکوینی قسم سے نہیں ہیں بلکہ یہ قوانین تشریعی اور اعتباری یا قوانین ارزشی ہیں کہ جن کو قدیم علماء کرام عقل عملی کے دائرہ میں بتا تے ہیں ، (ان قوانین کے مقابلے میں کہ جن کا دائرہ عقل نظری ہے) یعنی ہر وہ چیز کہ جو انسان کے اختیار میں ہے اور عقل عملی اس میں فیصلہ دیتی ہے- بے شک تشریعی قوانین پر عمل کرنے سے انسان اپنے آخری مقصد اور کمال نھائی تک پہونچ جاتا ہے ، اور ان کی مخالفت کرنا انسان کو انسانیت کے گرادیتا ہے بلکہ جانور سے بھی بدتر بنادیتا ہے، قرآن مجید اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے:

( لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ فِیْ ا حْسَنِ تَقْوِیْمٍ -ثُمَّ رَدَدْنَاه ا سْفَلَ سَافِلیِْنَ- إلاّٰ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهمْ ا جْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنَ ) (۱)

”ہم نے انسان کو بہت اچھے کینڈے کا پیدا کیا ہے پھر ہم نے اسے پست سے پست حالت کی طرف پھیر دیا مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے (اچھے) کام کرتے رہے ان کے لئے تو بے انتھا اجر وثواب ہے“

جی ھاں انسان میں اتنی صلاحیت ہے اور وہ خدا داد صلاحیتوں کے ذریعہ خدا سے بہت قریب ہوسکتا ہے ، اور خدا کی نافرمانی کرکے انسانیت سے بھی پست تر بلکہ جانور اور حیوان سے بدتر بن سکتا ہے- لھٰذا قوانین تشریعی اور قوانین اعتباری یعنی خدا کی اطاعت یا خدا کی نافرمانی انسان کے اختیار میں ہے، اگر ان قوانین کو قبول کیاتو گویا انسان نے خدا کی اطاعت کی، اورانسان بلند درجات پر پہونچ جائے گا،اور اس کو چین وسکون اور روحی ومعنوی سلامتی مل جائے گی اور اگر اس نے خدا کے نافرمانی کی تو انسانیت سے گرجائے گا، آج کل کے بھداشت اور صفائی کے قوانین کے طرح، کہ اگر ہم نے ان کی رعایت کی تو ہم صحت وسلامتی کی نعمت سے مالا مال رہیں گے اور اگر ہم نے ان قوانین کی رعایت نہ کی تو بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں گے-

انسان کے مختار ہونے کے پیش نظر اگر انسان ڈاکٹری قوانین کی رعایت کرتا ہے یا نہیں کرتا ، اگر اپنی صحت وسلامتی کی فکر ہے اور چاہتا ہے کہ صحیح وسالم رہے تو اس کو ڈاکٹری دستورات کی پابندی کرنی ہوگی، او راگر اس کو صحت وسلامتی نہیں چاہئے تو پھر ان قوانین پر عمل کرنا کوئی ضروری نہیں ہے، لھٰذا حقیقت یہ ہے کہ انسان کی صحت وسلامتی کے لئے ڈاکٹری قوانین کی رعایت کرنا ہوگی اور بغیر اس کے صحت وسلامتی ممکن نہیں ہے، البتہ یہ باتیں کوئی زبردستی والی نہیں ہےں ؛ کیونکہ ان قوانین کی رعایت کرنا یا نہ کرنا سب کچھ انسان کے اختیار میں ہے، اور اپنے اختیار سے ان قوانین کی رعایت کرکے صحیح وسالم رہتا ہے اور ان کی رعایت نہ کرکے بیمار پڑجاتا ہے اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے-

اب تک جو کچھ جسم اور بدن کے بارے میں کھا گیا یہ سب کچھ انسان کی روح کے بارے میں بھی ہے، اور جس طرح انسان کا بدن بیمار ہوتا ہے اسی طرح انسان کی روح بھی بیمار ہوجاتی ہے، روح کی صحت وسلامتی بھی روح سے متعلق قوانین کی رعایت پر موقوف ہے کہ اگر انسان ان قوانین پر عمل کرتا ہے تو معنوی کمال اور سکون وسلامتی اس کو نصیب ہوتی ہے اور اس کے علاوہ انسان کی روح بیمار ہوجاتی ہے،خداوندعالم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

( فِیْ قُلُوْبِهمْ مَرَضٌ فَزَادَهمُ اللّٰه مَرَضاً ) (۲)

”ان کے دلوں میں مرض تھا ہی ، اب خدا نے ان کے مرض کو اور بڑھا دیا“

وہ انسان جو کسی نشیب میں ہو او روہاں سے تیز دوڑنا چاہے اور اپنے کو کنٹرول نہ کرسکے اور گرپڑے اور اپنی جان کھوبیٹھے، لیکن اگر وہ خود کو صحیح وسالم چاہتا ہے تو اس کو احتیاط کے ساتھ دوڑنا ہوگا، اور اپنے کو اس طرح کنٹرول کرے کہ اگر کسی بلندی سے نیچے کی طرف آبھی رہا ہے اور کوئی خطرناک جگہ آگئی ہے تو وہاں پر رک جائے اور سنبھال کر قدم اٹھائے- معنوی مسائل میں بھی خاص روابط وضبوابط ہیں اور خداکے احکام پر پابندی کرنے سے روح کی سلامتی اور اخروی سعادت ابدی مل جاتی ہے ، اور یہ بات ظاہر ہے کہ ان قوانین پر عمل نہ کرنے سے اس سعادت پر نہیں پہونچ سکتا- البتہ انسان آزاد اور مختار ہے اور یہ کھہ سکتا ہے کہ میں سعادت اور کامیابی نہیں چاہتااور میں جھنم میں جانا چاہتا ہوں ؛تو کسی انسان بھی اس سے کوئی مطلب واسطہ نہیں رکھتا، اور تکوینی انتخاب کا راستہ اس کے لئے ہموار ہے- لیکن اگر خدا کا قرب اور اخروی سعادت چاہتا ہے تو پھر اس کو خدا کے حکم کی پیروی کرنی ہوگی، اور اپنی مرضی نہیں چلے گی، کیونکہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے یا ہوائے نفس کی پیروی گمراہی اور حق وحقیقت سے منحرف ہونے کا سبب ہے:

( ا فَرَا یْتَ مَنِ اتَّخَذَ إلٰهه وَا ضَلَّه اللّٰه عَلیٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِه وَقَلْبِه وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِه غِشَاوَةً فَمَنْ یَهدِیْه مِنْ بَعْدِ اللّٰه ا فَلاَ تَذَکَّرُوْنَ- ) (۳)

”بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنارکھا ہو اور (اس کی حالت) سمجہ بوجہ کر خدا نے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہو اور اس کے کان اور دل پر علامت مقرر کردی ہے(کہ یہ ایمان نہ لائے گا)اوراس کی آنکہ پر پردہ ڈال دیا ہے ، پھر خدا کے بعد اس کی ہدایت کون کرسکتا ہے تو کیا تم لوگ (اتنا بھی) غور نہیں کرتے“

جو کوئی شخص اگر اپنے نفس اور دل کا تابع ہوگیا ہے تو گونگا اور بھرا ہوجاتا ہے اور حقیقت وواقعیت کو نہیں سمجہ سکتا، اگرچہ بہت زیادہ علم بھی رکھتا ہو، اس کی آنکھوں پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے حقیقتیں چھپ جاتی ہیں - اس سلسلہ میں ”بلعم باعورا“(۴) کا واقعہ ہمارے لئے باعث عبرت ہے کہ اتنے علم کے باوجود کہ اپنے زمانہ کے بڑے دانشمندوں میں شمار ہوتا تھا لیکن کس طرح سے پستی کی طرف گرا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( وَاتْلُ عَلَیْهمْ نَبَا الَّذِیْ ءَ اتَیْنَاه ءَ ایَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْها فَا تْبَعَه الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ فَمَثَلُه کَمَثَلِ الْکَلْبِ إنْ تَحْمِلْ عَلَیْه یَلْهثْ ا وْ تَتْرُکُه یَلْهثْ ) (۵)

”)اے رسول) تم ان لوگوں کو ا س شخص کا حال پڑہ کر سنادو جسے ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا پکڑا اور آخر کار وہ گمراہ ہو گیا اور اگر ہم چاہتے تو ہم اسے انہیں آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے مگر وہ تو خود ہی پستی کی طرف جھک پڑا اور اپنی نفسانی خواہش کا تابعدار بن بیٹھا، تو اس کی مثل اس کتے کی مثل ہے کہ اگر اس کو دھتکارا دو تو بھی زبان نکالے رہے اور اس کو چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے“

جی ھاں خدا کی عطا کردہ آزادی سے انسان اتنا بھی گرسکتا ہے ، لیکن اگر انسان سعادت وکامیابی چاہتا ہے تو پھر اس کو مربوط قوانین کی رعایت کرنی ہوگی، اوریہ قوانین ایک طرح کے نہیں ہےں بلکہ مختلف قسمیں ہیں - لھٰذا ضرورت ہے کہ اسلامی احکامات کے چاہنے والے حضرات کو معلوم ہوجائے کہ ہماری زندگی میں کس طرح کے قوانین کی ضروت ہے-

۸-حقوقی قوانین اور اخلاقی قوانین میں فرق

قانون کے نام سے جو چیز ہمارے درمیان مشہور ہے وہ ”حقوقی قانون“ ہے ان قوانین سے مراد ایک طرح کے دستور ہیں جو معتبر مرکز یا اداروں کی طرف سے بنتے ہیں اور وہ ایک طاقت ہے جس کا نام قوہ مجریہ (حکومت) ہے جو ان قوانین کے نفاذ کی ضامن ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت پولیس یا فوج کے ذریعہ قوانین کا نفاذ کراتی ہے، اور جرائم کی روک تھام کرتی ہے، حقوقی قوانین عام معنی میں سزاؤں کے قوانین کو بھی شامل ہیں جوکہ علم حقوق میں بیان کئے جاتے ہیں ،ایسے موقع پر اگر کوئی یہ کھے کہ حکومت کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ عوام کو بتائے ان سے کھے کہ چوری نہ کریں ، کسی کی عزت پر حملہ نہ کریں ، تو قطعی طور پر کوئی بھی حکومت اس بات کو تسلیم نہیں کرے گی، اس بات کا مطلب (کہ چونکہ انسان آزاد ہے لھٰذا اگر وہ قوانین حقوقی کی خلاف ورزی کرے تو کوئی اسے سزا نہ دے) یہ ہے کہ حقوقی قوانین کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے، جبکہ قوانین ہونے کا فلسفہ یہ ہے کہ اس کا نفاذ کا کوئی ذمہ دار بھی ہو اور قوانین حقوقی اور قوانین اخلاقی کے درمیان بنیادی فرق یھی ہے -

اگرچہ دوسرے فرق بھی پائے جاتے ہیں مثلاً اخلاقی قوانین میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ امانت کا خیال رکھیں اور اس میں کبھی خیانت نہ کریں ، یہ ایک اخلاقی حکم ہے ، اب اگر کوئی امانت میں خیانت کرے تو اخلاقی خلاف ورزی کی وجہ سے سزا یا قید میں نہیں ڈالا جائے گا بلکہ دھوکہ دھڑی کرنے پر قانون سزا کے مطابق اسے خاص سزا دی جائے گی، لھٰذا کوئی ایسا محکمہ ہونا چاہئے کہ جو قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ مقابلہ کرسکے اور طاقت کے ذریعہ ان پر قانون کو لاگو کرسکے، اس لئے قوانین کا لازمہ یہ ہے کہ طاقت کا استعمال کیا جائے کہ جس کے بغیر قوانین حقوقی بے معنی اور بے کار ہیں ، لیکن قوانین اخلاقی ایسے نہیں ہیں ، اور نہ ہی کسی محکمہ کی ضرورت ہے، مگر یہ کہ حقوقی پہلو رکھتے ہوں ، بے شک دین میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان رابطہ کو برقرار کرتے ہیں جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ یہ احکام فقط ادیان (الھٰی) میں موجود ہیں -

یھاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین میں قوانین حقوقی بھی پائے جانے چاہئے یادین صرف خدا اور بندے کے درمیان رابطہ کو قائم کرنے کے لئے ہے، یہ ایسا شبہ اور سوال ہے جو آج کل وسیع پیمانہ پر یونیورسٹیوں اور ان کی نشریات میں ذکر ہوتا رہتا ہے اور تمام حضرات چاہے وہ یونیورسٹیوں میں رہنے والے ہوں کہ جن سے بلاواسطہ تعلق ہوتا ہے یا ان کے والدین اور رشتہ داورں سے متعلق ہو، ان اعتراضات اور سوالوں کی طرف توجہ کرنا چاہئے ، چاہے یہ باتیں آخر کار طالب علموں اور دانشوروں کے ذریعہ تمام افراد تک پہونچتی ہوں اور ہمارے عمومی تھدیب وثقافت پر اثر انداز ہوتی ہےں ، ایک دن یھی جوان طالب علم اپنے ماں باپ کی جگہ لیتے ہیں اور ایک موثر اورنمایاں شخصیت بن کر معاشرہ کے بنیادی افراد میں قرار پاتے ہیں ، اب اگر اس وسیع طبقہ کی تھذیب وکلچر بدل جائے تو ایک نسل کے بعد معاشرے کا کلچر پورے طور سے بدل جائے گا، لھٰذا ہمیں ہمیشہ اس بات کی طرف توجہ کرنا ہوگی کہ کون سی تھذیب اس وقت ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہے اور رواج پارہی ہے-

۹-اسلامی اور خودمختاری کے نظریات میں فرق

دور حاضر میں جو مسائل ذکر ہوتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ قانون کو کم سے کم ہونا چاہئے ، یہ ایک خودمختاری نظریہ ہے جو دور حاضر کی دنیا میں پایا جاتا ہے ،اس سلسلہ میں بہت سی بحثیں ہوئی ہیں اور بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ، اسی نظریہ کی بناپر کچھ افراد اس بات کے قائل ہیں کہ حکومت اور قانون ساز حضرات کو انسان کی زندگی اور اس کے امور میں وسیع پیمانے پر دخالت نھیں کرنا چاہئے، کیونکہ جس قدر حکومت کی دخالت کم ہوگی معاشرہ اتناہی زیادہ ترقی کرے گا، البتہ اس نظریہ کے کچھ لوازمات بھی ہیں ، جو معاشرے کے دوسرے حالات میں بھی سرایت کرتی ہیں -

مذکورہ نظریہ کا تعلق سماجی آگھی سے ہے اور جامعہ شناسی کے بارے میں پائے جانے والے دو نظریوں میں سے ایک نظریہ پر موقوف ہے:

پھلے نظریہ میں : معاشرہ کو اصل قراردیا گیا ہے، اس بناپر قوانین کو جامع او رہمہ گیر ہونا چاہئے، جو انسانی زندگی کے تمام حالات پر مشتمل ہو، اور شخصی آزادی کم سے کم ہونا چاہئے-

دوسرے نظریہ میں : شخصی زندگی کو اصل قرار دیا گیا ہے اس بناپر انسان کو مکمل آزاد ہوناچاہئے اور سماجی قوانین بہت کم ہونے چاہئیں تاکہ انسان کو کم پابند بناسکے-

آج کل جو بات مغربی معاشرے میں پائی جاتی ہے یھی انفرادی اور شخصی زندگی بسر کرنے کا نظریہ ہے کہ جس سے خود مختاری اور آزاد خیالی کا نظریہ پیدا ہوتا ہے، جونظریہ اس بات کا قائل ہے کہ قوانین کو کم سے کم ہونا چاہئے اور عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ آزادی ہونی چاہئے تاکہ عوام الناس جس چیز پر چاہے عمل کرے-

اسلام کے نظریہ کو پیش کرنے سے پہلے اس نکتہ کو بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قانون سے دل چسپی کا موضوع (کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ )علوم انسانی کے چند شعبوں سے مربوط ہے جیسے جامعہ شناسی فلسفہ(یعنی معاشرہ اصل ہے یا شخص اصل ہے) اور فلسفہ اخلاق، اس بات کو سمجھنے کے لئے قدر وقیمت کا معیار کیا ہے؟ کیا اخلاق، قانون پر حاکم ہے یا اخلاق کو، قانون معین کرتا ہے، اسی طرح فلسفہ حقوق اور پھر فلسفہ سیاست میں بھی یھی بحثیں جاری ہیں ،اسی نقطہ نظرسے انسان کی زندگی کے تمام پہلو اس کے عاقبت اور انجام سے مربوط ہیں یعنی ہر طرح کی سعی وکوشش اس زندگی میں ہماری ابدی خوش بختی یا بدبختی پر اثر انداز ہوگی-

اسلامی تفکر سے مراد یہ ہے کہ" الدنیا مزرعة الآخرة“ یعنی جو کچھ انسان دنیامیں بوئے گا یا جو رفتار وکردار اپنائے گا ،آخرت میں اس کا نتیجہ ویسا ہی ظاہر ہوگا، اس کی سعادت کا سبب بنے گا یا اس کی شقاوت وبدبختی کا باعث بنے گا، اگر ہم اس نظریہ کو اصل قرار دیں توپھر کیا انسان کی زندگی میں کوئی چیز باقی رہے گی جو قانون کی محتاج نہ ہو؟ یھاں پر قانون کا محتاج ہونا یعنی قانون ہماری راہنمائی کرے کہ انسان کس راستہ کو انتخاب کرے اور کس راہ و روش کو اپنائے تاکہ اپنے مقصودتک پہونچ جائے یعنی اگر معاشرہ امن وسلامتی چاہتا ہے ، تو انسان کسی کی عزت اور مال ودولت پر دست دازی نہ کرے ورنہ اس کی عزت اور مال پر بھی حملہ ہوگا، اور بقول شاعر :

ببری مال مسلمان وچون مالت ببرند

داد وفریاد برآری کہ مسلمان نیست

”تم مسلمان کے مال کو اٹھالے جاوکیونکہ وہ تمھارے مال کو اٹھالے گئے اور پھر آہ وفریاد کرو کہ وہ مسلمان نہیں ہو“

انسان کی طبیعت منفعت طلب ہے اور انسان صرف اپنے فائدہ کے بارے میں سوچتا ہے، اور اس راستہ میں کسی بھی طرح کی سعی وکوشش سے دریغ نہیں کرتا لیکن جس وقت اس کے بارے میں منافع کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو قانون کا سھارا لیتا ہے، لھٰذا مزاحمتوں اور اختلافات کی برطرف کرنے کے لئے اور معاشرے میں امن وتعاون قائم کرنے کے لئے قانون کا ہونا ضروری ہے، جو دوسروں پر ظلم ونا انصافی کرنے سے روکے، اور ہر شخص کے حقوق کو بیان کرے اور عدل وانصاف کے حدود معین ہوں تاکہ عوام الناس کو یہ پتہ چل سکے کہ کون سا فعل ظلم اور برُا ہے اور کونسا کام عدل وانصاف کے مطابق ہے - ورنہ ہر شخص دوسرے کے حقوق پر تجاوز کرتا ہے اور دوسرے بھی اس کے حقوق کو پامال کرتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں ناامنی پیدا ہوتی ہے، اور نہ ہی آرام وسکون ملتا ہے اور نہ ہی سعادت اخروی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی شخص اپنی فطری خواہشوں کو حاصل کرسکتا ہے-

اسی بنا پر اسلامی نظریہ کے تحت ہماری ساری حرکات وسکنات، چاہے وہ انفرادی وشخصی زندگی سے مربوط ہو خواہ سماجی ومعاشرتی زندگی کے بارے میں ہو، سب کے لئے احکام وقوانین موجود ہیں ، حد ہے کہ بین الاقوامی روابط کے لئے بھی قوانین پائے جاتے ہیں ، اور اسلام انسانی زندگی کے تمام پہلووں کے لئے قانون رکھتا ہے انہیں میں سے حقوقی اور سماجی قوانین بھی ہیں ، حدھے کہ اسلام میں انسانوں کے ذہنی خطورات کے لئے بھی قانون موجود ہے اور اسلام کا کہنا یہ ہے کہ تمھیں یہ حق نہیں ہے کہ جو چاہواپنے دل میں سوچو،اور ہر طرح کا خیال کو اپنے دماغ میں لاؤ، اور دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرو اس لئے کہ :

( إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْم ٌ ) (۶)

بعض گمان گناہ ہیں

جس طرح صفائی اور نظافت کا خیال نہ کرنے سے بیماریاں پیدا ہوجاتی ہےں ،اور انسان اور معاشرہ کی سلامتی خطرہ میں پڑجاتی ہے،اسی طرح قوانینِ اسلام کا لحاظ نہ کرنے سے سماج ومعاشرہ کو نقصان پہونچتا ہے-

اور جو بات کھی گئی ہے کہ انسان زندگی کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو اسلامی قوانین کے دائرے سے خالی نہیں ہے، یھاں تک کہ انسان کو اپنے دل، خیال اور فکر پر بھی کنٹرول رکھنا ضروری ہے، اور اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ انسان کی آزادی کو چھین لیا جائے بلکہ آزادی سے صحیح فائدہ اٹھانے کا سلیقہ اسے بتایا گیا ہے ا ور اس کے راستہ کا چراغ ہے، تاکہ وہ آزادی سے صحیح طریقے سے فائدہ اٹھاسکے، البتہ یہ قوانین اس اعتبار سے کہ انسان کی سماجی زندگی سے مربوط نہیں ہیں اور صرف اخروی سزا رکھتے ہیں ؟ جو شخص اپنے مومن بھائی کے بارے میں سوءِ ظن رکھتا ہے اسے دنیا میں سزا نہیں ملتی بلکہ آخرت میں سزائیں ملتی ہیں ۔

اگر سماجی قوانین واحکام کی مخالفت ہو اور معاشرتی مصلحتوں کو پائمال کیا جائے تو دنیا کی سزائیں رکھی گئی ہیں اور در اصل دنیاوی سزائیں تمام حقوقی قوانین کا لازمہ ہیں ، اور اسلام حقوقی قوانین پر منحصر نہیں ہے، اورجو شعبہ سماجی نظام کے نظم وضبط کے لئے قانون بنانا چاہئے وہ مجبور ہے کہ خلاف ورزیوں اور قانون شکنیوں کے بارے میں بھی سزا کو معین کرے-

خلاصہ کلام یہ کہ سماجی زندگی بغیر ایسے قوانین کے جو انسانی آزادی کو محدود کردیں ،قائم نہیں رہ سکتی ہے اور جس قدر سماجی روابط زیادہ وسیع ہوں گے اتنا ہی زیادہ سماجی قوانین کی ضرورت اور اس کے نفاذ کی ذمہ داری بڑھتی چلی جائے گی-

حوالے

(۱)سورہ والتین آیت ۴-۶

(۲)سورہ بقرہ) آیت ۱۰

(۳)سورہ جاثیہ آیت۲۳

(۴) بلعم باعور کا واقعہ علامہ فرمان علی صاحب اعلی اللہ مقامہ نے اپنے ترجمہ میں درج ذیل آیت کے ضمن میں بیان کیا ہے،(مترجم)

(۵)سورہ اعراف آیت ۱۷۵، ۱۷۶

(۶) سورہ حجرات آیت ۱۲


گیارہواں جلسہ

قانون کے اعتبار کا معیار

۱۔ بڑے سیاسی مسائل کی عمیق تحقیق کی ضرورت

ہم اپنے گذشتہ جلسوں میں اسلام کے سیاسی نظریہ کو بیان کرچکے ہیں اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ اس بارے میں دو طریقوں سے بحث کی جاتی ہے:

۱۔بحث کا پہلا طریقہ جَدَلی ہے جس میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ مخاطب مسلمان ہے ، اسلام اور شیعت کا عقیدہ رکھتا ہے یا کسی اور مسلک سے وابستہ ہے، اس میں تو صرف طرفین کے توافق وتفاہم کی خاطر ابتدائی اصول اور مبانی کو اصول موضوعہ قرار دیکر بحث کی جاتی ہے اور انہیں مقدمات پر اعتماد کرتے ہوئے بحث کو جاری رکھا جاتا ہے۔

۲۔ بحث کا دوسرا طریقہ برہانی ہے، جس میں بحث کو منظم، عمیق اور عقلی دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور گفتگو کے تمام اطراف وجوانب یھاں تک کہ اصول موضوعہ کی بھی تحقیق وجستجو کی جاتی ہے اور یقینی وظاہری چیزوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے مدعا کے لئے عقلی اور غیر قابل اعتراض دلیلوں کو قائم کیا جاتا ہے۔

اگرچہ برہانی بحث خستہ کنندہ ہوتی ہے اورعلمی محفلوں اور اعلیٰ تعلیم گاہوں کے لئے مناسب ہوتی ہیں اور ان کے سننے والے بھی خاص افراد ہونے چاہئے،لیکن اس بات کو بھی مدّنظر رکھنا چاہئے کہ ہمارے معاشرہ میں اپنی ثقافت کو بلندکرنے اور معلومات حاصل کرنے کے لئے قدم اٹھالئے گئے ہیں اور آج کل ہمارے بہت سے جوانوں کی معلومات خاص طور سے دینی اور سیاسی مسائل پر گذشتہ اندیشمندوں سے کھیں زیادہ ہے اسی وجہ سے برہانی ومدلل اور عمیق مباحث کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرہ کی فکری اور ثقافتی معیار میں خاص طور سے جو مراکز اصل نظام اور اسلامی اصیل عقائد سے متعلق ہیں ان میں ترقی ہو، ان میں مقابلہ کرنے اور اعتراضا ت کے جوابات دینے کی طاقت پیدا ہو، تاکہ دوسروں سے متاثر نہ ہوں ،اسی لئے ہم اصول موضوعہ سے مربوط مطالب کو علمی اور فلسفی پیچیدہ اصطلاحوں کے بغیر سادہ طریقہ سے بیان کریں گے ، اور ان عقلی عقیدوں کو ذہن میں راسخ اور مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ اعتراضات کے سیلاب سے بہت کم متاثر ہوں ۔

حکومت اور سیاسی نظام کا ایک بنیادی کام یہ ہے کہ اس کی بیک سائڈ مضبوط ہو اور وہ معاشرہ میں حقوقی قوانین جاری کرنے کی ضامن ہو، اوریھی سے اخلاقی قوانین کا حقوقی اور سیاسی قوانین سے فرق واضح ہوجاتا ہے ، چونکہ اخلاقی قوانین اس لحاظ سے کہ اخلاقی ہےں ان کو الگ سے نافذ کرنے کی ضمانت کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور ہر انسان اپنے عقائد اور اپنی معنوی حیثیت کی و جہ ان کا پابند ہوتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے ، لیکن حقوقی قوانین کے لئے الگ سے ضامن کا ہونا ضروری ہے حقوقی قوانین کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کو معاشرہ یا کسی ادارہ کے ذریعہ عوام الناس کے لئے جاری کیا جاتا ہے یھاں تک کہ اگر گوئی ان کا معتقد بھی نہ ہو تو بھی اُس پر ان قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہوتا ہے اور اگر کوئی ان قوانین کو ماننے سے سرپیچی کرے تو حکومت کا وظیفہ ہے کہ اس کے ساتھ طاقت وزبردستی سے پیش آئے اور اگر ضرورت پڑے تو ان قوانین کے نفاذ کیلئے اسلحہ کا بھی استعمال کرسکتی ہے۔

انہیں باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انقلاب کے بعد خاص طور سے اندرونی حالات اور بے رحمانہ قتل وغارت کے بعد نظام کے ذمہ دار افراد نے قانون مندی پر زور دیایھاں تک کہ انقلاب کے ابتدائی سالوں میں سے ایک سال کا نام ”سال قانون“ رکھا گیااور اب تک تمام حکومتوں نے اس اعلان کی پابندی کی ہے، اور اسی وجہ سے موجودہ حکومت کا ایک اصلی او راہم مقصد قانون کے نعرہ کو ملکی پیمانے پر جاری کرنا اور خلاف ورزی سے لوگوں کو منع کرنا ہے، لھٰذا سب سے پہلے قانون اور اس کے معتبر ہونے کے بارے میں بحث کرنا ضروری ہے تاکہ اس بارے میں جو سوالات واعتراضات درپیش ہوں ان کا قانع کنندہ جواب دیا جاسکے۔

۲۔قانون کے معتبر ہونے کا معیار اور اس کی وسعت

بہت سے لوگوں کے سامنے یہ اعتراضات وسوالات پیش آتے ہیں کہ مثلاًقانون کس حد تک معتبر ہے اور اس کی ابتدا کھاں سے ہوئی؟ اور افراد کو کس حد تک قانون کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا چاہئے؟ او رکون سا قانون اتنا معتبر ہے کہ افراد کو سوفی صد اس کا تابع اور مطیع ہونا ضروری ہے؟ بحث کو آگے بڑھانے اور ان سوالوں کے بارے میں کچھ بیان کرنے سے پہلے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ ہم مسلمانوں کے نظریہ کے اعتبار سے اسلامی نظام کے تابع ہےں اور حضرت امام خمینی(رہ) او رمقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی کے اقوال ہمارے لئے حجت ہیں ۔

لھٰذا اس بات کا کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ کہ ہم اسلامی حکومت کے قوانین چاہے وہ پارلیمنٹ نے بنائے ہوں یا حکومت کے کسی دوسرے ادارہ نے بنائے ہیں یھاں تک کہ قوانین کے وہ بخشنامہ جو مختلف وزارتخانوں سے اداورں کو دئے جاتے ہیں ان سب کا نافذ کرنا ضروری ہے ، اور امام خمینی(رہ) کے فرمان کے مطابق اسلامی حکومت کے تمام قوانین ومقررات لازم الاطاعت ہیں ، لھٰذا ہمارے لئے ان سب پر عمل کرنا ضروری ہے، اور ہم سب کو ذاتی طور پر اسلامی حکومت کے چھوٹے سے چھوٹے قوانین ومقررات کی بھرپور رعایت کرنا چاہئے اگرچہ کسی مقام پر وہ ہمارے فقھی فتوے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

اور اس بارے میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ اسلامی حکومت کے احکام و قوانین ومقررات اور ولی امر مسلمین کی اطاعت ہم سب پر واجب ہے، اب اگر ہم قانون کے اعتبار کے معیار وملاک کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ ہم اسلامی حکومت کے قوانین کے لازم الاطاعت ہونے کے بارے میں شک کررہے ہیں بلکہ اس سے تو ہمارا مقصد فکری بنیادوں کو اس بات کے لئے مستحکم کرنا ہے کہ اسلامی حکومت کی اطاعت کرناضروری ہے۔

اور ہماری کوشش تو اس سوال کی وضاحت کرنا ہے کہ ہم اسلامی حکومت کے قوانین کی اطاعت کیوں کریں ؟ اور یہ معین ہونا چاہئے کہ قانون کے معتبر ومعین ہونے کی وجہ کیا ہے؟ جب حکومت کسی دن عمومی چھٹی کا اعلان کردیتی ہے یا قوانین ومقررات کے تحت آنے والے افراد کے لئے کچھ ٹیکس معین کرتی ہے یا معمول کے مطابق کچھ احکام نافذ کرتی ہے یا جداگانہ شرائط جیسے جنگ کی شرطوں میں عمومی طور پر عوام الناس کو طلب کرتی ہے اور خاص قوانین جاری کرتی ہے کہ عوام الناس یہ جان لیں کہ وہ قوانین اور مقررات پر کیوں عمل کریں ، اور صرف یہ کہ کوئی شخص حکم صادر کردے اورعوام الناس اس کی پیروی کرکے اس پر عمل شروع کردے، یہ کافی نہیں ہے۔

دوسری طرف سے ہماری بحث ”سیاسی فلسفہ“ سے مربوط ہے، مسئلہ قانون اور اس کا معتبر ہونا اور اس کی اطاعت کا لازم ہونا یہ تمام سیاسی نظاموں کی بنیادی بحثوں میں سے ہے اور یہ صرف اسلامی نظام سے مخصوص نہیں ہے، ”فلسفہ سیاست اور فلسفہ حقوق“ سے تقریباً سبھی لوگ واقفیت رکھتے ہیں ، اور محقیقن اور ماہرین حضرات نے معارفِ بشری کے ان دو موضوعات کو بیان کرنے میں بڑی کوششیں اور محنتیں کی ہیں اور مختلف نظریات کو مناسب دلیلوں کے ذریعہ بیان کیا ہے، لیکن پھر بھی آج تک وہ اس نتیجہ پر نہیں پہونچ سکے جو برہانی اورمدلل ہو، اور مکمل طور سے قانع کنندہ ہو تاکہ اس کا دفاع کیا جاسکے، اور قانون کے معتبر ہونے کے باب میں ان محققین نے مندرجہ ذیل تین اہم نظریات قائم کئے ہیں :

الف: نظریہ عدالت

بعض محققین نے قانون کے معتبر ہونے میں عدالت کومعیار قرار دیاہے، کہ اگر کوئی قانون عدالت اور عوام الناس کے حقوق کی رعایت کی بنیاد پر بنایا جائے گا تو وہ معتبر ہوگا اور عوام الناس پر اس کی اطاعت کرنا واجب ہوگی، لیکن اگر قانون عدل کی بنیاد پر نہ بنایا گیا ہو بلکہ غیر عادلانہ طور پر بنایا گیا ہو تو وہ قانون معتبر نھیں ھے۔

ب: معاشرے کی ضرورتوں کو پوراکرنا

قانون کے معتبر ہونے میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ وہ قانون معتبر ہے کہ جو معاشرے کی ضروتوں کو پورا کرسکے، کیونکہ معاشرہ کے افراد اجتماعی زندگی سے سروکار رکھتے ہیں جن میں ان کی مخصوص ضرورتیں ہوتی ہیں او ران میں ان کا کوئی فردی اور ذاتی پہلو نہیں ہوتا ہے، اگرچہ تمام لوگوں کو ان ضروتوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے لیکن اصل میں وہ لوگ اجتماعی ہیں اور اجتماعی زندگی کی شرطوں کا خیال رکھتے ہیں ،مثال کے طور پر عمومی نظافت کی رعایت کرنا معاشرہ کی ایک اہم ضرورت ہے اگرچہ ہر شخص اگر وہ چاہے تو اپنی ذاتی زندگی اور گھر کی چھاردیواری کے اندر رہ کر اس کی رعایت کرسکتا ہے۔

لیکن عمومی نظافت کی رعایت کرنے کی خاطر ہر شخص کو اس کی رعایت کرنے پر آمادہ کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ فرد کے عملی اقدام سے بالا تر کوئی ادارہ یا قانون موجود ہو جو عمومی ضرورتوں کو پورا کرسکے. مثال کے طور پر اگر معاشرہ میں وبا اور طاعون جیسی خطرناک بیماریاں پھیل جائیں تو ان بیماریوں پر کنٹرول کرنے کے لئے فردی اقدامات سودمند ثابت نہیں ہوسکتے بلکہ اس چیز کی ضرورت پیش آئے گی کہ حکومتی پیمانہ پر کسی ادارہ کی طرف سے بیماری پر کنٹرول کرنے اور عمومی نظافت کو ایجاد کرنے کے لئے واکسن (سوئی) وغیرہ لگائے جائیں تو حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قوانین وضع کرکے اگرچہ وہ موسم کے لحاظ ہی سے کیوں نہ ہوں ، لوگوں کو اس بات کا پابند بنادے کہ فلاں مدت تک سب کو واکسن لگوالینے چاہئے، (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ قانون سے ہماری مراد عام معنی ہیں جو تمام لازم الاجراء دستور العمل اور آئین نامہ وغیرہ کو بھی شامل ہوتا ہے)

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ کیا چونکہ عمومی نظافت معاشرہ کی ضرورت ہے اور اس کی رعایت کرنا ایک اجتماعی ضرورت ہے، لھٰذا اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کچھ خاص قوانین بنائے گئے ہیں ،اور سب پر ان قوانین کی رعایت کرنا ضروری ہوتا ہے اسی طرح اپنے مقام و محل زندگی کے اچھے اور سالم رکھنے کے لئے حکومت کی طرف سے کچھ اذارے معین کئے گئے ہیں جو ان ضرورتوں کو پورا کرنے کا اقدام کرتے ہیں اور عوام الناس پر بھی ان اداروں کی طرف سے صادر ہونے والے قوانین اور دستور العمل کی پیروی کرنا لازم ہوتا ہے، نتیجہ کے طور پر حکومت کی طرف سے بھی ادارے معین کئے گئے ہیں جیسے تعلیمی ادارے، نظافت ومعالجہ کے ادارے، وزارتخانے، او ران کے دستور العمل جو معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں اور اسی بناپر ان کو شرعی حیثیت ہے لھٰذا ان کے دستورات کے مطابق ہر فرد پر عمل کرنا واجب ہے۔

ج: عوام الناس کیا چاہتی ہے

بعض محققین قانون کے معتبر ہونے کا معیار وملاک عوام الناس کو خواہش سمجھتے ہیں ان کے نظریہ کے مطابق قانون معاشرہ کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے، لھٰذا جب بھی عوام الناس کوئی چیز حکومت اور قانون بنانے والے ادارہ سے طلب کرے تو حکومت کے پارلیمینٹ میں عوام الناس کے نمائندے عوام الناس کی خواہش کے مطابق قانون بنائیں ، اورچونکہ جب قانون لوگوں کی خواہش کو مدنظر رکہ کر بنایا گیا ہے ، تو پھر عوام الناس کا بھی فریضہ یہ ہے کہ اس کی پیروی اور اس کی حفاظت کرے اور اس سلسلہ میں بھر پور کوشش کرے، درحقیقت عوام الناس کی عینی خواہش کا متحقق ہونا پارلیمینٹ کے ممبروں کا منتخب کرنا ہے او ران کو چاہئے کہ کہ وہ عوام الناس کی خواہش کے مطابق قوانین بنائیں ، اس بناپر اگر عوام الناس کے منتخب کئے ہوئے نمائندے قانون بنانے کا حق نہ رکھتے ہوں تو عوام الناس کی طرف سے ان کا منتخب کرنا بے فائدہ اور بے سود ہوگا، اور اگر ان کو قانون بنانے کا حق ہو لیکن ان کی جانب سے وہ قانون لازم الاجراء نہ ہو تو قانون گذاری ایک عبث امر ہوگا۔

اب تک جو کچھ بیان کیا گیا وہ قانون کے اعتبار کے سلسلہ میں حقوق وسیاست کے کے فلاسفہ کے نظریات کا خلاصہ تھا، اور یہ فطری تقاضا ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے ناطے قانون کے معتبر ہونے کا معیار خداوندعالم کی طلب اور مرضی جانتے ہیں ، اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس چیز کا خداوند عالم نے حکم دیا ہے وہی قانون شمار کیا جائے گااور اسی کو معتبر سمجہا جائے گا، البتہ یہ آخری نظریہ وہ لوگ مانتے ہیں جو خداوندعالم کو قبول کرتے ہیں ۔

(ہم مندرجہ بالا نظریوں کی تفصیلی طور پر تحقیق وتنقید اور تجزیہ وتحلیل کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں اور صرف اسی تحقیق اور تنقید پر اکتفاء کرتے ہیں جو عام افراد کی فہم ودرک کے مناسب ہے)

۳۔پھلے نظریہ پر اعتراض

پھلے نظریہ میں بیان کیا جاچکا ہے کہ قانون کے معتبر ہونے میں عدالت کا رعایت کرنا ضروری ہے ، یھاں پر ایک بنیادی سوال یہ پیش آتا ہے جس کو دنیا کے بڑے بڑے محققین نے بھی بیان کیا ہے اور اس سوال کے جواب میں انھوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں ہیں اور وہ سوال یہ ہے کہ عدالت کیا ہے اور عدالت کیسے متحقق ہوتی ہے؟ درحالیکہ عدالت کا مفہوم سب کے لئے واضح ہے پھر بھی سیاسی اور حقوقی نظریہ بیان کرنے والوں کے لئے یہ سوال اتنا وسیع ہوگیا اور ان کو اس بھنور میں پہنسا دیا ، لیکن یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے عدالت کا مطلب مختلف نکالا ہے۔

اگر تمام لوگ معاشرہ کے مال ودولت سے برابر استفادہ کریں تو عدالت قائم ہوگی یا نھیں ؟ یعنی اگر ایک سیاسی نظام ان تمام مقدمات ووسائل کو فراہم کردے کہ تمام افراد گھر ، لباس اور سواری وغیرہ کے اعتبار سے بالکل مساوی طور پر استفادہ کریں تو عدالت برقرار ہے ورنہ ظلم ہے؟اس طرح کی چیزیں مکتب ”مارکسیسم“ (سیاست ومعاش کا مسلک) میں وقوع پذیر ہوئیں او رآخر کار” کمیونیزم“ کا نظریہ پیدا ہوا۔

اور اس نظریہ کو بیان کرنے والوں نے یہ اعلان کئے کہ ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جس میں کوئی طبقہ بندی نہ ہو، اور اس معاشرہ کا ہر فرد اپنی طاقت وقدرت کے لحاظ سے کام کرے، اور اپنی ضرورت کے مطابق استفادہ کرے، اس کے بعد وہ لوگ اس نتیجہ پر پہونچے کہ ان چیزوں کو عمل کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ مندرجہ بالا نظریہ کی طرف ہونے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا انہیں مشکلات میں سے عدالت کے مقابلہ میں آزادی آگئی تھی، اسی وجہ سے ان لوگوں نے اپنے نظریہ کا پھر سے بغو ر مطالعہ کیا اور کچھ تنزل کرتے ہوئے اپنے اعلانات میں ”سوسیالسٹی“ (عمومی سھولتیں ) حکومت کو اپنایا، جب کہ وہ کمیونیزم حکومت کا ایک نمونہ کے طور پر بیان کررہے تھے۔

جس وقت مارکسیسم نے یہ دیکھا کہ لوگوں کی اکثریت پر خاص طور پر مزدوروں اور کسانوں پر ظلم ہورہا ہے تو اس نے اس بے عدالتی اور ظلم سے منع کرتے ہوئے کھا کہ ہم کو وہ امور انجام دنیا چاہئیں کہ حقوق کے اعتبار سے تمام افراد یکساں استفادہ کریں یعنی معاشرہ میں کوئی طبقہ بندی نہ ہو، اور سب کے درمیان بطور کامل مساوات ہو سب ایک دوسرے کے لئے نمونہ عمل ہوں اور سب کے لئے زمین جنت کے مانند ہو، ادھر بعد مسلمانوں نے اس میں ایک لفظ کا اور اضافہ کردیا اور کھا ”توحید کے اعتبار سب لوگ ایک ہوں “تو اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا عدالت کا مطلب یھی ہے کہ تمام افراد ایک جیسے اور برابر ہوں ؟

اس کے مقابلہ میں بعض محققین کا عقیدہ یہ ہے کہ عدالت کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد اپنی محنت وزحمت کے مطابق معاشرہ سے استفادہ کرے، یعنی اگر کوئی شخص کسی کام کو انجام دیتا ہے تو اس کو اس کی محنت کے مطابق مزدوری ملنا چاہئے،اب اگر کوئی شخص کاہلی اور سستی کرے اور کوئی کام انجام نہ دے تو اس کو دوسروں کی زحمت کے برابر استفادہ نہیں کرنا چاہئے اور اجتماعی منفعتوں کو اس کے حوالے نہ کیا جائے اس بھانہ سے کہ عدالت ایجاد ہوسکے. اور جب عدالت ایجاد ہوجائے گی تو جو افرد کام انجام دیں گے وہ اپنے کام کی مزدوری حاصل کرلیں گے اب اگر کوئی اپنی محنت وکوشش سے زیادہ کام کرے اور اس کو اس کام کا کوئی نتیجہ نہ ملے تو یہ اس کے حق میں ظلم ہوگا۔

۴۔ اسلامی قوانین کی برتری

بغیر کسی شک وشبہ کے عدالت کی دونوں مندرجہ بالا تفسیریں (کہ جن کو نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا) مکمل طور پر ایک دوسرے سے مختلف اور مقام عمل میں ناہم اہنگ ہیں ، جن سے نتیجہ یہ نکلا کہ وہ احکام ، عقائد اسلامی اور مسائل توحید سے سازگاری نہیں رکھتے، نمونہ کے طور پر ہمارے دین اسلام میں بہت سے ایسے احکام ہیں جو خود ہمارے عقیدہ کے مطابق معاشرہ کے لئے بہت رین اور سب سے زیادہ مفید ہیں اور مسلماً عدالت کے مطابق ہیں لیکن دنیا کے بہت سے افراد ان کو نہیں مانتے اور نہ ہی ان کو عادلانہ سمجھتے ہیں ، مثال کے طورپر بہت سے مقامات پر ارث کے مسئلہ میں مرد وعورت کے درمیان فرق رکھا گیا ہے اگرچہ بعض مقامات میں ان دونوں کی میراث بھی مساوی اور برابر ہے اور اس فرق کی نص صریح قرآن مجید کی یہ آیت ہے: (فَلِذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْا نْثَیَیْنِ.)(۱) ”مرد کو عورت کے حصہ کے دوگنا ملے گا“

اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہے کہ جو افراد اسلام کے نظریات اور اعتقادی اصول کی معرفت نہیں رکھتے وہ اس طرح کے قانون کو ظالمانہ قانون سمجھتے ہیں ، چونکہ ان کے نظریہ کے مطابق خداوند عالم مرد وعورت کے درمیان تبعیض کا قائل ہے، دوسری طرف یہ کہ گھریلو مشترک زندگی میں اسلام نے مرد کو اس بات کا مکلف قرار دیا ہے کہ وہ مشترک زندگی کے تمام مخارج خواہ وہ عورت کے کھانے پینے کی چیزیں ھوں یا لباس ہو یا گھر، سب کچھ مرد کو ہی پورا کرنا ہے، اور اسلامی نقطہ نظر سے عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی تمام درآمد کو بینک میں جمع کردے اور اس کی میراث اور اس کی درآمد کا خود اسی سے متعلق ہو، اور اس پر اپنی زندگی کے لئے کچھ بھی خرچ کرنا لازم نہیں ہے اور اس کو اپنے گھر کے تمام خدمات جیسے لباس دھونا، کھانا بنانا، یھاں تک کہ بچہ کو دودہ پلانے کی مزدوری لینے کا بھی حق ہے، البتہ جو افراد نزدیک سے اسلام کو نہیں جانتے جب وہ اس طرح کے احکام کو دیکھتے ہیں اگر انصاف سے کام بھی لیں تویھی کھتے ہیں کہ اسلام نے عادلانہ قانون نہیں بنائے ہیں ۔

ان تھمتوں کو دور کرنے اور اسلام کے احکامات کی مناسب وضاحت کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اسلام کے قوانین عادلانہ ہیں یا نھیں ؟ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم عدالت کے کیا معنی کرتے ہیں ، کیونکہ اگر عدالت کے معنی مساوات ہے تو تمام قوانین غیر عادلانہ ہیں اس لئے کہ ان میں مساوات کی رعایت نہیں کی گئی ہے، اور اگرعدالت کے کوئی اور معنی ہیں تو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ معنی کیا ہیں ؟ البتہ عدالت کی ماہیت اور کیفیت کی معرفت حاصل کرنا اور عدالت کا متحقق کرنا آسان کام نہیں ہے اسی وجہ سے بڑے بڑے فیلسوف حضرات نے عدالت کے بارے میں بڑی بڑی تحقیقات کی ہیں اور ان میں سے بعض نے عدالت اور آزادی کے درمیان رابطہ کی تحقیق کی ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ کہ اگر ہم قانون کے معتبرہونے کا ملاک ومعیار عدالت قرار دیں تو ہماری مشکل رفع نہیں ہوگی اورہمارے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہ آتا ہے کہ عدالت سے کون سے معنی مراد ہیں ؟ کیونکہ ہر انسان اپنے لحاظ سے عدالت کے معنی اور تفسیر کرتا ہے، اور اسی بنا پر قانون کو عادلانہ اور معتبر سمجھتا ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری سمجھتا ہے اس کے مقابلے میں دوسرا انسان عدالت کی اپنی تفسیر کے بناپر اس قانون کو غیر عادلانہ اور غیر معتبر سمجھتا ہے۔

۵۔دوسرا نظریہ عملی نہیں ہے

قانون کے معتبر ہونے کا دوسرا معیار یہ تھا کہ اس سے معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے، البتہ یہ معیار کسی حدتک قابل قبول ہے چونکہ تمام افراد کم وبیش اجتماعی ضروتوں کو سمجھتے ہےں ، اور یہ جانتے ہیں کہ معاشرہ کوکن چیزوں کی ضرورت ہے، خاص طور سے جس معاشرہ میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں اور ہم سے پہلے جس معاشرہ میں ہمارے آباء اجداد زندگی بسر کرتے تھے یقینا ایسا قانون اور حاکم موجود تھا جو ضرورتوں کو درک کرے اور اس کو یہ معلوم تھا کہ کس طرح معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

اس نظریہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ معاشرہ کی ضرورتوں کو مختلف طریقوں سے پورا کیا جاسکتا ہے اور یھی امر قانون کو منظم کرنے میں فرق کا سبب بنتا ہے. مثال کے طور پر کسی شہر کو خوبصورت اور اچھا بنانا اور اس کو صاف ستھرا رکھنا ایک عام ضرورت ہے اور اس ضررورت کو ضرور پورا ہونا چاہئے، لیکن اس کا خرچ کھاں سے آئے؟ تو کیا گھر کے ہر فرد پر کچھ خاص رقم رکھی جائے اور اس کو جمع کیا جائے؟

یعنی گھر کے ہر فرد کو اس بات کا پابند بنادیا جائے کہ وہ شہر کی نظافت اور اس کو صاف وستھرا رکھنے کی بابت کچھ رقم ادا کرے. دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شہر کے جاری مخارج کو عمومی سرمایہ سے پورا کیا جائے یعنی وہی سرمایہ جو عام طور سے مالی ٹیکس کے ذریعہ جمع کیا جاتا ہے اور اکثر وہ سرمایہ مالدار لوگوں سے وصول کیا جاتا ہے، اور جو غریب لوگ شہر کے پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں اور ان کے مکانات نامناسب ہوتے ہیں تو وہ اس ٹیکس کے ادا کرنے سے معاف ہوتے ہیں ۔

تیسرا نظریہ یہ ہے کہ حکومت اس چیز کی پابند ہوتی ہے کہ وہ زمین کے اندر سے نکلنے والی چیزیں جیسے تیل، لوہا، وغیرہ ان کو فروخت کرکے ان کی وصول کی گئی رقم سے معاشرہ کی ضرورتوں کوپورا کرے۔

ان تمام باتوں کے باوجود قانون کے معتبر ہونے کا معیار معاشرہ کی ضرورتوں کوپورا کرنا بیان کیا گیا ہے اور مندرجہ بالا نظریات میں سے ہر ایک نظریہ معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے تو ان میں سے کس نظریہ کو عملی جامہ پہنایا جائے اور معتبر قانون کے عنوان سے پیش نظر رکھا جائے اور عوام الناس کون سے قانون کو سب سے زیادہ صحیح اور عادلانہ سمجھتے ہیں ؟ لھٰذا صرف یہ معیار بھی قانون کو معتبر مشخص کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔

۶۔تیسرے نظریہ کی کمی اور اسلامی لحاظ سے ضرورتوں کی وسعت

تیسرے ملاک کے اعتبار سے صرف وہی چیزیں جس کو عوام الناس معتبر سمجھی ہے اور جس کو وہ طلب کرتے ہیں وہ ایک قانون کی صورت میں جاری ہونا چاہئے، یھاں پر ایک سوال یہ پیش آتا ہے کہ کیا معیار یہ ہے کہ تمام لوگ سوفی صد کسی ایک ہی چیز کو طلب کریں ؟ اور یقینا ایسا نہیں ہوتا ہے کہ تمام لوگ کسی ایک چیز پر متفق ہوجائیں اور شاید لاکھوں قوانین میں سے سے کوئی ایک قانون بھی ایسا نہ ہو کہ جس کی تمام افراد نے سوفی صد موافقت کی ہو اور ایک قانون چاہے عام طور پر لوگوں کے من پسند ہی کیوں نہ ہو پھر بھی کم سے کم ایک دو فی صد افراد اس کی مخالفت ضرور کرتے ہیں ، اس بناپر مخالفت کرنے والوں کے لئے قانون کے معتبر ہونے کا ملاک کیا ہے؟

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جو کچھ عوام الناس چاہتے ہیں ، وہ عدالت کی میزان پر پوری نہ ہو تو کیا وہ قانون معتبر نہیں ہے؟ اسی طرح اگر عوام الناس کا مطالبہ دوسرے معیار سے اختلاف رکھتا ہو، یعنی عوام الناس کے مطالبہ معاشرہ کو ضروتوں کوپورا رکنے والی ضرورتوں میں شامل نہ ہوتو کیا وہ پھر اعتبار رکھتاہے؟ اگر کسی قانون میں یہ لازم کیا جارہا ہو کہ عوام الناس سے کچھ رقم وصول کی جائے تو شاید اکثر افرد اس کی مخالفت کریں چونکہ جب نئے ٹیکس مقرر کئے جاتے ہیں تو عوام الناس اس کو زبردستی قبول کرتے ہیں (یعنی بڑی مشکل سے مانتے ہیں ). معمولی طور پر کسی بھی جگہ بھی قانون مالیات کو عام طور پر خوشی سے قبول نہیں کیا جاتا، جب کہ یہ طے ہے کہ حکومت معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یہ رقم وصول کرتی ہے، تو عوام الناس بڑی مشکل سے اس کو قبول کرتی ہے۔

اس صورت میں اگر لوگوں کی خواہش کی مطابق عمل کیا جائے تو معاشرہ کی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں ، جبکہ ایک نظریہ میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ قانون کے معتبر ہونے کا معیار معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے، اور جب لوگوں کا مطالبہ عام ضرورتوں کو پورا کرنے کے منافی ہو تو کیا اس وقت معاشرہ کی مصلحتوں کو مدّ نظر رکھا جائے یا اکثر لوگوں کی مرضی کے مطابق عمل کیا جائے؟ بغیر کسی شک وشبہ کے قانون بنانے والے اور جو لوگ معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں ، وہ عملی طور پر مشاہدہ کرتے ہیں ، کہ اگر ان موقعوں پر اکثر لوگوں کی مرضی کے مطابق عمل کیا جائے تو وہ کسی عمل میں پیشرفت نہیں کرسکتے، (البتہ یہ بحث ڈیموکراسی (جمہوریت) کے اصول کی طرف پلٹ جاتی ہے جس کو ہم آئندہ تفصیل سے بیان کریں گے)

بہرحال اس طرح کے اعتراضات قانون کے معتبر ہونے کے معیار وملاک پر پیدا ہوتے ہیں ، البتہ ہمارے نظریہ کے مطابق سب سے اہم او ربنیادی سوال یہ ہے کہ وہ مصالح اور ضرورتیں جو بیان ہوئی ہیں وہ صرف عادی ضرورتیں بیان ہوئی ہیں اور عام معیار یھی ہے کہ معاشرہ میں انسان کی صرف یھی ضرورتیں متحقق ہونا چاہئیں ؟ کیا حکومت کا صرف یھی وظیفہ ہے کہ وہ لوگوں کی صرف مادی اور دنیاوی ضرورتوں کو ہی پورا کرے یا حکومت کے دوسرے فرائض بھی ہوتے ہیں ؟ اس سے واضح الفاظ میں عرض کریں کہ ہم تمام مسلمانوں اور وہ تمام افراد جو ادیان الہی میں سے کسی ایک دین کو مانتے ہیں ہم سب کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک بدن اور دوسرے روح، اور اکثر یا تمام ادیان کا نظریہ یہ ہے کہ روح بدن سے افضل واشرف ہے اور بدن روح کا خادم ہے. ان سب کا عقیدہ یہ ہے کہ بدن کو نظافت کی ضرورت ہے اور بدن کو بیمار ہونے سے بچانا ضروری ہے اور اگر بدن مریض ہوجائے تو اس کا علاج کرنا چاہئے، اسی طرح انسان کی روح کو بھی نظافت کی ضرورت ہے، اور بیمار ہونے سے اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے، اور اگر مریض ہوجائے تو اس کا علاج بھی ضروری ہے، اگر ہم مادی ضرورتوں کا معنوی ضرورتوں سے مقابلہ کریں تو اس نتیجہ پر پہونچیں گے کہ روحی اور معنوی ضرورتیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں ، روح کی بیماری بدن کی بیماری سے بہت زیادہ خطرناک اور اہمیت رکھتی ہیں ، کیونکہ انسان کی انسانیت کا امتیاز اس کی روح کی وجہ سے ہی ہے اور اگر اس کی روح مریض ہوجائے تو وہ انسانیت سے گر جاتا ہے،تمام حیوانات بھی بدن رکھتے ہیں او راس کو سالم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی مادی اور جسمانی لذتوں کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ،جو کچھ انسان سے مخصوص ہے اور جوہر انسانیت کو اُجاگر کرتا ہے وہ ہے انسانی روح، اب اگر انسانیت کے معیار کو کوئی خطرہ لاحق ہو تو انسان کی حقیقی موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( ا وَمَنْ کَانَ مَیْتاً فَا حْیَیْنَاه وَجَعَلْنَالَه نُوْراً یَمْشِی بِه فِیْ النَّاسِ کَمَنْ مَثَلُه فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْها کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِیْنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) (۲)

”کیا جو شخص پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور بنایا جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں بے تکلف چلتا پھر تا ہے اس شخص کا سا ہوسکتا ہے جس کی یہ حالت ہے کہ (ھر طرف سے) اندھیروں میں (پہنسا ہوا ہے) کہ وہاں سے کسی طرح نکل نہیں سکتا،(جس طرح مومنوں کے لئے ایمان آراستہ کیا گیا ہے) اسی طرح کافروں کے لئے ان کے اعمال(بد) آراستہ کردئے گئے ہیں “

مندرجہ بالا مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے جو حکومت معاشرہ کی مصلحتوں کو پورا کرنے کے درپے ہے تو کیا اس کو عوام الناس کے روحی اور معنوی امور کی طرف توجہ نہیں دینا چاہئے؟ کیا حکومت کا صرف یھی وظیفہ ہے کہ وہ لوگوں کی صرف مادی ضرورتوں کو پورا کرے ، یا معنوی مصالح کو پورا کرنا بھی حکومت کا ہی فریضہ ہے؟

۷۔اسلامی انقلاب اور اس کا معنوی مصلحتوں سے برتر مقام

یھاں پر ایک پیچیدہ مسئلہ جو بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر معنوی اور مادی پیشرفت میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے تو دونوں میں سے کس کو مقدم کرنا چاہئے؟ اگر کسی خاص زمان ومکان میں معاشرہ کی مادی پیشرفت، معنوی مصلحتوں کو چھوڑ دینے کا سبب بنے او راگر مادی اور اقتصادی وسعت اور معنوی مصلحتوں کو پورا کرنے میں تزاحم (یعنی ایک دوسرے کے روبرو ہونا) پیدا ہوجائے، تو کیا حکومت مادی وسعت کو محدود کرسکتی ہے تاکہ معنوی مصلحتیں بھی محفوظ رہ جائیں یا یہ کہ معنوی پیشرفت کا حکومت سے کوئی سروکار نہیں ہے اور حکومت کا وظیفہ صرف مادی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اور معنوی مصالح کو پورا کرنا خود عوام الناس کی ذمہ داری ہے؟ یہ مسئلہ بہت اہم ہے اور ہماری اجتماعی زندگی میں عملی نتیجہ رکھتا ہے، اور آج کل بڑے بڑے اخباروں اور خبروں میں شایع کیا جاتا ہے اور اس سے متعلق بڑے بڑے مناظرہ اور بحثیں ہوتی ہیں ۔

کچھ افرد کھتے ہیں : حکومت کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ سیاست، معاش اور فرہنگ وثقافت میں وسعت دے ، وسعت کا مطلب وہی ہے جو عرف عام میں مشہور ہے اس بنیاد پر ثقافتی وسعت کے وہ مصادیق ہیں جن کو خاص طور سے ہم معنوی مصلحتوں کے لئے بیان کرتے ہیں اس سے مختلف ہے اور اس سے مراد قومی میراث کی حفاظت کرنا اور ورزش اور موسیقی جسے امور میں وسعت کرنا ہے۔

بلا کسی شبہ جو افراد دین اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور انقلاب اسلامی کے طرفدار ہیں ، مصالح معنوی کی ایک خاص اہمیت کے قائل ہیں اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انقلاب برپا کرنے کا اصلی ہدف معنوی مصالح کی حفاظت کرنا تھا. البتہ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اسلام کے زیر سایہ ہی مصالح مادی بھی پورے ہوں ۔

اگرچہ کچھ زمانہ ہی کیوں نہ لگ جائے ان سب باتوں کے باوجود ہماری قوم نے معنوی اور الہی پختہ اعتقاد اور معنوی مصالح کی حفاظت کی خاطر عملی طور پر یہ ثابت کردیا کہ ہم معاشی ناکابندی اور مھنگائی اور دوسری مشکلات کے باوجود زندگی بسر کرسکتے ہیں ، ان کے عزیز واقارب اسلام کی خاطر قربان ہوسکتے ہیں ، عورتیں بغیر شوہر اور بچے بغیر باپ کے ہوسکتے ہیں جیسا کہ شھیدوں کے وصیت ناموں سے اس بات کا مسلم ثبوت ملتا ہے کہ ان کا ہدف اسلام کی حفاظت اور معنوی مقاصد کو برقرار رکھنا تھا.

جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارے لئے مصالح مادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ دوسرا معیار وملاک بھی موجود ہے اور وہ مصالح معنوی کی ضرورت کو پورا کرنا ہے اور اگر معاشرہ کی مصلحتوں کو پورا کرنے کو ہم قانون کے معتبر ہونے کا ایک معیار جان لیں تو ہمارے لحاظ سے ”مصالح“ مصالح مادی ومصالح معنوی دونوں کو شامل ہوگا۔البتہ معاشرے کے مصالح کی تحقیق وجستجو اور اس کے مصداق کو معین کرنا ایک عمیق اور سلسلہ وار بحث ہے یہ اس سے بھی کھیں زیادہ وسیع ہے جو فلسفہ سیاست اور حقوق میں بیان کی جاتی ہے اور وہ بحث اس بات پر موقوف ہوتی ہے کہ کیا حقیققت میں انسان مادی امور کے علاوہ مصالح واقعی بھی رکھتا ہے یا یہ کہ انسان کے مصالح وہی مصالح مادی ہی ہیں اور اس کے علاوہ کچھ آداب ورسومات ہیں کہ جو کبھی کبھی بدلتے رہتے ہیں اور دوسرے معنوی مصالح اور اہم ضرورتوں کے وجود میں کچھ نہیں ہیں ؟ کیا مصالح اور واقعی ضرورتیں وہی مادی امور جو علمی تجربوں سے انجام پاتے ہیں اور مادی طریقوں سے ہی ان کو معین کیا جاتا ہے جیسے نظافت، معاش میں پیشرفت کرنا صنعت اور ٹکنالوجی یا اس کے علاوہ دوسرے مصالح روحی ومعنوی بھی موجود ہیں ، جو تجربہ حسی کے قابل نہیں ہیں ۔

البتہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ واقعی ومصالح وہی معنوی وروحی مصالح ہیں جو ”متافیزیک“ (حکمت ماوراء الطبیعة) سے متعلق ہوتے ہیں اور اصطلاح میں وہ علمی مسائل کا جز نہیں ہوتے اور علمی طریقے سے قابل اثبات نہیں ہوتے ہیں ، لھٰذا نتیجہ کے طور پر اگر ہم یہ بیان کریں کہ معاشرہ میں معنوی مصالح کی ضرورت کو پورا کرنا جاہئے اور ان کو پورا کرنا حکومت کا وظیفہ ہے اور ہم ایک برہانی اور مدلل بحث پیش کرنا چاہیں تو ہم کو اس مسئلہ کو ضرور بیان کرنا چاہئے کہ ہمارے مادی مصالح کے علاوہ کچھ اور بھی مصالح رکھتے ہیں یا نھیں ؟۔

حوالہ

۱ ۔سورہ نساء ایت۱۷۶

۲۔سورہ انعام آیت ۱۲۲


بارہواں جلسہ

اقدار کے بارے میں اسلام اور مغربی تمدن میں نظریاتی فرق

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

ہماری بحث کا موضوع اسلام کے سیاسی نظریہ کو بیان کرنا تھا جس کے چند فرضیہ تھے اور اس نظریہ کو عقلی طور پر ثابت کرنے کے لئے ان مقدموں کو اپنی توجہ کا مرکز بناکر ان کے بارے میں بحث ہونا چاہئے، جیسا کہ ہم نے بیا ن کیا کہ اسلام کے سیاسی نظام میں خدا کا قانون کسی ایسے شخص کے ذریعہ جاری ہونا چاہئے،اور حکومت کا ذمہ دار اس شخص کو ہونا چاہئے جو خدا کے طرف سے منصوب ہو اور خدا کی طرف سے اس کو اجازت دی گئی ہو، مندرجہ بالا نظریہ کے بارے میں مندرجہ ذیل مقدموں کی ضرورت پیش آتی ہے:

پھلا مقدمہ: معاشرہ کے لئے قانون کا ہونا ضروری ہے۔

دوسرا مقدمہ: قانون خدا کی جانب سے نازل ہونا چاہئے۔

تیسرا مقدمہ: ان قوانین کا اجرا کرنا لازم ہے اور ان کی جاری کرنے والی اسلامی حکومت ہے۔

(مندرجہ بالا مقدموں کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان افراد مندرجہ بالا نظریہ کو قبول کرنے میں کوئی شک وشبہ نہیں کریں گے، لیکن بحث کواضح کرنے کے لئے او ردوسرے افراد پر بھی حق ظاہر ہونے کے لئے ان مقدموں کو عقلی استدلال کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے)

معاشرہ میں قانون کا ہونا ضروری ہے تو جہاں تک ہم کو علم ہے کوئی شخص بھی اور وہ افراد بھی جنھوں نے اس بارے میں بحث کی ہے وہ اس میں شک نہیں کرتے کہ بشر کو اپنی اجتماعی زندگی بسر کرنے کے لئے قانون کی ضرورت ہے لیکن معاشرہ میں کس قانو ن کو حاکم ہونا چاہئے اس بارے میں بہت زیادہ اختلاف پائے جاتے ہیں اور اس بنیاد پر قانون کے معتبر ہونے کے بارے میں فلاسفہ حقوق اور حقوق داں حضرا نے بہت زیادہ تحقیق وجستجو کی ہے اور ہم کس بارے میں بہت ر قوانین اور دوسروں سے برتر قوانین کو مشخص ومعین کریں اس بارے میں ہم نے گذشتہ جلسہ میں قانون کے معیار وملاک کو بیان کرنے کی خاطر تین اہم نظریوں کی طرف ااشارہ کیا تھا، البتہ اس بارے میں دوسرے نظریات بھی ہیں لیکن وہ اس اہمیت کے قابل نہیں ہے کہ ان کے بارے میں بحث کی جائے۔

قانون کے معیار وملاک کے بارے میں پہلا نظریہ عدالت اور قانون کا اصول عدالت کے موافق ہونا ہے اور ہر وہ قانون جس میں جتنا عدل ہوگا اسی کو معاشرہ میں جاری ہونا چاہئے ، دوسرا نظریہ یہ ہے کہ وہ قانون بہت ر اور برتر ہے جو معاشرہ کے نظام اور امنیت کو پورا کرسکے، اور آخر کار تیسرا نظریہ یہ ہے کہ وہ قانون بہت ر اور برتر ہے جو لوگوں کی زندگی کی تمام ضرورتوں کو پورا کرسکے، یہ تین نظریہ ان افراد کے مقابل میں ہیں جن کا عقیدہ یہ ہے کہ بُرے قانون کو اچھے قانونسے اور بہت ر قانون کو برے قانون سے تشخیص وتعین کرنے کا کوئی بنیادی معیار نہیں ہے، اور صرف معیار وملاک لوگو ں کی خواہش ہے: معاشرہ جس چیز کو پسند کرے وہ بہت ر ہے اور قانون بھی اسی بنیاد پر بننا چاہئےے،یہ ”پوزیٹو“(مثبت) نظریہ ہے جو ہماری نظر میں بالکل واضح طور پر باطل ہے اس لئے کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر دن جس شخص کا جو دل چاہے وہی قانون برتر ہوجائے بلکہ ایک عقلی معیار ہونا چاہئے تاکہ اس کے بارے میں کوئی بحث کرکے کسی منطقی نتیجہ پر پہونچا جاسکے۔

۲۔دین کی نظر میں بہت رین قانون اور دوسروں کے نظریہ کے تحت تاثیر واقع ہونے کا خطرہ

دین اسلام کی نظر میں وہ قانون سب سے اچھا اور سب سے بلند قانون ہے جو انسانوں کی مادی اور معنوی ضرورتوں کو پایہ تکمیل تک پہونچائے اور ایسا قانون ہو کہ اس قانون کے سایہ میں انسانوں کی مادی او رمعنوی ضرورتوں کو چاہے وہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہوں سب سے اچھے طریقہ سے فراہم ہوسکتی ہوں اس نظریہ کا دوسرے نظریوں سے فرق یہ ہے کہ اس میں معنوی مصالح کو بہت زیادہ تاکید او رانپر بہت زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے ۔

لیکن افسوس کہ ”رنسانس“(وہ نظریہ جو یورپ میں پندرہویں صدی کے آخر اور سولھویں صدی کے شروع میں پیدا ہوا او ران کا نظریہ گذشتہ آثار کی تقلید کرنا تھا) کے بعد ”اومانیسٹی“ کو تقویت ملی اور اہستہ اہستہ انسان کے ذہن سے خدا اور معنویت اور آخرت سے اس کی توجہ ہٹ گئی اور علمی سطح سے خارج ہوگیا، اور آخر کار ان سب چیزوں کو بھلا بیٹھا، اگرچہ کھیں کھیں گوشہ وکنارمیں محدود دائرے میں معنوی امور پر بھی اعتماد کیا جاتا تھا،لیکن دنیا کی فلسفی اور حقوقی محفلوں میں اصلی اعتماد اور مسلط رغبت یہ ہے کہ ایسا قانون ہونا چاہئے جو انسانوں کی مادی ضرورتوں کو پورا کرسکے، درحالیکہ معنوی ضرورتوں سے اس کا کوئی سروکار نہ رکھتا ہو، البتہ ہمارے نظریہ کے اعتبار سے یہ بات واضح ہے کہ قانون و معنوی ضرورتوں پر بھی بھر پور توجہ رکھناچاہئے، اس لئے کہ انسان کے وجود کا سب سے اہم اور اصلی جز روحی ، معنوی اور الہی اشیاء پر کامل یقین ہے اس بنیاد پر ہم اس بلند وبالا پہلو اور مصالح معنوی کو نظر انداز نہیں کرسکتے. اب ہمارا موضوع بحث یہ ہے کہ کیا قانون کو معنوی ضرورتوں پر توجہ دینا ضروری ہے یا نھیں ؟

اس بات کی تاکید اور اس بارے میں بحث کرنا دلیل انحرافی کے ذریعہ جو آج کل التقاط فکری کی وجہ سے مختلف سطح کے افراد میں وقوع پذیر ہوئی ہے ہم اس مطلب کی اوز زیادہ وضاحت کے لئے ایک مثال کے ذریعہ کردینا چاہتے ہیں ، فرض کیجئے کہ جسم کے سلسلے میں بعض محققین اپنی رائے کا اظھا ر کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اس علم کے اعلیٰ درجات پر پہونچے ہوئے ہیں جیسے ”انشٹن“ ایسے ہی افراد جسم کے بارے میں اظھار خیال کرسکتے ہیں ۔

لیکن اگر انہیں سے نفسیاتی علم کے بارے میں کسی نظریہ کی تائید یا ردّ کے بارے میں خود ان کا نظریہ مانگا جائے تو وہ اپنا نظریہ نہیں دیتے ہیں ،کیونکہ ان کو اس علم میں مھارت نہیں ہے اور اگر نظریہ دیں تو بھی اس علم کے ماہرین سے مشورہ اور معلومات حاصل کرکے اپنی زبان کھولتے ہیں ، کیونکہ انھوں نے اس علم میں مھارت حاصل نہیں کی ہے، اسی طرح وہ افراد جو کسی علم میں مھارت نہیں رکھتے صاحب نظر افراد کے کسی نظریہ کی تائید کی بناپر کسی نظریہ کی تائید یا تصدیق کرتے ہیں ، لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص مختلف علوم کے ماہرین کے نظریات کا مطالعہ کرکے ان پر گامزن ہوجاتا ہے لیکن ا سکو اتنا وقت میسر نہیں ہوتا کہ ان نظریات کا آپس میں ایک دوسرے سے موازنہ کرسکے کہ یہ نظریات آپس میں ایک دوسرے کے موافق ہیں بھی یا نھیں ؟ کیا ان منسجم آراء ونظریات کا مجموعہ انسانیت کو تشکیل دے سکتا ہے یا نھیں ؟ وہ ایسا کرنے کے لئے بالکل ہی فکر ہی نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اس کوفکر کرنے کاکو ئی انگیزہ ہوتا ہے وہ تو صرف یہ کھتا ہے کہ میرا عقیدہ ہے کہ فلاں علم النفس کا جاننے والا یا معاشرہ کی شناخت رکھنے والا یا حقوق کا جاننے والا بہت ر نظریہ رکھتا ہے اور یھی امر فکری التقاط کا سبب ہوتا ہے،لیکن اہل نظر اور محقق حضرات تمام نظریات کو جمع کرکے ان کا ایک دوسرے سے موازنہ کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے سازگار ہیں یا نھیں ، اگر فلاں علم النفس کے جاننے والے کے کسی نظریہ کو قبول کرنا چاہتے ہیں تو اس کی جامعہ شناسی کے دوسرے نظریہ سے اس لئے مطابقت کرتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے سے مناسبت رکھتا ہے یا نھیں ؟ اور اسی طرح دوسرے موضوعات کے دوسرے نظریات کو مختلف نظریات سے موازنہ کرتے ہیں ۔

اہل نظر وتحقیق کے قطع نظر کم علم رکھنے والے افراد میں بھی نظریہ منتخب کرنے کا سلیقہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے، اور جب بھی ان افراد کو کوئی کتاب مل جاتی ہے تو اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں او ریہ تحقیق کئے بغیر کہ اس کتاب کا لکھنے والا معتبر ہے یا نھیں اس کے نظریات دوسرے نظریات سے مناسبت رکھتے ہیں یا نہیں اس کے تحت تاثیر واقع ہوجاتے ہیں اور نتیجةً فکری التقاط سے دوچار ہوجاتے ہیں ، لھٰذا ہر کتاب کی تحقیق اور اس کا مطالعہ کرنے سے پہلے توجہ رکھنی چاہئے کہ اس کتاب کا لکھنے والا معتبر ہے یا نھیں ؟ کیا اس کے نظریات دوسرے موضوعات کے نظریات سے مناسبت رکھتے ہیں یا نھیں ؟

۳۔دینی نظریات میں دوسروں سے متا ثر ہونا

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اسلامی معاشرہ میں اس صدی کے آدھے دوسرے حصہ میں دوسروں کے نظریات کے تحت تاثیر ہونے کا بڑا زور وشور پیدا ہوگیا ہے، بعض افراد اپنی زندگی کے ایک مرحلہ میں اپنے ماں باپ ،ماحول اور علماء سے عقائد اسلام کو حاصل کرتے ہیں او رقبول کرلیتے ہیں اس کے بعد جب وہ زندگی کے دوسرے مراحل میں داخل ہوتے ہیں اور جب اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں تو اس ماحول میں رہکر دوسروں کے عقائد اور نظریات او رمختلف علوم کے مختلف موضوعات سے آشنا ہوجاتے ہیں او ریہ توجہ کئے بغیر کہ یہ افکار ونظریات دوسرے مختلف علوم کو حاصل کرنے والے افراد کے علوم سے سازگار ہے یا نہیں ؟ ان کو بھی قبول کرلیتے ہیں ۔

مثال کے طور پر جس نظریہ کو وہ فلسفہ میں قبول کرتے ہیں ،وہ نظریہ علم الحیات ، فیزیک اور علم حساب کے نظیریہ سے یا کسی دوسرے دینی نظریہ سے مناسب اور سازگاری رکھتا ہے یا نھیں ؟ اگر ہم غور وخوض کرکے اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ یہ بعض موارد میں ایک دوسرے کے سازگار نہیں ہیں اور ایک کامل مجموعہ کو تشکیل نہیں دیتے اس طرح کی شکل تفکر کو تفکر التقاطی (دوسروں کے تحت تاثیر ہونا) کھتے ہیں ؟

آج ہمارے دینی معاشرے کے افراد بہت وسیع سطح میں تفکر التقاطی میں مبتلا ہیں ، اس لئے کہ ایک طرف تو وہ اسلامی معاشرے سے اپنے وراثتی اور خاندانی عقائد کو حاصل کرتے ہیں او ران کو اپنے ھاتہ سے جانے نہیں دیتے ہیں ، اور دوسری طرف سے مختلف علوم انسانی کے مسائل کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ ان کو بھی مان لیتے ہیں اور دینی عقائدکے ساتھ ملادیتے ہیں وہ اس چیز سے غافل رہتے ہیں کہ یہ مختلف نظریات آپس میں ایک دوسرے سے تال میل نہیں کھاتے اور ہم کو یا تو دینی عقائد کو تسلیم کرنا چاہئے یا ان افکار کو جو دین کے مخالف ہیں ۔

اس بنا پر اگر ہم جامعہ شناسی، حقوق، سیاست اور ان کے مانند نظریات جو ہمارے دینی عقائد سے ہم اہنگ ہو ان کو تسلیم کرنا چاہیں تو ہم کو جن نظریات کو دوسرے ممالک کی کتابوں کا ترجمہ کرکے اور ان کی تبلیغ کرکے ہم تک پہونچایا گیا ہے اس کو نظر انداز کریں ، اور انسانی علوم کے ان جدید نظریات کو جو علمی نقطہ نظر اور اصولی لحاظ سے بھی ہمارے دینی عقائد سے سازگار ہوں ان کو بیان کرنا چاہئے، اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو یا تو ہم اپنے دینی عقائد سے دست بردار ہوجائیں یا پھر اپنے دینی عقائد کے مخالف نظریات اور افکار کو چھوڑ دیں ، اس لئے کہ دونوں کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جاسکتا، جس طرح یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ اب دن بھی ہے اور رات بھی۔

نتیجہ کے طور پر ہم نے جو اساسی او ربنیادی نکتہ بیان کیا ہے اس پر توجہ کئے بغیر تمام نظریات کی تلاش میں نہیں نکلا جاسکتا اورہر حصہ کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور التقاط فکری اور دنیا میں سر نہیں کھپایا جاسکتا ہے اس صورت میں ہمارے اندر شناخت ومعرفت میں ”افراطی پلورالیزم“ کا نظریہ ظاہر ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص جو کچھ کھے وہ صحیح ہے اور ہم صرف باطل نہیں کھتے ہیں ، اور ہر شخص حقیقت کے کچھ حصہ کو بیان کرتا ہے او رہر مکتب کے اندر کچھ نہ کچھ حق ضرور پایا جاتا ہے، فلسفہ میں اس طرح کا نظریہ (جو آج بھی یورپی فلاسفہ حضرات میں رائج ہے) وہ شک وتردید میں ختم ہوتا ہے یہ نظریہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ عام طور سے علوم میں مختلف نظریات ہوتے ہیں اور ہر نظریہ میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہوتی ہے اور ہم کسی چیز پر یقینی اعتقاد نہیں رکہ سکتے، تو ہمارے لئے کسی چیز پر بھی قطعی اور جزمی اعتقاد نہ رکھنا بہت ر ہے اور نظریہ کے صواب یا غلط ہونے کے احتمال پر کفایت کرنا چاہئے، اور دین کے باب میں بھی ہم کو پلورالیزم دینی کو قبول کرنا چاہئے، او راسی بنیاد پر خدا کی وحدانیت پر مسلمانوں کا عقیدہ اور جو شخص کوئی دوسرا عقیدہ رکھتا ہے اس کو ابدی عذاب کا مستحق سمجھتے ہوئے ان کو تسلیم کرلیں اور صحیح سمجھیں ، اور عیسائیت کہ جو تین خداؤں کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کے عقیدہ کو بھی صحیح سمجھیں اور جو دو خداؤں (خدائے خیروخدائے شر) کا عقیدہ رکھتے ہیں اس کو بھی درست سمجھیں ، اس لئے کہ ان میں سے کوئی ایک عقیدہ بھی قطعی اور صحیح نہیں ہے ، ممکن ہے ہر ایک درست ہو یا ایک بھی درست نہ ہو اور ہم یہ بنا بھی نہیں رکھتے کہ ان میں سے کسی ایک سے برخورد کریں ، چونکہ وہ تمام خوب اور درست ہوسکتے ہیں ۔

تمام مختلف اور متضاد عقائد ونظریات شک گرائی وشکّاکیت (کہ جن پر کوئی شخص مکمل طور پر اعتقاد نہیں رکھتا) او رپلورالیزم کے نظریہ کی بناپر ہیں ، اجتماعی تساہل (سھل انگاری) اور تسامح جو اس چیز پر مبنی ہے کہ اجتماعی طور پر نہ تو تعصب ہو نہ کسی نظریہ کی طرفداری کی جائے، اور نہ غصہ سے کام لیا جائے اور اسی بنیاد پر آج کل کے دور میں ان کو رائج کیا جائے کہ کسی کو تعصب نہیں کرنا چاہئے اور ہر شخص جو کچھ کھے اس کے بارے میں یہ سوچنا چاہئے کہ شاید یہ صحیح ہو، توحقیقت میں انسان کے اندر دینی عقائد ، فلسفی اور علمی اعتبار سے بے تفاوت کی حالت ایجاد کرتا ہے۔

آج کل یورپ میں اکثر افراد یھی نظریہ رکھتے ہیں او رہمارے لئے یہ نظریہ ایک تحفہ سے کم نہیں ہے اس لئے کہ ہمارے معاشرہ کو بھی محنت ومشقت وتحقیق کے ذریعہ اپنے اندر یہ حالت پیدا کرلینی چاہئے کہ ان کو دینی، علمی او رفلسفی عقائد سے متعصب نہیں ہونا چاہئے او رہر نظریہ کے بارے میں کہنا چاہئے کہ ممکن ہے یہ نظریہ درست ہو او رممکن ہے دوسرا نظریہ درست ہو، کبھی کبھی یہ بھی کھا جاتا ہے کہ ہم کو اپنے علم کو مطلق نہیں سمجہ لینا چاہئے او رنہ ہی یہ کہنا چاہئے کہ یہ سو فی صد درست ہے اس کے علاوہ اور کچھ صحیح نہیں ہے، ہم کو ایسا یقین نہیں رکھنا چاہئے ، ہمیں تو صرف اپنے اعتقاد پر برقرار رہنا چاہئے او راس کا احترام کرنا چاہئے اور دوسرے بھی اپنا عقیدہ رکھیں ، (ہم سے کوئی مطلب نھیں ) یہ وہی ثقافت ہے جس کو یورپ کی دنیا نے اپنے لئے منتخب کررکھا ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمام عالَم میں اسی ثقافت کے زیر سایہ زندگی ہونی چاہئے۔

یعنی ان کا عقیدہ یقینی اور جزمی اعتقاد کا انکار کرنا اور اس چیز کا انکار کرنا کہ دین حق، مذہب حق اور نظریہ حق ایک ہے اور افراد کے اذہان عالیہ میں اس بات کا ڈالنا کہ ممکن ہے نظریہ حق متعدد ہوں او رانسان کو ایک چیز پر ہی یقینی اور جزمی اعتقاد نہیں کرلینا چاہئے. اور مقام بحث میں تعصب سے کام نہیں لینا چاہئے، دینی غیرت اور مذہب کے اندر تعصب کو ختم کردینا چاہئے، افراد کو ایک دین ایک مذہب اور ایک فکر کی طرف رجحان کو ختم کرنا چاہئے تاکہ سب مل کر ایک اجتماعی زندگی بسر کرسکیں اور مذہبی مسائل میں کوئی اختلاف نہ ہوں ، کیونکہ یھی دینی اختلاف قتل وغارت اور جنگ جدال کے باعث ہوئے ہیں اب تو تمام مذاہب، ادیان اور افکار کو صحیح اور حق کہنا چاہئے تاکہ آپس میں صلح وآشتی کا راستہ ہموار ہوجائے۔

۴۔پلورالیزم دینی کا مطلب

اگرچہ ہم خصوص طور پر پلورالیزم کے مسئلہ کو بیان کرنا نہیں چاہتے لیکن مختصر طور پریہ عرض کرتے ہیں کہ مقام عمل میں ایک موقع پر ہم یہ کھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے طرفداروں کے ساتھ او رفلسفہ میں مختلف نظریے رکھنے والوں اور مختلف علوم کے ماننے والوں کے ساتھ مودبانہ طریقے سے ملنا چاہئے او ران کو اس بات کی اجازت دینا چاہئے کہ وہ اپنے نظریات کو بیان کریں اور ان کا دفاع کرسکیں ، او رمختلف طریقوں سے بحث وگفتگو اور بحث کریں ، آج دنیا میں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک عیسائی یھودی اور زرتشتی کے ساتھ دوستانہ زندگی بسر کرتا ہے اور ان کے درمیان کشمکش، اختلاف ،برادرکشی اور قتل وغارت باکل بھی نہیں پائی جاتی ۔

اس چیز کو تقریباً اسلام کے علاوہ کسی بھی مذہبی دینی اور سیاسی نظام میں مد نظر نہیں رکھا گیا ہے اور اس حد تک صاحبان ادیان کی خاطر ومدارات نہیں ہوئی ہے، حالانکہ اسلام میں اعتقادات کا مزکز عظیم ”توحید“ (خداکی وحدانیت کا اقرار ) ہے او رتوحید کو رائج او رثابت کرنے کے لئے ”تثلیث“(تین خداؤں کا ماننا) اور شرک سے مقابلہ کرنا ضروری مانا گیا ہے، پھر بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام میں عیسائیت او ریھودیت دونوں مذہب کو رسمی مذہب کے عنوان سے پھچنوایا گیا ہے اور ان دونوں مذہبوں کے پیروکار اسلام کی پنا ہ میں ہیں ان کی جان ومال اور ناموس محفوظ ہیں او رکسی شخص کو ان کے حقوق کو پامال کرنے کا ذرا سا بھی حق نہیں ہے۔

تمام الہی مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ اس طرح پیش آنا ، اولیاء دین اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے سیرت میں سے ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نھج البلاغہ کے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ عراق کے کسی شہر میں ایک کافر ذمی کی لڑکی کے پیر سے پازیب نکال لی گئی ہے مسلمانوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ، کیونکہ اسلامی ملک اور اسلامی ملک کی پناہ میں ایک غیر مسلمان لڑکی پر یہ ستم ہوا، دوسرے مذہبوں کے طرفداروں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ اسلام کی بلندی اور افتخار کو بیان کرتا ہے جس کے لئے قرآن مجید کی واضح وروشن آیت موجود ہے:

( قُلْ یَا ا هلَ الْکِتَابِ تَعَالَوا إلٰی کَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ إلاَّ اللّٰه. ) (۱)

”(اے رسول) تم (ان سے) کھو کہ اے اہل کتاب تم ایسی (ٹھکانے کی) بات پر تو آؤ جو تمھارے اور ہمارے درمیان یکساں ہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں “

اور دوسری آیت ہم کو اَحسن (سب سے اچھا) سلوک کی طرف دعوت دیتی ہے ، ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَا تُجَادِلُوا ا هلَ الْکِتَابِ إلاَّ بِالَّتِیْ هیَ ا حْسَنُ. ) (۲)

”او ر(اے ایماندارو ) اہل تاب سے مناظرہ نہ کیا کرو مگر عمدہ او رشائستہ الفاظ وعنوان سے “

اگر پلورالیزم کا یہ مطلب ہے تو ہم کو یہ کہنا پڑے گا کہ یہ اسلامی افتخارات میں سے ہے ، اگر پلورالیزم کا یھی مطلب ہےتو ہم کو دل سے یہ کہنا چاہئے کہ عیسائیت بھی اسلام کے مانند ہے یھودیت بھی اسلام کے مانند ہے او ریھودی ہونےاور مسلمان ہونے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اس لئے کہ ہر ایک میں کچھ نہ کچھ حقیقت پائی ہی جاتی ہے، نہ ا سلام مطلقاً طور پر حق ہے اور نہ ہی یھودیت مطلق طور پر حق ہے ، یا یہ کھیں کہ دونوں حق ہے اس راستہ کے مانند حق ہیں کہ جو ایک ہی مقصد پر پہونچاتے ہیں چاہے کسی راستہ سے چلے جاؤ مقصد تک پہونچ جاؤ گے، بے شک اس طرح کے نظریہ کو کوئی بھی مذہب قبول نہیں کرتااور نہ ہی عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔

مگر کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنا اور تثلیث کا عقیدہ رکھنا دونوں برابر ہیں ؟ یعنی خدا کی وحدانیت کے اعتقاد اور تین خداؤں کا اعتقاد رکھنے کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا؟ کیا اس دین کی اساس اور بنیاد پر جو یہ کھتا ہوا نظر آرہا ہے:

( وَلَا تَقُولُوا ثَلاٰثَةٌ إنْتَهوا خَیْراً لَکُمْ. ) (۳)

”اور تین (خداؤں ) کے قائل نہ بنو (تثلیث سے) باز رہو (اور) اپنی بھلائی (توحید) کا قصد کرو“

یا قرآن ان افراد کے بارے میں جنھوں نے خدا کی طرف ناروا چیزوں کی نسبت دی او ریہ کھا کہ خدا اولاد رکھتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( تَکَادُ السَّمٰواتُ یَتَفَطّرْنَ مِنْه وَتَنْشَقُّ الا رْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالَ هداً. ) (۴)

”قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شگافتہ ہوجائے او رپھاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گرپڑیں “

جب اسلام اس طرح کے شرک آمیز اعتقادات کا اس طرح قطعی رویہ اختیار کرتا ہے تو ہم کو یہ کھنے کا کیا حق ہے کہ اگر تم چاہوتو مسلمان بن جاؤ اور نہیں چاہتے تو بت پرست بن جاؤ، کیونکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ، اور تم کو ایک ہدف او رمقصد تک پہونچانے والے ہیں ، او ردونوں راستے صراط مستقیم شمار کئے جاتے ہیں !! اور میں تو اس چیز کو بہت بعید سمجھتا ہوں کہ کوئی صاحب عقل انسان بغیر کسی غرض اور باطل ہدف کے اس طرح کی باتیں کرے او راس طرح کے عقیدہ کو قبول کرے۔

بہر حال التقاط فکری اس زمانے کی ایک بڑی مشکل ہے اس لئے اس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے او رتاکہ ہمارے افکار صحیح وسالم رہیں او راصل نظریہ کو حاصل کرکے اس پر برقرار رہنا چاہئے۔

۵۔بندگی خدا کی عظمت اور اس کا مطلق آزادی سے ٹکراؤ

تمام نظریات کا ہماری بحث سے رابطہ یہ ہے کہ جن افراد نے یورپی ثقافت سے الھام کے ذریعہ اصل آزادی کو مطلق طور پر انسان کی سب سے بڑی قیمت اور اہمیت کے عنوان سے قبول کیا ہے اور آزادی کو انسان کے لئے سب سے بڑی ارزش سمجھتے ہیں برخلاف اس کے کہ خود کو اسلام اور دستورات اسلامی کا پابند سمجھتے ہیں اور خود کے دیندار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس یورپی ارزش کی اس طرح حمایت کرتے ہیں کہ جیسے دیگ سے زیادہ چمچہ گرم ہوگیا ہو، اور بے شک یہ ایک قسم کا التقاط ہے اگر یہ مبنیٰ ہو کہ ہم اس گروہ کے ساتھ منطقی بحث کرنا چاہیں تو ہم کو یہ کہنا چاہئے کہ اسلام کی اساس وبنیاد خداوندعالم کی پرستش اور عبادت ہے ، خدا وند عالم فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا کُلِّ اُمَّةٍ رُسُولاً اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰه وَاجْتَنِبُوا الطّٰاغُوتَ ) (۵)

”اور ہم نے تو ہر امت میں ایک (نہ ایک ) رسول اس بات کے لئے ضرور بھیجا کہ لوگو خدا کی عبادت کرو اور بتوں (کی عبادت) سے بچے رہو“

صرف اسلام ہی نہیں بلکہ ہر آسمانی دین کی بنیاد خداوندعالم کی خالصانہ عبادت وبندگی ہے۔

مگر ایک صاحب دین اور ایک مسلمان یا یھودی اورنصرانی اس کے علاوہ دین الہی سے اور کیا تصور کرسکتا ہے، ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اسلام تمام ادیان توحیدی کے ساتھ ان احکام کے علاوہ جو زمان اور مکان کے مناسب صادر ہوتے ہیں تمام کلیات اور اصول اعتقادی میں یکساں وبرابر ہے۔

اوراگر اس بارے میں کوئی اختلاف نظر آئے تو یہ اس تحریف کا اثر ہے جو بعض ادیان الہی میں کی گئی ہے، نتیجتاً اسلام میں سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ انسان خالص خدا کا بندہ ہو او رخداوندعالم اس حقیقت کو قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں بیان فرماتا ہے:

( وَمَا اُمِرُوْا اِلاَّ لِیَعْبُدُوْا اللّٰه مُخْلِصِیْنَ لَه الدِّیْنَ ) (۶)

”انہیں امر نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خداوندعالم کی کامل اخلاص کے ساتھ دین میں پرستش وعبادت کریں “

اور سورہ زمر میں ارشاد ہوتا ہے:

( اَلاَ لِلّٰه الدِّیْنُ الْخَالِصْ. ) (۷)

”آگاہ رہو کہ عبادت تو خاص خدا ہی کے لئے ہے۔

اور سورہ لقمان میں فرماتا ہے:

( وَمَنْ یُسْلِمْ وَجْهه اِلٰی اللّٰه وَهوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی. ) (۸)

”اور جو شخص خدا کے آگے اپنا سر(تسلیم) خم کرے او روہ نیکو کار (بھی) ہو تو بے شک اس نے (ایمان کی) مضبوط رسّی پکڑی“

اب جب انسان اپنے کو خدا کا بندہ سمجھتا ہے خدا کی بندگی کو سب سے زیادہ باارزش جانتا ہے اور اس نے اپنے کو مکمل طور سے خداوندعالم کے اختیار میں قرار دیدیا ہے تو وہ مطلق آزاد کا معتقد ہوسکتا ہے اور جس چیز کو اس کا دل چاہے اس کو اہمیت دے سکتا ہے؟ کیا یہ دونوں ایک دوسرے سے موافق اور سازگاری رکھتے ہیں ؟ اگر میں درحقیقت اسلام ِ حق کا عقیدہ مند ہوں اور یہ اقرار کرتا ہوں کہ خدا کا ایک دین ہے اور اس کو قبو ل کرنا چاہئےے اور میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ ایک خدا اور اسکی عبادت کروں اور تمام چیزوں کو اسی کے اختیار میں چھوڑدینا چاہئے اور اسی کے ارادہ کے تابع ہیں تو میں کس طرح مطلق طور پر آزاد رہنے کا معتقد رہ سکتا ہوں اور جس طرح چاہوں عمل کروں ؟ فکر کرنے کے یہ دو طریقے کس طرح ایک دوسرے سے ہم اہنگ ہوسکتے ہیں ، جو لوگ اس طرح کا ادّعا کرتے ہیں یا بے خبری کی بنیاد پر التقاط سے دوچار ہوگئے ہوں ، یا دل میں اسلام کا عقیدہ نہیں رکھتے ہیں یا دوسروں کو فریب دینے کی وجہ سے یہ ادعا کرتے ہیں یا اصلاً وہ اس بات کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتے ہیں کہ یہ دو نظریہ آپس میں ایک دوسرے سے ناسازگار ہیں ؟ اس صورت کے علاوہ میں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان ایک طرف تو یہ کھے کہ میں کاملاً اور میرا تمام وجود خدا کے ارادہ کا تابع ہے او رصرف اپنے لئے مطلق آزادی کا قائل ہو اور یہ کھے کہ جو میرا دل چاہے گا وہی انجام دوں گا۔

یہ طرز تفکریعنی انسان کے مطلق طور پر آزاد ہونے کا اعتقاد یورپ والوں کی فکر کی پیداوار ہے وہاں پر مسیحیت کے معتقد گروہ اپنے دین کا عقیدہ رکھتے ہوئے (شاید اپنے فطری لگاؤ کی بنیاد یا اپنے ماحول اور دینی تربیت کی وجہ سے اپنے دین سے دست بردار نہیں ہوتے) خاص دلیلوں اور استدلالوں کی وجہ سے یا چند اہم اعتراضوں کی وجہ سے انسان کے مطلق آزاد ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ، بے شک کوئی انسان بغیر کسی دلیل کے اس طرح کی بات نہیں کرسکتا، بلکہ ایک نقطہ سے اپنی بات شروع کرتا ہے اور اس طرح گفتگو کرتا ہے کہ جو دوسروں کے لئے جذّاب او رقابل قبول ہوتی ہے۔

مثال کے طورپر وہ کھتے ہیں کہ کیا ایک پرندہ کو پنجرہ میں بند کردینا اور اس پنجرہ کو لوہے کے پنجرہ میں رکہ دینا بہت ر ہے یا پرندہ کے اڑنے کے لئے پنجرہ کا دروازہ کھول د ینا بہت ر ہے؟کہ وہ جدھر چاہے چلاجائے، ظاہر ہے کہ پرندہ کو آزاد کردینا بہت اچھا ہے اور وہ بھی یھی چاہتاہے، اور اس کے بعد وہ کھتے ہیں کہ جس آزادی کے بارے میں ہم بحث کرتے ہیں اس سے مراد یھی آزادی ہے۔

ہمارے معاشرہ میں مکمل طور پر اسلامی قوانین ہوتے ہیں اس کے بعد ”ولایت فقیھ“ سے مربوط قوانین بھی اس میں رکھے جاتے ہیں ، اور ان کے اندر پارلیمینٹ کے بنائے ہوئے قوانین بھی رکھے جاتے ہیں اور اسی طرح ”مجمع تشخیص نظام “ اپنی جگہ پر مسلم ہے اورآخر میں ”شورای نگھبان“ وضع شدہ قوانین پر اظھار نظر کرتی ہے، اس طرح قوانین بنانا یقینا پنجرہ کو دوسرے پنجرہ کے اندر رکھنے کے مانند ہے! بہت رین قانون وہ ہے جو انسانوں کو جس طرح وہ چاہیں اس طرح عمل کرنے کی اجازت دیدے اور جس طرح چاہیں گفتگو کرنے کی اجازت دیدے، یعنی کلی طور پر وہ آزادانہ زندگی بسر کریں ؟ ! اور ظاہر سی بات ہے کہ پہلا قانون پنجرہ ہے او ردوسرا قانون آزادی ہے۔

اگر ہم دوسری ثقافتوں کے عقائد وافکار او رآراء کی مشکل سے دوچار ہوجائیں تو ایسے موقع پر اس چیز کی تاکید کرتے ہیں کہ ابتدا میں ہم کو ان کا ریشہ ڈھونڈنے کی کوشش کرنا چاہئے اس کے بعد یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ نظریات اسلامی نظریات سے سازگاری رکھتے ہیں یا نھیں ؟

اگراسلامی نظریات کے موافق ہیں تو قبول کریں اور اگر اسلامی نظریات کے مخالف ہیں تو ان کو چھوڑ کر اپنے دین کے اصول کی تلاش میں نکلنا چاہئے اور انہیں اصول کو اپنے عقائد اور نظریات کی بنیاد قرار دیں ۔

۶۔یورپ اور علم ودین کے ٹکراؤ کا دور ہونا

علم ودین سے ٹکراؤ کو حل کرنے کے لئے یورپی متدین حضرات نے دین کے دائرہ فرمانروائی میں شک کرتے ہوئے کچھ راہ حل پیش کئے اور اس شبہ کو بیان کیا کہ بنیادی طور پر علم وفلسفہ کی کو دین سے جدا بتایا ہے ، جب ہم یہ کھتے ہیں کہ فلسفی قدروقیمت، اخلاقی قدروقیمت اور یا انسانی قدر وقیمت دین کے ساتھ سازگار ہے یا نہیں یہ اس فرض کی بنا پر کھتے ہیں کہ دونوں ایک نقطہ پر مل جائیں چونکہ جب دو خط ایک دوسرے کی طرف مائل ہے تو ایک نقطہ پر وہ دونوں خط ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں لیکن اگر دو خط ایک دوسرے کے برابر ہوں مقابل میں ہوں تو کبھی بھی وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے، اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراؤ نہیں ہوگا چونکہ ان میں سے ہر ایک خط اپنے ہدف پر ختم ہوتا ہے جو اس کا دوسرے خط کے علاوہ مستقل ہدف ہے۔

وہ علم ودین کے ایک دوسرے سے رابطہ کی اس طرح وضاحت کرتے ہیں کہ دین اور علم، دین اور فلسفہ، دین اور عقل دین اور اخلاقی قدر وقیمت کے مابین صلح برقرار رکھنی چاہئے دوجھت اور دو مستقل حوزوں کو ان کے لئے ترسیم کرنا چاہئے یعنی حوزہ دین علوم کے دوسرے حوزوں سے جدا ہے او رحوزہ دین کا ارتباط خدا سے ہوتا ہے اور جو کچھ اس ارتباط سے پیدا ہوتا ہے جیسے نیائش، نماز ، دعا او رکچھ شخصی مسائل ان کا دوسروں سے کوئی ربط نہیں ہوتا ، اس سلسلہ میں نہ علم کو کوئی دخالت ہے نہ فلسفہ کو او رنہ کسی دوسرے عامل کو کوئی دخالت ہے یہ تو صرف اور صرف دل سے مربوط ہوتا ہے او راگر کوئی چیز اس حوزہ میں دین کے ساتھ شریک ہوگی تو وہ عرفان ہے چونکہ دین اور عرفان دونوں ایک مقولہ سے ہیں اور دونوں کا ایک ہی کاسہ سے پانی پیتے ہیں ، نتیجتاً علم، فلسفہ اور عقل کا دین سے کوئی ربط نہیں ہوتا بلکہ ان تینوں کا فرمانروائی میدان ایک دوسرے سے الگ الگ ہے اور ہر ایک کے اپنے خاص وسائل ہوتے ہیں ۔

لیکن حوزہ اخلاق میں وہ قدروقیمت اور وہ چیزیں جن کوانجام پانا چاہئے یا وہ چیزیں جن کو انجام نہیں پانا چاہئے ،یہ چیزیں خدا سے مربوط ہیں جیسا کہ کیا نماز پڑھی جانی چاہئے یا نھیں ؟ یہ دین سے مربوط ہے اور اس سلسلہ میں علم سے کوئی معارضہ نہیں ہے، لیکن اگرکچھ چیزوں کو انجام پانا چاہئے او رکچھ چیزوں کو انجام نہیں پانا چاہئے یہ انسانی کی اجتماعی زندگی سے مربوط ہوتی ہیں جیسا کے چور کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہئے؟ کیا اس کو مجازات دینا چاہئے یا نھیں ؟ کیا خیانت کرنے والے اور گناہ کار شخص کو اس کی سزا دینی چاہئے یا نھیں ؟ اس سلسلہ میں خاص طور سے یہ کھا جاتا ہے کھ: جو شخص کسی جرم اور خیانت کا مرتکب ہوتا ہے وہ بیمار ہے اس کا علاج ہونا ضروری ہے اور نرمی اور محبت کے ساتھ اور مناسب مقام پر اس کا علاج کرنا چاہئے اور اس کی نگرانی کرنا چاہئے تاکہ وہ اس خیانت سے دست بردار ہوجائے۔

ہم دنیا کے کسی ملک میں کسی ایسی جگہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتے کہ جہاں خیانت کرنے والے او رگناہ کار کے ساتھ بیمار جیسا برتاؤ کیا جاتا ہو اور اس کو سزا نہ دی جاتی ہو لیکن پریکٹیکل کے میدان میں وہ یہ کھتے ہی کھ: خیانت کرنے والوں کو سزا نہیں دینی چاہئے اور اصل میں انسان کو سزا دینا یہ اس کی شایان شان نہیں ہے،اور نہ ہی انسانی کرامت سے سازگار ہے اور کلی طور پر یہ بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ انسان سب سے برے ظلم کا مرتکب ہی کیوں نہ ہوجائے اس کو مطلق طور پر سزا نہیں دی جاناچاہئے اس لئے کہ انسان سے اس طرح کا برتاؤ کرنا اسکی شان اور مرتبہ کے خلاف ہے ، اس نظریہ کے مقابل ہم مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ دین زندگی کے تمام امور میں حق دخالت رکھتا اور اس نے قانون بیان کردیا ہے کہ

( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَیْدِیْهما )(۹)

”چور مرد اور چور عورت کے ھاتہ کاٹ دئے جائیں “

اجتماعی مسائل کو دین سے جدا کرنے والے کھتے ہیں کہ دین کو ان چیزوں کے بارے میں دخالت کرنے کا کوئی حق نہیں ، دین تو صرف اور صرف یہ کھتا ہے کہ نماز پڑھو یا یہ کھہ سکتا ہے کہ خداوندعالم سے کس طرح دعا کی جائے لیکن یہ کہ ایک گناہ کار سے کس طرح پیش آیا جائے اس کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے اور یہ امر بھی تسلیم شدہ ہے کہ اس بارے میں علم تجربی کا بھی کوئی دخل نہیں ہے اس لئے کہ تجربیات ان صفتوں کا ایسا سلسلہ ہے کہ جو آشکار طور پر عینی چیزوں کے رابطہ کو بیان کرتا ہے، دوسرے الفاظ میں علم موجودہ چیزوں کے بارے میں بیان کرتا ہے لیکن علم” کن چیزوں کو انجام دیا جائے یا کن چیزوں کو انجام نہ دیا جائے“ بیان کرتا ہے ،احکام ِ ارزشی کو بیان کرنا علم کا کام نہیں ہے، لھٰذا اخلاقی اوراجتماعی مسائل چاہے وہ حقوقی قوانین ہوں یا مدنی اور کیفری قوانین یہ تمام صرف اخلاقی مسائل ہیں اور ان میں صرف یہ بیان ہوتا ہے کہ کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں ہونا چاہئے، ان میں نہ دین دخالت رکھتا ہے اور نہ علم (علم سائنس اور علم تجربی)دخالت رکھتا ہے۔

۷۔اسلام اور آزادیخواہ مکتب میں عوام الناس کی اہمیت

جب اخلاقی قدر وقیمت ،کن چیزوں کو انجام دینا چاہئے اور کن چیزوں کو انجام نہیں دینا چاہئے ان مسائل میں دین کا کوئی دخل نہیں ہے، اور نہ ہی علم کی کوئی دخالت ہے، تو یھاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مسائل میں کس کو حق دخالت ہے؟ آج کل کے دور میں یورپ کی ثقافت میں اس سوال کا یہ جواب دیا جاتا ہے ہے کہ قدروقیمت ،کن چیزوں کوانجام دینا چاہئے او رکن چیزوں کو انجام نہیں دینا چاہئے ،یہ اعتباری امور ہیں یہ خاص اہمیت کے حامل نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کے بارے میں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ عوام الناس کیا چاہتی ہے؟ ان کے نقطہ نظر سے کون چیزیں انجام دینا چاہئے او رکن امور کو انجام نہیں دینا چاہئے ، ان کی قدر وقیمت یہ سب اعتباری چیزیں ہیں یعنی ان کی بنا حقائق عینی، خارجی اور نفس الامری پر نہیں ہے، یہ تو صرف عوام الناس کے سلیقہ پر موقوف ہےں ، اب ہم کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے تو نہ دین کی تلاش کرنا چاہئے ، نہ علم کے پیچھے دوڑنا چاہئے اور نہ ہی فلسفہ کی تلاش کرنا چاہئے بلکہ عوام الناس سے سروکار رکھنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔

قانون گذاری کے بارے میں یورپی جمہوریت کی بنیاد اس چیزپر استوار ہے کہ عوام الناس کی خواہش (طلب) کے علاوہ کسی اور واقعیت کا کوئی وجود نہیں ہے کہ انجام دینے والی چیزیں اور نہ انجام دی جانے والی چیزیں اس کی بنیاد پر کشف کیا جائے۔

مادی امور میں انجام دینے والے امور اور انجام نہ دئے جانے والے امور یہ سب امور تجربی کے دائرہ میں شامل ہیں اور علوم تجربیات سے مربوط ہیں جن کو تجربہ گاہ میں ثابت کیا جاتا ہے، لیکن خدا سے ارتباط کے وقت جن امور کو انجام دینا چاہئے اور جن کو انجام نہیں دنیا چاہئے یہ سب دینی دائرہ سے مربوط ہوجاتے ہیں اور جو کچھ دین کھے گا اس کو بجالانا چاہئے اور ان کا علم سے کوئی مطلب نہیں ہے، لیکن جن امور کو انجام دینا چاہئے او رجن امور کو انجام نہیں دینا چاہئے یہ خود انسانوں کی اجتماعی زندگی سے مرتبط ہوتے ہیں نہ ان میں خداوندعالم کو دخالت کرنے کا حق ہے اور نہ ہی علم ان کو معین ومشخص کرسکتا ہے۔

اگر آپ یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ یورپ میں عوام الناس کی رائے اور عمومی آراء پر اعتماد کیا جاتا ہے تو یہ وہاں کی موجودہ خاص ثقافت کی اساس وبنیاد کی وجہ سے ہے، اب اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ دین، انسان کی زندگی کے تمام امورکوشامل ہوتا ہے،اور ہمارے وہ تمام امور جو ہماری زندگی سے مربوط ہیں کہ ہم کو کون سے کام انجام دینے چاہئے اور کون سے کام انجام نہ دینے چاہئے انہیں خدا وندعالم سے حاصل کرنا چاہئے، اور اس بارے میں ہم کو عوام الناس کی رائے کا تابع نہیں ہونا چاہئے، اگر خدوند عالم کسی چیز کو معین فرمادے اور اس کے انجام دینے کا حکم صادر فرمادے لیکن عوام الناس کی طلب دوسری ہو تو اس میں کون معتبر ہوگا؟

تمام معاشروں میں عوام الناس کی طلب اور دین میں بیان ہونے والے احکام کے مابین کم وبیش تضاد پایا جاتا ہے، تحریف ہونے والے تمام ادیان سے ہمارا کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ ہماری بحث تو ان ملکوں سے ہے جن میں اکثر افراد مسلمان ہیں ، اور وہ کسی دین کے پیروکار ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے تمام امور میں خواہ وہ فردی ہوں یا اجتماعی گھریلوں مسائل ہوں یا بیوی کے انتخاب کا مسئلہ یا اولاد کی تربیت کی بات ہو، یا اجتماعی اور بین الاقوامی مسائل ہوں ،تو کیا اس صورت میں وہ افراد یہ کھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ہم نے اس دین کو تسلیم کرلیا ہے درحالیکہ ان کا ادعا ہے کہ قانون کے معتبر ہونے کا معیار وملاک عوام الناس کی رائے ہے؟ کیا وہ کم سے کم ان دونوں کو اس صورت میں بھی تسلیم کرسکتے ہیں جہاں پر دونوں میں تعارض ہو؟

لیکن افسوس آج ہمارے نشریات میں جو کچھ غرب (یورپ) میں ہورہا ہے وہ رواج پارہا ہے جب ایک دین میں ہم جنس بازی کو سب سے بری چیز بتلارہا ہے تو خدانحواستہ اگر عوام الناس ہم جنس بازی کے جائز ہونے کے حق میں ووٹ دیں تو کیا عوام الناس کی مرضی اور مانگ کو دین پر مقدم کرتے ہوئے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟! اور کیا حقیقت میں یہ دونوں ایک ساتھ جمع ہوجائیں گے؟ یورپ کی دنیا نے دین اورعوام الناس کی خواہش کے مطابق متضاد مسائل کو حل کردیا ہے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل دین کو دخالت کرنے اور عوام الناس کی خواہش کونظرانداز کرنے کا کوئی حق نہیں ہے دین کا تعلق کلیسا سے ہوتا ہے جہاں پر افراد اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کچھ دعا وغیرہ کرنے سے افراد کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جس کے بعد کلیسا ان کو بھشت کے لئے روانہ کردیتا ہے، لیکن اجتماعی مسائل سے دین کا کوئی تعلق نہیں ہے، اجتماعی مسائل کو تو صرف عوام الناس کی رائے ہی مشخص ومعین کرسکتی ہے، کناڈا میں نئے مذہبی فرقے کی بنیاد ڈالنے والے کشیش (عیسائیوں روحانی پیشوا) سے ایک ٹی وی پروگرام میں سوال کیا گیا کہ ہم جنس بازی کے بارے میں آپ کے مذہب کا کیا نظریہ ہے؟ اس نے جواب دیا: میں فوراً تو اپنا قطعی نظریہ نہیں دے سکتا لیکن اتنا کھہ سکتا ہوں کہ انجیل کا سرے سے مطالعہ کرنا چاہئے!!

۸۔اسلام اور یورپ میں جمہوریت اور قانون گذاری کا مرجع

قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یورپین لوگوں نے دین اور اجتماعی مسائل کو جدا کرکے اپنا من پسند راہ حل تلاش کرکے دین اورعوام الناس کے مابین تعارض کا حل ڈھونڈنکالا، کیا ہم بھی اسلام کے ماننے والے اس طرح کے راہ حل کی تلاش میں ہیں ؟ یہ وہی اندیشہ (فکر)ھے جو ”سیکولاریزم“ کے نام سے مشہور ہے یعنی دین کو مسائل اور زندگی کے امور سے جدا کرنا چاہے وہ اجتماعی ،حقوقی سیاسی، اور گھریلو ہی مسائل کیوں نہ ہوں ، کچھ افراد اس بارے میں ”ایرانی ثقافت کی خدمت“ کی وجہ سے دسیوں تقریروں اور متعدد مضامین میں یہ بیان کیا کرتے ہیں کہ دینی کا دائرہ ، سیاست ، اجتماعی ،حقوقی اور اقتصادی مسائل سے جدا ہے اور اس بارے میں رات دن محنت کیا کرتے ہیں ، تو کیا ہم بھی ایسا ہی عقیدہ رکہ سکتے ہیں ؟ اگر ہمارا ایسا عقیدہ نہیں ہے تو ہم کو توجہ رکھنا ہوگی کہ ہم ان کے دھوکہ میں نہ آئیں اور یہ جان لیں کہ جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں وہ ہمارے عقیدہ کے ہم اہنگ نہیں ہے اور اس بات کی طرف بھی توجہ رکھنا ہوگی کہ خواستِ خدا اور عوام الناس کی طلب کے مابین معارضہ ایجاد ہوجائے تو جو کچھ دین خدا نے معین کیا ہے ا سکو اپنائیں اور حقیقت میں خدا کی مرضی کو مقدم کریں ۔

البتہ حقیرتکالیف کو مشخص ومعین کرنے کا قصد نہیں رکھتے کہ افراد ہمارے بیان سے آزادی کے خلاف کوئی مطلب نکالیں لیکن ان کو منتخب کرنے غوروفکر او ردقت سے کام لے کر آگاہ اور آزاد طور پر کسی چیز کو منتخب کرنا چاہئے ان کو متوجہ رہنا چاہئے کہ آج کل جو ”قانون گذاری میں جمہوریت“ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے یعنی عوام الناس کی طلب کو خدا کی مرضی اور طلب پر مقدم رکھنا یعنی دین اور خواست خدا کا ایک طرف رکہ دینا، اگر عوام الناس کسی چیز کو منتخب کرنا چاہتے ہیں تو ان کو متوجہ رہنا چاہئے کہ وہ ان کے چنگل میں نہ پہنس جائیں کہ اسلام کو تو مجموعہ مقررات وقوانین برحاکم جامعہ کے عنوان سے قبول کرلیں اور قانون گذاری میں جمہوریت کو قبول کرلیں ، درحقیقت یہ دونوں ایک دوسرے سے سازگار نہیں ہیں ۔

جو افراد عوام الناس کو دھوکہ دینے، معاشرہ میں التقاط رائج کرنے اور بحث کو مخلوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں وہ میری تقریروں اور مثالوں سے بہت زیادہ پریشان حال ہوجاتے ہیں چونکہ ان کی نیت اور ان کے سازش کا راز فاش ہوتا ہے اس لئے وہ پریشان ہوتے ہیں البتہ کچھ افراد کو سیاسی اغراض ومقاصد کی وجہ سے میری باتیں اچھی نہیں لگتیں ، لیکن یہ باتیں چاہے کسی کو اچھی لگیں یا بری، ہم اپنی زندگی کے آخری لمحے تک دین اسلام کے احکام کوبیان کرنے میں کوئی دریغ نہیں کریں گے، او ردین اسلام کی حمایت میں اپنی تمام کوششیں صرف کردیں گے، اور تمام ناگوار واقعات کو اپنے لئے برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہیں نہ کسی دھمکی سے ڈرتے ہیں ، اور اور نہ کسی کے دھوکہ میں آتے ہیں ۔

ہم یھاں پر احکام کو قطع وجزم دینے کا ارا دہ نہیں رکھتے لیکن یہ یاد دھانی کرادینا چاہتے ہیں کہ عوام الناس ہوشیار رہیں اور واقعیات کو حاصل کرنے کی خاطر اپنی عقل سلیم کو کام میں لائیں یورپ والوں کی باتوں اور ان کے مفاہیم سے دھوکہ میں آنے سے ہوشیار رہیں ، کھیں ایسا نہ ہو کہ اپنے دین سے ھاتہ دھوبیٹھیں ، ضروری ہے کہ نظریات وآراء کے جومبانی بیان کئے جاتے ہیں ان کی معرفت حاصل کریں ۔

مثال کے طور پر جب یہ کھا جاتا ہے کہ قانون کو تسلیم کرنے کا معیار عوام الناس کی خواہش اور ان کی مانگ ہے اور ”قانون گذاری میں جمہوریت“ کو بیان کیا جاتا ہے تو ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ کیا انسان کو صرف یھی بدن عطا کیا گیا ہے، اور ایک مادی زندگی دی گئی ہے اور اس کو حیوان کا مجسمہ بناکر بھیجا گیا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تواس صورت میں تو عوام الناس کو قانون گذاری کا حق ہے جیسا کہ اسی نظریہ کو یورپین لوگوں نے تسلیم کررکھا ہے، یا جیسا کہ اسلامی نظریات میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان مادی بند کے علاوہ وہ بلند وبالا مقام اور روحانی اور معنوی اہمیت کا بھی حامل ہے تواس بنیاد پر قانون گذاری میں مادی مصلحتوں ، نظم اور اجتماعی امنیت کی رعایت کے علاوہ معنوی مصلحتوں کی بھی رعایت کرنا ضروری ہے، اس صورت میں انسان خدا کے ارادہ کا تابع ہوگا اور قانون کا معیار وملاک خداوند عالم کی مرضی ہوگی۔

اس بات کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ کیا واقعاً انسان مادی اور حکمت ماوراء الطبیعة سے بالا ایک معنوی پہلو بھی رکھتا ہے یا نھیں ؟ کیا انسان مادی بدن اور حیوانی خصلتوں کے علاوہ کوئی اور پہلو بھی رکھتا ہے ،تاکہ وہ اسی اساس وبنیاد پر خداوند عالم سے ارتباط برقرار رکہ سکے؟ کیا واقعاً مرنے کے بعد انسان کے لئے کوئی اور دوسری زندگی بھی ہے؟ کیا واقعاً اس مادی زندگی اور مرنے کے بعد والی زندگی کے مابین کوئی رابطہ ہے؟ مسلمانوں اورمتدین افراد کے لئے ان سوالات کے جوابات واضح ہیں ۔

لیکن ہم کو یہ غور وفکر کرنا چاہئے کہ ہمارے سیاسی اور اجتماعی رجحان کو ہمارے اعتقاد کے ہم اہنگ ہونا چاہئے اورہماری فکر واندیشہ اور عمل میں التقاط ظاہر نہیں ہونا چاہئے، اگر واقعاً ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خدا ہے، قیامت ہے، اور حساب وکتاب درکار ہے توہم کو یہ واضح کرنا ہوگا اور اس قطعی نتیجہ پر پہونچنا ہوگا کہ ایک حقیقت میں غیر خدائی قانون (کو عوام الناس کی طلب کے معیار قانون ہے) پر عمل کرنا ہماری ابدی آرامگاہ میں منفی اثر رکھتا ہے یا نھیں ؟ یہ سوال وجواب قطعی ویقینی طور پر ہونے چاہئےں چونکہ شک وتردید سے مشکل حل نہیں ہوتی اور نہ ہی اس بارے میں شک کرنا عقلمندی کا کام ہے۔

یورپ میں یہ مسئلہ حل ہوچکا ہے وہ بھی بڑے عجیب وغریب انداز میں یا توعالم غیر مادی اور معنوی کا انکار یا افکار واندیشہ کو شک واحتمال وتردید میں قرار دینا اور ذہنوں میں یہ ڈالنا کہ کن امور کو انجام دینا چاہئے او رکن کاموں سے اجتناب کرنا چاہئے، ان امور کی ارزش و اہمیت عینی اور خارجی حقائق پر مبنی نہیں ہے جو ان کو متعلق یقین قرار دیا جائے یہ تو صرف اعتباری اور قراردادی چیزیں ہیں جن کی بناعوام الناس کی خواہش ہے بقیہ ان کا دین سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور اسی وجہ سے ہمارے وہ روشن فکر افراد جن پر یورپ والوں کا سایہ پڑگیا وہ ان مطالب کو اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں اور ہمارے عزیز نوجوانوں کے حوالے کردیتے ہیں جس کی وہ مذہب شک گرائی اختیار کرلیتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں !! لیکن دین کے نقطہ نظر سے یہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے بلکہ ہم کو شک وتحیر اور تردید سے باہر نکلنا چاہئے اور آگاہی اور یقین کے ذریعہ صرف ایک ہی راستہ کو منتخب کرنا چاہئے جیسا کہ قرآن کریم کے ابتدا ہی میں یقین کی تاکید کرتا ہونا نظر آرہا ہے اور فرماتا ہے:

( وََبِالآخِرَةِ همْ یُوْقِنُونَ ) (۱۰)

”متقین وہ لوگ ہیں جو عالم آخرت پر یقین رکھتے ہیں “ قرآن کریم ”یشکّون“ نہیں فرمارہا ہے ،اب اگر کوئی قرآن کریم سے استفادہ کرنا چاہتا ہے تو ا سکو عالم آخرت پر یقین رکھنا ہوگا اور قرآن کریم دوسری جگہ پر فرماتا ہے:

( وَفِی الا رْضِ آیَاتٌ لِلْمُوْقِنِیْنَ. ) (۱۱)

”اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (قدرت خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں “

دوسری طرف یورپی ثقافت سے متاثر افراد کھتے ہیں کہ انسان کسی مسئلہ میں بھی منطقی طور پر یقین پیدا نہیں کرسکتا، اور خاص طور سے جو مسائل ماوراء مادہ سے مربوط ہوتے ہیں ان میں تو انسان کو یقین ہوہی نہیں سکتا، قرآن کریم انسان کے لئے جس انحتاط اور پستی کی حالت کو بیان کرتا ہے وہ شک وتردید کی حالت ہے قرآن مجید فرماتا ہے :

( فَهمْ فِی رَیْبِهم یَتَرَدَّدُوْنَ ) (۱۲)

”تو وہ اپنے شک میں ڈانو اڈول ہورہے ہیں (کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں “

اور اسی طرح قرآن کریم ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

( اَءُ نْزِلَ عَلَیْه الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا بَلْ همْ فِی شَکٍّ مِنْ ذِکْرِیْ ) (۱۳)

”کیا ہم سب لوگوں میں بس (محمد ہی قابل تھا کہ) اسی پر قرآن نازل ہوا ، نہیں بات یہ ہے کہ ان کو (سرے سے)میرے کلام ہی میں شک ہے کہ میرا ہے یا نہیں “

قرآن کریم ہم کو خاص طور سے اصول دین یعنی خدا ، عدل، نبوت ، امامت اور قیامت کے بارے میں اہل یقین میں سے ہونا چاہتا ہے، اب ہم کو ان دو راستوں میں سے ایک راستہ کو منتخب کرنا چاہئے یا اس راستہ کو اختیار کرنا چاہئے جس میں انسان بنیادی طور پر ہی یقین تک نہیں پہونچتا، اور ہمیشہ شک وتردید کی حالت میں دوچار رہتا ہے، یا اس مذہب کو منتخب کرنا چاہئے جو ہم کو انتخاب ِ آگاہانہ اور یقین کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے جب تک اہل یقین نہ ہوؤ گے کتاب خدا سے استفادہ نہیں کرسکوگے۔

ان دونوں ثقافتوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے ایک انسان کے لئے سب سے بری شک وتردید اور حیرت کی حالت کو جانتا ہے اور انسان کو شک وتردید میں اس شخص کے مانند گرفتار کردیتا ہے جو خوفناک اور بھیانک جنگل میں پہونچ گیا ہو اور جو شخص بھی اس کو کسی طرف بلانا چاہے وہ اس راستہ کو اسی حیرانی وپریشانی میں منتخب کرلیتا ہے اس کے برعکس یورپی ثقافت میں شک وتردید کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے ،ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جب تک انسان اہل حیرت وشک نہ ہو اس وقت تک وہ انسان نہیں ہوسکتا ہے، نتیجہ کے طور پر انسان کو ان دونوں میں سے ایک راستہ قبول کرنا ہوگا، اسلام کو یا اس ثقافت کو جس میں حیرت وشک کو بہت رین چیز بتایا جاتا ہے، لیکن ان دونوں راستوں کو ایک ساتھ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے جس طریقہ سے یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب دن بھی ہے اور رات بھی، اور اسی طرح توحید ، تثلیث(تین خداؤں کو ماننا) بھی ایک عقیدہ میں نہیں سماسکتے ہیں ۔

۹۔ جوانوں کے لئے ایک نصیحت

میرے وہ پیارے نوجوان جو علمی اعتقادات پیدا کرنے کی فکر میں ہیں واضح اہل فکر ہونا چاہتے ہیں او راہل تقلید ہونا پسند نھیں ں کرتے، ان کے لئے میری نصیحت یہ ہے کہ وہ پہلے ان سیاسی مسائل کو حل کریں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اہل شک ہوں یا اہل یقین، دین کی پیروی کریں یا سیکولریزم رہیں ، خدا پرست بنیں یا ہر قسم کی عبودیت سے آزاد یھاں تک کہ خدا کی عبودیت سے بھی آزادی چاہتے ہیں ، ان کے لئے ان دونوں راستوں میں سے ایک راستہ کا اپنانا ضروری ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کبھی اس راستہ پر چلیں اور کبھی دوسرے راستہ پر چل پڑےں ، کبھی ان کی باتوں کو قبول کریں اور کبھی دوسروں کی باتوں کو قبول کریں ، اس طرح کا رویہ بہت خطرناک ہے، اور ہماری عاقبت کفر کی حالت اور ابدی عذاب جھنم کا باعث بن جائے۔اگر ہم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں اور اس کی حقانیت کو قبول کرتے ہیں تو کیوں انسان کی مطلق آزادی کو تسلیم کریں ؟! کس طرح ہم دین کے بھی معتقد ہوسکتے ہیں اور لیبرالیزم اور سیکولریزم کے بھی؟ اس طرح کا عقیدہ رکھنا ناممکن ہے، کسی بھی بلند وبالا راستہ کو منتخب کرنے سے پہلے کچھ چیزوں کو فرض کرکے ان کے بارے میں بحث کرنا چاہئے جیسے یہ کہ کیا ہم کو انسان کو ایک موجود مادی سمجھیں اور اس کی سعادت کو صرف حیوانی لذتوں میں تلاش کریں ، آزادی کا مطلب صرف خواہشات نفسانی بیان کریں ؟ یا یہ کہ انسان کی انسانیت ماوراء مادہ کے لئے ایک جو ہر ہے،روح الہی ہے، اور بدن صرف روح کو کامل کرنے کا وسیلہ ہے اور ہماری حقیقی زندگی ابدی زندگی ہے جیسا کہ خداوندعالم نے فرمایا ہے:( وَاِنَّ الدَّارِ الآخِرَةَ فَهیَ الْحَیْوَانُ ) (۱۴)

”اور اگر یہ لوگ سمجھیں بوجھیں تو اس میں شک نہیں کہ ابد ی زندگی (کی جگھ) تو بس آخرت کا گھر ہے (باقی لغو)“اور دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے :

( وَمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا اِلاّٰ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ. ) (۱۵)

”اور دنیا کی(چند روزھ) زندگی دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں ہے.“

اگر جہان آخرت ہماری اصلی اور حقیقی زندگی ہے تو دنیا میں ہم کو اپنی توجہ اور ہمت اس چیز میں صرف کرنی چاہئے جو ہم کو بڑی سعادت تک پہونچائے یہ ان مذاہب کے برعکس ہے جن کا عقیدہ ہے کہ اُخروی سعادت دنیا کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی ہے او راگر کوئی شخص آخرت میں سعادت کا خواہاں ہے تو اس کو دینا میں گوشہ نشینی اختیار کرنا چاہئے اور دنیا سے بہت کم استفادہ کرنا چاہئے، خوشبختانہ بڑی اقبال مندی کی بات ہے کہ دین اسلام دنیا

وآخرت کی سعادت کو ایک جگہ جمع ہوناممکن جانتا ہے اور معتقد ہے کہ انسان خاص طور سے زندگی میں سعادت دنیا کو بھی حاصل کرسکتا ہے اور سعادت ابدی آخرت کو بھی حاصل کرسکتا ہے۔

حوالہ

۱۔سورہ آل عمران آیت ۶۴

۲۔سورہ عنکبوت آیت ۴۶

۳۔سورہ نساء آیت ۱۷۱

۴۔سورہ مریم آیت ۹۰

۵۔سورہ نحل آیت ۳۶

۔۶۔سورہ بینہ آیت ۵

۷۔۔سورہ زمر آیت ۳

۸۔۔سورہ لقمان آیت ۲۲.

۹۔سورہ مائدہ آیت ۳۸

۔۱۰سورہ بقرہ آیت ۴

۱۱۔سورہ ذاریات آیت ۲۰.

۱۲سورہ توبہ آیت ۴۵

۱۳سورہ ص آیت ۸.

۱۴سورہ عنکبوت آیت ۶۴

۱۵سورہ آل عمران آیت ۱۸۵.


تیرہواں جلسہ

قانون کے سلسلے میں اسلام اور یورپ کے درمیان بنیادی فرق

۱۔گذشتہ مطالب پرایک نظر

جیسا کہ گذشتہ جلسوں میں بیان کیا جا چکا ہے کہ ہماری بحث کا موضوع اسلام کے سیاسی نظریہ کو بیان کرنا ہے، اور اس نظریہ کو بیان کرنا کچھ وضع شدہ اصول اور کچھ مقدموں پر مبنی ہے کہ جن کی بنیادپر ہماری بحث قائم ہوئی ہے اور ہم سب سے اہم مقدموں کو مدنظر رکھتے ھنئے اپنی بحث کو آگے بڑھائیں گے اور وہ تین مقدمہ درج کئے جارہے ہیں :

۱۔ انسان کی اجتماعی زندگی بغیر قانون کے مکمل نہیں ہوسکتی، یعنی انسان کی اجتماعی زندگی کے لئے قانون کی سخت ضرورت ہے۔

۲۔قانون کو قانون گذاری کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے مناسب قوانین کو وضع کر کے قانون کے اغراض و مقاصد کو مکمل کیا جاسکے۔

۳۔قانون کو بنائے جانے کے بعد اس پر عمل درآمد کرانے کے لئے ایک طاقت کا ہونا ضروری ہے کہ اگر کوئی قانون کی مخالفت کر نا چاہے تو اس کو قانون کا پابند بنانے کےلئے اس طاقت کا استعمال کیا جائے۔

ھر ایک معاشرہ کیلئے قانون کا ہونا ضروری ہے اس موضوع کے بارے میں ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ہر زمانہ میں تقریباً تمام انسانوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے اور شاید بہت کم ہی ایسے اسلامی محقق ہوں گے جو معاشرہ کیلئے قانون کے قائل نہ ہوئے ہوں ، البتہ کچھ گنے چنے افراد کا یہ عقیدہ ہے کہ اخلاقی قدر وقیمت کا ہونا ہی معاشرہ کو قوانین حقوقی سے بے نیاز کردیتا ہے۔

لیکن یہ ایک نمونہ آئیڈیل اور آرزو ہی ہے اور ہر گز تاریخ میں کوئی ایسا اتفاق پیش نہیں آیا کہ تمام افراد اخلاقیات پر ہی گامزن ہوگئے ہوں اور مستقبل میں بھی کسی ایسے وقت کا امیدوار نہیں رہا جاسکتاکہ تمام افراد ااخلاقی اصولوں کی اس طرح رعایت کریں کہ پھر ان کو حقوقی قوانین کی ضرورت نہ رہے، لھٰذا ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ وہ تمام محققین جو اسلام کے سیاسی نظریہ کو بیان کرنے کا قصد رکھتے ہیں ان سب نے قانون کی اصل ضرورت کو تسلیم کیا ہے اور ہم اس بارے میں جس مسئلہ پر بحث کرکے ایک دوسرے کی موافقت چاہتے ہیں وہ مسئلہ یہ ہے کہ جس قانون کو ہم معاشرہ میں رائج کرنا چاہتے ہیں اس قانون کی کیا خصوصیات ہیں ؟یعنی ہم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ اصل قانون کی ضرورت ہے لیکن کیا معاشرہ میں بیان ہونے والے ہر قانون کا ہونا کافی ہے اور وہ معاشرہ کو فلاح و بھبود تک پہونچاسکتا ہے یا ایسا نہیں ہے، بلکہ بہت ر قانون کو خاص خصوصیات کا متحمل ہونا چاہیے؟ ہم اس بارے میں مختلف نظریات کو بیان کر چکے ہیں :

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ قانون کو عادلانہ ہونا چاہئیے اس صورت میں قانون کی خاصیت اس کا اصول عدالت پر مبنی ہونا چاہئیے، کچھ دوسرے افراد کھتے ہیں کہ قانون کو مصالح اجتماعی کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہونا چاہئیے، اور آخر میں تیسرے گروہ کا کہنا ہے کھ: قانون صرف معاشرہ کے نظم و امنیت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے ہوتا ہے، یورپ میں ان تین نظریوں کو سب سے مشہور و معروف نظریے ماناجاتا ہے۔

اس کے برخلاف خدا پرستوں کے نظریہ مخصوصاً ا سلام کے ماننے والوں کے نظریے، جو کھتے ہیں کہ قانون کو انسانوں کی دنیوی اور اخروی مصالح کا حامل ہونا چاہئیے، صرف لوگوں کی خواہش، نظم اور امنیت کا خواہاں نہیں ہونا چاہئیے بلکہ قانون کو ایسا ہونا چاہئیے جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی مصلحتوں کو مدّ نظر قرار رکھتا ہو، قانون ایسا نہ ہو کہ جس سے معاشرہ کی تمام مصلحتیں چاہے و ہ مادی اعتبار سے ہوں یا معنوی اعتبار سے چاہے دنیوی اعتبار سے ہوں یا اخروی اعتبار سے یہ سب خطرہ میں پڑ جائیں ، یعنی اگر قانون ان مصلحتوں میں سے کسی ایک مصلحت کے لئے خلل بن رہا ہو ، تو وہ قانون بے کار ہے، اور وہ انسان اور معاشرہ کی ضروتوں کو پورا نہیں کرسکتا، اس بارے میں بہت زیادہ بحث کی جا چکی ہےں ، لیکن اب بھی کچھ تحصیل کرنے والے گروہ اور صاحب نظر افراد کے اذہان عالیہ میں شبھات باقی رہ گئے ہیں لھٰذا اس مسئلہ کوخصوصی توضیح دینا ضروری و لازم ہے۔

۲: فردی آزادی اور قانون کے درمیان رابطہ

آجکل ریڈیو، ٹیلیویژن، اخباروں اور تقریروں میں اس نکتہ پر بہت زیادہ تاکید کی جارہی ہے کہ فردی آزادی اتنی اہم ہے کہ جس کو کوئی قانون محدود نہیں کر سکتا، اور ان آزادیوں میں کسی شخص کو رخنہ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہوتا یعنی فردی آزادیوں کی حفاظت کرنا یہ قانون سے بالاتر ہے اور جو قانون فردی آزادیوں میں مانع ہوتو ایسے قانون کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اب ہمارے لئے اس نظریہ کی تحقیق و جستجو کرنا لازمی ہوگیا ہے تاکہ ہم اس کی تحقیق و جستجو کے بعد اس سے منطقی اور علمی نتیجہ حاصل کر سکیں درحقیقت یہ طرز فکر یورپی ثقافت کی پیداوار ہے جسکو ہم بالکل پسند نہیں کرتے، اور اس سے اجتناب کرتے ہیں اور ہمارے حکومتی ذمہ دار حضرات نے معاشرہ میں اس طرح کی ثقافت کے رائج ہونے سے خبر دار کیا ہے، ہم اصلی بحث کو بیان کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر کچھ موضوعات کو بیان کر رہے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ اسلام کے نظریات آسانی سے مل جائیں گے۔

یورپی ثقافت کی بنیادکچھ عناصر پر ہے اور انسان مداری یا انسان محوری کی طرف جھکاؤ کو اس ثقافت کا سب سے پہلا،اور اصلی وبنیادی عنصر مانا جاتا ہے، یورپ میں ”ھیومانیزم“( Humanism ) درمیانی صدیوں کے آخری زمانہ کے مشہور و معروف رائیٹر اور ادباء جیسے اٹلی کے ”ڈانٹا“ کے ذریعہ ایجاد ہوئی، درحقیقت یہ نظریہ مسیحیت سے پہلے موجود تھا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عیسائیت مشرقی ممالک اور فلسطین میں پھیلی ، قبل اس کے کہ عیسائیت یورپ میں پہونچے ، یورپی معاشرہ بت پرست تھا، اور اس زمانہ کے سب سے اہم امپراطور (روم کے پادشاہوں کے القاب) رومی تھے جس میں شرقی روم (موجودہ ترکی) اور غربی روم (اٹلی) شامل تھے،ان ممالک میں یھودیوں کو چھوڑ کر بقیہ سب کے سب افراد بت پرست تھے ان کے معاشرہ میں مسیحیت کے داخل ہوجانے اور اس کے حاکم ہونے کی وجہ سے مسیحیت میں تحریفات ہونا شروع ہوگئیں اور بت پرستی کی کچھ چیزیں اس میں داخل ہوگئیں ، اور یورپی معاشرہ نے اس طرح کی مسیحیت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا، ان تحریفات کے نمونے مسئلہ تثلیث اور اس کے بعد کلیساؤں میں حضرت مریم اور فرشتوں کے مجسموں کو نصب کرنا ہے، لھٰذا یہ کلیسا بھی پہلے بت خانوں کی طرح ہوگئے۔

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ میں تحریف شدہ عیسائیت رائج ہوگئی، اور اس نے شرک کی جگہ لے لی، در حقیقت وہ شرک کی بنیاد پر قائم ہونے والی دنیاوی حکومت تھی جس میں معنویت نہیں پائی جاتی تھی جو یورپ پر عیسائی حکومت یا الہی حکومت اور آسمان و ملکوت کی طرف دعوت دینے والی حکومت کے نام سے حاکم ہوئی اوران حکومتوں کے نام سے لوگوں پر ظلم وستم کیا۔

یھاں تک کہ لوگ آھستہ آھستہ ان ظلم وستم سے تنگ آگئے اور مسیحیت سے پہلے والی زندگی کی طرف پلٹ گئے ، درحقیقت اومانیزم نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کی جگہ انسان اور آسمان کی جگہ زمین اور آخرت کی زندگی کی جگہ دنیاوی زندگی کو ترجیح دی جائے۔

یہ اومانسٹی نظریہ کا ماحصل ہے جو انسان کو خدا کی جگہ قرار دیتا ہے ،اور یہ نظریہ آھستہ آھستہ اس زمانہ کے محنتی محققین جیسے اٹلی کے مشہور ومعروف شاعر و محقق ”ڈانٹا“کے ذریعہ یورپ کے تمام ممالک میں اس کا رواج پیدا ہو گیا، اور اس طرح سے بیان کیا گیا ہے جس کے اندر ہر طرح کی چیز موجود ہو، اس بنا پر اوما نیزم تمام نظریات کی ماں سمجھی جانے لگی کہ جن کی بنیاد پر یورپی ثقافت وجودیائی ہے، اور جب ہم یورپی ثقافت کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد نہ تو یورپی جغرافیائی ثقافت ہے اور نہ وہ لوگ مراد ہیں جو مغرب (یورپ) میں زندگی بسر کرتے ہیں چونکہ وہاں پر دوسرے مذہبوں کو ماننے والے افراد بھی رہتے ہیں ، کچھ اچھے عقائد والے اور دوسرے مذاہب کے افراد بھی زندگی بسر کرتے ہیں اور ہم جس ثقافت کو یورپی ثقافت کھتے ہیں وہ ایک جامع ثقافت ہے جو انسانوں کو غیر الٰھی راستہ بلکہ کفر کی طرف لے جاتی ہے، لھٰذا بہت سے مشرقی ممالک جیسے جاپان وغیرہ میں بھی ممکن ہے یھی ثقافت موجود ہو،لھٰذا ہم یورپی ثقافت کو جغرافیائی لحاظ یے نہیں مانتے۔

۳۔اومانیرم اور لیبرالیزم کا قانون میں داخل ہونا

قارئین کرام ہماری بحث اور گفتگوکا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپی ثقافت کفر و الحاد کی ثقافت ہے جس میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ انسان کے تصور سے خدا کو غائب کردیا گیا ہے اور خود انسان کو خدا کی جگہ رکہ دیا گیاہے ،یعنی انسان ہی تمام اقتدار اور قدرت کا محور ہے. اس نظریہ کے تحت انسان ہی تمام ارزش اور اہمیت کو پیدا کرتا ہے، اور انسانوں کی تفکر سے زیادہ ان کی کوئی واقعیت نہیں ہوتی، انسان قانون وضع کرتا ہے اور انسان کے علاوہ کسی اور کو قانون بنانے کا کوئی حق نہیں ہوتا، انسان انسانوں کی سرنوشت کو خود معین و مشخص کرتے ہیں خدا نھیں ، یہ تمام تفکراومانیستی کے اصلی عناصر ہیں کہ جن کے پیچھے پیچھے دوسرے مذاہب بھی وجود میں آگئے اور وہ طول زمان میں آھستہ آھستہ اسی ریشہ سے اُگے اور اسکے دو بہت اہم مذاہب (جو آجکل یورپی ثقافت میں اسلامی ثقافت کے مقابل بیان کیے گئے ہیں ) سیکولریزم اور لیبرالیزم ہیں ۔

اور ظاہر ہے کہ اگر انسان کی زندگی سے خدا کاتصور ختم کردیا جائے تو انسانی زندگی کے اہم مسائل کی دین کی کوئی اہمیت باقی نہ رہے گی، اور اس لحاظ سے دین کو اجتماعی ، سیاسی اور حقوقی مسائل سے الگ رکھنا ہوگا، اس نظریہ کی بنیادپر اگر کچھ افراد دین کے نام پر کچھ ارزشیں اور اہمتیں ایجاد کرنا چاہیں تو وہ ان ارزشوں کو صرف معابد اور اپنی فردی زندگی کے لحاظ سے تصور کریں ،یعنی در حقیقت دین اقدار کی قرار گاہ خاص طور سے افراد کی فردی زندگی ہے اجتماعی زندگی نہیں ہے یہ وہی تفکر ہے جو دین کو سیاست اور اجتماعی زندگی کے جدّی مسائل سے جدا کرتا ہے جسکو سکولاریزم کھا جاتا ہے، اور آخر کار یورپی ثقافت کا دوسرا ثمرہ لیبرالیزم ہے۔

جب تمام اقدار کا محور انسان ہو اور اس کے علاوہ دوسری کوئی اور چیز اسکی سرنوشت پر حاکم نہ ہو، تو یہ کہنا چاہیے کہ ہر وہ کام جسکو انسان کا دل چاہے اسکو انجام دے اور یہ وہی مطلق آزادی یا لیبرالیزم ہے لیکن اگر ہر انسان مطلق طور پر آزاد رہنا چاہتا ہو تو عسر وحرج لازم آئیگااور قانون کا کوئی مقام باقی نہ رہے گا اور ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کی شرطوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا اور واضح طور پر معاشرہ میں قانون کی ضرورت کا احساس ہوگا، کہ ایسا قانون ہونا چاہیے جو عسر وحرج کو روک دے اور جب نظم برقرار ہوجائے اورعسرو ہر ج ختم ہوجائے تو پھر قانون کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی، تو پھر ہر فرد کا دل جو چاہے گا وہ آزادانہ طورپر اس کو انجام دے گا۔

۴۔یورپی ثقافت کے اصول اور اسلامی ثقافت سے ان کا موازنہ

قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اومانیزم نظریہ کا خلاصہ سیکولریزم اور لیبرالیزم پر ہوتا ہے۔

اور انہیں دو عناصر سے اصلی یورپی ثقافت وجود پاتی ہے اورر بار بار یہ جو یاد آوری کی جاتی ہے کہ تم اپنی حفاظت کرتے رہنا کہ کھیں تم پر یورپی ثقافت حملہ کرکے تمھاری ثقافت کا جنازہ نہ نکال دے ان سے ہماری مراد یھی ثقافت ہے جسکا لازمہ لیبرالیزم اور سیکولریزم ہے، یہ ثقافت یورپ میں رائج ہوئی اور اس نے صنعت اور ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بشری میں مختلف پرکشش چیزوں کو ایجاد کیا اور دوسرے ممالک بھی کم و بیش اس ثقافت سے متاثر ہوئے اس لئے کہ معاشرہ کی معرفت رکھنے والے محققین کا یہ عقیدہ ہے کہ یورپی ٹیکنالوجی کے صادر ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی ثقافت بھی صاد رہونے لگی، یہ وہ واقعیت ہے جس پر موجودہ دور میں ترقی کرنے والے ممالک کو غور و فکر کرنا لازمی ہے۔

اس مقام پر یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا یورپی ثقافت کو قبول کئے بغیر ٹیکنالوجی کو تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ البتہ اسی موضوع کے بارے میں دوسرے مقام پر بحث کی جائیگی لیکن ہم یھاں پر مختصر طور پر یہ بتا دیں کہ اب تک تو یورپی ٹیکنالوجی کے صادر ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی ثقافت بھی تمام ممالک میں صادر کی گئی ہے، اور تمام انسان کم و بیش اس ثقافت سے متاثرہوئے ہیں یھاں تک کہ ہمارے اسلامی معاشرہ اور اسلامی ممالک بھی اس ثقافت سے استفادہ کئے بغیر نہ رہ سکے (البتہ یہ سب اس لئے ہوا کہ اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے میں لاپرواہی سے کام لیا گیا، یہ نہیں کہ ان دونوں ثقافتوں کو جدا کرنا ممکن نہ تھا)۔

افسوس کہ آج یہ مشاہد ہ کرتے ہیں کہ بہت رین فکر رکھنے والے افراد کے مختلف طبقوں میں التقاط و اختلاط(مختلف نظریوں کا آپس میں مل جانا) پیدا ہوگیا ہے کہ اسلامی ثقافت کے التقاطی تفکر کو یورپی الحادی ثقافت سے ملا دیا ہے،البتہ مختلف سطح (طبقہ) کے اعتبار سے یہ اختلاط فرق کرتا ہے :

بعض موارد میں یورپی ثقافت کا بول بالا ہے جبکہ ان موارد میں اسلام کا اتنا بول بالا نہیں ہے اور دوسرے موارد میں اسلام نے جلوہ دکھلایا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یورپی ثقافت نے غبار آلود اور اور تاریک فضا ایجاد کردی ہے اور اسلام ناب محمدی کی صاف وشفاف فضا دنیا کے کسی کونے میں بھی واضح طور پر دکھائی نہیں دیتی ہے، ہمارے اعتقاد کے مطابق جو سب سے اہم فضا اسلامی ثقافت کو صاف وشفاف کر سکتی ہے اور اس سے دوسری ثقافتوں کے غبار کو صاف کیا جاسکتاہے وہ جمہوری اسلامی ایران کی فضا ہے اور جب اس نظام میں اس طرح کی طاقت و قدرت موجود ہے اور عوام الناس اسلام اور اسلامی ثقافت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں اس بنا پر انقلاب اسلامی یورپی ثقافت کے لئے سب سے بڑے خطرہ کے عنوان سے بن کر ابھرا ہے۔

جیسا کہ کچھ دن پہلے واشنگٹن کے نزدیک ایک یورپی سیاست کی تحقیق کرنے والے ادارہ کے ایک رئیس نے کھا تھا کہ جمہوری اسلامی ایران دنیا کے لئے سب بڑا خطرہ ہے، ظاہر ہے کہ جس چیز سے وہ ڈرتے ہیں اور اپنے لئے ایک اہم خطرہ سمجھتے ہیں وہ اقتصادی خطرہ نہیں ہے اس لئے کہ ان کا اقتصاد ہم سے کھیں بہت زیادہ اچھا ہے، اسی طرح ان کو نظامی خطرہ بھی نہیں ہے اس لئے کہ ان کے پاس ایسے خطرناک اسلحے موجود ہیں کہ دوسرے ممالک میں ان جیسے نمونے نہیں ملتے ،ان کے پاس ایسی فوج موجود ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں نہ کمیت کے اعتبار سے اور نہ کیفیت کے اعتبار سے ایسی فوج موجود نہیں ہے، بلکہ وہ تو جمہوری اسلامی ایران کی فکری، عقیدتی اور ثقافتی توانائی سے خوف کھائے ہوئے ہیں اور صاف لفظوں میں کھتے ہیں :

جمہوری اسلامی ایران ایسا خطرہ ہے جو زمین کے اعتبار سے نامحدود اور منحصر بہ فرد ہے ، یھی چیز ان کے یورپی معاشرہ کے لئے سب سے بڑے خطرہ کا باعث ہوئی ہے، اسی وجہ سے وہ اس نظام کو ضعیف کرنے کی مسلسل جستجو میں لگے ہوئے ہیں اور صاف لفظوں میں کھتے ہیں کہ نظام ولایت فقیہ ایسا نظام ہے اور جب تک محور نظام ولایت کو سرنگوں نہ کر دیا جائے اس میں نفوذ نہیں کیا جاسکتا۔

۵۔علماء اور اسلامی تالیفات کی ذمہ داریاں

جو چیز اسلامی ثقافت کے جوہر کو مجسم کرتی ہے انسان محوری کے مقابل میں خدا محوری ہے اس اساس و بنیاد پر یھاں پر ایک سوال پیش آتا ہے کیا اقدار و ارزش و اہمیت کا ملاک و معیار خدا کوقرار دیا جائے یا انسانی خواہشات کو؟ کیا واقعی حاکمیت خدا سے مخصوص ہے یا انسانوں سے؟ کیا ہماری اصلی فکر اندیشھ، حقوق اور زندگی کے تمام دوسرے لوازمات خدا سے مربوط ہیں یا انسانی خواہشات سے ؟

اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ان مطالب کا بیان کرنا ہمارے لئے ناگوار واقعات کا سبب ہیں لیکن عصر حاضر میں علماء کا سب سے بڑی ذمہ داری موجودہ غبارآلود فضا کو اسلام کے صاف وشفاف مطالب بیان کر کے دھو ڈالنا ہے، تاکہ لوگ کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ کر کے مختلف نظریوں کی تحقیق و جستجو کریں اسلام اور منابع اسلامی کے نظریہ دوسروں کے نظریوں سے جدا کریں تاکہ اسکے ذریعہ اسلام اور کفر وشرک کی حد واضح ہو اجائے اور کفر و الحاد و التقاط کا نظریہ رکھنے والوں کو اسلامی محققین سے الگ کیاجاسکے، علماء کی بنیادی اور اصلی ذمہ داری یھی ہے اور قرآن بھی خاص طور سے اس بارے میں فرماتا ہے کھ: اگرعلماء اور اہل علم بدعتوں کو پھیلائیں اور حقائق کو واضح نہ کریں تو ان پر خدا، فرشتے اور تمام مخلوق لعنت کرتی ہے ، ارشاد ہوتا ہے:

( اُوْلٰئِکَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰه وَیَلْعَنُهُمُ الْلّٰاعِنُونَ ) (۱)

”یھی لوگ ہیں جن پر خدا (بھی) لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں ۔“

ہمارا اصلی فریضہ یہ ہے کہ ہم فضا کی وضاحت کریں تاکہ مفاہیم اور اسلام و کفر کے مابین کی حدود معین و واضح ہو جائیں اور یہ بھی معین و مشخص ہوجائے کہ کن افکار میں اختلاط و التقاط پایا جاتا ہے؟ چونکہ انہیں التقاط و اختلاط کی وجہ سے حق و باطل کے مابین عاشورا جیسا واقعہ رونما ہوا اور واقعہ عاشورا سے پہلے مسلمانوں اور حضرت امیرالمومنین علھیم السلام کی نسل پاک سے ایک شخص نے قیام کیا اور بہت سے اسلامی حقائق کی وضاحت فرمائی، لوگوں نے بھی اسلامی حقائق کو درک کیا اور سمجھداری سے کام لیا اور امام کی آواز پر لبیک کھا اور ایران میں ایک عظیم اسلامی انقلاب برپا ہوگیا۔

یہ بدیھی ہے کہ جب تک دین اسلام کے لئے اپنی تمام چیزوں کو قربان کرنے والے غیرتمند جوان موجود رہیں گے اس وقت تک دین اسلام پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے، اور الحمد اللہ ہمارے برادران سیاسی اور اجتماعی کافی معلومات رکھتے ہیں ، اور اپنے فرائض سے بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان پر کیسے عمل کرنا چاہئے، ہم ان کے عملی فریضہ کو معین و مشخص کرنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہمارا کام تو صرف فکری اور عقیدتی مسائل کو بیان کرنا ہے، ہم تو صرف اسلام کے عملی اور نظری اصولوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ؟

ہم تو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اسلامی ثقافت کیا ہے اور یورپی اور کفر و الحادی ثقافت کیا ہے، ہم تو لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کفر والحاد ثقافت کے اصلی عناصر اومانیزم وسیکولریزم اور لیبرلیزم ہیں اور ان کے مقابل میں اسلامی نظریہ کے اصلی عناصر خدا محوری، اصالت دین و ولایت فقیہ اور خدا کی اطاعت کے دائر ہ میں محدود رہ کر انسان کا فعالیت کرنا ہیں ، یہ دونوں ثقافتیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں ہیں : پہلی ثقافت انسان کی مطلق آزادی یھانتک کہ خدا کی اطاعت سے بھی آزاد رہنے کی دعوت دیتی ہے اور دوسری ثقافت ہم کو صرف اور صرف خداوندعالم کی اطاعت کی دعوت دیتی ہے پہلی ثقافت انسان کے تفکر اور اسکی زندگی سے خدا کو حذف کرنے اور انسان کو خود ہمت باندھنے کی دعوت دیتی ہے، اور دوسری ثقافت پرچم توحید کو بلند کرنے اور انسانی زندگی میں یکتا پرستی کی فکر کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یھی ہمارا نظریہ اور انقلاب کا محور ہے۔

۶۔قانون کی حقیقت اور اسلام اور لیبرالیزم میں اس کی اہمیت

جس طرح ہم نے پہلی تقریروں میں بیان کیا ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے قانون ایسا ہونا چاہیے جو انسان کو اسکے مصالح او رمعنوی مقصود تک پہونچائے اور صرف نظم و ضبط اور اجتماعی امنیت کو پورا کرنا ہی قانون کا خاص کام نہیں ہے لیبرالی نقطہ نظر سے انسان کا صرف اور صرف دنیا سے لذت حاصل کرنا ہے، جبکہ قانون کا کام صرف اسباب لذت فراہم کرنا نہیں ہے جو چیز انسانوں کی زندگی میں ان کو لذت حاصل کرنے اور ان کا اپنی قدرت سے استفادہ کرنے میں مخل ہوتی ہے وہ دوسروں کیلئے مزاحمت ایجاد کرنا ہے، اگرقدرت اور لذتوں سے اس طرح استفادہ کیا جائے کہ اس سے دوسروں کی آزادی میں کوئی مزاحمت نہ ہو تو قانون اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتاتو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون کا کام صرف دوسروں کی آزادی کی حفاظت کرنا اور ان کی خواہشات نفسانی کو مکمل کرنا ہے، قانون کا یہ ہدف یورپ کی اومانیرم اور لیبرلیزم کے نظریہ کا نتیجہ ہے،اور اس بنیاد پر قانون کا دائرہ بہت محدود ہوجائے گا۔

اور لوگوں کی زندگی سے حکومت کو بہت کم سروکار رکھنا ہوگا چونکہ اصل یہ ہے کہ لوگ آزاد رہیں اور جس کام کو ان کا دل چاہے اس کو انجام دیں اور اس اساس و بنیاد پر تو اس جملہ کا یہ مطلب ہوگا کہ قانون سے بالاتر آزادی کی حفاظت کرنا ہے، لیکن اسلام کی نظر میں قانون اس کو کھا جاتا ہے جو انسانوں کو صحیح زندگی بسر کرنے کے صحیح راستہ کی ہدایت کرے اور معاشرہ کی مادی اور معنوی مصالح کی طرف ہدایت کرے، اسلامی حاکم بھی وہی شخص ہو سکتا ہے جو ان مصالح کو معاشرہ میں جامہ عمل پہنائے اور ان مصالح میں رخنہ ڈالنے والوں کو روکے، لھٰذا اسلامی حاکم اور ڈیموکریٹک اور لیبرل حاکم کے درمیان بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے اس لئے کہ اس کو اجازت دیں تاکہ وہ موقع آئے اور لوگ اپنی خواہشات اور ہوئی و ہوس کے مطابق عمل کریں اور وہ صرف بے نظمی اور ہر ج ومرج سے روکیں اور ان کو اسکے علاوہ کسی مانع کے ایجاد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، جو لوگ یہ کھتے ہیں کہ آزادی قانون سے بھی بلند وبالا ہے وہ خاص طور سے اہل علم و تحصیل اور محققین ہیں اور وہ جو لوگ اپنے کو صاحب نظر سمجھتے ہیں ان کو زیادہ دقت اور مطالب کی دقیق تحقیق وبررسی کرنا چاہیے۔

اصولی طور پر ماہیت قانون کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کیلئے کوئی حق اور دوسروں کیلئے کسی تکلیف کو معین کرنا، قانون آزادی کو روکنے والا ابزار ہے، اگر یہ بنا قرار دیدی جائے کہ شخص جو اس کا دل چاہے وہ کام انجام دے تو پھر قانون کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوگی، قانون اس مقام پر بنایا جاتا ہے جہاں پر افراد اپنی بعض خواہشوں سے صرف نظر کریں ورنہ قانون کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اگر یہ بنا قرار دیدی جائے کہ ہر شخص جو کچھ چاہے وہ انجام دے تو پھر ہم کو قانون کی کیا ضرورت ہے؟ نتیجہ کے طور پر ماہیت قانون کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے لئے حق اور دوسروں کیلئے کچھ وظایف معین کئے جائیں ، اگر ہمارے پاس کوئی ایسا قانون ہو جو کسی حق کو تمام انسانوں کیلئے ثابت کرے تو پھر بھی وہ کسی وظیفہ فریضہ کا متضمن ہوگا، مثال کے طور پر اگر ایک بین الاقوامی یہ قانون ہو اور وہ قانون یہ حکم صادر کرے کہ ہر انسان آزاد ہے اور اس کو یہ حق ہے کہ وہ دنیا کے کسی گوشے میں اپنے رہنے کے لئے جگہ کا انتخاب ہے تو اس قانون کا مفاد تمام انسانوں کیلئے حق کا اثبات کرنا ہے۔

لیکن وظیفہ معین کئے بغیر دوسروں کیلئے حق ثابت کرنا نہیں ہے ورنہ ایسے قانون کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر شخص کسی بھی جگہ رہنے کا حق رکھتا ہے اور دوسروں کو اس حق کا احترام کرنا چاہیے اور اسکی مزاحمت نہیں کرنا چاہیے، نتیجہ کے طور پر قانون یا تو تصریحی طور پر اور یا اشارہ کے طور پر کن امور کو انجام دینا چاہیے اور کن امور کو انجام نہیں دینا چاہیے کا متضمن ہے، یھاں تک کہ اگر ہر فرد کیلئے بھی حق کو ثابت کرتا ہے تو اس کا مفاد یہ ہے کہ دوسرے اس حق کی رعایت کریں اور اس کا احترام کریں ۔

جو قانون یہ کھتا ہے کہ ہم کو ایسا کرنا چاہیے یعنی اسکے علاوہ عمل نہیں کرنا چاہیے اور اس سے مراد یہ ہے کہ آزادی محدودھے یعنی کن افعال کو انجام دینا چاہیے اور کن افعال کو انجام نہیں دینا چاہئےے کی معرفت ہے ،نتیجتاً جو قانون آزادی کے محدود ہونے کو ناپسند کرتا ہو وہ قانون تناقض رکھتا ہے، اور قانون یعنی وہ چیز جو آزادی کو محدود کردے تو اس بنا پر قانون سے اوپر کوئی آزادی نہیں ہے مگر کچھ مقامات پر کچھ خاص آزادیاں ہیں اور ہم یہ کھتے ہیں کہ ان آزادیوں کی رعایت ہونا چاہیے، تو یہ بھی کچھ دوسرے قوانین کے اوپر ایک قانون ہو جائیگا۔ لیکن اگر کوئی قانون آزادی کیلئے کسی طرح کی محدودیت کا قائل نہ ہو تو وہ بھی لغو اور تناقض کا متضمن ہوگا۔

اور کوئی بھی عاقل اس طرح کی باتیں نہیں کر سکتا ، اس لئے کہ اصل میں قانون کی شان ہی آزادی کو محدود کرنا ہے لیکن اگر اس شعار سے کہ قانون کو آزادی کے محدود کرنے کا کوئی حق نہیں ہے بلکہ مطلق آزادی ہونا چاہیے یہ مراد ہو تو یہ تناقض ہے اور اگر ان کی مراد شرعی آزادیاں ہیں تو ہم ان سے یہ عرض کرتے ہیں کہ شرعی آزادی کونسی ہے؟ اور کون شخص یہ معین کرے گا کہ مشروع آزادیاں کونسی ہیں اور نامشروع آزادیاں کونسی ہیں ؟

۷۔مشروع آزادی کا نسبی ہونا

ھر نظام اپنی خاص ثقافت کی بنیاد پر کچھ امور کو جائز اور معقول سمجھتا ہے اگرچہ دوسرے افراد ان کو کتنے ہی نامشروع کیوں نہ سمجھتے ہوں ، تو پھرمطلق آزادی کا کیا مطلب؟ یعنی کوئی بھی قانون مطلق آزادی کی ضمانت نہیں لے سکتا، جب کسی قانون میں یہ لکھا جائے کہ قانون کو مشروع آزادیوں کو پورا کرنے کا ذمہ دارہے، تو ایک ایسی میزان ہو جویہ بتائے کہ مشروع آزادیاں کونسی ہیں ؟ یعنی مشروع، معقول اور مفید آزادیوں کوکس معیار کے ذریعہ معین کیا جائے؟ اس مقام پر یہ کھا جاتا ہے کہ مشروع آزادیوں کومعین کرنے کا ذمہ دار قانون ہوتا ہے۔

بہرحال ہم پھر اپنے اصلی مطلب کی طرف پلٹتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کھے کہ معاشرہ میں ہر طرح کی آزادی جائز ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ معاشرہ کیلئے کسی قانون کا ہونا لازمی نہیں ہے،!! لیکن کوئی عاقل انسان اس طرح کی باتیں نہیں کرتا مگر وہ انسان جو اپنی باتوں کی طرف متوجہ ہی نہ ہو اور پس جو شخص بھی آزادی کا دم بھرتا ہے یقینا اس کی مراد محدود آزادی ہے، اب یھاں پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ آزادی کی حدود کو کون شخص اور کس معیار سے معین کرے گا؟ اگر افراد اپنی دلخواہ مرضی کے مطابق آزادی کی حدوں کو معین کریں گے تو بھی ہر ج ومرج لازم آتا ہے، اس لئے کہ اس صورت میں ہر انسان اپنے منافع کو پورا کرنے کی کوشش کریگا۔

لھٰذا آزادی کی حدوں کو معین کرنے والا کوئی شخص ہونا چاہئےے، اب قانون کو کس قانونگذار کے ذریعہ مشخص ومعین ہونا چاہیے، بدیھی ہے اگر قانون گذار کا ارادہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو اور قانون کا معیار و ملاک لوگوں کی خواہشات ہوں تو عملی طور پر ہوسباز افراد غالب ہوں گے یعنی وہی چیز جو اومانیرم اور لیبرالیزم نظریہ کا بنیادی پہلو ہے، اس نظریہ میں قانون کا کردار عسر وحرج کو روکنا ہے اور لوگوں کی مرضی کے مطابق ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے، لیکن اسلامی نقطہ نظر سے یہ موضوع قابل قبول نہیں ہے ، کیونکہ بنیادی اشکال رکھتا ہے۔

۸۔اسلام کا لیبرالیزم سے ٹکراؤ

یہ طے ہے کہ ہم اسلام کو تسلیم کر لینے کے بعد لیبرالیزم کو قبول نہیں کر سکتے ہیں اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ قانون یعنی جو انسانوں کے مصالح کو پورا کرے تو پھر ہم یہ نہیں کھہ سکتے کہ ہر انسان جو اس کا دل چاہے وہ فعل انجام دے چونکہ یہ دونوں آپس میں سازگار نہیں ہیں ، یا محور خدا ہو یا انسان، دوسرے لفظوں میں ! یا ہم اللہ کو مانیں یا اومانیزم کو مانیں ، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان کو بھی ملاک قرار دیں اور خدا کو بھی ، اس طرح کی دو اصل کو قبول کرنا تعارض اور تضا د کے ساتھ ساتھ ایک قسم کا شرک بھی ہے، اور اگر خدا کو نہ مانے تو یہ کفر و الحاد ہے، اس لئے کہ اسلام اور کفر و الحاد آپس میں ایک دوسرے کے متناقض ہیں ، اور یہ آپس میں ایک بنیادی جنگ رکھتے ہیں اور اسی دلیل کی وجہ سے امریکا کے بڑے بڑے سیاست دانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک ایران میں اسلامی نظام حاکم رہےگا، ہم ایران سے سازش نہیں کرسکتے چونکہ یہ دونوں متناقض نظریے ہیں اور ان کے نظام بھی ایک دوسرے کے سازگار نہیں ہےں ۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف نظریات میں بہت ر قانون کی کیا کیاخصوصیتیں ہیں ؟کیا قانون کو معاشرہ میں صرف نظم برقرار کرنا چاہیے فردی خواہشات اور آزادیوں کو اگر وہ ایک دوسرے کی مزاحمت نہ کریں تو ان کو پورا کرنا چاہیے،یا قانون کو انسان کے واقعی مصالح کو پورا کرنا چاہیے چاہے اکثر افراد اس کو چاہتے ہوں یا نہ چاہتے ہوں ، البتہ اگر لوگوں نے اسکو تسلیم کرلیاتو اسکو عملی جامہ پہنا دیا جائیگا اور اگر تسلیم نہ کیا تو اسی طرح عالم انشا میں باقی رہیگا۔

پس اصل افراد ہیں لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ مشروعیت قانون کیا ہے؟ کیا مطلوب قانون صرف وہ قانون ہے جو لوگوں کے دل خواہ ہو اور ان کی خواہشوں کو پورا کرتا ہو یا قانون مطلوب وہ قانون ہے جو لوگوں کی مصلحت کو پورا کرتا ہو؟ یہ دونظریے آپس میں ایک دوسرے سے صلح نہیں کر سکتے ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے ملادینا ایک تاریک فضا کو ایجاد کرنا ہے تاکہ جو افراد غلط طریقہ سے استفادہ کرنے کے چکر میں ہیں وہ گندے پانی سے مچھلی کا شکار کرلیں ، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ فضا کوصاف و شفاف کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اسلام کیا ہے اور کفر کیاہے او ر پھر انسان جس کو چاہے انتخاب کرے،جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :

( فَمَنْ شَاءَ فَلْیُومِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ ) (۲)

شاعر کھتا ہے:

متاع کفر و دین بی مشتری نیست

گروہی این گروہی آن پسندند

”دین او رکفر ایسی دو چیزیں ہیں کہ جس خریدار بہت ہیں ، کچھ لوگ اسلام کے اور کچھ لوگ کفر کے خریدار بن گئے“

ھر حال میں لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ کونسا متاع (مال) متاع دین ہے اور کونسا متاع متاعِ کفر ہے، تاکہ دونوں میں سے ایک کو منتخب کرلے، ہمار وظیفہ دینی مفاہیم کو صاف وشفاف کرنا ہے اور اس سے ہر طرح کے غبار کو دور کرنا ہے تاکہ لوگ آگاہ طور پر انتخاب کریں ، اور کچھ لوگوں نے ایسی فضا بنائی ہے اور چاہتے ہیں کہ دین کی جگہ ڈیموکریسی اور آزادی کو حاکم کردیں ،، لیکن ہمیں ہر حال میں ان لوگوں سے ہوشیار ہونا چاہئے اور توجہ رکھنا چاہئے کہ کیا کھیں او رکیا کریں ۔

۹۔اسلام اور ڈیموکراسی میں قانون گذاری

ہم اس سے پہلے اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اسلام اور ڈیموکراسی کے درمیان کبھی صلح نہیں ہوسکتی ہے، ڈیموکراسی یعنی مردم سالاری یا لوگوں کی حکومت، دوسرے الفاظ میں لوگوں کی رائے اور نظریہ کو معتبر سمجھنا، اب اس اعتبار کو محدود ہونا چاہیے یا لا محدود؟ کیا جب ہم یہ کھتے ہیں کہ اصالت و میزان لوگوں کی رائے کے ساتھ ہے یعنی چاہے وہ کتنا ہی خدا کی مرضی کے خلاف کیوں نہ ہو یا لوگوں کی رائے اس حد تک معتبر ہے کہ حکم خدا اور ارادہ خدا کے متضاد نہ ہو؟ یورپ میں اس چیز کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ اصلی ملاک لوگوں کا نظریہ ہے اور آسمان و زمین میں کسی دوسری طاقت کو لوگوں کی سرنوشت اور قانون گذاری میں لوگوں کے مابین دخالت کرنے کا کوئی حق نہیں قانون وہی ہے جسکو لوگ چاہتے ہیں ۔

یھاں پر ایک یہ سوال پیش آتا ہے کہ قانون کے معتبر ہونے کا ملاک و معیار تمام افراد کا ایک نظریہ پر متفق ہونا ہے یا اکثر افراد کا متفق ہوجانا ہی کافی ہے؟ عملی میدان میں تو تمام افراد متفق نہیں ہو سکتے ہیں ، اور اگر اکثر افراد کا متفق ہونا کافی ہے تو تمام افراد کا وظیفہ کیا ہوگا اور اکثر افراد کی رائے ان کیلئے کتنی معتبر ہوگی؟ درحقیقت آجکل کی ڈیموکراسی، ڈیموکراسی اور نخبہ گرائی (منتخب کی ہوئی چیز ) سے بنتی ہے۔

یعنی لوگ قانون بنانے کے لئے نمائندوں کو انتخاب کرتے ہیں ، اب اگر اکثر افراد کی نظر چنیدہ افراد کے نظریہ سے مختلف ہو، تو دونوں میں سے کس کا نظریہ معتبر ہوگا؟ البتہ عام طور سے چنیدہ افراد لوگوں کی خواہش کے مطابق قانون بناتے ہیں اس لئے اگر وہ ایسا نہ کریں تو اگلے الیکشن میں کوئی ان کو ووٹ نہیں دے گا اور وہ منتخب نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے لوگوں کی خواہش کو پورا کرتے ہیں اور انہیں کی مرضی کے مطابق قانون بناتے ہیں ، لیکن بعض موقعوں پر لوگوں کے نظریہ اور اکثر چنیدہ افراد کے نظریہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

کچھ لوگوں کا ہدف یہ ہے کہ ایران میں حکومت علماء، ولایت فقیہ اور حکومت اسلامی کے مقام پر ڈیموکریٹک حکومت قائم ہونی چاہیے، ڈیموکریٹک کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی خواہش کے علاوہ کوئی دوسری چیز قانون کو معین کرنے میں دخالت نہیں رکھتی ہے کیا مسلمان اس کو تسلیم کر سکتے ہیں یا نھیں ؟

اسلام ڈیموکراسی کے ساتھ سازگار ہونے کا دعوی کرنے والے افرادکے بارے میں یہ سوال پیش آتا ہے کہ لوگوں کی رائے اگر وہ خدا کے قطعی حکم کے بر خلاف ہو تو کیا وہ پھر بھی معتبر ہے یا نھیں ؟ اگر معتبر نہ ہو تو ڈیموکراسی ایجاد نہیں ہوئی ہے اور اگر ملاک اعتبار لوگوں کی رائے ہے اور خدا کے قطعی حکم کے خلاف ہو تو اس صورت میں ڈیموکراسی اسلام کے ساتھ سازگار نہ ہوگی، کیا اسلام خدا ورسول کی اطاعت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟

کیا اس کے علاوہ بھی کوئی دوسرا اسلام ہے؟ آجکل یہ کھا جاتا ہے کہ اسلام میں متعدد قرائت ہیں لیکن جس قرائت کی بناپر انقلاب برپا ہوا وہ یہ ہے کہ احکام خدا اور الٰھی اقدار کو معاشرہ میں حاکم ہونا چاہئے، اورجن افراد نے اس انقلاب کو برپا کیا اور اپنے خون کے آخری قطرہ تک اس کی حمایت کی اور آیندہ بھی حمایت کرتے رہیں گے ان کا ہدف اسکے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔

اب اگر قانون گذاری کے مسئلہ میں ڈیموکریٹک کا مطلب انسانوں کی رائے کو اصل قرار دینا ہے یھاں تک کہ اگرچہ ان کی رائے حکم خداوندی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو تو اسلام کے نقطہ نظر سے ایسی ڈیموکریٹک مردود ہے، لیکن اگر ڈیموکریٹک کا مطلب دوسرا ہو اور لوگ مبانی اور اصول اور اسلامی اقدار کی محافظت کرتے ہوئے اپنے اجتماعی معاشرہ اور قانونی مسائل میں اپنے چنے ہوئے افراد کے ساتھ حق دخالت رکھتے ہوں اور اپنے منتخب کئے ہوئے افراد کے ساتھ زمان و مکان کی خاص شرطوں کا خیال رکھتے ہوئے قوانین بنائیں تو یھی چیز ہمارے اسلامی ملک ایران میں پائی جاتی ہے، اور پارلیمنٹ کے ممبران بھی اس لائحہ کے بارے میں بحث اور مشورہ کر کے اسکو تصویب کر سکتے ہیں ، لیکن پارلیمنٹ کے تصویب کئے ہوئے قوانین اس وقت معتبر ہوں گے جب وہ اسلامی احکام کے مخالف نہ ہوں ۔

بہرحال یہ جو لوگوں کو زمان و مکان کی خاص شرائط کے ساتھ متغیر مقررات (قوانین) کو معین کرنے کی خاطر افراد کو منتخب کرنا پڑتا ہے، یھی چیز ہمارے ملک میں رائج ہے اور امام خمینی(رہ) نے بھی اسی روش کی تائید فرمائی ہے، اور ہمارے اساسی (بنیادی) قوانین نے بھی اس کی تائید کی ہے اگر قانون گذاری میں ڈیموکریٹک کایھی مطلب ہے تو ایسی ڈیموکریٹک کاکوئی مخالف نہیں ہے۔

۱۰۔اسلامی حکومت میں معتبر قانون

جامع مسئلہ کی یہ اہمیت ہوتی ہے کہ جب لوگوں کے نمائندے اسلامی پارلیمنٹ میں کسی قانون کو تصویب کرتے ہیں تو کیا یہ قانون اس لئے معتبر ہے کہ لوگوں کے نمائندوں نے اس کو ووٹ دے کر منتخب کیاہے اور اصل میں لوگوں کے نمائندوں کو اسی کام کیلئے منتخب کیا ہے یا اس لئے معتبر ہے کہ ولی فقیہ نے اسکی تائید فرمائی ہے؟ ہمارے نقطہ نظر سے انسان کو اپنی زندگی میں سب سے پہلے جس حق کی رعایت کرنا چاہیے وہ حق خدا ہے، اور اگر یہ بنا ہے کہ ہم حقوق کی رعایت کریں تو خداوندعالم کا حق سب سے پہلے مقدم ہے اور انسانوں پر خداوندعالم کا سب سے بلند وبالا حق، حق ربوبیت ہے اور یہ ربوبیت دوشعبہ رکھتی ہے:

۱۔ ربوبیت تکوینی ۔

۲۔ربوبیت تشریعی

ربوبیت تشریعی کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم جو دستور دے وہ انسانوں کیلئے واجب الاجرا ہے، اب اگر خداوندعالم کسی چیز کی نھی فرمائے تو اس کو انجام نہیں دینا چاہیے اور خداوندعالم کے قوانین واحکام سے سرپیچی کرنا ربوبیت الٰھی کے حق کو ضائع کرنا ہے اور اس قانون کا انکار کرنا اور اسکو معتبر نہ جاننا ایک قسم کا شرک ہے، اس بنیاد پر اسلامی معاشرہ میں وہ قانون معتبر ہوگا جو خداوندعالم کی رضا کے مطابق ہوگا اگر خدا کسی قانون کی نھی فرمائے تو وہ قانون معتبر نہیں ہوگا، چونکہ حق خدا ضائع ہوا ہے اور جب حق خدا ضائع ہوگیا تو اسی کے زیر اثر انسانوں کا حق بھی ضائع ہو جائے گا، لیکن قانون گذاری کے مسئلہ میں خدا نفع کو اپنے سے مخصوص کرتا ہے؟ مگر خداوندعالم تشریعی احکام اور ہم کو امر و نھی کرنے میں انسان کی مصلحت کے علاوہ اور کیا چاہتا ہے؟ اب اگر کسی مقام پرہم سے خدا کی مرضی کے خلاف رفتار ہوئی ہے توگویا وہ انسانوں کی مصلحت کے خلاف رفتا ر ہوئی ہے۔

نتیجہ کے طور پر انسانوں کے مصالح کی حفاظت جو قانون کے معتبر ہونے کا اصلی رکن ہے وہ خطرہ میں پڑ جائےگا، تو پھر ایسا قانون معتبر نہ ہوگا، اسی وجہ سے نمائندوں کے ذریعہ کسی قانون کے تصویب ہوجانے کے بعد ایک اور چیز یہ معین کی گئی ہے کہ کچھ قانون اور دین کی معرفت رکھنے والے افراد اس قانون کی شرع سے مطابقت کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ قانون خداوندعالم کے حکم کے خلاف ہے یا نھیں ؟ اس کو شورائے نگھبان کھا جاتا ہے۔

اگر صرف قانون کے معتبر ہونے میں لوگوں کی رائے کا ہی کافی ہوتی توفقھاء شورائے نگھبان کس لئے؟چنانچہ لوگ اپنے نمائندوں کو رائے (ووٹ) دیتے ہیں اور ان کے نمائندے بھی لوگوں کی درخواست پر ایک قانون تصویب کرکے وضع کردیتے ہیں اور وہی قانون معتبر ہوتا ہے!

لھٰذا جمہوری اسلامی نظام میں شورائے نگھبان کا پہلا اور بالذات مقام یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے وضع کئے ہوئے قوانین یعنی جس کو لوگوں نے نمائندوں کے ذریعہ ووٹ دیا ہے اسکی احکام شرع سے مطابقت کریں کہ کھیں وہ قانون حکم خداوندی کے خلاف تو نہیں ہیں ؟ یورپی ثقافت سے متاثر افراد اور جو لوگ دشمن کی مدد کرتے ہیں شوارئے نگھبان کو حذف کرنے کا دم بھرتے ہیں اسکی وجہ یھی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا فلٹر نہ ہو جو قوانین اسلام کو غیر اسلامی قوانین سے الگ کرے۔

حقیر صرف آپ حضرات کی اطلاع کے لئے یہ عرض کررہاہے (شاید آپ کو یقین نہ آئے اور انشاء اللہ وہ دن نہ آئے کہ اسکا حقیقی مصداق وجود میں آجائے) کہ یورپی ثقافت اور لیبرال کے سارے افراد اسلام اور ولایت فقیہ کو اساسی قانون سے حذف کرنے کے چکر میں ہیں ، خدا دشمنان اسلام اور نظام اسلامی کے دشمنوں کو کبھی ایسا موقع نہیں دے گا۔ انشاء اللہ۔

حوالہ

۱۔سورہ بقرہ آیت۱۵۹

۲۔سورہ کھف آیت ۲۹


چودھواں جلسہ

قانون کے سلسلے میں غرب کی مادی نگاہ

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر

جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے معاشرہ کو قانون کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی ایسا قانون جو انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کا ضامن ہو، اور مجری قانون کو بھی قانون کو اسکے مصادیق پر مطابقت کرنے میں مکمل طور پر آگاہ، دلسوز، متقی، عادل اور طاقت ور ہونا چاہیے ،جیسا کہ مدیریت کا لازمہ بھی یھی ہے۔

حکومت کے سلسلہ میں اسلام کا یہ اصل نظریہ ہے کہ جس کو ہمارا معاشرہ ولایت فقیہ کے نام سے جانتا ہے اس نظریہ کو بیان کرتے وقت ہم نے بیان کیا تھا کہ انسان کا تنھا جنگل یا غار میں زندگی بسر کرنا ممکن ہے، لیکن کبھی کبھی انسان کی مادی او رمعنوی پیشرفت اجتماعی زندگی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، تمام علوم، فنون اور ٹیکنولوجی اجتماعی زندگی کا ہی ثمرہ ہے، یھاں تک کہ جو افراد خود سازی اور تھذیب واخلاق اور سیر و سلوک او رعرفان کے راستوں کو طے کئے ہوئے ہیں وہ اجتماعی زندگی کے اثر اور اپنے اخلاق کے اساتذہ اور مربیوں کے ذریعہ اس مقام پر پہونچے ہیں ۔

اگر بشر کے مابین یہ ارتباط و رابطہ نہ ہوتا تو وہ کبھی مادی اور معنوی پیشرفت حاصل نہیں کر سکتے تھے، اس بنا پر انسان کیلئے اجتماعی زندگی کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس لئے کہ افراد اس نعمت الٰھی سے استفادہ کریں تو اجتماعی زندگی کو گذارنے کے لئے ان سب پر حاکم ہونے والے کچھ قوانین کا ہوناضروری ہے ۔

بدیھی ہے کہ اگر قوانین نہ ہوں تو معاشرہ میں بے نظمی، اختلال اورعسر وحرج لازم آئےگا اور انسانی زندگی حیوانی زندگی میں تبدیل ہوجائےگی، بعض محققین کھتے ہیں کہ انسان ذاتی طور پر ایک دوسرے کیلئے بھیڑیے کی مانند ہیں اور ان کو کسی زبردستی طاقت کے ذریعہ معتدل کرنا چاہیے لیکن اس طرح کا رویہ افراط کرنے والے انسانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، بہر حال انسان کے اندر بہت سے ایسے جاذبات پائے جاتے ہیں کہ اگر ان کو نظم اور قانون کے ذریعہ مھار نہ کیا جائے تو معاشرہ میں فساد پھیل جائےگا۔

اس کے بعد یہ سوال پیش آتا ہے کہ یہ قوانین کس طرح کے قوانین ہونے چاہئیں اور ان میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں تاکہ وہ انسانی معاشرہ کی دنیا اور آخرت کی سعادت کی طرف ہدایت کرسکیں ؟ مختصر طور پر یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ قانون کو معاشرہ میں صرف نظم اور امنیت برقرار کرنے والا ہونا چاہیے اسکے علاوہ قانون کا اور کوئی فریضہ نہیں ہے، دوسرے گروہ کا عقیدہ ہے کہ قانون کو معاشرہ میں نظم وامنیت کے علاوہ عدالت کو بھی برقرار کرنے والا ہونا چاہیے اس بنا پر قانون کی تعریف کرنے میں مختلف نظریے بیان کئے گئے ہیں جیسا کہ ہم نے مجمل طور پر بیان کیا ہے، اسی بارے میں کچھ افراد کھتے ہیں کہ معاشرہ میں نسانوں کے طبیعی حقوق کے خلاف ہونے والے قوانین کو نافذ نہیں کرنا چاہئے۔

اس مندرجہ بالا نظریہ کی تائید میں اخباروں ، رسالوں اور تقریروں میں مختلف طرح کے انگیزہ بیان کئے جاتے ہیں اور کھا جاتا ہے کہ آزادی انسانوں کے طبیعی حقوق کی بیان گر ہے، اور کوئی قانون انسانوں سے اس طبیعی حق کو چھین نہیں سکتا ہے، ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ نظریے مختلف اشخاص کی طرف سے اور مختلف انگیزوں کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور میرا بذات خود ان افراد کے ساتھ کوئی واسطہ بھی نہیں ہے کہ ان مطالب کو بیان کرنے والے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا کیا انگیزہ ہے اور وہ کیوں ان مطالب کو بیان کرتے ہیں ؟ میں صرف اس عنوان سے کہ طالب علم ہوں اور پچاس سال سے میرا علوم دینی سے سروکار ہے میں صرف فلسفہ حقوق یا فلسفہ سیاست کے بارہ میں اسلامی نقطہ نظر سے تو بحث کر سکتا ہوں اور اپنا نظریہ پیش کر سکتا ہوں ، اور شاید اکثر افراد کو معلوم ہوگا کہ میرا کسی گروہ، کسی حزب، او رکسی تشکیلات سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور حقیرصرف وظیفہ شرعی کے حکم سے مطالب پیش کررہا ہوں ۔

اگرکچھ افراد معاشرہ میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں ، لوگوں کے سامنے غلط تفسیروں کو پیش کرتے ہیں یا مطالب میں تحریف کیا کرتے ہیں ، وہ ان تفسیروں کی ابتدا یا آخر سے کچھ کلمات کو حذف کر دیتے ہیں اور ایک جملہ ہوتا کسی کا ہے اور اس کو کسی اور سے منسوب کر کے بیان کیا کرتے ہیں اور اس کو ذرہ بین کے سامنے رکھکر اس سے غلط استفادہ کرتے ہیں تو میرا ایسے افراد سے کوئی رابطہ نہیں ہے، معاشرہ میں ایسے افراد ہمیشہ رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔

اگر آپ کے یاد ہو تو میں نے پہلے بھی مکرر اس مسئلہ کی تاکید کی ہے کہ ہم کبھی کبھی ایسا کلمہ استعمال کرتے ہیں کہ اس کا دقیق اور مشخص و معین مفہوم نہیں ہوتا اور ہر شخص اپنی قوت فہم کے مطابق اس سے مطلب اخذ کرتا ہے اور یھی اشتباہ غلطی کا سبب ہوتا ہے اور اس چیز کا باعث ہوتا ہے کہ سننے والا صحیح طریقہ سے کھنے والے کی بات کو نہیں سمجہ سکا اور بعض موقعوں پر یہ مغالطہ کا سبب ہوتا ہے، کبھی تو اتفاق سے مغالطہ ہوجاتا ہے، اور کبھی کوئی شخص جان بوجہ کر مغالطہ کرتا ہے۔

منجملہ ان کلمات میں سے ایک کلمہ ”حق طبیعی“ ہے جو اس جگہ پر بیان کیا گیا ہے جبکہ اصولی طور پر اس طرح بیان ہونا چاہیے کہ ”حق“ کیا ہے اور اسکے طبیعی ہونے کا کیا مطلب ہے؟

۲۔مکتب حقوق طبیعی

جو افراد فلسفہ حقوق سے آشنا ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ فلسفہ حقوق کے مکاتب میں سے ایک ”حقوق طبیعی“ ہے، گذشتہ زمانہ اور جب سے تاریخ فلسفہ مدون ہوئی ہے کچھ لوگوں نے اس موضوع سے متعلق بحث کی ہے۔

یونان کے بعض قدیم فلاسفہ معتقد تھے کھ:انسان حقوق رکھتے ہیں جن کو طبیعت نے ان کو دیئے ہیں انسان کی طبعیت میں حقوق وضع کئے گئے ہیں اور کوئی شخص ان حقوق کو ان سے سلب نہیں کر سکتا، اس لئے کہ انسانی طبیعت نے افراد کیلئے ان حقوق کا ایجاب کرلیا ہے اور اسی بنیاد پر وہ نتیجہ گیری کرتے ہیں اور ظاہراً یہ نتائج ایک دوسرے کے سازگار نہیں ہوتے اور یھیں سے فلسفہ حقوق و اخلاق کے باب میں ایک معروف مغالطہ ایجاد ہوا جسکو ”مغالطہ طبیعت گرایانھ“ کھا جاتا ہے، کیونکہ کچھ افراد کھتے ہیں کہ انسان متعدد طبیعتیں رکھتا ہے مثال کے طور پر سفید گورے انسانوں کی ایک طبیعت ہوتی ہے اور کالے انسانوں کی دوسری طبعیت ہوتی ہے، کالے انسان جسم کے اعتبار سے گورے انسانوں سے زیادہ طاقتور اور فکری اعتبار سے ضعیف (کمزور) ہوتے ہیں ، اسی طرح کا نظریہ ارسطو کا بھی نقل ہوا ہے (یہ غلط فہمی نہ ہوجائے کہ حقیر ان نظریات کو تسلیم نہیں کرتا ہوں اور فقط نقل کرتا ہوں ) جب کالے انسان بدن کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں تو ان کو صرف بدنی کام انجام دینا چاہیے؟! اور گورے افراد فکری اعتبار سے زیادہ قوی ہیں تو معاشرہ کے تمام اداری کام ان کے حوالہ کردینے چاہییں ، نتیجتاً بعض انسان دوسرے انسانوں کی خدمت کیلئے پیدا ہوئے ہیں اسی وجہ سے غلامی ایک ”طبیعی“ قانون ہے، ہم ابھی اس بحث کو چھیڑنا نہیں چاہتے کہ کیا کالے انسانوں کی طبیعت اس چیز کا تقاضا کرتی ہے یا نھیں ؟ یہ خود ایک مفصل بحث ہے اور اس کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہے۔

بہرحال طول تاریخ میں حقوق طبیعی کے باب میں سب سے زیادہ عاقلانہ، معتدل اور سالم مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی چیز انسانوں کی طبیعت کلی کی مقتضی ہوتی ہے تو وہ متحقق ہوتی، انسان کو اس طرح کی طبیعت کلی کے اقتضا سے محروم نہیں کرنا چاہیے، یھاں تک تو مطلب کچھ قابل تسلیم ہے لیکن اس کے قطعی اثبات کے لئے استدلال کی ضرورت ہے کہ کیوں جو چیز انسان کی طبیعت کے متقاضی ہے اس کو بجالایا جائے اور انسان کو اس سے محروم نہ رکھا جائے؟ یہ بہر حال اس مطلب کے اصل مشترک کے عنوان سے تسلیم کیا گیا ہے۔ہمارا بھی یھی عقیدہ ہے کہ جو انسان کی طبیعت کی اقتضا کرتی ہے اور طبیعی طور پر وہ تمام انسان تقاضہ کے اعتبار سے مشترک ہےں تو انسان کو اس طرح کی ضروتوں سے محروم نہیں کرنا چاہیے اس مطلب کی تائید میں عقلی استدلال بھی موجود ہیں جن کو ہم فعلی طور پر بیان نہیں کرنا چاہتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ ان ضروتوں کے مصادیق کیا ہیں ؟انسان کی طبیعت کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور تمام انسانوں کو غذا کی ضرورت ہے اس بنا پر کسی انسان کو کھانا کھانے محروم نہیں کرنا چاہیے یعنی نہ اسکی زبان کاٹی جائے یا اسکو کوئی ایسی دوا کھلادی جائے جس کی وجہ سے وہ بات کرنے سے محروم ہو جائے اور یا اسی طرح کے دوسرے امور، لیکن اس بات کی طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ اس طرح کے مطالب بیان کرنے کے خاص اہداف ہوتے ہیں ۔

۳ ۔یورپ میں حقوق بشر کی حدود

آپ حضرات جانتے ہیں کہ اس عصر (دور) کے آخر میں عالمی پیمانہ پر حقوق بشر کے عنوان سے ایک مسئلہ کا اعلان کیا گیا، شروع میں اس اعلان کی چھیالیس ملکوں کے نمائندوں نے تائید کی اس کے بعد آھستہ آھستہ دوسرے ممالک بھی ان سے ملحق ہوگئے اور نتیجتاً وہ اعلان عالمی اعلان کی صورت میں بدل گیا، اس اعلان میں انسانوں کیلئے حقوق بیان کئے گئے، منجملہ یہ حقوق کہ آزادی بیان، مکان منتخب کرنے کی آزادی، شغل اختیار کرنے کی آزادی، مذہب انتخاب کرنے کی آزادی اور ہمسر انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔

یہ حقوق (جن کیلئے اس اعلان میں استدلال بھی نہیں کی گیا) کھاں سے وجود میں آئے اور کس طرح تمام انسانوں کے حقوق کے عنوان سے بیان کئے گئے اسکا مفصل ایک تاریخچہ ہے، فلسفہ حقوق سے آشنا حقوق دانوں کو (خاص طور سے مسلمان حقوقدان) کی طرف سے اس اعلان میں بہت سی بحثیں بیان کی گئی ہیں ، منجملہ یہ بحث کہ !وہ فلسفی مطالب جن کو تم انسانوں کے حقوق کے عنوان سے بیان کرتے ہو اور ان کو مطلق جانتے ہو اور تمھارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کو کسی کو محدود کرنے کا حق نہیں وہ کیا ہیں ؟ اور ان کیلئے کون سا استدلال پایا جاتا ہے؟

کیا ان کی مشخص و معین کرنے کی کوئی حد ہے یا نھیں ؟ اور کیا یہ حقوق مطلق طور پریہ حقوق قانون سے بلند درجہ رکھتے ہیں اور کسی قانون کو ان حقوق کو محدود کرنے کی اجازت نھیں ؟ کیا کوئی قانون آزادی بیان کی حدود کو معین کرنے کی اجازت نہیں رکھتا؟ کیا کسی قانون کو انتخاب ہمسر کو محدود کرنے کی اجازت نھیں ؟ کیا کوئی قانون ایسا نہیں ہے جو یہ بیان کر سکے کہ تم کو اپنی مملکت کی حدود سے باہر مسکن کو انتخاب کرنے کا حق نہیں ہے؟ کیا کسی قانون کو ان حقوق کی حدود کو مشخص و معین کرنے کی اجازت نہیں ہے؟

جب ہم یہ کھتے ہیں کہ فلاں مطلب طبیعی حق ہے اور انسان کی طبیعت کے متقاضی ہے اور بالفرض اس پر عقلی استدلال بھی موجود ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حقوق کی کوئی حد نہیں ہے؟اگر حدبندی ہے تو کون اس حدبندی کو کون معین ومشخص کرتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خود اعلان کو لکھنے والے اور اکثر اس اعلان کی تفسیر کرنے والے (جہاں تک حقیر کی اطلاع میں ہے) بھی ان سوالوں کا صحیح جواب دینے سے کتراتے نظر آتے ہیں ۔

آخر کار یہ کہ آزادی قانون سے بلند و بالا ہے اس سے مراد کیا ہے؟ کیا کچھ ایسی آزادیاں بھی ہیں جن کو محدود کرنے کا کسی قانون کو حق نھیں ؟ کیا ہم یہ سوال نہیں کر سکتے کہ ان آزادیوں کی حد کھاں تک ہے؟ کیا آزادی بیان کا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص جو کچھ اسکا دل کھے وہ سب کھہ ڈالے؟! ہم تو یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ کوئی ملک ایسی اجازت نہیں دیتا اور آزادی بیان کیلئے حدبندی کا قائل ہوتا ہے، مثال کے طور پر باشخصیت افراد کی توہین کرنا دنیا میں کھیں بھی جائز نہیں ہے۔

۴ ۔آزادی کی حدبندی میں تعارض کا ظاہر ہونا

اب یہ سوال در پیش ہے کہ آزادیوں کی حدبندی کھاں تک ہے اور کون اس کو معین کرتا ہے؟ اس کا مجمل جواب یہ ہے کہ جب یہ کھا جاتا ہے کہ آزادی قانون سے بلندو بالا ہے اور اس کو محدود نہیں ہونا چاہیے اس سے مراد شرعی آزادیاں ہیں ، کچھ افراد کھتے ہیں کہ مشروع اور معقول آزادیاں اور کچھ دوسرے افراد نے دوسری قید کا اضافہ کیا ہے، حقوق بشر کے اعلان میں اس کو ”اخلاقی“ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی اخلاقی موازنہ کے ساتھ حقوق کی رعایت کرنا اور کم وبیش یہ ایک مبہم معنی رکھتاہے اور مشروع قانون سے ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ دین اسلام جیسی شریعت نے اس قانون کو جائز قرار دیا ہو، اگرچہ لغت کے اعتبار سے ریشہ مشروع اور شریعت ایک ہے لیکن حقوق و سیاست کے بارے میں مشروع سے مراد وہ قانون ہے جسکو حکومت معتبر جانتی ہو نہ یہ کہ ہر حال میں شریعت نے ہی اس کو اجازت دی ہو، بعض متدین افراد کو یہ مطلب شک و شبہ میں نہ ڈال دے کہ جب ہم یہ کھتے ہیں کہ مشروع حقوق یا مشروع آزادیاں تو ان کو شریعت اسلام نے مشخص و معین کیا ہے، مشروع سے ان کی مراد وہ حقوق ہیں جو معتبر اور قانونی ہیں ، اور نامشروع سے مراد دوسروں کے حقوق سے تجاوز کرنا ہے۔

لیکن یہ سوال در پیش ہے کہ کونسے حقوق مشروع اور معقول ہیں اور کونسے نامشروع اور نامعقول ہیں ؟ اور کس شخص کو انہیں معین و مشخص کرنا چاہیے؟ ان کے پاس اس جواب کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ آزادی سے مربوط جزئیات اور حدود کو قانون معین و مشخص کرتا ہے اور یھیں سے سب سے پہلے تناقض اور تعارض کا آغاز ہوتا ہے کھ: ایک طرف تو وہ یہ کھتے ہیں کہ یہ حقوق اور آزادیاں قانون سے زیادہ اونچا درجہ رکھتی ہےں اور کوئی قانون ان کو محدود نہیں کرسکتا ہے، لیکن جب ہم ان سے کھتے ہیں کہ یہ آزادی مطلق ہے یا محدود؟ تو وہ جواب میں کھتے ہیں کھ: مطلق آزادی نہیں ہے چونکہ وہ صحیح جواب نہیں دے سکتے اس لئے کھتے ہیں کہ ہماری مراد مشروع آزادیاں ہیں ۔

جب ہم ان سے کھتے ہیں کہ مشروع سے کیا مراد ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ جس چیز کو قانون نے تصویب کر دیا ہو، یعنی قانون آزادی کی حدبندی کو مشخص و معین کرتا ہے،اور ابھی تو تم نے تو یہ کھا تھا کہ یہ آزادیاں قانون سے بلند و بالا ہیں ۔

ممکن ہے آپ اس کا یہ جواب دیں کہ مشروع اور معقول آزادیوں سے تمام انسان اور عقلائے عالم واقف ہیں ، ہم ان سے کھتے ہیں کہ جس مطلب کو تمام انسان اور عقلائے عالم جانتے ہوں تو پھر بحث ہی ختم ہو جاتی ہے، چونکہ ہم اور تمام مسلمان انہیں میں شمار کیے جاتے ہیں ، اور دنیا میں تقریباً ایک میلیارد اور چند لاکہ مسلمان ہیں اور عقلا ء بھی انہیں میں شامل ہیں ، اور سب یہ کھہ سکتے ہیں کہ اسلام میں کس قسم کی آزادیوں کو قبول کیا گیا ہے اور وہ کس قسم کی آزادیوں کو قبول کرتے ہیں اور کس قسم کی آزادیوں کو رد کرتے ہیں ، ہماری تمام معلومات اور مطالعات کے مطابق ابھی تک یہ سوال بلا جواب ہے اور فلاسفہ حقوق کے پاس اس کا کوئی قطعی جواب نہیں ہے کہ آزادیوں کو کونسی چیز محدود کرتی ہے؟

۵۔حقوق بشر میں آزادی کی اہمیت

حقوق بشر کے اعلان کی شرح کرنیوالوں اور فلاسفہ حقوق نے اپنی فلسفہ کی کتابوں میں آزادی کی حدبندی کے بارے میں مندرجہ ذیل چیزیں لکھی ہیں :

۱۔جس چیز کو فردی آزادیوں کو محدود کرنے کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے وہ دوسروں کی آزادی ہے، یعنی ہر فرد وہاں تک آزاد ہے جہاں تک وہ دوسروں کا مزاحم نہ ہو اور دوسروں کے حقوق سے تجاوز نہ کرے، فلاسفہ حقوق نے اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ پافشاری کی ہے اور حقیقت میں حقوق بشر کے اعلان میں جو یورپ کے فلاسفہ حقوق کی انجیل کے مانند ہے اس چیز پر بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہر انسان وہاں تک آزاد ہے جہاں تک وہ دوسروں کا مزاحم نہ ہوتا ہو، لیکن اگر فردی آزادی سے دوسروں کو زحمت ہوتی ہو وہ اس طرح کی آزادی سے محروم ہوگا اور یھیں پر آزادی محدود ہوجاتی ہے۔

یھاں پر بہت سے سوال پیش آتے ہیں : پہلاسوال: تم دوسروں کی مزاحمت کرنے کو کن مقولوں سے تعبیر کرتے ہو؟ کیا یہ مزاحمت صرف امور مادی میں ہے یا امور معنوی کو بھی شامل ہوتی ہے؟ کیا لوگوں کے دینی مقدسات کی مخالفت کرنا ان کی آزادی کی مخالفت کرنا ہے یا نھیں ؟ یورپی لیبرال کا نظریہ کھتا ہے کہ آزادیوں کی حدبندی معنوی ادوار کو شامل نہیں ہوتی اور امور معنوی کی مخالفت آزادی کو محدود نہیں کرتی۔

لھٰذا جب یہ کھا جاتا ہے کہ دین اسلام خدا وپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مقدسات اسلام کی اہانت کرنے والے کو مرتد سمجھتا ہے، مثال کے طور پر اسلام، سلمان رشدی کو مقدسات اسلام کی اہانت کرنے کی وجہ سے واجب القتل سمجھتا ہے تو وہ اس چیز کو تسلیم کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں اور کھتے ہیں کہ بیان آزاد ہے، وہ محقق ہے جو چاہے لکہ سکتا ہے، تم بھی جو چاہو وہ لکھو! تو ہمارا ان سے یہ سوال ہے کہ اس کتاب کے مطالب سے دوسروں کی مقدسات کی اہانت ہوتی ہے؟ تو حقیقت میں وہ یہ نہیں کھہ سکتے کہ توہین آمیز نہیں ہے۔

کیا آزادی بیان اتنا وسیع ہے کہ ایک شخص دنیا کے اس کونہ سے ایک میلیارد سے زیادہ مسلمانوں کی مقدس شخصیت پیغمبر جنکو مسلمان اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اپنے ھزاروں عزیزوں کو آپ پر فدا کرنے کیلئے تیار ہیں ان کی شان میں گستاخی کرے؟ کیا اس کام کو آزادی بیان کھا جاتا ہے؟ اور یہ وہی مطلب ہے جس کو تمام لوگ درک کرتے ہیں ؟ کونسی عقل، منطق استدلال اور شریعت اجازت دیتی ہے کہ ایک انسان دوسرے ایک میلیارد مسلمانوں کی مقدس شخصیت کی شان میں گستاخی کرے؟ اگر حقوق بشر کے اعلان میں آزادی بشر سے یھی چیز مراد ہے تو ہم بغیر کسی چون و چرا کے آرام کے ساتھ ایسے اعلان کو تسلیم نہیں کرتے۔

۶۔یورپ میں آزادی کی حدبندی پر اعتراضات

جو افراد اس اعلان کو معتبر سمجھتے ہیں اور اس کا انجیل کی حد تک احترام کرتے ہیں ان سے ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ اعلان کیسے معتبر ہوتا ہے؟ کیا تمھارے پاس کوئی عقلی دلیل ہے؟ اس صورت میں تم کو اس پر عقل سے بھی استدلال کرنا چاہیے، بڑے آرام سے یہ نہیں کھا جاسکتا کہ ”آزادی قانون سے بلند درجہ رکھتی ہے اور اس کو محدود نہیں کیا جا سکتا ہے“ اگر تم یہ کھتے ہو کہ اس کا اعتبار اس وجہ سے ہے کہ ممالک کے نمائندوں نے اس اعلان پر دستخط کر دئیے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اعتبار دستخط کا تابع ہے، اب جن ممالک نے اس اعلان پر دستخط نہیں کئے ہیں یا کسی شرط کے ماتحت دستخط کئے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہ بھی بغیر کسی چون وچرا کے اس کی اتباع کر سکتے ہیں ؟

ھر معاشرہ ثقافت، مقدس چیزیں اور خاص احکام رکھتا ہے اور اسی حقوق بشر کے اعلان کے ایک حصہ میں آیا ہے کہ ہر شخص اپنا مذہب منتخب کرنے میں آزاد ہے اور جب انسان کسی مذہب کا انتخاب کرلیتا ہے تو اس کو اسکے احکام پر عمل کرنا چاہیے کسی مذہب کے منتخب کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف زبان پر جاری کر لیا جائے بلکہ انسان کو عمل کرنے میں بھی آزادانہ طور پر اپنے مذہب پر عمل کرناچاہئے۔

اب ہم نے بھی اسلام کو آزادانہ طور پر منتخب کیا ہے، اسلام کا بھی فرمان ہے کہ جو شخص بھی اولیا اسلام کی اہانت کرے گا اسکی سزا موت ہے، یورپی ثقافت کھتی ہے کہ اسلام کا یہ حکم حقوق بشر کے خلاف ہے انسانوں کے طبیعی حقوق کے بر خلاف ہے، اس لئے ہر انسان اپنی طبیعت کے اقتضا کے مطابق جو کچھ چاہے کھنے کا حق رکھتا ہے! نتیجہ کے طور پر حقوق بشر کے اعلان میں جو یہ دو مطلب آئے ہیں یہ ایک دوسرے کے معارض ہیں ۔

ہم اپنی پہلی بحث کی طرف پلٹتے ہیں کہ ہر شخص جو چاہے وہ کھنے کا حق رکھتا ہے اس مطلب پر کونسی دلیل ہے؟ تو تم اپنے ملک میں ہر شخص کو جو کچھ وہ کہنا چاہے اسکی اجازت کیوں نہیں دیتے ہو؟ اگر کوئی شخص تھمت لگاتا ہے تو عدالت میں اسکی کیوں شکایت کرتے ہو، اور جب وہ یہ کھتا ہے کہ ”آزادی بیان“ ہے اور جو میں نے چاہا وہ کھا ہے تو کس دلیل کی بنا پر اس سے یہ کھتے ہو کہ اس طرح کی باتیں مت کرو؟ معلوم ہوتا ہے کہ مطلق آزادی بیان نہیں ہے اور بعض مطالب کو بیان نہیں کرنا چاہیے، اس مطلب کو دنیا کے تمام انسان تسلیم کرتے ہیں کہ مطلق آزادی نہیں ہے ورنہ انسانیت اور معاشرہ باقی نہ رہتا جس میں کوئی قانون حاکم اور حقوق کی رعایت ہوتی۔

نتیجہ کے طور پر کوئی شخص مطلق آزادی کو تسلیم نہیں کرتا، لیکن سوال یہ ہے کہ اسکی حد کھاں تک ہے؟ آزادی بیان کو نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا اور ہم نے عرض کیا کہ آزادی کو لامحدود نہیں کھہ سکتے اور ایسا کسی شخص نے بھی نہیں کھا ہے اور عملی طور پر کوئی مملکت اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتی کہ ہر انسان کا جو دل چاہے وہ بیان کرے اور لکھے اگرچہ وہ تھمت و افترا ہی کیوں نہ ہو اور دوسرے لوگوں کی گمراہی کا سبب ہو، قومی امنیت کے برخلاف ہو۔

اگر گفتگو کرنا آزاد ہے تو ہم بھی گفتگو کرتے ہیں ، اگر وہ ہم کو اجازت دیں تو ہم بھی ان سے ایک سوال کرتے ہیں ، اور حقوق بشر کا اعلان لکھنے والوں کی خدمت میں مودبانہ زانوئے ادب تھہ کریں اور ان کے سامنے اپنا سوال بیان کریں ، ہمارا ان سے سوال یہ ہے کہ کس دلیل کی بنیاد پر انسان آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کھے؟ اگر آزادی مطلق ہے تو تم خود کیوں تسلیم نہیں کرتے ہو؟ تھمت لگانے اور افترا باندھنے اور اہانت کرنے کو کیا تم خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ آزادی مطلق ہے؟

نتیجتاً تم نے یہ تسلیم کرلیا کہ آزادی محدود ہے، لیکن وہ کھاں تک محدود ہے؟ جہاں تک تمھارا دل چاہے وہاں تک محدود ہے؟جب تم یہ کھتے ہو کہ دوسروں کی آزادی کا مزاحم نہیں ہونا چاہیے تو ہمارا تم سے سوال یہ ہے کہ تم دوسروں کی آزادی کو کس حد تک معتبر سمجھتے ہو؟ کیا آزادی کی حد بندی یہ ہے کہ جہاں تک دوسروں کا جانی مالی اور ان کی حیثیت کا نقصان نہ ہوتا ہو؟ کیاو روح، حیات معنوی، افکار اور ان کی مقدس آرزوں پر صدمات وارد ہوتے ہیں وہ ممنوع ہیں یا نھیں ؟ اگر ممنوع ہیں تو ہمارا بھی یھی نظریہ ہے، ہم بھی یھی کھتے ہیں کہ آزادی بیان حدبندی رکھتی ہے، مقدس چیزوں کی اہانت نہیں کرنا چاہیے چوں کہ یہ دوسروں کے حق سے تجاوز کرنا ہے۔

۷۔مادی اور معنوی مصالح پر قانون اسلام کی توجہ

اب اس بحث کو برقرار رکھنے میں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے آزادی کی اساس و بنیاد کیا ہے اور اس کی حد بندی کیا ہے؟ قانون کیلئے پہلے بیان کی گئی خصوصیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے معاشرہ میں اجتماعی زندگی کے اہداف و مقاصد اور مادی و معنوی مصالح کی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر قانون کا موجود ہونا ضروری ہے، اگر اجتماعی زندگی نہ ہو تو افراد کے مادی اور معنوی مصالح پورے نہیں ہوسکیں گے، اجتماعی زندگی کے ماتحت انسان اس چیز کا منتظر رہتا ہے کہ وہ خدا دادی نعمتیں جیسے علوم، ٹیکنالوجی اور صنعتوں سے بھی اور معارف و کمالات روحی کے بلند پایہ کے استادوں سے بھی کما حقہ استفادہ کرےگا، ان معارف و علوم کا صرف اجتماعی زندگی میں ہی حاصل کرنا میسر ہے۔

نتیجتاً قانون ایسا ہونا چاہیے جو انسانی رشد کی مادی اور معنوی جھتوں میں ضمانت لے قانون کا صرف معاشرہ میں نظم برقرار کرنا ہی کافی نہیں ہے، مثال کے طور پر اگر دو افراد یہ طے کریں کہ وہ دوسروں کو کوئی نقصان پہونچانے اور معاشرہ کے نظم میں خلل ڈالے بغیر ایک دوسرے کو قتل کر ڈالیں گے تو کیا وہ یہ صحیح کام انجام دیں گے؟

اگر آپ حضرات کو یاد ہو تو کچھ دن پہلے امریکہ کے ایک شہر میں انسانوں کے ایک گروہ کو جلا دیا گیااور یہ اعلان کردیا گیا کہ یہ وہ افراد تھے جو اپنے رسم و رواج میں خودکشی کو کمال سمجھتے تھے! البتہ ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ممکن ہے خود امریکا کی حکومت کے ممبران نے جب ان افراد کو اپنے نظام کے مخالف دیکھاہو، تو سب کو نیست و نابود کردیا ہو، فرض کر لیجئے کہ اس گروہ نے اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق اس فعل کو انجام دیا تو کیا ان کا ایسا کرنا صحیح ہے؟ کیا یہ کھا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کسی کو کوئی اذیت نہیں دی اور خود ایک دوسرے سے موافقت کر کے ایک دوسرے کو قتل کردیا تو انھوں نے یہ صحیح کام انجام دیا ہے؟ کیا حکومت کو ایسے قانون کی اجازت دیدینی چاہیے؟ کیا قانون کو ایسی اجازت دیدینی چاہیے یا نھیں ؟ اگر نظم اور امنیت کی رعایت کرنا ہی صرف ملاک ہے تو یہ نظم و امنیت تو کچھ افراد کے ایک ساتھ قتل کردینے سے بھی باقی رہتی ہے! اور قانون دوسرا کوئی اور وظیفہ نہیں رکھتا۔

لیبرل نظریہ میں حکومت کا وظیفہ صرف نظم وامن برقرار کرنا ہے اور قانون کا کام ہر ج و مرج کو روکنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، اس طرز تفکر کا نتیجہ وہی چیز ہے جسکا یورپی ممالک میں مشاہد کیا جاتا ہے جیسے اخلاقی، جنسی، اور اجتماعی فساد وغیرہ یہ تمام مسائل ان کے اس قول کا نتیجہ نہیں کھ: حکومت کو افراد کے حقوق اور ان کی زندگی میں دخالت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور حکومت کو تو صرف نظم برقرار رکھنا چاہیے، حکومت کو تو صرف مسلح پولیس کی طرح اسکولوں میں رہنا چاہیے تاکہ بچے ایک دوسرے کو یا اپنے استادوں کو قتل نہ کردیں ، وہاں پر برقراری نظم و امنیت اسی حد تک ہے کیا قانون کا وظیفہ صرف یھی ہے؟ یا دوسرے وظایف جسیے انسانوں کے اندر رشدونموکرنابھی قانون کی ذمہ داری ہے؟ اور کیا قانون کو اخلاقی برائیوں سے بھی روکنا چاہیے؟

جو کچھ ہم نے بیان کیا اس کا نتیجہ کھ: قانون کو مصالح معنوی کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے، اس بنا پر جو کچھ انسانوں کے معنوی مصالح اور ان کی شخصیت، روح الٰھی، مقام خلیفہ الٰھی اور انسانیت کیلئے مزاحمت ایجاد کرتا ہے اور اسی طرح جو مصالح مادی اور انسانوں کی امنیت اور سلامتی کو ضرر پہونچاتا ہے وہ بھی ممنوع ہونا چاہیے، کیا اجتماع اسلئے نہیں ہوتا کہ انسان اپنی انسانیت کی وجہ سے رشد کرے اور صرف اپنے حیوانی مقاصد ہی نہیں بلکہ انسانی مقاصد کو بھی حاصل کرے؟ تو قانون مصالح مادی اور معنوی دونوں کا متکفل ہونا چاہیے، لھٰذا کسی کی حیثیت، کرامت اور لوگوں کی مذہبی مقدس گاہوں سے معارضہ کرنا یہ انسانوں کی روحی اور معنوی رشد ونموکو روکتا ہے یہ بھی ممنوع ہونا چاہیے، جس طرح سے مواد مخدر کا رائج کرنا یا زھریلی دوا کا انجکشن لگانا منع ہے اس لئے کہ وہ انسان کو بیمار کرتا ہے اور ھستی سے ساقط کردیتا ہے، اور اس کے مصالح مادی کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔

اب اگر کوئی اس زھر کا عادی ہوجائے اور اسکے حیوانی افعال میں کوئی خلل ایجاد نہ ہو اور وہ ظاہراً صحیح و سالم ہو لیکن اس کا فہم و شعور ختم ہوگیا ہو تو کیا یہ اس کیلئے جائز ہو جائےگا؟اور اگر دوسری طرح کی آفتیں اور زھر اپنا کام کر جائے جو اس کی سلامت معنوی اور ایمان کے ختم ہوجانے کا باعث ہوجائے تو کیا ان امور کا انجام دینا ممنوع نھیں ھے؟ کیا یہ انسان کی انسانیت کو ضرر پہونچانا نہیں ہے؟ اگر کچھ افراد معاشرہ میں ایسی شرطیں فراہم کریں جو لوگوں کو دینداری سے دور کریں تو ان کو آزاد ہونا چاہیے؟ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے کھ:

( صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّه وَ کُفْرٌ بِه وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ... ) (۱)

”اور (یہ بھی یاد رہے) کہ خداکی راہ سے روکنا اور خدا سے انکار او رمسجد حرام (کعبہ) سے روکنا(اس سے بڑہ کر گناہ ہے)“

جو چیز خداوندعالم کی راہ، ترقی اور انسانوں کے حقائق دین سے آشنا ہونے کے راستہ کو بند کردے اور دین کو جوانوں کے نزدیک مشتبہ جلوہ دینے کا باعث ہوتا ہے وہ منع ہے چونکہ وہ انسان کی انسانیت کو ضرر پہونچاتا ہے، کیسے جو چیز انسان کی حیوانیت کو لطمہ پہونچاتی ہے تو وہ ممنوع ہوتی ہے لیکن جو چیز انسان کی انسانیت کو ضرر پہونچائے وہ آزاد ہوتی ہے؟ دنیا کھتی ہے: ھاں ، لیکن دین کھتا ہے کھ: نھیں ، ہمار ا یہ عقیدہ ہے کہ معاشرہ میں اس قانون کا اجرا ہونا چاہیے جو انسانوں کی مصالح معنوی کی رعایت کرے اور مصالح معنوی کی رعایت کرنا مصالح مادی سے زیادہ اہم ہے۔(قارئین کرام اس بات کا خیال رکھیں کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا اس کا علمی بحث سے تعلق ہے اور ممکن ہے اس کا عینی مصداق نہ مل سکے لھٰذا اس کا مطلب یہ نہ سمجہ لیں کہ ہم نے اقتصاد کو بالائے طاق رکہ دیا ہے۔)

۸ ۔مصالح معنوی اور دینی کا مصالح مادی پر مقدم ہونا

اگر کوئی ایسا موقع آجائے کہ ہماری اقتصادی حالت تو اچھی ہوتی ہو لیکن ہمارے دین پر آنچ آتی ہو یا دینی حالت توسدھرتی ہو لیکن اقتصاد ی حالت پر آنچ آتی ہو تو ہم کو دونوں میں سے کونسی چیز انتخاب کرنی چاہیے؟ ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اسلام کی پیشرفت اقتصادی پیشرفت کی بھی ضامن ہے، مگر ایک طولانی عرصے کے بعد، لیکن کبھی یہ امکان ہے کہ اقتصادی منافع کچھ تھوڑی مدت تک کیلئے ختم ہوجائیں اور افراد کیلئے کچھ تنگی کا باعث ہوجائے، اب اگر اس طرح کی وضعیت پیش آجائے تو بیان کئے گئے مقدمات اور استدلال کو مدنظر رکھتے ہوئے مصلحت دینی کو مقدم ہونا چاہیے یا دنیوی کو مقدم کرنا چاہیے؟ جیسا کہ نھج البلاغہ میں امام حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ:

”فان عرض بلاء فقدم مالک دون نفسک فان تجاوز البلاء فقدم مالک و نفسک دون دینک .“ (۲ )

”اگر تمھاری جان خطرہ میں پڑ جائے تو تم اپنے مال کو اپنی جان پر فدا کردو اگر جان ومال کے درمیان خطرہ ہو تو مال کو قربان کردو لیکن اگر جان اور دین کے درمیان خطرہ ہے یعنی زندگی کفر کی حالت میں ہو اور ایمان کی حالت میں شھادت ہو تو پھر اپنی جان ومال کو دین پر قربان کردینا چاہئے، اس موقع پر اگر انسان قتل ہوجائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہوگا“

کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ. ) (۳)

”(اے رسول) تم منافقوں سے کھہ دو کہ تم تو ہمارے لئے (فتح یاشھادت)دو بھلائیوں میں سے ایک کے (خواہ مخواہ) منتظر ہی ہو“

جو شخص دین اسلام کی راہ میں قتل ہوجائے اس کا کیا نقصان ہوتا ہے؟ وہ سیدھا جنت میں جائےگا، لیکن بالفرض اگر کوئی شخص بے دین سو سال تک زندہ رہے تو دن بہ دن اسکے عذاب میں زیادتی ہونے کے علاوہ اس کا اور کیا فائدہ ہوگا؟، پس اسلامی نقطہ نظر سے مصالح دینی اورمعنوی مصالح مادی سے اہم ہیں ،اس بنا پر قانون کو مصالح معنوی کی رعایت کے علاوہ مصالح معنوی کو اولویت بھی دینا چاہیے، ہماری بحث استدلالی ہے اور ہم اپنے استدلال کو کسی دوسرے پر نہیں چھوڑدیتے ہیں جو افرادتسلیم نہیں کرنا چاہتے وہ رد کر سکتے ہیں ، ان استدلالوں کی بنیاد پر ہم نے کوئی غیر منطقی مطلب بیان نہیں کیا۔

۹ ۔اسلام اورلیبرالیزم کے مابین آزادی اور قید میں فرق

ساری دنیا کے تمام عقلا کے مانند ہماری نگاہ میں بھی آزادی محدود ہے، لیکن ان کے اور ہمارے مابین یہ فرق ہے کہ ان کے یھاں آزادی کے مقید ہونے کا یہ مطلب دوسروں کی آزادی سے تجاوز کرنا ہے اور ہمارے یھاں آزادی کے محدود ہونے کا مطلب مصالح اجتماعی کی ہر مصلحت سے تجاوز کرنا ہے، انسان اپنی زندگی میں آزاد ہےں وہ بات کریں ، کھائیں ، کام کریں ، تجارت کریں ، اقتصادی حالت درست کریں ، بحث کریں ، سفر کریں ، قرارداد پر دستخظ کریں ، بہ طور خلاصہ انکو ہر کام کرنے کی اجازت ہے لیکن کس حد تک؟ جہاں تک معاشرہ کے مادی اور معنوی مصالح تباہ وبرباد نہ ہوتے ہوں ۔

جہاں آزادی مادی لحاظ سے معاشرہ کے مصالح کو نقصان پہونچانا شروع کردے وہ ممنوع ہے، اور اسی طرح جہاں پر آزادیوں سے استفادہ کرنا معاشرہ کی معنوی مصالح سے معارضہ کرجائے تو ایسی آزادیاں ممنوع ہیں مندرجہ بالا دونوں صورتوں میں آزادی سے استفادہ کرنا منع ہے یہ ہماری دلیل و منطق ہے، اور اگر کسی کے پاس ہم سے بہت ر منطق ہے تو ہم اس کو سننے اور اس سے استفادہ کرنے کیلئے تیار ہیں ، فلسفہ حقوق کے استادوں سے میری گذارش ہے کہ وہ زیادہ دقت سے کام لیں ۔

جہاں تک ہم کو اطلاع ہے آج تک حقوق اور سیاست کے فلاسفہ نے اس سوال کا کوئی قطعی اور منطقی جواب نہیں دیا کہ آزادی کی حد بندی کیا ہے؟ اگر ہمارے اساسی قانون یا عادی قوانین یا بزرگان عالم کے کلمات میں یھاں تک کہ اگر امام خمینی(رہ) قدس سرہ کے کلمات میں اس سے مشابہ کوئی تعبیر موجود ہو تو اسکی تفسیر کی خاطر اسکے اہل سے رجوع کرنا چاہیے، ہم بھی قانون کے جاری ہونے کے طرفدار ہیں اسلامی ملک میں قوانین کی بہ نسبت ہماری ذمہ داری دوسروں سے کھیں زیادہ ہے۔

لیکن ہمارا دوسروں سے یہ فرق ہے کہ ہم قانون کو اس لئے معتبر سمجھتے ہیں کہ ولی فقیہ نے ان پر دستخط کر دئیے ہیں ، اور چونکہ امام خمینی(رہ) قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ ”اسلامی حکومت کی اطاعت کرنا واجب ہے“ کچھ افراد کھتے ہیں کہ: چونکہ لوگوں نے اپنے ووٹ بھی دیئے ہیں ، اب کونسی منطق قوی ہے؟ کسکا اثر زیادہ ہے؟جب کسی شخص سے کھا جائے چونکہ لوگوں نے ووٹ دئے ہیں ، اس لئے اس قانون پر عمل کرنا واجب ہے؟ممکن ہے وہ شخص یہ جواب دے کہ میں نے اس نمائندے کو ووٹ ہی نھیں دیا ہے، یا میں اس قانون سے راضی ہی نہیں ہوں !

لیکن امام خمینی(رہ) قدس سرہ نے فرمایادیا ہے کہ : اگر اسلامی حکومت کوئی حکم صادر کرے اور مجلس شورائے اسلامی کسی حکم کو تصویب کر دے تو وظیفہ شرعی کے عنوان سے اس کی اطاعت کرنا چاہیے؟ اس وقت دیکھیں کیا چیز وقوع پذیر ہوتی ہے، اب ہم قانون کے پابند ہیں یا وہ.؟ یھاں تک کہ اگر کسی اساسی (بنیادی) قانون میں بھی کوئی ابھام پایا جاتا ہو تو اسکی تفسیر کی خاطر کسی صلاحیت دار مرجع کی طرف رجوع کرنا چاہیے کسی اور کی طرف نھیں ۔

پس نتیجہ یہ نکلاکھ: تمام ملتوں اور تمام عقلا ء کے درمیان آزادی محدود ہے، لیکن اسلامی نقطہ نظر سے معاشرہ کی مصالح مادی اور معنوی اسکی حد ہیں ، تمام انسان وہاں تک آزادھیں جہاں تک معاشرہ کے مادی اور معنوی مصالح کو کوئی نقصان نہ پہونچتا ہو۔

حوالہ

.۱سورہ بقرہ ۲۱۷

.۲شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۸ ص۲۵۰

.۳سورہ توبہ ۵۲


پندرہواں جلسہ

اسلامی حکومت اور ثقافتی حربے

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر

جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ ہماری بحث اسلام کے سیاسی نظریہ کے بارے میں ہے اور گذشتہ جلسوں میں اس سلسلہ میں بہت سی چیزیں بیان ہوئیں کہ جس میں مہم چیز سیاست کا دین سے جدا نہ ہونا تھا،اور ہم نے عرض کیا کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے وہ قانون معاشرے میں معتبر ہے جو یا خدا کی طرف سے براہ راست قرآن کریم میں بیان ہوا ہو، یا پیغمبراکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام یا اس شخص کی طرف سے بیان ہوا ہو جس کو امام معصوم نے اجازت دی ہو بہر حال قوانین خدا کی مرضی کے مطابق اور اسلامی نظریہ کے مطابق ہو،اس سلسلہ میں گفتگو بہت زیادہ ہے، اور ہم نے یہ بھی عرض کیا کہ بعض لوگ اس کے مخالف ہیں کہ معاشرہ میں احکام دینی کی حکومت ہو، ان مخالف لوگوں کی تین قسمیں ہیں :

۱۔ جو لوگ دین کو بالکل نہیں مانتے، ظاہر ہے کہ یہ لوگ بالکل بھی پسند نہیں کریں گے کہ کسی ملک میں دینی احکام جاری ہوں ، لیکن الحمد للہ ایسے افراد ہمارے معاشرے میں بہت کم ہیں ۔

۲۔ جو لوگ دین کو قبول کرتے ہیں لیکن مغربی کلچر کے تحت تاثیر واقع ہیں ان کا اعتقاد یہ ہے کہ دین کا دائرہ سیاست و معاشرے سے جدا ہے اور دین کو فقط انفرادی اور خدا سے رابطہ میں منحصر کرتے ہیں اور کھتے ہیں : اجتماعی زندگی کے مسائل کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے اسی نظریہ کو عمومی طورپر سیکولیزم یا دین کا مسائل زندگی سے جدا کرنا کھا جاتا ہے۔

۳۔جو حضرات واقعاً معتقد ہیں کہ اسلام میں اجتماعی اور اسلامی مسائل موجود ہیں ، لیکن ناخواستہ طور پر مغربی کلچر سے متاثر ہیں اور کبھی کبھی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ اسلام سے ہم آھنگ نہیں ہیں ۔

۲۔علماء اور ان کی خطرناک ذمہ داری

بہر حال ہم خداوند عالم کے معین کردہ وظیفہ اور ذمہ داری کے تحت موظف ہیں کہ حتی المقدور اسلامی عظمت کو بیان کر یں اورفکری دینی انحرافات سے لوگوں کو روکیں ، اور اس چیز کی طرف بھی اشارہ کریں کہ بعض احباب اور خیر خواہ حضرات فکر کرتے ہیں کہ اس سیاسی و اجتماعی زمانے میں ان بحثوں کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے! یھاں تک کہ بعض حضرات کا تصور یہ ہے کہ ان باتوں کو چھیڑنا نقصان دہ ہے،کیونکہ ان سے افکار وعقائد متاثر ہوتے ہیں ، ان حضرات کا تصور یہ ہے کہ ہم جس قدر سعی و کوشش کرسکتے ہیں کریں کہ فکری و اعتقادی وحدت ایجاد ہوجائے، لھٰذا ان چیزوں سے پرہیز کریں کہ جن کی وجہ سے اختلاف و افتراق ہوتاہے تو یہ معاشرے کیلئے زیادہ سود مند ہے۔

بعض حضرات خیر خواہی کی وجہ سے کھتے ہیں آپ ان بحثوں کو چھوڑ کر دوسری ضروری اور بہت ر بحثوں کو معاشرے میں یھاں کریں اور بلند مقامات کو حاصل کریں اور ایسے کام کریں جو آپ کے لئے بھی سودمند ہوں اور معاشرے کیلئے بھی مفید ہوں ۔

ان حضرات (کہ جن میں بعض خیر خواہ بھی ہیں ) کی خدمت میں عرض کریں کہ ہم بھی اس راستہ کو اچھا سمجھتے ہیں کہ جس میں عافیت و بھلائی ہو، اور ان لوگوں کے مزاج کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو واہ واہ کرتے ہیں ،لیکن ہماری یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ جس کو خداوند عالم نے ہم پرواجب کیا ہے البتہ یہ ذمہ داری سب سے پہلے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی ہے اور اسکے بعد علمائے کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے اور واقعاً یہ راستہ بہت مشکل اور خطرناک ہے اور واہ واہ ، سبحان اللہ سبحان اللہ کی جگہ تھمت ، بہت ان، بدگوئی اور کبھی کبھی جلاوطنی، زنداں اور قتل وغیرہ کو قبول کرتے ہیں ، بہر حال اس راہ میں بہت سی مشکلات ہیں جیساکہ ہمیں تاریخ میں انبیاء ،ائمہ معصومین علیہم السلام نے ان کو برداشت کیا ہے لھٰذا ہم بھی اس راستہ پر قائم ہیں اگرچہ ہمارے دوست و احبا بھی ہم پر ملامت کریں ، کیونکہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالهُدیٰ مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَاه لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ ا وْلٰئِکَ یَلْعَنُهُمُ اللَّه وَیَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ.. ) .(۱)

”بے شک جو لوگ (ہماری) ان روشن دلیلوں اور ہدایتوں کو جنھیں ہم نے نازل کیا ہے اس کے بعد چھپاتے ہیں جب کہ ہم کتاب (تورات) میں لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرچکے ہیں تو یھی لوگ ہیں جن پر خدا (بھی) لعنت کرتا ہے (اور) لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں “

جو حضرات اپنے حقائق سے آگاہ ہیں لیکن اپنے ذاتی یا کسی خاص گروہ کے نفع کی خاطر ان حقائق کو مخفی رکھتے ہیں ان پر خدا، ملائکہ اور اولیا خدا کی لعنت ہوتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں بیان ہوا ہے:

”اِذَا ظَهرَتِ البِدَعُ فِی اُمَّتِی فَلْیُظْهِرِ العَالِمُ عِلْمَه وَاِلَّا فَعَلَیْه لَعْنَةُ الله.“ (۲)

”جس وقت دین میں بدعت ہونے لگیں تو علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم کو بیان کرےں ، اور لوگوں کو انحرافات سے روکیں ، ورنہ اس پر خدا کی لعنت ہوگی“

لھٰذا ہمارے سامنے دو راستے ہیں یا تو ہم اپنے دوستوں کی ملامت اور دشمنوں کی تھمتوں کو برداشت کریں ، اور خدا کی رضایت حاصل کریں ، یا لوگوں کی داد و تحسین کو پسند کریں اور خدا کی لعنت کے مستحق ہوں ، لھٰذا ہم ترجیح دیتے ہیں کہ لوگوں کی تھمتوں اور بدگوئیوں کو برداشت کریں ، لیکن ہم خدا کی لعنت کے مستحق نہ بنےں ، لھٰذا ہم پر یہ اہم ذمہ داری ہے اور ہمارے لئے نیز دوسرے علما کیلئے ان مسائل پر بحث و گفتگو کرنا دوسری چیزوں سے زیادہ واجب ہے۔

ٹھیک ہے آج کل سرحدی علاقوں میں ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آئندہ ہمارے لئے فوجی مشکلات کا سامنا ہو، ٹھیک ہے افغانستان میں طالبان کے ذریعہ کہ ہمارے سفارتخانہ کے ذمہ دار افراد اور ۳۵ ڈرائیور گرفتار ہوں کہ جس کی وجہ سے ہماری ملت اور حکومت کو دکہ پہونچا، مظاہرے ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلہ کو پیش کیا گیا، لیکن ان ۴۰ یا ۵۰ لوگوں کا دشمن کے ذریعہ گرفتار ہونے کا خطرہ ہماری یونیورسٹیوں میں ھزاروں جوان مسلمانوں کا امریکائی عناصر کے ذریعہ ان کے جال میں پہنسا زیادہ خطرناک نہیں ہے۔

یعنی مغربی ثقافتی عناصر کے ذریعہ گرفتار ہونے کا خطرہ، چند ایرانیوں کا دشمن کے ھاتھوں گرفتار ہونے سے کھیں زیادہ خطرناک ہے، اگرچہ وہ لوگ مشکلات میں ہیں لیکن ان کا اجر خداوند عالم کے نزدیک محفوظ ہے، لیکن اگر ہمارے جوان و نوجوان خصوصاً شھداء واسیروں کے کی اولاد یونیورسٹیوں میں دین سے منحرف ہوجائیں تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟ کیا فکری گرفتاری مزید خطرناک نہیں ہے؟ کیا اس سلسلے میں کسی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟

(ممکن ہے کوئی ہم کو مقصر ٹھھرائے اور کھے کہ آپ غلط سوچتے ہیں اگرانسان آزاد ہے تو پھر اس کو اپنی رائے کا اظھار کرنا چاہیے، تو پھر ہمیں بھی حق ہونا چاہیے کہ ہم بھی اپنی رائے کا اظھار کریں چونکہ ہم بھی تقریباً ۵۰ سال سے دینی علوم کی تعلیم و تعلم میں مشغول ہیں اور ہم بھی اپنی رائے کا اظھار کرسکتے ہیں )

ہماری بحث یہ تھی کہ ہماری اس بات(کہ معاشرے میں اسلامی و الہی قوانین کو حاکم ہونا چاہیے) کے مقابلے میں بعض لوگوں شبھات و اعتراض کئے تھے اور ہم بھی اس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا، بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ معاشرے میں اسلامی احکام کا جاری ہونا انسان کے مسلّم حقوق سے ہم آھنگ نہیں ہے، انسان کے مسلّم حقوق میں سے ایک آزادی ہے تو پھر فکر، دین، سیاست اور بیان میں آزادی ہونا چاہیے، طبیعی طور پر ہر انسان یہ حق رکھتا ہے کہ کسی بھی دین کو منتخب کرے، اور اس کو یہ اختیار ہے کہ اپنے دین کو بدل دے، اور اس کو یہ بھی حق ہے کہ اپنے نظریات و عقائد کی ترویج و تبلیغ کرے، اگر آپ یہ کھیں کہ اس ملک میں اسلامی قوانین کا حاکم ہونا ضروری ہے، تو بعض حضرات ایسے بھی ہیں جوان قوانین کو نہیں چاہتے، کیا ان کو حق ہے کہ اپنی رائے کا اظھار کریں اور کھیں کہ ہم ان قوانین کو نہیں چاہتے، ظاہر ہے کہ جو لوگ دیں کے منکر ہیں ان کی طرف سے اس طرح کے سوالات پر کوئی تعجب نہیں ہے لیکن افسوس تو ان لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو دیندار ہونے کا دم بھرتے ہیں اور اس طرح کے سوالات پیش کرتے ہیں یھاں تک کہ اپنے ساتھ اسلامی القاب بھی شامل کرتے ہیں یا خود کو امام خمینی کا پیرو کھلاتے ہیں !!

۳۔ملکی اخباروں میں مغربی غلط آزادی کی تبلیغ

حد تو یہ ہے کہ بعض اخباروں میں (کبھی مزاحاً اور کبھی حقیقتاً کبھی کسی کے قول کو نقل کرتے ہیں کبھی کسی لڑکے یا لڑکی کی طرف سے)لکھتے ہیں کہ کیوں صرف مرد کیلئے چند بیویوں کا رکھنا جائز ہے لیکن عورتوں کیلئے چند شوہروں کا رکھنا جائز نہیں ہے، یا یہ کہ کبھی کبھی مشورہ، پیش کیا جاتاہے کہ چند مرد مل کر کسی ایک عورت سے شادی کر سکتے ہیں ! توجہ رہے کہ یہ باتیں کسی کیمونسٹ ملک کے اخباروں کی نہیں ہے بلکہ جمہوری اسلامی ایران کے اخباروں میں ایسی باتیں لکھی جاتی ہیں ! یا کسی ایک اسلامی یونیورسٹی میں اس طرح کی تقریر ہوتی ہے اور خود کو کسی اسلامی ادارہ سے منسلک ہونے کے اعتبار سے تقریر ہوتی ہے، اور کھا جاتا ہے کہ آج کل رہبری (ولی فقیھ) کی مخالفت، پیغمبر کی مخالفت میں کوئی حرج ہی نہیں بلکہ اگر چاہیں خدا کے خلاف بھی مظاہر کریں تو کوئی ایسا قانون نہیں کہ ان کو روک سکے! یہ باتیں اگر کسی غیر اسلامی یا کسی کافر و مشرک سے سنی جائیں تو کوئی جائے تعجب نہیں لیکن اگریھی باتیں جمہوری اسلامی ایران، حاکمیت اسلامی اور حاکمیت ولایت فقیہ میں یونیورسٹیوں کے درمیان کی جائیں اور کوئی بھی ان کے مقابلہ کیلئے کھڑا نہ ہو تو واقعاً شرم آور ہے، اور اگر کوئی طالب علم اعتراض کرے تو اس کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

اس وجہ سے ہم نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا، اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ واقعاً یہ چیزیں بدعت اور خطرناک ہیں اور اسلام کے مخالف ہیں اور اگر کوئی شخص اپنی تقریروں میں ایسی باتیں کرناچاہتا ہے تو کم از کم اسلام کے نام سے ایسی باتیں نہ کرے،تاکہ معلوم ہوجائے کہ اسلام کیا ہے اور کفر کیا ہے اور ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق اس کا انتخاب کرے، یہ آزادی دین اور آزادی بیان مغربی ثقافت کا ثمرہ ہے یہ ایسا انپورٹ پہل ہے کہ جو ظاہر میں بہت عمدہ اور میٹھا ہے لیکن اندر سے زھریلا ہے، یہ پہل مغربی ثقافت کے درخت کے مناسب ہے لیکن ہمارے اسلامی ثقافت سے اس صورت اور اس وسعت میں بالکل بے تکا ہے۔

مغربی ماحول اور کلچر کی عکاسی کرنے کے لئے ہمیں مجبوراً کہنا پررہا ہے کہ آج کل مغربی ممالک میں مذہب کو صرف ایک پارٹی کے نظریہ کی طرح دیکھا جاتا ہے مثلاً کسی ملک میں چند پارٹیاں ہوں اور وہاں کوئی نئی پارٹی وجود میں آئے، یا کوئی کسی دوسری پارٹی میں چلا جائے تو یہ کام ہمارے لئے باعث تعجب نہیں ہے، مذہب کے سلسلے میں بالکل اسی طرح کا ماحول مغربی ممالک خصوصاً امریکہ میں موجود ہے جہاں ہر روز ایک نیا مذہب اور نیا فرقہ پیدا ہوتا ہے یہ مسئلہ واقعاً ہمارے لئے باعث تعجب ہے، تقریباً سو سال پہلے ایک شخص پیدا ہوا جس کا نام ”باب“ تھا اس نے دعویٰ کیا کہ ”میں ایک نیا اسلام لے کر آیا ہوں ، اور میں شیعوں کا امام زمانہ ہوں جس نے ظھور کر لیا ہے“ اس بات پر سب کو تعجب ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایک نیا مذہب لے کر آئے (البتہ ایران سے باہر خصوصاً امریکہ میں اس باطل و بے بنیاد مطلب کو جدید اسلام کے نام سے ترویج کیا جاتا ہے، اور وہاں کوئی جائے تعجب نہیں ہے) لیکن امریکھ، کناڈا اور یورپی ممالک میں ہر سال چند جدید مذہب اور فرقے پیدا ہوتے ہیں ، مثال کے طور پرعیسائیت کہ اصل مذہب ارنوڈوکس، کاٹولیک اور پروٹسٹان ہیں لیکن صرف پروٹسٹاں کے پانچ سو سے زائد فرقے مغربی مالک میں موجود ہیں ۔

جس وقت ہم نے سال گذشتہ امریکہ لاتین کا سفر کیا تو ہم نے دیکھا کہ امریکہ میں کئی نئے مذہب وجود میں آچکے ہیں اور ان کے مبلّغ تبلیغ کرنے میں مشغول ہیں ، وہاں اس طرح کے مسائل ہوتے رہتے ہیں جب کسی اخبار میں اعلان ہوتا ہے کہ ایک نیا فرقہ پیدا ہوچکا ہے اور اس جدید فرقہ کا کشنیس (اس مذہب کا عالم) پیدا ہو چکا ہے اور اس کی کلیسا بن چکی ہے تو وہاں کوئی تعجب نہیں ہوتا، اور لوگ بھی بہت آسانی سے اس فرقہ میں شامل ہو جاتے ہیں ، اسی کو ”مذہب کی آزادی“کھا جاتا ہے۔

۴۔اسلامی پروٹسٹانیزم، اسلام پر ایک حملہ

بعض لوگوں کی توقع اور امید یہ ہے کہ اسلامی جمہوری ایران میں بھی مذہب جیسی آزادی ہونا چاہیے اس بنا پر بہت سے لوگوں نے مشورہ پیش کیا کہ اسلام میں بھی ایک مذہب پروٹسٹانیزم ہونا چاہیے ہماری اصطلاح کے مطابق اس مشورہ کو سب سے پہلے فتح علی آخوند زادہ (آخوند اف) نے پیش کیا، اس کے بعد دوسرے دانشمند نے بھی اپنی اپنی تقریروں میں اس مسئلہ کو بیان کیا، بعض مورخوں ، رائیٹروں نے اپنی کتابوں میں لکھا اور مشورہ پیش کیا کہ اسلام میں بھی ایک پروٹسٹانیزم ہونا چاہیے، اور آج کل امریکہ میں اس طرح کی تبلیغات ہوتی رہتی ہیں کہ ایران میں بھی ایک دوسرا ”مارٹن لوئر“ پیدا ہو جو ایک نیا پروٹسٹاں اور جدید اسلام کو تشکیل دے ، تاکہ آج کی اس ماڈرن زندگی کے مناسب ہواور یہ ۱۴۰۰ سال پرانا اسلام آج کی زندگی کیلئے مناسب نہیں ہے اگر امریکہ ایسا مشورہ پیش کرے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

کیونکہ ان کا مقصد اسلام کو ختم کرنا ہے خود ان کے کھنے کے مطابق انھوں نے اس سلسلے میں پروگرام بنا رکھے ہیں اور اس کے لئے مخصوص کوٹہ بھی معین کر رکھا ہے اور بارہا اس چیز کا اقرار بھی کیا ہے کہ اس زمانے میں ان کا اصلی دشمن اسلام ہے لیکن تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان کی تبلیغات کا اثر آھستہ آھستہ ہمارے ملک میں بھی ہوتا جارہا ہے، اور بعض لوگ ایسے ملتے ہیں جو اخباروں اور ماہانہ رسالوں میں اسلام کے ضروری مسائل پر اعتراض کر ڈالتے ہیں مثال کے طور پر کیوں ارث میں مرد و عورت کا حصہ برابر نہیں ہے یا یہ کہ عورت چند شوہر کیوں نہیں رکہ سکتی وغیرہ وغیرہ اور کبھی کبھی تو اسلام کے ضروری احکام کا مذاق بناتے ہیں ۔

آپ حضرات کو یا د ہوگا کہ انقلاب کے شروع میں جب قصاص کے بارے میں بحث ہوئی تو بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ قصاص کی بحث انسانیت سے دور ہے ،اس وقت امام خمینی نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی جانتے ہوئے ایسی باتیں کرتا ہے تو ان کی مسلمان بیویاں ان پر حرام ہےں ،اور انکا مال مسلمان ورثاء میں تقسیم ہوگا ،لیکن ان کی جان قابل احترام نہیں ہے، البتہ ارتدادکے احکام صرف قصاص کے منکرمیں منحصر نہیں ہیں ،لیکن اگر کوئی اسلام کے کسی بھی ضروری حکم کا انکار کرے تو وہ مرتد ہوجاتاہے،لیکن پھربھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ بغیر کسی شرم وحیاء کے اخباروں ، رسالوں یھاں تک کہ کبھی ان اخباروں کے ذریعہ کہ جو بیت المال سے نکلتے ہیں ،ایسی باتوں کو کھتے ہین اور اسلام کے ضرور ی احکام کا انکار کرتے ہیں ۔

واقعاً کوئی ہونا چاہیے جو ان لوگوں کو یاددھانی کرے کہ امام خمینی کا نظریہ صرف قصاص کے منکروں سے مخصوص نہیں ہے (بلکہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اسلام کے کسی بھی ضروری احکام کا منکر ہو) اور کبھی کبھی تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ مسائل جو شیعہ و سنی دونوں فرقوں میں متفق علیہ ہیں اور سنیوں نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی، ان پر بھی اعتراض کرتے ہیں یا ان کا مذاق بناتے ہیں !

کیا باصلاحیت مراجع اس طرح کے مسائل کی تحقیق وبررسی کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟ یا کم از کم یہ ضروری نہیں کہ کوئی یاددھانی کرائے کہ ایسا خطرہ آئندہ کی نسل کیلئے موجود ہے؟ جن لوگوں نے امام خمینی کے بیان کو نہیں سنا ہے، اور ان کے درس میں شرکت نہیں کی ہے کیا ان کیلئے خطرہ نہیں ہے کہ وہ جمہوری اسلامی ایران کے اخباروں میں لکھے گئے ان مطالب کے تحت تاثیر قرار پائیں اور سوچیں کہ ان نظریات سے ہماری اسلامی حکومت بھی متفق ہے اور یہ اسلامی نظریات ہیں ؟ کم از کم کوئی توہو جو اُن کو بتائے کہ ان نظریات کا اسلام سے کوئی ربط نہیں ہے۔

بہر حال یہ نظریہ واقعاً خطرناک ہے کہ دین ایک طرح کا سلیقہ ہے اور انسان جس دین کو چاہے انتخاب کرے، اور اس کو عوض کرنا چاہے تو عوض کرلے،مغربی ممالک میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک جوان اپنے دوست کے ساتھ کسی ایک کلیسا میں جاتا ہے اور اس کا دوست کھتا ہے کہ میں فلاں کلیسا کو بہت دوست رکھتا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ اپنے مذہب کو بدل دیتا ہے اس کا دوست بھی تحت تاثیر قرار پاتا ہے اور اپنے دوست کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی اپنا مذہب بدل لیتا ہے کیا مذہب ایک لباس کی طرح ہے،کہ جب چاہا پہن لیا اور جب چاہا بدل لیا یا اس کا ماڈل عوض کر لیا، اسلام کی بنیاد اس چیز پر نہیں ہے کہ انسان کی سعادت و شقاوت دلخواہ اور مختلف طریقوں سے حاصل ہو سکے، تاکہ یہ نتیجہ نکل سکے کہ دین ایک طرح کا سلیقہ ہے کبھی یہ دین کبھی دوسرا دین، کبھی وہ مذہب جس کو بھی چاہو انتخاب کرلو، اور حکومت بھی لوگوں کو اس طرح کی آزادی دے، اسلام دین کو زندگی کا اہم مسئلہ مانتا ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت و شقاوت کو صحیح دین کے انتخاب کرنے میں جانتا ہے۔

لھٰذا اس طرح کی گفتگو کرنے میں یہ خطرہ موجود ہے کہ جس کو احساس کرتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں افسوس کہ بعض لوگ غفلت کرتے ہیں یا خود کو غافل بنا لیتے ہیں ، اب ان بحثوں کوبیان کرنے کی وجہ ہمارا ان انحرافات سے مقابلہ کرنا اور اپنی اس ذمہ داری کو پورا کر نا ہے۔

۵۔حق مسلّم کا مفہوم حقیقی

یھاں پراس مسئلہ کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے کہ طبیعی اور حق مسلم سے کیا مراد ہے؟ اور آزادی کس معنی میں انساں کا حق مسلم ہے؟ جن ضروریات کا انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے اس کو حق طبیعی کھا جاتا ہے لھٰذا گفتگو کرنا ،اپنی رائے کا اظھار کرنا یہ انسان کی طبیعت کا تقاضا ہے اور کسی کو بھی اس کو منع کرنے کا حق نہیں ہے۔

ہم نے عرض کیا کہ کھانا پینا انسان کی طبیعت کا تقاضا ہے بلکہ انسان کا سب زیادہ طبیعی ترین حق کھانا پینا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ کھانا پینا انسان کا حق طبیعی ہے تو کیا وہ دوسروں کے مال کو کھاسکتا ہے؟ اور کیا کسی بھی قانون کو یہ معین کرنے کا حق نہیں ہے کہ کونسی چیز کھانا حلال ہے اور کون سی چیز کا کھانا حرام ہے؟ کس کے مال کو کھا سکتا ہے اور کس کے مال کو نہیں کھاسکتا، کیا کوئی عقلمند انسان اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ انسان آزاد ہے اور اپنی مرضی سے جو بھی چاہے کھائے کسی کا بھی مال ہو اس کو تناول کرے؟ اس طرح گفتگو کرنا بھی ہر انسان کا مسلم حق ہے لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ جو بھی منہ میں آجائے وہ بکتا پھرے، جس طرح قانون کو یہ اجازت ہے کہ وہ یہ کھے کہ کیا کھائے اور کیانہ کھائے؟ جس طرح دین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ کھے کہ خنزیر کا گوشت یا الکحل والی چیزوں کو نہ کھائے، جبکہ کھانا پینا انسان کا طبیعی حق ہے، گفتگو کے بارے میں بھی اس طرح ہے گفتگو کی قسم ،زمانہ اور جگہ سب قانون معین کرتا ہے جس کو تقریبا ً تمام دنیا نے قبول کیا ہے لیکن مغربی حضرات دین کے سلسلے میں کھتے ہیں کہ جو چاہیں کھیں کیونکہ دین ایک ذاتی امر اور ایک سلیقہ ہے انسان کی حقیقی زندگی سے اس کا کوئی ربط نہیں ہے بلکہ انسان کے خدا سے رابطہ کا نام دین ہے، اور خدا سے یہ رابطہ مختلف طریقوں سے ہو سکتا ہے، انسان کوئی بھی طریقہ اپنا سکتا ہے۔

یہ دین بھی صراط مستقیم ہے اور وہ دین بھی صراط مستقیم ہے، بت پرستی بھی صراط مستقیم ہے اور اسلام بھی صراط مستقیم ہے!! لیکن اسلام کا یہ نظریہ نہیں ہے ،کس اسلام کا، اس اسلام کا جس کو حضرت محمد مصطفیٰ ۱۴۰۰ سال پہلے لے کر آئے تھے نہ کہ ”باب“ اور ”مارٹن لوٹر“ جیسے کذاب لوگوں کا اسلام ، پھر ہم تو اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کوحضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر آئے ہیں ۔

۶۔اسلام کی حقیقی قرائت اور اس کا صحیح مطلب

بعض لوگ کھتے ہیں کہ ہم بھی اس اسلام کو مانتے ہیں ، لیکن اس اسلام کی مختلف قرائتیں ہیں آپ ایک قرائت کو بیان کرتے ہیں ،تو کچھ لوگ دوسری قرائت بھی بیان کرتے ہیں ، یہ نظریہ بھی مغربی ثقافت کا ایک ثمرہ ہے کہ اسلام کیلئے مختلف قرائت کے معنی کرتے ہیں ، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ کینیڈا میں چند سال پہلے عیسائیت کا ایک فرقہ بنا، اور اس فرقے کے پاپ سے سوال کیا گیا کہ ہم جنس بازی کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ تو اس نے جواب دیا تھا کہ اس وقت تومیں اپنی رائے کا اظھار نہیں کر سکتا لیکن میرا یہ مشورہ ہے کہ انجیل کو دوبارہ پڑھا جائے! کیونکہ تورات و انجیل میں اس کا کام کی سخت مذمت کی گئی ہے جس طرح اسلام نے بھی اس کی مذمت کی ہے،جب اس سے سوال ہو اکہ تو اس مقدس کتاب کا احترام کرتے ہیں آپ اس بارے میں اپنی نظر بیان کریں ؟ وہ اگرچہ ہم جنس بازی کا حامی تھا لیکن صاف صاف بیان نہیں کر سکتا تھا تو اس نے جواب دیا انجیل کا پھر سے مطالعہ کرنا چاہئے!!

اس طرح یہ لوگ بھی کھتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کی دوبارہ قرائت کی جائے،ان کے جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم لوگ شیعہ و سنی علما کی ۱۴۰۰ سال پرانی قرائت کو معتبر جانتے ہیں ہم جس اسلام کا دم بھرتے ہیں یہ وہی اسلام ہے کہ جس کی آئمہ معصومین علیہم السلام نے قرائت کی ہے اور ان ہی کی اتباع میں ۱۴ صدی کے علماء نے اسلام کی قرائت کی ہے، یھی قرائت ہمارا معیار وملاک ہے، اور اگر اسی اسلام میں جدید قرائت پیدا ہوجائیں اور ان کی بنا پر اسلامی احکامات بدل دئےے جائیں تو ہم اس اسلام کو نہیں مانتے، اور نہ ہی ایسے اسلام کو پسند کرتے ہیں اور ہماری نظر یہ کے مطابق کوئی بھی عقلمند مسلمان ”باب“ اور ”مارٹن لوٹر“ جیسے افراد کا اختراع کئے ہوئے اسلام کو پسند نہیں کرے گا۔

ہم جس اسلام کو مانتے ہیں اور اس کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اس کے منابع قرآن، سنت پیغمبر و آئمہ معصومین علیہم السلام ہیں ، جنھیں شیعہ اور اہل سنت فقھاء چودہ سو سال سے بیان کرتے آرہے ہیں ،خصوصاً وہ احکام کہ جن میں شیعہ سنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ اسلام ہم سے کھتا ہے کہ جس طرح کھانے پینے میں قوانین کی رعایت ضروری ہے اسی طرح گفتگو کرنے میں بھی قوانین کی رعایت ضروری ہے اسلام کوئی لباس تو ہے نہیں کہ جس کو آج پہنا اور دوسرے دن اتار پھینکا، دین کے سلسلے میں تحقیق و جستجو کرناضروری ہے اور دین حق کو قبول کرنا چاہیے۔

اسلام کے دامن میں اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے اتنی دلیلیں موجود ہیں کہ کوئی یہ نہیں کھہ سکتا کہ میں نہیں سمجہ سکا کہ کون سا دین حق ہے؟ مگر یہ کہ کوئی صحیح طریقہ سے تحقیق و مطالعہ نہ کرے، اگر کوئی ”میکرونیزی جزائر“ کا رہنے والا یہ کھے کہ مجہ پر اسلام کی حقانیت واضح نہیں ہوسکی ہے، تو شاید اس کی یہ بات قبول کر لی جائے لیکن اگر کوئی ۱۴۰۰ سالہ اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے علماء اسلام کی مہم ترین کتابوں کے ہونے کے باوجود بھی یہ کھے کہ میں اسلام کو نہیں پہچان سکا تو کوئی بھی اس کی باتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا۔

بہرحال جس اسلام کو ہم مانتے ہیں وہ یہ کھتا ہے کہ جس طرح آپ نے کھانے پینے کی چیزوں کی حد بندی کررکھی ہے اسی طرح گفتگو کرنے میں بھی قوانین کی رعایت کرنا ضروری ہے،یعنی کسی کو یہ حق بالکل نہیں ہے کہ جو چاہیں کھہ ڈالیں ، بلکہ اسلامی قوانین کے تابع ہونا ضروری ہے، اگر اسلامی قوانین کے برخلاف عمل کیا تو آپ کا یہ کام اسلامی معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے، جس طرح آپ حضرات بھی جانتے ہیں کہ گمراہ کنندہ اور کتب ضالّہ کی خرید وفروخت حرام ہے، اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ جن لوگوں میں حق و باطل کے شناخت کی صلاحیت نہیں ہے وہ کسی بھی کتاب کو خریدیں اور پڑھنا شروع کردیں ، ہر کس و ناکس کی تقریروں کو سنیں ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں صاف صاف ارشاد ہوتا ہے:

( وَاِذَا رَا یْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِی اٰیَاتِنَا فَا عْرَضَ عَنْهُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِی حَدِیْثٍ غَیْرِه.. ) .(۳)

”او رجب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں بے ہودہ بحث کررہے ہیں تو ان (کے پاس) سے ٹل جاؤ یھاں تک کہ وہ لوگ اس کے سوا کسی اور بات میں بحث کرنے لگیں “

یا مومنین کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے جو لوگ دین پر اعتراض کرتے ہیں ان کی صحبت میں نہ بیٹھو:

( وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ ا نْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیَاتِ اللَّه یُکْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَءُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِی حَدِیْثٍ غَیْرِه اِنَّکُمْ اِذاً مِثْلُهُمْ اِنَّ اللَّه جَامِعُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْکَافِرِیْنَ فِی جَهنَّمَ جَمِیْعاً... ) (۴)

”(مسلمانو) حالانکہ خدا تم پر اپنی کتاب قرآن میں یہ حکم نازل کرچکا ہے کہ جب تم سن لو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جاتا ہے اور اس سے مسخرا پن کیا جاتا ہے تو تم ان (کفار) کے ساتھ مت بیٹھو یھاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں غور کرنے لگیں ورنہ تم بھی اس وقت ان کے برابر ہوجاؤ گے اس میں تو شک ہی نہیں کہ خدا تمام منافقوں اور کافروں کو (ایک نہ ایک دن) جھنم میں جمع ہی کرے گا“

بس وہ لوگ جو اسلام کا دم بھرتے ہیں لیکن اسلام کے دشمنوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ، اور اسلام کے دشمنوں کی باتوں کو رائج کرتے ہیں یہ وہی منافقین ہیں جن کا ٹھکانہ بھی کافروں کی طرح جھنم ہے، ایک بار پھر تاکید کرتا ہوں کہ اسلام فرماتا ہے:

جاؤ اور حقیقت کو تلاش کرو اس کے بعد دشمنوں سے بحث کرو اور اسلام کے تعلیم شدہ حقائق کے ذریعہ ان کو مغلوب کرو، لیکن جب تک تم میں اتنی صلاحیت نہ ہو کہ اسلامی عقائد سے اچھی طرح دفاع کر سکو، تو پھر تم گمراہ اور انسانی شیاطین کی ہم صحبت نہ ہو، اس کشتی گیر کی طرح کہ جس کو پہلے تمرین اور پریکٹس کرنا ہوتی ہے تب وہ کشتی کے میدان میں اترتا ہے اور کشتی لڑتا ہے اور وہ جوان کہ جس نے ابھی تک تمرین نہیں کی ہے وہ کس پہلوان سے کشتی نہیں لڑسکتا، چونکہ پہلوان اس کو ذرا سی دیر میں زمین پر دے مارے گا، اور اس کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی، یہ آزادی کی مخالفت نھیں ھے بلکہ اپنے جوانوں کو ایک نصیحت ہے کہ پہلے اسلامی علوم اور اسلامی معارف کو حاصل کریں ، اس کے بعد دشمن سے بحث کریں ۔

بہرحال جس اسلام کو ہم پہچانتے ہیں اس کی آزادی محدود ہے، اور اس نظریہ کا مخالف ہے کہ جب گفتگو کرنے کو انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے لھٰذا گفتگو کرنا آزاد ہو ورنہ تو انسان کی دوسری خواہشات بھی ہیں اور وہ بھی انسان کے طبیعی حق میں شمار ہوتی ہیں مثلاً جنسی خواہشات کھانا پینا ان میں بھی کوئی محدودیت نہیں ہونا چاہیے، جس طرح کھانے پینے میں محدودیت کا قائل ہونا کسی بھی عقلمند انسان کو قابل قبول نہیں ہے گفتگو کرنے میں بھی اس طرح ہے، لھٰذا چونکہ گفتگو انسان کی فطرت کا تقاضا ہے اس کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا کہ کوئی حد و قانون نہ ہو لھٰذا عقل اور دین ان حدود کو بیان کرنے میں اور اس کی حدیں معاشرے کی مادی اور معنوی مصالح ہیں کہ جن کو دین نے بیان کر دیاہے۔

۷۔ شرعی آزادی

شاید آپ حضرات نے اخباروں میں پڑھا ہو کہ بعض لوگوں نے ہماری باتوں پر اعتراضات کرتے ہوئے کھا ہے کہ فلاں صاحب مغالطہ کرتے ہیں ہم آزادی کو مطلق نہیں کھتے ہم تو یہ کھتے ہیں کہ کچھ جائز آزادی ہونا چاہیے۔

ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ جائز آزادی سے آپ کی مراد کیا ہے؟ کیا آپ کی مراد وہ چیز ہے کہ جس کو شرع پسند کرتی ہے، لغت میں مشروع کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں :

۱۔مشروع یعنی جس کو شریعت نے جائز کیا ہے (البتہ آپ کی مرادیہ ہونا مشکل ہے کیونکہ جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ شریعت کے زیادہ پابند نہیں ہوتے) بہر حال اگر مشروع کا مطلب یہ ہے کہ جس کو شرع پسند کرتی ہو تو اسی کو تو ہم بھی کھتے ہیں کہ آزادی شرعی قوانین کے تحت ہونا چاہئے۔

۲۔ مشروع کے دوسرے معنی از لحاظ قانون جائز ہو اس معنی کے لحاظ سے بھی جیسا کہ ایران کے قانون اساسی میں بیان ہواہے قانون کو اسلام کے موافق ہونا چاہیے، ہمارے قانون اساسی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تمام قوانین واحکام اسلام کے موافق ہونا چاہیں ، اور قانون اساسی میں فقھائے شوارئے نگھبان کا فلسفہ ہی یھی ہے کہ وہ قوانین جو پارلیمنٹ میں بنائے جاچکے ہیں ان کی تحقیق کریں کہ یہ قوانین اسلام کے موافق ہیں یا نھیں ؟ کیونکہ پارلیمنٹ کے تمام ممبران (اقلیت کے نمایندوں کے علاوہ کہ ان کے حقوق بھی محفوظ ہیں ) مسلمان، مومن اور متقی ہیں ، لیکن ممکن ہے کہ یہ ممبران کبھی کبھی غفلت کر بیٹھیں اور اس قانون کو اپنی رائے دیں کہ جو اسلام کے مخالف ہو، یعنی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین شورای نگھبان میں جانچے جائیں کہ یہ قانون ،قانونِ اساسی اور اسلامی نقطہ نظر سے موافق ہیں یا نھیں ؟ اور شورائے نگھبان پارلیمنٹ کے بنائے قانون کی تائید کرتے ہیں اور شورای نگھبان کے حقوق داناں مشورت قانون اساسی سے موافق ہونے کی تائید کرتے ہیں ۔

اگر ہمارا قانون اساسی قانون کے اسلامی ہونے کو ضروری نہ سمجھے تو پھر شورائے نگھبان کا کیا مطلب؟ اور یہ سب تاکید حاکمیت اسلام اور ولایت فقیہ کا قانون اساسی میں ہونے کا کیا مطلب ؟اس وقت کوئی جائے تعجب نہیں کہ کوئی حقوق دان کے عنوان سے کھے چونکہ قانون اساسی کھتا ہے آزادی کی رعایت کی جائے تو پھر کوئی بھی اس آزادی کو محدود نہیں کرسکتا، قانون اساسی کھتا ہے کہ آزادی مشروع ہو یا نا مشروع ؟ اور آپ کھتے ہیں مشروع آزادی؟مشروع آزادی یعنی کیا ؟اگر مشروع شرع سے بنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آزادی جس کو شرع اجازت دیتی ہو اور اگر مشروع قانون ہو تو پھر بھی قانون اساسی کے مطابق وہ آزادی کہ جن کو شرع اور قانون نے تائید کیا ہو مشروع اور جائز آزادی ہیں ۔

۸۔دین اور قانون آزادی کو محدود کرتے ہیں ۔

آزادی قانون کے مافوق نہیں ہو سکتی،لیکن جو لوگ کھتے ہیں کہ آزادی دین اور قانون سے بالا تر ہے ، تو پھران سے ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر دین اور قانون کس لئے ہیں ؟ حقیقت قانون کیا ہے ؟ کیا قانون اس کے علاوہ ہے کہ کھے فلاں پروگرام خاص قوانین کے تحت ہو،فلاں کاانجام دیں اور فلاں کام انجام نہ دیں ۔

مجبوراًگذشتہ مطالب کی یاددھانی کرنا ضروری ہے کہ ہر قانون صاف صاف یا اشارہ کے طور پر یہ کھتا ہے کہ انسانی کردار کو محدود ہونا چاہیے اور خاص دائرے میں انجام پائیں ، لھٰذا قانون کا کام ہی آزادی کو محدود کرنا ہے، اگر دین اور قانون آزادی کو محدود کرنے کا حق نہ رکھتے ہوں تو پھر دین اور قانون کا ہونا بے کار ہے، چونکہ دین اجتماعی و سیاسی مسائل پر مشتمل ہوتاہے اور انسان کے اجتماعی و سیاسی امور کو محدود کرتا ہے اور دین کا حکم ہوتا ہے کہ یہ امور خاص قوانین کے تحت انجام پائیں اور اگر دین کے معنی اس کے علاوہ ہوں تو پھر دین کی کیا ضرورت ہے؟

اگر دین اس وجہ سے آیا ہو کہ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق کام کرے تو پھر دین کا کیا فائدھ؟ دین کی جایگاہ و مقام کھاں ہے؟ دین کا وجود بالفاظ دیگر قانون انسان کی آزادی کو محدود کرتے ہیں ، لھٰذا آزادی کو دین اور قانون سے اوپر کہنا باطل ہے۔

جی ھاں ممکن ہے کہ بعض حضرات دین کی وجہ سے مشروع آزادی سے بھی روکیں اور جس چیز کو خدا نے حلال کیا ہے خرافات و قومی رسم و رواج کی وجہ سے حرام قرار دیں ، جیسا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ہمارے ملک کے مختلف مقامات پر بعض قومیں اور عشائری قوموں میں کہ جس نے خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کر رکھا ہے ،اور اسی طرح ہمارے معاشرے میں اب بھی خدا کی حلا ل کردہ چیزوں کو برا سمجہا جاتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت سی جنسی برائیاں ختم ہو جاتیں ، حضرت امیرالمومنین علیہم السلام نے فرمایا:

”لولا ما سبق من ابن الخطّاب فی المتعة ما زنا الّا شقی..“ .(۵)

”اگر عمر متعہ کو حرام نہ کرتا تو کوئی بھی زنا نہ کرتا مگر یہ کہ شقی ہو“ افسوس کہ ابھی بھی اس حلال خدا کو برا سمجہا جاتا ہے جو بہت سی مشکلات کو ختم کرنے والا ہے ھاں اگر کوئی شخص دین کے نام پر خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنا چاہے،تو یہ کام بھی برا ہے نہ صرف یہ کہ برا ہے بلکہ حرام اوربدعت ہے، جس طرح اس کے بر عکس خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرنا بھی بدعت ہے:

” انّ اللّه یحبّ ان یوخذ برخصه کما یحبّ ان یوخذ بعزائمه..“ (۶)

خداوند عالم جس طرح دوست رکھتا ہے کہ لوگ مباح اور حلال کردہ چیزوں سے فیض اٹھائیں اسی طرح دوست رکھتا ہے کہ واجبات کو انجام دیں اور محرمات کو ترک کریں ۔

تو معلوم یہ ہوا کہ دین یا قوم کے نام پر خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرنے کا کسی کو کوئی حق نھیں ھے، اور آزادی کو اس طرح محدود کرنا حرام و بدعت ہے،اور کوئی بھی اس کا موافق نہیں ہے لیکن اگر اس آزادی سے مراد نا مشروع آزادیاں ہیں تو کسی کو یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ دین نا مشروع آزادی کی بھی مخالفت نہ کرے!

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ آزادی دو حال سے خا لی نھیں : یا مشروع ہیں ، یا نا مشروع، اگر مشروع ہیں تو دین نے ان کو جائز قرار دیا ہے، اور اس کی کوئی مخالفت نہیں کی ہے،اور پھر یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ دین اور قانون کو یہ حق نہیں ہے کہ معاشرے سے مشروع آزادی کو بھی چھین لے، اور اگر کوئی دین اس کی اجازت دے تو پھر کس طرح کھا جا سکتا ہے کہ جس چیز میں ہم نے اجازت دی ہے اس کو انجام نہ دیں ؟ یہ تو خود ایک تناقض ہے لیکن اگر آزادی نا مشروع ہو، اور دین نے اس کو منع کیا ہو تو پھر یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اس کو منع کرنے کا حق نہ رکھتا ہو اور یہ بھی ایک طرح کا تناقض ہے۔

۹ ۔آزادی کو محدود کرنے کی ضرورت

ہماری مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ ہم آزادی کو شریف چیز، خدائی عطا اور انسان کی معنوی و مادی ترقی کیلئے ایک شرط جانتے ہیں ، ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر انسان آزادی نہ رکھتا ہو اپنے اعتبار سے دین کا انتخاب اور اس پر عمل نہ کرے، تو پھر اس کے اعتقاد کی کوئی قیمت نہیں ہوگی، انسان کی ترقی اور کمال اسی میں ہے کہ دین کو اپنے علم کے ذریعہ انتخاب کرے، جیسا کہ قرآن مجید میں بھی اشارہ ہوتا ہے:

( لَا اِکْرَاه فِی الدِّیْنِ ) (۷)

”دین میں کسی طرح کی زبردستی نہیں ہے“

اجبار کا مطلب ہی یھی ہے، ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آزادی خداوند عالم کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے لیکن ہر نعمت سے استفادہ کیلئے بھی حد معین ہے:

( وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ الله فَا ولٰئِکَ هُمُ الظَّالِمُونَ.. ) (۸)

”اور جو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے بڑھتے ہیں وہ ہی لوگ تو ظالم ہیں “

اپنی حدود سے تجاوز کرنا شقاوت اور الہی نعمت کے چھن جانے کا سبب ہے،جو چیز انسان کی سعادت وکامیابی کا سبب ہے، اگراس سے تجاوز کیا جائے تو پھر یھی چیز اس کیلئے شقاوت و بدبختی کا سبب بن جاتی ہے، جب انسان کھانے پینے میں حد سے بڑہ جائے تو وہ بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی مرنے کی نوبت بھی آجاتی ہے، جنسی شھوت کا ہونا بھی ایک خداداد نعمت ہے، وہ جب اپنی حد سے بڑہ جاتی ہے تو پھر معاشرے میں برائیاں پھیل جاتی ہیں اور کبھی کبھی معاشرے کی ھلاکت اور خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کی باعث ہوتی ہیں لکھنا، گفتگو کرنا بھی اس طرح ہے،ہمیں اس چیز کا حق نہیں ہے کہ صرف اس وجہ سے کہ انسان کی طبیعت گفتگو کا تقاضا کرتی ہے لھٰذا جو چاہے کھیں ، جبکہ ان تمام چیزوں میں حدود کی رعایت کرنا ضروری ہے، ٹھیک ہے کہ اسلامی حکومت کو لوگوں کو مشروع آزادی دینا ضروری ہے لیکن اسلامی حکومت کو بھی نا مشروع آزادی کو روکنے کا حق ہے۔

اخباروں کے بیان کردہ شبھات میں سے ایک شبہ یہ بھی ہے کہ ہم اور آپ (مولف) اس طرح گفتگو کرکے قانون اساسی اورقومی حاکمیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ،ان کا کہنا یہ ہے کہ قانون اساسی کے مطابق ہر انسان اپنی زندگی کے مالک ہیں اور اگر ان کو مجبور کیا جائے کہ فقط دین کی رعایت کریں تو پھر انسان اپنی زندگی کا مالک نھیں ! واقعاً یہ شبہ بڑا ہی فریب دینے والا ہے۔

ہم ان کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ کیا قانون اساسی میں صرف اس چیز کو بیان کیا گیا ہے؟ کیا اس قانون اساسی میں یہ نہیں ہے کہ حاکمیت و حکومت کا مالک خدا ہے؟ کیا اس قانون میں یہ نہیں ہے کہ معاشرے میں وہ قانون جاری ہوں جو اسلام کے موافق ہوں ؟ کیا یہ چیزیں قانون اساسی میں نہیں ہیں کیا صرف قانون اساسی میں یھی ہے کہ لوگ اپنی زندگی پر خود حاکم ر ہیں ؟

ممکن ہے کوئی یہ کھے کہ یہ قانون اساسی کی یہ دو باتیں آپس میں ٹکراتی ہیں لھٰذا ان کے لئے تفسیر اور کسی راہ حل کی ضروت ہے، لیکن اگر واقعاً غور کیا جائے تو یہ ان دو باتوں کو سمجھنا آسان ہے جب پہلی اصل میں یہ کھا جاتا ہے کہ حاکمیت اور حکومت کا خدا مالک ہے اور دوسری اصل میں یہ کھا جاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی پر خود حاکم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خدا کی حاکمیت کے زیر سایہ دین زندگی پر حاکم ہیں ، لھٰذا اسلامی معاشرے کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا مذہب اور اپنا قانون ہم پر تھونپے،یعنی امریکہ کو اپنا قانون ہم پر نافذ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، ہمارے افراد خود اپنے لئے مفید قانون کو ووٹ دیں ، اور ہمارے افراد نے ہی اسلامی قانون کو اپنا ووٹ دیا ہے۔

ایک شخص” اہواز یونیورسٹی“ میں اپنی تقریر کے دوران کھتا ہے: اگر لوگ خدا کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہیں تو قانون کو ان کو روکنے کا کوی حق نہیں ہے؟! کیا انسانوں کی حکومت کا یھی مطلب ہے؟ کیا قانون اساسی اس چیز کو کھتا ہے؟ اگر کوئی قانون اساسی کو نہ جانتے ہوئے اس طرح کی باتیں کرے تو کوئی تعجب کی بات نھیں ، تعجب تو ان لوگوں پر ہوتا ہے جو خود کو قانون داں کھلاتے ہیں ، لیکن پھر بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں !

ممکن ہے کوئی یہ کھے ہم نہیں مانتے کہ جو آپ کھتے ہیں وہی قانون اساسی ہے، تو اس کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ اگر قانون میں کسی طرح کی پیچیدگی ہے تو اس کی مفسّر شورائے نگھبان ہے اگر آپ اس قانون اساسی کو قبول کرتے ہیں تو بھی یہ قانون آپ کو تفسیر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور پیچیدگی اور تعارض کے حل کو بھی خود ہی معین کرتا ہے اگر آپ اسی قانون اساسی کو مانتے ہیں تو اس کی تفسیر شورائے نگھبان سے پوچھئے، وہ شورائے نگھبان جو اسلام و قانون اساسی کی محافظ ہے، اور یہ شورائے نگھبان احکام اسلامی کی محافظت کیلئے نہیں ہے، اس وقت اگر آپ کی تائید ہوتی ہے تو پھر آپ اسلام پر اعتراض کرنے میں حق بجانب ہیں ۔

بہرحال جو کچھ ہم نے بیان کیا اسلام کے دشمنوں کے بعض شبھات تھے جو مکڑی کے جالے سے بھی ضعیف و کمزور ہیں ، اور اسلام کے دشمنوں کے پاس ان سست اور کمزور باتوں کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

حوالے

۱۔سورہ انعام آیت۶۸

۲۔سورہ نساء آیت۱۴۰

۳۔ابن ابی الحدید، شرح نھج البلاغہ، ج۱۲،ص۲۵۳

۴۔بحار الانوار، ج۶۹،ص۳۶۰

۵۔سورہ بقرہ آیت۲۶۵.

۶۔سورہ بقرہ آیت۲۲۹.


سولھواں جلسہ

قانون اورآزادی کے لحاظ سے الہی اوروالحادی ثقافت میں فرق

۱۔ انتخاب کی اہمیت اور ہدف تک پہونچنے کے لئے قوانین کی آگاہی اور رعایت

اسلام کے سیاسی نظریہ کے بارے میں بحث کے دوران مذکورہ نظریہ سے متعلق اصول موضو عہ اور مقدمات تبینکے سلسلے میں بہت سی چیزیں عرض کی، اور اس سلسلہ میں کئے گئے اعتراضات کا جواب بھی دیا، اس وقت بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے مجموعی اعتبار سے اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں :

اسلامی نظریہ کے مطابق ہر موجود متحرک ہے یا دوسرے لفظوں میں ایک ایسے مسافر سے تعبیر کیا جاتا ہے ، جو ایک جگہ سے اپنے سفر شروع کرکے اپنی منزل کی طرف آگے بڑہ رہا ہے (او ریھی آخری منزل اس کی سعادت اور اخروی کمال ہے) زندگی کا طول وعرض ایک ایسے راستے کی طرح ہے کہ اصل مقصد تک پہونچنے کے لئے اس راستہ کاطے کرنا ضروری ہے، اس سلسلہ میں آپ حضرات کے سامنے ایک مثال پیش کرتے ہیں ،تاکہ یہ بات ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹہ جائے: فرض کریں ایک ڈرائیور کو تھران سے مشھد جاناچاہتا ہے لیکن اگر اس ڈرائیور کے ھاتہ پیر مفلوج ہوجائیں تواس صورت میں یہ ڈرائیور ڈرائیونگ نہیں کرسکتا،یعنی ڈرائیونگ اس صورت میں کرسکتا ہے جب اس کا بدن اور دوسرے اعضاء صحیح وسالم ہوں ، اور ان پر قدرت واختیار رکھتا ہو۔

یعنی جب وہ چاہے گاڑی کودائیں بائیں موڑدے یا ایکسیلیٹر یا بریگ کو دبا سکے، اسی طرح انسان اپنی زندگی کے کمال کو حاصل کرنے وترقی یافتہ بنانے میں بھی آزاد، اختیار،صاحب قدرت ا ورانتحاب کرنے والاہے، ورنہ اس کمال کے راستہ پر گامزن نہیں رہ سکتا، اسی وجہ خدا وندعالم نے انسان کو انتخاب واختیار کی قدرت دی ہے کہ اپنی مرضی سے اس راستہ پر قدم بڑھائے اور منزل مقصود تک پہونچ جائے،او راگر ایسا نہ ہو تو پھر انسان اپنے مقصد تک نہیں پہونچ سکتا، لھٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر کوئی شخص بغیر سوچے سمجھے اور بغیر اختیار کے اس کمال کے راستہ پر چلے اور مقصد تک پہونچنا چاہے، تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، انسان کا آزاد ہونا اور قدرت انتخاب رکھنا ضروری ہے تاکہ اس راستہ کو طے کرسکے۔

انسان جتنا انتخاب میں آزاد ہوتا ہے اتنا ہی اس کا کام ارزشمند ہوتا ہے، لیکن جس طرح ایک صحیح وسالم ڈرائیور ہونے کے باوجود کوئی گارنٹی نہیں ہے وہ منزل مقصود تک پہونچ ہی جائے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بھول چوک یا جان بوجہ کر غلط راستہ کا انتخاب کربیٹھے،اور کسی جبر واکراہ کے بغیر اپنے ھاتھوں سے اسٹیرنگ گہماکر اوراپنے پیروں کے ذریعہ اکسیلیٹر کو دبادے اور گاڑی کو کسی کھائی میں گرادے، لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ کسی مقصد کے لئے صرف انتخاب واختیار کافی نہیں ہے ، بلکہ علت تامہ کو حاصل کرنے کے لکے یہ شرط بھی ضروری ہے، یعنی ہماری اصطلاح کے لحاظ سے انسان کو سعادت اور کمال تک پہونچنے کے لئے ضروری ہے کہ راہنمائی کی علامتوں اور نشانیوں پر توجہ کرے اور ڈرائیورنگ کے تمام اصولوں کی صحیح رعایت کرے تاکہ اپنی منزل مقصود تک پہونچ سکے۔

اگر کوئی شخص یھاں پر یہ کھے کہ میں جسم وجسمانیت کے اعتبار سے طاقتور بھی ہوں اور صحیح انتخاب کرنے والا بھی ہوں ، لیکن میرا دل یہ چاہتا ہے کہ ڈرائیورنگ کے اصولوں کے خلاف عمل کروں اور کسی کو میرے راستہ میں رکاوٹ پیداکرنے کا حق نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اس شخص کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ اس کے سفر کا نتیجہ ھلاکت ہے اور اس کا کسی کھائی میں گرنا یقینی ہے،لھٰذا انسان کو صحیح وسالم ہونے کے ساتھ ساتھ راستہ کا علم بھی ضروری ہے اور قوانین کی رعایت کرنا بھی ضروری ہے. ٹریفک قوانین کی دو قسمیں ہیں :

۱۔ کچھ ایسے قوانین ہیں کہ اگر ان کی رعایت نہ ہو تو خود ڈرائیور کو نقصان پہونچے گا،مثال کے طور پر اگر سڑک سے ہٹ کر چلے تو ممکن ہے کہ کسی کھائی میں گر پڑے، یا پل سے نیچے جاگرے،تو اس صورت میں اس کا نقصان خود اس کو یا اس کی گاڑی کو پہونچے گا،ایسے خطروں سے بچانے کے لئے ہوشیار کرنے والے بورڈ لگائے جاتے ہیں مثلاً خطرناک موڑ کا بورڈ، یابائیں طرف ڈرائیورنگ کریں یا رفتار کم کریں وغیرہ، تاکہ ڈرائیور قوانین کے خلاف ڈرائیورنگ نہ کرے اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے صحیح وسالم اپنی منزل تک پہونچ جائے۔

۲۔ کچھ ایسے قوانین ہوتے ہیں کہ جن کی خلاف ورزی سے صرف ڈرائیور کو ہی کو نقصان نہیں پہونچتا بلکہ دوسروں کو بھی نقصان پہونچ سکتا ہے اور کبھی کبھی ایسے حادثات رونما ہوتے ہےں کہ سیکڑوں لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں ۔

کبھی کبھی یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض ”ھائی وے “یا بڑے بڑے چوراہوں پر خصوصاً دوسرے ممالک میں کہ جہاں تیز رفتار سے گاڑی چلانا جائز ہے، بعض خلاف ورزیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیکڑوں گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکراجاتی ہیں کہ جن میں بہت سے لوگوں کی جان چلی جاتی ہے،آپ نے اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ جرمنی میں ۱۵۰ گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں ، ظاہر ہے کہ ایسے موقعوں پر صرف احتیاط کی رعایت اور ہوشیار ہونے والی نشانیوں پر ہی اکتفا نہیں کی جاتی بلکہ ریڈ لائیٹیں (لال بتّی) یا ہوشیاررہنے والے کی بڑے بڑے بورڈ لگائے جاتے ہیں ،اور بعض جگھوں پر پولیس کو الکٹرونیک آنکھیں اور مختلف ویڈیوکیمرے لگا نے پڑتے ہیں تاکہ خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کو پکڑکر ان کا چالان کرکے سزا دی جاسکے ، خلاف ورزی کا پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے گاڑی سڑک سے نیچے اترجاتی ہے اور الٹ پلٹ ہوجاتی ہے اور ڈرائیور وں کے ھاتہ پیر ٹوٹ جاتے ہیں اور کبھی کبھی مربھی جاتے ہیں ، اس صورت میں ڈرائیور وں کا چالان نہیں کیا جاتا کیونکہ نقصان خود اسی کا ہوا ہے، لیکن اگرخلاف ورزی کے نتیجہ میں کسی دوسرے کو نقصان پہونچا ہے تو پھر پولیس ان کو پکڑکر ان کے خلاف کاروائی کرتی ہے۔

۲۔ اخلاقی اور حقوقی قوانین میں فرق

انسان کی زندگی میں دوطرح کے خطرے لاحق ہیں :

۱۔وہ خطرہ جس کا تعلق صرف ہم سے ہوتا ہے، کہ اگر قوانین کی رعایت نہ کریں تو خود ہم کو نقصان پہونچتا ہے، درحقیقت قوانین کی خلاف ورزی کا نقصان ذاتی اور شخصی ہے، اس موقع پر جو احکام وضع کئے جاتے ہیں او ران پر عمل کرنے کی تاکید ہوتی ہے اصطلاح میں ایسی چیزوں کو قواعد اخلاقی یا قوانین اخلاقی کھا جاتا ہے، مثلاًاگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا یا نعوذ باللہ تنھائی میں دوسرے گناہوں کامرتکب ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس کے گناہوں کو نہیں دیکہ پاتا تو ایسی صورت میں خود اس شخص نے اپنے اوپر ظلم کیا ، لھٰذا کسی کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے او رکوئی نہیں پوچھے گا کہ کیوں آپ نے تنھائی میں ایسا گناہ کیا ہے، ایسے موقعوں پر کسی کو حق بھی نہیں کہ کوئی اس کے کاموں کی تحقیق وجستجو کرے،کیونکہ انسان کے خصوصی کاموں میں تجسس (جاسوسی) کرنا حرام ہے۔

کیونکہ یہ کام خود اس کی ذات سے مربوط ہیں ، اگرچہ اس کواخلاقی نصیحت ضرور کی جاتی ہے، او راس کے بارے میں حکم ہوتا ہے کہ کوئی شخص تنھائی میں گناہ یا گناہ کا تصور بھی نہ کرے، لیکن یہ نصیحتیں ان بورڈوں کی طرح ہیں جو سڑکوں پر ہوشیار اور متوجہ رہنے کے لئے لگائے جاتے ہیں ، مثلاً لکھا جاتا ہے کہ اہستہ چلیں لیکن اس کی خلاف ورزی کرنے پر رفتار بڑہ جاتی ہے او رموڑوغیرہ میں خود ڈرائیور کو نقصان پہونچتا ہے ایسی صورت میں پولیس اس کا پیچھا نہیں کرتی۔

۲۔ وہ خطرہ ہے جس کا تعلق صرف اسی شخصسے متعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر دوسروں تک بھی پہونچتا ہے اس صورت میں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے کو قوانین حقوقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یعنی اس خطرے کا اثر اس شخص پر بھی ہوتا ہے اورمعاشرے پر بھی ، نتیجةً یہ قوانین اجرائی اس بات کی ضمانت رکھتے ہیں کہ اگر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کاروائی ہوسکے، جس طرح ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اس کے خلاف کاروائی ہوتی ہے، یہ وہ موقع ہے کہ جب اخلاقی قوانین کے مقابلہ میں حقوقی قوانین کی بات آتی ہے ان ہی حقوقی قوانین کے تحت جزائی وکیفری قانون میں آتے ہیں ؛ یعنی یہ دائرہ علم حقوق اور قانون بنانے والے اداروں کے قوانین جن کی اجرائی ضامن حکومت ہوتی ہے ان سے کام پڑتا ہے۔

پس معلوم یہ ہوا کہ اخلاقی اور حقوقی قوانین میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اخلاقی قوانین میں کوئی بھی شخص ضامن نہیں کہ ان کو عملی جامہ پہنائے، اگر کسی نے ان قوانین کی مخالفت کی تو اس کو سزا دی جائے او راگر کسی کے خلاف کبھی کوئی کاروائی ہوتی بھی ہے تو اخلاقی خلاف ورزی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ حقوقی پہلو کی وجہ سے ہوتی ہے کہ جو قانون سے متعلق ہے اور اگر کوئی مخصوص شکایت کرنے والا ہے تو حقوقی بمعنی خاص ہوگا ورنہ جزائی وکیفری ہوگا۔

بہرحال جس طرح ایک ڈرائیور اپنی اور مسافروں کی جان کو خطرات سے بچانے کی ذمہ داری رکھتا ہے اسی طرح انسان بھی ایک مسافر کی طرح ہے کہ ایک جگہ سے اپنا راستہ شروع کرتا ہے اور اپنے مقصدتک پہونچنے کے لئے بہت سے خطروں سے روبرو ہوتا ہے ، یہ خطرات کبھی تو خود اسی سے مخصوص ہیں ، کہ جن کے احکام خود اس کی ذات سے مربوط ہیں اور ان کے لئے اخلاقیاتی نصیحتیں موجود ہیں ،لیکن اگر کسی موقع پر کسی دوسرے کے لئے خطرہ ہے یا کسی بھی طرح سے دوسروں کے عقائد کو خراب اور لوگوں کے جان مال او رناموس پر تجاوز کرتا ہے توپھر اس پر حقوقی قوانین جاری ہونگے کہ جن کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے۔

ہم نے جو ڈرائیور کی مثال پیش کی ، کوئی مغرور ڈرائیور کھے کہ ”میں تو آزاد ہوں ، اور قوانین کی مخالفت کرتا ہوں “ تو اگر خود اس کا نقصان ہے تو صرف اس کو نصیحت کی جاتی ہے او رکھا جاتا ہے کہ احتیاط کرو دھیان رکھو ، ورنہ آپ کی جان خطرہ میں ہے، لیکن اگر کسی دوسرے کی جان کا مسئلہ ہو تو پھر اس کو روکا جاتا ہے اور پولیس اس کا پیچھا کرتی ہے اور مختلف طریقوں (راڈار الکٹرونیک آنکھوں یا مختلف ویڈیو کیمرے) سے اس کو تلاش کرتی ہے اور اس کو سزا دیتی ہے، اس موقع پر کوئی نہیں کھتا کہ پولیس کا پیچھا کرنا انسان کی آزادی کے مخالف ہے ، پوری دنیامیں کے عقلمند حضرات اس کو مانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لئے خطرہ پیدا کررہا ہے تو اس کے لئے قانون کا ہونا ضروری ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والے کو روکا جاسکے، کیونکہ یہ آزادی مشروع اور قانونی نہیں ،اس آزادی کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔

کیونکہ اس سے دوسروں کو خطرہ لاحق ہے ، اس بات کو تمام ہی عقلاء مانتے ہیں ، اور ہم کسی ایسے عقلمند انسان کو نہیں دیکھا کہ جو یہ کھے کہ انسان اپنی زندگی میں اس قدر آزاد ہے کہ جو چاہے کرے یھاں تک اپنی جان کے علاوہ دوسروں کی جان ومال او رعزت کو بھی نقصان پہونچائے، اس بات کو کوئی بھی قبول نہیں کرتا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ قوانین کا ہونا ضروری ہے ، او رمعاشرہ کو بھی چاہئے کہ ان قوانین کو قبول کرے ، اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے ،اگر اختلاف ہے تو دین میں ، کہ کیا دین میں اخلاقی قوانین کافی ہیں یا حکومتی قوانین کا بھی ہونا ضروری ہے ؟ اور کیا اس سلسلہ میں کسی اجرائی ضامن کی ضرورت ہے ، یا صرف اخلاقی نصیحتوں پر اکتفاء کی جاسکتی ہے؟

جولوگ کھتے ہیں کہ حکومت ضروری نہیں ہے اور انسان خود ہی اخلاقی نصیحتوں کے ذریعہ تربیت پاسکتاہے، اور اسے حکومت وقانون کی کوئی ضرورت نہیں ،! ہم ان کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے اور انسانی تاریخ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کوئی معاشرہ صرف اخلاقی نصیحتوں کے ذریعہ ہدف تک نہیں پہونچ سکتا ، لھٰذا قانون وحکومت کا ہونا بہت ضروری ہے۔

۳۔ الہی اور کفر والحادکی ثقافت میں فرق اور قانون کے بارے میں اختلاف نظر

یھاں تک یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قوانین کی ضرورت ہے ، اختلاف یھاں سے شروع ہوتا ہے کہ جو قانون آزادی کو محدود کرتا ہے او رکھتا ہے: ”داہنی طرف چلونہ کہ بائیں طرف،یا اہستہ چلو“ تو اس قانون کو انسان کی آزادی کو محدود کرنے کا کھاں تک حق ہے؟

اس چیز کو سب مانتے ہیں کہ اگر دوسروں کی جان ومال خطرے میں ہو ، تو قانون آزادی کو محدود کردیتا ہے مثلاً اجازت نہیں دیتاکہ کسی پر اسلحہ نکال لو یا کسی کو جان سے مارڈالو، ممکن نہیں ہے کہ قانون کسی کو حق دے کہ کسی کو بغیر دلیل کے قتل کرڈالو !

اب جبکہ یہ مان لیا گیا کہ قانون اس آزادی کو محدود کرتا کہ جو دوسروں کے لئے نقصان دہ ہے، تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون گذار فقط انسان کی زمانی آزادی کو محدود کرتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی مادی منافع کوضرر پہونچائے یا قانون گذاری کے وقت انسان کے معنوی او رروحی منافع کو بھی نظر میں رکھا جائے؟ اصل اختلاف اسی جگہ ہے۔

ہم فرہنگ وثقافت کو دوحصوں میں بانٹ سکتے ہیں : ایک الہی ثقافت کہ جس کا سب سے روشن نمونہ اسلامی ثقافت ہے کہ جس کو ہم مانتے ہیں اور ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ الہی ثقافت دین اسلام سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے آسمانی ادیان میں بھی یہ الٰھی ثقافت پائی جاتی تھی، اگرچہ ان میں تحریفات اور انحرافات پید اہو گئے، اس ثقافت کے مقابلے میں کفر والحاد یا غیر الہی ثقافت رائج ہوئی کہ آج جس کا نمونہ مغربی ممالک ہیں ، البتہ توجہ رہے کہ مغرب سے ہماری مراد صرف جغرافیائی علاقہ نہیں ہے بلکہ اس ثقافت کو مغربی ثقافت کا نام اس وجہ سے دیتے ہیں کہ جو امریکہ اور یورپ میں رائج ہے، اور دوسرے ممالک بھی اس ثقافت کی حمایت کرتے ہیں ، او ران کی تمام تر کوشش اس کود نیا کے مختلف ممالک میں پھیلانا ہے، لھٰذا آسان طریقہ سے سمجہانے کے لئے ثقافت کی دو قسم کرتے ہیں :

اول: الہی اور اسلامی ثقافت ۔

دوم: غربی (الحادی) ثقافت ۔

ہم یھاں پر ان دونوں ثقافتوں کے اہم فرق کو بیان کرتے ہیں :

۴۔ مغربی ثقافت کے تین اہم رکن ہیں

یہ کھا جاسکتا ہے کہ مغربی تمدن وثقافت تشکیل دینے کے لئے تین چیزیں بہت اہم ہیں ، اگرچہ ان کے علاوہ بہت سی دوسری چیزیں بھی ہیں لیکن یہ تین چیزیں اس ثفافت کی جڑ ہیں :

پھلا رکن: ”رومانیزم“ ہے یعنی انسان کی زندگی میں ہر طرح کی خوشی ،چین وسکون ہونا چاہئے او ربس ، لفظ ”اومانیزم“ خدا پرستی اوردین پرستی کے مقالہ میں بولا جاتا ہے، اگرچہ اس سے دوسرے معنی بھی لئے جاتے ہیں کہ جن سے ہماری کوئی بحث نہیں ہے اور اس لفظ کے مشہور معنی یہ ہیں کہ انسان صرف اپنی او راپنی لذتوں اور اپنی خوشی وراحتی کی فکر میں ہو ، اور اگر کوئی خدایا فرشتہ کا وجود ہے بھی تو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے. یہ اس نظریہ کے مقابلہ میں نظریہ ایجاد ہوا کہ جو درمیانی صدیوں میں یورپ میں او راس سے پہلے مشرقی زمین میں تھا کہ انسان کی اصل توجہ خدا او رمعنویات پر ہوتی تھیں ۔

یہ نظریہ رکھنے والے کھتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کو چھوڑدیا جائے ہم اس زمانے سے تھک چکے ہیں ہمارا کہنا یہ ہے کہ اس زمانے کی کلیساووں کی بحث کے بدلے اصل انسانیت کی طرف پلٹ جائیں اور انسان وطبیعت کے ماورای خصوصا ًخدا کے بارے میں بحث نہ کریں ؛ البتہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کا انکار کریں لیکن ان سے ہمارا کوئی مطلب بھی نہیں ہے اور ہمارا معیار انسان ہونا ہے۔

اس اصل کو الٰھی ثقافت کے مقابلہ میں رکھا گیا ہے، یہ الٰھی ثقافت کھتی ہے کہ ”سب کچھ اللہ" ہے اور ہماری تمام تفکرات خدائی ہونا چاہئے او رہماری تمام توجہ خدا کی طرف جاکر رکیں ، او راپنی سعادت وکمال کو خدا کے قرب میں تلاش کریں ، کیونکہ تمام ترسعادتوں ، زیبائیوں ،اصالتوں اورکمالات کا وہی سرچشمہ ہے، پس اللہ محوری ہے ، او راگر ”ایزم“ لگانا ہی چاہتے ہیں تو یہ نظریہ ”اللہ ایزم“ ہے یعنی خدا کی طرف توجہ ہونا چاہئے ،انسان کی طرف نھیں ،یہ تھا الہی اور مغربی ثقافت کا پہلا فرق، (البتہ ہم یہ تاکیدکرتے ہیں کہ مغرب میں بھی استثناء کے قائل ہیں اورو ھاں بھی بعض لوگ معنوی اور الہی نظریہ کے قائل ہیں اور ہماری مراد وہاں کی اکثریت ہے کہ جس کو مغربی تمدن کھا جاتا ہے)

دوسرا رکن: غربی تمدن کا دوسرااہم رکن ”سیکولریزم“ ہے ،یعنی اصل انسان ہے اور انسان کو محور قرار دینے کے بعد اگر کوئی انسان کسی دین کی طرف مائل ہونا چاہے تو وہ اس طرح ہے کہ کوئی شاعر یا پینٹر بننا چاہے کہ کسی کو اس سے کوئی مطلب نھیں ، جس طرح بعض فرقے مجسمہ سازی اور نقاشی کو پسند کرتے ہیں ، بعض لوگ مسلمان یا عیسا ئی ہونا پسند کرتے ہیں ان کے لئے کوئی ممانعت بھی نہیں ہے، کیونکہ انسان کی مرضی کا ادب و احترم ہونا چاہئے۔

کھا جاتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے ایک طرف کسی دین کا انتخاب کرنا چاہے اس کی مثال اس شخص کی طرح کہ جو شاعری ، ادبیات اور کسی دوسرے کام کو منتخب کرے او راس کاانتخاب مورد احترام ہے؛ لیکن توجہ رہے کہ دین انسان کی زندگی کے اہم مسائل سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور دین انسان کی زندگی کا رخ نہیں بدل سکتا،جس طرح شاعری یا کوئی دوسرا کام اگرچہ اہم ہے، اسی طرح دین بھی اہم ہے ، فرض کیجئے کہ کچھ لوگ آرٹ میں مشغول ہیں اور انھوں نے ایک آرٹ گیلری بنائی کہ جس میں اپنے اپنے آرٹ کی نمائش لگائی ، ہم بھی ان کا احترام کرتے ہیں ، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آرٹ ان کے لئے سیاست، اقتصاد، او ربین الاقوامی مسائل کا محور بن جائے؛ یعنی آرٹ ایک سائڈ کا کام ہے ۔

ان کی نظر میں دین بھی اسی طرح ہے کہ اگر کوئی شخص خدا سے راز ونیاز کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ عبادتگاہ میں جائے اور شاعر کے شعر کی طرح خدا سے مناجات کرے ، ہم سے کوئی مطلب نہیں ہے؛ لیکن اگر کسی ایک معاشرے میں کون سے قوانین حکومت کریں یا اقصادی اور سیاسی نظام کس طرح کا ہو؟ دین کو ان چیزوں سے کوئی مطلب نہیں ہے، دین کی جگہ عبادتگاہ، مسجد یا بت خانہ ہے ، او رانسان کے زندگی کی حقیقی مسائل علم سے متعلق ہیں اور دین کوزندگی کے مسائل میں کوئی دخالت نہیں کرنا چاہئے۔

اس نظریہ کو کلی طور پر ”سیکولرایزم“ کھا جاتا ہے یعنی دین کو زندگی کے مسائل سے دور رکھنا، یا دنیا داری بھی کھا جاتا ہے، یا اصطلاح میں ”آسمانی فکر کرنے“ کے بجائے ”اس دنیا کی فکر کرنے“ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

کھتے ہیں کہ پیغمبر پر ملائکہ کا نازل ہونا یا عالم آخرت میں ملکوت سے مل جانا وغیرہ وغیرہ جیسی باتوں کو چھوڑو اور اس دنیا کے بارے میں سوچو! کھانے، لباس ، ناچ گانااورمیوزک کے بارے میں باتیں کروکہ جن کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے، اور انسانی زندگی کے اہم امور بالخصوص اقتصاد، سیاست اور حقوق علم سے مربوط ہیں ، اور دین کو ان میں کوئی دخالت نہیں کرنا چاہئے،یہ ہے مغربی تمدن کا دوسرا رکن۔

تیسرا رکن: ”لیبرالیزم“ ہے، چونکہ اصل انسان ہے اور انسان مکمل طور پر آزاد ہے مگر بعض ضرورتوں کے پیش نظر، انسانی زندگی کے لئے کوئی قیدو شرط نہیں ہونا چاہئے، کوشش یہ کرنا چاہئے کہ محدویتوں کو کم کیا جائے او رارزشوں کو محدود بنایا جائے، یہ صحیح ہے کہ ہر معاشرہ میں کچھ ارزشیں ہوتی ہیں لیکن ان کو مطلق قرار نہیں دیا جاسکتا، ہر انسان کسی بھی گروہ کے رسم ورواج کو اپنانے میں آزاد ہے، لیکن ان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ ان کو اجتماعی ارزش قرار دیدیا جائے اوران کو سیاست وحقوق اور اقتصاد میں ان کو دخالت کرنے دیا جائے، انسان آزاد ہے جس طرح کا معاملہ کرنا چاہے کرے، اور جو چیز بنانا چاہے بنائے کسی بھی کام میں مشغول رہے، او رجہاں تک ممکن ہو اقتصاد میں آزادی ہو، اور مفید معاملات میں کسی محدودیت کا قائل نہ ہو، چاہے فائدہ ہو یا نہ ہو، اور جہاں تک ممکن ہو مزدور سے کام لیا جائے اور اس کے کام کے وقت کو معین نہیں کرنا چاہئے ،تاکہ مالدار لوگو ں کو مزید فائدہ پہونچے۔

مزدور کی مزدوری جتنی کم ہو بہت ر ہے ، انصاف ومحبت اور عدالت لیبرالیزم سے ہم اہنگ نہیں ہے ، لیبرال انسان صرف اپنے فائدہ کی فکر میں ہو، البتہ کبھی کبھی قانون کی رعایت بھی کی جائے تاکہ بغاوت او ردوسری مشکلات پیش نہ آئیں ، لیکن اصل یہ ہے کہ انسان جس طرح بھی چاہے کرے، لباس میں بھی انسان آزاد ہے یھاں تک کہ اگر چاہے تو برہنہ باہر نکل آئے، کوئی بات نھیں ، او ر اس کو روکنے کا کسی کو حق نہیں ہے،البتہ کبھی کبھی ایسا موقع آتا ہے کہ اگر کوئی برہنہ باہر نکلنا چاہے تو لوگ اس کو گالی دیتے ہیں برابھلا کھتے ہیں اور اس چیز کو برداشت نہیں کرتے، یہ ایک الگ بات ہے، ورنہ کوئی بھی قانون انسان کو محدود نہیں کرسکتاکہ کیسا لباس پہنے لمبا ہو یا چھوٹا، کسا ہوا ہو یا ڈھیلا، مرد برہنہ ہو یا عورت،سب کو آزاد ہونا چاہئے،اور جہاں تک ممکن ہو مرد وعورت کے درمیان رابطہ آزاد ہونا چاہئے، صرف معاشرہ میں مشکلات پیدا ہونے کی صورت میں تھوڑا بہت کنٹرول کیا جائے! آزادی کی حدیھاں تک ہے، لیکن اگر اس حد تک نہ پہونچے تو عورت مرد آزاد ہے جو ان کا دل چاہے کریں ، جہاں چاہیں جائیں ،جس طرح کا رابطہ رکھنا چاہےں ، رکھیں ۔

سیاسی مسائل اور دوسرے مسائل میں بھی اسی طرح ہے ،اصل یہ ہے کہ کوئی بھی قید وشرط انسان کو محدود نہ کرے مگر یہ کہ ضرورت اس چیز کا تقاضا کرے، یہ ہے لیبرالیزم کا اصل ہدف ، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ مغربی تمدن کے تھرے رکن ہیں ، ”اومانیزم، سیکولرایزم اور لیبرالیزم“ اور یہ قانون گذاری میں اہم کردار رکھتے ہیں ۔

۵۔ اسلامی اور مغربی تمدن کا بنیادی فرق

پھلا مسئلہ ”اومانیزم“ ہے کہ جواصالت خدا کے مقابلہ میں ہے جو لوگ اس نظریہ کو مانتے ہیں مسلمانوں کی طرح خدا اور اس کے قانون گذاری کو نہیں مانتے، یہ لوگ صرف اپنے فائدہ ،لذتوں او راپنے آرام کے چکر میں ہیں ، اگرچہ مغربی مکاتب میں کم وزیادہ اختلاف پایا جاتا ہے مثلاً یہ کہ لذت ومنفعت میں اصل انفرادیت ہے یا اجتماعی؟ البتہ یہ تمام مکاتب ایک اصل میں متفق ہیں اور وہ یہ ہے کہ حتی الامکان قید وشرط میں کمی ہونا چاہئے، اس الحادی نظریہ کے مقابلہ میں الہی مکتب فکر اور الہی تمدن ہے ، کہ جس کا کہنا یہ ہے کہ انسان اصل نہیں ہے،بلکہ خدا اصل ہے اور خدا ہی تمام کمالات وزیبائی وسعادت کا سرچشمہ ہے وہی حقّ مطلق ہے انسان پر سب سے بڑا حق اسی کا ہے او رانسان اس طرح عمل کرے تاکہ اس سے رابطہ رہے ، اپنی زندگی میں خدا کو نادیدہ نہیں کیا جاسکتا، انسان کا کمال خداپرستی میں ہے اور انسان کا فطری طور پر اللہ سے لگاؤ رکھتا ہے او راگر ہم اس لگاؤ کو نادیدہ کریں تو انسان خود اپنی انسانیت کو نابود کررہا ہے،لھٰذا تمام افکار واندیشہ میں اصلی محور خدا ہے کہ اس کا نقطہ مقابل انسان کو محور بنانا ہے۔

دوسرا مسئلہ سیکولریزم“ ہے کہ جس کے مقابلہ میں اصالت دین ہے ، ایک مومن انسان کے لئے سب سے زیادہ ضروری او راہم امر دین کا انتخاب کرنا ہے اس کے لئے آب ونان کی فکر سے پہلے اپنے منتخب دین کی تحقیق ضروری ہے کہ یہ دین حق ہے یا نھیں ،اس کا دین صحیح ہے یا فاسد؟ اور کیا خدا ئے واحد پر اعتقاد رکھنا صحیح ہے یا غلط؟ کیا خدا کی یاد بہت ر ہے یا خدا سے بے توجھی؟ ایک خدا کا اعتقاد صحیح ہے یا تین یا چند خداؤں کا اعتقاد؟ لھٰذا جس روز اس پر تکلیف واجب ہوتی ہے اسی دن اس کو یہ طے کرنا ہوگا کہ خدا، وحی، قیامت وغیرہ کو قبول کرتا ہے یا نھیں ؟ سب سے پہلے دین کا انتخاب کرے؛کیونکہ دین زندگی کے تمام شعبوں میں دخالت رکھتا ہے، پس الہی تمدن میں دوسرا رکن دینداری ہے کہ جس کے مقابلے میں سیکولریزم ہے جو دین کو زندگی کی ایک سائڈ کا کام کھتا ہے جس کا ماننا یہ ہے کہ دین کو زندگی کے اہم کاموں میں دخالت نہیں کرنا چاہئے، اور دین کو اہم مسائل کے عنوان سے پیش نہیں کیا جانا چاہئے اور زندگی تمام مسائل کو تحت تاثیر قرار نہ دے، جبکہ اسلام یہ کھتا ہے کہ کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جو حلال وحرام سے خارج ہو، اور کسی بھی چیز کے حلال یا حرام ہونے کو دین معین کرتا ہے ، یہ نظریہ سیکولریزم کا نقطہ مقابل ہے۔

تیسرا مسئلہ لیبرالیزم ہے؛یعنی آزادی ،ھوس بازی اور کسی قید وشرط کا نہ ہونا،لیبرالیزم یعنی اصل اپنی مرضی ہے، کیونکہ آزادی کے مختلف معنی کئے گئے ہیں لیکن یھاں اس کے معنی دلخواہ لیتے ہیں ، اس لیبرالیزم کے مقابلہ میں حق وعدالت او رانصاف ہے،لیبرالیزم کھتی ہے کہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کیا جائے جبکہ الہی ثقافت کھتی ہے کہ حق وعدالت سے کام لینا چاہئے،اور کوئی بھی ایسا کام نہ کیا جائے جو ناحق ہو، اسی طرح عدالت کی رعایت کی جائے، البتہ ان دونوں میں آپس میں رابطہ ہے کیونکہ حق کے کماحقہ معنی کئے جائیں تو عدالت کو بھی شامل ہوتا ہے:

”العَدالةُ اعطاءُ کلِّ ذی حقٍّ حَقَّہ (عدالت ہر صاحب حق کو اس کا حق عطاکرتی ہے) پس عدالت میں حق پوشیدہ ہے، لیکن اس وجہ سے کہ اس میں کوئی غلط فہمی نہ ہو ان دونوں اصولوں کو ذکر کرتے ہیں ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ لیبرالیزم دلخواہی کو اصل ماننے کے نظریہ پر اعتقادرکھتی ہے ،اور اس کے مقابلہ میں دین عدالت وحق کا طرفدارہے، دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ واقعاً حق وباطل دونوں ہیں ایسا نہیں ہے کہ جو بھی چاہیں مان لیں بلکہ ہمیں چاہئے کہ تلاش کریں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ کیا عدالت ہے او رکیا ظلم ہے؟ اگر میں کسی پر ظلم کو اچھا مانوں تو کسی پر ظلم نہ کروں : لیبرالیزم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حق وعدالت کی رعایت وہاں تک کریں کہ اس کی مخالفت سے معاشرے میں بحرانی کیفیت طاری نہ ہو، ہر کوئی اپنے فائدہ کی فکر میں رہے۔

کھا جاتا ہےکہ مروّت وانصاف ایسی چیزیں ہیں جن کو انسان کمزوری کی وجہ سے ان کو اپنا تا ہے، اگر آپ میں طاقت وقدرت ہے تو پھر جو چاہو انجام دو، مگر یہ کہ آپ کو احساس ہوجائے کہ اس آزادی سے معاشرہ میں بحران ہوسکتا ہے اور اس وقت بحران کی زد میں وہ خود بھی آسکتا ہے اس کا وقت محدود ہوجاتا ہے ، پس الہی واسلامی تمدن میں اصل عدالت وحق ہے۔

غربی تمدن میں ان تین ارکان کے علاوہ بھی او ردوسری چیزیں ہیں کہ یاتو عمومی نہیں ہے یا اصالت نہیں مانا جاتا، کہ جن میں سے ”اخلاقی پوزیٹونیزم“ ( Positivisme ) ہے یعنی اخلاقی ارزشیں انسان کے سلیقہ او رمرضی کے مطابق ہیں کہ جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے، مثلاً آج اگر کسی چیز کو پسند کیا اور اس کو اچھا لگا او راس کی حمایت میں ووٹ دیا تو یہ باارزش ہوجائے گا، لیکن اگر بعد میں اس میں کوئی برائی دکھائی دی،تو اس کو چھوڑ دیا تو یہ ارزش کے خلاف ہوجائے گا۔

ہم نے متعدد بار عرض کیا ہے کہ ہمارے معاشرے کے لوگ چونکہ ان کا ذہن صاف ہے ، وہ جانتے ہیں کہ مغربی تمدن کس قدر برا ہے، مثال کے طور پر کہ جس معاشرے میں ہم جنس بازی کو بہت برا سمجہاجاتا تھا آج اسی کو قبول کیا جارہا ہے، اس کو اچھا مانا جارہا ہے، اس کے بارے میں بہت رین فلسفہ تراشی او ربہت رین اشعار پیش کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ اس بارے میں انجمن بنائی جاتی ہیں کہ ملک کے بڑے بڑے عھدہ دار افراد، منسٹر اور ایڈوکیٹ حضرات اس انجمن کے ممبر بنائے جاتے ہیں !!

سننے کی بات ہے کہ اس کام کی حمایت میں جو مظاہرے ہوتے ہیں ان کی تعداد عام مظاہروں سے کھیں زیادہ ہوتی ہے، کیوں ؟ اس لئے کہ لوگوں کا سلیقہ بدل چکا ہے ،اب تک ان میں یہ رواج تھا کہ مخالف جنس کے ساتھ زندگی ہوتی تھی، لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم جنس کے ساتھ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں !! مرد سے مرد او رعورت سے عورت کی شادی کو باقاعدہ طریقوں سے حکومتی اداروں میں درج کرایا جاتا ہے!!

اس نظریہ کو ”اخلاقی پوزیٹونیزم“ کا نام دیا جاتا ہے کہ واقعاً جس میں اخلاقی اہمیتیں کسی بھی طرح عقلانی نہیں ہیں اور صرف لوگوں کی مرضی پر ہے ، معیار لوگوں کے نظریات ہیں آج جس چیز کو بھی اچھاکھا وہی اچھا ہے اور اگر اسی کام کل برا کھنے لگیں تو برا ہے، لوگوں کی مرضی کے ماوراء کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو ارزشوں کا ملاک ومعیار بنایا جائے؛ یہ ایک نظریہ ہے نیز اسی طرح کے بہت سے نظریات ہیں جن کو بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتے ہیں ، پس جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ مغربی تمدن کے تین اہم رکن ہیں :

۱۔اومانیزم، ۲۔ سیکولریزم، ۳۔ لیبرالیزم، اور یھی تین اہم رکن قانون گذاری میں بہت زیادہ موثر ہوتی ہیں

۶۔ آزادی کے حدود کو معین کرنے میں اسلام اور مغربی تمدن میں فرق

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ دنیا بھر کے تمام عقلمند افراد ،مطلق آزادی کا انکار کرتے ہیں ،اور ہم کسی عاقل کو نہیں پہچانتے کہ جو یہ کھے کہ انسان اس قدر آزاد ہے کہ جس وقت جو چاہے انجام دے، لھٰذاجب یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ محدود ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزادی کی حد کیا ہے؟ مشہور یہ ہے کہ آزادی کی حد کو قانون بیان کرتا ہے ، یھاں سوال یہ ہوتا ہے کہ قانون کس درجہ آزادی کو محدود کرسکتا ہے؟

ہم نے گذشتہ مطالب میں بیان کیا کہ بعض لوگوں کایہ کہنا ہے کہ کچھ اس طرح کی آزادیاں ہیں کہ جن کو کوئی بھی قانون محدود نہیں کرسکتا، کیونکہ وہ قانون اوردین کے مافوق ہیں ، اور ہم نے گذشتہ جلسوں میں یہ وضاحت کی ہے کہ قانون کی شان آزادی کومحدود کرنا ہے اور قانون گذار کو آزادی کو کافی حد تک محدود کرنے کا حق ہوتا ہے، اور قانون کے اصل معنی ہی یھی ہیں ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون آزادی کو کس حد تک محدود کرسکتا ہے، اس کا جواب الہی ومغربی تمدن کے لحاظ سے الگ الگ ہے: مغربی تمدن کے لحاظ سے ،اگر انسان کا مادی خطرہ درپیش ہو تو اس وقت آزادی محدود ہوجاتی ہے اگر انسان کی زندگی میں اس کی جان ومال کو خطرہ لاحق ہوتو قانون آگے بڑہ کر اس کے مانع ہوجاتا ہے۔

اس بناپر ،اگر قانون یہ ہے کہ صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے یا یہ کہ پینے کے پانی کو زھریلا نہیں کرنا چاہئے، (کیونکہ اس سے لوگوں کی جان کا خطرہ ہے، )اس طرح کی آزادی کو محدود کرنا قابل قبول ہے ،ایسی آزادی کو محدود ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کی صحت محفوظ رہے، او راس قانون کے قبول کرنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، لیکن اگر کسی کام سے لوگوں کی عزت ، ہمیشگی سعادت اور اس کی معنویات کو خطرہ ہو اور انسان کی روح گندی ہوجائے تو قانون کو اس سے ممانعت کرنا ضروری ہے یا نھیں ؟ اس موقع پر الہی او رمغربی ثقافت میں اختلاف پایا جاتا ہے:

الہی نظریہ کے تحت انسان ہمیشگی کمال کی طرف بڑہ رہا ہے او رقانون کو اس کے لئے راستہ کو ہموار کرنا چاہئے، او راس راستہ میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو بھی ختم کرنا چاہئے، (قانون سے ہماری مراد وہ قانون ہے جو حقوقی وحکومتی قانون ہیں کہ جن کے جاری کرنے کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے اور فردی مسائل (اخلاقی مسائل) سے ہماری بحث نہیں ہے) اگر یھاں یہ سوال ہو کہ کیا قانون کو انسان کے معنوی فائدوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے؟ کیا ان چیزوں سے روکے کہ جو انسانی آخرت کی کامیابی کے خطر کو دور کرنا ضروری ہے؟

الہی تمدن کھتا ہے کہ ان چیزوں سے روکنا ضروری ہے ، لیکن کفروالحاد کی ثقافت کا جواب منفی ہے (یعنی ان کی نظر میں ضروری نہیں ہے ) شروع سے اب تک بحث اسی مطلب کو واضح کرنے کے لئے تھی اگر ہم مسلمان ومومن ہیں اور خدا، رسول، حضرت علی اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کو مانتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان معنوی وابدی ارزشوں کو قبول کریں ۔

ہمارے قانون گذار حضرات الہی ومعنوی مصلحتوں کا لحاظ رکھیں اور جو چیز انسانی معنویات کے لئے خطرناک ہیں ان سے روکا جائے ورنہ مغربی تمدن کے پیرو ہوجائیں گے، ایسا نہیں ہے کہ قانون فقط صحت وسلامتی او رمادی آسائش کو فراہم کرے اور جو چیزیں معاشرے میں ناآرامی کا سبب بنے ان سے روکے، نیزان کاموں سے روکے کہ جن سے معاشرے کی اقصادی امنیت خطرہ میں پڑتی ہے، بلکہ قانون کے لئے ضروری ہے کہ معنویات کوبھی مدنظر رکھے، ہمارے سامنے دو چیزیں ہیں : یا اسلامی قانون کو قبول کریں یا مغربی قانون کو،البتہ ان دوچیزوں میں بہت سی ملاوٹ موجود ہے کہ جس کو ہم نے گذشتہ بحث میں ذکر کیا ہے ۔

جو لوگ یہ کھتے ہیں :”یُوخَذُ مِنْ هٰذٰا ضِغْثٌ وَمِنْ هٰذٰا ضِغْثٌ فَیُمْزِجٰانِ“ (۱)

تھوڑا یھاں سے لیا اور تھوڑا وہاں سے او رآپس میں ملادیا۔

کچھ چیزیں اسلام سے لیں اور کچھ چیزیں مغربی تمدن سے اور ایک غیر ہم اہنگ مجموعہ بنالیا ، اسلام اس طریقہ کو قطعاً پسند نہیں کرتا، قرآن کریم اس چیز کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے:

( إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰه وَرُسُلِه وَیُرِیْدُوْنَ ا نْ ُیفَرِّقُوا بَیْنَ اللّٰه وَرُسُلِه وَیَقُولُونَ نُومِنُ بِبِعْضٍ وَنَکْفِرُبِبِعْضٍ وَیُرِیْدُوْنَ ا نْ یَتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ا وْلٓئِکَ همُ الْکَافِرُوْنَ حَقاً ) (۲)

”بے شک جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں سے انکار کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں او رکھتے ہیں کہ ہم بعض (پیغمبروں ) پر ایمان لائے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس (کفر وایمان) کے درمیان ایک دوسری راہ نکالیں ، یھی لوگ حقیقتاً کافر ہیں “

آج بعض لوگ یھی چاہتے ہیں کہ کچھ چیزیں اسلام سے لیں اور کچھ چیزیں مغربی تمدن سے لیں اور ان کو ملاکر جدید اسلام کے نام سے دنیا والوں کے سامنے پیش کریں ! حقیت یہ ہے کہ ان لوگوں کا اسلام پر یقین نہیں ہے، اور اگر اسلام پر یقین ہوتا تو ان کو معلوم ہوتا کہ اسلام اس مجموعہ کا نام ہے کہ جس کی ضروریات کو قبول کرنا چاہئے، اگر کوئی یہ کھے کہ میں نے اسلام تو قبول کرلیا ہے لیکن اس کی بعض چیزوں کو نہیں مانتا، تو اس کی یہ بات قابل قبول نہیں ہے، لھٰذا قانون گذاری اور آزادی کو محدود کرنے میں ہمارے پاس ان دو راستوں کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ، او ران میں سے ایک کا انتخاب ضروری ہے : یا تو آزادی کو محدود کرنے کا معیار مادی ودنیوی خطرات مانیں یا مادی او رمعنوی خطرات کو معیار قرار دیں ، او راگر پہلے راستہ کو اپنایا تو گویا ہم نے مغربی الحادی تمدن کو قبول کرلیا، اگر دوسرے راستہ کو اپنا یا تو اسلامی تمدن کو قبول کیا، اور جس حد تک بھی پہلے والے راستہ کے نزدیک ہوئے، مغربی تمدن کے قریب ہوئے، او رجس قدر بھی دوسرے تمدن کے نزدیک ہوئے اسلام سے نزدیک ہوئے، بہرحال ان دونوں میں کوئی رابطہ نہیں ہے، کیونکہ جہاں تک مادی فائدوں کی بات ہوتی ہے تو وہاں مغربی تمدن او راسلامی تمدن دونوں کھتے ہیں کہ ان کا خیال رکھا جائے مثلاً دونوں کھتے ہیں کہ صفائی کا خیال رکھا جائے، لیکن جہاں معنوی مسائل کی بات آتی ہے تو وہاں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔

جس وقت صرف مادی فائدے پیش نظر ہوں تو آزادی محدود کردیا جاتا ہے ، اگر اس کے ساتھ معنویات کو شامل کردیا جائے تو اس کے مقابلہ میں دوچیزیں ہوجاتی ہیں کہ جو ایک دوسرے کے متداخل ہوتے ہیں ،کہ جس کے نتیجہ میں محدودیت کا دائرہ وسیع تراور آزادی کا دائرہ محدودتر ہوجاتاہے، اگر ہم یہ کھیں کہ اسلام کی آزادی مغربی آزادی کی طرح نہیں ہے تو اس کے معنی یھی ہیں یعنی دلیل یہ ہے : کہ جب ہم معنوی مصلحتوں کی رعایت کرتے ہیں تو پھر مغرب کی طرح بے لگام نہیں ہوسکتے، بلکہ انسانی روح سے متعلق امور کی بھی رعایت کرنا ضروری ہے، جن کی وجہ سے ہماری آخرت سنورتی ہے، لیکن مغربی تمدن کھتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اجتماعی قوانین سے متعلق نہیں ہیں ، حکومتی قوانین معاشرہ کے مادی مسائل میں جاری ہوتے ہیں ، او ران کے علاوہ اخلاق سے مربوط ہیں کہ جن کا سروکار حکومت سے نہیں ہے۔

جس وقت یہ کھا جاتا ہے کہ اسلامی مقدسات خطرہ میں ہے حکومت کے بعض ذمہ دار افراد کھتے ہیں کہ مجھ سے کیا ربط! میرے کام تو لوگوں کی زندگی کے مادی مسائل سے مربوط ہیں ، دین کے مسائل علماء سے متعلق ہیں ، اس کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے، حکومت کا ان سے کوئی مطلب نہیں ہے، لیکن اگر اسلامی حکومت ہوتی ہے تو پہلے دین پھر دنیا کی بات کرتی ہے۔

اس بناپر ، ان دونوں تمدن کے پیش نظر بہت غور وخوض سے کام لیں او رہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس وقت ہمارے قدم اسلامی ارزشوں کے مقابلہ میں لڑ کھڑائیں اور اپنے اندر کاہلی کا احساس کریں ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کفر کے ماحول سے نزدیک ہوتے جارہے ہیں ، اور اسلام کی حقیقت کو بھولتے جارہے ہیں ، ہمارا یہ انقلاب صرف مادی فوائد کو پورا کرنے کے لئے نہیں ہوا ہے ، بلکہ ہم نے یہ انقلاب اسلام کی ترقی کے لئے کیا ہے، کیونکہ اس انقلاب میں اس قدرلوگ شھید ہوئے ، اپنے عزیزو کی قربانی پیش کی، صرف اس وجہ سے کہ اسلام باقی رہے، نہ صرف اس وجہ سے کہ مادی آسائش یا اقتصادی وسیاسی تعلقات میں اضافہ ہو، ان شھیدوں نے اپنی جان کو قربان کیا تاکہ اسلام پھیلے ، اسلامی حکومت کے لئے سب سے پہلے اسلامی مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے، او راگر کوئی بعض چیزوں کے غلط معنی وتفسیر کرے او رمختلف مفاد کی خاطر حقائق کی تحریف کریں ہمیں ان سے کوئی مطلب نہیں ، ہم تو مسلمانوں کو متوجہ کرناچاہتے ہیں کہ دین کی حد کھاں تک ہے؟ اسلامی ارزشیں کتنی اہم ہیں اور ان کی محافظت کے لئے کس قدر جانفشانی کی ضرورت ہے؟ ہمارے برادران واقف ہیں ، اسی لئے ایک عالم دین کی یہ ذمہ داری ہے کہ جس وقت معاشرہ میں کسی روحانی ومعنوی بیماری کے پھیلنے کا خطرہ ہو تو لوگوں کو متوجہ کریں اور خطرے کا اعلان کرے۔

حوالہ

۱۔نھج البلاغہ خطبہ نمبر ۵۰

۲۔سورہ نساء آیت ۱۵۰، ۱۵۱


سترہواں جلسہ

ربوبیت تشریعی، حاکمیت اور قانون گزاری میں رابطہ

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر

اسلام کے سیاسی نظریے کے تحت ہم نے گذشتہ جلسات میں عرض کیا کہ ایک حکومت کا اسلامی ہونا اس بات پر متوقف ہے کہ اس حکومت کے ارادے ،اسلامی مقاصد اور اس کا معین کردہ راستہ کو اپناتے ہوئے قدم بڑھا ئیں ،لھذا وہ حکومت، اسلامی کہ جس میں قانوں گزار یاور، عدالت یاور اور مجری یاور اسلامی راہ پر چلیں ، یا یہ کھا جائے کہ خدائی اور اسلامی رنگ ہونا چاہیے،اور اجمالی طور پر وضاحت کر دی گئی کہ ان طاقتوں کا الھی و اسلامی رنگ ہونا معنی کیا۔

اسی طرح یہ بھی بیان ہو چکا کہ قوانین کے لیے مرحلے ہیں ،اسلامی مقاصد کو مد نظر رکھا جائے اور یہ قوانین خدا کے براہ راست احکام کہ جو پیغمبریا انکے معصوم جانشینوں کے ذریعے پہونچے میں کے مخالف نہ ہوں ،اوردوسرے مرحلہ میں قانون کا جاری کرنے والا عام معنوں میں کہ قوہ قضائیہ کو شامل ہے کے ذریعے منصوب ہو،یا تو خدا براہ راست اس کو معین کرے،جیسے پیغمبر اکرم یا خدا کی طرف سے کسی کے ذریعہ منصوب ہو، جیسے پیغمبر کے ذریعہ ائمہ معصومین علیہم السلام کو منصوب کرنا، یا عمومی طور پر منصوب ہو،جیسے ولی فقیہ کہ جس کے بارے میں در حد امکان بحث ہو چکی ہے۔

۲۔اصول موضوعہ کو معین کرنے کی ضرورت

اس چیز کو ثابت کرنے کیلئے کہ ایک اجتماعی اور صحیح و سالم حکومت مذکورہ شکل و صورت رکھتی ہو،اور ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا کہ اگر ہم اس مسئلہ کو ان لوگوں کیلئے بیان کریں کہ جو ہمارے فقھی و اعتقادی بنیادوں پر عقیدہ رکھتے ہیں ، تو ان کے لئے شرعی دلیلوں خصوصا ً قرآنی آیات کے ذریعہ ثابت کر سکتے ہیں ، لیکن وہ حضرات جو دین کی حقانیت ، یا دوسرے بنیادوں کو کہ جو اس نظریہ کی بنیادیں قبول نہیں کرتے،لھذا اگر ان افراد کے لئے اس نظریہ کو ثابت کرنا ہے تو پہلے اصول موضوعہ کے بارے میں بتانا پڑے گا کہ اس بحث کے اصول موضوعہ کیا ہیں ؟ اور پہلے ان کو اصول موضوعہ کو ثابت کرنا ہوگا، اصول موضوعہ ان مسائل کو کھتے ہیں کہ جو بدیھی اور ظاہر ی چیزوں سے شروع ہوتے ہیں اور اس نظریہ پر ختم ہوتے ہیں ۔

جو لوگ استدلال حساب یا ھندسہ کے ذریعے کچھ چیزوں کو ثابت کرنے کے طریقوں سے واقفیت رکھتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ ھندسی بحثیں اس طرح شروع ہوتی ہیں کہ پہلے کسی قضیہ کو اصل موضوع کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، اور اس کی بنیاد پر دوسرے قضیہ کو ثابت کیا جاتا ہے اور اس طرح قضیہ سوم کو اثبات کرتے ہیں اور اس طرح چوتھے اور پانچویں کو اثبات کرتے ہیں اور اس طرح آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اگر بیسوں قضیوں کو ثابت کرنا چاہیں تو اس کیلئے انیسوں قضیہ کو پہلے سے ثابت ہونا ضروری ہے اور اس طرح انیسویں کو ثابت کرنے کے لئے اس سے پہلے والا قضیہ ثابت ہونا چاہیے۔

اگر کسی کے لئے کسی ایک قضیہ کو ثابت کرنا ہو تویھان پر یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ اس سے پہلے قضیوں کو کھاں تک درک کیا ہے، تاکہ ان کو بحث کا اصل موضوع قرار دیں وگرنہ اگر ہر ایک قضیہ کو اثبات کرنے کیلئے پہلے والے قضیوں کے اثبات کو تکرار کرنا پڑے گا،مثال کے طورپر جب ایک سیدھی لائن کی تعریف دونقطوں کے درمیان چھوٹے فاصلہ یا دونوں ایک دوسرے کے مقابل لائن آپ ان کو کتنا بھی بڑھائیں وہ ایک دوسرے کو قطع نہیں کرسکتی ہیں ان کو بیان کریں ،اسی طرح ہر ایک قضیہ کو بیان کرنے کیلئے کوئی نئے مسائل کوبیان کرنے کی ضرورت نھیں ھوتی، بلکہ ہمیشہ گذشتہ مطلب ہی کی تکرارہوتی رہتی ہے۔

اسی طرح اگر کسی ایک عقلی قضیہ کو ثابت کرنا چاہیں تو اس کے اصول موضوعہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے،کہ جن کو الگ کسی دوسرے علم یا دوسری بحثوں میں ثابت کیا جا چکا ہے، مثال کے طور پر اگر یہ کھیں کہ قانون کو الہی قانون ہونا چاہیے تو خدا کا اثبات ثابت ہونا ضروری ہے ، لھٰذا اگر کوئی کھے کہ میں خدا ہی کو نہیں مانتا تو پھر اس کے ساتھ کلامی اور فلسفی بحث کریں تاکہ اس پر ثابت ہوسکے کہ ھاں خدا بھی ہے،اور وہ خدا ایک ہے اور ہمارا رب ہے، تا کہ بحث کے دوران حکومت کے سلسلہ میں حکومت کی نسبت خدا کی طرف دی جاسکے۔

لھٰذا اگر اصول اولیہ سے بحث شروع کریں تو یہ بحث تکراری اور خستہ کنندہ ہوگی، مجبوراً اس اصل کو بیان کریں جس کو مد مقابل بھی قبول کرتا ہے اور دور کی بحثوں کو اس کے علم پر چھوڑ دیں ،البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب ہم ھندسہ کے دسویں قضیہ سے بحث کو شروع کریں تو اس سے پہلے قضیوں کو اثبات نہ کیا جا سکے،کیونکہ ان کو تو پہلے ثابت کرچکے ہیں ،لھذا جن اصولوں کو پہلے ثابت کر چکے ہیں ان سے بعد میں نتیجہ حاصل کرتے ہیں ، اس نکتہ کو بیان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ اپنے مبانی(بنیادی نظریات) کے اعتبار سے گفتگو کرتے ہیں جبکہ دوسرے ان کو قبول نہیں کرتے،لھذا ان حضرات کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارا مخاطب بھی ہمارے ساتھ بہت سی چیزوں کو مانتا ہے تاکہ ان کی بنیاد پر دوسری چیزوں کو ثابت کیا جا سکے اور اگر ان اصول و مقدمات کو نہیں مانتا تو پھر دوسرے علم کی طرف رجوع کریں اور وہاں ان مقدمات کو ثابت کریں ۔

یھاں اس چیز کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے مغربی ثفافت کو ”اور مانیرم و لیرالیزم“کی بنیاد پر اس کو کفر والحاد کی ثقافت بتایا ہے جبکہ مغربی ممالک میں بہت سے افراد خدا کو ماننے والے ہیں ،ہم نے مکرر عرض کیا ہے کہ مغربی ثقافت سے مراد صرف جغرافی علاقہ نہیں ہے اور ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ وہ سبھی لوگ جو مغربی ممالک میں زندگی بسر کرتے ہیں اس طرح کا نظریہ رکھتے ہیں کیونکہ وہاں پر بہت سے لوگ خدا کو مانتے ہیں اور اخلاقی قوانین کی رعایت کرتے ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں لیکن مغربی ثقافت میں جو چیز عمل ہے وہ انہیں اصول پر مبنی نہیں کرتے، بعض خود ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم کس منطق کے تحت گفتگو کر رہے ہیں ، جو حضرات اہل بحث و استدلال ہیں اس طرز تفکر کی بنیاد کی معرفت رکھتے ہیں ؟اسی طرح ہم نے اس سے قبل التقاط(دوسروں کے نظریات سے متاثر ہونا) کے بارے میں بیان کیا کہ بعض لوگ مختلف ادیان سے کچھ چیزوں اخذ کرکے ایک جگہ جمع کرتے ہیں ، ان چیزوں کی استدلالی اور بنیادی کو پہلو کو ثابت کئے بغیر،کیونکہ کبھی کبھی یہ چیزیں آپس میں سازگار اور ہم آھنگ نہیں ہوتیں ،در نتیجہ ہم یہ عرض کردینا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے تمام عقائد کو ملاحظہ کیا جائے تو اس طرح کے اشکالات ہمارے یھاں نہیں پائیں گے۔

بہر حال اس چیز کو اثبات کرنے کیلئے کہ ہمارا یہ سیاسی نظام و حکومت جو اسلامی نقطہ نظر سے ہے اور سب سے زیادہ عقلائی اور سب سے زیادہ حکیمانہ ہے، لھٰذا ہم اس کا استدلال شروع کرتے ہیں ،ہم یھاں پر خدا کے اصل وجود اور انہیں صفات کو مسلم مانتے ہوئے اسی بنیاد پر اس مسئلہ کو بھی اثبات کرتے ہیں ،گر چہ کچھ لوگ خدا کو قبول نہیں کرتے یا اس کے بعض صفات کو نہیں مانتے تو ان کو چاہئے کہ علم کلام کا مطالعہ کریں کیونکہ اس وقت ہماری بحث علم کلام میں نھیں ھے بلکہ سیاسی فلسفہ سے متعلق ہے لھٰذا یھاں پر علم کلام کی بحث نہیں کی جا سکتی۔

۳۔خدا کی حاکمیت اور تشریعی الوہیت

ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا تھا کہ اسلامی حکومت کے سیاسی نظام کی اصل بنیاد خداوند عالم کی حاکمیت ہے، در حقیقت اس نظریہ کا سرچشمہ خدا کی تشریعی ربوبیت کا قائل ہونا ہے،اس سلسلہ میں اس مطلب کی یادھانی بھی ضروری ہے کہ نہ صرف یہ کہ اسلام کا بلکہ تمام آسمانی ادیان کا معیار توحید ہے،کلمہ" لا الہ الااللّٰہ" ہے، جو ہمارے نبی اکرم کا اصلی نعرہ ہے،اور یھی تمام ادیان کا نعرہ تھا، اگرچہ اس میں تھوڑی بہت تحریفات ہوتی ہیں ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ" لا الہ الااللّٰہ کا کیا مطلب ہے؟ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ توحید کے معنی یہ ہیں کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اس جہان کا خالق و پیدا کرنے والا ایک ہے،لیکن کیا توحید کے یھی معنی ہےں ؟ بعض” لا خالق الا اللّٰہ" (خدا کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے) کیا اسلام کی نظر میں توحید کے معنی صرف خلقت میں یگانیت و وحدانیت کا اعتقاد رکھنا ہے؟ چند سال پہلے اسلام کے نظام عقیدتی و نظام ارزشی میں توحید کے عنوان سے بحث میں ہم نے بیان کیا تھاکہ توحید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خالقیت میں یگانیت و وحدانیت کا قائل ہو جائے، اسلام کے لحاظ سے توحید کے معنی اس میں محدود نہیں ہیں ، مکہ کے مشرکین بھی خالقیت میں توحید کا عقیدہ رکھتے تھے ۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَلَئِنْ سَا لْتَهمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَالا رْضَ لَیَقُولُنَّ اللّٰه ) (۱)

”اور (اے رسول) تم اگر ان سے پوچھو کہ سارے آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کھہ دیں گے کہ اللہ نے “

اس طرح شیطان بھی خدا کے وجود کا اعتقاد رکھتا تھا اور خالقیت میں توحید کو قبول کرتا تھا لیکن خدا نے پھر بھی اس کو کافروں میں شامل کردیا

جیسا کہ قرآن مجید میں ابلیس کی خدا سے گفتگو سے نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ توحید در خالقیت اور خدا کی تکوینی ربوبیت کا معتقد تھا نیز معاد و عاقبت کا بھی اعتقاد رکھتا تھا:

( قَالَ رَبِّ فَا نْظِرْنِی إِلٰی یَومِ یَبْعَثُوْنَ.قَالَ فَإِنَّکَ مِنَ الْمُنْتَظَرِیْنَ.إِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ. قَالَ رَبِّ بِمَآ ا غْوَیْتَنِی لَا زَیِّنَنَّ لَهمْ فِی الا رْضِ وَلَا غْوِیَنَّهمْ ا جْمَعِیْنَ ) (۲)

”شیطان نے کھا کہ ا ے میرے پروردگار خیر تو مجھے ا س دن تک کی مھلت دے جبکہ (لوگ دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے خدا نے فرمایا: وقت مقرر کے دن تک کی تجھے مھلت دی گئی ، شیطان نے کھااے میرے پروردگار چونکہ تونے مجھے راستہ سے الگ کیا ہے، میں بھی ان کے لئے دنیا میں (ساز وسامان کو) عمدہ کردکھاؤں گا او رسب کو ضرور بھکاؤں گا۔“

نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان بھی توحید در خالقیت اور خدا کی تکوینی ربوبیت کا قائل تھا اور قیامت پر بھی اعتقاد رکھتا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے کفر کی وجہ کیا تھی؟ شیطان کے کفر کی وجہ کو پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اسلامی نقطہ نظر سے توحید کا نصاب پہچاننا پڑے گا، یعنی اسلامی لحاظ سے انسان کب موحد یعنی اہل توحید بنتا ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ خلقت میں خدا کی وحدانیت خدا کی تکوینی و تشریعی الوہیت میں وحدانیت اور وحدت معبود کے اعتقاد سے انسان موجود بنتا ہے یعنی انسان خدا کو تنھا خالق مانے اور اسی کو کردگار، صاحب اختیار جہان، اور اصل قانون گذار مانے، اور الوہیت و عبودیت میں توحید کے اعتقادکے ساتھ ساتھ اس کو عبادت کا مستحق مانے، توحید کے نصاب کی پہچان سے معلوم ہوا کہ شیطان کے کفر کی وجہ خدا وند عالم کی تشریعی ربوبیت کا انکار تھا خدا و ند عالم کی تکوینی ربوبیت کاانکارنھیں تھا۔

اس طرح خداوند عالم اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب سے بحث کرتے وقت ان عقائد کی طرف دعوت دیں کہ جن میں خود آپ اور وہ لوگ مشترک ہیں ، اور وہ اعتقاد خدا کی وحدانیت اور اس کی عبودیت کا عقیدہ ہے اس کے بعد خداوند عالم ایک جملہ ارشاد فرماتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کو ان کے غیر خدا کی تشریعی ربوبیت کے عقیدہ سے روکے، کہ جس کی وجہ سے وہ اس دائرہ میں پہونچ چکی ہیں :

( قُلْ یَا ا هلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلیٰ کَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ إلاّٰ نَعْبُدَ إِلاّٰ اللّٰه وَلاَتُشْرِکْ بِه شَیْئاً َولاَیَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً ا رْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰه ) (۳)

”(اے رسول) تم (ان لوگوں ) سے کھو کہ اے اہل کتاب تم ایسی(ٹھکانے کی) بات پر تو آؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہوکہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور ہم سے کوئی خدا کے علاوہ کسی کو اپنا پروردگار نہ بنائے۔“

اس آیت کی تفسیر میں جو روایات وارد ہوئی ہیں ان کا مضمون یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے جیسے افراد کو اپنا خالق نہیں مانتے تھے بلکہ اپنے احبار و رہبان (روحانی علماء) کو اپنا تشریعی رب مانتے تھے اور ان کے حکم کو خدا کا حکم سمجھتے تھے۔ قرآن مجید میں احبار و رہبان کی بدون قیدو بند اطاعت کو رب ماننے کے مترادف کھا ہے: ”ً َولاَیَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً ا رْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰہ"یعنی اپنے بزرگوں کی بدون قید و شرط اطاعت نہ کروکہ یہ کام ایک طرح کا شرک ہے لیکن یہ شرک تکوینی خالقیت و ربوبیت کا شرک نہیں ہے اور نہ ہی الھیت وعبودیت کا شرک ہے، کیونکہ وہ لوگ احبار و رہبان کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا شرک تشریعی ربوبیت میں تھا،یعنی خدا کے ساتھ ساتھ ان کو بھی قانون گذار مانتے تھے، کھتے تھے کہ خدا کے علاوہ دوسرے افراد اور خود پر بھی قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں ،یعنی ایسا نہیں ہے کہ صرف خداوند عالم کا قانون معتبر ہو، اور جو بھی کھے اس کی اطاعت کرنا ضروری ہو؟

جس طرح شیطان بھی خدا کی تشریعی ربوبیت کا منکر ہوا،اور اس نے کھا: ”ا نَا خَیْرٌ مِنْہ" (میں اس سے بہت ر ہوں )مجھے جناب آدم کو سجدہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ خدا کا حکم ہے کہ جناب آدم کو سجدہ کر،شیطان نے کھا میں آدم کو سجدہ نھیں کروں گا ،کیونکہ میں اس سے بہت ر ہوں ، یعنی شیطان خداوندعالم کے اس حکم کو تسلیم نہ کرتا تھا، دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ شیطان حق حاکمیت کو خدا سے مخصوص نہیں سمجھتا تھا، جس کی وجہ سے کافر ہوگیا، ورنہ تو وہ خدا اور اس کی ربوبیت اور قیامت کا منکر نہ تھا، شیطان کے کفر کی وجہ خدا کی مطلق حاکمیت کا انکار تھا، اسلام جس کفر کی نسبت اہل کتاب کی طرف دیتا ہے اور اس سے روکتا ہے اور توحید کی طرف دعوت دیتا ہے وہ تشریعی کفر و شرک ہے،جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( اتَّخِذُوْا ا حْبَارَهمْ وَرُهبَانَهمْ ا رْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰه وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا ا مِرُوْا إِلاَّ لِیَعْبُدُوْا إِلٰهاً وَاحِداً ) (۴)

”ان لوگوں نے تو اپنے خدا کو چھوڑ کر اپنے عالموں کو اور اپنے زاہدوں کو اور مریم کے بیٹے مسیح کو اپنا پروردگار بناڈالا حالانکہ انہیں سوائے اس کے او رحکم ہی نہیں دیا گیا کہ خدائے یکتا کی عبادت کریں ۔“

وہ لوگ کبھی بھی احبار و راہبوں کو سجدے نہیں کرتے تھے، لیکن بغیر کسی قید وشرط کی اطاعت کو ان کو ربّ ماننے کے برابر سمجہا گیا ہے، درحقیقت وہ لوگ قانون گذاری کو خداوند عالم میں مخصوص نہیں جانتے تھے۔

۴۔خالص توحید کا مطلب

خالص توحید وہ ہے کہ جو اِن شرکوں سے خالی ہو، نہ شیطان جیسا شرک ہو اور نہ اہل کتاب والا شرک، اسلام میں توحید کا حد نصاب خدا کی توحید خالقیت، اس کی معبودیت اور اب ولایت تکوینی کے اعتبار کے ساتھ ساتھ تشریعی ربوبیت میں توحید کا اعتقاد بھی ضروری ہے، پس توحید کے یہ چار رکن ہیں کہ اگر ان میں کوئی ایک بھی نامکمل رہ گیا، تو پھر بھی توحید، حقیقی توحید نہیں ہوگی،ا ور اگر کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ خداکی خالقیت کے ساتھ ساتھ کوئی دوسرا بھی خالق ہے، یا کوئی دوسرا بھی رب تکوینی ہے جو مستقل طور پر عالم کا ادارہ کرتا ہے، یا حق حاکمیت یا حق عبادت رکھتا ہے وہ اسلامی توحید سے خارج ہے۔

لھٰذا تشریعی ربوبیت میں توحید کا قائل ہونا اسلامی توحید کا ایک رکن ہے اور تشریعی ربوبیت میں توحید کے عقیدہ کے بغیر اسلامی توحید نہیں ہوسکتی،ممکن ہے کوئی شخص ظاہری طور پر کلمہ شھادتین پڑھے اگرچہ اس پر طھارت کا حکم بھی ہوتا ہے لیکن یہ ظاہری احکام جن کی وجہ سے اس کو مسلمان شمار کیا جائے گا،اگر فقھا کرام اپنے توضیح المسائل میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شھادتین پڑھے تو اس پر طھارت کا حکم جاری ہوگا اور اس سے نکاح کرنا صحیح ہے اور اس کا ذبح کردہ حیوان حلال ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس نے کلمہ شھادتین پڑہ لیا ہو، وہ جنتی ہے اور عذاب جھنم سے نجات یافتہ ہے ،بلکہ اس کے لئے اسلام کے دوسرے ضروریات کو پورا کرنا ضروری ہے اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ تو کلمہ شھادتین پڑھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، کیا اگر کوئی معاد کا منکر ہو تو اسے مسلمان کھا جائے گا؟ یا اگر نماز و زکواة کا منکر ہو تو اس کو مسلمان کھیں گے؟ کلمہ شھادتین صرف اس چیز کی نشانی ہے کہ اس نے ”ما انزل اللہ “ پر اعتماد کر لیا ہے اور ظاہرا ًمسلمان شمار کر لیا جائے گا۔

لیکن اگر اس کے دل میں خدا کا اعتقاد نہ ہو ،یا قیامت کو قبول نہ کرتا ہو،یا اسلام کی ضروریات کو دل سے قبول نہ کرتا ہو ،تو وہ ظاہری طور پر تو مسلمان ہے لیکن حقیقت میں وہ کافر ہے، اگرچہ اس پر اسلامی احکام اس پر جاری ہونگے، پس ظاہری اسلام اور چیز ہے او واقعی ایمان جو عذاب اخروی سے نجات کا باعث ہوتا ہے، وہ دوسری چیز ہے۔

جس وقت یہ کھا جاتا ہے کہ توحید کا ایک معیار تشریعی ربوبیت میں توحید کا اعتقاد ہے تو اس کا مقصد وہ توحید ہے جو سعادت اخروی اور عذاب جھنم کے عذاب سے نجات کا باعث ہے ورنہ ظاہری احکام کے اثبات کیلئے کلمہ شھادتین کاپڑہ لینا کافی ہے۔

۵۔قانون گذار حضرات اور اسلام میں حاکمیت

اسلامی نظریہ اور تشریعی ربوبیت کی بنیاد پر یہ کھا جائے کہ قانون گذاری کا اصل حق خداوند عالم کو ہے اور خدا کے مقابلہ میں کسی کو قانون گذاری کا حق نہیں ہے، تواب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا قانون گذاری کا حق رکھتا ہے یا نھیں ؟ اس کے جواب میں پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے کہ خدا کے قانون گذاروں کے مقابلہ میں ان لوگوں کو قانون گذاری کا حق ہے جن کو خداوند عالم نے اجازت دی ہے، اور ان کا قانون اس صورت میں قابل اجرا ہے وہ قانون خدا کے اذن سے ہو:

( وَلَا تَقُوْلُوا لِمَا تَصِفُ ا لْسِنَتُکُمْ الْکِذْبَ هٰذَا حَلَالٌ وَهٰذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰه الْکِذْبَ. إِ نَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰه الْکِذْبَ لاَُیفْلِحُونَ. ) (۵)

”اور جھوٹ موٹ جو کچھ تمھاری زبان پر آئے (بے سمجھے بوجھے) نہ کھہ بیٹھا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، تاکہ ا س کی بدولت خدا پر جھوٹ، بہت ان باندھنے لگو اس میں شک نہیں کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ اور بہت ان باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے“

پس اپنی طرف سے نہیں کہنا چاہئے کہ فلاں چیز حلال اورفلاں چیز حرام، حلال و حرام آپ کے حساب سے نہیں ہے بس لیکن اگر کوئی ایسا کرے تو یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے، لھٰذا دیکھنا یہ ہے کہ خدا کا کہنا ہے:

( قُلْ ءَ اللّٰه اَذِنَ لَکُمْ ا مْ عَلَی اللّٰه َتفْتَرُوْنَ ) (۶)

”(اے رسول) تم کہدو کہ کیا خدا نے تمھیں اجازت دی ہے یا تم خدا پر بہت ا ن باندھتے ہو“

جی ھاں خدا نے اپنے پیغمبر کو قانون گذاری اور امور دینی کی اجازت دی ہے۔

( ا طِیْعُوا للّٰه وَا طِیْعُوا الرَّسُوْلَ ) (۷)

”(اے ایمان دارو )خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو“

نیز فرمایا:

( مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ ا طَاعَ اللّٰه. ) (۸)

”اور جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی“

البتہ رسول خدا بھی اپنی مرضی کے مطابق عمل نہیں کرتے بلکہ آپ کا عمل بھی خدا کی وحی و الھام کے مطابق ہوتا ہے اور جب تک آیات نازل نہیں ہوتیں ،الہی الھام اور غیر قرآنی وحی کے ذریعہ خدا وند عالم کا تشریعی ارادہ ان تک پہونچتا ہے:

( مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهویٰ إِنْ هوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوْحیٰ (۹)

”اور وہرسول) تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بھی نہیں کھتے، یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے“

اس بنا پر اگر کسی کو خدا کی طرف سے اجازت ہو تو وہ قانون کو واضح کر سکتا ہے اور اس کا بنایا ہوا قانون لازم الاجرا ء ہے شیعہ حضرات کاعقیدہ یہ ہے کہ جس طرح پیغمبر اکرم کو قانون بنانے کی اجازت دی گئی ہے، اسی طرح ائمہ معصومین کو بھی خدا کی طرف سے قانون بنانے کی اجازت ہے البتہ اس مطلب کی دلیل علم کلام میں واضح طریقہ سے بیان ہوئی ہے، ان میں سے ایک حدیث ثقلین ہے کہ جس میں ائمہ طاہرین علیہم السلام کو قرآن کا ہم پلہ قرار دیا گیا ہے:

”اِنِّی تَارکٌ فیِْکُمُ الثَّقْلِیْنِ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُم بِهما لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِی، کِتَابَ اللّٰه وَ عِتْرَتِی“

(میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں سے متمسک رہو گے ہر گز میرے بعد گمراہ نہ ہونگے ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت (اہل بیت.)۔

ہم یھاں پر شیعیت کے عقائد کو اثبات نہیں کرنا چاہتے،لیکن پھر بھی اشارہ کرتے ہیں کہ جو لوگ شیعوں کے اس قبول شدہ عقیدہ کو تسلیم کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم کے علاوہ ائمہ معصومین کو اس طرح کی اجازت ملی ہوئی ہے، اس نظریہ کے مقابل میں بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ صرف رسول اکرم معصوم اور واجب الاحترام ہیں لیکن اس اختلاف نظر سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مثلاً اگر فرض کریں کہ ہم لوگ رسول اکرم کے زمانہ میں ہوتے اور آپ کسی شہر کیلئے کوئی حاکم بنا کر بھیجتے، اور فرماتے کہ اس حاکم کی اطاعت کریں ، تو کیا یہ اطاعت واجب تھی یا نھیں ؟ کیا یہ اطاعت، اطاعت پیغمبر خدا اور حاکمیت خدا کے مخالف ہوتی؟ ہر نھیں ؟ کیونکہ وہ شخص اس پیغمبر کا نمائندہ ہے کہ جس کو خدا نے معین فرمایا ہے۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ائمہ معصومین بھی ایسا ہی اختیار رکھتے ہیں ، اور ائمہ نے اس عصر حاضرکیلئے نوعی(عمومی) طورپر (نہ کہ شخصی طورپر) ان افراد کو منصوب فرمایا ہے جو ائمہ کی طرح سب صالح سے زیادہ ہیں ان کو حکومت کی اجازت ملی ہوئی ہے، اور یہ نظریہ چاہے مقبولہ عمر ابن حنظلہ یا مرفوعہ ابو خدیجہ یا دیگر روایات کے ذریعہ ثابت کیا جائے، یا عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا جائے جیسا کہ فقھا کرام نے مختلف طریقوں سے اس نظریہ کو ثابت کیا ہے۔

پس جس طرح پیغمبر اکرم اپنے زمانہ میں کسی کو کسی شہر یا اسلامی علاقہ کا حاکم بناکر بھیجتے تھے، اور ان کی اطاعت وہاں کے رہنے والوں پر واجب ہوتی تھی، یا جس طرح حضرت علی نے اپنی خلافت کے دوران بہت سے لوگوں کو اسلامی ممالک منجملہ بحرین، اہواز، مصر وغیرہ کیلئے والی اور حاکم بنا کر بھیجا، اور ان حضرات کی اطاعت واجب تھی، اس غیبت کے زمانہ میں جو حضرات فقاہت و سیاست میں مالک اشتر کی طرح ہیں اور اسلامی معاشرہ کے چلانے کی صلاحیت اور توانائی رکھتے ہیں ، ولایت فقیہ کے دلائل کے تحت ان کو اجازت ہے اور ان کی اطاعت بھی ہم لوگوں پر واجب ہے،اور وہ خدا کی تشریعی ربوبیت کے مخالف بھی نہیں ہے بلکہ ان کی حاکمیت بھی خدا کی شان میں سے ایک شان ہے۔

جس طرح خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے اور پیغمبر اس حاکم کو فرمان دیتے ہیں یا امام معصوم اپنے خاص جانشین اور والی کو اجازت دیتے ہیں ان کی اطاعت ہم لوگوں پر واجب ہے دوسرے الفاظ میں یہ کہ والی و حاکم کی اطاعت پیغمبر اور خدا کی اطاعت ہے، اور اس والی و حاکم کی مخالفت پیغمبر اکرم کی مخالفت اور پیغمبر اکرم کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔

اس طرح ولی فقیہ کی اطاعت، امام معصوم کی اطاعت اور امام معصوم کی اطاعت پیغمبر کی اطاعت اور پیغمبر کی اطاعت خدا کی اطاعت ہوگی، اور اس کی مخالفت معصوم. کی مخالفت اور معصوم کی مخالفت خدا کی مخالفت ہوگی، یہ مطلب مقبولہ عمر ابن حنظلہ کی روایت سے واضح و روشن ہے جس میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

”ینظرنی من کان منکم ممن قد روی حدیثنا ونظر فی حلالنا وحرامنا وعرف احکامنا فلیرضوا به حکما فانی قد جعلته علیکم حاکما. فاذا حکم بحکمنا فلم یقبله فانما استخف بحکم الله وعلینا رد والراد علینا الراد علی الله وهو حد الشرک بالله "(۱۰)

”اگر کوئی ہماری احادیث کو نقل کرنے والے کو دیکھے اور ہماری حلال و حرام کردہ چیزوں بیان کرنے والے کو دیکھے اور ہمارے احکام کو جانتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کے حکم کو قبول کرے کیونکہ ہم نے اس کو تم پر حاکم قرار دیا ہے،لھٰذا اگر ہمارے حکم کے مطابق عمل کرنے اور کوئی اس کو قبول نہ کرے تو گویا اس نے خدا کے حکم کو سبک(ھلکا) سمجہا، اور ہم کو رد ّ کیا اور جس نے ہم کو ردّ کیا گویا اس نے خدا کو ردّ کیا، اور یھی شرک باللہ ہے“

حضرت امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ ”وہوعلی حدالشرک“ کی کیا وجہ ہے کہ شرک کوتوحید کے مقابلہ میں قرار دیا ہے اور توحید کے ارکان میں سے ایک رکن تشریعی ربوبیت میں توحید ہے اب اگر ہم نے خدا کی حاکمیت اور اس کے ساتھ ساتھ پیغمبر ، ائمھ، اور ان لوگوں کی حاکمیت کو قبول کیا ہے کہ جن کو خدا و ائمہ نے منصوب کیا ہے، تو ہم نے تشریعی ربوبیت میں توحید کو قبول کیا ہے اور اگر اس کو نہیں مانا تو پھر تشریعی ربوبیت میں شرک کیا، پس”الراد علیھم“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے ان فقھا کرام کو رد کیا جن کو لوگوں پر حکومت کرنے کا حق ہے اس نے گویا ائمہ کو رد کیا ہے یعنی اگر کوئی یہ کھے کہ میں ولایت فقیہ کو نہیں مانتا گویا وہ یہ کھتا ہے کہ میں امام معصوم کو نہیں مانتا، اور اگر کوئی امام کو قبول نہیں کرتا اس نے خدا وند عالم پر ایک قسم کا شرک کیا ہے کیونکہ اس نے خداوند عالم کی تشریعی ربوبیت کا انکار کیا ہے البتہ یہ شرک معنوی اور باطنی ہے، اور انسان کی نجاست کا سبب نہیں بنتا۔

لھٰذا ثابت یہ ہوگیا کہ اگر کوئی قبول کرتا ہو کہ درحقیقت حکومت کا حقخدا سے مخصوص ہے اور اس کے بعد رسول اللہ سے مخصوص ہے اور خدا کی حاکمیت کے زیر سایہ رسول اللہ اور ائمہ اور ان کے جانشین حضرات کی حاکمیت تحقق اور مشروعیت پیدا کرتی ہے،لیکن اگر ہم حاکمیت کی مشروعیت کو کسی دوسرے راستہ سے مانیں تو در حقیقت خدا کی حاکمیت کے بارے میں شرک کے قائل ہوئے ہیں ، اس بنا پر، اسلامی حکومت میں الٰھی قوانین اور اس حاکم کے بنائے قانون کے تحت ہوکہ جو خدا کی طرف سے اذن رکھتا ہو اس کی عقلی دلیل خداوند عالم کی تشریعی ربوبیت ہے، اگر توحید کو صحیح معنوں میں سمجہاجائے تو اس نتیجہ پر پہونچیں گے اور اگر انسان اس نتیجہ کا انکار کرے تو گویا اس کا عقیدہ کمزور ہے اور اس کی توحید خالص نھیں ھے اور اس میں شرک کی آمیزش ہے۔

ممکن ہے کوئی سوال کرے کہ معاشرہ میں الہی قوانین کے ہونا کا کیا فلسفہ ہے ؟ اگر کوئی خدا اور اس کے قوانین کو قبول نہ کرے اورخود اپنے لئے قوانین بنائے تو کیا معاشرہ کی فلاح و بھبود نہیں ہوسکتی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کس طرح جو معاشرے خدا کے قوانین کو تسلیم نہیں کرتے لیکن پھر بھی ان کی زندگی بہت ر ہے؟ یہ وہ نظریہ ہے جس کو بہت سے روشن فکر لوگ بیان کرتے ہیں اور کھتے ہیں کہ قانون کا خدا کی طرف ہونا، کیا ضروری ہے؟ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خود ہم اپنے لئے قانون بنا کر اس پر عمل کریں اور کوئی مشکل نہیں ہے۔

۶۔ قانون گذاری حق خدا سے مخصوص ہونے کے دلائل

اس اعتراض کا جواب واضح ہونے کیلئے یہ توجہ رکھنا ضروری ہے کہ انسان ایک ایسا موجود واحد ہے جو مختلف پہلو رکھتا ہے اور یہ مختلف پہلو ایک دوسرے سے مرتبط ہیں انسان میں صرف اقتصادی پہلو نہیں ہے کہ اگر اقصاد ی قانون بنا دیا تو معاشرہ میں اس کی اقتصادی مشکل آسان ہوجائے، کیونکہ اس کا اقتصاد اس کی سیاست سے مربوط ہے اور اس کی سیاسی، اجتماعی اور مدنی احکام سے مرتبط ہیں اس کے مدنی احکام اس کے جزائی احکام سے مربوط ہیں اوریہ سب بین الاقوامی قوانین سے مرتبط ہیں ، اورتمام کے تمام انسان کے روحی و معنوی اور اخلاقی پہلو سے گھرا ارتباط رکھتے ہیں ، انسان دس موجود نہیں ہیں اور نہ ہی دس روح رکھتا ہے، انسان ایک الھی روح رکھتا ہے جس کے مختلف پہلو اور گوشہ ہیں لیکن تمام ایک دوسرے سے متعلق ہیں ۔

لھٰذا اگر کسی ایک پہلو میں کوئی نقص و کمی پیدا ہوجائے تو پھر اس کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے، وہ خدا جس نے انسان کو پیداکیا اور انسان کیلئے اجتماعی زندگی مقرر فرمائی ہے، اجتماعی زندگی کی خاطر انسانی فطرت میں ایسے اسباب قرار دیئے جن کی وجہ سے انسان طبیعی طور پر اجتماعی زندگی کی طرف رجحان پیدا کرتا ہے، لھٰذا خداوند عالم نے انسان کی خلقت ایک مقصد کے تحت کی ہے، اور وہ مقصد یہ ہے کہ انسان اجتماعی زندگی کے ساتھ ساتھ انسانی کمالات تک پہونچے، اور اسی کے تمام پہلو، معنوی پہلو کے تحت کام کریں ، اور وہ ترقی کی منزلوں کو طے کرتا ہوا انسانی کمالات تک پہونچے:

( مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإنْسَ إِلاَّلِیَعْبُدُوْنَ ) (۱۱)

”ہم نے نہیں پید اکیا جن وانس کو مگر یہ کہ ہماری عبادت کرے“

جو کچھ بھی ہم نے عرض کیا یہ سب کچھ عبادت کے زیر سایہ ہوں وہ عبادت جو توحید اور ربوبیت سے جدا نہ ہونے والا ارتباط رکھتی ہے،ورنہ انسانی کمال پیدا نہیں ہوسکتا، البتہ اس کے علاوہ بھی معاشرہ میں ظاہری طورپر نظم و ضبط پیدا ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی یقینی نہیں ہے، مثلاً جیسا کہ آج کل مختلف ممالک جن کا نمونہ امریکہ ہے اور امریکہ کے کالج تمام ممالک کیلئے نمونہ قرار پائے ہیں ، جب کہ ان کالجوں میں پولیس اسلحہ کے ساتھ رہتی ہے لیکن پھربھی وہاں قتل و غارت ہوتا رہتا ہے، ملاحظہ کریں کہ یہ وہی نظام ہے جس کو انسان نے بنایا ہے اور اس طرح کے دوسرے کارنامے ہیں ، جن کے بیان کرنے سے انسان کو شرم آتی ہے۔

یھاں تک کہ اگر فرض کیا جائے کہ خدا کے قوانین پر عمل انسان کے معنوی پہلو کو ن-ظر انداز کرتے ہوئے معاشرہ میں ظاہری طور پر نظم و ضبط قائم ہوجائے، تو پھر بھی اس کی زندگی کا اصل ہدف پورا نہیں ہوا ہے ، کیا انسان کی زندگی موریانہ(ایک قسم کے حشرات ہیں جو شھد کی مکھی کی طرح ایک جگہ مل کر زندگی کرتے ہیں ) زندگی کی طرح ہے؟ یا انسان کی زندگی شھد کی مکھیوں کی طرح ہیں کہ جن کا ظاہر نظم کافی ہے، انسان کی زندگی یہ تمام نظام، امنیتیں ، ترقیاں ، علام اور ٹکنالوژی صرف اس وجہ سے ہیں تاکہ انسان کمال حاصل کر سکے اور خدا سے نزدیک ہو سکے، کون ہے جو ان روابط کو اچھے طریقہ سے سمجھتا ہے؟ کون حضرات ہیں جو بتائیں کہ کس کھانے سے یا کس کام سے انسان خدا کے نزدیک ہوتا ہے؟کون یہ معین کرے کہ خنزیر کا گوشت کھانے،شراب پینے سے ہماری سعادت و کامیابی پر اثر ہوتا ہے یا نھیں ؟ آج ڈاکٹروں نے ترقی کرکے یہ بتایا ہے کہ الکحل(شراب) زیادہ پینے کی وجہ سے انسان کا ذہن خراب ہوسکتا ہے،لیکن یہ نہیں جانتے کہ شراب کے پینے سے آخرت کو بھی نقصان پہونچتا ہے یا نھیں ؟ کیونکہ اس سلسلہ میں تجربہ نہیں کیا ہے اور اس مسئلہ کو تجربہ کیا بھی نہیں جاسکتا۔

انسانی زندگی کے قوانین اس طرح ترتیب دئیے جائیں کہ زندگی کے تمام پہلو پیش نظر رہیں ، اور صرف جسمانی بھداشت و نظافت، اقتصادی اور سیاسی وضعیت پر اکتفاء نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کو دوسرے پہلوؤں سے جدا سمجہا جائے، بلکہ ان تمام پہلوؤں کو ایک مرتب اور ہم آھنگ نظام میں ڈھالا جائے، ظاہر ہے کہ ان تمام پہلوؤں کی مکمل آگاہی اور ان کے ایک دوسرے سے ارتباط اور ان کے ذریعہ آخری کمال تک پہونچانے کا علم خدا کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، لھٰذا قوانین کو بھی خدا ہی بنا ئے، اس کے علاوہ کونسا ایسا قانون گذار ہے کہ جو قانون بناتے وقت اپنے ذاتی مفاد کو نظر انداز کرسکے، اور ظاہر ہے کہ جو گروہ بھی قدرت و حکومت پر قابض ہوگا وہ اپنے فائدوں کے بارے میں قوانین کو بنائے گا، مثال کے طور پر انہیں اسلامی ممالک میں جب کوئی نئی حکومت بنتی ہے توایسے قوانین اور نحس نامے تیار کرتی ہے کہ جو اس گروہ کے فائدے میں ہو، اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ چاہے سمت راست پارٹی ہو یا بائیں بازو کی پارٹی،یہ انسان کی خاصیت اور طبیعت ہے اور بہر حال تمام انسان معصوم بھی نہیں ہیں ۔

ان مسائل سے صرف وہ ذات مبرّا ہوسکتی ہے کہ جس کو ان مسائل سے کوئی فائدہ نہ ہو،اور ایسی ذات خداوند عالم کی ذات ہے، اور اگر کوئی دوسرا قانون بنائے گا تو ممکن ہے کہ وہ قوانین اس کے لئے یا ضرر ہونگے یا نفع بخش،لیکن خدا کے بنائے قوانین سے خدا کو نہ کوئی نفع ہے اور نہ کوئی نقصان، وہ تو صرف انسانیت کے نفع و نقصان کو دیکھتا ہے، لھٰذا چونکہ خدا کا علم بے نھایت ہے اور قوانین کے بنانے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے؟ جبکہ انسان پر حق حکومت ربوبیت بھی رکھتا، اور اگر انسان حقیقی کمال تک پہونچنا ہے تو خدا کے حق ربوبیت کو ادا کرے، البتہ یہ ایک الگ بحث ہے اور مزید وضاحت کی ضرورت ہے جس کی تحقیق اس کتاب میں ممکن نہیں ہے۔

انسان ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں اور عرفی حقوق کی معرفت رکھتے ہیں ، مثلاً کسان مزدور پر حق رکھتا ہے اور مزدور کسان پر حق رکھتا ہے، یا ایک ( DM ) لوگوں پر حق رکھتا ہے،اور لوگ بھی ڈی ایم پر حق رکھتے ہیں ، لیکن کیا خدا لوگوں پر حق نہیں رکھتا؟ اور اس حق کو ادا کرنے کا راستہ بھی معلوم ہے، اسلامی نظریہ کے مطابق، ان تمام حقوق میں سب سے پہلے خداکا حق ہے، لھٰذا سب سے پہلے خدا کے حق کو ادا کیا جائے،تاکہ خدا کے حق کے زیر سایہ لوگوں کے حقوق بخوبی انجام دئے جاسکیں ۔

تو کیا ممکن ہے کہ بنائے ہوئے قوانین میں انسان کے حقوق کا لحاظ کیا جائے لیکن خدا کے حقوق کو نظر انداز کر دیاجائے؟ اور اگر خدا کے حقوق کو پیشِ نظر نہ رکھا جائے تو کیا خدا کے حقوق پر ظلم و جفا نہیں ہوا ہے؟ اور کیا اس ناشکری کے بعد انسان کمال کی منزل تک پہونچ سکتا ہے؟خدا کی ناشکری سے بڑہ کر کون سی ناشکری ہوسکتی ہے؟ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ) (۱۲)

”بے شک شرک بڑا سخت گناہ ہے(جس کی بخشش نھیں )“

سب سے بڑا ظلم خدا پر ظلم کرناہے، لھٰذا اگر خدا وند عالم کے حقوق نظر انداز کردیا جائے تو یہ ظلم عظیم ہے، اس وقت کس طرح دوسروں کے ساتھ عدالت برقرار کر سکتے ہیں ؟ انسان کس طرح عدل کر سکتا ہے در حالیکہ خود اپنے خالق پر ظلم کرتا ہے؟ اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ غیر خدا کیلئے حق قانون گذاری کا عقیدہ ایک شرک ہے، لھٰذا چونکہ خداوند عالم ہمارے نفع و نقصان سے مکمل آگاہی رکھتا ہے اور خدا کیلئے قانون گذاری کا کوئی فائدہ نہیں ہے،اور خدا وند عالم ہر پر تشریعی ربوبیت کا حق رکھتا ہے،سب سے پہلے مرحلہ میں خدا کے قوانین کی رعایت کی جائے اور اس کے بعد ان لوگوں کے قوانین پر عمل کیا جائے کہ جن کو خدا کی طرف سے اجازت ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ جس کی خدا نے اجازت دی ہے،تاکہ انسان اس آیت کا مستحق قرار نہ پائے:

( قُلْ ا رَا یْتُمْ مَا ا نْزَلَ اللّٰه لَکُمَ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْه حَرَاماً وَحَلَالاً قُلَ ءَ اللّٰه ا ذِنَ لَکُمْ ا مْ عَلَی اللّٰه َتفْتَرُوْن. ) (۱۳)

”(اے رسول) تم کھہ دو کہ تمھارا کیا خیال ہے کہ خدا نے تم پر روزی نازل کی تو اب اس میں سے بعض کو حرام ، بعض کو حلال بنانے لگے، (اے رسول) تم کھہ دو کہ کیا خدا نے تمھیں اجازت دی ہے یا تم خدا پر بہت ان باندھتے ہو.“

اس طرح دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَا تَقُوْلُوا لِمَا تَصِفُ ا لْسِنَتُکُمْ الْکِذْبَ هٰذَا حَلَالٌ وَهٰذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰه الْکِذْبَ. إِ نَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰه الْکِذْبَ لاَ ُیفْلِحُونَ. ) (۱۴)

”اور جھوٹ موٹ جو کچھ تمھاری زبان پر آئے (بے سمجھے بوجھے) نہ کہ یٹھا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، تاکہ ا س کی بدولت خدا پر جھوٹ، بہت ان باندھنے لگو اس میں شک نہیں کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ اور بہت ان باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔

اس بنا پر، خدا کے تشریعی حق ربوبیت کی ادائیگی کیلئے پہلے خدا کے قانون پر عمل کریں ، اور اس کے بعد تحقیق و بررسی کرے کہ اس نے کسی کو قانون گذاری کی اجازت دی ہے، یا کسی کو قانون کو جاری کرنے کی اجازت دی ہے،کیونکہ اگر قانون کو اس کی اجازت سے جاری نہ کیا جائے تو پھر بھی خدا کے بندوں پر تصرف کرنا ان کے مولا و آقا کی اجازت کے بغیر ہوگا، اسلامی نظریہ کے مطابق خدا کی مرضی کے خلاف دوسروں پر تصرف کرنا تو دور کی بات ہے خود پر تصرف کرنا بھی جائز نہیں ہے، اس وجہ سے انسان کو خود کشی کا حق نہیں ہے۔

ممکن ہے مغربی ممالک میں لیبرالی نظریہ کے تحت چونکہ انسان خود اپنا مالک ہے، لھٰذا اس کو خود کشی کا بھی حق حاصل ہے ،لیکن اسلام میں اس طرح نہیں ہے، کیونکہ انسان خود اپنا مالک نہیں ہے بلکہ خدا ا س کا مالک ہے، لھٰذا اس کو خود کشی کا بھی حق نھیں ھے، کیونکہ خدا کی طرف سے اس کو اس کام کی اجازت نہیں ہے، خداوندعالم نے اگر انسان کو زندگی عطا کی ہے تواس کا اختیار بھی خود اسی کو ہے،کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں ہے تو پھر کس طرح کسی غیر کو اس کی جان لینے کی اجازت ہوگی؟

جب انسان اپنا ھاتہ کاٹ ڈالنے یا اپنی آنکہ پھوڑ ڈالنے کا حق نہیں ہے اس لئے کہ ن کا مالک خداہے اور انسان کو ان کام کی اجازت نہیں ہے، تو پھر کسی دوسرے کو کھاں سے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی چور کے ھاتہ کاٹ ڈالے یا کسی مجرم کو قید کردے؟ کسی کو بھی اس طرح کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ دوسرے لوگ بھی خدا کے بندے ہیں اور خدا کی اجازت کے بغیر ان میں تصرف نہیں کیا جا سکتا، لھٰذا قانون گذاری اور قانون کو جاری کرنے میں خدا کی اجازت ضروری ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اس سلسلہ میں اسلام کا سیاسی نظریہ کی بنیاد یہ ہے کہ خدا کی تشریعی ربوبیت، توحید کا رکن ہے، اور اگر کسی نے اس کی رعایت نہ کی تو پھر وہ شیطان کے کفر کی طرح کفر کا مرتکب ہوا ہے۔

حوالے

(۱)سورہ لقمان آیت ۲۵

(۲)سورہ حجر آیت ۳۶تا ۳۹

(۳)سورہ آیت آل عمران آیت ۶۴.

(۴)سورہ توبہ آیت ۳۱.

(۵)سورہ نحل آیت ۱۱۶.

(۶)سورہ یونس آیت ۵۹.

(۷)سورہ نساء۵۹

(۸)سورہ نساء آیت ۸۰

(۹)سورہ نجم آیت ۳،۴

(۱۰)کافی ج۱ ص ۶۷.

(۱۱)سورہ ذاریات آیت ۵۶

(۱۲)سورہ لقمان آیت ۱۳

(۱۳)سورہ یونس آیت ۵۹

(۱۴)سورہ نحل آیت ۱۱۶


اٹھارہواں جلسہ

قانون گذاری کے شرائط اور اسلام میں اس کی اہمیت

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

گذشتہ جلسوں میں عرض کیا جاچکا ہے کہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی بحث میں دو سوالوں کا جواب د ینا بہت ضروری ہے:

پھلا سوال:یہ ہے کہ معاشرے کے لئے قانون کا ہونا کیوں ضروری ہے؟

دوسرا سوال: یہ ہے کہ کون سا قانون مفید اور مطلوب ہے اور اس کے وضع کرنے کا اور پھر اس کو معاشرہ میں جاری کرنے کا مقصد کیا ہے؟

پھلے سوال کے جواب میں گذشتوں جلسوں میں ہم نے عرض کیا کہ دنیا کے تقریبا تمام ہی عقلاء کا اتفاق اس بات پر ہے کہ معاشرے میں اخلاقی قوانین کے علاوہ حکومتی قوانین بھی ہونا چاہئے،لیکن دوسرے سوال کا جواب کہ قانون کا ہدف کیا ہے؟ اس سلسلے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے، ایک نظریہ یہ ہے کہ قانون معاشرہ کے نظم وضبط سنوارنے کے لئے ہوتا ہے،دوسرا نظریہ یہ ہے کہ قانون معاشرہ میں عدل وانصاف کے لئے ہوتا ہے، تیسرا نظریہ اس وقت لیبرالیزم نے بیان کیا ہے کہ قانون انسان کی انفرادی آزادی کی حفاظت کے لئے ہوتا ہے یعنی انسان اپنی زندگی میں ہر طرح سے آزاد ہونا چاہئے کہ جوچاہے وہ انجام دے سکے،لیکن اس طرح مقام عمل میں مزاحمت اور ٹکراؤ ہوگا کہ بعض افراد کی وجہ سے دوسروں کی آزادی خطرہ میں پڑجاتی ہے ، لھٰذا قانون اس وجہ سے وضع کیا گیا ہےکہ سب کی آزادی برقرار رہ سکے ، اور مزاحمت سے روکا جاسکے۔

جیسا کہ گذشتہ بحث میں ہم نے عرض کیا کہ اسلام کے سیاسی نظریات میں انسانوں کی امنیت ونظم وضبط او رعدالت وغیرہ کی حفاظت متوسط قسم کے اہداف ہیں ، لیکن اسلام کی قانون گذاری کا اصل ہدف انسانوں کے مادّی اور معنوی فوائد کی حفاظت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معنوی فائدے مادی فائدوں سے کھیں زیادہ اہم ہیں ، لھٰذا قانون اس طرح ہونا چاہئے کہ جس سے انسان کی کمال تک پہونچنے کے لئے راہ ہموار ہوسکے یعنی جو تقرب خداوندمتعال کا باعث بنے، لھٰذا جو چیزیں خدا کی طرف جانے میں مانع ہوں ، وہ معاشرہ سے ختم ہوجانا چاہئے، مختصر الفاظ میں یہ کھا جائے کہ قانون وہ ہے جس میں تمام انسانوں کے مادی اور معنوی مصالح ومنافع کی حفاظت ہو۔

یھاں پہونچنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون گذار کون ہونا چاہئے؟ اس سلسلے میں بھی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ، خلاصہ یہ کہ سیاسی اور حقوق الناس کے دعویدارحضرات کے درمیان دوشرطوں کو معتبر جانا گیا ہے :

پہلی شرط: قانونگذار وہ ہو جو قانون کے ہدف کو اچھی طرح جانتا ہو ۔

دوسری شرط: قانون گذار معاشرہ کے منافع کواپنے ذاتی مفاد پر قربان نہ کرے،اور وہ قانون کے اہداف ومقاصد کو اچھی طرح جانتا ہو ۔

ان دو چیزوں کو تقریباً تمام ہی لوگ قبو ل کرتے ہیں ، اگرچہ ان کے قانون بنانے کے اہداف مختلف ہیں ، بہر حال قانون بنانے سے کسی کا کوئی ہدف ہو وہ یہ ضرور مانتا ہے کہ قانون گذار کو قانون کے اہداف سے اچھے طریقہ سے واقفیت ہونا چاہئے، اور ان اہداف تک پہونچنے کے راستوں سے واقف ہو، تاکہ اس کے بنائے ہوئے قوانین کے ذریعہ ان اہداف تک پہونچا جاسکے، قانون گذار کا علم ایسا ہو کہ جس کے ذریعہ قوانین کے اہداف تک پہونچنے کا راستہ کا پتہ لگاسکے ،اور قوانین کو اسی کے مطابق بنائے ، اور اخلاقی صلاحیت ایسی ہو کہ معاشرہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان نہ کرے۔

۲۔قانون گذاری کے شرائط خدا وندعالم میں منحصر ہیں

اسلامی نظریہ کے مطابق مذکورہ شرطوں کے علاوہ ،قانون گذار کی انسانی مادّی ومعنوی مصلحتوں سے واقفیت ضروری ہے اور کسی خاص فرد یا کسی خاص گروہ کے فائدہ کی خاطر معاشرہ کے فائدوں کو قربان نہ کرے۔

اسلام اس نکتہ کا بھی اضافہ کرتا ہے کہ قانون گذاری کا اصل حق اسی کو ہے جو انسانوں کو امر ونھی کرسکتا ہو،اگر کوئی معاشرہ کی مصلحتوں کا علم رکھتا ہو او روہ معاشرہ کی مصلحتوں کو اپنی ذاتی مصلحتوں پر مقدم کرے پھربھی قانون گذاری کا حق اصالةً اس کو نہیں ہے؛ کیونکہ ہر قانون خواہ ناخواہ امر ونھی رکھتا ہے ، جیسا کہ ہم نے بحث ”حق وتکلیف “کے بارے میں گذشتہ جلسوں کے دوران عرض کیا کہ ہر قانون صریحاً یا اشارةً امر ونھی رکھتا ہے ، مثلاً تایک دفعہ کھا جاتا ہےکہ دوسروں کے مال کا احترام کرو اور اس میں تجاوز نہ کرو،یہ امر صریح او رواضح ہے لیکن کبھی قانون میں ظاہری طور پر امر ونھیں ہوتا ،مثلاً کھا جائے کہ آپ کے لئے اس طرح کا حق ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوسرے اس حق کی رعایت کریں ، ان تمام چیزوں کا قانون ضامن ہوتا ہے،یعنی یہ ساری باتیں قانون کے اندر ہونا چاہئے گویا اس طرح کا امر پر بھی قانون مشتمل ہوتا ہے۔

لھٰذا قانون کو یہ حق ہے کہ دوسروں کو امر ونھی کرے اور یہ اصل حق خدا سے مخصوص ہے، چاہے شرط اول کے لحاظ سے دیکھا جائے جس میں یہ کھا گیا تھا کہ قانون گذار کو انسانوں کے مصالح سے آگاہ ہونا چاہئےے، یا شرط دوم کے لحاظ سے دیکھا جائے جس میں یہ کھا گیا تھا کہ قانون گذار وہ ہے جو اجتماعی مصالح پر فردی مصالح کو مقدم نہ کرے ، ان دونوں شرطوں کے اعتبار سے خدا متحقق ہے کیونکہ وہ انسانوں کے مصالح کا سب سے زیادہ عالم ہے ، چنانچ مذکورہ شرطیں سب سے زیادہ کامل خدا میں موجود ہیں ؛ کیونکہ انسان کے اعمال کا کوئی بھی فائدہ خدا کو نہیں پہونچتا، مثلاً اگر تمام انسان مومن ومتقی بن جائیں تو خدا کاکو ئی فائدہ نہیں ہے اور اسی طرح اگر تمام لوگ کافر ہوجائیں تو بھی خدا کا کوئی نقصان نہیں ہے،اگر تمام لوگ قوانین کی رعایت کریں تو بھی خدا کا کوئی فائدہ نہیں ہے اسی طرح اگر تمام لوگ قوانین کی مخالفت کریں تو بھی خدا کا کوئی نقصان نہیں ہے۔

لیکن تیسری شرط،(امر ونھی)خدا کے علاوہ کوئی بھی انسان اصالةً یہ حق نہیں رکھتاکہ کسی کو امر ونھی کرے، انسان دوسروے کو اس وقت امرونھی کرسکتا ہے جس اس کا دوسرے پر کوئی حق ہو اور لوگوں کا ایک دوسرے پر اس طرح کا کوئی حق نہیں ہے، خدا کی نظر تمام کے تمام انسان برابر ہیں ،خدا ان سبھی کا مالک ہے اور انسان اور اس کا تمام وجود خدا سے متعلق ہے ، لھٰذا صرف خدا کو انسانوں پر امر ونھی کا حق ہے۔

دوسرے الفاظ میں یہ عرض کیا جائے کہ انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ خدا کی ربوبیت کو پہچانیں اور اس کی ربوبیت کے حق کو ادا کر ے اور خداوندعالم کی ربوبیت انسانوں کے لئے دو اعتبار سے ظاہر ہے:

۱۔تکوینی، یعنی کائنات کے چلانے کا حق صرف ذات باری تعالیٰ سے مخصوص ہے وہی کائنات کا مدبّر ہے، لھٰذا انسان اس چیز کا عقیدہ رکھے کہ خداوندعالم نے اس کائنات میں کچھ تکوینی قوانین نافذ کئے ہیں جن کے تعاون سے یہ کائنات رواں دواں ہے، چاند سورج اسی کے حکم سے گردش میں ہیں ، کائنات کا ذرہ ذرہ اسی کے اشارہ پر چلتا ہے،لھٰذا اس کائنات کا صاحب اختیار، ربّ تکوینی اور اس کائنات کا چلانے والاخدا وحدہ لاشریک ہے، اسی طرح یہ عقیدہ بھی رکھے کہ اس کائنات کا ربّ تشریعی بھی خدا وندعالم ہے، گذشتہ جلسہ میں اس سلسلہ میں گفتگو ہوچکی ہے کہ ربوبیت تشریعی بھی خداہی کا حق ہے اور ربوبیت تشریعی میں توحید اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان فقط خدا سے احکامات کو لے اور اس سے قانون کو اخذ کرے، اور قانون کو جاری کرنے والے افراد خدا کی اجازت سے معاشرہ میں جاری کرےں ۔

۳۔ قانون بنانے والے متعدد ہوسکتے ہیں (ایک اعتراض)

یھاں پر کچھ شبھات بیان کئے جاتے ہیں : (گذشتہ گفتگو میں ان اعتراضات وشبھات کے بارے میں ایک اشارہ ہوچکا، لیکن کبھی کبھی اخباروں یا تقریروں یا کانفرنس وغیرہ میں کچھ چیزیں بیان کی جاتی ہےں کہ جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یا تو ان لوگوں نے اس سلسلہ میں توجہ نہیں کی یا یہ کہ یہ بحث ان کو ھضم نہیں ہوئی،لھٰذا ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کردی جائے) ان شبھات میں سے ایک یہ ہے : کہ آپ کھتے ہیں کہ قانون کو خدا وضع کرے، جیسا کہ ربوبیت تشریعی اس بات کا تقاضا کرتی ہے،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں ایسے قوانین کی ضرورت ہے کہ جن کو خدا نے نہیں بنایا بلکہ خود لوگوں نے ان قوانین کو بنایا ہے،اور اگر ان کو نہ بنایا جاتا تو معاشرہ میں بہت بڑی مشکل ہوتی، مثلاً وہ قوانین جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں اسلامی پارلیمینٹ کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں ، ان قوانین کی ہمارے معاشرہ کو ضرورت ہے، لیکن ان کو خدا وپیغمبر نے نہیں بنایا ، جن کا سب سے واضح نمونہ ٹریفک قوانین ہیں ، کہ اگر یہ قوانین نہ ہوتے تو پھر کتنے حادثہ ہوتے کتنے لوگوں کی جان خطرہ میں ہوتی اور کتنا مال برباد ہوتا۔

لھٰذا ایک طرف تو معاشرہ کو ایسے قوانین کی ضرورت ہے جبکہ خدا کی طرف سے ایسے قوانین نہیں بنائے گئے ہیں ، نہ ہی قرآن مجید میں اس طرح کے قوانین موجود ہیں اور نہ ہی حدیث رسول اکرم اور ائمہ کے کلمات میں یہ قوانین ملتے ہیں ، پس آپ کس طرح یہ کھتے ہیں کہ قوانین کو خدا کی طرف سے ہونا چاہئے اور خدا قوانین کو بنائے؟ اور اگر انسانی قانون گذار کے ذریعہ یہ قوانین بنائے جائیں اور ان کو معتبر سمجہا جائے تو اس بات کا نتیجہ یہ ہے کہ قانون بنانے والے دو مرجع ہوئے ایک خدا اور دوسرے انسان، اور یہ آپ کے بیان کے مطابق تشریع میں شرک ہے، یہ ایک مہم اعتراض ہے کہ جو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے البتہ اس کا جواب بھی دیا جاچکا ہے لیکن جواب کو وہ لوگ صحیح ھضم نہ کرسکے۔

۴۔ گذشتہ اعتراض کا جواب

گذشتہ اعتراض کے جواب میں دو نکتوں پر توجہ کرنا ضروری ہے، پہلا نکتہ یہ ہے کہ قانون کی مختلف اصطلاحیں ہیں ، کبھی کبھی کلی قواعد کو قانون کھا جاتا ہے، اور ان میں جزئی اور دوسرے دستور العمل شامل نہیں ہوتے ،اور کبھی قانون کو اتنی وسعت دی جاتی ہے کہ اس دستور العمل کو بھی شامل ہوتا ہے جو ایک ادارہ کا رئیس اپنے کارکن کو دیتا ہے،البتہ یہ اطلاق بھی نادرست نہیں ہے بہرحال دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ قانون کی دو اصطلاح ہیں ایک خاص اور ایک عام، اور دونوں صحیح ہیں ، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں بہت سے ثابت قوانین ہیں ، جو کسی بھی وقت تبدیل نہیں ہوسکتے ،اورہر زمانہ میں تمام لوگوں کے لئے ثابت ہیں اور اسلام کے کچھ قوانین متغیرہیں ، جو زمان ومکان سے لحاظ سے ہیں اوران قوانین کو فقھاء ومجتھدین جن کو دین کی صحیح شناخت ومعرفت ہوتی ہے کلی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بناتے ہیں ۔

ہم جس چیز پر زور دیتے ہیں وہ ایسے قوانین ہیں جو خداکی طرف سے ثابت قوانین ہیں اور متغیر قوانین کے لئے خاص شرائط ہیں ، ورنہ ممکن نہیں ہے کہ تمام ثابت متغیر قوانین کسی ایک قانون گذار کے ذریعہ بنائے جائیں ، اور لوگوں کو تک پہونچائے جائیں ، متغیر قوانین اپنے زمان ومکان کے اعتبار سے لاتعداد ہیں ،اور ان کی کوئی حد نھیں ، اور انسان کی ذہینت آغاز دنیا سے لے کر آخر تک کے متغیر قوانین کے تصور سے عاجز ہے، لھٰذا متغیر قوانین اپنے زمانہ کے اعتبار سے جو اس زمانہ اور مکان کا تقاضہ ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر چونکہ رسول اسلام کے زمانہ میں کوئی بھی موٹر گاڑی نہیں تھی تو اس موقع پر اگر یہ کھا جاتا کہ گاڑیوں کو داہنی طرف چلنا چاہئےے یا بائیں طرف، تو کیا اس وقت کے لوگ اس قانون کو سمجھ سکتے تھے، اور اس قانون کے معنی کو درک کرسکتے تھے؟ لھٰذا قانون کو اس کے زمانہ کے لحاظ سے ہونا چاہئے، البتہ ان قوانین کے کچھ خاص شرائط ہیں کہ جن کو خدا بیان کرتا ہے، لھٰذا جو لوگ ان متغیر قوانین کو مرتب کریں ان کے لئے ضروری ہے کہ ان شرائط کی رعایت کریں ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قوانین وہ حضرات بناسکتے ہیں کہ جو ثابت قوانین اور متغیر قوانین کے شرائط کو بہت ر طور پر جانتے ہوں ۔

پس ہماری مراد اس قول سے کہ قوانین کو خداکی طرف ہونا چاہئےے، یہ ہے کہ ثابت قوانین ہمیشگی ہیں اور متغیر قوانین کے لئے بھی شرائط خدا کی طرف سے معین شدہ ہوں ،جن کو متغیر قوانینکا میزان قرار دیا گیا ہے ، اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ا لاَّ تَطْغَوا ِفیْ الْمِیْزَانِ ) (۱)

”اور ترازو (انصاف) کو قائم کیا تاکہ تم لوگ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو“

الہی اور توحیدی نظریہ جس بات کی تاکید ہے اور تقاضا کرتا ہے وہ تیسرا نکتہ ہے جس کو ہم نے قانون بنانے کے سلسلہ میں گفتگو کے دوران بیان کیا، اور وہ یہ ہے : چونکہ قانون میں امر ونھی ہوتا ہے، او رجس کو قانون بنانے کا حق ہے اس کو امر ونھی کرنے کا بھی حق ہونا چاہئے، اور وہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں ہے، خود انسان ایک دوسرے پر امر ونھی کا حق نہیں رکھتے لھٰذا قانون کو بھی نہیں بناسکتے اور نہ ہی اس کوجاری کرسکتے، لھٰذا اگر زمان ومکان کے لحاظ سے متغیر قوانین کو بنانا پڑے تو اس کی اجازت بھی خدا کی طرف سے ہو، کیونکہ صرف وہی ہے کہ جسے امر ونھی کا حق ہے،اور وہی دوسروں کو یہ حق عطاکرسکتا ہے تاکہ ان کے بنائے ہوئے قوانین معتبر ہوسکیں ۔

۵۔ قانون گذاری میں خدا کی اجازت بے اثر ہے .(دوسرا اعتراض)

ایک دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ قانونگذاری میں خدا کی اجازت کا معتبر ماننا صرف ایک دعوی ہے، جس کا کوئی اثر نہیں ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ اس شرط سے قانون گذاری میں کوئی تغیر ومشکل ایجاد ہو، اور یہ صرف ایک الفاظ کا کھیل ہے، مثلاً اسلامی پارلیمینٹ میں ممبران جمع ہوکر کسی اجتماعی متغیر امر کے لئے قانون بنانے کا مشورہ کریں ، اور اس کے بعد کوئی خاص قانون بنا کر پیش کریں ، اس موقع پر کیا فرق ہے کہ خدا نے اجازت دی ہے یا نھیں ؟ یہ صرف ایک لفظ ہے جس کو استعمال کیا گیا ہے او راس کا کوئی اثر نہیں ہے، لھٰذا قانون کا معیار یہ ہے کہ اچھائیوں اور برائیوں کو جاننے والے حضرات اس کی تحقیق وبررسی کرکے کوئی قانون بنادیں ، اب یھاں کیا فرق پڑتاہے کہ یہ قانون اس کی طرف سے قانون گذاری کا حق ہے یا قانون دان افراد کے ذریعہ یہ قانون بنادیا جائے،(توجہ رہے کہ یہ اعتراض بھی اپنی جگہ اہم ہے)۔

۶۔گذشتہ اعتراض کا جواب

اس اعترا ض کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ہم اس طرح کی اجازت کو معتبر جانتے ہیں ، اور اصطلاح میں اس کو ایک امر اعتباری کھا جاتا ہے، اور کسی کا کسی دوسرے کو کسی کام کی اجازت دینے سے کام کی حقیقت نہیں بدلتی، لیکن کیا انسان کی اجتماعی زندگی ان اعتبارات کے علاوہ ہے؟ مثلاً اگر کسی شخص نے اپنی گاڑی کو کسی جگہ کھڑا کردیا ہے او رآپ کو اس گاڑی کی ضرورت پڑجاتی ہے ،آپ اس پر بیٹھےں او راپنے کام کرکے واپس آجائیں تو کیا آپ اس کی اجازت کے بغیر اس گاڑی کو لے جاسکتے ہیں ؟ اور ہوسکتا ہے کہ گاڑی کا مالک آپ کو اجازت بھی دیدے، لیکن جب تک اس کی اجازت نہیں ہے کیا آپ کو حق ہے کہ اس کی گاڑی کو لے جائیں ؟

اگر آپ کو اجازت دیدے تو آپ اس کو لے جاسکتے ہیں ، لیکن اگر اس کی اجازت نہیں ہے اور آپ اس کی گاڑی میں بیٹہ کر چل دیں تو کیا یہ آپ کا کام خلاف قانون نہیں ہے؟ اور گاڑی کا مالک آپ پر مقدمہ میں دائر کرسکتا ہے کیونکہ اس نے آپ کو اجازت نہیں دی تھی۔

دوسری مثال تصور کیجئے کہ کوئی مرد وعورت آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں ،کافی مدت سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں مثلاً کافی مدت سے کسی ایک ادارے میں کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اخلاق سے بھی واقف ہیں ، ایک دوسرے کے گھر والوں کو بھی جانتے ہیں کہ مومن متدین ہیں ، اور اب شادی کی تمام تیاریاں پوری ہوگئی ہیں ؛ لیکن جب تک نکاح نہ ہوجائے یا ہر مذہب کے رسم ورواج پورے نہ ہوجائیں ،اس وقت تک ان مرد وعورت میں جنسی رابطہ غیر مشروع ہے، ٹھیک ہے کہ نکاح الفاظ کے علاوہ کچھ نھیں ھے، دونوں کی مرضی سے یہ نکاح ہوتا ہے، لیکن یہ ایسے الفاظ ہیں جن سے ھزاروں حرام چیزیں حلال ہوجاتی ہیں ، اور ھزاروں حلال چیزیں حرام ہوجاتی ہیں ،انسان کی اجتماعی زندگی انہیں اعتباروں چلتی ہے، یعنی اجتماعی زندگی انہیں اجازت، دستخط، یا رد کرنے پر متوقف ہوتی ہے۔

تیسری مثال : فرض کریں کہ کسی کو شہر کاڈی ایم( D.M ) معین کیا جائے لیکن ابھی تک اس کا حکم نامہ نہیں آیا ہے اور اس کو اس عنوان سے نہیں پھچنوایا گیا ہے، تو کیا اس کا حق ہے کہ وہ ( D.M ) کے دفتر میں جاکر بیٹہ جائے اور دستوارت صادر کرے، ظاہر ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے، اور ذمہ دار لوگ اس کو وہاں سے باہر نکال کھڑا کریں گے، اور کھیں گے کہ یہ ڈی ایم کی کرسی ہے! لیکن اگر وہ کھے کہ مجھے ایک مھینہ کے بعد اس شہر کا ڈی .ایم بنایا جائے گا، تو اس کو جوا ب ملے گا کہ جس وقت تم کو یہ عھدہ سونپ دیا جائے گا تو آپ ہمارے ڈی ایم ہونگے، لیکن اگر وہ کھے کہ صرف رئیس اعلیٰ کاایک دستخط اور اجازت ہی باقی ہے ، کوئی بات نہیں ، جواب ملے گاکہ وہی ایک دستخط تو آپ کے اعتبار کے لئے ضروری ہے، تومعلوم ہوا کہ تمام اجتماعی امور صرف ایک دستخط او راجازت پر متوقف ہوتے ہیں ، قانون گذاری بھی اسی طرح ہے، حق قانون گذاری خدا کا حق ہے ،صرف اسی کی ایک اجازت سے دوسروں کے بنائے ہوئے قانون معتبر ہوجاتے ہیں ، اس کے علاوہ یہ قوانین معتبر نہیں ہوسکتے:

( قُلْ ءَ اللّٰه ا ذِنَ لَکُمْ ا مْ عَلَی اللّٰه تَفْتَرُوْنَ ) (۲)

”(اے رسول) تم کھہ دو کہ کیا خدا نے تمھیں اجازت دی ہے یا تم خدا پر بہت ان باندھتے ہو“

اگر خدا نے تم کو اجازت نہ دی ہو تو پھر تمھیں کیا حق پہونچتا ہے کہ تم کسی چیز کو حلال کھو یا حرام؟ قانون بنانا یعنی یہ کام جائز ہے یا وہ کام جائز نھیں ، یہ کام حلال ہے اور وہ کام حرام ہے، جب تک تم کو خداکی طرف سے اجازت نہ ہو تو کیا تم کو اس طرح کے احکام صادر کرنے کا حکم ہے؟ جمہوری اسلامی ایران کی اسلامی پارلیمنٹ اور شاہ کے زمانہ کی پارلیمینٹ میں صرف اسی ایک بات کا فرق ہے کہ یہ پارلیمینٹ اس کے حکم سے کام کرتی ہے کہ جو خدا کی طرف سے ماذون (اجازت یافتھ) ہے، یعنی ولی فقیہ اس پارلیمینٹ کومتغیر قانون بنانے کی اجازت دیتا ہے اور انہیں کی اجازت کی وجہ سے یہ پارلیمینٹ معتبر ہوتی ہے۔

جب اس وقت ولی فقیہ امام زمانہ (عج) کی طرف سے یہ حق رکھتا ہے تو پھر دوسروں کو یہ حق نہیں ہے ، جس طرح امام زمانھ(عج) کو خدا کی طرف سے یہ حق ہے تو پھر کسی دوسرے کو یہ حق نہیں ہے،بہر حال جس شخص کوبراہ راست یا غیر مستقیم طور پر خدا وند کی طرف سے اجازت ہے وہ دوسروں کے امور میں تصرف اور دوسروں کو امر ونھی کرسکتا ہے، لیکن جس کو خدا کی طرف سے اذن نہیں ہے وہ امر ونھی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ،چنانچہ اس کی امر ونھی کا کوئی اثر نہیں ہے۔

(ہم اپنی نظری اور تھیوری بحث میں نہیں چاہتے کہ کسی کی گفتگو کی بناپر بحث کریں ، لیکن امام خمینی کو دوسروں کی فہرست میں نہیں رکھا جاسکتا، ان کی گفتگو قرآن وحدیث سے اخذ شدہ ہوتی تھی، لھٰذا ان کی گفتگو سے دلیل پیش کرنے میں کوئی حرج نھیں ھے) امام خمینی اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں : ”یھاں تک کہ اگر کوئی صدر بھی ولی فقیہ کی طرف سے منصوب نہ ہو تو وہ طاغوت ہے اور اس کی اطاعت جائز نہیں ہے“(۳)

صدر کو خود افراد اپنے ووٹ کے ذریعہ انتخاب کرتے ہیں لیکن اگر ولی فقیہ کی طرف سے اجازت نہ ہو تو امام خمینی کے فرمان کے مطابق طاغوت ہے، او راس کا امر ونھی معتبر نہیں ہے، اور اس کی اطاعت بھی جائز نہیں ہے، حضرت امام خمینی نے تمام صدرورئیس جمہور کو منصوب کرتے وقت فرمایا کہ میں تم کو منصوب کرتا ہوں ،(بعض موقع پر آپ نے وضاحت کے ساتھ فرمایا کہ میں چونکہ تم پر الٰھی ولایت رکھتا ہوں اس وجہ سے صدارت پر منصوب کرتا ہوں ) درحالیکہ لوگوں نے ان کو ووٹ دیا ہے اور ان کا ووٹ دینا بھی صحیح اور مورد تائید ہے۔

البتہ تمام لوگ بھی اجتماعی کاموں میں شرکت کریں اور ان کا شرعی وظیفہ ہے کہ ووٹینگ میں شرکت کریں ،اسی وجہ سے جس وقت انتخابات شروع ہوتے تھے امام خمینی فرماتے تھے: انتخابات میں شرکت کرنا ایک شرعی وظیفہ ہے او رتما م لوگوں کو شرکت کرنا ضروری ہے؛ لیکن ہر قانون گذار وصاحب منصب کا اعتبار خدا کی طرف پلٹنا چاہئے، کیونکہ وہی صاحب اختیار ہے ، خدا ہی نے پیغمبر او رائمہ معصومین علیہم السلام کو حکومت وقانون گذاری کی اجازت دی ہے، اور پیغمبر وائمہ معصومین علیہم السلام کی طرف سے عمومی طورپر ولی فقیہ منصوب ہوتا ہے جس طرح ان حضرات کے زمانے میں والی شہر وحاکم شہر معین ہوتے تھے،اور امام معصوم کی اجازت سے مشروعیت پیدا کرتا ہے اور جب ان کو اجازت مل گئی تو وہ معتبر ہوگئے۔

پس یہ اعتراض کہ اجازت ہونا یا نہ ہونا یا دستخط کرنا یا نہ کرنا قانون کے اجراء اور وضع کرنے میں کوئی فرق نہیں کرتا ،توجواب یہ ہے کہ فرق وہی فرق ہے کہ جو تمام اجتماعی امور میں فرق ہوتا ہے ، جس ڈی ایم کا ابھی حکم نامہ نہ آیا ہو اس کا دوسروں سے کیا فرق ہے؟ یا تعلیمی بورڈ کا آفیسرجس کا ابھی حکم نامہ نہیں آیا دوسروں سے کیا فرق رکھتا ہے؟ اگرچہ طے یہ ہے کہ ابھی کچھ دنوں کے بعد ان کا حکم نامہ آجائے گا، لیکن جب تک ان کا حکم نامہ نہ صادر ہو اس وقت تک ان کی کوئی اہمیت نھیں ،جس وقت یہ حکم نامہ ان تک پہونچ جائے گا اس وقت سے وہ اس عھدے پر فائز ہوجائیں گے، صرف ایک دستخط سے یہ حضرات دوسروں کے مال میں تصرف کرسکتے ہیں ، جس طرح اگر کوئی شخص اپنی لاکھوں کی دولت آپ کے سپرد کردے یا آپ کوبخش دے اور آپ کو اجازت دےدے کہ جس کام میں بھی چاہیں خرچ کریں یا کوئی اپنا مال عمومی طور پر وقف کرے یا کسی خاص آدمی کو بخش دے ، بہر حال صرف ایک لفظ کھنے سے کہ ”میں نے اپنا مال تمھیں بخش دیا“ کام تمام ہوجاتا ہے او راس مال میں دخل وتصرف حلال ہوجاتا ہے،لیکن اگر اس کی اجازت نہ ہو اور اس نے نہ بخشا ہو ،تو اس کے مال میں تصرف کرنا حرام ہے او راگر کوئی اس کے مال میں اس طرح تصرف کرے تو وہ مجرم ہے۔

نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ تمام اجتماعی مسائل اسی طرح کے اعتبارات پر ہوتے ہیں او رجب تک یہ اذن واجازت نہ ہوں اجتماعی امور میں وہ کام معتبر نہیں سمجہا جاتا، تو پھر کس طرح یہ کھا جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے حکومت کرنے والے اور ان کو امر ونھی کرنے والے کو اجازت کی ضرورت نہیں ہے؟

کیا خدا کی اجازت کے بغیر اس کے بندوں پر حکومت کی جاسکتی ہے؟ لوگ ہمارے بندے تو ہےں نھیں کہ ہم کو ان پر حکومت کرنے کا حق ہو، لوگ خدا کے بندے ہیں حاکم وراعیٰ خدا کی نظر میں برابر ہیں اور جب تک خدا اجازت نہ دے تو پھر رہبر ،امت، رئیس اور عوام الناس سب برابر ہیں اور جب خدا اجازت دےدے تب لوگوں پر اس کے امر ونھی معتبر ہوتے ہیں ۔

۷۔کیا انسان اپنی زندگی پر حقِ حاکمیت رکھتا ہے؟

یھاں پر ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی پر خود حق حاکمیت رکھتا ہے ، اگرچہ ہم نے اس موضوع کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے لیکن چونکہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اخباروں اور دوسرے رسالوں او ربعض مودب افراد کی تقریروں میں بیان ہوتا ہے یھاں تک ”ٹی .وی“ کے بعض کانفرنسوں میں بیان ہوتا ہے کہ لوگوں کی آزادی قابل احترام ہے،جیسا کہ قانون اساسی میں بھی موجود ہے کہ لوگ اپنی زندگی پر خودحق حاکمیت رکھتے ہیں ،یعنی از جانب پروردگار انسان خود مختار ہے؛ لھٰذا ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کردی جائے:

لفظ ”حاکمیت“ کا استعمال حقوق الناس میں دو جگہ استعمال کیا جاتاہے(البتہ چونکہ الفاظ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں ، چنانچہ جن کو اچھی طرح واقفیت نہیں ہوتی وہ ان الفاظ کو جابجا استعمال کرتے ہیں )

اول: پہلی وہ جگہ ہے جہاں اقوام عالم کے حقوق کا ذکر کیا جاتا ہے اور کھا جاتا ہے کہ ہر قوم وملت اپنی سرنوشت پر حاکم ہے، یہ ایک اصطلاح ہے کہ جو بین الاقوامی حقوق میں بیان ہوتی ہے، یہ اصطلاح مختلف ممالک کے آپسی روابط اور ایک دوسرے کے سامنے ان کا موقف اور پھر استعماری طاقتوں سے مقابلہ آرادئی کرنا جیسے مباحث اور موارد میں استعمال ہوتی ہے. ۱۸ویں اور ۱ ۹ ویں صدی عیسوی میں خصوصاً مغربی ممالک میں استعمارگری کا دور دورہ شروع ہوا،چنانچہ جس کے پاس جتنی طاقت ہوتی تھی اسی مقدار میں دوسرے ملکوں پر قبضہ کرلیتا تھا، یا اپنی طرف سے کسی ملک پر حاکم معین کردیتا تھاکہ جو وہاں پر حکومت کرتا تھا، یعنی ایک ملت کی سرنوشت (مقدر) پر دوسروں کے ھاتھوں میں ہوتی تھی یا پھر دوسرا ملک ان ک قیم اور ذمہ دار ہوتا تھا، اصل ”قیمومیت“ ان موضوعات میں سے ہے جو بین الاقوامی حقوق میں بیان کیا جاتا ہے، پس جب لوگ عالمی ظلم سے واقف ہوگئے اور اپنے حقوق کے طالب ہوگئے تو ملت کی حاکمیت کا مسئلہ پیدا ہوا، اور اہستہ اہستہ مسئلہ حاکمیت ملت نے بین الاقوامی حقوق میں اپنی جگہ بنالی، اور کھا جانے لگا کہ ہر قوم اپنی سرنوشت پر حاکم ہے؛ یعنی دوسروں کو استعمار اور قیمومیت کا حق نہیں ہے، ”حاکمیت ملّی“ یعنی ہر قوم وملت مستقل ہے اور اپنی سرنوشت پر خود حاکم ہے اور کسی ملت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسری ملتوں کا اپنے کو حاکم سمجھے، کسی بھی حکومت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی دوسرے ملک میں اپنی حاکمیت چلائے، پس یہ ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جو بین الاقوامی روابط میں بیان ہوتی ہے۔

حاکمیت کی دوسری اصطلاح خود معاشرہ سے متعلق ہے، اور یہ اصل اساسی وبنیادی حقوق سے مربوط ہے، یعنی ایک وہ معاشرہ کہ جس میں مختلف گروہ مختلف اقوام شامل ہےں ، (قطع نظر اس چیز سے کہ اس معاشرہ کا دوسرے ملکوں سے کیسا رابطہ ہے) ان میں سے کسی قوم یا گروہ کو یہ حق نہیں ہے کہ خود کو دوسروں پر حق حاکمیت رکھتا ہو،برخلاف اس نظریہ کے کہ جو دنیا کے بعض ملکوں میں پایا جاتا ہے، کہ جن طبقاتی نظام قائم ہے اور ایک قسم قوم ذات پات کے لوگ حاکم ہوتے تھے جیسے ھندوستان میں ٹھاکر،پنڈات کے حاکم ہونے کا رواج تھا یا مسلمانوں میں سید اور پٹھان حاکم ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔

خلاصہ یہ کہ اصل یہ بیان کرتی ہے کہ ہر شخص اپنی سرنوشت پر حاکم ہے ، دوسرا اس پر حاکمیت نہیں رکھتا، پس کسی بھی معاشرہ کا کوئی فرد یہ نہیں کھہ سکتا کہ میں فلاں گروہ یا فلاں قبیلہ کا حاکم ہوں ،(یہ تھی ایک اصل)

ہم نے جو کچھ ذکر کیا ، اس بات پر توجہ کرنے کے لئے تھا کہ ان دونوں اصول کا ماحصل یہ تھا کہ انسانوں کے درمیان رابطہ کی فضاء کو ہموار کیا جائے چاہے پہلی اصل ہو یا دوسری اصل ، کیونکہ پہلی اصل جو عمومی بین الاقوامی حقوق سے متعلق ہے ،جس کا کام ملکوں اور حکومتوں کے درمیان رابطہ کو بیان کرنا تھا اور واضح طور پر اس بات کو کھتی ہے کہ ہر ملت اپنی سرنوشت پر حاکم ہے، اور کسی دوسرے ملک کو ان پر حاکمیت کا حق نہیں ہے، لھٰذا اس اصل کے اندر اس چیز کو دیکھا گیا ہے کہ ایک معاشرہ دوسرے معاشرہ کے افراد سے کیا روابط رکھنے کے لئے نظر رکھتا ہے، دوسری اصل میں خود اپنے ملک کے افراد کے حقوق کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے یعنی دوسری اصل ملکی افراد کے حقوق کے بارے میں بحث کرتی ہے، اس میں یہ بیان ہوتا ہے ہر انسان اپنی سرنوشت پر حاکم ہے، یعنی دوسرے کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر حکومت کرے۔

بہر حال یہ تمام اصول انسان کے ایک دوسرے سے رابطہ سے متعلق ہیں نہ کہ انسان کے خدا سے رابطہ سے، جن لوگوں نے ان اصول کو بیان کیا ہے (چاہے کسی دین کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں ) اس سے مراد کبھی بھی انسان کے خدا سے رابطہ کو مراد نہیں لیا ہے تاکہ یہ کھا جائے کہ خد ا بھی انسانوں پر حق حاکمیت نہیں رکھتا، وہ یہ بیان نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ انسانی روابط یا حکومتی روابط کو بیان کرنا چاہتے تھے، کہ کیا کسی استعمار ی حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ کسی دوسری حکومت پر قبضہ کرے یا نھیں ؟ یا ملکی پیمانے پر کسی ایک گروہ یا قبیلہ کو یہ حق ہے کہ وہ ایک دوسرے پر حکومت کریں یعنی کسی قبیلہ کی سرنوشت دوسرے قبیلہ سے متعلق ہے یا نھیں ؟

انسان اپنی سرنوشت پر حاکم ہے اس کے معنی یہ ہیں ،کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی آقائی کو کسی دوسرے پر مسلط کرے، نہ یہ کہ یہ حق خدا کو بھی نہیں ہے، اب اگر فرض کریں کہ وہ تمام لوگ کہ جنھوں نے ان قوانین کو بنایا اور ان اصولوں کو بیان کیا ، کیا وہ بے دین تھے اور خدا کو نہیں مانتے تھے، لیکن جب اسلامی جمہوری ایران کا قانون اساسی بن رہا تھا کہ انسان اپنی سرنوشت پر حاکم ہے تو کیا یھاں بھی خدا کو نادیدہ قرار دیا گیا؟ یعنی کیا خدا کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو حکم دے؟

یا یہ کہ یہ اصل وہی ہے کہ جو اس وقت کی دنیا میں رواج یافتہ ہے ، کہ جس کی بناپر کسی انسان کودوسروں پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے، او ردوسروں کی سرنوشت پر حاکم نہیں ہیں ؟ وہ لوگ یہ بالکل نہیں چاہتے تھے کہ یہ کھیں کہ خدا حق حاکمیت نہیں رکھتا، اس بات کی شاہد وہ بہت سی چیزیں ہیں کہ جن کو قانون اساسی بیان کرتا ہے اور اس بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ معاشرہ میں الہی قوانین کا جاری ہونا ضروری ہے، ان اصول کے باوجود کس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی یہ سوچے کہ یہ حاکمیت جو انسانوں کے لئے طے ہے اس سے خدا کی حاکمیت کی نفی کرےں ، ! کیا کوئی عقلمند جمہوری اسلامی کے قانون اساسی سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے؟

۸۔ انسان کی حاکمیت خدا سے نہیں ٹکراتی

تاکہ ہماری بحث اچھے طریقے سے واضح ہوجائے دوسرے علوم کی مثالیں پیش کرتے ہیں ،تاکہ ان باتوں کو اچھی طرح واضح کیا جاسکے، اور شیطانی شبھات اور سوء استفادہ کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہے: ”اعتماد بنفس“ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کو ہماری ملت بلکہ دنیا کے تما م لوگ اس سے اچھے طرح واقف ہیں (کیونکہ یہ عالمی تمدن کا ایک جز بن چکا ہے) اور یہ مسئلہ ”علم نفسیات “ علم سے مربوط ہے کھا یہ جاتا ہے کہ انسان کو اپنے نفس پر اعتماد رکھنا چاہئے، یہ جملہ مکرر سنا جاتا ہے اور کتابوں میں بھی اس کو بہت پڑھا جاتا ہے، اور ریڈیو ،ٹی،وی،میں اس مسئلہ کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے خصوصاً تربیتی اور فیملی گفتگو میں ، اور کھا جاتا ہے کہ بچوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ اپنے نفس پر اعتماد پیدا کریں ، او رجوانوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں کہ اعتماد بنفس پیدا کریں ، اسی طرح اخلاقی مسائل میں اس بات پر بہت توجہ دی جاتی ہے کہ لوگوں کو اپنے نفس پر اعتماد رکھنا چاہئے، اور دوسروں بوجہ نہ بنیں ، جبکہ اسلام اس کے مقابلہ میں ایک دوسری چیز بیان کرتا ہے جو ”توکل علی اللہ" ہے یعنی خدا پر بھروسہ اور اعتماد کرنا اپنے تمام امور میں یعنی انسان کو خدا کے مقابلہ میں اپنے کو کچھ نہیں سمجھنا چاہئے، اور تمام چیزوں کو اسی سے طلب کرے اور صرف اسی کو سب کچھ مانے۔

( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللّٰه بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَه إلاَّ هوَ وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِه یُصِیْبُ بِه مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِه وَهوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (۴)

”(یادرکھو کہ) اگر خدا کی صرف سے تمھیں کوئی برائی چھو بھی گئی تو پھر اس کے سوا کوئی اس کا دفع کرنے والا نہیں ہوگا،اور اگرتمھارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو پھر اس کے فضل وکرم کا پلٹنے والا بھی کوئی نہیں وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فائدہ پہونچائے او روہ تو بڑا بخشنے والا مھربان ہے“

نفع ونقصان اس کی طرف سے ہے اور خدا کے مقابلہ میں انسان کا ارادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ، انسان خدا کی عظمت کے مقابلہ میں ایک معمولی چیز ہے، اسلامی اور قرآنی تعلیمات میں اس چیز کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان کی اس طرح تربیت ہو کہ اپنے کو خدا کے مقابلہ میں بہت چھوٹا اور ناچیز تصور کرے، اور اسلام میں تربیت اسی بنیاد پر ہوتی ہے کہ انسان اللہ کی ربوبیت اور اپنی عبودیت کا قائل رہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ ایک طرف سے انسان اپنے نفس پر اعتماد بھی رکھے، اور دوسری طرف خدا کے مقابلہ میں اپنے کو ناچیز بھی سمجھے؟ کیا خود کو خدا کے مقابلہ میں ناچیز سمجھنا ، اعتماد بنفس کے ساتھ ہم اہنگ ہے؟ یہ نظریہ اس اعتراض کی طرح ہے کہ جو حاکمیت کے بارے میں بیان ہوچکاہے، کہ جو سیاسی مسائل سے مربوط ہے، اور یہ شبہ واعتراض علم نفسیات اور اخلاقی تربیت میں بیان ہوتا ہے. ہم نے ان دوچیزوں کا موازنہ کیا ہے، چونکہ یہ دو چیزیں آپس میں مشترک ہیں ان کوسمجھنے کے لئے ذہن تیار ہونا چاہئےے ، عرض کرتے ہیں کہ یہ علم نفسیات کا مسئلہ جو دوسروں پر اعتماد کے مقابلہ میں اپنے نفس پر اعتماد پر تاکید کرتا ہے، اور کھتا ہے کہ بچوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ اپنے ماں باپ اور دوستوں پر تکیہ نہ کرےں ، اور دوسروں پر بوجہ نہ بنےں ، نہ یہ کہ اپنے کو خدا کا بھی محتاج نہ مانےں ۔

انسان کا ایک دوسرے سے رابطہ کے متعلق گفتگواور اسی طرح ”اعتماد بنفس“ کا مسئلہ جس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے کردار کو اتنا مضبوط بنالوکہ کسی دوسرے پر تکیہ نہ کرویہ ایسا مسئلہ ہے کہ اسلام میں بھی اس کی تاکید ہوئی ہے، حضرت رسول اکرم او رائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں اس بات پر تاکید ہوئی ہے، لیکن افسوس کہ ان مسائل پر کم توجہ کی گئی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے مسائل مغربی ممالک کی نئی طرز تفکر ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے ائمہ اطھار ان چیزوں کو پہلے بتا چکے ہیں آنحضرت کے زمانہ میں آپ کے اصحاب اس طرح کی تربیت سے آراستہ تھے، چنانچہ اگر کوئی گھوڑے پر بیٹھا جارہا ہے اور اس کے ھاتہ سے تازیا نہ گرگیا ہے تو وہ اس دوست سے نہیں کھتے تھے جو اس کے ساتھ چل رہا ہے کہ اس کے تازیانہ کو اٹھاکر دیدو، بلکہ خود گھوڑے سے اتر کر اس کو اٹھالیتے تھے، او رپھر گھوڑے پر سوار ہوجاتے تھے، ! یہ اسلامی تربیت ہے کہ جو ہم سے یہ چاہتا ہے کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں ، ہم خود اپنا بوجہ سنبھالیں ، او رخود کو دوسروں کا محتاج نہ بنائیں ، اور دوسروں پر نظریں نہ دوڑائیں ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے مقابلہ میں بھی اپنے کو بے نیاز سمجھیں :

( یَا ا یُّها النَّاسُ ا نْتُمُ الْفُقْرَاءُ إِلَی اللّٰه وَاللّٰه هوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ) (۵)

”لوگو! تم سب کے سب خدا کے(ھروقت)محتاج ہو اور (صرف)خدا ہی (سب سے) بے پروا سزاوار حمد (وثنا) ہے“

کیا یہ فقر وناداری والا انسان اپنے کو خدا سے بے نیاز سمجھے؟ خدا کے مقابلہ میں بے نیازی کا اظھار کرنا شرک ہے، لھٰذا اعتماد بنفس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا پر بھی اعتماد نہ رکھا جائے، اور اگر کوئی یہ کھے کہ خدا پر بھی اعتماد نہ کیا جائے، تو یہ قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے، سیکڑوں آیات وروایات اس سلسلہ میں موجود ہیں کہ انسان اپنے کو خدا کے مقابلہ میں اپنے کو ہیچ سمجھے، اور تمام چیزوں کو خدا سے طلب کرے، اور اس بات کا اعتمادبنفس سے کوئی مطلب نہیں ہے،کیونکہ اعتماد بنفس کا مسئلہ انسانوں کے درمیان رابطہ کو بیان کرتا ہے چونکہ کوئی بھی کسی پر کچھ امتیاز نہیں رکھتا۔

لھٰذا اس بات کا جواب کہ اعتماد بنفس اور خدا پر توکل وبھروسہ ایک ساتھ کسیے جمع ہوسکتے ہیں ، یہ ہے کہ اعتماد بنفس کا تعلق انسانوں کے رابطہ سے ہے، کہ ایک دوسرے پر تکیہ نہ کریں اور کوئی بھی دوسروں سے آگے قدم بڑھا کر نہ رکھیں نہ یہ کہ خدا پر بھی اعتماد نہ رکھے.اسی طرح سیاسی مسائل میں ، انسان کی فردی حاکمیت کا مسئلہ ہے اور حاکمیت ملّی میں بھی اسی طرح ہے، حاکمیت ملّی یعنی ہر ملت خود اپنے پیروں پر کھڑی ہو اور دوسروں کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ ان پر حکمرانی کریں حاکمیت انسان پر خود یعنی کوئی بھی انسان خودبخود اپنے کو دوسروں کا حاکم تصور نہ کرے، نہ یہ کہ خداوندعالم بھی کسی پر حاکمیت نہیں رکھتا، دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ فردی اور ملّی حاکمیت خدا کی حاکمیت کے طول (بعد) میں ہے یعنی اصل حاکمیت خدا سے مخصوص ہے ، اور اس کے طول میں خدا نے جن کو حاکمیت کی اجازت دی ہے ،یعنی خدا نے حکومت کرنے کا جو دائرہ جن کے لئے بیان کیا ہے وہ لوگ صرف اسی دائرہ اور حد کے اندر حکومت کرنے کا حق رکھتے ہیں لھٰذا اگر خدا کی طرف سے اجازت نہ ہو تو پھر کسی انسان کو حق حاکمیت نہیں ہے۔

حوالہ

(۱)سورہ الرحمن آیت ۷،۸.

(۲)سورہ یونس آیت ۵۹

(۳)صحیفہ نور ج۹ص ۲۵۱

(۴)سورہ فاطر آیت ۱۵

(۵)سورہ یونس آیت ۱۰۷


انیسواں جلسہ

حکومت اور سیاست کے سلسلہ میں اسلام کی خصوصیت

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

گذشتہ گفتگو میں ہم نے بیان کیا کہ بعض لوگ اسلامی حکومت پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت سے انسان کی انفرادی آزادی محدود ہوجاتی ہے، اور چونکہ یہ آزادی انسان کا طبیعی حق ہے، لھٰذا اسلامی حکومت کو یہ حق نہیں ہے کہ ان آزادیوں کو محدود کرے ، چنانچہ ایسی حکومت کو قبول نہیں کیا جاسکتا اس اعتراض کے جواب میں ہم نے عرض کیا کہ قانون کی حقیقت یہ ہے کہ قانون آزادی کو محدود کرتا ہے. اور چونکہ انسان اپنے آزاد ارادہ سے اپنی مختلف خوہشات کی تحقیق وبررسی کرکے وہ اپنے لئے بہت ر چیز کا انتخاب اور تعین کرنے کا حق رکھتاہے، اس بات کا امکان ہے کہ کبھی یہ انتخاب، معاشرہ یا خود اس کے ضررونقصان میں تمام ہو؛ لھٰذا اس کی ان آزادیوں کو کسی ایک قانون کے ذریعہ محدود ہونا چاہئے. لھٰذا یہ اعتقاد رکھنا کہ انسان کو مطلق آزادی ہونا چاہئےے اور وہ اپنے تمام معاملات میں خود مختار ہو یہ سراسر نامناسب اور باطل ہے، اور نہ ہم کسی ایسے آدمی کوجانتے اور پہچانتے ہیں جو آزادی کو مطلق اور بے قید وبند مانے،بلکہ تمام دانشورں کا ماننا یہ ہے کہ آزادی کو مشروع اور قانونی دائرے میں ہونا چاہئے، کیونکہ اگر آزدای کو بے لگام مان لیا جائے تو پھر عسروحرج لازم آتا ہے اور اس کا نقصان انسانیت پر پڑتا ہے۔

ہمارے ملک کے قانون اساسی میں مشروع آزادی کو قبول کیا گیا ہے، اور شرعی اصطلاح کے مطابق ،مشروع آزادیاں یعنی وہ آزادیاں جن کو شریعت مقدس نے جائز قرار دیا ہے، اور عرفی اصطلاح کے مطابق یعنی قانونی آزادی، اور چونکہ ہمارے ملک میں وہ قوانین معتبر ہیں جو اسلامی اصول کے مطابق ہوں ، اسی طرح وہ آزدای معتبر ہے جو اسلام کی نگاہ میں مُجاز اور جائزھیں ،البتہ یہ جواب ان لوگوں کی نظر میں قابلِ قبول ہے کہ جو اسلامی نظام او رجمہوری اسلامی کے قانون اساسی کو قبول کرتے ہوں ،لیکن اگر کوئی اسلامی نظام اور قانون اساسی کو قبول نہ کرتا ہو ، او راسلام اورقانون اساسی سے صرف نظر کرتے ہوئے اس سوال کو اچھالے اور کھے کہ کیا دلیل ہے کہ آزادی کو محدود اور اسلامی ہونا چاہئے؟ اسلام کی تجویز کردہ آزادی کی حد سے کیوں آگے نہیں بڑھا جاسکتا؟

اس سوال کے جواب کے لئے کچھ مقدمات کو بیان کرنا ضروری ہے جن میں سے بعض کو اصول موضوعہ کے لحاظ سے آپ حضرات کو قبول کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ مقدمات علم کلام، فلسفہ اور الھٰیات سے مربوط ہیں جن کو سبھی لوگ تسلیم کرتے ہیں ، کیونکہ اگر ہم ان مقدمات کی توضیح اور تفسیر میں وارد ہوتے ہیں تو اصل گفتگو سے دور ہوجائیں گے، البتہ ان میں سے بعض مقدمات ،مقدمات قریبی ہیں کہ جن پر یھاں بحث کی جاسکتی ہے۔

۲۔حکومت سے مخصوص کاموں کے بارے میں تین نظریے

جس وقت ہم یہ کھتے ہیں کہ معاشرہ میں قانون کو جاری کرنے کےلئے حکومت کا ہونا ضروری ہے، یا حکومت کے دواہم اور بنیادی رکن قانون گذاری اور قانون کا جاری کرنا، لھٰذا ن قوانین کے لئے ایسے معیار وضوابط ہونا چاہئے جن کی روشنی میں یہ قوانین بنائے جائیں اور وہ معیار وضوابط جن کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ان میں سے کچھ اس چیز سے مربوط ہیں کہ حکومت کی تشکیل اور قوانین بنانے کاہدف او رمقصد کیا ہونا چاہئے؟ اسی وجہ سے بحث فلسفہ سیاست میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت تشکیل دینے کی وجہ کیا ہے البتہ اس سلسلہ میں ہم نے گذشتہ بحث میں مخصر طور پر عرض کیا ہے ، لیکن اس جگہ تفصیلی طور پر اس مطلب پر بحث کی تحقیق کرتے ہیں (لیکن ابتداء میں ہم حکومت کے فلسفہ کے بارے میں فہرست وار تین نظریوں بیان کرتے ہیں تاکہ ان مطالب کی ارتباط کو بہت ر طور پر پہچان لیا جائے او رپھر تفصیلی طور پر بحث میں وارد ہونگے):

۱۔”رنسانس“ کے زمانہ کے بعد بعض سیاسی فلاسفہ حضرات مثل ”ھابز“ کا ماننا یہ ہے کہ حکومت بنانے کا ہدف او راس کی ذمہ داری فقط معاشرہ میں نظم وامنیت کو برقرار کرنا ہے؛ دوسرے رسا الفاظ میں یوں کھا جائے : حکومت کی ذمہ داری داخلی وخارجی امنیت کو برقرار کرنا ہے، یعنی حکومت کی اصلی ذمہ داری یہ ہے کہ ایسے قوانین کو جاری کرے ، جس سے معاشرہ میں بدنظمی اور عسروحرج نہ پھیلے،اور اس سلسلے میں اندرونی وخارجی خطرات سے نپٹنے کے لئے دفاعی قوت (پولیس او رفوج) تشکیل دے ، تاکہ وہ ملک اوراس کے تمام باشندوں کی حفاظت کرسکے۔

۲۔بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے: حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ معاشرہ میں نظم و امنیت کے ساتھ ساتھ عدالت کو بھی برقرار رکھا جائے.

یھاں سے قانون،عدالت اورآزادی کے بارے میں ایک عمیق بحث(خصوصاً سیاسی اورجامعہ شناس حضرات کے درمیان) شروع ہوجاتی ہے اور اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں بھی لکھی گئیں کہ آزادی ،قانون اور عدالت میں کیا ہیں اور ان میں آپس میں کیارابطہ ہے؟

اگر ہم قبول کریں کہ حکومت کی ذمہ داری معاشرہ میں امنیت برقرار کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت کا برقرار کرنا بھی ضروری ہے، تو یہ سوال پیدا ہوگاکہ عدالت کے کیا معنی ہیں ؟ عدالت کی حقیقت اور اس کے اصول کے بارے میں ، مسلم وغیرمسلم دانشمندوں کے بارے میں مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں ، اور جس بات کو سبھی قبول کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ”ھر انسان کو اس کا حق دیا جانا چاہئے“ اور عدالت کے اس معنی کو تقربیاً سبھی دانشمندوں نے قبول کیا ہے؛ لیکن حق کیا ہے اور اس کے حدود کیا ہیں اس سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے. اور چونکہ عدالت کے معنی میں ”حق“ کا لحاظ کیا گیا ہے، مجبوراً ہم کو ایک دوسری بحث کرنا ہوگی اور وہ یہ کہ آزادی، حق،قانون اور عدالت میں کیا او رحق وعدالت میں کیا رابطہ ہے. بالآخر بحث یھاں پہونچتی ہے کہ ہر انسان کا یہ حق ہے کہ اس کے منافع اور طبیعی مصالح پورے ہوں اور یہ صرف عادلانہ قوانین کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتا ہے، جس میں لوگوں کی اجتماعی زندگی کے تمام حقوق(یعنی وہ چیزیں کہ جن کو انسان کی طبیعی ضرورتیں اقتضاء کرتی ہوں ) پورے ہوتے ہیں ۔

اب چونکہ حقوق کی بات آگئی ہے لھٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں کون لوگ صاحب حق ہیں ؟ کیا اجتماعی زندگی میں تمام لوگ صاحب حق ہیں یااجتماعی زندگی میں صرف بعض لوگوں کو حق حاصل ہے کہ اجتماعی کاموں میں دخیل ہوں ؟ واضح طور پر عرض کریں کہ وہ انسان جو معلول(اپاہج) ہیں اور معاشرہ کی کوئی بھی خدمت انجام نہیں دے سکتے اور ھاسپٹل یا آسایشگاہ(۱) میں رہتے ہیں اور اجتماعی زندگی میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا،کیا وہ بھی معاشرہ میں حق رکھتے ہیں یا نھیں ؟ اگر حق اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ معاشرہ میں کچھ خدمت انجام دیں ، تو ایسے افراد کو کوئی حق نہیں ہے؛ کیونکہ یہ لوگ تو صرف معاشرہ کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ معاشرہ کو کوئی فائدہ نہیں پہونچارہے ہیں ۔

البتہ ممکن ہے کہ بعض معلول افراد ذہنی طور پر معاشرہ کی خدمت کریں ، لیکن ہماری گفتگو ان اپاہج لوگوں کے سلسلہ میں ہے جو جسمی اور ذہنی طور پر محروم پیدا ہوتے ہیں اورمعاشرہ کو جسمانی اور ذہنی خدمات نہیں پہونچاسکتے، کیا ایسے لوگ معاشرہ میں حق رکھتے ہیں ؟ یا ایسا شخص جس نے صحت وسلامتی کے وقت معاشرہ کی خدمت کی ہے، لیکن اس وقت اپاہج ہوگیا ہے اور معاشرہ کی کوئی بھی خدمت نہیں کرسکتا کیا ایسا شخص معاشرہ میں حق رکھتا ہے یا نھیں ؟

بعض جامعہ شناس حضرات کے مطابق ایسے لوگوں کے لئے معاشرہ میں کوئی حق نہیں ہے، اور حکومت پر بھی ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، قدیم روس کی مارکسسٹی حکومت میں ایسے افراد کو معاشرہ میں کوئی حق نہیں تھا، اور کسی نہ کسی بھانہ سے ان کو ختم کردیا جاتا تھا۔

____________________

(۱) وہ جگہ جہاں بوڑھوں اور بے وارث بچوں کو رکھا جاتا ہے.

دوسرے ممالک میں بھی اس طرح کا نظریہ موجود ہے. کیا معاشرہ میں حق پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بدلے معاشرہ کی خدمت کی جائے؟ کیا وہ اپاہج کہ جو معاشرہ میں کچھ خدمت نہیں کرسکتا، صرف اس وجہ سے کہ وہ انسان ہے اور انسانوں میں پیدا ہوا ہے اور انسانوں میں زندگی گذارتا ہے، معاشرہ پر حق نہیں رکھتا؟ افسوس کہ وہ بعض افراد جو کھتے ہیں کہ حق معاشرہ کی خدمت کرنے سے حاصل ہوتا ہے ،لھٰذا ان لوگوں کو کوئی حق نہیں ہے کھتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ رحم و محبت کی وجہ سے ان لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لئے آسایشگاہ بنواتے ہیں ، ٹھیک ہے بنوائےں ، ورنہ کوئی بھی ان کی موت کا ذمہ دار نہیں ہے!

۲۔ حکومت کی تشکیل کے ہدف کے بارے میں تیسرا نظریہ اسلامی ہے جس کے اندر حکومت کی ذمہ داری عدالت وامنیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ معنوی اور روحانی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ہے۔

۳۔ اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں کے کاموں میں ایک امتیازی فرق

اسلامی نظریہ کے مطابق ، امنیت اور خارجی دشمن کے مقابلہ میں اپنا دفاع ، اور عدالت کو برقرار کرنا نیز معاشرہ کی خدمت کرنے والے کے حق کو ادا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری میں شمار کیا جاتا ہے، احسان، یعنی ضعیف وکمزوراور معاشرہ کے وہ لوگ کہ جو کچھ بھی خدمت انجام نہیں دے سکتے ان تمام لوگوں کی خدمت کرنا بھی حکومتوں کا وظیفہ ہے؛ جس طرح کہ خداوندعالم قرآن مجیدمیں فرماتا ہے:

( إِنَّ اللّٰه یَا مُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ) (۱)

”بے شک خدا انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے کا حکم کرتا ہے“

مسلمانوں کی ذمہ داری صرف عدل نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھکر بعض موارد میں احسان بھی کریں ، وہ فقیر لوگ جو کچھ نھیں کر سکتے یا وہ اپاہج کہ جو معاشرہ میں کوئی خدمت نہیں کرسکتے، یھاں تک کہ وہ مادرزاد اپاہج چونکہ انسان ہیں انسانی معاشرہ میں حق رکھتے ہیں اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی روز مرہ ضرورتوں کو پورا کرے۔

مذہب اسلام اور دوسرے مذاہب میں ایک دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ اسلام انسان کی ضرورتوں کو صرف مادّی اور بدنی ضرورتوں میں منحصر نہیں سمجھتا بلکہ معنوی اور اخروی ضرورتوں کو بھی پیش نظر رکھتا ہے؛ اسی وجہ سے اسلامی حکومت کی ذمہ داری ،لیبرل حکومتوں سے کھیں زیادہ ہیں : لیبرال حکومت صرف ان لوگوں جو معاشرہ میں کچھ خدمات کرتے ہیں ضرورتوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں مانتی،لیکن اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ معاشرہ کی خدمت کرنے والوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ اپاہج اورناتواں لوگوں کی بھی مدد کرے، اور اس کے علاوہ انسانوں کی معنوی وروحانی احتیاجات کو پورا کرے، اسی وجہ سے اسلامی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہوجاتی ہے ، اس بناپراسلامی حکومت میں ایسے قوانین بنائے اور جاری کئے جائیں جن سے انسان کی انفرادی،اجتماعی، مادی او رمعنوی ، دنیاوی اور اخروی مصلحتوں کو پورا کیا جاسکے، نہ کہ صرف معاشرہ کے سرگرم افراد کی مادی منافعوں کی فکر میں رہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ کی صحت پر کیا دلیل ہے؟ اور کیوں دوسرے نظریات صحیح نھیں ہیں ؟ (توجہ رہے کہ ہماری یہ بحث صرف دینی نہیں ہے کہ ہم آیات وروایات کے ذریعہ دلیل قائم کردیں ،اگرچہ جہاں آیات وروایات کا موقع ہوتا ہے وہاں آیات وروایات سے بھی بحث کی ہے) کیا واقعاً انسانی معاشروں میں تمام مادی ومعنوی منفعتوں کا پورا ہونا ضرور ی ہے یا صرف مادی منفعتوں کا پورا ہونا کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ جس طرح حکومت کی تشکیل کے ہدف کے تحت یہ سوال ہوا تھا کیا حکومت اور قانون کا ہونا صرف امنیت کا برقرار ہونا اور عسروحرج سے روکنا ہے یا حکومت کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ انسان کی معنوی مصلحتوں پر بھی توجہ ضروری ہے؟ اس مسئلہ کوحل کرنے اور گذشتہ سوال کے جواب کےلئے ضروری ہے کہ ایک قدم پیچھے ھٹیں اور یہ سوال کریں کہ انسانی معاشرہ کی تشکیل کا کیا ہدف ہے؟

۴۔ انسانی معاشرہ کی حقیقت اسلام کی نگاہ میں

قبل اس کے کہ انسانی معاشرہ کی تشکیل کے ہدف کو پہچانےں ،ضروری ہے کہ پہلے یہ بحث کی جائے کہ انسان ذاتی طور پر ایک اجتماعی موجود ہے جس طرح شھد کی مکھی اور چیونٹی جو اجتماعی زندگی کا حق انتخاب نہیں رکھتے ؟ یا یہ کہ اجتماعی زندگی وہ چیز ہے جس کا انسان نے خود انتخاب کیا ہے؟ اس سلسلہ میں بھی بہت زیادہ بحث ہوئی ہیں ہم ان میں جانا نہیں چاہتے، صرف اس سلسلہ میں دو اہم نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

پھلا نظریہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کے لئے کوئی خاص مقصد مانا جائے.

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے.

جیسا کہ یہ نہیں کھا جاتا کہ کیوں شھد کی مکھیا ں اجتماعی زندگی گذارتی ہیں ، اور اس اجتماعی زندگی سے ان کا کیا مقصد ہے؟ ظاہر ہے کہ شھد کی مکھیاں ایک طبیعی ہدف رکھتی ہیں اور وہ یہ کہ شھد بناتی رہیں اور اپنی عمر اسی میں گذار تی رہیں ،اس کے علاوہ ان کا کوئی ہدف نہیں ہے، البتہ خداوندعالم کی نظر میں ان شھد کی مکھیوں کے پیدا کرنے کے بھی بہت سے اہداف ومقاصد ہیں جن میں سے انسانوں کی خدمت ہے، الہی ہدف کے علاوہ شھد کی مکھیاں اپنی اجتماعی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رکھتیں ، تو کیا انسان کی اجتماعی زندگی بھی اسی طرح خود بخود پیدا ہوگئی ہے اور ان کا کوئی ہدف نہیں ہے؟ یا یہ کہ انسان کی اجتماعی زندگی ایک خاص ہدف کے تحت ہے جس کا لازمہ ایک دوسرے سے رابطہ ہے اور یہ رابطہ خاص قوانین کا تقاضا کرتا ہے؟

اسلامی اورالہی نظریہ کے مطابق،انسان کی اجتماعی زندگی کا ایک ہدف اور مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اجتماعی زندگی کے سایہ میں رشد وترقی کرے اور انسانی کمال تک پہونچے. اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی خلقت کا ہدف کیا ہے؟ الہی نظریہ کے مطابق خصوصاً حضرت امام خمینی اور دوسرے علماء کرام نے انقلاب اور اس کے بعد میں لوگوں کے سامنے جو بیانات پیش کئے ہیں ہم کو اسلامی معارف سے مزید آشنا کرتے ہیں ، اوریہ بات ہمارے معاشرہ کے لئے روشن ہے کہ انسان کا نھائی اور آخری ہدف قرب خدا ہے اور یہ انسانی کمال کی حد ہے۔

البتہ اس مسئلہ میں ایک مقدار ابھام پایا جاتا ہے او راس کی وضاحت کی ضرورت ہے ،لیکن ہم اس وقت اس کوتفصیل سے بیان نہیں کرسکتے، بہرحال جو ہم نے عرض کیا کہ انسان کی خلقت ایک مقصد رکھتی ہے، لھٰذا انسان اپنی اس اجتماعی زندگی سے قرب پرروردگار حاصل کرے یھی اس کاآخری اور نھائی مقصد ہونا چاہئے، اور یہ نظریہ اجمالی طور پر سبھی لوگ تسلیم رکتے ہیں لھٰذا اگر ہم اس بات کو قبول کرلیں کہ انسان کی خلقت کا ہدف وہ کمال ہے جو خدا کی قربت میں حاصل ہوسکتا ہے،اور اجتماعی زندگی اس تک پہونچنے کےلئے ایک وسیلہ ہے تاکہ انسان کے لئے زمینہ ہموار ہوسکے کہ وہ اس کمال تک پہونچ سکے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اجتماعی زندگی نہ ہو تو انسان ضروری معرفت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ضروری عبادت انجام دے سکتا ۔

نتیجتاً وہ کمال تک نہیں پہونچ سکتا.پس اجتماعی زندگی ہی وہ وسیلہ ہے جس میں انسان تعلیم وتعلم حاصل کرتا ہے اور انسان بہت ر زندگی کے راستہ کو پہچان سکتا ہے، او راس کو طے کرنے کے لئے موقع فراہم ہوتاہے اور اس کے نتیجہ میں کمال تک زیادہ نزدیک ہوسکتا ہے، اگر ان برہانی مقدمات (جو اپنے مقام پر ثابت ہوچکے ہیں او ران پر دلائل بھی موجود ہیں ) کو قبول کریں تو نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اجتماعی زندگی کا ہدف انسانی کمال تک پہونچنا ہے نہ کہ صرف مادی چیزوں کو حاصل کرلینا،بلکہ انسان کے تمام پہلووں کوکامل ہونا چاہئے۔

پس اجتماعی زندگی کا ہدف تمام انسانوں کے دنیوی اور مادّی منافع اور معنوی واخروی منافع کو فراہم کرے، اور چونکہ تمام انسانوں کا یہ ہدف ہے لھٰذا تمام انسان اس زندگی میں حق رکھتے ہیں

اب جبکہ یہ ثابت ہوچکا کہ انسان کی اجتماعی زندگی کا ہدف صرف مادی منفعتوں کا پورا ہونا نہیں ہے ،اور قانون کا ہدف بھی صرف امنیت کا برقرار ہونا نہیں ہے بلکہ امنیت کے علاوہ دوسرے اہداف بھی ہےں ، جن کو پورا ہونا چاہئے ،لھٰذا امنیت وآسائش اور مادی احتیاجات کا پورا ہونا اس نھائی کمال اور تقرب الٰھی تک پہونچنے کے لئے ایک مقدمہ ہے۔

بہرحال ، اسلامی نظریہ کے اعتبار سے انسان کی خلقت کا ہدف یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام اطراف وجوانب میں تکامل وتقرب الی اللہ کے وسائل فراہم کرے اور اپنی زندگی کے تمام پہلوں کو الہی اور اسلامی سانچے میں ڈھالے، چونکہ انسان کے مختلف پہلو ہیں ،اس بناپر تمام ہی پہلوں کی پیشرفت ،انسان کی حقیقی پیشرفت وترقی ہے، نہ کہ صرف مادی ، اجتماعی اور ٹیکنیکی ترقیاں ، لھٰذا مادی پہلوں کے ساتھ معنوی پہلو مل کر انسان کی حقیقت سنوارتے ہیں ، پس اجتماعی زندگی کا ہدف انسان کی تمام پہلوں کی پیشرفت وترقی ہے ،اور وہ قانون سب سے بہت ر ہے کہ جس میں انسان کے تمام پہلوں کی ترقی کے لئے راہ ہموار ہو اور ان چیزوں کو مقدم کرے کہ جن کے ذریعہ سے نھائی ہدف یعنی قرب الہی تک پہونچاجاسکے۔

۵۔ قانون گذار کی ضروری صفات

اسلامی حکومت یہ نہیں کھہ سکتی کہ ہماری ذمہ داری فقط معاشرہ کی امنیت کو پورا کرنا ہے،کیونکہ یہ تو ”ھابز“ کا نظریہ ہے کہ جو کھتا ہے کہ انسان بھیڑئے کہ طرح ہیں ، جو ایک دوسرے کی جان کے پیچھے پڑے ہیں کسی ایک طاقت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان کو کنٹرول کرسکے. انسان کو چاہئے کہ اپنا اختیار کسی ایسے انسان یا گروہ کے ھاتہ میں دیدے جو ان کو کنٹرول کرسکے اور ان کے ظلم وستم سے بچاسکے، پس یہ کہنا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف لوگوں کی امنیت پورا کرنا اور عسر وحرج سے روکنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،بے شک یہ نظریہ باطل ہے اور جانوروں کی اجتماعی زندگی کے لئے مناسب ہے، نہ کہ انسانی معاشرے کے افراد کے لئے جو اشرف المخلوقات اور بہت سی قابلیتوں کے مالک ہےں ،بلکہ ان کا ہدف بہت بلندوبالا ہے۔

لھٰذااسلامی حکومت کو وہ قوانین جاری کرنا چاہئے جن سے انسان کے تمام پہلورشد وترقی کرسکیں اور انسان کے تمام مصالح کو تمام پہلووں میں پورا کرسکےں ،اور یہ سب اسلامی پرچم کے زیر سایہ عملی ہوسکتے ہیں ؛ اور چونکہ ایسے قوانین کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے تمام پہلوں کا علم ہونا چاہئے.ہم ایسے افراد کو جانتے ہیں جو انسان کے بعض پہلو میں مھارت رکھتے ہیں لیکن عام لوگوں میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ جسے انسان کے تمام پہلوں کا علم ہو. اگر قدیم زمانہ میں ایسے فلاسفہ ہوا کرتے تھے جو اس طرح کا دعویٰ کرتے تھے۔

لیکن آج انسان کا جھل اور لاعلمی پہلے سے کھیں زیادہ واضح ہے انسان کے پہلو اس حدتک مخفی ہیں کہ کوئی دانشمند یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں انسان کے تمام زاویوں پر احاطہ رکھتا ہوں اور انسان کی تمام ضرورتوں کو بتاسکتا ہوں ، اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ کبھی کبھی انسان کی ضرورتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں ، ممکن ہے کہ بعض مقامات پر معاشی ترقیاں ،الہی ومعنوی امور سے ٹکرائیں ، البتہ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ الہی احسن نظام نے انسانی تمام مصالح کوپورا کیا ہے، لیکن ممکن ہے کہ کسی معاشرہ میں کسی مقام پر انسانی مصلحتوں کے درمیان ٹکراؤ دکھائی دے۔

لھٰذا ضروری ہے کہ ان مصالح کی طبقہ بندی کی جائے اور بعض چیزوں کو مقدم کرنے کے قائل ہوں ، تاکہ اگر دو مصلحتوں میں ٹکراؤ ہو تو ذمہ دار افراد کو معلوم ہو کہ کس کو مقدم کیا جائے؟ قانون گذار کا یہ بھی ایک وظیفہ ہے کہ ان امور کو مشخص کرے جو اولیت رکھتے ہیں یعنی قانون گذار کے اندر یہ صلاحیت ہونا چاہئے کہ وہ اولویات کو مشخص اور معین کرسکے یھاں آنے کے بعد انسان کی ناتوانی او رکمزوری مزید ظاہر ہوجاتی ہے،کیونکہ انسان کی اولویات کو پہچاننا انسان کے بس مں ی نہیں ہے۔

بہر حال انسان کے تمام پہلووں پر احاطہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ،قانون گذار کے لئے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اپنے کو ذاتی او رگروہی خواہشات سے خالی کرے، اورمعاشرہ کے مصالح ومنافع کو اپنے یا اپنے گروہ کے مصالح پر مقدم کرے اور یہ کام ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے. صرف انسان متقی وپرہیزگار ہی اپنے ومعاشرہ کے منافعوں کے ٹکراؤ کی صورت میں معاشرہ کے منافعوں کو مقدم کرے او راپنے یا اپنے گروہ کی منافعوں سے چشم پوشی کرسکتا ہے او رآزادانہ طور پر معاشرہ کے منافعوں کو اپنے منافع پر ترجیح دے سکتا ہے، لیکن معاشرہ میں ایسے افراد کا ملنا مشکل ہے او رشاید تقریباً محال کی منزل میں ہو. پس نتیجہ یہ نکلا کہ قانون گذار کو تمام مصلحتوں سے آگاہی کے ساتھ ساتھ اس میں ایسی صلاحیت ہونا چاہئے اپنے منافع پر معاشرہ کے منافع کو مقدم کرے ۔

یھی سے الہی قانون کی افضلیت بشری قانون پر مکمل طور پر واضح وروشن ہوجاتی ہے، کیونکہ خداوندعالم تمام لوگوں سے انسانی مصلحتوں کو بہت ر جانتا ہے اور صرف انسان کی مصلحتوں کی رعایت کرتا ہے اور اس کو انسانی کردار کی کوئی ضرورت نہیں ہے،تاکہ انسان کے اعمال سے خدا کی کوئی مصلحت او راس کے لئے فائدہ ہو، جس کے نتیجہ میں مزاحمت پیدا ہو: خدا انسان کے کاموں سے کوئی نفع نہیں حاصل کرتا ہے تاکہ اس کا نفع دوسروں کے نفع سے ٹکرائے.

یہ تمام چیزیں اس وقت ہیں کہ جب ہم اپنے منافع کو خدا کے حق ربوبیت کے علاوہ سمجھیں ، لیکن اسلامی نظریہ کے مطابق ان تمام چیزوں سے بلند تر وہ بلند کمال ہے جس تک انسان کو پہونچنا ہے، ہم اسی بنیاد پر کھتے ہیں : بالفرض اگر انسانی زندگی کے مادی مصالح اور اجتماعی روابط یھاں تک کہ روحی ومعنوی مصالح پورے ہوجائیں ، پھر بھی ایسا معاشرہ نمونہ نہیں بن سکتا. ایسا انسان او رمعاشرہ نھائی ہدف تک نہیں پہونچ سکتا،کیونکہ نھائی کمال خدا کی قربت میں ہے، اور یہ قربت خدا کی عبادت واطاعت اوربندگی سے حاصل ہوسکتی ہے۔

اگر انسان صحت وسلامتی کے ساتھ ساتھ معاشرہ کا چین وسکون، اوردشمن کے مقابلہ میں دفاع اور عدالت سے ہمکنار ہو یعنی انسان تمام اجتماعی حقوق سے مالامال ہو، لیکن اس زندگی میں خدا کی عبادت نہ کی جائے، تو ایسا انسان نھائی کمال تک نہیں پہونچا ہے او رخدا کی رضا وخوشنودی کا مستحق نہیں ہوا ہے. اسلامی نظریہ کے مطابق ، یہ تمام چیزیں انسان کے خدا سے رابطہ کا مقدمہ ہےں ، انسان کا حقیقی کمال اسی خدا سے رابطہ میں ہے. چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کا حقیقی کمال خدا کے قرب میں ہے. خدا کا قرب ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت اور ایسا معنوی ارتباط ہے جو خدا اور انسان کے درمیان برقرار ہوتا ہے،اورانسان اپنی زندگی کے مراحل کو طے کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے یھاں تک اس بلند مقام تک پہونچتا ہے. اس بلند مقام کی پہچان ہر عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اور اس کو نہیں معلوم کہ انسان کے لئے کتنا عظیم مرتبہ ہے ،تاکہ مادی ودنیوی خواہشات کے ساتھ ساتھ اس روحانی ومعنوی کمال تک پہونچ جائے۔

اور یہ بات بھی یھاں سے واضح ہوجاتی ہے کہ خداوندعالم کو ہماری عبادت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،لیکن پھر انسان کو عبادت کے لئے کیوں پیدا کیا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

( مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ إلاَّ لِیَعْبُدُونِ ) (۲)

”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں “

جواب یہ ہے کہ انسان کا نھائی کمال عبادت کے علاوہ حاصل نہیں ہوسکتا، لھٰذا خدا کی پہچان اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے تاکہ انسان اپنے حقیقی کمال تک پہونچ سکے. ان مقدمات کے پیش نظراب ہم یہ کھہ سکتے ہیں کہ وہ قانون مناسب ومطلوب ہے جو معاشرہ کے سرگرم افراد کی مادی ومعنوی احتیاجات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ، ناتوان وکمزور اپاہج لوگوں کی بھی احتیاجات پورا کرے جو کہ معاشرہ میں کچھ بھی خدمات انجام نہیں دے سکتے ، کیونکہ یہ بھی حقوق رکھتے ہیں ۔

اسلامی حکومت کا یہ وظیفہ ہے کہ ان لوگوں کے حقوق کو بھی تامین کرے، اور فقراء ومساکین اور اپاہج لوگوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جائے کیونکہ یہ بھی خدا کے بندے ہیں اور اس انسانی معاشرہ میں پیدا ہوئے ہیں اور جب تک زندہ ہیں ان کے حقوق کو دئے جائیں لھٰذا معاشرہ میں وہ قوانین جاری ہوں ان لوگوں کے حقوق کو مدّ نظر رکھا جائے ، اسی وجہ سے قرآن نے عدالت کے علاوہ احسان پر بھی توجہ دلائی ہے ، ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللّٰه یَا مُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ) (۳)

”بے شک خدا انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے کا حکم کرتا ہے“

خدا وندعالم کے احکامات صرف اخلاقی احکامات نہیں ہیں ،بلکہ واجب احکام ہیں جن کی رعایت کرنا ضروری ہے، اور اگر صرف عدالت کی رعایت کرنا ضروری ہوتا تو پھر احسان کا اضافہ کرنا کیا ضروری تھا؛ پس جس طرح معاشرہ میں عدالت کا اجرا کرنا ضروری ہے، اسی طرح احسان کی رعایت بھی واجب ہے، یعنی صرف خدمات انجام دینے والے افراد ہی صاحب حقوق نھیں ، بلکہ کچھ ایسے حقوق ہیں جن کو خداوندعالم نے ہر انسان کے لئے مقرر فرمائے ہیں ، یھاں تک خداوندعالم نے ان افراد کے لئے بھی حقوق معین فرمائیں ہیں جواس دنیا میں بدترین حالات میں زندگی گذار رہے ہیں مثلاً ھاتہ پیر آنکہ اور کان سے محروم ہیں لیکن جب تک وہ سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں تو اسلامی حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ ان کے حقوق کی رعایت کریں لھٰذا اس طرح کے قوانین پر حکومت اسلامی کو توجہ قرار دینا چاہئے، اور یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہماری ذمہ داری فقط اتنی ہی ہے جس کو مغربی دانشوروں جیسے ”ھابز“ یا ”روسو“ وغیرہ نے کھا ہے، کیونکہ یا تو ان لوگوں کی نظر میں انسانی بلند مراتب نہیں تھے یا انسان کو بھیڑیا صفت یا شھد کی مکھیوں کی طرح مانتے ہیں ،لیکن اسلام کی نظر میں انسان کی عظمت (اگرچہ اجتماعی زندگی بھی رکھتے ہیں )حیوانوں سے کھیں زیادہ بلند ہے۔

پس قانون ایسا ہونا چاہئے جو انسان کی مادی اور معنوی ضروتوں پورا کرے جو نھائی کمال تک پہونچنے کا مقدمہ ہوں ،اب اگر یہ مان لیا جائے کہ قانون کو انسان کی تمام مادّی ومعنوی مصلحتوں کی رعایت کرنا ضروری ہے تو پھر کیا انسان کو ہر طرح کی آزادی دی جاسکتی ہے؟ انسان کو اگر اس بلند مقصد تک پہونچنا ہے تو پھر اس کے ارادہ کو محدود اور سسٹمیٹک ہونا چاہئے، انسان کو ایک خاص راستہ پر چلنا ہوگا تاکہ اس بلند مقصد تک پہونچ سکے. کیا انسان کسی بھی راستہ پر چل کر اس بلند ہدف تک پہونچ سکتا ہے؟

کیا وہ لوگ جنھوں نے خدا کو نہیں پہچانا یا خدا کا انکار کیا یا اس سے اور اس کے ماننے والوں سے مقابلہ کیا اس انسانی کمال تک پہونچ سکتے ہیں ؟ کیا انسان کے کمال تک پہونچنے کا راستہ عبادت نہیں ہے ؟ تو پھر کس طرح وہ انسان جو خدا او رخدا پرستی سے مقابلہ کرتا آیا ہے انسانی حقیقی کمال تک پہونچ سکتاہے؟ اگر اسلامی حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ انسانی پیشرفت کے لئے تمام پہلوں خصوصاً معنوی پہلو کے لئے راستہ ہموار کرے تو پھر انسانی ارادوں کو محدود ہونا چاہئے اور اس طرح کے قوانین بنائے جائیں جو انسان کے لئے ان کمالات عالیہ تک پہونچنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنیں ۔

۶۔ اسلامی اور لیبرالیزم قوانین میں اختلاف

ہمارے گذشتہ مطالب کے پیش نظرکہ اسلامی قوانین اور انسان کے بنائے قوانین(خصوصاً لیبرالیزم قوانین، جن کا ماننا یہ ہے کہ انسان کو حق معاشرہ کی خدمت کے عوض میں ملتا ہے) میں اختلاف پایا جاتا ہے ، چنانچہ ہم اس بات کو چند نکات میں بیان کرتے ہیں ۔

الف :لیبرال معاشرہ میں اپنی نظر کے مطابق ، جو لوگ اپنی مشکلات کی وجہ سے معاشرہ کی کوئی خدمت نہیں کرسکتے ان کے لئے کسی بھی طرح کے حق کے قائل نہیں ہیں ،لیکن اسلام ان کے لئے بھی حق کا قائل ہے، اور ظاہر ہے کہ ان کے حق کی رعایت کے لئے اس کے منابع ہونا ضروری ہیں کیونکہ لوگوں کی ضروتوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی ادارہ ہونا ضروری ہے ، اور اس ادارہ کی تامین کے لئے لازم ہوتا ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کے ارادوں کو محدود کریں ،یعنی معاشرہ کے مال کا کچھ حصہ ان لوگوں سے مخصوص کیا جائے، جبکہ دوسرے لوگ اس کو نہیں چاہےں گے،لھٰذا ان کی خواہشات کو لامحالا محدود کیاجانا پڑے گا۔

ب :اجتماعی زندگی میں معاشرہ کے اندر ایسے حقوق کو پیش نظر رکھا جائے کہ اگر کسی موقع پر بعض افراد کے حقوق معاشرے کے حقوق سے ٹکرائیں تو معاشرے کے حقوق کو مقدم کی جائے، اور معاشرے کے حقوق اور افراد کے حقوق میں ٹکراؤ پیدا ہونے کی صورت میں ، معاشرے کے حقوق کو مقدم ہونا چاہئے ، اور یہ کہنا کہ اگر معاشرہ کے حقوق اور فردی حقوق میں تعارض پیدا ہوجائے تو معاشرہ کے حقوق کو مقدم کیا جائے گا یا فردی حقوق کو، ہمیں اس بات کو مختلف نظریوں سے دیکھنا ہوگا کیونکہ اس بارے میں دو مختلف نظریہ پائے جاتے ہیں بعض لوگ انفرادی حقوق کو مقدم کرتے ہیں چنانچہ اس وقت مغربی دنیا میں جامعہ گرائی کے مقابلہ میں فرد گرائی زیادہ رائج ہے اگر جامعہ گرائی سوسیالسٹی( Socialisti ) نظریہ بھی قدرے پایا جاتا ہے جس کی طرف سے گاہے گاہے فرد گرائی (صرف اپنے فکر کرنا) والوں پر اعتراضات ہوتے رہتے ہیں ۔

بہرحال لیبرال( Liberal ) نظریہ کے مقابلے میں اسلام معاشرہ کے حقوق کو لوگوں کے حقوق سے زیادہ مانتا ہے یعنی اگر معاشرہ اور افراد کے حقوق میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے خصوصاً اگر کو اہم ٹکراؤ ہو تو معاشرہ کے حقوق کو مقدم کیا جاتا ہے. لیکن لیبرال حکومتیں اس وجہ سے کہ مارکیٹ کا ریٹ نہ ٹوٹے اور مالداروں کا نقصان نہ ہو لاکھوں ٹن کھانے پینے کے سامان کو جلادیتے ہیں یا دریامیں ڈال دیتے ہیں ، لاکھوں لوگوں کا بھوک سے مرنا ان کو منظور ہے لیکن ان کا مادی نقصان نہ ہو، لیکن اسلام ہر گز اس طرح کی اجازت نہیں دیتایعنی اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ ایسے افراد کو روکا جائے او ران کو محدود کیا جائے. لھٰذا نتیجہ یہ نکلاکہ معاشی آزادی بھی اس طرح بے لگام نہیں ہے بلکہ یہ آزادی بھی محدود ہونا چاہئے. پس جس طرح معاشرہ کے معذور ومحروم افراد کی وجہ سے معاشرہ کا منافع محدود ہونا ضروری ہے اسی طرح معاشرہ کے کلی مصلحتوں کی خاطر افراد کے ارادوں کو محدود ہونا چاہئے تاکہ تمام معاشرے کے مصالح تا مین ہوسکیں ۔

ج : اسلامی معاشرہ میں کچھ ایسے بھی مسائل ہیں جو خود اپنی ذات سے متعلق ہیں لیکن چونکہ ان کا اثر معاشرہ پر پڑتا ہے لھٰذا اجتماعی مسائل حساب ہوتے ہیں .مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے گھر میں تنھائی کے عالم میں جبکہ اس کو کوئی نہ دیکہ رہا ہو کسی گناہ کا مرتکب ہو تو بے شک اس کا یہ گناہ فردی ہے اور جو قوانین اس طرح کی چیزوں کو محدود کر تے ہیں ان کو ”اخلاقی قوانین“ کھتے ہیں (قطع نظر اس چیز سے کہ یھاں پر ”اخلاقی “ کہنا صحیح ہے یا نھیں )

مطلب یہ ہے کہ اگر کو ئی شخص تنھائی میں کسی گناہ کا مرتکب ہو تو دوسروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے او رحکومت کو بھی مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اس بات کو تقریباً تمام ہی سیاستداں حضرات قبول کرتے ہیں کیونکہ حکومت کا دائرہ معاشرہ تک محدود ہے نہ کہ شخص سے، لیکن یھاں اس بات پر اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص اس طرح کا کارنامہ انجام دے جس کاتھوڑا بہت اثر دوسروں پر پہونچتا ہویا کم سے کم یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو اسے دیکہ کر گناہ کرنے کا شوق ہوتا ہے تو کیا یہ کام اجتماعی شکل پیدا کرے گا یا نھیں ؟

اگر کوئی شخص سڑک پریا کوئی ایسی جگہ کہ دوسرے لوگ اس کو دیکہ رہے ہوں کوئی گناہ کرے ،اور اس کو دیکہ کر گناہ کرنے پر جرئت پیدا کرتے ہیں او راس گناہ کے کرنے کا رجحان پیدا ہو ، تو اب اس کا یہ کام فردی حالت سے نکل کر اجتماعی شکل پیدا کرلیتا ہے ؛ کیا ہمیں حق نہیں ہے کہ اس کام میں دخالت کریں اس وجہ سے کہ اس گناہ کا ضررونقصان خود اسی کو پہونچے گا؟!

اسلام تو اس چیز کی اجازت نہیں دیتا، اسی وجہ سے تظاہر بہ فسق (کھلے عام گناہ کرنا) ایک اجتماعی مسئلہ حساب ہوتا ہے. اگر کوئی شخص دوسروں کے سامنے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو یہ گناہ حقوقی جرم (اخلاقی خلاف ورزی کے مقابلہ میں ) ہے اور حکومت اس میں دخالت کرسکتی ہے. وہ قانون جو اس طرح کے گناہوں سے منع کرتا حکومتی قانون کھا جاتا ہے جس کے جاری کرنے کی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے۔

لھٰذا اگر تنھائی میں گناہ انجام پائے او رکسی کو پتہ بھی نہ لگے تو اس سے حکومت کا کوئی سروکار نہیں ہے اور کوئی عدالت ایسی نہیں کہ جو اس کو محکوم کرے، لیکن اگر گناہ اجتماعی صورت پیدا کرلے جس سے دوسروں میں بھی گناہ کا رجحان پیدا ہو تو اس وقت حقوقی او راجتماعی پہلو پیدا ہوجاتا ہے او رحکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے گناہوں سے روکے۔

د : گناہ اور معاشرے کو ضرر پہونچانا صرف مادّی چیزوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ حیثیت اور آبرو کو ضرر پہونچانا بھی گناہ وجرم حساب ہوتا ہے. کسی بھی معاشرہ کو لے لیجئے کسی کی بے حرمتی او رتوہین کرنا چاہے فیزیکی اور ظاہری طور پر نہ ہو(مثلاً کسی کو توہین آمیز اور مذاق بنانے والی باتیں کھنا) گناہ سمجہا جاتا ہے، او رچونکہ دوسرے سے متعلق ہوتا ہے تو حکومت کو اس سلسلہ میں سزا دینے کا حق حاصل ہے،اسلامی معاشرہ میں دینی مقدسات کی توہین کرنا مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑی خلاف ورزی ہے، او راگر کوئی دین کی توہین کرے تو اس کی سزا بھی زیادہ ہونا چاہئے، کیونکہ اسلامی معاشرہ میں دینی مقدسات سے بڑہ کرکوئی چیز نہیں ہے، لھٰذا دینی مقدسات کی توہین سب سے بڑا جرم ہے۔

چنانچہ اس کے لئے سزا بھی سب سے بڑی ہونا چاہئے، اسی بناپر اگر کوئی مرتد ہوجائے یا اسلامی مقدسات کی توہین کرے تو اس سے کوئی معاملہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر کوئی پیغمبر اکرم یا دوسری مقدسات کی توہین کرے تو اسلام کی نظر میں اس کی سزا پھانسی ہے؟ کیونکہ اس نے سب سے بڑا جرم کیا ہے کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک اس سے مقدس ترین کوئی چیز نہیں ہے اور ان مقدسات کی توہین سب سے بڑا جرم ہے لھٰذا اس کی سزا بھی سب سے بڑی یعنی پھانسی ہے اور یہ ایک بنیادی اختلاف ہے کہ جو اسلام اور لیبرال نظریہ میں پایا جاتا ہے۔

یہ لوگ کھتے ہیں کہ اگر کسی نے آپ کو گالی دی ہے تو آپ بھی گالی دیدیں ، یہ کوئی جرم نہیں ہے؛ کیونکہ زبان چلانا آزاد ہے! مثلاً اگر کسی نے آپ کے پیغمبر کو برا کھا ہے تو آپ ان کے پیغمبر کو برا کھہ دیں لیکن اسلام کا نظریہ یہ نہیں ہے ، اسلام میں اسلامی مقدسات کی توہین کرنا سب سے بڑا جرم ہے اور صرف حقوقی پہلو نہیں ہے بلکہ جزائی او رسزائی پہلو رکھتا ہے، لھٰذا اس کے لئے سزا بھی اتنی ہی سخت رکھی گئی ہے اس طرح کی توہین کسی ایک فرد کی توہین نہیں ہے بلکہ پورے اسلامی معاشرہ کی توہین ہے. حقوقی مسائل ایک کے رابطہ سے مربوط ہے: اگر کسی نے کسی کو طمانچہ مارا ہے تو اسے بھی بدلے کا حق ہے ، وہ اس کی شکایت بھی کرسکتا ہے او رممکن ہے اس کو جیل بھیج دیا جائے یا اس کومالی جرمانہ دینا پڑے؛ لیکن اگر وہ شخص اس کو معاف کردے تو پھر قضیہ تمام ہوجاتا ہے اور عدالت بھی اس کو کچھ نہیں کھے گی، لیکن سزائی احکام میں اس طرح نہیں ہے،یھاں تک کہ اگر شکایت کرنے والا بھی اس کو معاف کردے تو بھی مدعی العموم (جو لوگ معاشرہ کے حقوق کے دفاع کرنے والے ہیں ) حق رکھتے ہیں کہ اس کی پیروی کرے، کیونکہ یہ بے احترامی پورے معاشرے کی بے احترامی ہے، لھٰذا مدعی العموم اس کی شکایت کرسکتے ہیں ۔

اسلامی مقدسات کی توہین کسی ایک فرد کی توہین نہیں ہے کہ کوئی خاص فرد اس کی شکایت کرے اور اگر شکایت کرنے والے نے معاف کردیا تو مسئلہ تمام ہوجائے گا، پھر عدالت بھی اس کی تعقیب نہیں کرے گی. لیکن اگر کوئی اخبار یا تقریر میں اسلامی مقدسات کی توہین کرے تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں محکوم ہے اور اسلامی قاضی کو اس کی تعقیب کرنا ہوگی؛ کیونکہ اس نے اسلامی معاشرہ اور مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا ہے اورشخصی وفردی مسئلہ نہیں ہے بلکہ کیفری وسزائی مسئلہ ہے کوئی اس جرم کو معاف نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے کہ جو تمام مسلمانوں سے متعلق ہے بلکہ اس سے بڑہ کر یہ کہ یہ خدا سے مربوط ہے،یہ ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں مسلمان دانشور طبقہ خصوصاً ہمارے یونیورسٹی کے طالب علم توجہ رکھیں او رخیال نہ کریں کہ اسلام کے سیاسی وحقوقی مسائل مغربی نظریہ کی طرح ہیں اور صرف اس دنیا کے مادی ودنیوی مسائل سے مربوط ہیں اسلامی نظریہ کے مطابق معاشرہ کے حقوق فردی حقوق پر مقدم ہیں ، اور صرف خدمت کے عوض کسی کو حق نہیں ملتا۔

بلکہ ہر وہ شخص جو اسلامی معاشرہ میں زندگی گذارتا ہے حق رکھتا ہے اور یہ حق کسی خاص گروہ سے مربوط نہیں ہے؛ اور جیسا کہ ہم نے عر ض کیا کہ معاشرہ بھی کچھ حقوق رکھتا ہے اوراس کے حقوق دوسرے افراد کے حقوق پر مقدم ہیں اور یہ حقوق صرف مادی نہیں ہیں بلکہ ان میں معنوی حقوق بھی شامل ہیں ، اور صرف دنیاوی منافع سے مربوط نہیں ہیں بلکہ اخروی ومعنوی مصالح سے بھی مربوط ہیں ۔

اب تک جو کچھ ہم نے عر ض کیا اس سے اسلامی قوانین کا دوسرے قوانین سے امتیاز واضح ہوجاتا ہے ،اور سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں اسلامی معاشرہ میں انسانوں کے فردی ارادوں کو محدود کرنا ضروری ہے اور سیکولر،لائک او رلیبرال نظریات کی طرح نہیں ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز ارادوں کو محدود کرسکتی ہے وہ مادی او رفردی منافع ہیں لیکن اسلام میں معنوی واخروی منافع بھی ہیں ، اور ان مصلحتوں میں سے ہر ایک خاص محدودیت چاہتی ہے جس کا لازمہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں فردی آزادی ،لائک ولیبرال معاشروں سے کمتر پائی جاتی ہے، اور اسی چیز کا اسلامی حکومت مذہبی اعتقاد کی بناپر تقاضا کرتی ہے اور ہم کمال وضاحت اور شجاعت کے ساتھ اس کا دفاع کرتے ہیں ۔

حوالے

سورہ نحل آیت۹۰

سورہ ذاریات آیت ۵۶

سورہ نحل آیت ۹۰


بیسواں جلسہ

قانون وحکومت کی ایک نئی تصویر

۱۔معاشر ہ پر ایک طبقاتی اور احزابی نظر

گذشتہ جلسات میں ہماری بحث اسلامی حکومت اور سیاست میں قانون گذاری کے بارے میں تھی، اس وقت ہم مذہب اسلام کی روشنی میں سیاسی اور حکومتی احزاب کی معاشرہ میں کیا اہمیت ہے اس پر بحث کریں گے، اس کی وضاحت کے لئے ہم ایک مثال اور تشبیہ عرض کریں گے تاکہ اصل موضوع کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

قدیم زمانہ میں دانشور حضرات معاشرہ کو انسانی پیکر سے تشبیہ د ے کر کھا کرتے ہیں : جس طرح انسان کا بدن مختلف اعضاء وجوارح سے مل کر بنتا ہے ،اسی طرح معاشرہ بھی مختلف ذات پات، طبقات اور احزاب سے مل کر بنتا ہے او ران میں سے ہر ایک بذات خود چند اقسام پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ایک طبقہ اور حزب چند افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو انسان کے اعضاء کی طرح حکم رکھتا ہے. البتہ بعض اوقات اس تشبیہ میں افراط وتفریط ہوئی ہے، جس سے درست استفادہ نہیں ہوپایاہے۔

معمولاً علمی وعملی سرگرمیوں میں افراط وتفریط ہوتی ہی رہتی ہے، چنانچہ صحیح راستہ کی معرفت حاصل کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے، ایسا ہی بعض افراد نے مذکورہ تشبیہ کے بارے میں کیاہے: چنانچہ وہ کھتے ہیں کہ جس طرح انسان کا بدن مختلف اعضاء سے مل کربنتا ہے،اور یہ اعضاء طبیعی طور پر آپس میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک خاص ذمہ داری رکھتا ہے، اسی طرح معاشرہ کے اعضاء بھی مختلف ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک خاص کام کے لئے ہوتا ہے او راس کو وہی کام کرنا ہوتا ہے،اور اس کو اپنے کام سے آگے قدم نہیں بڑھانا چاہئے۔

مثال کے طور پر ،ہم جانتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء صرف ایک” سلول Cellule “ (عنصر) سے بنتے ہیں ، او رپھر اسی سلول سے ہمارے بدن کے تمام اعضاء بنتے ہیں ،بعض سلول بہت لطیف وظریف ہوتے ہیں کہ جن سے آنکہ یا مغز ودماغ تشکیل پاتے ہیں ،اور بعض سلول مضبوط ومحکم ہوتے ہیں جن سے ہڈی بنتی ہے ، اور یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ آنکہ کا سلول ہڈی کی جگہ یا ہڈی کا سلول آنکہ کے سلول کی جگہ استعمال کیا جائے، یعنی آنکہ سے کان کا کام لیا جائے اور اور ہڈی سے آنکہ کا کام لیا جائے، جبکہ یہ تمام سلول ایک ہی سلول سے بنے ہوئے ہیں ،لیکن آپس میں اتنا اختلاف رکھتے ہیں کہ صرف اپنے معین شدہ کام ہی کو انجام دے سکتے ہیں ، لھٰذا ان کو ایک دوسرے کی جگہ نہیں رکھا جاسکتا۔

یہ لوگ کھتے ہیں کہ معاشرہ کے افراد بھی طبیعی طور پر اسی طرح مختلف طبایع کے اوپر خلق ہوئے ہیں ان کے مختلف طبقات ہیں ، ہر ایک کے خاص کام معین ہیں اور صرف اپنا ہی کام انجام دے سکتے ہیں ، قدیم زمانہ میں فلاسفہ حضرات معتقد تھے کہ معاشرہ کی مختلف قومیں اور طبقات اپنے لئے ایک معین حد رکھتی ہیں ، اور ہر ایک کا کام میں الگ الگ ہوتا ہے (مثلاًحبشی(سیاہ فام قوم)کی ذات سخت اورمحنتی کام کے لئے پیدا کی گئی ہے او رسرخ یا زرد رنگ والی قوم فکری کاموں کے لئے پیدا ہوئی ہےں )یہ لوگ اسی تشبیہ سے اس چیز کا استفادہ کرتے تھے. ان لوگوں کا ماننا یہ تھا کہ رنگ کا اختلاف، قوموں کا اختلاف اورانسان کے خون کے اختلاف ہونے کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے انسان کی ہر قوم الگ الگ کاموں کے لئے مخصوص ہے،لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ یہ نظریہ افراط (زیادہ روی) ہے ،علم وفلسفہ اور دین اس نظریہ سے متفق نہیں ہیں ۔

۲۔ معاشر ہ کے طبقاتی اور احزابی نظام کے بارے میں اسلام کا نظریہ

اسلامی نظریہ کے مطابق ،تمام انسان اپنے بدن اور روح کے اعتبار سے معاشرہ میں مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں البتہ انسانوں کی قابلیت وصلاحیت مختلف ہوتی ہے او ربرابر نہیں ہوتی، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کالے اورگوروں کے درمیان ایک ایسا فرق ہو جو ایک دوسرے کے کاموں کوانجام نہ دے سکیں ، کالے گوروں کا کام نہ کرسکیں یا گورے کالوں کا کام نہ کرسکیں ، اسلامی نظریہ کے مطابق ، اگرچہ انسانی بدن اور معاشرہ میں شباہت پائی جاتی ہے، جس سے گروہوں اور افراد کی وضعیت کو معین کرنے کے لئے دو نتیجہ نکالے جاسکتے ہیں ،لیکن معاشرہ کی ان اعضاء بدن سے تشبیہ دینا جو طبیعی طور پر ہر ایک عضو سے متفاوت او رمختلف ہے،او راس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ معاشرہ کے افراد بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں یہ صحیح نہیں ہے، اس زمانے کے بعض جامعہ شناس افرادبھی بالکل اسی طرح کھتے ہیں کہ معاشرہ بھی ایک طرح کا ”ارگانیزم“ ( Organisme ) ہے اور معاشرہ کے مختلف گروہ قوم ذات وپات انسان کے جسم کے اعضاء وجوارح کی مانند ہیں او ران کا رابطہ اعضاء بدن کے رابطہ کی طرح ہے.یھی رابطہ ایک دوسرے کو آپس میں متصل کرتا ہے، ہماری نظر میں یہ نظریہ بھی افراطی ہے.لیکن کیا معاشرہ کے افراد کا آپسی رابطہ بالکل انسانی بدن کے اعضاء کے رابطہ کی طرح ہے؟،نھیں اس طرح کا کوئی حقیقی رابطہ اعضاء بدن کے سلول اور معاشرہ کے افراد کے درمیان نہیں ہے؟

معاشرہ کے افراد اس طرح کا ارتباط رکھتے ہیں اس چیز کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے؛ ایسا رابطہ مثلاً آنکہ کے سلول کا ایسا باہمی رابطہ جو ایک عضو کو تشکیل دیتے ہیں یہ ایک مخصوص رابطہ ہے لیکن یھی دیگر اعضاء وجوارح کی مدد سے ایک انسان کے جسم کو تشکیل دیتے ہیں ،. لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ انسان کے بدن اور معاشرہ میں ایسی شباہت پائی جاتی ہےجس سے انسان کی اجتماعی موقعیت کی پہچان ہوسکتی ہے، مرحوم سعدی نے اپنے مشہور معروف اشعار میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

بنی آدم اعضاء یکدیگر اند

کہ در آفرینش زیک گوہر اند

چو عضوی بہ درد آورد روزگار

دگر عضوہا را نماند قرار” تمام انسان ایک بدن کی اعضاء کی طرح ہیں کیونکہ ان کی خلقت ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے“

”مثلاً اگر بدن کے کسی ایک حصہ کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے اعضاء بھی بے قرار ہوجاتے ہیں “

بے شک یہ تشبیہ معاشرہ کے افراد کے درمیان ایک محبت وہمکاری کو ثابت کرتی ہے، انسان میں محبت وعطوفت کا احساس ہوتا ہے تاکہ وہ کوشش کرے کہ ایک دوسرے سے اس کا رابطہ ہمدردی والا ہو، اس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے سے محروم نہ رہیں ، یہ ایک معقول تشبیہ ہے کہ جس سے بہت سے استفادہ کئے جاسکتے ہیں ،او ریہ تشبیہ حضرت رسول خدا او رامام جعفر صادق علیہ السلام کی احادیث سے کسب کی گئی ہے، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

”اَلْمُومنُونَ فِی تَبَارهمْ وَتَزَاحُمهم وَتَعٰاطُفِهم کَمِثْلِ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکیٰ تَدٰاعیٰ لَه سٰایِرُه بِالسَهرِ وَالْحُمّٰی(۱)

”مومنین ایک دوسرے کے ساتھ محبت وپیار اور ہمدردی سے اس بدن کی طرح پیش آئیں کہ جب ان میں سے کسی عضو کو تکلیف پہونچے تو دوسرے اعضاء بھی بے خوابی اور بخار وغیرہ میں اس کی ہمراہی کرتے ہیں “

البتہ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ امام علیہ السلام نے اسلامی معاشرہ کو ایک پیکر کی طرح تعارف کرایا، اور سعدی نے اس کو وسعت دی، اور انسانی معاشرہ کو ایک پیکر کی طرح نقشہ کشی کی ہے.

البتہ توجہ رہے کہ اس تشبیہ کاکام یہ ہے کہ وہ جھت جو دو موجود میں مشترک اور ایک میں زیادہ او رمشہور اور دوسرے میں کچھ کم ہوتی ہے، اس کواپنی توجہ کا مرکز قراردیتی ہے، اور چونکہ یہ خاص جھت دوسرے موجود میں کافی مقدار میں شناختہ شدہ نہیں ہے، لھٰذا تشبیہ کی وجہ سے اس میں بھی پہچان لی جائے، اسی بناپر ”مشبہ بہ" کے تمام خصوصیات اور صفات ”مشبہ" میں نہیں لئے جاسکتے، مثلاً اگر کسی بھادر انسان کو شیر کھا جائے، تو اس سے اس کی بھادری کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے ،ایسا نہیں ہے کہ اگر شیر کی گردن پر مخصوص بال ہوتے ہیں تو یہ بھی بال رکھتا ہو، یا یہ کہ اگر شیر ھاتہ پیر سے چلتا ہے تو یہ بھی اسی طرح چلتا ہو!

۳۔معاشرہ اور پیکر انسانی میں دیگر شباہتیں

معاشرہ او رانسانی بدن میں گذشتہ تشبیہ کے علاوہ اور بھی تشبیھیں دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چونکہ انسان کے بدن میں مختلف اقسام کے سسٹم ہیں ،جو ایک دوسرے سے ہم فکری اور ہمکاری رکھتے ہیں ،جو انسانی سسٹم کی حیات او راس کے رشد میں موثر ہوتے ہیں ، اسی طرح معاشرہ بھی مختلف شعبے اور مختلف مرکز رکھتا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ میں زندگی کرنا آسان ہوجاتا ہے، مثال کے طور پر انسان کے بدن میں ایک سسٹم ہوتاہے جس کا کام خون کو تمام جگھوں پر پہونچاناہے اور اس کا مرکز دل میں ہوتا ہے. دل اس خون کو جو معدہ ،جگر اور گوارشی مشین کی ہم اہنگی سے بنتا ہے چھوٹی بڑی رگوں کے ذریعہ تمام سلولوں تک پہونچاتا ہے، جس کے نتیجہ میں انسان کی حیات رواں دواں رہتی ہے۔

خون کو تمام سلول میں پہونچانے والی مشین خود کئی چیزوں سے مل کر بنتی ہے مثلاً دل کا کا م خون کو پمپ کرنا ہوتا ہے اور د وسری رگیں خون کو سارے بدن میں میں پہونچاتی ہےں ،اسی طرح دوسری مشین خون پھیلانے والی مشین سے وابستہ ہیں جیسے خون کے لئے اکسیجن بنانا کیونکہ خون میں اکسیجن ہونا چاہئے تاکہ بدن کے سلول زندہ رہیں ، او راس وجہ سے پھیپھڑے اور سانس لینے والی مشین بدن کے لئے اکسیجن بناتی ہےں ، اور یہ اکیسجن خون کے ساتھ تمام بدن میں پھیل جاتا ہے، اسی طرح غذا خون کے ساتھ تمام بدن میں پھیلتی ہے اور یہ غذائیت گوارشی مشین سے بنتی ہے ، پس یہ تین مشین گردش خون، دستگاہ تنفس اور دستگاہ گوارش آپس میں مل کر کام کرتی ہیں جن کی وجہ سے انسان کی حیات ممکن ہوتی ہے ، ان کے علاوہ بدن میں اور دوسری مشینیں بھی ہوتی ہیں جن کا کام مختلف مشینوں پر نظارت او ران کی ہدایت کرنا ہوتا ہے، مثلاً بدن کے مختلف غدے اپنی اپنی مصروفیات میں لگے ہوتے ہیں اور اعصاب(رگیں ) دماغ کے حکم کے مطابق کام کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے دوسرے اعضاء اپنا اپنا کام کرتے ہیں منجملہ ان کے معدہ او ردوسرے اعضاء، اعصابی مشین کے ذریعہ فعالیت کرتے ہیں ۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ انسان کی زندگی کے لئے بدن کے مختلف سسٹم ایک ساتھ مل کر اپنا اپنا کام کرتے ہیں ،اور ایک دوسرے سے ہم اہنگ ہوکر عمل کرتے ہیں اسی طرح معاشرہ کے مختلف مرکز اور شعبہ جات کو انسان کے مختلف سسٹم سے تشبیہ کریں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک مشابہ نمونہ کی عکاّسی کریں :

مثلاً جس وقت ہم انسان کے معدہ او رتمام بدن تک غذائیت پہنچانے والی مشین کو دیکھتے ہیں ؛یعنی بدن میں غذا کو ھضم کرنے اور اس کو مختلف اعضاء تک پہونچانے والی مشین کو دیکھتے ہیں اور اس کے بعد معاشرہ پر نظر ڈالتے ہیں ،تو معاشی معاملات میں ان جیسے کام کا مشاہدہ کرتے ہیں ،معاشی شعبہ جات کا خصوصی کام کھانے پینے کی چیزوں کو پیدا کرے، اور دوسرے شعبوں کے ذریعہ ان کو لوگوں تک پہونچانا ہوتا ہے. جس طرح خون بدن میں بنتا ہے او ردل اور رگوں کے ذریعہ دوسرے اعضاء تک پہونچتا ہے۔

اگر خونی مشین میں کچھ خرابی ہوجائے مثلاً کسی رگ کے بند ہونے سے خون کی حرکت بند ہوجائے، تو اس صورت میں انسان بیمار ہوجاتا ہے، اور جس عضو تک غذائیت نہیں پہونچتی ، وہ بے کار ہوجاتا ہے، او رممکن ہے بعض اوقات اس حصہ کو بدن سے کاٹنابھی پڑے، اور ممکن ہے کسی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے انسان مرجائے. لھٰذا انسان کی تندرستی اور زندگی کیلئے ضروری ہے کہ خون آسانی کے ساتھ تمام رگوں میں حرکت کرتا رہے،اسی طرح معاشرہ میں بھی تمام ضروری سامان پہونچتا رہے، اور اگر یہ ضروری سامان کسی ایک جگہ جمع کرلیا جائے اور لوگوں تک نہ پہونچایا جائے ،اگر معاشی نظام (کہ جو کاشتکار او ردوسرے اداروں پر مشتمل ہوتاہے) میں کچھ خرابی ہوجائے اور لوگوں تک کھانے پینے کا ضروری سامان نہ پہونچ پائے تو پھر یہ معاشرہ خواہ ناخواہ بیمار ہوجائے گا، لھٰذایہ تشبیہ صحیح اور بجا ہے کہ جس میں معاشی شعبہ کی مثال دستگاہ گوارشی خون سے دی جاتی ہے۔

اسی طرح حکومت کی اعصابی مشین سے تشبیہ کی جاسکتی ہے کہ جس کا کام بدن کو حکم دینا ہے ، اور یہ اعصاب کے دوحصوں (حسّی اور حرکتی) سے تشکیل ہوتی ہے. لھٰذا حکومت کو اعصابی سسٹم کے مثل قرار دیا گیا ہے ، معاشرہ بھی بدن کی طرح دماغ کی ضرورت رکھتا ہے تاکہ اس کو حکم دے سکے اور اسی طرح اس کے حکم کو معاشرہ کے اعضاء میں جاری کرنے کے لئے کچھ مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ حرکت کرتے رہیں اسی بنیاد پر حکومت کے بھی دوبنیادی حصے ہوتے ہیں :

۱۔ قانون گذاری حصہ جو معاشرہ کی منفعتوں کی تشخیص اور ان کی فراہمی کے راستوں کو معین کرتا ہے۔

۲۔ ان قوانین کو جاری کرنے والا حصہ جوان احکامات کو معاشرہ میں اجراء کرتا ہے۔

ہمارے حسی اعضاء شناخت کی راہ فراہم کرتے ہیں او رحرکتی اعضاء بدن میں احکام جاری کرنے کی راہ فراہم کرتے ہیں ، حس کے مقدمات کو حسی اعضاء فراہم کرتے ہیں اور دماغ سے فکر وسوچ کا کام لیا جاتا ہے، اگرچہ انسان کی روح دماغ کے وسیلہ سے سوچتی ہے ، ہمارا ذہن فکروسوچ کا کام کرتا ہے اور اس کے بعد دوسرے اعضاء ان کاموں کو انجام دیتے ہیں نفس انسانی میں ایک قدرت علم ہے جس کا کام علم ومعرفت کی تحصیل ہے اور دوسری قوت کا کام حرکت کرنا ہے، اور یہ دونوں دماغ کے تحت کام کرتے ہیں یہ سسٹم بدن کے اعضاء پر نظر رکھتا ہے اور ضروری علم کو حاصل کرتا ہے اور ضروری احکامات کا حکم دیتا ہے اور دوسرے اعضاء کے ذریعہ وہ کام ہوتے ہیں ، اس سسٹم کو دماغی اور اعصابی سسٹم کا نام دیا جاتا ہے، اور اس سسٹم کی وجہ سے معاشرہ میں حکومت کی اہمیت کو پہچانا جاسکتا ہے۔

۴۔معاشرہ میں طبقاتی نظام کی روشنی میں حکومت کی اہمیت

جس وقت ہم اپنے بدن کے اعضاء اور ان کی ہم اہنگ اور منظم کارکردگی کو ملاحظہ کرتے ہیں تو یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ ہم ان اعضاء کے بنانے او ران کی منظم کارکردگی میں بالکل دخالت نہیں رکھتے،علمی اصطلاحی کے مطابق ، طبیعت کاکام ان کو منظم طور پر چلانا ہے. لیکن دینی اصطلاح کے مطابق ہم کھیں گے کہ یہ خدا وندعالم کی ذات کا کرشمہ ہے کہ ان میں اتنی صلاحیت واستعداد اور قدرت عطا کی ہے،یہ اسی کا کمال ہے کہ جس سے انسانی اعضاء میں اتنی عظمت و پیچیدگی اور ظرافت پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ ہماری روح اس سے کھیں زیادہ باعظمت او رپیچیدہ تر ہے۔

جس خداوندعالم نے ہم کو بدن اور اعضاء عنایت کئے ہیں تو پھر ہم کو ان سے صحیح طریقہ سے استفادہ کرنے کی معرفت ہونا چاہئے اور ہم کو اپنے اعضاء سے اس طرح فائدہ اٹھانا چاہئے کہ ہماری عمر طولانی اور صحت وسلامتی اور خوشی کے ساتھ ساتھ بسر ہو؛ ایسا نہ ہو کہ ہم جس طرح چاہیں ان سے کام لینا شروع کردیں ، اگر ہم جو ہمارے ھاتہ لگا کھالیا، جو ملا پی لیا، جس کام کی ہوس کی اس میں مشغول ہوگئے ،نامناسب غذا کھائی یا خدا نخواستہ نشیلی چیزوں سے پرہیز نہ کیا،تو کیا ہم یہ امیدکرسکتے ہیں کہ ہمارا بدن صحیح وسالم رہ پائے گا، اور ہماری عمر طولانی اور صحت وسلامتی کے ساتھ گذر پائے گی؟

ھرگز ایسا نہیں ہے. بے شک صفائی کی رعایت کے بغیر ہماری عمر طولانی اور صحت وسلامتی کے ساتھ نہیں ہوپائے گی. یعنی ہمیں چاہئے کہ دلخواہ آزادی کو محدود کریں اور اپنی مرضی کے مطابق ہر چیز نہ کھائیں ، غذا کی کیفیت اور اس کی مقدار پر بھی توجہ رکھیں ، اسی طرح غذا کی قسم اور اس کے اوقات کی بھی رعایت کریں ، کیونکہ اگر ان چیزوں کی رعایت نہیں کریں گے، مثلاً خراب شدہ کھانے کو کھائےں گے تو بیمار ضرور ہوجائیں گے،اور ہوسکتا ہے کہ ہماری جان بھی چلی جائے۔

صفائی اور ڈاکٹری کے قوانین واقعاً طبیعی ہیں جن کی ہمارے بدن کو ضرورت پڑتی ہے اور یہ قوانین دانشمندوں کی مسلسل کوششوں کے نتائج میں بنائے جاتے ہیں اور انسان کی زندگی صحیح وسالم طریقہ سے گذرنے کیلئے دوسروں کو تعلیم دی جاتی ہے۔

بدن کے لئے ان قوانین کی رعایت کے سلسلہ میں ہم نے جو کچھ عرض کیا اس کے پیش نظر اگر کوئی ڈاکٹر کھے کہ فلاں غذا کو نہ کھاؤ،نشیلی چیزوں کا استعمال نہ کرو، کیونکہ تمھارا ذہنی توازن ختم ہوجائے گا،اور تمھارے معدہ یا جگر یا کے لئے نقصان دہ ہے تو ہمارا کیا فرض ہے؟! کیا اس کا شکریہ نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ اس نے ہماری راہنمائی کی اور ہمارے لئے سلامتی کی راہ بتائی ، یا اس پر اعتراض کریں کہ آپ سے کیا مطلب ہم کچھ بھی کھائیں ؟! جس نے ہماری سلامتی کا راستہ بتایا گویا اس نے بہت بڑی خدمت کی ،لھٰذا ہمیں اس کے ھاتھوں کے بوسہ لیناچاہئے۔

جس وقت ہم بیمار ہوجاتے ہیں ، بڑے بڑے ڈاکٹروں کے پاس جانے کے لئے کئی کئی دن پہلے وقت لےتے ہیں اور بڑی منت وسماجت سے کھتے ہیں کہ ہمارا معائنہ کرلیجئے، اور اس کے بعد ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخہ کی دوائی کی تلاش میں شہر کے چکر لگاتے ہیں تاکہ اس کو کھائیں ،اور ٹھیک ہوجائیں ، ہم ان تمام زحمتوں کو صحت وسلامتی اور تندرستی کے لئے برداشت کرتے ہیں ، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عمر صحت وسلامتی کے ساتھ بسر ہو، لھٰذا اس مقصد کے تحت ڈاکٹری قوانین کی رعایت کرنا ضروری ہے، اوراس طرح ہماری آزادی محدودھوجاتی ہے اور جو بھی مرضی ہوتی ہے اس پر عمل نہیں کرتے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان قوانین پر عمل کرنا ہماری صحت وسلامتی کا باعث ہے، نہ کہ ہماری خوشی میں رکاوٹ، ہمیں چاہئے کہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئےے، جنھوں نے ہمیں صحت وسلامتی کا راستہ بتایا، کیا دنیا کا کوئی عقلمند انسان ڈاکٹری قوانین کو فردی زندگی میں دخالت کرنا کھتا ہے ، یا اس کو معاشرہ کی بہت رین خدمت کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے؟

ہم نے اب تک جو کچھ بیان کیاوہ انسان کی ذاتی اور فردی زندگی سے متعلق تھا ، معاشرہ کے سلسلہ میں بھی بالکل اسی طرح ہے ، اگر کوئی یہ کھے کہ میں زندگی کے معنی کو نہیں سمجھ سکا او رنھیں چاہتا کہ زندہ رہوں ، اور میرے زندہ رہنے اور مرجانے میں کوئی فرق نہیں ہے !تو ظاہر ہے ایسے شخص کو کوئی عقلمند نہیں کھہ سکتا. اور اگر وہ ان قوانین کی رعایت کرنا پسند نہ کرے تو کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے کیونکہ ہر چیز کے اسباب ہوتے ہیں اور انسان طبیعی کاموں میں کوئی اثر نہیں رکھتا، اور اس کا نتیجہ یا بیماری ہوگا یا موت. اگر کوئی انسان اپنی زندگی میں ہدف نہ رکھتا ہو ، اور جو چاہے کھائے تو اس کو اپنی زندگی کو حوادث کی نذر کرنا ہوگا، کیونکہ خود اس کے کاموں کی وجہ سے بیماری میں مبتلا ہوگااور آخر کار موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔

لیکن اگر کوئی اپنی زندگی کا ہدف رکھتا ہو او رطولانی عمر اور سلامتی چاہتا ہواور اس سلامتی سے ترقی خصوصاً معنوی ترقی چاہتا ہو تو وہ ڈاکٹری قوانین سے بے توجھی نہیں کرسکتا،یعنی ڈاکٹروں او رماہر افراد کے بتائے ہوئے قوانین کو لفظ بلفظ عمل کرکے اپنی آزادی کو محدود کرلے۔

اگر معاشرہ کو بھی بے ہدف افراد کی طرح فرض کرلیا جائے کہ جن کے نزدیک زندگی وموت برابرہوتی ہے، نہ اپنا بقا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے لئے شرف چاہتے ہیں ، نہ ہی عزت چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنا استقلال اور نہ ہی اپنی شخصیت اور عزت چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے لئے آخرت ومعنویت چاہتے ہیں ، مسلماً ایسا معاشرہ جو چاہے کرے بالکل آزاد ہے اس کے لئے کسی بھی قانون کی رعایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ لیکن ایسے شخص کے لئے زندگی وموت برابر ہے۔

انسان کو صرف اس وقت کسی قانون ومقررات کی ضرورت نہیں ہوتی جب موت وزندگی اس کی نظر میں مساوی ہو، یھاں تک کہ اگر موت کو بھی نہیں چاہتا اور زندہ یا مرنا اس کے لئے کوئی فرق نہیں رکھتا،تو اس کو کسی بھی قانون کی ضرورت نہیں ہے ورنہ اگر موت بھی چاہے تو اس کے لئے بھی خاص قوانین کی رعایت کرنا ضروری ہے،اور اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ کن کاموں سے موت آسکتی ہے، لھٰذا کوئی بھی بامقصد کام بغیر کسی قانون کے ممکن نہیں ہے اورمطلق آزادی کے ساتھ کسی بھی مقصد تک پہونچنا ممکن نہیں ہے، اگر کوئی ہدف ہے تو اس کے لئے محدودیت کا قائل ہونا پڑےگا، اور ہر کام کے مقدمات اس کے قوانین وضوابط کے تحت ہونا چاہئے ، چاہے اس کا ہدف موت ہی کیوں نہ ہو۔

اگر معاشرہ کچھ ہدف رکھتا ہے تو اس کے لئے قانون کی رعایت کرنا ضروری ہے، یعنی اپنی آزادی کو کم کرکے اپنی بعض خواہشات سے صرف نظر کرے. اور جو چاہے کرے تو پھر ہدف تک نہیں پہونچ سکتا،ھاں اگر اس کا کوئی ہدف نہ ہو، تو پھر اسے کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے،ایسے معاشرہ کی مثال اسی شخص کہ جس کا کوئی ہدف نہیں ہے اور کچھ ہی دنوں میں موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے، اس بناپر ، اگر معاشرہ کو دوام اور ترقی وپیشرفت کرنا ہو او رہمیشگی سعادت وعزت درکار ہو تو پھر اس کودقیق قوانین کی ضرورت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ کے لئے کس طرح قوانین بنائے جائیں ؟ کون بنائے؟ کیا یہ قوانین ایک طرح کے واقعی امور ہیں جن کو کشف ہونا چاہئے، یا صرف اعتباری امور ہیں کہ جن کو بنایا جائے؟ یہ مسئلہ فلسفہ حکومت میں بہت اہم ہے۔

ہم انسان کی فردی زندگی میں دانشمند حضرات کے کشف کئے ہوئے کچھ قوانین کا مشاہدہ کرتے ہیں ، یعنی فلاں مِکروب فلاں بیماری کا سبب بنتا ہے یہ اس واقعی رابطہ کی وجہ کہ جو حقیقی علت ومعلول کے درمیان پایا جاتا ہے اور دانشمند حضرات اس کو اپنے تجربوں سے کشف کرتے ہیں اور اس کو ڈاکٹری قانون کے عنوان سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کھ: فلاں بیماری سے بچنے کے لئے فلاں مکروب سے پرہیز کرنا ضروری ہے،یا اگر فلاں بیماری پھیل گئی تو اس بیماری سے محفوظ رہنے کے لکے فلاں ٹیکا لگوانا ضروری ہے. معاشرہ کو بھی اگر صحیح وسالم زندگی گذارنا ہے تواس کے لئے بھی قوانین کی رعایت کرنا ضروری ہے تو کیا یہ قوانین واقعاً طبیعت میں موجود ہیں کہ کچھ لوگ ان کو کشف کریں ؟ یا نھ،یا قوانین اعتباری اور فرضی ہیں ، اور لوگوں کی رضایت کی خاطر ان کو کبھی کبھی بدلا بھی جاسکتا ہے، کیونکہ یہ قوانین اکثر لوگوں کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں واقعاً یہ مسئلہ بہت اہم اور بنیادی ہے اور اس کا ایک پہلو فلسفہ سے متعلق ہے اور ایک پہلو انسانی علوم سے وابستہ ہے اور اس کا ایک پہلو معرفت شناسی سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے بہت سے پیچیدہ مسائل ہیں جن کی بحث یونیورسٹیوں یا علمی مرکزوں میں ہونی چاہئے، اور ان تمام مطالب کو بیان کرنا اس وقت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے، لیکن سب کے استفادہ کے لئے ہم ان میں سے کچھ منتخب مسائل کو بیان کرتے ہیں ۔

۵۔واقعی مصالح ومفاسد قانون کے پشت پناہ

کیا واقعاً امنیت اور چوری سے روکنے کے درمیان کوئی رابطہ ہے؟ یعنی اگر امنیت چاہتے ہیں تو چوری نہیں ہونا چاہئے؟ یا نہ ، ان کے درمیان صرف ایک قراردادی رابطہ ہے، اور امنیت اور چوری دونوں ہی ممکن ہیں کیا قتل اور ناامنی میں کوئی رابطہ ہے؟یعنی اگر کوئی ہر کسی کو قتل کرنا چاہے قتل کردے تو کیا واقعاً اس سے ناامنی پیدا ہوتی ہے یا یہ صرف قراردادی رابطہ ہے؟ کیا جنسی آزادی گھر کے اجڑنے کا سبب بنتی ہے یا نھیں ؟ مثلاً اگر کسی زمانہ میں لوگوں کی پسند ہونے کی وجہ سے جنسی رابطہ کوآزاد قرار دیدیا جائے تو ایک روز کہنا بھی محدودھے کیونکہ اکثر لوگ اس کو پسند نہیں کرتے ہیں ، تو کیاا یسا قانونن بنانا جس میں جنسی آزادی موجود ہو یا موجود نہ ہو، صرف ایک قراردادی مسئلہ ہے؟ یعنی کیا یہ کام کا ایک سلیقہ ہے کہ لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں یا ناراض ہوتے ہیں ، اور ان کی مرضی کے مطابق قانون ہونا چاہئے؟ یا نہ ،بلکہ ایک واقعی رابطہ پر موقوف ہے،اور وہ یہ کہ اگر جنسی آزادی ہو تو پھر معاشرہ میں جسمی اور روحی بیماریاں جیسے ایڈز وغیرہ پھیل جائیں گی، اور لوگوں کے گھر اجڑ جائیں گے، عورت مرد میں روحانی بیماریاں پھیل جائیں گی، بچے بے تربیت اوردوسری تباہی پھیل جائیں گی۔

بعض لوگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ اجتماعی قوانین ،واقعی مصالح ومفاسد کے تابع ہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ یہ قوانین لوگوں کی مرضی اور ان کے سلیقہ پر ہوں جس طرح اگر شراب رائج ہوجائے تو روحی ، قلبی اور تنفسی بیماریاں پھیل جائیں گی یا اگر بیڑی سگریٹ کا رواج ہوا تو بہت سی بیماریاں پیدا ہوجائیں گی، اجتماعی مسائل بھی اسی طرح ہیں : اگر عورت مرد میں آزادانہ روابط ہوجائیں تو پھر معاشرے میں اس کے اثرات خطرناک ثابت ہونگے جس کے نمونے مغربی ممالک(کہ جہاں نامشروع روابط کافی حد تک رائج ہیں ) میں ملاحظہ کرتے آئے ہیں ، لھٰذا قانون بناتے وقت ان کے واقعی آثار بھی مدّ نظر رہیں ، نہ یہ کہ صرف لوگوں کی مرضی کے مطابق ہی عمل کیا جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ لوگوں کی اکثریت جنسی آزادی کو پسند کرتی ہے یا پسند نہیں کرتی. یا لوگوں کی اکثریت افیم وچرس کی آزادی کی خواہاں ہے یا نھیں ؟ کیا قانون کو اسی طریقہ پر ہونا چاہئے یا یہ کشف کریں کہ نشیلی چیزوں سے کیا کیا نقصانات ہیں اگرچہ اکثریت اس کے موافق بھی ہو؟ آپ کی نگاہ میں کون سا راستہ صحیح ہے؟ اجتماعی قوانین لوگوں کی اکثریت کی بنا پر ہوں یا واقعی (نفع ونقصان کی) بناپر ؟ یعنی اجتماعی مصالح ومفاسد حقیقی اور واقعی امور ہیں یا صرف اعتباری یا سلیقہ ای امور ہیں ؟

”ھیوم“ کے زمانہ کے بعد سے ، مغربی ممالک میں معرفت شناسی میں یہ بحث بیان ہوئی ہے کہ ”باید ھا ونباید ھا“(کیا ہونا چاہئے کیا نہیں ہونا چاہئے) خارجی واقعیت نہیں رکھتے اور ان پر عقلانی امور اور استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہے. ”خوب وبد“ انہیں سلیقوں کی طرح ہے جو لوگوں کے درمیان پائے جاتے ہیں ، مثلاً اگر کسی کو” گلابی رنگ“ پسندھے تو اس سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ کیوں آپ کو یہ رنگ کیوں پسند ہے، کیونکہ کسی کو یہ رنگ پسند ہے دوسرے کو کوئی دوسرا رنگ پسند ہے، تو کیا اجتماعی مسائل بھی رنگوں کی طرح ہےں ؟ یا نہیں ،بلکہ اجتماعی مسائل،واقعی مصالح ومفاسد کے تابع ہیں ؟ انسانی کردار کا اثر جو انسان کی فردی اور اجتماعی ، مادی ومعنوی زندگی پر ہوتا ہے ایک حقیقی رابطہ ہے ، یعنی درحقیقت ان میں علّت ومعلول کا رابطہ ہے،اور اجتماعی اورفردی زندگی میں انسانی کردار سعادت یا شقاوت کا سبب ہوتا ہے، لھٰذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون سے کام سعادت کے باعث ہیں تاکہ وہ کام جائز ہوں ، اور کون سے کام شقاوت وبدبختی کے باعث ہیں تاکہ ممنوع اور حرام ہوں اب جبکہ یہ ثابت ہوچکا کہ انسانی کردار کا سعادت وشقاوت سے واقعی اور حقیقی رابطہ ہے تو ضروری ہے کہ ان روابط کو پہنچانا جائے اور انہیں کی بنیادپر قوانین بنائے جائیں اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون انسان کے مصالح ومفاسد کو بہت ر طور پر جانتا ہے؟ ہم مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا ان کو بہت ر جانتا ہے۔لھٰذا قانون گذاری میں اسلام کا نظریہ ہے کہ انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی کے اعمال اور سعادت وشقاوت میں علّی اور معلولی رابطہ ہے جن کو مصلحت ومفسدہ کھا جاتا ہے ، لھٰذا ان مصلحتوں اور مفسدوں کو پہچاننا ضروری ہے اور انہیں کی بنیاد پر قوانین بنائے جائیں ، اور اکثر لوگوں کی مرضی کے مطابق قوانین نہیں بنانے چاہئے۔

حوالے

(۱)مستدرک الوسائل ج۱۲ص۴۲۴.


اکیسواں جلسہ

اسلام اورجمہوریت (۱)

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

ہم نے گذشتہ بحث کے دوران اسلام کے سیاسی نظریہ کو دوحصوں میں تقسیم کیاتھا:ایک قوہ مقنقنھ(قانون گذاری) دوسراقوہ مجریھ(قانون کو جاری کرنے والی طاقت)،اور اس سلسلہ میں ہو نے والے اعتراضات کے جوابات بھی دئے، نظریہ کی بنیاد یہ تھی کہ سیاسی حکومت منجملہ اسلامی حکومت کے دو حصے ہوتے ہےں ، (البتہ ممکن ہے کہ دوسرے نظریات کے تحت تین یا چار حصے بھی ہوسکتے ہیں ) پہلا حصہ قانون گذاری کا ہے اور دوسرا حصہ قوانین کا جاری کرنا ہے ،قانون گذاری کے سلسلہ میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ معاشرہ میں وہ قوانین حاکم ہوں جن کے ذریعہ معاشرہ کے مادّی ومعنوی مصلحتوں کو پورا کیا جاسکے، اسی بناپر وہ شخص معاشرہ کے لئے مکمل قانون بنا سکتا ہے جو انسان کے مادی ومعنوی تمام پہلووں اور اجتماعی زندگی کے مختلف شرائط سے باخبر ہو ، اور یہ قوانین اس طرح بنائے جائیں کہ جن سے عالم آخرت میں انسانی سعادت فراہم ہوسکے، اور ظاہر ہے کہ خداوندعالم یا خدا وندعالم کا منتخب بندہ ہی ایسے علم ودانش کا مالک ہوسکتاہے۔

اس کے علاوہ خداوندعالم کی تشریعی ربوبیت میں توحید کا تقاضا یہ ہے کہ خداکے بندے خدا کے احکامات کی اطاعت کریں اور خداوندعالم کے تشریعی ارادہ کو اپنی زندگی میں حاکم قرار دیں ، اور اس کے مرضی کے خلاف قدم نہ اٹھائیں ، لھٰذا قانون گذاری میں خداوندعالم کی تشریعی ربوبیت کی رعایت کی جائے. چونکہ اسلامی قوانین مخصوص حقیقت کے حامل ہیں لھٰذا انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے امتیاز رکھتے ہیں ۔

مختصر الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ اسلامی قوانین خدا یا جس کو خدا اجازت دے کر بھیجے،اس کی طرف سے ہونا چاہئے. اسی طرح قوانین کو جاری کرنے والوں کے لئے بھی ہے، کیونکہ قانون کا مجری گویا معاشرہ کے لوگوں میں تصرفات کرتا ہے،اور ان کو قوانین الہی پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے، کبھی کبھی حدود وتعزیرات کو جاری کرتا ہے او رکبھی جرم کے مقابلہ میں خاص پابندیا ں لگاتا ہے۔

بہر حال یہ کچھ تصرفات ہیں جو خدا کے بندوں میں ہوتے ہیں ، او ریہ تصرفات صرف وہ حضرات کرسکتے ہیں جو خداوندعالم کی طرف سے اذن یافتہ ہےں ، ان کے علاوہ یہ تصرفات جائز نہیں ہیں ۔

۲۔قانون کے جاری کرنے والوں کے لئے بھی اذن خدا ضرور ی

ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ سوال کریں کہ جب ہم نے قانون کو قبول کرلیا اور ان کے جاری ہونے والے راستوں کواچھی طرح پہچان لیا اور یقین کرلیا کہ فلاں خاص موقع پر فلاں قانون جاری ہونا چاہئے، تو اس میں کوئی فرق ن نہیں ہے کہ قانون کا جاری کرنے والا زید ہو یا عمرو؟ جب خدا کا صحیح قانون جاری ہو جائے تو پھر خدا کی اجازت کی کیا ضرورت؟ ہم نے قبول کرلیا کہ معاشرہ میں قوانین الہی جاری ہوں ، لیکن پھر جاری کرنے والے کے بارے میں اجازت کی کیا ضروت؟

گذشتہ اعتراض کو اگر فقھی فضاء میں بیان کیا جائے تو جواب بھی فقھی روش کے لحاظ سے دیاجائے گا، اگر کوئی اس اعتراض کو فقھی تحقیق اور آزاد طریقہ سے بیان کرے، او رہم سے جواب لینا چاہے اور یہ چاہے کہ عمومی طور پر قابل فہم ہوتو پھر ہم اجتماعی مثالوں کے ذریعہ عام فہم زبان میں عرض کریں گے، مثلاً آپ کی گھریلو زندگی میں کچھ قوانین ہوتے ہیں جن کو آپ کی بیوی اور بچوں کو رعایت کرنا ہوتا ہے، مثلاً یہ کھیں کہ کوئی دوسرا کسی کی چیزکو ھاتہ نہ لگائے، یھاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے اپنے کھلونے او رکاپی پینسل وغیرہ میں اس قانون کی رعایت کرتے ہیں ، اور ان میں سے کوئی دوسرا بغیر اجازت کے کسی دوسرے کی چیز کو اٹھاتا ہے، تو اس پر اعتراض ہوتا ہے، یا اگر آپ کا کوئی پڑوسی آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے گھر میں داخل ہوکر آپ کے سامان کو لے جائے ،اگرچہ وہ سامان آپ کے نزدیک بے کار ہی کیوں نہ ہو، تو آپ فوراً اعتراض کردیتے ہیں کہ میری اجازت کے بغیر کس طرح میرے گھر میں داخل ہوئے ،یا کیوں ہمارے سامان کو اٹھاکر لے گئے، یھاں تک کہ اگر ا س نے آپ کے ساتھ کچھ احسان بھی کررکھا ہو، پھر بھی آپ کو حق ہے کہ اس پر اعتراض کریں ۔

ایک دوسری مثال کو فرض کیجئے کہ کسی ادارہ میں کچھ قوانین نافذ ہونا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک اس ادارہ کے رئیس کا حکم نامہ نہیں آیا ہے، اگر کوئی آکر کھے کہ میں ایک بااطمینان اور باامن انسان ہوں ، اور قوانین کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں اور اب رئیس کی کرسی پر بیٹھتا ہوں اور ان قوانین کو یکے بعد دیگرے جاری کرتا ہوں ، تو کوئی بھی اس کو اس کا م کی اجازت نہیں دیگا؛ یھاں تک کہ اگر وہ شخص بعد کا ہونے والا رئیس ہی کیوں نہ ہوں ، جب تک اس کا حکم نامہ نہ آجائے اس کو حق نہیں ہے کہ کرسی پر آکر بیٹھے او رلوگوں کو حکم دے۔

اور اگر کوئی ایسا کام کرے بھی تو وہ مجرم مانا جائے گا، اور ہوسکتا ہے کہ اس کو عدالت میں بھی بھیج دیا جائے اور اس کو سزا بھی ہو، جب اس نے خدمت انجام دی ہے او راس نے وہی کام انجام دیا ہے کہ جو ابھی کچھ دنوں کے بعد ہونے والا ہے، کیوں اس اصل کو تمام عقلمند حضرات قبول کرتے ہیں ؟ اس لئے جب تک اس کے اوپر والا رئیس اس کو اس کام کی اجازت نہ دے تو اس کو ایسے کاموں کی اجازت نہیں ہے خلاف قانون کی تو دور کی بات ہے۔

معاشرہ میں اجتماعی زندگی کے اندر اس قبول شدہ اصل کے پیش نظر ہم آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتے ہیں ، کہ وہ معاشرہ جو خدا سے متعلق ہے اور لوگوں نے خدا کو ربّ مانا ہے، اگر کوئی اپنے ربّ کی اجازت کے بغیر حکومت کرنا چاہے اس کی مثال اس شخص کی ہے کہ جو کسی ادارہ میں ریاست کرنا چاہے، یا مثلاً کوئی رئیس مملکت بننا چاہے، اور اس کے کاموں میں مشغول ہو؛ بغیر اس کے اس بلند رتبہ والا اس کو اجازت دے، یھاں تک کہ اگر اس کا کام بھی صحیح اور بجا ہو،تو اس سے باز پرس کی جاتی ہے، اور ممکن ہے کہ اس کو سزا بھی ہو، اسی وجہ سے ہم کھتے ہیں کہ اسلامی قوانین کا اجراء کرنے والا بھی خدا کی طرف سے ہو، جو لوگوں کا مالک حقیقی ہے، ورنہ اس سے باز پرس ضرور ہوگی، جیسا کہ ہم نے گذشتہ مثال میں عرض کیا ، اور اگر یہ فرض کریں کہ اس سے باز پرس بھی نہ ہو ، تو لوگوں پر اس کی اطاعت واجب نہیں ہے، یھاں تک کہ اسی قانون کے بارے میں لوگ کھیں گے کہ جب تک آپ کا حکم نامہ نہ آجائے تب تک آپ کیسے رئیس بن بیٹھے؟ اور جب تک لوگ یہ یقین نہ کرلیں کہ اس کو بلند مرتبہ رئیس نے اس رتبہ پر فائز کیا ہے اس کی اطاعت بھی نہیں کرتے۔

اسلامی نظریہ کے لحاظ سے ،معاشرہ کے تمام ہی افرادخدا کی مخلوق ہیں ،اور خدا ان کا مالک اور خالق ہے، لھٰذا مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے امور میں دخالت کرے جب تک کہ ان کا مالک (خدا) اس کام کی اجازت نہ دے، یھاں تک کہ قانون الہی کووہی معین شخص جس کو خدا کی طرف سے اجازت ہے، جاری کرسکتا ہے، اسی وجہ سے اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی نے اسلامی نظریہ کے مطابق اپنے کو اسلامی حاکم صدر مملکت کے لئے جو حکم نافذ کیا اس میں یہ تحریر کیا کہ میں تم کو نصب کرتا ہوں یعنی آپ نے کسی بھی موقع پر لوگوں کے ووٹ کوکافی نہ جانا، یھاں تک بعض موقعوں پر فرمایا: میں اُس ولایت کی رو سے جو تم پر رکھتا ہوں تم کو منصوب کرتا ہوں ، ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

”ان لوگوں کی باتوں کو نہ سنو کہ جو اسلامی نظریات کے خلاف ہیں ، اور خود کو روشن فکر تصور کرتے ہیں اور ولایت فقیہ کو قبول نہیں کرتے، اگر ولی فقیہ اس کو منصوب نہ کرے تو اس کی حکومت غیرمشروع ہے اور جب غیر مشروع ہوئی تو وہ طاغوت ہے، اور اس کی اطاعت طاغوت کی اطاعت ہوگی“(صحیفہ نور ج۹ص۲۵۱) یہ کوئی امام خمینی کا ذاتی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ نظریہ قرآن وحدیث سے اخذ کیا گیا ہے، بہر حال یہ اس شخص کا نظریہ ہے جس نے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی ہے۔

لھٰذا قانون کو جاری کرنے والا، اولاً اسلامی نظریہ کے مطابق تمام قوانین کو جاری کرنا، ثانیاً وہ خدا کی طرف سے اذن یافتہ ہو. اور یہ اذن کبھی خاص ہوتاہے جیساکہ حضرت رسول خدا او رائمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں ہے یا ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کو خود آنحضرت نے منصوب فرمایا ہے، یا جس طرح حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی طرف سے بعض اسلامی ریاستوں کے والی وحاکم معین ہوئے ہیں ، یا جس طرح امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے زمانہ میں نواب اربعہ خاص طور پر منصوب ہوئے۔

ان تمام مقامات میں یہ افراد اس شخص کی اجازت سے منصوب ہوئے جو اپنی حکومت میں الہی قوانین کو بیان اور کو جاری کرتے تھے. کبھی یہ منصوب کرنا عام ہوتا ہے؛ جیسے امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں ، یا ان ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں کہ جو مبسوط الید (آزاد) نہ تھے اور حکومت ان کے ھاتھوں میں نہ تھی، ایسے موقعوں پر باصلاحیت افراد اذن عام کی بناپر منصوب اور احکام الہی کے جاری کرنے کے لئے معین ہوتے تھے، مثلاً حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے شیعہ فقھاء کو اجازت دی ہے کہ جن علاقوں میں لوگوں کی امام (ع) تک رسائی ممکن نہ ہو،وہاں علماء احکامات الہی کو جاری کریں اور حکومتی کاموں میں مشغول رہیں ،زمانہ غیبت میں یہ مسئلہ بدرجہ اولیٰ ثابت ہے۔

کیونکہ جب امام حاضر اور مبسوط الید نہیں ہے یا امام تقیہ کی عالم میں ہے، تووہ بطور عام ان افراد کو منصوب کرتا ہے جو اس کی طرف سے حکومتی مسائل میں دخالت رکھتے ہیں ، کیا یہ کام امام علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں کہ جس میں امام علیہ السلام تک رسائی ممکن نہیں اولیٰ اور مناسب نہیں ہے؟

اس وقت ہم فقھی مبانی اور شرعی دلیلوں کو ثابت کرنا نہیں چاہتے ، صرف اس مسئلہ کی وضاحت کردینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں حتیٰ اسلامی قانون کو جاری کرنے والے کے لئے بھی خدا کی اجازت کی ضروت ہے، اور کس طرح خداوندعالم قانون کو جاری کرنے والوں کو اجازت دیتا ہے، جیسا کہ ہم نے عر ض کیا کہ یہ اجازت یا کسی خاص شخص کے لئے بصورت خاص ہوتی ہے، یا بصورت عام جیسا کہ جامع الشرائط فقھاء کرام کے لئے ہے۔

اس نظریہ پر چاہے وہ قانون گذاری پہلو ہو یا قانون کو جاری کرنے والا پہلوبعض اعتراض ہوتے تھے، جن میں سے سب سے مہم یہ تھا کہ یہ نظریہ انسانوں کی آزادی کے مخالف ہے، البتہ ہم نے اس اعتراض کا گذشتہ گفتگو میں مفصل جواب عرض کردیا ہے. ان اعتراضات کا دوسرا حصہ قانون کو جاری کرنے کے بارے میں تھا، کہ یہ ولی فقیہ والا نظام ، جمہوریت کے ساتھ ہم اہنگ نہیں ہے. جمہوریت ایک ایسی حکومت ہے جس کو تمام ہی عقلاء عالم نے قبول کیا ہے ، یھاں تک وہ ممالک کہ جن میں سوسیالسٹی( Socialisty ) حکومت تھی عملی میدان میں جمہوریت کے مقابلہ میں ٹھر نہ سکیں ، اور مجبوراً ڈیموکراسک نظام کو قبول کرلیا. لھٰذا آج کا انسان ڈیموکراسک نظام کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رکھتا، اوریہ اسلامی حکومت جو ولایت فقیہ کی حکومت کے نام سے معروف ہے ، ڈیموکراسک سے ہم اہنگ نہیں ہے۔

۳۔ جمہوریت کے معنی اور اس کے استعمال میں ایک بحران

پھلے ضروی سمجھتے ہیں کہ لفظ ”جمہوریت“ (ڈیموکراٹک) " Democratique " کے بارے میں کچھ وضاحت کریں ، کیونکہ ہوسکتا ہے بعض لوگ اس لفظ کے بارے میں کافی معلومات نہ رکھتے ہوں ، جمہوریت کے لفظی معنی؛ لوگوں کی حکومت ، مراد یہ ہے کہ معاشرہ کے افراد بھی قانون گذاری اور اجرائے قانون میں اہم کردار رکھتے ہیں اور کوئی دوسرا قانون گذاری اور اجرائے قانون میں حق دخالت نہیں رکھتا، یہ ہیں لفظ ڈیموکراسک کے معنی۔

تاریخ کے اوراق پر جمہوریت کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے: جیسا کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی ولادت سے پانچ صدی پہلے یونان کے پائے تخت ”آٹن“ میں یہ نظریہ وجود میں آیا اور کچھ مدت کے لئے یہ نظریہ اجراء کیا گیا اس طرح کہ تمام لوگ سوائے غلاموں اور ۲ ۰ سال سے کم عمر والوں کے سبھی لوگ سیاسی او راجتماعی مسائل میں براہ راست دخالت کرتے تھے. جس وقت کوئی ۲ ۰ سال کا ہوجاتا تھا تو اپنے شہر کے سیاسی کاموں میں دخالت کرسکتا تھا. البتہ کسی پر ضروری نہیں تھا بلکہ یہ لوگ آزاد تھے. اس زمانہ میں لوگ کسی بڑے میدان میں جمع ہوتے تھے اور اپنے شہر کے بارے میں نظریات پیش کرتے تھے، بحث وگفتگو ہوتی تھی اور اسی کے نتیجہ میں تصیم گیری ہوتی تھی اور انہیں پر عمل ہوتا تھا،ایسا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی خاص شخص یا خاص گروہ حکومت کے لئے معین ہوتا تھا، بلکہ خود افراد براہ راست اجتماعی وسیاسی مسائل میں دخالت کرتے تھے۔

اس طرز فکر کو جمہوریت یا لوگوں کی حکومت کا نام دیا جاتا تھا، حکومت کا یہ انداز ایک مدت تک یونان کے پائے تخت آٹن میں چلتا رہا، لیکن بڑے بڑے دانشمند اور فلاسفہ حضرات نے اس نظریہ کی بھر پور مخالفتکی، اور ا س کو برے نام سے یاد کیا کرتے ،یعنی اس کو جہال(جمع جاہل) کی حکومت کھتے تھے، ادھر عملی طور پر بھی اس جمہوری حکومت کے برے نتائج سامنے آئے ، اسی وجہ سے حکومت کا یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔

طبیعی ہے کہ بڑے بڑ ے ممالک اور کثیر آبادی والے شہروں میں یہ طریقہ کار مشکل تھا کیونکہ ممکن نہ تھاکہ ہمیشہ اجتماعی مسائل میں تمام لوگ براہ راست دخالت رکھیں چھوٹے شہروں میں یہ انداز کچھ مدت کے لئے ممکن ہے، لیکن لاکھوں والے شہروں میں کس طرح ممکن ہے کہ روز مرّہ کے کاموں میں سب مل کر کوئی فیصلہ لیں ؟!

بہرحال یہ انداز ختم ہوگیا ، یھاں تک کہ ”رنسانس“ کے زمانہ میں ڈیموکراٹک کی ایک دوسری تصویر پیش کی گئی، وہ اس طرح کہ لوگوں کے کچھ نمائندے حکومت کے کاموں کے لئے منتخب ہوں ، اور وہ سبھی لوگوں کی نمائندگی میں حکومت کریں ؛ کیونکہ لوگوں کی براہ راست دخالت ممکن نہ تھی. اس کے بعد سے اس نظریہ کے بہت زیادہ حامی پائے جانے لگے اور اہستہ اہستہ بعض ممالک میں اس طرح کی حکومت رائج ہوگئی،یھاں تک کہ انیسویں صدی میں تقریباً یورپ اور دوسرے ممالک میں اس طرح کی حکومت لوگوں میں مقبول ہوگئی اور اسی طرز پر حکومتیں بننے لگیں ۔

ہمارے ملک میں بھی ڈیموکراٹک کا یھی طریقہ ہے، تمام لوگ حکومتی شعبوں کے مختلف ووٹنگ میں شرکت کرتے ہیں مثلاً صدر مملکت اور اسلامی پارلیمنٹ کے نمائندگان کو ووٹوں کے ذریعہ انتخاب کرتے ہیں کہ جو لوگوں کی نمائندگی میں قوانین بناتے اور ان کو جاری کرتے ہیں

اسی طرح شوریٰ اور دوسرے انتخابات جن کا ذکر قانون اساسی میں آیا ہے شرکت کرتے ہیں پس ڈیموکراسک کی دوسری تصویر جس میں سیاسی واجتماعی مسائل میں لوگ خود اپنی رائے او راپنے ووٹوں کے ذریعہ نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں ۔

۴۔دور حاضر میں جمہوریت کا مفہوم

آج کے زمانے میں ڈیموکراسک کچھ اور ہی خاص معنی پیدا کرتی جارہی ہے اس حکومت کو ڈیموکراسی حکومت کھتے ہیں جس میں دین کا کوئی نقش نہ ہولھٰذا جس وقت یہ کھا جاتا ہے: ”فلاں حکومت جمہوری ہے او رفلاں ملک ڈیموکراسک طریقہ پر حکومت کرتا ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاشرہ میں دین کا کوئی کرادر نہیں ہے، یعنی قانون کے بنانے والے اور قانون کو جاری کرنے والے کسی بھی موقع پر دین کی دخالت کو نہیں مانتے

البتہ ڈیموکراٹک کا یہ انداز دین کی نفی نہیں کرتا، لیکن سیاسی واجتماعی مسائل میں دین کی دخالت کو قبول نہیں کرتے، اور اس چیز کی اجازت نہیں ہے کہ قانون کے جاری کرنے والے قوانین کو جاری کرتے وقت دین کی کوئی بات کریں ، اور کوئی بھی طریقہ کار دینی احکام کی بناپر نہ ہو. درحقیقت ڈیموکریسی کا یہ طریقہ ”لائک“ اور ”سیکولر“ نظام کی بنیاد پر ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ سیاسی واجتماعی مسائل سے دین کو بالکل جدا اور الگ ہونا چاہئے. البتہ ہوسکتا ہے کہ خود قانون گذار یا قوانین کے جاری کرنے والے افراد متدین اور دیندار ہوسکتے ہیں کہ ہر ھفتہ کلیسا(گرجاگھر) میں جائیں اور وہاں نذر ونیاز کریں ممکن ہے یہ لوگ دینی انجمنوں کے ممبر بھی ہوں اور حکومتی کاموں کے علاوہ ایک معمولی انسان کے طرح دینی کاموں میں بھی مشغول رہیں لیکن حکومت کے کاموں میں چاہے قانون گذاری شعبہ ہو یا شعبہ اجراء قوانین دین کی کوئی بات نہ کریں ۔

اگر آپ سنےں کہ مثلاً ”فرانس “میں (جو آزادی او ر جمہوریت کا گھوارہ مانا جاتا ہے) ایک باحجاب لڑکی کو کالج اور یونیورسٹی میں جانے سے روکا جاتا ہے ، تو اس کی وجہ یھی ڈیموکراٹک ہے جس میں دینی کاموں سے روکنا اس کا ایک وظیفہ ہے، اور کھتے ہیں کہ ہماری حکومت ایک لائک حکومت ہے ، لھٰذا دین کی کوئی علامت ہمارے کسی بھی سرکاری شعبوں میں نہیں ہونا چاہئے،روسری اورنقاب کا لگانا دینی طرفداری کی ایک نشانی ہے، اور سرکاری شعبوں مثلاً مدرسہ میں اس کا پہنناممنوع ہے ؛ ھاں اگر کوئی مدرسہ کلیسا سے مربوط ہوتا یا کوئی پبلک اسکول ہوتا تو اگر تمام لڑکیاں روسری پہنتی تو کوئی پریشانی والی بات نہ تھی، لیکن سرکاری کالج یا یونیورسٹی میں جہاں سرکاری سند دی جاتی ہے وہا ں یہ سب کچھ نہیں ہونا چاہئے، اسی طرح دوسرے وزارتخانوں میں دین کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے. یہ تھی جمہوریت کی ایک نئی تفسیر جس کی بناپر دینی اثرات جمہوریت کے خلاف ہیں ۔

ڈیموکراٹک کی اصلی اور نئی تصویر کے مطابق جس میں ڈیموکراسی کے معنی لوگوں کی حکومت ہے، اگر کچھ لوگ دیندار ہوں اور چاہیں کہ ادارہ جات میں دینی آداب ورسوم پر عمل کریں ، تو پھر مخالفت نہیں ہونا چاہئے؛ کیونکہ یہ کام لوگوں کی مرضی کے مطابق اور ان کے بنائے قوانین کے اعتبار سے ہے، ڈیموکراسک کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ ہر جگہ حتی مدارس اور وزارتخانوں او ردوسرے ادارجات میں لباس پہننے میں آزاد ہو، اور اگر لوگوں کی اکثریت دیندار ہے او راسی دین کی وجہ سے کوئی خاص قسم کا لباس پہننا چاہیں یا دینی پروگرام کرنا چاہیں ، تو پھر کسی کو حق نہیں ہے کہ ان کو روکے. جس وقت لوگوں کی مرضی سے یہ قانون بنایا گیا کہ وزارتخانوں ، یونیورسٹیوں اور دوسرے اداروں میں نماز جماعت کا ہونا ضروری ہے یہ ڈیموکراسک (جس معنی میں ہم مانتے ہیں )کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ خود لوگوں نے اس قانون کو بنایا ہے اور خود ہی جاری کرتے ہیں ، لیکن ڈیموکراسک کی دوحاضر کیتصویر کے مطابق اجماعی وسیاسی مسائل میں دینی رجحان نہیں ہونا چاہئے۔

۵۔ جمہوریت کی نئی تصویر سے استعمار کا بے جا فائدہ اٹھانا

جیساکہ ہم نے عرض کیا کہ ڈیموکراٹک کی نئی تصویر جسے استعمار ی حکومتیں پیش کرتی ہیں اور اپنے مقاصد کے تحت اس کو جاری کرتی ہے ، لائک اور سیکولرحکومتوں کے برابر ہے جو ذرہ برابر بھی یہ نہیں چاہتیں کہ سیاسی واجتماعی امور میں دین کی دخالت ہو. یھاں تک کہ اگر خود لوگ یہ کھیں کہ ہم اس دین کو قبول کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سرکاری دفاتر میں دینی رسم ورواج پر عمل کریں ، پھر بھی لوگوں کی مرضی کو ڈیموکراسک کے مخالف سمجھا جائے گا۔

اسی وجہ سے جب ”الجزائر“ میں انتخابات ہوئے اور وہاں ایک اسلامی پارٹی کامیاب ہوئی اور ڈیموکراٹک اصولوں اور اس ملک کے قوانین کے مطابق حکومت بنانا چاہی اور اسلامی قوانین کو جار ی کرنا چاہا ، مخالفوں نے احساس کیا کہ یہ پارٹی تو مضبوط ہوتی جارہی ہے اور مستقبل میں اسلامی حکومت بنانا چاہتی ہے تو بغاوت کردی او رانتخاب کو رد کرکے اس پارٹی کے لیڈروں کو پکڑپکڑ کرجیل میں ڈال دیا، اور اس پارٹی کو ختم کرکے اس کو غیر قانون قرار دے دیا. اور چند سال گذرنے کے بعد بھی اس پارٹی کو سراٹھانے کی اجازت نہیں ہے، جب کہ اس اسلامی ملک نے لاکھوں قربانی دے کر اس آزادی اور استقلال کو حاصل کیا تھا، اور قربان ہونے والے وہی مسلمان تھے کہ جھنوں نے اسلام کی خاطر اس وقت کی استعماری حکومت سے جنگ لڑی تھی یھاں تک کہ الجزائز کے لوگوں کو آزادی نصیب ہوئی، آج وہاں کی حالت بہت زیادہ خراب ہے جیسا کہ اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں کہ ہر روز دسیوں لوگ کو خطرناک طریقے سے قتل کیا جاتا ہے۔

وہاں رونما ہونے والے ان تمام حادثوں کے پیش نظر وہاں کی وہ حکومت جو بغاوت کرکے بنائی گئی ہے اس قتل وغارت گری کے ذریعہ اپنی حکومت کو مضبوط کرتی جارہی ہے، اور استعماری حکومتوں کے نزدیک وہاں کی یہ حکومت مقبول تر ہے، اس حکومت کے مقابلہ میں جو ووٹنگ او رلوگوں کی رائے سے بنی تھی جو دین اور اس کے احکامات کو جاری کرنا چاہتی تھی. اس خوف سے کہ کھیں دنیا میں ایک نئی اسلامی حکومت نہ بن جائے”اس طرح کی حکومت کو جمہوری نام رکھا، لیکن اگر خود لوگ اپنی رائے اور اپنی مرضی سے اسلام اور اسلامی حکومت کو چاہیں اس کو غیر ڈیموکراٹک کھتے ہیں کیونکہ لوگ اسلام کی طرف رجحان رکھتے ہیں “ لھٰذا جمہوریت کی نئی تفسیر کی بناپر دین کو اجتماعی وسیاسی مسائل میں بالکل دخالت نہیں کرنا چاہئے، یھاں تک کہ کوئی لڑکی چادر یا مقنعہ پہن کر کالج نہیں جاسکتی؛ جیسا کہ ترکی میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔

استعماری پٹھو ، اسلامی ممالک میں بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں بھی اسی طرح کی جمہوریت ہونا چاہئے حکومتی مسائل میں دین کے لئے کوئی جگہ نہ ہو چاہے قانون گذاری والا شعبہ ہو یا قانون کے جاری کرنے والا شعبھ، وہ ممالک جو اسلامی حکومت بنانے کے لئے بہت زیادہ راغب ہیں ان میں ثقافتی حملہ اور یونیورسٹیوں میں نفوذ کے ذریعہ اسلامی رجحان کو ضعیف وکمزور کرنا چاہتے ہیں ، اور جمہوریت کی اس تصویر کو رائج کرنا چاہتے ہیں ، اپنے خیال ناقص میں یہ گمان کرتے ہیں کہ چند سال بعد جب یہ نسل بدل جائے گی تو انقلابی نسل ختم ہوجائے گی اور اس کی جگہ وہ نسل آجائے گی کہ جو انقلاب کے اصولوں سے واقف نہیں ہے، وہ نسل ڈیموکراٹک کی اس نئی تصویر وتفسیر کو بروئے کار لائے گی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جمہوریت کے تین معنی اور تفسیر ہیں :

۱۔ لوگوں کا حکومتی مسائل میں براہ راست دخالت دینا جیسا کہ کچھ مدت کے لئے یونان میں رہی اور پھر ختم ہوگئی۔

۲۔ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعہ حکومت میں دخالت، جیسا کہ آج کل کے بعض ممالک میں رائج ہے او رخود ہمارے ملک میں بھی موجود ہے۔

۳۔ حکومت کے تمام کام (قانون گذاری ہو یا اجرائے قانون) دین سے جدا ہوں ، یعنی ڈیموکراٹک کاسیکولر اور لائک ہونا شرط ہے۔

۶۔ اسلامی نظریہ کے مطابق جمہوریت کی مناسب تصویر

ہم نے اس سوال کے جواب میں کہ اسلام حکومت کے کس انداز کو قبول کرتا ہے ؟ ہم نے قانون گذاری کے بحث میں عرض کیا کہ اگر قانون گذاری میں جمہوریت کے یھی معنی ہوں کہ اگر لوگوں کی اکثریت(۵۱ فی صد) جس قانون کی حمایت کریں وہ قانون معتبر اور واجب الاتباع ہے چاہے قرآن کی صریح آیات کے خلاف کیوں نہ ہو،تو اسلام ایسی ڈیموکراٹک کو نہیں مانتا، وہ اسلام جو خود حکومت کے مختلف پہلوں پر منجملہ عدالت (کورٹ) معاشی مسائل ، وغیرہ وغیرہ تمام مسائل میں قوانین رکھتا ہے وہ اس بات کی اجازت نہیں دےتا کہ اس کے صریح قوانین کے مخالف قوانین رواج پیدا کریں ، اور اگر ہم اس طرح کے قوانین کو رسمی مانے تو گویا ہم نے اسلام کو نادیدہ قرار دیا ہے۔

ایسی جمہوریت کا اسلامی قانون گذاری سے مخالف ہونا ایک بدیھی اور ظاہری بات ہے اور کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے. اگر کوئی یہ کھے کہ جمہوریت قانون گذاری یعنی قانون کے معتبر ہونے میں اسلام کے ساتھ ہم اہنگ نہیں ہے ، ظاہر ہے کہ اسلام بھی اس کے ساتھ ہم اہنگ نہیں ہوسکتا، اور جب کسی مجموعہ میں اسلام کی مخالفت پائی جاتی ہوتو اس کی بارے میں دلیل بھی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،اور جب کسی مجموعہ میں اصل اسلام سے ایسی مخالفت موجود ہو تو پھر یہ سوال نہیں ہونا چاہئے کہ اسلام کے ساتھ ہم اہنگ ہے یہ نھیں ؟ کیونکہ خود مجموعہ اس کی مخالفت میں بنایا گیا ہے ، پس اگر جمہوریت یعنی وہ قوانین جو اسلام سے متفق نہ ہوں ان کو معتبر ماننا تو پھر ہم یہ کھیں گے کہ اسلام اس جمہوری قانون کو معتبر جانتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو چیز اسلام سے سازگار نہیں ہے وہ سازگار ہوجائے، یہ ایک تناقض اور واضح البطلان نظریہ ہے استدلال کی ضرورت نہیں ۔

بہرحال جس چیز کی وضاحت کی ضرورت ہے جس کا ہم نے وعدہ بھی کیا ہے،وہ یہ ہے کہ جمہوریت کااجرائی سلسلہ ہے؛ یعنی قانون کو جاری کرنے والوں کے یقین میں لوگوں کا کیا کردار ہے؟،اسی طرح ان لوگوں کے انتخاب میں جو قوانین کو اسلامی نظریات کے تحت بنانا چاہتے ہیں (مثلاً اسلامی پارلیمینٹ کے ممبران )ان کے سلسلہ میں لوگوں کی کیا ذمہ داری ہے؟. اور جہاں پر اسلام کے ثابت اور دائمی قوانین نہیں ہیں ، اور آج کی ترقی یافتہ دنیا میں انسانی حالات کے پیش نظر نئے قوانین کی ضرورت ہوتی ہے، اسلام نے ان موارد میں حکومت کو اجازت دی ہے کہ اسلامی دائرہ میں ضروری قوانین کو بنائے ، مثلاً گاڑی چلانے سے متعلق قوانین وہ داہنی طرف چلیں یا بائیں طرف، یا ان کی رفتار کتنی ہو، ظاہر ہے کہ قرآن واحادیث میں اس سلسلہ میں کوئی واضح حکم تو ہے نھیں ، اور ایسے متغیر قوانین زمان ومکان کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں ، یہ کام اسلامی حکومت کا ہے کہ وہ اسلام کے کلی نظریات کے مطابق مناسب قوانین بنائے۔

مذکورہ بحث کی رو سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جمہوریت اور لوگوں کی اہمیت کا اندازہ قانون گذار اور قانون کے جاری کرنے والے جواسلامی بنیادوں کی رعایت کرتے ہوئے موقت اور متغیر قوانین بناتے ہیں ان کی تعین میں لگتا ہے. دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ جمہوریت یعنی لوگوں کا جدیت کے ساتھ اسلامی حدود وقیود کی رعایت کرتے ہوئے نمائندگان کے انتخاب کی معین شدہ خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے چننے کے لئے انتخابات میں شرکت کرنا،اور اس پرشروع انقلاب اور امام خمینی کے زمانہ سے عمل ہوتاآیا ہے. مثلاً اسلامی پارلیمنٹ کا انتخاب، صدر مملکت کا انتخاب، خبرگان رہبری کا انتخاب اور شوریٰ کا انتخاب. لھٰذا لوگوں کے منتخب شدہ افراد میں خاص شرائط کا ہونا ضروری ہے۔

یعنی مسلمان اور اسلامی احکامات کا دلسوز ہو اور قانون بناتے وقت اسلامی قوانین کی رعایت ضروری ہے. اقلیت کے نمائندوں کے علاوہ تمام نمائندوں میں ان صفات کے علاوہ مسلمان اور احکامات اسلامی کا دلسوز ہونا ضروری ہے ، اور اس کے ساتھ شورای نگھبان ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ پارلیمینٹ کے نمائندوں نے غفلت یا غلطی سے ایسے قوانین بنا ڈالے ہوں جو اسلام کے مخالف ہوں ، شورای نگھبان کا وظیفہ یہ ہے کہ پارلیمینٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو دیکھے کہ آیا اسلام سے مطابقت کرتے ہیں یا نھیں ، اور اگر اسلام کے مطابق ہیں تو ان کی تائید کرتی ہے او راگر اسلامی نظریات کے موافق نہیں ہیں تو پارلیمینٹ کو واپس بھیچ دیتے ہیں تاکہ ان پر تجدید نظر کرے، ہمارے ملک میں اس طرح کے قوانین سسٹامیٹک ہیں جن کو سب قبول کرتے ہیں او رکوئی بھی ان کی مخالفت نہیں کرتا۔

اسی طر ح قانون کو جاری کرنے والے جن میں سب سے اوپر صدر مملکت ہوتا ہے یھاں بھی اسلامی قوانین کی رعایت ضروری ہے. سب سے پہلے صدر مملکت میں ایسے صفات ہوں جو قانون اساسی میں ذکر ہوئے ہیں جو کہ اسلام سے ماخوذ ہیں ذکر ہوا ہے، اور اپنی حکومت کو چلانے میں خدا کی طرف سے اذن رکھتا ہو، اس طرح کہ لوگوں کی اکثریت کی حمایت کے بعد ولی فقیہ کے ذریعہ منصوب ہو، لھٰذااس صورت میں اس کی حکومت مشروع اور جائز ہوگی ، یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو ہمارے ملک میں انجام پاتی ہیں ۔

لوگوں کے نقش اور اسلامی نظام میں ان کے دخالت کو بہت ر طور پر سمجھنے کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں ؛ فرض کریں کہ ہم لوگ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں ہوتے او راپنے شہر میں کسی شائستہ ،مناسب اور صالح شخص کو ولایت کے لئے مناسب سمجھتے اور امام علیہ السلام کی خدمت میں جاکر عرض کرتے کہ فلاں شخص ہمارے شہر میں والی ہونے کی صلاحیت رکھتاہے، ممکن تھا امام علیہ السلام ہمارے اس مشورے پر اس شخص کو والی کے عنوان سے منصوب فرماتے۔

اب اگر لوگوں کی اکثریت امام علیہ السلام کی خدمت میں یہ مشورہ پیش کرےں تو بطریق اولیٰ امام علیہ السلام اس مشورہ کو قبول فرماتے، اور اس شخص کو اپنی حکومت کے اس علاقہ کی ولایت کے لئے منصوب فرماتے.پس معلوم یہ ہوا کہ لوگوں کے کردارکی اہمیت حکومت اور حکومتی کاموں میں تھیوری کے لحاظ سے ہے اسی طرح کہ افراد تحقیق وبررسی کریں کہ قانون گذاری اور ان کے اجراء کے لئے کون افراد مناسب ہیں ان کو ووٹ دیں او رلوگوں کا ووٹ دینا گویا رہبری کو مشورہ دینا ہے اور درحقیقت ولی فقیہ سے ایک عھدوپیمان ہے کہ اگر اس کو ہماراحاکم معین کریں تو اس کی اطاعت کریں گے، اسی وجہ سے جب امام خمینی کے زمانے میں لوگوں کی اکثریت کسی کو صدر مملکت کے عنوان سے منتخب کرتی تھی، تو حضرت امام خمینی فرماتے تھے:

میں ان کو جنھیں لوگوں کی تائید بھی حاصل ہے صدر کے عنوان سے منصوب کرتا ہوں ، یعنی لوگوں کے ووٹ ایک مشورہ کی طرح ہےں کہ ہم اس کو قبول کریں گے۔

یہ اسلامی حکومت کی تھیوری اور نظریہ ہے جو جمہوریت کے دوسرے معنی کے لحاظ سے کوئی مخالفت نہیں رکھتا، اور ۲ ۰ سال سے ہمارے ملک میں نافذ ہے او رکوئی بھی مشکل نہیں آئی. لیکن اگر جمہوریت کے معنی یہ ہوں کہ معاشرہ میں دین کی دخالت نہ ہوسرکاری اداروں میں کوئی بھی دینی پروگرام نہ ہوں تو کیا ایسی چیز اسلام سے ہم اہنگ ہے یا نھیں ؟ بے شک تیسرے معنی کی جمہوریت جو آج کا استعمار اس کی تفسیر کرتا ہے اور دوسروں پر اس کو تحمیل کرنا چاہتا ہے، سو فی صد اسلام ایسی جمہوریت کا مخالف ہے، کیونکہ یہ اسلام کے منافی ہے۔

لیکن جمہوریت دوسرے معنی یعنی اسلام کے ان شرائط کا لحاظ رکھنا جن کو اسلام نے قانون گذار اور قانون کے جاری کرنے والوں کے لئے معین کئے ہیں ،گویا لوگ صالح او رباصلاحیت افراد کو قانون گذاری اور اجرائے قانون کے لئے انتخاب کریں اور اپنی شرکت سے اسلامی حکومت سے ہمدردی اور ہمکاری کو ثابت کریں اور خود کو ملک کے مسائل میں شریک جانیں جمہوریت کی یہ تصویر اسلام کی نظر میں مقبول ہے اور ہمارے ملک میں اس پر عمل ہوتا ہے، اور اگر کسی مقام پر اس خلاف ورزی ہوتی ہے دیگر خلاف ورزیوں کی طرح جو گاہے گاہے وجود میں آتی رہتی ہیں تو ہم کو اس کی پیگیری کرنا چاہئے تاکہ دوبارہ اس قسم کی خلاف ورزی کی تکرار نہ ہو۔


بائیسواں جلسہ

اسلام اورجمہوریت (۲)

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

ہم نے گذشتہ بحث کے دوران اسلام کے سیاسی نظریہ پر ہوئے بعض اعتراضات کے بارے میں گفتگو کی تھی ، جن میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ اگر قوانین خداوندعالم کی طرف سے معین ہوں اور ان کو جاری کرنے والے بھی خداکی طرف سے معین ہوں تو یہ جمہوریت سے ہم اہنگ نہیں ہے، ہم نے اس اعتراض کے جواب میں عرض کیا تھاکہ جمہوریت کے کوئی خاص واضح وروشن معنی بیان نہیں ہوئے ہیں ”آٹن“ میں جمہوریت کا آغاز اس طرح ہواکہ شہر کے تمام لوگ شہری مسائل میں براہ راست دخالت کیا کرتے تھے. اور اس طریقہ کے عملی نہ ہونے اور دوسرے دلائل کی وجہ سے دانشمندوں اور فیلسوف حضرات کو اس پراعتراض ہوا. یھاں تک کہ ”رنسانس“ کے زمانہ سے خود پسند اور ظالم حکومتوں کے مقابلہ میں جمہوریت کی دوسری تصویر پیش کی گئی،اور مغرب زمین کے بڑے بڑے فیلسوف حضرات اس پر تنقید کرنے لگے ،یھاں تک کہ اس کی ایک قابل قبول شکل نکالی گئی اور اس کے بعد دوسرے ملکوں میں جانے لگی. اس کی موجودہ صورت یہ ہے کہ لوگ فقط پارلیمینٹ کے ممبران کے انتخابات میں شرکت کرتے ہیں ، اور قوة مجری (صدر یا وزیراعظم) یا مسئول قوة قضائیہ (رئیس قضاة) کے انتخاب میں لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا. اس نظریہ میں حکومت کی کوئی خاص شکل وصورت معین نہیں ہوتی اسی وجہ سے مختلف حکومتیں بادشاہی، پارلیمینٹی، یا ریاست جمہوری حکومتیں اپنے کو جمہوری حکومت تصور کرتی ہیں ، کیونکہ اس حکومت میں کسی نہ کسی طریقہ سے لوگوں کا کردار ہوتا ہے۔

۲۔سیکولر جمہوری اور اس کے فلسفہ کی وضاحت

جیسا کہ ہم نے عرض کیا،مغربی ممالک کے سیاست داں حضرات نے جمہوریت کی ایک نئی شکل پیش کی ہے کہ جس جمہوریت میں ”لائیزم“ کے معنی پائے جاتے ہیں یعنی ایک طرف تو لوگ بھی حکومت میں دخالت رکھتے ہوں او ردوسری طرف یہ کہ کسی بھی سرکاری دفتر میں دین کی کوئی نشانی نہ پائی جائے.

دین نہ توقانون گذاری میں کوئی دخالت ہو او رنہ ہی قانون کے جاری کرنے والے دین کے نام پر حکومت کریں ،یھاں تک کہ جو شعبہ جات حکومت سے وابستہ ہیں ان میں بھی دین کی کوئی نشانی نہ ہو،دینی اعتقاد یا اس کی طرف داری کا کوئی وجود نہ ہو. اسی وجہ سے بعض حکومتوں میں لڑکیوں کوکالج میں باپردہ جانے سے روکا جاتا ہے، کیونکہ دینی نشانی کے ساتھ کالج میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس کی حمایت کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے یہ جدید معنی سوفی صد دین کے مخالف ہےں ، او ر ایسی حکومتوں کو جمہوریت کا نام دینے کے بجائے ”بے دینوں کی ڈکٹیٹری“ کہنا مناسب ہے، کیونکہ یہ لوگ جمہوریت کے نام پر معاشرہ میں دینی اعتقادات اور مذہبی امور کو انجام دینے کی اجازت نہیں دیتے، اورسرکاری دفاتر میں دینی امور پر عمل کرنے کووممنوع قرار دیتے ہیں ۔

یہ طریقہ کار کہ جس کی کوئی فلسفی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی فلسفی نظریہ ہے، لیکن دشمنان دین کا مقصد یہ ہے کہ مغربی اور یورپین ممالک میں دین، خصوصاًاسلام کو پھیلنے سے روکا جائے، اور اپنی تمام تر کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ممالک یھاں تک کہ اسلامی ممالک میں جمہوریت کے نام پر اسی جمہوری انداز کو اپنائیں کہ جس کا نمونہ الجرائر اور ترکی میں دیکھنے میں آتاہے۔

ڈکٹیٹری کی سخت شکل سے نکالنے کے لئے اور اس کی جگہ جمہوریت کی نرم وملائم شکل پیش کرنے کے لئے ایک فلسفہ تراشی شروع کی ،تاکہ دینداروں کے اعتراضات کا مقابلہ نہ کرنا پڑے، اور ان کے غصہ کو کم کرسکیں ،اسی وجہ سے حکومتی دفاتر میں دینی نشانیاں نہ ہونے کی توجیہ اور وضاحت کرتے ہیں اور فلسفہ کا راہ حل پیش کرتے ہیں کہ (جیسا کہ حقوق بشر کے نشریہ میں بھی موجود ہے) تمام انسان انسانیت میں برابر ہیں اور ان میں کوئی درجہ بندی نہیں ہے اور ہمارے پاس درجہ اول یا درجہ دوم کے انسان نہیں ہےں ، اسی بناپر اگر کسی دین کے لئے کسی امتیاز کے قائل ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس دین کو دوسرے دیگر ادیان پر ترجیح دی اور اس کا سب سے بڑا درجہ مانا. پس کسی دین کا احترام کرنا یاسرکاری دفاتر میں اس کے دینی رسم ورواج کی اجازت دینا ، گویا اس دین کو ایک خاص امتیاز دینا ہے جبکہ ہم تمام انسان برابر ہیں اور کسی ایک کے دوسرے پر امتیاز کے قائل نہیں ہیں !

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکومتیں کس طرح اجازت دیتی ہیں کہ جس طرح چاہیں عمل کرےں جس طرح کا کپڑا پہننا چاہیں پہنےں ،لیکن دیندار لڑکیوں کے باحجاب ہونے پر پابندی ہے ، درحقیت یہ بعض شہریوں کی آزادی کی نفی اور ان کے حقوق کی پامالی ہے۔

۳۔سیکولر نظام کی فلسفی بنیاد میں مغالطہ

بہر حال ،وہ اپنی کارگردگی کے لئے مذکورہ توجیہ وضاحت پیش کرتے ہیں ،لیکن اس میں ایک بہت بڑامغالطہ اور غلطی یہ پائی جاتی ہے کہ تمام انسانوں کا انسانیت میں برابر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام شہری ،شہری ہونے میں برابر ہوں کیونکہ تمام انسانوں کا انسانیت میں برابر ہونے کی بحث کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسلام نے تاکید کی ہے، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( یاَا یُّها النَّاسُ إِناَّ خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَا نْثیٰ وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ ا کْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰه ا تْقَاکُمْ ) (۱)

”لوگوں ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم ہی نے تمھارے قبیلے اور برادریاں بنائیں تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرلے، اس میں شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تم سب میں بڑا عزت دار وہی ہے جو بڑا پرہیزگار ہو“

قرآن کریم واضح طور پر انسانوں کے درمیان فرق اور امتیاز کی نفی کرتا ہے اور ان کو ایک آدم کی اولاد کھتا ہے کہ جو آپس میں بھن بھائی ہیں ، اور ان میں کوئی فاصلہ وامتیاز نہیں ہے. یہ مطلب کسی بھی آسمانی کتاب میں اس کیفیت کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے. اور ہم بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے معتقد ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں اور انسانیت درجہ اول اورودم نہیں رکھتی، مشہور ومعروف شاعر سعدی کا یہ شعر بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہیں

بنی آدم اعضای یکدیگر اند

کہ درآفرنیش زیک گوہرند

لھٰذا جوہر انسانیت تمام انسانوں میں برابر ہے اور انسانوں میں درجہ اول اور ودم نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان تمام چیزوں میں برابر ہیں یھاں تک کہ ایک ملک کے تمام شہری تمام سھولتوں میں برابر ہوں اور تمام دنیا میں اس کو ایک اصل کے عنوان سے بین الاقوامی حقوق میں قبول کیا گیاہے کہ کسی ملک کی تابیعت (نیشنلٹی) خاص شرائط اور خاص سھولتیں رکھتی ہے. ممکن ہے کوئی شخص اپنے ملک سے مھاجرت کرے اور چند سال کسی دوسرے ملک میں زندگی بسرکرے ،اِس ملک کو فیض پہونچائے اور وہاں کے لوگوں کیلئے کافی خدمات انجام دے؛ لیکن پھر بھی اس کو وہاں کی نیشنلٹی اس کو نہیں ملے گی.

چونکہ مھاجر افراد کو نیشنلٹی ملنے کے لئے خاص شرائط وقوانین درکار ہوتے ہیں اور جس وقت اس کو نیشنلٹی دیں بھی تو ممکن ہے اس کو دوسرے درجہ کا شہری قرار دیں ، اوراس کو اول درجہ کی شہریت والی سھولتیں اس کو نہ دیں یہ مسئلہ تمام دنیا میں پایا جاتا ہے درحالیکہ تمام انسانوں کو انسانیت میں برابر مانا جاتا ہے، لیکن شہریوں کے حقوق اور سھولتیں نیشنلٹی کے لحاظ سے برابر نہیں ہیں ، اور نیشنلٹی کا اول درجہ اور دوسرا درجہ ہے ،لھٰذا یہ کہنا محض ایک مغالطہ ہے کہ تمام انسان چونکہ انسانیت میں شریک ہیں لھٰذا انسانیت کا درجہ اول ودوم نہیں ، لیکن شہریت میں دو درجہ ہوسکتے ہیں اور اس کو اسلام نے بھی قبول کیا ہے۔

ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے اور توجہ رکھنا چاہئے کہ مغربی ڈکٹیٹری حکومتیں اپنے کو جمہوری حکومتیں کھلاتی ہیں ، تاکہ اپنے نامشروع مقاصد میں کامیاب ہوجائیں ، ہمیں ان کی فریب کار شکل سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے، حقیقت میں جمہوریت کی جدید شکل ایک ڈکٹیٹری ہے جس کی وجہ سے مسلمان عورتیں حجاب اور دوسرے مذہبی مراسم سے محروم ہیں جبکہ ”حقوق بشر نشریہ“ میں موجود ہے کہ دین آزاد ہے اور سبھی لوگ دینی وظائف پر عمل کرنے میں آزاد ہیں ، اس میں یہ کوئی قید وشرط نہیں ہے کہ سرکاری دفاتر میں کوئی مذہبی کام ہو یا نہ ہو، لیکن اپنی مرضی کے مطابق اس کی تفسیر ومعنی کرتے رہیں اور جنگ کو صلح کے نام سے اور دوسروں پر ظلم کو حقوق بشر کی حمایت کے نام سے جائز جانتے ہیں ، اور ہم آپ ہر روزان کے ظلم وجور اور دھوکہ دہڑی کو دیکھتے رہتے ہیں ۔

۴ ۔مدیریت کے میدان میں جمہوریت کا دوسرا رخ

جیسا کہ ہم نے عرض کیاکہ جمہوریت کے تین معنی ذکر کئے گئے ہیں کہ ان سب کا تعلق فلسفہ سیاست سے ہے، لیکن بعض مولفین جو خود کو دینی روشن فکر کہلاتے ہیں وہ یہ کھتے ہیں کہ جمہوریت کا فلسفہ سیاست سے کوئی ربط نہیں ہے، بلکہ جمہوریت مدیریت سے مربوط ہے ،اور اس کو حکومت یا حکومتی ادارہ سے کوئی ربط نہیں ہے،اور اس بحث کی جگہ سیاسی فلسفہ میں نھیں ھے. ہم ان لوگوں کے جواب میں مختصر طور پر اتنا عرض کرتے ہیں : کہ فلسفی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سیاسی فلسفہ کے بارے میں ایسی کوئی کتاب نہیں ہے کہ جس میں جمہوریت سے بحث نہ کی گئی ہو، اب اگر جمہوریت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر سیاسی فلسفوں کی کتابوں میں اتنی زیادہ بحث کے کیامعنی؟ ان کے دعویٰ کا راز یہ ہے کہ جمہوریت کی جو نئی تصویر مغربی ممالک کے لیبرل دانشمندوں اور مولفوں نے پیش کی ہے تاکہ اس کو سیاسی مفہوم سے خارج کردیا جاسکے، اور اس کو دوسرے اجتماعی میدانوں میں داخل کردیں ان کا کہنا یہ ہے کہ جمہوریت صرف کسی حاکم کی قدرت کو محدود کرنے یا چندمخالف گروہوں کے درمیان سازش (خلاف قانون تال میل) کرانے یا صرف حکومتی اداروں سے مربوط نہیں ہے بلکہ کسی بھی مدیریتی شعبہ میں ہوسکتی ہے: فرض کیجئے اگر کسی کارخانہ کے مختلف شعبوں کے مدیروں کے درمیان اختلاف ہوجائے، تو ان میں اتفاق کرانا ضروری ہے کیونکہ اگریہ اختلاف بڑھتا چلاجائے تو اس کارخانہ کی دیوالیہ نکل جائے گا، لھٰذا اس کارخانہ کے منافع کو فراہم کرنے کے لئے سبھی کو ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور ان میں اتفاق ہو یا یہ کہ اکثر لوگوں کی رائے کو مانا جائے، اس طریقہ کار کو جمہوریت کھا جاتا ہے۔

پس معلوم یہ ہوا کہ جمہوریت کسی سازمان کے اندر ہوئے اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ہے،اور جمہوریت کے یہ معنی سیاسی فلسفہ سے خارج ہے اور مدیریت کے دائرے میں شامل ہے. اگرچہ حکومت بھی چونکہ معاشرہ کی کثیر تعداد کو ادارہ کرنا بھی ایک مدیریتی کام ہے ، لیکن بہرحال اس کے خاص حدود ہیں ،یہ لوگ جمہوریت کے معنی میں وسعت دینے کے لئے کھتے ہیں کہ اگر دوگروہوں میں اختلاف ہوجائے اور مذکورہ طریقہ سے آپس میں سازش کرلیں تو اسی کا نام جمہوریت ہے. اس بارے میں مزید وضاحت اس طرح ہے کہ دوگروہوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں ممکن ہے کہ ایک گروہ زیادہ مضبوط ہو او ر دوسرے پر مسلط ہوجائے او راپنے نظریہ کو اس پر زبردستی تحمیل کردے، تو ظاہر ہے کہ یہ طریقہ جمہوری نہیں ہے؛ لیکن اگر آپس میں اتفاق ہوجائے اور آخرکار اکثریت کے نظریہ کو تسلیم کرلیں تو گویا انھوں نے جمہوریت کو تسلیم کرلیا ہے۔

البتہ ہم کسی اصطلاح کو بنانے یا کسی علمی اصطلاح میں وسعت دینے کے مخالف نہیں ہیں ، لیکن یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ درحقیقت یہ معنی سیاسی میدان سے مربوط ہیں جس کو دوسرے مسائل میں بھی وسعت دی گئی ہے. اور اجتماعی علوم میں ایسے بہت سے معنی موجود ہیں جن کو شروع میں کسی خاص میدان میں استعمال کیا جاتا تھالیکن ان میں وسعت دینے کے بعد ان کو دوسرے میدانوں میں میں بھی استعمال کیا جانا لگا،مثال کے طورپر آپ ”اسٹراٹیجی“( Strategie ) (یعنی لشکر کشی) کے لفظ سے آگاہ ہیں جو تمام ہی محافل میں مشہور ہے.کہ دراصل اس کے معنی”سوق الجیشی“ (لشکر کشی) کے ہیں اور اس کو فوجی سطح پر بولا جاتا ہے اور اسٹراجسٹ اس کو کھا جاتا ہے جو جنگ کا نقشہ اور اس کو کمانڈ کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے، مثلاً کسی حملہ کا پلان بناتا ہے، اور اس حملہ کی راہنمائی کرتا ہے، یہ لفظ جنگی فوج کی ہدایت یا اس کے طریقہ حرکت یا جہاں سے حرکت ہوتی تھی یا جہاں پر پڑاؤ ڈالا جاتا تھایا جہاں سے حملہ شروع ہوتا تھااس علاقہ کو سوق الجیشی یا اسٹراٹیجک علاقہ کھا جاتا تھا۔

اس کے بعد اس لفظ میں وسعت دی گئی اور دوسرے علوم میں بھی اس کو استعمال کیا جانے لگا، مثلاً خود ہماری سیاسی بحث میں بھی ”اسٹراٹیجک سیاست“ ایک اصطلاح ہے. یھاں تک کہ تعلیمی شعبہ کی بعض مدیریتوں میں اسٹراٹیجک مسائل بیان ہوتے ہیں ، اور ہمارے قانون اساسی میں میں بھی ایسے بہت سے اصول ہیں جو اسٹراٹیجک پہلو رکھتے ہیں ، اس اصل کے مانند جو یہ کھتی ہے کہ ملک کے قوانین کو اسلامی قوانین کے مطابق ہونا چاہئے. لیکن بعض ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو قانون اساسی کا دم بھرتے ہیں اور اسی کو سند بناتے ہیں کہ گویا قانون اساسی قرآن سے بالاتر کوئی چیز ہے لیکن کبھی ایسی مخالفت کرتے ہیں کہ گویا قانون اساسی کی ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے. جہاں پر قانون اساسی میں لوگوں کی رائے کے احترام کے بارے میں ملتا ہے تو گویا قرآن مجید کو بھی ان کے برخلاف بولنے کی اجازت نہیں ہے. پیغمبر اور ائمہ معصومین اور امام زمانہ علیہم السلام کو بھی لوگوں کی رائے کی مخالفت کا حق نہیں ہے.؟!

لیکن جب قانون اساسی یہ کھتا ہے کہ ملک کے قوانین اسلامی قوانین کے مطابق ہونے چاہئےں ،تو وہ اس کو بھول جاتے ہیں اور اس کی مخالفت شروع کردیتے ہیں اور کھتے ہیں کہ معیار لوگوں کی رائے ہے!!

کیا اسی قانون اساسی میں نہیں ہے کہ اس ملک کے قوانین کو اسلامی قوانین کے مطابق ہونا چاہئے؟ لھٰذا اگر کوئی چیز اسلامی نظر سے حرام ہو تو پھر آپ قانون اساسی کو سند بناکرکس طرح اس کو جائز کرسکتے ہیں ؟ اس قانون اساسی کے پیش نظر کہ جو قوانین اسلام کی رعایت پر اتنی تاکید کرتا ہے یہ کھہ کر کہ اخبارات آزاد ہےں ، کس طرح اسلامی مقدسات اور اسلام کے ضروری احکامات کی توہین کی جائے؟

اخبارات خاص قوانین کے تحت آزاد ہیں نہ یہ کہ قانون سے بڑہ کر آزاد ہوجائیں جب قانون اساسی اسلامی مقدسات کے احترام کو واجب کرتا ہے اور ضروریات دین کا انکار اور اسلامی قوانین کا مسخرہ کرنا ، نیز خدا وپیغمبر کا مذاق بنانا جو مرتد ہونے کا سبب ہے تو پھر اخبارات کے قوانین اس کو کس طرح جائز کرسکتے ہیں قانون اساسی اس وجہ سے لکھا گیا تاکہ اسلامی جمہوری کے مفہوم کو واضح وروشن کرسکے۔

۵۔جمہوری اسلامی میں اسلام وولایت فقیہ کا سب سے اہم مقام

انقلاب کی کامیابی کے پہلے سال یعنی ۱۳۵۸ء ہ شمسی میں جمہوری اسلامی کا” رفرنڈم“ '' Referendum '' (ھمہ پرسی) ہونے والا تھا جس میں حکومت کی شکل وصورت کے لئے خاص نشانات پیش کئے گئے تاکہ سبھی لوگ اس کے حساب سے ووٹ ڈالیں ان میں سے بعض جمہوری، جمہوری ڈیموکراٹک، جمہوری ڈیموکراٹک اسلامی، جمہوری اسلامی تھے. لیکن امام خمینی نے فرمایا: ”جمہوری اسلامی“ نہ ایک لفظ کم نہ زیادھ، اور اس میں ۹ ۸فی صد لوگوں نے ”جمہوری اسلامی“ کو ووٹ دئے، یعنی اسلامی حکومت کی قید وشرط کو نہیں ھٹایا جاسکتااور اس کی جگہ ”ڈیموکراٹک“ لفظ کو نہیں رکھا جاسکتا. اور اگر ڈیموکراٹک کا لفظ اسلام سے بالاتر کوئی چیز تھی تو کیوں امام خمینی نے اجازت نہ دی کہ اس لفظ کو اسلامی حکومت کے ساتھ اضافہ کیا جائے؟

اور اگر جمہوریت اور ڈیموکریسی میں کوئی فرق نہیں ہے تو جب جمہوریت ہے تو ڈیموکریسی بھی ہے، لھٰذا ڈیموکریسی لفظ کے لانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے. پس جب بعض لوگ ”جمہوری ڈیموکراٹک“ پر تاکید واصرار کررہے تھے، تو امام خمینی نے ان کی مخالفت کی؛ معلوم یہ ہوا کہ ڈیموکراسی کے مختلف معنی ہوسکتے تھے اور جمہوریت میں بعض چیزوں کا اضافہ ہوسکتا تھا کہ جن کی نفی کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام سے بڑہ کر لوگوں کے ووٹوں اور ان کے نظریات پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔

بہرحال ہماری حکومت ،جمہوری اسلامی ہے کہ جن کے ستون لوگوں کے شانوں پر ہیں اور انہیں لوگوں نے انقلاب کیا ہے اور اپنے انقلاب کی اسلامی قوانین کے تحت حفاظت کرتے ہیں مرحوم شھید استاد مطھری اس سلسلہ میں ہماری بحث کو وضاحت کرتے ہوئے بیان دیتے ہیں کہ :

”جمہوریت حکومتی شکل کو بیان کرتی ہے اور اسلامیت حکومت کے محتویٰ کو بیان کرنے والا ہے“ حکومت کا محتویٰ یہ ہے کہ اسلامی قوانین کونافذ کیا جائے لیکن حکومت کی شکل وصورت بادشاہت کے مدمقابل ہے. لھٰذا ہماری حکومتی بادشاہی نہ ہوگی، بلکہ اس کی شکل جمہوری اور اس کے قوانین اسلامی ہونگے. اصل احکام اسلامی ہوں گے اور اسلام سے پہلے یا اسلام کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی۔

حضرت امام خمینی مکرر فرمایا کرتے تھے :

جمہوری اسلامی میں ہر حکومت یا کسی بھی حکومتی پوسٹ کی مشروعیت ولی فقیہ کی اجازت پر موقوف ہے، اور یہ وہ چیز ہے جس پر ولایت فقیہ کی تھیوری قائم ہے، اور ہم نے اس مسئلہ کو فقھاء کرام اور سب سے زیادہ امام خمینی سے حاصل کیا ہے، جس پر عقلی ونقلی دلیلیں بھی قائم ہیں کیونکہ ولی فقیہ امام معصوم (ع) کا جانشین ہوتا ہے اور تمام چیزوں کو الہی ارادے کے تحت ہونا چاہئے اور چونکہ ولی فقیہ امام معصوم (ع) اور خدا وندعالم کی طرف سے اجازت رکھتا ہے، لھٰذا کسی بھی نظام کی مشروعیت ولی فقیہ کی اجازت پر موقوف ہے.

البتہ یہ طریقہ ان لوگوں کے نظریات سے موافق نہیں ہے جومغربی تمدن سے متاثر ہیں اور ہماری اس نظریہ کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ توحید کے نظریہ سے لیا گیا ہے اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ہے؛ نہ یہ کہ علماء کرام کی صنف سے اخذ شدہ ہے. اور جیسا کہ ہم نے پہلے وضاحت کی تھی کہ خداوند عالم کی تشریعی ربوبیت تقاضا کرتی ہے کہ قانون گذاری اور نفاذ قانون دونوں خدا کی اجازت سے ہونے چاہئےں ، اوراگر اس کے علاوہ ہے تویہ ایک قسم کا شرک ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس معاشرہ میں لوگ کوئی کردار نہیں رکھتے،اس حکومت میں لوگوں کا کردار (اسلام کے معین کردہ پہلو سے) سوفی صد ہے اور اس سلسلہ میں کوئی دوسری چیز اس کے بدلہ نہیں رکھی جاسکتی، لیکن مشروعیت اورمقبولیت میں ایک فرق کا قائل ہونا ضروری ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ”رنسانس“ کے بعد سے مغربی نظریہ کے لحاظ سے حقوقی و فلسفی اور اجتماعی گفتگو میں خدا یا دین کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے، البتہ مغربی نظریہ سے ہماری مراد صرف وہ لوگ نہیں ہیں کہ جو مغربی ممالک میں زندگی بسر کرتے ہیں ، بلکہ ہماری مراد وہ نظریہ ہے، جو مغرب میں مو جودہ نظام کے نزدیک قبول شدہ ہے. مثلاً جس وقت حقوق بشر کے نشریہ میں انسانوں کے حقوق کی بات آتی ہے تو اس میں تو خدا سے انسانی رابطہ کا بیان ہے ہی نھیں اور اگر کسی مذہب کی بات ہوتی ہے تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ہر انسان مذہب کو اختیار کرنے میں آزاد ہے، وہاں یہ کوئی گفتگو نہیں ہوتی کہ کون سی چیز حق ہے یا کون سی چیز باطل ہے، خدا ہے یا نھیں ، ایسی چیزیں بالکل بیان نہیں ہوئی ہیں

اور جس وقت اجتماعی حقوق منجملہ حقوق اساسی، حقوق شہری یا کیفری حقوق کی بات ہوتی ہے تو اگر کسی جگہ یہ حقوق خدا سے مربوط ہوتے ہیں تو ان کی کوئی گفتگو نہیں ہے، وہاں بالکل یہ بات بیان نہیں ہے کہ خدابھی لوگوں پر حق رکھتا ہے یا نھیں ؟ یا خدا کی طرف سے انسانوں پر کوئی تکلیف ہے یا نھیں ؟ انھوں نے حقوقی گفتگو میں خدا کے حقوق کی بالکل کوئی بات نہیں کی، لیکن اگر ہم چاہیں اپنے اعتقادات کی بناپر اسلامی تعلیمات اور حقوق الہی پر مبنی اپنے ملک کے حقوق کومعین کریں تو ان کوہمیں روکنے کا کوئی حق نہیں ہے. ہم مسلمان اورموحد ہونے کے لحاظ سے معتقد ہیں کہ تمام حقوقی مسائل ، اجتماعی ،شہری اور سیاسی حقوق میں تمام جگھوں پر خدا کا لحاظ رکھیں اور تمام حقوق سے بالاتر خدا کے حق کو مانےں ،اور اس کے حق کے بدلے میں ہم پر کچھ تکالیف عائد ہوتی ہیں جن کو ہمیں انجام دینا چاہئے۔

دوسری طرف یہ کہ صرف انسانوں کے حقوق کی ہی بات نہیں ہونا چاہئے بلکہ حق وتکلیف ساتھ ساتھ بیان ہونے چاہئےں اور سب سے اہم خدا کے معین کردہ تکلیف ہے. خداوند عالم کی تشریعی ربوبیت کا حق یہ ہے کہ تمام انسان سیاسی واجتماعی مسائل میں خدا کے احکام کو قبول کریں اور ہم چونکہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے اعتقادات کی بناپر اپنے ملک میں قوانین بنائیں اور ان پر عمل کریں اور ہمارے قانون اساسی میں یہ کام ہوا ہے اسی وجہ سے ہمارے نزدیک یہ اہم اور اول درجہ رکھتا ہے اور قانون اساسی کا احترام ، اسلام کے احترام کے مانند ہے۔

۶۔اسلام کی مورد قبول جمہوریت

جمہوریت کے ایک معنی اسلام کے موافق ہے اور ایک معنی(یعنی تیسرے معنی) اسلام کے سوفی صد مخالف ہے. جمہوریت کے دوسرے معنی خاص شرائط کے ساتھ قابل قبول ہے لیکن بغیر کسی قید وشرط کے قبول نہیں ہے. اور چونکہ اسلامی قوانین کی رعایت ضروری ہے لھٰذا قانون گذاری میں کسی بھی مرکز کو یہ حق نہیں ہے کہ اسلام کے ضروری احکام کی مخالفت کرے اور یہ ایک ایسی اصل ہے جو دینی لحاظ سے مقبول ہے، لھٰذا اس اصل کو قبول کرتے ہوئے ہم جمہوریت کو قبول کرتے ہیں ؛ لیکن اگر اس اصل کو نہ مانا جائے اور جمہوریت کا یہ مطلب ہو کہ الہی حدود اور احکامات اسلامی کی مخالفت کو بھی جائز کرلیا جائے تو پھر ہم اس جمہوریت کو سوفی صد ردّ کرتے ہیں او رجمہوریت کے اختلاف کو حل کرنے کے طریقہ کی حد تک لیا جائے تو ہم کھیں گے کہ جہاں تک اختلافات کو حل کرنے کے لئے اسلامی احکامات کافی ہیں تو یہ مقدم ہیں لیکن اگر کوئی ایسی جگہ ہو کہ اسلام نے اس کے راہ حل کے لئے کوئی معین راستہ پیش نہ کیا ہو اور کوئی باصلاحیت مرجع نہ ہو تو پھر اکثریت کی رائے کو مانا جائے گا، یعنی اگر کسی مقام پر کوئی دلیل شرعی یا تحقیقی نظریہ موجود نہ ہو یا اس اختلاف کو حل کیا جاسکے۔

مثلاً کچھ لوگ قانون کے تحت کسی مہم کام کے لئے کو ئی شورایٰ بنائیں اور تمام لوگ اسلام کا اعتقاد رکھتے ہوں اور اسلامی قوانین کی رعایت کریں لیکن کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے اور اکثرلوگوں کی کچھ نظر ہو اور اقلیت کی کچھ نظر ، اوران دو نظریات کو ترجیح دینے کے لئے بھی کوئی راستہ نہ ہو تو یھاں پر اکثریت کی نظر مقدم ہے اور اکثریت کی نظر کی مخالفت کرنا ترجیح مرجوح ہوگی (جوقبیح ہے)۔

خلاصہ یہ ہوا کہ اگر کسی مقام پر کوئی مرجح نہ ہواور اکثریت کی نظر سے ہمیں ظن(گمان) حاصل ہوجائے تو یہ ظن ہمارے نزدیک معتبر اور مرجح ہے،اور اگر اکثریت کی وجہ سے ظن حاصل نہ ہوتو اس کو ترجیح دینا بغیر کسی مرجح کے ہوگا جو عقلا مذموم اور نادرست ہے. یہ طریقہ بس اسی حد تک معتبر ہے،لیکن اس طریقہ سے ناجائز فائدہ اٹھاناصحیح نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت کو اقلیت کے مقابلہ میں کیا جائے، مثلاً فرض کیجئے ایک فوجی نقشہ بنانے کے لئے دہ افسر معین ہوئے اور دوسری طرف ایک ھزار عام آدمی ہوں کہ جن کو فوجی مسائل سے بالکل بھی کوئی آشنائی نہ ہو، اگر عام لوگوں کی رائے پر توجہ کی جائے او ران کو مانا جائے او ران ماہر افسروں کی رائے پر عمل نہ کیا جائے تو یہ کام عقل سے دور ہے. لھٰذا جمہوریت اختلافات کو حل کرنے کے لئے خاص شرائط کے ساتھ معتبر ہے؛ لیکن ہر اکثریت کو ہر اقلیت پر ترجیح دی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

حوالے

۱۔سورہ حجرات آیت ۱۳.


تئیسواں جلسہ

انسانیت میں اصل وحدت کی تحقیق اور شہریوں کی اتباع

۱۔ اسلامی نقطہ نظر کسی کا صاحب حق ہونا

فلسفہ سیاست کی بحثوں میں فلسفہ حقوق بہت قریب ہے اور دونوں میں مشترک یا مشابہ مسائل بیان کئے جاتے ہیں مثال کے طور پر سیاست کی بحث میں حقوقی مسائل کی تحقیق کی جاتی ہے اسی بنیاد پر ہم نے فلسفہ حقوق(یعنی انسانوں کا انسانیت کے اعتبار سے اہم ہونا) کی بحث میں اس سے پہلے والے جلسہ میں اشارہ کیا تھا اور یہ بھی بیان کیا تھا کہ اگرچہ تمام انسان انسانیت میں مشترک ہیں اور اسلام کی نظر میں انسانوں کے ما بین پہلے طبقہ اور دوسرے طبقہ کے انسان نہیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اجتماعی مسائل میں تمام انسان حقوق اور تکالیف کے اعتبار سے مساوی ہیں ، اس بارے میں جو افراد مکمل طور پر ان مسائل سے آگاہ نہیں ہیں یا ان کے ذریعہ سوء استفادہ کرتے ہیں تاکہ اسلام اور انقلاب کے مخالف نظریات رکھتے ہوئے بھی اپنے کو مسلمان او رانقلابیوں کی فہرست میں کھڑا کرسکیں اور اس کی وجہ سے انقلاب سے فائدہ اٹھاسکیو،اور صرف یھی نہیں بلکہ انقلاب کے خلاف مطالب تلاش کرسکیں انھوں نے اس بارے میں مغالطہ کیا ہے کیونکہ معاشرہ میں پہلے طبقہ اور دوسرے طبقہ کے انسان نہیں ہیں لھٰذا تمام افراد کے حقوق برابر ہونا چاہیئے جیسے گروہ بنانے کے لئے اقدام کرنا اور ملک ملت میں کسی بلند عھدے کا پانا ان کے نظریہ کے مطابق ہر شخص چاہے وہ کسی بھی عقیدہ کا تابع ہی کیوں نہ ہو وہ صدر مملکت یا وزیر اعظم ہوسکتا ہے اور کوئی بھی پارٹی بنا سکتا ہے۔

چونکہ ان کا استدلال یہ ہے کہ جب انسانوں کے مابین پہلا طبقہ اور دوسرا طبقہ نہیں ہے اور تمام انسان برابر ہیں اور ہم جو انقلاب اسلامی اور قانون اساسی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں تو ہم کو یہ حق ہے کہ تمام حقوق میں برابر حصہ ملے اس مغالطہ کے بارے میں یہ عرض کردیا گیا ہے کہ صحیح ہے کہ انسانوں میں پہلا طبقہ اور دوسرا طبقہ نہیں ہے، یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن تمام حقوق و وظائف اصل انسانیت میں سب کے درمیان مشترک نہیں ہیں بلکہ بعض حقوق و وظائف میں اصل انسان کے علاوہ دوسری خاصیتں ہوتی ہیں ، بہر حال کچھ افراد نے اس مطلب کو درست نہیں سمجہا یا اپنی کسی غرض کی وجہ سے اس مطلب کی غلط تفسیر کی ،اور کھا کہ فلاں صاحب کھتے ہےں کہ ہم شہریوں کے مابین پہلا طبقہ اور دوسرا طبقہ موجود ہے اور شہریوں کے پہلے طبقہ سے مراد روحانیت ہے اور بقیہ دوسرے شہری دوسرے طبقہ میں شمار کئے جاتے ہیں ۔

حقیر اس شبہ کے لئے اس وقت کے جلسہ کو مخصوص کرتا ہے،قارئین کرام اس موضوع کے واضح ہونے کے لئے جو بحث حقوق عالم کے فلسفیوں کے مابین بیان ہوتی ہے اور اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں اس کی طرف توجہ دیجئے وہ بحث یہ ہے کھ. اصولی طور پر ریشہ حق کیا ہے ؟ یعنی کس طرح کوئی صاحب حق بنتا ہے، یہ جو کھا جاتا ہے کہ فلاں شخص حق رکھتا ہے یا نہیں رکھتا یہ حق کھاں سے پیدا ہوتا ہے ؟ ہم کس بنیاد پر کھتے ہیں کہ کوئی شخص فلاں کام کو انجام دینے کا حق رکھتا ہے یا نہیں رکھتا ؟ فلسفہ حقوق کے مختلف، جیسے مکاتب حقوق تاریخی، پوزیتویزم حقوق طبعی اور دوسرے حقوقی مکاتب ہر ایک نے اس کے مختلف جوابات دئے ہیں

اسلام کا اس بارے میں خاص نظریہ ہے یعنی اسلام کی نگاہ میں تمام حقوق در اصل خدا وند عالم کی طرف بازگشت ہوتی ہے. چونکہ ھستی اسی کے کرم سے ہے اور ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کا دیا ہوا ہے اور تکوینی میں ہمارا وجود اور کچھ ہمارے پاس ہے وہ خدا کے لئے ہے (انَّا لِلّٰہ )اور تمام چیزیں (مِنَ اللّٰہ ) ہیں اسی طرح تشریعی امور بھی خدا کی طرف سے مستند ہونے چاہئیں حقوق کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ ہمارا کلی نظریہ تھا جس کو ہم نے مختصر طور پر بیان کیا ہے کھ. خدا وندہ عالم تمام انسانوں کو مساوی حقوق عطا کرتا ہے ؟ یا بعض بندوں کو خاص حق عطا کرتا ہے کہ دوسروں کو وہ حق نہیں دیتا ؟ مختصر طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ خدا وند عالم نے انبیاء کو جو حقوق عطا کیئے ہیں وہ دوسروں کو عطا نہیں کیئے ہیں اس نے ماں باپ کو کچھ حقوق عطا کیئے ہیں اور اولاد کو دوسرے حقوق دیئے ہیں ۔

لیکن کیا (معاذاللہ ) خدا وند عالم کا قانون بغیر حساب وکتاب کے ہے یعنی خداوند عالم بغیر کسی معیار و ملاک کے کسی کو کوئی حق دیتا ہے اور دوسرے کو وہ حق عطا نہیں کرتا ہے یا اس کی نظر میں کوئی خاص ملاک و معیار پایا جاتا ہے ؟ اور اگر کوئی ملاک و معیار ہے تو کونسا ملاک ہے ؟ تو جن حقوق کو خداوندعالم اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے وہ ان خاص وظائف کی وجہ سے ہے جن کو وہ انجام دیتے ہیں .ہم کو خداوند عالم نے اس لئے پیدا کیاہے تاکہ ہم اپنے ارادہ و اختیار سے کمال حقیقی اور سعادت ابدی کی طرف حرکت کریں ، لھٰذا ہم پر ایک کلی فریضہ عائد کیا گیاہے جسکو اسلامی ثقافت میں خدا کی عبادت سے کھاجاتاہے اور خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:

( ا لَمْ عَهدَ إِلَیْکُمْ یَا بَنِیْ آدَمَ ا نْ لَا تَعْبُدُوْا الشَّیْطَانَ إِنَّه لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِیْنٌ وَا نِ اعْبُدُوْنِی هذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیْمٌ. ) (۱)

”اے آدم کی اولاد کیا میں نے تمھارے پاس یہ حکم نہیں بھیجا تھا کہ (خبردار) شیطان کی پرستش نہ کرنا وہ تمھارا کھلم کھلا دشمن ہے. اور یہ کہ دیکھو صرف میری عبادت کرنا یھی (نجات کی) سیدھی راہ ہے “

اور دوسری آیت میں ارشاد فرماتاہے :

( فَا رْسَلْنَا فِیْهمْ رَسُوْلاً مِنْهمْ ا نِ اعْبُدُوْا اللّٰه ) .(۲)

”اور ہم نے انہیں میں سے (ایک صالح کو) رسول بنا کر ان لوگوں میں بھیجا (اور انھوں نے اپنی قوم سے کھا ) کہ خدا کی عبادت کرو “

نتیجہ کے طور پر تمام انبیاء کی دین کی طرف دعوت پرستش خدا سے شروع ہوتی ہے اور تمام انسانوں کے لئے یہ کلی وظیفہ اقتضاء حقوق رکھتا ہے یعنی جب انسان اللہ سے قریب ہونا چاہتا ہے تو لازم چیزیں اس کے اختیار میں ہونی چاہئے اسی طرح معاشرہ میں کچھ راستے اور قونین ایسے ہونا چاہئیں جو ان کی راہنمائی کرسکےں جب انسان خدا وند عالم کی طرف بڑھنا چاہتاہے تو اس میں حیات ہونا چاہئے تو معلوم ہوا کہ حق حیات پہلا حق ہے دوسرا حق راستہ چلنے کے لئے آزادی ہونا چاہئے اس کے لئے کہ یہ راستہ اجباری نہیں ہے بس انسان کو کسی راستہ کو انتخاب کرنے کے لئے آزاد ہونا چاہئے ،تیسرا حق اس مادی دنیا کی نعمتوں کو استعمال کرنا ہے اس لئے اگر انسان اس دنیا کی نعمتوں سے استقادہ نہیں کرے گا تو زندگی نہیں گذارسکے گا اور اپنی حیات کو باقی نہیں رکہ پائے گا، وہ اپنی حیات کو باقی رکھنے اور کمال حقیقی وابدی اور خدائے ھستی تک مکمل سیر کے لإئے اس دنیا کی کھانے اور پینے کی چیزوں سے استفادہ کرنے کا حق رکھتا ہے، خداوندعالم نے جن خواہشات کو انسان میں رکھا ہے ان میں سے جنسی شھوت بھی ہے او رانسان کو اس سے استفادہ کرنے کا حق ہے، اس لئے اس کو اپنے لئے ہمسر کی تلاش کرنا ہوگی، چونکہ انسان خود مشاہدہ کررہا ہے کہ حقوق اور وظیفہ آپس میں مربوط ہیں ۔

گذشتہ بحثوں میں ہم نے حق اور وظیفہ کے سلسلہ میں یہ اشارہ کیا تھا ا کہ ہم پر خداوندعالم کی طرف سے یہ حکم ہے کہ ہم خدا کی طرف چلیں اوراس کی اطاعت کریں ، اور اس کے مقابلہ میں ہمارے کچھ حقوق ہیں جن سے ہم استفادہ کرتے ہوئے اس راہ کو ہموار رکھیں ۔

اس بنیاد پر معاشرہ میں جو کچھ لوگوں کی عمومی زندگی میں ان کے خدا تک پہونچنے میں رکاوٹ بن رہا ہو تو اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کی روک تھام کرے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اسلامی معاشرہ سے ان چیزوں کو دور کرے جو خدا کی خوشنودی میں حائل ہورہی ہیں ، اسی طرح انسان اپنی شخصی اور فردی زندگی میں بھی انسان مکلف ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کامل بنانے میں آنے والی ہر چیز کو مھیا کرے او ران کو مظبوط بنائے، او راس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرے، اس بنا پر حقوق پانے کا معیار او رملاک افراد کی قابلیت اور ان میں شرائط کا پایا جانا ضروری ہے تاکہ ان کے ذمہ کچھ وظائف اور ذمہ داریاں دی جاسکیں اور انہیں کی وجہ سے ان کو حقوق دئے جائیں ۔

۲ ۔تکالیف ا ور حقوق کے مابین طبیعی اور کسبی اختلاف کا اثر

اب تک بیان کیئے گئے مطالب کی روشنی میں صرف اس وجہ سے کہ تمام انسان ایک ہیں اور اصل انسانیت میں مشترک ہیں تو کیا سب کے حقوق ووظائف میں برابر ہونے چاہئیں ؟ یہ درست ہے ہم تمام انسان اصل انسانیت میں شریک ہیں لیکن خود انسانوں کے اندر بہت زیادہ اختلافات پائے جاتے ہیں جن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتاہے .۔

(الف)۔اختلافات طبیعی اور جبری

میں فرق انسانوں کے مابین سب سے زیادہ اختلافات طبعی اختلافات ہیں جیسے جنسی فرق مفہوم زیست شناسی کے عنوان سے (منطقی مفہوم کے اعتبار سے نھیں ) جو مرد اور عورت کے مابین پایا جاتا ہے ان دونوں کے مابین فیزیولوجی(علم اعضا ) اور بائی لوجی (علم حیات) روانی اور عاطفی مسائل میں اختلافات پائے جاتے ہیں انہیں اختلافات کی وجہ سے ان کے مابین وظائف اور حقوق کے لحاظ سے فرق رکھا جاتا ہے یعنی یہ صحیح ہے کہ عورت بھی انسان ہے اور مرد بھی انسان ہے اور دونوں ایک ہی درجہ میں ہیں اور انسانیت میں دو درجہ نہیں ہوتے ہیں لیکن عورت کے جسم میں خاص بناوٹ کے ساتھ ساتھ روحانی بناوٹوں کی وجہ سے اس کے ذمہ خاص وظائف عائد کیے گئے ہیں ، عورت جو کردار بچے کی ولادت اور اس کو دودہ پلانے میں ادا کرتی ہے مرد کبھی اس ذمہ داری کو وفا نہیں کرسکتا. اور اس بارے میں ان دونوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا .چونکہ یہ مسئلہ عورت اور مرد کے طبعی (فطری ) اختلاف سے مربوط ہے اور اسی وجہ سے خاص وظائف اس کے ذمہ عائد کئے گئے ہیں اب جب عورت اپنی ذاتی اور طبیعی خصوصیات کی وجہ سے اس چیز کی پابندھے جیسے بچے کو نو مھینے تک اپنے پیٹ میں رکھے، اور اس کے بعد دوسال تک بچہ کو دودہ پلانے کی ذمہ داری اور پرورش اس کے ذمہ ہے انہیں سب امور کی وجہ سے اس کے لئے خاص حقوق نظر میں رکھے گئے ہیں

اگر یہ طے ہو کہ عورت اپنی طبیعی اور ذاتی خاصیتوں کی وجہ سے بچہ دار ہواس کے بعد میں بچہ کو دودہ پلاکر اس کو بڑا کرے اور اسی حالت میں بالکل مردوں کی طرح کام کرے اور ا پنی زندگی کے خرچ فراہم کرے، تو یہ اس کی اصلی ذمہ داری نہ ہوگی بلکہ اس پر ظلم ہوگا بچہ دار ہونے اور بچہ کو غذا دینے جیسی مشکل ذمہ داریوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے خاص حقوق ہونے چاہئیں یعنی مرد کا وظیفہ ہے کہ وہ عورت کا خرچ پورا کرے، اگر یہ طے ہو کہ عورت خود کام کرے تو بہت سے کام ایسے ہونگے جن سے بچہ ساقط ہوجائگا یا بہت سے کام ایسے ہوں گے کہ وہ بچہ کو وقت پر دودہ نہیں پلاسکے گی عاطفی نقطہ نظر سے بھی اگر عورت چین وسکون نہ رکھتی ہو اور اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی فکر میں ہے تو یہ اضطراب و بے چینی بھی بچہ میں اثر انداز ہوتی ہے ۔

علمی اعتبار سے یہ ثابت ہوا ہے کہ عورت کو جتنا بھی روحی آرام ہوگا وہ اسی لحاظ سے بچہ کی تربیت کرے گی. اسی وجہ سے اسلام میں عورت کے لئے خاص حقوق رکھے گئے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیوی کا خرچ شوہر کے ذمہ ہے، یھاں تک کہ عورت بچہ کو دودہ پلانے کی اجرت اپنے شوہر سے لے سکتی ہے یعنی یہ اجرت ان زحمتوں کی ہوتی ہے جو بچہ کو دودہ پلانے میں اٹھاتی ہے، اسی وجہ سے گھر میں اس کوخاص اہمیت ہونی چاہئےے۔

لھٰذا مرد وعورت کے مابین حقوق اور وظائف کے اعتبار سے یہ تصور کرنا دونوں انسان ہیں ، لھٰذا ان کے حقوق اور ذمہ داریاں بھی ایک ہی طرح کی ہوں ، یہ غلط ہے. ھاں دونوں انسانیت میں شریک ہیں لیکن عورت اور مرد ہونے میں شریک نہیں ہیں مرد اپنی خاص خصوصیات کا حامل ہے اور عورت اپنی خصوصیات کی متحمل ہے یھی خاص خصوصیات وظائف اور حق میں اختلاف کا سبب ہیں

اس وجہ سے انسانو ں کے درمیان کچھ اختلافات طبعی اور جبری طور پر پیدا ہوتے ہیں یعنی کوئی شخص بھی اپنے لئے عورت ہونے کو منتخب نہیں کرتا اور اسی طرح کوئی عورت اپنے کو مرد ہونا منتخب نہیں کرتی ہے یہ مسئلہ تو ارادہ الٰھی سے مربوط ہے ،خدا فرماتا ہے:

( یَهَبُ لِمَنْ یَشَاءُ إِنَاثاً وَ یَهَبُ لِمَنْ یَشَاءُ الذُّکُوْرَ. ) (۳)

”اور جسے چاہتاہے (فقط) بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتاہے (محض) بیٹے عطا کرتاہے “ نتیجہ یہ نکلا کہ افراد کا ارادہ واختیار اپنی اور اپنی اولاد کی نسیت معین کرنے میں دخالت نہیں رکھتا لیکن جب کسی کو جنسیت کے لحاظ سے مرد یا عورت بنادیا گیا تواس کے ذمہ خاص تکلیفیں قرار دیدی گئیں جن کا انجام دینا اختیاری ہے اور اس کے کچھ حقوق بھی ہوں گے جن کو وہ وفا کرسکتا ہو لھٰذا اس طرح کے اختلافات کو اختلافات طبیعی کھا جاتا ہے۔

(ب)انسانوں کے مابین دوسرا اختلاف اختیاری ہے

جو افراد زندگی بسر کرنے کی خاطر خاص شرطوں کو حاصل کرتے ہیں فرض کرلیئجے جو شخص علم دین حاصل کرتا ہے وہ اپنے اندار اتنی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے، معاشرہ میں کسی عھدہ کو سنبھال سکے لیکن جاہل شخص اس عھدہ کو نہیں سنبھال سکتا. یا وہ افراد جو کسی فن میں مھارت حاصل کرلیتے ہیں وہ لوگ اس لحاظ سے کہ انسان کے حقوق مساوی ہیں ان کا زحمت نہ اٹھانے والے افراد اور جنھوں نے کسی فن میں کوئی مھارت حاصل نہیں کی ان سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہے.

اگر کوئی درس پڑہ کر اور زحمت اٹھاکر پائیلیٹ بن جائے تو اس کے مقابل میں اگر کوئی درس نہ پڑھنے والا. زحمت نہ اٹھانے والا اور اس فن میں مھارت نہ رکھنے والا یہ ادعا کرے کہ میں بھی پائیلیٹ بننا چاہتا ہوں تو اس کا یہ دعوی قابل قبول نہیں ہوگا بیشک تمام افراد اس کو یھی کھیں گے کہ اگر تم پائیلیٹ بننا چاہتے ہو تو پہلے علم حاصل کرو.

اسی طرح اگر جاہل اور مسائل سیا سی سے نا واقف شحص یہ کھے کہ میں بھی وزیر اعظم ہونے کا حق رکھتا ہوں تو اس سے یھی کھیں گے کھ:وزیر اعظم بننے کی کچھ شرطیں ہوتی ہیں تم ان شرطوں کو حاصل کرلیتے اور تمھارے اندر ذاتی توانائی ہوتی تو تم بھی کنڈیڈیٹ ہوسکتے تھے اور لوگووں کے ووٹ حاصل کرکے منتخب ہوسکتے تھے لھٰذا وہ یہ نہیں کھہ سکتا کہ چونکہ انسانوں کے مابین پہلا اور دوسرا درجہ نہیں ہے لھٰذا میں بھی وزیر اعظم ہونے کا حق رکھتا ہوں ایسا نہیں ہے کہ ہر انسان خواہ وہ ملت کی راہ کے خلاف ہی کیوں نہ چل رہا ہو ، اورملک کے اساسی و بنیادی قانون کو قبول نہ کرتا ہو یہ کھے :

چونکہ میں بھی انسان ہوں لھٰذا وزیر اعظم ہونا چاہتا ہوں ؟ لھٰذا صرف اس وجہ سے کہ تم انسان ہو، تم کو ملک کی کوئی پوسٹ دے دی جائے کیونکہ ہر پوسٹ کے لئے کچھ نہ کچھ شرطیں ہوتی ہیں مثال کے طور پر اسلامی ملک میں وزیر اعظم مسلمان ہونا چاہئے، ایک غیر مسلمان شخص (درحالیکہ ہم اس کے احترام کے قائل ہیں اور قانون اساسی بھی اس کے لئے حق کا قائل ہوا ہے ) وزیر اعظم نہیں بن سکتا.

۳۔ افراد کے لئے شہریت کے قوانین میں مختلف درجات کا معین ہونا

پوری دنیا میں خاص منصب کے لئے خاص شرطیں رکھی گئی ہیں منجملہ جن امور میں خاص شرطیں رکھی گئیں ہیں ان میں سے ایک نیشنلٹی کا مسئلہ ہے اور عالمی حقوق میں یہ بات مسلم ہے کہ نیشنلٹی یکساں او ربرابر نہیں ہے اور خصوصی حقوق بین الملل سے مختصر سی آشنائی رکھنے والا انسان بھی اس مطلب کو درک کرتا ہے. فرض کرلیجئے اگر ایک ایرانی شخص کسی یورپی ملک یا امریکا کے کسی ملک میں رہنا چاہتاہے پہلے تو اس کے وہاں پر رہنے کے لئے اس میں کچھ شرطوں کا ہونا ضروری ہے اگر اتفاقاً اس کو نیشنلٹی دے بھی دی جائے تو اس کووزیر اعظم ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی. کیوں کہ وہ درجہ دوم کا شہری ہے ممکن ہے وہ ایک طولانی مدت تک اپنے تمام امتحانوں میں کامیاب رہا ہو، اور درجہ دوم کی نیشنلٹی سے درجہ اول کی شہریت میں آجاے۔

بہر حال اگر کوئی شخص جس ملک کی شہریت رکھتا ہو ایسا نہیں ہے کہ وہ تمام حقوق جو اس ملک کے باشندے رکھتے ہیں اس شخص کو بھی وہی حقوق دیدے جائیں چونکہ شہریت میں فرق ہے اور کئی درجہ رکھتی ہے ، اگر ہم مان لیں کہ انسانیت کے درجات نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شہریت بھی درجے نہیں رکھتی، ہر ملک اپنے باشندوں کے لئے خاص شرطوں کا قائل ہے اسلام میں بھی خاص شرطیں ہیں صرف یہ کہ تمام انسان انسانیت میں شریک ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شہریت میں بھی سب برابر ہیں

لھٰذا نتیجہ یہ نکلاکہ ہر ملک کے افراد اس ملک کے باشندے شمار کئے جاتے ہیں وہ بھی منصب اور مقام کے لحاظ سے ایک نہیں ہیں اور ان کے حقوق بھی جدا جدا ہیں لیکن کونسا معیار و ملاک ان کے حقوق معین کرتا ہے اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں ،حقیر کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ تمام اذن الٰھی کی طرف پلٹتے ہیں جو لوگ لیبرال (آزادی خواہ) ممالک یا ڈیمو کریٹ (جمہوری) ممالک میں زندگی بسر کرتے ہیں وہ قوانین کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ہیں اور یہ کھتے ہیں کہ ہم کو لوگوں کی رائے کا تابع ہونا چاہئے. لیکن ہم یہ کھتے ہیں کھ: لوگوں کی رائے کے علاوہ خدا کی اجازت بھی ہونا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ ہماری رائے اورخواہش خدا کے قانون کے خلاف نہیں ہوں

بہرحال کوئی بھی ملک تمام افراد کے لئے مساوی شہریت کا قائل نہیں ہے اور چونکہ انسانیت میں درجہ نہیں ہے لھٰذا شہریت بھی درجات نہیں رکھتی اس کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا، ہمارے اساسی اور بنیادی قوانین میں بھی اس مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے، اور ہمیں تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو قانون اساسی کے اس بند پر توجہ نہیں کرتے ،قانون اساسی کا بند یہ کھتا ہے:

”جو اشخاص بھی ایرانی نیشنلٹی حاصل کرنا چاہتے ہیں یا حاصل کریں گے وہ تمام حقوق جو ایرانیوں کے لئے مقرر ہیں وہی حقوق ان کے لئے بھی ہیں سوائے وزیر اعظم، وزرات، یا ہر طرح کی خارجی سیاست کے عھدہ “

یعنی جو شخص بھی ایران کی شہریت میں آجائے اس کو سیاسی عھدہ دار یا سفیر بننے کا حق نہیں وہ کونسلیٹ اور وزیر نہیں بن سکتا ہے حالانکہ اس نے ایرانی شہریت قبول کرلی اور ایرانی حکومت نے بھی اس کو اپنی نیشنٹی دے دی لیکن اس کو اس طرح کے حقوق مانگنے کا کوئی حق نہیں یہ ہمارے (ایران) کے قانون۔

۴۔اسلام کی نگاہ میں پہلے اور دوسرے طبقہ کی شہریت

ہم اب شہریت کے متحقق ہونے اور اس کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو تفصیلی طور پر بیان نہیں کرسکتے، اس لئے کہ یہ بحث فلسفہ حقوق سے مربوط ہے اور ہماری بحث کا موضوع فلسفہ سیاست ہے. لیکن مختصر طور پر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ ممالک کی حد بندی میں اسلام کا حقوقی نظریھکی رو سے اعتقادات اصل ہےں ، اور جغرافیائی اعتبارسے حد بندی کی کوئی اصل نہیں ہے۔

اسلام کا سب سے پہلا ہدف یہ ہے کہ دنیا میں اسلامی حکومت قائم ہو (انشاء اللہ امام زمانہ عجل اللہ تعلی فرجہ الشریف کے ظھور کے بعد قائم ہوگی)اس میں جغرافیائی حد بندی اٹھالی جائے گی اور تمام افراد امت اسلام اور ایک حکومت کے شہری ہونگے اور ان کی شہریت کا ملک اسلام ہے اس حکومت میں غیر مسلمان افراد کے حقوق اور وظائف مسلمانوں سے متفاوت ہونگے، غیر مسلمان کو ایک مسلمان کے تمام وظائف اور عھدہ نہیں ملے گا،اور نہ ہی اس کو مسلمان کے تمام حقوق اس کو دیئے جائنگے یہ اسلام کا پہلا ہدف ہے۔

لیکن خاص شرائط کے اعتبار سے ولی فقیہ اور اسلامی حکومت عنوان ثانوی کے ما تحت جغرافیائی حد بندی کو معتبر سمجھ سکتے ہیں اس بنا پر اگر ہم جغرافیائی حد بندی کو معتبر سمجھ سکتے ہیں تو اسلام کی طرح حکم اولی کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ ثانوی طریقہ اور مصلحتوں کی وجہ سے ہے جو منطقہ اور بین الاقوامی قوانین کے ماتحت ہے اور وہ قوانین ولی فقیہ کے دستخط کے ذریعہ ہمارے لئے معتبر ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ تمام حد بندی ولی فقیہ کے ذریعہ متعین کی جاتی ہے

نتیجتاً پہلے طریقہ اور آئیڈیل اسلام میں شہریت کے دوسرے درجہ میں شمار ہونگے لیگن خاص شرطوں کی وجہ سے جغرافیائی حد بندی معتبر مانی گئی ہے اور قانون کی بنیاد پر شہریت کے لئے خاص شرطوں کو نظرمیں رکھا گیا ہے، ولایت فقیہ کے نظریہ پر کی بنیاد پر جب ان شرائط وقوانین پر ولی فقیہ دستخط فرمادیں تو تمام احکامِ اسلامی کی طرح وہ بھی واجب الاطاعت ہوں گے، جبکہ حضرت امام خمینی نے فرمایا ہے کہ ”اسلامی حکومت کے قوانین کی اطاعت کرنا واجب ہے“

۵۔نظام ولایت فقیہ کا دوسرے نظاموں سے فرق

جو افراد ہمیشہ جمہوریت کا دم بھرتے ہیں او راپنی حکومت کو ولایت فقیہ کی بنیاد پر اچھا نہیں سمجھتے انھوں نے اس ملک کے لئے ولایت فقیہ کی خدمات کی طرف توجہ نہیں دی ہے، اوروہ یہ بھی توجہ نہیں کرتے کہ ولایت فقیہ کے نظریہ کی بنیاد پر اسلامی حکومت کے احکام وقوانین اور اسلامی پارلیمینٹ کے وضع کئے ہوئے قوانین کی شورای نگھبان کی تائید کے بعد اطاعت کرنا واجب ہے، چونکہ وہ ولی فقیہ کی اجازت سے اس مرحلہ تک پہونچے ہیں ، اور ان کا اذن خدا کا اذن ہے، اس نظام کا ایک بڑا امتیازیھی ہے، لیکن اگر ہم ولایت فقیہ کو تسلیم نہ کریں توکم از کم وجوب عرفی کی بناپر قوانین کی اتباع کرنا ہوگی، جو لوگ اپنی خواہش کے قانون کو رائے دے چکے ہیں ،ورنہ خود اپنے ہی عھد پر وفادار نہیں ہوں گے،اور اگر دل چاہے تو اس عھد سے لوٹ جائیں اور اپنی درخواست پر تجدید نظر کریں اور اپنی خواہش کے مطابق قانون میں تغیر وتبدیلی کرسکتے ہیں ، جمہوری حکومت میں لوگوں پر قوانین کی اطاعت کرنا کوئی واجب نہیں ہے۔

اسلامی حکومت میں ولی فقیہ کی اجازت اور دستخط سے قانون معتبر جانے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ لوگوں کے خود لازم کردہ اور وجوب عرفی کی بناپر ان کے لئے لازم ہوتے ہیں اور وجوب شرعی بھی رکھتے ہیں اور ان کی مخالفت کرنا گناہ اور سزا کا باعث بھی ہوتا ہے۔

اسلامی حکومت کے قوانین کی اتباع کرنے اور جو قوانین اکثر لوگوں کی رائے کا نتیجہ ہوتے ہیں ان کی اتباع کرنے میں کتنا فرق ہے اورچونکہ نمائندہ مجلس کو اکثر لوگوں نے اپنے ووٹ دے کر منتخب کیا اور خود اس کی اتباع کرنے کو لازم قرار دیا ہے اب جن افراد نے اس قانون کی ووٹ نہیں دئے یا وہ اقلیت جنھوں نے اس نمائندہ مجلس کو ووٹ نہیں دئے ان افراد کو اس قانون کی کسی حدتک اتباع کرنا چاہئے؟ جو قانون اکثر افراد کی رائے سے بنایا گیاہو تو کیا نفسیاتی، عاطفی اور قلبی اعتبار سے اس قانون کے مخالف افراد پر بھی اس قانون کی اتباع کرنا لازم ہے؟ اور کس طرح قلبی طور پر بھی وہ اکثر لوگوں کی خواہش کی مطابق ملتزم ہوں ؟

جو قوانین اسلامی حکومت کے ذریعہ نمائندگان مجلس کے توسط سے بنائے جاتے ہیں ، اور ولی فقیہ نے بھی ان کی تائید فرمادی وہ خداوندعالم کی طرف سے واجب ہوگئے اور ان کی اطاعت کرنا واجب ہے، او رجن افراد نے ان قوانین کو اپنی رائے نہیں دی ہے ان پر بھی شرعی طور پر ان کی اتباع کرنا لازم ہے، البتہ تمام افراد اس بات سے واقف ہیں اور اسلامی حکومت کے قوانین کو تھہ دل سے تسلیم کرتے ہیں ان کو شرعی قوانین کی حیثیت دیتے ہیں اور ان کی مخالفت نہیں کرتے ۔

چونکہ وہ الہی اور اسلامی حکومت کے قوانین وضوابط سے آشنا ہیں اس طرح سے قوانین کے ضوابط کو قبول کرنا اور اس کی اتباع کرنا یہ نظام الہی کی خصوصیات میں سے ہے جو ہمارے ملک میں نظام ولایت فقیہ کے ماتحت وجود میں آئی ہے، اسلامی انقلاب سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ تمام لوگوں پر رہبر اور ولی فقیہ کی اطاعت کرنا ضروری ہے اور ان کے اوامر اور راہنمائی کی طرف خالصانہ قدم اٹھانے ہی سے ہم کامیاب ہوئے ہیں ،چاہے وہ دوران انقلاب ہو یا انقلاب کے بعد کا زمانھ، اور فی الواقع جنگ میں کامیابی اور سرفرازی کا رازبھی یھی ہیں ۔

دنیا میں کون سا ایسا شخص ہے جو یہ نہ جانتا ہو کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں ایک اہم چیز لوگوں کا اپنی مذہبی رہبر پر اعتقاد رکھنا اور ان کی اطاعت کرنا تھا، اس وقت یہ کہنا بہت ہی بے انصافی ہوگی کہ جس ملک میں شھیدوں نے اپنی جانفشانی اور فداکاریوں سے امام خمینی اور مرجع تقلید کے امر سے جہاد کیا اور اسی راہ میں شیھد ہوگئے اورجس کی برکت سے اسلامی نظام وجود میں آیا اور یھی آزاد فضا جو شیھدوں کے خون اوران کی فداکاریوں کا نتیجہ ہے اس میں کچھ لوگ یہ کھیں کہ : امام خمینی نے ایک دفعہ ہوا طوفان مچایا اور لوگوں کی تحریک کو نھضت انقلاب اسلامی کا نام دیدیا،کیا اس دعوے کی کوئی حقیقت ہے؟ اگر ایران کی عوام انقلاب کے موقع پر اپنے دینی اور شرعی وظیفہ کو انجام دینے کے لئے قیام نہ کرتے اور گولیوں کی بوچھار میں اپنے سینوں کو سِپر نہ بناتے تو کیا انقلاب کامیاب ہوجاتا؟ اور اگر امام خمینی کا حکم نہ ہوتا تو کیا وہ اس کام کو کرتے؟ حقیقت کو بھُلانا اور اس کا انکار کرنا بے انصافی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دین اور امام خمینی کے رہبریت نے ہمیشہ انقلاب کے کامیاب ہونے، اس کے دوام پانے اس کے بعد جنگ میں کامیابی پانے اور تمام مشکلوں اور سختیوں میں ثابت قدم رہ کراہم کردارادا کیا ہے، اور انشاء اللہ حضرت امام خمینی قدس سرہ کے لائق وشائستہ جانشین (حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی) اور ان کی حکیمانہ تدبیروں کے زیر سایہ یہ کامیابی وموفقیت ایران کے فدارکار لوگوں کی یکتائی اور ہمدلی کے ذریعہ اسی طرح باقی رہے گی، اور لوگ ولی فقیہ کے سایہ میں کمال اور ترقی کے مزید مراحل کو طے کریں گے۔

خلاصہ کلام یہ ہواکہ شہریت کی درجہ بندی کرنا ایک ایسی چیز ہے جس کو پوری دنیا کی تمام حکومتوں میں تسلیم کیا گیا ہے البتہ اسلام کے نقطہ نظر اور دوسروں کے نقطہ نظر سے شہریت کے ملاک اور اس کی شرطوں میں فرق ہے، لیکن شہریت کے درجہ میں اختلاف ایسی چیز نہیں ہے کہ ہم اس کو ایجاد کیا ہو، اور شہریت کے درجہ میں یہ فرق انسانیت میں لوگوں کے مشترک ہونے سے کوئی ربط نہیں رکھتا ہے ، تمام انسان انسانیت کے درجہ میں ایک ہیں ، لیکن یاتو ان میں طبیعی طور پر وہ شرطیں موجود ہوتی ہیں جو وظائف اور حقوق کے اختلاف کا سبب ہوتی ہیں یا وہ جو خصوصیات، طاقت اور قابلیت کو حاصل کرتے ہیں ان کی وجہ سے ان کو کچھ منصب دئے جاتے ہیں او ران کے عوض میں ان کو حقوق دئے جاتے ہیں ، تو اب حقوق اور وظائف کے مابین فرق یا تو طبیعی ہے یا افراد کے انتخاب اور اختیار میں ہے، مثال کے طور پر وہ خاص دین کو تسلیم کرلیں یا کسی فن میں مھارت حاصل کرکے کسی منصب کوحاصل کرلیں ، اور اس میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کہ یہ اختلاف اور کسب شدہ خصوصیات اور منجملہ اصول مبانی کو تسلیم کرنا وہ انسان کی شہریت میں موثر ہوسکتا ہے۔

والسلام

حوالے

.۱سورہ مومنون آیت ۲۲.

۲۔سورہ شوری آیت۴۹.

۳۔سورہ یٰس آیت۰ ۶


فہرست

پہلا جلسہ ۴

اسلامی سیاست کے سلسلے میں چند اہم سوالات ۴

مقدمہ ۱ ۴

.۲اسلام اور اس کا سیاسی نظریہ ۵

۳۔اسلامی سیاسی نظریہ کا بنیادی ہونا ۶

۴۔اسلامی حکومت کی حقیقت اور اس کے ارکان ۷

۵۔اسلامی حکومت کا ڈھانچہ ، اس کے اختیارات اور وظایف کی وسعت ۸

۶۔اسلامی حکومت میں لوگوں کا کردار اور چند دیگر سوالات ۱۰

۷۔ اسلام کے سیاسی نظریہ کو پہچاننے کے طریقے ۱۰

حوالہ ۱۲

دوسرا جلسہ ۱۳

اسلام کے سیاسی نظریہ کی بحث کی اہمیت اور ضرورت ۱۳

۱۔ اسلامی انقلاب سے مغرب ومشرق کا برتاؤ ۱۳

۲ ۔ جوانوں کی گمراہی کے لئے مغرب کا ایک ثقافتی حربہ ۱۴

۳۔فرہنگی تین حربے ۱۵

الف:دین کو سیاست سے جدا کرنے کی فکر رائج کرنا ۱۶

ب: ولایت فقیہ کا انکار ۱۶

ج۔ ولایت فقیہ کو موردِ اعتراض قرار دینا ۱۷

۴۔دشمن کی مذکورہ سازشوں کے مقابلے میں ہمارا وظیفہ ۱۸


۵۔دشمن کی سازشوں کے مقابلہ میں بہت رینراستوں کا انتخاب ۱۹

۶۔دین کی تعریف اور اس کے حدود ۲۰

۷۔دینی طریقوں سے دینی معرفت کی ضرورت ۲۲

حوالے ۲۵

تیسرا جلسہ ۲۶

دین میں سیاست کی اہمیت ۲۶

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۶

۲۔ سیاست کی تعریف اور اسلام میں تین طاقتوں کی اہمیت ۲۷

۳۔عدالتی احکام قرآن کی نگاہ میں ۲۹

۴۔ سلام کا ہمہ گیر ہونا اور اسلامی حاکم کی اہمیت ۳۰

۵۔مذکورہ بحث کا خلاصہ ۳۴

حوالے: ۳۴

چوتھا جلسہ ۳۶

دین میں سیاست کی اہمیت ۳۶

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۳۶

پھلا اعتراض: ۳۶

۲۔کیادین سیاست سے جدا ہے؟)مذہبی و غیرمذہبی لوگوں کا نظریہ) ۳۷

۳ ۔دنیا اور آخرت میں چولی دامن کا رابطہ ہے ۳۹

۴۔انسان کے دنیاوی اعمال و کردار کی اہمیت ۴۱

۵۔انسان کے کردار کی اہمیت کو سمجھنے میں عقلی طاقت کی شعائیں ۴۳


۶۔دین کے حدود ۴۳

۷۔دین اور حکومت میں رابطہ ۴۴

۸۔دین کی جامعیت ۴۶

حوالہ ۴۷

پانچواں جلسہ ۴۸

اسلام میں آزادی(۱) ۴۸

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۴۸

۲۔علم اور دین کے مخصوص دائرے ۴۸

۳۔دینی حاکمیت کا آزادی سے ٹکراؤ،ایک شبہ ۴۹

۴۔مذکورہ شبہ دینی انداز میں ۴۹

مذکورہ اعتراض کا جواب ۵۰

۵۔قرآن پر مختلف توجہ کی دلیل ۵۱

۶۔مذکورہ شبہ غیر مذہبی طریقہ سے ۵۵

۷۔”ھیوم “کا اعتراضات اور ان کے جوابات ۵۵

۸۔دوسرا جواب: آزادی مطلق اور لامحدود نہیں ہے ۵۶

۹۔حاکمیت اور انسان کے خلیفة اللّٰھی عظمت کے درمیان تعارض ایک شبہ ۵۷

اعتراض کا جواب ۵۷

۱۔اسماء کا علم ۵۸

۲۔اللہ کا خلیفہ روئے زمین پر عدالت و انصاف کو جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۵۸

حوالے ۵۹


چھٹا جلسہ ۶۱

اسلام میں آزادی(۲) ۶۱

۱-تاریخ انسان میں تحویل و تحول کی بنا پر ایک شبہ ۶۱

۲-ہمارا جواب ۶۲

تشریعی لحاظ سے دوسرا جواب ۶۳

۳-گذشتہ اعتراض، ایک دوسرے لحاظ سے ۶۴

۴-ہمارا جواب ۶۴

۵- خدا کی نافرمانی تاریخ کی نظر میں ۶۵

۶-خدا کی اطاعت اور آزادی ۶۷

حوالہ ۷۰

ساتواں جلسہ ۷۱

آزادی کے حدود ۷۱

۱-اسلام کا سیاسی نظریہ اور آزادی کو محدود کرنے کا شبہ ۷۱

۲-آزادی کے بارے میں مختلف نظریات ۷۲

۳- آزادی، مطلق نہیں ہے،اور آزادی کے دین پر مقدم ہونے کا جواب ۷۴

۴- ہر معاشرے کی مقدسات کی رعایت ضروری ہے- ۷۵

۵-آزادی کے نعرہ میں ناجائز غرض ۷۷

۶- آزاد گفتگو کی حد وحدود ۷۸

۷-الفاظ کے مفہوم اور مصادیق کو روشن کرنے کی ضرورت ۷۹

حوالہ ۸۰


آٹھواں جلسہ ۸۱

حکومت کے ڈھانچے کی وضاحت ۸۱

۱- عنصری اور مصداقی تعریف کی اہمیت ۸۱

۲-اسلام اور تینوں قوتوں کے جداجدا ہونے کا نظریہ ۸۲

الف- قوہ مقننہ: ۸۲

ب- قوہ قضائیہ: ۸۲

ج-قوہ مجریہ: ۸۳

۳- اسلام معاشرہ کو ادارہ نہیں کرسکتا (ایک شبہ) ۸۴

۴-قوانین کی مختلف اقسام اور متغیر قوانین ہونے کی ضرورت ۸۵

الف- قانون اساسی ۸۵

ب- پارلیمینٹ کے بنائے گئے قوانین ۸۶

ج- انجمنِ حکومت کے بنائے گئے قوانین ۸۶

۵-قوانین کا اسلامی ہونے کا مطلب ۸۷

۶-اسلامی حکومت میں قانون گذاری کا مسئلہ ۸۹

۷-اسلامی حکومت میں قانون کے جاری کرنے والوں کو منصوب کرنا ۹۰

حوالہ ۹۱

نواں جلسہ ۹۲

دینی نظام میں قوانین کامقام ۹۲

۱-اسلام کے سیاسی نظریہ کے اصول ۹۲

الف-قانون ۹۲


۲-طبعی اور بنائے گئے قوانین کی اہیمت ۹۳

ب -قوانین کا مرضی الہی اوردین کے مطابق ہونا ضروری ہے ۹۵

۳-دین کی ضروری باتوں کو قبول کرنا لازمی ہے ۹۶

۴-اسلام،اصول اور ثابت معرفتیں ۹۸

۵-قرآن کریم کے ثابت اور قطعی احکام ومفاہیم ۹۹

۶-اسلام مختلف تعبیربیں رکھتا ہے- ۱۰۱

۷-اسلام انسان کی تمام ضرورتوں کو پوراکرتاہے ۱۰۲

الف :سوال کے ثبوتی پہلوکی تحقیق ۱۰۲

ب:-سوال کے اثباتی پہلو ۱۰۳

حوالہ ۱۰۴

دسواں جلسہ ۱۰۵

قانون کے سلسلہ میں نظریات میں فرق ۱۰۵

۱- گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۰۵

۲-دور حاضر میں قانون سے بحث کرنے کی ضرورت ۱۰۵

۳-قوانین کے حدود کو معین کرنے میں دو مختلف نظریے ۱۰۶

۴-جمہوری حکومت میں قانون کی ضرورت ۱۰۷

۵- حقوق بشر کے اعتبار کا معیار ۱۰۸

۶-حقیقی اور تکوینی قوانین اور انسان کے اختیارات کی اہمیت ۱۰۹

۷- الٰھی اور تشریعنی قوانین، انسان کے کمال اور سعادت کی ضامن ہے ۱۱۱

۸-حقوقی قوانین اور اخلاقی قوانین میں فرق ۱۱۴


۹-اسلامی اور خودمختاری کے نظریات میں فرق ۱۱۵

حوالے ۱۱۷

گیارہواں جلسہ ۱۱۸

قانون کے اعتبار کا معیار ۱۱۸

۱۔ بڑے سیاسی مسائل کی عمیق تحقیق کی ضرورت ۱۱۸

۲۔قانون کے معتبر ہونے کا معیار اور اس کی وسعت ۱۱۹

الف: نظریہ عدالت ۱۲۰

ب: معاشرے کی ضرورتوں کو پوراکرنا ۱۲۱

ج: عوام الناس کیا چاہتی ہے ۱۲۱

۳۔پھلے نظریہ پر اعتراض ۱۲۲

۴۔ اسلامی قوانین کی برتری ۱۲۳

۵۔دوسرا نظریہ عملی نہیں ہے ۱۲۴

۶۔تیسرے نظریہ کی کمی اور اسلامی لحاظ سے ضرورتوں کی وسعت ۱۲۵

۷۔اسلامی انقلاب اور اس کا معنوی مصلحتوں سے برتر مقام ۱۲۷

حوالہ ۱۲۹

بارہواں جلسہ ۱۳۰

اقدار کے بارے میں اسلام اور مغربی تمدن میں نظریاتی فرق ۱۳۰

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۳۰

۲۔دین کی نظر میں بہت رین قانون اور دوسروں کے نظریہ کے تحت تاثیر واقع ہونے کا خطرہ ۱۳۱

۳۔دینی نظریات میں دوسروں سے متا ثر ہونا ۱۳۲


۴۔پلورالیزم دینی کا مطلب ۱۳۵

۵۔بندگی خدا کی عظمت اور اس کا مطلق آزادی سے ٹکراؤ ۱۳۶

۶۔یورپ اور علم ودین کے ٹکراؤ کا دور ہونا ۱۳۹

۷۔اسلام اور آزادیخواہ مکتب میں عوام الناس کی اہمیت ۱۴۱

۸۔اسلام اور یورپ میں جمہوریت اور قانون گذاری کا مرجع ۱۴۲

۹۔ جوانوں کے لئے ایک نصیحت ۱۴۵

حوالہ ۱۴۶

تیرہواں جلسہ ۱۴۸

قانون کے سلسلے میں اسلام اور یورپ کے درمیان بنیادی فرق ۱۴۸

۱۔گذشتہ مطالب پرایک نظر ۱۴۸

۲: فردی آزادی اور قانون کے درمیان رابطہ ۱۴۹

۳۔اومانیرم اور لیبرالیزم کا قانون میں داخل ہونا ۱۵۰

۴۔یورپی ثقافت کے اصول اور اسلامی ثقافت سے ان کا موازنہ ۱۵۱

۵۔علماء اور اسلامی تالیفات کی ذمہ داریاں ۱۵۳

۶۔قانون کی حقیقت اور اسلام اور لیبرالیزم میں اس کی اہمیت ۱۵۴

۷۔مشروع آزادی کا نسبی ہونا ۱۵۶

۸۔اسلام کا لیبرالیزم سے ٹکراؤ ۱۵۷

۹۔اسلام اور ڈیموکراسی میں قانون گذاری ۱۵۸

۱۰۔اسلامی حکومت میں معتبر قانون ۱۵۹

حوالہ ۱۶۱


چودھواں جلسہ ۱۶۲

قانون کے سلسلے میں غرب کی مادی نگاہ ۱۶۲

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۶۲

۲۔مکتب حقوق طبیعی ۱۶۳

۳ ۔یورپ میں حقوق بشر کی حدود ۱۶۴

۴ ۔آزادی کی حدبندی میں تعارض کا ظاہر ہونا ۱۶۵

۵۔حقوق بشر میں آزادی کی اہمیت ۱۶۶

۶۔یورپ میں آزادی کی حدبندی پر اعتراضات ۱۶۷

۷۔مادی اور معنوی مصالح پر قانون اسلام کی توجہ ۱۶۹

۸ ۔مصالح معنوی اور دینی کا مصالح مادی پر مقدم ہونا ۱۷۱

۹ ۔اسلام اورلیبرالیزم کے مابین آزادی اور قید میں فرق ۱۷۲

حوالہ ۱۷۳

پندرہواں جلسہ ۱۷۴

اسلامی حکومت اور ثقافتی حربے ۱۷۴

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۷۴

۲۔علماء اور ان کی خطرناک ذمہ داری ۱۷۴

۳۔ملکی اخباروں میں مغربی غلط آزادی کی تبلیغ ۱۷۷

۴۔اسلامی پروٹسٹانیزم، اسلام پر ایک حملہ ۱۷۸

۵۔حق مسلّم کا مفہوم حقیقی ۱۷۹

۶۔اسلام کی حقیقی قرائت اور اس کا صحیح مطلب ۱۸۰


۷۔ شرعی آزادی ۱۸۳

۸۔دین اور قانون آزادی کو محدود کرتے ہیں ۔ ۱۸۴

۹ ۔آزادی کو محدود کرنے کی ضرورت ۱۸۵

حوالے ۱۸۷

سولھواں جلسہ ۱۸۸

قانون اورآزادی کے لحاظ سے الہی اوروالحادی ثقافت میں فرق ۱۸۸

۱۔ انتخاب کی اہمیت اور ہدف تک پہونچنے کے لئے قوانین کی آگاہی اور رعایت ۱۸۸

۲۔ اخلاقی اور حقوقی قوانین میں فرق ۱۹۰

۳۔ الہی اور کفر والحادکی ثقافت میں فرق اور قانون کے بارے میں اختلاف نظر ۱۹۱

۴۔ مغربی ثقافت کے تین اہم رکن ہیں ۱۹۲

۵۔ اسلامی اور مغربی تمدن کا بنیادی فرق ۱۹۵

۶۔ آزادی کے حدود کو معین کرنے میں اسلام اور مغربی تمدن میں فرق ۱۹۷

حوالہ ۲۰۰

سترہواں جلسہ ۲۰۱

ربوبیت تشریعی، حاکمیت اور قانون گزاری میں رابطہ ۲۰۱

۱۔گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۰۱

۲۔اصول موضوعہ کو معین کرنے کی ضرورت ۲۰۱

۳۔خدا کی حاکمیت اور تشریعی الوہیت ۲۰۳

۴۔خالص توحید کا مطلب ۲۰۵

۵۔قانون گذار حضرات اور اسلام میں حاکمیت ۲۰۶


۶۔ قانون گذاری حق خدا سے مخصوص ہونے کے دلائل ۲۱۰

حوالے ۲۱۳

اٹھارہواں جلسہ ۲۱۵

قانون گذاری کے شرائط اور اسلام میں اس کی اہمیت ۲۱۵

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۱۵

۲۔قانون گذاری کے شرائط خدا وندعالم میں منحصر ہیں ۲۱۶

۳۔ قانون بنانے والے متعدد ہوسکتے ہیں (ایک اعتراض) ۲۱۷

۴۔ گذشتہ اعتراض کا جواب ۲۱۸

۵۔ قانون گذاری میں خدا کی اجازت بے اثر ہے .(دوسرا اعتراض) ۲۱۹

۶۔گذشتہ اعتراض کا جواب ۲۱۹

۷۔کیا انسان اپنی زندگی پر حقِ حاکمیت رکھتا ہے؟ ۲۲۲

۸۔ انسان کی حاکمیت خدا سے نہیں ٹکراتی ۲۲۵

حوالہ ۲۲۷

انیسواں جلسہ ۲۲۸

حکومت اور سیاست کے سلسلہ میں اسلام کی خصوصیت ۲۲۸

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۲۸

۲۔حکومت سے مخصوص کاموں کے بارے میں تین نظریے ۲۲۹

۳۔ اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں کے کاموں میں ایک امتیازی فرق ۲۳۱

۴۔ انسانی معاشرہ کی حقیقت اسلام کی نگاہ میں ۲۳۲

۵۔ قانون گذار کی ضروری صفات ۲۳۴


۶۔ اسلامی اور لیبرالیزم قوانین میں اختلاف ۲۳۷

حوالے ۲۴۰

بیسواں جلسہ ۲۴۱

قانون وحکومت کی ایک نئی تصویر ۲۴۱

۱۔معاشر ہ پر ایک طبقاتی اور احزابی نظر ۲۴۱

۲۔ معاشر ہ کے طبقاتی اور احزابی نظام کے بارے میں اسلام کا نظریہ ۲۴۲

۳۔معاشرہ اور پیکر انسانی میں دیگر شباہتیں ۲۴۳

۴۔معاشرہ میں طبقاتی نظام کی روشنی میں حکومت کی اہمیت ۲۴۵

۵۔واقعی مصالح ومفاسد قانون کے پشت پناہ ۲۴۸

حوالے ۲۵۰

اکیسواں جلسہ ۲۵۱

اسلام اورجمہوریت (۱) ۲۵۱

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۵۱

۲۔قانون کے جاری کرنے والوں کے لئے بھی اذن خدا ضرور ی ۲۵۲

۳۔ جمہوریت کے معنی اور اس کے استعمال میں ایک بحران ۲۵۴

۴۔دور حاضر میں جمہوریت کا مفہوم ۲۵۶

۵۔ جمہوریت کی نئی تصویر سے استعمار کا بے جا فائدہ اٹھانا ۲۵۷

۶۔ اسلامی نظریہ کے مطابق جمہوریت کی مناسب تصویر ۲۵۸

بائیسواں جلسہ ۲۶۲

اسلام اورجمہوریت (۲) ۲۶۲


۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۶۲

۲۔سیکولر جمہوری اور اس کے فلسفہ کی وضاحت ۲۶۲

۳۔سیکولر نظام کی فلسفی بنیاد میں مغالطہ ۲۶۳

۴ ۔مدیریت کے میدان میں جمہوریت کا دوسرا رخ ۲۶۵

۵۔جمہوری اسلامی میں اسلام وولایت فقیہ کا سب سے اہم مقام ۲۶۷

حضرت امام خمینی مکرر فرمایا کرتے تھے : ۲۶۸

۶۔اسلام کی مورد قبول جمہوریت ۲۶۹

حوالے ۲۷۰

تئیسواں جلسہ ۲۷۱

انسانیت میں اصل وحدت کی تحقیق اور شہریوں کی اتباع ۲۷۱

۱۔ اسلامی نقطہ نظر کسی کا صاحب حق ہونا ۲۷۱

۲ ۔تکالیف ا ور حقوق کے مابین طبیعی اور کسبی اختلاف کا اثر ۲۷۳

(الف)۔اختلافات طبیعی اور جبری ۲۷۴

(ب)انسانوں کے مابین دوسرا اختلاف اختیاری ہے ۲۷۵

۳۔ افراد کے لئے شہریت کے قوانین میں مختلف درجات کا معین ہونا ۲۷۶

۴۔اسلام کی نگاہ میں پہلے اور دوسرے طبقہ کی شہریت ۲۷۷

۵۔نظام ولایت فقیہ کا دوسرے نظاموں سے فرق ۲۷۸

حوالے ۲۸۰

اسلام اور سیاست جلد ١

اسلام اور سیاست

مؤلف: آیة اللہ محمد تقی مصباح یزدی دام ظلہ
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 39