یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)
خلاصہ دروس
استاد محترم آقائے ظفر عباس شہانی
ملخص
صابر حسین سراج
تدوین
سید محمد وجاہت عباس نقوی /سید حسن عسکری نقوی
پیشکش
Shahani.net
جامعۃ الکوثر اسلام آباد پاکستان
﷽
آیات میراث
قرآن مجیدکی وہ آیات جن میں میراث کے احکام ذکر ہوئے ہیں
( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ )
( يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۚ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۭ وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَه وَلَدٌ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّه وَلَدٌ وَّوَرِثَهٓ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٓ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۭ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا ) (سورہ نساء ۱۱)
"اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے، پس اگر لڑکیاں دو سے زائد ہوں تو ترکے کا دو تہائی ان کا حق ہے اور اگر صرف ایک لڑکی ہے تو نصف (ترکہ) اس کا ہے اور میت کی اولاد ہونے کی صورت میں والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر میت کی اولاد نہ ہو بلکہ صرف ماں باپ اس کے وارث ہوں تواس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا، پس اگر میت کے بھائی ہوں تو ماں کوچھٹا حصہ ملے گا، یہ تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے اور اس کے قرض کی ادائیگی کے بعد ہو گی، تمہیں نہیں معلوم تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں فائدے کے حوالے سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے، یہ حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں ، یقینا اللہ بڑا جاننے والا، باحکمت ہے۔"
( وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۭوَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنْ كَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۙغَيْرَ مُضَاۗرٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌ ) (سورہ نساء ۱۲)
"اور تمہیں اپنی بیویوں کے ترکے میں سے اگر ان کی اولاد نہ ہو نصف حصہ ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکے میں سے چوتھائی تمہارا ہو گا، یہ تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو انہیں تمہارے ترکے میں سے چوتھائی ملے گااور اگر تمہاری اولاد ہو تو انہیں تمہارے ترکے میں سے آٹھواں حصہ ملے گا، یہ تقسیم تمہاری وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی اور اگر کوئی مرد یا عورت بے اولادہو اور والدین بھی زندہ نہ ہوں اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو بھائی اور بہن میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، پس اگر بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے، یہ تقسیم وصیت پرعمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی، بشرطیکہ ضرر رساں نہ ہو، یہ نصیحت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا دانا، بردبار ہے۔"
( يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ ۭاِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَه وَلَدٌ وَّلَهٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ ۭفَاِنْ كَانَتَا اثْنَـتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ ۭوَاِنْ كَانُوْٓا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّنِسَاۗءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ ۭ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ۭوَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ) (سورہ نساء ۱۷۶)
"لوگ آپ سے(کلالہ کے بارے میں ) دریافت کرتے ہیں ، ان سے کہدیجیے : اللہ کلالہ کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے: اگر کوئی مرد مر جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اسے (بھائی کے) ترکے سے نصف حصہ ملے گا اور اگر بہن (مر جائے اور اس) کی کوئی اولاد نہ ہو تو بھائی کو بہن کا پورا ترکہ ملے گا اور اگر بہنیں دو ہوں تو دونوں کو (بھائی کے) ترکے سے دو تہائی ملے گااور اگر بھائی بہن دونوں ہیں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہو گا، اللہ تمہارے لیے (احکام) بیان فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔"
( وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ) (سورہ انفال ۷۵)
"اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ہمراہ جہاد کیا وہ بھی تم میں شامل ہیں اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، بے شک اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے ۔"
میراث کی تعریف
لغوی تعریف
میراث یا تومفعال کے وزن پر مصدر میمی ہےاصل میں موروث تھا اور اسکی یاء واؤ سے منقلب شدہ ہے ، اور اگر موروث سے مشتق ہوا ہوتو اسم ذات ہو گا ۔اوریاتو میراث ارث سے مشتق ہے (ورث یرث ارثا و ورثۃ )اس صورت میں یہ اسم معنیٰ ہو گا ۔
اصطلاحی تعریف
علماء نے دو طرح سے میراث کی تعریف کی ہے
اول ۔
اگر میراث میں معنی مصدری کا لحاظ کیا جائے تو تعریف یوں کریں گے"ایک انسان کا دوسرے انسان کی موت کی وجہ سے نسب یا سبب کی بناء پر اصالۃ کچھ چیزوں کا مستحق ہونا "(اصالۃ کہہ کر ھبہ اور وصیت وغیرہ کو خارج کیا ہے )
دوم ۔
اگر میراث اسم عین سےہو یعنی موروث سے مشتق ہو تو تعریف یوں کریں گے" وہ مال جس کا انسان دوسرے کی موت سے نسب یا سبب کی بناء پر بالاصل مستحق ہوتا ہے۔"
نوٹ :۔شرائع الاسلام میں اسے کتاب الفرائض سے تعبیر کیا جاتا ہے اگر اس سے فرائض معین و مفصل مراد لیں تو میراث اس سے اعم ہے بہر حال میراث کی تعبیر اولیٰ ہے ۔
موجبات (اسباب )ارث
موجبات ارث دو ہیں:
۱۔نسب ۲۔سبب
نسبی ورثاء کی تین طبقے ہیں
طبقہ اول میت کے ماں باپ اور اولاد (اولاد کی اولاد)
طبقہ ثانیہ میت کے بھائی بہن اور اجداد
طبقہ ثالثہ میت کے اعمام و اخوال اور ان کی اولاد
قواعد میراث
قاعدہ۱:
نسبی ورثاء میں قانون یہ ہے کہ پہلے طبقے میں سے جب تک کوئی ایک وارث بھی موجود ہو گا بعد والے طبقے وارث نہیں بن سکتے سوائے اس کے کہ ان میں کوئی مانع ارث آجائے
جو لوگ بالسبب وارث بنتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں
۱۔ بالزوجیت ۲۔ بالولاء
ولاء کی تین قسمیں ہیں
۱۔ولاء عتق ۲۔ولاء ضامن جریرہ ۳۔ولاء امامت
زوج اور زوجہ میں اگر کوئی مانع ارث نہ ہو تو ہر طبقے کے ساتھ شریک ہونگے۔
موانع ارث
چھ چیزیں موانع ارث شمار کی جاتی ہیں۔
۱ ۔ الکفر ؛ کافر مسلمان کا وارث نہین بن سکتا (کافر کی تمام اقسام اس میں شامل ہیں )
۲۔القتل ؛ قاتل مقتول کا وارث نہیں بن سکتا ۔
۳۔الرق ؛ غلام کسی آزاد کا وارث نہیں بن سکتا ۔
۴۔اللعان؛ شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا اسکے بطن سے پیدا ہونے والے بچے کی نفی کر ے اور اس کے پاس گواہ بھی نہ ہوں تو حاکم شرعی کے پاس میاں بیوی ایک دوسرے پر ایک خاص طریقے سےلعنت کرتے ہیں جس کے بعد وہ ایک دوسرے کے لئے حرام ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں بن سکتے ۔
۵۔الحمل: یعنی جس مرحوم کی زوجہ حاملہ ہو تو وہ حمل میراث کی تقسیم سے مانع بنتا ہے کہ اس کےپیدا ہونے کا انتظار کیا جائے۔
۶۔غیبت منقطعہ: ایک شخص اس طرح غائب ہو کہ اس کی کوئی اطلاع نہ ہو لہٰذا اس کے بارے آگاہی تک میراث تقسیم نہیں کر سکتے ۔
قاعدہ ۲:
کسی بھی شخص کا وارث وہی بن سکتا ہے کہ جو موروث کی موت کے وقت زندہ ہو۔
قاعدہ ۳:
میراث میں اقرب فالاقرب کا لحاظ ضروری ہے یعنی جب تک میت کا قریبی موجود ہے بعیدی وارث نہیں بن سکتا ۔
قاعدہ ۴:
نسبی ورثاء کے ہوتے ہوئے ولاء والے وارث نہیں بن سکتے اور معتق ضامن جریرہ کے لئے اور ضامن جریرہ امام کے لئے(۱) حاجب بنتے ہیں۔
قاعدہ ۵:
ابوینی رشتہ داروں کی موجودگی میں فقط پدری رشتہ دار وارث نہیں بن سکتے ۔
اہم نکتہ :: میت کے بھائی اپنی ماں کےلئےسات شرائط کے ساتھ سدس سے زیادہ لینے میں حاجب بنتے ہیں۔
۱۔ میت کا باپ موجود ہو ۔
۲۔ وہ حاجب بننے والے دو یا دو سے زیادہ بھائی یا چار بہنیں ہوں یا ایک بھائی اور دو بہنیں ہوں ۔
۳۔ وہ بھائی ابوینی(۲) یا پدری ہو ،فقط مادری حاجب نہیں بن سکتے۔
۴۔ مانع ارث بھی موجود نہ ہو۔
۵۔ وہ بھائی پیدا ہو چکے ہوں حمل حاجب نہیں بن سکتا۔
۶۔ مورث کی موت کے وقت وہ زندہ ہوں ۔
۷۔ حاجب اور محجوب میں مغایرت ہو۔
____________________
۱)حاجب ، حجب یحجب سے اسم فاعل کا صیغہ ہے حجب کا معنی ،پردہ کرنا ،اندر آنے سے روکنا اور درمیان میں حائل ہونا ہے،یہاں حاجب سے مراد ہے مانع اور رکاوٹ بننا یعنی ایک وارث کی موجودگی دوسرے کیلے وراثت لینے سے رکاوٹ بنے جیسے طبقہ اولی والے طبقہ ثانیہ والوں کیلے مانع ہیں،اسی طرح ابوینی صرف پدری رشتہ داروں کیلےمانع ہیں۔
۲)۔ابوینی سے مراد جو ماں باپ دونوں کی طرف سے رشتہ دار ہو جسے اردو میں سگا کہا جاتا ہے مثلا سگا بھائی ،سگی بہن،
پدری جو صرف باپ کی طرف سے رشتہ دار ہو اور مادری جو صرف ماں کی طرف سے رشتہ دار ہو۔
میراث میں جن لوگوں کا حصہ معین اور مشخص ہوتا ہے ان کو ان چھ سہام سے ہی دیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ نہیں وہ یہ ہیں۔
۱۔نصف ۲۔ ربع ۳۔ثمن ۴۔ثلثان ۵۔ثلث ۶۔سدس
لہٰذا جن کا حصہ معین نہیں ہوتا ان کو وارث بالقرابۃ کہا جاتا ہے۔
سہام اوراہل سہام
جن لوگوں کا حصہ نص قرآنی کی روشنی میں معین اور مشخص ہیں وہ درج ذیل ہیں (سہام چھ اور اہل سہام پندرہ ہیں )
۱۔مستحق نصف چار افراد ہیں:
۱۔ زوج اولادنہ ہونے کی صورت میں ۔
۲۔ ایک ہی بیٹی ہو تو مستحق نصف بالفریضہ اور باقی بالرد ہوگی ۔
۳۔ ایک ابوینی بہن ہو ۔
۴۔ ایک ہی پدری بہن ہو ، اخت ابوینی نہ ہو نے کی صورت میں۔
یہ آخری دونوں (۳،۴)اس صورت میں مستحق نصف ہوں گی جب ان کے ساتھ ورثاء میں کوئی مذکر نہ ہو
۲۔مستحق ربع دو افراد ہیں :
۱۔ زوج اولاد ہونے کی صورت میں ۔
۲۔ زوجہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں ،زوجات چاہے متعدد ہی کیوں نہ ہوں ۔
۳۔مستحق ثمن ایک ہی فر د ہے۔
۱۔ زوجہ اولاد ہونے کی صورت میں ،زوجات چاہے متعدد ہی کیوں نہ ہوں ۔
۴۔مستحق ثلثان تین افراد ہیں:
۱۔ دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں
۲۔ دو یا دو سے زیادہ ابوینی بہنیں
۳۔ دو یا دو سے زیادہ پدری بہنیں (جب سگی بہنیں نہ ہوں تو)
۵۔مستحق ثلث دو افراد ہیں :
۱۔ ماں جب اس کے لئے حاجب نہ ہوں
۲۔ دو مادری بھائی /دو مادری بہنیں /ایک مادری بھائی اور ایک مادری بہن
۶۔مستحق سدس تین افراد ہیں :
۱۔ باپ اولاد ہونے کی صورت میں
۲۔ ام اولاد ہونے کی صورت میں
۳۔ مادری رشتہ دار اگر ایک ہی فرد ہو تو
قاعدہ ۶ :
زوج اور زوجہ کو اولاد ہونے کی صورت میں نصیب ادنیٰ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں نصیب اعلیٰ ملیں گے۔زوج کا نصیب اعلیٰ نصف جبکہ نصیب ادنیٰ ربع ہے ۔ اور زوجہ کا نصیب اعلیٰ ربع اور نصیب ادنیٰ ثمن ہے ۔
اہم نکتہ:
اگر میت کے ورثا میں ایک سے زیادہ ایسے افراد موجود ہوں جن کا فریضہ معین ہوتو ہر ایک کو اسکے معین حصے کے مطابق ملے گا،چونکہ معین فریضے چھے ہیں لہذاچھے کو چھے سے ضرب دینے سے کل چھتیس صورتیں فرض ہو سکتی ہیں اس میں سے کچھ صحیح صورتیں ہیں اور کچھ ممتنع۔چھتیس میں سے پندرہ صورتیں تکراری ہیں،باقی اکیس صورتوں میں سےآٹھ صورتیں ممتنع ہیں اور تیرہ صورتیں صحیح ہیں۔
آٹھ ممتنع صورتیں
۱۔نصف مع الثلثین: کیونکہ اس سے عول لازم آتا ہے۔
۲۔ربع مع ربع: کیونکہ ربع زوج کا اولاد ہونے کی صورت میں جبکہ زوجہ کا اولاد نہ ہونے کی صورت میں فریضہ ہے۔
۳۔ربع مع الثمن : کیونکہ ربع زوجہ کا اولاد نہ ہونے کی صورت میں فریضہ ہے جبکہ ثمن زوجہ کا اولاد ہونے کی صورت میں فریضہ ہے،دونوں کا جمع ممکن نہیں۔
۴۔ثمن مع الثمن : کیونکہ ثمن صرف زوجہ کا فریضہ ہے چاہے متعدد ہی کیوں نہ ہوں۔
۵۔ثمن مع الثلث: کیونکہ ثمن زوجہ اولاد ہونے کی صورت میں حصہ ہے جبکہ ثلث ماں کا اولاد نہ ہونے کی صورت میں حصہ ہے۔
۶۔ثلثین مع الثلثین: کیونکہ مرتبہ واحد میں ثلثین کے دو مستحقین کا اجتماع ممکن نہیں ہے اور اس سے عول بھی لازم آتا ہے جوکہ باطل ہے۔
۷۔ثلث مع الثلث: کیونکہ دو مستحق ثلث وہی ثلثین کےمستحق ہوتے ہیں ۔علیحدہ ثلث ،ثلث کے مستحق نہیں ہوتے۔
۸۔ثلث مع السدس: کیونکہ ثلث ماں کا حاجب نہ ہونے کی صورت میں حصہ ہوتا ہے،جبکہ سدس ماں کا حاجب ہونے کی صورت میں حصہ ہوتا ہے۔
صحیح صورتیں
اب تیرہ صحیح صورتیں مندرجہ ذیل ہیں ۔
۱۔نصف مع النصف: ورثاء میں زوج اور ایک پدری بہن ہو ۔
۲۔نصف مع الربع : ورثاء میں زوجہ اور ایک پدری بہن ہو۔
۳۔نصف مع الثمن : ورثاء میں زوجہ اور ایک بیٹی ہو۔
۴۔نصف مع السدس: ورثاء میں زوج اور کلالہ ام میں سے ایک فرد ہو۔
۵۔نصف مع الثلث : ورثاء میں زوج اور ماں ہو جبکہ اس (ماں)کے لئے کوئی حاجب بھی نہ ہو۔
۶۔ربع مع الثلثین : ورثاء میں زوج اور دو بیٹیاں ہوں ۔
۷۔ثمن مع الثلثین : ورثاء میں زوجہ اور دو بیٹیاں ہوں ۔
۸۔ربع مع الثلث : ورثاء میں زوجہ اور ماں یا کلالہ ام میں سے ایک سے زیادہ فرد ہوں ۔
۹۔ربع مع سدس : ورثاء میں زوجہ اور کلالہ ام میں سے ایک ہو ۔
۱۰۔ثمن مع السدس: ورثاء میں زوجہ ،احدالابوین اور ایک بیٹا ہو ۔
۱۱۔ثلثان مع الثلث: ورثاء میں دو پدری بہنیں اور دو مادری بھائی ہوں۔
۱۲۔ثلثان مع السدس: ورثاء میں دو بیٹیاں اور احد الابوین ہو ۔
۱۳۔سدس مع السدس: ورثاء میں ابوین ۔ اولاد کے ساتھ ہوں۔
قاعدہ ۷ :
مادری رشتہ دار اگر ایک ہوتو مستحق سدس اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو مستحق ثلث ہونگے۔
قاعدہ : ۸
ا یک بیٹی مستحق نصف جبکہ دو یا دو سے زیادہ بیٹاں مستحق ثلثان ہونگی۔اسی طرح ایک بہن مستحق نصف جبکہ دو یا دو سے زیادہ بہنیں مستحق ثلثان ہونگی۔
قاعدہ: ۹
والدین (ماں ،باپ)مرحوم کی اولاد ہونے کی صورت میں مستحق سدس ہوتے ہیں اگر مرحوم کی اولاد نہ ہو تو مرحوم کا باپ بالقرابۃ وارث بنتاہے جبکہ مرحوم کی ماں حاجب نہ ہونے کی صورت میں مستحق ثلث اور حاجب ہونے کی صورت میں مستحق سدس ہو گی
قاعدہ : ۱۰
مادری رشتہ دار ہمیشہ آپس میں مال بالسویہ تقسیم کریں گے،جبکہ ابوینی اور پدری رشتہ دار آپس میں( فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ ) (۱) کے مطابق تقسیم کرتے ہوئے مذکر کو دو برابر اور مؤنث کو ایک حصہ دینگے۔
قاعدہ ۱۱:
اگر ورثاء میں کچھ بالقرابۃ(۲) وارث ہوں اور کچھ بالفریضہ تو پہلےفریضہ والوں کو ان کا حصہ دیا جائے گا ،اور بعد میں جو بچ جائے گا اس سے بالقرابۃ والوں کو حصہ ملے گا ۔
____________________
۱)۔ یہ قرآن مجید کی آیت کا ایک حصہ ہے اور باب میراث کا ایک قاعدہ کلیہ ہےکی میراث کی تقسیم میں مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملے گا لہذا اگر مال کے تین حصے کئے جائے تو اس میں سے دو حصے مرد کو اور ایک حصہ عورت کو دیا جائے گا۔
۲) ۔ بالقرابہ وارث سے مراد جن کا حصہ معین و مشخص نہیں مثلا بیٹا
مسئلہ تعصیب۔(مشہور اختلافی مسئلہ)
اگر کسی میت کے ورثاء ایسے ہوں کہ ان سب کو بالفرض دینا ہو اور ان کو معین حصہ دینے کے باوجود بھی کچھ حصہ بچ جاتا ہو تو علماء امامیہ کے نزدیک بچا ہوا مال بھی انہی صاحبان فریضہ پر رد کیا جائے گاجبکہ اس مسئلہ میں اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ باقی ماندہ مال میت کے دیگر ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا ۔کتاب "المیراث "میں اس مسئلہ کو مسئلہ تعصیب کہا جاتا ہے۔ تعصیب عصبہ سے ہے اور عصبہ میت کے پدری رشتہ داروں کو کہتے ہیں۔
* البتہ کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہو تو میت کے دیگر رشتہ داروں کو دیں گے۔
* بچے ہوئے مال کو ہمیشہ ان پر رد کیا جاتا ہے جن کو بالفریضہ ملتاہے۔
* ابوینی اور پدری اخوۃ کے ہوتے ہوئے ام اور کلالہ(۱) ام پر رد نہیں ہوتا ۔
قاعدہ :۱۲
صاحبان فریضہ میں سے زوج اور زوجہ کو کبھی بالرد نہیں ملے گا سوائے ایک صورت کے،کہ میت کے ورثاء میں سے زوج /زوجہ کے علاوہ سوائے امام کے دیگر کوئی نسبی یا سببی رشتہ دار وارث نہ ہو تو ان (زوج/زوجہ )پر رد ہو گا ۔یعنی اگر زوج یا زوجہ کے ساتھ صرف امام وارث ہو تو اس صورت میں زوج/زوجہ پر رد ہو سکتا ہے۔
____________________
۱)۔ ( باب میراث میں) کلالہ ام سے مراد وہ اشخاص ہیں جو ماں کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہیں مثلا مادری بھائی،مادری چچا وغیرہ۔
مسئلہ عول(اختلافی مسئلہ)
اگر کسی میت کے ورثاء میں ایسے ذوی الفروض جمع ہو جائیں کہ اگر ان سب کو ان کامعین حصہ دیتے ہیں تو اصل ترکہ ان پر پورا نہیں ہوتا ۔! تو قاعدہ یہ ہے کہ اصل ترکہ کو اتنا ہی رکھنا ہے لیکن کچھ لوگوں کو ان کے معین حصے سے کم دیا جائے گا (یعنی ان پر نقص لازم آئے گا )یہ بھی امامیہ و عامہ کے مابین اختلافی مسئلہ ہے ۔کتاب ارث میں اسے "مسئلۃ العول "سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ اصل ترکہ کو زیادہ کر دیں گے تا کہ کمی سب ورثاء پر برابر تقسیم ہو ۔ علمائے امامیہ عول کے قائل نہیں ہیں اور فرماتے ہیں کہ سہام وہی چھ ہیں جو قرآن میں ذکر ہوئے ہیں فریضہ کم ہونے کی صورت میں بعض ورثاء کو ان کے حصہ سے کم دیا جائے گا ۔
قاعدہ: ۱۳
نقص کی صورت ہمیشہ اس وقت پیش آتی ہے جب ورثاء میں زوج یا زوجہ شریک ہوں ۔
قاعدہ: ۱۴
نقص پدری یا ابوینی ایک بیٹی یا دو بیٹیاں ،یا ابوینی یا پدری بہنوں پر لازم آتا ہے
بیٹیاں اگر بیٹوں کے ساتھ ہوں تو بالقرابۃ وارث بنیں گی اور اگر ابوین کے ساتھ ہوں تو بالفرض وارث بنیں گی۔اسی طرح بہنیں بھائیوں کے ساتھ ہوں تو بالقرابۃ اور کلالہ ام کے ساتھ ہوں تو بالفرض وارث بنیں گی
مثال
ایک مرحوم کے تین وارث ہیں ۔باپ ماں اور ایک بیٹی، میراث کیسے تقسیم ہو گی؟
باپ ،مستحق سدس ۶/۱ ماں ، مستحق سدس ۶/۱ بیٹی ،مستحق نصف۲/۱
کل فریضہ چھ(۶) بنائیں گے
اس میں سے نصف(۳)بیٹی کو دیں گے اور ایک ایک حصہ ماں اور باپ کو دیا جائے گا ۔ باقی ایک حصہ بچ جائے گا اس کو ان پر تقسیم کرنے سے کسر لازم آتا ہے لہٰذاان کے سہام (۵)کو اصل فریضہ (۶)سے ضرب دیں گے۔
اب کل ترکہ (۳۰)بن گیا ،اس سے اب کو (۵)اور ام کو (۵)اور بنت کو( ۱۵) باقی (۵ )بچ جائیں گے اس میں سے ایک باپ کو ایک ماں کو اور تین بیٹی کو دینگے۔ اور اگر ماں کے لئے حاجب ہو تو اسے بالرد نہیں ملے گا۔
اعداد کی قسمیں
اعداد کی ایک دوسرے کے ساتھ چار قسم کی نسبتیں ہوتی ہیں
۱۔ تباین
جب دو مختلف اعداد میں نسبت اس طرح سے ہو کہ اگر ان میں سے چھوٹے عد دکو بڑے عدد میں سے ایک بار یا چند بار نفی کر دیں تو آخر میں ایک بچ جائے اور ان دونوں اعداد کو ایک کے علاوہ کوئی اور عدد پورا تقسیم نہ کر دے ۔ اعداد کے مابین اس طرح کی نسبت کو تباین کہتے ہیں۔ اور ان اعداد کو عددان متباینان کہا جاتا ہے۔ فرق نہیں کرتا چھوٹا عدد بڑے عدد کے نصف سے کم ہو یا زیادہ جیسے ( ۲ اور ۳)، (۳اور۷)اور (۴اور۹) ۔
۲۔ تماثل:
جب دو اعداد میں اس طرح کی نسبت ہو کہ وہ اعداد متساوی القدر ہوں یعنی ان کی قدر و قیمت برابر ہو تو اعداد کی اس نسبت کو تماثل کہتے ہیں ۔ اور ان اعداد کو عددان متماثلان کہا جائے گا۔ جیسے (۳اور۳) (۲اور۲) اور (۴اور۴)۔
۳۔ توافق:
جب دو مختلف اعداد میں نسبت اس طرح سے ہو کہ ان کو ایک کے علاوہ کوئی اور عدد بھی پورا پورا تقسیم کرے اور ان میں سے چھوٹے عدد کو بڑے عدد سے ایک بار یا چند بار نفی کر دیں توآخر میں ایک سے زیادہ بچ جائے البتہ چھوٹا عدد بڑے عدد سے نصف سے زیادہ ہو اعداد میں اس طرح کی نسبت کو توافق کہا جاتا ہے ۔ اور ان اعداد کو عددان متوافقان کہیں گے۔(اس نسبت کو توافق بالمعنی الاخص بھی کہتے ہیں)
نوٹ:
جو عدد ان دونوں اعداد کو پورا تقسیم کرے اسی کی نسبت توافق ہو گا لھذا اگر وہ عدد ۲ ہو تو توافق بالنصف کہلائے گا جیسے (۴اور۶کے مابین) اور اگر وہ عدد ۳ ہو تو توافق بالثلث کہلائے گا جیسے (۶اور۹ میں) ،(۱۲ اور ۱۸)
۴۔تداخل:
جب دو مختلف اعداد کی نسبت یوں ہو کہ ان کو ۱ کے علاوہ کوئی اور عدد بھی پورا پورا تقسیم کرے البتہ چھوٹا عدد بڑے عدد کے نصف سے زیادہ نہ ہو اور چھوٹے عدد کو بڑے عدد سے ایک بار یا چند بار نفی کرنے سے کچھ بھی نہ بچے ۔ اعداد میں اس قسم کی نسبت کو تداخل کہتے ہیں۔اور ان اعداد کو عددان متداخلان کہیں گے۔ اس نسبت کو توافق بالمعنی الاعم بھی کہتے ہیں ۔ جیسے (۲اور۴کے مابین)،(۳اور۶کے مابین) (۲ اور ۸ کےمابین)۔
* جب دو عدد آپس میں متوافق ہوں گے تو اب دیکھنا یہ ہوگا کہ تیسرے عدد کا مخرج کیا ہے مثلا اگر ۴ اور ۶ دیکھیں تو متوافقان ہیں کیونکہ تیسرا عدد جو ان کو برابر تقسیم کرتا ہے اب چونکہ ۲ نصف کامخرج ہے لذا انہیں متوافقان فی النصف کہیں گے۔ اسی طرح اگر ۹ اور۶ کو دیکھا جائے تو یہ بھی متوافقان ہیں کیونکہ ۳ ان کو برابر تقسیم کر رہا ہے جبک ہ۳ مخرج ثلث ہے اب ان کو متوافقان فی الثلث کہیں گے
* اس تیسرے عدد کوعادی کہیں گے
نوٹ:
۱۔ میراث کی تقسیم میں کبھی بھی اعشاریہ کو معیار نہیں بنایا جائے گا اگر اس طرح کی صورت حال ہو تو دیگر طریقوں سے اصل ترکہ کو اس طرح بڑھائیں گے کہ بغیر کسی اعشاریہ کے سب کو پورا پورا تقسیم ہوجائے ۔
۲۔ نقص ہمیشہ ان ہر لازم آئے گا جنکا حصہ ایک صورت سے دوسری صورت میں تبدیل نہ ہوجائے ،مثلا اولاد۔ جبکہ جنکا حصہ ایک صورت سے دوسری صورت میں تبدیل ہوتا ہے ان پر نقص وارد نہیں ہوگا مثلا ابوین اور زوج اور زوجہ ۔
مسئلۃ :
میت کی اولاد زندہ نہ ہونے کی صورت میں اس کی اولاد کی اولاد میت کے وارث بنیں گے ، یعنی میت کے پوتی پوتے نواسی نواسے وغیرہ۔اوروہ میت کے اصل متقرب کی نسبت سے حصہ لیں گے۔ خود انکا مذکر و مؤنث ہونا معیار نہیں۔ لہٰذااگر میت کی بیٹی کا بیٹا یعنی نواسہ ہو تو اپنی ماں کا حصہ ثلث ۳/۱ لے گا اسی طرح اگر میت کے بیٹے کی بیٹی یعنی پوتی ہو تو اپنے باپ کا حصہ یعنی ثلثین ۳/۲ لے گی۔ البتہ اس میں علما کے اقوال مختلف ہیں ہاں مگر وہ اولاد کی اولاد متعدد ہوں تو آپس میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم کریں گے۔
مسئلۃ حبوہ:
حباء یا حبوہ لغت میں کسی کو بغیر عوض کے کچھ عطا کرنے کو کہتے ہیں۔ اصطلاح فقہ میں باپ کی موت کے بعد باپ کے اموال میں سے کچھ مخصوص اشیا ء کا بڑے بیٹے کو بغیر عوض کے عطا کرناحبوہ کہلاتا ہے ۔ مشہور کی بنا پر حبوہ کے طور پر باپ کے ترکہ میں سے بڑے بیٹے کو چار چیزیں دی جائیں گی۔
۱۔ کپڑے
۲۔ انگوٹھی
۳۔ تلوار
۴۔ مصحف شریف
شہیدین کے مطابق ان اشیا ء کا بڑے بیٹے کو دینا واجب ہے اور مجانا یعنی بغیر عوض کے دیں گے۔
مسئلہ طعمہ
اگر ورثاء میں میت کے ابوین بھی ہوں یا ان میں سے ایک ہوں اور میت کے اجداد بھی زندہ ہوں تو اس وقت اصولا تو اجداد کو کچھ نہیں ملتا لیکن شارع مقدس اس صورت میں میت کے ابوین کے لئے مستحب قرار دیتے ہیں کہ وہ اپنے ماں باپ ( میت کے اجداد ) کو کچھ مال دے دیں۔ جسے طعمہ کہا جاتا ہے۔ مشہور کی نظر میں یہ استحباب اس صورت میں ہوگا جب میت کے ابوین میں سے ہر ایک کو اپنے سدس سے زائد ملا ہو اور وہ زائد بھی اس سدس کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ البتہ زائد اگر سدس سے زیادہ بھی ہو تو خاص مقدار سدس دینا ہی مستحب ہے۔ مثلا ابوین کو سدس کے طور پر ۵۰۰۰ ملا ، اور پھر زائد ۶۰۰۰ ملا، تو پھر ان اجداد کے لئے مقدار سدس ۵۰۰۰ دینا مستحب ہے۔
اجداد و اخوۃ(طبقہ ثانیہ)
اگر میت کے ورثا میں ایک جد اور ایک بھائی ہو تو وہ آپس میں تمام ترکہ کو بالنصف تقسیم کریں گے ۔
اگر میت کے ورثا میں باپ کے اجداد بھی ہوں اور ماں کے اجداد بھی تو للذکر مثل حظ الاانثیین کے تحت اجداد اب کو ثلثان اور اجداد ام کو ثلث دیں گے اس کے بعد اجداد اب آپس میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت جبکہ اجداد ام آپس میں بالسویہ تقسیم کریں گے ۔
مسئلۃ : ایک بندہ فوت ہو گیا اس کے ورثا میں آٹھ افراد موجود ہیں داد، دادی اور پدری بھائی بہن اور نانا، نانی اورمادری بھائی ،بہن تو میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟
چونکہ کلا لہ ام ایک سے زائد ہیں لہٰذا مستحق ثلث ہوں گے اور پدری بالقرابہ حصہ لیں گے لہٰذا اصل فریضہ ۳ بنے گا اس میں سے ثلث ۳/۱ مادریوں کو اور ثلثین ۳/۲ پدریوں کو دیں گے ۔ مادریوں کو فریضہ ایک ملا ہے سہام ۴ ہیں جبکہ پدریوں کو فریضہ دو ملے ہیں سہام ۶ ہیں چونکہ پدریوں نے للذکر مثل حظ الانثیین تقسیم کرنا ہے۔ لہٰذا ۴ اور ۶ عددان متوافقان بانصف ہیں قائدہ کے تحت ایک کے کل کو دوسرے کے نصف میں ضرب دیں گے ۶ کو دو سے یا ۴ کو ۳ سے ضرب دینے سے فریضہ ۱۲ بنے گا۔ اس کو اصل فریضہ سے یعنی ۳ سے ضرب دیں گے تو کل ترکہ ۳۶ بنے گا۔ اب اس میں مادریوں کو ثلث یعنی ۱۲ "حصے ملیں گے جسے وہ بالسویہ تقسیم کریں گے ہر ایک کو تین تین حصے مل جائیں گے۔ باقی ۲۴ یعنی ثلثین پدریوں کو دیں گے جسے للذکرمثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم کریں گے لہٰذا دادا ور پدری بھائی کو ۸ ،۸ جبکہ دادی اور پدری بہن کو ۴،۴ حصے ملیں گے۔
قاعدہ:۱۵
اجداد چاہے اجداد اعلیٰ(یعنی میت کے باپ کے اجداد ) ہی کیوں نہ ہوں وہ میت کے بھائیوں کے ساتھ میراث میں مشارکت رکھتے ہیں اسی طرح میت کے بھائیوں کے بیٹوں کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں وہ اجداد ادنی ٰ(خود میت کے اجداد ) کے ساتھ میراث میں مشارکت رکھتے ہیں ، یہ دونوں فریق کسی بھی رتبے میں ایک دوسرے کے لئے حاجب نہیں بنتے ،
قاعدہ :۱۶
اجداد ادنی (یعنی میت کے اجداد)اجداد اعلی (یعنی میت کے باپ کے اجداد)کے لئے حاجب بنتے ہیں اسی طرح میت کے بھائی چاہے مادری ہی کیوں نہ ہوں بھائیوں کے بیٹوں کے لئے حاجب بنتا ہے۔
مسئلہ اجداد ثمانیہ
ایک بندہ فوت ہوگیا اور اس کے ورثاء میں آٹھ افراد موجود ہیں
چار اجداد اب ،(یعنی باپ کے داد، دادی ،نانا،نانی،)
چار اجداد ام (یعنی ماں کے دادا ، دادی ، نانا ، نانی)
للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت کل ترکہ تین بنے گا اس میں سے ثلث ۱/۲اجداد ام کو دیں گے، جبکہ ان کے سہام چار ہیں ، اور ثلثان ۲/۳اجداد اب کو دیں گے، اجداد اب کے حصے کو پھر ۳ حصوں میں تقسیم کریں گے کیونکہ اقرباء اب میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم کرتے ہیں، اس تین میں سے ۲ باپ کے دادا، دادی کو اور ۱ باپ کے نانا نانی کو دیں گے۔
پھر ہر حصے کو مزید تین حصوں میں تقسیم کریں گے دادا دادی کو جو ثلثین ملے ہیں اس کے تین حصے کر کے ۲ دادا کو اور ایک دادی کو۔ اسی طرح نانا نانی کو جو ثلث ملا ہے اس کو تین حصوں میں کر کے ۱ نانی کو اور دو نانا کو مل جائے گا۔
مرحلہ ثانیہ میں دادا دادی کے بھی ۳ حصے اور نانا نانی کے بھی ۳ حصے ہیں تین تین عدد متماثل ہیں اس میں ایک تین کو لیکر اسے اجداد اب کے جو تین حصے بنائے تھے اس میں ضرب دیں گے تو اجداد اب کے سہام ۹ بن جائیں گے ۔
ایک حصے کو ۴ میں اور ۲ حصوں کو ۹ میں تقسیم کرنے سے کسر لازم آتی ہے لہٰذا ۹ اور ۴ میں نسبت کو دیکھا تو یہ آپس میں متباینین ہیں ایک دوسرے سے ضرب دی تو ۳۶ سہام بنے ۳۶کو اصل فریضہ(۳) سے ضرب دی تو ۱۰۸ کل ترکہ بن گیا۔ اس میں سے ثلث یعنی ۳۶ اجداد ام کو دیں گے وہ اسے بالسویہ تقسیم کریں گے ہر ایک کو ۹،۹ مل جائے گا، اور ثلثین یعنی۳/۲ (۷۲) اجداد اب کو دیں گے جسے وہ ۳ حصوں میں تقسیم کریں گے اور ثلثین یعنی ۴۸ دادا دادی کو اور ثلث (۲۴) نانا نانی کو مل جائیں گے۔ ہر ایک کو تین حصوں میں پھر تقسیم کرنے کے بعدمثل حظ الانثیینکے تحت تقسیم کریں گے تو دادا کو ۳۲ اور دادی کو ۱۶ جبکہ نانا کو ۱۶ اور نانی کو ۸ ملیں گے۔
* یہ مشہور اور شہیدین کے قول کے مطابق ہے ،اس بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں
میراث الاعمام و اخوال(طبقہ ثالثہ)(۱)
قرآن مجید میں سورہ انفال آیت نمبر ۷۵ میں اولوالارحام کی وراثت کا تذکرہ آیا ہے یہ اعمام وا خوال اسی مضمون میں آتے ہیں۔
اعمام یعنی عم (چچا) عمہ(پھوپھی) اخوال یعنی خال(ماموں ) خالہ (خالہ)۔
اگر ورثا میں اعمام و اخوال جمع ہوجائیں تو ا عمام تقرب بالاخ کی وجہ سے وارث بنتے ہیں، اس وجہ سے ثلثان لیں گے اور اخوال تقرب بالاخت کیوجہ سے وارث ہونگی اس وجہ سے ثلث لینگے اور اعمام بالتفاوت جبکہ اخوال بالسویہ تقسیم کریں گے۔
مسئلہ اعمام و اخوال ثمانیہ
قاعدہ:۱۷
میت کے اپنے اعمام و اخوال یا انکی اولادکے ہوتے ہوئے اس کے والدین اس کے اعمام و اخوال کے وارث نہیں بن سکتے۔
فرض مسئلہ:
ایک بندہ فوت ہوگیا اور اس کے ورثاء میں آٹھ افراد موجود ہیں میت کے باپ کےچچا پھوپھی ماموں اور خالہ اور ماں کے چچا پھوپھی ماموں اور خالہ ۔ تو کل ترکہ تین بنے گا (للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت)۔ اور اعمام و اخوال ام کو ثلث ۳/۱ جبکہ اعمام و اخوال اب کو ثلثان دیا جائے گا۔
____________________
۱)۔اعمام سے مراد میت کے چچا اور پھوپھی وغیرہ اور اخوال سے مراد میت کے ماموں اور خالہ وغیرہ ہیں
اقرباء ام بالسویہ تقسیم کریں گے۔اعمام و اخوال اب کے لئے ثلثان دیں گے ، اس کا ثلث خال و خالہ کو دیں گے وہ آپس میں بالسویہ تقسیم کریں گے جبکہ ثلثان باپ کے چچا اور پھوپھی کو دیں گے وہ آپس میں بالتفاوت تقسیم کریں گے۔ یہاں اقرباءام کے سہام چار ہیں اور ان کو ایک حصہ ملا ہے اصل ترکہ میں سے، اقربا ء اب کے سہام ۱۸ ہیں اور ان کو اصل میں سے ۲ حصے ملے ہیں۔ دونو ں میں کسر لازم آتی ہے اعمام و اخوال اب کے سھام۱۸ کیسے بنے اس کی وضاحت یہ ہے کہ ا نکو ثلثان ملے یعنی۳/۲، اسکو پھر تین حصوں میں تقسیم کیا مرحلہ اولی میں اور ایک ثلث اخوال کو جبکہ ثلثین اعمام کو دیئے ۔ مرحلہ ثانیہ میں اخوال بالسویہ تقسیم کریں گے لہٰذا ان کے سہام ۲ بنے، جبکہ اعمام بالتفاوت تقسیم کریں گے لہٰذا ان کے سہام ۳ بنے ۲ چچا کے لئے اور ۱ پھوپھی کے لئے ، اجداد ثمانیہ کے برعکس یہاں مرحلہ ثانیہ کے اعداد سہام متماثل نہیں ہیں، متباینین ہیں، (۳،۲) لہٰذا ان کو ضرب دیا، تو ۶ بنا۔ اس کو اوپر مرحلہ اولی کے ۳ سے ضرب دیا تو ۱۸ بنا۔۱۸ اور ۴ عددان متوافقان بالنصف ہیں ایک کے کل کو دوسرے کے نصف میں ضرب دیا تو ۳۶ بنا۔ اس کو اصل فریضہ سے ضرب دیا تو کل ترکہ ۱۰۸ بنا۔ اس میں سے ثلث (۳۶) اقرباء ام کو دیا وہ آپس میں بالسویہ تقسیم کریں گے ہر ایک کو ۹،۹ ملے گا۔ اور ۳/۲ یعنی ۷۲ اقربا ء اب کو ملیں گے۔ اسےپھر تین حصوں میں تقسیم کریں گےاور۳/۱ یعنی(۲۴)اقربا ام کو ملیں گے، ہر ایک کو ۱۲،۱۲ ملے گا۔ اور ۳/۲ (۴۸) اعمام و اخوال اب کو ملیں گے اور وہ اسے بالتفاوت تقسیم کریں گے۔ یعنی عم کو ۳۲ اور عمہ کو ۱۶ مل جائیں گے ۔ لہٰذا ہر ایک کے حصے (۱۰۸) میں سے کچھ یوں ہوں گے۔
میت کے باپ کے میت کی ماں کے
چچا کو ۳۲ چچا کو ۹
پھوپھی کو ۱۶ پھوپھی کو ۹
ماموں کو ۱۲ ماموں کو ۹
خالہ کو ۱۲ خالہ کو ۹
کل ۷۲ کل ۳۶
کل ترکہ ۳۶+۷۲=۱۰۸
قاعدہ :۱۸
اعمام و اخوال میں بھی اقرب کے ہوتے ہوئے ابعد وارث نہیں بن سکتا، لہٰذا مادری خال کے بھی ہوتے ہوئے ابوینی خال کا بیٹا وارث نہیں بن سکتا مگر ایک صورت ایسی ہے جو اس قاعدہ سے مستثنی ٰ ہے ۔ اور وہ یہ ہے ابن عم ابوین (ابوینی،سگے چچاکا بیٹا) صرف اعمام للاب (پدری چچا ) پر مقدم ہوگا۔
سوال: اگر کوئی میت سے دو اسباب کی بنا پر وارث بن رہا ہو تو کیا وہ دونوں سبب کی بنا پر حصہ لے سکتا ہے ؟
جواب: ہاں ایک شخص دو نسبتوں یا سببوں کی بنا پر دونوں لحاظ سے اپنا حصہ لے سکتا ہے مگر اس وقت جب وہ دونوں نسبتیں مرتبے میں مساوی ہوں ۔ جیسے ایک شخص میت کا چچا بھی ہو اور ماموں بھی ۔ اورا گر ورثا ء میں سارے طبقے ثالثہ کے ہوں تو وہ دیگر اعمام و اخوال کے ساتھ تقسیم میں دونوں نسبتوں سے حصہ لے سکتا ہے۔اسی طرح ممکن ہے کہ ایک بندہ زوج بھی ہو اورمعتق بھی۔
سوال : ایک ہی بندے کا میت کا چچا بھی اور ماموں بھی ہونا کیسے ممکن ہے؟
جی ہاں! ایسا ممکن ہے جیسے بالفرض سعید مر گیا اور ندیم اس کا وارث ہے ندیم میت کے باپ کا پدری بھائی ہے اور یہ ندیم میت (سعید) کی ماں کا مادری بھائی ہے ۔ تو ندیم سعید کے لئےباپ کے لحاظ سے چچا اور ماں کے لحاظ سے ماموں بنے گا۔ یہ اس طرح سے ہوسکتا ہے کہ ندیم کی ایک مادری بہن اور ایک پدری بھائی ہو، وہ دونوں آپس میں شادی کر لیں اور ایک بیٹا پیدا ہوجائے (سعید) اور جب وہ سعید مر جائے تو ورثا میں صرف طبقہ ثالثہ کے افراد ہوں ۔ تو یہاں ندیم میت کا عم بھی ہوگااورخال بھی ۔ اور دونوں لحاظ سے حصہ لے گا۔
میراث ازواج
زوج اور زوجہ ہر طبقے اور وارثوں کے ساتھ ایک دوسرے کا وارث بن سکتے ہیں ۔ اگر کوئی موانع ارث نہ ہو۔
زوج اور زوجہ کا ایک دوسرے کے وارث بننے کےلئے صرف عقد کافی ہے اگرچہ دخول نہ بھی ہوا ہو۔ وہ ایک دوسر ے کے وارث بن جاتے ہیں۔
اس قاعدے کے کچھ استثنائی صورتیں ہیں (مرض کی بنا پر)
۱. اگر زوج اور زوجہ نے جس وقت عقد نکاح کیا ہو اس وقت زوج مریض تھا اس صورت میں ایک دوسرے کے وارث بننے کے لئے دخول شرط ہے۔
۲. جس وقت عقد پڑھا زوج مریض تھا مگر بعد میں وہ اس مرض سے شفایاب ہوگیا اس صورت میں اگرچہ زوج یا زوجہ دخول سے پہلے مر جائیں ایک دوسرے کے وارث بن سکتے ہیں۔
۳. جس وقت عقد پڑھا اس وقت زوجہ مریضہ تھی ، تو اس صورت میں اگرچہ دخول نہ بھی کیا ہو ایک دوسرے کے وارث بن سکتے ہیں ۔(دلیل خارج کی بنا پر)
طلاق رجعی میں دوران عدت اگر زوج یا زوجہ میں سے کوئی ایک مر جائے تو وہ ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں کیونکہ مطلقہ رجعیہ دوران عدت حکم زوجیت میں ہوتی ہے۔البتہ طلاق بائن ہو تو وہ ایک دوسرے کے دوران عدت بھی وارث نہیں بن سکتے۔
طلاق بائن میں جس وقت زوج نے زوجہ کو طلاق دی اور وہ مریض تھا اور اسی حالت مرض میں مر جائے ، اس صورت میں زوجہ مطلقہ ایک سال تک اس کی وارث بن سکتی ہے ، یعنی طلاق دینے کے بالفرض بارہویں مہینے میں زوج اس مرض میں مر جائے تب بھی زوجہ وارث بنے گی۔لیکن اس صورت میں اگر زوجہ مر جائے تو زوج وارث نہیں بن سکتا۔
مسئلہ:
اگر عورت صاحب اولاد ہو تو مشہور کا نظریہ ہے کہ وہ شوہر کے جمیع ترکہ سے حصہ لے گی، لیکن اگر صاحب اولاد نہ ہو تو زمین سے مطلقا کچھ نہیں ملے گا، چاہے زمین خالی ہو یا اس پر کچھ بنا ہوا ہو، عینا بھی اور قیمتا بھی۔
لیکن باقی اموال میں سے مثلا عمارت کی اشیاء ، دیواروں میں استعمال شدہ چیزیں وغیرہ ان کی قیمت سے حصہ ملے گا عین سے حصہ نہیں ملے گا۔
الولاء
سبب کی بنا پر جو وارث بنتے ہیں ان کی دوسری قسم ولاء ہے،
ولاء کی تین قسمیں ہیں ۔
ولاء عتق
ولاء ضامن جریرہ
ولاء امامت۔
ولاء سے یہاں کتاب میراث میں مراد دواشخاص کا ایک دوسرے کیساتھ اس طرح کی قربت کا ہونا جو موجب ارث بنے البتہ وہ قربت نسب یا زوجیت کے علاوہ ہو۔
ولاء عتق:
اگر کسی کا آزاد کردہ غلام مر جائے تو وہ معتق تین شرائط کی بنا پر اس کا وارث بن سکتا ہے:
۱. اس نے غلام کو تبرعا آزاد کیا ہو۔
۲. عتق کے وقت اس کے ضمان جریرہ سے برائت نہ کی ہو۔
۳. معتق (غلام آزاد کردہ )کا کوئی نسبی وارث نہ ہو۔
قاعدہ:
اگر غلام کوتبرعا آزاد کیا ہو تو معتق وارث بن سکے گا اگر کسی واجب کی بنا پر مثلا کفارہ یا نذر کی وجہ سے آزاد کیا ہو اور وہ مر جائے تو اس کا معتق وارث نہیں بنے گا۔ کیونکہ وہ سائبہ ہوگا یعنی اس کا اور مولا کوئی تعلق نہیں۔۔
* منکل بہ: جس غلام کی تنکیل کی ہو یعنی مولا نے اس کے اعضا ء کاٹے ہوں تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گا اور سائبہ کے حکم میں ہوگا یعنی مولا اس کا وارث نہیں بن سکتا۔
ولاء ضامن الجریرہ:
یعنی وہ شخص جو کسی کی جنائت کی ضمانت لے اسے ضامن جریرہ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی میت کا کوئی نسبی وارث نہ ہو او رکوئی معتق بھی نہ ہو، تو وہ ضامن جریرہ اس کے وارث ہوں گے ۔
اس کا عقد یوں ہوگا ، کہ پہلے مضمون (جسکی ضمانت لی گئی ہے ) کہے گا
"عاقدتک علی ان تنصرنی و تدفع عنی و تعقل عنی و ترثنی" توضامن ہے گا" قبلت"
مضمون ضامن کا وارث نہیں بنے گا ضامن مضمون کا وارث بن سکے گا۔ مضمون کا کوئی اور وارث نہ ہونا شرط ہے جبکہ ضامن کا کوئی اور وارث نہ ہوناشرط نہیں ہے۔ اور یہ حکم ضامن سے تجاوز نہیں ہوگا یعنی اسکے وارثین مضمون کے وارث نہیں بن سکتے ۔
اگر ضمانت دو طرفہ ہو یعنی ضمانت میں اشتراک ہو تو عقد ضمان کچھ یوں ہوگا کہ ان میں سے ایک کہے گا "ان تنصرنی و انصرک و تعقل عنی واعقل عنک و ترثنی و ارثک" تو دوسرا کہے گا قبلتتو دونوں ایک دوسرے کے ضامن جریرہ بن جائیں گے۔یہ عقود لازمہ میں سے ہے۔
ولاء امامت:
اگر کسی میت کا کوئی نسبی وارث نہ ہو معتق اور ضامن جریرہ بھی نہ ہو تو امام اس کے وارث ہوں گے ۔ حضور امام کی صورت میں خود امام اس کا وارث بنے گا بیت المال نہیں۔ اور غیبت امام کے دور میں اس مال کومیت کے شہر کےفقراء ومساکین میں صرف کیا جائے گا۔
التوابع
میراث خنثیٰ
خنثیٰ دو طرح کا ہوتا ہے :
۱۔خنثیٰ معینہ ۲۔خنثیٰ مشکلہ۔
خنثیٰ معینہ:
خنثیٰ کی یہ قسم جو کسی ایک جنس کی طرف میلان رکھتا ہے یا تو کچھ مرد والے علائم ہیں تو میراث میں اس کو مردوں کے ساتھ ملحق کیا جائے گا اور یا تو کچھ عورتوں والے علائم ہیں تو اس کو عورتوں کے ساتھ ملحق کیا جائے گا۔ مثلا وہ دونوں کا فرج یعنی فرج الرجال والنساء رکھتاہے۔اب اگر بول کرنے میں فرق ہے مثلا ایک سے پہلے آتا ہے اور ایک سے بعد میں خارج ہوتا ہےتو سبق البول والے فرج کے مطابق اسکو میراث ملے گی اور اگر خروج بول ساتھ ہوتا ہے تو جس فرج سے بعد میں انقطاع ہو اس کے مطابق میراث دی جائی گی۔
خنثیٰ مشکلہ:
وہ خنثیٰ جس کے بارے میں یہ معلوم نہ کیا جا سکے کہ اس کا میلان کس جنس کی طرف ہے۔ مثلا اس کے دو فرج ہیں فرج الرجال و النساء اور دونوں سے بول کرتا ہے۔ اور بول کا نکلنا اور رکنا بھی دونوں برابر ہیں تو اس کی جنس کی تعیین مشکل ہوجائے گی اب میراث میں اگر ورثا ء میں اس طرح کا کوئی خنثیٰ مشکلہ ہو تو مال کیسے تقسیم ہوگا؟
اس کے بارے میں چند اقوال ہیں بعض کہتے ہیں کہ اس کے سینے کی پسلیاں شمار کی جائیں اگر وہ اٹھارہ ہیں تو مؤنث قرار دیں گے اور اگر سترہ ہیں تو مذکر قرار دیں گے۔
بعض کہتے ہیں کہ اس مشکل کو قرعہ کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
مشہور او رشہیدین کا نظریہ یہ ہے کہ اس کو مذکر و مؤنث دونوں کے حصوں کا نصف دیا جائےگا۔ یعنی ایک بار اس کو مرد فرض کیا جائے گا اور ایک بار عورت فرض کیا جا ئے گا اور پھر دونوں نصیبوں کو جمع کر کر کے اس کا نصف خنثیٰ مشکلہ کو دیا جائے گا۔
مسائل :
مسئلہ ۱۔
جس خنثیٰ کا مذکر و مؤنث میں سے کسی ایک کی طرح کا بھی فرج نہ ہو تو اس قسم کے خنثیٰ کو مشہور کی بنا پر قرعہ کے ذریعے حصہ دیا جائے گا اگر قرعہ میں مذکر نکلے تو مذکر والا اور اگر مؤنث نکلے تو مؤنث والا۔
مسئلہ۲۔
اگر اس طرح کا کوئی انسان ہے کہ ایک کمر سے نیچے ایک ہے لیکن کمر سے نیچے دو انسان ہیں اس طرح کہ اس کے دو بدن اور ۲دو سر ہیں ت وان کو حسب انتباہ ارث دیا جائے گا یعنی اگر وہ سویا ہو اور ایک کو جگانے سے دوسرا بھی جاگ جائےتو ایک آدمی شمار ہوگالیکن اگر ایک کو جگانے سے دوسرا نہ جاگے تو ۲ آدمی شمار ہوں گے۔
مسئلہ۳۔
جو بچہ پیٹ میں ہو وہ اس صورت میں وارث بنے گا جب زندہ پیدا ہوجائے اور زندہ رہے یا پیدا ہونے کے بعد زندوں کی طرح کچھ حرکت کرنےکے بعد مر جائے تب بھی وارث بنے گا۔ البتہ معمولی حرکت معیار نہیں اور زندہ ہونے کی علامت کے لئے رونا بھی شرط نہیں۔
مسئلہ۴:
اگر پیٹ میں موجود بچہ کسی کی جنایت کیوجہ سے سقط ہوجائے تو جنایت کرنے والے پر اسکی دیت واجب ہوجائے گی اور اسکے وارث اس کے والدین ہونگے۔ اگر والدین نہ ہوں تو متقرب بالاب چاہے نسبا ہو یا سببا اسکے وارث ہونگے۔ اس اختصاص سے سمجھا جا سکتا ہے کہ متقرب بالام اس کے وارث نہیں بن سکتے۔
مسئلہ۵:
اگر باپ نے کسی بچے کی نفی کی ہو اور اسکے بعد حاکم کے پاس میاں بیوی لعان کریں تو اس بچے کو ولد الملاعنہ کہا جاتا ہے۔ اب اگر ولد الملاعنہ مر جائے تو لعان کی وجہ سے اس کا باپ اس کا وارث نہیں بن سکے گا۔صرف ماں وارث بنے گی۔ہاں اسی طرح خود ولد الملاعنہ کا کوئی بیٹا ہو یازوجہ ہو تو وہ بھی اس کے وارث بن سکتے ہیں اگر اس کے ورثا ء میں ماں ولد اور زوجہ نہ ہوں تو اسکے اقرباء ام وارث بنیں گے، اورمال کو بالسویہ تقسیم کریں ۔
مسئلہ۶:
اگر ایک بچہ دونوں طرف سے ولد الزنا ہو اور وہ مر جائے تو اسکے ماں باپ دونوں اس کے وارث نہیں بن سکتے نہ انکے متقرب بن سکتے ہیں کیونکہ شرعا یہ ان سے منتفی ہے۔ لہٰذا نہ یہ بچہ ان والدین (غیر شرعی ) کا وارث بن سکتا ہے تو وہ اس کے وارث بنیں گے۔( ہاں اگر زنا صرف ایک طرف سے ہو تو اسکےاور اسکےاقرباء کی نسبت وراثت منتفی ہو جائے گی دوسری طرف کو وراثت ملے گی)۔ لہٰذا اگر ولد الزنا مر جائے تو اگر ا سکا بیٹا اور زوجہ ہوں تو وہ وارث بنیں گے لیکن اس کا کوئی بیٹا اور زوجہ نہ ہو تو ضامن جریرہ ، اگر وہ بھی نہ ہو تو امام وارث بنیں گے۔
مسئلہ۷:
اگر کسی کا بیٹا کسی حاکم کے خلاف آواز اٹھائے اور اس کا باپ حاکم کے پاس جاکر اس بیٹے کے نسب سے برائت کا اظہار کرے تو اس بیٹے کی متبریٰ کہتے ہیں اور اس عمل کو تبری من النسب کہتےہیں۔ یہ اس طرح سے ہوتا ہے کہ باپ حاکم کے پاس جائے اور کہے کہ میں اس بیٹے کے نسب سے برائت کا اظہار کرتا ہوں اور اسکی میراث اور ضمان جریرہ سے برائت کا اظہار کرتا ہوں۔ اب احکام میراث میں قول اشہر اور شہیدین کے مطابق اس طرح کے تبری معتبرنہیں ، یعنی باپ کا حاکم کے پاس جا کر تبری کرنا ایک دوسرے کی میراث کے حوالے سے کوئی اثر مترتب نہیں کرتا۔ عموم قرآن کی بنا پر۔
اس مسئلہ میں شیخ طوسی اور ابن براج کا ایک قول شاذ ہے کہ متبری من النسب سے اقرباء ام میراث پائیں گے اقرباء اب نہیں لے سکتے۔
مخارج الفروض
فریضے کل ۶ ہیں لیکن مخارج پانچ ہیں۔ مخارج "مخرج" ان فروض کے مطابق عدعد۔ مخارج فروض پانچ اس لئے ہیں کہ ثلث اور ثلثان دونوں کا مخرج ایک ہی ہے۔ "۳" پس مخرج النصف "۲" ، مخرج الثلث اور ثلثان"۳"، مخرج الربع"۴"، مخرج السدس"۶"، اور مخرج الثمن "۸"۔
ایضاح ذلک:یعنی مستحق نصف چاہتا ہے کہ کل ترکہ ۲ بنایا جائے تاکہ وہ اس میں سے نصف ۲/۱لے سکے ۔ اسی طرح مستحق ربع چاہتا ہے کہ کل ترکہ چار بنایا جائے تا کہ وہ ایک چوتھائی حصہ۴/۱ لےسکے،مستحق ثمن کا تقاضا یہ ہے کہ کل ترکہ آٹھ بنایا جائے تا کہ وہ اس میں سے آٹھواں ۸/۱حصہ لے سکے ،مستحق ثلث یاثلثان کا تقاضا ہے کہ کل ترکہ تین بنایا جائے تاکہ وہ مستحق ثلث اس میں سے تیسرا۳/۱ جبکہ مستحق ثلثین اس میں سے ثلثین۳/۲ لے سکے مستحق سدس چاہتا ہے کہ کل ترکہ ۶ بنایا جائے تا کہ وہ چھٹا حصہ۶/۱ لے سکے
اب اگر فریضہ میں کم از کم دو مستحق ایسے جمع ہو جائیں جن کا حصہ ایک دوسرے سے مختلف ہو تو اس کی مختلف صورتیں بنتی ہیں جو کہ ۳۶ تک پہنچ جاتی ہیں
قاعدہ:
اگر ورثا ء میں کوئی بھی صاحب فرض نہ ہو تو مال کی تقسیم میں ترکہ افراد کے حساب سے بنائیں گے (اگر سارے مذکر ہوں ) مثلا چار بیٹے ہوں تو مال کو چار حصوں میں تقسیم کریں گے اور ان کو بالسویہ دیں گے۔ لیکن اگر مذکر و مؤنث دونوں ہوں تو للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہوں گے۔ مثلا ۵ بیٹے ، ۳ بیٹیاں ہوں تو کل ترکہ ۱۳ بنے گا ، چونکہ ہر بیٹی کو ایک اور بیٹے کو دو دینا ہے۔
قاعدہ:
اگر فریضہ سہام سے کوئی ہو (اور یہ زوج یا زوجہ کے ورثاء میں موجود ہونے کے ہمراہ ہو تاہے) تو نقص لاازم آئے گا ، نقص بیٹی یا بیٹیوں پر آئے گا، اگر یہ نہ ہوں تو پدری بہنوں پر نقص لازم آئے گا سب پر نقص وارد نہیں ہوتا۔
ولحمدلله رب العالمین
فہرست
آیات میراث ۴
میراث کی تعریف ۷
لغوی تعریف ۷
اصطلاحی تعریف ۷
اول ۔ ۷
دوم ۔ ۷
موجبات (اسباب )ارث ۸
قواعد میراث ۸
قاعدہ۱: ۸
ولاء کی تین قسمیں ہیں ۸
موانع ارث ۹
قاعدہ ۲: ۹
قاعدہ ۳: ۹
قاعدہ ۴: ۱۰
قاعدہ ۵: ۱۰
سہام اوراہل سہام ۱۱
۱۔مستحق نصف چار افراد ہیں: ۱۱
۲۔مستحق ربع دو افراد ہیں : ۱۲
۳۔مستحق ثمن ایک ہی فر د ہے۔ ۱۲
۴۔مستحق ثلثان تین افراد ہیں: ۱۲
۵۔مستحق ثلث دو افراد ہیں : ۱۲
۶۔مستحق سدس تین افراد ہیں : ۱۳
قاعدہ ۶ : ۱۳
اہم نکتہ: ۱۳
آٹھ ممتنع صورتیں ۱۴
صحیح صورتیں ۱۵
قاعدہ ۷ : ۱۶
قاعدہ : ۸ ۱۶
قاعدہ: ۹ ۱۶
قاعدہ : ۱۰ ۱۶
قاعدہ ۱۱: ۱۶
مسئلہ تعصیب۔(مشہور اختلافی مسئلہ) ۱۷
قاعدہ :۱۲ ۱۷
مسئلہ عول(اختلافی مسئلہ) ۱۸
قاعدہ: ۱۳ ۱۸
قاعدہ: ۱۴ ۱۸
مثال ۱۹
اعداد کی قسمیں ۲۰
۱۔ تباین ۲۰
۲۔ تماثل: ۲۰
۳۔ توافق: ۲۰
نوٹ: ۲۰
۴۔تداخل: ۲۱
نوٹ: ۲۱
مسئلۃ : ۲۲
مسئلۃ حبوہ: ۲۲
مسئلہ طعمہ ۲۳
اجداد و اخوۃ(طبقہ ثانیہ) ۲۳
قاعدہ:۱۵ ۲۴
قاعدہ :۱۶ ۲۴
مسئلہ اجداد ثمانیہ ۲۵
میراث الاعمام و اخوال(طبقہ ثالثہ)(۱) ۲۶
مسئلہ اعمام و اخوال ثمانیہ ۲۶
قاعدہ:۱۷ ۲۶
فرض مسئلہ: ۲۶
قاعدہ :۱۸ ۲۹
میراث ازواج ۳۰
مسئلہ: ۳۱
الولاء ۳۲
ولاء عتق: ۳۲
قاعدہ: ۳۲
ولاء ضامن الجریرہ: ۳۳
ولاء امامت: ۳۳
التوابع ۳۴
میراث خنثیٰ ۳۴
خنثیٰ معینہ: ۳۴
خنثیٰ مشکلہ: ۳۴
مسائل : ۳۵
مسئلہ ۱۔ ۳۵
مسئلہ۲۔ ۳۵
مسئلہ۳۔ ۳۵
مسئلہ۴: ۳۶
مسئلہ۵: ۳۶
مسئلہ۶: ۳۶
مسئلہ۷: ۳۷
مخارج الفروض ۳۷
قاعدہ: ۳۸
قاعدہ: ۳۸
فہرست ۳۹