یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


امامیہ اردو دینیات

درجہ پنجم

نظیم المکاتب


معلمّ کے لئے ہدایت

۱ ۔ مثالوں کے ذریعہ مطلب ذہن نشین کرایا جائے۔

۲ ۔سبق کے بعد والے سوالات کئے جائیں جن کے ذریعہ بچہ سمجھا ہوا مفہوم بیان کر سکے۔

۳ ۔ سبق کے بعد والے سوالات مختصر لکھواکر زبانی یاد کرائے جائیں ۔مسائل میں جہاں ضرورت ہو وہاں عملی تعلیم دی جائے۔

اور

ضروری مسائل زبانی یاد کرا جائیں


اصول دین

پہلا سبق

ہم کیوں پیدا ہوئے ؟

اس دنیا میں اللہ نے کوئی چیز بیکار نہیں پیدا کی بلکہ جو کچھ اس نے بنایا ہے کسی نہ کسی مقصد کے لئے بنایا ہے ۔ سورج روشنی دیتا ہے۔ چاند راتوں کے اندھیرے میں اجالا بخشتا ہے۔ بادل پانی برساتا ہے۔ پانی سے کھیتی ہر ی بھری ہوتی ہے۔ جانور انسانوں کے بہت سے کام کرتا ہے۔ سواری ، کھیتی ، سینچائی وغیرہ میں جانوروں سے کام لیا جاتا ہے۔ انسان بھی بیکار نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ اللہ کی عبادت کے لئے پیدا ہوا ہے۔

اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی اور انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں تم کو یہ اصول نظر آئےگا کہ ہر مخلوق اپنے سے بلند کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ گھاس اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ اسے جانور کھائے۔ جانور اس لئے پیدا ہوا ہے کہ وہ انسان کو کام آ سکے۔ انسان سے بلند صرف خدا ہے لہذا انسان خدا کے احکام ماننے اور اس کی عبادت کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام ایک دن بچپن میں بچوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب بچے کھیل کود رہے تھے۔ امام کھیلنے کے بجائے رو رہے تھے۔ ادھر سے بہلول کا گزرنا ہوا۔ بہلول بہت عقلمند اور دیندار آدمی تھے۔ امامؐ کو روتے دیکھ کر رک گئے اور رونے کا سبب پوچھنے لگے۔


تسلی دیتے ہوئے بہلول نے کہا۔ " میں تمہارے لئے بازار سے کھلونے خرید لاتا ہوں۔" حضرت نے کہا۔ " ہم کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے۔ " بہلول نے سوال کیا۔ " پھر کس لئے پیدا کئے گئے ہیں ؟" حضرت نے فرمایا ۔" ہم کو اللہ نے علم حاصل کرنے اور عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔" اور امامؐ نے بہلول کو قرآن مجید کی آیت بھی سنائی جس میں خدا نے کہا کہ ہم انسان کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے۔ بہلول امام کی بات سن کر سمجھ گئے کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے بلکہ زمانہ کا ہادی اور امام ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ اپنی زندگی کو کھیل کود میں برباد نہ کریں۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ہر کام سے پہلے سوچ لیں کہ اللہ اس سے خوش ہوگا یا ناراض ، جن کاموں سے خدا ناراض ہوگا ان کو نہ کریں۔ صرف وہ کام کریں جس سے خدا خوش ہو چاہے نماز روزہ ہو یا تجارت اور کاروبار۔

سوالات :

۱ ۔ ہم کو اللہ نے کیوں پیدا کیا ہے ؟

۲ ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام اور بہلول میں کیا بات چیت ہوئی ؟

۳ ۔ بہلول ، امامؐ کی بات سن کر کیا سمجھے ؟

۴ ۔ ہمیں کون سے کام کرنا چاہئیں اور کون سے نہ کرنا چاہئیں ؟


دوسرا سبق

خدا کی ذات و صفت ایک ہے

خدا ایک ہے۔ اس کے کسی بھی قسم کے حصے نہیں ہو سکتے۔ جو اس کی ذات ہے وہی اس کی صفتیں ہیں اور جو صفتیں ہیں وہی اس کی ذات ہے۔ اگر خدا کی ذات اور صفتیں الگ الگ ہوںگی تو اس کے دو حصے ہو جائیںگے اور خدا ایسا ہے جس کے حصے نہیں ہو سکتے ۔

بندہ کی ذات اور اس کی صفتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ مثلا کام کر سکتے ہیں ۔ بڑے ہو کر ہم میں اچھی یا بری صفتیں پیدا ہوتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اور ہیں اور ہماری صفتیں اور ہیں ۔ لیکن خدا کو کسی نے پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا اور اُس کی صفتیں بھی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیںگی۔ اُس کی ذات اور صفتیں میں نہ کوئی فرق ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس کی صفتیں عین ذات ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ سے عالم ہے، قادر ہے ، باکمال ہے اس کا کمال اُس کی ذات سے الگ نہیں ہے۔

سوالات :

۱ ۔خدا اور بندے کی صفتوں میں کیا فرق ہے ؟

۲ ۔ خدا کی ذات اور صفت کا ایک ہونا کیوں ضروری ہے ؟


تیسرا سبق

صفات ثبوتیہ

کوئی چیز بغیر بنانے والے کے نہیں بنتی ہی اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا ہے۔ اُس کو کسی نے نہیں پیدا کیا ہے۔ وہ ہ سب کا خالق ہے۔ خدا کے ماننے والے کا فرض ہے کہ خدا جیسا ہے اس کو ویسا ہی مانے۔ نہ اس کی مورتی بنائے۔ نہ دماغ میں اس کی تصویر سوچے اس لئے کہ ہاتھوں سے بننے والا مجسمہ یا دماغ میں بننے والی خیالی تصویر دماغ کی پیداوار ہوتی ہے اور خدا خالق ہے مخلوق نہیں ہے۔ اس کے لئے چند صفات کا جاننا ضروری ہے جو اس میں پائی جاتی ہیں اور ان کا نام صفات ثبوتیہ ہے۔ صفات ثبوتیہ حسب ذیل ہیں۔

قدیم ۔

یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا کیونکہ نہ اس کو کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ اس کو موت آ سکتی ہے۔

قادر ۔

یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے

عالم ۔

خدا عالم ہے ۔ یعنی سب کچھ جانتا ہے۔ اسی لئے اس دنیا کے کسی کام میں کبھی کوئی گڑبڑ نہیں ہوتی۔

مدرک ۔ خدا مدرک ہے۔ یعنی بغیر دماغ کے سب کچھ جانتا ہے۔ بغیر آنکھ کے سب کچھ دیکھتا ہے۔ بغیر کان کے ہر آواز سنتا ہے۔ بغیر ہاتھ پیر کے سب کام کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے کامو٘ں میں دماغ ، آنکھ ، کان ، ہاتھ اور پیر کا محتاج ہو جائے تو خدا نہ رہےگا اس لئے کہ خدا محتاج نہیں ہے۔


حی ۔

خدا سب کو زندگی اور موت دیتا ہے مگر اسے نہ کسی نے زندگی دی ہے اور نہ اس کو موت آ سکتی ہے۔ وہ حی ہے یعنی ہمیشہ سے زندہ ہے ہمیشہ زندہ رہےگا۔

مرید ۔

خدا مرید ہے یعنی جو کام جب چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا ہے۔ جب چاہتا ہے سورج کو چمکاتا ہے ، جب چاہتا ہے چاند نکالتا ہے۔ جب چاہتا ہے پانی برساتا ہے۔ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ نہ وہ کسی کام کے کرنے پر مجبور ہے نہ کوئی اس کو کسی کام کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔

متکلم ۔

خدا متکلم ہے یعنی جس چیز میں چاہتا ہے اپنی آواز پیدا کر کے اپنے بندوں سے باتیں کر لیتا ہے۔ جیسے جناب موسیؐ سے درخت میں آواز پیدا کر کے باتیں کیں اور ہمارے نبیؐ سے شب معراج حضرت علیؐ کے لہجہ میں باتیں کیں۔

صادق ۔

خدا صادق ہے یعنی اس کا ہر وعدہ پکا ہے۔ وہ ہر بات میں سچا ہے اس لئے کہ جھوٹ بولنا بڑا ہے اور خدا ہر بڑائی سے پاک ہے۔

سوالات :

۱ ۔ خدا کو کیسا مانیں ؟

۲ ۔ خدا کی مورتی بنانے یا اس کی کوئی صورت دماغ میں سوچنے میں کیا خرابی ہے ؟

۳ ۔ خدا کے مدرک ہونے کا مطلب کیا ہے ؟

۴ ۔ " خدا متکلم ہے "۔ مثال دی کر سمجھاؤ ؟


چوتھا سبق

صفات سلبیہ

اگر ہم کسی عالم کو جاہل اور کسی بہادر کو بزدل سمجھیں تو وہ ہم سے کبھی خوش نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ہم خدا کو ایسی صفتوں والا مانیں جو صفتیں اس میں نہیں پائی جاتی ہیں تو خدا کبھی ہم سے راضی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ہم ان صفتوں کو بھی جان لیں جو خدا میں نہیں پائی جاتی ہیں اور جن کا ماننے والا خدا کا ماننے والا نہیں ہے۔ ان صفتوں کا نام صفات سلبیہ ہے۔ جو یہ ہیں۔

۱ ۔ خدا مرکب نہیں ۔

مرکب وہ چیز ہوتی ہے جو کچھ چیزوں سے مل کو بنتی ہے جیسے شربت شکر اور پانی سے مل کر بنتا ہے۔ خدا کسی چیز سے مل کر نہیں بنا ہے۔ شکر اور پانی شربت کے اجزاء ہیں اور خدا کا کوئی جز نہیں ہے اس لئے کہ شکر اور پانی پہلے ہوتے ہیں ، شربت بعد میں ہوتا ہے۔ اگر خدا بھی کچھ اجزاء سے مل کر بنا ہوگا تو اجزاء پہلے ہوںگے اور وہ خود بعد میں بنےگا۔ اس طرح نہ وہ قدیم رہےگا نہ خالق رہےگا بلکہ مخلوق ہو جائےگا جو پہلے نہیں ہوتا ہے پھر ہو جاتا ہے۔

۲ ۔ خدا جسم نہیں رکھتا ۔

اس لئے کہ جسم مرکب ہوتا ہے اور مخلوق ہوتا ہے اور خدا نہ مخلوق ہے نہ مرکب ہے۔

۳ ۔ خدا کی صفتیں عین ذات ہیں ۔

یعنی خدا کی صفتیں اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں کیونکہ اگر اس کی ذات اور اس کی صفتیں الگ الگ ہونگی تو ذاتی طور پر خدا ان صفتوں سے خالی ہوگا اور جو صفات سے الگ ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔

۴ ۔ خدا مرئی نہیں ۔

یعنی اس کو دنیا اور آخرت میں کہیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ کیونکہ دکھائی دینے والا جسم ہوتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔


۵ ۔ خدا کسی چیز میں حلول نہیں کرتا۔

جس طرح کھولتے پانی میں گرمی سما جاتی ہے یا برف میں ٹھنڈک یا جسم میں روح سما جاتی ہے۔ اس طرح خدا نہ کسی چیز میں سما سکتا ہے نہ کوئی چیز اس میں سما سکتی ہے کیونکہ حلول جسموں میں ہوتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۶ ۔ خدا مکان نہیں رکھتا۔

یعنی نہ خدا کے رہنے کی کوئی خاص جگہ ہے نہ اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اشارہ جسم کی طرف کیا جاتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۷ ۔ خدا محل حوادث نہیں۔

یعنی خدا میں بدلنے والی کوئی چیز نہیں۔ بدلنے والی چیز نہ ہمیشہ سے ہوتی ہے نہ ہمیشہ رہتی ہے اور خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا۔

۸ ۔ خدا کا کوئی شریک نہیں۔

یعنی نہ خدا کی ذات میں کوئی اسکا شریک ہے نہ اس کی صفتوں میں کوئی اس کا شریک ہے نہ اس کے کاموں میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت کی جا سکتی ہے۔ وہ ایک اور اکیلا ہے اور ہر لحاظ سے لاشریک ہے۔

سوالات :

۱ ۔ صفات کا جاننا کیوں ضروری ہے ؟

۲ ۔ خدا کو جسم والا ماننے سے کیا خرابی لازم آئےگی ؟

۳ ۔ خدا قیامت میں بھی کیا دکھائی نہیں دے سکتا ؟


پانچواں سبق

خدا قادر و مختار ہے

خدا قادر و مختار ہے۔ یعنی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ کسی کام کے کرنے سے عاجز نہیں ہے۔ خدا مختار بھی ہے۔ یعنی کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے۔ جس کام کو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کام کو نہیں چاہتا ہے نہیں کرتا ہے۔بلکہ ایک ہی کام کو جب چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی کر دی تھی اور جانب موسیٰ علیہ السلام نے جب انگارہ ہاتھ میں اٹھایا تو آپ کا ہاتھ جل گیا کیونکہ آگ کا جلانا یا بجھانا خدا کا مقصد نہ تھا بلکہ نبی کو بچانا مقصد تھا۔ جناب ابراہیم علیہ السلام تب ہی بچ سکتے تھے جب آگ ٹھنڈی ہو جائے اور جناب موسیٰ علیہا السلام تب ہی بچ سکتے تھے جب ہاتھ جل جائے کیونکہ فرعون کو شبہ تھا کہ وہ بچہ جناب موسیؐ ہی ہیں جو اس کی حکومت کو مٹا دےگا اور اگر انگارہ آپ کے ہاتھ نہ جلاتا تو فرعون پہچان لیتا اوت آپ کو قتل کر ڈالتا۔ اس لئے آگ کو ٹھندا کرنا مناسب نہ تھا اور ہاتھ کا جل جانا ضروری تھا۔

خدا اپنے کسی کام میں کسی کے مشورہ اور مدد کا محتاج نہیں ہے نہ کوئی اس کو کسی کام سے روک سکتا ہے۔

سوالات :

۱ ۔ " خدا قادر ہے " اس کا مطلب کیا ہے ؟

۲ ۔ " خدا مختار ہے " اس کا مطلب کیا ہے ؟

۳ ۔ جناب ابراہیم کے لئے آگ کیوں ٹھنڈی ہوئی اور جناب موسی کے لئے کیوں نہیں ہوئی ؟


چھٹا سبق

خدا برائی نہیں کرتا

ہم کو معلوم ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے یعنی وہ جو طاہے کر سکتا ہے۔

اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا برائی بھی کر سکتا ہے۔ جھوٹ بھی بول سکتا ہے ، ظلم بھی کر سکتا ہے اور وعدہ کر کے مکر بھی سکتا ہے اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تم خود سوچو کہ کیا ایسا سمجھنا ٹھیک ہے ؟

قادر ہونے کے معنی ہیں " کر سکنا ، نہ کہ کرنا "۔ اس لئے خدا کے قادر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے مگر لازم نہیں کہ ضرور کرے۔

جب بری باتوں کو ہم پسند نہیں کرتے تو خدا کیسے پسند کر سکتا ہے

ہم ہر پانی سے منھ دھونے پر قادر ہیں چاہے وہ پانی نجس ہو یا پاک ہو۔ نہر میں بہ رہا ہو یا گندی نالی میں ، لیکن نالی میں بہنے والے گندے پانی سے صرف پاگل ہی منھ دھو سکتا ہے ہم نہیں دھو سکتے۔ اسی سے سمجھ لو کہ ہم گندے پانی سے منہ دھو سکتے ہیں مگر دھوتے نہیں۔ خدا بھی جھوٹ بول سکتا ہے مگر بولتا نہیں۔ ظلم کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں۔ وعدہ کر کے مکر سکتا ہے مگر مکرتا نہیں اور برائی کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں۔

سوالات :

۱ ۔ قادر ہونے کے معنی کیا ہیں ؟

۲ ۔ خدا برائی کیوں نہیں کرتا ؟ مثال دے کر سمجھاؤ۔

۳ ۔ خدا قادر ہے تو کیا ظلم بھی کرےگا ؟


ساتواں سبق

انسان مجبور ہے یا مختار ؟

اس دنیا میں بہت سے کام ہیں جن کا انسان سے کوئی تعلق نہیں٘ ہے۔ مثلا سورج کا نکلنا اور ڈوبنا ، موسم کا بدلنا وغیرہ۔ کام صرف خدا کے ہیں۔ ان کاموں کو بندہ نہیں کر سکتا۔

کچھ کام ایسے ہیں جن کے کرنے میں خدا اور بندے دونوں کا حصہ ہوتا ہے جیسے کھیت جوتنا ، بونا ، پانی دینا ، کھاد ڈالنا ، ہمارا کام ہے۔ درخت کا اُگنا اور اس میں پھول اور پھل پیدا کرنا خدا کا کام ہے۔

بہت سے کام ایسے ہیں جنھیں صرف ہم کرتے ہیں۔ اُن میں خدا شریک نہیں ہوتا جیسے ہم سچ بولتے ہیں یا جھوٹ ، حلال کھاتے ہیں یا حرام ، نماز پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے ، روزہ رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے وغیرہ۔ یہ خالص ہمرے کام ہیں۔ ان کو ہم ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ان کاموں میں خدا شریک نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ ہمارے سارے کام اصل میں خدا کے کام ہیں جن کو وہ ہمارے ذریعہ انجام دیتا ہے اور ہم ان کاموں کے کرنے پر مجبور رہیں بلکہ ہم اپنے ان کاموں میں قادر اور مختار ہیں چاہے کریں یا نہ کریں۔


ایک مرتبہ ابو حنیفہ نے ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے اس مسئلہ پر بحث کی تھی۔ ابو حنیفہ کو خیال میں خدا انسان کے ہر اچھے اور بڑے کام کا ذمہدار تھا۔ امامؐ نے ابو حنیفہ کو جواب دیا کہ اگر انسان کے کام کو صرف خدا کرتا ہے تو اچھے یا بڑے کام کی جزا یا سزا بھی خدا ہی کو (معا ذاللہ) ملنا چاہئے اور اگر انسان اور خدا مل کر اچھے یا بڑے کام کرتے ہیں تو بھی انسان کے ساتھ خدا کو بھی (معاذاللہ) سزا یا جزا ملنا چاہئے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ انسان اپنے کام خود کرتا ہے اسی لئے اس کو جزا یا سزا ملےگی۔ امامؐ کی یہ بحث سن کر ابو حنیفہ شرمندہ ہو گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔

غرض کہ جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے بلکہ سب کچھ خدا کرتا ہے اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ہم سب کام کر سکتے ہیں۔ ایک بار ہارے مولا حضرت علی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا تھا کہ انسان سب کام کر سکتا ہے یا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ ایک پیر اٹھا کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب اُس نے اپنا ایک پیر اٹھا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اب دوسرا پیر بھی اٹھا لو۔ اس نے کہا کہ دوسرا پیر اٹھانے سے معذور ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح ایک پیر کے بعد دوسرے پیر کا اٹھانا ممکن ہے اسی طرح دنیا میں بہت سے کام ایسے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہیں لہذا یاد رکھو کہ جس طرح بندہ خدا کے کام میں دخل نہیں دے سکتا اسی طرح خدا بھی بندوں کے کاموں میں شریک نہیں ہے جو جیسا کرےگا اس کو اسی اعتبار سے سزا یا جزا ملےگی۔

سوالات :

۱ ۔ وہ کام کون سے ہیں جن میں انسان کو دخل نہیں ہے ؟

۲ ۔ وہ کون سے کام ہیں جو صرف بندہ کرتا ہے ؟

۳ ۔ "بندہ اپنے کام کو خود کرتا ہے " یہ بات چھٹے امامؐ نے ابو حنیفہ کو کیسے سمجھائی تھی

۴ ۔ کیا انسان ہر کام کر سکتا ہے ؟ حضرت علیؐ نے کیا بتایا ؟


آٹھواں سبق

تین سوال ایک جواب

حضرت بہلول نہایت ہی ہوشیار اور عقلمند آدمی تھے۔ حاضر جوابی میں آپ کا جواب نہ تھا۔ ایک دن آپ ایک مسجد کے پاس سے گزرے جہاں ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کو سبق دے رہے تھے۔ آپ نے یہ سنا کہ ابو حنیفہ کہ رہے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تین باتیں اپنی سمجھ میں نہیں آتیں۔

٭ وہ کہتے ہیں کہ خدا قیامت کے دن بھی نہ دکھائی دےگا حالانکہ جو یز موجود ہو وہ نظر ضرور آئےگی۔

٭ ان کا کہنا ہے کہ شیطان کو جہنم میں جلایا جائےگا حالانکہ شیطان آگ سے بنا ہے اور آگ آگ کو نہیں جلا سکتی۔

٭ ان کا بیان ہے کہ بندے اپنے کام میں خود مختار ہیں حالانکہ بندے کے بس میں کچھ نہیں ہے۔ جو کچھ کرتا ہے خدا کرتا ہے۔

بہلول کو یہ سن کر غصہ آ گیا اور جیسے ہی ابو حنیفہ باہر آئے۔ ایک ڈھیلا کھینچ مارا۔ ابو حنیفہ کے شاگردوں نے بہلول کو پکڑ لیا اور قاضی کے سامنے لے گئے۔ بہلول نے کہا کہ یہ لوگ بلا وجہ سمجھے پکڑ لائے ہیں، میری کوئی خطا نہیں ہے۔ ابو حنیفہ بولے کہ تم نے مجھے ڈھیلا مارا ہے۔ بہلول نے کہا غلط ہے۔ میں نے نہیں مارا خدا نے مارا ہے۔ تم ابھی کہہ رہے تھے کہ سارے کام خدا کرتا ہے بندہ کچھ نہیں کرتا۔

ابو حنیفہ نے کہا کہ میرے سخت چوٹ آ گئی ہے، درد سے نےچین ہوں اور تم مذاق کر رہے ہو۔

بہلول نے کہا۔ کہاں ہے درد ؟ ذرا دیکھیں تو ؟


ابو حنیفہ نے کہا۔ درد بھی کوئی دکھائی دینے والی چیز ہے۔

بہلول نے جواب دیا۔ اگر ہے تو اسے نظر آنا چاہے اس لئے کہ تم کہتے ہو کہ جو چیز موجود ہے وہ دکھائی ضرور دےگی اور پھر ڈھیلے سے تمہیں چوٹ آ بھی نہیں سکتی اس لئے کہ تم کہتے ہو شیطان آگ سے بنا ہے اسے جہنم کی آگ جلا نہیں سکتی۔ تم بھی مٹی کے بنے ہوئے ہو ڈھیلا بھی مٹی کا تھا اس سے تمہیں چوٹ کیسے آئی ؟

ابوو حنیفہ سخت شرمندہ ہوئے اور بہلول ہنستے ہوئے چلے گئے۔

بہلول نے ایک ڈھیلے سے یہ ثابت کر دیا کہ انسان اپنے کاموں کا خود ذمہ دار ہے خدا پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

سوالات :

۱ ۔ بہلول کون تھے ؟

۲ ۔ امام جعفر صادقؐ کی کون سی تین باتیں ابو حنیفہ کی سمجھ میں نہ آتی تھیں ؟

۳ ۔ بہلول نے تینوں باتیں ابو حنیفہ کو کیسے سمجھائیں ؟


نواں سبق

بارہ امام

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت سی حدیثیں موجود ہیں جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ میرے خلیفہ اور امت کے ہادی بارہ ہوںگے۔ بارہ کی قید کا مطلب یہی ہے کہ امام اور خلیفہ نہ بارہ سے کم ہو سکتے ہیں اور نہ بارہ سے زیادہ۔ آج مسلمانوں میں جتنے فرقے پائے جاتے ہیں ان میں صرف شیعہ اثنا عشری ہی ایسا فرقہ ہے جو بارہ اماموں کو مانتے ہیں ورنہ دوسرے فرقوں کے امام اور خلیفہ یا بارہ سے کم ہیں یا زیادہ ہیں یہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

شیعہ اثنا عشری اسی لئے کہلاتے ہیں کہ اثنا عشری کے معنی بارہ ہیں اور اثنا عشری شیعہ صرف بارہ اماموں کے ماننے والے ہیں اس دلیل سے شیعہ اثنا عشری کا سچا فرقہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہم جن بارہ اماموں کو مانتے ہیں ان کے امام ہونے کی بہت سی دلیلیں ہیں۔

پہلی دلیلی ۔

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد میرے خلیفہ علیؐ ہوںگے اُن کے بعد حسنؐ ان کے بعد حسینؐ ، پھر علیؐ ابن الحسینؐ زین العابدینؐ ۔ ان کے بعد محمدؐ ابن علیؐ الباقرؐ، پھر جعفرؐ ابن محمدؐ الصادقؐ ، ان کے بعد موسیؐ ابن جعفرؐ الکاظمؐ ، پھر علیؐ ابن موسیؐ الرضاؐ ، ان کے بعد محمدؐ ابن علیؐ التقیؐ ، پھر علیؐ ابن محمدؐ النقیؐ ، ان کے بعد حسنؐ ابن علی العسکریؐ ، پھر محمدؐ ابن حسنؐ المہدی ہوںگے۔

معلوم ہوا نبیؐ اپنے بارہ اماموں کے نام مع لقب اور باپ کے نام کے بتلا گئے ہیں لہذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب نبیؐ کا بتایا ہوا دین مانا ہے تو انکے بتائے ہوئے اماموں کا بھی اقرار کرے۔


دوسری دلیل ۔

پیغمبر اسلامؐ کی مشہور حدیث ہےاِنِّی تارِکٌ فِیکُمُ الثَّقَلینُ کِتَابَ اللهِ وَ اَهلَبَیتِی مَا اِن تَمَسَّکُتُم بِهِمَا لَن تَضِلُّوا بَعدِی وَ لَن یَّفتَرِقَا حَتَّیٰ یَرِدَا عَلَیَّ الحَوضَ ۔ میں تم میں دو بار عظمت اور گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جن سے وابستہ رہوگے تو کبھی ہرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری عترتٔ ہے وہی میرے اہلبیت ہیں۔ قرآن مجید اور میرے اہلبیتؐ ایک دوسرے کے ساتھ رہیںگے کبھی خدا نہ ہوںگے۔ حوض کوثر پر دونوں میرے پاس آئیںگے۔

امام اسی لئے ہوتا ہے کہ وہ گمراہاہی کو روک سکے۔ پیغمبرؐ اسلام کے ارشاد کے مطابق قرآن اور اہلبیتؐ گمراہی سے بچانے والے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ قیامت تک قرآن کے ساتھ کوئی امام بھی رہے جو نبیؐ کی عترت یعنی آپ کی اولاد میں سے ہوا اور ہمارے بارہ امامؐ سب کے سب نبیؐ کے اہلبیتؐ اور آپ عترت ہیں۔ اس حدیث سے ہمارے بارہ اماموںؐ کا امام ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ بارہ اماموں کے علاوہ جتنے لوگوں نے خلیفہ یا امام ہونے کا دعویٰ کیا وہ نبیؐ کے اہلبیتؐ نہ تھے۔ لہذا ائمہ اہلبیت علیہم السلام کا امام ماننا ہر صاحب ایمان کے لئے ضروری ہے۔

سوالات :

۱ ۔ رسولؐ نے اپنے کتنے جانشین بتائے ہیں اور کس فرقہ کے اماموں کی تعداد بارہ ہے ؟

۲ ۔ نبیؐ نے اپنے جانشین کے نام الدیت ، لقب اور ترتیب کس طرح بتائی تھی ؟

۳ ۔ حدیث ثقلین کسے کہتے ہیں اور اس سے تم کیا سمجھتے ہو ؟


دسواں سبق

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے ثبوت ہیں قرآن مجید کی بہت سی آیتیں ، رسول کریمؐ کی بہت سی حدیثیں اور تاریخ اسلام کے بہت سے واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں یہاں پر ان میں سے صرف دو دلیلیں لکھی جاتی ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کو شیعہ بھی خلیفہ مانتے ہیں اور سنی بھی۔ فرق یہ ہے کہ سنی حضرات آپ کو چوتھا خلیفہ مانتے ہیں اور شیعہ بلا فصل اور پہلا خلیفہ مانتے ہیں۔ سنی اس لئے خلیفہ مانتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے تیسرے خلیفہ کے قتل کے بعد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا اور شیعہ اس لئے خلیفہ مانتے ہیں کہ رسولؐ کریم اپنی زندگی میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بحکم خدا بنا گئے تھے۔

پہلی دلیل ۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھلی تبلیغ کرنے کا حکم ملا تو آپ نے حکم خدا کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کو بھیج کر سب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں کو بلایا۔ خاندان عبد المطلبؐ کے چالیس آدمی جمع ہوئے۔ حضرت امیرؐ نے رسولؐ کے ارشاد کے مطابق آنے والے مہمانوں کی ضیافت کا بھی انتظام کیا تھا۔ کھانے کی مقدار کم تھی اور کھانے والے زیادہ تھے مگر جب نبی کریمؐ نے دودھ ، روٹی اور گوشت کو پہلے ذرا ذرا سا چکھنے کے بعد مجمع سے کھانے کے لئے کہا تو آپ کی برکت اور آپ کی زبان سے نکلی ہوئی بسم اللہ کے اثر سے تھوڑا کھانا بہت ہو گیا اور کھانے والے کھا کر سیر ہو گئے پھر بھی کھانا بچ رہا۔


جب حضورؐ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب نے آپ کی تقریر سے پہلے یہ کہہ کر مجمع کو بھڑکا دیا کہ ان کی تقریر مت سنو یہ جادوگر ہیں ، تم نے ابھی ابھی دیکھا ہے کہ انھوں نے تھوڑے کھانے کو جادو کے ذریعہ زیادہ کر دیا ہے اگر تقریر سنوگے تو یہ جادو کے ذریعہ تم کو تمہارے مذہب سے منحرف کر دیںگے۔ مجمع یہ سن کر اٹھا اور چلا گیا۔ رسول کریمؐ نے پھر حضرت علی علیہ السلام کو بھیج کر دوسرے دن کے لئے سب کو بلوایا اور کھانے کا بھی انتظام کیا۔ دوسرے دن بھی سب لوگ آئے اور نبیؐ کی برکت سے تھوڑا کھانا بہت ہو گیا۔ سب کے سیر ہونے کے بعد بھی بچ رہا۔ آج ابو لہب نے پھر تقریر میں روکاوٹ ڈالنا چاہی تو جناب ابو طالب علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور ابو لہب کو سختی کے ساتھ ڈانٹا اور رسولؐ کریم سے عرض کی کہ اے میرے سردار آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہوں کہئے۔ رسولؐ نے اسلام پیش کیا۔ خدا کی توحید کا پیغام سنایا ، اپنی نبوت کا اعلان کیا اور اس کے بعد فرمایا۔

"جو شخص ہدایت کے کام میں میری مدد کرےگا میں اُسے اپنا بھائی ، وصی اور وزیر مقرر کروںگا۔ وہ میرے بعد میرا خلیفہ اور جانشین ہوگا اس کی اطاعت لوگوں پر میری طرف سے واجب ہوگی۔ "

نبیؐ کی آواز پر کسی نے آواز نہ دی صرف دس سال کے کمسن علیؐ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ " میں مدد کا وعدہ کرتا ہوں "۔ رسولؐ اسلام نے حضرت علی علیہ السلام کی پشت پر ہاتھ رکھ کر آپ کو مجمع کے سامنے کیا اور یہ اعلان فرمایا کہ۔ انھوں نے میری مدد کا وعدہ کیا ، لہذا یہ میرے بھائی وصی اور وزیر ہیں۔ میرے بعد میرے خلیفہ اور جانشین ہیں میں ان کو اپنی طرف سے حاکم مقرر کرتا ہوں۔ انکی اطاعت تم سب پر واجب ہے۔ ابو لہب نے جل کر جناب ابو طالب علیہ السلام کو طعنہ دیا۔


" محمدؐ تم کو بیٹے کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں" ۔

جناب ابو طالب علیہ السلام نے جواب دیا کہ

" میرا بھتیجا جو بات بھی کہتا ہے وہ بہرحال خیر ہے "۔

اس واقعہ کا نام دعوت ذوالعشیرہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے زندگی بھر اپنی جان اور مال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد کی اور آپ کے بعد آپ کی پاک نسل یعنی گیارہ اماموںؐ نے دین کی مدد میں اپنی پاکیزہ زندگیاں صرف کیں۔ حضرت امیرؐ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور رسول اللہؐ نے بھی اپنے وعدہ کا ایفا فرمایا۔ حضرت علی علیہ السلام کو اور ان کے بعد ان کی نسل کے گیارہ اماموںؐ کو اپنا نائب ، جانشین اور خلیفہ مقرر کیا۔

یہ کہنا کہ حضورؐ انتقال کے وقت کسی کو خلیفہ بنا کر نہیں گئے بلکہ امت کو خلیفہ بنانے کا حق دے گئے غلط ہے اور رسول عظیمؐ کی پاک اور بے داغ سیرت پر وعدہ خلافی کا الزام بھی ہے۔ کوئی سچا مسلمان اپنے نبیؐ پر وعدہ خلافی کا الزام لگانا پسند نہیں کرےگا۔ لہذا رسولؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو بلا فصل خلیفہ ماننا ہر سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

دوسری دلیل ۔

رسالتمابؐ نے اپنے انتقال سے دو مہینے دس دن پہلے اٹھارہ ذی الحجہ ۱۰ ھ؁ کو غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا مفصل اور مکمل اعلان فرمایا۔ آپ اس وقت آخری حج کر کے مکہ معظمہ سے واپسی تشریف لا رہے تھے آپ کے ساتھ سوا لاکھ حاجیوں کا مجمع تھا۔ جلتی دوپہر میں قافلہ کو روک کر جمع کیا ۔ کجاوون کا ممبر بنوایا اور بحکم خدا حضرت علی علیہ السلام کو لیکر ممبر پر تقریر کے لئے تشریف لے گئے کیونکہ خدا کی طرف سے رسولؐ السلام پر ۔ آیہ تبلیغ نازل ہوئی تھی۔


"اے رسولؐ اس بات کا اعلان کر دو جس کے اعلان کا ہم تم کو حکم دے چکے ہیں۔ اگر یہ اعلان نہ کیا تو گویا رسالت کا کوئی کام انجام نہیں دیا۔ خدا دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے"۔

اس حکم کے بعد حضورؐ نے مجمع کے سامنے ایک طولانی تقریر فرمائی جس کے آخر میں ہر مسلمان سے پوچھا کہ تم اپنی جان اور مال کے مالک ہو یا میں تمہاری جان اور مال کا مالک ہوں۔

اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ تم لوگ اپنے کو اپنا حاکم سمجھتے ہو یا مجھے اپنا حاکم سمجھتے ہو۔

سب نے کہا۔ حضورؐ ! آپ ہمارے حاکم اور ہماری جان و مال کے مالک ہیں۔" نبیؐ نے اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو بازو پکڑ کر پورے جسم سے اٹھا لیا اور فرمایا۔

"جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علیؐ مولا ہیں۔ جس کا میں حاکم ہوں یہ علی بھی اس کے حاکم ہیں "۔


پھر آپ نے خدا سے دعا فرمائی۔ کہ تو اسے دوست رکھ جو علیؐ سے محبت کرے اور علیؐ کے ہر دشمن کو اپنا دشمن قرار دے۔ ممبر سے اتر کر سب مسلمانوں کو حکم دیا کہ جاکر علیؐ کی بیعت کرو اور ان کو مومنوں کا حاکم کہہ کر سلام کرو۔ سب نے حکم رسولؐ کی تعمیل کی حضرت عمر نے خصوصی مبارکباد دی کہ کہ آج آپ میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے حاکم مقرر ہو گئے۔ اس واقعہ کو واقعہ غدیر کہتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد خدا نے آئیہ اکمال نازل فرمائی جس میں ارشاد ہے۔

"آج کے دن کافر تمہارے دین سے مایوس ہو گیا اب تم ان سے نہ ڈرنا بلکہ صرف مجھ سے ڈرنا۔ آج کے دن میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا تم پر نعمتیں تمام کر دیں اور اسلام کو تمہارے لئے بہ حیثیت دین کے پسند کر لیا۔"

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ نبیؐ نے اپنی عمر کے خر تک حضرت علی علیہ السلام ٍ کو اپنا جانشین رکھا اور جو حضرت علی علیہ السلام کو نبیؐ کا خلیفہ بلا فصل مانےگا خدا اسی کو دوست رکھےگا۔ جو خلافت بلا فصل مولا علیؐ کا قائل ہوگا اسی کا دین کامل ہوگا خدا کی نعمتیں اسی کو ملیںگی اور خدا اسی کے اسلام کو قبول کرےگا۔

سوالات :

۱ ۔آئیہ تبلیغ اور آئیہ اکمال میں خدا نے کیا کہا ہے ؟

۲ ۔ واقعہ ذوالعشیرہ کیا ہے ؟

۳ ۔ واقعہ غدیر پر سے خلافت ثابت کرو ؟

۴ ۔ حضرت علیؐ کو شیعہ اور سنی کس فرق کے ساتھ خلیفہ مانتے ہیں ؟


گیارہواں سبق

بارہویں امامؐ

بارہویں امام علیہ السلام زندہ ہیں۔ پردہ غیبت میں ہیں۔ جب حکم خدا ہوگا اس وقت کعبہ کے پاس ظہور فرمائیںگے اور ظلم سے بھری ہوئی زمین کو عدل سے بھر دیںگے۔

بحمد اللہ آپ کی عمر ساڑھے گیارہ سو سال سے زیادہ ہو چکی ہے اور خدا وند عالم جب تک چاہےگا زندہ رکھےگا۔ حضرتؐ کی طولانی عمر پر تعجب نہ ہونا چاہئے ۔جناب نوحؐ کو خدا نے تقریباً دو ہزار سال کی عمر عطا فرمائی۔ جناب خضرؐ ، جناب الیاسؐ ، جناب اوریسؐ اور جناب عیسیؐ اب تک زندہ ہیں۔ جو شخص آپ کی طولانی عمر پر شک کرتا ہے وہ در اصل خدا کی قدرت پر شک کرتا ہے۔ خدا کی قدرت کے آگے نہ کوئی چیز مشکل ہے نہ قابل تعجب۔

اصحاب کہف ہزاروں سال سے غار میں سو رہے ہیں اور خدا کی قدرت سے زندہ ہیں۔جو خدا پہاڑ سے جناب صالحؐ نبی کے لئے آناً فاناً معہ بچہ کے اونٹنی پیدا کر سکتا ہے۔ جناب موسیٰؐ کے عصا کو اژدھا اور اژدھا کو عصا بنا سکتا ہے۔ جناب عیسیؐ کو بغیر باپ کے پیدا کر سکتا ہے۔ لاکھوں من آگ میں جناب ابراہیمؐ کو بچا سکتا ہے۔وہ خدا سینکڑوں کیا ہزاروں سال کی عمر امام علیہ السلام کو کیوں نہیں دے سکتا اور ان کو دشمنوں سے کیوں محفوظ نہیں رکھ سکتا ہے۔

بارہویں امام علیہ السلام کے وجود پر بہت سای دلیلیں ہیں جن میں سے چند آسان دلیلیں لکھی جاتی ہیں۔


دلیل ۱

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ وَ لِکُلِّ قَومٍ ھَادٍ یعنی ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہونا ضروری ہے۔

نبیؐ کریم کا ارشاد ہے "مَن مَّاتَ وَ لَم یَعرِف اِمَامَ زمَانِهِ فَقَدمَاتَ مِیتَةً جَا هِلِیَّةً یعنی جو شخص اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو اور مر جائے تو اس کی موت ہوتی ہے "۔ معلوم ہوا کہ ہر زمانہ میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے لہذا اس زمانہ میں بھی ایک ہادی اور امام ہونا چاہئے اور وہ ہمارے بارہویں امام علیہ السلام ہیں۔

دلیل ۲

قرآن مجید میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ صادقین کی پیروی کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔ ان دونوں حکموں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں ایک صادق اور صاحب امر ہونا چاہئے ہمارے بارہویں امامؐ کے علاوہ کسی کے لئے صادق اور صاحب امر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

دلیل ۳ ۔

پیغمبرؐ اسلام کا ارشاد ہے "لَا یَذَالُ هٰذَ الَّذِّنُ قَاءِماً ایلی اِثنَا عَشَرَ خَلِفَةً مِّن قُرَیشٍ فَاذَا هَلَکُو مَاجَتِ الاَرضُ بِاَهلِهَا یعنی یہ دین اس وقت تک قائم رہےگا جب تک میرے بارہ خلیفہ پورے نہ ہو جائیں جو سب کے سب قریش ہوں گے ان بارہ خلیفہ کے ختم ہونے کے بعد زمین معہ اپنی تمام آبادیوں کے تباہ ہو جائےگی۔

اہلسنت کے مشہور عالم ملا علی متقی نے اپنی کتاب کنز العمال میں اس حدیث کو لھا ہے۔ اگر بارہ امام ختم ہو گئے ہوتے تو نہ یہ دنیا باقی ہوتی اور نہ دین۔ دونوں کا باقی رہنا دلیل ہے کہ بارہویں امام علیہ السلام زندہ ہیں جن کے دم سے دین اور دنیا دونوں قائم ہیں۔

سوالات :

۱ ۔ امامؐ زمانہ کی عمر اس وقت کیا ہے ؟ کچھ ایسے لوگوں کے نام بتاؤ جو امامؐ زمانہ کے پہلے سے اب تک زندہ ہیں ؟

۲ ۔ کس کی طولانی عمر پر تعجب کیوں نہ کرنا چاہئے ثبوت میں کوئی واقعہ پیش کرو ؟


بارہواں سبق

نوابِ اربعہ

جب امام حسن عسکری علیہ السلام کا انتقال ہوا تو ہمارے امامؐ زمانہ کی عمر چار پانچ برس کی تھی لوگوں نے یہ طے کر لیا کہ آپ کو کسی صورت سے زندہ نہ رہنے دیا جائے ، آپ حکم خدا سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو گئے اور تقریباً ۷۰ برس تک اس غیبت صغریٰ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس زمانہ میں آپ کے کچھ مخصوص اصحاب تھے جن کو آپ نے اپنا پتہ دیا تھا انھیں سے ملاقات کرتے تھے اور انھیں کے ذریعہ اپنے شیعوں تک اپنے پیغام بھیجا کرتے تھے۔ انھیں اصحاب کو نواب اربعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ چار حضرات تھے اور چاروں کی قبریں بغداد میں ہیں جہاں لوگ برابر ان کی زیارت کے لئے جاتے رہتے ہیں۔ ان میں سے پہلے نائب جناب عثمان بن سعید تھے جو امام کی طعف سے مال کے وکیل تھے اور خمس کا سہم امام آپ ہی کو دیا جاتا تھا۔ دوسرے نائب آپ ہی کے فرزند محمد بن عثمان تھے جنھیں حضرت امام زمانہؐ نے ان کے باپ کے مرنے پر تعزیت کا خط لکھا تھا اور اس میں ان کے نائب ہونے کا ذکر فرمایا تھا۔ تیسرے نائب جناب حسین بن روح تھےجن کے ذریعہ اے آج بھی ۱۵/ شعبان کی صبح کو امامؐ کی خدمت میں عریضے بھیجے جاتے ہیں۔ آپ کا ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ بغداد کا رہنے والا ایک شخص بخارا گیا ہوا تھا جب وہاں سے آنے لگا تو وہاں کے ایک آدمی نے سونے کے دس پتھر یہ کہہ کردئے کہ انھیں حسین بن روح کے حوالہ کر دینا ، یہ شخص لے کر چلا تو راستے میں ایک پتھر گم ہو گیا۔


بغداد میں آ کر سامان دیکھا تو اس کے گم ہو جانے کا پتہ چلا فوراً اسی قسم کا ایک پتھر بازار سے خرید کر سب کو جناب حسین بن روح کی خدمت میں لایا۔ آپ نے ان میں سے نو لئے اور ایک واپس کر دیا اس نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کیوں واپس کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ پتھر جو تجھ سے گر گیا تھا وہ میرے پاس پہونچ گیا ہے اور یہ تو نے بازار سے خریدا ہے۔ آپ کے بعد چوتھے نائب علی ابن محمد سمری مقرر ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ آپ کا انتقال ۱۵/ شعبان ۳۲۹ ھ؁ کو ہوا جس کے بعد امام نے یہ اعلان کر دیا کہ اب غیبت کبریٰ کا آغاز ہو رہا ہے اس میں جو نئے مسائل پیش آئیں۔ ان میں فقاء کی طرف رجوع کیا جائےگا۔ ان کا حکم ہمارا حکم ہوگا اور ہمارا حکم خدا کا حکم ہے۔

سوالات :

۱ ۔ نواب اربعہ کے نام بتاؤ ؟

۲ ۔ نواب اربعہ میں سے کسی کا کوئی واقعہ بتاؤ ؟

۳ ۔ نواب اربعہ کے زمانہ کی مدد بتاؤ ؟

۴ ۔ ان کے بعد ہمارا کیا فریضہ ہے ؟


تیرھواں سبق

قیامت

قیامت کا دوسرا نام معاد ہے۔ قیامت وہ دن ہے جب انسان دوبرہ زندہ کئے جائیں گے تاکہ ان کے اچھے بڑے کاموں کا حساب لیا جائے اور اعمال کے مطابق ان کو جنت یا دوزخ میں جگہ دی جائے۔

مردوں کے زندہ کرنے پر تعجب نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ جو خدا اپنی قدرت سے بغیر کسی چیز کے سب کچھ پیدا کر سکتا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ جناب ابراہیمؐ ایک دریا کے کنارے سے گزرے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک مردار ہے جس کا آدھا حصہ دریا کے باہر ہے اور آدھا دریا کے اندر۔ آپ کو یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا اور آپ نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی۔ پروردگار مجھے یہ دیکھا دے کہ ایسے مردوں کو کیسے زندہ کرےگا۔ حکم خدا ہوا ابراہیمؐ ! چار پرندوں کو پکڑ لو اور انھیں اپنے سے مانوس بناؤ اس کے بعد انھیں ذبح کر کے ان کے ٹکڑے الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دو اور سب کی منقار (چونچ) اپنے ہاتھ میں رکھو۔ اس کے بعد سب کو الگ الگ آواز دو۔ یہ سارے ٹکڑے دوڑ کر تمہارے پاس آ جائےںگے۔


جناب ابراہیمؐ نے ایسا ہی کیا اور آپ نے جو آواز دی تو ہر جانور کے ٹکڑے آنے لگے۔ آپ نے ہر ایک کی چونچ اس کے جسم میں لگا دی اور ہر جانور پرواز کر گیا۔

اس واقعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا وند عالم مرنے کے بعد بلکہ قیمہ قیمہ ہونے کے بعد بھی زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسکی طاقت میں شک کرنا قرآن کریم پر ایمان نہ لانے اور خدا اور رسولؐ کی بات کا انکار کرنے کے برابر ہے۔

سوالات :

۱ ۔ معاد سے کیا مراد ہے ؟

۲ ۔ مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر تعجب کیوں نہ کرنا چاہئے ؟

۳ ۔ کیسے پتہ چلا کہ اللہ مردوں کو ریزہ ریزہ کرنے کے بعد بھی زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟


چودھواں سبق

برزخ

ہر انسان کے مرنے سے قیامت تک کے درمیانی فاصلے کا نام برزخ ہے۔ جس کی موت جس قدر قیامت سے قریب ہوگی اس کا برزخ اتنا ہی مختصر ہوگا اور جس قدر دور ہوگی اسی قدر برزخ بھی طولانی ہوگا۔

برزخ کی ضرورت اس لئے ہے کہ انسان اس دنیا میں دو قسم کے عمل انجام دیتا ہے ایک ظاہری عمل جسے کردار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ایک باطنی عمل جسے اعتقاد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

قیامت کا دن کردار کے مکمل حساب کے لئے معین ہے اور روح کے اعمال یعنی عقائد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ جسم کے روح سے الگ ہونے کے بعد ایک جگہ مقرر کر دی جائے جہاں روح کو اس کے عقائد کا اچھا یا بڑا بدلہ دیا جا سکے بس اسی عالم کا نام برزخ ہے۔ برزخ میں ہر شخص کو اس کے عقائد کے اعتبار سے اچھی یا بڑی جگہ دی جاتی ہے۔

برزخ میں روحیں اپنے جسم کے بجائے ایک دوسرے جسم میں رہتی ہیں جس طرح ہم جب بستر پر سوتے ہوتے ہیں اور خواب میں کسی جگہ جاتے ہیں کھاتے پیتے اور دوڑتے بھاگتے ہیں۔ خواب میں ہم کو جو اپنا جسم نظر آتا ہے برزخ خدا ہر انسان کو اسی سے ملتا جلتا ایک جسم دےگا جس کو جسم مثالی کہتے ہیں۔

حدیثوں میں آیا ہے کہ عالم برزخ میں مومنین کی روحیں وادی السلام میں رہتی ہیں اور کافروں ، منافقون اور اہلبیتؐ کے دشمنوں کی روحیں وادی برہوت میں رہتی ہیں۔


مرنے کے بعد انبیاء ، ائمہ اور نابالغ ، کم عقل اور دیوانے لوگوں کے علاوہ فشار قبر بھی ہوتا ہے۔ جمعہ کی رات یا دن کو مرنے والا یا جوار ائمہؐ میں دفن ہونے والا فشار قبر سے محفوظ ہوتا ہے۔ فشار کا مطلب یہ ہے کہ خدا سے سرکشی کرنے والوں یا اپنے اہل و عیال یا مومنین سے سختی کرنے والوں کو زمین دباتی ہے۔

قیامت کے دن گناہگار مومنین کی شفاعت معصومین فرمائیںگے۔ لیکن برزخ میں کوئی شفاعت نہ ہوگی لہذا برزخ کے لئے ہر مومن کو خود اپنے اوپر بھروسہ کرنا پڑےگا۔ مرنے والے کے اعزا و احباب کا فریضہ ہے کہ وہ مرنے والے کے واجبات کو ادا کریں اسکے ذمہ جو حقوق خدا یا بندوں کے باقی ہوں انھیں بھی ادا کریں ، اسکے علاوہ ایصال ثواب کے لئے اعمال خیر بھی کریں تاکہ مومن کا برزخ آسانی سے گزر جائے۔

جو خدا کچھ نہ ہونے پر ساری دنیا کو پیدا کر سکتا ہے وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے اور دنیا کے ختم ہونے کے بعد اسے دوبارہ پیدا بھی کر سکتا ہے۔

وہ خدا اس پر بھی قادر ہے کہ جن مرنے والوں کی لاشیں زمین پر پڑی رہتی ہیں یا جلا دی جاتی ہیں یا دریا میں ڈال دی جاتی ہیں یا جن لاشوں کو چیل کوے یا درندے کھا جاتے ہیں ان سب کی روحوں کو بھی برزخ میں رکھے اگر چہ ان کی تکلیف یا راحت ہم کو نظر نہیں آتی۔


ایک بار ایک کافر کی کھوپڑی ایک شخص نے پانچویں امامؐ کے سامنے پیش کی اور پوچھا کہ یہ کھوپڑی ٹھنڈی ہے اس کو عذاب کہاں دیا جا رہا ہے۔ امامؐ نے چقماق کے پتھر منگائے اور پوچھنے والے سے کہا کہ دیکھو یہ ٹھنڈے ہیں یا نہیں اُسنے چھو کر کہا کہ ٹھنڈے ہیں۔ امامؐ نے فرمایا کہ ان کو ایک دوسرے سے رگڑو۔ رگڑتے ہی پتھر سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ امامؐ نے فرمایا جو خدا اس ٹھنڈے پتھر کے اندر آگ رکھ سکتا ہے وہ اس ٹھنڈی کھوپڑی کو بھی آگ کی سزا دے سکتا ہے۔ وہ شخص جواب سن کر امامؐ کو دعا دیتا ہوا چلا گیا۔

سوالات :

۱ ۔ برزخ کیوں رکھا گیا ؟

۲ ۔ برزخ میں جسم کیسا ہوتا ہے اسکی مثال دو ؟

۳ ۔ برزخ میں مومن و غیر مومن کی روحیں کہاں رہتی ہیں ؟

۴ ۔ برزخ میں مرنے والے کو آرام پہونچانے کے طریقے کیا ہیں ؟

۵ ۔ فشار قبر کیا ہے ؟ کن کو نہیں ہوتا اور کہاں نہیں ہوتا ؟


پندرہواں سبق

عمل اور حساب

اللہ نے بندوں کو عمل کا موقع صرف دنیا میں دیا ہے۔ آخرت میں کسی کو عمل کا موقع نہیں ملےگا۔ جو لوگ اس دنیا میں نماز روزہ نہیں کرتے۔ زکوۃ خمس نہیں نکالتے۔ حج نہیں کرتے سور مر جاتے ہیں۔ وہ آخرت میں بہت پچھتائیں گے اور سوا افسوس کرنے کے کچھ ان کے ہاتھ نہیں لگےگا۔ آخرت صرف جزا اور سزا کی جگہ ہے عمل کی جگہ نہیں ہے۔ عمل کرنے کے لئے صرف دنیا ہے۔ یہاں جزا اور سزا نہیں ملتی۔ اگر دنیا میں اچھے کامو٘ کی جزا اور بڑے کاموں کی سزا مل جاتی ہوتی تو نبی ، امام اور اللہ کے نیک بندے مصیبتوں میں نہ رہتے اور نہ نمرود ، فرعون ، یزید جیسے برے لوگ راحت و آرام میں رہتے۔

خیرات کرنے سے بلائیں ضرور دور ہوتی ہیں لیکن خیرات کا ثواب آخرت میں ملےگا۔ اسی طرح گناہوں سے بلائیں نازل ہوتی ہیں مگر گناہوں کی سزا آخرت میں ملنے والی ہے۔

اللہ نے دو دو ملک ہر انسان پر معین کئے ہیں جو اس کے ہر کام کو لکھتے رہتے ہیں۔ حساب کے دن ملائکہ کے لکھے ہوئے اعمال نامے انسان کو دئے جائیں گے جس کے بعد کوئی شخص اپنے گناہوں سے انکار نہ کر سکےگا۔ اعمال نامہ کے علاوہ ہمارے ہاتھ ، پیر ، آنکھ ، کان سب اعضا بھی ہمارے ان تمام گناہوں کی گواہی دیںگے جو گناہ ہم نے ان اعضا سے کئے ہوںگے۔

اللہ نے جنت یا دوزخ میں جگہ دینے سے پہلے حساب کتاب اسلئے رکھا ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اعراض نہ کر سکے۔ اگر خدا پیدا کرتے ہی ہر انسان کو جنت یا دوزخ میں بھیج دیتا تو لوگ اعتراض کرتے کہ بغیر گناہ کے دوزخ میں کیوں ڈالا اور بغیر عبادت کے جنت میں جگہ کیوں دی۔ اعمال کے بعد کوئی شخص خدا پر اعتراض نہ کر سکےگا۔

سوالات :

۱ ۔ خیرات کا فائدہ کیا ہے اس کی جزا کہاں ملےگی ؟

۲ ۔ عمل کے لئے کون سی جگہ مخصوص ہے اور جزا و سزا کہاں ملےگی ؟


فروع دین

سولہواں سبق

میت کے احکام

موت کا وقت

جو لوگ مرنے والے کے پاس موجود ہوں ان پر واجب ہے کہ مرنے والے کو اس طرح چت لٹا دیں کہ اس کا منہ اور پیر کے دونوں تلوے قبلہ کی طرف ہوں۔ یہ حکم ہر مرنے والے کے لئے ہے چاہے مرنے والا مر دہو یا عورت۔ بچہ ہو یا جوان یا بوڑھا۔

غسل مسّ میت

آدمی کی میت چھونے سے غسل واجب ہوتا ہے اسی طرح اگر آدمی کی میت کا کوئی ٹکڑا چھو لے تب بھی غسل واجب ہو جائےگا۔ ٹکڑا چاہے زندگی میں کاٹا گیا ہو یا مرنے کے بعد کاٹا گیا ہو۔ شرط یہ ہے کہ اس میں ہڈی ہو مگر غسل اسی وقت واجب ہوگا جب میت یا اس کے ٹکڑے کو ٹھنڈا ہونے کے بعد اور غسل دینے سے پہلے چھوا جائے۔

جسم کے جن حصوں میں جان نہیں ہوتی جیسے بال ۔ دانت وغیر ان کے چھونے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ لیکن ناخن کے چھونے سے غسل واجب ہے۔

غسل میت

ہر مسلمان کے مردہ کو غسل دینا واجب ہے اگر میت کا صرف سینہ یا ہڈی ملے ایسا ٹکڑا ملے جس میں سینہ کی یا کوئی دوسری ہڈی لگی ہو تب بھی اس کو غسل دینا واجب ہے۔ اس بچہ کا غسل بھی واجب ہے جس کا اسقاط ہو گیا ہو مگر شرط یہ ہے کہ حمل چار مہینہ یا اس سے زیادہ کا ہو۔ میت کو پہلے بیری کی پانی سے پھر کافور کے پانی سے پھر خالص پانی سے غسل دینا واجب ہے۔


غسل کی ترکیب

غسل سے پہلے میت کے سارے جسم کو نجاست اور میل سے صاف کرے پھر میت کو پاک کرنے کے بعد بیری کی تھوڑی سی پتی چھل کر پانی میں ملائے اور نیت کرے کہ اس میت کو غسل دیتا ہوں آب سدر سے واجب قربتہً الی اللہ۔ اس کے بعد اسی پانی سے پہلے میت کے سر و گردن کو دھوئے، پھر ذرا کروٹ کر کے اسی کے داہنے حصہ بدن کو گردن سے پیر کی انگلیوں تک، پھر اسی طرح بائیں جانب کو اچھی طرح دھوئے۔ اس کے بعد دوسرے خالص پانی میں تھوڑا کافور ملا کر پھر نیت کرے کہ غسل میت دیتا ہوں آب کافور سے واجب قربتہً الی اللہ اور اس پانی سے بھی اسی طرح غسل دے۔ اس کے بعد خالص پانی سے اسی طرح غسل دے۔ جسم کے ہر حصے کو دھونے میں تھوڑا سا بڑھا کر دھوئے۔

طریقہ حنوط

مردے کو غسل دینے کے بعد اس کے ساتوں مقامات سجدہ یعنی دونوں پیر کے انگوٹھے ، دونوں گھٹنے اور پیشانی اور دونوں ہتھیلیوں پر کافور ملنا واجب ہے بشرط یہ کہ مرنے والا شہید نہ ہو اور حالت احرام میں نہ ہو۔

کفن

میت مرد کی ہو یا عورت کی ، تین کپڑے دینا واجب ہے۔ پیراہن ، لنگی ، چادر مگر مرد کی میت کو علاوہ ان واجبی کپڑوں کے ایک ران پیچ ، ایک عمامہ اور ایک چادر دینا مستحب ہے۔ عورت کی میت کو ایک ران پینچ ، مقنعہ اور سینہ بند اور اوڑھنی اور ایک چادر دینا مستحب ہے۔

بردیمانی دینا دونوں کے لئے مستحب ہے۔

تصریح

مرد کو مرد اور عورت کو عورت غسل دے اور کفن پہنائے عورت اپنے شوہر کو اور مرد اپنی زوجہ کو غسل و کفن دے سکتا ہے۔


کفن

پہلے چادر بچھائیں اس کے اوپر پیراہن گریبان کو پھاڑ کر آدھا بچھائیں اور آدھا سر کی جانب نکلا رہنے دیں ، پھر نصف چادر سے نیچے پیر کی جانب لنگی بچھا دیں اور اس پر ران پینچ رکھ دیں جس کا ایک سرا جو کمر سے متصل رہےگا طول میں پھاڑ دیں تاکہ کمر میں بندھ جائے۔ پھر ان کپڑوں پر میت کو لٹا کر ران پینچ کا سرز جو پھٹا ہوا ہے پہلے کمر میں اس طرح بنادھیں کہ گرہ ناف پر پڑے۔ اس کے بعد شرمگاہ پر میت کے اچھی طرح روئی رکھ کر دوسرا سرا اس ران پینچ کا اس بندھی ہوئی گرہ سے اس طرح نکالیں کہ مشل لنگوٹ کے ہو جائے اور روئی نہ گرنے پائے۔ اس کے بعد دونوں پیروں کو ملاکر لنگی سے لپیٹ دیں ، اس کے بعد پیراہن جو سر کی جانب نکلا ہے پہنا دیں۔ اگر عمامہ ہے تو سر پر باند کر دونوں سرے اس کے سینے پر دال دیں اور تین یعنی بیر یا خرمے یا بیر کی دو تازہ شاخیں لے کر ان پر شہادتین لکھ کر اس پر روئی لپیٹ کر ایک داہنی جانب جسم سے ملا کر ہنسلی سے بغل کے نیچے کمر تک اور دوسری بائیں جانب پیراہن کے اوپر ہنسلی کے پاس رکھیں اس کے بعد چادر دونوں طرف سے لپیٹ کر پیر ، کمر اور سر کے پاس باندھیں تاکہ علیحدہ نہ ہو جائے۔

عورت کے مردے کو پہلے ران پینچ اور لنگی اس کے بعد سینہ بند پہنا کر پیراہن پہنائیں اور مقنعہ کے بعد اوڑھنی اس کے بعد چادر لپیٹیں۔


نماز میت

چھ سال یا اس سے زیادہ عمر والے مسلمان خورد و بزرگ کی نماز جنازہ واجب ہے خواہ وہ شیعہ ہو یا غیر شیعہ ، عادل ہو یا فاسق ، غلام ہو یا آزاد ، مرد ہو یا عورت ، یہاں تک کہ خود کشی کر کے مر جانے والے کی بھی نماز میت واجب ہے، اس نماز کے واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے بھی نماز نہ پڑھی تو تمام باخبر مسلمان گنہگار سمجھے جائےیںگے اور ایک شخص بھی پڑھ دےگا تو سب سے ساقط ہو جائےگی۔

یہ نماز فرادی بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے بھی۔ لیکن جماعت کی صورت میں امام جماعت کو عادل ہونا چاہئے دوسرے تمام مومین کو بھی امام کی طرح دعائیں پڑھنا چاہئے یہاں خاموش کھڑا ہونے والا بیکار شمار ہوگا بلکہ اس کی موجودگی دوسرے مامومین کے لئے حائل بن کر ان کی نماز بھی خراب کر سکتی ہے اگر ان کا اتصال امام تک ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ سے ہو۔

اس نماز کے حسب ذیل شرائط ہیں :

۱ ۔ میت سامنے موجود ہو۔

۲ ۔ نماز گزار روبقبلہ ہو۔

۳ ۔ میت کا سر نمازی کے داہنی طرف ہو۔

۴ ۔ نمازی میت کے کسی حصے کے سامنے ہو اگر نماز جماعت سے نہ ہو رہی ہو۔ اکثر مقامات پر بہت سے افراد ایک ساتھ کھڑے ہو کر بلانیت جماعت نماز پڑھ لیتے ہیں ایسے میں صرف انھیں کی نماز صحیح ہوگی جو میت کے پاس ہیں باقی داہنے بائیں یا دوسری تیسری صف والوں کی نماز باطل ہے۔


۵ ۔ نماز غسل و کفن کے بعد ہو۔

۶ ۔ ولی کی اجازت سے ہو۔

۷ ۔ نمازی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔

نماز میت میں طہارت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میت بغیر نماز کے دفن ہو گئی ہے تو نماز اس کی قبر پر پڑھی جائےگی جب تک کہ اس کا بدن زیر لحد پاش پاش نہ ہو جائے۔

ترکیب نماز میت

اس نماز کی ترکیب یہ ہے کہ پہلے نیت کرے نماز میت پڑھتا ہوں واجب قربتہً الی اللہ پھر تکبیر کہہ کے پڑھےاَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ الله وَ اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ الله پھر تکبیر کہے اور صلوات پڑھےاَللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدِوَّ اَلِ مُحَمَّد پھر تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھےاَللَّهُمَّ اغفِر لِلمُومِنِینَ وَالمُومِنَاتِ پھر تکبیر کہے اور یہ دعا پڑھےاَلَّلهُمَّ اغفِر لهَنَا پھر تکبیر کہہ کر نماز ختم کر دے اگر میت نابالغ کی ہے تو یہ دعا پڑھےاَلَّلهُمَّ اجعَلُهُ لِاَبَویهِ وَلَنَا سَلَفاًدَّ فَرَطاً وَّ اَجرا

ایک جنازہ پر دو مرتبہ نماز مکروہ ہے لیکن اگر میت کسی بزرگ کی ہے تو کائی حرج نہیں ہے۔

کاندھا دینے کا طریقہ

جنازہ اٹھانے والوں کا رُخ میت کے سر کی جانب ہونا چاہئے۔ ایک آدمی میت کے داہنے شانے اور دوسرا آدمی اس کے داہنے پیر کو اپنے کاندھے پر اٹھائے۔ اسی طرح ایک آدمی میت کے بائیں شانے اور دوسرا میت کے بائیں پیر کو اپنے اپنے کاندھے پر اٹھائے۔ چند قدم کے جانے کے بعد جو آدمی میت کے داہنے شانے کو اٹھائے ہو میت کے داہنے پیر کی جگہ آ جائے اور وہاں کا آدمی بائیں پیر کی جگی اور وہاں کا آدمی میت کے بائیں شانے کی جگہ اور وہاں کا آدمی میت کے پائنتی سے ہو کر اس کے داہنے شانے کی جگہ چلا جائے۔ اسی طرح برابر کاندھا بدلتے ہوئے قبر تک لیجائیں۔


طریقہ دفن

میت کو دفن میں اس طرح چھپانا واجب ہے کہ درندوں اور بدبو پھیلنے سے محفوظ رہے اور قبر کو قد آدم یا گلے تک گہرا کھودنا اور اس میں قبلہ کی جانب ایک لحد بیٹھنے کے قابل بنانا مستحب ہے۔

دفن میں مندرجہ ذیل باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے :

۱ ۔ میت کو یکایک قبر میں نہ اتارنا چاہئے بلکہ مرد کی میت کو دو جگہ رکھ کر تیسری بار قبر کی پائنتی رکھیں اور اس کے بعد سر آگے کر کے اتاریں۔

۲ ۔ عورت کی میت کو تیسری بار قبر کے پہلو میں قبلہ کی طرف رکھ کر چوتھی بار پہلو کی طرف سے اس طرح اتاریں کہ سر نیچا نہ ہو۔ جو شخص قبر میں اترے اس کا ننگے سر ننگے پاؤں رہنا اور کپڑوں کی تمام گرہوں کو کھول دینا مستحب ہے اور میت کو قبر میں داہنی کروٹ کر کے قبلہ رخ لٹا دیں اس کے بعد میت کے بندے کفن کھول دیں تاکہ میت کا منھ کھلا رہے اور داہنا رخسارہ میت کا زمین پر پہنچ جائے اور نیچے ذرا سی مٹی رکھ کر سر کو کچھ بلند کر دیں اور خود قبر میں ایک طرف کھڑا ہو تاکہ میت اس کے دونوں پیروں کے درمیان نہ ہو جائے اور سورہ حمد و سورہ قل اعوذبرب الفلق اور قل ہو اللہ اور آیتہ الکرسی اور اعوذباللہ من الشیطان الرجیم پڑھتا رہے اور قبر سے باہر نکلنے سے پہلے میت کو تلقین پڑھائے۔


قبر کی اونچائی

قبر کو زمین سے چار انگلی بلند اس طرح بنانا جس کی لمبائی چوڑائی سے زیادہ ہو اس پر اس طرح پانی چھڑکنا کہ پانی ڈالنے والا قبلہ رُخ ہو کر سرہانے سے گراتا ہوا پائینتی کی طرف سے لا کر دوسری جانب سے پورا کرے اور جو پانی بچا رہے اس کو بیچ قبر پر ڈال دے۔ دفن کرنے کے بعد پھر تلقین پڑھنا چاہئے۔

سوالات :

۱ ۔ مرنے والے کو کس طرح لٹایا جانا چاہئے ؟

۲ ۔ غسل مس میت کب واجب ہوتا ہے ؟

۳ ۔ کس کے مردے کو غسل دینا واجب ہے ؟

۴ ۔ غسل میت کی ترکیب بتاؤ ؟

۵ ۔ حنوط کا طریقہ بتاؤ ؟

۶ ۔ نماز میت کی ترکیب بتاؤ ؟

۸ ۔ قبر کی اونچائی کتنی ہونی چاہئے ؟

۹ ۔ عورت اور مرد کی میت کو قبر میں کس طرح اتارا جائے اور لٹایا جائے ؟

۱۰ ۔ کفن کس طرح پہنایا جائےگا ؟


سترہواں سبق

روزہ

خدا وند عالم کے حکم کی تعمیل کی نیت سے صبح کی اذان کے وقت سے مغرب کے وقت تک ان چیزوں سے باز رہنے کا نام روزہ ہے جن کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

نو چیزوں سے روزہ باطل ہو جاتا ہے

۱ ۔ کھانا پینا ۔ ۲ ۔ جماع ۳ ۔ منی نکلنا یا کوئی ایسا کام کرنا جس سے منی نکل آئے۔

۴ ۔ خدا و نبیؐ اور ان کے جانشین پر بہتان باندھنا ۔ ۵ ۔ غلیظ یعنی گہرے غبار یا دھوئیں یا بھاپ کو حلق میں داخل کرنا۔ ۶ ۔ پانی میں سر ڈبونا ۔ ۷ ۔ نماز صبح کے وقت تک جنابت ، حیض یا نفاس کی حالت پر غسل یا تیمم کئے بغیر باقی رہنا۔ ۸ ۔ سیال چیزوں سے انیما لینا۔ ۹ ۔ عمداً قے کرنا۔

دن بھر روزہ کی نیت کا باقی رہنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ توڑنے کا ارادہ کرے مگر کسی وجہ سے نہ توڑے تب بھی نیت ٹوٹ جانے کی وجہ سے روزہ باقی نہ رہےگا۔ اس کی قضا واجب ہوگی اور اگر اس کے بعد بھی روزہ تور ڈالا تو کفارہ بھی واجب ہوگا۔ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر بھول کر یا کسی کے جبر سے وہ چیزیں انجام پا جائیں تو روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ ان کا موں کے عمداً کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ نماز صبح کا وقت آ جانے کے بعد احتلام ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹنا۔


کفارہ کی تفصیل

جس شخص پر رمضان کے روزہ کا کفارہ واجب ہو وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے جس میں ۲۱ روز ے مسلسل رکھے یا ۶۰ اثنا عشری فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائیں یا ان میں سے ہر ایک کو تقریباً سات سو دس گرام گیہوں ، جو یا اس کے مانند کوئی دوسرا غلہ دے۔ جو شخص مذکورہ بالا کفاروں میں سے کسی کفارہ کے ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو جتنے روزے رکھ سکے رکھے اور جتنا غلہ دے سکے دے اور استغفار بھی کرے لیکن اس کے بعد جب کبھی کفارہ دینے کے قابل ہو جائے تو بنا پر احتیاط کفارہ دینا واجب ہوگا۔

جو شخص روزے کو عمداً حرام چیز سے توڑ دے مثلا شراب پی لے اس پر تینوں کفارے ایک ساتھ واجب ہوںگے۔ ایسا شخص اگر تینوں کفارے نہ دے سکتا ہو تو جو ممکن ہو اتنا کفارہ دے۔ اگر رمضان کے روزے میں ایک سے زیادہ بار بیوی سے جماع کرے یا خودکاری کرے تو ہر جماع یا خود کاری پر ایک کفارہ واجب ہوگا ہر بار حرام طریقہ سے جماع کریگا تو ہر حرام جماع پر تینوں کفارے ایک ساتھ واجب ہوںگے۔ ان کے علاوہ روزہ کو باطل کرنے والا کام اگر ایک ہی روزے میں بار بار کیا جائے تو صرف ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔ اگر جماع بھی کرے اور دوسرا کام بھی کرے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو دو کفارے واجب ہوںگے۔


جو شخص سفر کرنا چاہتا ہو لیکن سفر شروع کرنے سے پہلے حد تر خص سے باہر نکلنے سے پہلے روزہ توڑ ڈالے اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوںگے۔ کفارہ کے ادا کرنےمیں تاخیر کرنا جائز ضرور ہے لیکن حتی الا مکان فوراً ادا کرنا چاہئے۔

قضا روزے

کافر پر زمانہ کفر کے روزوں کی قضا واجب نہیں ہے مگر جو مسلمان کافر ہو کر پھر مسلمان ہو جائے اس پر کفر کے زمانے کے روزوں کی قضا واجب ہوگی دیوانے پر اچھے ہونے کے بعد زمانہ دیوانگی کے روزوں کی قضا واجب نہیں لیکن بدمست پر مستی زائل ہونے کے بعد روزوں کی قضا واجب ہوگی۔ جب قضا روزوں کی تعدادییں شک ہو تو کم تعداد کے روزوں کی قضا واجب ہوگی اور زیادہ تعداد کے روزوں کی قضا مستحب ہے۔ رمضان کے قضا روزے کو قبل ظہر توڑا جا سکتا ہے بشرط یہ کہ قضا کا وقت تنگ نہ ہو۔ جو ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک مسلسل بیمار رہے اس پر پیچھلی رمضان کے روزوں کی قضا واجب نہ ہوگی۔ البتہ ہر روز کے عوض تقریباً سات سو دس گرام غلہ دینا ضروری ہوگا۔

باپ کے قضا روزے اور نماز کا ادا کرنا بڑے بیٹے پر واجب ہے اور ماں کے قضا روزے اور نماز کا ادا کرنا مستحب ہے۔


مسافر کے روزے

سفر اگر جائز ہو تو اس میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ ناجائز سفر کرنے والا اور جس کا پیشہ سفر کرنا ہو یہ لوگ سفر میں بھی روزے رکھیںگے۔ روزہ سے بچنے کے لئے سفر کرنا جائز ہے مگر مکرہ ہے۔

ظہر کے بعد سفر شروع کرنے والا روزہ نہیں توڑ سکتا اور ظہر سے پہلے سفر کرنے والا حد تر خص کے اندر قبل ظہر آ جائے اور اس نے روزہ توڑنے والا کوئی کام نہ یا ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہو جائگا۔جب کم از کم تنتالیس کیلو میٹر چھ سو تیس میٹر کی مسافت کے سفر کا ارادہ ہو تو حد تر خص سے نکلنے کے بعد نماز اور روزے دونوں قصر ہوتے ہیں۔

کن لوگوں پر روزہ واجب نہیں

۱ ۔ جو شخص پڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا یو یا روزہ رکھنے میں غیر معمولی تکلیف محسوس کرنے والے کو ہر روزہ کے عوض فقیر شرعی کو سات سو دس گرام غلہ دینا ہوگا۔

۲ ۔ جو شخص ایسے مرض میں گرفتار ہو جس کے باعث پیاس شدید ہو اور اس پیاس میں روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو یا غیر معمولی تکلیف کا باعث ہو تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے لیکن ہر روزہ کے عوض غلہ دینا واجب ہوگا۔ ایسے شخص پر رمضان کے دنوں میں واجب ہے کہ صرف ضرورت بھر پانی پیئے۔

۳ ۔ جس حاملہ عورت کو یا اس کے بچہ کو روزہ رکھنے کی صورت میں نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے لیکن بعد میں قضا واجب ہوگی۔ اور ہر روزہ کے عوض غلہ بھی دینا ہوگا۔

۴ ۔ جو شخص کسی بچہ کو دودھ پلاتی ہو چاہے بچہ کی ماں ہو یا نہ ہو روزہ سے بچہ کو نقصان پہونچنے کا خوف ہو تو اس پر رمضان میں روزہ رکھنا واجب نہ ہوگا مگر بعد میں قضا رکھنا ہوگی اور ہر روزہ کے عوض غلہ بھی دینا ہوگا لیکن اگر دوسری عورت دودھ پلانےپر تیار ہو جائے تو بچہ کو ا سکے حوالہ کر کے روزہ رکھنا واجب ہوگا۔


چاند کے ثبوت کے طریقے

۱ ۔ خود چاند دیکھے ۲ ۔ اتنے آدمی چاند دیکھنے کی گواہی دیں جس سے اطمینان ہو جائے ۳ ۔ دو عادل مرد چاند دیکھنے کی گواہی دیں ۴ ۔ ماہ رواں کے تین دن پورے ہو جائیں۔

سوالات :

۱ ۔ کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

۲ ۔ روزہ توڑنے کی نیت کرے مگر نہ توڑے تو کیا حکم ہے ؟

۳ ۔ روزہ کے کفارے بیان کرو ؟

۴ ۔ کن لوگوں پر روزہ واجب نہیں ہے ؟

۵ ۔ چاند کے ثبوت کے کیا ذرائع ہیں ؟


آٹھارہواں سبق

حج

خانہ کعبہ کی زیارت کرنے اور ان اعمال کو بجا لانے کو حج کہتے ہیں جن کے بجا لانے کا اس موقع پر حکم دیا گیا ہے۔ حج پوری عمر میں ایک بار واجب ہوتا ہے۔

حج واجب ہونے کے شرائط حسب ذیل ہیں۔

۱ ۔ بالغ ہونا ۔ ۲ ۔ عاقل ہونا ۔ ۳ ۔ آزاد ہونا ۔ ۴ ۔ حج کرنے کی وجہ سے کسی بڑے حرام کام کا کرنا یا کسی اہم واجب کام کا چھوڑنا لازم نہ آتا ہو ۔ ۵ ۔ حج کرنے والا مستطیع ہو یعنی سفر کے اخراجات رکھتا ہو مکہ تک جانے کی سواری مل سکتی ہو۔ حج کے فرائض کی ادائگی اور سفر کرنے کے قابل صحت ہو ، سفر میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ راستہ میں جان مال اور عزت کا خطرہ نہ ہو ، وقت کے اندر حج کے اعمال بجا لانے کا موقع ہو۔ واجب النفقہ افراد کو جن کا خرچ اس کے ذمہ واجب ہو حج کے زمانے میں ان کا خرچ دے سکتا ہو۔ حج کی واپسی پر اس کا ذریعہ معاش باقی رہے۔


جس شخص پر حج واجب ہو مگر حج نہ کرے اور اس کے بعد بڑھاپے یا بیماری یا کمشوری کی وجہ سے خود حج کرنے سے ایسا مجبور ہو جائے کہ آئندہ بھی اسے خود حج کرنے کی امید نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ کسی کو اپنی طرف سے حج کرنے کے لئے بھیج دے۔ جس شخص پر حج واجب ہو مگر نہ کرے اور اس کے بعد غریب ہو جائے تو اس پر واجب ہے کہ چاہے جس قدر بھی زحمتیں ہوں حج کرنے جائے اگر بالکل مجبور ہو جائے مگر کوئی شخص اس کو اجرت پر حج بدل کرنے کے لئے بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ پہلے حج بدل کرے اور پھر اگلے سال تک مکہ میں رہے تاکہ آئندہ سال اپنا حج کر سکے۔ جس شخص پر حج واجب ہو اور حج کئے بغیر مر جائے تو اس کی موت مسلمان کی موت نہیں ہوتی۔

سوالات :

۱ ۔ مستطیع کسے کہتے ہیں ؟

۲ ۔ حج واجب ہونے کے شرائط کیا ہیں ؟

۳ ۔ جس پر حج واجب ہو حج نہ کرے اور غریب ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟


انیسواں سبق

زکوٰۃ

زکوٰۃ نو چیزوں پر واجب ہے

۱ ۔ گیہوں ۔ ۲ ۔ جو ۔ ۳ ۔ خرمہ ۔ ۴ ۔ چاندی ۔ ۵ ۔ کشمش ۔ ۶ ۔ سونا ۔ ۷ ۔ اونٹ ۔ ۸ ۔ گائے ، بھینس ۔ ۹ ۔ بھیڑ ، بکری اور گوسفند۔ ہر مال پر زکوٰۃ تب ہی واجب ہوتی ہے جب اس کی مقدار اس نصاب کے برابر ہو جس نصاب پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ زکوٰۃ اس پر واجب ہوتی ہے جس کے پاس نصاب بھر مال ہو خود مال کا مالک ہو اور مال اس کے قبضہ میں ہو۔ بالغ ، عاقل اور آزاد ہو۔

زکوٰۃ حسب ذیل آٹھ مقامات پر صرف کی جا سکتی ہے

۱ ۔ فقیر یعنی اثنا عشری جو اپنے اور اپنے عیال کے سال بھر کے خرچ کا ذخیرہ اور ذریعہ نہ رکھتا ہو۔

۲ ۔ مسکین جو فقیر سے بھی زیادہ غریب ہو ۔

۳ ۔ جو شخص امام علیہ السلام یا آپ کے نائب کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے معین ہو ۔

۴ ۔ وہ مسلمان جن کا ایمان ضعیف ہو ان کو ایمان میں پختہ کرنے کے لئے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ۔

۵ ۔ جو غلام سختی میں ہو جس کی آزادی میں اس قسم کی ادائگی کی ضرورت ہو جس کو وہ ادا نہ کر سکتا ہو۔ اس صورت میں زکوٰۃ کے ذریعہ اس کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔

۶ ۔ جو شخص اپنا قرض نہ ادا کر سکتا ہو اُسے ادائگی قرض کے لئے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

۷ ۔ زکوٰۃ ایسے تمام کاموں میں صرف کی جا سکتی ہے جن کا فائدہ دینی اور عام ہو مثلا مسجد ، مدرسہ ، سرائے بنانا وغیرہ۔

۸ ۔ جو مسافر سفر میں محتاج ہو گیا ہو اُسے ضرورت بھر زکوٰۃ دی جا سکتی ہے


جن لوگوں کو زکوٰۃ دی جائے ان کا شیعہ اثنا عشری ہونا ضروری ہے اور ضروری ہے کہ وہ شخص علی الا علان گناہ کبیرہ نہ کرتا ہو۔ سید کو غیر سید کی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ نکالنے والا ان لوگوں کو اپنی زکوٰۃ نہیں صرف کر سکتا جن کا خرچ دینا اس پر شرعاً واجب ہو۔

فطرہ

شب عید غریب کے وقت جو شخص بالغ اور عاقل ہو فقیر نہ ہو نہ غلام ہو اس پر واجب ہے کہ اپنا اور اپنے عیال کا فطرہ نکالے یعنی ہر شخص کی طرف سے فرداً فرداٍ تین کیلو گیہوں یا جو یا چاول یا ان کے مانند کوئی غلہ دے یا ان کی قیمت دے۔ قبل غریب آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہوتا ہے۔ فطرہ بھی انھیں جگہوں پر دیا جائےگا جہاں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔ البتہ مستحب ہے کہ فطرہ صرف فقراء شیعہ پر صرف کیا جائے۔

فطرہ احتیاط واجب کی بنا پر فقط شیعہ اثنا عشری مستحق فقراٗ کو دینا ضروری ہے۔

( آیتہ۔۔۔۔۔ سیستانی مدظلہ )

سوالات :

۱ ۔ زکوٰۃ کن چیزوں پر واجب ہے ؟

۲ ۔ فطرہ کس شخص پر واجب ہے ؟

۳ ۔ زکوٰۃ اور فطرہ کا مصرف کیا ہے ؟


بیسواں سبق

خمس

حسب ذیل چیزوں میں خمس واجب ہے۔

۱ ۔ سالانہ بچت ۔ ۲ ۔ کان ۔ ۳ ۔ خزانہ ۔ ۴ ۔ حلال و حرام مال ایک میں مل جائیں ۔ ۵ ۔ سمندر میں غوطہ لگا کر جو چیزیں نکالی جائیں ۔ ۶ ۔ میدان جہاد میں جو مال غنیمت ملے ۔ ۷ ۔ اگر کافر ذمی مسلمان سے زمین خریدے ۔

جس شخص کو بھی تجارت ، صنعت یا کسی دوسرے ذریعہ معاش سے آمدنی ہو یا ذریعہ معاش کے علاوہ مثلا ہبہ وغیرہ کے ذریعہ آمدنی ہو۔ اگر اس کے پاس اس آمدنی سے اپنے اور اپنے عیال کے سال بھر کے خرچ کے بعد کچھ بچے تو بچت کا پانچواں حصہ خمس میں نکالنا واجب ہوگا۔ خرچ کا حسب حیثیت اور جائز ہونا ضروری ہے ورنہ اس مال کا بھی خمس دینا پڑےگا جو ناجائز کاموں میں صرف ہوا ہو یا جسے حیثیت سے زیادہ خرچ کیا ہو۔ خمس نکالے بغیر مال پر تصرف ناجائز ہے اور اس سے خریدی یا بنائی جانے والی چیزوں میں عبادت درست نہیں ہوتی۔


خمس کا مصرف

خمس کے دو حصے ہوتے ہیں ۔ آدھا حق سادات ہوتا ہے جو فقیر سید یا سید تییم یا اُس سید مسافر پر خرچ ہوگا جو سفر میں فقیر ہو گیا ہو۔ آدھا حصہ امام علیہ السلام ہے۔ آج کے زمانہ غیبت میں امام علیہ السلام کا حق مجتہد جامع الشرائط کو دیا جائے یا اس کی اجازت سے صرف کیا جائے۔ خمس اسی کو دیا جا سکتا ہے جو اثنا عشری شیعہ ہو ، علی الاعلان گناہ نہ کرتا ہو اور خمس نکالنے والے پر اس کا خرچ واجب نہ ہو اور سید ہو غیر سید کو خمس نہیں دیا جا سکتا ہے البتہ حق امام غیر سید پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لئے اعلم وقت کی اجازت ضروری ہے۔

سوالات :

۱-خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

۲ ۔ خمس کن پر صرف کیا جائےگا ؟

۳ ۔ حق امامؐ کس کو دیا جائےگا ؟


اکیسواں سبق

متفرق مسائل

۱ ۔ جو آوزیں گانے اور لہو و لعب کی محفلوں کے لئے مخصوص ہیں ان آوازوں کا نکالنا اور سننا حرام ہے۔ ان آوازوں سے قرآن نوحہ ، مرثیہ اور مجلس پڑھنا بھی حرام ہے۔

۲ ۔ داڑھی کا مونڈنا یا مشین سے کتر دینا کہ وہ منڈنے کے برابر ہو جائے حرام ہے۔ یہ حکم تمام لوگوں کے لئے یکساں ہے۔ لوگوں کے مذاق اڑانے کی وجہ سے حکم خدا نہیں بدلتا ہے۔ لڑکا جب بالغ ہو جائے تو اس پر داڑھی منڈانا حرام ہے چاہے داڑھی تھوڑی نکلی ہو یا زیادہ۔

۳ ۔ اگر نانی اپنے نواسہ یا نواسی کو دودھ پلا دے تو بچہ کی ماں اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے بشرطیکہ دودھ پلانے کے شرائط پورے ہوئے ہوں۔

۴ ۔ اگر کوئی شخص کسی لڑکے سے بدکاری کرے تو اس لڑکے کی بہن ، ماں ، بیٹی وغیرہ کا نکاح بدکاری کرنے والے سے کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔

۵ ۔ لڑکا تب بالغ ہوتا ہے جب اس کی عمر پندرہ سال کی ہو جائے یا سوتے جاگتے میں منی نکلنے لگے یا زیر ناف بال نکل آئیں اور لڑکی تب بالغ ہوتی ہے جب پورے نو سال کی ہو جائے یا زیر ناف بال نکل آئیں یا حیض آئے۔بالغ ہونے کے بعد اگر لڑکے کے سوتے یا جاگتے میں منی نکل آئے تو اس پر غسل جنابت واجب ہوتا ہے۔ منی وہ رطوبت ہے جو پیشاب کی جگہ سے اچھل کر نکلتی ہے جس کے نکلنے کے بعد عضو میں سستی پیدا ہو جاتی ہے اور علی العموم شہوت کے بعد نکلتی ہے۔

سوالات :

۱ ۔ گانا اور داڑھی منڈنا کیسا ہے ؟

۲ ۔ اگر نانی اپنے نواسہ یا نواسی کو دودھ پلائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

۳ ۔ کس عمر میں لڑکی اور لڑکے کو بالغ کہا جائےگا ؟


اخلاق

اصلاح نفس

اصلاح معاشرہ


بائیسواں سبق

سود ، غیبت ، اطاعت والدین اور جھوٹ

سود

ایسا بڑا اور کبیرہ گناہ ہے کہ خدا ایک جگہ فرماتا ہے کہ سودخوار اللہ اور رسولؐ سے لڑنے کے واسطے تیار رہیں۔ کافی میں امام جعفر صادقؐ سے منقول ہے کہ سود کا ایک درہم اس زنا سے جو ،ماں ، بہن وغیرہ سے ستر بار کیا جائے زیادہ بدتر ہے اور جناب امیرؐ فرماتے ہیں کہ سود لینے والا ، دینے والا ، لکھنے والا ، گواہ سب برابر کے گناہگار ہیں۔

سود کے معنی

جو دو چیزیں تولی یا ناپی جاتی ہیں کسی معاملے میں کمی و زیادتی کے ساتھ لینا دینا۔ پس اگر دونوں چیزیں ایک قسم کی نہ ہوں تو سود نہ ہوگا جیسے تولہ بھر سونا ے کر دس بھر چاندی لے تو کوئی مضائقہ نہیں ، یا ناپنے اور تولنے کی چیز نہ ہو تو بھی کمی و زیادتی میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن قرض کوئی چیز بھی کم دے کر زیادہ لینا سود ہے چاہے وہ تولی ناپی جاتی ہو یا نہ تولی ناپی جاتی ہو۔

سود سے بچنے کا طریقہ

سو روپئے دے اور اسکے بجائے نوے روپئے اور مثلا گھڑی یا کوئی اور چیز لے ، اس صورت میں اگرچہ دوسری چیز کی قیمت سو روپئے سے زیادہ ہو جائے مگر قسم بدل جانے کی وجہ سے خرمت ہو جائےگی۔

اس قسم کی صورتوں میں اکثر لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور اس کو ایک کھیل اور مکاری سمجھتے ہیں۔ ان کے جواب میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جس خدا نے سود کو حرام کہا ہے اسی نے اس کے گناہ سے بچنے کے طریقے بھی بتائے ہیں۔


باپ ، بیٹے ، میاں ، بوی مالک ، غلام میں باہم کمی و زیادتی کے ساتھ معاملہ کرنا سود نہیں ہے اور مسلمانوں کا کفار سے زیادہ لینا بھی سود نہیں ہے۔

غیبت

جناب رسول مابؐ ، حضرت ابوذر سے ارشاد فرماتے ہیں۔ اے ابوزر اپنے کو غیبت سے باز رکھو کیوں کہ غیبت زنا سے بدتر ہے۔ ابوذر نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا۔ اس لئے کہ جب آدمی زنا کے بعد توبہ کرتا ہے تو خدا اُسے بخش دیتا ہے مگر غیبت میں جس کی غیبت کی ہے جب تک وہ نہ بخشے گناہ معاف نہیں ہوتا۔ ابوذر نے عرض کی یا رسولؐ اللہ غیبت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ۔ کہ کسی بندہ مومن کا اس طرح تذکرہ کرنا جسے وہ برا مانے ، ابوذر نے عرض کی اگر وہ بات واقعی اس میں پائی جاتی ہو ، آپ نے فرمایا اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہے جب ہی تو غیبت ہے اور اگر نہیں پائی جاتی تو افترا و بہتان ہوگا۔ مومن کا فرض ہے کہ جب اس کے سامنے کسی کی غیبت کی جائے تو اس کو روک دے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہاں سے ہٹ جائے۔

غیبت زبان سے نہیں کی جاتی بلکہ اعضا سے بھی کی جا سکتی ہے مثلا کسی لنگڑے کے چلنے یا کسی کے بات کرنے یا کپڑے پہننے کی نقل کرنا بھی غیبت ہے۔


کن مقامات پر غیبت جائز ہے

جائز غیبت

۱ ۔ اگر کسی شخص نے کسی پر ظلم کیا ہو تو مظلوم اس کے ظلم کی داستان کو ایسے شخص کے سامنے جو اس کے ظلم کا دفیعہ کر سکے بیان کر سکتا ہے اور دوسرا سن سکتا ہے۔

۲ ۔ جب کوئی شخص کسی کے بارے میں کسی معاملے نکاح ، قرض وغیرہ کی غرض سے مشورہ کرے تو مشورہ دینے والا اس کے واقع حالات بیان کر سکتا ہے۔

۳ ۔ اہل بدعت کی بدعت کا بیان کرنا مثلا کوئی شخص مجمع یا وعظ میں خلق خدا کو باطل یا جھوٹے مضامین سے فریب دیتا ہو یا دینی ضرر پہونچاتا ہو یا جھوٹا دعویٰ کرتا ہو تو اس کو روک دینا خصوصاً علما پر ضروری ہے۔

۴ ۔ اگر کوئی شخص کسی صفت بیان میں مشہور ہو یا اسی صفت سے پکارا جاتا ہو تو اس کا نام لینا یا صفت بیان کرنا جائز ہے مگر اس حالت میں ایسے الفاظ ادا نہ کرے کہ برا مانے۔

۵ ۔ جب کوئی کسی گناہ کو علانیہ کھلے عام کرتا ہو تو اس شخص کے اس عیب کا بیان کرنا غیبت نہیں ہے۔ بشرطیکہ توہین مقصد نہ ہو۔

۶ ۔ جو شخص اپنا شجرہ غلط بتاتا ہو اس کا صحیح شجرہ بتانا جائز ہے۔

غیبت کا کفارہ یہ ہے کرے کہ جس کی غیبت کی ہو اس سے معاف کرا لے اور اگر وہ مر گیا ہو تو اس کے لئے خدا سے بخشش کی دعا کرے۔


اطاعت والدین :

ماں باپ کا احترام ، خدمت گزاری اور اطاعت کا خیال رکھنا دین اسلام کے اعلیٰ فرائض میں سے ہے۔ اس کا راضی رکھنا بہت بڑی عبادت ہے انکی نافرمانی ، ان کو اپنے سے آزردہ رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ خدا وند عالم ایک جگہ فرماتا ہے کہ ان کے جواب میں اگر چہ وہ کہیں ہی سختی کیوں نہ کریں اُف تک نہ کہو۔ ایک حدیث میں ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی یہ ہے کہ ان کو اس کی تکلیف نہ دو کہ ان کو کسی چیز کے مانگنے کی ضرورت پڑے ان کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو۔ ان کے آگے ہو کر مت چلو۔ تیز نگاہ سے ان کو نہ دیکھو اگر وہ تمہیں ماریں تو تم ان کی بخشش کی دعا کرو۔ ان کے سامنے عاجز اور ذلیل کی طرح بیٹھو۔ اگر ماں باپ کافر ہوں اور تم سے کافر ہو جانے کو کہیں تو ان کا حکم نہ مانو مگر دینا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ پکارنے میں ان کا نام نہ لو۔ کسی جگہ ان سے پہلے نہ بیٹھو۔ ایسا کام نہ کرو جس سے ان پر گالیاں پڑیں۔ اگر وہ مر گئے ہوں تو ان کے لئے نمازیں پڑھو ، روزے رکھو۔ ان کی طرف سے حج کرو۔ ایک شبانہ روز کی خدمت ایک سال کے جہاد سے بہتر ہے۔ مقروض ہوں تو ان کے قرضے کو ادا کرو۔ ان کے مصارف کے متحمل ہو جو ان کی طرف غصے کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس کی نماز قبول نہیں۔ ان کی مدارت کرو۔ ان پر مہربانی کی نظر کرنا عبادت ہے۔


سچا واقعہ :

نبی اسرا ئیل میں ایک عابد جریح نامی تھا اور برابر اپنی عبادت گاہ میں عبادت کرتا تھا۔ ایک دن اس کی ماں آئی اور اُس کو پکار ا مگر چو نکہ نمازمیں مشغول تھا جو اب نہ دے سکا ۔ وہ واپس گئی اور پھر دوبارہ آئی اور پھر یہ نماز میں مشغول ہونے کی وجہ سے جواب نہ دے سکا۔ پھر تیسری مرتبہ آئی اور پکارا اُس نے جواب نہ دیا اور نماز پڑھنے لگا۔ اس کی ماں نے غصہ میں کہا کہ میں خدا سے چاہتی ہوں کہ اس گناہ کا اس سے مواخذہ کرے۔ دوسرے دن ایک زناکار عورت اس کے عبادت خانہ کے پاس آ کر بیٹھی اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا اور وہ بالاعلان کہنے لگی کہ جریح نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے اور یہ بچہ اسی کے نطفہ کا ہے۔ خبر بادشاہ تک پہونچی اور اس نے جریح کے سولی دینے کا حکم دیا۔ جب یہ حال جریح کی ماں کو معلوم تو روتی پیٹتی اس کے سامنے آئی۔ جریح نے کہا ۔ ماں یہ بلا تمہاری بد دعا کی بلائی ہوئی ہے جب لوگوں نے سنا تو اس واقعہ کی تفتیش کی اور جریح نے ساری داستان کہہ سنائی۔ لوگوں نے کہا کہ آخر تمہاری سچائی کا کچھ ثبوت بھی ہے۔ جریح بولا ہاں اس لڑکے کو لے آؤ۔ جب اُس کو لائے تو جریح نے پوچھا تو کس کا لڑکا ہے۔ خدا کے حکم سے وہ بول اٹھا کہ میں فٖلاں شخص کا لڑکا ہوں جو فلاں شخص کی بکریاں چراتا ہے۔ غرض عابد نے سولی سے رہائی پائی اور قسم کھائی کہ جب تک زندہ ہوں ماں کی خدمت کروںگا اور اس سے جدا نہ ہوں گا۔


جھوٹ :

جھوٹ گناہ کبیرہ ہے۔ جا بجا قرآن مجید میں اسکی برائی مذکور ہےلَعنَةُ اللهِ عَلٰی الکَذِ بِینَ ہر شخص کی زبان پر ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جھوٹ شراب سے بدتر ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جھوٹ ایمان کو خراب کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰؐ سے منقول ہے کہ جو شخص زیادہ جھوٹ بولتا ہے خدا اس کو نسیان میں مبتلا کرتا ہے تاکہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل و رسوا ہو۔ ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔ ہاں چند مقامات پر جھوٹ بولنا جائز ہے۔

۱ ۔ جب سچ بولنے میں کسی مومن کو نقصان ہوتا ہو یا ناحق قتل ہو جانے کا خوف ہو اور جھوٹ بولنے سے نجات ہو جائے تو جھوٹ بولنا جائز ہے بلکہ واجب ہے مگر بہتر یہ ہے کہ ایسے الفاظ میں مطلب ادا کرے کہ کام بھی نکلے اور خلاف واقعہ بھی نہ ہو۔ مثلا جب کسی کا مال تمہارے پاس امانت ہو اور کوئی حاکم جابر لینا چاہتا ہو اور تم سے دریافت کیا جائے تو یوں کہو کہ میرے ہاتھوں میں نہیں ہے یا میرے پاس نہیں ہے تم اس خیال سے کہو کہ ہاتھ یا جیب میں نہیں ہے اور وہ یہ سمجھے کہ تمہارے قبضہ میں نہیں ہے۔


۲ ۔ جب دو مومنوں کی رنجش اور کشیدگی کا دفع کرنا مقصود ہو اور دونوں میں میل جول کرانا چاہے تو ایک طرف سے جھوٹ موٹ ایسی باتیں دوسرے سے کہہ سکتا ہے جن سے باہم ملاپ ہو جائے۔

۳ ۔ جب کسی ایسی جگی ہو کہ اپنے مذہب کے اظہار سے جان یا آبرو کا خوف ہو اور اس کے دفیعہ کی کوئی تدبیر بھی نہ ہو تو حقیقت کو چھپا سکتا ہے۔

سوالات :

۱ ۔ سود کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام نے کیا فرمایا ہے ؟

۲ ۔ سود کے کیا معنی ہیں ؟ اور اس سے انسان کیونکر بچ سکتا ہے ؟

۳ ۔ غیبت کے گناہ کو کون معاف کر سکتا ہے ؟

۴ ۔ کیا غیبت کبھی جائز بھی ہو سکتی ہے ؟

۵ ۔ والدین کے مرنے کے بعد ان کو کس طرح خوش کیا جا سکتا ہے ؟

۶ ۔ جھوٹ میں کیا برائی ہے ؟


تیئیسواں سبق

دین و شریعت

جس طرح مکان کے لئے چہاردیواری اور دریا کے لئے گھاٹ ضروری ہے اسی طرح دین کے اصول و قواعد کی حفاظت کے لئے کچھ اعمال و احکام ضروری ہیں جن کے ذریعہ ان اصولوں کو زندہ رکھا جا سکے اور انسانی دماغ سے مٹنے نہ دیا جائے۔ انھیں اعمال و احکام کا نام شریعت ہے۔ عربی زبان میں شریعت کے معنی گھاٹ کے ہیں۔ گھاٹ کا کام یہ ہے کہ دریا کے بہاؤ کو ایک راستے پر لے چلے اور پیاسوں کو دریا سے فائدہ اٹھانے کا راستہ دے۔ شریعت کے احکام کا مقصد یہی ہے ۔ وہ اصول دین کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کا راستہ بھی بتاتے ہیں۔

نماز شریعت کا ایک حکم ہے۔ یہ اپنی نیت سے توحید کی یاد دلاتی ہے۔ سورہ حمد کی تلاوت ۔ خدا کے اوصاف اور قیامت کے عقیدہ کے ساتھ صراط مستقیم پر قائم رہنے کی تعلیم دیتی ہے۔ نماز کی ترکیب نبوت و امامت کو یاد دلاتی ہے جس کے زریعہ یہ نماز ہم تک پہنچی ہے۔

یہ نماز اصول دین اور عقائد کو یاد دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ چوبیس گھنٹے میں کئی مرتبہ عقائد کی یاد تازہ کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ عقائد سے فائدہ اٹھانے کا تنہا راستہ عبادت و عمل ہے۔ عمل کے بغیر عقیدہ میں ایمان نہیں پیدا ہوتی ہے جس طرح گھاٹ کے توٹ جانے سے پانی پھیل جاتا ہے اسی طرح اگر اعمال کو چھوڑ دیا گیا تو عقیدہ ایک راستہ پر نہ رہےگا بلکہ انسان نماز کی طرح پوجا پاٹ سے بھی خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرےگا جو بالکل غلط ہے۔

سوالات :

۱ ۔ شریعت کے کیا معنی ہیں اور اس سے کیا مراد ہے ؟

۲ ۔ عمل کے بغیر عقیدہ کیسا ہوتا ہے ؟


چوبیسواں سبق

محبت ۔ نفرت

جس طرح اللہ نے دل ۔ دماغ ۔ آنکھ ۔ کان ۔ زبان بہت سی نعمتیں دی ہیں اسی طرح محبت اور نفرت کا خزانہ بھی عطا کیا ہے۔ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں ان کا صحیح طریقہ پر صرف کرنا ہم سب کا فریضہ ہے۔

محبت اور نفرت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ نیکی اور نیک افراد سے محبت کی جائے اور برائی اور برے لوگوں سے نفرت کی جائے۔ نیک لوگوں سے نفرت کرنا جتنا بڑا گناہ ہے ۔ برے لوگوں سے محبت کربا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔

ایک مسلمان کا فرض ہے کہ خدا و رسولؐ امامؐ سے بھر پور محبت کرے۔ ان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھے۔ ان کے ہر حکم پر عمل کرے۔ ان کے دوستوں کو دوست رکھے۔ خدا ، رسول ، امام کی اس محبت کا نام تولا ہے

اسی طرح ہر مسلمان کا فرض ہے کہ خدا ، رسول ، امام کے دشمنوں سے نفرت کرے۔ ان کی عادتوں کے اختیار کرنے سے پرہیز کرے۔ ان کی محبت سے اپنے دل کو خالی رکھے۔ ان کی تعظیم نہ کرے۔ خدا ، رسول ، امام کے دشمنوں سے اسی علحدگی کے اختیار کرنے کا نام تبرا ہے۔

دوست کا دوست ، دوست ہوتا ہے اور دوست کا دشمن ، دشمن ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ ، رسول ، امام کا دوست ان کے دوستوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور ان کے دشمنوں سے نفرت رکھتا ہے۔

جس طرح نیک لوگوں سے محبت کرنا واجب ہے اسی طرح نیکی سے محبت کرنا اور بڑائی سے نفرت کرنا بھی ہر شخص کا فرض ہے۔


نیکی سے پہلی محبت یہ ہے کہ انسان خود اس کو اختیار کرے اور دوسری محبت یہ ہے کہ دوسروں میں نیکی پھیلانے کی اپنے مکان بھر کو شش کرے۔ نیکی پھیلانے کی کوشش کا نام امر بالمعروف ہے۔

برائی سے پہلی نفرت ہے کہ انسان پہلے اس سے خود پر ہیز کرے اور دوسری نفرت یہ ہے کہ دوسروں کو برائی سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ برائی کو پھیلنے سے روکنے کا نام نہیں عن المنکر ہے۔

تولا ۔ تبرا ۔ امر بالمعروف ، نہیں عن المنکر ہر مسلمان پر اسی طرح واجب ہے جس طرح نماز۔ روزہ ہم سب پر واجب ہے۔

سوالات :

۱ ۔ محبت و نفرت کا کیا مطلب ہے ؟


پچیسواں سبق

تقیہ

جب کوئی دین والے بےدینوں میں گھر جائے اور دین کے اعلان کرنے کی سورت میں دین دار کی عزت یا جان یا اتنے مال کے نقصان کا خطرہ ہو جس مالی نقصان کے بعد اس کے لئے زندگی بسر کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا ہو تو مذہب کا حکم ہے کہ ایسے موقع پر دین کا اعلان نہ کیا جائے اسی کو تقیہ کہتے ہیں مگر جب تقیہ کرنے کی وجہ سے خود دین کو نقصان پہونچتا ہو یا کسی دوسرے مومن کی عزت یا جان یا مال کا عظیم نقصان ہوتا ہو تو نقصان کرنا حرام ہے۔

تقیہ جھوٹ بولنا نہیں ہے اور نہ تقیہ کرنا خدا اور رسولؐ کی نظر میں بری بات ہے بلکہ جب تقیہ کرنے کا محل اور موقع ہوتا ہے تو تقیہ کرنے کا مذہب حکم دیتا ہے اور خدا اور رسولؐ خوش ہوتے ہیں۔ تقیہ کا حکم خدا اور رسولؐ نے دیا ہے لہذا تقیہ کی مخالفت کرنا یا اس کا مذاق اڑانا خدا اور رسولؐ کی مخالفت کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ایک قرانی اور تاریخی واقعہ سناتے ہیں جس سے تقیہ کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہا جائے گا اور تقیہ کا جائز ہونا بھی۔

فرعون جس نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا ، خود لا ولد تھا اس لئے اس نے اپنے چچا زاد بھائی حزقیل کو اپنا ولیعہد بنایا تھا مگر جناب حزقیل فرعون کو خدا نہیں مانتے تھے بلکہ خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ جناب حزقیل کو مومن آل فرعون کہا جاتا ہے۔


ایک بار فرعون کے دربار والوں نے جناب حزقیل کی شکایت فرعون سے کی کہ وہ تجھ کو خدا نہیں مانتے۔ اس خبر سے فرعون کو نہت غصہ آیا اور جناب حزقیل کو بلا کر کہا کہ یہ لوگ تمہاری شکایت لائے ہیں کہ تم مجھ کو خدا نہیں مانتے کیا یہ شکایت صحیح ہے۔ جناب حزقیل نے فرمایا کہ جو ان لوگوں کی جان و مال کا مالک ہے وہی میری جان و مال کا مالک ہے جو ان کو رزق دیتا ہے وہی مجھے بھی رزق دیتا ہے اور جو ان کا خدا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہی میرا بھی خدا ہے اُس کے علاوہ میں کسی دوسرے کو خدا نہیں مانتا۔

فرعون اس جواب سے خوش ہو گیا۔ اس نے سمجھا کہ یہ مجھ کو خدا مانتے ہیں جب کہ جناب حزقیل نے حقیقی خدا کے اقرار کا اعلان فرمایا تھا۔ آپ کی اسی روش اور اچھے عمل کو اللہ تعلیٰ نے پسند فرما کر قرآن پاک میں تعریف کی ہے اور آپ کو مومن آل فرعون کا لقب دیا ہے۔

جناب حزقیل کا ایمان فرعون اور فرعونیوں سے پوشیدہ تھا چنانچہ خدا وند عالم نے فرمایا ہے ۔مومِنٌ ٰالِ فِرعَونَ یَکتُمُ اِیمَانَهُ یعنی فرعون کے خاندان میں ایک مرد مومن تھا جو اپنا ایمان چھپائے تھا۔ رسولؐ کریم نے فرمایا کہ دنیا میں تین صدیق ہیں جن میں سے ایک جناب حزقیل بھی ہیں اور سب سے افضل علی علیہ السلام ہیں۔

اگر تقیہ کرنا ناجائز ہوتا تو جناب حزقیل کی خدا تعریف نہ کرتا۔ اگر تقیہ کرنا جھوٹ بولنا ہوتا تو نبیؐ حزقیل کو صدیق نہ کہتے۔


تقیہ کیسے کیا جاتا ہے

یہ بھی جناب حزقیل کے واقعہ سے معلوم ہوا کہ فرعون نے جب حزقیل سے ان کا دین پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے شکایت کرنے والوں سے ان کا دین پوچھا جائے۔ فرعون نے کہا ان سے تم ہی پوچھ لو۔ جناب حزقیل نے فرعون سے پوچھا تماہارا مالک کون تمہارا رازق تمہارا پیدا کرنے والا اور تمہارا خدا کون ہے۔ فرعون ہر سوال کے جواب میں کہتے رہے فرعون ہے۔ جناب حزقیل نے کہا کہ جو انکا خدا ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے جو ان کا را ز ق اور مالک ہے وہی میرا خدا ہے وہی میرا خالق ر ازق اور مالک ہے۔ یہ سن کر فرعون اور فرعونی مطمئین ہو گئے کہ حزقیل ہمارے دین پر ہیں حالانکہ جناب حزقیل خدا کو اپنا خدا اور مالک و رازق بتا رہے تھے۔ جناب حزقیل جھوٹ نہیں بولے مگر تقیہ کر کے اپنے کو بچا لیا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس لئے تقیہ نہیں کیا کہ اگر آپ تقیہ کر لیتے تو دین خطرہ میں پر جاتا اور تقیہ دین ہی کے بچانے کے لئے کیا جاتا ہے۔

سوالات :

۱ ۔ تقیہ کے شرائط کیا ہیں ؟

۲ ۔ تقیہ کب حرام ہے ؟

۳ ۔ جناب حزقیل کا واقعہ کیا ہے ؟

۴ ۔ امام حسینؐ نے تقیہ کیوں نہیں کیا ؟


تاریخ

شخصیات

واقعات


چھبیسواں سبق

ہمارے ہادی

چودہ معصوم ہمارے ہادی اور رہبر ہیں جنھوں نے بڑی بڑی قربانیاں دے کر دین کو پھیلایا اور بچایا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو آج زمانہ میں دین کا اجالا نہ ہوتا۔ ان کی محبت اور تعظیم ہم سب پر واجب ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہم سب کی زندگی کا مقصد ہے۔ ان کی زندگی ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔ ان کی زندگی کے حالات سے واقف اور باخبر ہونا ضروری ہے اس سبق میں ہر معصوم کی زندگی چند واقعات لکھے جاتے ہیں۔

ہمارے رسولؐ :

نبوت کے اعلان سے پہلے بھی تمام لوگ آپ سے محبت کرتے تھے۔ ہر شخص آپ پر بھروسہ کرتا تھا۔عرب جھگڑالو مزاج رکھتے تھے۔ بات بات پر لڑ پڑتے تھے۔ معمولی معمولی باتوں پر چالیس سال جنگ کرتے تھے۔ ہر قبیلہ ہر وقت دوسرےقبیلہ کو نیچا دکھانے کی فکر میں رہتا تھا۔ کوئی قبیلہ دوسرے قبیلہ کی عزت کو بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مکہ میں جب ہر شخص قبیلہ اور خاندان میں بٹا ہوا تھا اُس وقت بھی ہمارے حضورؐ پورے شہر کی آنکھ کا تارا تھے اور آپ سے تمام قبیلوں کے آدمی یکساں محبت کرتے تھے لوگ آپ کو صادق و امین ، سچا اور امانتدار کہہ کر یاد کرتے تھے۔ خانہ کعبہ کی پرانی عمارت گرا کر نئی بنائی جا رہی تھی۔ ہر قبیلہ کے آدمی اس تعمیر میں حصہ لے رہے تھے اور قبیلہ مطمئن تھا کہ خانہ کعبہ کی عمارت بنانے کا شرف ہم سب کو ملا۔


حجر اسود ایک پتھر ہے جسے بحکم خدا جبرئیلؐ آسمان سے لائے تھے اور وہ خانہ کعبہ کی ایک دیوار میں نصب تھا۔ کعبہ کی نئی عمارت بننے کے بعد جب حجر اسود دوبارہ اس کی جگہ پر نصب کرنے کا وقت آیا تو ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ شرف اور عزت ہم کو مل جائے۔

چنانچہ اس سوال پر کہ حجر اسود کون نصب کرے لوگوں کی تلواریں نکل آئیں۔ تھوڑی دیر پہلے جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کر رہے تھے وہ اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ صورت حال بےحد خطرناک ہو گئی اور ہر آن خطرہ تھا کہ جنگ کی چنگاری اڑے اور سارے مکہ کو جلا کر خاک کر دے۔

کچھ سمجھدار لوگوں نے رائے دی کہ آج حجراسود کو نصب نہ کیا جائے بلکہ کل پھر ہم لوگ یہاں جمع ہوں اور جو شخص سب سے پہلے ہماری طرف آتا دکھائی دے اس کو ہم اپنے جھگڑے کا حکم مان لیں اور جو فیصلہ وہ کر دے اسے سب منظور کر لیں۔ یہ رائے پسند کی گئی رات بھر کے لئے تلواریں نیام میں چلی گئیں۔ دوسرے سب لوگ وعدہ کے مطابق جمع ہو گئے۔ دور سے ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا سب کی نظریں آنے والے پر جمی ہوئی تھیں۔ قریب آنے پر معلوم ہوا کہ آنے والے ہمارے نبیؐ تھے۔ آپ کو دیکھ کر مجمع خوشی سے جھوم اٹھا ۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا آپ سے بہتر فیصلہ کرنے والا نہیں مل سکتا۔ حضورؐ نے فیصلہ بھی ایسا فرمایا کہ سب کے دل باغ باغ ہو گئے۔ آپ نے ایک چادر منگائی چادر میں حجراسود رکھا اور ہر قبیلہ کے ایک ایک آدمی کو بلا کر کہا کہ سب مل کر چادر اٹھاؤ۔ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا ۔ آخر میں حضور نے چادر سے اٹھا کر حجراسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا سارا مجمع آپ کے گن گاتا ہوا اپنے گھروں کو واپس ہو گیا۔


جناب فاطمہ زہراؐ :

آپ عورتوں کے لئے نمونہ عمل بن کر آئی تھیں جناب فضہ آپ کی کنیز تھیں مگر ہماری شہزادی نے ان کو گھر کا برابر کا درجہ دیا تھا۔ ایک دن خود کام کرتی تھیں اور ایک دن فضہ سے کام لیتیں تھیں۔ اہلبیتؐ کے گھر میں غلام اور آقا کنیز اور مالکہ میں فرق نہیں تھا۔ آپ کے در سے کبھی کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں ہوا۔ شادی کے بعد جب آپ باپ کے گھر سے رخصت ہو کر شوہر کے گھر آئیں تو دوسرے دن صبح کو حضورؐ اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے حضرت علیؐ کے گھر آئے۔ حضورؐ نے دیکھا کہ جناب فاطمہؐ کے جسم پر شسدی کے جوڑے کے بجائے پرانا لباس ہے۔ دریافت فرمایا بیٹی یہ کیا ہے آپ نے فرمایا کہ ایک غریب عورت لباس مانگنے آئی میں نے اسے دیدیا حضور نے فرمایا کہ پرانا لباس کیوں نہ دیدیا۔ عرض کی شادی کا جوڑا مجھے پسند تھا اور خدا نے فرمایا ہے کہ راہ خدا میں ہمیشہ اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز دینا چاہئے۔ اس لئے پرانا لباس میں نے پہن لیا اور شادی کے کپڑے راہ خدا میں دیدئے۔

ایک بار حضورؐ بیٹی سے ملنے آئے ۔ آپ کے ساتھ آپ کے نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم بھی تھے۔ آپ نے گھر میں آنے کی اجازت طلب کی تو جناب فاطمہ زہراؐ نے کہا کہ بابا پہلے میں پردہ کر لوں تب تشریف لائین کیونکہ آپ کے ساتھ آپ کے صحابی بھی ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا مگر وہ تو نابینا ہیں۔ شہزادیؐ نے عرض کی مگر میں تو ان کو دیکھ سکتی ہوں۔ اس جواب پر حضورؐ نے خوش ہو کر شاھزادیؐ کو دعائیں دیں اور فرمایا میری بیٹی میری نبوت کا ایک حصہ ہے۔


حضرت علیؐ :

آپ بہت بہادر تھے۔ بڑے بڑے سوما آپ کا نام سن کر لرز جاتے تھے۔ آپ نے کئی من وزنی دروازہ جنگ خیبر میں اکھاڑ کر اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیا تھا۔ آپ کبھی خوف زدہ نہیں ہوتے تھے۔ مشکلوں میں گھبرانا آپ جانتے ہی نہ تھے۔ ہر جنگ آپ کے ہاتھ پر فتح ہوئی تھی۔

بہادر وہی ہوتا ہے جو گھبراتا نہیں۔ دینا میں ایسے بہت سے بہادر گزرے ہیں جنھوں نے بڑے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑ دیا ہے۔ مگر ایسے بہادر بہت کم گزرے ہیں جو اپنے نفس کو پچھاڑ دیتے ہوں اپنی خواہشوں کو زیر کر لیتے ہوں۔ اپنے تمناؤں سے جنگ کر لیتے ہوں۔ دشمن سے تلوار لے کر لڑنا چھوٹا جہاد ہے اور دل کی خوایہشوں سے جنگ کرنا جہاد اکبر ہے آؤ تم کو حضرت علیؐ کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ سنائیں جہاں آپ نے جہاد اکبر اور جہاد اصغر دونوں ایک ساتھ کئے۔

خندق کی جنگ تیسری اسلامی لڑائی ہے۔ اسلام اور نبی کا دشمن مکہ سے چل کر مدینہ کی سرحد تک آ چکا ہے۔ مسلمانوں نے میدان جنگ میں اپنی حفاظت کے لئے خندق کھودی ہے۔ خندق کی وجہ سے دشمن مدینہ میں داخل نہیں ہو سکا۔ خندق کے دونوں طرف دونوں فوجیں آمنے سامنے پڑاؤ ڈالے پڑی ہیں۔ مکہ کا کافر لشکر اپنے ساتھ عرب کا سب سے مشہور پہلوان لایا ہے۔ عربوں کے خیال میں عمرو بن عبدود سے بڑا پہلوان اور بہادر دنیا میں کوئی نہ تھا۔ عمرو کے مقابلہ پر آنے کی ہمت سوائے حضرت علیؐ کے کسی نے نہیں کی مکہ والے اپنے پہلوان کی فتح پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی اس یقین میں انکے ساتھ شریک تھی مگر دونوں لشکر حیرت میں پڑ گئے جب انھوں نے عمرو کے سینہ پر حضرت علیؐ کو بیٹھا دیکھا۔


حضرت علیؐ عمرو کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ عمرو نے اپنی ہار سے کھسیاکر حضرت پر تھوک دیا۔ اس کی نازیبا حرکت کے بعد فوراً ہی آپ اس کے سینہ سے اُتر آئے۔ جب لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ ایسے زبردست دشمن پر قابو پا کر اس کو آپ نے کیوں چھوڑ دیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے تھوکنے پر مجھے غصۃ آ گیا تھا۔ میں اس دشمن خدا کو صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قتل کرنا چاہتا تھا۔ اگر غصہ میں قتل کر دیتا تو جہاد میں وہ خلوص نہ وہ جاتا لہذا میں عمرو کے سینے سے اتر کر پہلے اپنے غصہ سے لڑا اس کے بعد عمرو کو پھر پچھاڑا اور اس کا سر قلم کیا۔ حضورؐ نے اس موقع پر ایک حدیث ارشاد فرمائی تھی کہ " خندق کے دن علیؐ کی تلوار کا ایک وار دونوں جہاں کی عبادت سے افضل ہے۔ "

امام حسنؐ :

آپ بڑے عبادت گزار بہادر اور حلیم تھے۔ آپ کی سخاوت اور خیرات مشہور ہے۔ دو مرتبہ آپ نے اپنے کل مال کا آدھا آدھا حصہ راہ خدا میں لٹا دیا۔ امیر شام آپ کے سخت دشمن تھے۔ آپ کی سخاوت کا شہرہ سن کر دل میں جلتے رہتے تھے۔ ایک بار امیر شام نے آپ کو خط میں زیادہ خیرات کرنے سے روکتے ہوئے لکھا۔ " فضول خرچی میں بھلائی نہیں ہے ۔" آپ نے جواب میں امیر شام کا جملہ الٹ دیا اور اس کو لکھا ۔ " خیرات فضول خرچی نہیں ہے۔"

آپ کی سخاوت کو دیکھ کر کسی نے آپ کو مشورہ دیا کہ خیرات و سخاوت کم کیجئے۔ آنے والے کسی سخت وقت کے لئے مال و دولت بچا کر رکھئے۔ آپ نے فرمایا تمہارا مشورہ غلط ہے کیوں کہ اب تک اللہ مجھے دیتا ہے میں اس کے بندوں کو دیتا ہوں اگر میں اپنی عادت بدل دوں اور خدا کے بندوں کو عطئے دینا بند کروں تو یہ بھی ممکن ہے کہ خدا بھی اپنی عادت بدلے اور مجھے رزق دینا بند کر دے۔


آپ نے مسلمانوں میں خونریزی بند کرنے کے لئے امیر شام سے صلح کر لی جبکہ آپ کے بہت سے جوشیلے ساتھیوں کو صلح ناپسند تھی مگر آپ نے فرمایا موجودہ حالت میں جنگ کرنا خودکسی ہے۔ ایمان کی حفاظت کے لئے اس وقت صلح کرنا ضروری ہے۔ آپ صلح پر آخر تک قائم رہے اور لوگوں کی مذمت اور ملامت کی کوئی پرواہ نہیں کی جو لوگوں کی تنقید سے ڈر کر راستہ بدل دے وہ بزول ہے۔ بہادر وہی ہے جو حق کا راستہ نہ چھوڑے اور لوگوں کی رائے سے ڈر کر سچ سے منہ نہ موڑے۔

امام حسینؐ :

ہم آپ چاہے غلطی کو دیکھ کر خاموش رہیں لیکن ہادی اور امام کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ غلطی دیکھ کر آگے بڑھ جائے۔ امام حسنؐ امام حسینؐ بچپن میں ایک دن مدینہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے۔ رستہ میں ایک بوڑھا آدمی غلط وضو کر رہا تھا۔ اس کے غلط وضو کو دیکھ کر دونوں شاہزادے رک گئے اور فرمایا کہ ہم دونوں وضو کرتے ہیں آپ دیکھ کر بتائیں کہ کس کا وضو غلط ہے۔ بوڑھا دونوں کو وضو کرتا دیکھتا رہا۔ جب دونوں کے وضو ختم ہو گئے اور بوڑھے نے دیکھا کہ دونوں نے ایک وضو کیا تو سمجھ گیا کہ شاہزادے میرے غلط وضو کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ بڑے ادب سے بولا شاہزادو ! میں ہمیشہ تمہارا شکر گزار رہوںگا کہ بڑھاپے میں تم نے میرے وضو کو درست کر دیا۔


جب امام حسینؐ ایک شخص کے غلط وضو کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے تھے اور جب تک اس کی اصلاح نہ کر لی آگے نہیں بڑھے تو جب دین کو یزید مٹا دینا چاہتا تھا تو کیوں کر ممکن تھا کہ آپ خاموش بیٹھے رہتے۔ آپ یزید کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اس راہ میں آپ کو عظیم مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سارے ساتھی ، پورا کنبہ بھوکا پیاسا فرات کے کنارے شہید ہو گیا جو بچ رہے تھے وہ قیدوبند کی سخت ترین تکلیفیں جھیلتے رہے مگر آپ نے ہدایت کے لئے سب کچھ برداشت کر لیا۔ یزید ختم ہو گیا یزیدیت اپنی موت مر گئی۔ اسلام زندہ ہو گیا اور حسین کا ذکر عام ہو گیا۔

امام زین العابدینؐ :

آپ بڑے عبادت گزار تھے۔ اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا۔ سجدوں کی کثرت سے پیشانی اور سجدہ میں زمین پر ٹکنے والے دوسرے اعضا پر گھٹے پڑ جاتے تھے جو تراشے جاتے تھے۔ آپ نے اتنی عبادت کی تھی کہ سجدہ کے گٹھوں کے تراشنے سے دو تھیلیاں بھر گئی تھیں۔ آپ راتوں کو پوشیدہ طور پر مدینہ کے غریب گھروں میں کھانے کا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر پہونچایا کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ کی پیٹھ پر سخت گٹھا پڑ گیا تھا۔

جن غریبوں تک سامان پہونچایا کرتے تھے ان کو معلوم بھی نہ تھا کہ کون اللہ کا بندہ ان کی خبر گیری کرتا ہے۔ جب آپ کی شہادت ہو گئی اور سامان کا آنا بند ہو گیا تب لوگوں کو پتہ چلا کی غریبوں کی غائبانہ مدد کرنے والے امام زین العابدین علیہ السلام تھے۔


صحیفہ کاملہ آپ کی دعاؤں کا مجموعہ ہے جسے زبور آل محمدؐ بھی کہا جاتا ہے۔

امام محمد باقرؐ :

آپ واقعہ کربلا موجود تھے۔ اس وقت آپ کا سن پانچ برس کا تھا سب کے ساتھ آپ قیدی بنا کر کوفہ اور دمشق لے جائے گئے۔

جب یزید نے امام زین العابدین علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا تو آپ نے فرمایا کہ جناب موسیٰ بھی معصوم تھے اور میرے باپ بھی معصوم ہیں فرعون جناب موسیٰ کو قتل کرنے پر راضی نہیں ہوا نہ اس کے درباری اس بات پر راضی تھے کیونکہ وہ ناجائز اولاد نہیں تھے لیکن اے یزید تو اور تیرے درباری معصوم کے قتل کرنے پر اس لئے راضی اور تیار ہیں کہ تم سب ناجائز اولاد ہو اس لئے کہ صرف ایسے ہی لوگ معصوم کے قتل کرنے پر راضی ہو سکتے ہیں جو ناجائز اولاد ہوں۔ یزید یہ سن کر خاموش ہو گیا اور اس نے قتل کا ظالمانہ حکم واپس لےلیا۔

آپ کے سامنے ایک بار ایک شخص نے ایک کافر کی میت کی کھوپڑی پیش کر کے سوال کیا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ کافر پر مرنے کے بعدعذاب ہوتا ہے مگر یہ عقیدہ غلط ہے کیونکہ یہ کافر کی کھوپڑی ہے مگر نہ جل رہی ہے نہ اس پر عذاب ہو رہا ہے۔ امامؐ نے چقماق کے دو پتھر منگوائے۔ چقماق اس پتھر کو کہتے ہیں جن کے ٹکرانے سے آگ پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلے لوگ چقماق ہی سے دیا سلائی کے بجائے آگ جلایا کرتے تھے۔ غرض کہ امامؐ نے پتھر منگا کر اس شخص کو دئے اور کہا ان کو ایک دوسرے سے ٹکراؤ جب ٹکرانے پر آگ نکلی تو آپ نے فرمایا بتاؤ پتھر گرم ہے یا نہیں۔ اس نے کہا پتھر تو ٹھنڈا ہے۔ امامؐ نے فرمایا جو خدا اس پر قادر رہے کہ اس پتھر کو ٹھنڈا رکھے مگر اس کے اندر آگ بھ دے وہ خدا اس پر بھی قادر ہے کہ یہ کھوپڑی اوپر سے ٹھنڈی رہے مگر اس کے اندر عذاب کی آگ بھری ہو۔ آپ کا جواب سن کر وہ مطمئین ہو گیا۔


امام جعفر صادقؐ :

آپ کے زمانہ میں علم دین کا چرچہ خوب پھیلا پورے ملک سے علماٗ سمٹ کر مدینہ آ گئے تھے چار ہزار آدمی ہر وقت قلم دوات لئے تیار رہتے تھے کہ جب بھی آپ کچھ فرمائیں وہ لوگ اُسے لکھ لیں۔

آپ کے زمانہ میں بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور بنی عباس کی حکومت قائم ہوئی۔ بنی عباس نے لوگوں کو امام حسینؐ کے خون ناحق کے نام پر بنی امیہ کے خلاف ابھارا تھا اس زمانہ میں جب لوگ اہلبیتؐ کی محبت کا چرچا کیا کرتے تھے خراسان کا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا جب آپ کی حمایت و مدد کرنے والے صرف خراسان میں ایک لاکھ موجود ہیں تو اپنا حکومت کا حق کیوں نہیں حاصل کر لیتے۔ یہ سن کر آپ نے اس شخص سے کہا کہ بھڑکتے ہوئے تنور میں کود جاؤ۔ وہ شخص یہ سنکر لرز اٹھا اور التجا کرنے لگا کہ آپ اپنا حکم واپس لے لیں۔ اُسی وقت جناب ہارون مکی امام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ہارون مکی سے بھی تنور میں کود جانے کے لئے کہا اور ہارون فوراً کود گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ اس شخص کو لیکر تنور تک قریب آئے۔ سب نے دیکھا ہارون تنور میں بیٹھے ہوئے ذکر خدا کر رہے ہیں اور آگ بالکل نقصان نہ پہونچا سکی۔

امام علیہ السلام نے اس شخص سے دریافت فرمایا ۔" بتاؤ خراسان میں ایسے ماننے والے کتنے ہیں " اس نے کہا ایک بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا آیندہ کبھی اپنے امام کو مشورہ نہ دینا۔


امام مویٰ کاظمؐ :

آپ بہت حلیم اور بردبار تھے۔ ایک بار ایک کنیز کے ہاتھ سے گرم سالن کا پیالہ چھوٹ کر آپ کے اوپر گر پڑا۔ کنیز خوف زدہ ہو گئی اور اس نے برحبستہ قرآن مجید کا ایک فقرہ پڑھا جس میں ان لوگوں کی مدح خدا نے کی ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں امام علیہ السلام نے سن کر فرمایا میں نے غصہ کو ضبط کیا۔ پھر کنیز نے آیت کا وہ حصہ پڑھا جس میں خدا نے معاف کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔ امام نے فرمایا میں نے تجھے معاف کیا۔ کنیز نے آخر میں آیت کا وہ حصہ پڑھا جس میں اللہ نے کہا ہے کہ میں ان لوگوں کو دوست رکھتا ہوں جو احسان کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے یہ سن کر اس کنیز کو آزاد فرما دیا۔ آپ حلم میں اتنا مشہور ہوئے کہ کاظم آپ کا لقب پر گیا۔

امام علی رضاؐ :

آپ کے زمانہ میں شیعہ مذہب نے بہت ترقی کی۔ حکومت آپ سے ڈرتی تھی۔ جب مامون نے جو اس وقت خلیفہ تھا آپ کو دار الحکومت میں طلب کیا تو راستہ میں آپ بہت سے مقامات سے گزرے۔ ہر جگہ لوگ جوق در جوق آپ کی زیارت کے لئے جمع تھے اور آپ سے دین کی باتیں پوچھتے تھے۔ اس سفر میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک شخص ابو جیب نے خواب دیکھا کہ رسولؐ خدا ان کی بستی میں تشریف لائے ہیں۔ ابو جیب مشتاق زیارت ہو کر حضور کی قیام گاہ کا پتہ پوچھتے ہوئے نکلے۔ ان کو معلوم ہوا کہ حضورؐ اس مسجد میں ہیں جہاں حاجی اترتے ہیں۔ ابو جیب نے مسجد میں جا کر دیکھا۔ حضورؐ مسجد کی ایک محراب میں تشریف فرما ہیں۔


ابو جیب نے سلام کیا حضورؐ نے جواب سلام دے کر ایک مٹھی کھجوریں ابو جیب کو دیدیں جو اٹھارہ تھیں۔ ابو جیب نے اس خواب کی تعمیر یہ سمجھی کہ ان کی عمر میں اٹھارہ سال باقی ہیں۔ اس کے بعد امام رضا علیہ السلام ان کی بستی سے گزرے۔ ابو جیب مشتاق زیارت ہو کر نکلے تو امام کو اسی مسجد میں اُسی جگہ بیٹھتے دیکھا جہاں حضورؐ کو بیٹھے دیکھا تھا۔ امامؐ کے سامنے بھی ایک طبق میں خرمے رکھے تھے۔ ابوجیب نے سلام کیا۔ امامؐ نے سلام کا جواب دے کر ایک مٹھی خرمے دیدئے۔ ابوجیب نے جب اُنکو گنا تو وہ بھی اٹھارہ خرمے تھے۔ ابو جیب نے کہا مولاؐ کچھ اور بھی مرحمت فرمائے۔ امام علیہ السلام نے جواب دیا اگر میرے جد نے زیادہ خرمے دئے ہو تو میں بھی زیادہ دیتا۔

امام محمد تقیؐ :

آپ کے علم کا رعب و دبدبہ بچپنے سے ہی سب پر قادر ہو گیا تھا۔ ایک مرتبہ آپ بغداد کے ایک راستہ پر کھڑے تھے اور آپ کے علاوہ بچے کھیل رہے تھے۔ اس راستہ سے مامون بادشاہ عباسی کی سواری گزری، بادشاہ کی سواری دیکھ کر تمام بچے بھاگ گئے مگر آپ اپنی جگہ پر نہایت اطمینان سے کھڑے رہے۔ مامون کو امام علیہ السلام کا یہ اطمینان دیکھ کر بہت تعجب ہوا۔ اس نے آپ سے بچوں کے ساتھ نہ بھاگنے اور کھڑے رہنے کی وجہ پوچھی۔ آپ نے فرمایا کہ رستہ کشادہ تھا اس لئے ہٹنے کی ضرورت نہ تھی۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا اور تو بے سبب مجھے ستائےگا یہ بدگمانی میں نے تیری طرف سے نہیں کی۔ پھر کیوں چلا جاتا اور کھڑا نہ رہتا مامون کو آپ کی گفتگو سن کربےحد تعجب ہوا اس نے آپ کا نام پوچھا آپ نے فرمایا میں امام علی رضاؐ کا بیٹا محمدؐ ہوں۔


جب مامون اسی راستے سے واپس ہوا تو امام بھی اسی راستہ پر پہلے کی طرح کھڑے رہے اور تمام بچے بھاگ گئے۔ مامون نے مٹھی بند کر کے پوچھا بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا خدا دریاؤں میں مچھلی پیدا کرتا ہے۔ بادشاہوں کے باز ان کا شکار کر کے لاتے ہیں اور بادشاہ مچھلی کو ہاتھ میں چھپا کر ہم اہلبیتؐ کا امتحان لیتا ہے۔ مامون نے کہا بیشک آپ علی رضاؐ کے بیٹے ہیں۔ بادشاہ امامؐ کو اپنے ساتھ لایا اور اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیا۔ لوگوں نے مامون کی مذمت کی کہ ایک بچے سے اپنی بیٹی کا نکاح کیوں کرتے ہو۔ مامون نے اس وقت کے تمام علماٗ کو جمع کیا اور امامؐ سے مناظرہ کرایا۔ امام علیہ السلام نے سب کو لاجواب کر دیا اور سارے زمانے پر آپ کے حکم کا سکتہ بیٹھ گیا۔

امام علی نقیؐ :

آپ کی سخاوت ، عبادت ، اور علم کا شہرہ دور دور تک پھیلا تھا۔ حکومت آپ کے بڑھتے ہوئے اثر سے خوف زدہ رہتی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک عورت نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں جناب فاطمہؐ کی بیٹی زینبؐ ہوں۔ غائب ہو گئی تھی اب ظاہر ہوئی ہوں۔ خلیفہ اس کے جھٹلانے سے عاجز تھا۔ آخر مجبور ہو کر امامؐ سے مدد مانگی۔ آپ نے فرمایا کہ جناب فاطمہؐ کی اولاد کو درندے نہیں کھا سکتے لہذا اس عورت کو درندوں کے سامنے ڈال دیا جائے حقیقت معلوم ہو جائےگی۔ اس عورت کے سامنے جب یہ بات پیش کی گئی تو اس نے خود ہی اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کر لیا۔ لوگوں نے خلیفہ کو مشہور دیا کہ امام علی علیہ السلام بھی تو جناب فاطمہ زہراؐ کی اولاد ہیں ان ہی کے قول کے مطابق ان کو بھی درندوں کے سامنے آنے کے لئے کہا جائے چنانچہ خلیفہ نے آپ کے سامنے یہ بات پیش کی۔ وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ درندے آپ کو نقصان پہونچائیں گے۔ مگر آپ تیار ہو گئے۔ امامؐ اس مکان میں تشریف کے گئے۔ خلیفہ اپنی چھت سے یہ نظر دیکھ رہا تھا کہ درندے نکلے اور امامؐ کے قدموں پر منھ ملنے لگے۔ سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔


امام حسن عسکریؐ :

آپ بھی اپنے معصوم بزرگوں کی طرح دین کی حفاظت فرماتے رہے۔ پ کے زمانہ میں ایک مرتبہ قحط پڑا۔ مسلمان نماز استقاٗ پڑھ کر دعا مانگ چکے تھے مگر پانی کو نہ برسنا تھا نہ برسا۔ لوگ حیران و پریشان تھے اُسی وقت ایک عیسائی راہب نکلا۔ وہ جس وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا تھا اُسی وقت پانی برسنے لگتا تھا۔ مسلمانوں میں بڑی بچینی پھیل گئی جس کے دوع کرنے کا کوئی ذریعہ حکومت کے پاس نہ تھا۔ عزت بچانے کے لئے حکومت امامؐ سے مدد لینے پر مجبور ہوئی۔ آپ تشریف لائے اور راہب نے جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آپ نے اپنے صحابی سے فرمایا جو چیز اس کی انگلیوں کے درمیان ہے اسے نکال لو۔ جو چیز نکالی گئی وہ ایک ہڈی تھی۔ آپ نے فرمایا یہ کسی نبی کے جسم کی ہڈی ہے۔ جب بھی اس کو زیر آسمان برہنہ کیا جائےگا پانی برسنے لگےگا۔ آپ نے اس ہڈی کو دفن کر دیا پھر خود نماز استقاٗ پڑھ کر دعا فرمائی۔ پانی برسا اور خوب برسا کہ زمین جل تھل ہو گئی اور لوگ نہال ہو گئے۔

بارہویں امامؐ

جناب ابراہیمؐ اور جناب موسیؐ کی طرح زمانے کے ظالم آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ آپ پیدا نہ ہونے پائیں کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ آپ ظاہر ہو کر دنیا سے ہر ظالم کے ظلم کو مٹا دیں گے۔ اسی وجہ سے ہر ظالم آپ کے پیدا ہونے سے ڈرتا تھا۔ خدا وند عالم نے آپ کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ جناب نرجس خاتون کے یہاں آثار حمل ظاہر ہی نہیں ہوئے اور کسی کو ولادت سے پہلے پتہ نہ چل سکا کہ کہ جناب نرجس خاتون کی گود امام زمانہؐ سے آباد ہونے والی ہے۔ آپ کی پرورش بھی پوشیدہ طور پر ہوتی رہی۔ ابھی آپ کا سن مبارک چار سال کا تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔


گیارہویں امامؐ کی شہادت کے بعد آپ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہتے تھے۔ صرف آپ کے نائب آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان کے ذریعہ مسائل کے جواب ملتے تھے۔ ستر سال کے بعد جب غیبت صغریٰ کی مدت پوری ہو گئی اور حضرت کے چوتھے نائب کا بھی انتقال ہو گیا تو آپ نے اعلان فرمایا کہ اب کوئی میرا نائب نہیں ہے اور اس وقت سے غیبت کبریٰ کا دور شروع ہو گیا۔ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں بھی بہت سے خوش نصیب افراد کو حضرت کی زیارت نسیب ہوتی رہتی ہے۔

نوٹ : بچوں کو یہ سبق اس طرح پڑھایا جائے کہ واقعات ذہن نشین ہو جائے۔

سوالات :

۱ ۔ حجر اسود کیا ہے اور اس کو آنحضرت نے کس طرح نصب فرمایا ؟

۲ ۔ عبد اللہ بن مکتوم کا واقعہ کیا ہے اور اس سے کیا سبق ملتا ہے ؟

۳ ۔ حضرت علیؐ عمرو ابن عبددو کو شکست دینے کے بعد اس کے سینہ سے کیوں اتر آئیں ؟

۴ ۔ خیرات کے سلسلہ میں امام حسنؐ اور معاویہ سے کیا خطہ و کتابت ہوئی ؟

۵ ۔ ہارون مکی کا واقعہ کیا ہے ؟

۶ ۔ امام محمد تقیؐ نے مامون کو کیا جواب دیا ؟

۷ ۔ غیبت صغریٰ کا زمانہ کتنا تھا ؟


ستائیسواں سبق

چند واقعات

شب ہجرت :

جب کفار مکہ نے قتل کرنے کی نیت سے رات کو رسولؐ کے گھر کو گھیر لیا تو آپ نے حکم خدا سے ہجرت کی گھر چھوڑا غارثور میں پناہ لی اور وہاں سے مدینہ تشریف لائے۔ جب آنحضرتؐ گھر سے چلے تو حضرت علیؐ کو اپنے بستر پر لٹا دیا تاکہ دشمن رات بھر یہ سمجھتے رہیں کہ رسولؐ گھر میں موجود ہیں۔ حضرت علیؐ کھنچی تلواروں میں بڑے چین کی نیند سوئے۔ خدا نے جبرئیلؐ اور میکائیل ۶ کو آپ کی حفاظت اور پہرے کے لئے بھیجا اور آیت اتار کر اعلان کیا کہ علیؐ نے میری خوشنودی کے لئے اپنا نفس میرے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اسی لئے حضرت علیؐ کو نفس اللہ کہتے ہیں۔

آئیہ ولایت :

ایک شخص نے رسولؐ کی مسجد میں آکر سب نمازیوں سے سوال کیا مگر کسی نے کچھ جواب نہ دیا جب وہ واپس جا رہا تھا تو حضرت علیؐ نے انگلی ہلاکر انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیا۔ آپ اس وقت رکوع میں تھے۔ خدا نے آیت اتاری۔ " تمہارا ولی صرف اللہ ہے اور اللہ کا رسولؐ ہے اور وہ ایمان والے ہیں٘ جو نماز پڑھتے ہوئے حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ " اس آیت کا نام آیہ ولایت ہے۔


آئیہ تطہیر :

ایک دن رسولؐ جناب فاطمہؐ کے گھر تشریف لائے اور ایک یمنی چادر اوڑھ کر لیٹے رہے۔امام حسنؐ امام حسینؐ ، حضرت علیؐ اور جناب فاطمہؐ یکے بعد دیگرے اجازت لے کر چادر میں داخل ہوئے۔ خدا نے ملائکہ سے کہا کہ میں نے دنیا اور اس کی ہر چیز ان پنجتنؐ کی محبت میں پیدا کی ہے اور اسکے بعد جبرئیلؐ کو ایک آیت لے جانے کا حکم دیا۔ جبرئیلؐ نے چادر میں داخل ہو کر آیہ تطہیر سنائی جس میں خدا نے کہا کہ " اے اہلبیتؐ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ہر برائی کو تم سے دور رکھے اور کمال سے تم کو اتنا آراستہ و پیراستہ رکھے جو آراستہ کرنے کی آخری حد ہے ۔" اس ّآیت کا نام آیہ تطہیر ہے۔ کساٗ کے معنی چادر کے ہیں اس لئے اس روایت کا نام حدیث کساٗ ہے۔ اور اسی وجہ سے پنجتن پاک کو اصحاب کساٗ کہا جاتا ہے۔

آیہ مودت :

ایک بار امام حسنؐ اور امام حسینؐ بیمار ہوئے رسولؐ کے ارشاد کے مطابق ماں باپ نے بچوں کی صحت کے لئے تین روزوں کی نذر مانی۔ صحت ہو جانے پر حضرت علیؐ ، جناب فاطمہ نے روزے رکھے۔ دونوں شہزادے بھی روزے سے رہے اور گھر کی کنیز نے بھی روزہ رکھا۔ تینوں دن جب یہ لوگ روزہ کھولنے بیٹھتے تھے تو کوئی نہ کوئی سائل آجاتا تھا۔ سب لوگ اپنی اپنی روٹیاں مانگنے والے کو دیدیتے تھے اور پانی سے روزہ افطار کر کے سو رہتے تھے۔ چوتھے دن جب رسالمابؐ ملنے آئے تو کمزوری اور بھوک کی شدت سے دونوں شہزادے کانپ رہے تھے حضورؐ نے دعا فرمائی اُسی وقت جنت سے سب کے لئے کھانا آیا اور خدا نے سورہ دہر بھی نازل فرمایا جس میں اہلبیتؐ کے اس ایثار قربانی اور خیر خیرات کی بہت تعریف کی گئی۔


مباہلہ :

نجران کے عیسائی رسولؐ کے پاس مذہبی بحث کرنے آئے کیونکہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اس لئے وہ خدا کے بیٹے ہیں۔ جواب میں رسولؐ نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ حضرت آدمؐ اگر بغیر ماں باپ کے پیدا ہو سکتے ہیں تو حضرت عیسیٰؐ بغیر باپ کے کیوں پیدا نہیں ہو سکتا۔ مگر جب وہ دلیلوں سے قائل نہ ہوئے تو خدا نے آیت اتاری کہ " اے پیغمبرؐ کھلی دلیلوں کے بعد بھی جو حق نہیں مانتا اس سے کہئے کہ تم اپنے بچوں ، عورتوں اور نفسوں کو لے آؤ ، میں بھی اپنے بچوں ، عورتوں اور نفسوں کو لے کر آتا ہوں۔ پھر ہم سب جمع ہو کر مباہلہ کریں تاکہ جھوٹے پر خدا کا عذاب نازل ہو۔ رسولؐ مباہلہ میں اس طرح آئے کہ گود میں امام حسینؐ تھے۔ انگلی پکڑ کر امام حسنؐ چل رہے تھے نبیؐ کے پیچھے جناب فاطمہؐ تھیں اور آپ کے پیچھے حضرت علیؐ تھے۔ آپ نے سب کو بٹھلا کر کہا کہ جب میں میں بد دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا۔ عیسائی مباہلہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ان کے عالموں نے کہا رسولؐ اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لے کر آئے ہیں کہ وہ جو بھی کہہ دیں گے وہ بات ہو کر رہےگی لہذا سالانہ کچھ دینے کا وعدہ کر کے عیسائیوں نے صلح کر لی۔ اس واقعہ کا نام مباہلہ ہے۔ نبیؐ بچوں میں صرف حسنینؐ کو عورتوں میں صرف جناب فاطمہؐ کو اور نفسوں میں صرف حضرت علیؐ کو لے کر آئے تھے اسی وجہ سے حضرت علیؐ کو نفس رسولؐ کہا جاتا ہے۔


سوالات :

۱ ۔ آیہ ولایت کیوں نازل ہوئی واقعہ بیان کرو ؟

۲ ۔ مباہلہ میں نبیؐ کے ساتھ کون کون گیا تھا ؟

۳ ۔ عیسائیوں نے مباہلہ کیوں نہیں کیا ؟

۴ ۔ شب ہجرت کا واقعہ بیان کرو ؟

۵ ۔ اہلبیتؐ کی محبت کب واجب ہوئی اور کیوں ؟

۶ ۔ حدیث کساٗ کسے کہتے ہیں اور اصحاب کساٗ سے کون لوگ مراد ہیں ؟

۷ ۔ سورہ دہر کن کی شان میں نازل ہوا اور کیوں ؟


اٹھائیسواں سبق

مکہّ ۔ مدینہ

مکہّ ۔ مدینہ ۔ سعودی عرب کے دو مشہور شہر ہیں۔ مسلمانوں میں ان دونوں شہروں کی بےحد اہمیت ہے۔ مکہّ میں اللہ کا گھر کعبہ ہے جسے اللہ کے دو نبی جناب ابراہیمؐ اور جناب اسمعیلؐ نے مل کر تعمیر کیا تھا۔ اس کی تعمیر میں کسی غیر معصوم کا حصہ نہ تھا۔ جناب ابراہیمؐ اور جناب اسمعیلؐ اس کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے اور جبرئیل امین ان دونوں کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ اسی کعبہ کی ایک دیوار میں حجر اسود نصب ہے جو ایک جنتی پتھر ہے۔ کعبہ کی تاریخ کا سب سے مشہور واقعہ یہ ہے کہ جناب فاطمہ بنت اسدؐ اسی کعبہ کی دیوار کے قریب دعا کر رہی تھیں دیوار شق ہوئی اور آپ اندر تشریف لے گئیں اور وہیں مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔

ہمارے رسول جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی مکہّ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے خاندان کے بزرگوں میں جناب عبد المطلب ، جناب ابو طالب کی قبریں اسی مکہ میں ہیں جسے جنت المعلیٰ کہا جاتا ہے۔ رسول کریمؐ کو مکہ سے بےحد محبت تھی۔ جب آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو برابر مکہّ کے حالات دریافت کیا کرتے تھے اور اپنے وطن میں پلٹ کر آنے کے خواہشمند تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو موقع دیا اور آپ ۸ ھ؁ میں اپنے اصلی وطن میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔


مدینہ منورہ ۔

نبی کریمؐ کا حرم کہا جاتا ہے۔ یہاں حضورؐ کی قبر مطہر ہے۔ ہجرت کے بعد حضورؐ نے اسی مدینہ میں آ کر قیام فرمایا تھا۔ اہل مدینہ نے آپ کا بڑا زبردست استقبال کیا تھا۔ اس موقع کا مشہور واقعہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے اونٹ کو آزاد کر کے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جس کے دروازے پر اونٹ بیٹھ جائے گا میں اسی کے مکان میں قیام کروں گا۔ اونٹ حضرت ابو ایوب انصاری کے دروازے پر ٹھہرا اور آپ نے انھیں کے یہاں قیام فرمایا۔

مدینہ آنے پر جہاں اہل مدینہ نے آپ کی حمایت کی وہاں کفار مکہّ برابر آپ پر حملہ کرتے رہے اور آپ کو چند سال کے اندر بہت سی لڑائیاں لڑنا پڑیں۔ ۲۸/ صفر ۱۱ ھ؁ کو آپ نے اسی مدینہ میں انتقال فرمایا اور یہیں دفن ہوئے۔ اب یہ مدینہ "مدینہ منورہ " اور " مدینتہ الرسول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسی مدینہ میں ایک مشہور قبرستان جنت البقیع ہے جہاں چار امام۔ حضرت امام حسنؐ ، حضرت امام زین العابدینؐ ، حضرت امام محمد باقرؐ ، حضرت امام جعفر صادقؐ اور ایک معصومہ عالم جناب فاطمہ زہراؐ کی قبریں ہیں۔ مدینہ بے حد با برکت جگہ ہے۔

سوالات :

۱ ۔ کعبہ کہاں ہے اور اس کو کس نے بنایا ہے ؟

۲ ۔ کعبہ کے اندر کون پیدا ہوا ؟

۳ ۔ جنت المعلیٰ کہاں ہے اور جنت البقیع کہاں ہے ؟

۴ ۔ جنت البقیع میں کون سے ائمہ دفن ہیں ؟

۵ ۔ کس شہر حرم رسولؐ کہا جاتا ہے ؟


انتیسواں سبق

نجف اشرف

ملک عراق کا ایک بڑا مشہور شہر ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے سے " ظہر کوفہ" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اس زمانہ میں کوفہ کی آبادی بہت بڑی تھی۔ یہاں ہزاروں آدمی بستے تھے، بےشمار باغات تھے۔ دریا تھا پانی کا انتظام تھا۔ حکومت نے اسے فوجی چھاؤنی بنا رکھا تھا۔ نجف کوفہ سے باہر کا علاقہ تھا جسے کوفہ کی پشت کہا جاتا تھا۔ ظہر کے معنی ' پشت ' ہیں۔

یہاں تک کہ ۴۰ ھ؁میں اسی کوفہ کی جامع مسجد میں مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت ہوئی۔ آپ کی وصیت تھی کہ مجھے پشت کوفہ نجف میں دفن کیا جائے۔ وہاں آپ کی قبر پروردگار کے مخصوص انتظام کی بنا پر پہلے سے بنی تیار تھی۔ امام حسنؐ اور امام حسینؐ نے آپ کے جنازے کو اسی قبر میں دفن کیا۔

نجف اشرف کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں چار نبیوں کی قبریں ہیں۔ جناب آدمؐ ، جناب نوحؐ ، جناب ہودؐ اور جناب صالحؐ یہ سب یہیں دفن ہیں۔

امیر المومنینؐ کا مزار بننے کے بعد سے اس جگہ نے شہرت پائی اور دھیرے دھیرے اس شہر کی آبادی بھی بڑھتی گئی اور آج لاکھوں تک پہونچ چکی ہے۔ جب کہ کوفہ کی آبادی اس کی چوتھائی بھی نہیں ہے۔ یہ مولائے کائنات کا ایک شرف ہے کہ جس زمین کو آپ نے اپنی آرامگاہ بنا لیا وہ ویرانہ بھی آباد ہو گیا۔


ہزار سال پہلے یہ جگہ آباد ضرور تھی لیکن علمی اہمیت نہیں تھی۔ جب حکومت کے ظالم و جور نے شیخ ابو جعفر طوسی پر بغداد میں ظلم ڈھائے اور آپ کا کتب خانہ جلا دیا تو آپ نے بغداد کو چھوڑ کر نجف اشرف کو آباد کر دیا۔ شیخ طوسی علیہ الرحمہ شیعہ علماٗ میں اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم اور مذہب شیعہ کی حدیث کی اہم کتابوں کے مؤلف تھے۔

امیر المومنین علیہ السلام کے ہمسایہ ہونے کی برکت اور شیخ طوسی علیہ الرحمہ کی نیت کے خلوص کا اثر تھا کہ اس علمی درسگاہ کی اہمیت بڑھتی ہی گئی اور دنیا کا سب سے بڑا دینی مرکز یہی نجف اشرف ہو گیا۔ ہزاروں طلاب ، علم دین حاصل کرنےلگے۔ سینکڑوں علماٗ درس دینے میں مصروف تھے۔ زائرین زیارت کے لئے آ رہے تھے اور یہ کہنا غلط نہیں تھا کہ نجف کی ہواؤں سے علم کی خوشبو آ رہی تھی۔ لیکن اسلام دشمن بعثی حکومت کے ظلم و ستم نے لاتعداد ، طلاب و مومنین کو شہید کر کے اس علمی مرکز کو ویران کر دیا اور اب دینی مرکز علم قم ہے۔

سولات :

۱ ۔ نجف اشرف میں کتنے نبیوں کی قبریں ہیں ؟

۲ ۔ حضرت علیؐ کی قبر کہاں ہے ؟

۳ ۔ نجف اشرف کو علمی مرکز ؂یت کیسے ملی ؟

۴ ۔ نجف کی مرکزیت کیسے ختم ہوئی ؟

۵ ۔ اب مرکز علم کہاں ہے ؟


فہرست

معلمّ کے لئے ہدایت ۴

اصول دین ۵

پہلا سبق ۵

ہم کیوں پیدا ہوئے ؟ ۵

سوالات : ۶

دوسرا سبق ۷

خدا کی ذات و صفت ایک ہے ۷

سوالات : ۷

تیسرا سبق ۸

صفات ثبوتیہ ۸

قدیم ۔ ۸

قادر ۔ ۸

عالم ۔ ۸

حی ۔ ۹

مرید ۔ ۹

متکلم ۔ ۹

صادق ۔ ۹

سوالات : ۹

چوتھا سبق ۱۰


صفات سلبیہ ۱۰

۱ ۔ خدا مرکب نہیں ۔ ۱۰

۲ ۔ خدا جسم نہیں رکھتا ۔ ۱۰

۳ ۔ خدا کی صفتیں عین ذات ہیں ۔ ۱۰

۴ ۔ خدا مرئی نہیں ۔ ۱۰

۵ ۔ خدا کسی چیز میں حلول نہیں کرتا۔ ۱۱

۶ ۔ خدا مکان نہیں رکھتا۔ ۱۱

۷ ۔ خدا محل حوادث نہیں۔ ۱۱

۸ ۔ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ ۱۱

سوالات : ۱۱

پانچواں سبق ۱۲

خدا قادر و مختار ہے ۱۲

سوالات : ۱۲

چھٹا سبق ۱۳

خدا برائی نہیں کرتا ۱۳

سوالات : ۱۳

ساتواں سبق ۱۴

انسان مجبور ہے یا مختار ؟ ۱۴

سوالات : ۱۵

آٹھواں سبق ۱۶


تین سوال ایک جواب ۱۶

سوالات : ۱۷

نواں سبق ۱۸

بارہ امام ۱۸

پہلی دلیلی ۔ ۱۸

دوسری دلیل ۔ ۱۹

سوالات : ۱۹

دسواں سبق ۲۰

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت ۲۰

پہلی دلیل ۔ ۲۰

دوسری دلیل ۔ ۲۲

سوالات : ۲۴

گیارہواں سبق ۲۵

بارہویں امامؐ ۲۵

دلیل ۱ ۲۶

دلیل ۲ ۲۶

دلیل ۳ ۔ ۲۶

سوالات : ۲۶

بارہواں سبق ۲۷

نوابِ اربعہ ۲۷


سوالات : ۲۸

تیرھواں سبق ۲۹

قیامت ۲۹

سوالات : ۳۰

چودھواں سبق ۳۱

برزخ ۳۱

سوالات : ۳۳

پندرہواں سبق ۳۴

عمل اور حساب ۳۴

سوالات : ۳۴

فروع دین ۳۵

سولہواں سبق ۳۵

میت کے احکام ۳۵

موت کا وقت ۳۵

غسل مسّ میت ۳۵

غسل میت ۳۵

غسل کی ترکیب ۳۶

طریقہ حنوط ۳۶

کفن ۳۶

تصریح ۳۶


کفن ۳۷

نماز میت ۳۸

ترکیب نماز میت ۳۹

کاندھا دینے کا طریقہ ۳۹

طریقہ دفن ۴۰

قبر کی اونچائی ۴۱

سوالات : ۴۱

سترہواں سبق ۴۲

روزہ ۴۲

کفارہ کی تفصیل ۴۳

قضا روزے ۴۴

مسافر کے روزے ۴۵

کن لوگوں پر روزہ واجب نہیں ۴۵

چاند کے ثبوت کے طریقے ۴۶

سوالات : ۴۶

آٹھارہواں سبق ۴۷

حج ۴۷

سوالات : ۴۸

انیسواں سبق ۴۹

زکوٰۃ ۴۹


فطرہ ۵۰

سوالات : ۵۰

بیسواں سبق ۵۱

خمس ۵۱

خمس کا مصرف ۵۲

سوالات : ۵۲

اکیسواں سبق ۵۳

متفرق مسائل ۵۳

سوالات : ۵۳

اخلاق ۵۴

اصلاح نفس ۵۴

اصلاح معاشرہ ۵۴

بائیسواں سبق ۵۵

سود ، غیبت ، اطاعت والدین اور جھوٹ ۵۵

سود ۵۵

سود کے معنی ۵۵

سود سے بچنے کا طریقہ ۵۵

غیبت ۵۶

کن مقامات پر غیبت جائز ہے ۵۷

جائز غیبت ۵۷


اطاعت والدین : ۵۸

سچا واقعہ : ۵۹

جھوٹ : ۶۰

سوالات : ۶۱

تیئیسواں سبق ۶۲

دین و شریعت ۶۲

سوالات : ۶۲

چوبیسواں سبق ۶۳

محبت ۔ نفرت ۶۳

سوالات : ۶۴

پچیسواں سبق ۶۵

تقیہ ۶۵

تقیہ کیسے کیا جاتا ہے ۶۷

سوالات : ۶۷

تاریخ ۶۸

شخصیات ۶۸

واقعات ۶۸

چھبیسواں سبق ۶۹

ہمارے ہادی ۶۹

ہمارے رسولؐ : ۶۹


جناب فاطمہ زہراؐ : ۷۱

حضرت علیؐ : ۷۲

امام حسنؐ : ۷۳

امام حسینؐ : ۷۴

امام زین العابدینؐ : ۷۵

امام محمد باقرؐ : ۷۶

امام جعفر صادقؐ : ۷۷

امام مویٰ کاظمؐ : ۷۸

امام علی رضاؐ : ۷۸

امام محمد تقیؐ : ۷۹

امام علی نقیؐ : ۸۰

امام حسن عسکریؐ : ۸۱

بارہویں امامؐ ۸۱

سوالات : ۸۲

ستائیسواں سبق ۸۳

چند واقعات ۸۳

شب ہجرت : ۸۳

آئیہ ولایت : ۸۳

آئیہ تطہیر : ۸۴

آیہ مودت : ۸۴


مباہلہ : ۸۵

سوالات : ۸۶

اٹھائیسواں سبق ۸۷

مکہّ ۔ مدینہ ۸۷

مدینہ منورہ ۔ ۸۸

سوالات : ۸۸

انتیسواں سبق ۸۹

نجف اشرف ۸۹

سولات : ۹۰

فہرست ۹۱


زمرہ جات:
صفحے: